1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 31

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 31


    1
    وقت کی نزاکت کو محسوس کرو اور خداتعالیٰ کی اس نعمت کی قدر کرو جو اس نے تمہیں دی ہے
    (فرمودہ 13؍ جنوری1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مجھے جلسہ سالانہ کے بعد پہلے زکام کی شکایت رہی پھر بخار ہو گیا۔ اس کے بعد کھانسی کی تکلیف ہو گئی۔ بخار تو اَب اُتر چکا ہے لیکن کھانسی اور نزلہ ابھی تک باقی ہیں۔ جس کی وجہ سے مجھے آج خطبہ جمعہ تو نہیں پڑھانا چاہئے تھا کیونکہ گلے کی سوزش کی ابھی ایسی حالت ہے کہ تھوڑا سا بولنا بھی گلے کے لئے مُضِر ہو سکتا ہے۔ اور جیسا کہ آپ لوگوں کو میری آواز سے معلوم ہو سکتا ہے میرا گلا ابھی تک بیٹھا ہوا ہے اِس کی وجہ سے تھوڑی سی تقریر کرنا بھی تکلیف پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن چونکہ پچھلا خطبہ جمعہ مَیں بیمار ہونے کی وجہ سے نہیں پڑھا سکا اور نئے سال کی ذمہ داریوں کی طرف جماعت کو توجہ دلانا بھی ضروری ہے اِس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ گو مختصر الفاظ میں ہی سہی مگر آج کا خطبہ میں خود پڑھوں۔
    پیشتر اِس کے کہ میں خطبہ کے مضمون کی طرف توجہ کروں میں اِس امر پر اظہارِ افسوس کرنا چاہتا ہوں کہ پرسوں یہاں ایک پرانے صحابی کا جنازہ آیا جس کے والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب ترین صحابہ میں سے تھے اور آپؑ کے ایک بہت بڑے نشان کے حامل تھے۔ لیکن یہاں کے کارکنوں نے ایسی بے اعتنائی اور غفلت برتی جو میرے نزدیک ایک نہایت شرمناک حد تک پہنچی ہوئی ہے۔ جنازہ مہمان خانہ میں لایا گیا مگر کسی نے تکلیف گوارہ نہ کی کہ وہ اُس کی طرف توجہ کرے اور نہ ہی جنازہ کا مسجد میں اعلان کیا گیا۔ میں دوسرے دن دوپہر تک انتظار کرتا رہا کہ کوئی مجھے اطلاع دے اور میں نماز جنازہ پڑھاؤں لیکن کسی نے مجھے اطلاع نہ دی۔ جب درد صاحب آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جنازہ کسی نے پڑھا دیا ہے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ میری طرف سے یہ کہہ دیا گیا کہ میں بیمار ہوں اور جنازہ کے لئے باہر نہیں آسکتا اِس لئے جنازہ پڑھا دیا جائے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں بیمار تھا اور باہر نہیں آسکتا تھا۔ لیکن جب وصیت کا کاغذ میرے پاس دستخط کے لئے آیا تو اُن تعلقات کی وجہ سے جو ان کے والد صاحب کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تھے میں نے فیصلہ کیا کہ خود جنازہ پڑھاؤں۔ مگر یونہی کہہ د یا گیا کہ میں نے جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ حالانکہ مجھے اطلاع ہی نہیں دی گئی۔ میں کل دوپہر تک انتظار کرتا رہا۔ رات کو تو میں نے خیال کیا کہ مناسب نہیں سمجھا گیا کہ رات کو جنازہ پڑھا جائے۔ اور کل دوپہر تک میں نے سمجھا کہ رشتہ داروں کے آنے کی وجہ سے دیر ہو ہی جاتی ہے اِس لئے شاید دیر ہو گئی ہو۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ جنازہ خود پڑھا دیا گیا ہے اور میری طرف سے یہ کہہ دیا گیا کہ میں بیمار ہوں اِس لئے جنازہ کے لئے باہر نہیں آسکتا جنازہ پڑھا دیا جائے۔ میں نے یہ کیس ناظر صاحب اعلیٰ کے سپرد کر دیا ہے اور تمام ایسے آدمیوں کو جنہوں نے یہ حرکت کی ہے سرزنش کی جائے گی خصوصاً وصیت کا محکمہ بہت حد تک اِس کا ذمہ وار ہے۔
    میں جماعت کو بدقسمت سمجھوں گا اگر وہ اپنی تاریخ سے ناواقف ہو جائے۔ جو جنازہ آیا تھا وہ عبداللہ صاحب سنوری کے بیٹے کا تھا جو صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز کے بڑے بھائی اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد (ناظر امور خارجہ صدر انجمن احمدیہ ) کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی ہستی ایسی نہیں کہ جماعت کے جاہل سے جاہل اور نئے سے نئے آدمی کے متعلق بھی یہ قیاس کیا جا سکے کہ اُسے آپ کا نام معلوم نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ کشف جس میں کپڑے پر سُرخ روشنائی کے چھینٹے پڑے اور روشنائی ظاہری طور پر دکھائی دی مولوی صاحب اس نشان کے حامل اور چشم دید گواہ تھے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ چھینٹے گرے۔ اور پھر خداتعالیٰ نے انہیں یہ مزیدفضیلت بخشی تھی کہ ایک چھینٹا ان کی ٹوپی پر بھی آپڑا۔ گویا خداتعالیٰ کے عظیم الشان نشان میں اور ایسے نشان میں جو دنیا میں بہت کم دکھائے جاتے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ شامل تھے۔ لیکن اِن کے لڑکے کا جنازہ مہمان خانہ میں پڑا رہا مگر کسی نیک بخت کو یہ نہیں سُوجھا کہ وہ مساجد میں اعلان کرے کہ فلاں کا جنازہ آیا ہے احباب نماز میں شامل ہوں۔ اور میرے متعلق یہ غلط بیانی کی گئی کہ میں نے کہا ہے کہ میں بیمار ہوں اس لئے باہر نہیں آسکتا جنازہ پڑھا دیا جائے۔ اور وہ حقیقت اِس طرح کُھلی کہ درد صاحب آئے اوراُنہوں نے بتایا کہ میں بھی لاہور سے ابھی پہنچا ہوں اور دوسرے رشتہ دار بھی بھاگ دَوڑ کر یہاں پہنچے ہیں مگر جنازہ پڑھا دیا گیا ہے اور ہم جنازہ میں شامل نہیںہو سکے۔ آخر درد صاحب نے باہر نکل کر جھگڑا کیا کہ انہوں نے کیوں جنازہ میں اُنہیں شریک نہیں کیا۔ اِس پر اُن کی بیٹی آئی اور اُس نے بتایا کہ ہم نے جنازہ کے لئے کہا تھا مگر ہمیں یہ بتایا گیا کہ حضور نے جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دی ہے کیونکہ آپ بیمار ہیں اور باہر نہیں آسکتے۔ بہرحال ایسے کارکنوں کے خلاف مناسب اقدام کیا جائے گا اور اُنہیں سرزنش کی جائے گی۔ لیکن چونکہ میں جنازہ میں شریک نہیں ہو سکا اِس لئے نماز جمعہ کے بعد میں ان کا جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔
    اِسی طرح ڈاکٹر اقبال غنی صاحب کا بھی جنازہ پڑھاؤں گا۔مرحوم میرے بچپن کے دوست تھے۔ بچپن میں تین بچے تھے جو میری عمر کے تھے اور جن سے میری گہری دوستی تھی۔ ڈاکٹر صاحب ان میں سے ایک تھے۔ وہ میری بڑی بیوی کی سوتیلی والدہ کے بھائی تھے۔ یعنی ناصر احمد اور مبارک احمد وغیرہ کی جو سوتیلی نانی تھیں اُن کے وہ بھائی تھے۔ بچپن میں ہم اکٹھے پڑھتے رہے ہیں اور اس کے بعد بھی اُن کے ساتھ میرے گہرے تعلقات رہے۔ دوسرے دوست سید حبیب اللہ شاہ صاحب تھے جو بعد میں میرے سالے ہو گئے۔ اور ان کی بہن اُمِّ طاہر سے میری شادی ہو گئی۔ تیسرے دوست پروفیسر تیمور تھے جو بعد میں مرتد ہو گئے۔ باقی کم و بیش دوستی تو دوسروں سے بھی تھی مگر جن کو یک جان و دو قالب کہتے ہیں وہ یہ تین ہی تھے۔ ڈاکٹر اقبال غنی صاحب مرحوم کے متعلق بھی مجھے افسوس ہے کہ مجھے کسی نے اطلاع نہیں دی۔ جس سے تعلقات ہوں انسان کا دل چاہتا ہے کہ اُس کے بارہ میں جلد سے جلد ہر قسم کی اطلاع مل جائے۔ میاں بشیر احمد صاحب نے اطلاع دی ہے کہ میں نے آپ کو تار دی تھی مگر وہ تار مجھے نہیں ملی۔
    تیسرے دوست راجہ محمد نواز صاحب ہیں جن کا آج جمعہ کی نماز کے بعد میں جنازہ پڑھاؤں گا۔ یہ راجہ علی محمد صاحب کے رشتہ دار تھے۔ نوجوان طالب علم تھے کہ جب احمدی ہوئے۔ ان کی مخالفت شدت سے ہوئی لیکن انہوں نے اعلیٰ درجہ کی استقامت دکھائی۔ پچھلی دفعہ جب نماز جنازہ پڑھائی گئی تو دفتر والوں نے ان کا نام فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ ایک نام رہ گیا ہے بعد میں یاد آگیا کہ وہ راجہ محمد نواز صاحب تھے۔
    اس کے بعدمیں دوستوں کو تحریک جدید کے وعدوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ میں نے اس دفعہ جب تحریک جدید دفتر اول کے سولہویں اور دفتر دوم کے چھٹے سال کی تحریک کی تو اُس وقت یہ بیان کرنا بھول گیا کہ وعدوں کی آخری میعاد کیا ہو گی۔ پھر جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی تقریر کے نوٹوں میں مَیں نے یہ بات درج کی تھی کہ میعاد کا اعلان کروں گا۔ لیکن جب تقریر کے لئے کھڑا ہوا اور دوسرے مضامین لمبے ہو گئے تو یہ بات ذہن سے اُتر گئی۔ اِس کے بعد ارادہ تھا کہ خطبہ جمعہ میں جو اِس سال کا پہلا خطبہ ہو گا میں میعاد کا اعلان کروں گا۔ لیکن بیماری کی وجہ سے پچھلے جمعہ مَیں خطبہ کے لئے آ نہ سکا اِس لئے آج میں اِس بارہ میں اعلان کرتا ہوں۔ اور چونکہ اعلان کرنے میں اب دیر ہو گئی ہے اِس لئے میں میعاد کو کچھ لمبا کر دیتا ہوں۔ یعنی پہلے وعدوں کی آخری میعاد 7فروری ہوتی تھی اور اس وقت تک مخلصینِ جماعت کوشش کر کے پورے وعدے لکھوا دیتے تھے۔ لیکن اِس دفعہ چونکہ میعاد کا اعلان نہیں کیا گیا اِس لئے لوگ اس دُبدَھا 1 میں رہے کہ پتہ نہیں تحریک جدید کے وعدوں کی آخری میعاد کیا ہو گی۔ اِس لئے بجائے 7فروری کے میں 28فروری آخری میعاد مقرر کرتا ہوں۔ یعنی 28فروری تک جو دوست اپنے وعدے لکھوا دیں گے اُن کے وعدوں کو قبول کر لیا جائے گا۔ یا یکم مارچ تک جو وعدے ڈاک میں ڈال دیں گے اُن کے متعلق سمجھ لیا جائے گا کہ اُنہوں نے وقت کے اندر اندر وعدہ لکھوا دیا ہے۔
    میں نے گزشتہ تحریک کے اعلان کے موقع پر خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ خصوصیت کے ساتھ تحریک جدید دفتر دوم کی طرف توجہ کریں۔ بعض جماعتوں کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ وہ اس کام کے لئے کوشش کریں گی اور یہ کہ وہ اپنا پورا زور لگائیں گی کہ سال ششم میں زیادہ سے زیادہ وعدے کئے جائیں اور کوئی نوجوان اس میں حصہ لینے سے پیچھے نہ رہے۔ لیکن جو اعدادو شمار میرے سامنے پیش کئے گئے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس سال کے وعدے گزشتہ سال کے وعدوں کے مقابلہ میں ساٹھ فیصدی ہوئے ہیں۔ گویا بجائے بڑھنے کے پچھلے سال سے بھی وعدے چالیس فیصدی کم ہیں۔ اِسی طرح اِس وقت تک جو وعدے دفتر اول کے آئے ہیں اُن میں بھی پچھلے سال کی نسبت پچاس ہزار کے وعدوں کی کمی ہے حالانکہ کام ہمارا بہت بڑھ رہا ہے اور بڑھتا چلا جائے گا۔ ہمارا سالانہ بجٹ ابھی اتنا نہیں کہ اُس سے ایک چھوٹے سے قصبہ کا کام بھی کیا جائے۔ مگر ہم اِسی بجٹ سے ساری دنیا کا کام کر رہے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم اِتنی چھوٹی سی رقم سے اِس پر قادر ہو گئے ہیں۔ بہرحال ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنی مقدرت کے مطابق اپنا کام بڑھاتے جائیں۔ جو قومیں ٹھہر جاتی ہیںوہ ترقی کی طرف نہیں جا سکتیں۔ دنیا کو خداتعالیٰ نے اِس طور پر بنایا ہے کہ جو کھڑا ہوا مرا۔ گویا کھڑا ہونا ایک موت ہے۔ یہ بات خوب یاد رکھو کہ کھڑا ہونا کوئی چیز نہیں۔ یا تم آگے بڑھو گے یا پیچھے ہٹو گے تم کسی جگہ پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ الٰہی قانون تمہیں کھڑا نہیں ہونے دے گا۔ جو بھی کھڑا ہو گا یقینا پیچھے جائے گا۔ پس ضروری ہے کہ ہم اپنا قدم آگے کی طرف بڑھائیں۔
    میں نے احباب کو اِس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ ہمارا ارادہ ہے کہ اِس سال تین جگہ پر اپنے نئے مشن کھولیں۔ اور پھر بعض مبلغوں کا آپس میں تبادلہ بھی ہو رہا ہے یعنی بعض مبلغین کو واپس بلایا جا رہا ہے اور بعض کو اُن کی جگہ پر بھجوایا جا رہا ہے۔ اِس کی وجہ سے اخراجات میں تیس چالیس ہزار کی زیادتی ہو گی۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ کے سیاسی مرکز واشنگٹن میں جہاں اُن کا پریذیڈنٹ رہتا ہے اپنا مشن جلد کھول دیں۔ اور پھر بجائے اِس کے کہ ہم کرایہ پر وہاں مکان لیں، اپنا مکان خریدیں تا وہ ہمارا مستقل مرکز ہو۔ چنانچہ ایک اعلیٰ جگہ پر ایک مکان خرید لیا گیا ہے جو پریذیڈنٹ کے مکان کے بالکل قریب ہے۔ اِتنا قریب تونہیں جو ہم سمجھتے ہیں بلکہ جتنا ٹریفک کی سہولت کی وجہ سے وہاں قریب سمجھا جاتا ہے قریب ہے۔ اور یہ مکان غالباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ میں آئے گا۔ یہ تین منزلہ مکان ہے۔ علاوہ پانچ رہائشی کمروں کے ڈائیننگ روم اور سِٹنگ روم وغیرہ بھی ہیں۔ اِس مکان کے متعلق میں نے لکھا تھا کہ چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب کو بھی دکھا لیا جائے اور اُن کی پسندیدگی حاصل کر لی جائے۔ سو آج ہی مجھے ایک تار ملا ہے جس میں لکھا ہے کہ مکان چودھری ظفراللہ خان صاحب کو بھی دکھا دیا گیا ہے اور اُنہوں نے اسے پسند کیا ہے۔ خاص طور پر اُنہوں نے مکان کے محلِ وقوع کو بہت پسند کیا ہے۔ یہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کا مزید خرچ بھی اِس سال زائد پڑے گا۔ اِسی طرح ہالینڈ میں بھی ہم مسجد بنانے کی تجویز کر رہے ہیں۔ غالباً ایک لاکھ کے قریب وہاں بھی خرچ آئے گا۔ غرض قریباً تین لاکھ روپیہ کا خرچ اِس سال مزید اٹھانا پڑے گا۔ پس جماعت کو چاہیے کہ وہ بجائے اِس کے کہ سُستی کرے اپنے قدم تیز کرے۔ جس رنگ میں اور جس اخلاص کے ساتھ جماعت نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ظاہر کیا اُسے دیکھتے ہوئے میں امید کرتا ہوں کہ مخلصینِ جماعت اور کارکن بہت جلد اِس طرف توجہ کریں گے اور اپنے قدموں کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اور جلد از جلد اپنے وعدے بڑھا کر پیش کریں گے۔
    اِس کے علاوہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے جماعتیں حفاظتِ مرکز کے چندے بھی وصول کرنے کی کوشش کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں دو سال یعنی 1950ء اور 1951ء خاص طور پر مالی بوجھ کے آئیں گے۔ اِن دونوں سالوں میں خصوصیت کے ساتھ جماعت پر بہت مالی بوجھ پڑے گا اور اِس کے بعد بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ عارضی طور پر جو مالی دباؤ پڑا ہے وہ کم ہو جائے گا۔ سو جماعت کو ہر وقت یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ یہ دو سال خاص قربانیوں کے ہیں۔ بلکہ درحقیقت 1946ء سے ہی جماعت پر مالی دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس لئے پچھلے تین سالوں کو ساتھ ملا لیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ یہ پانچ سال کا عرصہ مالی لحاظ سے خصوصیت سے جماعت کے لئے امتحان اور آزمائش کا عرصہ ہے۔ کارکنوں کو چاہیے کہ اگلے دو سال میں وہ اپنے گھروں کو مضبوط کریں۔ اور اِس عرصہ میں امید کی جاتی ہے کہ سلسلہ کے تجارتی اور صنعتی ادارے اِتنی آمد پیدا کرنا شروع کر دیں گے کہ سلسلہ کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔ اور اگر دیانتدار کارکن مل جائیں تو یہ معمولی بات ہے اور ایک ادنیٰ توجہ کے ساتھ اِس ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
    خدام الاحمدیہ کو میں دوبارہ اِس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اُن کا فرض ہے کہ اِس سال وہ کوشش کریں کہ کوئی نوجوان ایسا نہ رہے جس نے تحریک جدید دفتر دوم میں حصہ نہ لیا ہو۔ ہر جگہ کے خدام الاحمدیہ ہر فرد کے پاس جائیں اور تسلی کر لیں کہ ایک نوجوان بھی ایسا نہیں رہا جس کا تحریک جدید دفتر اول میں حصہ نہیں تھا اور تحریک جدید دفتر دوم میں بھی اُس نے حصہ نہیں لیا۔ اِسی طرح جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے ہرجگہ خدام الاحمدیہ قائم نہیں۔ میں جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنی جگہوں پر مجلس خدام الاحمدیہ قائم کریں اور کوئی جگہ ایسی نہ رہے جہاں جماعت احمدیہ موجود ہو اور مجلس خدام الاحمدیہ قائم نہ ہو۔ تانوجوانوں میں کام کی جو تحریک کی جائے وہ جلد اور بسہولت ترقی کرے۔ یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کے لئے وہ خود ہی ہر قسم کے رستے کھولے گا۔ لیکن یہ اُس کی عنایت ہے کہ وہ ہمیں کام کا موقع دے رہا ہے۔
    پس مبارک ہے وہ شخص جسے خداتعالیٰ نے ایسے زمانہ میں پیدا کیا جس کی امید لگائے ہوئے بڑے بڑے صلحاء اور اولیاء اور بزرگ سینکڑوں سال سے انتظار کر رہے تھے۔ اور مبارک ہے وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے اِس زمانہ میں پیدا کر کے اُسے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شناخت کی بھی توفیق بخشی جس کی انتظار سینکڑوں سال سے دنیا کر رہی تھی۔ اِس کی اہمیت اِس بات سے معلوم ہو سکتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہیں برف کے میدانوں میں گُھٹنوں کے بل بھی چل کر جانا پڑے تو اُس کے پاس پہنچو 2 اور اسے میرا سلام بھی پہنچاؤ۔ 3اور پھر مبارک ہے وہ شخص جس کو حضرت مسیح موعودو مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شناخت کے بعد خداتعالیٰ نے کام کی توفیق بخشی۔ اور ایسے کام کی توفیق بخشی کہ اُسے اُس غرض کو جس کے لئے وہ دنیا میں آیاتھا پورا کرنے کے لئے معتد بہ حصہ ملا۔ اور ایسا حصہ ملا کہ خدا تعالیٰ کے دفتر میں وہ اَلسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ میں لکھا گیا۔ پس نوجوانوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خداتعالیٰ نے اُنہیں زریں موقع عطا فرمایا ہے جو صدیوں بلکہ میں کہتا ہوں ہزاروں سال میں بھی میسر نہیں آتا۔ دنیا نے چھ ہزار سال تک انتظار کیا اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ پھر 13صدیاں مسلمانوں نے بھی انتظار میں گزاریں پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب، بروز اور خلیفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اس زمانہ کو شیطان کی آخری جنگ کہا گیا ہے۔ گویا اِس سے زیادہ نازک وقت دین پر کبھی نہیں آیا اور آئندہ کبھی نہیں آئے گا۔ سو اِس موقع پر جس کو کام کرنے کی توفیق ملے وہ نہایت ہی بابرکت انسان ہے۔
    پس اپنی اہمیت کو سمجھو، وقت کی نزاکت کو محسوس کرو اور خداتعالیٰ کی اِس نعمت کی قدر کرو جو اُس نے تمہارے ہاتھوں کی پہنچ میں رکھی ہے۔ صرف تمہیں اپنا ہاتھ لمبا کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے وہ صلحاء اور بزرگ بھی ترستے رہے جن کو یاد کر کے تمہاری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور تم اُن پر رشک کرتے ہو۔ جس طرح اُن کا تقویٰ اور اُن کا زہد تمہارے لئے قابلِ رشک ہے اُسی طرح تمہارا اِس زمانہ میں کام کرنا اُن کے لئے بھی قابلِ رشک ہے۔ حضرت شبلیؒ، حضرت جنید بغدادیؒ، حضرت شہاب الدین سہروردیؒ، خواجہ معین الدین چشتی ؒ اور حضرت محی الدین ابن عربیؒ کے نام جب تم پڑھتے ہو تو تمہیں اِس بات پر رشک آتا ہے کہ اُنہوں نے کس کس رنگ میں خداتعالیٰ کو پانے کے لئے کوشش کی اور کیا کیا رستے برکتوں کے خداتعالیٰ نے اُن کے لئے کھولے۔ اور تم رشک کرنے میں حق بجانب ہو کیونکہ وہ اپنے زمانہ میں دین کے ستون تھے، وہ اپنے زمانہ میں خداتعالیٰ کی رحمت کے نشان تھے اور خداتعالیٰ کا چہرہ دکھانے والے تھے۔ لیکن میں سچ کہتا ہوں وہ بھی تم پر رشک کرتے ہیں کیونکہ تمہیں خداتعالیٰ نے اِس زمانہ میں پیدا کیا ہے جس کے لئے اُن کو بھی تڑپ تھی۔ پس اپنی حیثیت کو سمجھتے ہوئے اور اپنے عالی مقام کو دیکھتے ہوئے تم وہ طریقِ کار تلاش کرو جو بڑے درجہ کے لوگوں کو اختیار کرنا چاہیے۔‘‘
    (الفضل مورخہ 22جنوری 1950ئ)
    1: دبدھا: شک۔ تذبذب
    2: سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المہدی
    3: مسند احمد بن حنبل (مسند ابی ھریرہؓ) جزء 2صفحہ577 مطبع بیروت لبنان 1994ء

    2
    اگر تم اپنے اندرخداتعالیٰ کی محبتپیدا کر لو تو دنیا کی کوئی مصیبت تمہیں کچل نہیں سکتی
    (فرمودہ 27؍ جنوری 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میرے گلے میں ابھی تک تکلیف ہے جس کی وجہ سے میرے لئے بولنا مشکل ہے۔ اِس لئے میں آج مختصر طور پر جماعت کو بعض باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ کے موقع پر بیان کیا تھا جماعت کو تحریک جدید کے وعدوں کی طرف جلد سے جلد توجہ کرنی چاہیے۔ میرے خطبہ کے اعلان کے بعد جو الفضل میں تھوڑے ہی دن ہوئے شائع ہؤا ہے کچھ فرق تو پڑا ہے لیکن ابھی تک تحریک جدید کے وعدوں کی مقدار پچھلے سال کے وعدوں کی مقدار سے کم ہے۔گو وعدوں کا فرق پہلے دَور میں قریباً 65ہزار کا تھا جو اَب 21ہزار کے قریب رہ گیا ہے۔ گویا 34ہزار کا فرق اِس عرصہ میں پورا ہو گیا ہے۔ اِسی طرح دفتر دوم کا فرق بھی پہلے کی نسبت کم ہو گیا ہے۔ تحریک جدید دفتر اول کے سولہویں اور دفتر دوم کے چھٹے سال کی تحریک کرتے ہوئے میں نے وعدوں کی میعاد کی تعیین نہیں کی تھی جس کی وجہ سے وعدوں کی رفتار سُست رہی۔ اب میں نے میعاد اِسی غرض کے لئے بڑھا دی ہے تا جماعت کی اِس طرف توجہ ہو سکے۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ احباب اِس میعاد میں پوری کوشش کریں گے کہ سالِ گزشتہ کے تمام وعدے وصول ہو جائیں اور آئندہ کے لئے بھی تمام افراد سے تحریک جدید کے وعدے لئے جائیں۔ اِس سال کی آمد اِس حد تک کم ہے کہ
    بالکل ممکن ہو سکتا ہے کہ بقیہ سال تحریک جدید قرضہ لے کر گزارے۔ اور ایسا گزشتہ پندرہ سال میں کبھی نہیں ہؤا۔ حتّٰی کہ سال 1947ء ، 1948ء میں بھی جو کہ بڑی تباہی کا سال تھا تحریک جدید کو قرضہ لے کر نہیں گزارنا پڑا۔ اب جبکہ امن ہو چکا ہے ایسی حالت کا پیدا ہو جانا خطرناک ہے۔ ابھی بقیہ مہینوں میں تحریک جدید کا نوے ہزار کا خرچ باقی ہے اور خزانہ میں صرف پندرہ ہزار روپیہ کی رقم ہے۔ اور اِتنی رقم اَور وصول ہو سکتی ہے کہ نوے ہزار ہو جائے اور تحریک جدید خیریت سے بقیہ سال گزار سکے۔ غرض 75،80ہزار کے وعدے باقی ہیں۔ اور دفتر دوم کی حالت تو بہت ہی خراب ہے۔ دفتر دوم کی مقدار چونکہ کم ہے اِس لئے بقایا کم ہے لیکن اِس کا بقایا کئی سالوں سے چلا آرہا ہے۔ اگر وہ وصول ہو جائے تو اُن قرضوں کی ادائیگی میں بہت کچھ آسانی ہو جائے جو تحریک جدید نے جائیدادیں بنانے کے لئے لئے تھے۔ پس احباب اول تو پورا زور لگا کر فروری مارچ اور اپریل میں دفتر اول اور دوم کے گزشتہ بقائے وصول کر لیں اور دوسرے دَور اول اور دوم کے موجودہ سال کے وعدوں کو پچھلے سالوں کے وعدوں سے بڑھانے کی کوشش کریں۔ بلکہ دفتر دوم کو تو بہت زیادہ بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اب وہ وقت قریب آنے والا ہے جبکہ سارا بوجھ دفتر دوم پر ڈال دیا جائے۔ اب تو صرف یہ ہوتا ہے کہ دفتر اول خرچ اُٹھاتا ہے اور دفتر دوم قرضوں کو ادا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن آئندہ سارا بوجھ دفتر دوم پر ڈال دیا جائے گا۔ نئی پَود خداتعالیٰ کے فضل سے تعداد میں زیادہ ہے اور ان کی آمدنی بھی پہلوں کی آمد سے زیادہ ہے۔ اِس لئے کوئی وجہ نہیں کہ وہ سارا بوجھ نہ اُٹھا سکے بشرطیکہ اُس کے اندر اِس کا احساس پیدا ہو جائے۔
    اِس کے بعد دوسرا امر جس کے متعلق میں آج کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ جب جماعت کی مخالفت پھر اِس ملک میں شروع ہو جائے۔ دشمن اپنی دنیوی اغراض کے لئے مختلف بہانے بنا بنا کر اور اپنے پاس سے جھوٹ تراش کر جماعت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے بلکہ عَلَی الْاِعْلَان یہ ترغیب دلائی جاتی ہے کہ اگر تم ایک ایک احمدی کو مار ڈالو تو یہ جماعت ختم ہو سکتی ہے۔ 1947 ء میں پارٹیشن سے پہلے جب جماعت اُن مظالم کا مقابلہ کر رہی تھی جو مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر ہو رہے تھے تو اِس کی تعریفیں کی جاتی تھیں۔ جب مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کے نکل جانے کے بعد قادیان کا مرکز قائم رہا اور دشمن کا مقابلہ کرتا رہا تو اِس کی تعریف کی جاتی تھی۔ جب کشمیر کے معاملہ میں سب سے پہلے میں نے توجہ دلائی کہ یہ اہم چیز ہے اور یہ کہ باؤنڈری کمیشن (Boundary Commition) نے دیدہ دانستہ گورداسپور کا علاقہ اس لئے ہندوستان کے سپرد کیا تھا تا کشمیر اُن کے ہاتھ آ سکے تو اُس وقت جماعت کی تعریف کی جاتی تھی۔ جب چودھری ظفراللہ خان صاحب نے امریکہ میں عرب اور پاکستان کے کیس کو اس عمدگی سے پیش کیا کہ ساری دنیا گونج اُٹھی تو اِس کی تعریف کی جاتی تھی اور احمدی بہت خوش تھے۔ جب میں انہیں کہتا تھا کہ تبلیغ کرو تو وہ کہتے تھے حضور! کچھ عرصہ ٹھہر جائیے جماعت کے لئے فضا بہت اچھی ہے، لوگ اِس پر خوش ہیں کہیں یہ فضا خراب نہ ہو جائے۔ لیکن میں کہتا تھا کہ وہ وقت دُور نہیں جب وہی زبان جو اَب تمہاری تعریف کر رہی ہے تمہاری موت کا فتویٰ دے گی۔ اور آج کے دن پر تم پچھتاؤ گے کہ تم نے اسے ضائع کر دیا اور تبلیغ نہ کی۔
    میری عمر میں سینکڑوں دفعہ میرا اور غیر مسلموں کا اختلاف ہوا۔ میری عمر میں بہت دفعہ میرا اور حکومت کے افسروں کا اختلاف ہوا۔ میری عمر میں کئی دفعہ جماعت کے ساتھ بھی میرا اختلاف ہوا۔ اور خداتعالیٰ نے ہر دفعہ بِلا استثناء ثابت کر دیا کہ میں ہی حق پر ہوں۔ اب بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اِس بات میں کہ وہ وقت دُور نہیں جب وہی زبان جو جماعت کی تعریف میں لگی ہوئی ہے وہ احمدیوں کی موت کا فتویٰ دے، میں ہی حق پر تھا۔ تم میں وہ لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں جو کہتے تھے جماعت کے لئے فضا اچھی ہے ہمیں یہ اچھے دن گزار لینے دو۔ لیکن میں کہتا تھا کہ یاد رکھو تھوڑے دنوں میں ہی یہ فضا تمہارے خلاف ہو جائے گی اور تم پچھتاؤ گے کہ یہ اچھا وقت ہم نے تبلیغ میں کیوں نہ گزارا۔ وہ دن جو آنے والے تھے آگئے ہیں اور تم میں سے کئی لوگوں کے پیروں تلے سے زمین نکل رہی ہے۔ تم میں سے بعض تو قادیان کے ہمارے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے ڈگمگا گئے تھے اور ڈگمگائے ہوئے ہیں۔ میرا اُن کو بھی یہی جواب تھا جیسے حضرت ابوبکرؓ نے کہا تھا مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ جو تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا وہ دیکھ لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں وَ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ1 اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ یاد رکھے کہ اُس کا خدا اب بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ میں بھی یہ کہتا ہوں کہ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ قَادِیَانَ فَاِنَّ قَادِیَانَ قَدْ وُضِعَ فِیْ اَیْدِی الْمُخَالِفِیْنَ ۔ تم میں سے جوشخص قادیان کی پرستش کرتاتھا وہ سُن لے کہ قادیان اب مخالفین کے ہاتھ میں ہے ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے وَ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ اور جو اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرتا تھا اُس کا خدا اَب بھی زندہ ہے، اُس کا خدا اب بھی آزاد ہے، اُس کا خدا اَب بھی سب پر غالب ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔
    اِسی طرح آج بھی کچھ لوگ ہیں جو پہلے دشمن کی تعریفوں پر خوش تھے اور اس لذت کے زمانہ کو لمبا کرنا چاہتے تھے مگر اب وہ کانپتے ہیں، لرزتے ہیں اور ڈرتے ہیں۔ میں اُن کو بھی کہتا ہوں اور پھر میری بات ہی سچی نکلے گی کہ تم نے تبلیغ کے وقت کو ضائع کیا اور ملمع کو سونا کہا لیکن وہ ایک دھوکا تھا۔ اب پھر تم دھوکا کھا رہے ہو اور دشمن کو طاقتور سمجھتے ہو۔ تمہیں وہ چلتے پھرتے اور زندہ دکھائی دیتے ہیں مگر مجھے تو اُن کی لاشیں نظر آرہی ہیں ۔اور میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن نہ زندہ ہے اور نہ غالب ہے غالب ہم ہیں جن کے ساتھ غالب خدا ہے۔ وہ سَر جو خداتعالیٰ کو چھوڑ کر بندوں کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں کٹ جائیں گے اور بے دین مریں گے۔ مگر جو خدا تعالیٰ پر توکّل کرتے ہیں تمام مشکلات پر غالب آئیں گے۔ مگر یہ بھی یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی مدد اُسی کا ساتھ دینے کے لئے آتی ہے جو خداتعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے۔ تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔ تم اپنے اندر خداتعالیٰ کی محبت پیدا کرو۔ تم اپنے اندر ذکرِ الٰہی اور نمازوں کی پابندی پیدا کرو اور دینِ اسلام کے شعائر کو زندہ رکھنے کی رغبت پیدا کرو ۔ بھول جاؤ اِس بات کو کہ کوئی تمہارا دشمن ہے۔ بھول جاؤ اِس بات کو کہ کوئی تمہاری مخالفت پر آمادہ ہے۔ جب تم خدا تعالیٰ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ گے۔ جب دنیا کی طرف تمہاری پیٹھ ہو گی تو وہ ہاتھ جو خنجر لے کر تمہاری پیٹھ پر حملہ کے لئے بڑھے گا خدائے واحد اُسے شل کر دے گا۔ وہ دماغ جو تم پر حملہ کی تدابیر سوچے گا بیکار کر دے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ تم اپنا منہ خداتعالیٰ کی طرف کر لو اور اپنی پیٹھ بندوں کی طرف پھیر لو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو دنیا کی کوئی مصیبت تمہیں کچل نہیں سکتی۔
    تم بیوقوفی سے یہ نہ سمجھ لینا کہ کسی پر موت نہیں آئے گی یا کسی پر ظلم نہیں ہو گا۔ انبیاء پر بھی موتیں آئیں۔ انبیاء بھی شہید ہوئے۔ اُن کی جماعتیں بھی شہید ہوئیں۔ جو میں کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ جماعت مٹ نہیں سکتی۔ اور جب میں ’’تم‘‘ کہتا ہوں تو اِس سے مراد جماعت ہے نہ کہ تم۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ مارے جائیں بلکہ غالب ہے کہ تم میں سے بعض مارے جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ تم میںسے بعض گھروں سے نکالے جائیں بلکہ غالب ہے کہ وہ گھروںسے نکالے جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے بعض قیدوں میں ڈالے جائیں بلکہ غالب ہے کہ وہ قیدوں میں ڈال دیئے جائیں۔ لیکن جو بات نہیں ہو سکتی وہ یہ ہے کہ اگر تم لوگ خدا تعالیٰ سے صلح کر لو تو تم یعنی تمہاری قوم تباہ ہو جائے۔ تم بحیثیت احمدی کے ہلاک نہیں ہو سکتے۔ تم بحیثیت جماعت کے مٹ نہیں سکتے۔ تم بحیثیت جماعت کے مغلوب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ جو شخص خداتعالیٰ کی طرف منہ کر لے ،لازمی امر ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کی طرف منہ کرے گا۔ اور جب خداتعالیٰ دیکھ رہا ہو کہ کوئی حملہ کر رہا ہے تو وہ اُسے مقصد میں کامیاب کیسے ہونے دے گا۔ پولیس کی موجودگی میں اگر وہ دیانت دار ہو تو کوئی حملہ نہیں کر سکتا۔ پھر خداتعالیٰ کی موجودگی میں کوئی حملہ کیسے کر سکتا ہے۔ پس دوسری بات یہ ہے کہ اپنے اندر اخلاص پیدا کرو۔ تم روحانی سلسلہ کے افراد بنو، نمازوں کے پابند بنو، ذکر الٰہی پر زور دو، اسلام کے شعائر کو زندہ رکھنے کی کوشش کرو، اپنے اندر طہارت، پاکیزگی اور تقویٰ پیدا کرو۔ نہ تم کسی کی تعریف سے خوشی محسوس کرو اور نہ کسی کی مذمت سے ڈرو کیونکہ جو خداتعالیٰ کے لئے ہو جائے دنیا کی تعریف اُسے کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ خدا کی تعریف ہی اُسے فائدہ پہنچائے گی۔ اگر تم خدا کے لئے ہو تو دنیا کے لوگوں سے ڈرنا بے معنی بات ہے۔ تمہیں صرف اور صرف خداتعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ کیونکہ جو شخص کہتا ہے کہ میں خدا کا ہوں اور پھر وہ بندوں سے ڈرتا ہے یا لوگوں کی تعریف سے خوش ہوتا ہے وہ جاہل ہے یامنافق ہے۔
    اِس کے بعد میں اعلان کرتا ہوں کہ نماز جمعہ کے بعد میں چند دوستوں کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ ان میں سے ایک صاحب تو وہ ہی ہیں جو مخالفت کی وجہ سے شہید کر دیئے گئے ہیں۔ اور وہ صاحبزادہ محمد اکرم خاں صاحب رئیس چارسدہ ہیں۔ وہ 76سال کی عمر کے تھے اور ایک رئیس خاندان میں سے تھے۔ یہ وہی ہیں جن کے متعلق ان کے بھائی نے بیان کیا تھا کہ ہم نے ایک اٹھنّی احمدیوں کو دے دی ہے اور ایک اٹھنّی غیر احمدیوں کو۔ یہ پہلے پیغامی جماعت کے ساتھ تھے بعد میں مبائعین میں شامل ہوگئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی شہادت میں بعض مولویوں کا ہاتھ ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ یہ غلط ہو کیونکہ پٹھانوں میں چھوٹی سے چھوٹی رنجش پر بھی ایک دوسرے کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ بہرحال وہ نہایت مخلص اور جوشیلے احمدی اور مبلغ آدمی تھے۔
    دوسرا جنازہ میں مولوی غلام حسین صاحب ریٹائرڈ انسپکٹر آف سکولز کا پڑھاؤں گا۔ آپ جھنگ کے رہنے والے تھے۔ بعد میں ہجرت کر کے قادیان آگئے۔ نہایت مخلص احمدی تھے اور تبلیغ کا ڈھنگ ان کو نہایت اچھا آتا تھا۔ ان کے لڑکوں میں سے بعض نہایت مخلص احمدی ہیں۔
    تیسرے بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی کی اہلیہ پشاور میں فوت ہو گئی ہیں۔ دوستوں کو معلوم ہے کہ بھائی عبدالرحیم صاحب واپس قادیان چلے گئے ہیں چونکہ وہ وہاں کے باشندہ تھے۔ اِس جلسہ پر خیال تھا کہ ان کی اہلیہ قادیان جا کر انہیں مل آئیں۔ اور اگر گورنمنٹ اجازت دے تو وہ وہیں رہ جائیں۔ لیکن بیماری کی وجہ سے وہ وہاں نہ جا سکیں۔
    چوتھا جنازہ میں سیدہ کبریٰ بانو شاہ جہاں پور والی کا پڑھاؤں گا جو مولوی سید احمد علی صاحب مبلغ حیدرآباد (سندھ) کی بیوی کی خالہ تھیں۔ ان کے لڑکوں نے جو یا تو خود غیر احمدی ہیں یا ہیں تو احمدی مگر دوسرے لوگوں سے ڈر کر کہ وہ یہ نہ کہیں کہ یہ احمدی ہیں بغیر کسی احمدی کو اطلاع دیئے انہیں دفن کر دیا ہے۔
    پانچویں نصر اللہ خان صاحب کنٹرول برانچ سنٹرل آرڈیننس ڈپو راولپنڈی کی والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ چھٹے فضل عمر صاحب بہار کی والدہ اور چچی فوت ہو گئی ہیں۔ ساتویں سلیمہ صاحبہ گوجرانوالہ سے اطلاع دیتی ہیں کہ ناصرہ فوت ہو گئی ہیں۔ دفتر والوں نے یہ اطلاع نہیں دی کہ یہ کون ہیں۔ آٹھویں چودھری ظہور احمد صاحب باجوہ جو پہلے انگلستان میں مبلغ تھے اور اب کچھ عرصہ سے دفتر میں بطور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کام کر رہے ہیں ان کی نانی فوت ہو گئی ہیں۔ نویں مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری سابق مبلغ سیرالیون مغربی افریقہ اطلاع دیتے ہیں کہ اُن کی ہمشیرہ سعیدہ بیگم صاحبہ فوت ہو گئی ہیں۔ دسویں سید رضا حسین صاحب عرائض نویس کلکٹری اٹاوہ اطلاع دیتے ہیں کہ ان کی والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ گیارہویں شیخ محمد احمد صاحب کپورتھلوی لائلپور کہتے ہیں کہ سید عبدالمجید صاحب کپورتھلوی کی بیٹی فوت ہو گئی ہیں اور تین سال کا ایک بچہ چھوڑا ہے۔ سید عبدالمجید صاحب کی یہ ایک ہی بیٹی تھیں اِس لئے ان کی نہ صرف وفات ہی ہوئی ہے بلکہ ایک ہی بیٹی ہونے کی وجہ سے ان کے لئے ایک بڑے صدمہ کا موجب ہوئی ہیں۔
    بارہویں منشی محمد اسمٰعیل صاحب سیالکوٹی جن کا نام میں نے پہلے لینا تھا کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے تھے اور مولوی عبدالکریم صاحب کے پھوپھی زاد بھائی تھے فوت ہوگئے ہیں۔ منشی محمد اسماعیل صاحب نہایت سادہ طبع، نیک اور صاحبِ الہام آدمی تھے۔ ان کو کثرت سے الہام ہوتے تھے اور وہ کثرت سے دعائیں کرنے والے انسان تھے۔ نماز تہجد کے اتنے پابند تھے کہ بیماری کی حالت میں بھی تہجد نہیں چھوڑی۔ آپ حال میں ہی سیالکوٹ میں فوت ہوئے ہیں۔ آپ مولوی عبدالکریم صاحب کی بڑی بیوی جن کو مولوی صاحب کی وجہ سے ہم مولویانی کہا کرتے تھے بھائی تھے۔ نہایت مخلص اور اچھے نمونہ کے احمدی تھے اور تبلیغ میں اِس طرح منہمک رہتے تھے کہ ایسا انہماک بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ سکول سے پنشن لی اور ریل اور ڈاکخانہ کے محکموں میں جو کوئی ہندو قادیان آجاتا اُس کو پکڑ لیتے اور اُسے قرآن کریم پڑھانا شروع کر دیتے۔ میں نے خود ایک ہندو کو دیکھا ہے جس نے ان سے قریباً بیس سیپارے ترجمہ کے ساتھ پڑھ لئے تھے وہ دل سے مسلمان تھا۔ اب شاید پارٹیشن (Partition) کے بعد وہ ہندوستان چلا گیا ہو کیونکہ اُس کا نام ہندووانہ ہی تھا لیکن دراصل وہ مسلمان تھا۔ نمازیں پڑھتا تھا۔ اسی طرح روزے بھی رکھتا تھا۔ وہ صرف انہی کے طفیل اور ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں مسلمان ہؤا تھا۔
    ایک اَور دوست نے رقعہ دیا ہے کہ ان کے لڑکے فقیر محمد صاحب جو بہادر حسین کے رہنے والے تھے فوت ہو گئے ہیں۔ اور چونکہ وہاں کوئی اَور احمدی نہیں تھا اِس لئے بغیر جنازہ پڑھائے دفن کر دیئے گئے۔ ان کے والد بابا لطیف الدین صاحب بہادر حسین والے خود صحابی ہیں۔ ان کا بھی جنازہ میں پڑھاؤں گا۔‘‘ (الفضل مورخہ 16فروری 1950ئ)
    1: صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب قول النبی ﷺ ’’لو کنت متخذا خلیلا‘‘

    3
    انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا دنیوی ترقی کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں نبی کی بعثت کا مقصود انسان کے اندر روحانیت پیدا کرنا ہے
    (فرمودہ 3مارچ 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج کئی ہفتوں کے بعد میں خطبہ جمعہ پڑھنے لگا ہوں۔ اور وہ بھی اِس وجہ سے کہ میں تین ہفتہ کے لئے ربوہ سے باہر جا رہا ہوں ورنہ ابھی تک میرے گلے کی حالت ایسی نہیں کہ میں خطبہ جمعہ پڑھ سکوں۔ دو ہفتہ کے قریب تو میری آواز بالکل بند ہو گئی تھی اور اتنی آواز بھی نہیں رہی تھی کہ پاس والے لوگ بھی سن سکیں۔ اِس کے بعد کچھ آواز کھلی لیکن کسی وقت زیادہ کھل جاتی ہے اور کسی وقت کم۔ اور تھوڑی دیر کے لئے بھی میں کسی سے بات کروں تو آواز بیٹھنے لگ جاتی ہے۔ لاہور میں ڈاکٹروں سے مشورہ لیا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ اِس عمر میں جا کر یہ بیماری لمبی ہو جاتی ہے اور دیر سے اچھی ہوتی ہے اِس لئے اِس کے فورًا اچھا ہونے کی امید نہیں تین چار ماہ کے بعد اچھی ہو جائے گی۔ لیکن میرے گلے کی جو حالت ہے وہ اِس قسم کی ہے کہ اِس کے ساتھ جسمانی ضُعف بھی پیدا ہو جاتا ہے اور اکثر ایام میں اِس کے ساتھ بخار بھی ہو تا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے گلا اپنے اندر کوئی طاقت محسوس نہیں کرتا۔ جس سے معلوم ہو کہ اِس کی حالت صحت کی طرف جا رہی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی جو مشیّت ہو وہ پوری ہوا ہی کرتی ہے۔
    میں دوستوں کو آج مختصر طور پر اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ دنیا میں انسان آدم علیہ السلام کے زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ اِس عرصہ میں قوموں نے ترقی بھی کی ہے اور تنزّل بھی کیا ہے۔ وہ بڑھی بھی ہیں اور گھٹی بھی ہیں۔ لیکن اِن سارے حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نبوت کا نظام قائم کیا گیا ہے وہ ان سارے ہی زمانوں کے ساتھ قطع نظر اِس سے کہ سیاسی طور پر قومیں ترقی یافتہ تھیں یا تنزّل یافتہ، چلا آرہا ہے۔ مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام جس ملک میں پیدا ہوئے وہ ملک فارغ البال تھا۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں نمرود بادشاہ کی حکومت تھی جو بہت بڑا طاقتور تھا اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں فرعون کی طرح اپنے آپ کو خدا سمجھا کرتاتھا۔ مگر باوجود اِس کے کہ دنیوی اور سیاسی طور پر ملک آگے بڑھ رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اُس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جس وقت ظاہر ہوئے آپ کی قوم کمزور تھی لیکن آپ جس ملک میں آئے تھے اُس ملک کی حکومت بڑی منظم، طاقتور اور سائنس میں بڑی ترقی یافتہ تھی۔ یہاں تک کہ اس کے بعض کمالات باوجود آجکل سائنس میں عظیم ترقی کے یورپ کے سائنس دان اب بھی اپنے اندر پیدا نہیں کرسکے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئے تو اُن کی قوم گری ہوئی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آپ کی قوم کی دنیوی حالت گری ہوئی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی بعثت کا دنیوی ترقی کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہوتا ۔ بعض انبیاء اُس وقت دنیا میں آئے جب کہ اُن کی قوم دنیوی لحاظ سے گری ہوئی تھی اور بعض انبیاء اُس وقت آئے جبکہ ان کی قوم ترقی یافتہ تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبوت کا جو سلسلہ قائم کیا ہے اِس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اِس کا تعلق دنیوی حالت کے علاوہ اَور باتوں سے ہے۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب کوئی نبی آتا ہے تو اُس کی بدولت اور اُس کے ذریعہ اُس کی قوم دنیوی حالت میں بھی ترقی کر جاتی ہے لیکن اُس کی بعثت کی وجہ سے اُس کی قوم کا دنیوی طور پر ترقی کر جانا ضروری نہیں ہوتا ۔یہ کسی نبی کی بعثت کا لازمہ نہیں ہے۔ یہ اُس کا نتیجہ ہے مقصود نہیں۔ مقصود اُس کا کچھ اَور ہے۔ اور وہ انسان کے اندر روحانیت کا پیدا کرنا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے گھر سے اِس لئے نکلتا ہے کہ وہ وقت کے مامور مِنَ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرے، وقت کے مامور مِنَ اللہ کی قوم میں شامل ہو تو وہ اِس لئے گھر سے نہیں نکلتا کہ وہ ایک مسلح فوج میں داخل ہو کر اپنے ملک کی خاطر لڑائی کرے یا کسی دفتر کی ملازمت اختیار کر کے ملک کے دنیوی نظم و نسق کی اصلاح کرے۔ بلکہ وہ اس لئے گھر سے نکلتا ہے، وہ اس لئے کسی مامور کی جماعت میں داخل ہوتا ہے تا اپنی روحانی حالت کو درست کرے۔ اور پھر اپنے اردگرد کے بسنے والوں کی روحانی حالت کو بھی درست کرے جس طرح ایک فوج میں داخل ہونے والا سپاہی جو اپنا مقصد لڑائی مقرر کرتا ہے وہ اپنے لئے ایسے سازگار حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جن کے پیدا ہونے سے وہ اپنے مقصد کو پورا کر سکے۔ وہ تلوار چلانا سیکھتا ہے، وہ بندوق کا نشانہ سیکھتا ہے، وہ پریڈ کرنا سیکھتا ہے، وہ آجکل کے فنونِ جنگ کے لحاظ سے اینٹی ایئر کرافٹ توپوں یا دوسری توپوں کا فن سیکھتا یا ہوائی جہازوں کا چلانا یا بحری جہازوں کے شعبوں میں سے کسی شعبہ کا کام سیکھتا ہے۔ وہ ترازو پکڑ کر سَودا بیچنا نہیں سیکھتا، وہ سُوئی پکڑ کر سینا نہیں سیکھتا، وہ ہل چلا کر بیج بونا نہیں سیکھتا، وہ درختوں کی شاخیں کاٹ کر اُنہیں آئندہ پھل کے قابل بنانا نہیں سیکھتا ۔ اگر وہ یہ کام کرنے لگ جاتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پاگل ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ نکلا تو تھا سپاہی بننے کے لئے اور کام شروع کر دیا درزیوں کا۔ نکلاتو تھا سپاہی بننے کے لئے اور کام شروع کر دیا معماروں کا یا تاجروں یا زمینداروں کا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص بھی تمہیںا یسا نظر نہیں آئے گا جو سپاہی بننے کے لئے گھر سے نکلا ہو اور بن گیا درزی ہو۔ جو سپاہی بننے کے لئے گھر سے نکلا ہو اور بن گیا تاجر ہو۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اِس کے مقابلہ میں جو لوگ روحانی آدمی بننے کے لئے نکلتے ہیں، جو لوگ خدا رسیدہ آدمی بننے کے لئے نکلتے ہیں، جو لوگ مذہبی آدمی بننے کے لئے نکلتے ہیں اُن میں سے بہت سے آدمی دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور اصل مقصد کو بھول جاتے ہیں۔ کئی لوگ تمہیں ایسے ملیں گے جو سچائی کو قبول کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اِس کو قبول کرنے کے بعد ہم تو بھوکے مرنے لگ گئے ہیں۔ کئی لوگ کہیں گے کہ سچائی کو قبول کرنے کے بعد ہم تو اپنی قوم میں بدنام ہو گئے ہیں۔ کئی لوگ کہیں گے کہ اِتنی دیر سے ہم فلاں جماعت میں داخل ہیں لیکن کسی نے ہمارے لئے کوئی اچھی ملازمت تو تلاش کی نہیں۔ کئی لوگ کہیں گے کہ ہم نے دیر سے سچائی کو قبول کیا ہوا ہے لیکن ہمارے بچوں کی تعلیم کے لئے کوئی وظیفہ نہیں ملا۔ ہمیں یہ عجیب بات معلوم نہیں ہوتی۔وہ عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی کہے میں سپاہی بھرتی ہوا تھا لیکن مجھے تو اب تک شاخ تراشی نہیں آئی۔ میں سپاہی بھرتی ہواتھا لیکن اِس وقت تک درزی کا کام تو میں نے نہیں سیکھا۔ وہ اگر ایسا کہتا ہے تو تم اُسے پاگل کہتے ہو۔ لیکن تم میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں جماعت میں داخل ہوئے تھے لیکن ہمیں کوئی اچھی ملازمت نہیں ملی۔ ہمیں بچوں کی تعلیم کے لئے کوئی وظیفہ نہیں ملا۔ اور نہ تم اپنے آپ کو پاگل کہتے ہو اور نہ سننے والا تمہیں پاگل کہتا ہے۔ ایک سپاہی کا یہ کہنا کہ میں فوج میں بھرتی ہوا تھا لیکن ابھی تک مجھے تکڑی بھی ہاتھ میں پکڑنی نہیں آئی یا میں فوج میں بھرتی ہؤا تھا لیکن اب تک مجھے کلہاڑاچلانا بھی نہیں آیا اُسے پاگل قرار دینے کے لئے کافی ہے۔ لیکن جب تم کہتے ہو کہ ہم خدا رسیدہ آدمی بننے کے لئے گھروں سے نکلے تھے لیکن اب تک ہمارا وظیفہ نہیں لگا۔ ہم خدا رسیدہ آدمی بننے کے لئے گھروں سے نکلے تھے لیکن ہماری نیک نامی کا قوم میں سامان پیدا نہیں ہوا۔ ہم خدا رسیدہ آدمی بننے کے لئے گھروں سے نکلے تھے اور اب تک ہمیں دولت مند بنانے کے کوئی سامان پیدا نہیں ہوئے تو تم اپنے آپ کو پاگل قرار نہیں دیتے۔ حالانکہ جب کوئی شخص اپنے مقصد کے خلاف بات کہتا ہے تو لوگ اُسے پاگل کہتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنے رستہ کے خلاف کوئی امید ظاہر کرتا ہے تو لوگ اُسے پاگل کہتے ہیں۔
    کہتے ہیں کسی بادشاہ کے پاس کوئی مدعیٔ نبوت آیا۔ تھا تو وہ جھوٹا لیکن زیرک آدمی تھا۔ وہ ایسا فاترالعقل نہیں تھا کہ موٹی موٹی حماقتوں کو بھی نہ سمجھ سکے۔ بادشاہ نے ایک تالا جو اُس وقت کے مشہور آہنگروں سے بھی نہیں کُھلتاتھا منگوایا اور اُس کے سامنے رکھ کر کہا اگر تم نبی ہو تو یہ تالا کھول کر دکھا دو۔ اُس مدعیٔ نبوت نے جواب دیا کہ اے بادشاہ! مجھے تمہارے بادشاہ ہوتے ہوئے یہ امید نہیں تھی کہ تم ایسی حماقت کی بات کرو گے۔ تمہارے ذمہ ملک کا انتظام ہے اور اِس کے لئے عقل کی ضرورت ہے۔ میں نے تمہارے سامنے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں نبی ہوں اور تم ثبوت مانگتے ہو کہ میں بڑا لوہار ہوں۔ میں لوہار ہونے کا مدعی نہیں نبوت کا مدعی ہوں۔ بے شک اگر اُس سے نبوت کی باتیں بھی پوچھی جاتیں تو وہ نہ بتا سکتا لیکن اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُس نے بادشاہ کی حماقت کو ثابت کر دیا۔ لیکن اِس مثال کو اُلٹ دو اور یوں سمجھ لو کہ وہ شخص جاتا اور بادشاہ کے سامنے جا کر یہ کہتا ہے کہ میں نبی ہوں اور ثبوت یہ ہے کہ میں کپڑا بڑا اچھا بُن سکتا ہوں۔ میں نبی ہوں اور اِس کا ثبوت یہ ہے کہ میں ہل بڑا اچھا چلا سکتا ہوں۔ میں نبی ہوں اور اِس کا ثبوت یہ ہے کہ میں ہتھوڑے کا استعمال بڑا اچھا جانتا ہوں۔ اب تم بتاؤ کہ کیا کوئی معقول آدمی اسے مان سکتا تھا؟
    تم بھی احمدیت میں داخل ہونے سے یہ اقرار کرتے ہو کہ ہم خدا رسیدہ بننے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن خدا رسیدہ بننے کے لئے جو باتیں ہیں تم اُنہیں چھوڑ کر دوسری باتیں کرتے ہو۔ خدا رسیدہ بننے کے لئے تو خشیۃ اللہ کی ضرورت ہے ۔ خدا رسیدہ بننے کے لئے تونمازوں کی پابندی کی ضرورت ہے۔ خدا رسیدہ بننے کے لئے تو زکوٰۃ، روزہ اور حج کی ضرورت ہے۔ خدا رسیدہ بننے کے لئے تو ذکرِ الٰہی کی ضرورت ہے۔ خدا رسیدہ بننے کے لئے تو بنی نوع انسان کی ہمدردی اور ان کے فائدہ کے لئے اپنی زندگی صَرف کرنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خدا رسیدہ بننے کے لئے دنیا سے منہ موڑ لینے کی ضرورت ہے۔ لیکن تم وہ کام نہیں کرتے۔ اسلام نے بے شک یہ کہا ہے کہ تم دنیا کے کام بھی کرو لیکن یہ نہیں کہا کہ تم دنیا کے کام ہی کرو۔ ’’ہی‘‘ اور ’’بھی‘‘میں بڑا بھاری فرق ہے۔ خداتعالیٰ نے انسانی جسم کو ایسا بنایا ہے کہ دن میں تم کسی وقت سوتے بھی ہو لیکن ’’سوتے بھی ہو‘‘ کو یوں بدل دو کہ تم 24گھنٹے ’’سوتے ہی ہو‘‘ تو کوئی نہیں کہے گا کہ تم نے فطرت کا تقاضا پورا کیا ہے۔ خداتعالیٰ نے انسانی جسم کو اِس طرح کا بنایا ہے کہ تم قضائے حاجت بھی کرتے ہو۔ لیکن اگر تم قضائے حاجت ہی کرو تو یہ فطرت کا تقاضا نہیں ہو گا۔ اگر کوئی شخص پاخانہ ہی پھرتا رہے تو وہ ہیضہ کا مریض ہے اور جلد مر جائے گا۔ پس خداتعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ تم دنیا کے کام بھی کرو۔ اور تم یہ چاہتے ہو کہ دنیا کے کام ہی کرو۔ اور پھر تم یہ اقرار بھی کرتے ہو کہ ہم روحانیت کو حاصل کرنے کے لئے احمدیت میں داخل ہو ئے ہیں۔ اور یہ مقصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک تم میں وہ امتیازی نشان پیدا نہ ہو جو دیکھنے والوں کو بتا دے کہ اِس کا رستہ اَور ہے اور دوسروں کا رستہ اَور ہے۔ اگر تم کسی مشرق کے گاؤں میں جانا چاہتے ہو اور دوسرا شخص کسی مغرب کے گاؤں میں جانا چاہتا ہے تو کیا کسی کو یہ بتانے کی ضرورت پیش آئے گی کہ یہ مشرق کو جانا چاہتا ہے اور وہ مغرب کو جانا چاہتا ہے؟ یہ صاف نظر آئے گا کہ فلاں مشرق کی طرف جا رہا ہے اور فلاں مغرب کی طرف جا رہا ہے۔ اگر یہ سچ ہے کہ تم خداتعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہو اور باقی لوگ دنیا کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو کیا تم میں اور دوسروں میں اتنا فرق بھی نظر نہیں آئے گا جتنا مشرق کی طرف جانے والے اور مغرب کی طرف جانے والے میں نظر آئے گا؟ لازمی بات ہے کہ خداتعالیٰ اگر مشرق کی طرف ہے تو دنیامغرب کی طرفہے۔ اِن دونوں میں اتنا بیّن فرق ہے کہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خداتعالیٰ کی پیٹھ دنیا کی طرف ہے اور دنیا کی پیٹھ خداتعالیٰ کی طرف ہے۔ اِسی طرح جو شخص خدا رسیدہ بننا چاہتا ہے اُس کا منہ اَور طرف ہوتا ہے اور جو دنیا دار بننا چاہتا ہے اُس کا منہ اَور طرف ہوتا ہے ان کی ایک دوسرے کی طرف پیٹھ ہوتی ہے۔ اگر وہ دونوں ایک ہی قسم کے کام کرتے نظر آئیں گے تو ہم کہیں گے کہ اُن کے دعاوی جھوٹے ہیں۔ یہ آپ بھی دھوکا کھا رہے ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکا دے رہے ہیں۔
    پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرو۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے گا تو وہ اپنے مقصد کو ایک ہی دن میں پا لے گا۔ تم اگر مشرق کے کسی گاؤں کو جانے کے لئے مشرق کی طرف منہ کر لیتے ہو تو تم اُسی وقت اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ نہیں جاتے۔ اِسی طرح اگر تم مغرب کے کسی گاؤں کو جانے کے لئے مغرب کی طرف منہ کر لیتے ہو تو تم اُسی وقت اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ نہیں جاتے۔ لیکن تم اگر مشرق کے کسی گاؤں کو جانا چاہتے ہو یا مغرب کے کسی گاؤں کو جانا چاہتے ہو تو تمہارا منہ تو اُدھر ہونا چاہیے۔ پس میں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات سنو گے تو خدا رسیدہ بن جاؤ گے۔ اِس کے لئے وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن اُس طرف منہ کرنے میں تو وقت نہیں لگتا۔ اگر ایک شخص نے لاہور جانا ہے اور دوسرے شخص نے جہلم جانا ہے تو نہ لاہور جانے والا فورًا لاہور پہنچ جائے گا اور نہ جہلم جانے والا فورًا جہلم پہنچ جائے گا۔ لیکن ارادہ کرتے وقت لاہور جانے والے کا منہ لاہور کی طرف ہو جائے گا اور جہلم جانے والے کا منہ جہلم کی طرف ہو جائے گا۔ اور ہم سمجھ لیں گے کہ جتنے بھی قدم اُٹھیں گے اُتنا لاہور جانے والا لاہور کے قریب ہوتا جائے گا اور جہلم جانے والا جہلم کے قریب ہوتا جائے گا۔لیکن اگر اُن کے قدم ایک ہی طرف اُٹھیں گے تویہ پاگلوں والا کام ہو گا۔
    پس جہاں میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم فورًا اپنے مقصد کو نہیں پا سکتے وہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ تم فورًا اپنی جہت تبدیل کر سکتے ہو۔ اور اِس پر ایک منٹ نہیں بلکہ ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتا۔ اور جب جہت تبدیل کی جاتی ہے تو ہر قدم جو اُٹھایا جاتا ہے وہ منزلِ مقصود کو قریب سے قریب تر کرتا چلا جاتا ہے۔ ‘‘
    (الفضل 25مارچ 1950ئ)

    4
    احباب کو چھوٹی چھوٹی باتوں سے نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
    (فرمودہ 10؍مارچ 1950ء بمقام ناصر آباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جیسا کہ اُن دوستوں کو معلوم ہو گا جو ’’الفضل‘‘ پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں اور اس کے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں قریباً دو مہینہ سے گلے کی تکلیف سے بیمار ہوں۔ پہلے تو آواز بالکل ہی بند ہو گئی تھی اِس کے بعد آواز کُھلنی شروع ہوئی مگر صرف اِس حد تک کُھلی کہ ایک دو فقرے بولنے کے بعد طبیعت خراب ہو جاتی تھی۔ اِس کے بعد پھر آہستہ آہستہ کچھ اَور آواز کُھلنی شروع ہوئی اور اب اِس حد تک کُھل چکی ہے کہ میں آہستہ آواز سے کچھ دیر تک باتیں کر سکتا ہوں۔ کبھی بیماری کا خیال نہ رہے اور اونچی آواز سے بولنے لگوں تو پھر گلے میں درد شروع ہو جاتی ہے۔ اِس تکلیف کی وجہ سے کچھ عرصہ سے میں نے کوئی خطبہ نہیں پڑھا۔ ربوہ سے چلتے وقت میں نے پہلا خطبہ پڑھا تھا اور اَب دوسرا خطبہ پڑھ رہا ہوں۔ ربوہ میں تو یہ آسانی تھی کہ وہاں لاؤڈ سپیکر تھا اور میری آواز پھیل جاتی تھی لیکن یہاں لاؤڈ سپیکر نہ ہونے کی وجہ سے صرف چند دوستوں تک ہی میری آواز پہنچ سکتی ہے باقی دوستوں تک نہیں پہنچ سکتی۔
    بہرحال اب بھی جتنی آواز سے میں بول سکتا ہوں اُتنا بولنے سے بھی بعد میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ پچھلے خطبہ کے بعد بھی دو تین دن تک تکلیف زیادہ رہی۔ اِس کے بعد آہستہ آہستہ وہ حالت جاتی رہی۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ مرض بڑی عمر میں ایک لمبے عرصہ کے بعد اچھی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ مرض کتنا وقت لے گی۔ بظاہر تو یہی بات نظر آتی ہے کہ یہ بیماری لمبا وقت لے گی۔ کیونکہ ذرا بھی مَیں بولوں تو بلغم بار بار گلے میں پھنستا ہے اور گلے میں سے بلغم کو نکالنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ بلغم نہیں نکلتا تو خراش رہتی ہے اور بار بار کھانسنا پڑتا ہے۔ بہرحال جہاں تک میرے گلے میں طاقت ہے اور میں خطبہ پڑھ سکتا ہوں میں نے یہی ارادہ کیا کہ خود خطبہ پڑھوں گو وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو ۔اور درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو مختصر خطبہ ہی پڑھا جاتا تھا۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ بعض دفعہ نماز سے آدھا ہوتا تھا۔ یعنی اگر نماز پڑھنے میں دس منٹ صَرف ہوتے تھے تو خطبہ پانچ منٹ میں ختم ہو جاتا تھا۔ کیونکہ اُس زمانہ میں لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو سمجھ لیتے تھے لیکن اِس زمانہ میں جب تک مغز ماری نہ کی جائے لوگ بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جو باتیں آجکل لمبی لمبی تقریروں سے حاصل کی جاتی ہیں وہ کسی زمانہ میں محض ایک دو مثالوں سے حاصل کر لی جاتی تھیں یا اپنے بزرگوں کے بتائے ہوئے ایک دو فقرے سن کر ہی لوگ نصیحت حاصل کر لیتے تھے کیونکہ اُس زمانہ میں لوگ حقیقت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے مگر آجکل جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی جاتی ہے اور جذبات ابھارنے کے لئے لمبے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے ایک مقرر تمہید باندھتا ہے اور اس میں ایسی باتیں بیان کرنی شروع کرتا ہے جو لوگوں کے مسلّمات میں سے ہوتی ہیں اور جن کو وہ مدت سے صحیح تسلیم کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں۔ پھر اُن مسلّمات پر وہ اس بات کی بنیاد رکھ کر اسے پیش کرتا ہے تاکہ وہ ان مسلّمات کے ساتھ ان کے دماغ میں گھس جائے ۔اور جب وہ کسی بات کو ایسی شکل میں پیش کر دیتا ہے کہ سننے والے اسے مان سکیں تو پھر وہ اس بات کی طرف ان کے دماغوں کو پھراتا ہے کہ اس کے بغیر ان کا گزارہ ہی نہیں۔ اور یہ کہ اگر انہوں نے وہ بات نہ مانی تو ان پر تباہی آجائے گی۔ اس طرح وہ ان کے جذبات کو ابھار دیتا ہے اور ایک لمبی تقریر کے بعد وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے ۔لیکن چونکہ جذبات کا ابھارنا عقل کو کمزور کر دیتا ہے اس لئے بسا اوقات یہ طریق ایسے لوگ بھی اختیار کر لیتے ہیں جو سچائی کی خدمت کرنا نہیں چاہتے بلکہ جھوٹ کو پھیلانا چاہتے ہیں۔ جس طرح ایک ننگی دوائی جس پر کوئی اَور چیز چڑھی ہوئی نہ ہو اُس کے متعلق ہر کھانے والا یہ معلوم کر سکتا ہے کہ وہ کڑوی ہے یا کھٹی ہے یا میٹھی ہے یا بدبودار ہے یا خوشبودار ہے۔ لیکن اگر اس پر کھانڈ چڑھی ہوئی ہو تو کھٹی بھی میٹھی معلوم ہو گی اور کڑوی بھی میٹھی معلوم ہو گی اور میٹھی بھی میٹھی معلوم ہو گی اور پھیکی بھی میٹھی معلوم ہو گی۔ اسی طرح جب جذبات کو ساتھ ملا دیا جاتا ہے تو سچ بھی جوش دلا دیتا ہے اور جھوٹ بھی جوش دلا دیتا ہے اور انصاف کے نام پر بھی لوگ ابھار دیئے جاتے ہیں اور ظلم کی مدد کے لئے بھی لوگ ابھار دیئے جاتے ہیں۔
    پس اصل طریق تو وہی ہے جو پہلے زمانوں میں رائج تھا کہ مختصر بات بیان کی جائے اور اس میں حقیقت کو لوگوں کے سامنے واضح کر دیا جائے۔ آخر کسی چیز کی سچائی کے کوئی ذاتی دلائل بھی تو ہوتے ہیں یہ تو ضروری نہیں کہ سچائی کو ہمیشہ انسانی جذبات کے ساتھ ملا کر ہم لوگوں کے سامنے لائیں۔ مثلاً اسلام توحید پیش کرتا ہے اور توحید اپنی ذات میں ثابت بھی کی جا سکتی ہے اور اس کی تردید بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر توحید کی تائید میں کہا جاتا ہے کہ بتوں میں کوئی طاقت نہیں اور وہ کسی انسان کو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا سکتے تو ایک انسان جو بت پرست ہو یہ بھی پیش کر سکتا ہے کہ بتوں میں فلاں فلاں خوبی موجود ہے۔ اور اگر خداتعالیٰ کی وحدانیت کے ثبوت میں ہم یہ بات پیش کر سکتے ہیں کہ تمام قانونِ قدرت ایک خدا پر دلالت کرتا ہے جیسے قرآن کریم نے بھی یہ بات پیش کی ہے اور فرمایا ہے کہ کیا تمہیں دنیا میں کہیں بھی دو قانون نظر آتے ہیں؟ اگر دو قانون ہوتے تو تم سمجھ سکتے تھے کہ خدا ایک نہیں۔ لیکن جب تمام عالَم میں ایک ہی قانون نظر آتا ہے تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ ایک ہی خدا ہے دو نہیں۔ یہ ایک دلیل ہے جسے توحید باری تعالیٰ کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے۔ اب مقابل کا فریق اگر اُس کے لئے ممکن ہو تو یہ دلیل پیش کر سکتا ہے کہ دنیا میں ایک قانون نہیں بلکہ کسی جگہ کوئی قانون کام کرتا ہے اور کسی جگہ کوئی۔ یا مثلاً جس طرح ایک خدا پرست انسان یہ کہہ دیتا ہے کہ میرا خداتعالیٰ سے تعلق ہے اور وہ مجھ سے باتیں کرتا ہے اور میری دعائیں سنتا ہے اسی طرح ایک بت پرست بھی حق رکھتا ہے کہ وہ اپنے میں سے کسی آدمی کو پیش کر دے اور کہے کہ اس سے فلاں بت نے باتیں کی ہیں یا اس کی دعائیں اس نے سنی ہیں۔ یہ دلائل کا طریق ہے یعنی شرک بھی موجود ہے اور توحید بھی موجود ہے۔ شرک کی تائید کرنے والے نے بھی دلیل دے دی اور توحید کی تائید کرنے والے نے بھی دلیل دے دی۔ اب سننے والے خود بخود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ دنیا کے ایک قانون سے ایک خدا ثابت ہوتا ہے یا دو خدا ثابت ہوتے ہیں یا وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایک قانون موجود نہیں بلکہ دو قانون موجود ہیں۔ بہرحال دو باتوں سے ایک بات ضرور ہو گی یا تو وہ فیصلہ کر لیں گے کہ دنیا کا ایک قانون ثابت کرتا ہے کہ ایک خدا ہے اور یا یہ فیصلہ کر لیں گے کہ ایک سے زیادہ قانون ہیں۔ اسی طرح لوگ یا تو یہ فیصلہ کر لیں گے کہ بتوں نے بھی لوگوں کی دعائیں سنی ہیں اور اپنے ماننے والوں کی تائید کی ہے اور یا وہ یہ فیصلہ کر لیں گے کہ بتوں میں کوئی طاقت نہیں کہ وہ کسی کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ کسی کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ مگر یہ عقلی طریق ہے جس کی دلائل پر بنیاد رکھی جاتی ہے ۔اور جذباتی طریق یہ ہوتاہے کہ ایک بت پرست کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے سنو! یہ توحید کے پرستار کیا کہتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں تمہارے باپ دادا اُلّوتھے تمہارے باپ دادا گدھے تھے، تمہارے باپ دادا بڑے بڑے خبیث تھے جو بتوں کے آگے سر جھکاتے رہے اب کون یہ شخص ماننے کے لئے تیار ہو گا کہ میرے باپ دادا واقع میں اُلّو تھے یا گدھے تھے یا خبیث اور ناپاک انسان تھے۔ آخر کافر کو بھی اپنے ماں باپ سے محبت ہوتی ہے اور وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ انہیں برا بھلا کہا جائے۔ جب وہ ان کے سامنے شرک کو اس رنگ میں پیش کرتا ہے کہ تمہارے باپ دادا اسے مانتے تھے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بڑے اُلّو تھے، بڑے احمق تھے، بڑے خبیث اور بے ایمان تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان بتوں میں کوئی طاقت نہیں مگر پھر بھی وہ فریب سے کام لے کر ان کے آگے اپنا سرجھکا دیتے تھے۔ تو لوگوں میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کی بات کیوں مانیں یہ تو ہمارے باپ دادا کو اُلّو قرار دیتا ہے یہ تو انہیں احمق اور گدھا قرار دیتا ہے گویا دلیل غائب ہو گئی۔ ایک قانون کی موجودگی کا کوئی سوال ہی نہ رہا بلکہ سوال یہ آگیا کہ یہ ہمارے باپ دادا کو اُلّو کہتا ہے ،یہ انہیں احمق اور گدھا کہتا ہے ،یہ اعلان کرتا ہے کہ جو شخص ایک خدا کو چھوڑ کر بتوں کے آگے سر جھکاتا ہے وہ بیوقوف ہے اور بے وقوف گدھا ہوتا ہے۔ پس اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ ہمیں اور ہمارے باپ دادا کو گدھا قرار دیتا ہے ۔یہ کہتا ہے کہ جو شخص سچائی کے خلاف کام کرے وہ بے ایمان ہوتا ہے اور پھر یہ کہتا ہے کہ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔ جب توحید سچائی ہوئی تو جو اس سچائی کے خلاف چلتا ہے وہ بے ایمان ہے۔ گویا دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمارے باپ دادا بے ایمان تھے ۔اور جو بے ایمان ہو وہ خبیث بھی ہوتا ہے اور زندیق بھی ہوتا ہے۔ اب یہ لازمی بات ہے کہ جب بات کو اس رنگ میں پیش کیا جائے گا تو دلیل غائب ہو جائے گی اور یہ لوگ کہنا شروع کر دیں گے کہ انہیں مار ڈالو ،انہیں قتل کر دو، ان کا مال و اسباب چھین لو، انہیں ملک سے نکال دو کیونکہ یہ ہمارے باپ دادا کو احمق گدھا بے ایمان اور خبیث قرار دیتے ہیں۔ غرض جب کسی بات کے ساتھ جذبات مل جاتے ہیں تو دلیل کمزور ہو جاتی ہے۔ لیکن جب جذبات سے علیحدہ کر کے کسی بات کو پیش کیا جائے تب پتہ لگتا ہے کہ اس میں کتنا وزن ہے اور وہ معقول ہے یا غیر معقول مثلاً یہ جذباتی طریق ہی تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو چونکہ دنیا کہتی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اس لئے مولویوں نے شور مچا دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کی جاتی ہے اور خدا کے نبی کی ہتک کی جاتی ہے، خدا کے رسول کی ہتک کی جاتی ہے۔ اب یہ لازمی بات تھی کہ لوگ اِس سے مشتعل ہوجاتے تھے۔ جب انسان اپنے ماں باپ کی ہتک بھی برداشت نہیں کر سکتا تو خدا تعالیٰ کے نبی اور رسول کی ہتک کس طرح برداشت کر سکتا ہے۔ چنانچہ وہ مشتعل ہوئے اور اُنہوں نے احمدیت کی مخالفت شروع کر دی۔ مگر آہستہ آہستہ اُن کے کانوں میں اِس امر کے دلائل پڑنے شروع ہوئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ اُنہوں نے لڑائیاں بھی کیں، انہوں نے کفر کے فتوے بھی لگائے مگر جب وہ گالیاں دینے اور لڑائیاں کرنے اور کفر کے فتوے لگانے کے بعد اپنے گھروں میں واپس آئے تو اُن کے دلوں سے یہ آواز اُٹھتی کہ سچی بات تو یہی معلوم ہوتی ہے کہ عیسیٰ مر گیا ہے۔ انہوں نے اِس مسئلہ کی وجہ سے ہماری جماعت کے لوگوں کو مارا بھی، انہیں پیٹا بھی، انہیں بُرا بھلا بھی کہا مگر جب وہ غور کرتے تو اُن دلائل کی وجہ سے جو متواتر اُن کے کانوں میں پڑتے جا رہے تھے وہ سمجھتے کہ بات تو یہی دل کو لگتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ اِس رَو نے اَور ترقی کرنا شروع کیا اور پہلے ایک نے پھر دوسرے نے پھر تیسرے نے اور پھر چوتھے نے اپنی زبان سے بھی یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ اُدھر انگریزی تعلیم کا لوگوں میں رواج ہوتا چلا گیا اور اس تعلیم کے نتیجہ میں بھی آئندہ نسلوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ لغو اور بیہودہ قصے ہیں ہم اِن کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ تعلیم یافتہ آدمی تو آسمان کو ہی نہیں مانتا ۔وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر بیٹھنے کو کہاں تسلیم کر سکتا ہے۔ وہ تو سمجھتا ہے کہ آسمان فضا کا نام ہے کسی خاص جگہ کا نام نہیں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیٹھے ہوئے ہوں۔ جب وہ آسمان کا ہی قائل نہ رہا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کو وہ کس طرح تسلیم کر سکتا تھا۔ گویا اِدھر دلائل نے اور اُدھر موجودہ زمانہ کی تعلیم نے اُن خیالات کو پلٹ دیا جو لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے تھے۔ چنانچہ ہر کالج اور سکول کا لڑکا قطع نظر اِس سے کہ وہ احمدیت کی تعلیم کو مانتا تھا یا نہیں۔ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعاوی کا اُسے علم تھا یا نہیں مغربی تعلیم کے اثر کے نیچے کالج اور سکول سے یہ عقیدہ لے کر نکلا کہ یہ کوئی معقول بات نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور اِس طرح وہ ایک ایسے نقطۂ نگاہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا قائل ہو گیا جس کا قرآن کریم سے تعلق نہیں تھا صرف سائنس سے تعلق تھا یا فکر کے ساتھ اُس کا تعلق تھا۔ چنانچہ جب ایسے شخص سے کہا جائے کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ فوراً یہ جواب دیتا ہے کہ ایسے قرآن کو اپنے گھر رکھو مَیں اِن باتوں کا قائل نہیں۔ اِس کے مقابلہ میں ایک احمدی بھی یہی عقیدہ رکھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ لیکن ایک احمدی میں اور مغربی تعلیم کے اثر کے نیچے وفاتِ مسیحؑ کا قائل ہونے والے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ جب دوسرے شخص سے کوئی کہتا ہے کہ قرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ کہتا ہے مَیں ایسے قرآن کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ بات یہی ہے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں موجودہ سائنس کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن جب ایک احمدی سے یہ کہا جائے کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ کہتا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔ قرآن سچا ہے، قرآن کی ایک ایک بات سچی ہے اور اس میں یہی لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔
    غرض دونوں کہتے ایک ہی بات ہیں مگر ہماری جماعت کے افراد قرآن کریم کو سچا سمجھتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور وہ قرآن کریم کو چھوڑ کر یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ بہرحال جب مسلمانوں میں تعلیم پھیلی تو اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ اُنہوں نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ اب جب مولویوں نے دیکھا کہ مسلمانوں نے خود یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ فوت ہوچکے ہیں تو اُنہوں نے صحیح فیصلہ کیا کہ اب ہمیں اَور طرح ان کے جذبات سے کھیلنا چاہیے۔ یہی بات بتاتی ہے کہ اُن کی بنیاد دلائل اور عقل پر نہیں تھی بلکہ جذبات پر تھی۔ اگردلائل اور عقل پر بنیاد ہوتی تو جب اُنہوں نے یہ دیکھا تھا کہ مسلمانوں نے اب خود ہی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو وہ کہتے ہم سے غلطی ہو گئی تھی۔ لیکن ان کی غرض تو جذبات سے کھیلنا تھی اُنہوں نے اب ایک اَور رنگ میں لوگوں کے جذبات سے کھیلنا شروع کر دیا اور یہ کہنے لگے عیسیٰ مر گیا ہو یا نہ مرا ہو مرزا صاحب تویہ کہتے ہیں کہ مَیں خدا کا نبی ہوں اور ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ پھر اُنہوں نے لوگوں کو بار بار یہ کہہ کر اشتعال دلانا شروع کر دیا کہ ارے لوگو! یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اَور نبی مانتے ہیں۔ اب یہ صاف بات ہے کہ جب یہ کہا جائے گا کہ فلاں جماعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک شخص کو نبی ماننے لگ گئی ہے تو عام طور پر اِس کے یہ معنی سمجھے جائیں گے کہ گویا اُن کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ختم ہو گئی ہے۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے کافی ہے۔ چنانچہ انہوں نے پھر دوبارہ لوگوں کے جذبات سے کھیلنا شروع کر دیا اور چاہا کہ وہ اِسی رَو میں بہتے چلے جائیں اور کبھی سنجیدگی کے ساتھ حقیقت پر غور کرنے کی کوشش نہ کریں۔
    غرض اِس زمانہ میں عام طور پر لوگ جذبات سے کھیلنے لگ گئے ہیں۔ سچائی پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ ایسے رنگ میں اپنی بات کو چکر دیتے ہیں کہ اُس کی شکل اَور بن جاتی ہے اور حقیقت اَور ہوتی ہے۔ اِس نقص کو دیکھتے ہوئے اور لوگوں کے دماغوں کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب سچ کے لئے بھی اِسی حربہ سے کام لینا ضروری ہو گیا ہے اور ہمارے لئے بھی اِس کے بغیر چارہ نہیں رہا۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آگ سے کسی کو عذاب دینا جائز نہیں۔1 اِس حکم کے مطابق بندوق اور توپ وغیرہ کا استعمال مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔ لیکن اِس زمانہ میں چونکہ دشمن اِن چیزوں کو استعمال کرتا ہے اور اگر مسلمان اِن چیزوں کو استعمال نہ کریں تو وہ شکست کھا جائیں اِس لئے ہم کہیں گے کہ اصل حکم تو یہی ہے کہ آگ سے کسی کو عذاب نہ دیا جائے۔ لیکن جب دشمن ابتدا کردے اور وہ اِن چیزوں کا استعمال کرے تو پھر مسلمانوں کے لئے بھی بندوق اور توپ اور دوسرے آتشیں اسلحہ کا استعمال جائز ہو جائے گا۔ یا جیسے کسی انسان کی آزادی کو چھیننا جائز نہیں۔ لیکن اگر دشمن ہمارے آدمیوں کو غلام بنا لے تو پھر ہمیں بھی اُن کے آدمیوں کوغلام بنانا پڑے گا۔ اور ہماری یہ کارروائی جو جوابی رنگ رکھتی ہو گی ہمارے لئے جائز ہو جائے گی۔ یا مثلاً جنگ کرنا جائز نہیں۔لیکن اگر دشمن جنگ شروع کر دے تو پھر ہمارے لئے بھی اُس سے لڑائی کرنا جائز ہو جائے گا۔
    پس زمانہ کے حالات کے مطابق گو جوابی طور پر ہمیں بھی لمبی تقریریں کرنی پڑتی ہیں مگر میرے گلے کی جو موجودہ حالت ہے وہ اِس جوابی طریق کے اختیار کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتی۔ شاید اللہ تعالیٰ ہمارے سلسلہ کے دوستوں کو اِس بات کی عادت ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کیا کریں۔ بہرحال لمبے خطبے سنت نہیں ہیں۔ سنت یہی ہے کہ مختصر خطبہ ہو۔ جیسے میں نے بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ اِتنا مختصر خطبہ پڑھتے تھے کہ وہ جمعہ کی نماز سے بھی چھوٹا ہوتا تھا۔ بعض دفعہ آپ نے لمبے لمبے وعظ بھی کئے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک آپ نے اِتنا لمبا وعظ کیا کہ ظہر سے عشاء کی نماز تک بلکہ اُس کے بعد بھی جاری رہا۔2 پس لمبا وعظ بھی ہوتا تھا یہ نہیں کہ کبھی نہیں ہوتا تھا لیکن عام طور پر مختصر تقریر ہوتی تھی۔ اگر مختصر تقریریں نہ ہوتیں تو اِتنی حدیثیں لوگوں کو کس طرح یاد ہوتیں۔ مثلاً میرے خطبات کو ہی لے لو۔ کیا کوئی شخص اُنہیں یاد رکھ سکتا ہے؟ یاد رکھنے کے لئے مختصر کلام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختصر خطبہ پڑھا کرتے تھے ورنہ لمبے خطبات کی صورت میں تو حدیثیں بن ہی نہیں سکتی تھیں۔ ‘‘
    (الفضل یکم اپریل 1950ئ)
    1: صحیح بخاری کتاب الجِہَاد والسِّیَر باب لَا یُعَذَّبُ بِعَذَابِ اللّٰہِ .........
    2: صحیح مسلم کتاب الفتن و اشراط الساعۃ باب اخبار النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی ما یکون الیٰ قیام الساعۃ میں فجر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک خطاب کا ذکر ہے۔

    5
    اپنے اندر ایسا انقلاب پیدا کرو کہ تمہارا مٹنا اللہ تعالیٰ کی غیرت کبھی برداشت نہ کرے
    (فرمودہ 17؍مارچ 1950ء بمقام ناصر آباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے خطبہ جمعہ میں جماعت کو اِس امر کی طرف توجہ دلائی کہ اُسے اپنے اندر ایسا غیر معمولی تغیر پیدا کرنا چاہیے کہ خداتعالیٰ کی غیرت اِس کا تباہ ہونا برداشت نہ کر سکے۔ حضور نے غزوۂ بدر کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس دعا کا ذکر فرمایا جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور کی اور جس کے الفاظ یہ تھے کہ اے میرے رب! اگر یہ چھوٹی سی جماعت بھی آج ہلاک ہو گئی تو اِس دنیا کے پردہ پر تیرا نام لیوا کوئی باقی نہ رہے گا۔1 حضور نے فرمایا: یہ دعا اگرچہ چھوٹی سی تھی مگر ان الفاظ نے خداتعالیٰ کی غیرت کو ایسا بھڑکایا کہ تھوڑی دیر میں ہی پانسہ پلٹ گیا اور تین سو تیرہ ناتجربہ کاراور بے سروسامان صحابہؓ ایک ہزار غیر مسلم اور تربیت یافتہ لشکر پر غالب آگئے۔
    آپ لوگوں کو بھی صبح و شام سوچنا اور غور کرنا چاہیے کہ کیا آپ کے دلوں میں ایسی تبدیلی پیدا ہوچکی ہے کہ آپ لوگوں کی بربادی سے اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی نام لیوا اِس دنیا میں باقی نہ رہے؟ اگر یہ حالت ہو تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو خداتعالیٰ کی بادشاہت کو اِس دنیا میں قائم کرنے والے ہو۔ لیکن اگر تمہیں اپنے اندر ایسا تغیر نظر نہ آئے تو تمہیں ہوشیار ہو جانا چاہیے اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر تمہارا مرنا ایسا ہی ہو جیسے ایک گدھے یا بکری کا مرنا ہوتا ہے تو تمہارے وجود سے اسلام کا فتح پانا ناممکن ہے۔ اِس صورت میں تمہیں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہاں تک کہ تم بھی محسوس کرو اور دنیا بھی محسوس کرے اور آسمان کے فرشتے بھی محسوس کریں کہ اگر تم جیتو گے تو خدا بھی جیتے گا۔ اور اگر تم مٹ گئے تو خداتعالیٰ کا نام لینے والا بھی اِس دنیا کے پردہ پر کوئی باقی نہیں رہے گا۔ اگر تم اپنے آپ کو ایسا وجود بنا لو تویقینا خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت ایسے رنگ میں آئے گی کہ تمہاری مشکلات خس و خاشاک کی طرح اُڑ جائیں گی اور تمہاری کامیابی کے راستہ میں کوئی روک باقی نہیں رہے گی۔ ‘‘ (الفضل 23مارچ 1950ئ)
    1: صحیح مسلم کتاب الجہاد باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر ۔

    6
    اسلام اس زمانے میں انتہائی غیر معمولی حالات میں سے گزر رہا ہے۔ مسلمانوں کو یہ دن دعاؤں، التجاؤں اور اِنابت اِلَی اللّٰہ میں صَرف کرنے چاہئیں
    (فرمودہ 24؍ مارچ 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’ہر امر اپنے کمال کو پہنچتے وقت ایک غیرمعمولی حالت میں سے گزرا کرتا ہے اور اسلام بھی اِس زمانہ میں اِس آخری مرحلہ سے گزر رہا ہے۔ ماں بننے والی عورت جب بچہ پیدا ہونے کا وقت آتا ہے تو دو حالتوں میںسے ایک ضروردیکھتی ہے۔ یا تو وہ ایک نئے وجود کو دنیا میں لے آتی ہے یا خود بھی اِس دنیا سے چلی جاتی ہے۔ یہی حال اِس وقت اسلام کا ہے۔ اِس زمانہ میں مسلمان بھی ایسے حالات میں سے گزر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے دو اہم حصے دو نازک ہمسایوں، دو سخت ہمسایوں اور دو طاقتور ہمسایوں کے پاس پڑے ہوئے ہیں۔ اور ایک تھوڑے سے اشتعال سے ایک ایسی آگ لگ سکتی ہے جو دو میں سے ایک نتیجہ ضرور پیدا کر دے گی۔ یا تو مسلمان کچھ عرصے کے لئے دنیا سے یا دنیا کے ایک اہم حصہ سے مٹ جائیں گے اور یا اُن کے دن پلٹیں گے اور وہ اپنی پرانی شان و شوکت کو حاصل کر لیں گے۔ ہمیں بوجہ اِس کے کہ ہم ایک مامور کی جماعت ہیں اور ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں اِس خاص مرحلہ سے خاص دلچسپی ہے۔ کیونکہ اگر ہم ایک ایسے شخص کو مانتے ہیں جو خداتعالیٰ کا سچا مامور تھا اور ہم ایک سچے مامور کی سچی جماعت ہیں تو یقینا ہمارے لئے اِن تغیرات سے کوئی بڑا فائدہ ہو جائے گا۔ لیکن اگر ہم ایک سچے مامور کو نہیں مانتے یا ہم اپنی بدقسمتی سے ایک سچے مامور کی سچی جماعت نہیں بلکہ اپنی کوتاہیوں اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے اُس کی سچی جماعت کہلانے کا حق ہم سے چھین لیا گیا ہے تو آنے والے خطرات سے ہمیں بھی دو چار ہونا پڑے گا۔ اور ہمیں بھی کچھ مدت تک گوشۂ گمنامی اختیار کرنا پڑے گا۔
    پس یہ ایام مسلمانوں کے ساتھ عام طور پر اور ہماری جماعت کے ساتھ خاص تعلق رکھتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو یہ دن دعاؤں، التجاؤں اور اِنابت اِلَی اللّٰہ میں صَرف کرنے چاہئیں اور خداتعالیٰ سے بار بار مدد طلب کرنی چاہیے کہ اے خدا! جو کوتاہیاں ہم سے ہوئی ہیں ہمیں اُن سے انکار نہیں مگر تُو فضل کرنے والا ہے ہم پر فضل کر۔ اپنی شان و شوکت کے زمانہ میں جس طرح ہم نے دینِ اسلام کو بُھلا دیا ہمیں اِس کا اقرار ہے۔ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ کچھ دیا جو کسی قوم کو نہیں دیا۔ لیکن وہ پوری طرح اِس احسان کا شکریہ ادا نہیں کر سکے اور بجائے محسن کے انہوں نے احسان کو دیکھنا شروع کر دیا۔ انہوں نے محسن کی طرف نہ دیکھا مگر وہ اُس کے احسان سے فائدہ اٹھانے میں لگ گئے۔ پس جو کچھ خداتعالیٰ نے کیا ٹھیک کیا۔ اور صرف ٹھیک ہی نہیں کیا بلکہ اِس میں بھی اُس نے رحم سے کام لیا ہے۔ لیکن پھر بھی خداتعالیٰ کے حضور ہمیں عرض کرنی چاہیے کہ اے خدا! دشمن کے غلبہ کے دن لمبے ہو چکے، مصیبتوں اور تکالیف کا سایہ بہت دُور پھیل گیا، ایک طاقتور اور حکمران قوم جو ساری دنیا پر غالب تھی اب ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور جنس ہو کر رہ گئی ہے، صدی کے بعد صدی گزر گئی، نسل کے بعد نسل ختم ہو گئی مگر اس کی تکالیف کا زمانہ ختم ہونے میں نہیں آیا۔ اب تیرے رحم اور تیری شفقت، اور تیرے غفران اور تیرے فضل دیکھتے ہوئے ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تُوپرانے گِلوں کو دُور کر دے، پرانی شکایتوں کو معاف کر دے اور چار سَو سال سے متواتر ذلیل ہونے والی مسلمان قوم کو خاک سے اُٹھا لے اور آنے والی مشکلات اور مصائب سے نہ صرف اُسے بچا لے بلکہ اپنے رحم و کرم سے اُن کے دماغوں میں یہ ہدایت کے خیالات پیدا کر تے ہوئے اُن کو پھر نئی زندگی، عزت، غلبہ، نیک نامی اور کامیابی بخش دے۔
    یہ دعائیں کرو اور متواتر کرو کیونکہ ہمارے پاس سوائے دعا کے اور کوئی چارہ نہیں۔ انسانی تدبیروں سے شاید ہم سینکڑوں سال میں بھی نہیں جیت سکتے۔ مگر الٰہی تدبیروں سے شاید ہم رات کو دھڑکتے دلوں سے سوئیں اور صبح کو کامیابی کی خوشخبری ہمارے چہروں کو سُرخ بنا دے۔
    پس اللہ تعالیٰ سے خصوصیت سے دعائیں کرو اور دوسروں سے بھی کہو کہ وہ دعائیں کریں۔ اپنے ہمسایوں کو خواہ وہ غیر احمدی ہوں کہو کہ آخر خداتعالیٰ کا خیال تو ہم سب میں مشترک ہے۔ ہم آپ لوگوں کو اپنی طرف نہیں بُلاتے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے خداتعالیٰ کی طرف جائیں اور اُس سے گریہ و زاری کے ساتھ دعائیں کریں تا یہ دن بدل جائیں، یہ تاریک بادل چھٹ جائیں اور خداتعالیٰ کی رحمت کا سورج پھر نکل آئے۔ ‘‘ (الفضل 11اپریل 1950ئ)

    7
    تم اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کرو کہ تمہارا مٹنا اللہ تعالیٰ کی غیرت
    کبھی برداشت نہ کر سکے۔
    (فرمودہ 31؍مارچ 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’گزشتہ جمعہ کا خطبہ دینے کے بعد مجھے مختلف اسٹیٹس کے دیکھنے کے لئے باہر جانا پڑا تو گرد وغبار کی وجہ سے میرے گلے کی تکلیف بہت بڑھ گئی جس کی وجہ سے میں اب اُتنا بھی نہیںبول سکتا جتنا گزشتہ جمعہ میں بولا تھا۔
    میں آج اختصار کے ساتھ جماعت کو ایک موٹی سی بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ لمبی باتیں جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں بیان کیا تھا بعض دفعہ انسان کو اُس کے مقصد سے دُور کر دیتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے فقرے یا چھوٹی چھوٹی تقریریں اُس کو اُس کے مقصد کے زیادہ قریب کر دیتی ہیں اور انسان ان کو یاد رکھ سکتا ہے۔
    بدر کی جنگ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف 313 آدمی تھے اور ان میںسے بھی پورے باہتھیار اور مسلّح آدمی تھوڑے تھے۔ ایک حصہ صحابہؓ کا ایسا تھا جس کے پاس سامان بھی پورا نہیں تھا۔ اس کے مقابلہ میں دشمن کی فوج ایک ہزار کی تعداد میں تھی اور وہ سب کے سب مسلّح اور سوار تھے۔ اِس حالت میں یہ قیاس کیا جا سکتا تھا کہ ایک ہزار آدمی 313 آدمیوں کو جبکہ وہ پوری طرح مسلّح بھی نہیں ہیں، جبکہ وہ سوار بھی نہیں ہیں اور جبکہ ان کی حرکتیں اِتنی تیز نہیں ہو سکتیں جتنی ان کے مقابل میں دشمن کی حرکتیں تیز ہو سکتی ہیں تھوڑی سی دیر میں ہی ختم کر دے گا۔ چنانچہ واقعات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ اُس وقت دشمن بھی یہی خیال کرتا تھا کہ ہم تھوڑے سے عرصہ میں ان کو مار لیں گے اور صحابہؓ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ظاہری حالات میں یہ تھوڑی سی دیر میں ہم پر غالب آجائیں گے۔ کیونکہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لشکر بندی ہو گئی تو صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لشکر کی صفوں سے پیچھے ایک مچان1 بنایا اور یہ خواہش کی کہ آپؐ اُس جگہ پر بیٹھیں اور پھر دو تیز چلنے والی اونٹنیاں جو سارے لشکر میں سب سے زیادہ تیز چلنے والی تھیں اُس مچان کے ساتھ لا کر باندھ دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان اونٹنیوں کو باندھتے ہوئے دیکھا تو آپؐ نے فرمایا یہ اونٹنیاں کیوں باندھی گئی ہیں؟ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم تھوڑے ہیں دشمن زیادہ ہے، وہ باسامان ہے اور ہم بے سامان ہیں۔ کوئی بعید نہیں کہ تھوڑے سے وقت میں دشمن ہم پر غالب آجائے اور ہم مارے جائیں۔ یہ اونٹنیاں اِس لئے باندھتے ہیں کہ آپؐ اور ابوبکرؓ دونوں اِن پر سوار ہو کر مدینہ پہنچ جائیں وہاں اَور مسلمان بھی ہیں جو اِس خیال سے اِس جگہ پر نہیں آئے تھے کہ شاید لڑائی نہیں ہو گی ورنہ وہ ایمان میں ہم سے کم نہیں ہیں۔ آپؐ کے وہاں سلامت پہنچ جانے کی وجہ سے اسلام قائم رہے گا۔ اور اگر آپؐ کو گزند پہنچا تو پھر اسلام کے قائم رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اس لئے یہ اونٹنیاں ہم نے یہاں کھڑی کر دی ہیں اور ابوبکرؓ کو بھی ہم یہاں بٹھا چلے ہیں تاکہ اگر ہم مارے جائیں تو آپؐ ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر مدینہ پہنچ سکیں۔ 2
    یہ بات دلالت کرتی ہے کہ جہاں دشمن یہ سمجھتا تھا کہ ہم نے ان کو مار لیا وہاں صحابہؓ بھی یہ سمجھتے تھے کہ شاید آج ہم مارے گئے۔ یہ بے شک فرق ہے کہ انہوں نے موسیٰ ؑکے ساتھیوں کی طرح ایسے موقع پر گھبرا کر یہ نہیں کہا کہ ۔3 بلکہ انہوں نے یہی کہا کہ اے خدا کے رسول! ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے4 اور دشمن جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے وہ آپؐ تک نہیں پہنچ سکتا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم پکڑے گئے بلکہ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہمیں خدا نے طاقت دی ہے اُسے ہم استعمال کریں گے اور اِس جنگ کو ہم عذاب نہیں سمجھتے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام سمجھتے ہیں۔ لیکن اِس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُس وقت یہی سمجھ رہے تھے کہ ظاہری حالات میں اِن تھوڑے سے لوگوں کا بچ رہنا ناممکن معلوم ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کو مچان پر بٹھا کر صحابہؓ میدانِ جنگ میں چلے گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گر گئے اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا مانگنی شروع کر دی اَللّٰھُمَّ یَا رَبِّ اِنْ اَہْلَکْتَ ہٰذِہِ الطَّائِفَۃَ الصَّغِیْرَۃَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا۔5 اے میرے خدا! اے میرے رب! میں اَور تو کچھ نہیں کہتا میںتیری توجہ صرف اِس طرف پِھرانا چاہتا ہوں کہ اگر یہ چھوٹی سی جماعت (کیونکہ دشمن کے غلبہ کی یہی وجہ تھی کہ وہ بہت زیادہ تھا اور یہ تھوڑے تھے جسے بظاہر چھوٹا ہونے کی وجہ سے مر جانا اور تباہ ہو جانا چاہیے) آج اِس میدان میں ماری گئی تو فَلَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا اِس دنیا میں آئندہ تیری عبادت کرنے والی جماعت اور کوئی باقی نہ رہے گی۔
    یہ واقعہ اپنے اندر بہت سے سبق رکھتا ہے لیکن ایک بہت بڑا سبق جو اس سے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اِس بات کی شہادت دیتے ہیں اور اُس وقت دیتے ہیں جبکہ کوئی غیر موجود نہیں جس کو خوش کرنا مقصود ہو۔ اُس وقت دیتے ہیں جبکہ اپنی جماعت بھی موجود نہیں جس کے حوصلے بڑھانے مقصود ہوں۔ صرف ابوبکرؓ پاس تھے۔ گویا نہ دشمن موجود ہے جس کا دل توڑنا مقصود ہے نہ دوست موجود ہے جس کا حوصلہ بڑھانا مقصود ہے۔ صرف خدا اور اُس کا بندہ دونوں اُس جگہ پر ہیں۔ اُس وقت وہ یہ شہادت دیتے ہیں کہ اے میرے رب! اگر یہ جماعت مر گئی تو دنیا میں تیرا نام لیوا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ یا دوسرے لفظوں میں آپؐ نے یہ کہا کہ اے میرے رب! تیرا نام صرف اِس جماعت کے ساتھ زندہ ہے۔ یہ صحابہؓ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شہادت تھی مگرکتنی عظیم الشان شہادت تھی۔ یہ اِس بات کی شہادت تھی کہ اگر یہ لوگ نہ رہے تو خداتعالیٰ کا نام بھی دنیا میں نہیں رہے گا۔ گویا اگر ایک لحاظ سے خدا زندہ رکھنے والا تھا مسلمانوں کو، خدا زندہ رکھنے و الا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو ،تو دوسرے لفظوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ بھی زندہ رکھنے والے تھے خدا کو۔ جس طرح خدا نہ ہوتا تو یہ دنیا بھی نہ ہوتی۔ اِسی طرح صحابہؓ کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھی سچی تھی کہ اگر وہ نہ ہوتے تو اِس دنیا میں خدا بھی نہ ہوتا۔ اگر یہ بات سچی تھی اور اِس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ سچی تھی، قطع نظر اِس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کے رسول تھے اور سچے تھے اور وہ کوئی خلافِ واقعہ بات نہیں کہہ سکتے تھے۔ ایک کافرکو بھی یہ ماننا پڑے گا، ایک منکرِ اسلام کو بھی یہ ماننا پڑے گا کہ جن حالات میں یہ شہادت دی گئی تھی اُن کومدنظررکھتے ہوئے دُنیوی لحاظ سے بھی یہ شہادت بہت بڑی اہمیت رکھتی تھی۔ قطع نظر اِس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے رسول تھے، قطع نظر اِس کے کہ آپؐ صادق اور امین تھے، قطع نظر اِس کے کہ کوئی غلط کلمہ آپ کی زبان سے نہیں نکل سکتا تھا۔ کوئی اَور لیڈر بھی اگر ان حالات میں یہ بات کہتا تو ماننا پڑتا کہ اُس کا یقین وہی تھا جس کا اُس نے اظہار کیا۔ اور اُس کے نقطۂ نگاہ سے تسلیم کرنا پڑتا کہ وہ اپنی جماعت کے متعلق یہی عقیدہ رکھتا تھا کہ خدا تعالیٰ اِس جماعت سے زندہ ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ جس جماعت سے خدا زندہ ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ جس جماعت سے خدا زندہ ہو اُس کا مٹنا کوئی معمولی بات نہیں ہو سکتی۔ جس جماعت سے خدا زندہ ہو کیا کسی انسان کے تصور میں بھی آسکتا ہے کہ خداتعالیٰ کے فرشتے اور اُس کا قانونِ قدرت اور یہ سورج اور یہ چاند اور یہ زمین اور یہ آسمان جو خدا تعالیٰ کے غلام ہیں وہ کبھی اُس کو مرنے دیں گے جس سے ان کا آقا زندہ ہے؟ پھر کیا خدا اُن کو مرنے دے سکتاہے جن سے وہ خود زندہ ہے؟ یہ ایک ایسی شہادت ہے جس سے صحابہؓ اپنے ذہن میں فیصلہ کر سکتے تھے کہ ہم دنیا میں ایک بہت بڑا کام کر رہے ہیں اور ہماری اس دنیا میں ضرورت ہے۔
    میں پوچھتا ہوں کہ ہماری جماعت اپنی ضرورت کس لحاظ سے سمجھتی ہے؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اے خدا! اگر یہ چھوٹی سی جماعت مر جا ئے تو تیرا نام لینے والا اِس دنیا میں کوئی باقی نہیں رہے گا؟ جن معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فقرہ کہا تھا کم سے کم میں اُن معنوں میں یہ فقرہ اپنی جماعت کی نسبت نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ ابھی مجھے ان کی نمازوں میں کمزوریاں نظر آتی ہیں۔ ابھی نماز کو نماز کی حقیقت کے ساتھ پڑھنے والے بہت کم لوگ ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوسروں کی نسبت زیادہ نمازیں پڑھنے والے لوگ ہم میں موجود ہیں۔ لیکن نماز کو نماز کی صورت میں پڑھنا بالکل اَور چیز ہے۔ اِسی طرح دوسرے اخلاقِ فاضلہ ہیں جن میں ابھی بہت بڑی کمی دکھائی دیتی ہے۔ لَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ میں جو عبادت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اُس کے خالی یہ معنی نہیں ہیں کہ نماز پڑھی جائے۔ بلکہ درحقیقت دین کے تمام احکام عبادت میں شامل ہیں۔ اگر کوئی شخص سچ اِس لئے بولتا ہے کہ اُسے دنیا میںعزت حاصل ہو تو وہ سچ کا فائدہ اُٹھا لے گا مگر اُس کا سچ عبادت نہیں ہو گی۔ لیکن اگر کوئی شخص اِس لئے سچ بولتا ہے کہ میرے خدا نے کہا ہے کہ سچ بولو تو وہ سچ کا فائدہ بھی اُٹھالے گا اور اس کا سچ عبادت بھی بن جائے گا۔ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ مسلمان جو اپنی بیوی کے منہ میں لُقمہ ڈالتا ہے اِس نیت اور ارادہ سے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے تو اُس کا اپنی بیوی کے منہ میں لُقمہ ڈالنا بھی ثواب کا موجب ہو گا اور اُس کا یہ فعل عبادت شمار ہو گا۔6 اب جو چیز دی گئی ہے وہ روٹی ہے۔ کھانے والی بیوی ہے۔ مگر خدا کہتا ہے کہ یہ میری عبادت ہے کیونکہ یہ میرے نام سے اور میری خاطر دی گئی ہے۔
    پس نماز کا نام ہی عبادت نہیں بلکہ ہر اس چیز کا نام عبادت ہے جو خدا کے لئے کی جاتی ہے۔ حتّٰی کہ اَور تو اَور اگر اپنے منہ میں بھی کوئی شخص اِس لئے لُقمہ ڈالتا ہے کہ خدا نے کہا ہے 7 تو اُس کا اپنے منہ میں لُقمہ ڈالنا بھی عبادت بن جاتا ہے۔ شاید تم میں سے بعض لوگ کہیں کہ یہ تو بڑی آسان بات ہو گئی اِس میں مشکل ہی کیا ہے۔ اِس شبہ کے ازالہ کے لئے میں تمہارے پردے تو چاک کرنا نہیں چاہتا لیکن اگرابھی میں تم سے پوچھوں کہ تم میں سے کتنے ہیں جو پڑھ کر کھانا کھاتے ہیں؟ تو شاید تم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو کھڑے ہوں گے۔ حالانکہ جہاں سچا عشق ہوتا ہے وہاں انسان آپ نئی نئی ایجادیں کیا کرتا ہے۔ مگر ہمارے لئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایجادیں کی ہوئی ہیں ہم اُن کو بھی اختیار نہیں کرتے۔ اگرمیں تم سے پوچھوں کہ تم میں سے کتنے لوگ ہیں جو کھانا کھانے کے بعد ! کہتے ہیں؟ تو تم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو کھڑے ہوں گے۔ جب تم نے میری یہ بات سُنی تھی کہ ہمارا کھانا کھانا بھی عبادت ہے تو تم نے اپنے دل میں سمجھا تھا کہ یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے اب تو ہمارے لئے آسانی ہی آسانی ہو گئی ہے۔ مگر میں نے بتایا ہے یہ چھوٹی بات نہیں۔ تم باقاعدہ کہہ کر بھی کھانا نہیں کھاتے۔ مگر اِس جگہ میری مراد وہ نہیں جو لوگ بِلا سوچے سمجھے کہہ دیتے ہیں اور جس کے مفہوم کو وہ سمجھتے ہی نہیں۔ بلکہ میری مراد یہ ہے کہ کیا تم اس مفہوم کے ساتھ کہا کرتے ہو کہ میرے سامنے جو کھانا پڑا ہے یہ میرا نہیں بلکہ خدا کا ہے اور اُس کی اجازت سے میں اِسے کھانے لگا ہوں؟ پھر کیا کھانا کھا کر تم کہتے ہو جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ کھانا مجھے خدا نے ہی دیا تھا کہ اُس نے مجھے یہ چیز کھلائی اگر وہ نہ کھلاتا تو میں کہاں سے حاصل کرتا؟شاید تم میں سے ایک دو فیصدی یا کچھ زیادہ لوگ ایسے نکلیں گے جو منہ سے تو کہتے ہیں مگر حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ منہ سے کہتے ہیں مگر حقیقت کو نہیں سمجھتے ۔اِن حالات میں تم بتاؤ کہ کیا تمہارے لئے خداتعالیٰ کے بندے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اے خدا! اگر تُو نے اِن لوگوں کو مرنے دیا تو تیرا نام لینے والا اِس دنیا میں کوئی نہیں رہے گا؟ یہ بظاہر ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر اِس کو تم اپنے نفس پر چسپاں کرو اور اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کرو کہ تمہارا مٹنا اللہ تعالیٰ کی غیرت کبھی برداشت نہ کر سکے تو تم کہیں سے کہیں ترقی کر کے نکل جاؤ۔ پس صبح اور شام سوچو کہ اگر میں مر جاؤں تو کیا خداتعالیٰ کی بادشاہت کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے؟ اگر تمہارا نفس تمہیں یہ جواب دے کہ ہاں پہنچے گا تو تم سمجھ لو کہ تم اور تمہارے جیسے کچھ اَور افراد (کیونکہ جماعت درحقیقت منظم افراد کے مجموعہ کا ہی نام ہوتاہے) کی وجہ سے ہی دینِ اسلام اور احمدیت کو بچا لیا جائے گا۔ لیکن اگر تمہارا نفس تمہیں یہ جواب دے کہ تمہارے مرنے سے خداتعالیٰ کی بادشاہت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتاتو جس طرح گھر میں ایک کُتّا داخل ہوتا اور نکل جاتا ہے اور کوئی اُس کو پوچھتا بھی نہیں یہی تمہاری حیثیت ہے۔ اور اگر تم اپنے نفسانی اغراض کو پورا کرنے میں ہر وقت منہمک رہتے ہو تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اگر تمہارا دشمن کبھی تم پر حملہ کرے تو زمین آسمان سے مخاطب ہو کر کبھی نہ کہے گی کہ اَللّٰہُمَّ اِنْ اَہْلَکْتَ ہٰذِہِ الطَّائِفَۃَ الصَّغِیْرَۃَ فَلَنْ ُتعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا۔ اے خدا !اگر یہ چھوٹی سی جماعت مار دی گئی تو پھر تیرا نام لینے والا اِس دنیا میں کوئی نہیں رہے گا۔ یہ مٹ جائیں گے پیشتر اِس کے کہ اُس عظمت کو حاصل کریں جس عظمت کو حاصل کرنے کے لئے یہ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ مٹ جائیں گے پیشتر اِس کے کہ اُس نظام کو قائم کریں جس نظام کو قائم کرنے کے لئے یہ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ مٹ جائیں گے پیشتر اِس کے کہ اُس شریعت کو قائم کریں جس شریعت کو قائم کرنے کے لئے یہ کھڑے ہوئے تھے۔ بے شک یہ مٹ جائیں گے کیونکہ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں اور اِن کا مٹانا کوئی مشکل امر نہیں۔ بے شک اِن کا نام لینے والا دنیا میں کوئی باقی نہیں رہے گا۔ ان کی شُہرت باقی نہیںرہے گی۔ تاریخ انہیں یاد نہیں رکھے گی۔ اور بے شک اِس میں ان کا نقصان ہے۔ مگر انسان ہونے کے لحاظ سے یہ اتنا بڑا نقصان نہیں۔ انسان ہوتا ہی گمنام ہے۔ اگر اِن کا نام مٹ گیا تو اے خدا! یہ وہ چیز کھوئیں گے جو انہیں ابھی ملی نہیں۔ یہ وہ چیز کھوئیں گے جو ابھی تیرے پاس ہے ان کے پاس نہیں آئی۔ انہوں نے ابھی اپنا نام پیدا کرنا تھا، انہوں نے ابھی تاریخ میں اپنے لئے مقام حاصل کرنا تھا۔ یہ مٹے تو وہ چیز کھوئیں گے جو ابھی انہیں نہیں ملی۔ مگر اے خدا! ان کے مٹنے کے ساتھ ہی تیرا نام بھی مٹ جائے گا جو پہلے سے موجود ہے۔ گویا یہ وہ چیز کھوئیں گے جو نہیں۔ اور تُو وہ چیز کھوئے گا جو ہے۔
    یہ کتنا غیرت دلانے والا فقرہ ہے۔ یہ خداتعالیٰ کی صفات کو کتنا جوش دلانے والا فقرہ ہے کہ لَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال فرمایا مگر اِس فقرہ نے عرشِ الٰہی کو ہلا دیا۔ اور یقینا جب آپؐ نے یہ فقرہ کہا تو اُس وقت آسمان کانپ گیا ہو گا کہ اے خدا! یہ ایک کمزور اور چھوٹی سی جماعت ہے۔ بے شک دنیا کی نگاہ میں یہ ایک ذلیل اور حقیر چیز ہے۔ بے شک یہ مٹ جائے گی اور مٹ سکتی ہے۔ دشمن اس پر غالب آجائے گا اور اسے مار ڈالے گا۔ مگر یہ مریں گے تو ان کا نقصان تھوڑا ہے، یہ مریں گے تو انہیں وہ چیز نہیں ملے گی جس کے لئے یہ دنیا میں کھڑے ہوئے تھے۔ لیکن اے میرے رب اگر یہ مرے تو اس دنیا میں تُو بھی مر جائے گا۔ تُو رَبُّ العالمین ہے مگر اِس دنیا میں تُو رب العالمین نہیں سمجھا جائے گا۔ تُو رحمن اور رحیم ہے مگر اِس دنیا میں تُو رحمن اور رحیم نہیں سمجھا جائے گا۔ تُوہے مگر اس دنیا میں تُو نہیں سمجھا جائے گا۔ تیرا رب العالمین اور رحمن اور رحیم اور ہونا ان تھوڑے سے لوگوں کے طفیل ہے۔ اِن مختصر الفاظ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی غیرت کو اِتنا بھڑکا دیا اور اُس کی صفات میں اِتنا جوش پیدا کر دیا کہ چند منٹ کے اندر اندر خداتعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اُتر آئے اور اس جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ جنگ بدر میں ابلق8 گھوڑوں پر سفید لباس پہنے ہوئے کچھ سوار ایسے تھے جو ہمارے اِردگرد رہتے تھے اور ہم جہاں بھی جاتے وہ ہمارے آگے آگے گھوڑے دَوڑاتے ہوئے پہنچ جاتے۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دشمن کو ہم نہیں مارتے بلکہ وہ مارتے ہیں۔9 یہ فرشتے تھے جو جنگِ بدر میں نازل ہوئے۔ مگر یہ فرشتے کیوں اُترے؟ اُسی جوش دلانے والے فقرہ کی وجہ سے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں استعمال فرمایا۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو ایسی جگہ سے پکڑا ہے کہ اب خداتعالیٰ کی غیرت یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ ان کو مرنے دے۔
    پس جب تک انسان اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا نہ کرے جس کی وجہ سے خداتعالیٰ اُس کی موت اور ہلاکت پر اپنی سُبکی اور اپنی صفات کی ہَیٹی 10محسوس کرے اُس وقت تک یہ امید رکھنا کہ بڑے بڑے کاموں میں وہ کامیاب ہو جائے گا بالکل غلط ہے۔ یہ نکتہ تم اپنے سامنے رکھو اور ہمیشہ سوچتے رہو کہ اگر ہم مرجائیں تو کیا ہو گا۔ اگر تمہارا مرنا ایسا ہی ہو جیسے ایک گدھے کا مرنا ہوتاہے یا ایک بکری اور گھوڑے کا مرنا ہوتا ہے تو سمجھ لو کہ تمہارے وجود سے اسلام کا جیتنا ناممکن ہے۔ پس اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا کرو کہ تم بھی محسوس کرو، دنیا بھی محسوس کرے اور آسمان کے فرشتے بھی محسوس کریں کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حیات ان لوگوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ جیئیں گے تو خداتعالیٰ کا نام بھی زندہ رہے گا۔ اور یہ مریں گے تو خداتعالیٰ کا نام مر جائے گا اور اُس کا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہے گا۔ اگر تم اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کر لو تو یقینا خداتعالیٰ کی مدد اور نصرت ایسے رنگ میں آئے گی کہ تمہاری مشکلات خس و خاشاک کی طرح اُڑ جائیں گی اور تمہارے راستہ میں کوئی روک باقی نہیں رہے گی۔ ‘‘
    (الفضل 4؍اپریل 1950ئ)
    1: مچان: تختہ یا لکڑیاں جو دیوار میں اسباب وغیرہ رکھنے کے لئے اونچی جگہ لگا دیتے ہیں۔ (فیروز اللغات اردو جامع)
    2: سیرت ابن ہشام جلد 2صفحہ272 بناء العریش لرسول اللّٰہ ﷺ مطبع مصر1936ء
    3: المائدہ: 25
    4: صحیح بخاری کتاب المغازی باب قول اللّٰہ تعالیٰ ’’اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّہُمْ‘‘
    5: صحیح مسلم کتاب الجہاد باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر میں یہ الفاظ ہیں۔ ’’ اَللّٰہُمَّ اِنْ تُہْلِکْ ہٰذِہِ الْعِصَابَۃَ فِی الْاِسْلَامِ لَا تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ‘‘
    6: صحیح بخاری کتاب النفقات باب فضل النفقۃ علی الاھل
    7: الاعراف: 32
    8: ابلق: دورنگا (سیاہ و سفید) گھوڑا۔( از فیروز اللغات اردو جامع )
    9: مصنف ابن ابی شیبہ کتاب المغازی باب غزوۃ بدر الکبریٰ و متی کانت و امرہا جلد 14 صفحہ364 مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی 1986 ء (مفہوماً)
    10: ہیٹی: ذلّت، سبکی (فیروز اللغات اردو جامع)

    8
    اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہمیں بہت بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے
    (فرمودہ7؍اپریل 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص منشاء کے ماتحت ہماری جماعت کے سپرد ایک اہم کام کیا ہے اور اِس کام کو پورے طور پر بجا لانا ہمارے فرائض میں سے ہے۔ اگر ہم ان فرائض کو صحیح طور پر پورا کریں تو اللہ تعالیٰ سے بڑے بڑے انعامات کے مستحق ہوں گے۔ اور اگرصحیح طور پر پورا نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اُس کی سزا کے مستحق ہوں گے۔ لیکن چونکہ انسانی عقل کمزور ہے، اِسی طرح اُس کا ذہن بھی کمزور ہے۔ اِس لئے وہ کئی دفعہ تو اپنے طور پر یہ خیال کر لیتا ہے کہ وہ جو کام کر رہا ہے وہ اُس معیار کے مطابق ہے جس کے مطابق اُس سے خواہش کی گئی ہے۔ اور کبھی وہ اپنی معذرت کے مختلف دلائل مہیا کر لیتا ہے اور یہ کہہ کر نفس کو تسلی دے لیتا ہے کہ جن حالات میں یہ باتیں کسی انسان پر واجب ہوتی ہیں وہ حالات میرے نہیں۔ اور یہ دونوں باتیں اِس طرز پر ظاہر ہوتی ہیں کہ اُن سے بچنے کی طاقت وہ کھو بیٹھتا ہے۔ غیر شخص کے دھوکا کو پہچاننا مشکل امر نہیں ہوتا۔ لیکن اپنے نفس کے دھوکا کو پہچاننا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جب دشمن کوئی بات کہتا ہے تو انسان اُس سے بچنے اور اُس کو بے اثر ثابت کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور اپنے نفس کو کہتا ہے کہ ہوشیار ہو جا۔ دشمن جو کچھ کہے گا تیرے فائدہ کے خلاف کہے گا اور تیری
    ترقی کے راستہ میں روڑے اٹکائے گا۔ ایسی صورت میں وہ پورے غور اور تدبر کے بعد دشمن کے حیلہ کو ناکام بنا دیتا ہے۔ لیکن جب اُس کا اپنا نفس ہی اُس سے دھوکا کرنے لگ جاتا ہے تو اُس پر جرح اور تنقید کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ انسانی نفس ہر بات خیر خواہ بن کر کہتا ہے۔ دنیا میں جتنی ٹھوکریں بیویوں کو خاوندوں سے، خاوندوں کو بیویوں سے، اولادکو ماں باپ سے اور ماں باپ کو اولاد سے اور بہن بھائیوں کو ایک دوسرے سے لگتی ہیں وہ صرف نفسانی دھوکا کی وجہ سے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ بیویاں اور اولاد انسان کے لئے فتنہ ہیں1 اور شیطان نے بھی حضرت آدم علیہ السلام کو خراب کرنا چاہا تو اُس نے یہی طریق اختیار کیا اور اُن سے کہا میں تمہارا ناصح اور خیر خواہ ہوں۔ اگر شیطان حضرت آدم علیہ السلام کے پاس دشمن بن کر آتا تو وہ کبھی فریب میں نہ آتے۔ لیکن وہ دوست بن کر آیا اور دوست بن کر اُس نے آپؑ کو فریب دیا۔
    غرض دوست بن کر بہت سے فریب دیئے جاتے ہیں۔ اور نفس سے زیادہ اور دوست کون ہو گا۔ اور اگر نفس ہی دشمنی کرنے لگ جائے تو انسان اس پر جرح کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ صلحاء اور صوفیاء نے کہا ہے کہ سب سے بڑا دشمن تیرا اپنا نفس ہے۔اِس کے یہ معنی نہیں کہ کسی کا نفس دیدہ و دانستہ اُسے تباہی کے گڑھے میں لے جانا چاہتا ہے۔ کسی ذلیل سے ذلیل شخص کا نفس بھی دیدہ و دانستہ اُسے تباہی کے گڑھے میں نہیں گرانا چاہتا۔ نفس کی سب سے بڑی دشمنی یہ ہے کہ وہ انسان کے ظاہری فائدہ کے لئے ایسی دلیلیں دیتا ہے کہ وہ اگر دشمن کے منہ سے سُنی جائیں تو انسان اُنہیں فورًا ردّ کر دے۔ لیکن نفس کی پیش کی ہوئی دلیلوں کو انسان ردّ نہیں کر سکتا۔ پس اِس کے یہ معنی بھی نہیں کہ کسی کا نفس یہ چاہتا ہے کہ وہ دوزخ میں جا پڑے اور وہ ذلیل ہو جائے۔ نفس کی سب سے بڑی دشمنی کے یہ معنی ہیں کہ وہ انسان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانا نہیں چاہتا لیکن وہ نقصان پہنچا دیتا ہے۔ اور اِس میں اور دوسری قسم کی دشمنی میں فرق ہے۔ دشمن نقصان پہنچانا چاہتا ہے لیکن پہنچا نہیں سکتا۔ اور نفس نقصان نہیں پہنچانا چاہتا لیکن وہ نقصان پہنچا دیتا ہے۔
    پس ان حالات میں ہمیں اِس بات کی ضرورت ہے کہ ہم قدم بقدم سوچ کر چلیں اور اپنے دماغ کو اِس بات کا عادی بنا لیں کہ وہ سچ کو دیکھے اور اسے پرکھنے کی قابلیت پیدا کر سکے۔ آخر یہ کام پہلوں نے کئے ہیں پھر ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ مشکل ضرور ہے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وقت صحابہؓ نے یہ کام کئے تھے اور ان کے بعد آنے والے صلحاء نے بھی یہ کام کئے۔ پس یہ کام مشکل تو ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اور جب ناممکن نہیں اور ہم سے پہلے کئی لوگ یہ کام کر چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسی رستہ پر چلیں اور کامیابی نہ دیکھیں۔ فرق صرف اِتنا ہے کہ ہمیں اِس بات کی مشق کرنی چاہیے کہ ہم نفس کے دھوکا کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بے شک دشمن کے دھوکا کو سمجھنے کے لئے بھی ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ مگر انسان اس کے لئے پہلے سے تیار ہوتا ہے۔ نفس کے دھوکا کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم اس بات کا عزم کر لیں کہ نفس کے دھوکا کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہیں گے اور اپنے آپ کو صحیح راستہ پر چلنے کی عادت ڈالیں گے۔
    بعض احادیث میں آتا ہے حَاسِبُوْا قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا 2 تم اپنے نفس کا محاسبہ کرو پیشتر اِس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔ بعض کے نزدیک یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا قول نہیں بلکہ کمزور روایت کا فقرہ ہے۔ ہمیں اِس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے نزدیک اِس میں ایک نہایت ہی لطیف بات بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ تم اپنے نفس کا محاسبہ کرو پیشتر اِس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔ جو شخص اپنے نفس کا پہلے محاسبہ کر لے گا وہ عین وقت پر شرمندہ نہیں ہو گا۔ ایک شخص جب گھر سے سفر کے لئے نکلتا ہے اور چلنے سے پیشتر وہ اپنے سامان کو دیکھ لیتا ہے وہ منزلِ مقصود پر پہنچ کر پریشان نہیں ہوتا۔ لیکن جو شخص گھر سے نکل پڑتا ہے اور سب سامان کا جائزہ نہیں لیتا وہ منزلِ مقصود پر پہنچ کر شرمندہ اور ذلیل ہوتا ہے۔ اِسی طرح اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ مرنے کے بعد اُسے کس کس چیز کی ضرورت ہے اور وہ مرنے سے قبل اُن سب چیزوں کو مہیا کر لے تو وہ مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کے سامنے شرمندہ اور ذلیل نہیں ہو گا۔ لیکن اگر کوئی شخص محاسبہ نہ کرے اور اُس کا کوئی خانہ خالی ہو تو وہ اُسے پُر کرنے کے لئے دنیا میں واپس نہیں آسکے گا۔ جب ایک دفعہ کشتی چلی گئی تو وہ کشتی اِس دنیا میںو اپس نہیں آسکتی کیونکہ اُس کا کنارا اگلا جہان ہے جہاں سے مرنے کے بعد کوئی شخص واپس نہیں آیا کرتا۔
    پس اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہمیں بہت بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اور اِس کے ساتھ نفس کی صفائی کی بھی ضرورت ہے۔ توکّل کی بھی ضرورت ہے۔ طہارت کی بھی ضرورت ہے۔ تقویٰ و پرہیزگاری کی بھی ضرورت ہے۔ دن پر دن گزرتے جاتے ہیں، سال پر سال گزر رہے ہیں یہاں تک کہ ایک وقت لوگ کہیں گے کہ 100سال ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے تھے لیکن ہمارا کام ابھی بالکل ابتدائی حالت میں ہے۔ ہماری منزل کا ابھی کوئی نشان بھی نہیں ملتا۔ اِس لئے ہمیں بہت زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہے۔ بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی زندگی میں اُس بنیاد کو تو قائم کر لیں جس پر احمدیت کی عمارت قائم ہونے والی ہے۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ 7جون 1950ئ)
    1:(التغابن :15)
    2: تفسیر روح البیان جلد 5صفحہ141 سورۃ الاسراء زیر آیت مطبع عثمانیۃ 1331 ھ

    9
    اپنے اندر عقل، عزم اور استقلال پیدا کرو
    (فرمودہ14؍اپریل 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میرے گلے میں تکلیف پہلے بھی تھی لیکن شوریٰ میں تین دن تک بولنے کی وجہ سے تکلیف اَور بھی بڑھ گئی ہے۔ گو خداتعالیٰ کا اتنا فضل ہوا ہے کہ آواز بیٹھی نہیں لیکن بھرّاگئی ہے۔ کان میں بھی درد ہے اور بخار بھی ہو گیا تھا اِس لئے نہ تو میں بلند بول سکتا ہوں اور نہ لمبا بول سکتا ہوں۔
    آج میں ایک ایسے امر کے متعلق خطبہ پڑھناچاہتا ہوں جو مجھے مسجد کے اندر آکر پیش آیا۔ جب کوئی شخص کسی شریعت اور قانون کو مانتا ہے تو اُس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ اُس کے پُرحکمت اور بالا ہونے کا قائل ہے۔ انسان اپنی آزادی کو یونہی برباد نہیں کرتا ۔وہ اپنی آزادی کو برباد کرنے کے لئے اُسی وقت تیار ہوتا ہے جب وہ چیز جس کے لئے وہ اپنی آزادی کو برباد کرتا ہے بہتر، اہم اور بالا ہو اور وہ سمجھتا ہو کہ اُس کے لئے جان، مال، آبرو اور وقت سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔ لوگ اپنی آزادی کی خاطر وطن چھوڑ دیتے ہیں، لوگ آزادی کو قائم رکھنے کے لئے اپنا مال قربان کر دیتے ہیں، عزتیں قربان کر دیتے ہیں، وہ بڑے بڑے عُہدے چھوڑ دیتے ہیں، بڑے بڑے رُتبے ترک کر دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آزادی ،انسانیت کا دوسرا نام ہے۔ وہ رُتبوں، عُہدوں، مال اور جان غرض ہر چیز سے زیادہ پیاری ہے۔ پس جب کوئی شخص کسی مذہب کو قبول کرتاہے تو دوسرے لفظوں میں وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ ہر چیز جس کے ذریعہ میں کسی نتیجہ تک پہنچ سکتا ہوں اُس کے سامنے ہیچ ہے اور اس کے لئے اپنا ارادہ مجھے کلّی طور پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جب مذہب کے یہ معنے ہیں تو ہمیں یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ مذہب کے اصول کی پابندی کریں۔ لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی طرف توجہ بہت کم کی جاتی ہے۔ احمدیت کے قیام کو 50 سے زیادہ سال ہو گئے ہیں اور اسلام کو قائم ہوئے 1400 سال ہونے والے ہیں لیکن عہدِ نبویؐ کے بعد بعض احکام کو اِس طرح ترک کر دیا گیا ہے کہ گویا وہ لغو اور فضول ہیں۔ ہماری جماعت نے بھی اُن کو قبول نہیں کیا۔ اور حالت یہ ہو گئی ہے کہ مذہب سنجیدگی کی بجائے مضحکہ خیز اور تمسخر معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مسجد میںبچے پیچھے بیٹھیں اور بڑے آدمی آگے بیٹھیں۔1 میں نے ربوہ آکر بھی اِس پر ایک خطبہ پڑھا تھا۔ لیکن اب تم دیکھ لو کہ ایک نئے مامور کی جماعت اِس پر کیا عمل کر رہی ہے؟ جماعت کے ناظر بھی یہاں موجود ہیں، علماء اور فقہاء بھی یہاں موجود ہیں، تم میں بعض کے باپ اور دادے بھی موجود ہیں لیکن کسی نے بھی یہ خیال نہیں کیا کہ اِس حکم کے بھی کوئی معنے ہیں۔ بچے آگے بیٹھے ہیں اور بڑے پیچھے بیٹھے ہیں۔ گویا تم نے اُس شخص کی باتوں کو جو آسمان سے آیا ہے بے حقیقت سمجھ رکھا ہے۔
    اسلام کا دوسرا حکم یہ ہے کہ اذان کو سنو اور اُس کے الفاظ منہ میں دہراؤ۔2 لیکن جب اذان ہو رہی تھی ایک لڑکے نے میرے ہاتھ پر پنجہ مارا اور پھر ایک رُقعہ دے دیا۔ اِسی طرح بار بار وہ میرے ہاتھ پر پنجہ مارتا اور مجھے رُقعہ دیتاجاتا۔ کوئی دیکھنے والا کیا کہتا؟ یہی کہ دوسرے کو کہتے ہیں کہ مسجد میں آکر ذکرِالٰہی کرو اور خود عمل نہیں کرتے۔ اگر اُس بچہ کی جگہ پر کوئی بڑاہوتا تو اُسے کچھ سمجھ ہوتی اور وہ ایسا نہ کرتا۔ یہ رُقعے اس بچے نے خود نہیں لکھے تھے کسی اَور نے دیئے اور اُس نے مجھے پکڑا دیئے۔ لیکن لکھنے والے کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ میں نے جس زبان سے اذان کے کلمات دہرانے ہیں اُسی زبان سے دعا کرنی ہے۔ اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دعا قبول کیسے ہو گی۔ خداتعالیٰ کی جب ہتک کی جائے تو میری یہ دعا کیسے سُنی جائے گی۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کہنے سے بھی ایسی دعا قبول نہیں ہو سکتی۔ رُقعہ دینے والے کو چاہیے تھا کہ جب میں مسجد سے باہر تھا وہ اُس وقت رقعہ دے دیتا یا اُس وقت رقعہ دیتا جب میں فارغ ہو کر واپس جاتا۔ اِدھر تو رقعہ دینے والوں نے مجھے ڈگڈگی بجانے والے کی طرح بنا یا ہے اور اُدھر اذان تمہاری باجہ بن گئی ہے۔ تم خدا تعالیٰ کی ہتک کرتے ہو اور جب تم اُس کی ہتک کرتے ہو تو وہ تمہارے حق میں میری دعا کیسے سُنے گا۔
    اِسی طرح ایک اَور بات ہے جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ مردوں والے کام عورتوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ آخر میں قیدی تو نہیں ہوں کہ کمرہ بند کر کے بیٹھا رہوں۔ کسی نہ کسی وقت دروازہ کھولوں گا لیکن اِدھر دروازہ کُھلا اور کسی عورت نے رقعہ دے دیا اور پاس آکر بیٹھ گئی کہ اِس کا جواب دو تو جاؤں۔ اگر کوئی مرد ہو تو میں کہوں کہ یہ رُقعہ دینے یا اِس کا جواب لینے کا طریق نہیں۔ اول تو مرد میں اِتنی سمجھ ہوتی ہے کہ وہ ایسا کام نہیں کرتا یا اُسے پتہ ہوتا ہے کہ مجھے باہر نکال دیا جائے گا۔ لیکن عورت کو پتہ ہے کہ مجھے کوئی باہر نہیں نکالے گا۔ میں نے جماعت کو بارہا منع کیا ہے کہ عورتوں کو رُقعے دے کر اندر بھیجنا ناشائستہ حرکت ہے۔ کل سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مردوں کے جو رُقعے عورتوں کے ہاتھ اندر جائیں گے میں وہ رُقعے دفتر میں نہیں بھیجوں گا بلکہ اُنہیں پھاڑ کر پھینک دوں گا اور رُقعہ لانے والی عورت کو کہوں گا کہ میں اِس کا جواب تمہیں نہیں دوں گا۔ جب تم کو اُس رقعہ کا جواب دو گھنٹہ کی بجائے دو دن تک یا دو ماہ تک یا دو سال تک بھی نہیں ملے گا تو تم سمجھ جاؤ گے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ عورتوں کو اگر کوئی تکلیف ہے تو میں نے حکم دیا ہوا ہے کہ وہ میری بیویوں سے کہیں اور میری بیویاں مجھے کہیں۔ اگر میں کوئی بات اُس عورت کے منہ سے سُننا چاہوں گا تو اُسے بلالوں گا کیونکہ بعض ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ جب تک وہ خود نہ سُنی جائیں انسان پر اُن کی حقیقت نہیں کُھلتی۔ اگر کوئی ایسی بات ہو تو میں خود بھی سن سکتا ہوں لیکن یہ چیز محدود ہونی چاہیے۔ عورتیں اپنے معاملات میں آزاد ہیں لیکن اُنہیں میری بیویوں کے پاس جانا چاہیے۔ اگر کوئی بات اہم معلوم ہوئی تو میں خود اپنے پاس بلا کر پوچھ لوں گا۔ لیکن عورتوں کے ہاتھ رُقعے بھیجنا میرے وقت پر ناجائز تصرف ہے۔ ہماری جماعت جو دنیا کی فاتح بننے والی ہے اسے اپنے کاموں میں سمجھ سے کام لینا چاہیے۔
    میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ رقعے بھیجنے کے آخر معنے ہی کیا ہیں۔ کسی کو کوئی ضرورت ہو تو وہ مختصر طور پر مجھے زبانی بتا دے۔ صحابہؓ اِسی طرح کیا کرتے تھے اُن سے رُقعے لکھنا ثابت نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب باہر تشریف لاتے تو جس صحابی کو کوئی ضرورت ہوتی وہ آگے بڑھ کر مختصر طور پر بات کر دیتا۔ لیکن یہاں اول تو رُقعے لکھے جاتے ہیں اور پھر اختصار کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ کسی کے ہاں اگر اولاد نہیں ہوتی اور اُس نے دعا کے لئے کہنا ہوتاہے تو وہ بیان یوں کرتاہے کہ میں نے فلاں جگہ پر شادی کی تھی، نکاح آپ نے ہی پڑھا تھا، فلاں جگہ مہر پر جھگڑا ہوا تھا، فلاں جگہ اور فلاں حکیم سے علاج کروایا ہے لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ اور اِس طرح ایک لمبی کہانی بیان کرنے کے بعد آخر میں وہ یہ فقرہ کہہ دے گا کہ حضور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اولاد عطا کرے۔ گویا پانچ منٹ وہ بالکل لغو باتوں میں ضائع کر دیتا ہے جس کا دعا سے تعلق نہیں ہوتا۔ صرف یہ کہہ دینا کافی ہوتاہے کہ میرے ہاں اولاد نہیں ہوتی آپ دعا کریں۔ یا کسی کے ہاں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوتی ہیں تو یہ کہنا کافی ہے کہ میری نرینہ اولاد نہیں آپ دعا کریں۔ یا اولاد ہوتی ہے مر جاتی ہے آپ دعا کریں۔ مگر میں نے دیکھا ہے جب کسی کو ایسی لغو اور فضول باتوں سے روکا جاتا ہے تو وہ کہہ د یتا ہے ٹھہریئے میں وہیں آرہا ہوں۔ مگر سوال یہ ہے کہ تم مجھے کیوں اپنے ساتھ لے جارہے ہو۔ صحابہؓ ایسا نہیں کرتے تھے۔ وہ نہایت مختصر طور پر اپنی ضرورت بیان کر دیا کرتے تھے۔ ایک صحابیؓ بات کر لیتے تو دوسرے آگے آجاتے۔ دوسرے بات ختم کر لیتے تو تیسرے آگے آجاتے۔
    میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ دعا کا موقع جمعہ کا ہے اور تم اِس وقت رقعے دیتے ہو اور تم دیکھتے ہو کہ میں وہ رُقعے جیب میں ڈال لیتا ہوں۔ دعا کا وقت تو گزر گیا پھر دعا کب ہو گی۔ لیکن اگر تم زبانی کہو تو نماز میں دعا کی جا سکتی ہے۔ یہ تو ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی شخص قصاب کے پاس گوشت لینے جائے اور اِدھر اُدھر پھر کر گھر واپس آجائے اور دہلیز سے آگے گزرنے لگے تو کہے مجھے آدھ سیر گوشت تول دو۔ دعا کا جو وقت تھا وہ تم نے گزار دیا۔ تم نے رقعہ دیا اور میں نے جیب میں ڈال لیا۔ آخر میں ایسا بے وقوف تو نہیں کہ رقعے پڑھنے کے لئے نماز چھوڑ دوں۔ جس نے دعا کے لئے زبانی کہا اُن کے لئے خواہ اجمالی رنگ میں دعا کر لی جائے یا الگ کر لی جائے اُسے دعا پہنچ گئی۔ پھر کہنے والا دوسری دعاؤں میں شامل ہو جاتا ہے۔ مثلاً نماز میں 3کہا جاتا ہے تو وہ اس میں شریک ہو جاتا ہے۔ 4کہا جاتا ہے تو وہ اس میں شریک ہو جاتا ہے۔ اور جب 5کہا جاتا ہے تو وہ اس میں شریک ہو جاتا ہے مگر رقعہ والا دیکھتا ہے کہ اُس کا رقعہ میں جیب میں ڈال رہا ہوں اور اُسے واپس گھر جا کر ہی پڑھوں گا اور اِتنے میں دعا کا وقت گزر جائے گا مگر وہ اِس فعل سے باز نہیں آتا۔ یہ غیر عقلی طریق ہے۔ میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ جماعت کو عقل سے کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں لیکن کرتے نہیں۔ جب نئی پَود آتی ہے تو وہ اُن کو بُھول جاتی ہے۔ میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ بڑوں کو چاہیے کہ وہ چھوٹوں کو سمجھائیں۔ مثلاً ا۔ب۔ج تینوں ایک بات جانتے ہیں تو اُنہیں چاہیے کہ وہ ’’د‘‘ کو بھی سمجھائیں۔ لیکن بجائے اِس کے کہ وہ سمجھائیں خود بھی وہی کام کرنے لگ جاتے ہیں جو ’’د‘‘ بے خبری کے عالَم میں کرتا ہے۔ پس تم اپنے اندر عقل پیدا کرو، عزم اور استقلال پیدا کرو ورنہ تم دوسری قوموں پر زیادہ اثر نہیں ڈال سکو گے اور تمہاری زندگیاں کارآمد نہیں ہوں گی۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ یکم جون 1950ئ)
    1: ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب مَا جَائَ لِیَلِیَنِیْ مِنْکُمْ اُولُوا الْاَحْلَامِ وَالنُّھٰی
    2: صحیح بخاری کتاب الاذان باب مَا یَقُوْلُ اِذَا سَمِعَ الْمُنَادِی
    3: الفاتحۃ:6
    4،5: الفاتحۃ:7













    10
    مسجد ہالینڈ اور مسجد واشنگٹن کے لئے چندہ کی تحریک
    (فرمودہ12؍مئی 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’اصل میں تو عمر کا تقاضا ہوتا ہے کہ انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک بیماری جاتی ہے تو دوسری آجاتی ہے۔ بظاہر وہ بیماریاں الگ الگ قسم کی نظر آتی ہیں لیکن درحقیقت اُن کی وجہ ایک ہی ہوتی ہے یعنی عمر کا تقاضا۔پچھلے دو تین دنوں سے مجھے شدید امتلاء کی تکلیف ہے جیسے تخمہ1 یا ہیضہ میں ہوتی ہے۔ ابھی پوری طرح افاقہ نہیں ہوا اب بھی بعض دفعہ اس کا دَورہ ہو جاتا ہے۔
    میں آج نہایت ہی اختصار کے ساتھ جماعت کو اُن چندوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں جن کا اعلان کچھ عرصہ سے وکالتِ مال کی طرف سے اخبار میں ہو رہا ہے۔ یعنی مسجد ہالینڈ اور مسجد واشنگٹن کے لئے چندہ کی تحریک۔ دنیا میں ہر زمانہ میں کچھ آبادی کے مرکز ہوا کرتے ہیں اور کچھ تہذیب کے مرکز ہوا کرتے ہیں۔ اِسی طرح کچھ مذہب کے مرکز ہوا کرتے ہیں۔ اِس زمانہ میں چند اقوام کو دنیا میں خصوصیت حاصل ہے۔
    ایک تو اِس وقت ہندوستان کو فوقیت اور اہمیت حاصل ہے یعنی وہ ہندوستان جس میں پاکستان اور بھارت دونوں شامل ہیں ۔ بھارت میں احمدیت کا وہ مستقل مرکز موجود ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اسلام کی اشاعت اور ترقی کے لئے موجودہ دَور میں مرکزی مقام قرار فرمایاہے۔ اور پاکستان میں اِس وقت وہ فعّال مرکز ہے جس کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہو رہی ہے۔ پس مذہبی مرکز کے لحاظ سے تو ہندوستان یا وہ ملک جو پاکستان اور بھارت کا مجموعہ ہے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
    پھر دوسرے نقطۂ نگاہ سے یعنی اصلیت کے لحاظ سے عرب ممالک نہایت ہی اہم حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ اسلام اِنہی سے نکلا اور انہی سے باہر پھیلا۔ اور وہ مقامات جن کے ساتھ انسانی عبادات وابستہ ہیں وہیں واقع ہیں۔ لیکن اِس وقت وہ فعّال مرکز نہیں۔ اسلام کی اشاعت اور تنظیم کی طرف اُنہیں کوئی توجہ نہیں۔ غرض اصلیت کے لحاظ سے عرب ممالک دنیا پر فوقیت رکھتے ہیں خواہ وہاں تبلیغ کا کام نہ ہو رہا ہو۔
    تیسرا مرکز اِس وقت جنوب مشرقی ایشیا ہے جو آبادی کے لحاظ سے بہت بڑی فوقیت اور عظمت رکھتا ہے۔ انڈو چائنا 2 ، ملایا، سیام 3، انڈونیشیا اور فلپائن ان کو اگر ملا لیا جائے تو آبادی کے لحاظ سے یہ علاقہ دنیا کا تیسرا حصہ ہے۔ لیکن رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا حصہ تو کُجا چھٹا حصہ بھی نہیں۔ اِن ممالک میں سے جو اسلام کے ساتھ تعلق رکھنے والا علاقہ ہے وہ انڈونیشیا کا ہے۔ انڈونیشیا اِس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اسلام اگر مشرقی ایشیا میں ترقی کر سکتا ہے تو صرف یہی ملک اس کا مرکز ہو سکتا ہے۔ چین میں بھی مسلمان ہیں لیکن اُتنی آبادی نہیں جتنی انڈونیشیا کی ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ اقلیت کی حالت میں ہیں اور اپنے وجود کو غیرمسلموں سے منوا نہیں سکتے۔ انڈونیشیا کو یہ فوقیت بھی حاصل ہے کہ یہ ملک ایشیائیوں کے ماتحت بھی ہے اور اِس میں آبادی بڑھنے کے سامان بھی موجود ہیں۔ بورنیو کا جزیرہ ہندوستان کے نصف سے بڑا ہے لیکن اُس کی آبادی صرف پچیس تیس لاکھ ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ مسلمانوں کا ایک حصہ ایسے ملک پر قابض ہے کہ وہاں دس پندرہ کروڑ کی آبادی بڑھائی جا سکتی ہے۔ یہ فوقیت اَور کسی ملک کو حاصل نہیں۔ باقی ملک گنجان طور پر آباد ہیں اور ترقی کی گنجائش ان میں موجود نہیں۔ پھر انڈونیشیا کا ہالینڈ سے تعلق ہے اور چونکہ وہ چھوٹا سا ملک ہے انڈونیشیا کے اُس کے ساتھ ملنے کی وجہ سے مسلمانوں کی آبادی ڈچ ایمپائر میں بڑھ جاتی ہے اور اِس وجہ سے ایک یورپین ایمپائر میں مسلمانوں کا حصہ زیادہ ہو کر مسلمانوں کا سیاسی نفوذ بڑھ جاتا ہے۔
    چوتھی اہمیت امریکہ کو حاصل ہے جو اسے تہذیب اور کمال کے لحاظ سے حاصل ہے۔ امریکہ کی تنظیم، دولت، تجارت، صنعت و حرفت، حکومت اور تہذیب کے لحاظ سے سارے ملکوں میں نمبر اول پر ہے۔
    پانچویں خصوصیت دنیا کے ملکوں میں سے افریقن قبائل کو حاصل ہے۔ خصوصاً وسطی قبائل کو۔شمالی حصہ پہلے سے مسلمان ہے اور جنوبی حصہ پر بعض مغربی قومیںقابض ہیں۔ لیکن وسطی حصہ ابھی تک مقامی لوگوں کے ماتحت ہے اور اس میں اب بیداری کے سامان پیدا ہو رہے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت چوٹی کے ملکوں میں شامل ہو جائے گا۔
    یہ پانچ ایسے ملک ہیں جو دوسرے ممالک پر اہمیت اور خصوصیت رکھتے ہیں۔ اِن میں سے چار ملک ایسے ہیں جن میں نمایاں طور پر احمدیت کو خصوصیت حاصل ہے۔ مثلاً پاکستان اور ہندوستان میں جن کو آجکل ایشیا میں سیاسی برتری حاصل ہے یہاں احمدیت کے مراکز واقع ہیں۔ انڈونیشیا ان ابتدائی ممالک میں سے ہے جہاں احمدیت پھیلی اور پھیل رہی ہے۔ افریقہ میں اگر کوئی اسلامی جماعت کام کر رہی ہے یا کسی اسلامی جماعت کو نفوذ اور اثر حاصل ہے تو وہ احمدیہ جماعت ہے۔ اور امریکہ میں بھی ہماری ہی جماعت کی تبلیغ ہو رہی ہے اور وہاںکے لوگوں کو احمدیت میں صرف داخل ہونے کی توفیق ہی نہیں ملی بلکہ انہیں قربانی کرنے کی بھی توفیق ملی ہے۔ یُوں تو اتنے بڑے ملک میں چار پانچ سَو لوگوں کا احمدی ہو جانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ لیکن جنس دیکھی جاتی ہے تعداد کی کمی اور زیادتی کو نہیں دیکھا جاتا ۔ ہم نے یہ نہیں دیکھنا کہ کتنے لوگوں نے احمدیت قبول کی ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ کتنی قربانی کرنے والے ہیں۔ مثلاً بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں بھیجا ہے۔ مسٹر رشید احمد یہاں ہیں۔ اور سینٹ لوئیس سے بھی مجھے خط آیا ہے کہ ایک نوجوان یہاں آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اِسی طرح سفید لوگوں میں سے بھی ایک عورت نے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ہمارے نزدیک تو سفید اور سیاہ سب برابر ہیں لیکن امریکہ میں ان میں ایک حد تک امتیاز اب تک برتا جاتا ہے۔ میں نے اُس عورت کو فی الحال یہاں آنے سے روک دیا ہے ۔ یہ چار ملک ہو گئے۔
    عربی ممالک میں بے شک ہمیں اُس قسم کی اہمیت حاصل نہیں جیسی ان ممالک میں حاصل ہے۔ لیکن پھر بھی ایک طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہو گئی ہے۔ اور وہ یہ کہ فلسطین میں عین مرکز میں اگر مسلمان رہے ہیں تو وہ صرف احمدی ہیں۔ بعض ہندوستانی اخبارات جن کو دشمنی کی وجہ سے ہمارا یہ کام قابلِ اعتراض نظر آیا ہے لکھتے ہیں کہ اگر انہیں فلسطین سے یہودیوں نے نہیں نکالا تو ضرور یہ یہود سے ملے ہوئے ہیں۔ جیسے ہم جب قادیان میں جم کر مقابلہ کر رہے تھے تو سب لوگ ہماری تعریفیں کرتے تھے لیکن اب کہتے ہیں کہ چونکہ احمدی ابھی تک قادیان میں بیٹھے ہیں انہیں ہندوستان سے ضرور کوئی تعلق ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دو لاکھ کے قریب عرب ابھی مقبوضہ فلسطین میں ہیں ۔مگر جو فوقیت ہمیں حاصل ہے وہ یہ ہے کہ ہم عین مرکز میں موجود ہیں۔ جیسے بھارت میں ابھی چار کروڑ مسلمان پائے جاتے ہیں لیکن ہمیں جو فوقیت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس مرکز میں موجود ہیں جہاں دوسرے مسلمان نہیں پائے جاتے ۔
    دوسرے شام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعض الہاموں سے پتہ چلتا ہے کہ احمدیت کے دَور میں وہ خصوصیت حاصل کرے گا۔ ان سب ممالک میں ہم نے احمدیت کا دائرہ وسیع اور منظم کرنا ہے۔ ان میں سے افریقہ میں جماعت سب سے زیادہ ہے اور ایسٹ افریقہ او رویسٹ افریقہ دونوں کو ملا کر ایک لاکھ کے قریب جماعت ہو جاتی ہے۔ اور پھر ان میں سُرعت کے ساتھ احمدیت بڑھ رہی ہے اور درجن کے قریب ہمارے مبلغ کام کر رہے ہیں۔ بلکہ اگر مقامی مبلغوں اور معلّموں کو ملا لیا جائے تو وہاںپچاس ساٹھ سے زائد مبلغ کام کر رہے ہیں۔ امریکہ میں اِس وقت چار مبلغ کام کر رہے ہیں مگر ابھی تک امریکہ کے مرکز میں مسجد نہیں بنی تھی ۔اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن جو امریکہ کا دارالحکومت ہے وہاں مسجد بنائی جائے۔ بلکہ ایک مکان سَوا لاکھ روپیہ کو خرید لیا گیا ہے۔ اس کے لئے دو ماہ سے جماعت میں چندہ کی تحریک ہو رہی ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اِس طرف پوری توجہ نہیں کی۔ شاید اِس کی وجہ یہ ہے کہ میری طرف سے تحریک نہیں ہوئی۔ حالانکہ جو الہامی سلسلے ہوتے ہیں اُن میں افراد کو نہیں دیکھا جاتا کام کو دیکھا جاتا ہے۔ جب مرکز کی طرف سے کوئی تحریک ہو تو خواہ وہ چھوٹے سے چھوٹے کارکن کی طرف سے ہی ہو مرکزی ہی سمجھی جائے گی اور اُسے وہی اہمیت حاصل ہوگی جو کسی مرکزی تحریک کو حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ سارے کام ایک ہی آدمی نہیں کر سکتا اور نہ ہی ساری دنیا کو ایک آدمی سے عقیدت ہو سکتی ہے۔ مثلاًاگر ہر کام خلیفہ ہی کرے تو وہ اسلام کی طاقت کا موجب نہیں ہو گا بلکہ اسلام کی کمزوری کا موجب ہو گا اور یہ چیز شرعاً ناجائز ہے۔ یہ تحریک کسی فرد کی طرف سے نہیں کی گئی جماعت کی طرف سے کی گئی تھی۔ اور چاہیے تھا کہ دوست یہ نہ دیکھتے کہ یہ تحریک میں نے کی ہے یا کسی ناظر، وکیل، نائب وکیل یا کسی اَور نے کی ہے بلکہ وہ اِس کی اہمیت کو دیکھتے اور اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں حصہ لیتے۔
    امریکہ وہ ملک ہے جو کھربوں میں کھیل رہا ہے اس کے لئے جو جگہ خریدی گئی ہے وہ سَوا لاکھ روپیہ کی ہے اور پچیس ہزار ابھی اَور اس پر خرچ ہو گا۔ درحقیقت یہ عمارت بھی وہاں کی عظمت کے لحاظ سے چھوٹی ہے۔ اُن پر اثر ڈالنے کے لئے تو بیس پچیس لاکھ روپیہ کی عمارت چاہیے تھی لیکن موجودہ حالات میں صرف ڈیڑھ لاکھ پر ہی کفایت کی گئی ہے۔ چودھری ظفراللہ خاں صاحب نے بتایا ہے کہ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر یہ عمارت دو لاکھ روپیہ کی بھی مل جائے تو اسے سستی سمجھنا چاہیے لیکن ہمیں وہ ایک لاکھ بیس ہزار وپیہ میں مل گئی ہے اور اس پر فرش کرنے اور قانو نی طور پر بعض اصلاحیں مہیا کرنے پر پندرہ بیس ہزار اَور خرچ ہو چکا ہے اور کُل خرچ ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب ہو گا۔ واشنگٹن ایک اہم مقام ہے جہاں یہ مکان احمدیت کی ترقی اور اس کی اشاعت میں مفید ہو سکتا ہے۔ چونکہ امریکہ کو باقی ممالک پر ایک فوقیت حاصل ہے اگر اس میں احمدیت پھیل جائے تو اس مکان کے ذریعہ سے دوسرے ممالک پر بھی احمدیت کا اثر پڑے گا اور امریکہ کے احمدیوں کے ذریعہ سے دوسرے ممالک میں احمدیت کو نفوذ اور اثر حاصل ہو گا۔
    دوسری تحریک مسجد ہالینڈ کے لئے چندہ کی ہے۔ کہتے ہیں عورتوں کے پاس پیسہ نہیں ہوتا لیکن شاید اُن کا دل بڑا ہوتا ہے۔ مردوں نے ڈیڑھ لاکھ روپیہ اکٹھا کرنا ہے اور اِس وقت تک صرف پونے بارہ ہزار کے وعدے ہوئے ہیں۔ اور عورتوں نے ساٹھ ہزار روپیہ جمع کرنا ہے مگر اِس وقت تک اُن کے پونے سترہ ہزار کے وعدے ہیں۔ گویا عورتوں کے وعدے مردوں سے ڈیڑھ گُنا ہیں۔ میرے پاس جو چندہ کی رپورٹیں آتی ہیں اُن میں دس میں سے 9جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں عورتوں کا چندہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ بہرحال ہالینڈ کو بھی یہ فوقیت حاصل ہے کہ انڈونیشیا آزاد ہو گیا ہے۔ پس اب اِن دونوں ملکوں کی آپس میں دوستی کے تعلقات بڑھتے جائیں گے اور ڈچ کامن ویلتھ میں انڈونیشیا کے شامل ہونے کی وجہ سے چونکہ مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہو گی اِس لئے ڈچ، مسلمانوں کی طرف مائل ہوں گے اور ممکن ہے کہ ہالینڈ اسلام کا مرکز بن جائے۔ اِس لئے وہاں کی مسجد بھی ایک اہم مسجد ہے۔
    پس میں اِس خطبہ کے ذریعہ دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اِس چیز کا خیال جانے دیں کہ اُن پر کتنے بوجھ ہیں۔ وہ ہمیشہ بوجھ کے نیچے رہیں گے۔ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں رہا جس پر کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔ جس انسان پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا وہ خود بوجھ بنا لیا کرتاہے۔ مثلاً امیر لوگ ہیں وہ یہی بوجھ بنا لیتے ہیں کہ کہیں ڈاکہ نہ پڑ جائے اور وہ لُٹ نہ جائیں۔ پس بوجھ سے مت ڈرو بلکہ یہ دیکھو کہ تمہاری زندگیوں میں کتنے بڑے کام سرانجام پاجاتے ہیں۔ تم اپنی اِس مختصر زندگی میں اور پھر اِس سے بھی زیادہ مختصر دولت اور اقتصاد میں اگر کوئی عظیم الشان کام کر جاتے ہو تو تمہاری زندگی ناکام زندگی نہیں ہوتی۔ بلکہ تمہاری زندگی کامیاب زندگی ہوتی ہے جس پر بڑے بڑے لوگ جن کو بظاہر دولت اور اقتصاد حاصل ہوتا ہے حسد کرتے ہیں یا رشک کرتے ہیں اور یا نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ 18 مئی 1950ئ)
    1: تخمہ: بدہضمی، سوئے ہضم کی بیماری۔ ضعفِ معدہ
    2: اِنڈو چائنا: (Indochina) جنوب مشرقی ایشیا کے خطہ کا قدیم نام
    3: سیام: تھائی لینڈ (11مئی 1949ء تک تھائی لینڈ کا نام)

    11
    اخلاق عقائد کا ایک پرتَو ہوتے ہیں
    محنت اور سچ دو اساسی خُلق
    (فرمودہ26؍مئی 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جیسا کہ احباب کو معلوم ہے مجھے ہیٹ سٹروک (Heat Stroke) کی تکلیف ہو گئی تھی جسے لُو لگنا کہتے ہیں۔ اِس کی وجہ سے پہلے تو اسہال کی تکلیف ہو گئی اور اس کے بعد سر چکرانے اور اعصابی کمزوری کی شکایت ہو گئی ۔ اِس حالت میں میرے لئے مناسب تو نہ تھا کہ میں باہر آتا لیکن چونکہ پچھلے جمعہ میں بھی میں نہیں آسکا اور جو بعض لوگ باہر سے آئے تھے میری عدم موجودگی سے اُن کو تکلیف ہوئی اور بعض کے خطوط پڑھ کر مجھے تکلیف ہوئی۔ اِس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ جیسا بھی ہو خطبہ پڑھوں تا کہ باہر سے آنے والوں کی دل شکنی نہ ہو۔
    تمام احباب جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں وہ جانتے ہیں اور اُن کی اولادوں کو بھی جاننا چاہیے کہ وہ احمدیت میں داخل اِس لئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے اندر کوئی نئی تبدیلی پیدا کریں۔ اخلاق، عقائد کا ایک پرتَو ہوتے ہیں۔ بظاہر اخلاق ایک چھوٹی چیز نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں وہ بہت بڑی چیز ہیں۔ عقائد کا تعلق آسمانی چیزوں سے ہوتا ہے اور اخلاق کا تعلق زمینی چیزوں سے ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو روح اور جسم کا جو تعلق اور جوڑ ہمیں نظر آتا ہے بعینہٖ وہی تعلق اور اسی طرح کا جوڑ اخلاق اور عقائد میں ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت اخلاقی پہلو کی طرف پوری توجہ نہیں دے رہی۔
    میں اِس وقت جماعت کو چند باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔ پہلے مختصراً بتاتا ہوں پھر خدا نے اگر توفیق عطا کی تو مفصّل بیان کروں گا۔ پہلے ساکنینِ قادیان اور پھر ساکنینِ ربوہ کو توجہ دلاتا ہوں کیونکہ اُن کے اخلاق تمام جماعت کے لئے نمونہ کے طور پر ہیں۔ اِس لئے انہیں اپنے اخلاق کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔
    اخلاقی باتوں میں سب سے اہم چیز محنت ہے۔ سچائی کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے، انصاف اور فرائض کی ادائیگی کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے، بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ پس محنت ایک اساسی خُلق ہے۔ لیکن عام طور پر کام کرنے والوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ کام کو ایک گلے پڑا ڈھول سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے فرائض کو پوری طرح سرانجام نہیں دیتے اور اِس طرح وہ لوگ جن کو اُن کی محنت سے فائدہ پہنچ سکتاتھا وہ اُس کے فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔
    دوسرا اساسی خُلق سچ ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹ بے شک ایک ایسی چیز ہے جو ایسی چیزوں سے تعلق رکھتی ہے جو سامنے نہیں ہوتیں۔ لیکن انسان تجربہ کے بعد ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ سمجھ سکتا ہے کہنے والا سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ کہہ رہا ہے۔ اِس کے علاوہ بعض دفعہ اَور لوگ سچ بول کر اُس کے جھوٹ کو ظاہر کردیتے ہیں۔ پس جھوٹ ایک اساسی گناہ ہے اور سچ ایک اساسی خُلق ہے۔ پہلا فعل گناہ اور قطعی گناہ ہے اِس کو چھوڑنا چاہیے۔ اور دوسرا ایک فرض اور قطعی فرض ہے اُس کو اختیار کرنا چاہیے۔ اور یہ دونوں چیزیں اساسی ہیں اور جماعت کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس حد تک ان پر کاربند اور عمل پیرا ہے۔ خصوصاً ساکنینِ ربوہ اور ساکنینِ قادیان کو چاہیے کہ وہ اس طرف خاص توجہ دیں اور اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کریں۔ یہ دونوں خُلق جن کو میں نے بیان کیا ہے ایسے ہیں جن کے بعض حصے ہر ایک انسان پر ظاہر نہیں ہوتے۔ تم میں سے بعض جھوٹ کی تمام تعریفیں نہیں سمجھتے لیکن تم میں سے ہر ایک جھوٹ کے کوئی نہ کوئی معنے ضرور سمجھتا ہے۔ اگر جھوٹ کی سَو قسمیں ہوں تو کوئی اُن میں سے پچاس سے واقف نہ ہو گا۔ اور اگر پچاس ہوں تو کوئی ان تمام پچاس تعریفوں سے واقف نہ ہو گا۔ لیکن وہ ان میں سے کسی ایک کا تو ضرور واقف ہوتا ہے۔ اِسی طرح محنت ہے۔ اِس کی کئی اقسام ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص بارہ گھنٹے کام کرے اور وہ محنتی نہ ہو اور دوسرا سات گھنٹے کام کرے اور وہ محنتی ہو۔ لیکن ہر ایک آدمی محنت کی کوئی نہ کوئی تعریف کرتا ہے اور جانتا ہے کہ محنت کس کو کہتے ہیں۔
    پس جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے اور اپنے حالات کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرے کہ یہ میرے نزدیک جھوٹ اور یہ سچ ہے۔ اور ان میں سے کس کو میں نے ترک کرنا تھا اور کس کو اختیار کیا ہے۔ اور کس کو اختیار کرنا تھا اور کس کو میں نے ترک کیا ہے۔ اور صحیح تعریف کے مطابق چل رہا ہوں یا نہیں۔ اور اس پر عمل کر رہا ہوں یا نہیں۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ جھوٹ کی تعریف اللہ تعالیٰ کے انبیائ، صلحائ، علماء اور دنیاوی عالم جو سمجھتے ہیں وہ تم میں سے ہر ایک نہیں سمجھ سکتا۔ لیکن جتنا اسے تم نے سمجھا ہے تم اُس سے پرہیز کرو۔ اِسی طرح تم محنت کی تعریف نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن جو معنے محنت کے تمہارے نزدیک اور تمہارے ذہن میں آتے ہیں اُن کے مطابق محنت کرو۔ اور جو معنے تمہارے نزدیک جھوٹ کے ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے جھوٹ مت بولا کرو۔ یہاں تک کہ میں اِن دو صفات پر مزید روشنی ڈال کر تم کو ان سے زیادہ سے زیادہ واقف کر دوں۔‘‘ (الفضل مؤرخہ 3جون 1950ء )

    12
    اپنے فرائض کو صحیح ،جلد سے جلد اور اچھے سے اچھے طریق پر
    سرانجام دینا ہے
    (فرمودہ2؍جون 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو بارہا اِس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو صحیح طو رپر کبھی سرانجام نہیں دے سکتے جب تک وہ یہ پختہ عزم نہ کر لیں کہ جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اُسے ہم نے جلد سے جلد اور اچھے سے اچھے طریق پر سرانجام دینا ہے۔ یہ کہنا کہ اگر ہم چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں اس سے کوئی تغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ تغیر ’’اگر چاہیں‘‘ سے نہیں بلکہ ’’چاہنے‘‘ اور پھر عمل کرنے سے ہوا کرتاہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرما یا کرتے تھے کہ ایک امیر آدمی تھا اُس کا ایک بڑا لنگر تھا جس سے محتاج لوگ کثیر تعدادمیں روزانہ کھانا کھاتے تھے۔ لیکن بڑی خرابی یہ تھی کہ بدنظمی بہت زیادہ تھی۔ خود اس میں نگرانی کی رغبت نہیں تھی اور ملازم خائن اور بددیانت تھے۔ کچھ تو سَودا لانے والے بہت مہنگا سَودا لاتے تھے۔ اور کم مقدار میں لاتے تھے اور کچھ استعمال کرنے والے اپنے گھروں کو لے جاتے تھے۔ اور پھر کھانا تیار کرنے والے کچھ خود کھا جاتے تھے کچھ اپنے رشتہ داروں کو کھلا دیتے تھے اور کچھ اِدھر اُدھر ضائع کر دیتے تھے۔ اِسی طرح سٹور روم کُھلے رہتے تھے اور ساری رات کُتّے اور گیدڑ وغیرہ سامانِ خوراک کھاتے اور ضائع کرتے رہتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بہت مقروض ہوگیااوربیس سال کی بدنظمی کے بعد اُسے بتایا گیا کہ تم مقروض ہو چکے ہو۔ اُس کی طبیعت میں سخاوت تھی اِس لئے لنگر کا بند کرنا اُس نے گوارا نہ کیا لیکن اُدھر قرض کے اُتارنے کی بھی فکر تھی۔ اُس نے اپنے دوستوں کو بلایا۔ اپنا نقص تو کوئی بتاتا نہیں اُن سب نے کہا کہ سٹور روم کا کوئی دروازہ نہیں ساری رات گیدڑ اور کُتّے وغیرہ سامانِ خوراک خراب کرتے رہتے ہیں اِس لئے بہت سا سامان ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر سٹور روم کو دروازہ لگادیا جائے تو بہت حد تک بچت ہو سکتی ہے۔ اُس نے حکم چلایا کہ دروازہ لگا دیا جائے ۔چنانچہ وہ لگا دیا گیا۔ یہ کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے اور کہانیوں میں کُتّے اور گیدڑ بھی بولا کرتے ہیں۔ رات کو گیدڑوں اور کُتّوں نے سٹور روم کو دروازہ لگا ہوا دیکھا تو اُنہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ اچانک کوئی بڈھا خرانٹ گیدڑ یا کُتّا آیا اور اُس نے اُن سے دریافت کیا کہ تم شور کیوں مچاتے ہو؟ اُس کی جنس کے افراد نے کہا سٹور روم کو دروازہ لگ گیا ہے ہم کھائیں گے کہاں سے؟ ہمارے تو علاقہ کے سارے کُتّے اور گیدڑ یہیں سے کھاتے تھے۔ اُس نے کہا تم یونہی رونے اورشور مچانے میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہو جس شخص نے بیس سال تک اپنا گھر لُٹتے دیکھا اور اِس کا کوئی انتظام نہ کیا اُس کے سٹور روم کا بھلا دروازہ کس نے بند کرنا ہے اِس لئے گھبراؤ نہیں۔ اس کہانی میں یہی بتایا گیا ہے کہ ’’اگر چاہیں‘‘ اور ’’چاہیں‘‘ میں بہت فرق ہے۔ کُتّوں اور گیدڑوں نے شور مچایا کہ اگر اُس نے چاہا اور دروازہ بند کر دیا تو ہم کھائیں گے کہاں سے۔ اور خرانٹ کُتّے یا گیدڑ نے کہا اُس نے چاہنا ہی نہیں پھر شور کیسا۔ پس اگر ہماری جماعت کے افراد نے چاہنا ہی نہیں تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر وہ چاہیں تو بڑے سے بڑا مشکل کام بھی دنوں میں کر سکتے ہیں۔
    ہماری بچپن کی کہانیوں میں الٰہ دین کے چراغ کی کہانی بہت مشہور تھی۔ الٰہ دین ایک غریب آدمی تھا اُسے ایک چراغ مل گیا۔ وہ جب اُس چراغ کو رگڑتا تھا تو ایک جِنّ ظاہر ہوتا تھا جس کو وہ جو کچھ کہتا وہ فورًا تیار کر کے سامنے رکھ دیتا۔ مثلاً اگر وہ اُسے کوئی محل بنانے کو کہہ دیتا تو وہ آناً فاناً محل تیار کر دیتا۔ بچپن میں تو ہم یہی سمجھتے تھے کہ الٰہ دین کا چراغ ایک سچا واقعہ ہے لیکن جب بڑے ہوئے تو ہم نے سمجھا کہ یہ محض واہمہ اور خیال ہے۔ لیکن اِس کے بعد جب ہم جوانی سے بڑھاپے کی طرف آئے تو معلوم ہوا کہ یہ بات ٹھیک ہے، الٰہ دین کا چراغ ضرور ہوتا ہے۔ لیکن وہ تیل کا چراغ نہیں ہوتا بلکہ عزم اورارادہ کا چراغ ہوتاہے۔ جس کو خداتعالیٰ وہ چراغ بخش دے وہ اُس کو حرکت دیتا ہے اور بو جہ اِس کے کہ عزم اور ارادہ خداتعالیٰ کی صفات میں سے ہیں جس طرح خداتعالیٰ 1کہتا ہے اور کام ہونے لگ جاتا ہے اِسی طرح جب اُس کی اتباع میں اُس کے مقرر کردہ اصول کے ماتحت اُس کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اُس سے دعائیں کرتے ہوئے اور اُس سے مدد مانگتے ہوئے کوئی انسان کہتا ہے تو وہ ہو جاتا ہے۔
    غرض بچپن میں ہم الٰہ دین کے چراغ کے قائل تھے لیکن جوانی میں ہمارا یہ خیال متزلزل ہو گیا۔ مگر بڑھاپے میں ایک لمبے تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ الٰہ دین کے چراغ والی کہانی سچی ہے لیکن یہ ایک تمثیلی حکایت ہے۔ اور یہ چراغ پیتل کا نہیں بلکہ عزم اور ارادہ کا چراغ ہے۔ جب اسے رگڑا جاتا ہے تو خواہ کتنا بڑا کام کیوں نہ ہو وہ آناً فاناً ہو جاتا ہے۔ ‘‘ (الفضل مورخہ 24جنوری1962ئ)
    1: البقرۃ: 118

    13
    لوگ جو کچھ کہتے ہیں انہیں کہنے دو۔ ہو گا وہی جو خداتعالیٰ کرے گا۔ کسی نبی کی جماعت نے آگ میں پڑے بغیر ترقی نہیں کی
    (فرمودہ23؍جون1950ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں جماعت کو ایک عرصہ سے اِس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ ہر چیز اپنی جنس کے مشابہہ ہوا کرتی ہے۔ کسی چیز کا ایک جنس میں سے ہو کر یہ خیال کر لینا کہ اُس کی شکل کسی اَور رنگ کی ہو گی عقل کے خلاف ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس جو پھل ہے وہ خربوزہ ہے تو بہرحال اُس کا مزہ، شکل اور حالات خربوزہ سے ہی ملیں گے۔ اور اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس آم ہے تو اُس کا مزہ، شکل اور حالات آم سے ہی ملیں گے۔ ہمارا یہ امید کرنا کہ آم میں سے چھوٹے چھوٹے بیج نکل آئیں یا خربوزہ میںسے ایک بڑی سی گٹھلی نکل آئے غلط ہو گا۔
    ہماری جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ایک مامور مِنَ اللہ کی جماعت ہے۔ اور مامور دنیا میں ہزاروں کی تعداد میں آئے ہیں۔ بلکہ ایک حدیث کی رو سے دنیا میں ایک لاکھ بیس ہزار مامور مِنَ اللہ گزرے ہیں۔ 1ان کے حالات ہمارے سامنے ہیں اور ان کی جماعتوں کے حالات بھی ہمارے سامنے ہیں۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک لاکھ بیس ہزار ماموروں کے حالات ہمارے پاس نہیں۔ مگرجن کے نام قرآن کریم میں مذکور ہیں یا جن کا بائبل میں اور دوسری کتابوں نے ذکر کیا ہے اُن کے حالات تو ہمارے سامنے ہیں، وہ ہم سے پوشیدہ نہیں۔ ان نبیوں میں سے ایک نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس کی جماعت نے آگ میں پڑے بغیر یا خون کی ندیوں میں سے گزرے بغیر ترقی کی ہو۔
    جب ہم قادیان میں تھے اور میں اِس مضمون کو بیان کرتا تھا تو لوگ حیران ہو کر میری طرف دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ محض مبالغہ ہے اور ہمیں ہوشیار کرنے کے لئے لسّانی سے کام لیا جا رہا ہے۔ اُس وقت اُن کا یہ کہنا جائز ہو سکتا تھا۔ قادیان میں ہماری مثال ایسی ہی تھی جیسے کسی امیر زادے کو کسی نے گود میں اُٹھا لیا ہوا ہو۔ وہاں ہمیں بھی خداتعالیٰ گود میں اٹھائے ہوئے تھا۔ اور اُس وقت اِن باتوں کا سُننا کانوں کے لئے عجیب معلوم ہوتا تھا اور کسی کو اِس بات پر یقین نہیں آسکتا تھا کہ ہمیں بھی آگ میں سے گزرنا ہو گا ہمیں بھی خون کی ندیوں میں سے چل کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہو گا۔ مگر وہ دن بھی آئے کہ جماعت ایک حد تک آگ اور خون کی ندیوں میں سے گزری۔ اور جہاں تک جائیدادوں کے رہ جانے کا سوال ہے ہماری جماعت کا ایک معقول حصہ جو دس یا بارہ فیصدی سے کسی صورت میں بھی کم نہیں کُلّی طور پر اپنی جائیدادوں سے محروم کر دیا گیا۔
    اِس واقعہ کے بعد ہمیں سمجھ لینا چاہیے تھا کہ ہمارا یہ خیال کہ ہم صاحبزادوں کی طرح اپنی زندگیاں گزار دیں گے اور گزشتہ نبیوں کی جماعتوں کے سے حالات میں سے نہیں گزریں گے محض ایک دھوکا ہے۔ مگریہ نہایت ہی حیرت انگیز اور قابلِ افسوس بات ہے کہ میں اب بھی دیکھتا ہوں کہ بجائے اِس کے کہ ہم میں اب یہ احساس پیدا ہو جاتا کہ ہمیں بھی آگ اور خون کی ندیوں میں سے گزرنا پڑے گا ہم اِس واقعہ کو بُھول گئے ہیں اور ہماری جماعت نے اِس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ اُس نے دوسرے لوگوں کو بھی ہمارے ساتھ شریک کر دیا تا وہ اِس واقعہ پر ہنسیں نہیں۔ اگر یہ واقعات صرف ہم پر ہی گزرتے تو دوسرے لوگ ہم پر ہنستے۔ اُن کا منہ بند کرنے کے لئے خداتعالیٰ نے اُن کو بھی ہمارے ساتھ شریک کر دیا۔ لیکن اِس کے یہ معنے نہیں تھے کہ یہ کوئی نرالی چیز تھی۔ اِس کا یہ مطلب تھا کہ تمہیں آگ میں پڑنے اور خون کی ندیوں میں چلنے کی عادت نہیں تھی۔ تمہیں اِس کی عادت ڈالنے کے لئے خداتعالیٰ نے ایسے حالات پید اکر دیئے کہ تم شرمندگی محسوس نہ کرو۔ اِس احسان کا یہ نتیجہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم اپنے دلوں میں پختہ طو ر پر یہ چیز بٹھا لیتے کہ ہمیں بھی اُنہی حالات میں سے گزرنا ہو گا جن حالات میں سے گزشتہ انبیاء کی جماعتیں گزریں۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ بجائے اِس کے کہ جماعت کو اِس بات کا احساس ہو اِن واقعات کو دیکھ کر ہمارے دوست اِس طرح گزر جاتے ہیں جس طرح چِکنے گھڑے پر سے پانی۔ مثلاً یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کس طرح پاکستان میں ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور مجلسوں میں لوگوں کو اُکسایا جاتا ہے کہ وہ ہمارے آدمیوں کو قتل کر دیں۔ ہماری جائیدادوں کو لُوٹ لیں۔ اور دوسرے لوگوں کو یہ تحریک کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مکانات پر نشان لگالیں تا قتلِ عام کے وقت اُنہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔ سارے پاکستان میں ایسا ہو رہا ہے مگر کیا کسی نے اِس پر نوٹس لیا ہے؟ کیا تم اتنے بیوقوف ہو کہ تم اِن باتوں کو سمجھ نہیں سکتے کہ کسی وقت بھی ایسا ہو سکتاہے اور تمہیں ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
    گورنمنٹ بھی افراد سے بنی ہے اور وہی لوگ جو ہمیں گالیاں دیتے ہیں اُن میں سے بعض گورنمنٹ کے رُکن ہیں۔ گورنمنٹ کا کام امن قائم کرنا ہے، گورنمنٹ کا کام اِس قسم کے فتنوں کو دبانا ہے۔ مگر وہ دیکھ رہی ہے اور اِس کے خلاف کو ئی کارروائی نہیں کرتی۔ پولیس کے آدمی جاتے ہیں اور وہ ان مجالس میں جا کر ڈائریاں لیتے ہیں لیکن وہ اِس قسم کی باتوں کا ڈائریوں میں ذکر نہیں کرتے۔ بعض جگہوں میں تو ڈائریاں لی ہی نہیں جاتیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُس جگہ کی مقامی پولیس دل سے اُن کے ساتھ ہے۔ اور بعض جگہ پولیس نے ڈائریاں لی ہیں لیکن ضلع کے حکام نے حکومت تک اُن باتوں کو پہنچایا نہیں۔ ایک جلسہ میں ایک شخص نے کہا کہ تم میں سے کون ہے جو احمدیوں کو قتل کرے؟ ایک آدمی نے اٹھ کر کہا میں حاضر ہوں۔ پولیس نے ڈائری نہیں لکھی۔ لیکن ایک مجسٹریٹ نے جو وہاں موجود تھا اپنی ڈائری میں یہ بات لکھ دی کہ میرے سامنے مقرر نے سوال کیا کہ تم میں سے کون کون فلاں فلاں احمدیوں کو قتل کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہے؟ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اُس نے کہا میں اِس کام کے لئے حاضر ہوں اور اپنا نام پیش کرتاہوں۔ جب پولیس کے افسروں سے پوچھا گیا کہ کیوں پولیس کی ڈائری میں یہ بات نہیں آئی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ آدمی پاگل تھا اِس لئے اِس واقعہ کو نہیں لکھا گیا۔ یعنی جب شرارت کا پتہ لگ گیا تو یہ کہہ دیا گیا کہ وہ پاگل تھا۔ حالانکہ اگر کھڑا ہونے والا پاگل تھا تو کیا تقریر کر کے اشتعال دلانے والا بھی پاگل تھا؟ مگر ہم نے اپنے طور پر تحقیق کی ہے وہ شخص ہرگز پاگل نہیں ایک کام کاج کرنے والا آدمی ہے۔
    یہ واقعات تمہاری نظروں کے سامنے ہیں لیکن تم اِس طرف توجہ نہیں کرتے۔ حالانکہ اِن حالات میں جہاں بھی تم ہو تمہاری موجودہ حالت عارضی ہے۔ اگر کسی کو پتہ لگ جائے کہ وہ موت کے گھاٹ پر کھڑا ہے تو وہ چوکنّا ہو جاتا ہے ،اُس کی حالت اَور ہوتی ہے ،اُس کی قربانیاں اَور ہوتی ہیں ،اُس کی نماز اور روزے اَور ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں ساری جماعت کی موت کا سوال ہے اور تم غفلت کی نیند سو رہے ہو۔ تم میں سے کسی کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوتاہے وہ دو دن کا ہوتاہے کہ بیمار ہو جاتا ہے۔ اُس وقت اُس کے ماں باپ کی آنکھیں رو رو کر سُوج جاتی ہیں، سجدوں میں گر گر کر اُن کے ماتھوں پر نشان پڑ جاتے ہیں وہ کئی کئی راتیں جاگ جاگ کر کاٹ دیتے ہیں۔ لیکن اِس کے مقابلہ میں جب تمہیں یہ نظر آرہا ہے کہ ساری احمدیہ جماعت موت کے منہ میں جا رہی ہے، تمہیں یہ نظر آرہا ہے کہ ساری جماعت ایک آتش فشاں پہاڑ پر کھڑی ہے۔ تمہاری آنکھیں سُوجتی نہیں، تمہارے ماتھوں پر نشان نہیں پڑتے، تمہاری راتیں بیداری میں نہیں کٹتیں، تمہارے دلوں میں ذرا بھی تو احساس پیدا نہیں ہوتا کہ تم ہوشیار ہو جاؤ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارا دماغ مومن ہے دل مومن نہیں۔ تمہارے دماغ نے جب یہ سنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے ہیں اور اس کے دلائل سنے تو وہ اُس پر ایمان لے آیا۔ یا یوں کہو کہ وہ چُپ کر گیا۔ تمہارے دماغ نے جب یہ سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کی یہ یہ نشانیاں ہیں تو وہ ایمان لے آیا۔ یا یوں کہو کہ وہ چُپ کر گیا۔ لیکن تمہارا دل ایمان نہیں لایا۔ کیونکہ جب دل ایمان لاتا ہے تو انسانی جذبات میں ایک جوش پیدا ہوتاہے۔ اور جذبات میں جوش پیدا ہوتا ہے تو انسان کی حالت کچھ اَور ہو جاتی ہے۔ جہاں تک کافر جماعت اور مومن جماعت کے مقابلہ کا سوال ہے ایک ،دو، چار ،پانچ یا بیس سے تیس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اُس وقت مومن جماعت پر جنون طاری ہوتا ہے۔ اور ایسے جنون والا ایک بھی ایک کروڑ پر غالب آجاتاہے۔ اس جنون والے پانچ آدمی پانچ کروڑ پر غالب آسکتے ہیں۔ لیکن جہاں تک ظاہری مقابلہ کا سوال ہے ایک شخص کے لئے دو تین اشخاص کے مقابلہ میں فتح حاصل کرنا مشکل ہے۔ مگر جب جنون پیدا ہو جاتا ہے تو اُس وقت دس بیس کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ایک پاگل آدمی کو لے لو بلکہ پاگل آدمی تو کیا ایک باؤلا کُتّا ہی جب شہر میں آجاتا ہے تو ساری پولیس اُس کے پیچھے ہو جاتی ہے، سارے محلہ والے بلکہ سارے شہر والے اُس کے پیچھے دوڑ رہے ہوتے ہیں ۔ بڑے بڑے بہادر چُھپ چُھپ کر اپنی جانیں بچا رہے ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کو گھروں کے دروازے بند کر کے چُھپا رہے ہوتے ہیں۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟ اِس کی وجہ یہی ہے کہ وہ کُتّا نہیں باؤلا کُتّا ہوتا ہے۔ اِسی طرح ایک انسان پر دو بھاری ہوتے ہیں۔ مگر جب وہ مجنون ہوتاہے تو بعض دفعہ سارا شہر اُس سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُسے اپنی جان اور عزت کی کوئی پروا نہیں۔
    اَور جگہوں کو تو جانے دو اِسی جگہ پر جب میں نے تقریر میں کہا کہ اگر تم تبلیغ کرو تو بلوچستان جیسے چھوٹے سے صوبے کو احمدی بنا لینا کوئی مشکل امر نہیں تو پولیس کے بعض نمائندوں نے کتنا جھوٹ بولا۔ اُنہوں نے گورنمنٹ کے پاس ڈائریاں بھیجیں اور اُن کی نقل دوسرے صوبہ جات میں بھی بھجوائی گئی کہ امام جماعت احمدیہ نے تقریر کی ہے کہ گورنمنٹ کے محکموں میں جو بڑے بڑے احمدی افسر ہیں وہ اپنے ماتحتوں کو مجبور کر کے احمدی بنائیں۔ اور اگروہ احمدی نہ ہو ں تو اُنہیں دِق کر کے محکمے سے نکال دیں۔ اِس قسم کی ڈائریوں تک ہی بس نہیں کی گئی فوجی حکام کو بھی ورغلانے کی کوشش کی گئی کہ اُنہوں نے کیا کارروائی احمدی افسروں کے خلاف کی ہے۔ مگرجس طرح سِول میں اچھے افسر بھی ہیں اسی طرح فوج میں بھی شریف افسر ہیں۔ اُن افسروں نے اِن رپورٹوں پر کوئی توجہ نہ دی اور کہہ دیا کہ فوج میں امن ہے ہم ایسی تحریروں پر کارروائی کر کے خود فساد پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہمارے دشمن جب اِس کارروائی میں ناکام رہے تو اُنہوں نے پہلے افسروں پر جو بالا افسر تھے اُن کے پاس رپورٹیں کروائیں۔ مگر اُن کی طرف سے بھی یہ جواب دیا گیا کہ کوئی فساد بھی نظر آئے تو کسی کے خلاف کارروائی کی جائے ۔جب فساد ہے ہی نہیں تو ہم خود فساد کیوں پیدا کریں۔ ہاں اگر فساد پیدا کروانا ہے تو اَور بات ہے۔
    مجھے ایک احمدی افسر نے بتایا کہ جب یہ ڈائری میرے پاس پہنچی کہ خطبہ جمعہ میں امام جماعت احمدیہ نے یوں کہا ہے تومیں نے کہا میں خود احمدی ہوں اور میں خود وہاں موجود تھا۔ میں نے وہ خطبہ جمعہ سنا ہے وہاں کوئی ایسی بات نہیں ہوئی ،تم جھوٹ بول رہے ہو۔ اِس پر وہ پولیس کا نمائندہ فورًا بات بدل گیا اور کہنے لگا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔
    غرض جہاں پاکستان میں ایک شریف عنصر ہے وہاں ایسا متعصب عنصر بھی ہے جسے پاکستان کے بھلے سے غرض نہیں۔ اُسے صرف اپنے دلی بُغض اور کینہ کے نکالنے سے غرض ہے۔ اور وہ پاکستان کو تباہ کرنا زیادہ پسند کرتا ہے بہ نسبت اِس کے کہ اُسے کوئی احمدی زندہ نظر آئے۔ اور ایسا عنصر جھوٹ، دھوکے اور فریب سے ہرگز پرہیز نہیں کرتا۔ جو افسر شرافت اور انصاف اور پاکستان کی محبت سے معاملہ کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ایسے موقع پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ خواہ ایسی رپورٹوں پر کارروائی نہ کریں مگر ایسے جھوٹوں کو کوئی سزا بھی نہ دیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر اُنہوں نے ایسا کیا تو یہ سوال انتظامی نہیں رہے گا بلکہ سیاسی ہو جائے گا اور اُنہیں اپنا دامن چُھڑوانا مشکل ہو جائے گا۔ پس اُن کا انصاف نصف راستہ تک چل کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
    گزشتہ دنوں بعض افسروں نے سرکلر جاری کیا تھا کہ اُن کے محکمہ کے تمام ملازم یہ فارم پُر کر کے بھجوائیں کہ وہ کس کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور احمدی ہونے کی صورت میں یہ بھی لکھیں کہ قادیانی احمدی یا لاہوری احمدی۔ اِس سرکلر کی عبارت ظاہر کرتی ہے کہ اس سے کوئی نیا فتنہ کھڑا کرنا مقصود تھا۔ بعض غیراحمدی اخباروں نے بھی اِس پر نوٹس لیا اور لکھا کہ اس تجویز سے صاف پتہ لگتا ہے کہ بعض فرقوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا مقصود ہے۔ کسی فرد کے خلاف بے شک کارروائی کی جائے اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن اگر کسی فرد کے خلاف کارروائی کرنا مقصود ہے تو پھر اُس کے فرقہ سے کیا مطلب؟ وہ خواہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو اگر وہ مجرم ہے تو آپ اُس کے خلاف کارروائی کریں۔ لیکن پہلے یہ دریافت کرنا کہ تمہارا فرقہ کونسا ہے اِس کے صاف معنے یہ ہیں کہ کسی فرد کی شرارت کی وجہ سے اُس کے خلاف کارروائی کرنا مقصود نہیں بلکہ کسی خاص فرقہ میں ہونے کی وجہ سے اُس کے خلاف کوئی شرارت کرنا مقصود ہے۔ اِن واقعات کو دیکھتے ہوئے ہماری جماعت کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے اندر ایک بیداری پیدا کر لیتی اور اُس آدمی کی مانند جو آتش فشاں پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ہوتا ہے اپنے آپ کو تیار کر لیتی۔
    خواہ کوئی دوبارہ غلط ڈائری لکھ لے اور گورنمنٹ کے پاس جھوٹی رپورٹ کر دے۔ واقعہ یہی ہے کہ تبلیغ کے بغیر ہمیں چارہ نہیں۔ (مگر اپنے رسوخ سے کام لے کر تبلیغ کرنا یا جبر کرنا یہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔ یہ اُسی جھوٹے ڈائری نویس کے مذہب میں جائز ہے جو اپنے سے مختلف خیال رکھنے والے کو جبراً اپنے مذہب میں لانا جائز سمجھتا ہے۔ اُس ڈائری نویس کو ہمارے آئینہ میں صرف اپنی شکل نظر آتی ہے اور کچھ بھی نہیں) پس ایک طرف تبلیغ کرنی چاہیے اور دوسری طرف خداتعالیٰ سے دعائیں مانگنی چاہئیں۔ تبھی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ تبلیغ تمہاری تعداد کو بڑھائے گی اور دعائیں خداتعالیٰ کے فضل کو کھینچیں گی۔ تبلیغ سے ہر درجہ اور حلقہ کے لوگ احمدی ہوں گے یا پھر اُنہیں کم از کم یہ پتہ لگ جائے گا کہ احمدی کیسے ہوتے ہیں۔ بے شک وہ احمدی نہ ہوں لیکن اُنہیں یہ تو پتہ لگ جائے گاکہ احمدیت کی تعلیم کیا ہے۔ اور جب اُنہیں احمدیت کی تعلیم کا پتہ لگ جائے گا تو پھر اگر کوئی شخص احمدیوں کے خلاف اُن کے کان بھرنے کی کوشش کرے گا تو وہ فورًا کہہ دیں گے کہ ہم جانتے ہیں کہ احمدی ایسے نہیں ہیں۔ لیکن اگر وہ احمدیت کی تعلیم سے واقف نہیں تو جس طرح کوئی اُن کے کان بھرے گا اُن کے پیچھے لگ جائیں گے۔ گویا تبلیغ کے ذریعہ ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے۔ اول جو لوگ صداقت کو قبول کرنے کی جرأت رکھتے ہیں وہ صداقت کو قبول کر لیں گے۔ اور جو صداقت کو قبول کرنے کی جرأت نہیں رکھتے وہ ہمارے حالات سے واقفیت کی بناء پر کلمۂ خیر کہا کریں گے۔ (اِسی طرح گزشتہ سال کی جھوٹی رپورٹ کو لے لو ۔ اگر افسران احمدی عقائد سے واقف ہوتے اور اُن کو معلوم ہوتا کہ احمدیت جبر سے مذہب پھیلانے کے سخت خلاف ہے بلکہ ان کے اس عقیدہ کی وجہ سے مولویوں نے اُن پر کفر کے فتوے لگائے ہیں تو جس بڑے افسر کے پاس یہ جھوٹی رپورٹ جاتی وہ بُلا کر اُس سے جواب طلب کرتا کہ تمہارے مولوی تو احمدیوں پر کفر کا فتویٰ لگا رہے ہیں کہ یہ لوگ جبراً مذہب بدلوانے کے خلاف ہیں تو آج اپنے مولویوں والا عقیدہ تم نے احمدیوں کی طرف کس طرح منسوب کردیا۔)
    دعاؤں سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ بے شک رحیم اور رحمن ہے مگر اُس کے سامنے جھکنے اور آہ و زاری کرنے سے جو اُس کی مدد کا احساس ہوتا ہے وہ ویسے نہیں ہوتا۔ ویسے تو وہ دلوں کی باتوں کو جانتا ہے لیکن خداتعالیٰ نے خود ہی یہ قانون بنا رکھا ہے کہ جو چیز دل میں ہوتی ہے اُس کا ظاہر میں بھی ہونا ضروری ہے۔ اور جب خداتعالیٰ کا یہ قانون موجود ہے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ جو چیز دل میں ہو گی وہ ظاہر میں بھی ہو گی۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ علّام الغیوب ہے جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے، مجھے دعا مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو ہم کہیں گے کہ جس خدا نے یہ کہا ہے کہ وہ دل کے بھیدوں کو جانتا ہے اُسی نے یہ بتایا ہے کہ جو چیز دل میں ہوتی ہے اُس کا ظاہر میں بھی ہونا ضروری ہے۔ تمہارے دل میں اگر کوئی چیز ہے تو ضروری ہے کہ وہ ظاہر میں بھی ہو۔ پس اِس قانون کے مطابق اگر تمہارے دل میں کوئی دکھ ہے تو اُس کا الفاظ کے ذریعہ سے خداتعالیٰ کے سامنے نکلنا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہیں ہو رہا تو یا تم خود دھوکا میں ہو یا ہمیں اپنے دل کی جھوٹی پاکیزگی سے ڈرا رہے ہو۔
    دعاؤں کی طرف توجہ کرنے سے صحیح قربانی کا احساس ہوتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ جتنا بڑا کام ہمارے سپرد ہے اُس کے مقابلہ میں ہماری قربانی ہیچ ہے۔ دنیا بھر میں جماعتیں قائم کرنا، اپنے ملک کے لوگوں کو احمدیت کی طرف متوجہ کرنا بہت بڑا کام ہے اوراِس کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اِس کے مقابلہ میں ہماری قربانیاں کچھ بھی نہیں۔ اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو لوگ تبلیغ کرتے ہی نہیں اور جو تبلیغ کرتے ہیں وہ مجنونانہ رنگ میں نہیں کرتے۔ یہی علاقہ جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ بہت چھوٹا سا ہے اگر تم کوشش کرو، تبلیغ کرو اور ہمدردی کے جذبات لے کر لوگوں کے پاس جاؤ تو یہ سارا علاقہ احمدی ہو سکتا ہے۔ اِس بات پر تین سال گزر گئے ہیں لیکن اِس کام کو کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ بے شک کُتّے بھونکتے رہیں گے اور قافلہ چلتا رہے گا۔ کیا تم اُن لوگوں کی باتوں سے ڈر جاؤ گے جو جھوٹ بول کر تمہارے خلاف افسروں کو بہکاتے ہیں؟ کیا خداتعالیٰ کی صداقت تمہاری نظروں میں چھوٹی ہے اور جھوٹوں کا جھوٹ بڑا ہے؟ کیا اِس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ یہ علاقہ چھوٹا سا ہے؟ یا کیا کوئی اِس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ ہمدردی کا جذبہ اگر ہو تو یہ سارا علاقہ احمدی ہو سکتا ہے؟ لیکن واقع یہ ہے کہ جماعت کے ہر فرد میں احساس نہیں کہ وہ اپنا رستہ چھوڑ کر تبلیغ کرے۔ بہت سے لوگ صرف سلام کہنے کو ہی تبلیغ سمجھ لیتے ہیں۔ کسی کو سلام کہہ دیا اور کہہ دیا کہ ہماری فلاں میٹنگ میں تشریف لانا اور اُس نے وعدہ کر لیا تو خوشی سے گھر چلے گئے اور سمجھ لیا کہ ہم نے بڑی تبلیغ کی ہے۔ یا کسی سے چند باتیں کیں اور اُس نے ہاں میں ہاں ملا دی تو سمجھ لیا کہ لوگ احمدیت کی طرف توجہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ تبلیغ نہیں۔ تبلیغ یہ ہے کہ حق کو دوسروں پر کھولا جائے اور اُنہیں دعوت دی جائے کہ وہ اُس کو قبول کریں۔
    یہ امر ظاہر ہے کہ جب کبھی بھی کسی مامور کی جماعت کو خداتعالیٰ غلبہ دیا کرتا ہے تو پہلے وہ افراد پیدا کیا کرتا ہے پھر غلبہ دیا کرتاہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایساہوا ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہوا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ایسا ہی ہؤا اور اب بھی ایسا ہی ہو گا۔ یہ کبھی نہیں ہو گا کہ خداتعالیٰ لاکھ دو لاکھ افراد کو دنیا پر غالب کر دے۔ وہ پہلے لاکھ دو لاکھ کو دس بیس کروڑ بنائے گا اور پھر اُنہیں غلبہ بخشے گا۔ اور یا اگر ہمیں خدا تعالیٰ نے فردی طور پر ترقی دی تو پھر کسی ایسے ملک میں جس کی آبادی پانچ چھ لاکھ کی ہو دو تین لاکھ آدمی اِس جماعت میں داخل کرے گا اور اُس جگہ پراحمدیت کو غلبہ عطا کرے گا۔ اور پھر ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے ملک پر غلبہ عطا کرتا جائے گا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ خداتعالیٰ افراد میں کثرت کے بغیر کسی جماعت کو پہلا غلبہ عطا کرے۔اگر ہمارے پاس افراد کی زیادتی نہیں تو ہم دنیا میں صحیح جمہوریت کو قائم نہیں کر سکتے۔ اسلام جبر کو جائز نہیں سمجھتا اگر ہم تھوڑی تعداد کے ذریعہ دنیا میں حکومت کو قائم کریں گے اور اسلامی نظام کو دنیا میں جاری کریں گے تو یہ ظلم ہو گا اور اسلام ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔ اور اسلام کی بناوٹ ہی اِس قسم کی ہے کہ وہ صحیح جمہوریت کو قائم کرتا ہے۔ پس غلبہ حاصل کرنے کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے چھوٹے چھوٹے ملکوں میں اکثریت بنائی جائے اور غلبہ حاصل کیا جائے اور اُس کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے ملک پر غلبہ حاصل کیا جائے۔
    ہمارا بیج پھینکنے کا زمانہ بہت لمبا ہو گیا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں بیج پھینکنے میں نہایت شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ایک چھوٹی سی جماعت ہونے کے باوجود اُس کے افراد کا ہندوستان ، چین، ملایا، انڈونیشیا، آسٹریلیا کے قریب کے جزائر، عراق، افغانستان، ایران، شرقِ اردن، شام، فلسطین، لبنان، مصر، سعودی عرب، ایبے سینیا، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، سپین، فرانس، جرمنی، اٹلی، انگلینڈ ، ویسٹ افریقہ، ایسٹ افریقہ، یونائیٹڈا سٹیٹس امریکہ اور کئی اَور ممالک میں جن کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں ایک ایک، دو دو یا دس بیس یا سَو دو سَو یا ہزار دو ہزار اور بعض جگہوں میں پچاس پچاس ہزار کی تعداد میں پایا جانا ایسی فتح ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ استحکامِ دین کا ثبوت نہیں۔ ہاں خداتعالیٰ نے اسے استحکامِ دین کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے۔ اور استحکامِ دین کا ذریعہ اور اس کا مستحکم ہونا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ جیسے کسی کے ہاں بچہ پیدا ہونے سے اُس کی نسل کے قیام کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے ۔لیکن کیا اِس سے اُس کی نسل قائم بھی ہو جاتی ہے؟ نہیں۔بلکہ پہلے وہ بچہ زندہ رہتا ہے اور اِتنی لمبی زندگی پاتاہے کہ وہ بالغ ہوتا ہے اور شادی کے قابل ہوتا ہے۔ پھر اُس کے لئے بیوی تلاش کی جاتی ہے۔ دونوں میاں بیوی آپس میں ملتے ہیں اور اُن کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے۔ تب ہم کہتے ہیں کہ فلاں کی نسل قائم ہو گئی۔ اِسی طرح ہماری جماعت کے افراد کا ہر ملک میں پھیل جانا استحکامِ دین کا ایک ذریعہ تو بن گیا لیکن ذریعہ نتائج پیدا نہیں کیا کرتا۔ نتائج کے لئے ہمیں ایک اَور قدم آگے اٹھانا ہو گا اور کسی نہ کسی ملک میں احمدیت کی اکثریت پیدا کرنی ہو گی۔ ہمیں پتہ نہیں کہ پہلے یہ امر کہاں نصیب ہو گا۔ لیکن ہر جماعت کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اِس امر کے حاصل کرنے میں اول ثابت ہو۔
    دشمن جھوٹ بولتا ہے تو اُس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اگر جھوٹ بولتا ہے تو اپنا انجام ہی خراب کرتا ہے۔ اِسی جگہ پر میرے متعلق جنہوںنے جھوٹ بولا وہ سمجھتے تھے کہ حکومت کے افسر ہمارے ساتھ ہیں اِس لئے ہمارا احمدی کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ خداتعالیٰ سب سے بالا افسر ہے وہ جھوٹے کو خود سزا دے گا۔ خداتعالیٰ کی سزا سے کوئی حکومت جھوٹے کو نہیں بچا سکتی۔ ان جھوٹے ڈائری نویسوں کی نظریں انسانوں پر پڑتی ہیں لیکن ہماری نظر خداتعالیٰ پر ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اُنہوں نے جھوٹ بولا ہے اور اُنہیں اس جھوٹ کی یا تو اِسی جہان میں سزا مل جائے گی اور اُنہی افسروں کے ہاتھوں سے جن کی مدد کے بھروسے پر اُنہوں نے اِتنا بڑا جھوٹ بولا اور میری طرف ایک بالکل غلط بات منسوب کر دی یا پھر اگلے جہان میں سزا ملے گی اور وہ سزا اِس دنیا کی سزا سے بھی سخت ہے۔
    پس تم اِس چیز کی پروا مت کرو کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اُنہیں کہنے دو۔ ہو گا وہی جو خدا تعالیٰ کرے گا۔ مگر خداتعالیٰ وہی کرے گا جس کے کرنے کی اُسے دعوت دی جائے گی۔ اور اُسے دعوت اِس طرح دی جاتی ہے کہ انسان اُس کی محبت میں بڑھتا جاتا ہے اور دوسروں کو اُس کی طرف دعوت بھی دیتا ہے۔‘‘
    خطبہ ثانیہ کے بعدفرمایا:
    ’’میں نماز جمعہ کے بعد نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا ۔ پیر منظور محمد صاحب جنہوںنے قاعدہ یسرناالقرآن ایجاد کیا تھا وہ پرسوں فوت ہو گئے ہیں۔ پیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پرانے صحابی تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے سالے تھے۔ ہم جتنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد ہیں پیر صاحب اُن کے استاد تھے بلکہ ہم تینوں بھائیوں اور ہماری بہن مبارکہ بیگم کو قرآن کریم پڑھانے کے زمانہ میں ہی انہوں نے قاعدہ یسرنا القران ایجاد کیا تھا۔
    اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک اَور صحابی حکیم سید محمد قاسم میاں صاحب شاہ جہان پوری فوت ہو گئے ہیں۔ قاسم صاحب اکثر قادیان آتے رہتے تھے اور دیر دیر تک قادیان رہا کرتے تھے۔ حافظ مختار احمد صاحب شاہ جہان پوری کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھے۔ ہندوستان کے گزشتہ فسادات میں جو تباہی مسلمانوں پر آئی اُس کا صدمہ اِن پر گراں گزر ااور اِسی صدمہ کی وجہ سے وہ نڈھال ہو گئے اور فوت ہو گئے۔ ان کا جنازہ بھی میں نماز جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ 5جولائی 1950ئ)
    1: کنز العمال جلد 16 صفحہ132مطبوعہ حلب 1977ء

    14
    اگر تم خداتعالیٰ کے فضل کو جذب کرنا چاہتے ہو تو تمہیں خداتعالیٰ کی صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
    (فرمودہ30؍جون 1950ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’بعض چھوٹے چھوٹے لفظ ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر ایک بہت بڑا مضمون پوشیدہ ہوتا ہے انجیل میں خداتعالیٰ کو باپ قرار دیا گیا ہے اور مسیح علیہ السلام اپنے حواریوں کو کہتے ہیں کہ تم کسی کو اپنا باپ نہ سمجھو مگر اُسی کو جو آسمان پر ہے۔ 1اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مشابہت ماں سے دی ہے جیسے فرمایا جب کوئی گنہگار بندہ توبہ کر کے خداتعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اُس سے کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی ایک ماں کو اس کے کھوئے ہوئے بچے کو پالینے سے ہوتی ہے۔2 باپ اور ماں کا فرق تو محض شدتِ احساس اور نسبتاً کم احساس پر دلالت کرنے کے لئے ہے ورنہ جہاں تک بے لوث اور بے دلیل محبت کا سوال ہے باپ اور ماں کی محبت ایک ہی رنگ کی ہوا کرتی ہے۔ نہ باپ کی محبت کسی لالچ اور حرص پر مبنی ہوتی ہے اور نہ ماں کی محبت کسی لالچ اور حرص پر مبنی ہوتی ہے۔ نہ باپ اپنے بچے سے دلیلوں اور بحثوں کے بعد محبت کرتا ہے اور نہ ماں دلیلوں اور بحثوں کے بعد اپنے بچے سے محبت کرتی ہے۔ ہاں باپ اور ماں کی محبت میں بعض قسم کے فرق بھی ہیں مگر وہ ان دونوں قسموں میں سے نہیں ہیں۔ وہ الگ قسم کے ہیں۔ بہرحال جو قریب کے دو سلسلے ہیں یعنی ایک وہ جس میں ہم خود شامل ہیں اور ایک وہ جو ہمارے سلسلہ سے قریب زمانہ میں دنیا میں آیا اِن دونوں میں خداتعالیٰ اور بندے کا تعلق ماں باپ اور بچوں کے تعلق کے ساتھ مشابہہ قرار دیا گیا ہے۔
    دنیا میں محبتیں اَور بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ گہری محبت خاوندوں اور بیویوں میں ہوتی ہے بلکہ اگر مغربی فلاسفروں کے اقوال پر غور کیا جائے تو وہ ماں باپ کے تعلق اور مردوعورت کے عشق میں یہی امتیاز کرتے ہیں کہ مرد اور عورت کا عشق زیادہ شدید ہوتا ہے۔ بلکہ اگر ہم بائبل پر غور کریں تو وہاں بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ خداتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ چونکہ تُو نے حوّا کے کہنے پر ممنوعہ درخت جس سے میں نے تجھے منع کیا تھا چکھ لیا ہے اس لئے آئندہ تُو اس سزا کی وجہ سے ماں باپ کو چھوڑے گا اور عورت کے پیچھے چلا جائے گا۔ 3
    پس جہاں تک محبت کا سوال ہے عام حالات میں میاں بیوی اور بعض حالتوں میں ایک عاشق اور معشوق کی محبت ماں باپ کی محبت سے بڑھ جایا کرتی ہے۔ لیکن باوجود اس کے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ محبت ماں باپ کی محبت کی طرح ہے یا وہ محبت ماں باپ کے رشتہ کی مانند ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ محبت ماں باپ کی اپنے بچے سے محبت اور بچے کی اپنے ماں باپ سے محبت سے زیادہ شدید اور مجنونانہ رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ اَور قسم کی محبت ہے اور یہ تعلق اَور قسم کا تعلق ہے۔
    بسا اوقات ماں باپ سے ان کا بچہ کھویا جاتا ہے۔ بچپن میں چور، ڈاکو یا کوئی اور دشمن اسے اٹھا کرلے جاتا ہے اور ماں باپ نہیں جانتے کہ پندرہ بیس یا تیس سال کے بعد ایک نوجوان جو انہیں ملتا ہے وہ اُن کا اپنا بیٹا ہے ۔ بسا اوقات وہ بچہ دشمنوں میں پلتا ہے ماں باپ اسے دشمن قرار دیتے اور اسے دشمن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں میاں بیوی اور عاشق و معشوق جن میں کوئی باہمی رشتہ نہیں ہوتا جو غیر ہوتے ہیں وہ اپنے اندر اُن سے زیادہ اتصال اور اتحاد رکھتے ہیں اور ان سے زیادہ آپس میں رغبت محسوس کرتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے کہ وہ لڑکا ماں باپ کے نطفہ اور پیٹ سے ہوتا ہے دشمنوں میں رہنے کی وجہ سے دشمن سمجھا جاتا ہے۔ اور باوجود اس کے کہ وہ مرد اور عورت اور عاشق و معشوق ایک دوسرے کے پیٹ سے نہیں ہوتے بوجہ اکٹھا رہنے کے وہ آپس میں شدید محبت محسوس کرتے ہیں۔ پھر بھی وہ لڑکا جو دشمن کے گھر میں پَلاہے اور جس کو اُس کے ماں باپ دشمن سمجھتے ہیں وہ اپنے جسم میں وہ بیماریاں رکھتا ہے جو اُس کے ماں باپ کو لاحق ہوتی ہیں۔ اور وہ بعض قسم کے اخلاق اپنے اندر رکھتا ہے جو اس کے ماں باپ کے اندر پائے جاتے ہیں۔ مگریہ محبت و عشق والے مرد و عورت ایک دوسرے کے اس طرح وارث نہیں ہوتے۔ ان میں سے ہر ایک وہ بیماریاں اور اخلاق اپنے اندر نہیں رکھتا جو دوسرے کے اندر پائے جاتے ہیں۔ ایک دشمن کے پاس رہتا ہے اور اس کے ماں باپ بھی اس کو اپنا دشمن خیال کرتے ہیں اور ایک کے لئے محبت کے جذبات کی فراوانی موجود ہوتی ہے۔ مگر جو دشمن کے گھر میں رہتا ہے اس کا خون، ہڈیاں اور جسمی بناوٹ بھی شہادت سے ثابت کر دیتی ہے کہ وہ ان کا بیٹا ہے۔ لیکن مرد اور عورت جن میں عاشق اور معشوق کے تعلقات ہوتے ہیں باوجود اکٹھا رہنے کے کوئی جسمانی اور خلقی ثبوت پیش نہیں کر سکتے۔ مثلاً بعض اقوام ہیں ان میں ورثہ کے طور پر کوئی ایک چیز چلی آتی ہے اور وہ سب میں پائی جاتی ہے۔
    مغلوں کو ہی لے لو ان کے چہرہ کی ہڈی بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ مغل ہندوستان میں آئے تویہ چیز ان میں بطور ورثہ آگئی۔ ہم سینکڑوں سال سے ہندوستان میں رہتے ہیں ہماری شکلیں بدل گئی ہیں لیکن یہ ہڈی ہمارے چہروں میں اُسی طور پر موجود ہے جیسے دوسرے مغلوں میں۔ اسی طرح چین کے لوگ ہیں ان کی آنکھ کی بناوٹ خاص قسم کی ہوتی ہے۔ چینیوں کی آنکھ سانپ کی آنکھ کی طرح ہوتی ہے۔ اب ایک چینی کو کسی ملک میں بھی لے جاؤ اُس کی یہ امتیازی علامت نہیں جائے گی۔ ایک چینی کا بیٹا خواہ دشمنوں میں چلا جائے اُس کی آنکھ کی بناوٹ سانپ کی آنکھ کی طرح ہو گی۔ مگر ایک چینی کی ہندوستانی معشوقہ میں باوجود اس کے کہ وہ اُس پر فریفتہ ہو گا اور وہ اس پر فریفتہ ہو گی یہ چیز نہیں پائی جائے گی۔
    جب اسلام نے خدا کو ماں کے طور پر قرار دیا اور مسیح علیہ السلام نے خداتعالیٰ کو باپ کے طور پر قرار دیا تو درحقیقت اِس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ تمہاری محبت کم ہو یا زیادہ بہرحال تمہیں اپنے اندر خداتعالیٰ کی صفات کا ورثہ پیدا کرنا چاہیے۔ تمہارا خدا تعالیٰ سے اس قسم کا تعلق نہیں جیسے دوست کا دوست سے ہوتا ہے یا خاوند کا بیوی سے اور بیوی کا خاوند سے ہوتا ہے۔ دو دوستوں اور میاں بیوی میں محبت خواہ کتنی ہو اُن کا ورثہ کم ہوتاہے۔ لیکن ماں باپ اوربچوں میں محبت خواہ کتنی کم ہو اُن کا ورثہ زیادہ ہوتا ہے۔ دیکھو! بعض لوگ بعض جانوروں کے انڈے دوسرے جانوروں کے نیچے رکھ دیتے ہیں تا ان سے بچے حاصل کر یں۔ بے وقوف مرغیاں اور دوسرے بے وقوف جانور انہیں پال لیتے ہیں۔ لیکن ہوشیار مرغی انہیں چونچ مار کر پھوڑ دیتی ہے اور وہی انڈے اپنے نیچے رہنے دیتی ہے جو اُس کے اپنے ہوتے ہیں۔ ہمیں خداتعالیٰ کے متعلق یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اُس میں نعوذ باللہ اِتنی عقل بھی نہیں جتنی ایک ہوشیار مرغی یا ایک ہوشیار فاختہ میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی انہی بچوں کو اپنا قرار دے گا جو اُسے ماں سمجھتے ہوں گے اور جن کو خداتعالیٰ سے بچوں کی نسبت ہو گی۔
    پس مومن کو اپنے اخلاق خداتعالیٰ کے اخلاق کی طرح بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تا وہ باپ کا ورثہ پا سکے۔ جس نے اپنے باپ کا ورثہ نہیں پایا اُس نے باپ کا بیٹا ہونے کا کیا پھل لیا۔ آخر کسی کو ماں باپ کہہ دینے سے وہ ماں یا باپ نہیں بن جاتا۔ ماں باپ اُن اخلاق سے بنتے ہیں جو وہ اولاد کی طرف منتقل کرتے ہیں یا اولاد ان سے حاصل کرتی ہے۔
    ہندوستان کی تاریخ کا ایک مشہور لطیفہ ہے۔ کوئی عورت عبدالرحیم خان خاناں پر جو اکبر بادشاہ کے اتالیق تھے عاشق ہو گئی اور اس نے انہیں رقعہ پر رقعہ لکھنا شروع کر دیا کہ مجھ سے شادی کرلیں۔ اُس زمانہ کی عورت کا غیر مرد کو خط لکھنا عجیب معلوم ہوتا تھا۔ اِسی لئے اُس نے اُس زمانہ کے حالات کے مطابق اپنی اِس حرکت پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ لکھا کہ چونکہ آپ کے اخلاق بہت بلند اور اعلیٰ ہیں اور وہ مجھے پسند ہیں اس لئے میں چاہتی ہوں کہ میری اولاد میں سے بھی کوئی ایسا شخص ہو جس کے اخلاق آپ کی مانند ہوں۔ عبدالرحیم خان خاناں اُس سے شادی کرنا نہیں چاہتے تھے لیکن اس عورت نے انہیں بہت دِق کیا۔ اگر وہ کھانا کھانے بیٹھتے تو اُس عورت کا رقعہ پہنچ جاتا اور اگر وہ شام کو اپنے دوستوں میں بیٹھتے تو اُس عورت کا کوئی رقعہ پہنچ جاتا۔ غرض ہر مجلس میں اس عورت کا رقعہ پہنچ جاتا کہ مجھ سے شادی کر لو۔ آخر عبدالرحیم خان خاناں نے اس عورت کو بلایا اور کہا بی بی! تم نے لکھا ہے کہ میں تم سے شادی کر لوں تا تمہارے ہاں میرے جیسی اولاد پیدا ہو۔ لیکن تم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات ماں باپ کی اولاد اچھی پیدا نہیں ہوتی اس لئے ممکن ہے کہ میں تم سے شادی کر لوں اور اولاد بھی پیدا ہو جائے لیکن اُس کے اخلاق میرے اخلاق کی مانند نہ ہوں۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ بجائے اِس کے کہ تم میرے ساتھ شادی کرو تم مجھے اپنا بیٹا بنا لو تا یہ امکان باقی نہ رہے کہ شاید میرے نطفہ سے پیدا شدہ اولاد میرے اخلاق پر نہ ہو اور میں بھی آئندہ تم سے ماں باپ جیسا ہی سلوک کروں گا اور تمہاری بچوں کی مانند خدمت کروں گا۔ غرض جہاں اولاد میں ماں باپ کے اخلاق وعادات اور اطوار بطور ورثہ کے آتے ہیں اسی طرح بعض دفعہ بُری صحبت کی وجہ سے اولاد کے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں اور اس کے اخلاق والدین کے اخلاق کی مانند نہیں ہوتے۔ لوگ انہیں ناخلف کہتے ہیں۔ خلف ایسی اولاد کو کہتے ہیں جس کو کوئی شخص اپنے پیچھے چھوڑے۔ اور ناخلف ایسی اولاد کو کہتے ہیں جس کو کوئی شخص اپنے پیچھے نہ چھوڑے۔ یعنی ناخلف وہ بیٹا ہے جو باوجودبیٹا ہونے کے بیٹا نہیں۔
    پس مومن کو ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ خداتعالیٰ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرے تا وہ خداتعالیٰ کے اخلاق اور اُس کے اوصاف کا وارث بنے۔ درحقیقت مسلمانوں کے اندر یہ عیب پایا جاتاہے کہ وہ خداتعالیٰ کو ڈراؤنی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ وہ اُس کو پیار کرنے والے اور نیک سلوک کرنے والے کی شکل میں پیش نہیں کرتے۔ اس لئے انسان کے اندر خداتعالیٰ کے تصور سے محبت کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ مسلمان کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تمہیں نیست و نابود کر دے گا، تباہ وبرباد کر دے گا اس لئے انسان خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے سے گھبراتا ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ کو اُس کی حقیقی صورت میں پیش کیا جائے تو انسان اس کے تصور سے گھبراتا نہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: ۔4 یعنی میرا غضب، قہر، مارنا اور تباہ کرنا یہ صفات تابع ہیں اصل صفت رحمت ہے۔ پھر کہتا ہے: 5 یعنی کمالِ انسانیت یہ ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے سامنے جھکو یہاں تک کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کرتے کرتے خدا تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ۔ گویا خدا تعالیٰ اپنے آپ کو ایک عاشق کا درجہ بھی نہیں دیتا۔ وہ بندے کو معشوق اور اپنے آپ کو عاشق قرار دیتا ہے۔ اتنے تعلق کے ہوتے ہوئے سارا زور خدا تعالیٰ کے غضب، اُس کے عذاب اور اُس کے قہر پر دینا کتنے ظلم کی بات ہے۔ جہاں تک قہر کا تعلق ہے ماں باپ بھی اپنی اولاد کو مارتے ہیں بلکہ بعض دفعہ ماں باپ زیادہ مارتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ ہم اپنے بچوں کو مار رہے ہوتے ہیں تو پاس والے لوگ کہتے ہیں چلو جانے دو۔ وہ اُن کی نظر میں اچھا بننا چاہتے ہیں۔ مگر کیا اس سے ماں باپ کی محبت میں کمی آجاتی ہے ؟دوسرا شخص سمجھے یا نہ سمجھے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ اُسے کس طرح سمجھتا ہے۔ ماں تھپڑ مارتی ہے اور پھر دوڑ کر اُس کی گردن میں باہیں ڈال دیتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے اور تم میں سے ہر ایک کے روزانہ تجربہ میں یہ بات آئی ہو گی اور ہم نے تو پانچ پانچ منٹ تک ایسا ہوتے دیکھا ہے۔ ماں مارتی جاتی ہے اور بچہ اُس سے چمٹتا جاتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ اُس کے پیچھے محبت ہے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ مار کو بُرا سمجھتا ہے لیکن اِس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ مار محبت کی وجہ سے ہے۔ اس لئے جتنا میری ماں مارے گی میں اُس کے ساتھ چمٹوں گا۔
    خدا تعالیٰ کے تعلق کی اصل بنیاد محبت پر ہے لیکن وہ محبت ماں باپ والی محبت ہے۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ اُس کی صفات اور اُس کے اخلاق میں اس کا وارث بن جائے جس طرح ماں باپ چاہتے ہیں کہ اُن کا نام باقی رہ جائے۔ نام باقی رہنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اللہ دتا یا محمد دین کا نام رہے بلکہ اِس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ ہماری اولاد ہماری عزت اور شُہرت کو قائم رکھنے والی بن جائے۔ ہر خاندان اپنے کسی نہ کسی مخصوص کیریکٹر کا حامل ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اُس کی اولاد بھی اُس کیریکٹر کو قائم رکھے۔ چوہڑوں اور چماروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے قادیان میں ایک مخلص اور نیک دوست تھے وہ درزی کا کام کرتے تھے۔ انہیں کوئی رشتہ نہیں ملتا تھا۔ میں نے ایک غریب روئی دُھننے والے کے بیٹے کو اِس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اُسے اپنی بیٹی کا رشتہ دے دے اور وہ اس بات پر راضی ہو گیا۔ اتنے میں مَیں نے کیا دیکھا کہ میں دفتر میں بیٹھا ہوا ہوں کہ لڑکی کی دادی پاگلوں کی طرح بال کھولے ہوئے اور سر پر چارپائی اٹھائے بازار میں شور مچاتی ہوئی جا رہی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے بچے ہیں۔ میں نے سنا کہ وہ کہہ رہی ہے کہ ’’کرنا سی تے پھر کزاتاں نال ای کرنا سی‘‘ یعنی اگررشتہ کرنا تھا تو پھر کیا ایک ادنیٰ شخص کے ساتھ ہی کرنا تھا۔ ویسے تو ہم کسی پیشے میںعیب نہیں سمجھتے لیکن اگر سمجھا جائے تو مجھے تو ایک درزی، دُھنیے سے بہتر نظر آتا ہے۔ مگر واقع یہ ہے کہ دُھنیے ،درزی کو اور درزی ، دُھنیے کو ذلیل اور ادنیٰ سمجھتے ہیں۔
    غرض تم کہیں چلے جاؤ ہر قوم اور ہر خاندان نے اپنا کوئی مخصوص کیریکٹر قرار دیا ہے اور اُن کا دل چاہتا ہے کہ اُن کا یہ کیریکٹر قائم رہے اور وہ اپنی منفردانہ حیثیت کو قائم رکھیں۔ اور یہ صاف بات ہے کہ جب ایک ادنیٰ سے ادنیٰ انسان بھی یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنا کیریکٹر قائم رکھے تو کیا خدا تعالیٰ کی ذات ہی نَعُوْذُ بِاللّٰہ ایسی ہے کہ وہ یہ نہ چاہے کہ اُس کا کیریکٹر قائم رہے؟ یقینا خدا تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اس کا مخصوص کیریکٹر قائم رہے اور وہ اُس کی روحانی اولاد کے ذریعہ ہی قائم رہتا ہے۔ پس اگر تم خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنا چاہتے ہو اور اگر تم خواہش رکھتے ہو کہ تم خدا تعالیٰ کی اولاد قرار دیئے جاؤ تو تمہیں خدا تعالیٰ کی صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مگر جو سب سے بڑا معاملہ ہے حقیقت یہ ہے کہ ہم اُس کی طرف بہت کم توجہ دیتے ہیں۔ عموماً لوگ شاخ کی طرف جاتے ہیں بلکہ شاخ کے آخری پتے کی طرف جاتے ہیں اور جڑ کو بُھول جاتے ہیں۔‘‘
    (الفضل مؤرخہ 21دسمبر1960ئ)
    1: متی باب 23 آیت 9
    2: صحیح بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الولد و تقبیلہٖ
    3: متی باب 19 آیت 5
    4: الاعراف: 157
    5: آل عمران: 32

    15

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا ایک بہت بڑا سبق ہمیں دیا ہے
    نیز وہ مقصود بیان کیا ہے جو مومنوں کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے
    (فرمودہ14؍جولائی 1950ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:
    1
    اِس کے بعد فرمایا:
    ’’ اللہ تعالیٰ نے اِس مختصر سی آیت میں جس طرح توحید کا ایک بہت بڑا سبق مسلمانوں کو دیا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کی روحانی حالت کا بھی اس میں نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اور پھر مسلمانوں کے سامنے وہ مقصود بھی رکھا گیا ہے جو مومن جماعتوں کے سامنے ہونا چاہیے۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ شرک اِس چیز کا نام ہے کہ بتوں کے سامنے سر جھکایا جائے۔ شرک اِس چیز کا نام ہے کہ بتوں پر نذرانے چڑھائے جائیں۔ یا شرک اِس چیز کا نام ہے کہ بتوں کے سامنے سجدے کئے جائیں۔ یا بتوں کے علاوہ کچھ اَور چیزیں ہوتی ہیں جو قانونِ قدرت کی مظہر ہوتی ہیں۔ یا انسانوں میں سے بعض ایسے انسان ہوتے ہیں جو اپنے اپنے وقت میں صفاتِ الٰہی کے مظہر ہوتے ہیں۔ ان کی عزت اِس رنگ میں کی جائے کہ اُس میں عبادت کا ایک حصہ بھی داخل ہو جائے خواہ وہ عزت عملاً عبادت کا رنگ نہ رکھتی ہو ۔ لیکن شرک اِس سے بہت زیادہ باریک ہے ۔اور توحید اِس سے بہت زیادہ باریک اور پیچیدہ ہے کہ انسان ایک خدا کی عبادت بجا لائے۔ درحقیقت اِس قسم کا شرک بہت ہی جہالت کے زمانہ میں ہواکرتا ہے۔ جب تعلیم پھیلتی ہے تو شرکِ خفی باقی رہتا ہے اور شرک ِجلی باقی نہیں رہتا۔ دنیا میں جب بھی روشنی پیدا ہوئی تو اُس روشنی نے خود ہی مشرکانہ عقائد کو موحّدانہ رنگ دے دیا۔
    عیسائیوں کو دیکھ لو اِس زمانہ میں بھی عیسائی مسلمان نہیں ہوئے۔ اِس زمانہ میں عیسائیوں کی طرف سے اسلام کی مخالفت کم نہیں ہوئی بلکہ اَور زیادہ ہوئی ہے۔ لیکن پھر بھی اگر آجکل کے عیسائی کو پرانے زمانہ کے عیسائی کے سامنے رکھا جائے تو یقینا وہ اس سے زیادہ موحّد نظر آئے گا۔ پرانے زمانہ میں چھوٹے بڑے عالم، جاہل، حاکم، محکوم ، عورت، مرد سب گرجوں میں جا کر حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم کی تصویروں کے سامنے سجدے کرتے تھے اور اُن سے دعائیں مانگتے تھے ۔بلکہ ان کو جانے دو وہ پادریوں کے سامنے بھی سجدے کرتے تھے۔ ان لوگوں میں سے بعض بادشاہوں اوربعض پروفیسروں کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر وہ ذرا بھی محسوس نہیں کرتے تھے کہ یہ چیز ان کے وقار کے منافی ہے۔ لیکن اِس وقت تو زیادہ پڑھے ہوئے کی ضرورت نہیں ایک معمولی مزدور بھی ان کی پروا نہیں کرتا۔ زیادہ تر عیسائی دنیا کی زندگی ایک عام مسلمان کی عملی زندگی جیسی ہے۔ ایک بے نماز مسلمان اور ایک عیسائی میں کسی قسم کا فرق نہیں۔ وہ مسلمان بھی عبادت نہیں کرتا اور عیسائی بھی عبادت نہیں کرتا۔ وہ جب بھی بات کرے گا تو معلوم ہو گا کہ وہ خدا کو ماننے والا ہے۔ ہاں عقیدہ میں آکر وہ ایسی بات کہہ دے گا جس سے شرک ثابت ہوتا ہو گا، لیکن عام طور پر یہ پتہ نہیں لگ سکتا کہ وہ موحّد ہے یا مشرک۔ اب یہ چیز اسلام نے دور نہیں کی۔ عیسائی اسلام کو سچا مذہب نہیں مانتے۔ یہ چیز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دور نہیںکی۔ وہ آج بھی آپؐ کو نعوذ باللہ جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ چیز قرآن کریم نے بھی دور نہیں کی۔ وہ آج بھی قرآن کریم کو مٹانے کے درپے ہیں۔ پھر یہ خرابی کس چیز نے دور کی ہے؟ یہ خرابی علوم کی روشنی نے دور کی ہے۔ جب لوگوں میں تعلیم آگئی اور انہوں نے قانونِ قدرت کا مطالعہ کیا تو انہیں معلوم ہو گیا کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا ظہور انسانوں میں کیا اُس کی دوسری مخلوقات اور مختلف قسم کے جواہر میں بھی پایا جاتا ہے۔ پھر اگر انسان اس کی صفات کے مظہر ہوتے ہیں تو انہیں خدا کس طرح کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح شرک کا عقیدہ بدلتا گیا اور توحید کی شکل آگئی۔ اور گو رسمی طور پر تو وہی عقیدہ رہا جو پہلے عیسائیوں کا تھا یعنی خدا، بیٹا اور روح القدس۔ لیکن تفصیل پوچھو تو ہر عیسائی موحّد نظر آئے گا۔ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ملیں گے جن سے پوچھیں کہ تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ دیں گے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔لیکن وہ قبروں پر سجدے بھی کرتے ہیں حالانکہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور قبروں پر سجدے کرنا دونوں متضاد چیزیں ہیں اور یہ دونوں آپس میں مل نہیں سکتیں۔ اِسی طرح جب کسی عیسائی سے اس کے عقیدہ کے متعلق سوال کیا جائے تو وہ کہہ دے گا مسیح خدا کا بیٹا ہے۔ لیکن جب تفصیل پوچھو تو وہ ایک خدا کی کیفیت بیان کرے گا۔ بظاہر یہ دونوں متضاد چیزیں ہیں لیکن سب قوموں میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔ مشرک مسلمانوں میں عقیدہ توحید کا ہے اور اس کی تفصیل شرک ہے اور عیسائیوں میں عقیدہ شرک کا ہے اور اس کی تفصیل توحید ہے۔ ایک عام مسلمان اور عیسائی میں عام عقیدہ کے لحاظ سے اور خدا تعالیٰ کی ذات کے علم میں کوئی فرق نہیں لیکن اعمال میں بڑا بھاری فرق ہو جائے گا۔ اعمال کے لحاظ سے ایک سچے اور مخلص مسلمان میں اور ایک عیسائی میں بڑا نمایاں فرق نظر آئے گا۔ عیسائی باوجود اِس کے کہ اُس کا عقیدہ توحید کا نہیں وہ نیچری مسلمان کی طرح خدا تعالیٰ کو تخت پر بٹھا دے گا اور کہے گا کہ اگر میں سجدہ کروں گا تو اُسے ہی کروں گا لیکن جب عمل کا وقت آئے گا تو کہہ دے گا کہ ضروری نہیں میں اپنے آپ کو اعمال میں بھی مقیّد کر لوں۔ میں سوچوں گا اور سمجھوں گا اور سوچنے اور سمجھنے کے بعد جو چیز مجھے اچھی لگے گی وہی کروں گا۔ یہی ایک عام مسلمان کی حالت ہے۔ وہ بھی عام حالات میں یہی کچھ کرتا ہے۔ وہ نماز نہیں پڑھے گا لیکن پڑھے گا تو قبلہ رخ ہو کر۔ اور جب عملی زندگی کا سوال آئے گا تو نماز اور عقیدہ ایک طرف رہ جائیں گے وہ کہہ دے گا کہ میں پاگل نہیں ہوں کہ میں اپنے ضمیر کو کچل دوں۔ میں سوچوں اور سمجھوں گا اور سوچنے اور سمجھنے کے بعد جو چیز مجھے اچھی لگے گی وہی کروں گا۔ میں اس چیز کے لئے تیار نہیں ہوں کہ اپنی نکیل دوسرے کے ہاتھ میں دے دوں۔ لیکن اعلیٰ اور خالص درجہ کا متقی ایسا نہیں کرتا۔ چونکہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ لیتا ہے اس لئے اُس کے لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتاکہ وہ اپنے نفس کو وہم میں مبتلا کرے۔ وہم میں اپنے نفس کو وہ شخص مبتلا کرتاہے جو خداتعالیٰ کو دیکھتا نہیں۔ ایک شخص جو رات کے اندھیرے میں باہر جاتاہے اور اُس کے پاس روشنی نہیں ہوتی وہ اِس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ کہیں رستہ میں کوئی چور یا ڈاکو نہ ہو ۔ لیکن جب بجلی چمکتی ہے اور اس کی آنکھیں چور یا ڈاکو کو دیکھ لیتی ہیں تو پھر اُسے وہم ہونے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ یعنی ایک صور ت میں ہم اسے وہم میں مبتلا سمجھیں گے اور دوسری صورت میں بزدل اور کم ہمت تصور کریں گے۔ اِس طرح جس شخص نے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیا اُس کے متعلق یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ وہم کرے۔ اُس نے اپنی باگ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ خداتعالیٰ اُسے دیکھتا ہے، وہ اُس کے کاموں میں دخل دیتا ہے، وہ اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ جب کوئی شخص اِس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ شرک نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس نے دیکھ لیا کہ اُس کے نفس سے بڑا راہنما موجود ہے اور وہ اُسی کو خدا کہتا ہے۔ جو وہ کرے گا وہ ٹھیک ہے۔ اگر وہ کہہ دے گا یہ کام کرو تو میں کروں گا اور اگر وہ کہے گا ٹھہر جا تو میں ٹھہر جاؤں گا۔
    مَیں نے یہاں نفس کی مثال دی ہے لیکن اس سے بھی بڑی اور قوی چیزیں اَور بھی موجود ہیں۔ مثلاً رسم و رواج ہیں، عادات و اطوار ہیں۔ وہاں اپنا نفس بھی بھول جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مثل مشہور ہے کہ ’’کھائیے من بھاتا اور پہنئے جگ بھاتا‘‘۔ یعنی کھاؤ وہ جو تمہاری زبان کو مزیدار لگے اور پہنو وہ جو لوگوں کو پسند ہو۔ مگر یہ بات کہنے والے پرانے زمانہ کے لوگ تھے۔ یہ اُس زمانہ کے لوگ تھے جب رسم و رواج نے ترقی نہیں کی تھی۔ اب تو لوگ نہ کھاتے اپنی مرضی کا ہیں اور نہ پہنتے اپنی مرضی کا ہیں۔ اب وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو دوسرے کرتے ہیں۔ وہ کھانا بھی وہی کھائیں گے جو دوسرے کھاتے ہیں خواہ ان کی زبان کو اچھا لگے یا نہ۔ اور لباس کے متعلق تو لازمی بات ہے کہ وہ وہی پہنیںگے جو دوسرے پہنتے ہیں۔ پھر اس کے آگے اَور باتیں آجائیں گی۔ جو کام بھی وہ دیکھیں گے کہ غالب شخص یا غالب قوم کر رہی ہے وہ کرنے لگ جائیں گے۔ اِس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے۔ تم اکثریت کے فیصلہ کو دیکھنے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ آیا اکثریت ہمیشہ حق پر ہوتی ہے یا وہ نمایاں غلطیاں بھی کرتی ہے؟ ایک ایسا انسان جس کو خدا تعالیٰ کی راہنمائی حاصل نہیں وہ کہہ دے گا کہ میرا وہی مذہب ہے جو اکثریت کا ہے۔ لیکن ایک مسلمان جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اُس کے سامنے اگر یہ سوال رکھا جائے کہ اکثریت ہمیشہ حق پر ہوتی ہے تو وہ لازماً یہ کہہ دے گا کہ یہ غلط ہے۔ مثلاً ہم کہیں گے کہ عقیدتاً قرآن کہتا ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پھر وہ اسے 2قرار دیتا ہے۔ لیکن یہ اکثریت جس کو تم زبردست اور طاقتور سمجھتے ہو، یہ اکثریت جس کو تم عقلمند اور ترقی یافتہ خیال کرتے ہو وہ یہ عقیدہ نہیں رکھتی کہ خدا تعالیٰ ایک ہے۔ اُس کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی ہمسر۔ بلکہ وہ خدا بیٹا اور روح القدس تین خداؤں پر ایمان رکھتی ہے ۔کیا اکثریت کا یہ عقیدہ درست ہے؟ اِس پر لازماً ایک سچا مسلمان یہ کہے گا کہ اکثریت غلطی پر ہے۔
    اِسی طرح شفاعت کا مسئلہ ہے۔ اگر ایک مسلمان کو یہ بتا دیاجائے کہ اکثریت یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ خدا تعالیٰ کھاتا ہے، پیتا ہے، سوتا ہے، جاگتا ہے اور مرتا ہے تو وہ کہہ دے گا اکثریت کا یہ عقیدہ غلط ہے۔ پھر انبیاء کی طرف چلے جاؤ۔ ہم پوچھیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے؟ تو وہ کہے گا آپ راست باز تھے اور تمام انبیاء کے سردار تھے۔ اِس پر ہم کہیں گے کہ اکثریت تو یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ آپ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ جھوٹے تھے۔ کیا یہ عقیدہ ٹھیک ہے؟ وہ لازماً یہی کہے گا کہ نہیں۔ اِس طرح ہم ایک ایک کر کے وہ تمام امور جن پر اِس جہان اور دوسرے جہان کا انحصار ہے لیتے جائیں گے اور اُسے کہیں گے کہ اکثریت کا یہ عقیدہ ہے اور خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے تو وہ لازماً اکثریت کے عقیدہ کو غلط کہے گا۔ یا یہی بات لے لو کہ خدا تعالیٰ کا ہماری موجودہ زندگی میں دخل ہے۔ ایک عیسائی کہے گا نہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہماری اِس زندگی میں دخل ہے۔ پھر اگلے جہان کے متعلق عقائد میں ایک عیسائی اور ایک سچے اور مخلص مسلمان کے درمیان بیّن فرق نظر آئے گا۔ عیسائیت میں صرف جہنم کا احساس پایا جاتا ہے جنت کا احساس عیسائیت میں ہے ہی نہیں۔ عیسائی کہتے ہیں کہ جو تو ان میں سے نیک لوگ اِس دنیا میں باقی رہیں گے اُن کے لئے اِسی دنیاکوجنت بنا دیا جائے گا۔ لیکن یہ کہ جنت ایک علیحدہ مقام ہے اور دائمی ہے یہ عقیدہ عیسائیت میں نہیں۔ عیسائیوں میں صرف دائمی دوزخ کا عقیدہ پایا جاتاہے۔ اِسی طرح انسان کی نیکی، تقویٰ کے متعلق اُن کی رائے درست نہیں۔ پس اگر کوئی ایک بات ہوتی تو ہم کہہ دیتے کہ شاید اِس بارہ میں اُن سے غلطی سر زد ہو گئی ہے لیکن یہاں تو ہر بات میں غلطی سرزد ہوئی ہے۔ ہر اہم امر میں انہیں غلطی لگی ہے۔ ان کی عقل پر اعتماد کیسے کیا جائے۔ اگر ہم نے اکثریت کی رائے پر ہی چلنا ہے تو لازماً ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ روح القدس بھی خدا ہے۔ اگر ہم نے اکثریت کی رائے پر ہی چلنا ہے تو لازماً ہمیں ماننا پڑے گا کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے نہیں تھے کیونکہ اکثریت آپ کو ایسا ہی کہتی ہے۔ غرض یہ عجیب قسم کا مومن کہلانے والا ہوتا ہے کہ کچھ باتوں میں وہ بِلا دلیل کہہ دیتا ہے کہ اکثریت غلطی پر ہے اور بعض باتوں میں بِلاسوچے سمجھے اکثریت کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم اکثریت کی بات مان لوگے تو اللہ تعالیٰ کے رستہ کے متعلق جتنی باتیں ہیں اکثریت اُن کے خلاف جار ہی ہے۔ اگر اکثریت خدا تعالیٰ کے رستہ سے متعلق سب باتوں کے خلاف جا رہی ہے تو ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ باقی باتوں میں بھی وہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق ہے یا مخالف۔ انسانی عقائد کا اعمال پر بھی اثر ہوتاہے۔ اگر کوئی خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے تو اس کے کھانے پینے، جاگنے سونے اور پہننے میں بھی خدا تعالیٰ کے احکام کا دخل ہو گا۔ اگر کوئی کلامِ الٰہی سے تعلق رکھتا ہے تو اُسے اپنے کھانے پینے، جاگنے سونے اور پہننے میں کچھ قیود لگانی پڑیں گی۔ اگر کوئی اگلے جہان پر ایمان لاتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ ایسے اعمال بجالائے جن کا اگلے جہان پر اثر ہو۔ بہرحال انسانی عقائد اعمال پر اثر ڈالتے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ لوگ غلطی پر ہیں اور دوسری طرف ہم ان سے ڈرتے بھی ہیں۔ اور پھر یہ سلسلہ ایسا ترقی کرتاہے کہ اکثریت در اکثریت سامنے آنے لگتی ہے۔ اگر عیسائیت کی نقل کرنا اِس لئے ضروری ہے کہ دنیا کا اکثر حصہ عیسائی ہے اور اُس کو خوش کرنا ضروری ہے تو پھر ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اُن کی بھی نقل کرو کیونکہ وہ مسلمانوں سے زیادہ ہیں۔ پھر احمدیوں کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ دوسرے مسلمانوں کی بھی نقل کریں کیونکہ وہ اِن سے زیادہ ہیں۔ گویا ہر وقت دوسرے کو خوش کرنے کا سوال رہ جائے گا۔ حالانکہ مومن اتنا نڈر ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کی پروا ہی نہیں کرتا۔ آخر سیدھی بات ہے کہ جو کام ہم کریں گے اس میں یا نقص ہو گا یا وہ نقص سے مبرّا ہو گا۔ اگر اس میں کوئی نقص ہے تو اُس کی کوئی دلیل ہونی چاہیے۔ بلکہ پہلی بات تو یہی ہے کہ اگر کوئی نقص ہے تو اُسے ہم کریں گے کیوں۔ اور اگر نقص نہیں تو ہمیں دوسرے سے ڈرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر کوئی ہمیں یہ کہے گا کہ تم یہ کام کیوں نہیں کرتے؟ تو ہم کہہ دیں گے ہم یہ کام کیوں کریں اس میں فلاں نقص ہے۔ اور اگر کوئی کہے کہ تم یہ کام کیوں کرتے ہو؟ تو ہم کہیں گے کہ جب اِس کام میں نقص کوئی نہیں تو ہم اسے کریں گے۔ کسی سے ڈرنے کی بہرحال ہمیں ضرورت نہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد سے پہلے پردہ اَور قسم کا ہوتا تھا اور آپ کی بعثت کے بعد پردہ اَور قسم کا ہو گیا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کہیں سفر پر تشریف لے جارہے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول اور مولوی عبدالکریم صاحب بھی ساتھ تھے۔ امرتسر یا لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر آپ نے حضرت اماں جان کو ساتھ لیا اور ٹہلنا شروع کر دیا۔ آپ ٹہلتے ٹہلتے پلیٹ فارم کے ایک سرے پر چلے جاتے اور پھر دوسرے سرے پر تشریف لے جاتے۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی طبیعت بڑی جوشیلی تھی اور آپ پرانے رسم و رواج کے مطابق اسے بڑا عیب خیال کرتے تھے کہ کوئی مرد اپنی بیوی کو لے کر اس طرح ٹہلے۔ آپ بڑے حسّاس تھے۔ آپ کے ذہن میں فورًا یہ خیال آیا کہ اگر لوگ اعتراض کریں گے تو ہم کیا جواب دیں گے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے تھے مولوی صاحب گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور کہا آپ دیکھتے نہیں کیا ہو رہا ہے؟ لوگ اعتراض کریں گے تو ہم کیا جواب دیں گے؟ میں نے کہا مجھے تو کہنے کی جرأت نہیں۔ آپ اگر بُرا سمجھتے ہیں تو آپ خود جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کہہ دیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کو غصہ چڑھا ہوا تھا، فورًا چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ بات کہہ دی کہ لوگ اگراعتراض کریں گے تو ہم کیا جواب دیں گے؟ واپس آئے تو سر نیچے ڈالا ہؤا تھا جیسے کوئی آدمی سخت شرمندہ ہوتاہے اور ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ میرے دل میں بھی کُرید تھی۔ میں نے کہا مولوی صاحب ! کیا آپ نے حضرت مسیح موعود سے کہا نہیں؟ مولوی صاحب نے جواب دیا: ہاں کہا تو ہے۔ میں نے کہا تو پھر حضرت مسیح موعود نے کیا فرمایاہے؟ کہنے لگے میں نے جب یہ بات کہی تو آپ نے فرمایا مولوی صاحب! آخر لوگ کیا کہیں گے؟ یہی کہیں گے کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کو لے کر پھرتے تھے اس میں اعتراض کی کونسی بات ہے۔
    خلیفہ رجب دین صاحب جو خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر تھے اور پرانے احمدی تھے اُن کی طبیعت میں بڑی تیزی تھی۔ وہ جب معترضین کو اُن کے اعتراضات کا جواب دیتے تو ایسے کاٹنے والے جواب دیتے کہ ان سے برداشت نہیں ہو سکتی تھی۔ ایک دفعہ آپ ایک مقدمہ میں پیش ہوئے چونکہ آپ کے بعض رشتہ دار بڑے بڑے عُہدوں پر فائز تھے اس لئے لوگ آپ کا لحاظ کرتے تھے۔ کسی نے مجسٹریٹ سے کہہ دیا کہ یہ فلاں کے رشتہ دار ہیں۔ مجسٹریٹ کہنے لگا میں نے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے بشرطیکہ آپ بُرا نہ منائیں۔ انہوں نے کہا میں پاگل تو نہیں کہ تم اچھی بات کہو گے تو میں بُرا مناؤں گا۔ اور میں بے غیرت بھی نہیں کہ تم بُری بات کہو اور میں بُرا نہ مناؤں۔ آخر تھوڑی سی ردّ و کد3 کے بعد اُس نے کہا میں نے سنا ہے کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لے کر سیر کو چلے جاتے ہیں۔ اُس زمانہ میں ہندوؤں میں یہ قاعدہ تھا کہ اگر میاں بیوی نے کہیں باہر جانا ہوتاتو خاوند بیوی کو پہلے کسی نوکر کے ساتھ بھیج دیتا اور خود بعد میں آتا۔ خلیفہ صاحب کہنے لگے میں نے اسے کہا جی ہاں مرزا صاحب ایسا کرتے ہیں۔ وہ کہنے لگا پھر؟ میں نے کہا مرزا صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لے کر پھرتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں یہ مرز اصاحب کی بیوی ہے لیکن جب آپ اپنی بیوی کو ٹہلیے کے ساتھ بھیج دیتے ہیں اور خود بعد میں جاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں یہ ٹہلیے کی بیوی ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہی ہیں۔اگر واقع میں کوئی بات معیوب ہے تو ہمیں اعتراض کرنے والوں کی خاطر اُسے ترک نہیں کرنا چاہیے بلکہ اُس عیب کی خاطر اُسے ترک کرنا چاہیے ورنہ مذہب بالکل ختم ہو جاتاہے۔ پھر ایک اچھا کام ہم کرتے ہیں اگر وہ کام ہم اس لئے کرتے ہیں کہ دوسرے آدمی بھی وہی کام کرتے ہیں تو پھر خدا باقی نہ رہا۔ ہمیں وہ کام محض اچھا ہونے کی وجہ سے کرنا چاہیے اور ثواب کی خاطر کرنا چاہیے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو کام کا کام ہو جائے گا اور ثواب بھی مل جائے گا۔
    غرض ہم اکثریت کو دیکھتے ہیں کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کرتی ہے۔ تو اکثریت نیک نہیں ہوا کرتی۔ یہ تو ایک آئیڈیل ہے جو انبیاء کی جماعتوں کے سامنے رکھا گیا ہے ورنہ وہ اس کو نیک بنا نہیں سکتے۔ حضرت نوح علیہ السلام دنیا میں آئے لیکن اکثریت خراب رہی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی، حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی۔ اِدھر حضرت کرشن اور حضرت رام چندر علیہما السلام آئے لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی۔ پھر تمام انبیاء کے سرتاج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے لیکن اکثریت پھر بھی خراب رہی۔ اکثریت کبھی نیک نہیں ہوتی۔ صرف اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعتوں کے سامنے یہ مقصد رکھا ہے کہ تم کوشش کرو کہ اکثریت نیک بنا لو۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ جانتا ہے کہ اکثریت نے یہ کام کرنا ہے یا نہیں۔ لیکن اگر کوئی جماعت کوشش کر کے اکثریت کو نیک بنا لے گی تو وہ بے مثال ہو گی اور کوئی دوسری قوم اُس کے سامنے کھڑی نہیں ہو گی۔ ممکن ہے وہ نمازوں میں اس سے زیادہ ہو، ممکن ہے وہ روزوں میں اس سے زیادہ ہو اور وہ کہہ دیں کہ ہم نے تم سے زیادہ روزے رکھے ہیں یا تم سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔ لیکن یہ مقام کہ کسی قوم نے اکثریت کو نیک بنا لیاہو کسی قوم کو حاصل نہیں ہوا۔ لیکن یہ مقام ہر نبی کی جماعت کے سامنے رکھا گیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سب نبیوں کے سامنے یہ مقام رکھا گیا ہے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے باقی تمام اَدوار کے سامنے بھی یہ مقام رکھا جائے گا لیکن اکثریت کا نیک ہونا مشکل امر ہے۔ ایسا تو ہو سکتا ہے کہ کسی نبی کے زمانہ میں ایک علاقہ یا ایک ملک کی اکثریت نیک ہو چکی ہو لیکن دنیا کی اکثریت کو کسی نبی کی جماعت بھی نیک نہیں بنا سکی۔ جس نبی کی جماعت نے بھی یہ مقام حاصل کر لیا کہ اُس نے اکثریت کو نیک بنا لیا وہ نہایت شاندار اور بے مثال ہوگی۔
    بہرحال یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ مومن ڈرنا نہیں جانتے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم نے سچائی کو قبول کیا ہے اس لئے ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ بے شک جب وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سچائی کو قبول کیا ہے تو لوگ اُن کی ہر طرح مخالفت کرتے ہیں لیکن مومن ان باتوں سے گھبراتے نہیں بلکہ دلیری سے اپنی باتوں پر قائم رہتے ہیں۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایرانی بادشاہ نے بعض مسلمان افسروں کو ملاقات کے لئے بلایا۔ جب وہ وہاں گئے تو کسی نے بتایا کہ یہاں یہ دستور ہے کہ جُوتیاں اُتار کر چلتے ہیں اور ہتھیار باہر رکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں یہ دستور ہے تو پھر اپنے ملک کے لوگوں کو یہاں بلاؤ ہم تو اِس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بعض لوگوں نے رئیس الوفد سے کہا بھی کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دیں لیکن وہ نہ مانے اور کہا ہم تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اِسی طرح چلے جاتے تھے۔ بادشاہ مجبور تھا اُس نے بلا لیا اور وہ اندر چلے گئے۔ فرش پر دارا کے وقت کے قیمتی قالین بچھے ہوئے تھے وہ اُس پر نیزہ ہاتھ میں لئے مٹی اور کیچڑ سے بھری ہوئی جُوتیوں کے ساتھ چلے گئے اور وہاں بیٹھ گئے۔ بعض لوگوں نے انہیں ٹوکا بھی کہ بادشاہ کے سامنے تمہیں کھڑا ہونا چاہیے مگر انہوں نے کہا یہ ضروری نہیں۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک حد تک دوسروں کا لحاظ ضروری ہوتاہے مگر لحاظ اَور ہوتاہے اور نقل اَور ہوتی ہے۔ لحاظ بطور احسان ہوتاہے اور محسن اور نقّال میں بہت بڑا فرق ہوتاہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حدیبیہ کے موقع پر مشرکین کی طر ف سے ایک جرنیل آیا۔ آپ نے فرمایا اُس کے دل پر قربانیوں کا بہت اثر ہوتاہے چنانچہ آپ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانیاں باہر نکال کر کھڑی کردیں۔ وہ جرنیل آیا ۔اُس نے جب یہ دیکھا کہ ہزاروں جانور وہاں کھڑے ہیں تو دریافت کیا کہ یہ کس لئے ہیں۔ اُسے بتایا گیا کہ یہ لوگ عمرہ کرنے آئے ہیں اور یہ جانور قربانی کے لئے ساتھ لائے ہیں۔ اُس کی طبیعت پر اِس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ وہیں سے لَوٹ گیا۔ اور واپس جا کر اُس نے اپنی قوم سے کہا کہ یہ لوگ قربانیاں دینے یہاں آئے ہیں میں کس منہ سے اُنہیں کہوں کہ تم واپس چلے جاؤ۔ باوجود اِس کے کہ وہ قوم کی طرف سے مسلمانوں کے سامنے ایک مسئلہ پیش کرنے آیا تھا قربانیاں دیکھ کر اُس کی طبیعت پر یہ اثر ہوا کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے ایک قسم کا سفیر بن کر واپس چلا گیا۔
    غرض بعض دفعہ دوسرے کے جذبات کا پاس کرنا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن اس صورت میں دوسرا شخص بھی یہ سمجھتا ہے کہ ان لوگوں نے یہ کام ڈر کے مارے نہیں کیا بلکہ میری دلجوئی کے لئے کیا ہے۔ لیکن اتباع اَور چیز ہے۔ اتباع کرنے والے کو دیکھنے سے صاف طور پر معلوم ہوتاہے کہ دوسرے سے خائف ہے۔ مثل مشہور ہے کہ جب ’’اُکھلی میں سر دیا تو موہلوں سے کیا ڈر‘‘۔ کوئی شخص اُکھلی میں سر رکھ دے اور پھر کہے کہ موہلا بھی نہ پڑے تویہ ناممکن ہے۔ انبیاء کی جماعتوں میں داخل ہونے کے معنے دنیا کی مخالفت مول لینے کے ہیں۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ چھوٹی جماعت ماری جائے گی لیکن یہی تو بات ہے جو ہم دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ ہمیں خدا نے قائم کیا ہے اس لئے اگرچہ ہم تھوڑے ہیں لیکن ہم مریں گے نہیں۔ اگرہم منہ سے یہ کہتے ہیں کہ ہم خداکی قائم کردہ جماعت ہیں لیکن مخالف سے کہتے ہیں ذرا آہستہ مار تو پھر خدا کا معجزہ کیا ہوا۔ خدا تعالیٰ کا معجزہ تو اِسی صورت میں ہو گا کہ اگر مخالف مارتا ہے تو وہ اُسے کہے کہ اَور مار۔
    حضرت نوح علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے کہا کہ تُو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اِس چیز میں کوئی مزہ نہیں کہ تم اکیلے اکیلے آؤ، تم اکٹھے ہو کر آؤ تو تب مزہ ہے۔ پھر کہا تم اکٹھے بھی ہو کر آؤ تو کوئی مزہ نہیں ہوسکتا ہے۔ تمہاری سکیمیں الگ الگ ہوں جس کی وجہ سے باوجود اکٹھے ہونے کے تمہاری طاقت متحد طور پر خرچ نہ ہو اس لئے تم اکٹھے ہو کر اور ایک سکیم تیار کر کے اس کے ماتحت حملہ کرو۔ پھر تم دیکھ لو گے کہ تم مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے کیونکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور خدا تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا۔
    یہ مومنانہ طریق ہے۔ مومن یہ نہیں کہتا کہ تم میرے مقابلہ میں اکٹھے ہو کر کیوں آئے ہو یا تم نے ایک سکیم کیوں بنائی ہے میں تو اکیلا ہوں تم بھی ایک ایک کر کے آؤ۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم اکٹھے ہو کر اور ایک سکیم بنا کر آؤ لیکن تم مجھے پھر بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ایسا شخص دنیا میں ایک بھی ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا صداقت سے خالی نہیں رہ سکتی کیونکہ وہ ایک رہ نہیں سکتا۔ ایک وہ اسی صورت میں رہ سکتا ہے جب وہ کسی سے ڈرتا ہو۔ جب وہ خدا تعالیٰ کا ہتھیار ہے تو پھر ڈرے کیوں۔ وہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو اُسے پھینک دے اور چاہے تو اُسے رکھ لے۔ اُس کی مرضی اپنی مرضی نہیں۔
    دنیا میں جب تم چُھری کانٹے یا چمچہ کے ساتھ کھانا کھاتے ہو تو یہ تمہارے اختیار میں ہوتا ہے کہ خواہ تم اس چُھری کانٹے یا چمچے کو پھینک دو یا اُسے ہاتھ میں رکھو۔ چُھری کانٹا یا چمچہ کی اگر زبان ہو تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے تم نے منہ سے لگایا تھا پھر پرے کیوں پھینک دیا۔ اِسی طرح جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتاہے اُس کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ چاہے تو خدا تعالیٰ اُسے پھینک دے اور چاہے تو رکھ لے۔ خدا تعالیٰ اُسے پھینک دیتا ہے تو وہ خوش ہوتاہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اُس کے خدا کی خوشی اِسی میں ہے۔ اور وہ اُس کے پکڑنے میں بھی خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کے خدا کی خوشی اِسی میں ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے ہی بات کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو جو بھی اکثریت کے پیچھے رہے گا خدا تعالیٰ اُس کے ساتھ نہیں رہے گا۔ وہ اِدھر اُدھر پھرتا رہے گا اور انجام کار اُسے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ خدا تعالیٰ اُسے کہے گا تم نے اکثریت کو خدا بنا لیا تھا اس لئے جاؤ اب میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘ (الفضل مورخہ 17مئی1961ئ)
    1: الانعام: 117
    2: الاخلاص :4
    3: ردّوکد: (ردّ و قدح) حُجّت۔ بحث۔ تکرار

    16
    مذہب کی پیش کردہ بہت سی صداقتیں ایسی ہیں جو بظاہر نہایت سادہ اور معمولی ہیں لیکن اگر دنیا پوری طرح ان پر کاربند ہو جائے تو باہمی کشمکش اور لڑائیوں کا سلسلہ یکسربند ہو سکتا ہے
    (فرمودہ21؍جولائی 1950ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:
    ’’ 1
    اس کے بعد فرمایا:
    ’’بہت سی صداقتیں دنیا میں ایسی ہیں جو نہایت چھوٹی، نہایت ظاہر اور نہایت سادہ ہیں۔ لیکن جتنا کام اُن سے لیا جا سکتا ہے اُتنا ان بڑی بڑی ایجادوں سے نہیں لیا جا سکتا جن سے آج کل دنیا مرعوب ہو رہی ہے اور جن کی وجہ سے وہ قومیں اپنی علمی تحقیقات پر فخر کرتی ہیں۔ لیکن انسان کی یہ ایک عجیب حالت ہے کہ وہ ان سادہ اور چھوٹی چھوٹی صداقتوں سے کام نہیں لیتا بلکہ ہمیشہ ٹیڑھے اور پیچیدہ رستوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ دنیا کے اکثر انسانوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی نے ایک احمق سے پوچھا کہ مجھے بگلا پکڑنے کی ضرورت ہے کوئی ایسا طریق بتاؤ جس سے وہ پکڑا جا سکے۔ اس نے کہا تہجد کے وقت دریا کے کنارے چلے جاؤ بگلا وہاں بیٹھا ہوا ہو گا۔ اپنے ساتھ کچھ موم لے جانا ،آہستہ آہستہ لیٹ کر وہاں تک جانا اور وہ موم اُس کے سر پر رکھ دینا۔ اس کے بعد تھوڑی دُور پَرے ہٹ کر بیٹھ جانا اور ہوشیار رہنا۔ سورج نکلے گا تو دھوپ کی وجہ سے موم پگھلے گی اور پگھل کر اُس کی آنکھوں میں پڑے گی وہ اندھا ہو جائے گا اور اُسے آنکھوں سے کچھ دکھائی نہیں دے گا ۔پھر آہستہ آہستہ جا کر اُسے پکڑ لینا۔ اُس شخص نے کہا میں صبح سویرے اتنا فاصلہ طے کر کے دریا پر جاؤں گا ۔پھر رینگ رینگ کر اور چُھپتے چُھپتے بَگلے کے پاس پہنچوں گا، اس کے سر پر موم رکھوں گا اور پھرپرے ہٹ کر بیٹھا رہوں گا کہ سورج نکلے اور موم پگھل کر اس کی آنکھوں میں جا پڑے اور وہ اندھا ہو جائے تب میں اُسے پکڑوں۔ تو کیوں نہ میں اُس وقت ہی اُسے پکڑ لوں جب میں اُس کے سر پر موم رکھنے جاؤں۔ اس نے کہا پھر استادی کیا ہوئی۔ دنیا کے اکثر انسان ایسے ہی بیوقوف ہیں جیسے وہ شخص جس نے بگلے کے پکڑنے کا یہ طریق بتایا۔ وہ ہمیشہ پیچیدہ اور ٹیڑھے رستوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ سیدھی سادھی بات جو مجرّب ہو اور پھر ایک دفعہ نہیں ہزارہا دفعہ تجربہ میںآئی ہو اور ہر ایک کے علم میں ہو وہ اختیار نہیں کرتے۔
    مذہب کیا ہے؟ جہاں تک اس کا بنی نوع انسان سے تعلق ہے وہ چند موٹے موٹے اخلاق کا نام ہے جو ایسے نہیں جو نئے ہوں یا جن کا تجربہ نہ ہوا ہو بلکہ وہ ہزاروں نہیں لاکھوں آدمیوں کے تجربہ میں آئے ہیں اور ان کے نتائج دیکھے گئے ہیں۔ مگر لوگ انہیں اختیار نہیں کرتے اور وہ ایسے رستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو پیچیدہ ہوں۔ وہ ان کی بجائے بجلی کی مشینوں اور ایٹم بم کی تلاش میں رہتے ہیں کہ وہ کسی طرح ایجاد کریں تا انہیں استعمال کیا جائے۔ مثلاً مذہب یہ سکھاتا ہے کہ دوسروں سے حُسنِ سلوک کرو، کسی پر ظلم نہ کرو، کسی کا مال نہ کھاؤ۔ اب یہ چیزیں نئی نہیں ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے نبیوں میں سے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے یہ تعلیم دی ہو کہ تم دوسروں کا مال کھا لو، دوسرے لوگوں پر ظلم کرو۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ موسیٰ علیہ السلام نے تویہ تعلیم نہیں دی تھی لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ نئی بات نکالی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی بات دہرائی ہے جس کی دوسرے نبیوں نے اپنے اپنے وقت میں تعلیم دی۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم کوئی فائدہ اٹھانے لگو تو پہلے یہ دیکھ لو کہ اس سے کہیں تمہارے کسی ہمسایہ کو نقصان تو نہیں پہنچتا۔ اب یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ ہماری عقل کے کسی گوشہ میں بھی نہیں آسکتا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں یہ تعلیم دی ہو کہ اے لوگو! تم کوئی نفع اٹھاتے وقت ہمسایہ کا خیال نہ رکھو۔ اگر حضرت آدم علیہ السلام نے یہ کہا ہوتا تو وہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ نہیں کہلا سکتے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی کہا ہو گا تو یہی کہا ہو گا کہ تم دوسرے شخص کا مال نہ کھاؤ۔ اُس پر ظلم نہ کرو، اُس سے حسن سلوک کرو۔ ہم یہ مان نہیں سکتے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے وقت میں یہ تعلیم دی ہو کہ اے لوگو! تم دوسروں کا مال لوٹ کر کھا جاؤ، ان پر ظلم کرو، ان سے حسن سلوک نہ کرو۔ لیکن ان کو جھٹلانے والے لوگ کہتے تھے کہ ہم ایسا نہیں کہیں گے۔ اور خدا تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کو الہام کرتا تھا کہ یہ لوگ جو دوسروں کا نقصان نہیں کرتے ،بددیانتی نہیں کرتے، دوسروں پر ظلم نہیں کرتے، بلکہ اُن سے حُسنِ سلوک کرتے ہیںیہ بد دیانت ہیں، بے ایمان ہیں مَیں ان پر عذاب نازل کروں گا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کچھ کہا ہے وہ وہی ہے جو آدم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا، جو نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا، جو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا۔ یہ وہ چیز ہے جو آدم علیہ السلام سے لے کر اِس وقت تک چلتی چلی آئی ہے۔ اگر اِس تعلیم پر دنیا فیِ الوَاقع عمل کرنے لگ جائے تو کیا کوئی لڑائی باقی رہ سکتی ہے؟ اگر دونوں فریق اِسی بات پر تیار ہو جائیں کہ وہ دوسرے کا مال نہیں اٹھائیں گے، دوسرے کو ذلیل نہیں کریں گے تو امن قائم ہو جاتا ہے اور لڑائی ہو ہی نہیں سکتی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارا دشمن بھی تم سے پیار کرنے لگ جائے گا2 اور اگر تم ایسا نہ کرو گے تو تمہاری آپس میں محبت نہیں ہو گی۔ اور اگر محبت نہ ہو گی تو پھر یہ وہی اُستادی بن جاتی ہے جو کسی نے بگلے پکڑنے کے لئے بتائی تھی۔ اگر تمہاری آپس میں محبت ہے تو دوسرے کے ساتھ لڑائی کا خیال بھی تمہارے ذہن میں نہیں آسکتا۔ مثلاً میاں بیوی ہیں۔ وہ آپس میں محبت رکھتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، ایک دوسرے کی خوشی سے وہ خوش ہوتے اور ایک دوسرے کی غمی سے غم محسوس کرتے ہیں۔ کیا تم ان کے متعلق کبھی یہ خیال بھی کر سکتے ہو کہ بیوی ایک طرف کسی وقت بیٹھی ہو اور تم اس سے پوچھو بی بی! کیا کر رہی ہو؟ تو وہ کہے کہ میں اپنے خاوند کو مارنے کے لئے ایٹم بم تیار کر رہی ہوں۔ یا خاوند ایک الگ جگہ تجربہ کر رہا ہو اور پوچھنے پر وہ کہے میں اپنی بیوی کو ہلاک کرنے کے لئے ایٹم بم تیار کر رہا ہوں۔ اگر میاں بیوی کے درمیان محبت ہو گی تو ایک دوسرے کو ہلاک کرنا تو کیا سخت کلامی اور سخت چہرے کا بھی ایک دوسرے کو خیال نہیں آسکتا۔ پس ایٹم بم کی استادیاں تو جبھی سُوجھتی ہیں جب ہم دوسرے کو چھیڑیں گے اور دوسرے کے متعلق اپنے اندر بُغض پیدا کریں گے۔ جب بُغض پیدا ہو جائے گا تو باہم لڑائیاں ہوں گی۔ لیکن سیدھی سادھی بات ہے کہ ایک دوسرے کو چھیڑو، ہی نہیں ۔بُغض پیدا ہی نہ کرو۔
    سائنس آج سے پہلے بھی موجود تھی۔ دنیا ماضی میں بھی ایٹم بم بنا سکتی تھی۔ لیکن پہلے زمانہ میں لوگوں میں ایک دوسرے کے متعلق اِس قدر بُغض نہیں تھا جس قدر آجکل ہے۔ بُغض نے لوگوں کے اندر جوش پیدا کیا اور اتنا پیدا کیا کہ انسان نے سوچا کہ جب تک میں کوئی بھاری چیز تلاش نہ کروں میرا جوش ٹھنڈا نہیں ہو سکتا۔ جتنا جوش پیدا ہوا اُتنا تنوّع بھی پیدا ہوا۔ کیونکہ اگر کسی سے محبت ہوتی ہے تو ہزاروں قسم کے ایسے خیالات اٹھتے ہیں جو محبت پر دلالت کرتے ہیں۔ اور اگر بُغض ہوتا ہے تو ہزاروں قسم کے خیالات اٹھتے ہیں جو بُغض پر دلالت کرتے ہیں۔ ایٹم بم بُغض پر دلالت کرنے والا ذریعہ ہے۔ جب بُغض بڑھ گیا تو اس کو نکالنے کے لئے تجویزیں سوچی گئیں۔ مثلاً ایک شخص دوسرے کو تھپڑ مارتا ہے اور اپنا بُغض نکال لیتا ہے لیکن جب بُغض بڑھتاہے اور اتنا بڑھتا ہے کہ تھپڑ سے وہ نکل نہیں سکتا تو وہ تجربہ کرتا ہے کہ اس طرح گھونسا مارا جائے۔ وہ گھونسامارتا ہے اور اس کا جوش ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ خیال کرتا ہے کہ گھونسا مارنا بُغض نکالنے کا کوئی اچھا ذریعہ نہیں۔ وہ اَور آگے بڑھتا ہے اور ڈنڈا نکالتا ہے۔ پھر اس پر کچھ عرصہ چلتا ہے۔ پھر وہ سمجھتا ہے کہ ڈنڈا مارنے سے بھی اس کی تذلیل اتنی نہیں ہوئی کہ اس سے بُغض نکل جائے۔ وہ اسے جوتی مارتا ہے تا اس کی تذلیل ہو۔پھر چاقو نکل آتا ہے، چُھری نکل آتی ہے، تلوار بنتی ہے اور بندوق بنتی ہے۔ یہ سب غصہ کی علامات ہیں۔ جب غصہ کا معیار بلند ہو جاتا ہے تو پھر پہلے آلات جن سے غصہ نکل جاتا تھا حقیر معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے شاعر محبت کرتے ہیں، اگلے شاعر پچھلے شاعروں سے اتنی محبت سیکھ لیتے ہیں جتنی وہ جانتے ہیں۔ پھر اس میں اَور ترقی کرتے ہیں، پھر اَور ترقی کرتے ہیں۔ اِس طرح شاعری بڑھتی جاتی ہے۔ درحقیقت شاعری بڑھتی ہی پچھلے تجربوں کی بناء پر ہے۔ جب دنیا کی تسلی پچھلی شاعری سے نہیں ہوتی تو پھر شاعر اَور زیادہ مبالغہ کرنے لگ جاتا ہے اور پھر اَور مبالغہ کرتا ہے اور اس طرح شاعری ترقی کر کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتی ہے۔
    غرض دنیا کی صداقتیں بہت چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں جن کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو بے ایمانیاں، بد دیانتی اور دغابازیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ورنہ مذہب جو چیزیں بتاتا ہے اُن میں سے ایک بھی ایسی نہیں ہوتی جسے نظر انداز کیا جائے۔ اگر لوگ مذہب پر پوری طرح کاربند ہو جائیں تو آپس میں لڑائیوں کا سوال ہی نہیں رہتا۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی صداقتیں ہیں۔ اگر انسان انہیں مان لے تو بُغض اور کینہ خود بخود نکل جاتا ہے۔ ہماری مخالفت بھی زیادہ تر وفاتِ مسیح وغیرہ عقائد کی وجہ سے نہیں بلکہ اِس وجہ سے ہے کہ لوگوں میں ضد کی عادت ہے۔ جب اُن کے سامنے کوئی سچائی پیش کرو تو وہ کہتے ہیں ہم اپنے عالِم کی بات مانیں گے ان کی بات کیوں مانیں۔ پھر احمدی ہو کر چندہ دینا پڑتا ہے لیکن وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اِسی طرح انہیں رسم و رواج پر روپیہ خرچ کرنے کی عادت ہوتی ہے لیکن جب احمدی ہو جائیں تو انہیں خدا کی راہ میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔ دین کے لئے خرچ کرنا پڑتا ہے اور یہ چیز ان کی طبیعت کے موافق نہیں ہوتی۔ پھر لوگوں میں نفاق کی عادت ہوتی ہے۔ انہیں کوئی شیعہ مل جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ سُبْحَانَ اللّٰہِ! بھلا حضرت علیؓ سے بڑا کون ہو سکتا ہے ۔اور اگر کوئی سُنی مل گیا تو کہہ دیا شیعہ بہت بُرے ہوتے ہیں وہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ پر ایمان نہیں لاتے۔ غرض وہ ہر ایک کو خوش کرنے کی کوشش کریں گے اور اس سے آگے قدم نہیں بڑھائیں گے۔ کسی احمدی کو ملیں گے تو کہیں گے سُبْحَانَ اللّٰہِ مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خدمت کی ہے۔ اور جب دوسرے لوگ ملیں گے تو کہیں گے احمدی بہت بُرے ہیں۔ پھر مثلًا انگریز آجائیں تو اُن کی ہاں میں ہاں ملا دیں گے اور بعد میں انہیں بُرا بھلا کہتے پھریں گے۔ یہ چیزیں ہیں جو صداقت کے قبول کرنے میں روک بن رہی ہیں۔ اگریہ روکیں ہٹ جائیں تو احمدیت قبول کرنے میں دِقّت ہی کونسی رہ جاتی ہے۔ عقائد سب روشن ہیں۔ چیز صرف یہی ہے کہ لوگوں میں قربانی کا مادہ نہیں پایا جاتا۔ پھر ان میں ڈرنے کی عادت ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودیوں کے کچھ سردار آپ کے پاس آئے۔ جب واپس گئے تو ایک بھائی نے دوسرے سے پوچھا بھائی! آپ کا اس شخص کے متعلق کیا خیال ہے؟ اس نے کہا باتیں تو سب سچی ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیاں بھی سچی معلوم ہوتی ہیں مگر (گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) اس کی تعلیم صرف یہاں تک جاتی ہے نیچے نہیں جاتی۔ اُس نے کہا پھر تمہاری کیا صلاح ہے؟ اس نے کہا جب تک جان میں جان ہے ایمان نہیں لاؤں گا۔ بَھلامَیں اپنی قوم کو کس طرح چھوڑ دوں۔ دوسرے نے کہا میرابھی یہی خیال ہے۔ آپ کی مجلس میں وہ آپ کی صداقت کا اقرار کررہے تھے لیکن باہر نکلے تو انکار کر دیا۔ ایک صحابیؓ کہتے ہیںمیں اُن کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا اِس طرح کہ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ اُن کا کوئی تعاقب کر رہا ہے۔ میں نے جب اُن کی یہ باتیں سنیں تو بہت حیران ہوا۔ اس قسم کی ہزاروں نہیں لاکھوں مثالیں آج بھی پائی جاتی ہیں۔ بہت سے لوگ ہمیں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اچھے ہیں۔ جب دوستوں سے ملتے ہیں تب بھی بعض دفعہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم اچھے ہیں ۔لیکن جب مخالفین کو ملتے ہیں تو ہمیں برا بھلا کہنے لگتے ہیں۔
    مجھے افسوس ہے یہی حالت بعض احمدیوں کی بھی ہے۔ حالانکہ ہم تو احمدی چھوڑ کسی غیراحمدی، ہندو اور جاہل سے جاہل آدمی کے متعلق بھی نہیں سمجھتے کہ اُس کی یہ حالت ہو گی۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے تم پر مشکلات بھی آئیں گی مگر جب مشکلات آتی ہیں تو تم میں سے بعض شور مچا دیتے ہیں کہ ہائے! ہم مر گئے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ بھلا سوچو تو سہی کہ دنیا میں کوئی شخص دکھوںسے بچا بھی ہے ۔ بے شک نبی دنیا میں آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں جنت دیں گے، اس جہان میں بھی جنت دیں گے اور اگلے جہان میں بھی جنت دیں گے۔ مگر کیا تم نے کبھی سوچا بھی ہے کہ وہ جنت کیا ہے؟ اور کیا یہ جنت کہ آپ کی تجارتوں کو بھی نقصان نہ پہنچے، آپ کو کوئی جانی خطرہ بھی پیش نہ آئے، فرشتے آئیں اور آپ کے سب کام کر جائیں کبھی آدمؑ کو ملی؟ کبھی نوح ؑکو ملی؟موسیٰؑ کو ملی؟ خدا تعالیٰ کا ہر نبی کہتا ہے کہ وہ تمہیں جنت دے گا لیکن تم کو ماننا پڑے گا کہ یا تو اس قسم کے مصائب جہنم کا حصہ نہیں بلکہ جنت کا حصہ ہیں۔ یہ دکھ بھی انسان کو لطف دینے کا موجب ہیں۔ صوفیاء کہتے ہیں کہ اُس دنیا کامزہ ہی کیا جس میں دکھ نہ ہوں۔ بہرحال خواہ یہ نظریہ ٹھیک ہو یا غلط یہ چیز بہرحال صحیح ہے کہ آدم علیہ السلام کو بھی تکالیف پہنچیں ، حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی تکالیف و مصائب سے محفوظ نہ رہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی دکھ اور تکالیف کے دور میں سے گزرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام او ردیگر انبیاء کو بھی یہ تکلیفیں آئیں۔
    کیا صلیب جنت کا ہی حصہ ہے؟ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جنگ احد میںجو واقعہ پیش آیا، آ پکے دانت شہید ہوئے، آپ بے ہوش ہو گئے اور آپ کی فتح شکست سے بدل گئی کیا جنت کا ہی حصہ ہیں؟ آپ پر جو جنگِ احزا ب میں گزری کیا یہ جنت ہے؟ آپ کی وفات سے پہلے جو جنگ ہوئی وہ اِتنی خطرناک تھی کہ بڑے بڑے مومنوں کے دل بھی ہل گئے تھے۔ روما کی طاقت مسلمانوں سے سینکڑوں گُنا زیادہ تھی پھر آپ لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ جنگ مسلمانوں کے لئے کتنی خطرناک تھی۔ اتنا بڑا بادشاہ جس کی آدھی دنیا پر حکومت تھی عرب پر حملہ آور ہونے لگا تھا۔ اگر یہ جنت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ملی تو معلوم ہوا کہ جنت میں کانٹے بھی ضرور ہیں۔ اور اگر یہ جنت نہیں اور تم یہ مانتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جنت نہیں ملی تو یہ عجیب تمسخر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تو دنیا میں جنت نہ ملے اور مرید دنیا میں جنت ملنے کے امیدوار ہوں۔ لیکن اگر تم مانتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دنیا میں جنت ملی تو لازماً آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جنت وہ بھی ہے جس میں دکھ، تکالیف اور شدائد پائے جائیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ جب تم قومی طور پر مرنے لگتے ہو تو خدا تعالیٰ تمہیں اُس موت سے بچا لیتا ہے۔
    کہتے ہیں کوئی احمق تھا۔ اُسے خیال آیا کہ وہ کسی قبر میں چُھپ کر دیکھے کہ منکر نکیر کس طرح آتے ہیں۔ وہ قبرستان میں گیا۔ وہاں ایک پرانی قبر تھی۔ وہ اس میں چُھپ کر بیٹھ گیا اور سمجھا کہ منکرنکیر ظاہری شکل میں آئیں گے اور اسے دکھائی دیں گے۔ اتنے میں ایک قافلہ گزرا۔ خچروں پر شیشے کے برتن لدے ہوئے تھے۔ خچریں اس قبر کے پاس سے گزریں جس میںو ہ احمق چُھپا بیٹھا تھا ۔چَھن چَھن کی جو آواز آئی تو اس نے خیال کیا کہ شاید منکر نکیر آگئے ہیں۔اُس نے گردن باہر نکالی تا منکر نکیر کو ظاہری شکل میں دیکھ لے۔ اُس کا گردن نکالنا تھا کہ خچریں بِدکیں اور برتن نیچے گر کر ٹوٹ گئے۔ تاجر کے نوکر آئے اور انہوں نے اُسے خوب مارا۔ صبح کو جب گھر آیا تو بیوی نے دریافت کیا کہ وہ رات کو کہاں گیا ہوا تھا؟ اس نے کہا مجھے یہ خیال آیا کہ میں منکر نکیر کو ظاہرئی شکل میں دیکھوں اور یہ معلوم کروں کہ اگلے جہان میں کیا ہوتا ہے اس لئے رات کو میں قبرستان میں گیا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ بالکل آرام ہے صرف اتنی احتیاط رکھنی چاہیے کہ خچریں بِدک نہ جائیں۔
    جس طرح اس بیوقوف نے اگلے جہان کے متعلق خیال کر لیا تھا وہی حال تمہارا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ جنت کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں کوئی دکھ نہ پہنچے، کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ آئے، ہمیں کوئی قربانی نہ کرنی پڑے، بالکل امن اور آرام ہو۔ لیکن جب تمہیں یہ چیزیں نہیں ملتیں تو تم کہتے ہو ہمیں جنت نہیں ملی۔ حالانکہ جس کے طفیل تمہیں جنت ملنی تھی جنگ اُحد میں اُس کے دانت شہید ہوئے، جنگ احزاب میں اُسے پندرہ دن بھاگنا بھی پڑا، عورتیں بے پرد ہو گئیں اورجب ان کی حفاظت کے لئے سپاہی بھیجے گئے تو محاذ کمزور ہو گیا۔ اس کو وہ دن بھی دیکھنا پڑا جب روما کے متعلق یہ خبر مشہور ہوئی کہ وہ عرب پر حملہ آور ہورہا ہے تو منافقوں نے شادیانے بجائے اور کہا اب دیکھا جائے گا کہ کیا ہوتا ہے۔ روما اور مسلمانوں کا مقابلہ ایسا ہی تھا جیسے ہاتھی اور چِڑیا کا آپس میں مقابلہ ہو۔ مگر اِس کو تم جنت کہتے ہو۔ ایمان کے لحاظ سے تم یقین رکھتے ہو کہ یہ جنت تھی۔ لیکن جب اس لفظ کا اپنے لئے استعمال کرتے ہو تو کہتے ہو کہ ہمیں بھی وہی جنت ملے جو اس احمق کو ملی جو منکر نکیر دیکھنے کے لئے رات کو قبر میں چُھپ گیا تھا۔ حالانکہ جس نے جنت کا لفظ بولا ہے اس نے جو اس کے معنے لئے ہیں ہمیں بھی وہی معنے لینے پڑیں گے۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے 3مومن کو دو جنتیں ملیں گی۔ ایک اس جہان میں اور ایک دوسرے جہان میں۔ جس کے منہ سے دنیا میں جنت ملنے کا وعدہ نکلا ہے اُسی نے کہا ہے کہ ۔ جنت کے یہ معنے نہیں کہ تم پر مصائب وارد نہ ہوں بلکہ جنت کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ تمہیں تکلیفیں پہنچیں۔ اس لئے یہ تکلیفیں تمہیں محسوس نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ جن کے مقابلہ میں تم اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا عاشق قرار دیتے ہو اُن کو بھی تکالیف پہنچ رہی ہیں لیکن وہ تمہارے برابر نہیں ہیں ۔۔ تم یہ امید رکھتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم سے خوش ہو رہا ہے اور اگلے جہان میں بھی تمہیں زندگی ملے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کافروں کو یہ امید نہیں ہوتی۔ ان کے لئے نہ اس جہان میں جنت ہے اور نہ اگلے جہان میں جنت ہے۔ ہر شخص یہ امید کرتاہے کہ اس کا گھر جنت میں ہو اور جنت کی خدا تعالیٰ نے یہاں تعریف کر دی ہے۔ لیکن بعض احمدی جنت کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ وہ احمدی اس لئے ہوئے ہیں کہ ان کی تنخواہ بجائے دو سو کے پانچ سو ہو جائے۔ وہ احمدی اس لئے ہوئے ہیں کہ پہلے ان کا ایک بچہ ہے۔ اب دس بچے ہوجائیں ۔ وہ احمدی اس لئے ہوئے تھے کہ وہ سمجھتے تھے کہ پہلے دو چار آدمی اُن سے خوش ہیں اب سارا قبیلہ ان کے ہاتھ پر جمع ہو جائے گا۔ قوم انہیں لیڈر بنائے گی۔ یہ نقشہ ہوتاہے جنت کا جو ایک شخص احمدی ہوتے ہوئے بعض دفعہ اپنی نظروں کے سامنے رکھتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ جب بھی اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ چلّا اٹھتا ہے۔ حالانکہ اُسے پہلے ہی سمجھنا چاہیے تھا کہ احمدی ہونے کی وجہ سے اس کی تنخواہ دو سو کی بجائے ایک سو ہو جائے گی۔ یہ نہیں کہ احمدی ہوجانے کی وجہ سے اس کی اولاد بڑھ جائے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے پہلے بچے بھی تکلیف اٹھائیں۔ اسے یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ قوم اسے لیڈر بنائے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ دس بارہ آدمی جو اُسے پہلے جانتے ہیں وہ بھی اسے چھوڑ دیں۔
    دوسرے کوئی وجہ نہیں کہ یہ تکالیف اور مصائب اُسے صرف احمدیت کی وجہ سے پہنچیں بلکہ اگر وہ احمدی نہ بھی ہوتا تب بھی اُسے تکلیفیں پہنچنی تھیں۔ چاہے کسی رنگ میں وہ نقصان اٹھاتا وہ ضرور نقصان اٹھاتا۔ لوگ صرف تمہاری مخالفت ہی نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی بھی کرتے ہیں۔ تمہیں ہر جگہ نظر آئے گا کہ تمہاری جو مخالفت کرتا ہے وہ اپنے بھائی کی بھی مخالفت کرے گا کہ کہیں وہ تجارت میں اس سے آگے نہ بڑھ جائے۔ وہ ایک تیسرے شخص کی مخالفت بھی کرتا ہے اس لئے کہ آئندہ کسی وقت ان دونوں کا عُہدہ میں ترقی کے وقت مقابلہ ہونا ہوتاہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے پہلے ہی گرالے۔
    پس یہ بات ہی غلط ہے کہ صرف احمدیت کی وجہ سے تمہیں تکلیفیں پہنچ رہی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخالفین کو بھی ویسی ہی تکلیفیں پہنچ رہی ہیں جیسی تمہیں پہنچ رہی ہیں۔ صر ف یہاں نام مذہب کا ہے۔ دوسری جگہوں پر جتھابازی بھی ہوتی ہے اور قوم پرستی بھی ہوتی ہے۔ مثلاً فلاں جاٹ ہے میں سید ہوں، فلاں کشمیری ہے میں پٹھان ہوں ،فلاں راجپوت ہے میں مغل ہوں۔پھر پارٹی بازی ہوتی ہے کہ فلاں ،فلاں افسر کے ساتھ ہے مَیں فلاں افسر کے ساتھ ہوں۔ پھر ترقیوں کے اوپر مقابلہ کا سوال آتا ہے۔ گویا وہاں تو سینکڑوں وجوہ ہیں جن کی وجہ سے مخالفت ہوتی ہے اور یہاں صرف ایک ہی وجہ ہے کہ تم احمدی ہو۔ گویا احمدی ہو کر تم نے اپنی مخالفت کو محدود کر لیا۔ یہی حال تجارتوں میں بھی ہے۔ غرض اصل گند یہ ہے کہ لوگوں میں حسد کا مادہ پایا جاتا ہے۔ جیسے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 4یعنی لوگوں میں حسد کا مادہ پایا جاتا ہے جس سے محفوظ رہنے کی دعا کرنی چاہیے۔ غرض دکھ اور تکلیف سے نہ کوئی رسول دنیا میں بچا ہے اور نہ مومن اور نہ کافر۔ مصائب ہرایک پر آتے ہیں۔ امریکہ کتنا دولت مند ملک ہے لیکن اس میں بھی نولاکھ کے قریب بیکار موجود ہیں۔ اب اگر جنگ ہوئی تو اگرچہ جنگ عذاب ہے مگر ان نولاکھ بیکاروں کے لئے روزی کا ذریعہ کھل جائے گا۔ انگلستان میں اس سے بہت زیادہ آدمی بیکار ہیں۔ انگلستان کی کُل آبادی قریباً چار کروڑ ہے۔ اس میں دس بارہ لاکھ کے قریب افراد بیکار ہیں۔ حالانکہ وہ بہت بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔ انگلستان میں رواج ہے کہ وہاں رستوں پر تھوڑی تھوڑی دور ڈرم پڑے ہوتے ہیں۔ ہماری طرح لوگ وہاں گھروں سے باہر گند نہیں پھینک دیتے بلکہ انہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ انہی ڈرموں میں گند پھینکیں اور ہر ایک شخص یہ احتیاط کرتا ہے کہ وہ کوڑا کرکٹ ڈرم سے باہر نہ پھینکے۔ میرے ایک عزیز نے مجھے سنایا کہ ہم اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ باہر پھینکتے ہیں اور ہم نے لندن کے کئی لڑکے اور لڑکیاں آپس میں لڑتی دیکھی ہیں۔ صرف اِس بات پر کہ کوڑا کرکٹ میں پڑا ہوا ایک بچا کھچا روٹی کا ٹکڑا کوئی دوسرا نہ لے جائے۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان ملکوں کے پاس دولت ہے لیکن کئی ایسی وجوہات ہوتی ہیں جن کی بناء پر حکومت باوجود کوشش کے غربت کا کوئی علاج نہیں کر سکتی۔ مثلاً اسلام نے بھی حکم دیا تھا کہ کوئی شخص بھوکا نہ رہے ہر ایک کو روٹی ملے۔ لیکن اِس کا طریق یہی تھا کہ ہر ایک شخص کو سال چھ ماہ کا غلہ مل جاتا تھا۔ فرض کرو گورنمنٹ نے غلہ دے دیا اور اسے اطمینان ہو گیا کہ اب ملک میں کوئی بھوکا نہیں۔ لیکن ایک شخص سخی ہے اُسے کوئی مسافر ملا تو اُس نے اُسے کہا چلو میرے گھر ۔اس نے ایک ماہ کے خرچ میں سے پندرہ دن کا غلہ اُس مسافر کو کھلا دیا اور پندرہ دن کا خود کھا لیا۔ اس کے نتیجہ میں مہینہ کے بقیہ پندرہ دن اسے فاقہ میں گزارنے پڑے۔ یا مثلاً ایک شخص کے ہمسایوں کو علم ہے کہ اُس کے پاس رات کے لئے کچھ کھانے کا سامان ہے لیکن رات کو اس نے کھانا پکا کر کسی دوسرے کو کھلا دیا۔ اِس قسم کی کئی اَور وجوہات بھی ہیں جن کی بناء پر باوجود کوشش کے کُلّی طور پر تکلیف کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔
    پھر اگر یہ نہ بھی ہو تب بھی سب کھانے والے کھانا نہیں کھا سکتے۔ مثلاً میری مثال لے لو میں بیمار ہوں۔ بعض دفعہ تین تین چار چار دن تک ایسا ہوتاہے کہ جب بھی کھانے لگتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی سزا ملنے والی ہے۔ ایک قسم کا امتلاء اور اختلاج محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب زہر نکل جاتا ہے تو بھوک اِس شدت کی لگتی ہے کہ اگر دس منٹ بھی کھانا لیٹ ہو جائے تو جسم تھر تھر کانپنے لگ جاتا ہے۔ بہرحال یہ کسی کے اپنے اختیار کی بات نہیں۔ انسان کی اپنی غلطی نہ بھی ہو تب بھی خدا تعالیٰ نے بعض اسباب ایسے رکھے ہیں جن کے ہوتے ہوئے کُلّی طور پر تکلیف کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ یا مثلاً کپڑے ہیں کپڑے کسی ہی قسم کے ہوں جب خطرناک قسم کی خارش پیدا ہو جاتی ہے تو جالی کا کپڑا بھی جسم پر نہیں رکھا جا سکتا۔ ایسا مریض یہ چاہے گا کہ مکان کے کنڈے لگا لے اور اندر ننگا بیٹھ جائے۔ اِن سب چیزوں کا کوئی حکومت کیا علاج کر سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص دنیا میں موجود ہو اور اُسے کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔ ہاں تم منافقت کی وجہ سے اپنی تکلیفوں کو بڑھا کر دکھاتے ہو۔ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ ہر شخص پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔ کوئی بڑی سے بڑی قوم نکال دو جس کے افراد کو کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔ اپنے محلہ میں ہی چلے جاؤ اور دیکھو کہ وہاں کتنے ایسے آدمی ہیں جن کی حالت تم سے بھی زیادہ گری ہوئی ہے۔ اگر احمدی ہو نے کی وجہ سے ہی تمہاری حالت گری ہے تو تمہاری حالت سب سے زیادہ گری ہوئی ہونی چاہیے تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمہاری حالت اپنے معیار کے لوگوں سے اچھی ہے۔
    یہ امرِ واقعہ ہے کہ احمدی چونکہ دلیل کی طرف جاتا ہے اس لئے لوگوں میں اس کا ادب بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح ہم رتبہ لوگوں میں بھی اس کی بات مانی جاتی ہے۔ اس کی راہنمائی کو لوگ بہتر خیال کرتے ہیں لیکن وہ اپنی حالت کے خراب ہونے کا بہانہ بناتا رہتا ہے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کے ساتھ احمدیت کی وجہ سے یہ سلوک ہوا ہے۔ مگر اس میں ان کی طرف سے بھی بعض کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ ہم مشورہ دیتے ہیں مگر وہ نہیں مانتے۔ ان میں یا تو عدمِ استقلال ہوتا ہے یا وہ اپنے لئے وہ راستہ تجویز کرتے ہیں جس پر اَور لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ ہم نے اسی رستہ سے داخل ہونا ہے۔ حالانکہ اس کے علاوہ سینکڑوں اَور رستے ہوتے ہیں جنہیں اختیار کرکے ترقی کی طرف قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔
    پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ باوجود اِس کے کہ تکلیف اٹھانے میں مومن اور کافر برابر ہے تم خدا تعالیٰ سے اُس کے فضل کی امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتا۔ کافر جب مرنے لگتا ہے تو سمجھتا ہے اگلے جہان میں کوئی ٹھکانا نہیں۔ لیکن جب مومن مرتا ہے تو کہتا ہے میں اپنے اصل ٹھکانے کو چلا ہوں۔
    حضرت علیؓ کے پاس ایک دہریہ آیا اور ہستی باری تعالیٰ کے متعلق آپ کی اُس سے بحث ہو گئی۔ حضر ت علیؓ نے متعدد دلائل دیئے پھر فرمایا ہم نے بحث کی ہے اور دونوں نے اپنے اپنے عقیدہ کے حق میں متعدد دلائل دیئے ہیں لیکن آؤ ہم عقلی طور پر یہ دیکھیں کہ ہم دونوں میں کتنا فرق ہے۔ فرض کرو ہم دونوں فلسفی ہیں۔ فلسفہ کا اصول ہے کہ کسی چیز پر غور کرتے ہوئے اُس کے اثبات اور نفی کے دونوں دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ مثلاً وہ کہیں گے خدا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیں گے کہ شاید خدا نہ ہو۔ آپ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ہستی موجود نہیں اور میں خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان رکھتا ہوں۔ ہم دونوں مرتے ہیں تو موت کے بعد کس کا حال اچھا رہے گا؟ اگر خدا تعالیٰ نہیں جیسا کہ تم کہتے ہو تو مرنے کے بعد تمہیں کچھ ملنے کا نہیں۔ اور اگر خدا ہے تو پھر تمہیں جوتیاں پڑیں گی۔ لیکن میں کہتا ہوں خدا ہے اگر مرنے کے بعد یہ ثابت ہو کہ خدا نہیں تو مجھے کیا نقصان ہے۔ لیکن اگر خدا ہو تو مجھے دنیا میں اُس پر ایمان رکھنے سے فائدہ ہی پہنچے گا۔ اب آپ ہی بتائیں کہ خدا تعالیٰ پر یقین رکھ کر مجھے فائدہ ہؤا یا آپ کو اس پر یقین نہ رکھ کر فائدہ ہؤا؟ یہی بات اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ تم اتنا تو سوچو کہ تمہاری یہ خوش قسمتی ہے کہ تم مرتے ہو تو تمہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اگر میں بیوی بچوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑتا تو خدا تعالیٰ تو ہے وہی ان کا محافظ و نگران ہو گا۔ لیکن ایک دہریہ مرنے لگتا ہے تو کہتا ہے سب تباہ ہو گئے۔ وہ ایک ایک بچے اور ایک ایک عزیز کی تصویر سامنے لا کر روتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میری بیوی مرنے کے بعد اَور شادی کر لے گی اور بچے تباہ ہو جائیں گے۔ لیکن مومن مرتا ہے تو سمجھتا ہے میں خدا تعالیٰ کے پاس جارہا ہوں اور وہی ان کا بھی حافظ ہو گا۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کا بچہ فوت ہو گیا۔ اُس نے کوئی صدمہ محسوس نہ کیا بلکہ خوش خوش پھرتی رہی۔ لوگوں نے اُسے طعنے دیئے کہ دیکھو اس کا بچہ مر گیا ہے اور اسے کوئی افسوس نہیں۔ وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اورعرض کیا یا رسول اللہ! آپ فرمایا کرتے تھے کہ مومن کو مرنے کے بعد جنت ملے گی اور یہ یہ راحتیں اور آرام ہیں جو اُسے اخروی زندگی میں میسر ہوں گے۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اُس عورت نے عرض کیا یا رسولَ اللہ! آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی مومن اِس دنیا میں ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں رہتا ہے تو اُسے اگلے جہان میں ایک عظیم الشان محل مل جائے گا۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اس عورت نے کہا اگر یہ سب ٹھیک ہے تو کسی دوسرے کے مرنے پر اُس کے رشتہ دار روئیں گے کیوں؟ وہ تو خوش ہوں گے کہ اُن کا رشتہ دار تکلیف و مصائب والی دنیا سے ایک پُر امن دنیا میں چلا گیا۔ یا رسولَ اللہ! میرا بچہ مر گیا اور میں خوش تھی کہ وہ جنت میں گیا ہے لیکن عورتیں مجھے طعنے دیتی ہیں کہ میں نے اپنے بچے کی وفات پر کوئی افسوس نہیں کیا۔ یا رسول اللہ میں اس کی وفات پر روؤں کیوں، میرے لئے تو یہ خوشی کا مقام ہے کہ وہ دنیا کے دکھوں سے نجات پا گیا اور اس نے ابدی زندگی حاصل کر لی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ عورت اس فلسفہ کو اکسٹریم (Extereme) تک لے گئی۔ لیکن اس سے ایک بات یہ بھی نکلتی ہے کہ بعض دفعہ خود رونا بھی خوشی کا رونا ہوتاہے۔ جیسے ایک عرب شاعر کہتا ہے کہ میری آنکھوں کو رونے کی عادت پڑ گئی ہے۔ خوشی کا وقت ہو تب بھی وہ روتی ہیں اور غمی کا وقت ہو تب بھی وہ روتی ہیں۔ لیکن اتنی بات بہرحال درست ہے کہ جو شخص نیکی کی حالت میں مرتا ہے یقینابہت آرام دہ زندگی میں چلا جاتاہے اور قدرتی بات ہے کہ اس کے رشتہ داروں کو ا س کی موت پر خوش ہونا چاہیے۔
    غرض مومن کو امید ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اسے اتنی بڑی راحت ملے گی جو ایک بادشاہ کو بھی اپنی عظیم الشان سلطنت کے باوجود میسر نہیں آتی۔ ایک بڑے سے بڑے بادشاہ کو یہ یقین دلادو کہ اگلے جہان میں تمہیں خوشی میسر ہو گی وہ یقینا کہے گا کہ پھر مجھے اپنی موت کی کوئی پروا نہیں۔ میں نے بڑے بڑے دہریوں کے متعلق پڑھا ہے کہ جب وہ مرنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ شاید ہمارا عقیدہ غلط ہے۔ پس اِس آخری گھڑی کا آرام سے گزر جانا بلکہ ساری زندگی کا آرام سے گزر جانا بہت بڑا انعام ہے اس کے مقابلہ میں کافر کے پاس ہے ہی کیا چیز۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ12جولائی1961ئ)
    1: النسائ: 105
    2:
    (حٰم السجدۃ:35)
    3: الرحمٰن: 47
    4: الفلق: 6


    17

    کی دعا کرتے وقت ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس دعا میں ہم کیا مانگتے ہیں اور مانگنے کی شرائط کو ہم پورا کرتے ہیں یا نہیں۔
    (فرمودہ28؍جولائی 1950ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’ہر وہ مسلمان جو نماز پڑھتا ہے وہ نماز میں متعدد دفعہ سورۃ فاتحہ کی تلاوت بھی کرتا ہے جس کی اہمیت نماز کے لئے اتنی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَا صَلٰوۃَ اِلَّا بِالْفَاتِحَۃِ 1 سورۃ فاتحہ کے پڑھے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔ یہاں درحقیقت اکثریت مراد ہے ورنہ بعض حالتوں میںبغیر سورۃ فاتحہ کے بھی رکعت ہو جاتی ہے۔ جیسے نماز ہو رہی ہو اور کوئی شخص رکوع میں مل جائے تو اسکی رکعت ہو جائے گی حالانکہ اس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی ہو گی۔ لیکن عام قاعدہ یہی ہے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ لَا صَلٰوۃَ اِلَّا بِالْفَاتِحَۃِ فِیْ کُلِّ رَکْعَۃٍ۔ جب تک ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے نماز نہیں ہوتی۔ پس اگر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ فوت ہو جاتی ہے تو ہم کہیں گے کہ ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ معاف ہو گئی۔ گویا قلّت کثرت کے تابع ہو گئی۔ ورنہ نماز سورۃ فاتحہ کے بغیر نہیں ہوتی۔ فرض کرو ایک شخص آخررکعت میں شامل ہو جاتا ہے تو کیا وہ دوسری رکعات میں بھی سورۃ فاتحہ پڑھے گا یا نہیں؟ جب وہ دوسری رکعات میں سورۃ فاتحہ پڑھے گا تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواہ اس نے ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی پھر بھی کوئی نماز بغیر سورۃ فاتحہ پڑھے نہیں ہوتی۔ غرض ہر مسلمان جو نماز پڑھتا ہے وہ ہر نماز میں متعدد دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھتا ہے۔ جو مسلمان نماز ہی نہیں پڑھتا اُس کا یہاں ذکر نہیں۔ لیکن جو مسلمان نماز پڑھے گا وہ خواہ کسی فرقہ کا ہو شیعہ ہو سُنّی ہو، وہابی ہو، حنفی ہو، حنبلی ہو، شافعی ہو، مالکی ہو۔ پھر آگے وہ فرقے آجاتے ہیں جو روحانی کہلاتے ہیں اُن سے تعلق رکھنے والا خواہ قادری ہو، چشتی ہو، نقشبندی ہو، سہروردی ہو یا ان کے علاوہ جو دوسرے فرقے ہیں اُن میں سے کسی کے ساتھ وہ تعلق رکھتا ہو یا اِس زمانہ میں خواہ وہ احمدی ہو بہرحال جو بھی نماز پڑھے گا وہ سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے ضرور کہے گا 2اور جب وہ ہر نماز میں متعدد دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے کہتا ہے تو کوئی نہ کوئی مضمون اُس کے ذہن میں ہونا ضروری ہے۔ کیا تم نے کوئی ایسا فقیر دیکھا ہے جو کسی گھر کے دروازے پر جا کر دستک دے اور جب گھر کا مالک پوچھے کہ تم کیا مانگتے ہو؟ تو وہ کہے مجھے معلوم نہیں میں کیا مانگتا ہوں۔ تم نے ہزاروں فقیر دیکھے ہوں گے مگر ایسا کوئی فقیر نہ دیکھا ہو گا جو مانگ رہا ہو لیکن اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کیا مانگ رہا ہے۔ اِس طرح جب تم پڑھتے ہو تو کوئی نہ کوئی چیز تمہارے ذہن میں ہونی ضروری ہے اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم کیا مانگ رہے ہو یا کن چیزوں میں سے کوئی چیز مانگ رہے ہو۔ ایک فقیر کئی چیزیں بیک وقت بھی مانگ لیتا ہے۔ مثلاً وہ کہہ دیتا ہے پیسے دے دیں یا روٹی دے دیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کھانا تیار نہ ہو اور اسے پیسے مل جائیں تو وہ بازار سے کھانا خرید لے۔ بہرحال جب کوئی فقیر مانگتا ہے تو اُس کے ذہن میں کوئی معیّن چیز ہوتی ہے۔ یا تو وہ ایک چیز بیان کر دیتا ہے اور یا وہ چند چیزیں اکٹھی بیان کردیتاہے اور چاہتا ہے کہ ان میں سے ایک اسے مل جائے۔ بہرحال اُس کے ذہن میں یہ ضرور ہو گا کہ وہ کیا چیز مانگ رہاہے۔ لیکن سورۃ فاتحہ پڑھنے والوں میں سے اکثر سے پوچھو تو انہیں یہ علم ہی نہیں ہو گا کہ وہ کیا مانگ رہے ہیں۔ اور اس معاملہ میں مَیں احمدیوں کو دوسرے مسلمانوں سے ممتاز نہیں پاتا۔ حالانکہ جب کوئی شخص مانگتا ہے تو وہ مسئول چیز کو وصول کرنے کے لئے بھی تیار ہوتاہے۔ مثلاً جب کوئی دوسرے گھر سے سالن مانگنے جائے تو وہ اپنے ساتھ پلیٹ بھی لے جاتا ہے یا آٹا مانگنے جائے تو وہ اپنے ساتھ کوئی رومال بھی لے جاتا ہے۔ لسّی یا دودھ مانگنے جائے تو اپنے ساتھ کٹورا بھی لے جاتا ہے۔ بہرحال جب کوئی چیز مانگی جاتی ہے تواس کے مناسبِ حال تیاری بھی ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص لسّی یا دودھ مانگنے جائے اور دوسرا شخص اسے کہے اچھا لسّی یا دودھ لے لو تو وہ کہہ دے میری جھولی میں ڈال دو۔ یا شوربا پکا ہو اور وہ کہہ دے میرے ہاتھ پر ڈال دو۔ یا آٹا مانگنے جائے تو چھاننی پیش کر دے۔ اِس طرح تو وہ چیزیں ضائع ہو جائیں گی اور اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ غرض جب کوئی شخص کوئی چیز مانگتا ہے تو اس کے مناسبِ حال وہ تیاری بھی کرتا ہے اور وہ چیز اس کے ذہن میں موجود ہوتی ہے۔ لیکن جب اُسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا چیز مانگ رہا ہے تو وہ اُس کے لئے تیاری کیا کرے گا۔
    دنیا میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں اول عقیدہ دوم عمل۔ جب تک کسی چیز کے متعلق انسان کا پختہ عقیدہ نہ ہو اُس کے حصول کی وہ کوشش نہیں کرتا۔ پس جب ہم ہر نماز میں کئی دفعہ والی دعا مانگتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ وہ کیا چیز ہے جو ہم مانگتے ہیں۔ اور اگر ہمیں اس کا علم ہے تو ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ آیا قرآن کریم نے اس کے لئے کوئی شرطیں بھی بیان فرمائی ہیں یا نہیں؟ اور اگر قرآن کریم نے اس کے لئے کچھ شرطیں بیان فرمائی ہیں تو ہمیں غور کرنا پڑے گا کہ کیا ہم نے وہ شرائط پوری کر لی ہیں ؟ مثلاً گورنمنٹ نے فوجیوں کے لئے چند قواعد مقرر کئے ہوئے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ یہ کام کرے تو اس کو ملٹری کراس 3 دیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص یہ یہ کام کرے تو اسے وکٹوریہ کراس 4دیا جائے گا۔ اب اگر کے مقابلہ میں خداتعالیٰ نے کوئی شرط بیان کی ہے تو ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ آیا ہم نے وہ شرط پوری کر لی ہے؟ اور کیا واقعی ہم انعام کے مستحق ہو گئے ہیں؟ اگر ایک شخص فوج میں داخل ہو اور دو تین دن کے بعد وہ درخواست کرے کہ گورنمنٹ بڑی مہربان ہے مجھے ملٹری کراس دیا جائے یا گورنمنٹ بڑی مہربان ہے مجھے وکٹوریہ کراس عطا کیا جائے تو اسے ملٹری کراس یا وکٹوریہ کراس دینا تو الگ رہا گورنمنٹ اسے فوج سے بھی نکال دے گی اور پاگل خانہ بھیج دے گی۔ یا مثلاً گورنمنٹ نے ایک قاعدہ مقرر کیا ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص ایم اے پاس ہو اور پھر کم از کم سیکنڈ ڈویژن میں اُس نے امتحان پاس کیا ہو تو اُسے کسی کالج کی پروفیسری دی جا سکتی ہے۔ اب اگر کوئی پرائمری پاس کرے اور گورنمنٹ سے درخواست کرے کہ گورنمنٹ بڑی مہربان ہے مجھے فلاں کالج میں پروفیسر لگا دیا جائے تو کیا گورنمنٹ اُسے پروفیسر شپ دے دے گی یا پاگل قرار دے کر پاگل خانہ بھیجے گی اِسی طرح کے لئے اگر کچھ شرطیں مقرر ہیں تو ہمیں پہلے اُن شرطوں کو پورا کرنا ہو گا تب ہم انعام کے مستحق ہوں گے ورنہ نہیں۔ مثلاً ایم اے فرسٹ ڈویژن یا سیکنڈ ڈویژن کے ساتھ اگر پروفیسری ملتی ہے تو اسے حاصل کرنے کے لئے پہلے ایم اے فرسٹ ڈویژن یا سیکنڈ ڈویژن پاس کرنا ضروری ہو گا۔ یا اگر کسی خاص سروس کے بعد ہائی آفیسرز کا سلیکشن ہوتا ہے تو اسے ہائر آفیسرز پوسٹ حاصل کرنے کے لئے اُس خاص سروس سے گزرنا ہو گا اور اگر وہ ہائر پوسٹ کے لئے درخواست دے گا تو فورًا اس سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ لاؤ سر ٹیفکیٹ۔ لیکن مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ اعلیٰ درجات حاصل کرنے کی بجائے ایک ادنیٰ ترین چیز پر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر نماز میں یہ دعا تو مانگتے ہیں کہ لیکن اگر اُن کے سامنے منعم علیہ گروہ کا ذکر کیا جائے تووہ اس گروہ کے انعامات کا اپنے آپ کو مستحق نہیں سمجھتے۔ گویا ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہر درجہ تعلیم کے لوگ کسی سکول میں جائیں اور ہیڈ ماسٹر سے کہیں کہ ہمیں پہلی جماعت میں داخل کر لیا جائے۔یا اگر کسی جگہ بڑے بڑے شاعر، ادیب اور پڑھے لکھے لوگ سکول میں جائیں اور ہیڈ ماسٹر سے کہیں کہ ہمیں پہلی جماعت میں داخل کر لیا جائے تو یہ کیسی مضحکہ خیز بات ہوگی۔ اِسی طرح مسلمان دعا تو وہ مانگتے ہیں جس کے نتیجہ میں صدیقیت اور ماموریت کا مقام بھی حاصل ہو سکتا ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ انہیں صرف صالحیت کا مقام دیا جائے اگلے درجات نہ دیئے جائیں۔ گویا ساری عمر وہ پہلی جماعت میں ہی بیٹھے رہیں اگلی جماعت میں انہیں ترقی نہ دی جائے۔ اس کے مقابلہ میں ہماری جماعت کی یہ کیفیت ہے کہ وہ صرف انتہائی مقام کو دیکھتی ہے نچلے درجوں کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں ہوتی۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ میں جب لکھنؤ گیا تو وہاں ایک بڑے بھاری طبیب تھے۔ ان کے میرے بڑے بھائی کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ اس لئے میں اُن کے پاس گیا اور کہا آپ مجھے طب پڑھا دیں۔ انہوں نے کہا میں نے قَسم کھائی ہوئی ہے کہ میں کسیکو طب نہیں پڑھاؤں گا۔ میرا فلاں شاگرد اچھا خاصا طبیب ہے تم اُس سے پڑھ لو۔ میں نے کہا میں تو صرف آپ سے ہی طب پڑھوں گا۔ وہ طبیب آپ کی جرأت سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے کہا آپ کہاں تک پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ فرماتے تھے میں اُن دنوں یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ طبیب کیا ہوتاہے۔ جس طرح آج کل بعض طب کی ڈگریاں ہوتی ہیں اور بعض سائنس کی ڈگریاں ہوتی ہیںاِسی طرح پہلے زمانہ میں بعض مہندس ہوتے تھے، بعض طبیب ہوتے تھے اور بعض فلسفی ہوتے تھے۔ میں نے افلاطون، جالینوس اور بقراط وغیرہ کے نام کتابوں میں پڑھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا میں افلاطون کے برابر علم حاصل کرنا چاہتا ہوں حالانکہ وہ ایک فلسفی تھا۔ وہ طبیب اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے اب ضرور تم کچھ نہ کچھ علم حاصل کر لو گے۔ لیکن وہ تو ایک بچہ کی بات تھی جو سج گئی۔ اب اگر کوئی اچھا بھلا آدمی ایسا کام کرے تو کیا یہ بات سج جائے گی؟ ہماری جماعت یہ نہیں سمجھتی کہ بعض درمیانہ اور نچلے درجات بھی ہوتے ہیں۔ وہ صرف یہی استدلال کرتے رہیں گے کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ امتِ محمدیہ میں امتی نبی ہو سکتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خداتعالیٰ نے یہ مقام عطا فرمایا ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے بعض نچلے درجات بھی ہیں اور وہ ہمارے لئے ہیں۔ وہ صرف اتنا ہی فائدہ اٹھا کر چھوڑ دیں گے کہ حضرت مرزا صاحب کی نبوت ثابت ہو گئی ہے اور یہ نہیں سوچیں گے کہ اس کے نیچے صدیقیت، شہادت اور صالحیت کے مقام بھی ہیں۔ جو ہم میں سے ہر ایک کے لئے کھلے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان مقامات میں سے کوئی نہ کوئی مقام حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
    غرض ایک عام مسلمان تو پہلی جماعت سے آگے نہیں بڑھتا اور احمدی صرف ایم اے پر ہی نظر ڈالتا ہے۔ اور یا پھر اس بات پر خوش ہو جاتا ہے کہ فلاں ایم اے ہو گیا ہے۔ حالانکہ جب تک وہ خود فائدہ نہیں اٹھاتا محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مامور ہونے سے اسے ذاتی طور پر کیا فائدہ ہو سکتا ہے ۔دوسرے کے درجہ پر خوش ہو جانا تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ دو شخص کہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو کہا کہ آج میں نے یہ عجیب ماجرا دیکھا کہ لوگ حلوے اور مٹھائیوں کے بڑے بڑے طبق اٹھائے لا رہے تھے۔ وہ کہنے لگا پھر مجھے کیا۔ اِس پر اُس نے کہا وہ لوگ تمہارے گھر کی طرف ہی آرہے تھے۔ اس نے کہا پھر تجھے کیا۔ احمدیوں کی بھی یہی حالت ہے۔ اگر کچھ مل گیا ہے تووہ حضرت مرزا صاحب کو ملا ہے تمہارے لئے اس میں خوش ہونے کی کونسی بات ہے۔ سوائے اس کے کہ تم کہو کہ اگر اوپر کا رستہ کھل گیا ہے تو نیچے کا رستہ بھی کھلا ہو گا ہم اس کے لئے کوشش کریں۔ پھر توخوش ہونے کی کوئی وجہ ہوسکتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبی اور مامور بنا دیا ہے تو صدیقیت کا بھی کوئی انکار نہ رہا ہم صدیق بنتے ہیں۔ لیکن اگرتم صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت پر خوش ہو جاتے ہو اور خود چُپ کر کے بیٹھ جاتے ہو تو اس سے تمہیں کیا فائدہ؟ غرض اگر تم یہ سوچو کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبوت کا درجہ مل گیا ہے تو آؤ ہم بھی منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کی کوشش کریں تو یہ بڑی عمدہ بات ہے۔ لیکن اگر تم اپنے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے، نہ صدیق بننے کی کوشش کرتے ہو، نہ شہید بننے کی کوشش کرتے ہو، نہ صالح بننے کی کوشش کرتے ہو تو محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نبی بن جانے سے تمہیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تمہارا فائدہ تو اس میں ہے کہ تم خود بھی کوئی مقام حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک نابینا حافظ تھے جن کا نام میاں محمد تھا۔ وہ پشاور کے رہنے والے تھے۔ ان میں دین کا بڑا جوش تھا اور اتنے نڈر تھے کہ اُس قسم کا نڈر شخص دنیا میں بہت کم ہوتا ہے۔ اگر انہیں رات کے بارہ بجے بھی خیال آجاتا کہ لوگوں کو نماز کی تلقین کرنی چاہیے تووہ دروازے کھٹکھٹا دیتے۔ اور اگر گھر والا باہر آتا تو اُسے کہتے میاں! کیا تم نماز پڑھا کرتے ہو یا نہیں؟ اُن کی دلیری اور جرأت کی وجہ سے بڑے بڑے لوگ بھی اُن سے ڈرتے تھے۔ چنانچہ ایک افسر جو پشاور کے پولیٹیکل ایجنٹ ہونے والے تھے ایک دن انہوں نے ان کا دروازہ بھی کھٹکھٹا دیا۔ ملازم آیا اور پوچھا کون ہو؟ انہوں نے کہا حافظ محمد ہوں اور کلمۂ حق پہنچانے آیا ہوں۔ پولیٹیکل ایجنٹ صاحب نے کہا کہ مَیں آج بہت تھکا ہوا ہوں۔ انہوں نے کہا اگر مر گئے تو پھر کیا ہو گا؟ پولیٹیکل ایجنٹ نے بہانہ بنا کر کہ وہ کل سارا دن انہیں دیں گے اپنا چھٹکارا کرایا اور نوکروں کو تلقین کر دی کہ دوسرے دن انہیں کوٹھی کے قریب نہ آنے دیں۔ حافظ صاحب جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لے آئے تو ان کے اندر بھی وہی جوش موجزن رہا۔ ایک دفعہ وہ جلسہ سالانہ سے واپس گھر جا رہے تھے اور بھی کئی دوست ساتھ تھے کہ رستہ میں بحث شروع ہو گئی کہ ہم مومن ہیں یا نہیں۔ پرانے طریق کے مطابق ایک شخص نے کہا کیا ہم اتنا بڑا دعویٰ کر سکتے ہیں ہم تو گنہگار آدمی ہیں۔ خدا تعالیٰ بخش دے تو بخش دے۔ اسی طرح دوسرے اور پھر تیسرے نے کہا۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے بھی پرانے خیالات کی رَو میں بہہ کر کہہ دیا کہ ہم کمزور اور گنہگار ہیں اگر خدا تعالیٰ بخش دے تو اُس کی ذرہ نوازی ہے۔ حافظ صاحب نے کہا اچھا آج سے میں آپ میں سے کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا کیونکہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ نماز صرف مومن کے پیچھے پڑھنی چاہیے۔ مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آکر شکایت کی۔ آپ نے فرمایا حافظ صاحب کو دوسروں کے پیچھے نماز تو نہیں چھوڑنی چاہیے تھی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی بات درست ہے۔ یہ انکسار کا موقع نہیں تھا بلکہ حقیقت کے اظہار کا موقع تھا۔ اگر کوئی شخص آپ لوگوں سے دریافت کرے کہ کیا آپ انسان ہیں؟ تو کیا آپ یہ کہہ دیں گے کہ توبہ توبہ میں کہاں انسان ہوں؟ اِسی طرح جو امور ایک مومن کی شان کے شایاں ہیں اُن کا واضح طور پر اقرار کرنا چاہیے۔
    غرض اگر یہ بات صرف عام مسلمانوں میں ہوتی تو اَور بات تھی لیکن احمدیوں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس آیت کا صرف یہ مفہوم ہے کہ اس سے امتی نبوت کا اجراء ثابت ہوتاہے۔ لیکن وہ اس بات کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ اس سے نیچے بھی بعض درجات ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے جہاں ان درجات کا ذکر فرمایا ہے وہاں صفائی کے ساتھ ان کے حصول کا طریق بھی بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ نساء میں فرماتا ہے:5 فرماتا ہے اگر ہم مسلمانوں پر یہ فرض کر دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کر دو۔ یا تم اپنے وطن چھوڑ کر باہر نکل جاؤ۔ تو یہ کبھی ایسا نہ کرتے۔ مگر تھوڑے جن کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے۔ اور اگر وہ ایسا ہی کرتے جیسا کہ انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنے نفسوں کو قتل کر دو یا اپنے آپ کو بے وطن کردو تو یہ موت ان کے لئے حیات کا موجب ہوتی اور یہ اجڑنا ان کے لئے قائم ہونا ہوتا۔ دیار سے اجڑ جانے کے معنے یہ ہیں کہ ان کا کوئی سہارا نہ رہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو بے وطن کر دیتے تو یہ بات اُن کے قدموں کو گاڑنے والی ہو جاتی۔ ۔ اور اس صورت میں علاوہ اس کے کہ ہم انہیں اجرِ عظیم عطا کرتے اور ان کے قدموں کو گاڑ دیتے ہم انہیں زائد انعام بھی دیتے اور اس کے نتیجہ میں انہیں صراط مستقیم ملتی۔ ۔وہ صراطِ مستقیم یہ ہے کہ جو کوئی شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرتا ہے وہ اس گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ۔یعنی ایسے لوگ نبی، صدیق،شہید اور صالح بن جاتے ہیں۔ اور یہ لوگ بہت اچھے رفیق ہیں۔
    ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت سے بتایا ہے کہ وہ صراطِ مستقیم کیسے ہوتا ہے جس پر چلنے کے نتیجہ میں انسان نبی، صدیق، شہید اور صالح بن سکتا ہے۔ فرماتا ہے جب انسان اتنا پختہ ایمان والا ہو جاتا ہے کہ اگر اسے یہ احکام ملیں کہ اپنی جان دے دو تو وہ بڑی خوشی سے اُس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوجائے۔ اور اگر اُسے یہ احکام ملیں کہ تم بے وطن ہو جاؤ تو وہ بڑی خوشی سے اس پر عمل پیرا ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں اسے صراط مستقیم میسر آجاتا ہے۔ مگر ایک احمدی اول تو یہ نہیں سوچتا کہ صراط مستقیم ہے کیا؟ اور اگر اسے پتہ لگ جاتا ہے تو یہ نہیں سوچتا کہ یہاں صرف حضرت مسیح موعود ؑ کا ہی ذکر نہیں بلکہ میرا بھی ذکر ہے اور اس سے پچھلی آیتوں میں صراط مستقیم کو حاصل کرنے کا طریق بھی بیان کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اِن دو باتوں پر قائم ہو جاتا ہے تو قرآن کریم میں بیان کردہ چار درجات میں سے ایک درجہ اُسے ضرور مل جاتا ہے۔ اگر وہ جان دینے کے لئے اور بے وطن ہونے کے لئے پوری طرح تیار ہو جاتا ہے اور وقت آنے پر وہ ایسا کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے تو اُسے شہید کا درجہ مل جاتا ہے۔ اور اگر وہ صرف تیار ہی نہیں بلکہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی اس کی تلقین کرنے لگ جاتا ہے اور انہیں اُبھارتاہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے جان دینے اور بے وطن ہونے سے بہتر اور کونسی بات ہے تو اسے صدیق کا درجہ مل جاتا ہے۔ اور اگر اسے جان دینی پڑتی ہے یا دین کے لئے بے وطن ہونا پڑتا ہے تو اس کے لئے تیار ہونا تو الگ رہا وہ ایسے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے کہ لوگ اس کی جان لیں، لوگ اسے بے وطن کر دیں تو یہ نبوت کا مقام ہوتا ہے۔ کیونکہ نبی اکیلا ہی دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور یہ صاف بات ہے کہ اس طرح وہ اپنے عمل سے دشمن کو یہ دعوت دیتا ہے کہ آ اور مجھے مار۔ یا مجھے میرے وطن سے نکال دے اور یہی نبوت کا مقام ہے۔
    حضرت ابوبکر صدیق ؓنے کفر کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آواز اٹھائی تھی ورنہ سب سے پہلے جس نے تمام لوگوں کو چیلنج دیا تھا اور ان کی مرضی کے خلاف چلا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ حضرت ابوبکرؓ دیکھتے تھے کہ آپ کیا کرتے ہیں تا وہ اسے دہرائیں۔ گویا ابتدا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اور حضرت ابوبکرؓ اسے دہراتے تھے۔ گویا جو ابتدا کرتا ہے وہ رسول ہے اور جو دہراتا ہے وہ صدیق ہے۔
    بچپن میں ہم پڑھا کرتے تھے کہ جب بادل آتے ہیں اور گرجنے لگتے ہیں تو پانی کے قطرات نیچے گرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ آخر ایک قطرہ جرأت کرتا ہے اور نیچے کُود کر فنا ہو جاتا ہے۔ تب اسے دیکھ کر باقی قطرات بھی تیار ہو جاتے ہیں اور یکے بعد دیگرے نیچے کُود پڑتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرتِ انسانی ہر اچھے کام کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ لیکن بعض کام اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ ان کے لئے کسی نہ کسی کو نمونہ پیش کرنا پڑتا ہے اور جو نمونہ پیش کرتا ہے وہی مستحق ہوتا ہے کہ اسے لیڈر بنایا جائے۔ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو نہ صرف قربانی کے لئے تیار رکھا بلکہ اس نے قربانی کا نمونہ پیش کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ صدیقیت درحقیقت نبوت کے ہی ایک ٹکڑے کا نام ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نبی پہلے کُود پڑتا ہے اور صدیق پیچھے کُودتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ وہابیوں اور حنفیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ حضرت خلیفہ اول اُن دنوں اپنے آپ کو وہابی کہا کرتے تھے۔ کیونکہ ابھی احمدی کے لفظ کا استعمال نہیں ہوا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دیکھا کہ اس جھگڑے سے حضرت خلیفہ اول کو تکلیف ہوئی ہے ۔آپ نے فرمایا مولوی صاحب! آپ ایک اشتہار لکھیں کہ اس جھگڑے سے کیا فائدہ ہے ۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کا یہ اعتقاد تھا کہ سب سے مقدم قرآن کریم ہے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں۔ اور اگر ان دونوں سے کوئی بات حل نہ ہو تو پھر عقل اور اجتہاد سے کام لیا جائے اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔ اس لحاظ سے تو وہ بھی حنفی ہی ہیں پھر جھگڑا کیا۔ حضرت خلیفہ اول نے اشتہار کا مضمون لکھا اور اس کے نیچے لکھ دیا
    یومے سجادہ رنگین کن گرت پیرِمغاں گوید
    یعنی چونکہ یہ حکم تھا اس لئے میں نے یہ اشتہار دے دیا ہے اور پھر دو اشتہار چھپوا کر ان کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں بھجوا دی۔
    حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں قادیان آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بغیر کسی تمہید کے مجھے فرمانے لگے مولوی صاحب! ایمان کے لحاظ سے کس چیز کو مقدم رکھنا چاہیے؟ آپ نے کہا قرآن کریم کو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس کے بعد دوسری چیز کونسی ہے جس کو مقدم رکھنا چاہیے؟ آپ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اگر ان دونوں سے بھی کوئی بات نہ ملے تو کیا کیا جائے؟ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا اگر ان دونوں سے کوئی بات نہ ملے تو خدا تعالیٰ نے جو عقل بخشی ہے وہ اُس سے کام لے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا یہی حقیقت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے تھے اس پر مجھے وہ اشتہار یاد آگیا اور میں اپنے آخری فقرہ پر نادم ہوا۔
    حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قُرب کے جو چاروں مقامات ہیں یہ سارے کے سارے قابلِ فخر ہیں۔ لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے آپ کو پہلے پیش کر دیتا ہے خدا تعالیٰ اُس کو بلند مقام عطا کرتا ہے۔ ورنہ ظاہری قربانیوں کے لحاظ سے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ دونوں نے قربانیاں کیں۔ لیکن بُتوں کے خلاف سب سے پہلے جس شخص نے آواز بلند کی وہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود تھا۔ صحابہؓ نے آپ کی صرف نقل کی اور آپ کی آواز کے پیچھے اپنی آواز بلند کی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ ؎
    در کوئے تُو اگر سر عشاق را زنند
    اول کسے کہ لافِ تعشق زندمنم
    6
    یعنی اگر تیرے کوچہ میں مارے جانے کا سوال پیش آجائے تو اس کے لئے سب سے پہلے میری آواز ہی اٹھے گی۔ یہی چیز ہے جو میں بیان کی گئی ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ تم اپنے آپ کو ایسے مقام پر لے آؤ کہ لوگ تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں ملک بدر کر دیں۔ چنانچہ فرماتا ہے اگر ہم ان پر یہ بات فرض کر دیتے کہ وہ اپنے نفوس کو قتل کریں یا بے وطن ہو جائیں تو وہ یہ کام نہ کرتے۔ لیکن اگر وہ یہ کام کریں گے تو ہم انہیں صراطِ مستقیم عطا کر دیں گے۔ گویاوالی دعا تبھی پوری ہو گی جب تم میں یہ دونوں باتیں پائی جائیں۔ اور اگر یہ دونوں باتیں پیدا نہیں ہو تیں تو تمہاری مثال اُس پرائمری پاس شخص کی سی ہے جو کالج میں پروفیسری کے لئے درخواست دے دے۔ لازمی بات ہے کہ گورنمنٹ اُسے ردّ کر دے گی۔ اسی طرح اگر تم اِن دونوں چیزوں کو اپنے اندر پیدا نہیں کرو گے تو تمہاری کی درخواست بھی ردّ کر دی جائے گی۔ اگر یہ محض عقلی بات ہوتی تب تو کوئی بات نہ تھی لیکن یہاں تو قرآن کریم نے خود بتا دیا ہے کہ جان اور وطن دونوں کو چھوڑنے کے لئے ہر وقت تیار رہو۔ اور جب تم اس مقام پر پہنچ جاؤ گے کہ اگر تمہیں جان دینے کا حکم ہے تو تم جان دینے کے لئے اپنے آپ کو تیار پاؤ اور اگر خدا کے لئے بے وطن ہونے کا حکم ہے تو بے وطن ہونے کے لئے اپنے آپ کو تیار پاؤ۔ تو ہم تمہیں صراط مستقیم دکھا دیں گے۔ آگے جس جس مقام کے مناسبِ حال قربانی ہو گی وہ مقام تمہیں مل جائے گا۔ اگر تمہاری قربانی نبوت کے درجہ کے مناسبِ حال ہو گی تو نبوت کا درجہ تمہیں مل جائے گا۔ اگر تمہاری قربانی صدیقیت کے درجہ کے مناسبِ حال ہے تو صدیقیت کا درجہ تمہیں مل جائے گا۔ اگر تمہاری قربانی شہادت کے مقام کے مناسبِ حال ہے تو شہادت کا مقام تمہیں حاصل ہو جائے گا ۔اور اگر تمہاری قربانی صالحیت کے مقام کے مناسبِ حال ہے تو تم صالحیت کا درجہ حاصل کر لو گے۔ ‘‘ (الفضل مورخہ 19؍اپریل1961ئ)
    1: مسند احمد بن حنبل ، مسند المکثرین من الصحابۃ مسند ابی ھریرۃ جلد 2صفحہ240 رقم7268 مطبع القاھرہ میں ’’ لَا صَلَاۃَ اِلَّا بِفَا تِحَۃِ الْکِتَابِ ‘‘ کے الفاظ ہیں
    2: الفاتحۃ: 6،7
    3: ملٹری کراس: فوجی تمغہ جو بہادری کی بناء پر دیا جاتا ہے۔
    4: وکٹوریہ کراس: برطانیہ کا سب سے بڑا فوجی تمغہ جو 1856ء میں ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں رائج پذیر ہوا۔
    5: النسائ: 67تا70
    6: درثمین فارسی صفحہ143از نظارت اشاعت و تصنیف ربوہ

    18
    ترقی کرنے والی قوموں کو اپنی طاقت کا ایک حصہ ضرور ضائع کرنا پڑتا ہے
    (فرمودہ4؍اگست 1950ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج مَیں دوستوں کو ایک واقعہ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو اگرچہ چھوٹا سا ہے مگر اپنے اندر بہت بڑا سبق رکھتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہمارا ارادہ تھا کہ2؍ اگست کو ہم’’ زیارت‘‘ جائیں اور 3 ؍اگست کو واپس آجائیں۔ چنانچہ جماعت نے اِس غرض کے لئے وہاں کھانے تیار کروائے، موٹروں کا انتظام کیا اور پھر بعض احباب نے دفاتر سے چُھٹیاں بھی لے لیں اور ساتھ جانے پر تیار ہو گئے۔ لیکن رات کو مجھے دردِ نقرس کی ایسی شدید تکلیف ہو گئی کہ ساری رات بیٹھ کر اور ٹکور کرتے کرتے گزری۔ صبح پہلے تو میں نے خیال کیا کہ وہاں چلے جائیں لیکن بعد میں یہ تجویز گر گئی اور ہم وہاں نہ جا سکے۔ میں سمجھتا ہوں اس میں خدا تعالیٰ کی کوئی حکمت ہو گی۔ مگر وہ دوست جنہوں نے اِس سفر کے لئے تیاری کی تھی اُن کے متعلق مجھے اطلاع ملی ہے کہ وہ افسردہ سے رہے اور بہت افسوس کرتے رہے۔ بعض دوستوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ ہم اسٹیشن ویگن لے آتے ہیں آپ اُس میں لیٹ جائیں اِس طرح سفر آسانی سے کٹ جائے گا اور آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔ اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ میری گزشتہ عمر کا ایک بڑا حصہ ایسا تھا کہ ہم جب کہیں جانے کا ارادہ کر لیتے تھے تو خواہ آندھیاں ہی کیوں نہ چل رہی ہوں اور خواہ موسلادھار بارش ہی کیوں نہ برس رہی ہو ہم وہاں چلے جاتے تھے ۔لیکن ہر عمر کے لئے الگ قسم کے کام زیب دیتے ہیں۔ ایک عمر ایسی ہوتی ہے کہ اس میں انسان کو خدائی قانون کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ جہاں تک احباب کی خواہش تھی یہ اچھی چیز ہے۔ لیکن جس رنگ میں بعض روایتیں مجھے پہنچی ہیں اور پھر اپنے ملک کی عام ذہنیت جو میں جانتا ہوں اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ دوستوں کی افسردگی میں کچھ اس بات کا بھی دخل تھا کہ جو کھانے انہوں نے پکائے تھے وہ ضائع چلے گئے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے اِس کے متعلق بھی بحث کی ہے۔ اسلام نے بعض احکام ایسے دیئے ہیں جو بظاہر چیز کے ضائع کرنے والے ہیں لیکن ثواب حاصل کرنے کے لئے انہیں فرض قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً حج کے موقع پر جو قربانی ہوتی ہے وہ بھی بظاہر ضائع ہوتی ہے۔ اب تو وہاں لوگ کثرت سے جاتے ہیں اور قربانیوں کا ایک حصہ ان کے استعمال میں آجاتا ہے لیکن اِس سے قبل کسی زمانہ میں گوشت کھانے والے وہاں کم تعداد میں ہوتے تھے اورقربانی کا رواج زیادہ تھا۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کے ہمراہ ہزاروں قربانیاں تھیں اور اُنہیں کھانے والے کوئی نہیں تھے۔ فرض کرو ایک بکرے میں بیس سیر گوشت ہو، ایک گائے میں دو من گوشت ہو اور ایک اونٹ کے اندر پانچ سات من گوشت ہو تو ہزاروں قربانیوں کے نتیجہ میں کتنا گوشت ضائع ہوتا ہو گا۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ ہر شخص ایک سیر گوشت کھائے اگرچہ ہر شخص ایک سیر گوشت نہیں کھا سکتا کیونکہ بعض بچے اور عورتیں بھی ہوتی ہیں وہ کم کھاتے ہیں لیکن اگر ایک سیر گو شت فی کس بھی رکھ لیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ایک اونٹ ذبح ہوا تو دو سَو افراد نے کھایا۔ اب اگر دس افراد میں سے ایک نے قربانی کی ہو تو صرف بیس فیصدی گوشت کام آتا ہے باقی سب ضائع چلا جاتا ہے۔
    میں نے جب حج کیا تو میں نے سات دنبے ذبح کروائے تھے۔ ان میں سے ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تھا، ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے تھا، ایک حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی طرف سے تھا، ایک حضرت اماں جان کی طرف سے تھا اور ایک ساری جماعت کی طرف سے تھا۔ کُل سات دنبے تھے جو ذبح کروائے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ قصاب ابھی چُھری اُس کی گردن سے ہٹاتا ہی تھا کہ یکدم دنبہ غائب ہو جاتاتھا۔ اِدھر چُھری ہٹائی اور اُدھر بدوی لوگوں نے دنبے کی ٹانگ پکڑی اوراُسے گھسیٹ کر لے گئے۔ لیکن اس پر کوئی جھگڑا نہیں ہوتا تھا۔ وہ قہقہے لگاتے جاتے تھے ۔ کیونکہ اُس علاقہ میں حج کے دنوں میں گوشت کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جاتی۔ اِس طرح ہمارے تین دنبے ضائع ہو گئے۔ ہمارے ساتھ عبدالحی صاحب عرب بھی تھے چوتھے دنبے پر ہم نے انہیں بٹھا دیا لیکن غائب کرنے والے چونکہ زیادہ ہوتے تھے اس لئے اگر ہم نہ ہوتے تو شاید ان کو بھی آدمی گھسیٹ لے جاتے۔
    غرض وہاں گوشت کی کوئی قیمت نہیںہوتی۔ وہ بالعموم ضائع چلا جاتا ہے۔ لیکن قربانی حج کے فریضہ کا ایک حصہ ہے۔ جس سے اسلام نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ دین کے لئے بعض وقت اموال کا ضیاع بھی کرنا پڑتا ہے۔ جب تک ضیاع نہ کیا جائے اُس وقت تک قومیں بچ نہیں سکتیں۔
    پس اگر ہم زیارت چلے جاتے تو احباب کو یہ ثواب تو ضرور ہوتا کہ انہوں نے ہماری خاطر کی اور مہمان نوازی سے کام لیا۔ لیکن ہمارے زیارت جانے کی وجہ سے جو اُنہیں ثواب ہوتا وہ اُس ثواب کے برابر نہیں جو ہمارے نہ جانے کی وجہ سے انہیں ہوا۔ گو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اُن کے افسوس کے بعد اب اُتنا نہیں رہا جو اُن کے اِس نکتہ کے سمجھ لینے پر ہونا تھا۔
    دنیا میں جتنی قومیں ترقی کرتی ہیں انہیں اپنی طاقت کا ایک حصہ ضائع کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً فوج ہے بعض دفعہ ایک سپاہی فوج میں داخل ہوتاہے اور ریٹائر ہو جاتا ہے لیکن اُسے لڑنے کا موقع نہیں ملتا گویا اُس پر جو روپیہ خرچ ہوا وہ ضائع چلا گیا۔ لیکن اگر حکومت ایسا نہ کرے تو تباہ ہو جائے۔ پس جس طرح دنیوی کاموں میں طاقت کے ایک حصہ کا ضیاع اہمیت رکھتا ہے اِسی طرح دینی کاموں میں بھی طاقت کے ایک حصہ کا ضیاع بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر لوگ ضیاع سے بچنے کی کوشش کریں تو اُن کی مہمان نوازی اتنے نچلے درجہ پر آجاتی ہے کہ اس کی حد نہیں۔ مثلاً ہمارا پنجاب ہے میں یہ نہیں کہتا کہ پنجابی مہمان نواز نہیں ہوتے لیکن صوبہ سرحد کی نسبت پنجابی کم مہمان نواز ہوتے ہیں۔ پنجاب میں لوگ خیال کرتے ہیں کہ اگر کوئی دعوت میں نہ آیا تو کھانا ضائع ہو جائے گا۔ اس لئے بالعموم وہ اس طرح کرتے ہیں کہ اِدھر مہمان آیا اور اُدھر اُس کے لئے کھانا تیار کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے مہمان کو کھانے کے لئے کافی انتظار کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ ضائع ہونے والی چیز میں زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ چیز کے ضائع کرنے سے اسلام نے وہاں منع کیا ہے جہاں ضیاع عقل کے خلاف ہو۔ اور جہاں ضیاع عقل کے مطابق ہو وہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہمیں زیادہ ثواب دینے کا ہے۔ اِس بارہ میں تم جتنی منطق استعمال کرو گے اُتنی ہی تمہاری روحانیت کم ہو جائے گی۔ اور جتنی منطق تم کم استعمال کرو گے اُتنی ہی تمہاری روحانیت زیادہ ہو گی اور ثواب زیادہ ہو گا۔ زیارت نہ جانے کا مجھے تو افسوس کیا ہونا تھا شاید عورتوں اور بچوں کو افسوس ہو لیکن آپ لوگوں کے لئے افسوس کا کوئی مقام نہیں۔ آپ کو ایک ثواب تو مہمان نوازی کا ہو گا اور ایک ثواب خواہش کے پورا نہ ہونے کا ہو گا۔
    حضرت معاویہؓ کے متعلق لکھاہے کہ ایک دفعہ اُن کی صبح کی نماز جاتی رہی۔ مؤذن نے اطلاع تو دی لیکن حضرت معاویہؓ کی وقت پر آنکھ نہ کھل سکی۔ اِس کا آپ کو اتنا صدمہ ہوا کہ آپ سارا دن روتے رہے اور خدا تعالیٰ سے اس کی معافی مانگتے رہے۔ دوسرے دن انہوں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک شخص انہیں جگا رہا ہے۔ انہوں نے جگانے والے سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اُس نے کہا میں شیطان ہوں۔ حضرت معاویہؓ نے کہا شیطان کا کام تو نماز سے روکنا ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ نماز پڑھو۔ اس نے کہا ہوں تو میں شیطان اور میرا کام نماز سے روکنا ہی ہے مگر کل میں نے آپ کو نماز سے روکا تو اِس کے نتیجہ میں آپ سارا دن روتے رہے۔ اِس پر اللہ تعالیٰ نے کہا چونکہ ایک نماز کے جانے سے اسے اتنا صدمہ ہوا ہے اس لئے اسے پچاس گُنا ثواب دے دیا جائے۔1 میری غرض تو آپ کو ثواب سے محروم رکھنا تھا لیکن یہاں بات اُلٹ گئی اور آپ کو ایک نماز کی بجائے پچاس نمازوں کا ثواب مل گیا۔ اس لئے میں نے کہا انہیں جگا دوں تاکہ ایک نمازکا ہی ثواب ملے پچاس نمازوں کا نہ ملے۔ غرض جب کسی کام کا ارادہ فسخ ہو جاتاہے تو اُس کا ثواب بھی ملتا ہے۔ ایک تو خدمت کا اور ایک اِس کا کہ جو خواہش تھی وہ پوری نہ ہوئی۔
    بہرحال بیدار قوموں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک حصہ کام کا ہمیشہ ضائع ہوتا رہتا ہے۔ منافق لوگ اکثر مجھ پر اُس روپیہ کی وجہ سے جو بظاہر ضائع ہوتا معلوم ہوتاہے اعتراض کیا کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہمارے زیادہ کام آتا ہے۔ مثلاً ہم سمجھتے ہیں کہ کابل میں تبلیغ کا رستہ جلد کھلنے والا ہے۔ اس پر ہم پانچ سات پٹھانوں کو بُلا کر انہیں تعلیم دیتے ہیں اور بطور مبلغ انہیں تیار کرتے ہیں لیکن بعد میں وہ رستہ نہیں کُھلتا۔ منافق لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ روپیہ کیوں ضائع ہوا ۔حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر رستہ کُھل جاتا تو پھر ہم کیا کرتے ،وہاں تبلیغ کے لئے کہاں سے مبلغ لاتے۔
    غرض قوم کی تعمیر سے تعلق رکھنے والے جو کام ہوتے ہیں اُن پر منافق ہمیشہ اعتراض کرتے رہتے ہیں اور دوسرے نادان بھی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ واقعی روپیہ ضائع ہو رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قوم کے تعمیری کام وہی ہوتے ہیں جن پر ایک ظاہر بین کی نگاہ میں روپیہ ضائع ہو رہا ہوتا ہے۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ15نومبر1961ئ)
    1: مثنوی مولوی معنوی مولانا جلال الدین رومی دفتر دوم صفحہ63تا67مطبع کانپور’’ بیدار کردن ابلیس
    حضرت امیر المومنین معاویہ...‘‘

    19
    ہمیں آنے والے حالات کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہیے
    (فرمودہ11؍اگست 1950ء بمقام ناصر آباد سندھ )
    (غیر مطبوعہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’بیماری اور سفر کی کوفت کی وجہ سے میں آج دونوں نمازیں اکٹھی پڑھاؤں گا پہلے جمعہ کی نماز ہو گی اور پھر ساتھ ہی عصر کی نماز پڑھادی جائے گی۔ خطبہ بھی میں زیادہ نہیں دے سکتا کیونکہ ابھی پاؤں کی ایسی حالت ہے کہ میں کھڑا نہیں ہو سکتا گو پہلے سے افاقہ ہے لیکن پھر بھی کھڑے ہونے سے تکلیف بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس کے علاوہ رستہ میں شاید ہوا لگنے سے کھانسی کی شکایت بھی پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے زیادہ دیر بولنا میرے لئے مشکل ہے۔
    میں جماعت کو پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں اور اب پھر یہاں کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ مقام جس جگہ پر وہ آکر بسے ہیں اپنے اندر بہت زیادہ نزاکت اور اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں سے بارڈر بالکل قریب ہے۔ جب پچھلی دفعہ میں یہاں سے گیا اُس وقت لڑائی بالکل تیار کھڑی تھی۔ ہم جب موٹروں میں رات کو گزرے تو ہم نے دیکھا کہ پاکستانی فوج رات کی تاریکی میں آہستہ آہستہ بارڈر کی طرف بڑھ رہی تھی اور جب ہم پنجاب پہنچے تو معلوم ہوا کہ سیالکوٹ اور لاہور کے علاقہ میں تمام پاکستانی فوج اپنے مورچے سنبھال چکی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا اور اس نے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کو اِس بات کی توفیق عطا فرمادی کہ وہ آپس میں مل کر بیٹھیں اور ایسی تدابیر اختیار کریں جن سے فتنہ و فساد
    کی آگ مشتعل نہ ہو۔ چنانچہ نواب زادہ لیاقت علی خان صاحب اور پنڈت نہرو کا آپس میں سمجھوتہ ہوا اور انہوں نے ایک معاہدہ کیا جس کے رو سے وہ اشتعال انگیز امور جو فساد کا موجب بنے ہوئے تھے اُن کی بہت کچھ اصلاح ہو گئی اور طبائع میں جو جوش پایا جاتا تھا وہ کم ہو گیا۔ ادھر دونوں حکومتوں نے بھی پورا تہیّا کر لیا کہ وہ اختلافی مسائل کو باہمی سمجھوتہ سے طے کرنے کی کوشش کریں گی اور فسادوں کو بڑھنے نہیں دیں گی نتیجہ یہ ہوا کہ لڑائی رُک گئی۔ ورنہ اگر لڑائی ہو جاتی تو چند میل کے فاصلہ پرآپ لوگ بیٹھے ہیں اگر چند میل دشمن آگے بڑھ آتا تو وہی نظارے اور وہی باتیں آپ کو بھی نظر آتیں جو مشرقی پنجاب میں کچھ لوگ دیکھ چکے ہیں اور باقی لوگوں نے سنی ہوں گی۔ لیکن انسان کی عادت ہے کہ وہ امن میسر آنے پر غافل ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ منافقوں کی یہ علامت بیان فرماتا ہے کہ جب اُنہیں روشنی نظر آتی ہے وہ کام کرنے لگ جاتے ہیں اور جب تاریکی ہو جاتی ہے تو وہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔1 لیکن یہ تو ایک عام جدوجہد کے متعلق قانون ہے کہ جب سہولت اور آرام کا وقت ہوتا ہے لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں، آپس کے تعلقات کو قائم رکھتے ہیں بلکہ ان تعلقات کو بڑھانے کے لئے سو سو تدبیریں اختیار کرتے ہیں۔ اور جب انہیں تکلیف نظر آتی ہے یا وہ محسوس کرتے ہیں کہ اب ہمیں تعلقات رکھنے سے کسی فائدہ کی امید نہیں ہو سکتی تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ لیکن وہ خاص جدوجہد جو فتنہ و فساد کے اوقات میں کی جاتی ہے اُس کے متعلق ہمیں عام طور پر یہی نظر آتا ہے کہ جب امن ہو لوگ غافل ہو جاتے ہیں اور جب خوف اور فتنہ و فساد کا وقت ہو تو اُٹھ کر تیاری کرنے لگ جاتے ہیں۔ مگر نہ وہ تیاری کسی کام کی ہوتی ہے اور نہ امن کسی مَصرف کا ہوتا ہے اس لئے کہ جو امن ہوشیاری اور قربانی کی روح سے خالی ہوتاہے وہ امن نہیں بلکہ موت کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم سہولت اور امن کے د نوں میں سو جاتی ہے اور کہتی ہے مجھے آرام کرنے دو وہ دوسرے الفاظ میںد شمن کو یہ دعوت دیتی ہے کہ آؤ اور میرے ملک پر قبضہ کر لو میں لڑنے کے لئے تیار نہیں۔ ایسے آدمی جب فساد شروع ہوتا ہے تو سب سے زیادہ گھبراتے ہیں اور وہی سونے والے سب سے زیادہ بھاگنے والے ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے کوئی تیاری نہیں کی ہوتی ۔ پس ایسے آدمیوں کو جو دشمن کے بالکل قریب رہتے ہوں اور پھر خصوصاً ایسی جماعت کو جو چاروں طرف سے دشمنوں میں گھِری ہوئی ہو ہر وقت تیار رہنا چاہئے اور اپنے اندر بیداری کی روح پیدا کرنی چاہیے۔
    یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے کہ پاکستان میں اِس وقت مسلمانوں کی اپنی حکومت ہے اور وہ چاہتی ہے کہ لوگ اسلحہ کا استعمال سیکھیں۔ گو ابھی یہاں اُتنی آزادی نہیں جتنی یورپین حکومتوں میں ہے۔ وہ بہت زیادہ اسلحہ دیتی ہیں اور بہت زیادہ اُن کا استعمال لوگوں کو سکھاتی ہیں۔ ہماری حکومت ابھی ڈرتی ہے کہ اگر لوگوں کے پاس اسلحہ چلا گیا تو ممکن ہے فساد ہو جائے یا کسی وقت وہ بغاوت کر دیں۔ پس بے شک ابھی اِس میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن بہرحال وہ پہلے سے زیادہ ہتھیار دیتی ہے اور خواہش رکھتی ہے کہ لوگ نیشنل گارڈز وغیرہ میں بھرتی ہو کر فوجی فنون سیکھیں اور موقع آنے پر لڑ سکیں۔ دوسرے لوگ اگر اِس میں غفلت کرتے ہیں تو کریں کیونکہ وہ نادان اور جاہل ہیں لیکن ہماری جماعت بوجہ دین کو سمجھنے اور روحانیت سے حصہ رکھنے کے خدا تعالیٰ کے فضل سے عالم ہے اور اسے ان چیزوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔
    پھر علاوہ ان امور کے ہمیں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ حکومتِ پاکستان ایک نئی حکومت ہے جو دشمنوں سے گھِری ہوئی ہے۔گو اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل نازل کر کے خطرہ کو کم کر دیا ہے لیکن ابھی پوری طرح خطرہ دور نہیں ہوا۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہو جائے اور جب تک افغانستان سے صلح نہ ہو جائے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان جو سمجھوتہ ہوا ہے وہ پورے اطمینان کا موجب ہے۔ لیکن فرض کرو یہ سمجھوتہ پورے اطمینان کا موجب ہو جاتا ہے تو پھر بھی ہمارے حالات وہ نہیں جو دوسروں کے ہیں۔ اگر کشمیر کا مسئلہ صحیح طور پر حل ہو جائے، اگر افغانستان اور پاکستان میں صلح ہو جائے، اگر پاکستان اور ہندوستان کے اختلافات سب ختم ہو جائیں تب بھی ہمارا ایک تیسرا دشمن موجود ہے اور وہ ہمارا بھائی، ہمارا ہمسایہ اور ہمارا رشتہ دار ہے۔ جس کا سوائے اِس کے ہم نے کوئی قصور نہیں کیا کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے پیغام کو مان لیا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ دشمن کی نگاہ میں اُن کا صرف ایک ہی قصور ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے2۔ پس جو قصور صحابہؓ کا تھا وہی ہمارا ہے۔ انہوں نے بھی کہا تھا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس کے سوا ہم کسی اَور کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور ہم کسی اَور کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ گو ہم میںا ور ان میں اِتنا فرق ضرور ہے کہ صحابہؓ نے جو کچھ کہا اُس پر انہوں نے عمل کرکے دکھا دیا لیکن ہم نے کہا تو وہی کچھ ہے جو صحابہؓ کہتے تھے مگر ابھی ہم میں بعض ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو دوسروں کو اپنا رب سمجھنے لگ جاتے ہیں اور اُن سے ڈر جاتے ہیں۔ یا رشتہ داریوں کا سوال آجائے تو گھبرا جاتے ہیں۔ اِس طرح وہ قسم قسم کی تکالیف اور مصائب جو مومنوں پر آتی ہیں اور جن سے اُنہیں گھبرانا نہیں چاہیے وہ ان کے پاؤں میں لغزش پیدا کر دیتی ہیں۔ پس ہم میں اور اُن میں یہ فرق ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا اُسے انہوں نے سو فیصدی پورا کر دیا سوائے منافقوں کے کہ وہ ہر جماعت میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو کچھ کہا اُسے ہم نے سو فیصدی پورا نہیں کیا۔ بہرحال جو صحابہؓ کے حالات تھے وہی ہمارے حالات ہیں۔ ہم نے بھی ایک سچائی کو قبول کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس پر قائم رہیں گے اور دشمن سے ڈریں گے نہیں۔ اس لئے ہمارا وہ رشتہ دار اور دوست اور ہمسایہ جس کے ہم خیرخواہ ہیں وہ ہم سے اختلاف رکھتا ہے۔ اور وہ اِس بات پر خوش نہیں کہ ہم یہ کہتے ہیں اللہ ہمارا رب ہے اور اُس کی بادشاہت کو ہم اِس دنیا میں قائم کر دیں گے۔ پس ہم تو اُس سے نہیں لڑتے مگر وہ یہ کہتا ہے کہ تمہارا عقیدہ غلط ہے اور میں اسے ماننے کے لئے تیار نہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ تم بے شک نہ لڑو میں تم سے لڑنے کے لئے تیار ہوں۔ چنانچہ اپنی پرائیویٹ مجالس اور گفتگوؤں میں وہ صاف طور پر اِس امر کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں علماء کی حکومت قائم ہو جائے تو احمدی جماعت کو ختم کر دیا جائے گا۔
    یہ میں جانتا ہوں کہ چونکہ ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ ہے اس لئے باوجود اِس کے کہ سب سے زیادہ شور میں ہی مچاتا ہوں کہ ہماری جماعت میں کئی قسم کی کمزوریاں پائی جاتی ہیں پھر بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ جب وہ وقت آگیا جس کی دشمن تیاری کر رہا ہے اور جو ہمیشہ الٰہی جماعتوں پر آیا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہمارے کمزوروں کو بھی طاقت عطا فرما دے گا اور وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرتے چلے جائیں گے۔ لیکن یہ خدا کا فضل ہو گا۔ ورنہ جہاں تک ہمیں نظر آتا ہے ہم یہ جانتے ہیں کہ ابھی ہماری جماعت میں کئی قسم کی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ بعض دفعہ ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں کہ ایک شخص کہتا ہے میری غیر احمدی بہن آئی اور اس نے مجھ سے رشتہ مانگا تو میں انکار نہ کر سکا۔ ایسے واقعات کو دیکھتے ہوئے خیال آتا ہے کہ شاید اِس موقع پر ہماری جماعت کمزوری دکھا جائے۔ لیکن سنتُ اللہ یہی ہے کہ انبیاء کی جماعتیں چاہے کتنی ہی کمزور ہوں جب دشمن اُن کو مٹانے کے درپے ہوتا ہے تو اُن میں طاقت آجاتی ہے اور وہ اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔ بہرحال ہمیں ان آنے والے واقعات کے لئے ابھی سے تیاری کرنی چاہیے۔ دشمن اپنی تمام تقریروں اور گفتگوؤں اور تنظیموں اور مشوروں میں ہماری جماعت کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اور یہ ہمارے احمدی دوستوں کی سخت غلطی ہو گی اگر وہ یہ خیال کریں گے کہ ہم تو ان کے خیرخواہ ہیں وہ ہمارے خلاف کس طرح اٹھ سکتے ہیں۔ انبیاء کی جماعتیں ہمیشہ خیرخواہ ہوتی ہیں مگرانبیاء کی جماعتوں کے خلاف ہی ہمیشہ اُن کے دشمنوں کی تلوار اٹھتی رہی ہے۔ بلکہ اَور تو اَور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ورقہ بن نوفل سے حیران ہوکر پوچھا تھا کہ اَوَ مُخْرِجِیَّ ہُمْ ۔3 کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ نے یہی جواب دیا تھا کہ ...........٭‘‘
    ( غیر مطبوعہ مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)
    ٭ اصل مسودہ میں عبارت پڑھی نہیں جاتی۔
    1: (البقرہ:21)
    2: (المائدہ:60)
    3: صحیح بخاری کتاب بَدْئِ الْوَحی باب کَیْفَ کَانَ بَدْء الْوَحْیِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ۔

    20
    سچائی کی اہمیت کو سمجھو اور کسی موقع پر بھی اس سے منحرف نہ ہو۔ ہمیشہ اس بات پر غور کرتے رہو کہ احمدیت کے نور سے تم نے کیا فائدہ اٹھایا
    (فرمودہ18؍اگست 1950ء بمقام ناصر آباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’گو کوئٹہ سے یہاں آنے کے بعد آہستہ آہستہ دردوں کو افاقہ ہو رہا ہے لیکن ابھی مَیں زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کچھ چل سکتا ہوں لیکن کھڑے ہوتے وقت گھٹنے بوجھ برداشت نہیں کرتے اس لئے ابھی مجبوراً مجھے بیٹھ کر خطبہ دینا پڑتا ہے۔
    میں جماعت کو دیر سے توجہ دلا رہا ہوں کہ ہر جماعت اپنے ساتھ کچھ خصوصیتیں رکھتی ہے۔ جب تک وہ خصوصیتیں اس جماعت کے لوگ اپنے اندر پیدا نہ کریں وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ جہاں تک دلیل اور عقل کا سوال ہے وہ خدا مہیا کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ساری عقل کی باتیں موجود ہیں اور قرآن کریم میں ساری دلیلیں موجود ہیں۔ لیکن باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں ساری عقل کی باتیں موجود ہیں اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں ساری دلیلیں موجود ہیں پھر بھی قرآن کریم کو دنیا کے اکثر لوگ نہیں مانتے۔ عیسائیوں اور یہودیوں اور بدھوں اور ہندوؤں اور دوسرے غیرمذاہب کے لوگوں کو اگر اکٹھا کیا جائے تو وہ مسلمانوں کی تعداد سے کئی گُنے زیادہ ہیں۔ حالانکہ اگر یہودی کتب یا عیسائی کتب یا ہندوؤں کی کتب یا زرتشتی کتب یا کنفیوشس کی کتب یا بدھوں کی کتب کو جمع کیا جائے اور ان کی معقولیت کو دیکھا جائے تو ان میں معقولیت بہت ہی کم رہ گئی ہے اور دلیل کا تو حصہ ان میں ہے ہی نہیں۔ لیکن لوگ اُن بے دلیل باتوں کو ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے،ا ن غیر معقول باتوں کو ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور قرآن کریم کی معقول اور بادلیل باتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں خالی دلیل اور معقولیت کام نہیں دیتی۔ بلکہ اس کے ساتھ کسی اَور چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک شخص ہمارے پاس آتا ہے اس نے لنگوٹی باندھی ہوئی ہوتی ہے، اس کے سر پر پھٹی پرانی پگڑی ہوتی ہے، اس کے شملہ 1میں بیس شگاف ہوتے ہیں اور اس کے سرپر جوپگڑی کا حصہ بندھا ہو اہوتا ہے اس میں بھی کئی جگہ سوراخ نظر آرہے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ بڑے مدلّل طریق سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ کیمیا ایک یقینی مسئلہ ہے اور سونا بنایا جا سکتا ہے۔ کچھ بے وقوف تو اسے ایسے ضرور مل جائیں گے جو نہ اُس کی لنگوٹی دیکھیں گے نہ اُس کی پھٹی پرانی پگڑی دیکھیں گے اور گھر سے سونا لا کر اُس کے حوالہ کر دیں گے کہ اسے کئی گُنے کر دیا جائے۔ لیکن اکثر حصہ شہر کا ایسا ہوتاہے جو ہنس پڑتا ہے اور کہتا ہے کہ اگرتمہیں کیمیا کا علم آتا ہے تو تم نے لنگوٹی کیوں باندھ رکھی ہے؟ تمہارے سر پر یہ پھٹی پرانی پگڑی کیوں ہے؟ ہمیں کیمیا نہیں آتی لیکن ہم نے تہہ بند پہنا ہوا ہے یا پاجامہ یا شلوار پہنی ہوئی ہے اور ہمارے سر پر تمہاری پگڑی سے کئی درجے بہتر پگڑی موجود ہے۔ ایسی صورت میں ہم تمہاری دلیلوں کو کیا کریں ۔ دلائل پیش کرتے وقت تو وہ لوگ بعض دفعہ ایسی ایسی دلیلیں دیتے ہیں کہ معمولی علم رکھنے والا انسان حیران رہ جاتا ہے۔ انہیں سائنس کے جدید نظریات کا بھی کچھ علم ہوتا ہے۔ وہ اخبارات اور رسالوں وغیرہ کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور جب گفتگو کا موقع آئے وہ بڑے زور سے بیان کرتے ہیں کہ جرمنی کے فلاں سائنس دان نے سونا بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تم پہلے ان باتوں کو سن کر ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ سونا نہیں بن سکتا۔ لیکن اب ایک سائنس دان نے سونا بنا کر دکھا دیا ہے۔
    پھر وہ اپنی تائید میں ایٹم بم کو پیش کرتے ہیں۔ ایٹم بم کی ساری تھیوری ہی اس بات پر ہے کہ ایک قسم کے جوہر کو دوسرے جوہر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور جب جوہر تبدیل کیا جا سکتا ہے تو تانبا یا چاندی کو بھی سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ غرض ان کی دلیلیں بڑی معقول ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں تم ہم سے کیا پوچھتے ہو سائنس دانوں سے پوچھو کہ کیا یہ بات دنیا میں ثابت ہو گئی ہے یا نہیں کہ ایک دھات کو دوسری دھات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور کیا یہ درست نہیں کہ ایک جرمن سائنس دان نے گورنمنٹ کی لیبارٹریوں میں سونا بنا لیا ہے۔ اور چونکہ یہ باتیں درست ہوتی ہیں اس لئے بہت سے بے وقوف یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ شاید وہ بھی سونا بنانا جانتے ہیں۔ حالانکہ اصل سوال یہ نہیں کہ سونا بن سکتا ہے یا نہیں۔ بلکہ ہمارا جس چیز سے واسطہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ شخص جو ہمارے سامنے کیمیا گری کا دعویٰ پیش کر رہا ہے وہ خود سونا بنا سکتا ہے یا نہیں۔ آخر وہ جو ہمارے پاس آیا ہے تو ہمارا پروفیسر بن کر نہیں آیا بلکہ ہمیں اپنے علم و فن کا نمونہ دکھانے آیا ہے اور اس کا ثبوت یہی ہو سکتا ہے کہ خود اس کی حالت اچھی ہو۔ مگر اس کا سارا زور اِسی بات پر رہتا ہے کہ سونا بن سکتا ہے اور آخر میں وہ دوسروں کا زیور اُڑا کر اپنے گھر کی طرف چل پڑتا ہے۔ اس کی دلیلیں ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص کہیں باہر جا رہا تھا کہ راستہ میں زور سے ایک بگولا اٹھا جس نے اسے اٹھا کر باغ میں پھینک دیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ اُس باغ سے نکلا تو اس نے اپنے سر پر انگوروں کاایک ٹوکرا اٹھایا ہوا تھا جسے لے کر وہ اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ راستہ میں اسے باغ کا مالک مل گیا۔ باغ کے مالک نے جو دیکھا کہ وہ انگوروں کا ٹوکرا اپنے سر پر اٹھائے ہوئے گھر کی طرف جا رہا ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ چوری کے انگور ہیں کیونکہ وہاں اَور کوئی باغ تھا ہی نہیں۔ اس نے فوراً اسے روک لیا اور کہا تم میرے باغ سے یہ انگور چُرا کر کیوں لے جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ آپ ناراض نہ ہوں پہلے میری بات سن لیں اور پھر جوچاہیں کہیں۔ اس نے کہا بہت اچھا پہلے اپنی بات سنالو۔ وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ میں سڑک پر جا رہا تھا کہ ایک بگولا اٹھا اور اس نے مجھے اڑا کر آپ کے باغ میں پھینک دیا۔ بتائیے کیا اس میں میرا کوئی قصور ہے؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ کہنے لگا پھر میں آپ کے باغ میں ہی کھڑا تھا کہ ایک دوسرا بگولا آیا اور میں پھر اُڑنے لگا۔ ایسی حالت میں لازماً انسان اپنی جان بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ میں نے بھی اِدھر اُدھر ہاتھ مارے تو اتفاقاً جہاں میں آکر رُکا اور جہاں میرے ہاتھ لگے وہاں انگوروں کے خوشے تھے۔ اِدھر ہاتھ مارتا تو اِدھر کے انگور گر جاتے اور اُدھر ہاتھ مارتا تو اُدھر کے انگور گر جاتے۔ بتائیے کیا اِس میں میرا کوئی قصور ہے؟ باغ کے مالک نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں ۔ اس نے کہا اب آگے سنیے۔ جب انگور گرے تو اتفاقاً نیچے ایک ٹوکرا پڑا ہوا تھا۔ سارے انگور اس میں اکٹھے ہو گئے اور وہ بھر گیا۔ بتایئے میرا اس میں کوئی قصور ہے؟ باغ کے مالک نے کہا یہ تو ساری باتیں ٹھیک ہیں۔ میں نے مان لیا کہ بگولا آیا اور اس نے اٹھا کر تمہیں میرے باغ میں پھینک دیا۔ میں نے یہ بھی مان لیا کہ تم نے اپنے بچاؤ کے لئے ہاتھ پاؤں مارے تو انگور گرگئے۔ میں نے یہ بھی مان لیا کہ اُس وقت نیچے ٹوکرا پڑا تھا جس میں انگور جمع ہوتے گئے۔ مگر تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ انگوروں کا ٹوکرا اٹھا کر گھر کی طرف چل پڑو۔ وہ کہنے لگا بس یہی بات میں بھی سوچتا چلا آرہا تھا کہ یہ بات کیا ہوئی کہ انگور کسی کے، ٹوکرا کسی کا اور میں اسے اٹھا کر اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں۔ یہی سوال ہمارا کیمیا گر سے ہوتاہے کہ ہماری تو یہ بحث ہی نہیں کہ سونا بن سکتا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ تمہیں سونا بنانا آتا ہے یا نہیں؟ مگر تمہاری یہ حالت ہے کہ تم نے خود لنگوٹی باندھی ہوئی ہے اور ہمارا گھر سونے کا بنانے آگئے ہو۔ تو حقیقت یہ ہے کہ کسی کا کوئی دلیل پیش کر دینا اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتا جب تک وہ دلیل عملی طور پر اس شخص یا گروہ یا جماعت پر چسپاں نہ ہوتی ہو۔
    یہ تو ہر مذہبی انسان کہتا ہے کہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا کرتا ہے۔ ہندو بھی یہی کہتے ہیں، عیسائی بھی یہی کہتے ہیں، زرتشتی بھی یہی کہتے ہیں، یہودی بھی یہی کہتے ہیں، کنفیوشس کے پَیرو بھی یہی کہتے ہیں اور مسلمان بھی یہی کہتے ہیں۔ اب خالی یہ کہہ دینے سے کہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا کرتا ہے یہ کس طرح ثابت ہو گیا کہ کہنے والے کا اپنا مذہب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر کسی ہندو یا بدھ سے یہ پوچھا جائے کہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے یا نہیں؟ اور وہ کہہ دے کہ مذہب ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ہمارا مذہب سچا ہے؟ وہ کہے گا کہ میں تو یہ مانتاہوں کہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے مگر اس سے یہ کیونکر نتیجہ نکل آیا کہ تمہارا مذہب سچا ہے۔ تو محض کسی بات کا معقول ہونا یا محض کسی بات کا مدلّل ہونا کافی نہیں ہوتا بلکہ دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ وہ مدلّل اور معقول بات کہنے والے پر بھی چسپاں ہوتی ہے یا نہیں۔ مثلاً ایک عیسائی ہم سے پوچھتا ہے کہ دین نے تمہیں کیا فائدہ دیا؟ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا معقول جواب دیں اور بتائیں کہ ہمیں دین پر عمل کرنے سے یہ فوائد پہنچتے ہیں۔ دین کا فائدہ لازماً یا تو دنیا سے تعلق رکھتا ہو گا یا روحانیت سے تعلق رکھتا ہو گا۔ اگر کہو کہ دین پر عمل کرنے سے ہم نے دنیا کا فلاں فلاں فائدہ حاصل کیاہے تو وہ کہے گا کہ تم نے تو لنگوٹی باندھی ہوئی ہے اور میں اعلیٰ درجہ کا لباس رکھتا ہوں۔ تم کچے مکانوں میں رہتے ہو اور میں مضبوط کوٹھیوں میں رہتا ہوں۔ دشمن کے اِس اعتراض سے بچنے کے لئے تم یہ کہا کرتے ہو کہ دین کا فائدہ روحانیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ روحانیت کیا چیز ہے؟ اور آیا وہ ہم میں پائی بھی جاتی ہے یا نہیں؟ اگر کہو کہ دین کے نتیجہ میں جنت ملتی ہے تو وہ کہے گا کہ یہ تو میرا بھی اعتقاد ہے کہ مجھے جنت ملے گی۔ تم یہ بتاؤ کہ تمہیں دین سے حاضر فائدہ کیا حاصل ہوا؟ اگر کہو کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں تو وہ کہے گا کہ نمازیں میں بھی پڑھتا ہوں۔ اگر تم کہو کہ ہم روزے رکھتے ہیں تو وہ کہے گا کہ میں بھی روزے رکھتا ہوں۔ اور واقع یہ ہے کہ اِس قسم کی عبادات تمام مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔ ہندوؤں میں بھی ہیں، یہودیوں میں بھی ہیں، عیسائیوں میں بھی ہیں، زرتشتیوں میں بھی ہیں۔ پھر تمہارا کیا حق ہے کہ تم کہو کہ ہماری نماز اچھی ہے اور تمہاری نماز اچھی نہیں۔ اور اگر تم دلیل سے ثابت بھی کر دو کہ ہماری نماز اچھی ہے تو وہ کہے گا کہ اصل چیز تو نتیجہ ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ تمہیں ان نمازوں سے حاصل کیا ہوا۔ مثلاً اگر تم ثابت کردو کہ زمین کے اندر فلاں فلاں کیمیکلز پائے جاتے ہیں جن کے نتیجہ میں شکر پیدا ہوتی ہے تو پھر کیونکر اس سے یہ نتیجہ نکل آیا کہ سرکنڈا میٹھا ہوتا ہے۔ تو گویہ بات درست ہو گی کہ زمین میں بعض کیمیاوی چیزیں پائی جاتی ہیں اور یہ بات بھی درست ہوگی کہ انہی کے نتیجہ میں شکر پیدا ہوتی ہے اورپھر یہ بات بھی درست ہو گی کہ یہ شکر کسی نہ کسی پودے میں جائے گی۔ مگر تم یہ بتاؤ کہ آیا سُننے والا سرکنڈے کو چُوسے گا یا نہیں کہ کیا وہ فی الواقع میٹھا ہے یا مجھے دھوکا دیا گیا ہے۔ جب وہ سرکنڈا چوسے گا تو اس میں اسے کوئی مٹھاس نظر نہیں آئے گی۔ لیکن جب وہ گنّا چوسے گا تو اس میں سے یقینی طور پر مٹھاس محسوس ہو گی۔ اب جہاں تک سائنس کا تعلق ہے یہ بات درست ہے کہ زمین میں بعض کیمیاوی مادے پائے جاتے ہیں ۔ یہ بات بھی صحیح ہو گی کہ جس چیز میں وہ کیمیاوی مادے چلے جائیں وہ میٹھی ہو جاتی ہے۔ مگر یہ بات غلط ہو گی کہ سرکنڈا میٹھا ہوتا ہے کیونکہ سرکنڈے نے وہ مادہ نہیں چُوسا صرف گنّے نے چُوسا ہے۔ اِسی طرح خواہ ہم دلائل کے زور سے یہ ثابت کرتے چلے جائیں کہ اسلام اپنے اندر فلاں فلاں خوبیاں رکھتا ہے پھر بھی یہ سوال قابلِ حل رہ جائے گا کہ اسلام پر عمل کر کے ہم نے کیا پایا؟
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ مولوی برہان الدین صاحب قادیان آئے۔ مولوی صاحب اہلحدیث کے بڑے لیڈر تھے۔ احمدیت قبول کرنے کے بعد قوم نے ان کو چھوڑ دیا اور وہ غربت میں زندگی بسر کرنے لگے۔ ان کا طریقہ تصوف کا سا تھا۔ کمائی بھی نہیں کیا کرتے تھے۔ لوگوں کو قرآن وغیرہ پڑھا دیتے تھے جس پر کسی نے کچھ دے دینا اور کسی نے کچھ بھی نہ دینا۔ لیکن اپنے زمانہ میں وہ اہلحدیث کے لیڈر تھے اورہزاروں ہزار لوگ ان کے متبع تھے۔ بعد میں ان کے ماننے والوں میں سے ہزاروں احمدی بھی ہوئے۔ اہلحدیث فرقہ کے لوگوں میں باتیں زیادہ ہوتی ہیں اور روحانیت کم ہوتی ہے۔ وہ دین کے صرف ظاہری تتبّع کو کافی سمجھتے ہیں اور اس کا مغز حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ٹخنوںسے پاجامہ ذرا نیچا ہوا تو اعتراض کر دیا۔ یا ہاتھ سینہ پر نہ باندھنے اور آمین نہ کہنے پر جھگڑنے لگ گئے۔ اسی طرح شریعت کے ظاہر پر وہ خوب عمل کریں گے لیکن روحانیت کا خانہ ہمیشہ خالی رہے گا اور قلب کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کریں گے۔ صوفیاء اس کے بالکل اُلٹ چلتے ہیں وہ قلب قلب کہتے رہتے ہیں اور ظاہر کو بیکار قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ جس طرح خالی برتن ایک بیکار چیز ہے اسی طرح دودھ بھی بغیر برتن کے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ جس طرح وہ شخص غلطی پر ہے جو خالی برتن کو کافی سمجھتا ہے اسی طرح وہ شخص بھی غلطی پر ہے جو دودھ کے لئے برتن ضروری نہیں سمجھتا۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ روحانیت ہی اصل چیز ہے جسمانیت کی طرف کوئی توجہ نہیں رکھنی چاہیے وہ بھی غلطی پر ہیں اور جو روحانیت سے غافل ہیں اور جسمانیت پر ہی زور دیتے چلے جاتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں۔ بہرحال جس قوم سے ان کا تعلق تھا وہ صرف ظاہری باتوں کی طرف توجہ رکھتی تھی۔ جب وہ احمدی ہوئے تو انہوں نے یہ باتیں سننی شروع کیں کہ اسلام پر عمل کرنے سے خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل ہوتا ہے، انسان اس کے کلام اور الہام سے حصہ پاتا ہے، اس کی محبت اورپیار کے نشانات مشاہدہ کرتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ احمدی ہوتے وہ بھی یہی باتیں کرتے کہ احمدی ہو کر ہم نے خدا تعالیٰ کا یہ نشان دیکھا ہے، ہم نے اِس اِس طرح اس کے الہامات سے حصہ پایا ہے اور یہ باتیں ان کے لئے بالکل نئی تھیں۔
    ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجلس میں انہی امور پر گفتگو فرما رہے تھے کہ باتیں سنتے سنتے مولوی برہان الدین صاحب روپڑے۔ ان کی طبیعت بے تکلف تھی اس لئے جس طرح بچہ چیخیں مارتا ہے وہ بھی بے تحاشا چیخیں مار کر رونے لگ گئے۔ اب ساری مجلس حیران تھی کہ ان کو کیا ہو گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی پوچھا کہ مولوی صاحب کیا ہوا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سمجھا کہ شاید کسی قریبی عزیز کے مرنے کی انہیں خبر آئی ہے جس کو یہ برداشت نہیں کر سکے۔ آخر کئی منٹ کے بعد ان کے جذبات قابو میں آئے اور وہ کہنے لگے حضور! میں یہاں آتا ہوں تو کچھ لوگ سناتے ہیں کہ حضور کی بیعت کے بعد ان پریہ یہ فضل نازل ہوئے، اس طرح انہیں اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل ہوا، اس طرح اس کے نشانات کو انہوں نے دیکھا،اس اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا۔ اور پھر آپ کی مجلس میں آتا ہوں تو آپ بھی یہی بتاتے ہیں کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی محبت میں ترقی کر جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس سے یوں باتیں کرتا ہے، اِس اِس طرح اس کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ میں نے آپ کی بیعت کی ہوئی ہے ابھی میرے اندر کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا۔ وہ ٹھیٹھ پنجابی میں گفتگو کیا کرتے تھے گفتگو کرتے کرتے مولوی صاحب کہنے لگے حضور! اتنی مدت میری بیعت پر گزر چکی ہے مگر میں تو دیکھتا ہوں کہ میں پھر بھی جُھڈّو دا جُھڈّو ہی رہا۔ یعنی میں پھر بھی بیکار وجود ہی رہا اور مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعد میں انہوں نے روحانیت میں ترقی کر لی۔ مگر چونکہ اہلحدیث ہونے کی وجہ سے ابتدا میں ان کی زبان محض چَسکا کی عادی تھی اس لئے کچھ مدت تک احمدیت میں بھی انہوں نے زبان کا چَسکا ہی لیا۔ مگر چونکہ دل میں ایمان تھا اس لئے وہ اپنی اس حالت پر گھبرائے اور انہوں نے نہایت درد کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ حضور! آپ آئے اور آپ کی آمد سے ہزارہا لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور وہ خدا تعالیٰ کے قُرب میں بڑھ گئے۔ مگر میں تو دیکھتا ہوںکہ اتنے بڑے انعام کے باوجود میں پھر بھی جُھڈّو دا جُھڈّو ہی رہا اور میرے اندر کوئی تغیر پیدا نہ ہو سکا۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال ایک اہم ترین سوال ہے اور ہمیں ہمیشہ اس بات پر غور کرتے رہنا چاہیے کہ احمدیت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا ایک نورتو نازل ہوا مگر ہم نے اس نور سے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔ مثلاً پانچ سات موٹی موٹی چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ اخلاق کے لئے مثال کے طور پر کام دیتی ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان باتوں کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ ان میں ایک چیز جو درحقیقت مومن کا ایک نشان ہے وہ سچائی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگ اس کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔ بات کہیں گے تو خواہ جہالت سے سہی، غفلت اور نادانی سے سہی ان کی بات سولہ آنے سچی نہیں ہوتی کچھ نہ کچھ جھوٹ اس بات کو خوبصورت بنانے کے لئے اس میں ضرور ملا دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے نشانات بیان کرنے لگیں گے تو مبالغہ کر دیں گے۔ جماعت کی تعداد بیان کرنے لگیں گے تو مبالغہ کر دیںگے۔ اپنی مظلومیت کا ذکر کرنے لگیں گے تو مبالغہ کر دیں گے۔ مثلاً کسی نے دس تھپڑ مارے ہوں تو یہ بارہ ضرور کہیں گے۔ حالانکہ کسی کو ظالم ثابت کرنے کے لئے دس یا بارہ تھپڑوں کا کیا ذکر ہے اگر کسی نے ناواجب طور پر ایک تھپڑ بھی مارا ہو تو اس کا ظلم ثابت ہے۔ مگر اتنی بات سے ان کی تسلی نہیں ہوتی اور وہ مبالغہ سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔ یا کہیں گے کہ فلاں نے تو مار مار کر ادھ مؤا کر دیا ہے اور اس طرح بڑھا کر بات کرنے کی کوشش کریں گے۔
    مجھے یاد ہے جب میں حج کے لئے گیا تو چونکہ اُس وقت میری عمر چھوٹی تھی حضرت خلیفہ اول نے یہ پسند فرمایا کہ عبدالحی صاحب عرب بھی میرے ساتھ ہوں۔ آپ کا منشاء تھا کہ میں مصر میں رہ کر عربی علوم کی تکمیل کروں۔ مگر یہ ارادہ پورا نہ ہو سکا۔ عبدالحی صاحب عرب عراق کے رہنے والے تھے اور وہ شیعوں میں سے احمدی ہوئے تھے اور شیعوں میں مبالغہ سُنیوں سے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ ہم جدہ میں سیٹھ ابوبکر صاحب کے ہاں رہا کرتے تھے۔ وہاں ایک دن کوئی عرب تاجر ملنے کے لئے آیا اور عبدالحی صاحب عرب نے اسے تبلیغ شروع کی۔ ایک بڑا سا ہال کمرہ تھا جس کے ایک طاقچہ میں مَیں بیٹھا ہوا تھا اور دوسرے طاقچہ میں عبدالحی صاحب عرب (وہاں دیوار میں بڑے بڑے محراب بنے ہوئے ہوتے ہیں جن میں لوگ بیٹھتے ہیں) اسے تبلیغ کر رہے تھے۔ میں کسی کتاب کے پڑھنے میں مشغول تھا کہ یکدم میں نے محسوس کیا کہ جیسے کسی اہم معاملہ پر انسان کو جوش آجاتا ہے اور اس کی روح میں ایک اشتعال کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اِسی قسم کی کیفیت عبدالحی صاحب عرب کی ہے اور میں نے دیکھا کہ وہ عرب تاجر جسے وہ تبلیغ کر رہے تھے سخت سہما ہوا اُن کے سامنے بیٹھا ہے اور اُس کے منہ پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں۔ بات یہ ہوئی کہ عبدالحی صاحب عرب اسے لیکھرام کا واقعہ سُنا رہے تھے اور سُنا اس طرح رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیکھرام کے قتل کے لئے ایک خاص سال اور تاریخ مقرر کر دی تھی اور بتا دیا تھا کہ فلاں سال فلاں مہینہ میں فلاں تاریخ کو ٹھیک اتنے بجے یہ شخص مارا جائے گا اور دنیا کی کوئی طاقت اسے بچا نہیں سکے گی۔ چونکہ تمام آریوں کواس پیشگوئی کا علم تھا اس لئے جب وہ دن آیا تولیکھرام کے مکان کے اردگردپولیس نے گھیرا ڈال لیا اور گھر کے اندر لوگوں کی آمد و رفت بند کر دی۔ بلکہ سیڑھیوں میں بھی پولیس کھڑی کر دی گئی اور لیکھرام سے انہوں نے کہہ دیا کہ تم کمرہ میں زنجیر لگا کر بیٹھ رہو تا کہ کوئی شخص تم پر حملہ نہ کر سکے۔ لیکن جب وہ وقت آیا جس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خبر دی تھی اور جب آریہ خوش تھے کہ اب یہ پیشگوئی جھوٹی نکلے گی، جب مکان کے چاروں طرف پولیس کا محاصرہ تھا، سیڑھیوں میں بھی پولیس بیٹھی ہوئی تھی اور لیکھرام کُنڈا لگا کر کمرہ کے اندر چُھپا ہوا تھا اور اس کے قتل کا کوئی امکان نہیں تھا یکدم چھت پھٹی اور ایک فرشتہ تلوار لے کر اُترا اور اُس نے لیکھرام کو قتل کر دیا۔ یہ قصہ انہوں نے الف لیلہ کے انداز میں اس طرح سجا سجا کر بیان کیا کہ جب وہ اس کے آخری حصہ پر پہنچے کہ باوجود اتنے سخت انتظامات کے چھت پھٹی اور ایک فرشتہ تلوار لے کر اترا اور اس نے لیکھرام کا پیٹ چاک کر دیا تو یکدم وہ عرب چونک اٹھا اور اِس واقعہ کی ہیبت سے متاثر ہو کر اُس کے منہ پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ اور وہ اس طرح سہم گیا کہ گویا اگر اس نے انکار کیا تو فرشتہ ابھی اتر کر اس کے پیٹ میں بھی خنجر مار دے گا۔ میں نے جب یہ باتیں سنیں تو انہیں کہا عبدالحی! تبلیغ میں بھی تم جھوٹ بولتے ہو!! وہ کہنے لگے کیا پیشگوئی نہیں تھی؟ میں نے کہا پیشگوئی تو تھی مگر سوال یہ ہے کہ خدا نے کہا تھا یہ شخص چھ سال میں مارا جائے گا اور تم کہتے ہو انہوں نے ایک خاص سال اور خاص مہینہ اور خاص دن مقرر کر دیا تھا۔ پھر جو واقعات ہیں وہ تو یہ ہیں کہ ایک شخص لیکھرام کے پاس گیا، دروازے کھلے تھے، اس کے بیوی بچے بھی موجود تھے کہ اس نے خنجر مارا اور غائب ہو گیا۔ بے شک فرشتہ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا مگر فرشتے کے یہ معنے تھے کہ جیسے فرشتہ پکڑا نہیں جاتا اُسی طرح وہ پکڑا نہیں جائے گا۔ پھر میں نے کہا کہ تم کہتے ہو کہ چھت پھٹی اور فرشتہ اُترا حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اِسی طرح تم کہتے ہو کہ باہر پولیس کا پہرہ تھا یہ بھی جھوٹ ہے۔ وہ کہنے لگا جب انہیں پتہ لگا ہو گا کہ اس طرح پیشگوئی کی گئی ہے تو کیا انہوں نے پہرے مقرر نہیں کئے ہوں گے؟ میں نے کہا ’’ہوں گے‘‘ کا کیا سوال ہے دیکھنا تو یہ ہے کہ ہوا کیا تھا۔غرض تبلیغ میں بھی بعض دفعہ جھوٹ بولا جاتا ہے۔
    اسی طرح جماعت کی تعداد بتانی ہو تو کہیں گے ہماری تعداد دس لاکھ ہے یا بارہ لاکھ ہے یا پندرہ لاکھ ہے۔ جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں تو میں کہا کرتاہوں کہ مجھے تو پتہ نہیں شاید انہوں نے مردم شماری کروائی ہوئی ہو۔ حالانکہ دس کیا اور دس لاکھ کیا۔ اصل چیز جو دیکھنے والی ہے وہ تو یہ ہے کہ آیا جماعت میں سچائی پائی جاتی ہے یا نہیں؟ یا احمدیت سچی تعلیم پیش کر رہی ہے یا جھوٹی؟ اگر ہم دس آدمی ہوں اور خدا تعالیٰ ہماری تائید کر رہا ہو تو یہی ہماری صداقت کی دلیل ہے۔ دس لاکھ ہونے سے کونسی زائد بات ثابت ہوسکتی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگرہم تھوڑے ہوں اور پھر بھی سارے جہان میں تبلیغِ اسلام کررہے ہوں تو یہ ہماری صداقت کی ایک اَور بھی واضح دلیل بن جائے گی۔ فرض کرو ہم بیس ہزار ہیں مگر ہمارے چار پانچ مشن امریکہ میں ہیں، دس بیس ویسٹ افریقہ میں ہیں، پانچ سات ایسٹ افریقہ میں ہیں، اِسی طرح شام میں ہمارا مشن کھلا ہو اہے، لبنان میں ہمارا مشن کھلا ہو اہے، ماریشس میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے اَب پھر وہاں مبلغ جا رہا ہے ۔ ملایا میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، انڈونیشیا میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، انگلستان میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، سوئٹزرلینڈ میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، فرانس میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، سپین میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے۔ تو یہ بہت بڑا معجزہ ہو گا کہ اتنی قلیل تعداد کے ہوتے ہوئے ہم نے اتنے مشن کھول رکھے ہیں۔ لیکن جتنے آدمی زیادہ ہوتے چلے جائیں اتنا ہی معجزہ چھوٹا ہوتا چلا جائے گا۔ مسلمانوں کو ہی دیکھ لو وہ چالیس پچاس کروڑ ہیں مگر چالیس پچاس کروڑ ہونے سے ان کی عزت میں کونسا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم بہت ہی تھوڑے ہیں مگر چونکہ ہم کام کر رہے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا رُعب ہے۔ غرض ہماری جماعت کے افراد میں یہ ایک نقص پایا جاتا ہے کہ وہ پوری سچائی سے کام نہیں لیتے بلکہ باتوں میں مبالغہ سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی تبلیغ میں سُستی آجاتی ہے۔ اسے کہتے ہیں مکڑی جالا تنتی ہے اور پھر آپ ہی اس میں پھنس جاتی ہے۔ اسی طرح ہماری جماعت کے بعض افراد بھی پہلے جھوٹ بول کر کہیں گے کہ ہماری تعداد دس لاکھ ہے اور پھر یہ اندازہ لگانے بیٹھ جائیں گے کہ اگر دو روپے بھی فی آدمی چندہ دے تو تیس لاکھ روپیہ چندہ آ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک میرے چندہ نہ دینے سے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ گویا پہلے خود ہی ایک جھوٹ بولا اور پھر خود ہی نفس کو اجازت دے دی کہ اب میرے چندہ نہ دینے سے کوئی نقصان نہیں اور اس طرح اپنی ساری ذمہ داریوں کو ختم کر لیا۔
    حضرت خلیفہ اول کا طریق تھا کہ جب آپ بیمار ہوتے اور لوگوں کا جمگھٹا برداشت نہ کرسکتے تو بعض دفعہ جب آپ اپنی طبیعت میں ضُعف محسوس کرتے مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے فرما دیا کرتے تھے کہ میری طبیعت اچھی نہیں آپ لوگ اب تشریف لے جائیں۔ اس پر مجلس میںا گر مثال کے طور پر چالیس آدمی ہوتے تو دس اٹھ کر چلے جاتے اور تیس پھر بھی بیٹھے رہتے۔ آپ تھوڑی دیر کے بعد پھر فرماتے کہ میری طبیعت خراب ہے دو ست اب تشریف لے جائیں۔ اِس پر دس اَور آدمی اٹھ کھڑے ہوتے اور چلے جاتے۔ پھر کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد آپ فرماتے اب بہت ضُعف ہو رہا ہے میں بیٹھ نہیں سکتا دوست اب چلے جائیں۔ اِس پر دس اَور چلے جاتے مگر دس آدمی پھر بھی بیٹھے رہتے۔ آخر خلیفہ اول فرماتے کہ اب نمبردار بھی چلے جائیں۔ تو کچھ لوگ اپنے آپ کو نمبردار فرض کر لیا کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے لئے اَور حکم ہے اور ہمارے لئے اَور حکم ہے۔ جب لوگ جماعت کی تعداد کے بیان کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری تعداد پندرہ لاکھ ہے یا بیس لاکھ ہے تو کچھ لوگ نمبردار بننے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جب اتنے لوگ چندہ دے رہے ہیں تو ہمارے چندہ نہ دینے سے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ غرض کہیں چندوں میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ پندرہ لاکھ آدمی چندہ دے رہا ہے۔ کہیں تبلیغ میں سُستی آجاتی ہے کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ پندرہ لاکھ آدمی تبلیغ کر رہا ہے اور اس طرح جماعت کا ایک بڑا حصہ اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے لگ جاتا ہے اور یہ سارا نتیجہ جھوٹ کا ہوتا ہے۔ حالانکہ سچی بات تو یہ ہے کہ گو ہم نے کبھی مردم شماری نہیں کرائی لیکن ہمارے اندازہ میں جماعت کی تعداد دو لاکھ کے قریب ہے۔ اس سے زیادہ ہمیں نظر نہیں آتی۔ ممکن ہے کہ اگر باہر کی جماعتوں کو ملا لیا جائے تویہ تعداد تین لاکھ تک پہنچ جائے۔ حد سے حد جس سے اوپر جانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں وہ چار لاکھ ہے۔ لیکن اب تو مبالغہ کرتے کرتے جماعت کے بعض لوگ جب اپنی تعداد بتاتے ہیں تو پچیس لاکھ تک بتا دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ جماعت کی تعداد کتنی ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ میرے اندازہ میں پاکستان، ہندوستان میں دو لاکھ کے قریب ہے۔ اس نے کہا کہ فلاں مبلغ نے تو مجھے پچیس لاکھ تعداد بتائی تھی۔ میں نے اُس مبلغ کو چِٹھی لکھی کہ تم نے کب جماعت کی مردم شماری کروائی تھی؟ اور اگر کروائی تھی تو پھر تم نے مجھے کیوں نہ اطلاع دی کہ جماعت کی تعداد پچیس لاکھ ہے۔ اس نے جواب دیا کہ آج سے پچیس سال پہلے یہ کہا جاتاتھا کہ ہماری تعداد دس لاکھ ہے۔ کیا اس عرصہ میں اتنی بھی تعداد نہ بڑھی ہو گی کہ جماعت دس لاکھ سے پچیس لاکھ تک ہو گئی ہو؟گویا آج سے پچیس سال پہلے ایک غلطی ہو گئی تھی اس لئے یہ فرض کر لیا گیا کہ اب جماعت پچیس لاکھ تک پہنچ گئی ہو گی۔ یا یوں کہہ لو کہ انہوں نے خیال کیا کہ اگر سچ ترقی کرتاہے تو جھوٹ کیوں نہ ترقی کرے۔ اسے بھی ترقی دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میں نے اس مبلغ کو لکھا یہ تو بالکل جھوٹ ہے۔ اگر دوسرے لوگ جھوٹ بولتے ہیں تو اُن کو دیکھ کر ایک مبلغ کو تو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔
    واقعہ یہ ہے کہ جو طاقت سچائی کو حاصل ہوتی ہے وہ کسی اَور چیز کو حاصل نہیں ہوتی۔ ہمارا فرض ہے کہ یا تو ہم یہ کہیں کہ ہمیں جماعت کی تعداد کا صحیح علم نہیں اور یا وہ تعداد بتائیں جو ہمارے اندازہ کے قریب قریب ہو۔ میں نے بتایا ہے کہ میرا اندازہ دو لاکھ کے قریب ہے۔ اب اگر یہ اندازہ درست ہے اور جماعت کی تعداد دو لاکھ ہی ہے تو اس تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے دل میں جو درد پیدا ہو گا وہ پچیس لاکھ کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہ تعداد تو اتنی بڑی ہے کہ اگرہماری جماعت واقع میں پچیس لاکھ تک پہنچ جائے تو بہت بڑا انقلاب پیدا کر دے۔ پچیس لاکھ کے یہ معنی ہیں کہ ہماری تعداد سکھوں سے نصف ہو جائے۔ مگر چونکہ ہمارے اندر ان سے بہت زیادہ تنظیم پائی جاتی ہے اس لئے لازماً اگر ہماری جماعت پچیس لاکھ تک پہنچ جائے توہم خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ کچھ کرنے کے قابل ہو جائیں گے جو پچاس لاکھ ہونے کے باوجود سکھ نہیں کر سکے۔ مگر اب چونکہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ہماری تعداد پچیس لاکھ ہے اس لئے بجائے کوئی فائدہ ہونے کے اَور نقائص پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایک یہ کہ کہنے والا تبلیغ چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ پچیس لاکھ آدمی تبلیغ کر رہا ہے اگر میں نے تبلیغ نہ کی تو کیا ہوا۔ دوسرا نقص یہ پیدا ہو جاتاہے کہ ایسا شخص چندہ میں سُست ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ خیال کرتاہے کہ پچیس لاکھ آدمی چندہ دے رہا ہے اگر میں نے چندہ نہ دیا تو کیا ہوا۔ اسی طرح اَور کئی قسم کے نقائص پیدا ہو جاتے ہیں جن سے اُس کا ایمان بھی کمزور ہوتا ہے اور اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ پس آپ لوگوں کو ہمیشہ اپنی باتوں میں سچائی اختیار کرنی چاہیے اور جھوٹ کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ جھوٹ ایک ایسی چیز ہے اگر میرا کوئی عزیز دوست اس کا ارتکاب کرتا رہا ہو تو ناممکن ہے کہ مجھے اس کا علم نہ ہو کیونکہ جھوٹ بولنے والا کسی ایک بات میں جھوٹ نہیں بولتا بلکہ کئی باتوں میں جھوٹ بولتا ہے اور کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں جن سے انسان یہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ اسے جھوٹ کی عادت ہے۔ اگر تمام لوگ یہ عہد کر لیں کہ انہیں جب بھی کسی دوست یا عزیز کا جھوٹ معلوم ہو گا تو وہ اسے فورًا چھوڑ دیں گے اور ہماری جماعت کے تمام دوست اس احساس کو ہمیشہ زندہ رکھیں اور جھوٹ سے ایسی نفرت اختیار کریں کہ انہیں اپنے کسی گہرے دوست کی محبت کی اس کے مقابلہ میں ذرا بھی پروا نہ ہو۔ تو مَیں سمجھتا ہوں کہ آہستہ آہستہ پانچ سات سال کے اندر اندر یہ عیب ہماری جماعت میں سے مٹ سکتا ہے۔ جس طرح ایک کوڑھی کو تندرستوں سے الگ کر دیا جاتا ہے اس طرح جھوٹے شخص کو فورًا الگ کر دینا چاہیے۔ اور اُس وقت تک اُس کا ساتھ نہیں دینا چاہیے جب تک وہ توبہ نہ کرے اور اپنی حالت کی اصلاح نہ کرے۔ دوسرے شخص کو جھوٹ پر دلیری اِسی لئے پیدا ہوتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے میرا دوست میرا ساتھ دے گا۔ لیکن اگر اسے معلوم ہو کہ میں نے جھوٹ بولا تو میرا دوست مجھ سے الگ ہو جائے گا یا وہ مجھے ملامت کرے گا تو وہ یقینا جھوٹ سے بچنے کی کوشش کرے گا۔
    ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست تھے جو شہید ہو چکے ہیں اُن کی شہادت بھی محض احمدیت کی و جہ سے ہوئی تھی۔ ہندوستان کے ایک بڑے آدمی جو اُن کے ہم جماعت اور ہم ملک بھی تھے ان کو گورنمنٹ نے کسی اہم کام کے لئے اپنا نمائندہ بنا کر یورپ بھجوایا۔ چونکہ ان کے ہمارے احمدی دوست کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ اگر تم نے یورپ کی مفت سیر کرنی ہو تو میرے ساتھ چل پڑو۔ میں تمہیں اپنا سیکرٹری بنا لیتا ہوں۔ ہمارے احمدی دوست نے اُن کی بات مان لی اور وہ انہیں اپنا سیکرٹری بنا کر ساتھ لے گئے۔ انگریزوں میں یہ رواج ہے کہ رات کا کھانا کھانے کے بعد وہ بڑی بے تکلفی کے ساتھ دیر تک باتیں کرتے رہتے ہیں اور یوں بھی وہ کھانا کھاتے وقت باتیں زیادہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کھانا اچھا ہضم ہوتا ہے۔ رات کے کھانے کے بعد وہ عموماً ایک دوسرے کو ایسے قصے سناتے ہیں جو عجوبہ روزگار سمجھے جائیں۔ جہاز میں جب دو چار دن گزر گئے اور یہ روز انگریزوں کے قصے سنتے رہے تو اُن کے جو ہندوستانی لیڈر تھے انہیں بھی جوش آگیا اور ایک رات انہوں نے بھی اپنا ایک واقعہ سنانا شروع کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اتفاقاً اس واقعہ کے وقت میں بھی موجود تھا اور میں جانتا تھا کہ وہ ایک معمولی سا واقعہ ہے مگر انہوں نے اسے ایسے رنگ میں بیان کرنا شروع کیا جس میں بہت زیادہ مبالغہ پایا جاتا تھا۔ پہلے تومیں سمجھا کہ شاید یہ کوئی اَور واقعہ بیان کر رہے ہیں مگرجب وہ آدھا سنا چکے تو مجھے یقین آگیا کہ یہ تو وہی واقعہ ہے۔ مگر یہ اسے اَور رنگ میں بیان کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے انہیں کہا کہ صاحب! معلوم ہوتا ہے یہ واقعہ آپ کو بھول گیا ہے اُس وقت میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ یہ واقعہ اِس طرح نہیں ہوا جس طرح آپ ذکر فرما رہے ہیں بلکہ اِس طرح ہوا ہے اور وہ واقعہ بہت معمولی سا تھا۔ مگر ان کی گفتگو کی غرض تو یہ تھی کہ وہ کوئی عجوبہ بیان کریں اور اس کے لئے وہ خوب رنگ آمیزی کے ساتھ بات کر رہے تھے۔ جب ہمارے احمدی دوست نے انہیں ٹوکا اور بتایا کہ واقعہ تو یوں ہوا تھا تو وہ کہنے لگے اوہو! مجھے یاد نہیں رہا تھا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے اور وہ بات کو دبا گئے۔ چار پانچ دن کے بعد پھر انہوں نے کوئی اَور واقعہ اسی طرح مبالغہ کے ساتھ بیان کرنا شروع کیا مگر بدقسمتی سے اُس واقعہ کے وقت بھی ہمارے احمدی دوست موجود تھے اور وہ جانتے تھے کہ یہ ایک معمولی سا واقعہ تھا اس میں کوئی معیوب بات نہ تھی۔ چنانچہ جب وہ واقعہ کے نصف تک پہنچے تو وہ کہتے ہیں میں نے اِس خیال سے کہ معلوم ہوتاہے اصل واقعہ انہیں یاد نہیں رہا انہیں کہا کہ آپ یہ واقعہ بھول گئے ہیں۔ میں بھی اُس وقت آپ کے ساتھ تھا اور میں جانتا ہوں کہ یہ واقعہ اِس طرح نہیں ہوا جس طرح آپ بیان کر رہے ہیں بلکہ اِس اِس طرح ہوا ہے۔ اِس پر وہ پھر کہنے لگے ہاں ہاں مجھے یاد آگیا۔ دراصل یہ میری غلطی ہے مجھے اصل واقعہ یاد نہیں رہا تھا۔ اس طرح وہ بات کو پھر دبا گئے۔ لیکن جب ہم کھانے کے کمرہ سے باہر نکل کر واپس جا رہے تھے تو راستہ میں انہوں نے میری گردن پکڑلی اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگے ارے فلانے! کیا جھوٹ بولنا تیرا اور تیرے باپ کا حق ہے میرا حق نہیں۔ میں نے کہا معاف کیجئے میں سمجھتا تھا کہ آپ بُھول گئے ہیں۔ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں تو میں آپ کو کبھی نہ روکتا۔ اب وہ بے چارہ تو جھوٹ بول کر مجلس کو خوش کرنا چاہتا تھا مگر ہمارے احمدی دوست نے اس کا لطیفہ ہی خراب کر دیا اور جو حقیقت تھی وہ واضح کر دی۔ تو جھوٹ اپنے دوست سے چُھپ نہیں سکتا۔ اگر دوسرے کے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کی بجائے اُس کو ظاہر کیا جائے اور جھوٹ بولنے والے کے خلاف نفرت اور حقارت کا اظہار کیا جائے تو اس نقص کی خودبخود اصلاح ہوجائے مگر افسوس ہے کہ جھوٹ کی بُرائی کو سمجھا نہیں جاتا۔ اور بعض دفعہ پارٹی بازی کے شوق میں ایسے لوگوں کو پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بنا دیا جاتا ہے جو سچائی کے پورے پابند نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ماتحتوں میں بھی جھوٹ بولنے کی عادت آجاتی ہے۔
    لارڈ کرزن نے اپنے زمانہ میں ایک دفعہ کہیں تقریر کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ہندوستانی بڑا جھوٹا ہوتا ہے۔ اب یہ بات واقع میں درست تھی۔ عدالت میں ایک انگریز بھی جاتا ہے اور ہندوستانی بھی اور دونوں اپنے مقصد کے حصول کے لئے جھوٹ بولتے ہیں مگر ہندوستانی جھوٹ بولے گا تو پیٹ بھر کر بولے گا اور انگریز بولے گا تو نہایت بچ بچ کر بولے گا۔ بہرحال جب لارڈ کرزن نے یہ بات کہی تو ہندوستانیوں کو طبعاً بہت بُری لگی۔ چنانچہ اُس وقت ایک شاعر نے اس پر ایک رباعی کہی جس کا آخری مصرعہ یہ تھا کہ ع
    جھوٹے ہیں ہم تو آپ ہیں جھوٹوں کے بادشاہ
    جھوٹوں کے بادشاہ کے یہ معنی بھی ہو سکتے تھے کہ آپ بڑے جھوٹے ہیں اور یہ بھی ہو سکتے تھے کہ اگر ہم جھوٹے ہیں تو آپ پھر جھوٹوں کے بادشاہ ہوئے۔ اسی طرح جب کسی ایسے شخص کو صدر اور سیکرٹری بنا دیا جائے جو خود جھوٹ بولنے والا ہو تو وہ کسی دوسرے کا جھوٹ کیوں پکڑے گا۔ بلکہ وہ کسی دوسرے کو جھوٹ بولنے پر پکڑ بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ اگر میں نے کسی کو پکڑا تو وہ میرے جھوٹوں کو ظاہر کر دے گا۔ یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جس کی ہماری جماعت کو اصلاح کرنی چاہیے اور جماعت کا ادنیٰ سے ادنیٰ عہدہ اور کام بھی کسی ایسے شخص کے سپرد کبھی نہیں کرنا چاہیے جو غلط بیانی کا ارتکاب کرتا ہو۔ ہمارے پاس جھگڑے آتے ہیں تو بعض دفعہ دونوں فریق کے بیانات میں اتنا تضاد ہوتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غیراحمدیوں کے مقابلہ میں ہماری جماعت میں بہت زیادہ سچ پایا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی غیراحمدی کسی کھیت میں کھڑا ہو اور اس کے سامنے کسی شخص نے دوسرے کو قتل کر دیا ہو تو ہو سکتا ہے کہ عدالت میں آکر وہ کہہ دے کہ میں تو اس کھیت میں گیا ہی نہیں تھا اور اس طرح جھوٹ بول جائے۔ مگر اتنا کھلا اور واضح جھوٹ میں نے کسی احمدی کو آج تک بولتے نہیں دیکھا۔ وہ سچ کے ماحول میں جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے مثلاً کسی نے اُس کو تھپڑ مارے ہوں تو یہ کہہ دے گا کہ اس نے مار مار کر بھرکس نکال دیا۔ اس سے ہم اتنا سمجھ جاتے ہیں کہ اس نے مارا ضرور ہے اگر بھرکس نہیں نکالا تو ایک دو تھپڑ ضرور مارے ہوں گے۔ یا مثلاً کسی شخص نے دوسرے کو روپیہ دیا ہے اور وہ واپس نہیں کرتا ۔اب اگر غیراحمدی اس میں ایک فریق ہو تو وہ کہہ دے گا کہ مجھے کسی نے کوئی روپیہ دیا ہی نہیں اور اس طرح روپیہ لینے سے کُلّی طور پر انکار کر جائے گا لیکن ایک احمدی جھوٹ بولنے والا ایسا نہیں کرے گا۔ ان کا آپس میں یہ جھگڑا ہو گا کہ ایک کہے گا میں نے اسے بیس روپے واپس کئے تھے اور دوسرا کہے گا اس نے بیس روپے واپس نہیں کئے بلکہ پانچ روپے واپس کئے ہیں۔ یا سمجھوتہ کوئی اَور ہوا تھا مگر عمل کسی اَور طرح ہوا ہے۔ بہرحال ایک احمدی جھوٹے کے بیانات میں واقعہ کا بیج ضرور نظر آجائے گا۔وہ درخت کو ٹہنیاں بتانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ پتے بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ پتوں کی دھاریاں بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ بیج کو نہیں چھپاتا۔ اس کے مقابلہ میں ایک غیر احمدی جھوٹ بولنے والے کے بیان میں واقعہ کا بیج بھی نظر نہیں آتا۔ یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جو ہماری جماعت کے افراد اور دوسرے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ مگر احمدیت تو خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے۔ اس میں جھوٹ کی ایک شاخ اور ایک پتّا بنانا بھی ناجائز ہے بلکہ پتّا تو الگ رہا وہ باریک باریک تاریں اور دھاریاں جو پتوں میں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک تار یا ایک دھاری بنانا بھی جائز نہیں ا ور مومن کا فرض ہے کہ خواہ جان چلی جائے وہ جھوٹ کے قریب نہ جائے۔
    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک شخص کہیں باہر سے مدینہ آیا اور لڑائی میں اُس سے ایک آدمی مارا گیا۔ مقدمہ عدالت میں گیا اور اس نے اقرار کیا کہ بات ٹھیک ہے واقع میں مجھ سے قتل ہوا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ قتل کے بدلہ میں اُسے قتل کیا جائے۔ چونکہ وہ باہر کا آدمی تھا اور مدینہ اپنے کسی کام کے سلسلہ میں آیا ہوا تھا کہ فساد ہو گیا اور اس سے ایک شخص مارا گیا اس لئے جب اُس کے قتل کا فیصلہ ہوا تو اُس نے کہا میری ایک عرض ہے اور وہ یہ کہ میری قوم مجھ پر بڑا اعتبار کرتی ہے۔ میںیہاں تجارت کے لئے آیا تھا اور مجھے پتہ نہیں تھا کہ مجھ سے یہ واقعہ سر زد ہو جائے گا۔ میرے پاس اپنی قوم کے یتامیٰ اور بیوگان کی بہت سی امانتیں پڑی ہوئی ہیں اور وہ میں نے زمین میں دبا رکھی ہیں۔ اگر میں یہیں رہا تو وہ امانتیں ضائع ہو جائیں گی اور یتامیٰ اور بیوگان کو سخت نقصان پہنچے گا۔ میری درخواست یہ ہے کہ آپ مجھے اتنی اجازت دے دیں کہ میں واپس جا کر امانتیں ان کے مالکوں کے سپرد کر سکوں۔ اس کے بعد میں اپنی سزا کے لئے یہاں حاضر ہو جاؤں گا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اُس سے پوچھا کہ تمہاری ضمانت کون دے گا؟ تم بدوی آدمی ہو ہمیں کیا پتہ کہ تم واپس بھی آؤ گے یا نہیں؟ جب تک تم ضمانت نہ دو تمہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس نے کہا میں تو مسافر ہوں اور میری یہاں کوئی واقفیت نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ضامن تو بہرحال دینا پڑے گا اس کے بغیر تمہاری واپسی کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا اور ایک صحابیؓ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ میرے ضامن ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس صحابیؓ سے پوچھا کہ کیا آپ ضمانت دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں میں اس کا ضامن ہوں۔ آپ نے اسے چھٹی دے دی اور وہ چلا گیا۔ جب وہ آخری دن آیا جس میں اُسے واپس پہنچ جانا چاہئے تھا تو تمام لوگ اُس کا انتظار کرنے لگے۔ مدعی جن کا رشتہ دار مارا گیا تھا وہ بھی موجود تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ ؓ بھی موجود تھے اور سب اس کا انتظار کر رہے تھے۔ مگر وقت گزرتا گیا اور اس کا کہیں پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ انتظار کرتے کرتے عصر کا وقت آگیا۔ لوگ گھبرائے اور انہوں نے اُس صحابی سے پوچھا کہ کیا آپ کو کچھ پتہ ہے کہ وہ کون تھا جس کی آپ نے ضمانت دی ہے؟ انہوں نے کہا میں تو اسے نہیں جانتا۔ وہ کہنے لگے یہ عجیب بات ہے اگر آپ اسے جانتے نہیں تھے تو آپ نے اس کی ضمانت کیوں دی تھی؟ انہوں نے کہا میں اسے جانتا تو نہیں مگر میں نے ضمانت اس لئے دی کہ اس نے سارے آدمیوں کو دیکھ کر صرف میری طرف ہی اشارہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ میرے ضامن ہیں۔ جس شخص نے مجھ پر اتنی حُسنِ ظنی کی میں اُس کی اس حُسن ظنی کو کس طرح ضائع کر سکتا تھا۔ جب اس نے تمام لوگوں پر نظر ڈال کر صرف میرا ہی انتخاب کیا اور میرے متعلق اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ میں اس کی ضمانت دے دوں گا تو میں یہ بے حیائی کس طرح کر سکتا تھا کہ اس کی ضمانت نہ دیتا۔ اب صحابہؓ کو اَور فکر ہوا کہ اگر وہ نہ آیا تو یہ مخلص صحابیؓ اس کے بدلہ میں مارے جائیں گے۔ اِسی فکر میں اور پریشانی کی حالت میں سب لوگ کھڑے تھے کہ جب دھوپ کا رنگ زرد ہو گیا اور سورج غروب ہونے کا وقت آیا تو لوگوں نے دیکھا کہ دور سے غبار اُڑتا نظر آرہا ہے۔ سب کی نظریں اس کی طرف جم گئیں اور انتظار کرنے لگے کہ دیکھیں یہ آنے والا کون شخص ہے۔ جب وہ قریب پہنچا تو وہ وہی شخص تھا جس کے قتل کا فیصلہ ہوا تھا۔ وہ اس تیزی کے ساتھ اپنی سواری کو دوڑاتا ہوا پہنچا کہ جب عین اُس مقام پر آیا جہاں اُس کا انتظار کیا جا رہا تھا تو اس کا گھوڑا دوڑانے کی شدت کی وجہ سے زمین پر گر گیا۔ اب لوگوں کو اَور زیادہ حیرت ہوئی کہ یہ عجیب انسان ہے اس کا کسی کو علم ہی نہیں تھا کہ کہاں کا رہنے والا ہے مگر پھر بھی اپنے قتل کے لئے حاضر ہو گیا حالانکہ اگر وہ نہ آتا تب بھی کوئی اسے گرفتار نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ کسی نے اس سے کہا کہ تیرا تو کسی کو پتہ نہیں تھا کہ تُو کہاں کا رہنے والا ہے؟ کیا تیرے دل میں یہ خیال نہ آیا کہ میں اِس وقت نہ جاؤں اور قتل سے محفوظ رہوں؟ اُس نے کہا کیا میں ایسا بے ایمان ہو سکتا تھا کہ اپنے ضامن کو مروا دیتا اور خود بچ جاتا۔میں نے ایک اجنبی شخص کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ میرا ضامن ہو گا۔ اس پر اس نے بغیر اس کے کہ وہ مجھے جانتا میری ضمانت دے دی حالانکہ وہ خوب سمجھتا تھا کہ اگر میں وقت پر نہ آیا تو میری جگہ اسے پھانسی دے دی جائے گی۔ جب اس نے مجھ پر یہ احسان کیا تو میں ایسا کمینہ نہیں ہو سکتا تھا کہ اپنی جان بچا لیتا اور اس کو قتل کروا دیتا ۔ پھر اس نے کہا مجھے یہاں آنے میں اس لئے دیر ہو گئی کہ امانتیں نکالنے اور ان کے واپس کرنے میں زیادہ وقت صَرف ہو گیا۔ مگر جونہی میں اس کام سے فارغ ہوا میں نے اپنی سواری لی اور اُسے اِس تیزی کے ساتھ دوڑاتے ہوئے یہاں پہنچا ۔اب میں موجود ہوں جو فیصلہ ہے اس کی تعمیل کی جائے۔ ان دونوں واقعات کا یعنی اس صحابیؓ کا ضمانت پیش کرنا اور قاتل کا عین وقت پر حاضر ہو جانا ان لوگوں پر جن کا آدمی مارا گیا تھا اتنا گہرا اثر ہوا کہ انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم اس کا خون معاف کرتے ہیں۔ اور اسلام میں یہ جائز ہے کہ مقتول کے ورثاء اگر چاہیں تو قاتل کو معاف کر دیں۔ اس صورت میں اسے قتل کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ بہرحال اس بات کو دیکھ کر اگر یہ شخص نہ آتا تو ایک صحابی مارا جاتا اور اگر قتل کرنے والا شخص خود نہ آتا تو اس کو کوئی گرفتار نہ کر سکتا۔ مقتول کے رشتہ داروں پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے شخص کو مروانا دنیا کا نقصان سمجھتے ہیں ہم اپنا خون اسے معاف کرتے ہیں۔ تو دیکھو سچائی طبائع پر کتنا گہرا اثر کرتی ہے اور کس طرح وہ غیر معمولی نتائج پیدا کر دیا کرتی ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے آپ نے اپنا ایک مضمون اشاعت کے لئے پریس میں بھجوایا اور مسودہ کے ساتھ ہی ایک خط بھی لکھ دیا کہ اس مضمون کو اس اس طرح چھاپا جائے۔ اُس زمانہ میں کسی پیکٹ کے اندر خط بھجوانا ڈاکخانہ کے قواعد کے مطابق جُرم سمجھا جاتا تھا اور لکھنے والے کو قید کی سزا بھی ملا کرتی تھی۔ وہ مضمون جس شخص کو بھجوایا گیا تھا وہ عیسائی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عِناد رکھتا تھا۔جب اُسے مضمون پہنچا اور مضمون کے اندر ہی اُس نے خط لکھا ہوا دیکھا تو اُس نے گورنمنٹ کو رپورٹ کی کہ اس اس طرح مجھے پارسل میں خط موصول ہوا ہے اور یہ قواعد کے مطابق جُرم ہے۔ گورنمنٹ نے بھی اِس کو اتنی اہمیت دی کہ اس نے ایک انگریز بیرسٹر اپنی طرف سے پیروی کرنے کے لئے بھجوایا اور اس نے بڑے زور کے ساتھ یہ معاملہ پیش کیا کہ ایسے شخص کو ضرور سزا ملنی چاہیے تاکہ باقی لوگ بھی ڈر کر اس قسم کا جُرم کرنا چھوڑ دیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جو وکیل تھے انہوں نے آپ سے کہا کہ یہ تو بات ہی کچھ نہیں اس عیسائی نے خود آپ کے پارسل کو کھولا ہے آپ کہہ دیں کہ میں نے پارسل میں کوئی خط نہیں ڈالا بلکہ علیحدہ خط لکھا تھا جسے اس نے پارسل میں سے نکلا ہوا ظاہر کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں نے خط ڈالا تھا۔ اس نے کہا یہ سوال ہی نہیں کہ آپ نے خط ڈالا تھا یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اس قسم کے بیان سے آپ پھنستے ہیں۔ لیکن اگر آپ کہہ دیں کہ میں نے خط نہیں ڈالا تو اُس کے پاس اِس بات کو ثابت کرنے کی کوئی دلیل نہیں کہ اُس نے یہ خط پارسل میں سے نکالا ہے۔ اس لئے لازماً عدالت کو آپ کے حق میں فیصلہ کرنا پڑے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ تو نہیں ہو سکتا۔ جب میں نے خود پارسل میں خط ڈالا ہے تو میں یہ کیسے کہہ دوں کہ میں نے خط نہیں ڈالا۔ چنانچہ آپ نے یہی بیان دیا کہ ہاں میں نے پارسل کے ساتھ ہی خط لکھ کر ڈال دیا تھا کیونکہ یہ خط اسی مضمون کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔ سچائی آخر سچائی ہوتی ہے اور وہ اپنی ذات میں ایسی طاقت رکھتی ہے کہ دوسرے کا دل کانپ جاتا ہے۔ باوجود اِس کے کہ سرکاری وکیل انگریز تھا، مقدمہ بھی ایک انگریز کے پاس تھا اور مقدمہ کرنے والی گورنمنٹ تھی۔ جب انگریز وکیل پندرہ بیس منٹ بڑے جوش سے تقریر کر لیتا کہ ملزم کو عبرتناک سزا دینی چاہیے تو مجسٹریٹ اپنا سر ہلا کر کہہ دیتا کہ نہیں نہیں۔ وہ پھر تقریر کرتا اور مجسٹریٹ پھر اپنا سر ہلا کر کہہ دیتا کہ نہیں نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام انگریزی تو نہیں جانتے تھے لیکن آپ فرماتے تھے کہ جب وہ نو نو (No. No )کہتا تو میں سمجھ جاتا کہ وہ وکیل کی تردید کر رہا ہے۔ آخر اس نے آپ کو بَری کر دیا اور اپنے فیصلہ میں لکھا کہ یہ شخص اگر انکار کر دیتا اور کہہ دیتا کہ میں نے پارسل میں خط نہیں ڈالا تو میں اسے سزا نہیں دے سکتا تھا۔ مگر باوجود اِس کے کہ انکار کرنا اس کے لئے آسان تھا پھر بھی اس نے سچ بولا اور بہادری کے ساتھ کہہ دیا کہ میں نے واقع میں پارسل میں خط لکھ کر ڈالا ہے۔ جو شخص اِتنی دلیری کے ساتھ سچ بولنے والا ہو میں اُسے سزا نہیں دے سکتا۔
    تو سچائی اپنے اندر ایک بڑا رُعب رکھتی ہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ سچائی کی اہمیت کو سمجھے اور کسی موقع پر بھی اس سے انحراف اختیار نہ کرے۔ اگر آپ لوگ سچائی پر مضبوطی سے قائم ہوجائیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ ہزاروں ہزار آدمی جو ملانوں کے بہکانے کی وجہ سے آج ہماری جماعت کی مخالفت کر رہے ہیں وہ آخر آپ کی گواہیوں پر ہی اعتبار کریں گے اور آپ کی عظمت کا اقرارکریں گے اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے بھی نئے سے نئے رستے کھل جائیں گے۔ (انشاء اللہ) ‘‘ (الفضل مورخہ 5؍ستمبر1950ئ)
    1: شملہ: کندھے پر ڈالنے یا سر سے باندھنے کی شال(فیروز اللغات اردو جامع)

















































































































































    21
    اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد
    خدا کا نام ضرور لیا کرے
    (فرمودہ یکم ستمبر 1950ء بمقام حیدر آباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’چونکہ مجھے کھانسی کی سخت تکلیف ہے اس لئے میں خطبہ بھی مختصر کروں گا اور چونکہ میں سفر پر ہوں اور نمازیوں کی اکثریت بھی مسافر ہے اس لئے میں نماز بھی جمع کر کے پڑھاؤں گا۔ پہلے جمعہ کی نماز ہو گی اور پھر اس کے بعد عصر کی نماز۔ عصر کی نماز ہم قصر کریں گے لیکن جو مقامی لوگ ہیں اُن کو چاہیے کہ جب میں عصر کی نماز کا سلام پھیروں تو وہ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعتیں پوری کر لیں کیونکہ ان پر چار رکعت فرض ہیں اور ہم پر دو رکعت فرض ہیں۔ اور چونکہ میں نے آج اختصار کے ساتھ خطبہ پڑھنا ہے اور قصر نماز کا ذکر آگیا ہے اس لئے میں خطبہ میں اس مسئلہ کو لے لیتا ہوں۔
    ہمارے ہاں سفر کی نمازوں کے متعلق قصر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ درحقیقت ایک غلط محاورہ ہے جو استعمال ہو رہا ہے۔ قصر کے معنی چھوٹا کرنے کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سفر میں نماز قصر نہیں ہوتی بلکہ حضر میں جب انسان اپنے گھر پر موجود ہو نماز زیادہ پڑھی جاتی ہے۔ احادیث اور تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے دو ہی رکعت نماز ہوتی تھی بعد میں دو کی بجائے چار رکعتیں کر دی گئیں۔1 یعنی ظہر، عصر اور عشاء کی نمازوں میں دو دو رکعتیں بڑھا دی گئیں۔ صبح کی نماز اُسی طرح رہی۔ اِسی طرح مغرب کی نماز بھی اُسی طرح رہی۔ پس قصر کا سوال درحقیقت سفر کے ساتھ پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ جتنی نماز پہلے پڑھی جاتی تھی سفر میں اتنی ہی پڑھی جاتی ہے۔ لیکن جو لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقیم ہوں اُن کو دُگنی پڑھنی پڑتی ہے۔
    قرآن کریم میں جو قصر کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ سفر کی نمازوں کے متعلق نہیں لیکن مسلمانوں نے اپنی غلطی سے اسے سفر کی نمازوں کے متعلق سمجھ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں قصر کے معاملہ میں غلط فہمی ہوئی اور وہ غلط راستہ پر جا پڑے۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اگرتمہیں خوف ہو تو تم نمازوں کو قصر کر سکتے ہو2 اس سے مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر امن ہو تو پھر مسافر کے لئے قصر کرنا جائز نہیں حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ سفر میں اُتنی ہی نماز پڑھی جاتی ہے جتنی پہلے پڑھی جاتی تھی۔ البتہ حضر میں دُگنی کر دی گئی ہے۔ یہ نہیں کہ پہلے چار چار رکعتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر سفر میں دو دو کر دی گئیں بلکہ پہلے دو رکعت نماز ہی ہوا کرتی تھی۔ پھر سفر میں تو دو رکعتیں ہی رہ گئیں اور حضر میں چار کر دی گئیں۔ باقی قرآن کریم میں جس قصر کا ذکر آتا ہے وہ اَور ہے اور اُس کا سفر کی نمازوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ نماز کے متعلق ہماری شریعت نے یہ ہدایت دی ہے کہ اسے آہستہ آہستہ، اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کیا جائے۔
    احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میںتشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے جلدی جلدی نماز پڑھی اور سلام پھیر دیا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے شخص! تیری نماز نہیں ہوئی تُو پھر نماز پڑھ ۔ اِس پر اُس نے دوبارہ نماز پڑھی ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اے شخص !تیری نماز نہیں ہوئی تُو پھر نماز پڑھ۔ اُس نے پھر نماز پڑھی۔ مگر جب وہ تیسری مرتبہ فارغ ہو اتو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے شخص! تیری نماز نہیں ہوئی تُو پھر نماز پڑھ اِس پر اُس نے کہا یا رسول اللہ! مجھے تو ایسی ہی نماز پڑھنی آتی ہے اگر نماز پڑھنے کا کوئی اَور طریق ہو توآپ بتا دیں تا کہ میں اُس طرح نماز پڑھوں۔ آپ نے فرمایا جب تم نماز پڑھو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جلدی جلدی نماز پڑھنا جائز نہیں۔3 اَللّٰہُ اَکْبَرُکہہ کر کھڑے ہو تو اطمینان کے ساتھ کھڑے ہو اور ٹھہر ٹھہر کر سورہ فاتحہ وغیرہ پڑھو۔ رکوع میں جاؤ تو تمہاری پیٹھ سیدھی ہو اور آہستہ آہستہ تسبیح کرو۔ رکوع کے بعد کھڑے ہو تو آرام سے کھڑے ہو اور کلماتِ مسنونہ دُہراؤ۔ سجدہ میں جاؤ تو ٹھہر ٹھہر کر سُبْحَانَ رَبِّیَ اْلاَعْلٰی کہو۔ یہ نہیں کہ اِدھر نماز شروع کی اور اُدھر فورًا رکوع میں چلے گئے۔ پھر جلدی سے سر اٹھایا اور سجدے میں گر گئے۔ ایک دو دفعہ سجدہ میں سر مارا تو پھر جلدی سے دوسری رکعت شروع کر دی۔ یہ نماز نہیں بلکہ نماز کے ساتھ تمسخر ہے۔ تو نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اور آہستگی سے ادا کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ لیکن قرآن کریم بتاتا ہے کہ جب خوف ہو تو پھر تمہارے لئے نماز کو قصر کر لینا جائز ہے۔ یعنی اسے چھوٹا کرنے اورجلدی جلدی ادا کر لینے کی ہماری طرف سے اجازت ہے۔ یوں عام حالات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔ مگر جب لڑائی ہو رہی ہو تو اُس وقت قصر کر لینا جائز ہے۔ یعنی اُس وقت اگر انسان جلدی جلدی نماز پڑھ لے تو اس کا یہ فعل اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز ہوگا۔
    حقیقت یہ ہے کہ جب دشمن مسلمانوں پر حملہ آور ہو اور وہ ان کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہو تو چونکہ کسی اسلامی ملک پر دشمن کا قبضہ کر لینا ایک بڑی آفت ہے اور نماز کو جلدی جلدی پڑھ لینا یا نماز کو مختصر کرلینا ایک چھوٹی آفت ہے اس لئے شریعت یہ کہتی ہے کہ تم بڑی آفت کو نہ آنے دو اور چھوٹی آفت کو برداشت کر لو۔ پھر آگے اس قصر کی اسلام نے کئی قسمیں بتائی ہیں۔ ایک قسم ایسی ہے جس میں صرف ایک رکعت نماز ہی پڑھی جاتی ہے دو رکعتیں نہیں پڑھی جاتیں۔ اور ایک قسم ایسی ہے جس میں ایک ایک رکعت جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اور ایک ایک رکعت انفرادی طور پر ادا کی جاتی ہے۔ پہلے آدھی فوج امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھتی ہے پھر وہ چلی جاتی ہے اور دوسری فوج اس کی جگہ آکر ایک رکعت پڑھتی ہے اور باقی ایک ایک رکعت سپاہی اپنے اپنے طور پر ادا کر لیتے ہیں۔ اس قصر کے ساتھ خوف کا ہونا ایک لازمی شرط ہے۔ اگر خوف نہ ہو تو قصر کرنا جائز نہیں۔ مثلاً اسلامی لشکر میدانِ جنگ میں ڈیرے ڈالے پڑا ہو لیکن فرض کرو لڑائی نہیں ہو رہی تو اُس وقت جلدی جلدی نماز پڑھنے اور نماز کو قصر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی بلکہ اُس وقت وہی قاعدہ جاری ہو گا جو عام حالات میں جاری ہے۔ یعنی سفر کی حالت ہو تو اُس وقت دو رکعت نماز پڑھی جائے گی اور حضر کی حالت ہو تو چار رکعت نماز پڑھی جائے گی۔ لیکن جب خوف کی حالت ہو تو اُس وقت قصر کر لینا جائز ہے۔ مثلاً اسلامی فوج کا ایک سپاہی دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لئے گیا تھا کہ اُس کا دشمن کو علم ہو گیا۔ وہ گھوڑے کو دوڑاتا ہوا واپس آرہا ہے اور پچاس ساٹھ سپاہی اُس کے تعاقب میں ہیں کہ راستہ میں نماز کا وقت آگیا۔ اب اگر وہ ٹھہر جاتا ہے یا گھوڑے سے اُتر کر نماز پڑھنے لگ جاتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ پکڑا جائے گا اور اسلامی لشکر اُن معلومات سے محروم ہو جائے گا جن کے مہیا کرنے کے لئے اُسے بھجوایا گیا تھا۔ پس چونکہ اس کا اپنی جان بچا کر اسلامی لشکر میں پہنچنا ضروری ہے اس لئے اسے اجازت ہو گی کہ گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے نماز پڑھتا چلا جائے۔ جس طرح بیمار آدمی لیٹے لیٹے نماز پڑھ لیتا ہے یا بعض دفعہ اشاروں میں ہی نماز پڑھ لیتا ہے اس طرح اسے بھی اجازت ہو گی کہ جس طرح چاہے نماز پڑھ لے۔ مثلاً گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے نماز کے کلمات دہراتا جائے، رکوع کا وقت آئے تو ذرا سا سر جھکا لے اور ایک دو دفعہ جلدی جلدی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہہ دے اور ذرا اَور سر جھکا دے تو اسے سجدہ سمجھ لے۔ اس طرح جلدی جلدی نماز پڑھ کر فارغ ہو جائے۔ یہ بھی قصر ہے جس کو ہماری شریعت نے خوف کی حالت میں جائز قرار دیا ہے۔ لیکن اگر وہ گھر میں اس طرح نماز پڑھے گا تو اس کی نماز نہیں ہو گی۔ وہاں تو ذرا سا بھی سر جھکا لے تو رکوع ہو جائے گا ذرا اَور سر جھکا لے تو سجدہ ہو جائے گا۔ لیکن مسجد میں آکر اگر کوئی شخص اِس طرح نماز پڑھے گا تو ہم اسے کہیں گے کہ تیری نماز نہیں ہوئی۔
    پس جس قصر کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے اُس کاتعلق صرف اُن نمازوں کے ساتھ ہے جو خوف کی حالتوں میں ادا کی جاتی ہیں۔ مثلاً لڑائی ہو رہی ہے کفار تعاقب میں ہیں اور نماز کا وقت آگیا ہے تو اُس وقت نماز کو چھوٹے سے چھوٹا کرنا جائز ہو گا۔ اور پھر یہ بھی جائز ہو گا کہ جس حالت میں انسان ہو اُسی حالت میں نماز پڑھ لے۔ مثلاً اگر ایک شخص گھوڑے پر سوار ہے تو باوجود اِس کے کہ اُس کی ایک ٹانگ ایک طرف ہو گی اور دوسری ٹانگ دوسری طرف پھر بھی اُس کی نماز ہو جائے گی اور اُس کا منہ قبلہ کی طرف نہیں ہو گا تو پھر بھی نماز ہو جائے گی۔ ہاں اگر موقع مل سکے تو نماز شروع کرتے ہوئے قبلہ کی طرف منہ کر لیا جائے پھر خواہ کسی طرف منہ ہو جائے۔ لیکن اگر گھر میں بغیر بیماری کے آرام کرسی پر بیٹھ کر کوئی شخص اپنی ایک ٹانگ کرسی کے ایک بازو پر رکھ لے اور دوسری ٹانگ کرسی کے دوسرے بازو پر اور پھر نماز پڑھنا شروع کر دے تو اُس کی نماز نہیں ہوگی۔ یا مسجد میں وہ امام کے ساتھ صرف ایک رکعت نماز پڑھ کر آجائے اور ایک رکعت گھر میں پڑھ لے تو اس کی نماز نہیں ہو گی۔
    غرض قرآن کریم نے جس نماز کے متعلق یہ کہا ہے کہ تم قصر کر لو وہ سفر کی نماز نہیں بلکہ نمازِ خوف ہے۔ اور جو سفر کی نماز ہے وہ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسرے صحابہؓ کی روایات سے ثابت ہے وہ اُتنی ہی ہے جتنی کہ پہلے نماز فرض ہوئی تھی۔ ہاں ایک عرصہ کے بعد حضر میں اسے دگنا کر دیا گیا۔ پس سفرکی نماز جس کے متعلق ہم قصرکا لفظ استعمال کرتے ہیں یہ درحقیقت قصر ہے ہی نہیں یہ ایک غلط محاورہ ہے جو لوگوں میں رائج ہو گیا ہے اور ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں ع
    برعکس نہند نام زنگی کافور
    یعنی حبشی کا نام کسی نے کافور رکھ دیا تھا حالانکہ کافور سفید رنگ کا ہوتا ہے اور حبشی کالے رنگ کا ہوتا ہے۔
    بہرحال یہ ایک غلط نام پڑ گیا ہے ورنہحقیقتاً جو قرآن کریم سے قصر ثابت ہے وہ یہی ہے کہ خوف کے وقت نماز کو اپنی مقررہ شکل سے بدل کر پڑھناجائز ہے۔ چاہے انسان گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے پڑھ لے، چاہے اشارے سے پڑھ لے، چاہے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور ایک رکعت اکیلے پڑھ لے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دشمن کے سامنے بندوق تانے کھڑا ہو اور نماز کا وقت آجائے تو ایسی صورت میں اُس کے لئے جائز ہو گا کہ وہ بندوق بھی سنبھالے رکھے ،دشمن پر فائر بھی کرتا جائے اور نماز کی عبارتیں بھی دُہراتا جائے۔
    پس نمازِ قصر خوف کے وقت ہوتی ہے اس کا کسی سفر سے تعلق نہیں۔ بلکہ یہ نمازِ قصر خوف کی حالت میں شہروں میں رہتے ہوئے بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ مثلاً فرض کرو ایک ملک کی دوسرے ملک سے لڑائی ہو جاتی ہے تو اُس وقت سرحدی شہروں یا دیہات میں رہنے والے جو لوگ ہوں گے اُن کے لئے جائز ہو گا کہ اگر زور کا حملہ ہو تو وہ کھڑے کھڑے نماز کی عبارتیں بھی دہراتے چلے جائیں اور ساتھ ہی دشمن پر گولیاں بھی برساتے جائیں۔ یا امام موجود ہو تو ایک ایک رکعت اُس کے پیچھے پڑھ لیں۔ اِس صورت میں امام کی تو دو رکعتیں ہوں گی اور اُن کی ایک رکعت ہو گی۔ یہ قصر ہے جو خوف کی حالت میں جائزہے۔ باوجود اِس کے کہ وہ سفر پر نہیں ہوں گے پھر بھی ان کے لئے جائز ہو گا کہ وہ اپنی نماز کو چھوٹا کر لیں کیونکہ وہ خوف کی نماز ہے اور خوف کے وقت جائز ہوتاہے کہ انسان اپنے حالات کے مطابق چاہے تو کھڑے کھڑے نماز پڑھ لے، چاہے تو دوڑتے دوڑتے نماز پڑھ لے، چاہے تو اشاروں سے پڑھ لے۔ یا اسے موقع ملے تو ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ لے اور ایک رکعت الگ ادا کر لے۔ یہ سب صورتیں جائز ہیں اور شریعت نے خوف کی حالت میں ان کو جائز رکھا ہے۔
    اصل بات یہ ہے کہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کا نام ضرور لے لیا کرے کیونکہ اس طرح اُس کی محبت دل میں تازہ ہو جاتی ہے۔ جو شخص اپنے محبوب کو بھول جاتا ہے اور اس کی یاد اپنے دل میں تازہ نہیں رکھتا وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مجھے اپنے محبوب سے محبت ہے۔ سچی محبت ہمیشہ اپنے ساتھ بعض ظاہری علامات بھی رکھتی ہے اورمحبت کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ انسان اٹھتے بیٹھتے اپنے محبوب کا ذکر کرتا ہے اور اس کی یاد اپنے دل میںتازہ رکھتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو یاد کر لیتا ہے تو اُس کی محبت دل میں تازہ ہو جاتی ہے اور اُس کی صورت آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ اِسی لئے کہتے ہیں اَلْمَکْتُوْبُ نِصْفُ الْمُلَاقَاتِ یعنی جب انسان اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کو خط لکھتا ہے تو گویا وہ اس سے نصف ملاقات کر لیتا ہے جب وہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ لکھتا ہے اور پھر اپنے حالات بتاتا ہے اور اس کے حالات دریافت کرتا ہے تو ایک رنگ میں وہ ایک دوسرے کے سامنے ہو جاتے ہیں اور ان کی محبت تازہ ہو جاتی ہے۔ گویا جس طرح ملاقات سے آپس کے تعلقات بڑھتے ہیں اسی طرح خط لکھنے سے بھی آپس کے تعلقات بڑھتے ہیں اور خط لکھنا ملاقات کا قائم مقام ہو جاتا ہے۔ نماز بھی خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ایک ذریعہ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم نماز پڑھو تو اس طرح پڑھو کَاَنَّکَ تَرَاہُ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو۔ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ۔ لیکن اگر تم کو اتنی روحانیت حاصل نہیں کہ تم یہ سمجھو کہ ہم خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں تو کم از کم تم میں اتنا احساس تو ضرور ہونا چاہیے کہ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ خدا تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔4
    غرض نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا وجود انسان کے سامنے آجاتا ہے، اُس کی محبت تازہ ہو جاتی ہے اور اُس کا قرب انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اور چونکہ نماز خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ایک ذریعہ ہے اس لئے اسلام نے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ انسان تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کا نام لے اور نماز کے لئے کھڑا ہو جائے۔ خواہ جنگ ہو رہی ہو، دشمن گولیاں برسا رہا ہو، پانی کی طرح خون بہہ رہا ہو، پھر بھی اسلام یہ فرض قرار دیتا ہے کہ جب نماز کا وقت آجائے تو اگر ممکن ہو مومن اُسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور جُھک جائے۔ (نہایت خطرناک حملہ کی صورت میں وہ نمازیں جو جمع نہیں کی جا سکتیں اُن کو بھی جمع کرنے کا حکم ہے۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار نمازیں جمع کی ہیں5) بیشک جنگ کی وجہ سے نماز کی ظاہری شکل بدل جائے گی لیکن یہ جائز نہیں ہو گا کہ نماز میں ناغہ کیا جائے۔ مگر آجکل مسلمانوں میں جہاں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں وہاں ان میں ایک یہ نقص بھی پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ریل میں آرام سے بیٹھے سفر کر رہے ہوں گے مگر نماز نہیں پڑھیں گے۔ اور جب پوچھا جائے کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تو کہیں گے سفر میں کپڑوں کے پاک ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اس لئے ہم نماز نہیں پڑھتے۔ حالانکہ سفر تو الگ رہا میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ اگر سر سے پَیر تک کسی شخص کے کپڑے پیشاب میں ڈوبے ہوئے ہوں اور اس کے پاس اَور کپڑے نہ ہوں جن کو وہ بدل سکے اور نماز کا وقت آجائے تو وہ اُنہی پیشاب آلودہ کپڑوںکے ساتھ نماز پڑھ لے۔ یا اگر پردہ ہے تو کپڑے اُتار کر ننگے نماز پڑھ لے اور یہ پروا نہ کرے کہ اس کے کپڑے پاک نہیں یا جسم پر کوئی کپڑانہیں ۔کیونکہ نماز کی اصل غرض یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کا نام لیا جائے اور اس طرح اُس کی یاد اپنے دل میں تازہ کی جائے ۔جس طرح گرمی کے موسم میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد انسان ایک ایک دو دو گھونٹ پانی پیتا رہتا ہے تا کہ اس کا گلا تَر رہے اور اس کے جسم کو تراوت پہنچتی رہے اِسی طرح کفر اور بے ایمانی کی گرمی میں انسانی روح کو حلاوت اور تروتازگی پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد نماز مقرر کی ہے تا کہ وہ گرمی اس کی روح کو جھلس نہ دے اور اس کی روحانی طاقتوں کو مضمحل نہ کر دے۔ خدا تعالیٰ کا نام لینے سے اس کی محبت تازہ ہو جاتی ہے۔ فرشتے قریب آتے ہیں اور شیطان دور بھاگتا ہے۔ بیشک حکم یہی ہے کہ کپڑے پاک رکھو لیکن فرض کرو کسی کے پاس اَور کپڑے نہیں تو پھر اُس کے لئے یہ اجازت نہیں ہو گی کہ وہ نماز نہ پڑھے بلکہ اُسے یہی کہا جائے گا کہ خواہ تمہارے کپڑے گندے اور ناپاک ہیں پھر بھی تم انہی گندے اور ناپاک کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ لو۔ مثلاً کسی شخص کے پاس صرف ایک ہی تہہ بند ہے اور اسے شبہ ہے کہ وہ تہہ بند پاک نہیں رہا تو اُس کے متعلق شریعت کا یہ حکم نہیںہو گا کہ وہ نماز نہ پڑھے بلکہ اس کے متعلق حکم یہ ہوگا کہ وہ اُسی تہہ بند کے ساتھ نماز پڑھ لے کیونکہ کپڑوں کی پاکیزگی سے دل کی پاکیزگی بہرحال مقدم ہے۔ مگر ہمارے ملک میں لوگ کپڑوں کا تو خیال رکھتے ہیں اور اپنے دل کو ناپاک ہونے دیتے ہیں۔ اگرہم کپڑے کی ناپاکی کا خیال کر کے نماز چھوڑ دیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم کپڑے کو پاک کرنے کا تو خیال کرتے ہیں لیکن اپنے دل کو پاک کرنے کا خیال نہیں کرتے۔ اور یہ سراسر حماقت ہے۔ پس اُس وقت جو کپڑا بھی میسرہو اُسی کے ساتھ نماز پڑھ لینا جائز ہو گا مگر یہ جائز نہیں ہوگا کہ کپڑے کی ناپاکی کے خیال سے اپنے دل کو ناپاک کر لیا جائے اور نماز کو چھوڑ دیا جائے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے تمہارے کپڑوں پر مٹی لگ جائے تو تم اسے دھوتے ہو۔ لیکن دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ساری زمین کو میرے لئے مسجد بنا دیا ہے۔6 گویا وہی مٹی جو کپڑوں پر لگ جائے تو تم اُسے صاف کرتے ہو اُسی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نماز کے لئے پاک قرار دے دیا اور فرمایا کہ اگر مسجد نہ ہو تو تم مٹی پر نماز پڑھ لو۔کیونکہ نماز ایک ایسی چیز ہے جسے کسی صورت میں ترک نہیں کیا جاسکتا۔ یوں مٹی کپڑوں پر لگ جائے تو انسان اُسے دھونے کی کوشش کرتا ہے بلکہ غریب سے غریب آدمی بھی ہفتہ عشرہ کے بعد اپنے کپڑوں کو ضرور دھوتا ہے۔ وہ کپڑے کیوں دھوتا ہے؟ اس لئے کہ مٹی کی وجہ سے وہ میلے ہو جاتے ہیں۔ پس کپڑے کی صفائی کے یہ معنی ہیں کہ اُن پر مٹی پڑ گئی تھی جسے دھو کر صاف کیا جاتا ہے۔ لیکن جب مسجد نہیں ملتی تو ہماری شریعت اُسی مٹی کو پاک قرار دے دیتی ہے اور کہتی ہے کہ تم زمین پر جہاں چاہو نماز پڑھ لو۔
    پس نماز ایک نہایت ہی اہم چیز ہے اور دوسری تمام چیزیں اس کے تابع ہیں۔ بیشک اپنے کپڑوں کو صاف رکھو بلکہ مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے کپڑوں کی صفائی کا خیال رکھے اور ان کو ہر قسم کی غلاظت اور گندگی سے بچائے۔ لیکن اگر ایسا وقت آجائے کہ کپڑے مشتبہ حالت میں ہوں اور پانی نہ ہو جس سے انسان انہیں دھو سکے یا نئے کپڑے نہ ہوں جن کو تبدیل کر سکے اور نماز کا وقت آجائے تو پھر اُس کا یہی فرض ہے کہ انہی کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ لے اور کپڑوں کا خیال نہ کرے۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ 6مارچ 1950ئ)
    1: صحیح مسلم کتاب صلوٰۃ المسافرین و قصرہا۔ باب صلوٰۃ المسافرین و قصرھا
    2: (النسائ:102)
    3: صحیح بخاری کتاب الاذان باب وجوب القراء ۃ للامام والماموم فی الصلوات کلہا
    4: صحیح بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبریل النبیؐ عن الایمان والاسلام
    5: کنزالعمال کتاب الغزوات والوفود من قسم الافعال باب غزواتہ و بعوثہ ، غزوۃ الخندق حدیث نمبر30077جلد 10صفحہ204، مطبوعہ بیروت لبنان 1998ء
    6: صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ باب جعلت لی الارض مسجدا و طہورا











    22
    ان تغیرات کے رونما ہونے کا وقت آچکا ہے جواحمدیت کو دنیا میں قائم کر دیں گے
    (فرمودہ 15 ستمبر 1950ء بمقام کراچی)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میرے انگوٹھے اور انگلیوں کے درد میں بہت کمی ہے اور اسی لئے میں کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنے لگا ہوں۔ لیکن ایک لمبے عرصہ تک کھڑے ہونے کی عادت نہ رہنے کی وجہ سے صرف ایک دو منٹ کھڑا ہونے سے بھی میرے پاؤں کے تلووں میں درد شروع ہو گیا ہے جیسے انسان جب لمبی دیر تک بیمار رہتا ہے تو دوبارہ چلتے پھرتے وقت شروع میں وہ تکلیف محسوس کرتا ہے۔
    میں آج جماعت کے دوستوں کو ان کے اس ضروری فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے تبلیغ کے کام کو زیادہ سے زیادہ وسیع کریں۔ وہ وقت قریب سے قریب تر آرہا ہے جب دنیوی نقطۂ نگاہ سے یا تو احمدیت کو اپنی فوقیت ثابت کرنی ہو گی اور یا اِس جدوجہد میں فنا ہونا پڑے گا۔ اور دینی نقطۂ نگاہ سے اور روحانی نقطۂ نگاہ سے خداتعالیٰ کی طرف سے ان تغیرات کے رونما ہونے کا وقت آچکا ہے اور آرہا ہے جو کہ احمدیت کو ایک لمبے عرصہ تک کے لئے دنیا میں قائم کر دیں گے اور اس کا غلبہ اس کے دوستوں اور اس کے مخالفوں سے منوا لیں گے۔ مگر ان تمام تغیرات کے لئے انسان کی قربانیاں اور انسان کی جدوجہد نہایت ضروری ہوتی ہے۔
    مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ہماری جماعت نے قربانی کا ابھی وہ نمونہ پیش نہیں کیا جس نمونہ کے پیش کرنے کے بعد قوم اپنی انتہائی جدوجہد کا مظاہرہ کر دیتی ہے۔ پچھلے دو تین سال سے تحریک جدید کے وعدوں میں سستی ہو رہی ہے اور اس کے ایفاء میں تو نہایت ہی خطرناک غفلت برتی جارہی ہے۔ یہ غفلت اِس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اَب ہم مجبور ہیں کہ یا تو اپنے نصف کے قریب مشن باہر کے بند کر دیں اور یا پھر نصف کے قریب جماعت کے افراد کو اپنی جماعت میں سے نکال دیں کیونکہ وہ وعدہ پورا نہیں کر رہے۔ ان دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کئے بغیر ہمارا گزارہ نہیں چل سکتا۔ مثلاً اِسی سولہویں سال کے وعدے قریباً دو لاکھ اسّی ہزار کے تھے۔ اعلان دسمبر کے قریب ہوتا ہے۔ دسمبر سے اگست تک نو مہینے ہوئے اور اب ستمبرکا مہینہ بھی نصف گزر چکا ہے۔ گویا بارہ میں سے ساڑھے نو مہینے گزر چکے ہیں اور سال کے پورا ہونے میں صرف اڑھائی مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ لیکن جماعت کی غفلت کی یہ حالت ہے کہ دو لاکھ اسّی ہزار کے وعدوں میں سے صرف ایک لاکھ بیس ہزار وصول ہوا ہے۔ گویا ساڑھے نو مہینہ میں چالیس فیصدی رقم وصول ہوئی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک سال کا چندہ اڑھائی سال میں جا کر وصول ہو۔ اُدھر یہ حالت ہے کہ بیرونی جماعتیں اور بیرونی ممالک اصرار کے ساتھ نئے مبلغ مانگ رہے ہیں اور لوگوں میں سلسلہ کی طرف اِس قسم کی توجہ پیدا ہو رہی ہے کہ معلوم ہوتاہے اللہ تعالیٰ جلد ہی اِس آواز کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ بلند ہو ئی ہے پوری قوت کے ساتھ دوسرے ممالک میں پھیلانے والا ہے۔
    سال بھر سے امریکہ کی طرف سے مطالبہ ہے کہ امریکہ جو ہندوستان سے رقبہ میں بہت بڑا ہے اُس میں اَور مبلغ بھجوائے جائیں۔ اس کے صرف جنوب مشرق میں کچھ مشن ہیں لیکن شمال مغرب، وسطِ امریکہ، جنوب مغرب اور شمال مشرق کے علاقے بالکل خالی ہیں اور وہاں کے لوگوں میں جن کے پاس ہمارا لٹریچر پہنچتا ہے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ جماعت کے مشن ہمارے ملکوں میں بھی کھولے جائیں۔ لیکن جبکہ ہم ان مبلغوں کو بھی خرچ نہ بھجوا سکیں جو اِس وقت باہر کام کر رہے ہیں تو یہ ظاہر بات ہے کہ ہم نئے مشن نہیں کھول سکتے۔ بلکہ چالیس فیصدی چندہ کی وصولی کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں اپنے ساٹھ فیصدی مشن بند کر دینے چاہئیں۔ یعنی بجائے اِس کے کہ امریکہ میں ہم پانچ سات اَور مشن کھول دیں جیسا کہ اُن کا اصرار ہے کہ مرکز کو چھ سات نئے مشن اس ملک میں فوری طور پر کھول دینے چاہئیں ہمیں چاہیے کہ امریکہ کے چار مشنوں میں سے کم سے کم دو بند کر دیں۔
    یورپین ممالک میں اِس وقت ہمارے سات مشن کام کر رہے ہیں یعنی ہالینڈ میں ایک، انگلینڈ میں دو ، جرمنی میں ایک، سوئٹزرلینڈ میں ایک، فرانس میں ایک، سپین میں ایک۔ اب بجائے اِس کے کہ یہ وسیع ممالک جو چالیس چالیس، پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ بلکہ اسّی اسّی ہزار مربع میل کے علاقہ میں پھیلے ہوئے ہیںان میں ہم آہستہ آہستہ ایک ایک کی بجائے دو دو یا تین تین مشن کھول دیں ہمیں چاہیے کہ سارے یورپ کے سات مشنوں میں سے چار کو بند کر دیں۔
    ہمارے ایسٹ اور ویسٹ افریقہ میں اِس وقت ساٹھ ستّر مشن ہیں۔ لیکن چندہ کی موجودہ حالت ایسی ہے کہ بجائے اِس کے کہ ان ممالک میں ہم اپنے کام کی رفتار کو تیز کریں جیسا کہ ایسٹ اور ویسٹ افریقہ کے قدیمی باشندوں میں احمدیت خداتعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ مقبول ہو رہی ہے اور بجائے اس کے کہ ہم اپنے ساٹھ ستّر مشنوں کو ڈیڑھ سَو بنا دیں ہمیں چاہئے کہ ان میں سے چالیس پینتالیس مشن بند کر دیں۔
    پھر اِس وقت ہمارے دو بیرونجات کے مبلغ اپنی زندگی وقف کر کے آئے ہوئے ہیں اور سات آٹھ امریکن دوستوں کی ان کے علاوہ درخواستیں آئی ہوئی ہیں کہ ہمارے آدمی بھی دینی تعلیم کے حصول کے لئے وہاں آنا چاہتے ہیں۔ اب بجائے اِس کے کہ اِس تعداد کو بڑھا کر ہم آٹھ دس ملکوں کے نمائندوں کو بلائیں، ہمیں چاہئے کہ آئندہ یہ سلسلہ بالکل بند کر دیں۔ گویا وہی ایک چیز جس کے متعلق دشمن بھی اقرار کرتا ہے کہ اس میں وہ جماعت احمدیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اُسی کو ہم اپنے ہاتھ سے ضائع کر دیں۔ جہاں ہماری دینداری کا سوال آتا ہے دشمن اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے تم کہتے ہو احمدی نیک ہوتے ہیں میرے ہمسایہ میں تو فلاں احمدی رہتا ہے جو جھوٹ بولتا ہے، فلاں احمدی رشوت لیتا ہے یا فلاں احمدی ظلم کرتا ہے۔ اِسی طرح وہ اَور ہزاروں قسم کے اعتراض کرنے لگ جاتا ہے۔ ہماری جماعت کی ملکی خدمات پر بھی اس کو بہت کچھ اعتراض ہوتے ہیں۔ چاہے ہماری خدمات کتنی ہی بے غرضانہ ہوں دشمن ہم پر اعتراض کرنے سے نہیں رُکتا۔ مثلاً وہ یہی کہہ دے گا کہ یہ لوگ پاکستان کے مخالف اور غدار ہیں۔ مگر جس چیز پر آکر ایک شدید ترین دشمن بھی چُپ کر جاتا ہے وہ بیرونی ممالک کی تبلیغ ہے۔ اِس مقام پر شدید ترین عِناد رکھنے والوں کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جماعت احمدیہ بہت بڑا کام کر رہی ہے۔ تھوڑے ہی دن ہوئے فوجیوں کی ایک دعوتِ چائے کے موقع پر گفتگو شروع ہوئی تو ایک شخص نے نامناسب اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔ مگر بات کرتے ہوئے جب بیرونی ممالک کی تبلیغ کا ذکر آیا تو وہ کہنے لگا کہ اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ تبلیغ آپ لوگ ہی کر رہے ہیں۔ گویا ایک ہی چیز جو جماعت کی عزت اور اس کے وقار کو قائم رکھے ہوئے ہے آپ لوگوں کی سستی اور غفلت کی وجہ سے یا تو اسے بند کرنا پڑے گا اور یا پھر فیصلہ کرنا پڑے گا کہ جماعت کے اہم کاموں میں بھی جو لوگ دلچسپی نہیں رکھتے اُن کو الگ کر دیا جائے۔ کیونکہ ایک طرف یہ دعویٰ کرنا کہ جماعت بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف یہ کہنا کہ ہم اپنے کچھ مشنوں کو بند کر رہے ہیں اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم بے ایمان ہو رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم دشمن کو کہیں کہ ہم نے اپنی آدھی جماعت نکال دی ہے تو وہ مشنوں کے کم ہونے پر اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ وہ کہے گا کہ جب آپ کی جماعت کم ہو گئی ہے تو مشن بھی لازماً کم ہونے تھے۔ لیکن ایک طرف یہ کہنا کہ جماعت بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف یہ کہنا کہ کام گھٹ رہا ہے اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    پس میں جماعت کو ایک دفعہ پھر اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے۔ مجھے معلوم نہیں کہ جماعت کراچی کس حد تک تحریک جدید کے وعدوں کو پورا کر رہی ہے جہاں تک نئے نوجوانوں کا تعلق ہے میں دیکھتا ہوں کہ ان کی حالت بہت زیادہ افسوسناک ہے۔ چھٹے سال کے وعدے ایک لاکھ بیس ہزار کے تھے مگر اس میں سے صرف تینتالیس فیصدی وصولی ہوئی ہے۔ حالانکہ نوجوانوں میں اخلاص اور قربانی کی روح پہلوں سے زیادہ ہونی چاہیے کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک اُس کے نوجوان پہلوں سے زیادہ قربانی کرنے والے نہ ہوں۔ پس ایک طرف تو میں آپ لوگوں کو جو اِس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں اور اتفاق کی بات ہے کہ مجھے پہلے یہیں اِس بات کے کہنے کا موقع ملا توجہ دلاتا ہوں کہ اگر تحریک جدید کے وعدوں کے بارہ میں آپ کے اندر غفلت پائی جاتی ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کریں ورنہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ان دو کے علاوہ تیسرا علاج کوئی نہیں۔ مجھے کیمیا گری نہیں آتی کہ آپ چندے نہ دیں اور میں کیمیا گری سے اس کمی کو پورا کر لیا کروں۔ روپیہ بہرحال جیسے آدم سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک اللہ تعالیٰ کی سنت چلی آئی ہے جماعت کو ہی مہیا کرنا پڑے گا اور جماعت کے دوستوں کو ہی یہ بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے کیمیا گری کر کے روپیہ بنایا، نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسا کیا، نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا کیا اور نہ کسی اور نبی نے ایسا کیا۔ میں بھی اُن کی سنت اور طریق پر کیمیا گری سے یہ روپیہ پیدا نہیں کر سکتا۔ بہرحال جماعت کو ہی یہ چندہ دینا پڑے گا اور ان کے ایمان کی آزمائش کے بعد ہی یہ کام چل سکے گا۔ اگر جماعت کے ایک حصہ کو جو وعدہ تو کرتاہے مگر اس کے ایفا ء کی طرف توجہ نہیں کرتا ہمیں الگ کرنا پڑے تو ہم اسکے نکالنے میں ذرہ بھر بھی پروا نہیں کریں گے۔ بلکہ میرے نزدیک تو آدھی یا 3/4 جماعت بھی اگر الگ کر دی جائے تو ہمیں اُس کے الگ کرنے میں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو سکتی۔ میں نے ایک وسیع تجربہ کے بعد اور کلامِ الٰہی کا عمیق مطالعہ کرنے کے بعد اِس حقیقت کو پالیا ہے کہ خدائی سلسلوں میں افراد کی کوئی قیمت نہیں ہوتی صرف اخلاص کی قیمت ہوتی ہے۔ اگر جماعت کا کچھ حصہ کٹ جائے یا کاٹنا پڑے تو اِس سے جماعت کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا بلکہ پھر بھی وہ آگے ہی اپنا قدم بڑھائے گی۔ مگر یہ بھی ایک وسیع مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ آدمیوں سے ہی کام لیتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر سو میں سے پچاس آدمی رہ جائیں توخدائی جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ کامیابی اور فتح کے لئے یہ ضروری ہے کہ پچاس کو سَوبنایا جائے، سَو کو ہزار بنایا جائے اور ہزار کو لاکھ بنایا جائے اور لاکھ کو کروڑ بنایا جائے۔ آدمیوں پر خدائی سلسلوں کا انحصار نہیں ہوتا۔ مگر فتح کے لئے آدمیوں کی اکثریت ضروری ہوتی ہے اور اکثریت پیدا کرنے سے غافل رہنا نادانی اور جہالت کا کام ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ کہا کہ مجھے آدمیوں کی ضرورت نہیں ،اگر میں کہتا ہوں کہ مجھے آدمیوں کی ضرورت نہیں تو اِس کے یہ معنے نہیں کہ ہمیں آدمی بڑھانے کی ضرورت نہیں بلکہ اِس کے صرف اتنے معنے ہیں کہ جماعت کا قیام اور اس کی ترقی آدمیوں پر منحصر نہیں۔ اگر کسی وقت کمزور عنصر کو الگ کر دیا جاتا ہے تو جماعت کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ورنہ کوشش ہم بھی یہی کرتے ہیں کہ ہم سَو سے ہزار بنیں اور ہزار سے دس ہزار بنیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ اکثریت بنا کر اپنے سلسلہ کو غلبہ دیا کرتا ہے۔ یہ صرف جبری طاقتوں کا طریق ہوتا ہے کہ وہ اقلیت میں ہوتے ہوئے اکثریت پر حکومت کرنے لگ جاتی ہیں۔ جیسے بالشوزم ہے یا فیسزم(Fascism) ہے یا ناٹسزم ہے۔ ان کو جب اتنی طاقت حاصل ہو گئی کہ زیادہ لوگوں کو دبا سکیں تو انہوں نے دبالیا۔ لیکن اسلام اِس کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ اُسی وقت اجازت دیتا ہے جب مومنوں کی اکثریت ہو۔ اقلیت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ زبردستی حکومت پر قبضہ کر لے۔ اِس قسم کا خیال قطعاً غیر اسلامی ہے جس کی اسلام تائید نہیں کرتا۔
    اب یہ جوتعداد بڑھانے کا سوال ہے یہ تبلیغ سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے بیرونی مشنوں کی یہ حالت ہے کہ ہم اُنہیں باقاعدہ خرچ بھی نہیں دے سکتے۔ ابھی دو تین تاریں مجھے ربوہ سے آچکی ہیں کہ وہ ریزرو فنڈ جو قرآن کریم کی اشاعت کے لئے قائم ہے اس میں سے خرچ کرنے کی اجازت دی جائے۔ میں نے اُنہیں جواب دے دیا ہے کہ مشن بے شک بند کر دیں کیونکہ اس کی جماعت پر ذمہ داری ہے مگر میں یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ ریزرو فنڈ جو قرآن کریم کے لئے محفوظ ہے اُسے خرچ کر دیاجائے۔ باقی اس ملک کی تبلیغ ہے دینی نقطۂ نگاہ سے تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ نئے لوگ داخل ہوں گے تو ہماری مدد کریں گے۔ لیکن دنیوی نقطۂ نگاہ سے انسان خیال کر سکتا ہے کہ جماعت بڑھے گی تو بوجھ اٹھانے والے بھی پیدا ہو جائیں گے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ تبلیغ کی طرف بھی بہت کم توجہ ہے۔ یہاں میں آیا ہوں تو میں نے بعض میں تبلیغ کا جوش بھی دیکھا ہے اور ان کے اندر یہ خواہش بھی محسوس کی ہے کہ وہ غیر لوگوں کو میرے پاس لائیں اور انہیں احمدیت سے روشناس کریں۔ مگر مجھ پر اثر یہ ہے کہ جیسے کوئٹہ کی جماعت میں تبلیغ کا جوش تھا اور جس طرح وہ لوگوں کو میری ملاقات کے لئے بار بار لاتے تھے اُتنا جوش یہاں کی جماعت میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ جب کسی جماعت کو چُن لیتا ہے تو اُسے دین کی خدمت کی بھی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ ہمیں کوئٹہ کا کوئی خیال تک نہیں تھا مگر چونکہ میری صحت خراب رہتی ہے اور گرمیوں میں مجھے کسی سرد مقام پر ضرور جانا پڑتا ہے پاکستان میں آنے کے بعد جب ہمیں کوئی اَور جگہ نظر نہ آئی تو ہم کوئٹہ چلے گئے۔ لیکن وہ ہمارا جانا درحقیقت خدائی منشاء کے مطابق تھا۔ کیونکہ قادیان سے نکلنے کے بعد ایسی حالت تھی جیسے ایک درخت کی جڑ اُکھیڑ دی جاتی ہے اور اس کا کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ لیکن کوئٹہ جاتے ہی ہم کو یوں معلوم ہوا جیسے خدا نے ہم کو ایک دوسرا وطن دے دیا ہے۔ وہاں کی جماعت نے جس اخلاص اور محبت کے ساتھ ہمارے ساتھ معاملہ کیا وہ ایسا تھا کہ ہمارے اندر قدرتی طور پر جو بے وطنی کا احساس پایا جاتا تھا وہ ان کے ملنے کے بعد جاتا رہا۔ میں وہاں تین تین مہینے کے قریب رہا ہوں۔ بعض لوگ ایسے تھے جنہوں نے تین تین مہینے اس میں صَرف کر دیئے کہ وہ متواتر لوگوں سے مل رہے ہیں، اُنہیں تبلیغ کر رہے ہیں اور پھر مجھ سے بھی ملوا رہے ہیں۔ جہاں تک کھانے پینے کا سوال ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ لوگوں نے جو مہمانی کی ہے وہ اُن سے زیادہ ہے۔ وہ صرف تین دن کی مہمانی کیا کرتے تھے اور آپ نے ہمارے تمام عرصۂ قیام کی مہمانی کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ مگرانسان کہیں کھانے پینے کے لئے نہیں جاتا بلکہ کسی کام کے لئے جاتا ہے۔ محض کھانے کو دیکھتے ہوئے تو یہ شکل کوئٹہ سے یقینا اچھی نظر آئے گی مگر سوال یہ ہے کہ اُن کی قربانی کے مقابلہ میں یہاں کے دوستوں کی قربانی کا کیا حال ہے۔ اُن کی قربانی ایسی اعلیٰ پایہ کی تھی کہ اُسے دیکھ کر حیرت آتی تھی۔ میں وہاں دو مہینے بیمار پڑا رہا اور جماعت سے ملنے کا مجھے بہت ہی کم موقع میسر آیا۔ مگر وہ لوگ اسی اخلاص کے ساتھ ہمارے دروازے پر آکر بیٹھے رہتے تھے اور ان کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ ہمیں ملنے کا موقع نہیں ملا۔ اس نے بتا دیا کہ اُن کا تعلق محض محبت کا تھا۔ ورنہ بیسیوں لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ جب نہ ملاقات کا کوئی موقع ملتا ہے، نہ نماز پڑھانے کے لئے وہ باہر آتے ہیں، نہ مجلس میں آکر بیٹھتے ہیں تو پھر ہمارے جانے کا کیا فائدہ؟ مگر کوئٹہ کی جماعت کے دوست باقاعدہ آتے رہے۔ انہیں کبھی ملنے کا موقع نہ ملتا تھا بلکہ شکل دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملتا تھا۔ مگر وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا فرض ہے کہ جائیں اور انہوں نے ذرا بھی یہ بات ظاہر نہیں ہونے دی کہ میرے بیمار ہونے یا نہ ملنے سے ان کی کوئی دل شکنی ہوئی ہے یا ان کے احساسات کو صدمہ ہوا ہے۔ بلکہ وہ اَور بھی زیادہ اخلاص میں نمایاں نظر آتے تھے۔ بڑی چیز جو اُن میں پائی جاتی تھی وہ یہ تھی کہ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے ساتھ ایسے آدمی لائے جو احمدیت کے متعلق مجھے سے مختلف سوالات کریں اور یہ جذبہ اُن میں ہمیشہ قائم رہا۔ ممکن ہے کراچی کی جماعت اگر اس رنگ میں کوشش نہیں کر سکی تو اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ہم مالیر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جو یہاں سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ہے۔ اگر ہم قریب ہوتے تو ممکن ہے یہ نقص واقع نہ ہوتا۔ بہرحال یہاں کی جماعت نے بھی اس رنگ میں تبلیغ کے مواقع پیدا کرنے کی ضرور کوشش کی ہے کہ انہوں نے کئی دعوتیں کیں جن میں شہر کے معززین آئے اور احمدیت کے متعلق انہوں نے معلومات حاصل کیں۔ مگر دعوتوں کی کثرت بعض دفعہ وہی حالت پیدا کردیا کرتی ہے جو اُس مرغی کا حال ہوا جو روزانہ سونے کا ایک انڈہ دیا کرتی تھی اور جسے اُس کی مالکہ نے زیادہ کھلانا شروع کر دیا تاکہ وہ روزانہ دو انڈے دیا کرے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مرغی مر گئی۔ بیمار آدمی بھی دعوتوں میں جا کر بیٹھے گا تو اُس کے اعصاب کو نقصان ہی پہنچے گا۔ بہرحال ایسی دعوتوں اور ملاقاتوں کی کثرت فائدہ کی بجائے نقصان دیتی ہے۔ اگر یہ طریق رہتا کہ مقامی جماعت کے لوگ ایسے دوستوں کو تیار کر کے اپنے ساتھ لاتے جو مختلف سوالات کرتے تو یہ زیادہ مفید رہتا۔
    دوسرے میں نے ایک اَور فرق بھی دیکھا ہے جس کی طرف میں نے امیر صاحب کو توجہ بھی دلائی تھی مگر باجود توجہ دلانے کے یا تو وہ بُھول گئے یا پھر جماعت پر اُن کا اتنا اثر نہیں جتنا ہونا چاہیے۔ کوئٹہ میں مجھے بیماری کا ذرا بھی دَورہ ہوتا تو جماعت کے لوگ باہر بیٹھے رہتے مگر مجھ سے ملنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ مجھے اُن کی آوازیں بھی آتیں اور میں سمجھتا کہ وہ خدمت کے لئے آئے ہیں مگر وہ کبھی کوشش نہیں کرتے تھے کہ مجھ سے بے موقع ملیں اور اس طرح میرے لئے بوجھ ثابت ہوں۔ یہاں بعض دنوں میں مجھے شدید تکلیف تھی اور دل کے ضُعف کے بھی دورے تھے۔ جماعت کے لوگ اصرار کر کے صبح نو بجے سے رات کے دس بجے تک متواتر مجھ سے ملتے رہے۔ اور جب انہیں کہا جاتا کہ میں بیمار ہوں اور میرا گلا بھی بند ہے میں ملاقات کس طرح کر سکتا ہوں تو وہ کہتے کہ ہم تو اتنی دور سے آئے ہیں ہمیں تو ضرور ملنے کا موقع دیا جائے۔ وہ مل کر جاتے تو دوسرا رقعہ آجاتا کہ حضور! ہم اتنی دور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے ہیں ہمیں ضرور ملنے کا شرف بخشا جائے۔ دوسری ملاقات سے فارغ ہوتا تو تیسرا رقعہ آجاتا کہ مجھے ملنے کا موقع دیا جائے۔ حالانکہ کوئی شخص خواہ کسی روحانی مقام پر بھی ہو بیماری بہرحال بیماری ہے۔ بیمار پر زیادہ بوجھ ڈالا جائے گا تو لازماً اُس کے اعصاب ٹوٹ جائیں گے اور وہ کام کے قابل نہیں رہے گا۔
    باقی تبلیغ کے متعلق میں نے گزشتہ دنوں خدام الاحمدیہ کو کچھ مشورہ دیا تھا۔ جماعت کے دوستوں کو بھی میں اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ بغیر تبلیغ کے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ہم کوئی پولیٹیکل جماعت نہیں کہ موقع پا کر اکثریت پر غالب آجائیں اور اپنا اقتدار لوگوں پر قائم کر لیں۔ یہ طریق ہمارے غلبہ کا نہیں۔ ہمارا غلبہ صرف دلوں پر ہو سکتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سرکاری اداروں پر ہم قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کر لیں۔ یہ شیطانی طریق ہے۔ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتوں کا طریق نہیں۔ اگر خداتعالیٰ چاہتا تو کیا وہ ڈنڈے کے زور سے لوگوں کو ٹھیک نہیں کر سکتا تھا؟ وہ ایک دن میں اپنے فرشتے بھیج کر ابوجہل کی گردن مروڑ سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے ابوجہل کی گردن مروڑنے کے لئے نہیں بھیجے بلکہ اس کے بیٹے عکرمہؓ کا دل مروڑنے کے لئے بھیجے اور وہ مسلمان ہو گیا۔ پس اسلامی طریق یہی ہے کہ دلوں پر غلبہ حاصل کیا جائے اور اس کے لئے تبلیغ ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ تبلیغ کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر کے احمدیت کے حلقہ کو وسیع کرنے کی کوشش کریں۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہاں کے بعض دوست واقع میں تبلیغ کرتے ہیں اور اُن کی باتوں سے معلوم ہوتاہے کہ ان کی جدوجہد کے نتیجہ میں ایک جماعت احمدیت کے قریب آرہی ہے۔ مگر ایک لمبے عرصہ تک ان کے قریب آنے کے دھوکا میں مبتلا رہنا بھی غلطی ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ کی تبلیغ کے بعد اُن کو صاف طور پر کہہ دینا چاہیے کہ اگر آپ لوگ احمدیت کو سمجھ چکے ہیں تو اب آپ کو اس میں داخل ہو جانا چاہیے۔ ورنہ ہمارے نزدیک آپ خود بھی دھوکا میں مبتلا ہیں اور ہمیں بھی دھوکا میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے بعض دوست اتنے بھولے بھالے ہوتے ہیں کہ وہ سالہا سال اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ لوگ اُن کی تبلیغ سے احمدیت کے قریب آرہے ہیں۔ حالانکہ قریب آنے والے کو کبھی تومنزل پر پہنچنا چاہیے۔ اگر وہ نہیں پہنچتا تو اسکے معنے یہ ہیں کہ جسے قریب سمجھا جاتا تھا وہ محض نظر کا دھوکا تھا۔ پس قریب آنے والا تم اُسی کو سمجھو جو واقع میں قریب آجائے اور احمدیت کو قبول کر لے۔ اگر وہ احمدیت کو تو قبول نہیں کرتا مگر کہتا یہ ہے کہ میں احمدیت کے قریب ہوں تو وہ خود بھی دھوکا میں مبتلا ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی دھوکا میں مبتلا کرتاہے۔
    مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ شملہ گیا تو ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بعض شرائط کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ جن لوگوں میں یہ شرائط پائی جائیں گی ہم اُنہیں مسلمان سمجھیں گے۔ کیا آپ ان شرائط کو اَب بھی درست سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو کچھ لکھا ہے ہم اُسے بالکل درست سمجھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شرط یہ قرار دی ہے کہ ایسا شخص آپؑ کو اپنے تمام دعاوی میں سچا سمجھتا ہو۔ دوسری شرط آپ نے یہ لکھی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تازہ وحی پر ایمان رکھتا ہو۔ تیسری شرط آپ نے یہ رکھی ہے کہ اس کے اندر منافقت کا ایک شائبہ تک نہ پایا جاتا ہو۔ اگر یہ تینوں شرطیں کسی شخص میں پائی جائیں تو ہم یقینا سمجھیں گے کہ وہ مسلمان ہے۔ میں نے اُس سے کہا کہ بتاؤ کیا کوئی غیراحمدی ہے جو اِن شرائط کا پابند ہو؟ وہ کہنے لگا میرا ایک غیراحمدی دوست ہے اُس میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں۔ میں نے کہا اُس سے جا کر پوچھو کہ کیا تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام دعاوی میں سچا سمجھتے ہو؟ اگر وہ کہے ہاں توپھر اُس سے کہنا کہ کیا تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تازہ وحی پر ایمان رکھتے ہو؟ اگر وہ کہے ایمان رکھتا ہوں تو پھر تیسرا سوال اُس سے یہ کرنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جو تازہ وحی ہوئی ہے اُس میں ایک یہ وحی بھی شامل ہے کہ جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا اور میری بیعت میں شامل نہیں ہوتا وہ کاٹا جائے گا بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔1 اگر تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تازہ وحی پر ایمان رکھتے ہو تو بیعت میں کیوں شامل نہیں ہوتے؟ اِس کے بعد لازماً یا تو وہ احمدی ہو جائے گا اور یا پھر ماننا پڑے گا کہ اُس میں منافقت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب انہوں نے اِس رنگ میں اُس غیر احمدی کے سامنے بات پیش کی تو وہ کہنے لگا تم نے مجھے بیعت کے لئے پہلے کبھی کہا ہی نہیں۔ لو مَیں آج ہی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ تو حقیقت یہ ہے کہ ایک عرصہ کی تبلیغ کے بعد بھی جوشخص بیعت نہیں کرتا اُس کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ احمدیت کے قریب آچکا ہے غلطی ہوتی ہے۔ ایک حد تک تبلیغ کرنے کے بعد اصرار کرنا چاہیے کہ اب آپ فیصلہ کریں اور ہمیں بتا ئیں کہ آپ احمدیت میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں؟ اگر احمدیت کی آپ کو سمجھ آچکی ہے تو بیعت کر کے جماعت کے بوجھوں کو اٹھائیے۔ ورنہ اُس دھوکا میں نہ خود رہئے نہ دوسروں کو رکھیئے کہ آپ صداقت کو مان رہے ہیں۔ اگر اس طرح اصرار کر کے سمجھایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ صداقت کو نہ مانا جائے تو دل سیاہ ہو جاتا ہے تو ہزاروں ہزار لوگ اب بھی غیراحمدیوں میں ایسے ہیں جو مان لیں گے۔ لیکن ہزاروں ہزار ایسے بھی نکلیں گے جو کہیں گے کہ ہم تو محض باتیں کر رہے تھے۔ ایسے لوگوں کے متعلق ماننا پڑے گا کہ وہ صرف منافق ہیں جو منہ کی باتوں سے دوسروں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔
    باقی بڑی چیز نیک نمونہ ہوتی ہے۔تبلیغ بغیر نیک نمونہ کے نہیں ہو سکتی۔ اگرہم باتیں تو بڑی اچھی کرتے ہیں لیکن ہمارا عمل اسلام کے مطابق نہیں تو ہمارے منہ کی باتیں لوگوں پر کوئی اثر پیدا نہیں کر سکتیں۔ پس ہماری جماعت کے تمام افراد کو ہمیشہ اپنے اعمال پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے اور اپنے بُرے نمونہ سے دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہیں بننا چاہیے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے اکثر ملازم پیشہ لوگوں کے متعلق جھوٹ یا سچ یہ شکایت پائی جاتی ہے کہ وہ جنبہ داری کرتے ہیں اور اپنی پارٹی کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔ میں نہیں کہہ سکتاکہ یہ باتیں کس حد تک درست ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قسم کی باتیں لوگوں میں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ پس ہماری جماعت کے جو افراد جس جس کام پر بھی مقرر ہیں اُن کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ ان کا نمونہ احمدیت کے بڑھنے یا نہ بڑھنے میں بہت کچھ دخل رکھتا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے فرائض کو دیانتداری کے ساتھ ادا کریں۔
    دنیا میں دو قسم کے مومن ہوتے ہیں۔ ایک اجڈ مومن ہوتا ہے وہ کہتا ہے میں نے عقل سے کام نہیں لینا۔ صرف قانون سے کام لینا ہے چاہے کسی کو فائدہ پہنچے یا نقصان ۔ ایسے شخص کو خواہ ہم اُجڈ کہیں، وحشی کہیں، کم عقل کہیں، لیکن اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُس میں ایمان ضرور ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایک عقلمند مومن ہوتا ہے اُسے جہاں قانون اجازت دیتا ہے وہاں وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا دیتا ہے اور اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ لوگ اُس پر اعتراض کریں گے۔ وہ جس شخص کو بھی مظلوم دیکھتا ہے یا جس کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور قانون اُس کے راستہ میں حائل نہیں ہوتا اُسے فائدہ پہنچا دیتا ہے۔ اور قانون کے اندر رہتے ہوئے دوسرے کو فائدہ پہنچانے کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے افسروں کے سامنے عَلَی الْاِعْلَان تسلیم کر سکے کہ ہاں! مَیں نے فلاں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ جو ایسا کہہ سکے اس کے لئے دوسرے کو فائدہ پہنچانا جائز ہے۔ لیکن اگر وہ چھپانے کی کوشش کرتاہے اور کہتا ہے کہ یہ کام میں نے نہیں کیا فلاں افسر نے کیا ہے یا میرے فلاں ساتھی نے کیا ہے یا اس میں یہ غلط فہمی ہو گئی ہے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے ناجائز کیا ہے۔ بہرحال اگر کوئی شخص عَلَی الْاِعْلَان کہہ سکے کہ میں نے فلاں شخص کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے تو اس کے لئے دوسرے کی مدد کرنا جائز ہے۔ کیونکہ قانون کے بھی بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جن کے ماتحت دوسرے کی جائز مدد کی جا سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ یہی کہیں گے کہ اس نے اپنے فلاں دوست یا واقف کی مدد کی ہے۔ سو یہ اعتراض کوئی حقیقت نہیں رکھتا کیونکہ انسان کہہ سکتا ہے کہ جو میرا واقف تھا اُسی کو میں فائدہ پہنچا سکتا تھا۔ جو واقف ہی نہیں اُس کو فائدہ کیاپہنچایا جا سکتا ہے۔
    بہرحال افسروں کوخواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے پوری کوشش کرنی چاہیے کہ انہیں دیانتداری کے دو مقاموں میں سے ایک مقام ضرور حاصل ہو جائے۔ ایک مقام تو یہ ہے کہ انسان کہے میں اجتہاد سے کام نہیں لیتا مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اجتہاد سے کام لوں اور بعد میں میری ضمیر مجھے ملامت کرے ۔ میں لفظی طور پر قانون کے پیچھے چلوں گا خواہ کسی کوفائدہ ہو یا نقصان۔ دوسرا مقام یہ ہے کہ انسان قانون کے اندر رہتے ہوئے عقل اور اجتہاد سے کام لے کر دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے۔ مگر اس میں بھی وہ انصاف سے کام لینے والا ہو یہ نہ ہو کہ بعض کو نقصان پہنچ جائے ۔یا بعض سے وہ اس لئے حُسنِ سلوک کرنے یا اُن کی مدد کرنے کے لئے تیار نہ ہو کہ میرا محدود دائرہ محدود دوستوں تک ہی قائم رہے گا۔ کسی اَور کو میں اس میں شامل کرنے کے لئے تیار نہیں۔
    باقی اپنے کاموں میں دیانتداری اور محنت اور چُستی سے کام لینا خصوصاً نوجوانوں کے لئے ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ جہاں بھی نوجوانوں کو کام پر لگایا جاتا ہے وہاں اُن کی سُستیاں اور غفلتیں اتنی نمایاں ہوتی ہیں کہ کام رُک جاتا ہے یا کم از کم وہ ترقی نہیں ہوتی جو عام حالات میں ہونی چاہیے۔ گورنمنٹ کے دفتروں میں تو انسان مجبور ہوتا ہے کہ محنت کرے۔ سلسلہ کے کاموں میں بھی انسان کو محنت اور قربانی اور دیانت اور چُستی اور وقت کی پابندی کا نمونہ دکھانا چاہیے۔ میں نے دیکھا ہے کہ گورنمنٹ کے محکموں میں ہمارے جہاں بھی احمدی دوست کام کر رہے ہیں وہ نہایت مفید ثابت ہو رہے ہیں۔ کیونکہ وہ محنت اور عقل سے کام کرتے ہیں اور گورنمنٹ بھی جانتی ہے کہ یہ لوگ ہم پر بوجھ نہیں بلکہ ہمارے لئے کمائی پیدا کرنے والے ہیں۔ اگر ایک شخص ایک ہزار روپیہ تنخواہ لیتا ہے اور بیس ہزار گورنمنٹ کو کما کر دیتا ہے تو وہ یقینا ایک مفید وجود ہوتاہے اور اُس کی ہر جگہ قدر کی جاتی ہے۔ یہی نمونہ ہماری جماعت کے نوجوانوں کو اپنے تمام کاموں میں دکھانا چاہیے اور چُستی اور محنت اور دیانتداری کے ساتھ اپنا ہر کام سرانجام دینا چاہیے۔
    میرا اراد ہ یہاں صرف دس بارہ دن ٹھہرنے کا تھا مگر پھر میں نے پانچ دن اَور بڑھا دیئے تاکہ دوسرا جمعہ بھی میں یہاں پڑھا سکوں اور آپ لوگوں کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلاؤں۔ یہ زندگی صرف چندروزہ ہے۔ اِس دنیا میں نہ میں نے ہمیشہ رہنا ہے نہ آپ نے۔ اگرہم خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے ایک نیک بنیاد قائم کر دیں گے تو ہم اور ہماری نسلیں ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جائیں گی۔ لیکن اگرہم اس نیک بنیاد کو قائم کرنے میں حصہ نہیں لیں گے تو آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ گو روحانی نقطہ نگاہ کے ماتحت ہم کچھ کریں یا نہ کریں یہ سلسلہ بہرحال ترقی کرتا چلا جائے گا۔ کیونکہ یہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے۔ لیکن دنیوی نقطۂ نگاہ کے ماتحت ہم اور ہماری اولادیں اُن انعامات سے محروم ہو جائیں گی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اِس سلسلہ کی خدمت کرنے والوں کے لئے مقدر ہیں اور جو لازماً ایک دن ملنے والے ہیں۔ زمین ٹل جائے آسمان ٹل جائے آخر احمدیت نے دنیا میں قائم ہونا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی ایک اٹل تقدیر ہے۔ اُس کی طرف یہ منسوب کرنا کہ اس نے اپنا ایک مامور بھیجا مگر وہ ہار گیا ایک پاگل پن کی بات ہے۔ اگر خدا ہے اور اگر خدا اپنے نبیوں کو بھیجتا رہا ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا تھا تو ہم اپنے وجود میں شبہ کر سکتے ہیں، ہم اپنے کان، ناک، منہ اور زبان میں شبہ کر سکتے ہیں، ہم اپنے بیوی بچوں کے وجود میں شبہ کر سکتے ہیں مگرہم اِس بات میں کوئی شبہ نہیں کر سکتے کہ خدا تعالیٰ کا مامور اور مُرسل جس تعلیم کو لے کر آیا ہے وہ یقینا اپنے وقت پر کامیاب ہو گی۔ دشمن اس سے ٹکرائے گا تو پاش پاش ہو جائے گا۔ جس طرح ایک دریا کی زبردست لہریں چٹان سے ٹکرا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوتی ہیں اُسی طرح ان کی مخالفت ناکام ثابت ہو گی اور یہ سلسلہ عروج حاصل کرتا چلا جائے گا۔ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا ہے۔ لوگ نہ ہونے والی چیزوں کے متعلق اپنا پورا زور صَرف کر دیا کرتے ہیں اور ہم تو وہ کام کر رہے ہیں جو یقینا ہونے والا ہے اور جس کی پُشت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
    جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور
    ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے2
    اگر خدا تعالیٰ کی بات ٹل جائے تو اُس کی خدائی ہی باطل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ اور اُس کے بندوں کی باتوں میں فرق یہی ہوتاہے کہ بندہ بعض دفعہ پورے سامانوں کے ساتھ اٹھتا ہے اور ناکام ہوتاہے لیکن اللہ تعالیٰ جس بات کا فیصلہ کر لے اُس کے پورا ہونے میں کوئی چیز روک نہیں بن سکتی۔ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہو گی اگر آپ اِس کام میں حصہ لے کر آنے والی کامیابی کو قریب کر دیں اور خدا تعالیٰ کی بات کو پورا کر کے اُس کا ہتھیار بن جائیں۔ کیونکہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا ہتھیار بن جاتا ہے وہ بابرکت ہو جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ میں تجھے بہت برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوںسے برکت ڈھونڈیں گے۔3 اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کپڑے آپ کے جسم سے چُھوکر بابرکت ہوگئے تو یہ سمجھ لو کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے ہتھیار بن جاؤ گے تو تم میں کتنی برکت پیدا ہو جائے گی۔ یقینا اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جسم کے ساتھ چُھو جانے کی وجہ سے آپ کے کپڑوں کو برکت حاصل ہو گئی تو وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا ہتھیار بن کر خود اُس کے ہاتھ میں آجائے گا وہ ان کپڑوں سے بہت زیادہ بابرکت ہو گا۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اگر برکت دی تو خدا نے دی اور آپ کے کپڑوں کو بھی اگربرکت دی تو خدا نے دی۔ پس یقینا وہ ان برکتوں کا وارث ہو گا جو دنیا کی بڑی سے بڑی حکومتوں اور طاقتوں میں بھی نہیں پائی جاتیں۔‘‘ (الفضل مورخہ 29ستمبر1950ئ)
    1: کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ321 میں ’’جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔ بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ‘‘ کے الفاظ ہیں۔
    2: در ثمین اردو صفحہ 158 ۔
    3: تذکرہ صفحہ 10 ایڈیشن چہارم میں ’’میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘ کے الفاظ ہیں۔

    23
    عورتوں کے لئے دین سیکھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرو
    (فرمودہ 29ستمبر 1950ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’گزشتہ سال میں نے تحریک کی تھی کہ یہاں مسجد کے لئے اَور زمین لے لینی چاہیے اور آہستہ آہستہ ایک بڑی مسجد بنانی چاہیے کیونکہ یہ مسجد کافی نہیں۔ اُس وقت مجھے بتایا گیا تھا کہ دس ہزار کے قریب چندہ ہوا ہے اور اس چندے کا بیشتر حصہ جمع بھی ہو گیا ہے اور چونکہ اب اس پر ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے یعنی ایک سال پانچ مہینے ہو چکے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ غالباً باقی رقم بھی جمع ہو چکی ہو گی۔ لیکن اِس وقت تک زمین نہیں خریدی گئی۔ بالکل ممکن ہے کہ جب آہستہ آہستہ لوگوں کے حالات درست ہوتے جائیں تو زمینیں بھی مہنگی ہوتی جائیں۔ جس طرح دوست یہاں بیٹھے ہیں ظاہر ہے کہ نماز صحیح طور پر جس طرح کہ شریعت کا حکم ہے نہیں پڑھی جا سکتی۔ باوجود اس کے کہ کچھ لوگ کوٹھے پر نماز پڑھیں گے اور کچھ گلی میں نماز پڑھیں گے۔ گلی میں نماز پڑھنا درحقیقت منع ہوتاہے مگر ہم مجبوری کی وجہ سے قادیان میں بھی اِس کی اجازت دے دیتے تھے اور یہاں بھی روکتے نہیں کیونکہ جب مسجد میں جگہ ہی نہ ہو تو لوگ کیا کریں۔ مگر ظاہر ہے کہ جس امر کو شریعت نے پسند نہیں کیا اُسے جلد سے جلد ہمیں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر جمعہ بھی عید کی طرح کی ایک تقریب ہے جس میں خطبہ بھی پڑھا جاتا ہے اور یہ ایک پسندیدہ امر ہے۔ کم سے کم احمدیت کی سنت یہی ہے کہ عورتیں بھی نمازِ جمعہ میں شامل ہوں۔ پرانے زمانے کے فقہاء عورتوں کا جمعہ میں شامل ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ سے اس بات پر زور دیا جانے لگا کہ عورتوں کو بھی جمعہ میں آنا چاہیے کیونکہ جمعہ کی مثال عید کی طرح ہے۔ جس طرح عید میں ایک بڑا مجمع ہوتاہے خطبہ پڑھایا جاتا ہے اور قومی ضرورتوں کے متعلق جماعت کو توجہ دلائی جاتی ہے اس طرح جمعہ کے دن تمام شہر کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور خطبہ میں ان کو ان کی وقتی یا مستقل ضرورتوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ پس عورتیں جو جماعت کا ایک ضروری حصہ ہیں اُن کو ان ضرورتوں سے ناواقف رہنے دینا یا ان کو واقفیت کے مواقع بہم نہ پہنچانا یہ اپنی ترقی اور قومی اتحاد کے راستہ میں روک پیدا کرنا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم میں جو بالغ مرد ہوتے ہیں وہ اوسطاً 1/4 ہوتے ہیں۔ کسی قوم میں 1/3 اور کسی قوم میں 1/4۔ بعض جگہ پر تو اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ ہمارے احمدیوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے نسل زیادہ چلتی ہے۔ دوسرے لوگوں سے پوچھو کہ کتنے بچے ہیں؟ تو وہ کہیں گے کہ ایک بچہ ہے یا دو بچے ہیں۔ لیکن کسی احمدی سے پوچھو تو وہ چھ بچوں سے کم نہیں بتائے گا۔ کہے گا میرے چھ بچے ہیں یا سات بچے ہیں یا آٹھ بچے ہیں یا نو بچے ہیں۔ یہ ایک الٰہی فضل ہے اور یہ بات بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سکیم جاری ہے تا کہ احمدیت کو دنیا پر غالب کر دے۔ دنیا میں ترقیِ ٔ قوم کے دو ہی راستے ہوتے ہیں ایک تبلیغ کا راستہ اور ایک عورت کا راستہ۔ یا عورتوں کے ذریعہ نسل بڑھانا یا تبلیغ کے ذریعہ جماعت بڑھانا۔ ان دو راستوں میں سے تبلیغ کے راستہ کی طرف ہماری جماعت پوری طرح متوجہ نہیں۔ کرتے ہیں تبلیغ ،مگر سارے نہیں کرتے کم کرتے ہیں۔ اور کرتے ہیں تبلیغ لیکن جو طریق ہیں صحیح تبلیغ کے اُس طرح نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ثمرہ ہم کو اتنا وافر نہیں ملتا جتنا ملنا چاہیے۔ مگر جو خدا کا حصہ ہے وہ اس سے غافل نہیں۔ ہمیں اگرچہ سال میں چار احمدی بنانے چاہئیں مگر ہم میں سے بہت کم ہیں جو ایک احمدی بھی بناتے ہیں۔ اور بعض توبالکل تبلیغ کرتے ہی نہیں۔ تو گو ہم اس فرض سے غافل ہوتے ہیں مگر ہمارا خدا غافل نہیں ہوتا۔ ہم بعض دفعہ عمر بھر میں ایک آدمی بھی نہیں لاتے مگر خدا ہم کو دس سال میں دس بچے دے دیتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ اگر تم اُس طرح اپنی تعداد نہیں بڑھاتے تو میں اِس طرح تمہاری تعداد بڑھا دیتا ہوں۔ مگر وہ بچے کس کام کے اگر اُن کی تربیت کرنے والا کوئی نہیں۔ آپ اپنے گھروں میں بیٹھ نہیں سکتے۔ نو بجے آپ نے گھر سے باہر کی تیاری کی اور نو بجے تک جو آپ اپنے گھروں میں رہتے ہیں اس میں بھی کئی کام کاج ہوتے ہیں۔ شام کو آپ واپس آتے ہیں تو تھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ کچھ دیر آرام کیا، کھانا کھایا اور رات ہو گئی۔ بچے کچھ پہلے سونے کے عادی ہوتے ہیں وہ سوئے تو عورت نے اپنی ضرورتیں بیان کرنی شروع کر دیں۔ اور پھر انہی باتوں میں نیند آئی اور سو گئے۔ پس بچوں کی تربیت کے لئے آپ کے پاس بہت ہی کم وقت ہوتا ہے۔ یہ وقت عورت کے پاس ہی ہے اور وہی اپنے بچوں کی صحیح تربیت کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کا ملازمتیں کرنا اور ان کا گھروں سے باہر رہنا پسند نہیں کیا۔ باقی مذاہب نے اس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی اور انہوں نے اپنے اجتہاد سے ایسی تعلیم عورتوں کے لیے جائز سمجھی جس سے وہ نوکری کرنے کے قابل ہو سکیں اور ایسی تعلیم جائز سمجھی جس سے وہ آزاد زندگی بسر کر سکیں۔ لیکن اسلام نے عورت کا ایک مقصد مقرر کیا اور پھر اس نے عورت کے کاموں کو ایسے رنگ میں معیّن اور محدود کر دیا کہ وہ زیادہ وقت اپنی اولاد کی تعلیم اور اس کی تربیت میں صَرف کرے اور کچھ وقت اپنی بہنوں اور رشتہ داروں کی اصلاح اور ان کی علمی ترقی میں خرچ کرے۔ لیکن اگر عورت کو وہ تعلیم ہی نہیں دی گئی جس سے کام لے کر وہ صحیح تربیت کر سکے تو اس کی ایسی ہی مثال ہو گی جیسے سپاہی تو بھرتی کر لئے جائیں مگر انہیں کام نہ سکھایا جائے۔ یا ایسی فوج بھرتی کر لی جائے جس میں فوج کی کوئی خوبیاں نہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ وہ فوج لڑنے کے قابل نہیں ہو گی گو نام کے لحاظ سے وہ فوج ہی کہلائے گی۔ اِسی طرح آپ لوگ بھی اگر اپنی عورتوں کو یہ مواقع بہم نہیں پہنچاتے کہ وہ دین کی باتیں سنیں یا اس لالچ اور حرص کے زمانہ میں آپ بھی دوسروں کو دیکھتے ہوئے یہ چاہتے ہیں کہ ہم عورت کو ایسی دنیوی تعلیم دلائیں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو تو اس کا کیا نتیجہ ہو گا؟ غیروں میں تو یہ بات قابلِ برداشت سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ اگر وہ اپنی لڑکی کا کسی عیسائی سے بھی بیاہ کر دیں تو وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ مگر ہمارے ہاں دوسرے مسلمان سے بھی نکاح جائز نہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ ضائع ہو جاتی ہیں یا ساری عمر کنواری رہتی ہیں یا دوسری جگہ شادیاں کر لیتی ہیں۔ تو ماں باپ محبت کی وجہ سے ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتے اور اِس طرح اُن کے ساتھ ہی خود مرتد ہو جاتے ہیں اور یا پھر جھوٹ بول کر ہماری سزا سے بچنا چاہتے ہیں۔ تب وہ لوگوں کی نظروں میں تو مرتد نہیں ہوتے مگر خدا تعالیٰ کی نظروں میں وہ مرتد ہی سمجھے جاتے ہیں۔
    دوسرے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ اُمِّ طاہر کی بیماری کے دنوں میں جب میں نے انہیں گنگا رام ہاسپٹل میں داخل کیا تو ایک ہندو مجھے ملے اور انہوں نے اپنی بیوی بھی مجھ سے ملوائی۔ وہ اُمِّ طاہر کی خبرگیری کے لئے آئے تھے۔ اُمِّ طاہر کے بھائی چونکہ جیل خانہ کے افسر تھے اور انہوں نے اُس ہندو کے ساتھ قید کے دنوں میں اچھا سلوک کیا تھا اس لئے وہ اظہارِ تشکر کے طور پر اُمِّ طاہر کی عیادت کے لئے آگئے۔ جب انہوں نے بات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ اُن کی بیوی مسلمان ہے۔ ایک بیٹی اُن کے خسر کی میرے ایک پھوپھی زاد بھائی کے سالے سے بیاہی ہوئی تھی ۔ایک اس ہندو سے بیاہی ہوئی تھی اور ایک اسی قسم کیکسی تیسرے آدمی سے بیاہی ہوئی تھی۔ تو ان لوگوں میں اس سے کوئی پرہیز نہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تنگ ظرفی ہے اگر شادی بیاہوں کو وسیع نہ کیا جائے۔ حالانکہ غیراحمدی سے شادی نہ کرنا ایک غیراحمدی کے لئے اگر نیا مسئلہ ہے تو غیر مسلم سے شادی نہ کرنا کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ قرآن کریم میں یہ بات صراحت سے موجود ہے مگر وہ اسلام سے اتنا دور ہو چکے ہیں کہ انہیں ان باتوں کی اب کوئی پروا ہی نہیں۔ اچھا رشتہ عیسائی مل جائے تو کہیں گے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بڑا اچھا رشتہ ملا ہے۔ اچھا رشتہ سکھ مل جائے تو کہیں گے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بڑا اچھا رشتہ ملا ہے۔ اچھا رشتہ ہندو مل جائے توکہیں گے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بڑا اچھا رشتہ ملا ہے۔ اب پارٹیشن کے بعد مسلمانوں کے دلوں میں ایک قسم کا بُغض ہندوؤں اور سکھوں کے متعلق پیدا ہوا ہے لیکن پندرہ بیس سال کے بعد ممکن ہے جب یہ بُغض دور ہو جائے تو تعلیم یافتہ طبقہ کہے کہ اجی! ان باتوں میں کیا رکھا ہے مذہب اپنا اپنا رہے اور شادی ہو جائے تو کیا حرج ہے۔ دین تو صرف دل اور دماغ کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیز ہے اس کا شادیوں کے ساتھ کیا تعلق ہے۔
    میرے ایک عزیز تھے جو اَب فوت ہو چکے ہیں میری ایک بیوی کے ماموں تھے۔ انہوں نے قصہ سنایا کہ ایک ریلوے کلرک تھا اس نے مجھے ایک دن کہا کہ آؤ ہم آپ کو مولویوں کا ایمان دکھائیں۔ وہ شخص ان کا دوست تھا اور یہ ڈاکٹر تھے۔ وہ انہیں آگرہ کی جامع مسجد کے امام کے پاس لے گیا اور ان کے سامنے گُھٹنے ٹیک کر دو روپے بطور نذرانہ پیش کئے اور پھر کہا میں جناب سے ایک مشورہ لینے آیا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ مجھے فلاں محکمہ میں سَویا سَوا سَو روپیہ تنخواہ ملتی ہے مگر میرا اس میں گزارہ نہیں ہوتا۔ اب ریلوے میں ایک جگہ مل رہی ہے وہاں تنخواہ تو ساٹھ روپے ہے مگر بالائی آمد تین چار سو روپیہ کے قریب ہے۔ حضور کا اِس کے متعلق کیا خیال ہے؟ اب انہیں تو دو روپے کی نذر مل چکی تھی اِس کے بعد اُن کے لئے یہ کہنا بڑا مشکل تھا کہ تمہارے لئے رزق کی یہ وسعت ناجائز ہے۔ سرمار کر کہنے لگے اچھا ہے، کافی آمدن ہے کر لو۔ اور یہ کہنے کی توفیق نہ ملی کہ یہ تو حرام آمد ہے۔ حلال کے ساتھ حرام آمد کس طرح لائی جا سکتی ہے۔ بلکہ اس نے جب کہا کہ تنخواہ تو ساٹھ روپے ہے مگر تین چار سو روپیہ اوپر کی آمد ہے تو انہوں نے کہا کیا معقول آمد ہے۔ بیشک ملازمت کر لو۔
    یہی نظریہ پہلے عام طور پر مسلمانوں کا تھا اور جب آپس کی مخالفت دور ہو گی تو پھر پیدا ہو جائے گا۔ عیسائی ہو، ہندو ہو، سکھ ہو اگر اس کا گزارہ اچھا ہو گا اور تین چار ہزار یا پانچ ہزار آمد ہو گی تو مسلمان کہے گا کہ اس کے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی کر دینے میں کیا حرج ہے۔ بلکہ ماں باپ کی رضامندی سے پہلے ہی لڑکی کہہ دے گی کہ میں نے تو فلاں جگہ شادی کر لی ہے۔ اور جب وہ سنیں گے کہ لڑکے کی چار پانچ ہزار روپے ماہوار آمد ہے تو گو ظاہر میں وہ یہی کہیں گے کہ تم نے بُرا کام کیا مگر دل میں خوش ہوں گے کہ چلو جو کچھ ہو گیا اچھا ہو گیا۔ مگر ایک احمدی ایسا نہیں کر سکتا۔ لیکن بعض احمدی بھی ایسی غلطیاں کرتے ہیں کہ وہ اپنی لڑکیوں کو ایسی تعلیمیں دلواتے ہیں جس کے بعد ان کے لئے رشتے ملنے مشکل ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ جب ملازمت والی تعلیم کی ضرورت صرف مردوں کے لئے ہے اور عورتوں کی اصل ذمہ داری اولاد کی صحیح تربیت کرنا ہے تو ان کی تعلیم صرف اس رنگ میں ہونی چاہیے کہ کچھ دینی تعلیم ہو اورکچھ دنیوی تعلیم ہو تاکہ اپنی اولاد کو وہ اسلام کی خدمت کے لئے تیار کر سکیں۔ ہم جو ایک آدمی کو پانچ گنتے ہیں تو اس لحاظ سے کہ ایک وہ خود ہوتا ہے ایک اس کی بیوی ہوتی ہے اور تین اسکے بچے ہوتے ہیں۔ مگر ایک کو پانچ ہم اُسی وقت گن سکتے ہیں جب اسکے تین چار بچے ہمارے ہو جائیں۔ لیکن جب ماں صحیح تعلیم حاصل نہیں کرتی اور اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرتی تو وہ تین ہمارے نہیں ہو سکتے بہرحال کسی اَور کے ہوں گے۔ اتفاقی طور پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی بچے کی اپنے باپ سے زیادہ محبت ہوتی ہے اور وہ اسے اپنے ساتھ جمعہ میں بھی لاتا ہے ،درس میں بھی لاتا ہے، تقاریر میں بھی لاتا ہے ، وعظ و نصیحت کی مجالس میں بھی لاتا ہے اور اس طرح وہ دین کا خادم بن جاتا ہے۔ چنانچہ کئی لوگ ایسے ہیں جن کی بیویاں سلسلہ کی سخت مخالف تھیں مگر ان کے بچے بڑے مخلص ہیں مگر یہ ایک اتفاقی حادثہ ہے اور اتفاقی حادثہ کو ہم قانون نہیں کہہ سکتے۔ قانون وہی ہوتا ہے جس کے ماتحت ہم وقت سے پہلے اندازہ لگاسکیں کہ یہ نتیجہ ظاہر ہو گا۔ جس شخص کی بیوی مخالف ہے ہم دس سال پہلے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کا لڑکا بڑا مخلص ہو گا۔ لیکن جس شخص کی بیوی مخلص ہے ہم دس سال پہلے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کا لڑکا بھی مخلص ہو گا کیونکہ ماں دین کی واقف ہے۔
    پس عورتوں کا دین کی تعلیم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے اور کم سے کم تعلیم جو کسی عورت کو حاصل ہو سکتی ہے وہ جمعہ اور عیدین کے خطبات میں شامل ہو کر ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ مثلاً یہی جو میرا خطبہ ہے اس میں سے اگر خالص امور عورتوں کے لئے نکالے جائیں تو کئی نکالے جا سکتے ہیں۔ مثلاً ایک امر میں نے یہی بیان کیا ہے کہ اسلام نے عورت کا اصل فرض اس کے بچوں کی تعلیم و تربیت رکھا ہے۔ آخر انعام کسی سخت کام پر ہی ملا کرتاہے۔ عورتیں کہتی ہیں کہ یہ بڑا تلخ کام ہے کہ ہم گھر میں رہیں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا فرض ادا کریں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ تلخ کام ہے تو تلخ کام پر ہی تو انعام ملا کرتا ہے۔ کیا تم سمجھتی ہو کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس بات پر تمہیں انعام دے گا کہ تم نے کتنے سیر رس گُلّے کھائے تھے؟ اگر تم کہو گی کہ میں نے دس سیر رس گُلّے کھائے تھے تو خدا تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ لے جاؤ اِس عورت کو جنت کے اونچے طبقہ میں کیونکہ اس نے بڑے رس گُلّے کھائے تھے۔ پھر ایک غریب عورت اس کے سامنے پیش ہو گی اور وہ پوچھے گا بتاؤ تم نے کتنے رس گُلّے کھائے؟ اوروہ کہے گی خدایا! میںنے تو ایک دن صرف ایک رس گُلّا چکھا تھا۔ اس پر خدا کہے گا لے جاؤ اس کو جنت کے ادنیٰ طبقہ میں کیونکہ اس نے صرف ایک رس گُلّا چکھا تھا۔ پھر ایک اَور عورت پیش ہو گی اور خدا اس سے پوچھے گا کہ بتاؤ تم نے کتنے رس گُلّے کھائے؟ اور وہ کہے گی خدایا! میں نے تو رس گُلّے کی کبھی شکل تک نہیں دیکھی۔ اس پر خدا کہے گا ڈالو اس کمبخت کو دوزخ میں کیونکہ اس نے رس گُلّا دیکھا تک نہیں۔ اب یا تو یہ سمجھو کہ قیامت کے دن ان بنیادوں پر فیصلہ ہو گا۔ اور اگر تم سمجھتی ہو کہ ان باتوں پر خدا تعالیٰ کے انعامات نہیں ملیں گے بلکہ قربانیوں کے مطابق انعام ملیں گے تو اگر یہ صحیح ہے کہ عورت کی یہ زندگی بہت تکلیف دہ ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ عورت کا انعام بھی بہت بڑا ہے۔
    بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ مرد اپنے لئے اَور قانون بنا لیتے ہیں اور عورت کے لئے اَور قانون بنا دیتے ہیں۔ اول تو یہ صحیح نہیں کیونکہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ قانون ہمارا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا بنا ہوا قانون ہے۔ دوسرے دنیا میں ہر شخص اَوروں کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ وہ آرام میں ہیں اور اپنے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھا رہا ہوں۔ مرد کے ذمہ جو کمائی کی ذمہ داری ڈالی گئی یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں۔ ایک غریب آدمی جس کی کچھ بھی تعلیم نہیں ہوتی کس طرح رات اور دن ایک کر دیتا ہے صرف اس لئے کہ وہ ایک یا دو روٹیاں اپنے بیوی بچوں کے لئے مہیا کرے۔ پھر وہ روزی کمانے کے لئے لڑائیوں میں جاتا ہے اور موت کے منہ میں اپنے آپ کو ڈال دیتا ہے۔ بے شک اُس وقت عورت بھی تکلیف پاتی ہے کیونکہ مرد اُس کے پاس نہیں ہوتا مگر مرد بھی اُتنی ہی تکلیف اٹھا رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کی عورت اس کے پاس نہیں ہوتی۔ پھر عورت اُن مشکلات میں سے نہیں گزرتی جن مشکلات میں سے مرد گزر رہا ہوتا ہے۔ وہ توپوں کے گولوں کے سامنے جاتا ہے، رائفلوں کی گولیاں اپنے سینے پر لیتا ہے، مائنز(Mines) پر سے گزرتا ہے اور اس کی غرض کیا ہوتی ہے؟ صرف اتنی ہوتی ہے کہ میری بیوی اور بچے گزارہ کر سکیں اور اُن کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ غرض وہ تمام مشکلات جن میں سے کہ مرد گزرتا ہے اُن کا خلاصہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ میری بیوی کو روٹی ملتی رہے اور میرے بچے بھوکے نہ رہیں۔ پس ہر شخص کی تکلیف اپنے اپنے رنگ کی ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ دوسروں کو تکلیف کم ہے اورمیری تکلیف زیادہ ہے نادانی ہوتی ہے۔
    مردوں میں بھی بعض ایسے کند ذہن ہوتے ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ عورتوں کا کام ہی کیا ہے۔ گھروں میں آرام سے بیٹھی رہتی ہیں حالانکہ اگر دونوں کی زندگی بدل دی جائے عورت سے کہا جائے کہ باہر نکل آئے اور مرد سے کہا جائے کہ گھر میں بیٹھ رہے تو عورت فورًا کہہ دے گی کہ میں تو گولی کے آگے جانے کے لئے تیار نہیں اور مرد فورًا کہہ دیںگے کہ ہم تو گھر میں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں۔ پس یہ جاہل مردوں کا طریق ہے کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ عورت کا کوئی کام ہی نہیں ۔ گھر کی چاردیواری کے اندر قید ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ اسی طرح لڑائیوں میں جانا اور گھر کے اخراجات اور کھانے پینے کی ذمہ داریوں کو اٹھانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔
    میں مانتا ہوں کہ کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتے۔ کما کر لاتے ہیں پندرہ روپے اور پھر بیوی سے کہتے ہیں کہ وہ انہیں پراٹھے بھی کھلائے اور بُھنا ہوا گوشت بھی دے۔ اور اگروہ نہیں دیتی تو جُوتی لے کر اس کے سر پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اتنے روپوں میں میری بیوی اور بچوں کے لئے دال بھی بچتی ہے یا نہیں۔ پس ہیں ایسے مرد لیکن ایسی عورتیں بھی ہیں جو بے ایمان اور بدکار ہوتی ہیں اور اپنے گھر میں نہیں ٹھہرتیں۔ سارا دن اِدھر اُدھر آوارہ پھرتی رہتی ہیں۔ پس مرد بھی ایسے نالائق موجود ہیں جو تھوڑی سی کمائی کر کے ساری اپنے ہی پیٹ میں ڈالنا چاہتے ہیں اور عورتیں بھی ایسی ہیں جو گھروں میں نہیں بیٹھتیں اور آوارہ پھرتی رہتی ہیں۔ پس جہاں تک قانون شکنی کا سوال ہے عورت میں ہی نہیں مرد میں بھی ہے اور مرد میں ہی نہیں عورت میںبھی ہے اور جہاں تک محنت اور قربانی کا سوال ہے مرد کی قربانی بھی کچھ کم نہیں ۔اور عورت کی قربانی بھی کچھ کم نہیں دونوں یکساں ہیں۔ میں ساڑھے تین مہینے بیمار رہ کر چارپائی پر پڑا رہا ہوں۔ میں خبر نہیں کیا کچھ قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا اگر اس قربانی کے نتیجہ میں مجھے باہر نکلنے کا موقع مل جاتا ۔ پس عورت کی قربانی معمولی نہیں۔ جو شخص اسے کم سمجھتا ہے وہ بھی بیوقوف ہے اور جو عورت مرد کی قربانی کو کم سمجھتی ہے وہ بھی بیوقوف ہے۔ دونوں کے لئے خدا تعالیٰ نے یکساں قربانی رکھی ہے اور دونوں قربانیاں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں۔ بنیے کو دیکھ لو کس طرح وہ اسی لالچ اور حرص میں ایک چھوٹی سی دکان میں اپنا سارا دن گزار دیتا ہے اور اِدھر اُدھر چلنے کا نام تک نہیں لیتا۔ عورت کے چلنے پھرنے کے لئے تو پھر بھی پندرہ بیس فٹ کا صحن ہوتا ہے مگر وہ پانچ فٹ کے چبوترہ پر ہی بیٹھا رہتا ہے اور ذرا بھی اِدھر اُدھر نہیں جاتا اس لئے کہ کہیں پیسے یا دھیلے کا سَودا نہ رہ جائے۔ پس اس رنگ کی قربانیاں مرد بھی کرتے ہیں صرف عورتوں سے ہی مخصوص نہیں ۔ پھر کیا یہ قید گھر کی چار دیواری میں بیٹھے رہنے سے کچھ کم ہے کہ ایک سپاہی دھوپ کی حالت میں سڑک پر کھڑا ہاتھ دے رہا ہوتا ہے۔ کبھی اِس طرف اشارہ کرتا ہے اور کبھی اُس طرف۔ دھوپ پڑ رہی ہے، پسینہ بہہ رہا ہے مگر وہ اسی حالت میں برابر چاروں طرف دیکھتا ہے اور کبھی اِس گاڑی کو کھڑا کرتا ہے اور کبھی اُس گاڑی کو۔ عورت کو اُس مقام پر کھڑا کرو تو دو گھنٹہ میں ہی اُسے سمجھ آجائے کہ مرد بھی قربانی کررہے ہیں۔
    درحقیقت خدا تعالیٰ نے مرد اور عورت کے الگ الگ کام اور الگ الگ قربانیاں مقرر کی ہیں مگر یہ تبھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں جب اپنے فرائض کو صحیح طور پر سمجھا جائے۔ عورت گھر میں بیٹھے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرے۔ اگر وہ گھر میں تو رہتی ہے مگر بچوں کی تربیت کا کام نہیں کرتی تو وہ محض قید میں اپنے دن گزارتی ہے۔ اِسی طرح اگر مرد باہر پھرتا ہے مگر وہ اپنے بیوی بچوں کے لئے صحیح طور پر کمائی نہیں کرتا تو وہ صرف آوارہ گردی کر رہا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ عورت گھر میں قید ہوتی ہے مگر اُسی وقت جب وہ بچوں کی تربیت سے غافل ہوتی ہے۔ اگر غافل نہیں تو وہ قید نہیں بلکہ وہ کام کر رہی ہے۔ فوج کا سپاہی جو محاذِ جنگ پر جاتا ہے وہ بعض دفعہ میلوں میل مارچ کرتاچلا جاتا ہے اور ڈاکٹر چوبیس گھنٹے ہسپتال کے ایک کمرے میں جاگ رہا اور کام کر رہا ہوتاہے۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سپاہی تو کام کر رہا ہے مگر ڈاکٹر کا کوئی کام نہیں۔ بلکہ دنیا اس ڈاکٹر کے کام کو زیادہ وقعت دیتی ہے کیونکہ اُس کا ایک جگہ بیٹھا رہنا اور رات دن کام میں مشغول رہنا زیادہ قربانی ہوتی ہے۔ پھر باہر کا آدمی بھی بعض دفعہ ایسے کام پر مقرر ہوتا ہے جس میں بڑی دلیری اور جرأت اور بہادری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس وقت گھر میں بیٹھنے والا اُس باہر پھرنے والے آدمی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً جاسوسی کا کام ہی ہے اس کے لئے بڑی ہوشیاری اور بڑی جرأت اور دلیری کی ضرورت ہوتی ہے۔ لارنس ایک انگریز تھا جو عرب میں گیا اور اُس نے جاسوسی کے ذریعہ وہاں کے بڑے بڑے راز معلوم کئے۔ وہ ایک معمولی آدمی تھا۔ جب گیا ہے تو کیپٹن یا میجر کے عہدہ پر کام کرتا تھا مگر بعد میں قوم کا لیڈر بن گیاکیونکہ اس نے دنیا کے چکر کاٹے۔ مگر آوارگی کے لئے نہیں بلکہ اپنی قوم کو فائدہ پہنچانے کے لئے۔ تو گھر میں بیٹھنے والی عورت اگر کوئی کام نہیں کر رہی تو وہ قید ہے اور باہر پھرنے والا مرد اگر کوئی کام نہیں کر رہا تو وہ آوارہ ہے۔ اصل بات جو دیکھنے والی ہوتی ہے یہ ہے کہ جو کام کسی کے سپرد کیا گیا ہے اُس کو وہ کس حد تک سرانجام دے رہا ہے۔
    پس اگر ہماری عورتوں کو اس طرح تعلیم نہیں دی جاتی کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کے فرائض کو صحیح طریق پر سرانجام دے سکیں تو ان کی یہ بات ٹھیک ہے کہ انہیں چار دیواری میں قید کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کی تعلیم کے لئے کوئی موقع ہی پیدا نہیں کیا جاتا۔ یہی چھوٹی سی بات دیکھ لو آپ کی مسجد میں پانچویں یا چھٹے حصہ کے برابر عورتوں کی گنجائش ہے۔ حالانکہ عورتیں مردوں سے نصف ہیں اور پھر بچے بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ تین چار سال کا بچہ تو ضرور اپنی ماں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ پس ان کے لئے جگہ مردوں سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہونی چاہیے۔ مگر آپ نے ان کے لئے اتنی جگہ رکھی ہے کہ اگر باری باری عورتیں آئیں تو آٹھویں دسویں دفعہ ایک عورت آسکتی ہے۔ پھر تعلیم وہ کہاں حاصل کر سکتی ہیں اور دین کی واقفیت انہیں کس طرح ہو سکتی ہے۔ ابھی ہمیں ایسی سہولتیں میسر نہیں کہ ہم ہر جگہ قرآن کریم کا درس جاری کر سکیں جیسا کہ قادیان میں ہوا کرتا تھا اور جیسا کہ ربوہ میں انشاء اللہ ہو جائے گا۔ لیکن اگر ہم اس بات پر قادر نہیں کہ ہر جگہ ایسا انتظام کر سکیں تو کم سے کم جمعہ کا ایک خطبہ تو عورت کو سننے کا موقع دینا چاہیے۔ اگر تم کسی کو دووقت کا کھانا اور ناشتہ نہیں دے سکتے تو تمہیں کم از کم چوبیس گھنٹہ میں ایک روٹی تو دینی چاہیے۔ اگر عورتوں کو روزانہ دین سکھانے کا ابھی تمہارے پاس کوئی ذریعہ نہیں تو کم سے کم یہ تو کرو کہ ہفتہ کا ایک خطبہ انہیں سننے کا موقع دو۔ مگر وہ خطبہ کس طرح سن سکتی ہیں اور کونسا ذریعہ ہے جس سے کام لے کر وہ یہاں آسکتی ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں عورتوں کے لئے جو جگہ ہے وہ مردوں کی جگہ کا شاید دسواں حصہ ہو گا۔ گرمیوں میں مَیں نے سنا ہے کہ بعض عورتیں بے ہوشی کے قریب پہنچ جاتی ہیں اوربعض بے ہوش بھی ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف دینی تعلیم کے مواقع بہم نہ پہنچانا اور دوسری طرف یہ امید رکھنا کہ وہ تربیت کے فرائض نہایت عمدگی سے سرانجام دیں بالکل بے جوڑ بات بن جاتی ہے۔ جب تعلیم ان میں ہے ہی نہیں، جب تربیت کے مواقع ہی ان کے لئے پیدا نہیں کئے جاتے تو وہ دوسروں پر کیا اثرڈالیں گی۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر عورتوں کے اندر بیداری پیدا کر دی جائے اور انہیں دین سے واقف کیا جائے تو وہ اپنے مردوں کو نہایت آسانی کے ساتھ راہِ راست پر لا سکتی ہیں۔
    کوئٹہ میں مَیں نے ایک دفعہ تقریر کی جس میں کئی فوجی افسر بھی شامل ہوئے۔ دو تین فوجی افسر تو تقریر سے اتنے متاثر ہوئے کہ واپسی پر وہ آپس میں یہ باتیں کرتے گئے کہ ہم نے تو اَب احمدی ہو جانا ہے کیونکہ صداقت ہم پر کُھل گئی ہے۔ یہ بات شیطان نے اُن کی بیویوں تک بھی پہنچا دی۔ ان فوجی افسروں میں سے ایک نے چند دنوں کے بعد ہمارے ایک دوست سے کہا کہ میری بیوی نے مجھے بُلا کر کہا کہ یہ لوگ کافر اور خدا تعالیٰ کے منکر ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی نہیں مانتے اور تم ان کے گھر گئے ہو!! پہلے مجھے طلاق دے دو اور پھر ان کے پاس جایا کرو۔ یہ بات سنا کر اس احمدی دوست سے اُس نے کہا کہ آئندہ میں تم سے مل نہیں سکوں گا۔ اب دیکھو یہ نتیجہ اِس بات کا تھا کہ عورت نے ہمارے متعلق کوئی صحیح بات سنی ہی نہ تھی۔ ملّاں نے اس کے کان میں جو کچھ ڈال دیا اسے اُس نے پَلّے باندھ لیا۔ عورت سنتی کم ہے مگر جتنی بات سنتی ہے اُسے ایسی گرہ دیتی ہے کہ اُس سے اِدھر اُدھر نہیں ہوتی اورمرد سنتے زیادہ ہیں مگر باتوں کو گرہ کم دیتے ہیں۔
    ہماری نانی کی ایک بھاوج تھیں ہم دہلی جاتے تھے تو انہی کے گھر میں رہتے تھے۔ ان میں تعصب بہت زیادہ تھا۔ ایک دفعہ ان کے بھائی آگئے وہ حیدرآباد میں رہتے تھے مگر کبھی کبھی دہلی آجاتے تھے اور میں اتفاقاً اُن دنوں دہلی گیا ہوا تھا اور نانی کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا۔ انہوں نے آتے ہی پوچھا کہ یہ بچہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ تمہاری فلاں بھانجی کا بیٹا اور ہمارا نواسہ ہے۔ وہ میرے پاس بیٹھ گئے اور پوچھنے لگے کہ قادیانیت کیا شے ہے؟ تمہیں کچھ علم ہو تو بتاؤ۔ میں نے اپنے علم کے مطابق وفاتِ مسیح اور ختمِ نبوت وغیرہ کے متعلق دلائل دیئے اور ایک دو آیتیں بھی پیش کیں۔ وہ آدمی نرم مزاج اور شائستہ طریق کے تھے باتیں سن کر کہنے لگے کہ تمہاری باتیں تو سب ٹھیک ہیں پھر مولوی کیوں مخالفت کرتے ہیں؟ اتنے میں ہماری نانی بڑے غصہ سے آئیں اور اپنے بھائی سے کہنے لگیں اس کا تو دماغ خراب ہے تمہارا بھی دماغ خراب ہو چکا ہے کہ اس کو اَور بگاڑ رہے ہو۔اب نہ احمدیت کے متعلق انہوں نے کبھی تحقیق کی نہ کبھی غور کیا اور اپنے بھائی کو ڈانٹنا شروع کر دیا کہ تم اس کو بگاڑ رہے ہو۔
    ہماری انہی نانی کا ایک اَور واقعہ بھی بعض عزیزوں نے سنایا ۔ ایک دفعہ حیدرآباد میں عورتوں کے لئے ایک نمائش منعقد ہوئی۔ سیٹھ عبداللہ بھائی کی بیوی نے بھی نمائش گاہ میں سلسلہ کی کتابوں کی ایک دکان کھول لی۔ وہاں نوابوں، رؤساء اور افسروں کی بیویاں آتیں اور وہ انہیں سلسلہ کی کتابیں پیش کرتیں۔ چونکہ یہ رئیس خاندان ہے اس لئے ان کے رؤساء کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ جب ان کے خاندانوں کی مستورات وہاں آتیں تو سیٹھ عبداللہ بھائی کی بیوی انہیں بتاتیں کہ یہ احمدیت کی کتابیں ہیں اور ان میں یہ یہ لکھا ہے اور پھر کچھ کتابیں ان کو تحفۃً دے دیتیں تا کہ وہ گھر پر ان کا مطالعہ کریں۔ ایک دفعہ کسی نواب کی بیوی وہاں آئیں اور ان کے ساتھ ہماری نانی بھی تھیں کیونکہ ان کے بچے وغیرہ سب حیدرآباد رہتے تھے اور یہ بھی دلی سے حیدرآباد آگئی ہوئی تھیں۔ سیٹھ عبداللہ بھائی کی بیوی نے اس نواب کی بیوی کو بھی تبلیغ کی اور بتایا کہ احمدیت کیا چیز ہے اور جاتے ہوئے ایک کتاب بھی تحفۃً دے دی۔ چند دنوں کے بعد جو پھر اس نواب کی بیوی کو سیٹھ عبداللہ بھائی کی بیوی سے ملنے کا اتفاق ہوا تو وہ کہنے لگی کہ وہ جو میرے ساتھ دلّی والی خاتون تھیں انہوں نے تو مجھے ایک عجیب بات بتائی۔ جب ہم یہاں سے واپس گئیں تو وہ مجھے کہنے لگیں کہ تم نے اپنا وقت کیوں ضائع کیا۔ میری تو اپنی بھانجی ان کے ہاں بیاہی ہوئی ہے۔ دکان ہے دکان، مذہب تھوڑا ہی ہے۔ یوں دنیوی طور پر وہ ہم سے بڑی محبت کرتی تھیں۔ بات صرف اتنی تھی کہ مولوی نے ان کے کان میں یہ ڈال رکھا تھا کہ یہ محض ایک دکانداری ہے۔ ان کی ہمارے ساتھ رشتہ داری بھی تھی، تعلق بھی تھا۔ بعض ایسے رشتہ دار بھی تھے جو ہم سے بات تک نہیں کرتے تھے۔ مگر وہ ایسی تھیں کہ ہم دلّی جاتے تو انہیں کے گھر میں ٹھہرتے۔ مگر ان کے دل میں یہی یقین تھا کہ یہ ایک دکان ہے۔ مکہ میں بھی دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار آپ کے متعلق یہی کہا کرتے تھے کہ اس نے ایک دکان کھول رکھی ہے۔
    یہ واقعات بتاتے ہیں کہ عورتیں جو باتیں سنتی ہیں اُسے ایسا پختہ باندھ لیتی ہیں کہ ان کو اس سے ہٹانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اور وہ فائدہ جو اِن کی پختگی کا ہے اس سے دین بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ آخر وجہ کیا ہے کہ عورت کی پختگی سے شیطان تو فائدہ اٹھائے اور خدا فائدہ نہ اٹھائے۔ اگر وہ نہیں اُٹھاتا تو یہ محض ہماری سُستی کا نتیجہ ہے کہ ہم عورتوں کو تعلیم نہیں دیتے اور ان کے لئے ایسے مواقع بہم نہیں پہنچاتے کہ وہ دین سے اچھی طرح آگاہ ہو سکیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک صاف ورق کی طرح ہوتی ہیں اور دشمن کے لئے موقع ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے اس پر لکھ دے۔ اگر ہم ان کے دلوں پر دین کو اچھی طرح نقش کر دیں تو وہ ایسی مضبوط ثابت ہوں کہ مردوں سے بھی اپنے ایمان میں بڑھ جائیں۔ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ مرد کو ٹھوکر لگی ہے مگر عورت مخلص رہی ہے اور آخر عورت اپنے خاوند کو بچا کر لے آئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں عورتوں کی عام حالت یہ ہے کہ چونکہ ان میں دینی تعلیم کم ہے اگر ان کے خاوند کسی وقت مُرتد ہوتے ہیں تو ساتھ ہی وہ بھی مرتد ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ آج تک جتنے لوگ مرتد ہوئے ہیں اُن کے ساتھ ہی اُن کی بیویاں بھی مرتد ہو تی رہی ہیں۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اُن کا ایمان محض رسمی تھا۔ اس کے مقابلہ میں جہاں صحیح ایمان تھا وہاں بعض عورتوں نے اپنے خاوندوں کا اتنا سخت مقابلہ کیا کہ آخر انہیں دین کی طرف واپس لے آئیں۔ لیکن جہاں بھی عورت کی دینی تعلیم کم تھی وہاں خاوند کو ٹھوکر لگی تو ساتھ ہی عورت بھی ٹھوکر کھا گئی۔ خاوند کو تو کہیں نوکری کی وجہ سے ٹھوکر لگتی ہے۔ کہیں کسی مقدمہ کی وجہ سے ٹھوکر لگتی ہے کہیں کوئی اور باعث ہوتا ہے مگر جس رات وہ مرتد ہوتا ہے اُسی رات اس کی بیوی کا ایمان بھی خراب ہو جاتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ عورتوں کو دینی تعلیم سے واقف کیا جائے۔ مگر اس مسجد میں لاہور کی موجودہ جماعت کی عورتوں کو تعلیم نہیں دی جا سکتی بلکہ ہفتہ کا ایک خطبہ بھی وہ نہیں سن سکتیں۔ پس ضروری ہے کہ ہمارے پاس اس مسجد سے بڑی مسجد ہو اور ضروری ہے کہ یہاں کے مقامی مبلغ لجنہ اماء اللہ کو توجہ دلا کر ایسا انتظام کریں کہ عورتوں کو دینی تعلیم دی جا سکے۔ وہ ان کے سامنے نبوت، وفات ِمسیح، صداقتِ مسیح موعود اور موجودہ زمانہ کے اہم مسائل پر تقریریں کریں اور پھر سادہ اور آسان الفاظ میں ان کو نوٹ لکھوائیں تا کہ وہ ان کو یاد رکھیں اور ضرورت کے وقت ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ میں سمجھتا ہوں اگراس رنگ میں عورتوں کو تعلیم دی جائے، ان کے سامنے تقریریں کی جائیں اور انہیں مختلف مسائل پر نوٹ لکھوائے جائیں تو تھوڑے ہی دنوں میں عورتوں کی تبلیغ مردوں سے آگے نکل جائے۔ اور اگر عورتوں میں ہمارا تبلیغی اثر پہنچ جائے تو مرد خود بخود سلسلہ کی طرف توجہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
    ایک سال کا عرصہ ہوا ایک افسر مجھے ملنے کے لئے آئے۔ انہوں نے مجھے پیغام بھجوایا کہ میں نے اور میری بیوی نے اکٹھا ملنا ہے۔ میں نے کہا آجائیے۔ وہ آئے اور ملے۔ وہ اُس وقت مہاجرین کے کسی کیمپ پر لگے ہوئے تھے انہوں نے بتایا کہ میری بیوی نے آپ کے سلسلہ کا لٹریچر پڑھا ہے۔ یہ یاد نہیں رہا کہ انہوں نے یہ کہا کہ انہوں نے خود ہی سلسلہ کی کتابیں منگوا کر پڑھنی شروع کیں یا یہ کہا کہ ان کے کسی رشتہ دار نے انہیں لٹریچر دیا۔ بہرحال انہوں نے بتایا کہ یہ احمدیت سے بہت متاثر ہیں اور ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ احمدی مہاجرات کو کسی کام پر لگایا جائے اور اس بارہ میں یہ ہمیشہ کام کرتی رہی ہیں۔ مگر اب بعض افسر مخالفت کرتے ہیں اس لئے انہوں نے چاہا ہے کہ آپ کو یہ تحریک کی جائے کہ آپ کوئی اپنا کارخانہ کھولیں۔ کام سکھانے والے آدمی ہم دیں گے اور آپ کی جماعت کی عورتوں کو کام سکھائیں گے۔ اب دیکھو اس عورت میں یہ جوش تھا کہ احمدی عورتوں کی مدد کی جائے۔ مگریہ جوش اس کے دل میں اس لئے پیدا ہوا کہ سلسلہ کا لٹریچر اس نے پڑھا اور وہ احمدیت کو سمجھنے لگی۔ اسی طرح کراچی میں ایک دوست ملے انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کا لٹریچر پڑھا ہے اور سلسلہ کی بہت سی کتابیں بھی میں دیکھ چکا ہوں۔ میں نے کہا آپ فرمائیں تو آپ کو انگریزی ترجمۃ القرآن کی ایک کاپی بھجوا دوں؟ وہ کہنے لگے آپ کے لٹریچر کی میری بیوی بہت شائق ہے اور وہ اردو جانتی ہے اس لئے آپ اردو لٹریچر بھجوایئے ورنہ اُسے گِلہ رہے گا کہ میرے لئے کوئی لٹریچر نہیں منگوایا۔ تو عورتوں کی تعلیم کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد بھی دین کی طرف توجہ کرنے لگ جاتے ہیں۔
    یہ جو آئے دن لوگوں کو ٹھوکریں لگتی رہتی ہیں یہ اس بات کا نتیجہ ہوتی ہیں کہ انہوں نے احمدیت کا صحیح مطالعہ نہیں کیا ہوتا۔ اگر احمدیت کا صحیح طور پر مطالعہ ہو تو اس کے بعد اگر مرد کو ٹھوکر لگے تو عورت اسے سمجھا سکتی ہے۔ اور اگر مرد کا صحیح مطالعہ ہو اور عورت کو ٹھوکر لگے تو وہ اپنی عورت کو سمجھا سکتا ہے۔ اب ایک کا مطالعہ صحیح نہیں ہوتا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ان میں سے کسی ایک کو ٹھوکر لگتی ہے تو دوسرا اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ مگر پہلی چیز مسجد کی وسعت ہے۔ جب تک مسجد وسیع نہ ہو جائے وہ خطبہ جو ہفتہ میں ایک دفعہ دینا پڑتا ہے اس کے سننے سے بھی عورتیں محروم رہیں گی۔ تمہارا مبلغ بیمار ہے تو وہ درس بند کر سکتا ہے۔ تمہارا مدرّس بیمار ہے تو وہ سبق بند کر سکتا ہے مگر جمعہ کا خطبہ بند نہیں ہو سکتا۔ ایک بیمار ہو تو دوسرا کھڑا ہو جائے گا دوسرا بیمار ہو تو تیسرا کھڑا ہو جائے گا کیونکہ یہ ایک الٰہی حکم ہے جس کو بہرحال پورا کرنا ہوتا ہے۔ پس اِس چیز سے عورت کو محروم کرنا جماعت کے نظام کو توڑنے کے مترادف ہے۔ پس کوشش کیجئے کہ جلد سے جلد آپ ایک بڑی جامع مسجد لاہور میں تیار کر سکیں۔
    میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ لاہور میرا دوسرا وطن ہے یہیں میری پہلی شادی ہوئی ہے اور اس وجہ سے میں بڑی کثرت سے لاہور آیا جایا کرتا تھا۔ پس لاہور سے مجھے محبت ہے۔ مگر جو نقص ہے وہ بہرحال نقص ہے اور اس کو جماعت کی اصلاح کے لئے بیان ہی کرنا پڑتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے یہاں کی جماعت میں تبلیغ کا وہ احساس نہیں دیکھا جو کوئٹہ اور کراچی کے لوگوں میں مَیں نے دیکھا ہے۔ یہاں ہمارے دل میں کبھی خود خواہش ہوتی ہے کہ جماعت کوئی تقریب پیدا کرے تاکہ دوسروں سے ہم مل سکیں۔ مگر جماعت نے اس طرف کبھی توجہ نہیں کی۔ میں سمجھتا ہوں لاہور میں دو سال رہ کر بھی ہم اتنے لوگوں سے واقف نہیں ہوسکے جتنے لوگوں سے بیس دن کراچی رہ کر ہم واقف ہوئے ہیں یا جتنے لوگوں سے تین مہینے کوئٹہ رہ کر ہم نے واقفیت پیدا کی ہے۔ وہاں کی جماعت میں جوش تھا کہ کسی طرح تبلیغ کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جائیں۔ کہیں دعوتیں دے رہے ہیں، کہیں چائے پر بلا رہے ہیں، کہیں جلسہ تجویز کر رہے ہیں اور اگر میں بیمار ہوں تو میرے ساتھیوں کو لے جارہے ہیں اور آٹھ آٹھ دس دس آدمیوں کو تبلیغ کرا رہے ہیں اور ان سے اپنے دوستوں کو ملوا رہے ہیں۔ پھر جو موقع بھی نکلے اُس سے فائدہ اٹھانے کے لئے وہ تیار نظر آتے تھے۔ عصر کے بعد کوئی اچھا موقع ہے تو عصر کے بعد دوستوں کو لا رہے ہیں، ظہر کے بعد کوئی اچھا موقع ہے تو ظہر کے بعد لا رہے ہیں، دوپہر کو کوئی اچھا موقع ہے تو دوپہر کو لا رہے ہیں۔ غرض سینکڑوں آدمیوں سے چند دنوں میں ہی میں واقف ہو گیا۔ میں سمجھتا ہوں کوئٹہ میں دعوتوں، پارٹیوں اور انفرادی ملاقاتوں کو ملا کر تین ماہ میں کوئی چھ سات سَو نیا آدمی ہمیں ملا ہو گا جن میں سے اکثر افسر اور عہدیدار تھے اور اس طرح ان سے ہماری واقفیت ہوئی۔ اِسی طرح کراچی میں ہم اٹھارہ اُنیس دن رہے ہیں۔ ان اٹھارہ اُنیس دنوں میں جتنے آدمیوں سے ہماری واقفیت ہوئی۔ لاہور میں اتنے آدمیوں سے دو سال میں بھی واقفیت نہیں ہوئی۔ بعض جگہ انہوں نے سَو سَوا سَو آدمی بُلایا، بعض جگہ چالیس چالیس پچاس پچاس آدمی بُلائے اوربعض جگہ آٹھ دس آدمی بھی تھے۔ فوجیوں نے بھی دو پارٹیاں کیں۔ ڈرگ روڈ میں جو فوجی رہتے تھے انہوں نے الگ پارٹی کی اورملیر میں جو فوجی رہتے تھے انہوں نے الگ پارٹی کی ۔پھر ہر ایک نے اس بات کا انتظام کیا کہ لوگ مختلف سوالات کریں۔ جہاں وہ نہیں بولتے تھے وہاں آپ سوال کر کے بات شروع کر دیتے تھے۔ اِس کا اثر یہ ہوا کہ جن لوگوں میں تعصب اور مخالفت کا مادہ تھا اور سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو کھانے یا چائے پر بلایا تو لوگ ہمیں بُرا سمجھیں گے انہوں نے جب سنا کہ لوگوں کا اِنہیں دعوتوں میں بُلانا عیب نہیں سمجھا گیا بلکہ ایک خوبی سمجھی گئی ہے تو ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ ہم انہیں کھانے پر مدعو کریں۔
    ہم جب کراچی پہنچے ہیں تو ایک غیر احمدی تاجر کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ وہ کھانے پر بلانا چاہتے ہیں مگر انہوں نے وقت نہیں بتایا، پھر بتائیں گے۔ میں نے کہا بہت اچھا۔ وہ ہندوستان سے آئی ہوئی ایک تاجر قوم کے دو فرد تھے دونوں نے دعوت دی مگر ایک نے تاریخ بتا دی اور دوسرے نے نہ بتائی۔ جس نے تاریخ بتا دی تھی میں اُس کے ہاں گیا۔ وہاں بہت سے قوم کے سرکردہ جمع تھے جنہوں نے مختلف سوالات کئے اور میں نے ان کے جوابات دیئے۔ دوسرا شخص ڈر گیا کہ اگر میں نے دعوت کی تو میری قوم کے لوگ کیا کہیں گے۔ میں بھی خاموش ہو گیا ۔اُن دنوں اَور بھی کئی لوگ دعوتیں دے رہے تھے۔ جس وقت ہمارے چلنے میں صرف دو تین دن رہ گئے تو ایک دوست نے ان کی طرف سے پیغام دیا کہ آپ میری دعوت کے لئے کوئی وقت مقرر کر دیجئے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ اسے اپنی قوم کے دوسرے آدمی کو دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ اس کی مخالفت تو ہوئی نہیں بلکہ سب اِس دعوت میں شریک تھے اس لئے اب میں بھی دعوت کر دوں۔ چنانچہ جب یہ پیغام مجھے ملا تو میں ہنس پڑا ۔پیغام دینے والے بھی سمجھ گئے اور وہ بھی ہنس پڑے اور کہنے لگے ہاں جی اس دعوت کا یہ نتیجہ ہے۔ پہلے تو وہ ڈر گئے تھے مگر جب انہوں نے سنا کہ سارے لیڈر وہاں موجود تھے اور آپس میں بڑی محبت اور پیار کی باتیں ہوتی رہیں تو انہیں اب رشک آیا ہے کہ میں تو رہ ہی گیا اور انہوں نے چاہا ہے کہ اب وہ بھی دعوت کر دیں۔ میں نے انہیں کہا کہ اب اسے کہہ دیں کہ اس دفعہ تم محروم ہی رہو گے کیونکہ میرے پاس اب کوئی وقت نہیں رہا۔ میں سمجھتا ہوں فوجی آفیسرز یعنی کیپٹن، میجر اور کرنل وغیرہ جو مجھے کراچی میں ملے اُن کی تعداد کسی صور ت میں بھی ڈیڑھ سَو سے کم نہیں تھی۔ ان میں سے بعض نے کُھلے طور پر تبادلۂ خیالات کیا اور بعض نے کان میں باتیں کیں کیونکہ وہ دوسروں سے شرماتے تھے۔ اس طرح جو تاجر تھے میرے نزدیک وہ سَو سوا سَو ہوں گے جن سے کراچی میں مجھے ملنے کا موقع ملا۔ اِسی طرح گورنمنٹ کے آفیسرز چالیس پچاس ہوں گے ۔ غرض ان کے اندر یہ حِس تھی کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں مگر یہ حِس لاہور کی جماعت میں مجھے نظر نہیں آئی۔ ممکن ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ جو چیز روزانہ نظر آتی ہے اُس کی قدر کچھ کم ہو جاتی ہے۔ ہم دو سال یہاں رہے شروع میں جماعت نے یہ سمجھا کہ اب تو یہ یہیں ہیں کسی دن فائدہ اُٹھا لیں گے ۔پھر سمجھا کہ اب تو یہ جا ہی رہے ہیں ہم کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مگر اُن لوگوں نے سمجھا کہ یہ چند دن کے لئے آئے ہیں اِس لئے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا لینا چاہیے۔ کراچی میں تو میری حالت بھی ایسی نہیں تھی کہ میں بات کر سکتا۔ کوئٹہ میں تو صرف پیر کی درد تھی لیکن کراچی میں مجھے کھانسی کی مرض تھی پھر بھی ایک دن صبح دس بجے سے رات کے دس بجے تک ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ میرا گلا پک گیا اور بُرا حال ہوا۔ مگر ان کی رغبت جو تبلیغ کی طرف تھی اس سے بھی میں متاثر تھا۔ میں سمجھتا ہوں اگر میں کراچی نہ جاتا تو بہت جلد اچھا ہو جاتا۔ اب لاہور میں آیا ہوں تو سات دن کے بعد آج پہلی دفعہ بولا ہوں۔ اتنے دن مجھے آرام کے مل گئے۔ گو آج ہی میں گھر میں کہہ آیا تھا کہ اب پھر میری شامت آنے والی ہے کیونکہ میں خطبہ کے لئے چلا ہوں۔ بہرحال وقفہ کا طبیعت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ اگر کراچی میں مجھے وقفہ مل جاتا تو میں سمجھتا ہوں کہ کھانسی جلد دور ہوجاتی مگر پھر وہ مزا بھی نہیں آسکتا تھا جو بیماری کی حالت میں کام کرنے پر مجھے وہاں آیا۔
    قصہ مشہور ہے کہ سیالکوٹ کا ایک شخص جو لاہور میں کلرک تھا اسے سِل ہو گئی۔ جب اُس کی حالت زیادہ خراب ہو گئی تو وہ رخصت لے کر گھر چلا۔ گاڑی سے اتر کر وہ سڑک پر جارہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک پہلوان نے اپنے جسم پر تیل ملا ہوا ہے، سرمنڈوایا ہوا ہے اور اپنی ٹنڈ پر مکھن ملا ہوا ہے ۔وہ دھوپ میں خوب چمک رہا ہے اور خود لٹک لٹک کر اور مچل مچل کر چل رہا ہے۔ اس نے جب پہلوان کو اس طرح اَکڑ کر چلتے دیکھا اور اسے یہ بھی نظر آیا کہ اس نے سر منڈوایا ہوا ہے، مکھن ملا ہوا ہے اور سر چمک رہا ہے تو اسے شرارت سُوجھی اور اس نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر زور سے انگلی ماری جس سے ٹن کی آواز پیدا ہوئی۔ پہلوان نے مُڑ کر دیکھا کہ شاید میرا کوئی دوست ہے جس نے مجھ سے یہ مذاق کیا ہے مگر وہاں دوست کہاں تھا اُسے ایک ایسا شخص نظر آیا جس کی ہڈی ہڈی اور جوڑ جوڑ الگ نظر آتا تھا اور سخت نحیف اور لاغر اور کمزور تھا۔ اسے یہ دیکھ کر سخت غصہ آیا اور اس نے اِس زور سے اُسے ٹھڈّا مارا کہ وہ اُچھل کر دور جاپڑا۔ پھر اس پر اُس نے بس نہ کی بلکہ لاتوں اور گھونسوں سے اسے مارنے لگ گیا۔ وہ مار کھاتا جاتا اور کہتا جاتا تھا کہ ’’پہلوان جی !تُسیں کتنا بھی مار لو تہانوں اوہ مزا نہیں آسکدا جو مینوں آیا ہے۔‘‘ یعنی پہلوان صاحب! جتنا مار سکتے ہو مار لو مگر آپ کو وہ مزا نہیں آسکتا جو مجھے آپ کے فرقدان1 پر انگلی مارنے سے آیا تھا۔ تو اس میں شُبہ نہیں کہ اگر میں خاموش رہتا تو میری کھانسی اچھی ہو جاتی مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ پھر وہ مزا نہ آتا جو اس تبلیغ میں مجھے آیا۔
    بہرحال میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہاں عورتوں کو اتنی تعلیم نہیں دی گئی کہ وہ اپنے خاوندوں اور رشتہ داروں کو بیدار رکھ سکیں اس لئے مرد اپنے کام کی طرف سے غافل ہیں اور تبلیغ کا پہلو بہت کمزور ہے۔ ہماری جماعت کے جو عہدیدار ہیں اُن کو بھی چاہیے اور جو مقامی مبلغ ہیں ان کو بھی چاہیے کہ وہ لجنہ اماء اللہ کو تحریک کر کے عورتوں کی تعلیم اور ان کی تربیت کا انتظام کریں۔ لجنہ میں بعض اچھی کارکن ہیں مگر مردوں کا تعاون نہ ہونے کی وجہ سے وہ پوری طرح کام نہیں کر سکتیں۔ کئی دفعہ وہ شکایت بھی کرتی ہیں کہ مرد ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ یہ اتنا بڑا شہر ہے کہ پردہ دار عورتوں کے لئے یہ بڑا مشکل ہے کہ وہ خود اپنے طور پر ایسے انتظامات کر سکیں۔ وہ محتاج ہیں اِس بات کی کہ مرد اُن کے جلسوں وغیرہ کی اطلاعیں دوسروں تک پہنچائیں۔ وہ محتاج ہیں اِس بات کی کہ مرد اپنی عورتوں کو جلسہ میں بھجوانے کے سلسلہ میں اُن کی مدد کریں۔ وہ محتاج ہیں اِس بات کی کہ مبلغِ سلسلہ نہایت سیدھی سادی عبارت میں اور آسان سے آسان الفاظ میں دین کے مسائل اُنہیں سمجھائے ۔ مختصر نوٹ انہیں لکھوائے اور پھر اُن سے کہے کہ آئندہ تبلیغ کے راستہ میں آپ کو جو مشکلات پیش آئیں اُن کے متعلق مجھ سے مشورہ لے لیا کریں۔ جہاں تک تعلیم کا سوال ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اتنی تعلیم نہ تھی جتنی آجکل عورتوں میں پائی جاتی ہے مگر اس کے باوجود اُن میں کتنی بلند خیالی پائی جاتی تھی، کتنی بلند حوصلگی پائی جاتی تھی، کتنی قربانی پائی جاتی تھی، کتنی علمِ دین کے حاصل کرنے کی تڑپ پائی جاتی تھی، کتنا عمل پایا جاتا تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اُن کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جاتا اور اُن کے جذبات کو دبایا نہیں جاتاتھا۔ عورتیں جاتیں اور کہتیں یا رسولَ اللّٰہ! ہم نہیں ملّت میں؟ یا رسولَ اللّٰہ! آپ روزانہ مردوں میں وعظ کرتے ہیں ہم چوری چُھپے اُس سے بھی فائدہ اُٹھا لیتی ہیں مگر آپ ہمارے لئے ایک دن مقرر کر دیجئے جس میں آپ صرف ہمیں وعظ کیا کریں۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بہت اچھا۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ایسا مقرر کیا جس میں آپ صرف عورتوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔2 اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں ایسا اخلاص پیدا ہو گیا کہ آجکل کے مردوں میں بھی وہ نہیں پایا جاتا اور دین سیکھنے کا جذبہ اُن میں ایسا ترقی کر گیا کہ اسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔
    عورت میں سب سے زبردست مادہ اُس کی حیا ہوتی ہے مگر دین سے واقف ہونے کا احساس ان میں ایسا تھا کہ وہ آتی تھیں اور ایسے نازک مسائل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی تھیں کہ آجکل ہماری بیوی بھی ہمارے سامنے اس طرح بات نہیں کر سکتی۔ ایک دفعہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا یَا رَسُوْل اللّٰہ! فلاں مسئلہ کس طرح ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں موجود تھیں آپ نے وہ بات سنی تو آپ کو سخت غصہ آیا اورآپ نے اسے کہا بے حیا! تُو مرے، تجھے شرم نہیں آئی! تُو نے تو عورتوں کی ناک کاٹ دی ہے۔ تُو نے تو عورتوں کو ذلیل کر دیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا عائشہ! اس نے عورتوں کو ذلیل نہیں کیا بلکہ تُو نے یہ بات کہہ کر عورتوں کو ذلیل کیا ہے۔ اگریہ دین کا مسئلہ نہ پوچھتی تو اس کے لئے عمل ناممکن تھا۔3 غرض ان کے اندر اتنا ذوق تھا دین سیکھنے کا اور اتنا جوش تھا دینی معلومات حاصل کرنے کا کہ وہ اس کے لئے کسی چیز کی پروا نہیں کرتی تھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ حدیث پڑھ کر ہمیں خود شرم آجاتی ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ میری بیوی بھی اگر مجھ سے کوئی ایسا مسئلہ پوچھنا چاہے تو نہ پوچھ سکے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ آتی ہیں اور کہتی ہیں میں نے ایک مسئلہ پوچھنا ہے مگر نہیں پوچھتی یہ کہہ کر چلی جائیں گی۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد آئیں گی اور کہیں گی کہ شرم آتی ہے مگر ایک مسئلہ پوچھنا ہے اور پھر نہیں بتائیں گی کہ کیا پوچھنا ہے۔ آخر کہنا پڑتا ہے کہ ارے بتاؤ تو سہی تم پوچھنا کیا چاہتی ہو؟ اس پر کہیں گی کہ نہیں نہیں شرم آتی ہے اور پھر ہزار نخرے کرنے کے بعد بات کریں گی۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے اندر علم حاصل کرنے کا ایسا جذبہ پیدا کر دیا تھا کہ انہیں ان باتوں کی کوئی پروا ہی نہیں ہوتی تھی۔ پھر اتنی دلیری اُن میں پائی جاتی تھی کہ اسے دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ میں تو جب بھی وہ حدیثیں پڑھتا ہوں بعد میں مَیں کئی منٹ تک سوچتا رہتا ہوں کہ آیا وہ جنت کی حُوریں تھیں یا عورتیں تھیں؟ مجلس لگی ہوئی ہے اور جیسے ہم اِس وقت بیٹھے ہوئے ہیں اِسی طرح سب بیٹھے ہیں۔ لاہور کی جماعت اُتنی نہیں جتنی مدینہ کی مسلمان جماعت تھی۔ وہ ہزاروں ہزار کی تعداد میں تھے اور سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ کناروں پر سے ایک عورت کھڑی ہوتی ہے اور وہ کہتی ہے یا رسول اللّٰہ! مجھے آپ کی باتیں اتنی پسند آئی ہیں کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے توہبہ کر دیا ہے مگر مجھے شادی کی ضرورت نہیں۔ میں فلاں آدمی سے تمہارا نکاح کرتا ہوں اور وہ کہتی ہے حضور مجھے منظور ہے۔4 کیا آج ساری دنیا میں بھی کوئی ایسی مثال مل سکتی ہے؟ پھر یہ واقعہ ایک نہیں بلکہ پانچ سات ایسے واقعات ہوئے ہیں۔
    ایک دفعہ اسی طرح ایک عورت آئی اور اس نے اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہبہ کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور خاموش رہے۔ اس پر ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللّٰہ! مجھے شادی کی ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اس کے مہر کے لئے کچھ ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللّٰہ! میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا قرآن کریم کی کچھ سورتیں تمہیں یاد ہیں؟ اس نے کہا یا رسول اللّٰہ! صرف آخری تین سورتیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا چلو یہی تین سورتیں اس عورت کو پڑھا دینا اور انہیں سورتوں کو میں تمہارا مہر مقرر کرتا ہوں۔ عورت نے کہا مجھے منظور ہے۔5 ان واقعات کو دیکھتے ہوئے تم دو ہی نام ان کے رکھ سکتے ہو۔ یا تو یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ اس دنیا سے اٹھ کر عرش پر بیٹھ گئی تھیں اور یا یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ پاگل تھیں۔ ان دو کے علاوہ اَور کوئی صورت نہیں۔ یا تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ انسانی معیار سے بہت بلند ہو کر آسمان پر چلی گئی تھیں اور یا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ پاگل تھیں۔ مگر انہوںنے جو قربانیاں کیں وہ پاگلوں والی نہیں تھیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُس وقت عورت عورت نہیں رہی تھی بلکہ وہ فرشتہ بن گئی تھی۔ یہ چیز ہمارے اندر بھی آسکتی ہے بشرطیکہ ہم عورتوں کی صحیح تربیت کا انتظام کریں۔ ہمارے دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے جب ہم باہر جاتے ہیں۔ مگر اُن کے دلوں پر گھر میں بیٹھنے کی وجہ سے زنگ نہیں لگتا اور آہستہ آہستہ وہ ایسے بلند معیار پر پہنچ جاتی ہیں کہ اُس کا خیال کر کے بھی انسان درحقیقت حیران ہی رہ جاتاہے کہ وہ کیا چیز ہے۔ اپنے ذہنوں میں تم بھی سوچو مَیں نے توکئی بار سوچا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم الگ الگ ہو کر بھی کبھی سوچا کرو کہ اصل ایمان کیا چیز ہے۔6 اگر ایک ایک بات پر انسان غور کرنے کی عادت ڈالے تو اس کی معرفت کہیں سے کہیں ترقی کر جائے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جہاد کے لئے جاتے ہیں اور مدینہ خالی ہو جاتا ہے۔ ایک عورت کے خاوند کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لئے باہر بھیجا ہوا تھا۔ وہ ہفتوں کے بعد مدینہ میں واپس آتا ہے۔ چونکہ وہ لڑائیوں اور بدامنی کا زمانہ تھا اس لئے اس کی بیوی ہر روز یہی سمجھتی کہ نہ معلوم کب یہ خبر آتی ہے کہ میں بیوہ ہو گئی ہوں۔ اُن دنوں چاروں طرف دشمن تھا اور جو مسلمان تھے وہ بھی حدیثُ الْعہد تھے۔ اس لئے جس عورت کے خاوند کو باہر کسی کام پر بھیجا جاتاتھا وہ اپنے دل میں سمجھتی تھی کہ خبر نہیں کہ کب مجھے بیوگی کی خبر آتی ہے۔ اِسی عرصہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لئے تشریف لے گئے۔ اِتنے دنوں کی جدائی کے بعد قدرتی طور پر خاوند کے دل میں محبت کے جذبات پیدا ہونے تھے۔ وہ پیار کرنے کے لئے اپنی بیوی کے قریب پہنچا مگر جونہی خاوند اُس کے قریب آیا تو اُس نے زور سے اُس کے سینہ پر ہاتھ مار کر دھکّا دے دیا اور اُسے کہا تمہیں شرم نہیں آتی خدا کا رسول ایک خطرناک لڑائی کے لئے باہر نکلا ہے اور تم کو اپنی بیوی سے پیار سُوجھا ہے۔ میں تو جتنا سوچتا ہوں مجھے آج کوئی عورت ایسی دکھائی نہیں دیتی جو ایسے وقت میں اتنا شاندار نمونہ دکھانے کے لئے تیار ہو جائے۔ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس معاملہ میں بہت حد تک خوش قسمت ہوں اور اس نے مجھے ایسی بیویاں بھی دی ہیں جو دین کے لئے بڑی سے بڑی قربانیاں کرنے والی ہیں۔ لیکن میں تو سوچا کرتا ہوں کہ باوجود اِس کے کہ میں اپنے آپ کو اِس معاملہ میں خوش قسمت سمجھتا ہوں میرا ذہن کبھی بھی تسلی نہیں پاتا کہ اگر ایسا موقع ہو تو میری بیوی یہی ایمان دکھائے گی۔ اُس شخص پر بھی اِس کا اتنا اثر ہوا کہ پھر اُس نے بیوی کی طرف رُخ نہیں کیا، گھوڑے پر چڑھا اور جنگ میں چلا گیا۔
    ہندہ، وہ ہندہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل تک دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی۔ جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے اتنا بُغض تھا کہ حضرت حمزہؓ کے متعلق اس نے اعلان کیا تھا کہ میں اُس شخص کو اتنا انعام دوں گی جو ان کا کلیجہ نکال کر مجھے دے اور ان کا مُثلہ کرے۔ چنانچہ جب حضرت حمزہ ؓشہید ہوئے تو ایک شخص نے انعام لینے کے لئے حضرت حمزہ ؓکا کلیجہ نکالا اور ان کے ناک کان بھی کاٹے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ اتنا بڑا ابتلاء تھا کہ باوجود اِس کے کہ آپ نہایت رحیم وکریم تھے آپ نے فرمایا مجھے اس سے اتنا صدمہ پہنچا ہے کہ میں جب تک ان کے ستّر سرداروں سے یہی معاملہ نہ کر لوں مجھے چین نہیں آئے گا۔7 اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو الہام ہوا کہ ہمارے نبی کا یہ مقام نہیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ہم بدلہ نہیں لیتے جو کچھ دشمن نے کیا ہے اپنے مقام کے لحاظ سے کیا ہے۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے عفو اور درگزر کا مقام عطا فرمایا ہے۔8 وہ ہندہ مسلمان ہوتی ہے اور مسلمان ہو کر اسلام اور ایمان کی چاشنی اس کو نصیب ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک عظیم الشان جنگ عیسائیوں سے پیش آئی جس میں بعض اندازوں کے مطابق تین لاکھ اور بعض اندازوں کے مطابق دس لاکھ عیسائی لشکر تھا اور رومی فوج تھی۔ یہ نہایت ٹرینڈ اور تربیت یافتہ تھی۔ مسلمانوں کے لشکر کا اندازہ تیس سے ستّر ہزار تک لگایا جاتاہے۔ اس لشکر کے حملہ کی وجہ سے مسلمان فوج کے پاؤں اُکھڑ گئے۔ عورتیں پیچھے مرہم پٹی کے لئے بیٹھی تھیں جب لشکر بھاگتا ہوا آیا تو یہی ہندہ جس نے کہا تھا کہ مجھے چین نہیں آئے گا جب تک میں (نعوذ باللہ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رشتہ داروں کی ذلت نہ کر لوں۔ وہی ہندہ کھڑی ہو گئی اور اس نے صحابیات سے کہا آج دشمن کے آگے مردوں نے پیٹھ دکھا دی ہے اب عورتوں کا وقت ہے کہ وہ اپنے ایمان کامظاہرہ کریں۔ آؤ ہم اپنے مردوں کو روکیں اور اگر وہ نہ رُکے تو ہم خود دشمن کا مقابلہ کریں گی۔ چنانچہ انہوں نے خیموں کے بانس وغیرہ اُکھیڑ لئے۔ جب لشکر واپس آیا تو وہ عورتیں اُن کے گھوڑوں اور اونٹوں کو ڈنڈے مارتی تھیں اور کہتی تھیں اگر تم نے ہمارے ساتھ تعلق رکھنا ہے اور ہمیں اپنے گھروں میں بسانا ہے تو واپس جاؤ اور دشمن سے لڑو۔ اس دوران میں ابوسفیانؓ اور حضرت معاویہؓ کے گھوڑے بھی آ پہنچے۔ ہندہ نے آگے بڑھ کر اپنے خاوند کے گھوڑے پر بانس مارا اور یہ لفظ کہے بے شرم! تُو کافر تھا تو مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کے لئے جاتا تھا اب خدا نے تجھے ایمان بخشا ہے تو تُو پیٹھ دکھا رہا ہے۔ ابوسفیانؓ نے اپنے بیٹے معاویہؓ کی طرف منہ پھیر کر کہا معاویہ! دشمن کے نیزے ان الفاظ سے زیادہ سخت نہیں چلو جو کچھ بھی ہو واپس چلیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے گھوڑے موڑ لئے۔ اتنے میں باقی اسلامی لشکر بھی مُڑا اور اُس نے لڑائی کی اور کامیاب ہوا۔
    اِس قسم کی مثال آج دنیا میں کہاں مل سکتی ہے۔ مگر یہ کس چیز کا نتیجہ تھا؟ یہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر زور دیا تھا کہ عورتوں کو بھی دین سکھانا چاہیے اور یہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی عورت کی تین لڑکیاں ہوں اور وہ ان کو صحیح طور پر تعلیم دے تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ ایک عورت نے کہا یا رسول اللّٰہ! اگر دو ہوں۔ اُس نے سمجھا کہ میں تو رہ گئی کیونکہ اُس کی دو لڑکیاں تھیں۔ آپ نے فرمایا اگر کسی کی دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کو صحیح تعلیم دے تو اس کے لئے بھی جنت واجب ہو جاتی ہے۔9
    ایک دفعہ ایک عورت آئی۔ اُس کے ساتھ اُس کی دوبچیاں بھی تھیں۔ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ کچھ کھانے کے لئے دو۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں اُس وقت ہمارے گھر میں صرف ایک کھجور تھی میں نے وہی ایک کھجور اُسے دے دی۔ اُس نے کھجور کو دانتوں میں دبایا اور اس کے دو برابر کے حصے کر کے آدھا ٹکڑا اپنی ایک بیٹی کے منہ میں ڈال دیا اور آدھا ٹکڑا دوسری بیٹی کے منہ میں ڈال دیا۔ حضرت عائشہؓ کے دل پر اس کی بڑی چوٹ پڑی۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو انہوں نے کہا یا رسول اللّٰہ! اس طرح آج ایک عورت ہمارے پاس آئی تھی اس نے مجھ سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ یا رسول اللّٰہ! اس عورت کے چہرہ سے بھوک کے بڑے شدید آثار ظاہر تھے مگریا رسول اللّٰہ جب میں نے اُسے ایک کھجور دی تو اُس نے اپنے دانتوں سے برابر برابر تقسیم کر کے آدھی کھجور اپنی ایک بچی کو دے دی اور آدھی کھجور اپنی دوسری بچی کو دے دی۔ یا رسول اللّٰہ! اُس نے ذرابھی آپ نہیں چکھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہؓ ! تبھی تو خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ ایک عورت اگر اپنی بچیوں کی صحیح تربیت کرے تو خدا تعالیٰ اس کے لئے جنت واجب کر دیتا ہے۔10
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے11 ہم تو ان کے پاؤں کے نیچے زمین کھو دتے ہیں تو کوئی جنت نہیں نکلتی بلکہ سائنس والے کہتے ہیں کہ نیچے آگ ہی آگ ہے۔ اس کا مطلب دراصل یہی ہے کہ عورت اگر صحیح تربیت کرے اور بچہ اگر صحیح تربیت قبول کرے تو وہ دوزخی کبھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بچپن کی تعلیم اتنی گہری ہوتی ہے کہ اسے چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔
    پس عورتوں کی تربیت اور ان کی تعلیم نہایت ہی اہم چیز ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس مسجد میں ان کی تعلیم و تربیت نہیں ہو سکتی۔ اس مسجد کے ہوتے ہوئے آپ یہ جرأت بھی نہیں کر سکتے کہ کھڑے ہو کر یہ اعلان کر سکیں کہ اے بھائیو! جمعہ میں اپنی عورتوں اور لڑکیوں کو لایا کرو۔ اور اگر آپ ایسا اعلان بھی کریں تو وہ کہیں گی ہم کہاں آئیں ہمارے لئے تو بیٹھنے کی بھی جگہ نہیں۔ یہ بات آپ تبھی کہہ سکتے ہیں جب آپ اِس مسجد کو بدلیں۔ یہ مت خیال کریں کہ ہم نے اس مسجد پر اتنا روپیہ خرچ کیا ہوا ہے۔ یہ مسجد اُن لوگوں نے بنائی تھی جو آپ سے دسواں حصہ تھے یہ محلہ کی مسجد بن جائے گی اور وہ جامع مسجد بن جائے گی۔ پھر جس مسجد کے بنانے کی میں تحریک کر رہا ہوں وہ بھی کافی نہیں رہے گی بلکہ جو کچھ خدا کے وعدے ہیں ان کے لحاظ سے وہ بھی ایک دن محلہ کی مسجد بن جائے گی اور آٹھ دس سال کے بعد پھر آپ کو ایک اَور مسجد بنانی پڑے گی۔ جو کچھ خدا نے ہم کو بتایا ہے اُس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ لاہور کی بڑی اکثریت ہی نہیں دنیا کی تمام اقوام اور دنیا کے تمام ممالک کی بڑی اکثریت ایک دن احمدی ہو جائے گی۔ اِس وقت بیس لاکھ کے قریب لاہور کی آبادی ہے۔ اگر اٹھارہ لاکھ احمدی ہو جائے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ نو لاکھ بالغ فرد ہوں گے اور نو لاکھ آدمی چون لاکھ فٹ میں آسکتے ہیں گویا سَوا سَو ایکڑ زمین ان کے لئے چاہیے اور یہ صرف سترہ مرلہ کی مسجد ہے۔ سَوا سَو ایکڑ کے معنے ہیں ساڑھے بارہ سَو کنال۔ کیونکہ گورنمنٹ کا ایکڑ کچھ بڑا ہوتا ہے۔ گویا اس مسجد سے قریباً پندرہ سو گنے بڑی مسجد یا بادشاہی مسجد سے بھی کئی گنا بڑی مسجد۔ شاہی مسجد دراصل اُس وقت بنی تھی جب لوگوں نے نماز چھوڑ دی تھی۔ اور پھر عام طور پر آجکل عید کی نماز میں بھی آدھے آدمی جاتے ہیں۔ پھر کوئی احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اور کوئی وہابیوں کے ساتھ پڑھ رہا ہوتا ہے ۔پھر عورت بہت کم جاتی ہے لیکن پھر بھی وہ مسجد بھری ہوئی ہوتی ہے۔ پس خود ہی اندازہ لگا لو کہ تمہیں کتنی بڑی مسجد کی ضرورت ہو گی۔ پس یہ خیال ہی غلط ہے کہ جس مسجد کے بنانے کے لئے میں کہہ رہا ہوں وہ تمہارے لئے کافی ہو گی۔ دس سال کے بعد پھر تمہیں اَور مسجد بنانی پڑے گی اور وہی جو اَب تمہاری جامع مسجد ہو گی محلہ کی مسجد بن جائے گی۔ اس طرح آہستہ آہستہ اور قدم بقدم ترقی کرتے کرتے آخر میں وہ مسجد بنے گی جو تمام لاہور کی نماز جمعہ کے لئے انشاء اللہ کافی ہو گی۔ عید تو میدان میں ہی پڑھنے کا حکم ہے مگر جمعہ اور عید دونوں میں عورتوں کا آنا ضروری ہوتاہے اس لئے دونوں مواقع پر عورتوں کی ضروریات کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے۔ پس اس طرف توجہ کرو اور نئی مسجد کے لئے زمین خریدنے کی کوشش کرو۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں خود بھی اس بارہ میں کوشش کروں گا۔ مگر اس خطبہ کے کچھ دنوں کے بعد میں کوئٹہ چلا گیا اور وہاں سے واپسی پر ہم سب ربوہ چلے گئے اس لئے میں اِس طرف توجہ نہ کر سکا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں جماعت میں اور کئی دوست ہیں جو اِس کام کو اچھی طرح سرانجام دے سکتے ہیں۔
    مستری موسیٰ صاحب کا خاندان ہی اگراس میں دلچسپی لے تو وہ بہت کچھ مدد دے سکتا ہے۔ مستری موسیٰ صاحب کو زمینیں خرید کر بیچنے کا شوق تھا میں سمجھتا ہوں ان کے بچوں میں بھی کسی حد تک یہ مادہ ضرور ہو گا۔ پس کوشش کر کے اڑھائی تین کنال زمین مسجد کے لئے خرید لو۔ اس طرح چند سال کی ضرورتیں پوری ہو جائیں گی۔ پھر اَور ضرورت محسوس ہوگی تو اللہ تعالیٰ اَور سامان پیدا کر دے گا۔ اگر نئے آدمی آجائیں اور ہماری آمدنی بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ جائے تو ہر پانچویں یا دسویں سال اگر ایک نئی مسجد بنا لی جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔ لوگوں کے چار چار بچے ہوتے ہیں تو وہ چاروں کے لئے الگ الگ گھر بناتے ہیں۔ اگر ایک گھر وہ خدا تعالیٰ کے لئے بھی بنا دیا کریں تو اس میں کون سی مشکل ہے۔
    بہرحال صحیح تربیت کے لئے ضروری ہے کہ عورتیں دین سیکھیں اور عورتوں کے لئے دین سیکھنے کا کم سے کم موقع یہ ہے کہ وہ جمعہ میں آئیں اور خطبہ سنیں۔ اگر تمام عورتیں جمعہ میں آنے لگیں تو پھر ہمیں ان کے چھوٹے بچوں کے لئے بھی الگ انتظام کرنا پڑے گا۔ انگریزوں میں قاعدہ ہے کہ وہ ایسے موقع پر بچوں کے لئے الگ جگہ کا انتظام کر دیتے ہیں جس میں کھلونے وغیرہ رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ اُدھر مشغول ہو جاتے ہیں۔ اِسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم نرسری کا انتظام کریں اور کچھ عورتیں ایسی مقرر کر دی جائیں جو نماز کے وقت بچوں کی نگرانی رکھیں۔ جس طرح میں نماز پڑھاتا ہوں تو پہرے دار کھڑے رہتے ہیں اسی طرح یہ جائز ہو گا کہ لجنہ اماء اللہ ہر جمعہ کے موقع پر پانچ سات عورتیں ایسی مقرر کر دے جن کے سپرد بچوں کو پانی پلانا اور پیشاب کرانا ہو۔ وہ آپس میں لڑپڑیں تو اُن کو چُپ کراناہو اور پھر لجنہ کی طرف سے یہ ڈیوٹیاں بدلتی رہیں تاکہ عورتیں بھی اطمینان کے ساتھ خطبہ سن سکیں اور بچوں کو بھی کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ بہرحال جُوں جُوں تہذیب ترقی کرے گی اور جُوں جُوں ہمارے حالات بدلتے جائیں گے ہمیں اپنے نظام میں بھی ایسی لچک پیدا کرنی پڑے گی تاکہ ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔ ‘‘
    خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا:
    ’’میاں سراج الدین صاحب کہتے ہیںکہ میرا اپنا گھر کوئی نہیں مگر میں خدا کے گھر کے لئے پانچ ہزار روپیہ چندہ دیتا ہوں۔ جماعت کے دوست جب بھی چاہیں مَیں انہیں دے دوں گا۔ آجکل یہ ’’الفضل‘‘ میں اشتہار بھی دے رہے ہیں کہ دوست ’’اللہ تعالیٰ کہا کریں‘‘۔ یہاں کے جو امیر صاحب ہیں اُن سے ایک دن میں نے کہا تھا کہ الفضل کی آمد چونکہ اشتہاروں پر ہی ہے اس لئے اُن سے کہیں کہ وہ پورے صفحہ کا اشتہار دیا کریں چھوٹا اشتہار لوگ پڑھتے نہیں۔ بہرحال اچھی بات یہی ہے کہ مسجد ایک ایسی چیز ہے کہ اگر اس کی اہمیت بتائی جائے تو بہت سے لوگ قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ابھی صرف اِس بات کی ضرورت ہے کہ مسجد کے لئے جگہ لی جائے پھر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو بنانے والے بھی پیدا ہو جائیں گے۔ ‘‘ (الفضل مورخہ 12؍اکتوبر 1950ئ)
    1: فرقدان: سر۔ کھوپڑی
    2: صحیح بخاری کتاب العلم باب ہل یُجْعَلُ لِلنِّسَائِ یَوْمًا عَلٰی حِدَۃٍ فِی الْعِلْمِ
    3: صحیح مسلم کتاب الحیض باب وجوب الغسل علی المرأۃ بخروج المنی منہا
    4:صحیح بخاری کتاب النکاح باب عَرضِ المرأۃ نفسَھَا عَلَی الرَّجُلِ الصَّالِحِ
    5: صحیح بخاری کتاب النکاح باب اذا قال الخاطب: زَوِّجْنِیْ فُلَانَۃً فقال:قَدْ زَوَّجْتُکَ بِکَذَا وَ کَذَا
    6: (سبا:47)
    7: السیرۃ الحلبیۃ جزء 2صفحہ 334 غزوۃ احد۔ بیروت لبنان 2002ء الطبعۃ الاولیٰ
    8: السیرۃ الحلبیۃ جزء 2صفحہ 335 غزوۃ احد۔ بیروت لبنان 2002ء الطبعۃ الاولیٰ(مفہوماً)
    9: جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ما جاء فی النفقۃ علی البنات والاخوات
    10: صحیح بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الْولد و تقبیلہٖ و معانقتہٖ
    11: کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال الجزء السادس عشر صفحہ192 الباب الثامن فی بر الوالدین۔ حدیث نمبر45431 دارالکتب العلمیۃ لبنان 1998ء

    24
    نبیوں کی جماعتوں کو پتھر، کنکر اور کانٹوں پر سے ہی گزرنا پڑا ہے
    (فرمودہ 6 ؍اکتوبر 1950ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’گزشتہ جمعہ کے خطبہ کے بعد میری کھانسی تیز ہو گئی حتی کہ اتوار کی رات کو تو اس قدر شدید کھانسی تھی کہ گزشتہ دو مہینے میں مجھے ایسی کھانسی نہیں ہوئی ۔اور گو ساری رات ہی کھانسی کی شدید تکلیف رہی لیکن رات کے تین بجے سے لے کر پانچ بجے تک تو یہ تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ برابر دو گھنٹے تک یکساں کھانسی اٹھتی چلی گئی اور صبح کے وقت جا کر افاقہ ہوا۔ اب آہستہ آہستہ پھر کم ہوئی ہے۔ لیکن میں باوجود اس خطرہ کے کہ خطبہ پڑھانے کی وجہ سے ممکن ہے کھانسی پھر دوبارہ زیادہ ہو جائے خطبہ کے لئے آگیا ہوں۔ ساتھ ہی اس کے کل سے پھر نقرس کا دورہ ہے جس کی وجہ سے آج مجھے کرچ (Crutch) 1پکڑ کر آنا پڑا ہے۔ یہ دورہ اتنا شدید تو نہیں کہ میں چل نہ سکوں لیکن سونٹوں کے سہارے بغیر چلنا مشکل ہے۔
    میں نے گزشتہ خطبہ میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ مسجد کے بڑھانے کی طرف توجہ کریں۔ مجھے خوشی ہے کہ بعض دوستوں نے اس کی طرف توجہ کی ہے۔ چنانچہ میاں سراج الدین صاحب جنہوںنے مسجد کے لئے پانچ ہزار روپیہ چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے انہوںنے بعض زمینیں دیکھی ہیں اور مجھ سے انہوں نے ذکر بھی کیا ہے۔ اگر اَور دوست بھی مسجد کے لئے زمین تلاش کر کے اطلاع دیں تو انتخاب زیادہ بہتر ہو سکتا ہے ورنہ سراج الدین صاحب ہی جس حد تک تحقیق کر چکے ہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کر دیا جائے گا تاکہ زمین کا سودا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ چاہے تو مسجد مکمل ہو جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مال کی تقسیم پر مقرر ہوتا ہے اُس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنا ہی ثواب دیا جاتا ہے جتنا ثواب روپیہ دینے والوں کو ملتا ہے۔2 اب یہ کتنی آسان بات ہے کہ ایک شخص دیانتداری سے روپیہ تقسیم کر دے اور اتنا ہی ثواب لے جائے جتنا روپیہ دینے والوں نے لیا ہے۔ اِسی طرح اگر کوئی شخص ان کاموں میں حصہ بٹاتا ہے جو تمام جماعت کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں تو اسے بھی اتنا ہی ثواب مل جاتا ہے جتنا جماعت کے باقی لوگوں کو ان کاموں میں حصہ لینے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے۔ پس اگر کسی شخص کو مسجد کے لئے چندہ دینے کی توفیق ملی اور پھر اسے مسجد کے لئے زمین تلاش کرنے کی بھی توفیق ملی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی بناء پر جس میں آپ نے روپیہ تقسیم کرنے والے کو بھی ثواب میں برابر کا حقدار قرار دیا ہے، شاید اسے ان تمام لوگوں کے برابر ثواب مل جائے گا جنہوں نے چندہ دیا ۔اور اتنے بڑے ثواب کو کھونا یا اس کی طرف توجہ نہ کرنا بہت ہی خلاف عقل بات معلوم ہوتی ہے۔
    آج میں اختصار کے ساتھ اس امر کی طرف جماعت کو خصوصاً جماعت کے نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت بہت سخت ہوتی جاتی ہے۔ وہ لوگ جو کل تک ہماری جماعت کی تعریف میں رَطْبُ اللِّسَان تھے آج ان کے خون کے پیاسے نظر آرہے ہیں۔ آپ لوگوں نے اخبار میں اوکاڑہ کے واقعات پڑھے ہوں گے کہ وہاں ہمارے ایک دوست کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اب پردہ ڈالنے کے لئے یہ کہا جا رہا ہے کہ قتل کرنے والے کی مخالفت کی بناء کوئی لین دین کا جھگڑا تھا۔ مگر ساتھ ہی یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ وہ جھگڑا دو سال کا پرانا تھا۔ حالانکہ اگر یہ بات درست بھی تسلیم کر لی جائے کہ دو سال پہلے کا کوئی جھگڑا تھا تب بھی اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اِس وقت اس کا قتل کرنا درحقیقت ان مولویوں کی انگیخت کا نتیجہ تھا جنہوںنے ہماری جماعت کے خلاف تقریریں کیں۔ ورنہ اگر صرف یہی جھگڑااختلاف کا باعث تھا تو اس نے گزشتہ دو سال میں یہ فعل کیوں نہ کیا۔ اگر ایک شخص دیکھے کہ کوئی اس کے بچہ کو پیٹ رہا ہے اور وہ اُس وقت خاموش رہے لیکن دو سال کے بعد مارنے والے کو پیٹنے لگے اور کہے کہ میں اُسے اس لئے پیٹ رہا ہوں کہ اس نے آج سے دو سال پہلے میرے بچہ کو مارا تھا توکون شخص اس کی بات کو تسلیم کرے گا۔ ہر شخص کہے گا کہ اب اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد تمہارا پیٹنا اگر اشتعال کی وجہ سے ہے تب بھی اس اشتعال کو کسی اَور چیز نے تازہ کر دیا ہے۔ اسی طرح اس اشتعال کو زندہ کرنے والا، اس اشتعال کو تازہ کرنے والا اور اس اشتعال کو ابھارنے والا مولویوں کا لوگوں کو جوش دلانا اور ان کا احمدیوں کے خلاف تقریریں کرنا تھا اور یہ ایک جگہ کا حال نہیں ہر جگہ یہی ہو رہا ہے۔
    ان حالات میں پہلی نصیحت تو میں جماعت کے دوستوں کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ان امور کو ابتلائِ شر نہ سمجھیں بلکہ دینی ترقی کا ذریعہ سمجھیں۔ یہ بزدلوں اور بے ایمانوں کا کام ہوتاہے کہ وہ مصائب کے آنے پر گھبرا جاتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کے ابتدا میں ہی منافق کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ ٹھہر جاتا ہے اور جب آرام اور راحت کا وقت آتا ہے تو چل پڑتا ہے۔3 مومن وہ ہوتاہے جو مصائب کے وقت اَور بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ احزاب کے موقع پر جب مسلمانوں سے کہا گیا کہ لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں اور وہ تمہیں مارنے کی فکر میں ہیں توانہوں نے کہا یہ تو ہمارے ایمانوں کو بڑھانے والی بات ہے4 کیونکہ ہمارے خدا نے پہلے سے ان واقعات کی خبر دے رکھی تھی۔ اس سے ہمارے ایمان متزلزل کیوں ہوں گے۔ وہ تو اَور بھی بڑھیں گے اور ترقی کریں گے۔ پس ایسے امور سے مومنوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مدارج کو بلند کر نے کے سامان پیدا کر رہا ہے۔ ہم میں سے کون ہے جس نے ایک دن مرنا نہیں۔ مگر ایک موت کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ طبعی موت ہوتی ہے۔ اور دوسری موت کے متعلق فرماتا ہے کہ ایسے مرنے والے ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں۔ بلکہ فرماتا ہے تم ان کو مُردہ مت کہو وہ زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو رزق مل رہا ہے۔5 یعنی ان کی روحانی ترقیات کے سامان متواتر ہوتے چلے جائیں گے۔ دشمن تو یہی دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ تم کو مٹا دے اور وہ تم کو غمگین بنا دے مگر جب وہ دیکھتا ہے کہ تمہیں مارا جاتا ہے تو تم اَور بھی زیادہ دلیر ہو جاتے ہو، تم اَور بھی زیادہ بہادر ہو جاتے ہو، تم اَور بھی زیادہ خوش ہو جاتے ہو اور کہتے ہو کہ خدا نے ہماری ترقی کے کیسے سامان پیدا کئے ہیں تو اس کا حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے تو مولویوں نے یہ فتویٰ دے دیا کہ جو شخص مرزا صاحب کے پاس جائے گا یا ان کی تقریر میں شامل ہو گا اُس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ یہ کافر اور دجال ہیں۔ ان سے بولنا، ان کی باتیں سننا اور ان کی کتابیں پڑھنا بالکل حرام ہے بلکہ ان کو مارنا اور قتل کرنا ثواب کا موجب ہے۔ مگر آپؑ کی موجودگی میں انہیں فساد کی جرأت نہ ہوئی کیونکہ چاروں طرف سے احمدی جمع تھے۔ انہوںنے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ ان کے جانے کے بعد فساد کیا جائے۔ میں بھی اُس وقت آپؑ کے ساتھ تھا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام وہاں سے روانہ ہوئے اور گاڑی میں سوار ہوئے تو دور تک آدمی کھڑے تھے جنہوںنے پتھر مارنے شروع کر دیئے مگر چلتی گاڑی پر پتھر کس طرح لگ سکتے تھے۔ شاذو نادر ہی ہماری گاڑی کو کوئی پتھر لگتا ورنہ وہ مارتے ہم کو تھے اور لگتااُن کے کسی اپنے آدمی کو تھا۔ پس اُن کا یہ منصوبہ تو خاک میں مل گیا۔ باقی جو احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وجہ سے وہاں جمع تھے اُن میںسے کچھ تو اردگرد کے دیہات کے رہنے والے تھے جو آپؑ کی واپسی کے بعد اِدھر اُدھر پھیل گئے اور جو تھوڑے سے مقامی احمدی رہ گئے یا باہر کی جماعتوں کے مہمان تھے اُن پر مخالفین نے سٹیشن پر ہی حملے شروع کر دیئے۔ ان لوگوں میں سے جن پر حملہ ہوا ایک مولوی برہان الدین صاحب بھی تھے۔ بدمعاشوں نے ان کا تعاقب کیا، پتھر مارے، برا بھلا کہا اور آخر ایک دکان میں انہیں گرا لیا۔ اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ گوبر لاؤ ہم اس کے منہ میں ڈالیں۔ چنانچہ وہ گوبر لائے اور انہوں نے مولوی برہان الدین صاحب کا منہ کھول کر اُس میں گوبر ڈال دیا۔ جب وہ مار رہے تھے اور گوبر آپ کے جسم پر ملتے تھے اور پھر آپ کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے تھے تو بجائے اس کے کہ مولوی برہان الدین صاحب انہیں گالیاں دیتے یا شور مچاتے جنہوں نے یہ نظارہ دیکھا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بڑے اطمینان اور خوشی سے یہ کہتے جاتے تھے کہ سُبْحَانَ اللّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ یہ دن کسے نصیب ہوتا ہے۔ پھر فرماتے یہ دن تو اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے آنے پر ہی نصیب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کابڑا احسان ہے جس نے مجھے یہ دن دکھایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی دیر میں ہی جو لوگ حملہ کر رہے تھے ان کے نفس نے انہیں ملامت کی اور وہ شرمندگی اور ذلت سے آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔
    تو بات یہ ہے کہ جب دشمن دیکھتا ہے کہ یہ لوگ موت سے ڈرتے ہیں تو وہ کہتا ہے آؤ ہم انہیں ڈرائیں۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شیطان اپنے اولیاء کو ڈراتا ہے۔6 پس جب کوئی شخص ڈرتا ہے تووہ سمجھتے ہیں یہ شیطانی آدمی ہے۔ لیکن اگر وہ ڈرتا نہیں بلکہ ان حملوں اور تکالیف کو خداتعالیٰ کا انعام سمجھتا ہے اور کہتا ہے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے یہ عزت کا مقام عطا فرمایا ہے اوراس نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ میں اس کی خاطر مار کھا رہا ہوں تو دشمن مرعوب ہو جاتا ہے اور پھر خدا بھی اپنے بندہ کے لئے وہ غیرت دکھاتا ہے جس کی مثال اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔
    ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ روس کا بادشاہ پیٹر ایک دفعہ کسی ضروری امر پر غور کرنے کے لئے اپنے چوبارے پر بیٹھ گیا اور اس نے حکم دے دیا کہ کسی شخص کو اندر آنے کی اجازت نہ دی جائے۔ پرانے زمانہ میں دروازے نہیں ہوتے تھے صرف پردے لٹکا لئے جاتے تھے۔ اور عربی کتابوںسے پتہ لگتا ہے کہ مسلمانوں کے مکانوں میں بھی دروازے نہیں ہوتے تھے اسی لئے حکم تھا کہ جب آؤ تو اجازت لے کر آؤ۔ بہرحال اُس نے ڈیوڑھی پر ٹالسٹائے کو جو اُس کا چپڑاسی تھا بٹھا دیااور اُسے کہہ دیا کہ کسی کو اندر نہ آنے دینا میں ایک ضروری امر کے متعلق غور کر رہا ہوں۔ اتفاقاً کوئی شہزادہ آگیا۔ اس نے بادشاہ کے پاس کسی کام کے لئے جانا چاہا۔ روس کے شاہی قانون کے مطابق شہزادہ کو کوئی شخص روک نہیں سکتا۔ شہزادوں کو یہ اجازت تھی کہ وہ بادشاہ کے پاس جب چاہیں چلے جائیں انہیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔ پھر ایک یہ بھی روسی قانون تھا کہ کوئی غیر فوجی آدمی کسی فوجی کو نہیں مار سکتا۔ دوسرے یہ کہ بڑے افسر کو چھوٹا افسر نہیں مار سکتا۔ اور تیسرے یہ کہ کسی شہزادہ کو کوئی غیر شہزادہ نہیں مار سکتا یا کسی نواب کو کوئی غیر نواب نہیں مار سکتا۔ پس چونکہ قانون یہ اجازت دیتا تھا کہ شہزادے بغیر کسی روک کے بادشاہ کے پاس چلے جایا کریں اس لئے شہزادہ نے اندر داخل ہونا چاہا مگر جونہی وہ اندر داخل ہونے لگا ٹالسٹائے نے آگے بڑھ کر کہا حضور شہزادہ صاحب! بادشاہ کا حکم ہے کہ کسی کو اندر نہ آنے دیا جائے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے مگر تمہیں پتا ہے میں شہزادہ ہوں اور شہزادوں کے متعلق یہ قانون ہے کہ وہ بغیر کسی روک کے بادشاہ کے پاس جا سکتے ہیں۔ اس نے کہا پتاہے۔ اس پر شہزادے کو غصہ آیا اور اس نے اسے دو چار کوڑے لگائے اور کہا باوجود اس قانون کے معلوم ہونے کے تم یہ جرأت کرتے ہو کہ مجھے اندر داخل نہیں ہونے دیتے۔ اس نے مار کھالی اور شہزادہ نے بھی دو چار ہنٹر مارنے کے بعد سمجھ لیا کہ اسے اب سبق آگیا ہو گا۔ چنانچہ وہ اندر داخل ہونے کے لئے آگے بڑھا مگر ٹالسٹائے نے پھر اسے روک لیا اور کہا حضور! بادشاہ نے اندر آنے سے منع فرمایا ہے۔ اس پر اس نے پہلے سے بھی زیادہ اسے مارا اور خیال کیا کہ اب اسے سمجھ آگئی ہو گی۔ مگر جب اس نے پھر محل میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ٹالسٹائے نے پھر اپنے ہاتھ پھیلا دیئے اور کہا حضور! بادشاہ کا حکم ہے کہ کوئی شخص اندر نہ آئے۔ اس پر شہزادہ نے پھر اسے تیسری بار مارا۔ شہزادہ کے بار بار مارنے اور پھر غصہ سے اُس کی آواز کے بلند ہونے کی وجہ سے جب شور پیدا ہوا تو قدرتی طور پر بادشاہ بھی اس طرف متوجہ ہو گیا اور وہ تمام نظارہ اوپر بیٹھ کر دیکھتا رہا۔ جب شہزادہ اسے تیسری دفعہ مار چکا تو بادشاہ نے غصہ والی آواز بنا کر کہا ٹالسٹائے! ادھر آؤ۔ ٹالسٹائے دوڑ کر اندر گیا۔ ساتھ ہی شہزادہ بھی جوش کی حالت میں داخل ہو گیا اور اس نے چاہا کہ وہ بادشاہ سے شکایت کرے۔ جب ٹالسٹائے پہنچا تو بادشاہ نے کہا ٹالسٹائے !یہ کیسا شور تھا؟ اس نے کہا حضور شہزادہ صاحب تشریف لائے تھے اور اندر آنا چاہتے تھے مگر مجھے چونکہ حضور کا حکم تھا کہ کسی کو اندر نہیں آنے دینا اس لئے میں نے عرض کیا کہ آپ کو اندر جانے کی اجازت نہیں اور جب یہ زبردستی اندر داخل ہونے لگے تو میں نے ان کو روکا۔ بادشاہ نے کہا پھر۔ اس نے کہا پھر انہوںنے مجھے مارا۔ بادشاہ نے شہزادہ سے پوچھا کہ کیا یہ ٹھیک ہے؟ اس نے کہا ٹھیک ہے لیکن روس کا قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ شہزادہ کو اندر داخل ہونے سے روکا جائے۔ بادشاہ نے کہا یہ درست ہے کہ روس کا قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ شہزادہ کو اندر آنے سے روکا جائے۔ لیکن کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ بادشاہ پر اپنے ملک کی کئی قسم کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن کے لئے بسا اوقات اُسے غور اور فکر کی ضرورت ہوتی ہے اور غور اور فکر کے لئے علیحدگی ضروری ہوتی ہے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ حکومت کی ذمہ داریاں تو ادا ہوں یا نہ ہوں لیکن قانون کے محض الفاظ پورے ہوتے چلے جائیں؟میرے سامنے اِس وقت بہت بڑی مُہم تھی جو حکومت سے تعلق رکھتی تھی اور میں چاہتا تھا کہ مجھے کچھ وقت ملے تو میں اس کے متعلق سکیم سوچوں اور غور کروں کہ کس طرح اپنے ملک کو خطرہ سے بچایا جا سکتا ہے۔ کیا ان حالات میں میرا یہ حق نہ تھا کہ میں حکم دے دیتا کہ کوئی شخص اندر نہ آئے اور میری توجہ کو کسی اَور طرف نہ پھیردے؟ ٹالسٹائے نے عقلمندی اور ادب سے کام لیا اور اس نے میرے حکم کی فرمانبرداری کی مگر تم نے رشتہ دار ہوتے ہوئے میرے حکم کی نافرمانی کی اور تم نے جو اس کو مارا تو اس کے کسی جُرم کی وجہ سے نہیں مارا بلکہ اِس لئے مارا کہ اِس نے میری فرمانبرداری کیوں کی۔ اس کے بعد بادشاہ نے ٹالسٹائے کے ہاتھ میں کوڑا دے کر کہا کہ ٹالسٹائے! اُٹھو اوراس کوڑے سے شہزادے کو مارو۔ شہزادے نے کہا روس کا قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی غیر فوجی کسی فوجی آدمی کو مارے۔ میں فوجی ہوں اور یہ غیر فوجی ہے اس لئے یہ مجھے مار نہیں سکتا ۔ بادشاہ نے کہا ٹالسٹائے! میں تم کو فوجی عُہدہ دیتا ہوں تم اسے مارو۔ گویا بادشاہ نے بتایا کہ اگر روس کا قانون یہ ہے کہ کوئی غیر فوجی کسی فوجی کو نہیں مار سکتا تو فوجی عُہدہ دینا بھی تو میرے اختیار میں ہے میں ٹالسٹائے کو فوجی عُہدہ دے دیتا ہوں۔ اس پر پھر شہزادہ نے کہا میں فوج میں کرنیل یا جرنیل ہوں اور مجھے میرے برابر کا آدمی ہی مار سکتا ہے چھوٹا نہیں۔ بادشاہ نے کہا ٹالسٹائے! میں تم کو بھی وہی عُہدہ دیتا ہوں۔ اس پر شہزادہ نے کہا روس کا قانون یہ ہے کہ کسی نواب کو کوئی غیر نواب سزا دینے پر مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ بادشاہ نے کہا نواب بنانا بھی تو میرے اختیار میں ہے۔ اے نواب ٹالسٹائے! میں تم کو حکم دیتاہوں کہ تم اس شہزادہ کو مارو۔ اس طرح بادشاہ نے شہزادہ کے ہر عذر کو توڑا اور آخر ٹالسٹائے سے اس کو پٹوایا کیونکہ ٹالسٹائے نے بادشاہ کی خاطر مار کھائی تھی۔
    کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہمارا خدا اتنی بھی غیرت نہیں رکھتا جتنی ٹالسٹائے کے متعلق روس کے بادشاہ نے غیرت دکھائی؟ تم میں سے جو شخص اس لئے پیٹا جائے گا کہ وہ خدا کی بات پر ایمان لایا یا خدا کی آواز پر اس نے لبیک کہا۔ دنیا کا چھوٹا ہو یا بڑا جو اُس کو مارے گا اور سزا دے گا خدا اُسے نہیں چھوڑے گا جب تک اسے سزا نہ دے لے۔ خد اتعالیٰ کے کوڑے کے مقابلہ میں کسی انسان کا کوڑا نہیں چل سکتا۔ لوگ اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے ہیں، لوگ اپنے جتھے پر گھمنڈ کرتے ہیں، لوگ اپنی حکومت پر گھمنڈ کرتے ہیں مگر ہمارے خدا کی حکومت دنیا کی حکومتوں سے بہت بڑی ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نبیوں نے کہا کہ وہ کونے کا پتھر ہو گا جس پر وہ گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا اور جو اس پر گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا۔7 یعنی خواہ وہ کسی پر حملہ آور ہو یا کوئی اس پر حملہ آور ہو دونوں صورتوں میں وہ سزا پائے بغیر نہیں رہے گا۔ آپ کے متبع بھی کونے کے پتھر ہیں۔ پس یہ ڈرانے کی باتیں نہیں یہ انعام کی چیزیں ہیں۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پہلے ایک تھے۔ پھر ایک سے دو ہوئے، دو سے چار ہوئے، چار سے آٹھ ہوئے، آٹھ سے سولہ ہوئے، سولہ سے بتیس ہوئے، بتیس سے چونسٹھ ہوئے، چونسٹھ سے ایک سو اٹھائیس ہوئے اور اس طرح ہم بڑھتے چلے گئے۔ کب وہ وقت آیا کہ ہمارا دشمن کمزور تھا اور ہم طاقتور تھے؟ ہماری تاریخ میں کوئی وقت ہم پر ایسا نہیں آیا کہ دشمن کمزور ہو اور ہم طاقتور ہوں۔ یا کب وہ وقت آیا کہ ہمارے پاس سامان تھے اور دشمن کے پاس سامان نہیں تھے؟ ہمیشہ ہمارے دشمن کے پاس ہی سامان تھے اور ہمارے پاس کوئی سامان نہیں تھے۔ یا کب وہ وقت آیا کہ دشمن نے ہمیں امن دینے کا ارادہ کیا ہو اور اس کے اس ارادے کی وجہ سے ہم بچے ہوں؟ ہمیشہ ہی دشمن نے ہمارے قتل کے فتوے دیئے لیکن ہمیشہ ہی خدا نے ہم کو بچایا اور خدا نے ہم کو بڑھایا۔ پس وہ کونسی نئی چیز ہے جس سے تم گھبراتے ہو یا کونسی نئی بات ہے جو تمہیں تشویش میں ڈالتی ہے ۔ کیا کوئی نبی دنیا میں ایسا آیا ہے جس کی جماعت نے پھولوں کی سیج پر سے گزر کر کامیابی حاصل کی ہو؟ پتھر اور کنکر اور کانٹے ہی ہیں جن پر سے نبیوں کی جماعتوں کو گزرنا پڑا اور انہی پر سے تم کو بھی گزرنا پڑے گا۔ جس طرح ایک بکری کے بچہ کے پَیر میں جب کانٹا چُبھ جاتا ہے تو گلّہ بان اس کو اپنی گود میں اٹھا لیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کرتے ہوئے اگر تمہارے پاؤں میں کانٹا بھی چُبھے گا تو ایک غریب آدمی نہیں، ایک کمزور گلہ بان نہیں بلکہ زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا خدا تم کو اپنی گود میں اٹھا لے گا۔ لیکن اگر تم ڈرتے ہو تو تم اپنے ایمان میں کمزور ہو اور تم ان نتائج کے دیکھنے کے اہل نہیں جو انبیاء کی جماعتیں دیکھتی چلی آئی ہیں۔ تم اپنی سستیوں اور غفلتوں کو دور کرو، مایوسیوں کو اپنے قریب بھی نہ آنے دو، تمہیں خدا تعالیٰ نے شیر بنایا ہے تم کیوں یہ سمجھتے ہو کہ تم بکریاں ہو۔ جدھر تمہاری باگیں اُٹھیں گی اُدھر سے ہی اسلام کے دشمن بھاگنے شروع ہو جائیں گے اور جدھر تمہاری نظریں اٹھیں گی اُدھر ہی صداقت کے دشمن گرنے شروع ہو جائیں گے۔ بے شک خدا تعالیٰ کے دین کے قیام کے لئے تم ماریں بھی کھاؤ گے، تم قتل بھی کئے جاؤ گے، تمہارے گھر بھی جلائے جائیں گے مگر تمہارا قدم ہمیشہ آگے ہی آگے اٹھتا چلا جائے گا اور کوئی طاقت تمہاری ترقی کو روک نہیں سکے گی۔ الٰہی سنت یہی ہے کہ اس کی جماعتیں مرتی بھی ہیں، اس کی جماعتیں کچلی بھی جاتی ہیں اور اس کی جماعتیں بظاہر دنیوی نقصان بھی اٹھاتی ہیں مگر ان کا قدم ہمیشہ ترقی کی طرف بڑھتا ہے اور یہی وہ معجزہ ہوتاہے جو سنگدل سے سنگدل دشمن کو بھی ان کے آگے جھکا دیتا ہے اور انہیں فتح اور کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔
    پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو، نمازوں پر زور دو، دعاؤں پر زور دو، شب بیداری پر زور دو، صدقہ و خیرات پر زور دو، دین کی خدمت پر زور دو، تبلیغ پر زور دو اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔ جب تم خدا کے لئے اپنے آپ کو بدل لو گے تو خدا تمہارے لئے ساری دنیا کو بدل دے گا۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ 10اکتوبر 1950ئ)
    1: کرچ(Crutch): عصا۔ لاٹھی، بیساکھی
    2: صحیح مسلم کتاب الزکٰوۃ باب اجر الخازن الامین…
    3: (البقرۃ:21)
    4: (الاحزاب:23)
    5:
    (آل عمران:170)
    6: ( آل عمران:176)
    7: متی باب21آیات 42تا45

    25
    خدا تعالیٰ تمہارے خون کے قطروں سے دنیا کی کھیتیوں کو
    سرسبز و شاداب کرنا چاہتا ہے
    (فرمودہ 13؍ اکتوبر 1950ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’چونکہ اس ہفتہ ایک ضروری رسالہ لکھوانے کی وجہ سے مجھے دن میں متواتر کئی کئی گھنٹے بولنا پڑا ہے اس لئے میری کھانسی پھر دوبارہ تیز ہو گئی ہے اور آج صبح سے وجہ تو معلوم نہیں ہوئی لیکن برابر دل کی کمزوری کے دورے ہو رہے ہیں۔ شاید کھانسی کے عَود کرنے کی وجہ سے یا شاید دَور ہ میں کوئی تکلیف ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے یہ شکایت پیدا ہوئی ہے۔اس لئے میں بہت اختصار کے ساتھ آج کا خطبہ پڑھوں گا۔
    مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک زمین مسجد کے لئے تجویز ہو گئی ہے۔ میری کارکنوں کو یہی نصیحت ہو گی کہ وہ جلد سے جلد زمین خرید لیں۔ صرف اتنی بات دیکھنی چاہیے کہ زمین سڑک کے عین اوپر ہو۔ سڑک سے بہت پیچھے ہٹ کر جگہ لینا تو بالکل ہی نامناسب بات ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ گلی بنی ہوئی ہو اور سڑک سے کوئی ایک دومکان پیچھے ہٹ کر جگہ ہوجیسے یہ مسجد ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن زیادہ پیچھے ہٹنا اصل مقصد کو فوت کر دیتا ہے۔ بہرحال اس میں دیر نہیں کرنی چاہیے تاکہ مسجد بڑھنے کے ساتھ خدا تعالیٰ چاہے تو جماعت بھی اس رفتار سے بڑھنی شروع ہو جائے کہ ایک محدود عرصہ میں یہ نئی مسجد بھی بھر جائے۔
    دوستوں کو معلوم ہو گاکہ اس ہفتہ میں پھر ایک واقعہ راولپنڈی میں ہوا ہے اور ہمارا ایک احمدی شہید کر دیا گیا ہے۔ کہا جاتاہے کہ جس سے یہ واقعہ ہوا ہے اُس نے اقرار کیا ہے کہ اس کو میں نے احمدی سمجھ کر قتل کیا ہے کیونکہ علماء نے ہم کو یہی بتایا ہے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن اور واجبُ القتل ہیں۔ جہاں تک ایسے واقعات کا سوال ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور اس پر تعجب کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ جو نئی بات ہے اور جس پر تعجب کرنے کی وجہ ہے میں زیادہ تر اُسی کی طرف جماعت کی توجہ کو پھرانا چاہتا ہوں۔
    اِس 1950 ء میں مجھے خلافت کی خدمات بجا لاتے ہوئے 37 سال ہو گئے ہیں۔ اِن 37سال میں مختلف دَور جماعتوں پر آئے ہیں اور مختلف اَدوار میں مَیں نے جماعتوں کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنی لمبی تعلیم سے بھی جماعت نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ شاید ان کے عملوں کی کمزوریوں یا عقائد کی کمزوریوں کی وجہ سے ان کے لئے وہی دن مقدر ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے
    امروز قومِ مَن نہ شناسد مقامِ مَن
    روزے بگریہ یاد کُنَد وقتِ خُوشترم1
    آج میری قوم میرے مقام کو نہیں پہچانتی لیکن ایک دن آئے گا کہ میرے مبارک دنوں کو رو رو کر یاد کرے گی۔ جب ہم 1947ء میں قادیان سے آئے تو میں نے جماعت کو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی۔ قولی طور پر تو صرف کچھ افراد اور کچھ جماعتوں نے وہ جواب دیا لیکن عملاً درحقیقت ساری ہی جماعت کا وہ جواب تھا۔ میں نے اُس وقت کہا کہ یہ دن عارضی ہیں لوگ آج تمہاری تعریفیں کرتے ہیں حتّٰی کہ اور تو اَور ’’زمیندار‘‘ تک میں احمدی جماعت کی بہادری کی تعریفیں ہو رہی ہیں۔ لیکن ان عارضی تعریفوں پر مت جاؤ اور یاد رکھو کہ تم ان حالات میں سے گزرنے پر مجبور ہو کہ جن حالات میں سے پہلے نبیوں کی جماعتیں گزری ہیں۔ تمہیں خون بہانے پڑیں گے،تمہیں جانیں دینی پڑیں گی۔ اور اگر تم ان تعریفوں پر خوش ہوتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم نے نہ اپنے آپ کو سمجھا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کو سمجھا۔ اِس پر قولاً تو کچھ افراد اور جماعتوں نے میرے ان اعلانوں اور تحریک پر مجھے لکھا اور زبانی بھی کہا کہ آجکل جماعت کی بہت تعریف ہو رہی ہے۔ اِس وقت تو تبلیغ بالکل نہیں کرنی چاہیے۔ یہ دن تو اللہ تعالیٰ نے بڑے اچھے پیدا کئے ہیں آجکل تو لوگ ہماری بڑی تعریفیں کرتے ہیں اور تبلیغ بالکل مناسب نہیں لیکن عملاً ساری ہی جماعت نے یہ جواب دیا۔ کیونکہ تبلیغ کی طرف انہوں نے توجہ نہیں کی۔ میں نے انہیں کہا تھا اور اب واقعات تمہارے سامنے ہیں کہ وہ دن آنے والے ہیں کہ یہی تعریف کرنے والے تمہیں گالیاں دیں گے اور تم اُس وقت کہو گے کہ آج ہماری بہت مخالفت ہے اس لئے ہمیں تبلیغ نہیں کرنی چاہیے۔ گویا کچھ دن تو تم تبلیغ سے اس لئے غافل ہو جاتے ہو کہ لوگ تمہاری تعریف کرتے ہیں۔ اور کچھ دن تم تبلیغ سے اس لئے غافل ہو جاتے ہو کہ لوگ تمہاری مخالفت کرتے ہیں ۔پھر وہ دن کب آئے گا جب تم تبلیغ کرو گے۔
    مجھے یاد ہے جب کشمیر کا کام میں نے شروع کیا تو میں اُس وقت کے وائسرائے لارڈ ولنگڈن سے ملا اور میں نے کشمیر کے معاملہ کی طرف ان کو توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں ریاستوں کے معاملات میں انگریزی حکومت دخل دینا پسند نہیں کرتی۔ میں نے کہا اتنا تو میں جانتا ہوں کہ انگریزی حکومت کہتی یہی ہے کہ ہم ریاستوں کے معاملات میں دخل دینا پسند نہیں کرتے مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ حیدرآباد کے معاملہ میں انگریزوں نے دخل دیا ہوا ہے اور وہاں تین انگریز وزیر مقرر ہیں۔ لارڈ ولنگڈن نے کہا تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ نظام حیدرآباد اس کو پسند کرتا ہے؟ میں نے کہا ہرگز نہیں۔ مجھے جو بات تعجب میں ڈالتی ہے وہ یہ ہے کہ نظام کی ناپسندیدگی تو انگریزی حکومت کو بُری نہیں لگتی لیکن مہاراجہ جموں کی ناراضگی اُسے بُری لگتی ہے۔ بہت لمبی باتیں ہوئیں۔ آخر لارڈ ولنگڈن نے کہا کہ یہ باتیں جلدی نہیں ہو سکتیں، ان کے لئے وقت چاہیے۔ پھر انہوں نے کہا جب مجھے ہندوستان میں بھجوانے کا فیصلہ ہوا تو وزیر ہند نے مجھے بلایا اور کہا ولنگڈن !ہندوستان میں شورش بڑھتی چلی جاتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام تم ہی کر سکتے ہو اور اس شورش کے دبانے کے سب سے زیادہ اہل تم ہی ہو۔ کیا تم ہندوستان میں وائسرائے بن کر جانا قبول کرو گے؟ میں نے کہا اگر تو میرے ساتھ بھی وہی ہونا ہے جو پہلے وائسراؤں کے ساتھ ہوتا رہا ہے کہ ذرا کسی نے کوئی قدم اٹھایا اور کانگرس نے اس کے خلاف شور مچایا تو اُس سے جواب طلبیاں شروع کر دی گئیں تو پھر تو میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر آپ اس بات کے لئے تیار ہیں کہ چھ مہینے تک میں جو کچھ کروں اُس پر آپ گرفت نہ کریں تو میں جانے کے لئے تیار ہوں۔ اگر چھ مہینے تک میں ہندوستان کے حالات کو سنبھال نہ لوں تو پھر آپ بیشک مجھے واپس بُلا لیں۔ وزیر ہند نے کہا ولنگڈن! تم تو چھ مہینے کہتے ہو میں تمہیں بارہ مہینے کی مہلت دیتا ہوں۔ تمہیں اختیار ہو گا کہ جس طرح چاہو انتظام کرو۔ یہ واقعہ سُنا کر لارڈ ولنگڈن نے کہا کہ کام وقت بھی چاہتے ہیں مگر آپ کہتے ہیں کہ یہ معاملات بہت جلد طے ہو جائیں۔ میں نے کہا مجھے تو کام سے غرض ہے اگر آپ وعدہ کریں کہ مسلمانوں کی دِقّتیں اور اُن کی مشکلات دور کر دی جائیں گی تو وزیر ہند نے تو آپ کو بارہ مہینے کی مہلت دی تھی میں آپ کو اٹھارہ مہینے دینے کے لئے تیار ہوں۔ اس گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُن کے مخالفانہ رویہ میں تبدیلی پیدا ہو گئی۔ پھر میں نے لارڈ ولنگڈن سے کہا کہ میں کشمیر میں ایک وفد بھجوانا چاہتا ہوں تاکہ وہ وہاں کے حالات معلوم کرے۔ اگر مسلمانوں کی غلطی ہو تو وہ وفد مسلمانوں کو سمجھائے اور اگر ریاست کی غلطی ہو تو اُس کو توجہ دلائے۔ چنانچہ میں نے نام بھی بتائے جو گورنمنٹ کے لئے قابلِ اعتراض نہ تھے۔ اس میں ڈاکٹر اقبال صاحب تھے، خان بہادر شیخ رحیم بخش صاحب تھے، خواجہ حسن نظامی صاحب تھے، مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی تھے جو کانگرسیوں میں سے لئے گئے تھے اور پانچویں سر ذوالفقار علی خان صاحب تھے۔ میں نے کہا میری تجویز یہ ہے کہ یہ لوگ وہاں جائیں اور حالات کا جائزہ لیں۔ وائسرائے نے کہا اِس وفد پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا ریاست تو ضرور اعتراض کرے گی۔ انہوں نے کہا اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں اور پھر انہوں نے اصرارکرنا شروع کیا کہ آپ یہ وفد ضرور بھجوائیں۔ میں نے واپس آتے ہی مہاراجہ کو تار دیا کہ ہمارا ایک وفد ریاست کے حالات معلوم کرنے کے لئے آنا چاہتا ہے آپ اُسے آنے کی اجازت دیں۔ اِس پر دوسرے ہی دن سر ہری کشن کول کا جواب آگیا کہ افسوس ہے اِس وقت ملک میں بہت شورش ہے اس لئے مہاراجہ صاحب اس قسم کے وفد کے آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ میں نے وائسرائے کو چِٹھی لکھی کہ آپ نے زور دے کر مجھے کہا تھا کہ ریاست میں یہ وفد ضرور بھجوا دیا جائے اور آپ کے کہنے پر ہی میں نے مہاراجہ کو تار دیا۔ مگر اُس کا یہ جواب آ گیا ہے کہ چونکہ ملک میں بہت شورش ہے اس لئے مہاراجہ صاحب کسی وفد کو آنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اِس کے معنے یہ ہیں کہ ایک رنگ میں آپ نے میری ہتک کروائی ہے کیونکہ آپ کے کہنے اور زور دینے پر ہی میں نے یہ تار دیا تھا۔ لارڈ ولنگڈن کا جواب آیا کہ معلوم ہوتا ہے اُن کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے آپ دوبارہ تار دیں۔ مطلب یہ تھا کہ اب ہم خود انہیں توجہ دلا رہے ہیں اب وہ انکار نہیں کریں گے۔ میں نے پھر تار دے دی۔ اس تار کا دوسرے تیسرے دن یہ جواب آیا کہ اب ملک میں بالکل امن و امان ہے کسی وفد کے آنے کی ضرورت نہیں۔ اِس پر میں نے پھر وائسرائے کو لکھا کہ دنیا میں دو ہی حالتیں ہوتی ہیں یا تو امن کی حالت ہوتی ہے یا فساد کی حالت ہوتی ہے۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وفد بھی ایک ملک سے دوسرے ملک میں ہمیشہ جاتے رہتے ہیں۔ مگر مہاراجہ جموں کبھی تویہ کہتے ہیں کہ چونکہ فساد ہے اس لئے وفد کی ضرورت نہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ چونکہ امن ہے اس لئے وفد کی ضرورت نہیں۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ وفد کی ضرورت کب ہوتی ہے؟ وفد کی ضرورت یا تو امن کی حالت میں ہو گی یا فساد کی حالت میں ہوگی۔ مگر ان کے نزدیک نہ امن کی حالت میں وفد کی ضرورت ہے اور نہ فساد کی حالت میں وفد کی ضرورت ہے پھر وفد کی کس حالت میں ضرورت ہوا کرتی ہے؟ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لارڈ ولنگڈن کا نظریہ اُس دن سے بدل گیا اور انہوں نے ریاست کے معاملات کی کڑی نگرانی شروع کر دی اور مسلمانوں کی دِقّتیں بہت حد تک دور ہو گئیں۔
    میں دیکھتا ہوں کہ یہی حالت ہماری جماعت کی بھی ہے۔ جب امن ہوتا ہے وہ کہتے ہیں اب تبلیغ کی ضرورت نہیں کیونکہ امن ہے۔ جیسے مہاراجہ جموں نے کہا تھا کہ اب وفد کی ضرورت نہیں کیونکہ امن ہے۔ اور جب فساد ہوتا ہے تو کہتے ہیں اب تبلیغ کی ضرورت نہیں کیونکہ فساد ہے۔ جیسے مہاراجہ جموں نے کہا تھا کہ چونکہ ملک میں فساد ہے اس لئے کسی وفد کی ضرورت نہیں۔ گویا ہماری جماعت نے بھی وہی غیر معقول اور خلافِ عقل رویہ اختیا رکر لیا ہے کہ امن ہے اس لئے تبلیغ کی ضرورت نہیں، فساد ہے اس لئے تبلیغ کی ضرورت نہیں۔ معلوم ہوا دنیا میں تبلیغ کا کوئی موقع ہی نہیں ،مرنے کے بعد جنت میں تبلیغ ہوا کرے گی۔
    یاد رکھو یہ واقعات تمہیں بیدار کرنے کے لئے ہیں ۔تم کب سمجھو گے کہ تم ایک مامور کی جماعت ہو۔ تم کب سمجھو گے کہ تم دنیا سے نرالے ہو۔ تم کب سمجھو گے کہ خدا تمہارے خون کے قطروں سے دنیا کی کھیتیوں کو نئے سرے سے سرسبزو شاداب کرنا چاہتا ہے۔ جب تک تم یہ نہیں سمجھو گے نہ خدا تعالیٰ کی مدد تمہارے پاس آئے گی اور نہ تم ترقی کا منہ دیکھ سکو گے۔ تم مت سمجھو کہ تبلیغ کے نتیجہ میں بہت کم لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کے نتیجہ میں بعض کے نزدیک مکہ میں صرف 80 اور بعض کے نزدیک 300 آدمی اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ گویا تیرہ سال کی تبلیغ سے ان دونوں میں سے جو تعداد بھی سمجھ لو80سمجھو یا 300سمجھو صرف اتنے لوگ ہی اسلام میں داخل ہوئے۔ لیکن جب وقت آیا تو دو سال کے اندر اندر سارا عرب مسلمان ہو گیا۔ اصل میں یہ چیز بطور امتحان
    کے ہوتی ہے۔ تبلیغ خدا تعالیٰ اس لئے کرواتا ہے تا بعد میں تم خوش ہو کر کہہ سکو کہ ہماری محنت اور ہماری قربانی اورہماری جدوجہد اور ہماری تبلیغ کے نتیجہ میں دنیا مسلمان ہوئی ہے ورنہ دنیا کو مسلمان کرنا خدا کا کام ہے۔ جس دن خدا یہ دیکھ لے گا کہ اسلام اور احمدیت کے پھیلانے کے لئے جماعت نے ہر قسم کی قربانیاں کر لی ہیں۔ اس نے اپنے مالوں کو بھی قربان کر دیا ہے، اس نے اپنی جانوں کو بھی قربان کر دیا ہے۔ اس نے اپنی عزتوں کو بھی قربان کر دیا ہے، اس نے اپنے رشتہ داروں کو بھی قربان کر دیا ہے۔ اس نے اپنے اوقات کو بھی قربان کر دیا ہے۔ اس نے اپنے وطنوں کو بھی قربان کر دیا ہے تو وہ اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ جاؤ اور دنیا کے دلوں کو بدل دو اور لوگوں کو ان کے پاس کھینچ کر لے آؤ۔ اور جب خدا کی مدد آجائے تو لوگ اس کے سلسلہ میں داخل ہونے سے رُک نہیں سکتے۔ وہ آپ فرماتا ہے ۔2 جب خدا دیکھتا ہے کہ اس جماعت نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا ہے تو وہ خود لوگوں کے دلوں کو بدل دیتا ہے ورنہ صرف تبلیغ سے لوگوں کے دلوں کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ سے ہی لوگ مسلمان ہوتے تو صرف عرب کے لئے ہی شاید کئی صدیاں درکار ہوتیں۔ آپ کی تبلیغ سے ایک چھوٹی سی جماعت تیار ہوئی اور باقی لوگوں کے دلوں کو فرشتوں نے خود بدل ڈالا۔
    پس اس بات کو عجیب نہ سمجھو کہ تمہاری تبلیغ کے نتیجہ میں دنیا کس طرح احمدی ہو جائے گی۔ تمہاری تبلیغ صرف تمہارے ایمان کو ثابت کرے گی۔ تمہاری تبلیغ صرف تمہارے یقین کو ثابت کرے گی۔ تمہاری تبلیغ صرف تمہارے تعلق باللہ کو ثابت کرے گی۔ تمہاری تبلیغ صرف اس بات کو ثابت کرے گی کہ تم خدائی قانون کے معترف ہو۔ جس دن یہ مقام تمہیں حاصل ہو گیا اور جس دن تم نے یہ ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ کے حکم کی تکمیل میں تم کسی سے نہیں ڈرتے اُس دن وہ آپ ہی آپ لوگوں کے دلوں کو بدل دے گا۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس زمانہ کے متعلق خبریں دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ دن ایسے ہوں گے کہ رات کو لوگ کافر سوئیں گے اور صبح اٹھیں گے تو مسلمان ہوں گے۔3 پھر خدا خود لوگوں کے دلوں کو بدلے گا اور وہ انہیں کھینچتے ہوئے تمہاری طرف لے آئے گا۔ دو اَرب دنیا کے دلوں کو بدلنا تمہارے اختیار میں نہیں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ خدا تعالیٰ صرف یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے دلوں کو بدل دو اور یہی تبلیغ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ تبلیغ یہ نتیجہ پیدا نہیں کرتی کہ دنیا مسلمان ہو جائے ۔تبلیغ یہ نتیجہ
    پیداکرتی ہے کہ تم مسلمان ہو جاتے ہو۔ اگر تم تبلیغ نہیں کرتے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم ڈرتے ہو کہ لوگ ہمیں دُکھ دیں گے۔ لیکن جب تمہارے اندر تبلیغ کا جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ جوش ثابت کر دیتا ہے کہ تم لوگوں سے نہیں ڈرتے تو خداتعالیٰ اپنے بندوں سے کہتا ہے مخالفت کا زمانہ ختم ہو گیا، کفر کا زمانہ جاتا رہا، جاؤ اور ہمارے مامور کی ڈیوڑھی پر سر رکھ دو کہ اس کے بغیر تمہاری نجات نہیں۔ اور جب خدا کہتا ہے تو دنیا آپ ہی آپ کھنچی چلی آتی ہے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ہمیں یہی نظارہ نظر آتا ہے۔ عیسائیت کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہوا۔ ایک دن عیسائیوں کے پادری روم کے گڑھوں اور اس کی غاروں میں پناہ لئے بیٹھے تھے۔ شام کے وقت اُن کے قتل کے فتوے جاری تھے اور صبح کو تمام روم میں ڈھنڈورا پیٹا جارہا تھا کہ بادشاہ نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ عیسائیت سچا مذہب ہے۔ اس لئے روم کا بادشاہ عیسائی مذہب میں شامل ہوگیاہے۔ آئندہ حکومت کا مذہب عیسائیت ہو گا۔ آج سے جو عیسائیوں کو دکھ دے گا یا ان کو قتل کرے گا وہ پکڑا جائے گا اور اُسے سزا دی جائے گی۔ شام کو وہ اس غم سے سوتے ہیں کہ نہ معلوم صبح تک ہم میںسے کون زندہ رہے اور کون مارا جائے اور صبح کو اٹھتے ہیں تو وہ دنیا کے بادشاہ بنے ہوئے ہوتے ہیں اور اُن کا دشمن غاروں کی طرف بھاگ رہا ہوتا ہے۔ یہی حال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا۔ اور جو کچھ اَب تک ہوتا رہا ہے تمہارے ساتھ ہو گا۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میرے بار بار توجہ دلانے کے باوجود تم اب تک اس بات کو نہیں سمجھ سکے۔ تم ہی بتاؤ کہ کس ذریعہ سے میں تم کو سمجھاؤں اور وہ کونسا طریق ہے جس سے میں تم پر اس حقیقت کو واضح کروں؟ آخر تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو راستباز سمجھتے ہو۔ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کا راستباز انسان سمجھتے ہو اور ان سے جو کچھ گزرا وہ تمہارے سامنے ہے۔ لیکن اگر تم پھر بھی نہ سمجھو تو میں کیا طریقِ عمل اختیار کروں۔ اگر تم اتنی وضاحت کے باوجود بھی نہ سمجھو تو پھر تمہیں سمجھانا میرے بس کی بات نہیں۔ میں تو خدا تعالیٰ سے پھر یہی کہہ سکتا ہوں کہ میں نے جو کچھ کرنا تھا وہ کر چکا مگر میں انہیں یقین نہیں دلا سکا۔ اب تُو آپ ہی ان کو سمجھا کیونکہ ان کو سمجھانا میرے بس کی بات نہیں۔ ‘‘ (الفضل مورخہ 17؍اکتوبر1950ئ)
    1: درثمین فارسی صفحہ 111 نظارت اشاعت ربوہ
    2: النصر:2تاآخر
    3: صحیح مسلم کتاب الایمان باب الحث عَلَی الْمُبَادَرَۃِ
    ۃُ






    26
    اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو، دلوں کو بدلو اور دعاؤں پر زور دو
    (فرمودہ 27؍ اکتوبر 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’نزلہ اور گلے کی تکلیف کی وجہ سے میرے لئے آج بھی بولنا مشکل ہے۔ یہ حملہ برابر اڑھائی ماہ سے ہو رہا ہے بلکہ اس کو اس سے بھی لمبا سمجھنا چاہیے کیونکہ اس سے پہلے بھی شروع سال میں مجھے گلے کی تکلیف رہی ہے۔ لیکن وہ آواز بیٹھنے کا حملہ تھا اور اب کھانسی کا حملہ ہے اور اس کا کان اور سر پر بھی اثر ہے۔ کان ہر وقت بھرے رہتے ہیں اور قوتِ سماعت بھی کم ہے جس کی وجہ سے آواز سنائی نہیں دیتی۔ لاہور میں مجھے ڈاکٹر محمد بشیر صاحب نے بتایا تھا کہ میرے کان بوجھل ہو رہے ہیں اور شنوائی بھی کم ہو رہی ہے۔ اس ہفتہ مجلس خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع میں بھی حصہ لینا پڑا۔ میری ہدایت کے مطابق خدام الاحمدیہ نے بڑے اخلاص اور ہمت سے کام لیا اور گرد کم اُڑنے دی۔ لیکن پھر بھی گرد اور متواتر بولنے کا میرے گلے پر اثر پڑا اور نزلہ اور کھانسی کا کان اور سر پر بھی اثر ہے۔ میرے کان بھرے رہتے ہیں اور بولا بھی کم جا سکتا ہے۔
    آج میں اختصاراً جماعت کو اس کے اُس فرض کی طرف توجہ دلاؤں گا جس کی طرف میں نے پچھلے جمعہ میں بھی توجہ دلائی تھی۔ مرکز میں جمع ہونے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اَوروں سے زیادہ اخلاص اور قربانی سے کام لیا جائے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس جگہ کے رہنے والوں میں وہ قربانی نہیں پائی جاتی جو مرکز کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ یہاں تو یوں معلوم ہونا چاہیے کہ انسان چل نہیں رہا بلکہ بھاگ رہا ہے۔ اور جب تک وہ اپنا کام نبھا نہ لے سوئے نہیں۔ اگر دوست ایسا کرنا شروع کر دیں تو یقینا ہمارے کام پہلے سے بہتر ہو جائیں گے۔ اِس وقت جماعت پر خطرناک طور پر نازک وقت آیا ہوا ہے اور مالی مشکلات درپیش ہیں۔ ایک طرف چندے وصول نہیں ہو رہے اور دوسری طرف اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ یہاں جو عمارتیں بنیں گی ان کو اگر ہم سستے سے سستا بھی بنوائیں تو دس پندرہ لاکھ روپیہ خرچ آئے گا۔ پھر اس اختلاف کی وجہ سے جو ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے نتیجہ میں ہوا ہمیں دو جگہ مرکز بنانا پڑا۔ یہاں بھی ایک ناظر اعلیٰ ہے اور قادیان میں بھی ایک ناظر اعلیٰ ہے۔ یہاں بھی ایک ناظر تعلیم ہے اور قادیان میں بھی ایک ناظر تعلیم ہے۔ یہاں بھی ایک محاسب ہے اور قادیان میں بھی ایک محاسب ہے۔ یہاں بھی ایک ناظر بیت المال ہے اور قادیان میں بھی ایک ناظر بیت المال ہے۔ ہندوستان کے چندے اِدھر نہیں آسکتے وہ وہیں خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ رقم ضائع ہو رہی ہے ان لوگوں کا بھی حق ہے۔ لیکن یہ کام پہلے ایک انجمن ہی کر لیتی تھی اور وہ چندہ جو وہاں خرچ ہو رہا ہے بچ جاتا تھا۔ پس ایک طرف دو لاکھ روپیہ وہاں رہ جانے کی وجہ سے یہاں کے چندوں میں کمی آگئی ہے اور دوسری طرف نہ ناظروں کو کم کیا جا سکتا ہے اور نہ دفاتر کو کم کیا جا سکتا ہے۔ گویا آمد کم ہو گئی ہے لیکن اخراجات کم نہیں ہو سکے کیونکہ دونوں جگہ دفاتر کا ہونا ضروری ہے۔
    پھر اَور مصائب بھی آتے رہتے ہیں۔ مثلاً اب سیلاب کی آفت آئی ہے ۔اس سے پہلے زمینداروں نے قیمت کی کمی کی وجہ سے غلہ فروخت نہیں کیا اور نہ چندہ دیا۔ حالانکہ قیمتیں ایک حد تک ہی بڑھتی ہیں۔ اگر انہیں اس حد سے بڑھنے دیا جائے تووہ نقصان کا موجب ہوتی ہیں۔ جیسے قیمتوں کو نیچے گرنے دینا نقصان دہ ہوتا ہے ویسا ہی قیمتوں کو بڑھنے دینا بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔ مثلاً کپاس کی قیمت 140روپے فی من ہو گئی ہے اور گو یہ اتفاقی امر ہے لیکن گورنمنٹ نے اس پر 180روپے فی گانٹھ ٹیکس لگا دیا ہے اور یہ 60 روپے فی گانٹھ سے یکدم بڑھایا گیا ہے ۔ یہ ٹیکس زمینداروں کو مار دے گا۔ جب گورنمنٹ فی گانٹھ اتنا ٹیکس لے گی تو زمیندار کے لئے بہت کم رقم بچے گی۔ 650 روپے فی گانٹھ قیمت ہوتی ہے۔ اگر اس میں سے 180 روپے فی گانٹھ گورنمنٹ کو ٹیکس ادا کر دیا جائے تو اِس کے معنے یہ ہوئے کہ قریباً85روپے فی من قیمت ہوئی۔ جس میں 6روپے فی من سیل ٹیکس اور کمیشن ایجنٹوں اور ریل کے کرایوں پر خرچ ہو گا۔ پس زمیندار کو پچیس روپے من ملے گا۔ اور چونکہ اس دفعہ فصل آدھی ہو گی اس پچیس کو ساڑھے بارہ روپے فی من سمجھنا چاہیے۔ اِس وقت ضرورت تھی کہ زمینداروں کو فائدہ پہنچایا جائے لیکن دوسری طرف تاجروں کو نقصان پہنچتا تھا۔ اس لئے قیمت گرانے کے لئے گورنمنٹ نے کوئی نہ کوئی تجویز کرنی تھی اور ایسا کرنا مناسب تھا۔ مگر یکدم 60روپے فی گانٹھ سے 180 روپے فی گانٹھ ٹیکس کر دینا عقل کے خلاف ہے۔ اس سے زمیندار اور تاجر دونوں کو نقصان پہنچے گا اور قیمت بہت گر جائے گی۔ لیکن اگر انسان یہ سمجھے کہ جو ابتلاء آنا ہے سو آنا ہے اس کے نتیجہ میں وہ دینی خدمات سے کیوں رہ جائے تو اس کا قدم قربانی کے میدان میں پیچھے نہیں رہ سکتا۔ اگر اب ایک شخص40روپے ماہوار کی بجائے 60 روپے ماہوار بھی کماتا ہے تو بہرحال یہ پہلے کی نسبت زیادہ آمد ہے۔ انگریزی راج کے زمانہ میں اِس قدر آمد پیدا کرنا مشکل تھا۔ یہ قدرتی بات ہے کہ اگر ملک آزاد ہو جائے تو غیر ملکوں کے لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس ملک کو تنگ کیا تو وہ بھی بدلہ لے گا اور وہ ظالمانہ لُوٹ سے رُکے رہتے ہیں اور اس طرح ملک کی آمدنیں زیادہ ہو جاتی ہیں۔ پس پاکستان بننے سے ملک کی آمد پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے لیکن چونکہ لوگ اِس قسم کے مصائب کا مقابلہ کرنے کے عادی نہیں اس لئے باوجود آمد کے بڑھ جانے کے اِدھر کوئی بھیانک خبر نکلتی اور اُدھر چندہ کم ہو جاتا ہے اور سلسلہ کی آمد کو نقصان پہنچتا ہے۔
    تحریک جدید کو اس سال اتنا نقصان پہنچا ہے کہ مجھے یہ سوال اٹھانا پڑے گا کہ بعض مشن بند کر دیئے جائیں کیونکہ جماعت اگر مبلغین کو خرچ نہیں دے سکتی تو انہیں کیوں وہاں بُھوکا بٹھائے رکھا جائے۔ انہیں واپس بلا لینا چاہیے تا وہ واپس آکر کمائیں، کھائیں اور چندہ دیں۔ پہلے کبھی تحریک جدید کی آمد میں اتنی کمی نہیں آئی۔ دسویں سال تک تو تحریک جدید کے چندے سو فیصدی وصول ہوتے رہے۔ بعد میں اگرچہ کچھ رقم وصولی سے رہ جاتی تھی مگر دوسری طرف وعدے بھی بڑھ جاتے تھے اور ا س طرح دوسری آمدنوں کو ملا کر گزارہ ہوتا رہتا تھا لیکن اس سال دو لاکھ اسّی ہزار روپے کے وعدوں میں سے ایک لاکھ چھتیس ہزار روپیہ کی رقم وصول ہوئی ہے۔ اس رقم سے یہاں کے مقامی اخراجات بھی نہیں چل سکتے چہ جائیکہ بیرونی ممالک کے مبلغین کو اخراجات بھیجے جائیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کام کو وسیع کریں اور اس کا پہلا علاج یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو بدلے ۔ اگر لوگ محنت کرنے لگ جائیں اور دعاؤں پر زور دیں تو خداتعالیٰ مشکلات کو دور کر دے گا۔ آخر یہ کمی کیوں ہوئی ہے؟ یہ کمی اِسی لئے ہوئی ہے کہ جماعت کے کچھ حصہ میں بشاشتِ ایمان نہیں رہی ۔ مالی کمزوری تو صحابہؓ میں بھی تھی بلکہ ان میں مالی کمزوری ہم سے زیادہ تھی۔ لیکن ان کے اندر بشاشتِ ایمان تھی جہاں روپیہ سے کام نکلتا تھا وہ اپنا روپیہ بے دریغ بہا دیتے تھے اور جب روپیہ نہیں ملتا تھا تو وہ اپنی جانیں پیش کر دیتے تھے۔ انہیں کام سے غرض تھی وہ روپیہ کی کمی کو جان کی قربانی کے ذریعہ پورا کر دیتے تھے۔ جب وہ دیکھتے تھے کہ روپیہ سے کام چلے گا تو وہ اپنی سب پونجی خرچ کر دیتے تھے اور جہاں روپیہ میں کمی ہوتی وہ اپنی جانیں قربان کرنے میں دریغ نہ کرتے۔ اگر یہ روح ہماری جماعت میں بھی پیدا ہو جائے تو ہمارے سب کام چل جائیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زما نہ میں کون سے اخبار تھے؟ کونسا الفضل تھا؟ کونسا ریویو تھا؟ کونسا سن رائز (Sun Rise) تھا؟ کونسا مصباح تھا؟ ایک آواز نکلتی تھی اور لوگ کام کر دیتے تھے۔ اب روزانہ اعلان ہوتے ہیں مگر لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اب تو اتنے اعلان ہونے لگ گئے ہیں کہ مجھے بھی یہ بات بُری محسوس ہوتی ہے۔ آخر اتنے اعلانوں کی ضرورت کیا ہے۔ اگر لوگ چندہ نہیں دیتے تو نہ دیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اعلان کرنا بالکل بند کر دیا جائے۔ کسی حد تک اعلان کرنا تو ضروری ہے۔ ہر سال کے آخر میں میری طرف سے بھی ایک چھوٹا سا اعلان الفضل میں متواتر شائع ہوا کرتا تھا اور میں چاہتا ہوں کہ وہ اعلان اب میں دوبارہ شائع کرانا شروع کروں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ الفضل کا اکثر حصہ اِس وقت اشتہاروں میں خرچ ہوتاہے یہ روکنا چاہیے۔ مثلاً آج کے الفضل کا ایک صفحہ تو انچارج بیعت نے ہی لے لیا ہے۔ اگریہ اعلان شائع نہ ہوتا تو کیا حرج تھا۔ لیکن الفضل میں ان کا نام کیسے چَھپتا۔ ہر محکمہ کا افسر یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی کارروائی دکھانے کے لئے اپنا اعلان الفضل میں شائع کرتا رہے اور پھر صفحہ بھر سے کم بھی نہ لے اور اس طرح اس کا نام لوگوں کے سامنے آتا رہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے آج کے الفضل کا ایک صفحہ انچارج بیعت نے ہی لے لیا ہے حالانکہ یہ بات پانچ سطروں میں آجاتی تھی۔ یونہی مختلف خانے بنا بنا کر اعلان کو لمبا کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ فلاں جماعت کی طرف سے اتنی بیعتیں ہوئی ہیں اور فلاں کی طرف سے اتنی بیعتیں ہوئی ہیں اور پھر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فلاں جماعت کی طرف سے صفر بیعت ہوئی ہے۔ لوگ دس بیس کو تو گنتے ہیں صفر کو نہیں گنتے۔ تم نے کبھی کوئی تاجر ایسا نہیں دیکھا ہو گا جو یہ لکھتا ہو کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک میں دکان پر بیٹھا لیکن کوئی آمد نہ ہوئی۔ وہ یہی لکھتا ہے کہ مثلاً دو بجے ایک گاہک آیا اور دو روپیہ کی آمد ہوئی۔ میں بارہا سمجھا چکا ہوں کہ ایسا نہ کیا جائے لیکن ہر محکمہ کا آفیسر یہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اُس کا نام الفضل میں آجائے۔ اور الفضل والوں کو بھی خدا ایسے اعلان دے۔ جب ان کے پاس کوئی اعلان پہنچتا ہو گا وہ کہتے ہوں گے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ آج مضمون نہیں لکھنا پڑے گا۔ الفضل کے ایڈیٹروں کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ بھی کوئی مضمون لکھا کریں۔ اِس وقت یہ حالت ہے کہ الفضل کا ایک حصہ غیروں کے پڑھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ کوئی مبلغ آتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ چلو اپنی کچھ روئیداد ہی لکھ دوں۔ وہ روئیداد لکھ دیتا ہے اور الفضل اسے شائع کر دیتا ہے۔ حالانکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بددیانت ہوتا ہے اور دفتر کی طرف سے زیرِعتاب ہوتا ہے لیکن الفضل اس کا نام اُچھالتا رہتا ہے۔ اِس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم بالکل اعلان نہ کرو۔ اعلان کرو لیکن کوشش کرو کہ الفضل کی تھوڑی جگہ لو۔
    مگر سب سے ضروری یہ بات ہے کہ لوگ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں، اپنے دلوں کو بدلیں اور دعاؤں پر زور دیں۔ یہی لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں اگر راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعاؤں میں لگ جائیں کہ جن لوگوں نے وعدے کئے ہیں اور انہیں ایفاء نہیں کیا اے خدا! تُو انہیں اپنے وعدے ایفاء کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کے دلوں کو صاف کر، اُن کی سُستیاں دور فرما۔ تُو کام کرنے والا خدا ہے۔ وہ خدا جس نے جماعت کو ایک سے لاکھوں کر دیا۔ وہی خدا اَب بھی اسے لاکھوں سے کروڑوں کر دے گا۔ اور وہ خدا جس نے ایک روپیہ سے لاکھوں کر دیا وہی خدا اَب بھی کھوٹے سکّوں کو جو اخلاص کی کمی کی وجہ سے نہیں دیئے جاتے قیمتی کر دے گا۔
    میں پہلے ربوہ کے رہنے والوں سے کہوں گا کہ وہ دعائیں کریں اور اپنے قلوب کو صاف کریں تا ان کی سُستیاں دور ہوں۔ اِس وقت ساری دنیا کی زندگی اور موت کا سوال ہے، اِس وقت تمہاری اپنی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ اِس وقت تمہارے بیوی بچوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے، اِس وقت جنت اور دوزخ کا سوال ہے۔ تم اپنے قلوب کو صاف کرو اور دعاؤں میں لگ جاؤ تا تمہاری سُستیاں دور ہو جائیں۔ جو وعدہ تم نے خود کیا ہے آخر اس کے متعلق تم خدا کے سامنے کیا جواب دو گے۔ تحریک جدید کے کارکنوں کو دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ آخر وہ کام کریں گے کیا۔ انہیں پہلے ہی تنخواہ کم دی جاتی ہے اور وہ بھی دو ماہ سے رُکی ہوئی ہے۔ مجھے ایک واقفِ زندگی کے متعلق دفتر کا خط آیا کہ اُس کی بیوی بیمار ہے اور ڈاکٹروں کی رائے میں اُسے فورًا ہسپتال میں داخل کرانا ضروری ہے۔ آپ اس کے لئے روپیہ منظور کریں۔ میں نے کہہ دیا تم نے خود آمد بڑھانے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی اس لئے میں کیا کر سکتا ہوں اس کی ذمہ داری تم پر ہے۔ لیکن درحقیقت اس کی ذمہ داری جماعت پر ہے۔ اگر کوئی کارکن فاقہ کی وجہ سے مر جاتا ہے تو جماعت کا ہر فرد اُس کاذمہ دار ہے۔ کیونکہ اُس نے وعدہ کیا تھا کہ میں اتنا چندہ دوں گا۔ لیکن سال کے گیارہ مہینے گزر گئے اور اس نے چندہ ادا نہیں کیا۔ یہ چیز کسی نہ کسی روحانی بیماری پر دلالت کرتی ہے۔ تمہیں چھینک آتی ہے تو تم کہتے ہو میں بیمار ہوں، تمہیں ڈکار آتا ہے تو تم کہتے ہو میں بیمار ہوں، تمہیں پسینہ زیادہ آتا ہے تو تم کہتے ہو میں بیمار ہوں، تمہیں قے آنے لگتی ہے تو تم کہتے ہو میں بیمار ہوں، تمہارے ناک سے پانی بہہ رہا ہوتا ہے تو تم کہتے ہو میں بیمار ہوں، تمہارا جسم ٹھنڈا ہو جاتاہے تو تم کہتے ہو میں بیمار ہوں، تمہارا جسم زیادہ گرم ہو جاتا ہے تو تم کہتے ہو میں بیمار ہوں، تمہارا پاخانہ بند ہو جاتاہے تو تم سمجھتے ہو مجھے کوئی بیماری لگ گئی ہے، تمہیں پاخانہ زیادہ آتا ہے تو تم سمجھتے ہو مجھے کوئی بیماری لگ گئی ہے، لیکن جماعت کا چندہ نصف ہو گیا، اس کے مشن بند ہونے کو ہیں، لٹریچر کی اشاعت اور مبلغین کے سفر کے لئے روپیہ نہیں، مقامی دفتر بند ہو رہے ہیں اور تم سمجھتے ہو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کوئی بیماری نہیں۔ یقینا یہ کوئی ایسی بیماری ہے جو جماعت کو اندر ہی اندر اس طرح کھا رہی ہے جس طرح کسی درخت کی جڑ کو کیڑا کھا جاتا ہے۔ کیونکہ تم ایسی حرکت کر رہے ہو جو کوئی عقلِ سلیم رکھنے والا نہیں کر سکتا۔ تمہارے سپرد ایک ہی کام ہے جو تم نہیں کر رہے۔ اس کا علاج اب یہی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے پاس جاؤاور اُس سے اپنے قلوب کی صفائی کے لئے دعا کرو تا تمہاری سُستیاں دو رہو جائیں اور تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگ جاؤ۔
    ایک شخص ایک بزرگ کے پاس کچھ دیر تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس وطن جانے لگا تو اس بزرگ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے شہر میں شیطان بھی ہوتا ہے؟ اس نے جواب دیا شیطان تو ہر شہر میں ہوتاہے۔ اس بزرگ نے کہا تم نے کچھ پڑھ تو لیا ہے لیکن اگر تم کام کرنے لگے اور شیطان نے تمہاری ایڑی پکڑ لی تو تم کیا کرو گے؟ اُس شخص نے جواب دیا میں استغفار اور لاحول پڑھوں گا اور شیطان بھاگ جائے گا۔ اس بزرگ نے کہا فرض کرو تم کام کرنے لگے اور شیطان نے تمہاری ایڑی پکڑلی تم نے استغفار اور لاحول پڑھا اور وہ بھاگ گیا۔ لیکن اس کے بعد اگر پھر تم کوئی کام کرنے لگے اور شیطان نے پھر ایڑی پکڑ لی تو تم کیا کرو گے؟ اس نے جواب دیا میں پھر استغفار اور لاحول پڑھوں گا۔ اس بزرگ نے پھر کہا ہاں وہ بھاگ جائے گا لیکن اس نے کام شروع کرتے ہی پھر تمہاری ایڑی پکڑ لی تو کیا کرو گے؟ وہ شاگرد حیران ہوا اور دریافت کیا پھر آپ ہی بتائیں میں کیا کروں؟ اس بزرگ نے کہا کہ اگر تم کسی دوست کو اُس کے گھر پر ملنے جاؤ اور اُس نے کُتّا رکھا ہو۔ وہ کُتّا تمہاری ٹانگ پکڑ لے تو تم کیا کرو گے؟ اس نے جواب دیا میں اسے سوٹی ماروں گا اور وہ بھاگ جائے گا۔ اس بزرگ نے کہا اچھا تم نے سوٹی ماری اور وہ کُتّا بھاگ گیا لیکن جونہی تم گھر کی طرف جانے لگے اور اس کُتّے نے پھر تمہاری ٹانگ پکڑ لی تو تم کیا کرو گے؟ اس شخص نے جواب دیا میں پھر اُسے سوٹی ماروں گا۔ اس بزرگ نے پھر تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو شاگر دنے کہا میں سمجھ گیا ہوں۔ اگر پھر بھی کُتّا نہ ہٹے تو میں مالک مکان کو آواز دوں گا اور وہ اس کُتّے کو پرے ہٹائے گا۔ اس بزرگ نے کہا شیطان بھی اللہ تعالیٰ کا کُتّا ہے جو تمہیں ہر نیک کام سے روکتا ہے، جونہی تم اللہ تعالیٰ کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہو وہ تمہارا دل خراب کرتا ہے، تمہارے اندر وساوس پیدا کرتاہے، تمہارے اندر بے ایمانی کے خیالات پیدا کرتا ہے اور قربانی نہ کرنے کے جذبات کو اُبھارتا ہے۔ اگر تم اسے پرے نہیں ہٹا سکتے تو تم خدا تعالیٰ کو پکارو اور اسے کہو کہ وہ اسے پرے ہٹا لے۔
    پس یہی ایک علاج ہے جس سے تم اللہ تعالیٰ کے گھر میں داخل ہو سکتے ہو۔ تم پہلے دعائیں کرو۔ پھر باہر کی جماعتوں کے لوگ دعائیں کریں۔ اگر دعائیں کرنے والوں سے کوئی کمزوری سرزد ہوئی ہے تو دعا اسے دور کر دے گی۔ اور اگر ان کے ہمسائیوں سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے تو دعاؤں کے نتیجہ میں وہ پھر اتنی حماقت نہیں کریں گے جو شاید گاندھی جی کی کوہ ہمالیہ والی غلطی سے بھی بڑی ہے۔ تم اپنے اندر بیداری پیدا کرو اور خدا تعالیٰ سے دعا کرو تا وہ تمہیں مومنوں والا اخلاص اور عمل بخشے اور تمام جماعت کو بھی مومنوں والا اخلاص اور عمل بخشے گا۔ ‘‘ (الفضل مورخہ 3نومبر1950ئ)










    27
    اپنی اصلاح کرو تا تمہاری اصلاح سے دوسروں کی بھی
    اصلاح ہو
    (فرمودہ 10نومبر 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’نومبر کا تیسرا حصہ گزر چکا ہے اور دسمبر کی بیس تاریخ کو جلسہ سالانہ کے لئے مہمان آنے شروع ہو جاتے ہیں لیکن جہاں تک مجھے علم ہے اِس وقت تک صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے مہمانوں کے ٹھہرانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ جہاں تک محلوں کی گنجائش کا سوال ہے زیادہ سے زیادہ دو ہزار مہمان ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ لیکن گزشتہ سال مہمان کوئی چھبیس ستائیس ہزار تھے اور اس سال غالب گمان کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی حوادث روک نہ بنے تو تیس چالیس ہزار کے درمیان مہمان آئیں گے۔ لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے جتنے مہمانوں کی آمد کی امید ہے اس کا ساتواں یا آٹھواں حصہ یہاں گنجائش ہے اور جہاںتک حالات کا مجھے علم ہے ایک ماہ میں اتنی عمارتیں کہ جن میں تیس چالیس ہزار مہمان ٹھہرائے جا سکیں تیار کی جانی ناممکن ہیں۔ کیونکہ اول تو ہمارے پاس راج اور مزدور کم ہیں پھر دوسری عمارتیں بننی شروع ہو گئی ہیں اور جو راج اور مزدور یہاں ہیں وہ ان پر لگے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں وہاں سے ہٹا لیا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جب مہمان یہاں پہنچیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ 1949ء میں جہاں جماعت تھی وہیں اب بھی کھڑی ہے اور ربوہ کو بسانے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی
    گئی۔ اور اگر ان معماروں اور مزدوروں کو وہاں لگا رہنے دیں تو سوائے اِس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ جلسہ سالانہ کو ملتوی کر دیں کیونکہ وہ ہماری غفلت اور شامتِ اعمال کی وجہ سے دسمبر میں نہیں ہو سکے گا اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں نہایت ہی خطرناک ہیں اور جماعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے والی ہیں۔
    میںحیران ہوں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی کی آنکھیں کھلی ہوئی ہوں اور پھر اس سے ایسی حرکات سرزد ہوں۔ مہمانوں کے لئے غلے خریدے جا رہے ہیں، گوشت کے ٹھیکے ہو رہے ہیں، گھی مہیا کیا جا رہا ہے لیکن کھانے والوں کا خیال ہی نہیں کہ وہ رہیں گے کہاں۔ اور اگر وہ رہیں گے نہیں تو وہ کھائیں گے کیوں۔ پس یہ ایک نہایت ہی خطرناک صورت ہے ۔لیکن ابھی میں یہ اعلان نہیں کرنا چاہتا کہ جلسہ سالانہ دسمبر میں نہیں ہو گا۔ ابھی میں مقامی لوگوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنے تمام کام چھوڑ کر مہمانوں کے لئے جگہ مہیا کریں۔ جس کے مہیا کرنے میں صدر انجمن احمدیہ نے مجرمانہ غفلت کا ثبوت دیا ہے۔ پچھلے سال سولہ ہزار روپے کی لاگت سے جو بیرکیں بنائی گئی تھیں ان میں پندرہ سولہ ہزار مہمانوں کی گنجائش تھی بلکہ اٹھارہ ہزار کا اندازہ تھا اگر ان کے لئے دو پہرہ دار مقرر کر دیئے جاتے تو پندرہ سولہ ہزار روپیہ بچ جاتا۔ لیکن صدر انجمن احمدیہ نے ان پر کوئی پہرہ دار مقرر نہیں کیا اور اب جو بعض مواقع پر مجھے اُس طرف جانا پڑا تو میں نے دیکھا کہ وہ سب کی سب منہدم ہو چکی ہیں۔ دوپہرہ داروں پر کوئی آٹھ نو سو روپیہ سالانہ خرچ آناتھا لیکن کُجا آٹھ نو سو روپیہ اور کُجا سولہ ہزار روپیہ کی ایک بڑی رقم۔ گویا اگر صدر انجمن احمدیہ دو پہرہ دار مقرر کر دیتی تو پانچ فیصدی رقم خرچ کر کے سولہ ہزار روپیہ بچایا جا سکتا تھا۔ بہرحال جب کوئی چیز بنائی جاتی ہے اُس کی حفاظت پر اگر پہرہ دار لگا دیئے جائیں تو کوئی بے وقوف ہی ہو گا جو کہے اُس کی حفاظت کے لئے کیوں پہرہ دار مقرر کئے گئے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر چار پہرہ دار بھی مقرر کئے جاتے تو یہ خرچ نقصان کی نسبت بہت کم ہوتا اور اس خرچ کے ضروری ہونے پر کوئی شخص اعتراض نہ کرتا۔ لیکن اب سولہ ہزار روپیہ میں سے ایک ہزار روپیہ کی بچت نکل آئے تو نکل آئے باقی رقم سب ضائع چلی گئی ہے۔ لیکن اگر اس رقم کو ضائع بھی سمجھا جائے تب بھی یہ بات نہایت خطرناک ہے کہ ابھی تک مہمانوں کی رہائش کی کوئی صورت نہیں۔ صدر انجمن احمدیہ نے ابھی تک صرف اتنا کام کیا ہے کہ قاضی محمد عبداللہ صاحب ناظر ضیافت نے صدر انجمن احمدیہ کو لکھا کہ مہمانوں کی رہائش کے انتظامات کے لئے ایک سب کمیٹی مقرر کر دی جائے۔ حالانکہ کام سر پر ہے اور اب عمارتیں بنانے کا سوال ہے سب کمیٹی بنانے کا سوال نہیں۔ خرید اشیاء تو دو تین دن میں بھی ہو سکتی ہے لیکن دو تین دن میں عمارتیں نہیں بنائی جا سکتیں۔ بہرحال قاضی صاحب نے لکھا کہ اس کے لئے سب کمیٹی بنائی جائے اور صدر انجمن احمدیہ سات آٹھ دن کے بعد قاضی صاحب کے سوال کا جواب یہ دیتی ہے کہ قاضی صاحب وہ کمیٹی خود ہی مقرر کر دیں۔ پھر سات آٹھ دن کے بعد قاضی صاحب یہ جواب دیتے ہیں کہ نہیں کمیٹی صدر انجمن احمدیہ مقرر کرے۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ ایک دن الٰہ دین کا چراغ آئے گا اور اسے مَل کر ہم کہہ دیں گے کہ عمارت کھڑی کر دو اور جِنّ وہ عمارت کھڑی کر دے گا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے گزشتہ سال اِن دنوں عمارتیں شروع ہو گئی تھیں لیکن جتنی تجویز تھی اُس سے نصف کے قریب بنی تھیں۔ اُس وقت سارے معمار اور مزدور فارغ تھے وہ سارے کام پر لگ گئے تھے لیکن اب جو معمار اور مزدور یہاں ہیں وہ دوسری عمارتوں پر لگے ہوئے ہیں۔ پھر اُس وقت کچی اینٹ تیار کرنے کا ایک بڑا محکمہ مقرر تھا اور اِس وقت وہ محکمہ موجود نہیں۔ گویا دوبارہ نئے سرے سے انتظام کرنا ہو گا۔ کچھ دنوں تک صدر انجمن احمدیہ کہہ دے گی کہ ایک آدمی سانچوں کے لئے گیا ہے۔ پھر کہہ دے گی کہ ایک آدمی پتھیرے تلاش کرنے گیا ہے۔٭پھر جب یکم دسمبر آجائے گی تو کہہ دیں گے افسوس ہے باوجود کوشش کے کوئی انتظام نہیں ہو سکا۔ اس لئے جلسہ سالانہ دسمبر کی تاریخوں میں نہ کیا جائے۔ لیکن اگروہ جلسہ سالانہ کا انتظام دسمبر میں نہیں کر سکیں گے تو مارچ میں کہاں انتظام کریں گے۔
    اب یہی صور ت ہے کہ ربوہ کا ہر ساکن اپنے آپ کو معمار اور مزدور سمجھ لے اور جس طرح مکھیاں آپس میں مل کر چھتّا تیار کر لیتی ہیں وہ سارے کے سارے مل کر کام کریں اور عمارتیں کھڑی کر دیں۔ فرقان فورس کے والنٹیئرز نے خود محنت کر کے اپنے رہنے کے لئے مکان بنا لئے ہیں اور اب بھی انہوں نے مجھے تحریر کیا ہے کہ اگر انہیں زمین مل جائے تو وہ خود مکان بنا لیں گے۔ اگر اِس رنگ میں یہ کام ہو تو ممکن ہے کام ہوجائے اِس کے علاوہ مجھے اور کوئی صور ت نظر نہیں آتی۔ لیکن اگر ربوہ کا ہر ساکن اس کام پر لگ جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ نہ لیکچرار اپنا لیکچر تیار کر سکیں گے اور نہ دفاتر میں کام کرنے والے کسی چندہ کی تحریک کر سکیں گے۔ دو ماہ عملہ معطّل ہو کر عمارتوں کے کام میں لگا رہے گا۔ مگر مایوس ہوکر بیٹھنا چونکہ اس سے بھی زیادہ حماقت ہے۔ پس یہاں کی جماعت کو بہرحال اس طرف توجہ کرنی چاہیے اور اپنے فرض کو سمجھتے ہوئے اِس کام کو اپنے تمام کاموں پر مقدم کر لینا چاہیے۔
    ٭ عملاً اس خطبہ کے بعد جب عمارتوں کی طرف توجہ ہوئی تو ایسا ہی ہوا
    اِسی طرح میںباہر کی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر اس طرح زور لگا کر کام کیا گیا تو خرچ زیادہ ہو گا وہ اپنا چندہ بڑھائیں۔ اگر جماعت اپنی ماہوار آمد کا دس فیصدی چندہ بھی دے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ چند ہ جلسہ سالانہ بنتا ہے لیکن آمد صرف پچاس ہزار ہوتی ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ جلسہ سالانہ کے کم سے کم چندہ میں سے بھی جماعت تیسرا حصہ چندہ دیتی ہے۔ یہ چیز بہت خطرناک ہے۔ جو کام کرنا ہے وہ آخر ہم نے ہی کرنا ہے اس لئے بیرونی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ وہ اپنے فرض کو مدنظر رکھتے ہوئے چندہ مقررہ شرح سے ادا کریں اور اسے جلد سے جلد ادا کریں کیونکہ اگر روپیہ وقت پر نہ آیا تو یہ کام نہیں ہو سکے گا۔ میرا یہ تجربہ ہے کہ جو شخص جلسہ سالانہ تک چندہ نہیں دیتا وہ پھر کبھی نہیں دیتا۔وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی ذمہ داری کیا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کی ذمہ داری کونسی تاریخ تک ہے۔
    میں نے تحریک جدید کے متعلق بھی دیکھا ہے کہ اِدھر 30نومبر ہوئی اور لوگوں نے کہہ دیا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اب تو سال گزر گیا اب ہمیں چندہ نہیں دینا پڑے گا۔ پھر ایک تحریک ہو جاتی ہے اور وہ بقایا اُسی طرح چلا جاتا ہے۔ تحریک جدید دفتر دوم کا اندازہ لگایا جائے تو ہر سال چالیس ہزار روپیہ کے قریب ایسی رقم نکلے گی جو واجبُ الادا ہو گی۔ اگر کسی نے وعدہ کیا ہے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ اگر میں نے وعدہ وقت پر ادا نہ کیا تو مجھے اللہ تعالیٰ کے حضور شرمندہ ہونا پڑے گا لیکن اگر یہ خیال نہ ہو تو وعدہ کی ادائیگی مشکل ہے۔ دو لاکھ روپیہ سے زیادہ رقم اب تک بقایا چلی آرہی ہے اور کسی نے اسے چھؤا تک نہیں۔ ایک سال تک غلطی ہوئی اور وہ گزر گیا، دوسرے سال غلطی ہوئی اور وہ گزر گیا، تیسرے سال غلطی ہوئی اور گزر گیا۔ اسی طرح چھ سال ہو گئے لیکن کسی کو خیال پیدا نہیں ہوا کہ اس نے ابھی پہلے سال کا بقایا ادا نہیں کیا، اُس نے ابھی دوسرے سال کا بقایا ادا نہیں کیا، اُس نے ابھی تیسرے سال کا بقایا ادا نہیں کیا، اس نے ابھی چوتھے سال کا بقایا ادا نہیں کیا، اس نے ابھی پانچویں سال کا بقایا ادا نہیں کیا۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ 30نومبر کی تاریخ گزر گئی اب چندہ کیا دینا ہے۔ گویا ان کا تعلق خدا تعالیٰ سے نہیں 30نومبر سے ہے۔ اگر خداتعالیٰ سے انہوں نے وعدہ کیا ہوتا تو وہ کہتے آخر ایک دن ہم نے خدا تعالیٰ کے سامنے جانا ہے وہاں ہم کیا جواب دیں گے۔ کیا ہم یہ جواب دیں گے کہ ہم نے تجھ سے ایک وعدہ کیا تھا جو پورا نہ کیا؟ زندہ خدا سے جو تعلق رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ خواہ وعدہ پورا کرنے کی تاریخ گزر جائے وہ بہرحال واجبُ الادا ہے۔ اور جو تاریخوں کا غلام ہوتا ہے تاریخ گزرنے پر وہ سمجھتا ہے کہ اس کے ذمہ جو فرض تھا وہ ادا ہو گیا۔
    یہی حال میں نے جلسہ سالانہ کا دیکھا ہے۔ جو لوگ جلسہ سالانہ تک چندہ دے دیتے ہیں دے دیتے ہیں اور جو نہیں دیتے وہ سمجھتے ہیں کہ چُھٹی ہو گئی۔ پس چندہ جلسہ سالانہ دس فیصدی کے حساب سے جلسہ سالانہ سے قبل ادا کرنا چاہیے ورنہ ایمان کی کمزوری اس طرف لے جائے گی کہ چلو تاریخ مقررہ تو گزر گئی اب چندہ کیسا۔
    میں صدر انجمن احمدیہ کو بھی کہتا ہوں کہ وہ مجھے تفصیلی جواب دے کہ وہ کونسے امکانی ذرائع ہیں جن سے اس تھوڑے سے وقت میں سارا انتظام ہو جائے گا۔ اگر ہم تیس ہزار مہمانوں کا اندازہ رکھیں تو اس کے معنے ہیں کہ ہمیں تین لاکھ ساٹھ ہزار فٹ کورڈ ایریا (Covered Area) چاہیے۔ پھر کھانے پکانے کی جگہ چاہئے۔ اتنا کورڈ ایریا (Covered Area) وہ کہاںسے مہیا کریں گے ؟لیکن میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ خیموں کی تجاویز پیش نہ کریں کیونکہ اول تو خیموں کی تجویز ایک جاہل ہی پیش کر سکتا ہے اتنے خیمے ملیں گے کہاں سے؟ 12x12 کے خیمے میں 13 آدمی آتے ہیں۔ دس بیس ہزار آدمی کے لئے اڑھائی ہزار خیمہ چاہیے۔ پس صدر انجمن احمدیہ بے سوچے سمجھے یہ نہ کہہ دے کہ وہ خیمے منگوالیں گے کیونکہ اس کے معنے ہیں کہ وہ اڑھائی ہزار خیمے منگوا لیں گے۔ اتنے خیمے تو گورنمنٹ بھی مہیا نہیں کر سکتی سوائے اِس کے کہ وہ فوج کے تمام خیمے جمع کر لے۔ یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض دفعہ انسان بغیر سوچے سمجھے کسی بات کا مشورہ دے دیتا ہے۔ پچھلی دفعہ پانچ ہزار مہمانوں کی رہائش کے لئے خیموں کا انتظام کرنے کے لئے کہا گیا تھا سیکرٹری صاحب تعمیر نے اس کا وعدہ کیا مگر وقت پر صرف اڑھائی ہزار کے لئے تو خیمے لگا دیئے اور اڑھائی ہزار کے لئے شامیانے لگا دیئے ان شامیانوں میں کوئی مہمان نہ ٹھہرا اور نہ کوئی ٹھہر سکتا تھا۔ میں نے سمجھا کہ اب انہیں کچھ کہنا بے فائدہ ہے کیونکہ ڈیڑھ ہزار روپیہ کرایہ ادا کر دیا گیا ہے۔ مسجد میں جو شامیانہ لگا ہے یہ چھوٹا ہے۔ وہ شامیانہ اس سے چار گُنا زیادہ تھا۔ اِس کے معنے تو یہ ہیں کہ مہمان باہر لیٹ جائیں۔ مگر وہ خوش تھے کہ قانونی طور پر انہوںنے میرا منہ بند کر دیا ہے اور میں خاموش تھا اس لئے کہ حیا اور عقل نے میرا منہ بند کر دیا تھا۔ اور میں سمجھتا تھا کہ اب شامیانے تو آگئے ہیںاور ان کا کرایہ بہرحال ہمیں دینا ہو گا اس لئے اب انہیں کچھ کہنا لاحاصل ہے۔ بہرحال گزشتہ سال پانچ ہزار مہمانوں کے لئے بھی خیموں کی گنجائش نہیں نکل سکی تھی اس لئے اس سال تیس چالیس ہزار مہمانوں کے لئے خیمے مہیا کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ پس یہ خیال بھی چھوڑ دیا جائے۔ وہ یہ بتائیں کہ اس قلیل عرصہ میں وہ کتنی عمارتیں کھڑی کر لیں گے۔ اور بتاتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ ان کے ایک افسر نے ناظر اعلیٰ کی موجودگی میں یہ کہا تھا کہ دوسرے کوارٹروں کے بنانے کی بھی اجازت دے دی جائے تا جلسہ سالانہ پر مہمانوں کے ٹھہرانے کی مشکل حل ہو جائے۔ جن کوارٹروں کی اجازت دی گئی ہے اور جن کی دیواریں ابھی تین فٹ اونچی نہیں ہوئیں وہ اگر تیار ہو جائیں تو ان میں ایک ہزار آدمی آسکتاہے۔ جو شخص یہ سمجھتا ہو اگر ایک ہزار کی اَور گنجائش پیدا ہو جائے تو تیس ہزار مہمان ٹھہرانے کا بندوبست ہو جائے گا اُس کی تجویز پر غور کر کے وہ کوئی چیز میرے سامنے پیش نہ کریں کیونکہ یہاں ایک دو ہزار کا سوال نہیں یہاں تیس چالیس ہزار کا سوال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر چھپن ہزار روپیہ منظور کر دیں تو دوسرے کوارٹر شروع کر دیئے جائیں تا جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کے ٹھہرائے جانے کا انتظام ہو جائے۔ جن کوارٹروں کی پہلے منظوری دی جا چکی ہے اور جن میں ایک ہزار مہمان ٹھہرائے جا سکتے ہیں وہ تو تین ماہ میں بھی پورے نہیں ہوئے اور ابھی ان کی دیواریں قریباً تین تین فٹ اونچی ہوئی ہیں اور اب دوسرے کوارٹروں کی منظوری کی درخواست کی جاتی ہے جن میں مزید ایک ہزار مہمان ٹھہر سکیں گے۔جن کا پہلے وہ نقشہ منظور کرائیں گے، پھر کمیٹی سے اجازت حاصل کریں گے پھر انہیں تعمیر کرنا شروع کریں گے، اس طرح مارچ آجائے گااور پھر بھی صرف دوہزار مہمانوں کے ٹھہرائے جانے کا انتظام ہو گا۔
    درحقیقت تمام نقائص اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ خد اتعالیٰ کے بنائے ہوئے علوم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے حساب بنایا ہے، منطق بنائی ہے، عقل بنائی ہے، طب بنائی ہے۔ جب کوئی کام کرو تو اِن ساری چیزوں کو دیکھ لو اور سوچ لو کہ کیا وہ کام طبی طور پر ٹھیک ہے؟ کیا وہ کام حسابی طور پر ٹھیک ہے؟ کیا وہ کام عقلی طور پر ٹھیک ہے؟ کیا وہ کام منطقی طور پر ٹھیک ہے؟ جب وہ سب معیاروں پر پورا اُتر آئے تو اُسے کر لو۔ مثلاً فرض کرو جس افسر نے کہا ہے کہ اگر دوسرے کوارٹروں کی اجازت مل جائے تو مہمانوں کے ٹھہرانے کا انتظام ہو سکتا ہے۔ اِس کی میں تردید کر دوں اور کہہ دوں کہ اتنی جگہ میں تیس ہزار مہمان نہیں آسکتے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ یہ بات حسابی طور پر یوں ہے عقلی طور پر یوں ہے۔ مثلاً میں نے
    اعتراض کیا کہ ایک ہزار مہمانوں کے لئے ان کوارٹروںمیں بمشکل گنجائش ہو گی تو وہ ثابت کر دیں کہ چھ انچ میں ایک آدمی سو سکتا ہے۔ اور جب چھ انچ میں ایک آدمی سو سکتا ہے تو یقینا اٹھارہ ہزار مہمان ایک حصہ میں آجائیں گے اور اٹھارہ ہزار دوسرے حصہ میں آجائیں گے۔ اگر وہ یہ چیز ثابت کر دے تو میری غلطی خودبخود ثابت ہو جائے گی۔ میں شرمندہ ہو جاؤں گا اور میں سمجھوں گا کہ میں غلط اندازہ لگاتا رہا۔ اگر وہ حساب کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کریں تو انہیں جرأت پیدا ہو جائے گی کہ ثابت کر دیں کہ ان کا اندازہ صحیح اور درست تھا۔ میں اُسی وقت شرمندہ ہو جاؤں گا اور آئندہ کے لئے محتاط ہو جاؤں گا ۔اور اگر وہ حسابی طور پر ثابت نہ کر سکیں کہ ایک آدمی چھ انچ میں سو سکتا ہے تو ظاہر ہے کہ میرا ہی اندازہ صحیح ہے جو دس فٹ فی آدمی کا اندازہ لگاتا ہوں۔ اور میرے نزدیک تیس ہزار مہمانوں کے ٹھہرانے کے لئے قریباً تین لاکھ ساٹھ ہزار فٹ جگہ کی ضرورت ہو گی ۔اور اس عمارت کے بنانے کے لئے کوئی پندرہ لاکھ اینٹ کی ضرورت ہو گی۔ وہ بتائیں کہ اتنی اینٹیں وہ کتنے عرصہ میں تیار کر لیں گے؟ کتنے عرصہ میں وہ سُوکھیں گی؟ اور کتنے عرصہ میں وہ عمارتیں تیار کریں گے؟ اور جلسہ کس تاریخ کو ہو گا؟ مگر دوسرے دوست تیار رہیں کہ اگر یہی فیصلہ ہو کہ جلسہ دسمبر میں ہی ہو گا تو ان میں سے ہر شخص تمام کام چھوڑکر اس کام کو کرے اور اسے جلسہ سے قبل ختم کرنے کی کوشش کرے۔
    نوجوانوں کو میں مختصراً بتاتا ہوں کہ جتنے کام ہوتے ہیں وہ عقل سے ہوتے ہیں۔ ہر کام میں عقل استعمال کرنی چاہیے۔ جب کوئی بات کرو اُسے عقل، منطق اور حساب پر تولو۔ یہ تینوں گُر ایسے ہیں جن پر عمل کرنے سے ہزاروں بیوقوفیاں کُھل جاتی ہیں۔ جب ایک شخص حساب لگاکر کوئی بات کرتا ہے تو شرمندہ نہیں ہوتا۔ مثلاً آجکل بعض لوگ فخر میں آکر کہہ دیتے ہیں کہ فلاں جگہ پر جلسہ ہوا جس میں اتنے لاکھ آدمی اکٹھے ہوئے۔ مثلاً امرتسر کی مسجد خیر دین کے متعلق عام طور پر اخبارات میں چھپا کرتا تھا کہ وہاں جلسہ ہوا اور اُس میں پچاس ساٹھ ہزار آدمی جمع ہوئے۔ حالانکہ جہاں تک میں نے سنا ہے مسجد خیردین میں دو تین ہزار آدمی کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔ بلکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہماری بڑی مسجد سے بھی چھوٹی ہے۔ پس حسابی طور پر اگر کوئی یہ بات سُنے گا تو وہ یہی کہے گا کہ خواہ ایک آدمی پر دوسرا بھی بٹھا دیا جائے تب بھی اتنے لوگ وہاں نہیں آسکتے تھے۔ یا مثلاً بعض احمدی کہہ دیتے ہیں کہ ہماری جماعت کی تعداد دس لاکھ ہے حالانکہ اگر دس لاکھ کی جماعت ہو تو پھر اتنا کم چندہ کیوں ہو۔ موجودہ چندہ کا اندازہ لگایا جائے توکیا سارے احمدی ایک روپیہ فی کس چندہ دیتے ہیں؟ موجودہ بجٹ کے لحاظ سے تو جماعت زیادہ نہیں بنتی۔ کیونکہ غریب سے غریب اور نہ کمانے والے کو بھی نکال لیا جائے تو پانچ روپے فی کس اوسط تو ہونی چاہیے۔ یعنی پانچ روپے فی کمانے والے کے لحاظ سے۔ آخر وہ بھی ہیں جو دو دو ہزار چندہ دیتے ہیں۔ دس لاکھ میں سے دو لاکھ نادہند سمجھ لو اور دو لاکھ غریب اورنہ کمانے والے تب بھی ڈیڑھ لاکھ کمانے والا رہ جاتا ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی موجودہ چندہ سے بہت زیادہ چندہ ہونا چاہیے۔ میرے نزدیک تم اگر ہندوستان کے احمدیوں کو بھی گِن لو تو تین لاکھ کی تعداد سے زیادہ نیم براعظم ہند میں احمدی نہیں ہیں۔ بیرونی دنیا کے احمدیوں کو ملا کر چار پانچ لاکھ ہوتے ہیں۔ مگر مبالغہ کی یہ حالت ہے کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ہماری تعداد تیس لاکھ ہے۔ اگر میں جماعت کو تعداد بڑھا چڑھا کر بیان کرنے سے نہ روکتا تو غالباًاب تک ہم دو تین کروڑ بن جاتے۔ لوگ تبلیغ کی بجائے کچھ عرصہ بعد پہلی تعداد میں ایک ہندسہ زائد کر دیتے ہیں اور خوش ہو جاتے ہیں۔ یہ بڑی ہی آسان بات ہے۔ نہ وفاتِ مسیح کا مسئلہ سمجھانا پڑا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ سمجھانا پڑا صرف ایک کو دو بنا دیا یا دس بنا دیا۔ اسی طرح جماعت کو بڑھاتے چلے گئے۔ جماعت بھی بڑھتی گئی اور تبلیغ کرنے سے بھی بچ گئے۔ لیکن اگر یہ لوگ یہ غور کر کے کہ اگر اِسی طرح تعداد بڑھائی تو غیر احمدی حساب لگاکر اعتراض کریں گے کہ اگر تمہاری یہ تعداد اور یہ چندہ ہے تو پھر تم کونسی بڑی قربانی کر رہے ہو۔ تو یہ لوگ اِس طرح تعداد بڑھا چڑھا کر کبھی بیان نہ کرتے۔ تعداد بڑھا چڑھا کر دکھانے والے کو یہ پتا نہیں لگتا کہ غلط بیانی کر کے میں اپنی جڑیں کاٹ رہا ہوں اور اپنی جماعت کو مُردہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ حالانکہ واقع یہ ہے کہ ہماری جماعت بڑی قربانی کر رہی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ میں آپ لوگوں کی کوتاہیوں کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔ لیکن وہ کونسی جماعت ہے جو تمام قسم کے ٹیکس اور سرکاری چندے ادا کرنے کے بعد بھی پانچ سات روپے فی کس چندہ دیتی ہو۔ بلکہ تحریک جدید کے چندوں کو اگر ملالیا جائے تو آٹھ نو روپے فی کس چندہ بن جاتا ہے (یا دوسرے معنوں میں تیس چالیس روپے فی کس کمانے والا) باقی مسلمان پاکستان میں اگر چار کروڑ فرض کئے جائیں تو اس حساب سے ان کا سالانہ چندہ ایک ارب بیس کروڑ سے ایک ارب ساٹھ کروڑ تک ہونا چاہئے۔ یعنی حکومتِ پاکستان کی مجموعی آمد سے بھی زیادہ۔ اور سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو ملا لیا جائے تو ہندوستان کے مسلمانوں کا چندہ تین ارب بیس کروڑ ہونا چاہیے ۔ یعنی ہندوستان کی حکومت کی آمد کے برابر۔ لیکن مسلمانوں کی جتنی انجمنیں یا خیراتی ادارے ہیں اُن کی مجموعی آمد تین کروڑ سے کسی صورت میں زیادہ نہیں۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر احمدی دوسرے غیراحمدی سے سَو گنے زیادہ قربانی کر رہا ہے۔ یہ کس قدر شاندار قربانی ہے۔ مگر یہ شاندار قربانی اِسی صورت میں نظر آسکتی ہے کہ اگر تم اپنی تعداد صحیح بتاؤ۔ جتنی تعداد تم مبالغہ سے زیادہ کرو گے اُتنی ہی تمہاری قربانی چھوٹی ہوتی چلی جائے گی۔
    پس اس میں ہمارا فائدہ ہے کہ ہم اپنی تعداد کو کم بتائیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم سارے ہندوستان میں تین چار لاکھ ہیں تو ہم دوسرے لفظوں میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ ہم دوسروں سے بہت زیادہ قربانی کرنے والے ہیں۔ لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ ہم بیس تیس لاکھ ہیں تو ایک طرف ہم غلط بیانی کرتے ہیں اور دوسری طرف ہم یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہماری قربانیاں کوئی ایسی شاندار نہیں ہیں۔ سوچو تو سہی۔ تھوڑے ہونا اور اعلیٰ مقام پر ہونا اچھا ہے یا یہ اچھا ہے کہ ہم زیادہ ہوں اور قربانی میں کمزور؟ یہ صاف بات ہے کہ یہی مقام اچھا ہے ہم تھوڑے ہوں اور زیادہ قربانیاں کرنے والے ہوں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ اگر جھوٹ اور بے ایمانی کا سوال نہ ہو تو ایسے لوگوں کو یہ کہنا چاہیے کہ ہماری تعداد ایک لاکھ ہے اور ہم چندہ پندرہ لاکھ دیتے ہیں۔ یہ قول زیادہ شاندار ہو گا۔ مگر چونکہ یہ بھی جھوٹ ہو گا اس لئے ناجائز ہو گا۔ غرض ہر بات جو کہو اُسے حسابی طور پر پرکھ کر کہو۔ پھر تمہارا عمل بھی ترقی کرے گا اور تمہارے کاموں میں برکت ہو گی اور غلطیاں کرنے سے تم بچ جاؤ گے۔ ‘‘
    خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا:
    ’’ایک بات اس سلسلہ میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ بعض کارکنوں نے کہا ہے آپ بعض دفعہ نظارتوں کو ڈانٹتے ہیں تو باہر کی جماعتیں ان کا تمسخر اُڑاتی ہیں۔ اِس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ تم ٹھیک کام کرو۔ ا گر تم ٹھیک کام کرو گے تو میں کیوں تمہاری غلطیاں بیان کروں گا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ میں صرف تمہاری اصلاح کے لئے تمہیں ڈانٹتا ہوں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور تمہیں میں نے افسر مقرر کیا ہے اور جو خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلیفہ کے مقرر کردہ افسروں پر اِس بناء پر کہ بعض دفعہ اُن کی کوتاہیوں پر خلیفہ اُنہیں ڈانٹتا ہے تمسخر اُڑاتا ہے تو خواہ وہ امیر ہے یا کوئی اَور عہدیدار وہ منافق ہے اور تم مومن ہو۔ اس لئے تمہیں منافقوں کی باتوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ لیکن اصل بات یہی ہے کہ تم بھی اپنی اصلاح کرو تا تمہاری اصلاح سے دوسروں کی بھی اصلاح ہو۔ ‘‘ (الفضل مورخہ11مارچ 1951ئ)

    28
    ہمارے کاموں کے اندر علمیت، افادیت اور ایثار پایا جانا چاہیے
    (فرمودہ 17نومبر 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’قریباً تین مہینہ کے بعد اس ہفتہ میں میری کھانسی کی یہ حالت ہوئی ہے کہ معلوم ہوتا ہے اب وہ ہٹنے والی ہے۔ دو دن تو ایک دفعہ بھی کھانسی نہیں اُٹھی۔ کل سے پھر اُٹھنی شروع ہوئی ہے۔ لیکن اُس کھانسی اور اِس کھانسی میں اتنا فرق ہے کہ اب میں محسوس کرتا ہوں کہ کھانسی ہٹنی شروع ہو گئی ہے۔ پہلے یہ احساس نہیں ہوتا تھا۔ لیکن گلے کی سوزش، نزلہ اور آواز کی بندش بدستور ہے جس کی وجہ سے میں نہ تو اونچی آواز کے ساتھ بول سکتا ہوں اور نہ زیادہ دیر تک کھڑا ہو سکتا ہوں۔ مگر بہرحال جس طرح سینہ کی سوزش آہستہ آہستہ ختم ہوئی ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ جسم کے اضمحلال کی وجہ سے کھانسی آہستہ آہستہ دور ہو رہی ہے۔ جب جسم میں طاقت زیادہ ہوتی ہے تو وہ بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتا ہے اورجب طاقت کمزور پڑ جاتی ہے تو بیماری کا مقابلہ کرنا جسم کے لئے مشکل ہوتاہے اور حقیقت یہی ہے کہ بیماری دور کرنے میں جتنا دخل اُس طبعی طاقت کا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کو ودیعت کی جاتی ہے اُتنا دخل دواؤں کا نہیں ہوتا۔
    میں نے پچھلے جمعہ میں جلسہ سالانہ کے کام کی طرف احباب کو توجہ دلائی تھی اور پھر یہاں سے جانے کے بعد میں نے خود اپنے سامنے بُلا کر کارکنوں کو نصیحت کی۔ چنانچہ دو تین دن سے جلسہ سالانہ کا کام مستعدی کے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر میں توجہ نہ دلاتا تو چونکہ صحیح اندازے نہیں لگائے گئے تھے اس لئے غالب گمان تھا کہ اس سال جلسہ سالانہ دسمبر کی تاریخوں میں نہ ہو سکتا۔ ہمارے کارکنوں نے اِسی غلطی سے کام لے کر جس کا ہمارے ملک میں رواج ہے کہ ہم کسی کام کا قبل از وقت حسابی اندازہ نہیں لگاتے فرض کیا ہوا تھا کہ کام آپ ہی آپ ختم ہو جائے گا۔ جب پہلے دن صدرانجمن احمدیہ کا اجلاس ہوا تو انہوں نے مجھے ایک تحریر بھیج دی کہ سب انتظام ٹھیک ہو گئے ہیں۔ جب میں نے لکھا کہ سب انتظام ٹھیک ہو جانے کے یہ معنے ہیں کہ بتایا جائے کہ کتنی اینٹیں فی بیرک لگیں گی؟ کتنی بیرکیں بنانے کا ارادہ ہے؟ کتنی اینٹیں روزانہ تیار ہوں گی اور کتنے آدمی انہیں تیار کر سکیں گے؟ اور پھر کیا وہ آدمی مہیا ہیں؟ پھر کتنے گدھے اور دوسرے جانور اینٹیں ڈھونے کے لئے موجود ہیں؟ اور پھر وہ روزانہ کتنی اینٹیں لائیں گے؟ جب اِس طرح اندازہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ایک سو پچاس دن میں یا کم از کم ایک سَو دن میں جا کر بیرکیں تیار ہوں گی۔ لیکن ہمارے پاس صرف تیس دن باقی ہیں۔ پھر جب عملی طور پر دیکھا گیا تو جو اندازہ لگایا گیا تھا وہ بھی غلط نکلا۔ کیونکہ یہ خیال کیا گیا تھا کہ ہم دس ہزار اینٹیں روزانہ تیار کرتے ہیں اور بیس ہزار روزانہ کل سے تیار کرنی شروع کر دیں گے۔ لیکن جب خود ناظر وہاں دیکھنے گئے تو صرف چار ہزار اینٹیں روزانہ تیار ہو رہی تھیں اور بیس ہزار روزانہ اینٹیں تیار کرنے کا قریب میں امکان ہی نہیں تھا۔ تب دَوڑ دھوپ کر کے پتھیروں کو تلاش کرنے کے لئے آدمی بھیجے گئے۔ لیکن ابھی تک صرف اتنی اطلاع ملی ہے کہ آدمی بھیجے گئے ہیں آگے کس حد تک انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کا ابھی پتا نہیں لگا۔ چونکہ جمعہ آگیا تھا اس لئے میرے پاس آخری رپورٹ نہیں پہنچی۔ بہرحال اگر آدمی آجائیں اور وہ پورے زور کے ساتھ کام کریں تب بھی ہم بمشکل ساٹھ بیرکیں بنا سکیں گے جن میں اُنیس ہزار کے قریب آدمی آئیں گے۔ بہرحال کچھ تو صور ت پیدا ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح اب انجمن کے ناظروں نے کام کرنا شروع کیا ہے اگر اسی اصول کے مطابق کام کرتے رہے تو غالباً وہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے کچھ نہ کچھ سامان کر لیں گے۔
    مگر جو چیز آج میں پھر پیش کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی کسی کام کے کرنے سے پہلے اندازہ لگاتا ہے۔ قرآن کریم کو پڑھ لو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 1۔ خدا تعالیٰ نے جب کسی کام کا ارادہ کیا تو پہلے اس کا اندازہ لگایا۔ اندازہ لگانے سے انسان صحیح طور پر کسی کام کو سمجھ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بسا اوقات انسان خیالی طور پر جو قیاس کرتا ہے وہ بعض دفعہ تو سو فیصدی غلط ہوتا ہے۔ اس و جہ سے جو لوگ کام شروع کرنے سے پہلے اس کا صحیح اندازہ نہیںلگاتے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ ہمارے کاموں میں زیادہ خرابیاں قبل از وقت اندازہ نہ لگانے سے پیدا ہوتی ہیں۔
    دوسرا سبب اِس کا یہ ہوتاہے کہ لوگ اندازہ لگا لینے کے بعد صحیح طور پر کام نہیں کرتے۔ جو لوگ اندازے لگاتے ہیں درحقیقت قیاس کا نام اندازہ رکھ لیتے ہیں۔ حالانکہ صحیح اندازہ حسابی اندازہ ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ علم میں ترقی ہوتی ہے۔ ہر شخص روزانہ خط لکھتا ہے یا کچھ تحریر کرتا ہے۔ جب اس سے پوچھا جائے کہ وہ دن بھر میں کتنے صفحے لکھ سکتا ہے؟ تو شاید بڑی جلدی سے کہہ دے گا کہ میں دو تین سو صفحے لکھ سکتاہوں۔ لیکن جب اُسے لکھنے پر بٹھا دو تو شاید یہ پتا لگے کہ وہ اندازہ جو اُس نے لگایاتھا اُس کا دسواں حصہ بھی صحیح نہیں ہے۔ اِسی طرح مضامین لکھنے میں انسان قیاس کر لیتا ہے کہ وہ بہت سُرعت کے ساتھ لکھ سکتاہے۔ مگر عمل میں جا کر وہ بات بالکل اَور ہی نکلتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لوگ بڑی جلدی سے کہہ دیں گے کہ وہ سَو سَو صفحے لکھ سکتے ہیں یا شاید کوئی کہہ دے کہ وہ دن بھر میں صرف دس بارہ صفحے لکھ سکتا ہے۔ اور یہ دونوں اندازے غلط ہوں گے۔ میں نے عملاً جو لکھ کر دیکھا تو بہت زور دے کر ایک دن میں سَو کالم لکھا تھا۔ میری کتاب تحفۃ الملوک غالباً دو دن میں لکھی گئی تھی اور سَو سَو کالم روزانہ لکھا گیا تھا۔ میری کتاب ’’احمدیت‘‘ سات دن میں لکھی گئی تھی اور غالباً اوسط کالم سولہ کے قریب روزانہ بنتے تھے۔ اور میرے کام کا وقت چودہ پندرہ گھنٹے روزانہ ہوتاتھا۔ صبح سے کام شروع کرتا تھا اور رات کے بارہ بارہ بجے تک کام کرتاتھا۔ بیچ میں کچھ وقت کھانے پینے، پیشاب پاخانہ کرنے اور نمازوں پر بھی خرچ ہوتاتھا۔ فرض کرو اگر پانچ گھنٹے سونے کا وقت ہو اور تین چار گھنٹے نمازوں، کھانے پینے اور پیشاب پاخانہ وغیرہ کاموں پر لگ جائیں تو نو گھنٹے کے قریب ایسے کاموں پر لگ گئے اور پندرہ گھنٹے کام کے لئے نکل آئے۔ پھر ایک گھنٹہ کا میں نے اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ میں چھ سات کالم لکھ سکا ہوں۔ غرض میں نے تجربہ کر کے یہی کچھ دیکھا ہے لیکن اس سے پہلے اگر کوئی مجھ سے سوال کرتا تو شاید میں بھی کہہ دیتا کہ میں روزانہ سو ڈیڑھ سو صفحہ لکھ سکتاہوں۔ لیکن میری عمر کا تجربہ یہی ہے کہ جو کچھ میں روزانہ لکھ سکا وہ سو کالم تھا یا شاید چار پانچ صفحے اوپر ہوں گے۔ بہرحال اوسط سو کالم ہی پڑتی ہے اور یہ بھی میں نے ایک ایک بجے رات تک لکھے تھے۔ پس حسابی اندازے لگانے کے بغیر انسان کو یہ پتا نہیں لگ سکتا کہ وہ کس قدر کام کر سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں یہ مرض ہے کہ اول تو اندازہ لگائیں گے ہی نہیں یونہی بندی کر دیں گے حالانکہ حسابی اندازہ اَور چیز ہے اور قیاس اَور چیز ہے۔ حسابی اندازے کے معنے ہوتے ہیں حسابی بنیاد۔ اور قیاس کے معنے یونہی بندی کے ہوتے ہیں۔
    میں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے کہ ایک دفعہ میں باغ کی سیر کر رہا تھا چلتے چلتے میں چکوترے کے ایک درخت کے پاس آیا۔ میرے پاس ایک مالی تھا جو پنجابی تھا لیکن ایک لمبا عرصہ ہندوستان میں رہنے کی وجہ سے اس کے طور و طریق ہندوستانی تھے۔ میں نے چکوترے کے ایک درخت کو دیکھا تو اندازہ کیا کہ شاید 30،40 ہزار پھول لگا ہوا تھا۔ میں نے مالی کو بلایا اور کہا۔ دیکھو! درخت پر کتنا پھول لگا ہے. اگر یہ سارے پھول رہ جائیں تو ایک ہی درخت کتنا پھل دے جاتا ہے۔ میں تو تصوف کے نکتہ سے اسے دیکھ رہا تھا کہ دنیا میں کتنی ہی قیمتی چیزیں ایسی ہیں جو ضائع ہو جاتی ہیں۔ لیکن مالی چونکہ آگے بڑھ کر بات کرنے اور خوشامدانہ بات کرنے کا عادی تھا اس نے کہا حضور! سارے پھل لگیں گے۔ میں نے کہا یہ تو بڑی تعداد میں پھول ہیں۔ اگر اتنے چکوترے اِس درخت پر لگ جائیں تو درخت کی ذرہ بھر بھی لکڑی باقی نہ رہے۔ یہ تو اس کا سواں حصہ بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ لیکن وہ مالی کہے جا رہا تھا نہیں حضور اتنا پھل لگے گا۔ میں نے کہا اچھا جب لگے گا تو دیکھیں گے۔ لیکن جب اس درخت پر پھل لگا تو وہ صرف ایک چکوترا تھا۔ مالی جو کچھ کہہ رہا تھا وہ قیاس تھا۔ اگر وہ حسابی اندازہ لگاتا تو وہ پہلے یہ اندازہ لگاتا کہ اس درخت پر کتنے پھول لگے ہیں کیونکہ ایک ایک بالشت میں سَو سَوا سَو پھول لگتے ہیں لیکن وہ گرجاتے ہیں۔ مثلاً آم کا مَور 2ہوتاہے اگر وہ سارا پھل بنے تو ایک دو درخت کا پھل باغ کے پھل سے زیادہ ہو جائے کیونکہ ایک ایک چھلّی میں اتنا مَور ہوتا ہے کہ میرے خیال میں وہ چالیس پچاس آم کے برابر ہو جاتا ہے۔ باجرے کے برابر دانے ہوتے ہیں اورپھر وہ بالکل پاس پاس ہوتے ہیں۔ تو حسابی اندازہ یہ تھا کہ وہ دیکھتا درخت پر کتنے پھول لگے ہیں اور پھر کتنی تعداد میں چکوترے لگیں گے اور پھر یہ درخت کتنا بوجھ برداشت کر سکے گا۔ مثلاً ایک چکوترا اگر نصف سیر کا سمجھ لو تو ہزار چکوترے لگنے کے معنے ہیں کہ اُس درخت پر پانچ سو سیر یعنی ساڑھے بارہ من بوجھ پڑے گا۔ ایک سات فٹ کے درخت پر اتنا پھل اگر لگ جائے تو وہ تباہ ہو جائے۔ مالی تو کہتا تھا کہ اس درخت پر ہزاروں چکوترے لگ جائیں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک درخت پر ہزار ڈیڑھ ہزار چکوترا بھی نہیں لگ سکتا اور پھر بڑا چکوترا تو غالباً سیر سیر کا بھی ہوتا ہے۔ اس حساب سے تو اڑھائی تین سو چکوترا لگنا بھی مشکل ہے۔ اور جہاں تک میرا تجربہ ہے ایک درخت پر ستّر اسّی سے زیادہ چکوترے نہیں لگتے۔ مالٹا کو دیکھ لو چکوترے کے مقابل پر کتنا چھوٹا پھل ہے لیکن ریڈبلڈ کے متعلق اندازہ ہے کہ ایک درخت پر دو سَو یا اڑھائی سو مالٹے لگتے ہیں۔ اور یہ بھی قیاسی اندازے ہیں ہم نے تو اتنے مالٹے بھی ایک درخت پر لگتے نہیں دیکھے۔
    پس حسابی اندازے سے ساری غلطیاں دور ہو جاتی ہیں اس لئے پہلے حسابی اندازہ لگانا چاہیے۔ اور پھر اس حسابی اندازے کو پورا کرنا چاہیے اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ فلاں چیز ایسے ہوتی ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ محنت کر کے اُس نتیجہ کو جو حسابی لحاظ سے نکلتا ہے پیدا کرے۔ ہمارے ملک میں لوگ عموماً یہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں کام یوں ہو گا پھر اگر وہ کام اُس طرح نہ ہو تو کہہ دیتے ہیں خدا تعالیٰ نے کوئی نحوست نازل کر دی ہے کہ باوجود پوری کوشش کے ہمارا کام تباہ ہو گیا۔
    غرض پہلے تو اندازہ نہیں لگایا جاتا اور جب وہ کام خراب ہو جائے تو ساری غلطیاں خداتعالیٰ کی طرف منسوب کر دی جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے ہمارے ملک میں اللہ تعالیٰ کے معنے ہیں ’’کچھ نہیں‘‘۔ایک غریب سے غریب آدمی کے پاس ایک پیسہ ہو سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اور اس کی تشریح آپ یوں فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص کنگال ہو جاتا ہے تو وہ کہتا ہے ہم تو برباد ہو گئے گھر میں صرف اللہ ہی اللہ ہے۔ آپ فرماتے تھے اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں۔ غرض ہمارے ملک میں یہ مرض عام ہو گئی ہے کہ ہر عیب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور ہر خوبی اپنی طرف منسوب کی جاتی ہے۔
    میں نے سندھ کی زمینوں پر اپنے ایک عزیز کو مقرر کیا ہوا ہے اس کے شروع میں یہ اندازے ہوتے ہیں کہ دس من کپاس یا بارہ من گندم فی ایکڑ نکلے گی۔ لیکن آخر سال میں وہ ہمیشہ اس کے نصف یا دو تہائی پر آجاتا ہے۔ پھر کہہ دیا جاتاہے ہم نے تو خوب کام کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی آفت آئی ہے کہ اس نے ہمارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں 3میں بیمار ہو گیا ہوں شفاء اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ بجائے اِس کے کہ عیب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے عیب کو اپنی طرف منسوب کرنا چاہیے کیونکہ بات بھی یہی درست ہے اور آئندہ اصلاح کی طرف توجہ بھی اِسی نظریہ سے ممکن ہوتی ہے۔ وہ کام صحیح ہو ہی کیسے سکتا ہے جس کا نتیجہ غلط ہو۔ تم ایک سیرپانی کے اندر دو چھٹانک شکر ڈال دو اور کہو کہ پانی میٹھا نہیں ہو گا تو اسے کون مان سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ شکر ایک حد تک پہنچ کر پانی کو میٹھا کر دیتی ہے تم اس قانون کو پورا کر لو پھر اس کو غلط کرنے کے لئے پورا زور لگا لو تم اسے ہرگز غلط نہیں بنا سکتے۔ یا پانی میں اس حد تک کونین ملا لو کہ پانی کڑوا ہو جائے اور پھر پورا زور لگا لو کہ پانی کڑوا نہ ہو تو تم ایسا نہیں کر سکتے۔ خدا تعالیٰ کے قانون کو کوئی انسان بدل نہیں سکتا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتاہے کہ قانون تو پورا ہو لیکن نتیجہ غلط نکلے۔ خدا تعالیٰ کی طرف عیب منسوب کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری برکتیں جاتی رہتی ہیں۔ بے شک حادثات بھی آتے ہیں لیکن حادثات کبھی کبھی آتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ حادثہ قانون بن جائے اور قانون حادثہ بن جائے۔ مثلاً وبائیں پڑتی ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ ہر سال وبائیں پڑیں اور کبھی کبھی لوگ ان سے بچیں۔ یا لوگ بیمار ہوتے ہیں لیکن جوانی کی عمر میں کبھی کبھی بیمار ہوتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ کسی ملک کے تمام لوگ جوانی میں بیمار رہتے ہوں۔ پس حادثہ بیشک آتا ہے لیکن حادثہ استثناء ہوتاہے۔ اور قانون استثناء پر غالب ہوتا ہے استثناء قانون پر غالب نہیں ہوتا۔ اگر ایک شخص قانون کے خلاف دس سال بھی اندازہ کرتا چلا جائے گا تو وہ ہمیشہ ناکام رہے گا۔ ناکام رہنے پر اُسے سمجھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اُسے ننگا کر دیا ہے لیکن ضدی انسان سارے حادثات کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ہر روز وہ غلط کام کرتاہے اور اچھا اندازہ لگاتا ہے پھر نتیجہ خراب ہوتا ہے مگر وہ کہتا یہ ہے کہ میں نے تو ٹھیک کام کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے ہی کوئی آفت نازل کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگربُرا نتیجہ نکلتا ہے تو یا اُس کا کام غلط ہوتاہے یا پھر اس نے کام کیا ہی نہیں ہوتا۔ ان دونوں باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوتی ہے۔ تم اگر اپنے کاموں کو درست بنانا چاہتے ہو تو اس کا طریق یہی ہے کہ جب تم کوئی کام شروع کرو تو پہلے اُس کا حسابی اندازہ لگایا کرو۔ پھر حسابی طور پر یہ اندازہ لگاؤ کہ اس کو پورا کرنے کے لئے کیا کیا سامان ضروری ہیں۔ اور وہ پورے ہیں یا نہیں۔ یہ نہ کہو کہ فلاں افسر نے کہا تھا کہ بات یوں ہے مگر بعد میں وہ بات غلط نکلی کیونکہ خدا تعالیٰ نے تم کو عقل خود سوچنے اور فیصلہ کرنے کے لئے دی ہے لوگوں کی باتوں پر اندھا دھند یقین کرنے کے لئے نہیں دی۔
    پس ہر کام کے لئے ضروری ہے کہ اُسے شروع کرنے سے پہلے اس کا اندازہ لگایا جائے۔ پھر ضروری ہے کہ اس کے سامان کو دیکھا جائے کہ آیا وہ موجود ہیں۔ پھر یہ دیکھا جائے کہ ان کو مناسب وقت اور مناسب جگہ پر مہیا کرنے کے سامان موجود ہیں یا نہیں۔ جب یہ اندازہ لگ جائے اورحساب سے معلوم ہو جائے کہ ہر چیز مکمل ہے تو پھر دیانتداری سے کام کرو۔ حساب میں بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر یہ نہیں ہوتاکہ تین کا پانچ ہو جائے یا پانچ کا تین ہو جائے۔ اندازے کے بعد بڑی غلطی تبھی ہو گی جب تم بددیانتی اور سُستی کرو گے۔ یا تو تمہارا اندازہ غلط ہو گا اور یاکام غلط ہو گا ۔ اندازہ لگانے میں فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے نفس کو مجرم بنا سکتا ہے اور ثابت کر سکتا ہے کہ اس نے جو کہا تھا یا تو وہ غلط تھا اور یا اس نے اپنے عمل کے ساتھ اسے پورا نہیں کیا۔ یہی چیز اِس وقت مغرب کی کامیابی اور مشرق کی ذلت کا باعث ہو رہی ہے۔ یورپ کے لوگ کام شروع کرنے سے پہلے اس کا اسٹیمیٹ (Estimate)لگاتے ہیں۔ پھر وہ دیکھتے ہیں کہ وہ سامان جن کے ساتھ کام پورا ہو گا موجود ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد وہ پوری دیانتداری کے ساتھ کام کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کا ناکام ہونا ان کی ذلت کا موجب ہے۔ گویا ان کا خدا تعالیٰ کو نہ ماننا ان کے لئے فائدہ بخش ہو گیا ہے اور ہمارے لئے اس کا ماننا ذلت کا موجب ہو گیا ہے۔ کیونکہ یورپین لوگ اگر کسی کام میں ناکام ہو جائیں تو وہ یہ نہیں کہتے کہ خدا تعالیٰ نے یوں کر دیا ہے وہ تو خداتعالیٰ کو مانتے ہی نہیں۔ لیکن ایک مسلمان خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے بے ایمانی کرتا ہے اور کہتا ہے میں نے تو پورا زور لگایا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا کر دیا ہے۔ گویا دنیا میں نور اور ظلمت کی جو دو طاقتیں ہیں ان میں سے نور کی طاقت یہ مسلمان ہیں اور ظلمت کی طاقت خدا تعالیٰ ہے۔ (نعوذ باللہ) شیطان کا جو کام تھا وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتاہے اور جو خدا تعالیٰ کا کام تھا وہ اپنی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی یہ کتنی بڑی ہتک ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص یہ امید رکھے کہ خدا تعالیٰ اس کی مدد کرے گا تو یہ اس کی حماقت ہو گی۔ آخر وہ اس کی کیوں مدد کرے گا جب وہ تمام خرابیاں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ تو اُس شخص کی مدد کرتا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح کہتا ہے میں اپنی غلطیوں سے بیمار ہوتا ہوں اور خدا تعالیٰ مجھے شفا دیتا ہے۔ اس کے کام کا اگر نتیجہ اچھا نکل آتا ہے تو وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ خدا تعالیٰ نے یوں کر دیا۔ اور جب نتیجہ خراب نکلتا ہے تو وہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتا ہے کہ میں اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے ناکام رہا ۔اور برکت اُسی کو ملتی ہے جو عیب اپنی طرف اور خوبی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتاہے۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے میرے اس بندہ نے عیب اپنی طرف منسوب کیا ہے اور خوبی میری طرف منسوب کی ہے میں اس کا کام اچھا کر دوں تا خوبیاں میری طرف منسوب ہوں۔ اور جب کوئی ایسا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں ایسا کیوں کروں۔ کافر کے متعلق قرآن مجید میں آتا ہے کہ جب اُسے کوئی برکت ملتی ہے تو وہ کہتا ہے یہ میری محنت کا نتیجہ ہے لیکن مومن کے متعلق آتا ہے کہ وہ تمام برکات کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مانتا ہے۔
    پس یہ تین چیزیں یاد رکھو۔ اول اندازے کے بغیر کوئی کام نہ کیا کرو۔ ہمارے ہاں اسٹیمیٹ (Estimate) اس کو کہتے ہیں کہ بجٹ بنے۔ حالانکہ اسٹیمیٹ بجٹ کا نام نہیں۔ بجٹ کے یہ معنے ہیں کہ ہم اس حد تک خرچ کر سکتے ہیں۔ اور اسٹیمیٹ کے یہ معنے ہیں کہ اگر وہ کسی عمارت کا اسٹیمیٹ ہے تو کتنا سامان، کتنے مزدور، کتنے راج اور کتنا وقت ہمیں درکار ہے۔ دوسرے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اتنی اینٹیں مل سکتی ہیں؟ اگر مل سکتی ہیں تو کہاں سے؟ پھر اگر بنوانی ہیں تو کہاں سے بنوائی جائیں گی؟ اور اس کے لئے کتنے مزدوروں کی ضرورت ہے؟ پھر ان کو اٹھا کر لے جانے کے لئے کون سے ذرائع ہیں؟ پھر عمارت بنانے کے لئے کتنے معماروں کی ضرورت ہے؟ کتنے مزدوروں کی ضرورت ہے؟ اورپھر آیا اتنے راج اور مزدور موجود ہیں؟ پھر جتنی لکڑی درکار ہے وہ کہاں سے ملے گی اور کیسے ملے گی اور کتنے دنوں میں ملے گی؟ جب اندازے صحیح ہو جائیں گے تویقینی بات ہے کہ غلطی کرنے والا پکڑا جائے گا۔ کیونکہ جب سامان کی تعیین ہو جائے گی اور جتنے وقت میں وہ کام ہونا ہے اُس کی بھی تعیین ہو جائے گی تو ہر عقلمند یہی کہے گا کہ اب اگر نتیجہ غلط نکلا ہے تو یقینا تم نے غلط کام کیا ہے۔ اگر واقع میں روپیہ موجود تھا اور جس سامان کی ضرورت تھی وہ موجود تھا تو بتاؤ وہ کام کیوں نہ ہوا۔ اگر دس سیر پانی موجود ہو جس سے ہم نے مہمانوں کو شربت پلانا ہے اور شکر بھی کافی موجود ہو اور پھر شربت تیار نہ ہو تو تم کیا کہہ سکتے ہو کہ شربت کیوں تیا رنہیں ہوا۔ سیدھی بات ہے کہ تم نے سُستی سے کام لیا ہے اور شربت تیار نہیں کیا۔ غرض اندازے انسان کو جب وہ غفلت کرے مجرم بنا دیتے ہیں۔ اگر اندازے صحیح ہوں گے تو انسان کوئی وجہ پیش نہیں کر سکتا کہ وہ کام کیوں نہیں ہوا۔ بجٹ کے معنے تو توفیق کے ہیں اسٹیمیٹ کے نہیں۔ ہم نے دنیا فتح کرنی ہے۔ اور اگر ہم نے دنیا فتح کرنی ہے تو ہمارے کاموں کے اندر علمیت پائی جانی چاہیے۔ ہمارے کاموں کے اندر افادیت پائی جانی چاہیے، ہمارے کاموں کے اندر ایثار پایا جانا چاہیے۔ یعنی جو کام بھی ہم کریں وہ قَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًاکے ماتحت کریں۔ اور جو کام بھی ہم کریں وہ ہمارے لئے اور دوسروں کے لئے فائدہ مند ہوں۔ پھر جو کام بھی ہم کریں جان مار کر کریں اور یہ سمجھ کر کریں کہ ان اندازوں سے بڑھنا ناجائز ہے۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہمارے کام میں برکت پڑ جائے گی۔ کیونکہ جب ہم تمام عیب اپنے اوپر لینے کے لئے تیار ہو جائیں گے تو خدا تعالیٰ بھی ہماری رعایت کرے گا۔ اور اگر کوئی حادثہ بھی پیش آگیا تو وہ اس سے ہمیں بچا لے گا۔ کیونکہ وہ سمجھے گا کہ یہ خواہ مخواہ الزام اپنے اوپر لینے کے لئے تیار ہو جائیں گے انہیں میں اس حادثہ سے بچا لوں۔ اور جب کوئی شخص خدا تعالیٰ پر الزام نہیں ڈالتا، جب وہ خود فخر نہیں کرتا، جب وہ نیکی کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتا بلکہ ہر نیکی کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اسے حوادث سے بچا لیتا ہے۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر نبی کی جماعت کو بھی حوادث پیش آتے ہیں لیکن ان کی نسبت دوسروں کے حوادث سے کم ہو جاتی ہے۔ عام طور پر خدا تعالیٰ قانونِ قدرت زیادہ جاری کرتا ہے اور استثناء کم استعمال کرتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ استثناء کو بالکل ہی مٹادیا جاتا ہے اور صرف قانونِ قدرت کو استعمال کیا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے میں اور میرے رسول ضرور غالب ہوں گے۔ اب اِس قاعدہ کے ساتھ کوئی استثناء نہیں۔ سمندر ہوا بن کر اُڑ جائیں، پہاڑ اُڑ جائیں، دریا خشک ہو جائیں ،چاند اور سورج گر جائیں، تمام کا تمام عالَم تہہ و بالا ہو جائے لیکن یہ قانون نہیں بدل سکتا کہ میں اور میرے رسول ضرور کامیاب ہوں گے۔ اب تک کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جو اپنے مشن میں کامیاب نہ ہو اہو، کسی نبی کو خدا تعالیٰ نے سو سال میں کامیابی دے دی ہو یا کسی کو اِس سے کم یا زیادہ عرصہ میں۔ لیکن کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جو کامیاب نہ ہوا ہو۔ پس جو شخص تمام الزام اپنے اوپر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کو بَری قرار دیتاہے اُس کے لئے خدا تعالیٰ بعض ایسے قانون جاری کر دیتا ہے جن میں استثناء نہیں ہوتا۔ اور جس قانون میں استثناء ہوتاہے وہ بھی اس کے لئے کم از کم کر دیتا ہے۔ یعنی دوسروں کے ساتھ حوادث زیادہ پیش آتے ہیں لیکن اس کے ساتھ حوادث کم پیش آتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہر خرابی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور ہر خوبی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ 26نومبر1950ئ)
    1: الفرقان :3
    2: مَور: آم کے درخت کا پھول ۔ بُور
    3: الشعرائ:81

    29
    جب تک ساری دنیا میں ہمارے مراکز قائم نہ ہوں ہم جیت نہیںسکتے
    (فرمودہ 24نومبر 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے گلے کی تکلیف میں بھی کمی ہونی شروع ہو گئی ہے اور وہ نزلہ جو کانوں اور گلے پر گرتا تھا اُس میں بھی آگے سے کمی ہے۔ آواز ابھی صاف تو نہیں ہوئی لیکن صاف ہونی شروع ہو گئی ہے۔ اِس وقت جیسا کہ میں اس بیماری میں برابر دیکھتا آیا ہوں کہ بیماری ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہوتی رہتی ہے جونہی گلے کی تکلیف سے آرام آنا شروع ہوا منہ کے اندر ورم پیدا ہو گیا، اِس طرح ہونٹوں پر بھی ورم ہے اور خراش اور خشکی پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ہونٹوں پر بار بار زبان پھیرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور وہ کھچے کھچے محسوس ہوتے ہیں۔ طبی طور پر اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ زہریلا مادہ جو سینہ میں پڑا تھا اور پھر گلے پر پڑنا شروع ہوا تھا اب منہ کی طرف آرہا ہے۔
    ہماری جماعت کا قیام اسلام کے دوبارہ احیاء اور اس کو دنیا میں شوکت و عظمت کے ساتھ قائم کرنے کے لئے ہوا ہے۔ گویا احمدیت کی شکل میں کوئی نیا مذہب قائم نہیں ہوا۔ احمدیت نے کوئی نئی شریعت پیش نہیں کی۔ احمدیت کوئی نیا مسلک لے کر نہیں آئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا احمدیت لفظ بلفظ اُس کی نقل ہے اور حرف بحرف اُسی کی تصدیق ہے۔ احمدیت کے آنے کی وجہ اور اللہ تعالیٰ کے ایک مامور کو کھڑا کرنے کی وجہ صرف اور صرف اِتنی ہی تھی، اتنی ہی ہے اور اتنی ہی رہے گی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کو جو مسلمانوں نے بُھلا دیا تھا اور آپ کے بتائے ہوئے رستہ کو جو مسلمانوں نے ترک کر دیا تھا اور آپ کی سکھائی ہوئی تعلیم کو جسے لوگوں نے چھوڑ دیا تھا اور اس کے نتیجہ میں اپنے عمل کی کمزوری اور خدا کی گرفت کی وجہ سے مسلمانوں کا قدم ذلّت، نکبت اور رُسوائی کی طرف لَوٹ گیا تھا اور یا تو وہ ایک وقت میں دنیا کے ایک بڑے حصہ پر غالب تھے اور یا وہ سارے ممالک میں مغلوب ہو گئے اور ان کی دینی، اخلاقی، سیاسی، تمدنی اور علمی برتری دینی، اخلاقی، سیاسی، تمدنی اور علمی شکست اور کمزوری میں متبدّل ہو گئی ہے۔ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اِس ذلت کو دور کرے اور پہلے طریق کو دوبارہ دنیا میں رائج کرے۔ اسلامی اخلاق کو دوبارہ پیدا کرے اور اپنے دین کو پھر دنیا میں غالب کرے اور کفر اس کے مقابلہ میں شکست کھا کر اپنی مقررہ جگہ پر چلا جائے۔ یہی احمدیت کے قیام کی غرض تھی، یہی غرض اب بھی ہے اور یہی غرض قیامت تک رہے گی۔ دشمن خواہ کتنی غلط باتیں ہماری طرف منسوب کرے، وہ خواہ کتنے غلط عقیدے ہماری طرف منسوب کرے، وہ خواہ کتنی باتیں اپنے دل سے بنا کر ہمارے عقیدوں میں داخل کرنے کی کوشش کرے یہ ایک صداقت ہے جس کا کوئی غیر بھی دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کرے گا تو اس پر واضح ہو جائے گی اور اُسے تسلیم کرنا ہو گا کہ احمدیت کا مقصد اور مدعا ابتدا سے لے کر آج تک یہی رہا ہے اور آج سے لے کر قیامت تک یہی رہے گا۔ اور اگر یہ صحیح ہے کہ یہی منشاء احمدیت کے قیام کا تھا، یہی منشاء احمدیت کے قیام کا ہے اور یہی منشاء احمدیت کے قیام کا رہے گا۔ اور اگر یہ صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں بھیجے گئے تھے اور قرآن کریم خدا تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے اور قیامت تک قائم رہنے والی کتاب ہے تو پھر یہ تیسرا نتیجہ بھی ضروری ہے کہ یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ دنیا کی طاقتیں اور قوتیں خواہ وہ سیاسی ہوں، تمدنی ہوں، علمی ہوں یا کسی قسم کی بھی ہوںمنفردانہ طور پر یا مشترک طور پر الگ الگ وقتوں میں یا ایک ہی وقت میں مختلف سکیموں کے ماتحت یا ایک ہی سکیم کے ماتحت اچانک یا کسی سوچی سمجھی ہوئی تدبیر کے مطابق اگر حملہ کریں گی تو وہ ناکام و نامراد رہیں گی اور احمدیت ہی غالب آئے گی ۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ احمدی اپنے فرائض کو ادا کریں اور وہ اپنے مقصد کو اپنے سامنے ہمیشہ زندہ رکھیں۔
    جہاں تک مقصد کا سوال ہے احمدیت کا وہی مقصد ہے جو اسلام کا تھا۔ اور وہ میں نے بتایا ہے ’’دینِ الٰہی کا دنیا پر غالب کرنا‘‘۔ اس مقصد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایجاد نہیں کیا اِس کو صرف دُہرایا ہے یا یاد دلایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اِس مقصد کو دنیا کے سامنے نئے سرے سے پیش نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے نئے سرے سے قائم کرنے کے لئے آپ کو کھڑا کیا ہے۔ پس جہاں تک مقصد کا سوال ہے ہر بیدار اور دیانتدار غیر احمدی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ پھر ایک احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ احمدی اور غیر احمدی میں یہی فرق ہے کہ ایک غیر احمدی اس مقصد کو اپنے سامنے نہیں رکھتا۔ عام غیر احمدی اس مقصد کو بھول گئے ہیں لیکن دیانتدار غیر احمدی اسے تسلیم تو کرتے ہیں لیکن اسے پورا کرنے کے لئے مشترکانہ اور متّحدانہ جدوجہد کے لئے تیار نہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ایسی جماعت قائم کی ہے جو اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے مشترکانہ اور متحدانہ جدوجہد کا اقرار کرتی ہے۔ حقیقتاً اگر دیکھا جائے تو یہی ایک فرق ہے جو غیراحمدی اور احمدی میں پایا جاتا ہے۔ باقی سب باتیں اس کے تابع ہیں۔ اگر نئے الہام کی ضرورت پیش آئی، اگر نئی وحی کی ضرورت پیش آئی تو اِسی لئے کہ تا اس اقرار کے اندر زور پیدا کیا جائے، اس کے اندر پختگی پیدا کی جائے، اور جو اس مقصد کو پورا کرنے والے ہیں خدا تعالیٰ اُن کے ایمانوں کو ایسا مضبوط کر دے کہ وہ سب کچھ اس کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ اگر غور کیا جائے تو مسیحیت و مہدویت، الہامِ جدید اور وحیِ الٰہی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوئی، وہ معجزات اور نشانات جو آپ نے دکھائے وہ سب اس کے تابع ہیں۔ وہ نشانات اور وحی اس مقصد کو دہرانے کے لئے ہیں۔ پس احمدیت کوئی نئی چیز پیش کرنے کے لئے نہیں آئی۔ وہ اس لئے آئی ہے کہ تا زندہ خدا کو لوگوں کے سامنے کھڑا کرے۔ اور اسے دیکھ کر ان کے اندر عزیمت، ہمت اور ولولہ پیدا ہو جائے۔ اور وہ قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جائیں کہ جس کے بغیر اسلام اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو حاصل نہیں کر سکتا۔ اور اگر حقیقت یہی ہے تو احمدی وہی کہلا سکتا ہے جو قربانی کے لئے تیار ہو اور اس کے سامنے ہمیشہ یہ بات رہے کہ اُس نے ساری دنیا میں اسلام کی عظمت اور شوکت کو قائم کرنا ہے۔ اگر یہ مقصد کسی کی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے یا اس کی قربانی کمزور پڑ جاتی ہے تو یقینا جتنی جتنی اُس کی قربانی کمزور ہوتی جاتی ہے اُتنا اُتنا وہ احمدیت سے دُور چلا جاتا ہے اور آپ ہی آپ احمدیت سے خارج ہو جاتا ہے۔
    جہاں تک گھروں میں بیٹھ کر نماز پڑھنے اور ذکرِ الٰہی کرنے کا سوال ہے ہزاروں ہزار غیر احمدی بھی ایسا کر رہے ہیں۔ جو کام وہ نہیں کر رہے اور جس کی حقیقت سے وہ غافل ہیں وہ یہ ہے کہ قرآن وہ عظمت و شوکت اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کے ذریعہ توپ و تفنگ کے بغیر بھی دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے۔ اب غیر احمدیوں میں بھی بیداری اور قربانی کی روح پیدا ہو رہی ہے لیکن قربانی کی وہ روح انہیں توپ و تفنگ کی طرف لے جاتی ہے قرآن کریم کی طرف نہیں لے جاتی۔ وہ قرآن کریم کو ایسا ہی بے کار سمجھتے ہیں جیسا ان سے پہلے ان کا ایک سویا ہوا بھائی سمجھتا تھا۔ بے شک آجکل کا ایک مسلمان آج سے سَو یا پچاس سال قبل کے مسلمان کی نسبت بیدار ہے لیکن وہ توپوں اور تلواروں کی طرف بھاگ رہا ہے، وہ حسرت سے ایٹم بم بنانے والوں کی طرف دیکھ رہا ہے اور اس امید میں ہے کہ وہ اسے بھی صدقہ کے طور پر کچھ ہتھیار بخش دیں۔ لیکن حضرت مسیح موعو علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے ہمیںیہ بتایا ہے کہ تمہاری توپ قرآن ہے، تمہاری رائفل قرآن ہے تمہاری بندوق قرآن ہے، تمہارا پستول قرآن ہے۔ قرآن تمہارا وہ ہتھیار ہے جس سے تم نے دنیا کا سر کچلنا ہے۔ پس تم فتح کے لئے اس امر کے محتاج نہیں ہو کہ انگلستان تمہیں توپیں دے۔ تم فتح کے لئے اس امر کے محتاج نہیں ہو کہ امریکہ تم پر مہربان ہو اور ایک دو ایٹم بم دے دے۔ یا فرانس اور جرمنی تمہیں کیمیاوی چیزیں پیدا کر کے دیں بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم قرآن کریم لو اور دنیا کو فتح کر لو۔
    حقیقت یہ ہے کہ وہی فرق جو عقائد سے تعلق رکھتا ہے یہاں بھی چلتا ہے۔ غیر احمدی دین کے بارہ میں بھی اس امید میں ہیں کہ موسوی سلسلہ کا مسیح اسلام کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو باہر نکالے گا اور سیاسی اور تمدنی طور پر اسلام کے غلبہ کے لئے بھی غیر احمدی مغرب کی توپوں اور گولہ بارود کی فکر میں ہیں۔ لیکن احمدیت کہتی ہے نہ تو مذہبی طور پر اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کے لئے موسوی سلسلہ کے مسیح ؑکی ضرورت ہے اور نہ اسلام کو سیاسی اور تمدنی طور پر دنیا پر غالب کرنے کے لئے یورپ اور امریکہ سے ملے ہوئے گولہ بارود کی ضرورت ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہو اجرنیل ہی اسلام کو روحانیت کے لحاظ سے تمام دنیا پر غالب کرے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تلوار ہی اسلام کو سیاسی اور تمدنی طور پر دنیا پر غالب کرنے کے لئے کام کرے گی۔ احمدیت یہ پیش کرتی ہے کہ سیاسی طور پر جو ہتھیار کام دے گا وہ قرآن کریم ہے۔ اور مذہبی طور پر جو شخص اسلام کو دنیا پر غالب کرے گا اور دنیا میں اسے دوبارہ قائم کرے گا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ایک شاگرد ہو گا۔ لیکن بہرصور ت یہ بات تو ہے کہ اسلام کی تبلیغ ہو یا اسلام دنیا میں پھیلے اور دوسرے اَدیان پر اس کا غلبہ ہو اِن امور کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے، روپے کی ضرورت ہے، وقت کی ضرورت ہے، کتابوں کی ضرورت ہے، لٹریچر کی ضرورت ہے ، اشتہاروں کی ضرورت ہے، اس کے لئے قربانی کرنی ہو گی۔ دوسرے مسلمان اپنا روپیہ تلواروں، پستولوں اور گولہ بارود پر خرچ کریںگے مگر احمدی بھی خرچ سے نہیں بچیں گے۔ وہ قرآن کریم، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی برتری اور دین کی اشاعت اور سپاہی بھیجنے کی بجائے مبلغ بھیج کر اپنا روپیہ خرچ کریں گے۔ اسی غرض کے لئے میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تھا اور اسی مقصد کے لئے ہر سال نئے سال کی تحریک کی جاتی ہے۔
    شاید کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لی جائے اورپھر باہر جایا جائے۔ پاکستان میں ابھی 99فیصدی یا اس سے بھی زیادہ لوگ احمدیت سے دور ہیں پھر غیر ممالک میں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے لئے یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب بھی وہ دنیا میں کوئی سچائی بھیجتا ہے وہ اسی طرح بھیجتا ہے جس طرح زمیندار چھینٹا دے کر بیج بوتا ہے۔ یورپ میں بیج بونے کا طریق یہ ہے کہ پہلے نالیاں بنائی جاتی ہیں پھر ان نالیوں میں بیج ڈالا جاتاہے تا اسے ترتیب کے ساتھ اُگایا جائے۔ مگریہ خدائی طریق نہیں۔ الٰہی سنت یہی ہے بلکہ اس کے قانونِ قدرت میں یہی بات ہے کہ وہ چھینٹے کے طور پر بیج بوتا ہے۔ پھر وہ بیج اپنی اپنی جگہ پر پھیلتا ہے۔ اگر ہم یورپ کے طریق پر عمل کریں توملک کا سوال نہیں۔ جب ہم قادیان میں تھے ہم بٹالہ کی تحصیل میں پہلے تبلیغ کرتے۔ جب وہ سارے کے سارے لوگ احمدیت میں داخل ہو جاتے تو گورداسپور کے ضلع میں تبلیغ کرتے۔ جب سارا ضلع احمدی ہو جاتا تو ہوشیار پور اور امرتسر کی طرف رُخ کرتے۔ جب یہ دونوں ضلعے احمدیت میں داخل ہو جاتے تو سیالکوٹ اور جالندھر کی طرف اپنی توجہ کرتے۔ لیکن کوئی عقلمند شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس طرح کامیابی ہوتی۔ بعض علاقوں میں ابھی تک دو دو تین تین احمدی ہیں لیکن بعض علاقوں میں آج سے بیس سال قبل کوئی احمدی نہیں تھا اب ہزاروں احمدی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون ماننے والا ہے اور کون نہیں۔ اس لئے اُس کا یہ طریق ہے کہ وہ چھینٹے کی طرح بیج بوتا ہے اور اِس طرح وہ ہمیں کام کرنے کا حکم دیتا ہے۔ غرض ایک علاقہ کے ساتھ وابستہ ہونا الٰہی سنت کے خلاف ہے۔
    دوسرے جو جماعتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں یہ سنت ہے کہ لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے 1کہ افسوس بنی نوع انسان پر کہ کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ میں نے کوئی رسول ان کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا ہو اور انہوں نے اس سے ٹھٹھا نہ کیا ہو۔ اگر لوگ دشمنی کرتے ہیں تو ان کی دشمنی کی حدبندی کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اتنی مخالفت کرو آگے نہ کرو۔ یہ دشمن کا کام ہے کہ وہ اپنی دشمنی کی حد بندی کرے یا نہ کرے۔ یہ جاہل کا کام ہے کہ وہ لڑائی کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو سمجھتا ہے کہ لڑائی یہاں تک ہو گی آگے ختم ہو جائے گی۔
    ہمارے ملک میں ایک پاگل ڈپٹی کمشنر آیا تھا اُس کا ایک بیرا تھا وہ بیرا ایک معزز اور غیرت مند خاندان سے تھا۔ غربت کی وجہ سے اُس نے بیرا کا کام شروع کر دیا تھا۔ ایک دن ڈپٹی کمشنر کو اُس پر غصہ آیا اور اُس نے اُسے کہا سؤر۔ بیرا نے کہا تُو سؤر، تمہارا باپ سؤر۔ ڈپٹی کمشنر کو یہ امید نہ تھی کہ وہ بیرا ہو کر ایسا کہے گا۔ وہ پاگل تھا لیکن اس کا دماغ منطقی تھا۔ اس نے کہا بس بس آگے نہیں۔ میں نے تم کو سؤرکہا ہے تمہارے باپ کو سؤر نہیں کہا۔ اس لئے تم مجھے گالی دے لو لیکن میرے باپ کو کچھ نہ کہو۔ یہ بیشک ایک مجنون کا فعل تھا لیکن سوال یہ ہے کہ جب لڑائیاں شروع ہو جائیں تو اُن کی حدبندی کیوں؟ دشمن کبھی دس تک پہنچے گا، کبھی بیس تک پہنچے گا، کبھی تیس تک پہنچے گا۔ وہ قوم جاہل ہے جو دشمنوں سے گھِری ہوئی ہو اور پھر لڑائی کو محدود تصور کرے کہ فلاں تک دشمنی ہو گی آگے ختم ہو جائے گی۔
    دنیا کی مثالوں کو دیکھ لو کہ دشمنیاں کہاں تک گئی ہیں۔ یہ بھی ہوا ہے کہ کسی نے مار پیٹ کو چھوڑ دیا یہ بھی ہوا کہ کسی نے لُوٹ کر چھوڑ دیا۔ یہ بھی ہوا ہے کہ کسی نے کسی فرد کو قتل کر کے لڑائی ترک کر دی۔ اور یہ بھی ہوا ہے کہ اسے ملک سے نکال دیا۔ اگر کسی شخص کا یہ مقصد ہے کہ وہ سچائی کے پیچھے ہے اور وہ کہے کہ اچھا ہم مر جائیں گے لیکن اسے چھوڑیں گے نہیں اور وہ مر جاتا ہے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔لیکن اگر اس نے سچائی کا صرف ساتھ نہیں دینا بلکہ اسے دنیا میں قائم کرنا ہے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم مرجائیںگے لیکن سچائی کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ کیونکہ اگر وہ مر جائیں گے تو اُن کا مقصد ختم ہو جائے گا کیونکہ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم سچائی کو نہیں چھوڑیں گے۔ اگر وہ کہتے کہ ہم سچائی کو نہیں چھوڑیں گے تو اُن کا مرنا ہی اُن کی جیت ہو گا۔ لیکن اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سچائی کو قائم کر کے چھوڑیں گے تو خواہ وہ صداقت کی خاطر مارے جائیں گے وہ ہاریں گے کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم سچائی کو قائم کر کے چھوڑیں گے۔ یہ نہیں کہا تھا کہ ہم مر جائیں گے مگر سچائی کو نہیں چھوڑیں گے۔ پس اگر تم نے یہ کہا ہے کہ ہم نے سچائی کو قائم کرنا ہے تو اگر دشمن تمہیں مار دیتا ہے تو تمہارا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ ہاں اگر تمہارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سچائی کا دامن نہیں چھوڑنا اور دشمن تمہیں مار دیتا تو تمہاری جیت ہوتی۔ لیکن تم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے اسلام کو دنیا میں دوبارہ قائم کرنا ہے۔ اب اگر تم بحیثیت جماعت مر جاتے ہو تو تمہاری جیت نہیں ہار ہے۔ اگر ایک آدمی مر جاتا ہے یا دو آدمی مر جاتے ہیں یا دس آدمی مر جاتے ہیں تو پھر تو جیت ہے لیکن بحیثیت قوم تم مر جاؤ تو یہ تمہاری ہار ہو گی۔
    جن قوموں کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ اگر دوسرے لوگ ہمیں ملک سے نکال بھی دیں تب بھی ہم نے سچائی کو قائم کر کے چھوڑنا ہے اُن کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں بھی اپنے مراکز بنائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے جب آپ کو نکال دیا تو آپ نے مدینہ میں اپنا مرکز قائم کیا۔ بعض مسلمانوں کو آپ نے حبشہ کی طرف بھی بھیجا لیکن وہاں کامیابی نہیں ہوئی مگر مدینہ کی ہجرت کامیاب رہی۔ حالانکہ ہجرتیں دونوں ہی تھیں۔ ان میں فرق کیا تھا کہ حبشہ میں کامیابی نہ ہوئی اور مدینہ میں کامیابی ہوئی؟ ان دونوں میں فرق یہ تھا کہ حبشہ میں ہجرت سے قبل کوئی مسلمان نہیں تھا۔ ہجرت کر کے وہاں جانے والوں کو کوئی خوش آمدید کہنے والا نہیں تھا۔ کوئی وطنی مسلمان ایسا نہیں تھا جو ان کے ساتھ مل کر کام کرتا۔ لیکن مدینہ میں ہجرت سے پہلے مسلمان موجود تھے۔ پہلے دسیوں تھے، پھر بیسیوں ہوئے، پھر سینکڑوں ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے لوگ بڑی تعداد میں مسلمان ہو چکے تھے۔ بہرحال ہجرت سے قبل مدینہ میں ایسے ہزاروں مسلمان تھے جو مدینہ کو مرکز بنا کر تمام دنیا کے اندر اسلام کی اشاعت کرنے کے لئے تیار تھے اور یہی مسلمانوں کی کامیابی کا ذریعہ بنا۔ پس جس جماعت نے تمام دنیا پر غالب آنے کا دعویٰ کیا ہو اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں بھی اپنے مراکز بنائے تا اگر اُسے اپنے ملک سے نکال دیا جائے تو وہ وہاںسے دوسرے ملک میں چلے جائیں۔ اور جتنے وسیع ملکوں میں وہ جماعت پھیلے گی اُتنے ہی زیادہ امکانات ہوں گے کہ وہ ان میں مرکز بنا لیں گے کیونکہ ایک ہی وقت میں سارے ممالک مخالف نہیں ہو جاتے۔ کسی کا مقولہ ہے تم کچھ آدمیوں کو ہمیشہ کے لئے دھوکا دے سکتے ہولیکن تم ساری دنیا کو ہمیشہ کے لئے دھوکا نہیں دے سکتے۔ اُس نے ساری دنیا کو کچھ وقت تک دھوکا دینے کے امکان کو ظاہر کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا کو کچھ وقت کے لئے بھی دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔ اس لئے اگر احمدیت سارے ممالک میں پھیلی ہوئی ہے تو اگر کسی ایک ملک میں اس کے دشمن برسرِاقتدار آجائیں (ہر نہ ماننے والا دشمن نہیں ہوتا جیسا کہ اِس وقت مسلم لیگ کی حکومت ہے وہ ہمارے مذہب کی نہیں مگر اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک سیاسی حکومت ہے مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کسی پر ظلم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ لیکن فرض کرو کہ احرار ملک میں صاحبِ اقتدار ہو جائیںتو پھر ملکی حکومت ظالموں اور جابروں کی حکومت ہو گی اور اس سے انصاف کی تم توقع نہیں کر سکتے نہ اور کوئی شخص ان سے انصاف کی توقع کر سکتا ہے جو اِن سے اختلاف رکھتا ہو۔) اور اس کا قانون اور حکومت بھی اسکے خلاف ہو جائے تو احمدیوں کو ایسے رستے مل جائیں گے کہ وہ کسی اَور ملک میں پھیل جائیں۔ اگر کسی میں عقل اور سمجھ ہو اور اُسے توفیق ملی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی سنت کا مطالعہ کرے کہ اس کے نبیوں کے ساتھ کیا گزرا ہے تو اسے ماننا پڑے گا کہ جب تک ساری دنیا میں ہمارے مراکز قائم نہ ہو جائیں ہم جیت نہیں سکتے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کون سا ملک ہمیں امان دینے والا ہوگا۔
    پس احمدی کا جو دعویٰ ہے کہ اس نے اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرنا ہے اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مختلف ممالک میں تبلیغ کی جائے اور مختلف ممالک میں ہماری جماعتیں قائم ہوں تا اگر کسی ملک میں احمدیوں کو تبلیغ سے روک دیا جائے اور ان کو وہاں پھیلنے کا آزادی کے ساتھ موقع نہ ملے تو اس مجبوری کی وجہ سے اُس ملک کے احمدی اس ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں چلے جائیں۔ تحریک جدید کے ذریعہ جو مشنری باہر بھیجے جاتے ہیں وہ اِنہی دو حکمتوں کے ماتحت بھیجے جاتے ہیں۔ اُن کی ایک حکمت یہ بھی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ سچائی ایک جگہ نہیں پھیلتی بلکہ وہ مختلف ممالک میں پھیلا کرتی ہے۔ ہر ملک میں کچھ نہ کچھ آدمی شریف اور عقلمند ہوتے ہیں ان کے سامنے اگر سچائی پیش کی جائے تو وہ اسے مان لیتے ہیں۔ اگر سلسلہ کے لوگ ایک ملک میں ہی رہیں تو عقلمند تو مان لیں گے لیکن جو لوگ اپنے آپ کو زیادہ عقلمند اور لائق سمجھتے ہیں یا کم عقلمند ہوں گے وہ اسے ماننے کے لئے بآسانی تیار نہیں ہوں گے۔ اگر وہ ایک ہی جگہ کے لوگوں پر اتنا خرچ کرتے رہیں گے تو ان کو احمدیت میں داخل کرنے پر بیسیوں سال لگ جائیں گے۔ لیکن اگر ساری دنیا میں جائیں گے تو سچائی ماننے والے لوگ جہاں بھی ہوں گے انہیں مل جائیں گے۔ جرمن جو سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کو مل جائیں گے، افریقن جو سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کو مل جائیں گے، انڈونیشین جو سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کو مل جائیں گے، امریکن جو سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کو مل جائیں گے۔ اِسی طرح باقی ممالک اور جزائر میںجو لوگ سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کو مل جائیں گے۔ اگر سارے ممالک میں احمدی نہیں جائیں گے تو سچائی کو ماننے والے مر جائیں گے اور ہمارا ٹکراؤ اُن سے ہوگا جو سچائی کو نہیں مانیں گے۔ پس دوسرے ممالک میں احمدیت کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
    جیسا کہ میں نے بتایا ہے تمام انبیاء کے وقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھ لو آپ فلسطین میں پیدا ہوئے لیکن ان کا مذہبی ٹکراؤ کبھی روما میں ہوا ، کبھی مصر میں ہوا، کبھی ایرانی سرحدوں پر ہوا۔ ایک جگہ پر عیسائی مارے گئے تو انہوں نے اپنامرکز دوسری جگہ بنا لیا۔ فلسطین میں اگر وہ تبلیغ نہ کر سکے تو انہوں نے اپنا مرکز اسکندریہ میں بنا لیا۔ پھر وہاں ظلم ہوا تو ٹرکی کے ساتھ ساتھ کے جزائر میں انہوں نے مرکز بنا لیا۔ وہاں ظلم ہوا تو وہ یونان میں چلے گئے۔ اور وہاں اگر مخالفت ہوئی اور وہ کامیابی کے ساتھ تبلیغ نہ کر سکے تو انہوں نے اپنا مرکز روما میں بنا لیا۔ اِسی طرح وہ تبلیغ کرتے گئے یہاں تک کہ وہ ساری دنیا پر غالب آگئے۔ پس اگر ہم اِس بات کے مدعی ہیں کہ ہم نے تمام دنیا پر غالب آنا ہے تو ضروری ہے کہ ہم تمام ممالک میں اپنے مراکز بنائیں تا اگر ایک جگہ پر لوگوں میں جوش پیدا ہو جائے تو ہم دوسری جگہ اپنا زور لگائیں۔ اور اگر ہم ایک ہی جگہ رہیں گے تو ہم فتنہ کا مقابلہ نہ کر سکیں گے۔ تحریک جدید کے قیام کی یہی دو وجہیں ہیں اور ظاہر ہے کہ ان دونوں وجوہ کو نظر انداز کر کے تمہاری ہستی قائم نہیں رہ سکتی۔
    ابھی تو درحقیقت یہ سوال ہی نہیں کہ ہم تبلیغ کے ان میدانوں میں ترقی حاصل کرنے کی کیا صورت کریں۔ ابھی بہت سے میدان ایسے ہیں جہاں ہمارے مبلغ نہیں پہنچے۔ ابھی تک ایسے ممالک بھی ہیں جہاں احمدیت کی ابتدائی تبلیغ بھی نہیں ہوئی۔ اور یہ ہزاروں ہزار کی تعداد میں ہیں۔ صرف بیس پچیس ایسے ممالک ہیں جہاں احمدیت کی تبلیغ ہو رہی ہے۔ اور اگر جزائر کو ملا لیا جائے تو ان میں سے بعض مجموعے ایسے بھی ہیں جو ہزار ہزار جزیرے پر مشتمل ہیں۔ اس طرح تین چار ہزار ایسے ممالک نکل آئیں گے جہاں احمدیت کی تبلیغ نہیں ہوئی۔ تبلیغ صرف بیس پچیس ممالک میں ہو رہی ہے۔
    میں دیکھتا ہوں کہ احمدی ہو جانے کے بعد لوگ یہ سوچتے نہیںرہتے کہ تبلیغ کا کیا مقام ہے۔ بہت سے لوگ تو تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھتے ہی نہیں۔ وہ اس لئے چندہ دیتے ہیں کہ میری طرف سے چندہ کی تحریک ہوئی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ دروازہ پر سوالی آیا ہے اس کی آواز رائیگاں نہ جائے۔ حالانکہ یہاں ان کی زندگی کا سوال ہے، ان کے بیوی بچوں کی زندگی کا سوال ہے، ان کے ایمان کا سوال ہے، ان کے ایمان کے بچاؤ کا سوال ہے۔ یہاں یہ سوال نہیں کہ ہم نفلی نیکی کر کے چندہ دیتے ہیں بلکہ اس پر ہماری زندگی کا انحصار ہے۔ اگر تم غیر ممالک میں اپنے مراکز نہیں بناؤ گے تو جس طرح چُوہے کو بِل میں بند کر دیا جاتا ہے تم بعض ممالک میںاِس سے بھی بُری طرح بند کر دیئے جاؤ گے۔ اِسی طرح ایسے نیک طبیعت لوگ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں مر جائیں گے جن تک تم نے احمدیت کا پیغام نہیں پہنچایا ہو گا اور اس طرح تم خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم بن جاؤ گے۔
    پس مجھے جماعت کے افراد کی حالت کو دیکھ کر افسوس آتا ہے کہ وہ سُستی اور غفلت دکھاتے کیوں ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی اعلان کیا ہے سال کے بارہ مہینے گزر گئے ہیں لیکن وعدے نصف سے بھی کم وصول ہوئے ہیں۔ اب میرے زور دینے کے بعد وصولی کی مقدار کچھ اونچی ہوئی ہے۔یہ طوعی چندہ ہے جس کو تم اپنے اوپر فرض کر لیتے ہو۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے 2 جو تم اقرار کرتے ہو یہ تم مت سمجھو کہ وہ نفلی ہے۔ وہ فرض ہے اور قیامت کے دن یہ سوال کیا جائے گا کہ تم نے وہ عہد پورا کیوں نہیں کیا۔ پس تمہیں چاہیے تھا کہ تم اپنے عہد کو پورا کرتے۔ لیکن انتہائی یاددہانی کے بعد 51،52 فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں اور 51، 52فیصدی کے معنے یہ ہیں کہ اگلے سال بھی تم وعدہ پورا نہیں کر سکو گے۔ اگر یہی حال رہا تو کام بڑھے گا کیسے؟ بہرحال اس امر کو سمجھتے ہوئے کہ جماعت پر عارضی طور پر غنودگی کا وقت آیا ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ صرف خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس پر غنودگی اور نیند کا وقت نہیں آتا اپنے فرض کو ادا کرتے ہوئے میں تحریک جدید کے سترھویں سال کا اعلان کرتا ہوں۔
    بعض لوگ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں اور ان میں بعض مبلغ بھی شامل ہیں کہ آپ نے پہلے دس سال کے چندہ کا اعلان کیا تھا پھر اسے انیس سال کر دیا۔ یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تمہارے لئے تدبیر کی تھی کہ تم اپنے ایمانوں کو بڑھاؤ۔ یہ اعتراض ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں کوئی شخص کسی جگہ سے گزر رہا تھا اُس نے دیکھا کہ ایک شخص گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھا تھا۔ اُس نے اُسے کہا میاں! چھاؤں میں بیٹھ جاؤ۔ اُس نے جواب دیا اگر میں چھاؤں میں بیٹھ جاؤں تو تم مجھے کیا دو گے؟ یہ تو خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے تدبیر کی ہے اور تم کہتے ہو یہ کیا بات ہے۔ پہلے پہل تو میرے منہ سے ایک مشتبہ فقرہ نکلا تھا جس سے بعض لوگوں نے ایک سال کی تحریک سمجھا تھا اور بعض لوگوں نے اسے تین سال کی تحریک سمجھا تھا۔ اگرخدا تعالیٰ جماعت کو چوٹ نہ لگاتا اور یہ مشتبہ فقرہ میرے منہ سے نہ نکلتا تو تم میں سے بعض کو سولہ سال تک جو چندے دینے کی توفیق ملی ہے وہ نہ ملتی اور تم میں سے بہت سے لوگ پیچھے رہ جاتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی پہلے پہل یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص تین ماہ کے بعد ایک دھیلا بطور چندہ نہیں دیتا وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ 3پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی تھے جنہوںنے وصیت میں اپنی آمد کا کم از کم دسواں حصہ دینے کا اعلان کیا۔4 اگر خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک دھیلا فی سہ ماہی کی بجائے ماہوار آمد کا 1/10 نکلواتا تو بہت سے احمدی اس قربانی سے رہ جاتے۔ اس ایک دھیلے فی سہ ماہی پر بھی لوگوں کے خطوط آتے تھے کہ اس سے لوگوں کو ٹھوکر لگے گی۔ پھر اس دھیلے سے آمد کا 1/10 ہوا۔ پھر تحریک ستمبر میں بیس فیصدی ہوا۔ پھر تیس فیصدی ہوا۔ پھر چالیس پچاس فیصدی تک چندہ گیا۔ گو یہ تحریک عارضی تھی لیکن اس میں پچاس فیصدی تک چندہ گیا ہے اور جماعت کا کچھ حصہ ایسا ہے جس نے پچاس فیصدی کچھ عرصہ تک دیا ہے۔ لیکن یہی تحریک کسی وقت ایک دھیلا کے برابر تھی۔ جو شخص اُس زمانہ میں ایک سو روپیہ ماہوار کماتا تھا اُسے یہ کہا گیا تھا کہ تم ایک دھیلا فی سہ ماہی دیا کرو۔ لیکن اب اُسے یہ کہا جاتا ہے کہ تم تیس روپے فی سہ ماہی دیا کرو۔ تیس روپے اور ایک دھیلا میں کتنا فرق ہے؟ تیس روپے کے 3840دھیلے بنتے ہیں۔ گویا حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے چار ہزار گُنا چندہ بڑھا دیا تھا۔پہلے کہا کہ تین ماہ کے بعد ایک دھیلا دیا کرو۔ پھر اسی شخص کو کہا کہ تم اپنی ماہوار آمد کا دس فیصدی دو۔ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چندہ کو چار ہزار گُنازیادہ کر دیا۔ تو تمہارے دل میں وسوسہ نہ پیدا ہوا۔ میں نے تحریک کی میعاد کو دس سال سے اُنیس سال کر دیا تو تمہیں اعتراض سُوجھنے لگا۔ میں اگر اس تحریک کو تمہاری ساری عمر کے لئے بھی کر دوں اور عمر ساٹھ ستّر سال فرض کی جائے تو اس صورت میں مَیںاسے صرف چار گنا کروں گا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے چار ہزار گنا کر دیا تھا۔
    پھر نمازوں کو دیکھ لو جب قائم ہوئی تو یہ دو رکعت تھی، پھر چار رکعت ہو گئی۔ جس کو تم قصر کہتے ہو وہ قصر نہیں وہ اصل ہے۔ صرف عام نماز دگنی ہو گئی ہے۔ گویا سفر میں آدھی نماز نہیں ساری ہے۔ حضر میں وہ دگنی ہو گئی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں لوگ کہتے ہیں نماز قصر ہو گئی وہ قصر نہیں ہوئی بات یہ ہے کہ حضر میں نماز دگنی ہو گئی ہے۔5 خدا تعالیٰ نے کہا تھا یہ زیادتی تمہارے ایمانوں کو قائم رکھنے کے لئے ہے۔ میں نے بھی تمہارے ایمانوں کو بچانے کے لئے قدم بقدم کام لیا ہے۔ اگر خداتعالیٰ کا نماز کو دو رکعت سے چار رکعت کرنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ کا ایک دھیلا فی سہ ماہی سے آمد کا دس فیصدی چندہ کر دینا دھوکا نہیں اور اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آئندہ ترقیات کا علم نہیں تھا تو میرا دس سال سے اُنیس سال کرنا دھوکاکیسے ہوا ۔اگر یہ دھوکاہے تو خدا تعالیٰ کا دو رکعت نماز کو چار رکعت کرنا بھی نعوذ باللہ دھوکا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک دھیلا فی سہ ماہی چندہ کو آمد کا 1/10 کرنا بھی نعوذ باللہ دھوکا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں تو پھر میرا طریق بھی تمہارے ایمانوں کو قائم رکھنے کے لئے ہے۔ پھر یہ دھوکا اُس وقت بنتا جب یہ کام مفید نہ ہوتا یا کام دس سال میں پورا ہو جاتا۔ مگر کیا تم اتنے ہی بے وقوف ہو کہ تم سمجھ رہے ہو کہ دنیا دس سال میں فتح ہو جائے گی؟ یا دنیا اُنیس سال میں فتح ہو جائے گی؟ تمہیں تو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ خدا تعالیٰ تمہیں قدم بقدم ایمان کی طرف لے جارہا ہے۔ دس اور اُنیس سال کا یہاں سوال نہیں۔ کیا تم نے بیعت کرتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ میں دس سال تک قربانی کروں گا؟ تمہیں ٹھوکر لگنی تھی تو اِس بات پر لگنی چاہیے تھی کہ میں نے دس سال یا اُنیس سال کیوں کہے ہیں۔ تم پوچھتے حضور! ہم نے قربانی کا وعدہ تو بیعت کرتے وقت موت تک کیا تھا اور آپ دس سال یا اُنیس سال تک ہمیں لے جا کر چھوڑ رہے ہیں۔ پس دیانتداری کا یہ طریق تھا کہ تم پوچھتے کہ ہمیں اُنیس سال کے بعد کیوں چھوڑ دیں گے؟ کیا اُنیس سال کے بعد نمازیں اور روزے معاف ہو جائیں گے؟ کیا اُنیس سال کے بعد تم بیوی بچوں کی پرورش چھوڑ دو گے؟ کیا اُنیس سال کے بعد تم کھانا کھانا چھوڑ دو گے؟ اگر اُنیس سال کے بعد تم نمازیں اور روزے چھوڑ نہیں دو گے، اگر اُنیس سال کے بعد تم بیوی بچوں کی پرورش چھوڑ نہیں دو گے، اگر اُنیس سال کے بعد تم کھانا کھانا چھوڑ نہیں دو گے تو پھر اسلام کو یہ کہتے ہوئے کیوں چھوڑ دو گے کہ وہ ترقی کرے یا نہ کرے ہم نے تو اُنیس سال چندہ دے دیا۔ یہ تو پاگلوں والا خیال ہے کہ دس سال سے اُنیس سال تک تحریک کیوں بڑھا دی گئی۔ سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ تحریک اُنیس سال سے زیادہ کیوں نہیں؟ جب کہ بیعت کرتے وقت ہم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم مرتے دم تک قربانی کرتے رہیں گے۔
    پس سترھویں سال کی تحریک کا اعلان کر کے میں کہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں یہ مثل مشہور ہے کہ جتنا گُڑ ڈالو گے اُتنا ہی شربت میٹھا ہو گا۔ تم جتنی قربانی کرو گے اُتنی ہی جلدی اسلام پھیلے گا۔ تم اپنی زبان سے کئی بار کہتے ہو کہ ہمیں قادیان کب ملے گا، سوال یہ ہے کہ قادیان کو کیا فضیلت حاصل ہے؟ کیا قادیان کے لوگ پاخانہ کی بجائے مُشک پھرتے ہیں؟ یا وہاں کے مکانوں کی اینٹیں مٹی کی بجائے ہیرے اور جواہرات کی بنی ہوئی ہیں؟ قادیان کو اگر کوئی فضیلت حاصل ہے تو وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اُسے اِس زمانہ میں اسلام کی اشاعت کا مرکز بنایا ہے۔ اگر تمہارے اندر اسلام کی اشاعت کا جوش نہیں، اگر تم قربانی کرنے کے لئے تیار نہیںتو قادیان تمہاری نظروں میں مزبلہ6 اور رُوڑی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر تمہیں قادیان کے ساتھ واقعی اُنس اور محبت ہے تو تمہیں قربانیاں دینی پڑیں گی اور قربانی کے بعد قربانی دینی پڑے گی۔ اگر کوئی قربانی سے گریز کرتا ہے تو چاہے وہ منہ سے نہ کہے وہ اپنے عمل سے یہ کہتا ہے کہ 7 جاؤ اے محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں تم اور تمہارا رب دونوں لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں، دنیا کے ہر گوشے میں، دنیا کے ہر پردہ پر اور دنیا کی ہر حکومت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم قابلِ تحقیر سمجھی جاتی ہے۔ تم نے اسے نئے طور پر قائم کرنا ہے۔ تم ایک معمولی مکان پر باوجود معمولی حیثیت ہونے کے ہزاروں روپے لگا دیتے ہو لیکن یہاں تم نے ساری دنیا کی عمارت کو گرا کر اسے نئے سِرے سے تعمیر کرنا ہے۔ پہلے تمہیں اِس عمارت کو شمالی کرۂ ارض سے لے کر جنوبی کرۂ ارض تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک منہدم کرنا ہو گا اور انہدام پر بھی بڑا خرچ ہو گا اور پھر اسے دوبارہ تعمیر کرنا ہو گا اور تعمیر پر بھی بڑا خرچ ہو گا۔ تم یہ کس طرح امید کر سکتے ہو کہ تم اپنی انتہائی قربانی کے ساتھ اُنیس سال میں اس عمارت کی بنیاد بھی رکھ سکو گے۔ میں تو سمجھتا ہوں ابھی پاکستان اور بھارت میں بھی تبلیغ کی بہت ضرورت ہے۔ اور صدر انجمن احمدیہ اس میں کوتاہی سے کام لے رہی ہے اور وہ نئے مبلغ نہیں رکھ رہی۔ پچھلے دس سالوں میں اس نے ایک نیا مبلغ بھی نہیں رکھا۔ ایک دفعہ جب میں نے پوچھا تو پاکستان کے مبلغ انہوں نے بڑے زور کے ساتھ آٹھ دس تک بتائے۔ آٹھ کروڑ کی آبادی میں صرف آٹھ نو مبلغ رکھنے کے کوئی معنے ہی نہیں۔ بھارت کے مبلغوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو وہ کُل چودہ مبلغ بنتے ہیں۔ یعنی ایک مبلغ تین کروڑ افراد کے لئے رکھا ہو اہے ۔ اگر اس مبلغ کا ذرہ ذرہ کر کے ایٹم بنایا جائے اور پھر الیکٹران بنائے جائیں تو مبلغ کا ایک ایک الیکٹران ایک آدمی کے حصہ میں بھی نہیں آئے گا۔ غرض باہر کے لوگ تو الگ رہے یہاں پاکستان ہندوستان میں بھی مبلغوں کی ضرورت ہے اور یہاں بھی لٹریچر پھیلانے کی ضرورت ہے۔
    بہرحال اس تمہید کے ساتھ میں سترھویں سال کے وعدوں کے لئے اعلان کرتا ہوں اور اس کے ساتھ یہ باتیں بھی بیان کر دیتا ہوں کہ وعدہ بھیجنے کا آخری وقت فروری ہو گا۔ مغربی پاکستان کے جو وعدے دس فروری تک آجائیں گے وہ قبول کر لئے جائیں گے۔ لیکن بجٹ کے بنانے کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ وعدے دسمبر تک پہنچ جائیں۔ تمام جماعتوں کو چاہیے کہ وہ کوشش کریں کہ جلسہ سے پہلے یا جلسہ کے ایام میں آکر اپنے وعدے دے دیں۔ اِلَّا مَا شَائَ اللّٰہُ۔ پھر میں مخلص احباب سے کہوں گا کہ چاہے تم گزشتہ وعدے پر ایک پیسہ یا دو پیسہ ہی بڑھاؤ ضرور بڑھاؤ۔ میں اس کو بھی کم عقلی سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص اپنا وعدہ اِتنا بڑھا دے کہ ادا بھی نہ کر سکے۔ یہ اخلاص نہیں نیورستھینیا(Neurasthenia) کی ایک قسم ہے۔ لیکن اس لئے کہ تمہارے قدم ہمیشہ آگے رہے تم گزشتہ وعدے پر ایک پیسہ یا دو پیسہ ہی بڑھا دو تو یہ کوئی بوجھ نہیں۔ قدم آگے رکھنا مومن کی علامت ہے۔
    دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وعدے وہی لوگ لکھوا سکتے ہیں جنہوں نے گزشتہ سال کے وعدے سو فیصدی پورے کر دیئے ہیں۔ جن لوگوں نے گزشتہ سال کے وعدے پورے نہیں کئے اُن میں سے وہی لوگ وعدے بھجوا سکتے ہیں جن کے ذمہ بیس فیصدی سے زیادہ گزشتہ سالوں کا بقایا نہ ہو اور جن لوگوں کے ذمے بیس فیصدی سے زیادہ رقم بقایا ہو گی اُن سے وعدے اِسی صورت میں لئے جائیں گے جب وہ وعدے کے ساتھ یہ پختہ عہد لکھ کر بھیجیں کہ وہ اپریل 1951 ء تک اپنا سب بقایا سو فیصدی پورا کر دیں گے اور سترھویں سال کا وعدہ تیس نومبر تک پورا ادا کر دیں گے۔ اور اگر اس تحریر کے ساتھ اپنا وعدہ نہیں بھیجیں گے تو وہ قبول نہیں کئے جائیں گے۔ بھارت اور مشرقی پاکستان کے وعدے دس اپریل تک لئے جائیں گے اور ہندوستان وپاکستان سے باہر کے وعدے دس جون تک وصول کئے جائیں گے۔
    تحریک جدید دفتر دوم سال ہفتم کا بھی میں اس کے ساتھ ہی اعلان کرتا ہوں اور نوجوانوں سے کہتا ہوں ابھی وعدوں میں بہت کمی ہے۔ پہلے لوگوں نے وعدوں کو تین لاکھ تک پہنچایا تھا نئی پَود کو اس سے بھی اوپر جانا چاہیے۔ لیکن اس میں بعض دقتیں بیان کی گئی ہیں اُن کو سمجھتے ہوئے میں قواعد میں تبدیلی کر دیتا ہوں۔ تحریک جدید دفتر دوم میں شامل ہونے کے لئے پہلے یہ شرط تھی کہ حصہ لینے والا پچھلا بقایا بھی ادا کرے۔ آئندہ کے لئے میں یہ ترمیم کر دیتا ہوں کہ یہ تحریک اُنیس سال کی ہے۔ گو جیسا کہ میں نے بتایا ہے تمہیں اس پر بھی اعتراض ہونا چاہیے کہ صرف اتنے سال کے لئے کیوں ہے؟ بہرحال جس سال بھی کوئی تحریک جدید دفتر دوم میں شامل ہو گا اُس کا وہی پہلا سال شمار ہو گا۔ مثلاً جو شخص اِس سال تحریک جدید میں شامل ہوتاہے اُسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ پہلے سالوں کا بقایا بھی ادا کرے ۔ اُس کا یہ سال پہلا سال شمار ہو گا اور اس کے بعد اُسے اُنیس سال تک چندہ دینا ہو گا۔ مگر اس میں نابالغی کے سال شامل نہ ہوں گے وہ زائد ہوں گے۔ دوسری تبدیلی میں یہ کرتا ہوں کہ دفتر اول کی طرح دفتر دوم کی بھی یہی شرط ہو گی کہ حصہ لینے والا پانچ، دس یا بیس روپے کی شکل میں چندہ دے۔ یہ کہ حصہ لینے والا اپنی آمد کا نصف، تیسرا حصہ یا چوتھا حصہ دے۔ میں اِس شرط کو اُڑاتا ہوں۔ مخلصین آپ ہی آپ زیادہ چندہ دیں گے۔ دفتر اول میں مَیں نے بعض دوست ایسے دیکھے ہیں جو ایک ایک ماہ یا دو دو ماہ کی آمد بطور چندہ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ تو چندہ دیں گے ہی لیکن کمزور لوگ پیچھے رہ جائیں گے۔ وہ ڈریں گے کہ پچھلے سالوں کے بقائے کس طرح ادا کریں گے۔ قربانی کرنے کی عادت ہمیشہ آہستہ آہستہ پڑتی ہے۔ پس تحریک جدید میں شامل ہونے کے لئے ابتدا میں پانچ روپے کا وعدہ ہو سکتا ہے۔لیکن اِس کے ساتھ شرط یہ ہو گی کہ وعدہ لکھوانے والا اپنی ماہوار آمد بھی لکھوائے اور کوشش کی جائے کہ کوئی احمدی ایسا نہ رہے جس نے تحریک جدید میں حصہ نہ لیا ہو۔ تا ساری جماعت فخر کے ساتھ کہہ سکے کہ اسلام کا جھنڈا بلند کرنے میں اس کا ہر فرد شامل ہے۔ مگر دفترِ اول والی شرائط ان پر بھی چسپاں ہوں گی۔ یعنی جو لوگ پہلے سے وعدہ کرتے آئے ہیں اُن میں سے جو لوگ وعدہ ادا کر چکے ہیں اُن کے وعدے قبول کئے جائیں گے دوسروں کے نہیں۔ ہاں اگر کسی کے ذمہ بیس فیصدی بقایا ہے توہم اُس پر اعتبار کریں گے اور اُس کا آئندہ وعدہ قبول کر لیں گے۔ لیکن باقی لوگوں کو وعدہ کرتے وقت تحریری طور پر یہ اقرار کرنا پڑے گاکہ وہ آئندہ اپریل کے آخر تک کُل سابقہ بقایا ادا کر دے گا اور 30نومبر 1951 ء تک نئے سال کا وعدہ بھی ادا کر دے گا۔ اگر وہ گزشتہ سالوں کے بقائے اور اس سال کے وعدے ادا نہ کریں تو بیشک انہیں اس فوج سے جو مجاہدینِ اسلام کی فوج ہے نکال دیا جائے۔ میں امید کرتا ہوں کہ نئی شرطوں کے ساتھ ہر احمدی کے لئے تحریک جدید میں حصہ لینا آسان ہو جائے گا۔ پہلے سال اگر کوئی پانچ روپے چندہ لکھاتا ہے تو دفتر کا فرض ہے کہ وہ اتنا چندہ لکھ لے۔ اگر خدا تعالیٰ اُس کے ایمان کو مزید تقویت دے گا تو وہ اَور چندہ لکھوائے گا۔ میں جانتا ہوں کہ بعض لوگوں نے دفتر اول میں پہلے سال پانچ پانچ روپے کے وعدے لکھائے تھے اور اب اُن کے وعدے سینکڑوں تک پہنچ گئے ہیں کیونکہ اُن کا اخلاص پہلے کی نسبت بڑھ گیا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ لے جانے والے انصار کا آپؐ سے جو معاہدہ ہوا تھا اور جس میں حضرت عباسؓ بھی شریک تھے وہ معاہدہ یہ تھا کہ اگر دشمن نے مدینہ پر حملہ کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچا نا چاہا تو انصار اپنی جان و مال قربان کر کے دفاع کریں گے۔ لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ ہوئی تو انصار پر دفاع کی ذمہ داری عائد نہیں ہو گی۔ جب بدر کا موقع آیا اور مسلمانوں کا لشکر باہر گیا تو خیال تھا کہ ان کا مقابلہ یا تو تجارتی قافلہ سے ہو گا اور یا پھر مکہ سے آنے والے لشکر سے ان کی لڑائی ہو گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا تھا کہ مقابلہ لشکر سے ہے مگر ساتھ ہی یہ اشارہ کیا گیا کہ ان لوگوں کو ابھی بتانا نہیں کہ لڑائی مکہ سے آنے والے لشکر سے ہو گی۔ جس طرح میرے منہ سے خدا تعالیٰ نے پہلے دس سال نکلوائے پھر اُنیس ہو گئے اِسی طرح بدر کے مقام پر پہنچ کر یہ پتالگا کہ قافلہ تو نکل چکا ہے اب مکہ سے آنے والے لشکر سے ہی مسلمانوں کی لڑائی ہو گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو بلایا اور فرمایا کہ قافلہ نکل چکا ہے اب لڑائی مکہ سے آنے والے لشکر کے ساتھ ہو گی۔ آپ لوگ مجھے اس بارہ میں مشورہ دیں۔ مہاجرین نے مشورے دینے شروع کئے لیکن انصار خاموش رہے۔ آپؐ نے پھر فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ اِس پر اَور مہاجرین اُٹھے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اِس طرح ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوتا اور وہ کہتا یا رسول اللہ! ہم تو مکہ والوں کی شرارتوں سے تنگ آگئے ہیں، مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو یہاں بھی وہ آرام سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ ہم قافلہ سے بھی لڑنے کے لئے آئے تھے اب اگر دوسرا لشکر بھی آگیا ہے تو اس سے بھی ہمیں لڑنا چاہیے۔ لیکن ہر ایک کا جواب سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہی فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ اِس پر ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوںنے کہا یا رسول اللہ! آپ کی مراد شاید انصار سے ہے کیونکہ مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے لیکن پھر بھی آپ بار بار مشورہ طلب کر رہے ہیں۔ یا رسول اللہ! ہم تو اِس لئے خاموش بیٹھے تھے کہ حملہ آور لشکر مہاجرین کا رشتہ دار ہے۔ اگر ہم نے لڑائی کا مشورہ دیا تو مہاجرین کا دل دُکھے گا اور وہ کہیں گے اچھا بھائی چارہ ہے کہ اب یہ ہمارے رشتہ داروں سے بھی لڑنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ !شاید آپ اِس لئے مشورہ مانگ رہے ہیں کہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا کہ اگر مدینہ میں آپؐ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ ہوئی تو ہم حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ شاید آپ کا اشارہ اِس معاہدہ کی طرف ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اُس انصاری نے کہا یا رسول اللہ! وہ وقت تو ایسا تھا کہ ہمیں پتا نہیں تھا کہ آپ کی حیثیت اور شان کیا ہے اور چونکہ ہم آپ کی حیثیت اور شان سے ناواقف تھے اس لئے ہم نے وہ معاہدہ کیا۔ یا رسول اللہ! آپ مدینہ تشریف لائے اور آپ کے نشانات اور معجزات ہم نے دیکھے، آپ کی صداقت ہم پر ظاہر ہوئی اور ہم نے آپ کے مرتبہ اور شان کو پہچان لیا۔ اب معاہدوں کا سوال نہیں رہا۔ یا رسول اللہ! ہم موسیٰؑ کے ساتھیوں کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ اِذْہَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ہٰہُنَا قَاعِدُوْنَ کہ موسیٰ! تُو اور تیرا رب جاؤ اور دشمن سے جنگ کرتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور یا رسول اللہ! ہم جب تک زندہ ہیں وہ دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔ دشمن آپ تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آئے تو آئے۔ پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے (عرب لوگ سمندر سے ڈرتے تھے) آپ ہمیں حکم دیں کہ سمندر میں اپنی سواریاں ڈال دو تو ہم بغیر کسی تردّد کے اپنی سواریاں سمندر میں ڈال دیں گے۔ 8
    غرض جب ایمان بڑھ جاتا ہے تو قربانی حقیر ہو جاتی ہے اور جب ایمان کم ہوتا ہے تو قربانی کی عظمت بڑھتی جاتی ہے۔ پس میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے ایک آدمی پانچ روپے چندہ لکھا کر یہ سمجھے گا کہ وہ لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہو گیا بلکہ اِس کا پھل بھی اُسے ملے گا۔ کھیت میں اگر پانچ سیر گندم کا بیج ڈالا جائے تو اُس سے پانچ سیر ہی گندم نہیں نکلتی بلکہ وہ کئی من ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح پانچ روپے پانچ روپے نہیں رہیں گے۔ اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں طاقت دی تو یہ پانچ دس ہو جائیں گے، دس بیس ہو جائیں گے اور بیس پچاس ہو جائیں گے، اور اگر اَور طاقت مل گئی تو ان پچاس روپے کا بیج یقینا اَور زیادہ کھیتی نکالے گا۔ پس جب میں پانچ کہتا ہوں تو یہ جانتے ہوئے کہتا ہوں کہ جو پانچ روپے کا بیج ڈالے گا آئندہ اِس سے کئی گُنا فصل کاٹے گا۔ ہر دوسرے سال کا چندہ پہلے سال کی فصل ہے اور ہر تیسرے سال کا چندہ دوسرے سال کی فصل ہے۔ اور فصل بیج کے برابر نہیں ہوا کرتی بلکہ اُس سے کئی گُنا زیادہ ہوا کرتی ہے۔
    پس میں نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں سے کہتا ہوں کہ پانچ روپے کی حقیر رقم دے کر تحریک جدید کی فوج میں اپنے آپ کو شامل کر لو تاتمہارا ایمان بڑھے اور تمہیں پہلے سے بڑھ کر قربانیاں کرنے کی توفیق ملے تاکہ جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو تو تم فخر سے محسوس کر سکو کہ اِس غلبہ میں تمہارا بھی حصہ ہے۔ ‘‘ (الفضل مورخہ30نومبر1950ئ)
    1: یٰسٓ: 31
    2: بنی اسرائیل: 35
    3: مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ468،469 بعنوان ’’آخری فیصلہ‘‘(مفہوماً)
    4: رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ318، 319
    5: صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا باب صلاۃ المسافرین و قصرھا (مفہوماً)
    6: مزبلہ: کوڑا دان
    7: المائدہ: 25
    8: سیرت ابن ہشام جلد 2صفحہ267مطبع مصر 1936ء

    30
    نئی نسل کو کام پر لگانا اور اس کے اندر دینی ذوق پیدا کرنا ہی اصل کام ہے
    (فرمودہ یکم دسمبر 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:
    ’’پچھلے جمعہ میں نے تحریک جدید کے نئے سال کے آغاز کا اعلان کیا تھا آج بھی اسی سلسلہ میں میں جماعت کو پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جہاں تک اعلان کا تعلق ہے وہ ہو گیا ہے اورجماعتیں اور افراد اپنی اپنی جگہ پر اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور اِکّا دُکّا وعدے بھی آرہے ہیں۔ اور ابتدا میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ جماعتیں عموماً تمام افراد کے وعدے اکٹھے کر کے اور فہرستیں بنا کر بھیجا کرتی ہیں۔ جہاں تک ابتدائی وعدوں کا سوال ہے وہ اُسی طرز پر چل رہے ہیں جس طرز پر پچھلے سال چلے تھے ۔ اورجہاں تک گزشتہ سال کی آمد کا سوال ہے میں نے دو تین ہفتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اِس وقت تک وعدوں کی وصولی نصف یا نصف سے کم ہے۔ اِس عرصہ میں جماعت نے اِس طرف توجہ کی ہے اور اب وصولی نصف سے زیادہ ہو چکی ہے۔ لیکن بہت سا حصہ وصول ہونے والا باقی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ نومبر 1950ء کی تنخواہوں کے ملنے پر بہت سے مزید دوست اپنے وعدوں کو پورا کر کے سال کے اندر وعدوں کے پورا کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ لیکن جو باقی رہ جائیں گے اُن کے لئے جیسا کہ میں اعلان کر چکا ہوں ضروری ہو گا کہ وہ اپنے بقائے 30؍ اپریل 1951ء تک پورے کر دیں اور اگلے سال کے وعدے نومبر 1951ء تک ادا کر دیں۔ کیونکہ جب باقاعدگی سے آمد نہ ہو تو کام رُک جاتے ہیں اور بیرونی مشنوں کو وقت پر خرچ نہیں بھجوایا جا سکتا۔
    میں تحریک جدید کو بھی نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے اخراجات پر زیادہ پابندی کریں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک اخراجات پر پابندی کا سوال ہے یہ بہت مشکل امر ہے کیونکہ اس ادارہ میں اخراجات کو پہلے ہی بہت حد تک احتیاط سے کیا جاتا ہے اور بعض صورتوں میں تو بہت کم کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی اگر کوئی شخص لاکھوں میںسے ہزاروں یا سینکڑوں ہی بچا لیتا ہے تو یہ اس کی نیکی ہوتی ہے۔
    میں آج تحریک جدید دفتر دوم کے وعدہ کرنے والوں یا اس میں حصہ لینے کی قابلیت رکھنے والوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں۔ درحقیقت کسی کام کو چلانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آنے والی نسل اپنے آباء کا بوجھ خوشی کے ساتھ اٹھانے والی ہو بلکہ اُن سے بھی زیادہ خوشی کے ساتھ اس میں حصہ لینے والی ہو۔ یہ عقل کے خلاف ہو گا کہ آئندہ آنے والی نسل اپنے آباء کے بوجھ خوشی کے ساتھ نہ اُٹھائے۔ کسی ذلیل سے ذلیل قوم کی بھی آنے والی نسل تعداد میں اُس سے کم نہیں ہوئی بلکہ زیادہ ہوتی ہے۔ جب کبھی امن کے زمانے آتے ہیں امن کے زمانوں سے میری مراد یہ نہیں کہ جب لڑائیاں نہ ہوں بلکہ امن کے زمانہ سے مراد یہ ہے کہ جب لوگ سہولت کے ساتھ آپس میں مل سکتے ہوں، جب تبادلۂ آبادی کے ذرائع موجود ہوں، جب روزی کمانے کے ذرائع وسیع ہوں ایسے زمانہ میں آنے والی نسل اپنی پچھلی نسل سے بڑھ جایا کرتی ہے کم نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی آبادی 60،70 سال میں دوگنی ہو چکی ہے۔
    پس موجودہ زمانہ کے حالات کے مطابق ہر قوم سوائے اُس قوم کے کہ جو نسل کشی کے لئے خود کوشش کر رہی ہو پہلے سے زیادہ بڑھی ہے۔ پس قطع نظر اِس کے کہ لوگ تبلیغ کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہوتے ہیں عام قانون کے ماتحت یعنی تناسل کے ذریعہ بھی ہماری جماعت بڑھ رہی ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے خاص قانون کے ماتحت افزائشِ نسل کے لحاظ سے ہماری جماعت دوسری جماعتوں اور قوموں سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ میں نے دوسرے لوگوں کو دیکھا ہے غیرا حمدیوں سے اگر سوال کرو کہ تمہاری کتنی اولاد ہے؟ تو زیادہ بچوں والے بھی اِلَّا مَا شَائَ اللّٰہُ چار پانچ تک پہنچیں گے لیکن احمدیوں کو دیکھ لو آٹھ دس آدمی کے بعد ایک شخص ایسا نکل آئے گا جس کے آٹھ دس بچے ہوں گے۔ یہ بُہتات دوسری قوموں اور جماعتوں میں نہیں ملتی۔ اگر جماعت اس نکتہ پر غور کرتی تو اسے پتہ لگتا کہ وہ کس طرح معجزانہ طور پر بڑھ رہی ہے۔ باوجود غریب ہونے کے شاذ و نادر کچھ آدمیوں کو چھوڑ کر باقیوں کی نسل دوسروں سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ احمدیوں میں بے اولاد نہیں ہوتے یا احمدیوں میں تھوڑی اولاد والے نہیں ہوتے۔ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر ان کا دوسروں سے مقابلہ کیا جائے تو احمدیوں میں ہر سو آدمیوں کی نسل جتنی ترقی کرتی ہے اُتنی غیر احمدیوں، ہندوؤں اور سکھوں میں سے ہر سو آدمیوں کی نسل ترقی نہیں کرتی۔
    غرض تین وجوہات ہیں جن کی وجہ سے جماعت بڑھ رہی ہے۔ اول تبلیغ کے ذریعہ سے کہ لوگ احمدیت کے دلائل سن کر اسے قبول کر رہے ہیں۔ دوسرے تناسل کے ذریعہ سے جیسے تمام قوموں کی نسلیں بڑھ رہی ہیں۔ تیسرے غیر معمولی نشان کے ذریعہ کہ خدا تعالیٰ احمدیوں کی نسل میں دوسری قوموں کی نسبت زیادہ ترقی دے رہا ہے۔ یہ تین ذرائع ہیں جو ہماری آبادی کو بڑھا رہے ہیں۔ گو یہ نظر نہیں آتے۔ ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک چشمہ پُھوٹتا ہے۔ جہاں وہ پُھوٹتا ہے وہاں اُس کی طاقت نظر نہیں آتی۔ لیکن پچاس ساٹھ میل کے بعد اُس میں اتنا زور، اتنا شور اور اتنی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ اُسے دیکھ کر انسان حیران ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح الٰہی جماعتوں کی ابتدائی حالت ہوتی ہے۔ ابتدا میں ان کی ترقی نظر نہیں آتی لیکن اندر ہی اندر یہ تینوں ذرائع اُن کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔
    پس ہمارا کام ہے کہ ہم اپنی بڑھنے والی طاقت کو استعمال کریں ۔ جس طرح دریا نکلتے ہیں اور وہ بہتے چلے جاتے ہیں اور نالائق اور نااہل قومیں اُن سے فائدہ نہیں اٹھاتیں بلکہ فائدہ کی بجائے وہ ان سے صرف اتنا نقصان اٹھاتی ہیں کہ ان میں طغیانی آئی اور اردگرد کے دیہات غرق ہو گئے اور اردگرد کی زمین بے کار اور بنجر ہو گئی۔ یا زیادہ سے زیادہ یہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں کہ دریاؤں سے مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں اِس سے زیادہ نہیں۔ لیکن جو قومیں عقلمند اور ذہین ہوتی ہیں وہ اُن سے نہریں نکالتی ہیں اور اُن سے بنجر زمینوں کو آباد کرتی ہیں اور ان سے اربوں ارب روپیہ کماتی ہیں۔ ہماری جماعت کو بھی آبادی کے لحاظ سے دریا کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ ایک چشمہ کی صورت میں پھوٹی ہے اور آگے جا کر اس سے اَور نالیاں مل رہی ہیں ۔لیکن اس کے اندر سے بھی جیسے دریا کی تہہ (Bed) کے نیچے سے چشمے پُھوٹ رہے ہوتے ہیں چشمے پُھوٹ کر اِس کو بڑھا رہے ہیں۔ جس طرح خدا تعالیٰ قرآن کریم میں طوفانِ نوح کے متعلق فرماتا ہے کہ اوپر سے بھی پانی برسا اور نیچے سے بھی پانی پُھوٹا اور یہ دونوں پانی آپس میں مل گئے۔ اِسی طرح احمدیت کا بھی حال ہے۔ بعض لوگوں کے دل صاف ہو رہے ہیں اور وہ جماعت میں داخل ہو رہے ہیں اور کچھ نیچے سے بھی پانی پُھوٹ رہا ہے۔ یعنی اِس کی نسل عام قانون کے ماتحت بھی اور خاص قانون کے مطابق بھی ترقی کر رہی ہے۔ وہ ایک دریا کی صورت میں بہتی چلی جاتی ہے۔ لیکن یہی دریا مُضِر بھی ہو سکتا ہے۔ اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو ہوسکتاہے اس میں طغیانی آجائے اور وہ اردگرد کے دیہات کو گرا دے اور اردگرد کی زمین کو غیر آباد کر دے۔ لیکن اگر اسے قبضہ میں رکھا جائے اور کسی قانون کے مطابق اس سے کام لیا جائے مثلاً جماعت کی صورت میں اس کی صحیح تربیت کی جائے اور اس کے اندر جذبۂ قربانی پیدا کیا جائے تو یہی طاقت اتنی مضبوط ہو سکتی ہے کہ ہزاروں ہزار میل تک اثر کرسکتی ہے اور ترقی میں مُمد و معاون ہوسکتی ہے۔
    غرض نئی نسل کو کام پر لگانا ہو گا اور اس کے اندر دینی ذوق پیدا کرنا ہی اصل کام ہے۔ پرانی نسل کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی چشمہ یا دریا کا منبع۔ اور نئی نسل کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نالہ۔ اور اس سے اگلی نسل ایسی ہے جیسے ایک چھوٹا دریا۔ اور پھر اس سے آگے کی نسل ایسی ہوتی ہے جیسے ایک بڑا دریا۔ اور پھر اس سے اگلی نسل ایسی ہوتی ہے جیسے ایک بڑا سمندر۔ ہم نے چشمہ سے فائدہ اٹھایا لیکن ہم نالہ سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ حالانکہ چشمہ میں اتنی وسعت اور طاقت نہیں ہوتی جتنی ایک نالہ میں وسعت اور طاقت ہوتی ہے۔ ایک چشمہ اتنا بڑا کام نہیں کر سکتا جتنا کام ایک نالہ کر سکتا ہے۔ چشمہ سے پانی پینے کے لئے ہمیں چشمہ پر جانا پڑتا ہے لیکن ایک نالہ جوش و خروش میں تمہارے گھروں کے پاس سے گزرتا ہے تمہیں اُس پر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ خود تمہارے گھروں کے پاس آتا ہے۔ پھر جب وہ ایک چھوٹا دریا بن جاتا ہے تو صرف یہ نہیں کہ وہ تمہارے گھروں کے پاس بہتا ہے بلکہ اَور زیادہ پھیل کر زیادہ گھروں کے پاس سے گزرتا ہے۔ پھر دریا اَور وسیع ہو جاتا ہے تو اَور زیادہ گھروں کے پاس سے گزرتا ہے اور اُس کے زمین میں جذب ہونے کا خطرہ نہیں رہتا۔ اُس کا ریت میں غائب ہو جانے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ وہ پہاڑیوں اور ٹیلوں سے کُود کر ریتوں کے اوپر سے بہتا ہوا سمندر کی طرف بڑھتا چلاجاتا ہے۔ اور جب وہ دریا سمندر بن جاتا ہے تو ساری زمینوں کے کنارے اُس سے ملنے لگ جاتے ہیں اور کوئی حصہ زمین ایسا نہیں ہوتا جو اُس سے متصل نہ ہو۔ پس اِس طاقت کو استعمال کرنا ہمارا فرض ہے۔ دنیا کا ایٹم بم یورینم(Uranium) دھات سے بننے والی ایک چیز ہے لیکن ہمارا ایٹم بم اِس طاقت کو صحیح استعمال کرنا اور آئندہ نسل کے اندر صحیح جذبۂ قربانی پیدا کرنا اور اس کی صحیح تربیت کرنا ہے جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی اور پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔ صرف روپیہ اکٹھا کرنے کے لئے نہیں بلکہ قوم کو زندہ کرنے اور آئندہ نسل کے اندر بیداری پیدا کرنے اور اسے آئندہ جنگ کے لئے تیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جماعت کا ہر فرد جو تحریک جدید میں ابھی تک حصہ نہیں لے رہا اُسے تحریک کر کے اس میں شامل کیا جائے۔ تحریک جدید میں ہر حصہ لینے والا جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا کو فتح کرنے کے لئے کچھ کرنے لگا ہے۔ جب اُسے یاددہانی کرائی جاتی ہے تو اُس کے اندر پھر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کو فتح کرنے اور اسلام کو دیگر اَدیان پر غالب کرنے کے لئے میری جدوجہد کی ضرورت ہے اور میں اس کے لئے وعدہ کر چکا ہوں۔ لیکن ابھی تک میں نے اس وعدہ کو پورا نہیں کیا۔ پھر جب وہ وعدہ پورا کرتا ہے تو پھر اُس کا دل اِس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا کو اسلام میں داخل کرنے کے لئے جو جدوجہد کی جار ہی ہے اُس میں مَیں بھی شریک ہوں اور میں نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر چکا ہوں۔ تو دیکھو تحریک جدید میں حصہ لینے سے اُسے اپنے ایمان کو تازہ کرنے کے کتنے مواقع میسر آتے ہیں اور کس طرح اسکے اندر متواتر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے دیگر اَدیان پر غالب کرنے کی ذمہ داری اُس پر بھی ہے اور اس کا میں نے بیڑا اٹھایا ہے۔ تحریک جدید کا مجرد وعدہ پھر اس وعدہ کو پورا کرنے کی مجرد تحریک اور پھر کچھ رقوم کا دے دینا انسان کے ا ندر ایک ولولہ اور جوش پیدا کرتا ہے اور اسے قائم رکھتا ہے۔
    پس اِس سال خصوصیت کے ساتھ جب کہ میں نے شرائط کو اتنا ہلکا کر دیا ہے کہ وہ پہلے دور کی شرائط کے ساتھ مل گئی ہیں۔ (سوائے ایسے بیکار شخص کے جس کی آمد کی کوئی صورت نہ ہو) اِس میں حصہ لینا ہر انسان کے لئے ممکن ہو گیا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے بیوی بچوں کی طرف سے تحریک جدید میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کا اپنے بیوی بچوں کی طرف سے حصہ لینا درحقیقت ایسا ہی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اُس کے کان میں اذان دو۔1 تحریک جدید میں اپنے بیوی بچوں کی طرف سے حصہ لینے والے کی مثال بچہ کے کان میں اذان کے الفاظ ڈالنے کی سی ہے۔ یہ چیز اُن کے اندر یہ جذبہ پیدا کرتی ہے کہ آزاد کمائی کے بعد یا بڑے ہو کر ان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ لیکن اصل بیداری وہی ہے جس کا نمونہ اولاد خود سمجھدار ہو کر دکھاتی ہے اور یہ بیداری چھوٹی عمر میں بھی پیدا ہو جاتی ہے اور بڑی عمر میں بھی ۔ بعض لوگوں کے اندر چھوٹی عمر میں بیداری پیدا ہو جاتی ہے اور بعض میں بڑی عمر میں جا کر بیداری پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس کا ایک عمر تک پیدا نہ ہونا انسان کی غفلت اور سُستی پر دلالت کرتا ہے اور اس کا ایک دوسری عمر تک پید انہ ہونا اُس کے بچپن پر دلالت کرتا ہے۔ بعض لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے دس دس گیارہ گیارہ سال کی عمر میں بیداری کا اظہار کیا۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعویٰ فرمایا اور قریش کو بلا کر کہا کہ میں خدا کی طرف سے کھڑا کیا گیا ہوں اور میں اس کی باتیںتمہیں سناتا ہوں تم میں سے کون ہے جو میری مدد کرے؟ تو حضرت علیؓ کی عمر اُس وقت گیارہ سال کی تھی آپ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔2 اُس وقت آپ کے علاوہ اور کوئی شخص کھڑا نہ ہوا۔ پس اللہ تعالیٰ جس کو سمجھ دے دیتا ہے اُس کے اندر گیارہ بارہ سال کی عمر میں بھی بیداری پیدا ہو جاتی ہے اور جس کو سمجھ نہیں دیتا وہ بیس بائیس سال کی عمر میں بھی جاکر بیدار نہیں ہوتے۔ اس عمر کے بعد بھی جو بیدار نہیں ہوتے وہ دراصل غافل ہوتے ہیں ورنہ اگر وہ چاہیں تو اپنی ضروریات کو سمجھ سکتے ہیں۔
    پس تمام نوجوان مردوں اور عورتوں کو یا وہ لوگ جو نئے آنے والے ہیں اور ہماری جماعت کے لحاظ سے بچے ہیں یا وہ لوگ جو پہلے سو رہے تھے اور پہلا دَور گزر گیا اور انہوں نے اس میں حصہ نہ لیا میں اُن سب کو کہتا ہوں کہ موقع زیادہ سے زیادہ نازک ہوتا جاتا ہے، ہمارا دشمن زیادہ سے زیادہ بیدار ہو رہا ہے، ہماری عداوتیں زیادہ سے زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہیں، اسلام زیادہ سے زیادہ خطرہ میں سے گزر رہا ہے اب بھی اگر تم بیدار نہ ہوئے تو کب بیدار ہو گے۔ میں ہر نوجوان کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ قلیل ترین رقم ادا کر کے تحریک جدید میں حصہ لے۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے جب وہ قلیل ترین رقم ادا کر کے اس میں حصہ لے گا تو خدا تعالیٰ اُس کے ایمان کو زیادہ مضبوط کرے گا اور اگلے سالوں میں اسے زیادہ چندہ دینے کی توفیق عطا فرمادے گا۔ اِسی طرح اُس کی روحانیت زیادہ ترقی کرے گی۔ لیکن جن لوگوں میںپھر بھی تحریک جدید میں حصہ لینے کی استطاعت نہیں اور وہ بالکل معذور ہیں اُنہیں جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہوں گا کہ سب سے بڑی طاقت دعا میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے سال میں نے دعا کی تحریک نہیں کی تھی اِس لئے چندوں کی ادائیگی میں سُستی ہوئی ہے۔ معذور لوگ اپنے دلوں سے یہ وسوسہ نکال دیں کہ وہ مالی طور پر سلسلہ کی مدد نہیں کر سکتے۔ وہ دعا کر کے سلسلہ کی مدد کر سکتے ہیں۔ اُنہیں چاہیے کہ وہ دعائیں کریں کہ جو لوگ تحریک جدید میں حصہ لے سکتے ہیں اے خدا! تُو اُن کے دلوں کو کھول دے اور ان کو ایمان کی طاقت بخش کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ پھر جن کے پاس روپیہ جاتا ہے تُو اُن کو ایمان بخش اور انہیں توفیق دے کہ وہ اسے صحیح طور پر خرچ کریں۔ پھر جو زندگی وقف کرنے والے ہیں تُو اُن کے دل کھول، اُنہیں ایمان بخش اور اُنہیں اپنے فرائض کو صحیح طور پر ادا کرنے والا بنا۔ پھر جن کے پاس وہ مبلغ بن کر جاتے ہیں تُو اُن کے دلوں کو کھول دے اور اُنہیں توفیق بخش کہ وہ احمدیت میں داخل ہوں۔ اِس طرح بھی تم مدد کر سکتے ہو۔ اور یقین جانو کہ یہ مدد روپیہ کی مدد سے کم نہیں اور اِس کا ثواب بھی اُن لوگوں سے کم نہیں جو روپیہ دے کر تحریک جدید میں حصہ لے رہے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص خدمتِ دین کی خواہش رکھتاہے اور اُسے خدمت کرنے کی توفیق نہیں ملتی خدا تعالیٰ اُسے اُن لوگوں سے کم ثواب نہیں دے گا جن کو خدمتِ دین کی توفیق ملی ہے۔
    تیسری چیز جس کی طرف میں نے پچھلے جلسہ سالانہ پر بھی احباب کو توجہ دلائی تھی وہ یہ ہے کہ دوست تحریک جدید میں اپنی امانتیں رکھوائیں۔ اِس سے بھی وقتی طور پر سلسلہ کو فائدہ پہنچ جاتاہے۔ اِن دنوں جب چندہ کی آمد کم ہوئی تو کئی کام ان امانتوں نے پورے کر دیئے۔ امانتوں میں سے رقم خرچ کرلی گئی۔ چندہ آتا جاتا ہے اور امانتیں اُس سے پوری کر لی جاتی ہیں۔ تمام بنکوں کا بھی یہ دستور ہے کہ وہ روپیہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور مزید روپیہ آتا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ روپیہ مانگنے والوں کو بھی واپس دیتے رہتے ہیں۔ مجھے بعض بنک کے ماہرین نے بتایا ہے کہ اگر روپیہ دس فیصدی بھی محفوظ رکھ لیا جائے تو بنک میں کمی نہیں آتی۔ لیکن یہاں تو ایسے سخت قانون ہیں کہ روپیہ میں سے دس آنے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ میرے پاس قادیان میں ایک انگریز آیا تھا اُس کو جب پتہ لگا کہ ہم روپیہ میں سے دس آنے محفوظ رکھتے ہیں تو اُس نے کہا اِتنی احتیاط غیر ضروری ہے دس فیصدی اگر محفوظ رکھا جائے تو کام چلتا رہتا ہے۔ غرض اِس طرح روپیہ چکر لگاتا رہتا ہے اور ضرورت کے وقت اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور اس سے سلسلہ کو مدد مل سکتی ہے۔ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کے کھاتہ والے اُن سے تعاون نہیں کرتے۔ مثلاً پچھلے سال میں نے تحریک کی تو ایک میجر صاحب نے لکھا کہ میں نے روپیہ بطور امانت بھجوایا لیکن مہینوں گزر گئے اور امانت تحریک جدید کے افسر نے رسیدنہ بھیجی۔ یہ تو اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مارنے والی بات ہے۔ میں تو جماعت میں تحریک کروں کہ وہ تحریک جدید میں روپیہ بطور امانت رکھیں لیکن تحریک جدید کے افسر انہیں بدظن کریں۔ سو میں تحریک جدید کو بھی کہوں گا کہ وہ اِس نقص کو دور کرے بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ جہاں تم خود اس روپیہ سے فائدہ اٹھاتے ہو وہاں روپیہ والوں کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔ مثلاً جب وہ روپیہ منگوائیں تو منی آرڈر کا خرچ اپنے ذمہ لو۔ اِس قسم کی اَور سہولتیں دے کر تحریک جدید اِس کام کو مفید اور آسان بنا سکتی ہے۔ اِسی طرح میں نے کہا تھا کہ اگر امانت رکھنے والے اپنی امانت کو قرضہ کا نام دے دیں تو وہ زکوٰۃ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ عام طور پر لوگ خیال کرتے ہیں کہ امانت پر زکوٰۃ نہیں حالانکہ شرعی طور پر امانت پر زکوٰۃ ہے۔ لیکن اگر تم اسے قرض کا نام دے دیتے ہو تو اِس پر زکوٰۃ نہیں ہو گی۔ مثلاً ایک شخص کے پاس اگر دس ہزار روپیہ ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے دو سال تک اِس روپیہ کی ضرورت نہیں تو وہ روپیہ یہاں امانت رکھوا دے اور کہہ دے کہ ان میں سے ایک ہزار روپیہ تو امانت تابع مرضی میں رہنے دیجئے کہ جب ضرورت ہو میں رقعہ دے کر لے سکوں اور باقی نو ہزار روپیہ امانت غیر تابع مرضی میں رکھ لیں۔ مجھے ضرورت ہوئی تو میں ایک ماہ یا دو ماہ کا نوٹس دے کر لے لوں گا۔ اور امانت کا صیغہ چونکہ خیراتی ہے اِس لئے اس پر زکوٰۃ نہیں پڑے گی اور وہ گناہ سے بچ جائیں گے۔ بہت سے لوگ ہیں جن کا روپیہ امانت میں موجود ہے لیکن وہ زکوٰۃ نہیںد یتے۔ ایک زمانہ میں قادیان میں اکیس لاکھ خزانہ میں بطور امانت جمع تھا اور اکیس لاکھ روپیہ پر پچاس ہزار روپیہ زکوٰۃ پڑتی ہے۔ لیکن اکثر لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے اور وہ گنہگار بنتے تھے۔ لیکن اگر وہ ایسی تجویز کر لیں کہ وہ اپنا روپیہ ایک ماہ یا دو ماہ کے نوٹس پر لے لیں تو وہ گنہگار بھی نہیں ہوں گے اوربوقتِ ضرورت انہیں روپیہ مل بھی سکے گا۔ پس تم اپنے روپیہ کو قرض قرار دے دو اور کہہ دو کہ ہم ایک ماہ یا زیادہ وقت کے نوٹس پر روپیہ لے سکیں گے۔ لیکن اگر کسی کو فوری ضرورت پڑ جائے تو میںمحکمہ والوں سے کہوں گا کہ وہ ایسے شخص سے تعاون کریں اور فوری ضرورت والے کو بطور قرض رقم دے دیں اور ایک ماہ کے نوٹس کے بعد جب اُس کی اپنی رقم برآمد ہو تو اُسی سے اپنا قرضہ پورا کر لو۔ اِس طرح سلسلہ کو بھی مدد ملتی رہے گی اور جو روپیہ دین کے کام میں لگانے کی اجازت دے گا وہ زکوٰۃ سے بھی بچ جائے گا۔
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص زکوٰۃ نہیں دیتا اُس کی خدا تعالیٰ سے لڑائی ہوتی ہے۔ اب دیکھو یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے جس کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ سے لڑائی کرنے سے بچ جاتے ہو۔ جس شخص کے پاس خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنے سے بچنے کا رستہ کھلا ہے اگر وہ اسے اختیار کر کے لڑائی سے نہیں بچتا تو اس سے زیادہ بدقسمت اور کون ہو گاکہ اس کے پاس لڑائی سے بچنے کے لئے ایک ذریعہ ہے لیکن وہ کہتا ہے میں خدا تعالیٰ سے ضرور لڑوں گا۔ پس جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنا روپیہ بطور امانت تحریک جدید کے پاس رکھے اور تحریک جدید والوں کو چاہیے کہ وہ روپیہ ملنے پر فورًا رسید بھیج دیں۔ ہمارا روپیہ بنک میںجاتاہے تو اُس کی رسید فورًا آجاتی ہے۔ تحریک جدید کے متعلق کئی لوگوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ وہ وقت پر رسید نہیں بھیجتے۔ میں اوپر بتا آیا ہوں کہ ایک فوجی افسر نے مجھے لکھا کہ میرا بائیس تئیس سو روپیہ بنک میں موجود تھا میں نے اسے امانت تحریک جدید میں داخل کرنے کے لئے چیک بھیجا مگر اُس چیک کی مہینوں تک رسید نہ آئی حالانکہ ہم بنکوں میں چیک بھیجتے ہیں تو اُس کی فورًا رسید آجاتی ہے۔ بیشک یہ خطرہ ہوتا ہے کہ چیک واپس نہ آجائے لیکن کم از کم چیک کی تو رسید بھیج دی جایا کرے۔ یہاں یہ غفلت ہوتی ہے کہ صدر انجمن احمدیہ میں چیک اکٹھے کرتے چلے جاتے ہیں اور مہینہ کے آخر میں کیش کرا کے اکٹھی رسیدیں بھیجتے ہیں حالانکہ چیک کی رسید فورًا بھیج دینی چاہیے۔ اس کے بعد اگر وہ واپس آجائے تو اُتنی رقم کاٹ لیں اور اُسے لکھ دیں کہ چیک واپس آگیا ہے۔ صدر انجمن احمدیہ میں تو روپیہ رکھوانے کی لوگوں کو عادت پڑی ہوئی ہے۔ لیکن میں تحریک جدید کے لئے جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنا روپیہ وہاں بھی امانت رکھا کریں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سال کچھ مشکلات بھی ہیں ۔بعض دوستوں نے مکان بنانے کے لئے زمینیں خریدی ہیں اور پھر مکان بنانے شروع کئے ہیں اور یہ کام جمع شدہ روپیہ سے ہی کئے جاتے ہیں۔ غیر معمولی حالات میں تو اسے عجیب نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن واقعات کے لحاظ سے یہ چیز عجیب بن جاتی ہے۔ اِس سال امانت تحریک جدید میں دو لاکھ ستاون ہزار روپیہ کی آمد ہوئی ہے لیکن اس کے مقابل پر دو لاکھ باسٹھ ہزار روپیہ واپس لیا جا چکا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ بعض دوستوں نے مکان بنانے کے لئے زمین خریدی اور پھر مکان بنا رہے ہیں۔ اِس طرح قدرتی طور پر صیغہ امانت پر بوجھ پڑا ہے۔ لیکن بہرحال یہ ایسا بوجھ نہیں جسے غیر معمولی کہا جاسکے۔ سوائے اِس کے کہ جماعت میں روپیہ جمع کرنے کی عادت نہ رہے۔
    جس وقت ہم قادیان سے نکلے ہیں اُس وقت وہی لوگ محفوظ رہے جن کی امانتیں تحریک جدید یا صدر انجمن احمدیہ میں تھیں۔ یہاں پہنچ کر انہوںنے روپیہ واپس لے لیا اور کاروبار شروع کئے۔ اب ان میں سے بعض بڑی بڑی تجارتوں کے مالک ہیں۔ دوسرے لوگ لُٹ گئے لیکن یہ لوگ بچ گئے۔ خدا تعالیٰ نے فضل کر دیا کہ جن بنکوں میں جماعت کا روپیہ تھا انہوں نے دیانتدار ی سے کام لیا اور ہمارا روپیہ واپس کر دیا۔ ہمارے عملہ نے تو سُستی کی لیکن جب ہم لاہور پہنچے تو میں نے کہا روپیہ فوراً نکلوا لو۔ مجھے کہا گیا کہ روپیہ نکلوانے کی کیا ضرور ت ہے بنکوں میں محفوظ پڑا ہے پڑا رہے۔ لیکن میں نے کہا حالات ایسے ہیں کہ اگر اب روپیہ نہ نکلوایا گیا تو بعد میں بہت سی دقتیں پیدا ہو جائیں گی۔ چنانچہ ستمبر 1947ء کے مہینہ میں ہی دفتر نے روپیہ پاکستان تبدیل کروا لیا اور سلسلہ ایک بڑے صدمہ سے بچ گیا۔ اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ نہ کوئی روپیہ واپس لا سکتا ہے اور نہ ہندوستان بھیج سکتا ہے۔ چونکہ سوائے اتنے روپے کے جس کی قادیان والوں کو ضرورت تھی باقی سارا روپیہ واپس آگیا تھا اس لئے لاکھوں لاکھ روپیہ انجمن بِلا تکلف واپس دیتی چلی گئی اور اب بیسیوں نہیں سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس روپیہ سے تجارتیں جاری کیں۔ اگر ان کا روپیہ یہاں نہ ہوتا تو سکھوں نے لُوٹ لینا تھا لیکن اب ان میں سے بعض لاکھ پتی ہیں۔
    غرض یہ فائدہ بخش چیز بھی ہے اور خدمت دین بھی ہے۔ اس میں برکت یہی تھی کہ امانت رکھنے والوں نے یہ خیال کیا کہ روپیہ بے فائدہ گھر پڑا ہے اسے دفتر میں رکھ دیں تا وقتی طور پر اس سے سلسلہ فائدہ اٹھا لے۔ اس نیک نیتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے انہیں بڑی ٹھوکر سے بچالیا۔ یہاں پہنچ کر میں سمجھتا ہوں کہ پندرہ سولہ لاکھ کے قریب روپیہ لوگ واپس لے چکے ہیں۔ پھر نئی امانتیں بھی آئی ہیں لیکن پچھلی امانت میں سے غالباً پندرہ سولہ لاکھ روپیہ واپس لیا جا چکا ہے۔ تمہیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میری رقم چھوٹی ہے یا بڑی۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں میرے پچاس ساٹھ روپے کے ساتھ کیا بنے گا حالانکہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ روپے ہزاروں اور لاکھوں بن جاتے ہیں۔ دیکھ لو! زیادہ چندہ دینے والے وہی ہیں جو پانچ پانچ سات سات روپے دیتے ہیں لیکن انہی چندوں کو ملا کر تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کا چندہ سولہ سترہ لاکھ بن جاتا ہے۔
    پس تیسری بات میں یہ کہتا ہوں کہ دوست اپنا روپیہ امانت تحریک جدید میں رکھیں اور تحریک جدید والوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کا صیغہ امانت بدنام ہو رہا ہے۔ روپیہ کا سوال نہیں وہ تو مل جاتا ہے لیکن جو بدنامی ہو جاتی ہے وہ بڑی چیز ہے۔ تم کہہ دیتے ہو کہ روپیہ ہمارے پاس محفوظ ہی ہے گھبراہٹ کی کیا بات ہے۔ حالانکہ جس شخص کو روپیہ کی رسید نہیں پہنچے گی وہ تو سمجھے گا کہ میرا روپیہ ضائع ہو چکا ہے۔ انسان روپیہ سے زیادہ قیمتی ہے۔ ایک شخص رسید نہ ملنے کی وجہ سے جو انگاروں پر لَوٹتا رہا اور دو ماہ تک اُس کے اعصاب پر اثر پڑا وہ روپیہ سے زیادہ قیمتی ہے۔ پس روپیہ ملتے ہی فورًا رسید بھیج دینی چاہیے اور جماعت سے ہر ممکن سے ممکن تعاون کرنا چاہیے۔ ہماری جماعت لاکھوں کی ہے آٹھ دس لاکھ روپیہ کی آمد کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر صیغہ امانت کو منظم کیا جائے تو کروڑ دو کروڑ روپیہ کا اکٹھا ہو جانا بھی مشکل امر نہیں۔ میں سمجھتا ہوں اگر تحریک جدید پورے طور پر کام کرے اور وہ امانت رکھنے والے کو روپیہ بھیجنے اور روپیہ واپس لینے پر جو اخراجات ہوں وہ دے دے تب بھی وہ نفع میں رہے گی۔ اور اگر نفع میں نہ بھی رہی تب بھی ضرورت کے وقت روپیہ جو کام دے دیتا ہے وہ کم فائدہ نہیں۔ مثلاً امریکہ سے تار آئی ہے کہ جلد روپیہ بھیجو اور خزانہ میں روپیہ نہیں تو امانت میں سے ہم روپیہ لے سکتے ہیں اور اس طرح اپنی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ اگلے ماہ چندہ جمع ہو جائے گا تو وہ واپس کر دیا جائے گا۔ غرض اگر تحریک جدید یہ فائدہ اٹھائے اور اِس کے بدلہ میں روپیہ کے آنے اور جانے کے اخراجات دے دے تو میں سمجھتا ہوں تحریک جدید پھر بھی فائدہ میں ہے۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ19دسمبر 1950ئ)
    1: کنز العمال جلد 16صفحہ599حدیث نمبر46004مکتبۃ التراث العلمی حلب1977ء
    2: سیرت ابن ہشام جلد 1صفحہ262، 263 مطبوعہ مصر 1936ء (مفہوماً)


    31
    احباب جلسہ سالانہ پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں آنے کی کوشش کریں
    (فرمودہ 15 دسمبر 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:
    ’’مجھے آنا نہیں چاہیے تھا لیکن میں آگیا ہوں۔ میں ایک تو باہر کی جماعتوں کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اب جلسہ سالانہ 1950ء قریب آگیا ہے اور انہیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں یہاں آنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ جلسہ سالانہ میں شمولیت ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتی ہے۔ لیکن انہیں یہ سمجھ کر آنا چاہیے کہ ابھی یہ جگہ آباد نہیں ہوئی، یہاں گردو غبار اُڑے گا، جگہ کی قلت ہو گی، پانی کی دقّت ہو گی، کھانے کی دقّت ہو گی، یہ سب چیزیں ہوں گی۔ اور آئندہ سالوں میں ہماری یہ کوشش ہو گی کہ ان دِقّتوں کو کم سے کم کیا جائے۔ لیکن وہ لوگ مبارک ہوں گے جو اِن دِقّتوں کے باوجود جلسہ سالانہ میں شامل ہوں گے اور تکالیف اٹھا کر اپنے ایمان اور اخلاص کا ثبوت دیں گے۔
    دوسرے میں مقامی لوگوں سے یہ کہنا چاہتاہوں کہ جلسہ سالانہ پر آنے والوں کے لئے مکانوں کی دقّت ہو گی۔ قادیان میں لوگ مہمانوں کے لئے اپنے مکان دیا کرتے تھے لیکن یہاں کسی کا اپنا مکان نہیں بلکہ سارے کے سارے مکان سلسلہ کے ہیں اور سلسلہ کے مال سے بنے ہوئے ہیں اس لئے یہاں قادیان سے زیادہ قربانی دکھانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جس سلسلہ کے مالوں سے 12ماہ تک تم نے فائدہ اٹھایا اُس کی خاطر اگر تم نے چند دن کے لئے تکلیف نہ اٹھائی تو یہ تمہاری اخلاقی کمزوری ہو گی۔
    دوسری بات میں مقامی لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مہمانوں کی خدمت کے لئے زیادہ سے زیادہ نام پیش کریں اور اس عزم کے ساتھ پیش کریں کہ وہ دن رات ایک کر کے مہمانوں کو آرام پہنچانے کے لئے کوشش کریں گے۔
    تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں کے گھروں میں مہمان ٹھہریں وہ کھانا لیتے وقت مہمانوں کی صحیح تعداد لکھا کریں تا سلسلہ کا بے فائدہ خرچ نہ ہو۔ اور اسی طرح ہمارا ریکارڈ بھی خراب نہ ہو۔ یہ نہ ہوکہ مہمان تھوڑے آئیں اور لکھے زیادہ جائیں۔
    چوتھے میری آپ لوگوں سے یہ بھی خواہش ہے کہ آپ اپنے ہمسایوں کی نگرانی بھی کریں اور اُن تک میری یہ باتیں پہنچائیں۔ اور اگر بعض لوگ کمزوری دکھائیں تو اُن کی رپورٹ دفتر میں کریں تا اُن کی اصلاح کی کوشش کی جائے اور خدا تعالیٰ کے مالوں کی حفاظت کی جائے۔ ‘‘
    (الفضل مورخہ 19 دسمبر 1950ئ)

    32
    روحانیت اور علمی طاقت کو پھیلانے کے لئے مرکز کا
    زیادہ سے زیادہ وسیع ہونا ضروری ہے
    (فرمودہ 22دسمبر 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:
    ’’یہ جمعہ ہمارے جلسہ سالانہ کے ہفتہ کاپہلا جمعہ ہے اور اسکے بعد جو دوسرا جمعہ آئے گا اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ جلسہ سالانہ کے بعد کا جمعہ ہو گا۔ پس ہمیں اپنے تمام کام جو جلسہ کے متعلق ہیں مکمل کر لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جہاں تک مکانوں کا سوال ہے دَوڑ دھوپ کے بعد اور بڑی جدوجہد کے بعد بیرکوں کی دیواریں بن گئی ہیں اور کچھ بیرکوں پر چھتیں بھی ڈالی جا رہی ہیں۔ جو چھتیں میںنے دیکھی ہیں وہ ناقابلِ رہائش ہیں۔ا یک تو اُن میں اتنے بڑے بڑے شگاف ہیں کہ اگر ایک بلّی یا کُتّا کُودے تو بڑی آسانی کے ساتھ مکان کے اندر جا سکتا ہے۔ اور اگر بارش آجائے تو پانچ منٹ میں سارا مکان جل تھل ہو سکتاہے۔ دیواریں بھی جس قدر اونچی بنانے کی میں نے ہدایت دی ہے اُن سے وہ بہت کم اونچی ہیں۔ مگر بہرحال یہ اُن مکانوں سے بہت اچھی ہیں جن میں مہاجرین نے اپنے پہلے دن گزارے تھے ۔ مہاجرین جس حالت میں 1947ء اور 1948ء میں رہتے رہے ہیں اُس کے مقابلہ میں ہماری بیرکیں جنت ہیں۔ اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ ان چھتوں کو بھی درست کر دیا جائے گا اور اس غرض کے لئے بانس منگوائے جائیں گے۔ مگر ہمارے ملک کی مثل مشہور ہے کہ دودھ کا جَلا چھاچھ1 بھی پھونک پھونک کر پیتاہے۔ لسّی کوئی گرم کر کے نہیں پیا کرتا دودھ گرم کر کے لوگ پیتے ہیں۔ مگر جس شخص کوکبھی تیز گرم دودھ دیا گیا ہو اور اُس سے اُس کی زبان جَل گئی ہو اگر کسی موقع پر اُسے لسّی بھی دی جائے تو وہ اسے پھونکیں مار مار کر پیتا ہے۔ اِسی طرح کارکنوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ان کے ان وعدوں پر بھی یقین ذرا مشکل سے آتا ہے۔ مگر بہرحال اگر ان چھتوں کی اصلاح ہو جائے تو یقینا مہمانوں کو آرام مل جائے گا۔ اور اگر چھتیں درست نہ بھی ہوں تب بھی یہ یقینی بات ہے کہ جس حالت میں اور جن چھتوں کے نیچے یا یوں کہو کہ بغیر چھتوں کے مہاجرین نے پہلے پہلے گزارہ کیا تھا اُس سے بہت زیادہ اچھی حالت میں جلسہ سالانہ کے مہمانوں کو جگہ مل جائے گی۔ اگلے سال امید ہے کہ شاید اتنے مکانوں کی ضرورت پیش نہ آئے اور شاید گزشتہ سال کے تجربہ کی وجہ سے صدر انجمن احمدیہ موجودہ مکانوں کی حفاظت کا بھی انتظام کر دے اور اگلے سال ہمیں صرف چھتیں ہی بنانی پڑیں عمارتیں کھڑی نہ کرنی پڑیں۔٭
    امید ہے کہ اگر بھٹے کی سہولت مل گئی تو اَور بہت سے مکان بن جائیں گے۔ اس سال بھی مکان بنے ہیں لیکن اگلے سال ان سے تین چار گُنا زیادہ مکان بن جائیں گے۔ اس طرح دس بارہ ہزار مہمانوں کی گنجائش محلوں میں نکل آئے گی۔ اب بڑی ضرورت یہ ہے کہ جلسہ سالانہ پر کام کرنے والے میسر آئیں۔ قادیان کی آبادی تو یہاں نہیں۔ قادیان میں پندرہ ہزار افراد بستے تھے اور اُن پندرہ ہزار افراد میں سے بہت سے کارکن مل جایا کرتے تھے اوربہت سے مکان مہمانوں کی رہائش کے لئے مل جاتے تھے۔ لیکن یہاں دس پندرہ ہزار کے مقابلہ میں دو اڑھائی ہزار کی آبادی ہے امید ہے ایک دو سال میں اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء اِس جگہ کو آباد کرنے کا ہؤا تو یہ آبادی کم سے کم قادیان کی آبادی کے نصف کے قریب ہوجائے گی۔
    دنیا میں کوئی قوم بھی تربیت کے بغیر ترقی نہیں کر سکی اور تربیت بغیر مرکز کے نہیں ہو سکتی۔ درحقیقت مرکز کی اصلاح باہر سے آنے والوں کے ذریعہ ہوتی ہے اور باہر سے آنے والوں کی اصلاح مرکز کے ذریعہ ہوتی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے نگران ہوتے ہیں۔ مرکز میں رہنے والوں کی سُستیاں، کوتاہیاں اور غفلتیں باہر سے آنے والوں کو زیادہ نظر آیا کرتی ہیں۔ باہر سے اگر لوگ آتے ہیں تو وہ
    ٭ اس خطبہ کے درست کرتے ہوئے خود عمارت کے افسر سے معلوم ہوا ہے کہ مکانوں کی حفاظت نہیں کی گئی اور کچھ اینٹیں لوگ اٹھا کر لے جا چکے ہیں۔منہ
    مرکز والوں کو اُن کی سُستیوں اور کوتاہیوں کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں۔ اِسی طرح باہر سے آنے والوں کی اصلاح مرکز میں آنے سے ہوتی ہے۔ مثلاً مرکز میں رہنے والوں کی تعلیمی حالت زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ انہیں قومی ضرورتوں سے واقفیت ہوتی ہے۔ باہر رہنے والا صرف اپنے آپ کو دیکھتا ہے مگر مرکز میں رہنے والا تمام دنیا کے لوگوں کو دیکھتا ہے۔ پھر مرکز میں رہنے سے جو وسعتِ نظر پیدا ہو سکتی ہے وہ باہر رہنے سے پیدا نہیں ہو سکتی۔ پس جُوں جُوں جماعت میں بیداری پیدا ہوتی جائے گی لازماً مرکز کے بڑھنے کے سامان بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتے جائیں گے۔ مجھے تعجب آتا ہے اور حیرت ہوتی ہے کہ جب اسلامی تاریخ کو ہم پڑھتے ہیں۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ مکے اور مدینے کی آبادی تو بیس ،پچیس، تیس اور پچاس ہزار یا لاکھ کے اردگرد گھومتی رہی اور بغداداور دمشق اور قاہرہ کی آبادی اور ایران اور ہندوستان کے اسلامی شہروں کی آبادیاں بیس بیس لاکھ تک پہنچتی رہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کے تنزل میں اِس بات کا بھی بڑا دخل تھا کہ مسلمانوں میں مذہبی مرکز میں بسنے کی خواہش اتنی نہیں رہی تھی جتنی خواہش انہیں دارالحکومت میں بسنے کی تھی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنیاد چھوٹی رہی اور عمارت بڑی ہوگئی اور چھوٹی بنیاد پر بڑی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔
    ہر انسان کے اندر بعض خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور بعض برائیاں بھی۔ اگر وہ بعض غلطیاں کر جاتا ہے تو وہ بعض اچھی باتیں بھی کرتا ہے۔ ہٹلر جو جرمن کا سابق لیڈر تھا اور جس نے قوم کی ترقی کے لئے واقع میں بڑی جدوجہد کی اگر اس کے اندر اسلام ہوتا تو وہ یقینا بہت بڑا آدمی ہوتا۔ مگر بوجہ اس کے کہ اُس کی تربیت کرنے والا مذہب نہیں تھا وہ بہت سی غلطیوں کا شکار ہوا۔ اس لئے وہ قوم کو ترقی کی طرف لے جانے کی بجائے اُسے نیچے دھکیلنے کا موجب ہو گیا۔ اس نے جو اچھی باتیں کیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ چونکہ اوورسیئر تھا اور عمارتی انجینئر تھا اِس لئے تعمیر سے تعلق رکھنے والی باتیں اُس کے لئے زیادہ عبرت کا موجب ہوا کرتی تھیں۔ ہٹلر نے ا پنی کتاب ’’مائنے کامف‘‘ 2میں (جس میں وہ اپنا پروگرام پیش کرتا ہے )لکھا ہے اور اس بات پر لمبی بحث کی ہے کہ یورپ میں اگر کوئی قوم بڑھنے کا حق رکھتی ہے، اگر کوئی قوم بڑھنے کے سامان رکھتی ہے تووہ جرمن قوم ہے۔ اِس کی وجہ وہ یہ بتاتا ہے کہ جو بڑی عمارت ہو وہ بڑی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتی ہے۔ تم اگر چار فٹ چوڑی بنیاد رکھو اور اس پر 6فٹ چوڑی دیوار بنا دو تو دیوار گر جائے گی۔ لیکن اگر چار فٹ بنیاد رکھو اور تین فٹ چوڑی دیوار بناؤ تو وہ زیادہ مضبوط ہو گی۔ مضبوط عمارتیں بنانے کے لئے ضروری ہے کہ بنیادیں چوڑی رکھی جائیں۔ سَو مربع فٹ میں عمارت کھڑی کرنی ہو تو سوا سو مربع فٹ میں بنیاد رکھنی چاہئے۔ مثلاً اہرامِ مصر ہزاروں سال سے کھڑے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مثلّث کی شکل میں بنائے گئے ہیں۔ ان کی چوٹی صرف چند مربع گز کی ہے لیکن بنیاد ہزاروں مربع گز میں ہے۔

    یہ عمارتیں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی سینکڑوں سال قبل کی بنی ہوئی ہیں۔ لیکن کسی نے ان کی مرمت تک نہیں کی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مثلّث کی شکل میں بنائی گئی ہیں۔ نیچے بنیادیں پچاس پچاس ایکڑ زمین میں ہیں اور اوپر چوٹی صرف چند مربع گز کی ہے۔ بوجھ توازن کے ساتھ قائم رہتا ہے اور عمارتیں گرتی نہیں۔ ہٹلر کہتا ہے کہ جرمنی اَور ملکوں سے بڑا ہے، اس کی آبادی آٹھ کروڑ کی ہے۔ انگلینڈ کی آبادی چار کروڑ ہے۔ سپین کی آبادی چار کروڑ کی ہے۔ فرانس کی آبادی چارکروڑ کی ہے۔ اٹلی کی آبادی چار کروڑ کی ہے۔ اگر یہ ممالک پھیلنا شروع کریں تو چار کروڑ سے اوپر نکل کر ان کی طاقت کمزور ہو جائے گی اور باہر کی آبادیاں ان سے طاقتور ہونا شروع کر دیں گی۔ لیکن جرمنی کی بنیاد بڑی ہے اور اس کا خیال تھا کہ اس بنیاد کو بڑا کرنے کے لئے روس کے بھی چند حصے لے لئے جائیں تاکہ دوسرے ممالک کو جب فتح کیا جائے تو وہ اس کے حصے بن سکیں اس پر غالب نہ آسکیں۔ اور یہ بات بالکل صحیح تھی۔ برطانیہ کو دیکھ لو جُوں جُوں آسٹریلیا اور دوسری نوآبادیوں کی آبادی بڑھ رہی ہے وہ ان کے اثرسے باہر نکل رہی ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں کہ ہم کسی کے زیر حکومت رہنا نہیں چاہتے ہم اپنے ملک پر خود حکومت کریں گے۔ لیکن جب تک ان کی طاقت تھوڑی تھی وہ سب برطانیہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا دَم بھرتی تھیں۔
    کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان کی آبادی برطانیہ کی آبادی سے کم نہیں تھی زیادہ تھی۔ یہ بات درست ہے۔ لیکن ہندوستانی انگریزوں کے بھائی نہیں تھے غلام تھے۔ ڈنڈے کے زور سے ایک شخص بھی سَو افراد پر حکومت کر سکتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو قیدی ہزاروں ہوتے ہیں لیکن اُن پر پہرہ چند سپاہیوں کا ہوتا ہے۔ لیکن برادری میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ جہاں برادری ہو گی وہاں اکثریت غالب آئے گی۔ یہ گُر مسلمانوں نے نہیں پہچانا۔ قرآن کریم نے یہ گُر بتا دیا تھا۔قرآن کریم میں صاف طور پر موجود ہے کہ ہر جگہ کے رہنے والوں کو چاہیے کہ اُن کے نمائندے مرکز میں آیا کریں۔3 چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف خانہ کعبہ کی بنیاد حضرت ابراہیمؑ کے ہاتھوں رکھوائی اور دوسری طرف کہا۔ لوگ چاروں طرف سے یہاں آیا کریں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حج کا حکم دیا۔ اِسی طرح عمرہ کا حکم دیا یعنی سال میں ایک دفعہ لوگ حج کے لئے مکہ آیا کریں۔ اور پھر سال کے سارے حصوں میں مکہ آیا کریں۔ مدینہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ہر جگہ کے رہنے والے اپنے نمائندے مدینے بھیجا کریں تا وہ یہاں رہ کر دینی تعلیم حاصل کریں۔مسلمانوں نے اس گُر کو نہیں سمجھا۔ مسلمانوں کا ہر سیاسی مرکز مذہبی مرکز سے زیادہ آباد تھا۔ اس لئے لوگوں کا کثیر طبقہ سیاسی مرکز کی طرف جاتا تھا اور مذہبی مرکز کمزور رہتا تھا۔ درحقیقت اسلام کو اتنا نقصان اَور کسی چیز نے نہیں پہنچایا جتنا نقصان قاہرہ، دمشق اور بغداد نے پہنچایا۔ یاجتنا نقصان اصفہان اور ’’ری‘‘4 نے پہنچایا یا جتنا نقصان بخارا اور ’’مرو‘‘5 نے پہنچایا۔ ان شہروں نے لوگوں کی توجہ مذہبی مراکز سے ہٹا کر اپنی طرف کر لی۔ اگر سب سے بڑے شہر مکہ اور مدینہ ہوتے تو یہ خرابی پیدا نہ ہوتی۔ یونیورسٹیاں بغداد میں بنیں حالانکہ اُن کا صحیح مقام مدینہ تھا۔ جامعہ ازہر قاہرہ میں بنا حالانکہ اُس کا صحیح مقام مکہ تھا۔
    پس جو قوم اپنی روحانیت اور علمی طاقت کو پھیلاناچاہتی ہے ضروری ہے کہ اس کا مرکز زیادہ سے زیادہ وسیع ہو۔ ہماری نظروں کے سامنے یہ بات ہر وقت رہنی چاہیے کہ جب تک قادیان کُلّی طور پر آزاد نہیں ہو جاتا اُس وقت تک ربوہ سب شہروںسے زیادہ آباد ہو۔ پھر جب قادیان آزاد ہو جائے تو وہ سب شہروںسے زیادہ آباد ہو۔ اور اگر ایسا ہو تو لازمی بات ہے کہ بیرونجات سے لوگ یہاں آئیں گے اور دینی تعلیم حاصل کریں گے۔ دنیا کی نگاہیں صرف مذہبی لحاظ سے ہی اِس شہر پر نہیں پڑیں گی بلکہ اُن کی نگاہیں سیاسی لحاظ سے بھی اِسی شہر پر ہوں گی۔ کیونکہ یہ آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا شہر ہو گا۔
    پس جُوں جُوں ربوہ آباد ہو گا جلسہ سالانہ کی ضرورتیں کم ہوتی جائیں گی۔ قادیان میں ہمیں نہ بیرکیں بنانی پڑتی تھیں اور نہ عارضی رہائش کی جگہیں تیار کرنی پڑتی تھیں۔ لوگ بڑی خوشی کے ساتھ اپنے اپنے مکان پیش کر دیتے تھے اور جوں جوں جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی جاتی تھی شہر کی آبادی بھی بڑھتی جاتی تھی۔ مگر یہاں یہ حالت نہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے جس طرح حج ایک نشان ہے اسی طرح جلسہ بھی ایک نشان ہے۔ درحقیقت مکہ کی برتری عمرہ کے ذریعہ حج سے کم ظاہر نہیں ہوتی۔ حج میں تو مخلوق کا ایک ہجوم ہوتا ہے، لوگ کثرت سے باہر سے آتے ہیں اور وہ دوڑ دوڑ کر اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ لیکن عمرہ میں ہجوم نہیں ہوتا۔ لوگ آتے ہیں، اکٹھے بیٹھتے اور آپس میں ملتے ہیں۔ وہ مکہ میں آکر اپنے تجارب مکہ والوں کو دے جاتے ہیں اور اُن کے تجارب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اسی طرح جلسہ سالانہ کے علاوہ بھییہاں بار بار آنا ضروری ہے بلکہ یہاں بار بار آنا اتنا ضروری ہے کہ مرکز کے لوگ آپ کو دیکھتے ہی پہچاننے لگ جائیں اور خیال کریں کہ یہ تو یہیں کے رہنے والے ہیں۔ ابھی ہم یہاں آنے کے لئے زیادہ زور نہیں دے سکتے کیونکہ ہمارے پاس مہمانوں کو ٹھہرانے کی جگہ نہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ کی نصرت بتا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے صدمہ کو دور کرنے کی تدبیر کر رہا ہے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ قادیان ہمارا دائمی مرکز ہے لیکن قادیان سے نکلنے کی وجہ سے طبائع کو جو صدمہ پہنچا تھا خداتعالیٰ نے چاہا کہ وہ مؤا سات کرے اور خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اس صدمہ میں شریک ہو۔ چنانچہ دیکھ لو قادیان میں غیر ممالک سے جتنے لوگ دس سال میں نہیں آئے تھے ربوہ میں وہ ایک سال میں آئے ہیں۔ اِسی ہجرت کی حالت میں سب سے پہلے مسٹر عبدالشکور کنزے جرمنی سے آئے۔ پھر رشید احمد امریکہ سے آئے۔ پھر چین سے کچھ نوجوان آگئے۔ پھر انڈونیشیا سے مسٹر رنگکوٹی آگئے۔ پھر مصر سے ایک دوست آئے۔ سوڈان سے ایک دوست آئے جو ابھی تک یہیں ہیں۔ پھر ایبے سینیا سے مسٹر رضوان عبداللہ آگئے۔ بورنیو سے ایک نوجوان آگئے۔ اب مغربی افریقہ سے ایک دوست آئے ہیں۔ قادیان میں اتنے لوگ دس سال میں بھی ان ممالک سے نہیں آئے تھے۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ربوہ کو قادیان سے زیادہ برکت دے دی ہے بلکہ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قادیان میں ہمارے دل زخمی نہ تھے ربوہ میں ہمارے دل زخمی تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے بطور ہمدردی ہم سے یہ سلوک کیا۔ ہمدردی کرنے اور ماتم پُرسی کرنے لوگ اُسی کے گھر جاتے ہیں جس کے گھر ماتم ہو۔ خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ ان کے دل زخمی ہیں اور کمزور لوگ خیال کر رہے ہیں کہ جماعت کی جڑیں کمزور ہو رہی ہیں تب خدا تعالیٰ نے چاہا کہ یہ لوگ اگر زخمی ہیں تو ان سے ہمدردی کرنے کے لئے مختلف ممالک سے لوگ آئیں۔ اور اگر کمزور لوگ خیال کرتے ہیں کہ جماعت کی جڑیں کمزور ہو گئی ہیں تو خدا تعالیٰ نے بیرونی ممالک سے اتنے لوگ یہاں لا کر بتا دیا کہ جماعت کی جڑیں یہاں کمزور نہیں ہور ہیں بلکہ وہ بیرونی ممالک میں بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔
    خدا تعالیٰ کا یہ فعل بتا رہا ہے کہ یہ جماعت اُس کی طرف سے ہے ورنہ مصیبت کے وقت میں کون ساتھ دیتا ہے۔ اندھیرے میں تو سایہ بھی انسان سے جُدا ہوتا ہے۔ اِن وقتوں میں سگے رشتہ دار بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ ہزاروں آدمی احمدی بھی اور غیر احمدی بھی مجھے ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب سے ہم اُجڑ کر یہاں آئے ہیں ہمارا فلاں بیٹا ہمیں پوچھتا نہیں، ہمارا فلاں بھائی جو کھاتا پیتا ہے وہ ہمیں پوچھتا نہیں۔ لیکن صرف ربوہ میں ہی سینکڑوں بیوہ اور غریب عورتیں پڑی ہوئی ہیں اِن میں سے بعض کی اولادیں زندہ ہیں لیکن وہ انہیں پوچھنے کے لئے تیار نہیں۔ بعض کے بھائی اچھے کھاتے پیتے ہیں لیکن وہ ان کی پرورش نہیں کرتے ۔ سلسلہ ہی ان کا بھائی ہے، سلسلہ ہی ان کا باپ ہے اور سلسلہ ہی ان کی ماں ہے۔ وہی خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال سے اُنہیں کھلاتا پلاتا ہے۔ پس ایسی مصیبت کے وقت جب اپنے بہن بھائی اور اولادیں چھوڑ جایا کرتی ہیں اُس وقت خدا تعالیٰ دور دراز ممالک سے لوگ کھینچ کھینچ کر یہاں لا رہا ہے۔ یہ دکھانے کے لئے کہ اگر دنیا نے تمہیں چھوڑ دیا ہے تو میں جو تمہارا خدا ہوں تمہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ پس برکت والا ہے وہ خدا جس نے اسلام کو قائم کیا اور برکت والا ہے وہ خدا جس نے احمدیت کو قائم کیا اور برکت والا ہے وہ خدا کہ جب اُس کے بندے مہجور و مقہور ہو جاتے ہیں، جب اس کے بندے دنیا میں ذلیل کر دیئے جاتے ہیں تو وہ آسمان سے اُتر کر انہیں محبت کا پیغام دیتا اور اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔ ‘‘
    خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا:
    ’’میں نماز کے بعد بعض دوستوں کا جنازہ پڑھاؤں گا جو سلسلہ کے ساتھ اخلاص رکھنے والے تھے اور یا وہ ایسی جگہوں پر فوت ہوئے جہاں جنازہ پڑھنے والے یا تو تھے ہی نہیں اور اگر تھے تو وہ بہت کم تعداد میں تھے۔
    1۔ شیخ عبدالعزیز صاحب ملتانی۔ اصل میں یہ ملتان کے رہنے والے تھے لیکن اب وہ کوئٹہ میں رہتے تھے۔
    2۔ خواجہ محمود الحسن صاحب بنی اسرائیل۔ یہ بہت مخلص اور سلسلہ کی خدمت کرنے والا نوجوان تھا۔
    3۔ اہلیہ صاحبہ ملک غلام حسین صاحب نیروبی ومشرقی افریقہ۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت سے ہی احمدی تھیں۔ ہم ابھی بچے ہی تھے کہ یہ قادیان آگئیں۔ ملک غلام حسین صاحب لنگر میں کھانا پکایا کرتے تھے اور یہ مہمانوں کی اوپر کی خدمت کیا کرتی تھیں۔
    4۔ وائی۔ اے۔ ابیولا (Y.A. Abiola) سیکرٹری جماعت احمدیہ اوٹا (Otta)۔ یہ دوست نائیجیریا کے تھے اور اپنے شہر اور علاقہ میں جماعت کے لئے طاقت کا موجب تھے۔ یہ چیچک کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔
    5۔ خواجہ عبدالرحمن صاحب امیر جماعت ہائے احمدیہ کشمیر۔ موصی اور صحابی تھے۔ حضرت مسیح موعود
    علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت میں ہی قادیان آگئے تھے اور وہیں تعلیم حاصل کی اور قادیان سے میٹرک پاس کیا۔ پھر شاید علیگڑھ رہے۔ بعد میں محکمہ جنگلات کا امتحان پاس کیا۔ قد چھوٹا تھا، پکے نمازی اور دیندار تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں میاں بشیر احمدصاحب کے ساتھ لگا دیا تھا۔ مدرسہ اور نماز کے لئے مسجد میں لے جایا کرتے۔ ان کی عمر میری عمر سے چھ سات سال کم تھی۔ شیر علی صاحب کے ساتھ اُنس تھا اور ان کے شاگرد بھی تھے۔ طبیعت بھی ان کے ساتھ ملتی تھی اور نہایت ہی مسکین اور فقیرانہ حالت رکھتے تھے۔ ‘‘ (الفضل مورخہ یکم فروری 1951ئ)
    1: چھاچھ: لسّی
    2: مائنے کامف( Mein Kamf )میری جدوجہد (My Struggle or My Battle)
    3: (التوبۃ:122)
    4: ری: ( Rey or Ray) ایران کا ایک قدیم شہر جس کی تاریخ پانچ ہزار سال سے بھی پرانی ہے۔ آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے یہ شہر اب تہران کے ساتھ مل چکا ہے۔
    5: مَرو: (Marv, Merv) موجودہ ترکمانستان کا کلچرل شہر۔

    33
    ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں کامیاب اور شاندار جلسہ کرنے کی توفیق بخشی
    (فرمودہ 29دسمبر 1950ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:
    ’’دوستوں کی اطلاع کے لئے میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ نماز جمعہ کے ساتھ ہی میں عصر کی نماز بھی جمع کر کے پڑھاؤں گا تا کہ دوست گاڑی میں جا سکیں اور ان کی عصر کی نماز خراب نہ ہو۔ دوسرے مجھے بھی کل سے کمر میں شدید درد ہے اور بار بار نمازوں کے لئے باہر آنا میرے لئے مشکل ہے اور امام کی بیماری میں بھی نمازوں کا جمع کرنا جائز ہوتاہے۔
    جلسہ تو ہمارا کل ختم ہو گیا لیکن میں سمجھتا ہوں ہمیں سب سے پہلے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے ایسی خطرناک سردی کے ایام میں جبکہ بعض جگہ پندرہ پندرہ بیس بیس اموات محض سردی کی وجہ سے ہو گئی ہیں ہمیں ایسا کامیاب جلسہ عطا کیا اور ہزاروں ہزار آدمیوں کو توفیق عطا فرمائی کہ وہ تکلیف اُٹھا کر یہاں آئیں اور خد اور اس کے رسول کی باتیں سنیں۔ یہ توفیق بھی چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی میسر آتی ہے اس لئے سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اس کی حمد کرتا ہوں کہ وہی اپنے بندوں کا والی اور ان کا متکفل ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ باوجود اس کے کہ میرا گلا شدید ماؤوف تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی کہ میںتقریریں کر سکا اور نہ صرف تقریریں کر سکا بلکہ میری آواز بہت اونچی اور بلند تھی اور اس میں گزشتہ سالوں سے بھی زیادہ طاقت پائی جاتی تھی۔گو اس میں ایک ٹرِک (Trick) بھی تھا کہ میں نے مصنوعی دانت لگا رکھے تھے (بیماری کی وجہ سے میں نے اپنے بعض دانت نکلوائے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دانتوںسے ہوا نکل کر آواز کو کمزور کر دیتی ہے) مجھے عام طو رپر دانت لگانے کی عادت نہیں صرف کھانا کھاتے وقت لگا لیا کرتا ہوں لیکن اِس دفعہ میں نے فیصلہ کیا کہ دانت لگا کر تقریر کروں اور اِس کا آواز پر اچھا اثر پڑا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کا فضل ہی تھا کہ اُس نے اِس بات کی توفیق عطا فرمائی اور ہمارا جلسہ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
    اِس وقت مجھے منتظم صاحب لاؤڈ سپیکر (قاضی عزیز احمد صاحب) کی طرف سے رقعہ ملا ہے کہ عبدالحمید صاحب نیلا گنبد، محمود احمد صاحب اچھرہ اور ممتاز احمد صاحب سیالکوٹ کے لئے خاص طور پر دعا کی جائے جنہوںنے لاؤڈ سپیکر کا نہایت اچھا انتظام رکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ واقع میں دعا کے مستحق ہیں۔ مجھ سے کئی اَور لوگوں نے بھی بیان کیا کہ اِس دفعہ لاؤڈ سپیکر کا انتظام ایسا اچھا تھا کہ خود بخود ان لوگوں کے لئے دل سے دعا نکلتی تھی۔ مستورات نے بھی بتایا کہ اُن کی طرف آواز ایسی صاف آتی تھی کہ دل سے دعا نکلتی تھی۔ غرض اِس دفعہ لاؤڈ سپیکر کا انتظام ایسا غضب کا تھا کہ حیرت آتی ہے۔ بعد میں تو مجھے شرم آئی لیکن بہرحال ایک بات ایسی ہوئی جس کے متعلق میرا خیال تھا کہ بہت کم لوگوں نے سُنی ہو گی مگر لاؤڈ سپیکر نے وہ بات بھی دوسروں تک پہنچا دی۔ دوست جانتے ہیں کہ میرے گلے میں سوزش رہتی ہے اور چائے کا گھونٹ گھونٹ پینے سے وہ سوزش کم ہو جاتی ہے۔ میں تقریر کر رہا تھا کہ سٹیج والوں نے میرے سامنے چائے کی پیالی رکھی۔ میں نے چکھی تو وہ پِھیکی تھی۔ چونکہ لمبی تقریر میں ضُعف بھی ہو جاتا ہے اور ضُعف کا علاج میٹھا ہے حتّٰی کہ جب مریض بظاہر دم بہ لب ہو تو اُسے گلوکوز کے ٹیکے کئے جاتے ہیں اور کئی اِس سے اچھے ہو جاتے ہیں۔ اِس لئے میں نے اُنہیں کہا کہ چائے پھیکی ہے اس میں اَور میٹھا ملاؤ۔ انہوں نے پھر اس میں نہایت قلیل مقدار میں میٹھا ڈال کر میرے سامنے چائے لا رکھی۔ میں نے اُسے چکھا تووہ پھر بھی پھیکی تھی۔ میں نے انہیں دوبارہ توجہ دلائی تو انہوں نے پھر دو ماشہ کھانڈ اَور ڈال دی۔ جب تیسری دفعہ چکھنے پر بھی وہ چائے مجھے پھیکی معلوم ہوئی تو میں نے مذاقاً چائے کے نگرانوں سے آہستہ سے کہا کہ اگر میٹھا نہیں ملتا تو میرے گھر سے منگوالیں۔ جب میں تقریر کے بعد واپس گیا تو میری ایک بیوی مجھے کہنے لگیں کہ آپ نے یہ کیا کہا تھا کہ اگر میٹھا نہیں ملتا تو میرے گھر سے منگوا لیں۔ حالانکہ یہ بات میں نے اِتنی آہستہ کہی تھی کہ میں سمجھتا تھا کہ سٹیج پر بیٹھنے والے بھی اسے نہیں سن سکے ہوں گے مگر لاؤڈ سپیکر کے کمال کی وجہ سے یہ بات عورتوں کے جلسہ گاہ میں بھی پہنچ گئی۔ بلکہ انہوں نے تو بتایا کہ آپ جب چائے پی کر پیالی پرچ میں رکھتے تھے تو اس کی کھٹ کی آواز بھی ہمیں پہنچ جاتی تھی۔ غرض بہت ہی اعلیٰ درجہ کا انتظام تھا۔ مائیکرو فون کی شکل بھی بتا رہی ہے کہ یہ بہت اعلیٰ درجہ کا لاؤڈ سپیکر ہے کیونکہ یہ اَوروں سے بڑا ہے۔ میرے خیال میں آئندہ ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اِسی قسم کا یا اگر آئندہ زیادہ اچھی ایجادات ہو جائیں تو زیادہ بہتر قسم کا لاؤڈسپیکر منگوایاجائے تا کہ تقریروں کی آواز ہر شخص تک برابر پہنچتی رہے۔ بہرحال میں دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ ان کے لئے دعا کریں۔
    اِسی طرح ایک اَور دوست جو مانگٹ اونچے کے رہنے والے ہیں انہوں نے دعا کے لئے رقعہ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اُن کا جوان لڑکا دوست محمد اچانک فوت ہو گیا ہے دوست انہیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ میں پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں ایسا کامیاب اور شاندار جلسہ کرنے کی توفیق بخشی اور امید کرتا ہوں کہ دوست بھی شکریہ کے طور پر اپنے اندر روحانی تبدیلی پیدا کریں گے۔ اگر وہ اپنے اندر روحانی تبدیلی پیدا کر لیں تو میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ دشمن کی شرارتیں سب بے کار ہو کر رہ جائیں گی۔‘‘ (الفضل مورخہ16 مارچ 1951ئ)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں