1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 32

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 32


    1
    نئے سال میں اپنے کاموں میں نیا جوش پیدا کرو
    (فرمودہ12جنوری1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’دن آتے بھی ہیں اور جاتے بھی ہیں، سال شروع بھی ہوتے ہیں اور ختم بھی ہوتے ہیں۔ بظاہر تو یہ ایک معمولی اور ایک بے اثر سی چیز نظر آتی ہے۔ ایک تسلسل ہے جس کی ابتدا کو دنیا کا کوئی انسان نہیں جانتا اور ایک تسلسل ہے جس کی انتہا کو دنیا کا کوئی انسان نہیں جانتا، نہ آج سے دوہزارسال قبل کے لوگ ہماری حالتوں سے واقف تھے اور نہ آج سے دوہزارسال بعد کے لوگوں کے حالات سے ہم واقف ہیں بلکہ ہم ان لوگوں سے بھی کَمَاحَقُّہٗ واقف نہیں جو آج سے دوہزارسال قبل گزر چکے ہیں اور جن میں سے بعض کے واقعاتِ زندگی تاریخ میں محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اِس زمانہ کے تمام لوگوں کو بھی نہیں جانتے۔ بلکہ اِس زمانہ کے لوگ تو الگ رہے امریکہ، یورپ، چین اور جزائر کے رہنے والے تو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ہم اپنے ملک کے رہنے والوں کو بھی نہیں جانتے بلکہ ملک کے رہنے والوں کا بھی سوال نہیں ہم اپنے شہر کے رہنے والوں کو بھی نہیں جانتے، ہم اپنے محلہ کے رہنے والوں کو بھی نہیں جانتے، ہم اپنے گھر کے لوگوں کو بھی نہیں جانتے۔ بلکہ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے حقیقت یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو نہیں جانتا اور بیوی اپنے خاوند کو نہیں جانتی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ واقعات کیونکر ظہور پذیر ہوتے کہ خاوند اپنی بیوی کو قتل کر دیتا ہے اور بیوی اپنے خاوند کو زہر دے کر مار دیتی ہے۔ رات کو میاں بیوی دونوں اکٹھے لیٹتے ہیں بیوی اپنے لحاف میں بے خوف لیٹی ہوئی ہوتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اس کا ایک محافظ یعنی خاوند گھر میں موجود ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ یہی محافظ گنڈاسے سے اس کا سر کاٹ دے گا۔ ایک خاوند اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر خوشی خوشی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ میرے گھر میں ایک محافظہ موجود ہے۔ بیوی کھانا پیش کرتی ہے، وہ تھالی اپنی طرف کھینچتا ہے اِس خیال سے کہ اس کے گھر کی محافظہ اور بیوی نے کھانا تیار کیا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ ہر لقمہ جو وہ اٹھاتا ہے وہ کافی مقدار میں زہر اُس کے اندر ڈال رہا ہے جو چند منٹوں میں اس کا خاتمہ کر دے گا۔
    پس بات یہ ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے لیکن پھر بھی ہرسال اپنے ساتھ نئی امنگیں لاتا ہے، ہر نیا دن اپنے ساتھ نئی نئی اور جدید ترین امیدیں لے کر آتا ہے۔ بعض لوگ ان اُمیدوں اور اُمنگوں کا خیال کرتے ہوئے کچھ عمل بھی کر لیتے ہیں اور بعض لوگ آنکھیں کھولتے ہیں، حیرت کے ساتھ اپنے دائیں بائیں دیکھتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی تغیر اُن کے اندر پیدا ہوتا ہے اور نہ کوئی تبدیلی۔ سورج چڑھتا ہے اور ڈوب جاتا ہے، سال آتا ہے اور گزر جاتا ہے اُن کی زندگی محض اُس لکڑی کی سی حیثیت رکھتی ہے جو دریا میں پڑی ہوئی ہو اور لہروں کے ساتھ بہتی جا رہی ہو۔ دریا کی لہریں اس کے اندر ارتعاش پیدا کرتی ہیں اور دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ وہ لکڑی کانپتی ہے، وہ لکڑی ہِلتی ہے یا وہ لکڑی چلتی ہے لیکن درحقیقت نہ وہ لکڑی کانپتی ہے، نہ چلتی ہے اور نہ حرکت کرتی ہے وہ صرف دریا کی لہروں سے متأثر ہوتی ہے۔ اِسی طرح وہ انسان ہوتا ہے جس کے اندر نہ ارادہ ہوتا ہے، نہ اس کے اندر قوتِ.عملیہ ہوتی ہے اور نہ اس کے اندر کوئی حرکت ہوتی ہے وہ محض دریا میں بہنے والا ایک لٹھ، لکڑی یا گیلی1 ہے۔ مگر خداتعالیٰ مومن سے یہ نہیں چاہتا۔ وہ انسان کو ایک طرف تو یہ کہتا ہے تم میری صفات اپنے اندر پیدا کرو2 اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ ۔3 تم پر تو سالوں گزر جاتے ہیں لیکن تم اپنا چولہ نہیں بدلتے لیکن میں ہر روز ایک نئی شان میں جلوہ گر ہوتا ہوں۔ ایک زہریلا سانپ، زمین میں رینگنے والا کیڑا اور زمین کے اندھیروں میں رہنے والا زہریلا جانور ہر چھ ماہ کے بعد اپنی کینچلی بدل دیتا ہے۔ وہ ہر چھ ماہ کے بعد اپنا چمڑا اُتار دیتا ہے اور اپنے آپ کو ایک نیا رنگ اورنیاروپ دے دیتا ہے مگر انسان، ہاں! وہ انسان جو اشرف المخلوقات کہلاتا ہے سالوں گزرنے کے بعد بھی اپنی کینچلی نہیں اتارتا، وہ اپنا چمڑا نہیں بدلتا۔ اس کا ساراشوق یہی ہوتا ہے کہ اپنا پرانا کپڑا بدل ڈالوں حالانکہ کپڑا جسم کا حصہ نہیں ہوتا کپڑا ایک غیرچیز ہے اور غیرچیز کو بدلنے کا کیا فائدہ۔ لیکن سانپ اپنے جسم کو بدلتا ہے، وہ اپنی کھال اتار کر پھینک دیتا ہے اور ایک نیا وجود بن کر دنیا کے سامنے آ جاتا ہے۔ بیشک وہ باوجود کینچلی اتار دینے کے زہریلا سانپ ہی رہتا ہے، بیشک وہ زمین میں رینگنے والا ایک جانور ہی رہتا ہے لیکن اُس کا اِس میں کوئی قصور نہیں کیونکہ خداتعالیٰ نے اُسے اپنی ماہیت بدلنے کی توفیق نہیں دی۔ یہ طاقت خداتعالیٰ نے صرف انسان کے اندر ہی رکھی ہے۔ بہرحال وہ کوشش کرتا ہے کہ بدل جائے لیکن وہ نہیں بدلتا۔ اِس میں اُس کا کوئی قصور نہیں خداتعالیٰ کا قانون ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ نہ بدلے لیکن اس نے جدوجہد نہیں چھوڑی وہ ہر چھ ماہ کے بعد اپنی کھال اتار پھینکتا ہے اور چاہتا ہے کہ بدل جاؤں مگر قانون قدرت کہتا ہے کہ وہ بدل نہیں سکتا۔ گویا جس چیز کو خداتعالیٰ بدلنے کے لیے نہیں کہتا وہ اپنے آپ کو بدلنے کی متواتر کوشش کرتی ہے اور جس کو کہتا ہے کہ بدل جا وہ اپنے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔
    پس آنے والے نئے سال سے تم کیا امیدیں رکھ سکتے ہو جب تم اپنے نفس سے کوئی اُمید نہیں رکھتے۔ خداتعالیٰ نے تو فرمایا ہے۔ وہ ہر نئے وقت میں ایک نئی حالت میں ہوتا ہے۔ گویا وہ بتاتا ہے کہ جہاں تک اُس کی ذات کا تعلق ہے وہ ایک نہ بدلنے والی ہستی ہے۔ لیکن جہاں تک اس کا تمہارے ساتھ تعلق ہے وہ کہتا ہے ہم بھی بدلتے رہتے ہیں اور ہم اس لیے بدلتے رہتے ہیں کہ تم بدلنے والے ہو اور چونکہ تم بدلتے رہتے ہو اس لیے ہم بھی بدلتے رہتے ہیں تا تمہاری نگرانی اور دیکھ بھال کریں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جس کے لیے خداتعالیٰ خود بدلتا ہے وہ نہیں بدلتا۔ گویا خداتعالیٰ جو نہ بدلنے والی ہستی ہے وہ بھی بدل جاتا ہے تا وہ انسان کے لیے ہر ضرورت کے وقت نیا سامان پیدا کرے۔ وہ کپڑا بھی بدلتا ہے جس کی طبیعت میں خداتعالیٰ نے بدلنا نہیں رکھا، وہ خدا بھی بدلتا ہے جو اپنی صفات میں غیرمبدّل ہے۔ گویا زمین بھی بدل جاتی ہے، ایک زہریلا سانپ اور زمین پر رینگنے والا ایک ذلیل جانور بھی بدل جاتا ہے، آسمان بھی بدل جاتا ہے خداتعالیٰ کہتاہے۔ میں انسان کی ہر ضرورت کے لیے نیا سامان مہیا کرنے کے لیے ہرروزبدلتا رہتا ہوں لیکن درمیان میں رہنے والا انسان اپنی جگہ پر کھڑا رہتا ہے۔
    پس آنے والے سال میں تم کوشش کرو کہ اپنی پہلی کینچلیوں کو اتار کر پھینک دو، تم کوشش کرو کہ اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے اتنا تو کرو جتنا ایک سانپ کرتا ہے۔ سانپ ہر چھ ماہ کے بعد اپنی کینچلی تبدیل کر دیتا ہے گو رہتا وہ سانپ ہی ہے لیکن تم اگر بدل جاؤ تو فرشتے بن جاتے ہو اور فرشتے سے مقرب فرشتے بن جاتے ہو۔ زمانہ اپنے اندر تبدیلی چاہتا ہے اور وہ تم پر منحصر ہے۔ انبیاء کی جماعتیں ہمیشہ دنیا کا محور ہوا کرتی ہیں اور دنیا محور پر گھومتی ہے۔ اگر محور حرکت نہیں کرے گا تو دنیا بھی حرکت نہیں کرے گی۔ دیکھو! ایک محور جتنی جلدی گھوم جاتا ہے اُس کا دائرہ اُتنی جلدی نہیں گھومتا۔ محور چونکہ ایک چھوٹے مقام پر ہوتا ہے اس لیے وہ بہت جلدی اپنے دَورے کو ختم کر لیتا ہے۔ پس جتنی جتنی حیثیت کسی چیز کو مرکزی مقام میں حاصل ہوتی ہے اُتنی اُتنی جلدی وہ اپنے دورہ کو ختم کر لیتی ہے اور جتنی جتنی کوئی چیز اپنے مرکزی مقام سے دور چلتی ہے اُتنی اُتنی اس کے اندر آہستگی پیدا ہو جاتی ہے۔ یاجب ہم ظاہری قانون کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں محور ساکن ہوتا ہے اور باقی دنیا چکر لگا رہی ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ محور فی الواقع ساکن ہوتا ہے۔وہ چونکہ اپنی ایک ہی حالت پر قائم رہتا ہے اس لیے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ساکن ہے لیکن وہ ساکن ہوتا نہیں وہ برابر چکر کاٹ رہا ہوتا ہے۔
    اسی طرح مومن کی تبدیلی بھی ہمیشہ ایک ہی رنگ کی ہوتی ہے اور ایک ہی قسم کی چیز بدلی ہوئی نظر نہیں آتی۔ تم ایک سفید کپڑے کو سرخ رنگ میں ڈال دو تو وہ سرخ ہو جائے گا۔ اسے دوبارہ سرخ رنگ میں ڈالو تو وہ سرخ کا سرخ رہے گا۔ ہاں! اس کی سرخی ذرا تیز ہو جائے گی۔ اس کپڑے کو اگر تیسری دفعہ سرخ رنگ میں ڈالو تب بھی وہ سرخ ہی رہے گا۔ ہاں! تمہارا ایسا کرنا اس کی سرخی میں کچھ زیادتی پیدا کر دے گا۔ لیکن اسی کپڑے کو اگر تم سبز رنگ میں ڈالو تو اُس کا رنگ بدل جائے گا۔ رنگ بدلتے ہیں تو وہ ممتاز نظر آتے ہیں لیکن جو ایک ہی رنگ میں سموئے جاتے ہیں اُن کا امتیاز کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مومن بھی ایک ہی رنگ میں سمویا جاتا ہے۔ وہ صرف صِبْغَۃُ اللّٰہ کو قبول کرتا ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی حالانکہ وہ اپنے اندر پہلے سے زیادہ تبدیلی پیدا کر رہا ہوتا ہے مگر یکرنگ ہونے کی وجہ سے وہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔
    پس آپ لوگ اس نئے سال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، اپنے کاموں میں جوش پیدا کریں، نمازوں میں باقاعدگی پیدا کریں اور اپنی تبلیغ کو منظّم کریں اور یہ مدّنظر رکھیں کہ کون جانتا ہے کہ کس پر کل آئے گا یا نہیں۔ پس کوشش کریں کہ تمہاری ایک ہی حرکت میں دنیا کے سارے لوگ اسلام قبول کر لیں۔ بظاہر یہ کام مشکل نظر آتا ہے لیکن تمہارا ارادہ یہی ہونا چاہیے کہ ہر دن جو چڑھتا ہے تمھیں یقین کر لینا چاہیے کہ تم نے اس میں ساری دنیا کو اسلام میں داخل کر لینا ہے۔ اگر تمہارا ارادہ یہ ہے تو خداتعالیٰ اس میں برکت ڈالے گا اور اگر تم یہ کہو گے کہ دنیا کے دل کہاں بدلتے ہیں تو تمہارے کام میں تأثیر پیدا نہیں ہو گی۔ تاثیر ہمیشہ گھبراہٹ اور جذبات کی شدّت سے پیدا ہوتی ہے۔ جب جذبات ایک نقطہ پر جمع ہو جاتے ہیں تو پھر تأثیر بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ تم ورما 4کو ہر منٹ کے بعد بدلتے جاؤ تو لکڑی میں سوراخ نہیں ہو گا لیکن جب تم ورما کو ایک جگہ پر رکھو گے تو لکڑی میں سوراخ کر لو گے۔ اِسی طرح جب جذبات ایک جگہ پر اکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ طبائع میں تأثیر پیدا کر دیتے ہیں لیکن جب وہ بدلتے رہتے ہیں تو وہ صرف داغ لگا دیتے ہیں سوراخ پیدا نہیں کرتے‘‘۔
    خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا:
    ’’میں جمعہ کی نمازکے بعد ایک جنازہ پڑھاؤں گا۔ یہ جنازہ اُمِّ طاہر مرحومہ کی بڑی ہمشیرہ زینب بیگم صاحبہ کا ہے جو پچھلے دنوں راولپنڈی میں فوت ہو گئی ہیں۔ جلسہ کے دنوں میں وفات کی خبر آئی تھی اور جمعہ کے دن میرا ارادہ تھا کہ نماز جنازہ پڑھاؤں لیکن اُس دن چونکہ گاڑی آگئی اور دوستوں نے گاڑی پر جانا تھا اس لیے تشویش کی وجہ سے کہ کہیں گاڑی چھوٹ نہ جائے میں نمازجنازہ پڑھانا بھول گیا۔
    اِسی طرح حافظ طیب اللہ صاحب بنگالی کی ہمشیرہ فوت ہو گئی ہیں میں اُن کا بھی جنازہ غائب پڑھاؤں گا‘‘۔ (الفضل 22مارچ 1951ئ)

    1
    :
    گیلی:تنے کی کاٹی ہوئی گول لکڑی جس سے شہتیر نکلتے ہیں(فیروز اللغات اردو فیروز سنز لاہور)
    2
    :
    (البقرۃ: 139)
    3
    :
    الرحمان:30
    4
    :
    ورما: ترکھان /لوہار کا سوراخ کرنے والا ہتھیار(پنجابی اردو لغت صفحہ 1498 مرتبہ تنویر بخاری مطبوعہ لاہور1989ئ)


















    2
    دُعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اِن پُرفتن ایام میں
    جماعت کو محفوظ رکھے
    (فرمودہ16فروری1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مجھے کل شام سے پھر پاؤں میں درد شروع ہے جس کی وجہ سے زیادہ دیر کھڑا ہونا بہت مشکل ہے۔ اس لیے میں صرف ایک دو منٹ میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ جیسا کہ پہلے اعلان کیا گیا تھا آئندہ چالیس دن ہم خاص رنگ کی دعاؤں میں صَرف کریں گے۔ اس لیے جو احباب اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں انہیں اس تحریک میں حصہ لینا چاہیے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک احمدی کہلانے والے کے لیے یہ فیصلہ کرنا کہ وہ چالیس دن سلسلہ کی ترقی کے لیے بعض مخصوص دعاؤں کی خاطر وقف نہیں کرے گا اس کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ احمدیت کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ وہ احمدی صرف نام کا ہے اور کام کے لیے خواہ وہ کتنا ہی آسان یا سستا ہو اور ایسا ہو جس کے لیے روپیہ یاوقت صَرف نہیں کرنا پڑتا تیار نہیں۔ بہرحال آئندہ چالیس دنوں میں ہم نے نمازوں پر زور دینا ہے، درود پر زور دینا ہے، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم1 کا ورد کرنا ہے۔ نماز ہر ایک احمدی پڑھتا ہی ہے صرف فرق یہ ہے کہ وہ نماز میں بعض خاص دعائیں کرے۔ کچھ لوگ تہجد پڑھنے والے ہیں اور کچھ لوگ تہجد پڑھنے والے نہیں۔ جو لوگ تہجد پڑھنے والے ہیں انہیں یہ دُعائیں تہجد میں کرنی ہیں اور جو لوگ تہجد پڑھنے والے نہیں انہوں نے دو نفل دن میں کسی وقت پڑھ کر ان میں یہ دعائیں کرنی ہیں۔ اور یہ وہ کام ہے جس پر نہ کوئی خرچ آتا ہے اور نہ اس کے لیے کسی الگ تیاری کی ضرورت ہے۔ زیادہ سے زیادہ دو نفل پڑھنے ہوں گے اور اگر دو نفل بھی نہ پڑھے جا سکیں تو کم از کم مفروضہ نمازوں میں ہی یہ دعائیں کی جائیں۔ بہرحال اس تحریک میں شامل ہونے کی وجہ سے انسان پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ جو شخص یہ کہے گا کہ میں اس تحریک سے باہر رہنا چاہتا ہوں وہ دوسرے الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ میں احمدیت میں صرف نام کے طور پر داخل ہونا چاہتا ہوں اس کے لیے کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہیں خواہ اس میں مجھے کوئی تکلیف بھی نہ ہو۔
    بعض دوستوں کو شبہ ہوا ہے کہ شاید آئندہ چالیس دنوں میں ربوہ میں خاص طور پر دعائیں ہوں گی یہ غلط ہے۔ آئندہ چالیس دنوں میں اپنی اپنی جگہ پر بعض خاص دعائیں جن کا میں اعلان کر چکا ہوں کی جائیں گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اَور دعائیں نہ کی جائیں بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ دعائیں خاص طور پر کی جائیں۔ مثلاً میں نے کہا ہے کہ ان دنوں میںاَللّٰہُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ2کی دعا خاص طور پر کی جائے یا تسبیح کے وہ کلمات جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنون ہیں اور جن کی احادیث میں خاص طور پر تعریف آئی ہے باربار دہرائے جائیں اور درود جو دعاؤں کی قبولیت کا ایک ذریعہ ہے کثرت سے پڑھا جائے۔ ان کے علاوہ اَور دعائیں بھی کی جائیں۔ اگر عربی میں اَور دعائیں یاد ہوں تو وہ بھی کی جائیں۔ اور اگر اپنی زبان میں زیادہ جوش کے ساتھ دعائیں کی جا سکتی ہوں تو اپنی زبان میں بھی دعائیں کی جائیں کہ خداتعالیٰ ان پُرفتن ایام میں جماعت کو محفوظ رکھے اور احمدیت کے دشمنوں کو ناکام و نامراد بنا دے۔
    میرے اعلان کے مطابق چِلّہ کا پہلا دن آج سے شروع ہوتا ہے اور یہ چالیس دن تک جائے گا یعنی 27مارچ تک۔ اس عرصہ میں روزوں کی بھی تحریک کی گئی ہے اور یہ روزے بھی صاحبِ توفیق ہی رکھیں گے ہر ایک کو اس کے لیے نہ مجبور کیا جا سکتا ہے اور نہ وہ مجبور ہوتا ہے۔ پھر اس میں بھی سہولت کر دی گئی ہے کہ جن کے فرضی روزے رہ گئے ہوں وہ انہیں فرض روزے سمجھ لیں اور اگر ان میں ناغہ ہو جائے تو جمعرات کے دن روزہ رکھ لیا جائے۔ اور اگر جمعرات کو بھی روزہ نہ رکھا جا سکے تو بعد میں جب دوسرے لوگ روزے پورے کر چکیں یہ روزے پورے کر لیے جائیں اور یہ سہل ترین طریق ہے۔
    دشمن ہنسے گا اور اس نے ہنسنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ اخبارات میں بعض ایسے مضامین شائع ہو رہے ہیں کہ احمدیوں نے کیا تیر مارا ہے۔ لیکن ہمیشہ وہی چیزیں زیادہ فعّال اور مؤثر رہی ہیں جن پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے۔ زیادہ تاثیر کرنے والی انبیاء کی جماعتیں رہی ہیں اور انبیاء کی جماعتوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے3کہ افسوس لوگوں پر کہ ان میں کبھی کوئی رسول نہیں آیا جس پر انہوں نے ہنسی نہ اڑائی ہو اور لوگوں نے یہ نہ کہا ہو کہ لو یہ بھی تیر مارنے آیا ہے۔ غرض سب سے فعّال اور مؤثر جماعت وہی رہی ہے جس پر لوگوں نے ہنسی اڑائی ہے۔ اگر دشمن کسی جماعت پر ہنستا ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ بھی ان ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار ہے جو ہمیشہ کامیاب ہوتے رہے ہیں کیونکہ جس جماعت پر ہنسی اڑائی جاتی ہے وہ زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔
    پس جماعت کے احباب کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس میں شامل ہونا چاہیے بلکہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان میں سے ہر مرد، عورت اور بچہ اس میں شریک ہو۔ اس پر کچھ خرچ نہیں آتا صرف دل سے ایک آہ نکلنے کی ضرورت ہے جس سے خداتعالیٰ کا عرش ہِل جائے‘‘۔
    (الفضل 29جون1951ئ)

    1
    :
    صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول اللّٰہ تعالٰی ’’وَنَضَعُ الموازین الْقِسْطَ لیوم القیامۃ‘‘
    2
    :
    سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب ما یقول الرجلُ اِذَا خَافَ قَوْمًا
    3
    :
    یٰسٓ:31

    3
    اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرو
    کہ یہ مخالفت رحمت کا موجب بن جائے
    (فرمودہ23فروری1951ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مجھے یہاں آکر معلوم ہوا کہ آجکل گاڑیوں کا وقت تبدیل ہو گیا ہے اور اب جو احمدیہ اسٹیٹس کی طرف سے گاڑی آتی ہے وہ ایک بج کر پچیس منٹ پر کنجیجی پہنچتی ہے اور پھر اسٹیشن سے یہاں (ناصرآباد) تک پہنچنے میں بھی دیر لگتی ہے۔ اس لیے سمجھنا چاہیے کہ باہر سے آنے والے دوست دوبجے تک یہاں پہنچ سکتے ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو پیدل چل کر اردگرد کے مقامات سے یہاں پہلے پہنچ جائیں۔ اور گو جمعہ کا مناسب وقت تو یہ ہوتا ہے کہ سواایک بجے شروع ہو اور دوبجے نماز ختم ہو جائے مگر اس مجبوری کی وجہ سے یہی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان لوگوں کا انتظار کر کے جو گاڑی کے ذریعہ آتے ہیں دو بجے جمعہ شروع کیا جائے۔ آج تو زیادہ دیر ہو گئی ہے اور اب پونے تین ہیں کیونکہ جو لوگ آئے تھے اُن کو پہلے کھانا کھلایا گیا اور اس وجہ سے نماز میں زیادہ دیر ہو گئی۔ غالباً یہاں ہمارے دو جمعے اَور ہوں گے۔ پس میں دوستوں کی اطلاع کے لیے یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ آئندہ دو بجے جمعہ شروع ہوا کرے گا تا کہ ڈیڑھ بجے والی گاڑی سے جو دوست آئیں وہ بھی جمعہ میں شریک ہو سکیں مگر گاڑی کے ذریعہ آنے والے مہمانوں کو کھانا جمعہ کے بعد ہی کھلایا جا سکے گا۔ آج بھی اس لیے دیر ہو گئی کہ تجویز یہ ہوئی تھی کہ جو دوست آئیں اُن کو کھانا پہلے کھلایا جائے۔ چنانچہ ان کا انتظار کرنے اور ان کو کھانا کھلانے کے بعد اب میں جمعہ کے لیے آیا ہوں۔
    اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آجکل ہماری جماعت کی مخالفت بہت زیادہ ترقی کر چکی ہے۔ ایک خاصا گروہ مولویوں کا ایسا ہے جن کا کام سوائے اس کے اب کوئی نہیں رہا کہ وہ ہماری جماعت کے خلاف لوگوں میں جوش پھیلائیں اور اُن کو فتنہ وفسا د پر آمادہ کریں۔ چنانچہ ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی جگہ سے ان مولویوں کے جلسہ کی اطلاع آ جاتی ہے۔ جس گاڑی میں مَیں آ رہا تھا دوستوں نے بتایا کہ اسی گاڑی میں ہی مولوی عطاء اللہ صاحب بخاری سفر کر رہے تھے جو خان پور کے کسی مخالفانہ جلسہ میں شامل ہونے کے لیے آ رہے تھے۔ اور اس جلسہ کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک احمدی دوست سے وہاں کے بعض غیراحمدیوں نے باتیں شروع کر دیں۔ باتیں کرتے کرتے انہوں نے کہا کہ اگر آپ لوگ سچے ہوتے تو قادیان چھوڑ کر آپ کو کیوں باہر آنا پڑتا؟ اس سوال سے اُن کی غرض درحقیقت شرارت کرنا تھی اور وہ جماعت کے خلاف فساد پھیلانا چاہتے تھے مگر اُس احمدی دوست کا ذہن اِس طرف نہیں گیا اور اُس نے اپنی سادگی میں یہ جواب دے دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لے گئے تھے۔ اِس پر انہوں نے فوراً شور مچا دیا کہ دیکھو! یہ احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔ ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ اِس قابل ہی نہیں ہیںکہ ان کو زندہ رہنے دیا جائے۔ ان کو مار دینا چاہیے، ان کو قتل کر دینا چاہیے اور ان کی جماعت کو مٹا دینا چاہیے۔ غرض اِسی بات پر انہوں نے شورش برپا کر دی اور آخر جماعت کے خلاف ایک بڑا جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا اور بڑے بڑے علماء کو بلوایا۔ مولوی۔عطائ۔اللہ صاحب اِسی جلسہ کے لیے خان پور جا رہے تھے۔ حالانکہ کسی شخص کو جھوٹا کہنا اور اس کے ثبوت میں ایک ایسی بات پیش کرنا جو سچوں کے ساتھ ہوتی چلی آئی ہے یہ اعتراض کرنے والوں کو خود جھوٹا ثابت کرتی ہے نہ کہ اس شخص کو جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ باربار فرماتا ہے کہ دیکھو! تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ پر اعتراض کرتے ہو حالانکہ پہلے بھی ایسے نبی گزرے ہیں جن میں یہی باتیں پائی جاتیں تھیں۔1 پھر اگر تم ان کو سچا سمجھتے ہو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تمہیں کیوں اعتراض سوجھتا ہے۔ مگرمعلوم ہوتا ہے اُس زمانہ کے مولوی اِن مولویوں سے زیادہ شریف تھے کیونکہ وہ اِس جواب کو سن کر یہ شور نہیں مچاتے تھے کہ دیکھو انہوں نے نبیوں کی ہتک کر دی۔ یہ اپنی صداقت کے ثبوت میں پہلے نبیوں کی مثالیں پیش کر رہے ہیں۔ قرآن کریم میں صاف طور پر ذکر آتا ہے کہ مخالف یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے۔ یہ تو عام انسانوں کی طرح کھاتا پیتا ہے2 اور قرآن کریم اِس کا یہ جواب دیتا ہے کہ پہلے نبی بھی کھاتے پیتے تھے اور پہلے نبیوں کے بھی بیوی بچے تھے۔ اِس پر مخالفین نے یہ نہیں کہا کہ تم ہمارے نبیوں کی ہتک کرتے ہو یا تم پہلے انبیاء کے دشمن ہو بلکہ انہوں نے سمجھا کہ جب اِن باتوں سے پہلے انبیاء کی نبوت کی نفی نہیں ہوتی تو اِس کی نبوت کی نفی کس طرح ہو سکتی ہے۔لیکن تعجب ہے کہ اِس وقت علماء کہلانے والے، مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے اور قرآن کریم کو پڑھنے والے اس اصول کو سمجھنے سے عاری ہیں اور جب ان کے سامنے پہلے نبیوں کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں تو وہ شور مچانے لگ جاتے ہیں کہ احمدی انبیاء کی ہتک کرتے ہیں۔ یہ بات بتاتی ہے کہ ان علماء کہلانے والوں میں اب ایسے لوگ پیدا ہو چکے ہیں جو قطعی طور پر دیانت اور انصاف کو بھول چکے ہیں اور وہ اُن علماء سے بھی بدتر ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء کے مخالف تھے کیونکہ جب اُن کے سامنے قرآن کریم نے یہ دلیل پیش کی کہ دیکھو یہ یہ بات تو پہلے نبیوں میں بھی پائی جاتی تھی تو انہوں نے شور نہیں مچایا کہ مسلمان پہلے انبیاء کی ہتک کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے آپ کو مانا یا نہیں مانا اِتنی بات تو بہرحال ثابت ہے کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ قرآن کریم نے پہلے نبیوں کی ہتک کی ہے۔ آخر جب کسی کی سچائی پر بحث کی جائے گی تو اُس کے ثبوت میں کسی سچے کی ہی مثال دی جائے گی جھوٹے کی نہیں۔ اور جب جھوٹ کی مثال دی جائے گی تو کسی جھوٹے کی ہی دی جائے گی سچے کی نہیں۔ مثلاً اگر کوئی مخالف اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر یہ کہتا ہے کہ اگر ہم جھوٹے ہوتے تو ہم پر آسمان کیوں نہ گرا؟ تو ہم اس کے جواب میں اُسے جھوٹوں کی ہی مثال دیں گے اور کہیں گے کہ شدّاد جھوٹا تھا کیا اُس پر آسمان گرا؟ نمرود جھوٹا تھا کیا اُس پر آسمان گرا؟ فرعون جھوٹا تھا کیا اس پر آسمان گرا؟ ابوجہل جھوٹا تھا کیا اُس پر آسمان گرا؟ اگر اُن پر آسمان نہیں گرا حالانکہ تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ وہ جھوٹے تھے تو تم پر آسمان کیوں گرتا؟ اِسی طرح اگر کسی کی صداقت کے ثبوت کے طور پر کوئی بات پیش کی جائے گی تو مثال کے طور پر وہی بات کسی سچے اورراستباز انسان میں بھی ہمیں ثابت کرنی پڑے گی۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں آدمی اپنے دعوٰی میں کس طرح سچا اور راستباز ہو سکتا ہے جبکہ وہ سارا دن مصلّٰی پر نہیں بیٹھا رہتا؟ تو ہم اسے جواب میں کہیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اَور کون سچا ہو سکتا ہے مگر ہم تو دیکھتے ہیں کہ آپ بھی سارا دن مصلّٰی پر نہیں بیٹھے رہتے تھے بلکہ اَور بھی کئی کام کرتے تھے۔ آپ وعظ ونصیحت بھی کرتے تھے، آپ قضا کا کام بھی کرتے تھے، آپ لڑائیوں میں بھی جاتے تھے، آپ انتظامِ۔مملکت بھی کرتے تھے سارا دن آپ مصلّٰی پر نہیں بیٹھے رہتے تھے۔ غرض جب سچائی کی مثال دی جائے گی تو لازماً کسی سچے کا ذکر کیا جائے گا اور جب جھوٹ کی مثال دی جائے گی تو لازماً کسی جھوٹے کا ذکر کیا جائے گا۔ جب کوئی شخص یہ کہے گا کہ یہ سلسلہ کس طرح سچا ہو سکتا ہے اِس پر تو فلاں فلاں اعتراض عائد ہوتا ہے؟ تو اس کے جواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر آئے گا اور آپؐ کے صحابہؓ۔۔کا بھی ذکر آئے گا، حضرت عیسٰی علیہ السّلام کا بھی ذکر آئے گا اور آپ کے حواریوں کا بھی ذکر آئے گا، حضرت موسٰی علیہ السّلام کا بھی ذکر آئے گا اور آپ کے ساتھیوں کا بھی ذکر آئے گا، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کا بھی ذکر آئے گا اور آپ کے ساتھیوں کا بھی ذکر آئے گا۔ غرض جو بھی سچا ہو گا اُس کا ذکر آئے گا۔ مثال کا تو قاعدہ ہی یہی ہے اور مثال تو دی ہی اُس گروہ میں سے جاتی ہے جس کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے۔
    اگر ہجرت کرنا قابلِ اعتراض ہے اور اگر ہجرت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ہجرت کرنے والا جھوٹا ہوتا ہے تو اِن کو چاہیے کہ جن نبیوں کو وہ سچا مانتے ہیں اور جنہوں نے ہجرت کی اُن کو بھی احمدیوں کے لیے چھوڑ دیں اور اُن سے خود تعلق نہ رکھیں۔ اور اگر وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہجرت کرنا قابلِ اعتراض نہیں تو پھر ان کا ہم پر ہجرت کے متعلق اعتراض کرنا نادانی نہیں تو اَور کیا ہے۔ قرآن کریم نے تو ہجرت کو نشان کے طور پر پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ ہجرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذلّت کا موجب نہیں بلکہ عزّت کا موجب ہے۔ انبیاء سابقین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے متعلق خبریں دی ہوئی تھیں۔ اگر آپ ہجرت نہ کرتے اور لوگ پوچھتے کہ پیشگوئیوں میں تو یہ لکھا تھا کہ آنے والا موعود ہجرت کرے گا تو بتاؤ کہ اس نے کب ہجرت کی؟ تو ہم اس کا کیا جواب دیتے؟ یسعیاہ۔نبی نے ہزاربارہ سو سال پہلے خبر دیتے ہوئے بتایا تھا کہ عرب میں ایک نبی پیدا ہو۔گا جو دشمن کے ظلم سے تنگ آ کر بھاگے گا اور قوم اس کا تعاقب کرے گی۔اگر آپؐ۔ہجرت نہ کرتے اور اگر لوگ آپؐ۔کا تعاقب نہ کرتے تو دشمن کہتا کہ تم یہ کہتے ہو کہ یہ وہ نبی ہے جو موعود ہے اور جو پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں کے مطابق آیا ہے حالانکہ پہلے نبیوں نے جو پیشگوئیاں کی تھیں اُن میں سے ایک یہ بھی خبر تھی کہ وہ ہجرت کرے گا تو بتاؤ کہ اِس نبی نے کب ہجرت کی اور کہاں کی؟ ایسی صورت میں ہم کیا جواب دیتے اور دشمن کو کس طرح خاموش کرا سکتے؟ پس آپؐ۔کی ہجرت آپؐ۔کی عزّت کا ثبوت تھی، آپ کی ہجرت آپ کی سچائی کا ثبوت تھی اور آپ کی ہجرت آپ کے موعود ہونے کا ثبوت تھی۔ اسی طرح یہ ہجرت اگر کسی اَور نبی میں پائی جائے تو یہ اُس کے جھوٹا ہونے کی علامت نہیں ہو۔گی بلکہ اُس کے سچا ہونے کی علامت ہو گی۔ اور اِس بات کا ثبوت ہو گی کہ اُس کے لیے بھی خدا نے اس کی ہجرت کو ایک عزّت کا ذریعہ بنایا ہے اور اس کے لیے بھی خدا نے اس ہجرت کو بزرگی کے اظہار کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔
    اصل بات تو یہ ہے کہ انسان میں تقوٰی ہونا چاہیے اور اسے سوچنا چاہیے کہ جو بات وہ کہہ رہا ہے دلیل اس کی کس حد تک تائید کرتی ہے؟ اگر دلیل اُس کی تائید نہ کرتی ہو تو اُسے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ وہ غلط دلیل دیتا ہی کیوں ہے؟ اور اگر وہ غلط دلیل دے گا تو خواہ اسے بُرا لگے یا اچھا بہرحال جن لوگوں کی بزرگی کا وہ قائل ہے اُنہی نیک اور پاک اور بزرگ لوگوں کا اُسے حوالہ دینا پڑے گا تاکہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے قرآن کریم نے خود یہ طریق اختیار کیا ہے اور کئی جگہ دوسرے انبیاء کی مثال دے کر بتایا ہے کہ تمہارا اعتراض درست نہیں۔ اگر یہ قابلِ۔اعتراض چیز ہے تو اَور انبیاء میں بھی پائی جاتی ہے۔ اگر اِس وجہ سے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے تو دوسرے انبیاء کو کیوں مانتے ہو؟
    حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ انسان اتنی بات بھی نہ سمجھ سکے کہ جس بات پر وہ اعتراض کر رہا ہے وہ ان لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے جن کو وہ سچا سمجھ رہا ہے۔ پس رونے کا مقام یہ نہیں کہ ایک احمدی نے کیوں کہہ دیا کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی بلکہ رونے کی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو اَب اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہجرت کرنا کوئی بُری بات نہیں۔ نہ صرف یہ کہ۔بُری۔بات نہیں بلکہ ہجرت انبیاء کی سچائی اور اُن کی راستبازی کا ثبوت قرار دی گئی ہے۔ وہ مسلمان کہلاتے ہیں مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے ہیں، تاریخیں پڑھتے ہیں جن میں ہجرت کا ذکر آتا ہے، حدیثیں پڑھتے ہیں جن میں ہجرت کا ذکر آتا ہے، قرآن پڑھتے ہیں جس میں ہجرت کا ذکر آتا ہے اور پھر ہجرت پر اعتراض کرتے ہیں۔ اِس سے زیادہ مسلمانوں کی بدبختی اَور کیا ہو گی کہ ایک چیز کو مان بھی رہے ہیں اور اس پر اعتراض بھی کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر کسی ناواقف کے منہ سے اعتراض نکلتا بھی تو دوسرا۔مولوی اُسے نصیحت کرتا کہ تم کیا اعتراض کرتے ہو نبیوں کی ہجرت کرنا تو قرآن۔کریم اور حدیث سے ثابت ہے مگر کسی کو احساس نہیں کہ وہ دیانت سے کام لے اور اندھادھند اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کے اخلاق کا اِس قدر گر جانا بتاتا ہے کہ ان کی دشمنی اب کمال کو پہنچ چکی ہے۔ اور جب لوگوں کی دشمنی کمال کو پہنچ جائے تو ہمیشہ انسان کو فکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ لوگوں کی دشمنی دو ہی وجہ سے اپنے کمال کو پہنچا کرتی ہے۔ یا تو اُس وقت دشمنی کمال کو پہنچتی ہے جب خداتعالیٰ مومنوں کو کوئی فتح دینے لگتا ہے اور یا اُس وقت دشمنی کمال کو پہنچتی ہے جب خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب آنے والا ہوتا ہے۔ گویا یا تو دنیا کو نشان دکھانے کے لیے تمام لوگوں میں ایک جوش پیدا کر دیا جاتا ہے، وہ مخالفت کرتے اور اسے انتہا تک پہنچا دیتے ہیں۔ مگر پھر خداتعالیٰ مخالفت کرنے والوں کو تباہ کر کے دنیا پر اپنا نشان ظاہر کرتا اور انہیں بتاتا ہے کہ دیکھو! انہوں نے اتنا جوش دکھایا، اتنی مخالفت کی، اتنا جتھا بنایا، اتنی تدابیر کیں مگر پھر بھی میں نے ان کو تباہ کر دیا اور مومن بچ گئے۔ مگر کبھی یہ مخالفت اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا دینے کے لیے پیدا کی جاتی ہے۔ لوگوں میں جوش پیدا ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ اس قدر غلبہ حاصل کر لیتے ہیں کہ دوسرے فریق کو تباہ کر دیتے ہیں۔ پس جب بھی دشمنی انتہا کو پہنچ جائے انسان کو اپنے نفس پر غور کرنا چاہیے کہ آیا وہ ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے غیرت دکھائے اور اس کے دشمن کو تباہ کر دے؟ آیا اِس کے اندر اِس قدر نیکی پائی جاتی ہے، اِس قدر سچائی پائی جاتی ہے، اِس قدر خداتعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہے، اِس قدر ذکرِالٰہی کی عادت پائی جاتی ہے، اِس قدر قُربانی پائی جاتی ہے، اِس قدر عبادت پائی جاتی ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہو کہ خداتعالیٰ اُس کے لیے دنیا کو کوئی نشان دکھانا چاہتا ہے؟ اگر ایسا ہو تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔ لیکن اگر یہ نظر آتا ہو کہ ہم میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں، ہم نمازوں میں بھی سُست ہیں، ہم سچ پر بھی پوری طرح قائم۔نہیں، ہم ظلم سے بھی دریغ نہیں کرتے، ہم دھوکا اور فریب سے بھی کام لے لیتے ہیں تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ خداتعالیٰ ایسے لوگوں کے لیے کوئی نشان نہیں دکھایا کرتا۔ یہ مخالفت شاید ہمیں سزا دینے کے لیے پیدا کی جا رہی ہے۔
    پس جماعت کے لیے یہ ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کو سوچنا چاہیے اور باربار سوچنا چاہیے کہ ہماری عملی حالت کیا ہے اور یہ مخالفت کیوں انتہا کو پہنچ رہی ہے۔ آخر آدمیوں سے ہی قوم بنتی ہے۔ بیشک زید قوم نہیں، بکر قوم نہیں، عمر قوم نہیں مگر زید، بکر اور عمر مل کر قوم ہیں۔ الگ الگ دیکھا جائے تو ہر شخص ایک فرد کی حیثیت رکھتا ہے لیکن انہی افراد کے مجموعہ کا نام قوم ہو جاتا ہے۔ پس ہم میں سے ہر شخص کو اس مخالفت کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا اس میں وہ تقوٰی پایا جاتا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے؟ کیا اس میں کا مل سچائی پائی جاتی ہے؟ کیا وہ فریب تو نہیں کرتا؟ کیا وہ دھوکا بازی سے تو کام نہیں لیتا؟ کیا وہ نمازوں کا پابند ہے؟ کیا وہ انصاف سے کام لیتا ہے؟ کیا وہ خداتعالیٰ سے سچی محبت رکھتا ہے؟ کیا وہ اسلام کے لیے ہر قسم کی قُربانی کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا وہ بنی نوع انسان کا ہمدرد ہے؟ اگر یہ تمام باتیں اس میں پائی جاتی ہیں تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اِس مخالفت کے ذریعہ خداتعالیٰ اسے مارنے نہیں لگا کیونکہ اُس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو خداتعالیٰ کو ناراض کرنے والا ہو۔ لیکن اگر افرادِ۔قوم میں کثرت ایسے لوگوں کی ہو جو یہ کہیں کہ ہم میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں، نہ ہمارے دلوں میں خداتعالیٰ کی سچی محبت پائی جاتی ہے، نہ ہم اس کے لیے قربانی کرتے ہیں، نہ ہمارے اندر دین کی خدمت کا کوئی جوش پایا جاتا ہے، نہ ہم نمازوں کے پابند ہیں، نہ ذکرِالٰہی کے عادی ہیں، نہ جھوٹ اور فریب سے بچتے ہیں، نہ ظلم اور فساد سے پرہیز کرتے ہیں، نہ اخلاق کے معیار پر پورے اُترتے ہیں تو پھر انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مخالفت کسی نشان کے ظہور کا پیش خیمہ نہیں ہو سکتی۔ یہ انہیں گناہوں کی سزا دینے کے لیے پیدا کی جا رہی ہے۔ اِس صورت میں انہیں بہت زیادہ فکر کرنا چاہیے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ عام حالات میں انسان کا غافل رہنا بعض دفعہ قابلِ معافی بھی ہو جاتا ہے لیکن اگر سامان ایسے ظاہر ہو رہے ہوں جن سے یہ خطرہ ہو کہ یہ سامان شاید ہماری سزا کے لیے پیدا کیے جا۔رہے ہیں تو اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اپنی اصلاح نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان اور اپنی قوم کو تباہ کرتا ہے۔
    پس یہ معمولی حالات نہیں۔ جماعت کو اپنے اندر بیداری پیدا کرنی چاہیے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ اگر کچھ لوگوں کے اعمال کی وجہ سے یہ سزا کا سامان بھی ہو تب بھی وہ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر لیں کہ یہ عذاب رحمت کا موجب بن جائے۔ جیسے یوناہ نبی کے زمانہ میں ہوا کہ خداتعالیٰ نے یوناہ نبی کی قوم پر اپنا عذاب نازل کرنا چاہا مگر جب اُس قوم نے اپنی اصلاح کی اور توبہ اور گریہ۔و۔زاری سے کام لیا تو وہی عذاب اُس کے لیے رحمت بن گیا3۔ پس ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ عذاب آتے ہیں مگر وہ انسانوں کے لیے رحمت بن جاتے ہیں۔ اسی لیے میں نے یہ تحریک کی ہے کہ اِن دنوں اپنی کامیابی اور دشمن کی ناکامی کے لیے متواتر دعائیں کی جائیں اور ہر پیر کے دن روزہ رکھا جائے تا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے اگر کوئی خرابی یا نقصان اِس وقت ہمارے لیے مقدّر ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو بدل دے، ہمیں طاقت اور غلبہ عطا فرمائے اور ہمارے دشمنوں کو اُن کی کوششوں میں ناکام بنا دے‘‘۔ (الفضل 4مارچ 1951ئ)

    1
    :

    (حٰمٓ السجدہ:44)
    2
    :
    (الفرقان:21)
    3
    :
    یوناہ باب 3آیت1تا10

    4
    خلافت ایک عظیم الشان نعمت ہے
    جو اس زمانہ میں مسلمانوں کو احمدیت کے ذریعہ دی گئی
    ایک دوسرے سے ملنا اور مرکزی مقامات میں جمع ہونا بہت بڑے فوائد رکھتا ہے
    (فرمودہ2مارچ1951ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مجھے اس دفعہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سندھ کی جماعتوں میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ وہ میرے اس دورہ کے موقع پر یہاں آئیں اور جمعہ کی نماز اس جگہ ادا کریں۔ چنانچہ دونوں جمعوں میں مختلف اطراف سے جماعت کے احباب جمعہ کی نماز کے لیے یہاں آئے ہیں جو ایک خوشکن امر ہے۔ زندہ قوموں کے اندر کچھ زندگی کی علامتیں ہوتی ہیں اور وہ علامتیں ہی یہ بتاتی ہیں کہ ان کے اندر زندگی کی روح پائی جاتی ہے۔ وہ علامتیں نہ ہوں تو ان کا زندہ ہونا ایک مشتبہ امر ہوتا ہے۔ کیونکہ قومی زندگی انسانی زندگی کی طرح نہیں کہ ہم کسی کو سانس لیتا دیکھیں تو سمجھیں کہ وہ زندہ ہے، چلتے پھرتے دیکھیں توسمجھیں کہ وہ زندہ ہے۔ قومی زندگی کی علامتیں فردی زندگی سے مختلف ہوتی ہیں۔ قومی زندگی کی علامتوں میں ترقی کی نیت اور امنگ اور امیدیں اور اصلاح کی طرف توجہ اور جماعتی روح اور نظام کی روح وغیرہ شامل ہیں اور یہی چیزیں قومی زندگی کی علامت ہوتی ہیں۔ جس طرح فردی زندگی کی علامتوں میں دیکھنا، سننا، بولنا، کھانا، سانس لینا اور فُضلے کا خارج کرنا ہے اور ان علامتوں کو دیکھ کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ایک چیز زندہ ہے۔ اسی طرح جب ہم کسی جماعت کے اندر یہ دیکھتے ہیں کہ اُس میں ترقی کا احساس پایا جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ جماعت کے قیام کے لیے اُس میں قربانی کا احساس پایا جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے اور اسے زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنے کا احساس اس میں پایا جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے ایک حصہ پر جب حملہ ہوتا ہے تو باقی سارا حصہ اُس کی اذیت کو محسوس کرتا ہے اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ سب کے سب افراد ایک مرکز کی طرف مائل ہیں جو اسلام میں خلیفہ ہوتا ہے۔ جس طرح جسم کے حصے دل کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں تو اُن علامتوں کو دیکھ کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس جماعت میں زندگی کا مادہ پایا جاتا ہے بلکہ اصل زندگی تو الگ رہی جو قومیں صداقت سے دور ہیں اور جن میں صرف ایک مصنوعی زندگی پائی جاتی ہے وہ بھی بعض دفعہ بڑی بڑی قربانی کرتی نظر آتی ہیں۔
    پچھلے دو سال میں دو دفعہ سرآغاخان کراچی آئے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ گلگت سے جو ہزاروں میل پر ہے آغاخانی مذہب کے لوگ چل کر کراچی پہنچے اور آغاخان سے ملے۔ اُن میں ایسے طبقہ کے لوگ بھی تھے جو دنیوی لحاظ سے بہت بڑے سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ دو تو نواب ہی تھے جو گلگت سے کراچی آئے۔ اِس دفعہ بھی اُن کے آنے پر میں نے دیکھا ہے کہ اخباروں میں لکھا تھا کہ سینکڑوں میل سے لوگ ان سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔ اب آغاخانیوں میں جان تو نہیں۔ ایک انسان کو خدا ماننے والوں یا دنیا میں اسے خدائی کا قائم مقام ماننے والوں میں حقیقی زندگی کہاں ہو سکتی ہے۔ مگر جو سیاسی زندگی ہے وہ ان میں پائی جاتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ہمارے جتھے کی تقویت کا ذریعہ یہی ہے کہ ہم ایک شخص کے پیچھے چلیں۔ اور وہ بعض دفعہ ایسا مظاہرہ بھی کرتے ہیں جس سے وہ دنیا پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک ہاتھ پر جمع ہیں گو وہ ہاتھ تسلّی ہی کیوں نہ ہو اور گو وہ ہاتھ ایسے غلط عقیدہ کے ساتھ وابستہ ہی کیوں نہ ہو جسے انسان کی فطرت کبھی مان نہیں سکتی۔ تو زندگی کے آثار میں سے جماعتی احساس بھی ہوتا ہے۔ اور جماعتی احساس کا ثبوت جیسا کہ اسلام نے بتایا ہے ہمیشہ ایک مرکز کے ساتھ تعلق رکھنے کے ذریعہ ملتا ہے۔ جب تک مرکز کے ذریعہ وحدت قائم رہتی ہے ترقی ہوتی چلی جاتی ہے اور جب مرکز سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے تو قومیں گرنے لگ جاتی ہیں۔ جیسے پہاڑوں پر چڑھائی مشکل ہوتی ہے لیکن جب لوگ کسی پہاڑ پر چڑھنا چاہیں تو اپنی مدد کے لیے کھڈسٹک پکڑ لیتے ہیں۔ پھر اَور مشکل پیش آئے تو درختوں کی شاخیں پکڑ لیتے ہیں۔ اَور زیادہ خطرناک راستے آ جائیں تووہاں واقف کار لوگ میخیں گاڑ کر اُن کے ساتھ رسّے باندھ دیتے ہیں تا کہ اُن کا سہارا لے کر لوگ اوپر چڑھ سکیں یا جہاں ایسی سیڑھیاں آ جائیں جن سے گرنے کا خطرہ ہو وہاں میخوں کے ساتھ لوگوں نے رسّے باندھے ہوئے ہوتے ہیں جن کے سہارے لوگ اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ اِسی طرح مرکز کمزوروں اور گرنے والوں کے لیے ایک سہارا ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو اپنے اندر کمزوری محسوس کرتے ہیں مرکز کے رسّوں کو پکڑ کر مضبوطی حاصل کر لیتے ہیں۔ اِسی لیے قرآن کریم نے خلافت کو رحمت قرار دیا ہے اور مومنوں کے ساتھ اُس نے خلافت کا وعدہ کیا ہے1 مگر ساتھ ہی فرمایا ہے کہ یہ انعام ہے۔ اور انعام کے وعدے اور حکم میں فرق ہوتا ہے۔ حکم بہرحال چلتا چلا جاتا ہے اور انعام صرف اُس وقت تک رہتا ہے جب تک انسان اُس کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ جب مستحق نہیں رہتا تو انعام اُس سے واپس لے لیا جاتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چار خلافتیں ہوئیں مگر عیسائیوں کی خلافت آج تک قائم ہے۔ اسلامی خلافت کا زمانہ صرف تیس سال تک رہا اور عیسائیوں کی خلافت پر انیس سو سال گزر چکے ہیں اور وہ ابھی تک قائم ہے۔ بیشک جہاں تک روحانیت کا سوال ہے ان کی خلافت کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ جب محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم آ گئے اور انہوں نے آپ کو نہیں مانا تو وہ ایمان سے خارجہو گئے اور کافروں میں شامل ہو گئے۔ اسی طرح جہاں تک نیکی کا سوال ہے وہ بھی ان میں نہیں پائی جاتی۔ اگر ان میں نیکی ہوتی تو لُوٹ کھسوٹ اور کینہ اور کپٹ اور ناجائز تصرّف اور دباؤ وغیرہ کی عادتیں ان میں کیوں پائی جاتیں۔ لیکن جہاں تک عیسائیت کو قائم رکھنے کا سوال ہے یہ خلافت اس کو قائم رکھنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوئی ہے اور اِسی وجہ سے آج بھی عیسائی کروڑوں کروڑ روپیہ عیسائیت کی اشاعت کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔ بظاہر ان کا مرکز اپنی طاقت کو کھو چکا ہے۔ چنانچہ پہلے بادشاہت بھی پوپ کے ساتھ ہوا کرتی تھی مگر آہستہ آہستہ بادشاہتیں الگ ہو گئیں اور اب محض چند میل کا علاقہ ادب کے طور پر پوپ کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ اس علاقہ میں وہ اپنے آپ کو حاکم سمجھ لے۔ پانچ دس میل لمبا اور۔پانچ سات میل چوڑا علاقہ غالباً ہے جس میں پوپ کی حکومت ہے۔ بلکہ اسے حکومت بھی نہیں کہنا چاہیے دفاتر کا نظام اُس جگہ قائم ہوتا ہے اور جہاں سارے اپنے ہی کارکن ہوں وہاں حکومت کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ بہرحال صرف چند میل کا علاقہ ہے جو عیسائیوں نے محض پوپ کے ادب کے لیے آجکل چھوڑ رکھا ہے مگر اُس کی طاقت کا یہ حال ہے کہ اب بھی عیسائی دنیا پوپ کی ناراضگی کو برداشت نہیں کر۔سکتی۔
    دنیا میں کمیونزم ترقی کر رہا ہے، عیسائی دنیا گھبرا رہی ہے اور بڑے بڑے یورپین مدبّر کمیونزم کی ترقی سے کانپ رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کا مقابلہ کریں۔ اور وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ مذاہب کا اتحاد ہی وہ اکیلی چیز ہے جس سے کمیونزم کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کی سیاستیں بالکل کھوکھلی ہو چکی ہیں، ان کی حکومتیں بالکل بیکار ہو چکی ہیں۔اس لیے کہ حکومتوں کا زور تلواروں اور بندوقوں پر ہوتا ہے اور کمیونزم لوگوں کے دلوں میں گُھس رہی ہے۔ اور چاہے کتنی بڑی توپیں ہوں جب کوئی بات دل پر اثر کر جائے تو توپیں اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ امریکہ کے پاس اِس وقت کتنی بڑی بڑی توپیں ہیں لیکن فرض کرو امریکہ کا پریذیڈنٹ کمیونزم کا لٹریچر پڑھتا ہے اور وہ کمیونزم کا شکار ہو جاتا ہے تو توپیں کیا کر سکتی ہیں۔ پس کمیونزم دلوں پر حملہ کر رہی ہے اور حکومتیں دلوں پر حملہ نہیں کر سکتیں۔ صرف مذہب ہی ہے جو انسان کے دل پر اثر کرتا ہے اور اس وجہ سے مذہب ہی کمیونزم کا صحیح طور پر مقابلہ کر سکتا ہے۔ چنانچہ اب دنیا میں عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ کمیونزم کا اگر مقابلہ کیا جا سکتا ہے تو مذہب ہی کے ذریعہ سے۔ مگر عیسائیت اب اتنی بدنام ہو چکی ہے کہ اگر وہ ایشیا کی خیرخواہی کے لیے بھی کوئی بات کہے تو لوگ اسے کہتے ہیں اچھا! اب ہماری خیرخواہی کا جبہ پہن کر تم ہمیں دھوکا دینے لگے ہو؟ ہم تمہارے اس فریب میں آنے کے لیے تیار نہیں۔ چونکہ پادری کا جُبہ عیسائی سیاست کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہا ہے اور جہاں انگریز کی توپ گئی وہاں پادری کا جُبہ بھی جا پہنچا اس لیے اب خواہ وہ کسی اَور نیت سے اُن کے سامنے آئیں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک دھوکا اور فریب کا جُبہ ہے اور اپنی سیاست قائم کرنے کے لیے ہماری خیرخواہی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اور پھر جن ملکوں کے متعلق یہ خطرہ ہے کہ وہ کہیں کمیونزم کے اثر کو قبول نہ کر لیں اُن میں عیسائی کم ہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگ بہت زیادہ ہیں۔ ان ممالک میں تو یوں بھی عیسائی پادریوں کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اگر ہندوؤں میں کھڑے ہو کر کوئی پادری یہ کہے کہ انجیل میں یوں لکھا ہے یا تورات میں یوں آتا ہے تو لوگوں پر اس کا کیا اثر ہو گا؟ وہ یہی کہیں گے کہ ہم تو انجیل اور تورات کو مانتے ہی نہیں ہمارے سامنے ان باتوں کے بیان کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ ہندوؤں میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جو ہندو مذہب کے لٹریچر اور ویدوں کے حوالہ جات کوپیش کر کے بات کرے۔ اور مسلمانوں میں وہی شخص مقبول ہو سکتا ہے جو قرآن کریم اور حدیث سے مسائل بیان کرے۔ اور بدھوں میں وہی شخص مقبول ہو سکتا ہے جو بدھ مذہب کے لٹریچر سے اپنی باتیں نکال کر پیش کرے۔
    پس کمیونزم کے مقابلہ کی صرف یہی صورت ہو سکتی ہے کہ عیسائی بھی، ہندو بھی اور مسلمان بھی اور بدھ بھی اور زرتشتی بھی سب کے سب جمع ہو جائیں اور مل کر کمیونزم کا مقابلہ کریں۔ اگر تمام مذاہب کے ماننے والے جمع ہو جائیں اور اپنے اپنے عقائد کے مطابق اپنے ہم خیال لوگوں کو مخاطب کریں تویقیناً ہندو بھی سنے گا اور عیسائی بھی سنے گا اور مسلمان بھی سنے گا اور بدھ بھی سُنے گا کیونکہ وہاں سیاست کا کوئی سوال نہیں ہو گا۔ وہاں ہر شخص یہی کہے گا کہ ہمارا مذہب ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے اور کمیونزم اس کے خلاف ہے۔
    دوسری طرف اس کے نتیجہ میں کمیونزم کو بھی اپنے حملہ کا رُخ بدلنا پڑے گا۔ اب تو کمیونزم یہ کہتی ہے کہ ہم صرف سیاست کے خلاف ہیں۔ وہ ہے تو مذہب کے خلاف بھی مگر وہ اس کا ذکر نہیں کرتی۔ سمجھتی ہے کہ جب حکومت ہمارے ہاتھ میں آ جائے گی تو مذہب کو خودبخود مٹا ڈالیں گے فی۔الحال حکومتوں کو توڑنا ہمارا کام ہے۔ مثلاً وہ سمجھتے ہیں کہ سرِدست ہم نے خدانخواستہ پاکستان کی حکومت کو توڑنا ہے، ہم نے ہندوستان کی حکومت کو توڑنا ہے۔ ہم نے افغانستان کی حکومت کو توڑنا ہے، ہم نے یورپین حکومتوں کو توڑنا ہے، چین کی حکومت کو تو وہ توڑ ہی چکے ہیں۔ جب تمام حکومتیں ٹوٹ گئیں تو مذہب کے لیے کوئی جگہ نہیں رہے گی کیونکہ جہاں اُن کا غلبہ ہوا وہاں نہ کوئی مذہب کا نام لے سکے گا نہ اُس پر عمل کر سکے گا اور نہ اُس کی اشاعت کے لیے کوئی کوشش کر سکے گا۔ یہ سکیم ہے جس کے ماتحت کمیونزم اپنے کام کو وسیع کرتا چلا جا رہا ہے۔ مگر مذہبی لوگ خاموش بیٹھے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اس سے کیا واسطہ، کمیونسٹ تو صرف سیاست کے خلاف ہیں۔ اُن کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص دیکھے کہ ایک دشمن کسی بچے کو مار رہا ہے تو وہ اس خیال سے خاموش بیٹھا رہے کہ یہ کسی اَور کا بچہ ہے مگرجب وہ مر جائے تب اُسے پتالگے کہ یہ تو میرا ہی بچہ تھا۔ وہ بھی اِس وقت بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں اِس جھگڑے سے کیا واسطہ، یہ تو ایک سیاسی جھگڑا ہے۔ لیکن اگر سارے کے سارے لوگ کھڑے ہو جائیں اور وہ کہیں کہ یہ دہریت کی تعلیم دینے والے، یہ انبیاء کو جھوٹا اور فریبی کہنے والے، یہ الہام اور وحی کا انکار کرنے والے، یہ الہامی کتابوں کو جھوٹا کہنے والے، یہ خدا اور اُس کے رسولوں کا نام دنیا سے مِٹانے والے ہمارے دشمن ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم سب مل کر اس کا مقابلہ کریں تو لازماً کمیونزم کو بھی مذہب کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور جب وہ مذہب کا مقابلہ کرے گی تو وہ لوگ بھی جو اپنے آپ کو پہلے بے تعلق سمجھا کرتے تھے اس لڑائی میں شامل ہو جائیں گے اور یہ لڑائی تلوار سے ہٹ کر دلیل کی طرف آ جائے گی اور اس میں کمیونزم کا شکست کھا جانا ایک قطعی اور یقینی چیز ہے۔ یہ ایک اتنی موٹی بات ہے کہ یورپ کے تعلیم یافتہ تو الگ رہے ہندوستان اور افغانستان کے جاہل اور غیرتعلیم یافتہ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ مقابلہ کا اصل طریق یہی ہے مگر وہ کیوں ایسا نہیں کرتے؟
    ابھی پچھلے دنوں اُن کے بعض نمائندے کراچی آئے جن کے سامنے ہمارے بعض دوستوں نے یہی بات پیش کی اور اُن سے کہا کہ کیا آپ اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ آپ لوگ سیاسی لڑائی کر رہے ہیں حالانکہ سیاسی لڑائی میں آپ کا پہلو کمزور ہے کمیونزم کا اصل حملہ مذہب پر ہے۔ باقی سب درمیانی راستے ہیں جو انہوں نے اپنے لیے بنائے ہوئے ہیں۔ اور مذہب کے خلاف اُن کا حملہ ویسا ہی عیسائیت پر ہے جیسے اسلام پر ہے یا جیسے ہندو مذہب پر ہے یا جیسے بدھ ازم پر ہے یا جیسے دنیا کے اَور مذاہب پر ہے۔ اور جب حالت یہ ہے تو آپ تمام مذاہب والوں سے یہ اپیل کیوں نہیں کرتے کہ مسلمان بھی اور ہندو بھی اور بدھ بھی اور عیسائی بھی سب مل کر کمیونزم کا مقابلہ کریں۔ یو۔این۔او کے ان نمائندوں نے جو امریکن تھے اور لاہور آئے ہوئے تھے ہماری جماعت کے دوستوں سے کہا کہ ہم یہ خوب سمجھتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ کمیونزم سے مقابلہ کا سہل طریق یہی ہے کہ تمام مذاہب کو متحد کیا جائے مگر مصیبت یہ ہے کہ اِس طرح پوپ ناراض ہو جاتا ہے اور ہم اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
    یہ مثال میں نے اس لیے دی ہے کہ باوجود اس کے کہ عیسائیت کی خلافت اب محض ایک ڈھانچہ رہ گئی ہے اور وہ اپنی پہلی طاقت کو بالکل کھو چکی ہے پھر بھی عیسائیوں پر اس کا اتنا اثر ہے کہ۔وہ۔پوپ کی ناراضگی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ اپنی ہلاکت دیکھ رہے ہیں، وہ اپنی تباہی دیکھ رہے ہیں، وہ اپنی بربادی دیکھ رہے ہیں مگر یہ جرأت نہیں کر سکتے کہ پوپ کی رضامندی کے خلاف کوئی قدم اٹھائیں۔
    تو دیکھو ایک جتھے کا نتیجہ کتنا عظیم الشان ہوتا ہے اور اس میں کتنی بڑی طاقت پائی جاتی ہے۔ اسلام کا جتھا تو ایک زندہ جتھا ہے اور اسلام جس نظام کو قائم کرتا ہے اس کی بڑی غرض یہ ہے کہ روحانیت کو قائم کیا جائے، اخلاق کو درست کیا جائے اور ذاتی منافع پر قومی منافع کو ترجیح دی جائے وہ 2کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ اس لیے جتھا بنانے کی تعلیم نہیں دیتا کہ ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں بلکہ وہ اس لیے جتھا بندی کی تعلیم دیتا ہے تاکہ تمام انسان مل کر نیکی اور تقوٰی پر قائم رہیں۔ اور یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے اِس زمانہ میں مسلمانوں کو احمدیت کے ذریعہ دی ہے۔ اوراُس نے پھر ایک خلافت کا سلسلہ قائم کیا ہے جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کا ایک ایسا جتھا بنانا چاہتا ہے جو مل کر کفر کا مقابلہ کریں۔یہ چیز بظاہر بہت حقیر نظر آتی ہے، بظاہر بہت کمزور نظر آتی ہے اور دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم جب چاہیں احمدیت کو کچل سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے پردہ پر جو ساٹھ کروڑ کے قریب مسلمان ہیں اُن کو وہ نعمت حاصل نہیں جو ہماری چھوٹی سی جماعت کو حاصل ہے اور وہ ان تمام فوائد سے محروم ہیں جو اس چھوٹی سی جماعت کو خلافت کی وجہ سے حاصل ہو رہے ہیں۔ مثلاً تبلیغ کو ہی لے لو۔ یہی چیز ہے جسے ہم مخالف کے سامنے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو! ہم ساری دنیا میں تبلیغِ۔اسلام کر رہے ہیں مگر تم نے کبھی غور کیا کہ یہ تبلیغ کس طرح ہو رہی ہے؟ یہ تبلیغ محض خلافت کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ ایک مرکز ہے جس کے ماتحت وہ تمام لوگ جن کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اکٹھے ہو گئے ہیں اور اجتماعی طور پر اسلام کے غلبہ اور اس کے احیاء کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ وہ بظاہر چند افراد نظر آتے ہیں مگر اجتماعی طور پر ان میں ایسی قوت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ بڑے بڑے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ جس طرح آسمان سے پانی قطروں کی صورت میں گرتا ہے پھر وہی قطرے دھاریں بن جاتے ہیں اور وہی دھاریں ایک بہنے والے دریا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اِسی طرح ہمیں زیادہ سے زیادہ طاقت اور شوکت حاصل ہوتی چلی جاتی ہے ورنہ ہمارے احمدی جہاں تک ہمیں معلوم ہے پاکستان اور ہندوستان میں اڑھائی تین لاکھ سے زیادہ نہیں۔ اور مسلمان ساری دنیا میں ساٹھ کروڑ ہیں۔ ساٹھ کروڑ اور اڑھائی تین لاکھ کی آپس میں کوئی بھی تو نسبت نہیں۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ہم سے دوہزار چارسَو گُنے زیادہ ہیں۔ اور پھر یہ زیادتی تو تعدادِ افراد کے لحاظ سے ہے مالی طاقت اور وسعت کو دیکھا جائے تو وہ ہم سے کئی گُنا بڑھ کر ہیں۔ ہم ایک غریب جماعت ہیں اور وہ اپنے ساتھ بادشاہتیں رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو درحقیقت وہ ہم سے دس گُنا بڑھ کر ہیں۔ لیکن اگر کم سے کم ان کی طاقت کو ہم دوگُنا بھی فرض کر لیں تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ غیراحمدیوں کی طاقت ہم سے پانچ ہزار گُنا زیادہ ہے یعنی ہماری جماعت اگر تبلیغی مشنوں پر پانچ لاکھ روپیہ خرچ کرتی ہے تو مسلمانوں کو اڑھائی ارب روپیہ خرچ کرنا چاہیے۔ گویا مسلمانوں کی ہمارے مقابلہ میں اگر محض دُگنی طاقت ہو جو کسی صورت میں بھی درست نہیں ان کا مال اور ان کی دولت یقیناً بہت زیادہ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بھی بعض ایسے مسلمان تاجر موجود ہیں جو اکیلے اکیلے ہماری جماعت کی تمام جائیداد خرید سکتے ہیں۔ پس دراصل تو ان کی مالی طاقت فرد۔فرد کی نسبت سے ہم سے کئی گُنا زیادہ ہے۔ لیکن اگر دُگنی بھی فرض کی جائے تب بھی اڑھائی ارب روپیہ سالانہ انہیں تبلیغ کے لیے خرچ کرنا چاہیے لیکن وہ اڑھائی لاکھ بھی خرچ نہیں کرتے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلافت کی نعمت عطا کی ہے جس سے وہ لوگ محروم ہیں۔ اِس خلافت نے تھوڑے سے احمدیوں کو بھی جمع کر کے انہیں ایسی طاقت بخش دی ہے جو منفردانہ طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔
    یوں تو ہر جماعت میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور ایسے طاقتور بھی ہوتے ہیں جو اکیلے تمام بوجھ کو اُٹھا لیں مگر تمام افراد کو ایک رسّی سے باندھ دینا محض مرکز کے ذریعہ ہوتا ہے۔ مرکز کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ کمزور کو گرنے نہیں دیتا اور طاقتور کو اتنا آگے نہیں نکلنے دیتا کہ دوسرے لوگ اُس کے مقابلہ میں حقیر ہو جائیں۔ اگر مرکز نہیں ہو گا تو کمزور گرے گا۔ اور اگر مرکز نہیں ہو گا تو طاقتور اتنا آگے نکل جائے گا کہ باقی لوگ سمجھیں گے یہ آسمان پر ہے اور ہم زمین پر ہیں، ہمارا اور اس کا آپس میں واسطہ ہی کیا ہے۔ لیکن نظامِ اسلامی میں آکر وہ ایسے برابر ہو جاتے ہیں کہ بعض مواقع پر امیر اور غریب میں کوئی فرق ہی نہیں رہتا۔ مثلاً ہماری مجلس شورٰی ہے۔ اِس میں ہماری جماعت کا چوٹی سے چوٹی کا عالم بھی ہوتا ہے، بڑی سے بڑی دنیوی پوزیشن کا آدمی بھی ہوتا ہے اور ایک غریب سے غریب آدمی بھی ہوتا ہے جس کے بدن پر پورے کپڑے بھی نہیں ہوتے۔ اور ہم نے بسااوقات دیکھا ہے کہ بڑی بڑی علمیت رکھنے والے اور دنیوی لحاظ سے بڑی حیثیت رکھنے والے میدان ہار جاتے ہیں اور ایک غریب آدمی معقول باتوں کی وجہ سے میدان جیت لیتا ہے۔
    غرض جماعت کی باگیں چونکہ ایک مرکز کے ہاتھ میں ہیں اس لیے کمزور کو کھینچ کر آگے کر دیا جاتا ہے اور طاقتور کو کھینچ کر پیچھے کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ چلے اور طاقتور اور کمزور میں غیرمعمولی تفاوت پیدا نہ ہو جائے۔ یوں بھی اسلام نے جماعتی حیثیت کے برقرار رکھنے اور مل کر کام کرنے کو اتنی اہمیت دی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نمازباجماعت کا دس گُنے زیادہ ثواب ہوتا ہے۔3 اب سوال یہ ہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے سے کیوں زیادہ ثواب ملتا ہے؟ کیا مسجد کی اینٹوں کی وجہ سے ثواب ملتا ہے؟ مسجد کی اینٹوں کی وجہ سے ثواب نہیں ملتا بلکہ اس لیے ملتا ہے کہ وہاں مومن اکٹھے ہوتے ہیں اور اجتماع قومی طاقت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ گویا مسجد بھی ایک خلیفہ ہے جو مومنوں کو اکٹھا رکھتی ہے۔ پس جو مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گیا وہ درحقیقت ایک چھوٹے خلیفہ کے مظہر کے پاس گیا اور اس کی نماز دس گُنا زیادہ ثواب لے گئی۔ ان مساجد سے زیادہ خانہ کعبہ کی مسجد میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس طرح مدینہ منورہ کی مسجد نبوی لوگوں کو اکٹھا کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور چونکہ خانہ کعبہ جسے حضرت ابراہیم علیہ۔السلام نے بنایا اور مسجد نبوی جس میں رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم نے نمازیں پڑھیں تمام دنیا کے لوگوں کو جمع کرنے کا ایک ذریعہ ہیں اس لیے ان میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نمازوں سے بھی زیادہ ہے۔ ورنہ خانہ کعبہ کو کوئی سونے کی اینٹیں نہیں لگی ہوئیں اور نہ مدینہ منورہ کی مسجد میں ہیرے اور جواہرات لگے ہوئے ہیں۔ ان کی اینٹیں ویسی ہی ہیں جیسے تمام مساجد کی ہوتی ہیں۔ پھر کیا چیز ہے جس کی وجہ سے رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم نے ان مساجد میں نماز پڑھنا زیادہ ثواب کا موجب قرار دیا ہے؟ وہ چیز یہی ہے کہ یہ مساجد خدا اور رسول کی محبت کی وجہ سے دنیا کے لوگوں کو اکٹھا کرتی ہیں۔ اور چونکہ یہ باعث ہیں لوگوں کو اکٹھا کرنے کا اور اکٹھا ہونا ایک برکت والی چیز ہے اور اکٹھے مل کر کام کرنے سے بہت بڑے فوائد حاصل ہوتے ہیں اس لیے ان مساجد میں نماز پڑھنا بھی زیادہ ثواب کا موجب قرار دے دیا گیا۔ بہرحال اسلام کا باجماعت نمازوں کے لیے لوگوں کو مسجد میں جانے کی تلقین کرنا یا ایک امام کے پیچھے ان کو کھڑا ہونے اور اس کی اقتدا کرنے کی نصیحت کرنا یا مسجد نبوی اور خانہ کعبہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کو بہت زیادہ قابلِ ثواب قرار دینا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ مرکز جو قوم کو اکٹھا رکھتے ہیں، جو افراد کو ایک جتھا کی صورت میں بدل دیتے ہیں اُن کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنی برکت کو وابستہ کر دیتا ہے۔ اگر وہ لوگوں کو اکٹھا کرنے کا کوئی ذریعہ نہ بنائے تو اِس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اکٹھے نہ ہوں گے اور جب وہ اکٹھے نہ ہوں گے تو اُن کی طاقت ٹوٹ جائے گی اور وہ زندگی جو جتھا کی وجہ سے کسی قوم کو حاصل ہو سکتی ہے وہ ان کو حاصل نہیں ہو گی۔
    پھر اگر مساجد کے پتھر اور چونا اور اینٹوں کو محض اِس وجہ سے کہ وہ لوگوں کو اکٹھا کرنے کا ایک ذریعہ ہیں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت دے دی ہے کہ ان میں نماز پڑھنے کو اس نے کئی گُنا زیادہ قابلِ۔ثواب قرار دیا ہے تو ظاہر ہے کہ اگر کوئی انسانی۔مرکز ہو گا تو وہ نہایت ہی برکت کا موجب ہو گا۔ یہ سیدھی بات ہے کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کے ذریعہ جتنا آدمی اکٹھا ہوا ہے اُتنا آدمی خانہ کعبہ یا مدینہ منورہ کی مسجد کے ذریعہ اکٹھا نہیں ہوا۔ پھر مسجد محض لوگوں کو جمع کرتی ہے اور انسان ان کو جمع کرنے کے بعد ان سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے۔ اگر لوگوں کو صرف جمع کرنے والے مرکز اتنے بابرکت ہوتے ہیں تو تم سمجھ لو کہ وہ مرکز جو لوگوں کو جمع کر کے اُن سے کام بھی لے وہ کتنا زیادہ بابرکت ہو گا۔
    پس مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جماعت کے دوست یہاں جمعہ کے لیے کثرت کے ساتھ آنے شروع ہو گئے ہیں۔ پہلے لوگ آیا کرتے تھے مگر ایک دوسال چونکہ میں بیمار رہا اس لیے میں نے یہ اعلان کروا دیا تھا کہ بیماری کی وجہ سے میں دوستوں سے زیادہ ملاقاتیں نہیں کر سکتا۔ اس وجہ سے میں نے دیکھا ہے کہ پچھلے دو سالوں میں لوگ کم آتے رہے ہیں غالباً انہوں نے اس کو ایک مستقل اعلان سمجھ لیا تھا۔ حالانکہ اگر اس کی ضرورت رہتی تو دوبارہ اعلان کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال میرا وہ اعلان صرف بیماری کے دنوں کے لیے تھا اس لیے دوستوں کو چاہیے کہ وہ میرے دورہ کے موقع پر یہاں کثرت کے ساتھ آیا کریں۔
    یوں بھی ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں مل کر مختلف مسائل پر تبادلہ خیالات کیا کریں اور دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھا کریں۔ جب لو گ آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے کے حالات دریافت کرتے ہیں تو انہیں بسااوقات اپنے کسی کمزور یا حاجت مند بھائی کی مدد کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں اپنے بھائی کی مدد کرنے کی طاقت ہوتی ہے مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون مستحق ہے اور وہ کس قسم کی مدد کا محتاج ہے اس لیے وہ ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ اگر وہ ایک دوسرے سے ملیں تو انہیں معلوم ہوتا رہے کہ فلاں شخص مشکلات میں ہے، فلاں بیمار ہے، فلاں حاجت مند ہے اور ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے۔ اس علم کے نتیجہ میں خداتعالیٰ کئی لوگوں کے دلوں میں نیکی کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ دوسروں کی تکلیف کو دور کرنے کا موجب بن جاتے ہیں۔ دنیا میں تمام نیک کام کوئی ایک شخص سرانجام نہیں دیا کرتا۔ کسی کے دل میں خداتعالیٰ کوئی بات ڈال دیتا ہے اور کسی کے دل میں کوئی۔ میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب چندوں کی تحریک ہوتی ہے تو کسی چندہ میں کوئی آگے نکل جاتا ہے اور کسی میں کوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ کسی کے دل میں حصہ لینے کی تحریک پیدا کر دیتا ہے اور کسی وقت کسی کے دل میں۔ اگر آپس میں لوگ ملتے رہیں اور ایک دوسرے کے حالات سے انہیں واقفیت ہوتی رہے اور مساکین اور یتامٰی اور غرباء کے حالات انہیں معلوم ہوتے رہیں تو اللہ تعالیٰ کبھی کسی کو ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی توفیق بخش دے گا اور کبھی کسی کو۔
    میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ واقعات جمع کیے جائیں کہ سلسلہ پر کون کون سے نازک مواقع آئے اور ان نازک موقعوں پر کس کس شخص کو نمایاں طور پر خدمت سرانجام دینے اور نیکی میں حصہ لینے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو یہ ایک نہایت دلچسپ کتاب بن سکتی ہے اور لوگوں کو معلوم ہو سکتا ہے کہ سینکڑوں ایسے لوگ بعض مواقع پر نمایاں کام کر گئے جبکہ دوسرے موقعوں پر وہ بہت پیچھے رہے تھے۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ چونکہ خداتعالیٰ اپنے تمام بندوں کو ثواب میں شریک کرنا چاہتا ہے اس لیے کبھی کسی کو توفیق مل جاتی ہے اور کبھی کسی کو۔
    پس اگر جماعت کے دوست آپس میں ملتے رہیں تو انہیں ثواب کے مواقع بھی مل سکتے ہیں اور ایک دوسرے کی ہمدردی اور مواسات کا راستہ بھی ان کے لیے کھل سکتا ہے اور پھر تبادلہ خیالات کے نتیجہ میں ان کا علم بھی بڑھ سکتا ہے اور تبلیغ کی مشکلات کا بھی انہیں احساس ہو سکتا ہے۔ مثلاً یہی بات دیکھ لو یہ سندھ کا صوبہ ہے جس میں اس وقت ہم لوگ موجود ہیں اور آپ لوگ مختلف مقامات سے یہاں آکر جمع ہوئے ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو یہاں صرف ایک فیصدی سندھی نکلیں گے۔ باقی سب لوگ وہ ہیں جو پنجاب سے آکر آباد ہوئے ہیں۔ اب یہ ہے تو سندھ اور اس لحاظ سے آنے والوں کی زیادہ تعداد سندھیوں کی ہی ہونی چاہیے مگر جمع ہیں پنجابی۔ یہ بات بتاتی ہے کہ یہاں کی جماعتوں نے کبھی اپنے حالات پر غور نہیں کیا۔ زندہ قومیں وہ ہوتی ہیں جو ہر بات پر غور کیا کرتی ہیں۔ قرآن۔کریم میں اللہ۔تعالیٰ نے یہ کافر کی علامت بیان فرمائی ہے کہ وہ خداتعالیٰ کے نشانات پر سے گزر جاتا ہے اور ان پر کبھی غور نہیں کرتا۔4 مومن وہ ہوتا ہے جو ہر بات کو دیکھتا اور پھر سوچتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ مثلاً وہ کسی کو بڑی سی پگڑی باندھے دیکھتا ہے یا کسی خاص طرز پر اسے پگڑی باندھے دیکھتا ہے تو وہ غور کرتا ہے کہ اس نے اتنی بڑی پگڑی کیوں باندھی ہوئی ہے یا فلاں طرز پر اس نے پگڑی کیوں باندھ رکھی ہے اور اس سے وہ کئی قسم کے نتائج اخذ کرتا ہے۔
    اگر غور کرنے کی عادت ڈالی جائے تو بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بڑے بڑے اہم نتائج پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کسی ملک میں تم جاؤ اور دیکھو کہ لوگوں نے بڑی بڑی پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں اور تم سوچو کہ یہ لوگ اتنی بڑی پگڑیاں کیوں باندھتے ہیں تو تمہیں معلوم ہو گا کہ وہاں روئی زیادہ ہے اور کپڑا زیادہ تیار ہوتا ہے۔ گویا غور کرنے کے نتیجہ میں ایک نکتہ تمہیں حاصل ہو جائے گا۔ اسی طرح تم ایک اَور علاقہ میں جاتے ہو اور دیکھتے ہو کہ لوگوں نے چھوٹی چھوٹی دو۔دو۔گز کی پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں اور تم سوچو کہ ان کی اتنی چھوٹی پگڑیاں کیوں ہیں تو تمہیں معلوم ہو گا کہ وہ خانہ بدوش لوگ ہیں کھیتی۔باڑی نہیں کرتے، نہ کپڑا بُنتے ہیں۔ اور چونکہ ان کے ملک میں نہ کپاس پیدا ہوتی ہے، نہ انہیں زیادہ کپڑا میسر آتا ہے اس لیے انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہم دو۔دو۔گز کی پگڑیاں باندھیں گے تاکہ کپڑا بھی زیادہ خرچ نہ ہو اور ہمارا کام بھی چل جائے۔
    یہ میں نے ایک معمولی سی مثال دی ہے۔ اس پر قیاس کر کے تم سمجھ سکتے ہو کہ سوچنا اور غور کرنا کتنی اہم چیز ہے۔ پشاور کی طرف چلے جاؤ تو وہاں پگڑیوں سے بھی زیادہ کلاہ کا رواج ہے۔ اگر تم اس پر غور کرو کہ وہاں کلاہ کا رواج کیوں زیادہ ہے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ اُس علاقہ میں بارشیں زیادہ ہو تی ہیں اور گرد۔و۔غبار کم اُڑتا ہے اور سردی سخت پڑتی ہے۔ اگر کلاہ پر پگڑی باندھی ہوئی ہو تو دس دس پندہ پندرہ دن تک پگڑی چلی جاتی اور اسے باربار باندھنا نہیں پڑتا اور کلاہ سر کو سردی سے بچاتا ہے۔ لیکن اگر کلاہ نہ ہو اور علاقہ بارش والا ہو تو پگڑی جلد خراب ہو جائے گی اور اسے باربار باندھنا پڑے گا اور سر کو سردی لگے گی۔
    غرض سوچنے اور غور کرنے سے انسان نئی نئی چیزیں نکال لیتا ہے۔ لیکن اگر سوچنے کی عادت ترک کر دی جائے تو کئی اہم نتائج سے انسان محروم ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہی بات دیکھ لو کہ علاقہ سندھ کا ہے اور اکٹھے پنجابی ہوئے ہیں اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے اس صوبہ میں قطعاً کوئی تبلیغ نہیں کی۔ پنجابی احمدیوں کی زیادتی سے یہ ملک فتح نہیں ہو سکتا۔ یہ ملک اُسی وقت فتح ہو سکتا ہے جب سندھیوں کی اکثریت احمدیت میں شامل ہو گی۔ اگر ہم سندھیوں کو اپنے اندر شامل نہیں کرتے اور پنجابی اس صوبہ میں پندرہ یا بیس فیصدی بھی آ جاتے ہیں تب بھی ہماری فتح نہیں کہلا سکتی۔ ہماری فتح تبھی کہلائے گی جب اسّی فیصدی سندھیوں میں سے ایک غالب اکثریت کو ہم اپنے ساتھ شامل کر لیں گے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو یہ یقینی بات ہے کہ جن لوگوں کا یہ ملک ہے انہیں کی بات یہاں چلے گی۔ اگر کچھ عرصہ کے لیے پنجابیوں کو غلبہ بھی ملے تو وہ عارضی غلبہ ہو گا۔ جیسے انگریز آیا اور اس نے ہندوستان پر حکومت کی مگر اَب وہ کہیں نظر نہیں آتا۔ جس طرح تم پہلے انگریز کو دیکھ کر ڈرا کرتے تھے اُسی طرح اب وہ تمہیں دیکھ کر ڈرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ حکومت تمہاری ہے۔ بلکہ ابھی تو کچھ نہ کچھ انگریزوں کا لحاظ کیا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کو یہ خیال آ جاتا ہے کہ یہ انگریز ہمارے حاکم رہ چکے ہیں ہمیں ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ جب نئی نسل پیدا ہو گی اور وہ لوگ جو انگریز کو حکمران دیکھ چکے ہیں فوت ہو جائیں گے تو انگریز کی حیثیت ایسی گر جائے گی کہ جس طرح شروع زمانہ میں انگریز ایک ہندوستانی کو ٹھڈّے مارتا تھا اور وہ خاموش ہو جاتا تھا اُسی طرح ایک پاکستانی انگریز کو ٹھڈّے مارے گا اور وہ آگے سے یہی کہے گا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے معاف کیا جائے کیونکہ حکومت تمہاری ہے اور اس کی حیثیت ایک غیرملکی کی ہے۔ اِسی طرح تم کتنے بھی بڑھ جاؤ پنجابی بہرحال پنجابی ہیں وہ سندھی نہیں کہلا سکتے۔ اور یہ ملک سندھ کا ہے اس وجہ سے حکومت کا حق بھی سندھ کے لوگوں کو ہی ہے۔ اگر پنجابی یہاں مربعے زیادہ خرید لیں یا تجارتوں پر قبضہ کر لیں یا مال و دولت میں ترقی کر جائیں تب بھی ان کا رتبہ محض عارضی ہو گا اور جب بھی سندھی زور میں آئیں گے انہیں باہر نکال دیں گے۔
    پس جب تک تم سندھیوں میں احمدیت کی تبلیغ نہیں کرتے یا جب تک تم ان کے ساتھ اس طرح مل جُل نہیں جاتے کہ تمہارا تمدن بھی سندھی ہو جائے، تمہارے کپڑے بھی سندھیوں جیسے ہو جائیں، تمہاری زبانیں بھی سندھی ہو جائیں اُس وقت تک تمہاری حیثیت محض ایک غیرملکی کی رہے گی۔ یہ کتنی واضح چیز ہے جو نظر آرہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کتنے آدمی ہیں جنہوں نے اس حقیقت پرکبھی غور کیا ہے؟ اِس وقت بیرونی جماعتوں سے سو ڈیڑھ سو آدمی یہاں آیا ہوا ہے اور ہم خوش ہیں کہ جماعت میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں کہ ایک جنگل میں اتنے آدمی اکٹھے ہو گئے ہیں لیکن اگر ہم غور سے کام لیں تو یہ زندگی کے کیا آثار ہیں کہ جس ملک میں ہم بیٹھے ہیں اِس ملک کے باشندے ہمارے اندر موجود نہیں۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ہم انگلستان میں ایک بہت بڑا جلسہ کریں اور اس میں پاکستان کے پاکستانی، افریقہ کے حبشی، انڈونیشیا کے انڈونیشین، سیلون کے سیلونی، برما کے برمی، افغانستان کے افغان اور عرب ممالک کے عرب سب موجود ہوں لیکن انگلستان کا کوئی آدمی نہ ہو اور ہم بڑے خوش ہوں کہ ہمارا جلسہ نہایت کامیاب ہو ا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جلسہ کیا کامیاب رہا جس میں اَور ممالک کے لوگ تو موجود تھے اور انگلستان کا کوئی آدمی موجود نہ تھا؟ اس طرح تو ہم نے اپنے روپیہ کو ضائع ہی کیا کیونکہ جس ملک کے لوگوں پر ہم اپنا اثر پیدا کرنا چاہتے تھے اُس ملک کا کوئی فرد اس میں موجود نہیں تھا۔ اِسی طرح ہم جب سندھ میں آئے ہیں تو سندھ کے لوگوں کی خاطر آئے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم سندھیوں میں اپنی تبلیغ کے حلقہ کو وسیع کریں اور ان کو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل۔کریں۔
    غرض اگر غور سے کام لیا جائے اور سوچنے کی عادت ڈالی جائے تو یہ چیز ہمارے سامنے آ جاتی ہے اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت اس صوبہ میں رہتے ہوئے ہم نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے رہنے والوں کا حق پنجابیوں سے زیادہ ہے اور ہمارے لیے خوشی کا دن دراصل وہ ہو گا جب ہمارے جلسہ میں اگر پانچ سو آدمی ہوں تو ان میں سے چار سو سندھی ہوں اور ایک سو پنجابی ہو۔ اگر ہم ایسا تغیر پیدا کر لیں تب بیشک یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے اپنے فرض کو ادا کر دیا۔ اس کے بعد ہم اس خیال سے مطمئن ہو سکتے ہیں کہ خواہ اب ملک میں یہ رَو چل پڑے کہ پنجابیوں کو نکال دیا جائے تب بھی احمدیت اِس ملک سے نہیں نکل سکتی کیونکہ اس ملک کے باشندوں میں ہم احمدیت کا بیج بو۔چکے ہیں۔ مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان باتوں کی طرف تبھی توجہ پیدا ہو سکتی ہے جب جماعت کے دوست اکٹھے ہوں اور وہ تمام حالات پر غور کرنے کی عادت ڈالیں کیونکہ آپس میں باربار ملنے سے یہ باتیں سوجھتی ہیں۔ اگر ملنے کے مواقع نہ نکالے جائیں اور ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت پیدا نہ کی جائے تو جماعت ترقی نہیں کرسکتی۔ غرض ایک دوسرے سے ملنے اور مرکزی مقامات میں جمع ہونے کے بہت بڑے فوائد ہوتے ہیں جن کو آسانی کے ساتھ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا‘‘۔
    (الفضل 28مارچ 1951ئ)

    1
    :
    (النور:56)
    2
    :
    المائدۃ:3
    3
    :
    بخاری کتاب الاذان باب فضل صلٰوۃ الجماعۃمیں 25اور27گُنا ثواب کا ذکر ملتاہے۔
    4
    :
    (یوسف:106)

    5
    سندھ میں آ کر آباد ہونے والے احمدی سندھی زبان سیکھیںاورلوگوں کو اسلام کے موٹے موٹے مسائل سے باربار آگاہ کریں

    (فرمودہ9مارچ1951ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج میں اپنی جماعت کے اُن تمام دوستوں کو جو سندھ میں آباد ہو چکے ہیں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جس علاقہ میں وہ مہمان کے طور پر رہ رہے ہیں اس کی مہمان نوازی کا حق ادا کریں۔ یعنی سندھیوں میں اشاعتِ احمدیت اور تعلیم و تربیت کا سلسلہ زیادہ سے زیادہ وسیع کریں اور سندھی زبان سیکھنے کی کوشش کریں۔ میرے نزدیک تو یہاں کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو سندھی زبان نہ جانتا ہو۔ اور ہر شخص کا خواہ وہ سرکاری ملازم ہو یا کسی فرد کے پاس ذاتی طور پر کام کرتا ہو، زمیندار ہو یا تاجر، فرض ہے کہ وہ سندھی زبان سیکھے تا کہ یہاں کے رہنے والوں سے وہ اختلاط پیداکرسکے، اُن سے مل جُل سکے، اپنے خیالات اُن پر ظاہر کر سکے اور اُن کے خیالات سن سکے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اِس کے کہ ہمارے دوستوں کو یہاں رہتے ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں پھر بھی انہوں نے سندھی زبان سیکھنے کی کوشش نہیںکی۔ چنانچہ اگر کوئی سندھی مجھ سے آ کر بات کرے اور میں دوستوں کو اُس کا ترجمہ کرنے کے لیے کہوں تو مجھے بہت کم ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو سندھی زبان جانتے ہوں۔ اور اگر کوئی شخص سندھی زبان جانتا بھی ہے تو ایسی غلط سلط کہ وہ پوری طرح دوسرے کا مفہوم بیان نہیں کر سکتا۔ میرے نزدیک کسی ملک میں رہنا اور پھر وہاں کی زبان سیکھنے کی کوشش نہ کرنا یہ اُس ملک کی مہمان نوازی کی ہتک ہے۔ جب کوئی شخص کسی ملک میں رہنا شروع کر دیتا ہے تو اُس ملک کا ہر باشندہ میزبان ہوتا ہے اور اس ملک میں رہائش اختیار کرنے والا ہر فرد اُن کا مہمان ہو تا ہے اور مہمان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ میزبان کی زبان کو جانتا ہو ۔تاکہ وہ اُس کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کر سکے اور اس کے خیالات سے خود واقف ہو سکے۔ اگر وہ ملکی زبان نہیں جانتا تو اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہو گی جیسے کوئی عورت کہیں بیاہی جائے مگر وہ نہ تو اپنے خاوند کی زبان جانتی ہو اور نہ خاوند کے رشتہ داروں کی زبان جانتی ہو۔ کسی ملک میں ہجرت کر کے چلے جانا اور وہاں بس جانا درحقیقت ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی عورت کی کہیں شادی کر دی جائے۔ اور کوئی عورت سُکھ کی زندگی بسر نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے خاوند اور اُس کے رشتہ داروں کی زبان نہ جانتی ہو۔ بلکہ کوئی عورت صحیح معنوں میں بیوی کہلانے کی حقدار نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنے خاوند اور اُس کے رشتہ داروں کی زبان نہ جانتی ہو۔ اِسی طرح کوئی شخص اُس وقت تک کامیاب زندگی بسر نہیں کر سکتا جب تک وہ اُس ملک کی زبان پوری طرح نہ جانتا ہو جس میں اُس نے رہائش اختیار کی ہوئی ہو۔ محض اِس وجہ سے کہ یہاں پنجابی بولنے والے مِل جاتے ہیں اگر تم سندھی زبان سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے تو یہ چیز تمہارے جُرم کو ہلکا نہیں کر دیتی۔ تمہارا دن رات اِس علاقہ میں رہنا، اِس علاقہ کے طور طریق نہ سیکھنا، یہاں کی زبان نہ سیکھنا اور یہاں کے لوگوں سے ملنے جُلنے کی خواہش نہ رکھنا بہت ہی قابلِ۔ملامت بات ہے۔ ظاہری تکلیفیں جو کسی ملک یا علاقہ کی زبان نہ جاننے کی وجہ سے انسان کو پہنچتی ہیں اُن کوجانے دو اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے بھی ہماری جماعت کے افراد کو چاہیے کہ وہ سندھی زبان سیکھیں، سندھیوں سے میل۔جول اور تعلقات قائم کریں اور سندھیوں کے طورطریق سیکھنے کی کوشش کریں۔
    زبانوں کے فرق سے بعض بڑے بڑے عجیب اختلافات رونما ہو جاتے ہیں بلکہ جہاں ایک زبان ہوتی ہے وہاں بھی ضلعوں کے فرق کی وجہ سے بعض الفاظ کا مفہوم بالکل بدل جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اوّل کے ایک رشتہ دار کی بہن ایک دفعہ قادیان آئیں اور انہوں نے باتوں باتوں میں حضرت خلیفہ اوّل کی تعریف کرتے ہوئے کہیں کہہ دیا کہ ’’اوہ بڑا شُہدا ہے‘‘۔ شُہدے کا لفظ ضلع گورداسپور میں بدمعاش کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن بھیرہ میں اس کے معنے نیک اور شریف آدمی کے ہیں۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ تھا اور آپ ابھی خلیفہ نہیں ہوئے تھے مگر۔آپ کے تقوٰی اور بزرگی کی وجہ سے تمام جماعت میں آپ کی عزت اور شہرت تھی۔ جب اُس نے آپ کے متعلق شُہدے کا لفظ استعمال کیا تو عورتیں اُس سے لڑ پڑیں کہ تم حضرت مولوی صاحب کی ہتک کرتی ہو!! مگر وہ باربار یہی کہتی جائے کہ ’’ہاں ہاں! اوہ بڑا شُہدا ہے‘‘۔ جب ضلعوار زبانوں کے فرق سے اتنا بڑا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے تو یہ تو علاقہ ہی اَور ہے۔ اگر ہماری جماعت کے افراد اِس علاقہ کی زبان نہیں سیکھیں گے تو ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھنے میں بڑا بھاری نقص واقع ہو جائے گا۔ پس ضرور ہے کہ ہماری جماعت کے دوست سندھی زبان سیکھنے کی کوشش کریں تا کہ سندھیوں سے وہ زیادہ سے زیادہ تعلّقات پیدا کر سکیں۔
    جیسا کہ میں نے بتایا ہے اِس علاقہ میں سندھی میزبان ہیں اور ہم ان کے مہمان ہیں۔ چاہے ہم اپنا کھاتے ہوں اور اپنا کاروبار کرتے ہوں مگر ہیں ہم مہمان ہی۔ درحقیقت یہ ساری زمینیں خواہ لوگوں نے روپیہ دے کر خریدی ہیں اصل میں سندھیوں کی ہیں اور انہوں نے ہی سینکڑوں سال تک ان زمینوں کی حفاظت کی اور دشمن کو ان پر قبضہ کرنے سے روکا۔ پھر انگریزوں نے ان سے زمین لے کر آگے فروخت کر دی اور دوسرے لوگ آباد ہو گئے۔ مگر زمین خریدنے کے یہ معنے نہیں کہ ہم سندھ کے مالک ہو گئے ہیں بلکہ جیسے ایک ادنیٰ مالک ہوتا ہے اور ایک اعلیٰ مالک ہوتا ہے ہم ادنیٰ مالک ہیں اور سندھی اعلیٰ مالک ہیں کیونکہ سالہاسال تک ہم نے ان زمینوں کو دشمنوں کے حملہ سے نہیں بچایا بلکہ سندھیوں نے بچایا ۔ جب سندھ پر حملہ ہوتا تھا تو اُس وقت کون مقابلہ کرتا تھا؟ پنجابی مقابلہ نہیں کرتے تھے بلکہ سندھی مقابلہ کرتے تھے۔ اِسی طرح جب ڈاکو اور لُٹیرے آئے تھے تو اُن کا کون مقابلہ کرتا تھا؟ یہ صاف بات ہے کہ سندھی ڈاکوؤں اور لُٹیروں کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ اِسی طرح اِس ملک کے درندوں کو کس نے صاف کیا؟ سندھیوں نے ہی صاف کیا۔ اس ملک میں آبادیاں کس نے قائم کیں؟ سندھیوں نے ہی قائم کیں۔ پس درحقیقت وہی اِس کے مالک ہیں اور جب تک ہم علاقہ کے مالک کی جس میں ہم مہمان کے طور پر آ کر بس گئے ہیں زبان نہیں سیکھتے ہم اس اخلاقی فرض کو ادا نہیں کرتے جو میزبان کا مہمان پر ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سندھی پنجابیوں سے اچھے تعلّقات نہیں رکھتے۔ میں کہتا ہوں تم ان کا حق ادا کرو وہ تمہارا حق خودبخود ادا کرنے لگ جائیں گے۔ آخر تم میں سے کتنے ہیں جو سندھی زبان جانتے ہیں؟ تھوڑے بہت الفاظ تو میں بھی جانتا ہوں۔ مثلاً بنّی اور سائیں وغیرہ الفاظ مجھے آتے ہیں مگر اِس کے یہ معنے نہیں کہ مجھے سندھی زبان آتی ہے۔ اِسی طرح اگر تم بھی سندھی زبان کے چند الفاظ جانتے ہو تو یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ تمہیں سندھی آتی ہے۔ سندھی جاننے کے معنے یہ ہیں کہ اگر تمہیں سندھی میں تقریر کرنی پڑے تو تم تقریر کر سکو، اپنا مطلب انہیں سمجھا سکو اور ان کا مطلب خود سمجھ سکو۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے یہاں ایک شخص بھی ایسا نہیں جو سندھی میں تقریر کر سکتا ہو۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری کو جب یہاں مبلغ بنا کر بھیجا گیا تھا تو وہ سندھی میں تقریر کرنے لگ گئے تھے لیکن اَور کسی نے سندھی زبان سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔
    پس پہلی نصیحت تو میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ تم سندھی زبان سیکھو اور لوگوں کو اسلامی مسائل سکھاؤ۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ ہر شخص الگ الگ استعداد رکھتا ہے مگر ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ ہم ہر شخص کو اسلام کا سپاہی بنانے کی کوشش کریں۔ پھر جو لوگ قابلیت رکھنے والے ہوں گے وہ خودبخود آگے نکل آئیں گے۔ کھیتی۔باڑی میں بھی یہی اصول نظر آتا ہے۔ جب کھیت میں بیج ڈالا جاتا ہے تو ہر دانے کا سِٹّہ نہیں بنتا۔ کوئی دانہ تو ایسا ہوتا ہے جو اُگتا ہی نہیں، کوئی اُگتا ہے تو اس پر زیادہ دانوں والا سِٹّہ نہیں لگتا اور کوئی ایسا ہوتا ہے کہ جس کا سِٹّہ زیادہ دانوں والا ہوتا ہے۔ غرض کھیتوں کو لے لو، سبزیوں، ترکاریوں کو لے لو، جانوروں کو لے لو ہر۔چیز کی پیدائش میں تمہیں اختلاف نظر آئے گا۔ جانوروں میں سے ہی کسی کا بچہ تو پیٹ میں ہی ضائع ہو جاتا ہے، کوئی چھوٹی عمر میں مر جاتا ہے، کوئی بڑا تو ہو جاتا ہے مگر تمام عمر کمزور رہتا ہے اور کوئی بڑا ہو کر طاقتور اور مضبوط بن جاتا ہے۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ انسانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دلوں میں خداتعالیٰ کی محبت اور اُس کے دین کے لیے غیرت پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دلوں میںدین کا شوق تو ہوتا ہے مگر تھوڑا۔ وہ دوسروں کو دیکھ کر آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے دلوں میں دوسروں کو دیکھ کر بھی یہ۔احساس۔پیدا نہیں ہوتا کہ وہ ترقی کریں۔ اِسی طرح ہر شخص معلّم اور مربی نہیں بن سکتا۔ لیکن فرض کرو سو میں سے دس بن سکتے ہوں اور اِدھر سندھ میں سو میں سے پانچ شخص سندھی زبان جانتے ہوں تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ پانچ بھی ہمارے لیے بیکار ہو جائیں گے کیونکہ ہمیں دس میں سے ایک شخص مل سکتا تھا اور وہ صرف پانچ ہیں۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں نصف آدمی ملا اور نصف چونکہ ہو ہی نہیں سکتا اس لیے ہم اس انتخاب میں صفر تک آ جائیں گے۔ لیکن اگر تمام لوگ سندھی زبان جانتے ہوں تو ان میں سے دس ہمیں کام کے آدمی مل جائیں گے اور ہماری ضرورت پوری ہو۔جائے گی۔
    پس میری پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ یہاں کے رہنے والے تمام افراد کو سندھی زبان سیکھنی چاہیے اور سندھ کی تمام جماعتوں کے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو اپنی رپورٹوں کے فارم میں ایک خانہ ایسا بنانا چاہیے جس میں یہ ذکر ہو کہ انہوں نے جماعت کے اندر سندھی زبان سیکھنے کے لیے کیا بیداری پیدا کی اور کتنے افراد ان کی تحریک پر سندھی زبان سیکھ رہے ہیں؟ میں ربوہ واپس جا کر اِس بارہ میں متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دوں گا کہ وہ سندھ کی جماعتوں کی نگرانی کرے اور سیکرٹریانِ جماعت سے باقاعدہ رپورٹیں منگوائے کہ انہوں نے سندھی زبان سکھلانے کے لیے کیا کوشش کی ہے اور کتنے افراد سندھی سیکھ رہے ہیں؟ ہمارے ملک میں پٹھان آتے ہیں تو وہ اردو بولنے لگ جاتے ہیں، انگریز آتے ہیں تو وہ بھی اردو میں باتیں کرنے لگ جاتے ہیں، جرمن آتے ہیں تو وہ اردو میں گفتگو شروع کر دیتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہم سندھی نہیں بول سکتے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے سندھی نہیں سیکھنی اور جب ہم یہ فیصلہ کر لیتے ہیں تو پھر ہمیں سندھی نہیں آتی۔
    پس میں تمام جماعتوں کے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ وہ اپنی رپورٹ میں آئندہ اس امر کی تصریح کیا کریں کہ ان کی جماعت کے کتنے افراد ہیں؟ کتنے سندھی زبان جانتے ہیں اور کتنے نہیں جانتے۔ اور جو لوگ نہیں جانتے اُن کو سندھی زبان سکھانے کی کیا کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تحریک ایسی ہے جس میں عورتوں اور بچوں کو شامل کرنا چاہیے اور ہر مرد اور ہر عورت اور ہر بچہ کو سندھی زبان آنی چاہیے۔
    دوسری نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ علاقہ ابھی جنگل کی طرح ہے اور ایسی طرز پر آباد نہیں ہوا کہ ہر قسم کی تعلیموں سے یہاں کے رہنے والے فائدہ اُٹھا سکیں۔ ایسے حالات میں لوگ بعض دفعہ اہم مسائل جو تعلیم وتربیت سے تعلق رکھتے ہیں اُن کو بھول جاتے ہیں۔ پس یہاں جو واعظ اور خطیب ہیں اُن کا بھی اور پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ باربار دین کے موٹے موٹے مسائل لوگوں کے ذہن نشین کراتے رہا کریں۔ جب ہم مکان بناتے ہیں تو سب سے پہلے ہم چھت کی اینٹ نہیں رکھتے بلکہ بنیادی اینٹ رکھتے ہیں۔ اسی طرح دین کی تکمیل کے لیے بڑے بڑے مسائل بعد میں آتے ہیں پہلے چھوٹے چھوٹے مسئلے لوگوں کو آنے چاہییں۔ اگر چھوٹے چھوٹے مسائل ہی لوگوں کو نہ آتے ہوں تو بڑے بڑے مسائل ان کے سامنے بیان کرنا چنداں مفید نہیں ہوتا۔
    میں دیکھتا ہوں کہ یہاں عورتوں میں دین سے اتنی ناواقفیت پائی جاتی ہے کہ وہ جہالت جو کسی زمانہ کی عورتوں میں ہم سنا کرتے تھے وہ اِس جگہ کی بعض عورتوں میں نظر آتی ہے اور حیرت ہوتی ہے کہ ان کی ناواقفیت کس حد تک پہنچی ہوئی ہے۔ ایک عورت جو پنجابی ہے مگر ایک عرصہ سے یہاں رہائش رکھتی ہے اس کی زبان سے میں نے ایسا فقرہ سنا ہے کہ کم از کم پنجاب میں مَیں نے ایسا فقرہ کسی عورت کے منہ سے آج تک نہیں سنا تھا۔ وہ میرے سامنے اپنی ایک شکایت لائی اور اس نے کہا کہ میری لڑکی کی شادی ایک ایسی جگہ ہوئی تھی جہاں دوسرے فریق نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے دیں گے مگر اَب وہ میری لڑکی کو تو آباد کرنا چاہتے ہیں لیکن میرے لڑکے کو لڑکی دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے اب میں اپنی لڑکی کا نکاح فسخ کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے اسے بہتیرا سمجھایا کہ تم رشتہ دے چکی ہو اب تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم رشتہ واپس لو۔ میں مانتا ہوں کہ انہوں نے شادی کے وقت یہ وعدہ کیا ہو گا کہ تمہارے لڑکے کو اپنی لڑکی دے دیں گے، دنیا میں عام طور پر لوگ ایسی دھوکا بازیاں کر دیتے ہیں لیکن نکاح کے لحاظ سے اس وعدہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ اخلاقیات کے لحاظ سے بیشک ہم کہہ دیں گے کہ وہ بہت بُرے تھے، بڑے دھوکاباز تھے، پہلے ایک وعدہ کیا اور پھر انکار کر دیا مگر جہاں تک تمہاری لڑکی کے رشتہ کا سوال ہے وہ ہو چکا ہے اور اب وہ توڑا نہیں جا سکتا۔ پھر میں نے اسے کہا اگر تم پہلے ہی خدا اور اُس کے رسول کی بات سن لیتیں تو یہ مصیبت تم پر کیوں آتی۔ رسول۔کریم۔صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے صاف اور واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ بٹّاکی شادی نہ کرو1 اور جب رسول۔کریم۔صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے تو مجھے تم سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ ہمیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے اور تم اقرار کرتی ہو کہ تم نے یہ کام کیا۔ جب اسلامی حکم کی تم نے خود خلاف ورزی کی ہے تو اَب تمہارے ساتھ میں کس طرح ہمدردی کر سکتا ہوں۔ اس پر اس نے بڑی سادگی سے جوا ب دیا کہ مجھے پتا ہے کہ اسلام نے بٹّا کی شادی کو ناجائز قرار دیا ہے لیکن میں تو اس کو جائزسمجھتی ہوں۔ یہ بات اس نے ایسی صفائی سے کی کہ یوں معلوم ہوتا تھا وہ اپنے آپ کو خداتعالیٰ سے بھی بڑا سمجھتی ہے کہ ایک تو خدا نے حکم دیا ہے اور ایک میرا حکم ہے۔ بیشک اسلام نے اس کو جائز قرار نہیں دیا لیکن میں جو اس کو جائز قرار دیتی ہوں تو پھر اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ میں نے اسے کہا اب میں تجھے اَور کیا کہوں جب تم خدا کی بات ماننے کے لیے ہی تیار نہیں تو میں اس معاملہ میں کیا دخل۔دے سکتا ہوں۔
    یہ نتیجہ ہے اِس بات کا کہ چھوٹی چھوٹی باتیں لوگوں کو نہیں بتائی جاتیں۔ ان کو بتایا نہیں جاتا کہ اسلام کے احکام کی کیا قدروقیمت ہے اور کیوں ان معاملات میں ہمیں بولنے کا حق حاصل نہیں۔ اس عورت نے تو یہ بات ایسے رنگ میں بیان کی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا اُس کے نزدیک جس طرح دنیا خداتعالیٰ کو مانتی ہے اُسی طرح اُس کی بات بھی ماننی چاہیے مگر اتنی بڑی غلطی اسے کیوں لگی؟ اِسی لیے لگی کہ چھوٹی چھوٹی باتیں عورتوں، مردوں اور بچوں کو سکھائی نہیں جاتیں۔ خالی وفاتِ۔مسیح وغیرہ کے مسائل بتا دینے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ جب ایک شخص کا دماغ یہ سوچتا ہو کہ جو محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کو حق حاصل ہے وہ اسے بھی حاصل ہے یا خدا نے بیشک ایک چیز کو ناجائز قرار دیا ہے مگر میں تو اُس کو جائز سمجھتا ہوں۔ یہ مسائل ہیں جو لوگوں کے ذہن نشین کرانے چاہییں اور اُن کو باربار بتانا چاہیے کہ خداتعالیٰ کا ادب کرنا چاہیے، دین کا ادب کرنا چاہیے، رسول کا ادب کرنا چاہیے اور اس کے احکام کو سن کر فوراً اپنا سر جھکا دینا چاہیے۔ یہ مسئلے عوام الناس کے لیے زیادہ ضروری ہوتے ہیں۔ اور درحقیقت ان کو سیکھنے کے بعد ہی کوئی شخص دین کے لیے مفید وجود بن سکتا ہے ورنہ ایک شخص اگر وفاتِ۔مسیح پر دھواں دھار تقریر کرے اور بعد میں کسی بات پر آ کر کہہ دے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیشک ایسا کہا ہو گا مگر میرا نظریہ۔یہ ہے تو سب لوگ ہنس پڑیں گے کہ اس کی مولویت تو۔معلوم۔ہو۔گئی۔
    پس لوگوں کو دین کے موٹے موٹے مسائل سے واقف کرو۔ مثلاً نہانے دھونے کے مسائل ہیں یا نماز کے مسائل ہیں کہ اس طرح کھڑا ہونا چاہیے، اس طرح رکوع کرنا چاہیے، اس طرح سجدہ کرنا چاہیے، صفوں کو سیدھا رکھنا چاہیے، جلدی جلدی نماز نہیں پڑھنی چاہیے، نماز کے لیے دوڑ کر نہیں آنا چاہیے۔ نمازباجماعت پڑھنی چاہیے۔ اِسی طرح شادی بیاہ کے مسائل ہیں، عورتوں کے حقوق کے مسائل ہیں یہ چیزیں ہیں جو لوگوں کے سامنے متواتر آنی چاہییں اور اُن کو بتانا چاہیے کہ اسلام نے ان پر کیا ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔
    اِسی طرح ایک اَور شکایت ہے جو یہاں آنے پر اکثر سننے میں آتی ہے اور وہ یہ کہ ایک میاں ہے جو اپنی بیوی کو خرچ نہیں دیتا اور اسے مارتا رہتا ہے۔ ابھی میں خطبہ کے لیے آ۔رہا تھا کہ مجھے پیغام ملا کہ فلاں لڑکی کہتی ہے آپ میرے خاوند کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں وہ ہمیشہ مجھے تنگ کرتا رہتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر وہ شخص کس شریعت پر عمل کرتا ہے۔ ڈنڈا لے کر اپنی بیوی کو مارنے لگ جانا، اُس کو گھر سے نکال دینا اور خرچ تک نہ دینا یہ کس قانون کے ماتحت جائز ہے اور کونسی شریعت اُسے اِس بات کا حق دیتی ہے۔ وہ کہتی ہے میں خاوند کے پاس بھی رہوں تو وہ مجھے اخراجات کے لیے کچھ نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ گزارہ چلاؤ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ گزارہ کس طرح چلائے؟ یا تو اُسے کوئی پیشہ سکھانا چاہیے مثلاً درزی کی دکان اُسے کھول دی جائے اور کہا جائے کہ اِس دکان میں سے گزارہ چلاؤ یا کوئی اَور صورت پیدا کی جائے لیکن اِدھر اُس کو گھر میں بٹھا رکھنا اور اُدھر یہ کہنا کہ وہ اس کے مطالبات پورے کرے یہ دونوں باتیں کسی طرح اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ بہت سی خرابیاں دنیا میں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ اپنی بیویوں کو خرچ نہیں دیتے اور اپنے مطالبات جاری رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ناجائز ذرائع سے روپیہ کمانے کی کوشش شروع کر دیتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ وہ اپنی بیوی سے لڑا اور اُس نے کہا کہ میں اس کی ناک کاٹ ڈالوں گا۔ یہ میرے مطالبات کو پورا نہیں کرتی۔ شور سن کر لوگ جمع ہو گئے تو اُس کی بیوی نے کہا کہ اس سے پوچھو کہ یہ ہر روز یہ فرمائشیں کرتا ہے کہ آج یہ پکا، آج وہ پکا۔ کبھی اس نے مجھے پیسے بھی دیئے ہیں؟ یہ کتنے بڑے ظلم کی بات ہے کہ اتنی موٹی باتیں بھی ہماری جماعت کے لوگوں کو معلوم نہیں اور وہ بیویوں کو مارنا اور اُن کو خرچ نہ دینا جائز سمجھتے ہیں حالانکہ شریعت نے ان کو اس قسم کا کوئی حق نہیں دیا۔ یہ مسائل جو لوگوں پر واضح کرنے۔چاہییںبیشک یہ ابتدائی مسائل ہیں لیکن زمیندار اِنہی ابتدائی مسائل کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں بہ نسبت بڑے دینی مسائل کے۔ وہ ختمِ۔نبوت اور توحید کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتے اُن کے لیے صرف اِتنا جاننا ہی کافی ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے رسول ہیں اور ان کا فرض ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کریں۔ اِس کے بعد انہیں یہ بتایا جائے کہ بحیثیت ایک انسان ہونے کے اُن پر کیا ذمہ داریاں عائد ہیں یا بحیثیت ایک باپ اور بیٹا ہونے کے ان پر کیا ذمہ۔داریاں ہیں۔ اِسی طرح عورتوں کو یہ بتایا جائے کہ بحیثیت ایک بیٹی ہونے کے عورت پر کیا ذمہ۔داریاں ہیں یا بحیثیت ایک ماں ہو نے کے عورت پر کیا ذمہ۔داریاں ہیں۔ پھر انہیں بتایا جائے کہ ہمسائیوں کے کیا حقوق ہیں، دوستوں کے کیا حقوق ہیں، میاں کے بیوی پر کیا حقوق ہیں اور بیوی کے میاں پر کیا حقوق ہیں، رشتہ داروں کے کیا حقوق ہیں، جو لوگ کاروبار میں شریک ہوں اُن کے کیا حقوق ہیں۔ یہ باتیں ہیں جو آہستہ آہستہ ان کو سمجھائی جائیں تا کہ وہ اپنی ذمہ۔داریوں کو سمجھیں اور ظلم اور انصاف، دیانت اور بددیانتی اور محنت اور سُستی میں فرق کریں اور اپنے آپ کو قوم کا ایک مفید وجود بنا سکیں۔ جب یہ چیزیں ان کے دماغ پر روشن ہو جائیں گی تو پھر بڑے بڑے مسئلے سمجھنے بھی ان کے لیے آسان ہو جائیں گے۔
    بہرحال ایسے دورافتادہ علاقوں میں پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں اور مبلّغوں کو چاہیے کہ وہ چھوٹے چھوٹے مسائلِ۔دینیہ لوگوں کو باربار سمجھاتے رہا کریں۔ مگر یہ یاد رکھا جائے کہ خالی وعظ کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی معلوم کرتے رہنا چاہیے کہ لوگ ان باتوں پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔ اور آیا وہ باتیں انہوں نے سمجھ لی ہیں یا ابھی اُن کو اَور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خواہ اُن کے سامنے کتنی لمبی تقریر کرو بعد میں دریافت کرنے پر پتا لگتا ہے کہ انہوں نے کچھ بھی نہیں سمجھا۔ مثلاً میرا خطبہ اس وقت تمام لوگ سن رہے ہیں لیکن نماز کے بعد اگر لوگوں سے دریافت کیا جائے کہ میں نے کیا خطبہ دیا ہے تو بعض ایسے ہوں گے جو بالکل خاموش ہو جائیں گے اور جب دوبارہ ان سے دریافت کیا جائے گا تو وہ کہیں گے ہمیں یاد نہیں رہا لیکن پاس بیٹھنے والا ساتھی فوراً بول اٹھے گا کہ یہ تو اُس وقت سو رہے تھے تو انہوں نے بیان کیا کرنا ہے۔ پس چونکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سمجھنے کا مادہ اپنے اندر کم رکھتے ہیں اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ مسائل کو باربار دہرایا جائے۔
    مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عورتوں میں تقریریں شروع کیں اور متواتر کئی دن آپ تقریریں فرماتے رہے۔ زیادہ تر وفاتِ۔مسیح اور دوسرے اختلافی مسائل کا آپ نے اپنی تقریروں میں ذکر فرمایا تھا۔ باہر سے ایک مہمان عورت آئی ہوئی تھیں جو بڑے التزام سے ان جلسوں میں شریک ہوئیں۔ وہ سب سے آگے بیٹھا کرتی تھیں اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر فرما رہے ہوتے تھے تو وہ باربار سُبْحَانَ اللّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہتی چلی جاتی تھیں۔ چند دنوں کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خیال آیا کہ عورتوں کا امتحان بھی لینا چاہیے تا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ انہوں نے میری باتیں کہاں تک سمجھی ہیں۔ آپ نے اس عورت کو مخاطب کر کے فرمایا بی بی! مجھے اتنے دن وعظ کرتے گزر گئے ہیں اور تم بڑے شوق سے ان جلسوں میں شامل بھی ہوتی رہی ہو تم بتاؤ کہ میں نے اپنی تقریروں میں کیا کہا ہے؟ اس پر وہ کہنے لگی ’’تُساں خدا اور رسول دیا گلّاں ہی کیتیاں ہونیا ہین ہور کی کیتا ہونا ہے‘‘۔ یعنی آپ نے خدا اور رسول کی باتیں ہی کی ہوں گی اَور آپ نے کیا کرنا تھا۔ گویا کئی دنوں کی تقریروں کے بعد بھی اسے یہ یقین نہیں تھا کہ آپ نے خدا اور اس کے رسول کی باتیں بیان کی ہیں بلکہ وہ اس بارہ میں بھی ابھی متذبذب تھی اور سمجھتی تھی کہ آپ نے غالباً اِسی قسم کی باتیں بیان کی ہوں گی۔ جن لوگوں کی دماغی کیفیّت اِس قسم کی ہو اُن کو ایک یا دو دفعہ کوئی بات بتا کر یہ تسلّی نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا ہے۔
    پس لوگوں کو صرف مسائل بتانے پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان سے باربار پوچھنا چاہیے اور سوال کرنا چاہیے کہ انہوں نے کیا سمجھا ہے۔ اس بارہ میں خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ دونوں کو توجہ کرنی چاہیے۔خدام الاحمدیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے جلسوں میں نوجوانوں سے باربار یہ مسائل پوچھیں اور دیکھیں کہ پریذیڈنٹوں یا سیکرٹریوں اور مبلّغوں نے جو باتیں بتائی تھیں وہ نوجوانوں نے سیکھی ہیں یا نہیں؟ اسی طرح لجنہ اماء اللہ کو چاہیے کہ وہ عورتوں کا امتحان لے اور اس امر کی نگرانی کرے کہ عورتوں نے ان مسائل کو کس حد تک سیکھا ہے۔ اگر اس رنگ میں جماعت کی تربیت جاری رہے تو چھ ماہ یا سال میں ہی جماعت کی کافی حد تک تربیت ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد بڑے بڑے مسئلوں کی باری آ جائے گی۔ دنیا میں یہی قاعدہ ہے۔ جب چھوٹا بچہ ہوتا ہے تو اُسے دودھ پلایا جاتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ جب اس میں مضبوطی آ جاتی ہے تو اسے دوسری غذائیں دی جاتی ہیں۔ اِسی طرح قومی تربیت کے لیے پہلے۔موٹے موٹے مسائل لینے چاہیں اور ان کو دماغوں میں داخل کرنا چاہیے۔ جب ان مسائل کو سیکھ کر انسانی ذہن رسا ہو جاتا ہے تو پھر وہ بڑے بڑے مسئلے بھی آسانی سے سیکھ لیتا ہے‘‘۔
    (الفضل یکم اپریل1960ئ)

    1
    صحیح البخاری کتاب النکاح باب الشِّغَارِ۔

    6
    ہماری جماعت کے لیے ضروری ہے
    کہ وہ اپنی روایات کی بنیاد اخلاق پر قائم کرے
    دنیوی لحاظ سے سچائی، دیانت ،محنت۔ اور دینی لحاظ سے
    نماز، دعا اور ذکرِالٰہی وہ گُر ہیں جو کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں
    (فرمودہ16مارچ1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں نے اپنے خطبات میں بارہا جماعت کو عموماً اور ربوہ اور قادیان یعنی مرکز کے ساکنین کو خصوصاً اِس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مذہب کی بنیاد اخلاق پر ہوتی ہے۔ جب تک اخلاق کو درست نہ کیا جائے اُس وقت تک نہ فرد کے اندر مذہب داخل ہو سکتا ہے اور نہ قوم کے اندر مذہب داخل ہو سکتا ہے اور نہ وہ کوئی اچھے نتائج پیدا کر تا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ ہماری جماعت اخلاقی پہلو کی طرف سے بہت کچھ غافل ہے اور ابھی محتاج ہے اس بات کی کہ اسے جگایا جائے، وہ محتاج ہے اس بات کی کہ اسے جھنجھوڑا جائے، وہ محتاج ہے اس بات کی کہ اسے باربار اس امر کی طرف توجہ دلائی جائے۔ یہ قدرتی امر ہے کہ آہستہ آہستہ نام حقیقت بننے لگ جاتے ہیں اور جہاں یہ امر برکت کا موجب ہوتا ہے وہاں۔بعض اوقات یہ امر *** کا موجب بھی بن جاتا ہے۔ یہ امر برکت کا موجب اسی طرح ہو تا ہے کہ ناموں کے ساتھ بعض ٹریڈیشنز (Traditions) اور روایات وابستہ ہوتی ہیں اُن ٹریڈیشنز اور روایات کے رکھنے والوں کو ان پر چلنا بہ نسبت دوسروں کے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ دنیا کی ادنیٰ سے ادنیٰ قوم میں بھی بعض روایات ہوتی ہیں اور تم دیکھو گے کہ وہ قوم ان روایات پر عمل کرنے میں ساری اقوام سے زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر میں اس قوم کو لیتا ہوں جو دنیا میں سب سے زیادہ بدنام ہے اور وہ کنچنیاں ہیں۔ میں غیراقوام کی کنچنیوں کو نہیں جانتا۔ ہاں! مسلمان کنچنیوں میں نیک کاموں کے لیے روپیہ خرچ کرنے کی بڑی عادت ہوتی ہے اور غالباً یہ طریق ان میں اس لیے رائج ہے کہ وہ خیال کرتی ہیں کہ ہم روزانہ گناہ کرتی ہیں چلو! ان کاموں میں بھی کچھ خرچ کر لیا جائے تا کہ گناہ کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔ اِسی طرح بعض روایات چوہڑوں میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً اپنی قوم میں شادی کرنا ہے۔ جو قومیں چھوٹی سمجھی جاتی ہیں وہ بھی اس جذبہ میں بڑی قوموں سے پیچھے نہیں ہوتیں۔ چنانچہ جس مشکل سے ایک پٹھان، ایک سید، ایک مغل، ایک قریشی، ایک راجپوت یا ایک برہمن اپنی لڑکی کا رشتہ غیر اقوام کو دینے کے لیے تیار ہو گا تم دیکھو گے کہ اسی مشکل سے ایک چوہڑا بھی اپنی لڑکی کا رشتہ غیرقوم کے لڑکے کو دینے کے لیے تیار ہو گا۔
    مجھے یاد ہے قادیان میں مَیں نے ایک لڑکی کے لیے رشتہ تجویز کیا۔ جن کی لڑکی تھی وہ پیشہ کے لحاظ سے دُھنیے یعنی پینجے تھے جو روئی دُھنکتے ہیں۔ ویسے وہ کشمیری تھے۔ اور جس نوجوان سے رشتہ کی تجویز کی گئی تھی وہ درزی تھا اور بادی النظر میں یہی سمجھا جاتا تھا کہ دُھنیے سے درزی اچھا ہے۔ اُس کی کمائی بھی زیادہ تھی اور پھر اُس کی دکان بھی تھی۔ پس میں نے سمجھا کہ میں نے اس لڑکی کا رشتہ ایک آسودہ حال خاندان میں کروایا ہے۔ اس لڑکی کی دادی زندہ تھی اور گو اُسے حقِ۔ولایت حاصل نہیں تھا۔ حقِ۔ولایت لڑکی کے والد کو حاصل تھا جو زندہ تھا۔ لیکن عام طور پر دادیاں سمجھتی ہیں کہ پوتیوں پر اُن کا بھی حق ہے اس نے بیٹے کو رشتہ سے انکار کر دینے پر اُکسایا لیکن وہ نہ مانا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس میں اس کی لڑکی کا ہی فائدہ ہے۔ وہ بڑی پردہ دار عورت تھی اور ہم اسے بڑی صالح اور شرم و حیا والی عورت سمجھا کرتے تھے لیکن جب اس کی غیرت کو یہ ٹھوکر لگی کہ ایک شریف دُھنیا کی لڑکی ایک کذات درزی سے بیاہی جا رہی ہے اور اسے معلوم ہوا کہ اس نکاح کی تحریک میں میرا بھی حصہ ہے تو۔غیرت۔اس کی شرم و حیا اور پردہ پر غالب آ گئی۔ اُس نے بال بکھیر لیے اور پیٹھ پر ایک چارپائی اُٹھا لی اور ننگے سر اور ننگے منہ پاگلوں کی طرح باتیں کرتے ہوئے ہندوؤں کے محلہ سے جس میں اُن کی رہائش تھی ہوتی ہوئی احمدی محلہ کی طرف اس نے رُخ کر لیا۔ کبھی وہ اُوٹ پٹانگ شعر پڑھتی اور کبھی بَین کرتی ہوئی کہتی ہائے! لڑکی کذاتاں نوں دے دتی۔ اِسی طرح شور کرتی ہوئی وہ گول کمرہ کے پاس جہاں میرا دفتر تھا پہنچی۔ بعض دوستوں نے مجھے اطلاع دی کہ فلاں عورت پاگل ہو گئی ہے۔ وہ بال کھولے، ننگے سر اور ننگے منہ پیٹھ پر چارپائی اٹھائے گلیوں میں پھر رہی ہے اور شور مچا رہی ہے۔ میں نے کہا وہ پاگل نہیں بلکہ مجھے ڈرا رہی ہے۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر اُس عورت سے کہا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ولی نہیں بنایا ولی لڑکی کے باپ کو بنایا ہے جو اِس رشتہ میں راضی ہے اور وہ اسے اچھا سمجھتا ہے تُو بیشک شور مچا اور گلیوں میں پاگلوں کی طرح پھر لیکن یہ رشتہ رُک نہیں سکتا۔ اِس کے بعد میں نے ایک دو احمدیوں سے کہا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ اور احمدی محلوں میں پھراؤ۔ جب اسے پتا لگا کہ یہ ڈریں گے نہیں اور لڑکی کا رشتہ ہو کر رہے گا تو یا تو اُس نے سر ننگا کیا ہوا تھااور بال کھولے ہوئے تھے اور پیٹھ پر چارپائی اٹھائے ہوئے تھی اور یا پھر اس نے چارپائی نیچے رکھی، منہ پر کپڑا لیا اور نہایت اطمینان سے اپنے گھر واپس چلی گئی۔
    اب دیکھو! پیشہ کے لحاظ سے لڑکا زیادہ کمانے والا تھا اور لڑکی کا باپ کم کمائی کرنے والا تھا اور پھر وہ بالکل نکمّا تھا۔ گویا قومی لحاظ سے بھی وہ ایک درزی سے کم تھا اور پیشے کی کمائی کے لحاظ سے بھی ایک دُھنیا کی کمائی درزی سے کم ہوتی ہے لیکن چونکہ کچھ مدت سے اُن میں دُھنیے کا پیشہ چل پڑا تھا اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ ہماری لڑکی کذات درزی سے بیاہی جا رہی ہے۔
    غرض کسی قوم میں جو روایات چل پڑتی ہیں اگرچہ بعض اوقات انہیں عقل تسلیم نہیں کرتی لیکن پھر بھی اس کے افراد ان پر بڑی سختی سے عمل کرتے ہیں۔ اور اگر بدقسمتی سے بدروایات چل پڑیں تو ان کا بد اثر نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ابتدائی حالتوں میں جب قومیں بنتی ہیں اور جب ان کے اندر یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک مستقل رستہ، اعلیٰ روایات اور شاندار مستقبل تیار کریں اُس وقت اگر اُن کا قدم غلط طرف اٹھ جائے تو غلط روایات ان کے لیے *** بن جاتی ہیں اور ان سے نکلنا اُن کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ پس قوم کے ابتدائی دور میں بہ نسبت اس دوسرے دور کے جس میں روایات قائم ہو جاتی ہیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
    ہماری جماعت جس دور میں سے گزر رہی ہے اور جن حالات کا انہیں سامنا کرنا پڑ۔رہا ہے ان کے لحاظ سے ضروری ہے کہ ان میں جو روایات قائم ہوں ان کی بنیاد اخلاق پر ہو۔ موٹے موٹے اخلاق جن سے تمام نقائص کی اصلاح ہو جاتی ہے دنیوی لحاظ سے سچائی، دیانت اور محنت ہیں اور دینی لحاظ سے نماز، دعا اور ذکرِالٰہی ہے۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ بغیر اخلاق کے اور بغیر نماز پڑھنے کے محض تبلیغ کے ذریعہ ہم اپنے مقصد کو پا لیں گے تو یہ غلط ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ہم محض تبلیغ کے ذریعہ دنیا میں کامیاب ہو جائیں۔ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ خالی نمازیں پڑھنے سے ہم کامیاب ہو جائیں، جس طرح یہ ناممکن ہے کہ خالی تبلیغ سے کامیابی حاصل ہو جائے ویسے ہی یہ بات بھی ناممکن ہے کہ محض محنت، قُربانی اور ایثار کے ذریعہ دنیا میں ہم کامیاب ہو جائیں۔ یہ تینوں کونے ہیں جنہیں کامیابی حاصل کرنے کے لیے درست رکھنا ضروری ہے۔ بغیرتبلیغ کے لوگوں کو تمہارے مافی الضمیر کا پتا نہیں لگے گا اور خداتعالیٰ کے فضل کے بغیر تمہارا مافی الضمیردوسروں کے دلوں پر اثر نہیں کر سکتا۔ اِسی طرح بغیر۔دیانت، محنت اور جدوجہد کے تمہاری ایک ایسی مادی مثال لوگوں کے سامنے نہیں آ سکتی جو انہیں تمہاری برتری کا اقرار کرنے پر مجبور کرے۔ اگر کسی قوم میں نماز، دعا اور ذکرِالٰہی کی عادت پیدا ہو جاتی ہے تو دیکھنے والے پر سب سے پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ یہ قوم روحانی ہے۔ پھر فرشتے ان کے دل کی تأثیرات کو باہر پھیلاتے ہیں۔ اور پھر اگر اس میں دیانت، محنت، قُربانی، ایثار اور سچائی کی عادت پائی جائے تو دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص مجھ سے بالا ہے اور اس کی قوم میری قوم سے بالا ہے۔ اور جب تبلیغ ہوتی ہے تو وہ اپنے اندرونی خیالات کو دوسروں تک پہنچا دیتا ہے۔ گویا تبلیغ وہ نہر ہے جس سے پانی گزرتا ہے، تبلیغ لوہے کی وہ ریلیں ہیں جن پر سے ٹرین گزرتی ہے، تبلیغ وہ سمندر ہے جس میں سے جہاز گزرتا ہے۔ اگر سمندر کو خشک کر دو تو جہاز بیکار ہو جائے گا، اگر لوہے کی ریلیں اکھیڑ دو تو ٹرینیں چلنی بند ہو جائیں گی، اگر سڑک توڑ دو تو موٹریں چلنا بند ہو جائیں گی، نہریں گرا دو تو پانی چلنا بند ہو جائے گا، دریا کا پاٹ ریت سے بھر دو تو دریا کی روانی بند ہو جائے گی۔ لیکن دریا کے اندر جو تأثیر ہے، آگ کے اندر جو تأثیر ہے، ریلوں، سڑکوں اور نہروں میں جو تأثیر پائی جاتی ہے یہ سب چیزیں خداتعالیٰ کی نعمتیں ہیں ۔ان کا نام ایجاد رکھ لیتے ہیں لیکن درحقیقت یہ ایجاد نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے ایک راز کی دریافت ہوتی ہے۔ خداتعالیٰ جو کائنات کا پیدا کرنے والا ہے وہ کسی چیز کے اندر کوئی راز چھپا دیتا ہے اور انسان ایک وقت میں جا کر اسے دریافت کر لیتا ہے مگر اس کے لیے انسان کے اندر قابلیت کا پایا جانا بھی ایک ضروری شرط ہے۔ مادی چیزیں بھی تکوین کے لیے تین چیزیں چاہتی ہیں۔ ایک تو وہ قوتِ۔فاعلہ کو چاہتی ہیں، ایک وہ سامان چاہتی ہیں جس کو استعمال کیا جائے اور پھر وہ طاقت چاہتی ہیں جو قوتِ۔فاعلہ کو عمل میں بدل دے۔ کھڑا ہوا گھوڑا بھی ایسا ہی ساکن ہوتا ہے جیسے لوہے کا گولا، کھڑی ہوئی موٹر بھی ویسے ہی ساکن ہوتی ہے جیسے ایک چٹان، اس میں چلنے کی قوت موجود ہوتی ہے لیکن جب تک چلانے والا اُسے چلاتا نہیں وہ بیکار ہوتی ہے۔ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں خداتعالیٰ انہیں چلاتا ہے اور اس کی مدد حاصل کرنے کے لیے دینی ہتھیاروں میں دعا ہے، نماز ہے اور ذکرِالٰہی ہے۔
    پس ہماری جماعت کے اندر نماز، دعا اور ذکرِالٰہی کی عادت ہونی چاہیے۔ تمہاری ترقی کی جگہ اور۔تمہاری کامیابی کا گُر مسجدیں ہیں۔ اگر تم مسجدوں کو آباد کرو گے تو تمہارے دل بھی اللہ تعالیٰ کی محبت سے آباد ہوں گے۔ اور اگر تمہاری مسجدیں آباد نہیں اور تم خیال کرتے ہو کہ تمہاری کوششیں کامیاب ہو جائیں گی یا تمہارے دل نورانی ہو جائیں گے تو یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جس کی مثال دنیا میں ملنی مشکل ہے‘‘۔ (الفضل16ستمبر1959ئ)


    7
    بہت زیادہ دعاؤں اور ذکرِالٰہی سے کام لو
    تا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقصد میں کامیاب کرے جس کے لیے اس نے ہماری جماعت کو قائم کیا ہے
    (فرمودہ23مارچ1951ء بمقام ربوہ)
    ’’خطبہ شروع کرنے سے پہلے میں دوستوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ پہلی مستقل مسجد ہے جو ہجرت کے بعد ربوہ میں بنی ہے اور جیسے قادیان میں ہمارے گھر کے پاس ایک مسجد تھی جسے چھوٹی مسجد یا مسجد مبارک کہتے تھے اُسی طرح یہ مسجد بھی قصرِخلافت کے پاس بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اَور مسجد بھی بنائی جائے گی جو جامع مسجد ہو گی اور مجلس شورٰی کے اجلاس بھی اس میں ہوا کریں گے۔ چونکہ ایک مستقل مسجد میں آنے کا یہ پہلا موقع ہے جسے خداتعالیٰ اور اسلام کے نام کو بلند کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اس لیے ضروری تھا کہ اس کا افتتاح کرنے سے قبل بطور شکرانہ نوافل ادا کیے جاتے لیکن یہ موقع ایسا نہیں کہ صحیح اور منظّم طور پر نوافل ادا کیے جا سکیں۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ ہم افتتاح سے پہلے خداتعالیٰ کے حضور بطور شکرانہ ایک سجدہ کر لیں کہ اس نے ہمیں ربوہ میں پہلی مستقل مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی اور یہ کہ وہ ایک رنگ میں مکمل کر لی گئی ہے ‘‘۔
    اس کے بعد حضور نے ایک لمبا سجدہ شکر ادا فرمایا اور حضور کی اقتدا میں باقی تمام دوست بھی سجدہ میں گر گئے۔سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد حضور نے تشہّد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور فرمایا:
    ’’چونکہ مجھے نقرس کا دورہ ہے اس لیے میں خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر نہیں پڑھا سکتا۔ رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتدا میں یہ حکم تھا کہ جب امام کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا سکے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کریں1 لیکن بعد میں خداتعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت آپ نے اس حکم کو بدل دیا اور فرمایا کہ اگر امام کسی معذوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی نہ بیٹھیں بلکہ وہ کھڑے ہو کر ہی نماز ادا کیا کریں۔2 پس چونکہ میں کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھا سکتا اس لیے میں بیٹھ کر نماز پڑھاؤں گا اور دوست کھڑے ہو کر نماز ادا کریں۔
    یہاں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد ہم شورٰی کی جگہ پر جائیں گے۔ چونکہ وہاں کمیٹیاں بنیں گی اور ان کمیٹیوں کو بہت سا کام کرنا ہو گا اس لیے نماز جمعہ اور نماز عصر اکٹھی پڑھی جائیں گی اور بعد میں شورٰی کا کام شروع کیا جائے گا۔
    یہاں جو دوست نماز جمعہ ادا کرنے آئے ہیں انہیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ مجلس۔شورٰی میں شریک ہونے کے لیے بیرونی جماعتوں سے نمائندگان اور مہمانوں کی ایک خاصی تعداد آئی ہے۔ پھر یہاں کے مقامی لوگ بھی ہیں۔ اس لیے مسجد اگرچہ بڑی ہے بلکہ قادیان کی مسجد اقصٰی سے بھی بڑی ہے پھر بھی بہت سے لوگ باہر کھڑے ہیں۔ اس موقع پر میں پہلی نصیحت تو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ اجتماع برکت کا موجب ہوتے ہیں لیکن بعض اجتماع مختلف قسم کی خرابیوں کا موجب بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ بعض اوقات میلوں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور جب اجتماع میلوں کی شکل اختیار کر جاتے ہیں تو ان کی برکتیں چھن جاتی ہیں۔اس لیے باہر سے آنے والے احباب اس طرف خاص طور پر توجہ کریں اور کوشش کریں کہ ہمارے اس قسم کے اسلامی اجتماع میلوں کی شکل اختیار نہ کریں۔ احباب کو اسلامی جماعتوں کے مطابق اپنا پروگرام بنانا چاہیے اور اکثر وقت ذکرِالٰہی میں صَرف کرنا چاہیے۔ جو لوگ اس قسم کے اجتماعوں کی غرض کو پورا نہیں کرتے اور خداتعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے اپنے وقت کو کسی پروگرام کے ماتحت خرچ نہیں کرتے اور گپّیں ہانکنے اور بازاروں میں اِدھراُدھر پھرنے سے اپنے آپ کو روک نہیں سکتے ان کے لیے، ان کے خاندان کے لیے اور دین کے لیے یہ زیادہ برکت والی بات ہو گی کہ وہ یہاں نہ آئیں کیونکہ اُن کا یہاں آنا اور پھر اپنے وقت کو لغو باتوں میں ضائع کر دینا اُن۔کے لیے اور اُن کے خاندان کے لیے خداتعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو جاتا ہے۔ پس جو دوست یہاں آئیں وہ اس طرز سے یہاں رہیں کہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اپنے ایمان کی ترقی اور دین کے سیکھنے میں خرچ کریں۔ جو لوگ اِدھراُدھر کھڑے ہو کر گپّیں ہانکتے ہیں اُن کا نہ آنا یہاں آنے سے بہتر ہے۔ اگر ان کے یہاں کچھ رشتہ دار ہیں اور وہ ان مواقع پر یہاں اس لیے آتے ہیں کہ وہ انہیں مل لیں تو وہ کسی اَور وقت یہاں آیا کریں تا ہمارے اجتماع جو خالص اسلامی طرز کے ہوتے ہیں میلوں کا رنگ اختیار نہ کر جائیں۔ آخر جہاں مرکز ہوتا ہے وہاں جماعت کے دوستوں کے بعض رشتہ دار بھی ہوتے ہیں اور وہ انہیں ملنے کے لیے ضرور آئیں گے میں انہیں ایسا کرنے سے روکتا نہیں۔ میری نصیحت صرف یہ ہے کہ وہ اِس غرض کے لیے اِن دنوں میں یہاں نہ آیا کریں تا ہمارے اجتماع میلوں کا رنگ اختیار نہ کریں۔ جیسے عام طور پر لوگ میلوں پر اس لیے چلے جاتے ہیں تا وہ میلہ بھی دیکھ آئیں اور اپنے رشتہ داروں کو بھی مل آئیں۔ وہ انہیں ملنے کے لیے دوسرے اوقات میں سے کوئی وقت نکال لیا کریں تا ان کا یہاں آنا ثواب کی بجائے عذاب کا موجب نہ بنے۔
    دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری موجودہ حالت ایک مہاجر کی سی ہے۔ اِس زمانہ میں ہجرت ایک خاص رنگ اختیار کر گئی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بھی ہجرت ہوتی تھی لیکن وہ ہجرت اس قسم کی تھی کہ دو دو تین تین آدمی ہجرت کر کے چلے جاتے تھے اور انصار میں ملتے جاتے تھے۔ لیکن یہ ہجرت ایسی ہے کہ سب لوگ اکٹھے ہجرت کرکے آ گئے ہیں اور کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں وہ بس سکیں۔ ہم پر خداتعالیٰ نے فضل کیا اور ہمیں ایک مرکز دیا۔ لیکن اِس مرکز کے بنانے میں بہت دیر لگ گئی ہے۔ گو یہ خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ باوجود مصائب کے اور بے بس اور بے کس ہونے کے ہماری جماعت کی حالت ایسی مایوس کن نہیں جیسی دوسری اقوام کی ہے۔ میں نے کسی احمدی کو اس حالت میں نہیں دیکھا کہ وہ حیران اور پریشان ہو اور اس کے چہرے پر مایوسی چھائی ہوئی ہو۔ مجھے ایک دفعہ ایک ملکی کام کے لیے لاہور سے راولپنڈی جانا پڑا۔ ہم موٹر میں جا رہے تھے۔ رستہ میں سڑک کے نزدیک میں نے ہزاروں ہزار آدمیوں کو ڈنڈے کھڑے کر کے اور اُن پر چادریں ڈال کر کھیتوں میں پڑے ہوئے کسمپرسی کی حالت میں دیکھا۔میں نے سمجھا کہ شاید یہ لوگ خانہ بدوش ہیں یا مزدور ہیں جنہوں نے عارضی طور پر یہاں خیمے لگائے ہوئے ہیں۔ میرے ساتھ میرا ایک لڑکا بھی تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ مہاجر ہیں۔ گورنمنٹ ان کے لیے کوئی انتظام کرتی تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ میں نے موٹر کو وہاں کھڑا کیا اور بعض لوگوں سے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ واقع میں مہاجر ہیں۔ان کی حالت نہایت خراب تھی لیکن ہماری جماعت کے دوستوں کی یہ حالت نہیں۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ ہمارے کچے مکانات ہیں اور وہ بھی اتنے اچھے نہیں اور انہیں مکانوں میں غریب اور امیر سب رہتے ہیں لیکن پھر بھی یہ مکانات اُن جھونپڑوں کی نسبت بہت اچھے اور صاف ستھرے ہیں۔ پس دوسرے لوگوں کی نسبت ہماری حالت بہرحال اچھی ہے۔ صرف بات یہ ہے کہ پوری تنظیم کے نہ ہونے کی وجہ سے کام نہیں ہوا اور مرکز کے آباد کرنے میں دیر لگ رہی ہے۔ خداتعالیٰ کی تقدیر تو پوری ہو گی اور پوری ہو رہی ہے لیکن ضروری ہے کہ انسانی تدبیر کا جو حصہ ہے وہ بھی پورا ہو۔ خداتعالیٰ کی تقدیر نے ہمیں ایک مرکز دے دیا ہے اور دوسری قوموں کی نسبت ہماری حالت بدرجہا بہتر ہے لیکن جماعت تدبیر والے حصہ کو پورا نہیں کر رہی۔ خداتعالیٰ تو نشانات ظاہر کر رہا ہے اور اپنی تقدیر کو بڑھ۔چڑھ کر پورا کر رہا ہے کوتاہی صرف ہماری طرف سے ہو رہی ہے۔ بہرحال یہ حالت جتنی دیر رہے گی ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔
    جو لوگ دور سے آتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ خداتعالیٰ کا کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا لیکن جو یہاں رہتے ہیں اُن پر خداتعالیٰ کے نشانات کی عظمت ظاہر ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ تم خود وہ کام نہیں کر سکے جو تمہارے سپرد تھا یعنی انسانی تدبیر کا جہاں تک سوال تھا اُسے پورا نہیں کیا گیا۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ افراد اپنے مکان نہیں بنا سکتے کیونکہ ان کی جائیدادیں اور اموال مشرقی پنجاب میں لُٹ گئے اور اب وہ اس حالت میں نہیں کہ مکان بنا سکیں۔ بعض کی زمین کھلی پڑی ہوئی ہے، بعض کی بنیادیں کُھدی پڑی ہیں، بعض نے بنیادیں کھڑی کر لی ہیں تو ابھی دیواریں نہیں بنیں اور اگر دیواریں بنی ہیں تو چھتیں نہیںپڑیں۔ پھر ابھی دفاتر بھی تعمیر نہیں ہو سکے، سکول اور کالج کی عمارتیں بھی نہیں بنیں، مہمان خانہ نہیں بنا، کارکنوں کے رہائشی کوارٹر تیار نہیں ہوئے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم خداتعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ ہماری مشکلات کو دور فرمائے اور یہ ایک ہی ہتھیار ہے جو ہم ہر جگہ استعمال کر۔سکتے۔ہیں۔
    جو لوگ باہر سے آئے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا کام ابھی تشنہ تکمیل ہے۔ ابھی ہمیں بہت سا کام کرنا ہے۔ اس لیے آؤ ہم خداتعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعائیں کریں کہ وہ جلد سے جلد ہمارے اس عارضی مرکز کو آباد کرے تا اشاعت کا کام جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے سُرعت کے ساتھ دنیا میں پھیل جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں یہ بھی دعائیں کرنی چاہییں کہ اللہ۔تعالیٰ اس مرکز کو آئندہ کے لیے آباد رکھنے کی بھی کوئی صورت پیدا کر دے۔ ہم جب قادیان چلے جائیں گے ایک بڑی پرابلم (Problem) ہمارے سامنے آ جائے گی کہ یہ عارضی مرکز جو بنایا گیا ہے اسے کس طرح آباد رکھا جائے۔ اس کے لیے ہمیں آج سے ہی دعائیں شروع کر دینی چاہییں کہ خداتعالیٰ اِس جگہ کو آباد رکھنے کی بھی کوئی صورت بنا دے۔ مکہ اور مدینہ میں کوئی بڑا فاصلہ نہیں تھا لیکن پھر بھی مکہ کی موجودگی میں مدینہ کی ضرورت باقی تھی۔ اس لیے یہ سوال تو پیدا نہیں ہو سکتا کہ قادیان کی موجودگی میں ربوہ کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ سوال یہ ہے کہ جماعت اُس وقت تک اس قدر بڑھ جائے کہ اس کے لیے ایک سے زیادہ مراکز ضروری ہو جائیں۔ اگر جماعت بڑھ جائے تو ایک کالج کیا دس ہزار کالج بھی ہمارے لیے تھوڑے ہیں۔ ایک اسکول کیا ایک لاکھ اسکولبھی ہماری ضرورت کو پورا نہیں کر سکتے۔ پس جماعت بڑھ جائے تو پھر کوئی بات نہیں یہاں بھی ایک مرکز رہے اور قادیان بھی مرکز رہے بلکہ ہمیں مشرقی بنگال میں بھی ایک مرکز بنانے کی ضرورت ہے لیکن موجودہ حالات میں جماعت اتنی تھوڑی ہے کہ اس کے لیے دو مراکز کو قائم رکھنا مشکل ہے اور بظاہر حالات دو جگہ پر پوری طاقت کے ساتھ بیٹھنا مشکل نظر آتا ہے لیکن خداتعالیٰ میں یہ طاقت ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کو کھول دے اور جماعت ایک سال میں دس گُنا ہو جائے۔ پھر دونوں مرکز آباد رہ سکتے ہیں بلکہ پھر یہ سوال بھی آ جائے گا کہ ایسٹ پاکستان میں بھی ایک مرکز قائم کیا جائے۔
    یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو جماعت بھی فعّال ہو گی اُسے دوسروں سے الگ مرکز بنانا پڑے گا۔ مثلاً لاہور یا کسی اَور شہر میں ہم رہتے تو ہمیں دوسروں کا حصہ بن کر رہنا پڑتا لیکن کسی جماعت کا مرکز اُس جگہ کو کہتے ہیں جہاں اُسے کثرت حاصل ہو اور جہاں اُس کا اپنا ماحول ہو۔ اس لیے ہمیں بہرحال اپنا مرکز دوسروں سے الگ بنانا پڑے گا تا ہماری وہاں کثرت ہو اور اپنا دینی ماحول ہو۔ قادیان کو خداتعالیٰ نے بطور مرکز اس لیے چُنا تھا کہ وہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں ہمارا اپنا ماحول آسانی کے ساتھ بن سکتا تھا۔ پس مرکز کے لیے جو جگہ بھی منتخب ہو گی وہ جنگل میں ہی ہو گی لاہور، کراچی، پشاور، ڈھاکہ یا چٹاگانگ میں نہیں ہو گی۔ مرکز بہرحال کسی چھوٹی جگہ یا کسی جنگل میں بنے گا جہاں ہم اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، چلتے۔پھرتے اپنے آپ کو ایک خاص ماحول میں اور ایک خاص پروگرام کے ماتحت رکھ سکیں۔ اور ایسی جگہ لاہور میں نہیں ہو سکتی، لندن میں نہیں ہو سکتی، واشنگٹن میں نہیں ہو سکتی، نیویارک میں نہیں ہو سکتی، بلکہ وہیں ہو سکتی ہے جہاں اپنا ماحول بنانا ممکن ہو، اپنے سکول ہوں اور اپنی اکثریت ہو اور یہ ہمیں بنے بنائے شہروں میں حاصل نہیں ہو سکتی۔ سب انبیاء کے زمانوں میں یہی طریق اختیار کیا گیا ہے۔ مکہ کو دیکھ لو خداتعالیٰ نے مکہ والوں پر احسان کیا کہ اُس نے ان میں اپنا عظیم۔الشان رسول بھیج دیا لیکن وہ بھی کوئی بڑا شہر نہ تھا محض ایک قصبہ تھا لیکن کئی سال تک انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ اس پر خداتعالیٰ نے اسے مدینہ بھیج دیا جو ایک چھوٹی سی جگہ تھی جہاں خداتعالیٰ نے جلد ہی ایک دینی ماحول پیدا کر دیا اور اس کے ماننے والوں کو غلبہ دیا۔ جب مدینہ میں دین پھیل گیا تو اس کے بعد آہستہ آہستہ مکہ والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا لیکن یہ اُسی وقت ہوا جب مدینہ مرکز بنا۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم جب تک مکہ میں رہے اُس وقت تک مکہ والوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ پس مرکز یا تو کسی نئی جگہ بنے گا یا کسی گاؤں یا چھوٹے قصبہ میں بنے گا جہاں جماعت جلد از جلد پھیل جائے اور اسے ایک دینی ماحول میسر آجائے۔
    یہ بات میں نے اس لیے بتائی ہے کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ آخر ایک نئی جگہ بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ جس شہر میں بھی مرکزی دفاتر ہوتے وہی ہمارا مرکز ہوتا۔ میں نے بتایا ہے کہ یہ بات غلط ہے۔ مرکز اُسی مقام کو کہتے ہیں جہاں کسی جماعت کی اکثریت ہو اور جہاں کا ماحول اس کا اپنا ہو۔ اگر کسی مقام کو یہ خصوصیت حاصل نہیں تو وہ مرکز نہیں۔ اس کی مثال سمندر میں ایک کارک کی سی ہے۔ لاہور میں ایک اسکول کیا ہم دس اسکول بنا لیں، سینکڑوں مبلّغ تیار کر لیں لیکن وہ لاہور کی آبادی کا ایک حصہ ہی ہوں گے۔ لاہور دس لاکھ کی آبادی کا شہر ہے۔ وہاں درجنوں سکول ہیں۔ اگر وہاں ہم ایک کی بجائے دس اسکول بھی بنا لیں تب بھی وہ شہر کا ایک حصہ ہی ہوں گے، ایک کالج کی بجائے چار کالج بھی بنا لیں تب بھی وہ شہر کا ایک حصہ ہی ہوں گے۔ لیکن ان سے چوتھا حصہ تعلیمی ادارے بنا کر ہم ربوہ کو مرکز بنا سکتے ہیں جہاں ہمارا اپنا ماحول ہو گا، اپنی اکثریت ہو گی اور جہاں ہمیشہ ذکرِالٰہی ہو گا، قرآن کریم کا درس ہو گا، مسجد میں ہم خداتعالیٰ کے نام کو بلند کر سکیں گے، اسلام کا ہمیں صحیح مفہوم حاصل ہو گا جو تمام قسم کے زنگوں اور آلائشوں سے پاک ہو گا اور پھر یہاں رہ کر ہم اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانے کی تدابیر سوچ سکیں گے۔ یہ باتیں لاہور یا کسی اَور شہر میں ہمیں میسر نہیں آ سکتیں۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ خداتعالیٰ کی طاقت میں سب کچھ ہے مگر بظاہر حالات اگر ہمیں وہاں اکثریت بھی حاصل ہو تب بھی وہ اکثریت کہیں پچیس۔چھبیس سال میں حاصل ہو گی لیکن یہاں فوری طور پر اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ یہ بالکل اُجڑی ہوئی جگہ تھی۔ یہاں کوئی آبادی نہ تھی۔ جب یہاں دس پندرہ خیمے لائے گئے تب بھی یہاں ہمیں اکثریت حاصل تھی اور اب جب کچھ مکانات بن گئے ہیں تب بھی ہمیں اکثریت حاصل ہے لیکن لاہور میں ہم پندرہ سو مکانات کے ساتھ بھی مرکز نہیں بنا سکتے تھے۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ السلام اگر دہلی میں تشریف لے جاتے اور ہزاروں آدمی وہاں ایمان لے آتے تب بھی وہ مرکز نہ ہوتا لیکن قادیان مرکز ہو گیا کیونکہ وہ ایک چھوٹی سی جگہ تھی اور وہاں جماعت جلد پھیل گئی اور اس نے اکثریت حاصل کر لی، اپنا دینی ماحول پیدا کر لیا۔ اور مرکز کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ ایسی جگہ جو دوسروں سے الگ ہو، جہاں ایک ہی خیال کے لوگ بستے ہوں اور اسلام کی اشاعت اور اس کو تمام دنیا میں پھیلانے کی تجاویز صبح، دوپہر، شام اور رات ہمارے کانوں میں پڑتی ہوں۔ ایسے مراکز کی ہمیں ہر جگہ ضرورت ہو گی۔ پنجاب میں بھی ان کی ضرورت ہو گی، سندھ میں بھی ان کی ضرورت ہو گی، سرحد میں بھی ان کی ضرورت ہو گی، بنگال میں بھی ان کی ضرورت ہو گی تا کہ ہم تبلیغی اور تعلیمی کام کو جاری رکھ سکیں۔ لیکن اس کے لیے روپیہ کی ضرورت ہے تا کہ ہم سلسلہ کے دفاتر بنا سکیں اور لوگوں کی صحیح رنگ میں نگرانی کی جا سکے۔ اگر یہ سب چیزیں میسر آ جائیں تو متعدد مراکز قائم ہو سکتے ہیں۔ اور اگر یہ چیزیں میسر نہ آئیں تو ایک جگہ میں بھی مرکز قائم رکھنا مشکل ہے۔
    پس ہمیں خداتعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہییں کہ وہ ہمارے اس عارضی مرکز کو برکت دے اور اسلام کی اشاعت کی تقدیر جو اس نے جاری کی ہے وہ اسے وسیع کرنے کی ہمیں توفیق دے۔ موجودہ ضُعف اور کمزوری کے دوروں سے جماعت کو جلد نکالے اور ہمارے نوجوانوں میں دینی روح پیدا کرے تا کہ دین کی طرف انہیں رغبت پیدا ہو۔ کیونکہ جب تک آئندہ دین سے رغبت رکھنے والی نسل پیدا نہ ہو وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور اس کا کام اس کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن ہم نے اسلام کی اشاعت کے کام کو ختم نہیں کرنا بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ وسیع کرنا ہے۔ پس ہمیں بہت۔زیادہ۔دعاؤں اور ذکرِالٰہی سے کام لینا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقصد میں کامیاب فرمائے جس کے لیے اس نے ہماری جماعت کو قائم فرمایا ہے‘‘۔ (الفضل3جولائی1951ئ)

    1
    :
    صحیح البخاری کتاب الاذان باب اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ و صحیح مسلم کتاب الصّلاۃ باب ائْتمامِ المَأْمُوْم بِالْاِمَامِ
    2
    صحیح البخاری کتاب الاذان باب اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ


    8
    خداتعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے گُر
    (فرمودہ30مارچ1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مذہب کی بنیاد یا یوں کہو کہ مذہب کے عملی حصہ کی بنیاد محبتِ الٰہی پر ہے جسے عام اصطلاح میں تعلق باللہ کہتے ہیں۔ ’’علق‘‘ کے معنے چمٹ جانے کے ہیں اور چمٹنے والی چیز کو علقہ کہتے ہیں۔ گویا تعلق باللہ کے یہ معنے ہوں گے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ چمٹ جائے۔ ’’علاقہ‘‘ کا لفظ بھی اسی قسم کا ہے۔ ’’مجھے اس سے علاقہ نہیں‘‘ کے معنے ہوتے ہیں مجھے اس کے ساتھ کوئی لگاؤ نہیں یا مجھے اس کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں۔ تو مذہب کی بنیاد تعلق باللہ پر ہے اور محبتِ الٰہی پر ہے۔ اور مذہب کے تمام حِصص اِسی قسم کے ہیں جنہیں بندہ اور خداتعالیٰ میں محبت پیدا کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ لیکن بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہر ایک انسان کی پہنچ میں نہیں ہوتیں اور بعض چیزیں ہر انسان کی پہنچ میں ہوتی ہیں۔ خداتعالیٰ کے باریک در باریک فیوض اور مخفی در مخفی فیضان پر ہر انسان کی پہنچ نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ تو ان کو جانتے ہی نہیں اور بہت سے لوگ جان کر اِن کو پہچاننے کے قابل نہیں ہوتے۔ پس جو چیزیں عام لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں وہی تمام بنی نوع انسان کے کام آ سکتی ہیں لیکن تعجب کی بات ہے کہ لوگ بالعموم ان چیزوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور قریب۔ترین سامان جو ان کی نجات اور بچاؤ۔کے موجب ہو سکتے ہیں انہیں بُھلا دیتے ہیں۔ اور ایسی چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو یا تو انہیں میسر ہی نہیں آ سکتیں اور اگر میسر آ جائیں تو ان کے لیے بڑی جدوجہد اور بھاری قُربانی کرنی پڑتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ تو وہ چیز جو وہ تلاش کرتے ہیں انہیں ملتی ہے اور نہ وہ اُس چیز سے جو اُن کے ہاتھ میں ہوتی ہے کوئی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔
    مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ بعض دفعہ ہم تسبیح کہتے ہیں تو ایک ہی دفعہ کی تسبیح میں ہمیں خداتعالیٰ کا اس قدر قُرب حاصل ہو جاتا ہے کہ دوسرا انسان ہزاروں ہزار دفعہ ویسی تسبیح کر کے بھی اس سے اتنا فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔میں اُس مجلس میں نہیں تھا کسی ہمارے ہم عمر نے یہ بات سن لی۔ وہ مجھے ملے تو انہوں نے تعجب سے کہا پتا نہیں اس میں کیا راز ہے۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معلوم نہیں کس تسبیح کا ذکر کیا ہے۔ اس نے مجھ سے ذکر کیا تو یہ بات فوراً میرے ذہن میں آ گئی کہ ایک تسبیح دل سے نکلتی ہے اور ایک تسبیح زبان سے نکلتی ہے۔ جب تسبیح دل سے نکلتی ہے تو یکدم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کہیں سے کہیں پہنچ گیا ہے۔ اور جو تسبیح زبان سے نکلتی ہے وہ خواہ کوئی انسان ہزاروں دفعہ دُہرائے وہ وہیں کا وہیں بیٹھا رہتا ہے۔ میں نے اسے کہا میں سمجھ گیا ہوں۔ جو تسبیح دل سے نکلتی ہے اس کا اثر فوراً ظاہر ہو جاتا ہے اور جو صرف زبان سے نکلتی ہے اُس کا کوئی اثر پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہنس پڑے اور کہا لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ آپ نے بھی کس طرح ایک اہم بات کو چٹکیوں میں اُڑا دیا۔
    غرض جو چیز سہلُ الْحصول ہو اسے لوگ چھوڑ دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی جنترمنتر مل جائے حالانکہ خداتعالیٰ کے ملنے کے لیے کسی جنترمنتر کی ضرورت نہیں ہو تی بلکہ ان فطرتی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر انسان میں پائی جاتی ہیں۔ جس طرح لوگ اپنے ماں۔باپ اور بیٹے۔بیٹی اور بھائی۔بہنوں سے تعلق پیدا کر لیتے ہیں، جس طرح لوگ کسی کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں وہی طریق خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ تم اپنے اردگرد دیکھ لو کہ لوگ ایک دوسرے کے کس طرح دوست بنتے ہیں۔ دنیا میں وہ کونسا انسان ہے جس کا کوئی دوست نہیں، جس کا کوئی ساتھی نہیں، جس کا کوئی بے۔تکلف نہیں۔ آخر وہ کیسے دوست بن گئے؟ وہ کیسے بے تکلف بن گئے؟ جس طرح وہ بے۔تکلف بن جاتے ہیں اِسی طرح خداتعالیٰ سے بھی تعلق پیدا کیا جا سکتاہے۔ تمہیں بہت سی چھوٹی۔چھوٹی چیزیں نظر آئیں گی جن سے کوئی شخص تمہارا دوست بن گیا تھا اور تم دوسروں کے دوست بن گئے تھے۔ تمہیں نظر آئے گا کہ مثلاً تم دونوں کسی جگہ اکٹھے رہے یا کسی اسکول میں یا ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور قریب رہنے سے آہستہ آہستہ تمہارے تعلقات بڑھتے گئے اور بغیر اس کے کہ کوئی خاص جہدوجہد کرنی پڑتی تم دونوں آپس میں دوست بن گئے یا تم دونوں ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے اور صبح سویرے اکٹھے بیل لے کر کھیت میں جایا کرتے تھے۔ اسی طرح آہستہ آہستہ تم دونوں میں دوستی ہو گئی اور اس میں کسی خاص جدوجہد کی ضرور ت پیش نہ آئی۔ یہی حال خداتعالیٰ کا بھی ہے۔ جب کوئی انسان خداتعالیٰ کے ساتھ اکٹھا رہتا ہے تو خدا اور اس کے درمیان دوستی پیدا ہو جاتی ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں جاہل ہوں اس لیے مجھے ان ذرائع کا علم نہیں جن کے ذریعہ محبت الٰہی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ہر جاہل سے جاہل اور ادنیٰ سے ادنیٰ شخص کا بھی کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے۔ آخر وہ دوست کیسے بن گیا؟ جس طرح وہ اس کا دوست بن گیا ہے اسی طرح وہ خداتعالیٰ کا دوست بھی بن سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ میرا کوئی دوست نہیں۔ صدمہ اور تکلیف کے وقت بعض دفعہ انسان کہہ دیا کرتا ہے کہ دنیا میں میرا کوئی دوست نہیں لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اُس کا واقع میں کوئی دوست نہیں بلکہ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اُس کے دوست اِس قابل نہیں کہ اِس صدمہ میں اُس کی مدد کر سکیں۔ ویسے دوست ہوتے ضرور ہیں چاہے وہ اس جیسے بے۔کس اور بے۔بس ہوں۔
    درحقیقت دنیا میں کوئی بھی انسان ایسا نہیں جس نے دل لینے یا کسی کو اپنا دل دینے کا تجربہ نہ کیا ہو اور وہ یہ نہ جانتا ہو کہ اس کا کیا طریق ہے۔ ہر جاہل سے جاہل اور ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی بھی جانتا ہے کہ دنیا میں کسی کو اپنا دل کیسے دیا جاتا ہے اور دوسرے کا دل کیسے لیا جاتا ہے۔ یہی چیز جو اس جگہ تجربہ میں آئی ہے خداتعالیٰ کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص نے ایک دوسرے شخص سے اتفاقاً کوئی نیکی کر دی اور یہ چیز اس کی دوستی کا موجب ہو گئی۔ مثلاً شریفُ۔الطبع لوگ ماں باپ سے محبت کرتے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہوتی ہے؟ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ماں دودھ پلاتی ہے اور بچہ اُس کا دودھ پیتا ہے اور بغیر سوچنے کے یہ معلوم کر لیتا ہے کہ یہ دودھ اُسے اُس کی ماں دے رہی ہے۔ اِسی طرح ایک لمبے عرصہ تک اسے دیکھنے کے بعد اس کے دل میں اس کی محبت پیدا۔ہو جاتی ہے۔ یا کوئی استاد ہے ایک شخص اُس سے پڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ اُسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ استاد اس کی حالت اچھی بنا رہا ہے، اس کی بدولت وہ روزی کمانے لگ جائے گا اور دنیا میں وہ عزت حاصل کرے گا۔ اس کے بعد اس کے دل میں استاد کے لیے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ یا پھر کسی چیز کے حسن اور اس کی ذاتی خوبی کی وجہ سے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ غرض پاس رہنا یا حسن یا احسان آپ ہی آپ قلوب میں تبدیلی پیدا کر دیتے ہیں اور انسان کو کسی حسین محسن یا اپنے ساتھ رہنے والے سے محبت ہو جاتی ہے اور یہ ہم میں سے ہر ایک کا تجربہ ہے۔
    آدمیوں کو جانے دو جانوروں کو دیکھ لو۔ کُتا ہے، بلی ہے یا بعض لوگ خرگوش پالتے ہیں، طوطا اور مینا رکھتے ہیں۔ ان سب جانوروں کو اپنے پالنے والے سے محبت ہو جاتی ہے۔ وہ اس آدمی سے جو انہیں روٹی ڈالتا ہے یا جس کے پاس وہ رہتے ہیں پیار کرنے لگ جاتے ہیں۔ مثلاً بلی کو جگہ سے محبت ہوتی ہے گھر والے کہیں چلے جائیں تب بھی بلی اُس جگہ کو نہیں چھوڑے گی۔ کُتے کو اپنے مالک سے محبت ہوتی ہے مالک کہیں چلا جائے کُتا وہیں چلا جاتا ہے۔ طوطا اور مینا جو لوگ پالتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ انہیں اپنے پالنے والے سے کس قدر اُنس ہو جاتا ہے۔ انہیں خواہ پنجرے سے نکال بھی دیا جائے تب بھی وہ کہیں نہیں جائیں گے وہیں بیٹھے رہیں گے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ یہ احسان کو متواتر دیکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرف لوگوں کو توجہ دلائی جائے لیکن انہیں اس طرف توجہ دلائی نہیں جاتی۔ ماں باپ سے ہر ایک انسان محبت کرتا ہے اس لیے کہ ان کی طرف آپ ہی آپ توجہ ہو جاتی ہے اور وہ خود بھی اسے یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ہم تمہارے خیرخواہ ہیں۔ لیکن استادوں سے لوگوں کو بہت کم محبت ہوتی ہے اس لیے کہ وہ عام طور پر اپنے احسانات کو دہراتے نہیں۔
    اللہ تعالیٰ کی ذات ماں اور استاد سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ اس لیے وہاں توجہ کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس کی محبت پیدا کرنے اور اس کے قُرب کو حاصل کرنے کے لیے چیزیں وہی ہیں، گُر وہی ہیں لیکن ضرورت صرف توجہ کی ہے۔ بعض موٹی موٹی چیزیں ہیں جن پر لوگ عمل نہیں کرتے۔ اس لیے وہ قُربِ۔الٰہی سے محروم رہتے ہیں۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب کھانا کھاؤ تو پہلے بِسْمِ اللّٰہِپڑھ لیا کرو۔1 اب کھانا شروع کرنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِکہنے کے یہی معنے ہیں کہ یہ کھانا مجھے خداتعالیٰ نے دیا ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِکے لفظی معنے تو یہ ہیں کہ میں خداتعالیٰ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں لیکن اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ کھانا خداتعالیٰ کا ہے۔ میرا کوئی حق نہ تھا کہ اسے کھاؤں مگر خداتعالیٰ نے مجھے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے اور اس نے کہا ہے تم کھا لو اس لیے میں کھا رہا ہوں۔ نہ گندم میری پیدا کی ہوئی ہے، نہ پانی میرا بنایا ہوا ہے، نہ نمک میرا بنایا ہوا ہے، نہ مرچ میری پیدا کی ہوئی ہے، نہ گوشت میرا پیدا کیا ہوا ہے، نہ ترکاریاں میں نے پیدا کی ہیں۔ یہ سب چیزیں میرے باپ دادا کی پیدائش سے بھی پہلے کی ہیں۔ بڑے سے بڑے خاندان کا ذکر بھی سَو پُشتوں سے آگے نہیں جاتا لیکن گندم، پانی، ترکاری، گوشت، نمک، مرچ اور مونگ وغیرہ ہزار پُشتوں سے بھی پہلے سے موجود ہیں اور جب یہ سب اشیاء میری پیدائش بلکہ میرے باپ دادا کی پیدائش سے بھی پہلے کی ہیں تو یہ میری تو نہیں ہو سکتیں۔ بِسْمِ اللّٰہِ کے معنے ہی یہ ہیں کہ سب چیزیں خداتعالیٰ کی ہیں لیکن اس نے ہمیں اجازت دی ہے کہ تم اسے کھا لو اور ہم کھا رہے ہیں۔ گویا یہ اس بات کا اظہار اور اقرار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ چیزیں دے کر ہم پر احسان کیا ہے ورنہ ہم میں طاقت نہیں تھی کہ اسے خود مہیا کرسکتے۔ اسی طرح جب ہم پانی پیتے ہیں تو ہم غور کرتے ہیں کہ یہ پانی خداتعالیٰ نے زمین کی تہوں میں رکھا ہے۔ خداتعالیٰ قرآن کریم میں باربار فرماتا ہے کہ اگر ہم اس پانی کو کھینچ لیں تو تم پانی کہاں سے لاؤ2 اور یہ سچی بات ہے کہ ہم میں ایسی طاقت نہیں کہ پانی مہیا کر سکیں۔ یہ سب خداتعالیٰ کا فضل۔ہے کہ اس نے یہ سب ضروری اشیاء ہمیں مہیا کر دی ہیں۔ اگر تھوڑی دیر ہی میں ہمیں پانی نہ ملے تو ہمیں بڑی دقّت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے وہاں لوگ ایسی ایسی چیزیں پیتے ہیں جن کو ہمارے علاقہ میں پانی نہیں کہہ سکتے۔ مثلاً سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقے ہیں وہاں لوگ کیچڑ پیتے ہیں لیکن ہمارے ملک والے ایسا نہیں کر سکتے۔ ہاں! یہ الگ بات ہے کہ انہیں کوئی مشکل پیش آ جائے تو اس قسم کا پانی پی لیں ورنہ عام حالات میں ہمارے ہاں اسے پانی نہیں سمجھا جاتا۔ اب دیکھ لو یہ کتنا آسان سا ذریعہ ہے خداتعالیٰ کے قُرب کے حاصل کرنے کا۔ لوگ کہتے ہیں ہمیں خداتعالیٰ سے محبت پیدا کرنے کے گُر بتاؤ۔ لیکن کتنے لوگ ہیں جو اس چھوٹی سی بات پر ہی عمل کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کھانے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ پڑھ لیا کرو۔ اب اگر میں پوچھوں کہ تم میں سے کتنے لوگ اِس ہدایت پر عمل کرتے ہیں؟ تو شاید پانچ فیصدی لوگ کھڑے ہوں حالانکہ واقعہ یہی ہے کہ خداتعالیٰ کی محبت کو اسی طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جیسے دنیا میں دوسرے لوگوں کی محبت کو لوگ حاصل کر لیا کرتے ہیں، انہیں دوست بنا لیا کرتے ہیں خداتعالیٰ کی محبت کو پیدا کرنے کے لیے کوئی خاص گُر نہیں ہوتے۔ دنیا میں لوگ ماں باپ سے محبت کرتے ہیں اور یہ محبت اسی لیے پیدا ہو جاتی ہے کہ ان کے احسانات باربار اس کے سامنے آتے ہیں ورنہ ماں باپ کی محبت کہیں باہر سے تو نہیں آتی۔ کبھی یہ ہوتا ہے کہ محبت کے بھرے ہوئے گھڑے باہر سے لائے جا رہے ہوں یہ محبت آپ ہی آپ پیدا ہو جاتی ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا3 خدا نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ جو شخص اس پر احسان کرتا ہے اس کی محبت اس کے دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے۔ چاہے تم کوشش کرو یا نہ کرو یہ محبت خودبخود پیدا ہو جائے گی اس کے لیے کسی خاص جدوجہد اور کوئی خاص تدبیر اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی تم نے کوئی ایسا بچہ دیکھا ہے جو یہ پوچھے کہ ماں باپ کی محبت کس طرح پیدا کی جاتی ہے؟ جب تک کوئی بچہ جوان نہیں ہو جاتا اور اس کی بیوی اس کے ماں باپ کی محبت چھین نہیں لیتی وہ ماں باپ کا عاشق ہوتا ہے۔ اور ہر بچہ اور ہر بچی اپنے ماں باپ سے فطرتی طور پر محبت کرتی ہے نہ کبھی کسی نے اس کو پیدا کرنے کے لیے کوئی جدوجہد کی اور نہ کسی نے دوسروں سے اس بارہ میں مشورہ لیا۔ یہ محبت آپ ہی آپ پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر خداتعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے لیے کسی خاص گُر کی کیا ضرورت ہے۔ اس کی محبت پیدا کرنے کے بھی یہی طریق ہیں لیکن تم انہیں اختیار نہیں کرتے۔ تمہیں کون کہتا ہے کہ تم کھانا شروع کرنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ نہ پڑھو۔ بات صرف یہ ہے کہ تمہیں توجہ دلانے والا کوئی نہیں۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے بچہ ماں باپ سے دور ہو، ماں باپ اُسے خرچ بھیج رہے ہوں لیکن اسے یہ معلوم نہ ہو کہ یہ خرچ میرے ماں باپ کی طرف سے آ رہا ہے۔ اس لیے اس نے دل میں ان کی محبت پیدا نہیں کی ہو گی۔ اسی طرح جب تم خداتعالیٰ کو یاد نہیں کرتے اور تم غور نہیں کرتے کہ تمہیں کھانا کون بھیج رہا ہے تو تم کہتے ہو کہ اچھا خدا ہے کہ اس نے تو ہماری کبھی خبر بھی نہیں لی۔ لیکن اگر کوئی یاد دلا دے کہ یہ کھانا اُسی نے دیا ہے، یہ پانی اُسی نے دیا ہے تو خودبخود اُس کی محبت تمہارے دلوں میں پیدا ہو جائے گی۔ قُربِ۔الٰہی کے حصول کا جو موٹا گُر ہے اسے تم چھوڑ دیتے ہو اور یہ پوچھتے ہو کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے کون سا گُر ہے اور۔جانتے۔نہیں کہ وہ گُر موجود ہے لیکن تم اس سے کام نہیں لیتے۔ خداتعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے وہی گُر ہیں جن سے تمہارے دلوں میں ماں باپ، بیوی بچے اور بہن بھائیوں کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ خداتعالیٰ کا قُرب اور اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے خداتعالیٰ نے آسان آسان چیزیں سکھائی ہیں۔ مثلاً یہ بات بھی اسلام نے سکھائی ہے کہ جب تم کھانا کھا چکو تو اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِکہا کرو اور دوسری دفعہ خداتعالیٰ کو یاد کر لیا کرو۔ جس طرح دنیا میں کوئی آدمی کسی دوسرے کو کھانا کھلائے تو کھانے سے فارغ ہو کر وہ کہتا ہے شکریہ۔ اسی طرح جب انسان کھانا کھا لیتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِ کہتا ہے۔ گویا اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِکہنا خداتعالیٰ کے احسان کا دوسری بار شکریہ ادا کرنا ہے۔ اگر کوئی انسان اس پر مداومت اختیار کرے تو آپ ہی آپ اس کے دل میں خداتعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے گی لیکن افسوس کہ ہم ان راستوں کو اختیار نہیں کرتے۔
    خدام الاحمدیہ کو خاص طور پر ان باتوں کی عادت ڈالنی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کو ابھی سے ان باتوں کی عادت ڈالی جائے۔ کسی زمانہ میں عیسائیوں میں یہ ہوتا تھا کہ ہر خاندان میں کھانا کھانے سے پہلے گریس 4(GRACE)کرتے تھے۔ جب خاندان کے تمام افراد کھانا کھانے لگتے تو ماں باپ دعائیہ فقرے کہتے۔ میرے دل میں کئی دفعہ خیال آیا ہے کہ اگر گھر کا بڑا آدمی روزانہ اسی طرح دعا کر لیا کرے تو گھر کے تمام افراد کو آپ ہی آپ یہ خیال پیدا ہو جائے گا کہ یہ کھانا ہمیں خداتعالیٰ نے دیا ہے۔
    غرض جس طریق سے ماں باپ کی محبت پیدا ہوتی ہے اُسی طریق سے خداتعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ ان ذرائع کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے۔ بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن ان کو اختیار کرنے سے انسان بڑے بڑے فوائد حاصل کر لیتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ کسی شخص کا ایک بھتیجا تھا۔ اس نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ اگر تم ہمارے گھر آؤ تو میں تمہیں اتنا بڑا لڈو کھلاؤں گا جس کے بنانے میں کئی ہزار لوگوں نے ہاتھ لگایا ہو گا۔ وہ لڑکا اپنے ماں باپ کے پیچھے پڑا کہ مجھے میرے چچا کے ہاں بھیجو۔ اُس کا خیال تھا کہ وہ لڈو عجیب قسم کا ہو گا جس کو کوئی ہزار لوگوں نے مل کر بنایا ہو گا۔ آخر وہ چچا کے پاس گیا۔ اس نے اپنے حسب وعدہ ایک لڈو لا۔کر دیا۔ وہ عام لڈوؤں کی طرح معمولی قسم کا تھا جو اس لڑکے نے کئی دفعہ دیکھا تھا اور کھایا بھی تھا۔ اس نے کہا کیا یہ وہی لڈو ہے جس کے کھلانے کا آپ نے وعدہ۔کیا۔تھا؟ چچا نے کہا ہاں اور پھر اس نے بتانا شروع کیا کہ اس لڈو میں آٹا پڑا ہے، اتنے آدمیوں نے آٹا تیار کیا ہے اور پھر آٹا گندم کا بنا ہے جس کو اتنے زمینداروں نے کاشت کیا ہے، پھر جن بیلوں نے ہل چلایا تھا ان کے پالنے والوں کو گنو، پھر جو لوگ لوہا لائے اُن کو گنو، جو لکڑی لائے ان کو گنو، پھر لوہا کانوں سے نکلتا ہے کانوں میں جن لوگوں نے کام کیا ہے ان کو گنو، پھر وہ لوہا ریلوں اور گڈوں پر لایا گیا اس کے لانے والوں کو گنو تو یہ ہزاروں آدمی بن جاتے ہیں جنہوں نے اس لڈو کے بنانے میں حصہ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بظاہر دنیا کی ایک ایک چیز ہمیں معمولی نظر آتی ہے لیکن جب غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بنانے میں ہزاروں لوگوں نے حصہ لیا ہے اور وہ دنیا کا ایک طلسم ہیں۔
    غرض توجہ نہ کرنے کی وجہ سے خداتعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے ہزاروں مواقع ہم اپنے ہاتھوں سے کھو دیتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی کی نمازِجنازہ میں شامل ہوتا ہے اسے ایک قیراط کا ثواب ہوتا ہے اور جو جنازہ ادا کرنے کے بعد میت کے ساتھ قبرستان تک جاتا ہے میت کے دفن ہونے تک وہیں رہتا ہے اُسے دو قیراط کا ثواب ہوتا ہے اور یہ قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ایک صحابی کسی جنازہ میں شامل ہوئے۔ جب نمازِجنازہ پڑھ چکے اور قبرستان کی طرف چلے تو ان کے ساتھی نے کہا اب واپس چلیں اور کوئی اَور کام کریں۔ انہوں نے جواب دیا میں نے رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص کسی کی نمازِجنازہ میں شامل ہوتا ہے تو اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ہوتا ہے اور جو جنازہ کے بعد میت کے ساتھ قبرستان تک جاتا ہے اور میت کے دفن ہونے تک وہیں ٹھہرتا ہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ہوتا ہے اور قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔5 ان کے ساتھی نے کہا آپ اچھے دوست ہیں آپ نے پہلے یہ مسئلہ بتایا ہی نہیں۔ معلوم نہیں اب تک ہم نے کتنے قیراط ثواب ضائع کر دیا ہے۔
    اب دیکھو! بعض دفعہ ایک بات چھوٹی سی ہوتی ہے لیکن اس کے نتائج نہایت اہم ہوتے ہیں۔ دنیا میں جتنی اہم چیزیں ہوتی ہیں ان کے حصول کے ذرائع انسان کے قریب رکھے جاتے ہیں ورنہ ان کا حصول انسان کے لیے مشکل ہو جاتا لیکن لوگ ان ذرائع کو چھوڑ دیتے ہیں اور کسی اَور گُر کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ اس گُر کو بھلا دیتے ہیں جس سے خداتعالیٰ کی محبت حاصل ہو سکے اور وہ نہیں جانتے کہ۔خداتعالیٰ کی محبت انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پیدا ہوتی ہے۔ اور انہیں چھوڑ کر ہم اس کی محبت۔کبھی۔حاصل نہیں کر سکتے۔ بلکہ وہ امیروں اور فقیروں سے خداتعالیٰ کی محبت کے گُر پوچھتے پھرتے ہیں۔ ’’بغل میں لڑکا اور شہر میں ڈھنڈورا‘‘6۔ (الفضل 10جولائی1951ئ)

    1
    :
    بخاری کتاب الاطعمۃ باب التسمیۃ علی الطعام و الاکل بالیمین
    2
    :
    (الملک:31)
    3
    :
    کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال۔ جلد16 صفحہ48۔ حدیث نمبر44095 بیروت لبنان1998ء
    4
    :
    گریس:(Grace) عیسائی عقیدہ کے مطابق غیر محدود خدائی فضل اور مدد مانگنے کی دعا۔
    ‏(The Concise Oxford Dictionary)
    5
    :
    بخاری کتاب الجنائز باب من انتظر حتّٰی تُدْفَنَ
    6
    :
    بغل میں بچہ (لڑکا) شہر میں ڈھنڈورا(ڈُھنڈیا)کہاوت: چیز تو پاس ہے اور دنیا بھر میں اس کی تلاش ہورہی ہے۔(اردو لغت تاریخی اصول پرجلد2صفحہ 1176کراچی1979ئ)

    9
    خداتعالیٰ سے زیادہ کسی اَور چیز سے محبت نہیں ہونی چاہیے
    (فرمودہ6 ؍اپریل 1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ بعض لوگ روحانیت اور تعلق باللہ پیدا کرنے کے لیے گُر پوچھا کرتے ہیں حالانکہ روحانیت اور تعلق باللہ کے معنے محبت کے ہی ہیں۔ جیسے زید اور بکر میں محبت پیدا ہو جاتی ہے، ماں اور بیٹے میں محبت ہوتی ہے، باپ اور بیٹے میں محبت ہوتی ہے، بیٹی اور ماں میں محبت ہوتی ہے، بھائی بھائی میں محبت ہوتی ہے، بہن بہن میں محبت ہوتی ہے، بیٹی بیٹی یا بیٹے بیٹے میں محبت ہوتی ہے اور دوسرے رشتہ داروں میں محبت ہوتی ہے وہی جذبہ جب انسان میں خداتعالیٰ کے متعلق پیدا ہو جاتا ہے تو اسے تعلق باللہ کہتے ہیں۔ تعلق کے معنے ہیں لٹکنا اٹکنا۔ ہمارے ہاں بھی کہتے ہیں دل اٹکا ہوا ہے، دل لٹکا ہوا ہے۔ اسی کا نام تعلق باللہ اور روحانیت ہے۔ اور اس کا امتحان اس طرح ہو جاتا ہے کہ انسان خداتعالیٰ کی خاطر قربانی کرتا ہے اور دوسرے رشتوں اور تعلقات کو اگر وہ خداتعالیٰ کی محبت میں روک پیدا کریں تو انہیں قربان کر دیتا ہے۔ دوسری محبتوں میں یہ ضروری نہیںہوتا کہ کسی خاص شخص کی محبت کسی میں زیادہ ہو، بعض اوقات بھائی دشمنی کر جاتا ہے لیکن دوست وفا کر جاتا ہے، بیوی دھوکا کر جاتی ہے لیکن ماں وفاداری سے کام لیتی ہے، ماں دھوکا کر جاتی ہے لیکن بیوی وفادار رہتی۔ہے۔ پھر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی عورت کے ماں باپ اُس سے بے۔وفائی کر جاتے ہیں لیکن اُس کا خاوند اس کے لیے قربانی کر جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ خاوند بے وفائی کرتا ہے اور ماں باپ قربانی کرتے ہیں۔ لیکن تعلق باللہ میں یہ شرط ہے کہ انسان کو خداتعالیٰ سے زیادہ کسی اَور چیز سے محبت نہ ہو۔ اگر خداتعالیٰ کی محبت سے کسی اَور چیز کی محبت کا ٹکراؤ ہو جائے تو وہ خداتعالیٰ کو ترجیح دے دے۔ حضرت علیؓ سے ایک دفعہ حضرت حسنؓ نے پوچھا کہ آپ توحید پر پوری طرح قائم ہیں یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا ہاں میں توحید پر قائم ہوں۔ حضرت حسنؓ نے پھر سوال کیا، کیا آپ کو مجھ سے بھی محبت ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا ہاں مجھے تم سے محبت ہے۔ حضرت حسنؓ نے کہا آپ کو اللہ تعالیٰ سے بھی محبت ہے اور مجھ سے بھی محبت ہے تو آپ نے مجھے خداتعالیٰ کے برابر قرار دیا یہ تو شرک ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا صرف محبت کا ہونا شرک نہیں بلکہ اس کے درجہ میں فرق ہونا شرک ہے۔ اس میںشبہ نہیں کہ مجھے خداتعالیٰ سے بھی محبت ہے اور تم سے بھی لیکن جب تمہاری محبت خداتعالیٰ کی محبت سے ٹکرائے گی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور خداتعالیٰ کو ترجیح دوں گا۔غرض تعلق باللہ میں صرف اتنی شرط ہوتی ہے کہ خداتعالیٰ کی محبت دوسری محبتوں سے زائد ہو۔ ویسے ہوتی وہ محبت ہی ہے کوئی علیٰحدہ چیز نہیں ہوتی۔
    میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ جو طریقے محبت کے انسانوں کے لیے مقرر ہیں وہی خداتعالیٰ کی محبت پیدا کرنے والے ہیں۔ جس طرح باپ سے محبت کی جاتی ہے، جس طرح بھائی بھائی میں محبت ہوتی ہے، جس طرح بھائی بہن یا بہن بہن میں محبت پیدا ہوتی ہے، جس طرح ماں بیٹا یا ماں۔بیٹی میں محبت پیدا ہوتی ہے، جس طرح باپ بیٹا یا باپ بیٹی میں محبت پیدا ہوتی ہے، جس طرح بیوی اور خاوند یا اَور رشتہ داروں کی محبت پیدا ہوتی ہے اسی طرح خداتعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس کی محبت کے نئے گُر تلاش کرنا حماقت ہے۔ جب روحانیت، محبت اور تعلق باللہ ایک ہی ہیں اور پھر خداتعالیٰ کی محبت بھی وہی ہے جو انسانوں کی ہوتی ہے تو اس کے گُر بھی ایک ہی ہونے چاہییں۔ اور انسانوں کی محبت کا گُر یہی ہوتا ہے کہ یا احسان سے محبت پیدا ہوتی ہے یا حُسن سے محبت پیدا ہوتی ہے اور یا پھر لمبے تعلق سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ محبت کو پیدا کرنے کے یہی تین گُر ہیں۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم فرماتے ہیں جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا۔1 انسان کے دل میں خداتعالیٰ نے یہ مادہ رکھ دیا ہے کہ جو شخص اس پر احسان کرتا ہے اس سے محبت کرتا ہے۔
    میں نے گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا کہ اسلام نے خداتعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے لیے ایک آسان گُر بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ کھانا پینا اور پہننا خداتعالیٰ مہیا کرتا ہے اور جب یہ سب چیزیں خداتعالیٰ ہی مہیا کرتا ہے تو اس کا احسان موجود ہے لیکن باوجود اِس کے کہ یہ گُر موجود ہے پھر بھی خداتعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے لیے ہمیں کوئی اَور سبب تلاش کرنا پڑتا ہے۔ میں نے بتایا تھا کہ خداتعالیٰ کا انسان پر احسان تو ہوتا ہے لیکن اس کی شناخت اَور چیز ہے۔ اگر کسی کو کوئی گمنام شخص منی۔آرڈر کر۔دے اور اپنا نام ظاہر نہ کرے تو اُسے منی آرڈر کرنے والے سے محبت نہیں ہو گی کیونکہ اُسے علم نہیں ہو گا کہ منی آرڈر کس نے کیا ہے۔ اِسی طرح خداتعالیٰ بھی انسان سے مخفی ہے اور وہ پس۔پردہ احسان کرتا ہے اور اگرچہ اس کے احسان بہت زیادہ ہیں لیکن لوگ انہیں محسوس نہیں کرتے۔ ماں اپنی چھاتیوں سے دودھ پلاتی ہے اور بچہ اپنی عقل کے مطابق سمجھتا ہے کہ ماں اُس پر احسان کرتی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ ماں تکلیف سے اُسے خون چساتی ہے حالانکہ یہ قربانی کا جذبہ ماں نے خود پیدا نہیں کیا یہ جذبہ اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے اندر رکھا گیا تھا۔ چھوٹی چھوٹی لڑکیاں گڑیاں بناتی ہیں اور اُن سے کھیلتی ہیں۔ یہ وہی بچہ پالنے کا جذبہ ہوتا ہے جو ان کے اندر پایا جاتا ہے۔ ان کے اندر یہ حِس خداتعالیٰ نے ہی پیدا کی ہے خواہ وہ عقل کے ماتحت ایسا کرتی ہیں یا بے عقلی کے ماتحت ایسا کرتی ہیں بہرحال عورت کے اندر خداتعالیٰ نے اولاد سے محبت کا مادہ رکھا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے کہ جو ماں نے خود اپنے اندر پیدا نہیں کی بلکہ اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے اندر رکھ دی گئی تھی اور جب یہ مادہ ماں کی پیدائش سے پہلے کا اُس کے اندر پایا جاتا ہے تو پھر یہ اُس کا پیدا کیا ہوا نہ ہوا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ مادہ ماں کا پیدا کیا ہوا نہیں تو آخر یہ مادہ ماں کے اندر کس نے پیدا کیا ہے؟ بہرحال وہ کوئی اَور ہستی ہے اور ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ہستی جس نے سب مخلوقات کو پیدا کیا ہے اُسی نے یہ مادہ ماں کے اندر رکھا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ ماں سے محبت کرتا ہے خداتعالیٰ سے محبت نہیں کرتا۔ کیوں بچہ خداتعالیٰ سے محبت نہیں کرتا؟ اس لیے کہ خداتعالیٰ اُسے نظر نہیں آتا۔ جب اُس کی ماں اپنی ماں کے پیٹ میں تھی اور خداتعالیٰ کے فرشتے اُس کے دل میں اولاد کی خواہش اور محبت پیدا کر رہے تھے تو اُس نے اس نظارہ کو دیکھا نہیں تھا۔ اس نے صرف اتنا ہی دیکھا ہے کہ ماں اسے اپنی چھاتیوں سے دودھ پلا رہی ہے خواہ وہ فاقہ ہی کر رہی ہو اور بھوک کی وجہ سے نڈھال ہو رہی ہو، وہ سوکھ کر کانٹا ہوگئی ہو، اُس کا گوشت گھل گیا ہو اور ہڈیاں نکل آئی ہوں لیکن اِدھر بچہ رویا اور اُدھر ماں نے اپنے سُوکھے ہوئے پستان اُس کے منہ میں دے دیئے۔ خواہ پستانوں میں دودھ کا کوئی قطرہ ہو یا نہ ہو۔ ماں کے اندر یہ جذبہ جس ہستی نے پیدا کیا ہے وہ بچہ کو نظر نہیں آتی۔ اس لیے وہ اُس سے محبت نہیں کرتا۔ ماں اپنی چھاتیوں سے دودھ پلاتی ہوئی اُسے نظر آتی ہے اس لیے وہ اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔ انسان کھانا کھاتا ہے جس شخص نے اسے گندم دی اور اس نے اس سے روٹی بنائی وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے یا جس کی نوکری کر کے اس نے پیسے کمائے اور ان سے اس نے گندم خریدی وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے، جس ماں اور بیوی نے اسے روٹی پکا کر کھلائی وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے لیکن جس نے گندم بنائی، جس نے نمک بنایا، جس نے پانی بنایا وہ اُس کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ گندم مہیا کرنے والا یا نوکری دینے والا اُسے نظر آتا تھا، ماں اُسے نظر آتی تھی کہ وہ گرمی کے دنوں میں آگ کے آگے بیٹھی روٹی پکا رہی ہے، بیوی اُسے نظر آتی ہے کہ گرمی میں آگ کے آگے بیٹھی روٹی پکا رہی ہے۔ یا سردی میں جب وہ خود لحاف سے باہر نہیں نکلتا وہ صحن میں بیٹھی اُس کے لیے ناشتہ تیار کر رہی ہے چونکہ وہ اُسے نظر آتی ہے اس لیے اس کے اندر احساسِ۔شکریہ پیدا ہو جاتا ہے جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا۔ خداتعالیٰ نے انسان کے دل میں یہ مادہ رکھ دیا ہے کہ اُسے جو شخص احسان کرتا نظر آتا ہے اس کا وہ شکرگزار ہوتا ہے۔ اور چونکہ اُسے اس احسان کا اصل بانی نظر نہیں آتا اس لیے اُسے یہ خیال نہیں آتا کہ دراصل یہ احسان کسی اَور ذات نے کیا ہے۔
    ہمارے ملک میں لطیفہ مشہور ہے وَاللّٰہُ اَعْلَمُ وہ سچا ہے یا عام حالات میں وہ خود بنا لیا گیا ہے۔ جب ہمارے ملک پر انگریز حاکم تھے لوگوں میں انہیں خوش کرنے کے لیے ڈالیاں پیش کرنے کا رواج تھا۔ بعد میں اگرچہ یہ قانون بنا دیا گیا تھا کہ افسروں کو ڈالیاں پیش نہ کی جائیں لیکن حکام اور رؤساء ِ شہر کو جب موقع ملتا اور وہ انگریز افسروں کو ملنے کے لیے جاتے تو اُن میں سے بعض ہوشیار لوگ ڈالیاں بھی لے جاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ایک انگریز افسر کو ایک ای۔اے۔سی اور ایک تحصیلدار ملنے کے لیے گئے۔ ای۔اے۔سی ڈالی بھی ساتھ لے گیا۔ یہ تو سارے جانتے ہیں کہ ای۔اے۔سی بڑا ہوتا ہے اور تحصیلدار چھوٹا ہوتا ہے۔ کئی علاقوں کا چارج ای۔اے۔سی کے پاس ہوتا ہے اور تحصیلدار اُس کے ماتحت ہوتا ہے۔ پس جب وہ دونوں ملاقات کے لیے گئے تو اتفاقاً انگریز افسر کے پاس ملاقات کا وقت تھوڑا تھا اس لیے بجائے اِس کے کہ وہ دونوں کو الگ الگ بلاتا اُس نے کہلا بھیجا کہ دونوں آ جاؤ۔ جب ای۔اے۔سی ڈالی کو اٹھانے لگا تو تحصیلدار نے آگے بڑھ کر ڈالی کو اُٹھا لیا اور کہا حضور! ہمارے ہوتے ہوئے آپ یہ تکلیف کیوں کریں؟ چنانچہ تحصیلدار نے ڈالی اُٹھا لی اور بڑے آرام سے اندر جا کر انگریز افسر کے سامنے رکھ دی اور یہ نہ کہا کہ یہ ڈالی ای۔اے۔سی نے پیش کی ہے۔ وہ انگریز افسر اس اثر کے ماتحت کہ ڈالی تحصیلدار نے پیش کی ہے ای۔اے۔سی کی طرف پیٹھ کر کے اور تحصیلدار کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا اور اس سے حالات پوچھنے لگا۔ ای۔اے۔سی دل ہی دل میں کُڑھ رہا تھا لیکن وہ کیا کر سکتا تھا برابر دو گھنٹے تک ڈپٹی کمشنر تحصیلدار سے باتیں کرتا رہا اور اس نے ای۔اے۔سی کو پوچھا تک نہیں۔ ملاقات سے فارغ ہو کر جب باہر آئے تو ای۔اے۔سی نے غصّہ نکالنا شروع کیا کہ تم نے کیوں یہ حرکت کی؟ تحصیلدار نے کہا حضور! یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ آپ میرے سامنے بوجھ اٹھاتے۔ اب ڈالی تو لایا تھا ای۔اے۔سی لیکن چونکہ وہ ڈالی تحصیلدار نے انگریز افسر کے آگے رکھی تھی اس لیے وہ اس پر مہربان ہو گیا۔ یہی حال انسان کا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ڈالی آتی ہے لیکن ماں باپ، بیوی بچہ، بہن یا بھائی وہ ڈالی اُٹھا کر اُس کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ اصل ڈالی پیش کرنے والا وہی ہے اور وہ خداتعالیٰ کو پوچھتے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسان کو یہ یاد دلانے کے لیے کہ حقیقی محسن خداتعالیٰ ہی ہے یہ ترکیب رکھ دی کہ جب تم کھانا کھاؤ یا پانی پیو تو اُس کے شروع کرنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِپڑھ لیا کرو2 اور کھانے سے پیشتر بِسْمِ اللّٰہِپڑھنے کے یہ معنے ہیں کہ یہ کھانا تمہارے سامنے رکھا تو ماں نے ہے لیکن بھیجا خداتعالیٰ نے ہے یا کھانا تمہارے سامنے رکھا تو بیوی نے ہے لیکن بھیجا خدا نے ہے یا کھانا تمہارے سامنے رکھا تو بھائی نے ہے لیکن بھیجا خداتعالیٰ نے ہے۔ پھر کھانا کھانے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِ کہہ کر خداتعالیٰ کے احسان کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔
    غرض اسلام نے ہمیں ایسا گُر سکھایا تھا کہ اگر مسلمان اس گُر پر عمل کرتے تو یقیناً محبتِ۔الٰہی پیدا کر لیتے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس قیمتی چیز کو کہا جاتا ہے کہ معمولی بات ہے۔ خداتعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کا کوئی اَور گُر بتاؤ۔ کوئی کہے کہ گھوڑے کی سواری کاکیا گُر ہے؟ تو دوسرا شخص یہی جواب دے گا میاں! گھوڑے پر چڑھ جاؤ اور اس کو چلاؤ یا کوئی کہے لکھنے کا کیا گُر ہے تو دوسرا یہی کہے گا کہ میاں!۔ہاتھ۔میں قلم پکڑو اور لکھو اس میں کسی خاص گُر کی کیا ضرورت ہے۔اِسی طرح اسلام نے تعلق باللہ کے پیدا کرنے کا جو سیدھا۔سادا طریق بیان کیا تھا اُسے ہم بھول جاتے ہیں اور اسے بیہودہ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے نہیں کہ اس میں اشارہ ہے کہ اگرچہ تحصیلدار نے ڈالی سامنے رکھی ہے لیکن دراصل اسے ای۔اے۔سی نے پیش کیا ہے۔ اس سے یہ یاد کرانا مقصود تھا کہ کھانا تمہیں بظاہر تمہاری ماں، بہن، بھائی یا بیٹے بیٹیاں پیش کرتی ہیں مگر وہ اس میں واسطہ بنتے ہیں اصل میں یہ کھانا خداتعالیٰ نے دیا ہے۔ اور جب انسان کو پتا لگ جاتا ہے اور باربار یہ مضمون اُس کے سامنے دہرایا جاتا ہے کہ درحقیقت یہ نعمتیں عطا کرنے والا خداتعالیٰ ہے، وہی ہمیں کھانا دیتا ہے، وہی ہمیں پانی دیتا ہے، وہی ہمیں پہننے کو کپڑا مہیا کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کی طرف دل مائل ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت۔پیدا۔ہو جاتی ہے۔
    میں نے پچھے خطبہ میں اس بات پر زور دیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اس بات کی عادت ڈالی جائے کہ وہ کھانا کھانے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِپڑھ لیا کریں، پانی پئیں تو پہلے بِسْمِ اللّٰہِپڑھ لیں، کپڑا پہنیں تو پہلے بِسْمِ اللّٰہِ پڑھ لیں، اِسی طرح کوئی اَور نئی چیز استعمال کریں تو بِسْمِ اللّٰہِپڑھ لیں۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ چیزیں خداتعالیٰ کی ہیں اس لیے اُس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، اُس کا نام لے کر اور اُس کے احسان کو مانتے ہوئے ہم اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اور جب انسان کوئی چیز استعمال کر لیتا ہے تو وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِ۔ یعنی وہ دوبارہ خداتعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِ میں وہ پچھلے شکریوں کو بھی ملا لیتا ہے۔ جب وہ بِسْمِ اللّٰہِ کہتا ہے تو کسی خاص چیز کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے میں یہ کھانا خداتعالیٰ کا نام لے کر استعمال کرنے لگا ہوں۔ لیکن اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِ کہتے ہوئے کوئی خاص چیز اس کے سامنے نہیں ہوتی بلکہ وہ تمام پچھلی چیزوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد کوئی اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِکہتا ہے تو اِس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میں اس کھانے اور اس سے پہلے جو کھانے میں کھا چکا ہوں اُن سب کے عطا کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یا مثلاً وہ کپڑا پہنتا ہے تو وہ کہتا ہے میں اِس کپڑے اور اُن سب کپڑوں کا جو اِس سے پہلے میں پہن چکا ہوں شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یا جوتی پہنتا ہے تو وہ کہتا ہے میں اِس جوتی اور اُن سب جوتیوں کے لیے جو میں نے اس سے پہلے پہنی ہیں خداتعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یا عقل ودانش ہے وہ کہتا ہے میں اس تدبیر کا جو تُو نے سکھائی اور اُن تمام رستوں کا جو تُو نے مجھے ماں کے پیٹ سے ہی سکھانے شروع کیے تھے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پھر وہ بِسْمِ اللّٰہِ کہہ کر اپنے ماں باپ، بہن بھائی، بیٹا بیٹی، بادشاہ رعایا بلکہ جانوروں اور نباتات اور جمادات جن کے ذریعہ اُسے کھانا پہنچتا ہے سب کو اکٹھا کر کے کہتا ہے اے خدا! میں خوب جانتا ہوں کہ یہ تیری ہی طرف سے ہے۔
    اب دیکھو! یہ ایک چھوٹی سی چیز ہے لیکن یہ ایک طبعی رستہ ہے۔ اب کوئی کہے کہ ماں سے محبت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ تو ہم اسے کہیں گے یہ تو سیدھی سادی بات ہے۔ ماں تمہیں دودھ پلاتی ہے اور تم اسے روزانہ دودھ پلاتے دیکھ کر اُس سے محبت کرنے لگ جاتے ہو اس میں نیا گُر کیا ہے۔ دنیا میں تم سے کوئی انسان بھی نہیں پوچھے گا کہ ماں کی محبت پیدا کرنے کا کیا گُر ہے؟ لوگ بیوی سے محبت کرتے ہیں، ماں باپ سے محبت کرتے ہیں، بہن بھائیوں سے محبت کرتے ہیں، اولاد سے محبت کرتے ہیں اور تم کبھی دوسروں سے ان کی محبت پیدا کرنے کا گُر نہیں پوچھتے۔ صرف اس لیے کہ یہ محبت ہم اس طبعی ذریعہ سے پیدا کرتے ہیں جو خداتعالیٰ نے بنایا ہے۔ لیکن خداتعالیٰ کے معاملہ میں لوگ تماشا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو بتائیے کہ تعلق باللہ پیدا کرنے کا کونسا گُر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلق باللہ کے لیے کسی خاص طریق پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اُمید رکھتے ہیں کہ انہیں بتایا جائے گا کہ قبرستان میں جاؤ اور ٹانگیں آسمان کی طرف کر کے لٹک جاؤ یا پانی میں ریت ملا کر پیا کرو یا صبح اٹھ کر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر فلاں منتر پڑھا کرو تو خداتعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے گی حالانکہ ان چیزوں کو خداتعالیٰ کی محبت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ سیدھی بات ہے کہ خداتعالیٰ کا احسان مخفی ہے جس کی وجہ سے تمہارے اندر اس کی محبت پیدا نہیں ہوتی۔ تم اس کے احسانات کو نمایاں طور پر اپنے سامنے لاؤ تو اس کی محبت پیدا ہو جائے گی اور اسے نمایاں طور پر سامنے بِسْمِ اللّٰہِ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِ لاتی ہیں اس میں کسی گُر کی ضرورت نہیں۔ لیکن لوگ اسے بھول جاتے ہیں اور گدّی نشینوں، مولویوں اور پِیروں کے پاس سالہاسال تک بیٹھے رہتے ہیں کہ وہ کبھی خوش ہو کر انہیں بتائیں کہ تم ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر فلاں وظیفہ پڑھا کرو تو خداتعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے گی۔ یہ طریق غیرطبعی ہے۔ تم کبھی یہ نہیں کہتے کہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر تم فلاں وظیفہ پڑھو تو ماں کی محبت پیدا ہو جاتی ہے یا اپنی ننگی پیٹھ پر دس کوڑے مارو تو باپ کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اگر تمہیں ایسا کہا جائے تو تم کہو گے ان چیزوں کا ماں۔باپ۔کی محبت کے ساتھ کیا تعلق ہے لیکن خداتعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کا سوال آتا ہے تو تم گُر پوچھنے لگ جاتے ہو اور وہی بے جوڑ بات تمہیں درست معلوم ہونے لگ جاتی ہے۔
    غرض تعلق باللہ کا یہ ایک بڑا نسخہ ہے جو میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا اور میرا منشا تھا کہ آج کوئی نئی چیز بیان کروں لیکن میری طبیعت اچھی نہیں۔ اچھا ہوا کہ میں نے پچھلے خطبہ کے مضمون کو پھر دُہرا دیا۔ نقشِ ثانی نقشِ اوّل سے اچھا ہوتا ہے۔ پھر کسی موقع پر اَور باتیں بیان کروں گا۔ اب صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم اپنے بچوں کو یہ باتیں سکھاؤ اور پھر ان کا مطلب سمجھاؤ۔ جب تم ہر کام سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ کہو گے تو انہیں خیال پیدا ہو گا کہ اصل احسان خداتعالیٰ کا ہے کہ اس نے ہمیں کھانے کو دیا، پینے کو دیا، پہننے کو دیا۔ بِسْمِ اللّٰہِ کہہ کر ہم اقرار کرتے ہیں کہ بیشک روٹی ماں نے پکا کر دی ہے، بیشک روٹی بیوی نے پکا کر دی ہے لیکن گندم خداتعالیٰ نے دی ہے۔ یا تم کہتے ہو کہ روٹی تو ماں نے پکائی ہے اور پیسے باپ نے دیئے ہیں لیکن ماں کو ہاتھ خداتعالیٰ نے دیئے ہیں۔ اگر خداتعالیٰ ہاتھ عطا نہ کرتا تو وہ روٹی کس طرح پکاتی؟ اِسی طرح جب بھی کوئی چیز شروع کرنے سے پہلے تم بِسْمِ اللّٰہِ پڑھو گے تو خداتعالیٰ کا احسان تمہیں یاد آ جائے گا اور اس طرح تمہارے دل میں اُس کی محبت پیدا ہو گی اور محبت۔طبعی طریق سے پیدا ہو گی غیرطبعی طریقوں سے نہیں۔ تم اگر دروازے کے ذریعہ مکان میں داخل نہیں ہوتے بلکہ دیوار پھاند کر آتے ہو تو یہ طبعی طریق نہیں۔ اس سے بجائے فائدہ کے تمہیں نقصان ہو گا۔ ہو سکتا ہے تمہاری ٹانگیں ٹوٹ جائیں یا کوئی اَور نقصان پہنچ جائے یا ہو سکتا ہے کہ کوئی تمہیں چور سمجھ لے اور وہ تمہیں پکڑوا دے اور حکومت سے سزا دلوائے۔ غرض یہ چھوٹے چھوٹے رستے ہی طبعی راستے ہیں جو انسان کے لیے نجات اور محبتِ۔الٰہی کے پیدا کرنے کا موجب ہوتے ہیں‘‘۔
    (الفضل13 جولائی1951ئ)

    1
    :
    کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال۔ جلد16 صفحہ48۔ حدیث نمبر44095 بیروت لبنان1998ء
    2
    :
    صحیح بخاری کتاب الْاَطْعِمَۃ بابُ التَّسْمِیَۃِ عَلَی الطَّعَامِ

    10
    خداتعالیٰ کی صفات کو بار بار دُہرانے سے
    اس کی محبت پیدا ہوتی ہے
    (فرمودہ20؍اپریل 1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’پچھلا جمعہ تو بوجہ بیماری کے میں پڑھا نہیں سکا اس لیے پہلے دو جمعوں سے میں ایک مضمون بیان کرتا چلا آ رہا ہوں اور وہ مضمون محبت الٰہی کا تھا۔ میں نے بتایا تھا کہ دنیا میں ہمیں محبت پیدا کرنے یا محبت پیدا ہونے کے تین ذرائع معلوم ہوتے ہیں اور وہ تین ذرائع حُسن، احسان اور صحبت ہیں۔ یعنی محبت یا تو حُسن سے پیدا ہوتی ہے یا احسان سے پیدا ہوتی ہے اور یا صحبت سے پیدا ہوتی ہے۔ صحبت میں علاقہ یعنی تعلق بھی شامل ہوتا ہے۔ صحبت دو قسم کی ہوتی ہے عقلی اور عملی ۔عقلی صحبت علاقہ کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور عملی صحبت پاس رہنے سے ظاہر ہوتی ہے۔
    میں نے ان ذرائع میں سے احسان کو پہلے لیا تھا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم محبتِ الٰہی کس طرح پیدا کریں؟ انہیں دیکھنا چاہیے کہ دنیا میں کس طرح محبت پیدا ہوتی ہے۔ اگر تمام دنیا میں احسان کے ذریعہ محبت پیدا ہوتی ہے تو پھر اس سے خداتعالیٰ کو کیوں مستثنٰی کیا جائے۔ جیسے احسان کے ذریعہ دنیا میں دوسرے لوگوں کی آپس میں محبت ہوتی ہے ویسے ہی خداتعالیٰ کی محبت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی روک ہو گی تو صرف یہ کہ تمہیں معلوم نہیں ہو گا کہ خداتعالیٰ نے تم پر کیا احسان کیا ہے۔ اگر واقع میں تمہیں یقین ہو جائے کہ خداتعالیٰ تمہارا مُحسن ہے اور یہ نکتہ سمجھ آ جائے کہ سب سے بڑا مُحسن تمہاراخداتعالیٰ ہے تو لازماً محبتِ الٰہی خودبخود پیدا ہو جائے گی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان اپنے اندر یہ یقین پیدا کر لے کہ خداتعالیٰ اُس کا سب سے بڑا مُحسن ہے۔ وہ اس کے احسانات کو گِنے، ان پر غور کرے، سوچے اور انہیں دل میں جمانے کی کوشش کرے۔
    جیسا کہ میں نے بتایا ہے شریعت نے اس کے لیے ایک آسان گُر مقرر کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی کام کر و، کھانا کھاؤ، پانی پیو یا کوئی اَور کام کرو اُس سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِپڑھا لیا کرو 1 اور بِسْمِ۔اللّٰہِ پڑھنے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ سب نعمتیں خداتعالیٰ نے ہی دی ہیں۔ پھر جب وہ کام ختم کرو تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو۔2 اگر اس نکتہ کو مسلمان سمجھتے اور اگر ایک مسلمان بچپن میں ہی اِن باتوں کا عادی ہو جاتا تو یقیناً کچھ عرصہ کے بعد یہ باتیں راسخ ہو تی ہوتی اُس کے اندر گڑ جاتیں اور یہ سوال پیدا ہی نہ ہوتا کہ خداتعالیٰ کی محبت کس طرح پیدا کی جائے۔ خداتعالیٰ کے ہم پر احسان ہیں یا نہیں؟ اُس کے احسان تو بچوں کے دلوں میں بھی گڑ جاتے ہیں۔ میں نے بچوں اور جوانوں سے اِس بارے میں سوالات کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ واقع میں اِس بارہ میں غفلت برتی جا رہی تھی یا غفلت برتی جارہی ہے۔ اکثر نے مجھ سے کہا ہے کہ ہمیں اس مسئلہ کا علم تو ہے لیکن ہم اسے اکثر بھول جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ماں باپ نے یہ بات اُن کے ذہن نشین نہیں کرائی۔ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ یہ معمولی بات ہے۔ اگر کر لیا تو خیر ورنہ اس کے نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ محبتِ۔الٰہی اس ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر محبتِ۔الٰہی کوئی اہم نکتہ ہے تو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی نہایت اہم ہیں کیونکہ انہی سے محبتِ۔الٰہی پیدا ہوتی ہے۔
    پس نوجوان خود بھی ان باتوں کی اپنے اندر عادت پیدا کریں اور پھر بچوں کے اندر ان باتوں کی عادت پیدا کریں، پھر استاد شاگردوں کے اندر اس کی عادت پیدا کریں۔ سپرنٹنڈنٹوں کو چاہیے کہ وہ بورڈنگوں کے طلباء کے درمیان یہ عادت پیدا کریں، مجلس کو مجلس کے ممبران کے اندر اور دوست کو اپنے دوستوں میں ان باتوں کی عادت پیدا کرنی چاہیے۔ ایک دوسرے کے تعاون اور مدد سے یہ خیال پکا ہو جائے گا اور ان باتوں کی عادت پیدا ہو جائے گی اور عادت کے نتیجہ میں قلوب میں محبت پیدا۔ہو۔جاتی ہے۔
    دوسری چیز جس سے محبت پیدا ہوتی ہے وہ حُسن ہے۔ درحقیقت اگر ہم محبت کا تجزیہ کریں تو اس کے صرف یہ معنے ہوتے ہیں کہ ایک چیز دوسری چیز کو اپنانا چاہتی ہے اور یہ جذبہ ہی اصل میں محبت کہلاتا ہے۔ جب کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ چیز میری ہے یا وہ یہ سمجھے کہ میں فلاں کا ہوں تو اِسی کا نام محبت ہوتا ہے۔ اور یہ جذبہ کہ فلاں چیز میری ہو جائے ہمیشہ حُسن سے پیدا ہوتا ہے۔ خداتعالیٰ کے لیے بھی یہی چیز استعمال ہو سکتی ہے۔ نئے نکتے بنانے اور نئے گُر بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم بازار میں جاتے ہیں۔ کسی دکان پر ہمیں ایک نئی اور عمدہ جوتی نظر آتی ہے۔ اُسے دیکھ کر ہمیں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ میں یہ جوتی لے لوں۔ عورتیں بازار میں سے گزرتی ہیں اور دکانوں پر کپڑے دیکھتی ہیں تو خیال کرتی ہیں کہ اگر پیسے ہوں تو فلاں کپڑا خرید لیں۔ سنگار کی کوئی چیز دیکھتی ہیں یا فرنیچر اچھا دیکھتی ہیں تو خیال کرتی ہیں کہ کاش! یہ چیزیں اُن کی ہو جائیں۔ ایک جاندار چیز کے لیے جس چیز کو ہم ’’محبت‘‘ کہتے ہیں بے جان کے لیے ہم اُسی کے لیے ’’پسند‘‘ کا لفظ بولتے ہیں۔ ایک عورت اپنے بچہ سے محبت کرتی ہے یا اسے کسی جوتے کی وضع پسند ہوتی ہے تو وہ کہتی ہے یہ جوتا خرید لوں، اسے کوئی زیور پسند ہے تو اسے لینے کی وہ خواہش کرتی ہے، دکان پر کمخواب3 دیکھتی ہے تو اسے خریدنے کو اُس کا جی چاہتا ہے۔ گویا لفظ ’’پسند‘‘ اور’’ محبت‘‘ ایک ہی چیز ہے لیکن ہمارے ملک میں عام طور پر ’’پسند‘‘ کا لفظ بے جان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ’’محبت‘‘ کا لفظ جاندار چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اب پسند کا طریق یہی ہے کہ کوئی اچھی چیز نظر آتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ اُسے حاصل کیا جائے۔ اگر وہ چیز اُس کی طاقت کے مطابق ہے تو وہ اُسے خرید لیتا ہے اور اگر وہ اس کی طاقت سے بالا ہوتی ہے تو وہ اسے پسند تو کر لیتا ہے لیکن اس کے حصول کی خواہش دل سے نکال دیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص بازار جاتا ہے اور دکان پر کوئی کپڑا دیکھ کر اُس کا بھاؤ پوچھتا ہے اور دکاندار اسے بتاتا ہے کہ یہ کپڑا دس روپے یا۔بارہ روپے فی گز ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میں تو ایک غریب شخص ہوں۔ ایک دو روپے فی گز ہوتا تو میں خرید بھی لیتا لیکن اب تو یہ میری طاقت سے باہر ہے۔ اس لیے وہ اس کے خریدنے کا خیال دل سے نکال دیتا ہے لیکن بہرحال اسے پسند کر لیتا ہے۔ گویا جہاں کوئی اچھی چیز نظر آئے گی انسان اسے پسند کرے گا لیکن دل کو یہ کہے گا کہ اس کے خریدنے کا ارادہ نہ کرنا اور آہستہ آہستہ وہ دل سے اس کے خریدنے کا خیال نکال دے گا۔ بہرحال وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ یہ قیمت میری طاقت سے بالا ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ چیز پسندیدہ بھی نہ ہو، وہ چیز اچھی تو بہرحال ہے۔ بازار میں بے موسم پھل آتے ہیں اور وہ روپیہ دو روپیہ فی سیر ہوتے ہیں۔ اس بھاؤ پر غرباء اسے خرید کر نہیں کھا سکتے۔ اس لیے کہ وہ اُن کی طاقت سے بالا ہیں مگر بہرحال وہ انہیں پسند ہوتے ہیں۔ وہ پسند ضرور کر لیتے ہیں۔
    آگے انسانوں میں بھی یہی حالات ہیں۔ انسانوں میں حُسنِ صورت کے ساتھ ساتھ حُسنِ۔سیرت بھی لگا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں محبت کا لفظ بدل دیا گیا ہے۔ گو عربی میں یہ دونوں جگہ پر استعمال ہوتا ہے۔ کپڑے پر بھی محبت کا لفظ بولا جائے گا، زیور پر بھی محبت کا لفظ بولا جائے گا لیکن ہمارے ملک میں یہ امتیاز پیدا کر دیا گیا ہے کہ محبت جاندار چیزوں کے لیے ہوتی ہے اور پسند کا لفظ غیرجاندار چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جو چیز بھی حسین ہو گی اُس سے انسان کو محبت پیدا ہو جائے گی۔ حُسن دیکھنے کے علاوہ سننے سے بھی انسان کے اندر اثر کرتا ہے۔ مثلاً پہاڑ ہے۔ بعض پہاڑوں کو تو ہم دیکھ کر پسند کرتے ہیں لیکن بعض پہاڑوں کے متعلق کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ وہاں فلاں فلاں نظارے ہیں، عمدہ چشمے ہیں اور فلاں فلاں قسم کے پھل ہیں اور اِس طرح ہم انہیں پسند کرنے لگ جاتے ہیں۔ کشمیر کو ہزاروں نے دیکھا ہے لیکن لاکھوں نے صرف کتابوں میں پڑھا ہے یا دوسروں کی زبانی سنا ہے کہ کشمیر بڑی اچھی جگہ ہے۔ اس لیے اُن کا اسے دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔
    غرض عشق آنکھوں سے بھی پیدا ہوتا ہے اور کانوں سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ پھر عشق جسم کی آنکھ سے بھی پیدا ہوتا ہے اور دل کی آنکھ سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اب خداتعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو وراء الورٰی ہے۔ اس لیے اُس کی محبت اسے ظاہری آنکھ سے دیکھ کر پیدا نہیں ہوتی۔ تم دنیا میں بعض موٹی موٹی چیزیں بھی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ تم بجلی کو ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ پھر وہ قوتیں جو مادہ کے پیچھے کام کر رہی ہیں مثلاً بجلی کی طاقت، انہیں بھی تم ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ ان چیزوں کو اُن کی تأثیر سے معلوم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح خداتعالیٰ کی ہستی وراء الورا ہے اور ظاہری آنکھ سے وہ پوشیدہ ہے۔ اُسے دل کی آنکھ سے دیکھا جائے گااور اُس کی آواز کو دل کے کان سے سناجائے گا۔۔ شریعت نے اس کے لیے یہ طریق بیان کیا ہے کہ خداتعالیٰ کے حُسن کو الفاظ میں بیان کیا جائے، اُسے باربار دُہرایا جائے اور آنکھوں کے سامنے اُس کی تصویر لائی جائے تا انسان مجبور ہو جائے کہ اُس سے پیار کرے۔ اور اس کا نام قرآن کریم میں ذکرِالٰہی رکھا گیا ہے۔ جیسے فرمایا ۔4 تم خداتعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے ہو۔ جیسے ایک چھوٹا بچہ کہتا ہے کہ میں نے اماں کے پاس جانا ہے اسی طرح تم بار بار خداتعالیٰ کا ذکر کرو تا کہ وہ تمہیں یاد ہو جائے۔ خداتعالیٰ وراء الورا ہستی ہے اُس کا حُسن براہِ راست انسان کے سامنے نہیں آتا بلکہ اُس کا حُسن انسان کے سامنے کئی واسطوں سے آتا ہے۔ اگر اس کے حُسن کو الفاظ میں بیان کیا جائے اور پھر ہم اس پر غور کریں اور سوچیں تو آہستہ آہستہ وہ نقش فِی الْحَجَر کی طرح ہو جائے گا اورمعنوی طور پر اس کی شکل ہمارے سامنے آ جائے گی۔
    خداتعالیٰ کے جو ننانوے نام بتائے جاتے ہیں وہ دراصل یہی چیز ہے۔ خداتعالیٰ کے صرف ننانوے نام نہیں بلکہ اُس کے نام ننانوے ہزار میں بھی ختم نہیں ہوتے۔ عدد محض تقریبی ہے۔ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں۔ صوفیاء یا گزشتہ انبیاء نے ذہن نشین کرنے کے لیے یہ اصطلاح وضع کر دی کیونکہ ان ناموں کا ذکر یہودیوں کی کتابوں میں بھی آتا ہے۔ خداتعالیٰ کے اگر موٹے موٹے نام بھی گِنے جائیں تو وہ بھی ننانوے سے بڑھ جاتے ہیں۔ پھر نام در نام آ جاتے ہیں۔ پھر ان کی تشریح آ جاتی ہے اور اس طرح یہ نام کئی ہزار کیا کئی لاکھ تک جا پہنچتے ہیں۔ ہم لفظ ربّ بولتے ہیں تو اس کا ہم پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ یہ لفظ ہماری زبان کا نہیں۔ خداتعالیٰ نے انسانی دماغ اِس طرح کا بنایا ہے کہ جس چیز کو انسان بچپن میں سمجھ لے وہ چیز فوراً اُس کے ذہن میں آتی ہے باقی چیزیں براہِ راست ذہن میں نہیں آتیں۔ دماغ ان کا ترجمہ کرتا ہے۔ پھر وہ ترجمہ ہمارے ذہن میں آتا ہے۔ مثلاً جب ہم لفظ ’’آقا‘‘ بولتے ہیں تو اس کا مفہوم فوراً ہمارے ذہن میں آ جاتا ہے، اِس کا ہمیں ترجمہ نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن جب ہم مالک اور ماسٹر کہتے ہیں تو ذہن ان کا ترجمہ کرتا ہے۔ بیشک بعض الفاظ ایسے بھی ہیں جو غیرزبانوں کے ہیں اور وہ ہماری زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔ وہ جب بولے جائیں تو اُن کا مفہوم براہ راست ہمارے ذہن میں آ جائے گا لیکن وہ الفاظ صرف محدود معنوں میں ہماری زبان میں استعمال ہو تے ہیں اور انہی محدود معنوں میں وہ ہمارے ذہن میں آتے ہیں۔ مثلاً ربّ کا لفظ ہے۔ عربی زبان میں اِس کے معنے بہت وسیع ہیں لیکن جب یہ لفظ اردو میں استعمال ہو گا تو محدود معنوں میں ہو گا۔ ان۔محدود۔معنوں کے لیے ترجمہ پیش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن دوسرے معنوں میں جب یہ لفظ استعمال ہو گا تو پھر ترجمہ کی ضرورت پیش آئے گی۔ جب یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے تو پہلے ہم اس کے معنے ذہن میں لاتے ہیں اور پھر اس کا ترجمہ کرتے ہیں، اس کے بعد اسے دماغ کی لائبریری میں رکھا جاتا ہے۔ اِسی طرح مالک کا لفظ ہے۔ عربی میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اپنے مادے کے لحاظ سے یہ کئی کیفیتوں پر دلالت کرتا ہے لیکن اردو زبان میں یہ لفظ محدود معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جب ان معنوں میں یہ لفظ استعمال ہو گا تو ہمارے دماغ کو اس کا ترجمہ نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اس کا مفہوم براہ راست ہمارے ذہن میں آ۔جائے گا۔ لیکن جب یہ دوسرے معنوں میں استعمال ہو گا تو پہلے ہم اس کے معنیٰ ذہن میں لائیں گے اور پھر اس کا اپنی زبان میں ترجمہ کریں گے۔ اِسی طرح رحمان ہے، رحیم ہے۔ ان کا مفہوم بھی براہ راست ذہن میں نہیں آتا بلکہ دماغ ان کا پہلے ترجمہ کرتا ہے پھر وہ معنے دماغ کی لائبریری میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ تم اپنے دل میں انہیں رکھ کے دیکھ لو تمہیں ابھی پتا لگ جائے گا کہ اس کے کیا معنے ہیں۔ اگر تم ربّ کا لفظ کہو تو فوراً اس کے بعض معانی ہمارے ذہن میں آجائیں گے کیونکہ یہ لفظ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن رحمان کہو تو یہ فوراً ہمارے ذہن میں نہیں آئے گا حالانکہ یہ لفظ ہم نے ہزاروں دفعہ استعمال کیا ہو گا کیونکہ یہ لفظ ہماری زبان میں استعمال نہیں ہوتا دماغ پہلے اس کا ترجمہ کرے گا۔ اِسی طرح غفور اور غفّار کے الفاظ ہیں۔ یہ عام الفاظ ہیں اور ہم انہیں اپنی زندگی میں ہزاروں بار استعمال کر چکے ہو ں گے لیکن ان کا مفہوم ہمارے ذہن میں فوراً نہیں آئے گا۔ ہمارے ذہن میں جو کچھ آئے گا وہ اس کا ترجمہ ہو گا اور اس میں کچھ وقت لگے گا خواہ وہ وقت سیکنڈ کا ہزارواں حصہ ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے تصویر کے کیمرے ہوتے ہیں۔ بعض کیمرے سیکنڈ کے سویں حصہ میں تصویر کھینچ لیتے ہیں۔ پھر جو اِن سے بڑے کیمرے ہوتے ہیں وہ سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں تصویر کھینچ لیتے ہیں اور جو ہوائی۔جہازوں میں کیمرے ہوتے ہیں وہ تو ان سے بھی بہت بڑے ہوتے ہیں۔ بہرحال وقت ضرور لگے گا خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔ تم رحمان، رحیم، غفور یا ستّار کا لفظ بولو اور پھر تجربہ کر کے دیکھ لو تمہیں یہ محسوس ہو گا کہ ان کے معنے سمجھنے پر وقت لگا ہے خواہ وہ وقت کتنا ہی قلیل ہو۔ لیکن جو الفاظ اردو زبان کے ہوں گے ان پر کوئی وقت نہیں لگے گا۔ اسی طرح جو غیرزبانوں کے الفاظ ہماری زبان میں مستعمل ہوتے ہیں جنہیں ہم کثرت سے بولتے اور۔سنتے ہیں وہ ہمارے دماغ میں براہِ ۔راست داخل ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہی معنے ہمارے دماغ میں داخل ہوں گے جن میں وہ ہماری زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن جن معنوں میں وہ ہماری زبان میں استعمال نہیں ہوتے وہ چاہے کوئی ماہرِ زبان ہی کیوں نہ ہو ترجمہ ہو کر اس کے دماغ میں داخل ہوں گے۔ یہ محنت طلب بات ہے۔ خالی ربّ، مالک، رحمان، رحیم کہنے سے اُس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہوتا جب تک تم ترجمہ کر کے اسے ذہن میں دہراؤ گے نہیں کہ اس کے یہ معنے ہیں۔ جب تم انہیں بار بار دہراؤ گے تو وہ دماغ کی فلم پر آ جائیں گے اور ایک لفظ باربار دماغ میں آنے کے بعد تصویر کا ایک حصہ بن جائے گا۔ پھر متعدد الفاظ سے خداتعالیٰ کی ایک تصویر بن جائے گی اور پھر اُس تصویر سے خداتعالیٰ کا وجود سمجھ لیا جائے گا۔ خداتعالیٰ کی کوئی صفت روحانی ماتھا بنا دے گی، کوئی صفت روحانی کان بنا دے گی، کوئی صفت روحانی آنکھ بنا دے گی اور اس طرح ایک تصویر بن جائے گی۔ بہرحال خداتعالیٰ کی تصویر روحانی طور پر سامنے آئے گی جس سے تم یہ سمجھو گے کہ خداتعالیٰ ایک حسین چیز ہے۔ اور جب تم یہ سمجھو گے کہ خداتعالیٰ ایک حسین چیز ہے تو اس کی محبت خودبخود پیدا ہو جائے گی۔ اِسی چیز کا نام ذکرِالٰہی ہے۔ اِس کا رواج ہماری جماعت میں نہیں دوسرے لوگوں میں اِس کا رواج ہے۔ مثلاً پِیروں اور فقیروں کی جماعتوں میں اِس کا رواج عام طور پر پایا جاتا ہے لیکن انہوں نے اِسے ایک کھیل بنا۔دیا۔ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک پِیر کا واقعہ سنایا کرتے تھے۔ وہ پِیر شکار کا بہت شوقین تھا۔ وہ ایک دن گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کے لیے گیا اور بڑی کوشش کے بعد اس نے ایک ہرن مارا۔ جب اس ہرن کو تِیر لگا تو وہ تیز دوڑا۔ پِیر صاحب نے اس کے پیچھے گھوڑا دوڑایا۔ آخر بڑی محنت کے بعد اسے پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔ پِیر صاحب کو غصہ تھا کہ میرا گھوڑا بہت تھک گیا ہے۔ وہ جب ہرن کو ذبح کرنے لگے تو اپنے خیال میں وہ تکبیر کہہ رہے تھے لیکن کہہ یہ رہے تھے سؤرا! تُو نے میرا گھوڑا مار دتّا، سؤرا! تُو نے میرا گھوڑا مار دتّا۔ اس کا نام انہوں نے ذکرِالٰہی رکھ لیا تھا حالانکہ وہ لفظوں میں بھی نہیں ہو رہا تھا لیکن اُن کی تسبیح چلی جا رہی تھی۔
    میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ہمارے ماموں مرزا ۔۔علی شیر صاحب تھے۔ وہ ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی تھے۔ شاید میاں عزیز احمد صاحب کی دادی کے حقیقی بھائی یا قریبی رشتہ دار تھے۔ وہ قادیان میں آنے والوں کو ہمیشہ ورغلاتے رہتے تھے اور کہا کرتے تھے دیکھو! میں مرزاصاحب کا قریبی رشتہ دار ہوں میں بھی انہیں نہیں مانتا۔ مرزا صاحب نے دکان بنا رکھی ہے ۔صرف دکان۔ مرزا۔۔علی۔شیر صاحب تسبیح خوب پھیرا کرتے تھے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ منکے پر منکا چلتا تھا۔ انہیں باغبانی کا شوق تھا اس لیے انہوں نے ایک باغیچہ لگایا ہوا تھا جس میں وہ سارا دن کام کرتے رہتے تھے۔ جہاں آجکل قادیان میں دُوْرُالضَُّعَفاء ہیں وہاں اُن کا باغیچہ تھا۔ درختوں سے انہیں عشق تھا اس لیے جونہی کسی نے کسی درخت کو چُھؤا تو انہیں غصہ آیا اور وہ اُس کے پیچھے بھاگ پڑے۔ بچے شرارتیں کرتے ہیں۔ ہم تو بہت احتیاط کرتے تھے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے شدید مخالف تھے لیکن دوسرے بچے انہیں چھیڑا کرتے تھے۔ مثلاً کوئی بیدانہ5 کا درخت ہے تو بچوں نے پتھر مارنا اور اس طرح بیدانہ اُتار کر کھانا۔ ماموں علی شیر صاحب نے جب بچوں کو پتھر مارتے دیکھنا تو اُن کے پیچھے بھاگنا اور گالیاں دینا سؤر، بدمعاش! لیکن تسبیح کے منکے برابر چلتے جاتے تھے۔ ہم اُس وقت بھی حیران ہوتے تھے کہ انہوں نے توتسبیح پر سو دفعہ خداتعالیٰ کا نام لینا تھا لیکن اس میں سے پچاس دفعہ تو انہوں نے سؤر اور بدمعاش کہہ دیا ہے۔ اب انہوں نے یہ طریق اختیار کیا ہوا تھا لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ اصل ذکرِالٰہی بھی چھوڑ دیا جائے۔ ہمارے ہاں ذکرِالٰہی کا رواج نہیں۔ مسجد میں جاؤ تو وہاں آپس میں یہ گفتگو شروع ہوتی ہے کہ سنا ہے آپ نے بھینس خریدی ہے؟ کیسی ہے؟ کتنے کو لی؟ فلاں جگہ آپ نے جانا تھا گئے نہیں؟ آپ کی ترقی کے معاملہ کا کیا بنا؟ وغیرہ وغیرہ۔ مسجدوں میں خداتعالیٰ کا نام لو، مالک کا نام لو اور اُس کی مالکیت کو ذہن میں لاؤ، قدوس کا نام لو اور اُس کی قدوسیت کو ذہن میں لاؤ، ستّار کا نام لو اور اُس کی ستّاریت کو ذہن میں لاؤ، غفور کا نام لو اور اُس کی غفوریت کوذہن میں لاؤ، غفّار کا نام لو اور اس کی غفّاریت کوذہن میں لاؤ۔ جب تم تصویر ہی نہیں کھینچو گے تو خداتعالیٰ کی محبت کس طرح پیدا ہو گی؟ محبت کے لیے ضروری ہے کہ یا تو کسی کا وجود سامنے ہو اور یا اس کی تصویر سامنے ہو۔
    مثلاً اسلام نے یہ کہا ہے کہ جب تم شادی کرو تو شکل دیکھ لو 6اور جہاں شکل دیکھنی مشکل ہو وہاں تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ میری جب شادی ہوئی میری عمر چھوٹی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ڈاکٹر رشیدالدین صاحب کو لکھا کہ لڑکی کی تصویر بھیج دیں۔ انہوں نے تصویر بھیج دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ تصویر مجھے دے دی۔ میں نے جب کہا کہ مجھے یہ لڑکی پسند ہے تب آپؑ نے میری شادی وہاں کی۔
    پس بغیر دیکھنے کے محبت ہو کیسے؟ یہ تو ایسی ہی چیز ہے کہ خداتعالیٰ تمہارے سامنے آئے اور تم آنکھوں پر ہاتھ رکھ لو اور پھر کہو کہ خداتعالیٰ کی محبت ہو جائے وہ محبت ہوکیسے ؟ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کا ایک شعر ہے
    دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی
    حُسن و جمالِ یار کے آثار ہی سہی7
    یعنی کچھ تو ہو۔ اگر محبوب خود سامنے نہیں آتا تو اُس کی آواز ہیسنائی دے۔ اس کے حُسن کی کوئی نشانی تو نظر آئے۔ یہ تصویر ہے خداتعالیٰ کی۔ ربّ، رحمان، رحیم، مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِ، ستّار، قدوس، مومن، مہیمن، سلام، جبّار اور قہّار اور دوسری صفاتِ الٰہیہ یہ نقشے ہیں جو ذہن میں کھینچے جاتے ہیں۔ جب متواتر ان صفات کو ہم ذہن میں لاتے ہیں اور ان کے معنوں کو ترجمہ کر کے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں تو کوئی صفت خداتعالیٰ کا کان بن جاتی ہے، کوئی صفت آنکھ بن جاتی ہے، کوئی صفت ہاتھ بن جاتی ہے اور کوئی صفت دھڑ بن جاتی ہے اور یہ سب مل کر ایک مکمل تصویربن جاتی ہے۔ یہ تصویر الفاظ سے نہیں بنتی بلکہ اُس حقیقت سے بنتی ہے جو اس کے پیچھے ہے۔ ان صفات کی تشریح کو دماغ میں لانے سے یہ دماغ کے اندر جمتی جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ محبتِ الٰہی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ کوشش کرنا کہ تصویر کو سامنے لائے بغیر محبت ہو جائے یہ حماقت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تصویر کو سامنے لانے کا ذریعہ ذکرِالٰہی ہے اور یہ قرآن۔کریم میں مذکور ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ محبتِ الٰہی کا کوئی اور گُر بتاؤ تو یہ بیوقوفی ہو گی۔ کسی شخص کو یہ بتایا جائے کہ تم ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر فلاں صاحب کا اتنی دفعہ ذکر کیا کرو تو وہ کہے گا سُبْحَانَ اللّٰہِ! کیا ہی عمدہ گُر ہے محبتِ الٰہی کے پیدا کرنے کا۔ لیکن اگر یہ کہیں کہ ذکرِالٰہی کیا کرو تو وہ کہے گا یہ بھی کوئی گُر ہے۔ یا اگر کسی کو کہا جائے کہ سر کے بَل لٹک کر فلاں ورد کیا کرو تو وہ خوش ہو جائے گا۔ لیکن اگر کہیں ستّار، غفّار، رحمان اور رحیم کا ورد کرو تو وہ کہے گا یہ تو پرانی بات ہے۔
    غرض لوگ سیدھا رستہ چھوڑ کر بے راستہ چلیں گے۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی منہ کی بجائے کان میں روٹی ٹھونس لے اور کہے یہ پیٹ میں کیوں نہیں جاتی؟ کان میں روٹی ٹھونسنے سے وہ پیٹ میں نہیں جائے گی بلکہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ مر جائے گا۔ اِسی طرح محبتِ الٰہی بھی تصویر کو دیکھنے۔سے ہوتی ہے۔ اور جو شخص یہ کوشش کرتا ہے کہ بغیر تصویر کے محبتِ الٰہی پیدا ہو جائے وہ بیوقوف ہے۔ ہزاروں بار دیکھنے، پڑھنے اور سننے میں آیا ہے کوئی شخص گاربو یا کسی اَور ایکٹریس پر عاشق ہو گیا حالانکہ گاربو یا وہ ایکٹریس اُس نے دیکھی بھی نہیں ہوتی۔ سکرین پر شکل دیکھی اور اُس پر لٹّو ہو گیا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ محبت صرف دیکھنے سے ہی پیدا نہیں ہوتی سننے اور تصویر دیکھنے سے بھی پیدا ہوجاتی ہے اور غیرمرئی چیز کی تصویر اُس کی صفات ہوتی ہیں۔ اگر کوئی خداتعالیٰ کی صفات کو باربار ذہن میں لائے تو آہستہ آہستہ اُس کا نقشہ بنتا جائے گا۔ تم پانی یا ملائی کی برف بناتے ہو تو اُس کو باربار ہلاتے ہو۔ کیاپہلے جھٹکے میں ہی برف بن جاتی ہے؟ اُس پر بہرحال وقت لگتا ہے اور باربار ہلانے سے برف بنتی ہے۔ اِسی طرح محبت الٰہی باربار ذکرِالٰہی کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک ایک،دودو دفعہ ذکرِالٰہی کرو گے یا غلط طور پر ذکرِالٰہی کرو گے تو انجام کار تمہاری کوشش ضائع ہو جائے گی۔ لیکن تم اگر ٹھیک طور پر ذکرِالٰہی کرو گے اور باربار کرو گے تو اِس سے محبتِ الٰہی پیدا ہو گی۔ صفات الٰہیہ کا باربار دہرانا اور تواتر سے دہرانا اس سے خداتعالیٰ کی تصویر بنتی ہے اور اس تصویر کی وجہ سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ خداتعالیٰ کی تصویر کو نظرانداز کر کے غیرطبعی طور پر محبتِ الٰہی کو پیدا کرنا حماقت کی چیز ہے اور ایسے لوگ سر مارمار کر مر جاتے ہیں لیکن انہیں ملتا کچھ نہیں‘‘۔
    خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا:
    ’’میں نماز کے بعد بعض دوستوں کے جنازے پڑھاؤں گا۔ حسین بخش صاحب کے بیٹے نے اطلاع دی ہے کہ اُن کے والد فوت ہو گئے ہیں۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ ان کی وفات موضع بونگا بلوچاں ضلع لاہور میں ہوئی ہے جہاں جنازہ پڑھنے والا کوئی احمدی نہیں تھا۔
    محمد اکبر صاحب اطلاع دیتے ہیں کہ محمد یوسف صاحب درویش کے لڑکے فوت ہو گئے ہیں۔ مرحوم مخلص اور سلسلہ کا خدمت گزار تھا۔
    دوست محمد صاحب حجانہ نے اطلاع دی ہے کہ صوفی اللہ بخش خان صاحب لغاری بلوچ پٹواری نہر ڈیرہ غازیخان فوت ہو گئے ہیں۔ مرحوم مخلص احمدی تھے اور تبلیغ کا بہت شوق رکھتے تھے۔
    منشی سکندر علی صاحب چک نمبر 260 تحصیل سمندری ضلع لائلپور سے اطلاع دیتے ہیں کہ اُن کے بیٹے عطاء اللہ صاحب فوت ہو گئے۔ گاؤں میں صرف ایک گھر احمدیوں کا ہے جنہوں نے جنازہ پڑھا۔
    عبدالقادر صاحب اعوان لکھتے ہیں کہ ہمشیرہ نے اطلاع بھجوائی ہے کہ ان کی لڑکی طلعت فوت ہو گئی ہے۔ کوئی احمدی جنازہ پڑھنے والا نہ تھا غیراحمدیوں نے جنازہ پڑھا۔
    محمد نذیر صاحب فاروقی نے اطلاع دی ہے کہ اُن کی لڑکی مبارکہ بیگم بہاولنگر ریاست۔بہاولپور میں فوت ہو گئی ہے۔ چند دوست نمازِجنازہ میں شامل ہوئے۔
    شیخ سبحان علی صاحب اطلاع دیتے ہیں کہ اُن کی والدہ حسین بی بی صاحبہ زوجہ منشی گوہر علی صاحب فوت ہو گئی ہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں اور خواہش رکھتی تھیں کہ میں ان کا جنازہ پڑھاؤں۔
    ملک بشیر احمد صاحب اطلاع دیتے ہیں کہ ان کے بھائی ملک عبدالعزیز صاحب ریٹائرڈ اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر فوت ہو گئے ہیں۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی اور میرے ہم جماعت تھے۔ ہم اکٹھے پڑھتے رہے ہیں۔ نہایت شریف اور نیک شخص تھے لیکن کانوں سے بہرے تھے۔ میں نے ابھی ابھی ذکرِالٰہی کا ذکر کیا ہے ان کو میں نے دیکھا ہے کہ یہ بچپن سے ہی ذکرِالٰہی کے عادی تھے اور نہایت مخلص احمدی تھے۔
    مستری محمد رمضان صاحب قادیان کے پرانے مستری تھے۔ چالیس سال ہوئے احمدی ہوئے اور احمدی ہوتے ہی قادیان آ بسے۔ قادیان کی بہت سی عمارتیں انہوں نے بنائی تھیں۔ وہ آج فوت ہو گئے ہیں۔
    نمازِ جمعہ کے بعد میں ان سب کا جنازہ پڑھاؤں گا‘‘۔
    (الفضل 19جولائی1951ئ)

    1
    :
    صحیح بخاری کتاب الاطعمۃ باب التسمیۃ علی الطعام والاکل بالیمین
    2
    :
    جامع الترمذی کتاب الدعوات باب مایقول اذا فرغ من الطعام
    3
    :
    کمخواب:ایک قسم کا ریشمی کپڑا جو زری کی تاروں کی آمیزش سے بُنا جاتا ہے۔ زربفت (فیروزاللغات اردو جامع مطبوعہ فیروز سنز لاہور)
    4
    :
    البقرۃ:201
    5
    :
    بیدانہ:(بے دانہ) وہ پھل جس میں بیج نہ ہو۔ ایک قسم کا انار(فیروز اللغات اردو جامع مطبوعہ فیروز سنز لاہور)
    6
    :
    سنن ابن ماجہ ابواب النکاح بابُ النَّظْرِ اِلَی الْمَرْأَۃِ اِذَا اَرَادَ اَنْ یَتَزَوَّجَھَا۔
    7
    :
    درثمین اردو۔ نظم محاسن قرآن کریم۔ صفحہ101 مرتبہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی 1962ء

    11
    مذہبی جماعتوں کی بنیاد روحانیت پر ہوتی ہے
    اور روحانیت تعلق باللہ کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی
    تم خدا کو مقدم رکھو اور دنیا کومؤخّر
    (فرمودہ18مئی1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مذہبی جماعتوں کی بنیاد روحانیت پر ہوتی ہے۔ اگر کسی جماعت میں روحانیت باقی ہے تو وہ گرنے کے بعد دوبارہ اُبھرنے کا موقع پا لیتی ہے۔ اور اگر کسی جماعت کی روحانیت مر جائے تو ایسی جماعت اپنی ظاہری اور جسمانی ترقی کے باوجود بھی دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتی۔ پس ہماری جماعت کو اپنے تمام امور میں اس امر کو مدّنظر۔رکھنا۔چاہیے کہ انہیں تعلق باللہ حاصل ہو اور اس طرح روحانیت قائم رہتی ہے۔ جو شخص اپنے سارے کاموں میں خداتعالیٰ کی طرف نظر رکھتا ہے اس میں مذہب کی روح باقی رہتی ہے اور جو دنیوی سامانوں اور تدبیروں کی طرف توجہ کرتا ہے وہ مُردہ ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں لیکن ان سے قوموں کی زندگی بدل جاتی ہے اور افراد کے نظریے بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔
    اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ خداتعالیٰ کی خدمت کرنے والے کھاتے بھی ہیں، پیتے بھی ہیں، وہ کپڑوں اور مکان کے محتاج بھی ہوتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھاتے تھے، پیتے بھی تھے، کپڑے بھی پہنتے تھے اور مکان میں بھی رہتے تھے۔ قرآن کریم میں کفّار کا یہ اعتراض درج ہے کہ یہ کیسا نبی آ گیا؟ یہ تو ہماری طرح بازار میں چلتا پھرتا ہے، کھانا کھاتا ہے، پانی پیتا ہے۔1 اب اگر رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم حوائجِ۔انسانی سے مستثنٰی نہیں تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رسول۔کریم صلی۔اللہ علیہ وسلم اور ایک عام دنیادار میں کیا فرق ہے؟ وہ فرق صرف یہی ہے کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے لیے زندہ رہتے تھے۔ کھانا، پینا،کپڑا پہننا درمیانی شغل تھا۔ لیکن ایک دنیادار دنیا میں صرف کھانے پینے کے لیے زندہ رہتا ہے۔ ہاں! کبھی کبھی خداتعالیٰ کا بھی ذکر کرلیتا ہے۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو آپ نے ان چیزوں کا انکار کیا ہے، انہیں دھتکارا اور ردّ کیا ہے۔ آپ نے یہ نہیں کہا کہ مجھے پچاس روپے کی ضرورت ہے مجھے مہیا کر کے دو۔ اور اگر تم مجھے پچاس روپے نہیں دیتے تو تم جہنم میں جاؤ میں تمہیں قرآن نہیں پڑھاتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کُفّار نے فاقے بھی دیئے، آپؐ کے رستے بھی روکے، آپؐ۔۔کو اور آپؐ کے متبعین کو مارا پیٹا بھی، آپؐ۔کی ہتک بھی کی اور آپ کے عزیزوں اور پیاروں کو دُکھ بھی دیئے لیکن آپ نے فرمایا تم جو چاہو کرو میں نے یہ کام کرنا ہے۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھاتے ہیں اور اس کے بدلہ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ تم نہیں دیتے تو نہ دو۔ لیکن ایک دنیادار کہتا ہے کہ تم دو گے کیا؟ اگر وہ اسے کچھ نہیں دیتے تو وہ کہتا ہے میں نے کیا بھوکا مرنا ہے؟ میں کوئی اَور کام تلاش کر لیتا ہوں۔ تم نے اگر قرآن پڑھنا ہے تو میرے گزارے کا بھی انتظام کر دو۔ گویا ایک مولوی بھی قرآن پڑھاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن پڑھاتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک عام۔مولوی۔میں یہ فرق ہے کہ مولوی کہتا ہے میرا چالیس روپے ماہوار میں گزارہ نہیں ہوتا لیکن رسول۔کریم۔صلی۔اللہ۔علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم چالیس روپے مجھ سے لے لو، مجھے گالیاں دے لو میں نے تو اپنا کام کرنا ہے۔ بظاہر یہ معمولی فرق ہے لیکن اِس کے نتیجہ میں ایک رسول بن جاتا ہے اور ایک مولوی۔ اور ایک رسول اور ایک مولوی میں جو فرق ہے تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ انسان یہ تو اندازہ لگا سکتا ہے کہ دُور کا ایک ستارہ جو سورج سے بھی ہزاروں میلوں کے فاصلہ پر ہے وہ زمین سے کتنی دُور ہے لیکن تم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ ایک رسول اور ایک مولوی میں کیا فرق ہے۔ یہ کیوں ہوا؟ یہ اِسی لیے ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ 2میں قرآن کریم کے بدلہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا۔ لیکن ایک مولوی کہتا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھاؤں گا، حدیث سناؤں گا لیکن تم مجھے دو گے کیا؟ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک مولوی میں یہ فرق ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھانے کے بدلہ میں کچھ نہیں مانگا لیکن مولوی اس کے بدلہ میں اپنے گزارے کے لیے کچھ مانگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متبعین میں سے کوئی موسٰیؑ کا مثیل ہوا، کوئی عیسٰیؑ کا مثیل ہوا، کوئی داؤدؑ کا مثیل ہوا اور کوئی سلیمانؑ کا مثیل ہوا۔ آپؐ کے سب صحابہؓ ستارے تھے جو دنیا کے لیے راہ نمائی کا موجب بنے۔ لیکن عام علماء میں سے وہ لوگ بھی ہیں جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کے پردے پر اگر کوئی ذلیل ترین وجود دیکھنا ہو تو وہ انہیں دیکھ لے۔3 گویا ایک کے متبعین میں سے ادنیٰ سے ادنیٰ افراد بھی ستارے ہیں اور ایک کے ساتھیوں میں سے وہ وجود بھی ہیں جو دنیا کے پردے پر ذلیل ترین سمجھے جاتے ہیں۔ یہ فرق صرف روحانیت۔کا ہے۔
    پس تم خدا کے لیے ہو جاؤ۔ خداتعالیٰ یہ نہیں کہتا کہ تم کھانا نہ کھاؤ، پانی نہ پیو، کپڑا نہ پہنو اور مکان میں نہ رہو بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم میرے پاس آ جاؤ میں تمہیں یہ سب چیزیں دوں گا۔ ہاں! تم نیت کر لو یہ چیزیں ملتی ہیں تو ملیں نہیں ملتی تو نہ ملیں۔ ہم نے کبھی کوئی ایسا نبی نہیں سنا جسے پہننے کے لیے کپڑے میسر نہ ہوں۔ انہیں بھی بہرحال کپڑے میسر آ جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جیسے کپڑے مل جائیں مل جائیں لیکن پہنتے ضرور ہیں۔ اور کپڑے ایک مولوی، ایک عام دنیادار مسلمان اور ایک عیسائی بھی پہنتا ہے۔ اِن میں یہی فرق ہے کہ ایک نے اللہ تعالیٰ کو مقدّم رکھا اور دنیا کو مؤخّر اور دوسرے نے دنیا کو مقدّم رکھا اور خدا کو مؤخّر اور یہی تھوڑا سا فرق ہے جس کی وجہ سے ایک رسول بن گیا اور۔ایک۔دنیادار مولوی بن گیا۔
    غرض روحانیت کے لیے ارادہ اور نیت کی ضرورت ہے۔ تم خداتعالیٰ کو اپنے تمام امور میں مقدّم کر لو تمہیں روحانیت مل جائے گی۔ اور روحانیت والا گھوڑے کو آگے باندھتا ہے اور گاڑی کو پیچھے۔ لیکن ایک دنیادار گاڑی کو آگے باندھتا ہے اور گھوڑے کوپیچھے۔ کہنے کو تو یہ ایک معمولی سی بات ہے لیکن اگر کوئی ایسا کرے تو لوگ اُس پر ہنسنے لگ جائیں۔ پس تم خدا کو مقدّم رکھو اور دنیا کو مؤخّر۔ اِسی کا نام روحانیت ہے۔ لیکن اگر تم خداتعالیٰ کو مقدّم اور دنیا کو مؤخّر نہیں رکھتے تو اِس کا نام روحانیت نہیں‘‘۔
    (الفضل7جون1961ئ)

    1
    :
    (الفرقان:8)
    2
    :
    الفرقان:58
    3
    :
    شعب الایمان للبیھقی۔ الجزء الثانی۔ صفحہ311 نمبر1908 بیروت لبنان1990ء

    12
    بعض باتیں بظاہر معمولی ہوتی ہیں
    مگر ان میں بڑے بڑے فوائد مضمر ہوتے ہیں
    مثلاً اذان کی تصحیح اور نماز میں صفیں سیدھی رکھنا
    (فرمودہ25مئی1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج پھر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میں اُس مضمون کو نہیں لے سکتا جس پر صحت کے ایام میں مَیں خطبہ پڑھ رہا تھا لیکن آج میں اُس سے ملتی جلتی ایک اَور بات کے متعلق مختصراً کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جو مضمون میں پہلے بیان کرتا رہا ہوں اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ بعض باتیں چھوٹی چھوٹی نظر آتی ہیں لیکن ہوتی بہت بڑی ہیں اور ان سے بڑے بڑے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پس اُن چیزوں کو چھوٹا سمجھ کر نظرانداز نہیں کر دینا چاہیے بلکہ ان کے فوائد کو مدّنظر رکھ کر اُن پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میں یہ بات محبتِ الٰہی کے سلسلہ میں بیان کر رہا تھا لیکن اِس کے علاوہ دوسرے امور میں بھی یہی قاعدہ چلتا ہے۔
    مثلاً نماز کو ہی لے لو اس میں بھی یہی قاعدہ چلتا ہے۔ رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نماز میں صفیں سیدھی رکھو۔ اگر تم نماز میں صفیں سیدھی نہیں رکھو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔1 اب صفوں کا سیدھا رکھنا بظاہر ایک غیردینی چیز ہے یا محض نظام کا ایک حصہ ہے خود نماز کے مقصد اور اس کے فخر کے ساتھ اس کا زیادہ تعلق نہیں۔ لیکن باوجود اس کے کہ نماز میں صفیں اپنی ذات میں مقصودنہیں ہوتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اتنی اہمیت دی کہ فرمایا اگر تم نماز میں صفیں سیدھی نہیں کرو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ کیونکہ گو بعض چیزیں اپنی ذات میں مقصود نہیں ہوتیں لیکن اُن کا اثر ایسا پڑتا ہے کہ وہ اپنے سے بڑی چیزوں کو بھی اپنی زد میں بہا لے جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے بعض علماء نے اپنے وقت میں قشر پر زیادہ زور دیا تھا لیکن ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اس پر اتنا زور دیا کہ مغز جاتا رہا۔
    حقیقت یہ ہے کہ مغز ہی اصل مقصود ہوتا ہے اور اگر مغز کو نظرانداز کر دیا جائے تو چھلکا کسی کام کا نہیں ہوتا۔ چنانچہ صوفیاء نے یہ دیکھتے ہوئے کہ علمائِ اسلام چھلکے پر زیادہ زور دے رہے ہیں مغز پر زور دینا شروع کر دیا۔ مگر یہ بھی ان کی غلطی تھی کیونکہ مغز چھلکے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایک اخروٹ جس کا چھلکا قائم ہو وہ سال بھر بھی رہ جائے گا اور اس کا مغز محفوظ رہے گا۔ لیکن اگر اس کی گری نکال کر رکھ لو اور چھلکا پھینک دو تو اُسے کیڑا لگ جائے گا اور اُس کے ٹکڑے بُھرنے شروع ہو جائیں گے۔ ایک آم جس پر چھلکا قائم ہو مہینہ مہینہ رہ جائے گا۔ لیکن اگر آم کا چھلکا اتار دو تو اُسے انسان شام کو بھی نہیں کھا سکتا۔ وہ تیزاب بن جائے گا یا نجاست کا رنگ اختیار کر لے گا۔ غرض جن لوگوں نے قشر پر زیادہ زور دے دیا اور مغز کو نظرانداز کر دیا انہوں نے بھی غلطی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے کوئی چیز بلاوجہ پیدا نہیں کی۔ جس خدا نے چھلکا بنایا ہے اُسی نے مغز بھی بنایا ہے اور اِس کے معنے یہ ہیں کہ خداتعالیٰ نے چھلکے اور مغز دونوں کو قیمت بخشی ہے۔
    میں نے یہ تمہید اس لیے باندھی ہے کہ میں نے باربار اِس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہماری جماعت بعض اوقات چھلکے کو نظرانداز کر دیتی ہے اور صرف مغز کو مدّنظر رکھتی ہے۔ مثلاً نماز میں صفوں کو سیدھا رکھنا ہے۔ ہماری جماعت اس طرف توجہ نہیں کرتی۔ یا پھر اذان ہے اس کی تصحیح کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ ایک نقص خِلقی ہوتا ہے اس پر اعتراض کرنا جائز نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذّن حضرت بلالؓ تھے جو حبشی تھے اور حبشی لوگ’’ش‘‘ نہیں بول سکتے۔ حبشیوں کے بعض قبائل ’’ش‘‘ کو ’’س‘‘ کہتے ہیں۔ اس لیے حضرت بلالؓ جب اذان دیتے تو اَشْھَدُ کی بجائے اَسْھَدُ کہہ دیتے2 لیکن اس نقص کے باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مؤذّن مقرر کیا ہوا تھا۔ اُن کا اَشْھَدُ کی بجائے اَسْھَدُ کہنا کسی جہالت یا بناوٹ کی وجہ سے نہیں تھا اور نہ یہ اُن کی سُستی اور غفلت یا دین سے لاپرواہی کی وجہ سے تھا بلکہ اُن کا یہ نقص پیدائشی تھا۔ بعض ممالک کی آب و ہوا کی وجہ سے وہاں کے باشندوں کے گلے ایسے ہوتے ہیں جو ’’ش‘‘ نہیں بول سکتے۔
    ایک دفعہ جب بعض لوگ حضرت بلالؓ کی اذان پر ہنسے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال جب اذان دیتا ہے تو بعض لوگ ہنستے ہیں لیکن خداتعالیٰ بلال کی اذان سن کر عرش پر خوش ہوتا ہے۔2 آپ نے یہ اسی لیے فرمایا کہ حضرت بلال کا اَشْھَدُ کواَسْھَدُ کہنا جان بوجھ کر دین سے لاپرواہی اور جہالت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ خداتعالیٰ نے اُن کا گلا ہی ایسا بنایا تھا۔ اگر کسی لڑائی کے موقع پر لوگ بھاگ بھاگ کر میدانِ جنگ کی طرف جائیں لیکن ایک تندرست آدمی جو دوڑ میں اوّل، دوم یا سوم رہتا ہے وہ لنگڑا کر چلنا شروع کر دے تو ایسا شخص *** ہو گا۔ لیکن اگر ایک لنگڑا شخص کُودکُود کر جائے تو اُس کا یہ فعل خداتعالیٰ کے قُرب کا موجب ہو گا۔ وہ اپنی معذوری کی وجہ سے اگر لڑائی میں نہ جاتا تب بھی کوئی حرج نہ تھا لیکن باوجود معذور ہونے کے وہ حفاظتِ دین کے لیے اپنا کوئی عُذر پیش نہیں کرتا۔ پس اُس کا یہ فعل خداتعالیٰ کے قُرب کا موجب ہو گا۔ لیکن جب ایک تندرست آدمی لڑائی کا موقع آنے پر لنگڑا لنگڑا کر چلے تو اُس کا یہ فعل خداتعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو گا۔ اس لیے کہ وقت پر اس نے عُذر اور بہانے تلاش کر کے لڑائی سے بچنا چاہا۔
    میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ پنجابیوں کے گلے خداتعالیٰ نے ایسے بنائے ہیں کہ وہ ہر۔زبان کو صحیح ادا کر سکتے ہیں۔ اور اگر کوئی نقص ہوتا ہے تو وہ بہت معمولی ہوتا ہے۔ ابھی ایک نوجوان نے اذان دی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہے۔ اُس نے اذان دیتے وقت صلوٰۃ کو صَلَّاۃ اور فَلاح کو فَلَّاح کہا ہے۔ یہ ایسی غلطیاں نہیں کہ انہیں کوئی پنجابی دور نہ کر سکے۔ یہ بظاہر معمولی بات ہے لیکن معمولی معمولی باتوں کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان بڑھتے بڑھتے یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ اگر خداتعالیٰ کو پرمیشر کہہ لیا تو کیا ہوا یا مسجد کی بجائے مندر یا گرجا میں چلے گئے تو کیا ہوا۔ اور یہ بہت خطرناک چیز ہے۔بہرحال اِس چیز کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ پنجابی لوگ ان الفاظ کو ادا نہیں کر سکتے۔ پنجابی انہیںادا کر سکتے ہیں۔ لیکن بات یہ ہے کہ محکمہ کے افسر یونہی کسی شخص کو کہہ دیتے ہیں کہ تم اذان دو۔ پہلے اُس سے اذان سنتے نہیں تا کہ معلوم ہو جائے کہ اس میں کیا کیا نقائص ہیں۔ بہرحال جو شخص فَلاح کہہ سکتا ہے اور وہ نہیں کہتا یا جو شخص فلاح فَلَاح کہنا سیکھ سکتا ہے لیکن وہ نہیں سیکھتا یا صلٰوۃ کہنا وہ سیکھ سکتا تھا لیکن وہ نہیں سیکھتا دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ خداتعالیٰ کی بات مانی جائے یا نہ مانی جائے اِس میں کوئی حرج نہیں۔ اور یہ چیز نہایت خطرناک ہے۔ فَلَاح کی جگہ فَلَّاح کہہ لینا بڑی بات نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے کہا ہے کہ یوں کہو اور ہم کہہ بھی سکتے ہیں لیکن کہتے نہیں۔
    مجھے یاد ہے میرے پاس ایک دفعہ ایک نوجوان آیا اور اُس نے میرے ساتھ بحث شروع کر دی کہ داڑھیوں میں کیا رکھا ہے، بال منڈوا لیے یا نہ منڈوائے اس کا محبتِ الٰہی، دماغ کے تنوّع اور ذہن کی روشنی کے ساتھ کیا مقصود ہے؟ میں نے اُسے کہا بال رکھنے یا نہ رکھنے کا بظاہر محبتِ الٰہی پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننے یا نہ ماننے کا ضرور اثر پڑتا ہے۔ میں نے کہا میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کہی ہوئی بات ہے اور اِس کا ردّ کرنا درست نہیں۔ اِسی طرح جب خداتعالیٰ نے ان الفاظ کو ایک خاص زبان میں اُتارا ہے تو ضروری ہے کہ ہم انہیں اُس زبان میں اور پھر صحیح طور پر ادا کرنے کی کوشش کریں خصوصاً جبکہ ہم انہیں صحیح طور پر ادا بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم انہیں صحیح طور پر ادا نہیں کرتے تو دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہتے ہیں کہ اِن باتوں میں کیا رکھا ہے؟ کسی طرح کہہ لیا۔ اور اِس طرح آہستہ آہستہ بڑی بڑی چیزوں کے ترک پر بھی انسان دلیر ہو جاتا ہے۔ پس اسے چھوٹی چیز مت سمجھو۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی چیز ہے لیکن خداتعالیٰ کی فرمانبرداری چھوٹی چیز نہیں بلکہ بہت بڑی چیز ہے‘‘۔ (الفضل 28مارچ 1962ئ)

    1
    :
    صحیح بخاری کتاب الاذان باب اقامۃ الصّف من تمام الصّلوٰۃ
    2
    :
    المغنی لابن قدامۃ کتاب الصلاۃ باب الاذان من یقدم فی الاذان و یلحن بہٖ۔ جلد 1صفحہ430۔ دارالفکر بیروت 1405ھ

    13
    تسبیحِ الٰہی مصائب و مشکلات سے نجات پانے کا گُر ہے
    اس گُر سے وہی فائدہ اُٹھا سکتا ہے جو زندہ خدا پر اور زندہ مذہب پر یقین رکھتا ہو
    (فرمودہ یکم جون1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج میں اختصار کے ساتھ قرآن کریم کی ایک تحریک کی طرف اشارہ کرتا ہوں جو مصائب اور مشکلات کے وقت انسان کو نجات اور کامیابی کا رستہ دکھاتی ہے۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں، کوئی قوم ایسی نہیں جس پر رنج اور راحت کے زمانے نہ آتے ہوں۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ دنیا میں کوئی شخص ایسا بھی ہے جس پر رنج کا زمانہ نہیں آتا یا وہ خیال کرتا ہے کہ دنیا میں کوئی غمگین ایسا بھی ہے جس پر خوشی کا زمانہ نہیں آئے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں بسنے والا انسان ہے۔ وہ حقائق سے واقف نہیں۔ اسی طرح جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ کوئی قوم ایسی بھی گزری ہے جس پر رنج کا زمانہ نہیں آیا یا کوئی قوم ایسی بھی گزر چکی ہے جس پر خوشی کا زمانہ نہیں آیا تھا تو وہ بھی جہالت کی ظلمتوں میں مبتلا ہے اور حقائق کی وادیوں میں چلنے کا اُسے موقع نہیں ملا۔ غرض قرآن۔کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنوں پر بھی خوشی کا دور آتا ہے اور کافروں پر بھی خوشی کا دَور آتا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ہر انسان پر خواہ وہ کافر ہو یا مومن خوشی اور راحت کی گھڑیاں آتی ہیں۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ کوئی انسان کسی ایسی چیز پر تسلّی پاسکے جو غیرطبعی ہے۔ جائز خوشی بھی ایک طبعی چیز ہے اور جائز غم بھی ایک طبعی چیز ہے۔ لیکن بعض۔اوقات جائز غم بھی غیرطبعی بن جاتا ہے اور جائز خوشی بھی غیرطبعی بن جاتی ہے۔ جب کسی دوسرے شخص کو رنج پہنچتا ہے تو جائز خوشی بھی ناجائز ہو جاتی ہے۔ مثلاً کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو یہ بات اس کے لیے جائز خوشی کی ہے۔ لیکن فرض کرو وہ ایک دوست کے ساتھ باتیں کر رہا تھا کہ ایک پیغامبر نے اُسے یہ خبر دی کہ تمہارے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے، تمہیں مبارک ہو۔ مگر وہ دوست جس کے ساتھ وہ باتیں کر رہا ہے اُسے یہ پیغام ملتا ہے کہ اُس کا نوجوان بیٹا فوت ہو گیا ہے۔ اب جہاں تک خوشی کی بات ہے وہ ایک طبعی چیز ہے لیکن اُس موقع پر اُس شخص کا خوشی کا اظہار کرنا ناجائز ہے۔ بیشک خوشی طبعی چیز ہے لیکن اُس وقت اُس کا اظہار اور اسے اپنے نفس پر غالب آنے دینا ناجائز ہو گا کیونکہ جب اُسے خوشی کی خبر پہنچی تو دوسرے کو رنج پہنچانے والا پیغام ملا اور اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی خوشی کو دبائے بلکہ اگر اسے اپنے دوست کے ساتھ کامل محبت ہے تو اس کے غم سے اس کی خوشی دب جانی چاہیے۔
    ان غیرطبعی باتوں کا علاج خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتا ہے کہ جب کسی گھر پر، کسی خاندان پر، کسی قوم یا ملک پر مصائب آتے ہیں تو سب سے پہلی چیز جسے مدّنظر رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ انہیں تسبیح سے کام لینا چاہیے۔ تسبیح کیا ہوتی ہے؟ تسبیح اللہ تعالیٰ کے تمام عیوب سے پاک ہونے کا اقرار ہے۔ جب کسی انسان کو غم پہنچتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ غم میرے ساتھ مخصوص ہیں خداتعالیٰ ان سے پاک ہے۔ گویا وہ نقص اور کمزوری کو پورے طور پر اپنے اردگرد لے لیتا ہے۔ اگر وہ تسبیح نہ کرے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ خداتعالیٰ کو تمام نقائص اور کمزوریوں سے منزّہ قرار دے دینے کی طرف اسے توجہ نہیں۔ لیکن جب وہ کہتا ہے سُبْحَانَ۔اللّٰہ تو اِس کے یہ معنے ہیں کہ خداتعالیٰ سب عیوب، نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے۔ گویا وہ سُبْحَانَ۔اللّٰہ کہہ کر اپنے عیوب اور نقائص سے خداتعالیٰ کو پاک قرار دے لیتا ہے۔
    پھر فرماتا ہے ۔1 خداتعالیٰ کو صرف عیوب اور نقائص سے پاک قرار ہی نہ دو بلکہ ساتھ ہی یہ اقرار بھی کرو کہ ہر۔قسم کی نیکیاں، ہر قسم کی خوبیاں اور ہر قسم کی اچھائیاں خداتعالیٰ نے ہی پیدا کی ہیں۔ گویا پہلے تو اُس نے خداتعالیٰ سے ایک چیز کو سلب کیا تھا مگر دوسرے فقرہ میں اس نے ایک بات خداتعالیٰ کی طرف منسوب کی اور وہ یہ ہے کہ وہ سب خوبیوں، سب نیکیوں اور سب اچھائیوں کا مالک ہے اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ کسی غمزدہ اور مصیبت زدہ کی مدد کرے۔ گویا انسان خداتعالیٰ کو پہلے تو تمام عیوب اور نقائص سے مبرّا اور منزّہ قرار دے اور دوسرے قدم پر اس کی تعریف کرے۔ اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ خداتعالیٰ مصیبت زدہ کی مدد کرتا ہے اور سب خوبیاں اُسی کی طرف سے آتی ہیں۔ گویا دوسرے الفاظ میں اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ میں بھی اس کی مدد کا محتاج ہوں۔ گویا خداتعالیٰ کی تسبیح کر کے اس سے ہر قسم کے عیب اور نقص کو دور کر دیا اور پھر اس کی تعریف کر کے اس کے فضل کو بھی طلب کر لیا۔
    پھر خداتعالیٰ فرماتا ہے۔2 اللہ تعالیٰ کی مدد تو آتی ہے لیکن اگر تم ایک بندگھڑے پر پانی ڈالتے ہو تو وہ پانی گھڑے کے اندر نہیں جاتا بلکہ گھڑے پر سے نیچے گر جاتا ہے۔ اِسی طرح خداتعالیٰ کی مدد کسی انسان کے کام نہیں آتی جب تک وہ اپنے آپ کو اُس کا مستحق نہیں بنا لیتا، جب تک اُس کے گھڑے کا منہ کُھلا نہ ہو، تا خداتعالیٰ کی رحمت کا پانی اُس میں پڑ سکے۔ اگر خداتعالیٰ کی رحمت کا پانی اُس کے گھڑے میں نہیں پڑتا تو وہ خداتعالیٰ کی مدد سے محروم ہو جائے گا۔ اِسی لیے خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نے خداتعالیٰ سے اُس کی رحمت طلب کی ہے تو ساتھ ہی یہ بھی طلب کرو کہ وہ خطائیں جو خداتعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے سے روکتی ہیں معاف ہو جائیں تا خداتعالیٰ جب اپنا فضل اور رحمت نازل کرے تو اُس کا برتن کھلا ہو، تا خداتعالیٰ کے فضل اور رحمت کا پانی اُس کے اندر۔داخل ہو جائے۔
    پھر انسان کے اندر ایک وسوسہ پیدا جاتا ہے اور یہی وسوسہ انسان کو دعا اور خداتعالیٰ کی طرف توجہ کرنے سے محروم رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ خداتعالیٰ کو مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ کہاں اور ہم کہاں؟ ہماری خداتعالیٰ سے کیا نسبت؟ کیا پِدی اور کیا پدی کا شوربا۔ چنانچہ ایک تعلیم یافتہ گروہ کہتا ہے کہ بیشک خدا ہے لیکن اُسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ ہمارے سب کاموں میں دخل دے۔ یہی وسوسہ ہے جو اس گروہ کو خداتعالیٰ کے فضلوں سے محروم کر دیتا ہے۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے ۔3 یہ مت خیال کرو کہ خدا کہاں اور ہم کہاں؟ وہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا اور ہم ایک چھوٹے سے برّاعظم کے ایک چھوٹے سے ملک اور پھر ایک چھوٹے سے گاؤں کے حقیر۔آدمی۔ ہماری اور اس کی کیا نسبت؟ ہمیں اس سے کیا واسطہ؟ خداتعالیٰ فرماتا ہے ۔ تمہارا اُس سے یہ واسطہ ہے کہ تم اگر اُس کی طرف ایک دفعہ جاؤ تو وہ تمہاری طرف دس دفعہ آتا ہے۔ توّاب کے معنے ہیں باربار آنے والا۔ گویا اگر تم خداتعالیٰ کی طرف ایک دفعہ متوجہ ہوتے ہو تو وہ تمہاری طرف دس دفعہ، بیس دفعہ، سو دفعہ بلکہ ہزار دفعہ آتا ہے۔ تم اُس کی رحمت اور فضل سے مایوس نہ ہو بلکہ اُسے جذب کرنے کے لیے سب ذرائع استعمال کرو۔ یہ مت کہو کہ خداتعالیٰ کو ہم سے کیا نسبت؟ وہ بلند و ارفع شان والی ہستی ہے اور ہم حقیر انسان۔ ہم ایک ذرّہ کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ ریت کا ایک ذرّہ بھی ہمارے اندر جا کر اپنڈے سائیٹس4(Appendicitis) پیدا کر دیتا ہے، ہم اس کا علاج نہیں جانتے بلکہ بعض دفعہ ہمارے ڈاکٹر بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ پس وہ خدا جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، جس نے وسیع جوّ اور دوسری سب چیزوں کو پیدا کیا ہمیں اس سے کیا نسبت؟ اگر ہم پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے یا ہماری بیوی، بچوں، ماں، باپ، بہن، بھائیوں اور دوستوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا ہماری تجارت میں گھاٹا پڑتا ہے تو ہمیں اُس سے کیا واسطہ؟ فرمایا تم اِس طرح نہ کرنا کیونکہ تمہارا خداتعالیٰ کے ساتھ اتنا واسطہ نہیں جتنا واسطہ اُس کا تمہارے ساتھ ہے۔ تم اگر اُس کی طرف ایک دفعہ توجہ کرتے ہو تو وہ تمہاری طرف سو دفعہ توجہ کرتا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ تم اُس کی طرف توجہ کرنا جانتے نہیں۔ تم اُس کی تسبیح کرو، تحمید کرو، استغفار کرو۔ تمہارے ایک دفعہ توجہ کرنے کے نتیجہ میں خداتعالیٰ تمہاری طرف دس بیس دفعہ، سو دفعہ بلکہ ہزار دفعہ توجہ کرے گا۔
    غرض خداتعالیٰ نے مصائب سے بچنے کا یہ گُر بتایا ہے لیکن اُس سے وہی شخص فائدہ اُٹھا سکتا ہے جو زندہ خدا پر یقین رکھتا ہے، جو روحانیت پر یقین رکھتا ہے۔ پھر وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ خداتعالیٰ اور انسان کے درمیان تعلق قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو زندہ خدا اور زندہ مذہب پر یقین نہیں رکھتے، جو تمام دنیا کی پیدائش کو اتفاقی حادثات کا نتیجہ خیال کرتے ہیں، جو اپنے نفس کو کافی سمجھتے ہیں اور ہستی باری تعالیٰ کے دلائل کو ہیچ اور محض اوہام سمجھتے ہیں وہ اِس گُر سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ لیکن مومن اَور بھی ہوشیار ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اُس کے پاس وہ زبردست روحانی ہتھیار ہے جو دوسروں کے پاس نہیں۔ دوسرے وہ ہتھیار تیار نہیں کر سکتے۔ وہ اِس ہتھیار کی قدر نہیں جانتے۔ صرف یہی اس کی قدر جانتا ہے۔ اور جس شخص کے پاس ایسا کارگر ہتھیار ہو جو دوسروں کے پاس نہ ہو اُس کی فتح میں کیا شُبہ ہو سکتا ہے‘‘۔
    (الفضل 26جولائی1961ئ)

    1
    :
    النصر:4
    2
    :
    النصر:4
    3
    :
    النصر:4
    4
    :
    اپنڈے سائیٹس:(Appendicitis) وہ مرض جس میں زائد آنت سوج جاتی ہے۔

    14
    اگر تم چاہتے ہو کہ خداتعالیٰ تمہارے حق میں بھی وہی نشانات دکھائے جو اُس نے انبیاء اور بزرگان کے حق میں دکھائے تھے تو ان کے واقعات کو باربار دہراؤ
    (فرمودہ 15جون1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’دنیا میں کسی عزیز یاباپ کو یاد رکھنے کا یہی طریق ہوتا ہے کہ اُسے باربار یاد کیا جائے۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے
    گاہے گاہے بازخواں ایں قصّہ ٔپارینہ را
    اگر کسی کو یاد رکھنا ہو تو پرانا قصہ کبھی کبھی دُہرا لینا چاہیے۔
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السّلام، حضرت ابراہیم علیہ السّلام، حضرت اسحاق، حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب، حضرت موسٰی حضرت داؤد، حضرت عیسٰی علیھم السَّلامُ اور۔دوسرے نبیوں کا ذکر کرتا ہے۔ اور بعض نبیوں کا باربار ذکر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ یورپین مصنفین نے اعتراض کیا ہے کہ قرآن کریم میں تکرار پایا جاتا ہے جس سے ہمارا دل اُچاٹ ہو جاتا ہے۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ اِس تکرار کی وجہ سے ان کا دِل اُچاٹ ہو جاتا ہو گا لیکن جہاں تک دل کا تعلق ہے اس تکرار سے دل اُچاٹ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک شخص باہر سے آتا ہے اور ہمیں خبر دیتا ہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ میں ہفتہ کے دن تمہیں ملنے کو آؤں گا۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو جاتا ہے تو اِس سے طبیعت گھبرائے گی نہیں۔ لیکن اگر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر کہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ میں ہفتہ کے دن تمہیں ملنے کو آؤں گا۔ پھر تیسری بار کہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ میں ہفتہ کے دن تمہیں ملنے کو آؤں گا تو دوسری دفعہ تو شاید ہم برداشت کر لیں لیکن تیسری بار ہم زچ ہو جائیں گے۔ لیکن ہمارے سامنے ایک ماں اپنے بچہ کو اپنے ساتھ چمٹاتی ہے اور کہتی ہے میری جان، میری جان۔ وہ ایک دفعہ کہتی ہے، دوسری بار کہتی ہے، تیسری بار کہتی ہے، چوتھی بار کہتی ہے بلکہ سویں۔دفعہ بھی اگر وہ اسے دہراتی ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں تنگ آ گیا ہوں چھوڑو اِس قصہ کو۔ پھر مصافحہ ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے ایک شخص ہم سے مصافحہ کرتا ہے پھر ہاتھ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ وہ اگر دوسری دفعہ مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے تو ہماری طبیعت گھبرا جاتی ہے۔ پھر اگر وہ تیسری دفعہ ہاتھ بڑھاتا ہے تو طبیعت اَور گھبرا جاتی ہے کیونکہ اُس کے ہمارے ساتھ ماں جیسے تعلّقات نہیں۔ لیکن ماں اپنے بچہ کو چُومنا شروع کرتی ہے اور بعض دفعہ اِتنا چُومتی ہے کہ اُس کا چہرہ لال ہو جاتا ہے۔ ہم مصافحہ کرنے والے کو زچ ہو کر یہ کہیں گے کہ چھوڑو بھی اِس بات کو۔ لیکن ماں کو یہ بات نہیں کہتے اور نہ ماں سے محبت کے جذبات رکھنے والا اور اُس کی پیار کی باتوں کو سننے والا اِس بات پر کسی اعتراض کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
    پس جہاں تک عقل کا سوال ہے قرآن کریم میں یہ بات دیکھ کر طبیعت زچ ہو گی کہ سلیمان کے ساتھ یوں واقعہ پیش آیا، داؤدؑ کے ساتھ یوں ہوا۔ پھر دس صفحے آگے چل کر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ابراہیمؑ کے ساتھ یوں ہوا، موسٰیؑ کے ساتھ یوں ہوا، عیسٰیؑ کے ساتھ یوں ہوا۔ ایک دو دفعہ تو انسان اِس بات کو برداشت کر لیتا ہے لیکن پندرہ سولہ صفحات کے بعد پھر یہ لکھا ہوتا ہے کہ موسٰیؑ کے ساتھ یوں ہوا، داؤدؑ کے ساتھ یوں ہوا، سلیمانؑ نے یہ یہ قربانیاں کیں، عیسٰیؑ نے یہ یہ قربانیاں کیں، لوگوں نے فلاں۔فلاں نبی کے ساتھ یوں کیا۔ غرض جو شخص عقلی طور پر قرآن کریم کو دیکھتا ہے لیکن اُس کی عادت نہیں کہ یہ کہہ سکے کہ ہر جگہ ایک نئی غرض کے لیے ہر واقعہ بتایا گیا ہے وہ ظاہر پر نظر کر کے کہتا ہے اِس میں تکرار پائی جاتی ہے۔ لیکن جو شخص قرآن کریم کو اِس خیال سے پڑھتا ہے کہ یہ کتاب اُس کی اصلاح اور اُس کے اندر خاص جذبات پیدا کرنے کے لیے آئی ہے (خواہ وہ ان باریکیوں کا عارف نہ ہو) وہ اسے بالکل اَور نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ قرآن کریم کو اُس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے جس نقطہ نگاہ سے بچہ ماں کو دیکھتا ہے اور اس کی پیاری باتوں کو سنتا ہے۔ خالی عقل سے دیکھنے والا جب ماں کو دوچار دفعہ دیکھتا ہے اور اُسے جانی جانی کہتے سنتا ہے تو وہ تنگ آ جاتا ہے۔ لیکن بچہ کو جب ماں دس بیس دفعہ اپنے ساتھ چمٹا کر چھوڑ دیتی ہے تو اُس کا پھول سا چہرہ مُرجھا جاتا ہے۔ وہ سہماسہما پھرتا ہے کہ اُس کی ماں اُس سے کیوں خفا ہو گئی ہے۔ غرض وہی چیز جو ایک شخص کو تنگ کرنے کا موجب ہے دوسرے کے لیے وہ ایسی ہے جیسے باغ کے لیے پانی۔ ماں جب اپنے بچہ کو جانی جانی کہتی ہے تو وہ اُکتا نہیں جاتا۔ جب ماں جانی جانی کہتی ہے تو بچہ کا دل بڑھتا ہے، اس کے قوٰی مضبوط ہوتے ہیں، اُس کا حوصلہ بڑھتا ہے اور اُس کے اعصاب مضبوط ہو جاتے ہیں حالانکہ یہی چیز ایک منطقی اور عقلی طور پر دیکھنے والے کو شاق گزرتی ہے۔ گویا جو چیز ایک شخص کے لیے بکواس ہے وہی دوسرے کے لیے پانی اور خون ہے۔ جو شخص قرآن کریم کو اِس خیال سے پڑھتا ہے کہ وہ اُس کے اندر نئے جذبات پیدا کرتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ روحانی باپ ہے، روحانی ماں ہے جو اپنے بچہ کے ساتھ گہرے تعلقات کا اظہار کر رہا ہے وہ اِس بات پر گھبرائے گا نہیں کہ قرآن کریم حضرت ابراہیم، حضرت موسٰی، حضرت عیسٰی علیھم السلام اور دیگر نبیوں کا باربار ذکر کیوں کرتا ہے بلکہ وہ کہے گا کہ اگر وہ ان کا بیس دفعہ اَور ذکر کر دیتا تو بہتر ہوتا۔ ماں بچہ کو باربار چومتی اور جانی جانی کہتی ہے۔ ایک منطقی یہ کہے گا کہ وہ کیوں ایسا کرتی ہے؟ لیکن بچہ ماں کے چھوڑ دینے پر سہماسہما پھرے گا کہ شاید اُس کی ماں اُس پر ناراض ہو گئی ہے۔ دونوں کے نقطہ نگاہ کا فرق۔ہے۔
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت اسحاق، حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیھم السلام اور دیگر نبیوں کا باربار ذکر کرتا ہے تو وہ اپنے اُس تعلق کو جو اُسے اپنے بندوں سے ہے ظاہر کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے۔ پھر اِس میں ہمیں سبق دیا گیا ہے کہ کسی کے ساتھ محبت کے تعلّقات بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کا باربار ذکر کیا جائے۔ قرآن۔کریم کہتا ہے کہ اگر تم آپس میں محبت کے تعلقات بڑھانا چاہتے ہو تو یوں کرو۔ حوا نے بھی اپنے بچہ سے اِسی طرح پیار کیا ہو گا۔ حوا آخر ایک عورت ہی تھی۔ وہ سقراط نہیں تھی، افلاطون نہیں تھی یا آجکل کے فلسفیوں ہیکل اور برکلے کی طرح نہ تھی کہ وہ اپنے بچہ کے ساتھ باربار پیار نہ کرتی۔ حوا کے جذبات وہی تھے جو آجکل ایک گنوار سے گنوار عورت کے اندر پائے جاتے ہیں۔ وہ اگر اپنے بچہ کو چومنا شروع کر تی ہے تو ختم کرنے میں نہیں آتی۔ اسی طرح حوا کرتی ہو گی۔ آجکل جس طرح ایک ماں ’’میں واری‘‘ ’’میں قربان‘‘ کرتی چلی جاتی ہے اِسی طرح حوا کرتی ہو گی۔ لیکن جب حوا ایسا کرتی تھی تو اس کے دو مفہوم تھے یا جب آجکل ایک ماں ایسا کرتی ہے تو فطرت بچہ کے اندر دو باتیں پیدا کروانا چاہتی ہے۔
    اوّل وہ اپنے بچہ پر یہ اثر ڈالنا چاہتی ہے کہ تُو لاوارث نہیں تجھ پر جان دینے والا اور اپنا آپ قربان کرنے والا ایک اور وجود پاس بیٹھا ہے۔ تُو بیشک معصوم ہے، کمزور ہے، تُو چلتے چلتے ٹھوکر کھا جاتا ہے لیکن اَور وجود ایسا پاس موجود ہے جو تیری حفاظت کرے گا اور تجھے بچائے گا۔
    دوسرے فطرت ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ تُو جب بڑا ہو گا تو تیرے بھی بچے ہوں گے۔ اُن کی محبت حاصل کرنے اور ان کے حوصلے درست کرنے کے لیے تمہیں بھی یہی کچھ کرنا ہو گا۔
    یہی حال قرآن کا ہے۔ قرآن کریم ایک طرف تو حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام اور دیگر انبیاء کے واقعات بیان کر کے اُن سے اپنی محبت کے تعلّقات کا اظہار کرتا ہے اور دوسری طرف وہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تم بھی انہیں دُہراؤ۔ یہاں تک کہ تمہیں محسوس ہو جائے کہ خداتعالیٰ نے جس طرح حضرت موسٰی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام اور دیگر انبیاء کو چھوڑا نہیں اُسی طرح وہ تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا۔ انبیائے بنی اسرائیل کی کتابوں میں وعظ بھی ہوتا ہے اور الہام بھی ہوتے ہیں۔ تورات بھی ساری کی ساری الہام نہیں۔ اس میں سے اکثر حصہ وعظ ہے۔ اِس میں یہی آتا ہے کہ خداتعالیٰ نے ابراہیم کے ساتھ یوں کیا، موسٰی کے ساتھ یوں کیا، داؤد کے ساتھ یوں کیا تمہارے ساتھ بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔ اُس نے حضرت اسحاق علیہ السّلام کے ساتھ یوں کیا، اس نے حضرت یعقوب اور حضرت۔یوسف علیہما السلام کے ساتھ یوں کیا وہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔ انہوں نے اِس سے سبق سیکھا اور خداتعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلّقات کو ظاہر کیا تھا۔ تم بھی اِس سے سبق حاصل کرو اور۔خداتعالیٰ کی محبت کو بڑھاؤ۔
    میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت طبعی سبقوں کی طرف کم توجہ کرتی ہے اور دنیوی فلسفیوں کی طرف زیادہ توجہ رکھتی ہے۔ ہماری جماعت کے کتنے واعظ ہیں جن کے وعظوں میں اِس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ خداتعالیٰ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت اسماعیل، حضرت یوسف اور حضرت موسٰی علیھم السلام کی طرح تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا۔ کتنے واعظ ہیں جو اِن واقعات کو بیان کر کے یہ بتاتے ہوں کہ وہ خدا جس نے فلاں موقع پر نشان دکھائے اب بھی تمہارے حق میں اپنے محبت بھرے تعلّقات کا اظہار کرے گا۔ دُور نہ جاؤ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات اور نشانات کے دہرانے سے بھی ایمان بڑھتا ہے۔ جس طرح باربار کے یاد کرنے سے ایک چہرہ سامنے آ جاتا ہے اِسی طرح ان نشانات اور معجزات کے پڑھنے سے ایک ایماندار کا دل دھڑکنے لگ جاتا ہے۔ بھول جاؤ مخالفت کو۔ کیونکہ تمہارا بھی وہی خدا ہے جو حضرت یعقوب علیہ السّلام کا خدا تھا، جو حضرت موسٰی علیہ السّلام کا خدا تھا، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا تھا یا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خدا تھا اور درمیان میں جو دوسرے بزرگ گزرے ہیں اُن کا خدا تھا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ خداتعالیٰ تمہارے حق میں بھی وہی نشانات دکھائے جو اس نے ان نبیوں اور بزرگوں کے حق میں دکھائے تھے تو اِن واقعات کو باربار دہراؤ۔
    گاہے گاہے بازخواں ایں قصۂ پارینہ را
    قرآن کریم نے ہمیں یہ سبق دیا ہے۔ اگر ایک دفعہ بات کرنا کافی ہوتی تو وہ ان واقعات کو باربار نہ دہراتا۔ وہ تو اِن واقعات کو اِتنا دہراتا ہے کہ یورپین مصنفین کا قرآن کریم پر سب سے بڑا یہ اعتراض ہے کہ اِس میں تکرار پایا جاتا ہے۔ بے شک انہیں قرآن کریم پر یہ اعتراض ہونا چاہیے کیونکہ وہ غیر ہیں۔ غیر جب ماں کو بچہ کے ساتھ پیار کرتے دیکھتا ہے، اُس کے پیار کی باتوں کو سنتا ہے تو کہتا ہے ایک دفعہ ہو گیا یہ کیا باربار ایک ہی بات کو دہرایا جاتا ہے۔ آخر کوئی حساب بھی ہو۔ لیکن ماں اُسے اس نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھتی جس نقطہ نگاہ سے اُسے غیر دیکھتا ہے۔ تمہیں بھی قرآن کریم کو غیر کے نقطہ۔نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اُسی طرح دیکھنا چاہیے جس طرح بچہ ماں کی پیاربھری باتوں کو سنتا ہے اور اس کی محبت کو محسوس کرتا ہے۔ جس طرح ماں جب بچہ سے پیار کرتی ہے تو فطرت اُسے سبق۔دیتی ہے کہ بڑے ہو کر تمہیں بھی اپنے بچوں کی محبت حاصل کرنے اور ان کے حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے ایسا کرنا ہو گا۔ اسی طرح تمہیں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تمہارے اندر بھی ایمان اُسی وقت پیدا ہو گا جب تم اِن واقعات کو دہرانے لگ جاؤ گے، تم اپنی مجلسوں اور اپنے گھروں میں باربار بیان کرو کہ جو خدا حضرت اسحاق علیہ السّلام، حضرت موسٰی علیہ السّلام، حضرت عیسٰی علیہ السّلام اور دیگر انبیاء کا تھا وہی خدا تمہارا ہے۔ جس طرح خدا نے اپنے ان پیارے بندوں کو نہیں چھوڑا تھا تم بھی اگر اُس کے ساتھ ویسے تعلّقات پیدا کر لو گے تو وہ تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا۔ جب تمہاری مجلسوں اور تمہارے گھروں میں اِس بات کا چرچا شروع ہو جائے گا تو ہر بچہ کے اندر یہ یقین پیدا ہو گا کہ ہمارے خدا نے یوں کہا ہے۔
    پس اِن باتوں کو باربار دہراؤ، عورتیں، علمائ، واعظ، اساتذہ اور مصنف سب اِن باتوں کو دہرائیں۔ باربار ان باتوں کو ذہن میں لائیں اور لوگوں کے سامنے بیان کریں تا وہ حقیقت کہ جس سے زیادہ رحمت کسی فرد پر ہو نہیں سکتی دلوں میں گھر کر جائے۔ اور رات دن یہ بات تمہارے سامنے رہے کہ ایک زندہ خدا ایک ہاتھ میں تلوار برہنہ لیے اور ایک ہاتھ میں رحمت کا پانی لیے تمہارے سر پر کھڑا ہے۔ مخالفت کرنے والا اُس کی تلوار کو گردن پر لے لیتا ہے اور اُس سے محبت کرنے والا اُس کی رحمت کو جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے‘‘۔ (غیرمطبوعہ مواد ازریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)

    15
    تمہارے پاس صرف دعا کا ہتھیار ہے ۔سوتم اپنے لیے، سلسلہ کے لیے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے خوب دعائیں کرو

    (فرمودہ 22جون1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’رمضان کا مہینہ اب نصف سے اوپر گزر چکا ہے۔ جہاں تک آثار سے معلوم ہوتا ہے یہ رمضان 29 کو ختم ہو جائے گا کیونکہ ایک تو پچھلا مہینہ تیس دن کا تھا اور دو مہینے متواتر تیس دن کے نہیں ہو سکتے۔ دوسرے عرب میں دو دن پہلے چاند دیکھا گیا ہے اور یہ انتہائی فاصلہ ہے۔ اس سے زیادہ فاصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ تیس دن جو پچھلے مہینہ کے لیے گئے تھے وہ درست تھے۔ پھر چاند کے نکلنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مہینہ 29 کا ہو گا کیونکہ چودہ تاریخ کو چاند کچھ دیر سے نکلا ہے۔ پس وہ دن اور راتیں جو دعاؤں کے خاص دن ہوتے ہیں وہ دن بھی آ رہے ہیں اور وہ راتیں بھی آ رہی ہیں۔ رمضان کے یہ ایام ایسے شدید گرم تھے اور غالباً تین سال تک اَور شدید گرم رہیں گے کہ اِن دنوں کے روزے مومنوں کے لیے ایک آزمائش اور امتحان تھے۔ لیکن دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اِس آزمائش اور امتحان کے دَور میںسے شوق سے گزر جاتے ہیں اور یہ تکلیف اُن کے لیے راحت کا موجب ہو جاتی ہے۔ اوراگر واقع میں انسان کا دل کسی چیز کے شوق میں ہو تو اردگرد کی تکالیف اُسے زیادہ سخت معلوم نہیں ہوتیں۔
    مجھے یاد ہے اِس سے پہلی گرمیوں میں جو رمضان کے مہینے آئے تھے اُس وقت بعض مہینوں میں مَیں درسِ قرآن بھی دیتا تھا اور روزے بھی رکھتا تھا۔ اور آجکل کے درس القرآن کی طرح وہ صرف گھنٹہ دو گھنٹے کے لیے نہیں ہوتا تھابلکہ بعض دفعہ چھ چھ سات سات گھنٹے تک چلا جاتا تھا لیکن باوجود بیماری کے چونکہ جوانی کی عمر تھی اس لیے یہ تکلیف ایسی زیادہ محسوس نہیں ہوتی تھی۔ پھر خالی یہی نہیں کہ میں درس دیتا تھا بلکہ درس کی تیاری کے لیے بعض دفعہ رات کے بارہ ایک بجے تک میں نوٹ لکھتا رہتا تھا اور صبح اٹھ کر درس شروع کر دیتا تھا جو ظہر تک چلا جاتا تھا۔ بلکہ چند دن مجھے ایسے بھی یاد ہیں جب صبح سے ظہر تک درس ختم نہ ہوا تو ظہر کے بعد پھر درس شروع کر دیا گیا جو عصر تک چلا گیا۔ مگر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شریعت کی اجازتوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں ہم بیمار ہیں اس لیے روزہ نہیں رکھ سکتے لیکن اُن کی بیماری کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ سارا سال انہوں نے علاج نہیں کروایا ہوتا۔ اگر واقع میں وہ بیمار ہوتے تو علاج کیوں نہ کرواتے؟ اُن کا باقاعدہ علاج نہ کرانا بتاتا ہے کہ اُن کی بیماری کا عُذر محض جھوٹا ہے۔ علاج کے لیے تو انہیں بیماری یاد نہیں آتی لیکن روزہ رکھنا ہو تو بیماری یاد آجاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ اِس قسم کے غیرمعقول عُذروں سے وہ اِس جہان کی گرمی میں تو روزے رکھنے سے بچ جائیں گے لیکن اگلے جہان میں وہ کیا کریں گے اور اُس کی گرمی سے کیسے بچ سکیں گے؟مجھے افسوس ہے کہ بعض ایسے خاندانوں کے لڑکے بھی جن کو دوسروں کے لیے نمونہ ہونا چاہیے تھا محض بہانہ سازی سے روزوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری شریعت نے یقیناً بیمار کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ ہمارا غیراحمدیوں کی طرح یہ اعتقاد نہیں کہ روزہ کسی حالت میں بھی ترک نہیں کرنا چاہیے مگر ہم بیماری اُس کو کہیں گے جس کو انسان اچھا کرنے کی کوشش کرے۔ اگر سالہاسال بیماری لٹکتی چلی جاتی ہے اور وہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اسے بیماری نہیں سمجھتا۔ اگر وہ اسے بیماری سمجھتا تو اس کے لیے کوئی نہ کوئی کوشش بھی کرتا۔ اور پھر وہ مرتا یا اچھا ہوتا اِدھر ہوتا یا اُدھر ہوتا بہرحال کسی ایک نتیجہ پر وہ پہنچ جاتا۔ مگر ایک طرف اس کا نام بیماری رکھنا اور دوسری طرف اس کے علاج کے لیے تعہّد نہ کرنا محض بہانہ سازی ہوتی ہے۔
    اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ ان ایام میں بعض دن ایسے بھی آئے ہیں جبکہ روزہ دار تو الگ رہے بے۔روزہ بھی یوں معلوم ہوتا تھا کہ دم توڑ رہے ہیں۔ اور جو بیمار تھے یا بوڑھے اور کمزور تھے انہیں بہت ہی تکلیف ہوئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی دن انسان کے لیے زیادہ ثواب اور برکت کا موجب ہوتے ہیں اور انہیں دنوں میں انسان کی ہمت کا پتا لگتا ہے۔ ایسے لوگ بھی میں نے دیکھے ہیں جن پر میں رشک کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اُن کے برابر روزے میں نہیں رکھ سکتا۔ مثلاً مولوی سید سرورشاہ صاحب ہیں75 سال کی عمر کے تھے مگر باوجود منع کرنے کے وہ برابر روزے رکھتے تھے۔ چاہے یہ حدسے زیادہ تقشّر1 کہلائے مگر اس سے پتا لگتا ہے کہ اگر انسان ارادہ کر لے تو بعض جگہ وہ شریعت کی اجازت سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔
    بہرحال یہ دن اب اس رمضان کے آخری ایام ہیں اور نوجوانوں کے لیے ان کی عمر کے لحاظ سے مجاہدے کے دن ہیں۔ اگلی دفعہ جب یہ روزے گرمیوں میں آئیں گے تو اُس وقت تک وہ بوڑھے ہو چکے ہوں گے۔ اور اُس وقت وہ یہ عُذر کریں گے کہ اب روزہ کی کوفت برداشت نہیں ہو سکتی اور خداتعالیٰ نے بھی اُس عمر میں ان کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہوئی ہو گی۔ درحقیقت انسان کی عمر میں ایک دَور ہی ایسا آ سکتا ہے جس میں وہ صحیح طور پر روزے رکھ سکتا ہے۔ چھتّیس سال میں روزوں کا ایک چکر پورا ہوتا ہے اور دوسری دفعہ وہی دن آنے تک انسان ساٹھ سال سے اوپر ہو چکا ہوتا ہے۔ کوئی ستّرسال کا ہو جاتا ہے، کوئی بہتّر سال کا ہو جاتا ہے اور کوئی پچھتّر سال کا ہو جاتا ہے۔ چونکہ سال کے مختلف مہینوں سے عمر شروع ہوتی ہے۔ کوئی مارچ میں پیدا ہوتا ہے، کوئی اپریل میں پیدا ہوتا ہے، کوئی مئی میں پیدا ہوتا ہے، کوئی جون میں پیدا ہوتا ہے اس لیے کسی کے دوسرے روزے گرمی کے موسم میں اُس وقت آئیں گے جب وہ ساٹھ سال کا ہو چکا ہو گا۔ کسی کے ستّر سال کی عمر میں آئیں گے، کسی کے بہتّر سال کی عمر میں آئیں گے۔ گویا وہ ایسا زمانہ آ جاتا ہے جس میں تھوڑی سی کوفت اور تھوڑی سی بیماری بھی انسان کو معذور بنا دیتی ہے۔ پس درحقیقت اگر کسی نوجوان کی زندگی میں یہ دن آئیں اور۔وہ۔ان۔دنوں کو غفلت میں ضائع کر دے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اب قیامت تک اُسے کوئی دوسرا موقع اس قسم کے روزوں کا مل ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ جب دوسرا موقع آئے گا اُس وقت وہ ستّر،بہتّر سال کا ہو چکا ہو گا اور اُس وقت شریعت بھی یہی کہے گی کہ اب تمہارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم روزہ چھوڑ دو۔ یہ کتنی سوچنے والی بات ہے اور کتنے غور اور فکر کرنے والی بات ہے۔
    میں ہمیشہ افسوس کیا کرتا ہوں کہ ہماری جماعت اپنے کاموں پر غور کرتے ہوئے حساب نہیں لگاتی حالانکہ اگر میری بات حساب لگا کر دیکھی جائے تو اس کے کئی مخفی پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں۔ یہی بات دیکھ لو کہ روزوں کا ایک چکر چھتّیس سال میں پورا ہوتا ہے اور دوسرے روزے وہی شخص رکھ سکتا ہے جو بہتّر سال تک پہنچ جائے یا ساٹھ سال سے اوپر اُس کی عمر ہو جائے ورنہ دوسرے روزے اُس کی زندگی میں آ ہی نہیں سکتے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جس شخص کی اپریل یا مئی میں پیدائش ہو اُس کے لیے ناممکن ہے کہ وہ دوسرے روزے رکھ سکے۔ صرف دسمبر اور جنوری کی پیدائش والوں کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اُس وقت تک ساٹھ باسٹھ سال کے ہو جائیں اور روزے رکھ لیں۔ اپریل مئی میں پیدا ہونے والا اُس وقت تک ستّر سال تک جا پہنچے گا۔ اور پھر سو میں سے دس پندرہ ہی ایسے رہ جائیں گے جو مضبوط قوٰی والے ہوں اور اُن کی صحتیں ایسی اچھی ہوں کہ وہ رمضان کے روزے رکھ سکیں۔ پس ساری عمر میں صرف ایک دفعہ جو دن آتے ہیں اُن کو بہانوں سے گزار دینا نہایت افسوسناک بات ہے۔ اگر انسان ان دنوں میں تکلیف برداشت کر کے بھی روزے رکھ لے تو وہ بڑی عمر میں جا کر فخر کر سکتا ہے اور لوگوں سے کہہ سکتا ہے ایسی گرمی میں ہم بھی روزہ رکھا کرتے تھے اور ہم خوشی خوشی اس تکلیف کو برداشت کیا کرتے تھے۔
    پھر یہ دعاؤں کے دن ہیں جن سے ہماری جماعت کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ درحقیقت اگر ہم غور سے کام لیں تو ہماری جماعت کے پاس سوائے دعا کے اَور ہے ہی کیا؟ جب کوئی مشکل پیش آتی ہے ہمارے لیے سوائے اِس کے اَور کوئی دروازہ نہیں ہوتا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اور اُس سے اپنے کاموں کے لیے مدد مانگیں۔ جس طرح لوگ کہتے ہیں مُلّاں کی دوڑ مسیت تک۔ اِسی طرح مومن کی دَوڑ خدا تک ہوتی ہے۔ اس کو جب بھی کوئی دکھ پہنچتا ہے وہ خداتعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے کیونکہ سوائے خدا کے اس کا کوئی۔والی وارث نہیں ہوتا(خدا ہی اس کا باپ ہوتا۔ہے، خدا ہی اس کی ماں ہوتی ہے، خدا ہی اس کا بھائی ہوتا ہے اور خدا ہی اس کی بہن ہوتی ہے)۔ پس جب کوئی مصیبت اس پر یا اس کی قوم پر آتی ہے وہ خداتعالیٰ کی طرف دوڑتا ہے ۔
    دنیا میں دو قسم کے علاج ہوتے ہیں۔ ایک علاج ازالہ اور دوسرا علاج احتیاطی۔ علاج ازالہ تو یہ ہے کہ جب بیماری آتی ہے تو انسان اُس کے ازالہ کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً بخار ہو جاتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ میں کوئی ایسی دوا کھاؤں جس سے بخار دور ہو جائے۔ کھانسی ہوتی ہے تو وہ چاہتا ہے کہ میں کوئی ایسی دوا کھاؤں جس سے کھانسی دور ہو جائے۔ پھوڑے پھنیساں ہوتی ہیں تو وہ چاہتا ہے کہ میں ایسی دوا کھاؤں جس سے پھوڑے پھنسیاں دور ہو جائیں۔لیکن ایک علاج دفاعی ہوتا ہے یعنی بیماری تو نہیں آتی مگر علاج کیا جاتا ہے تا کہ بیماری آنے ہی نہ پائے۔ اور ڈاکٹروں اور تمام ماہرینِ فن کی رائے یہ ہے کہ علاجِ۔ازالہ کی نسبت احتیاطی علاج زیادہ اچھا ہوتا ہے کیونکہ علاجِ۔ازالہ میں بیماری حملہ کرتی ہے اور کچھ نہ کچھ جسم کو نقصان پہنچا دیتی ہے لیکن جو پہلے سے دفاع کر لیتا ہے اور اپنی حفاظت کے لیے مضبوط قلعہ بنا لیتا ہے اُس پر بیماری حملہ ہی نہیں کرتی اور وہ تندرست رہتا ہے۔
    اِسی طرح ایک دعائے ازالہ ہوتی ہے اور ایک دعائے احتیاطی ہوتی ہے۔ دعائے ازالہ تو یہ ہے کہ مصیبت آئی اور تم اللہ میاں کے پاس چلے گئے کہ خدایا! ہم پر یہ مصیبت آئی ہے تُو اپنے فضل سے اس کو دور کر دے۔ اور دعائے احتیاطی یہ ہے کہ خدایا! کوئی مصیبت آئے ہی نہ۔ رمضان کی دعائیں احتیاطی دعائیں ہوتی ہیں کیونکہ رمضان میں کوئی خاص شرّ انسان کو نہیں پہنچتا جس کے لیے دعاؤں پر زور دینا ضروری ہو۔ رمضان میں اگر دعائیں کی جاتی ہیں تو احتیاطی طور پر۔ اس لیے اللہ۔تعالیٰ نے اِس کے آخر میں ایک عشرہ مقرر کر دیا ہے جس میں دعاؤں کی قبولیت کا اس نے خاص طور پر وعدہ فرمایا ہے۔ وہ اپنے بندوں سے کہتا ہے کہ تم پر کوئی بلا ہو یا نہ ہو تم ہمارے پاس آ جایا کرو تاکہ آئندہ تم پر کوئی بَلا نہ آئے۔ پس رمضان کی دعائیں، دعائے۔احتیاطی ہیں جو کسی مصیبت کو دور کرنے کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ ان دعاؤں میں بندہ یہ عرض کرتا ہے کہ خدایا! مجھ پر کوئی مصیبت آئے ہی نہ۔ پس یہ علاج اُس علاج سے اچھا ہے جو مصیبت کے آنے پر کیا جاتا ہے۔ اِن دنوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے خود دس دن مقرر کر دیئے ہیں اور کہا ہے کہ اپنی ساری ضرورتیں اور حاجات ہم سے مانگ لو تاکہ اگلے سال جو مصیبتیں تم پر آ سکتی ہیں وہ نہ آئیں۔ اور اگر کسی پر آ جائیں تو پھر اس کے لیے بھی دعاؤں کا دروازہ کھلا ہے مگر بہرحال وہ دعائے ازالہ ہو گی۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ دعائے ازالہ اتنی اعلیٰ نہیں ہوتی جتنی دعائے احتیاطی۔ جیسے جسمانی بیماریوں سے احتیاط کرنے والے کی صحت زیادہ اعلیٰ ہوتی ہے اور وہ شخص جس پر بیماری آ جائے اُس کی صحت ایسی اعلیٰ نہیں ہوتی کیونکہ بیماری اسے کچھ نہ کچھ ضرور جھنجوڑ دیتی ہے۔ پس یہ دعاؤں کے دن ہیں تمہیں چاہیے کہ اِن ایام میں خاص طور پر دعائیں کرو۔ اپنے لیے، سلسلہ کے لیے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے۔
    یہ دن معمولی نہیں ہیں۔ ان میں وہ سب سے بڑا فتنہ پیدا کیا گیا ہے جس کا نام فتنہ دجال اور فتنہ یاجوج ماجوج رکھا گیا ہے۔ یعنی ایک طرف کمیونزم کا فتنہ ہے اور دوسری طرف عیسائیت کا فتنہ ہے۔ یہ دو بلائیں ہیں جو منہ کھولے آ رہی ہیں۔ اور یہی وہ دو بلائیں ہیں جن کی طرف سورہ فاتحہ میں2کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک غضبِ الٰہی کے نیچے آئی ہوئی قوم اسلام پر حملہ آور ہو گی اور ایک گمراہی اور صداقت سے دوری میں مبتلا مذہب اسلام پر حملہ آور ہو گا۔ گویا ایک طرف عیسائیت ہو گی اور دوسری طرف کمیونزم ہو گا۔ ایک طرف مذہب ہو گا مگر گمراہی کااور دوسری طرف ایک طریق ہو گا جو خداتعالیٰ سے دور لے جانے والا اور اُس کی ناراضگی اور غضب کا انسان کو مورد بنانے والا ہو گا۔ اِن دو سانڈوں کے درمیان اسلام کا چھوٹا۔سا یتیم بچہ ہو گا اور ہر سانڈ کی ادنیٰ سے ادنیٰ ٹھوکر بھی اُس کو کُچل دینے کے لیے کافی ہو گی۔ اِسی لیے سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ سکھایا کہ تم ہمیشہ یہ دعا کرتے رہو کہ۔ خدایا! تُو ہمیں کمیونزم کے فتنہ سے بھی بچا اورعیسائیت کے فتنہ سے بھی محفوظ رکھ۔ کمیونزم کی پَیرو وہی مغضوب۔قوم ہے جس کا بائیبل میں بھی اِن الفاظ میں ذکر آتا ہے کہ ’’دیکھ اے جوج روش اور مسک اور توبل کے فرمانروا میں تیرا مخالف ہوں‘‘۔3 اور یہ کہ ’’اُن ایام میں جب جوج اسرائیل کی مملکت پر چڑھائی کرے گا تو میرا قہر میرے چہرہ سے نمایاں ہو گا‘‘۔4
    غرض ایک قوم تو وہ ہے جو مذہب سے بیزار اور خداتعالیٰ کے غضب اور قہر کی مورد۔ اور ایک قوم خدا خدا تو کر رہی ہے مگر عقائد کے لحاظ سے وہ خطرناک گمراہی میں مبتلا ہے اور لوگوں کو ایک غلط مذہب کی طرف کھینچ رہی ہے۔ ایسے زمانہ میں پیدا ہونے والی قوم جس کے پاس کوئی طاقت اور قوت بھی نہ ہو اُس کے لیے سوائے دعا کے کامیابی کا اَور کیا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر۔تمہارے گاؤں کا نمبردار بھی تمہاری مخالفت کرتا ہے تو تم شور مچانے لگ جاتے ہو کہ ظفراللہ کو لکھو، ظفراللہ کو تار دو۔ جہاں انسان کی اِتنی ہمت ہو کہ ایک نمبردار اور ہمسایہ کی مخالفت سے بھی وہ کانپنے لگے اور اُس کا ایمان متزلزل ہو جائے وہاں اُس نے اَور کیا کرنا ہے؟ وہ قومیں جو اِس وقت ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہیں اُن کا مقابلہ کرنے کی تم میں کہاں ہمت ہے؟ تم اِسی طرح امن میں رہ سکتے ہو کہ یا تو جس طرح چھچھوندر زمین میں سوئی رہتی ہے اُسی طرح تم بھی سوجاؤ اور بھول جاؤ اِس بات کو کہ تمہارے خلاف کوئی فتنہ برپا ہے۔ اور یا پھر خداتعالیٰ کی گود میں پناہ لے لو۔ اطمینان انسان کو دو ہی طرح حاصل ہو سکتا ہے۔ یا تو فتنہ کو بُھول کر اور یا پھر خداتعالیٰ کی گود میں پناہ لے کر مگر خطرہ کو بُھلا کر جو امن حاصل ہوتا ہے وہ انسان کو تباہ کر دینے والا ہوتا ہے۔ جس شخص کے گُردہ میں پتھری ہو اور وہ افیون کھا کر اپنے درد کو دور کر لیتا ہو اور سمجھتا ہو کہ مجھے آرام ہے وہ ایک دن ہلاک ہو جائے گا۔ لیکن وہ شخص جو ڈاکٹر کے پاس جائے گا اور آپریشن کروائے گا وہ بچ جائے گا۔ اِسی طرح اگر تم بھی افیون والا علاج کرتے ہو اور دجّالی۔فتنہ کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہو اور سمجھتے ہو کہ ہم امن میں ہیں تو تم اپنا وقت غفلت میں گزار رہے ہو۔ تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ امن امن نہیں بلکہ تباہی اور بربادی کا پیش۔خیمہ ہے۔ لیکن اگر تم خداتعالیٰ کی گود میں پناہ لے لیتے ہو تو تم اپنے درد کا صحیح علاج کرتے ہو۔ کیونکہ جو شخص خداتعالیٰ کی گود میں بیٹھ جاتا ہے اُسے سُلایا نہیں جاتا بلکہ اُس کے مرض کو دور کیا جاتا ہے اور اس کی صحت کو زیادہ اچھا بنایا جاتا ہے۔ اور اگر تم سمجھو تو یہی حقیقی علاج ہے۔
    تلوار تمہارے پاس نہیں، گولہ بارود تمہارے پاس نہیں، توپیں تمہارے پاس نہیں، حکومت تمہارے پاس نہیں، روپیہ تمہارے پاس نہیں، فوجیں تمہارے پاس نہیں، ہوائی جہاز تمہارے پاس نہیں ایٹم بم تو دُور کی بات ہے۔ یا تو تم یہ کہو کہ ہم وہ جماعت نہیں جس نے کفر کو مٹانا ہے۔ اور اگر تم کہتے ہو کہ ہم وہی جماعت ہیں جس نے کفر کو دنیا سے نابود کرنا ہے تو تمہارے پاس اِس غرض کے لیے کونسا سامان ہے؟ آخر آپ ہی آپ کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی سامان ہوتا ہے یا مادی سامان ہوتا ہے۔ یا روحانی سامان ہوتا ہے۔ مادی سامان تمہارے پاس ہے نہیں۔ پس تم ایک ہی جواب دے سکتے ہو کہ ہمارے پاس تِیر نہیں، تفنگ نہیں، توپ نہیں، ہوائی جہاز نہیں۔ ہمارے پاس صرف دعا کا ہتھیار ہے۔ میں کہوں گا ٹھیک ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر تلوار تمہارے گھر میں پڑی۔ہوئی۔ہو اور دشمن تمہارے سَر پر ہو تو کیا اُس تلوار کی موجودگی تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہے؟ اگر تم نے دشمن کا مقابلہ کرنا ہے تو پھر تلوار کا چلانا بھی تمہیں سیکھنا پڑے گا اور تلوار کو اپنے ہاتھ میں بھی رکھنا پڑے گا۔ اِسی طرح دعاؤں پر ایمان رکھنے والے کو میں یہ کہوں گا کہ بیشک دعا ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے اور نہایت اہم ہتھیار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تم نے کبھی دعا کی؟ اگر نہیں کی تو وہ آپ ہی آپ تمہیں کس طرح فائدہ پہنچا دے گی؟
    یہ تو ویسی ہی حماقت کی بات ہے جیسے پِیرمنظورمحمدصاحب سنایا کرتے تھے کہ بچپن میں ایک دفعہ ہم شکار کے لیے گئے۔ ہمارے ساتھ ایک بَنیا بھی چل پڑا۔ چند چھوٹے چھوٹے لڑکے اَور بھی تھے۔ ہم نے بندوق اپنے کندھے پر رکھی ہوئی تھی کہ اُس کا منہ اُس بنیے کی طرف ہو گیا اور وہ ڈر کر ہائے ہائے کہہ اُٹھا۔ ہم نے اُسے بتایا کہ ابھی ہم نے اِس میں کارتوس نہیں بھرے اور اگر بھرے ہوئے ہوتے تب بھی وہ آپ ہی نہیں چل پڑتے انہیں چلانے کے لیے دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس پر وہ کہنے لگا یہ درست ہو گا مگر انگریز کی بنائی ہوئی چیز کا پھر بھی اعتبار نہیں۔
    تم بھی اُس بنیے کی طرح کہتے ہو کہ دعا آپ ہی آپ چل جایا کرتی ہے۔ حالانکہ دعا چلانے سے چلاکرتی ہے یونہی نہیں۔ جو شخص دعا کرتا ہے اُسے دعا بہت بڑا فائدہ پہنچاتی ہے۔ اور جو دعا نہیں کرتا اُس کے لیے وہ ایک لغو اور بیکار چیز ہوتی ہے بلکہ اُس تلوار سے بھی بدتر ہوتی ہے جو گھر میں رکھی ہوئی ہو کیونکہ وہ شخص جس نے تلوار اپنے گھر میں رکھ لی اور اُسے چلایا نہیں اُس کو تو لوگ صرف ملامت کرتے ہیں۔ لیکن وہ شخص جو دعا پر ایمان رکھتا اور پھر اُس سے کام نہیں لیتا اُس پر لوگ *** کرتے ہیں‘‘۔ (غیرمطبوعہ مواد۔ ازریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)

    1
    :
    تقشُّر: چھل جانا، چھلکا علیحدہ ہونا(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد5صفحہ385کراچی) تَقَشَّرَ (قِشْرَۃُ): چھال ، خول ، چھلکا(فیروز اللغات عربی اردو فیروز سنز لاہور)
    2
    :
    الفاتحۃ:7
    3
    :
    حزقی ایل باب 39آیت1
    4
    :
    حزقی ایل باب 38آیت19

    16
    اسلام کو عزت اور تقویت صرف روحانیت اور۔محبتِ۔الٰہی سے ہی حاصل ہو سکتی ہے
    جھوٹ، ظلم اور بدظنی سے بچو اور دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کا عہد ہمیشہ اپنے سامنے رکھو
    (فرمودہ 6جولائی1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’شرعاً تو یہ جائز تھا کہ آج صرف عید کی نماز ادا کی جاتی اور جمعہ کی نماز چھوڑ دی جاتی کیونکہ جب عید اور جمعہ دونوں اکٹھے ہو جائیں تو یہ جائز ہوتا ہے کہ جمعہ کی بجائے صرف عید کی نماز ادا کر لی جائے۔ مگر جمعہ اپنی ذات میں بڑا مقدس دن ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اولیاء اور علماء ِ امت نے جمعہ کو عیدین پر فضیلت دی ہے کیونکہ عیدین کا ذکر احادیث میں آتا ہے لیکن جمعہ کے متعلق قرآن کریم میں احکام دیئے گئے ہیں۔ بلکہ اسے فرض قرار دیا گیا ہے اور اس نام کی ایک سورۃ اتاری گئی ہے اس لیے افضل یہی ہے کہ جمعہ کو حسبِ قاعدہ ادا کیا جائے۔ لیکن لازمی طور پر جب یہ دونوں تقاریب اکٹھی ہو جائیں تو خطبہ اختصار کے ساتھ پڑھا جائے گا تا سننے والوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔
    میں نے خطبہ عید میں بیان کیا تھا کہ عیدین جہاں ہمارے لیے خوشی کا پیغام لاتی ہیں وہاں۔وہ۔ہمارے زخموں کو بھی ہرا کر دیتی ہیں۔ یہ ہمیں اسلام کے وہ شاندار ایام یاد دلاتی ہیں جب وہ ساری دنیا پر قابض تھا۔ جب ایک اکیلا مسلمان دنیا کی حکومتوں اور اس کی سیاسیات پر بھاری تھا۔ جب کسی مسلمان کو چھیڑنایا اُسے دِق کرنا خواہ وہ دنیا کے ایک دور کنارے پر ہو ایسا ہی تھا جیسے ایک نہتّہ انسان شیر کی کچھار میں منہ ڈال دے۔ لیکن آج مسلمان کی عزت اور اس کا ناموس ایک فٹبال کی طرح ہے جو چاہتا ہے اسے ٹُھڈّا مار دیتا ہے اور جہاں چاہے اسے پھینک دیتا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے اِس کا یہ علاج سمجھ رکھا ہے کہ وہ سیاسی طور پر منظّم ہو جائیں اور وہ یہ عظیم الشان نکتہ بھول گئے ہیں کہ اسلام کو عزت اور تقویت سیاسی تنظیم سے نہیں بلکہ روحانیت اور محبتِ الٰہی سے ملی تھی۔ جس نسخہ کو وہ ایک دفعہ آزما چکا تھا اس کا کام تھا کہ وہ دوبارہ اُسی کو آزماتا لیکن وہ سارے نسخے استعمال کرتا ہے اور وہی نسخہ استعمال نہیں کرتا جس کو وہ پہلے آزما چکا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک جاہل سے جاہل عورت، ایک جاہل سے جاہل زمیندار جس کو نہ طبّ سے کوئی واسطہ ہوتا ہے اور نہ ڈاکٹری کا علم ہوتا اُس کو کبھی کھانسی ہوئی ہوتی ہے اور کسی واقف یا حکیم کا کوئی نسخہ اُس نے استعمال کیا ہوتا ہے جس سے اُسے آرام آ گیا، اُس کو کبھی بخار آ جاتا ہے یا دست آنے شروع ہو جاتے ہیں اور وہ کسی کا بتایا ہوا نسخہ استعمال کرتا ہے اور وہ اسے فائدہ دے دیتا ہے تو جب وہ کوئی ویسا ہی مریض دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک بڑا ماہر طبیب اور قابل ڈاکٹر سمجھ کر اور ویسی ہی شکل بنا کر سر ہِلاتا ہے اور کہتا ہے مجھ سے پوچھو۔ اسے لسوڑھیاں، ملٹھی اور بنفشہ ابال کر پلاؤ یا چرائتا1 کا پانی ابال کر رکھ لو اور اسے تھوڑا تھوڑا پلا دیا کرو۔ پہلے نسخہ سے کھانسی دور ہو جائے گی اور دوسرے نسخہ سے بخار اُتر جائے گا۔ اِسی طرح خواہ ایک ماہر طبیب علاج کر رہا ہو ایک بڑھیا کہے گی میری سنو! اسے فلاں چیز دو اسے فوراً آرام آ جائے گا۔ اِس میں راز صرف یہی ہوتا ہے کہ دس بارہ سال پہلے اُس نے وہ نسخہ استعمال کیا تھا اور اُسے آرام آگیا تھا۔ وہ اپنے تجربہ کی بِناء پر جب کوئی ویسا ہی مریض دیکھتی ہے تو وہ نسخہ لے کر بیٹھ جاتی ہے اور کہتی ہے یہ ڈاکٹر جاہل ہیں، یہ طبیب فضول ہیں۔ انہیں کیا آتا ہے؟ تم میری سنو اور اسے لسوڑھیاں، ملٹھی اور بنفشہ ابال کر دو اسے آرام آ جائے گا۔ وہ بڑھیا اپنے ایک دفعہ کے آزمائے ہوئے نسخہ کو جو ایک حقیر آزمائش ہوتی ہے اور ایک فرد کی آزمائش ہوتی ہے اور پھر وہ ایک ایسے امر کے متعلق ہوتی ہے جس میں اتفاقی طور پر بھی مریض کثرت سے اچھے ہوتے ہیں اِتنی اہمیت دے دیتی ہے۔ اطباء کا خیال ہے کہ ستّر فیصدی امراض خودبخود ٹھیک ہو جاتی ہیں اور تیس فیصدی امراض ایسی ہوتی ہیں جو علاج کی محتاج ہوتی ہیں مگر وہ بڑھیا ان سب اتفاقات کو بھول جاتی ہے۔ پھر وہاں تو یہ سوال بھی ہو گا کہ دونوں مریضوں کی شکل ایک ہو، اُن کے کوائف اور حالات ایک جیسے ہوں مگر یہاں تو شکل بھی ایک ہے۔ جس قوم کے ساتھ تمہارا معاملہ ہے اُس کی بیماری، اس کے کوائف اور حالات وہی ہیں جن سے تمہارا واسطہ پڑ چکا ہے۔ ساری کی ساری باتیں وہی ہیں لیکن ایک مسلمان نہیں آزماتا تو اُسی نسخہ کو نہیں آزماتا جس سے اُسے ایک دفعہ پہلے شفا ہو چکی ہے۔
    پھر دوسروں کا کیا رونا ہے؟ تمہاری اپنی بھی یہی حالت ہے کہ تم میں اور دوسرے مسلمانوں میں یہ فرق ہے کہ تم میں خداتعالیٰ کا ایک مامور آیا ہے جس نے تمہیں تمہاری غلطیوں پر ہوشیار کیا ہے لیکن دوسروں کے مصائب برداشت کرنے کا کیا فائدہ جبکہ تم اِس مقصد کو پورا نہیں کرتے جس کے لیے تم اس دنیا میں پیدا کیے گئے ہو۔ تم نے اقرار کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے لیکن کہاں ہے وہ دین جس کو تم دنیا پر مقدم رکھتے ہو؟ اور کہاں ہے وہ دنیا جس کو تم دین سے پیچھے کرتے ہو؟ تم میں سے بعض کی دنیا دین سے آگے نظر آتی ہے۔ جب تک تم اِس روح کو کچل نہیں ڈالتے، جب تک تم اِس چوغہ کو اتار نہیں پھینکتے، جب تک تم وہی نسخہ استعمال نہیں کرتے جو تم پہلے آزما چکے ہو تم یہ اُمید نہیں کر سکتے کہ خداتعالیٰ تم پر اپنا وہ خاص فضل نازل کرے گا جس کا قرآن کریم نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا ہے، جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا ہے۔ تم اپنے اندر تبدیلی۔پیدا۔کرو۔
    میں یہ نہیں کہتا کہ دنیا کمانا چھوڑ دو۔ صحابہؓ بھی دنیا کے کام کرتے تھے لیکن وہ دنیا کو دین کے مقابلہ پر رکھ کر دیکھتے تھے اور جہاں وہ دنیا کو دین پر مقدم دیکھتے تھے اُسے چھوڑ دیتے تھے اور دین کو اُس پر ترجیح دیتے تھے۔ مثلاً دنیا کہتی ہے کہ تم تھوڑاسا جھوٹ بول لو تو گاہک قابو آ جائے گا لیکن دین کہتا ہے کہ جس کام کا زیادہ کرنا گناہ ہے اُس کا تھوڑا کرنا بھی گناہ ہے۔ کیا یہ درست ہے کہ اگر انگلی کے ساتھ پاخانہ لگا کر کھا لو تو وہ گند نہیں؟ یا یہ کہ تم پاٹ بھرکر پیشاب پی لو تو وہ گند ہے لیکن ایک گھونٹ پیشاب پی لو تو وہ گند نہیں؟ تم جھوٹ خواہ پہاڑ کے برابر بولو یا چیونٹی کے پاؤں کے برابر وہ گند کا گند ہے۔ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دے گا۔ ظلم خواہ پہاڑ کے برابر ہو یا سرخ چیونٹی کے پاؤں یا اس کی مونچھ کے برابر ہو وہ ظلم ہے۔ اور ظلم ایک گند ہے۔ کسی کی بدگوئی کرنا، بدظنی کرنا، فتنہ۔پردازی بلکہ اپنے حق پر اتنا اصرار کرنا جس سے قوم میں فتنہ پیدا ہو یہ بھی گناہ ہے۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں نے میرے دو پیسے دینے تھے اس لیے میں نے ایسا کیا ہے۔ خداتعالیٰ کہے گا تم نے دو پیسے کی خاطر قوم کا بیڑا غرق کر دیا جاؤ جہنم میں۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میرا حق تھا ایسا کرتا۔ خدا کہے گا تم نے اپنے حق کو اس فتنہ کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھ لیا ہوتا تو تم اس پر اتنا اصرار نہ کرتے۔ گویا ظلم تو الگ رہا اپنے حق پر اتنا اصرار کرنا جو فتنہ کا موجب ہو وہ بھی برائی ہے۔ جب تک تم اس ذہنیت کو بدلتے نہیں تنظیم قائم نہیں ہو سکتی ‘‘۔
    (الفضل14؍اگست1962ئ)
    1:
    چِرائتا:
    ایک قسم کی کڑوی لکڑیاں جو مصفٰی خون ہوتی ہیں۔( فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)

    17
    انسان کو ظاہری چیزوں پر نہیں جاناچاہیے
    اسے قلب کی حالت پر غور کرنا چاہیے
    اگر اس کا دل صحیح ہے تو وہ ایسے مقام پر ہے جو قابلِ رشک ہے
    (فرمودہ 13جولائی1951ء بمقام سکیسر ضلع سرگودھا)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جیسا کہ میں نے ابھی ڈاکٹرصاحب کو بتایا ہے مجھے پرسوں سے پھر گاؤٹ(Gout) یعنی نقرس کا دورہ شروع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کھڑا ہونا مشکل ہے۔ اس لیے میں خطبہ بھی صرف چند فقروں میں ختم کر دوں گا اور نماز بھی بیٹھ کر پڑھاؤں گا کیونکہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے تکلیف بڑھ جائے گی۔
    ہم ابھی دو دن ہوئے ربوہ سے آئے ہیں اور ربوہ میں جو گرمی کی حالت تھی اور اس کے مقابلہ میں یہاں جو حالت ہے ان میں ایک نمایاں فرق ہے۔ اور یہ فرق اتنے تھوڑے فاصلہ پر ہو جاتا ہے اور اِس طرح ہو جاتا ہے کہ اس کا سمجھنا مشکل ہے اور یہ اپنی ذات میں ایک بڑا مضمون معلوم ہوتا ہے۔ یہاںوالے یہ قیاس نہیں کر سکتے کہ میدان میں رہنے والوں کا کیا حال ہے اور میدان میں رہنے والے یہ قیاس نہیں کر سکتے کہ یہاں والوں کا کیا حال ہے۔صرف تخمینہ اور قیاس سے دونوں فریق ایک۔غیرمکمل سا نقشہ کھینچ لیتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ چند دن پہاڑ پر رہنے کے بعد لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ میدانوں میں بھی موسم اچھا ہو گیا ہو گا۔ اس طرح انسان سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح پاس پاس کی جگہوں میں فرق ہو جاتا ہے اسی طرح پاس پاس کے انسانوں میں بھی فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے حالات ایک سے معلوم ہوتے ہیں لیکن دراصل وہ مختلف ہوتے ہیں۔ جس طرح پاس پاس کی زمینوں میں فرق ہوتا ہے کہ ایک جگہ گرمی پڑتی ہے اور ایک جگہ سردی، ایک جگہ اونچی ہوتی ہے اور ایک جگہ نشیب والی ہوتی ہے۔ اِسی طرح پاس پاس کے رہنے والے انسانوں کا حال ہے۔ ایک کا کچھ ہوتا اور۔دوسرے کا کچھ۔
    انبیاء جب دنیا میں آتے ہیں تو اُن کے ہمسایہ میں بعض اوقات ایک اشدّترین کافر ہوتا ہے جس پر خداتعالیٰ کی *** ہوتی ہے لیکن ایک ہی جگہ اور ایک ہی وقت میں وہ دونوں اس طرح نشوونما پاتے ہیں کہ ایک کا دوسرے پر قیاس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مکہ والوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مسلمان اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان رہ کس طرح سکتے ہیں۔ جس طرح آجکل احراری کہتے ہیں کہ احمدی پاکستان میں رہ کس طرح سکتے ہیں؟ ان کی سمجھ میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی۔ اِسی طرح محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ سکتی تھی کہ مکہ والے انہیں نکال کیسے دیں گے۔ چنانچہ ورقہ بن نوفل نے کہا کہ آپ کو جو الہام ہوا ہے وہ اُسی قسم کا ہے جیسے حضرت موسٰی علیہ السلام کو ہوا تھا۔ کاش! میں اُس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکال دے گی تو میں آپ کی مدد کرتا۔ اِس پر آپ نے حیرت سے فرمایا اَوَ مُخْرِجِیَّ ھُمْ۔1 کیا وہ مجھے مکہ سے نکال دیں گے؟ آخر میرے اندر وہ کونسی چیز پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے میری قوم مجھے مکہ سے نکال دے گی؟ گویا ایک ہی شہر میں پاس پاس رہنے کے باوجود ایک فریق یہ خیال کرتا ہے کہ میرے شہر سے نکالنے کا سوال ہی کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ لیکن ویسے ہی کان، ناک، آنکھ رکھنے والا آدمی کہتا ہے کہ یہ ہمارے درمیان رہ کیسے سکتا ہے؟ اس کو شہر سے باہر نکال کر پھینکنا چاہیے۔ یہ وہی فرق ہے جو پہاڑ اور میدان کا ہوتا ہے۔ ایک جگہ گرمی ہوتی ہے تو دوسری جگہ سردی، ایک جگہ انسان گرمی سے بیتاب ہو رہے ہوتے ہیں تو دوسری جگہ انسان راحت محسوس کرتے ہیں۔
    پس انسان کو ظاہری چیزوں پر نہیں جانا چاہیے۔ اُسے قلب کی حالت پر غور کرنا چاہیے۔ اگر۔اُس کا دل صحیح ہے تو خواہ وہ دنیا کو نظر آئے یا نہ آئے وہ ایسے مقام پر ہے جو قابلِ۔رشک ہے اور۔اگر۔اُس کے دل کی حالت صحیح نہیں تو خواہ اُس کی حالت لوگوں کو نظر آئے یا نہ آئے وہ ان رحمتوں اور۔برکتوں کا مستحق نہیں ہو سکتا جو خداتعالیٰ نازل کرنا چاہتا ہے‘‘۔
    (غیرمطبوعہ مواد۔ ازریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)

    1
    :
    صحیح بخاری کتاب بَدْء الوحی باب کَیْف کان بَدْئُ الْوحی اِلٰی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم


    18
    مرکز ایک نقطۂ مرکزی کی حیثیت رکھتا ہے
    لہذا اسے سب سے پہلے بیداری کا ثبوت دینا چاہیے
    کوشش کرو کہ سوائے اشدمعذوری کے
    کوئی احمدی بھی تحریک جدید میں حصہ لینے سے محروم نہ رہے
    (فرمودہ 31؍اگست1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’ایک لمبے عرصہ کے بعد میں مسجد میں آنے کے قابل ہو سکا ہوں۔ ابھی میرے گھٹنے کی تکلیف پوری طرح رفع نہیں ہوئی تاہم میں اِس قابل ہو گیا ہوں کہ چل پھر سکوں، سیڑھیوں پر ابھی چڑھنا ذرا مشکل ہے۔ اب جبکہ میں مسجد کی طرف آ رہا تھا مجھے سیڑھیوں کا خیال نہیں تھا اس لیے جب سیڑھیوں پر چڑھنے لگا تو مشکل معلوم ہوئی اور دوتین سوٹیوں کا سہارا لے کر میں تین سیڑھیاں چڑھ سکا۔ ویسے میدان میںمَیں بغیر سہارے کے چل پھر سکتا ہوں مگر تھوڑا۔
    آج میں آپ لوگوں کو ایک حدیث کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں اَلَا فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃٌ اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ۔1 خوب کان کھول کر سن لو کہ انسانی جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ۔ جب وہ گوشت کا لوتھڑا ٹھیک ہوتا ہے تو سارا جسمِ انسانی ٹھیک ہو جاتا ہے وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اور جب وہ لوتھڑا خراب ہو جاتا ہے تو سارا انسانی جسم خراب ہو جاتا ہے۔ پھر فرمایا اَلَا وَ ھِیَ الْقَلْبُ۔ سنو! وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ قلوب کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ صُدُوْرمیں ہیں۔ قرآن کریم میں جب ’’قلب‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اِس سے مُراد وہی قلب ہوتا ہے جو سینہ میں ہوتا ہے اور وہ دل جو انسانی جسم کو خون مہیا کرنے والا ہے وہ بھی سینہ میں ہی واقع ہے۔ اور لوگوں نے خصوصاً اِس زمانہ کے سائنسدانوں اور۔تشریحِ۔اَبدان والوں نے کہا ہے کہ وہ چیز جو انسانی اعمال، افعال، ارادوں اور خواہشات کو منضبط کرتی ہے اور انہیں ایک نظام کے نیچے لاتی ہے آیا وہ دل ہے یا دماغ۔ موجودہ سائنسدانوں کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ دل نہیں دماغ ہے۔ سائنسدانوں سے ڈر کر بعض مسلمان علماء نے بھی قرآن کی آیات کی ایسی تفسیر شروع کر دی ہے جس سے یہ نکلتا ہے کہ قلب سے مُراد قلبِ انسانی نہیں اِس سے مراد محض وہ مقام ہے جو انسانی جسم پر حکومت کرتا ہے چاہے وہ دماغ ہی ہو۔ میرے نزدیک یہ توجیہہ محض ڈر کی وجہ سے ہے۔ کئی لوگوں نے کوشش کی ہے کہ وہ سائنس کے ڈر کی وجہ سے قرآنی آیات کو موجودہ سائنس کے نظریات کے ماتحت کر دیں۔ لیکن جہاں تک قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے میرے نزدیک قلب سے مُراد وہی چیز ہے جو سینہ میں ہوتی ہے اور اس چیز کو دماغ قرار دینا محض دھینگامُشتی ہے۔
    اِس وقت میں اس حدیث کے لفظی معنوں کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا بلکہ اس کے عمومی استدلال کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اعمال کی صفائی دل کی صفائی کے ساتھ وابستہ ہے۔ تم اپنے ہاتھوں کی صفائی کر کے پاک نہیں ہو سکتے، تم اپنے منہ کی صفائی کر کے پاک نہیں ہو سکتے، تم اپنے سر کی صفائی کر کے پاک نہیں ہو سکتے کیونکہ پاکیزگی کا منبع دل ہے۔لیکن اگر تم اپنے دل کی صفائی کر لو گے تو تمہارا منہ پاک ہو جائے گا، تمہارے ہاتھ بھی پاک ہو جائیں گے، تمہارے پاؤں بھی پاک ہو جائیںگے۔ جسم کی صفائی کے ساتھ دل کی صفائی لازمی نہیں۔ ممکن ہے جسم کی صفائی کے ساتھ دل صاف ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ صاف نہ ہو۔ اگر جسم کی صفائی کے ساتھ دل صاف ہو جاتا ہے تو یہ ایک اتفاقی امر ہے ورنہ دل کی صفائی اور جسم کی صفائی آپس میں لازم۔ملزوم نہیں۔ ہاں! اِس سے یہ استدلال ضرور ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام نظاموں میں ایک چیز کو قلب کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور دوسری چیزوں کو جوارح کی۔ اِس سے جہاں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جسمانی صفائی دل کی صفائی پر منحصر ہے وہاں یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ دنیا کے تمام نظاموں میں جس چیز کو دل کی حیثیت حاصل ہو گی باقی سب چیزوں کی صفائی اُس کی صفائی پر منحصر ہو گی۔
    ہماری جماعت بھی ایک نظام کے ماتحت ہے۔ وہ بھی ایک جسمِ انسانی کے مشابہ ہے۔ جن چیزوں میں نظام ہوتا ہے وہ ایک دوسرے کا اثر قبول کرتی ہیں۔ لیکن جن چیزوں میں نظام نہیں ہوتا وہ ایک دوسرے کا اثر قبول نہیں کرتیں۔ مثلاً ایک دیوار ہے دوسری دیوار اس سے سو گز یا ڈیڑھ سو گز کے فاصلہ پر ہے۔ اب اگر ایک دیوار گر جائے یا اُسے کوئی صدمہ پہنچے تو دوسری کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ لیکن اگر دونوں دیواریں ایک مکان کا حصہ ہوں تو ایک کے گرنے سے دوسری کو صدمہ پہنچے گا، مکان بیکار ہو جائے گا اور وہ نئے سرے سے بنانا پڑے گا۔
    غرض جو چیزیں نظام سے وابستہ ہوتی ہیں اُن کا ایک قلب ہوتا ہے۔ بالکل اِسی طرح جس طرح انسانی جسم میں ایک قلب ہوتا ہے۔ جب انسانی جسم میں اس کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے قلب کی ضرورت ہے تو جہاں اِس قسم کی دوسری چیزیں پائی جائیں گی وہاں بھی یہی قانون جاری ہو جائے گا اور جو چیز بھی انسانی جسم کے مشابہ ہو گی وہاں یہ اصول جاری ہو جائے گا۔ مثلاً یہی مثال لے لو کہ ایک شخص کافر ہو گیا ہے۔ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتا۔ وہ حضرت۔عیسٰی علیہ۔السلام کو خدا کا بیٹا تسلیم کرتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق قرآن کریم میں جو احکام ملتے ہیں اُس سے ملتے جُلتے شخص پر بھی وہی احکام لگیں گے۔ یہ نہیں کہ وہ احکام صرف ایک عیسائی یا صرف ایک یہودی کے لیے ہیں بلکہ جو بھی ایک عیسائی یا یہودی کی طرح اعمال کرے گا اُس پر وہی احکام جاری ہوں گے۔ مثلاً مجوسی ہیں اُن پر بھی عیسائیوں اور یہودیوں والے احکام جاری ہوں گے۔ چنانچہ مجوسیوں کے متعلق حضرت عمرؓ کے زمانہ میں صحابہؓ نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ اُن سے وہی سلوک کیا جائے گا جو۔عیسائیوں سے کیا جاتا ہے۔ حالانکہ مجوسیوں کے متعلق قرآن کریم میں تفصیلی ذکر نہیں آتا۔ قرآن۔کریم ان کا اشاروں میں ذکر کرتا ہے۔
    پس جو چیز بھی انسانی جسم کے مشابہ ہو گی اور جہاں بھی یہ معلوم ہو گا کہ ایک چیز دوسری چیز کے تابع ہے اور وہ ایک دوسری پر اثر انداز ہو تی ہے وہاں یہ ماننا پڑے گا کہ ان دونوں چیزوں کو آپس میں جسم اور قلب کی حیثیت حاصل ہے۔ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗجب ان کا مرکزی نقطہ خراب ہو جائے گا تو وہ ساری چیزیں خراب ہو جائیں گی جو اُن کے تابع ہوں گی۔ وَ اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اور جب ان کا مرکزی نقطہ صحیح ہو جائے گا تو وہ ساری چیزیں صحیح ہو جائیں گی جو اُن کے تابع ہوں گی۔ بالکل اِسی طرح جس طرح دل کے خراب ہونے سے سارا جسمِ۔انسانی خراب ہو جاتا ہے اور اس کے صحیح ہونے سے سارا جسمِ۔انسانی صحیح ہو جاتا ہے۔ مثلاً اسلام کا ایک نقطۂ۔مرکزی خداتعالیٰ ہے۔ پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرکزی نقطہ ہیں۔ پھر قرآن کریم ایک مرکزی نقطہ ہے۔ پھر اس زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک نقطۂ۔مرکزی ہیں۔ پھر خلافت نقطۂ۔مرکزی ہے۔ پھر ان کے ساتھ مرکز بھی ایک نقطۂ۔مرکزی ہے۔ ایک زمانہ میں قادیان مرکز تھا اب عارضی طور پر ربوہ مرکز ہے۔ پھر علاقوںعلاقوں کی مرکزی جماعتیں نقطۂ۔مرکزی کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ بیرونی جماعتوں کو متأثر کیے بغیر نہیں رہ سکتیں۔
    بہرحال مرکز میں کوئی خرابی پیدا ہو گی تو بیرونی جماعتیں بھی اس سے متأثر ہوں گی۔ مثلاً اگر مرکز میں نمازوں میں سُستی یا چُستی پیدا ہو جائے تو باہر سے جب کوئی مہمان آئے گا تو وہ یہاں سے کچھ باتیں اخذ کرے گا اور اپنے گاؤں جا کر کہے گا کہ میں نے ربوہ میں دیکھا ہے کہ لوگ نمازوں کے بہت پابند ہیں آپ کیا کر رہے ہیں؟ اِس طرح بہت حد تک اس جماعت کے لوگ نمازوں کے پابند ہو جائیں گے۔ لیکن اگر وہ مہمان مرکز سے بُرا اثر لے کر گیا ہے تو جب کوئی مہمان اٹھ کر لوگوں کو نماز کی پابندی کرنے کی تلقین کرے گا تو وہ شخص کہے گا میں ربوہ میں گیا تھا وہاں بھی لوگ نماز کے پابند نہیں۔ اِس طرح جماعت میں سُستی پھیل جائے گی۔ پس اِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ۔ مرکز وہ جگہ نہیں ہو سکتی جہاں باہر سے لوگ نہ آئیں۔ اور جب لوگ باہر سے آئیں گے تو نہ اُن کی آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں، نہ اُن کے کانوں میں روئی ٹھونسی جا سکتی ہے اور نہ اُن کی زبانیں کاٹی جا سکتی ہیں۔ وہ جب آئیں گے وہ دیکھیں گے بھی، وہ سنیں گے بھی اور وہ اپنے اپنے گاؤں میں واپس جا کر باتیں بھی کریں گے۔
    پس ربوہ پر ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جیسی ذمہ داریاں پہلے قادیان پر تھیں اور اب بھی ہیں۔ بلکہ اب ربوہ کا جماعت پر زیادہ وسیع اثر ہے کیونکہ عارضی طور پر خلافت ربوہ میں آگئی ہے۔ جب خداتعالیٰ چاہے گا اور وہ کامیابی اور کامرانی کے ساتھ مسلمانوں کو واپس اُن کے گھروں میں لے جائے گا تو پھر قادیان مرکز بن جائے گا۔ لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اِس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ ربوہ مرکز نہیں رہے گا۔ ربوہ کیا، ہمیں سینکڑوں اَور مراکز کی ضرورت ہے کیونکہ ہر ملک اور ہر علاقہ میں ایک مرکز کا ہونا ضروری ہے۔ اور اِس وقت مختلف ممالک میں بعض جگہیں مراکز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً گولڈکوسٹ(مغربی افریقہ) کے لوگ جب سالٹ پانڈ جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم مرکز میں گئے تھے۔ ان کے لیے سالٹ پانڈ ہی مرکز ہے کیونکہ انچارج مبلّغ وہاں رہتا ہے اور وہیں سے انہیں ہدایات ملتی ہیں۔ پھر نائیجیریا میں لیگوس کی جماعت بیرونی جماعتوں پر اثرانداز ہوتی ہے کیونکہ وہاں مرکزی مبلّغ رہتا ہے اور وہیں سے تمام جماعتوں کو احکام جاری ہوتے ہیں۔ اب امریکہ میں واشنگٹن کو مرکز کی حیثیت حاصل ہے اور ضروری ہے کہ اُس کا اثر دوسری جماعتوں پر پڑے۔ انڈونیشیا میں جکارتا جماعت کا مرکز ہے۔ حکومت کا مرکز بھی وہی ہے۔ پس لازمی ہے کہ وہاں کی جماعت کی کوتاہیوں یا خوبیوں کا اثر تمام دوسری جماعتوں پرپڑے۔ لیکن ربوہ کو ان مراکز سے زیادہ حیثیت حاصل ہے۔ خلافت یہاں ہے اور اُس وقت تک خلافت یہیں رہے گی جب تک کہ ہندوستان میں امن قائم نہیں ہو جاتا، ہمیں وہاں تبلیغ کی پوری آزادی نہیں مل جاتی اور ہم دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر وہاں امن کی زندگی بسر نہیں کر سکتے۔
    نادان احراری ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں قادیان واپس جانے کی خواہش ہے۔ ان کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ مکہ مسلمانوں کا مرکز ہے جو اِس وقت اہلِ حدیث کے ماتحت ہے۔ کیا سنّیوں کو وہاں جانے کی خواہش نہیں؟ لیکن ذلّت کے ساتھ زندگی گزارنا اور عزت کے ساتھ کہیں رہنا دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ہم ذلّت کے ساتھ واپس جانا نہیں چاہتے۔ ہم اُس وقت واپس جانے کی خواہش رکھتے ہیں جب ہمارے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی وہاں مکمل آزادی حاصل ہو گی۔ کیونکہ جہاں تک ہندوؤں اور عیسائیوں کا تعلق ہے وہ ہمیں ویسے ہی مسلمان سمجھتے ہیں جیسے دوسرے مسلمانوں کو۔ اس لیے یہ شور مچانا محض احمقانہ بات ہے اور یا پھر اس بات کی علامت ہے کہ ان کی ہمتیں ٹوٹ چکی ہیں اور ان کے ارادے پست ہو چکے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی آبائی عزت کو واپس لینا نہیں چاہتے۔ یا یہ بات محض دشمنی کی وجہ سے ہے کیونکہ انسان عداوت کی وجہ سے ایسی باتیں بھی کرلیتا ہے بلکہ عداوت میں آ کر وہ اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کو گالیاں بھی دے لیتا ہے۔
    پس جب تک ربوہ میں خلافت ہے اسے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہ اہمیت ساری دنیا پر اثر انداز ہو گی۔ پھر جب قادیان واپس مل جائے گا تب بھی یہ مرکز رہے گا کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ کے حضور بے شمار دعائیں کی گئی ہیں۔ مگر اُس وقت یہ اپنے علاقہ کا مرکز ہو جائے گا اور اس کی وہ حیثیت نہیں رہے گی جو اَب ہے۔
    گزشتہ سترہ سال سے میں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اور سب سے پہلے میں نے قادیان کے لوگوں کو مخاطب کیا تھا اور اب میرے سامنے ربوہ کے لوگ بیٹھے ہیں۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چند سالوں سے جماعت کی تحریک جدید کی طرف وہ توجہ نہیں رہی جو پہلے تھی حالانکہ کام پہلے سے بیسیوں گُنے بڑھ گیا ہے۔ مبلّغوں کی تعداد جو اَب ہے اس سے پہلے اس کا بیسواں حصہ بھی نہیں تھی، جماعت کی جو تنظیم اب ہے اس سے پہلے اس کا بیسواں حصہ بھی نہیں تھی۔ اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہُ۔ بعض جگہوں پر جماعت کم ہو گئی ہے ورنہ عام طور پر جماعت بڑھی ہے لیکن ابھی تک ہماری تبلیغ اتنی بھی نہیں جتنا آٹے میں نمک ہوتا ہے۔ اِس وقت ہمارا مخاطب طبقہ دس پندرہ لاکھ کی تعداد میں ہے اور دنیا کی تعداد اڑھائی اَرب ہے۔ ہم نے تو اِس تعداد کو دس کروڑ بنانا ہے اور پھر اڑھائی ارب، لیکن ہم ابھی سے سو گئے ہیں۔ جو تعداد ہماری مخاطب ہے وہ اڑھائی۔ارب میں اڑھائی ہزارواں حصہ بھی نہیں۔ اتنا حصہ نمک اگر آٹے میں ڈال دیا جائے تو اس کا پتا بھی نہیں لگے گا۔ مثلاً آدھ سیر آٹا ہو تو آدھ سیر میں چالیس تو لے ہوتے ہیں۔ اور چالیس تولے میں چارسواَسّی ماشے ہوتے ہیں۔ اور چارسواَسّی میں اڑتیس سوچالیس رتیاں ہوتی ہیں۔ گویا ہم اگر دنیا کی آبادی کے لحاظ سے اپنی تبلیغ کا اندازہ لگائیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح آدھ سیر آٹے میں رتّی یا ڈیڑھ رتّی نمک ڈالا جائے۔ اگر۔آدھ۔سیر۔آٹے میں رَتّی ڈیڑھ رَتّی نمک ڈالا جائے تو اس کا پتا بھی نہیں لگے گا بلکہ اگر اتنی مقدار نمک کی ایک لقمہ میں بھی ڈالی جائے تو وہ زیادہ محسوس نہ ہو گا۔ لیکن اتنی بات پر ہی ہم میں غفلت پیدا ہو گئی ہے حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ ہماری تبلیغ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچتی۔
    پھر یہ بھی سوچو کہ سارے لوگ ہماری بات نہیں مانتے۔ دس، گیارہ لاکھ آدمی کے یہ معنے ہیں کہ ہزار، دو ہزار آدمی ہماری بات مانیں گے باقی لوگ ہمارے مخالف ہو جائیں گے یا بات سن کر اس پر عمل نہیں کریں گے۔ اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے کہ ہماری تبلیغ ساری دنیا میں پھیلے تو دس، بیس یا تیس ہزار کیا دو تین لاکھ آدمی ہماری باتیں سنیں اور انہیں مانیں تب کام ہو گا۔ پھر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی علاقہ میں سچائی پھیل جاتی ہے تو سارا ملک کا ملک اُس سچائی کو قبول کر لیتا ہے۔ حضرت۔موسٰی علیہ۔السّلام کے پاس بھی پہلے ایک ایک کر کے آدمی آئے، حضرت عیسٰی علیہ۔السّلام کے پاس بھی پہلے ایک ایک کر کے آدمی آئے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس بھی پہلے ایک ایک کر کے آدمی آئے پھر سب لوگ آ گئے۔ اِسی طرح اگر ہمارے پاس کسی جزیرہ کے لاکھ دولاکھ آدمی آ جائیں اور وہ وہاں کی آبادی کے تیس چالیس فیصدی ہو جائیں تو باقی ساٹھ ستّر فیصدی ایک دن میں ایمان لے آئیں گے۔ پھر ایک جزیرہ سے دوسرا جزیرہ متأثر ہو گا اور وہاں کے لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اُس دن کو لانے کے لیے کوئی معیار تو ہونا چاہیے کہ ہماری تبلیغ اڑھائی اَرب لوگوں میں پھیل جائے لیکن ہم دس پندرہ لاکھ سے بھی نیچے اُتر رہے ہیں۔ دفتر سے مجھے روزانہ کاغذات آتے ہیں کہ فلاں کام کو بند کر دیا جائے، فلاں محکمہ کو توڑ دیا جائے کیونکہ اب سارا کام قرضہ پر چل رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِس میں سب سے بڑی ذمہ داری مرکز پر آتی ہے۔ قادیان باقی دنیا سے پوشیدہ ہے وہ صرف اب ہندوستان کا مرکز ہے۔وہ اب بورنیو، ملایا، سماٹرا، جاوا،سلیبس2، انگلینڈ، جرمنی، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، امریکہ، ایسٹ افریقہ یعنی ٹانگانیکا، کینیا کالونی اور یوگنڈا، مغربی افریقہ یعنی گولڈکوسٹ، نائیجیریا، سیرالیون، عراق، شام، عرب، فلسطین، پاکستان اور سیلون وغیرہ کے سامنے نہیں۔ پس ہمیں مرکز کو پکڑنا چاہیے اور ہمیں مرکز میں کام اِس قدر مکمل کر لینا چاہیے کہ ہم باہر کی جماعتوں کو چیلنج کر سکیں کہ مرکز نے اپنے اندر اِس قدر تبدیلی پیدا کر لی ہے تمہیں بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی تحریکوں میں جو کامیابی ہوئی ہے اِس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ مرکز پکا ہوتا تھا۔ اور جب مرکز پکا ہوتا ہے تو۔پھر۔کہنے۔کی ضرورت باقی نہیں رہتی لوگ خودبخود اپنے اندر بیداری پیدا کر لیتے ہیں۔
    جلسہ تو اتوار کو ہے لیکن شاید بیماری کی وجہ سے مجھے وہاں آنے کا موقع نہ ملے۔ اس لیے میں اِس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں ربوہ کی تمام مجلسیں، ادارے، پریذیڈنٹ صاحبان، سیکرٹری مل کر ایسی کوشش کریں کہ ہر مرد اور عورت جس کے لیے مادی لحاظ سے تحریک جدید میں حصہ لینا ممکن ہے وہ اس میں حصہ لے اور پھر اپنے وعدہ کو جلدی سے پورا کرے۔ اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب باقی شرائط کو بھی پورا کیا جائے۔ میں نے دیکھا ہے کہ باقی شرائط پر ہمارے گھر میں بھی اب پوری طرح عمل نہیں ہو رہا۔ اور وہ شرائط سادہ زندگی بسر کرنا، فضول خرچی سے بچنا، زیورات اور کپڑوں پر زیادہ خرچ نہ کرنا، ایک سالن کھانا، سینما اور تماشوں میں نہ جانا۔ہمیں پہلے یہ شکایت نہیں تھی کہ جماعت کے نوجوان سینماؤں میں جاتے ہیں لیکن اب بعض اوقات ایسی شکایات ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سارے تو نہیں لیکن ایک تعداد نوجوانوں کی سینماؤں میں جاتی ہے۔ اگر سو لڑکا سینما میں جائے اور چارچار آنہ کا بھی ٹکٹ ہو تو تین سو روپیہ سالانہ ہمارا اِس طرح ضائع ہوتا ہے۔ اگر یہ روپیہ تحریک میں جاتا تو اِس سے عظیم الشان فائدہ ہوتا۔ پھر کھانے میں صحیح طور پر بچت کی جائے تو پانچ چھ روپے ماہوار کی بچت ہو جاتی ہے اور ایک غریب سے غریب آدمی بھی اَٹھنّی ماہوار بچا لیتا ہے۔ اب اگر اَٹھنّی ماہوار کا بھی اندازہ رکھا جائے تو کتنی بچت ہو سکتی ہے۔ اگر جماعت کا ہر بچانے والا اٹھنّی ماہوار بھی بچا لے اور اس کا نصف بھی تحریک میں دے تو لاکھوں روپے کی آمد ہو سکتی ہے۔ اگر۔ایک ایک آنہ بھی ماہوار آئے تو موجودہ بجٹ سے پچھتّر ہزار روپیہ زیادہ کی آمد ہو سکتی ہے۔
    ہرچیز کے لیے کوئی نہ کوئی رستہ ہوتا ہے اور اُسی رستہ کے ذریعہ اُس چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے۔3 یعنی گھروں میں دروازوں کے رستہ داخل ہو۔ اگر تم دیواریں پھاند کر اندر داخل ہونا چاہو گے تو یہ طریق درست نہیں ہو گا۔ اگر تم تلوار چلانا اور ہتھیار سے کام لینا سیکھو نہیں اور دفاع اور حملہ کے طریق نہ سیکھو بلکہ یونہی سینہ تان کر دشمن کے سامنے چلے جاؤ اور وہ تمہیں گولی مار کر ہلاک کر دے تو اِس سے ملک کو کیا فائدہ ہو گا؟ اِس سے تمہاری قوم کو کیا فائدہ ہو گا؟ اگر چھوٹی سے چھوٹی تلوار بھی ہو، چاقو ہو یا ڈنڈا ہی ہو اور اُس سے کام لینے کا فن تمہیں آتا ہو تو تم قوم کے لیے مفید وجود بن سکتے ہو۔ لیکن اگر تمہیں تلوار یا لاٹھی چلانا نہیں آتا تو۔سوائے۔عورتوں کی طرح بیٹھنے اور بددعائیں دینے کے تم کر ہی کیا سکتے ہو؟ یا یہ کہ دس بارہ ہزار کی تعداد میں جمع ہو کر چند نعرے مار لو گے کیا اِس سے کام ختم ہو جائے گا؟ یا اگر احرار کے ٹائپ کے لوگ ہوں گے تو وہ احمدیوں کو گالیاں نکال لیں گے اور کہہ دیں گے ان کا بیڑا غرق ہو اور وہ سمجھ لیں گے کہ جونہی انہوں نے کہا کہ احمدیوں کا بیڑا غرق ہو اسلام عرش پر پہنچ جائے گا۔ یہ سب لغو باتیں ہیں جن سے بچنا چاہیے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ آجکل لوگ اپنے خون کے ساتھ دستخط کر رہے ہیں۔ مجھے یہ خبریں سن کر ہنسی آ جاتی ہے۔ میں چند دن ہوئے اپنا خون ٹیسٹ کروانے کے لیے لاہور ہسپتال میں گیا تھا۔ انہوں نے میری پانچوں انگلیوں سے اِس قدر خون نکالا کہ اُس سے چالیس دستخط ہو سکتے تھے۔ خون سے دستخط کرنے سے کیا انسان میں بہادری آ جاتی ہے؟
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک بیوقوف بادشاہ تھا۔ اُس کے درباریوں نے اُسے مشورہ دیا کہ فوج پر اتنا خرچ ہو رہا ہے اِس کی کیا ضرورت ہے؟ انہیں فارغ کر دیا جائے۔ جب لڑائی ہو گی قصائیوں کو بُلا لیا جائے گا اور وہ اِس کام کو سرانجام دیں گے۔ بادشاہ نے خیال کیا کہ چلو یہی روپیہ عیاشی میں خرچ کرلوں گا۔ اُس نے فوج کو توڑنے کے احکام صادر کر دیئے اور قصائیوں کو بُلا کر انہیں حکم دیا کہ وہ ملکی دفاع کریں۔ جب اردگرد کے بادشاہوں کو اس کی حماقت کا علم ہوا تو انہوں نے ملک پر فوج کشی کر دی۔ بادشاہ نے تمام ملک کے قصائیوں کو حکم دیا کہ وہ دشمن کا مقابلہ کریں۔ قصائی اپنی چُھریاں تیز کر کے باہر نکلے۔وہ دودو، تین تین مل کر اور پینترے بدل کر ایک۔سپاہی کو پکڑتے اور اُس کو قبلہ رُخ لٹا کر بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ کر اُس کا گلا کاٹتے۔ انہوں نے دس پندرہ آدمیوں کو ہی مارا ہو گا کہ دشمن نے اُن کے پندرہ بیس فیصدی آدمیوں کو قتل کر دیا۔ یہ دیکھ کر وہ سب دوڑتے ہوئے دربار میں حاضر ہوئے اور فریاد! فریاد! فریاد! پکارنے لگے۔ بادشاہ نے کہا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا بادشاہ سلامت!بالکل بے انصافی ہو رہی ہے۔ ہم تو دوتین مل کر بڑی اُستادی کے ساتھ ایک سپاہی کو پکڑتے اور اُس کو قبلہ رُخ لِٹا کر ذبح کرتے ہیں لیکن وہ بے قاعدہ ہمیں قتل کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اِتنے میں دشمن کی فوج آ گئی اور اُنہوں نے بادشاہ کو قید کر لیا۔
    غرض جو کام قاعدہ کے مطابق کیے جاتے ہیں وہی صحیح ہو تے ہیں۔ نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے سے کام نہیں ہوتا اور نہ ہی خون کے ساتھ دستخط کرنے سے کسی جرأت کا اظہار ہوتا ہے۔ کسی بُزدل سے بُزدل آدمی کو میرے پاس لے آؤ میں اُس کے خون کے ساتھ ایک کیا کئی دستخط کروا دوں گا۔ خون کے نکالنے سے کیا تکلیف ہوتی ہے۔ نلکی لگائی اور خون نکال لیا۔ ایک دفعہ جتنا خون سُوئی کے ساتھ باہر آجاتا ہے اُس سے چالیس دستخط ہو سکتے ہیں۔ کام فن سیکھنے سے ہوتا ہے۔ بجائے اِس کے کہ تم دس۔دس، بیس بیس ہو کر خون کے ساتھ کھیلو پچاس یا سو آدمی آ کر یہ کہو کہ ہم نے جنگی کام کی پوری سکھلائی کر لی ہے تم ہمارا ٹیسٹ لے لو تو تمہارا کام قدر کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ خالی خون سے دستخط کرنا نہایت لغو چیز ہے۔یہ کام دونوں طرف ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی مہاسبھائی اور سنگھ والے معاہدات پر خون کے ساتھ دستخط کر رہے ہیں اور پاکستان میں بھی بعض لوگوں کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے معاہدہ پر خون کے ساتھ دستخط کیے ہیں۔حالانکہ یہ نہایت معمولی بات ہے۔ ایک شخص کا خون نکال کر بغیر اِس کے کہ اُسے اِس بات کا احساس ہو پچاس دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ پرانے زمانہ میں فصد4 لینے کا رواج تھا اور فصد میں آدھ آدھ سیر خون نکلوادیا جاتا تھا اور آدھ سیر خون سے لاکھوں دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ حکماء لوگوں کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ موسم بہار کے شروع ہو نے سے پہلے پہلے فصد لے لینی چاہیے تا اس موسم کا جسمانی صحت پر کوئی اثر نہ ہو۔ اور یہ فصد بادشاہ بھی نکلواتے تھے، وزیر بھی نکلواتے تھے اور عوام بھی نکلواتے تھے۔ جالینوس نے بھی اپنی کتابوں میں فصد پر زور دیا ہے اور بوعلی سینا نے بھی فصد پر زور دیا ہے۔ اگر یہ ایسی خطرناک بات ہوتی تو ایک گھٹیا سے گھٹیا اور بُزدل سے بُزدل آدمی فصد کیوں نکلواتا؟ خون کے ساتھ دستخط کرنے کا جرأت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جرأت کا تعلق ارادہ اور عزم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر تم آ کر یہ بتاتے ہو کہ ہم نے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کر لی ہے اور ایک گھنٹہ روزانہ خرچ کر کے دوسال میں ٹریننگ مکمل کر لی ہے تو یہ بات بیشک قابلِ۔قدر ہو گی ورنہ نعرے مار لینا یا خون کے ساتھ دستخط کر دینا ملک اور قوم کے لیے کسی صورت میں بھی مفید نہیں ہو سکتا۔ یہ بالکل لغو چیزیں ہیں۔ اور اگر دنیا ایسا کرتی ہے تو اُسے کرنے دو۔ تم لغو باتوں سے الگ ہو جاؤ۔ اور خواہ ملک کے لیے قربانی کا سوال ہو یا مذہب کے لیے وہ راستہ قربانی کا اختیار کرو جو خداتعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ نہ نعرے ملک کے کام آتے ہیں، نہ وعدے دین کے کام آتے ہیں، ٹیکسوں کا صحیح ادا کرنا اور دفاع کے اصول سیکھنا ملک کے لیے ضروری ہے۔ اور چندوں کے وعدے کرنا اور پھر وقت پر ادا کرنا اور نیک نمونہ تبلیغِ دین کے لیے ضروری ہے۔
    تم میں سے بعض جب غیراحمدیوں سے بات کرتے ہیں تو اُن کے منہ سے جھاگ آنے لگتی ہے کہ ہم نے فلاں ملک میں تبلیغ کی ہے، فلاں ملک میں مبلّغ بھیجے ہیں حالانکہ انہوں نے تحریک جدید میں پانچ روپے کا حصہ بھی نہیں لیا ہوتا۔ جس شخص نے سو روپیہ دیا ہوتا ہے وہ تو خاموش رہتا ہے لیکن جس نے اس میں سرے سے حصہ ہی نہیں لیا ہوتا وہ جب کسی غیراحمدی سے بات کرتا ہے تو اُس کے منہ سے جھاگ آنے لگتی ہے۔ اگر یہ بات واقعی اچھی اور قابلِ فخر ہے کہ جماعت نے غیرممالک میں مشن کھولے ہیں جن کے ذریعہ اسلام کی تعلیم کو پھیلایا جا رہا ہے تو تم تکلیف اُٹھا کر بھی تحریک جدید میں حصہ لو۔ یہ کوشش کرو کہ سوائے اشدّ معذورپن کے سب لوگ اِس میں حصہ لیں۔ کوئی ایسا آدمی جو مالی لحاظ سے اس تحریک میں حصہ لینے کے قابل ہے اِس سے پیچھے نہ رہے۔ اور پھر باہر کی جماعتوں میں اپنا نمونہ پیش کرو۔ میں نے اپنے گھر کے افراد کو چیک کیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے تین سالوں سے ہمارے خاندان کے افراد کی طرف سے بھی چندہ تحریک جدید کی وصولی کم ہوئی ہے۔ گو اِس بات کا آپ کو پتا نہیں لیکن مشہور ہے ’’دل کو دل سے راہ ہوتی‘‘ ہے۔ خاندان مسیح موعود کے دلوں کا ربوہ کی جماعت کے دلوں پر اثر پڑا اور انہوں نے بھی سُستی کی اور پھر اِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ جب مرکزی خرابی ہوئی دوسروں پر بھی اس کا اثر ہوا۔ پس تم کو کم سے کم جو چیز سامنے ہو اُس کی تو تنظیم کرلینی چاہیے اور یہ کوئی مشکل امر نہیں۔ اگر آپ اپنی مکمل تنظیم کر لیں تو پھر آپ دوسری جماعتوں کو کہہ سکتے ہیں کہ ہم سب مہاجر ہیں۔ شاذونادر ہی ہم میں سے کوئی مقامی ہو، اگر ہم اتنی قربانی کر سکتے ہیں توآپ کیوں نہیں کر سکتے؟ ہم نے کام کو بڑھانا ہے گرانا نہیں۔ مگر اسے گرنے سے بچانا زیادہ مقدم ہے۔ بچہ پیدا کرنے کے لیے تم کیا کیا جتن نہیں کرتے۔ کئی احمدی دوافروش حَبِّ۔اٹھرا بیچ رہے ہیں۔ اب کوئی شخص حَبِّ۔اٹھرا خریدے اور اُدھر بچے کا گلا گھونٹ دے تو اُسے کون عقلمند خیال کرے گا۔ جب وہ حَبِّ۔اٹھرا پر رقم خرچ کرتا ہے تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ وہ بچہ کو بچانا چاہتا ہے۔ یہ نہیں کہ ایک طرف وہ حَبِّ۔اٹھرا خریدے اور دوسری طرف وہ بچہ کا گلا گھونٹ دے۔ پس اگر یہ بات سچی ہے کہ تم لوگ تمام دنیا کو مسلمان بنانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اگر تمہارا مخاطب دس بارہ لاکھ کا طبقہ ہے تواُسے کروڑ تک پہنچا دو۔ اگر تمہاری قربانی یہ نتیجہ پیدا نہیں کرتی تو تمہارا دعوٰی یقیناً جھوٹا ہے اور تم ساری دنیا کو ہرگز مسلمان نہیں کر سکتے ‘‘۔ (الفضل 15ستمبر 1951ئ)

    1
    :
    بخاری کتاب الایمان باب فَضْلِ مَنِ اسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ
    2
    :
    سلیبس:(Celebes) انڈونیشیا کا جزیرہ جو عام طور پر Sulawesiکے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔(وکی پیڈیا آزاد دائرہ معارف زیر لفظ ’’Celebes‘‘ اور ’’ Sulawesi‘‘)
    3
    :
    البقرۃ:190
    4
    :
    فصد: رگ سے خون نکالنا(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)


    19
    خداتعالیٰ کے رنگ کو اختیار کرو اور اُس کا رنگ یہ ہے
    کہ وہ جو کہتا ہے اُسے پورا کر کے چھوڑتا ہے
    (فرمودہ 7ستمبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’پچھلا ہفتہ تحریک جدید کا ہفتہ تھا۔ اتوار کے دن ساری احمدی جماعتوں یا اکثر جماعتوں نے اپنی اپنی جگہ جلسے کیے اور تحریک جدید کے مختلف مقاصد کے متعلق لیکچر دیئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان جلسوں سے وہ عُقدہ حل ہو گیا جس کے حل کی فکر میں ہم تھے؟ کیا ان جلسوں کی وجہ سے جماعت میں بیداری پیدا ہو گئی ہے؟ اور جنہوں نے غفلت، سُستی اور لاپرواہی کی وجہ سے چندہ کی ادائیگی کی کوشش نہیں کی تھی یا انہوں نے اس طرف توجہ نہیں کی تھی کیا اُنہوں نے چندے ادا کر دیئے اور ہمارے کام کی مشکلات دور ہو گئیں؟ اگر تو ان جلسوں سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ جماعت کے ان لوگوں نے جنہوں نے ابھی تک وعدے ادا نہیں کیے تھے انہوں نے وعدے ادا کر دیئے ہیں تب تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ جماعت کے اندر ہوشیاری اور بیداری پیدا ہو گئی ہے۔ اور اگر جلسے ہوئے اور ان میں تقریریں ہوئیں جیسا کہ مجھے کئی جماعتوں سے چٹھیاں وصول ہوئی ہیں کہ دھواںدھار اور شاندار تقریریں ہوئیں میں نے تین گھنٹہ دھواں دھار تقریر کی اور فلاں نے اڑھائی۔گھنٹے تقریر کی لیکن اس کا نتیجہ کوئی نہیں نکلا تو یہ تقریریں میرے لیے خوشی کا پیغام نہیں لائیں۔ بلکہ رنج کا پیغام لائیں کہ جماعت کے لوگ اِس قدر سُست ہو گئے ہیں کہ انہیں دھواںدھار تقریریں بھی بیدار نہیں کر سکیں۔ یا ان تحریروں اور رپورٹوں کا میں یہ مطلب نکال سکتا ہوں کہ یہ محض حُسنِ۔ظنی ہے کہ تقریریں ہوئیں ورنہ نہ کوئی اڑھائی گھنٹہ تقریر ہوئی ہے اور نہ دھواںدھار اور شاندار تقریر ہوئی ہے۔ یونہی پھسپھسی اور بددِل کرنے والی باتیں کی گئیں ہیں۔ غرض میں صرف دو نتیجے نکال سکتا ہوں کہ یا تو دھواںدھار تقریریں نہیںکی گئیں صرف رپورٹوں کے کاغذوں کو سیاہ کیا گیا ہے۔ اور یا پھر یہ کہ جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں (جو تھوڑے بہت تو ہر جگہ ہوتے ہیں اور ہر زمانہ میں ہوتے ہیں۔ رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ تھے) اور ان کی اتنی تعداد ہو گئی ہے کہ ان کی کمزوری کی وجہ سے اب تحریک جدید کا چلنا قریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ اور یہ دونوں نتائج نہایت تکلیف۔دِہ ہیں۔
    یہ کہہ دینا کہ جماعت کے سات، آٹھ فیصدی طبقہ میں سُستی پیدا ہو گئی ہے جو تحریک جدید میں جا کر پچاس ساٹھ فیصدی ہو گئی ہے یہ بڑی خطرناک چیز ہے۔ اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تحریک جدید میں وعدہ کرنے والے سب مخلص نہیں بلکہ جماعت کا کمزور طبقہ محض دکھاوے کی خاطر اس میں وعدہ کر دیتا ہے۔ یہ کتنی خطرناک بات ہے۔ یا پھر یہ بات ہے کہ رپورٹ کرنے والوں نے سچائی سے کام نہیں لیا۔ تقریریں کرنے والے جلسہ میں آئے اور تقریریں کر کے چلے گئے اور چندہ کی وصولی یا وصولی کے معیّن وعدے نہیں لیے اور جماعت میں قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا نہیں ہوا۔ اِس قسم کے جلسوں کا بھلا فائدہ ہی کیا ہے۔ جو دھواںدھار تقریریں ہوا کرتی ہیں وہ دلوں کو ہلا دیتی ہیں اور اُن کے نتیجہ میں انسان اپنے اندر تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ یہ جلسے اِس لیے کیے گئے تھے کہ جن لوگوں نے سُستی اور غفلت کی وجہ سے ابھی تک وعدے ادا نہیں کیے اُ نہیں کہا جائے کہ اگر تم اب وعدے ادا نہیں کرو گے تو کب کرو گے؟ اگر تم نے ابھی تک وعدہ نہیں کیا یا اس کی ادائیگی میں سُستی کی ہے تو اِس سے جماعت کو کیا؟ خواہ تم فاقہ کرو، تکلیف برداشت کرو۔اس وعدہ کو ادا کرو۔ جن کے پاس رقوم ہیں وہ ابھی ادا کردیں اور جن کے پاس اب گنجائش نہیں وہ وعدہ کریں کہ جلد سے جلد کس دن ادا کر دیں گے۔ اگراِس طرح کیا گیا ہے تب تو جلسہ کا کوئی مطلب ہوا ورنہ خالی تقریریں کسی کام کی نہیں۔
    بعض دفعہ تقریر کرنے والا سمجھتا ہے کہ اُس نے دھواںدھار تقریر کی ہے حالانکہ وہ دھواں۔دھار تقریر ہی کیا جس کے نتیجہ میں نہ کسی نے وعدہ کیا اور نہ کسی نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ وہ خالی دھواں ہو سکتا ہے جس کے تلے آگ نہیں۔ وہ محض مٹی اور غبار تھا جو اُڑا ورنہ جہاں آگ لگی ہو وہاں عشق کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ حقیقی دھواں ہو اور پھر اُس کے نیچے آگ نہ ہو۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ تمہارے اندر آگ ہو اور تمہارا ہمسایہ اُس سے کوئی اثر قبول نہ کرے۔ اگر تمہارے گھر کو آگ لگتی ہے تو اوّل تو تمہارے ہمسایہ کا گھر بھی جل جاتا ہے ورنہ وہ جُھلستا ضرور ہے۔ اِس طرح اگر تمہارے دل میں آگ لگی ہوئی ہے تو تمہارے ہمسایہ کے اندر بھی آگ لگ جائے گی۔ اگر آگ نہیں لگتی تو وہ بیتاب ضرور ہو جائے گا۔ پس اگر ان تقریروں کے نتیجہ میں سننے والوں کے اندر آگ نہیں لگی تو پھر یہ کس قسم کی دھواںدھار تقریریں تھیں؟ نہ تو وہاں دھواں نظر آتا ہے، نہ دھار نظر آتی ہے صرف زیبِ۔داستاں کے لیے رپورٹیں بھیج دی جاتی ہیں۔ اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ ساری جماعتوں نے ایسا کیا ہے۔ ان رپورٹوں میں سے جو میرے پاس آئی ہیں بعض ایسی بھی ہیں جو بہت خوش کُن ہیں۔ جماعت کے دوستوں کو بُلا کر اُن پر زور دیا گیا ہے کہ وعدے ادا کرو اور اگر وعدے نہیں کیے تو اَب وعدے کرو اور یہ وعدے جلد ادا کرو۔ غرض ان سے معیّن صورت میں وعدے لیے گئے ہیں۔ لیکن نصف کے قریب رپورٹیں ایسی ہیں جن میں صرف قلم سے لکھ دیا گیا ہے کہ دھواںدھار تقریریں کی گئیں لیکن نہ اُن میں دھواں تھا اور نہ دھار تھی۔ ان کے نتیجہ میں نہ کسی نے وعدہ کیا اور نہ کسی نے وعدہ ادا کیا۔ حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ جماعت کے دوستوں کو بلا کر اُن سے پوچھا جاتا کہ وہ وعدے کب ادا کریں گے؟ دس دن کے بعد ادا کریں گے یا پندرہ دن کے بعد ادا کریں گے؟ اور اگر وہ کہتے کہ ہمیں تکلیف ہے تو انہیں کہا جاتا تم نے یہ مشکل خود اپنے لیے پیدا کی ہے۔ اگر پہلے سے اس طرح توجہ کرتے تو یہ مشکل پیدا نہ ہوتی۔ اب اگر تم تکلیف میں پڑ گئے ہو تو اس کی سزا تمہیں بھگتنی پڑے گی اس کی سزا سلسلہ کیوں بُھگتے؟ اگر ایسا کیا جاتا تو لازمی بات تھی کہ اس کا نتیجہ فوراً نکلتا۔ لیکن بعض لوگوں کی طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی تعریف آپ کرنا چاہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے وہ وہ دلائل دیئے ہیں، ہم نے وہ وہ باتیں کی ہیں کہ کسی کے خواب وخیال میں بھی نہیں آ سکتیں اور اس طرح وہ اپنی تعریف کے پُل باندھ دیتے ہیں۔ لیکن وہ سب دلائل اور باتیں رطب ویابس ہوتی ہیں۔
    بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ دھواںدھار تقریریں کر ہی نہیں سکتیں۔ مولوی شیرعلی صاحب بڑے مستعد اور کام کرنے والے آدمی تھے۔ وہ دن رات جاگتے اور سلسلہ کے کام سرانجام دیتے لیکن اُن کی طبیعت میں جوش نہیں تھا۔ ان میں پارہ والی کیفیّت پیدا نہیں ہوتی تھی۔ ایک دفعہ میں نے کوئی ضروری مضمون لکھنا تھا لیکن میں بیمار ہو گیا۔ میں نے مولوی صاحب کو بُلایا اور کہا کہ آپ اِس۔اِس طرح ایک مضمون لکھیں اور جماعت کے اندر جوش پیدا کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایک مضمون لکھ دیا اور میں نے چَھپنے کے لیے بھی دے دیا لیکن وہ پڑھ کر مجھے بہت ہنسی آئی کہ وہ جوش دلانے والا نہ تھا۔ البتہ ہر دسویں فقرہ کے بعد یہ لکھا ہوا ہوتا تھا ’’میں تمہیں زور سے کہتا ہوں‘‘۔ پس بعض طبائع ایسی بھی ہوتی ہیں۔
    لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ مفت میں تعریف کرانے اور انعام حاصل کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ کوئی ایک آدھ بات کریں گے اور کہہ دیں گے کہ میں نے دھواںدھار تقریر کی۔ دھوئیں سے تو رونا آتا ہے۔ کیا تمہاری تقریر سے سامعین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے؟ پھر آنکھوںسے پانی گرتا ہے کیا سامعین عرقِ ندامت سے بھیگ گئے تھے؟ اور اگر ایسا ہوتا اور سامعین کو کہہ دیا جاتا کہ وہ اب خواہ کوئی چیز بیچیں لیکن وعدہ کو ضرور ادا کریں اور پھر ایک حد تک وعدے ادا ہوجاتے تو ہم سمجھتے کہ تقریر دھواںدھار تھی۔ لیکن ان تقریروں کے نتیجہ میں نہ تو کسی کی آنکھوں میں آنسو آئے اور نہ کسی کو ندامت کی وجہ سے پسینہ آیا۔ جیسے لوگ ہنستے ہوئے آئے تھے ویسے ہی ہنستے ہوئے چلے گئے۔ نہ کسی نے جیب سے پیسہ نکالا اور نہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا وعدہ کیا۔ پھر دھواںدھار کیا ہوا؟ مفت میں تعریف حاصل کرنا کوئی چیز نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 1تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔
    میں سمجھتا ہوں کہ بہت سی ذمہ داری کارکنوں پر ہے کہ انہوں نے جماعت کے افراد کو صحیح رستہ پر لانے کی کوشش نہیں کی۔ جلسہ کی غرض یہ تھی کہ وہ لوگوں کو اُن کی غلطی کا احساس کرا دیتے اور انہیں نادم کرتے اور اس کے بعد وعدے وصول کرتے۔ اور اگر دس پندرہ فیصدی وعدے بھی ادا ہو جاتے تو مجھے خوشی ہوتی۔ انہوں نے خداتعالیٰ کو نوماہ تک ناراض کیا ہے۔ اگر وہ اسے جلدی خوش نہیں کرتے تو وعدے کا فائدہ ہی کیا تھا؟ اگر ان جلسوں سے ہمیں کوئی فائدہ ہوتا تو وہ تقریریں دھواں بھی رکھتی تھیں اور دھار بھی رکھتی تھیں لیکن ہوا یہ کہ جس طرح لوگ جیبیں بند لائے تھے اُسی طرح بند جیبیں لے کر وہ واپس چلے گئے۔ بعض جگہوں پر کارکن کھڑے ہوئے اور انہوں نے اچھل اچھل کر تقریر کر دی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ ہوا اس کا اکثر حصہ عبث ہوا۔ تم تبلیغ کرنے نہیں گئے تھے تم فرض شناسی کی طرف توجہ دلانے گئے تھے۔ تبلیغ میں تو بعض دفعہ سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور پھر کوئی نتیجہ نکلتا ہے لیکن فرض شناسی میں پندرہ سولہ منٹ کی دیر بھی نہیں لگتی۔ تم اگر کسی دہریہ کو کہو گے کہ نماز پڑھو تو وہ پہلے خداتعالیٰ پر ایمان لائے گا، پھر رسولؐ پر ایمان لائے گا اور پھر نماز کا اسے پتا لگے گا۔ لیکن اگر تم کسی مسلمان بچہ کو کہو گے نماز پڑھو تو تم ایک دفعہ نصیحت کرو گے اور وہ عمل کرنے لگ جائے گا اور یا پھر تم اُس کو تھپڑ مارو گے کہ مسلمان بچے ہو کر نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تم نے احمدیوں سے وعدے پورے کروانے تھے یورپین، ہندوؤں، چینیوں، زرتشتیوں یا جاپانیوں سے وعدے پورے نہیں کروانے تھے۔ اگر تم نے یورپین، ہندوؤں، چینیوں، زرتشتیوں یا جاپانیوں سے وعدے پورے کروانے ہوتے تو پھر بیشک انتظار کی ضرورت تھی لیکن یہ جلسے تو تربیتی جلسے تھے۔ ان کا نتیجہ اُسی وقت نکل آنا چاہیے تھے۔ آخر جو احمدی کہلاتا ہے وہ ایک مکان کی اینٹ بن چکا ہے، وہ زنجیر کا ایک حصہ بن چکا ہے، اُس نے بیعت کرتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا، میں دین کے لیے جان ومال اور عزت سب کچھ قربان کر دوں گا۔ اُس کا چندہ ادا نہ کرنا محض سُستی ہے اَور کچھ نہیں۔ چاہیے تھا کہ کہا جاتا نوماہ تک تم نے سُستی کی ہے اب تم بیدار ہو جاؤ اور وعدہ ادا کر دو۔ اگر اَب ادائیگی میں تمہیں کوئی مشکل نظر آتی ہے تو اس کو برداشت کرو۔ سُستی اور غفلت کی سزا تمہیں بھگتنی چاہیے نہ کہ سلسلہ کو۔ یہ چیز تھی جو اُس جلسہ کی غرض تھی ورنہ محض دھواںدھار تقریروں سے جن کا کوئی اثر نہ ہو کیا بنتا ہے؟
    مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جتنی رپورٹیں میرے پاس آئی ہیں ان میں سے اکثر محض زیبِ۔داستان کے لیے تھیں اور شاید اگلے ماہ مجھے جلسہ کی پھر ضرورت ہو گی۔ یہ جلسہ دھواںدھار تقریریں کرنے کے لیے نہیں ہو گا بلکہ اس جلسہ میں جماعت کے دوستوں کو کہا جائے گا کہ یا تو اتنی رقم یہاں رکھ دو اور یا دس پندرہ دن تک ادا کرنے کا وعدہ کرو۔ یہ دین کا کام ہے جو باقی سب کاموں پر مقدم ہے۔ اور اگر آپ لوگوں کو ادائیگی میں کوئی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے تو وہ تکلیف تمہیں برداشت کرنی پڑے گی۔ تحریک جدید کے وعدوں کو ادا کرنے کے ذرائع بھی بتائے گئے ہیں کہ۔اِس۔اِس طرح زندگی بسر کرو۔ تو اتنی گنجائش اخراجات سے نکل آئے گی کہ آپ وعدہ ادا کر سکیں گے۔ بیشک بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اتنا وعدہ کیا ہے کہ وہ اب اُسے ادا نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگ سات آٹھ ہزار وعدہ کرنے والوں میں سے سو ڈیڑھ سو ہوں گے۔ بیشک ان لوگوں نے اتنی رقم کا وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے ادا نہیں کر سکتے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ ان میں سے بھی دس بارہ فیصدی لوگوں نے سُستی کی ہو گی ورنہ اکثر لوگوں نے وعدے ادا کر دیئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ ہمیشہ زیادہ وعدہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں وقت کے اندر ادا کرنے کی توفیق بھی دے دیتا ہے۔ زیادہ۔تر نادہندگان اُن میں سے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی حیثیت سے کم وعدے کیے ہیں کیونکہ ایک بدی دوسری بدی پیدا کرتی ہے۔ جب انسان پوری قربانی نہیں کرتا تو خداتعالیٰ کے فرشتے اُس میں زور اور طاقت پیدا نہیں کرتے۔ استثنا ہر جگہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی حیثیت سے کم۔وعدے کیے ہیں ان لوگوں میں سے بھی بعض نے وعدے پورے کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جنہوں نے وعدے پورے نہیں کیے۔ اس طرح جن لوگوں نے اپنی حیثیت سے زیادہ وعدے کیے ہیں ان میں سے بھی بعض نے وعدے پورے کیے ہیں اور بعض نے ابھی وعدے پورے نہیں کیے۔ لیکن اگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو جن لوگوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر وعدے کیے ہیں اُن میں سے نوّے فیصدی نے وعدے ادا کردیئے ہیں۔ اور جن لوگوں نے اپنی حیثیت سے کم وعدے کیے ہیں اُن میں سے پچاس فیصدی ایسے ہوں گے جنہوں نے ابھی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کی۔ یہ اس لیے ہے کہ جو لوگ اپنی حیثیت سے زیادہ وعدہ کرتے ہیں خداتعالیٰ کے فرشتے اُن کی مدد کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک ناممکن کام کر رہے ہیں۔ لیکن حیثیت سے کم وعدہ کرنے والے اس مدد سے محروم رہتے ہیں کیونکہ وہ ممکن کام بھی نہیں۔کر۔رہے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ اگلے ماہ مجھے دوبارہ جلسہ کروانا پڑے گا،تا وہ جلسہ کام کا جلسہ ہو۔ اُس میں صرف دھواںدھار تقریریں نہ ہوں۔ ربوہ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ دھواںدھار تقریروں پر ہی بس کر دی گئی ہے۔ بیشک میری بھی تقریر ہوئی ہے اور اُس کی بناء پر کچھ وعدے کیے گئے ہیں لیکن ہر ایک شخص کا کام الگ الگ ہوتا ہے۔ خلیفہ کا یہ کام نہیں کہ وہ گھرگھر جائے اور وعدے لے۔ اور وہ سب دنیا کے پاس جا بھی کس طرح سکتا ہے۔ چاہیے یہ تھا کہ گروپ بنائے جاتے اور خدام کو اِس کام پر لگا کر تمام۔لوگوں کی لسٹیں بنائی جاتیں اور کہا جاتا کہ تمہارا اِس سال کا اِتنا وعدہ تھا نوماہ تم نے سُستی سے کام لیا ہے، اب اسے ادا کر دو ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اِس طرح جن لوگوں نے وعدہ نہیں کیا اُن سے وعدے لیتے اور اُن سے جلد وصولی کا انتظام کرتے تا روپیہ آتا اور مشکل دور ہوتی۔
    اس ماہ دفتر کے کارکنوں کو گزارہ نہیں ملا۔ وہ کیا کریں گے؟ کیا یہ کہہ دیا جائے گا کہ گوجرانوالہ کی ایک دھواںدھار تقریر ایک محکمہ کو دے دی جائے اور اُن کو کہا جائے کہ وہ اُسے آپس میں تقسیم کر لیں، لاہور کی دھواںدھار تقریر دوسرے محکمہ کو دے دی جائے کہ وہ آپس میں تقسیم کر لیں، راولپنڈی کی دھواںدھار تقریر تیسرے محکمہ کو دے دی جائے کہ وہ آپس میں تقسیم کر لیں۔ جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ؟ پہلے یہ گناہ کیا کہ وعدہ ادا نہیں کیا اور اب مزید جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ ہم نے دھواںدھار تقریریں کر دی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ توجہ سے کام نہیں کیا گیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے بعض رپورٹیں خوش کُن ہیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا ہے کہ یا تو وعدہ ادا کر کے جاؤ یا یہ بتاؤ کہ کس دن ادا کرو گے۔ حتّٰی کہ بعض مہاجرین کی جماعتیں ہیں اُنہوں نے اِس رنگ میں کام کیا ہے اور اُن کی کوشش کے نتیجہ میں لوگوں نے وعدے ادا کیے ہیں۔ اور جن لوگوں نے وعدے ادا نہیں کیے انہوں نے ایک معیّن وقت کے بعد ادائیگی کا وعدہ کیا ہے۔
    پس جماعت کو چاہیے کہ وہ جس کام کے لیے کھڑی ہوئی ہے وہ اُس کے رنگ کو بھی اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔2 اللہ تعالیٰ کے صبغہ کو اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ کے صبغہ سے اچھا کونسا صبغہ ہو سکتا ہے۔ خداتعالیٰ کا رنگ جمانے سے بہتر اَور کوئی چیز نہیں۔ اور خداتعالیٰ کا رنگ یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے وہ کر دیتا ہے۔ اس لیے تم خداتعالیٰ کا رنگ جمانے کی کوشش کرو۔ کیا تم نے خداتعالیٰ میں بھی کبھی سُستی دیکھی ہے۔
    لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی مسافر گھبرایا ہوا ریلوے اسٹیشن پر پہنچا اور وہ اسٹیشن ماسٹر کو کہنے لگا بابوجی! ’’تین بجے والی گڈّی کہیڑے ویلے جاندی اے‘‘؟ اسٹیشن ماسٹر بھی مذاقی تھا۔ اُس نے کہا ’’تین بجے والی گڈّی دووَجکے سٹھ منٹ تے جاندی ہے‘‘۔ وہ مسافر کہنے لگا ’’ایہہ بڑی خرابی اے کدے گڈّی کسے ویلے جاندی ہے تے کدے گڈّی کسے ویلے جاندی اے‘‘۔ اُسے حساب نہیں آتا تھا۔ وہ سمجھنے لگا کہ یہ اَور وقت ہے اور وہ اَور وقت ہے۔ مگر یہ مذاق اِس لیے بنا ہے کہ ریلیں دیر سے آتی۔جاتی ہیں۔ لیکن کبھی کسی نے یہ بھی دیکھا ہے کہ خداتعالیٰ کا سورج کبھی ایک سیکنڈ پہلے یا بعد میں چڑھا ہو؟ کروڑہا سال پہلے سورج جس وقت نکلتا تھا اُسی وقت اب بھی نکلتا ہے لیکن ہماری الارم کی گھڑیاں کبھی پہلے الارم دے دیتی ہیں اور کبھی بعد میں۔ میں جنگ کے بعد سے اِس وقت تک پانچ۔گھڑیاں منگوا چکا ہوں وہ سب روزانہ پندرہ، بیس منٹ سُست (Slow) ہو جاتی تھیں۔ جو۔گھڑیاں میرے پاس بطور تحفہ آتی ہیں اُن کا بھی یہی حال ہے۔ پتا نہیں لوگ کیسے گزارہ کر لیتے ہیں؟ یا پھر یہ ہے کہ میرا گھڑیوں پر رُعب پڑ جاتا ہے اور وہ سب پندرہ، بیس منٹ سُست ہو جاتی ہیں۔ یہ گھڑیوں کا حال ہے۔ ریلوں کا حال میں نے پہلے بتایا ہے۔ غرض جو کام بھی انسان کرتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ دیر لگ جاتی ہے لیکن کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ خداتعالیٰ کا چاند کبھی ایک سیکنڈ پیچھے چڑھا ہو؟ نہ چاند کبھی اپنے وقت مقررہ سے پیچھے نکلا ہے، نہ سورج اپنے وقت مقررہ سے پیچھے نکلا ہے اور نہ ستارے کبھی پیچھے نکلے ہیں، نہ زمین اپنی چال میں سُست ہوئی ہے اور نہ باقی سیارے سُست ہوئے ہیں۔ خداتعالیٰ نے رات کے لیے جو وقت مقرر کیا ہے کہ یہ فلاں وقت آئے حضرت آدم علیہ۔السلام سے لے کر اب تک رات اُسی وقت آتی ہے، سورج کے لیے جو وقت مقرر کیا گیا ہے کہ گرمیوں میں فلاں وقت سورج نکلے اور سردیوں میں فلاں وقت نکلے سورج حضرت آدم علیہ۔السلام سے لے کر اَب تک اُسی وقت نکلتا چلا آ رہا ہے۔
    پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ تم خداتعالیٰ کا رنگ اختیار کرو اور دیکھو کہ وہ کس طرح اپنے مقررہ قانون پر چل رہا ہے۔ لوگ مثال دیتے ہیں کہ تُسی کلاک وانگو چلو۔ یہاں تو کلاک بھی سُست ہو جاتے ہیں لیکن خداتعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز سیکنڈ کا ہزارواں حصہ بھی کبھی لیٹ نہیں ہوئی۔ بیشک بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جن کے لیے خداتعالیٰ نے کوئی معیّن وقت مقرر نہیں کیا لیکن خداتعالیٰ نے اُن کے لیے بعض موسم(Season) مقرر کر دیئے ہیں۔ مثلاً بارش کے لیے یہ نہیں کہا گیا کہ وہ سات سا ون کو ہو گی یا سات بھادوں کو ہو گی بلکہ یہ کہہ دیا گیا کہ ہاڑھ سے لے کر بھادوں تک بارش کا موسم ہو گا۔ اس دوران میں کبھی زیادہ بارش ہو گی اور کبھی کم۔ لیکن یہ نہیں کہ بارش کا موسم اِن مہینوں سے دوسرے مہینوں میں تبدیل ہو جائے۔ نہ یہ وقت کبھی زیادہ۔ہوا۔ہے اور نہ کم ہوا ہے۔ گویا جن چیزوں کے لیے خداتعالیٰ نے وقت کی تعیین کر دی ہے وہ۔اپنے۔وقت۔مقررہ پر چل رہی ہیں اور جن چیزوں کے لیے وقت کی تعیین نہیں کی وہ غیرمعیّن دائرہ میں چل رہی ہیں۔ سردیوں کے لیے خداتعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ وہ تین نومبر کو شروع ہوں گی یا تین دسمبر کو شروع ہوں گی بلکہ ان کے لیے نومبر، دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینے مقرر کیے گئے ہیں۔ اب یہ نہیں ہو گا کہ سردی ان مہینوں کی بجائے مارچ، اپریل اور مئی میں چلی جائے۔ اِسی طرح گرمیوں کے لیے مئی، جون جولائی کے مہینے مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے لیے یہ تعیین نہیں کی گئی کہ گرمی 10مئی سے شروع ہو گی یا10 جون سے شروع ہو گی لیکن یہ ضرور ہے کہ گرمی مئی اور جون جولائی میں ہی آئے گی۔ یہی قانون ہے جو پورا ہو رہا ہے کہ یہ گرمی کے مہینے ہیں اور یہ سردی کے مہینے ہیں اور یہ موسم ان مہینوں سے آگے پیچھے نہیں ہوں گے۔ ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ اس دوران میں کبھی سردی یا گرمی زیادہ پڑنے لگے اور کبھی کم۔ یہ نہیں کہ سردی گرمی کے مہینوں میں آ جائے اور گرمی سردی کے مہینوں میں آ جائے۔
    خدا کے رنگ کو اختیار کرو۔ اور خداتعالیٰ کا رنگ یہ ہے کہ وہ جو کہتا ہے اسے پورا کرتا ہے اور اسے کر کے چھوڑتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے ہیں ؎
    ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے3
    تم کہو گے کہ ہم خدا نہیں ہیں لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم انعام پانا چاہتے ہو تو تمہیں خداتعالیٰ جیسا بننا پڑے گا۔۔ تم بیشک خدا نہیں لیکن تمہیں انعام پانے کے لیے خداتعالیٰ کا رنگ اپنے اوپر جمانا پڑے گا۔ پس اگر تم چاہتے ہو کہ تم خداتعالیٰ کی برکات حاصل کرو، اس کے انعام پاؤ اور اس کے فضلوں سے حصہ لو تو بعض امور میں جو خداتعالیٰ کے رسول نے بتائے ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے یا گزشتہ انبیاء نے اُن کو بیان کیا ہے یا علم اور عقل سے ہم انہیں معلوم کرتے ہیں ان میں ہمیں خداتعالیٰ جیسا بننا پڑے گا۔ اگر تم خداتعالیٰ جیسا نہیں بنو گے تو لازماً شیطان جیسے بنو گے۔ تمہیں خداتعالیٰ کا رنگ چڑھانا پڑے گا تبھی تم اس کے برکات اور اَفضال کے وارث بن سکتے ہو۔ اور خداتعالیٰ کا رنگ یہ ہے کہ جو کہو اُسے پورا کرو۔
    تحریک جدید کے جلسوں کی غرض یہ تھی کہ وعدوں کی ادائیگی میں جن لوگوں سے غفلت ہوئی ہے انہیں کہا جائے کہ وعدے پورے کرو۔ نہ یہ کہ دھواںدھار تقریریں کرو ، عملی طور پر کچھ نہ کرو ۔وعدوں اور چندوں کو دھویں میں اُڑا دو۔ بلکہ ان جلسوں کی غرض یہ تھی کہ وعدے وصول کرو۔ اورجو کہتے ہیں کہ اَب وعدہ ادا کرنا مشکل ہے انہیں کہو کہ اِس میں سلسلہ کا کیا قصور ہے؟ یہ مشکل تم نے خود اپنے لیے پیدا کی ہے۔ تم نے وعدہ وقت پر ادا نہیں کیا۔ اب اس کی سزا خود بُھگتو، استغفار کرو اور۔قربانی کر کے وعدوں کو ادا کرو۔ لیکن 2ستمبر کے جلسوں کے نتیجہ میں کچھ بھی نہیں ہوا۔ صرف بعض خطوط آ گئے ہیں جو میں نے تحریک جدید کو بھجوا دیئے ہیں کہ مبارک ہو تمہارا کام ہو گیا۔
    تقریریں کرنے والوں اور رپورٹیں لکھنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ آیا محض تقریروں اور کاغذ۔سیاہ کر دینے سے کچھ بنتا ہے؟ کیا یہ خداتعالیٰ کا منشا ہے؟ خداتعالیٰ کا منشا تو یہ ہے کہ ایک دفعہ منہ سے کہہ دو اُسے پورا کرو۔ خداتعالیٰ جو کہتا ہے وہی کرتا ہے خواہ ہزاروں آدمی مر جائیں اس کی پروا نہیں۔ چنانچہ دیکھ لو خداتعالیٰ کا نبی جب دنیا میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے خدا نے کہا ہے یوں ہو گا تو خواہ لاکھوں آدمی مریں، ہو گا وہی جو خداتعالیٰ نے کہا ہے یعنی اُس کا نبی ہی جیتے گا۔ یہی رنگ ہے جو۔خداتعالیٰ کا ہے یعنی جو وہ کہتا ہے اس سے پھرتا نہیں۔4 جب خداتعالیٰ کسی چیز کے لیے جگہ یا وقت کی تعیین کرتا ہے تو وہ اُس کے خلاف نہیں کرتا۔
    ؎ ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے
    یہی مومن کا کام ہونا چاہیے کہ وہ جو کہے اُسے پورا کرے۔ دین پر مصیبت نہیں آنی چاہیے۔ ایسا کرنے میں تم پر تکلیف ضرور آئے گی کیونکہ ہمارا ملک غریب ہے، ہماری قوم غریب ہے اور ہمارے گزارے معمولی ہیں۔ دشمن ہنستا ہے لیکن ہمارا ایک منافق جو کام کر سکتا ہے دوسرے مسلمان وہ کام نہیں کر سکتے اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہُ۔ اُن میں بھی بعض اچھے لوگ ہیں لیکن اکثر حصہ اُن میں صرف نعرے مارنے والوں کا ہے۔ جو لوگ کام کرنے والے ہوتے ہیں وہ نعرے نہیں لگایا کرتے۔ مجموعی طور پر جس نسبت سے ہماری جماعت قربانی کر رہی ہے کسی دوسری قوم میں یہ قربانی نہیں پائی جاتی۔ لیکن اِس کے یہ معنے نہیں کہ جس حد تک تمہاری قربانی پہنچ چکی ہے اُس سے آگے بڑھنا ضروری نہیں۔ خداتعالیٰ اگر تمہیں دوسروں سے شیر جتنا بلند کرنا چاہتا ہے تو ایک بلی یا اُس سے کچھ اوپر نکلنے سے وہ خوش نہیں ہو گا۔ اگر وہ تمہیں شیر جتنا بلند کرنا چاہتا ہے تو ایک بلی جتنا بلند ہونے سے کیا بنے گا؟ دوسروں سے۔زیادہ۔قربانی کرنے کے یہ معنے ہیں کہ وہ قربانی کی جائے جس سے اسلام دوبارہ کھڑا ہو جائے۔ اگر۔تم۔اس۔سے دھاگابھر بھی نیچے رہو گے تو تم اپنے ہاتھوں سے اس مشن کو کمزور کر دو گے جس کے لیے خداتعالیٰ نے تمہیں کھڑا کیا ہے‘‘۔ (الفضل16ستمبر1951ئ)

    1
    :
    الصف:2
    2
    :
    البقرۃ:139
    3
    :
    درثمین اردو۔ زیر عنوان متفرق اشعار۔ صفحہ150 مرتبہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی 1962ء
    4
    :
    الزمر:21


    20
    مومن کو جہاں سے خوبی ملتی ہے وہ اُسے لے لیتا ہے
    (فرمودہ 14ستمبر1951ئ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’کچھ دنوں سے پھر آہستہ آہستہ میرے گھٹنے میں درد بڑھ رہی ہے اور کل کی کوفت کی وجہ سے تو گھٹنے کی تکلیف اَور بھی بڑھ گئی ہے۔ اس لیے گو میں خطبہ جمعہ بیٹھ کر پڑھوں گا لیکن پھر بھی میں اختصار کے ساتھ پڑھوں گا تا طبیعت پر بوجھ نہ ہو۔
    بعض ایام اپنے اندر خصوصیت رکھتے ہیں اور بعض ایام اپنے اندر خصوصیت پیدا کر لیتے ہیں۔ مثلاً بعض دن ایسے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے اُن کے ساتھ برکات مخصوص کر دی گئی ہیں۔ مثلاً عید ہے، جمعہ ہے یا رمضان کے ایام ہیں۔ اِن دنوں کے ساتھ بعض واقعات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی برکات دائمی طور پر مخصوص کر دی ہیں۔ لیکن بعض دن ایسے ہیں کہ وہ خاص طور پر بعض برکات اپنے ساتھ لگا لیتے ہیں اور یہ برکات کسی خاص واقعہ کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ سے ان کے ساتھ لگی ہوئی ہوں۔ مثلاً فرض کرو کسی دن کسی گھر میں بادشاہ آ جائے۔ پھر خواہ وہ دن منگل وار ہو، وہ بدھ وار ہو، جمعرات ہو، جمعہ ہو، ہفتہ ہو، اتوار ہو یا سوموار ہو بہرحال وہ دن ان کے لیے برکت کا موجب ہو جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ دن ہمیشہ جب بھی آتا ہے اُن کے لیے متبرک ہوتا ہے لیکن وہ دن مخصوص طور پر اپنے ساتھ برکت لگا لیتا ہے۔ جیسے کسی نے کہا ہے
    وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
    کبھی ہم اُن کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
    ایک شخص کا مُحبّ یا محبوب اگر اس کے گھر آ جائے تو وہ دن اس کے لیے عزت افزائی اور۔برکت کا موجب ہوتا ہے۔ اِسی طرح بعض دنوں میں حج اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے ہیں تو لوگ اس کا نام حجِ اکبر رکھ لیتے ہیں۔ بعض دنوں میں عید اور جمعہ اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ہم کہتے ہیں دوعیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔ اِس سال بھی اِس رنگ میں ہوا ہے کہ مغرب میں ہونے کی وجہ سے عرب میں ایک دن پہلے عید ہو گئی ہے۔ یہاں عید جمعرات کو تھی لیکن وہاں بدھ کو عید ہو گئی تھی۔ اِسی طرح حج منگل کو عرب میں ہوا اور بدھ وار کو حج کا دن یہاں آیا اور پھر منگل، بدھ، جمعرات کے بعد جمعہ کی عید آ گئی۔ گویا مشرق ومغرب میں فرق ہونے کی وجہ سے چار دن اکٹھے برکت والے آ گئے ہیں۔ ہمارے دنوں کے لحاظ سے بدھ کا حج تھا لیکن خانہ کعبہ چونکہ مغرب کی طرف ہے اس لیے وہاں چاند بعض دفعہ ایک دن پہلے نکل آتا ہے۔ وہاں بدھ کے دن عید ہوئی اور منگل کو حج ہوا لیکن یہاں جمعرات کو عید ہوئی اور حج کا دن بدھ کے حساب سے ہوا اور پھر جمعہ آ گیا۔ گویا اِس ہفتہ کے سات دنوں میں چار عیدیں آ گئیں۔ باقی تین دن رہ گئے جو عیدیں نہیں تھیں لیکن اگر ان کے ساتھ ایام ِتسبیح کو ملا لیا جائے تو سمجھ لو پانچ دن عید کے آ گئے کیونکہ جمعہ کا دن پہلے شمار کیا گیا ہے۔ گویا اِس ہفتہ میں پانچ دن خاص برکت کے آ گئے۔ اور۔اِن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان دنوں میں دعائیں سنتا ہے، وہ بخشش کرتا ہے اور زیادہ مہربانی سے اپنے بندوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اِس لیے مومن کو بھی اِن کی قدر کرنی چاہیے اور ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔
    حقیقت یہ ہے کہ مومن ہمیشہ تجسّس میں رہتا ہے کہ کونسا دن برکت والا ہے۔ قرآن۔کریم کی وہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے1میں نے آج تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے جب ایک یہودی نے سنی تو اُس نے کہا اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اسے ہمیشہ کے لیے عید بنا دیتے۔ یہ بات ایک صحابی تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا تم تو اس دن کو عید بنا دیتے لیکن ہمارے تو حج کے موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور وہ دن ہمارے لیے عید کا دن ہے۔2 غرض مومن ہمیشہ اس کُرید میں رہتا ہے کہ کوئی برکت والا دن ہو تو وہ اُس سے فائدہ اٹھائے۔
    اسلام نے رسوم سے منع فرمایا ہے۔ اِس چیز کا مسلمانوں پر اُلٹا اثر پڑا ہے کہ وہ حقیقت کو نمائش سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں آتے تو فرماتے کھڑے مت ہو3 اور عام قاعدہ یہی ہے لیکن بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ جذباتی رنگ کی ہوتی ہیں۔ وہ محبت کی وجہ سے ان چیزوں کو برداشت نہیں کر سکتیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بھی بعض لوگ ایسے تھے جو جذباتی تھے۔ آپ جب مسجد میں تشریف لاتے تو وہ کھڑے ہو جاتے۔ آپ فرماتے بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ جاتے۔
    قاضی سید امیرحسین صاحب مرحوم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اکابر صحابہ میں سے تھے اور میرے استاد بھی تھے اُن کا طریق پڑھانے کا نہایت سادہ تھا لیکن بچوں پر وہ اپنا رُعب رکھتے تھے۔ وہ میرے عربی کے پہلے استاد تھے۔ جب میں پڑھائی کا زمانہ یاد کرتا ہوں تو اُن کا پڑھایا ہوا سبق سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔ قاضی امیرحسین صاحب اہلِ حدیث میں سے آئے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد یا مجلس میں تشریف لاتے اور لوگ کھڑے ہو جاتے تو وہ اعتراض کرتے کہ یہ شرک ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول مجلس میں یہ بحث ہوئی۔ اُس وقت آپ خلیفہ نہیں تھے۔ تو بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس فتوٰی کے لیے عرض کیا جائے۔ چنانچہ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں تحریر کیا گیا کہ بعض لوگوں کو اِس بات پر اعتراض ہے کہ آپ کے آنے پر لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ چٹھی حضور کے پاس میں ہی لے گیا تھا۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام نے تو یہ فرمایا کہ ایک ہوتا ہے حکم عام اور ایک ہوتا ہے حکم خاص۔ بعض شرعی مسائل حکم عام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور کیفیاتِ خاصہ کے ساتھ وہ بدل جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی کی تعظیم کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور وہ اسے ضروری قرار دیتا ہے تو ایسا کرنا منع ہے۔ لیکن بعض لوگ جذباتِ۔محبت سے متأثر ہو کر بے۔خودی کے رنگ میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ طبعی طور پر ایسا کرتے۔ہیں اس لیے ہم انہیں منع نہیں کر سکتے۔ یہ چیز فرعی ہے لیکن چونکہ یہ چیز مشابہہ بہ شرک ہے اس۔لیے۔اس۔سے روک دیا گیا ہے۔ پھر فرمایا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو لکھا ہے کہ شروع میں حضرت عائشہؓ یا حضرت فاطمہؓ ۔۔تھیں اِس صدمہ کو برداشت نہیں کر سکیں اور انہوں نے اپنے منہ پر دو ہتّڑ مارا لیکن پھر ہاتھ روک لیا۔4 کیا اِس قسم کا مفتی یہ فتوٰی دے گا کہ حضرت عائشہؓ نے شرک کیا؟ یہ ایک جذباتی فعل تھا۔ یاد رہے کہ ایسے افعال بالذات شرک نہیں ہوتے۔ ہاں! مشابہہ بہ شرک اور منتج بالشرک ہوتے ہیں اور شرک کا رستہ روکنے کے لیے ان سے منع کیا جاتا ہے۔ اِسی لیے کبھی مومن سے نادانستہ سرزد ہو جاتے ہیں کیونکہ خود ان افعال کی ذات میں شرک نہیں پایا جاتا۔ اس لیے مومن کی فطرت اس سے بلاواسطہ متنفر نہیں ہوتی۔ ہم عام طور پر کہہ دیتے ہیں کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر جذبات کی وجہ سے کوئی ایسا کر دیتا ہے تو اُسے شرک نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ افعال بالذات مشرکانہ نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جواب آنے پر یہ بات دب گئی لیکن قاضی۔امیرحسین صاحب کے دل میں یہ بات رہی۔ وہ میرے استاد بھی تھے۔ جب میں خلیفہ ہوا تو ایک دفعہ جب میں مسجد میں آیا تو وہ کھڑے ہو گئے۔ میں چُپ رہا۔ دوسری دفعہ پھر میں مسجد میں آیا تو وہ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے آنے پر وہ پھر کھڑے ہو گئے۔ میں نے کہا قاضی صاحب! آپ کو یاد ہے کہ آپ نے خود ہی میرے ہاتھ چٹھی بھجوائی تھی کہ کسی کے آنے پر تعظیماً کھڑا ہونا شرک ہے اور اب آپ خود کھڑے ہو جاتے ہیں؟انہوں نے فرمایا ’’کی کراں رہیا نہیں جاندا‘‘۔ کیا کروں رہا نہیں جاتا۔ میں نے کہا پھر اوہ لوگ بھی کی کر دے؟ اونہاں کولوں بھی رہیا نہیں سی جاندا۔
    پس یہ ایک جذباتی چیز ہے۔ بعض لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن دوسرے مُلّاں بن کر لفظِ۔شریعت کی طرف لَوٹ جاتے ہیں۔ وہ اس نگاہ سے نہیں دیکھتے کہ ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ایک مُلّاں بھی اس حد تک اپنے آپ کو شرک سے روکنے والا ہوتا ہے لیکن وہ اپنے آپ کو ثواب سے محروم کر لیتا ہے۔ وہ مرغا کی طرح دانے چُگنے کا عادی ہوتا ہے لیکن ایک روحانی آدمی ہمیشہ اِس تلاش میں رہتا ہے کہ اُسے کوئی موقع ملے اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرے لیکن ایک مُلّاں کہتا ہے کہ خداتعالیٰ نے نماز، روزہ اور زکٰوۃ کا جو حکم دیا ہے انہیں بجا لانا ہی کافی ہے۔
    ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یارسول اللّٰہ! کیا آپ نے نماز کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا کیا آپ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ۔آپ کو اس نے نماز کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی نماز کا حکم دیا ہے۔ پھر اس نے کہا یارسول اللّٰہ! کیا آپ نے روزوں کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس شخص نے کہا کیا آپ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ روزے فرض ہیں؟ آپ نے فرمایا میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ روزے فرض ہیں۔ اُس شخص نے کہا یارسول اللّٰہ! کیا آپ نے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا کیا آپ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ زکوٰۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ زکوٰۃ فرض ہے۔ وہ شخص کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا خدا کی قسم! میں ان چیزوں سے نہ کچھ زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گا۔ یہ مُلّاں ٹائپ انسان تھا کیونکہ اُسے کم نہ کرنے سے جنت تو مل جائے گی لیکن زیادہ نہ کرنے سے اعلیٰ مقام نہیں مل سکتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ اُس نے جو کچھ کہا ہے اگر اُس نے اس سے کم نہ کیا تو وہ جنتی ہو گیا۔5
    حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ حج کے لیے جاتے ایک جگہ پر قافلہ روک دیتے اور ایک درخت کے نیچے پیشاب کرنے کے لیے بیٹھ جاتے۔ آپ نے کئی حج کیے اور ہمیشہ آپ اُس درخت کے نیچے پیشاب کرتے۔ اتفاقاً ایک شخص کئی دفعہ آپ کے ساتھ حج کے لیے گیا۔ اُس نے دیکھا کہ آپ ہر دفعہ اُس جگہ قافلہ روک لیتے ہیں اور اُس درخت کے نیچے پیشاب کرتے ہیں تو اُس نے کہا یہ کیا بات ہے کہ آپ ہمیشہ قافلہ روک لیتے ہیں اور پیشاب کرنے کے لیے اُس درخت کے نیچے جاتے ہیں؟ پھر بعض دفعہ آپ پیشاب بھی نہیں کرتے؟ تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا میں اس بات کو ہمیشہ چھپاتا تھا اور ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن اب تم نے دریافت کیا ہے اس لیے ظاہر کر دیتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب آخری حج کیا تو آپ نے اس جگہ اُتر کر پیشاب کیا۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ خواہ پیشاب آئے یا نہ آئے اس سنّت کو بھی پورا کر لوں۔6
    ایک مُلّاں کہے گا یہ کیا فضول حرکت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو اس بات کا حکم نہیں دیا۔ لیکن ایک روحانی آدمی کہے گا تم اسے فضول کہہ لو لیکن چونکہ یہ کام میرے محبوب نے کیا تھا اس لیے میں بھی یہ ضرور کروں گا۔ بہرحال مومن مرغے کی طرح دانے چُنتا ہے اور جہاں کہیں اُسے کوئی خوبی ملتی ہے وہ اسے لے لیتا ہے۔
    یہ چاردن برکت کے جمع ہو گئے ہیں اور یہ کئی دفعہ اکٹھے آئے ہوں گے لیکن ہر سال اکٹھے۔نہیں آتے۔ کبھی ساٹھ، ستّر سال کے بعد آتے ہوں گے۔ یہ اتفاقی بات ہے کہ عرب میں ایک دن قبل عید ہو گئی۔ اِس طرح دو عیدیں ہو گئیں۔ اِسی طرح حج بھی ایک دن قبل ہو گیا۔ اِس لیے دو دن حج کے ہو گئے۔ گویا مومن کے لیے چار دن برکت کے آ گئے ہیں۔ اب ہمیں بھی چاہیے کہ کوشش کریں خداتعالیٰ ہمیں بھی اکٹھی برکتیں دے۔ غرض مومن کو ہمیشہ ایسے دنوں کی تلاش میں رہنا چاہیے جن میں برکات جمع ہوں اور دعاؤں کے دن ہوں۔ یہ چیز بہرحال اعمال میں زیادتی کرتی ہے۔ ایک مُلّاں کہے گا کہ اس کا ہمارے ساتھ کیا تعلق ہے؟ عید اور جمعہ اتفاقاً اکٹھے ہو گئے ہیں لیکن ایک روحانی آدمی کہے گا مان لیا کہ یہ دونوں اتفاقاً اکٹھے ہو گئے مگر یہ کہاں لکھا ہے کہ ان سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے 7تم اگر زائد کام نہیں کرتے تو نہ کرو مگر ہم تو زائد کام بھی کریں گے۔ اور مومن ایسے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ یہ ایمان کی زیادتی کا موجب۔ہوتے۔ہیں‘‘۔ (الفضل19؍اکتوبر1951ئ)

    1
    :
    المائدۃ:4
    2
    :
    تفسیر طبری زیر آیت المائدۃ: 13(حرمت علیکم المیتۃ والدم)
    3
    :
    مسند احمد بن حنبل مسند الانصار حدیث ابی قتادۃ الانصاری جلد6صفحہ422بیروت لبنان 1994ء
    4
    :
    سیرت ابن ہشام جلد 4صفحہ305۔ تمریض رسولِ اللّٰہ فی عائشۃ۔مطبوعہ مصر 1936ء
    5
    :
    صحیح بخاری کتاب الایمان باب الزکٰوۃ من الاسلام
    6
    اسد الغابۃ جلد3صفحہ 43عبداللہ بن عمر الخطاب۔ بیروت لبنان 2001ئ(مفہومًا)
    7
    :
    البقرۃ:149

    21
    قوموں کی زندگی آئندہ نسلوں کی صحیح تربیت پر مبنی ہوتی ہے
    احمدی والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو شروع سے ہی
    اسلامی رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔
    (فرمودہ 21ستمبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’قومی زندگی ان کی آئندہ نسلوں پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر ان کی آئندہ نسلیں ٹھیک ہوں تو وہ زندہ رہتی ہیں اور اگر ان کی آئندہ نسلیں کمزور ہو جائیں تو وہ مر جاتی ہیں۔ ابتدائی زمانہ میں جو لوگ سوچ سمجھ کر کسی مذہب کو قبول کرتے ہیں اُن کے اندر خاص جوش ہوتا ہے۔ اُن کی مخالفتیں ہوتی ہیں اور۔مخالفتیں اُن کے جوش کو اَور بھی بڑھا دیتی ہیں۔ لیکن جو بچے بعد میں پیدا ہوتے ہیں انہوں نے سوچ سمجھ کر کسی مذہب کو قبول نہیں کیا ہوتا۔ انہیں ایمان ورثہ کے طور پر ملتا ہے بوجہ اِس کے کہ اُن کے ماں باپ، بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار صداقت کے قبول کرنے والے ہوتے ہیں وہ اپنے آپ کو مذہب میں نیا داخل ہونے والا نہیں سمجھتے۔ وہ اپنے آپ کو ورثہ کے طور پر اس مذہب کو قبول کرنے والا سمجھتے ہیں۔ ان کی مخالفتیں کم ہوتی ہیں، ان کو بچانے والے ان کے ماں باپ، بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار ہوتے ہیں جو صداقت کو پہلے قبول کر چکے ہوتے ہیں۔ مگر جو لوگ براہ راست صداقت کو قبول۔کرتے ہیں اُن کی مخالفتیں ہوتی ہیں، انہیں تکلیفیں دی جاتی ہیں۔ ان تکلیفوں کی وجہ سے دو میں سے ایک بات ضرور ہوتی ہے۔ یا تو وہ مخالفتوں سے گھبرا کر پھر جاتے ہیں۔ اور اگر وہ اس صداقت پر قائم رہتے ہیں تو وہ مخالفتوں کی وجہ سے ایسے ہو جاتے ہیں جیسے بھٹی میں سے سونا نکالا جاتا ہے۔ ایسے آدمیوں کا مثیل پیدا کرنا محنت چاہتا ہے۔ جو کام آباء نے خود کیا ہوتا ہے وہ دوسرے لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ اور صاف بات ہے کہ جس چیز کی رغبت آپ ہوتی ہے اور جو اُستاد پڑھاتا ہے ان میں زمین۔و۔آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ جس آسانی سے بچے زبان سیکھتے ہیں اُس آسانی سے وہ کوئی دوسری چیز نہیں سیکھ سکتے۔ چنانچہ جونہی وہ ہوش سنبھالتے ہیں دوسروں کو دیکھ کر غوں غاں کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ان کے چاروں طرف جو لوگ ہوتے ہیں وہ منہ سے بعض خاص الفاظ نکال کر ان کے خاص معنے لیتے ہیں۔ اس لیے بچہ بھی شوق سے وہ الفاظ بولنے لگ جاتا ہے۔ لیکن وہی بچہ جب سکول میں جاتا ہے اور کوئی دوسری زبان سیکھتا ہے تو کہتا ہے اُستاد کام بہت دیتے ہیں، وہ زچ ہو جاتا ہے اور پڑھائی سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی عرب ہے تو اُس سے پوچھو کہ کیا اُسے عربی سیکھنے میں کوئی مشکل پیش آئی ہے؟ یا انگریز ہے تو کیا انگریزی زبان سیکھنے میں اُسے کوئی مشکل پیش آئی؟ اگر وہ پنجابی ہے تو کیا پنجابی سیکھنے میں اسے کوئی مشکل پیش آئی ہے؟ وہ یہی بتائے گا کہ اپنی زبان سیکھنے میں مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی بلکہ آپ ہی آپ آ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اُسے اپنی زبان سیکھنے کا شوق تھا۔ اِسی طرح جو شخص کسی مذہب میں داخل ہوتا ہے اُس کی مثال ایک بچہ کی سی ہوتی ہے۔ اور جو اِس وجہ سے کسی مذہب میں داخل ہوتا ہے کہ اُس کے ماں باپ اُس مذہب کے پابند تھے اُس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی سکول میں پڑھتا ہے۔ سکول میں کئی طالبعلم فیل ہو جاتے ہیں مگر کیا کبھی کسی نے کوئی ایسا بچہ بھی دیکھا ہے جو اپنی زبان سیکھنے میں فیل ہوا ہو؟ اُس کے دماغ میں نقص بھی ہو تب بھی وہ زبان سیکھ جاتا ہے۔ اپنی زبان سیکھنے والے بچے سوفیصدی پاس ہو جاتے ہیں لیکن سکول اور کالج والے خوش ہو تے ہیں کہ اُن کے تینتیس فیصدی طالبعلم پاس ہو گئے۔ سکول کا نتیجہ ذرا اچھا رہتا ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ اُن کے اَسّی فیصدی طالبعلم پاس ہو گئے یا اُن کا نتیجہ پچاسی فیصدی یا نوے فیصدی رہا۔ اور چُرانوے پچانوے فیصدی نتیجہ ہو تو ایک شور مچ جاتا ہے۔ لیکن ایک جاہل ماں کے پانچوں کے پانچوں بچے پاس ہو جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک زبان سیکھ جاتا ہے، ان میں سے ہر ایک اپنے۔ماں باپ کا تمدّن سیکھ جاتا ہے حالانکہ وہ بھی ایک مدرسہ ہے۔ لیکن یہاں چونکہ اُن کا اپنا انٹرسٹ اور دلچسپی تھی اِس لیے انہیں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ ایک عرب کو انگریزی یا اردو سیکھنے میں یا ایک انگریز کو اردو یا عربی سیکھنے میں اُتنی ہی دقّت پیش آتی ہے جتنی دقّت ایک پنجابی کو انگریزی یا عربی سیکھنے میں آتی ہے۔ لیکن ہمارا ایک جاہل سے جاہل بچہ اِس طرح اپنی زبان سیکھ جاتا ہے کہ اُسے پتا بھی نہیں لگتا۔ اِسی طرح ایک عرب عربی سیکھ لیتا ہے اور انگریز انگریزی سیکھ لیتا ہے۔ لیکن جب کوئی انگریز یا عرب پنجابی سیکھنا چاہیں تو انہیں وہ مشکلات پیش آتی ہیں جو ہمیں عربی یا انگریزی سیکھنے میں آتی ہیں۔ اِس کی وجہ ایک ہی ہے اور وہ دلچسپی اور عدمِ دلچسپی ہے۔ وہاں چونکہ دلچسپی اور شوق ہوتا ہے کہ اردگرد کے لوگ ایک خاص قسم کے الفاظ بول رہے ہیں میں بھی یہ الفاظ سیکھ جاؤں اس لیے وہ آسانی سے سیکھ جاتا ہے۔ لیکن سکول میں وہ سمجھتا ہے کہ کوئی دوسرا آدمی اپنی مرضی کے مطابق اُسے کچھ سکھانا چاہتا ہے اس لیے وہ اُس کا مقابلہ کرتا ہے۔ اگر کوئی ہوشیار طالبعلم ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اُستاد کی مرضی کے مطابق چلنے میں اُس کا اپنا فائدہ ہے تو وہ ہوشیاری سے وہ چیز سیکھ لیتا ہے جو اُس کا استاد اُسے سکھانا چاہتا ہے۔ لیکن اگر کوئی طالبعلم ہوشیار نہیں ہوتا تو وہ استاد کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اُسے آرام سے روکتا ہے اور اپنے عزیزوں کی صحبت میں بیٹھنے سے روکتا ہے، اپنے دوستوں میں بیٹھ کر گپّیں مارنے سے روکتا ہے۔ وہ بظاہر سکول میں ہوتا ہے لیکن اُس کا دماغ گلی ڈنڈا کھیل رہا ہوتا ہے، کبھی کبڈّی کھیل رہا ہوتا ہے، کبھی وہ ماں کی گود سے چھلانگ لگا رہا ہوتا ہے اور کبھی وہ ماں باپ سے کوئی چیز مانگ رہا ہوتا ہے۔ استاد گھنٹہ بھر پڑھا کر بیٹھ جاتا ہے لیکن اُس کا دماغ اپنی گُلی میں ہوتا ہے۔ بیشک۔گونگے زبان نہیں سیکھ سکتے اور بعض پاگل بھی اِسی قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ سیکھ نہیں سکتے لیکن عام طور پر پاگل بھی زبان سیکھ جاتے ہیں۔ اپنی ماں کے پاس وہ بھی فیل نہیں ہوتے۔ یہ فرق محض دلچسپی اور عدم ِدلچسپی کی وجہ سے ہے۔
    ہماری جماعت میں اِس ملک کے عام باشندوں کی طرح یہ عادت پائی جاتی ہے کہ وہ بچوں سے ناجائز محبت کرتے ہیں اور کہتے ہیں ابھی بچہ بڑا ہو گا تو آپ ہی سیکھ جائے گا۔ یہ اُن کی غلطی ہے۔ وہ خود مذہب کے اس لیے پابند تھے کہ اُن کے اندر اس کے لیے رغبت پیدا ہو گئی تھی لیکن بچہ میں یہ احساس نہیں ہوتا کہ کونسا مذہب سچا ہے۔ اُس کے ماں باپ احمدی ہوتے ہیں اس لیے وہ بھی احمدی۔ہوتا۔ہے۔ اس کے اندر یہ جذبہ اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا ایک خود بیعت کرنے والے کے اندر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اولاد کی تربیت ناقص ہوتی جاتی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ حضرت حسنؓ رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ انہیں ترکاری پسند آئی تو پلیٹ میں ہاتھ مارا تا اس کے ٹکڑے تلاش کر کے کھائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا کُلْ۔بِیَمِیْنِکَ وَمِمَّا یَلِیْکَ۔1 کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور وہاں سے کھاؤ جو تمہارے سامنے ہے۔ یہ تہذیب کا سبق ہے جو آپؐ نے بچہ کو سکھایا کہ کہاں سے کھانا ہے اور کس طرح کھانا ہے۔ لیکن آجکل کی ماؤں کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا اور بجائے سمجھانے کے انہیں پیار کرنے لگ جاتی ہیں۔
    ایک دفعہ صدقات کی کھجوریں آئیں تو حضرت حسنؓ نے ڈھیر میں سے ایک کھجور لی اور منہ میں ڈال لی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیکھ لیا اور فرمایا نہیں نہیں!! یہ کھجوریں صدقہ کی ہیں۔ پھر آپؐ نے حضرت حسنؓ کے منہ میں انگلی ڈال کر وہ کھجور نکال لی۔2 لیکن آجکل کی مائیں ایسے موقع پر کہہ دیتی ہیں کہ بچہ بیچارہ کم سمجھ ہے بلکہ اگر وہ رو پڑے تو خود اُسے کہیں گی کہ اچھا کھا لے کھا لے۔
    پس بچوں کی تربیت نہایت اہم چیز ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ربوہ پر جہاں بہت سی ذمہ داریاں ہیں وہاں بچوں کی تربیت کے متعلق بھی اس پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ بچوں کی تربیت کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔ قادیان میں بھی یہ نقص تھا اور میں نے اس کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن وہاں یہ نقص زیادہ نہیں تھا یہاں تو یہ حالت ہے کہ والدین اپنے بچوں کو خلافت کی اہمیت بھی نہیں بتاتے۔ چنانچہ بعض بچے جب میرے پاس آتے ہیں تو میں نے دیکھا ہے کہ وہ اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ کہنے کی بجائے اِس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکال دیتے ہیں کہ بابا جی سلام۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ اُن کا خلیفۂ وقت کے ساتھ کیا رشتہ ہے اور اسے کن الفاظ میں مخاطب کرنا چاہیے۔ اگر والدین نے انہیں خلافت کے مقام کی اہمیت بتائی ہوتی تو وہ آدابِ۔اسلامی سے اس قدر بیگانہ نہ ہوتے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ماں باپ کا ہی قصور ہے کہ انہیں یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ خلیفہ کا رشتہ ماں باپ اور استاد کے رشتہ سے بھی زیادہ اہم ہے اور ان کا فرض ہے کہ اسے ان سب سے زیادہ عزت کا مقام دیں۔ اِسی طرح ابھی ایک بچہ لاہور سے آیا ہے۔ اُس کی عمر سات آٹھ سال کی ہے۔ اُس سے باتیں کرنے پر معلوم ہوا کہ اُسے اتنا بھی والدین نے نہیں سمجھایا کہ اُس کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو اس نے کہا مجھے پتا نہیں۔ گویا والدین کی غفلت کی وجہ سے جماعت کی آئندہ نسل تباہ ہو رہی ہے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔3 اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ بیوقوف اور جاہل ماؤں کے قدموں میں بھی جنت ہے بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اگر مائیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں اور انہیں اسلامی اخلاق سکھائیں تو وہ انہیں جنتی زندگی کا وارث بنا سکتی ہیں لیکن اگر وہ اپنے بچوں پر مناسب دباؤ نہیں ڈالتیں، وہ ان کی تربیت نہیں کرتیں تو ان کی اگلی نسل جنت سے دور ہو جائے گی۔ گویا بچوں کو جنت یا دوزخ میں ڈالنا ماں باپ کے اختیار میں ہے۔ پس ماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خداتعالیٰ کے احکام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے باخبر رکھیں، صحابہؓ۔۔کی فضیلت اُن پر واضح کریں، بزرگوں کا تذکرہ اُن کے سامنے کرتی رہیں۔ اور۔اگر۔ضرورت سمجھیں تو کہانیوں کے ذریعہ خدا اور رسول کی باتیں ان کے ذہن نشین کریں۔
    حضرت۔مسیح۔موعود علیہ السلام کبھی کبھی ہمیں فرمایا کرتے تھے کہ بیٹھ جاؤ میں تمہیں کہانی سناتا ہوں۔ وہ کہانی کیا ہوتی تھی یہی بزرگوں کے واقعات ہوتے تھے جن کا نام کہانی رکھ لیا جاتا تھا اور ہم دلچسپی سے اُسے سنتے تھے بلکہ بعض دفعہ ہم پیچھے پڑ جاتے تھے کہ ابھی کہانی پوری نہیں ہوئی۔ غرض اس طرح بھی دینی باتیں سکھائی جا سکتی ہیں۔ اگر بچوں کو یہ کہا جائے کہ آؤ تمہیں نماز سکھائیں تو وہ اسے سبق سمجھ لیتے ہیں لیکن اگر یوں کہا جائے کہ ایک بزرگ تھے، وہ نبیوں کے سردار تھے، وہ خدا کی بڑی عبادت کیا کرتے تھے اور پھر بتایا جائے کہ وہ یوں عبادت کرتے تھے تو اِس طرح بچوں کو ساری نماز یاد ہو جائے گی اور پھر وہ اسے کہانی کی کہانی سمجھیں گے۔ اِسی طرح تاریخِ اسلامی، آداب اور اخلاق وغیرہ بچوں کو سکھائے جائیں۔ اِسی لیے میں نے کتابوں کا ایک کورس مقرر کیا تھا اور جماعت کے علماء کو توجہ دلائی تھی کہ وہ بچوں کے لیے تربیتی مسائل پر مختلف کتب لکھیں۔ اِس وقت سات آٹھ پروفیسر جامعۃ۔المبشرین میں ہیں، چارپانچ جامعہ احمدیہ میں ہیں۔ یہ گیارہ آدمی اگر ہر چھ ماہ میں ایک کتاب بھی لکھتے تو اڑھائی سال میں پچپن کتابیں لکھ لیتے۔ ہائی سکول میں تیس کے قریب استاد ہیں، کالج میں بیس پروفیسر یا لیکچرار ہیں، ساٹھ کے قریب مبلّغ ہیں۔ گویا ایک سو دس یہ ہیں۔ اگر یہ لوگ ایک ایک کتاب فی سال بھی لکھتے تو تین سال میں تین سو تیس کتابیں لکھ لیتے۔ بچوں کے لیے کتابیں لکھنا کونسی۔مشکل بات ہے۔ لیکن یہ لوگ یہ تو کوشش کرتے ہیں کہ یونیورسٹی انہیں پرچے دیکھنے کے لیے بھیج دے اور انہیں کچھ پیسے مل جائیں۔لیکن اس طرف توجہ نہیں کرتے کہ وہ علمی اور اخلاقی اور تربیتی کتابیں لکھیں حالانکہ ہم نے بھی اُن کے معاوضہ میں ایک رقم مقرر کی ہوئی ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے اساتذہ اور علماء کی ذہنیت گری ہوئی ہے۔ تحریک۔جدید میں بھی یہی ہوا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری اگلی نسل پہلوں سے بڑھ کر چندہ دیتی لیکن ان کا چندہ دفتراوّل کے چندہ سے آدھا بھی نہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ان میں خدمتِ۔دین کی رغبت ہی نہیں رہی۔ مجھے یاد ہے جن دنوں میں نے شروع میں تحریک کی تو اُس وقت جماعت کے لڑکے کالجوں میں بہت تھوڑے تھے لیکن پھر بھی احمدیہ ہوسٹل کے طلباء کے وعدے ایک ہزار سے زیادہ کے تھے۔ اب کالج میں کئی سو طلباء ہیں لیکن اُن کے وعدے ایک ہزار روپے کے بھی نہیں۔ اِسی طرح سکول کے وعدے بھی بہت زیادہ ہوا۔ ۔کرتے۔تھے۔
    یاد رکھو! تمام کام تربیت سے ہوتے ہیں۔ جب تک ہر مرد اور عورت یہ نہ سمجھ لے کہ جس دن بچہ پیدا ہو اُسی دن سے ہم نے اس کی تربیت کرنی ہے اُس وقت تک ہماری آئندہ نسلیں ترقی نہیں کر سکتیں۔ اس حکمت کو مدّنظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو تم اُس کے کان میں اذان کہو۔4 گویا وہ وقت بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ بچے کے کان میں دوسرے دن بھی اچھی بات پڑنی چاہیے، تیسرے دن بھی اچھی بات پڑنی چاہیے اور تم اس کے لیے مسلسل کوشش کرتے ہو تو تم کامیاب ہو گئے۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تم اپنی آئندہ نسل کو تباہ کرتے ہو۔ اور درحقیقت آئندہ نسل کی تربیت اس حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہے، اُن میں قومی کام کرنے کی رغبت کم ہے، وہ اپنی آمد کے مطابق چندہ نہیں دیتے اور اشاعتِ۔اسلام کے لیے زندگیاں وقف کرنے کی طرف انہیں توجہ نہیں حالانکہ ایک ایک مومن دنیا میں بہت بڑا تغیر پیدا کر۔سکتا ہے۔ حضرت معین الدین صاحب چشتی۔ ؒہندوستان میں آئے اور ان کی وجہ سے تمام ہندوستان میں اسلام پھیل گیا۔ اگر دوسرے مسلمان بھی خواجہ معین الدین صاحب چشتی۔ؒوالا جوش رکھتے تو شاید تاریخ میں یہ لکھا ہوا ہوتا کہ ہندوستان میں ایک قدیم مذہب ہوا کرتا تھا جسے ہندو۔کہتے۔تھے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اگر اَب بھی ایسا ہو جائے اور ہماری آئندہ نسلوں میں حضرت۔معین۔الدین صاحب چشتی۔ؒوالا جوش اور ایمان پیدا ہو جائے تو ہر طرف احمدی ہی احمدی دکھائی دیں گے۔ لیکن اگر تمہاری زندگی مُردارپن میں گزر رہی ہے تو یہ صورت کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ جب تک تم میں یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا کہ تم اپنے ماں باپ کی وجہ سے احمدی نہیں ہوئے، تم اپنے بہن بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کی وجہ سے احمدی نہیں ہوئے بلکہ تم اس لیے احمدی ہوئے ہو کہ تم نے خود احمدیت میں خداتعالیٰ کا نور دیکھا ہے تو تم ویسے ہی ہو جیسے پانی کی ایک دھار نکلتی ہے تو وہ آخر تک دھار ہی رہتی ہے۔ حالانکہ جب وہ دھار۔نالا۔۔نہیں بنتی اور نالا سے دریا نہیں بنتا اور دریا سے سمندر نہیں بنتا اُس وقت تک کبھی دنیا میں صحیح رنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی‘‘۔
    (الفضل10مئی1961ئ)

    1
    :
    بخاری کتاب الاطْعمۃ باب التَّسْمِیَۃِ عَلَی الطَّعَامِ وَ الْاَکْلِ بِالْیَمِیْنِ میں ’’کُلْ بِیَمِیْنِکَ وَ کُلْ مِمَّا یَلِیْکَ‘‘کے الفاظ ہیں۔
    2
    :
    صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ باب ما یذکر فی الصدقۃ للنبی و اٰلہٖ
    3
    :
    کنز العمال۔ جلد16 صفحہ461۔کتب التراث العلمی حلب 1977ء
    4
    :
    کنز العمال۔ جلد16 صفحہ599۔حدیث نمبر46004۔کتب التراث العلمی حلب 1977ء


    22
    روحانی جماعتیں اللہ تعالیٰ کی امداد پر انحصار رکھتی ہیں
    (فرمودہ 28ستمبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’روحانی جماعتوں کا تعلق مادیات سے نہیں ہوتا۔ روحانی جماعتیں اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ کی امداد اور اس کی نُصرت پر انحصار رکھتی ہیں۔جب کبھی بھی روحانی کہلانے والی جماعتیں مادی اشیاء پر نظر کرتی ہیں اور ان سے اُمید رکھتی ہیں تو اُن کی طاقت کمزور ہو تی چلی جاتی ہے اور جب کبھی بھی وہ خداتعالیٰ پر نظر رکھتی ہیں اور اُس پر توکّل رکھتی ہیں تو اُن کی روحانی طاقت کے علاوہ مادی طاقت بھی ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔
    مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبدالحمید جو۔ترکوں کے بادشاہ تھے اور عارضی طور پر اُن کے زمانہ میں مسلمانوں کو بھی ترقی ہوئی اُس کی ایک بات مجھے بہت پسند ہے۔ جب ملک کی نوجوان پارٹی نے انہیں معزول کر کے اپنا سکّہ جما لیا تو اردگرد کی حکومتوں نے ترکی حکومت کو کمزور کر دیا۔ عرب لوگ بھی بدظن ہو گئے کیونکہ سلطان عبدالحمید کا سلوک اُن سے اچھا تھا۔ ان سے پہلے عرب شاکی تھے کہ تُرک ان سے اچھا سلوک نہیں کرتے۔ سلطان۔عبدالحمید نے انہیں تعلیم دلانا شروع کی، انہیں کالجوں میں تعلیم دلوا کر فوجی اور دوسرے اہم۔کاموں پر لگایا اور ترکی حکومت میں انہیں داخل کرنا شروع کیا۔ ترک سمجھتے تھے کہ سلطان عبدالحمید عربوں کو آگے لا کر ترکوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس لیے ان کی یہ پالیسی درست نہیں۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبدالحمید بہت اچھا آدمی تھا اور اُس کی ایک بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ ایک جنگ کے متعلق جو شاید یونان والی جنگ تھی یا کوئی اَور حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جب اُس کے آثار پیدا ہوئے تو سلطان۔عبدالحمید نے تمام وزراء اور بڑے افسروں کی ایک کانفرنس بلائی کہ اس صورتِ حالات میں تُرکی حکومت کو دب کر صلح کر لینی چاہیے یا جنگ کرنی چاہیے۔ ترکی کے بعض جرنیل یورپین حکومتوں کے خریدے ہوئے تھے، وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ یہ کہنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے کہ ہم جنگ کے لیے تیار نہیں۔ جب سلطان عبدالحمید نے اُن سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے کہا فلاں چیز بھی ٹھیک ہے، فلاں چیز بھی ٹھیک ہے لیکن فلاں خانہ خالی ہے۔ اس طرح انہوں نے چاہا کہ وہ ملک اور بادشاہ کے سامنے نیک نام ہو جائیں کہ انہوں نے جنگ کے خلاف مشورہ نہیں دیا بلکہ سب حالات بتا کر سلطان عبدالحمید پر یہ بات چھوڑ دی ہے۔ اصل مطلب یہ تھا کہ بعض کمزور پہلو دیکھ کر وہ خود ہی لڑائی نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔ سلطان عبدالحمید نے اُن کا مشورہ سن کر جواب دیا کہ سارے کام انسان ہی نہیں کرتا خداتعالیٰ بھی کچھ کام کرتا ہے۔ اگر آپ نے سب خانے پُر کر دیئے ہیں اور صرف ایک خانہ خالی ہے تو وہ خداتعالیٰ پر چھوڑ دو اور جنگ لیے تیار ہو جاؤ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت گرے ہوئے زمانہ میں بھی مسلمان توکّل سے خالی نہیں تھے اور یہ واقعہ یونانی جنگ کا ہے اور غالباً یہ اسی سے متعلق ہے۔ تو اس میں ترکوں کو اتنی شاندار فتح حاصل ہوئی کہ تمام یورپ حیران رہ گیا اور وہ ترکی حکومت میں دخل دینے سے کترانے لگا۔
    حقیقت یہی ہے کہ سارے کام بندے نہیں کرتے کچھ کام خداتعالیٰ بھی کرتا ہے۔ ہمارے اور دوسرے مذاہب کے درمیان یہی لڑائی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ زندہ ہے اور وہ انسان کے کاموں میں اُسی طرح دخل دیتا ہے جیسے وہ پہلے دیا کرتا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان کی سب تدابیر ناکام ہو جاتی ہیں اور وہ خداتعالیٰ کی طرف رُخ کرتا ہے تو اسے باوجود ظاہری سامان نہ ہونے کے کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔ نپولین نے کتنی تیاریاں کی تھیں، قیصر نے کتنی تیاریاں کی تھیں، مسولینی۔نے کتنی تیاریاں کی تھیں لیکن وہ ناکام ہوئے۔ انورپاشا اور اُس کی پارٹی نے کتنی تیاریاں کی تھیں لیکن وہ ناکام ہوئے اور ایک دھتکارا ہوا شخص مصطفٰی کمال پاشا آگے آگیا۔ بیشک وہ بھی دیندار نہیں تھا لیکن انورپاشا پر یہ الزام تھا کہ اُس نے ایسے بادشاہ کو جس کے زمانہ میں اسلام نے ترقی کی تھی معزول کیا۔ مصطفٰی کمال پاشا کا یہ قصور نہیں تھا۔ اُس نے بیشک خلافت کو توڑا لیکن اس نے اس خلافت کو توڑا جس نے پہلے سے قائم۔شدہ خلافت کو برخواست کیا تھا اور اس کا مقابلہ کیا تھا۔ اس لیے وہ باغی سے مقابلہ کرنے والا کہلاتا ہے۔ دراصل اس آخری زمانہ میں جو خلافت تھی یہ اصل خلافت نہیں تھی۔ اصل خلافت خلفائے راشدین والی خلافت ہی تھی۔ سارے مسلمان متفق ہیں کہ خلافت راشدہ حضرت۔علیؓ پر ختم ہو گئی ہے۔ بیشک بعد میں آنے والے بادشاہوں کو بھی خلفاء کہا گیا لیکن وہ خلفائے۔راشدین نہیں تھے۔ وہ اِس بات سے ڈرتے تھے کہ اگر بادشاہ کو خلیفہ نہ کہا تو پکڑے جائیں گے۔ اس لیے انہوں نے پہلی خلافت کو خلافت راشدہ کا نام دے دیا اور اس طرح بادشاہوں کا منہ بند کر دیا۔ غرض عام بادشاہوں کو خلیفہ ہی کہا جاتا تھا لیکن جس خلافت کا ذکر قرآن کریم میں ہے وہ مسلمانوں کی اصطلاح میں خلافتِ راشدہ کہلاتی ہے اور اِس بات پر سارے مسلمان متفق ہیں کہ خلافتِ راشدہ حضرت علیؓ پر ختم ہو چکی ہے۔ ہاں! اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نئے سرے سے قائم ہوئی ہے۔ لیکن یہ خلافت روحانی ہے دنیوی سلطنت کا اِس سے کوئی تعلق نہیں۔ چونکہ مصطفٰی کمال پاشا نے ایک باغی کا مقابلہ کیا اِس لیے وہ جیت گیا اور انورپاشا اور اُس کی پارٹی ہار گئی۔ اس نے تُرکی کی پہلی حکومت کو جس میں اسلام کو کچھ نہ کچھ ترقی ہوئی تھی تنزل نہیں ہوا تھا توڑنا چاہا۔ اس لیے خداتعالیٰ نے اُسے توڑ دیا۔ مصطفٰی کمال پاشا نے اس حکومت کو دوبارہ کھنڈرات سے قائم کیا۔ پھر اس کا نام خلافت نہیں رکھا۔ اس نے ایک دنیوی۔حکومت قائم کر دی جو انورپاشا کی حکومت سے زیادہ بہتر، مضبوط اور تُرکوں اور عربوں کے لیے مضبوطی کا موجب تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُس کی مدد کی۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے مواقع پر ہر ایک کی مدد کیا کرتا ہے۔ جن لوگوں نے انگریزی تاریخیں پڑھی ہیں اور پھر سارے جھگڑوں کا مطالعہ کیا ہے جو پہلی جنگِ عظیم میں چرچل اور دوسرے وزراء میں پڑ گئے تھے وہ جانتے ہیں کہ دراصل چرچل ہی تُرکی میں فوج اتارنے کا ذمہ دار تھا۔ انگریزی حکومت نے ترکی میں فوجیں اتار دیں۔ تُرکی نے اُن کا مقابلہ کیا اور پھر یونانیوں کو جن کو اتّحادیوں نے تُرکی کے ملک پر قابض کر دیا تھا گاجرمولی کی طرح کاٹ دیا۔
    غرض انور اور مصطفٰی کمال سے دو الگ الگ سلوک بتاتے ہیں کہ سلطان عبدالحمید کے ساتھ ایک حد تک خدائی مدد تھی۔ بیشک وہ روحانی بادشاہ نہیں تھا وہ ایک دنیوی بادشاہ تھا لیکن اُس نے اسلام کی خدمت کی۔ اس لیے اُس نے خداتعالیٰ کے فضل کو کھینچ لیا۔ اس نے اسلام کی سچے دل سے مدد کی تو خداتعالیٰ نے بھی اُس کی مدد کی اور ایک طاقت ور دشمن کے مقابلہ میں اسے فتح عطا فرمائی۔
    پاکستان کے بننے میں بھی خدائی طاقت کا دخل تھا۔ جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے کہ اپریل 1947ء سے پہلے ہماری یہ خواہش تھی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا آپس میں سمجھوتہ ہو جائے لیکن غیب کا علم خداتعالیٰ ہی کو تھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں جب صلح ہو جائے گی تو ان میں محبت اور پیار پیدا ہو جائے گا اس لیے ہندو مسلمانوں پر ظلم نہیں کریں گے۔ لیکن خداتعالیٰ جانتا تھا کہ خواہ کچھ کر لو یہ قوم اسلام کی دشمنی سے باز نہیں آئے گی، اس لیے اس نے ایسی تدبیر کی اور ایسے جھگڑوں کے سامان پیدا کر دیئے کہ جن سے مسٹر محمدعلی جناح صاحب جو بعد میں قائداعظم کہلائے اُن کے دل میں یہ بات راسخ ہو گئی کہ ہندو مسلمانوں سے صلح پر تیار نہیں۔ چنانچہ مئی میں جا کر یہ بات کھل گئی کہ ہندوؤں سے صلح بیکار ہے پاکستان ضرور بنے گا۔ بیشک عقلی طور پر ہم کہتے تھے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح ہو جانی چاہیے اور اس طرح ملک کو متحد رہنا چاہیے لیکن خداتعالیٰ عالم الغیب تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہماری رائے درست نہیں۔ مسلمانوں کو بالجبر ہندو بنایا جائے گا اور سومناتھ مندر1 کی دوبارہ تعمیر ہو گی۔ اس لیے خداتعالیٰ نے پسند نہ کیا کہ اُس کے بندے کعبہ کی بجائے سومناتھ کے آگے جھکیں اُس نے پاکستان قائم کروا دیا۔ اور پھر ایسے حالات میں پاکستان قائم کروا دیا کہ لارڈماؤنٹ بیٹن جو اِس تمام واقعہ کا ذمہ دار ہے اور ایک ایسا شخص ہے جس کی گردن پر لاکھوں مسلمانوں کے قتل کا گناہ ہے جب مشرقی پنجاب کے لوگ مارے گئے ہندو تمام روپیہ لے کر ہندوستان چلے گئے، ملکی صنعت پر ہندوؤں نے قبضہ کر لیا تو اس نے کہا خدایا! میں یہ تو جانتا تھا کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ اتنی جلدی ٹوٹ جائے گا لیکن خداتعالیٰ نے اُس کو شرمندہ کیا۔ اب اُسے یورپین شطرنج کی چالوں میں موقع دیا جاتا ہے لیکن مسلمان جب اُس کا نام سنتے ہیں تو اس کے حق میں دعائیں نہیں کرتے۔ جس شخص کے افعال۔کی۔وجہ سے لاکھوں مسلمان مارے گئے خداتعالیٰ نے اپنے فضل سے ہی اُسے ناکام کیا۔ بہرحال یہ۔خدائی۔فعل ہے اور اِس کا نتیجہ نظر آتا ہے۔
    میں جب دہلی گیا تو اچھے اچھے ہندو جن کے متعلق میں یہ اُمید نہیں کرتا تھا کہ وہ اِس قدر متعصب ہوں گے انہوں نے بھی تعصب سے کام لیا۔ ایک ہندو لیڈر کے پاس جن کا میں نام لینا نہیں چاہتا میں نے بعض ہندو بھجوائے اور انہیں کہا اُسے سمجھاؤ۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے پوچھا اُس نے کیا کہا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جب ہم نے اُس سے بات کی تو اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اِس سے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اگر ہندو مسلمانوں سے مل بھی گئے اور انہوں نے صلح کر لی تب بھی کوئی فائدہ نہیں۔ اب دیکھ لو جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر انسان حیران ہو جاتا ہے کہ اس سے زیادہ صلح کس طرح کی جائے؟ حقیقت یہی ہے کہ جیسا کہ رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے ہندوؤں نے سینکڑوں مسلمانوں کو بالجبر ہندو بنا لیا ہے۔ اِس سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن اِس سے یہ پتا لگتا ہے کہ اگر مسلمان اِس دھوکا میں رہتے کہ ہندوؤں کو کچھ دے دلا کر راضی کر لیا جائے تو یہ نہایت خطرناک خیال تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور مسلمانوں کو وقت پر یہ سمجھ آ گئی کہ اگر وہ ہندوستان میں شامل رہے تو ان کا محفوظ رہنا مشکل ہے۔ پاکستان بننے سے مسلمان کچھ بچا ہے۔ میں ’’کچھ بچا ہے‘‘ اس لیے کہتا ہوں کہ بہت سے مسلمان ہندوستان میں ابھی بسے ہوئے ہیں۔ ہندو منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم پاکستان سے جنگ کرنا نہیں چاہتے لیکن اُن کے اخبارات میں بعض نظمیں میں نے پڑھی ہیں کہ ہم نے کوئٹہ تک جانا ہے۔ دشمن بیشک کچھ کہے لیکن ان کے اخبارات سے جو کچھ پتا لگا ہے اور انگریزی اخباروں سے بھی اس بات کا پتا لگتا ہے کہ امرتسر کے ہزاروںہزارہندو بھاگ گئے ہیں۔ بیشک یہ افراد کی حرکتیں ہیں لیکن ہمیں نظر آتا ہے کہ اگر مسلمانوں نے بے غیرتی کو چھوڑ دیا اور تفرقہ بازی سے کام نہ لیا جیسا کہ احراری اور دوسرے بعض مسلمان کر رہے ہیں اور اگر مسلم لیگ نے ان کو سر پر نہ چڑھائے رکھا تو جس خدا نے ان کو پہلے مدد دی تھی وہ اب بھی انہیں نہیں چھوڑے گا۔ اگر انہوں نے ملک میں کوئی نیا فتنہ کھڑا نہ کیا تو خداتعالیٰ یقیناً اس ملک کی مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے مدد کی۔ پہلی مدد کیسی زبردست تھی کہ کام کرنے والے لوگ ہندوستان چلے گئے، سارا سامان اور مال ودولت ہندوستان کے حصہ میں آ گئی۔ پاکستان کی فوجیں جو اس کے حصہ میں آئیں وہ ہزاروں میل ملک سے دور بیٹھی تھیں، خزانے خالی تھے اور مہاجرین کا سیلاب اُمڈا ہوا پاکستان کی طرف آ رہا تھا۔ اِس قسم کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کوئی قوم اِس قسم کے حالات سے نکل آئی ہو اور اُس نے حکومت کی ہو اور پھر ایسی حکومت کی ہو کہ دوچارسال میں وہ بیرونی دنیا میں مشہور ہو گئی ہو۔ میں نے تاریخ پر غور کیا ہے مجھے کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ اِس قسم کے حالات میں کوئی قوم زندہ رہی ہو اور پھر اُس نے نہ صرف حکومت کی ہو بلکہ تمام بیرونی دنیا میں مشہور ہو گئی ہو۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ خداتعالیٰ نے انبیاء کی جماعتوں کی بہت کم مدد کی ہے۔ وہ مدد جو خداتعالیٰ نے انبیاء اور اُن کی جماعتوں کی کی، وہ نہایت عالیشان تھی لیکن وہ دنیوی وجوہ پر نہیں تھی وہ دینی وجوہ پر تھی۔ غرض ایک دنیوی حکومت کا اِن حالات میں بچ جانا جن سے پاکستان گزرا ہے، پھر اس کا ترقی کرنا اور عزت حاصل کر لینا کوئی معمولی بات نہیں۔ پھر اس نے یہ ترقی تین چارسال میں کر لی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کا اِس میں کتنا ہاتھ تھا۔
    جماعت احمدیہ جن حالات سے گزر رہی ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کے خداتعالیٰ سے کس قدر تعلقات تھے۔ آپ تنہا تھے پھر ہزاروں ہو گئے اور پھر ہزاروں سے لاکھوں ہو گئے۔ پھر جس حالت میں جماعت چل رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت لاکھوں سے کروڑوں ہو جائے گی۔ یہ معجزے جن لوگوں کے کام نہیں آئے وہ یہی بات دیکھ لیں کہ اگر پاکستان طاقت کے زور سے بنتا تو یہ ناممکن تھا۔ لاکھوں آدمی مارا جا رہا تھا، گولہ۔بارود ہندوستان میں رہ گیا تھا، خزانہ خالی تھا، فوجیں باہر تھیں۔ ان حالات میں وہ کونسی طاقت تھی جس کے زور سے پاکستا ن بنا؟ روپیہ اُدھر تھا، سامانِ جنگ اُدھر تھا، کام کرنے والے اُدھر چلے گئے، دس بیس لاکھ کے قریب آدمی مارے گئے یہ صرف خدائی طاقت تھی جس کی وجہ سے پاکستان کا رُعب پڑ گیا۔ جب بھی ہندوستان نے بُرا ارادہ کیا خداتعالیٰ نے اُس پر رُعب ڈال دیا اور اُس نے کہا کہ اب نہیں پھر سہی۔ پھر جب ارادہ کیا کہ پاکستان پر حملہ کیا جائے تو پھر رُعب پڑ گیا اور انہوں نے کہہ دیا اَب نہیں پھر سہی۔ گو اَب بھی سامان تھوڑے ہیں لیکن چارسال تک پاکستان کا قائم رہنا اور بیرونی دنیا میں اس کا مشہور ہو جانا اس میں خداتعالیٰ کا ہاتھ ہے۔ خداتعالیٰ جس کی نُصرت پر آتا ہے کوئی طاقت اُس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ پس اگر دنیوی امور میں وہ اس طرح مدد کرتا ہے تو وہ دینی باتوں میں کس طرح مدد کرے گا۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں دعاؤں کی طرف توجہ بہت کم ہو گئی ہے۔ دعاؤں کی ایک رسم پڑ گئی ہے لیکن دل میں اس کا کوئی اثر نہیں رہا۔ رسماً سب لوگ یہی کہیں گے ہمارے لیے دعا کرنا لیکن۔وہ۔یہ نہیں سمجھیں گے کہ وہ کس کو دعا کے لیے کہہ رہے ہیں اور وہ ان کے لیے دعا بھی کرے گا یا نہیں۔ پھر اس کا ان کے اپنے دل پر کیا اثر ہے۔
    پس راتوں کو اٹھو، خداتعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکساری کرو، پھر یہی نہیں کہ خود دعا کرو بلکہ یہ دعا بھی کرو کہ ساری جماعت کو دعا کا ہتھیار مل جائے۔ ایک سپاہی جیت نہیں سکتا جیتتی فوج ہی ہے۔ اس طرح اگر ایک فرد دعا کرے گا تو اُس کا اتنا فائدہ نہیں ہو گا جتنا ایک جماعت کی دعا کا فائدہ ہو گا۔ تم خود بھی دعا کرو اور پھر ساری جماعت کے لیے بھی دعا کرو کہ خداتعالیٰ انہیں دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہر احمدی کے دل میں یقین پیدا ہو جائے کہ دعا ایک کارگر وسیلہ ہے اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔جماعت کے سب افراد میں ایک آگ سی لگ جائے، ہر احمدی اپنے گھر پر دعا کر رہا ہو پھر دیکھو کہ خداتعالیٰ کا فضل کس طرح نازل ہوتا ہے ‘‘۔
    (الفضل 17 نومبر 1951ئ)
    1
    سومنات، سومناتھ:جنوب مغربی ہندوستان کے علاقہ گجرات میں ایک شہر کانام جو کاٹھیا واڑ کے کنارے پر واقع ہے اس میں شیو جی یا مہادیو کا مندر سومناتھ بہت مشہور ہے ۔ عہد قدیم میں ہندوستان میں بڑا اہم اور اپنی دولت کی فراوانی کی وجہ سے مشہور تھا ۔ 1024ء میں محمود غزنوی نے اس شہر پر حملہ کرکے اسے فتح کیا۔ مندر کے بت کو توڑا جس میں سے بے شمار جواہرات نکلے۔ شہر کانام اِسی مندر کے نام پر پڑا۔(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد12اردو لغت بورڈ کراچی سن اشاعت جنوری1991ئ)


    23
    سچا علم انساان کو بتا دیتا ہے کہ اس سے بالا
    ایک اَور علیم و حکیم ہستی ہے اور وہ خداتعالیٰ ہے
    (فرمودہ 5؍اکتوبر1951ء بمقام سرگودھا)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’انسانی کاوش اور انسانی تحقیق ہمیشہ ایک حد تک انسان کو لے جاتی ہے۔ اس سے آگے صرف خداتعالیٰ کا ہاتھ ہی کام کرتا ہے اور تمام علوم، سائنس اور طبیعات جو ہیں وہاں جا کر بالکل فیل ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے علماء پیدا ہوتے ہیں، بڑی بڑی ایجادیں ہوتی ہیں، تحقیقاتیں ہوتی ہیں حتّٰی کہ جاہلوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب رازِکائنات کھلنے والا ہے لیکن جو عالم اور ماہر بھی ہوئے انہوں نے اِس زمانہ میں بھی یہی کہا ہے کہ رازِکائنات کھل نہیں رہا بلکہ مزید رازہائے کائنات معلوم ہو رہے ہیں۔ ایٹم۔بم جب نکلا تو لوگوں نے کہا اب ذرّہ کے ٹوٹنے کا طریق چونکہ معلوم ہو چکا ہے اور یہ چھوٹے سے چھوٹاذرّہ جس سے نیچے کوئی چیز انسانی فہم اور انسانی ذہن میں نہیں آ سکتی اس لیے کائنات کی کُنہہ معلوم ہو گئی اور اس کی حقیقت کو پا لیا گیا۔ لیکن جب انسان یہ نہیں جانتا کہ۔کائنات کس طرح بنی ہے یا وہ کیوں بنی ہے تو اس نے اس کی کُنہہ کو کس طرح معلوم کر لیا اور۔اس۔کی۔حقیقت کو کس طرح پا لیا۔
    بعض لوگوں نے کہا ہے چونکہ ذرّہ کو توڑ کر اس سے طاقت حاصل کرنے کا طریق نکل آیا ہے اور اس بات کا زبردست امکان پیدا ہو گیا ہے کہ ذرّہ کو توڑنے سے اتنی طاقت پیدا ہو جائے گی کہ وہ آگے دوسرے ذرّہ کو توڑے گا، پھر وہ تیسرے کو توڑے گا، پھر چوتھے کو توڑے گا۔ اس طرح قیامت کا ایک ذریعہ نکل آیا ہے۔ لیکن 1945ء میں پہلا ایٹم۔بم چلایا گیا تھا ایجاد وہ اس سے بہت دیر پہلے کا ہو چکا تھا۔ اب 1951ء آ گیا ہے۔ گویا چھ سال گزرنے کے بعد بھی رازِقدرت ویسے کا ویسا ہے اور اس عرصہ میں انسان قیامت برپا نہیں کر سکا ہے۔ رازِقدرت کو معلوم تو تبھی کیا جا سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ ذرّہ کی حقیقت کیا ہے۔ لیکن ہوا یہ ہے کہ بعض اَور باتیں پیدا ہو گئی ہیں جن کا پہلے انسان کو وہم وگمان بھی نہیں تھا۔ اب جب وہ سامنے آ گئی ہیں تو انسان حیران ہو گیا ہے کہ یہ کس طرح ہے؟
    ہمارے ایک نوجوان ابھی ابھی تعلیم حاصل کر کے انگلستان سے واپس آئے ہیں۔ انہوں نے وہاں ایسی عزت حاصل کی ہے کہ امریکہ نے بھی انہیں بلایا اور وہاں انہیں تین مہینوں تک بڑے بڑے پروفیسروں کے ساتھ رکھا گیا۔ وہ ایٹم سے متعلق ایک مسئلہ کی تحقیقات کر کے آئے ہیں۔ میں نے ان سے اس بارہ میں بات چیت کی تو انہوں نے بتایا کہ قانونِ قدرت میں بعض اعداد کُنجی کے اعداد معلوم ہوئے ہیں اور بعض تابع اعداد ہیں۔ جب انسانی عقل اس عدد پر پہنچ جاتی ہے یا کوئی طاقت اس عدد کو پہنچ جاتی ہے تو وہ کنجی والی طاقتیں اپنے اندر پیدا کر لیتی ہے اور جب وہ اس کنجی والے عدد سے آگے یا پیچھے ہٹ جاتی ہے تو کنجی والی طاقتیں اس سے جاتی رہتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بتایا کہ چار کا عدد کنجی والا عدد ہے۔ میں نے سوچا کہ میرے زمانہ میں مُنجِّم اور اِس قسم کے دوسرے لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ سات کے عدد میں یہ برکت ہے، دس کے عدد میں یہ برکت ہے، انیس کے عدد میں یہ برکت ہے۔ اب سائنس بھی انہی اعداد پر آرہی ہے۔ ہمارے اس نوجوان نے بتایا کہ اب تحقیقات مکمل ہو رہی ہیں اور زائد باتیں بھی معلوم ہو رہی ہیں۔ میں نے کہا تم یہ تو بتاؤ کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ چار کا عدد کنجی والا عدد ہے یا کوئی اَور عدد کنجی والا ہے؟میں نے کہا یہ تو ایک اتفاقی امر ہے۔ جب آپ نے کسی عدد میں کوئی طاقت دیکھی تو لکھ لیا۔ رازِ۔قدرت تو تب معلوم ہو جب یہ معلوم ہو کہ چار کے عدد میں یہ طاقت کیوں پیدا ہوئی ہے؟ یہ تین اور پانچ کے اعداد میں کیوں پیدا نہیں ہوئی؟ انہوں نے بتایا کہ یہ بات اب تک معلوم نہیں ہوئی اور نہ قریب میں اِس کے معلوم ہونے کا امکان ہے کہ بعض اعداد میں کیوں طاقت پائی جاتی ہے اور بعض میں کیوں طاقت نہیں پائی جاتی۔ میں نے کہا جب تک تم یہ معلوم نہ کر لو تمہیں رازہائے کائنات کس طرح معلوم ہو سکتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں بتاتی ہیں کہ انسان کو آخرکار خداتعالیٰ کی طرف جانا پڑتا ہے اور وہ اس کی برتری کو تسلیم کرتا ہے۔
    میں نے سوچا کہ انسان کی مثال اُس گھوڑے کی سی ہے جس کو سو، دوسوگز رَسّی کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔ وہ اٹھتا ہے اور چرنا شروع کر دیتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور وہ بِدک کر یا دَبَک کر یاکسی اپنے خیال کے ماتحت دوڑنے لگتا ہے اور سو، ڈیڑھ۔سو گز تک پہنچ کر جس قدر لمبی وہ رَسّی ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا ہے اُس کے گلے میں پھندا پڑنا شروع ہو جاتا ہے اِس لیے وہ واپس آ جاتا ہے اور اِتنا ڈر جاتا ہے کہ کِیلے کے ساتھ ہی بیٹھ جاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر بھول جاتا ہے اور چلنے پھرنے لگتا ہے۔ اُسے یہ خیال آتا ہے کہ میں آزاد ہوں اس لیے وہ پھر دوڑنے لگتا ہے۔ لیکن کچھ فاصلہ پر جا کر اُس کے گلے میں پھندا پڑنا شروع ہو تا ہے اور وہ واپس آکر کِیلے کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔ یہی حال کائناتِ۔عالَم کا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اُس نے بڑے بڑے علوم حاصل کر لیے ہیں لیکن وہ اظلال علوم ہوتے ہیں۔
    میں سمجھتا ہوں کہ علم اِس چیز کا نام ہے کہ کسی چیز کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ کیا ہے، کیوں ہے اور کہاں ہے؟ اور یہ علم صرف خداتعالیٰ کو ہی ہے۔ جب کسی انسان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ یہ چیز کیوں ہے، کہاں ہے، کس طرح ہے؟ تو بسااوقات وہ لڑ پڑتا ہے اور اُسے غصّہ آ جاتا ہے۔ بچے ماؤں پر سوال کرتے ہیں۔ بچہ اپنی ماں سے پوچھتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ وہ کہتی ہے یہ گھوڑا ہے۔ وہ کہتا ہے گھوڑا کیا ہوتا ہے؟ ماں کہتی ہے ایک جانور ہے۔ وہ پھر پوچھتا ہے جانور کیا ہوتا ہے؟ ماں کہتی ہے جانور وہ ہوتا ہے جو چلتا پھرتا ہو۔ بچہ پھر سوال کرتا ہے وہ کیوں چلتا پھرتا ہے؟ تو وہ اُس کے منہ پر تھپڑ مارتی ہے اور۔کہتی ہے چُپ کر! تُو نے تو میرے کان کھا لیے ہیں۔ ماں بچے کو اس کی بیوقوفی پر تھپڑ نہیں مارتی بلکہ وہ اپنی جہالت کی وجہ سے اُسے تھپڑ مارتی ہے۔ یہی حال محققین کا ہے، یہی حال پروفیسروں اور بڑے بڑے سائنس۔دانوں کا ہے۔ جب ان پر کوئی شخص سوال کرتا ہے کہ فلاں چیز کیوں ہے؟ کیا ہے؟ کدھر سے ہے؟ کدھر کو ہے؟ تو تھوڑے سے جواب کے بعد ان کا علم ختم ہو جاتا ہے اور یہ چیز واضح ہو جاتی ہے کہ ان کا علم اصلی نہیں۔ اصلی علم ایک ہی ہستی کو حاصل ہے اور وہ خداتعالیٰ ہے۔
    بعض بیوقوف ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ خداتعالیٰ پر بھی اس قسم کے اعتراضات شروع کر دیتے ہیں کہ وہ کیوں ہے؟ کیا ہے؟ کدھر سے ہے؟ کدھر کو ہے؟ لیکن جو انسان اپنی ذات کے متعلق نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ وہ اُس ہستی کے متعلق کیا جانے جس کے ہاتھ میں سب علوم ہیں۔ انسان خود نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کیوں ہے؟ مردعورت سے ملتا ہے اور اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات عورت اور مرد بیس بیس دفعہ آپس میں ملتے ہیں اور اِس کے نتیجہ میں بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ پھر ایک خاص وقت میں وہ کیوں پیدا ہو جاتا ہے؟ اِسی طرح مردوعورت کے اعضاء کے متعلق سوال کیا جائے تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسان مجبور ہو جاتا ہے اور کہتا ہے مجھے اِسی حد تک معلوم ہے۔ غرض جب۔تک یہ معلوم نہ ہو کہ فلاں چیز کیا ہے؟ کس طرح ہے؟کیوں ہے،؟کدھر سے ہے؟ کدھر کو ہے؟ اُس وقت تک اس کی حقیقت معلوم نہیں ہو سکتی۔
    جہاں تک میں سمجھتا ہوں سچے علم کے یہی معنے ہیں کہ وہ انسان پر اُس کی حقیقت اور جہالت کو واضح کر دے۔ سچا علم انسان کو بتا دیتا ہے کہ اُس سے بالا ایک اَور علیم وحکیم ہستی ہے اور وہ اُس کی مدد کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا۔ جو علم یہ چیز بتا دیتا ہے وہ سچا ہے۔ لیکن جو شخص یہ نہیں جانتا کہ اُس سے بالا کوئی اَور علیم اور حکیم ہستی ہے اور پھر وہ کہتا ہے میں فلاں چیز کی حقیقت کو پہنچ گیا ہوں وہ جھوٹا ہے۔ یہی پہچان ہے عالم اور غیرعالم کی۔ جب ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ اُس سے بالا ایک اَور ہستی بھی ہے خواہ یہ سمجھ عارضی طور پر ہو یا مستقل طور پر، اُسے منبع کا پتاچل جاتا ہے اور وہ اس سے فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔ کنویں کا سارا پانی کوئی نہیں نکال سکتا لیکن اگر کسی کو ایک گلاس پانی بھی مل جائے تو اُس کی پیاس بُجھ جاتی ہے۔ اِسی طرح انسان سارے رازہائے کائنات کو نہیں پہنچ سکتا لیکن اگر اُسے ایک قطرہ بھی اس سمندر سے مل جائے تو بڑے فائدہ کی چیز ہے بجائے اِس کے کہ وہ ایسی حالت میں ہو جو دُبدَھا1 اور۔شک میں ڈال دیتی ہے‘‘۔ (غیرمطبوعہ مواد۔ ازریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)

    1
    :
    دُبْدَھا:تذبذب۔ شک۔ پس و پیش ۔ گھبراہٹ۔ وہم ۔وسوسہ(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)

    24
    اپنی پیدائش کی اصل غرض کو سمجھو
    اور اللہ تعالیٰ سے سچا۔اور۔حقیقی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرو
    (فرمودہ 12؍اکتوبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’دنیا میں بعض چیزیں اصلی اور حقیقی ہوتی ہیں اور بعض صرف تابع اور خادم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اصلی اور حقیقی چیزوں کو اپنے سامنے رکھنا اور تابع حیثیت رکھنے والی چیزوں کو اپنا اصل مقصود قرار نہ دینا ایک مومن کی علامت ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ اس اصل کو اپنے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر۔اَور۔لوگ اپنی عملی زندگی میں حقیقی اہمیت رکھنے والی چیزوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور تابع حیثیت رکھنے والی چیزوں کو اختیار کر لیتے ہیں۔ مثلاً ہر شخص اس بات کو جانتا ہے کہ دنیا خداتعالیٰ نے پیدا کی ہے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا اپنا اصل مقصد قرار دیتے مگر وہ خداتعالیٰ سے تو تعلق پیدا نہیں کرتے اور دنیا کے حصول کے لیے جو ایک مادی چیز ہے ہر وقت جہدوجہد کرتے رہتے۔ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ زمین سے سونا نکالے یا زمین۔سے۔چاندی نکالے یا زمین سے ہیرے جواہرات نکالے اور پھر اسی کام میں منہمک ہو جائے بلکہ۔اسے۔اس۔لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک سے تعلق پیدا کرے اور تمام چیزوں کو اپنا خادم سمجھے۔ مگر باوجود اِس کے کہ دنیا انسان کے لیے خادم کی حیثیت رکھتی ہے اور اصل چیز خداتعالیٰ کا وجود ہے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اپنی تمام عمر اس کے حصول کے لیے صَرف کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اُن کا اِس دنیا میں بھیجا جانا کسی خاص مقصد کے ماتحت تھا اور یہ دنیا محض ان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی تھی۔ پھر جس دنیا کے حصول کے لیے وہ رات دن کوشاں رہتے ہیں وہ اپنی ذات میں اتنی بڑی ہے کہ ساری عمر کی تگ و۔دَو کے باوجود بھی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اُس پر حاوی ہو چکا ہے۔
    یہ میرے ہوش کے زمانہ کی بات ہے کہ سائنسدانوں نے کہا کہ وسعتِ عالَم کا اندازہ چھ ہزار سالوں کے برابر ہے۔ رورشنی کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ اَسّی ہزار میل ہوتی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ایک لاکھ اَسّی ہزار کو ساٹھ سے ضرب دی جائے تا کہ ایک منٹ کی رفتار کا اندازہ ہو سکے۔ پھر حاصلِ۔جواب کو دوبارہ ساٹھ سے ضرب دی جائے تا کہ ایک گھنٹہ کی رفتار کا اندازہ ہو سکے۔ پھر چوبیس سے ضرب دی جائے تا کہ ایک دن کی رفتار کا اندازہ ہو سکے اور پھر حاصلِ۔جواب کو چھ ہزار سے ضرب دی جائے تب اِس عالَم کی وسعت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اِس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ہماری یہ دنیا تمام عالَم کے مقابلہ میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتی جتنی ہماری دنیا کے مقابلہ میں ایک چھوٹی سی پہاڑی کی حیثیت ہوتی ہے۔ لیکن اب نئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وسعتِ۔عالَم کا یہ اندازہ کہ وہ روشنی کے ہزارسالوں کے برابر ہے بالکل غلط ہے۔ وُسعتِ۔عالَم روشنی کے چھتّیس ہزار سالوں کے برابر ہے۔ گویا پہلے اندازہ سے چھ گُنا زیادہ ہو گیا۔ پھر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دنیا پھیلتی چلی جا رہی ہے اور آخر ایک دن پھیلتے پھیلتے تباہ ہو جائے گی۔ اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا پھیلنے کے بعد پھر سمٹے گی اور سمٹ کر تباہ ہو جائے گی۔ گویا کوئی تو قیامت کو اِس کے پھیلاؤ کے ساتھ وابستہ قرار دیتا ہے اور کوئی اس کے سمٹنے کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔
    غرض یہ دنیا جو اِتنی وسیع ہے ہمیں سوچنا چاہیے کہ خداتعالیٰ نے اس میں انسان کو کیوں پیدا کیا ہے؟ پھر انسان کو جو طاقت حاصل ہے، جس طرح کی معلومات اسے حاصل ہیں، مادہ کی جو کیفیتیں اسے معلوم ہیں، علمِ سائنس، علمِ کیمیا، علم طبقات الارض اور باقی علوم کو جس رنگ میں وہ حاصل کر رہا ہے اُن کی بناء پر خود بھی اپنے آپ کو دنیا کاحاکم سمجھتا ہے بلکہ اب تو انسان اِس کوشش میں ہے کہ۔چاند۔تک چلا جائے۔ گویا انسان منہ سے تو نہیں لیکن اپنے عمل سے یہ ضرور کہتا ہے کہ وہ ساری کائنات پر حکمران ہے۔ پس ہمیں سوچنا چاہیے کہ خداتعالیٰ جیسی ہستی نے اتنا بڑا انسان کیوں پیدا کیا؟ ایک طرف تو انسان عالَم کی وسعت کا اندازہ لگا کر حیران ہوتا ہے اور دوسری طرف اُس کے اپنے اندر جو اُمنگیں اور ارادے اور حوصلے ہیں وہ اتنے بڑے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اصل وجود وہی ہے اور باقی سب چیزیں اس کے تابع ہیں۔ وہ صرف اس کے علم کو زیادہ کرنے اور اسے آرام پہنچانے کے لیے ہیں۔ اور قرآن کریم میں بھی یہی لکھا ہے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔1 پس جب یہ تمام دنیا انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا خداتعالیٰ نے ہمیں صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ ہم زمین سے چاندی نکالیں یا سونا نکالیں یا لوہا نکالیں یا دوسری دھاتیں جو اَب ستانوے قرار دی جاتی ہیں زمین سے نکالیں؟ یہ چیزیں تو پہلے سے ہی موجود تھیں۔ پھر خداتعالیٰ نے اِس دنیا میں انسان کو کیوں پیدا کیا؟ ایک ہی چیز ہے جو سمجھ میں آ سکتی ہے کہ خداتعالیٰ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے تا وہ اُس کے جلال اور جمال کو محسوس کرے ۔لیکن یہ چیز ہماری سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ خداتعالیٰ نے ہمیں اِس لیے پیدا کیا ہوکہ ہم زمین سے لوہا نکالیں۔ لوہا تو خداتعالیٰ نے انسان کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اُس کے لیے آسائش یا غفلت کا سامان تو ہو سکتا ہے لیکن اس کی وجہِ پیدائش نہیں ہو سکتی۔ انسان کی وجہِ۔پیدائش یہی ہے کہ وہ اللہ۔تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرے۔
    چنانچہ جب بھی کوئی رسول دنیا میں آتا ہے اس کے آنے کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کا خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کیا جائے۔ جو مذاہب دنیا سے قریباً مٹ چکے ہیں اُن کے متعلق بھی جہاں تک تاریخ سے مدد ملتی ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے پر زور دیا۔ اور جو مذاہب موجود ہیں اور اُن کا بھی یہ دعوٰی ہے اور اسلام بھی اِسی مقصد کے لیے دنیا میں آیا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ اِس کے ماننے والوں میں آہستہ آہستہ کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہونی شروع ہو گئیں اور وہ خداتعالیٰ سے منقطع ہو گئے۔ لیکن ایک ایسی جماعت جو اِس بات کی مدعی ہے کہ وہ لوگوں کی غفلتوں کو دور کرنے اور روحانیت کو دنیا میں نئے سرے سے قائم کرنے کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ اگر اس کے افراد بھی اپنی پیدائش کی غرض کو نہ سمجھیں تو یہ کیسی افسوس کی بات ہو گی۔ اگر انسان کے اندر کوئی ایسی چیز نہ ہوتی جو اُسے یہ نکتہ سمجھا سکے اور غفلت کرنے والوں کو اس طرف متوجہ کر سکے تو انسان کہہ سکتا تھا کہ مجھ پر حجت پوری نہیں ہوئی۔اگر ان مذاہب میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب زمانہ میں آئے یہ بات نہ ہوتی تو اُن کے تابعین اس غفلت کی سزا سے بچ سکتے تھے۔ اگر قرآن کریم میں یہ بات بیان نہ ہوتی تو مسلمانوں پر حجت پوری نہ ہوتی۔ لیکن جب خداتعالیٰ نے اِس چیز کو اِتنا عام کیا ہے کہ ادنیٰ۔سے۔ادنیٰ انسان کے اندر بھی یہ مادہ موجود ہے کہ وہ اِس نکتہ کو سمجھ سکے تو پھر ان لوگوں کی کیا حالت ہو۔گی جن کے پاس تازہ وحی اور الہامات موجود ہیں۔ جن میں قریب ترین عرصہ میں خداتعالیٰ کا ایک مامور مبعوث ہوا۔ وہ اِس نکتہ کو کیوں نہیں سمجھ سکتے کہ اُن کی پیدائش کا اصل مقصد کیا ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں میں سوچنے کی عادت نہیں۔ اور اگر سوچیں گے تو یہ کہ اُن کے پاس کیا کیا ڈگریاں ہونی چاہییں جن سے وہ دنیا میں ترقی حاصل کر سکیں۔ حالانکہ اصل چیز یہ ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی طرف توجہ کریں اور اُس سے دعائیں کریں باقی سب چیزیں تابع ہیں۔ باپ کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ بیٹے کا ہوتا ہے۔ اِسی طرح جو خداتعالیٰ کا ہو جاتا ہے ساری کائنات اُس۔کی۔ہو جاتی ہے۔
    ہماری جماعت کے نوجوانوں کی توجہ چونکہ اِس طرف کم ہے اس لیے میں نے آج اِس موضوع پر خطبہ پڑھا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ نوجوانوں کی توجہ نمازوں اور دعاؤں اور ذکرِالٰہی کی طرف کم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی دنیوی کوششیں دعاؤں اور نمازوں اور ذکرِالٰہی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ ان کے نزدیک دس ہزار روپے کمانا اِس سے زیادہ بہتر ہے کہ غریب آدمی رات کے اندھیرے میں خداتعالیٰ کے سامنے گر کر دعائیں مانگے حالانکہ دعا اتنی قیمتی چیز ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی نہیں کر سکتی۔ قریب زمانہ میں ہٹلر اور مسولینی گزرے ہیں۔ ان کے پاس کتنی طاقت تھی؟ پچھلی جنگ کے زمانے میں جو لوگ یہ کہتے تھے کہ انگریز ہٹلر اور مسولینی کو شکست دے دیں گے لوگ اُن پر ہنستے تھے لیکن اب وہ کہاں ہیں؟ نپولین کتنا طاقتور تھا لیکن اب وہ کہاں ہے؟ زار کے متعلق جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ؎
    زاربھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار 2
    اُس وقت اِس کی طاقت کا اندازہ لگانا بھی مشکل تھا۔ تم یورپ کی تاریخیں پڑھ کر دیکھ لو تمام تاریخیں یہی کہتی ہیں کہ زار کی طاقت 1901ء سے بڑھنی شروع ہو گئی تھی اور اِس قسم کے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ یورپین طاقتیں اِس کی وجہ سے خطرہ میں پڑ گئی تھیں۔ اس وقت حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔السلام نے فرمایا
    ؎ زاربھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار
    اور پھر زار کا جو حالِ زار ہوا وہ دنیا سے پوشیدہ نہیں۔
    پس واقعات بتاتے ہیں کہ دنیا کی طاقتیں کچھ چیز نہیں اصل چیز خداتعالیٰ کی مدد اور نُصرت ہے اور اُس کی مدد اور نصرت دعاؤں اور ذکرِالٰہی سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں کی اِس طرف کم توجہ ہے۔ لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیوی کام چھوڑ دو اور صرف ذکرِالٰہی اور دعاؤں میں لگ جاؤ۔ میں یہ کہتا ہوں کہ تم دنیوی کام بیشک کرو لیکن تمہارا اصل مقصد خداتعالیٰ کی ذات ہونی چاہیے اور دعائیں اور ذکرِالٰہی تمہارا اصل کام ہونا چاہیے۔ جو شخص دعائیں کرتا اور ذکرِالٰہی سے کام لیتا ہے اس کی قوت ِ عملیہ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ دوسروں سے زیادہ کام کرتا ہے۔ دنیا میں بعض ایسے کمانڈر بھی گزرے ہیں جنہوں نے لیٹ کر کمانیں کی ہیں اور اپنے دشمن پر غالب ہوئے ہیں کیونکہ گو اُن کے ہاتھ پاؤں نہیں ہلتے تھے مگر قوتِ۔عملیہ اُن کے اندر موجود تھی اور کامیابی کے لیے اِسی قوت کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ یہ مت خیال کرو کہ جو شخص ذکرِالٰہی اور دعاؤں کا عادی ہوتا ہے وہ دنیوی کاموں میں سُست ہو جاتا ہے۔ وہ سُست نہیں ہوتا بلکہ دوسروں سے زیادہ چُست ہو تا ہے اور اس کی طاقت بڑھ جاتی ہے کیونکہ آسمانی انوار سے اُس کی تائید ہو رہی ہوتی ہے۔
    مجھے اپنے بچپن کی ایک بیوقوفی پر ہنسی آتی ہے۔ جب میری عمر گیارہ بارہ سال کی تھی اُس وقت میری یہ کیفیت تھی کہ جب کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی سوال پوچھتا تو میرا دل دھڑکنے لگتا کہ نہ معلوم آپ اُس کے سوال کا جواب بھی دے سکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن جب آپ اُس کے سوال کا جواب دیتے تو یوں معلوم ہوتا کہ آسمان سے نور نازل ہو رہا ہے اور علوم کا ایک دریا بہہ رہا ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا کہ حضرت خلیفہ اوّل بھی بے اختیار کہہ اٹھتے کہ سُبْحَانَ۔اللّٰہِ سُبْحَانَ۔اللّٰہِ۔
    مجھے یاد ہے حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے جب آتھم سے مباحثہ ہوا اور وہ لمبا ہو گیا تو کسی شخص نے مجھ سے کہا کہ بات تو چھوٹی سی تھی مگر مباحثہ بہت لمبا ہو گیا ہے۔ میں نے کہا حضرت مرزاصاحب چاہتے تو آدھ گھنٹہ میں مباحثہ ختم کر دیتے لیکن اِس طرح اسلام کے وہ کمالات اور قرآن۔کریم کے وہ حقائق اور معارف ظاہر نہ ہوتے جو اَب ظاہر ہوئے ہیں۔ آپ سنایا کرتے تھے کہ جب آتھم کے ساتھ مباحثہ ہوا تو دورانِ مباحثہ میں پادریوں نے کچھ لُولے،لنگڑے اور اندھے خفیہ طور پر اکٹھے کر لیے اور پھر آتھم نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسیح ناصری کے متعلق آتا ہے کہ وہ اندھوں کو آنکھیں دیتے، کوڑھیوں کو اچھا کرتے اور لُولے لنگڑوں کو تندرست کر دیتے تھے۔ آپ کا بھی مسیح۔ناصری کے مثیل ہونے کا دعوٰی ہے اس لیے آئیے اور معجزہ دکھائیے۔ اندھے اور لُولے، لنگڑے یہاں موجود ہیں۔ آپ ان کو اچھا کر کے دکھا دیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہم اُس وقت حیران تھے کہ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ السلام اِس کا کیا جواب دیں گے۔ مگر جب آپؑ کی باری آئی تو آپ نے نہایت اطمینان سے فرمایا کہ میرا یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت مسیح ناصریؑ ظاہری اندھوں اور ظاہری لُولے لنگڑوں یا ظاہری کوڑھیوں کو اچھا کیا کرتے تھے بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ سب معجزات روحانی رنگ میں ظاہر ہوتے تھے۔ یعنی آپ روحانی کوڑھیوں اور روحانی اندھوں اور روحانی بہروں کو اچھا کیا کرتے تھے۔ لیکن آپ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جسمانی اندھوں اور جسمانی لولوں لنگڑوں کو آنکھیں اور ہاتھ پاؤں دیتے تھے اور ظاہری کوڑھیوں کو اچھا کیا کرتے تھے۔ دوسری طرف انجیل میں وہیںحضرت مسیح ناصری کا یہ قول نظر آتا ہے کہ اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو گا تو جیسے معجزات مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں ویسے ہی معجزات تم بھی دکھا سکتے ہو۔3 انجیل کے اِس معیار کے مطابق ہم نے یہ آزمائش کرنی تھی کہ آیا آپ لوگوں میں اتنا ایمان بھی موجود ہے یا نہیں؟ سو ہم آپ کے بہت ممنون ہیں کہ آپ اندھے، لُولے، لنگڑے اکٹھے کر کے لے آئے ہیں۔ اگر آپ لوگوں میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے تو آئیے اور حضرت مسیح ناصریؑ کی سنت پر ان اندھوں اور لنگڑوں وغیرہ کو اچھا کر دیجیے۔ آپ نے جب یہ جواب دیا تو عیسائی اُن اندھوں اور لُولوں لنگڑوں کو کھینچ کھینچ کر باہر لے گئے اور جب آپ کی تقریر ختم ہوئی تو وہ سب غائب تھے۔
    پس حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انوار اُسی شخص کو ملتے ہیں جو خداتعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے۔ پس میں نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ روحانیت کی طرف توجہ کریں اور سمجھ لیں کہ۔اُس۔وقت۔تک کوئی حقیقی ترقی نہیں ہو سکتی جب۔تک انسان خداتعالیٰ کا نہ ہو جائے۔ تم خداتعالیٰ کا مقرب بننے کی کوشش کرو تا وہ تمہارا ہو جائے اور یہ بات یاد رکھو کہ جب وہ تمہارا ہو جائے گا تو پھر کوئی چیز تمہاری ترقی کے راستہ میں روک نہیں بن سکے گی‘‘۔ (الفضل 20جون1962ئ)

    1
    :
    (لقمان:21)
    2
    :
    درثمین اُردو۔ زیر عنوان’’مناجات اورتبلیغِ حق‘‘۔ صفحہ144 مرتبہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی 1962ء
    3
    :
    متی باب 17آیات14تا21(مفہومًا)


    25
    اسلام کی صحیح تعلیم دنیا میں قائم کی جائے
    حکومت کے سوا کسی کو شرعی تعزیر دینے کا اختیار نہیں
    (فرمودہ 26؍اکتوبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’پچھلے جمعہ کو عین اُس وقت جبکہ میں جمعہ میں آنے کی تیاری کر رہا تھا مجھے بخار چڑھنا شروع ہو گیا اور سردرد بھی ہونے لگی جس کی وجہ سے میں مسجد میں نہ آ سکا۔ اس کے دوتین دن بعد نزلہ شروع ہو گیا جس کی وجہ سے بخار بھی ہو جاتا تھا۔ اب مرض میں کمی تو ہے لیکن گلے میں ابھی خراش باقی ہے اس لیے میں زیادہ لمبا خطبہ نہیں پڑھ سکتا۔ گو مرض میں اتنا افاقہ ضرور ہے کہ میں خطبہ جمعہ پڑھ سکتا۔ہوں۔
    اِس وقت میرا ارادہ اُس واقعہ کے متعلق کہنے کا ہے جو گزشتہ ہفتہ راولپنڈی میں وزیراعظم پاکستان نواب زادہ خان لیاقت علی خاں کے ساتھ گزرا۔ جہاں تک انسانی زندگی کا سوال ہے ہر انسان نے بہرحال مرنا ہے۔ چاہے وہ قاتل کی چُھری سے مر جائے، چاہے وہ ہیضہ سے مر جائے، چاہے وہ بخار کی شدت سے مر جائے اور چاہے وہ سِل اور دِق سے مر۔جائے۔ موت تو بہرحال آنی ہے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے فرمایا ہے لِکُلِّ دَائٍ دَوَاء ٌ اِلَّا الْمَوْت۔1 ہر بیماری جب۔تک۔کہ۔وہ۔بیماری کی صورت میں ہے اُس کا علاج ہے لیکن وہ چیز جو بظاہر بیماری ہے لیکن دراصل وہ موت کا پیغام ہے اس کا کوئی علاج نہیں۔ پس انسان نے مرنا تو ہے لیکن بعض چیزیں تکلیف دِہ پہلو اپنے ساتھ رکھتی ہیں۔ اگر کسی کو اچانک موت آ جاتی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ وہ حسرت ناک ہوتی ہے۔2 گو دراصل اچانک حادثہ کی وجہ سے جو موت آتی ہے وہ مرنے والے کے لیے آرام دہ موت ہوتی ہے۔ مثلاً اگر وہ آٹھ دس دن ٹائیفائیڈ میں مبتلا رہتا ، راتوں کو جاگتا، تکلیف کی وجہ سے کراہتا اور پھر اُسے موت آ جاتی تو اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ موت اُسے بہرحال آنی تھی لیکن یہ موت اُس کے لیے تکلیف دِہ ہوتی۔ لیکن اگر اُس کا اچانک ہارٹ فیل ہو۔جاتا ہے یا اُسے گولی لگتی ہے اور وہ فوراً مر جاتا ہے تو یہ موت بظاہر آرام دِہ موت ہے لیکن اِس لحاظ سے یہ تکلیف دِہ ہوتی ہے کہ مرنے والے کو وصیت کا موقع نہیں ملتا۔ اور قرآن کریم میں آتا ہے کہ اگر کسی کے سر ذمہ۔داری ہو جسے اُس نے ادا کرنا ہو تو اُس کے لیے وصیت کرنا ضروری ہے۔3 جب کسی کے پاس قومی اَسرار ہوتے ہیں تو باپ بیٹے کو وصیت کرتا ہے، آگے بیٹا اپنے بیٹے کو وصیت کرتا ہے۔ اِسی طرح ایک سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور کوئی قوم کامیاب اُسی وقت ہوتی ہے جب اُس کا تسلسل قائم ہو اور تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے نصیحت اور وصیت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی کی اچانک موت ہوجائے تو یہ موقع اُس سے چھین لیا جاتا ہے اور جن باتوں کا مرنے والے کو تجربہ ہوتا ہے، جن خطرات کا اُسے علم ہوتا ہے اور بعض فوائد جو اُس کے علم میں اس کی قوم حاصل کر رہی ہوتی ہے اگر اسے چند دن بیمار رہنے کے بعد موت آئے تو وہ اپنے جانشینوں کو بعض نصائح کر دیتا ہے۔ وہ انہیں بتا دیتا ہے کہ فلاں۔فلاں فائدہ تم اس طرح حاصل کر سکتے ہو۔ اور ساتھ ہی وہ یہ بھی بتا دیتا ہے کہ تمہارے سامنے فلاں فلاں قسم کے خطرات ہیں۔ ان خطرات سے بچنے کا یہ طریق ہے۔ اِس رنگ میں اُس کی موت زیادہ تکلیف دِہ نہیں ہوتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک موت کو تکلیف۔دہ اِسی لیے فرمایا ہے کہ مرنے والے کو وصیت کا موقع نہیں ملتا اور اِس طرح اُس کی اولاد، اُس کا خاندان اور اُس کی قوم اُس کے تجربات سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔ لیکن سب سے اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ ایسی موت جو اچانک آجاتی ہے مثلاً اگر کسی کی حرکتِ قلب بند ہو جاتی ہے اور وہ فوراً مر جاتا ہے تو کسی شخص پر افسوس نہیں ہوتا۔ لیکن جب یہ موت کسی انسان کے ہاتھوں سے ہو تو جہاں تک مرنے والے کا سوال ہے یہ۔کوئی۔بُری بات نہیں اُس نے بہرحال مرنا تھا بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ موت مرنے والے کے لیے آرام دِہ ہے۔ گولی لگی اور مر گیا۔ اِس طرح اُسے زیادہ تکلیف نہ ہوئی۔ لیکن خاندانی اور قومی لحاظ سے اِس میں کئی قباحتیں ہوتی ہیں۔ ایک قباحت تو میں نے بتا دی ہے کہ مرنے والے کو وصیت کا موقع نہیں ملتا اور اِس طرح اُس کی اولاد، اُس کا خاندان اور اُس کی قوم اُس کے تجربات سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔ دوسری قباحت یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی قومی۔خادم کسی انسان کے ہاتھوں مارا جاتا ہے تو اِس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ قومی اخلاق میں بہت کچھ خرابی پیدا ہو چکی ہے کیونکہ کام کے تسلسل سے قوم ترقی کرتی ہے اور جب افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ہم آپ ہی آپ اپنا حق لے سکتے ہیں تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ تسلسل قائم نہیں رہ سکتا اور قوم حکومت پر اعتبار کرنے کی بجائے خود بدلہ لے لیتی ہے حالانکہ تسلسل حکومت سے قائم رہتا ہے۔ اگر افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ وہ اپنا بدلہ آپ لے سکتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ حکومت کو بیکار سمجھتے ہیں۔ اگر یہ احساس کہ ہم اپنا بدلہ خود لے سکتے ہیں ساری قوم یا اُس کے اکثر افراد یا اُس کے بعض افراد میں پیدا ہو جائے تو حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ وہ حکومت آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ٹوٹ جائے گی اور اس کا نظام باقی نہیں رہے گا۔
    پس وہ واقعہ جو خان لیاقت علی خان کے ساتھ گزرا جہاں تک اُن کا اپنا سوال ہے یہ کوئی غیرمعمولی چیز نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ نسبتاً آرام میں رہے کیونکہ اگر وہ کسی اَور ذریعہ سے وفات پاتے تو دس پندرہ دن بیماری کی تکلیف اٹھاتے۔ اب چونکہ وہ گولی لگنے سے یکدم۔مر۔گئے ہیں اِس لیے یہ موت اُن کی ذات کے لیے آرام دِہ ثابت ہوئی ہے۔ لیکن قومی لحاظ سے یہ بہت خطرناک چیز ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ پاکستان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والوں میں نظام کی پابندی کا احساس باقی نہیں رہا۔ مان لیا کہ قاتل کابل کا رہنے والا تھا لیکن وہ پاکستان میں آ بسا تھا اور پاکستان کی قومیت کو اُس نے قبول کر لیا تھا۔ اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ قاتل کو کسی غیرقوم نے اِس ذلیل فعل کے لیے اُکسایا تھا لیکن ہم اسے غیرقوم کا فرد نہیں کہہ سکتے۔ ہم سب باہر سے آئے ہیں۔ اگر وہ پاکستانی نہیں تو مغل بھی پاکستانی نہیں مُغل بھی باہر سے آئے ہیں، سید بھی پاکستانی نہیں کیونکہ وہ بھی مکہ اور مدینہ سے آئے ہیں۔ اِسی طرح پاکستان کی اکثر دوسری قومیں بھی باہر سے آئی ہیں۔ کوئی ایران سے یہاں آ بسا ہے، کوئی شام سے آیا ہے اور کوئی دوسرے ممالک سے آکر اس ملک کی قومیت کو اختیار کر چکا ہے۔ اِس۔طرح توکوئی بھی پاکستانی نہیں۔ انگلستان کے ملک میں بھی جرمن اور فرانسیسی موجود ہیں اور وہ اسی ملک کے باشندے کہلاتے ہیں۔ انگلستان کے بادشاہ کا خاندان بھی جرمن ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ انگلستان کا رہنے والا نہیں کیونکہ جو کسی ملک میں آ بستا ہے وہ اُسی ملک کا باشندہ کہلاتا ہے۔ پس گو خان لیاقت علی خان کے قاتل کے تعلقات پر شُبہ کیا جا رہا ہے کہ افغانستان نے اُن کے قتل پر اُکسایا تھا لیکن چونکہ قاتل پاکستان میں آ بساتھا اور پارٹیشن سے پہلے کا یہاں رہتا تھا اِس لیے وہ پاکستانی تھا اور۔اِس کے یہ معنیٰ ہیں کہ بعض پاکستانیوں کو نظامِ۔حکومت پر اعتبار نہیں۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک فرد کا فعل تھا اور ایک فرد کا فعل ساری قوم کا فعل نہیں کہلا سکتا لیکن اِس میں بھی کوئی شُبہ نہیں کہ ایک فرد کے فعل سے ساری قوم ذلیل ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ایک ضربُ۔الْمثل ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔ اس لیے بیشک وہ ایک فرد کا کام تھا اور اس کی ساری قوم ذمہ دار نہیں ہو سکتی لیکن اُس کی وجہ سے ساری قوم ذلیل ہو گئی ہے۔ پس جہاں تک خداتعالیٰ کے سامنے ذمہ داری کا سوال ہے یہ ایک فرد کا کام ہے لیکن جہاں تک شہرت کا سوال ہے اِس سے قوم ذلیل ہو گئی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قوم میں ذلّت، عزت اور زندگی کا کوئی احساس نہیں اور یہ کتنی ذلّت کی بات ہے۔ یوں سمجھ لو کہ اگر کسی خاندان میں سے کوئی لڑکا یا لڑکی بدکار ہو جاتا ہے تو اِس کی ذمہ داری خداتعالیٰ کے سامنے اُس لڑکی یا لڑکے کے ماں باپ اور بہن بھائیوں پر عائدنہیں ہوگی۔ خداتعالیٰ کے سامنے وہی لڑکی یا لڑکا مجرم ہو گا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص اُس خاندان کی لڑکی لینے پر تیار نہیں ہوتا اور نہ کوئی اُس خاندان کے کسی لڑکے کو اپنی لڑکی دینے پر رضامند ہوتا ہے حالانکہ اس میں خاندان کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ وہ اس سے اتنا ہی متنفر ہوتا ہے جتنے دوسرے لوگ اس سے متنفر ہوتے ہیں لیکن بوجہ ایک لڑکی یا لڑکے کی بدکاری کے وہ خاندان دنیا کی نظروں میں ذلیل ہو جاتا ہے۔ پس جہاں تک خداتعالیٰ کے سامنے ذمہ داری اور سزا پانے کا سوال ہے خان لیاقت علی خان کا قاتل خود ذمہ دار ہے قوم ذمہ دار نہیں۔ لیکن جہاں تک عزت اور شُہرت کا سوال ہے اِس سے لوگوں میں بدظنی پیدا ہو گئی ہے کہ اِس قوم کو نظامِ۔حکومت سے پیار نہیں۔ اور جب دشمن کو اِس چیز کا پتا لگ جائے گا کہ رعایا نظامِ حکومت سے پیار نہیں رکھتی تو وہ کتنا دلیر ہو جائے گا۔
    غرض قومی لحاظ سے یہ واقعہ جو خاں لیاقت علی خان کے ساتھ گزرا نہایت خطرناک ہے لیکن۔مجھے یہ مضمون خطبہ جمعہ میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں اس کے متعلق الگ مضمون بھی لکھ سکتا تھا۔ میں نے اس مضمون کو خطبہ جمعہ میں بیان کرنے کے لیے اس لیے انتخاب کیا کہ اِس کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔ یعنی یہ فعل نتیجہ تھا اسلام کی تعلیم کو بگاڑنے کا، یہ فعل تھا احراریوں کے وعظوں کا کہ احمدیوں کو قتل کر دو۔ جس قوم میں یہ روح پیدا کر دی جائے کہ جس کسی سے تمہیں اختلاف ہو تم اُسے خود قتل کر دو تو ملک کا کوئی آدمی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ مثلاً ایک احراری کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ احمدیوں کو مار دو لیکن ایک دوسرا شخص جس کو احمدیوں سے بُغض نہیں ہوتا وہ جب یہ سمجھتا ہے کہ جس کسی۔سے اختلاف ہو اُسے خود مار دینا چاہیے۔ تو وہ کسی دوسرے شخص کو جس سے اُسے اختلاف ہو گا مار۔دے۔گا۔
    پس میں کہتا ہوں کہ بیشک قومی لحاظ سے خان لیاقت علی خان کا قتل نہایت افسوس کی بات ہے اور سیاسی لحاظ سے یہ امر ملک کے لیے نہایت نقصان دِہ ہے لیکن اِس کا مذہبی پہلو اَور بھی خطرناک ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری سیاست تو گئی تھی اب مذہب پر بھی حملہ ہو گیا ہے اور دنیا کہتی ہے کہ ہم وحشی ہیں اور جسے چاہتے ہیں قتل کر دیتے ہیں۔ کسی نے کہا ہے
    زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا
    سیاست پر تو ہمارے حملہ ہوا ہی تھا اب مذہب پر بھی حملہ ہو گیا ہے۔ دنیا اس بات سے غافل نہیں کہ احراری کیا کہتے ہیں۔ احراری مولوی عَلَی الْاِعْلان اسٹیجوں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ تم احمدیوں کو قتل کیوں نہیں کرتے لیکن کوئی انہیں منع نہیں کرتا۔ حکومت کا نظام موجود ہے، گورنرجنرل اور سنٹرل کے وزراء اور صوبائی گورنر اور صوبائی وزراء اور دوسرے سیکرٹری موجود ہیں لیکن احراری اس کے باوجود اسٹیجوں پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ حکومت اپنے فرض کو ادا نہیں کر رہی۔ اے جانباز مسلمانو! تم خود رسول کریم کی ہتک کا بدلہ لو (حالانکہ یہ احراری خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والے اور ننگِ۔اسلام ہیں) اور احمدیوں کو قتل کر دو۔ اور جب یہ فتوٰی رعایا کے سامنے لایا جائے گا کہ اسلام، قرآن کریم اور قانون سب اِس بات پر متفق ہیں کہ جس کسی سے تمہیں اختلاف ہو تم اُسے مار دو تو صرف احمدیوں کو ہی نہیں مارا جائے گا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی جن سے کسی کو اختلاف ہو گا مار دیا جائے گا۔ خان لیاقت علی خان سیاسی اختلاف کی وجہ سے نہیں مارے گئے کیونکہ سیاست دوسرے شخص کے مارنے کو جائز قرار نہیں دیتی۔ مارنے کا جواز جھوٹا مذہب دیتا ہے۔کیونکہ مولوی کُھلے۔بندوں اسٹیج پر چڑھ کر یہ کہتا ہے کہ جس شخص کی بات تمہیں بُری لگے تو تم اُسے مار دو۔ سننے والے اِسی نکتہ کو وسیع کرتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر بھی یہ فتوٰی لگا دیتے ہیں۔ جب تک حکومت اِس منبع کو ختم نہیں کرتی ملک میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔
    حکومت نے ایک کمیشن مقرر کیا ہے جو اِس بات کی تحقیقات کرے گا کہ حفاظتی تدابیر میں کیوں کوتاہی ہوئی ہے؟ میں نے بھی جب یہ خبر سنی تھی تو مجھ پر یہی اثر تھا کہ منتظمین نے پوری طرح نگرانی نہیں کی۔ اب معلوم ہوا ہے کہ حکومت پر بھی یہی اثر ہے۔ لیکن تم کتنی بھی ہوشیاری کر لو جب افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے گا کہ جس کسی سے اختلاف ہو تم اُسے مار دو تو کونسی طاقت ہے جس کے ذریعہ تم کسی کو آٹھ کروڑ افراد سے بچا لو۔ لاہور میں جو صوبہ کی حکومت کا مرکز ہے وہاں آ کر احراری علماء نے یہ حدیثیں سنائیں کہ تم جو چیز ناپسندیدہ دیکھو اُسے ہاتھ سے دور کر دو۔ اگر تم ہاتھ سے دور نہیں کر سکتے تو زبان سے اُس کی مذمت کرو اور اگر تم زبان سے بھی اُس کی برائی نہیں کر سکتے تو دل میں ہی بُرا مناؤ۔ اور ان کو احمدیوں پر چسپاں کر کے کہا گیا اے باغیرت مسلمانو! کیوں رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی ہتک کا بدلہ نہیںلیتے؟ ان مجالس میں جن میںیہ حدیثیں سنائی جاتی تھیں حکومت کے وزراء اور اُس کے سیکرٹری موجود ہوتے ہیں۔ جب کُھلے بندوں اور حکومت کے ذمہ دار کارکنوں کے سامنے یہ سنایا جاتا تھا کہ اختلاف کا ازالہ جبر اور تعدّی سے کرنا جائز ہی نہیں بلکہ فرض ہے اور اگر تم اختلاف کا ازالہ نہیں کر تے تو تم کافر ہو جاؤ گے۔ جب ملک کے آٹھ کروڑ باشندوں میں یہ احساس پیدا کر دیا جائے تو پولیس تو ایک فرد سے بچا سکتی ہے، دو افراد سے بچا سکتی ہے یا بیس افراد سے بچا سکتی ہے لیکن جب یہ شک ہو کہ ایڈی۔کانگ 4اور پولیس والوں نے بھی علماء سے یہ سبق لیا ہے کہ جس کسی سے اختلاف ہو اُسے قتل کردو تو کسی کی جان کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔ سو جب تک مولویوں کو بند نہیں کیا جائے گا کسی کی حفاظت نہیں ہو سکے گی، نہ میری، نہ کسی وزیر، گورنر یا کمانڈرانچیف کی۔ انگلستان کی حکومت سینکڑوں سال سے قائم ہے لیکن ابھی تک اُس میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ کوئی وزیر قتل کر دیا گیا ہو۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں بعض افسروں پر حکومت کو شُبہ پڑ جاتا ہے کہ وہ زور سے حکومت کا تختہ۔اُلٹ۔دینا چاہتے ہیں۔ اگرچہ ابھی مقدمہ چل رہا ہے لیکن بہرحال اِس قسم کا واقعہ ہو چکا ہے اور۔اُدھر۔ہندوستان میں گاندھی جی کو جنہیں وہاں نبی۔ٔ۔وقت کہا جاتا تھا مار دیا گیا ہے۔ اِس کی وجہ صرف ایک ہے کہ مولویوں اور پنڈتوں نے یہ شور ڈالنا شروع کیا ہے کہ جب تمہیں کسی شخص سے اختلاف پیدا ہو جائے تو فوراً قانون ہاتھ میں لے لو۔ یہ ذہنیت جتنی جتنی پھیلتی جائے گی اُتنی اُتنی پولیس اور فوج بیکار ہوتی جائے گی۔ پولیس اور فوج محدود ہوتی ہے اور وہ ایک حد تک ملک میں کنٹرول کر سکتی ہے۔ صوبہ پنجاب کی پولیس کوئی آٹھ دس ہزار ہے لیکن آبادی دو کروڑ ہے۔ اب آٹھ دس ہزار پولیس سے یہ اُمید کرنا کہ وہ دو کروڑ کی نگرانی کر سکے گی درست نہیں۔ صوبہ میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیصدی مجرم ہو سکتے ہیں۔ گویا کوئی دس لاکھ آدمی ایسے ہو سکتے ہیں جو لُوٹ مار، ڈاکے، نقب زنی اور قتل۔و۔غارت کو جائز سمجھتے ہیں۔ ان دس لاکھ آدمیوں کو پولیس کہاں سنبھال سکتی ہے۔ اِسی واسطے ملک میں کوئی چھ سات ہزار چوری ہوتی ہے لیکن کوئی نہیں کہتا کہ ایسا کیوں ہے۔ کیونکہ اِس قدر نگرانی کی پولیس سے اُمید ہی نہیں کی جا سکتی۔ یہ فردی خرابی ہے اور فرد کی نگرانی نہیں کی جا سکتی۔ اگر کوئی قومی خیال ہوتا ہے تو اُس تنظیم کا کوئی پریذیڈنٹ ہوتا ہے، کوئی سیکرٹری ہوتا ہے اور اِس طرح اُس کا پتا چل جاتا ہے۔ لیکن جہاں فرد کے دماغ کو بگاڑ دیا جائے وہاں کوئی پولیس کام نہیں دے سکتی۔ مثلاً اگر کوئی کمیونسٹ جماعت ہو تو اُس کا کوئی پریذیڈنٹ ہو گا، کوئی سیکرٹری ہو گا اور کوئی کنوینر ہو گا اور اس سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ لوگ فلاں فلاں ہیں اور فلاں فلاں جگہ ان کا مرکز ہے اور پھر ان کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی فرد کوئی ارادہ کرے تو اُس کی نگرانی نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس کی سکیم اس کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں کہ اُسے معلوم کیا جا سکے۔ مثلاً کوئی پریذیڈنٹ نہیں، کوئی سیکرٹری نہیں، کوئی دفتر نہیں جس میں جمع ہونے والوں سے معلوم ہو سکے کہ کچھ لوگ مل کر کوئی کام کر رہے ہیں اور اِس سے اُن کی نگرانی کی صورت پیدا ہو جائے۔ یہاں بھی چونکہ ایک فرد تھا جس نے خباثت کی اس لیے اُس کی خباثت کا قبل از۔وقت پتا نہیں لگ سکا تھا۔ سب باتیں اس کے دماغ میں تھیں۔ پس فرد کے دماغ کو بگاڑ دینے سے امن برباد ہوتا ہے۔ جب کوئی سازش تنظیم سے ہوتی ہے تو اُس کا پتا لگانا آسان ہوتا ہے لیکن جب افراد کے دماغ بگڑ جائیں تو کوئی چیز اُن کی نگرانی نہیں کر سکتی۔ چونکہ مولویوں نے افراد کے دماغوں کو گندہ کر دیا ہے اس لیے مزید خباثت کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ان مولویوں کو روکا جائے۔ یہی لوگ دماغ کو صحیح بنانے والے بھی ہیں بشرطیکہ ان میں ایمان ہو۔ اور یہی لوگ دماغ کو گندہ کر دیتے ہیں جب ان میں ایمان نہیں ہوتا۔ پس میرے نزدیک ان خطرات کو دور کرنے کا ذریعہ یہ ہے کہ مولویوں کو افراد کی ذہنیت خراب کرنے سے روکا جائے۔
    حکومت کی طرح میرا خیال بھی یہ ہے کہ جلسہ کا انتظام ٹھیک نہ تھا۔ قادیان میں مساجد میں میری یہ ہدایت تھی کہ پہلی صف میں معروف لوگ بیٹھیں۔ اب پہرے لگا دیئے گئے ہیں مگر یہ ہرگز ویسے مفید نہیں۔ انسانی فطرت میں یہ بات ہے کہ جب کوئی دوسرا آدمی سامنے ہو تو انسان کسی پر وار کرنے سے گھبراتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ کسی دوسرے شخص کو گولی نہ لگ جائے۔ پھر وہ اس وجہ سے بھی گھبراتا ہے کہ اُس کا پہلا وار بھی خالی گیا تو وہ پکڑا جائے گا۔ اِس لیے منتظمین کو چاہیے تھا کہ وہ جلسہ کا انتظام کرتے وقت اسٹیج کے سامنے معروف لوگوں کو بٹھاتے۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ قاتل نے خان۔لیاقت۔علی۔خان کو مائزر پستول سے مارا ہے۔ وہ بڑا پستول ہوتا ہے اور بڑے پستول کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ اِتنی بڑی چیز لے کر وہ شخص اسٹیج کے سامنے بیٹھا ہوا تھا یا وہ جیب میں ڈالے ہوئے تھا لیکن کسی شخص کو قبل از وقت اس کا علم نہیں ہو سکا۔ پھر کہتے ہیں کہ وہ شخص چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ یہ بات اَور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ہمارے ہاں بھی اتنی احتیاط کر لی جاتی ہے کہ جب کوئی شخص ملاقات کے لیے آئے اور وہ چادر اوڑھے ہوئے ہو تو منتظم اُس کی چادر اُتروا دیتے ہیں حالانکہ یہاں ملاقات والے اکثر مُرید ہوتے ہیں۔ بعض لوگ جوشیلے ہوتے ہیں اور وہ میرے پاس شکایت کرتے ہیں کہ ہماری اِس طرح ہتک کی گئی ہے تو میں انہیں سمجھاتا ہوں کہ آپ تو مخلص ہیں لیکن کوئی بدمعاش بھی تو اِس طرح یہاں آسکتا ہے۔ پچھلے دنوں مسلم لیگ کے ایک ممبر مجھے ملنے آئے۔ وہ مجھے اندر آتے ہی کہنے لگے کہ وہ اپنا پستول باہر چھوڑ آئے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے پسند نہیں کیا کہ پستول لے کر اندر آئیں۔ اور درحقیقت یہ عام اور ضروری احتیاط ہے۔ لیکن اُس شخص کے پاس مائزر پستول تھا جو بڑے سائز کا ہوتا ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ پستول پکڑے ہوئے ہے یا اُس کی جیب میں کوئی بڑی چیز ہے۔ پھر جب وہ شخص فائر کرتا ہے تب بھی اُسے کوئی نہیں دیکھتا۔ پھر وہ دوسرا فائر کرنے کی بھی جرأت کرتا ہے۔ اِس سے شُبہ پڑتا ہے کہ اُس کے دائیں اور بائیں اُس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ امر اَور بھی خطرناک ہے کہ وہ آدمی مارا گیا۔ تمام متمدن دنیا میں ایسے آدمی کو مارا نہیں جاتا۔ تا سازش پکڑی جائے۔ اِس سے یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید اُس کے ساتھی کا کوئی دوسرا ساتھی بھی تھا۔ انارکسٹ اِسی طرح کرتے ہیں۔ وہ جب کسی شخص کو کسی لیڈر کے مارنے پر مقرر کرتے ہیں تو ایک اَور شخص کو اُس کے مارنے پر بھی مقرر کر دیتے ہیں تا وہ پکڑا نہ جائے۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لوگوں نے قاتل کو پیٹ پیٹ کر مار دیا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اَور بھی افسوسناک امر ہے کیونکہ اِس سے سازش کے کھلنے کا امکان بہت کم ہو گیا۔ پولیس کو فوراً اُس شخص کے گرد گھیرا ڈال لینا چاہیے تھا اور اُسے زندہ گرفتار کرنا چاہیے تھا تا۔اُس کے ذریعہ سے اصل سازش کا سراغ مل سکتا۔ اُس کا بچانا اُس کی خاطر ضروری نہیں تھا بلکہ اُس کا بچانا ملک کی خاطر ضروری تھا تا اس سے سازش کا پتا لگایا جاتا۔ ممکن ہے تحقیقات سے یہ معلوم ہو کہ حفاظت کا ہر ممکن انتظام کر دیا گیاتھا اور یہ محض وہم ہے کہ اس میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔ بلکہ یہ اتفاقی حادثہ تھا جو ہو گیا۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مجرم بھی مل جائے۔ لیکن اِس سے یہ امر حل نہیں ہو سکتا کہ مولویوں نے افراد کی ذہنیت خراب کر دی ہے۔ جب تک یہ ہوتا رہے گا اور قانون ہاتھ میں لینے کاوعظ ہوتا رہے گا نہ پولیس کام دے سکے گی نہ فوج ۔کیونکہ جب افراد کے ذہنوں کو گندہ کر دیا جائے اور قانون کے ادب کو ختم کر دیا جائے اور اختلاف کی صورت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی تعلیم دی جائے تو پھر کس کس پر شُبہ کیا جائے گا یا کس کس کو شُبہ سے بالا سمجھا جائے گا۔ اِس صورت میں خود وزراء کے ایڈی۔کانگوں پر بھی شُبہ ہو سکتا ہے کہ شاید ان کے دل میں بھی قتل کا خیال ہو کیونکہ اگر افراد کی ذہنیت کو بگاڑ دیا جائے تو پھر خواہ کوئی سیکرٹری ہو یا ایڈی کانگ وہ اپنے افسر سے ناراض ہو سکتا ہے اور اختلافِ۔رائے کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا ارادہ کر سکتا ہے۔
    جن ملکوں میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ حکومت کا کام ہے کہ کسی شخص کو مجرم قرار دے افراد کو یہ اختیار حاصل نہیں وہ ملک پُراَمن ہیں۔ اس قسم کی پابندی سب سے زیادہ انگلستان میں ہے اور وہ پُراَمن ہے۔ امریکہ کتنی بڑی جمہوریت ہے لیکن وہاں افراد پر کنٹرول نہیں کیا جاتا اس لیے وہاں فساد ہوتے ہیں۔ جرمنی والے بھی قانون کے پابند ہیں اس لیے وہاں فساد نہیں ہوتے۔ بیشک ہٹلر کے وقت میں حکومت کی طرف سے رعایا پر سختیاں ہوئیں لیکن یہ کہ افراد ایک دوسرے پر سختی کریں یہ کبھی نہیں ہوا۔ اَور ملکوں میں بھی یہ طریق پایا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ محفوظ انگلستان ہے اور اس کے بعد جرمنی ہے۔ پھر دوسرے ممالک میں انسانوں کے ہاتھوں سے مارے جانے والے بالعموم وہ ہوتے ہیں جو ملک میں بدنام ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں اندھیر یہ ہے کہ ہندوستان میں گاندھی جی کو مارا جاتا ہے جنہیں وہاں نبی کہا جاتا تھا اور پاکستان میں خان لیاقت علی خان کو مارا جاتا ہے جن کو ملک کی آزادی کو برقرار رکھنے والا اور اس کو ترقی دینے والا کہا جاتا ہے۔ یہ محض مولویوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ کھیل ہے جو وہ ہمارے ساتھ کھیل رہے تھے۔ لیکن حکومت نے ان کو منع نہ کیا۔ جس کی وجہ سے یہ گند زیادہ پھیل گیا۔ تم اگر کسی کو کہتے ہو کہ فلاں کو مار دو۔ مثلاً بچے ہیں، ماں باپ یا بہن بھائی کھیل کے طور پر بعض دفعہ انہیں سکھاتے ہیں کہ فلاں کو مارو تو وہ مارتے ہیں اور ماں باپ، بہن بھائی اس پر ہنستے ہیں۔ دوسرے دن وہ بچے ماں باپ کے منہ پر تھپڑ مارتے ہیں اور اُس وقت روکنا کوئی معنے نہیں رکھتا۔ ایک دفعہ اگر تم انہیں کہو گے کہ فلاں کو مارو تو وہ پھر دوسروں کو ماریں گے اور تم روک نہیں سکو گے۔
    پس میں حکومت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ افراد کی ذہنیت کو بدلے ورنہ امن قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ لیڈر مرتے جائیں گے اور نئے لوگوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔پھر مولویوں اور دوسرے لوگوں کی جانیں بھی محفوظ نہیں ہوں گی۔ روس میں دیکھ لو۔ زار نے جو طریق رعایا سے اختیار کیا تھا وہی طریق رعایا نے اُس کے خلاف چلایا۔ پس یہ کھیل محدود نہیں چلے گا۔ ہمارے خلاف یہ کھیل کھیلا گیا تھا لیکن آخر پاکستان کے نہایت اہم اور ابتدائی لیڈر کے خلاف ایک بدباطن نے وہی حربہ چلا دیا کیونکہ دلوں سے قانون کے ادب اور سوچنے اور نفس پر قابو پانے کا جذبہ مٹا دیا گیا تھا۔ اگر یہ بات جاری رہی تو ایک دن یہ مولوی خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ خود انہی کے متعلق کسی بات پر خفا ہو کر ان پر بھی حملے کریں گے۔
    میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی ہو گی کہ میں امرتسر گیا اور دیکھا کہ ایک مولوی صاحب بڑی داڑھی والے، جُبہ پہنے ہوئے اور ہاتھ میں عصا لیے جا رہے تھے۔ اُن کے پیچھے پیچھے ایک اَور آدمی تھا جو ہاتھ جوڑتا اور اُن کی منتیں کرتا جا رہا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ میں مفلس وغریب ہوں، میری حالت پر رحم کھائیں۔ اور مولوی صاحب پیچھے مُڑ کر اُسے گھورتے اور کبھی کبھی گالی بھی دے دیتے تھے۔ جب مولوی صاحب دور نکل گئے تومیں نے اُس شخص سے پوچھا کیا بات ہے؟ اُس نے بتایا کہ میں نے اس خبیث کے پاس ایک سو روپیہ رکھوایا تھا۔ اب واپس مانگتا ہوں لیکن یہ واپس نہیں دیتا۔ سو مولویوں میں حرام خور بھی ہیں، ظالم بھی ہیں اور ان میں دوسرے عیوب بھی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر انہوں نے ایسی تعلیم دی تو ایک نہ ایک دن ان پر بھی وار ہو گا کیونکہ ہو نہیں سکتا کہ ان سے کسی اَور کو اختلاف۔نہ۔ہو۔
    اصل امن والی تعلیم قرآن کریم ہے۔ یہ کتنی پاکیزہ تعلیم ہے کہ حکومت کے سوا کسی کو شرعی تعزیر دینے کا اختیار نہیں اور حکومت بھی اُسی تعزیر کا اختیار رکھتی ہے جس کا اختیار اُسے قرآن۔کریم نے دیا ہے۔ گویا پہلے عوام کے ہاتھ بند کیے، پھر حکومت کے ہاتھ یہ کہہ کر بند کر دیئے کہ تم بھی قضاء کے ذریعہ ہی تعزیر کا اختیار رکھتے ہو۔ ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یارسول۔اللّٰہ! اگر میں اپنی عورت کے پاس غیرمرد کو دیکھوں تو آیا مجھے اُس کو قتل کرنے کی اجازت ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اُسے قتل کرو گے تو اس کے بدلہ میں تمہیں قتل کیا جائے گا۔ تم گواہ پیش کرو۔ اُس شخص نے کہا یارسول اللّٰہ! اتنا دیّوث کون ہو گا کہ وہ اپنی عورت کے پاس غیرمرد کو دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے۔ اسلام نے ایسے شخص کی سزا قتل رکھی ہے تو کیوں نہ میں اُسے مار دوں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے ایسا کیا تو پکڑے جاؤ گے۔5 اُس وقت تک زانی کو رجم کیا جاتا تھا اور وہ صحابی بھی اسے قتل کرنے کے لیے ہی اجازت چاہتے تھے لیکن رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ باوجود اِس کے کہ تم نے اپنی عورت کے پاس غیرمرد کو دیکھا لیکن تم قاضی کے پاس جاؤ۔ وہ فیصلہ کرے گا کہ تم ٹھیک کہتے ہو یا غلط۔ اب یہ کتنی واضح دلیل ہے کہ اسلام نے کسی صورت میں بھی شرعی تعزیر کی جس میں قتل کرنا، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور قید کرنا شامل ہیں کسی فرد کو اجازت نہیں دی۔
    ہاں! بعض سزاؤں کی اجازت دی ہے مثلاً ایک باپ یا استاد بچے کو اُس کے کسی قصور پر مار سکتا ہے۔ پھر قومی سزاؤں کا قوم کو اختیار ہے۔ مثلاً کسی قصور پر ہم ایک شخص کو جماعت سے خارج کر دیتے ہیں تو اس کا ہمیں اختیار ہے کیونکہ یہ شرعی تعزیر نہیں۔ جو شرعی تعزیریں ہیں مثلاً قتل کرنا، ہاتھ پاؤں کاٹنا، قید کرنا، کوڑے لگانا وغیرہ ان کا اختیار حکومت کو ہے اور وہ بھی قضاء کے ذریعہ حکومت عارضی طور پر کسی کو قید کر سکتی ہے لیکن بعد میں اس کا فیصلہ قضاء ہی کرے گا۔ اگر تم اسلام کی اس تعلیم کو ملک میں جاری کر دو تو کوئی قتل ممکن ہی نہیں۔ نہ آگ لگائی جا سکتی ہے اور نہ کسی کو مارا پیٹا جا سکتا ہے۔ اس تعلیم کو جاری کرنے کے بعد ہی ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ تم پہلے اسلامی ذہنیت پیدا کرو۔ یہ نہیں کہ ایک طرف مولوی یہ کہے کہ ملک میں اسلامی تعلیم پھیلاؤ اور دوسری طرف یہ کہے کہ فلاں شخص اسلامی۔تعلیم۔کے خلاف چلتا ہے اُس لیے اسے قتل کر دو۔ہم حکومت کو کئی دفعہ اس طرف توجہ دلا۔چکے ہیں لیکن اُس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو ذہنیت احمدیوں کے خلاف پھیلائی گئی تھی وہ پاکستان کے خلاف چل گئی۔ اور اگر اس ذہنیت کو جلدی تبدیل نہ کیا گیا تو صرف۔احمدیوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ لوگ ان مولویوں کے خلاف بھی جو یہ فتوٰی دیتے ہیں کارروائی۔کریں۔گے۔
    غرض یہ ذہنیت نہایت خطرناک ہے۔ اگر اسے جلد روکا نہ گیا تو یہ ملک کے لیے بہت بڑے خطرے کا موجب ہو گی۔ اگر مولوی حقیقت میں ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے تو وہ رعایا کو سکھاتے کہ شرعی تعزیر اُن کے اختیار میں نہیں۔ شرعی تعزیر حکومت کے اختیار میں ہے بلکہ حکومت بھی شرعی تعزیر قضاء کے ذریعہ دے سکتی ہے۔ اگر واقع میں یہ تعلیم دی جائے تو خان لیاقت علی خان تو پاکستان کے پریمئیر(PREMIER) تھے پاکستان کا ایک غریب سے غریب لڑکا بھی نہیں مارا جاسکتا۔ جب ہر شخص کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ ایسا فعل خداتعالیٰ کے منشا، اُس کے رسول کی تعلیم، قرآن کریم، اخلاق، حبُّ الوطنی، روحِ نظام اور ملک و ملّت کے خلاف ہے تو کوئی شخص ایسا فعل کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ اگر خان لیاقت علی خان جنگل میں بھی ہوتے اور سوائے ان کے اَور قاتل کے وہاں کوئی نہ ہوتا لیکن قاتل کے ذہن میں اسلام کی صحیح تعلیم ہوتی تو وہ کبھی نہ مارے جاتے۔ ایسی صورت میں پولیس وغیرہ کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ پس اصل چیز یہ ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیم کو قائم کرو۔ یہ مُلّاں جو ہلاکو کی تعلیم کو پھیلا رہے ہیں خان لیاقت علی خان کے قتل کے اصل ذمہ دار ہیں۔ جب۔تک حکومت ان کے منہ بند نہیں کرے گی ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا‘‘۔
    (الفضل 6نومبر 1951ئ)

    1
    :
    مسند احمد بن حنبل ۔ مسند الکوفیین۔ حدیث اسامہ بن شریک ۔جلد5صفحہ350۔بیروت لبنان 1994ء میں لَمْ یُنَزِّلْ دَائً اِلَّااَنْزَلَ مَعَہٗ شِفَائً اِلَّا الْمَوْتَ وَالْھَرَمَ‘‘ کے الفاظ ہیں اور صحیح مسلم کتاب السلام باب لِکُلِّ دائٍ دوائٌ و استحباب التداوی میں ’’ لِکُلِّ دَائٍ دوائٌ‘‘
    2
    :
    ابوداؤد کتاب الجنائز باب فی الموت الفجأۃ
    3
    :
    (البقرۃ:181)
    4
    :
    ایڈی کانگ:(Aide-De-Camp)An officer acting as a
    ‏confidentional assistant to a senior officer
    ‏(The Concise Oxford Dictionary)
    مصاحب یعنی حاکم اعلیٰ کے ماتحت حکم بردار افسر
    5
    :
    صحیح مسلمکتاب اللعان






    26
    اسلام نے شہریت کے جو اصول مقرر کیے ہیں
    ان کی پابندی کو اپنا شعار بناؤ
    (فرمودہ 9نومبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ نے انسان کو مدنی الطبع پیدا کیا ہے اور انسانیت کی بنیاد مدنیت پر رکھی گئی ہے۔ انسان خواہ گاؤں میں رہے، قصبات میں رہے یا بڑے بڑے شہروں میں رہے وہ اکٹھا رہے گا اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے رہے گا۔ اس کی ترقی کا انحصار ہمیشہ مدنیت پر ہے۔ قرآن کریم میں انسانِ۔اوّل کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ جس جگہ رہے گا وہاں کی یہ خصوصیت ہو گی کہ نہ وہ بھوکا رہے گا اور نہ ننگا رہے گا۔1 اس کے عام معنیٰ یہی ہو سکتے ہیں کہ وہاں اُسے کپڑا روٹی ملتی رہے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انسان بھوکا بھی رہتا ہے اور ننگا بھی رہتا ہے۔ دنیا میں ہم ہزاروں ہزار واقعات فاقہ کشی کے دیکھتے ہیں، ہزاروں انسان ہمیں ننگے نظر آتے ہیں۔ پھر خداتعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ انسان جہاں رہے گا وہاں کی یہ خصوصیت ہو گی کہ نہ وہ بھوکا رہے گا اور۔نہ۔ننگا رہے گا؟ دراصل اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ جہاں کہیں انسان رہے گا وہاں اس کے لیے خداتعالیٰ۔کی۔طرف سے روٹی اور کپڑا نازل ہوا کرے گا بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ وہاں اُس کے لیے کپڑا اور روٹی کے سامان مہیا ہوں گے۔ اور کپڑا اور روٹی کے سامان مدنیت کی صورت میں ہی مل سکتے ہیں۔ کوئی شخص گندم بو رہا ہوتا ہے، کوئی باجرا بو رہا ہوتا ہے، کوئی جَو بو رہا ہوتا ہے، کوئی مکئی بو رہا ہوتا ہے۔ اِسی طرح کوئی گوشت بیچ رہا ہوتا ہے اور کوئی سبزی بیچ رہا ہوتا ہے۔اور یہ چیز جنگل میں نہیں ہو سکتی۔ جنگل میں اصل سامان بھوکا رہنے کا ہے کیونکہ انسان کے لیے پکے ہوئے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ جنگل میں نہیں ہو سکتا۔ جنگل میں جانور رہتا ہے اور وہ پتے کھاتا ہے لیکن انسان کی غذا پتے نہیں۔ جانور جنگل میں درختوں کی جڑیں اور چھلکے کھا کر گزارہ کرتا ہے لیکن انسان کی غذا جڑیں اور چھلکے نہیں انسان کی غذا گندم، جَو، باجرا اور مکئی وغیرہ ہے۔ اور یہ چیزیں تبھی مہیا ہو سکتی ہیں جب وہ شہر میں رہتا ہو۔ شہر میں کوئی شخص گندم لا رہا ہوتا ہے، کوئی باجرا لا رہا ہوتا ہے، کوئی جَو اور مکئی لا رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ جَو کھانے والے کو جَو مل جاتے ہیں، گندم کھانے والے کو گندم مل جاتی ہے اور باجرا کھانے والے کو باجرا مل جاتا ہے۔ غرض شہر میں ہر شخص کی ضرورت کے مطابق سامان مہیا ہوتے ہیں۔ پھر گوشت ہے انسانی فطرت جس طرح گوشت کو چاہتی ہے اور گوشت کی جن اقسام کو چاہتی ہے اُس کے لیے بھی ساتھیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں جہاں بھی انسان رہا ہے اور وہاں تمدّن رہا ہے وہ پکا کر کھانے کا عادی رہا ہے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ دنیا میں کچا گوشت کھانے والے بھی ملتے ہیں لیکن جہاں پکا کر کھانے والے چلے گئے ہیں وہاں کچا گوشت کھانے والے بھی پکا کر کھانے لگ گئے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ کچا کھانے والے کہیں گئے ہوں تو وہاں پکا کر کھانے والے بھی کچاگوشت کھانے لگ گئے ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پکا کر کھانا فطرتی چیز ہے اور جو چیز طبیعت کے اندر داخل ہوتی ہے وہی غالب ہوتی ہے۔ اگر کچا کھانا اصل فطرتی چیز ہوتا تو چاہیے تھا کہ جہاں حبشی یا کسی اور غیرمتمدن قوم کا کوئی فرد آجاتا وہاں سارے لوگ ہنڈیا پکانا چھوڑ دیتے اور کچا گوشت کھانے لگ جاتے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ہاں! یہ ضرور ہوتا ہے کہ جہاں پکا کر کھانے والے چلے جاتے ہیں وہاں کچا کھانے والے بھی پکا کر کھانے لگ جاتے ہیں۔ امریکہ، آسٹریلیا کے پرانے لوگ کچے کھانے کھاتے تھے لیکن جب پکا کر کھانے والے وہاں گئے تو اب وہی لوگ زردہ، پلاؤ، ٹوسٹ اور ڈبل روٹی کھانے لگ گئے ہیں۔ یہ نظارہ کہیں نہیں دیکھا گیا کہ ٹوسٹ اور ڈبل روٹی کھانے والوں نے کیڑے مکوڑے اور کچا گوشت کھانا شروع کر دیا ہو۔۔ گویا فطرت نے یہی محسوس کیا ہے کہ پکا کر کھانا ترقی یافتہ چیز ہے۔
    اِسی طرح ننگا رہنا ہےکے یہ معنیٰ نہیں کہ انسان کے لیے سلے سلائے لباس آسمان سے اُترا کریں گے اور اِس کے یہ معنے نہیں کہ وہاں ننگ ڈھانکنے کے سامان مہیا ہوں گے۔ جب انسان اکیلا رہتا ہو تو وہ ننگارہتا ہے لیکن جب وہ مل کر رہتا ہے تو وہ ننگا نہیںرہتا۔ ایک متمدن سے متمدن آدمی جب اکیلا نہاتا ہے تو وہ ننگا نہا لیتا ہے لیکن ایک ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی بھی جب باہر آئے گا تو کپڑے پہنے گا سوائے حبشیوں اور اُن لوگوں کے جن کی تہذیب نے ابھی ترقی نہیں کی۔پسکے معنے یہ ہیں کہ تم مل کر رہو گے اور لباس پہن کر رہو گے کیونکہ انسانی فطرت میں یہ رکھ دیا گیا ہے کہ جب وہ کسی کے سامنے آئے تن ڈھانک کر آئے۔ اِسی لیے ننگا رہنا بُری چیز ہے۔
    غرض جہاں جہاں انسانی فطرت اپنے آپ کو نمایاں کرتی چلی جاتی ہے وہاں مدنیّت ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔ درحقیقت انسان پیدا ہی مدنی الطبع ہوا ہے۔ اس لیے وہ منڈیوں میں جاتا ہے، غذائیں مہیا کرتا ہے، اپنی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور لباس کو ضروری قرار دیتا ہے۔ جنگل میں رہنے والا انسان ننگا بھی رہتا ہے اور بھوکا بھی لیکن جب وہ شہر میں آتا ہے تو وہ کھانا کھاتا ہے، کپڑے پہنتا ہے۔ افریقہ میں ابھی بیشک بعض ایسی قومیں رہتی ہیں، ابھی نئی تہذیب سے اُن کا واسطہ نہیں پڑا تھا۔ وہاں جو لوگ جاتے تھے وہ بتاتے تھے کہ یہ لوگ ننگے جنگلوں میں رہتے ہیں اور شہروں میں بہت کم آتے ہیں اور اگر آئیں تو شہروں میں انہیں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس لیے جب کبھی وہ شہر کی طرف آتے ہیں ایک تہہ بند کندھے پر ڈال لیتے ہیں اور جب وہ شہر کے قریب پہنچتے ہیں تو تہہ بند پہن لیتے ہیں لیکن جب واپس جاتے ہیں تو شہر سے باہر نکلتے ہی تہہ بند اُتار دیتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں۔ ان لوگوں میں یہ غیرفطرتی چیز پائی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے ابھی صحیح طور پر ترقی نہیں کی۔ ورنہ حقیقت یہی ہے کہ جب انسان دوسروں کے سامنے آتا ہے تو اپنا ننگ ڈھانکتا ہے۔ یہی چیز میں بیان کی گئی ہے کہ تم اکٹھے رہو گے اور جب ایک دوسرے کے سامنے آؤ گے تو تمہیں احساس ہو گا کہ ہم ننگے نہ رہیں۔ انسان کی زندگی کا بنیادی اصول یہی ہے اور اسلام کی تاریخ اس کے گرد چکر لگاتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کسی مجلس میں آؤ تو بدبودار چیز کھا کر نہ آؤ۔2 مدنیت کے لیے یہ چیز ضروری ہے۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ تمہیں کیا حق ہے کہ۔تم۔مجھے۔پیاز اور لہسن کھانے سے منع کرو۔ مجھے پیاز اور لہسن پسند ہیں میں ضرور کھاؤں گا اور تم مجھے منع نہیں کر سکتے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ اسلام اُس کے اِس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ جو چیز اُس کے لیے جائز قرار دی گئی ہے وہ اُسے کھا لے لیکن اسلام کہتا ہے کہ جب تم مجلس میں آتے ہو تو تمہارے حقوق محدود ہو جاتے ہیں۔ وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ تمہارا کیا حق ہے اور تمہیں کیا چیز پسند ہے بلکہ وہاں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو کیا چیز پسند ہے۔ اگر تم کوئی ایسی چیز کھا کر آ جاتے ہو جس سے پاس بیٹھنے والوں کو تکلیف محسوس ہوتی ہو تو تم اسلام کی تعلیم کے خلاف جاتے ہو۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ جب تم مجلس میں آؤ تو بدبودار چیز کھا کر نہ آؤ اور نہ سر پر کوئی ایسی چیز لگاؤ جو بدبودار ہو۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو نہایت لطیف پیرایہ میں سمجھایا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن کیا ہوتا ہے؟ وہ فرشتہ ہوتا ہے۔ فرمایا جب تم کوئی بدبودار چیز کھا کر آتے ہو تو فرشتے تکلیف اٹھاتے ہیں۔ یعنی پاس بیٹھنے والے مومنوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ گویا مومنوں کو آپ نے فرشتے قرار دیا ہے۔ پھر فرشتہ کہہ کر اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ جس طرح فرشتہ خیر پہنچاتا ہے شرّ نہیں پہنچاتا اِسی طرح مومن بھی صرف خیر پہنچانے والا ہوتا ہے شرّ پہنچانے والا نہیں ہوتا۔ گویا اِس طرح بتایا کہ جب تم پیاز اور لہسن کھا کر آتے ہو تو تمہاری مثال شیطان کی سی ہوتی ہے جو دوسرے کی ایذاء دہی میں خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص لہسن اور پیاز یا کوئی اَور بدبودار چیز کھا کر مجلس میں نہیں آتا وہ فرشتہ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ اُس کا یہ حق تھا کہ وہ لہسن اور پیاز کھالے اور خداتعالیٰ نے یہ دونوں چیزیں اس کے لیے جائز قرار دی تھیں لیکن وہ انہیں نہیں کھاتا۔ اِس لیے کہ اُس کے پاس بیٹھنے والوں کو تکلیف نہ ہو۔ گویا جو لوگ پیا ز اور لہسن کھا کر مجلس میں آجاتے ہیں وہ شیطان ہیں۔ اور جو لوگ پیاز اور لہسن کھا کر مجالس میں نہیں آتے وہ فرشتے ہیں۔ جب۔تک ہم ان اصولوں پر عمل نہیں کرتے جو تمدن کے لیے ضروری ہیں اُس وقت تک ہم یہ اُمید نہیں کر سکتے کہ ہم اسلام کی روشنی اور اس کی ترقی سے کوئی فائدہ اٹھائیں گے۔
    میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت چند مسائل پر چکر کھا رہی ہے۔ وہ وفاتِ مسیح وغیرہ پر زور دیتی ہے لیکن اسلام کے بنیادی اصولوں کی طرف اس کی توجہ نہیں۔ مثلاً یہی چیز لے لو کہ کسی دوسرے شخص کو تمہارے ہاتھوں تکلیف نہ ہو۔ اگرچہ میرے ذہن میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بعض افراد نے اِس تعلیم پر عمل کیا ہے لیکن یہ چیز قومی کریکٹر کے طور پر جماعت میں نہیں ملتی۔ گاڑی میں لوگ بیٹھتے ہیں تو وہ نئے آنے والوں کو جگہ نہیں دیتے۔ اگر کسی نے ڈبّہ ریزرو کرایا ہوا ہو۔ مثلاً اُس کے ساتھ عورتیں ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ کوئی غیرمرد اُس ڈبہ میں داخل ہو اور وہ ڈبّہ ریزرو کرا لیتا ہے تو دوسروں کا حق نہیں کہ وہ اُس ڈبہ میں داخل ہوں لیکن دوسرے ڈبّوں میں بھی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر کسی ڈبّہ میں دو افراد بیٹھے ہیں تو اُن کی انتہائی کوشش یہی ہو گی کہ وہ دو ہی رہیں اور اس کے لیے وہ عجیب عجیب حرکات کریں گے۔ دروازوں کے آگے سامان رکھ دیں گے، کوئی اسٹیشن آئے گا تو کھڑکیاں بند کر لیں گے اور چادر تان کر لیٹ جائیں گے۔ حالانکہ تمدّن کے معنے ہی یہ تھے کہ ہر شخص دوسرے کا خیال رکھے اور مومنانہ شان بھی یہی ہے کہ جہاں خداتعالیٰ نے اُسے حق دیا ہے مثلاً کوئی سرکاری افسر ہے اُس کے لیے علیحدہ ڈبہ ہے یا کسی نے کسی خاص مقصد کے لیے کوئی ڈبّہ ریزرو کرایا ہو تو کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اُس میں داخل ہو۔ لیکن جب وہ ایک عام ڈبّہ میں بیٹھتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ بعد میں آنے والوں کو جگہ دے۔ وہ خود تکلیف برداشت کرے لیکن دوسروں کو تکلیف نہ دے۔ مجھے صرف ایک مثال یاد ہے کہ پہلے بیٹھے ہوئے نے نئے آنے والے کو جگہ دے دی اور وہ بھی نہایت تلخ مثال ہے اور دوبارہ خواہش نہیں ہوئی کہ ایسا ہو۔
    حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں ایک دفعہ میں امرتسر سے گاڑی پر سوار ہوا۔ دیوالی کا موسم تھا۔ گاڑی میں رش زیادہ تھا۔مجھے جگہ نہ ملی اور میں کھڑا ہو گیا۔ ایک شخص نے مجھے زور سے کہا آئیے تشریف لائیے اور دوسرے لوگوں کو کہا کہ یہ شریف آدمی ہیں ان کے لیے جگہ چھوڑ دو۔ پھر ایک شخص سے کہنے لگا اٹھو! یہاں سے، تم ان کے لیے جگہ کیوں نہیں چھوڑتے؟ اُس کے رویہ سے مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ شخص مجھے پہچانتا ہے۔ چنانچہ لوگ سمٹ گئے اور تھوڑی سی جگہ نکل آئی جہاں میں بیٹھ گیا۔ وہ پھر کہنے لگا میں آپ کی کیا خدمت کروں۔ بوتل منگواؤں، چائے منگواؤں؟ میں نے کہا نہیں نہیں مجھے اس وقت کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ تھا کہ برابر دہرائے جا رہا تھا کہ میں آپ کی کیا خدمت کروں؟ بوتل منگواؤں، چائے منگواؤں؟ وہ ابھی اس قسم کی باتیں کر رہا تھا کہ ایک اَور شخص ڈبّہ میں داخل ہوا۔ اُس کے آتے ہی وہ کہنے لگا آئیے تشریف لائیے۔ اس کے لیے جگہ چھوڑ دو۔ اور میری طرف سے اس نے منہ پھیر لیا۔ بھیڑ بہت زیادہ تھی اور لوگ سمٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ آخر وہ جگہ کہاں سے نکالتے۔ جب۔کوئی جگہ نہ نکلی تو اُس نے ایک شخص سے کہا بڑے بے شرم ہو! ایک شریف آدمی کھڑا ہے اور تم اسے جگہ نہیں دیتے۔ اِس پر وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا یہ عجیب آدمی ہے کہ خود آرام سے بیٹھا ہے اور دوسروں سے کہہ رہا ہے انہیں جگہ دو۔ بعد میں پتا لگا کہ وہ اُس وقت شراب پیٔے ہوئے تھا۔ غرض یہ ایک ہی واقعہ مجھے یاد ہے کہ جب ریل میں بیٹھے ہوئے کسی نے بعد میں آنے والے سے کہا ہو کہ آؤ اور یہاں بیٹھ جاؤ۔ اور یہ واقعہ بھی ایک شرابی کا ہے وہ عقلمند نہیں تھا حالانکہ چاہیے تھا کہ عقلمند لوگ اِس۔طرح کرتے۔
    یورپ میں ہم ایک دفعہ انڈرگراؤنڈ ریلوے میں سفر کر رہے تھے کہ ایک عورت آئی۔ گاڑی میں رش زیادہ تھا۔ میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ اسے گاڑی میں بٹھا لو۔ چنانچہ انہوں نے اُس عورت کو گاڑی میں بٹھا لیا اور وہ ممنون بھی ہوئی مگر ایک شخص نے پاس سے کہا آپ نے اسے جگہ کیوں دی ہے؟ پہلے جب عورتیں آتی تھیں تو ہم جگہ چھوڑ دیتے تھے لیکن اَب یہ کہتی ہیں کہ عورت اور مرد برابر ہیں اس لیے اب ہم انہیں جگہ نہیں دیتے۔ ہم کہتے ہیں جس طرح ہم کھڑے رہتے ہیں اُسی طرح تم کھڑی رہو۔ میں نے کہا یہ آپ کے آپس کے جھگڑے ہیں ہمیں اِس سے کوئی غرض نہیں۔ ہم تو مسافر ہیں۔ لیکن اب بھی شرفاء میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ جب کوئی بعد میں سوار ہو تو وہ خود تکلیف برداشت کر لیتے ہیں اور دوسرے کو جگہ دے دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں کوشش کی جاتی ہے کہ جتنا دھوکا کوئی شخص دے سکے دے۔
    ہمارے ایک احمدی بزرگ تھے۔ وہ نیک آدمی تھے لیکن پرانی عادات آہستہ آہستہ جاتی ہیں۔ وہ بڑے فخر سے اپنا ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں ریل میں سوارہوا۔ غریب آدمی تھا، پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور کندھے پر ایک پھٹی پرانی چادر تھی۔ میں کمرے میں گُھسا لیکن کسی شخص نے مجھے جگہ نہ دی۔ میرے پاس بعض ہندو بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں کہا ذرا کپڑے بچا کر رکھنا بھرشٹ3 نہ ہو جائیں۔ وہ جَھٹ پرے ہو گئے اور اس طرح تھوڑی سی جگہ نکل آئی جہاں میں بیٹھ گیا۔ جب میں وہاں بیٹھا تو ساتھ والا ہندو اُٹھ بیٹھا۔ میں نے ذرا اَور پاؤں پھیلائے تو تیسرا ہندو بھی اٹھ بیٹھا۔ اِسی طرح جب میں نے اَور ٹانگیں پھیلائیں تو دوسرے ہندو بھی اٹھ بیٹھے اور سیٹ خالی ہو گئی اور میں آرام سے لیٹ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک شخص نے کہا تُسی کون ہُندے۔او؟ میں نے کہا أَسِیْ 4کمّیں ہُندے آں۔ اُس نے سمجھا میں چوڑھا ہوں اور بھرشٹ ہونے کے ڈر سے اُس نے میرے لیے جگہ چھوڑ دی حالانکہ میں نے سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُھُمْ5کے مطابق کیا تھا کہ ہمارا کام خدمت کرنا ہے آگے کوئی جو چاہے اِس کے معنے کرے ہم بہرحال خادم ہی ہیں۔
    غرض ہمارے ملک میں یہ فخر سمجھتا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو زِک پہنچائی جائے حالانکہ مدنیت اِس کی اجازت نہیں دیتی۔ جب لوگ ٹکٹ لے رہے ہوتے ہیں تو ہر ایک دوسرے کو کندھا مار رہا ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے کی جگہ لے لے۔ میں نے یورپ میں دیکھا ہے کہ ایسی جگہ پر بھی جہاں اطمینان کا سوال پیدا نہیں ہوتا یعنی شرابیوں میں بھی یہ نظارہ دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور باری باری آتے ہیں اور شرا ب لیتے ہیں۔ ان میں عورتیں بھی ہوتی ہیں اور مرد بھی ہوتے ہیں لیکن ہر ایک اپنی باری کے انتظار میں کھڑا رہتا ہے۔ بعض دفعہ سوسو کی قطاریں ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ جب قطار اتنی لمبی ہو جاتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اِس سے رستہ کو نقصان پہنچے گا تو وہ دوسری قطار بنا لیتے ہیں، پھر تیسری قطار بنا لیتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو گا کہ دوسری یا تیسری قطار میں سے کوئی آدمی شراب لے لے۔ پہلی قطار شراب لے لے گی تو دوسری قطار کا پہلا آدمی آگے بڑھے گا۔ اسی طرح جب تک دوسری قطار ساری کی ساری شراب نہ لے لے گی تیسری قطار کا پہلا آدمی آگے نہیں بڑھے گا۔ یہ اُن کا تمدّن ہے۔ بیشک وہ عیسائی ہیں لیکن یہ چیزیں انہوں نے اسلام سے لی ہیں۔
    دراصل ’’انسان مدنی الطبع ہے‘‘ کے معنے ہی یہی ہیں کہ ہمیں ایک دوسرے کا لحاظ کرنا ہو گا۔ اگر ہم ایک دوسرے کا لحاظ نہیں کرتے تو ہم مدنیت کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ جس چیز کو مدنیت کے خلاف سمجھا جاتا ہے ہمارے ملک میں لوگ اُس کا نام چالاکی رکھ لیتے ہیں۔ گویا انہیں دوسرے کا حق مارنے میں مزا آتا ہے۔
    اِسی طرح شہر کے رہائشی حصوں میں گند پھینکنا بھی مدنیت کے خلاف ہے۔ گو اس میں بہت سا دخل اس بات کا بھی ہے کہ ہمارے ملک میں گندگی کا معیار بہت گرا ہوا ہے، ہماری عورتوں میں صفائی کا احساس بہت کم پایا جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ بات نہیں تھی۔ جہاں اِس بات کے متعلق بھی سوال کیا جاتا تھا کہ حائضہ حیض کی جگہ کس طرح دھوئے؟ وہاں صفائی کا معیار کتنا۔بلند ہو گا۔ لیکن یہاں میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں آتی ہیں تو میرے سامنے ہی بچوں کو پاخانہ کرانے کے لیے بٹھا دیتی ہیں۔ پھر اُس کو ہاتھ سے صاف کرتی ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ صفائی کا معیار اِس حد تک کیوں گر گیا ہے۔ پھر ناک پونچھنا ہے بالعموم ہمارے ہاں کپڑے کے ساتھ ناک پونچھ لیا جاتا ہے۔ غرض گندگی کا احساس بہت کم ہے اور جب گندگی کا احساس اتنا کم ہو کہ پاخانہ ہاتھ سے صاف کر دیا اور پھر گلی میں پھینک دیا اور اگر ہاتھ گیلا ہوا تو پاجامے سے پونچھ لیا تو یہ بات کیسے دوبھر معلوم ہو گی کہ گندگی کو گلی میں پھینک دیا جائے۔ ان کے نزدیک یہ بہرحال زیادہ صفائی کی چیز ہے اور عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ گھر سے گند اُٹھایا اور گلی میں پھینک دیا۔ گویا جو چیز سب سے زیادہ صاف ہونی چاہیے تھی اُس کو زیادہ گندا۔ رکھا جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جو زہر تین افراد کو نقصان پہنچاتی ہے وہ اُس زہر سے بہت زیادہ خطرناک ہے جو ایک شخص کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اور جو زہر پچاس خاندانوں کو نقصان پہنچاتی ہے وہ اُس زہر سے زیادہ خطرناک ہے جو ایک خاندان کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اب اسلامی تعلیم تو موجود ہے کہ گلیوں میں گند نہیں پھینکنا چاہیے لیکن ہمارے ملک میں اس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
    اِس طرح اسلام کے اَور احکام بھی ہیں جو آجکل پسِ پُشت ڈال دیئے گئے ہیں۔ مثلاً دکاندار ہے وہ سڑی ہوئی چیزیں بیچتا ہے اور یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ چیز جس گھر جائے گی وہاں بیماری پھیل جائے گی۔ یہ بددیانتی الگ ہے اور شہر سے دشمنی الگ۔ جو شخص اِس قسم کی حرکت کرتا ہے اُسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ شہر میں رہے۔ پھر اِنہی چیزوں کو پھیلاتے جاؤ تمہیں بیسیوں ایسی مثالیں۔ملیں گی۔
    مجھے اِس مضمون پر خطبہ جمعہ پڑھنے کی تحریک اس وجہ سے ہوئی ہے کہ مجھے بدبو سے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ پرسوں شام بدبو کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف ہوئی اور معلوم ہوا کہ کہیں پتھر کے کوئلے جل رہے ہیں۔ پاکستان کے کوئلے میں گندھک زیادہ ہوتی ہے اس لیے تجربات کیے جا رہے ہیں کہ کوئلے سے گندھک کیسے دور کی جائے۔ وہ کوئلے شاید لائن سے پار جل رہے تھے لیکن اُن کی بُو سارے ربوہ میں پھیلی ہوئی تھی۔ شاید جلانے والے کو یہ خیال ہو کہ کوئلہ جلانے سے اسے روپیہ میں سے چارآنہ کی بچت ہے لیکن اُس میں شہریت کا احساس نہیں۔ اُس نے یہ خیال کیا کہ مجھے روپیہ میں سے چار آنے بچ جائیں لیکن یہ خیال نہ کیا کہ اُس کے اِس فعل کے نتیجہ میں لوگ بیمار ہوں گے اور ان پر سینکڑوں روپے خرچ ہوں گے۔ مومن کو ہمیشہ اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اُس سے دوسرے لوگوں کو ضرر نہ پہنچے۔ یورپ میں اگرچہ ناچ اور گانے کا رواج ہے لیکن ایسے قانون بھی موجود ہیں کہ کسی خاص وقت کے بعد شوروغل قطعاً نہ ہو۔ میں نے ابھی جرمنی کی ایک کتاب پڑھی ہے جس میں لکھا ہے کہ جرمن میں بارہ بجے کے بعد قطعی طور پر شور بند ہو جاتا ہے یہ مدنیت ہے۔ انسان کو بہرحال آرام کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور یہ اُس وقت ہو سکتا ہے جب اردگرد شور نہ ہو۔ بہرحال جب ہمیں اکٹھا رہنا ہے تو ہمیں ایک دوسرے کا لحاظ کرنا ہو گا۔ جو شخص دوسرے کا لحاظ نہیں کرتا وہ جنگل میں چلا جائے۔ شہر میں رہنے کا اُسے حق نہیں۔ جس شخص نے گلیوں میں گند پھینکنا ہے یا گندی غذائیں کھانا ہے یا کپڑوں سے ناک پونچھنا ہے وہ شہر سے باہر رہے اُسے شہر میں رہنے کا حق نہیں کیونکہ یہ چیزیں مدنیت کے خلاف ہیں اور پھر انسان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ دوسروں کے لیے اُس کا وجود فائدہ کا موجب ہو۔
    مجھے ایک دفعہ ایک انگریز ملا۔ وہ مشہور آدمی تھا اور مجھے دیر سے اُسے ملنے کا شوق تھا۔ چنانچہ میں نے اُسے کھانے پر بلا لیا۔ اُس نے مجھ سے دریافت کیا کہ میرا فرانسیسیوں کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے کہا جہاں تک میں نے اندازہ کیا ہے فرانسیسی زیادہ شائستہ اور مہذب ہوتا ہے لیکن انگریز خشک ہوتا ہے اور انٹروڈکشن کے بغیر کسی سے بولنا پسند نہیں کرتا۔ لیکن ایک فرق ضرور ہے کہ اگر کسی کو اچانک تکلیف پہنچے اور کوئی انگریز اُس کے پاس سے گزرے تو خواہ وہ اُس کا واقف ہو یا نہ وہ اُس کی مدد کرے گا لیکن فرانسیسی اُسے جانتا بھی ہو گا تو آگے گزر جائے گا۔ وہ ہنس پڑا۔ اُس کی سوال کرنے سے کچھ اَور غرض تھی لیکن تاہم وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا۔ میری ماں فرانسیسی تھی۔ یہ مدنیت کی کمی اور زیادتی کی وجہ سے فرق ہے۔ میرا اندازہ یہی ہے کہ انگریز ہر واقف اور ناواقف کی جب وہ مصیبت زدہ ہو مدد کرے گا لیکن فرانسیسی واقف بھی ہو گا تو پاس سے گزر جائے گا۔ میں جب شام گیا تو دیکھا کہ لوگ انگریزوں کی تعریف کرتے ہیں اور فرانسیسیوں کی تعریف نہیں کرتے۔ جب میں نے ان سے انگریزوں کی تعریف سنی تو میں نے کہا تم پسند کرتے ہو کہ انگریز یہاں آ جائیں؟ انہوں نے کہا نہیں۔ میں نے کہا کیوں؟ ابھی تو تم انگریزوں کی تعریف کر رہے تھے۔ اِس پر انہوں نے کہا فرانسیسی ہمیں۔ٹھڈّے بھی مارتا ہے تو اِس طرح جیسے بھائی بھائی کو مارتا ہے لیکن انگریز ہم سے نیک سلوک بھی کرتا ہے تو اِس طرح جیسے کُتّے سے سلوک کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم فرانسیسیوں کو ہی پسند کرتے ہیں انگریزوں کو نہیں۔ انگریز مہربان تو ہوتے ہیں لیکن اُن کے اندر یہ جذبہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ اَوروں سے بالا ہیں لیکن فرانسیسی ظلم بھی کریں گے تو اِس طرح جس طرح ایک بھائی بھائی پر کرتا ہے۔
    بہرحال ہر ایک قوم کے الگ الگ اخلاق ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ اسلام اُن کا پابند ہو۔ فرانسیسیوں کے الگ اخلاق ہیں، امریکہ والوں کے الگ اخلاق ہیں، انگریزوں کے الگ اخلاق ہیں ہم ان کے پابند نہیں۔ اسلام نے خود تمدّن کے بعض اصول مقرر فرمائے ہیں اور ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم ان اصولوں کی پابندی اختیار کریں۔ احمدی جب اسٹیشن پر جائیں قطار میں کھڑے ہو کر ٹکٹ لیں، جب ریل میں بیٹھیں سمٹ کر بیٹھیں اور نئے آنے والوں کو جگہ دیں، جب ضرورت پڑے ہر احمدی میں یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ وہ دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہو جائے۔ اِسی طرح شہروں میں صفائی کا خیال رکھا جائے اور کوئی کام ایسا نہ کیا جائے جس سے دوسروں کو تکلیف محسوس ہو۔
    ربوہ کو ہی لے لو۔ ربوہ میں جہاں کہیں گند ہو اُسے دور کرو۔ یا اگر طاقت ہے تو دوسروں سے صفائی کرواؤ۔ لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ گند گھر سے نکال کر باہر گلی میں پھینک دیا جائے۔ میں نے ربوہ میں چلتے پھرتے دیکھا ہے کہ اِدھراُدھر پاخانہ پھرا ہوا ہو گا جو جُوتی سے لگ جاتا ہے۔ یا اگر کسی نے مرغی کھائی ہے تو اُس کی انتڑیاں باہر پھینک دی جاتی ہیں اور وہ جوتی کے ساتھ چپک جاتی ہیں اور دور تک ساتھ گھسٹتی جاتی ہیں۔ شہر میں رہتے ہوئے ہر اُس فعل سے اجتناب کرنا چاہیے جو دوسرے کے لیے ضرررساں ہو۔ انسان جو چیز بھی استعمال کرے اُس کے متعلق سوچ لے کہ اس سے دوسرے کو تکلیف تو نہیں ہوتی۔ مثلاً کوئلہ ہے شہری آبادی میں پتھر کا کوئلہ جلانا نہایت مُضِر ہے۔ اِس سے نمونیا اور کھانسی پیدا ہوتی ہے۔ اِسی طرح گلے میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈسٹریل ایریا شہر کے ایک طرف رکھا جاتا ہے۔ یہ ایسی خصوصیات ہیں کہ اگر کسی میں پائی جائیں تو خوامخواہ لوگ سوال کریں گے کہ یہ کون لوگ ہیں۔ اگر تم ریل میں بیٹھے ہو اور نئے آنے والوں کو جگہ مہیا کرتے ہو، خود تکلیف برداشت کرتے ہو اور دوسرے کو تکلیف میں نہیں رہنے دیتے تو لوگ پوچھیں گے تم کون ہو؟ اور جب تم کہو گے کہ میں احمدی ہوں تو خواہ کسی کو احمدیوں سے واسطہ پڑا ہو یا نہیں ہر کوئی یہ کہے گا کہ۔میں نے پہلے بھی سنا ہے کہ احمدی لوگ بااخلاق ہوتے ہیں۔ اور ڈبّہ کے لوگ بجائے مخالفت کرنے کے تمہاری تعریفیں کرنے لگ جائیں گے اور رستہ میں یہی تعریف ہوتی چلی جائے گی۔ لیکن اگر تم میں سے کوئی یہ اخلاق نہیں دکھاتا تو ایک مخالف کو موقع مل جائے گا اور وہ تمہیں دیکھ کر ڈبّہ میں تمہارے متعلق جوش پھیلائے گا اور لوگ تمہارے مخالف ہو جائیں گے لیکن اگر تم اچھے اخلاق دکھاتے ہو تو کسی کو تمہارے خلاف بات کرنے کی جرأت نہیں ہو گی، کسی کو یہ طاقت نہیں ہو گی کہ وہ تمہارے خلاف بولے۔ ہر کوئی سُبْحَانَ۔اللّٰہِ کہے گا۔ جب رَو چلتی ہے تو اِسی طرح چلتی ہے۔ اگر بیماریوں کی باتیں شروع ہو جائیں تو دودو گھنٹے بیماریوں کی باتیں ہی چلی جاتی ہیں، گانے بجانے کے متعلق باتیں شروع ہو جائیں تو وہی باتیں دودو گھنٹہ تک چلتی جاتی ہیں۔ تم نے ایک رَو چلانی ہے اور اُس کا یہی طریق ہے جو میں نے بتایا ہے۔ اور تم ان باتوں کو مدّنظر رکھ کر سفر کرو تو کئی میل تک احمدیت کا ہی تذکرہ چلا جائے گا اور کسی کو جرأت نہیں ہو گی کہ وہ احمدیوں کے خلاف کوئی بات اپنے منہ سے نکالے۔ اگر وہ احمدیوں کے خلاف کچھ کہے گا تو سب لوگ کہیں گے کہ تُو جھوٹا ہے۔ کیا تُو نے بھی کسی نئے آنے والوں کو جگہ دی ہے؟ کیا تُو بھی کسی کے لیے کھڑا ہوا ہے؟ پس آسان ترین ذریعہ رَو چلانے کا یہی ہوتا ہے کہ اخلاق کا اچھا نمونہ دکھایا جائے۔ اور پھر ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اسلامی۔مدنیت کا پابند بنائے اور کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے دوسروں کو نقصان پہنچے۔ جہاں حقوق مشترک ہوں وہاں کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے جس سے دوسروں کو ضرر پہنچے بلکہ ایسا ہی کام کرنا چاہیے جس سے اردگرد کے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہو اور اس سے انہیں راحت حاصل ہو‘‘۔
    (الفضل 16؍اگست1961ئ)

    1
    :
    (طٰہٰ:119)
    2
    :
    بخاری کتاب الاطعمۃ باب ما یکرہ من الثوم والبقول
    3
    :
    بھرشِٹ:ناپاک، پلید (فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)
    4
    :
    أَسِیْ: أَسِیْ،أَسَاں،أَسِیْںبمعنٰی ہم(وڈی پنجابی لغت مرتبہ تنویربخاری)
    5
    :
    کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال۔کتاب الصُّحبۃ من قسم الاقوال۔ الباب الثانی فی آداب الصُّحبَۃِ وَالْمَصَاحب وَمحظُوْرَاتِھا۔ الجزئ9 صفحہ18 حدیث۔نمبر24829 بیروت لبنان1998ء

    27
    اذان کے کلمات اپنے اندر بہت بڑی حکمت رکھتے ہیں
    ان کلمات کو سمجھنے اور ان کے مطابق کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
    (فرمودہ 16نومبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جب انسان کی طبیعت کمزور ہوتی ہے تو بیماری اس پر غالب آ جاتی ہے۔ میں اپنے کمرہ سے صحیح وسالم نکلا تھا اور آج ایک خاص مضمون پر خطبہ جمعہ پڑھنے کا خیال تھا لیکن کمرہ سے ڈیوڑھی تک آتے ہوئے ایک منٹ یا نصف منٹ کے لیے میری بائیں طرف سورج کے سامنے آ گئی اور۔اتنی دیر کی شعاعوں کی وجہ سے ایسی سردرد شروع ہو گئی کہ اب ایک ایک لفظ بولنے میں دقّت محسوس ہو رہی ہے۔
    جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں مضمون تو کوئی اَور سوچ کر آیا تھا لیکن جب مؤذّن اذان دے رہا تھا اور میں اُس کے مقابلہ میں حسبِ سنّت اور حسبِ ارشادِنبوی آہستہ آہستہ اذان کے کلمات دہرا رہا تھا1 تو جب مؤذّن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ پر پہنچا اور بجائے اُن کلمات کے جو وہ کہہ رہا تھا میں نے لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھنا شروع کیا۔ تو میرا ذہن ادھر منتقل ہوا کہ آج مختصراً اِسی کے متعلق خطبہ جمعہ پڑھ دوں۔ مؤذّن کہتا ہے اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ تو سننے والے کو ارشاد ہوتا ہے کہ وہ بھی کہے اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اور ایک مومن اور دین سے واقفیت رکھنے والا آدمی مؤذّن کے ساتھ ساتھ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتا ہے(ان کلمات کو بلند آواز سے دہرانے کا حکم نہیں)۔ اس لیے جب مسجد میں بیٹھے ہوئے ایک مومن اور واقفِ دین ان الفاظ کو دہراتا ہے تو دوسرے شخص کو پتا نہیں لگتا۔ پھر جب مؤذّن کہتا ہے اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اِس پر سننے والے کو ارشاد ہوتا ہے کہ تم بھی کہو اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اور ایک مومن اور واقفِ دین ان کلمات کو دل میں دہراتا ہے۔ مؤذّن اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا ہے تو پھر ارشاد ہو تا ہے کہ سننے والا یہ کلمہ دل میں دہرائے۔ اور ایک مومن اور واقفِ دین یہ کلمہ اپنے دل میں دہراتا ہے۔ پھر مؤذّن کہتا ہے اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَسُوْلُ اللّٰہِ تو ارشاد ہوتا ہے تم بھی یہ کلمہ دل میں دہراؤ۔ اور ایک مومن اور واقفِ دین یہ کلمہ دل میں دہراتا ہے۔ پھر مؤذّن کہتا ہے حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ تو ارشاد ہوتا ہے تم یہ کلمات نہ دہراؤ بلکہ جب مؤذّن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتا ہے تو تم لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہو۔ چنانچہ جب مؤذّن یہ کلمات کہتا ہے تو ایک مومن اور واقفِ۔دین لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہتا ہے۔ گو بعض لوگوں نے تفقّہ سے کام لے کر یہ فتوٰی دیا ہے کہ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھنے کے بعد وقفہ میں تم یہ کلمات بھی دہرا لیا کرو۔ اور عادۃً اکثر دفعہ میں بھی ان کلمات کو دُہرا لیا کرتا ہوں لیکن یہ تفقّہ زیادہ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں عادۃً تو ان کلمات کو دُہرا لیتا ہوں لیکن جب سوچتا ہوں تو بات وہی صحیح معلوم ہوتی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اور اُس پر زیادتی اچھی معلوم نہیں ہوتی۔ پھر مؤذّن کہتا ہے اَللّٰہُ۔اَکْبَرُاَللّٰہُ۔اَکْبَرُ تو ارشاد ہوتا ہے تم بھی یہ کلمات کہو۔ اور ایک مومن اور واقفِ دین دل میں ان کلمات کو دہراتا ہے۔ پھر مؤذّن کہتا ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تو ارشاد ہوتا ہے کہ تم بھی یہ کلمہ دہراؤ۔ اور ایک مومن اور واقفِ دین اس کلمہ کو دل میں دہراتا ہے۔
    غرض جب مؤذّن اذان دیتا ہے تو سننے والا اذان کے کلمات کو دہراتا ہے لیکن جو مؤذّن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتا ہے تو وہ ان کلمات کو دہراتا نہیں بلکہ جب مؤذّن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتا ہے تو سننے والا لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِکہتا ہے۔ جن لوگوں نے تفقّہ سے یہ فتوٰی دیا ہے کہ وقفہ میں ان الفاظ کو بھی دہرا لیا جائے اُن کی بنیاد اِس بات پر ہے کہ جب اذان کے باقی کلمات دہرائے جاتے ہیں تو ان الفاظ کو بھی دہرا لینا چاہیے۔ لیکن اگر ہم ان۔کلمات کے معنوں پر غور کریں تو بات وہی صحیح معلوم ہوتی ہے جو احادیث میں مروی ہے کہ ان کلمات کی بجائے لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھنا چاہیے۔ مؤذّن زور سے کہہ رہا ہوتا ہے حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ اے لوگو! جلدی توجہ اور تعہّد کے ساتھ نماز کی طرف آؤ ۔ اے لوگو! جلدی آؤ۔ توجہ کے اور تعہّد کے ساتھ فلاح کی طرف آؤ۔اور ہم ان کلمات کو دل میں کہتے ہیں۔ اب مؤذّن کی آواز چونکہ بلند ہوتی ہے اس لیے لوگ اُس کی آواز کو سنتے ہیں اور اُس پر عمل کرتے ہوئے مسجد میں آجاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم دل میں ان کلمات کو دہرائیں تو انہیں کون سنتا ہے اور کون ان پر عمل کرتا ہے؟ پس اس میں کوئی معقولیت معلوم نہیں ہوتی۔ مؤذّن جب اَللّٰہُ۔اَکْبَرُاَللّٰہُ۔اَکْبَرُ کہتا ہے تو سننے والا ان الفاظ کو دل میں دہراتا ہے اور کہتا ہے مؤذّن نے جو کچھ کہا ہے ٹھیک کہا ہے۔ میری ذات بھی خداتعالیٰ کی تکبیر پر ایمان لاتی ہے۔ مؤذّن جب کہتا ہے اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تو سننے والا بھی اس کلمہ کو دل میں دہراتا ہے اور کہتا ہے مؤذّن ٹھیک کہتا ہے میں بھی خداتعالیٰ کی توحید پر ایمان لاتا ہوں۔ مؤذّن جب اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِ کہتا ہے تو سننے والا اپنے دل میں اس کلمہ کو دہراتا ہے اور کہتا ہے مؤذّن ٹھیک کہتا ہے میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں۔ لیکن جب مؤذّن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ کہتا ہے تو اس کی بات معقول نظر آتی ہے کہ وہ مینار پر کھڑا بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ اے لوگو!سُرعت، توجہ اور تعہّد کے ساتھ نماز کے لیے مسجد میں آؤ اور بسااوقات سننے والا اس آواز کو سن کر مسجد میں آ جاتا ہے۔ لیکن اگر میں اِس کلمہ کو دل میں دہراتا ہوں تو اس میں کوئی معقولیت نظر نہیں آتی۔ میری آواز کون سنتا ہے اور کون اس آواز پر عمل کرتا ہے۔ جہاں تک فرد کا سوال ہے مؤذّن اَللّٰہُ۔اَکْبَرُ اَللّٰہُ۔اَکْبَرُ کہتا ہے تو میں بھی کہتا ہوں اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ وہ جب اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا ہے تو میں بھی کہتا ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا اَور کوئی معبود نہیں۔ جب وہ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہتا ہے تو میں بھی کہتا ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ گویا جہاں تک انسانی نفس کا سوال ہے جب مؤذّن اذان کے کلمات کہتا ہے تو ہر سننے والا وہ کلمات دل میں دہرا سکتا ہے۔ آہستہ آہستہ بھی اور وراء الورا یعنی شعور کے طور پر بھی۔ لیکن جس بات کا تعلق دوسرے لوگوں سے ہے اس کو اپنے دل میں کہنا اپنے اندر کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے اے لوگو! کان کھول کر سن لو کہ فلاں شخص بیوقوف ہے اور وہ یہ بات اپنے دل میں کہہ رہا ہے تو دوسرے لوگوں کو اس کا پتا کیسے لگے گا۔ پس اَللّٰہُ۔اَکْبَرُاَللّٰہُ۔اَکْبَرُ کا دل میں دہرانا سمجھ میں آ سکتا ہے، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا دہرانا سمجھ میں آ سکتا ہے کیونکہ ان کلمات کا تعلق انسانی ذات سے ہے لیکن حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کا دہرانا سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ کیونکہ کہنے والا کہتا ہے کہ اے لوگو!تم سُرعت، توجہ اور تعہّد کے ساتھ نماز کی طرف آؤ۔ اِس کلمہ کا تعلق اپنی ذات سے نہیں بلکہ دوسرے افراد سے ہے اور جب وہ دوسرے افراد کو کہتا ہے تم سرعت، توجہ اور تعہّد کے ساتھ نماز کی طرف آؤ اور یہ بات آہستہ کہتا ہے تو دوسرے افراد کو پتا کیسے لگے گا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ لیکن مؤذّن جب یہ کلمات کہتا ہے تو بلند آواز سے کہتا ہے، لوگ اُس کی آواز کو سنتے ہیں اور ان میں سے اکثر مسجد میں آ جاتے ہیں۔ یہاں دوڑنے سے مُراد جسمانی دوڑنا نہیں بلکہ اس سے مُراد روحانی دوڑ میں شامل ہونا ہے۔ اسی طرح مؤذّن کہتا ہے حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ اے لوگو! تم سرعت، توجہ اور تعہّد کے ساتھ کامیابی کی طرف آؤ۔ اور جس شخص کے کان میں یہ آواز پڑتی ہے وہ کہتا ہے ٹھیک بات ہے اور اکثر دفعہ وہ مسجد کی طرف چلا جاتا ہے۔ لیکن اگر تم ان کلمات کو آہستہ آہستہ کہتے ہو تو تمہاری آواز کو۔کون سنتا ہے؟ کون اس پر عمل کرتا ہے؟ کس کی توجہ پھیرنے کا یہ کلمات موجب ہوتے ہیں؟ پس اس میں کوئی معقولیت نظر نہیں آتی کہ ان کلمات کو دہرایا جائے۔ لیکنلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہنے میں معقولیت پائی جاتی ہے کیونکہ مؤذّن نے کہا تھا حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ تم سرعت، توجہ اورتعہّد سے نماز کی طرف آؤ اور حقیقی نماز یعنی کامل توجہ سے ذکرِالٰہی کرنا اور دنیا کی اشیاء سے منہ موڑ لینا بہت بڑا کام ہے اسے ہر انسان نہیں کر سکتا۔ اِس لیے جب مؤذّن کہتا ہے حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ تو مومن کہتا ہے لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہ میں چلوں گا تو سہی، میں مسجد میں آنے کی کوشش تو کروں گا اور توجہ اور تعہّد سے نماز کی طرف آؤں گا لیکن نماز کی جو شرائط ہیں اُن کو پورا کرنا میری طاقت سے باہر ہے۔ نماز میں توجہ کو قائم کرنا، خداتعالیٰ کی صفات کو سمجھنا، خداتعالیٰ کی محبت کو کامل طور پر پیدا کر لینا اور یہ خیال کر لینا کہ خداتعالیٰ مجھے نظر آتا ہے یہ بہت بڑا کام ہے۔ اس میں خداتعالیٰ ہی مدد کرے تو میں کر سکتا ہوں۔ چنانچہ وہ کہتا ہے لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ یعنی یہ کام بہت بڑا ہے اور اس کا کرنا میری طاقت میں نہیں۔ ہاں! اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہو تو یہ کام ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح جب مؤذّن کہتا ہے حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ اے لوگو! کامیابی کا رستہ کھل گیا ہے دوڑو اور اس پر پروانہ۔وار گر جاؤ۔تو اَب چلنا اور۔کوشش کرنا تو انسان کے اختیار میں ہے لیکن کامیابی کو پا لینا اس کے اختیار میں نہیں۔ فلاح اینٹ اور چونے کی بنی ہوئی چیز نہیں کہ کوئی مسجد میں جائے اور اسے اُٹھا لائے۔ فلاح غیرمرئی چیز ہے اور وہ خداتعالیٰ کی دی ہوئی بینائی سے نظر آتی ہے۔ اور جب وہ غیرمرئی چیز ہے اور خداتعالیٰ کی دی ہوئی بینائی سے نظر آتی ہے تو پھر خداتعالیٰ ہی مدد کرے تو وہ حاصل ہو سکتی ہے ورنہ نہیں۔اس لیے جب مؤذّن حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتا ہے تو سننے والا لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہتا ہے یعنی خداتعالیٰ کی مدد سے ہی میں فلاح کو حاصل کر سکتا ہوں ورنہ نہیں۔
    ہم دیکھتے ہیں لوگ مسجدوں میں جاتے ہیں اور خالی ہاتھ آ جاتے ہیں۔ اُن کے ہاتھوں میں فلاح نہیں ہوتی، اُن کے کپڑوں میں فلاح نہیں ہوتی لیکن خداتعالیٰ کہتا ہے فلاح وہاں ہے آؤ اور اسے لے لو۔تو معلوم ہوا کہ یہ غیرمرئی چیز ہے اور یہ خداتعالیٰ ہی دیتا ہے اور اس کی دی ہوئی بینائی سے ہی نظر آتی ہے۔ اور جب یہ غیرمرئی چیز ہے اور یہ خداتعالیٰ ہی دیتا ہے تو جب مؤذّن حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتا ہے تو سننے والا لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہتا ہے کہ میں ضرور آؤں گا، کوشش کروں گا اور اپنا سارا زور لگاؤں گا۔ لیکن فلاح عطا کرنا خداتعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ مدد کرے تو میں اس کے حصول میں کامیاب ہو سکتا ہوں ورنہ نہیں۔ پس اِن دونوں کلمات حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِکی بجائے لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھنا زیادہ مناسب ہے۔
    یہ کلمات اپنے اندر بہت بڑی حقیقت رکھتے ہیں اور ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح ہمیں چھوٹی۔چھوٹی باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ہو سکتا تھا کہ کوئی شخص اذان کے کلمات کو دہراتا اور وہ سوچتا بھی نہ کہ ان کے اندر کتنی بڑی حقیقت پوشیدہ ہے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی امت کو توجہ دلا دی کہ یہ حصہ پہلے حصہ سے الگ ہے۔ یہاں انسانی کام ختم ہو تا ہے اور خدائی کام شروع ہوتا ہے۔ اس۔لیے تم اِس کام کے لیے خداتعالیٰ کی مدد حاصل کرو۔
    افسوس کہ بوجہ بیماری مَیں اس مضمون کو ختم نہیں کر سکا۔ اگر خداتعالیٰ نے توفیق دی تو اِنْشَائَ؎اللّٰہُ اگلے جمعہ میں مَیں اسے بیان کروں گا۔ آج میں صرف یہی بتانا چاہتا ہوں کہ اذان کے کلمات اپنے اندربہت بڑی حکمت رکھتے ہیں۔ انہیں سمجھنے اور ان کے مطابق کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔ (الفضل 25نومبر1951ئ)

    1
    :
    صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب استحباب القول مثل قول المؤذن لِمَنْ سَمِعَہٗ ثم یُصَلِّی عَلَی النبیِّ ﷺ ثُمَّ یَسَأَلُ اللّٰہَ لَہٗ الْوَسِیْلَۃَ۔


    28
    لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ
    ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے
    تم اس نکتے کو مشعل راہ بناؤ پھر دیکھو کہ خداتعالیٰ کی مدد کیسے آتی ہے
    (فرمودہ 23نومبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’گزشتہ جمعہ میں مَیں نے اذان کے متعلق کچھ بیان کیا تھا لیکن اس مضمون کے متعلق زیادہ بیان نہیں کر سکا تھا کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس کا بقیہ حصہ میں آج بیان کرنا چاہتا ہوں۔
    میں نے کہا تھا کہ جب اذان کے الفاظ دہرائے جاتے ہیں تو حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے مقام میں لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہا جاتا ہے۔ جس میں اِس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں کام ایسے ہیں جو میں نہیں کر سکتا، یہ کام میری طاقت سے بالا ہے اس لیے میں اللہ تعالیٰ سے ہی مدد مانگتا ہوں کیونکہ اللہ۔تعالیٰ کی مدد کے بغیر میں کوئی کام بھی نہیں کر سکتا۔ میں نے اُس دن بیان کیا تھا کہ ان دو کلمات کے متعلق خصوصیت کے ساتھ یہ اس لیے کہا گیا ہے کہ نہ تو صلٰوۃ کاملہ خداتعالیٰ کی مدد کے بغیر حاصل ہو ۔سکتی ہے اور نہ فلاح خداتعالیٰ کی مدد کے بغیر حاصل ہو سکتی ہے۔ مگر یہ مضمون خاص طور پر اذان۔کے۔ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتا بلکہ جب کوئی اصل بیان کیا جاتا ہے تو وہ اصل صرف اُس جگہ ہی کام نہیں آتا بلکہ وہ باقی امور کے متعلق بھی ہوتا ہے۔ اس سے جہاں ہمیں اذان کی حکمت معلوم ہو جاتی ہے وہاں اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ تمام کام جو انسان کی طاقت سے بالا ہوں ان میں الٰہی مدد مانگنی چاہیے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔
    پس اذان نے ہمیں اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ حقیقی مشکلات کا حل محض اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ محض صلوٰۃ اور فلاح ہی ایسے کام نہیں جو خداتعالیٰ کی مدد کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے بلکہ باقی عظیم الشان اور اہم امور بھی جن کے کرنے میں دنیا کے قوانین اور نیچر کے قوانین کا تعلق ہوتا ہے یا ان کا جماعتوں سے تعلق ہوتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ ہی مکمل ہوتے ہیں۔ اوّل تو انسان کا ارادہ ہی اتنا کمزور ہے کہ وہ ایک کام کو اچھابھلا دیکھ کر بھی اسے کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ اس میں اس کام کے کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ لیکن وہ اس کے کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔مثلاً سینکڑوں ہزاروں مسلمان تمہیں نظر آئیں گے جو کہیں گے کہ ہمیں پتا ہے کہ نماز خداتعالیٰ کا حکم ہے لیکن سُستی ہے اس لیے نماز پڑھی نہیں جاتی۔ اب نماز تو ذاتی کام ہے لیکن باوجود اِس کے کہ وہ اپنا کام ہے انسان اسے جرأت اور دلیری کے ساتھ نہیں کرتا۔ پھر جن کاموں میں دوسروں کی شراکت ہو وہ تو اس کی طاقت سے ہی بالا ہوتے ہیں۔ اپنی ذات میں تو انسان کسی کام کا ارادہ کر لے تو وہ کر لیتا ہے لیکن دوسروں سے کام کرانا اُس کی طاقت سے بالا ہوتا ہے۔
    پس جماعتی کام خصوصیت کے ساتھ خداتعالیٰ کی مدد کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔ مثلاً ایک زمیندار کھیت بوتا ہے اَب ہل چلانا اس کے اختیار میں ہے۔ وہ اگر چاہے تو ہل چلا سکتا ہے مگر باوجود اِس کے کہ یہ کام انسان کے اختیار میں ہوتا ہے وہ سُستی کر جاتا ہے۔ قادیان میں جب میں سیر کو جاتا تھا تو جب میں کسی اچھی فصل کے پاس سے گزرتا تھا تو اکثر لطیفہ کے طور پر میں کہتا تھا کہ یہ کھیت کسی سِکھ کا معلوم ہوتا ہے اور اکثر میری رائے درست ہوتی تھی۔ میرے ساتھی کہتے تھے کہ آپ کو یہ خیال کس طرح پیدا ہو گیا کہ یہ کھیت کسی سِکھ کا ہے؟ تو میں کہتا تھا کہ اِس کھیت میں فصل اچھی ہے اس لیے یہ کھیت کسی سِکھ کا ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ سِکھ محنت کرتا ہے مسلمان محنت نہیں کرتا اور بالعموم میرا اندازہ درست ہوتا تھا کہ جو بھی سرسبز اور اچھا کھیت ہوتا وہ کسی سِکھ کا ہی ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دو دفعہ مجھ کو اندازہ کرنے میں غلطی بھی لگ گئی ہو لیکن اکثر دفعہ میرا اندازہ ٹھیک ہوتا تھا۔ پس انسان اپنے کام میں بھی سُستی کر جاتا ہے۔ لیکن بہرحال اگر اُس نے محنت کی ہے اور کھیت میں ہل چلائے ہیں لیکن جب بیج ڈالنے کا وقت آیا تو اسے اچھا بیج نہیں ملا اس لیے اُس کی فصل خراب ہو گئی کیونکہ اچھا بیج مہیا کرنا زمیندار کے اختیار میں نہیں۔ ہر ایک زمیندار خود بیج مہیا نہیں کرتا بلکہ بازار سے خریدتا ہے۔ فرض کرو ملک میں بیماری پڑی اور فصل خراب ہو گئی۔ اب زمیندار اچھا بیج کہاں سے لائے گا۔ یہ چیز انسان کی طاقت سے باہر نکل جاتی ہے۔ پھر پانی کا سوال آتا ہے۔ پانی مہیا کرنا انسان کے اختیار میں نہیں۔ پہاڑوں پر برف نہ پڑے تو پگھلے گی کہاں سے۔ اب برف پڑنا اور اُس کا پگھلنا انسان کے اختیار میں نہیں۔ پھر برف نہیں پڑی تو دریا نہیں بھرے اور یہ انسان کے اختیار میں نہیں۔ پھر اگر دریا نہیں بھرے تو نہریں نہیں چلیں اور یہ انسان کے اختیار میں نہیں۔اگر نہریں نہیں چلیں گی تو باوجود نہری زمین ہونے کے زمیندار کو پانی مہیا نہیں ہو گا اور فصل نہیں ہو گی۔ اور اگر زمین نہری نہیں بارانی ہے تو بارش انسان کے اختیار میں نہیں۔ یہاں قانونِ قدرت چلتا ہے۔ اگر خداتعالیٰ بارش کر دے گا تو کر دے گا ورنہ بارش نہیں ہو گی اور اس کی فصل خراب ہو جائے گی۔ گویا اس میں ایک حصہ ذاتی ہے اور دوسرا حصہ قانونِ۔قدرت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ انسان کے اختیار میں نہیں۔ وہ اُسی وقت مکمل ہو گا جب انسان لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ساتھ خداتعالیٰ سے دعائیں کرے گا اور تضرع کرے گا کہ اتنا حصہ تو میں پورا کروں گا لیکن ایک حصہ آپ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لیے آپ اس حصہ کو پورا کر لیں۔
    غرض ہزاروں کام ایسے ہیں جو دوسروں کے ساتھ وابستہ ہیں اور ان کی مدد کے بغیر انسان کام نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اگر پانی نہ ملے تو فصل خراب ہو جاتی ہے یا مثلاً نہروں اور۔دریاؤں میں پانی آگیا ہے اور کھیت کے لیے پانی میسر ہے پھر فصل بھی اچھی ہے لیکن ٹڈی دَل آگیا اور اس نے کھیت کا صفایا کر دیا تو یہ انسان کے اختیار میں نہیں۔ ٹڈی دس پندرہ منٹ تک کھیت میں بیٹھتی ہے اور جب اُڑتی ہے تو اس میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یا زمین دریا کے پاس ہے اور ہزاروں چوہے آ جاتے ہیں اور اُس فصل کو برباد کر دیتے ہیں۔ اب یہ انسان کے اختیار میں نہیں۔ یا پھر زمیندار محنت بھی کرتا ہے، وہ ہل بھی چلاتا ہے، بارش بھی وقت پر ہو جاتی ہے، فصل بھی اچھی ہے، ٹڈی دل بھی نہیں آتی، زمین بھی دریا کے پاس نہیں کہ چوہے آ جائیں اور فصل کھا جائیں لیکن اچانک ایک چنگاری اُڑتی ہے اور کھلیان میں آگ لگ جاتی ہے۔ اب یہ انسان کے اختیار میں نہیں۔ پھر بعض دفعہ دشمن بھی آگ لگا دیتا ہے اور دشمن بھی انسان کے اختیار میں نہیں۔ غرض کوئی کام ایسا نہیں جو مکمل طور پر انسان کے اختیار میں ہو۔ ہر ایک کام میں کچھ حصہ قانونِ قدرت یا دوسرے لوگوں کا ہوتا ہے۔ اب انسان کو دوسرے لوگوں کی مدد نہ ملے یا قانونِ قدرت مدد نہ کرے تو وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ یہ نکتہ ہے جو ہمیں اذان سکھاتی ہے۔
    غور تو کرو آخر کتنے کام ہیں جو انسان کے اپنے اختیار میں ہیں۔ تمہیں غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ دنیا کے ہر کام میں تعاون اور قانونِ۔قدرت شامل ہیں۔ گھروں میں دیکھ لو۔ ہمارے لوگ تو۔تعلیم میں بہت پیچھے ہیں لیکن خداتعالیٰ نے جو معیشت کا سامان بنایا تھا یورپ کے لوگ بھی اسے بدل نہیں سکے۔ میاں بیوی دونوں گھر کا کام چلا سکتے ہیں۔ تم بیس نوکر رکھ لو لیکن بیس نوکر وہ کام نہیں کر سکتے جو ایک بیوی کرتی ہے۔ انسان جتنے نوکر رکھے گا اُس کا کام بڑھ جائے گا۔ مثلاً گھر میں کپڑا رکھا ہے، روپیہ رکھا ہے یا غلّہ رکھا ہے اور کسی کے دس نوکر ہیں تو اُسے دس آدمیوں کی نگرانی کرنی پڑے گی کہ کہیں وہ روپیہ غلّہ یا سامان چُرا کر نہ لے جائیں۔ اور اگر سو نوکر ہوں گے تو اُسے سو آدمیوں پر نظر رکھنی پڑے گی۔ لیکن بیوی کے پاس انسان بغیرحساب کے روپیہ رکھ دیتا ہے، کپڑا رکھتا ہے اور اُس کی نگرانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہزاروں میں سے کوئی ایک عورت ہو گی جو اپنے خاوند کے سامان اور روپیہ کی حفاظت میں کوتاہی کرتی ہو گی ورنہ گھر کا سارا کام میاں اور بیوی کے ساتھ چل رہا ہے۔ خاوند سارا روپیہ بیوی کو دے دیتا ہے۔ اُسے جب ضرورت ہوتی ہے بیوی روپیہ نکال دیتی ہے۔ غرباء میں تو عام رواج ہے کہ جب بچے کی شادی ہو تو باپ سمجھتا ہے یہ اخراجات کہاں سے لاؤں گا لیکن بیوی سارا انتظام کر دیتی ہے۔ کمانے والے کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس کتنا روپیہ ہے لیکن جس کے پاس روپیہ جمع ہوتا ہے وہ فوراً نکال کر دے دیتی ہے اور وہ ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ پس خداتعالیٰ نے میاں بیوی کو معیشت کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہاں! اگر ساتھی اچھا نہیں ملتا تو ساری عمر تلخ ہو جاتی ہے۔ دنیا میں وہ آدمی بھی ہیں جن کی آمد اچھی خاصی ہوتی ہے لیکن بیوی بیوقوف ہوتی ہے اور وہ سارا روپیہ ضائع کر دیتی ہے۔ ایک شخص کا پانچ روپیہ کی بجائے دس روپیہ خرچ ہوتا ہے تو دوسرے کی بیوی عقلمندی سے دس کی بجائے پانچ روپیہ خرچ کرتی ہے۔ بہرحال دنیا کے سب کاموں کی بنیاد تعاون پر ہے۔ یورپ، امریکہ، ہندوستان اور دیگر ممالک کا تمام نظام تعاون کے ساتھ چل رہا ہے۔ آگے اولاد آ جاتی ہے، خاندان کا وقار، عزت اور شہرت کا تعلق اولاد کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر اولاد بگڑ جائے تو اُس خاندان کا وقار، عزت اور شہرت قائم نہیں رہ سکتی۔ اب اولاد کا درست رکھنا خداتعالیٰ کے اختیار میں ہے انسان کے اختیار میں نہیں۔ کسی خاندان کی خواہ کتنی عزت ہو،شہرت ہو لیکن اولاد بگڑ جائے تو کچھ کا کچھ ہو۔جاتا۔ہے۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے پنجاب میں خصوصاً سرگودھا میں وہ خاندان بستے ہیں جو ابوجہل کی نسل میں سے ہیں لیکن ان خاندانوں کے افراد کبھی نہیں بتائیں گے کہ وہ ابوجہل کی نسل میں سے ہیں۔ پھر کئی ماں باپ ایسے ہیں جن کی اولاد خراب ہوتی ہے۔ جن لوگوں کو ان کی اولاد کا علم ہوتا ہے اُن کو تو علم ہوتا ہے لیکن وہ دوسروں کو دلیری اور جرأت کے ساتھ کبھی نہیں بتائیں گے کہ فلاں میرا بیٹا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس سے ان کی بے عزتی ہو گی۔ اب یہ کسی انسان کے اختیار میں نہیں کہ اس کی اولاد ٹھیک ہو، اس کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ خاندان کی عزّت، شہرت اور۔وقار کو قائم رکھنے والی ہو۔
    غرض اہلی نظام ہو یا قومی نظام خداتعالیٰ کی مدد کے بغیر چل نہیں سکتا۔ جب قوم بگڑتی ہے تو ایک آدمی خواہ کتنی شہرت والا ہو اُسے درست نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں فرشتوں کا دخل ہوتا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کا کام آتا ہے۔ جب خداتعالیٰ حکم دیتا ہے تو قومیں درست ہو جاتی ہیں۔ ہم نے تو دنیوی امور میں بھی دیکھا ہے کہ جب خداتعالیٰ کسی قوم میں بیدار ی پیدا کرتا ہے تو حیرت انگیز طور پر کرتا ہے۔ مثلاً دیکھ لو جرمن قوم کی حالت کس قدر گری ہوئی تھی لیکن ان میں ہٹلر پیدا ہوا اور چند سالوں میں اُس نے اپنی قوم کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ یہ انقلاب جو جرمن قوم میں ہوا ہٹلر کے اثر کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ یہ ایک رَو تھی جو خداتعالیٰ نے چلائی تھی۔ ٹڈی کو دیکھ لو ہزاروں میل سے آتی ہے۔ ٹڈی سائبیریا سے آتی ہے، چین سے آتی ہے یا افریقہ کے جنگلات سے آتی ہے۔ اسے خداتعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا ہے اور وہ یکدم ایک ملک میں نمودار ہو جاتی ہے۔ میں نے ٹڈی کے متعلق لٹریچر پڑھا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ٹڈیوں کے درمیان روحانی تاریں چلتی ہیں اور وہ یکدم اربوں ارب کی تعداد میں آ جاتی ہیں اور۔ملک کے ملک کو تباہ کر دیتی ہیں۔ پھر جو زندہ بچتی ہیں وہ واپس چلی آتی ہیں اور وہاں پلنی شروع ہو جاتی ہیں۔ یو۔این۔او نے ٹڈی کے متعلق ایک کمیشن مقرر کیا ہے کہ کسی طرح یہ پہلے پتا لگ جائے کہ ٹڈی نے کدھر جانا ہے اور کس وقت جانا ہے کیونکہ وہ ایک نظام کے ماتحت چلتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کہیں آگ لگتی ہے تو کوئی آدمی کہیں بھاگتا ہے اور کوئی آدمی کہیں بھاگتا ہے لیکن ٹڈی ایک نظام کے ماتحت ایک لائن پر چلتی ہے۔ ہزاروں ہزار میل سے آتی ہے اور پھر واپس ہو کر دو چار سال بعد کسی اَور ملک کی طرف نکل جاتی ہے۔ اس کے راستے مقرر ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایک قانون کے ماتحت چلتی ہے۔
    پھر شکار ہے لوگ شکار کے لیے باہر جاتے ہیں۔ شکار بھی ایک خاص قانون کے ماتحت آتا ہے۔ پہاڑوں سے جانوروں کے جُھنڈ اُڑتے ہیں، تِلیَر اُڑتے ہیں، قاز1 اُڑتے ہیں اور ان کی ڈاریں ایک لائن میں چلتی جاتی ہیں اور اس طرح خاص علاقوں میں شکار پیدا ہو جاتا ہے۔ گویا جانوروں میں الہام کے طور پر کوئی بات آتی ہے اور وہ اُڑتے ہیں اور کسی خاص علاقہ کی طرف نکل جاتے ہیں۔
    غرض قانونِ قدرت کا ہاتھ ہر کام میں اتنا نظر آتا ہے کہ اگر ہم اسے نظرانداز کر دیں تو صحیح راستہ سے بھٹک جائیں۔ خصوصاً جماعتی کاموں میں اگر خداتعالیٰ کی مدد نہ ہو، اگر قانونِ قدرت اور نیچر کا لحاظ نہ رکھا جائے تو ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اور جو جماعتیں انبیاء بناتے ہیں اُن میں تو جماعتی اثر اتنا ہوتا ہے کہ وہ انبیاء خود اپنی ذات میں ایک جماعت ہوتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔2 یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی ذات میں ایک جماعت تھے۔ پس انبیاء کے کاموں میں اور جماعتی کاموں میں خداتعالیٰ کی مدد کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی فرد کا کام خراب ہو جاتا ہے تو اُس کا اثر اُسی کی ذات پر ہو گا۔ لیکن اگر جماعت میں کوئی غلطی پیدا ہو گی تو سارا کام خراب ہو جائے گا۔ بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلا کرتے تھے۔ شاید اَب بھی بچے کھیلتے ہوں اور وہ اِس طرح کہ ہم ایک لائن میں تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر اینٹیں کھڑی کر دیتے تھے۔ پھر اس لائن کے ایک طرف کھڑے ہو کر ایک اینٹ کو ٹھوکر لگاتے تھے تو وہ اینٹ دوسری اینٹ پر گرتی تھی۔ وہ اینٹ آگے تیسری اینٹ پر گرتی تھی اور پھر وہ چوتھی اینٹ پر گرتی تھی۔ اِس طرح ایک خاصا نظارہ پیدا ہو جاتا تھا اور وہ پچاس ساٹھ اینٹوں کی لائن ساری کی ساری گر جاتی تھی۔ یہی حال جماعت کا ہے۔ ایک آواز آتی ہے اور ساری کی ساری جماعت کھڑی ہو جاتی ہے اور ایک ٹھوکر لگتی ہے تو ساری کی ساری جماعت گر جاتی ہے۔ ایسے حال میں خداتعالیٰ پر نظر رکھنا اور اُس پر توکّل کرنا بڑا ضروری ہے اور اس میں ذرہبھر کوتاہی کرنا جماعت کی جماعت کو گرا دیتا ہے۔ اب اگر خالص انسانی کاموں میں خداتعالیٰ سے استمداد کرنا اثر پیدا کرتا ہے تو خدائی کاموں میں اِس سے استمداد کرنا کیوں اثر پیدا نہ کرے گا۔ دنیا میں قومیں گرتی اِس لیے ہیں کہ ان کے افراد کام کی عظمت اور اپنی کمزوریوں کو دیکھ کر ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ وہ خداتعالیٰ کو نہیں دیکھتے اور اس سے استمداد نہیںکرتے۔ اگر تم خداتعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو تم ضرور کامیاب ہو گے۔ خداتعالیٰ نے جب خود ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے تو وہ اسے کیوں پورا نہیں کرے گا۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تم خداتعالیٰ کا کام کرو اور وہ خود اپنا کام نہ کرے؟ جب آقا اپنے کسی نوکر کو کوئی کام کرنے کا حکم دیتا ہے تو اُسے اپنے کام کا اپنے نوکر سے زیادہ احساس ہوتا ہے۔
    جب امریکہ میں انگریزوں کے خلاف بغاوت ہوئی اور لڑائی شروع ہو گئی تو امریکن بے سروسامان تھے۔ ملک کے تاجر اور زمیندار اُٹھ کھڑے ہوئے تھے کہ وہ اپنا ملک آزاد کرائیں گے۔ اُن کے پاس نہ فوج تھی، نہ سامانِ جنگ تھا لیکن انگریزوں کے پاس سامانِ جنگ بھی تھا اور فوج بھی۔اس لیے انگریز انہیں بُری طرح مارتے تھے۔ امریکہ کے باشندوں نے اپنے میں سے ایک بہترین شخص ’’واشنگٹن‘‘ کو اپنا افسر بنایا اور اُسے کمانڈرانچیف مقرر کیا۔ تاریخ سے پتا لگتا ہے کہ اُس کے اندر ایک آگ لگی ہوئی تھی اور اسے احساس تھا کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے۔ وہ دیوانہ وار اِدھراُدھر پھرتا تھا اور جہاں سُستی پاتا تھا لوگوں میں تقریریں کر کے اور جوش دلا کر انہیں دوبارہ کھڑا کرتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امریکنوں نے انگریزوں کو ملک سے باہر نکال دیا۔ اور اب امریکہ اِتنی بڑی طاقت ہے کہ انگریز غلاموں کی طرح اُس کے پیچھے پیچھے چلتا ہے۔
    اِسی ’’واشنگٹن‘‘ کا ایک لطیفہ مشہور ہے جس سے پتا لگتاہے کہ جس کا کام ہوتا ہے اُسے اُس کا کتنا احساس ہوتا ہے۔ کسی جگہ پر انگریزوں کے حملہ کا ڈر تھا۔ سپاہیوں کا فرض تھا کہ وہ ایک چھوٹاسا قلعہ تعمیر کریں۔ ایک کارپورل (یعنی ہمارے ملک کا صوبہ دار) اُن کا نگران تھا۔ اب کارپورل اور۔کمانڈرانچیف میں بہت بڑا فرق ہے۔ بظاہر تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہر فرد کو قومی کام کا احساس ہوتا لیکن ’’واشنگٹن‘‘ سمجھتا تھا کہ چونکہ کام کا ذمہ دار میں ہوں اِس لیے مجھے اس کام کا زیادہ احساس ہونا چاہیے۔ اس لیے دوسروں کی نسبت اُسے کام کا زیادہ خیال رہتا تھا۔ سپاہی قلعہ بنا رہے تھے اور وہ کارپورل اُن سے کام کروا رہا تھا اور کہہ رہا تھا شاباش! بہادرو! اینٹیں اٹھاؤ، لکڑی اٹھاؤ لیکن وہ خود کام نہیں کرتا تھا۔ اُسے اپنے عہدے کی وجہ سے گھمنڈ اور غرور تھا کہ میں کارپورل ہوں۔ اِتنے میں ایک بڑا گولہ لکڑی کا آیا جسے انہوں نے چھت پر چڑھانا تھا لیکن آدمی کافی نہیں تھے۔ وہ زور لگاتے تھے لیکن گولہ نیچے گر جاتا تھا۔ کارپورل پاس اکڑا ہوا کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا شاباش بہادرو! زور لگاؤ، ہمت کرو اور۔اِس گولے کو چھت پر چڑھا دو۔ اِتنے میں ایک سفید گھوڑے پر سوار ایک آدمی پاس سے گزرا۔ اُس نے جب یہ نظارہ دیکھا تو پوچھا کیا بات ہے؟ کارپورل نے کہا یہ بہت ضروری کام ہے جو ہم نے شام تک ختم کرنا ہے لیکن یہ گولہ ہم سے چھت پر نہیں چڑھتا۔ یہ سن کر وہ شخص گھوڑے سے اُترا اور سپاہیوں کے ساتھ مل کر اُس نے لکڑی کو اٹھایا اور چھت پر رکھ دیا لیکن وہ کارپورل پاس کھڑا رہا۔ جب وہ واپس لَوٹنے لگا تو کارپورل نے خیال کیا میرا فرض ہے کہ اس کا شکریہ ادا کروں۔ چنانچہ اُس نے اُسے بلایا اور کہا میاں! اِدھر آؤ۔ جب وہ آیا تو کارپورل نے کہا میاں! میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ تم نے قومی کام میں حصہ لیا ہے۔ وہ مسکرایا اور کہا جب بھی تمہیں کوئی مشکل پیش آجائے یا کوئی ایسا کام آجائے جسے کرنا تم پسند نہ کرو تو تم اپنے کمانڈر ’’واشنگٹن‘‘ کو اطلاع کر دیا کرو وہ فوراً حاضر ہو جائے گا۔ وہ کارپورل یہ دیکھ کر کہ وہ شخص خود اُن کا کمانڈر ’’واشنگٹن‘‘ ہے سخت شرمندہ ہوا۔ ’’واشنگٹن‘‘ نے کہا محض نعروں سے کام نہیں ہوتا۔ اگر تمہیں یہ احساس ہوتا کہ یہ میرا اپنا کام ہے تو کیا تم اِس طرح پاس کھڑے رہتے۔ یہ کام میرا کام ہے اس لیے مجھے اس کا احساس ہے۔
    اب کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ’’واشنگٹن‘‘ کو تو اپنے کام کا احساس تھا لیکن خداتعالیٰ کو اپنے کام کا احساس نہیں۔ یاد رکھو! جب بھی تم اُس کی طرف متوجہہو گے، جب بھی تم اُس کی طرف رُخ کرو گے اور کہو گے کہ خدایا! ہمارے سامنے یہ یہ مشکلات ہیں، کام تیرا ہے ہم کرتے تو ہیں لیکن اس کو مکمل کرنے کی ہم میں طاقت نہیں، اب تُو ہی ہماری مدد فرما۔ تو تم دیکھو گے اُس وقت خداتعالیٰ اور اُس کے فرشتے آئیں گے اور وہ کام کر دیں گے۔
    گویا لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہر کام میں عموماً اور اہم مذہبی اور قومی کاموں میں خصوصاً خداتعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور جب اُسے مدد کے لیے انسان بلاتا ہے تو۔وہ اُس کی مدد کو آتا ہے۔ جب تم دیکھتے ہو کہ یہ کام ہماری طاقت سے باہر ہے، جب تم دیکھتے ہو کہ کامیابی کے تمام راستے ہم پر بند ہو گئے ہیں، جب باوجود محنت اور زور لگانے کے تم کسی کام کو سرانجام نہیں دے سکتے تو خداتعالیٰ کو بلاؤ وہ تمہاری مدد کے لیے آئے گا۔ اس نکتہ کو اگر تم مضبوطی سے پکڑ لو گے تو تمہاری تمام مشکلات حل ہو جائیں گی۔
    جماعت کی مخالفت بڑھ رہی ہے اِس سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ یہ کوئی چیز نہیں۔ خداتعالیٰ کی طرف جاؤ اور اُس سے مدد چاہو۔ جب تم یہ کہو گے کہ خدایا! یہ کام تیرا ہے، جب تم دیانتداری سے اپنے فرض کو ادا کرو گے اور پھر کہو گے خدایا! ہم سے جو ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر لیا ہے مگر کام ہمارے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اے اللہ! اَب آ، تُو آ اور اِس کام میں ہماری مدد کر تو پھر یاد رکھو! خواہ رات ہو یا دن، صبح ہو یا شام، سویرا ہو یا اندھیرا خداتعالیٰ اور اُس کی فوجیں آئیں گی اور وہ دشمن جسے اپنی فوجوں اور اپنی طاقت پر ناز ہو گا وہ تہس نہس ہو جائے گا اور زمین پر اُس کا نشان اور رنگ بھی باقی نہیں رہے گا۔ لیکن ضرورت اِس بات کی ہے کہ اس کام کو خداتعالیٰ کا کام سمجھا جائے، ضرورت اِس بات کی ہے کہ تم اپنی ذمہ داری کو ادا کر کے خداتعالیٰ کی طرف جاؤ اور کہو خدایا! ہم میں جتنی طاقت تھی اُس کے مطابق ہم نے کام کیا ہے لیکن یہ کام ہماری طاقت سے بالا ہے اور ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اب تُو مدد کرے تو۔ہم اِس کام کو کر سکتے ہیں۔ پھر دیکھو گے کہ خداتعالیٰ کس طرح تمہاری مدد کو آتا ہے۔ یہ ایک نکتہ ہے جو ہمیں اذان سکھاتی ہے۔ تم اِس نکتے کو مشعلِ راہ بناؤ اور اس کے مطابق اپنی اصلاح کرو۔ پھر دیکھو کہ خداتعالیٰ کی مدد کیسے آتی ہے‘‘۔ (الفضل5 دسمبر1951ئ)

    1
    :
    قاز:ایک آبی پرندہ۔ راج ہنس(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)
    2
    :
    النحل:121

    29
    ہم نے تحریک جدید کے ذریعے دنیا کے چَپہ چَپہ پر محمد۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم کرنی ہے
    (فرمودہ 30نومبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت فرمائی:۔1
    اس کے بعد فرمایا:
    ’’آج تحریک جدید کے سلسلہ میں اٹھارہواں سال شروع ہونے والا ہے۔ پس میں جماعت کے سامنے اِس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ سال کے لیے تمام احباب خواہ وہ ربوہ کے رہنے والے ہوں یا باہر کی جماعتوں کے، حسبِ قاعدہ ایک مدتِ مقررہ کے اندر جس کا بعد میں اعلان کر دیا جائے گا اپنے وعدے مرکز میں بھجوانے شروع کر دیں۔
    تحریک جدید کی تحریک کو جاری کیے ہوئے سترہ سال ہو چکے ہیں اور اَب اٹھارہواں سال شروع ہونے والا ہے۔ سترھویں سال میں احباب نے سولھویں سال کی نسبت اس رنگ میں زیادہ قربانی کا ثبوت دیا ہے کہ سترھویں سال کے وعدوں کی وصولی کی رفتار سولہویں سال کے وعدوں کی وصولی کی رفتارسے زیادہ ہے۔ اور دفتردوم کے ساتویں سال کے وعدوں کی وصولی کی رفتار چھٹے سال کے وعدوں کی وصولی کی رفتار سے زیادہ ہے اور فیصدی کے لحاظ سے تو یہ فرق اَور بھی بڑھ جاتا ہے۔ گزشتہ سال کی وصولی اِس وقت تک پچپن فیصدی تھی لیکن اِس سال کی وصولی 83 فیصدی ہے۔ دوسرے دَور کے متعلق مجھے پوری معلومات حاصل نہیں ہو سکیں مگر غالباً اِس سال کی وصولی چوہتّر،پچھتر فیصدی کے قریب ہے جبکہ گزشتہ سال کی وصولی پچاس فیصدی کے قریب تھی۔ بہرحال فیصدی وصولی کے لحاظ سے اِس سال جماعت کی قربانی پچھلے سال سے زیادہ رہی ہے۔پہلے دور کی بھی اور دوسرے دور کی بھی۔ فَجَزَاکُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ۔ لیکن پہلے دور کے متعلق ایک بات افسوسناک بھی نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ اس کے وعدے پچھلے تین سالوں سے متواتر نیچے گرتے چلے گئے ہیں۔ چودھویں سال میں دولاکھ تراسی ہزار کے وعدے تھے حالانکہ چودھواں سال سخت تباہی کا سال تھا۔ اِس میں ملک کے دوٹکڑے ہو چکے تھے، بہت لوگ اپنی جائدادوں سے محروم ہو گئے تھے اور آئندہ کے متعلق انہیں کوئی اُمید نہیں رہی تھی۔ گو اَب اکثروں نے یہاں آ کر اپنی جائیدادیں بنا لی ہیں بلکہ بُہتوں کے لیے ملک کی یہ تقسیم بابرکت ہو گئی ہے۔ وہ لوگ جن کی وہاں صرف دو دو، چار چار کنال زمین تھی یہاں آکر اُن کو سات سات، آٹھ آٹھ گھماؤں2 زمین مل گئی ہے۔ لیکن وہ لوگ جن کی وہاں زیادہ زمینیں تھیں اُن کو یہاں کم زمینیں ملی ہیں۔ بہرحال چودھواں سال وہ سال ہے جو ہماری جماعت کے لیے ایک نازک ترین سال تھا۔ اُس وقت کم جائدادوں کے باوجود، کم سامانوں کے باوجود، کم آمدنیوں کے باوجود جماعت نے دولاکھ تراسی ہزار کے وعدے کیے تھے لیکن اگلے سال جماعت کے وعدے اس سے کم ہو گئے یعنی پندرھویں سال میں جماعت کے وعدے دولاکھ پچھتر ہزار ہو گئے۔ سولھویں سال میں آ کر کوئی دولاکھ ستّر ہزار کے قریب ہو گئے اور سترھویں سال میں آکر وہ دولاکھ تریسٹھ ہزار ہو گئے۔ گویا جو اصل مصیبت کا وقت تھا اُس وقت جماعت نے وعدوں کے لحاظ سے اپنی قربانی کو تیز کر دیا لیکن جب وقفہ بڑھتا چلا گیا تو بعض لوگ اپنے ایمان کے معیار کو اُس حد تک قائم نہ رکھ سکے جس حد تک خوف اور مصیبت کے زمانہ میں انہوں نے اپنے ایمان کو قائم رکھا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اِس کی وجہ یہ ہو کہ یہ زیادتی درحقیقت اُن لوگوں کی طرف سے تھی جو تقسیم کی ضرب سے محفوظ رہے۔ چونکہ تازہ بتازہ انہوں نے یہ بات دیکھی تھی کہ اُن کے بھائی اپنی جائدادوں سے بے دخل کر دیئے گئے، اپنے۔گھروں سے بے دخل کر دیئے گئے، اپنے سامانوں سے بے دخل کر دیئے گئے اور اپنے وطنوں سے نکال دیئے گئے اِس لیے اُن کے دل ہل گئے اور انہوں نے سمجھا کہ یہ دنیا بے ثبات ہے۔ اس کی دولت کا کوئی اعتبار نہیں۔ چلو خداتعالیٰ کے راستہ میں ہی ہم اپنے اموال کو قربان کر کے اس کی رضا حاصل کریں۔ جب سال گزر گیا تو وہ خوف کم ہو گیا اور ایمان اُس معیار پر نہ رہا جس پر پہلے تھا اور وعدے پہلے سے کم ہو گئے۔ جب دو سال گزر گئے تو ایمان اَور بھی نیچے آگیا۔ اور جب تین سال گزرے تو۔ایمان اُس سے بھی زیادہ نیچے آ گیا۔ اور 1947ء کی وہ مصیبت، آفت اور تباہی جو مسلمانوں پر آئی تھی انہیں بھول گئی۔
    پس ہو سکتا ہے کہ اِس کمی کی ایک یہ وجہ بھی ہو لیکن یہ توجیہہ کرنی طبیعت پر گراں گزرتی ہے اور دل کو تکلیف پہنچاتی ہے کیونکہ اِس سے ایک اَور نتیجہ بھی نکلتا ہے جو خطرناک ہے۔ جہاں ہم اس کمی کی یہ توجیہہ کر لیتے ہیں کہ درحقیقت یہ زیادتی اُن لوگوں کی طرف سے ہوئی تھی جن پر مصیبت نہیں آئی تھی اور اِس وجہ سے ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے ساتھ کے مسلمانوں کی تباہی کو دیکھا اور وہ اتنا ڈر گئے کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ دنیا بے ثبات ہے، اِس کی ہر چیز فانی اور بے حقیقت ہے اور عقلمندی اِسی میں ہے کہ وہ ان چیزوں کو خداتعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں تا کہ انہیں اس کی طرف سے ثواب تو حاصل ہو۔ مگر پھر جُوں جُوں صدمہ کم ہوتا گیا تُوں تُوں ان کی قربانی بھی کم ہوتی چلی گئی۔ اگر ہم یہ توجیہہ کریں اور ساتھ اِس امر کو بھی مدّنظر رکھیں کہ خداتعالیٰ نے اسلام کی ترقی کے سامان ضرور کرنے ہیں۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ جس مذہب کو خداتعالیٰ نے اِس لیے بھیجا ہے کہ اُسے سارے دینوں پر غالب کرے، جس مذہب کو خداتعالیٰ نے اِس لیے بھیجا ہے کہ وہ تمام پرانے دینوں کو کھا جائے عین اُس وقت جب خداتعالیٰ کا منشا اُس کو غالب کرنے کا ہو وہ گر جائے اور ہار جائے۔ یہ تو قطعی طور پر ناممکن ہے۔
    دوسرے اِس بات کو مدّنظر رکھیں کہ یہ بھی یقینی بات ہے کہ خداتعالیٰ نے یہ کام انہی لوگوں سے لینا ہے جنہوں نے دین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا ہوا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ خداتعالیٰ نے اپنے کام اُن سے لیے ہوں جنہوں نے خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا۔ حضرت موسٰی علیہ السّلام آئے تو خداتعالیٰ نے موسٰی علیہ السّلام کے دین کی اشاعت فرعون اور اس کے ساتھیوں سے نہیں لی بلکہ موسٰیؑ کے ماننے والوں سے لی۔ حضرت عیسٰی علیہ السّلام آئے تو۔خداتعالیٰ۔نے عیسٰیؑ کی تعلیم اور اُن کی باتوں کی اشاعت یہودیوں اور اُن کے علماء سے نہیں کرائی بلکہ عیسٰیؑ کی باتوں اور اُن کی تعلیم کی ترویج اور اشاعت عیسٰیؑ کے ماننے والوں کے ذریعہ ہوئی۔ اِسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو بعثتِ اُولیٰ میں جو قرآن کریم پھیلا اور دنیا میں توحید پھیلی اور دوسرے علوم پھیلے ان باتوں کو ابوجہل اور عتبہ اور شیبہ نے رائج نہیں کیا بلکہ اِن باتوں کو ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ اور دوسرے صحابہؓ نے رائج کیا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنّت ہمیشہ سے چلی آتی ہے اور اِس زمانہ میں بھی یہ بدل نہیں سکتی۔
    اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اُس کی سنّت بدلا نہیں کرتی3 اور اس کی یہ سنّت ہے کہ ہمیشہ ہی اُس کی طرف سے جو پیغام آتا ہے اُس کی اشاعت اور تبلیغ اور ترویج اُس پیغام پر پہلے ایمان لانے والوں کے ذمہ ہوتی ہے اور وہی اس خدمت کو سرانجام دیتے ہیں۔ جب یہ دو حقیقتیں ثابت شدہ ہیں تو ہم نے جو پہلی توجیہہ کی تھی اُسے دیکھ کر دل ڈر جاتا ہے کیونکہ جب یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اسلام نے ضرور غالب آنا ہے اور جب یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اسلام نے اُنہی لوگوں کے ہاتھوں غالب آنا ہے جنہوں نے خداتعالیٰ کے مامور کو مانا۔ تو اِس کے ساتھ ہی جب یہ بھی ثابت ہو جائے کہ خداتعالیٰ کے مامور کو ماننے والی اُس وقت کی جماعت تب قربانی کرتی ہے جب خداتعالیٰ کا تھپڑ اُن کو پڑتا ہے۔ اگر خداتعالیٰ کا تھپڑ نہیں پڑتا تو وہ قربانی بھی نہیں کرتے تو لازمی بات ہے کہ خداتعالیٰ کا تھپڑ پھر پڑے گا تا کہ اُن کی سُستی اور غفلت دور ہو۔ یا تو یہ صورت ہوتی کہ دینِ اسلام کے متعلق یہ فیصلہ ہوتا کہ اُس نے دنیا پر غالب نہیں آنا۔ ایسی صورت میں ہم کہہ سکتے تھے کہ چلو جب اسلام نے غالب ہی نہیں آنا تو ہم اس کے لیے قربانی کیوں کریں۔ اور یا پھر یہ صورت ہوتی کہ دین کی ترویج غیرلوگوں کے ہاتھوں سے بھی ہو جاتی۔ ایسی صورت میں بھی ہم کہہ سکتے تھے کہ ہمارا کیا ہے خداتعالیٰ یہ کام ہندوؤں سے کروا۔لے گا یاعیسائیوں سے کروا لے گا۔ لیکن جب اسلام نے غالب آنا ہے اور ضرور آنا ہے اور جب اسلام نے ہمارے ہاتھوں سے ہی غالب ہونا ہے اور ہم عادی ہوں اِس بات کے کہ ہم تھپڑ کھاتے ہیں تو کام کرتے ہیں، تھپڑ نہ پڑے تو کام نہیں کرتے تو سیدھی بات ہے کہ ہمیں تھپڑ پڑے گا اور پہلے سے زیادہ سخت پڑے گا۔
    پس وہ جو پہلی توجیہہ تھی کہ مغربی پاکستان میں رہنے والے احمدی یا سندھ اور صوبہ سرحد میں رہنے والے احمدی جن کو مشرقی پنجاب والی چوٹ نہیں پڑی تھی اُن کے دلوں میں زیادہ خوف پیدا ہوا اور اُن کی وجہ سے ہمارے چندوں میں اضافہ ہو گیا لیکن بعد میں وہ اس صدمہ کو بھول گئے اور اُن کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ یہ توجیہہ نہایت بھیانک خطرہ آئندہ کے لیے پیدا کرتی ہے جس کو دیکھنا یا سننا بھی کوئی شخص برداشت نہیں کر سکتا۔ اِس کے مقابلہ میں ہمارا دل اِس بات کو زیادہ برداشت کر لیتا ہے کہ کچھ احمدیوں میں کمزوری پیدا ہوئی اور انہوں نے اِس تحریک میں اُتنا حصہ نہیں لیاجتنا حصہ انہیں لینا چاہیے تھے اور اس وجہ سے وعدوں میں کمی آ گئی لیکن باقی احمدی اپنے اخلاص پر قائم رہے۔ یہ توجیہہ زیادہ تسلّی کا موجب ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا بہ نسبت اِس کے کہ یہ سمجھا جائے کہ اُس ضرب کی وجہ سے جو۔تقسیم ملک کی وجہ سے پڑی تھی لوگوں نے اپنی قربانی زیادہ کر دی تھی۔ بہرحال کوئی وجہ بھی ہو تحریک۔جدید کے اِس سال اور گزشتہ دوسال کے وعدے پسندیدہ نہیں سمجھے جا سکتے کیونکہ اِن سالوں میں لوگوں کے وعدے اوپر سے نیچے کی طرف گرنے شروع ہو گئے ہیں۔ اِس سے پہلے ان کے وعدے نیچے سے اوپر کی طرف چڑھتے تھے اور یہی ایک مومن کی شان ہونی چاہیے کہ وہ نیچے نہ گرے۔ اور۔واقعات بھی یہی بتاتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد عام طور پر ہمارے ملک کی مالی حالت پہلے سے بہتر ہو گئی ہے۔ تنخواہیں بڑھ گئی ہیں، تجارتیں وسیع ہو رہی ہیں، کارخانے کھل گئے ہیں اور وہ روپیہ جو پہلے ہندو کی جیب میں جاتا تھا اب مسلمان کے ہاتھ میں جاتا ہے اور بحصہ رسدی احمدیوں کے ہاتھ میں بھی آتا ہے۔ پس بظاہر حالات چاہیے یہ تھا کہ یہ رفتار اوپر کی طرف چلتی اور پہلے سے زیادہ سرعت کے ساتھ ترقی کرتی نہ یہ کہ پہلے معیار سے بھی گر جاتی۔
    پس ایک تو میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ غفلت جہاں سے بھی پیدا ہوئی ہے اُسے دور کرنا چاہیے۔ یا تو یہ بات ہے جو نہایت خطرناک ہے کہ 1947ء کی چوٹ کے خوف کی وجہ سے تمام احمدیوں نے یکدم اپنے وعدے زیادہ کر دیئے تھے، خدا نہ کرے ایسا ہو۔ اور یا پھر اس کی یہ وجہ ہے کہ بعض احمدیوں نے کمزوری دکھائی اور ان کی وجہ سے کمی آ گئی۔ بہرحال کوئی صورت ہو اور کسی وجہ سے بھی کمی آ گئی ہو اگر دین کے لیے روپیہ کم آئے گا تو اِس کے نتیجہ میں لازمی طور پر تبلیغ بھی کم ہو گی۔ چاہے کوئی وجہ ہو۔ خواہ چوری ہو گئی ہو اور اِس وجہ سے روپیہ کم ہو گیا ہو۔ یا آمد کم ہو گئی ہو یا سُستی اور غفلت واقع ہو گئی ہو نتیجہ یہی نکلے گا کہ پیسہ کم آئے گا۔ اور جب پیسہ کم آئے گا تو اسلام کی اشاعت اور اسلام کی ترویج کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ بات ناپسندیدہ ہو گی۔ قوم کے معنیٰ ہی یہی ہوتے ہیں کہ اگر ایک میں کوتاہی پیدا ہو تو دوسرا اُس کو دور کر دے۔ ایک گھوڑے کی گاڑی کا گھوڑا جب تھک جاتا ہے تو گاڑی ٹھہر جاتی ہے۔ لیکن دوگھوڑے کی گاڑی کا اگر ایک گھوڑا تھک بھی جاتا ہے تو دوسرا چلتا چلا جاتا ہے۔ جماعت اور فرد میں یہی فرق ہے۔ جو کام ایک فرد کر رہا ہو وہ جہاں کمزور ہو جائے گا کام ختم ہو جائے گا لیکن جو کام ایک قوم کر رہی ہو اُس کام کے کرتے ہوئے اگر ایک شخص میں کمزوری بھی پیدا ہو گی تو باقی آدمی اُس بوجھ کو بانٹ لیں گے اور اِس طرح وہ قومی کام کے تسلسل میں کوئی روک پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ پس جماعت کے قائم کرنے کی جو غرض ہے ہماری جماعت کو وہ کبھی نہیں بھولنی چاہیے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ جماعت کا کچھ حصہ کمزور ہے خواہ ایمانی لحاظ سے یا مالی لحاظ سے یا قربانیوں میں شمولیت کے عزم کے لحاظ سے تو باقیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے قدم کو تیزتر کریں اور جماعتی کاموں میں کوئی رخنہ واقع نہ ہونے دیں۔ جماعت تبھی جماعت کہلا سکتی ہے جب وہ دوسروں کا بوجھ بٹانے کے لیے ہر وقت تیار رہے اور سمجھے کہ اگر کسی حصہ میں بھی کمزور ی پیدا ہوئی تو میں خود زیادہ بوجھ برداشت کر کے اس کمزوری کو ظاہر نہیں ہونے دوں گا۔ پس اس حصہ کی کمی کو بھی دور کرنا چاہیے۔
    باقی اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ پچھلے سال کی نسبت اِس سال وصولی زیادہ ہوئی ہے لیکن اِس سال اخراجات بھی بہت بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے تحریک جدید کی مالی حالت خطرہ میں گِھری ہوئی ہے۔ اگر اسے جلدی ضبط میں نہ لایا گیا تو ممکن ہے خدانخواستہ ہمیں اپنے بعض مشن بند کرنے پڑیں۔ ہم یقین تو یہی رکھتے ہیں کہ چونکہ یہ خداتعالیٰ کا کام ہے اس لیے وہ اس کی ترقی کے لیے کوئی نہ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔ وہ خود لوگوں کے دلوں میں قربانی کی روح پیدا فرما دے گا یا نئے آدمی لائے گا جو اِس بوجھ کو خوشی سے اٹھانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن جہاں تک ہم ظاہری حالات کو دیکھتے ہیں ہمارے دل میں دھڑکن پیدا ہونے لگتی ہے کہ اِس زمانہ میں اسلام کی فتح کا جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اُس میں کوئی روک پیدا نہ ہو جائے۔
    جہاں تک میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت خداتعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے اور جہاں تک میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت کے نوجوان اچھے تعلیم۔یافتہ نکل رہے ہیں اور ان کی مالی حالت ترقی۔کر۔رہی ہے۔ ان امور کو دیکھتے ہوئے ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اگر جماعت کی تربیت کی جائے اور صحیح طور پر کی جائے تو یہ کام ہمیشہ ترقی ہی کرتا جائے گا۔ چونکہ اب نیا سال شروع ہونے والا ہے اس لیے میں گزشتہ سال کی طرح پھر جماعت کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ پچھلے سال کے وعدوں سے غافل نہ ہوں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اب نیا سال شروع ہو گیا ہے اس لیے ہمارا پچھلا وعدہ معاف ہے مگر یہ بالکل غلط ہے۔ خداتعالیٰ سے کیے گئے وعدے اگر پورے نہ کیے جائیں تو انسان کو اگلی نیکیوں کی بھی توفیق نہیں ملتی۔ یہ کسی بندے سے معاملہ نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے جو عالم الغیب ہے۔ بندوں سے اگر تم کوئی وعدہ خلافی کرو تو ہو سکتا ہے کہ وہ تمہاری وعدہ خلافی کو بھول جائیں مگر خداتعالیٰ جانتا ہے کہ تم نے اُس سے کیا وعدہ کیا تھا اور تم اُسے کیوں پورا نہیں کر رہے۔
    پس دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہ وعدہ ہے جو انہوں نے خداتعالیٰ سے کیا ہے۔ تم گورنمنٹ سے وعدہ کر کے اُسے نہیں توڑ سکتے، تم محلہ والوں سے وعدہ کر کے اسے نہیںتوڑ سکتے،تم اپنے افسروں سے وعدہ کر کے اسے نہیں توڑ سکتے، بلکہ بڑے تو الگ رہے اگر تم اپنے بچوں سے کوئی وعدہ کرتے ہو پھر اُسے توڑنے لگتے ہو تو وہ شور مچا دیتے ہیں کہ آپ یہ کیا کرنے لگے ہیں اور تمہیں اپنے بچوں کا وعدہ بھی پورا کرنا پڑتا ہے۔ تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے ایک امریکن کا ایک قول پڑھا جو مجھے بڑا دلچسپ معلوم ہوا۔ وہ لکھتا ہے معلوم نہیں کیا باتہے کہ ہمارے بچوں کو کبھی کبھی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ سکول میں داخل ہیں اور انہوں نے مدرسہ میں پڑھنے کے لیے جانا ہے، کبھی کبھی ہمارے بچوں کو یہ بھی بھول جاتا ہے کہ بڑوں اور بزرگوں کے سامنے جاتے وقت کیا آداب بجا لانے چاہییں اور کونسے طریق ہیں جو انہیں اختیار کرنے چاہییں، کبھی کبھی ہمارے بچوں کو یہ بھی بھول جاتا ہے کہ انہیں اپنا لباس درست رکھنا چاہیے، کبھی انہوں نے کوٹ نہیں پہنا ہوتا، کبھی ان کے پاؤں میں جراب نہیں ہوتی، کبھی جوتی نہیں ہوتی، ہمارے بچوں کو کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ آداب جو کھانے پینے کے ہیں کہ ہاتھ دھو کر کھانا کھاؤ اور خداتعالیٰ سے دعا کرو یہ انہیں ہمیشہ ملحوظ رکھنے چاہییں، وہ بعض دفعہ بغیر ہاتھ دھوئے کھانا شروع کر دیتے ہیں یا۔اللہ۔تعالیٰ سے دعا نہیں کرتے۔ لیکن ایک بات ہے جو بچے کبھی نہیں بھولتے اور وہ یہ کہ خواہ جھوٹے طور پر ہی کسی زمانہ میں منہ سے بات نکل جائے کہ ہم تمہیں یہ چیز۔لے کر دیں گے تو وہ اس بات کو کبھی نہیں بھولتے اور اُس وقت تک پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں جب۔تک۔وہ چیز اُنہیں لا کر نہ دی جائے۔ درحقیقت اِس میں بہت بڑی سچائی بیان کی گئی ہے اور ہر گھر میں ماں باپ کو اس کا تجربہ ہو گا کہ بچہ کو خواہ اُس کے والدین مذاق ہی سے یہ کہہ دیں کہ تمہیں فلاں چیز لے کر دیں گے اور پھر لے کر نہ دیں تو وہ ہمیشہ کہتا رہتا ہے کہ فلاں چیز کا میرے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا مگر مجھے وہ چیز لے کر نہیں دی گئی۔ اگر بچہ بھی اپنا وعدہ پورا کرواتا ہے تو ہمارا خدا کیا بچوں سے بھی گیا گزرا ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کروائے گا؟ اور اگر بچوں کے ڈر کے مارے تم اُن کے وعدوں کو بھی پورا کر دیتے ہو تو کیا ہمارا خدا ہی ایسا ہے کہ تم اُس سے ڈر کر اپنے وعدوں کو پورا نہ کرو۔
    پس تم نے جو خداتعالیٰ سے وعدے کیے ہیں اُن وعدوں کی عظمت کو پہچانو اور یاد رکھو کہ تمہارا مستقبل، تمہاری اولاد کا مستقبل، تمہاری قوم کا مستقبل، تمہارے ملک کا مستقبل، تمہاری حکومت کا مستقبل بلکہ ساری دنیا کا مستقبل خداتعالیٰ سے ہی وابستہ ہے۔ اگر اس سے صلح رکھی جائے گی تو تمہارے ہر کام میں برکت پیدا ہو جائے گی۔ لیکن اگر تم اس سے صلح نہیں رکھو گے تو تمہارا ہر کام خراب ہو گا اور تم اپنی کامیابی سے کوسوں دور چلے جاؤ گے۔ پس گزشتہ سال کے جو وعدے ہیں اُن کو پورا کرنا بھی تمہارا فرض ہے اور پورا بھی اِسی سال کے اندر کرنا ہے۔ دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان وعدوں کو جلد۔تر پورا کرنے کی کوشش کریں۔
    بعض جماعتوں کی طرف سے اطلاعیں آ رہی ہیں کہ انہوں نے چندے بھجوا دیئے ہیں اور۔بعض رقوم چیکوں کے ذریعہ آ رہی ہیں جو ابھی تک نہیں پہنچے۔ ان چندوں کو ملا کر اس سال کی فیصدی اِنْشَائَ۔اللّٰہُ اَور بھی بڑھ جائے گی لیکن اگر پھر بھی بعض لوگوں کے وعدے رہ جائیں تو انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے وعدوں کو جلد سے جلد ادا کر دیں تا کہ انہیں اگلے سال کے وعدوں کو پورا کرنے کی جلدی توفیق مل سکے۔ جس شخص پر پچھلے سال کا بھی بوجھ ہوتا ہے وہ اگلے سال کا بوجھ اٹھانے میں اتنی بشاشت محسوس نہیں کرتا جتنی بشاشت اور آسانی وہ شخص محسوس کرتا ہے جس پر گزشتہ سال کا کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔
    اس کے علاوہ دوستوں کو ایک اَور امر بھی مدّنظر رکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ ابھی چھٹے سال کے بلکہ اس سے بھی پہلے سالوں کے کئی وعدے ایسے ہیں جو پورے نہیں ہوئے۔ اُن وعدوں کو بھی اگر مدّنظر رکھا جائے تو ابھی ایک لاکھ کے قریب وصولیاں باقی ہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اِس سال اخراجات۔کی ایسے رنگ میں زیادتی ہوئی ہے کہ چندے کی وصولی اور اچھی وصولی کے باوجود ابھی تک اخراجات پورے نہیں ہوئے۔ مثلاً اِس وقت تک سترھویں سال کی ساری آمد خرچ ہو چکی ہے۔ اسی طرح ساتویں سال کی آمد بھی بجائے اِس کے کہ ریزروفنڈ میں جاتی ساری کی ساری اس سال کے اخراجات میں صَرف ہو چکی ہے اور اس کے علاوہ ابھی چوالیس ہزار روپیہ قرض لیا گیا ہے۔ گویا چوہتّرفیصدی آمد کے باوجود ابھی چھ مہینے کے اخراجات باقی ہیں۔ یہ چھ ماہ کے اخراجات اسی صورت میں چل سکتے ہیں جب سترھویں سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں اور سولھویں سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں۔ اور جب ساتویں سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں اور چھٹے سال کے بھی سارے بقائے وصول ہو جائیں۔ تب جا کر یہ سال صحیح طور پر گزر سکتا ہے اور آئندہ سالوں کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
    اس کے ساتھ ہی احباب یہ بھی مدّنظر رکھیں کہ اگلے سال کے وعدے وہ نمایاں اضافوں کے ساتھ پیش کریں اور اپنا قدم آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔ یہ غلط طریق جو اختیار کر لیا گیا تھا کہ وعدے اوپر سے نیچے آنے شروع ہو گئے تھے اس کو دور کیا جائے اور دوست اپنے وعدوں میں نیچے سے اوپر کی طرف جائیں اور اپنے وعدوں میں زیادتی کریں۔
    ایک اَور سخت روک جو ہمارے راستہ میں پیدا ہو گئی ہے دوست اس کو بھی مدّنظر رکھیں اور وہ یہ کہ اَب ہندوستان کا روپیہ ہمارے پاس نہیں آ رہا۔ ہندوستان کے چھتّیس ہزارروپیہ کے وعدے تھے جن میں سے ایک پیسہ بھی ہمیں نہیں مل سکتا۔ ساری دنیا سے روپیہ یہاں آجاتا ہے اور ان کے وعدے یہاں پہنچ جاتے ہیں لیکن ہندوستان سے روپیہ نہیں آ سکتا۔ اس کے علاوہ قادیان میں بھی روپیہ کی ضرورت ہے۔ پس چھتّیس ہزار کی تو اِس طرح کمی آ گئی۔ درحقیقت ہندوستان کے وعدوں کو نکال کر دو لاکھ ستائیس ہزار آمد پہلے دَور کی رہ جاتی ہے اور ہمارا بجٹ ساڑھے چار لاکھ کا ہے۔ پس کچھ تو وعدوں کے لحاظ سے کمی ہوئی ہے اور کچھ ہندوستان سے روپیہ نہ پہنچ سکنے کی وجہ سے کمی ہوئی ہے۔ ہمیں اس سال کوشش کرنی چاہیے کہ ہندوستان کے وعدوں کے لحاظ سے ہمارے چندوں میں جو کمی ہوئی ہے اُس کو بھی پورا کریں اور افراد کی سُستی اور غفلت نے جو کمی پیدا کی ہے اُس کو بھی دور کریں۔ اور پھر پاکستان اور بیرونی دنیا کے وعدوں کو زیادہ سے زیادہ بلند کریں یہاں تک کہ یہ وعدے اُس حد تک پہنچ۔جائیں جس حد تک چودھویں سال میں تھے۔ بلکہ ہمیں تو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ چودھویں سال میں اگر دو لاکھ تراسی ہزار کے وعدے آئے تھے تو اَب ہمارے وعدے تین لاکھ سے بھی اوپر نکل جائیں اور ساتویں سال کی جماعت اپنے وعدوں کو بڑھا کر دواَڑھائی لاکھ تک پہنچا دے۔
    درحقیقت سیدھی بات تو یہ ہے کہ یہ خداتعالیٰ کا کام ہے اور خداتعالیٰ نے ہی کرنا ہے۔ ہمیں اگر خدمت کی توفیق ملتی ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خداتعالیٰ کا ہم پر فضل نازل ہو رہا ہے اور ہمیں اس کی رضا حاصل ہے۔ اور اگر ہمیں خدمت کی توفیق نہیں ملتی تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خداتعالیٰ ہم سے خفا ہے اور وہ ہمیں قربانیوں سے محروم کر کے ہمیں سزا دے رہا ہے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہوتا ہے جو وہ اپنے بندوں سے خدمت لے لیتا ہے بندوں کا خداتعالیٰ پر کوئی احسان نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ۔4 تم مجھ پر یہ احسان نہ جتلاؤ کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اسلام قبول کر کے تم نے خداتعالیٰ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ خداتعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے۔ پس جتنا جتنا کسی کو ثواب کا موقع ملتا ہے وہ خداتعالیٰ کا فضل اور اُس کا احسان ہوتا ہے اور خدمت کے مواقع سے محروم ہو جانا یا اِس میں کمی واقع ہو جانا یہ خداتعالیٰ کی ناراضگی کا نشان ہوتا ہے۔ خواہ دنیا میں کسی کو نظر آئے یا نہ آئے بہرحال جب بھی کوئی شخص قربانی میں کمزور ہوتا ہے وہ مالی قربانی سے دریغ کرتا ہے یا جانی قربانی سے دریغ کرتا ہے یا وقت کی قربانی سے دریغ کرتا ہے یا عزت اور وجاہت کی قربانی سے دریغ کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خداتعالیٰ اُس سے ناراض ہے۔ چنانچہ اس کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ بعض لوگ بے دین اور مرتد ہو جاتے ہیں۔ بیشک مرتد ہونے پر وہ یہ کہتا ہے کہ اَلْحَمْدُ۔لِلّٰـہِ میں ہدایت پا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ارتداد سے پہلے اُسے خدمتِ۔دین کی توفیق مل رہی تھی؟ اگر اُس کے حالات کو غور سے دیکھا جائے گا تو یہی معلوم ہو گا کہ وہ نمازوں میں بھی سُست تھا، چندوں میں بھی سُست تھا، قومی کاموں میں بھی سُست تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دین کی محبت اُس کے دل سے جاتی رہی، ایمان اُڑ گیا اور ارتداد نے اُس کی جگہ لے لی۔ پس جب کسی شخص پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے تو اُسے دین کی خدمت کی توفیق ملتی ہے۔ اور جب اس کی قربانیوں میں کمی آ جائے تو یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کا اُس سے تعلق کمزور رہا ہے اور۔خداتعالیٰ اُس سے خفا ہے۔
    ایک اَور بات میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس تحریک کے متعلق دوستوں کے دلوں میں جو۔غلط فہمی پائی جاتی ہے خواہ اس غلط فہمی کے پیدا کرنے کا موجب میرے اپنے ہی اقوال کیوں نہ ہوں اُسے دور کر دینا چاہیے۔ غلطی بہرحال غلطی ہے اور اُس کا ازالہ ضروری ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ یہ تحریک صرف چند سالوں کے لیے جاری کی گئی تھی مگر اَب اس کو ممتد کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال بھی میں نے اس طرف اشارہ کیا تھا جس پر بعض سمجھ گئے، بعض ادھورا سمجھے اور بعض اَب تک بھی نہیں سمجھے۔ میں نے جب یہ تحریک جاری کی تھی تو تین سال کے لیے جاری کی تھی۔ پھر میں نے اِس تحریک کو دس سال تک بڑھا دیا اور پھر اسے انیس سال تک ممتد کر دیا۔ بعض ایسے تھے جنہوں نے تین سال کے اختتام پر اس تحریک میں حصہ لینا چھوڑ دیا اور انہوں نے کہا کہ بس! ہم سے اتنے عرصہ کے لیے ہی قربانی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اب ہم زیادہ قربانی نہیں کر سکتے۔ بعض ایسے تھے جنہوں نے دس سال تک چندہ دیا اور کہا کہ اَب ہم اِس سے آگے جانے کے۔لیے تیار نہیں کیونکہ آپ نے دس سال تک اس تحریک کو بڑھا یا تھا۔ اس کے بعد جب یہ تحریک انیس سال تک ممتد کر دی گئی تو گو ایسے لوگ بھی ہیں جو میرے خطبات اور اعلانات کو سن کر حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔ مگر اَب بھی بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے میرے مفہوم کو ادھورا سمجھا ہے اور انہوں نے مجھے لکھا ہے کہ آپ کے اعلانات سے پتا لگتا ہے کہ انیس سال کے بعد یہ قربانی ختم ہو جائے گی مگر ہم تو ہر وقت قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آپ جب ۔تک قربانی کے لیے بلاتے رہیں گے ہم اس پر لبیک کہتے چلے جائیں گے۔ اب یہ فقرہ بظاہر تو بڑے اخلاص والا معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقتاً اس میں بھی کمزوری پائی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ دین کی خدمت میں میرے بلانے کا کیا سوال ہے؟ فرض کرو دنیا میں ایک ہی مسلمان رہ جائے تو کیا وہ ایک مسلمان دین کی خدمت کوچھوڑ دے گا اس لیے کہ اسے بلانے والا کوئی نہیں؟ جہاں عشق ہوتا ہے وہاں تو بلانے اور نہ بلانے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔
    لوگوں نے لطیفہ بنایا ہوا ہے کہ ایک چھوٹاسا جانور ہے جو رات کو اُلٹا سوتا ہے۔ کسی نے اُس سے پوچھا کہ تُو رات کو ٹانگیں اوپر کی طرف اُٹھا کر کیوں سوتا ہے؟ اُس نے کہا دیکھو ساری دنیا رات کو سو جاتی ہے اور غافل ہو جاتی ہے اگر آسمان رات کو گر پڑے تو سارے کے سارے تباہ ہو جائیں۔ پس۔میں سوتے وقت ٹانگیں اُٹھا لیتا ہوں تا کہ اگر آسمان گرے تو میری ٹانگوں پر گرے دنیا تباہ نہ ہو۔ اب ہے تو یہ ایک لطیفہ، جانوروں سے کون باتیں کیا کرتا ہے مگر پرانے زمانہ میں دستور تھا کہ حکمت کی بات جانوروں کے منہ سے بیان کی جاتی تھی۔ ساری مثنوی رومی ایسی ہی حکایات سے بھری پڑی ہے۔ اِسی طرح کلیلہ دمنہ وغیرہ میں بھیڑیا یا شیر یا بطخ یا مرغوں کی زبان سے کئی داستانیں بیان کی گئی ہیں کیونکہ لوگ سمجھتے تھے کہ دوسروں کو حکمت کی بات سمجھانے کا یہ ایک مؤثر ذریعہ ہے اور اس طرح زیادہ آسانی کے ساتھ وہ دوسرے کی بات کو سمجھ لیتے ہیں۔ اِسی طرح اِس لطیفہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب انسان کے اندر لوگوں کی خیرخواہی کا احساس ہو اور ان کی محبت موجزن ہو وہ ان کی محبت میں یہ نہیں دیکھا کرتا کہ میں کام کر سکتا ہوں یا نہیں بلکہ وہ اپنی قربانی پیش کر دیتا ہے۔ یہ نکتہ ہے جو اِس لطیفہ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک چھوٹے سے جانور نے بھلا آسمان کو اپنی ٹانگوں پر کیا اُٹھانا ہے؟ اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ اُس کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت ہے۔ وہ نہیں کہتا کہ کیا پدّی اور کیا پدّی کا شوربا۔ وہ اپنی ٹانگیں اُٹھا دیتا ہے تا کہ اگر آسمان گرے تو ان پر گرے لوگ اُس سے تباہ نہ ہوں۔ اِس لطیفہ کا مقصد کسی جانور کا قصہ بیان کرنا نہیں بلکہ یہ مقصد ہے کہ انسانوں میں سے ہر وہ انسان جس کے دل میں بنی۔نوع۔انسان کی محبت ہوتی ہے وہ اپنی قربانی پیش کر دیتا ہے چاہے اس کا کچھ بھی نتیجہ ہو۔
    ہمیں بھی اسلام کی محبت کا دعوٰی ہے۔ ہماری جماعت کو خداتعالیٰ نے قائم ہی اس لیے کیا ہے کہ وہ اسلام کو پھر اس کی بنیادوں پر مضبوطی سے قائم کر دے اور کفر کو شکست دے۔ پس ہمارے لیے یہ سوال ہی نہیں ہونا چاہیے کہ ہمیں دین کی خدمت کے لیے کوئی بلاتا ہے یا نہیں۔ بیشک اِس وقت ایک نظام خداتعالیٰ نے تم کو دے دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر میں کسی معاملہ میں نہ بھی بلاؤں اور تمہیں نظر آتا ہو کہ وہ دین کی خدمت کا کام ہے تو تمہارا فرض ہے کہ وہ کام کرو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض بلانے پر بھی نہیں بولتے بلکہ اُن کے سامنے ہر وقت یہی سوال رہتا ہے کہ
    دیکھیے سرکار اِس میں شرط یہ لکھی نہیں
    وہ کہتے ہیں پہلے تین سال کہا تھا، پھر دس سال کر دیئے،، اَب انیس کر دیئے ہیں۔مگر میں تمہیں کہتا ہوں کہ انیس سالوں کا بھی کیا ہے۔ اگر ہزار سال تمہاری عمر ہو تو اگر تم عاشقِ صادق ہو تو یہ کام تم کو ہزار سال کر کے بھی تھوڑا نظر آنا چاہیے۔ تم سے پہلوں کے ساتھ بھی بعض معیّن وعدے۔کیے۔گئے تھے مگر انہوں نے تین یا دس کی پروا۔۔نہیں کی۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ تین اور دس اور انیس توہمارے فائدہ کے لیے ہیں۔ یہ فائدہ جتنا بھی بڑھتا چلا جائے ہمارے دل میں اُتنی ہی خوشی پیدا۔ہو گی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والوں کو جب مکہ والے متواتر دکھ دیتے چلے گئے اور انہوں نے اسلام کے مٹانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تو اللہ۔تعالیٰ نے مدینہ کے چند لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرما دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نصیحت فرمائی کہ مدینہ میں تبلیغ کے ذریعہ اپنی تعداد کو بڑھانے کی کوشش کرو۔ چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر وہ بہت بڑی تعداد میں مکہ پہنچے اوروہ آپس میں یہ مشورہ کر کے آئے کہ ہم رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم سے یہ عرض کریں گے کہ اَب مکہ کو چھوڑیے اور ہمارے شہر میں تشریف لے آئیے۔ چنانچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، انہوں نے آپ سے باتیں کیں، آ پ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر عرض کیا کہ یارسول اللہ! آپ ہمارے ساتھ چلیں اور اَب مکہ کو چھوڑ دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس ملاقات کے وقت حضرت عباسؓ۔۔کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے جو اگرچہ عمر میں آپ سے صرف دوسال بڑے تھے لیکن بڑے زیرک اور ہوشیار تھے، مکہ کے پنچ تھے اور اِس وجہ سے سیاسیات کو خوب سمجھتے تھے۔ اور گو وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھے تعلّقات رکھتے تھے اِس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ جب مدینہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اِس خواہش کا اظہار کیا تو حضرت عباسؓ نے کہا باتیں کر لینی آسان ہوتی ہیں لیکن ان کو نبھانا مشکل ہوتا ہے۔ اگر تم لوگ محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے گئے تو تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ مکہ والوں نے اپنی مخالفت سے باز نہیں آنا اور پھر وہاں بھی مخالفت کا ہونا ایک لازمی امر ہے۔ مکہ میں تو ان کے رشتہ دار موجود ہیں اور اِس وجہ سے لوگ ان پر حملہ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں لیکن مدینہ میں رشتہ دار نہیں ہوں گے۔ اس لیے تم خوب سوچ سمجھ کر بات کرو۔ اگر تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو تمہیں آپ کی حفاظت کے لیے مرنا بھی پڑے گا۔ انہوں نے کہا ہم اس بات کو خوب سمجھتے ہیں اور ہم نے تمام باتوں کوسوچ سمجھ کر ہی یہ درخواست کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لے چلیں۔ حضرت۔عباسؓ۔نے کہا تو پھر آؤ اور معاہدہ کرو۔ چنانچہ ایک معاہدہ کیا گیا جس میں یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اگر مدینہ پر کُفّار حملہ کریں تو چونکہ آپؐ مدینہ ہماری درخواست پر تشریف لے جا رہے ہیں اِس لیے مدینہ کے مسلمان اِس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار رہیں گے اور سارے کے سارے مر جائیں گے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہیںپہنچنے دیں گے۔ لیکن اگر مدینہ سے باہر نکل کر کسی اَور مقام پر لڑائی ہوئی تو چونکہ مدینہ ایک گاؤں ہے اور گاؤں کے رہنے والے سارے ملک کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اِس لیے ہم مدینہ سے باہر لڑائی کرنے کے پابند نہیں ہوں گے۔5
    غرض معاہدہ ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے۔ جب آپ مدینہ چلے گئے تو وہی ہوا جس کا حضرت عباسؓ۔۔کو خطرہ تھا۔ اِدھر آپ مدینہ پہنچے اور اُدھر مکہ والوں نے انہیں کہنا شروع کر دیا کہ کمبختو! تم بڑے بے ایمان ہو گئے ہو یہ شخص تمہارے بُتوں کی ہتک کرتا ہے، تمہارے باپ۔دادا کو جھوٹا کہتا ہے اور پھر تمہارے شہر میں بیٹھ کر اپنے عقائد کو پھیلا رہا ہے۔ یا تو تم خود اس کے ساتھ لڑائی کرو یا اسے اپنے شہر سے نکال دو ورنہ ہم سب مل کر مدینہ پر حملہ کر دیں گے اور تمہیں اِس کی سزا دیں گے۔ ادھر اِکَّادُکّا مسلمانوں پر انہوں نے حملے شروع کر دیئے۔ ان کے قافلے جو شام میں تجارت کے لیے جاتے تھے انہوں نے اپنے اصل راستہ کو چھوڑ کر مدینہ کے اردگرد کے قبائل میں سے گزرنا شروع کیا اور اُن کو مدینہ والوں کے خلاف اُکسانا شروع کر دیا۔ غرض ملک میں چاروں طرف ایک شورش برپا ہو گئی۔ اِسی دوران میں بعض چھوٹی چھوٹی لڑائیاں بھی ہوئیں اور اس کے بعد بدر کی مشہور اور معرکۃ الآراء جنگ ہوئی۔ اِس جنگ کی ابتدا اِس طرح ہوئی کہ شام سے کُفّار کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں آ رہا تھا۔ مکہ کے لوگوں نے اِس خیال سے کہ کہیں مسلمان اِس قافلہ پر حملہ نہ کر دیں ایک بہت بڑا لشکر ابوجہل کی قیادت میں تیار کر کے بھجوا دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ دشمن آ رہا ہے، قافلہ بھی آ رہا ہے اور فوج بھی آ رہی ہے۔ اِس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ یہ صورتِ حالات ہے۔ اگر اِس وقت ہم باہر نہ نکلے تو کُفّار تمام عرب میں شور مچائیں گے اور اردگرد کے قبائل مسلمانوں کے خلاف بھڑک اٹھیں گے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ۔کیا۔جائے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریباً تین سو صحابہؓ۔۔کو لے کر دشمن کے مقابل کے لیے نکل کھڑے ہوئے مگر اس وقت تک صحابہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا مقابلہ قافلہ والوں سے ہو۔گا یا۔اصل لشکر سے ہو گا۔ مگر اللہ تعالیٰ یہی چاہتا تھا کہ قافلہ سے نہیں بلکہ اصل لشکر سے مقابلہ ہو۔ جب بدر کے قریب پہنچے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ۔۔کو بتایا کہ الٰہی منشا یہی ہے کہ مکہ کے اصل۔لشکر سے جو ابوجہل کی قیادت میں آ رہا ہے ہمارا مقابلہ ہو۔ جہاں تک میرا مطالعہ ہے مجھے قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ۔۔کو مدینہ میں ہی یہ علم دے دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کا کُفّار کے اصل لشکر سے مقابلہ ہو گا مگر ساتھ ہی آپؐ۔۔کو منع کر دیا گیا تھا کہ ابھی یہ بات صحابہؓ۔۔کو بتائی نہ جائے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب آپؐ باہر نکل آئے تب اللہ۔تعالیٰ کی طرف سے آپؐ پر اصل حقیقت کو ظاہر کیا گیا۔ بہرحال جب کئی منزل طے کرنے کے بعد آپؐ بدر کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ۔۔کو حکم ہوا کہ اَب یہ بات صحابہؓ۔۔کو بتا دی جائے یا اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ پر یہ امر ظاہر کیا گیا کہ قافلہ تو نکل گیا ہے اَب صرف لشکر کے ساتھ مقابلہ ہو گا۔ آپؐ کے باہر نکلنے کی غرض یہی تھی کہ ان لوگوں کا دفاع کیا جائے کیونکہ یہ لوگ مدینہ کے پاس پہنچ کر شور مچائیں گے کہ ہم مکہ سے چل کر آ گئے ہیں مگر محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مدینہ میں ہی بیٹھے ہیں۔ اس سے لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق تحقیر اور تذلیل کے خیالات پیدا ہوں گے اور ہمارا ان لوگوں میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ۔۔کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ شام سے جو تجارتی قافلہ آ رہا تھا وہ تو نکل گیا ہے۔ اَب دشمن کا لشکر اِس طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ بتاؤ! اَب تمہاری کیا تجویز ہے؟ کیا ہم پیچھے ہٹ جائیں یا ان لوگوں کا مقابلہ کریں؟ اِس پر ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوتا اور کہتا یارسول اللہ! پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم دشمن سے لڑیں ورنہ وہ دلیر ہو جائے گا اور لوگوں میں فخر کرے گا کہ وہ باہر بھی آیا مگر مسلمان اُس کے مقابلہ کے لیے نہ نکل سکے۔ مگر تقریر کرنے کے بعد جب بھی کوئی مہاجر بیٹھتا آپؐ فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ اِس پر پھر کوئی مہاجر صحابی کھڑا ہوتا اور کہتا یارسول اللہ! مقابلہ کیجیے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مگر جب وہ بیٹھ جاتا تو آپ پھر فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ جب یکے بعد دیگرے کئی مہاجر اپنا مشورہ دے چکے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہاجر کی تقریر کے بعد یہی فرماتے کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ تو۔ایک انصاری کھڑے ہوئے۔ اس وقت تک انصار کا گروہ خاموش بیٹھا ہوا تھا مگر جب رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے باربار فرمایا کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ تو انصار نے سمجھا کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی مُراد ہم سے ہے ورنہ مہاجرین تو مشورہ دے ہی رہے ہیں۔ چنانچہ ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یارسول اللّٰہ! مشورہ تو آپ کو دیا جا رہا ہے مگر آپ جو باربار فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے کہ مہاجر تو بول رہے ہیں انصار کیوں نہیں بولتے۔ یارسول اللّٰہ! ہم تو اس لیے چپ تھے کہ وہ لشکر جو مکہ کی طرف سے آیا ہے اُس میں اِن مہاجرین کا کوئی باپ ہے، کوئی بیٹا ہے، کوئی بھائی ہے اور کوئی اَور عزیز ہے۔ ہم اِس شرم کے مارے نہیں بولتے تھے کہ اگر ہم نے کہا مقابلہ کریں تو مہاجرین یہ سمجھیں گے کہ یہ ہمارے ماں باپ اور بھائیوں اور بیٹوں کو مارنا چاہتے ہیں۔ پس ہماری خاموشی کی اصل وجہ یہ تھی۔ پھر اُس نے کہا یارسول اللّٰہ! آپ جو ہم سے باربار کہہ رہے ہیں کہ بولو! تو شاید آپ کا اشارہ اُس معاہدہ کی طرف ہے جو آپ کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے ہم نے کیا تھا اور جس میں ہم نے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر مدینہ پر کسی دشمن نے حملہ کیا تو ہم اپنی جانیں دے دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کرنا پڑا تو ہم اس میں شریک ہونے کے پابند نہیں ہوں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔ (اب دیکھو وہاں ایک معاہدہ ہو چکا تھا مگر میں نے تو تمہارے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔ میرا صرف ایک اعلان تھا یہ نہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی باقاعدہ معاہدہ ہوا ہو کہ میں تم سے صرف تین سال چندہ لوں گا یا دس سال چندہ لوں گامگر یہاں تو انصار کو رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ تھا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہوا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑا تو ہم اس میں شامل ہونے کے پابند نہیں ہوں گے)۔ اُس صحابی نے کہا یارسول اللّٰہ! جب یہ معاہدہ کیا گیا تھا اُس وقت ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ نبی کیا ہوتا ہے اور رسول کیا ہوتا ہے۔ ہمیں آپ کی باتیں پسند آئیں اور ہم نے سمجھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے جو آواز اٹھی ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو قبول کر لیں۔ لیکن اس کے بعد ہم نے خداتعالیٰ کے متواتر نشانات دیکھے،آپ کی صداقت کے سینکڑوں معجزات دیکھے اور ہمیں معلوم ہوا کہ آپ کی شان کیا ہے۔ پس یارسول اللّٰہ! اب معاہدات کا کوئی سوال نہیں معاہدات کا زمانہ گزر گیا۔ اب اَور زمانہ آ گیا ہے۔ یارسول اللّٰہ! سامنے سمندر ہے آپ حکم دیجیے ہم اس میں اپنے گھوڑے ڈالنے کے لیے تیار ہیں6 اور یا۔رسول۔اللّٰہ! اگر دشمن کا مقابلہ کرنے کا ہی فیصلہ ہوا تو ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔7 پس جب میں نے تم کو تین سال کہا یا دس سال کہا یا انیس سال کہا تو مجھے پتا نہیں تھا کہ ہمارے سامنے خداتعالیٰ کی کیا سکیم ہے۔ جب میں نے تم سے کہا کہ آؤ اور تین سال کے لیے قربانی کرو تو اس وقت صرف احراری فتنہ سامنے تھا۔ جب میں نے کہا آؤ اور دس سال تک قربانی کرو تو ہم نے سمجھا کہ باہر کی جماعتوں میں جو ہم نے چند مشن قائم کر دیئے ہیں یہ اس وقت تک اپنا کام کرنا شروع کر دیں گے۔ اُس وقت میرا ذہن اِس وسعت کی طرف نہیں گیا کہ ہم نے ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے۔ پھر میں نے دس سالہ تحریک کو انیس سال تک ممتد کر دیا اور ایک دوسرے دور کا بھی ساتھ ہی آغاز کر دیا کیونکہ اُس وقت مجھے ایک حد تک روشنی نظر آنے لگ گئی تھی اور کام نے اپنی عظمت کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔ مگر ابھی اس کام کی پوری اہمیت ہم پر روشن نہیں ہوئی تھی مگر سولھویں اور سترھویں سال میں آکر اللہ تعالیٰ نے اِس سکیم کی عظمت کو مجھ پر روشن کر دیا اور میرا ذہن اس طرف مائل ہوا کہ اس سکیم کے لیے سالوں کی تعیین بے معنیٰ ہے۔ ہم نے ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے، ہم نے چَپہ چَپہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم کرنی ہے اور یہ کام چند سالوں کا نہیں یہ کام ہمیشہ ہمیش ہے۔
    پس میں نے جب کہا تھا کہ آؤ تین سال کے لیے قربانی کر و یا دس سال کے لیے قربانی کرو تومیں نہیں جانتا تھا کہ میرے سامنے کتنا بڑا کام ہے۔ جب تم نے کہا کہ ہم تین سال کے لیے قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں یا دس سال کے لیے قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں تو تم بھی نہیں جانتے تھے کہ تمہارے سامنے کتنا بڑا کام ہے۔ لیکن اب جبکہ تمہیں پتا لگ گیا ہے کہ تمہارا کیا کام ہے جبکہ تمہیں پتا لگ گیا ہے کہ دنیابھر میں اسلام پھیلانا تمہارا کام ہے اور مجھ پر خداتعالیٰ کی سکیم کا ایک بڑا حصہ ظاہر ہو گیا ہے تو میرا مطالبہ بھی اس کے مطابق ہونا چاہیے اور تمہارا بھی اِس وقت وہی جواب ہونا چاہیے جو مدینہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا۔ اب تمہیں بھی یہی کہنا چاہیے کہ اب تین یا دس یا انیس کا کیا سوال ہے ہم اسلام کی حفاظت کے لیے اس کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں۔گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن ہماری لاشوں پر سے گزرے بغیر۔اسلام کے جسم تک نہیں پہنچ سکتا۔
    غرض وعدے زمانہ کے لحاظ سے ہوتے ہیں لیکن وعدہ معاہدے سے بہرحال کم ہے۔ وعدہ ایک طرف سے ہوتا ہے اور معاہدہ دونوں طرف سے ہوتا ہے۔ اور میں نے تو تم سے کوئی وعدہ بھی نہیں کیا صرف ایک اعلان تھا جو میں نے کیا اور وہ بھی اُن حالات میں اعلان تھا جب مستقبل میرے سامنے نہیں تھا جب مستقبل تمہارے سامنے نہیں تھا۔ اگر مستقبل تمہارے سامنے ہوتا کہ اَب ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کا وقت آن پہنچا ہے تو میں نے جب تم سے کہا تھا کہ آؤ اور تین سال کے لیے قربانی کرو تو تم فوراً کھڑے ہو جاتے اور کہتے کہ تین سال میں کیا ہو سکتا ہے؟ تین سال میں تو ساری دنیا میں تبلیغِ۔اسلام کی بنیادیں بھی نہیں رکھی جاسکتیں۔ پھر اگر مستقبل تمہارے سامنے ہوتا تو جب میں نے تم سے کہا تھا کہ آؤ اور دس سال کے لیے قربانی کرو تو تمہارا فرض تھا کہ تم کھڑے ہو جاتے اور کہتے دس سال میں ہم ساری دنیا میں کس طرح تبلیغِ اسلام کر سکتے ہیں؟ پھر اگر مستقبل تمہارے سامنے ہوتا تو جب میں نے تم سے کہا تھا کہ آؤ اور انیس سال کے لیے قربانی کرو تو چاہیے تھا کہ تم کھڑے ہو جاتے اور کہتے کیا انیس سال میں اسلام ہمیشہ کے لیے قائم ہو سکتا ہے؟ یہ کام تو قیامت تک کے لیے ہے۔ جس طرح نماز دس سال کے لیے نہیں، نماز انیس سال کے لیے نہیں، روزہ دس سال کے لیے نہیں، روزہ انیس سال کے لیے نہیں۔ اِسی طرح اسلام کی تبلیغ اور جہاد بھی دس یا انیس سال کے لیے نہیں ہو سکتے۔ اگر نماز انیس سال کے لیے ہو سکتی ہے، اگر روزہ انیس سال کے لیے ہو سکتا ہے، اگر زکوٰۃ انیس سال کے لیے ہو سکتی ہے تو پھر جہاد بھی انیس سال کے لیے ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر نماز ہمیشہ کے لیے ہے، اگر روزہ ہمیشہ کے لیے ہے، اگر زکوٰۃ ہمیشہ کے لیے ہے تو پھر جہاد بھی ہمیشہ کے لیے ہے۔
    جس دن مسلمان جہاد سے غافل ہوئے اُسی دن تباہی کے گڑھے میں گرنے شروع ہو گئے اور یا تو وہ ساری دنیا پر غالب اور حکمران تھے اور یا ہر جگہ محکوم اور ذلیل ہو گئے۔ کوئی زمانہ تھا کہ یہی مقام جہاں کھڑے ہو کر میں اِس وقت خطبہ پڑھ رہا ہوں یہاں مسلمانوں کی چھاؤنی ہوا کرتی تھی اور اِدھر۔سے۔اُدھر فوجیں جایا کرتی تھیں اور یا اب اُدھر سے اِدھر فوجیں آنے لگی گئی ہیں۔ اس لیے کہ مسلمان جہاد بھول گئے۔ پہلے تم مسجدیں بناتے چلے جاتے تھے مگر اَب تم واپس آ رہے ہو اور۔مساجد۔گرائی جا رہی ہیں۔ ہزاروں ہزار بزرگوں کے مقابر اِس وقت مشرقی پنجاب میں گرے ہوئے ہیں۔ کُتّے اُن پر پیشاب کرتے ہیں تو کوئی اُن کو روکنے والا نہیں ہوتا، ہزاروںہزار مسجدیں مشرقی پنجاب اور یو۔پی وغیرہ میں گری ہوئی ہیں اور اُن کی بے حرمتی کی جا رہی ہے محض اِس لیے کہ مسلمانوں نے جہاد کو ترک کر دیا۔ اگر مسلمان جہادِحقیقی کو سمجھ لیتا، اگر مسلمان جان لیتا کہ صرف تلوار چلانا ہی جہاد نہیں تو آج وہ دنیا میں ذلیل نہ ہوتا۔ اس نے سمجھا کہ تلوار کا جہاد ہی اصل جہاد ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب انہوں نے کوئی علاقہ فتح کر لیا تو سمجھ لیا کہ اَب اُن کا کام ختم ہو گیا ہے۔ اگر وہ اس جہاد کو سمجھتے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش کیا ہے کہ کبھی تلوار چلانا جہاد ہوتا ہے، کبھی تبلیغ کرنا جہاد ہوتا ہے، کبھی اشاعتِ۔لٹریچر کرنا جہاد ہوتا ہے، کبھی تربیت کرنا جہاد ہوتا ہے، کبھی تعلیم دینا جہاد ہوتا ہے۔ تو جب ہندوستان کو انہوں نے فتح کر لیا تھا وہ یہ نہ سمجھتے کہ اُن کا کام ختم ہو گیا ہے بلکہ سمجھتے کہ اَب ہمارا اَور کام شروع ہو گیا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لڑائی سے واپس آئے تو آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے اَب بڑے جہاد کی طرف آئے ہیں8 یعنی وہ جہاد تو ختم ہو گیا اب تعلیم وتربیت کا جہاد شروع ہو گا جو اُس جہاد سے زیادہ اہم ہے۔ پس جہاد ہمیشہ کے لیے ہے۔ یہ محض مولویوں کی نادانی اور بیوقوفی تھی کہ انہوں نے تلوار کے جہاد کو ہی جہاد سمجھا اور اِس طرح اسلام کو نقصان پہنچا دیا۔ چنانچہ جب تلوار کا جہاد ختم ہو گیا تو مسلمانوں نے سمجھا کہ اَب اُن کا کام بھی ختم ہو گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج بھی ہندوستان میں بتّیس کروڑ ہندو اور آٹھ کروڑ مسلمان ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام والا جہاد اختیار کیا جاتا تو آج بتّیس کروڑ مسلمان اور آٹھ کروڑ ہندو ہوتے بلکہ آٹھ کروڑ ہندو بھی نہ ہوتے سب کے سب مسلمان ہوتے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سات سو سال تک حکومت کی جائے اور پھر کافر باقی رہ جائیں۔ اگر تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا جاتا تو یہ ناممکن تھا کہ غیرمذاہب کے لوگ اِتنی کثرت کے ساتھ۔موجود رہتے۔
    پس جب میں نے کہا کہ یہ تحریک تین سال کے لیے ہے یا جب میں نے کہا کہ یہ تحریک دس سال کے لیے ہے تو یقیناً میں نے غلط کہا مگر اس لیے کہا کہ جو کچھ خدا کا منشا تھا وہ میں پورے طور نہیں سمجھا تھا۔ جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ والوں کے معاہدہ کی حقیقت کو اُس وقت پورے۔طور پر نہیں سمجھے۔ تم مجھے کہہ سکتے ہو کہ اُس وقت تم نے حقیقت کو پورے طور پر کیوں نہیں سمجھا؟ میرا جواب یہ ہے کہ کیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بڑا ہوں؟ محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے بھی اُس وقت یہی سمجھا تھا کہ مکہ کے لو گ مدینہ پر حملہ کر کے آئیں گے اُن کے دفاع کے لیے مدینہ والوں کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جانا چاہیے۔ لیکن خداتعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ آپؐ۔۔کو ساری دنیا پر غالب کرے۔ خداتعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ آپ باہر نکل کر کُفّار کا مقابلہ کریں۔ اگر اُس وقت یہ بات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوتی تو جب مدینہ والوں نے یہ کہا تھا کہ اگر کسی قوم نے مدینہ پر حملہ کیا تو ہم اُس کا مقابلہ کریں گے تو آپؐ۔۔فرماتے تم یہ کیا کہہ رہے ہو۔ ہمیں تو باہر بھی دشمن کا مقابلہ کرنا پڑے گا مگر آپؐ نے یہ نہیں کہا کیونکہ اُس وقت اصل حقیقت آپ پر روشن نہیں ہوئی تھی۔
    پھر ۔تم نے بھی میری بات کو اُسی طرح نہیں سمجھا جس طرح صحابہؓ نے نہیں سمجھا۔ انصار نے یہی سمجھا تھا کہ یہ لڑائی اگر ہوئی بھی تو صرف مدینہ میں ہو گی۔انہیں کب معلوم تھا کہ مدینہ کا سوال نہیں یہ لڑائی ساری دنیا میں لڑی جانے والی ہے۔ کیا کسی انصاری کے وہم وگمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ پنجاب اور ہندوستان میں بیٹھ کر بھی ایک مسلمان کو لڑنا پڑے گا؟ اِسی طرح چین اور جاپان اور سماٹرا اور جاوا اور وہ دوسرے ملک جن کے نام بھی وہ نہیں جانتے تھے اُن میں مسلمانوں کو لڑنا پڑے گا۔ لیکن خدا اِس بات کو جانتا تھا۔ چنانچہ جب اس کی حکمت واضح ہوئی تو معاہدات ختم ہو گئے۔ اِسی طرح جب میں نے تم سے تین سال کے لیے قربانی کرنے کو کہا تو میں نے اس قربانی کو ایک وقتی چیز سمجھ کر یہ اعلان کیا اور خدا نے ہمیں اُس وقت فتح بھی دے دی۔ چنانچہ احرار کو ہمارے مقابلہ میں خطرناک شکست ہوئی۔ اس کے بعد جب میں نے اس تحریک کو دس سال تک بڑھایا تو اُس وقت مجھے کچھ کچھ روشنی نظر آنے لگ گئی تھی اور تبلیغ کا ایک رستہ کھل گیا تھا۔ پھر جب میں نے انیس سال کہا تو اُس وقت تک اَور زیادہ روشنی نمودار ہو چکی تھی۔ مگر اب سترھویں سال میں آکر پتا لگا کہ خداتعالیٰ کی سکیم بڑی بھاری ہے اور وہ قیامت تک کے لیے ہے۔ اور جب یہ بات کھل گئی تو اَب میں بھی تم سے اٹھارہ یا انیس سال کے لیے قربانی کرنے کے لیے نہیں کہتا۔ جب تک تمہارے جسموں میں خون چلتا ہے اگر تم میں ایمان کا ایک ذرّہ بھی موجود ہے تو تمہیں دین کی خدمت کرنی ہو گی۔ بلکہ اگر تمہارے دلوں میں ایمان موجود ہے تو تمہاری تو یہ کیفیت ہونی چاہیے اگر انیس سال کے بعد تم سے یہ کہا بھی جائے کہ اب تمہاری۔قربانی۔کی ضرورت نہیں تو تم رونے لگ جاؤ اور کہو کہ کیا ہم بے ایمان ہو گئے ہیں یا ہم دین سے مرتد ہو گئے ہیں کہ ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ اَب تم سے دین کی خدمت کا کام نہیں لیا جائے گا۔
    پس آج میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اٹھارہ یا انیس سال کا کوئی سوال نہیں۔ ہم نے تمام دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہے اور یہ کام ہم سے ہماری دائمی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اِس وقت مغرب میں بھی ہمارے مبلّغ موجود ہیں اور مشرق میں بھی، شمال میں بھی ہمارے مبلّغ موجود ہیں اور جنوب میں بھی۔ آج ہر ملک اور ہر قوم میں اسلام اور احمدیت کا جھنڈا گاڑا جا رہا ہے۔ ابھی ہمارے مبلّغ تھوڑے ہیں اور ہمیں باربار۔اُن کو مدد بھجوانی پڑے گی۔ اُس طرح جس طرح شام اور ایران کے اسلامی لشکروں کو کمک کی ضرورت پڑتی تھی۔ ایران میں جب مسلمانوں کو ایک جنگ میں شکست ہوئی تو اُس وقت مدینہ میں مزید فوج بھجوانے کے لیے اعلان کیا گیا مگر مدینہ اور اُس کے نواحی میں کوئی فوج نہیں تھی جو مسلمانوں کی مدد کے لیے بھجوائی جاتی۔ یہی کیفیت اِس وقت ہماری ہو گی۔ ہمیں بھی اُسی طرح جس طرح ایک بھٹیارہ پتے اور سوکھی شاخیں اپنی بھٹی میں جھونکتا چلا جاتا ہے اسلام کی اشاعت کے لیے متواتر اور مسلسل اپنا روپیہ بھی جھونکنا پڑے گا، اپنے آدمی بھی جھونکنے پڑیں گے، اپنی کتابیں بھی جھونکنی پڑیں گی، اپنا لٹریچر بھی جھونکنا پڑے گا اور اس راستہ میں ہمیں کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا پڑے گا۔ شیطان اپنی کرسی کو آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا۔ اِس وقت خدا کے تخت پر شیطان متمکّن ہے، اِس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت پر شیطان کے ساتھیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ اسے آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے۔ وہ لڑیں گے اور پورے زور کے ساتھ ہمارا مقابلہ کریں گے اور ہم کو بھی اپنا سب کچھ اِس راہ میں قربان کر دینا پڑے گا۔
    بہرحال جب یہ چیز واضح ہو جائے اور اِس لڑائی کی اہمیت کو انسان سمجھ لے تو اس کے بعد تین یا دس یا انیس کا سوال کوئی احمق ہی کر سکتا ہے۔ جب ہم نے یہ تحریک شروع کی تھی اُس وقت ہم اس کے نتائج سے ایسے ہی ناواقف تھے جیسے مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کرنے والے انصار اپنے معاہدہ کی حقیقت سے ناواقف تھے، جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسلام کا شاندار مستقبل پورے طور پر روشن نہیں ہوا تھا اُسی طرح ہم پر بھی اس تحریک کا مستقبل اس وقت روشن نہیں ہوا۔ پس میں نے تم سے اسی طرح وعدہ لیا جس طرح انصار سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ لیا تھا۔ اور تم نے اُسی طرح اقرار کیا جس طرح انصار نے معاہدہ کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا تھا۔ لیکن جب زمانہ نے پردے اُٹھا دیئے، قدرت نے انکشاف کر دیا تو نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ وعدہ رہا اور نہ انصار کا معاہدہ معاہدہ رہا۔ اَب دنیا ہی بدل چکی تھی، اَب ساری دنیا کو فتح کرنے کا سوال تھا، اَب ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے کا سوال تھا۔ اَب مدینہ کے اندر یا مدینہ کے باہر کا کوئی سوال نہ تھا، اَب ہر جگہ یہ لڑائی لڑی جانے والی تھی۔ اِسی طرح اَب ہمارے لیے یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ خداتعالیٰ ہمارے لیے وہ دن قریب سے قریب تر لانا چاہتا ہے جب ہم نے اسلام کی لڑائی کو اُس کے اختتام اور کامیاب اختتام تک پہنچانا ہے، اَب کسی ایک ملک یا دوملکوں کا سوال نہیں، اَب کسی ایک مبلّغ یا دو مبلغوں کا سوال نہیں، اَب سردھڑ کی بازی لگانے کا سوال ہے۔ یا کفر جیتے گا اور ہم مریں گے یا کفر مرے گا اور ہم جیتیں گے۔ درمیان میں اَب بات رہ نہیں سکتی۔ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ سپاہی دس پندرہ روپے لے کر میدانِ جنگ میں جاتا اور اپنے سینہ کو گولی کے لیے پیش کر دیتا ہے۔ ہمارے لیے تو پندرہ کا سوال نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ہم نے مومنوں سے سودا کر لیا ہے۔ ہم نے ان سے ان کی جانیں اور مال لے لیے ہیں اور انہیں اپنی جنت دے دی ہے۔9 اگر۔پندرہ روپوں کے لیے ایک سپاہی اپنی جان دے سکتا ہے تو جنت کے لیے ایک مومن کو کتنی خوشی اورکتنی بشاشت سے قربانی پیش کرنی چاہیے۔
    پس اپنے دلوں سے دس یا بیس کا سوال اُٹھا دو۔ یہ قربانی تمہیں مرتے دم تک کرنی پڑے گی۔ جو کچھ ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ بعض نے اِس تحریک کو صرف انیس سالہ تحریک سمجھ کر اتنا بوجھ اپنے اوپر برداشت کر لیا تھا جو اُن کی طاقت کے لحاظ سے بہت زیادہ تھا اِس لیے دفتر سے بات کر کے اُن کو اتنی کمی کرنے کی اجازت دے دی جائے گی کہ وہ مستقل طور پر آسانی کے ساتھ اس بوجھ کو اٹھاتے چلے جائیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق تحریک جدید میں حصہ لیں۔ اِسی حکمت کے ماتحت دفتردوم قائم کیا گیا ہے جس میں ہر وقت انسان شامل ہو سکتا ہے لیکن اِس ارادہ کے ساتھ کہ وہ اپنا قدم اَب پیچھے نہیں ہٹائے گا۔ گویا یہ بھی ایک قسم کا وقف ہے جس میں ہر شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میری جان اور میرا مال اسلام کے لیے حاضر ہے۔ پس اپنی توفیق کے مطابق ہر شخص کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔ مرد بھی اور عورتیں بھی، بچے بھی اور بوڑھے بھی، امیر بھی اور۔غریب۔بھی سب لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق تحریک جدید کے دوسرے دَور میں شریک ہوں۔
    دوسری مثال اسی قسم کے معاہدہ کی قرآن کریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ۔10ہم نے موسٰی سے تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا مگر پھر ہم نے اس وعدہ کو چالیس راتوں میں بدل دیا۔ آریوں اور عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ اسلام کا خدا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ جھوٹا ہے کیونکہ اس نے تیس کو چالیس کر دیا۔ اگر خدا تیس کو چالیس کر سکتا ہے تو میں تین کو دس اور دس کو انیس کیوں نہیں کر سکتا۔ اگر خدا عالم۔ُ۔الغیب ہونے کے باوجود تیس کو چالیس کر سکتا ہے تو میں جو عالم ُالغیب نہیں ہوں تو میں اِس میعاد کو کیوں نہیں بڑھا سکتا تھا۔ آخر سوچنا چاہیے کہ خداتعالیٰ پر کیوں اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اُس نے موسٰیؑ سے تیس راتوں کا جو وعدہ کیا تھا اُسے اُس نے چالیس راتوں میں بدل دیا۔ اِس لیے کہ تیس دن کی عبادت سے چالیس دن کی عبادت زیادہ مبارک ہے۔ اگر موسٰی۔ؑ۔ کو تیس کی بجائے چالیس دن عبادت کرنے کا موقع مل گیا تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کا احسان ہوا ظلم تو نہ ہوا۔ اِسی طرح اگر تمہیں ساری عمر دین کے لیے قربانی کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو تمہارے لیے دائمی طور پر خداتعالیٰ کی برکتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی جو شخص سمجھتا ہے کہ دین کے لیے چندہ دینا اُس کے لیے بوجھ ہے اور وہ انیس سال سے زیادہ یہ قربانی کرنے کی اپنے اندر طاقت نہیں پاتا میں اُسے کہوں گا کہ دین کو بیشک قربانی کی ضرورت ہے، اسلام کو بیشک قربانی کی ضرورت ہے لیکن اگر یہ قربانی تم پر بوجھ ہے تو تم پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ تم ایک پیسہ بھی اسلام کی خدمت کے لیے دو۔تمہارا پیسہ ہمارے لیے گندا اور ناپاک ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ تمہارے پیسوں کے ساتھ ہم اسلام کے پاک اموال کو بھی ملوث کر دیں۔ یہ تحریک صرف اُسی شخص کے لیے ہے جو خداتعالیٰ کے دین کے لیے قربانی کرنا اپنے لیے برکت اور فضل اور احسان سمجھتا ہے۔ جو سب کچھ دینے کے باوجود یہ یقین رکھتا ہے کہ اُس نے خدا اور اُس کے دین پر احسان نہیں کیا بلکہ خدا نے اُس پر احسان کیا ہے کہ اُس نے اُسے خدمت کی توفیق دی۔ پس ہر وہ شخص جو کہتا ہے کہ اِس تحریک میں شمولیت اُس کے لیے بوجھ ہے میں اسے کہتا ہوں کہ تم چپ رہو۔ جب تک تمہارا خدا تمہارے ایمان کو درست نہ کر دے اُس وقت تک تم ایک پائی بھی چندہ مت دو اور پھر دیکھو کہ خدا اِس سلسلہ کے ساتھ کیسا۔سلوک کرتا ہے۔
    پس اِس اعلان کے ساتھ میں تحریک جدید کے نئے سال کو شروع کرتا ہوں لیکن ابھی اِس خطبہ کے کئی حصے باقی ہیں جو میں اِنْشَائَ اللّٰہُ اگلے خطبہ یا خطبات میں بیان کروں گا۔ اِنْشَاء َ اللّٰہ‘‘۔
    (الفضل4دسمبر1951ئ)

    1
    :
    البقرۃ:21
    2
    :
    گھماؤں:آٹھ کنال یا دو بیگہ زمین(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)
    3
    :
    (الفتح:24)
    4
    :
    الحجرات:18
    5
    :
    سیرت ابن ہشام جلد2صفحہ84،85مطبوعہ مصر1936ء
    6
    ،
    7:سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ267۔مطبوعہ مصر 1936ء
    8
    :
    تفسیر روح البیان۔ سورۃ البقرۃ۔ آیت 54۔…الخ
    9
    :
    (التوبۃ:111)
    10
    :
    الاعراف:143

    30
    مومن کی علامت یہ ہوتی ہے
    کہ وہ ہر وقت قربانی کے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے
    (فرمودہ 7دسمبر 1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے سورۃ الاحزاب کی درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:
    1
    پھر فرمایا:’’میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں ایک آیت سورۃ بقرہ کی پڑھی تھی لیکن اُس کے مضمون۔کو بیان کرنے کا مجھے موقع نہیں مل سکا تھا۔ پچھلے جمعہ تحریک جدید کے اٹھارہویں سال کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا کہ جماعت کے کئی افراد کے دلوں میں اِس تحریک کے متعلق شبہات پیدا ہوئے ہیں اور بعض نے مجھے لکھا بھی ہے کہ یہ تحریک پہلے تین سال کے لیے جاری کی گئی تھی، پھر اسے دس سال تک بڑھایا گیا، پھر دس سے انیس سال تک بڑھا دیا گیا اور اَب آپ کے بعض اشارات سے پتا لگتا ہے کہ اِس تحریک کی میعاد اَور بڑھنے والی ہے۔
    میں نے بتایا تھا کہ اِس کے دو پہلو ہیں۔ اِس کا ایک پہلو واقعاتی لحاظ سے ہے اور ایک پہلو سنّتُ۔اللہ کے لحاظ سے ہے۔ یعنی ہم دو طرح سے کسی چیز کو بُرا کہہ سکتے ہیں۔ یا تو وہ چیز واقعات کے خلاف ہوتی ہے اور یا سنّتُ۔اللہ کے خلاف ہوتی ہے۔ میں نے بتایا تھا کہ سنّتُ۔اللہ میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ خداتعالیٰ بعض دفعہ کسی چیز کی تھوڑی سی حقیقت ظاہر کر کے لوگوں کو اس طرف لاتا ہے اور جب اُن کا ذوق ترقی کر جاتا ہے، اُن کا شوق بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے اندر قربانی میں بشاشت محسوس کرنے لگتے ہیں تو وہ حقیقت پر سے پردہ اٹھا دیتا ہے۔ میں نے اِس کی دو مثالیں دی تھیں۔ ایک مثال میں نے جنگِ بدر کی دی تھی کہ صحابہؓ۔۔کو مدینہ سے یہ کہہ کر نکالا گیا تھا کہ تمہارا مقابلہ یا تو شام سے آنے والے تجارتی قافلہ سے ہو گااور یا مکہ سے آنے والے کُفّار کے لشکر سے ہو گا۔ لیکن جب رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم بدر کے مقام کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا ہماری مکہ سے آنے والے لشکر سے لڑائی ہو گی۔ اَب بولو! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے بتایا تھا کہ اُس وقت صحابہ کرامؓ۔۔خصوصاً انصار نے کہا کہ ہمارے ساتھ معاہدے اُس وقت تک تھے جب تک ہم پر حقیقت نہیں کھلی تھی۔ اَب ہم پر حقیقت کھل گئی ہے اَب جہاں بھی ہمیں جھونکیے ہم تیار ہیں۔2 لیکن یہاں تو کوئی معاہدہ نہیں صرف ایک اعلان تھا جو میں نے کیا۔
    دوسری مثال میں نے یہ دی تھی کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی علیہ۔السلام سے تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا۔ پھر اُسے چالیس کر دیا گیا۔3 اس پر آریوں اور عیسائیوں نے اعتراضات کیے ہیں کہ اسلام کا خدا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ جھوٹا ہو گیا۔ اُس نے موسٰی علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ کیا تھا پھر اُسے چالیس کر دیا۔ ہم اِس کا یہی جواب دیتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے انعامات کو زیادہ کرنا وعدہ خلافی نہیں۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کو تیس راتوں کی بجائے چالیس راتیں عبادت کرنے کا موقع ملنا اور خداتعالیٰ کے کلام کا لمبا ہو جانا اُن کے لئے زیادہ عزت کی بات تھی اور یہ ایک انعام تھا جو خداتعالیٰ نے اُن پر کیا اور انعام میں زیادتی وعدہ خلافی نہیں ہوتی۔
    میں نے اُس دن بتایا تھا کہ خداتعالیٰ کے رستہ میں قربانیاں کرنا مومن کے لیے ایک اعزاز ہوتا ہے۔ خداتعالیٰ اسے اپنے انعامات کا وارث بناتا ہے اور اس میں زیادتی کرنا وعدہ۔خلافی نہیں ہوتا۔ لیکن سنّتُ۔اللہ یہ ہے کہ وہ کمزوریوں کا خیال رکھتا ہے اور وہ یکدم حقیقت نہیں کھولتا۔ جوں جوں لوگوں کے ذوق وشوق میں ترقی ہوتی جاتی ہے تُوں تُوں وہ حقیقت کھولتا جاتا ہے۔ جب میں نے تحریک جدید کا اجرا کیا تھا اُس وقت مجھ پر بھی حقیقت نہیں کھلی تھی۔ میں نے تین سال کا اعلان کیا پھر تم پر بھی حقیقت نہیں کھلی۔اِس لیے جن لوگوں کے اندر بشاشت پائی جاتی تھی وہ تو تین سال کی قربانی کے لیے تیار ہو گئے اور باقی پیچھے رہ گئے۔ پھر اِس تحریک کو تین سال سے دس سال تک بڑھا دیا گیا تو جن میں بشاشت پائی جاتی تھی وہ قربانی کے لیے تیار ہو گئے اور باقی پیچھے رہ گئے۔ پھر اِس تحریک کو انیس سال کے لیے بڑھا دیا گیا تو ایک حصہ جماعت کا قربانی کے لیے تیار ہو گیا اور باقی حصہ پیچھے رہ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھ پر بھی یہ راز اُس وقت نہیں کھلا تھا اس لیے میں نے ایک محدود عرصہ کے لیے جماعت سے قربانی کا مطالبہ کیا۔ یہ تحریک تبلیغِ اسلام کے لیے جاری کی گئی تھی۔ اَب کیا کوئی ہے جو کہے کہ تبلیغِ اسلام صرف تین سال کے لیے ہونی چاہیے یا تبلیغِ۔اسلام صرف دس سال کے لیے ہونی چاہیے یا تبلیغِ۔اسلام صرف انیس سال کے لیے ہونی چاہیے؟ قرآن کریم میں خداتعالیٰ کے متعلق آتا ہے کہ ۔4 اگر میں اُس وقت یہ اعلان کرتا کہ تم دائمی قربانی کے لیے تیار ہو جاؤ تو آپ لوگوں کو پتا ہے وہ وقت ایسا تھا جب۔ صدرانجمن۔احمدیہ دیوالیہ ہو رہی تھی اور سلسلہ نہایت۔تنگی کی حالت میں سے گزر رہا تھا۔ بعض محکمے توڑے جا رہے تھے اور کارکنوں کی تنخواہیں کم کی جا۔رہی تھیں۔اُس وقت میں نے تجویز کیا کہ جماعت تین سال کے لیے خاص رنگ میں مالی قربانی کرے۔
    یہ عجیب لطیفہ ہے کہ اکثر لوگوں نے اُس وقت اِس تحریک کو صرف ایک سال کے لیے ہی سمجھا تھا اور جب میں نے خطبہ جمعہ دیکھا تو واقع میں اس میں بہت سے الفاظ ایسے تھے جن سے ایک سال ہی نکلتا تھا۔ گو ایسے الفاظ بھی تھے جن سے زیادہ عرصہ نکلتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے خیال کر لیا کہ اگر ایک سال یا دو سال یا تین سال کی قربانی سے احمدیت کی حفاظت ہوتی ہے اور ہماری مخالفت کا زور کم ہوتا ہے تو آؤ ہم پورا زور لگا کر قربانی کریں۔دوسرا نتیجہ اِس کا یہ ہوا کہ صدرانجمن احمدیہ کے چندے بھی باقاعدہ ہو گئے۔ مجھے یاد ہے کہ اُس وقت ناظروں نے مجھ سے پروٹیسٹ کیا تھا کہ صدرانجمن احمدیہ مالی لحاظ سے تباہی کے گڑھے پر کھڑی ہے۔ اِس وقت مالی قربانی کی ایک نئی تحریک کر کے آپ نے اسے تباہی کے اَور قریب کر دیا ہے۔ مگر میں نے انہیں یہی جواب دیا تھا کہ میری اِس تحریک کے نتیجہ میں صدرانجمن احمدیہ کے باقی چندے بھی باقاعدہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ پھر ان کے چندوں نے بھی بڑھنا شروع کیا اور یہ تحریک بھی اوپر چڑھتی گئی اور صدرانجمن احمدیہ کا اُس وقت پانچ،چھ لاکھ روپیہ بجٹ تھا اور اَب بارہ لاکھ روپیہ سالانہ کا بجٹ ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ خداتعالیٰ کے تمام کام اپنے اندر ویوز(Waves) اور لہروںکا سا رنگ رکھتے ہیں اور ان سب میں ایک تدریجی ارتقاء پایا جاتا ہے۔ ایٹم۔بم کو ہی لے لو وہ بھی اسی تھیوری کے ماتحت ہے۔ اسی طرح دریاؤں اور سمندروں کو دیکھ لو شروع شروع میں جب دریا نکلتا ہے تو وہ ایک چھوٹی سی نالی ہوتی ہے۔ اُسے دیکھ کر انسان وہم بھی نہیں کر سکتا کہ یہ چھوٹی سی نالی دریا بننے والی ہے۔ میں نے دریائے جہلم کا ابتدائی حصہ بھی دیکھا ہے، دریائے راوی کا ابتدائی حصہ بھی دیکھا ہے اور دریائے بیاس کا ابتدائی حصہ بھی دیکھا ہے۔ دریائے جہلم کا تو بالکل ابتدائی حصہ دیکھا ہے۔ وہ اتنا چھوٹا ہے کہ ہم اُسے تیز قدم سے کُود جایا کرتے تھے۔ یہ مقام کشمیر میں واقع ہے اور اسے ویری ناگ کہتے ہیں۔ وہ جگہ صرف اِتنی چوڑی ہے کہ انسان لمبا قدم مار کر یا ذرا اُچھل کر اسے کُود جاتا ہے۔ اور اگر کوئی لمبا آدمی ہو تو شاید بغیر اُچھلے ہی اسے کُود جائے۔ راوی کے دہانے پر ہم نہیں پہنچے لیکن جو جگہ ہم نے دیکھی ہے وہ ایسی ہے کہ انسان بانس کے ساتھ اُسے پار کر لیتا ہے۔ بیاس کا پاٹ بھی میں نے دیکھا ہے۔ بیاس کا بالکل ابتدائی حصہ تو نہیں دیکھا لیکن جو جگہ دیکھی ہے وہ کوئی چارپانچ گز چوڑی ہو گی۔ اگر ہم اوپر جاتے تو شاید وہ مقام بھی ایسا ہی ہوتا کہ ہم پھلانگنے سے پار ہو جاتے۔ سندھ کا ابتدائی حصہ بھی میں نے دیکھا ہے وہ اتنا چوڑا تھا جتنی ایک چھوٹی نہر ہوتی ہے۔ گویا چار دریاؤں کے پاٹ میں نے دیکھے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کوئی دریا بھی ایسا نہیں دیکھا جو شروع سے ہی دریا کی شکل میں نکلتا ہو۔ سارے دریا شروع میں نالیوں کی شکل میں ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ بڑھتے۔جاتے۔ہیں۔ گویا ان کے مختلف مدارج ہوتے ہیں۔
    پہاڑوں میں بھی مدارج ہوتے ہیں۔ بچپن میں ہم سمجھتے تھے کہ یکدم کوئی جگہ اتنی اونچی آ جاتی ہے کہ وہ آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہے۔ لیکن جب پہلی دفعہ میں شملہ گیا تو پتا بھی نہیں لگتا تھا کہ یہ کوئی پہاڑ ہے۔ ایک چھوٹاسا ٹیلہ نظر آتا تھا۔ جب گاڑی اُس پر چڑھ گئی تو ایک اَور ٹیلہ نظر آگیا اورجب گاڑی اُس پر بھی چلی گئی تو ایک اَور ٹیلہ نظر آنے لگا۔ غرض پہاڑوں کا وہ نقشہ جو ہم نے بچپن میں اپنے ذہن میں جمایا ہوا تھا وہ آٹھ ہزار فٹ پر بھی نظر نہیں آتا تھا کیونکہ پہاڑ کے بھی مدارج ہوتے ہیں۔ جوں جوں ہم اوپر چڑھتے ہیں تُوں تُوں جسے ہم پہلے پہاڑی خیال کرتے تھے وہ زمین بن جاتی ہے اور اگلی جگہ پہاڑی معلوم ہوتی ہے۔ غرض تمام چیزیں تدریج کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ سردی اور گرمی کو دیکھ لو یہ بھی تدریج کے ساتھ آتی ہیں۔ آہستہ آہستہ سردی یا گرمی زیادہ ہوتی جاتی ہے اور ایک وقت میں آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اَب انتہائی سردی ہے یا انتہائی گرمی ہے۔
    یہی حال دین کا بھی ہے۔ کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ خداتعالیٰ کی قائم کردہ جماعت غالب آ جائے گی بلکہ غیر تو کیا کمزور ایمان والے خود بھی نہیں سمجھتے کہ وہ کبھی غالب آ جائیں گے۔ اگر۔وہ سمجھتے کہ وہ ایک دن غالب آ جائیں گے تو وہ کمزوری نہ دکھاتے بلکہ مومنوں سے بڑھ کر مضبوط رہتے کیونکہ مومن تو صرف آخرت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن یہ لوگ دنیاوی لالچ کی بناء پر کام کرتے ہیں۔ اگر انہیں انتہائی ترقی نظر آتی تو وہ کمزوری کیوں دکھاتے۔ پچھلے دنوں جو کچھ پنجاب میں گزرا ہے اگر تین دن قبل بھی یہ بات روشن ہو جاتی کہ سب کچھ سِکھ اور ہندو لے لیں گے تو ایک ڈاکو اور چور مسلمان بھی ایسا نہ ہوتا جو اپنا سارے کا سارا مال خداتعالیٰ کی راہ میں نہ دے دیتا۔ اِسی طرح جس شخص کو پتا ہو کہ اسے عزت، مال اور حکومت ملنے والی ہے اُسے قربانی کے وقت اُتنی تکلیف بھی نہ ہو جتنی تکلیف ایک زمیندار کو بیج ڈالتے وقت ہوتی ہے۔ بہرحال خداتعالیٰ نے اپنی ترقی کو تدریجی رکھا ہے تاکہ مومن اور منافق کا فرق ظاہر ہو جائے۔ سورۃ بقرہ کی یہ آیت کہ5 اِسی مضمون کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خداتعالیٰ کی جماعت کی ایک ہی حالت نہیں رہتی۔ ایک وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ روشنی ہی روشنی ہے لیکن دوسرے وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ تاریکی ہی تاریکی ہے۔ فرمایا اسلام اِسی طرح بڑھتا۔ہے۔ کمزور آدمی جب روشنی دیکھتا ہے تو وہ اکڑ کر چلنے لگتا ہے اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا ہو۔جاتا ہے لیکن مومن ہر وقت ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ پس یہ چیز الٰہی سلسلوں کے ساتھ ہمیشہ سے لگی ہوئی ہے اور اس سے پتا لگتا ہے کہ ہمیشہ مصائب بھی آئیں گے اور ترقیات بھی ہوتی رہیں گی۔ اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ مصائب اور ترقیات اپنے اندر ایک تسلسل کا رنگ رکھتی ہیں تو دو سال یا دس سال کے کوئی معنے ہی نہیں۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ دین کی گاڑیاں ہمیشہ پھنستی رہیں گی اور نکلتی رہیں گی۔ اور جب گاڑیاں پھنستی رہیں گی تو لازماً ہمیں قربانیاں بھی ہمیشہ دینی پڑیں گی۔ ایک پہاڑی پر چڑھنے کے یہ معنیٰ نہیں ہوتے کہ ہم نے دوسری پہاڑی پر نہیں چڑھنا۔ ہمیں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر چڑھنا ہو گا اور پھر دوسری سے تیسری پہاڑی پر چڑھنا ہو گا۔ روحانی اور جسمانی پہاڑیوں میں صرف یہ فرق ہے کہ جسمانی پہاڑیاں ختم ہو جاتی ہیں لیکن روحانی پہاڑیاں ختم۔نہیںہوتیں۔میں خداتعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ کس طرح الٰہی سلسلوں کے ساتھ یہ دَور چلتے چلے جاتے ہیں۔ اور جب یہ دَور چلتے چلے جائیں گے اور کمزوروں نے بھی ہونا ہے اور مخلصوں اور السابقون الاولون نے بھی ہونا ہے۔ تو قربانیاں بھی ہمیشہ ہی دینی پڑیں گی۔
    پس الٰہی سنّت کے مطابق وعدے تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔ اور یہ تو ایک اعلان تھا جو ہر وقت تبدیل کیا جا۔سکتا تھا۔ پس حیرت کی یہ بات نہیں کہ تین سال سے دس سال کیسے بن گئے یا دس سال سے انیس سال کیسے بن گئے یا انیس سال سے ہمیشہ کیسے بن گیا۔ بلکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ میرے جیسا آدمی جس کی ساری عمر قرآن کریم کے گہرے مطالعہ میں گزری ہے اُس کے منہ سے تین سال یا۔دس سال یا انیس سال کیسے نکلے۔ گویا تین سال، دس سال یا انیس سال کہنا حیرت کی بات ہے ’’ہمیشہ‘‘ کہنا حیرت کی بات نہیں۔ میں جب اِس چیز کو بیان کرتا ہوں تو اپنے دل میں شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ اِس لیے نہیں کہ میں نے تین سال سے انیس سال کیوں کہہ دیا بلکہ اس لیے کہ میری عقل پر کونسا پردہ پڑ گیا تھا کہ میں نے اسے انیس سال سمجھ لیا۔ میں نے یہ کیوں سمجھ لیا کہ کوئی وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب مسلمان تربیت اور تبلیغ سے فارغ ہو جائے گا۔ عام مسلمانوں کا خیال ہے اور پرانی تفسیروں میں بھی یہی آتا ہے کہ جنت میں انسان کام سے فارغ ہو جائے گا اور اُس کی جو خواہش ہو گی وہ پوری ہو جائے گی۔ اُسے بیویاں ملیں گی، لونڈیاں ملیں گی، بادشاہت ملے گی، جنّتی شرابِ۔طہور پی۔رہے ہوں گے جس میں شراب کی تمام لذتیں ہوں گی صرف نشہ نہیں ہو گا۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام نے اس نقشہ کو بھی اڑا دیا ہے۔ آپؑ نے فرمایا ہے کہ جنت میں بھی انسان کو کام کرنا پڑے گا۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیا میں انسان گر سکتا ہے لیکن جنت میں انسان گرے گا نہیں۔ جنتی محنت بھی کریں گے، اعمال بھی بجا لائیں گے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ترقی کرتے جائیں گے ،گریں گے نہیں۔ ان کا خوف جاتا رہے گا اور کچھ نہیں۔6 اور جب جنت میں بھی کام کرنا پڑتا ہے تو یہ دنیا تو دارالعمل ہے پھر یہاں دس پندرہ سال کام کرنے کے بعد آرام کا خیال بھی کیسے آ سکتا ہے۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام نے تو فرمایا ہے انسان کو جنت میں بھی آرام نہیں ملے گا۔ جو لوگ بیکاری کو اچھا خیال کرتے ہیں اُن میں سے کوئی دس دن کے لیے اِس کا تجربہ تو کرے۔ وہ چارپائی پر لیٹا رہے، لوگ اُس کے پاؤں دبائیں اور کھانے کو حلوہ ،پلاؤ اور متنجن 7دیں۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ دس دن کے بعد ہی بھاگ جاتا ہے یا نہیں۔ بیکاری سے زیادہ تکلیف دِہ چیز دنیا میں اَور کوئی نہیں۔ ہمیشہ کا آرام بھی بُرا ہوتا ہے۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ کوئی امیر لڑکا تھا۔ اُس کے پاس لاکھوں روپیہ تھا۔ وہ بیمار تھا۔ میں اُسے دیکھنے کے لیے گیا۔ اُس کے مصاحب اُس کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ قیمتی کپڑے کے تھان ان کے آگے پڑے ہوئے تھے اور وہ انہیں پھاڑپھاڑ کر پھینک رہے تھے۔ میں نے کہا یہ کیا پاگل پن ہے؟ اتنا قیمتی کپڑا ہے اور تم پھاڑپھاڑ کر پھینک رہے ہو۔ اُس نے کہا بیکار بیٹھے بیٹھے میری طبیعت گھبرا گئی تھی۔ ایک دن میں بازار سے گزرا۔ ایک دکاندار کپڑا پھاڑ رہا تھا۔ مجھے آواز اچھی لگی اِس لیے میں نے یہ شغل اختیار کر لیا ہے۔ میں کپڑا منگوا لیتا ہوں اور اُس کو پھاڑنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اُس سے لذّت اٹھاتا ہوں۔
    اَب بظاہر یہ امیری ہے لیکن یہ کتنا بڑا عذاب ہے۔ ایک بچہ بھی اسے دیکھے گا تو پاگل پن کہے گا۔ اگر اپنے گھر کو آگ لگانا عذاب نہیں تو پھر قیمتی تھانوں کو پھاڑنا بھی عذاب نہیں۔ بات صرف یہ تھی کہ اُس سے بیکار بیٹھا نہیں جاتا تھا اور ہم دیکھتے ہیں کہ امراء میں سے جو لوگ بیکار ہوتے ہیں وہ اپنا سارا وقت شطرنج، گنجفہ8 اور چوسر9 کھیلنے میں ضائع کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اُن کے زندگی گزارنے کا ذریعہ ہے۔ بہرحال ہمیں کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑے گا خواہ دین کا ہو یا دنیاکا۔ کیا تم نے کوئی گورنمنٹ دیکھی ہے کہ وہ دس بیس سال تک معاملہ یا ٹیکس وصول کرے اور پھر بند کر دے؟انیس سال تک کسٹم ڈیوٹی لگائے اور پھر بند کردے تم کہو گے ہم نے ہرگز کوئی ایسی حکومت نہیں دیکھی اور نہ ایسی کوئی حکومت دنیا میں ہو سکتی ہے۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خداتعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنا بند ہو جائے۔ خداتعالیٰ نے پردہ اِس لیے رکھا تھا تا کمزور بھی ساتھ چل پڑیں۔ اگر وہ پردہ نہ ڈالتا تو سینکڑوں لوگ محروم ہو جاتے لیکن اب وہ گھسٹتے گھسٹتے ساتھ جا۔رہے ہیں۔ وہ منہ سے کہیں گے کہ دس سال سے انیس سال کیوں ہو گیا؟ لیکن وہ ساتھ چلتے بھی چلے جائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پتا نہیں اَور دس سال زندگی بھی ہے یا نہیں۔ بہرحال اِسی طریق کے اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ نے کمزوروں سے بھی خدمت لے لی ہے۔
    جو آیات میں نے پڑھی ہیں اُن میں خداتعالیٰ نے مومنوں کی زندگی کا نقشہ کھینچا ہے اور میں خداتعالیٰ نے بتایا تھا کہ کمزور اور منافق لوگ روشنی میں چل پڑتے ہیں لیکن تاریکی میں ٹھہر جاتے ہیں۔ یعنی کامیابی کے وقت وہ ساتھ چلتے ہیں اور مصائب اور قربانی کے وقت وہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن مومن دونوں صورتوں میں چلتا ہے۔ سورۃ احزاب کی آیات جو میں نے اَب پڑھی ہیں ان میں مومنوں کا رنگ بتایا گیا ہے۔ لیکن سورۃ بقرہ کی آیتمیں منافقوں کا رنگ بتایا گیا تھا۔ مومنوں کے متعلق خداتعالیٰ فرماتا ہے ۔ جب مومنوں نے دشمن کے لشکر دیکھے اور سارے عرب کی فوجوں کو دیکھا کہ وہ مدینہ کے ایک چھوٹے گاؤں پر اُمڈ آئی ہیں تو کہا ۔ دوسرے لوگ تو دشمن کی فوجیں دیکھ کر گھبرائے کہ پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔ مسلمان فوج کُل بارہ سو تھی اور کُفّار کا لشکر پندرہ ہزار تھا بلکہ مدینہ میں بھی بغاوت ہو گئی تھی۔ لوگ سمجھتے تھے اب مسلمان ختم ہو جائیں گے لیکن مومنوں نے جب احزاب کو دیکھا تو کہا اللّٰہُ اَکْبَر! اسلام کتنا سچا مذہب ہے۔ اس میں پہلے سے پیشگوئیاں موجود تھیں کہ لوگ مدینہ پر چڑھ آئیں گے اور مسلمانوں پر حملہ آور ہوں گے۔ بھلا کسی کو خیال بھی آ سکتا تھا کہ سارے عرب کے قبائل مدینہ پر حملہ آور ہوں گے۔ اِس صورت میں یہ کتنی شاندار بات تھی کہ پہلے سے بتا۔دیا۔گیا کہ سارا عرب مل کر مسلمانوں پر حملہ کرے گابجائے اِس کے کہ مومن ڈرتے، گھبراتے اور کہتے کہ اس قدر قربانیاں کیسے ہوں گی اِس حملہ اور تباہی نے اُن کے ایمانوں کو بڑھا دیا۔ پھر صرف اُن کا ایمان ہی نہیں بڑھا بلکہ اُن کے عمل میں بھی ترقی ہوئی۔ کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ چونکہ خداتعالیٰ کی ایک عظیم الشان پیشگوئی پوری ہوئی ہے اس لیے اس کے نتیجہ میں جو ثواب ملے گا وہ بھی عظیم الشان ہو گا۔ نادان سمجھتا ہے کہ ترقی کا نشان بڑا نشان ہوتا ہے لیکن مومن کہتا ہے کہ ترقی کا نشان ہی بڑا نشان نہیں بلکہ آفات کا نشان بھی بڑا نشان ہے۔ مثلاً اگر تم دیکھو کہ کسی غریب آدمی کی جیب سے ایک کروڑ روپیہ نکلا ہے تو تم حیران ہو گے لیکن ایک بچہ جو لکڑی کے سہارے سے چل رہا ہوتا ہے وہ اگر کہے کہ ایک دن روس اور امریکہ کی فوجیں اُس پر حملہ کریں گی تو کیا یہ کوئی کم نشان ہے۔ اس بچہ کے متعلق تو کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا کہ اس پر کوئی دس برس کا بچہ بھی حملہ کرے گا۔ کسی کو یہ وہم بھی نہیںہو سکتا کہ اُس پر ایک آدمی حملہ کر سکتا ہے۔ کسی کو یہ خیال بھی نہیں آسکتا کہ اُس پر دس آدمی یا ایک گاؤں کے آدمی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ کُجا یہ کہ وہ کہے کہ مجھ پر دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں حملہ کریں گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کی مکہ میں یہ حالت تھی کہ آپ نماز پڑھتے تھے تو کفار اوجھڑی آپ کے سر پر رکھ دیتے تھے وہ آپ کو مارتے تھے، پیٹتے تھے، آپ پر کوڑاکرکٹ پھینکتے تھے اور آپ کے خلاف گند اُچھالتے تھے۔ آپ کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ ایک دن آپ کی شان اتنی بڑھ جائے گی کہ سارا عرب مل کر آپ پر حملہ آور ہو جائے گا اور آپ کے خلاف یہودی اور مشرکین متحد ہو جائیں گے۔ یہ کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ سارے عرب قبائل کا اکٹھا ہوجانا اور یہود کا اُن کے ساتھ مل جانا اور آپ پر حملہ آور ہونا کوئی کم نشان نہیں۔ بیشک فتح مکہ ایک عظیم۔نشان تھا لیکن جنگِ۔احزاب بھی اس سے کوئی کم بڑا نشان نہیں۔
    قرآن کریم میں فتح مکہ کا اتنا زوردار ذکر نہیں آیا جتنا زوردار ذکر جنگِ احزاب کا ہے اور یہ اتنا عظیم الشان نشان ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ایک بیکس و بے بس انسان جس کا ہمسایہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ اُسے مار سکتا ہے۔ وہ اُسے وطن سے باہر نکال سکتا ہے، لوگ اُسے حقیر سمجھتے ہیں، مارتے ہیں، پیٹتے ہیں، نماز پڑھتے ہوئے اُس پر جانوروں کی اوجھڑیاں پھینک دیتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ایک دن سب عرب قبائل مل کر مجھ پر حملہ کریں گے لیکن وہ شکست کھائیں گے۔ اور پھر واقع میں سب قبائل مل کر اُس۔پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اور جیسا کہ اُس نے پہلے بتایا ہوتا ہے انہیں اس کے مقابلہ میں شکست نصیب ہوتی ہے۔ گویا اس کی پیشگوئی کے دونوں حصے پورے ہوتے ہیں۔قبائل حملہ آور بھی ہوتے ہیں اور پھر انہیں شکست بھی ہوتی ہے۔ مومن کہتا ہے کہ یہ عذاب کی بات نہیں بلکہ دشمن کا ایک ایک آدمی جو اِس جنگ میں شریک ہوا ہے وہ خداتعالیٰ کا عظیم الشان نشان ہے کیونکہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اِس طرح مشرق، مغرب، شمال اور جنوب کے قبائل اکٹھے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوں گے اور آپؐ کے خلاف یہود اور مشرکین آپس میں معاہدہ کر لیں گے۔ اِسی لیے خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مومنوں نے دیکھا کہ سب قبائل اکٹھے ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا ۔ اللہ۔اللہ! یہ کتنا بڑا معجزہ ہے۔ دوسرے لوگ کہتے ہیں اِتنا بڑا دشمن حملہ آور ہوا ہے پتا نہیں کیا ہو گا لیکن مومن کہتا ہے اللّٰہ اَکْبَرُ! یہ کتنا بڑا معجزہ ہے کہ خداتعالیٰ نے ہمیں پہلے سے بتا دیا تھا کہ اِسی کمزور انسان پر جسے ہم نے نبی مقرر فرمایا ہے ایک وقت میں عرب لوگ گھبرا کر اور سب اکٹھے ہو کر حملہ کریں گے اور عرب اس کے مقابلہ کے لیے اپنی ساری شوکت کو جمع کرنے پر مجبور ہو گا۔
    اصل مضمون کے ساتھ تو اِن آیات کا اتنا ہی تعلق تھا لیکن جب اگلی آیت سامنے آ جاتی ہے توگدگدیاںسی ہونے لگتی ہیں اور اُسے بغیر کچھ بیان کیے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِس آیت میں مومن کے ایمان کا معراج بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومنوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیںکہ ۔ خداتعالیٰ سے جو وعدہ انہوں نے کیا تھا اُسے انہوں نے پورا کر دیا ہے۔ خداتعالیٰ اگر اپنا وعدہ پورا کرتا ہے تو یہ اُس کے لیے آسان امر ہوتا ہے۔ وہ آقا ہے، مالک ہے۔ لیکن بندہ تو کمزور اور۔ضعیف ہے۔ وہ اگر خداتعالیٰ سے وعدہ کرے اور پھر اُسے پورا کرے تو یہ بڑی شان کی بات ہے۔ فرمایا بعض لوگ تو ایسے ہیںکہ جو وعدہ انہوں نے خداتعالیٰ سے کیا تھا وہ انہوں نے لفظاً لفظاً پورا کردیا یعنی کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان کی بھینٹ چڑھا کر اپنے وعدہ کو پورا کر دیا۔ اور کچھ ایسے ہیں کہ وہ اس لیے کہ انہیں قربانی۔کا موقع نہیں ملا۔ اِس انتظار میں ہیں کہ کوئی موقع آئے تو وہ قربانی کریں ۔ وقت آنے سے پہلے کسی کا یہ کہنا کہ اگر وقت آیا تو میں یہ کروں گا وہ کروں گا۔ کہنے والے کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے اسے فخروتعلّی کہتے ہیں۔ یعنی پہلے تو یہ کہنا کہ وقت آئے گا تو میں یہ کروں گا لیکن وقت آنے پر بھاگ جانا۔
    پس گو بظاہر یہ کمزوری ہوتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہمیں بھی موقع ملے تو تمہیں قربانی کر کے دکھائیں۔ یہ الفاظ بالعموم وہی کہتا ہے جو کمزور ہوتا ہے اور وقت آنے پر اپنے عہد کو نبھا نہیں سکتا لیکن ۔ یہ لوگ تھے جنہوں نے فخر کیا اور پھر اسے پورا کر دیا۔ اِس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یہی وہ آیت ہے جو جنگ بدر اور جنگ اُحد کو ملاتی ہے۔ جس طرح دو گاڑیوں کے درمیان ایک زنجیر ہوتی ہے جو اُنہیں آپس میں ملاتی ہے اِسی طرح یہ آیت ایک زنجیر ہے جو جنگ۔اُحد اور۔جنگ۔بدر کو آپس میں ملا دیتی ہے۔
    جنگ۔بدر کے لیے جب آپ نکلے تو چونکہ اللہ۔تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت آپ نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ کُفّارِمکہ کے ساتھ ضرور لڑائی ہونے والی ہے بلکہ صرف اِتنا کہا کہ شاید شام سے آنے والے تجارتی قافلہ کے ساتھ مقابلہ ہو جائے۔ اِس لیے کچھ لوگ تو آپ کے ساتھ چل پڑے لیکن باقی لوگ مدینہ میں ہی رہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ شام سے آنے والے قافلہ کے ساتھ لڑائی ہونی ہے اور اس کے لیے تھوڑے سے آدمیوں کی ہی ضرورت ہو گی لیکن جنگ مکہ سے ابوجہل کی قیادت میں آنے والے لشکر سے ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی۔ کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ عرب کے بااثر اور رُعب رکھنے والے لوگ اور پھر ایک تجربہ کار لشکر مسلمانوں سے شکست کھا جائے گا لیکن لڑائی ہوئی اور اس میں بڑے بڑے دشمن مارے گئے۔ دشمن شکست کھا کر واپس لَوٹا اور مسلمان مالِ۔غنیمت لے کر مدینہ واپس آئے۔ جو لوگ اِس جنگ میں شریک ہوئے تھے اُن کے اندر بڑائی کا احساس پایا جاتا تھا کہ خداتعالیٰ نے انہیں ثواب کا موقع دیا۔وہ جہاں بیٹھتے تھے کہتے تھے ہم نے یوں کیا، ہم نے وُوں کیا، کوئی کہتا تھا میں نے عتبہ پر یوں حملہ کیا تھا اور کوئی کہتا تھا میں نے شیبہ پر یوں ہلّہ بولا تھا۔ دوسرے مسلمان کہتے تھے تمہیں بیشک ثواب کا موقع ملا ہے لیکن افسوس کہ ہمیں پہلے پتا نہ تھا ورنہ ہم بھی اس موقع پر پیچھے نہ رہتے۔
    جب مدینہ میں اِس قسم کی باتیں ہوتیں تو اُس وقت ایک انصاری جوش سے کھڑے ہو جاتے اور کہتے بس بس تم نے کیا کیا؟ اگر ہمیں موقع ملا تو ہم دکھائیں گے کہ کس طرح ہم خداتعالیٰ کی راہ میں جان کی قربانی پیش کرتے ہیں۔10 یہ ایک کھیل سا بن گیا تھا کہ جوں ہی کوئی بدری صحابی فخر کرتے تو وہ کہہ دیتے بس بس تم نے کیا کیا ہے؟ ہمیں موقع ملا تو تمہیں قربانی کر کے دکھائیں گے۔ جب اُحد کی جنگ ہوئی اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تو یہ صحابی پیچھے آ گئے۔ انہوں نے کھایا کچھ نہیں تھا۔ غریب۔آدمی تھے دس بارہ کھجوریں پاس تھیں وہ ٹہلتے جاتے تھے کہ اتنے میں وہ واقعہ پیش آ گیا کہ جس۔نے فاتح۔لشکر کو شکست خوردہ بنا دیا۔ اُحد کے پہاڑ کے ایک درّہ میں جو صحابی بٹھائے گئے تھے اور جنہیں حکم تھا کہ خواہ کچھ ہو وہ وہاں سے نہ ہٹیں انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف وہ جگہ چھوڑ دی۔ وہ یہ سمجھ کر کہ کُفّار کو شکست ہو گئی ہے ہم یہیں بیٹھے رہے ہیں اور جہاد میں حصہ نہیں لیا درّہ چھوڑ کر نیچے آ گئے۔ جب کُفّار کا لشکر بھاگا جا رہا تھا تو خالد بن ولید جو اُس وقت ابھی کافر تھے اُن کی نظر اس درّہ پر پڑی اور انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کرنے کا یہ بہترین موقع ہے درّہ خالی ہے۔ چنانچہ انہوں نے عمروبن العاص کو ساتھ ملایا اور کہا یہ موقع ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے اس درہ میں سے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جو مالِ غنیمت اکٹھا کر رہے تھے یکدم انہوں نے دیکھا کہ اُن کے درمیان دشمن کی فوج آ گئی ہے۔ مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار تھی اور دشمن تین ہزار کی تعداد میں تھا۔ پھر مسلمان بکھرے ہوئے تھے اور وہ اکٹھے اور تازہ دم ہو کر آئے تھے۔ اس لیے یکدم حملہ کی وجہ سے مسلمانوں کے قدم اُکھڑ گئے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کے پاس صرف بارہ تیرہ آدمی رہ گئے اور پھر وہ بھی زخمی ہوئے اور گرنے شروع ہوئے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کو بھی اِس جنگ میں شدید زخم آئے اور آپ بیہوش ہو کر گر گئے۔ اور جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے اُن کے جسم رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم پر گر گئے اور آپ نیچے دب گئے۔11 جب آپ پر دوسرے لوگوں کے جسم گرے اور۔آپ نے کوئی حرکت نہ کی تو مسلمانوں نے سمجھا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔ آپ کے گرد جو لوگ تھے اُن میں سے جو بچے ان میں حضرت عمرؓ ۔بھی تھے۔ انہیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔ وہ میدان سے پیچھے ہٹے اور ایک پتھر پر بیٹھ کر رونے لگے۔ پاس ہی۔مذکورہ بالا انصاری صحابی ٹہل رہے تھے۔ انہوں نے حضرت عمرؓ۔۔ کو روتے دیکھا تو آپ کے پاس آئے اور کہا عمر! خداتعالیٰ نے اسلام کو فتح عطا کی ہے اور تم رو رہے ہو؟ حضرت عمرؓ نے کہاتم شاید فتح کے وقت پیچھے آ گئے تھے۔ انہوں نے کہا ہاں! حضرت۔عمرؓ نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ دشمن نے دوبارہ اچانک حملہ کیا جس سے مسلمانوں کے قدم اُکھڑ گئے۔ صرف چند آدمی رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس رہ گئے تھے۔ ان میں سے بھی بعض مارے گئے اور آپ خود بھی شہید ہو گئے۔ اُس صحابی کے ہاتھ میں صرف کھجور رہ گئی تھی۔انہوں نے اُس کھجور کو پھینکتے ہوئے کہا کہ میرے اور جنت کے درمیان اِس کھجور کے سوا اَور ہے کیا؟ پھر انہوں نے حضرت عمرؓ۔کی طرف دوبارہ دیکھا اور کہا عمر! اگر ایسا ہی ہوا تھا تو تمہارا مقام محبوب کے پاس جانے کا تھا یا دنیا میں رہنے کا؟ اُس صحابی نے یہ کہا اور کُفّار کے لشکر میں گُھس گئے۔ مسلمانوں کا لشکر اُس وقت پراگندہ ہو چکا تھا اور وہ اکیلے تھے۔ یہ تو صحیح ہے کہ انہوں نے مارا جانا تھا اور وہ مارے بھی گئے لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ مارے کس طرح گئے؟ جب مسلمان لشکر دوبارہ اکٹھا ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سے لاشوں کو ہٹایا گیا تو معلوم ہوا کہ آپؐ زندہ ہیں۔ آپ کو جب ہوش آیا اور خداتعالیٰ نے اسلام کو دوبارہ فتح دی تو آپ نے حکم دیا کہ شہداء کی لاشیں جمع کی جائیں۔ اَور نعشیں تو مل گئیں لیکن اس صحابی کی نعش نہ ملی۔ صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہ! باقی سب لاشیں مل گئی ہیں لیکن فلاں صحابی کی لاش نہیں ملی۔ آپؐ نے فرمایا دوبارہ تلاش کرو۔ چنانچہ صحابہؓ۔ پھر گئے اور اِس دفعہ اُن کی بہن کو بھی اپنے ساتھ لے گئے کہ شاید وہ بہت زیادہ کٹ گئے ہوں تو کسی نشان کے ذریعہ انہیں پہچان لیا جائے۔ ایک جگہ پر اُن کی انگلی پائی گئی جسے اُن کی بہن نے پہچان لیا اور کہا یہ میرے بھائی کی انگلی ہے۔ مزید تلاش کرنے پر مختلف جگہوں سے اُن کی لاش کے ستّر ٹکڑے ملے۔12 گویا انہوں نے اِتنی بے۔جگری سے لڑائی کی کہ مارنے والے مارتے چلے گئے، اُن کا پُرزہ پُرزہ کٹتا گیا لیکن اُن کی تلوار چلتی رہی۔ مرنے والا مر گیا لیکن کس شان سے مرا۔ لوگ کہتے ہیں ’’دَہ دنیا ستّر آخرت‘‘۔ لیکن اِس مخلص کے تو اِس دنیا میں ہی ٹکڑے ہو گئے اور وہ ثابت کر گیا کہ اپنی زندگی میں وہ جو کہا کرتا تھا وہ محض فخر نہیں تھا، تعلّی نہیں تھی بلکہ وہ ایک سچائی تھی۔ یہاں تک کہ عرش سے خداتعالیٰ نے کہا۔ یعنی بیشک بدر کے موقع پر بعض صحابہؓ نے نہایت۔اعلیٰ نمونہ دکھایا لیکن کچھ صحابہؓ ۔ایسے بھی تھے جو اِس انتظار میں تھے کہ انہیں موقع ملے تو وہ جان تک قربان کر۔دیں۔ بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ یہ کمزوری کی علامت ہے لیکن ۔ انہوں نے جو کچھ کہا تھا اُسے پورا بھی کر دکھایا۔ پس مومن کی علامت تو یہ ہوا کرتی ہے کہ وہ ہر وقت قربانی کے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ جیسے چڑیاں دانے کی تلاش میں رہتی ہیں اسی طرح مومن قربانی کے راستوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ رستے تلاش کرنے سے گھبراتا نہیں بلکہ رستہ مٹ جاتا ہے تو گھبراتا ہے۔
    خالدؓ بن ولید سے مسلمانوں کا بچہ بچہ واقف ہے۔ وہ جب فوت ہونے لگے تو اُن کے ایک۔دوست اُن کے پاس گئے۔ وہ رو رہے تھے۔ آپ کے اس دوست نے کہا خالد! مرنا تو سب نے ہے پھر تم رو کیوں رہے ہو؟ خالد نے کہا تم بھی میری طبیعت کو نہیں سمجھے۔ میں اِس وجہ سے نہیں روتا کہ میں موت سے ڈرتا ہوں بلکہ میں اس وجہ سے روتا ہوں کہ میں نے شہادت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا لیکن مجھے شہادت نصیب نہ ہوئی اور میں بستر پر مر رہا ہوں۔ میری ٹانگوں سے کپڑا اٹھاؤ اور دیکھو کہ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کا زخم نہیں؟ انہوں نے ٹانگوں پر سے کپڑا اٹھایا اور رانوں تک لے گئے اور کہا خالد! یہاں کوئی ایسی جگہ نظر نہیں آتی جہاں تلوار کا زخم نہ ہو۔ پھر انہوں نے اپنا سینہ دکھایا، بازو دکھائے، پیٹھ دکھائی لیکن وہاں بھی کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں تلوار کا زخم نہ ہو۔ خالدؓ۔ کہنے لگے کیا اَب تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے کوئی ایسا موقع جانے دیا ہے کہ جب دشمن کا وار اپنے اوپر نہ لیا ہو؟ میں خطرناک سے خطرناک جگہ پر گیا تا کسی طرح شہادت نصیب ہو، میرے جسم کی ہر جگہ اِس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ مجھے شہادت کا انتہائی شوق تھا لیکن پھر بھی میں بستر پر مَر رہا ہوں۔ پتا نہیں میری وہ کونسی شامتِ اعمال تھی جس نے مجھے اس سے محروم رکھا۔13
    دیکھو! یہ اُس شخص کی حالت ہے جو مسلمانوں میں نمونہ کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ جس کے حالاتِ۔زندگی پڑھ کر مسلمان نوجوانوں کا خون جوش مارنے لگ جاتا ہے۔ وہ اتنی قربانی کے بعد رو رہا ہے کہ اسے شہادت کا موقع نہیں ملا۔ پھر تم دس اور انیس سال کا سوال کر کیسے سکتے ہو؟ یہ تو زندگی اور موت کا سوال ہے۔ یہ کام انسان کی زندگی سے شروع ہوتا ہے اور اس کی موت پر ختم ہوتا ہے۔ تم اچھی طرح سمجھ لو کہ یہ تعجب کی بات نہیں کہ’’ دس‘‘ سے’’ 19 ‘‘کیسے ہو گئے اور پھر ’’19 ‘‘سے’’ ہمیشہ ‘‘کیسے ہو گیا۔ بلکہ۔تعجب کی یہ بات ہے کہ میرے جیسا آدمی جس نے قرآن کریم کا گہرا مطالعہ کیا ہے اُس کی زبان ’’دس‘‘ یا انیس کہتے ہوئے کانپ کیوں نہ گئی۔ اس نے یہ کیوں سمجھ لیا کہ تبلیغِ۔اسلام دس یا انیس سال کا کام ہے؟ تم اچھی طرح سمجھ لو کہ یہ تعجب کی بات نہیں کہ دس یا انیس سال کے لیے قربانی کرنے کو کیوں کہا گیا بلکہ تعجب کی یہ بات ہے کہ جب میں نے ’’دس ‘‘یا انیس کہا تو تم بولے کیوں نہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اُدھر آپ یہ کہتے ہیں کہ نماز ہمیشہ کے لیے ہے، خداتعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنا ہمیشہ کے لیے ہے لیکن اِدھر آپ کہتے ہیں کہ تم’’ دس‘‘ یا انیس سال کے لیے قربانی کرو۔ حیرت کی یہ بات نہیں کہ تحریک جدید کو انیس۔سال کی بجائے موت تک کیوں وسیع کر دیا گیا ہے بلکہ حیرت کی یہ بات ہے کہ میرے جیسے جرنیل اور تمہارے جیسے سپاہیوں کی موجودگی میں یہ بات کہی گئی ہے لیکن نہ میں بولا اور نہ تم بولے۔ پس یہ کوئی عجوبہ نہیں کہ تین کی بجائے دس کیوں کہا گیا یا دس کی بجائے انیس اور انیس کی بجائے اب موت تک اسے کیوں بڑھا دیا گیا۔ مومن قربانی کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ جب مریں گے یہ کہتے ہوئے مریں گے کہ کاش! ہمیں فلاں قربانی کرنے کا بھی موقع مل جاتا‘‘۔
    (الفضل 14 دسمبر 1951ئ)

    1
    :
    الاحزاب:22تا25
    2
    :
    سیرت ابن ہشام جلد2صفحہ267۔مطبع مصر 1936ء
    3
    :
    (الاعراف:143)
    4
    :
    آل عمران:55
    5
    :
    البقرۃ:21
    6
    :
    اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد نمبر10صفحہ413کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن2008ء
    7
    :
    متنجن: ایک قسم کا میٹھا پلاؤ جس میں لیموں کی تُرشی بھی ڈالی جاتی ہے۔ (فیروز اللغات اردوجامع فیروز سنز لاہور)
    8
    :
    گنجفہ:ایک کھیل جس میں 96گول پتے ہوتے ہیں اور تین کھلاڑی۔
    9
    :
    چوسر:کھیل چار گوشہ ۔بساط جس پر گوٹیں رکھی جاتی ہیں۔(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)
    10
    :
    صحیح بخاری کتاب المغازی بابُ غزوۃ اُحُدٍ
    11
    :
    سیرت ابن ہشام جلد3صفحہ85تا88۔مطبع مصر 1936(مفہوماً)
    12
    :
    سیرت ابن ہشام جلد3صفحہ88۔مطبع مصر 1936ء
    13
    :
    اسد الغابۃ جلد2صفحہ100’’خالد بن ولید بن المغیرۃ‘‘۔ بیروت لبنان2001ء

    31
    تحریک جدید کے چندے اور اس کی وصولی کو
    زیادہ منظّم اورباقاعدہ کرو
    جلسہ سالانہ پر خدمت کے لیے مقامی اور بیرونی احباب
    زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو پیش کریں
    (فرمودہ 14دسمبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’چونکہ ہمارا جلسہ سالانہ قریب آ رہا ہے اور اس کے متعلق بھی میں نے بعض باتیں کہنی ہیں، اِسی طرح تحریک جدید کے اعلان کے بارے میں بھی بعض باتیں کہنے والی ہیں اِس لیے میں آج۔اختصار کے ساتھ دونوں امور کے متعلق کچھ بیان کر دیتا ہوں۔
    تحریک جدید کا اعلان میں کر چکا ہوں اور اِس وقت تک جماعت کی طرف سے جو جواب آئے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت نے اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھا ہے اور وہ پوری توجہ کے ساتھ اپنے وعدے بھجوا رہی ہے۔ چنانچہ تحریک جدید دَورِ۔دوم کے وعدے اِس وقت تک جو آ چکے ہیں گو وہ ضرورت کے مطابق تو نہیں لیکن بہرحال گزشتہ سال کی نسبت یعنی پچھلے سال اِس وقت تک جتنے وعدے وصول ہوئے تھے اُن سے اِس سال کے وعدے دوگنے ہیں۔ اِس کے لازماً یہ معنے نہیں کہ جب وعدوں کی میعاد ختم ہو جائے گی تو اِس سال کے وعدے گزشتہ سال کے وعدوں سے دوگنے ہو جائیں گے لیکن اِس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ جماعت اپنے وعدے بھجوانے میں پچھلے سال سے زیادہ مستعدی اور بیداری سے کام لے رہی ہے۔ دَورِاوّل کے وعدوں کا مجھے صحیح اندازہ نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی ڈیوڑھے کے قریب ہیں۔ گو جتنے وعدے پورے وقت کے بعد ہو جاتے ہیں اُن سے وہ ابھی بہت کم ہیں۔یعنی صرف پانچویںحصہ کے برابر ہیں۔ لیکن گزشتہ سال اِس وقت تک جتنے وعدے آئے تھے اُن سے تحریک جدید دَورِاوّل کے وعدے ڈیوڑھے اور دَورِدوم کے وعدے دُگنے کے قریب آچکے ہیں۔اِس سے اُمید پیدا ہوتی ہے کہ اِنْشَائَ اللّٰہُ وعدوں کی تاریخ کے اختتام پر پچھلے سالوں سے زیادہ ہی وعدے ہوں گے اور جس سُرعت کے ساتھ جماعت نے اپنے وعدے بھجوانے میں کام لیا ہے اس کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہمیں اُمید کرنی چاہیے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کرنے میں بھی جلدی کرے گی اور کسی قسم کی غفلت اور تساہل سے کام نہیں لے گی۔
    میں نے بتایا ہے کہ اِس سال تحریک جدید کا بجٹ قریباً پچاس ہزار روپیہ تک پیچھے ہے بلکہ پچاس ہزار بھی نہیں اَسّی نوّے ہزار روپیہ کے قریب اِس پر بار ہے یعنی اِس وقت تک جو رقوم ادا کی گئی ہیں وہ ساری کی ساری اِس سال کے چندے میں سے ادا نہیں کی گئیں بلکہ پچاس ہزار روپیہ قرض لیا گیا ہے اور ابھی پانچ مہینے اخراجات کے باقی ہیں۔ جنوری، فروری، مارچ، اپریل اور مئی۔ ہمارا مالی سال اپریل میں ختم ہوتا ہے مگر مئی کے شروع میں جو اخراجات دیئے جاتے ہیں وہ چونکہ اپریل کے ہوتے ہیں اِس لیے گزشتہ سال کی آمد میں سے دیئے جاتے ہیں۔ فروری کے بِل مارچ میں ادا ہوتے ہیں، مارچ کے بِل اپریل میں ادا ہوتے ہیں اور اپریل کے بِل مئی میں ادا ہوتے ہیں اور پھر مئی کے بِل جو جون میں ادا ہوتے ہیں وہ درحقیقت نئے مالی سال کے پہلے مہینہ کی آمد میں سے ادا کیے جاتے ہیں۔ اِس لحاظ سے اب جنوری میں جو بِل ادا ہوں گے وہ اصل میں دسمبر کے ہوں گے اور اس وقت تک صرف نومبر کے بِل ادا ہوئے ہیں اور وہ بھی پچاس ہزار روپیہ قرض لے کر۔ گویا مئی، جون، جولائی، اگست،ستمبر، اکتوبر اور نومبر صرف سات ماہ کا خرچ ہم اپنی آمد سے ادا کر سکے ہیں اور وہ بھی اِس صورت میں ادا کر سکے ہیں جبکہ پچاس ہزارروپیہ دوسری جگہوں سے قرض لیا گیا ہے۔ اب قریباً چار مہینے کی آمد باقی ہے اور پانچ مہینے کا خرچ باقی ہے۔ لیکن جو آمد باقی ہے اگر احباب اُس کے ادا کرنے سے اِس لیے غفلت نہ برتیں کہ اَب نیا سال شروع ہو گیا ہے اور جو گزشتہ بقائے پندرھویں اور سولھویں سال کے ہیں یا دورِدوم کے پانچویں اور چھٹے سال کے ہیں وہ بھی احباب ادا کر دیں تو اُمید کی جاتی ہے کہ اِس سال کا خرچ نکل جائے گا لیکن پچاس ہزار روپیہ کا بار پھر بھی رہے گا۔ ہاں! اگر گزشتہ سالوں کے سارے بقائے ادا کرنے کی جماعت کو توفیق مل جائے تو یہ پچاس ہزار کا بار اور پچھلے سال کا اٹھارہ ہزار کا بار گویا ستّر ہزار کے قریب تحریک۔جدید پر جو بار ہے وہ سب کا سب دور ہو جائے گا۔
    یہ لازمی بات ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر سال اپنے کام کو بڑھانا پڑے گا اور اگر ہر سال ہم اپنے کام کو بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں خرچ بھی ہر سال زیادہ کرنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ چندے کے علاوہ بھی بعض اَور ذرائع ہوتے ہیں جن سے آمد پیدا کی جاتی ہے لیکن ہمارے کارکنوں کو ابھی ویسی مشق نہیں اس لیے ابھی وہ ان ذرائع کو اختیار نہیں کر سکے یا سُستی کر جاتے ہیں یا اختیار کرتے ہیں تو ناکام رہ جاتے ہیں۔ حالانکہ انہی ذرائع سے دوسری قومیں اور افراد اپنی مالی حالت کو درست کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ کوتاہی جو ہم میں ہے اور جو درحقیقت سارے ہی مسلمانوں میں ہے اِس کی وجہ یہ ہے کہ چار پانچ سوسال سے حکومت، تجارت اور صنعت و حرفت وغیرہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلتی چلی گئی ہیں اور اَب غیرقومیں اِس میدان میں بہت آگے نکل گئی ہیں لیکن بہرحال اپنی سُستی اور عدم توجّہی کے نتیجہ میں مسلمانوں نے جو حالات پیدا کیے ہیں اَب وہ بہت بڑی جدوجہد سے ہی دور ہو سکتے ہیں۔ صرف ارادہ اور معمولی کوشش سے دور نہیں ہو سکتے۔ لیکن یہ چیز وقت چاہتی ہے اور پھر عزم چاہتی ہے۔ جب تک تحریک جدید کے کارکنوں میں یہ عزم پیدا نہ ہو جائے اور جب تک ان میں سے ایک طبقہ کو صحیح جدوجہد کے کرنے کی توفیق نہ مل جائے اُس وقت تک کامل انحصار بہرحال چندہ پر ہی رکھنا پڑے گا۔ کچھ کچھ جماعت میں تجارتی ذہنیت آرہی ہے لیکن ابھی وہ اِس حد تک نہیں آئی کہ ہم اسے اپنی آمد کا ایک بڑا منبع سمجھ لیں۔ وہ ایک چھوٹاسا منبع تو ہو گیا ہے لیکن اگر صحیح جدوجہد کی جائے اور پوری توجہ سے کام کیا جائے تو یقیناً تجارت اور زراعت وغیرہ سلسلہ کی آمد اور افرادِسلسلہ کی آمد کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ لیکن جب۔تک وہ نہیں بنتے ہمیں جماعت سے یہی کہنا پڑے گا کہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرو۔ جو وعدے گزشتہ سالوں کے ابھی۔تک تم۔نے پورے نہیں کیے اُن کوجس طرح بھی ہو سکے پورا کرو اور آئندہ کے لیے اپنے وعدوں کو سال بہ سال ادا کرنے کی کوشش کرو۔
    میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اِس سال تحریک جدید پر اس قدر مالی بوجھ آ پڑا ہے کہ دورِدوم کی آمد جو ریزرو۔فنڈ کے طور پر ہمیں محفوظ رکھنی چاہیے تھی وہ اس سال ریزرو۔فنڈ میں نہیں جاسکی بلکہ ساری کی ساری خرچ ہو گئی ہے۔ مگر باوجود دونوں سالوں کی آمد کے خرچ ہو جانے کے پچاس ہزار روپیہ قرض لیا گیا ہے بلکہ دونوں دوروں کے قرض کو ملا کر یہ رقم اَسّی ہزار کے قریب بن جاتی ہے۔ اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ ابھی بہت سے بقائے وصول ہونے باقی ہیں لیکن پانچ ماہ کے اخراجات بھی باقی ہیں۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اگر بقائے ادا ہوں جائیں اور ہم اس سے پانچ ماہ کے اخراجات تنگی سے گزارہ کر کے پورے بھی کر لیں تب بھی پچاس ہزار روپیہ قرض باقی رہے گا۔ پس دوستوں کو اپنے بقائے جلد سے جلد ادا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
    میں دیکھتا ہوں کہ جب بھی نئے سال کی تحریک ہوتی ہے بعض دوست یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اَب نئی تحریک شروع ہو گئی ہے اور پرانی ختم ہو گئی ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وعدہ پورا کرنے میں دیر کرنا انسان کو اُس وعدہ سے آزاد نہیں کر دیتا بلکہ اسے زیادہ مجرم بنا دیتا ہے مگر بعض لوگوں کی یہ ذہنیت ہو گئی ہے کہ وہ نئے سال کی تحریک پر پچھلے سال کی تحریک کے وعدوں کو بھی بھول جاتے ہیں۔ مثلاً پچھلے سال اگر انہوں نے پچاس کا وعدہ کیا تھا اور وہ وعدہ ابھی انہوں نے پورا نہیں کیا تھا تو نئے سال کی تحریک ہونے پر وہ فوراً پچھتّر کا وعدہ کر دیں گے اور یہ وعدہ کرتے وقت اُن کا دل اِتنا خوش ہوتا ہے کہ وہ اِسی خوشی میں گزشتہ سال کے وعدہ کو بالکل بھول جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پچھلا سال تو گیا اِس سال ہم پچھتّر روپے ادا کر دیں گے۔ پھر پچھتّر بھی ادا نہیں کرتے اور اُس سے اگلا سال شروع ہو جاتا ہے۔ اِس پر وہ پھر سو روپیہ کا وعدہ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰـہِ خداتعالیٰ نے ہمیں پچھلے سال سے بڑھ کر چندہ لکھوانے کی توفیق عطا فرمائی اور یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ وہ پچھلے پچاس اور پچھتّر بھی ادا کریں۔ اِس قسم کی ذہنیت والے آدمی ہی ہیں جو درحقیقت کام کو نقصان پہنچانے والے ہوتے ہیں۔ لیکن جو لوگ وعدے کرتے ہیں اور پھر اُن وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ خداتعالیٰ کے۔حضور بھی سرخرو ہوتے ہیں اور دین کے کام میں بھی مددگار بنتے ہیں۔ پس ایسے افراد کو بھی میں۔توجہ۔دلاتا۔ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اور چونکہ جماعتوں پر اس قسم کے افراد کی ذمہ داری ہوتی ہے اور جب تک کسی جماعت میں نقص واقع نہ ہو اُس وقت تک اُس کے افراد میں یہ ذہنیت پیدا نہیں ہو سکتی۔اس لیے میں جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے بقایا داروں کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائیں، انہیں نصیحت کریں اور سمجھائیں۔
    اور یاد رکھیں کہ احمدی ہونا آسان نہیں۔ جو شخص احمدی ہوتا ہے وہ یہ سمجھ کر ہوتا ہے کہ مجھے مخالفتیں بھی برداشت کرنی پڑیں گی، تکلیفیں بھی سہنی پڑیں گی اور قربانیاں بھی کرنی پڑیں گی۔ پس وہ ایمان کی وجہ سے احمدیت میں داخل ہوتا ہے اور ایمان دار کو اُس کی غفلت پر متنبہ کر دینا بالکل آسان ہوتا ہے۔ اگر اس میں سُستی پائی جاتی ہے یا غفلت پائی جاتی ہے اور ایمان اس کے دل میں موجود ہے تو توجہ دلانے پر وہ فوراً اپنی اصلاح کر لے گا اور کام میں جو حرج واقع ہو رہا ہو گا وہ دور ہو جائے گا۔
    اِس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وعدے تو آ رہے ہیں اور اِنْشَائَ۔اللّٰہُ ۔۔آئیں گے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اَب کام بڑھ رہا ہے اور وہ جو تحریک۔جدید کی آمد سے جائداد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اُس میں سے بھی سات آٹھ لاکھ روپیہ ابھی قرض باقی ہے۔ دوست چونکہ بھول جاتے ہیں اس لیے انہیں باربار بتانا پڑتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ تحریک جدید کے۔لیے ریزرو۔فنڈ قائم کرنے کی خاطر سندھ میں دس ہزار ایکڑ یعنی چار سو مربع زمین خریدی گئی ہے۔ اس زمین کی قیمت جو ادا کی گئی ہے وہ مختلف زمانوں میں مختلف ہوتی رہی ہے۔ چونکہ ہم یکدم قیمت نہیں دے سکتے تھے اس لیے ہمیں تاخیری قیمت دینی پڑی تھی جو اَصل قیمت سے زیادہ تھی۔ جیسے مشینوں کی فروخت کے متعلق دستور ہوتا ہے کہ اگر نقد قیمت ادا کی جائے تو مثلاً سو روپیہ دینا پڑتا ہے اور اگر قسطوں میں ادا کی جائے تو سواسو دینا پڑتا ہے۔ ہم نے بھی اس زمین کی قسط وار قیمت ادا کی ہے۔ بعض جگہ سَوا۔دو۔سوروپیہ فی ایکڑ، بعض جگہ اڑھائی سو۔روپیہ فی ایکڑ، بعض جگہ تین سو روپیہ فی ایکڑ اور بعض جگہ تین سوساٹھ روپیہ فی ایکڑ۔ اِس طرح ہماری اوسط قیمت فی ایکڑ اڑھائی سوروپیہ کے قریب پڑی ہے اور یہ سارا سودا پچیس لاکھ روپیہ کا ہے۔ بلکہ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ تیس لاکھ کے قریب کا یہ سودا ہے لیکن چندوں کے ذریعہ اِس کی جو رقم ادا ہوئی ہے وہ کوئی دس بارہ لاکھ کے قریب ہے اور آٹھ لاکھ کے قریب قرضہ لے کر ادا کی گئی ہے جس میں خلافت جوبلی فنڈ کا بھی روپیہ ہے۔ اُس وقت یہ سمجھ کر کہ یہ کام ضروری ہے میں نے خلافت جوبلی فنڈ سے روپیہ نکالنے کی اجازت دے دی تھی۔ جب تحریک یہ روپیہ واپس کرے گی تو پھر خلافت جوبلی فنڈ قائم ہو جائے گا۔ بہرحال اکیس لاکھ کے قریب تو یہ ہوا اور سات آٹھ لاکھ روپیہ وہ ہے جو ان زمینوں کی آمد سے ادا ہوا۔ اِس وقت اس زمین کی اوسط قیمت تین سو روپیہ فی ایکڑ سمجھنی چاہیے۔ یہاں تو فی ایکڑ ایک ہزار روپیہ سے دوہزار روپیہ تک بھی قیمت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قیمت مل جاتی ہے۔ اگر وہاں بھی کسی وقت یہی قیمت ہو جائے تو ایک ہزار روپیہ فی ایکڑ کے لحاظ سے ایک کروڑ اور دوہزار روپیہ فی ایکڑ کے لحاظ سے دو کروڑ روپیہ کی وہ جائداد بن جاتی ہے اور اس طرح تحریک جدید کا دو کروڑ روپیہ کا ریزرو۔فنڈ قائم ہو جاتا ہے۔ لیکن سرِدست ہم اس کا صحیح انتظام نہیں چلا سکے۔ بعض سالوں میں ہمیں قرض لے کر کام کرنا پڑا ہے۔ اِس سال بھی پچیس ہزارروپیہ قرض لیا گیا ہے لیکن بعض سالوں میں آمد بھی ہوئی ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ چھ سات لاکھ روپیہ اس کی آمد میں سے خرچ کیا گیا ہے۔ بہرحال اگر یہ زمین صحیح طور پر آمد دینے لگ جائے اور قرض ادا ہونے کے بعد اس سے ایک ریزرو۔فنڈ قائم ہو جائے تو خطرہ کے موقع پر ہمیں اس طرح اعلان نہ کرنا پڑے جس طرح مجھے گزشتہ سال اخباروں میں باربار اعلان کرنا پڑا کہ دوستوں کو جلدی اپنے وعدے ادا کرنے چاہییں ورنہ سلسلہ کے کاموں میں تعطل واقع ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں آسانی سے لاکھ دو لاکھ روپیہ وہاں سے لیا جا سکتا ہے اور سلسلہ کے کاموں میں کوئی حرج واقع نہیں ہو سکتا لیکن ابھی وہ وقت نہیں آیا۔ کامیابی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور کام پہلے سے بہتر ہوتا جا رہا ہے لیکن ابھی بہت کچھ اصلاح کی ضرورت ہے۔ مگر یہی کام کافی نہیں۔ بڑی چیز یہ ہے کہ جہاں جہاں ہم اپنے مشن قائم کریں وہاں ہمارا اپنا مکان اور اپنی مسجد بھی ہو اِس کے بغیر کبھی بھی صحیح طور پر کام نہیں ہو سکتا۔ اب ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے ایک مشنری نے کوئی مکان کرایہ پر لیا ہوا ہوتا ہے مگر کچھ عرصہ کے بعد اُسے نوٹس مل جاتا ہے کہ مکان خالی کرو۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس مکان کو روشناس کرنے میں جو وقت اور۔روپیہ صَرف ہو چکا ہوتا ہے وہ سارے کا سارا ضائع چلا جاتا ہے اور پھر وہ مبلّغ کسی اَور مکان میں چلا جاتا ہے جس کی طرف لوگوں کو کوئی توجہ نہیں ہوتی۔ تبلیغ کا کام صحیح طور پر تبھی چل سکتا ہے جب اپنی جگہ ہو۔ انگلستان میں اگرچہ دین کی طرف رغبت لوگوں کو کم ہے لیکن چونکہ ہمارا وہاں اپنا مکان ہے اور اپنی مسجد ہے اور دیر سے مشن قائم ہے اس لیے ہمارا وہاں کافی رسوخ ہے، وزراء تک وہاں آتے ہیں۔ اور اگر کسی معاملہ میں اُن سے پروٹِسٹ کیا جائے یا ملاقات کی جائے تو وہ ہمارا اَدب بھی کرتے ہیں، لحاظ بھی کرتے ہیں، جواب بھی دیتے ہیں اور خوش کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ و ہاں ہماری دیر سے مسجد موجود ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کا یہاں ڈیرہ قائم ہو چکا ہے لیکن جہاں یہ ڈیرے قائم نہیں وہاں بڑی دقّتیں پیش آتی ہیں۔
    پس جہاں جہاں ہم مشن کھولنا چاہتے ہیں ضروری ہے کہ وہاں کم از کم کسی ایک شہر میں جو۔مرکزی حیثیت رکھتا ہو ہمارا اپنا مکان ہو۔ لیکن یورپین ملکوں میں ایک ایک مکان کے لیے لاکھوں روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً ابھی ہم نے واشنگٹن میں مرکز کے لیے ایک مکان خریدا ہے جس پر بیالیس ہزار ڈالر خرچ آیا ہے۔ بیالیس ہزار ڈالر کے معنے ہیں ایک لاکھ پینتالیس ہزارروپیہ۔ اور یہ روپیہ صرف مکان خریدنے پر خرچ ہوا ہے۔ اگر ہم مسجد بنائیں تو قریباً ستّر، اَسّی ہزار روپیہ اَور خرچ ہو گا مگر جماعت کے چندہ کی یہ حالت ہے کہ دوستوں میں ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی تحریک کی گئی تو آیا صرف چالیس ہزار، باقی روپیہ اِدھراُدھر سے قرض لے کر پورا کیا گیا ہے۔ بعض قرض دینے والوں سے تو ہم شرمندہ بھی ہیں اور ایک دوست سے صرف چھ ماہ کے وعدے پر قرض لیا گیا تھا مگر وقت گزر گیا اور روپیہ ادا نہ ہو سکا۔ انہیں بھی ضرورت تھی۔ آخر انجمن نے مجھے لکھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم وہی مکان گِرو رکھ کر اُن کا روپیہ ادا کر دیں؟ میں نے کہا کہ بیشک مکان گِرو ۔رکھ دو اور اُن کا روپیہ ادا کر دو۔ اب یہ ہے تو بڑے شرم کی بات کہ جو مکان مسجد کے لیے خریدا گیا تھا اُس کو گِرو۔ رکھنے کی اجازت دے دی جائے مگر یہ صورتِ حالات اس لیے پیدا ہوئی کہ اتنے اہم کام کی طرف جماعت نے اِتنی کم توجہ کی کہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی تحریک کی گئی اور چندہ چالیس ہزار۔ روپیہ آیا۔
    ہالینڈ کی مسجد کے متعلق عورتوں میں تحریک کی گئی تھی انہوں نے مردوں سے زیادہ قربانی کا ثبوت دیا ہے۔ گو ان کی تحریک بھی چھوٹی تھی۔ عورت کی آمدن ہمارے ملک میں تو کوئی ہوتی ہی نہیں۔ اگر اسلامی قانون کو دیکھا جائے تو عورت کی آمد مرد سے آدھی ہی چاہیے کیونکہ شریعت نے عورت کے۔لیے آدھا حصہ مقرر کیا ہے اور مرد کے لیے پورا حصّہ۔ پس اگر مردوں نے چالیس ہزار روپیہ دیا تھا تو چاہیے تھا کہ عورتیں بیس ہزار روپیہ دیتیں مگر واقعہ یہ ہے کہ مردوں نے اگر ایک روپیہ چندہ دیا ہے تو عورتوں نے سوا روپے کے قریب دیا ہے۔ انہوں نے زمین کی قیمت ادا کر دی ہے اور ابھی چھ۔سات۔ہزار روپیہ ان کا جمع ہے جس میں اَور روپیہ ڈال کر ہالینڈ کی مسجد بنے گی۔ پھر یہ چندہ انہوں نے ایسے وقت میں دیا ہے جبکہ لجنہ کا دفتر بنانے کے لیے بھی انہوں نے چودہ پندرہ ہزار روپیہ جمع کیا تھا۔ اِس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جتنا جتنا کسی کے پاس روپیہ کم ہوتا ہے اُتنا ہی اُس کا حوصلہ زیادہ ہوتا ہے۔ مردوں کے پا س چونکہ روپیہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے اُن کا حوصلہ کم ہوتا ہے لیکن عورتوں کے پاس چونکہ روپیہ کم ہوتا ہے اِس لیے وہ کہتی ہیں کہ روپیہ تو یوں بھی ہمارے پاس ہے نہیں چلو جو کچھ ملتا ہے وہ خداتعالیٰ کے رستہ میں ہی قربان کر کے اُس کی رضا حاصل کریں۔ مگر جس کے پاس روپیہ ہوتا ہے وہ کہتا ہے میرا فلاں کام بھی پڑا ہے اس کے لیے مجھے دس روپے چاہییں، فلاں کام پڑا ہے اس کے لیے بیس روپے چاہییں۔ غرض ہمارا تجربہ ہمیشہ بتاتا ہے کہ عورت اپنی توفیق اور ہمت سے بہت زیادہ قربانی کرتی ہے اور مرد اپنی توفیق اور ہمت سے کم قربانی کرتا ہے۔ بیشک ایسے مرد بھی موجود ہیں جو اپنی توفیق اور ہمت سے بہت زیادہ قربانی کرنے والے ہیں لیکن اگر اکثریت کو دیکھا جائے تو عورت کا پلّہ بھاری نظر آتا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی جب خاص قربانی کی ضرورت ہوا کرتی تھی تو آپؐ۔۔عورتوں سے ہی اپیل کیا کرتے تھے کیونکہ آپؐ ۔۔سمجھتے تھے کہ عورت جذباتی ہوتی ہے۔ جب قربانی کرنے پر آجائے تو وہ غیرمعمولی طور پر قربانی کر جاتی ہے۔ ایک دفعہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم کو کچھ ضرورت پیش آئی تو آپؐ نے عید کی نماز کے بعد عورتوں میں تحریک کی اور انہوں نے اپنے زیور اُتار کر چندہ میں دینے شروع کر دیئے۔ یوں تو عورت کو سب سے زیادہ زیور ہی پسند ہوتے ہیں کیونکہ وہی اس کی جائداد ہوتے ہیں لیکن جب اسے جوش آ جائے تو پھر وہ اسی زیور کو جو اُسے محبوب ہوتا ہے اُتار کر پھینک دیتی ہے۔ عورتوں نے اِسی طرح کیا اور زیور اُتاراُتار کر دینے شروع کر دیئے مگر چونکہ اکثر غریب عورتیں تھیں اس لیے ان کے پاس کم قیمت زیور تھے۔ کسی نے چھلّہ دے دیا، کسی نے مُرکی دے دی اور کسی نے اِسی قسم کی کوئی اَور چیز دے دی۔ ایک صحابیؓ۔۔کو رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم نے زیور اکٹھا کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ جھولی پھیلائے اِدھراُدھر پھر رہے تھے اور عورتیں گھونگٹ نکالے بیٹھی تھیں۔ اِتنے میں ایک امیر گھرانے کی لڑکی نے سونے کا کڑا اپنے ہاتھ سے اُتارا اور اُس کی جھولی میں ڈال دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب دیکھا کہ اُس نے بڑی بھاری رقم خداتعالیٰ کی راہ میں دی ہے تو آپ نے فرمایا تیرا دوسرا ہاتھ بھی درخواست کرتا ہے کہ تُو اسے دوزخ سے بچا۔ اِس پر اُس نے اپنا دوسرا کڑا بھی اُتار کر دے دیا۔ 1
    تو عورتوں میں مَیں نے دیکھا ہے کہ ان میں قربانی کا مادہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ کچھ جذباتی ہونے کی وجہ سے اور کچھ یہ خدائی قانون ہے کہ روپیہ جتنا کم ہو اُتنی ہی ہمت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ اور جتنا زیادہ روپیہ ہو اُتنے ہی تفکّرات زیادہ ہو جاتے ہیں کہ فلاں کام بھی ہو جائے، فلاں کام بھی ہو جائے۔ چونکہ عورت کے پاس روپیہ کم ہوتا ہے اس لیے وہ قربانی میں مردوں سے آگے نکل جاتی ہے۔ لیکن اِس واقعہ کو بدلنا بھی ہمارے اختیار میں ہے۔ بیشک واقع یہی ہے کہ عورتیں زیادہ قربانی کرتی ہیں لیکن یہ خداتعالیٰ کا کوئی اٹل فیصلہ نہیں کہ وہی زیادہ قربانی کریں گی مرد زیادہ قربانی نہیں کر سکتے۔ یہ صرف ایک کمزوری اور ضُعف کی علامت ہے جسے کوشش کے ساتھ دُور کیا جا سکتا ہے۔ اگر۔عورت اپنی طبعی کمزوری اور فطری ضُعف کے باوجود قربانی کے میدان میں آگے نکل جاتی ہے تو مرد کیوں اپنی کمزوری کو دور نہیں کر سکتے؟ جب مردوں کو جائداد میں سے دُہرا حصہ ملتا ہے تو انہیں ہمت بھی دُگنی دکھانی چاہیے۔ خداتعالیٰ نے انہیں دو روپے دیئے ہیں مگر چندہ دیتے وقت وہ عورت کے مقابلہ میں اٹھنّی دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ مردوں اور عورتوں کے مجموعی چندوں کو اگر دیکھا جائے تو مردوں کا چندہ زیادہ ہوتا ہے لیکن نسبتی لحاظ سے چندہ دیتے وقت اگر عورت ایک روپیہ دینے کا حوصلہ رکھتی ہے تو مرد اٹھنّی دینا چاہتے ہیں حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ مرد اُس کے ایک روپیہ کے مقابلہ میں دو بلکہ چارروپے دینے کا حوصلہ رکھتے۔ بہرحال اِس چیز کو بدلنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اگر ہم جدوجہد کریں، خداتعالیٰ کی طرف توجہ کریں، اُس کے حضور استغفار سے کام لیں اور اُس سے دعا کریں کہ الٰہی! تُو نے ہمیں طاقت زیادہ دی ہے لیکن ہم میں حوصلہ کم ہے۔ تُو ہماری اِس کمزوری اور ضُعف اور۔غفلت کو دور فرما اور جس طرح تُو۔نے ہمیں عورت پر درجہ کے لحاظ سے فضیلت دی ہے اُسی طرح تُوہمیں عورت پر قربانی کے لحاظ سے بھی فضیلت دے۔ تو یقیناً خداتعالیٰ ہماری سنے گا اور وہ ہم میں بھی قربانی کی زیادہ روح پیدا کر دے گا۔
    پس یہ کام ایسے ہیں جو بہت سے اخراجات چاہتے ہیں۔ پھر لٹریچر ہے۔ دنیا میں پانچ سات ہزار زبان ہے لیکن صرف آٹھ دس زبانوں میں احمدیت کا لٹریچر ہے۔ عیسائیوں نے قریباً ہر زبان میں اپنے لٹریچر کا ترجمہ کر دیا ہے۔ یہ کام بھی ہم سے بہت بڑے اخراجات کا مطالبہ کرتا ہے۔ غرض ایک بہت وسیع کام ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ مگر ہمارا سالانہ بجٹ جب ہمارے روزمرّہ کے اخراجات کے لیے بھی کافی نہیں ہو سکتا تو ہمارے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ایک کروڑ روپیہ کا ریزرو۔فنڈ قائم کریں تا کہ کسی حادثہ اور مصیبت کے وقت اگر خدانخواستہ ہمارے چندے مرکز کی عارضی ضرورت کو پورا نہ کر سکیں تو وہ ریزرو۔فنڈ کی آمد سے پوری ہو سکے اور سلسلہ کے کاموں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
    آج سے چالیس یا پچاس سال کے بعد جب ہماری جماعت ترقی کر جائے گی اور بڑے بڑے امراء ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے تو اُس وقت لوگ جب میرے اِس خطبہ کو پڑھیں گے تو۔وہ حیران ہوں گے کہ ہمارا خلیفہ جو موعود خلیفہ تھا، جو مصلح موعود تھا اِتنا چھوٹا حوصلہ رکھتا تھا کہ پہلے اُس۔نے تیس لاکھ کا ریزرو۔فنڈ قائم کیا اور پھر اُس نے کہا کہ اَب ہمیں ایک کروڑ روپیہ کا ریزرو۔فنڈ قائم کرنا چاہیے۔ وہ حیران ہوں گے کہ کیا یہ بھی کوئی روپیہ ہے جس کا اتنے بڑے خلیفہ نے مطالبہ کیا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایک دفعہ روپیہ کے لیے اعلان کیا تو مسٹرماریسن2 نے فوراً پندرہ لاکھ روپیہ کا چندہ پیش کر دیا، راک فیلر3راشیلڈ4 وغیرہ نے چھ چھ، سات سات کروڑ روپیہ چندہ دیا ہے۔ پس جب وہ میرے اس خطبہ کو پڑھیں گے تو حیران ہوں گے اور وہ اس تھوڑے سے روپیہ کو ہمارے حوصلہ اور عزم کی کمی پر محمول کریں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اپنی جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے کہہ رہے ہیں ورنہ ہم بھی جانتے ہیں کہ جو عظیم الشان کام ہم نے سرانجام دینا ہے اُس کے۔لیے کروڑوں ہی نہیں اَربوں روپیہ کی ضرورت ہے۔ لیکن اِس وقت ہماری نگاہ میں وہی روپیہ بڑی قیمت رکھتا ہے جو ہماری جماعت اپنی غربت کی حالت میں پیش کر رہی ہے۔ جب رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کے زمانہ میں اُس عورت نے اپنے کڑے اُتار کر دے دیئے تھے تو اُس وقت یہی سمجھا گیا تھا کہ اس نے بہت بڑی قربانی کی ہے اور حقیقتاً اس کی قربانی بڑی تھی۔ لیکن وہ کڑے آخر کتنے روپوں کے ہوں گے؟ زیادہ سے زیادہ وہ سات سو یا ہزار روپیہ کے ہوں گے لیکن بعد میں مسلمانوں کے پاس اِتنی دولت آئی کہ سات سو یا ہزار اُن کی نگاہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا تھا۔
    خود ہمارا ملک اگرچہ ایک غریب ملک ہے مگر اِس غریب ملک کا ہندو بھی اِتنا مالدار تھا کہ ایک دفعہ میں بمبئی گیا تو میں نے چاہا کہ کچھ کپڑا بھی خرید لوں۔ میں نے دیکھا کہ دکاندار کے سامنے ایک۔گاہک بیٹھا تھا۔ وہ دکاندار اُس سے لمبی بحث میں لگا ہوا تھا۔ مجھے طبعاً یہ بُرا محسوس ہوا۔ اُس دکاندار نے مجھے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ہمارے ہاں صرف ایک قیمت ہوتی ہے۔ آپ اپنی مستورات کو سمجھا دیں کہ وہ قیمت کے بارہ میں کوئی تردّد نہ کریں۔ اُس دوسرے شخص نے ایک۔سو۔دس روپے کا سودا خریدا اور بڑی بحث کے بعد سو روپیہ دے کر چلا گیا۔ میں نے اُس دکاندار سے ہنس کر کہا کہ آپ تو کہتے تھے ہمارے ہاں ایک ہی قیمت ہوتی ہے۔ وہ کہنے لگا قیمت تو ایک ہی ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شخص میرا مال اُٹھا کر لے جائے اور میں اسے معزز آدمی سمجھ کر چھوڑ دوں تو یہ بالکل اَور چیز ہو گی۔ پھر اُس نے کہا آپ نہیں جانتے یہ فلاں شخص ہے اور یہ اتنا بڑا تاجر ہے کہ بمبئی میں اِس کی کئی کپڑے کی ملز ہیں مگر یہ آدھ گھنٹہ مجھ سے یہی بحث کرتا رہا کہ میں کپڑے کی قیمت کم کر دوں۔ حالانکہ یہ اس آدھ گھنٹہ میں ایک لاکھ روپیہ کما سکتا تھا اور پھر اتنی بحث کے بعد بھی جب میں نے نہ مانا تو ایک سو دس روپیہ کی بجائے سو روپیہ دے کر چلا گیا۔ پھر اُس نے کہا میں اس شخص کی ماں کو جانتا ہوں وہ ہر روز جب کھانا کھانے کے لیے آتی ہے تو اُس کے سامنے پانچ سو روپیہ کا ڈھیر لگا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے پاؤں سے اُس ڈھیر کو چُھو دیتی ہے۔ اس کے بعد وہ تمام روپیہ غریبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ گویا اُدھر تو اِس کی یہ حالت ہے کہ پانچ سو روپیہ روزانہ یعنی ایک لاکھ اَسّی ہزار روپیہ سالانہ صرف اپنی ماں کے پاؤں چُھونے کی وجہ سے غریبوں میں تقسیم کر دیتا ہے اور اِدھر دس روپیہ کے فائدہ کے لیے اُس نے آپ کا وقت الگ ضائع کیا اور مجھے الگ پریشان کیا اور آخر سو روپیہ دے کر چلا گیا اور وہ بڑا خوش ہے کہ میں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اب بتایئے ایسے شخص کا ہم کیا علاج کر سکتے ہیں۔ غرض ہندوستان جیسے غریب ملک میں جو ایک زمانہ میں انگریزوں کے ماتحت تھا ایسے ایسے لوگ موجود تھے جو صرف اپنی ماں کے پاؤں چُھونے کی وجہ سے ایک لاکھ اَسّی ہزار روپیہ سالانہ غریبوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اور اس کے علاوہ جو دوسرے مواقع پر وہ صدقہ وخیرات دیتا ہو گا وہ تو کئی لاکھ تک جا پہنچتا ہو گا۔ یہ تو ہندوستان جیسے غریب ملک کا حال ہے دوسرے ممالک کے امراء تو کروڑوںکروڑ روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ خود مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اگر چاہیں تو دودو، چارچار، پانچ پانچ لاکھ روپیہ آسانی سے دے سکتے ہیں۔
    پس بیشک بعد میں بڑے بڑے امراء آئیں گے لیکن یہ زمانہ ہماری کمزوری کا زمانہ ہے۔ اِس وقت ہماری جماعت کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ایک کروڑ روپیہ کا ریزرو۔فنڈ قائم کر دے۔ بیشک ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ بعض امراء حیران ہوں گے کہ کیا ہماری جماعت اتنی کمزور تھی کہ اتنا بڑا خلیفہ صرف ایک کروڑ روپیہ کو اپنا بڑا مقصد قرار دیتا تھا؟ لیکن ہمارا روپیہ ہمارے دل اور جگر کا خون ہو گا اور۔اُن کا روپیہ اُن کے دل اور جگر کا خون نہیں ہو گا بلکہ وہ نہایت آسانی کے ساتھ اپنی جیب میں سے نکال کر دے دیں گے اور انہیں کچھ بھی تکلیف محسوس نہیں ہو گی۔ پس ہمارے کروڑ اور اُن کے کروڑ میں فرق ہے۔
    مجھے اِس موقع پر ایک لطیفہ یاد آگیا۔ ایک شخص جو غریب مستری تھا ترقی کرتے کرتے انجنیئر بن گیا اور آخر میں ’’خاں صاحب‘‘ کا خطاب بھی اسے مل گیا۔ اُس میں خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی قوم چھپاتا نہیں تھا اور صاف طور پر کہہ دیتا تھا کہ ہم لوہار ہوا کرتے تھے۔ اب میں نے سنا ہے کہ وہ اپنی قومیت چھپانے لگ گیا ہے۔ بہرحال اُس نے سنایا کہ ایک بڑا زمیندار جو اپنے علاقہ کا رئیس تھا اُس نے ایک دفعہ میری دعوت کی۔ اُسے بھی گورنمنٹ کی طرف سے خاں صاحب کا خطاب ملا ہوا تھا۔ مرد تو جانتے ہیں کہ عزت خداتعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اِس پر فخر نہیں کرنا چاہیے مگر عورتوں میں یہ بات نہیں ہوتی۔وہ خیال کرتی ہیں کہ جو عزت ہمیں ملی ہے اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہو سکتا۔ بہرحال اُس نے بتایا کہ خاں صاحب نے میری دعوت کی۔ اَور کئی لوگوں کو اُس نے بلایا ہوا تھا۔ جب ہم کھانا کھانے بیٹھے تو وہ کہنے لگا خاں صاحب! آج ہمارے گھر میں لطیفہ ہوگیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا ہوا تھا کہ آج فلاں خاں صاحب کی دعوت ہے۔ جب میں اندر گیا تو میری بیوی مجھے کہنے لگی آپ تو کہتے تھے کہ خاں صاحب کی دعوت ہے اور میں نے سنا ہے کہ یہ جس کی آپ دعوت کر رہے ہیں ہمارے مستریوں کا لڑکا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے وہ مستریوں کا ہی لڑکا ہے۔ کہنے لگی ’’پھر مستریاں دے منڈے نوں خاں صاحب کس نے بنا دتّا ہے‘‘؟یعنی پھر مستریوں کے لڑکے کو خان صاحب کس نے بنا دیا ہے؟ میں نے کہا گورنمنٹ نے بنا دیا ہے اَور کس نے؟ وہ کہنے لگی’’گورنمنٹ عجیب پاگل ہے، نالے تُسّیں خاں صاحب نالے اوہ خاں صاحب‘‘ اِس پر میں نے اُسے سمجھانے کے لیے ہنس کر کہا کہ یہ کونسی تعجب کی بات ہے۔ دیکھو! زمینداروں کا بھی چودھری ہوتا ہے اور چوہڑوں کا بھی چودھری ہوتا ہے ’’ایہہ مستریاں دا خاں صاحب ہے، میں زمینداراں دا خاں۔صاحب ہاں‘‘ یعنی وہ مستریوں کا خاں۔صاحب ہے اور میں زمینداروں کا خاں۔صاحب ہوں۔ اس پر وہ خاموش ہو گئی۔
    تو یہ حالات بہرحال بدلیں گے۔ ایک جیسی حالت کسی قوم پر ہمیشہ نہیں رہ سکتی۔ مگر آنے والے امراء کا روپیہ دریا میں سے ایک قطرہ ہو گا اور ہمارا روپیہ وہ ہے جو ہم خونِ دل اور خونِ۔جگر کے ساتھ جمع کر رہے ہیں۔ اور قطرہ میں سے دریا کا رنگ رکھتا ہے۔ پس اُن کا حیران ہونا کہ کسی وقت ہماری جماعت کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ ایک کروڑ روپیہ جمع کرنا بھی بڑی بات سمجھی جاتی تھی کوئی تعجب کی بات نہیں۔ مگر اُس وقت کے آنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم حُسنِ۔تدبیر سے اور عقل سے اور۔قربانی سے کام لیں اور اپنے نفس پر بوجھ ڈال کر چندوں میں ایسی باقاعدگی اختیار کریں کہ سالانہ۔اخراجات کو پورا کرنے کے علاوہ ہم مستقل طور پر ایک کروڑ کا ریزرو۔فنڈ قائم کر سکیں تا کہ مشکل کے وقت اس کی آمد ہمارے کام آئے۔ جیسے میں نے بتایا ہے ہم نے مسجد کے لیے زمین خریدی تو ایک دوست سے قرض لے کر اور اَب ہم شرمندہ ہیں کہ قرض واپس نہیں کر سکے۔ اگر ریزرو۔فنڈ قائم ہوتا تو۔ہمیں کوئی مشکل پیش نہ آتی۔ ہم یہ قرض وہاں سے ادا کر دیتے اور جماعت سے آہستہ آہستہ چندہ وصول کرتے رہتے۔ پس یہ بھی ایک جائداد ہے جو تحریک جدید کے چندہ سے قائم ہوئی ہے۔ ابھی وہ ابتدائی حالت میں ہے لیکن اس کو بڑھانے اور مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تحریک۔جدید کے چندہ کو زیادہ منظّم اور باقاعدہ کیا جائے اور اِس کی وصولی کے لیے زور دیا جائے۔اس سال کے تحریک۔جدید کے وعدوں کے لیے میں نے وقت کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اَب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ تحریک۔جدید کے وعدوں کی آخری میعاد مغربی پاکستان والوں کے لیے 15 فروری ہو گی، ایسٹ پاکستان اور ہندوستان سے آنے والے وعدوں کے لیے آخری تاریخ 10 مارچ ہو گی اور پاکستان اور ہندوستان سے جو باہر کے ممالک ہیں مثلاً امریکہ ہے، انگلستان ہے، ایسٹ۔افریقہ ہے، ویسٹ۔افریقہ ہے یا اَور دوسرے ممالک ہیں اُن سب کے وعدوں کے لیے 10 مئی آخری تاریخ۔ہو۔گی۔
    دوسری چیز جلسہ سالانہ ہے۔ ہمارا جلسہ سالانہ خداتعالیٰ کے فضل سے اَب بالکل قریب آ رہا ہے۔ اس کے لیے ہمیں مکانوں کی بھی ضرورت ہے اور کام کرنے والے افراد کی بھی ضرورت ہے۔ مکانوں کی مشکلات چونکہ زیادہ ہیں اس لیے ہماری جماعت کے افراد کو یہاں اُس سے زیادہ قربانی کی ضرورت ہے جتنی قربانی وہ قادیان میں کیا کرتے تھے۔ قادیان میں مکان زیادہ تھے اور تھوڑی سی قربانی سے آنے والے مہمانوں کو جگہ مل جاتی تھی مگر اَب مکانات ہمارے پاس کم ہیں اور آنے والے مہمانوں کی رہائش کے لیے ابھی زیادہ دقّتیں ہیں۔ پہلے سال تو یہاں صرف خیمے تھے، دوسرے سال کچھ خیموں میں گزارہ کیا گیا اور کچھ بیرکیں بن گئیں، تیسرے سال اَور تھوڑے خیمے ہو گئے۔ اکثر لوگوں کو بیرکوں میں ٹھہرایا گیا۔ اب بیرکوں کے علاوہ دوسرے مکانات بھی بن گئے ہیں لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بہت بڑی قربانی کر کے ہم مہمانوں کی رہائش کا انتظام کر سکیں گے۔
    اس کے ساتھ ہی ہمیں جلسہ سالانہ کے موقع پر مہمان نوازی کے فرائض سرانجام دینے والے کارکنان کی بھی ضرورت ہے۔ ان کا کام یہ ہو گا کہ وہ آنے والے مہمانوں کو کھانا کھلائیں اور ان کی مہمان نوازی کریں۔ ربوہ ابھی پوری طرح آباد نہیں ہوا۔ قادیان میں پندرہ ہزار کی آبادی تھی اور۔یہاں صرف اڑھائی، تین ہزار کی آبادی ہے۔ پس یہ قدرتی بات ہے کہ جس طرح پندرہ ہزار آدمی خدمت کر سکتے تھے اس طرح اڑھائی تین ہزار آدمی خدمت نہیں کر سکتے۔ پھر قادیان میں ہمیں یہ سہولت تھی کہ اُس وقت کالج ہمارے پاس تھا مگر۔اَب وہ لاہور میں ہے۔ اِسی طرح ہمارا اسکول بھی چنیوٹ میں ہے۔ بیشک جلسہ کے موقع پر بعض طالب علم آ جاتے ہیں مگر انہیں اُتنی سہولت نہیں ہوتی جتنی سہولت ہمیںقادیان میں ہوا کرتی تھی۔ پس دوستوں کو میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو خدمت کے لیے پیش کریں اور باہر کی جماعتوں سے بھی میں خواہش کرتا ہوں کہ وہ بھی اس خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں۔ وہ میزبان بھی ہوں گے اور مہمان بھی ہوں گے۔ انہیں کُلّی طور پر اپنے آپ کو مہمان نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ یہ سمجھیں کہ وہ آدھے مہمان ہیں اور آدھے میزبان کیونکہ جلسہ سالانہ پر ہمیں بہت زیادہ کام کرنے والے افراد کی ضرورت ہے۔ پس۔بیرونی جماعتوں میں سے جو لوگ اپنے اندر طاقت اور ہمت رکھتے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے نام پیش کریں تا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر اُن سے مختلف خدمات لی جا سکیں اور انہیں اللہ۔تعالیٰ کی رضا اور ۔اُس کی خوشنودی حاصل ہو۔
    اِس کے علاوہ جلسہ سالانہ کے موقع پر حفاظت اور نگرانی کا کام بھی بڑا اہم ہوتا ہے اور۔آجکل۔کے حالات کے لحاظ سے تو وہ اَور بھی اہم ہو گیا ہے۔ پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ۔جماعتیں موزوں خدام کا انتخاب کر کے اُن کے نام خدام الاحمدیہ کے دفترمرکزیہ میں پیش کریں تاکہ یہاں آنے پر اُن کو حفاظت اور نگرانی کے کام پر لگایا جا سکے۔ مگر یہ شرط ہو گی کہ کوئی احمدی خادم ایسا نہ ہو جو پانچ سال کا احمدی نہ ہو یا کسی احمدی کی نسل میں سے نہ ہو اور پھر اس کی سفارش جماعت کا پریذیڈنٹ کرے اور لکھے کہ یہ شخص اعتماد کے قابل ہے اسے حفاظت کے کام پر لگایا جائے۔ اِس غرض کے لیے کم سے کم پانچ سو والنٹئیرز۔ربوہ کا اور بیرونی جماعتوں کا ہونا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اڑھائی سو خدام یہاں سے لیے جاسکتے ہیں اور اڑھائی سو خدام کراچی، راولپنڈی، لاہور، ملتان، پشاور، سیالکوٹ، شیخوپورہ، منٹگمری، گوجرانوالہ، گجرات اور دوسری جماعتیں پیش کریں۔ ان خدام کا کام جلسہ گاہ کی حفاظت، رستوں کی حفاظت اور مہمانوں کی خدمت میں حصہ لینا ہو گا۔ میں اس موقع پر خدام الاحمدیہ کو بھی تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنے خدام والنٹیئرز ۔دفتر خدام میں بھجوا دیں اور یہاں کے خدام کو چاہیے کہ وہ خود اپنے آپ کو حفاظت اور پہرہ کے لیے پیش کریں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان خدام کو ڈبل کام کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے سپرد مہمان۔نوازی کا بھی کام ہو گا اور حفاظت کا بھی کام ہو گا۔ پس ایسے ہی نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو ہمت والے ہوں، محنتی اور مستعد ہوں اور جو اِن دنوں جلسہ گاہ اور سڑکوں پر پہرہ بھی دیں اور مہمان نوازی کے فرائض بھی سرانجام دیں۔ تین چار دن انہیں کام کرنا پڑے گا اور یہ کوئی زیادہ عرصہ نہیں۔ اتنے دن اگر انسان کو چوبیس گھنٹہ بھی جاگنا پڑے تو وہ جاگ سکتا ہے۔ بہرحال میں سمجھتا ہوں کہ کام کو بہتر طور پر چلانے کے لیے پانچ سو والنٹئیرز ۔۔ضروری ہوں گے۔ ان میں سے اڑھائی سو خدام یہاں سے لیے جائیں، چنیوٹ کے طالبعلم، تعلیم۔الاسلام کالج کے طالبعلم، جامعہ احمدیہ احمد نگرکے طالبعلم اور ربوہ کے خدام سب مرکز کے خدام میں شامل ہوں گے۔ ان میں سے اچھے، قابلِ۔اعتبار، محنتی اور مستعد نوجوان اڑھائی سو کی تعداد میں مل سکتے ہیں۔ باقی خدام بیرونی جماعتیں پیش کریں۔ اگر کوئی چھوٹی جماعت پانچ خدام پیش کر سکتی ہے تو وہ پانچ آدمی پیش کر دے، اگر کوئی دس خدام پیش کر سکتی ہے تو وہ دس پیش کر دے۔ ان کا کام حفاظت اور نگرانی اور پہرہ کی ڈیوٹی ادا کرنا اور مہمانوں کی خدمت کرنا ہو گا۔ چونکہ دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں اس لیے خدام الاحمدیہ کے دفترمرکزیہ کو اس بارہ میں جلد سے جلداپنا کام شروع کر دینا چاہیے اور باہر کی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے خدام کی تعداد سے دفترمرکزیہ کو اطلاع دیں کیونکہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے مگر۔آدمی۔وہی ہوں جو کم سے کم پانچ سالہ۔ احمدی ہوں یا نسلی احمدی ہوں اور جن کے متعلق پریذیڈنٹ، سیکرٹری اور زعیم تینوں اِس بات کی تصدیق کریں کہ وہ ہر قسم کی قربانی اور محنت سے کام لیں گے اور کسی قسم کی غفلت، سُستی اور غدّاری کا ارتکاب نہیں کریں گے‘‘۔
    (الفضل 20دسمبر1951ئ)

    1
    :
    صحیح بخاری کتاب الْعِیْدَیْنِ بَابُ الْخُطْبَۃِ بَعْدَ الْعِید
    2
    :
    مسٹر ماریسن:یہاں غالبًا ماریسن سٹینلے کا ذکر ہے۔ جو مشہور برطانوی سیاستدان تھے ۔ آپ لیبر پارٹی لندن کے سیکرٹری رہے اور 1923ء میں پارلیمنٹ کے ممبر بنے۔ 1929ء سے 1931ء کے دوران وزیر مواصلات رہے۔(اردو جامع انسائیکلو پیڈٖیا)
    3
    :
    راک فیلر:(Rockefeller) ان کا پورا نام John Davidson Rockefeller تھا۔ یہ 1839ء کو امریکہ میں پیدا ہوئے اور1937ء میں فوت ہوئے ۔ مشہور امریکی صنعت کار اور سرمایہ دار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔(وکی پیڈیا ۔ آزاد دائرہ معارف زیر عنوان’’John D.Rockefeller‘‘)
    4
    :
    راشیلڈ:(Rothshild) روتھ شیلڈ ایک یورپی یہودی خاندان ہے جو نہ صرف یورپ کے مختلف ممالک میں بینکاری کے نظام پر حاوی ہے بلکہ امریکہ کے فیڈرل ریزرو کے بنیادی حصہ داروں میں بھی شامل ہے۔ اس خاندان کے مشہور لوگوں میں بیرن روتھ شیلڈ شامل ہے جو برطانیہ میں یہودیوں کا نمائندہ تھا اور فلسطین پر یہودی قبضہ کو مستحکم کرنے میں اس کا کردار شامل تھا۔(وکی پیڈیا آزاد دائرہ معارف زیر عنوان ’’ روتھ شیلڈRothschild‘‘)


    32
    تم اپنے مقام کو پہچانو
    اور جلسہ سالانہ کے ایام ذکرِالٰہی میں خرچ کرو
    (فرمودہ 21دسمبر 1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مجھے نزلہ و زکام اور گلے میں درد کی شکایت ہے جس کی وجہ سے میں زیادہ لمبا خطبہ نہیں پڑھ سکتا۔ اس مجبوری کی وجہ سے آج میں صرف چند کلمات بیان کر دینا چاہتا ہوں تا اِس طرح گلے کی حفاظت ہو جائے اور میں جلسہ سالانہ کے موقع پر اِس قابل ہو جاؤں کہ تقاریر کر سکوں۔
    میں نے جماعت کو بارہا اِس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہمارے جلسہ سالانہ کے ایام ایک دینی عبادت کا رنگ رکھتے ہیں۔ اس لیے ان ایام کو زیادہ سے زیادہ ذکرِالٰہی اور عبادت میں صَرف کرنا چاہیے۔ لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اِس کے کہ میں جماعت کو سالہاسال سے اِس طرف توجہ دلا رہا ہوں اِس پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا۔ بعض لوگ جلسہ کے دوران میں بازار میں پھرتے رہتے ہیں یا دکانوں پر بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ جلسہ سالانہ سے پوری طرح فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ پہلے پہلے یہ بات اُن لوگوں کی وجہ سے تھی جو غیراحمدیوں میں سے جلسہ۔سالانہ میں شامل ہوتے تھے۔ وہ جلسہ کے مقام کے قریب جمع ہو۔ کر باتیں کرتے رہتے تھے یا۔دکانوں پر بیٹھے باتیں کرتے رہتے تھے۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ آہستہ آہستہ جماعت کے کمزور طبقہ نے بھی اس عادت کو اختیار کر لیا اور ہر ایک نے اپنی اپنی جگہ یہ سمجھا کہ جو لوگ یہ حرکت کر رہے ہیں وہ اچھے اور مخلص لوگ ہیں حالانکہ وہ غیراحمدی تھے اور جب ۔تک انہیں ہدایت نہیں ملتی ہمارا جلسہ سالانہ اُن کے لیے میلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے میلہ سمجھ کر یہ بات کی اور جماعت کے کمزور طبقہ نے انہیں مخلص سمجھ کر یہ بات کی۔ پھر ان سے زیادہ مخلص لوگوں نے انہیں مخلص سمجھ کر یہ بات کی۔ اب یہ مرض زیادہ ہو گیا ہے اور جلسہ سالانہ پر آنے والوں کا دس یا پندرہ فیصدی حصہ ایسا ہوتا ہے جو جلسہ سالانہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اس کے ذمہ دار ہمارے دکاندار بھی ہیں جو چند پیسوں کی خاطراس عظیم۔الشان موقع کو اپنے ہاتھ سے ضائع کر دیتے ہیں۔
    میں نے دیکھا ہے کہ اگرچہ مکہ میں دین کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے لیکن وہاں یہ بات تیرہ سو سال سے محفوظ چلی آئی ہے کہ نمازوں کے وقت سارے کے سارے لوگ نماز کی طرف بھاگ پڑتے ہیں۔ خانہ کعبہ میں تو سب لوگ نہیں آتے وہ زاویوں1 میں آ جاتے ہیں۔ یہ خوبی ان میں ایسی پائی جاتی ہے کہ اُن پر رشک آتا ہے کہ تیرہ سو سال تک انہوں نے عبادت کے مقام کی اہمیت کو نہیں بُھلایا۔ جو لالچ ہمارے دُکانداروں کو ہے وہی لالچ انہیں بھی ہے، جو فائدے ہمارے دکانداروں کو حاصل ہو سکتے ہیں وہی فائدے انہیں بھی حاصل ہو سکتے ہیں لیکن جونہی اذانیں ہوتی ہیں لوگ مسجد کی طرف بھاگے آتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اذان سنتے ہی سارے کے سارے لوگ مسجد میں آ جاتے ہیں اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہُ۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مسجد میں نہیں آتے لیکن اکثر لوگ جو بظاہر کمزور نظر آتے ہیں اُن کی کمزوری کی بھی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ میں نے وہاں دیکھا کہ نماز کے وقت ایک دکاندار اپنی دکان کے دروازے بند کر کے اندر بیٹھا رہتا تھا۔ ہم بھی چونکہ دوسرے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے اس لیے ہمیں بھی اُس وقت گریزاں ہونا پڑتا تاکہ خواہ نخواہ جھگڑے کی کوئی صورت پیدا نہ ہو جائے۔ ہم اِدھراُدھر بیٹھ جاتے اور جب دوسرے لوگ نماز پڑھ لیتے ہم اپنی نماز ادا کر لیتے۔ ہم نے وہ دکان دیکھی تو خیال کیا یہ اچھا موقع ہے وہاں بیٹھ کر ہم بھی یہ وقت گزار لیں۔ چنانچہ ہم اُس کے پاس چلے گئے۔ بظاہر وہ دیندار معلوم ہوتا تھا۔ ہم نے اُس سے سوال کیا کہ ہم۔تومجبورہیں ہم یہاں اس لیے بیٹھے ہیں کہ یہ لوگ نماز ختم کر لیں اور ہم ان کے بعد نماز پڑھ لیں گے لیکن تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوتے؟ اُس نے کہا میری بھی وہی وجہ ہے جو۔آپ کی ہے۔ میں نام کا حنبلی ہوں لیکن اصل میں وہابی۔ مجھے ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے کراہت آتی ہے کیونکہ ان میں شرعی نقائص ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں دروازے بند کر کے بیٹھا رہتا ہوں۔ جب یہ لوگ نماز ختم کر لیتے ہیں تو میں نماز پڑھ لیتا ہوں۔ گویا جنہیں ہم کمزور خیال کرتے تھے مزید تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ اُن کی کمزوری بھی کوئی دینی وجہ تھی۔ گویا اتنے تنزل کے بعد بھی اُس شہر کے لوگوں نے یہ خوبیاں اپنے اندر قائم رکھیں جو ہمارے دکانداروں کے لیے بڑی قابلِ۔شرم بات ہے۔ انہیں بھی پیسہ کی ضرورت ہے۔ پیسہ کمانے کے مواقع اُن کے لیے بھی ہیں مگر وہ دین کے لیے قربانی کرتے ہیں۔ سیدھی بات ہے کہ جسے ضرورت ہے وہ ضرور چائے پیٔے گا اور جب اُس نے چائے ضرور پینی ہے تو وہ اُس وقت تک انتظار کرے گا جب تک تم نماز پڑھ کے واپس نہیں آتے۔ پس یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے کہ دکانداری کی وجہ سے نمازباجماعت ادا نہ کی جائے۔ اس بات کے ذمہ دار جہاں دکاندار ہیں وہاں ایک حد تک اس کی ذمہ داری باہر سے آنے والوں پر بھی ہے۔ اس لیے میں دونوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے مقام کو پہچانو، اِن دنوں کی اہمیت کو پہچانو، اپنی ذمہ داریوں کو پہچانو اور یہ دن ذکرِالٰہی میں خرچ کرو اور لغویت سے بچو۔ اور نہ صرف تم خود یہ ایام ذکرِالٰہی میں خرچ کرو بلکہ اپنے غیراحمدی دوستوں کو بھی سمجھاؤ کہ بیشک تم ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو، ہمارے ساتھ مل کر ذکرِالٰہی نہ کرو لیکن نماز پڑھنا اور ذکرِالٰہی کرنا تو تمہارے عقیدہ کے لحاظ سے بھی ضروری ہے اس لیے تم بھی ان ایام کو عبادت اور ذکرِالٰہی میں صَرف کرو‘‘۔
    خطبہ ثانیہ میں فرمایا:
    ’’میں نماز کے بعد کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔ اِس ہفتہ میں تین چار دوست جو اپنی اپنی جگہ کے بہت ہی اہم احمدی تھے فوت ہوئے ہیں۔ چنانچہ آج ہی خبر آئی ہے کہ گجرات میں ملک۔برکت۔علی۔صاحب جو پرانے احمدی تھے اور کسی زمانے میں وہاں کے امیر جماعت تھے فوت ہو۔گئے ہیں۔ ملک عبدالرحمان صاحب خادم ان کے لڑکے ہیں۔
    دوسری اطلاع یہ آئی ہے کہ مردان کے ایک احمدی خان یعقوب خاں صاحب وکیل جو۔وہاں۔کی جماعت کے ستون تھے اور اخلاص میں خاصی ترقی کر رہے تھے تین چار دن ہوئے پشاور آئے۔ وہاں مچھلی کا عام رواج ہے۔ انہوں نے مچھلی کھائی اور بے احتیاطی سے اُس کے بعد پانی پی لیا جس کی وجہ سے اسہال شروع ہو گئے اور وہ فوت ہو گئے۔
    چودھری ابوالہاشم صاحب مرحوم کے داماد شمس الدین صاحب کے والد مولوی محمد۔یاسین۔صاحب ضلع پنبہ بنگال میں فوت ہو گئے ہیں۔ مرحوم بہت اخلاص والے تھے اور اپنی جماعت کے اہم رکن تھے۔
    ایک جنازہ چودھری شبیر احمد صاحب نائب وکیل المال کے والد حافظ عبدالعزیز صاحب کا ہے جو سیالکوٹ میں فوت ہوئے۔ ان کی بیعت 1896ء کی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں ان کا جنازہ پڑھا چکا ہوں لیکن چونکہ پوری طرح یاد نہیں اس لیے میں ان کا جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔
    مولوی امیرالدین صاحب جو پروفیسر علی احمد صاحب کے حقیقی بھائی تھے جمگاؤں ضلع بھاگل۔پور میں فوت ہو گئے ہیں۔
    اِسی طرح مولوی خیرالدین صاحب مہاجر قادیان حال راہوالی ضلع گوجرانوالہ کی اہلیہ چراغ بی بی صاحبہ فوت ہو گئی ہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں اور اُن کی بیعت 1906ء کی تھی۔
    یہ چھ جنازے ہیں جو میں نماز جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔ اِن میں سے چار دوست ایسے ہیں جو۔صحابی تھے اور اپنی اپنی جگہ پر جماعت کے اہم رکن تھے‘‘۔
    (الفضل25دسمبر1951ئ)
    1
    :
    زاویوں: زاویہ کی جمع بمعنٰی گوشہ،کونا(فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)

    33
    جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی آتی ہے کہ اس میں خداتعالیٰ مومن کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔آپ میں سے ہر ایک کو اس ساعت کے پانے کی کوشش کرنی چاہیے
    (فرمودہ 28دسمبر1951ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’چونکہ آج جلسہ کے اجلاس کی کارروائی باقی ہے اور میری طبیعت کی خرابی اور انتظام کے قائم رکھنے کی وجہ سے تقریر کا جلد ختم ہونا ضروری ہے اس لیے میں خطبہ جمعہ نہایت اختصار کے ساتھ پڑھوں گا۔ ابتدائے۔اسلام میں خطبات اختصار کے ساتھ ہی پڑھے جاتے تھے۔
    اِنْشَائَ اللّٰہُ جلسہ کے اختتام پر دعا بھی ہو گی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی آتی ہے کہ اس میں خداتعالیٰ مومن کی دعا ضرور قبول کرتا ہے۔1 اس لیے وہ ساعت بھی ہو گی اور آپ سب کو دعا کا موقع ملے گا۔ میں یہ حدیث سنا کر آپ لوگوں کو موقع دیتا ہوں کہ جس کو اللہ تعالیٰ توفیق دے وہ اِس ساعت کو پانے کی کوشش کرے۔
    جب قرآن کریم میں اشارۃً اور حدیث میں وضاحتا ً بتایا گیا ہے کہ نماز کا وقت اُس وقت سے ہی شروع ہو جاتا ہے جب اذان ہوتی ہے یا خطبہ شروع ہوتا ہے اور اُس وقت تک ممتد چلا جاتا ہے جب امام سلام پھیرتا ہے 2اور اِس عرصہ میں اُس ساعت کو پانا کار۔دارد ہے۔
    بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ آسان کام بتایا گیا ہے۔ ایک گھنٹہ یا دو گھنٹہ کا وقت مقرر کر دیا گیا ہے جس میں خداتعالیٰ مومن کی دعاؤں کو سنتا ہے لیکن درحقیقت یہ آسان کام نہیں۔ جب ہمیں پتا ہی نہیں کہ تیس، چالیس، پچاس یا ساٹھ منٹ میں سے کونسا منٹ قبولیت کا ہے تو ہم اس ساعت کو اِسی۔طرح پا سکتے ہیں کہ ہم اس تمام وقت میں اپنی توجہ خداتعالیٰ کی طرف رکھیں اور خداتعالیٰ کی طرف توجہ کو قائم رکھنا مشق اور محنت چاہتا ہے۔ بلکہ اگر کسی کو کہا جائے کہ تم اپنی توجہ خداتعالیٰ کی طرف قائم رکھو توبسااوقات اُس کے لیے توجہ قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پس یہ کام آسان نہیں اس لحاظ سے کہ توجہ قائم رکھنا مشکل ہے۔ اور آسان اِس لیے ہے کہ ہر ہفتہ میں مومن کو چند منٹ ایسے مل جاتے ہیں کہ اُسے موقع ملتا ہے کہ وہ اگر خداتعالیٰ سے اپنی بات منوانا چاہے تو منوا سکتا ہے۔ پس آپ میں سے ہر ایک کو اس ساعت کے پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر ایک شخص کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے، ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ذاتی غرض اور ضرورت نہ ہو تو قومی اور مذہبی اغراض اور ضروریات ہوتی ہیں۔ ان کے پورا ہونے کے لیے انسان دعائیں کرتا ہے۔ بہرحال یہ موقع ہے کہ اگر ہزار آدمی کوشش کریں تو کیا بعید ہے کہ ان میں سے بعض کو وہ ساعت مل جائے جس میں دعا ضرور قبول ہوتی ہے‘‘۔
    (غیرمطبوعہ مواد۔ ازریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)

    1
    :
    صحیح بخاری کتاب الجمعۃ باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ
    2
    :
    صحیح بخاری کتاب الاذان باب مَا لَمْ یَرَ الْوُضُوْئْ اِلَّا من المخْرَجَیْن مِنَ الْقُبُلِ والدُّبُرِ و باب مَنْ جَلَسَ من المَسْجد یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں