1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 30

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 30



    دعائیں کرو تا وہ روک جلد دُور ہو جو تمہاری کامیابی کی راہ میں حائل ہے اور جو برکات اس کے پیچھے مجھے نظر آ رہی ہیں وہ جلد تر قریب آ جائیں
    (فرمودہ14جنوری 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جیسا کہ احباب کو معلوم ہے مجھے آجکل دردِ نقرس کا دَورہ ہے۔ پاؤں کی تکلیف میں اب آگے کی نسبت بہت افاقہ ہے۔ جب یہ درد اپنے زوروں پر ہوتا ہے اُس وقت تو پَیر چارپائی سے بھی نیچے نہیں اُتارا جاتا بلکہ چارپائی سے نیچے اُتارنا تو الگ رہا چارپائی سے نیچے لٹکایا بھی نہیں جاتا۔ اِس دفعہ درد کی وہ شدت تو نہیں تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی صرف اِتنا تھا کہ میں چل پھر نہیں سکتا تھا۔ بہرحال اِس ورم میں اب افاقہ ہے لیکن پاؤں میں کسی قدر یورک ایسڈ(URIC ACID) موجود ہے جس کی وجہ سے چلتے وقت ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پاؤں کے نیچے کنکری آ جاتی ہے۔ میرا یہ تجربہ ہے کہ میں دردِ نقرس کے دَورہ کے درمیان میں جب خطبہ کے لیے آتا ہوں تو درد بڑھ جاتا ہے۔ آج بھی مجھے یہی ڈر تھا کہ جمعہ میں آنے کی وجہ سے درد کہیں بڑھ نہ جائے۔ مگر چونکہ میں پچھلا جمعہ نہیں پڑھا سکا تھا اِس لیے میں نے خیال کیا کہ خطبہ کے لیے چلا جاؤں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ چندمنٹ کے لیے بول لینا، زیادہ نہ بولنا تا درد زیادہ نہ ہو جائے۔ اِس لیے میں آ گیا تا جمعہ کا خطبہ کر سکوں اور اِس طرح ثواب سے محروم نہ رہوں۔
    میں جماعت کے احباب کو اِس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جماعتوں پر بعض دن نازک آیا کرتے ہیں اور بعض دن راحت کے آیا کرتے ہیں۔ جس طرح کبھی دن لمبے ہوتے ہیں اور کبھی راتیں لمبی ہوتی ہیں، کبھی صحت کے ایام آ جاتے ہیں اور کبھی بیماری کے ایام آ جاتے ہیں اِسی طرح ہمارے لیے بھی یہ دن کچھ نازک دن ہیں۔ قطع نظر اُس ابتلاء کے جو مشرقی پنجاب میں تمام مسلمانوں پر آیا، اَور بھی بعض باتیں ہیں جن کا اظہار کرنا میں پسند نہیں کرتا۔ بہرحال ہمارے لیے کچھ ابتلاء کے دن ہیں اور ان ابتلاؤں کی کنجی اور اصلاح محض اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی ان ابتلاؤں کو دور کر سکتا ہے اور وہی اس کے بداثر سے ہمیں محفوظ رکھ سکتا ہے۔ میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ ان گھبرا دینے والے دنوں کے پیچھے ہمارے لیے کچھ برکتیں بھی کھڑی ہیں اور ان کے ذریعہ سے ہماری حالت کا کامیابی کی حالت سے بدل جانا، ہماری حالت کا ترقی کی حالت سے بدل جانا بہت ممکن ہے اور بہت حد تک اِس کی امید کی جاتی ہے۔
    جیسا کہ میں احباب کو بتا چکا ہوں ہر رات کے بعد دن آتا ہے اور ہر دن کے بعد رات آتی ہے۔ رات چلی جاتی ہے تو دن آ جاتا ہے، دن چلا جاتا ہے تو رات آ جاتی ہے۔ جب تک رات چلی نہیں جائے گی دن آئے گا کس طرح؟ پس جس طرح مجھے وہ برکات نظر آ رہی ہیں جو ہماری موجودہ حالت کو کامیابی اور ترقی کی حالت سے بدل سکتی ہیں مجھے وہ خطرہ بھی نظر آتا ہے جو ہماری آئندہ ترقی کی ایک منزل کے درمیان واقع ہے۔ ایک منزل میں نے اِس لیے کہا ہے کہ ابھی ہماری جماعت کے اندر مطالعہ کی عادت بہت کم ہے۔ نہ قرآن کریم کے مطالعہ کی عادت ہے، نہ احادیث کے مطالعہ کی عادت ہے اور نہ ہی احباب روحانیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ کسی بُری چیز کو دیکھتے ہیں، سُنتے ہیں یا اُس کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ یوں سمجھتے ہیں کہ گویا ہم مر ہی گئے۔ اور جب کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں، سُنتے ہیں یا اُس کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ گویا اب ہمیں کسی قسم کا خطرہ ہی نہیں۔ حالانکہ قریباً اِنہی الفاظ میں قرآن کریم کہتا ہے کہ ایسے لوگ منافق ہوتے ہیں۔ کوئی رنج ایسا نہیں جس کے بعد خوشی نہ آئے اور نہ کوئی خوشی ایسی خوشی ہے جس کے بعد کوئی رنج نہ آئے۔ نہ کبھی تم یہ سمجھ سکتے ہو کہ تمہاری بلائیں ہمیشہ کے لیے بلائیں ہی رہیں گی اور نہ کبھی تم یہ سمجھ سکتے ہو کہ تمہاری خوشیاں ہمیشہ کے لیے چلی جائیں گی اور تمہیں کوئی دکھ اور تکلیف نہیں ہو گی۔ یہ دنیا جدوجہد کی دنیا ہے، یہ دنیا سعی کی، عمل کی دنیا ہے۔ جب تک ہم اِس دنیا میں زندہ ہیں خواہ ہم آسمان کے ستارے ہی کیوں نہ بن جائیں اور خواہ ہم عالَمِ۔صغیر کی بجائے عالَمِ کبیر ہی کیوں نہ بن جائیں مختلف اوقات میں رنج و راحت کے اَدوار ہمارے ساتھ چلتے چلے جائیں گے۔ اگر ہمارے لیے راحت مقدر ہے تب بھی وہ راحت، رنج و مصیبت کے دَوروں میں سے گزرتی ہوئی چلی جائے گی۔ رنج کے دَور ضرور آئیں گے اور خوشی کے دَور بھی ضرور آئیں گے۔ مگر فرق صرف اِتنا ہو گا کہ اگر ہمارے لیے راحت مقدر ہو گی تو وہ رنج و مصیبت کے دَور سے اوپر ہو گی اور اگر ہمارے لیے رنج اور مصیبت مقدر ہو گی تو رنج اور مصیبت کا دَور ہماری راحت کے دَور سے نیچے ہو گا۔ مثلاً اگر ہمارے لیے موت مقدر ہو اور ہمارے سینکڑوں آدمی مر جائیں تو اُس کے بعد ہم پر ایسا دَور بھی ضرور آئے گا جب ہزاروں نئے آدمی جماعت میں داخل ہوں گے۔ اور پھر اگر ہم پر ایسا دَور آ جاتا ہے جس میں ہمارے ہزاروں آدمی مر جاتے ہیں تو اس کے بعد ہم پر ایسا دَور بھی ضرور آئے گا جس میں لاکھوں آدمی ہماری جماعت میں داخل ہوں گے۔ غرض اگر ہمارے لیے راحت اور زندگی مقدر ہے تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد ہم پر رنج اور موت کا دَور نہیں آئے گا۔ رنج اور موت کا دَور ضرور آئے گا مگر اس کے بعد جو راحت اور زندگی کا دَور آئے گا وہ ہمارے لیے اُس رنج اور موت کے دَور سے بہت زیادہ کامیابی کا دَور ہو گا۔ اِسی طرح ہمارے مقابلہ میں زید اور بکر پر بھی راحت اور زندگی کا دَور آتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ اُس راحت اور زندگی کے دَور کے بعد اُن پر جو رنج اور موت کا دَور آئے گا وہ زیادہ سخت ہو گا۔ اگر اس کے بعد پھر اُن پر راحت اور زندگی کا دَور آئے گا تو اُس کے بعد آنے والا رنج اور موت کا دَور اُن کے لیے اَور زیادہ سخت ہو گا۔ حتّٰی کہ اُن کا انجام تباہی ہو گا۔ ورنہ دنیا میں نہ کوئی آدمی ایسا پیدا ہوا ہے اور نہ پیدا ہو گا جس نے صرف غم ہی غم دیکھا ہو یا جس نے صرف راحت ہی راحت دیکھی ہو۔ اور۔ نہ ایسی قوم پیدا ہوئی ہے اور نہ ہو گی جس نے صرف غم ہی غم دیکھا ہو یا صرف خوشی ہی خوشی دیکھی ہو۔
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر بھی کامیابی اور غم کے دَور آئے۔ جنگ بدر میں آپ باوجود تعداد میں کم ہونے کے اور جنگی سامان مہیا نہ ہونے کے کفار کے مقابلہ میں کامیاب رہے۔ لیکن جنگ اُحد میں آپ کے لیے اور آپ کے ساتھیوں کے لیے رنج اور مصیبت کا دَور آیا۔ اِسی طرح کفار کے لیے تباہی مقدر تھی۔ جنگِ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ میں اُنہیں ایسی شکست ہوئی کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ لیکن جنگِ اُحد میں اُن پر خوشی اور راحت کا دَور آیا اور اُنہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہمارے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی ڈولوں کی طرح ہے ۔ کبھی ڈول مسلمانوں کے ہاتھ میں آ جاتا ہے اور کبھی ہمارے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔1 یعنی اگر کل مسلمان کامیاب ہوئے تھے اور ہم نے شکست کھائی تھی تو آج ہم کامیاب ہوئے ہیں اور مسلمانوں نے شکست کھائی ہے۔ گویا ایک موقع پر اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر راحت اور خوشی کا دَور آیا تو دوسرے موقع پر آپ پر رنج اور غم کا دَور بھی آیا۔ اِسی طرح ایک موقع پر اگر کفار پر رنج اور غم کا دَور آیا تو دوسری جگہ پر اُن پر خوشی اور راحت کا دَور بھی آیا۔ دونوں پر دونوں دَور ہی آئے لیکن فرق اِتنا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو رنج اور غم کا دَور آیا اُس کے بعد راحت اور خوشی کا آنے والا دَور آپؐ۔۔کو پہلے دَور سے بہت زیادہ اونچا لے گیا لیکن کفار پر اُن کے رنج اور غم کے دَور کے بعد جو خوشی اور راحت کا دَور آیا وہ خوشی اور راحت اُتنی نہیں تھی جتنا کہ اُن کا رنج اور غم تھا۔ اور اس کے بعد رنج اور غم کا دوسرا دَور اُنہیں اُس سے بھی نیچے لے گیا۔ کفار کے لیے جنگِ اُحد، صلح حدیبیہ اور جنگِ احزاب کے شروع میں خوشی کا دَور آیا اور ان کے درمیان اَور بھی کئی خوشی کے مواقع آئے مگر۔اُس کے بعد اُن پر جو مصیبت کے دَور آئے وہ اُن خوشیوں کے دَوروں سے بہت زیادہ تھے اور۔اُنہوں نے کفار کو پہلے سے بھی زیادہ تباہی کے گڑھے میں گرا دیا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنگِ۔اُحد، جنگِ۔احزاب کے شروع میں اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رنج اور غم کے دَور آئے مگر اُن کے بعد جو راحت اور خوشی کے دَور آئے وہ آپ کو بہت زیادہ آگے لے جانے والے ثابت ہوئے۔
    پس اگر ہمارے لیے خدا تعالیٰ نے کامیابی مقدر کی ہوئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے لیے کامیابی مقدر ہے تو یہ یقینی بات ہے کہ ہماری راحت اور خوشی کا دَور ہمارے دکھ اور مصیبت کے دَور سے بہت بڑا ہو گا اور وہ ہمیں پہلے کی نسبت آگے ہی لے جائے گا۔ اور اِس کے بعد پھر اگر رنج اور غم کا کوئی دَور آیا تو وہ ہمیں اَور اوپر لے جائے گا۔ لیکن خوشی اور راحت کا ہر دَور جو آتا ہے وہ اپنے ساتھ رنج اور غم بھی لاتا ہے۔ محض اِس لیے کہ ہمارے لیے خوشی مقدر ہے ہمیں خوش نہیں ہونا چاہیے۔ معلوم نہیں کہ اُس رنج اور غم کے دَور میں کون کون شکار ہو جائیں۔ جنگوں میں کئی شہید ہوتے ہیں اور کئی زخمی ہوتے ہیں، شاید اِس دَور میں کئی لوگ منافق ہو جائیں یا مرتد ہو جائیں یا وہ اُتنی قربانی نہ کر سکیں جتنی قربانی اُنہیں کرنی چاہیے تھی اور کئی لوگ برکتوں سے محروم ہو جائیں۔اِس لیے صرف یہ بات کہ ہمارے لیے خوشی مقدر ہے ہمارے لیے اطمینان کا موجب نہیں ہو سکتی۔ باوجود اِس کے کہ ہمیں یہ یقین ہے کہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے وہ رنج اور غم کا دَور اپنی اہمیت کو نہیں کھو سکتا۔ اِس لیے میں احباب کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ آجکل دعاؤں پر خوب زور دیں تا خدا تعالیٰ وہ دن جلد لائے جو ابھی تک رُکا ہوا ہے۔ اور وہ برکتیں جلد ملیں جو ابھی تک ہم سے پوشیدہ ہیں۔ دہ دن جب آئے گاتو وہ تمام برکتیں جو ہمیں ملنے والی ہیں اور ابھی تک ہم سے پوشیدہ ہیں ظاہر ہوں گی۔ اور ہر ایک شخص محسوس کرنے لگے گا کہ ہمارا قدم آگے بڑھ رہا ہے۔ اور وہ روک جو ہمارے رستہ میں حائل ہے ہٹ جائے گی۔ جیسے ستون کے پیچھے آدمی چُھپ جاتا ہے یا پہاڑ کے پیچھے جو نظارہ ہوتا ہے نظر نہیں آتا اُسی طرح وہ ستون اور وہ پہاڑ جو ہماری کامیابی کے رستہ میں روک ہے ہٹ جائے گا۔
    میں تفصیل کو بیان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں لیکن میں ان علوم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولے ہیں یہ جانتا ہوں کہ یہ ابتلاء کا دَور جو آ رہا ہے خواہ کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو اس کے بعد آنے والی خوشی جو ہمارے لیے مقدر ہے اس سے بھی بڑی ہو گی۔ اور وہ اِتنی بڑی ہو گی کہ اگر وہ تم میں سے کسی پر ظاہر ہو جائے تو ہنستے ہنستے اُس کی جان نکل جائے یا روتے روتے اُس کی جان نکل جائے۔ تمہیں یہ غیب معلوم نہیں۔ تم موجودہ حالات کو اور آئندہ کے آثار کو معمولی حادثات سمجھتے ہو لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ کتنے اہم ہیں۔ تم زنجیر کو نہیں دیکھتے کڑی کو دیکھتے ہو اور کڑی دل پر اُتنا اثر نہیں کرتی جتنا اثر زنجیر کرتی ہے۔ زنجیر موجود ہے مگر اُسے میں ہی جانتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے اِس کا علم کھولا ہے۔ یا وہ لوگ جانتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اِس کا علم دیا ہے۔ تم ہر کڑی میں سے گزرتے ہوئے صرف اُس کڑی کی طرف دیکھتے ہو۔ اگر وہ کڑی دکھ کی ہوتی ہے تو تم دکھ محسوس کرتے ہو۔ اور اگر وہ خوشی کی ہوتی ہے تو تم خوشی محسوس کرتے ہو اور اگر وہ کڑی پر دۂ غیب کی ہوتی ہے تو تم کچھ بھی محسوس نہیں کرتے۔ جیسے لکڑی دریا میں بہتی جاتی ہے اور وہ اپنے دائیں بائیں کو نہیں دیکھتی۔ لیکن تم دعائیں کرو تا وہ روک جو تمہاری کامیابی کے رستہ میں حائل ہے دور ہو۔اور اُس کے پیچھے جو برکات مجھے نظر آ رہی ہیں اُنہیں اللہ تعالیٰ جلد تر قریب لائے تا ہمارا قدم آگے کی طرف بڑھ کر ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ دنیا ہمارے انجام کو اَور زیادہ دُورسے دیکھ سکے جس طرح کہ وہ اب دیکھ رہی ہے‘‘۔ (الفضل 8 ؍اپریل 1949ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    بخاری کتاب بدء الوحی باب کَیْفَ کَانَ بَدْء الوحی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی۔اللّٰہُ۔علیہ وسلم


    دشمن کی مخالفت اس امر کی دلیل ہے
    کہ وہ ہماری طاقت اور قوت کو محسوس کرتا ہے
    (فرمودہ21جنوری 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی دنیا میں کوئی آواز بلند کی جاتی ہے تو دنیا کے لوگ اس کی ضرور مخالفت کرتے ہیں۔بغیر مخالفت کے خدائی تحریکیں دنیا میں کبھی جاری نہیں ہوئیں۔ خدائی تحریک جب بھی دنیا میں جاری کی جاتی ہے اس کے متعلق بِلاوجہ اور بِلاسبب لوگوں میں بُغض اور کینہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اتنا بُغض اور کینہ کہ اسے دیکھ کر حیرت آ جاتی ہے۔ ایک مسلمان کو محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے جو محبت ہے اس کو الگ کر کے، اُسے آپؐ سے جو عقیدت ہے اسے بُھلا کر اگر صرف آپ کی ذات بابرکات کو ہی دیکھا جائے تو آپ کی ذات انتہائی بے۔شرّ،انتہائی بے نفس اور دنیا کے لیے انتہائی ایثار اور قربانی کرنے والی معلوم ہوتی ہے۔ آپؐ اپنی ساری زندگی میں کسی ایک شخص کا بھی حق مارتے ہوئے نظر نہیں آتے۔آپؐ۔۔کسی سے گالی۔گلوچ کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ آپؐ۔۔کسی جگہ دنگا اور۔فساد میں مشغول نظر نہیں آتے۔ لیکن۔قریباً۔پونے چودہ سو سال کا عرصہ ہو چکا دشمن آپ کی مخالفت کرنے اور آپ کے متعلق بُغض اور کینہ رکھنے سے باز نہیں آتا۔ جو شخص بھی اٹھتا ہے اور وہ مذہب پر کچھ لکھنا چاہتا ہے وہ فوراً آپ کی ذات پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ آخر اس کا کیا سبب ہے؟ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ اس کا بھی یا تو کوئی جسمانی سبب ہو گا یا روحانی سبب ہو گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت کا کوئی جسمانی سبب تو نظر نہیں آتا۔ جن قوموں کے ساتھ آپؐنے یا آپؐ کے خلفاء نے لڑائیاں کی تھیں وہ قومیں تو اب ختم ہو چکی ہیں اور ان کی اولادیں مسلمان ہو چکی ہیں۔ مثلاً عرب ہیں۔ عربوں کے ساتھ آپؐ نے لڑائیاں کیں۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ آپؐ۔ کی مخالفت کا سبب لڑائیاں ہی تھیں تو پھرتو عرب مسلمان ہو چکے ہیں۔ ان کی یاد کو تازہ رکھنے والی دنیا میں کوئی چیز موجود نہیں۔ پھر شامی ہیں، مصری ہیں، عراقی ہیں، ایرانی ہیں ان سب کے ساتھ صحابہؓ نے لڑائیاں کی تھیں لیکن یہ سب قومیں ختم ہو گئی ہیں اور ان کی اولادیں مسلمان ہو گئی ہیں۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی قومیں تھیں جن سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوا لیکن اب یہ سب مسلمان ہو گئی ہیں اور ایسی کوئی نسل دنیا میں نہیں جو یہ کہہ سکے کہ مجھے رسول کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کی ذات سے اس لیے دشمنی ہے کہ آپؐ نے ہمارے باپ دادوں سے لڑائیاں کی تھیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ مسلمان چونکہ حکومت کرتے رہے ہیں اس لیے لوگوں کو اسلام سے عداوت ہے تو دنیا کے بعض ایسے علاقے بھی ہیں جن پر مسلمان کبھی حاکم ہی نہیں ہوئے۔ اور جن علاقوں پر مسلمان حاکم ہوئے ہیں اُن پر وہ ایسے ہی حاکم ہوئے تھے جیسے دوسری قومیں کسی اَور قوم پرحاکم ہو جایا کرتی ہیں اور یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ آخر امریکہ کے باشندے بھی تو عیسائی نہیں تھے۔ عیسائی وہاں باہر سے ہی گئے ہیں۔ آسٹریلیا کے باشندے بھی عیسائی نہیں تھے۔ عیسائی وہاں باہر سے ہی گئے ہیں۔ اِسی طرح ویسٹ افریقہ اور ایسٹ افریقہ کے باشندے بھی عیسائی نہیں تھے۔ عیسائی وہاں باہر سے ہی گئے ہیں۔ فلپائن کے باشندے بھی عیسائی نہیں تھے، نیوزی لینڈ کے باشندے بھی عیسائی نہیں تھے۔ ان سب جگہوں پر عیسائی باہر سے ہی گئے ہیں۔ پھر ایسے علاقے بھی ہیں جہاں دوسری قومیں موجود ہیں لیکن عیسائیوں نے اُن پر حکومت کی ہے۔ مثلاً ہندوستان کو ہی لے لو۔ ہندوستان پر انگریزوں نے ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصہ حکومت کی ہے۔ اب اگر کسی کو دشمنی ہوتی ہے یا کوئی بُغض اور کینہ رکھتا ہے تو وہ صرف انگریزوں سے رکھتا ہے حضرت مسیح علیہ السلام سے کوئی دشمنی یا بُغض و کینہ نہیں رکھتا۔
    جس طرح انگریزوں نے ہندوستان پر حکومت کی ہے اِس سے کہیں زیادہ نرم اور کہیں زیادہ انصاف اور محبت پر مبنی حکومت مسلمانوں نے کی ہے۔ لیکن ہندوؤں کو جو دشمنی حکومت کرنے والوں سے ہے اُس سے کہیں بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اگر ہندوؤں کو صرف مغلوں سے دشمنی ہوتی تو یہ بات سمجھ میں آ سکتی تھی کہ انہوں نے ایک زمانہ میں انہیں مغلوب کر لیا تھا اس لیے انہیں دشمنی ہے۔ پھر ہندوستان پر جیسی حکومت مسلمانوں نے کی ہے ویسی ہی حکومت انگریزوں نے کی ہے۔ اس لیے ہندو انگریز کے تو دشمن ہوں گے، اُنہیں انگریزوں کے متعلق تو بُغض اور کینہ ہو گا کیونکہ انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک غلام بنائے رکھا لیکن حضرت مسیح علیہ۔السلام سے کینہ و بُغض رکھنے والا کوئی ہندو نہیں ملے گا۔ لیکن مسلمان حکومت کرتا ہے تو اس کے متعلق اس علاقہ میں بھی بُغض و کینہ پایا جاتا ہے جس پر وہ حکمران رہ چکا ہوتا ہے اور اس سے کہیں بڑھ کر بُغض اور کینہ اُس کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پایا جاتا ہے۔ یہی حال چین کا ہے۔ وہاں مسلمانوں نے بھی حکومت کی ہے اور دوسری قوموں نے بھی حکومت کی ہے۔ مثلاً بدھوں نے ایک وقت تک چین پر حکومت کی ہے لیکن چینیوں کو مسلمانوں سے اتنی دشمنی نہیں جتنی انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ سپین میں مسلمانوں نے عیسائیوں پر حکومت کی ہے اور مراکو میں ہسپانویوں نے مسلمانوں پر حکومت کی ہے۔’’ عوضِ معاوضہ گلہ نہ دارد۔‘‘ مراکو کے لوگوں نے ہسپانیہ پر حکومت کی اور ہسپانیہ والوں نے مراکو پر حکومت کی۔ بظاہر یہ معاملہ ختم ہو جاتا ہے لیکن ہوتا کیا ہے؟ مراکو پر ہسپانیہ والے حکومت کرتے ہیں تو وہاں کے لوگ ہسپانیہ والوں کو تو گالیاں دیتے ہیں، انہیں بُرا بھلا کہتے ہیں لیکن حضرت عیسٰی علیہ۔السلام کو کوئی گالی نہیں دیتا نہ کوئی بُرا بھلا کہتا ہے۔ لیکن مراکو ہسپانیہ پر حملہ کرتا ہے تو ہسپانیہ والوں میں مسلمانوں کے علاوہ محمد رسول اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم سے بھی دشمنی اور بُغض و کینہ پیدا ہو جاتا ہے حالانکہ دونوں متوازی قومیں تھیں۔ ایک وقت تک میں اگر مراکو والوں نے ہسپانیہ پر حکومت کی تو دوسرے وقت میں ہسپانیہ والوں نے مراکو پر۔حکومت کی۔ اس کے نتیجہ میں ایک زمانہ تک مراکو والوں میں ہسپانیہ والوں کے متعلق بُغض۔و۔کینہ۔پیدا ہوجاتا ہے اور ان سے دشمنی ہو جاتی ہے لیکن یہ بُغض و کینہ حکومت کرنے والوں تک ہی محدود رہتا ہے مذہب کے بانی کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ لیکن اِس کے برخلاف ہسپانیہ والے مراکو کی حکومت کے بدلہ میں صرف مراکو والوں سے دشمنی نہیں رکھتے بلکہ ان کی دشمنی اور بُغض۔و۔کینہ بانیٔ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف بھی منتقل ہو گیا ہے اور صرف منتقل ہی نہیں ہوا بلکہ بانیٔ۔اسلام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق جو دشمنی اور بُغض۔و کینہ پیدا ہوا وہ اُس دشمنی اور بُغض و کینہ سے کہیں زیادہ ہے جو ہسپانیہ والوں کو حکومت کرنے والوں سے تھا۔ مراکو میں چلے جاؤ وہاں عیسائیوں کو تو گالیاں دینے والے مل جائیں گے، انہیں بُرا بھلا کہنے والے مل جائیں گے مگر حضرت عیسٰی علیہ السلام کو گالیاں دینے والا اور بُرا بھلا کہنے والا کوئی نہیں ملے گا۔ لیکن ہسپانیہ والے صرف مسلمانوں ہی کے خلاف نہیں تھے بلکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بھی شدید دشمن ہو گئے تھے۔ انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوا تھا کہ وہ جامع مسجد میں چلے جاتے تھے، وہاں خطبہ ہو رہا ہوتا تو وہ کھڑے ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گالیاں دینے لگ جاتے۔ اِس پر مسلمان جوش میں آ کر اُس عیسائی کو قتل کر دیتے اور سارے ملک میں شور برپا ہو جاتا کہ مسلمان ظالم ہیں۔ آخر۔دیکھنے والی بات ہے کہ اِس کی وجہ کیا ہے؟ ظاہری طور پر تو اِس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔ اگر آپؐ نے کوئی فائدہ اٹھایا ہو تا، اگر آپؐ نے بادشاہت حاصل کرنے کی کوشش کی ہوتی یا اپنی نسل کے لیے بادشاہت حاصل کرنے کی خواہش کی ہوتی یا آپؐ کے خاندان نے مال و اسباب لُوٹا ہوتا تب تو دوسرے لوگوں کو آپؐ سے دشمنی ہو سکتی تھی لیکن آپؐ نے ایسا نہیں کیا۔ نہ آپؐ نے اپنے لیے ایسا کیا نہ آپؐ نے اپنی اولاد کے لیے ایسا کیا۔ ہاں’’ حق اولاد۔در۔اولاد ‘‘کے مطابق آپ کی اولاد میں جو نیک لوگ تھے لوگ اُن کا ادب و احترام کرتے تھے۔ وہ ان کا ادب و احترام اس لیے نہیں کرتے تھے کہ وہ آپؐ کی اولاد ہیں بلکہ وہ ان کا ادب و احترام اس لیے کرتے تھے کہ ان میں خود بعض اچھی خوبیاں پائی جاتی تھیں۔ ورنہ اسلام نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی کہ سید کو فلاں جگہ دی جائے، فلاں جگہ نہ دی جائے۔ غرض کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو آپؐ نے اپنے لیے یا اپنی نسل کے لیے مخصوص کی ہو لیکن آپؐ۔کی مخالفت انتہاء تک پہنچی ہوئی ہے۔
    اگر یہ کہا جائے کہ چونکہ آپؐ نے لڑائیاں کی تھیں اس لیے دوسرے لوگوں کو آپؐ سے دشمنی ہو گئی ہے۔ تو ہم کہتے ہیں بے شک آپؐ نے لڑائیاں کی ہیں لیکن ساتھ ہی آپؐ۔کی یہ ہدایات بھی تھیں کہ بوڑھوں کو مت مارو، عورتوں اور بچوں کو مت چھوؤ، راہبوں اور پادریوں کو کچھ نہ کہو، جو قیدی ہو جائیں اُنہیں مت مارو، کسی پر اچانک حملہ نہ کرو بلکہ حملہ کرنے سے پہلے اسے بتا دو کہ ہم حملہ کرنے والے ہیں۔ اگر کسی قوم یا قبیلہ سے تمہارا معاہدہ ہو تو اُسے توڑو نہیں۔ لیکن اگر تم دیکھتے ہو کہ وہ قوم یا قبیلہ معاہدہ توڑ رہا ہے تو اُسے کہہ دو کہ ہم اپنا معاہدہ ختم کرتے ہیں۔ بلکہ آپؐ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ جب دشمن کے ساتھ تمہاری چپقلش ہو جائے اور وہ تم پر زیادتی کرے تو بعض قسم کی زیادتیوں کے بدلہ میں بے شک تمہیں اجازت ہے کہ تم دشمن کے ساتھ اُتنی زیادتی کر لو جتنی زیادتی اُس نے تمہارے ساتھ کی ہے۔ لیکن بعض قسم کی زیادتیوں کے بدلہ میں تمہیں اتنی زیادتی کرنے کی بھی اجازت نہیں کیونکہ جو زیادتی انسانیت سے ہی گری ہوئی ہو اُس کے بدلہ میں اُتنی زیادتی کرنا بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ یہ احکام تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لڑائیوں کے متعلق دئیے۔ آپؐ سے پہلے حضرت موسٰی علیہ السلام بھی ایک شرعی نبی گزرے ہیں اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے بھی لڑائیاں کی ہیں۔ اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے لڑائیوں کے متعلق فرمایا ہے کہ تم دشمن کے گھر میں گُھس جاؤ ، اُس کے تمام مردوں کو قتل کر دو، اس کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لو بلکہ اُس کے جانوروں تک کو بھی قتل کر دو کیونکہ وہ بھی نجس اور ناپاک ہیں، اس۔کے گھروں کو جلا دو، اس کی فصلوں کو تباہ کر دو۔1 اب اگر لڑائیوں کی ہی وجہ سے لوگوں کو محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دشمنی پیدا ہو گئی ہے تو آپ سے زیادہ انہیں حضرت موسٰی علیہ السلام سے دشمنی ہونی چاہیے تھی لیکن حضرت موسٰی علیہ السلام کا تو ہمیں کوئی دشمن نظر نہیں آتا۔ اگر یہ دشمنی لڑائیوں کی ہی وجہ سے تھی تو آپؐ سے زیادہ حضرت کرشن علیہ السلام سے دشمنی ہونی چاہیے تھی جنہوں نے نہ صرف لڑائیاں کی ہیں بلکہ لڑائی کے متعلق نہایت ہی سخت تعلیم دی ہے۔ لیکن کرشن علیہ السلام کے دشمن بھی کہیں نظر نہیں آتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دشمن عام پائے جاتے ہیں۔پس یہ کہنا کہ لوگوں کی آپؐ سے دشمنی ان لڑائیوں کی وجہ سے ہے جو آپؐ نے کیں محض جھوٹ ہے آپؐ سے پہلے اَور بھی کئی نبی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے لڑائیاں کی ہیں ۔مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام نے لڑائیاں کی ہیں۔ حضرت کرشن علیہ السلام نے لڑائیاں کی ہیں۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے لڑائیاں کی ہیں مگر باوجود اس کے کہ انہوں نے لڑائیاں کیں اُن کے متعلق مخالفین میں اتنا بُغض اور کینہ پیدا نہیں ہوا جتنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوا ہے۔
    پس محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت کی جو مادی وجہ بیان کی جاتی ہے وہ باطل ہوگئی اور یہی ایک مادی وجہ ہے جو بیان کی جاتی ہے۔ پس جب مخالفت کی کوئی مادی وجہ موجود نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ اس کی کوئی روحانی وجہ ہے اور وہ صرف یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مخالفین کے دل محسوس کرتے ہیں کہ اسلام ایک صداقت ہے۔ اگر اسے روکا نہ گیا تو یہ صداقت پھیل جائے گی اور انہیں مغلوب کر لے گی۔ یہی ایک چیز ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات سے سخت دشمنی ہے۔ اس مخالفت کے باقی جتنے بھی وجوہ بیان کیے جاتے ہیں وہ آپ سے زیادہ شان کے ساتھ دوسرے نبیوں میں موجود ہیں۔ اس لیے یہ بات یقینی ہے کہ اس دشمنی کی وجہ لڑائی اور جھگڑا نہیں بلکہ ایک روحانی چیز ہے جس کی وجہ سے یہ دشمنی پیدا ہوگئی ہے اور وہ یہی ہے کہ اسلام ایک حقیقت رکھنے والا مذہب ہے۔ اسلام غالب آ جانے والا مذہب ہے، اسلام دوسرے مذاہب کو کھا جانے والا مذہب ہے۔ اسے دیکھ کر مخالفین کے کان فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہم باغ میں چل رہے ہوتے ہیں یا کہیں سیر کر رہے ہوتے ہیںتو ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کوئیشِکرا۔یا۔باز ۔آ رہا ہے مگر چڑیاں چُوں چُوں کر کے اُڑنے لگ جاتی ہیں۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ آخر ہوا کیا؟ ہم اِدھر۔اُدھر بڑے غور سے دیکھتے ہیں تو اُفق پر بہت دور ایک شِکرا۔ اُڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ یا ہم دریا کی سیر کر رہے ہوتے ہیں مرغابیاں پچ پچ کر کے گھاس اور کیچڑ چاٹ رہی ہوتی ہیں اور اپنے پَر پھیلا پھیلا کر اپنے جسم سے رطوبت اور پانی کے قطرے گرا رہی ہوتی ہیں۔ دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ آرام طلبی اور عیاشی صرف انسان کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ جانور بھی اس کے مزے اُڑا رہے ہیں ۔یکدم وہ مرغابیاں اُڑ جاتی ہیں اور ہمیں اُس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ بڑی تلاش کرنے کے بعد دور اُفق پر ایک شکار کرنے والا جانور مثلاً باز نظر آتا ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرغابیاں کیوں اُڑیں؟ دیکھو اِن جانوروں نے کہاں سے اُس شکار کرنے والے جانور کی بُو سونگھ لی؟ ہم نے وہ بُو نہیں سونگھی۔ اس لیے کہ وہ جانور اُس کے شکار تھے ہم اُس کا شکار نہیں تھے۔ ہم نے اس حملہ کرنے والے جانور کی آمد کو محسوس نہیں کیا مگر ان جانوروں نے اس کی آمد کو محسوس کر لیا کیونکہ وہ اُس کا شکار تھے اور شکار ہمیشہ اپنے شکاری کو بھانپ جایا کرتا ہے۔ اِسی طرح یہ لوگ چونکہ محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کا شکار ہیں اس لیے وہ آپؐ کے مخالف ہو گئے ہیں اور یہی ایک وجہ ہے جس کی وجہ سے لوگ آپؐ کے دشمن ہیں۔ اور اگر یہی ایک وجہ ہے تو یہ بات ہمارے لیے غم کا موجب نہیں ہونی چاہیے بلکہ خوشی کا موجب ہونی چاہیے۔
    لوگ گھبراتے ہیں کہ اُن کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔ لوگ جھنجھلا اُٹھتے ہیں کہ اُن سے عداوت کیوں کی جاتی ہے۔ لوگ چِڑتے ہیں کہ انہیں دکھ کیوں دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر گالیاں دینے اور دکھ دینے کی وجہ یہی ہے کہ وہ ہمارا شکار ہیں تو پھر ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے اور نہ کسی قسم کا فکر کرنا چاہیے۔ بلکہ ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ دشمن یہ محسوس کرتا ہے کہ اگر ہم میں کوئی نئی حرکت پیدا ہوئی تو ہم اُس کے مذہب کو کھا جائیں گے۔ اگر ہم نے اپنے اندر کوئی نئی تبدیلی پیدا کی تو ہم اُن کے عقائد کو باطل کر دیں گے۔ اگر ہمارے دشمن کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے تو پھر اُس کا لڑنا جھگڑنا اور۔ہمیں گالیاں دینا ہمارے حوصلوں کو بڑھانے والا ہے کیونکہ وہ محسوس کر رہا ہے کہ ہم میں ایسی طاقت ہے جس کی وجہ سے ہم اُس کو اپنے اندر شامل کر لیں گے۔ ہم میں اتنی طاقت ہے کہ ہم اُسے دینی طور پر مغلوب کر لیں گے۔ پس اس مخالفت سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ دشمن کی شہادت اور اقرار ہے کہ تم غالب آ جاؤ گے اور پیشتر اس کے کہ تم اُس پر غالب آؤ وہ تمہارے غلبہ کو توڑنا چاہتا ہے۔ پس دشمن کا یہ سلوک ہمارے لیے خوشی کی خبر لاتا ہے اور ہمیں خوش ہو کر اُس طاقت کو استعمال کرنا چاہیے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے اندر ودیعت کی ہے جس کو سونگھ کر دشمن صرف یہ پتا ہی نہیں لگا لیتا کہ یہ خطرناک ہے بلکہ وہ اُس زنجیر کو پا لیتا ہے جو آج سے تیر ہ سو سال قبل چلی جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ بیسویں صدی کا آدمی ہے مگر اُس کے اندر یہ طاقت اور قوت آج ہی پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ چیز تیرہ سو سال قبل کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔
    کیا کبھی آپ لوگوں نے کُتّوں کو نہیں دیکھا؟ وہ انسان کی بُو سونگھ لیتے ہیں۔ چور۔چوری۔کرتا ہے اور اس کا ہاتھ کسی جگہ لگتا ہے یا اُس کا کپڑا کسی چیز سے چُھو جاتا ہے تو وہ مقام یا کپڑا کسی سُونگھنے والے کُتّے کو سُونگھا دیا جاتا ہے۔ اِس پر وہ کُتّا یہ محسوس نہیں کرتا کہ اُس نے کپڑا یا۔کوئی جُوتی سُونگھی ہے بلکہ وہ بُو اُس کے لیے ایک زنجیر بن جاتی ہے جس کے ساتھ ساتھ وہ بھاگنا شروع کر دیتا ہے اور وہ چور جہاں ہوتا ہے اُسے پکڑ لیتا ہے۔ اس طرح جو شخص روحانی طور پر اسلام کو سُونگھتا ہے وہ ایک ایسی زنجیر کو پا لیتا ہے یا ایک ایسے راستہ کو پا لیتا ہے جو اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جاتا ہے۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ دراصل یہ سب قوت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی آئی ہے۔ اس لیے وہ اپنی دشمنی کو موجودہ مسلمانوں سے آگے محمد رسول اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم تک بڑھا لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسلام میں ایک ایسی تار ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک چلی گئی ہے۔ باقی مذاہب میں وہ یہ تار نہیں دیکھتا۔وہ مسیحیت کو بُرا کہہ لے گا، عیسائیوں کو بُرا کہہ لے گا مگر مسیح علیہ السلام کو بُرا نہیں کہے گا کیونکہ وہاں کوئی ایسا رشتہ موجود نہیں جس سے مسیحیت یا کسی عیسائی کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام بھی سُونگھے جا سکیں۔ وہ ایک پنڈت کو بُرا کہہ لے گا، وہ بسااوقات اس سے ناراض بھی ہو جائے گا لیکن وہ کرشن علیہ السلام سے ناراض نہیں ہو گا کیونکہ اُس پنڈت اور کرشن علیہ السلام کے درمیان کوئی ایسا رشتہ نہیں جس سے کرشن علیہ السلام سُونگھے جائیں۔ مگر اسلام میں ساری برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ جو شخص اسلام کو سُونگھتا ہے وہ اُس تار کو پا لیتا ہے جو اُسے آج سے تیرہ سو سال قبل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جاتی ہے۔ اُس کا ناک اُس کی رہبری کرتے کرتے اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ تک پہنچا دیتا ہے اور وہ آپ کا دشمن ہو جاتا ہے۔ پس ہمیں یہ دیکھ کر کہ دشمن ہماری قوت اور طاقت کو محسوس کر کے جھلّا اُٹھا ہے خوش ہونا چاہیے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ میں نے جماعت کو بار۔بار اس طرف توجہ دلائی ہے لیکن افسوس کہ جماعت نے اس طرف بہت کم توجہ کی ہے۔ اگر۔جماعت اس امر کی طرف توجہ کرتی تو یقیناً اس کی تعداد اتنی بڑھ جاتی کہ کوئی شخص دشمنی کی جرأت بھی نہ کر سکتا۔ یہ کمی اِسی لیے پیدا ہو گئی ہے کہ ہماری طرف سے سُستی اور غفلت برتی جا رہی ہے۔ شیر سے ہر کوئی ڈرتا ہے لیکن چڑیا گھر والے شیر سے کوئی بھی نہیں ڈرتا کیونکہ اُس کے اردگرد دیوار بنی ہوئی ہوتی ہے یا سلاخیں لگی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ ہمیں اُس سے محفوظ کر لیتی ہیں۔ اِسی۔طرح مومن بے شک شیر ہے مگر جب وہ اپنے اردگرد غفلت کی سلاخیں لگا لیتا ہے، جب وہ اپنے اردگرد بے عملی کا قلعہ بنا لیتا ہے تو کوئی شخص اُس سے نہیں ڈرتا کیونکہ ہماری اپنی بنائی ہوئی دیواریں اُسے محفوظ کر لیتی ہیں۔ پس اگر ہم اس قلعہ کو گرا دیں جو ہم نے اپنے اردگرد بنایا ہوا ہے تو یقینا شیر شیر ہے۔
    پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرے۔ایک ایسی تبدیلی جو ایک قلیل ترین عرصہ میں اُسے دوسری قوموں پر غالب کر دے۔ ایک جرمن دوست یہاں آئے ہوئے ہیں تاکہ وہ دینی علوم سیکھیں اور واپس جا کر اشاعتِ اسلام کا کام کر سکیں۔ اگر آپ لوگ اچھا نمونہ پیش کریں گے تو یہ بھی اچھا نمونہ لے کر واپس جائیں گے۔ ان لوگوں میں کام کرنے کی عادت ہے۔ جب یہ لوگ ایمان لے آئیں گے تو یقیناً اسلام کے لیے بڑی بڑی قربانیاں کریں گے کیونکہ دنیا کے لیے جو قربانیاں یہ لوگ کرتے ہیں، جس دلیری کے ساتھ یہ لوگ جنگ کرتے اور اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں ایشیائی لوگ اُس طرح نہیں کرتے۔ جب یہ لوگ ایمان لے آئیں۔گے تو جس طرح وہ دنیوی ضرورتوں کے لیے قربانیاں کرتے ہیں اُس سے بڑھ چڑھ کر وہ انشائ۔اللہ دین کے لیے قربانی کریں گے اور اس طرح یہ سلسلہ تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اچھا نمونہ پیش کیا جائے۔ اور ہم اپنے اندر بھی جدوجہد کا مادہ پیدا کریں کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو یہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ مُردہ قوم ہے اس سے ہمیں سوائے مُردنی کے اَور کیا ملے گا۔ اگر ہم اپنے اندر محنت، ہمت اور استقلال پیدا کر لیں، ہم اپنی عقلوں سے کام لیں تو یہ لوگ بھی ہم سے اسلام سیکھ کر اُس کو آگے پھیلانے کی کوشش کریں گے۔ جس طرح بچے اینٹوں کا گھر بناتے ہیں اور اس کی ایک اینٹ گرا دینے سے تمام اینٹیں گر جاتی ہیں اُسی طرح اگر ہم قربانی کریں گے تو ہمارے رستہ میں جتنی بھی روکیں ہیں یکے بعد دیگرے دور ہوتی چلی جائیں گی۔
    کہتے ہیں کوئی شخص کسی قلعہ یا بُرج میں قید تھا۔ اُس کے رُفقاء نے تجویز کی کہ اُسے کس طرح قید سے نکالا جائے لیکن انہیں کوئی ایسا ذریعہ نہ ملا۔ آخر انہیں ایک عقلمند آدمی نے ایک تجویز بتائی اور وہ یہ کہ اُس نے ایک ریل کا دھاگا لیا اور دھاگے کا ایک سِرا تیر کے ساتھ باندھ کر تیر۔اوپر۔کھڑکی میں مارا۔ تیر کھڑکی میں جا لگا۔ قیدی نے وہ دھاگا اُوپر کھینچ لیا۔ جب دھاگا اوپر پہنچ گیاتو اُس نے دھاگے کے سِرے کے ساتھ ذرا موٹا دھاگا باندھ دیا۔ پھر اُس کے آگے سُتلی2 باندھ دی۔ پھر اُس سے ذرا زیادہ موٹی رسّی اُس سُتلی کے ساتھ باندھ دی۔ اور پھر اُس رسّی کے ساتھ موٹا رسّہ باندھ دیا اور اس طرح رسّہ کے ذریعہ وہ قیدی نیچے اُتر آیا۔ اسی طرح اسلام کی ترقی ہو گی۔ مسلمانوں میں جو جان تھی وہ تو گویا نکل ہی گئی ہے۔ شاید لمبی غلامی، غفلت اور سُستی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے لیکن بہرحال اِس کی کوئی وجہ ہو ہم اگر اپنے سے زیادہ چُست قوموں میں سے آدمی لے لیں اور پھر وہ آدمی اپنے سے زیادہ چُست قوموں سے آدمی لیں تو جس طرح دھاگے کے ساتھ آہستہ آہستہ رسّہ باندھ دیا گیا تھا اور رسّہ اوپر چلا گیا اِس طرح کمزور سے کمزور آدمی کے ذریعہ قوی سے قوی لوگ اسلام میں داخل ہونے شروع ہو جائیں گے اور اسلام تمام ممالک میں پھیل جائے گا۔ خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے لیکن وہ تدبیروں سے بھی کام لیتا ہے اور ایسے رستے کھول دیتا ہے جن سے ترقی کے رستے وسیع سے وسیع تر ہو جاتے ہیں۔
    میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم صحیح رنگ میں اپنی اصلاح کریں تاکہ اپنا نیک نمونہ پیش کر سکیں اور اسلام کو دنیا میں پھیلانے والے بنیں اور ہم اشاعتِ۔اسلام کے لیے ایسی مناسب فضاء پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس کے بغیر ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے‘‘۔ (الفضل 24 جولائی 1949ء )
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    استثناء باب 20 آیت
    2
    :
    سُتلی:سَن یا سُوت کی ڈوری( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد11صفحہ501 کراچی1990ئ)


    خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں وہی لوگ داخل ہوتے ہیں
    جو اخلاقی لحاظ سے اپنے آپ کو سادہ بنا لیتے ہیں
    (فرمودہ4فروری 1949ء بمقام سیالکوٹ شہر)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’بارش کی وجہ سے میں جمعہ کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز پڑھا دوں گا۔ میں خود تو مسافر ہوں اور مسافر کے لیے نمازیں جمع کرنا جائز ہوتا ہے لیکن سخت بارش کی وجہ سے چونکہ یہاں کے دوستوں کو بھی نماز میں آنا مشکل ہو گا اس لیے میں عصر کی نماز کو بھی جمعہ کی نماز کے ساتھ پڑھا دوں گا۔
    اس کے بعد میں دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ نماز کے بعد مصافحہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ جن دوستوں نے بیعت کرنی ہے اُن کی بیعت ہو جائے گی لیکن چونکہ میں نے بعض دوستوں سے نماز جمعہ کے بعد ملاقات کا وقت مقرر کیا ہوا ہے اس لیے مجھے جلدی واپس جانا ہے دوست مصافحہ نہ کریں کیونکہ دیر ہو جانے سے حرج ہو گا۔
    اس کے بعد میں دوستوں کو ایک اہم معاملہ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کے متعلق مجھے سیالکوٹ میں ہی ایک رؤیا ہوا ہے۔ میں نے رؤیا میںدیکھا کہ گویا میں قادیان میں ہوں اور۔قادیان میں بھی میں اُس کمرہ میں ہوں جس میں ابتدائی ایام میں ہماری پیدائش سے بھی پہلے جیسا کہ حضرت امّاں جان کی روایت سے معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام رہا کرتے تھے۔ مسجد کی سیڑھیاں اُترتے ہوئے ایک دروازہ گول کمرہ کی طرف کھلتا ہے۔ اُس کمرے سے گھر کی طرف جائیں تو اس کے ساتھ ایک کوٹھڑی ہے۔ کوٹھڑی کے ساتھ ایک دالان ہے۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ابتدائی ایام میں جب آپ نے میری والدہ سے شادی کی اسی دالان میں رہا کرتے تھے۔ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں اس دالان میں ہوں اور کسی شخص نے آکر مجھے تین ہزار پانچ سو پونڈ صدقہ کے لیے دیا ہے اور کہا ہے کہ آپ یہ رقم غرباء پر خرچ کر دیں۔ جس وقت اس شخص نے یہ رقم دی ہے اُس وقت میرے پاس میری بیوی بشریٰ بیگم بھی ہیں۔میں نے انہیں وہ روپیہ دیا اور کہا کہ یہ روپیہ نذیر کو دے دو۔ نذیر احمد میرا ایک موٹر ڈرائیور ہے۔ اس کا پورا نام نذیر احمد ہے لیکن رؤیا میں مَیں نے صرف نذیر کا لفظ ہی کہا ہے۔ جب میری بیوی بشرٰی۔بیگم مجھ سے وہ روپیہ لے کر چلی گئیں تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اتنی بڑی رقم میں نے ایک ہی شخص کو دے دی ہے۔ بعض لوگ اعتراض کریں گے کہ اتنی بڑی رقم ایک ہی شخص کو کیوں دے دی گئی ہے۔ میں اس اعتراض کا خود ہی جواب دیتا ہوں کہ آخر دینے والے نے وہ رقم مجھے ہی دی تھی اور اس نے خود ہی کہا تھا کہ یہ رقم جسے میں چاہوں دے دوں۔ اس میں اعتراض کی کونسی بات ہے؟ پھر میں خود ہی یہ شبہ پیدا کرتا ہوں کہ گو میں نے وہ رقم ایک ہی شخص کو دے دی ہے اور مجھے اختیار تھا کہ جسے چاہو ں وہ رقم دے دوں لیکن کیا میں ہر جگہ اعتراضات اور سوالات کے جواب دیتا رہوں گا۔ اِس پر میں نے سوچا کہ میں نذیر احمد سے کہوں گا کہ وہ روپیہ واپس کر دے لیکن مَیں پھر یہ خیال کرتا ہوں کہ روپیہ دے کر واپس لینا ٹھیک نہیں۔ اس کے بعد میں ایک اَور تجویز کرتا ہوں کہ اچھا میں اسے تحریک کروں گا کہ وہ اس روپیہ میں سے کچھ روپیہ واپس کر دے اور اس میں مَیں کچھ اپنے پاس سے ملا کر جماعت کو دے دوں گا تاکہ وہ جہاں چاہے اسے خرچ کرلے۔میرے دل میں اس قسم کے سوالات اور شبہات پیدا ہوتے ہیں اور میں رؤیا میں ہی ان کے جواب دیتا ہوں۔اتنے میں میری بیوی واپس آ گئیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے وہ روپیہ نذیر کو دے دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا نذیر تو گھر نہیں تھا میں وہ روپیہ اُس کی بیوی کو دے آئی ہوں۔
    میری جب آنکھ کھلی تو میں نے اِس رؤیا کے مضمون پر غور کیا۔ رؤیا کے بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جو اصلی ہوتے ہیں اور بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جو اصلی نہیں ہوتے بلکہ وہ بطور پسِ۔پردہ کے ہوتے ہیں جن میں ایک حد تک انسانی دماغ کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ مضمون میں نے کئی بار بیان کیا ہے۔ بعض دفعہ انسان خواب میں ایک نظارہ دیکھتا ہے اور وہ اس نظارہ کے بالکل اُلٹ ہوتا ہے جو وہ بیداری میں دیکھتا ہے۔ مثلاً ایک شخص خواب میں مرنا دیکھے تو اس سے مراد خوشی ہوتی ہے اور اگر کسی غیرمعروف مقام پر کسی کی شادی دیکھے تو اس سے مراد موت ہوتی ہے۔ گویا رؤیا میں اگر کوئی مرنا دیکھے تو اس سے مراد زندگی ہوتی ہے اور اگر کسی غیرمعروف مقام پر کسی کی شادی دیکھے تو۔اس سے مراد مرنا ہوتا ہے۔ مرنے کی تعبیر زندگی ہے اور شادی کی تعبیر موت ہے۔ لیکن جب کوئی خواب میں کسی کی موت دیکھتا ہے تو وہ روتا ہے کیونکہ اس دنیا میں جب کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو وہ روتا ہے۔ اِسی عادت کے مطابق وہ خواب میں روتا ہے۔میں نے غور کرنے کے بعد یہ سمجھا کہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء نذیر ہوتے ہیں مگر نذیر خدا تعالیٰ بھی ہوتا ہے۔ یہاں نذیر سے مراد خدا تعالیٰ ہے کیونکہ وہ خوشخبریاں بھی دیتا ہے اور تنبیہہ بھی کرتا ہے، سرزنش بھی کرتا ہے اور اپنے بندوں کو ہوشیار بھی کرتا ہے۔
    پس میں نے اس رؤیا کی یہ تعبیر کی کہ جماعت پر بعض ابتلاء آئیں گے جن کے دور کرنے کے لیے جماعت کو صدقہ دینا چاہیے۔ میری جب آنکھ کھلی اُس وقت میں نے تین ہزار پانچ سو پونڈ کا اندازہ باون ہزار روپیہ کا لگایا لیکن جب حسابی طور پر اس کا اندازہ لگایا تو یہ رقم اڑتالیس ہزار روپے کے قریب ہوتی ہے۔ اور رؤیا میں مَیں نے وہ رقم جو نذیر کو دی ہے اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ ہمیں یہ رقم خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنی چاہیے ۔اور پھر خواب میں وہ رقم نذیر کو نہیں دی گئی اُس کی بیوی کو دی گئی ہے۔ اِس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ صدقہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں جاتا اُس کے بندوں کے پاس جاتا ہے۔ جیسے بیوی اپنے خاوند کے تابع ہوتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے بندے بھی اُس کے تابع ہوتے ہیں۔ صوفیاء نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ اور بندے کے تعلقات خاوند اور۔بیوی کے تعلقات کی طرح ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے فیض آتا ہے اور بندے اسے قبول کرتے ہیں جیسے بیوی خاوند کا نطفہ قبول کر کے اسے بچہ بنا دیتی ہے۔ صوفیاء کے نزدیک خدا تعالیٰ اور پیر کو خاوند کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور بندے اور مرید کو بیوی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ پس چونکہ وہ روپے خواب میں نذیر کو نہیں دئیے گئے بلکہ اُس کی بیوی کو دئیے گئے ہیں اس لیے میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اسی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے بندوں پر رقم خرچ کی جائے۔ اور چونکہ نذیر کا پورا نام نذیر احمد ہے اس لیے احمد سے یہ مراد لی جا سکتی ہے کہ یہ روپیہ احمدی غرباء میں تقسیم کیا جائے۔ باقی جو وساوس پیدا ہوئے ہیں وہ ظاہری حالات کے ماتحت ہیں۔ میں نے رؤیا میں وہ ساری رقم ایک ہی شخص کو دے دی۔ ظاہری حالات میں یہ بات قابلِ۔اعتراض ہے چاہے دینے والے نے وہ روپے مجھے ہی دئیے تھے اور انہیں جیسے میں چاہوں دے سکتا ہوں۔ مگر سننے والا تو یہ کہہ دے گا کہ اُس سے زیادہ ہم غریب تھے۔ اور چونکہ ظاہری طور پر دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے اس لیے رؤیا کا یہ حصہ اصلی نہیں بلکہ یہ حصہ ظاہری حالات کے تابع ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں جماعت میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ صدقہ دیں۔ یہ صدقہ انہیں روپے کی صورت میں واپس نہیں ملے گا۔ ہاں یوں دوسری شکل میں بڑھ چڑھ کر ملے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں انہیں وہ رقم بڑھا چڑھا کر واپس کی جاتی ہے۔1
    میں نے جب اس خواب پر مزید غور کیا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ قادیان سے بہت سے لوگ ایسے آئے ہیں جن کے وہاں اپنے مکانات تھے اور ساری عمر میں تھوڑا تھوڑا کر کے جو۔روپیہ انہوں نے جمع کیا تھا وہ انہوں نے اپنے مکانوں پر لگا دیا تھا۔ انہوں نے اپنی ساری طاقت اِسی بات پر صَرف کر دی تھی کہ وہ قادیان میں مکان بنائیں اور اب ان میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ نئی بستی میں اپنے مکانات بنا سکیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ میں جماعت میں تحریک کروں تا کہ اتنی رقم بطور صدقہ اکٹھی کی جائے۔ خواب میں مَیں نے تین ہزار پانچ سو پونڈ کی رقم دیکھی ہے جس کا اندازہ میں نے باون ہزار یا اڑتالیس ہزار لگایا ہے۔ اگر ایک پونڈ پندرہ روپے کا سمجھ لیا جائے تو پھر یہ رقم باون ہزار روپیہ کی ہو جاتی ہے اور یہ میرا نیم۔خوابی کی حالت کا اندازہ تھا۔ حسابی۔طور پر یہ رقم اڑتالیس ہزار روپیہ کے قریب بنتی ہے۔ چنانچہ اسی بناء پر ہی میں جماعت میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ توفیق دے خصوصاً وہ لوگ جو گزشتہ فسادات کی زد میں نہیں آئے اور خدا تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا ہے وہ چندہ دیں اور اس روپیہ سے قادیان کے ان غرباء کو جو ربوہ میں مکان بنانے کی طاقت نہیں رکھتے مکانات بنا کر دئیے جائیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ غریبانہ طرز کا مکان جس میں دو تین کمرے ہوں اور وہ کچا بنایا جائے تو اس پر چار سو روپیہ کے قریب خرچ آئے گا۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ابھی مرکزی مکانات بھی کچے بنائے جائیں۔ بہرحال اگر مکانات کچے بنائے جائیں تو ہمارا اندازہ ہے کہ چار سو روپیہ میں ایک احاطہ اور دو تین کمرے بن سکیں گے اور باون ہزار روپیہ میں سوا سو آدمیوں کے لیے مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں اور چونکہ یہ رؤیا میں نے سیالکوٹ میں دیکھی ہے (یہ رؤیا میں نے کل رات دیکھی ہے) میں نے سمجھا کہ یہ رؤیا یہاں سیالکوٹ میں ہی خطبہ میں بیان کر دوں۔
    درحقیقت جماعت کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ہم نے ایک بہت لمبے عرصہ کے بعد ایک متحدہ جماعت بنائی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی تکلیفوں کا احساس ہونا چاہیے ورنہ گروہ تو پہلے بھی تھے پھر ایک جماعت بنانے کا کیا فائدہ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ سب مومن ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں جیسے جسم کے ایک حصہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو تمام جسم متألم ہوتا ہے۔2 اس طرح مومن پیار اور محبت کی وجہ سے ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں، اس کے نقصان کو اپنا نقصان خیال کرتے ہیں۔ اِس وقت مادیت کا زور ہے اور اس کے اثر کی وجہ سے بدقسمتی سے ہم دوسرے کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے اور اس کے نقصان کو اپنا نقصان تصور نہیں کرتے۔ تیرہ سو سال کے لمبے عرصہ کے بعد اور انتہائی مایوسیوں اور ناامیدیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ جماعت بنائی ہے۔ اگر یہ جماعت اُسی طرح کوشش کرتی جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وقت میں صحابہؓ نے کی تو یقیناً ہماری جماعت اپنے نیک نمونہ کی وجہ سے بہت زیادہ ترقی کر سکتی تھی۔ اَب تو صاف نظر آ رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کے لیے کوئی سہارا ہے تو وہ صرف ہماری۔جماعت ہی ہے۔ مسلمانوں پر جو متواتر مصائب آئے ہیں ان مصائب کے دورا ن میں اگر۔ان۔کی۔عزت کسی حد تک بچی ہے تو وہ ہماری جماعت کی وجہ سے ہی بچی ہے۔
    پچھلے۔سال۔جب۔میں۔سیالکوٹ کے بعد پشاور گیا تو وہاں مجھے تیرہ ملکوں کا ایک وفد ملا۔ وہ لوگ بڑے بڑے مَلِک تھے۔ گورنمنٹ کی طرف سے بعض کو بارہ بارہ، تیرہ تیرہ ہزار روپیہ ماہوار وظیفہ ملتا ہے اور وہ آفریدی اور شنواری قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ مجھے جب ان کے آنے کی خبر ملی تو میں نے ان کے لیے چائے تیار کروائی۔ چائے پینے کے بعد اُن مَلِکوں میں سے ایک نے مجھے پشتو میں یہ کہنا شروع کیا جس کا بعد میں اردو میں ترجمہ کیا گیا کہ آپ حیران ہوں گے کہ ہم آپ کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے۔ پھر ہم آپ سے ملنے کے لیے کیوں آئے ہیں؟ہم اپنے یہاں آنے کی وجہ بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب پنجاب میں فسادات ہوئے اور ہمارے پاس خبریں آنی شروع ہوئیں کہ فلاں علاقہ سے مسلمان نکل آئے ہیں، فلاں علاقہ سے مسلمان بھاگ آئے ہیں تو شرم کے مارے ہماری گردنیں جھک جاتی تھیں اور ہم سمجھتے تھے کہ اب ہم کسی کو اپنا منہ نہیں دکھاسکتے۔ لیکن جب ہمیں خبریں آنی شروع ہوئیں کہ احمدیہ جماعت مقابلہ کر رہی ہے اور اپنے مرکز کا دفاع کر رہی ہے اور ہوتے ہوتے یہ خبریں آنی شروع ہوئیں کہ اگر چہ گورنمنٹ کا زور بڑھ گیا ہے مگر قادیان کو کُلّی طور پر احمدیوں نے نہیں چھوڑا اور اب بھی وہاں مسلمان موجود ہیں تو ہماری گردنیں اونچی ہو گئیں۔ آپ نے ہماری ناک کٹ جانے سے ہمیں بچا لیا اس لیے ہم شکریہ ادا کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔مذہبی طور پر تو ہمیں آپ سے شدید مخالفت ہے لیکن چونکہ آپ نے ہماری عزت قائم رکھی اس لیے ہم یہاں آئے ہیں تا آپ کا شکریہ ادا کریں۔ اَور بھی کئی واقعات ہیں مثلاً خارجی امور میں چودھری محمدظفراللہ خان صاحب نے جو خدمات سرانجام دی ہیں۔ مثلاً باؤنڈری کمیشن میں جو آپ نے حصہ لیا اگرچہ اس کا فیصلہ ہمارے خلاف ہی ہوا لیکن سب لوگ یہ تسلیم کرنے لگ گئے ہیں کہ ہر کام صحیح قربانی کے ساتھ احمدی ہی کر سکتے ہیں۔
    اب ہمارا غیر بھی سمجھنے لگ گیا ہے کہ ہماری جماعت کو کوئی خاص کام تفویض ہوا ہے لیکن ہماری جماعت ہی اس کام کو نہ سمجھے اور اپنے اندر صحیح تبدیلی پیدا نہ کرے تو اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہو گی۔ پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کرے، اپنے اندر صحیح تبدیلی پیدا کرے اور اپنے آپ کو سچا، مخلص اور سچا مسلم ثابت کرے۔ اگر آج تم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتے اور آج تم اپنی اصلاح نہیں کرتے تو وہ دن کونسا آئے گا جب تم اپنی اصلاح کرو گے۔ ہر دن جو آتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے بعض مرجاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی ہم سے جدا ہو رہے ہیں اور آہستہ۔آہستہ وہ دن آ جائے گا جب یہ کہا جائے گا کہ کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا ہے۔ اور ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا۔ کیا وہ دن ہو گا جس دن تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو گے؟ وہ دن وہی ہو سکتا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی ہم میں موجود ہوں اور آپ کے دیکھنے والے اور آپ کی باتیں سننے والے ہم میں موجود ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ غیروں کے اندر بھی یہ جذبہ پایا جاتا ہے۔ جب میں لنڈن گیا تو کچھ انگریز مجھے ملنے کے لیے آئے۔ ان میں سے ایک پرانا احمدی بھی تھا۔ وہ میرے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے مجھ سے باتیں کرنی شروع کر دیں اور مختلف سوالات کیے جن کے میں نے جوابات بھی دئیے۔ انہوں نے مجھ پر نبوت کے متعلق بھی سوالات کیے اور میں نے انہیں بتایا کہ نبوت کے کیا معنے ہیں۔ نبی خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس سے باتیں کرتا ہے۔ اس احمدی کے اندر یہ باتیں سن کر ایک عجیب سا تغیر پیدا ہوا اور مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے اس نے کہا کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا:ہاں میں نے آپ کو دیکھا ہے۔ میں خودآپ کا بیٹا ہوں۔ اُس نے پھر پوچھا کیا آپؑ نے حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کی باتیں سنی ہیں؟ میں نے کہا ہاں میں نے آپ کی باتیں سنی ہیں۔ اس نے پھر سوال کیا کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مصافحہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا ہاں میں نے آپ سے مصافحہ کیا ہے۔ میں حیران تھا کہ یہ شخص احمدی ہے اور پھر ایسے سوالات کرتا ہے۔ اس کے بعد اُس کی ایسی حالت ہو گئی جیسے غنودگی کی ہوتی ہے۔ وہ جُھک گیا اور اٹھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور کہا میں اُس شخص سے مصافحہ کر رہا ہوں جس نے اُس شخص سے مصافحہ کیا جس سے خدا تعالیٰ باتیں کرتا تھا۔ غرض دنیا کی نگاہ میں یہ ایک عجیب بات سمجھی جاتی ہے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جو اُس شخص سے ملا ہو جس سے خدا تعالیٰ باتیں کیا کرتا تھا لیکن یہ لوگ ختم ہو جاتے ہیں تو دنیا پر مُردنی چھا جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ کسی طرف دوڑے جار ہے ہوتے ہیں تو اگر اُن سے پوچھا جائے کہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں بندر کا تماشہ ہے۔ لوگ ایک طرف دوڑے جا رہے ہوتے ہیںاگر اُن سے پوچھا جائے کہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں مداری کا تماشہ ہے۔ لوگ ایک طرف دوڑے جا رہے ہوتے ہیں اور اگر ان سے پوچھا جائے کہ کیا ہے؟تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کوئی سرکس آیا ہوا ہے۔ لوگ ایک طرف دوڑتے جا رہے ہوتے ہیں اور ان سے پوچھا جائے کہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں کوئی سینما ہے۔ غرض دنیا کے لوگ چھوٹی سے چھوٹی بات کی طرف دوڑتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ عجیب چیز کیا ہو گی کہ ایک ایسا شخص پیدا ہو جائے جسے خدا تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہو اور وہ اُس سے کلام کرتا ہو۔ یہ بات تو اَعْجَبُ۔الْعَجََائب ہے لیکن وہ لوگ انتہائی بدقسمت ہیں جو اسے سمجھتے نہیں۔وہ اسے دیکھتے ہیں، انہیں اس کے دیکھنے والے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے لیکن وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے۔ وہ خوش نہیں ہوتے کہ خدا تعالیٰ نے ایک عجوبہ ظاہر کیا ہے۔ وہ ایک معجزہ دکھاتا ہے لیکن وہ اس کی قدر نہیں کرتے اور۔اس کے مطابق اپنے عمل، قول اور افکار کو درست نہیں کرتے۔
    ہماری جماعت پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہیں اور ہم ان ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کریں۔ ہم فتح حاصل نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کے بعد ہی دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔ ہم اُس وقت ہی فتح حاصل کرسکتے ہیںجب ہم اپنے آپ کو اس رنگ میں رنگین کر لیں جس رنگ میں صحابہؓ رنگین تھے۔ جب تک ہم اپنے دلوں کی اصلاح نہ کریں، جب تک ہم اپنے اندر دیانت اورامانت پیدا نہ کریں، جب تک ہم سے جھوٹ اور فریب کی عادت جاتی نہ رہے ۔بلکہ جب تک ہم اپنے اعمال کو سادہ نہیں بنا لیتے، جب تک ہم اپنے آپ کو سادہ مسلمان نہیں بنا لیتے ایسا مسلمان جس کو دوسرے لوگ تو لُوٹ سکتے ہیں مگر وہ خود کسی کو نہیں لُوٹتا۔ جب تک ہم ایسے مسلمان نہیں بن جاتے ہم دنیا کو فتح نہیں کر سکتے۔دنیا کو وہی لوگ فتح کر سکتے ہیں اور فرشتے انہی لوگوں پر اُترتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں وہی لوگ داخل ہوتے ہیں جو اخلاقی لحاظ سے اپنے آپ کو سادہ بنا لیتے ہیں اور ان کے اندر بے ایمانی، جھوٹ اور فریب کی روح نہیں پائی جاتی‘‘۔ (الفضل 16فروری 1949ئ)

    1
    :
    (البقرۃ:146)
    2
    :
    مسلم کتاب البر والصلۃ باب تراحم المومنین و تعاطفھم و تعاضدھم

    مومن کو روحانیت کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کو درست کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے
    (فرمودہ18فروری 1949ء راولپنڈی)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ مغز ہی اصل چیز ہوا کرتی ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ کسی چھلکے کے بغیر کوئی مغز تیار نہیں ہو سکتا۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مغز بغیر چھلکے کے تیار ہو سکتا ہے وہ غلطی پر ہیں۔ مغز کا قیام چھلکے کے ساتھ وابستہ ہے۔ میں ایک دفعہ سندھ گیا وہاں ایک عزیز کے ہاں میری دعوت تھی۔ ایک ہندو بھی وہاں تھا۔ اس سے میں نے پوچھا تم ہندوستان کیوں نہیں گئے؟ اس نے کہا یہاں امن ہے۔ جو لوگ یہاں سے چلے گئے ہیں انہوں نے غلطی کی ہے۔ مسلمانوں سے میرے اچھے تعلقات ہیں اور مجھے یہاں کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ مجلس میں سے کسی نے کہا کہ یہ دوست اسلام کی تحقیق کر رہے ہیں اور ایک حد تک اسلام کی طرف مائل ہیں۔ اِس پر میں نے اُس ہندو سے کہا جب آپ اسلام کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ایک حد تک آپ نے اس کی صداقت کو معلوم کرنے کی کوشش کی ہے تو آپ آگے قدم کیوں نہیں بڑھاتے؟ اگر آپ اسلام۔کی۔صداقت کے قائل ہیں تو پھر آپ اسے مانتے کیوں نہیں؟ اس ہندو نے کہا مجھے میرے گُرو نے سکھایا ہے کہ دین دل کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیز ہے۔ جب کسی چیز سے دل کا تعلق ہو جاتا ہے تو یہ امر انسان کے لیے کافی ہے۔ میرا گُرو بھی خدا کی ہی باتیں سناتا ہے۔ پس جب میں نے اسلام کے ساتھ دل سے تعلق پیدا کر لیا اور مجھے اس سے محبت بھی ہے تو یہ کافی ہے۔ ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہونے کی کیا ضرور ت ہے؟ میں نے اُس سے کہا کیا آپ کی شادی ہو چکی ہے؟ اس نے جواب دیا ہاں میری شادی ہو چکی ہے۔ میں نے کہا تمہارے بچے بھی ہیں؟ اس نے جواب دیا ہاں میرے بچے بھی ہیں۔ میں نے کہا کیا تم نے کبھی اپنے بیوی اور بچوں سے پیار بھی کیا ہے؟ اس پر وہ کہنے لگا اپنے بیوی بچوں سے تو لوگ پیار کیا ہی کرتے ہیں۔ میں نے کہا کیا تمہارے دل میں ان کے لیے محبت ہے؟ اس نے کہا ہاں میرے دل میں ان کے لیے محبت ہے۔ میں نے کہا اگر تمہارے دل میں تمہارے بیوی بچوں کی محبت ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ دل میں کسی چیز کی محبت کا ہونا کافی ہے تو پھر تم اپنے بیوی بچوں سے پیار کیوں کرتے ہو؟ دل کی محبت کو ہی کافی کیوں نہیں سمجھتے؟ اور اگر تم اپنے بیوی بچوں کے لیے اپنے دل کی محبت کو کافی نہیں سمجھتے بلکہ ظاہر میں بھی اُن سے پیار کرنا چاہتے ہو تو پھر خدا تعالیٰ کے لیے یہ بات کیسے کہتے ہو کہ اُس سے دل میں تعلق ہے اس لیے ظاہری عبادت کی ضرورت نہیں۔اس پر وہ بہت شرمندہ ہوا۔
    بہرحال ظاہر بھی ایک حقیقت رکھتا ہے جیسا کہ باطن حقیقت رکھتا ہے۔ اگر ہم نے مغز پر زور دیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ظاہر کی کوئی حقیقت نہیں۔ مغز اپنی جگہ پر قیمت رکھتا ہے اور ظاہر اپنی جگہ پر قیمت رکھتا ہے۔ اسلام نے جو احکام دئیے ہیں یا جو باتیں عقلی طور پر ان کے نتیجہ میں سمجھی جاتی ہیں وہ ساری کی ساری ایسی ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے ورنہ صحیح نتائج پیدا نہیں ہوسکتے۔ مثلاً جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے صفیں سیدھی کر لو ورنہ دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔1اب دیکھو صفوں کے سیدھا ہونے کا دلوں کے ٹیڑھا ہو جانے کے ساتھ کوئی ظاہری تعلق نہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں صفیں سیدھی کرو ورنہ دلوں کے ٹیڑھا ہو جانے کا خطرہ ہے اور آپ اس پر عمل بھی کرواتے تھے۔ اِسی طرح باقی احکام ہیں۔ اگر ہم انہیں رسم کہہ کر چھوڑتے چلے جائیں تو یہ بات ہمیں اسلام سے بہت دور لے جائے گی۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت تھی کہ آپ قبلہ رخ ہو کر اذان دینا سکھاتے تھے اور اِسی پر عمل کرواتے تھے۔ اب لاؤڈ سپیکر کے نکل آنے کی وجہ سے ایک غلط طریق نظر آتا ہے کہ جدھر چاہا منہ کر کے اذان دے دی اور کہہ دیا اذان ہی دینی ہے جدھر چاہا منہ کر کے دے دی۔ یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے۔اُمِّ طاہر جب بیمار تھیں اور ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا تھا تو چونکہ آپریشن کے بعد زخموں میں یا دوائیوں سے بُو آنے کا ڈر ہوتا ہے اس لیے ڈاکٹر عام طور پر، او۔ڈی کلون(Eau De Cologne) ایسے بیماروں کے گرد یا چہرہ یا سر پر چھڑکتے رہتے ہیں۔ ان کو بھی ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ آپ او۔ڈی کلون منگوا کر پاس رکھیں اور وقتاً فوقتاً چھڑکتے رہیں۔ جنگ کی وجہ سے چیزیں بازار سے نہیں ملتی تھیں اس لیے جو آدمی بازار گئے وہ او۔ڈی کلون نہ لا سکے۔ اس لیے میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو ساتھ لے کر او۔ڈی کلون کی تلاش میں نکلا۔ مجھے یاد ہے ہم ایک بڑی ڈاکٹری اَدویہ کی دکان پر گئے۔ اس کے مالک سے جو سکھ تھا ہم نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس او۔ڈی کلون ہے؟ اس نے کہا ہاں میرے پاس او۔ڈی کلون ہے اور ایک بوتل لا کر ہمیں دکھائی۔ میں نے وہ بوتل دیکھی اور کہا کیا یہ اصلی چیز ہے؟ اس بوتل پر لیبل توتمہارا اپنا لگا ہوا ہے۔ اس نے کہا آپ کو تو او۔ڈی کلون چاہیے خواہ اس پر لیبل کوئی لگا ہو۔ میں نے وہ بوتل کھولی تو اس میں وہ خوشبو نہیں تھی جو او۔ڈی کلون میں ہوا کرتی ہے۔ او۔ ڈی کلون کا بڑا جُزو سنگترے کا تیل ہوتا ہے۔میں نے اس دکاندار سے کہا اس بوتل سے مصنوعی مشک کی خوشبو آتی ہے او۔ڈی کلون کی خوشبو نہیں آتی۔ اس پر وہ کہنے لگا بُو ہی چاہیے کوئی ہو (وہ لوگ خوشبو کو بھی بُو کہتے ہیں)۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو احکامِ شریعت کو یہ کہہ کر پسِ پُشت ڈال دیتے ہیں کہ حکم پر عمل کرنا ہے خواہ کسی طرح ہو۔ بہرحال اذان دینے کا وہ طریق درست نہیں جو اِس وقت اختیار کیا گیا ہے۔
    پھر خطبہ کا یہ طریق ہوتا ہے کہ مخاطب امام کی طرف رُخ کر کے بیٹھے ہوں اور اس کی طرف متوجہ ہوں2 لیکن آج پہلے قبلہ رُخ کر کے صفیں بنوا دی گئیں اور پھر امام کو یہاں سٹیج پر لا کر کھڑا کر دیا گیا۔ امام یہاں سٹیج پر کھڑا ہے اور مخاطب دوسری طرف منہ کیے صفیں باندھے بیٹھے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انہیں خطبہ کی طرف کوئی رغبت ہی نہیں اس لیے وہ دوسری طرف متوجہ ہیں۔ اگر صفوں کے سیدھا نہ ہونے کی وجہ سے دل ٹیڑھے ہو جاتے ہیں تو آج جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے یعنی امام یہاں سٹیج پر کھڑا ہے اور مخاطب دوسری طرف متوجہ ہیں اس سے بھی دل ٹیڑھے ہونے کا خطرہ ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اگر لوگوں کی قبلہ رُخ کر کے صفیں بنوا دی گئیں تھیں تو امام کو بھی وہاں کھڑا کیا جاتا ۔لیکن اگر امام کو خطبہ کے لیے اسٹیج پر کھڑا کیا تھا تو پھر مخاطبین کو بھی اِس طرف منہ کر کے بیٹھنا چاہیے تھا اور اِسی طرف متوجہ ہونا چاہیے تھا۔جب امام خطبہ پڑھ کر مصلّٰی پر جاتا تو پھر صفیں سیدھی کر لی جاتیں۔ اول تو لاؤڈ سپیکر کی کیا ضرورت تھی؟ بھلا یہ کونسا بڑا مجمع ہے۔ ہم نے توکئی۔کئی ہزار کے مجمع میں تقریریں کی ہیں۔ پس لاؤڈ سپیکر کے بغیر خطبہ ہو سکتا تھا۔ اگر لاؤڈ سپیکر ہی لگانا تھا تو پھر جب امام نماز پڑھانے کے لیے جاتا تو لوگ کھڑے ہو جاتے اور صفیں سیدھی کر لیتے۔
    بہرحال ظاہر اور باطن دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ نہ صرف ظاہر کفایت کر سکتا ہے اور نہ صرف باطن سے کام چل سکتا ہے۔ بلکہ بیک وقت دونوں کی اصلاح ضروری ہوتی ہے۔ جس طرح صرف ظاہری نماز روزہ کا کوئی فائدہ نہیں اِسی طرح صرف باطنی نماز اور روزہ کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے پاس ایک بڈھا دوائی لینے آیا کرتا تھا اور وہ متواتر چھ سات ماہ تک آتا رہا۔ میں اور میرمحمداسحاق صاحب اُن دنوں حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے پڑھا کرتے تھے۔ ہمارے لیے یہ عجیب بات تھی کہ وہ ہمیشہ ہی دوائی لینے آ جاتا ہے۔ ایک دن ہم نے اُس سے پوچھا کہ تم روز یہاں آتے ہو۔ اگر تمہارا علاج ٹھیک نہیں ہو رہا تو پھر یہ علاج چھوڑ دو اور کسی اَور طبیب سے علاج کراؤ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول اُن دنوں عموماً زکام کے مریضوں کے لیے نسخہ جات میں شربت بنفشہ لکھا کرتے تھے۔ اُس بڈھے نے کہا چونکہ مجھے یہاں شربت پینے کو مل جاتا ہے اس لیے میں روز دوائی لینے آ جاتا ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے اُسے کئی دفعہ نماز پڑھنے کی نصیحت کی۔ وہ کہا کرتا تھا کہ آپ کی نماز بھی کوئی نماز ہے؟ مسجد میں نماز پڑھنے گئے اور پھر سلام پھیر کر باہر آ گئے۔جس چیز سے عشق ہو بھلا وہاں سے کوئی باہر بھی آیا کرتا ہے۔ ہم نے تو جس دن سے اپنے پیر کی مریدی کی ہے ہم نماز پڑھ رہے ہیں اور اُس دن سے نماز توڑی ہی نہیں ۔اور جب ہم نے نماز توڑی ہی نہیں تو پھر نئی نماز شروع کرنے کا سوال ہی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔
    غرض یاد رکھو کہ صرف باطن کوئی چیز نہیں جب تک ظاہر نہ ہو صحیح روحانی کیفیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے نتیجہ میں کبھی مداہنت پیدا ہوتی ہے اور کبھی انسان ریاء کی طرف چلا جاتا ہے۔ جو۔لوگ قشر کی طرف چلے جاتے ہیں اُن میں صرف رِیاء ہی رِیاء پایا جاتا ہے۔ مثلاً نماز پڑھنا کتنی اچھی بات ہے لیکن ہزاروں ہزار نمازی ایسے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔3 ہلاکت ہے ایسے نمازیوں پر جو اپنی نماز سے غافل ہیں اور صرف رِیاء کے طور پر نمازیں پڑھتے ہیں۔ نماز سے درحقیقت انہیں کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ لوگ اگرچہ نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ وہ صرف دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ ظاہر میں وہ سجدہ کرتے ہیں، ظاہر میں وہ قیام کرتے ہیں،ظاہر میں وہ قعود کرتے ہیں لیکن یہ ساری کی ساری باتیں دکھاوے کے لیے کرتے ہیں۔ پھر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہہ دیتے ہیں ہم باطن میں نمازیں پڑھتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ باطن تو کسی نے دیکھا نہیں اور اس طرح وہ دوسروں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مومن کو ظاہر اور باطن دونوں کے درست کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔کوئی نماز، نماز نہیں جب تک اُس کے ساتھ دل شامل نہ ہو اور کوئی نماز، نماز نہیں جب تک اُس کے ساتھ جسم شامل نہ ہو۔ دل کے ساتھ اگر ذکر الٰہی کر لو اور ظاہری طور پر نماز نہ پڑھو تو وہ کچھ بھی نہیں۔ اِسی طرح اگر ظاہری طور پر نماز پڑھی جائے لیکن دل اس میں شامل نہ ہو تو وہ بھی کچھ فائدہ نہیں دیتی۔
    حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحبؒ کی ایک صاحبزادی تھیں۔ ان کے بھائی سید عبدالغنی شاہ صاحب انہیں ہر جمعہ ملنے جایا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے اپنے بھائی سے کہا میں نے دیکھا ہے نماز میں جتنا لطف آتا ہے اُس سے کہیں زیادہ لطف ذکرِالٰہی میں آتا ہے۔ اس لیے میں ذکرِالٰہی لمبا کرتی ہوں۔ سید عبدالغنی شاہ صاحب نے جواب دیا یہ طریق اچھا معلوم نہیں ہوتا اس سے کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ جو ظاہر شریعت نے بتایا ہے وہی ضروری ہے۔ ہوتے ہوتے انہوں نے ایک دن کہہ دیا کہ میں نے سنتیں پڑھنی بھی چھوڑ دی ہیں کیونکہ ذکرِالٰہی میں زیادہ لُطف آتا ہے اور میں وہ وقت بھی ذکرِالٰہی میں خرچ کرتی ہوں۔ ان کے بھائی نے کہا تم کسی دن فرض پڑھنا بھی چھوڑ دو گی۔ آخر ایک دن جب وہ اپنی بہن کو ملنے گئے تو اُس نے کہا فرض نماز میں بھی وہ مزا نہیں آتا جو ذکرِالٰہی میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا دیکھو یہی ثبوت ہے اِس بات کا کہ یہ شیطان ہے جو تمہیں خدا تعالیٰ کے رستہ سے ہٹانا چاہتا ہے۔ تمہیں چاہیے کہ تم لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِکا ورد کیا کرو۔ انہوں نے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کا ورد کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن جب ان کے بھائی انہیں ملنے گئے تو انہوں نے کہا آپ نے مجھے بہت اچھا نسخہ بتایا تھا۔ میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ ایک بندر بیٹھا ہے جس کے متعلق میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ شیطان ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے تو تم سے ساری نمازیں چُھڑا دینی تھیں لیکن تمہارا بھائی بہت چالاک ہے۔ اس نے تمہیں میرے قبضہ سے چُھڑا لیا۔ اب بظاہر تو اس نے یہ بتایا تھا کہ ذکرِالٰہی ہی اصل چیز ہے، کھڑا ہونا بھی تو عبادت ہے اور جب عبادت اصل چیز ہے اور وہ ویسے بیٹھ کر بھی کی جا سکتی ہے تو پھر قیام، رکوع، سجود اور قعود کی کیا ضرورت ہے۔مگر اس طرح زنگ لگتے لگتے انسان کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے۔
    پس اپنے اندر عزم پیدا کرو اور ظواہر کو بھی قائم کرو۔ میں نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے باطن پر زیادہ زور دیا ہے۔ اس لیے ہماری جماعت میں ظاہر پر عمل کرنے کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔ میں دیکھتا ہوں صحابہؓ جتنے روزے رکھتے تھے اُتنے ہماری جماعت نہیں رکھتی۔ صحابہؓ جتنی نمازیں پڑھتے تھے وہ ہماری جماعت میں نہیں پائی جاتیں۔ ہمارے نوجوانوں میں تہجد اور نوافل پڑھنے کی عادت بہت ہی کم پائی جاتی ہے۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایسے نوجوان عام پائے جاتے تھے جو تہجد اور نوافل باقاعدہ پڑھتے تھے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ آجکل لوگ عموماً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اصل چیز تو دل کی محبت ہے۔ باقی سب چیزیں ظاہری ہیں جن کی خاص ضرورت نہیں۔ روحانیت کی مثال دودھ کی سی ہے۔ کیا دودھ بغیر پیالے کے رہ سکتا ہے؟ پیالہ ہو گا تو دودھ باقی رہے گا۔ اِسی طرح بے شک باطن ہی اصل چیز ہے لیکن وہ ظاہر کے بغیر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
    ہمیں سوچنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جن کا باطن خدا تعالیٰ کی محبت سے معمور تھا کیا انہوں نے نمازوں میں کمی کر دی تھی؟ آپ کی نمازوں کے متعلق تو آتا ہے حضرت۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب دیکھا کہ نماز پڑھتے پڑھتے اُن کے پاؤں سُوج جاتے ہیں تو۔آپ نے عرض کی یَارَسُولَ اللّٰہ! آپ اتنی لمبی نمازیں کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا خدا تعالیٰ نے آپ سے وعدہ نہیں کیا کہ اس نے آپ کے سب گناہ معاف کر دئیے ہیں؟ آپ نے فرمایا اَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا۔4 عائشہ! اگر خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ احسان کیا ہے تو کیا میرا فرض نہیں کہ میں اس کا اَور زیادہ شکریہ ادا کروں؟ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم باوجود اپنے عظیم الشان مرتبہ کے پھر بھی نماز پڑھتے ہیں، فرض پڑھتے ہیں، سنتیں پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی نوافل اور ذکرِالٰہی سب جاری رکھتے ہیں تو ہمارا یہ خیال کر لینا کہ ہم ان کے بغیر خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کر لیں گے کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ جو چیزیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کے لیے ضروری ہیں وہ چیزیں اُن سے کہیں زیادہ ہمارے لیے ضروری ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دل روحانیت سے معمور تھا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے آ پ کو بلند مرتبہ حاصل تھا۔ اگر آپ کو باوجود ان باتوں کے ظاہری عبادتوں کی ضرورت تھی تو ہمارے لیے تو ان کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم صرف چھلکے کو ہی کافی نہ سمجھ لیں کیونکہ کسی کام کو صرف ظاہری طور پر کر لینا اور باطن کا خیال نہ رکھنا بے فائدہ ہوتا ہے۔ مثلاً نماز ہے۔ نماز صرف ظاہری طور پر پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ دل بھی اس میں شامل ہو۔ صرف سر اٹھانا اور گرا۔لینا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔
    پس یہ ضروری ہے کہ جہاں تم ظاہر کی اصلاح کے لیے کوشش کرو وہاں باطن کے لیے بھی کوشش کرو۔جب تم ظاہر اور باطن دونوں کو ملاؤ گے تو پھر وہ چیز پیدا ہو گی جس سے تم محسوس کرنے لگو گے کہ تمہارے اندر کوئی نئی چیز پیدا ہو گئی ہے۔ دنیا میں معمولی سے معمولی تغیر پیدا ہوتا ہے تو وہ ہمیں محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً جگر بڑھ جاتا ہے یا تلی بڑھ جاتی ہے تو انسان کہنے لگتا ہے مجھے بوجھ سا معلوم ہوتا ہے۔ انسان بیٹھتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے بیٹھنے میں کوئی روک محسوس ہوئی ہے۔ مثانہ میں پتھری پیدا ہو جاتی ہے تو پیشاب کرتے ہوئے انسان اُس کو محسوس کرتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جب پیدا ہو کر انسان کے اندر ایک احساس پیدا کر دیتی ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو اور پھر اُس کا احساس پیدا نہ ہو۔ جب بھی کوئی چیز انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے اُس کا احساس بدل جاتا ہے۔ اِسی طرح جب اُس کے اندر اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے تو اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی نئی چیز پیدا ہو گئی ہے۔ اس کا خدا تعالیٰ پر یقین بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جب وہ اس کے آثار دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ ایک نئی برکت والی چیز ہے عذاب والی نہیں۔ اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب ظاہر اور باطن دونوں ایک ہی ہوں۔ روحانیت بھی ایک بچہ ہے۔ جس طرح بچہ کے لیے روح اور جسم دونوں چیزوں کی ضرورت ہے اِسی طرح روحانیت کے لیے بھی ظاہر اور باطن دونوں کی ضرورت ہے۔ جب یہ دونوں چیزیں آپس میں ملتی ہیںتو ان سے رئویتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے، عرفان پیدا ہوتا ہے، محبتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا دیدار حاصل ہوتا ہے۔ اِن دونوں چیزوں سے ہی ایمان کامل ہوتا ہے اور ہماری جماعت کو ان دونوں کے پیدا کرنے اور ان کو زیادہ سے زیادہ مکمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘‘۔
    (الفضل0 2 جولائی 1949ء )

    1
    :
    نسائی کتاب الْاِمامۃ باب کَیْفَ یقوم الْاِمَامُ الصفوف
    2
    :
    ترمذی ابواب الجمعۃ باب ما جاء فی استقبال الامام اذا خطب
    3
    :
    الماعون:5 تا 8
    4
    :
    بخاری کتاب التھجد باب قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم اللَّیْلَ میںـ’’اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا‘‘کے الفاظ ہیں، مصنف ابن ابی شیبۃ کتاب الصلوات باب الرَّکوع والسّجود اَفْضَلُ اَم القیام حدیث نمبر8347میں ’’ اَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا‘‘ کے الفاظ ہیں۔


    قبض و بسط۔انسان کی دو طبعی حالتیں
    (فرمودہ25فروری 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’انسانی اعمال ہمیشہ ہی گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں اور قبض و بسط انسان کا ایک خاصہ ہے۔ یہی سلسلہ انسان کے لیے کبھی روحانی ترقیات کا موجب بن جاتا ہے اور کبھی روحانی تباہی کا موجب بن جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دفعہ ایک صحابیؓ حاضر ہوئے۔ وہ رو پڑے اور کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں تو منافق ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تم تو مومن ہو۔ تم اپنے آپ کو منافق کیوں سمجھتے ہو؟ اس صحابیؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں جب تک آپ کی مجلس میں بیٹھا رہتا ہوں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دوزخ اور جنت میرے سامنے آگئے ہیں اور خشیت کا زور ہوتا ہے لیکن جب میں اپنے گھر جاتا ہوں وہ حالت قائم نہیں رہتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میں مومن نہیں بلکہ منافق ہوں۔ کیونکہ جب میں آپ کی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو۔میری ویسی حالت ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ اور جنت۔و۔دوزخ مجھے اپنے سامنے نظر آتے ہیں لیکن مجلس سے علیحدہ ہونے پر یہ حالت نہیں رہتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا یہی تو۔خالص ایمان ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اگر انسان ایک حالت پر رہے تو وہ مر نہ جائے۔1 غرض۔قبض و بسط دونوں حالتیں انسان پر آتی رہتی ہیں۔ اگر انسان کی ہر وقت ایک ہی قسم کی حالت رہے تو اس کی روح مر جائے۔ اگر وہ جسمانی طور پر نہیں تو دماغی طور پر یقیناً مر جائے گا اور وہ پاگل ہو جائے گا۔ مجنونوں اور عقلمندوں میں یہی فرق ہوتا ہے کہ مجنون پر ایک ہی حالت ہمیشہ طاری رہتی ہے اور عقلمند پر اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ مجنون ایک ہی قسم کے خیالات میں مبتلا رہتا ہے لیکن عقلمند شخص کے خیالات ایک ہی قسم کے نہیں رہتے۔ غرض قبض و بسط کی حالتیں ہر انسان کے ساتھ لازم کر دی گئی ہیں۔ کبھی اس کے اندر خوشی کی حالت پیدا ہوتی ہے اور وہ دین کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ حساب کرنے بیٹھ جاتا ہے کہ میں کتنی قربانی کر سکتا ہوں۔ یہ حساب کرنے والی حالت قبض کی حالت ہوتی ہے۔ اور جب کوئی شخص سب کچھ دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور اس میں خوشی محسوس کرتا ہے وہ بسط کی حالت ہوتی ہے۔ مگر نہ وہ بسط کی حالت قطعی طور پر اعلیٰ درجہ کا ایمان کہلاتی ہے اور نہ قبض کی حالت قطعی طور پر کمی۔ٔ۔ایمان کہلا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بسط کی وہ حالت مصنوعی زیادتی۔ٔ۔ ایمان کا نتیجہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قبض کی حالت کمزوری۔ٔ۔ایمان کا نتیجہنہ ہو بلکہ طبعی آثار کا نتیجہ ہو جو خدا تعالیٰ نے روحانی ترقی کے راستہ میں پیدا کیے ہیں۔
    دنیا میں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی جو ہمیشہ سیدھی ہی چلی جاتی ہو۔ تمام قوانینِ۔قدرت لہروں میں چلتے ہیں۔ جس طرح لہر کبھی اٹھتی ہے اور کبھی گرتی ہے اِسی طرح دنیا کی ہر چیز جو اللہ۔تعالیٰ نے پیدا کی ہے وہ لہروں میں چلتی ہے۔ انسانی صحت کی بھی یہی حالت ہے۔ انسان کے جسم کی بناوٹ بھی یہی رنگ رکھتی ہے اور جذبات کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ ایک وقت وہ بغیر کسی وجہ کے خوشی اور امنگ محسوس کرتا ہے اور دوسرے وقت وہ بغیر کسی حادثہ کے اپنے آپ کو گرا ہوا اور افسردہ محسوس کرتا ہے۔کسی وقت وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ میلوں میل چل سکتا ہے اور ہر قسم کا بوجھ اٹھا سکتا ہے مگر دوسرے وقت میں وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ چارپائی سے بھی نہیں اٹھ سکتا۔غرض کیا بلحاظ دماغ کے اور کیا بلحاظ جسم کے انسان کے اندر لہریں اٹھتی رہتی ہیں اور یہی چیز قانونِ۔قدرت میں پائی جاتی ہے۔ پہاڑوں کے اندر بھی یہی لہر چل رہی ہے، ستاروں کو دیکھو تو وہ بھی ایک لہر کی سی حرکت میں مبتلا ہیں، تمام روشنیاں جو زمین پر گرتی ہیں، اِسی طرح تمام ہوائیں اور آوازیں سب۔لہروں میں چلتی ہیں۔ غرض خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ اُس کا ہر کام لہر میں چلتا ہے ۔ھُوَالْقَابِضُ وَالْبَاسِطُ ایک لہر چلتی ہے۔ کبھی وہ لہر اونچی چلی جاتی ہے اور کبھی نیچے چلی جاتی ہے۔ اس کے تمام افعال اسی طرح ہیں اور یہی چیز انسان کے اندر بھی پائی جاتی ہے۔ انسان خود بھی کبھی افسردہ ہوتا ہے اور کبھی خوش ہوتا ہے، کبھی وہ حساب کرنے بیٹھ جاتا ہے کہ آیا میں چندہ دوں یا نہ دوں؟ کبھی وہ نماز کے لیے مسجد میں جاتا ہے تو اُس کا دل چاہتا ہے کہ وہ کبھی سلام ہی نہ پھیرے۔ کوئی آدمی اس کے پاس اگر کسی کام کے لیے آتا ہے تو وہ غصہ سے جل جاتا ہے۔مگر دوسرے وقت میں وہ اٹھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے اس لیے اسے کر ہی لیں۔ وہ وقت جب وہ خیال کرتا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہی چلا جاؤں اور سلام نہ پھیروں وہ بسط کی حالت ہوتی ہے۔ اور جب وہ خیال کرتا ہے کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے اس لیے اسے پورا کرلوں قبض کی حالت ہوتی ہے۔ ایک وقت ایسا ہوتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ آیا اس نے رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْماور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی تین تین دفعہ دہرایا ہے یا نہیں کیونکہ یہ فقرے کم از کم تین دفعہ دہرانے چاہییں۔ یہ قبض کی حالت ہوتی ہے۔ لیکن کبھی وہ کہتا ہے کہ تین دفعہ گن کر کیا پڑھنا ہے تین کی بجائے تیس دفعہ یا تین سو دفعہ دہرا لیا جائے تو کیا حرج ہے یہ بسط کی حالت ہوتی ہے۔
    غرض انسان کا ہر کام اور اُس کا ہر عمل قبض اور بسط سے چلتا ہے۔ لیکن اس کے نتیجہ میں دو قسم کے سامان اس کی ٹھوکر کے پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب انسان کو قبض و بسط دونوں حالتوں کا علم ہوجاتا ہے تو بے ایمانی کی حالت بھی چونکہ قبض کی حالت کے مشابہہ ہوتی ہے اس لیے بعض دفعہ وہ اس حالت کو اپنے اعمال کا ایک طبعی نتیجہ سمجھ لیتا ہے اور خیال کر لیتا ہے کہ یہ طبعی اُتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہے۔ مثلاً کبھی انسان کے اندر ہنسنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور کبھی یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی۔کبھی اُس کے اندر باتیں کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور کبھی یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی۔ لوگ جانتے ہیں کہ فلاں شخص بہت باتیں کرنے والا ہے لیکن بعض دفعہ اس کے پاس اگر کوئی شخص بات کرے تو وہ بُرا مناتا ہے اور کہتا ہے جانے بھی دو میری طبیعت اِس وقت خراب ہے۔ یہ حالت جہاں طبعی ہوتی ہے وہاں کبھی بیماری کی وجہ سے بھی ہو جاتی ہے۔ جس طرح نہ ہنسنا طبعی چیز ہے اِس طرح نہ ہنسنا بیماری کی وجہ سے بھی ہوتا ہے یا کبھی کوئی شخص غمگین ہو جاتا ہے یا تھوڑے سے صدمہ سے رو پڑتا ہے یہ ایک طبعی چیز ہے۔ لیکن بعض دفعہ کسی بیماری کے نتیجہ میں بھی یہ حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ غرض چونکہ بے ایمانی کی حالت قبض کے مشابہہ ہوتی ہے اس لیے بعض دفعہ انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ یہ بے ایمانی نہیں جو ایک بیماری ہے بلکہ یہ قبض کی حالت ہے جو ایک طبعی چیز ہے اور وہ اسے دُور کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ اسے طبعی تقاضا سمجھ لیتا ہے اور اس کے علاج کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ اور چونکہ وہ اسے طبعی تقاضا سمجھ کر کرنے کی کوشش نہیں کرتا اس سے وہ مرض مزمن ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ جسم کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ مثلاً بخار ہے اِس کا اگر علاج نہ کیا جائے تو سِل اور دِق کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ کھانسی ہے اِس کا اگر جلد علاج نہ کیا جائے تو یہ سِل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اِسی قسم کی کئی اَور خرابیاں ہیں۔ اگر کچھ مدت کے اندر ٹھیک ہو جائیں تو ہو جائیں ورنہ وہ مستقل مرض کی صورت اختیار کر لیتی ہیں اور ان کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی حال روحانی امراض کا ہے اگر وہ جلد دور نہ ہو جائیں تو وہ ایک مستقل صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ جیسے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کفار کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔2 زنگ کا مفہوم یہی ہے کہ اُن کی روحانی امراض آسانی کے ساتھ دور نہیں ہو سکتیں۔ایک تو طبعی حالت ہوتی ہے جیسے ربڑ ہے اُسے کھینچتے جاؤ تو وہ کھنچتا چلا جاتا ہے اور جب اُسے ڈھیلا چھوڑ دو تو سُکڑ کر اپنی اصلی حالت پر آ جاتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی لمبے استعمال کے بعد وہ لمبا ہی رہتا ہے اور سُکڑ کر اپنی اصلی حالت پر نہیں آتا۔ یہ اُس کی خرابی کی علامت ہوتی ہے۔ جیسے ربڑ انگریزی گاؤنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اِزاربند کی بجائے اس سے کام لیا جاتا ہے مگر ہوتے ہوتے یہ ربڑ اتنا ڈھیلا ہو جاتا ہے کہ وہ سُکڑتا نہیں اور اس طرح وہ اِزاربند کا کام نہیں دیتا اور اُسے بدلنا پڑتا ہے۔ اِسی طرح جب انسان کی غیرطبعی حالت دیر تک چلی جائے تو وہ طبعی بن جاتی ہے اور طبیعت پھر اپنی اصلی حالت پر واپس نہیں آ سکتی اور غیرطبعی حالت ایک مزمن مرض3 کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یوں تو ہر مرض کا علاج ہے لیکن اگر وہ مرض لمبی ہو جائے تو اُس کا علاج عام امراض کی طرح نہیں ہوتا۔ مثلاً بخار ہے۔ اگر وہ چند دن کا ہو تو بسااوقات بغیر علاج کے ہی دور ہو جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ کونین کھائی جائے۔ آخر ہزاروں ہزار بلکہ لاکھوں لاکھ اور کروڑوںکروڑ آدمی ایسے تھے جنہیں کونین کے دریافت ہونے سے پہلے بخار ہوتا تھا۔ وہ کونین نہیں کھاتے تھے لیکن اُن کا بخار اُتر جاتا تھا۔ حاد امراض4 کی یہی خصوصیت ہے کہ اگر اُن کا علاج نہ بھی کیا جائے تو وہ ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر وہ امراض لمبی ہوجائیںاور اُن کا علاج نہ کیا جائے تو وہ مستقل ہو جاتی ہیں۔ بعض دفعہ تو وہ علاج سے دور ہو جاتی ہیں لیکن اکثر دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ علاج سے دور نہیں ہوتیں۔ یہی حال روحانی امراض کا ہے۔ روحانی امراض میں سے بعض امراض حاد ہوتی ہیں اور بعض مزمن ہوتی ہیں۔ ممکن ہے کہ انسان جس چیز کو قبض کی حالت سمجھ رہا ہو وہ بیماری ہو۔ اگر وہ بیماری حاد ہے تو جلد دور ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ لمبی چلی جائے اور اس کا علاج نہ ہو تو وہ شخص تو یہ سمجھتا رہے گا کہ یہ قبض کا نتیجہ ہے مگر نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ مرض مزمن بن جائے گی اور آخر اُسے تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گی۔ پس مومن کو ان دونوں حالتوں یعنی قبض اور بسط کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے جب بھی قبض کی حالت محسوس ہو تو اسے چاہیئے کہ اس کا علاج کرے اور اُسے دور کرنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ قبض کی حالت طبعی نہیں بلکہ بیماری ہے تو اُس کا علاج ہو جائے گا اور اگر وہ طبعی حالت ہے تو علاج سے اُس پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔بہرحال بیماری چونکہ بعض دفعہ لمبی ہو کر مزمن صورت اختیار کر لیتی ہے اور اُس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے اس لیے حاد امراض کا بھی علاج کیا جاتا ہے ورنہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بغیر علاج کے دور ہی نہیں ہو سکتیں۔ مثلاً اگر ہم نزلہ کے موقع پر دوائی استعمال کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ نزلہ یوں اچھا نہیں ہوتا۔ نزلہ کے سو میں سے ننانوے کیس آپ ہی آپ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ ہم تو اس ڈر کے مارے علاج کرتے ہیں کہ نزلہ مزمن صورت اختیار نہ کر لے۔ یا کھانسی ہے ہم اس کا اس لیے علاج نہیں کرتے کہ وہ بغیر علاج کے اچھی نہیں ہو گی بلکہ اس لیے علاج کرتے ہیں کہ کھانسی کہیں سِل اور دِق کی شکل اختیار نہ کر لے۔ کیونکہ بعض دفعہ کھانسی جب اُس کا علاج نہ ہو اور وہ لمبی چلی جائے تو سِل اور دِق کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اُس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ یا بخار چڑھتا ہے اُس کا علاج ہم اس لیے نہیں کرتے کہ وہ یوں اچھا نہیں ہوتا۔ بسااوقات بخار آپ ہی آپ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ہم اُس کا علاج اس لیے کرواتے ہیں کہ وہ کہیں مزمن صورت اختیار نہ کر لے۔ اِسی طرح ہمیں قبض کا علاج کرنا چاہیے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ طبعی نہ ہو بلکہ وہ بیماری ہو اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو ممکن ہے وہ مزمن رنگ اختیار کر لے۔
    غرض قبض اور بسط جہاں دونوں طبعی چیزیں ہیں وہاں ان سے نقصان کا اندیشہ بھی ہوتا ہے کیونکہ بعض دفعہ بیماری بھی قبض کی حالت کے مشابہہ ہوتی ہے اور انسان غلطی سے اُسے قبض سمجھ لیتا ہے اور اس کے علاج سے غافل ہو جاتا ہے۔ جیسے میں نے اُداسی کی مثال دی ہے۔ اُداسی کبھی طبعی ہوتی ہے۔ اگر تم زیادہ دیر تک ہنستے رہو تو لازمی طور پر اُس کا ردِّعمل یہ ہوتا ہے کہ اُداسی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ طبعی چیز ہے۔ لیکن دوسری طرف ہسٹیریا(HYSTERIA) کا مرض ہے۔ ہسٹیریا اور ضعفِ اعصاب کا مریض بھی اُداس رہتا ہے۔ پس ممکن ہے کہ مریض اس اُداسی کو طبعی سمجھ لے اور اگر مریض اُسے طبعی سمجھ لے گا اور اُس کا علاج نہیں کرے گا تو وہ مرض مستقل ہو جائے گا۔ پس یہ مشابہت بھی نہایت خطرناک چیز ہے اور انسان کو علاج سے غافل کر دیتی ہے۔ اگر انسان ہوشیاری سے کام لے تو وہ نقصان سے بچ جاتا ہے۔ مثلاً قبض ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اسے دور کرنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ صرف قبض ہے تو علاج سے اُسے نقصان نہیں پہنچے گا اور اگر بیماری ہے تو علاج کرانے کی وجہ سے وہ اس بیماری سے نجات حاصل کر لے گا اور نقصان سے بچ جائے گا۔ غرض قبض کو دور کرنے اور اُس کے علاج کرنے سے اس لیے غفلت نہیں کرنی چاہیے کہ یہ طبعی بھی ہوتی ہے۔ ممکن ہے وہ بیماری ہو اور وہ مزمن ہو کر لاعلاج مرض کی صورت اختیار کر جائے۔مثلاً وہ شخص سچا مومن تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ یَا۔رَسُوْلَ۔اللّٰہ! میں تو منافق ہوں۔ میں جب آپ کی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو میری حالت اَور ہوتی ہے اور جب آپ کی مجلس سے علیحدہ ہوتا ہوں تو میری حالت اَور ہوتی ہے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے فرمایا یہی تو مومن کی علامت ہے۔ تم یونہی اپنے آپ کو منافق سمجھ رہے ہو۔ گویا رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا کہ یہ بیماری نہیں بلکہ طبعی چیز ہے۔ لیکن اُس صحابی نے جب اس حالت کو دیکھا تو اُسے گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ کہیں میری یہ حالت محض قبض نہ ہو بلکہ بیماری ہو۔ اس لیے وہ سب سے بڑے روحانی طبیب یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس گیا اور اُس نے آپ سے پوچھا کہ میری یہ حالت کہیں بیماری تو نہیں ہے؟آپ نے فرمایا یہ قبض کی حالت ہے۔ لیکن اگر وہ قبض کی حالت نہ ہوتی بلکہ روحانی بیماری ہوتی اور وہ اُس کے علاج سے غافل رہتا تو ممکن تھا کہ ایک وقت یہی بیماری لاعلاج ہو جاتی۔پس جہاں قبض ایک طبعی چیز ہے وہاں اس سے ہوشیار رہنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور مومنوں کو ہر وقت چوکس اور ہوشیار رہنا چاہیے۔ مثلاً جسم پر ایک معمولی سی پھنسی نکل آتی ہے تو ایک ایسا شخص جو کسی حد تک طب جانتا ہے وہ اُسے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے اور آخر کینسر (CANCER)تک اُس کا شبہ جا پڑتا ہے۔ اس پر وہ ڈاکٹر کے پاس چلا جاتا ہے اور وہ اُسے اصل حقیقت بتا دیتا ہے جس سے اُس کی تشفّی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ معمولی پھنسی نہ ہو اور وہ علاج سے غافل رہے تو یہ پھنسی بڑھتے بڑھتے ایک لاعلاج رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ پس جب بھی ایسا شبہ پیدا ہو تو فوراً علاج کرنا چاہیے کیونکہ یہ مرض قبض کے مشابہہ ہوتا ہے جو ایک طبعی چیز ہوتی ہے اور انسان اُسے طبعی سمجھ کر اُس کے علاج سے غافل ہو جاتا ہے۔
    ایک احمدی ڈاکٹر نے جو آجکل فوج میں کرنل ہیں مجھے بتایا کہ جب میں کالج میں پڑھتا تھا اُس وقت مجھے ذرا سی بھی بیماری کے مشابہہ علامات ملتیں تو مجھے وہم سا پڑ جاتا کہ مجھے فلاں مرض ہو گئی ہے۔ میں نے ایک دن اپنے پروفیسر ڈاکٹر سدرلینڈسے جا کر کہا کہ جب کسی بیماری کے مشابہہ کچھ علامات ملتی ہیں تو مجھے اُس بیماری کا وہم پڑتا ہے۔ اس پر وہ پروفیسر ہنس پڑا اور اُس نے کہا آدھی طب پڑھنے کی وجہ سے ایسا ہی وہم ہوا کرتا ہے۔ ہم بھی جب پڑھتے تھے تو ہمیں بھی اپنے متعلق اِسی قسم کے وہم پیدا ہوا کرتے تھے۔ دراصل تجربہ اَور چیز ہے اور کتابی علم اَور چیز ہے۔ مثلاً سِل ہے۔ نزلہ سِل میں بھی ہوتا ہے اور عام بخار میں بھی ہو جاتا ہے۔ اب جس نے معمولی طب پڑھی ہو وہ نزلہ کا مریض دیکھ کر فوراً کہہ دے گا کہ اُسے سِل ہو گئی ہے حالانکہ سِل کے لیے اَور بھی بہت سی علامات ہیں مگر ناتجربہ کاری کی وجہ سے وہ ان میں فرق نہیں کرتا۔ ایک معمولی مشابہت کی وجہ سے سِل کا قیاس کر لیتا ہے۔ لیکن بہرحال وہم کا ہو جانا زیادہ اچھا ہے بہ۔نسبت اس کے کہ وہ اس سے غافل ہو جائے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض بچوں کی صحت عموماً ماؤں کے وہم کی وجہ سے ٹھیک رہتی ہے۔ اُسے ذرا بھی کوئی تکلیف ہو تو ماں اُسے انتہائی سمجھ لیتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اُس کا توجہ سے علاج کرواتی ہے اور بچہ بیماری کے مزمن ہو جانے سے بچ جاتا ہے۔ لیکن بعض مائیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بچے کی بیماری کا اُس وقت علم ہوتا ہے جب وہ مزمن شکل اختیار کر لیتی ہے اور علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ غرض ماں کا وہم بھی بچہ کی صحت کے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔ اِسی طرح اپنی ذات میں اِس قسم کا وہم کہ شایدیہ کوئی بیماری نہ ہو بہت مفید ہے۔ اِس طرح انسان خطرے کے مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو اُس کے حملہ سے محفوظ کر لیتا ہے‘‘۔ (الفضل7؍اگست1949ء )


    1
    :
    مسلم کتاب التوبۃ باب فضل دوام الذکر و الفکر فی امور الاٰخرۃ
    2
    :
    (المطففین:15)
    3
    :
    مزمّن امراض:پرانی امراض۔ کہنہ امراض
    4
    :
    حاد امراض:وقتی اور عارضی بیماری


    جلسہ سالانہ کے موقع پر ربوہ کے افتتاح میں حکمت
    (فرمودہ18مارچ 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’پچھلے دو جمعوں میں مَیں نہیں آ سکا کیونکہ مجھے نقرس کی تکلیف رہی ہے۔پہلے میرے دائیں پاؤں پر نقرس کا حملہ رہا اس کے بعد بائیں پاؤں پر نقرس کا حملہ ہو گیا۔ درمیان میں ایک دفعہ مالش کے دوران میں چوٹ لگ گئی جس سے درد بڑھ گیا اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہڈی میں کوئی ضرب آ گئی ہے۔ چار دن ہوئے ایکسرے لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ہڈی میں کوئی فریکچر نہیں۔ جو درد تھا وہ صرف چوٹ کی وجہ سے تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب درد میں افاقہ ہے لیکن تین چار دن سے باوجود آرام آجانے کے شاید اُن مُضعف دواؤں کی وجہ سے جو نقرس کے لیے مجھے کھانی پڑی ہیں برابر کمزوری محسوس ہوتی اور نیند کا غلبہ رہتا ہے۔ جب تک کام کرتا رہوں کام کرتا رہتا ہوں لیکن جب کام سے ذرا بھی توجہ ہٹے فوراً نیند کا غلبہ شروع ہو جاتا ہے۔ بہرحال اب پاؤں میں اِتنی طاقت پیدا ہو گئی ہے کہ میں کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا سکتا ہوں۔ چنانچہ میں نے یہی مناسب سمجھا کہ خطبہ کے لیے آ جاؤں اور بعض ضروری امور کی طرف دوستوں کو توجہ دِلادوں۔
    احباب کو معلوم ہے کہ اِس سال کا جلسہ سالانہ ایسٹر ہالی ڈیز(EASTER.HOLIDAYS) میں ربوہ میں مقرر کیا گیا ہے۔ مجھے بہت سے دوستوں کے خطوط ملے ہیں کہ ربوہ میں ان دنوں جلسہ کرنا بہت مشکل بات ہے اور یہ کہ جلسہ سالانہ کی تاریخیں یا تو بدل دی جائیں اور یا پھر جلسہ ربوہ میں نہ کیا جائے بلکہ لاہور میں کیا جائے۔ یہ خطوط جماعت کے کارکنوں کی طرف سے بھی ملے ہیں اور بیرونی جماعتوں کی طرف سے بھی ملے ہیں۔ خصوصاً زمیندار جماعتوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان دنوں چونکہ کٹائی کا وقت ہو گا اس لیے زمینداروں کا جلسہ میں شامل ہونا مشکل ہو گا۔ میں ان لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھتا ہوں جنہوں نے جلسہ سالانہ کے دنوں میں وہاں آنا ہے لیکن جب کوئی شخص سمندر میں کُودتا ہے یا کوئی جہاز غرق ہوتا ہے اور اُس کی سواریاں سمندر میں گر جاتی ہیں توآخر انہیں ساحل کی تلاش کرنی ہی پڑتی ہے۔ اس ساحل کی جستجو میں خطرات بھی ہوتے ہیں اور اس کی جستجو میں خوف بھی لاحق ہوتے ہیں۔ جب کوئی جہاز ڈوبتا ہے تو چاروں طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے اور انسان نہیں جانتا کہ میں دائیں گیا تو مجھے خشکی ملے گی یا بائیں گیا تو مجھے خشکی ملے گی۔ سامنے کی طرف گیا تو مجھے خشکی ملے گی یا پیچھے کی طرف گیا تو مجھے خشکی ملے گی۔ یہ بھی انسان نہیں جانتا کہ اگر خشکی مجھ سے بہت دور ہے اور میں کسی طرح بھی ساحل تک نہیں پہنچ سکتا تو اگر دائیں طرف تَیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی مل جائے گی یا بائیں طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی مل جائے گی۔ آگے کی طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی مل جائے گی یا پیچھے کی طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی مل جائے گی۔ اِن آٹھوں باتوں میں سے اُسے کوئی بات بھی معلوم نہیں ہوتی مگر پھر بھی وہ ایک جگہ پر کھڑا۔۔نہیں رہتا۔ بظاہر اُس کا ایک جگہ پر کھڑا رہنا یا ان چاروں جہات میں سے کسی ایک کا خشکی پر پہنچنے یا جہاز اور کشتی حاصل کرنے کے لیے اختیار کرنا برابر معلوم ہوتا ہے مگر باوجود اس کے کہ یہ سب باتیں برابر معلوم ہوتی ہیں انسان پھر بھی جدوجہد کرتا ہے اور ساحل یا کشتی کی تلاش میں دائیں بائیں یا آگے پیچھے ضرور جاتا ہے۔ اِسی طرح ہمیں بھی ساحل یا جہاز کے لیے جو۔بھی اللہ۔تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے مقدر ہے جستجو اور تلاش کی ضرورت ہے اور جلد سے جلد کسی ایسے طریقِ۔کار کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے اندر ایک استقلال اور پائیداری رکھتا ہو۔ اِس وقت تک جو کچھ خدا تعالیٰ کی مشیت ظاہر ہوئی ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ ربوہ ہی وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ ہماری جماعت دوبارہ اپنا مرکز بنائے۔ اور جب کوئی نئی جگہ اختیار کی جاتی ہے تو اُس کے لیے دعائیں بھی کی جاتی ہیں، اس کے لیے صدقہ و خیرات بھی کیا جاتا ہے اور اُس کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت بھی طلب کی جاتی ہے۔ اور یہ بہترین وقت ہمیں جلسہ سالانہ کے دنوں میں ہی میسر آ سکتا ہے ۔کیونکہ اس موقع پر وہاں ہزاروں ہزار افراد جمع ہوں گے اور ہزاروں ہزار افراد کے جمع ہونے سے طبیعتوں پر جو اثر ہو سکتا ہے اور ہزاروں ہزار افراد کی متحدہ دعائیں جو تأثیر اپنے اندر رکھتی ہیں وہ صرف چند افراد کے جمع ہونے سے نہ اثر ہو سکتا ہے اور نہ ان کی دعائیں خواہ وہ سچے دل سے ہی کیوں نہ ہوں اُتنی تأثیر رکھ سکتی ہیں جتنی ہزاروں ہزار افراد کی دعائیں اثر رکھتی ہیں۔آخر نماز باجماعت کو اکیلی نماز پر کیوں فوقیت حاصل ہے؟اسی لیے کہ نماز باجماعت میں بہت سے افراد مل کر دعا کرتے ہیں اور جب بہت سے افراد مل کر دعا کرتے ہیں تو اللہ۔تعالیٰ کے فضل اور اُس کی برکات کا نزول یقینی ہو جاتا ہے۔ فرد ممکن ہے پوری توجہ سے دعا نہ کر سکتا ہو خواہ اس کے روحانی حالات ایسے ہوں کہ وہ دعا نہ کر سکتا ہو اور خواہ اس کے جسمانی حالات ایسے ہوں کہ وہ دعا نہ کر سکتا ہو مگر جب دس بیس افراد مل کر دعا کرتے ہیں تو اگر پانچ سات کی توجہ دعا کی طرف نہیں ہوتی تو باقی آٹھ دس افراد جو پوری توجہ اور انہماک اور گریہ و زاری کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کر رہے ہوتے ہیں اُن کی دعاؤں کی وجہ سے وہ دو یا پانچ یا سات افراد جو دعا کی طرف توجہ نہیں کر رہے ہوتے وہ بھی اپنے مدعا کو حاصل کر لیتے ہیں۔
    آثار میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ ؓ کے متعلق حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے چھوٹے بھائی نے جو آپ کے بھانجے تھے کسی موقع پر یہ دیکھ کر کہ حضرت عائشہؓ اپنے تمام اموال غرباء میں تقسیم کر دیتی ہیں اور جو کچھ آتا ہے صدقہ کرد یتی ہیں اُن کے اِس فعل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔اور چونکہ بھانجے ہی آپ کے وارث ہونے والے تھے اُس نے اِس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہہ دیا کہ حضرت عائشہؓ کو اپنا ہاتھ روکنا چاہیے،وہ اپنے مالوں کو اسراف کے طور پر بانٹتی رہتی ہیں۔ حضرت عائشہ ؓنے یہ بات سنی تو سمجھ لیا کہ یہ بات کسی جذبہ خیرخواہی کے ماتحت نہیں کہی گئی بلکہ محض ایک نفسانی خواہش کے ماتحت کہی گئی ہے۔ اس نوجوان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ اگر روپیہ اِسی طرح خرچ ہوتا رہا تو ہمیں کچھ نہیں ملے گا اس لیے حضرت عائشہؓ۔۔کو روکنا چاہیے تاکہ وہ اپنا مال جمع رکھیں اور ہمیں ملے۔ پس چونکہ یہ بات ایک نفسانی خواہش کے ماتحت کہی گئی تھی اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اِس بات کو ناپسند فرماتے ہوئے قسم کھائی کہ آئندہ میں اس بھانجے کو اپنے گھر آنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ چنانچہ انہوں نے بھانجے کو روک دیا اور اسے کہہ دیا کہ میں آئندہ تمہاری شکل دیکھنا نہیں چاہتی۔ تم میرے گھر میں مت آیا کرو۔ میرے ہاں آنے کی تمہیں اجازت نہیں ہو گی۔ انگریزی میں مثل ہے کہ ’’انگریز کا گھر قلعہ ہوتا ہے۔‘‘1 مطلب یہ کہ اُس کے گھر کے اندر کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا قلعہ مسلمان کا گھر ہے۔ انگریز کے گھر کو صرف رسم و رواج کی وجہ سے ایک پاکیزگی اور طہارت حاصل ہے لیکن مسلمان کے گھر کو خدائی قانون نے ایک قلعہ کی صورت دے دی ہے اور قرآن کریم نے نہایت واضح الفاظ میں یہ حکم دیا ہے کہ کسی کے گھر بغیر۔گھر والے کی اجازت کے کوئی شخص داخل نہیں ہو سکتا۔2 پس انگریز کے گھر کو اگر کوئی خوبی حاصل ہے تو۔صرف رسم و رواج کی وجہ سے۔ لیکن مسلمان کے گھر کو خدائی قانون اور ایک دینی حکم کی وجہ سے پاکیزگی اور طہارت حاصل ہے۔بہرحال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب فرما دیا کہ وہ میرے گھر میں نہ آیا کرے تو اب اس بھانجے کی یہ طاقت نہیں تھی کہ وہ اندر آ سکے کیونکہ قرآن کریم کا حکم اُس کے سامنے تھا کہ انسان کسی کے گھر میں اُس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا۔وہ ایک ہی بات کہہ سکتا تھا کہ مجھے اندر آنے کی اجازت دی جائے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چونکہ فرما دیا تھا کہ میں تمہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دیتی آپؓ بعد میں بھی یہی فرما سکتی تھیں کہ تمہیں آنے کی اجازت نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس بھانجے کی آمدورفت اپنی خالہ کے ہاں بند ہو گئی۔ اگر یہ بات صرف دنیوی حد تک محدود ہوتی تب بھی بھانجے پر اپنی خالہ کی ناراضگی سخت گراں گزرتی مگر یہاں صرف دنیوی بات نہیں تھی بلکہ خالہ وہ تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیوی تھیں اور جن سے ملاقات کرنے اور دعائیں لینے میں سراسر برکت اور رحمت تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھانجے پر یہ بات بہت گراں گزری اور وہ دن رات بہت غمگین رہنے لگا۔صحابہ کرامؓ نے جب دیکھا کہ اس نوجوان کی حالت خراب ہو رہی ہے تو انہوں نے کوشش کی کہ کسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے معاف فرما دیں۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور سب سے پہلے یہ معلوم کیا کہ خالہ اور بھانجے کے ملنے میں دقّت کیا ہے۔ انہیں معلوم ہوا کہ حضرت عائشہؓ۔اُسے اپنے ہاں آنے کی اجازت نہیں دیتیں اور چونکہ کوئی شخص بغیر اجازت کے کسی کے گھر نہیں جا سکتا اس لیے یہ براہ راست خالہ سے معافی نہیں مانگ سکتا۔ اِس پر صحابہؓ نے فیصلہ کیا کہ چلو کسی دن ہم بہت سے دوست مل کر جاتے ہیں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی درخواست کرتے ہیں۔ اس نوجوان کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ جب سب کو اندر آنے کی اجازت ملی تو ہمارے ساتھ اس کو بھی اجازت مل جائے گی اور پھر یہ براہ۔راست اپنی خالہ سے معافی مانگ لے گا۔ چنانچہ بہت سے صحابہؓ جن میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ بھی تھے اکٹھے ہوئے۔ ابن زبیر کو انہوں نے اپنے ساتھ لیا اور حضرت عائشہؓ کے دروازہ پر جا کر کہا کہ ہم اُمّ المومنین کی خدمت میں آپ سے کچھ بات کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کون ہیں؟ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے عرض کیا عبدالرحمٰن بن عوف اور ساتھ کچھ اَور صحابہؓ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت ہی محبوب صحابہؓ میں سے تھے۔ جب حضرت عائشہؓ نے سنا کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور ان کے ساتھ کچھ اَور صحابہؓ مل کر آئے ہیں تو انہوں نے پردہ لٹکایا اورآپ ایک طرف بیٹھ گئیں اور حکم دیا کہ اندر آ۔جاؤ۔ حضرت عائشہؓ کو پتا نہیں تھا کہ اِس ’’ہم‘‘میں ابن زبیر بھی شامل ہے۔ (یہ عبداللہ بن زبیر مشہور صحابی نہیں تھے ان کے بھائی تھے) جب اَور صحابہؓ۔۔کو اندر آنے کی اجازت مل گئی تو چونکہ ابن زبیر بھی اُن کے ساتھ ہی تھے اس لیے ان کے لیے کسی علیحدہ اجازت کی ضرورت نہ رہی اور وہ بھی اندر آگئے ۔ صحابہؓ تو ایک طرف بیٹھ گئے اور ابن۔زبیر اندر جا کر اپنی خالہ سے چمٹ گئے اور رونے لگے اور اصرار کرنے لگے کہ مجھے معاف کر دیا جائے۔ خالہ آخر خالہ ہی تھیں۔ صحابہؓ نے بھی باہر سے عرض کیا کہ ہم اِسی سفارش کے لیے حاضر ہوئے ہیں کہ اسے معاف کر دیا جائے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا میں معاف تو کر دیتی ہوں مگر میں نے جب یہ عہد کیا تھا کہ میں اپنے بھانجے کو آئندہ اپنے گھر آنے کی اجازت نہیں دوں گی تو میرے دل میں یہ خیال بھی گزرا تھا کہ آخر یہ میرا بھانجا ہے اور لوگوں نے اِس کے متعلق میرے پاس سفارشیں بھی کرنی ہیں شاید کسی وقت مجھے معاف ہی کرنا پڑے۔ اس لیے میں نے ساتھ ہی یہ عہد بھی کیا تھا کہ اگر میں نے اسے معاف کیا تو اس کے بعد میں اپنی قسم کے کفّارہ کے طور پر کچھ صدقہ دے دوں گی مگر میں نے ’’کچھ‘‘کا لفظ کہا تھا صدقہ۔کی تعیین نہیں کی تھی کہ وہ کتنا ہو گا۔ اور چونکہ دل میں شبہ رہ سکتا ہے کہ ممکن ہے ابھی پورا صدقہ ادا نہ ہوا ہو اِس لیے میں اسے معاف تو کر دیتی ہوں مگر آئندہ جو مال بھی میرے پاس آیا کرے گا میںوہ صدقہ کر دیا کروں گی3 اِس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بات بھی پوری کر لی اور اسے بھی معاف کر دیا۔ اس بھانجے کو آخر یہی اعتراض تھا کہ خالہ روپیہ جمع نہیں کرتیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اچھا میں معاف تو کرتی ہوں مگر آئندہ کوئی روپیہ اپنے پاس جمع نہیں کروں گی۔ جو کچھ آئے گا صدقہ و خیرات کر دیا کروں گی۔
    یہ واقعہ جس سبق کی طرف توجہ دلانے کے لیے میں نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ایک جدّت اختیار کی کہ وہ حضرت عائشہؓ کے بھانجے کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان سے عرض کیا کہ ہم کچھ لوگ اندر آنا چاہتے ہیں اور اس ’’ہم‘‘میں ایک مجرم بھی شامل ہو گیا اور اسے اندر آنے کی اجازت مل گئی۔ اِسی طرح نماز میں جب کوئی اکیلا شخص کھڑا ہوتا ہے اور وہ مجرم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے جاؤ اور اس کی نماز ردّ کر دو۔ اس مجرم کی نماز ہم نے کیا کرنی ہے۔ اِسی طرح ایک کمزور انسان بھی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، ایک غافل انسان بھی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے اس انسان کی مُردہ نماز کو ہم نے کیا کرنا ہے جاؤ اور اس کی نماز کو ردّ کر دو۔لیکن جب نماز باجماعت میں سب لوگ اکٹھے ہوتے ہیں تو ان میں ایک مجرم کی آواز بھی اٹھ رہی ہوتی ہے، ایک غافل کی آواز بھی اُٹھ رہی ہوتی ہے، ایک ناقص دعا کرنے والے کی آواز بھی اُٹھ رہی ہوتی ہے اور کامل توجہ اور گریہ و زاری کے ساتھ دعا کرنے والوں کی آواز بھی اللہ تعالیٰ کے حضور اٹھ رہی ہوتی ہے، جنہوں نے آسمان کو سر پر اٹھایا ہوا ہوتا ہے اور جو اپنی زاری اور اپنے گریہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازہ کو کھٹکھٹا رہے ہوتے ہیں۔ اُس وقت اُن کامل توجہ اور انہماک سے دعا کرنے والوں کے ساتھ ایک غافل، ایک کمزور اور ایک مجرم کی آواز بھی سُنی جاتی ہے کیونکہ اُس وقت خدا تعالیٰ کے حضور ایک جماعت کی آواز پیش ہورہی ہوتی ہے۔ اُس وقت کوئی انفراد ی آواز نہیں ہوتی بلکہ صرف جماعتی آواز ہوتی ہے۔ اِسی وجہ سے شریعت نے حکم دیا ہے کہ جب نماز ہو رہی ہو تو کسی شخص کو اِدھر اُدھر دیکھنے یا بولنے کی اجازت نہیں کیونکہ اُس وقت خدا تعالیٰ کے سامنے ایک جماعت کے متعدد افراد ’’ہم‘‘کہہ کہہ کر اپنی۔عرضداشت پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم تیری عبادت کرتے ہیں، ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں، ہم تجھ سے سیدھا راستہ طلب کرتے ہیں۔ ہم تجھ سے انبیاء والے انعامات مانگتے ہیں۔ جب وہ ’’ہم‘‘خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوتا ہے تو جس طرح حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور اُن کے ساتھیوں کا لفظ ’’ہم‘‘حضرت عائشہؓ کے ہاں ابن زبیر کو بھی اپنے ساتھ لے گیا اُسی طرح خداتعالیٰ کے مخلص اور مقرب اور محبوب بندوں کا ’’ہم‘‘ کمزوروں کی دعائیں بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو ردّ نہیں کرتا بلکہ قبول کر لیتا ہے کیونکہ اُس نے ’’ہم‘‘ کو یا۔بالفاظِ۔دیگر اجتماعی دعا کرنے والوں کی دعاؤں کو قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔
    پس نماز۔باجماعت نے ہم کو یہ سبق دیا ہے کہ متفقہ آواز اور متحدہ دعا اپنے ساتھ بعض زائد برکتیں رکھتی ہے۔ یہی سبق ہم کو حج میں بھی ملتا ہے۔ عمر ہ ایک ویسی ہی عبادت ہے جیسے انفرادی نماز۔ لیکن مکہ کا حج ایسا ہے جیسے نماز۔باجماعت۔ اور حج میں جو برکات ہیں وہ عمرہ میں نہیں۔ اِنہیں باتوں کو دیکھتے ہوئے میں نے مناسب سمجھا کہ ہم ربوہ کا افتتاح جلسہ سالانہ سے کریں اور خدا تعالیٰ سے اس مقام کے بابرکت ہونے کے لیے متحدہ طور پر دعائیں کریں۔ بے شک ان شامل ہونے والوں میں غافل بھی ہوں گے، سُست بھی ہوں گے، کمزور بھی ہوں گے لیکن ان لوگوں میں چُست بھی ہوں گے، مخلص بھی ہوں گے، سلسلہ کے فداکار اور جاں نثار بھی ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بھی ہوں گے۔ ان چُستوں اور فداکاروں کی آواز کے ساتھ جب کمزوروں اور ناقص دعا کرنے والوں کی آواز خدا تعالیٰ کے سامنے ’’ہم‘‘کہتے ہوئے پہنچے گی تو یقیناً اس ’’ہم‘‘میں جو برکت ہو گی وہ صرف چند افراد کے وہاں جا بسنے سے نہیں ہو سکتی۔
    پس بجائے اِس کے کہ ربوہ کا کوئی افتتاح نہ کیا جاتا اور بجائے اِس کے کہ چند افراد جو۔وہاں بس رہے ہیں اُنہی کا بسنا ربوہ کے افتتاح کے لیے کافی سمجھ لیا جاتا میں نے چاہا کہ ہمارا اِس سال کا سالانہ جلسہ ربوہ میں ہو۔ تا کہ جب ہماری جماعت کے ہزاروں ہزار افراد اس جلسہ میں شامل ہونے کے لیے آئیں تو ہمارا جلسہ بھی ہو جائے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک بہت بڑی تعداد میں اکٹھے ہو کر ہم متحدہ طور پر دعائیں کریں کہ وہ اس مقام کو احمدیت کے لیے بابرکت کرے اور اسے اسلام اور احمدیت کی اشاعت کا ایک زبردست مرکز بنا دے۔ میں۔جانتا۔ہوں کہ منتظمین کو تکلیف ہو گی اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ شاید ہمیں پورا سامان بھی وہاں میسر نہ آسکے۔ یہاں اگر کسی چیز کی ضرورت محسوس ہو تو فوری طور پر مہیا ہو سکتی ہے لیکن وہاں ایسا نہیں ہو سکتا۔ مثلاً لاہور میں سینکڑوں باورچیوں کی دکانیں ہیں۔ اگر کسی وقت کھانا کم ہو جائے اور دو تین سو افراد کو کھانا مہیا کرنے کی ڈیوٹی پر لگا دیا جائے تو میں سمجھتا ہوں دو تین گھنٹہ میں دس پندرہ ہزار آدمی کا کھانا آسانی سے مہیا ہو سکتا ہے۔ لیکن جو مقصد میرے سامنے ہے وہ اس رنگ میں پورا نہیں ہو سکتا۔ اِس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ لاہور کی بجائے ربوہ میں اِس جلسہ کا انعقاد کیا جائے۔
    باقی رہا تکلیف کا سوال سو یہ بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اُس وادیٔ۔غیرِذِی زرع میں جس میں شور پانی نکلتا ہے، اُس وادیٔ غیرِ ذِی زرع میں جس میں چالیس چالیس پچاس پچاس میل تک کھیتی کا کہیں نشان تک نظر نہیں آتا، حضرت ابرہیم علیہ السلام سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک لوگ بڑے بڑے وسیع جنگلوں میں سے گزرتے ہوئے ایسے جنگلوں میں سے جو۔صرف درندوں کے مسکن تھے، ایسے جنگلوں میں سے جہاں بعض دفعہ سَو سَو میل تک پانی کا ایک قطرہ تک میسر نہیں آتا تھا پیدل یا اونٹنیوں پر سوار اپنے مشکیزوں میں پانی اٹھائے حج کے لیے دوڑتے چلے آتے تھے اور دنوں نہیں، مہینوں نہیں، سالوں نہیں، صدیوں نہیں، ہزاروں سال تک وہ برابر ایسا کرتے چلے گئے۔ ہماری جماعت کو ایسا بے ہمت تو نہیں ہونا چاہیے کہ اگر صرف ایک دفعہ انہیں یہ کام کرنا پڑے تو وہ گھبراہٹ کا اظہار کرنے لگ جائیں۔ اِس صورت میں بھی تم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکو گے کہ عرب کے قبل از اسلام لوگوں نے جو کام دو ہزار چار سو دفعہ کیا وہ ہم نے بھی ایک دفعہ کر لیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کا زمانہ بائیس۔سوسے چوبیس سو سال تک کا ہے اور ہر سال حج ہوتا ہے۔ اس لیے اگر صرف حج کو ہی لے لیا جائے عمرہ کو جانے دیا جائے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ چوبیس سو دفعہ یہ کام ان لوگوں نے کیا۔ حالانکہ ان لوگوں میں سے اکثر وہ تھے جو زمانہ نبوت سے بہت دور تھے۔ حضرت۔ابراہیم علیہ۔السلام کی ابتدائی چند نسلوں اور رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو مستثنیٰ کرتے ہوئے درمیان میں صرف کفر اور تاریکی اور بے دینی کا زمانہ تھا۔ اُس کفر کے زمانہ میں، اُس تاریکی کے زمانہ میں، اُس۔بے دینی اور الحاد کے زمانہ میں جو کام انہوں نے چوبیس سو دفعہ کیا بلکہ اگر عمرے بھی شامل کرلیے جائیں توجو کام انہوں نے چوبیس ہزار دفعہ کیا ہمیں اگر ویسا ہی کام صرف ایک دفعہ کرنا پڑے تو۔ہمارے نفسوں پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ ہم بھی لہو لگا کر شہیدوں میں مل گئے۔
    اللہ تعالیٰ کی اپنے ہر کام میں حکمتیں ہوتی ہیں اور اس کی حکمتیں نہایت وسیع ہیں۔ دنیا ان چیزوں کو نہیں دیکھتی جن کو خدا دیکھ رہا ہوتا ہے یا جن کو خدا کے دکھانے سے اس کے فرشتے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بہت سے بیج دنیا میں بوئے جاتے ہیں مگر اُن بیجوں کے اچھا ہونے کے باوجود، زمینوں کے اچھا ہونے کے باوجود، نگرانی اور دیکھ بھال کے اچھا ہونے کے باوجود الٰہی مصلحت اور الٰہی تدبیر اُن بیجوں کو نہ اُگنے دیتی ہے نہ بڑھنے دیتی ہے نہ پھل پیدا کرنے دیتی ہے۔ مگر کئی بیج دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو سنگلاخ زمینوں اور شور بیابانوں میں بوئے جاتے ہیں۔ ان کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، ان کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، ان کو پانی دینے والا کوئی نہیں ہوتا مگر خدا تعالیٰ کی مصلحتیں اور اُس کی تقدیر اُن بیجوں کو بڑھاتے بڑھاتے بہت بڑے درختوں کی صورت میں بدل دیتی ہے۔اتنے بڑے درخت کہ ہزاروں ہزار لوگ اُن کے پھل کھاتے اور اُن کے آرام۔دہ سایہ میں ہزاروں سال تک پناہ حاصل کرتے ہیں۔ خدا کے کام خدا ہی جانتا ہے انسانی عقلیں اور تدبیریں خدا تعالیٰ کی مصلحتوں اور تدبیروں پر حاوی نہیں ہو سکتیں۔
    ہم بھی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک شور زمین میں اپنا مرکز بنائیں۔ عرش پر بیٹھنے والا خدا اورآسمان پر رہنے والے فرشتے ہی جانتے ہیں کہ ہماری اِس ناچیز، حقیر اور کمزور جدوجہد کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ہمارے لیے مشکلات بھی ہیں، ہمارے راستہ میں روکیں بھی ہیں، ہمارے سامنے دشمنیاں اور عداوتیں بھی ہیں لیکن ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے اور انسانی عقل اور انسانی تدبیر آخر بیکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں بلکہ ہم سمجھتے اور یقین ہی نہیں رکھتے ہم اپنی روحانی آنکھوں سے وہ چیز دیکھ رہے ہیں جو دنیا کو نظر نہیں آتی۔ ہم اپنی کمزوریوں کو بھی جانتے ہیں، ہم مشکلات کو بھی جانتے ہیں جو ہمارے راستے میں حائل ہیں، ہم مخالفت کے اُس اُتارچڑھاؤ کو بھی جانتے ہیں جو ہمارے سامنے آنے والا ہے، ہم اُن قتلوں اور غارتوں کو بھی دیکھ رہے ہیں جو۔ہمیں پیش آنے والے ہیں، ہم اُن ہجرتوں کو بھی دیکھ رہے ہیں جو ہماری جماعت کو ایک دن پیش آنے والی ہیں، ہم اُن جسمانی اورمالی اور سیاسی مشکلات کو بھی دیکھتے ہیں جو ہمارے سامنے رونما ہونے والی ہیں۔ مگر اِن سب دُھندلکوں میں سے پار ہوتی ہوئی اور اِن سب تاریکیوں کے پیچھے ہماری نگاہ اُس اونچے اور بلندتر جھنڈے کو بھی انتہائی شان و شوکت کے ساتھ لہراتا ہوا دیکھ رہی ہے جس کے نیچے ایک دن ساری دنیا پناہ لینے پر مجبور ہو گی۔ یہ جھنڈا خدا کا ہو گا، یہ جھنڈا محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کا ہو گا، یہ جھنڈا احمدیت کا ہو گا اور یہ سب کچھ ایک دن ضرور ہو کر رہے گا۔ بے۔شک دنیوی مصائب کے وقت کئی اپنے بھی یہ کہہ اُٹھیں گے کہ ہم نے کیا سمجھا تھا اور کیا ہو گیا۔ مگر یہ سب چیزیں مٹتی چلی جائیں گی، مٹتی چلی جائیں گی۔ آسمان کا نور ظاہر ہوتا چلا جائے گا اور۔زمین کی تاریکی دور ہوتی چلی جائے گی، اور آخر وہی ہو گا جو خدا نے چاہا۔ وہ نہیں ہو گا جو دنیا نے چاہا‘‘۔
    (الفضل 12مئی 1949ء )

    1
    :
    ‏’’MY HOME MY CASTLE‘‘
    2
    :
    (النور:28 )
    3
    :
    بخاری کتاب المناقب باب مناقب قریش

    اس دفعہ جلسہ سالانہ پر غالباً اسّی ہزار روپیہ خرچ آئے گا
    مگر اِس وقت تک چندہ صرف اٹھائیس ہزار آیا ہے
    (فرمودہ 25مارچ 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں نے گزشتہ جمعہ میں ان اوہام کے متعلق جو لوگوں کے دلوں میں ربوہ میں جلسہ کرنے کے متعلق پیدا ہو رہے ہیں کچھ باتیں بیان کی تھیں۔آج میں پھر اسی مضمون کے متعلق ایک۔اَور نقطہ۔نگاہ سے توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جلسہ سالانہ کے متعلق جو وہاں انتظامات ہو رہے ہیں میں کل اُن کو دیکھنے کے لیے ربوہ گیا تھا۔ چونکہ اُس جگہ پر کوئی رہائشی مکانات نہیں ہیں اس لیے ظاہر ہے کہ ہمیں وہاں رہائش کے لیے عارضی انتظامات ہی کرنے ہوں گے۔ چنانچہ اس غرض کے لیے میں نے انجنیئروں سے مشورہ کرنے کے بعد ساڑھے تیرہ ہزار روپیہ کی منظوری عارضی شیڈ(SHED) بنانے کے لیے دے دی ہے اور اس میں پچاس شیڈ بنائے جا رہے ہیں۔ ہر شیڈ چھیانوے فٹ لمبا اور سولہ فٹ چوڑا ہے۔ درمیان میں ستون ہیں۔ اس طرح ہر شیڈ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ ہر شیڈ میں ایک سو پچیس یا ایک سو تیس آدمی آ سکتے ہیں۔ اس طرح پچاس شیڈ میں قریباً چھ ہزار آدمی کی گنجائش ہے۔ ان میں سے بیس شیڈ مستورات کے لیے مخصوص کر دئیے گئے ہیں جن میں اڑھائی ہزار کے قریب مستورات کے رہنے کی گنجائش ہو گی۔ لیکن چونکہ جلسہ سالانہ کے ایام آنے تک موسم گرم ہو جائے گا اور لوگ غالباً پسند کریں گے کہ وہ باہر نکل کر سوئیں اس لیے خیال ہے کہ یہ عمارت تیس، چالیس بلکہ پچاس ہزار آدمی کے لیے کافی ہو گی کیونکہ صرف اسباب اندر رکھنا ہو گا سونے کے لیے لوگ باہر لیٹنا زیادہ پسند کریں گے۔ احباب کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر الگ الگ جماعتوں کو رکھا جائے تب بھی ہمارا خیال ہے کہ یہ شیڈ بارہ،پندرہ بلکہ بیس ہزار آدمی کے لیے کافی ہوں گے۔ چونکہ جماعت جب جلسہ پر آتی ہے تو بالعموم وہ اپنے چندے بھی ساتھ لاتی ہے اور بالعموم ان ایام میں اپنے گزشتہ حسابات بھی دیکھنا چاہتی ہے، اس کے علاوہ مختلف دفاتر سے لوگوں کو مختلف کام ہوتے ہیں۔ بعض کو اپنے جھگڑوں اور تنازعات کے سلسلہ میں امور عامہ کے دفتر سے کام ہوتا ہے یا رشتہ ناطہ کے لیے وہ شعبہ رشتہ ناطہ سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں یا بیت المال والوں سے وہ اپنے بجٹ کے سلسلہ میں ملنا چاہتے ہیں یا دفتر محاسب میں وہ اپنی امانتیں رکھوانا یااپنی امانتیں نکلوانا چاہتے ہیں اس لیے ان دفاتر کے لیے بھی وہاں مکانات بنانے ضروری تھے۔ چنانچہ میں نے انجنیئروں سے مشورہ کرنے کے بعد اس غرض کے لیے عارضی طور پر بارہ کمرے بنانے کا حکم دے دیا ہے اور وہیں خزانہ بنانے کی ہدایت بھی دے دی ہے۔ اس طرح جو مستقل افسر ہیں اور جن کو جلسہ سالانہ کے ایام میں رات دن کام کرنا پڑے گا اُن کے لیے بھی علیحدہ انتظام کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اس کے لیے بھی میں نے چھ مکانات الگ بنوانے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ کارکنان کو اس کے متعلق ہدایت دے دی ہے۔ یہ تمام مکانات صرف عارضی طور پر بنائے جائیں گے۔ ان پر قریباً اٹھارہ بیس ہزار روپیہ صَرف ہو گا۔لیکن اس میں سے خرچ کا کچھ حصہ سلسلہ کو واپس مل جائے گا۔ مثلاً جب یہ مکانات توڑے جائیں گے تو ان کی کچی اینٹیں کچھ تو ضائع ہو جائیں گی لیکن انجنیئروں کا خیال ہے کہ دو تہائی اینٹیں آئندہ کی ضروریات کے لیے بچ جائیں گی۔ اس طرح ان مکانات میں جو لکڑی استعمال کی جائے گی وہ بھی بچ جائے گی۔ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ نصف کے قریب خرچ واپس مل جائے گا اور صرف دس ہزار روپیہ ایسا ہو گا جو جلسہ کی خاطر خرچ ہو گا۔ میں نے یوں بھی اندازہ لگایا ہے کہ انجمن کے جو دفاتر ہیں وہ قادیان کی نسبت اب بہت بڑھ گئے ہیں۔ قادیان میں ہمارا سو کے قریب کلرک تھا لیکن اِس وقت غالباً زیادہ ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی دفتر لاہور میں ہے، کوئی چنیوٹ میں ہے اور کوئی احمد نگر میں ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے دفاتر اب دو ملکوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ گویا ہمارے دفتروں کا کام پہلے کی نسبت بہت بڑھ گیا ہے بلکہ اب تو ایک مستقل دفتر حفاظتِ مرکز کے لیے ہی قائم ہو چکا ہے۔ اور اس کا کام یہی ہے کہ قادیان کے متعلق جو مشکلات پیدا ہوں اُن کا ازالہ کرے، گورنمنٹ سے خط۔وکتابت کرے، جماعتوں کو قادیان کے حالات سے باخبر رکھے اور ہر قسم کا ضروری ریکارڈ جمع کرتا رہے۔ پھر چونکہ قادیان کی صدر انجمن احمدیہ بھی قائم ہے، اس کے دفاتر الگ ہیں مگر اُن دفاتر کا صرف خرچ کے ساتھ تعلق ہے۔ ربوہ میں مکانات کی تعمیر یا صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے ساتھ اُن کا کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح تحریک جدید کے بہت سے کارکنان ہیں۔ ان سب کارکنوں کو اگر ملایا جائے تو ہزار بارہ سو تک ان کی تعداد پہنچ جاتی ہے اور ان کی رہائش کے لیے کم سے کم اڑھائی تین سو مکانات کی ضرورت ہے۔ اب تو ہمارے تین مکان لاہور میں ہیں۔ ہمارا کالج بھی نہیں ہے۔ کچھ مکانات چنیوٹ میں ہیں، چالیس پچاس مکانات احمدنگر میں ہیں اور کچھ حصہ کارکنوں کا خیموں میں رہتا ہے۔ جب دفاتر اکٹھے ہوں گے تو ہمیں ضرورت ہو گی کہ ان کے لیے اڑھائی سو خیمہ لگوایا جائے۔ اور اگر اڑھائی سو خیمہ لگوا دیا جائے تب بھی اول تو خیموں میں وہ آرام میسر نہیں آسکتا جو مکانات میں ہوتا ہے۔ دوسرے اگر اڑھائی سو خیمہ خریدا جائے تو سَوا لاکھ روپیہ میں آتا ہے۔ ان خیموں کو اگر دوبارہ مکانات بننے پر بیچ بھی دیا جائے تب بھی ساٹھ ستّر ہزار کا نقصان ہمیں برداشت کرنا پڑے گا۔ اور اگر اڑھائی سو خیمہ کرایہ پر لیا جائے تو اٹھارہ روپیہ ماہوار پر ایک خیمہ ملتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ 4500 روپیہ ماہوار صرف کرایہ پر صَرف ہو گا۔ اگر یہ خیمے ایک سال تک رکھے جائیں جب تک ہماری عمارتیں مکمل نہ ہو جائیں تو چون ہزار روپیہ سالانہ صرف کرایہ پر خرچ آ جائے گا اور پھر ان خیموں کے پہنچانے اور واپس لانے میںجو خرچ ہو گا وہ بھی چار چار پانچ پانچ روپیہ فی خیمہ سے کم نہیں ہو سکتا۔ ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے مَیں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم ان عارضی عمارتوں کو جو جلسہ سالانہ کے لیے بنائی جا رہی ہیں بعد میں توڑیں نہیں بلکہ اسی طرح رہنے دیں تو ہمارا بیس ہزار روپیہ جو ان عمارتوں پر خرچ ہو گا اس میں سے دس ہزار روپیہ تو۔یقیناً۔جلسہ۔سالانہ کے لیے خرچ ہونا تھا۔ باقی دس ہزار روپیہ جو لکڑی اور اینٹوں کی صورت میں ہمیں واپس مل سکتا تھا وہ ان عمارتوں کو سال بھر قائم رکھ کر ہمارے دفاتر اور کارکنوں کو اکٹھا رکھنے میں کام آ۔سکتا ہے۔ میں نے اندازہ لگایا ہے کہ فی بیرک چھ چھ مکان بن سکتے ہیں اور چونکہ پچاس۔بیرکیں ہیں اس لیے بعد میں بڑی آسانی سے تین سو مکان بن سکتا ہے۔ اگر ہم ان مکانات کو سال بھر رہنے دیں تو دس ہزار روپیہ کا نقصان اٹھانے کی بجائے ہمیں کم سے کم چالیس ہزار روپیہ کی بچت ہو گی۔ اگر ہم خیمے لگائیں تو ہمیں پچاس ہزار روپیہ سالانہ کرایہ ادا کرنا پڑے گا ۔اور اگر ہم خیمے خرید کر سال بھر کے بعد بیچیں تو ہمیں ساٹھ ستّر ہزار روپے کا گھاٹا برداشت کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر یہ شیڈ اور مکانات اِسی طرح پر کھڑے رہیں اور چھ چھ مکان فی بیرک بنا دئیے جائیں توتین سو مکان بن جائے گا۔ ان پچاس شیڈوں کے علاوہ جو عارضی مکانات وہاں جلسہ۔سالانہ کے لیے بنائے جا رہے ہیں جن میں دفاتر بھی ہوں گے، ناظروں کے لیے مکانات بھی ہوں گے، پرائیویٹ سیکرٹری کا بھی دفتر ہو گا اور میرا مکان بھی ہو گا اس پر ہمارے اخراجات کا اندازہ چارہزار روپیہ ہے کیونکہ بہرحال کسی چھوٹی سی جگہ میں یہ سارے دفاتر نہیں آ سکتے۔ دس بارہ افسروں کے لیے جگہ کی ضرورت ہو گی۔ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے لیے جگہ کی ضرورت ہو گی اور پھر میری رہائش کے لیے جگہ کی ضرورت ہو گی۔ اس کے لیے ہم نے جو نقشہ تجویز کیا ہے اس کے مطابق چار۔ہزار۔روپے خرچ کا اندازہ ہے۔ اور اگر اس خرچ کو پورے سال پر پھیلا دیا جائے تو ساڑھے تین سو روپیہ ماہوار کا خرچ ہے جو سلسلہ کو برداشت کرنا پڑے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جلسہ۔سالانہ کے فوراً بعد ہم دفاتر وہاںمنتقل کرنا شروع کر دیں اور موجودہ عارضی عمارات کو قائم رکھیں تو بجائے نقصان کے ہمیں تیس چالیس ہزار روپیہ کا فائدہ رہے گا۔ اور پھر مزید فائدہ یہ ہو گا کہ سب کارکن اکٹھے رہیں گے اور کام میں پہلے کی نسبت زیادہ ترقی ہو گی۔
    میں نے یہ ساری تمہید اس لیے باندھی ہے کہ اِس وقت جلسہ سالانہ کے انتظامات کے سلسلہ میں صرف رہائش پر بیس ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ ہے۔ کھانے پینے کا خرچ اس سے الگ ہے۔ ہماری جماعت کے نمائندگان نے مجلس شورٰی میں متفقہ طور پر یہ کہا تھا کہ اگر ساری جماعت اپنی ماہوار آمدن کا دس فیصدی حصہ چندہ جلسہ سالانہ کے لیے پیش کر دے تو اس کے بعد یہ۔ضرورت۔نہیں رہتی کہ اس کی نسبت دس سے پندرہ فیصدی تک بڑھا دی جائے اور میں نے جماعت کے اس مشورہ کو قبول کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ جماعتیں دس فیصدی کے حساب سے چندہ جلسہ سالانہ ادا کیا کریں۔ اگر دس فیصدی چندہ دینے کے بعد بھی ضروریات پوری نہ ہوں تو۔اس کے بعد اسے پندرہ فیصدی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ ہم نے جب حفاظتِ۔مرکز کے سلسلہ میں اپنی جماعت کی ماہوار آمدن کا اندازہ لگایا تو جو ادھورا اور ناقص اندازہ ہمیں معلوم ہوا وہ اندازہ جو کسی اَور شخص نے نہیں بلکہ افرادِجماعت نے خود اپنے متعلق پیش کیا تھا وہ سَوا لاکھ روپیہ ماہوار کا تھا۔ یہ اندازہ یقیناً ناقص اور ادھورا تھا۔ بہت سے افراد ایسے تھے جنہوں نے اپنی آمدنیں نہ بتائیں اور۔بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی کمزوری کی وجہ سے کم آمدنی بتائی۔ درحقیقت کسی صورت میں بھی ہماری جماعت کی ماہوار آمد پچیس لاکھ روپیہ سے کم نہیں اور پچیس لاکھ پر دس فیصدی چندہ جلسہ۔سالانہ کے معنے اڑھائی لاکھ روپیہ کے بنتے ہیں لیکن اگر اسی آمد کو صحیح سمجھ لیا جائے جو جماعت کے افراد کی طرف سے پیش کی گئی تھی تب بھی دس فیصدی کے حساب سے ایک لاکھ پینتیس ہزار روپیہ چندہ جلسہ کے لیے جمع ہونا چاہیے۔ مجھے لاہور کی انجمن کا ہی چندہ معلوم ہے کیونکہ میں نے خود رجسٹر دیکھے ہیں۔ یہاں کی جماعت کی ماہوار آمد جو رجسٹروں میں درج ہے وہ پچاس ہزار روپیہ ہے۔ دس فیصدی کے لحاظ سے پانچ ہزار روپیہ صرف لاہور کی جماعت کی طرف سے آنا چاہیے۔ اور۔ابھی سارے پاکستان میں مشرقی پاکستان میں بھی اور مغربی پاکستان میں بھی بڑی بڑی جماعتیں ہیں۔ اُن سب کے چندے اگر اِسی نسبت سے اکٹھے ہوں تو یقیناً ایک بہت بڑی رقم جمع ہو سکتی ہے۔ مگر مجھے یہ معلوم کر کے بہت تعجب اور افسوس ہوا کہ جلسہ سالانہ کے لیے اس وقت صرف ساڑھے اٹھارہ ہزار روپیہ آیا ہے۔٭ یعنی مہمانوں کے ٹھہرانے کے لیے جو عارضی شیڈ بنائے جارہے ہیں اُن کے بنانے میں بھی ہمیں ڈیڑھ ہزار روپیہ کا گھاٹا رہے گا حالانکہ کسی اَور کے اندازہ کے رُو سے نہیں بلکہ ہماری جماعت کے خود اپنے اندازہ کے مطابق ایک لاکھ تیس ہزار روپیہ صرف دس فیصدی کے حساب سے آنا چاہیے تھا۔ یہ سُستی اور غفلت ہماری جماعت میں گزشتہ سالوں میں نظر نہیں آیا کرتی تھی۔ قادیان میں جلسہ ہوتا تھا تو گو اُس وقت بھی چندے میں کمی رہتی تھی مگر۔بہرحال وہ اتنی نہیں ہوتی تھی جتنی اِس وقت ہے۔ اُس وقت سینتالیس اڑتالیس ہزار کے قریب چندہ ہو جاتا تھا اور ساٹھ ہزار کے قریب خرچ ہوتا تھا۔ مگر اِس دفعہ جب کہ رہائش کے لیے ہم نے مکانات بھی بنانے ہیں اور اخراجات پہلے سے بڑھ گئے ہیں بجائے اِس کے کہ سینتالیس اڑتالیس ہزار روپیہ آتا اِس وقت تک صرف ساڑھے اٹھارہ ہزارروپیہ٭ چندہ آیا ہے۔ میں جماعتوں کو اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں یہ سُستی اور غفلت جلد سے جلد دور کرنی چاہیے۔ اور چونکہ لاہور کی جماعت میرے سامنے بیٹھی ہے قدرتی طور پر میںسب سے پہلے لاہور کی جماعت کو مخاطب کرتا ہوں۔ قادیان میں بھی جب میں خطبہ پڑھا کرتا تھا تو چونکہ قادیان کی جماعت ہی میرے سامنے ہوتی اس لیے سب سے پہلے میں اُس کو مخاطب کیا کرتا تھا اور وہ اس پر چِڑا نہیں کرتی تھی بلکہ خوش ہوتی تھی کہ اُسے دوسروں سے پہلے دین کی خدمت میں حصہ لینے کا موقع مل رہا ہے۔ مگر یہاں آ کر مجھے یہ ایک نیا تجربہ ہوا ہے۔ سارے لوگوں کے متعلق نہیں بلکہ بعض لوگوں کے متعلق کہ اگر اُنہیں اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ بُرا مناتے ہیں۔ مگر بہرحال میرے لیے مجبوری ہے جو لوگ میرے سامنے بیٹھے ہوں گے وہی میرے پہلے مخاطب ہوں گے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میرے سامنے تو تم بیٹھے ہو اور میری پہلی مخاطب کوئی اَور جماعت ہو۔
    پس سب سے پہلے میں لاہور کی جماعت کو اور پھر باقی جماعتوں کو اِس فرض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ اگرتمام جماعتیں اپنے اس فرض کو ادا کریں تو یقیناً اِس چندے کی ادائیگی اُنہیں کوئی بوجھ محسوس نہیں ہو گی۔ حقیقتاً اگر ساری جماعت کی ماہوار آمدن تیرہ لاکھ ہی فرض کی جائے (گوجیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ اندازہ بالکل غلط تھا) تب بھی ایک لاکھ پینتیس ہزار روپیہ آنا چاہیے تھا۔ اور اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ جماعت میں کچھ کمزور بھی ہوتے ہیں جو پورا چندہ نہیں دے سکتے ہیں اور صرف پانچ فیصدی کے حساب سے چندے کا اندازہ لگایا جائے تو اِس حساب سے بھی پینسٹھ ہزار روپیہ آنا چاہیے تھا مگر آیا صرف ساڑھے اٹھارہ ہزار روپیہ خہے جو ایک نہایت افسوس ناک امر ہے۔ ہمارا جلسہ ہر سال ہوتا ہے اور اِس جلسہ کی غرض یہ ہے کہ جماعت کے اخلاص اور اُن کے ایمانی جوش کو بڑھایا جائے مگر ہر جلسہ پر دس بارہ ہزار روپیہ کا نقصان ہو جاتا ہے اور اِس دفعہ تو خرچ غالباً اسّی ہزار روپیہ کے قریب ہو گا اور آمد ساڑھے اٹھارہ ہزار ٭ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی وقت ہے اور جماعتیں جلسہ سالانہ سے پہلے اپنا چندہ بھجوا سکتی ہیں لیکن جس نسبت اور رفتار سے یہ چندہ آ رہا ہے وہ بہت افسوسناک ہے اور اس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہماری جماعت اس بوجھ کے اٹھانے میں غفلت کا ارتکاب کر رہی ہے۔ ممکن ہے کہ چونکہ نیا انتظام ہے اور وہاں نئے سرے سے ہی تمام انتظامات ہوں گے اور رہائش کے لیے مکانات بھی نہیں ہوں گے اس لیے کچھ لوگ رہائش کے لیے سہولتیں نہ پاتے ہوئے اور کچھ کھانے پینے کی دقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ آئیں۔اس کے علاوہ ہم اِس سال غیراحمدیوں کو بھی عام دعوت نہیں دے رہے کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہ ممکن ہے بعد میں انہیں یہ شکایت پیدا ہو کہ ہمیں اچھا کھانا نہیں ملا یا ہماری رہائش کا خاطر۔خواہ انتظام نہیں کیا گیا صرف احمدیوں کو شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں ۔اور چونکہ اُن کو بھی علم ہے کہ وہاں رہائش اور کھانے پینے کے لحاظ سے دقتیں ہوں گی اس لیے ممکن ہے بعض لوگ نہ آئیں۔ چنانچہ جہاں قادیان میں تیس ہزار آدمی ریل کے ذریعہ اور آٹھ دس ہزار آدمی پیدل آ جاتا تھا وہاں موجودہ سال ہم نے ربوہ میں دس ہزار آدمیوں کے آنے کا اندازہ لگایا ہے۔ پس ممکن ہے کہ اخراجات بوجہ اِس کے کہ لوگ کم آئیں تھوڑے ہوں لیکن بہرحال اِس نئی صورت میں خواہ لوگ کم آئیں یا زیادہ عمارتوں کے اخراجات کے لیے بیس ہزار روپیہ ضرور صَرف ہونا ہے۔
    اِس طرح بعض اَور اخراجات ایسے ہیں جو کسی صورت میں بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ مثلاً پانی کا انتظام ہے۔ ربوہ میں پانی نہیں ملتا۔ چھ میل پر سے پانی لانا پڑے گا۔ پانی کے لیے ٹینکیاں بنانی ہوں گی،ٹرک رکھنے پڑیں گے، نئے نلکے لگوانے پڑیں گے اور اس پر بارہ تیرہ ہزار روپیہ خرچ ہو گا۔ اور پانی چونکہ وقت پر مہیا نہیں ہو سکتا اِس لیے قطع نظر اِس کے کہ کتنے آدمی آئیں گے پانی کا انتظام کرنا ہو گا۔ پس اِس خیال سے کہ لوگ کم آئیں گے ہمیں اِس چندہ میں کمی نہیں آنے دینی چاہیے کیونکہ بعض قسم کے اخراجات ایسے ہیں جو لازمی ہیں اور وہ ضرور ہوں گے۔پھر میں تو اِس بات کا قائل ہی نہیں کہ کوئی انسان محض وہموں کی وجہ سے اپنے فرض کو ادا نہ کرے۔ ہزاروں ہزار مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ لوگ سخت خطرہ کی حالت میں بھی اپنے گھروں کی ذمہ داریوں کو نہیں بُھولتے۔ توپیں چل رہی ہوتی ہیں، گولے برس رہے ہوتے ہیں، عمارتوں کو آگ لگ رہی ہوتی ہے، شہر خالی ہو رہے ہوتے ہیں مگر عورتیں نکلتی ہیں تو پان کھانے کی شوقین عورتیں کہتی ہیں اپنے ساتھ پان کی دس گلوریاں تو رکھ لیں تا کہ رستہ میں کام آئیں۔ اِسی طرح شہر خالی ہو رہے ہوتے ہیں تو عورتیں اپنے بچوں کے لیے روٹیاں لگانے یا پنجیری بنانے میں مشغول ہوتی ہیں حالانکہ وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ ممکن ہے پانچ دس منٹ کے بعد وہ سب قتل کر دئیے جائیں۔ جب دنیوی معاملات میں اپنی ذمہ داریوں کو بُھولا نہیں جاتا تو کیا وجہ ہے کہ ہم دین کے معاملات میں محض وہموں کی وجہ سے اپنی تیاری کو چھوڑ دیں۔ جو ہونا ہے وہ بہرحال ہو کر رہنا ہے۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ اگر بُرا بھی ہونا ہے تو ہم اپنی آنکھیں بند کر کے اُس کام میں لگے رہیں جو خدا نے ہم پر ڈالا ہے اور آخر وقت تک اپنے فرائض کو ادا کرتے چلے جائیں۔ کام کرتے جانا ہمارا کام ہے نتائج نکالنا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ مگر اِس کے ساتھ ہی ہمیں اُس کے وعدوں پر کامل یقین ہونا چاہیے اور اس یقین کو آخر وقت تک قائم رکھنا چاہیے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! میرے بھائی کے پیٹ میں تکلیف ہے۔ اُسے دست آ۔رہے ہیں میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا جاؤ اور اُسے شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور اُس نے شہد پلایا مگر دست بجائے کم ہونے کے اَور بھی زیادہ ہو گئے۔ وہ دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور۔اُس نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! میرے بھائی کے دست تو شہد پلانے سے اَور بھی بڑھ گئے ہیں۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اَور شہد پلاؤ۔ وہ پھر گیا اور اُس نے شہد پلایا مگر دست اَور بھی بڑھ گئے۔ اِس پر وہ پھر واپس آیا اور اُس نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! میرے بھائی کے دست تو اَور۔بھی بڑھ گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ۔اور۔اَور شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور پھر اُس نے شہدپلایا مگر اِس دفعہ اُسے پہلے سے بھی زیادہ اسہال کی شکایت ہو گئی۔ وہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! شہد پلانے سے تو دست اَور بھی بڑھ گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے خدا کا کلام سچا ہے۔1 آپ کا مطلب یہ تھا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے شہد کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ۔ 2اس میں لوگوں کے لیے شفاء رکھی گئی ہے۔ جب خدا نے اسے شفاء قرار دیا ہے تو اس کے بعد بھی اگر تیرے بھائی کے دستوں کو آرام نہیں آیا تو۔میں تو یہی سمجھوں گا کہ تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹ بولتا ہے خدا تعالیٰ نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل درست ہے۔دیکھو بظاہر یہ بات کتنی عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن ایمان کا کیسا عظیم الشان مظاہرہ ہے۔ اسے دست آ رہے ہیں، بیمار شکایت کرتا ہے کہ میرے دست بڑھ گئے ہیں، تیماردار کہہ رہے ہیں کہ دستوں کی تکلیف زیادہ ہو گئی ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا پیٹ جھوٹ بولتا ہے۔ خدا نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل سچ ہے۔
    ہمارے زمانہ کا بھی ایک واقعہ بالکل اِسی قسم کا ہے۔ خواجہ غلام فرید صاحب چشتی چاچڑاں شریف والے جو بہاولپور کے نواب صاحب کے پیر تھے ایک دفعہ دربار میں بیٹھے تھے کہ آتھم کی پیشگوئی کا ذکر آ گیا۔ آتھم کی پیشگوئی کا وقت گزر چکا تھا۔ عیسائی ہنسی اُڑا رہے تھے اور بعض نادان مسلمان بھی اپنی بیوقوفی کی وجہ سے عیسائیوں کے ساتھ مل کر اس پیشگوئی پر ہنسی اُڑاتے تھے۔ دربار لگا ہوا تھا، نواب صاحب بیٹھے تھے کہ درباریوں میں سے بعض نے اِس پیشگوئی کا ذکر کیا اور پھر مذاق کرنے شروع کر دئیے کہ مرزا صاحب نے یوں کہا تھا مگر ہوا اِس طرح۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد نواب صاحب نے بھی ہنسی میں حصہ لینا شروع کر دیا اور انہوں نے بھی اِس پیشگوئی کے متعلق تمسخر آمیز رنگ میں گفتگو شروع کر دی۔ اِس پر میاں غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ سجادہ۔نشین۔چاچڑاں کو سخت غصہ آ یا اور وہ نواب صاحب سے کہنے لگے آپ کو شرم نہیں آتی کہ آپ ایک عیسائی کی تائید میں بات کرتے ہیں اور جو شخص اسلام کی طرف سے مدافعت کے لیے کھڑا ہوا تھا اُس کی تحقیر کرتے ہیں!! پھر وہ اَور زیادہ جوش میں آ گئے اور کہنے لگے کون کہتا ہے کہ آتھم زندہ ہے؟ مجھے تو وہ مُردہ نظر آتا ہے اور میں تو اُس کی لاش اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ حالانکہ وہ بظاہر اُس وقت زندہ تھا اور مرا ہوا نہیں تھا۔ مگر انہوں نے کہا جب خدا نے کہا ہے کہ وہ مر گیا ہے تو۔تمہیں اگر وہ زندہ نظر آتا ہے تو تمہاری آنکھیں جھوٹی ہیں۔
    حقیقت یہی ہے کہ جس شخص کا دل ڈر گیا، جس نے اسلام اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کرنے سے توبہ کر لی، جس نے متواتر چیلنج دینے کے باوجود ایک دفعہ بھی یہ کہنے کی جرأت نہ کی کہ میں نہیں ڈرا اُسے کون زندہ کہہ سکتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے غیرت دلانے کے لیے بار بار انعامی اشتہارات شائع فرمائے۔ یہاں تک کہ ان انعامات کو ایک ہزار سے لے کر چار ہزار روپیہ تک پہنچا دیا اور لکھا کہ اگر تمہارے دل میں ندامت پیدا نہیں ہوئی اور تم نے اپنے پہلے رویہ سے توبہ نہیں کی تو اَب مؤکّدبعذاب حلف اٹھا کر اِس کا اعلان کرو اور مجھ سے انعام میں چار ہزار روپیہ لے لو۔ مگر اُس نے آپ کے اشتہارات میں سے کسی ایک اشتہار کا بھی جواب نہ دیا۔ پس وہ مر چکا تھا، اس کے اندر زندگی کا کوئی سانس نہیں تھا اور نادان تھے وہ لوگ جو اُسے زندہ سمجھتے تھے۔ اس لیے چاچڑاں والوں نے کہا تمہیں زندہ نظر آتا ہو گا مجھے تو اُس کی لاش اپنے سامنے نظر آتی ہے۔ اِس طرح سلسلہ کی ترقی اور اس کی عظمت کے متعلق ہمارا ایمان ہونا چاہیے۔
    اگر ہماری جماعت پر کوئی ابتلا ایسا آتا ہے جس سے بظاہر جماعت کو ایک دھکّا لگتا ہے، اس کا شیرازہ پراگندہ ہو جاتا ہے، اس کے اموال و املاک کا ضیاع ہو تا ہے تب بھی ہمارا فرض ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے یہ کہے کہ جماعت گر رہی ہے تو ہم اُسے کہیں تم جھوٹ بولتے ہو۔ جب خدا نے کہا ہے کہ وہ ہمارے سلسلہ کو ترقی دے گا تو جو کچھ خدا نے کہا وہی ٹھیک ہے۔ اب بھی ہمارے سلسلہ کی ترقی ہی ہو رہی ہے۔ جب تک یہ رنگ ہمارے اندر پیدا نہیں ہو گااُس وقت تک ہمارا ایمان کا دعوٰی بالکل بے حقیقت اور عبث چیز ہو گا۔ اگر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ بھال کر پہلے کیوں نہ پیشگوئیاں کیں یا حضرت مسیح موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام نے جب دعوٰی فرمایا تھا اُس وقت ہم نے اپنی آنکھوں سے تمام حالات دیکھ کر احمدیت کے مستقبل کے متعلق کوئی پیشگوئی کیوں نہ کر لی۔ اگر اُس وقت ہم اپنی آنکھوں سے کام لیتے تو یہی کہتے کہ یہ شخص جو ایک ایسے گاؤں میں بیٹھا ہے جہاں نہ ریل آتی ہے نہ تار آتی ہے، نہ لوگوں کی آمدورفت کا کوئی سامان ہے نہ متمدن دنیا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور دعوٰی یہ کرتا ہے کہ میں۔مامور ہوں۔ یہ پانچ سات سال میں ہی نعوذ باللّٰہ ذلیل اور ناکام ہو کر مر جائے گا۔ پس حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اگر ہم نے دیکھا ہے تو اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی آنکھوں سے دیکھا ہے اور یہی ہمارے ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ اِسی طرح سلسلہ کی آئندہ ترقی ہم اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
    بے شک ہماری جماعت پر ایک بہت بڑا ابتلاء آیا ہے،بے شک ہمیں نظر آتا ہے کہ۔جماعت اپنے مرکز سے نکال دی گئی، غیرمسلموں نے اس پر قبضہ کر لیا، قادیان میں رہنے والوں کو محصور کر لیا گیا، ان کی جائیدادیں چھین لی گئیں اور سلسلہ کے ادارے بند کر دئیے گئے۔ یہ سب کچھ نظر آتا ہے مگر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان تمام حالات کو دیکھنے کے باوجود یہ کہتے چلے جائیں کہ وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ قادیان پر اِنڈین یونین کا قبضہ ہے۔ وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ قادیان پر سکھوں کا قبضہ ہے۔ وہاں ہمارا ہی قبضہ ہے۔ زمین ٹل جائے گی آسمان ٹل جائے گا مگر ہمارا قبضہ اُس مقام سے کبھی نہیں ٹلے گا کیونکہ ہم نے قادیان کی ترقی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا بلکہ خدا تعالیٰ کی آنکھوں سے دیکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے یہی کہا ہے کہ وہاں ہمارا ہی قبضہ رہے گا۔ اِس طرح کہنے والے کہیں گے کہ ربوہ میں کون آئے گا؟ ہم کہتے ہیں اَور کوئی نہ آئے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آئیں گے اور ہم ان فرشتوں کے لیے یہ عمارتیں بنوارہے ہیں۔ کہنے والے کہیں گے کہ کون آئے گا؟ ہم کہتے ہیں خدا آئے گا اور وہ اس زمین کو اپنی برکت سے بھر دے گا اور یقیناً ہر مومن اپنے اس فرض کو سمجھتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس پر عائد ہوتا ہے اپنے چندوں اور قربانیوں میں بڑھتا چلا جائے گا۔ بے شک وہ لوگ بھی ہوں گے جو کہیں گے کہ تم اپنے مال کو ضائع کر رہے ہو مگر درحقیقت تم اپنے مال کو ضائع کرنے والے نہیں ہو گے۔ تم ایک بیج بو رہے ہو گے، تم اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی ترقی کے لیے ایک کھیتی تیار کر رہے ہو گے۔ آخر میں وہ لوگ جو تم پر ہنسی اُڑانے والے ہیں فاقوں سے مر رہے ہوں گے اور تم جنہیں یہ کہا جاتا ہے کہ اپنا مال ضائع کر رہے ہو تم کھیتوں سے غلّہ بھر بھر کر اپنے گھروں میں لا رہے ہو گے۔ وہ غلّہ جو تمہاری خوشحالی کا بھی موجب ہو گا اور دنیا کے امن اور اس کی آسائش کا بھی موجب ہو گا۔
    پس جماعت کو قربانی کے مواقع پر اپنے اردگرد کے حالات اور دنیا کے تغیرات سے خائف نہیں ہونا چاہیے۔ا گر واقع میں تم نے خدا کے لیے اِس سلسلہ کو قبول کیا ہے تو کیا خدا نے اِس سلسلہ کی ترقی کا وعدہ کرتے وقت جھوٹ بولا تھا؟ اُس نے جو کچھ کہا تھا سچ کہا تھا۔ تمہارے دل میں اگر اس کے متعلق کوئی شبہ پیدا ہوتا ہے تو کیوں تم وہی کچھ نہیں کہتے جو چاچڑاں شریف کے بزرگ نے کہا تھا۔ یعنی تم کو آتھم زندہ نظر آتا ہو گا مجھے تو وہ مُردہ نظر آتا ہے اور میں تو اپنی آنکھوں سے اُس کی لاش دیکھ رہا ہوں۔ تم بھی کہو کہ ہماری آنکھیں غلطی کر رہی ہیں، ہمارا دل غلطی کر رہا ہے، ہمارا۔دماغ غلطی کر رہا ہے مگر خدا غلطی نہیں کرتا۔ جو کچھ وہ کہتا ہے سچ کہتا ہے۔ جو کچھ ہمارا دل کہتا ہے وہ جھوٹ ہے اگر وہ اس کے خلاف محسوس کرتا ہے۔ جو کچھ ہمارا دماغ کہتا ہے وہ جھوٹ ہے اگر وہ اس کے خلاف رائے رکھتا ہے۔ سچ وہی ہے جو خدا نے کہا ۔ پس اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اور اپنے عقیدہ کی شہادت کے طور پر اپنی قربانیوں کے معیار اور اپنے کاموں کی رفتار کو اَور بھی بڑھاؤ تا دنیا کو یہ محسوس ہو کہ جماعت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتی، اپنے دل سے کوئی رائے قائم نہیں کرتی، اپنے دماغ کے پیچھے نہیں چلتی بلکہ صرف خدا تعالیٰ کی طرف اپنی نگاہ رکھتی ہے۔ جب دنیا نہیں دیکھتی اُس وقت تک تم دیکھتے ہو۔ جب دنیا مایوس ہو رہی ہوتی ہے اُس وقت تم پُر امید ہوتے ہو۔ جب دنیا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہوئی ہوتی ہے اُس وقت تم اپنے قدم اٹھائے اَور بھی تیز رفتاری کے ساتھ چلنا شروع کر دیتے ہو۔ یہ کیفیت تم اپنے اندر پیدا کر لو تو یقیناً خدا تعالیٰ کے فضل پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے تم پر نازل ہونے لگیں گے‘‘۔ (الفضل 3؍اپریل1949ء )

    1
    :
    بخاری کتاب الطب باب الدواء بالعسل
    2
    :
    النحل:70

    نماز روحانیت کا ستون ہے تربیت اولاد اور
    والدین کی ذمہ داریاں

    (فرمودہ یکم اپریل 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’دینا تو میں نے آج کچھ اَور خطبہ تھا لیکن یہاں آنے کے بعد بعض نوجوانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر میں نے اپنا موضوعِ تقریر بدل لیا۔
    نماز اسلامی فرائض میں سے ایک نہایت ہی اہم فرض ہے اور حقیقت یہ ہے کہ روحانیت کا ستون نماز ہی ہے۔ جس نے ٹھیک طور پر نماز پڑھی اُس کا دل قائم ہوگیا اور جس کا دل قائم ہوگیا اُس کی روحانیت بھی قائم ہوگئی۔ اور جس نے ٹھیک طور پر نماز نہیں پڑھی اُس کا دل قائم نہیں ہوا اور جس کا دل قائم نہیں ہوا وہ سچے طور پر مسلمان بھی نہیں کہلا سکتا۔وہ ایک ایسوسی ایشن کا ممبر تو ہے، وہ ایک مجلس کا ممبر توکہلا سکتا ہے مگر وہ ایک مذہبی آدمی نہیں کہلا سکتا۔ اور نماز پڑھنے اور ٹھیک طور پر پڑھنے میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ نماز بسااوقات ایک ایسا انسان بھی پڑھ لیتا ہے جسے مذہب سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ لوگ دہریہ ہوتے ہیں، اسلام کے عملی طور پر منکر ہوتے ہیں مگر بوجہ اس کے کہ وہ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں نماز پڑھ لیتے ہیں۔ بلکہ بعض پانچوں وقت نمازیں پڑھتے ہیں مگر پوچھو تو وہ خداتعالیٰ کے قائل نہ ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم جس سوسائٹی میں رہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے طریقوں پر عمل کریں۔ ہم انگریزوں میں جاتے ہیں تو کوٹ پتلون پہنتے ہیں، چُھری کانٹے سے کھانا کھاتے ہیں مگر ہم انگریز نہیں بن جاتے۔ اس لیے کہ جس سوسائٹی میں ہم رہیں ہمارا کام یہی ہے کہ ہم اُس کے دستور اور رسم و رواج کو مدنظر رکھیں۔ جس طرح ہم مغربی طریق اختیار کرنے کی وجہ سے یورپین نہیں بن جاتے اِسی طرح نماز پڑھ کر ہم مسلمان نہیں بن جاتے۔ ہم مغربی طریق اس لیے اختیار کرتے ہیں تا مغربی لوگوں کی انگلیاں ہماری طرف نہ اٹھیں اور ہم مجلس میں انتشار پیدا کرنے کا موجب نہ بن جائیں۔اِسی طرح ہم مسلمانوں میں آکر نماز پڑھ لیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی انگلیاں ہماری طرف نہ اٹھیں اور ہم مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کا موجب نہ بن جائیں۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔1 یعنی کچھ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر اُن کی نماز ثواب کا موجب نہیں ہوتی، اُن کی نماز رضائے الٰہی کے حاصل کرنے کا موجب نہیں ہوتی۔ اُن کی نماز ایک بیکار اور لغو فعل بھی نہیں ہوتی بلکہ اُن کی نماز بے کار اور لغو فعل سے آگے بڑھ کر گناہ کا موجب ہو جاتی اور خداتعالیٰ کا غضب اُن کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ پس ایک نماز ایسی بھی ہوتی ہے۔ اور ایک نماز ایسی بھی ہوتی ہے جو محض رسمی ہوتی ہے۔ انسان اس میں سے ایسے گزر جاتا ہے جیسے چکنے گھڑے پر سے پانی گزر جاتا ہے اور اُس پر کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ اگر کہیں کہیں کوئی قطرہ نظر بھی آئے تو وہ گھڑے کی حرکت وغیرہ سے فوراً گر جاتا ہے۔ لیکن حقیقی نماز وہ ہوتی ہے جس کے ظاہر کو بھی محفوظ رکھا جائے اور اس کے باطن کو بھی محفوظ رکھا جائے۔ یعنی نہ تو جلد جلد پڑھی جائے، نہ اس کی عبادت کو نظرانداز کیا جائے اور نہ اس میں غیرضروری حرکات کی جائیں۔ طبعی حرکات بھی بعض دفعہ غیرضروری ہوجاتی ہیں۔ مثلاً انسان کا اپنے جسم کو کھجلانا ایک طبعی چیز ہے۔ عام حالات میں ہم اس پر اعتراض نہیں کرتے۔ ہم شدید حالات میں نماز میںکھجلانے پر بھی اعتراض نہیں کرتے۔ بعض دفعہ کھجلی اتنی شدید ہوتی ہے کہ اس سے نماز خراب ہونے لگتی ہے اور انسان اپنا جسم کھجلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مگر جن حالات میں نماز کے باہر کھجلانا جائز ہوگا نماز میں انہی حالات میں جسم کھجلانا جائز نہیں ہوگا۔ نماز کے باہر معمولی کھجلی دور کرنے کے لیے بھی کُھجلانا جائز ہے لیکن نماز میں سوائے ایسی کھجلی کے جو شدید ہو اور جس کا ازالہ اگر نہ کیا جائے تو نماز کی طرف سے توجہ ہٹ جانے کا احتمال ہو عام حالات میں کُھجلانا جائز نہیں۔ یہی حال جسم کی دوسری حرکات کا ہے۔ مثلاًمیں اِس وقت خطبہ کے لیے کھڑا ہوں خطبہ میں ایک لات پر زور دے کر کھڑا ہونا جائز ہے لیکن نماز میں یہ جائز نہیں۔ نماز میں دونوں لاتوں کو سیدھا رکھنا ضروری ہو گا۔ اگر میں دونوں لاتوں کو سیدھا نہیں رکھ سکتا تو شریعت کہے گی کہ بیٹھ کر نماز پڑھو مگر شریعت یہ نہیں کہے گی کہ کھڑے تو ہو جاؤ مگر جس طرح چاہو لاتیں رکھ لو۔ نماز میں دونوں لاتوں کو سیدھا رکھنا اور ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑا رہنا ضروری ہوتا ہے سوائے جسمانی بناوٹ کی خرابی کے۔ اِسی طرح باتیں کرتے ہوئے یا تقریر کرتے وقت ایک ٹانگ آگے بڑھا لینے اور دوسری ٹانگ کو پیچھے کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص اپنی ٹانگوں کو اس طرح رکھے تو یہ جائز ہوگا۔ اس سے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، امتِ محمدیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، ہماری روحانیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن نماز میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ یہ چیز نماز کے قواعد کے خلاف ہے۔ اگر ہم ان قواعد کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو نماز کے لیے مقرر کیے گئے ہیں تو ہمار افعل ناقص اور ناتمام ہوجائے گا۔غرض ’’ہر ملکے و ہر رسمے‘‘ جس طرح ہر ملک کے ساتھ بعض مخصوص رسوم کا تعلق ہوتا ہے اور ہر فعل کے متعلق بعض قواعد مقرر ہوتے ہیں اسی طرح نماز کے بھی کچھ قواعد ہیں جن کو ملحوظ رکھنا ہر شخص کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
    میں نے نماز کی طرف اپنی جماعت کو بارہا توجہ دلائی ہے اور چونکہ اپنے اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ انہیں باربار توجہ دلائی جائے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ماں باپ کا کام ہے۔ اگر وہ اپنی اولاد کو ان امور کی طرف توجہ دلاتے رہیں اور باربار ان کے کانوں میں یہ باتیں ڈالیں، اگر وہ سات آٹھ سال کی عمر سے بچوں کو یہ باتیں بتاتے رہیں تو تین چار سال کے بعد جب وہ دس۔بارہ سال کے ہوں گے اور شریعت کے اس حکم کی پابندی ان کے لیے ضروری ہوگی وہ اس قابل ہوجائیں گے کہ صحیح طور پر اپنے فرائض کو ادا کریں اور ایسی حرکات نہ کریں جو اسلامی آداب کے خلاف ہوں۔
    بہرحال یہ ماں باپ کا کام ہے کہ وہ ان باتوں کو باربار دہراتے اور باربار اپنی اولاد کے ذہن نشین کرتے رہیں۔ اگر ماں باپ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو گھر کی بہت سی لغویتیں خودبخود دُور ہوتی چلی جائیں۔ بہت سے فسادات،، بہت سے جھگڑے، بہت سی لغویتیں اور بہت سی بے ہودہ باتیں محض اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ بچوں کو یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنا وقت کس طرح گزاریں۔ اگر ہر شخص اپنی اولاد کو نصیحت کرتا رہے اور وہ یہ خیال رکھے کہ اِس بچے کو میں نے یہ نصیحت کرنی ہے، اُس بچے کو میں نے یہ نصیحت کرنی ہے، ان کی پڑھائی کا خیال رکھنا ہے، ان کی دینی تربیت کا خیال رکھنا ہے، ان کی صحت اور جسمانی طاقت کا خیال رکھنا ہے، ان کے کیریکٹر کا خیال رکھنا ہے اور۔وہ اس کے مطابق ان کے لیے ایک پروگرام بنا دے اورپھر ان کی نگرانی کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بچے سارا دن کسی نہ کسی شغل میں مشغول رہیں گے۔ وہ لڑائی جھگڑا نہیں کرسکیں گے، وہ بیہودہ مذاق نہیں کریں گے اور لغو کاموں میں اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے۔ مگر جب ماں باپ ان ذمہ۔داریوں کو ادا نہیں کرتے تو وہ ایسے طریق اختیار کر لیتے ہیں جن سے اُن کا وقت تو گزر جاتا ہے مگر کئی قسم کی بدعادات ان میں راسخ ہوتی چلی جاتی ہیں۔
    پھر بعض لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ باہر کلبوں میں اپنا سارا وقت گزار دیتے ہیں اور انہیں گھر کا کچھ پتا ہی نہیں ہوتا، سارا کام اپنی بیویوں کے سپرد کردیتے ہیں۔ اور جہاں بیویاں زور والی ہوں وہاں وہ بھی کہتی ہیں کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تم کلبوں میں جاؤ اور ہم نہ جائیں۔ اورجب ماں باپ دونوں باہر چلے جاتے ہیں تو بچوں کی تربیت نوکروں کے سپرد ہو جاتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نوکر کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ بچہ ٹھیک رہتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ سارا دن ناچتا کُودتا رہتا ہے اور نوکر پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا تو وہ خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ بڑی اچھی بات ہے اس کا مجھ پر کوئی بوجھ نہیں۔ مگر وہ جتنا ان باتوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے اُتنا ہی اخلاق سے گرتا چلا جاتا ہے۔
    غرض اگر ماں باپ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور وہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق نصیحتیں کرتے رہیں تو یہ نصیحتیں انہیں اپنے اوقات کو صحیح طور پر استعمال کرنے اور اعلیٰ تربیت حاصل کرنے میں بہت مدد دے سکتی ہیں۔ درحقیقت اس عمر کے ساتھ کچھ مسائل کا تعلق ہوتا ہے اور ماں باپ کا فرض ہوتا ہے کہ جیسی عمر ہو ویسی ہی نصیحتیں کریں۔ ایک چھوٹا بچہ جس وقت ہوش سنبھالتا ہے اس کے ساتھ بھی کچھ امور کا تعلق ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے نواسہ حضرت حسنؓ سے جبکہ وہ اڑھائی تین سال کے تھے فرمایا کُلْ بِیَمِیْنِکَ وَمِمَّا یَلِیْکَ2 اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور تھالی میں سے وہ حصہ کھاؤ جو تمہارے قریب ہے۔ بچے کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بوٹی اٹھانے کے لیے پلیٹ میں کبھی اِدھر ہاتھ مارتا ہے کبھی اُدھر ہاتھ مارتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ جو تمہارے سامنے حصہ ہے اس میں ہاتھ ڈالو اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ۔ یہ چیز ہے جو چھٹپن سے ہی بچے کے کان میں ڈالی جاسکتی ہے۔ اس طرح سال ڈیڑھ سال کی عمر سے ان کو صفائی کی نصیحت کی جاسکتی ہے۔ یا مثلاً لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ وہ بچوں کو کبھی مٹھائی یا پھل وغیرہ لا کردیتے ہیں ایسے موقع پر بچوں کو سکھانا چاہیے کہ وہ جَزَاکَ اللّٰہُ کہیں۔ بیشک بچہ اگر جَزَاکَ اللّٰہُ نہیں کہہ سکے گا تو وہ وَدَاکَ اللّٰہُ کہے گا۔ مگر اس کا وَدَاکَ اللّٰہُ کہنا بھی مبارک ہو گا بجائے اس کے کہ وہ کچھ نہ کہے۔ جس بچے کو بچپن سے ہی جَزَاکَ اللّٰہُ کہنے کی عادت ڈالی جائے گی اس بچے کے دل میں قومی احساس بہت ترقی کر جائے گا۔ قومی احساس ہمیشہ شکرمندی کے جذبہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔ آخر ایک انسان اپنی قوم کے لیے کیوں قربانی کرتا ہے؟ اسی لیے کہ وہ سمجھتا ہے کہ قوم سے مجھے بہت سے فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ اور یہ شکرگزاری کا جذبہ جتنا زیادہ ہوگا اُتنا ہی وہ قوم کے لیے قربانی کرنے کا مادہ اپنے اندر رکھے گا۔ اس کے مقابلہ میں جن لوگوں کے اندر شکرگزاری کا مادہ نہیں ہوتا ان کے سامنے قربانی کا ذکر کیا جائے تو وہ کہتے ہیں مجھے کسی نے کیا دیا ہے کہ میں اس کے لیے قربانی کروں۔ حالانکہ شدید سے شدید دشمن بھی قوم سے فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ایک جنگل میں پڑے ہوئے انسان اور ایک گاؤں میں رہنے والے انسان میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ جنگل میں رہنے والے ہر روز نئے نئے حادثات کا شکار رہتے ہیں۔ کہیں سانپ بچھوؤں کا خوف ہوتا ہے، کہیں شیر اور چیتے کا ڈر ہوتا ہے، کہیں ڈاکوؤں اور لٹیروں کا خوف ہوتا ہے، کہیں خیال آتا ہے کہ ہماری چیزوں کی حفاظت کی کیا صورت ہو گی۔ کبھی اپنی جان جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ کبھی خیال ہوتا ہے کہ گیدڑ آجائیں گے اور چیزیں کھا جائیں گے۔ غرض کئی قسم کے خطرات ہر وقت سامنے رہتے ہیں لیکن گاؤں اور شہر میں ان چیزوں میں سے کسی کا بھی احساس نہیں ہوتا کیونکہ اردگرد ہمسائے ہوتے ہیں۔ گاؤں اور شہر آباد ہوتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ یہاں کسی حملے کا ڈر نہیں۔ گویا وہ قوم کی وجہ سے سانپوں اور بچھوؤں سے نجات پاتا ہے، وہ قوم کی وجہ سے شیروں اور چیتوں سے نجات پاتا ہے، وہ قوم کی وجہ سے گیدڑوں اور لومڑوں سے نجات پاتا ہے، وہ قوم کی وجہ سے ڈاکوؤں اور رہزنوں سے نجات پاتا ہے، وہ قوم کی وجہ سے مزدوری کرنے کے قابل ہوتا ہے، تعلیم کا انتظام ہوتا ہے، تجارت کرسکتا ہے، اِسی طرح وہ قوم کی وجہ سے اَور کئی قسم کے ضرروں سے بچا ہوا ہوتا ہے جن میں وہ مبتلا ہوسکتا تھا اگر وہ اکیلا کسی جنگل میں ہوتا۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنی حماقت سے کہہ دیتا ہے کہ مجھے کسی نے کیا دیا۔ وہ اگر زمیندار ہے اور کھیت میں ہل چلاتا ہے تو اس کا ہل جب خراب ہوتا ہے وہ اسے لوہار کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے اسے ٹھیک کردیا جائے۔ وہ کسی بڑھئی کو لاتا ہے اور کہتا ہے چارپائی کی چُولیں درست کر دے اور وہ چُولیں درست کر دیتا ہے۔ اگر قوم نہ ہوتی تو لوہار کیوں بیٹھتا، ترکھان کیوں بیٹھتا۔ آخر اس اکیلے انسان کی خاطر وہ نہیں بیٹھا۔ وہ اس لیے بیٹھا ہے کہ قوم بیٹھی ہے۔ اگر قوم نہ ہوتی تو نہ اسے لوہا رملتا، نہ بڑھئی ملتا، نہ کوئی اَور پیشہ ور ملتا۔ بیشک پیسے اس نے دیئے ہیں مگر لوہار کو اس کی قوم نے بٹھایا ہے۔ بڑھئی کو پیسے اُس نے دیئے ہیں مگر بڑھئی کو لائی قوم ہے ورنہ اس اکیلے شخص کے لیے نہ کوئی لوہا ر آتا، نہ نجّار آتا، نہ کوئی اَور پیشہ ور آتا۔ غرض بے جانے بوجھے ایک دشمن انسان بھی اپنی قوم سے فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ پھر ملک میں ڈاکے پڑتے ہیں، فساد ہوتے ہیں، لڑائیاں ہوتی ہیں تو قوم کی وجہ سے اس کی بھی حفاظت ہوتی چلی جاتی ہے بغیر اس کے کہ اس کے وجود کو مدنظر رکھا جائے۔ غرض قوم کی خدمت اور اس کے لیے قربانی کرنے کا احساس ہمیشہ احسان مندی کے جذبہ سے پیدا ہوتا ہے اور احسان مندی کا جذبہ اگر بچپن سے ہی اُبھارا نہ جائے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے اور جب یہ جذبہ کمزور ہو جائے تو قومی خدمت کا احساس بھی پیدا نہیں ہوتا۔
    غرض بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو بچوں کو بچپن میں ہی سکھانی چاہییں اور دنیا کی قومیں اپنے بچوں کو سکھاتی ہیں۔ یہ مرض پنجاب میں ہی پایا جاتا ہے کہ ان باتوں کو لغو اور فضول سمجھا جاتا ہے۔ ورنہ ہندوستان میں ہی چلے جاؤ، یوپی کے علاقہ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی کوئی چیز دو تو وہ فوراً کہیں گے آداب عرض، شکریہ۔ کیونکہ ماں باپ نے انہیں یہ عادت ڈالی ہوئی ہوتی ہے۔لیکن پنجاب میں مَیں نے دیکھا ہے ایسی باتیں بچوں کو سکھائی ہی نہیں جاتیں۔ وہ بیشک آداب عرض کہہ دیتے ہیں یا شکریہ کہہ دیتے ہیں لیکن اسلام نے اس غرض کے لیے جَزَاکَ اللّٰہُ کا لفظ رکھا ہے۔ ہم ان الفاظ کی بجائے جَزَاکَ اللّٰہُ کا لفظ سکھا دیں گے۔
    بہرحال چھوٹے چھوٹے آداب بچپن سے ہی بچوں کو سکھانے چاہییں تاکہ بڑے ہو کر یہ آداب ان کی طبیعتِ ثانیہ بن جائیں۔ اسی طرح بچہ جب سکول جانے لگے تو اسے سکھانا چاہیے کہ استاد کا ادب اور احترام کرنا ضروری ہے، استاد کی خدمت کرنا ضروری ہے، استاد کی فرمانبرداری کرنا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں علم کی کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ استاد کا ادب اور اس کا احترام کرنا بچوں کو سکھایا نہیں جاتا۔ جس طرح ریل میں لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں، سخت بھیڑ ہوتی ہے، اندر مزید آدمیوں کے آنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تو لوگ پھر بھی اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دوسروں کو دھکّے دیتے اور کہتے ہیں ’’تُساں پیسے ودھ دتّے ہوئے ہین اسیں پیسے نہیں دِتّے‘‘۔ اِسی طرح اساتذہ کا ادب کرنے کی اگر انہیں نصیحت کی جائے تو وہ کہتے ہیں ’’اسیں فیس نہیں دیندے اوہ افسر کس گل دا ہے‘‘۔ حالانکہ فیس اور علم کی آپس میں اتنی بھی تو نسبت نہیں جتنی زمین اور آسمان کی ہے۔ مگر جب ماں باپ ہی بچوں کے کان میں یہ بات ڈالتے رہیں کہ استاد ہمارا نوکر ہے تو استاد کا ادب اور احترام بچوں کے دلوں میں کہاں پیدا ہو سکتا ہے۔ پھر بچہ نماز کو جانے لگے تو ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اسے امام کا ادب کرنا سکھائیں مگر یہ بات بھی نہیں سکھائی جاتی۔
    ہمارے ملک میں ایک واقعہ مشہور ہے نہ معلوم وہ سچ ہے یا جھوٹ مگر اس میں شبہ نہیں کہ پنجاب میں مولویوں کی ہتک کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کوئی لڑکا ایک دن ملّاں جی کے پاس کھیر لے کر آیا اور کہنے لگا میری اماں نے یہ کھیرآپ کے لیے بھجوائی ہے۔ اس نے کہا تمہاری والدہ نے آج تک تو کبھی کھیر نہیں بھجوائی تھی آج اسے یہ کیا خیال آگیا کہ اس نے کھیر بھجوادی؟ لڑکا کہنے لگا اماں نے کھیر پکائی تو کتا منہ ڈال گیا۔ اس پر اماں نے مجھے کہا کہ جاؤ اور مُلّاں جی کو یہ کھیر دے آؤ۔ یہ سن کر اسے سخت غصہ آیا اور اس نے تھالی اٹھا کر زمین پر دے ماری۔ تھالی مٹی کی تھی زمین پر گرتے ہی ٹوٹ گئی۔ اس پر لڑکا رونے لگ گیا۔ مُلّاں نے کہا تُوروتا کیوں ہے؟ آخر یہ کُتّے کا جُوٹھا تھا اور بہرحال اسے پھینکنا ہی تھا۔ اس نے کہا روتا اس لیے ہوں کہ اس برتن میں امّاں چھوٹے بچے کو چھیچھی کرایا کرتی تھی۔ اب میں گیا تو وہ ناراض ہو گی کہ تھالی کیوں نہیں لایا۔ یہ لوگوں کا اپنے امام سے سلوک ہوتا ہے۔وہ نہیں جانتے کہ سب سے زیادہ معزز فرض یہ شخص ادا کر رہا ہے اور ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس کا احترام کریں لیکن بوجہ اس کے کہ اس کا معاملہ خداتعالیٰ سے ہوتا ہے اور وہ دین کی خدمت کر رہا ہوتا ہے لوگ اُس کا ادب نہیں کرتے۔ اور جب وہ امام کا ادب نہیں کرتے تو انہیں اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں لذت کہاں آسکتی ہے؟
    پھر شادی بیاہ کا زمانہ آتا ہے اُس وقت بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ بیوی سے ایسا سلوک کیا جائے۔ اس کی دلجوئی کا کس طرح سے خیال رکھا جائے، اس کے رشتہ داروں کا کس طرح خیال رکھا جائے، اُن کے ساتھ نرمی اور محبت کا کس کس رنگ میں سلوک کیا جائے مگر ہمارے ہاں اوّل تو ان باتوں کو سکھائیں گے ہی نہیں اور اگر ماں بڑا پیار کرے گی تو کہے گی ’’میں نے اپنے بچے کو بڑے نازوں سے پالا ہوا ہے اب پتا نہیں وہ ڈائن آکر کیا معاملہ کرتی ہے‘‘۔ پھر اَور زیادہ پیار آتا ہے تو ماں باپ کہتے ہیں دیکھو بچہ!’’گُربہ کشتن روزِ اوّل‘‘ بیویاں جُوتوں سے سیدھی رہتی ہیں۔اگر پہلے دن ہی تم نے رُعب نہ ڈالا تو کام خراب ہو جائے گا۔ یہ تربیت ہے جو ماں باپ اپنے بچّوں کی کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ’’آوے کا آوا‘‘خراب ہو جاتا ہے۔ بیویاں بھی خراب ہو جاتی ہیں، بچے بھی خراب ہوجاتے ہیں، محلّے بھی خراب ہو جاتے ہیں، شہر بھی خراب ہو جاتے ہیں، ملک بھی خراب ہوجاتے ہیں۔
    پس تربیت کی طرف توجہ رکھنا ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔ ہر گھر میں اولاد کی صحیح تربیت کرنا ماں باپ کے فرائض میں داخل ہے۔ جب وہ اپنے بچوں کی صحیح اور اعلیٰ تربیت کریں گے تو لازماً ایک ایسی نسل پیدا ہوگی جو اپنے بوجھوں کو آپ اٹھا سکے گی ،جو دوسری معزز قوموں کے سامنے اپنی گردن اٹھا کر بات کرسکے گی اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ملاکر بات کر سکے گی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن سے ہی اولاد کی تربیت کا سبق دے کر صحابہؓ کو ایک ایسے رستہ پر چلا دیا تھا کہ وہ قوم جو ظاہری علوم سے بالکل نابلد تھی ایک نسل میں ہی دنیا کی معلّم بن گئی۔ اس لیے کہ ان کی اولادیں درست ہوگئیں اور اس وجہ سے ملکوں کے ملک ان کے آگے جھکنے پر مجبور ہو گئے۔ یا تو وہ زمانہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوٰی کیا اُس وقت سارے مکہ میں سات اور بعض روایتوں کے مطابق گیارہ پڑھے ہوئے آدمی تھے اور یا آپ کی زندگی میں ہی وہ زمانہ آگیا کہ صحابہؓ قریباً سب کے سب تعلیم یافتہ تھے اور اگلی نسل کا یہ حال تھا کہ کتابیں پڑھ کر حیرت آتی ہے۔ ایک شخص جوتیاں گانٹھ رہا ہے مگر ساتھ ہی ادب پر مقالہ لکھ رہا ہے، ایک ماہی گیر مچھلیاں پکڑ رہا ہے اورساتھ ہی پرانے شعراء کے کلام پر جرح بھی کر رہا ہے۔ جن پیشوں کو آج ذلیل سمجھا جاتا ہے اُنہی پیشوں سے وہ اپنی روزی کا بھی سامان پیدا کرتے تھے اور بڑے بڑے علوم بھی حاصل کرتے جاتے تھے ۔اور جب ان پیشوں میں دن رات بسر کرنے والے اتنے بڑے بڑے عالم تھے تو جو لوگ علم کے لیے بالکل فارغ تھے اُن کے علم کا اندازہ لگانا کوئی مُشکل نہیں رہتا۔ اب تو بڑے سے بڑے انسان کی خدمت بھی بعض دفعہ عار سمجھی جاتی ہے لیکن اُن لوگوں کے ادب اور حصولِ علم کی خواہش کا یہ حال تھا کہ ایک عباسی خلیفہ نے اپنے دو بچوں کو ایک عالم کے پاس پڑھنے کے لیے بٹھایا۔ ایک دن خلیفہ مسجد میں نماز کے لیے گئے تو ان بچوں کے استاد بھی اوپر سے آگئے اور انہوں نے مسجد میں داخل ہونے پر اپنی جوتیاں اتار دیں۔ اس پر دونوں شہزادے امین اور مامون جو خود بھی بڑے پایہ کے تھے آگے بڑھے اور آپس میں جھگڑنے لگے۔ ایک کہتا تھا میں جوتیاں اٹھاؤں گا اور دوسرا کہتا تھا میں جوتیاں اٹھاؤں گا۔ بادشاہ نے یہ نظارہ دیکھا تو اس نے اپنے بچوں کو پیار کیا اور کہا کہ جس اخلاص کے ساتھ تم نے اپنے استاد کی جوتیوں کا خیال رکھا ہے اس سے میں سمجھتا ہوں کہ تم ضرور علم حاصل کر لو گے۔
    غرض علم کی قیمت کا احساس اور علم سکھانے والے کی عظمت کا احساس جب کسی انسان کے دل میں پیدا ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں صرف تربیت کے لحاظ سے ہی اسے فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا علم بھی ترقی کرتا ہے۔ یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جس جنس کی قیمت زیادہ ہو گی تو لوگ اس کے پیچھے دوڑیں گے۔ جب علم کی قیمت زیادہ پڑے گی تو لوگ اس کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد بھی زیادہ کریں گے اور اس طرح نہ صرف ان کے علم کا معیار ترقی کرے گا بلکہ ان کے عمل میں بھی نمایاں فرق پیدا ہوجائے گا۔
    پس دین کے سکھانے کی طرف ہماری جماعت کے تمام افراد کو پوری توجہ کرنی چاہیے۔ ماں باپ کو بھی،اساتذہ کو بھی، ائمہ کو بھی، ہمسایوں کو بھی بلکہ ہر شخص جو اپنے اندر دین کا کچھ بھی احساس رکھتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اسلامی رنگ میں رنگین کرے اور اپنے ہمسایوں کے بچوں کا بھی خیال رکھے۔ جب بھی موقع ملے بچوں کو بتانا چاہیے کہ نماز یوں پڑھنی چاہیے، روزہ اس طرح رکھنا چاہیے، زکوٰۃ کے متعلق اسلام کے یہ احکام ہیں، حج اس طرح کیا جاتا ہے۔ اِسی طرح کھانا کھانے کے آداب بتانے چاہییں۔ انہیں نصیحت کرنی چاہیے کہ کھانا کھا نے لگو تو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِکہو۔کھانا ختم کرو تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو۔سونے لگو تو یہ دعائیں پڑھ کر سوؤ۔ اٹھو تو یہ دعا پڑھو۔ کسی سے ملاقات کرو تو اِس طرح کرو۔ کوئی تحفہ دے یا تمہارا کام کر دے تو جَزَاکَ اللّٰہُکہو۔یہ ساری چیزیں بچوں کے ذہن نشین کرنی چاہییں اور باربار انہیں اس طرف توجہ دلاتے رہنا چاہیے۔ اس کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ ایک ایسا قومی کیریکٹر پیدا ہوجائے گا کہ احمدی بچوں اور دوسرے بچوں میں آپ ہی آپ فرق محسوس ہونے لگے گا اور لوگ ہمارے بچوں کو دیکھتے ہی پہچان لیں گے کہ یہ احمدی بچے ہیں۔
    ایک چھوٹی سی بات میں دیکھ لو ابھی ایسے کئی احمدی ہیں جو داڑھی نہیں رکھتے لیکن بہرحال دوسروں کی نسبت ہماری جماعت کے لوگ زیادہ اہتمام سے داڑھیاں رکھتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف داڑھی کی وجہ سے ہی اکثر لوگ احمدیوں کو پہچان لیتے ہیں۔ اسی طرح جب ہمارے بچے اور نوجوان دوسروں کی چھوٹی چھوٹی خدمت پر جَزَاکَ اللّٰہُ کہیں گے، بڑوں کا ادب اور احترام کریں گے، خداتعالیٰ کا ذکر ان کی زبانوں پر جاری رہے گا ،نماز کی پابندی کریں گے، صحیح طور پر خشوع و خضوع کی عادت اختیار کریں گے تو یہ ساری چیزیں مل کر ایک ایسا اشتہار بن جائیں گی جس سے وہ فوراً پہچانے جا سکیں گے۔ اب تو لوگ صرف داڑھی دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ ’’کیا آپ احمدی ہیں‘‘؟ مگر پھر ان آداب اور اسلامی شعائر کو دیکھ کر کہیں گے کہ ’’یہ شخص ضرور احمدی ہے‘‘۔ گویا یہ جو دغدغہ3 اور شک لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے کہ شاید کسی اَور نے بھی داڑھی رکھ لی ہو اور یہ احمدی نہ ہو دُور ہوجائے گا۔ مگر یہ کیریکٹر قوم کی درستی سے پیدا ہوتا ہے کسی فرد کی درستی سے پیدا نہیں ہوتا۔
    مجھے یاد ہے کہ ایک چیف کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے مجھے ایک دفعہ سنایا کہ۔میں۔ایک دفعہ دَورہ پر گیا تو ایک سب جج صاحب جنہوں نے داڑھی رکھی ہوئی تھی مجھے ملے۔ میں نے انہیں دیکھتے ہی کہا اچھا!آپ احمدی ہیں؟ وہ فوراً سمجھ گیا اور کہنے لگا کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ سوائے احمدیوں کے اَور کوئی داڑھی نہیں رکھتا؟ میں نے کہا مجھے تو انہی لوگوں کی داڑھیاں نظر آتی ہیں جو احمدی ہیں۔اُس وقت وہاں ایک ایسے شخص بھی بیٹھے تھے جن کی داڑھی نہیں تھی یا بہت چھوٹی تھی اور جو ہماری جماعت سے نہیں بلکہ غیرمبائعین سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں دیکھ کر کہنے لگے ہمیں بھی باقی احمدیوں کی طرح داڑھی بڑھانی چاہیے یا داڑھی رکھ لینی چاہیے۔
    اب دیکھو! داڑھی رکھنا بظاہر کتنی چھوٹی سی بات ہے مگر صرف اسی وجہ سے اکثر احمدی پہچانے جاتے ہیں۔ اگر باقی باتیں بھی مل جائیں تو کس طرح یہ ایک سائن بورڈ ہو گا یہ بتانے کے لیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو روشناس کرانے کے لیے کسی اَور چیز کی ضرورت نہیں۔ صرف ان کو دیکھنا ہی ان کو پہچان لینا ہے۔ اور اس سے بڑی شان کسی قوم کی اَور کیا ہوسکتی ہے کہ لوگ اس کے افراد کو دیکھ کر، اُن کے لباس کو دیکھ کر، اُن کی ظاہری شکل و صورت کو دیکھ کر، اُن کے اخلاق و آداب کو دیکھ کر، اُن کے بلند کیریکٹر اور کردار کو دیکھ کر فوراً پہچان لیں کہ یہ لوگ فلاں جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ بابرکت ہوں گے وہ نوجوان جو اپنے عمل سے اِس قسم کے سائن بورڈ کا کام دیں گے اور خوش قسمت ہوگی وہ جماعت جس کے افراد کو روشناس کرانے کے لیے کسی اَور چیز کی ضرورت نہ ہو بلکہ ان کو دیکھنا ہی اُن کو پہچان لینا ہو‘‘۔ (الفضل 14؍اگست 1949ء )

    1
    :
    الماعون:5
    2
    :
    بخاری کتاب الاطمعۃ باب التسمیۃ علی الطعام والاکل بالیمین میں یہ الفاظ ہیں ’’کُلْ بِیَمِیْنِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ‘‘
    3
    :
    دغدغہ: ڈر، خوف(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد9صفحہ267۔ 1988ئ)



    (فرمودہ8؍اپریل 1949ء لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ذیل کی آیت قرآنیہ تلاوت کی:
    ’’۔1
    پھرفرمایا:
    ’’دنیا کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی حقیقت پر اگر غور نہ کیا جائے تو انسان ظاہری حالات سے ان چیزوں سے غلط نتائج اخذ کر لیتا ہے۔مثلاً انسان کو ہی دیکھ لو وہ بولتا ہے۔ اب ایک ناواقف انسان جس نے کسی کو بولتے نہیں دیکھا وہ جب کسی کو بولتے ہوئے دیکھتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ خود نہیں بول رہا بلکہ ایک مشین ہے جو بول رہی ہے یا اس کے اندر کوئی چیز ہے جو باتیں کر رہی ہے یا گراموفون ہے۔ ایک ناواقف آدمی جس نے پہلے کبھی گراموفون نہ دیکھا ہو وہ جب اسے دیکھتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ اس کے اندر کوئی چیز بیٹھی ہے جو بول رہی ہے۔ ہمارے گھر کا ہی ایک لطیفہ ہے۔ میاں بشیر احمد صاحب کی لڑکی امۃ اللطیف کو جب وہ چھوٹی عمر کی تھی گھر والے پہلی دفعہ جمعہ پر لے گئے۔ اس سے پہلے اس نے لاؤڈ سپیکر نہیں دیکھا تھا۔ میاں صاحب کے بچے عام طور پر چھوٹی عمر میں ہسٹیریکل(HYSTERICAL) ہوتے ہیں۔ وہ جلد ہی رونے اور گھبرانے لگ جاتے ہیں۔ امۃ اللطیف جب اس جگہ جاکر بیٹھی جہاں عورتیں جمعہ پڑھا کرتی تھیں اور میں نے خطبہ دینا شروع کیا تواس کے پاس جو لاؤڈ سپیکر کاایک ڈبہ لگا ہوا تھا جونہی اس نے میری آواز سنی اس نے چیخیں مار کر رونا شروع کر دیا اور کہنے لگی چچا ابا اس ڈبے میں بند ہیں انہیں اس ڈبہ سے جلدی نکالو۔ اس نے سمجھا کہ میں اس ڈبہ کے اندر بیٹھا ہوا بول رہا ہوں۔ اس لیے اس نے بے تحاشا رونا شروع کر دیا۔ گھر والے اسے بہتیری تسلی دلائیں مگر وہ یہی کہتی چلی جائے اس ڈبہ سے چچا ابا کی آواز آرہی ہے، چچا ابا اس ڈبہ میں بند ہیں انہیں نکالو۔
    غرض جب کوئی ناواقف آدمی لاؤڈ سپیکر کے کسی ڈبہ کو دیکھتا ہے اور اسے آواز آتی ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ کوئی شخص اس ڈبہ کے اندر بیٹھا ہے اور بول رہا ہے۔ اسی طرح گراموفون ہے۔ ایک شخص اسے دیکھ کر ناواقفیت کی وجہ سے سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اندر کوئی آدمی بیٹھا ہے یا کوئی جِنّ بیٹھا ہے جوبول رہا ہے۔ غرض بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ظاہری طور پر ان سے غلط نتیجہ نکل آتا ہے۔ جب ایک انسان مادی اشیاء میں دھوکا کھا سکتا ہے تو روحانی اشیاء میں جو زیادہ اعلیٰ ہیں اسے کیوں دھوکا نہیں لگ سکتا۔ جس طرح ایک چیونٹی جب کسی ہاتھ کو ہلتا ہوا دیکھتی ہے تو وہ سمجھتی ہے کہ ہاتھ اپنی ذات میں ایک ہلنے والی چیز ہے۔ اسی طرح ایک ناواقف انسان جب کسی مزدور کو کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اپنے منشا سے کام کر رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت کچھ اَور ہوتی ہے۔ خداتعالیٰ نے اپنی بہت سی صفات اسی طرح جاری کی ہیں کہ ان کے ظاہر کرنے کے لیے اس نے انسان کو واسطہ بنایا ہے۔ جس طرح انسانی دماغ نے ہاتھ کو ذریعہ بنایا اُسی طرح خداتعالیٰ بھی اپنی صفات کو ظاہر کرنے کے لیے انسان کو ذریعہ بنا لیتا ہے۔ یا مثلاً انسان آنکھوں سے دیکھتا ہے، کانوں سے سنتا ہے اور زبان سے چکھتا ہے ایک ناواقف یہ سمجھتا ہے کہ آنکھ دیکھتی ہے، کان سنتا ہے، زبان چکھتی ہے۔ حالانکہ آنکھ کان زبان سب چیزیں دماغ کے تابع ہیں۔آنکھ نہیں دیکھتی بلکہ دماغ دیکھتا ہے۔ کان نہیں سنتے بلکہ دماغ سنتا ہے۔ انگلی چُھو کر کسی چیز کو محسوس کرتی ہے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ انگلی خود یہ کام کرتی ہے بلکہ انگلی دماغ کو اطلاع دیتی ہے۔ جب وہ کسی چیز کو چُھوتی ہے تو وہ دماغ کو اطلاع دیتی ہے کہ ہم چُھوتے ہیں۔ آگے دماغ اس کی کیفیت کا پتہ لگا کے یہ بتاتا ہے کہ آیا وہ سخت ہے یا نرم۔ اگر وہ چیز گُدگُدی2 یا لچکدار ہے تو دماغ فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ نرم ہے۔ یا مثلاً آنکھ دیکھتی ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ آنکھ خود دیکھتی ہے بلکہ وہ صرف دماغ کو اطلاع دیتی ہے آگے دماغ خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ چیز کیسی ہے چھوٹی ہے یا موٹی، سرخ ہے یا سفید، زرد ہے یا کسی اَور رنگ کی ہے۔ ایک واقف انسان یا علم رکھنے والا انسان فوراً جان لیتا ہے کہ درحقیقت دماغ دیکھ رہا ہے آنکھ نہیں دیکھ رہی۔ آنکھ کی مثال تودُوربین کی سی ہے۔ یہی حال کانوں کا ہے۔ کان آواز نہیں سنتے بلکہ دماغ سنتا ہے۔ ہماری زبان جب چکھتی ہے، ہمارے ہونٹ اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں تو یہ حرکت وہ خود نہیں کر سکتے بلکہ اس حرکت کا دماغ سے تعلق ہے۔ کان بھی خود آواز نہیں سنتے۔ ہوا کان کے سوراخ کو چُھوتی ہے اور آگے دماغ اس آواز کو محسوس کرتا ہے مگر بظاہر نظر یہی آتا ہے کہ آنکھ دیکھتی ہے، کان سنتے ہیں، انگلیاں چُھوتی ہیں، زبان چکھتی ہے اور یہی نتیجہ ہم اس سے نکال لیتے ہیں لیکن درحقیقت نہ آنکھ دیکھتی ہے، نہ کان سنتے ہیں، نہ انگلیاں چُھوتی ہیں اور نہ زبان چکھتی ہے بلکہ ان کے پیچھے دماغ ہے جو کام کر رہا ہے۔ یہ سب اشیاء بطور آلہ کے ہیں۔ یہی صورت انسان کی ہے۔ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو ناواقف آدمی خیال کر لیتا ہے کہ یہ اس کی ذاتی خوبی ہے حالانکہ خداتعالیٰ نے اپنی صفات کے ظہور کے لیے انسان کو واسطہ بنایا ہے اورہم سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کام انسان کر رہا ہے اور ان صفات کو انسان کے ساتھ وابستہ کر دیتے ہیں۔ مثلاً دولت ہے دُنیا میں جس آدمی کے پاس دولت ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ دولت مند ہوگیا ہے۔ لوگ اس کے محتاج ہوتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں حالانکہ دولت حقیقی نہیں بلکہ ایک نسبتی چیز ہے۔ ہم اسے دولت تو قرار دے لیتے ہیں یا اسے دولت کا نام تو دے لیتے ہیں لیکن درحقیقت وہ دولت دولت نہیں۔ ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کے لیے یہی دولت مصیبت اور دکھ کا موجب ہو جاتی ہے۔
    کہتے ہیں کوئی شخص بھوکا پیاسا جنگل میں جا رہا تھا۔ کئی دنوں کا اسے فاقہ تھا۔ اسے راستہ میں ایک تھیلی ملی۔ وہ بہت خوش ہوا اور اس نے خیال کیا کہ شاید اس میں بُھنے ہوئے دانے ہوں گے یا گندم کے کچے ہی دانے ہوں گے اور ان کے ساتھ وہ اپنی زندگی کو سلامت رکھ سکے گا۔ اُس نے تھیلی اٹھا لی اور اسے کھولا تو اس نے دیکھا کہ اس تھیلی میں قیمتی موتی ہیں۔ اس نے نہایت حقارت سے اس تھیلی کو پرے پھینک دیا اور خود آگے چل دیا۔
    غرض وہی دولت جسے انسان اپنے لیے نہایت مفید چیز سمجھتا ہے وہی انسان کے لیے بعض دفعہ تکلیف اور دکھ کا موجب بن جاتی ہے اور وہ اسے صدمہ پہنچاتی ہے بجائے اس کے کہ وہ اس کی جان بچائے۔ مثلاً کھانا ہے انسان اسے استعمال کرتا ہے اس کے بغیر اس کا گزارہ نہیں مگر بسااوقات بیماری میں وہی کھانا انسان کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے۔ کپڑا ہے انسان پہنتا ہے اور اس کا پہننا زندگی کے لیے ضروری ہے مگر بعض سخت قسم کی کھجلیوں میں اعلیٰ قسم کا لباس پہننا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ پانی ہے اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور انسان اسے استعمال کرتا ہے مگر بعض امراض میں پانی سے جان تک ضائع ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح دولت ہے۔ دولت بھی اُسی کے لیے دولت ہے جو اِس سے فائدہ اٹھا سکتا ہو۔ روٹی ہے یہ اُسی کے لیے مفید ہوسکتی ہے جو صحیح طور پر اسے ہضم کر سکتا ہے۔ کپڑا بھی اُسی شخص کے لیے مفید ہوسکتا ہے جس کو اس کے استعمال کرنے کی توفیق ملے۔ہر چیز دونوں طرف سے مل کر فائدہ دیتی ہے۔ ایک جہت کو اگر خالی چھوڑ دو تو وہ چیز عذاب کا موجب بن جاتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی بخار کی وجہ سے تپ رہا ہے اور وہ اس قسم کے بخار میں کپڑے کی برداشت نہیں کرتا۔ ڈاکٹر کہتا ہے اس پر کپڑا دو ورنہ نمونیا ہو جانے کا خطرہ ہے۔ تیماردار ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اس پر کپڑا دیتے ہیں مریض لات مار کر کپڑا پرے ہٹا دیتا ہے۔ اعلیٰ قسم کا کھانا ہے اگر معدہ اسے قبول نہ کرے تو قَے ہو جاتی ہے۔ بلکہ بسااوقات بجائے طاقت پیدا کرنے کے ضُعف ہو جاتا ہے۔ پانی ہے اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہی کُتّے کے کاٹے ہوئے کے پاس رکھ دو تو اس کے جسم میں یکدم تشنج پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کا جسم جھٹکے کھانے لگ جاتا ہے، اس کی گردن اکڑ جاتی ہے، وہ پانی کو دیکھ کر فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ جیسے کسی پر پٹرول ڈالا جائے تو وہ آگ لگنے کے خیال سے ذرا پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ شکایت کرتا ہے میں مر گیا۔ میں پیاسا ہوں مجھے پانی دو۔ غرض یہی پانی جو انسانی زندگی کا ذریعہ ہے بعض دوسرے حالات میں مُضِر ہو جاتا ہے۔
    پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاے انسانو! تمہیں شبہ ہو جاتا ہے کہ تم دولت مند ہو۔ تم سے کبھی چندے طلب کیے جاتے ہیں یا تم سے کبھی قربانی کی خواہش کی جاتی ہے تو تمہیں احساس ہوتا ہے کہ ہم مالدار ہیں اور ہم سے چندوں اور۔قربانی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ گویا ہم سے مدد مانگی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو! تمہارا یہ اندازہ غلط ہے۔ ہم نے تمہیں اپنی صفات کے ظاہر کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ورنہ تم حقیقی مالدار۔ نہیں ہو۔ تم کیوں حقیقی مالدار نہیں ہو؟ اس کی وہی دلیل ہے جو میں نے دی ہے کہ اگر تم ظاہری طور پر دولت مند ہوتے ہو تو اس کے معنے صرف اتنے ہوتے ہیں کہ تم دولت کے محتاج ہو اور وہ دولت تمہاری ضرورتوں کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔دراصل اللہ تعالیٰ ہی دولت مند ہے کیونکہ تمہیں تو دولت کی احتیاج ہے لیکن وہ کسی چیز کا محتاج نہیں اور جو شخص کسی چیز کا محتاج ہے وہ تو دولت مند نہیں کہلا سکتا۔ دولت مند وہی ہو سکتا ہے جس کو کوئی احتیاج نہ ہو، جس کو کسی چیز کی حاجت نہ ہو وہی اصل دولت مند ہے۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے باقی لوگ دولت مند نہیں ہو سکتے۔ ایک شخص جس کے پاس بہت سی دولت ہو بسااوقات وہی دولت اسے کاٹ رہی ہوتی ہے۔ اِسی دولت کی موجودگی میں مالداروں کو قتل کیا جاتا ہے، انہیں لُوٹا جاتا ہے ،دنیا میں فساد برپا ہوتا ہے، بغاوتیں ہوتی ہیں۔ پھر بسااوقات یہی دولت امیروں کی اولادوں کو آوارہ بنا دیتی ہے، حرام خور بنا دیتی ہے، بدکار بنا دیتی ہے۔ یہ سب خرابیاں مال کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص بغیر پانی پیئے اور بغیر کھانا کھائے اور بغیر کپڑا پہننے کے کام چلا سکتا ہو تو اصل دولت مند وہی کہلائے گا۔ احتیاج کا پورا ہونا دولت نہیں اس کا نہ ہونا دولت ہے۔ دولت کے تم یہی معنے لیتے ہو کہ تمہاری احتیاج پوری ہو گئی۔ مگر کوئی وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب یہ تمہاری احتیاج کو پُورا نہیں کرتی۔ُ اصل دولت مند اللہ تعالیٰ ہے اس لیے کہ اُسے احتیاج ہی نہیں بلکہ الْحَمِیدُ وہ حمید ہے۔ صرف یہی نہیں کہ اسے کسی چیز کی احتیاج نہیں بلکہ وہ تمہاری احتیاج کو پورا کرتا ہے۔ تم اس کی تعریف کرتے ہو۔وہ شخص جو کسی کی مدد کرتا ہے، جو کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے لوگ اُسے کہتے ہیں شکریہ! یا جب کوئی شخص کھانے کو دے دے یا پہننے کو کپڑا دے دے تودوسرا شخص کہتا ہے شکریہ، مہربانی، عنایت۔ اللہ تعالیٰ بھی حمید ہے کیونکہ جو احسان کرے لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمیں کسی چیز کی احتیاج نہیں بلکہ ہم تمہاری احتیاج کو دور کرتے ہیں اس لیے حقیقی دولت ہمارے پاس ہے کیونکہ جسے کسی چیز کی احتیاج نہیں ہوتی وہی نقائص سے پاک سمجھا جاتا ہے اور دولت کی طرف توجہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ کمزور اور ناقص ہے۔ آخر انسان یہ کیوں چاہتا ہے کہ میرے پاس دولت ہو۔ اِسی لیے کہ وہ کہتا ہے کہ میں کھاؤں، میں پیوں ، میں مکان بناؤں لیکن ’’میں کھاؤں گا‘‘ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میرا جسم تحلیل ہوتا ہے، کمزور ہو جاتا ہے اِس لیے اس میں کچھ اَورلا کر ڈالوں۔ انسان۔چاہتا ہے کہ میں پانی پیوں، شربت پیوں، لیمونیڈ(LEMONADE)3 پیوں، شراب پیوں یا کوئی اَور بَلا پیوں اِس کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کے جسم میں تحلیل واقع ہوتی ہے اور کمزوری پیدا ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اس کمزوری اور نقص کو دور کرے۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ کپڑے پہنے تا وہ ننگا نہ رہے، سردی گرمی سے بچا رہے یا سردی اور تپش سے بچنے کے لیے نہ سہی اسے زینت کے لیے بھی لباس کی ضرورت ہوتی ہے تا وہ اس سے اپنے جسم کو خوبصورت بنائے۔ وہ چاہتا ہے کہ کُرتا پہنے، کوٹ پہنے، ہیٹ پہنے، ٹوپی یا پگڑی پہنے، جوتی یا بوٹ پہنے تا وہ اپنے نقص اور کمزوری کو دورکرے۔ بہرحال جو کوئی بھی ان اشیاء کا محتاج ہے وہ ناقص ہے اور یہ سب اشیاء جس کے بھی کام آنے والی ہیں وہ کمزور ہے۔ اس نکتہ کو اگر سمجھ لیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ دولت دراصل انسان کی احتیاج اور اس کے ضُعف پر دلالت کرتی ہے۔
    پس میں جماعت کے احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو دولت مند خیال کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہی دولت جس پر وہ غرور کرتے ہیں وہی اُنہیں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ وہ سخت محتاج ہیں اور انہیں ایسی چیز کی ضرورت ہے جو ان کی ضروریات ِ زندگی کو پورا کرے اور ان کی یہ احتیاج ان کے ضُعف اور کمزوری پر دلالت کرتی ہے۔ اگر انہیں احتیاج نہ ہوتی تو پھر اس کی ضرورت ہی کیا تھی؟ پھر کہتے ہیں ہم بھوکے ہیں، ہمارا جسم تحلیل ہو رہا ہے، ہمیں کھانے کی ضرورت ہے۔ ہم پیاسے ہیں ہمیں پانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں جوتی کی ضرورت ہے تا ہمارے پاؤں میں کانٹے نہ چُبھ جائیں یا ان پر مَیل نہ لگے اور وہ گردآلودہ نہ ہوں۔ ہمیں کپڑے کی ضرورت ہے تا ہم اپنے آپ کو سردی اور تپش سے بچا سکیں یا ہم اپنے آپ کو مزیّن کرسکیں۔ ہمیں مکانوں کی ضرورت ہے تاہم دھوپ اور سردی سے محفوظ رہیں بارشوں کی وجہ سے بھیگ نہ جائیں۔ یہ ساری کی ساری چیزیں ایسی ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ کسی دوسرے شہر یا علاقہ میں ہمیں کوئی ضرورت ہوتی ہے تو ہم فوراً گھوڑے پر یا موٹر اور ریل پر جیسی بھی صورت ہو سوار ہو کر اُس شہر یا علاقہ تک جاتے ہیں۔ اگر ہمیں ان چیزوں کی ضرورت نہ ہوتی، اگر ہماری تمام ضرورتیں گھر بیٹھے خودبخود پوری ہو جاتیں تو پھر ہمیں گھوڑے کی کیا ضرورت تھی، موٹر کی کیا ضرورت تھی، ریل کی کیا ضرورت تھی۔ اگر ہمیں علمِ غیب حاصل ہوتا اور ہم اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے اپنے عزیزوں، رشتہ داروں، دوستوں اور دوسرے شہروں اور علاقوں کی خبروں سے باخبر رہ سکتے تو پھر ہمیں ڈاک اور۔تار کی کیا ضرورت تھی۔ مثلاً اگر ہمیں پتا لگ جاتا کہ امریکہ میں کیا ہو رہا ہے تو ہمیں ڈاکخانہ میں جا کر ٹکٹ خریدنے کی کیا ضرورت تھی تاہم خط لکھ کر اپنے عزیز کا حال دریافت کریں۔ پس تم اگر غرور سے کہتے ہو ہم دولت مند ہیں ہم اپنی ضروریاتِ زندگی بآسانی خرید سکتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ تم اقرار کرتے ہو کہ ہم ناقص ہیں، ہم کمزور ہیں۔ تم جب کہتے ہو کہ ہمارے پاس اعلیٰ قسم کے لباس ہیں، ہمارے پاس سردی اور دھوپ سے بچنے کے لیے سامان موجود ہیں تو اس کا دوسرے لفظوں میں یہ مطلب ہوتا ہے کہ تم کمزور اور ضعیف ہو ورنہ تمہیں اگرسردی کا خطرہ نہ ہوتا، تمہیں دھوپ لگتی ہی نہ تو پھر تمہیں کپڑوں کی کیا ضرورت تھی، جب تمہیں پیاس لگتی ہی نہ تو پھر تمہیں پانی کی ضرورت ہی کیا تھی۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاے لوگو!جس دولت کو تم دولت کہتے ہو درحقیقت وہ دولت دولت نہیں۔
    یہاں فقراء سے وہ لوگ مُراد نہیں جن کے پاس پیسے کم ہوں۔ دنیا میں روپے اور پیسے کے لحاظ سے بہت بڑے بڑے امیر لوگ موجود ہیں۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نےُ کہا ہے کہ اے لوگو! اے انسانو! جن میںراتھ شیلڈ4(ROTHSCHILD)بھی شامل ہے۔ اور فورڈ اور راک فیلڈ اور دوسرے لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے آپ کو امراء سمجھتے ہیں اس میں نظام بھی شامل ہے، بڑوڈہ 5کا راجہ بھی شامل ہے، برلا اوردالمیا بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو! تم غریب ہو۔ اِس لیے کہ وہ دولت جس کا نام تم نے دولت رکھا ہوا ہے وہ درحقیقت دولت نہیں ہے۔ تم غریب ہو کیونکہ تم ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہو کہ ہم اس کے محتاج ہیں۔ ہمارا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا اور اس کا مفہوم ہی یہ ہے کہ تم ناقص ہو،تم کمزور ہو، تم دولت مند نہیں بلکہ فقیر ہو۔اصل دولت مند خداتعالیٰ ہے جس کو کسی چیز کی ضرورت نہیں، کسی قسم کی احتیاج نہیں اور صرف یہی نہیں کہ وہ محتاج نہیں بلکہ وہ تمہاری احتیاج کو دور کرتا اور تمہاری ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی انسان میں قربانی کی کمزوری پائی جاتی ہے۔
    قرآن کریم میں دوسری جگہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ یہودی مومنوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ ان کے لیڈر چندے طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں وہ ہم سے مانگتا۔ہے۔6 وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ جس چیز کو وہ دولت قرار دے رہے ہیں اور جس چیز کی وجہ سے وہ غرور کر رہے ہیں وہ اصل دولت نہیں۔ اصل دولت مند خداتعالیٰ ہے جو احتیاج سے پاک ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی کہے دماغ نہیں دیکھتا آنکھ دیکھتی ہے۔ نادان یہی کہے گا کہ آنکھ دیکھتی ہے۔ جس شخص کو علمِ صحیح حاصل ہو اور جو واقفیت رکھتا ہو وہ فوراً کہہ دے گا کہ آنکھ نہیں دیکھتی بلکہ دماغ دیکھتا ہے۔ آنکھ تو صرف ایک ذریعہ ہے دیکھنے کا۔ یا کوئی کہے کان سنتے ہیں تو یہ غلط ہو گا کیونکہ کان نہیں سنتے بلکہ دماغ سنتا ہے۔ کان تو ایک ذریعہ ہے۔ ہوا جب کان کے سوراخ کے ساتھ ٹکراتی ہے تو دماغ اسے محسوس کر لیتا ہے مگر بیوقوف آدمی جسے حقیقت کا علم نہیں وہ یہی سمجھتا ہے کہ کان سنتے ہیں۔ اسی طرح زبان نہیں چکھتی بلکہ یہ صرف ایک ذریعہ ہے جس سے دماغ معلوم کرتا ہے کہ فلاں چیز میٹھی ہے یا کڑوی، اچھی ہے یا خراب۔ اِسی طرح دولت جسے ہم دولت سمجھتے ہیں دراصل دولت نہیں۔ ہم گھروں میں قریباً روز یہ نظارہ دیکھتے ہیں کہ بسااوقات ہم اپنے کسی بچے کو ایک چیز دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں لا ہمیں دے۔ہمارے ایسا کرنے سے کوئی غرض بھی ہو لیکن بالعموم ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ وہ چیز پکڑ لیتا ہے اور واپس نہیں دیتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ ان کی نیت خراب ہو گئی ہے اور وہ مجھ سے چیز واپس لینا چاہتے ہیں۔خداتعالیٰ بھی اپنے بندوں سے ایسا ہی سلوک کرتا ہے۔ وہ اپنے کسی بندے کو دولت دیتا ہے۔ پھر اس کو آزمانے کے لیے کہ آیا یہ دولت واپس دیتا ہے یا نہیں اُسے کہتا ہے کہ یہ دولت مجھے دو۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ دولت میرے ہی کام آئے گی وہ فوراً واپس دے دیتا ہے لیکن نادان لوگ اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔ جیسے وہ بچہ جو سمجھتا ہے کہ میرا باپ میرے آزمانے کے لیے ایک چیز مجھے دے کر واپس لے رہا ہے اوروہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ چیز میرے ہی کام آئے گی اپنے باپ کے واپس مانگنے پر اپنا ہاتھ پیچھے نہیں کھینچتا بلکہ فوراً وہ چیز واپس کر دیتا ہے۔ خداتعالیٰ کو بھلا ہمارے چندوں کی کیا ضرورت ہے؟ کیا کبھی ایسے چندے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جو اوپر آسمان پر چلے جاتے ہوں؟کبھی قربانی کا گوشت خداتعالیٰ بھی کھاتا ہے؟خداتعالیٰ توفرماتا ہے کہ قربانی کا گوشت ہم نہیں کھاتے تم ہی کھاتے ہو۔ پھر تم چِڑتے بھی ہو کہ خداتعالیٰ نے ہمیں ایک چیز دے کر واپس لے لی۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی دنبہ خداتعالیٰ کو پسند آگیا ہو اور وہ اسے اوپر اٹھا کر لے گیا ہو؟ کیا کبھی کسی نے ایسا ہوتے دیکھا ہے؟ وہ گوشت تم لوگ ہی کھاتے ہو، تمہارے بھائی کھاتے ہیں۔ اگر خداتعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لیے یہ سامان نہ کیا ہوتا تو وہ لوگ صرف بکرا ہی نہ کھاتے بلکہ تمہارے سامان کو بھی اٹھا کر لے جاتے اور تمہارے بیوی بچوں کو قتل کر دیتے۔
    جب امرتسر میں فساد ہوا اور مسلمان غیرمسلموں سے لڑ رہے تھے اُن دنوں مسلم لیگ کے اکثر لیڈر میرے پاس مشورہ کے لیے آتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ دفاع کے سیکرٹری مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ میں نے اُن سے کہا جو لوگ کام کر رہے ہیں انہیں پیسے بھی دیا کریں ورنہ وہ لٹیرے بن جائیں گے۔ صرف خداتعالیٰ کی ذات ہی ان حوائج سے پاک ہے انسان پاک نہیں۔ اگر آپ لوگ انہیں پیسے نہیں دیتے تو وہ ڈاکے مارنے لگ جائیں گے اور پھر ان کے کیریکٹر کی حفاظت مشکل ہو گی۔ انہوں نے کہا یہ ٹھیک ہے۔ اب بھی عملاً ایسا ہو رہا ہے۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ چند آدمی میرے گھر پر آئے وہی ورکر جو میرے ماتحت کام کرتے تھے اور جو لیگ کے ماتحت خدمت بجا لا رہے تھے۔ انہوں نے میری ایک گائے کو کھول لیا۔ میں نے ان سے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم اسے ذبح کر کے کھائیں گے۔ میں نے کہا ایسا نہ کرو گائے دودھ دیتی ہے اور میرے بچے اس کا دودھ پیتے ہیں۔ انہوں نے کہا آپ کو اپنے اور اپنے بچوں کے لیے دودھ کی ضرورت ہے۔ تو کیا ہمیں پیٹ بھرنے کے لیے روٹی کی بھی ضرورت نہیں؟ میں نے کہا روٹی تو تھوڑے پیسوں میں بھی میسر آجاتی ہے مگر گائے تو بہت زیادہ قیمتی ہے۔ انہوں نے کہا اچھا گائے رکھ لیں اور ہمیں روٹی کے لیے پیسے دے دیں۔ چلیں اس کی آدھی قیمت کے برابر ہی دیں۔ مسلم۔لیگ کے اس لیڈر نے مجھے بتایا کہ آخر میں نے چالیس پچاس روپیہ دے کر بڑی مشکل سے اپنا پیچھا چُھڑایا۔
    اب دیکھو! وہی چیز جس پر لوگ غرور کرتے ہیں ایک وقت میں ان کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے اور اس سے فتنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تم ہی بتاؤ آخر ہم چندے کہاں خرچ کرتے ہیں؟ ان میں سے کچھ تنظیم میں خرچ ہوتے ہیں اور کچھ حصہ ان کا احمدیت کے پھیلانے میں خرچ ہوتا ہے۔ اور احمدیت جب پھیلے گی تو اس کا فائدہ بھی جماعت ہی کو ہوگا خداتعالیٰ کو اس سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یا اگر ان چندوں سے بچوں کو پڑھوایا جائے تو اس سے جماعت کا ہی فائدہ ہے خدا۔تعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ کبھی ان کا بچہ پڑھے گا اور کبھی ان کے ہمسایہ کا بچہ پڑھے گا۔ اسی طرح دولت بڑھے گی تو انہی کا فائدہ ہو گا۔بچوں کی تربیت ہو گی تو جماعت کو ہی اس کافائدہ ہو گا۔ خداتعالیٰ کو اس میں سے کچھ بھی نہیں جانا یہ سب جماعت کو ہی ملتا ہے ۔یا پھر لنگر پر خرچ ہوتا ہے مگر کیا لنگر میں خداتعالیٰ آکر کھانا کھاتا ہے؟ چندہ دینے والے ہی جلسہ پر آکر کھانا کھاتے ہیں ۔یا جلسہ کے موقع پر روشنی کا انتظام کیا جاتا ہے تو اس کا فائدہ بھی چندہ دینے والوں کو ہی ہوتا ہے۔ خداتعالیٰ کو اس سے کیا فائدہ؟ مفت کا ثواب مل جاتا ہے ورنہ تمہارے ہی پیسے ہوتے ہیں اور تمہارے ہی کام آتے ہیں۔ تم جو چندہ دیتے ہو اس سے ہم مثلاً گیہوں خریدتے ہیں اور پھر اس سے تمہارے لیے روٹی تیار کرتے ہیں یا مسالا وغیرہ خرید کر تمہارے لیے سالن تیار کرتے ہیں۔ پھر اگر ان چندوں میں سے تمہارے اجتماع کے موقع پر صفائی کرائی جاتی ہے تواس کا خداتعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ تم ہی بیماریوں اور گندگی سے بچتے ہو خداتعالیٰ کو تم کیا دیتے ہو۔ روشنی کی جائے گی تو اس سے خداتعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ صفائی ہوگی تو وہ بھی تمہارے لیے ہی مفید ہو گی۔ جلسہ ہو گا تو تم ہی جا کر وہاں باتیں سنو گے خدا تعالیٰ کو کیا ملا ؟یا مدرسہ ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کے لڑکے وہاں پڑھا کرتے ہیں؟ تمہارے ہی لڑکے پڑھتے ہیں مگر نام یہ دے دیا جاتا ہے کہ تم نے خداتعالیٰ کو دے دیا اور خداتعالیٰ بھی کہتا ہے کہ تم نے مجھے دیا۔ اس سے عجیب سودا دنیا میں اَور کیا ہوگا۔ دنیا میں سب لوگ ہی کچھ رقوم قومی کاموں پر خرچ کرتے ہیں ۔مگر فرق کیا ہوتا ہے؟ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ دیتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انسانوں کو دیا مگر تم دیتے ہو تو کہا جاتا ہے کہ تم نے خداتعالیٰ کو دیا ۔اور خداتعالیٰ بھی کہتا ہے کہ میں تمہیں اس کا بدلہ دوں گا اور تمہارا دیا ہوا تمہیں واپس ملے گا۔
    پس خداتعالیٰ فرماتا ہےاے انسانو!تم دنیا کی ظاہری دولت پر گھمنڈ مت کرو یہ دولت دولت نہیں۔ یہ تو اسی بات پر دلالت کرتی ہے کہ تم محتاج ہو اور محتاج ناقص اور کمزور ہوتا ہے۔ جتنی زیادہ دولت تمہارے پاس ہو گی اُتنے ہی تم محتاج ہو گے۔ ایک غریب آدمی کے پاس اگر ایک روپیہ ہوتا ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ ایک روپیہ کا محتاج ہے اور ایک امیر کے پاس اگر ایک کروڑ روپیہ ہے تو وہ ایک کروڑ روپیہ کا محتاج ہے۔ ایک روپیہ والا ایک کروڑ والے جتنا محتاج نہیں۔ غرض جتنی دولت کسی کے پاس زیادہ ہوتی ہے اُتنا ہی وہ زیادہ محتاج ہوتا ہے۔ خداتعالیٰ ہی غنی ہے جو کسی چیز کا محتاج نہیں۔ اُسے کسی قسم کی ضرورت نہیں۔ وہ سب چیزوں کا مالک ہے لیکن اُسے ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ وہ ہر جاندار کو رزق دیتا ہے یہاں تک کہ وہ زمین کے نیچے دبے ہوئے کیڑوں کو بھی رزق دیتا ہے مگر خود نہیں کھاتا۔ وہ تمام چیزیں جن کا نام تم دولت رکھتے ہو اُسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتیں نہ ہی اُسے ان کی ضرورت ہے اور یہی ثبوت ہے کہ وہ غیرمحتاج ہے۔ جب کسی شخص کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ کہتا ہے یہ چیز فلاں کو دے دو۔ ایک اَن پڑھ آدمی کو اگر کہیں سے قلم مل جائے اور اسے کوئی شخص پوچھے کہ یہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ دے گا کہ مجھے کہیں سے یہ چیز ملی ہے اگر تمہیں ضرورت ہو تو لے لو۔ وہ تو جہالت کی وجہ سے وہ قلم دے دیتا ہے لیکن خداتعالیٰ اپنے کمال کی وجہ سے سب چیزیں اپنے بندوں کو دے دیتا ہے۔ چاندی سونا اس کے کام نہیںآتا اس لیے وہ اپنے محتاج بندوں کو دے دیتا ہے۔ مگر اس کے دیئے ہوئے مال سے انسان خیال کرلیتا ہے کہ وہ دولت مند ہو گیا ہے حالانکہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ محتاج ہے۔ اس نقطہ نگاہ کو اگر انسان مدنظر رکھے تو قربانی کرنا بالکل آسان ہو جاتا ہے۔
    اسی چیز کو نامکمل طور پر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے بھی بیان کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں جو تُو اپنے گھر میں جمع کرتا ہے اُسے کیڑا کھا جائے گا لیکن جو تُو خدا کے گھر میں جمع کرتا ہے وہ کیڑے سے محفوظ رہے گا۔ 7اس کا بھی وہی مفہوم ہے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ خداتعالیٰ بھی وہی کچھ کرتا ہے جو تم اپنے بچوں کے ساتھ روزانہ اپنے گھروں میں کرتے ہو لیکن وہ اس کا نام یہ رکھ دیتا ہے کہ یہ مال تم نے بطور قرض مجھے دیا اور کہتا ہے یہ تمہارے لیے ذخیرہ ہے جو تمہیں ملے گا بلکہ اس پر سود بھی ملے گا۔ وہ خود سود دیتا ہے لیکن اپنے بندوں کو سود لینے یا دینے سے منع کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسان کمزور اور غریب ہے اور اس سے سود لینا اُس پر ظلم کرنا ہے لیکن خداتعالیٰ کہتا ہے ہمارے پاس بہت زیادہ ہے اس لیے ہم سے اگر کوئی سود لے لے تو ہم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔
    میں دیکھتا ہوں بعض لوگ جو اچھے اچھے عہدوں پر ہوتے ہیں یا ان کے پاس دولت زیادہ ہوتی ہے وہ اس پر گھمنڈ کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ان کی احتیاج زیادہ ہو گئی ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر زائد دولت کی ضرورت ہی کیا ہے۔ زائد دولت کے معنی ہی یہ ہیں کہ تم اس کے محتاج ہو۔ اس نقطہ نگاہ کو سمجھ کر انسان حقیقی توکّل کا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ دولت تو ایک نسبتی امر ہے اور اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ جتنا زیادہ روپیہ کسی کے پاس ہو گا اُتنی ہی اس کی ضرورت بڑھ جائے گی ۔اور اگر ایسا نہیں تو پھر وہ دولت اس کے کس کام کی ۔یہ بات تو ایسی ہے جیسے کھانا ہے۔ اگر معدہ میں کوئی خرابی ہو تو فوراً قَے ہو کر کھانا باہر آجاتا ہے اور بجائے فائدہ اور طاقت دینے کے نقصان اور کمزوری کا موجب بن جاتا ہے۔
    غرض ہر چیز جو ہمارے پاس ہے وہ سب خداتعالیٰ کی دی ہوئی ہے ۔اور جب وہ خداتعالیٰ کی دی ہوئی ہے تو پھر خداتعالیٰ کے واپس مانگنے پر اسے دے دینے میں ہچکچاہٹ ہی کیوں ہو۔جیسے تم بچے کو کوئی چیز دے کر واپس مانگتے ہو تو وہ گھبرا جاتا ہے اور واپس دینے کو اُس کا دل نہیں چاہتا۔ تھوڑے دن ہوئے میری ایک پوتی آکر میرے پاس بیٹھ گئی۔ اُس وقت ہم ناشتہ کر رہے تھے۔میری ایک بیوی نے اس کے آگے دوچار بادام اور دوچار کشمش کے دانے رکھ دیئے۔ میںنے اُسے ایک کیلا دیا۔ اُس نے وہ کیلا ہاتھ میں پکڑ لیا۔ وہ چھوٹی عمر کی ہے کوئی ڈیڑھ سال کی ہوگی۔ وہ ایک دانہ پکڑتی اور منہ میں ڈال لیتی۔ کھاتے کھاتے وہ ایک دوسرے بچے کو جو پاس ہی کھڑا تھا کہنے لگی کہ یہ کیلا چھیل دو۔ اس پر میں نے کہا کہ لاؤ میں کیلا چھیل دوں۔ اس نے یہ سمجھا کہ یہ کیلا چھیننا چاہتے ہیں۔ وہ جُھکی اور ایک ہی دفعہ کشمش کے سب دانے ہاتھ میں لے کر منہ میں ڈال لیے حالانکہ اس سے پہلے وہ ایک ایک دانہ پکڑ کر کھا رہی تھی اور پھر پیٹھ پھیر کر بے تحاشا بھاگ گئی۔‘‘
    اس پر ایک بچہ ہنس پڑا جس پر حضور نے فرمایا
    ’’ایک چھوٹا بچہ اس لطیفہ پر ہنس پڑا ہے حالانکہ ہو سکتا ہے کہ اس کا باپ بھی جب اس سے خداتعالیٰ کوئی چیز مانگتا ہو تو وہ بچوں کی طرح ایں ایں کر دیتا ہو اور کہتا ہو میں نہیں دیتا۔ غرض اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہر چیز دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ اس میں سے کچھ میری راہ میں خرچ کرو۔ جب دینے والا ایک چیز واپس مانگتا ہے تو انسان نہیں نہیںکرتا ہے حالانکہ وہ نادان یہ نہیں جانتا کہ اگر میں یہ چیز واپس دے دوں گا تو ہو سکتا ہے کہ جس نے یہ چیز دی ہے وہ اس جتنی دوبارہ دے دے بلکہ اس سے بھی کئی گُنا زیادہ دے دے ۔اور اس کے بعد پھر اگلے جہان میں جو ثواب ملتا ہے وہ تو بہت زیادہ ہے۔ وہ زندگی جواگلے جہان میں ملے گی وہ ابدی زندگی ہے۔ جس کے مقابلہ میں یہ دنیاوی زندگی بالکل ہیچ ہے‘‘۔
    (الفضل 21؍اپریل 1949ء )

    1
    :
    فاطر:16
    2
    :
    گُدی گُدی: نرم ، ملائم لچکدار(اردو لغت تاریخی اصول پرجلد15صفحہ 906کراچی1993ئ)
    3
    :
    لیمونیڈ:(LEMONADE) لیموں کے رس سے تیارکردہ شربت۔
    ‏ (.4The Concise Oxford Dictionary of Current English)
    4
    :
    راتھ شیلڈ:(ROTHSCHILD)(روتھ شیلڈ) ایک یورپی یہودی خاندان جو نہ صرف یورپ کے مختلف ممالک میں بینکاری کے نظام پر حاوی ہے بلکہ امریکہ کے فیڈرل ریزرو کے بنیادی حصہ داروں میں شامل ہے۔ ان کے مشہور لوگوں میں بیرن روتھ شیلڈ شامل ہے جو برطانیہ میں یہودیوں کا نمائندہ تھا اور فلسطین پر یہودی قبضہ کو مستحکم کرنے میں اس کا کردار ڈھکا چھپا نہیںہے۔ (وکی پیڈیا ،آزاد دائرہ معارف زیر لفظ روتھ شیلڈ"Rothschild")
    5
    :
    بڑوڈہ: (Baroda)1721ء تا1949 ء میں ہندوستانی گجرات کی ایک ریاست جس کو موجودہ دور میں Vadodara کہا جاتا ہے۔
    ‏ (Wikipedia, The Free Encylopedia"Vadodara")
    6
    :
    (المائدہ:65)
    7
    :
    متی باب 6آیت19:20



    اس بات کو مدِنظر رکھو کہ تم نے بے مرکز کبھی نہیں رہنا

    (فرمودہ15؍اپریل 1949ء بمقام ربوہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جیسا کہ میں نے احباب سے دعا کے وقت کہا تھا یہ جلسہ ہمارے لیے نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہم ربوہ کو تفاؤل کے طور پر اپنا نیا مرکز قرار دے رہے ہیں۔ یوں بھی جن جگہوں کو ذکرِالٰہی کے لیے چُنا جاتا ہے اُن میں لغو باتیں کرنا منع ہوتی ہیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم مساجد کے متعلق جہاں لوگ جمع ہوتے اور ذکرِالٰہی کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ وہاں دنیاوی باتیں نہیں کرنی چاہییں۔ احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنی گُم شُدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرتا ہے خداتعالیٰ اُس کے مال میں برکت نہ دے۔1 گویا مسجد میں اپنی گُم شُدہ اشیاء کا اعلان کرنا منع ہے۔
    پس اگر مساجد جو صرف ایک محلہ سے تعلق رکھتی ہیں یا صرف ایک قصبہ سے تعلق رکھتی ہیں یا صرف ایک شہر سے تعلق رکھتی ہیں اُن کا احترام اتنا ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مساجد میں گُم شُدہ اشیاء کا اعلان نہیں کرنا چاہیے تو وہ مقام جس کو ایک بڑے بھاری علاقہ کے لیے بلکہ ایک محدود وقت کے لیے ساری دُنیا کا مرکز بنایا جا رہا ہے اُس میں کس قدر زیادہ ذکرِالٰہی کی ضرورت ہے۔ چاہیے کہ وہ احباب جو جلسہ پر یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں ذکرِالٰہی کی طرف توجہ کریں اور اپنی مجالس میں لغو باتیں نہ کریں۔ یہ معمولی بات نہیں۔ جب میں آپ کو یہ نصیحت کر رہا ہوں تو میں ننانوے فیصدی یہ سمجھ رہا ہوں کہ میری یہ نصیحت بے کار جائے گی۔ کیونکہ یہ اتنا بڑا کام ہے کہ آپ لوگوں میں سے ننانوے فیصدی لوگوں کے لیے یہ کام کرنا مشکل ہے۔ میں اپنے گھر میں اسی قسم کی کئی ایک نصیحتیں کرتا رہتا ہوں۔ مگر بچے آہا ہُو ہُو اور دوسری باتوں میں لگ جاتے ہیں۔ ابھی ایک گھنٹہ پہلے انہیں ایک نصیحت کرتا ہوں اور پھر وہ اسے بھول جاتے ہیں حالانکہ انسانی دماغ کی طاقت اور قوت، فکر سے پیدا ہوتی ہے۔ جو لوگ ذکروفکر کے عادی ہوتے ہیں اُن کے دماغ میں روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اہم باتوں کے سوچنے اور اُن سے نتائج اخذ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ کم از کم کچھ دن تو یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور ان دنوں میں لغو باتیں چھوڑ دینی چاہییں۔ شریعت نے یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان روزانہ بھوکا نہیں رہ سکتا سال میں ایک مہینہ روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان ہر وقت خاموش نہیں رہ سکتا نماز کے وقت مسلمانوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ انسان ساری ساری رات نہیں جاگ سکتا رات کو تہجد کے لیے جاگنے کا حکم دیا ہے۔ صوفیاء نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ دماغ کے جِلا اور روشنی کے لیے تین باتوں کا ہونا ضروری ہے کم خفتن و کم گفتن و کم خوردن۔ مومن کو چاہیے کہ وہ تھوڑا سوئے، تھوڑی باتیں کرے اور تھوڑا کھائے۔ ان باتوں کے نتیجہ میں روحانیت جِلا پاتی ہے اور جن لوگوں میں اس کی عادت پیدا ہو جاتی ہے اُن کا دماغ روشن ہو جاتا ہے، ان کی روحانیت جِلا پاجاتی ہے اور وہ اہم باتوں کے سوچنے اور ان سے نتائج اخذ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ انسان ان باتوں کو ہر وقت کرنے لگ پڑے۔ ان باتوں کی بہت کثرت بھی بُری ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی آدمی بالکل ہی سونا ترک کر دے، باتیں کرنا چھوڑ دے اور کھانا کھانا بند کر دے تو یہ باتیں بجائے مفید ہونے کے مُضِر ثابت ہوں گی اور بجائے اس کے کہ ان سے کوئی مفید نتیجہ نکلے وہ اس کے لیے عذاب کی صورت اختیار کر جائیں گی۔ لیکن جہاں تک ان کو ضبط میں رکھا جاسکتا ہے، جہاں تک ان کو ایک حد میں رکھا جاسکتا ہے، جہاں تک ان کو ایک دائرہ کے اندر رکھا جاسکتا ہے یہ روح کے اندر جِلا اور روشنی پیدا کرتی ہیں۔ اور تھوڑا بہت بھی اگر ذکرِالٰہی کر لیا جائے تو وہ خداتعالیٰ کے وصال اور اس کے فرشتوں سے ملاقات کا موقع بہم پہنچاتا ہے۔ پس تم اپنے اندر ان کی عادت پیدا کرو اور جلسہ کے ایام اور خصوصاً۔ان ایام میں دعائیں کرتے رہو۔ ہمارے پہلے مرکز سے پیر اُکھڑ گئے ہیں اور ہم نے ربوہ کو اپنا نیا مرکز مقرر کیا ہے تا یہاں بیٹھ کر ہم اسلام کی خدمت کرسکیں۔ پس یہاں خداتعالیٰ کی باتیں کرو۔ قرآن کریم کی باتیں کرو۔ حدیث کی باتیں کرو ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرو۔ آپ کے صحابہؓ کی باتیں کرو۔ اولیاء اللہ کی باتیں کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں کرو۔ دینی مسائل پر گفتگو کرو اور باقی لغو باتوں کو چھوڑ دو۔ سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری کی حالت ہو یا ضروریاتِ۔زندگی کو جو خداتعالیٰ نے انسان کے ساتھ لگائی ہیں پورا کیا جائے مگر زیادہ وقت دوسری باتوں میں صَرف نہیں کرنا چاہیے۔
    میں نے دوستوں کو یہ بھی ایک نکتہ بتایا ہوا ہے کہ سارے کے سارے لوگ لغو باتوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ لیکن کچھ لوگ جو خود لغو باتوں سے بکلّی اجتناب کریں اگر دوسرے لوگوں کو جو لغو باتوں میں مشغول ہوں خاموش کرانے لگ جائیں تو اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً اگر کسی جگہ کچھ لوگ دنیاوی باتوں میں مشغول ہوں اور اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہے ہوں تو کوئی ایک شخص کھڑا ہو جائے جو اُن کو اُکسائے نہیں ،اُنہیں جوش نہ دلوائے ،ان پر طنز نہ کرے بلکہ کہے آؤ! ہم کوئی دین کی بات کریں اور اس طرح وہ کوئی اَور بات کرنی شروع کر دے۔ مثلاً اگر وہ پرانا صحابی ہو تو وہ کہے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں یاد ہیں۔ آؤ! میں تمہیں سناؤں۔ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض حدیثیں اسے یاد ہوں یا اسے قرآن کریم کی کسی حد تک مہارت حاصل ہو تو وہ کچھ باتیں کر کے انہیں چپ کرا دے۔ اس طرح یہ عادت مستقل ہو جائے گی۔اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ اس کے لیے بہت بڑی ہمت درکار ہے لیکن اگر کوئی اس کی پروا نہیں کرے گا اور اصرار کرے گا کہ دوسرے لوگ اس سے دینی باتیں سُنیں تو لوگوں کی عادتیں درست ہو جائیں گی۔ باقی ایام میں بے شک بعض مشکلات پیش آجاتی ہیں اور انسان کو دوسرے دنیاوی کام بھی سرانجام دینے پڑتے ہیں یا ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگ خاص اغراض کے لیے ملنے کے لیے آجاتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ یہ باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ پاکستان کی اقتصادی حالت کیسے درست ہو سکتی ہے؟ یا سائنس سے تعلق رکھنے والے لوگ آ جاتے ہیں اور وہ پاکستان کی علمی حالت پر بحث کرنے لگ جاتے ہیں۔ یاتاجر ہوتے ہیں اور وہ تجارت کے متعلق مشورہ کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں تجارت کو ترقی کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟ یا بعض لوگ زراعت سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں آئیے اور ہمیں مشورہ دیجیے کہ پاکستان میں زراعت کو کس طرح اعلیٰ پیمانہ پر لے جایا جاسکتا ہے ۔اور ہمیں یہ باتیں کرنی پڑتی ہیں لیکن ہمیں اپنے کچھ اوقات تو۔ذکرِالٰہی کے لیے مخصوص کر لینے چاہییں اور اپنے سارے وقت دوسروں کو نہیں دے دینے چاہییں۔
    اس کے بعد میں احباب کو اس مضمون کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف میں نے جماعت کو لاہور میں توجہ دلائی تھی۔ مگر اُس جلسہ میں لوگ بہت تھوڑے تھے۔ یہی آٹھ نوسو کے قریب لوگ جمع تھے۔ لیکن آج میں سمجھتا ہوں کہ چودہ پندرہ ہزار کے قریب مجمع ہو گیا ہو گا۔ ابھی تک کھانے کی رپورٹ میرے پاس نہیں آئی۔لیکن قادیان میں جتنا بڑا جلسہ گاہ بنایا تھا اُس کا اگر اندازہ لگایا جائے تو اِس جلسہ پر آنے والوں کی تعداد چودہ پندرہ ہزار کی ہے۔کچھ تو یہ دن ہی ایسے تھے کہ لوگ فصلوں کو چھوڑ کر نہیں آسکتے تھے کیونکہ یہ کٹائی کا وقت ہے اور فصلوں کو چھوڑ کر چلا آنا زمینداروں کے لیے ایک مشکل امر ہے اور کٹائی میں دیر لگانا بھی مشکل ہے۔ کٹائی میں دیر لگ جائے تو غلہ گر جاتا ہے اور زمینداروں کے حصہ میں غلہ کی بہت کم مقدار آتی ہے۔ ان مشکلات کی وجہ سے اس جلسہ پر زمیندار لوگ نہیں آسکے۔ پھر اس جلسہ پر لوگوں کے کم آنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ملازمت پیشہ لوگوں کی چُھٹی بہت کم تھی۔پھر سارے لوگ مستعد بھی نہیں ہوتے۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اگر کچھ آرام ملے تو وہاں جائیں لیکن اس دفعہ چونکہ کھلے بندوں یہ کہہ دیا گیاتھا کہ نئے انتظامات اور نئی جگہ کے ہونے کی وجہ سے روٹی اور پانی کی تکلیف ہو گی اس لیے جلسہ پر جماعت کا ایسا حصہ بھی نہیں آسکا جنہیں اگر آرام ملے تو جلسہ پر آتے ہیں ورنہ وہ نہیں آتے۔ قادیان میں یہ صورت تھی کہ تیرہ چودہ ہزار احمدی وہاں کے مقامی باشندے تھے اور آٹھ دس ہزار قادیان کے دس میل اردگرد کے علاقہ کے احمدی تھے اور جماعت کا یہ سارے کا سارا حصہ جلسہ کے موقع پر اکٹھا ہو جاتا تھا۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ قادیان میں جلسہ کے موقع پر بیس ہزار کے قریب وہاں کی لوکل آبادی ہو جاتی تھی اور باہر سے بھی تیس ہزار کے قریب احمدی آجاتے تھے۔ اب صورت یہ ہے کہ یہاں کی لوکل آبادی ہے ہی نہیں۔ یہاں جو لوگ رہ رہے ہیں ان کی تعداد عورت اور بچے سب ملا کر ایک سَو ہوگی‘‘۔
    اس موقع پر حضور نے فرمایا:
    ’’کھانے کی رپورٹ بھی آگئی ہے خوراک کی پرچی سے معلوم ہوتا ہے کہ جلسہ پر جو دوست آئے ہیں اُن کی تعداد چودہ ہزار کے قریب ہے اور یہی میرا اندازہ تھا۔ میں نے دونوں جلسہ گاہوں کا اندازہ لگا کر یہ بتایا تھا۔
    بہرحال ان تکالیف کی وجہ سے اکثر احباب جلسہ پر نہیں آئے یعنی کچھ لوگ تو چھٹیوں کی وجہ سے نہیں آئے چھٹیاں بہت کم تھیں اور کچھ موسم ہی ایسا تھا۔ کچھ نئی جگہ تھی اور یہاں کوئی آرام میسر نہیں تھا۔ بیس ہزار کی تو قادیان کی آبادی چلی گئی باقی تیس ہزار رہ گیا جن میں سے پندرہ ہزار سے کچھ اوپر یعنی نصف کے قریب آگیا ہے۔پھر ابھی یہ پہلا دن ہے اور بالعموم ہمارے دوسرے دن کے جلسہ کے دوسرے حصہ میں ہی آدمی زیادہ ہوتے ہیں اور اس میں ابھی چوبیس گھنٹے باقی ہیں۔ اگر دوسرے دن کے آنے والوں کی تعداد بھی اس رنگ میں ہوئی جس طرح قادیان میں ہوتی تھی تو اس جلسہ پر آنے والوں کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ جائے گی٭ پھر ہندوستان سے بھی پرمٹ نہیں مل سکے۔ وہاں سے بھی سینکڑوں ہزاروں آدمی جلسہ پر آجاتے تھے لیکن اس دفعہ صرف ایک درجن کے قریب دوست آئے ہیں۔ ہندوستان یونین کی حکومت بھی اس دفعہ پرمٹ نہیں دے رہی۔
    غرض ان حالات میں اس دفعہ آدمی بہت کم آئے ہیں مگر بہرحال یہ تعداد لاہور کے جلسہ سے بہت زیادہ ہے جس میں مہمانوں کی تعداد کوئی بارہ تیرہ سو تھی۔ اس لیے میں جماعت کے دوستوں کو پھر اُن باتوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ انہیں چاہیے کہ وہ واپس جاکر جماعت کے دوسرے دوستوں کو یہ باتیں بتائیں۔
    خداتعالیٰ نے آپ لوگوں کو انسان بنایا ہے اور انسان کے کام اس کے عزم اور ارادے جانوروں سے زیادہ ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک جانور کا ذکر کیا ہے بلکہ ایک کیڑے کا ذکر کیا ہے۔ گو۔کیڑا بھی جانوروں میں شامل ہے لیکن بالعموم جب جانور کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد۔قدآور چیز ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک پروانے کیڑے کا جس کو مکھی کہتے ہیں ذکر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو شہد کی مکھی کی طرف توجہ دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم شہد کی مکھیوں کو دیکھو یہ جانوروں میں سے بھی اعلیٰ قسم کا جانور نہیں بلکہ ایک ادنیٰ قسم کا کیڑا ہے۔ مومنوں کے مقام تو بہت اونچے ہوتے ہیں یہ چھوٹا سا جانور ہے لیکن اس کا جو چھوٹا سا مقام خداتعالیٰ نے بتایا ہے اس سے تم سبق حاصل کرو۔ خداتعالیٰ نے اس کیڑے کا ذکر بِلاوجہ نہیں کیا۔ آخر مسلمانوں پر ایسے حالات آنے والے تھے کہ ان کے لیے مکھی والی کیفیت اپنے اندر پیدا کرنی ضروری تھی۔ شہد کی مکھی میں یہ خصوصیت ہے کہ جب اس کے چھتّے میں شہد پیدا ہو جاتا ہے اور کوئی شخص اس چھتّاسے شہد نکالنا شروع کرتا ہے تو جو لوگ اس فن کے ماہر ہیں اور جنہوں نے شہد کی مکھی کی تاریخ اور حالات کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جونہی وہ شخص شہد کے چھتّوں پر ہاتھ ڈالتا ہے اُسی وقت نوجوان مکھیوں کی ایک پارٹی ایک شہزادی کو لے کر وہاں سے اُڑ جاتی ہے تا دوسرا مرکز تلاش کرے۔ اور ابھی شہد اُس چھتّا سے نکالا نہیں جاتا، ابھی شہد اُس چھتّا سے علیحدہ نہیں کیا جاتا کہ دوسرے مرکز کی تلاش میں چلی جاتی ہیں۔ اور ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرتے یا بعض اوقات زیادہ سے زیادہ اڑتالیس گھنٹے بھی نہیں گزرتے کہ وہ دوسری جگہ پر چھتّا بنانا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ مکھیاں ہمیشہ ایک ملکہ کے ماتحت رہتی ہیں اور جب کوئی شخص شہد نکالنا چاہتا ہے تو وہ ملکہ کی لڑکی یعنی کسی شہزادی کے ماتحت اُڑ کر دوسری جگہ چلی جاتی ہیں۔ گویا شہد کی مکھیوں میں بھی باقاعدہ حکومت کا طریق ہوتا ہے۔ مکھیوں میں سے ایک پارٹی کسی ایک شہزادی کے ماتحت اُڑ کر کسی دوسری جگہ پر چلی جاتی ہیں اور وہاں چھتّا بنانا شروع کر دیتی ہیں۔ آخر کتنے چھتّے ہیں جن کا شہد کھانے کا مکھیوں کو موقع ملا ہو۔ آبادی کے قریب کے چھتّوں میں سے تو کوئی ہزاروں میں سے ایک چھتّا ہو گا جن کو خود مکھیاں کھاتی ہوں گی۔ لیکن باوجود اس کے کہ مکھی جانتی ہے کہ ننانوے فیصدی امکان یہی ہے کہ یہ شہد میرے پاس نہیں رہے گا مکھی اپنے اس جذبہ کو نہیں دبا سکتی کہ اسے اپنی زندگی کے لیے کسی ایک مرکز کی ضرورت ہے۔ کسی مرکز کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ باوجود اس کے کہ اس کا مرکز ٹوٹتا رہتا ہے، باوجود اس کے کہ وہ اپنا مرکز ٹوٹتا ہوا باربار دیکھتی ہے، باوجود اس کے کہ اس کی نسل بھی جانتی ہے کہ اس کے ساتھ بھی یہی گزرے گی وہ ہمت نہیں ہارتی اور ایک نئے ارادہ کو لے کر کھڑی ہو جاتی ہے اور ایک نیا مرکز بنا لیتی ہے۔ خداتعالیٰ نے سورۃ نحل میں اسی مکھی کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو بتایا ہے کہ اے مسلمانو! یاد رکھو تم کہیں یہ حماقت نہ کر لینا کہ ایک دفعہ مرکز سے نکل کر مرکز سے بے نیاز ہو جاؤ۔ تم بغیر مرکز کے مت رہنا۔ مکھی کتنی کم ترین اور ادنیٰ چیز ہے۔ یہ محض ایک بے عقل جانور ہے مگر باوجود اس کے کہ وہ ایک معمولی کیڑا ہے وہ مرکز کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ اگر انسان جس کی حالت بہت اعلیٰ درجہ کی ہے ایک بہت بڑی مصیبت کے بعد بغیر مرکز کے رہنے پر راضی ہو جائے تو وہ کتنا کمینہ ہے، وہ کتنا رذیل ہے، وہ کتنا خداتعالیٰ کو بُھلانے والا ہے اور اس سے زیادہ ذلیل چیز دنیا میں اَور کیا ہو گی ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیکھو کہ جب تک آپ کو ایک دوسرا مرکز نہیں ملا آپ نے مرکز کو نہیں چھوڑا اور اُس کے ظلم کو برداشت کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ مکہ میں رہنا ناقابل برداشت ہو گیا ہے تو آپ نے صحابہؓ کو جمع کیا اور فرمایا تم کسی اَور جگہ چلے جاؤ جہاں دین کے بارہ میں ظلم نہ ہو اور تم امن سے خداتعالیٰ کا نام لے سکو۔ صحابہؓ نے آپ سے پوچھا یَارَسُوْل اللّٰہ! وہ کونسی جگہ ہے؟ آپ نے حبشہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا وہاں عیسائیوں کی حکومت ہے اگر تم وہاں چلے جاؤ تو تم پر دین کے بارہ میں سختی نہیں ہوگی۔2صحابہؓ نے کہا یارسول اللہ! اگر ہم حبشہ کی طرف چلے جائیں تو آپ کا کیا حال ہوگا؟ آپ نے فرمایا میرے لیے مکہ کو چھوڑنے کا حکم نہیں۔ آپ جانتے تھے کہ حبشہ میں مرکز نہیں بن سکتا اس لیے آپ نے مکہ نہیں چھوڑا جب تک کہ آپؐ کو خداتعالیٰ کا حکم نہ ملا اور جب تک تقدیرالٰہی نے ایک نیا مرکز آپ کے لیے تجویز نہ کر دیا۔ جس طرح مجھے قبل از وقت ایک نئے مرکز کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے دے دی تھی۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے ظلم کو برداشت کیا، وہاں کی سختیوں کو جھیلا مگر خداتعالیٰ نے جب تک نیا مرکز نہ تجویز کر دیا آپؐ نے مکہ نہ چھوڑا۔ چونکہ آپؐ صاحبِ شریعت نبی تھے اور آپؐ کی شریعت میں کوئی وقفہ نہیں پڑنا چاہیے تھا اگر آپؐ کی شریعت میں وقفہ پڑجاتا تو ایک بہت بڑی خرابی پیدا ہو جاتی اس لیے ضروری تھا کہ آپؐ کے مکہ چھوڑنے اور نیا مرکز ملنے میں وقفہ نہ ہوتا۔ غیرشرعی نبیوں یا ان کے خلفاء کے لیے یہ ضروری نہیں۔
    پس ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں ابھی ایک تجربہ ہوا ہے۔ قادیان کے چُھوٹ جانے کا صدمہ لازماً طبیعتوں پر ہوا ہے۔میری طبیعت پر بھی اس صدمہ کا اثر ہے لیکن میں نے جب قادیان چھوڑا یہ عہد کر لیا تھا کہ میں اس کا غم نہیں کروں گا۔ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ میری ایک لڑکی کے ابھی بچہ پیدا ہوا تھا، اس کی تھوڑا ہی عرصہ ہوا شادی ہوئی تھی اور ایک سال کے اندر ہی اس کے بچہ پیدا ہوا تھا، ان کی ماں وفات پاچکی تھی وہ میرے پاس رخصت ہونے کے لیے آئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا خاموش رہو یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ یہ وقت کام کا ہے۔ چنانچہ میں نے اس عہد کوسختی سے نبھایا ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب میں ایک عزم کر چکا ہوں تو میں اس عزم کو آنسوؤں کے ساتھ کیوں مشتبہ کر دوں؟ ہم اپنے آنسوؤں کو روکیں گے یہاں تک کہ ہم قادیان کو واپس لے لیں۔ چاہے صلح کے ساتھ ہمیں قادیان ملے چاہے جنگ کے ساتھ ہمیں قادیان ملے۔ بہرحال ہم نے اسے واپس لینا ہے۔
    میں تھوڑے دن ہوئے کشمیر کے محاذ پر فرقان فورس دیکھنے گیا۔ فرقان فورس والوں نے میرے کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ میں جب وہاں گیا تو ایک جگہ پر ہاتھ دُھلانے کے لیے دو چھوٹے لڑکے کھڑے تھے۔ مجھے بڑا تعجب تھا کہ جس جگہ جاتے ہوئے بڑی عمر والے اور پختہ کار لوگ ہچکچاتے ہیں وہاں یہ چھوٹی عمر کے دونوں بچے آئے ہوئے ہیں اور خوشی سے اپنی ڈیوٹی کو نبھارہے ہیں۔ وہ دونوں ہاتھ دُھلانے کے لیے وہاں کھڑے تھے۔ چھوٹی عمر میں اتنی بڑی قربانی کرنے کی وجہ سے مجھے ان کا یہ فعل پیارا لگا اور نادانی اور غفلت میں مَیں نے سوال کیا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے خیال کیا کہ وہ کہیں گے کہ ہم گجرات سے آئے ہیں،جہلم سے آئے ہیں، راولپنڈی سے آئے ہیں یا سیالکوٹ سے آئے ہیں۔ میں ان سے کوئی دوسرا جواب سننے کے لیے تیار نہیں لیکن میں نے جب یہ سوال کیا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ تو ان دونوں لڑکوں نے بے اختیار کہا ہم قادیان سے آئے ہیں۔ مجھے یہ جواب سننے کی امید نہ تھی۔ اس لیے مجھے اپنی حالت کو سنبھالنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت پڑی۔ میرے ساتھ اُس وقت رضاکاروں کے نمائندے بھی تھے اور بعض دوسرے افسر بھی۔ میں نے زور سے اپنی زبان دانتوں میں دبا لی۔ میں نے ایسا محسوس کیا کہ اگر میں اپنے آپ کو نہیں روکوں گا تو میری چیخیں نکل جائیں گی۔ کئی غیراحمدی بھی اُس وقت مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔میں نے اُن سے کوئی بات نہیں کی اور میں بات کر ہی نہیں سکا تھا۔ انہوں نے شاید یہ سمجھا ہو گا کہ میں بہت مغرور ہوں اور اُن کے ساتھ بات کرنا نہیں چاہتا لیکن میں مختصر جواب دے کر اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔پندرہ بیس منٹ بعد جا کر کہیں میری طبیعت سنبھلی اور میں بات کرنے کے قابل ہوا۔
    غرض میں نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ میں قادیان کے چُھوٹ جانے پر غم نہیں کروں گا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں۔ آپ لوگ بھی اپنے تمام جوشوں کو دباتے چلے جائیں۔ خداتعالیٰ وہ وقت لے آئے گا جب تمہارے دبائے ہوئے جذبات ایک طوفان کی شکل اختیار کریں گے اور وہ طوفان ہر قسم کے خس و خاشاک کو اُڑا کے پرے پھینک دے گا۔ لیکن جب تک وہ مرکز جماعت کو نہیں ملتا سب جماعت کو ایک دوسرے مرکز کی طرف منہ کرنا ہوگا کیونکہ مرکز کے بغیر کوئی جماعت نہیں رہ سکتی۔
    پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ انہوں نے بے مرکز کے کبھی نہیں رہنا۔ تمہیں ضرور ایک دھکّا لگا ہے لیکن دھکّوں کو سہنے کی عادت بہادر قوموں کو ڈالنی ہی پڑتی ہے اور ایسے دھکّوں کے نقصان دور کرنے کے لیے عمدہ تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں۔ خداتعالیٰ نے ایسے موقعوں کے مقابلہ کے لیے ایک تدبیر مرکز بنانے کی ہمارے سامنے رکھی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں ہم اَور اچھی چیزوں کی نقلیں بناتے ہیں وہاں ہم روحانی مرکز کی نقل بھی بنایا کریں۔ اگر ہم کسی ایک جگہ پر اپنا مرکز نہیں بنائیں گے تو لوگ دینی تعلیم کہاں حاصل کریں گے۔ تم دیکھ لو سیداحمد صاحب بریلویؒ کے مرید چند ہزار کے قریب تھے اور ہندوستان میں کئی کروڑ حنفی رہتا تھا۔ ان کروڑوں آدمیوں کو طاقت نہیں ملی لیکن سید احمد صاحب بریلویؒ کے چند ہزار مریدوں نے ایک علیحدہ مرکز بنا دیا۔ جب آپ شہید ہونے لگے تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو فرمایا کہ وہ اپنا ایک مرکز بنائیں۔ آخر انہوں نے دیوبند میں اپنا مرکز بنایا۔ یہ سیدا حمد صاحب بریلویؒ کے شاگرد ہی تھے جنہوں نے دیوبند میں اپنا مرکز بنایا اور پھر اس کی وجہ سے دیوبندی علماء نے تمام حنفیوں کو اپنے قبضہ میں کر لیا۔ بعد میں وہ آہستہ آہستہ حنفیت کی طرف مائل ہوگئے لیکن اصل میں وہ اہلحدیث تھے اور صرف مرکزیت کی وجہ سے ہی باقی سب مسلمانوں پر غالب آئے۔
    پس تم کبھی بھی شہد کی مکھی کے سبق کو نہ بھولو۔ تم یہ کبھی بھی خیال نہ کرو کہ تم تعداد میں کم ہو یا تم کمزور ہو۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی تمہارا مرکز بنا ہوا ہو۔ تمہارے پاس پہلے بھی مرکز موجود ہیں۔ مکہ، مدینہ اور قادیان کے مراکز تمہارے پاس پہلے سے موجود ہیں لیکن تم کو ان تینوں کی تمثیل کے طور پر ہر ملک میں اور ہر جگہ اپنے مراکز بنانے چاہییں تا لوگ اپنی زندگیاں وقف کر کے وہاں رہیں اور لوگ ان سے دین سیکھیں اور پھر اسے لوگوں میں پھیلائیں۔ تم اگر یہ انتظام کر لو، اگر ہر ضلع والے اپنے ضلع میں ایک مرکز بنا لیں اور ہر صوبے والے اپنا مرکز قائم کر لیں اور ہر ملک والے اپنا ایک مرکز بنالیں تو احمدیت کی ترقی یقیناً پہلے سے زیادہ ہو جائے گی۔ ہر ضلع اور ہر ملک میں الگ مرکز نہ ہونے کی وجہ سے احمدیت کو ابھی طاقت حاصل نہیں ہوئی۔ مثلاً لائلپور ہے۔ لائلپور میں مرکز نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کو اس ضلع میں طاقت حاصل نہیں ہوئی۔ لائلپور کے بہت ہی کم لڑکوں نے قادیان جا کر دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ کوئی ہمت والا ایسا ہو گا جس نے اپنا لڑکا وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا ہو۔ یا سرحد والے ہیں۔ ہم تھک گئے مگر وہ اپنے بچے دینی تعلیم کے لیے نہیں بھیجتے اور پڑھنے کے معاملہ میں وہ بہت کتراتے ہیں اور بہت ہی کم ایسے لڑکے ہیں جنہوں نے قادیان جاکر دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ بعض لڑکے وہاں سے آئے بھی تھے لیکن وہ بعد میں بھاگ گئے۔ لیکن اگر وہاں کا بھی ایک مرکز بنا دیا جاتا اور کچھ لوگ اپنی زندگیاں وقف کر کے وہاں بیٹھ جاتے تو اِس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگ سینکڑوں کی تعداد میں وہاں آتے اور دینی تعلیم حاصل کرتے۔ اِسی طرح سندھ میں اور بلوچستان میں دوتین مولوی بیٹھ جاتے اور وہ چند طالب علموں کو بُلا کر انہیں دینی مسائل سکھاتے، اُنہیں دوسرے لوگوں سے چندہ کر کے کتابیں حاصل کر دیتے تو اس کا بہت فائدہ ہوتا۔ مثلاً اگر وہ پانچ سات طالبعلم تیار کر لیتے تو وہ آگے پچیس تیس طالبعلموں کو پڑھاتے۔ پھر وہ آگے دوسرے لوگوں کو پڑھاتے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہاں آج سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی ایسے ہوتے جو دین کے ماہر ہوتے۔
    غرض مرکزیت کا پیدا کرنا نہایت اہم چیز ہے اور میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جدید مرکز کے قیام کے لیے ہر قسم کی کوششیں کریں۔ جب وہ اپنا جدید مرکز قائم کر لیں گے تو پھر صوبہ وار مرکز بنائے جائیں گے اور پھر ضلع وار مرکز بنائے جائیں گے تا مقامی لوگ آسانی کے ساتھ دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔ جب ایک غریب سے غریب آدمی کے دل میں یہ احساس ہو گا کہ اس کا لڑکا گھر آکر سو جائے گاتو بڑی آسانی کے ساتھ وہ اپنے بچے کو تعلیم دلانے پر رضامند ہو جائے گا ۔ اور اگر ہر ملک میں، ہر صوبہ میں، ہر ضلع میں اور ہر شہر میں الگ الگ مرکز بن گئے تو پھر احمدیت کی ترقی اور اسلام کے غلبہ کے آثار پیدا ہو جائیں گے۔ پس شہد کی مکھی کے سبق کو مت بھولو۔ بلکہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرو کہ خداتعالیٰ نے تمہیں مکھی سے اس خوبی میں زیادہ اعلیٰ بنایا ہے جو مکھی کے لیے مخصوص ہے‘‘۔ (الفضل 5جون 1949ء )

    1
    :
    مسلم کتاب المساجد باب النَّھْیُ عَنْ نَشْدِ الضَّالّۃِفِی الْمَسْجِدِ (الخ)
    2
    :
    السیرۃ الحلبیۃ جلد 1صفحہ 360مطبوعہ مصر 1932ء

    الحمد للہ کہ ربوہ میں جلسہ سالانہ
    باوجود مخالف حالات کے نہایت کامیاب رہا
    (فرمودہ22؍اپریل 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم سے جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ اس سال ہم اس جگہ پر کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کو آئندہ جماعت احمدیہ کا مرکز بنانے کی تجویز ہے۔ بظاہر حالات ہمیں اس جگہ پراس سال جلسہ سالانہ کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی جیسا کہ میں نے اپنے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا جماعت کے دوستوں نے مجھے کثرت سے لکھنا شروع کر دیا تھا کہ اس سال ربوہ میں جلسہ سالانہ کرنا نامناسب ہے کیونکہ شدت کی گرمی کی وجہ سے لوگ وہاں ٹھہر نہیں سکیں گے اور پھر یہ فصلوں کے دن ہیں اور کٹائیوں کی وجہ سے لوگ کثرت سے اس جلسہ پر نہیں آسکیں گے۔ پھر نئی جگہ ہے ،وہاں رہائش کا کوئی بندوبست نہیں، پانی وغیرہ کی دقت ہے۔ یہ باتیں مجھے بھی نظر آتی تھیں مگر میں جب سے قادیان سے آیا ہوں میں یہ جانتا تھا کہ پانچ سالہ پیشگوئی کے مطابق 1949ء کا جلسہ سالانہ ہم کسی ایسی ہی جگہ کریں گے جس کو ہم اپنا کہہ سکیں۔ چنانچہ اس دفعہ کے جلسہ سالانہ کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہ کرسمس کی تعطیلات کی بجائے ایسٹر ہالیڈیز (EASTER HOLIDAYS)میں کیا جائے لیکن جب جلسہ سالانہ کے ایسٹر ہالیڈیز میں کرنے کی تجویز ہو گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس سال جلسہ سالانہ دسمبر کی بجائے اپریل میں منعقد ہو تو لوگوں نے یہ وہم کرنا شروع کر دیا کہ وہاں گرمی ہو گی، کھانے، پانی اور رہائش کی دِقّت ہو گی۔ پہلے خیال تھا کہ ایسٹر کی تعطیلات مارچ میں ہوں گی اور مارچ کا موسم اچھا ہوتا ہے زیادہ گرم نہیں ہوتا لیکن جب ایسٹر کی تعطیلات اپریل میں نکلیں یا یوں کہو کہ جب علم ہوا کہ ایسٹر کی تعطیلات اپریل میں ہوں گی تو لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہونا شروع ہوا کہ اس دفعہ وہاں جلسہ کرنا ناممکن ہے لیکن جو اُمید ہمارے ذہن میں تھی اس کے خلاف لوگ بہت زیادہ تعداد میں آئے۔ ہمارا خیال تھا کہ اس دفعہ جلسہ سالانہ پر صرف دس ہزار آدمی آسکیں گے کیونکہ ایک تو موسم اچھا نہیں تھا ،گرمی زیادہ تھی ،پھر یہ فصلوں کا وقت تھا اور کٹائیاں ہو رہی تھیں اور زمیندار کٹائی چھوڑ کر جلسہ پر نہیں آسکتے تھے۔ پھر بعض لوگ اس لیے بھی نہ آسکے کہ نئی جگہ ہونے کی وجہ سے وہاں رہائش کا مناسب انتظام نہ تھا۔ لیکن تقسیم پرچی سے جو اندازہ لگایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین ہزار پانچ سو کے قریب وہ عورتیں تھیں جن کے کھانے کا انتظام لجنہ اماء اللہ کے ماتحت کیا جاتا تھا اور دس ہزار چھ سو کے قریب وہ پرچی تھی جس کا انتظام مردوں کے ذریعہ کیا جاتا تھا۔ اس طرح یہ تعداد پندرہ ہزار کے قریب ہو جاتی ہے ۔لیکن ڈیڑھ ہزار کے قریب وہ لوگ تھے جو کھانے کی پرچی میں شمار نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ وہ جلسہ سننے کے لیے تو آجاتے تھے مگر کھانے کے وقت واپس چلے جاتے تھے۔ مثلاً احمدنگر میں چھ سات سو آدمی ٹھہرے ہوئے تھے وہ جلسہ سننے کے لیے آتے تھے اور پھر چلے جاتے تھے۔ کھانا ربوہ میں نہیں کھاتے تھے۔ اِسی طرح بعض لوگ چنیوٹ میں بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ چنیوٹ میں بھی کافی احمدی بستے ہیں۔ کچھ تو فسادات کے بعد وہاں آکر بس گئے ہیں اور کچھ وہاں کے باشندے ہیں۔ بہرحال سات آٹھ سو کے قریب ایسے لوگ تھے جو چنیوٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے اور جلسہ سننے کے لیے روزانہ ربوہ آجاتے تھے اور چلے جاتے تھے۔ وہاں کھانا نہیں کھاتے تھے۔ احمدنگر اور چنیوٹ کے علاوہ بعض دوسری جگہوں سے بھی لوگ صرف جلسہ کے وقت آتے تھے حتّٰی کہ ایک دو سو آدمی لائلپور سے بھی ایسا آتا تھا۔ پھر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے کھانے کا اپنا انتظام کیا ہوا تھا۔ مثلاً سو کے قریب ہمارے ہی خاندان کے افراد تھے جن کا کھانے کا اپنا انتظام تھا۔ اس طرح پندرہ سو سے دو ہزار تک ان لوگوں کی تعداد ہو جاتی ہے جو لنگر کے انتظام کے ماتحت کھانا نہیں کھاتے تھے بلکہ ان کا اپنا انتظام تھا۔ اس تعداد کو ملا کر سترہ ہزار کے قریب ایسے لوگ تھے جو اس سال جلسہ میں شامل ہوئے اور ان مخالف حالات کے باوجود شامل ہوئے جن کے ہوتے ہوئے بعض لوگ کہتے تھے کہ اس سال وہاں جلسہ سالانہ نہیں ہو سکے گا۔ بلکہ بعض مخالف ایسے تھے جنہوں نے ان مخالف حالات کی وجہ سے یہ پیشگوئیاں کرنی شروع کر دی تھیں کہ یہ جلسہ سالانہ اس سال نہیں ہو سکے گا مگر خداتعالیٰ نے اپنا خاص فضل نازل کیا اور جلسہ ہوا اور صرف ہوا ہی نہیں بلکہ اس کامیابی کے ساتھ ہوا کہ لوگ حیران رہ گئے۔ چنانچہ اتنے لوگوں کا وہاں آجانا تو حُسنِ ظنی کے ماتحت بھی ہو سکتا ہے لیکن جو تکلیفیں اور مشکلات وہاں تھیں ان کے باوجود وہاں لوگوں کا رہنا اور ان کو خوشی سے برداشت کرنا یہ ایسی چیز تھی جو تائیدِالٰہی کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ مثلاً پہلے دن ہی سوا دو بجے رات تک بہت سے لوگ ایسے تھے جنہیں کھانا نہیں ملا تھا۔ مجھے ساڑھے بارہ بجے کے قریب یہ آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ ٹھہرو! ابھی کھانا دیتے ہیں۔ ٹھہرو! ابھی کھانا دیتے ہیں۔ میں نے ایک آدمی لنگرخانہ بھجوایا اور اس طرح مجھے معلوم ہوا کہ روٹیاں ابھی پہنچی ہی نہیں۔ کچھ روٹیاں پہنچی ہیں لیکن وہ بہت تھوڑے لوگوں کو مل سکی ہیں۔ میں خود وہاں گیا اور لنگرخانہ کے کارکنوں سے پوچھا کہ روٹی کا ابھی تک کیوں انتظام نہیں ہوسکا؟ اس پر مجھے بتایا گیا کہ ہماری تمام کوششیں بالکل ناکام ہو چکی ہیں ۔اس میں کچھ منتظمین کا بھی قصور تھا کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ اس دفعہ ساٹھ تندور لگائے جائیں گے لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ صرف چالیس تندور لگائے گئے ہیں۔ بہرحال چونکہ عام طور پر خیال یہ تھا کہ جلسہ پر بہت کم لوگ آئیں گے اِس لیے تندور کم لگائے گئے۔ باورچی بھی کم تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اُن پر کام کا بوجھ زیادہ پڑا۔ گرمی کا موسم تھا جو شیڈ(SHED) بنائے گئے تھے وہ کم تھے۔ پھر ایک طرف دیوار کھینچی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ہوا نہیں آتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نو باورچی بے ہوش ہو گئے ان کو دیکھ کر باقی باورچیوں نے کام چھوڑ دیا اور کہہ دیا کہ ہم اپنی جان کو مصیبت میں کیوں ڈالیں؟ اس وجہ سے نَو دس بجے تک روٹی کا کوئی انتظام نہ ہو سکا بلکہ اُس وقت تک اُنہیں کام کرنے کی طرف کوئی رغبت ہی نہ تھی۔ تھوڑے سے چاول اُبالے گئے اور وہ بچوں کو دیئے گئے۔ پھر جُوںتُوں کر کے روٹی کا انتظام کیا گیا اور صبح کے پانچ بجے تک روٹی تقسیم ہوتی رہی اور وہ بھی بہت تھوڑی تھوڑی ۔حالانکہ بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہیں دوپہر کو بھی کھانا نہیں ملا تھا اور وہ رات بھی انہوں نے بغیر کھانے کے گزار دی ۔مگر بجائے اس کے کہ ان کی طبائع میں شکوہ پیدا ہوتا انہوں نے اس تکلیف کو بخوشی برداشت کیا۔
    پھر دوسرا دن بھی اِسی طرح گزرا۔ دوسرے دن بھی کھانا تیار کروانے کی بظاہر کوئی صورت نہیں تھی۔ آخر میں نے افسروں کو سرزنش کی اور انہیں مختلف تدابیر بتائیں، اپنے بیٹوں کو اس کام پر لگایا اور بالآخر بعض ایسی تدابیر نکال لی گئیں جن کے ذریعہ اگر پیٹ بھر کر نہیں تو کچھ نہ کچھ کھانا ضرور مل گیا۔ مثلاً ہمارے ملک میں ایک آدمی کی عام غذا تین روٹی ہے۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کیا کہ بجائے تین تین روٹی کے دو دو روٹیاں دی جائیں۔ پھر یہ تدبیر بھی اختیار کی گئی کہ نانبائیوں سے ٹھیکہ کر لیا گیا کہ اگر وہ اتنا کھانا تیار کر دیں تو انہیں مزدوری کے علاوہ انعام بھی دیا جائے گا۔ اس طرح اُن غریب آدمیوں نے لالچ کی وجہ سے کام کیا اور ہمارے جلسہ کے دن گزر گئے۔
    غرض ان تمام تکلیفوں کے باوجود ہمارے لوگوں کا بشاشت کے ساتھ وہاں بیٹھے رہنا بتاتا ہے کہ یہ محض خداتعالیٰ کے فضل سے تھا۔ پانی کے لیے جو ہم نے نلکے لگوائے تھے وہ تمام ناکام گئے۔ البتہ پانی کے لیے جو سرکاری انتظام کیا گیا تھا اُس سے بہت کچھ فائدہ ہوا ۔لیکن پانی استعمال کرنے کی ہمارے لوگوں کو جتنی عادت ہوتی ہے اُتنا پانی پھر بھی مہیا نہ ہو سکا۔ رہائش کی یہ حالت تھی کہ جن بارکوں میں ساڑھے چار ہزار عورتوں کو رکھا گیا تھا اُن کے متعلق دیکھنے والا یہ تسلیم ہی نہیں کرتا تھا کہ ان بارکوں میں اتنی عورتیں رہ سکتی ہیں۔ جن بارکوں میں عورتوں کو ٹھہرایا گیا تھا وہ کُل سولہ تھیں۔ اُن میں اگر لوگوں کو پاس پاس بھی سُلا دیا جائے تو صرف دو ہزار آدمی آسکتا ہے لیکن جلسہ پر جو عورتیں وہاں ٹھہری تھیں وہ ساڑھے چار ہزار کے قریب تھیں۔ یہ اس طرح ہوا کہ انہوں نے سامان اندر رکھ دیا اور آپ باہر سو کر گزارہ کر لیا۔ مردوں کا حال اس سے بھی بُرا تھا۔ تمام مرد بارکوں کے اندر سو نہیں سکتے تھے اس لیے مردوں کو عورتوں سے زیادہ تکلیف ہوئی۔ کچھ گنجائش اس طرح بھی نکل آئی کہ میری تحریک کے ماتحت بعض دوست اپنے ساتھ بانس، کِیلے اورسُتلی1 لے آئے اور خود خیمے لگا کر انہوں نے جلسہ کے دن گزارے۔ مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے بھی یہ تحریک کر دی گئی تھی۔ چنانچہ میں نے جب جلسہ کے انتظامات دیکھنے کے لیے چکر لگایا تو بہت سے خیمے لگے ہوئے تھے۔ میرا خیال ہے کہ وہ سَوڈیڑھ سَو کے قریب ہوں گے۔ پھر کچھ لوگ چنیوٹ ٹھہر گئے اور کچھ لوگ احمدنگر ٹھہر گئے اور اس طرح گزارہ ہو گیا۔
    غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے باوجود مخالف حالات اور مختلف تکالیف اور مشکلات کے خداتعالیٰ کی وہ خبر جس کو میں پہلے تعبیری طور پر سمجھتا تھا عملی طور پربھی ثابت ہوگئی ۔اور وہی لوگ جو خیال کرتے تھے کہ اس سال جلسہ سالانہ نہیں ہو سکے گا انہیں بھی اقرار کرنا پڑا کہ اس جگہ رہائش کرنے کی وجہ سے لوگوں کی صحت پر بُرا اثر نہیں پڑا بلکہ اچھا اثر ہی پڑا ہے۔ اندھیریاں سارا دن چلتی رہتی تھیں اور گرد سارا دن آنکھوں میں پڑتی تھی لیکن لاہور میں میری آنکھوں کا یہ حال تھا کہ مجھے آنکھوں میں اتنی تکلیف تھی کہ مجھے کئی بار دوائی لگوانی پڑتی تھی۔ درد کی وجہ سے مجھے شُبہ ہو گیا تھا کہ کہیں کوئی بیماری ہی نہ ہو۔ دِن میں چار پانچ دفعہ مجھے لوشن ڈلوانا پڑتا تھا تب جا کر کہیں میری حالت قابلِ برداشت ہوتی تھی لیکن ربوہ میں تو دن کے قیام میں مجھے صرف دودفعہ لوشن ڈلوانا پڑا اور پہلے سے میری آنکھیں اچھی معلوم ہوتی تھیں۔ حالانکہ سارا دن مٹی آنکھوں میں پڑتی رہتی تھی۔ اِسی طرح وہاں کے پانی کے متعلق ڈاکٹری رپورٹ یہ تھی کہ وہ زہریلا ہے اور انسان کے پینے کے ناقابل ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ وہ پانی ہم پر کوئی بُرا اَثر ڈالے اچھا اثر ڈالتا رہا۔ وہ بدمزہ ضرور تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے مقابلہ میں پانی پی لیا یعنی دوسرا اَور پانی میں نے پہلے پی لیا اور پھر وہاںسے نلکوں کا پانی پی لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قریباً سَوا گھنٹے تک منہ کا ذائقہ خراب رہا ۔لیکن باوجود اس کے کہ ڈاکٹری رپورٹ اس پانی کے متعلق یہ تھی کہ وہ ا نسان کے پینے کے قابل نہیں اُس پانی نے بجائے تکلیف پہنچانے کے ہمیں فائدہ پہنچایا۔ جب میں لاہور سے گیا میرے معدہ میں سخت تکلیف تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے میری انتڑیوں پر فالج گر رہا ہے لیکن وہاں میری طبیعت اچھی ہو گئی۔ اِجابت بھی اچھی ہوتی رہی صرف آخری دن اسہال آنے شروع ہو گئے اور بیس کے قریب اسہال آئے لیکن باقی دنوں میں میری طبیعت اچھی رہی۔ میری بیوی اُمِّ ناصر نے بتایا کہ یہاں لاہور میں میں ایک وقت کھانا کھایا کرتی تھی لیکن ربوہ میں دونوں وقت کھانا کھاتی رہی۔ آج لاہور واپس آکر پھر ایک دفعہ کھانا کھا رہی ہوں۔ اِسی طرح کئی اَور دوستوں نے بتایا کہ ربوہ کے پانی نے اُن کی صحتوں پر اچھا اثر ڈالا ہے اور باوجود گردوغبار اُڑنے کے اُن کی آنکھوں کو آرام آگیا۔ میں نے دیکھا ہے کہ یہاں واپس آکر میری آنکھوں میں پھر تکلیف شروع ہو گئی۔ یہاں آکر میں دوتین دفعہ دوائی ڈلوا چکا ہوں۔
    غرض خداتعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ایسے سامان کر دیئے کہ بجائے اس کے کہ اچھا کھانا نہ ملنے کی وجہ سے ہماری صحت پر کوئی بُرا اَثر پڑتا ہماری صحت پر اچھا اَثر پڑا۔ بجائے اس کے کہ وہاں پانی اچھا نہ ملنے کی وجہ سے ہماری صحتوں پر بُرا اَثر پڑتا ربوہ کے پانی نے ہماری صحتوں پر اچھا اَثر ڈالا۔ بجائے اس کے کہ گردوغبار اُڑنے کی وجہ سے ہماری آنکھیں خراب ہوتیں ہماری آنکھیں پہلے سے بھی اچھی ہو گئیں۔ وہاں کے قیام میں آنکھوں میں اتنی گرد پڑی کہ اگر سال بھر کی گرد کو جمع کیا جائے تو اُتنی نہ ہو گی لیکن اُس گردوغبار نے ہماری آنکھوں کو اَور بھی منور کر دیا۔ اِسی طرح روٹیوں اور سالن کے مہیا کرنے میں بہت سی مشکلات تھیں لیکن وہی روٹیاں جو کچی ہوتی تھیں بجائے اس کے کہ ہمارے معدوں کو خراب کرتیں اُن کے کھانے سے ہمارے معدوں میں اَور زیادہ طاقت محسوس ہونے لگ گئی۔پھر علاقہ نیا تھا اور اس وجہ سے بھی بعض دِقّتوں کا احتمال تھا مگر اس میں بھی خداتعالیٰ کا خاص فضل ہوا اور وہاں تبلیغ کثرت سے ہوئی۔ قادیان کے جلسوں پر ضلع جھنگ کے صرف چالیس پینتالیس آدمی آیا کرتے تھے لیکن اس جلسہ پر سب سے زیادہ آنے والے جھنگ کے لوگ تھے۔ لجنہ اماء للہ نے عورتوں کی تعداد کے متعلق ضلع وار رپورٹ دی۔ اُس کے مطابق جلسے پر آنے والی ایک سَو پندرہ عورتیں ایسی تھیں جو ضلع جھنگ سے آئی تھیں۔ چونکہ ہم نئے نئے وہاں گئے تھے اردگرد کے لوگوں نے ہمارے متعلق باتیں سُنیں تو وہ جلسہ پر آگئے۔ اس طرح تبلیغ کے لیے ایک اَور رستہ نکل آیا۔
    میرے ایک عزیز لالیاں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ربوہ میں چونکہ رہائش کا خاص انتظام نہیں تھا اس لیے وہ لالیاں ٹھہر گئے اور ڈاک بنگلہ ریزرو کروا لیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب وہ اسٹیشن پر رخصت ہونے لگے تو ایک پٹھان شور مچا رہا تھا۔ وہ پٹھان قادیان نہیں آیا تھا لیکن ربوہ کا جلسہ اُس نے دیکھا تھا۔ چونکہ یہ لوگ اسلامی ممالک کے قریب رہتے ہیں اس لیے اسلامی باتوں کا ان کے دلوں پر اچھا اثر ہوتا ہے۔ اُس عزیز نے بتایا کہ وہ پٹھان شور مچا رہا تھا کہ ایسا جلسہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ایسی تقریر ہم نے پہلے سنی ہے۔ اُس کے پاس کوئی مولوی طرز کا ایک آدمی کھڑا تھا اُس نے کہا یہ لوگ تو کافر ہیں، ان کا جلسہ کیا اور ان کی تقریریں کیسی؟ اُس نے کہا وہ کافر نہیں ہو سکتا وہ تو سَو بکرا روز کِھلاتا ہے وہ کافر کیسے ہو سکتا ہے۔یہ اسلامی تہذیب کا اثر تھا جو اُس پٹھان کی طبیعت پر ہوا۔ پٹھان ایک مہمان نواز قوم ہے۔ اُس نے جب جلسہ پر مہمان نوازی کا انتظام دیکھا تو اس کی طبیعت پر بہت اچھا اثر ہوا۔
    اسی طرح پونچھ کے علاقہ کی ایک عورت میری ایک بیوی کے پاس آئی۔پہاڑی علاقہ کے لوگ عام طور پر مہمان نواز ہوتے ہیں لیکن وہ ایسے علاقہ کی تھی جو مہمان نواز نہیں تھا۔ وہ عورت میری ایک بیوی کے پاس آئی اُن سے کہا کہ ہمارے ہاں تو مہمان آئے تو چارپائی اُلٹ دیتے ہیں اور مہمان کو کھانا نہیں کھلاتے۔ آپ تو ساروں کو کھانا دیتے ہیں۔ بہرحال نئی جگہ اور نیا علاقہ ہونے کی وجہ سے کئی نئے لوگوں کو ہماری باتیں سننے کا موقع ملا۔ میں لاہور والوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں اگرچہ یہ بات میری عقل میں نہیں آتی کہ لاہور اس دفعہ سیکنڈ رہا ہے۔ لجنہ اماء اللہ کی طرف سے جو عورتوں کی تعداد مجھے دی گئی ہے اُس کے مطابق 975 عورتیں لاہور کی تھیں۔ یہ بات میں نہیں سمجھ سکا کہ اتنی عورتیں کہاں سے آئیں؟ دواَڑھائی سو تک تو بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ اتنی عورتیں تو قادیان کی مہاجر عورتیں ہو سکتی ہیں لیکن پھر بھی ساڑے چھ سو کی تعداد باقی رہ جاتی ہے۔ اور اگر975عورتیں لاہور کی تھیں تو جلسہ میں مرد بھی شامل ہوتے تھے۔ اگر اُن کی حاضر ی کی بھی یہی نسبت تھی تو لاہور کا ضلع حاضری کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر آجاتا ہے۔ سرگودھا، لائلپور اور سیالکوٹ کے ضلعے اپنی احمدی آبادی کے لحاظ سے بہت کم شامل ہوئے۔ کسان اضلاع سے آنے والے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ آبادی کے لحاظ سے ان ضلعوں سے آنے والے بہت کم لوگ تھے۔ ضلع سرگودھا سے آنے والوں کی تعداد باقی دو اَضلاع سے نسبتاً زیادہ تھی۔ لائلپور اور سیالکوٹ کی تعداد بہت پیچھے تھی۔
    بہرحال اللہ تعالیٰ نے ہمارا جلسہ نہایت کامیابی سے گزارا۔ اس میں شُبہ نہیں کہ وقت کی کمی کی وجہ سے اور خرابیء صحت کی وجہ سے میری تقریر مکمل نہ ہو سکی۔ تقریر کے بعض حصے رہ گئے۔ اگر خداتعالیٰ نے چاہا تو میں اُن حصوں کو مضمون کی صورت میں شائع کرا دوں گا۔ آئندہ اگر خدا نے چاہا اور ہمیں اپنے ارادوں کی تکمیل کی توفیق مل گئی تو اگلا جلسہ سالانہ دسمبر کے ایام میں ہو گا۔ اگلے جلسہ سالانہ میں اب صرف آٹھ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ پس اس کے لیے بھی ابھی سے ہماری جماعت کو تیار رہنا چاہیے۔
    میں نے جلسہ پر جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ دوستوں کو چاہیے جس طرح وہ قادیان باربار آیا جایا کرتے تھے وہ ربوہ میں بھی باربار آیا جایا کریں۔ اس کے کئی فائدے ہوں گے۔ ایک تو اجتماعی طور پر مل جانے سے روحانیت میں جِلا پیدا ہوتا ہے۔صحابہ کرام ؓ جب مل کر بیٹھتے تھے تو ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ آؤ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں کریں تا جِلا پیدا ہو۔ دوسرے کام کرنے والوں کے اندر بیداری پیدا ہو گی۔ یہاں ہماری یہ ضرورت تھی کہ ہمارے پاس دفاتر کے لیے کافی جگہ نہیں تھی اس لیے ایسی کوئی صورت نہیں تھی کہ یہاں آنے والے لوگ بیٹھ سکیں۔ اب وہاں ناظروں کے الگ الگ کمرے ہوں گے اور آنے جانے والوں کے لیے سہولت پیدا کر دی جائے گی۔ پھر جب لوگ وہاں جائیں گے تو کارکنوں کے اندر احساس پیدا ہو گا کہ جماعت ہمارے کاموں کو دیکھ رہی ہے، ہمیں اچھی طرح سے کام کرنا چاہیے۔ تیسرے اردگرد کے لوگوں پر بھی اس کا اثر ہو گا۔ جیسے میں نے اس پٹھان کی بات سنائی ہے۔ لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا ہو گا کہ ان لوگوں کو اپنے مرکز کی طرف میلان اور توجہ ہے اور یہ لوگ عموماً یہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کرنے اور آپس میں تعاون کرنے سے ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے گا کہ یہ کام کرنے والی جماعت ہے اور ان سے ملنا اور ان سے تعلق رکھنا دنیوی اور دینی دونوں رنگ میں بہتر ہے۔
    اس دفعہ جلسہ کے لیے سب سے بڑی دِقّت پانی کی تھی۔ جب یہ فیصلہ ہوا کہ جلسہ اپریل میں ہو گا اور ربوہ میں ہو گا تو ہم نے اُس وقت اِس کام پر دس ہزار روپیہ لگایا جس میں سے چار ہزار روپیہ کی رقم ایسی ہے جو ہمارے پھر بھی کام آسکتی ہے۔ باقی چھ ہزار روپیہ ایسا ہے جو ہم نے پانی مہیا کرنے پر خرچ کیا۔ ایک ہزار روپیہ تو بورنگ کے لیے ہم گورنمنٹ کو دے چکے ہیں لیکن بورنگ ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا ۔بعض اَور ذرائع کا بھی پتا چلا ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پانی مہیا کیا جائے ورنہ نہر سے یا دریا سے پانی لینے کی کوشش کی جائے گی۔ بہرحال میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی ایسا سامان کر دے گا کہ ہمیں پانی میسر آجائے گا اور اس کی وجہ سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔
    جلسہ کے اختتام کے بعد جس دن ہم ربوہ سے واپس چلے (یعنی 21؍اپریل 1949ء بروز جمعرات) مجھے ایک الہام ہوا۔ میں جانتا ہوں کہ مخالف اِس سے اَور بھی چِڑیں گے، شور مچائیں گے۔ میں نے جب افتتاحی تقریر کی تھی تو چنیوٹ والوں نے شور مچایا تھا کہ یہ اپنے آپ کو ابراہیم قرار دیتے اور اسماعیل بنتے ہیں۔ حالانکہ ہم تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اچھا سمجھتے ہیں۔وہ خواہ چِڑیں یا بُرا منائیں ہم نے تو ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ ہی بننا ہے۔ وہ اگر چاہیں تو اپنے آپ کو بُرے لوگوں سے تشبیہہ دے لیا کریں۔ اب بھی شاید وہ چِڑیں گے مگر ہم خداتعالیٰ کی باتوں کو چُھپا نہیں سکتے۔
    غرض میں نے جس دن ربوہ سے واپس آنا تھا خاندان کی اکثر سواریاں ٹرین کے ذریعہ آئیں اور میں موٹر کے ذریعہ آیا۔ اس سے ایک تو پیسے کی بچت ہوگئی کیونکہ اگر میں موٹر پر نہ آتا تو موٹر نے خالی آنا تھا۔ دوسرے وقت کی بچت ہوگئی۔ میں ،تین چار مستورات اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے چند آدمی ہم موٹر پر آئے اور باقی افراد ٹرین کے ذریعہ۔ پہلے ٹرین لیٹ تھی اور اس کے آنے میں دیر ہوگئی اور یقین ہو گیا کہ یہ گاڑی لاہور کو جانے والی گاڑی کو نہیں پکڑ سکے گی اس لیے ہم نے سب سواریوں کو واپس بلا لیا کہ سب کو لاریوں میں لے جائیں گے ۔لیکن جب ٹرین آئی تو ایک انسپکٹر جو ساتھ تھا اُس نے کہا کہ کچھ ڈبے لاہور سے اگلے جنکشن پر آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگوں کے لیے ریزرو ہیں اس لیے اگلی گاڑی ان سواریوں کو لیے بغیر نہیں چلے گی۔اس اطلاع پر پھر سواریوں کو ٹرین کے ذریعہ بھیج دیا گیا۔ جب ٹرین چلی تو معلوم ہوا کہ ان کا کھانا رہ گیا ہے۔ چنانچہ کھانا موٹر کے ذریعہ چنیوٹ بھجوایا گیا۔ اب صورت یہ تھی کہ جب تک موٹر واپس نہ آئے میں لاہور نہیں آسکتا تھا۔ اس لیے میں لیٹ گیا اور مجھ پر ایک غنودگی سی طاری ہوگئی۔ اس نیم غنودگی کی حالت میں مَیں نے دیکھا کہ میں خداتعالیٰ کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھ رہا ہوں ؎
    جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب
    پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا
    میں نے اسی حالت میں سوچنا شروع کیا کہ اس الہام میں ’’جاتے ہوئے‘‘سے کیا مراد ہے؟ اس پر میں نے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اِس وقت تو پانی دستیاب نہیں ہو سکالیکن جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے زمزم پھوٹ پڑا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ کوئی ایسی صورت پیدا کر دے گا کہ جس سے ہمیں پانی بہ افراط میسر آنے لگے گا۔ اگر پانی پہلے ہی مل جاتا تو لوگ کہہ دیتے کہ یہ وادی بے آب و گیاہ نہیں یہاں تو پانی موجود ہے۔ پھر اس وادی کو بے آب و گیاہ کہنے کے کیا معنے؟ اب ایک وقت تو پانی کے بغیر گزر گیا اور باوجود کوشش کے ہمیں پانی نہ مل سکا۔ آئندہ خداتعالیٰ کوئی نہ کوئی صورت ایسی ضرور پیدا کر دے گا کہ جس سے ہمیں پانی مل جائے گا۔اس لیے فرمایاکہ
    جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب
    پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا
    ’’پاؤں کے نیچے‘‘سے مراد یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے مجھے اسماعیل قرار دیا ہے۔ جس طرح وہاں اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے پانی بہہ نکلا تھا اُسی طرح یہاں خداتعالیٰ میری دعاؤں کی وجہ سے پانی بہا دے گا۔ یہ ایک محاورہ ہے جو محنت کرنے اور دعا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ہم نے اپنا پورا زور لگا دیا تا ہمیں پانی مل سکے لیکن ہم اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوئے۔ اب خداتعالیٰ نے میرے منہ سے یہ کہلوا دیا کہ پانی صرف تیری دعاؤں کی وجہ سے نکلے گا۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ پانی کب نکلے گا اور کس طرح نکلے گا لیکن بہرحال یہ الہامی شعر تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کوئی نہ کوئی صورت ایسی ضرور پیدا کر دے گا جس کی وجہ سے وہاں پانی کی کثرت ہو جائے گی اِنشَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
    اس شعر میں حضور اور جناب دو لفظ اکٹھے کہے گئے ہیں جو عام طور پر اکٹھے استعمال نہیں ہوتے لیکن چونکہ یہاں ادب کا پہلو مراد ہے اس لیے ’’آپ‘‘کے لفظ کی بجائے یہاں حضور اور جناب کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ بہانے سے مطلب یہ ہے کہ پانی وافر ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ الہام کس رنگ میں پورا ہوگا۔ ممکن ہے ہمیں نہر سے پانی مل جائے یا دریا سے پانی لے لیا جائے یا ہمیں کوئی اَور جگہ مل جائے جہاں پانی ہو اور اِس وقت تک ہمیں اُس کا علم نہ ہو۔
    بہرحال یہ نہایت ہی خوش کن الہام ہے اور یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک الہام کی تائید کرتا ہے جو یہ ہے یُخْرِجُ ھَمُّہٗ وَغَمُّہٗ دَوْحَۃَ اِسْمَاعِیْلَ2 یعنی خداتعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے غم اور فکر اور دعاؤں کی وجہ سے ایک اسماعیلی درخت پیدا کرے گا۔ وہ دَوْحَۃَ اِسْمَاعِیْلَ میں ہی ہوں اور اس سے بھی ہجرت کی خبر نکلتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بتایا گیا تھا کہ خداتعالیٰ تیری اولاد میں سے ایک ایسا شخص پیدا کرے گا جو ایک بے آب و گیاہ وادی میں آبادی کے سامان پیدا کرے گا۔ پہلے تو ہم اس کی قیاسی تشریح کرتے تھے لیکن اب خداتعالیٰ نے میرے ذریعہ عملی طور پر اس کی تشریح کر دی اور مجھے اسماعیل قرار دیتے ہوئے فرمایا
    جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب
    پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا
    یعنی جہاں میرا پاؤں پڑا خداتعالیٰ نے وہاں پانی بہا دیا۔
    پس یہ اللہ تعالیٰ کا ایک زبردست نشان ہے جو پورا ہوا اور بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا۔ اور جیسا کہ خدائی کلام سے معلوم ہوتا ہے بہت سے اَور نشانات اس نشان کے ساتھ وابستہ ہیں۔
    لوگ سمجھتے تھے کہ وہ احمدیت کو توڑ دیں گے۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ احمدیت کو کُچل دیں گے۔ انہوں نے یہ خیال کر لیا تھا کہ یہ جماعت اپنے مرکز سے علیحدہ ہو کر ٹوٹ جائے گی ۔لیکن یہ جماعت وہ جماعت نہیں جس کو کوئی انسان کُچل سکے۔ خداتعالیٰ نے بعض اِس قسم کے حیوانی کیڑے پیدا کیے ہیں کہ اگر انہیں کاٹ دیا جائے تو بجائے اس کے کہ وہ مر جائیں (جیسے انسان مر جاتا ہے یا بکرے کو کاٹ دیا جائے تو وہ مر جاتا ہے، گائے، بھینس، بھیڑ، گھوڑا وغیرہ جانوروں کو درمیان سے کاٹ دیا جائے تو وہ مر جاتے ہیں) ان کا اگر دھڑ کاٹ دیا جائے تو وہ مرتے نہیں بلکہ ان کے دھڑ کے دونوں حصے دو پورے وجود بن جاتے ہیں۔ ایک آدھا حصہ ایک طرف پورا جانور بن جاتا ہے اور دوسرا آدھا حصہ دوسرا جانور بن جاتا ہے۔ یہی صورت خداتعالیٰ کے قائم کردہ ابتدائی سلسلوں کی ہوتی ہے۔ قومیںجب بوڑھی ہو جاتی ہیں، جب ضعیف اور کمزور ہو جاتی ہیں اور ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ مر جاتی ہیں لیکن انبیاء کے ذریعہ ان کی ابتداہوتی ہے تو وہی قومیں ابتدائی کیڑوں کی طرح ہو جاتی ہیں۔ ان کا دھڑ اگر درمیان سے کاٹ دیا جائے تو بجائے اِس کے کہ وہ مر جائیں ان کے دونوں حصے الگ الگ پورا وجود بن جاتے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ یہ قوم کاٹنے سے ہرگز نہیں مرے گی بلکہ کاٹنے سے اس کے ایک وجود کی بجائے دو وجود بن جائیں گے اور پھر دو سے چار وجود بن جائیں گے اور اِسی طرح یہ قوم ترقی کرتی چلی جائے گی۔ بہرحال خداتعالیٰ کے اَور بہت بڑے بڑے نشانات ہیں جو ہمارے اس ابتلاء سے وابستہ ہیں۔ اگر تم اپنے اندر ایمان کی زیادتی پیدا کرلو، اگر تم تقوٰی میں زیادتی پیدا کرلو تو تم خداتعالیٰ کے ان نشانات کو دیکھو گے، تم اپنے ایمان کو تازہ کرو گے، اپنی اولاد کے ایمان کو تازہ کرو گے اور دوسروں کو اپنی طرف کھینچ کر لانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔
    مومن کا کام اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنا ہوتا ہے ۔کام تو خداتعالیٰ کرتا ہے لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم وہی کچھ کریں، ہم وہی کچھ سوچیں اور ہم وہی کچھ کہیں جو خداتعالیٰ نے کہا ہے۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی اور پیشگوئی کی میعاد گزر گئی۔ میں اُس وقت چھ سات سال کی عمر کا تھا۔ مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے۔ جس جگہ قادیان میں بکڈپو ہوا کرتا تھا اس کے ساتھ والے کمرہ میں موٹر ہوا کرتے تھے اور اس کے مغرب والے کمرہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول پہلے درس دیا کرتے تھے یا مطب کیا کرتے تھے۔ آخری ایام میں مولوی قطب الدین صاحب مرحوم وہاں مطب کرتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ پھر ایک کوٹھڑی تھی جس۔میں کتابیں رکھی ہوتی تھیں۔ اور جس کمرے میں اب موٹر ہوتے تھے اس میں حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کا پریس تھا اور اس کمرے میں جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الاول مطب فرمایا کرتے تھے فرمہ بندی3 ہو جاتی تھی اور پھر کوٹھری میں کتابیں رکھ دی جاتیں تھیں۔ حضرت۔خلیفۃ۔المسیح۔الاول کے بعض شاگرد بھی وہاں رہا کرتے تھے۔ اور چونکہ اُن دنوں بہت کم لوگ ہوا کرتے تھے اس لیے عام طور پر جو لوگ وہاں آتے تھے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے شاگرد بن جاتے تھے یہی مدرسہ تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول ہی پڑھایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اَور کوئی مدرسہ نہیں تھا۔ وہ لوگ آپ کے شاگرد بھی ہوتے تھے اور سلسلہ کے خادم بھی ہوتے تھے۔
    مجھے خوب یادہے کہ میںچھوٹاساتھاکہ جب آتھم کی پیشگوئی کا وقت پورا ہوا۔ غالباً یہ1894ء کے آخر یا 1895ء کے شروع کی بات ہے۔ میں اُس وقت ساڑھے پانچ یا چھ سال کا تھا۔ ابھی تک وہ نظارہ مجھے یاد ہے۔ اُس وقت تو میں اسے نہیں سمجھتا تھا کیونکہ میری عمر بہت چھوٹی تھی لیکن اب واقعات سے میں سمجھتا ہوں کہ جس دن آتھم کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا آخری دن تھایعنی پندرہ مہینے ختم ہونے تھے اُس دن اتنا کُہرام مچا ہوا تھا کہ لوگ رورو کر چیخیں مار رہے تھے اور دعا کرتے تھے کہ خدایا!آتھم مر جائے۔ یہ عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے کی بات ہے۔ پھر نماز کا وقت ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نماز پڑھائی اور نماز کے بعد آپ مجلس میں بیٹھ گئے۔ گو اُس عمر میں مَیں باقاعدہ مجلس میں حاضر نہیں ہوتا تھالیکن کبھی کبھی مجلس میں بیٹھ جاتا تھا۔ اُس دن میں بھی مجلس میں بیٹھ گیا۔ اُس دن جو لوگ رو رو کر دعائیں کرتے رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن کے فعل پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کیا خداتعالیٰ سے بھی بڑھ کر کسی انسان کو اس کے کلام کے لیے غیرت ہو سکتی ہے؟ خداتعالیٰ نے جب یہ بات کہی ہے کہ ایسا ہو گا تو ہمیں ایمان رکھنا چاہیے کہ ایسا ضرور ہو گا۔ اور اگر ہم نے خداتعالیٰ کی بات کو غلط سمجھا ہے تو خداتعالیٰ اس بات کا پابند نہیں ہوسکتا کہ وہ ہماری غلطی کے مطابق فیصلہ کرے۔ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ جب ہم نے ایک شخص کو راستباز مان لیا ہے تو اس کی باتوں پر یقین رکھیں۔ غرض مومن کا کام یہ ہے کہ وہ خداتعالیٰ پر توکّل کرے۔ خداتعالیٰ کی بات بہرحال پوری ہو کر رہتی ہے۔
    صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر عمرہ کے لیے مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ نہ ہو سکا تو اس سے حضرت عمرؓ کو سخت صدمہ ہوا۔ آپ حضرت ابوبکرؓ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا یہ کیا ہوا ہے؟ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا عمر !یہ بتاؤ یہ آدمی سچا ہے یا نہیں؟ اگر تمہیں یقین ہے کہ یہ آدمی سچا ہے تو پھر اس گھبراہٹ کے کیا معنے ہیں؟ بہرحال جو کچھ وہ کہتا ہے وہی ٹھیک ہے۔
    ایسا ہی ایک واقعہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبوت کا دعوٰی کیا اور آپ کی کتب فتح اسلام اور توضیح مرام شائع ہوئیں تو اُس وقت میںجموں میں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کر چکا تھا۔ میرے غیراحمدی دوست مجھے ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ آپ نے مرزا صاحب کو ماننے میں غلطی کی ہے۔ ان میں سے ایک لاہور آیا اور امرتسر سے جہاں وہ کتابیں چھپ رہی تھیں ان کے بعض فرمے لے گیا اور جموں واپس جا کر اپنے دوستوں سے کہنے لگا کہ اب میں نورالدین کو زیر کر لوں گا۔ اب میں ایسا سامان لایا ہوں کہ وہ بچ نہیں سکتا۔ ان کا خیال تھا کہ مرزا صاحب نے چونکہ مامور مِنَ اللہ اور نبی ہونے کا دعوٰی کیا ہے اور مولوی نورالدین صاحب کو رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت عشق ہے اس لیے وہ یہ کبھی برداشت نہیں کر سکیں گے کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبوت کا دعوٰی کرے اور وہ فوراً اپنے خیالات کو چھوڑ دیں گے۔ وہ شخص مجلس میں اپنے دوستوں سمیت آیا، کتاب کے ورق اس کی جیب میں تھے۔ وہ سب آپس میں مسکرا مسکرا کر باتیں کرنے لگے اور مجھے کہا کہ ہم نے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اَور شخص نبوت کا دعوٰی کرے تو آپ کا اُس کے متعلق کیا خیال ہے؟آپ فرمایا کرتے تھے مجھے یہ وہم بھی نہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبوت کا دعوٰی کیا ہے یا کہیں لکھا ہے کہ آپ مامور من اللہ اور نبی ہیں۔ میں نے اصولی طور پر انہیں جواب دیا اور کہا کہ یہ تو اُس شخص پر منحصر ہے جس نے دعوٰی کیا ہے۔ ہمیں پہلے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ وہ ہے کیسا؟ اگر وہ راستباز ہے تو پھر جو کچھ وہ کہتا ہے ٹھیک کہتا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ خواہ چھوٹی سی بات بھی کہے تو وہ جھوٹی ہے۔ انہوں نے کہا قرآن کریم میں تو لکھا ہے اور حدیثوں میں بھی آتا ہے اور آپ کا بھی عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اَور کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میں نے کہا اگر وہ شخص واقع میں راستباز ہے تو جو کچھ وہ کہتا ہے ٹھیک کہتا ہے اور میرا عقیدہ غلط ہے۔ اس پر انہوں نے کہا یہ تو بالکل ہی گیا گزرا ہے یہ اب واپس نہیں آسکتا۔
    لیکن یہ ایک سیدھا سادا مسئلہ ہے۔ اگر کوئی شخص تعصّب سے بالکل خالی ہو کر دیکھے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص واقع میں سچا اور راستباز ہے تو اس کی ہر بات سچی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ راستباز بھی ہو اور غلط باتیں بھی کہے۔ پس اگر حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سچے ہیں اور راستباز ہیں تو آپ نے جو کچھ کہا پورا ہو کر رہے گا۔ حوادثاتِ۔زمانہ جھوٹے ہیں، ہمارے کان جھوٹے ہیں، ہماری آنکھیں جھوٹی ہیں مگر خداتعالیٰ کی بات سچی ہے۔ پھر یہاں تو خداتعالیٰ نے صرف اتنی بات ہی نہیں رکھی بلکہ کثرت سے مجھے بھی اس نے خبریں دیں جن سے صاف پتا لگتا ہے کہ ان باتوں کا کہنے والا کوئی پاگل اور جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔اور اگر ہم نے کوئی بات غلط سمجھی ہو تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا خیال غلط ہے۔ سچے کی بات بہرحال سچی ہوگی ورنہ وہ راست باز کیسے کہلا سکتا ہے۔
    ان پیشگوئیوں کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائیں یقیناً وہ زمانہ آنے والا ہے کہ وہی چیز جو دنیا کی نظروں میں ناممکن نظر آتی ہے ممکن نظر آنے لگ جائے گی۔ بلکہ لوگ یہ کہنے لگ جائیں گے کہ ایسا تو ہو ہی جانا تھا کیونکہ حالات ہی اس قسم کے تھے۔ بھلا آج سے سات آٹھ سال پہلے کیا کوئی کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان تقسیم ہو جائے گا؟ کیا کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ لوگ ہتھیاروں کے ساتھ ایک دوسرے پر حملے کریں گے اور قادیان سے احمدیوں کو نکلنا پڑے گا آج سے چند سال پہلے کوئی مان ہی نہیں سکتا تھا کہ کسی دن ملک تقسیم ہو گا ۔لیکن وہ بات جو ناممکن تھی وہ وقوع میں آئی اور پیشگوئیوں کے مطابق پوری ہوئی اور اپنی تفصیلات کے ساتھ ہوئی۔
    پس وہ خدا جس نے جب دنیا نہیں سمجھ سکتی تھی کہا تھا کہ ہندوستان تقسیم ہو گا، احمدیوں کو قادیان چھوڑ کر آنا پڑے گا، خون خرابہ ہوگا اور جو اُس نے کہا تھا وہ ہو گیا۔ اُسی خدا نے جب یہ کہا ہے کہ احمدی پھر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے۔ وہ پھر ایک مرکز میں جمع ہو کر دنیا پر غالب آجائیں گے اور دنیا کو فتح کر لیں گے تو یہ بات بھی اُسی طرح ہی پوری ہوگی جس طرح اُس کی پہلی باتیں پوری ہوئیں‘‘۔
    (الفضل 18؍اگست 1949ء )

    1
    :
    سُتلی:سَن کی باریک ڈوری (فیروزاللغات اردو ترجمہ فیروز سنز لمیٹڈ)
    2
    :
    تذکرہ صفحہ595ایڈیشن چہارم
    3
    :
    فرمہ:چھاپنے کے لیے سیسے کے حروف کی ترتیب دی ہوئی پلیٹ، ٹائپ کے حروف کا چوکھٹا یا پتھر وغیرہ پر جمائی ہوئی تحریر۔ چھاپنے کے لیے تیار کیا ہوا کاغذکا ایک تاؤ(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 13۔اردو لغت بورڈ کراچی جون1991ئ)


    جماعت احمدیہ لاہور کی اہمیت اور اس کی ذمہ داریاں

    (فرمودہ6 مئی 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آنکھ کی تکلیف کی وجہ سے میرا یہاں جمعہ پڑھانے کے لیے آنا اور روشنی میں نکلنا مناسب نہیں تھا لیکن پچھلے جمعہ چونکہ ناغہ ہو گیا تھا اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ آج جمعہ کی نماز پڑھا آؤں۔ اس مہینہ میں میرا ارادہ ہے کہ اگر خداتعالیٰ چاہے تو میں باہر پہاڑ پر چلا جاؤں اور اسی طرح سندھ کے کام کو بھی دیکھنے کے لیے جاؤں۔ اس لیے غالباً ایک جمعہ یا دو جمعے ہی زیادہ سے زیادہ مجھے یہاں پڑھانے کا موقع ملے گا۔ اس کے بعد غالباً پہاڑ سے واپسی پر ربوہ میں رہائش کا انتظام ہو چکا ہو گااور عمارتیں بنائی جا چکی ہوں گی۔ اس لیے ہم غالباً براہِ راست ربوہ چلے جائیںگے۔ اور ہمارا مرکز مستقل طور پر وہاں قائم ہو جائے گا ۔اوراگر ایسا ہوا تو میرا یہاں آنا کبھی کبھار ہو گا جس طرح پہلے ہوا کرتا تھا۔ گویا یہ مستقل قیام کا زمانہ ختم جائے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ واپسی پر آٹھ دس روز ٹھہر کر ربوہ جائیںمگر یہ قیام بھی بہرحال مختصر ہوگا۔
    میں سمجھتا ہوں کہ مجھ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے خواہ اسے کتنی بار ہی دُہرانا پڑے کہ میں لاہور کی جماعت کو اس طرف توجہ دلاؤں کہ اس پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں اور ان کے پورا کرنے کی طرف اسے پوری توجہ نہیں۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کے کچھ حصہ میں بیداری کے آثار پیدا ہوچکے ہیں۔ مثلاً 1947ء میں جب ہم لاہور آئے اُس وقت یہاں عورتوں میں انتہائی بے حسی پائی جاتی تھی۔ لجنہ۔امائ۔اللہ مرکزیہ کی طرف سے مستورات کو باربار توجہ دلائی گئی لیکن ایسی عورتیں بہت کم تھیں جو لجنہ کے کاموں میں حصہ لیتی تھیں۔ آہستہ آہستہ عورتوں کے اندر بیداری پیدا ہونی شروع ہوئی اور اس جلسہ پر گو لاہور سے جانے والی عورتوں میں ایک حصہ قادیان سے آئی ہوئی عورتوں کا بھی تھا لیکن ان میں سے اکثر عورتیں لاہور کی تھیں جو نہ صرف کثیر تعداد میں جلسہ پر گئیں بلکہ چندہ کرکے بہت سا سامان بھی خرید کر اپنے ساتھ ربوہ لے گئیں جس کی وجہ سے عورتوں کی مہمان نوازی میں ایک حد تک سہولت پیدا ہوگئی۔درجنوں عورتیں لاہور سے مہمانوں کی خدمت کے لیے ربوہ گئیں۔ قادیان میں وہ مہمان بن کر جایا کرتی تھیں لیکن اس جلسہ پر وہ میزبان بن کر گئیں۔ اور ان میں سے بعض نے نہایت اخلاص کے ساتھ مہمانوں کی خدمت میں حصہ لیا اور نیک نمونہ دکھایا۔ یہ بات بتاتی ہے کہ لاہور کی جماعت کی عورتوں میں ایک حد تک بیداری پیدا ہو چکی ہے اور اگر یہ حالت قائم رہے تو اس کا اثر یقیناً آئندہ نسلوں پر بھی پڑے گا۔ مردوں میں بھی کچھ حصہ میں یقیناً بیداری پیدا ہوئی ہو گی لیکن اس کی کوئی معیّن صورت میرے سامنے نہیں آئی لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ ان کی کافی تعداد اس سال جلسہ میں شامل ہوئی۔ مردوں کی کوئی الگ رپورٹ میرے پاس نہیں آئی لیکن عورتوں کی جو تعداد جلسہ پر حاضر تھی اُس کا اگر قیاس کر لیا جائے تو جلسہ پر جانے والے مرد بھی بہت زیادہ ہوں گے۔ اور اگر یہ قیاس درست ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کے ایک حصہ میں بھی بیداری کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔
    لاہور کی جماعت کو ایک اہمیت حاصل ہے اور وہ اہمیت یہ ہے کہ لاہور ایک تو بارڈر(Border) پر واقع ہے۔ دوسرے پاکستان کے ایک جنگی صوبہ کا صدرمقام ہے جو پاکستان کی حفاظت کے لیے آئندہ زمانہ میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتا ہے۔ بے شک یہ صوبہ اپنی نالائقیوں کی وجہ سے سیاست کے میدان میں بہت پیچھے رہ گیا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس کے اندر جو اندرونی طاقتیں موجود ہیں اور جو صلاحیتیں اسے حاصل ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ظاہر ہے کہ اس کی یہ حالت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ جلد یا بدیر پنجاب اپنے مقام کو پا لے گا اور جلد یا بدیر پاکستان کے لوگوں کو پنجاب کی دوسرے علاقوں پر برتری تسلیم کرنی پڑے گی۔ اور اگر پنجاب کے لوگوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صوبائی تعصب سے خالی ہیں اور اگر انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صوبہ داری ذہنیت سے آزاد ہیں تو یقیناً ان کے نمونہ کا اثر دوسروں پر بھی پڑے گا اور صوبائی تعصب کی بیماری سے جو اس وقت سرطان کے پھوڑے کی سی صورت اختیار کر رہی ہے پاکستان شفا پا جائے گا اور باہمی اختلاف دور ہو جائے گا۔
    غرض لاہور کی جماعت کو ایک اہمیت حاصل ہے جس کو ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔ لاہور خواہ اچھے رنگ میں ہو یا بُرے رنگ میں ہمیشہ اپنے آپ کو آگے کرتا رہے گا۔ اس لیے لاہور کی جماعت کی ذمہ داریاں کسی حالت میں بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتیں۔ اس کی ہر حالت کا باقی جماعت پراثر پڑے گا۔ اگر لاہور کی جماعت کمزور ہو گی، اگر لاہور کی جماعت اپنے مقام کو جو اس کا جائز حق ہے حاصل نہ کرے گی تو اس کا اثر صوبہ کی دوسری جماعتوں پر بھی ضرور پڑے گا ۔اور وہ تبلیغ جس کے رستے اب خداتعالیٰ نے کھول دیئے ہیں اور اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے جو مواقع ہمیں میسر آچکے ہیں انہیں زبردست دھکّا لگے گا جس کا ازالہ آسانی سے نہیں ہو سکے گا۔ لیکن لاہور کی جماعت اگر اخلاص سے کام لے گی اور اپنے فرضِ منصبی کو سمجھے گی تو ہماری تبلیغ بھی وسیع ہو جائے گی اور جماعت یَوْمًافَیَوْمًابڑھتی چلی جائے گی۔ اگر لاہور کی جماعت لاہور میں اپنے اثر کو اتنا نمایاں اور ظاہر کر دے کہ دشمن کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑے کہ جماعت احمدیہ نے اپنا ایک نقش قائم کر دیا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ صوبہ کے باقی اضلاع، شہروں اور دیہات میں احمدیت اس سے زیادہ سُرعت کے ساتھ پھیلنے لگ جائے گی جس سُرعت سے وہ اب پھیل رہی ہے۔ اگر اللہ۔تعالیٰ کی مشیّت کے مطابق تین چار ماہ تک ہم ربوہ میں جابسے اور ایسی سہولتیں ہمیں حاصل ہوگئیں کہ اُسے ہم مرکز بنالیں تو پھر جماعت کا تنظیمی مرکز تو بے شک ربوہ ہی ہوگا لیکن یہ بات نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ اس کا سیاسی مرکز ایک رنگ میں لاہور ہی ہوگا کیونکہ جماعت کا تنظیمی مرکز جس جگہ ہو ضروری نہیں کہ دوسرے لوگ جو جماعت سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ بھی اپنی توجہ کا مرکز اسے بنالیں۔ لوگ قدرتی طور پر سہل ترین طریق کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اپنے ذاتی کاموں کے لیے لاہور آنا پڑتا ہے۔ جب وہ لاہور آتے ہیں تو قدرتی طور پر ان کی توجہ ان اداروں اور تحریکوں کی طرف بھی ہوتی ہے جن کے مرکز یا مرکزوں کے ظل لاہور میں موجود ہیں۔ گویا وہ ایک تیر سے دو شکار کرلیتے ہیں۔ وہ یہاں آکر اپنے ضروری کام بھی کرتے ہیں اور ایسے ادارے اور تحریک سے واقفیت بھی حاصل کر لیتے ہیں جو ان کی توجہ کا مرکز بن رہا ہو۔
    پس جہاں تک لاہور کو سیاسی حیثیت حاصل ہے ہم اس جماعت کو بعد میں بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اگر لاہور میں جو مشکلات ہمیں پیش آرہی ہیں وہ دور ہو جائیں اور ہمیں ایسی جگہیں مل جائیں جہاں ہم مرکز کا ایک حصہ رکھ سکیں تو مرکز بھی مقامی جماعت کے ان کاموں میں مُمِد ثابت ہوگا جس کے کرنے کی ذمہ داری اس پر ڈال دی گئی ہے۔
    لاہور کی جماعت کی مستورات کی طرف سے مجھے عرصہ سے یہ شکایت آرہی ہے اور میرے خیال میں وہ نہایت معقول ہے کہ یہاں لاہور میں جماعت کی لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں۔ جس کی وجہ سے یا تو وہ صحیح تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے جاہل اور اَن پڑھ رہتی ہیں یا دوسرے سکولوں میں جا کر دوسرے لوگوں کے خیالات سے متأثر ہو جاتی ہیں۔ اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے بھائیوں کے دین کی حفاظت کریں اور اس کے اندر رخنہ پیدا کرنے والے سامان کو دور کریں وہ اس میں اَور بھی مُمِد ہو جاتی ہیں اور انہیں صحیح رستہ سے ہٹا دیتی ہیں۔ میں جماعت کو ایک سال سے اس طرف توجہ دلا رہا ہوں۔ میرے نزدیک لاہور کی جماعت کی حیثیت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ اس کے زنانہ اور مردانہ دونوں ہائی سکول اپنے ہوں۔ یہ خیال کہ جماعت اس خرچ کو برداشت نہیں کر سکتی ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ مبائعین کی جو جماعت لاہور میں ہے وہ پیغامی جماعت سے کئی گنے زیادہ ہے۔ پیغامیوں کے ایک ایک آدمی کے مقابلہ میں ہمارے آٹھ آٹھ دس دس آدمی یہاں ہیں۔ ان کے جلسے پر بھی اتنے آدمی حاضر نہیں ہوتے جتنے آدمی ہمارے جمعہ پر حاضر ہو جاتے ہیں لیکن فسادات سے پہلے لاہور میں ان کا ایک ہائی سکول تھا اب دو ہائی سکول ہیں۔ اگر ایک چھوٹی سی جماعت دو ہائی سکول چلا سکتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری جماعت جو اُن کی نسبت سے کئی گُنے زیادہ ہے زنانہ اور مردانہ دو ہائی سکول نہ چلا سکے ۔اور ابھی تو ہائی سکول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا صرف ایک زنانہ مڈل سکول کا ہی سوال ہے تاجماعت کی لڑکیاں قرآن کریم ختم کر سکیں اور ان کی ایک حد تک دینی تربیت ہو سکے۔ سات آٹھ سو کی جماعت عورتوں اور بچوں کے علاوہ ہے حالانکہ عورتوں اور بچوں میں سے بھی بعض کمانے والے ہیں۔ پس یہاں کی جماعت کی آمد اسّی نوے ہزار ماہوار سے کم نہیں (جو آمد اُن کی اپنی بتائی ہوئی ہے وہ بھی پچاس ہزار سے زیادہ ہے) بلکہ آمد کا اگر صحیح اندازہ لگایا جائے تو وہ ایک لاکھ تک جا پہنچتی ہے۔ ایک لاکھ کی آمدن والی جماعت کے لیے ایک ہائی سکول کا چلانا کچھ مشکل نہیں۔ آخر لڑکے فیسیں بھی دیں گے۔ مڈل سکول تو تین چار ہزار روپیہ میں چل سکتا ہے اور اتنی بڑی جماعت کے لیے یہ مشکل امر نہیں۔ اگر جماعت کے افراد چارچار، پانچ پانچ روپیہ بطور چندہ دیں تو زنانہ اور مردانہ دونوں مڈل سکول چل سکتے ہیں۔ پھر مڈل سے انہیں ہائی تک پہنچایا جائے۔ پھر جماعت کے عہدیداران اگر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور بالا افسروں تک پہنچ کر اُن پر اپنی ضرورتیں ظاہر کریں تو ان سے بھی مدد مل سکتی ہے۔ اگر اُن پر زید اثر ڈال سکتا ہے تو بکر اثر کیوں نہیں ڈال سکتا؟ ہر آفت جو آئے کیا وہ ہمارے لیے ہی مقدر ہے؟ اور کیا یہ بات کسی کی عقل میں آسکتی ہے کہ ہر آدمی افسروں کو اپنی طرف مائل کر سکے مگر انہیں نہ مائل کر سکے تو ہماری جماعت ،محکمہ تعلیم ہمارا مخالف ہو؟ پولیس ہمارے خلاف ہو؟ ڈپٹی کمشنر ہمارے خلاف ہو ؟یہ بات بالکل عقل کے خلاف ہے۔ چاہیے کہ ہماری جماعت کے لوگ بھی افسروں سے میل جول پیدا کریں۔ کوئی وجہ نہیں کہ حکومت دوسرے سکولوں کو مدد دے اور ان کو نہ دے۔ ان کو وہ کیوں مدد نہ دے گی ؟اس کی کیا وجہ ہے؟ اگر جماعت کوشش کرے تو دونوں ہائی اسکول بیس ہزار روپیہ میں چل سکتے ہیں۔ پھر ضروری نہیں کہ ان سکولوں میں احمدیوں کے بچے اور بچیاں ہی پڑھیں غیراحمدیوں کے بچے اور بچیاں بھی پڑھیں گی۔ ان میں سے بعض مالدار بھی ہوں گے اُن سے عطیے لیے جا سکتے ہیں اور سکول نہایت عمدگی کے ساتھ بغیر کسی بوجھ کے جو جماعت پر پڑے فیسوں اور عطیوں سے چل سکتے ہیں۔ ضرورت صرف کوشش اور محنت کی ہے۔ جماعت اگر کوشش کرے تو اس کے لیے یہ کام کرنا کچھ مشکل نہیں۔
    وہ وقت قریب آرہا ہے کہ جماعت کا مرکز دوسری جگہ بنا لیا جائے اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ میں لاہور کی جماعت کو توجہ دلاؤں کہ جن رستوں سے کسی جماعت کی ترقی ہوتی ہے اُن رستوں سے گزرے بغیر ہم بھی ترقی نہیں کر سکتے۔صرف نام رکھ لینے سے کوئی جماعت نہیں بڑھتی۔ جماعت کی عورتوں کا یہ مطالبہ ایک جائز مطالبہ ہے۔ اگر جماعت کا اپنا زنانہ سکول نہ ہو تو وہ اپنی لڑکیوں کی صحیح پرورش نہیں کر سکتیں۔ ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ بچیاں ہم سے زیادہ پڑھی ہوئی ہوتی ہیں اور ہم طاقت نہیں رکھتیں کہ انہیں دین کی طرف مائل کر سکیں۔ اگر ہمارا اپنا سکول ہو تو پھر نہ صرف وہ خود دین پر قائم رہیں گی بلکہ ہمیں بھی دین سکھائیں گی۔ جس گھر میں عورتوں میں دین چلا جاتا ہے اس کے مردوں کی مجال نہیں ہوتی کہ وہ دین سے غفلت برتیں۔ عورت وہ جنس ہے جسے بظاہر محکوم اور غلام کہا جاتا ہے لیکن دراصل وہ حاکم اور مالک ہوتی ہے۔ عورت کی عجیب حکومت ہوتی ہے۔ روز شور پڑتا ہے کہ عورت غلام ہے، عورت محکوم ہے لیکن آپ اپنے ہمسایوں کو دیکھیں ان میں سے کتنی عورتیں ہیں جو غلام ہیں۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ بعض مرد ایسے بھی نکل آئیں گے جو عورتوں کو جوتیاں مارتے ہیں مگر ان جوتیاں مارنے والوں میں سے بھی اکثر وہ ہوں گے جو دوسرے وقت میں عورتوں کے آگے ناک رگڑ رہے ہوں گے۔ علاوہ ازیں بالعموم ایسے لوگ ملیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی انسان قابلِ قدر ہے، اگر کوئی شخص ایسا ہے جس کا مشورہ قبول کیا جاسکے یا کوئی ایسا انسان ہے جس کی بات مانی جائے تو وہ میری بیوی ہے۔ اگر عورتوں میں دینی تعلیم آجائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ مردوں کو بھی دین کی طرف کھینچ کر لے آئیں گی۔ ربوہ میں مجھے معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی جماعت نے ایک کمیٹی بنائی ہے اور اس نے یہ کہا ہے کہ یہ کام جماعت کی طاقت سے باہر ہے۔مگر یہ عذر بالکل لغو ہے۔ اگر وہ نہ کرنا چاہیں تو ہرکام ان کی طاقت سے باہر ہو سکتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے ایک لڑکا تھا جو ایک غریب گھر میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ مر گیا تھا اور ان کے کنبے کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں تھی۔ اس کی ماں نے اسے ایک دن بُلا کر کہا بیٹا! تم کوئی نوکری کر لو۔ اس طرح تم کمائی کرو گے تو تم خود بھی کھاؤ گے اور ہمیں بھی کِھلاؤ گے۔ انہوں نے کوشش کی اور اس بچے کو نوکری مل گئی اور پانچ روپے ماہوار تنخواہ مقرر ہوئی۔ ماں نے کہا بیٹا! تم اپنی ساری تنخواہ ہمیں بھیج دیا کرو۔ لڑکے نے کہا اگر میں ساری تنخواہ تمہیں بھیج دوں تو کوئی ضرورت پڑنے پر میں کیا کروں گا؟ ماں نے کہا تم انعام پر گزارہ کر لینا۔ بیٹے نے کہا مجھے انعام کیسے ملے گا؟ ماں نے کہا سب آقا جب اپنے نوکروں پر خوش ہوتے ہیں تو انہیں انعام دیا کرتے ہیں۔ لڑکے نے کہا اگر نہ دے؟ پھر ماں نے کہا اگر خود آقا انعام نہ دے تو جب وہ تمہارے کام پر خوش ہو خود انعام مانگ لیا کرنا۔ بچہ نے کہا کہ مجھے کس طرح معلوم ہو گا کہ وہ خوش ہے؟ ماں نے کہا جب آدمی خوش ہوتا ہے تو وہ ہنسا کرتا ہے۔ یہ نصیحت سُن کر لڑکا اپنے آقا کے ہاں گیا۔ کچھ دنوں بعد ہی آقا کو ایک سفر پیش آگیا۔ وہ اس لڑکے کو بھی ساتھ لے گیا۔ رستہ میں وہ ایک سرائے میں ٹھہرے۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، تیز ہوائیں چل رہی تھیں، وہ سرائے کے اندر سو گئے۔ ہوا ذرا تیز ہوئی اور بارش شروع ہوگئی۔ آقا نے اپنے نوکر سے کہا ذرا اُٹھ کر دیا بُجھا دو مجھے اندھیرے میں سونے کی عادت ہے۔ نوکر نے کہا اگر آپ کو اندھیرے میں سونے کی عادت ہے تو مجھے روشنی میں سونے کی عادت ہے۔ منہ پر لحاف ڈال لیں اور سو جائیں۔ مالک نے اُسے بچہ سمجھ کر کوئی غصّہ نہ کیا اور منہ پر لحاف ڈال لیا اور سو رہا۔تھوڑی دیر بعد شاید اسے گرمی محسوس ہوئی اور اس نے خیال کیا کہ باہر کُھلی جگہ پر جا کر سوئے۔ اس نے نوکر سے کہا ذرا اُٹھ کر معلوم کرو کہ آیا بارش ہو رہی ہے یا نہیں؟ نوکر نے کہا ہاں بارش ہو رہی ہے۔ مالک نے کہا تم تو ہِلے بھی نہیں تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ بارش ہو رہی ہے؟ نوکر نے کہا میرے پاس سے ایک بلّی گزری تھی میں نے اُسے ہاتھ لگا کر دیکھا تو وہ گیلی تھی۔ آقا اس حماقت پر پھر بھی چُپ رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہوا تیز چلنے لگی۔ اُس نے نوکر سے کہا ذرا دروازہ بند کر دو۔ اب یہاں کوئی بہانہ نہیں بن سکتا تھا۔ اُٹھے بغیر دروازہ کا بند کرنا ناممکن تھا اس لڑکے نے سوچ کر کہا حضور! پہلے دو کام میں نے کیے ہیں یہ تیسرا کام آپ خود کر لیں۔ آقا نوکر کی اس بیوقوفی پر ہنس پڑا۔ وہ جھٹ کھڑا ہو گیا اور سلام کر کے کہا حضور! مجھے انعام دیجیے۔
    تم بھی اس قسم کے بہانے بنانے لگ جاؤ تو تم جتنا معذور بھی بننا چاہو بن سکتے ہو لیکن کوئی عقلمند یہ نہیں کہہ سکتا کہ اتنی بڑی جماعت جو یہاں بیٹھی ہے اور جس جماعت کے بعض حصے ایسے بھی ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر نماز پڑھتے ہیں مثلاً مغلپورہ ، میاں میروغیرہ میں الگ الگ نماز جمعہ ہوتی ہے اتنی بڑی جماعت عورتوں کا ایک مڈل سکول نہیں چلا سکتی۔ یہ صرف نفس کا بہانہ ہے۔ میرے خیال میں اگر عقل سے کام لیا جائے تو مفت میں مردانہ بھی اور زنانہ بھی دونوں ہائی ا سکول چلائے جاسکتے ہیں۔ صرف ایک سال تک تکلیف ہو گی۔ اس کے بعد بغیر کسی بوجھ کے یہ کام کیا جاسکتا ہے۔
    یہ کہنا کہ ہمیں اب جگہ کہاں ملے گی؟ یہ جماعت کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ پیغامیوں نے فسادات کے بعد ایک سکول لے لیا تم نے کیوں کوشش نہ کی؟ باوجوداس کے کہ ان کے پاس پہلے سے ایک سکول موجود تھا انہوں نے دوسرا لے لیا۔ اگر تم گورنمنٹ کے پاس جاتے اور کہتے ہمیں ایک سکول دو تو ہمارے حق کو مقدم کیا جاتا کیونکہ گورنمنٹ پیغامیوں سے کہہ سکتی تھی کہ تمہارے پاس پہلے سے ایک سکول موجود ہے لیکن وہ تمہیں یہ بات نہیں کہہ سکتی تھی۔ تم یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمارے پاس پہلے کوئی سکول موجود نہیں ہمیں بھی ایک سکول دیا جائے تو یقیناً تمہیں ایک سکول مل جاتا۔ یہ تمہاری اپنی سُستی ہے جس کی وجہ سے تمہیں جگہ نہیں مل رہی۔ تمہیں اس چیز کا پہلے احساس نہیں تھااس لیے تم نے اس کے لیے کوئی کوشش نہ کی۔ کیا تمہیں سِکھ آکر سکول بنا کر دے جائیں گے؟ یا تمہیں آریہ سماج والے سکول بنا کر دے جائیں گے؟یہ کام تم نے خود کرنا ہے۔ بہرحال لڑکیوں کا ایک مڈل سکول شروع کر دینا چاہیے تا ان کے اندر دین کی محبت کا احساس ہو۔ اس کے بعد لڑکوں کا سکول بنایا جائے اور وہ بھی کم از کم مڈل تک ہو۔ اگر ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی منت سماجت کرنی آجائے، اگر تمہیں بھی اپنے افسروں کو خوش کرنا آجائے تو تم وہ کام کیوں نہ کر سکو جو دوسرے کر لیتے ہیں۔ جو لوگ کام کرنے والے ہوتے ہیں وہ افسروں کی خوشامدیں بھی کر لیتے ہیں ۔اور جو اُن کی خوشامد کرتا ہے اُسے وہ چیز دے دیتے ہیں جس کی وہ خواہش کرتا ہے۔لوگ ہندوؤں کی بھی خوشامدیں کر لیتے تھے، سِکھوں کی بھی خوشامدیں کر لیتے تھے، کبھی کسی کی پارٹی کر دی، کسی سے میل جول رکھا اور اس طرح اپنا کام نکال لیا۔ پیغامیوں کو بھی اسی طرح سکول ملا تھا۔ انہوں نے محکمہ متعلقہ کے افسر کو پارٹی دی اور اس موقع پر اپنی درخواست پیش کر دی اور انہیں سکول مل گیا۔ نیت ہو تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔
    لاہور کی جماعت کی اہمیت ایسی نہیں کہ وہ کام کے نہ کرنے کی نیت کرے بلکہ اس کی اہمیت ایسی ہے کہ اسے کام کرنے کی نیت کر لینی چاہیے۔ اگر عورت کے اندر بیداری پیدا ہو گئی ہے، اگر اس کے اندر یہ احساس پیدا ہوگیا ہے کہ جماعت کی بچیاں دین کی خادم ہوں اور اُن کی دینی تربیت اچھی طرح ہو تو مردوں کے اندر اس سے زیادہ احساس ہونا چاہیے۔ ورنہ وہ خداتعالیٰ کے مجرم ہوں گے۔ میں دیکھتا ہوں ایسے ایک درجن کے قریب احمدی ہی لاہور میں ہیں کہ جو اپنے کاموں کی وجہ سے لوگوں پر اثر ڈال سکتے ہیں مگر یا تو وہ اپنے ہم عمروں میں بیٹھ کر گپیں مارتے رہتے ہیں یا پھر سلسلہ کے کاموں سے دلچسپی نہیں لیتے۔ اور اس کام پر کچھ خرچ کرنے سے ان کی جان نکلتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت سے کام رہ جاتے ہیں جو کرنے والے ہیں اور جماعت لاہور یقیناً انہیں کر سکتی ہے‘‘۔ (الفضل 21؍اگست 1949ء )



    وہی قوم زندہ کہلانے کی مستحق ہے
    جو اپنی خوبیوں میں دوسروں سے بلند اور ممتاز ہو

    (فرمودہ20 مئی 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’قرآن کریم میں بار بار یہ مضمون دہرایا گیا ہے کہ کیا مُردے زندوں کے برابر ہو سکتے ہیں؟1 بظاہر یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے اور بظاہر یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر شخص واقف ہے لیکن اگرسوچا جائے تو یہی چھوٹا سا مضمون اکثر اوقات دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات قومیں اس چھوٹی سی چیز کو نظرانداز کر دینے کی وجہ سے اپنے مقام کو کھوبیٹھتی ہیں۔ دنیا میں اپنے مقام کوقائم رکھنے بلکہ سابق معیار سے اونچا ہونے کے لیے سہل ترین اور سب سے آسان ذریعہ یہی ہوا کرتا ہے کہ انسان اپنے اس مقام کی کیفیت کو یاد رکھے جس پر وہ کھڑا ہو۔ یہی بات یاد رکھنے سے انسان کی اس جدوجہد میں تیزی پیدا ہوتی ہے جواپنے مقام کو قائم رکھنے کے لیے وہ کیا کرتا ہے۔
    مجھے خوب یاد ہے حضرت خلیفۃ المسیح الاول جب کوئی ایسی بات دیکھتے جو ان کے خیال میں ہمیں نہیں کرنی چاہیے تھی تووہ یہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ میاں! تمہیں معلوم ہے کہ تم کس کے بیٹے۔ہو۔ بس اس فقرہ میں سارا مضمون آجاتا تھا۔یعنی کسی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے بھی انسان پر بعض ذمہ۔داریاں عائد ہوتی ہیں اور اس کے فعل کو لوگ اس کے باپ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ چنانچہ کبھی تو والدین کے افعال بیٹوں کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور کبھی بیٹوں کے افعال والدین کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور اس طرح وہ ایک دوسرے کی نیک نامی یا بدنامی کا موجب ہوتے ہیں۔ اس فقرہ میں اس مضمون کی طرف اشارہ ہوتا تھا اور اس کے معنے ہم سمجھتے تھے کہ کیا ہیں۔
    کہتے ہیں کوئی شخص کفن چور تھا۔ جب کوئی آسودہ حال شخص مرتا تو وہ اس کی قبر کھود کر کفن چُرالیا کرتا اور مُردہ کو دوبارہ قبر میں گاڑ کر اس پر مٹی ڈال دیتا۔ اس کفن چور کا لڑکا اس کی نسبت زیادہ شریف تھا اور اپنے باپ کے پیشے سے احتراز کیا کرتا تھا۔ جب باپ مرا اور کفن چوری بند ہوگئی اورمُردوں کی ہتک جاتی رہی تو لوگوں نے سمجھ لیا کہ کفن چور فوت ہو گیا ہے۔ اس کفن چور کے متعلق کسی شخص کو معلوم تو تھا۔ نہیں کہ وہ کون ہے کیونکہ وہ یہ کام چوری چُھپے کرتا تھا اور اس کے بیٹے کے متعلق بھی کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے۔ اور آیا وہ بھی کفن چور ہے یا نہیں۔ بیٹا یہ جانتا تھا کہ اُس کا باپ کفن چور تھا۔ جب وہ فوت ہو گیا تو لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ اچھا ہوا وہ مر گیا۔ اس کا بیٹا جو کفن چور نہیںتھا جب یہ باتیں سنتا تو یہ الفاظ اُس پر گراں گزرتے۔ ایک دفعہ وہ اپنے ایک دوست کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ اس اس طرح واقعہ ہوتا ہے اور میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص میرے باپ کو خواہ وہ کیسا ہی تھا گالیاں دے۔ مجھے کوئی ایسا علاج بتاؤ جس کے ذریعہ میں ان باتوں سے نجات حاصل کر سکوں۔ اس نے کہا کچھ دن تم بھی یہ کام کر لو۔ تمہارے باپ کے عیوب چُھپ جائیں گے لیکن ایسا کام کرو جو پہلے سے زیادہ سخت ہو۔ اُس نے اس نصیحت پر عمل کیا اور کفن چوری کا کام شروع کر دیا۔ اس نے یہ کام کسی بُری نیت سے نہیں کیابلکہ اپنے باپ کے عیوب چھپانے کے لیے یہ کام شروع کیا۔ وہ کفن چُرا لیتا اور مُردے کو ننگا چھوڑ کر آجاتا۔ اس کا باپ تو کفن اُتار کر مُردے کو دوبارہ قبر میں دفن کر دیتا تھا لیکن وہ یونہی آجاتا۔ جب مُردوں کی دوبارہ ہتک ہونے لگی، جب چیلیں انہیں نوچتیں، کُتّے اُن پر حملہ آور ہوتے تو لوگ دعا کرتے کہ خدا فلاں شخص پر رحم کرے وہ کفن چور تو تھا مگر ہمیشہ مُردوں پر مٹی ڈال دیا کرتا تھا۔ اب پتالگا ہے کہ وہ کتنا شریف انسان تھا۔ اس طرح آہستہ آہستہ اس کے عیوب چُھپ گئے اورلوگوں نے اسے گالیاں دینا اور بُرا بھلا کہنا چھوڑ دیا۔ جب اس کے بیٹے نے دیکھا کہ اب لوگوں نے اسے گالیاں دینا چھوڑ دیا ہے تو اس نے بھی کفن چوری ترک کر دی۔ غرض اس طرح بدنامیوں اور نیک نامیوں کا سلسلہ چلتا ہے۔ اگر کسی میں کوئی عیب ظاہر طور پر پایا جاتا ہے تو وہ اس کی طرف منسوب ہوتا ہے اور اگر وہ عیب باطنی ہوتا ہے تو لوگ ایسی باتیں سنتے ہی بے نام گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح خوبیاں ہیں۔ اگر کسی میں کوئی خوبی ظاہری طور پر پائی جاتی ہے تو لوگ اس کی تعریفیں کرتے ہیں لیکن اگر وہ خوبی باطنی ہوتی ہے تو لوگ بے نام تعریفیں کرتے ہیں لیکن اس قاعدہ سے لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے۔
    قرآن کریم میں جب یہ کہا گیا کہ مُردہ زندہ کے برابر نہیں ہو سکتا تو اس کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ مُردہ وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتا۔ یہ ایک دلیل ہے جو خداتعالیٰ نے کفار کے مقابلہ میں ان کے جھوٹا ہونے کے لیے دی۔ بلکہ یہ ایک طنز ہے جو مسلمان کے لیے عبرت کا ایک کوڑا ہے جو مُردہ زندہ کے برابر نہیں ہو سکتا۔ یعنی ایک غیرمسلم کسی خوبی میں اور کسی میدان میں بھی ایک مسلمان کے برابر نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں یہ جو کہا گیا ہے کہ مُردہ زندہ کے برابر نہیں ہوسکتااگر اس کے یہی معنی ہیں کہ ایک غیرمسلم ایک مسلمان کے برابر خوبیاں نہیں رکھ سکتا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر آپ کے جاننے والے کے برابر نہیں ہو سکتا تو بظاہر یہ درست نظر نہیں آتا کیونکہ آج ہر خوبی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر مسلمان سے زیادہ اچھا نظر آتا ہے۔ صداقت اس میں زیادہ پائی جاتی ہے،محنت اس میں زیادہ پائی جاتی ہے، احساسِ قومی اس میں زیادہ پایا جاتا ہے، ایثار اور قربانی میں وہ ایک مسلم سے زیادہ اچھا ہے، رحم اس میں زیادہ پایا جاتا ہے،انصاف اس میں زیادہ پایا جاتا ہے، پاکیزگی اس میں زیادہ پائی جاتی ہے، غیرت اس میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ غرض وہ تمام اخلاقِ فاضلہ جن کو قرآن۔کریم بیان کرتا ہے اور اس رنگ میں بیان کرتا ہے کہ گویا وہ ایک مسلمان کی جائداد ہیں اور جن کی نسبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَھَا حَیْثُ وَجَدَھَا۔2 اے مخاطب! اچھی باتوں کے متعلق تم کیا پوچھتے ہو یہ تو مومن کا کھویا ہوا مال ہیں۔ اسے جہاں کہیں یہ چیزیں ملیں وہ انہیں جھپٹ کر لے جائے ۔یعنی کوئی حُسن ایسا نہیں، کوئی خوبی ایسی نہیں جسے یہ اپنے غیر کے پاس جانے دے۔ گویا اس کا مطلب یہ تھا کہ ہر خوبی اور ہر حُسن کے مالک مسلمان ہی ہوں گے لیکن اب تو یہ ہیکہکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ، مسلمان کے لیے نفرت کی جگہ ہے اور اس کی حد سے زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے۔ اگر یہ اس کی جیب میں بھی ہو تو وہ اسے پھینک دیتا ہے۔ اگر یہ اس کے گھر میں بھی ہو تووہ اسے نکال دیتا ہے اور جب تک وہ اسے اپنے سے جُدا نہ کرے اُسے چَین نہیں آتا۔ مگر خداتعالیٰ فرماتا ہے کیا مُردے زندوں کے برابر ہو سکتے ہیں؟ اب یا تو یہ کہنا پڑے گا کہ کبھی بھی ایک مسلمان اِس درجہ تک نہیں پہنچ سکا جس کی طرف اس فقرہ میں اشارہ کیا گیا ہے اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ آج کا مسلمان وہ مسلمان نہیں رہا جس کے متعلق یہ فقرہ استعمال کیا گیا ہے لیکن پُرانے مسلمان کے متعلق یہ فقرہ صحیح اوردرست تھا۔ گویا آج کا مسلمان عملاً مسلمان ہی نہیں کہ اس کے متعلق یہ فقرہ کہا گیا ہو۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہنا پڑے گا کہ قرآن۔کریم نے یہ کہا ہے کہ مُردے زندہ کے برابر نہیں ہو سکتے۔ مگر یہ نہیں کہا کہ مُردوں مُردوں میں بھی فرق نہیں ہوتا۔ پہلے مسلمان زندہ تھے اور غیرمسلم زندہ نہیں تھے۔ لیکن اب یہ بھی مُردہ ہیں اور وہ بھی مُردہ ہیں۔ یہ بھی حقیقت سے دُور ہیں اور وہ بھی حقیقت سے دُور ہیں لیکن مُردوں مُردوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ دو تین دن کا مُردہ تازہ مُردہ کے برابر نہیں ہو سکتا۔تین چار دن کا مُردہ تو سڑ رہا ہو گا اور اس میں سے بدبو آرہی ہو گی اور تازہ مُردہ اُس سے بہرحال اچھا ہوگا۔ خواہ وہ مُردہ ایک مسلمان کا ہو یا ایک عیسائی کا ہو۔ ایک مسلمان کے مُردے میں بھی سڑ جانے کے بعد کیڑے پڑ جائیں گے اور ایک عیسائی کے مُردہ جسم میں بھی سڑ جانے کے بعد کیڑے پڑ جائیں گے۔ گویا اب یہ کہنا پڑے گا کہ قرآن کریم نے یہ تو کہا ہے کہ مُردے زندوں کے برابر نہیں ہوسکتے مگر یہ نہیں کہا کہ مسلمان ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اور اگریہ نہیں کہا کہ مسلمان ہمیشہ زندہ رہیں گے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ بھی کسی وقت مُردہ ہوجائیں گے اور قرآن کریم نے یہ کب کہا ہے کہ مُردوں مُردوں میں فرق نہیں ہو سکتا۔ ایک مسلمان کا مُردہ بھی خراب ہو سکتا ہے۔ خداتعالیٰ خود فرماتا ہے کہ مسلمان صداقت سے بے بہرہ ہو کر کبھی زیادہ خراب ہو جائیں گے اور کبھی کم۔ لیکن بہرحال جو قوم اپنے آپ کو زندہ سمجھتی ہے اُس کو مُردوں کے مقابلہ میں اپنے کیریکٹر کا معیار زیادہ اچھا رکھنا پڑے گا۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ زندہ بھی ہو اور اس میں اتنی سچائی نہ پائی جائے جتنی مُردوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ زندہ بھی ہو اور اس میں اتنی محنت نہ پائی جاتی ہو جتنی مُردوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ زندہ بھی ہو اور اس میں اتنا رحم نہ پایا جائے جتنا مُردوں میں پایا جاتا ہے۔ اگر تم اپنے آپ کو زندہ سمجھتے ہو تو تمہارا معیارِ انصاف، تمہارامعیارِ رحم، تمہارا معیارِ عدل، تمہارا معیارِسلوک اور تمہارا میعارِ احسان اور رحم بہرحال مُردوں سے زیادہ بالا ہوگا۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ تمہیں زندہ کہا جائے۔ آخر مُردہ کے یہاں یہ معنی تو نہیں کہ اس کی رُوح نِکل گئی ہو، اس کی آنکھ دیکھ نہ سکتی ہو، اس کے کان سُن نہ سکتے ہوں اور اس کا جسم حرکت نہ کر سکے۔ اور نہ زندہ کے یہ معنی ہیں کہ اس کا جسم حرکت کرتا ہو، اس کی آنکھیں دیکھتی ہوں، اس کے کان سُنتے ہوں اور اس کے ساتھ ارتقاء اور تنزل کا سلسلہ لگا ہوا ہو۔ یہاں وہ معنی مراد نہیں۔ یہاں اس سے روحانیت کا نکل جانا مراد ہے، اخلاقِ فاضلہ کا مِٹ جانا مراد ہے۔ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے اندر روحانیت بھی نہ ہو، تمہارے اندر اخلاقِ فاضلہ بھی نہ پائے جائیں اور پھر تمہیں زندہ کہا جائے اورتمہارے دشمن کو جس میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں مُردہ کہا جائے۔ اور اگر وہ باتیں تم میں بھی پائی جاتی ہوں لیکن تم اپنے دشمن سے پیچھے رہ گئے ہو تب بھی اس کے مقابلہ میں تمہیں زندہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مُردہ تو چلتا ہو اور زندہ سارا دن ایک جگہ پڑا رہے۔ مُردہ تو آنکھیں کھولتا ہو اور دیکھتا ہو مگریہ نہ دیکھتا ہو، مُردہ سُنتا ہو خواہ وہ کچھ اونچا ہی سُنتا ہو لیکن سُنتا ضرور ہومگر یہ نہ سُنتا ہو۔
    یہ تو ویسے ہی حماقت ہوگی جیسے ہمارے سکول کے بعض لڑکوں نے کی۔ جب ہم سکول میں پڑھا کرتے تھے اُس زمانہ میں ہمارا سکول چھوٹا سا تھا اور ہیڈماسٹر اور بورڈنگ کا سپرنٹنڈنٹ ایک ہی تھا۔ سکول میں تھوڑے سے لڑکے تھے۔ ایک دن اس کے اسسٹنٹ سے کسی نے شکایت کی کہ عشا ء کی نماز میں بورڈنگ کے لڑکے بہت تھوڑے آتے ہیں۔ یہ شکایت زیادہ پھیلی اور ہیڈماسٹر کے کانوں تک بھی پہنچی۔ اس نے اصل انچارج سے پوچھا کہ لڑکے عشاء کی نماز میں کیوں نہیں جاتے؟ انچارج نے کہا لڑکے نماز میں جاتے توہیں لیکن بڑے جاتے ہیں اور چھوٹے لڑکے سو جاتے ہیں اور میں انہیں چھوڑ جاتا ہوں۔ ہیڈماسٹر نے پوچھا ایسے لڑکے کتنے ہیں جو نماز میں نہیں جاتے؟اس نے کہا اُنیس۔ ہیڈماسٹر نے کہا اچھا مَیں کسی دن آؤں گا اور دیکھوں گا کہ کون کون لڑکے نماز میں نہیں جاتے۔ وہ ایک دن بورڈنگ میں گئے۔ لڑکے سو رہے تھے۔ وہ پائنتی کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ہیڈماسٹر نے انچارج سے دریافت کیا تم کس طرح خیال کرتے ہو کہ یہ لڑکے سو رہے ہیں؟ اس نے کہا میں انہیں جگاتا ہوں اور یہ نہیں ہِلتے۔ ہیڈماسٹر نے کہا واہ! یہ بھی کوئی پہچان ہے۔ سچ مُچ سونے والوں اور بناوٹی سونے والوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بناوٹی سونے والوں کے بدن میں کوئی حرکت نہیں ہوتی لیکن جو سچ مُچ سو جاتے ہیں ان کے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہِلتا رہتا ہے۔ سترہ لڑکے جاگ رہے تھے اور بناوٹ کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ سنتے ہی اپنا دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہِلانا شروع کر دیا تا وہ یہ ثابت کریں کہ وہ سچ مُچ سوئے ہوئے ہیں۔ جس طرح اُن لڑکوں نے اپنے سونے کی علامت پاؤں کا انگوٹھا ہِلنا سمجھا حالانکہ سونے والا حرکت نہیں کرتا۔ اِسی طرح تم بھی یہ خیال کرتے ہو کہ روحانیت تم میں نہ پائی جائے۔ اخلاقِ فاضلہ تم میں نہ پائے جائیں، انصاف تم میں کم ہو، عدل تم میں کم ہو، پاکیزگی تم میں کم ہو، دیانت اور امانت تم میں کم ہو اور پھر روحانی طور پر تم زندہ بھی ہو۔ لیکن جس میں یہ سب چیزیں پائی جاتی ہوں وہ مُردہ ہو ۔یہ تعریف ایسی ہی ہے جیسی اُس ہیڈماسٹر نے کی کہ جو سچ مُچ سو جاتے ہیں اُن کے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہِلتا رہتا ہے اور جوبناوٹی طور پر سو رہے ہوتے ہیں، اُن کا سارا جسم ساکت ہوتا ہے۔ یہ کیسی ہنسی والی بات ہے ۔لیکن کیا تم نے کبھی اپنے نفس پر بھی غور کیا ہے؟ ہم کہتے تو یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر ہم زندہ ہوگئے اور ایک غیرمسلم ہمارے برابر نہیں ہوسکتا لیکن کیا ہم اخلاق میں بھی اس سے بڑھ کر ہیں؟ اگر ہم اخلاق میں اس سے بڑھ کر نہیں تو پھر ہم بھی مُردہ ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے ہمارے دشمن میں قربانی کا احساس زیادہ پایا جاتا ہو۔ اُسے وقت کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی عادت ہو ،وہ آپس کے معاملات کو ہم سے زیادہ اچھی طرح طے کرسکتا ہو، اُس میں دیانت و امانت ہم سے زیادہ پائی جاتی ہو لیکن زندہ ہم ہوں اور وہ مُردہ۔ اگر تمہاری صحبت دنیا تلاش نہیں کرتی، اگر تمہارے پاس بیٹھنے کو وہ نعمت قرار نہیں دیتی اور تمہاری دوستی کو وہ خداتعالیٰ کا ایک فضل قرار نہیں دیتی تو تم زندہ کیونکر ہو اور تمہارا دشمن مُردہ کیونکرہے؟ ہاں! اگر تمہارے اخلاقِ فاضلہ تمہیں ایک نمایاں حیثیت دے دیتے ہیں، اگر تم کو دیکھنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ تم میں اور تمہارے غیر میں بڑا بھاری فرق ہے، اگر تمہیں اس کے ہمسائے کے پاس کھڑاکر دیا جائے اور پھر اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم ان دونوں کو برابر سمجھتے ہو؟ تو وہ بے ساختہ کہہ دے کہ یہ ہو کیسے ہو سکتا ہے۔ دوسروں کی اس کے سامنے حیثیت ہی کیا ہے اِن۔کے اخلاق کُجااور اُن کے اخلاق کُجا۔ تو پھر بے شک تمہارا دعوٰی صحیح ہو سکتا ہے کہ ہم زندہ ہیں اور مُردہ زندہ کے برابر نہیںہوسکتا۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر دو باتوں میں سے ایک ضرور ہو گی ۔یا تو وہ سلسلہ جس میں تم داخل ہوئے ہو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ جھوٹا ہے اور تمہارا یہ دعوٰی غلط ہے کہ وہ سلسلہ تمہیں زندگی دیتا ہے۔ اور یا وہ سلسلہ تو سچا ہے لیکن تم جھوٹے ہو کیونکہ تم میں وہ آثار نہیں پائے جاتے جو ایک زندہ میں پائے جانے چاہییں۔
    پس اس معیار کو سامنے رکھ کر تم اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھو اور پھر معلوم کرو کہ کیا تم میں اوران میں کوئی فرق پایا جاتا ہے؟ کیا تم میں ان سے زیادہ صداقت پائی جاتی ہے؟ کیا تم میں ان سے زیادہ محنت پائی جاتی ہے؟ کیا تم اُن سے زیادہ وقت کی قدر کرتے ہو؟ کیا تم ان سے زیادہ دیانتدار ہو؟ کیا تم میں ان سے زیادہ رحم پایا جاتا ہے؟کیا تم ان سے زیادہ امین ہو؟ کیا تم ان سے زیادہ کریم ہو؟ کیا تم ان سے زیادہ عقلمند اور فہیم ہو؟ کیاتم ان سے زیادہ دُور اندیش ہو؟اگر تمہیں جواب ملے کہ ہاں۔ ہاں۔ ہاں۔ تو سمجھ لو کہ تم جس جگہ بھی ہو گے زندہ ہو اور سچے طور پر زندہ ہو ۔تم دریا سے باہر رہ کر گیلے ہونے کا دعوٰی نہیں کر رہے۔ تم ابھی پانی میں غوطہ لگا کر باہر آئے ہو ۔لیکن اگر ایسا نہیں تو تمہارا یہ دعوٰی افیونیوں کی طرح ہو گا جو ریت پر بیٹھ کر خیال کر لیتے ہیں کہ ان کا جسم گیلا ہے۔ اگر تم سچ مُچ پانی میں گُھس جاتے ہو تو وہ لازماً تمہیں گیلا کر دے گا لیکن اگر ایسا نہیں اور تمہیں اس کا جواب نفی میں ملتا ہے تو تمہیں سوچنا چاہیے کہ جسے تم نے صداقت سمجھا ہے کیا وہ فریب اور جھوٹ تو نہیں۔ اگرتمہاری عقل کہتی ہے کہ وہ سچ ہے تو تمہیں اپنے نفس کو کہنا چاہیے اے نفس! تُو ہی جھوٹا ہے۔ تُونے جو یہ سمجھا تھا کہ مَیں پانی میں کُود پڑا ہوں درست نہیں تُوابھی باہر ہی کھڑا ہے۔ تُو نے ابھی عرفان کے دریا میں چھلانگ نہیں لگائی۔ اگر تم یہ سوچو تو تم میں کتنی راستی پیدا ہو جائے۔ اگر تم اس نتیجہ پر بھی پہنچ جاؤ کہ زندہ مُردہ سے بہرحال بہتر ہوتا ہے۔ تب بھی تمہاراکیریکٹر پہلے سے بہت زیادہ اونچا ہو جائے گا۔ تم پہلے سے زیادہ۔جدوجہد کے لیے تیار ہو جاؤ گے۔تم پہلے سے زیادہ محنت کے لیے تیار ہو جاؤ گے اور۔اپنی۔حالت کو پہلے سے بہتر بنانے کے لیے کوشش کرو گے اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو۔تم۔ایسی۔تاریکی میں پڑ جاؤ گے جس سے نکلنے کا تمہیں کوئی موقع نہیں ملے گا‘‘۔
    (الفضل 10؍اگست 1958ء )

    1
    :
    (فاطر:23)
    2
    :
    ترمذی ابواب العلم باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ میں یہ الفاظ ہیں ’’اَلْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ فَحَیْثُ وَجَدَھَا فَھُوَ اَحَقُّ بِھَا‘‘۔




    وہ بلند مقام حاصل کرنے کی کوشش کرو
    جو نبیوں کی جماعتوں کو حاصل ہوتا ہے

    (فرمودہ27 مئی 1949ء بمقام ناصرآباد۔ اسٹیٹ سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جیسا کہ دوستوں کو اخبار سے معلوم ہوتا رہا ہوگا اس دفعہ چار پانچ ماہ سے مجھ پر باربار جوڑوں کی درد کا حملہ ہوتا رہا اور جلسہ سالانہ کے بعد آنکھوں پر بھی جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا اِسی بیماری کاحملہ ہوا۔ ایک وقت میں تو قریباً نظر بند ہوگئی تھی۔ آنکھوں کے آگے عموماً اندھیرا رہتا تھا۔ یہاںتک کہ پاس بیٹھا ہوا آدمی بھی پہچانا نہیں جاتا تھا۔
    پچھلے سالوں کے تجربہ کی بناء پر میرا خیال تھا کہ ناصرآباد اور سندھ کے دوسرے علاقوں میںگرمی بہت کم ہوگی اس لیے کوئٹہ کی بجائے میں یہاں آگیا۔ یہاں آکر معلوم ہوا کہ اس سال یاتواستثنائی طور پر یہاں گرمی زیادہ ہے یا ان دنوں ہمارا آنا غلطی ہے۔ گرمی کا مجھ پر اس قدراثر ہے کہ میں نمازوں کے لیے مسجد میں نہیں آسکتا۔ اس وجہ سے میں بعض دفعہ دوستوں سے جو باہر سے تشریف لاتے ہیں ملاقات بھی نہیں کر سکتا۔ بیشک میں کسی نہ کسی شخص سے مل بھی لیتا ہوں لیکن زیادہ ملاقات نہیںکر سکتا۔ اب چونکہ ہم یہاں آگئے ہیں اس لیے جتنے عرصہ کے لیے ہم یہاں آئے ہیں رہیں گے اوراگرطبیعت اچھی رہی تو کچھ کام کر لیں گے۔
    اس کے بعد میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ دنیا بھر میں ہر جگہ پر ایک انقلاب آرہا ہے۔ بعض جگہوں پر کم ہے اور بعض جگہوں پر زیادہ مگر آ ضرور رہا ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی تغیر آسمان پر مقدر ہو چکا ہے۔ مذہبی لوگ اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے والے لوگ یہ سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ تغیرآخر مذہب کے حق میں ہوگا اور پھر مذہب تمام دنیا پر غالب آجائے گا۔ لیکن جو لوگ مذہبی نہیں اور جومذہب پر یقین نہیں رکھتے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ انقلاب ایک دن مذہب کو اُکھاڑ کر پھینک دے گا اور تمام دنیا پر ایک قسم کی اشتراکیت غالب آجائے گی جو باقی تمام نظاموں کو بدل۔دے گی۔
    ہماری جماعت ان جماعتوں میں سے ہے جو خداتعالیٰ کے نظام کے دوبارہ دنیا میں قائم ہونے کی قائل ہے۔ ہم دنیا کے سامنے یہ پیش کرتے ہیں کہ بعض ایسی پیشگویاں ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے اتباع کے ذریعہ پھر تمام دنیا پر غالب آجائے گا۔ یہ چیز کسی وقت تو دنیا کی نظروں میں شاندار نظر آتی تھی اور کسی کسی وقت دنیا کی نگاہوں میں ناکام نظر آتی تھی۔ خود اپنی جدوجہد کو دیکھ کر متضاد خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب تک کوئی شخص اندھادُھند یقین نہ رکھتا ہو متضاد خیالات کا پیدا ہو جانا ممکن ہے۔ لیکن جو شخص عقل سے کام لینے کا عادی ہے، جوشخص سوچنے کا عادی ہے وہ دو حالتوں میں سے ایک حالت میں سے ضرور گزرتا ہے۔ بعض دفعہ وہ کسی چیز کو دیکھ کر جوش میں آجاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے بارہ میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ پوری ہوگئی۔ مثلاًوہ دیکھتا ہے کہ تنظیم کے بدلہ میں 1947ء میں قادیان فسادات سے محفوظ رہا۔ جماعت نے دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے عزت سے قادیان چھوڑا اور جماعت کا ایک حصہ اب بھی وہاں بیٹھا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جب پنجاب کی کوئی جگہ ہندوؤں اور سِکھوں سے محفوظ نہ رہ سکی تھی قادیان محفوظ رہا یا۔ جب وہ ان رپورٹوں کو پڑھتا ہے جو بیرونی ممالک سے ہمارے مبلغین بھیجتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بڑا بھاری سمجھتا ہے۔ مثلاً وہ دیکھتا ہے کہ جرمنی، فرانس، انگلینڈ اور دیگر یورپین ممالک کے لوگ ہماری تعلیم سُن کر اس کے قائل ہو رہے ہیں اور عیسائیت سے توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ کیا عرب، کیا ایران، کیا افغانستان ساری بیرونی دنیا میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اس وقت اگر کوئی جماعت غالب آسکتی ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہے اور اِدھر وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو اُن کی مثال آٹے میں نمک کی طرح ہے۔ گاؤں کے گاؤں نہ صرف احمدیت سے خالی ہیں بلکہ وہ احمدیت کے نام سے بھی آشنا نہیں۔ دنیا کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں احمدی نہیں پائے جاتے۔ وہ دیکھتا ہے کہ باوجود تعدادمیں کم ہونے اور کمزور ہونے کے جماعت کو عظمت حاصل ہے۔ اس قسم کے متواتر خیالات آنے کے بعد وہ خیال کر لیتا ہے کہ وہ جیت گئے یا اُنہوں نے پانسہ مار لیا ۔لیکن جب وہی معقولیت سے دیکھنے والا شخص یہ دیکھتا ہے کہ ہم میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں، ہم میں غفلت پائی جاتی ہے، وہ تنظیم اور وہ قربانی اور ایثار جماعت میں نہیں پایا جاتا جو جیتنے والی قوموں میں ہوا کرتا ہے۔ جیتنے والی قوموں کے افراد کو اگر تنظیم کے لیے اپنے بچوںکی قربانی کی بھی ضرورت پڑتی ہے تو وہ کرتے چلے جائیں گے۔ اپنی قوم کو بڑھانے اور اس کواونچالے جانے کے لیے ہر قسم کے ایثار سے کام لیتے ہیں۔ جب یہ شخص یہ دیکھتا ہے کہ ابھی اس قسم کی چیزیں جماعت میں پیدا نہیں ہوئیں تو وہ اس شُبہ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا یہ ایک پھول تھا جوخوبصورت تو تھا لیکن وہ تھا پھول جس نے درخت کی عمر نہیں پائی۔ گلاب کی شکل آم سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے، وہ برگد 1سے زیادہ خوشبودار ہوتا ہے لیکن پھول پھول ہی ہوتا ہے وہ درخت نہیں کہلا سکتا۔ جہاں تک خوشبو، نزاکت اور لطافت کا تعلق ہے گلاب کا پودا، برگد، آم اور۔انگور سے بہت اچھاہے۔ لیکن جہاں تک مضبوطی اور زیادہ عمر پانے کا تعلق ہے آم کا درخت تین چار سو سال اور انگور اوربرگد کے درخت پندرہ سولہ سو سال تک عمر پا جاتے ہیں لیکن گلاب کا پودا چند موسم پھول دے کر ختم ہو جاتا ہے۔ جب وہ ان باتوں پر غور کرتا ہے تو اس کی رائے بدل جاتی ہے۔ مگر ایک مومن جو عقل کی نگاہ سے نہیں خداتعالیٰ کی نگاہ سے دیکھتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ نہ اس نے پہلے کوئی کام کیا ہے، نہ اس نے اب کرنا ہے۔ یہ خداتعالیٰ کا کام ہے وہ خود کرے گا۔ پہاڑ، ستارے اور دوسری چیزیں جو دنیا میں نظر آتی ہیں وہ کب ہم نے بنائی ہیں؟ کتنے تغیرات ہیں جن میں ہمارا ہاتھ نہیں تھا لیکن وہ واقع ہوئے۔ ان کے سامنے اس کی کچھ بھی نسبت نہیں۔ یہ آپ ہی آپ ہو جائے گا اور خداتعالیٰ اسے مکمل کرے گا۔غرض خواہ تقدیرِالٰہی پر ایمان لانے والا دیوانہ ہو یا معقول فلسفی وہ یقین رکھتا ہے کہ یہ کام خداتعالیٰ ہی کرے گا۔
    بعض فرقے ایسے ہیں جو بنیادی طور پر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ سب کام خداتعالیٰ ہی کرتا ہے انسان کا ان کاموں میں ہاتھ نہیں ہوتا ۔لیکن بعض فرقے ایسے ہیں جو بنیادی طور پر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ بے۔شک ہر کام خداتعالیٰ ہی کرتا ہے لیکن خداتعالیٰ کام اُس وقت کرتا ہے جب اس کے ساتھ تم بھی وہ کام کرو۔ جب بندے وہ کام نہیں کرتے تو اس کی مدد رُک جاتی ہے اور خداتعالیٰ ان کو مٹا کر ایک دوسری قوم کھڑی کر دیتا ہے جواُس کام کو بجا لاتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الٰہی تقدیر دنیا میں دو طریقوں سے جاری ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بندے جب خداتعالیٰ کے ساتھ نہیں چلتے تو خداتعالیٰ اپنی مدد روک لیتا ہے جیسا کہ فرمایا 2خداتعالیٰ کسی قوم کو تباہ نہیں کرتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو تباہ نہیں کرتی، جب تک وہ اپنا ہاتھ خداتعالیٰ کی تائیدمیں ہِلاتی رہتی ہے وہ بچی رہتی ہے لیکن جب وہ خداتعالیٰ کی تائید میں اپنا ہاتھ ہِلانے سے رُک جاتی ہے خداتعالیٰ بھی اپنے ہاتھ کو روک لیتا ہے اور اس قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔
    اُس کا دوسرا قانون یہ ہے کہ بعض حالتوں میں اگر انسان خداتعالیٰ کا کام کرنے سے رُک جاتا ہے تو وہ یہ نہیں کرتا کہ اپنی مدد کو روک لے اور مذہب کو تباہ کردے بلکہ وہ یوں کرتا ہے کہ خداتعالیٰ کے کام سے رُک جانے والی قوم سے اپنی مدد کو روک لیتا ہے اور اُس کی جگہ دوسری قوم کھڑی کر دیتا ہے جو خداتعالیٰ کے حکم کے ماتحت اُس کام کو بجا لاتی ہے۔ گویا خداتعالیٰ کا دوسرا قانون یہ ہے کہ جب کوئی قوم ایک کام سے اپنے ہاتھ کو روک لیتی ہے تو وہ اُس کے افراد کو تباہ کر دیتا ہے اور دوسری قوم کھڑی کردیتا ہے۔ یہ سنت زندہ مذہبوں کے متعلق ہے۔
    پس احمدیت کے بارہ میں ہم یہ نتیجہ تو نہیں نکال سکتے کہ کوئی کام ہمارے کرنے کے بغیر آپ ہی آپ ہو جائے گا ۔ہمیں وہی نتیجہ نکالنا پڑے گا جو قرآن کریم نے نکالا ہے یعنی اگر تم سُستی کرو گے تو وہ تم کو تباہ کر کے کوئی دوسری قوم تمہاری جگہ کھڑی کر دے گا۔ انسانوں کے ذمہ بعض دفعہ ایسا کام لگا دیاجاتا ہے جس کے متعلق فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ ضرور ہوگا۔ غرض اس کام کے پورا کرنے میں انسان کادخل نہیں ہوتا۔لیکن اس کے پورا کرنے میں جو اُس کا حصہ ہوتا ہے اُس کا چھوٹا یا بڑا ہونے میں اُس کا دخل ہوتا ہے ۔ پس جہاں تک کہ افراد کے رُتبہ، عزت اور برکات حاصل۔کرنے کا سوال ہے اُس حد تک تو واقعات کی رَو میں فرق پایا جاسکتا ہے۔ اگر وہ قربانی کریں تو وہ رُتبہ اور عزت حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر نہ کریں تو تباہ و برباد بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن جہاں تک اصل مقصد کا تعلق ہے وہ بدل نہیں سکتا۔ وہ کام پورا ہو کر رہتا ہے خواہ ان کے ہاتھ سے ہو خواہ وہ کسی دوسرے کے ہاتھ سے۔ ہمارا جو دعوٰی ہے اگر ہم اُس میں سچے ہیں تو ہم دوسری قسم کے لوگوں میں شامل ہیں۔ ہمارے سپرد ایک ایسا کام کیا گیا ہے جو ہو تو جانا ہے۔ ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں تو عزت ہمیں مل جائے گی۔ نہ کریں تو کوئی دوسری قوم اس عزت کو حاصل کر لے گی۔ اور خداتعالیٰ غافلوں کو تباہ و برباد کر کے دوسری قوم کھڑی کر دے گا جواپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے اُس کام کو پورا کرے گی۔ جب ایک نوکر اگر کام نہیں کرتا اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں سُستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو آقا اُس کو گھر سے نکال دیتا ہے۔ اس سے اُس کا کام تو بند نہیں ہو جاتا۔ یا مثلاً سکول جاری کیے جاتے ہیں اگر کوئی مدرّس کام نہیں کرتا تو اُسے نکال دیا جاتا ہے۔اس سے پڑھائی تو بند نہیں ہوتی بلکہ دوسرا مدرّس رکھ لیا جاتا ہے جو پہلے مدرّس کی جگہ پر کام کرتا ہے۔ غرض یا تو ہماری جماعت وہ کام کرے گی جو خداتعالیٰ کی طرف سے اُس کے سپرد کیاگیا ہے اور یا ایک اَور قوم کھڑی کر دی جائے گی جو خداتعالیٰ کے حکموں کو بجا لائے گی۔
    پس ہماری جماعت اگر یہ مضمون سمجھ لے کہ کام تو خداتعالیٰ نے کرنا ہے لیکن عزت اُن کو ملے گی جو اس کام میں خداتعالیٰ کا ہاتھ بن جائیں گے۔ اگر وہ خداتعالیٰ کا ہاتھ نہیں بنیں گے تو وہ اُنہیں باہر نکال کر پھینک دے گا۔ تو یقیناً اس میں ایک سچی تبدیلی پیدا ہو جائے گی اور وہ کامیابی کے راستہ پر چل پڑے گی۔
    اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ جب وہ کام ضرور ہونا ہے تو وہ آپ ہی آپ ہو جائے گا ہمیں اس میں ہاتھ بٹانے کی کیا ضرور ت ہے تو وہ احمق ہے۔ وہ کام تو بیشک ہو جائے گا لیکن وہ اور اُس کی اولاد بربادہو جائے گی ۔یا اگر وہ سمجھتا ہے کہ بربادی اِس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب وہ کام نہیں کر سکتا تو وہ بھی احمق ہے۔ کام تو وہ ضرور ہو گا لیکن اُس کا منہ کالا ہو گا۔ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ تغیرات نہیں ہوئے؟ جن لوگوں نے آپ کی مخالفت کی وہ کس طرح شرمندہ ہوئے۔
    پس آج بھی جوچیز دنیا کی نظروں میں ناممکن ہے وہ خداتعالیٰ کے لیے آسان ہے۔ بعض چیزیں جو دنیا کی نظروںمیں عجیب ہوتی ہیں وہ خداتعالیٰ کی نظر میں آسان ہوتی ہیں۔ چنانچہ اب بھی جو تغیر دنیا میں پیداہونے والا ہے وہ خداتعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے۔
    جو احمدی احباب اس کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں اخلاقِ فاضلہ حاصل ہیں اُن میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہماری ترقی اُس وقت شروع ہو گی جب ہماری کثرت ہو گی۔ کثرت کے بغیر بھی قومیں کام کرتی ہیں۔ ہندوستان پر انگریزوں نے سینکڑوں سال حکومت کی۔ اُنہوں نے کیا اپنی کثرت کی وجہ سے ایسا کیا؟ اُن کی تعداد چالیس پچاس لاکھ تھی اور چالیس کروڑ کے قریب ہندوستانی تھے۔ گویا آٹھ سو ہندوستانیوںپر ایک انگریز تھا۔ آٹھ سَو بکریوں کو بھی ایک چرواہا قابومیں نہیں رکھ سکتا، آٹھ سو گائیوں کو بھی ایک چَرانے والا اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتا، آٹھ سَو اونٹوں کو بھی ایک چَرانے والا اپنے قبضہ میں نہیں رکھ سکتا، آٹھ سَو مُرغیوں کو بھی ایک آدمی نہیں پال سکتا،آٹھ سَو چڑیوں کی بھی ایک انسان نگرانی نہیں کرسکتا۔ پھر کتنی کمزوری تھی ہندوستانیوں میں اور کتنی خوبی تھی انگریز کیریکٹر کی کہ ایک انگریز آٹھ سَو ہندوستانیوں کو جو اُس جیسے ہی سمجھ بوجھ والے تھے، ایسی ہی عقل رکھتے تھے ایک گڈریا کی طرح نہ صرف چلایا بلکہ ایسی تنظیم اور قانون کے ماتحت چلایا کہ خود ہندوستانی بھی اور دنیا بھی حیران تھی۔ اگرانگریز باوجود قلیل۔التعداد ہونے کے اپنے سے کثیر۔التعداد ہندوستانیوں پر حکومت کر سکتے ہیں تواحمدی اپنی خوبی اور حُسنِ۔سلوک کی وجہ سے لوگوں کے قلوب پر کیوں حکومت نہیں کر سکتے؟ میں نے پاکستان میں سینکڑوں آدمیوں سے یہ سُنا ہے کہ موجودہ حکومت سے انگریز کی حکومت بدرجہا بہتر تھی۔ یہ لوگ معمولی درجہ کے نہیں تھے بلکہ ممبرانِ اسمبلی، بڑے بڑے قومی لیڈر اور اخباروں کے ایڈیٹر تھے۔ میں تو اُن سے متفق نہیں ہوں۔ خداتعالیٰ نے یہ حکومت ہمیں دی ہے اور یہ بہرحال ہمارے لیے بہترہے۔ ہاں! ناتجربہ کاری کی وجہ سے بعض تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں لیکن وہ عارضی ہیں۔
    سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ اب خداتعالیٰ نے ہمارے ہاتھ کھول دیئے ہیں۔ اب ہمیں کسی سے تکلیف پہنچے تو ہم اُس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ پنجرے میں پڑا ہوا جانور چاہے تو آپ اُس۔کے آگے موتی ڈالیں یا گندم بہرحال قیدی ہے۔ غرض موجودہ حکومت پہلی حکومت سے بہرحال بہتر ہے۔ اب ہمیں اصلاح کرنے کا موقع حاصل ہے۔ اُس حکومت میں اصلاح کرنے کا موقع حاصل نہیں تھا۔ مگربہرحال کہنے والوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے انگریزوں کی حکومت بہتر تھی۔ اب کانگرس والے بھی شور مچا رہے ہیں کہ انگریزوں کی حکومت موجودہ حکومت سے بہتر تھی۔ غرض انگریزوں نے سینکڑوں سال تک ہندوستان پر حکومت کی اور ایسی حکومت کی کہ خود قیدی بھی اُن کی تعریف کرتے ہیں اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ قیدیوں کو جیل خانہ سے نکال دیا گیا ہے۔ تم چاہے انہیں بیوقوف کہو یا احمق اُن میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ کاش! انہیں پھر قیدخانہ کی زندگی مل جائے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ یہ انگریزوں کی عقلمندی تھی، اُن میں ایثار اور قربانی کا مادہ پایا جاتا تھا۔ اگر تم بھی اپنی اصلاح کر لو ،لوگوں کے لیے اپنے آپ کو مفید بنا لو، اُن کے لیے سُکھ کا موجب بن جاؤ، اُن سے ہمدردی کرو، عقل سے کام لو اور انہیں عقل سکھاؤ تو تم آسانی سے اُن کے قلوب پر حکومت کر سکتے ہو۔ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے کہ ہم عقل سے کام نہیں لیتے۔ بعض دفعہ حکومت بڑی سوچ بچار کے بعد ایک سکیم مرتّب کرتی ہے لیکن ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی بھی اس پر اعتراض کرنے لگ جاتا ہے۔ ہم خود مہینوں کے بعد ایک سکیم بناتے ہیں لیکن بیوقوف لوگ اس پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہ اُن مشکلات کو مدنظر نہیں رکھتے جن کو مدنظر رکھ کر وہ سکیم تیار کی گئی تھی۔ اگر وہ لوگ اُس سکیم کو نہیں سمجھ سکتے تب بھی انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اُس پر اعتراض کریں۔ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اُسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ خداتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ فرشتوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی لیکن انہوں نے خداتعالیٰ کے اس فعل پر اعتراض نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسے سمجھنے کی کوشش کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اپنی قوم کی گری ہوئی حالت کا احساس ہوا اور آپ نے خیال کیا کہ میری قوم کیونکر ترقی کرے گی اور خداتعالیٰ کے وہ وعدے جو میری قوم کے حق میں ہیں کیونکر پورے ہوں گے تو آپ نے اس پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اُسے سمجھنے کی کوشش کی۔ جو شخص کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اُس کا علم بڑھے گا۔ اور جو اعتراض کرتا ہے اُس کا علم گھٹے گا کیونکہ وہ حقیقت کو معلوم کرنے کی بجائے وسوسہ میں پڑجاتا ہے اور وسوسہ میں پڑ جانے سے اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ تم وہ بلند مقام پیدا کرنے کی کوشش کرو جو نبیوں کی جماعتوں کو حاصل ہوتا ہے۔ تمہیں یہ بھول جانا چاہیے کہ تم تھوڑے ہو۔ تم اگر معاملات میں سچائی اور دیانتداری سے کام لو گے، تم اگر راستبازی اختیار کرو گے تو لوگ تمہاری ہمدردی، تمہاری مدد اور خوشنودی کو حاصل کرنے کے لیے تمہارے اردگرد خودبخود جمع ہونے شروع ہو جائیں گے اورتمہیں آپ ہی آپ طاقت حاصل ہو جائے گی۔ تم لوگوں کے قلوب پر حکومت کرنے لگو گے۔ گویا تم بے تخت کے بادشاہ ہو جاؤ گے۔ یہی سندھ کا علاقہ ہے اس میں ہم بیشک تھوڑے ہیں لیکن اگر ہم اپنی حُسنِ کارکردگی سے اور خوش معاملگی سے لوگوں میں اثر پیدا کر لیں تولوگ آپ ہی آپ ہمارے پاس آئیںگے۔ میں نے بعض آدمی دیکھے ہیں وہ تھوڑے تھے لیکن انہوں نے دوسرے لوگوں کے اندر اثرپیدا کر لیا اور یہ حقیقت ہے کہ جو کام ایک آدمی کر سکتا ہے ایک قوم اُس سے زیادہ کر سکتی ہے۔ آپ ایک قوم ہیں۔ انگلستان، جرمنی اور فرانس وغیرہ ممالک اگر غیر ممالک پر حکومت کر سکتے ہیں تو کیوں تم حکومت نہیں کر سکتے؟ وہ لوگ تو دوسروں کو غلام بنانے آئے ہیں۔ آپ اگر انہیں اُبھاریں، اُن کے لیے مفید وجود بنیں اور اُن کے دلوں کو اچھا بنانے کی کوشش کریں تو کیا وجہ ہے کہ اس نمایاں فرق کی وجہ سے لوگ تمہارے دل سے فرمانبردار نہ ہو جائیں، وہ تمہیں اپنا افسر نہ بنا لیں۔ بسااوقات خدمت کرنے والا مخدوم ہو جاتا ہے اور محبت وہ کام کر جاتی ہے جو زور اور طاقت اور ہتھیار سے نہیں ہو سکتا۔
    پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی کمزوریوں پر نظر رکھے بلکہ انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ تم یہ مت سوچا کرو کہ تم کمزور ہو۔ تم یہ سوچا کرو کہ تم اس طاقت سے جو تمہیں حاصل ہے کس طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اس علاقہ میں جہاں ہم غیر کے طور پرہیںلیڈروںکے طور پر رہیں گے اور ناراضگی سے نہیں بلکہ ہماری خوشنودی حاصل کرنے کے لیے لوگ ہمیںلیڈرقرار دیں گے۔ مگر ضرورت ہے قربانی کی، ضرورت ہے ایثار کی، ضرور ت ہے محنت کی۔ جب تک یہ چیزیں پیدا نہیں ہو جاتیں ہم اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتے‘‘۔
    (الفضل 28؍اگست 1949ء )

    1
    :
    برگد: بڑ کا درخت جس میں لمبے لمبے گپھے سے لٹکے رہتے ہیں۔
    2
    الرعد:12


    منافقت ایک خطرناک مرض ہے
    جو تمام برائیوں کی جڑ ہے
    (فرمودہ3جون 1949ء بمقام ناصرآباد ۔اسٹیٹ سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’دُنیا میں سب سے بڑی مرض منافقت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔1 منافق دوزخ کے سب سے نچلے درجہ میں ہوں گے۔ منافق ہمیشہ دوست بن کر دشمنی کرتا ہے اور ظاہری جامہ وہ ایسا پہنا کرتا ہے کہ گویا تمہیں اپنی خیرخواہی کا یقین دلاتا ہے۔ منافقت جتنی جتنی پھیلتی ہے اُتنی ہی جماعت کمزور ہوتی جاتی ہے۔ کسی بُری چیز کو اچھی شکل دے دینا کوئی مشکل امر نہیں ہوتا۔ بعض سادہ لوح ہوتے ہیں۔ لوگ انہیں تمسخر کرتے ہیں تو ان کی پیٹھ پر تھپڑ مار دیتے ہیں اور کہتے ہیں اوہو! تمہاری پیٹھ پر تو مٹی لگی ہوئی ہے۔ وہ ظاہر یہ کرتے ہیں کہ گویا اس کی خدمت کر رہے ہیں لیکن دراصل وہ اس کا تمسخر اُڑا رہے ہوتے ہیں۔ اِس طرح وہ کئی قسم کی باتیں بنابنا کر اپنی نیک نیتی کا اظہار کرتے ہیں لیکن واقعات پردہ ہٹا کر یہ ظاہر کر دیتے ہیں کہ آیا ان کا فعل نیک نیتی پر مبنی تھا یا بدنیتی پر۔
    احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی ایک سفر میں پیچھے رہ گئیں۔ یہ حضرت عائشہؓ ۔۔تھیں۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کا یہ دستورتھا کہ آپ ہمیشہ ہر سفر میں ایک آدمی پیچھے چھوڑ جایا کرتے تھے تاکہ وہ اِدھر اُدھر دیکھ لے کہ قافلہ کی کوئی چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی۔ اِسی طرح اس سفر میں آپؐ ایک صحابیؓ کو اِسی غرض کے لیے اپنے پیچھے چھوڑ گئے تا وہ اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا آئے اور اگر قافلہ کی کوئی چیز گر گئی ہو تو وہ اُسے اُٹھا لے۔ وہ صحابیؓ گرے پڑے سامان کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھاکہ میدان میں ایک عورت لیٹی ہوئی ہے۔ پاس آئے تو معلوم ہوا کہ حضرت عائشہؓ ہیں جو غلطی سے پیچھے رہ گئی ہیں۔ بات یہ ہوئی کہ جب رات کو قافلہ چلا تو حضرت عائشہؓ اس وقت قضائے حاجت کے لیے باہر گئی ہوئی تھیں اورچونکہ آپؓ اُن دِنوں دبلی پتلی تھیں اور آپؓ کا بوجھ کم تھا قافلہ کے منتظم نے اُن کا ہودج اُٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا اور خیال کیا کہ آپؓ اندر ہی ہوں گی۔ جب آپؓ واپس آئیں اور دیکھا کہ قافلہ روانہ ہو چکاہے تو آپؓ کو سخت پریشانی ہوئی اور وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئیں۔ صبح جب اس صحابی نے آپؓ ۔کو دیکھا تو اُس نے زور سےپڑھا۔ اس آواز سے حضرت عائشہؓ بیدار ہو گئیں۔ انہوں نے قریب آ کر چپکے سے اپنا اونٹ بٹھا دیا۔ حضرت عائشہؓ سوار ہو گئیں اور وہ خود باگ پکڑکر مدینہ چل پڑے۔ جب مدینہ میں پہنچے تو بعض لوگوں نے جو منافق تھے یہ باتیں کرنا شروع کر دیں کہ حضرت عائشہ ؓ کاپیچھے رہنا بِلاوجہ نہیں تھا بلکہ اس میں ضرورکوئی بات ہے۔2 چنانچہ قرآن کریم میں بھی اس واقعہ کا ذکر آتا ہے۔ اُن لوگوں کی منافقت کی بڑی علامت یہی تھی کہ وہ اصل آدمی کے پاس جاکر بات نہیں کرتے تھے۔کسی شخص کا اصل آدمی کے پاس جاکر اُسے اُس کی برائی کی طرف توجہ نہ دِلانا بلکہ اِدھر اُدھر لوگوں میں اُس کی طرف منسوب کر کے بُرائی پھیلانا اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ منافقت کرتا ہے اور اس کی ظاہری خیرخواہی محض بناوٹ ہے۔ اُس کی اصل غرض یہ ہے کہ بدظنی اور بُرائی پھیلے۔ ورنہ وجہ کیا ہے کہ وہ اصل آدمی کے پاس جا کر اپنی بات بیان نہیں کرتا۔ یہ منافقت نہیں تو اَور کیا ہے؟ کیا اس طرح اُس شخص کی اصلاح ہو جائے گی؟ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ منافق ہمیشہ شرافت سے تجارت کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کُتّا اپنے مالک کو دیکھ کر کُودتا ہے، نوکر اپنے مالک کی وجہ سے ناز کرتا ہے۔ کوئی شخص کسی سے بدکلامی کرتا ہے تو اس لیے کہ وہ سمجھتا ہے مَیں اگر اسے گالیاں دوں گا تو یہ خاموش رہے گا۔ اسی طرح ایک منافق دوسرے شخص کی شرافت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے یہ شریف آدمی ہے اس لیے یہ میری بدکلامی کا جواب نہیں دے گا۔ میں بے حیائی کرلوں تو کوئی حرج نہیں۔
    غرض کسی شخص کی منافقت کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ وہ اصل شخص کے سامنے اس کی بُرائیاں بیان نہیں کرتا بلکہ دوسرے لوگوں میں بدظنی پھیلاتا ہے۔ اس علامت کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص کسی منافق کو پہچان نہیں سکتا تو اس سے احمق دنیا میں اَور کوئی نہیں۔ منافق کی پہچان سے زیادہ آسان پہچان اَور کسی چیز کی نہیں۔ اگر کوئی شخص زید کی بُرائیاں بکر کے سامنے بیان کرتا ہے تو یہ یقینی طورپر اس کی منافقت کی علامت ہے۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ اس کی غرض اصلاح ہے لیکن کیا زید کی بُرائیاں بکر کے سامنے بیان کرنے سے اُس کی اصلاح ہو جائے گی۔ زید کی اصلاح تو اُسی وقت ہو گی جب وہ زید کے پاس جا کر اُسے اس کے نقص کی طرف توجہ دلائے گا اور کہے گا تم میں فلاں فلاں نقص ہے۔ یا مثلاً فضل دین نماز نہیں پڑھتا وہ بدر دین کے پاس جا کر کہتا ہے فضل دین نماز نہیں پڑھتا یامثلاًبدردین روزے نہیں رکھتا وہ فضل دین کے پاس جا کر کہتا ہے بدر دین روزے نہیں رکھتا تو اب کیابدردین کے پاس باتیں کرنے سے فضل دین نماز پڑھنے لگ جائے گا؟ یا فضل دین کے پاس باتیں کرنے سے بدر دین روزے رکھنے لگ جائے گا؟ فضل دین کی اصلاح اُسی وقت ہو گی جب وہ اس کے پاس جاکر کہے گا کہ تم نماز نہیں پڑھتے اور یہ بُری بات ہے تم اپنی اصلاح کرو۔ اور بدر دین کی اصلاح اُسی وقت ہو گی جب وہ اُس کے پاس جا کر کہے گا کہ تم روزے نہیں رکھتے یہ بُری بات ہے تم اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرو۔ مگر جو شخص ایک آدمی کی بُرائیاں دوسرے کے سامنے بیان کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت بہم پہنچاتا ہے کہ وہ منافق ہے۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت ایک شخص کو جو اس کے پاس سے گزر رہا تھا گالیاں دے رہی تھی۔ اس شخص سے پوچھا گیا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا میں نے اسے سلام کیا تھا اور یہ گالیاں دینے لگ گئی ہے اَور تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ لوگوں نے اس عورت سے بھی دریافت کیا کہ تم اسے گالیاں کیوں دیتی ہو؟ اس نے توتمہیں صرف سلام کیا ہے۔ وہ کہنے لگی یہ شخص مجھے کہتا ہے ’’بھابی کانئے! سلام‘‘۔گویا وہ شخص سلام کی خاطر سلام نہیں کرتا تھا بلکہ بھابی کانی کہنے کی خاطر سلام کرتا تھا۔ جس شخص کی اصلاح مدنظر ہو اُس کی بُرائیاں اُسی کے سامنے یااس کے گارڈین کے سامنے بیان کرنی چاہییں تبھی اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بات سچ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ ہو لیکن کہنے کا فائدہ اُسی صورت میں ہوسکتاہے کہ بات اُسی شخص کے سامنے بیان کی جائے جس کے ساتھ اُس کا تعلق ہو۔ لیکن اگر کوئی شخص اصل آدمی کے علاوہ کسی اَور کے سامنے باتیں کرتا ہے تو یہ علامت ہے اس کی منافقت کی۔ کیا تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو یہ دعوٰی کرے کہ میں اتنی چھوٹی عقل کا ہوں کہ میں ایک منافق کو بھی پہچان نہیں سکتا؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ منافق کو پہچاننا نہایت آسان ہے۔ اس کی پیشانی پر منافق لکھاہوادیکھتے ہیں۔ یہ نہیں کہ واقع میں یہ لفظ ان کی پیشانی پر سیاہی سے لکھا ہوا ہوتا ہے۔ بلکہ خداتعالیٰ فرماتا ہے3 منافق کی کچھ علامتیں ہوتی ہیں جن سے وہ پہچانا جاتا ہے۔ ان علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ دوسرے کے پاس جا کر تمہاری بات کرتا ہے۔ وہ تمہارے سامنے آکر وہ بات بیان نہیں کرتا۔ اگر تم چندہ نہیں دیتے اور واقع میں وہ تمہاری اصلاح کرنی چاہتا ہے تو وہ تم سے کہے کہ تم چندہ کیوں نہیں دیتے؟ اگر تمہارا کوئی دوست نماز نہیں پڑھتا اور اسے سچ مُچ اس کی اصلاح مدنظر ہے تو جو نماز نہیں پڑھتا اسے جا کر کہنا چاہیے کہ تم نماز پڑھا کرو۔ مثلاً فضل۔دین چندہ نہیں دیتا اور نورالدین نماز نہیں پڑھتا۔ اب فضل۔دین کے پاس جا کر یہ کہنے سے کہ نورالدین نماز نہیں پڑھتا نورالدین کس طرح نماز پڑھنے لگ جائے گا ۔یا نورالدین کے پاس جا۔کر یہ کہنے سے کہ فضل۔دین چندہ نہیں دیتا کیا وہ چندہ دینے لگ جائے گا؟ ایسا شخص منافق ہے جو تمہیں اپنے چندے اور نماز کا دھوکا دیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک مُصلح کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ا گر وہ مومن ہے اور اس کی غرض اصلاح ہے تو وہ کیوں فضل۔دین کے پاس جا کر نہیں کہتا کہ تم چندہ نہیں دیتے۔ نورالدین کے پاس جاکر کیوں کہتا ہے کہ فضل۔دین چندہ نہیں دیتا۔ اگر اس کی غرض اصلاح ہے تو وہ نورالدین کے پاس جاکر کیوں نہیں کہتا کہ تم نماز نہیں پڑھتے۔ وہ فضل دین کے پاس جا کر نورالدین کے نقص کیوں بیان کرتاہے؟
    اِسی طرح یہی منافقت اُس کی باقی باتوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاً قرآن کریم کہتا ہے کسی کو مارنا نہیں چاہیے وہ کسی کو مار بیٹھے اور کوئی دوسرا شخص اُس کو جا کر کہے میاں! تم نے اس کو کیوں ماراہے؟ قرآن کریم تو کہتا ہے کسی کو مارنا نہیں چاہیے۔ تو وہ جواب دیتا ہے بھلا اس طرح گزارہہوتاہے۔ گویا دوسرے معنوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ خداتعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نَعُوْذُبِاللّٰہِ غلط تعلیم دی ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میرے سوا سب لوگ احمق ہیں۔ عقلمند صرف میں ہی ہوں۔ میں جو بات کہتاہوں وہ درست ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے تم عدل سے کام لو4 لیکن وہ کہتا ہے کیاعدل اور انصاف سے بھی کام چلتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ صرف وہی عقلمند ہے۔ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خداتعالیٰ نے غلط تعلیم دی ہے۔ اور اگر یہی بات ہے تو اسے کس نے کہا تھا کہ وہ قرآن کریم کو مانے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ لاکھوں عیسائی ایسے ہیں جو آپ پر ایمان نہیں لاتے، لاکھوں یہودی ایسے ہیں جو آپ پر ایمان نہیں لاتے، لاکھوں ہندو اور سِکھ ایسے ہیں جو آپ پر ایمان نہیں لاتے۔ اسے کس گدھے نے کہا تھا کہ تُو قرآن کریم کو مان اور پھر اس کی تردید کر۔یا مثلاً قرآن کریم کہتا ہے تم سچ بولو مگر وہ کہتا ہے کہ جھوٹ کے بغیر تو گزارہ ہی نہیں۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خداتعالیٰ نے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ غلط تعلیم دی ہے اور یا کہنے والا گدھا ہے۔ اس گدھے کو کس نے کہا تھا کہ وہ قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ آخر سارے ہندو، سِکھ، عیسائی اور یہودی بھی تو قرآن کریم اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے اسے کس نے مجبور کیا ہے کہ وہ اِدھر قرآن۔کریم پر ایمان لائے اور اُدھر کہے کہ یہ کتاب جھوٹی ہے۔ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور پھر آپ کی تعلیم کے خلاف عمل کرے۔
    غرض منافقت ایسی چیز نہیں جس کا پتانہ لگ سکے۔ کسی شخص کی منافقت کی علامت ہی یہی ہے کہ اگر اس کے پاس قرآن کریم کا حکم آجائے تو وہ کہہ دیتا ہے اس پر عمل کرنے سے ہمارا کام نہیں چلتا۔ اگر وہ یہودی ہوتا تو اس کی یہ بات درست تھی،اگر وہ ہندو ہوتا تو اس کی یہ بات درست تھی، اگر وہ عیسائی ہوتا تو اس کی یہ بات درست تھی، اگروہ سِکھ ہوتا تو اس کی یہ بات درست تھی لیکن اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر اور یہ کہہ کر کہ میں قرآن کریم کو مانتا ہوں وہ کہتا ہے جھوٹ کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں اِسی چیز کا نام منافقت ہے۔ وہ پہلے یہ کہے کہ میں قرآن کریم کو نہیں مانتا پھر ایک ایک آیت پڑھ کر اُسے جھوٹا کہے تو کوئی حرج نہیں۔ مگر ایک طرف وہ کہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں اور دوسری طرف قرآن کہے سچ بولو 5اور وہ کہے میں جھوٹ بولوں گا۔ قرآن کریم کہے تم کسی پر بہتان نہ لگاؤ لیکن وہ کہے میں بہتان لگاؤںگا۔قرآن کریم کہے تم کسی پر ظلم نہ کرو اور وہ کہے بھلا اس کے بغیر بھی کام چلتا ہے اور اس طرح وہ قرآن کریم کے ایک ایک حکم کو ردّ کرے اور پھر کہے میں لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُپر ایمان رکھتا ہوں تو وہ جھوٹا ہے۔ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکا ہر حرف اُس پر *** کرتا ہے۔ اِس کا ہمزہ اُس پر *** کرتا ہے۔ اِس کا لام اُس پرلعنت کرتا ہے، اِس کا دوسرا لام اُس پر *** کرتا ہے۔ ایک طرف وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں اورقرآن کریم کو مانتا ہوں دوسری طرف وہ کہتا ہے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ اس کی ہر آیت جھوٹی ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے سچ بولو مگر۔وہ کہتا ہے میں سچ نہیں بولوں گا۔ پھر وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں۔ یہ منافقت نہیں تو اَور کیا ہے۔ اگر یہ علامات تم میں پائی جاتی ہیں تو تم منافق ہو۔ اگر تمہارا ہمسایہ قرآن کریم کے متعلق کہتا ہے کہ بھلا اس کی تعلیم پر چل کر گزارہ ہو سکتا ہے تو وہ بھی منافق ہے۔ اگر واقعی اس کے ساتھ کام نہیں چلتا تو خداتعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نَعُوْذُ بِاللّٰہِ جھوٹے ہیں ۔لیکن اگر خداتعالیٰ اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو کام قرآن کریم سے ہی چلے گا۔ اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم پر چلنے سے کام نہیں چلتا وہ جھوٹا ہے۔ قرآن کریم نے جو کچھ کہا ہے وہ بہرحال سچا ہے۔ اگر تم اپنے آپ کو ٹٹولو تو دس آدمیوں میں سے پانچ چھ ایسے ہوں گے جو جہالت کی وجہ سے یہ نہیں سمجھتے کہ وہ منافقانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اگر وہ اس بات کو جان لیں تو ضرور اپنی اصلاح کر لیں جیسے بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں جو بیماری کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بیماری کا علاج نہیں کراتے۔
    اصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک منافقت کو دور نہ کیا جائے جُرم اور عدمِ جُرم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ بعض لوگ تیرے پاس آتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ یہ کتنی سچی بات ہے آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔ اس میں شُبہ کی کوئی گنجائش نہ تھی لیکن خداتعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے منافق تیرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اپنے اس قول میں جھوٹے ہیں۔6 دراصل بات تو وہ سچی کہتے تھے لیکن جب وہ منہ سے یہ بات کہتے تھے تو اُن کے دل اس بات کو نہیں مانتے تھے۔ وہ منہ سے یہ کہتے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں مگر خداتعالیٰ کہتا ہے وہ جھوٹے ہیں۔ اگر یہ سچے ہوتے تو یہ کہتے کہ ہم آپ پر ایمان لاتے ہیں۔ غرض منافق کو پہچان لینا کوئی بڑی بات نہیں۔ ہر وہ آدمی جو تمہارے ملنے والے کی تمہارے پاس بُرائی بیان کرتا ہے تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ منافق ہے۔ اگروہ سچا ہوتا، اگر۔وہ نیک ہوتا تو وہ اصل آدمی کے پاس جاتا اور اُسے اصلاح کی طرف توجہ دلاتا۔ اِس علامت کے ہوتے ہوئے جو شخص ایک منافق کو پہچان نہیں سکتا وہ سب سے بڑا اَحمق ہے۔ تمہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ دوسرے کی بُرائیاں تمہارے سامنے بیان کرتاہے تو وہ تمہاری بُرائیاں دوسروں کے سامنے بیان کرتا ہو گا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ وہ دوسروں کی بُرائیاں تو تمہارے سامنے بیان کرے اور تمہاری بُرائیاں دوسروں کے سامنے بیان نہ کرے۔ درحقیقت تم اسے دوست سمجھ رہے ہوتے ہو اور وہ تمہیں احمق سمجھ رہا ہوتا ہے۔ وہ تمہیں بیوقوف بنا رہا ہوتا ہے اور تم واقع میں بے۔وقوف ہوتے ہو کیونکہ تم اس کی بات سُن لیتے ہو۔ جب وہ تمہارے پاس آتا ہے اور دوسرے کی بُرائیاں بیان کرتا ہے تو تم اسے کہہ دو میں تمہاری باتیں سننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ تم منافق ہو۔ اگر تمہاری نیت نیک ہے تو تم اصل آدمی کے پاس جا کر اسے اصلاح کی طرف توجہ دلاؤ۔ مومن کا یہ طریق ہونا چاہیے کہ جب اس کے پاس ایسا آدمی آئے وہ اسے کہہ دے اگر تم میرے سامنے میری بُرائیاں بیان کرنا چاہتے ہو تو میں سننے کے لیے تیار ہوں اور دوسرے کی اگر نیکیاں بیان کرنا چاہتے ہو تب بھی میںسننے کے لیے تیار ہوں لیکن دوسرے کے عیوب سننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اس کے عیوب سنانے ہیں تو اُسی کے پاس جاؤ اور اسے اصلاح کی طرف توجہ دلاؤ میں اس کی اصلاح کا ذمہ۔دار نہیں ہوں۔ بہرحال منافق کی پہچان کوئی بڑی بات نہیں۔ ہر جاہل سے جاہل آدمی بھی اسے پہچان لیتا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی بعض اَور علامات بھی بیان کی ہیں۔ مثلاً آپؐ فرماتے ہیں کہ منافق جب بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے۔7 وَاِذَاخَاصَمَ فَجَرَ8اور جب وہ کسی سے جھگڑا کرتا ہے، گالی گلوچ پر اُتر آتا ہے ۔اسی طرح وہ دوسرے پر اتہام لگاتا ہے، دوسرے کی عیب چینی کرتا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے وہ یہ کام کسی نیک نیتی کی بناء پر نہیں کرتا بلکہ اس کا مقصد بے۔چینی۔اور بدظنی پھیلانا ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا9 تابے۔چینی اور بدظنی پھیلے۔ اگر۔وہ۔نیک نیت ہے توکیوں اصل آدمی کے پاس جا کر اس کی بُرائی بیان نہیں کرتا۔
    غرض منافقت سب سے بڑی مرض ہے۔ دنیا کی تمام خرابیاں اِسی سے پیدا ہوئی ہیں۔ اور سنجیدگی اور بہادری سے تقوٰی پیدا ہوتا ہے۔ تم ان باتوں پر غور کرنے کی عادت ڈالو اور دیکھو کہ آیا تم میں منافقت تو نہیں پائی جاتی؟ اگر تم اپنے آپ میںمنافقت کی علامات پاتے ہو تو اس کی اصلاح کی طرف توجہ کرو۔ دوسرے منافق ہمسایہ کو منہ لگانے کی عادت چھوڑ دو اور اس سے بچنے کی کوشش کرو۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میںچک سکندر ضلع گجرات کے چند آدمی قادیان جایا کرتے تھے۔ ان کے قلندر خان اور سمندر خان وغیرہ نام تھے۔ وہ نہایت مخلص احمدی تھے اور ایک ساتھ قادیان جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ان میں سے دو تین آدمی قادیان گئے۔ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کے ایک ماموں زاد بھائی تھے وہ عموماًدرود وغیرہ کرتے رہتے تھے اور باغبانی کا انہیں شوق تھا۔ ان کی باغیچی بڑے باغ کے راستے میں تھی۔ اُس زمانہ میں لوگ تبرکًا باغ کی زیارت کرتے تھے اس لیے کہ وہ آپؑ کے والد صاحب کا لگایاہوا تھا۔ یہ لوگ بھی وہاں زیارت کے لیے گئے۔ ان میں سے ایک جلدی جلدی قدم اُٹھائے چلاجارہا تھا اور باقی دو اُس کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے کہ ان میں سے جو شخص آگے پہنچا وہ ہمارے چچاکے پاس گیا۔ ہمارے چچا کو دوسرے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت سے ورغلانے کی عادت تھی۔ انہوں نے اُس شخص سے کہا میاں!تم یہاں کیوں آتے ہو؟ کیا مرزا صاحب سے ملنے آئے ہو ؟یہ تو محض دکانداری ہے۔ مرزا صاحبؑ میرے رشتہ دار ہیں اُن کا خیرخواہ مجھ سے زیادہ اَور کو ن ہوگا؟ اگر وہ سچے ہوتے تو ہم کیوں ایمان نہ لے آتے۔تم کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہو؟ یہ تو روپیہ کمانے کا ایک ذریعہ ہے ،دکانداری ہے اِس کے علاوہ اَور کچھ نہیں۔ اُس دوست نے اپنے دوسرے بھائیوں کو جو اُس کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے بُلانا شروع کیا اور کہا جلد آؤ جلد آؤ۔ ہمارے چچانے یہ سمجھا کہ یہ شخص مجھ سے متأثر ہو گیا ہے اور اب اپنے دوسرے ساتھیوں پر اپنا اثر ڈالنا چاہتا ہے۔ جب وہ دونوں قریب آئے تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے اپنا ہاتھ ہمارے چچا کے ہاتھ میں دیا ہوا تھا اس نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہو کر کہا قرآن کریم میں جب شیطان کا ذکر آتاتھا تو ہم حیران ہوتے تھے اور ہمیں شوق پیدا ہوتا تھا کہ شیطان کی شکل دیکھیں ۔خداتعالیٰ لکھتا تھا کہ شیطان بھی ایک وجود ہے مگر یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ آج میں نے شیطان کو دیکھ لیاہے۔یہ شیطان ہے تم بھی اسے اچھی طرح دیکھ لو۔ چچا اپنا ہاتھ چُھڑانا چاہتے تھے مگر وہ ان کا ہاتھ نہیںچھوڑتا تھا اور کہتا تھا دیکھ لو،پھر نہ کہناہمیں پتا نہیں لگا کہ شیطان کیا ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے احمدیوں سے چھیڑ خانی چھوڑ دی۔
    پس اگر تم مومن ہو تو جب بھی تمہارے پاس کوئی شخص دوسرے کی بُرائیاں بیان کرے تو اسے بتا دو کہ تم منافق ہو۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ تم اصل آدمی کے پاس جاکر یہ بُرائیاں بیان نہیں کرتے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ آئندہ جرأت نہیں کرے گا اور تمہارے ساتھی کے پاس جا کر بھی وہ ایسی باتیں نہیں کرے گا۔ اور اگر وہ تمہارے جیسا جری نہیں تب بھی وہ خیال کرے گاکہ کہیں یہ بھی ایسی جرأت نہ کرے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تھوڑے دنوں میں اس کی منافقت دور ہو جائے گی۔ اگر تم ایسا نہیں کرتے تو گویا تم اُسے منافقت میں اَور زیادہ دلیر ہو جانے کا موقع دیتے ہو۔ اور اُسے۔وہ۔بات کہنے کا موقع دیتے ہو جو عبداللہ بن اُبی بن سلول نے کہی۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ عبداللہ۔بن۔اُبی بن سلول نے کہا10جو شخص مدینہ میں سب سے زیادہ معزز ہے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ سب سے ذلیل شخص یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا۔ اسے یہ جرأت ایسے ہی لوگوں نے دِلائی تھی جو اسے دیکھ کر واہ واہ کرتے تھے۔ وہ سمجھتا تھا میں ایک بڑا لیڈر ہوں، میں مدینہ میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور میںمدینہ واپس جاکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جونَعُوْذُ بِاللّٰہِسب سے زیادہ ذلیل ہیں باہر نکال دوں گا۔عبداللہ بن اُبی بن سلول کا دماغ منافقوں کی اس قسم کی باتوں کی وجہ سے خراب ہو گیا تھا۔ لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کمال حاصل تھا کہ خداتعالیٰ نے آپ کے اکثر ساتھی مومن پیدا کیے ہوئے تھے۔ عبداللہ بن ابی بن سلول کا ایک بیٹا تھا وہ بھی اس لشکر میں شامل تھا جس کے سامنے عبداللہ بن اُبی بن سلول نے یہ بات کہی تھی۔ وہ مدینہ کا بہت بڑا سردار تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدسے پہلے مدینہ والوں نے اسے تاج پہنانے کا فیصلہ کیا ہوا تھا ۔ اُس نے اپنی۔شان کے دھوکا میں آکرکہ مدینہ والے اس کے سر پر تاج رکھنے والے تھے اور محمد۔رسول۔اللہ۔صلی۔اللہ۔علیہ وسلم مکہ سے بھاگ کر وہاں پناہ گزیں ہوئے تھے یہ الفاظ کہے کہ مجھے مدینہ پہنچ لینے دو میں جو سب سے زیادہ معزز ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ سب سے زیادہ ذلیل ہیں وہاں سے باہر نکال دوں گا۔ اس کے بیٹے نے یہ بات سُن لی۔ لشکر جب واپس ہوا اور مدینہ کی دیواریں نظر آنے لگیں، بہنیں اپنے بھائیوں کو، ماں باپ اپنے بیٹوں کو اور بیویاں اپنے خاوندوں کو لینے کے لیے مدینہ سے باہر آئیں۔ جب ہر شخص اپنے عزیز کو ملنے کے لیے بیتابانہ آگے بڑھنا چاہتا تھا عبداللہ بن اُبی بن سلول کے لڑکے نے اپنی تلوار سونت لی اور مدینہ کی ایک گلی کے سرے پر کھڑا ہو گیا اور اپنے باپ سے مخاطب ہو کر کہا تم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ فقرہ کہا تھا کہ میں جو سب سے زیادہ معزز ہوں مدینہ جاکر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو سب سے زیادہ ذلیل ہیں باہر نکال دوں گا۔ خدا کی قسم! میںتمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔ جب تک تم یہ نہ کہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں اور تم سب سے زیادہ ذلیل ہو میں تمہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا۔ عبداللہ بن اُبی بن سلول نے اپنے بیٹے کو بہتیرا ٹالنا چاہا اور کوشش کی کہ کسی طرح یہ بات ٹل جائے لیکن بیٹا نہ مانا۔ اس نے کہا کہ اگر تم یہ نہ کہو گے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں اور میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں تو میں تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔ آخر اسے یہ فقرہ کہنا پڑا اور سارے مدینہ کے سامنے اس نے یہ کہا کہ میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں۔11 تب اس کے بیٹے نے کہا تم اب گزر جاؤ، تم سب سے زیادہ ذلیل ہو اور تم نے اس بات کااقرار کرلیا ہے۔ یہ الفاظ کہنے والا بیٹا تھا اور جس کو یہ الفاظ کہے تھے وہ باپ تھا۔ غرض جس شخص کے اندر ایمان پایا جاتا ہے وہ علامات سے اندازہ لگا کر منافق کو فوراً پہچان لیتا ہے۔
    احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا کہ یارسول اللّٰہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر شخص کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لے توکیا وہ اُسے قتل کر ڈالے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ تمہارا کام یہ ہے کہ قاضی کے پاس جاؤ تم خود فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہو۔12
    غرض اسلام نے کچھ اصول مقرر کیے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان اصولوں کو نہیں مانتا توخداتعالیٰ نے اس کے لیے کوئی قید نہیں لگائی۔ وہ بیشک انہیں نہ مانے۔ مگر جب تک وہ قرآن کریم کو سچامانتا ہے یہ انتہائی بے حیائی ہے کہ وہ ایک طرف یہ کہے کہ میں قرآن کریم کو سچا مانتا ہوں اور دوسری طرف وہ عملی طور پر اس کا انکار کر دے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو عقلمند سمجھتاہے اور خداتعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ بیوقوف سمجھتا ہے۔
    کہتے ہیں کوئی پٹھان تھا اُس نے فقہ کی کتابوں میں یہ مسئلہ پڑھا تھا کہ نماز میں اگر کوئی شخص نماز کی حرکات کے علاوہ کوئی اَور حرکت کرے تو اُس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے وقت حضرت حسنؓ اور حسینؓ کو جو اُس وقت بچے تھے گود میںاُٹھا لیتے تھے اور نماز نہیں توڑتے تھے۔13 آپؐ جانتے تھے کہ نماز کا بچانا اصل فرض ہے۔ اگر بچہ پاس کھڑاچیخیں مارتا رہے گا تو نماز خراب ہو گی۔ اِسی طرح آپؐ نماز میں ضرورت پر دروازہ بھی کھول دیتے تھے کیونکہ اگر دروازہ کھولا نہ جائے تو کھٹکھٹانے والا دروازہ کھٹکھٹاتا چلا جائے گا اوراس طرح نماز خراب ہوگی۔ پٹھان فقہ کو احادیث پر مقدم سمجھتے ہیں اور یہ فقہ کا مسئلہ ہے کہ نماز میں اگر کوئی شخص نماز کے علاوہ کوئی اَور حرکت کرے تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اس پٹھان نے جب یہ حدیث پڑھی تو کہنے لگا خو! محمدؐ صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔ سننے والے نے کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کس طرح ٹوٹی۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نماز بتائی ہے۔ اس پٹھان نے جواب دیاکہ کنز میں یوں لکھا ہے۔
    پس وہ شخص جو ایسا جواب دیتا ہے اس کے پاگل اور منافق ہونے میں کیا شُبہ ہے۔ کیا اُس شخص سے بھی زیادہ کوئی شخص احمق ہو سکتا ہے جو یہ کہے کہ مجھ میں عقل زیادہ ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خداتعالیٰ میں نَعُوْذُ بِاللّٰہِ کم ہے؟ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر بات قرآن کریم سے نہیں بلکہ اُس سے سمجھنی چاہیے‘‘۔ (الفضل 20جولائی 1960ء )

    1
    :
    النساء :146
    2
    :
    بخاری کتاب المغازی باب حدیث الْاِفْک
    3
    :
    البقرۃ:274
    4
    :
    (المائدۃ:9)
    5
    :
    (الحج:31)(الاحزاب:71)
    6
    :

    (المنافقون:2)
    7
    :
    بخاری کتاب الایمان باب علامات المنافق
    8
    :
    بخاری کتاب الایمان باب علامات المنافق
    9
    :
    النور:20
    10
    :
    المنافقون:9
    11
    :
    سیرت ابن ہشام جلد3صفحہ304، 305مطبوعہ مصر 1936ئ،السیرۃ الحلبیۃ جلد2صفحہ306مطبوعہ مصر 1935ء
    12
    :
    بخاری کتاب الطلاق باب اللِّعَان وَمَن طَلَّقَ بَعد اللِّعَانِ
    13
    :
    الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد1صفحہ 330 زیر عنوان حسن بن علی۔بیروت لبنان1328ھ



    حضرت مسیح موعود علیہ السلام تربیت و اصلاح
    اور اشاعتِ دین کے لیے مبعوث ہوئے تھے
    اِن اغراض کو ہمیشہ مدنظر رکھو اور جائزہ لیتے رہو کہ تم کس حد تک انہیں پورا کر رہے ہو
    (فرمودہ10جون 1949ء بمقام محمد آباد اسٹیٹ سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج میں اختصار کے ساتھ یہاں کی جماعت کو اُن فرائض کی طرف توجہ دلانا چاہتاہوں جو اس پر خداتعالیٰ کی طرف سے عائد ہیں۔دنیا میں خداتعالیٰ نے جب بھی اپنا کوئی مامورمبعوث کیا ہے اس کی بعثت کی بڑی غرض یہ ہوا کرتی ہے کہ وہ ایمان لانے والوں کے اعتقادات اور اعمال کی اصلاح کرے اور آئندہ اپنی جماعت کو وسیع کرتے ہوئے اسے تمام دنیا میں پھیلائے۔ یعنی اس کے کام کا ایک حصہ اگر تربیت ہوتا ہے تو دوسرا حصہ تبلیغ ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی نئے مامور کی بیعت کرتا ہے تو درحقیقت وہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ میں ایک نیا آدمی بن جاؤں گا۔ یوں تو پہلے بھی وہ کسی نہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے،پہلے بھی وہ کسی نہ کسی جماعت کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ سمجھتا ہے لیکن اگر وہ پہلی جماعت کو چھوڑتا ہے یا پہلے طریق کو ترک کرکے ایک نئے مدعی کی بیعت کرلیتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے اندر ایک نیا۔تغیر۔پیدا کرنے کا اقرار کرتا ہے۔ یہ نیاتغیر بعض اوقات اعتقادات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور۔بعض۔اوقات اعمال کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ مثلاًاس زمانہ کے مامور من اللہ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام نے مسلمان کہلانے والوں کے ساتھ ان کے کئی قسم کے عقیدوں میں اختلاف کیا۔ مثلاً توحید جو مذہب کی جان ہے۔آپ نے اس کی تشریح میں موجودہ مسلمانوں سے اختلاف کیا۔ آپ کی بعثت سے پہلے مسلمان یہ خیال کرتے تھے کہ صرف منہ سے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دینے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ ہم موحّد ہوگئے۔ خواہ اپنے اعمال کے لحاظ سے یا جزوی عقیدوں میں وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں۔ مثلاً وہ منہ سے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتے تھے لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کو خداتعالیٰ کا شریک قرار دیتے تھے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جو نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔دو ہزار سال سے آسمان پر بیٹھے ہیں اور آخری زمانہ میں وہ دنیا کی اصلاح کے لیے نازل ہوں گے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پرندے پیدا کیاکرتے تھے جو صرف خداتعالیٰ کی خصوصیت ہے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو علمِ غیب حاصل تھا اور یہ بھی خداتعالیٰ کی ہی خصوصیت ہے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مُردے زندہ کیا کرتے تھے جو صرف خداتعالیٰ کی خصوصیت ہے۔ پھر ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مُردوں کو اس دنیا میںواپس لاتے تھے جو خداتعالیٰ کی بھی سنت نہیں۔ خداتعالیٰ ایسا کر تو سکتا ہے لیکن اس کا قانون ہے کہ وہ ایسا کرتا نہیں۔ احادیث میں بھی آتا ہے کہ خداتعالیٰ نے محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کو الہاماً یہ بات بتائی کہ ہم مُردوں کو اس دنیا میں دوبارہ واپس نہیں کیا کرتے۔ 1
    غرض مسلمانوںنے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف بعض ایسی باتیں منسوب کر دی تھیں جو خداتعالیٰ ہی کرتاہے انسان نہیں کر سکتا۔ اور بعض باتیں ایسی منسوب کر دی تھیں جو خداتعالیٰ بھی اس دنیا میں نہیں کرتا۔ جیسے میں نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام مُردوں کو اس دنیا میں واپس لے آتے تھے حالانکہ یہ کام خداتعالیٰ بھی نہیں کرتا۔ گویا یہ خصوصیت حضرت مسیح علیہ السلام میں خداتعالیٰ سے بھی زیادہ پائی جاتی تھی۔ یا مثلاً وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جب منہ سے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکہہ دیا جائے تو اس کے بعدخواہ کچھ کر لیا جائے اس سے توحید میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گویا لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دعائے گنج العرش بنا لیا گیا تھا۔ دعائے گنج العرش کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ جو شخص اُسے ایک دفعہ پڑھ لے اُسے تمام پچھلے نبیوں کی نیکیاں مل جاتی ہیں اور سارے گناہ اس کے معاف ہو جاتے ہیں۔
    کہتے ہیں کوئی چور تھا۔ وہ چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اس کے لیے یہ سزا تجویز کی کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ لوگ اُسے مقتل میں لے گئے،جلّاد نے تلوار ماری لیکن اسے پتا بھی نہ لگا۔ انہوں نے خیال کیا کہ شاید تلوار ناقص ہے تلوار تبدیل کی گئی لیکن پھر بھی اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ انہوں نے خیال کیا کہ شاید جلّاد ناقص ہے چنانچہ دوسرا آدمی لایا گیا لیکن اس کی گردن پر پھر بھی کچھ اثر نہ ہوا۔ لوگ بادشاہ کے پاس آئے اور کہا بادشاہ سلامت! یہ عجیب آدمی ہے اس پر تلوار کا بھی اثر نہیں ہوتا۔ بادشاہ نے کہا اچھا اسے پہاڑ پر سے گِرا دو۔ وہ اسے پہاڑ پر لے گئے اور اسے اوپر سے نیچے گِرا دیا۔ لیکن اُس وقت یوں معلوم ہوا جیسے سہارا دے کر اسے کسی شخص نے اٹھا لیا ہو۔ لوگ پھر بادشاہ کے پاس آئے اورانہوں نے کہا یہ بڑا عجیب آدمی ہے اس پر پہاڑ سے گِرانے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ بادشاہ نے کہا اچھا! اسے آگ میں جلا دو۔اس پر اسے آگ میں ڈالا گیا لیکن آگ نے بھی اُس پر کوئی اثر نہ کیا۔ وہ آگ میں بالکل ایسے ہی پھرتا رہا جیسے کوئی پھولوں سے کھیلتا ہو۔ بادشاہ نے کہا اچھا اس کے جسم کے ساتھ ایک بڑا پتھر باندھ کر اسے غرق کر دو۔ اس پر ایک بھاری پتھر کے ساتھ اسے باندھ کر سمندر میں گِرا دیا گیا لیکن وہ کارک کی مانند پانی پر تیرتا رہا۔ لوگوں نے خیال کیا کہ یہ کوئی بڑا بزرگ ہے۔ چنانچہ بادشاہ نے اسے دربار میں بُلایا اور کہا آپ مجھے معاف کردیں میں نے آپ کی ہتک کی ہے آپ توکوئی بڑے بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ اس شخص نے جواب دیا بادشاہ سلامت! میں تو ایک چور ہوں بزرگ نہیں ہوں۔ بادشاہ نے کہا نہیں تم بڑے بزرگ ہو۔ تم سے جو معجزات ظاہر ہوئے ہیں یہ تو کسی بڑے سے بڑے ولی اللہ سے بھی ظاہر نہیں ہوئے۔ اس شخص نے کہا نہیں میں چور ہوں۔لیکن میں روز دعائے گنج العرش پڑھا کرتا ہوں اس لیے آپ کی سزاؤں کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ غرض جس طرح لوگوں نے دعائے گنج العرش کو ایک عجوبہ بنا لیا تھا اور کئی قسم کے جھوٹ اس کی طرف منسوب کر دئیے تھے اُسی طرح مسلمانوں نے کلمہ طیبہ کو بھی ایک عجوبہ بنا لیا تھا۔ وہ خیال کرتے تھے کہ ایک دفعہ کلمہ منہ سے پڑھ لیا تو پھر خواہ کوئی مشرک بن جائے کوئی حرج نہیں۔
    اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مسلمانوں کا یہ اعتقاد تھا کہ ایک دفعہ منہ۔سے آپ کی رسالت کا اقرار کر لیا جائے تو یہ مسلمان بننے کے لیے کافی ہے۔ خواہ زندگی بھر نہ نمازیں پڑھی جائیں، نہ روزے رکھے جائیں، نہ حج کیا جائے، نہ زکوٰۃ دی جائے اور نہ اسلام کے دوسرے مسائل پر عمل کیا جائے۔ گویا مسلمان کلمہ رسالت کے بھی اُلٹے معنے کرتے تھے اور کلمہ۔توحید کے بھی اُلٹے معنے کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان سب باتوں کو غلط قرار دیا اور بتایا کہ توحید کے معنے صرف کلمہ توحید پڑھ لینے کے نہیں بلکہ اس کے معنے ایمان اور یقین کے اظہار کے ہیں۔ اگر ایمان اور یقین ہے تو کلمہ بھی ہے لیکن اگر ایمان اور یقین نہیں توصرف کلمہ پڑھ لینے سے کیا بن جاتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ’’آگ لگ گئی ہے‘‘تو اگر واقعی آگ موجودہے تو یہ فقرہ درست ہے لیکن اگر آگ لگی ہی نہیں تو یہ محض جھوٹ ہو گا ۔یا مثلاً تم کہتے ہو ہم نے پانی پی لیا ہے اب اگر تم نے واقع میں پانی پی لیا ہے اور تمہاری پیاس بُجھ گئی ہے تو یہ ایک حقیقت کا اظہار ہے لیکن اگر تم ابھی پیاسے ہی ہو تو صرف ’’پانی پی لیاہے‘‘کہنے سے کیا بنتا ہے۔
    غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں حقیقی توحید سکھائی اور بتایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق اس قسم کی جتنی باتیں مشہور ہیں سب جھوٹ ہیں، اور اگر یہ باتیں سچی ہیں تو پھر خداتعالیٰ کی وحدانیت پر حملہ ہوتا ہے۔ غرض آپ کی بعثت سے قبل جہاں بعض ایسی باتیں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کر دی گئی تھیں جو صرف خداتعالیٰ میں ہی پائی جاتی ہیں وہاں بعض ایسی باتیں بھی آپ کی طرف منسوب کر دی گئی تھیں جو خداتعالیٰ میں بھی نہیں پائی جاتیں۔ اسی طرح اَور بھی کئی نقائص مسلمانوں میں پیدا ہو گئے تھے جنہیں آپ نے دور کیا۔ مثلاً دعا کے متعلق بعض غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں، تقدیر کے متعلق بعض غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں، بعث۔بعدالموت کے متعلق بعض غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں، فرشتوں کے متعلق بعض غلط خیالات پھیلے ہوئے تھے، اعمال میں کئی قسم کی کمزوریاں پیدا ہو گئی تھیں۔ آپ نے ان سب کو دُور کیا ۔مثلاً نماز کو ہی لے لو۔ نماز ادا کرنے کا جو طریق اختیار کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ سجدہ میں گئے کھٹ سے سر زمین پر لگا اور جیسے گیند زمین سے ٹکرا کر اوپر آجاتا ہے اُسی طرح انہوں نے زمین سے سر اٹھا لیا۔پھر قعدہ بَیْنَ۔السجدتین میں بڑی کوتاہی ہوتی تھی، رکوع کے بعد قیام میں بڑی کوتاہی سے کام لیا جاتا تھا۔ اس قسم کی غلط۔فہمیوں اور کوتاہیوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دُور کر کے اعمال اور عقائدمیں عظیم الشان تبدیلیاں پیدا کر دیں۔ اور جب کوئی شخص آپ پر ایمان لاتا ہے تو وہ گویا اس بات کااقرار کرتا ہے کہ اس کے عقائد بھی درست ہیں اور اس کے اعمال بھی درست ہیں۔
    پس اگر تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لا کر واقع میں اپنے عقائد اور اعمال کو درست کر لیا ہے تو تم سچ مُچ احمدی ہو گئے ہو لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو تمہارے گناہ پہلے گناہوں سے یقیناً بڑھ گئے ہیں۔ تمہارے گناہ اگر پہلے دس تھے تو اَب وہ گیارہ ہو گئے ہیں یا پہلے گیارہ تھے تو اَب بارہ ہو گئے ہیں۔ فرض کرو ایک شخص حج نہیں کرتا ،وہ نمازیں نہیں پڑھتا، زکوٰۃ نہیں دیتا، انصاف اور دیانت سے کام نہیں لیتا تویہ پانچ گناہ وہ پہلے کر رہا تھا۔ اب اگر اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کر لی ہے لیکن اس نے وہ کام نہیں کیے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے کرنے کے لیے بتائے تھے اور اس نے اُن باتوں کو نہیں مانا جو اسلام نے بتائی تھیں تو یہ بات اس کے گناہوں کو کم کرنے والی نہیں ہو گی بلکہ زیادہ کرنے والی ہوگی۔ کیونکہ پہلے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا قائل نہیں تھا لیکن اب آپ پر ایمان لانے کے باوجود اس نے اسلام کے احکام پر عمل نہیں کیا۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کام کا ایک حصہ جماعت کی تربیت تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لا کر اپنے اندر کوئی تغیر پیدا کیا ہے؟ اگر تم نے ایمان لانے کے بعد اپنے اندر ایک نمایاں فرق پیدا کر لیا ہے مثلاً نماز، روزہ، حج ،زکوٰۃ اور دوسرے اسلامی احکام کی پابندی تم نے کر لی ہے تب تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حصہ تم نے پورا کر لیا۔ لیکن اگر تم نے اپنے اندر کوئی نمایاں تبدیلی پیدا نہیں کی تو تمہارے پہلے پانچ گناہ بھی بخشے نہیں گئے بلکہ ان میں زیادتی ہو گئی ہے اور اب وہ پانچ کی بجائے چھ ہو گئے ہیں۔ اس طرح تمہاری حالت بجائے بہتر ہونے کے اَور بھی بدتر ہوجائے گی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کام کا دوسرا حصہ تبلیغ تھا۔ جو شخص آپ پر ایمان لاتا ہے اور پھر دنیا میں اسلام کی اشاعت کی کوشش نہیں کرتا وہ آپ کا صحیح پیرو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فرض کرو جماعت کا ہر شخص ولی اللہ بن جاتا ہے، جماعت کا ہر شخص صاحبِ کمال بن جاتا ہے لیکن۔وہ۔تبلیغ نہیں کرتا توہم دوسرے لوگوں کو احمدیت میں کس طرح داخل کر سکتے ہیں؟ دنیا کی دو اَرب آبادی ہے، دو اَرب کا سینکڑواں حصہ دو کروڑ ہوتا ہے۔ دو کروڑ کا سینکڑواں حصہ دو لاکھ ہوتا ہے۔ فرض کرو دنیا میں دو لاکھ احمدی ہوں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ دس ہزار آدمیوں میں سے صرف ایک شخص احمدی ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ جیسے دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر کھانڈ ڈال دی جائے۔ اب کیا دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر کھانڈ ڈالنے سے شربت بن جائے گا؟ یا کیا دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر گوشت ڈالنے سے شوربہ بن جائے گا ؟یا کیا دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر آٹا ڈالنے سے روٹی بن سکتی ہے؟ دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر آٹا ڈالنے سے کچھ بھی نہیں بنے گا۔ دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر آٹے کا تو پتا بھی نہیں لگے گا کہ وہ کہاں گیا ہے۔ دوسرے رنگ میں یوں سمجھ لو کہ چار سیر کا ایک گیلن ہوتا ہے اور دس ہزار سیر کے اڑھائی ہزار گیلن بنتے ہیں اور اڑھائی ہزار گیلن کے چھ سَو عام گھی یا تیل والے پیپے بنتے ہیں ۔ اب اگر گھی یا تیل کے عام پیپوں کے برابر چھ سَو پیپے پانی ہو اور اس میں ایک سیر آٹا ڈال دیا جائے تو اس کا کیا پتا لگے گا۔ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں میں یہی نسبت ہے۔ چھ سَو کنستر پانی میں اگر ایک سیر شکر ڈال دی جائے تو جو نسبت پانی اورشکرمیں ہو گی وہی نسبت ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں میں ہے۔ فرض کرو چھ سَو پیپوں کے برابرپانی میں ایک سیر آٹا ڈال دیا جائے تو کیا اس سے روٹی بن سکتی ہے؟ روٹی پکنی تو کجا اس پانی کا تورنگ بھی تبدیل نہیں ہو گا۔ اِسی طرح اگر ہمارے سارے لوگ اولیاء اللہ بن جائیں، سارے لوگ بے عیب بن جائیں تو اس سے باقی دنیا کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب تم اپنے اندر کثرت پیدا کرو۔ کثرت کے بغیر کبھی اتنی طاقت پیدا نہیں ہوسکتی جس کے ساتھ ہم شیطان کا مقابلہ کر سکیں۔
    پس سب سے پہلے اپنے عقائد اور اعمال کو درست کرنا ضروری ہے اور اس کے بعد اصلاح و ارشاد کے کام پر زور دینا چاہیے تا جماعت کثرت سے دنیا میں پھیل جائے اور دوسروں پراثر پیدا کر سکے۔ ایک گلاس پانی میں اگر چار پانچ چمچے کھانڈ ڈال دی جائے تب اثر ہوتا ہے لیکن دنیا میں غلبہ شربت والی کھانڈ جیسی زیادتی سے نہیں ہوتا بلکہ اُسی وقت ہوگا جب پانی میں آٹے جیسی کثرت حاصل ہو جائے۔ اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں پانی میں آٹے جیسی کثرت حاصل کرنی ہوگی۔ ویسے تو ایک مچھلی بھی تالاب کو گندا کر سکتی ہے۔ اگر ہم گندے ہوں گے تو یہ یقینی بات ہے کہ دنیا میں خرابی پیدا ہو جائے گی لیکن نیکی کے لحاظ سے ہم ترقی اُسی وقت کر سکتے ہیں جب کثرت پیدا ہو جائے۔ غرض ہمیں اصلاح و ارشاد اور تعلیم و تربیت کے کام کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے۔
    میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کی توجہ اس طرف بہت کم ہے۔ اس کا بھاری ثبوت یہ ہے کہ سندھ میں دس دس بارہ بارہ سال سے رہنے والوں نے ابھی تک سندھی زبان بھی نہیں سیکھی۔ کسی ملک میں جا کر بس جانے والے پر اُس ملک کا سب سے پہلا حق یہ ہوتا ہے کہ وہ اس ملک کی زبان سیکھے۔ اگرہم اس ملک کی زبان نہیں سیکھتے تو ہم اس کے رہنے والوں کو اپنی باتیں پہنچا کس طرح سکتے ہیں۔ یہاں پر پُرانے پُرانے رہنے والوں سے جب میں نے پوچھا کہ کیا تمہیں سندھی زبان آتی ہے؟ توانہوںنے جواب دیا نہیں۔ یہبڑی بھاری غفلت ہے۔ جس ملک میں کوئی شخص جا کر رہے اُسے چاہیے کہ وہ جلد سے جلد اُس ملک کی زبان سیکھے تا کہ وہ اُس ملک کے رہنے والوں سے تبادلہ خیالات کر سکے۔ اگر وہ اس ملک کے رہنے والوں سے تبادلہ خیالات نہیں کر سکتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اُن پر اپنا اثر نہیں ڈال سکے گا اور دوسرے لوگ یہ سمجھیں گے کہ وہ ان سے نفرت کرتا ہے۔
    میں جب انگلینڈ گیا تو اُس زمانہ میں مولوی عبدالرحیم صاحب نیر مبلغ تھے۔ نیر صاحب مرحوم ایک دن میرے پاس آگئے اور کہنے لگے حضور! لوگوں پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے کیونکہ آپ نے شلوار پہنی ہوئی ہے اور یہ لوگ آپ کو ننگا خیال کرتے ہیں۔ میں نے کہا پھر کیا ہوا۔یہ میرا لباس ہے۔ اس میں حرج کیا ہے۔ اگر لوگ مجھے ننگا خیال کرتے ہیں توکرنے دو۔ نیر صاحب کہنے لگے حضور!اس بات کاان پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ میں نے کہا سردی کے خیال سے میں چند علیگڑھی فیشن کے گرم پاجامے ساتھ لے آیا تھا اور میری نیت تھی کہ میں یہاں آ کر پہنوں گا لیکن اب وہ بھی نہیں پہنوں گا۔ ایک دن سرڈینی سن راس جو کچھ عرصہ ہندوستان میں بھی رہے ہیں مجھے ملنے کے لیے آئے۔ اُن کے ساتھ ایک اَور پروفیسر بھی تھے۔ میں نے انہیں کہا آپ کے ساتھ میرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ آپ بتائیں کہ کیا آپ کو میرا یہ لباس بُرا لگتا ہے؟ وہ تکلف کے طور پر کہنے لگے نہیں یہ لباس تو بڑا اچھا ہے؟ میں نے کہا آپ تکلّف نہ کریں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا آپ کے ملک کے لوگ واقع میں اِس لباس کو اچھا سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میرے ملک کے لوگ تو اس لباس کو بُرا سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا کیوں؟ انہوں نے کہا کہ اس لیے کہ یہ ہمارے ملک کا لباس نہیں۔ میں نے کہا آپ جب ہمارے ملک میں رہتے تھے تو کیا آپ ہمارے ملک کا لباس پہنتے تھے؟ ہمارے ملک کا لباس ہیٹ اور پتلون تو نہیں۔ وہ کہنے لگے میں تو وہاں اپنے ملک کا لباس ہی پہنتا تھا۔ میں نے کہا آپ جب ہمارے ملک میں ہمارا ملکی لباس استعمال نہیں کرتے تھے تو اس کی کیا وجہ تھی؟ یہی وجہ تھی کہ آپ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ ہم ہندوستان پر حاکم ہیں اس لیے ہندوستانیوں کو ہماری نقل کرنی چاہیے ہمیں اُن کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ سر ڈینی سن راس نے مجبور ہو کر کہا ہاں! بات تو یہی ہے۔ میں نے کہا سرڈینی سن راس! میں تو غلامی کے لیے تیار نہیں۔ اگر آپ ہمارے ملک میں رہتے ہوئے ہمارا لباس نہیں پہنتے تو میں بھی آپ کا لباس پہننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
    لیکن زبان لباس سے ایک علیحدہ چیز ہے اور اس کا سیکھنا ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔اگر آپ لوگ دوسروں سے سندھی زبان میں لین دین نہیں کریں گے اور اسے سیکھنے کی کوشش نہیں کریں گے تو سندھی لوگ یہ سمجھیں گے کہ تم اُن سے نفرت کرتے ہو۔ فرض کرو ایک سندھی دس بارہ سال تک پنجاب میں رہے اور اتنے عرصہ تک وہ ہماری زبان نہ سیکھ سکے تو سب لوگ اس پر ہنسیں گے اور کہیں گے کہ یہ کم عقل آدمی ہے۔ یہ اتنا لمبا عرصہ ہمارے ہاں رہا اور پھر بھی پنجابی زبان نہ سیکھ سکا۔ لیکن خود ایک پنجابی یہاں آتا ہے اور اتنے عرصہ تک وہ سندھی زبان نہیں سیکھ سکتا۔ ہم تو دس پندرہ دن کے لیے یہاں آتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں اس لیے ہمارے متعلق زبان سیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن جو شخص مستقل طور پر یہاں رہتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اِس علاقہ کی زبان سیکھے اور اِسی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ ہمارے مینیجر ہیں، اکاؤنٹنٹ ہیں، منشی ہیں، مزارع ہیں اِن سب کا فرض ہے کہ وہ اِس علاقہ کی زبان سیکھیں۔ اگر وہ اس علاقہ کی زبان نہیں سیکھتے تو وہ اِس علاقہ میں رہنے والوں پر کس طرح اپنا اثر ڈال سکتے ہیں؟ سندھی تمہیں کس طرح اپنا بھائی سمجھنے پر مجبور ہوں گے؟ وہ خیال کریں گے کہ تم اپنے آپ کو ان سے بالا اور حاکم خیال کرتے ہو اور اُن کی زبان سیکھنا ہتک خیال کرتے ہو۔ جب انگریز ہمارے ملک پر حکومت کرتے تھے ہم اُن سے محبت تو نہیں کرتے تھے۔ ہم احمدی تو احمدیت کی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ ان کی اطاعت کرنی چاہیے۔ لیکن باقی ہندوستانی یہ کہتے تھے کہ ہم انہیں مارمار کر باہر نکال دیں گے۔ یہی حال پنجابی اور سندھی کا ہے۔ جو شخص یہاں رہتا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ وہ یہاں رہتے ہوئے اس علاقہ کی زبان نہیں بول سکتا۔ وہ یہاں کی عادات اور رسوم سے واقف نہیں ہے۔ لازماً ایک سندھی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ سمجھے کہ ایسا انسان متکبر ہے اور وہ سندھیوں سے نفرت کرتا ہے۔
    اس علاقہ کی زبان نہ سیکھنے کی وجہ سے ہمیں یہ دِقّت بھی پیش آسکتی ہے کہ جب ہم ٹوٹی پھوٹی زبان میں سندھیوں کو تبلیغ کریں گے تو وہ ہماری بات کا اُلٹ مفہوم سمجھیں گے اور اس کا کچھ کا کچھ مطلب لے لیں گے۔ ذوق کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ دہلی کے قلعہ میں گئے۔ وہاں ایک انگریزکرنیل تھا۔ ذوق سے کسی نے کہا کہ یہ کرنیل اردو خوب جانتا ہے۔ ذوق نے کہا کہ یہ اردو نہیں جانتا۔ اس کرنیل سے جب پوچھا گیا کہ آیا آپ اردو جانتے ہیں؟ تو اُس نے جواب دیا میں خوب جانتا ہوں۔ ذوق نے کہا میں ایک شعر پڑھتا ہوں آپ اس کا مطلب بیان کر دیں۔ وہ شعر یہ تھا ؎
    ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
    اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
    اس انگریز کرنیل نے کہا اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم لوگ، تم لوگ،میر لوگ سب کو والا2 (بالوں کی لٹوں کی طرف اشارہ کر کے) میںباندھ کر جیل میں بھیج دیا۔ اسی طرح تم بھی اگر تھوڑی بہت سندھی بول لیتے ہو تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ تم نے سندھی زبان سیکھ لی ۔تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ تم اس علاقہ کے رہنے والوں کو اردو کی طرف لے آؤ اور اسی میں پاکستان کا بھی فائدہ ہے۔ تم ان پر وعظ۔و۔نصیحت کے ذریعہ اردو زبان کی اہمیت واضح کرو۔ مگر تمہارا یہ حق نہیں کہ تم یہاں ہو اور پھر اس علاقہ کی زبان نہ سیکھو۔ پس آپ لوگوں کو چاہیے کہ سندھی زبان اچھی طرح سیکھیں ورنہ معمولی طور پر سندھی زبان سیکھنے اور بولنے سے کچھ نہیں بنے گا اور تم اُسی انگریز کی طرح ہو گے جس نے شعر کا اس طرح ترجمہ کیا تھا کہ ہم لوگ،تم لوگ، میر لوگ سب کو یہ والا میں باندھ کر جیل میں بھیج دیا۔ اس قسم کی زبان سیکھنے سے کیا فائدہ۔
    مجھے احمدآباد اسٹیٹ کا ایک لطیفہ یاد آگیا۔ شروع شروع میں جب ہم نے سندھ میں زمین خریدی تو اس میں صدرانجمن کابھی حصہ تھا اور کچھ چھوٹے چھوٹے حصے ہمارے تھے۔ بعد میں زمین کوتقسیم کر لیا گیا۔ محمود آباد اسٹیٹ میرے حصہ میں آگئی اور احمدآباد اسٹیٹ صدرانجمن کے پاس چلی گئی۔ اس زمین میں میرا، میاں بشیر احمد صاحب اور چودھری فتح محمد صاحب کا حصہ تھا۔ ہم جب سندھ آتے توآنے سے پہلے ہم یہ فیصلہ کر لیتے تھے کہ ہر حصہ دار کا نمائند ہ ساتھ آئے۔ میں چونکہ خود حصہ۔دار تھا اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ صدرانجمن احمدیہ کا نمائندہ میں نہیں ہوسکتا۔ صدر۔انجمن۔احمدیہ کا کوئی اَور نمائندہ بھیجنا چاہیے تاکہ وہ اپنے حق کے لیے لڑے۔ چنانچہ اُس سال مولوی عبدالمغنی خان صاحب مرحوم صدر انجمن کی طرف سے بطور نمائندہ آئے۔ بالعموم ہمارا یہ طریق ہوتا تھا کہ صبح کا ناشتہ کر کے دورہ کے لیے چلے جاتے لیکن چونکہ ناشتہ کے بعد دھوپ تیز ہو جاتی تھی اور دورہ اچھی طرح نہیں ہوتا تھا اس لیے ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ ہم نمازِفجر کے فوراً بعد دورہ کے لیے چلے جائیں گے اور ناشتہ واپس آکر کر لیں گے۔ چنانچہ میں نماز کے بعد باہرآگیا۔ باہر ایک چارپائی بچھی ہوئی تھی۔ میں اُس پر بیٹھ گیا۔ مولوی عبدالمغنی خاں صاحب بھی میرے سامنے ٹہلنے لگ گئے۔چودھری فتح محمد صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب دونوں غائب تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک ہاتھ میں لوٹا لیے قضائے حاجت کے لیے جارہاہے۔ میں نے مولوی عبدالمغنی خاں صاحب سے کہا کہ وہ تو ابھی قضائے حاجت کے لیے جارہے ہیں اور پتا نہیں کب آئیں۔ آپ صدرانجمن احمدیہ کے نمائندہ ہیں خود حصہ دار نہیںہیں لیکن آپ ان سے پہلے آگئے ہیں۔ یہ تو ’’چورنالوں پنڈ کاہلی‘‘والا معاملہ ہو گیا۔ جس کی پنڈ ہے وہ نہیں آیا اور جس کی پنڈ نہیں وہ پہلے آگیاہے۔مولوی عبدالمغنی خاں صاحب مرحوم کو اُس وقت پنجاب آئے ہوئے بیس سال کے قریب عرصہ ہو گیا تھا لیکن اتنے لمبے عرصہ میں بھی انہوں نے پنجابی زبان پوری طرح نہیں سیکھی تھی۔ میری بات سن کر مولوی صاحب کا رنگ زرد ہو گیا اور انہوں نے سمجھا کہ میں نے انہیں بُرا بھلا کہا ہے۔ میں نے مولوی صاحب کے رنگ سے اندازہ لگا لیا کہ انہوں نے میری بات نہیں سمجھی۔ چنانچہ میں نے ان سے کہا مولوی صاحب!کیا آپ نے اِس فقرہ کا مطلب سمجھا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں!کچھ کچھ سمجھ گیا ہوں۔ ایک بات تو میں نے یہ سمجھی ہے کہ میں چور ہوں اور دوسری بات یہ کہ میں کالا ہوں۔ اِسی طرح ایک اَور لفظ بھی حضور نے میرے متعلق بولا ہے اور وہ پنڈ ہے مگر اس کے معنے میں نہیں جانتا۔ میں نے کہا مولوی صاحب! اس کا مفہوم یہ نہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ چور نے پنڈ یعنی گٹھڑی لے کر جانا تھا لیکن چور نے جب پنڈ بنا لی اور باہر جانے لگا تو اُس نے ٹھوکر کھائی اور۔وہ۔تو وہیں گر گیا اور گٹھڑی آگے جاپڑی۔ میرے اس محاورہ کے استعمال کرنے سے یہ مطلب تھا کہ جنہیں جلدی آنا چاہیے تھا وہ تو آئے نہیں اور آپ آگئے ہیں۔ آپ انجمن کے نمائندہ ہیں خود حصہ دار نہیں ہیں لیکن آپ اُن دونوں سے پہلے آگئے۔ مولوی صاحب نے کہا اچھا! اِس کا یہ مفہوم تھا۔ میں نے تو اس کا یہ مطلب سمجھا تھا کہ آپ نے مجھے چور بھی قرار دیا ہے اور میرے رنگ کے کالے ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ ’’پنڈ‘‘کے معنے میں نہیں سمجھ سکا تھا۔
    اِسی طرح اگر تم لوگ بھی بغیر سندھی زبان سیکھنے کے اس علاقہ کے رہنے والوں کو تبلیغ کرو گے تو ممکن ہے کہ وہ کچھ اَور مفہوم لے لیں اور تمہاری تبلیغ اکارت چلی جائے۔ پس ان لوگوں کے ساتھ ملو جلو، ان کے ساتھ بیٹھو اور ان کی زبان سیکھو۔دوسرے ممالک کے لوگ ہمارے ملک میں آتے ہیں اور وہ اردو سیکھ لیتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم یہ زبان نہ سیکھ لو۔ عرب آتا ہے، پٹھان آتاہے وہ فوراً اُردو سیکھ جاتا ہے۔ بے شک کوئی کوئی نقص رہ بھی جاتا ہے۔مثلاً کشمیری لوگ مذکّر کو مؤنث اور مؤنث کو مذکّر بنا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں تیری رن آیا، چور گئی، میں آئی ۔اور پٹھان مفرد کو جمع اور جمع کو مفرد بنا دیتے ہیں۔ مثلاً اگر وہ’’پانی ہے‘‘کہنا چاہیں تو ’’پانی ہیں‘‘ کہتے ہیں۔ اس قسم کی تھوڑی بہت غلطیاں رہ جاتی ہیں لیکن ہم ان کا مفہوم سمجھ لیتے ہیں۔ پس جہاں تمہارا یہ فرض ہے کہ تم نماز، روزہ اور دوسرے اسلامی احکام کی پابندی کرو وہاں ہر ایک کو اس علاقہ کی زبان سیکھنی چاہیے۔ تم قاعدے اور کتابیں خرید لو اورسندھی زبان سیکھنے کی کوشش کرو تا کہ تم اس علاقہ کے رہنے والوں کو آسانی سے تبلیغ کر سکو اور تا وہ دوری اور بُعد دور ہو جائے جو پنجابی اور سندھی میں پایا جاتا ہے۔ پھر تم جہاں سندھی زبان سیکھنے کی کوشش کرو وہاں یہ بھی کوشش کرو کہ سندھی لوگ اُردو زبان سیکھ جائیں تاکہ وہ سمجھیں کہ تم اُن کے بھائی ہو اور ہم۔وطن بن کر یہاں رہنا چاہتے ہو اور اُن کا یہ احساس کہ تم اُن سے نفرت کرتے ہو دُور ہو۔ اس کے بغیر تبلیغ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی‘‘۔ (الفضل 2دسمبر 1959ء )

    1
    :
    ابن ماجہ ابواب الجھاد باب فَضْل الشھادۃ فی سبیل اللّٰہ
    2
    :
    والا:کنگن، کڑا ۔( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 2صفحہ87اردو لغت بورڈ کراچی2007ئ)


    دین سیکھنے اور اپنے اعمال کو زیادہ سے زیادہ مکمل بنانے کی کوشش کرو تاکہ تم احمدیت سے صحیح رنگ میں فائدہ اُٹھا سکو
    (فرمودہ17جون 1949ء بمقام ناصرآباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’دنیا میں مختلف کام مختلف حیثیتیں رکھتے ہیں جس طرح ظاہری اجسام کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں اِسی طرح اعمال کی بھی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ دنیا میں جتنی چیزیں پائی جاتی ہیں اُن میں سے کوئی دائرہ کی شکل کی ہوتی ہے، کوئی چوکور ہوتی ہے، کوئی مستطیل ہوتی ہے، کوئی مثلَّث ہوتی ہے، کوئی مخمَّس ہوتی ہے، کوئی مسدَّس ہوتی ہے، کوئی مُثمَّن ہوتی ہے اور پھر آگے ان کی کئی قسمیں چلتی چلی جاتی ہیں۔ اِسی طرح انسانی خیالات و افکار اور اعمال بھی مختلف شکلوں کے ہوتے ہیں۔ جب تک ہم کسی مخصوص شکل کے مطابق اپنے بعض مخصوص کاموں کو نہ ڈھالیں اُس وقت تک ہم اس قسم کے کاموں کو سرانجام نہیں دے سکتے۔ مثلاً کوئی کام ایسا ہوتا ہے جوہزاروں شاخیں رکھتا ہے، کوئی کام ایسا ہوتا ہے جو بیسیوں شاخیں رکھتا ہے اور کوئی کام ایسا ہوتا ہے جودو دو، تین تین شاخیں رکھتا ہے۔ اب اگر ہم ہزاروں شاخوں والے کام کا ایک ایک، دو دو شاخوں والے کام پر قیاس کر لیں تو ہم یقیناً اس کام کو سرانجام دینے سے قاصر رہیں گے ۔یااگر ہم کسی شخص کی تصویربنانا چاہیں مگر ہم نے اس کے خدوخال کوپوری طرح نہ دیکھا ہو تو کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم اُس کی صحیح تصویر بنالیں گے؟ ہم کسی چیز کی تصویر اُس وقت تک نہیں کھینچ سکتے جب تک کہ ہم نے وہ چیز دیکھی ہوئی نہ ہو یا اس کے متعلق پوری طرح تحقیقات نہ کی ہوئی ہو۔صرف بعض اجزاء کا علم ہونے کی وجہ سے اس کی مکمل تصویر نہیں کھینچی جا سکتی۔ مثلاً انسان کے کان کے متعلق ہم نے سنا ہو اور ہم اس کی تصویر کھینچ لیں تو اسے کوئی انسان نہیں کہے گا یا خالی پاؤں کی ہم تصویر کھینچ لیں یا صرف آنکھ کی تصویر کھینچ لیں تو وہ انسان کا قائمقام نہیں بن سکتی۔ اِسی طرح اگر کوئی خیال یا عمل ایسا ہے جو ہزاروں شاخیں رکھتا ہے تو اس کے ایک حصہ کو اگر ہم لے لیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے وہ خیال ذہن نشین کر لیا ہے یا وہ کام ہم نے مکمل کر لیا ہے تو ہم غلطی پر ہوں گے۔ میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ایک سنجیدہ مزاج اور مخلص آدمی بھی محض اس لیے ٹھوکر کھا جاتا ہے کہ وہ اپنے ذہن میں اس کام کا صحیح اور مکمل نقشہ نہیں بِٹھاتا۔ وہ اس لیے ٹھوکر نہیں کھاتا کہ وہ قربانی اور جدوجہد کے لیے تیار نہیں تھا یا وہ اس کام کے لیے قربانی اور جدوجہد نہیں کرتا تھا۔ وہ قربانی بھی کرتا تھا، جدوجہد بھی کرتا تھا لیکن اس نے اس کام کا نقشہ غلط کھینچا اور اسے ناممکن چیز سمجھ کر بیٹھ گیا۔ اس وجہ سے وہ اُن فوائد کو حاصل نہ کرسکا جو وہ حاصل کر سکتا تھا ۔مثلاً اگر کوئی شخص مکان کا یہ نقشہ کھینچ لے کہ اُس کی دو دیواریں ہوتی ہیں اور چھت ہوتی ہے توجو شخص دو دیواروں والا مکان بنالے وہ چوروں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ چور آئیں گے اور اُس کا مال اُٹھا کر لے جائیں گے۔ وہ بارش سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ بارش آئے گی اور وہ بھیگ جائے گا اور اس کے گھرکا سامان بھی خراب ہو جائے گا۔ اِسی طرح وہ ہوا کے جھونکوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ہوا سے جونقصان ہوتا ہے مثلاً لوہے کی اشیاء وغیرہ کو زنگ لگ جانا اس سے وہ بچ نہیں سکتا۔ اب اسے یہ تکلیف اس لیے نہیں ہو گی کہ اس نے مکان بنانے کے لیے کوشش نہیں کی اور جدوجہد سے کام نہیں لیا۔ اس نے عمل بھی کیا اور قربانی بھی کی لیکن وہ اس سے فائدہ نہ اُٹھا سکا کیونکہ اسے پتا نہیں تھا کہ مکان ہوتا کیا ہے۔ اگر اسے پتاہوتا تو جہاں اس نے دو بڑی دیواریں بنالی تھیں کیا وہ دو اَور دیواریں نہیں بنا سکتا تھا؟ یا کیا وہ دروازہ میں سوراخ نکال کر زنجیر نہیں لگوا سکتا تھا۔ اُس نے دس میں سے آٹھ روپے خرچ کیے توباقی دو روپوں کے خرچ کرنے میں اسے کیا تکلیف تھی۔ اس نے یہ نقصان اسی لیے اٹھایا کہ اسے پتا نہیں تھا کہ مکان ہوتا کیا ہے اور یہ کہ اس کے لیے چار دیواروں کا ہونا ضروری ہے۔ غرض کسی کام کوسرانجام دینے سے قبل ضروری ہوتا ہے کہ اس کا مکمل نقشہ ذہن میں بٹھا لیا جائے، اُسے اس کی مخصوص شکل میں ڈھال لیا جائے۔ ورنہ ہم اس کام کو مکمل نہیں کر سکیں گے اور اس طرح اس کے فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے جو حیرت انگیز ترقی کی اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ ہرکام کو شروع کرنے سے پہلے اُس کا مکمل نقشہ ذہن میں بٹھا لیا کرتے تھے اور ہر کام کو مکمل کرنے کے لیے اُن کے اندر ایک جوش پایا جاتا تھا۔ یوں تو دنیا کی ساری قومیں ہی قربانیاں کرتی ہیں۔ یہودیوںنے بھی قربانیاں کیں، عیسائیوں نے بھی قربانیاں کیں لیکن ان میں اور صحابہؓ کی قربانیوں میں ایک فرق نظر آتا ہے۔ صحابہؓ میں یہ جذبہ پایا جاتا تھا کہ وہ ہر چیز کی مکمل تصویر کھینچ لیں۔ صحابہؓ کے اس جذبہ کا اس بات سے پتا لگتا ہے کہ ایک دفعہ صحابہؓ نے دیکھا کہ حضرت ابوہریرہؓ چھت پر بیٹھے ہوئے وضو کر رہے ہیں اور بجائے اس کے کہ کہنیوں تک ہاتھ دھوئیں کندھوں تک ہاتھ دھورہے ہیں صحابہؓ نے دریافت کیا کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا میں چھت پر بیٹھ کر اس لیے وضو کر رہا تھا تا تم نہ دیکھو اور مجھے ایسا کرتے دیکھ کر ہنس نہ پڑو۔ صحابہؓ نے دریافت کیا کہ آخر آپ ایسا کیوں کر رہے تھے؟حضرت ابوہریرہؓ نے کہا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ جتنے اعضاء پروضو کا پانی پِھرتا ہے وہ قیامت کے دن نورانی ہو جائیں گے۔ اور میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی سُنا تھا کہ کہنیوں کے اوپر کا حصہ اچھی طرح دھویا کرو۔ میرا خیال تھا کہ میں آپ ؐسے اس کے متعلق سوال کروں کہ کہنیوں کے اوپر کے حصہ کو صاف کرنے سے کیا مراد ہے؟ لیکن میں آپؐ کی زندگی میں آپؐ سے اس کے متعلق پوچھ نہ سکا۔ اب مجھے خیال گزرا کہ شاید اس سے یہ مراد ہو کہ وضو میں ہاتھ دھوتے وقت کندھوں تک ہاتھ دھو یا کرو۔بہرحال میں نے قیاس کیا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے یہی مراد تھی توہاتھوں کا یہ حصہ نور سے محروم رہ جائے گا اس لیے میں نے اس دفعہ وضو میں کہنیوں کے اوپر کے حصہ کو بھی شامل کر لیا۔ 1اب دیکھو صحابہؓ میں کس طرح تکمیل کا جذبہ پایا جاتا تھا۔ انہیں کس طرح ہر کام کو مکمل کرنے کے باوجود بعض دفعہ شُبہ ہو جاتا تھا کہ ہم نے کام کو مکمل طور پر نہیں کیا۔
    ہمارے ہاں تو ہر کام میں لاپرواہی سی پائی جاتی ہے۔ یوں سہی یا ووں سہی۔ دونوں برابر ہیں ۔ٹخنہ پر ایک نشان رہ گیا ہے تو کوئی حرج نہیں، سجدہ یا رکوع میں فرق آگیا تو کیا ہوا ۔لیکن صحابہؓ ایسا نہیں کرتے تھے۔ وہ۔سمجھتے تھے کہ کسی کام میں اگر برکت ہے تو پھر اس کی مخصوص شکل کو اختیار کرنا چاہیے ۔اور انہیں اس بات کا اس حد تک تعہّد تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ حضرت عمرؓ کہیں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو قرآن کریم پڑھتے سنا۔ انہوں نے ایک لفظ اُس طرح نہ پڑھا جس طرح حضرت عمرؓ جانتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اُن کو ڈانٹا اور کہا کہ آپ غلط پڑھ رہے ہیں۔ دراصل یُوں پڑھنا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا میں ٹھیک پڑھ رہا ہوں۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اِسی طرح ہی سنا ہے۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یُوں سکھایا ہے اور آپ کہتے ہیں مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی طرح سکھایا ہے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ آخر جھگڑا بڑھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کمزور تھے اور حضرت عمرؓ مضبوط تھے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے گلے میں پٹکا ڈال لیا اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہا یا رسول اللّٰہ!یہ قرآن کریم کو بگاڑ کر پڑھتے ہیں۔ آپؐ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے فرمایا تم کس طرح پڑھتے ہو ؟انہوں نے وہ آیت دوبارہ پڑھ کر سنائی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے یارسول اللّٰہ! یہ کس طرح ٹھیک ہوسکتا ہے؟ مجھے آپ نے اس طرح سکھایا تھا کیا اس آیت کو اس طرح پڑھنا بھی ٹھیک ہے؟ آپ ؐنے فرمایا ہاں! ٹھیک ہے۔ پھر آپ نے فرمایا قرآن کریم کئی قراء توں پر نازل ہوا ہے۔ 2یعنی قرآن کریم کے الفاظ کو مختلف قبیلوں کے لہجہ کے مطابق مختلف طریق پر ادا کرنا جائز ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ چونکہ اَور قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے انہیں اپنے لہجہ کے مطابق قرآن کریم سکھایا لیکن دونوں کا مطلب ایک ہی تھا۔ہمارے ملک میں بھی یہ چیز پائی جاتی ہے۔ گجرات کے علاقہ کی طرف چلے جاؤ وہاں کہیں گے ’’کدّے وَینا اے‘‘لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرے علاقہ میں اسی مفہوم کو ’’کتھے جانا ہے‘‘سے ادا کرتے ہیں۔ الفاظ مختلف ہیں لیکن دونوں کا مطلب ایک ہے۔ یہی فرق عربوں میں بھی پایا جاتا تھا۔ اِسی وجہسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہؓ کو قرآن کریم سکھایا کرتے تو آپ اُن کی زبان کا بھی لحاظ رکھ لیا کرتے تھے۔ یہ زبان کا اختلاف دنیا کے ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ دلّی میں چلے جاؤ تو وہ ’’خالص‘‘ کو ہمیشہ ’’نخالص‘‘ کہیں گے۔ مثلاً اگر یہ کہنا ہو کہ مجھے خالص۔گھی چاہیے تو وہ کہیں گے مجھے نخالص گھی چاہیے چنانچہ اچھے اچھے خاندانوں کے لوگ بھی جن میں تعلیم کم ہے نخالص کا لفظ خالص کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کھانا تو بڑا اچھا ہے اس میں نخالص گھی پڑا ہوا ہے۔ ایک اَور شخص جو زبان کے اس فرق کو نہیں جانتا وہ گھبرا جاتا ہے اور کہتاہے کہ اگر اس میں نخالص گھی پڑا ہوا ہے تب تو میں بالکل نہیں کھاؤں گا۔ اس قسم کے زبانوں کے اختلاف بعض دفعہ تو صرف معمولی حد تک رہتے ہیں مگر بعض دفعہ بڑے بڑے اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔
    میں جب حج کے لیے گیا تو ایک یمنی نوکر بھی جدّہ سے ہمارے قافلہ کے ساتھ چل پڑا۔ رستہ میں مَیں اُس سے عربی زبان میں گفتگو کرتا رہا۔ میں نے دیکھا کہ میری باتوں کو وہ خوب سمجھتا تھا مگر بعض دفعہ وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگتا اور میری بات کو نہ سمجھ سکتا۔ اس پر میں نے کسی سے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے اور باوجود عربی جاننے کے یہ بعض دفعہ میری بات کو کیوں نہیں سمجھ سکتا؟ اس نے بتایا کہ یمنی لوگوں کی زبان کا مکہ والوں کی زبان سے بڑا اختلاف ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے بعض دفعہ عجیب واقعات بھی رونما ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس نے سنایا کہ تغییر کے معنے عربی زبان میں بدل دینے کے ہیں۔لیکن یمنی زبان میں اس کے معنے توڑ دینے کے ہیں۔ ہمارے ہاں جب یہ کہیں کہ غَیِّرْ۔ تو اس کے معنے ہوں گے ـ’’بدل دے‘‘ لیکن یمنی زبان میں اس کے معنے یہ ہوں گے کہ توڑ دے۔ پھر اس نے لطیفہ سنایا کہ ایک دفعہ ایک یمنی نوکر مکہ کی ایک امیر عورت کے ہاں ملازم ہو گیا۔ وہاں بھی حقہ پینے کا رواج ہے ۔مگر ہمارے ہاں تونہایت معمولی اور ادنیٰ قسم کے حقے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں حقہ استعمال کرنے والے عام طور پر غرباء ہوتے ہیں لیکن وہ چونکہ امیر ہیں اس لیے وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے حقے استعمال کرتے ہیں اور وہ برتن جس میں پانی ڈالا جاتا ہے وہ بھی یورپ سے منگواتے ہیں جو شیشے کا بنا ہوا ہوتا ہے اور نوکرسارا دن حقہ کی صفائی کرتے رہتے ہیں۔ لکھنو کے نواب بھی بڑے اعلیٰ درجہ کے حقے استعمال کیا کرتے تھے اور بعض دفعہ پانی کی بجائے گلاب کا عرق اس میں ڈالا کرتے تھے مگر چونکہ دھواں گزرنے کی وجہ سے پانی کچھ عرصہ کے بعد خراب ہو جاتا ہے اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اسے بدل دیا جائے۔ اس عورت کو بھی ایک دن پانی بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے اپنے نوکر کو آواز دی اوراسے کہا غَیِّرِالشِّیْشَۃَ یعنی حقہ کے نیچے جوپانی کا برتن ہے اس کا پانی بدل دو۔مگر اس یمنی نوکر کی زبان میں اس فقرہ کے یہ معنے تھے کہ اس شیشہ کے برتن کو توڑ دو۔ جب اس عورت نے یہ بات کہی تو وہ حیران ہو کر اس سے کہنے لگا کہ سِتِّیْ 3 ھٰذَا طَیِّبٌ یعنی اے میری آقا! یہ تو بڑا اچھا ہے۔ اس کو کیوں توڑا جائے؟ اس پر پھر اُس نے کہا کہ قُلتُ لَکَ غَیِّرِ الشِّیْشَۃَ یعنی میں جو تجھے کہتی ہوں کہ اس کا پانی بدل دو توتُوکیوں انکار کرتا ہے۔ اس نے پھر کہا کہ سِتِّیْ ھٰذَا طَیِّبٌ بیگم صاحبہ !یہ تو بڑا اچھا ہے۔ اسے غصہ آیا کہ یہ عجیب قسم کا نوکر ہے۔ میں اسے کہتی ہوں پانی بدل دے اور یہ کہتا ہے پانی بڑا اچھاہے۔ چنانچہ وہ ناراض ہوئی اور اس نے سختی سے کہا کہ میں جو تجھے کہتی ہوں کہ اس کو بدل دے تو تُوکیوں نہیں بدلتا؟ اس پر اُس نے برتن اُٹھایا اور زور سے زمین پر دے مارا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ عورت نے جب دیکھا کہ اس نے برتن توڑ دیا ہے تو وہ اسے گالیاں دینے لگ گئی کہ کمبخت !تُو نے میراپانچ سَو روپیہ کا برتن توڑ دیا ہے۔ تجھے کس نے کہا تھا کہ تُو اس برتن کو توڑ دے؟ وہ نوکر کہنے لگا کہ میں بھی تو یہی کہتا تھا کہ یہ برتن بڑا اچھا ہے مگر تم کہتی تھیں کہ اسے توڑ ڈالو۔ اب میں نے برتن توڑا ہے تو تم نے شور مچانا شروع کر دیا ہے کہ میں نے برتن کیوں توڑا ہے۔ وہ حیران ہوئی کہ یہ کیا بات ہے اور میں نے کب اسے برتن توڑنے کا حکم دیا تھا۔ آخر کسی شخص نے جو یمنی زبان جانتا تھا اسے بتایا کہ غَیِّرِالشِّیْشَۃَکے معنے یمنی زبان میں یہی ہیں کہ شیشہ کا برتن توڑ دو۔ پس اس نے جو کچھ کیا ہے اپنی سمجھ کے مطابق کیا ہے۔ اس میں غصہ اور ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔
    غرض زبانوں کے اختلاف کی وجہ سے بڑے بڑے فرق پیدا ہو جاتے ہیں۔ اوائل میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو قرآن کریم سکھایا تو چونکہ مختلف قبائل کے لہجوں میں اختلاف تھا اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ ایسے الفاظ جن کا ادا کرنا ان کے لیے مشکل ہو انہیں وہ اپنے لہجہ کے مطابق پڑھ لیا کریں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک یہی سلسلہ جاری رہا ۔لیکن جب اسلامی حکومت قائم ہو گئی اور مکہ کی زبان ہر جگہ رائج ہوگئی اور ہر قبیلہ کے لوگ ان سے متعارف ہوگئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حکم دے دیا کہ اب صرف مکی لہجہ میں قرآن کریم لکھا اور پڑھا جائے۔4 باقی زبانیں ترک کر دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔اب دیکھو یہ بظاہر ایک چھوٹی سی بات تھی مگر اس کے۔لیے حضرت عمرؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ۔جیسے عظیم الشان صحابیؓ کے گلے میں پٹکا ڈال دیا اور وہ انہیں کھینچ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ ہمارے ہاں کوئی ایسی بات ہو تو کہہ دیا جاتا ہے۔ چلو! یوں کہہ لیا یا ووں کہہ دیا۔ اس میں کیا حرج ہے؟
    غرض حقیقت کو سمجھ کر اگر عمل کیا جائے تو انسان بہت سی غلطیوں سے بچ جاتا ہے۔ اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس کے نتیجہ میں ایسی ہی حالت ہو جاتی ہے جیسے کوئی مکان بنائے تو اس کی دو دیواریں ہوں۔ اس سے اس کا سامان محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ہوائیں اس کے مکان کو اُڑا کر لے جائیں گی، کیڑے اس کے مال کو ضائع کر دیں گے، بارش کی نمی اس کا ستیاناس کردے گی، چور اُس کا مال اُٹھا کر لے جائیں گے۔ اسی طرح جو فکر اور عمل ٹھیک طور پر استعمال نہ ہو اس کا نتیجہ بھی اچھا نہیں نکل سکتا۔ پس مومن جب کسی چیز کو اہم قرار دے تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کی اہمیت کو پوری طرح سمجھے۔ تم شریعت کو سمجھنے اوراس پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کرو۔ اگر اس میں کوئی نقص رہ جائے گا تو تمہارے ثواب میں یقیناً کمی آجائے گی۔ صحابہؓ اس بارہ میں نہایت احتیاط سے کام لیتے تھے۔ ایک دفعہ ایک جنازہ آیا جب نماز جنازہ ختم ہوگئی اور لوگ واپس لوٹنے لگے تو ایک صحابی نے کہا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص نمازِجنازہ میں شامل ہوتا ہے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے اور اگر وہ جنازہ کے ساتھ قبر تک جاتا ہے اور میت کے دفن ہونے تک وہاں انتظار کرتا ہے اور دعا کر کے واپس آتا ہے تو اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے۔ پھر آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ قیراط سے رَتی مراد نہیں بلکہ یہ قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔ دوسرے صحابیؓ جو پاس کھڑے تھے وہ خفا ہو کر بولے کہ تم نے ہم پر بہت ظلم کیا اگر تم نے یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنی ہوئی تھی تو تمہارا فرض تھا کہ ہمیں بھی بتاتے۔ معلوم نہیں ہم نے اب تک کتنے اُحد ثواب کے ضائع کر دیئے ہیں۔5 تو دیکھو! صحابہؓ کس طرح چھوٹی سے چھوٹی بات کو یاد رکھتے اور اس کی تعمیل کرتے تھے۔ ان کی سب بڑائی اسی میں تھی۔
    حدیثوں میں آتاہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد میں لیکچر فرما رہے تھے کہ مسجد میں آدمی زیادہ ہوگئے اور جو لوگ کناروں پر تھے انہیں چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز اچھی طرح نہیں پہنچتی تھی اس لیے وہ کھڑے ہوگئے تاکہ آپ کی آواز سُن سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں آنے والے بالکل محروم ہو گئے۔ نہ وہ آواز سن سکتے تھے اورنہ آپ کی شکل دیکھ سکتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا کہ کھڑے ہونے والوں نے بعد میں آنے والوں کو بالکل محروم کر دیا ہے تو آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔ آپؐ نے جب کہا بیٹھ جاؤ توحضرت عبداللہ بن مسعوؓد جو اُس وقت مسجد کی طرف آرہے تھے وہیں گلی میں ہی بیٹھ گئے اور چونکہ انہوں نے مسجد میں لیکچر سننے کے لیے ضرور پہنچنا تھا اس لیے انہوں نے بچوں کی طرح گِھسٹ گِھسٹ کر مسجدکی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ جب دوسرے لوگوں نے انہیں گِھسٹتے ہوئے دیکھا تو انہیں تعجب ہوا۔ چنانچہ کسی شخص نے ان سے کہا آپ یہ کیا حرکت کر رہے ہیں؟انہوں نے کہا میں گلی میں آ رہا تھا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی بیٹھ جاؤ اس لیے میں بیٹھ گیا اور چونکہ میں مسجد میں پہنچ کر آپؐ کا لیکچر سننا چاہتا ہوں اس لیے میں نے گِھسٹ کر چلنا شروع کر دیا ہے۔ اس شخص نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مُراد تو ان لوگوں سے تھی جو مسجد میں موجود تھے آپ سے تو نہیں تھی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا ٹھیک ہے۔ میں سمجھتا ہوں ایسا ہی ہوگا۔ لیکن اگر میں مسجد میں نہ پہنچ سکوں اور راستہ میں ہی مر جاؤں تو یہ حسرت باقی رہ جائے گی کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم نہیں مانا۔6 یہی جذبہ تھا جس کی وجہ سے صحابہؓ نے اپنے افکار اور اعمال کو مکمل کر لیا اور بہت زیادہ ثواب حاصل کیا۔
    ہماری جماعت کو بھی چاہیے کہ وہ دین سیکھنے کی کوشش کرے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے نہ پڑی رہے۔ بعض دفعہ ایک آدمی لغو بحث شروع کر دیتا ہے اور بسااوقات بڑی بڑی باتوں کو چھوڑ دیتاہے۔ مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آمین اونچی کہنا یا نیچی کہنا، رفعِ یدین کرنا یا نہ کرنا، ہاتھ سینہ پر باندھنا یا سینہ سے نیچے باندھنا یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، ان پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں۔ ان سب طریقوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے۔صحابہؓ میں سے کسی کی طبیعت ایک طرف مائل ہوگئی اور کسی کی طبیعت دوسری طرف مائل ہوگئی۔ مگر مسلمان ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے پڑے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہم باتوں کی طرف ان کی توجہ نہ رہی۔
    غرض لغو بحث کے نتیجہ میں انسان چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور بڑی باتوں کو چھوڑ دیتا ہے اور کبھی بڑی بڑی باتوں پر بیٹھے رہتاہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھوڑ دیتا ہے۔
    ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ نہ بڑی باتوں کو چھوڑیں اور نہ چھوٹی باتوں کو چھوڑیں اور زیادہ سے زیادہ دین سیکھنے کی کوشش کریں۔ اِس وقت حالت یہ ہے کہ ہمارے مُربی اور معلّم جماعتوں میں جاتے ہیں لیکن جماعت کے لوگ ان سے دینی مسائل سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ پُرانے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ امام بخاریؒ نے سترہ سفر آدھی دنیا کے صرف ان حدیثوں کے لیے کیے جن کو وہ پہلے سن چکے تھے۔ صرف اس لیے کہ اگر کسی واسطہ کو اڑایا جاسکے تو اسے اڑا دیا جائے۔ مثلاً چھ واسطوں سے امام بخاریؒ کو پتا لگا کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے فلاں بات یوں فرمائی ہے۔ اس پر وہ چھٹے آدمی کے پاس جاتے اور پوچھتے ہیں کہ تم نے یہ بات کس سے سُنی ہے؟ پھر آپ پوچھتے ہیں کہ وہ شخص زندہ ہے یا مر گیا ہے؟ اگر وہ کہتا کہ جس سے میں نے یہ بات سنی ہے وہ مر گیا ہے تو بات ختم ہوجاتی۔ اگر کہتا کہ وہ زندہ ہے اور فلاںمقام پر رہتا ہے تو آپ وہاں سے چل پڑتے اور اُس شخص سے جا کر پوچھتے کہ کیا تم نے یہ بات بیان کی ہے ؟اگر وہ کہتا کہ ہاں میں نے یہ بات بیان کی ہے تو وہ باقی تمام واسطوں کو چھوڑ دیتے۔ اس طرح آپ نے سترہ سفر کیے۔ اس لیے نہیں کہ آپ کو اس بات کا علم نہیں تھا بلکہ اس لیے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے اَور قریب ہوجائیں۔ اس جدوجہد کا نتیجہ یہ تھا کہ گو وہ دوسَوسال کے بعد پیدا ہوئے لیکن جو روایات انہوں نے لکھی ہیں وہ ان لوگوں کی روایات سے زیادہ صحیح ہیں جنہوں نے رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی وفات کے سَو سال بعد روایات لکھیں کیونکہ انہوں نے اُن روایات کو تلاش کیا جن میں واسطے کم تھے۔ اگر پہلے محدث نے ایک روایت کو چھ واسطوں سے بیان کیا تھا تو آپ نے اُسے پانچ واسطوں کے ساتھ بیان کر دیا۔ غرض صحابہؓ اس طرح اپنے علم کی تکمیل کیا کرتے تھے۔ اب کُجا تو یہ حالت ہے کہ وہ لوگ دُور دُور جا کر تحصیلِ علم کیا کرتے تھے اور کُجا یہ حالت ہے کہ ہم معلّم بھیجتے ہیں لیکن لوگ ان سے علمِ۔دین نہیں سیکھتے۔ ہر۔مُربی۔اور۔معلّم کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ کلاسیں لگا کر لوگوں کو دین کی موٹی موٹی باتیں سکھائے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی باتیں سنائے، جماعت کے پچھلے واقعات اور گزشتہ انبیاء کے واقعات سنا سنا کر انہیں بتائے کہ اب ان کو کس رنگ میں قربانی کرنی چاہیے، انہیں اچھے اخلاق سکھائے۔ یوں تو ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق دکھا سکتا ہے۔ لیکن موقع و محل کے لحاظ سے ضروری نہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کے ہی ہوں۔ مثلاًکسی نے کھانا کھا لیا ہو اور پھر وہ دوسرے کا کھانا دیکھے اور اس کے دل میں لالچ پیدا نہ ہو تو یہ کوئی اعلیٰ درجہ کے اخلاق نہیں ہوں گے۔ ہاں! اُسے فاقہ ہو اور پھر وہ کھانا پڑا ہوا دیکھے اور اس کے دل میں لالچ پیدا نہ ہو تو یہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ ہو گا۔
    پس معلّموں کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں کو دین سکھائیں اور جماعتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اُن سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ انسان کو خداتعالیٰ نے ایسی طاقت دی ہے کہ اگر وہ تمام دنیوی کام کرتا رہے تب بھی کچھ نہ کچھ وقت اس کے پاس بچ جاتا ہے جس میں وہ دین سیکھ سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ محنت سے کام لے۔ لیکن اگر وہ اس طاقت سے فائدہ نہ اٹھائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہوتا ہے۔
    پس چاہیے کہ تمہارا ہر فکر ، تمہارا ہر خیال اور تمہارا ہر عمل درست ہو اور وہ دوسروں سے زیادہ مکمل ہو۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جماعتوں کے پاس جو مربی اور معلّم آ ئیں اُن سے وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اور اگر اُن سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے تو تم اپنی جماعت میں سے ہی ایک آدمی مقرر کر لو جو تمہیں دین سکھائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اردو میں لکھی ہوئی کتابیں ہر ایک اردو پڑھا لکھا آدمی پڑھ سکتا ہے اُن سے مسائل سیکھنے کی کوشش کرو ۔ اگر کوئی ایسا نہ کرے اور پھر کہے کہ مجھے احمدیت سے کیا ملا ہے تو یہ درست نہیں ہو گا۔ اس کی مثال ایسی ہی ہو گی جیسے کوئی شخص کونین۔کھانے کی بجائے جیب میں ڈال لے اور پھر کہے کہ مجھ پر کونین نے اثر نہیں کیا حالانکہ اثر۔تب ہوتا جب وہ کھاتا۔ جس طرح مُردہ اور زندہ برابر نہیں ہو سکتے ، بہرے اور سننے۔والے۔برابر نہیں ہو سکتے، اندھے اور سوجاکھے برابر نہیں ہو سکتے اِسی طرح دین سیکھنے کی کوشش۔کرنے۔والا اور نہ کرنے والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ پس دین سیکھنے کی کوشش کرو اور اپنے تمام اعمال کو زیادہ سے زیادہ مکمل بناؤ تا کہ تم احمدیت سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھا سکو ‘‘۔
    (الفضل 4نومبر 1959ء )

    1
    :
    مسند احمد بن حنبل مسند ابی ھریرۃ صفحہ 517 حدیث نمبر7166مطبوعہ لبنان 2004ئ(مفہوماً)
    2
    :
    بخاری کتاب فضائل الْقُرْآن باب اُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ
    3
    :
    سِتِّیْ :(لِلْمَرْأَۃِ)اَیْ سَیِّدَتِیْ (یعنی اے میری آقا) قال ابن الاعرابی: وَ یَحْتَمِلُ اَنَّ الْاَصْلَ سَیِّدَتِی فَحُذِفَ بَعْضُ حُرُوْفِ الْکَلِمَۃِ( اَلصَّوَابُ: سَیِّدَتِیْ)
    (تاج العروس جلد 2صفحہ311مطبوعہ بیروت لبنان2007ئ)
    4
    :
    کنز العمال جلد 2صفحہ 583 ،584مطبوعہ حلب 1969ء
    5
    :
    مسلم کتاب الجنائز باب فَضْل الصَّلٰوۃ عَلَی الْجَنازَۃ (الخ)
    6
    :
    اسدالغابۃ جلد3 صفحہ157 مطبوعہ ریاض 1286ھ،ابوداؤد ابواب الجمعۃ باب الْاِمَامُ یُکَلِّمُ الرجل فی خُطبتہ



    الٰہی جماعتوں کے لیے مصائب اور ابتلاؤں کا آنا
    نہایت ضروری ہوتا ہے
    (فرمودہ24جون 1949ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’جہاں تک میں سمجھتا ہوں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علوم اور اس کی دی ہوئی خبروں سے مجھے معلوم ہوتا ہے جماعت کے لیے اب ایک ہی وقت میں دو قسم کے زمانے آرہے ہیں۔ اورالٰہی جماعتوں کے لیے ہمیشہ ہی یہ دونوں زمانے متوازی آیا کرتے ہیں۔ یعنی ایک ہی وقت میں ترقی اور ایک ہی وقت میں ابتلاؤں کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے۔ اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ وہ آخری زمانہ نہیں آجاتا جس میں تمام تکالیف ختم ہو جاتی ہیں اور صرف ترقیات ہی ترقیات باقی رہ جاتی ہیں۔ لیکن الٰہی سنت سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بیرونی مصائب کا زمانہ ختم ہوجاتاہے تو اُس وقت اندرونی مصائب شروع ہو جاتے ہیں۔ صحابہؓ اس نکتہ کو خوب سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے عرب پر مسلمانوں کو فتح دے دی تو اس کے بعد وہ خاموش ہو کر نہیں بیٹھ گئے بلکہ صحابہؓ نے اپنے لیے ایک اَور مصیبت سہیڑ لی۔ یعنی ایک ہی وقت میں انہوں نے قیصر اور کسرٰی دو زبردست بادشاہوں سے جو اُس زمانہ میں سب سے زیادہ طاقت رکھتے تھے لڑائی شروع کردی۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید دنیا کی لالچ یا دنیا کی بڑائی کی خواہش میں صحابہؓ۔نے ایسا کیا لیکن واقعات اس کی تردید کرتے ہیں۔ دنیا کی بڑائی اور دنیا میں ترقی کی خواہش کوئی نہ کوئی علامتیں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ مثلاً جب دنیوی بڑائی کسی کو مل جاتی ہے تو اُس سے وہ ذاتی طور پر فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے،ناجائز دباؤ لوگوں پر ڈالتا ہے، ناجائز رُعب ڈالتا ہے،ناجائز حکومتیں کرتا ہے، ناجائز طور پر اموال پر قبضہ کر لیتا ہے، ناجائز طور پر جائدادیں بناتا ہے یا ان جائدادوں کو اپنے دوستوں میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ علامتیں ہوتی ہیں جن سے پہچانا جا سکتا ہے کہ اس کے دل میں دنیا کی لالچ یا دنیا کی بڑائی کی خواہش موجود ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص دنیوی فتوحات کے بعد ان چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ،نہ قوم کے اموال اپنی ذات پر خرچ کرتاہے نہ لوگوں پر ناجائز حکومت کرتا ہے، نہ اُن پر دبدبہ اور رُعب جتاتا ہے، نہ اپنی شان دکھانے کی کوئی کوشش کرتا ہے تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ دنیوی اغراض کے ماتحت اپنی بڑائی چاہتا تھا۔ صحابہؓ کو جو فتوحات حاصل ہوئیں اُن سے انہوں نے ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا۔ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ وغیرہ نے مفتوحہ علاقوں میں سے کچھ نہیں لیا،مفتوحہ جائدادوں میں سے کچھ نہیں لیا، مفتوحہ اموال میں سے کچھ نہیں لیا سوائے اِس کے کہ انہوں نے اپنی قلیل ترین ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تھوڑا سا مال لے لیا مگر وہ بھی اتنا قلیل کہ اُس زمانہ کے عام لوگوں سے بھی کم تھا۔ اِس بات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اور ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں صحابہ ؓ کاکسی ملک پر حملہ کرنا ان لوگوں کی ذاتی خواہش کے ماتحت نہیں تھا۔
    دوسری بات جو عام طور پر پیش کی جاتی ہے اور ایک حد تک صحیح بھی ہے وہ یہ ہے کہ دشمن نے حملے میں پہل کی اور وہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے لڑنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے بلکہ بڑی حد تک درست ہے۔ قیصر نے بھی حملہ میں ابتداکی اور کسرٰی نے بھی حملہ میں ابتدا کی اورمسلمان اُن کے مقابلہ کے لیے مجبور ہو گئے۔مگر یہ دلیل اس بات کے ثابت کرنے کے لیے تو کافی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ ظالم نہیں تھے، یہ لوگ دشمن کو تباہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔ دشمن نے حملہ کیا اور وہ اس کے دفاع کے لیے مجبور ہو گئے۔ مگر یہ دلیل اس سوال کے جواب کے لیے کافی نہیں کہ انہوں نے بعد میں بھی لڑائی کیوں جاری رکھی؟ لڑائی کرنے کا الزام تو اس سے دورہو جاتا ہے مگر لڑائی جاری رکھنے کی ضرورت اس سے ثابت نہیں ہوتی۔ قرآن کریم نے یہ تو کہا ہے کہ تم ظالم کا ہاتھ روکو مگر قرآن کریم نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اگر تم صبر کرو اور دشمن کو معاف کر دینا بہتر سمجھو تو اسے معاف کر دو۔ اس نے یہ تو نہیں کہا کہ تھپڑ مارنے والے کے منہ پر تم ضرور تھپڑ مارو بلکہ اس نے یہ کہا ہے کہ اگر تم تھپڑ مارو تو تم مجرم نہیں ہو گے۔ اس نے یہ تو کہا ہے کہ تمہیں ظالم کے ظلم کا مقابلہ کرنے کی اجازت ہے مگر اس نے یہ نہیں کہا کہ ضرور مقابلہ کرو۔ یہ صرف ایک اجازت ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اگر تم مقابلہ کرو گے تو ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ تم مجرم ہو بلکہ ہم یہ سمجھیں گے کہ تم نے ہماری اجازت سے ایک فائدہ اُٹھا لیا۔ اسلام یہ کہیں بھی حکم نہیں دیتا کہ ہر حالت میں دشمن کا مقابلہ کیا جائے اور اس سے لڑائی جاری رکھی جائے۔ چنانچہ یزید جب بادشاہ ہوا تو حضرت امام حسینؓ اُس سے لڑنے کے لیے تیار ہوگئے لیکن اَور کئی صحابہؓ۔جن میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ۔ بھی شامل تھے انہوںنے یزید کا مقابلہ نہیں کیا بلکہ چُپ کر کے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یزید کو ظالم نہیں سمجھتے تھے۔ وہ یقیناً اُسے ظالم سمجھتے تھے۔ خود حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب معاویہؓ کی عمر بڑی ہوئی تو وہ ایک دفعہ مسجد نبوی میں آئے۔ یزید ان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے لوگوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خاندان ایسا ہے جس کی سرداری کو عرب لوگوں نے ہمیشہ قبول کیا ہے اور اسلام میں بھی ہمارے خاندان کو اللہ تعالیٰ نے بڑا رُتبہ دیا ہے۔ ہم نے اسلام کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں اور ہمیشہ اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کیا ہے لیکن اب میں ایسی عمر کو پہنچ چکاہوں کہ میں سمجھتا ہوں شاید اب میں زیادہ دیر تک دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ میں آپ لوگوں کے سامنے یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ ا گر آپ لوگ ناپسند نہ کریں تو میرے بعد یزید خلیفہ ہو۔ حضرت۔عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں اُس وقت اپنی ٹانگوں کے گرد پٹکا باندھے بیٹھا تھا۔ جب اُس نے یہ کہا تومیںنے اپنا پٹکا کھولا اور ارادہ کیا کہ کھڑے ہو کر معاویہ سے کہوں کہ اس بادشاہت کا یزید سے زیادہ وہ مستحق ہے جس کا باپ اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش بدوش جنگ کر رہا تھا جب تیراباپ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کر رہا تھا اور اِس کا زیادہ مستحق وہ شخص ہے جو خود اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر دشمن سے لڑائی۔کر رہا تھا جب تُو دشمن کی صفوں میں شامل ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کر رہا تھا۔ مگر پھر میں نے کہا اِس دنیوی بادشاہت میں کیا رکھا ہے۔1 (حضرت معاویہؓ کے زمانہ سے اسلامی خلافت کا سلسلہ نہیں رہا تھا بلکہ دنیوی بادشاہت مسلمانوں میں آگئی تھی)۔ یہ ایک دنیا سے۔تعلق۔رکھنے والی چیز ہے اس کے لیے میں مسلمانوں میں تفرقہ اور انشقاق کیوں پیدا کروں؟ حضرت۔عبداللہ۔بن۔عمرؓ کا یہ ارادہ بتاتا ہے کہ وہ یزید کی بادشاہت کو نادرست سمجھتے اور اسے لوگوں پر ایک ظلم قرار دیتے تھے۔ لیکن ان کا مقابلہ ترک کر دینا بتاتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اسلام نے صرف مقابلہ کا ہی حکم نہیں دیا بلکہ بعض مصلحتوں کے ماتحت ظلم کو برداشت کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ چنانچہ جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت ہے کہ اگر تمہیں کوئی شخص تھپڑ مارے تو تم بھی اسے تھپڑ مارو وہاں اُس نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر تم مقابلہ کرنا مصلحت کے خلاف سمجھو تو تم چُپ رہو اور تھپڑ کا تھپڑ سے جواب مت دو۔ پس وہ دلیل جو عام طور پر ان جنگوں کے متعلق پیش کی جاتی ہے اس سے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ پر دشمن کے الزام کا دفاع تو ہو جاتا ہے، یہ تو پتالگ جاتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے ظلم نہیں کیا بلکہ قیصر نے ظلم کیا، حضرت عمرؓ نے ظلم نہیں کیا بلکہ کسرٰی نے ظلم کیا، حضرت عثمانؓ نے ظلم نہیں کیا بلکہ افغانستان اور بخارا کی سرحد پر رہنے والے قبائل اور کُردوںوغیرہ نے ظلم کیا لیکن اس امر کی دلیل نہیں ملتی کہ حضرت ابوبکرؓ نے ان کو معاف کیوں نہ کردیا؟ حضرت عمرؓ نے ان کو معاف کیوں نہ کر دیا؟ حضرت عثمانؓ نے ان کو معاف کیوں نہ کر دیا؟ جب وہ مقابلہ کے لیے نکلے تھے تووہ قیصر سے کہہ سکتے تھے کہ تمہاری سپاہ سے فلاں غلطی ہو گئی ہے اگر اس کے متعلق تمہاری حکومت ہم سے معافی طلب کرے تو ہم معاف کر دیں گے اور اگر معافی طلب نہ کرے توہم لڑائی کریں گے۔ انہوں نے قیصر کے سامنے یہ پیش نہیں کیا کہ تم سے یا تمہاری فوج کے ایک حصہ سے فلاں موقع پر ظلم ہوا ہے اور چونکہ ہماری تعلیم یہ بھی ہے کہ دشمن کو معاف کر دو اس لیے اگر تم معافی مانگو تو ہم معاف کرنے کے لیے تیار ہیں بلکہ جب اس نے ظلم کیا وہ فوراً اس کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوگئے اور پھر اس مقابلہ کو جاری رکھا۔ جب کسرٰی کے سپاہیوں نے عراقی سرحد پر حملہ کیا تو سیاسی طور پر اس کے بعد صحابہؓ اور کسریٰ کے درمیان جنگ بالکل جائز ہوگئی لیکن اخلاقی طور پر حضرت عمرؓ کسریٰ کو یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ شاید تم نے اس حملے کا حکم نہ دیا ہو بلکہ سپاہیوں نے خودبخود حملہ کر دیا ہو اس لیے ہم اس حملہ کو نظرانداز کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ تم ہم سے معافی مانگو اور اس فعل پر ندامت کا اظہار کرو مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اسی طرح حضرت عثمانؓ نے اپنے زمانہ میں دشمنوں کو یہ نہیں کہا کہ تم نے ظلم تو کیا ہے لیکن چونکہ ہمارا مذہب ظلم کی معافی کی بھی تعلیم دیتا ہے اس لیے ہم تمہیں معاف کرتے ہیں بلکہ وہ فوراً اس ظلم کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور لشکر بھیجے، لڑائی کی اور پھر اس لڑائی کو جاری رکھا۔ آخر اس کی کیا وجہ تھی ؟ اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سوائے اس کے اَور کوئی نہیں تھی کہ حضرت ابوبکر ؓ جانتے تھے کہ جب بھی بیرونی خطرہ کم ہوا اندرونی فسادات شروع ہو جائیںگے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قیصر نے حملہ نہیں کیا بلکہ خدا نے حملہ کیا ہے تا مسلمان اس مصیبت کے ذریعہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں اور اپنے اندر نئی زندگی اور نیا تغیر پیدا کریں۔ حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ کسریٰ نے حملہ نہیں کیا بلکہ خدا نے حملہ کیا ہے تاکہ مسلمان غافل، سُست ہو کر دنیا میں منہمک نہ ہوجائیں۔ بلکہ ہر وقت بیدار اور ہوشیار رہیں۔ حضرت عثمانؓ جانتے تھے کہ بعض قبائل نے مسلمانوں پرحملہ نہیں کیا بلکہ خدا نے حملہ کیا ہے تاکہ مسلمان بیدار ہوں اور ان کے اندر ایک نئی روح اور نئی زندگی پیدا ہو۔
    غرض مصائب خداتعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور اس لیے آتے ہیں تا کہ قومیں اپنی روحانیت کو قائم رکھ سکیں اور آرام کے سامانوں کے پیدا ہونے کی وجہ سے وہ کلّی طور پر دنیا کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔ یہ مقام کہ انسان دنیا میں پڑنے کے باوجود دین کی روح کو قائم رکھے یہ ممکن ہے بلکہ اسے روحانی ترقی کی منزلِ۔مقصود قرار دیا گیاہے۔ کہتے ہیں’’دست درکار دل بایار‘‘۔ ہاتھ کام کے اندر ہونا چاہیے اور دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی محبت موجزن ہونی چاہیے۔ یہ مقصود ہے جو صوفیاء نے انسان کا قرار دیا ہے اور اصل مقام روحانی ترقی کا یہی ہوتا ہے مگر انفرادی طور پر تو اس مقام کو حاصل کرنے والے کئی لوگ پائے جاتے ہیں لیکن قومی طور پر اس پر پہنچنا بڑا مشکل ہوتا ہے ۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں آج تک کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں ملتی جو اِس مقام پر پہنچی ہو۔ افراد ملیں گے اور لاکھوں کروڑوں ملیں گے بلکہ اس زمانہ میں بھی جب مسلمان بادشاہتیں ظلم کر رہی تھیں، لُوٹ مار کر رہی تھیں اور اپنے غلبہ اور کامیابی کے نشہ میں چُور ہو کر اسی طرح لوگوں پر ظالمانہ حملے کر رہی تھیں جس طرح وحشی قبائل حملے کرتے ہیں مسلمانوں میں ایسے افراد موجود تھے جو دنیا میں رہتے ہوئے اور تمام دنیوی کاموں میں حصہ لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اپنی روحانیت کو زندہ رکھتے تھے۔انہوں نے عیسائیوں کی طرح دنیا چھوڑ نہیں دی بلکہ دنیا میں ہی رہے۔ وہ شادیاں بھی کرتے تھے، وہ بچے بھی پیدا کرتے تھے، وہ جائدادیں بھی بناتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی وہ اللہ تعالیٰ سے بھی کامل تعلق رکھتے تھے ۔لیکن یہ مثالیں صرف افراد میں پائی جاتی ہیں قوموں میں نہیں۔ فرد ہمیشہ ایسے نظر آتے رہیں گے جو بڑی سے بڑی دولتوں کے مالک ہو کر بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں بھولتے۔
    حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ جب فوت ہوئے تو اڑھائی کروڑ روپیہ اِن کے گھر سے نکلا۔ اس زمانہ کے لحاظ سے اڑھائی کروڑ کے معنے کم سے کم اڑھائی ارب روپیہ کے ہیں۔ اِس زمانہ میں روپیہ کی قیمت بہت گر گئی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اس زمانہ کے روپیہ کی قیمت کا صحیح اندازہ لگائیں تو اڑھائی کروڑ کے معنے دس ارب روپیہ کے ہیں ۔لیکن اگر کم سے کم سَوگُنا فرق رکھا جائے تو اڑھائی ارب روپیہ بنتا ہے۔ اِس زمانہ میں ہی جنگ سے پہلے روپیہ کی جو قیمت تھی آج اُس سے چار گُنا کم ہے یعنی ایک روپیہ آج صرف چَونی کا ہے اور تیرہ سَوسال کے زمانہ کومدنظر رکھتے ہوئے تو یہ فرق کم از کم سَوگُنا ہو جاتا ہے۔ پس اڑھائی کروڑ کے معنے آجکل کے لحاظ سے اڑھائی ارب کے ہیں اور اِس زمانہ میں بھی اڑھائی ارب روپیہ رکھنے والے ساری دنیا میں صرف دس پندرہ آدمی ہوں گے اور وہ بھی امریکہ، فرانس اور جرمنی میں۔ پس یہ استثنائی دولت ہے جو شاذونادر کے طورپر بعض لوگوں کو حاصل ہوتی ہے مگر اتنی دولت رکھنے کے باوجود تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور وہ اپنا اکثر مال مسلمانوں کی ترقی کے لیے خرچ کر دیا کرتے تھے۔
    اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گو خود نہیں کماتی تھیں مگر صحابہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے آپ کی خدمت میں اکثر ہدایا2 پیش کرتے رہتے تھے۔ لیکن ان کی زندگی بھی دنیاداروں والی زندگی نہیں تھی بلکہ وہ اپنا اکثر روپیہ غرباء اور مساکین میں تقسیم کر دیا کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کے بھانجے نے جس نے اُن کے مال کا وارث ہونا تھا ایک دفعہ یہ دیکھتے۔ہوئے کہہ دیا کہ حضرت عائشہؓ تو اپنا سارا مال لُٹا دیتی ہیں۔ یہ خبر جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پہنچی توآپ نے اپنے گھر میں اُس کا آنا جانا بند کر دیا اور قسم کھائی کہ اگر میں نے اسے اپنے گھر میں آنے کی اجازت دی تو میں اس کا کفارہ ادا کروں گی۔ کچھ عرصہ کے بعد صحابہؓ نے آپس میں صلح کرا دی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے کو معاف کر دیا۔ مگر کہا کہ چونکہ میں نے عہد کیا تھا کہ اگرمیں اس سے کلام کروں گی تو کفارہ ادا کروں گی اس لیے میں اس کا کفارہ یہ قرار دیتی ہوں کہ آئندہ میرے پاس جو دولت بھی آئے گی میں غرباء میں تقسیم کر دیا کروں گی۔3اگر روپیہ کمانا یا روپیہ کا کسی شخص کے پاس موجود ہونا منع ہوتا تو کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہہ سکتی تھیں کہ میرے پاس جتنا روپیہ بھی آیا یا جتنی بھی دولت آئی وہ میں سب کی سب غرباء میں تقسیم کر دیا کروں گی؟ کیا تم نے کبھی ایسا کیا ہے کہ تمہیں کوئی دوست شراب تحفۃً دے تو تم اسے قبول کرلو اور پھر اپنے کسی اَور دوست یا غریب کو دے دو؟یا کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ تم سو۔ٔر کا گوشت قبول کر لو؟ روپیہ قبول کرنے کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے لیے روپیہ لینا جائز ہے۔ اور کسی دوسرے کو واپس کرنے کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے ایک جائز چیز لینے کے بعد اُس کے خرچ کا ایک اَور محل سوچ لیا ہے۔ پس حضرت عائشہؓ کے ہدایا قبول کرنے کے معنے ہی یہ تھے کہ وہ اس کو جائز سمجھتی تھیں۔ مگر پھر دوسروں کو دے دینے کے یہ معنے تھے کہ میں اپنے سے زیادہ فلاں فلاں افراد کو مستحق سمجھتی ہوں۔ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان ہدایا کو ردّ فرما دیتیں تو چونکہ عام لوگ اُس معیار پر نہیں پہنچے ہوئے تھے جس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پہنچی ہوئی تھیں اس لیے وہ اس وہم میں مبتلا ہو جاتے کہ حضرت عائشہؓ نے ہماری قدر نہیں کی۔ ہم بڑی محبت سے ان کے لیے کپڑا لائے تھے یاپھل لائے تھے یا روپیہ لائے تھے اور انہوں نے قبول نہیں کیا۔ شاید ہم سے کوئی قصور ہو گیا ہو۔ اور پھر وہ باربار کہتے کہ ہمیں بھی بتایا جائے کہ ہم سے کیا خطا ہوئی ہے اور ہماری غلطی کو معاف کیا جائے۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تب بھی بہرحال اُن لوگوں کو روپیہ نہ دیتے جن کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دینا چاہتی تھیں۔ اِس وجہ سے حضرت عائشہؓ نے خیال فرمایا کہ مجھے ان سے جھگڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں ان سے روپیہ لے لیتی ہوں یا جو کچھ یہ نذرانہ پیش کرنے آئے ہیں وہ لے لیتی ہوں بعد میں میں غرباء کو دے دوں گی۔ اِس طرح دونوں باتیں ہو جاتیں۔ صحابہؓ کا دل بھی خوش ہو جاتا اور غرباء کی بھی امداد ہو جاتی۔
    اِسی قسم کا طریق بعض اَور اولیاء بھی اپنی زندگی میں اختیار کرتے رہے ہیں۔ میں نے تو کسی کتاب میں یہ واقعہ نہیں پڑھا لیکن حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ بڑے آسودہ حال تھے اور وہ اپنے مال سے غرباء کا حق ہمیشہ نکالتے رہتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی یہ بھی عادت تھی کہ وہ روزانہ بازار میں چلے جاتے اور لوگوں سے بھیک مانگنی شروع کر دیتے اور شام کو بھیک مانگ کر جو کچھ جمع کیا ہوتا وہ غریبوں میں تقسیم کر دیتے۔ ایک دفعہ اُن سے کسی دوست نے کہا کہ آپ نے یہ کیا ذلّت کا طریق اختیار کیا ہوا ہے؟ آپ اپنے روپیہ میں سے بیشک غریبوں کو دیجیے لیکن بھیک مانگنا، دکانوں پر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا اور سارا دن سائل بن کر لوگوں کے پیچھے پیچھے پِھرتے رہنا یہ بہت ہی معیوب بات ہے۔ انہوں نے کہا تم میرے فعل کی حکمت نہیں سمجھے۔ جوروپیہ خداتعالیٰ مجھے دیتا ہے اور پھر میں آگے تقسیم کر دیتا ہوں اس کا ثواب بیشک مجھے ملے گا ۔اور اگرخداتعالیٰ کا کوئی عذاب نازل ہونے والا ہوا تو میرا یہ فعل اس کے عذاب سے مجھے بچا لے گا ۔لیکن چونکہ یہ لوگ جو میرے اردگرد رہتے ہیں اپنے مالوں میں سے خدا کا حق نہیں نکالتے اس لیے اگر ان پر عذاب نازل ہوا تو ہمسایہ ہونے کی وجہ سے ممکن ہے میں بھی اس میں شریک ہوجاؤں۔ اس لیے میں خود ان کے پاس چلا جاتا ہوں۔ یہ میرا لحاظ کر کے کچھ دے دیتے ہیں اور میں آگے دے دیتا ہوں۔
    غرض افراد میں تو ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بڑے بڑے مالدار ہونے کے باوجود وہ خداتعالیٰ کو نہیں بھولے بلکہ اس کی محبت میں ترقی کرتے چلے گئے اور اخلاص اور روحانیت میں بڑھتے گئے لیکن قوموں میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں۔ قوم بحیثیت قوم جب تک مصیبت میں گِھری رہتی ہے وہ روحانی منازل بڑی سُرعت سے طے کرتی رہتی ہے۔ لیکن جب مصائب میں سے نکل جاتی ہے تو اُس کا قدم رُک جاتا ہے اور وہ تنزل میں گِرنی شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں افراد میں چونکہ کامل اور غیرکامل دونوں وجود ہوتے ہیں کامل وجود ان حالات میں بھی اپنے مقام پر قائم رہتے ہیں لیکن غیرکامل گِرجاتے ہیں اور وہ خداتعالیٰ کی بجائے دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔حضرت ابوبکرؓ جانتے تھے کہ اگر میں نے جنگیں نہ کیں تو مسلمانوں کے اخلاق گرجائیں گے۔ حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ اگر میں نے جنگیں نہ کیں تو مسلمانوں کے اخلاق گر جائیں گے۔ حضرت عثمانؓ جانتے تھے کہ اگر میں نے جنگیں نہ کیں تو مسلمانوں کے اخلاق گر جائیں گے اس لیے انہوں نے لڑائیوں کو جاری رکھا اور مصائب کا سلسلہ قومی طور پر مسلمانوں پر جاری رہا۔ حضرت علیؓ اور معاویہؓ کے زمانہ میں مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو دیکھ کر قیصر نے پھر دوبارہ حملہ کرنا چاہا مگر چونکہ اُس وقت سُستی اور تنزل کا زمانہ شروع ہو چکاتھا مسلمانوں نے اس کا مقابلہ نہیں کیا ۔ اگر اُس وقت حضرت معاویہؓ قیصر کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑے ہوتے جیسا کہ انہوں نے دھمکی بھی دی تھی کہ اگر تم نے حملہ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو علیؓ کی طرف سے تمہارے مقابلہ میں نکلے گا وہ میں ہوں گا4 یا اگر قیصر اس دھمکی کے باوجود حملہ کر دیتا اورحضرت معاویہؓ جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوتے تو حضرت علیؓ اور معایہؓ کی باہمی جنگیں بالکل ختم ہوجاتیں لیکن معاویہؓ کا دماغ وہ نہیں تھا جو حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کا دماغ تھا۔ انہوںنے صرف پیغام دینا کافی سمجھا حالانکہ جب دشمن نے حملے کا ارادہ کر لیا تھا تو یہ لڑائی کے لیے ایک کافی وجہ تھی۔ اگر معاویہؓ بھی قیصر کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑے ہوتے اور حضرت علیؓ بھی اُس کے مقابلہ کے لیے اپنالشکر بھجوا دیتے تو پھر دوبارہ تمام مسلمانوں میں جوش پیدا ہو جاتا، ان کے اندر ایک نئی بیداری پیدا ہوجاتی اور وہ منافقت جو آرام کے زمانہ کی وجہ سے اُن میں پیدا ہو چکی تھی بالکل جاتی رہتی۔
    تو مصائب کا زمانہ روحانی ترقی کے لیے ایک نہایت ضروری چیز ہے۔ اگر کسی وقت باہر سے مصائب نہ آئیں تو مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے اندرونی طور پر مصائب تلاش کرنے کی کوشش کرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان ضرور لیتا ہے مگر جب بندہ خود اپنے آپ کو امتحانات میں ڈالے رکھے تو اللہ تعالیٰ کسی اَور امتحان میں اسے نہیں ڈالتا۔ آپ فرمایا کرتے تھے سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا یا گرمیوں میں روزے رکھنا یہ بھی ایک ابتلا ہے اور انسان ان کاموں میں حصہ لینے سے تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن جب کوئی انسان خوشی سے اپنے اوپر مختلف ابتلا ء وارد کر لے، گرمیوں میں روزے رکھنے پڑیں تو وہ روزے رکھنے کے لیے تیار ہوجائے، سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا پڑے تو وضو کرنے کے لیے تیار ہو جائے، حج کرنے کا موقع نکل آئے تو گھر بار اور وطن چھوڑ کر حج کے لیے چلا جائے، زکوٰۃ دینے کا وقت آئے تو اپنے مال کا مقررہ حصہ فوراً غرباء کے لیے نکال دے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے اس کا امتحان تو لینا تھا مگر اب میں امتحان لے کر کیا کروں یہ تو اپنے آپ کو خود ہی امتحان میں ڈالے ہوئے ہے۔ لیکن جب وہ ان باتوں میں سُستی کرتا ہے اور اپنے آپ کو ابتلاؤں میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے مختلف امتحانات میں ڈالا جاتا ہے۔ اس وقت اگر تو اُس کے اندر صرف عملی سُستی پائی جاتی ہو تو خدائی امتحان کے بعد اُس میں بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اگر اس کا ابتلاؤں سے بچنا اندرونی بگاڑ کی وجہ سے ہو اور ایمان کی خرابی اس کا باعث ہو تو ابتلاء آنے پر وہ تباہ ہو جاتا ہے۔ غرض قوموں کے لیے خصوصاً انبیاء کی جماعتوں کے لیے ابتلاؤں کا آنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔
    یہ غلط خیال ہے کہ ابتلا صرف ابتدائی زمانہ میں آتے ہیں ترقی کے زمانہ میں ابتلاؤں کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے۔ انبیاء کی جماعتوں کی ترقی اور ابتلایہ دو تو ام بھائی ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے۔ ابتدائی سے ابتدائی زمانہ میں بھی ابتلا آتے ہیں اور ترقی کے انتہائی زمانہ میں بھی ابتلا آتے ہیں۔ ابتدا سے انتہا تک ابتلاؤں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جب نبی ایک منفرد وجود ہوتا ہے اور اُس پر صرف ایک یا دو آدمی ایمان لانے والے ہوتے ہیں اُس وقت بھی ابتلا آتے ہیں اور انتہائی عروج کے وقت بھی جب سلسلہ کو ترقی پر ترقی حاصل ہو رہی ہوتی ہے اُس وقت بھی ابتلا آتے ہیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے دن بھی مصائب اور مشکلات میں سے گزرنا پڑا اور آپؐ کو اور آپؐ پر ایمان لانے والوں کو مختلف قسم کے ابتلا پیش آئے۔ اور اس کے بعد جب ترقیات کا زمانہ آیا اُس وقت بھی ان ابتلاؤں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ نہیں ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کسی دن اِس خیال کے ساتھ سوئے ہوں کہ اب تمام مشکلات پر قابو پالیا گیا ہے اور وہ تمام مسائل جو مسلمانوں کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتے تھے حل ہو چکے ہیں۔ نہ حضرت ابوبکرؓ نے کبھی ایسا خیال کیا، نہ حضرت عمرؓ نے کبھی ایسا خیال کیا، نہ حضرت عثمانؓ نے کبھی ایسا خیال کیا اور نہ ہماری جماعت کو کبھی ایسا خیال کرنا چاہیے۔ یہ چیزیں الٰہی سلسلوں کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے ابتلاؤں کو برداشت کریں ۔اور اگر ابتلانہ آئیں تو خود ان کو تلاش کرنے اور اپنے اوپر وارد کرنے کی کوشش کریں ۔جیسے حضرت ابوبکرؓ نے قیصر پر حملہ کر دیا حالانکہ صلح کا راستہ بھی ان کے لیے کُھلا تھا۔ اسی طرح حضرت عمرؓ نے کیا کہ باوجود اس کے کہ کسریٰ کے ساتھ وہ صلح کر سکتے تھے انہوں نے صلح نہیں کی بلکہ کسریٰ کے ساتھ لڑائی کی اور پھر یہ لڑائی جاری رکھی۔ اِسی طرح اگر خداتعالیٰ کی طرف سے ہم پر ابتلا وارد نہ ہوں توہمیں خود اپنے لیے ابتلا تلاش کرنے چاہییں تاکہ جماعت کے اندر بیداری پیدا ہو اور وہ اپنے آپ کو بڑھانے اور ترقی دینے کی کوشش کرے۔ ابھی تو ہماری وہی مثال ہے کہ ’’کَے آمدی و کَے پیرشدی‘‘۔ ہمارا دنیا میں آنا اور کسی قدر تغیر پیدا کرنا بے شک ہماری نگاہ میں ایک بڑی چیز ہے لیکن دنیا کے لیے یہ کوئی بڑی چیز نہیں۔
    عربی میں ایک مثل مشہور ہے کسی بیل کے سَر پر ایک مچھر جا کر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد کہنے لگا بھائی بیل! تم بھی حیوان ہو اور میں بھی حیوان ہوں، مجھے بھی لوگ مارتے ہیں اور تم کو بھی مارتے ہیں اس لحاظ سے تمہیں میری ہمدردی کرنی چاہیے اور مجھے تمہاری ہمدردی کرنی چاہیے۔ میں اِس وقت اُڑتے اُڑتے تھک کر تمہارے سر پر تھوڑی دیر کے لیے آ کر بیٹھ گیا ہوں۔ اگر تمہیں میرے بیٹھنے سے بوجھ معلوم ہوتا ہو تو مجھے بتا دو تاکہ میں اُڑ جاؤں اور تمہیں تکلیف نہ ہو۔ بیل نے جواب دیا کہ بھائی مچھر! مجھے تو یہ بھی پتانہیں لگا کہ تم کب میرے سر پر آکر بیٹھے ہو۔ مجھے تمہارا بوجھ کیا محسوس ہونا ہے۔ یہی حال ہمارا ہے ۔ہم بھی اپنی تنظیم اور اپنی قربانیوں اور اپنے منصبوں کے کام کی وجہ سے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے دنیا میں بہت بڑا کام کر لیا ہے لیکن دنیا اِس کو کوئی کام نہیں سمجھتی ۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس خیال کے پیدا ہونے میں ہمارے کام کا اتنا دخل نہیں ہوتا جتنا اللہ تعالیٰ کے الہامات اور اس کی پیشگوئیوں کا دخل ہوتا ہے۔ ہم جب ایک طرف اللہ تعالیٰ کے الہامات کو دیکھتے ہیں اور دوسری طرف جماعت کی تنظیم اور اس کی قربانیوں اور اپنے مبلغین کے کام پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے دنیا میں عظیم الشان کام کر لیا ہے حالانکہ وہ عظیم۔الشان مقام جس کے حصول کے بعد دنیا کسی جماعت کی اہمیت کا انکار نہیں کر سکتی ابھی ہمیں حاصل نہیں ہوا۔ اور ابھی وہ زمانہ ہم پر نہیں آیا جس میں ہماری جماعت کی عظمت اور اس کے وجود کو بَرمَلا تسلیم کیا جائے۔ اور اُس زمانہ کے لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر ایسی طاقت اور قوت پیدا کریں کہ نہ صرف ہم ہر قسم کے ابتلاؤں کو برداشت کریں بلکہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا وارد نہ ہو تو ہم خود اُس سے اپنے لیے ابتلامانگیں۔ ابتلا کی برداشت ہر شخص کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی بڑی قربانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ابتلاؤں کا مانگنا اصل چیز ہوتی ہے مگر مانگنے سے مراد جاہلانہ مانگنا نہیں۔ ایک مانگنا مصلحت کے مطابق ہوتا ہے اور ایک مانگنا مصلحت کے خلاف ہوتا ہے۔
    ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے کسی سے پوچھا کہ توکّل کے کیا معنی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ توکّل کے معنے یہ ہیں کہ جب خداتعالیٰ دے تو انسان کھا لے اور جب نہ دے تو صبر کرے۔ وہ نادان صوفی تھا اور توکّل کے صحیح معنے نہیں جانتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ توکّل تو کُتّے میں بھی پایا جاتا ہے۔ کُتّے کو بھی مل جاتا ہے تو کھا لیتا ہے اور اگر نہیں ملتا تو صبر کرتا ہے۔انسان کا مقام تو پہلے ہی جانور سے بڑا ہے۔ پھر ان معنوں کے لحاظ سے اس میں اور کُتّے میں کیا فرق ہوا؟ انسان تو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ روحانیت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کے قُرب میں ترقی کرے۔ پھر اس کے لیے توکّل کے وہ معنے کس طرح ہو سکتے ہیں جن میں ایک کُتّا بھی شریک ہے۔ وہ حیران رہ گیا اور اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ اسی طرح میں کہتا ہوںکہ ابتلاؤں کے آنے پر ان کو برداشت کرنا کوئی اعلیٰ مقام نہیں بلکہ اس میں کافر اور بے۔دین لوگ بھی شریک ہیں۔ ایک کافر کا بچہ بھی مر جاتا ہے تو بسااوقات بڑے حوصلہ سے وہ اس صدمہ کو برداشت کرتا ہے۔
    پہلی جنگِ عظیم میں ہی ایک جرمن عورت جو 80 سالہ بڑھیا تھی اور جس کے سات بچے تھے اُس نے اپنے ساتوں بچے میدانِ جنگ میں بھیج دیئے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی مشیّت کے ماتحت یکے بعد دیگرے اس کے بچے مرتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ اس کا صرف ایک بچہ رہ گیا۔ آخرفرانس کے ایک شدید حملہ میں اُس کا ساتواں بچہ بھی مارا گیا۔ قیصر یُوں تو بہت ظالم تھا مگر نفسیات کا بہت بڑا ماہر تھا اور وہ اپنی قوم سے حقیقی محبت رکھتا تھا جس طرح ہٹلر اپنی قوم سے حقیقی محبت رکھتا تھا۔ یہ دونوں لیڈر ظالم بھی تھے مگر اپنی قوم کے سچے عاشق بھی تھے۔ چونکہ یہ رپورٹ نہایت اہم تھی کہ ایک عورت نے سات بچے دیئے اور وہ ساتوں کے ساتوں جنگ میں مارے گئے اس لیے جب یہ خبر پہنچی کہ اس عورت کا ساتواں بیٹا بھی مارا گیا ہے تو جرنیل نے اس خبر کو وزیرِجنگ کے پاس بھیجا اور وزیرِجنگ نے اس خبر کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے بادشاہ کے پاس بھجوا دیا۔ بادشاہ نے حکم لکھا کہ جس طرح عام طور پر رشتہ داروں کو مرنے والوں کی اطلاع دی جاتی ہے اس طرح اس عورت کو اطلاع نہ بھجوائی جائے بلکہ خود وزیرِجنگ اس عورت کو اپنے سامنے بُلائے اور میری طرف سے اُس کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہے کہ قیصر اور جرمن قوم دونوں اس ماں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے اپنے ساتوں بیٹے ملک کے لیے تباہ کر دیئے ہیں۔ چنانچہ اس بُڑھیا کو شاہی پیغام پہنچا ۔وہ وزیرِجنگ کے پاس آئی۔ وزیرِجنگ نے اس کا استقبال کیا اور کہا مجھے قیصر کی طرف سے حکم ملا ہے کہ میں قیصر کی طرف سے اورجرمن قوم کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کروں کیونکہ آپ نے اپنے ساتوں بچے ملک کے لیے پیش کر دیئے تھے جن میں سے چھ تو پہلے مر چکے ہیں اور اب کل ہی تار کے ذریعے ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ کا ساتوں بیٹا بھی جنگ میں مارا گیا ہے۔ایک انگریزی جاسوس جو اِس موقع پر موجود تھا میں نے خود اُس کے ایک مضمون میں یہ واقعہ پڑھا ہے وہ کہتا ہے کہ یہ عجیب خبر سن کر اخبارات کے نمائندے وہاں جمع ہو گئے تھے جن میں مَیں بھی شامل تھا۔لڑائی کے ایام میں جاسوسی کرنے والے کسی دوسری قوم میں شامل ہوجاتے ہیں اور اِس طرح خفیہ طور پر حالات معلوم کرتے رہتے ہیں۔ وہ اُس وقت ڈچ یا کسی اَورقوم کے نمائندہ کے طور پر اندر آیا حالانکہ انگریزی جاسوس تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ بُڑھیا اس خبر کو سُن کر باہر نکلی تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ اِس خبر نے اُس کی کمر کو بالکل توڑ دیا ہے لیکن وہ جذبہ حُبُّ الوطنی ظاہر کرنے کے لیے اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر اور زور سے دبا کر اُسے سیدھا کرنے کی کوشش کرتی تا کہ یہ ظاہر نہ ہوکہ اِس غم نے اُس کی کمر کو خمیدہ کر دیا ہے اور پھر زور سے قہقہہ لگا کر کہتی کیا ہوا اگر میرے ساتوں بیٹے مارے گئے ہیں۔ آخر وہ اپنے ملک کی خاطر قربان ہوئے ہیں۔ یہ ایک عیسائی عورت تھی۔ ایک ظالم قوم کا فرد تھی اُس کے ساتوں بچے مارے گئے تھے اور پھر وہ 80سال کی عمر کو پہنچ چکی تھی مگر پھر بھی اس نے صبر کیا۔
    پس مصائب اور آفات پر صبر کرنا ہرگز کوئی ایسی چیز نہیں جو مسلمان کا خاصہ ہو ۔بلکہ صبر سے اوپر ایک اَور مقام ہے جو مومن کو حاصل ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ وہ صرف صبر ہی نہیں کرتا بلکہ مصائب طلب کرتا ہے۔ دنیا کوشش کرتی ہے کہ ابتلاؤں سے بھاگے مگر وہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے آپ کو ابتلاؤں میں ڈالے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ؎
    در کوئے تُو اگر سرِ عشّاق را زنند
    اوّل کسے کہ لافِ تعشق زندمنم5
    اگر تیرے کوچہ میں جانے والوں کے متعلق یہ حکم ہو جائے کہ ہر شخص جو عاشقی کا دعوٰی کرے گا اُسے قتل کر دیا جائے گا تو گو عشق کا دل کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور کوئی شخص دعوٰی کرے یا نہ کرے عاشق عاشق ہی ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ اعلان ہو جائے کہ جو بھی عشق کا دعوٰی کرے گا اُس کا سر قلم کر دیا جائے گا تو سب سے پہلا شخص جو عشق کا دعوٰی کرے گا اور کہے گا کہ میں عاشق ہوں وہ میں ہوں گا۔حقیقت یہ ہے کہ عاشق اور مسلمان دو متضاد چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی چیز کے یہ دو نام ہیں۔ مگر عاشق سے میری مراد ہَوَس پرست عاشق نہیں بلکہ ایک سچا اور کامل مسلمان مراد ہے۔ پس ایک سچا عاشق اورمسلمان مصائب کو صرف برداشت ہی نہیں کرتا بلکہ مصائب طلب کرتا ہے۔ مصائب سے بھاگنا منافق کا کام ہے۔مصائب کو برداشت کرنا صرف مسلمان کا خاصہ نہیں بلکہ ایک کافر بھی اس میں شریک ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلمان وہ ہے جو نہ صرف مصائب کو برداشت کرتا ہے بلکہ مصائب طلب کرتا رہتا ہے۔ اگر کچھ دن اُس پر مصیبتیں نہیں آتیں تو وہ سمجھتا ہے کہ شاید میرا ربّ مجھ سے خفا ہو گیا ہے کہ اب وہ میرے ایمان کو دنیا پر ظاہر کرنے کی کوئی تدبیر نہیں کر رہا۔
    پس جماعت کو اپنے اندر یہ بات پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ قربانیاں اور ابتلا ہی ایک ایسی چیز ہیں جن سے اسلام کی ترقی وابستہ ہے۔ ہمارا دعوٰی ہے کہ ہم اسلام کی ترقی کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی جماعت کے ہر فرد کے اندر جذبۂ قربانی و ایثار پیدا کریں۔ ہم اپنی جماعت کے ہر فرد کے اندر مصائب کو برداشت کرنے کا مادہ پیداکریں۔ ہم اپنی جماعت کے ہر فرد کے اندر طلبِ قربانی اور طلبِ ابتلا کا جذبہ پیدا کریں کیونکہ اِسی کے ذریعہ اسلام اور احمدیت نے ترقی کرنی ہے۔ اگر ضرورت کے مطابق ہمارے اندر قربانی کی روح نہیں ہو گی تو گو ہوگا وہی جو خدا نے کہا ہے مگر جو شخص ان قربانیوں میں حصہ نہیں لے گا وہ اور اُس کا خاندان اُن نعمتوں سے محروم رہ جائے گا جو اِس دور کے ساتھ مخصوص ہیں‘‘۔
    (الفضل 13جولائی 1960ء )

    1
    :
    طبقات ابن سعد جلد 4صفحہ182 مطبوعہ بیروت 1985ء
    2
    :
    ہدایا:ہدیہ کی جمع۔ تحائف( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد21صفحہ705کراچی2007ئ)
    3
    :
    بخاری کتاب المناقب مناقب قریش
    4
    :
    اَلْبدایۃ والنھایۃ جلد 8صفحہ 126 مطبوعہ بیروت 2001ء
    5
    :
    درثمین فارسی صفحہ143۔ مطبوعہ نظارت اشاعت۔ ربوہ


    روزے روحانی زہروں کو دُور کرتے
    اور خداتعالیٰ کو دیکھنے کی قابلیت پیدا کرتے ہیں

    (فرمودہ یکم جولائی 1949ء )
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’دوستوں کو معلوم ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مہینہ اپنے ساتھ بہت سی برکتیں لے کر آتا ہے۔ دنیا میں انسان مختلف دنیوی کاموں میں ملوث رہتا ہے اوریہ اشغال اسے خداتعالیٰ کی طرف سے ہٹا کر اپنی طرف مشغول رکھتے ہیں۔ ان دن بھر کے کاموں کا ازالہ پانچ وقت کی نمازیں کرتی ہیں۔ ایک انسان دو تین گھنٹہ تک مختلف دینی کاموں میں مشغول رہتاہے۔ پھر نماز کا وقت آجاتا ہے تو وہ خداتعالیٰ کو یاد کرلیتا ہے اور اس سے پچھلا زنگ دُور ہو جاتا ہے۔ پھر وہ دوبارہ اَور کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے اور پھر اس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے دوسری نماز کا موقع ملتا ہے اور اس سے اس کا وہ زنگ بھی دُور ہو جاتا ہے۔ غرض پانچوں نمازیں اُس کے دن بھر کے زنگ کو دُور کر دیتی ہیں۔اسی طرح سال بھر کے جمع شدہ زنگ کو رمضان کا مہینہ دور کرتا ہے۔
    دنیا میں مختلف قسم کے زہر ہوتے ہیں۔ بعض زہروں سے کچھ حصہ جسم سے خارج ہوتا ہے اورکچھ حصہ جسم کے اندر باقی رہتا ہے۔ وہ انسان کی صحت میں حارج نہیں ہوتا۔ لیکن آہستہ آہستہ اتنی مقدار میں جمع ہو جاتا ہے کہ طبیب سمجھتا ہے کہ اس کا نکالنا ضروری ہے۔ روزانہ نمازوں سے جو زہر دورہوتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے انسان روزانہ کھانا کھاتا ہے یا پانی پیتا ہے تو ان کے مفید اجزاء خون کی شکل میں بدل جاتے ہیں اور زہریلے مادے پسینہ اور پاخانہ کی شکل میں خارج ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح اس کی صحت برقرار رہتی ہے۔ یہ زہریلے مادے اگر خارج نہ ہوں تو ڈاکٹرمُلَیِّن1 پسینہ آور اورپیشاب آور دوائیں دیتے ہیں اور اس طرح وہ زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ان روحانی زہروں کو جو روزانہ پیدا ہوتے ہیں اور روح کو گندہ کرتے رہتے ہیں نمازیں باہر نکالتی رہتی ہیں۔ لیکن ان زہروں کا ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جو مخفی رہتا ہے اور جسم کے اندر آہستہ آہستہ جمع ہوتا رہتا ہے۔ اس کی مقدار بہت تھوڑی ہوتی ہے لیکن ہوتے ہوتے وہ اتنی مقدار میں جمع ہو جاتا ہے کہ ہماراروحانی طبیب یعنی خداتعالیٰ ضروری سمجھتا ہے کہ اسے نکال دیا جائے۔ غرض جیسے چند گھنٹوں کے زہر کو دُور کرنے کے لیے دن بھر میں پانچ نمازیں رکھی گئی ہیں اسی طرح سال بھر کے جمع شدہ زہروں کو دور کرنے کے لیے سال میں رمضان کا ایک مہینہ رکھا گیا ہے جیسے پرانے زمانہ میں اطباء کا یہ طریق تھا کہ وہ امراء کو سال میں ایک مہینہ صرف مَائُ۔الْجُبن دیتے تھے اس کے علاوہ کوئی غذا نہیں دیتے تھے۔ اس کے بعد وہ یہ سمجھتے تھے کہ سال بھر کے زہر نکل گئے اور اب مریض ایک نئی زندگی لے کر کام کرے گا۔ اسی طرح خداتعالیٰ نے ایک علاج روزانہ پیدا ہونے والے زہروں کے لیے رکھا ہے اور ایک علاج سال بھر کے جمع شدہ زہروں کو دورکرنے کے لیے رکھا ہے۔ یعنی ان روحانی زہروں کو جو روزانہ پیدا ہوتے ہیں دور کرنے کے لیے دن بھر میں پانچ نمازیں رکھ دی ہیں اور سال بھر کے جمع شدہ زہروں کو دور کرنے کے لیے رمضان کامہینہ رکھا گیا ہے۔
    دنیا میں انسان پرجو ابتلا آتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ابتلاوہ ہوتا ہے جوخداتعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور ایک ابتلا وہ ہوتا ہے جو بندہ اپنے لیے خود پیدا کر لیتا ہے۔ ان ابتلاؤں سے خداتعالیٰ کی غرض انسان کو روحانی گندوں سے صاف کرنا ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ یہ دونوں قسم کے ابتلا انسان پر آتے ہیں۔ ایک ابتلا مومن اپنے لیے خود تلاش کرتا ہے۔ مثلاً سردیوں میں جب دوسرے لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو وہ نمازکے لیے اُٹھتا ہے، ٹھنڈے پانی سے وضو کرتا ہے بلکہ بعض دفعہ ٹھنڈے پانی سے اسے غسل بھی کرنا پڑتا ہے یہ بھی ایک قسم کا ابتلاہے جو مومن اپنے ہاتھ سے لاتا ہے ۔اور جب مومن اپنے ہاتھ سے ابتلالاتا رہتا ہے تو خداتعالیٰ اپنا ابتلا چھوڑ دیتا ہے۔ روزوں کے متعلق بھی خداتعالیٰ نے یہی اصول مقرر فرمایا ہے۔ بندہ جب خود ابتلا لے آتا ہے یعنی وہ اپنی کسی غلطی سے بیمار ہو جاتا ہے تو اُس وقت خداتعالیٰ اُسے روزے معاف کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بعد میں روزے رکھ لینا ۔لیکن ان حالات کے سوا سال بھر کے زہروں کو دُور کرنے کے لیے رمضان میں روزے رکھنا ایک مومن کے لیے نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ اگر زہر زیادہ ہو جائیں تو وہ اس کے لیے ہلاکت کا موجب ہوں گے۔ جو شخص سال بھر میں رمضان کے روزے نہ رکھے اور دوسرے سال کے روزے آ جائیں اُس کے اندر دو سال کا زہر پیدا ہوجائے گا اور اگر وہ تین سال کے روزے نہ رکھے تو اُس کے اندر تین سال کا زہر جمع ہو جائے گا جو اُس کے لیے یقیناً مُہلک ثابت ہوگا اور اس کے اندر ایسی سختی اور نابینائی پیدا ہو جائے گی کہ اگر خداتعالیٰ بھی اس کے سامنے آئے تو وہ اسے نہیں پہچان سکے گا۔ جیسے کسی شخص کی آنکھیں ماری جائیں تو وہ اپنے عزیزوں کو بھی خواہ وہ سامنے کھڑے ہوں نہیں پہچان سکتا۔
    بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم روزے رکھ کر خداتعالیٰ پر احسان کرتے ہیں حالانکہ اس سے زیادہ بے وقوفی اَور کوئی نہیں۔ جو شخص ڈاکٹر کے فصد کھولنے پر یہ خیال کرے کہ اُس نے خون دے کر ڈاکٹر پر احسان کیا ہے یا ڈاکٹر اُسے جلاب دے اور وہ خیال کرے کہ اس نے جلاب لے کر ڈاکٹر پر احسان کیا ہے یا وہ اسے کونین کھلائے اور وہ خیال کرے کہ اس نے کونین کھا کر ڈاکٹر پر احسان کیا ہے۔ اُس سے زیادہ احمق اَور کون ہو گا۔علاج خواہ تلخ ہی کیوں نہ ہو وہ بہرحال معالج کا مریض پر احسان ہے۔ اِسی طرح نماز کے لیے خواہ ہمیں سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا پڑے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے۔ کیونکہ اِس سے روحانی زہروں کو دور کر کے خداتعالیٰ کو دیکھنے کی قابلیت پیدا ہوتی ہے۔ اِسی طرح رمضان میں جب کوئی بھوکا رہتا ہے تو وہ خداتعالیٰ پر احسان نہیں کرتا بلکہ یہ خداتعالیٰ کا احسان ہوتا ہے کہ اُس نے اسے روحانی گندوں کے دور کرنے کا موقع بہم پہنچایا۔ کیا ڈاکٹر مریض کو بھوکا نہیں رکھتے؟ جب کسی شخص کا جگر خراب ہو جاتا ہے یا معدہ اور انتڑیاں خراب ہو جاتی ہیں تو ڈاکٹر اسے آٹھ آٹھ، دس دس دن کا فاقہ دیتے ہیں لیکن کوئی شخص نہیں کہتا کہ فاقہ دے کر ڈاکٹر نے مریض پر ظلم کیاہے۔ بلکہ وہ ڈاکٹر کا احسان تسلیم کرتا ہے کیونکہ فاقہ کے ذریعہ اُس کی باقی زندگی بچ جاتی ہے۔ اگر اُسے فاقہ نہ دیا جاتا تو اُس کی بیس بائیس سال کی باقی زندگی ختم ہو جاتی۔ اِسی طرح رمضان کے روزے ایک انسان کی باقی روحانی زندگی کو قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ اگر کوئی شخص ان فاقوں کو برداشت نہیں کرے گا تو اُس کی روحانیت مر جائے گی اور اس کے نتائج ظاہر ہی ہیں۔ اِس دنیا کی زندگی تو عارضی ہے اصل اور دائمی زندگی اگلے جہان کی ہے۔ اگر وہ برباد ہوگئی تو کیا فائدہ؟ پس اِس مہینہ کی قدر کرنی چاہیے اور اِن دنوں کو صحیح طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ جتنا ہم ان دنوں کو صحیح طور پر استعمال کریں گے اُتنے ہی ہمارے وہ زہر دور ہوں گے جو اندر ہی اندر جمع ہو کر ہماری روحانی زندگی کو ختم کر دیتے ہیں‘‘۔ (الفضل 11؍اپریل 1957ء )
    1
    :
    مُلَیِّنْ:قبض کشا دوا (اقرب الموارد الجزء الثانی صفحہ 1177۔ زیر لفظ ’’ لین‘‘ مطبوعہ ایران 1403ھ)



    خداتعالیٰ رمضان المبارک میں
    مومنوں کی دعائیں زیادہ سنتا ہے
    (فرمودہ 8 جولائی 1949ء )
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’پچھلے جمعہ میں مَیں نے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ انہیں رمضان کے مہینہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا چاہیے اور جن کو خداتعالیٰ توفیق دے انہیں روزے رکھنے چاہییں روزے چھوڑنے نہیں چاہییں۔ رمضان کے مہینہ کی خصوصیتوں میں سے ایک اہم خصوصیت خداتعالیٰ نے قبولیت ِدعا بیان فرمائی ہے۔ جو لوگ دعاؤں کے قائل ہیں وہ تو دعا کرتے ہی رہتے ہیں لیکن ایسے لوگ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ ہوتے ہیں جو رسمی اور نسلی ایمان کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ چونکہ وہ اپنے بزرگوں سے سنتے چلے آتے ہیں کہ دعائیں کرنی چاہییں یا ان کے ماں باپ دعائیں کیا کرتے تھے اس لیے وہ بھی دیکھا دیکھی دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسی دعا کی حیثیت کھجلی سے زیادہ نہیں ہوتی۔ جس طرح خارش ہوتی ہے اور انسان کھجلانے لگ جاتا ہے اس کے سامنے کوئی مقصد نہیں ہوتا یونہی ایک اندرونی مجبوری پیدا ہو جاتی ہے اور اسے خواہش محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسے کھجلانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اِسی طرح رسمی اور نسلی ایمان والوں کا حال ہوتا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنے ماں باپ اور دوسرے بزرگوں کو دعائیں کرتے دیکھا ہوتا ہے اس لیے وہ بھی دیکھا دیکھی دعا کرنے لگ جاتے ہیں۔ نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ دعا کیا ہے اور نہ ہی انہیں قبولیتِ دعا پر یقین ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی ایسا شخص قبولیتِ دعا پر یقین بھی رکھتا ہے تو اس کا ایمان محض جہلاء کا سا ہوتا ہے۔ اُس پر ذرا سی جرح یا اعتراض بھی کیا جائے تو وہ فوراً کہہ دیتا ہے کہ یہ میری غلطی تھی۔
    دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو سمجھ بوجھ کر دعا کرتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ خداتعالیٰ دعاؤں کو قبول کیا کرتا ہے لیکن انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ دعا چند شرائط کے ساتھ قبول ہوتی ہے۔ نہ ہر دعا قبول ہوتی ہے اور نہ ہر امر کے لیے دعا قبول ہوتی ہے۔ دعا صرف انہی امور کے متعلق قبول ہوتی ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بیان فرما دیا ہے کہ وہ دعا کی حد میں آتے ہیں اور جو امور دعاکی حد سے باہر ہوتے ہیں ان کے متعلق دعا کرنے سے کچھ اثر نہیں ہوتا۔ دعا کے متعلق ایک پنجابی بزرگ نے کہا ہے کہ ’’جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جائے‘‘یعنی دعا کرنا موت کے برابر ہے۔ جب تک کوئی انسان دعا میں موت قبول نہیں کرتااُس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگوں کی دعا ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ہم بچپن میں آنکھ مچولی کھیلا کرتے تھے۔ ایک لڑکے کی آنکھیں کپڑے سے باندھ دی جاتی تھیں اور جب وہ دوسروں کی تلاش میں جاتا تھا تو جو اسے ہاتھ لگا دیتا تھا یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ بچ گیا ہے یااَور زیادہ چھوٹی عمر کے بچے بجائے ہاتھ لگانے کے اُس پر تھوکا کرتے تھے۔ اِسی طرح بہت سے دعاکرنے والے خداتعالیٰ کی درگاہ میں تھوک کر آجاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی دعا قبول ہوگئی۔
    حالانکہ قبولیتِ دعا کے لیے ضرور ی ہے کہ دعا کرنے والے کو قبولیتِ دعا پر یقین ہو اور وہ یہ ایمان رکھتا ہو کہ خداتعالیٰ اس کی دعا سنے گا اور پھر وہ انہی امور کے متعلق دعا کرے جو خداتعالیٰ نے پہلے سے بیان فرما دیئے ہیں کہ ان کے متعلق دعا سُنی جائے گی۔دوسرے دعا اس طریق پر کی جائے جو خداتعالیٰ نے مقررفرمایا ہے۔ تیسرے دعا کرنے والے کو صرف قبولیتِ دعا پر ہی یقین نہ ہو بلکہ فیضانِ الٰہی پر اِتنایقین ہو کہ وہ سمجھتا ہو کہ خداتعالیٰ اسے کبھی بھی خالی ہاتھ واپس نہیں کرے گا۔ بیشک ایک شخص کو یہ یقین تو ہو سکتا ہے کہ خداتعالیٰ حضرت۔موسٰی علیہ السلام کی دعائیں سُنا کرتا تھا، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی دعائیں سنا کرتا تھایا رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم کی دعائیں سنا کرتا تھایا حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کی دعائیں سنا کرتا تھا مگر اِتنا یقین اسے قبولیتِ دعا کا حقدار نہیں بنا دیتا ۔ قبولیتِ دعا کا حقدار وہ اُسی وقت ہو گا جب اسے اپنے متعلق بھی یقین ہو کہ خداتعالیٰ اس کی دعاؤں کو سنے گا۔ اور یہ یقین تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب اس کا خداتعالیٰ سے صرف دماغی تعلق نہ ہو بلکہ محبت کا تعلق ہو اور وہ محسوس کرتا ہو کہ وہ خداتعالیٰ سے پیار رکھتا ہے۔ جب وہ یہ محسوس کرے گا کہ وہ خداتعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ خداتعالیٰ اس سے محبت نہ کرے۔ دماغی طور پر محبت کا تعلق تو اپنے افسر سے بھی ہو سکتا ہے، اپنے محکمہ سے بھی ہو سکتا ہے، اپنی گورنمنٹ سے بھی ہو سکتا ہے، اپنے محلہ والوں سے بھی ہو سکتا ہے لیکن ان کے ذکر پر انسان کے اندر فدائیت پیدا نہیں ہوتی، اس کے اندر ان سے ملنے کی رغبت پیدا نہیں ہوتی، اس کے قلب میں رِقّت پیدا نہیں ہوتی لیکن وہی شخص جب اپنی بیوی کا خیال کرتا ہے یا اپنی بہن کا خیال کرتا ہے تو اس کے جذبات ویسے نہیں ہوتے جیسا کہ بازار والوں یا محلہ والوں کا خیال کرنے پر ہوتے ہیں۔ مثلاً جب وہ سوچتا ہے کہ فلاں دکان پر مٹھائی اچھی ہوتی ہے یا فلاں دکان پر میوے اچھے ہوتے ہیں تو اس کے اندر وہ جذبات پیدا نہیں ہوتے جو اُس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اُسے کوئی شخص یہ پیغام دیتا ہے کہ رستہ میں اسے اس کی ماں ملی تھی اور وہ اسے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتی تھی یا اس کی بیٹی آئی تھی اور کہتی تھی میرے ابّا۔جان کو میرا سلام کہہ دینا ۔وہ جذبات اَور ہوتے ہیں اور یہ جذبات اَور ہوتے ہیں۔ دونوں میں زمین۔و۔آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ حلوائی کا خیال کر کے نہ اُسے رونا آتا ہے اور نہ اُسے ہنسی آتی ہے لیکن ماں یا بیٹی یا بیوی کا خیال آنے پر اُس کے اندر صرف محبت کے جذبات ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ رِقّت کی وجہ سے وہ بول بھی نہیں سکتا۔ مثلاً اگر وہ یہ خبر سُنے کہ اُس کی ماں یا بیٹی یا بیوی موت کے قریب ہے اور وہ اسے سلام کہتی ہے تو وہ رِقّت کی وجہ سے رو پڑے گا۔
    پس دعا کرنے والے کے اندر خداتعالیٰ کے متعلق جب محبت کے جذبات پیدا ہوں تبھی وہ اس کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ اور اگر اس کے اندر محبت کے جذبات پیدا نہیں ہوتے تو وہ یہ یقین بھی نہیں کر سکتا کہ خداتعالیٰ اس کی دعاؤں کو سنے گا اور اس کی مدد کو پہنچے گا۔ بچوں کو دیکھ لو انہیں بہتیرا کہو کہ میں تمہاری ماں سے تمہیں پٹواؤں گا تو وہ یہی کہتے چلے جائیں گے کہ وہ ہمیں نہیں مارے گی۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ بچہ اپنی ماں کے متعلق محبت کے جذبات رکھتا ہے خواہ وہ مار کے قابل ہی ہو تب بھی وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ اسے نہیں مارے گی۔ اسی طرح اگر تمہیں اللہ تعالیٰ سے اُتنی محبت ہو جاتی ہے کہ تم یقین رکھتے ہو کہ اگر تم سزا کے بھی قابل ہو تو وہ تمہیں سزا نہیں دے گا بلکہ تم سے پیار کرے گا تو یہی وہ مقام ہے جہاں سے قبولیتِ دعا شروع ہوتی ہے۔
    خداتعالیٰ نے رمضان کے متعلق وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس مہینہ میں مومنوں کی دعائیں زیادہ سُنتا ہے مگر وہ سُنتا انہی شرطوں کے ساتھ ہے جو اس نے پہلے سے بیان فرما دی ہیں۔ یعنی انسان کو قبولیتِ دعا اور خداتعالیٰ کی قدرتوں پر یقین ہو اور دعا انہی امور کے متعلق کی جائے جو دعا کی حد میں آتے ہیں اور دعا اتنی کی جائے جتنی شرائط کے مطابق ہو۔ پھر ساتھ ہی دعا کرنے والے کو خداتعالیٰ سے محبت ہو اور وہ یہ یقین رکھتا ہو کہ خداتعالیٰ صرف حضرت موسٰی علیہ السلام یا حضرت عیسٰی علیہ السلام یا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہی خدا نہیں تھا بلکہ میرا بھی خدا ہے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس کے ماتحت حضرت احمد صاحب سرہندیؒ نے یہ کہہ دیا تھا ؎
    پنجہ در پنجۂ خدا دارم
    من چہ پر وائے مصطفٰی دارم
    اس سے آپ کی یہی مراد تھی کہ خداتعالیٰ سے میرا ذاتی تعلق ہے اور وہ براہِ راست مجھ سے پیار کرتا ہے۔ جیسے ایک عورت خاوند سے بھی محبت کرتی ہے اور اپنے بیٹے سے بھی محبت کرتی ہے۔ مگرماں کی محبت میں بیٹا باپ کا محتاج نہیں ہوتا اُسے اپنی ماں سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔ اور ماں بھی اپنے خاوند کا خیال کیے بغیر اس سے محبت کرتی ہے۔ گویا جب وہ خاوند کا خیال کرے گی اس سے بھی محبت کرے گی اور جب بیٹے کا خیال کرے گی اس سے بھی محبت کرے گی۔
    اولیاء اللہ نے لکھا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب مُرید اپنے پیر سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ مُراد نہیں کہ تابع اپنے متبوع سے آزاد ہو جاتا ہے بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ انسان محبت کرتے کرتے ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کا خداتعالیٰ سے براہِ راست تعلق ہو جاتا ہے۔وہ ہوتا اپنے پیر اور متبوع کے ماتحت ہی ہے اور وہ ان کا فرمانبردار ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کی نافرمانی کرے گا تو خداتعالیٰ اسے اپنی درگاہ سے باہر نکال دے گا لیکن خداتعالیٰ اس سے بھی براہِ راست محبت کے تعلقات رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جو قبولیتِ دعا کو یقینی بنا دیتا ہے۔
    ہماری جماعت نے خداتعالیٰ کے جو نشانات دیکھے ہیں اور جو سامان قبولیتِ دعا کے اسے میسر ہیں وہ دوسروں کو نصیب نہیں۔ ایک احمدی جس نے سلسلہ کے لٹریچر کا معمولی مطالعہ بھی کیا ہو وہ قبولیتِ دعا کے متعلق وہ کچھ جانتا ہے جو دوسرے مسلمانوں میں سے ایک بڑا صوفی بھی نہیں جانتا۔
    پس خداتعالیٰ نے ہمیں سامان بہم پہنچا دیئے ہیں مگر ان سے فائدہ اُٹھانا ہر شخص کا اپنا کام ہے۔ دوستوں کو چاہیے کہ وہ رمضان کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں، احمدیت کی ترقی کے لیے دعائیں کریں، اپنے روحانی درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کریں، سلسلہ کا کام کرنے والوں کے لیے دعائیں کریں کہ خداتعالیٰ ان کے اندر نیکی اور تقوٰی پیدا کرے اور جو غفلت اور سُستی ان کے اندر پائی جاتی ہے وہ دُور کرے۔ پھر ہمیں یہ بھی دعائیں کرنی چاہییں کہ خداتعالیٰ لوگوں کے دلوں کو کھولے اور وہ احمدیت کو قبول کریں۔ غرض ہمیں ان تمام امور کے لیے دعائیں کرنی چاہییں جن کے ساتھ ہماری جماعت کی ترقی وابستہ ہے تاکہ جب یہ دن گزر جائیں تو ہمارا مقام پہلے سے زیادہ بلند ہو‘‘۔ (الفضل 11؍اپریل 1957ء )


    اللہ تعالیٰ جن لوگوں کے سپرد خدمتِ دین کرتا ہے
    وہی اس کام کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہوتے ہیں
    ہمارے جدید مرکز ربوہ کے قیام کا سہرا یقیناً نواب محمد الدین صاحب کے سر ہے
    (فرمودہ 15جولائی 1949ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’یہ ایک عام اور مشہور بات ہے کہ ہر موقع کے لیے اُس کے مناسبِ حال ایک خاص بات ہوتی ہے اور ہر زمانہ کے لیے ایک خاص آدمی ہوتا ہے۔ جہاں یہ بات بڑے بڑے امور کے متعلق صحیح ہے وہاں ان سے اتر کر دوسرے اور تیسرے درجہ کے امور کے متعلق بھی صحیح ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام جب دنیا میں آئے تو جو کام اُس وقت اُن کے سپرد کیا گیا تھا وہ حضرت۔نوح علیہ۔السلام کاہی حصہ تھا کوئی دوسرا آدمی وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت میں جو کام حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا وہ آپ کا ہی حق تھا اور کوئی دوسرا آدمی وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ اسی طرح حضرت موسٰی علیہ السلام، حضرت عیسٰی علیہ السلام یا ہندوستان میں حضرت کرشن، حضرت رام چندر اور حضرت بُدھ علیہم السلام یاایران میں حضرت زرتشت علیہ السلام وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں عظیم الشان تغیرپیداکیا اور یہی نہیں کہ انہوں نے ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اُس زمانہ کے لحاظ سے وہی لوگ اس کام کے مناسب تھے۔ ان کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آیا تو اپنے زمانہ میں آپ ہی مفوضہ فرائض کو سرانجام دینے کے لیے سب سے زیادہ مناسب تھے کوئی دوسرا آدمی وہ کام نہیں کر سکتا تھا جو آپ نے کیا۔ چنانچہ جہاں ہم رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی اس حدیث کے کہ لَوْ کَانَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اتِّبَاعِیْ۔1 اگر موسٰیؑ اور عیسٰیؑ زندہ ہوتے تو انہیں میری اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا یہ معنے کرتے ہیں کہ درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت اُس زمانہ سے شروع نہیں ہوئی جب آپ پیداہوئے بلکہ آپ کی ختمِ نبوت حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے شروع ہے اور آپ کے ہی مختلف کاموں کے ٹکڑے تھے جوگزشتہ انبیاء پر بطور ارہاص تقسیم کر دیئے گئے تھے۔ گویا پہلے انبیاء ایک ایسی بنیاد قائم کرنے کے لیے آئے تھے جس پر محمدی عمارت قائم ہو سکے۔ جب گزشتہ انبیاء آپؐ کی ختمِ نبوت کو نہیں توڑتے باوجود اس کے کہ آپ ان سے بھی پہلے زمانہ سے خاتم النبیین ہیں اور آپ کے ہی کام کے ٹکڑے اُن پر تقسیم کیے گئے تھے۔ تو ایسے نبی کے متعلق جو ظاہر طور پر بھی آپؐ کے اتباع میں سے ہو یہ کہنا کہ وہ آپ کی ختمِ نبوت کو توڑتا ہے غلط ہے وہاں اس حدیث کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ آپؐ نے فرمایا اُس زمانہ کا کام میرے ہی ہاتھ سے ہو سکتا تھا کوئی دوسرا آدمی یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ اگر موسٰیؑ اور عیسٰیؑ بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی اس کام کو نہ کرسکتے اور انہیں میرا مددگار بن کرکام کرنے کے سوااَور کوئی چارہ نظر نہ آتا۔ بیشک اُس وقت موسوی کام بھی جاری تھا۔ چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے آئے تھے اور بنی اسرائیل آپ کے زمانے میں موجود تھے۔ بیشک اس وقت عیسوی کام بھی جاری تھا۔ چنانچہ حضرت عیسٰی علیہ السلام یہود کی اصلاح کے لیے آئے تھے اور وہ اس وقت موجود تھے۔ مگر باوجود اِس بات کے اُس زمانہ میں اگر حضرت۔عیسٰی علیہ۔السلام ہوتے یا حضرت موسٰی علیہ السلام ہوتے تب بھی جو فضل اُس وقت آپؐ پر ہو رہا تھا اُن پر نہ ہوتا ۔ اور اس زمانہ میں موسٰی اور عیسٰی علیہماالسلام کی قوموں کی اصلاح کا کام بھی آپؐ کے ہاتھوں سے ہی سرانجام پاتا۔ بیشک وہ دونوں اپنے اپنے وقت کے عظیم الشان نبی تھے اور اپنی قوموں کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور ان کی قومیں آپؐ کے زمانہ میں موجود تھیں۔ لیکن جوکام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہوا وہ اس زمانہ میں نہ حضرت موسٰی علیہ السلام کر سکتے تھے اورنہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کر سکتے تھے۔ یہ ایک بڑا وسیع اور اہم مضمون ہے جس کو اگر بیان کیا جائے توایک کتاب بن سکتی ہے۔
    پھر یہ بات انبیاء سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ان سے اُتر کر بھی اپنے اپنے زمانہ میں ایسے لوگ ملتے ہیں کہ جو کام انہوں نے اُس وقت کیا وہ ان کا غیر نہیں کر سکتا تھا۔ مثلاً حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہی لے لو۔ حضر ت ابوبکرؓ کے متعلق کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتاتھا کہ آپ بھی کسی وقت اپنی قوم کی قیادت کریں گے۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ آپ کمزور طبیعت،صُلح کل اور نرم دل واقع ہوئے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی جنگوں کو دیکھ لو آپؐ نے کسی بڑی جنگ میں بھی حضرت ابوبکرؓ کو فوج کا کمانڈر نہیں بنایا۔ بیشک بعض چھوٹے چھوٹے غزوات ایسے ہیں جن میں آپ کو افسر بنا کر بھیجا گیا مگر بڑی جنگوں میں ہمیشہ دوسرے لوگوں کو ہی کمانڈر بنا کر بھیجا جاتا تھا۔ اسی طرح دوسرے کاموں میں بھی آپ کو انچارج نہیں بنایا جاتا تھا۔ باقی قرآن کریم کی تعلیم ہے یا قضاء وغیرہ کا کام ہے یہ بھی آپ کے سپرد نہیں کیا گیا ۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ جب ابوبکرؓ کا وقت آئے گا تو جو کام ابوبکرؓ کر لے گا وہ اس کا غیر نہیں کرسکے گا۔ چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور مسلمانوں میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ کون خلیفہ ہو اُس وقت حضرت ابوبکرؓ کے ذہن میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آپ خلیفہ ہوں گے۔ آپ سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ وغیرہ ہی اس کے اہل ہوسکتے ہیں۔ انصار میں جوش پیدا ہوا اور انہوں نے چاہا کہ خلافت انہی میں ہو کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اسلام کی خاطر قربانیاں کی ہیں اور اب خلافت کا حق ہمارا ہے اور ادھر مہاجرین کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ایک جھگڑا برپا ہو گیا۔ انصار کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو اور مہاجرین کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو۔آخر انصار کی طرف سے جھگڑا اس بات پر ختم ہوا کہ ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہو اور ایک خلیفہ انصار میں سے ہو۔ اس جھگڑے کو دور کرنے کے لیے ایک میٹنگ بُلائی گئی۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں اُس وقت میں نے سمجھا کہ حضرت ابوبکرؓ بیشک نیک اور بزرگ ہیں لیکن اس گتھی کو سلجھانا ان کا کام نہیں۔ اس گتھی کو اگر کوئی سلجھا سکتا ہے تو وہ میں ہی ہوں۔ یہاں طاقت کا کام ہے نرمی اور محبت کا کام نہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں میں نے سوچ سوچ کر ایسے دلائل نکالنے شروع کیے جن سے یہ ثابت ہو کہ خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیے اور یہ کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے یہ بالکل غلط ہے۔ آپ فرماتے ہیں میں نے بہت سے دلائل سوچے اور پھر اُس مجلس میں گیا جو اس جھگڑے کو نپٹانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ بھی میرے ساتھ تھے۔ میں نے چاہا کہ تقریر کروں اور ان دلائل سے جو میں سوچ کر گیا تھا لوگوں کو قائل کروں۔ میں سمجھتا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ اس شوکت اور دبدبہ کے مالک نہیں کہ اس مجلس میں بول سکیں۔ لیکن میں کھڑا ہونے ہی لگا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ نے غصہ سے ہاتھ مار کر مجھ سے کہا بیٹھ جاؤ اور خود کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دی۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں خدا کی قسم! جتنی دلیلیں میں نے سوچی تھیں وہ سب کی سب حضرت ابوبکرؓ نے بیان کر دیں اور پھر اَور بھی کئی دلائل بیان کرتے چلے گئے اور بیان کرتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ انصار کے دل مطمئن ہوگئے اور انہوں نے خلافتِ مہاجرین کے اصول کو تسلیم کر لیا۔2
    یہ وہی ابوبکرؓ تھا جس کے متعلق حضرت عمرؓ خود بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ کسی جھگڑے پر بازار میں آپ کے کپڑے پھاڑ دیئے اور مارنے پر تیار ہو گئے تھے، یہ وہی ابوبکرؓ تھا جس کے متعلق رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ کا دل رقیق ہے مگر جب رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو وفات سے قبل آپ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا عائشہ! میرے دل میں باربار یہ خواہش اُٹھتی ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دوں کہ وہ میرے بعد حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ بنا لیں لیکن پھر رُک جاتا ہوں کیونکہ میرا دل جانتا ہے کہ میری وفات کے بعد خداتعالیٰ اور اس کے مومن بندے ابوبکرؓ کے سوا کسی اَور کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔ 3چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔ آپ رقیق القلب انسان تھے اور اتنی نرم طبیعت کے تھے کہ ایک دفعہ آپ کو مارنے کے لیے بازار میں حضرت عمرؓ آگے بڑھے اور انہوں نے آپ کے کپڑے پھاڑدیئے۔ لیکن وہی ابوبکرؓ جس کی نرمی کی یہ حالت تھی ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت عمرؓ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ تمام عرب مخالف ہو گیا ہے صرف مدینہ، مکہ اور ایک اَور چھوٹی سی بستی میں نمازباجماعت ہوتی ہے باقی لوگ نمازیں پڑھتے تو ہیں لیکن ان میں اتنا تفرقہ پیدا ہو چکا ہیکہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے تیار نہیں اور اختلاف اتنا بڑھ چکا ہے کہ وہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔ عرب کے جاہل لوگ جو پانچ پانچ، چھ چھ ماہ سے مسلمان ہوئے ہیں مطالبہ کر رہے ہیں کہ زکوٰۃ معاف کر دی جائے۔ یہ لوگ زکوٰۃ کے مسئلہ کو سمجھتے تو ہیں نہیں۔ اگر ایک دو سال کے لیے انہیں زکوٰۃ معاف کر دی جائے تو کیا حرج ہے؟ گویا وہ عمرؓ جو ہر وقت تلوار ہاتھ میں لیے کھڑا رہتا تھا اورذرا سی بات بھی ہوتی تو کہتا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! حکم ہو تو اس کی گردن اُڑا دوں وہ ان لوگوں سے اتنا مرعوب ہو جاتا ہے، اتنا ڈر جاتا ہے، اتنا گھبرا جاتا ہے کہ ابوبکرؓ کے پاس آکر اُن سے درخواست کرتا ہے کہ ان جاہل لوگوں کو کچھ عرصہ کے لیے زکوٰۃ معاف کر دی جائے ہم آہستہ آہستہ انہیں سمجھا لیں گے۔ مگر وہ ابوبکرؓ جو اِتنا رقیق القلب تھا کہ حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں ایک دفعہ انہیں مارنے کے لیے تیار ہو گیا تھا اوربازار میں ان کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے اُس نے اُس وقت نہایت غصے سے عمرؓ کی طرف دیکھا اور کہا عمر! تم اُس چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو خدا اور اس کے رسول نے نہیں کی۔ حضرت عمرؓ نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن یہ لوگ حدیثُ الْعَہْد ہیں، دشمن کا لشکر مدینہ کی دیواروں کے پاس پہنچ چکا ہے کیا یہ اچھا ہو گا کہ یہ لوگ بڑھتے چلے آئیں اور ملک میں پھر طوائف الملوکی کی حالت پیدا ہو جائے یا یہ مناسب ہوگا کہ انہیں ایک دو سال کے لیے زکوٰۃ معاف کر دی جائے؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا خدا کی قسم! اگر دشمن مدینہ کے اندر گُھس آئے اور اس کی گلیوں میں مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دے اور عورتوں کی لاشوں کو کُتّے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں انہیں زکوٰۃ معاف نہیں کروں گا۔ خدا کی قسم! اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں یہ لوگ رسّی کا ایک ٹکڑا بھی بطور زکوٰۃ دیتے تھے تو میں وہ بھی ان سے ضرور وصول کروں گا۔4 پھر آپ نے فرمایا عمر! اگر تم لوگ ڈرتے ہو تو بیشک چلے جاؤ میں اکیلا ہی ان لوگوں سے لڑوں گا اور اُس وقت تک نہیں رُکوں گا جب تک یہ اپنی شرارت سے باز نہیں آجاتے۔ 5چنانچہ لڑائی ہوئی اور آپ ہی فاتح ہوئے اور اپنی وفات سے پہلے پہلے آپ نے دوبارہ سارے عرب کو اپنے ماتحت کر لیا۔غرض حضرت ابوبکرؓ نے اپنی زندگی میں جو کام کیا وہ انہی کا حصہ تھا کوئی اَور شخص وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔
    مگر یہی عمرؓ جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک خطرہ کی حالت میں ڈر گئے تھے اور جنہوں نے حضرت ابوبکرؓ سے یہ درخواست کی تھی کہ لڑائی کرنے کی بجائے صلح کر لی جائے جب ان کا اپنا زمانہ آتا ہے تو جو کام انہوں نے کیا وہ انہی کا حصہ تھا۔ ان کا غیر وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ وہی ارتداد کے فتنہ سے ڈر جانے والا عمرؓ جب خلافت کے مَسند پر آتا ہے اُس وقت دنیا میں دو بڑی سلطنتیں تھیں۔ آدھی دنیا پر ایران قابض تھا اور آدھی دنیا پر روم کی سلطنت تھی۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وآلہٖ وسلم کے وقت میں لڑائیاں ہوئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں پھیل گئیں لیکن پھر بھی وہ اس شدت کو نہیں پہنچی تھیں جس شدت کو وہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں پہنچیں۔ حضرت۔عمر ؓ۔۔کو یہ خبر پہنچی کہ ایرانیوں نے مسلمانوں پرچھاپا مارا ہے۔ لوگوں نے کہا یہ وقت نازک ہے روم سے لڑائی ہو رہی ہے اور ایران کی حکومت بھی حملہ آور ہونے کی تیاریاں کر رہی ہے اِس وقت ہمیں اس جھگڑے کو نظرانداز کر دینا چاہیے۔ ایران سے لڑائی کرنے کا یہ موقع نہیں کیونکہ ایک وقت میں دنیا کی دو بڑی سلطنتوں سے لڑائی کرنا ہمارے لیے آسان نہیں ۔لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں اسلام کو ذلیل نہیں ہونے دوں گا۔ میں ایک ہی وقت میں دونوں کا مقابلہ کروں گا۔ ایران میں جسر کی خطرناک شکست کے بعد جب مسلمانوں کا سارا لشکر تہہ تیغ ہو گیا تھا اور باقی لشکر شام کی طرف گیا ہوا تھا مدینہ سے صرف تین سَوآدمی مل سکتے تھے مگرحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں ان تین سَو آدمیوں کو ساتھ لے کر ہی ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے جاؤں گا۔ مگر اُس وقت حضرت علیؓ اور دوسرے صحابہؓ کے اصرار کے بعد آپ خود جانے سے رُک گئے مگر تھوڑے سے لشکر کو ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے بھجوا دیا۔
    پھر حضرت عثمانؓ کا زمانہ آیا تو وہ بھی اپنے وقت کے بہترین انسان ثابت ہوئے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ وہ شہید ہوئے لیکن ان کی شہادت کے واقعات پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سینے میں ایک مضبوط دل تھا اور ان کے اندر وہ دلیری اور حوصلہ پایا جاتا تھا جو عام انسانی برداشت سے بالکل باہر ہے۔
    پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں جو کام کیا وہ درحقیقت حضرت علیؓ کا ہی حصہ تھا اور کوئی دوسرا شخص اس کام کو سرانجام نہیں دے سکتا تھا۔ خوارج کے فتنہ کا عملی اور علمی مقابلہ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا وہ ایک بینظیر کام ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سرداری کی اور اپنے اپنے وقت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کلّی طور پر نیابت کی۔ لیکن اس قسم کے اَور واقعات بھی کثرت سے چھوٹے صحابہؓ میں پائے جاتے ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جہاں علمِ دین کے ماہر تھے وہاںآپ کو علم النفس میں بھی کمال کی دسترس حاصل تھی۔آپ جانتے تھے کہ کس طرح قوموں کو بیدار کیا جاتا ہے اور کس طرح انہیں کارہائے نمایاں دکھانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ آپ بعض دفعہ مثلاًتلوار ہاتھ میں لے لیتے اور صحابہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کرتے یہ تلوار ہے۔ کون ہے جو اس تحفہ کا حق ادا کرے؟صحابہؓ باری باری کھڑے ہوتے اور اپنے آپ کو اس کام کے لیے پیش کرتے۔ آخرآپ ان میں سے اس شخص کو پہچان لیتے جو اس تلوار کا حق ادا کرنے والا ہوتا اور اسے وہ تلوار عنایت کر دیتے۔6 پھر وہ لوگ عجیب عجیب قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسی قربانیاں کہ ان واقعات کو پڑھ کر دل میں ایک خاص جوش پیدا ہوتا ہے اور مُردہ رگوں میں بھی زندگی کا خون دوڑنے لگتا ہے۔ پھر یہی واقعات دنیا کی عام تاریخ میں بھی ملتے ہیں۔ غرض ’’ہر کارے و ہر مردے اور ہر وقتے و ہر سخنے‘‘بڑا ہی صحیح مقولہ ہے۔خداتعالیٰ اپنی ساری برکتیں کسی ایک شخص کے لیے مخصوص نہیں کر دیتا۔ اس کی نظرِعنایت ہزاروں ہزار پر ہے۔ کسی موقع پر وہ کسی کو آگے آنے کا موقع دے دیتا ہے اور کسی وقت کسی کو آگے آنے کا موقع دے دیتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کتنی زیادہ مالی قربانی کرنے والے تھے لیکن ایک دفعہ جب رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کو ایک جنگ کی تیاری کے لیے روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور آپؐ نے فرمایا کہ کوئی ہے جو اپنے مال سے جنت خریدنا چاہے تو خداتعالیٰ نے حضرت۔عثمان رضی۔اللہ۔عنہ کو موقع دے دیا اور آپ نے اپنا اکثر مال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ وہ مال کوئی بارہ ہزار دینار کے قریب تھا جو آجکل کے لاکھوں روپے کے برابر ہے۔7 غرض ہر وقت اور ہر زمانہ کے لیے کوئی نہ کوئی ایسا مخصوص شخص ہوتا ہے جسے خداتعالیٰ کی طرف سے ایسی برکات حاصل ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنے زمانہ کے لیے بطور یادگار بن جاتا ہے۔
    اِس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے۔آپ کے ماننے والوں میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے دین کی خاص خدمت کی اور اس کی خاطر وہ وہ قربانیاں کیں جنہیں دیکھ کر ہماری قوم تاقیامت زندہ رہ سکتی ہے۔ کوئی شخص جب سیدعبداللطیف صاحب شہید کی قربانیوں کو دیکھے گا تو وہ کہے گا میں بھی عبداللطیف شہید بنوں گا۔ کوئی حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے واقعاتِ زندگی کو دیکھے گا تو اس کے اندر آپ جیساانسان بننے کی خواہش موجزن ہوگی۔ کوئی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے حالات کو پڑھے گا تو وہ ان جیسا بننے کی کوشش کرے گا۔ کوئی مولوی برہان الدین صاحب اور مولوی محمد عبداللہ صاحب سنوری کے واقعات پڑے گا تو کہے گا کہ کاش!وہ بھی ان جیسا بن جائے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ بعض لوگوں نے بعد میں ٹھوکریں بھی کھائیں لیکن ہم ان کی قربانیوں اور اُن کے بے مثال کارناموں کو بھول نہیں سکتے۔ خداتعالیٰ جیسا چاہے ان سے معاملہ کرے۔ ہمارا کام یہی ہے کہ ان کی قربانیوں کو نہ بھولیں۔شیخ رحمت اللہ صاحب نے بیشک بعدمیں ٹھوکر کھائی اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد پیغامی ہو گئے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی دینی خدمات اور قربانیوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان سے خاص محبت تھی۔ میں نے کئی دفعہ رؤیا میں حضرت۔مسیح۔موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا کہ وہ دوسرے لوگوں کی طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہیں لیکن شیخ۔رحمت اللہ صاحب کی طرف کنکھیوں سے محبت سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے متعلق میں نے بھی ایک رؤیا دیکھا تھاجواس بات پر دلالت کرتا تھا کہ وہ ٹھوکر کھائیں گے۔ پس گو انہیں بعد میں ٹھوکر لگی لیکن اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ انہوں نے اپنے وقت میں دین کی خاطر قربانیاں کی ہیں۔ ان سے پہلے سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی نے قربانی کا بے نظیر نمونہ دکھایا۔ اسی طرح حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کے ماننے والوں میں سے کئی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں دین کے لیے عظیم الشان قربانیاں کیں۔ بعد میں آنے والے جب بھی ان کے واقعات پڑھیں گے اوردیکھیں گے کہ انہوں نے دین کی خاطر بے مثال خدمتیں کی ہیں اور خداتعالیٰ کا خاص فضل ان پر نازل ہوا ہے تو ان میں بھی ان کی نقل کرنے کی خواہش پیدا ہوگی۔
    پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا زمانہ آیا۔ وہ زمانہ زیادہ تر ارہاص یعنی خلافت کے قیام کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں کوئی ایسا ٹھوس کام جو جماعت کی تبلیغی ترقی کے ساتھ وابستہ ہوتا نہیں ہوا بلکہ سارا وقت اندرونی لڑائیوں اور آپس کے جھگڑوں میں ہی گزر گیا۔ مگر بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اُس زمانہ میں بھی جماعت نے ترقی کی اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی اور خصوصاً ہائی ا سکول کی تعمیر ایک نمایاں کام تھا۔ اُس زمانہ میں زیادہ تر اندرونی فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مجھے ہی جنگ کرنی پڑی اور اسی وجہ سے مخالفین اور فتنہ پرداز لوگوں کے اُن حملوں کا جو حضرت خلیفۃ۔المسیح۔الاول اور ان کی تائید کرنے والے لوگوں پر کیے گئے زیادہ تر میں ہی ہدف رہتا تھا۔
    پھر میرا زمانہ آیا جس میں عام طور پر غیروں نے سمجھ لیا کہ اب یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ سب کام ایک بچے کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ سلسلہ کے سپرد فتحِ دنیاکا کام ہے اور کام ایک غیرتعلیم یافتہ اور ناتجربہ کار بچہ کے سپرد ہوگیا ہے جس نے بڑے بڑے کام نہیں کیے۔ میں بتاچکاہوں کہ حضرت۔خلیفۃ۔المسیح۔الاول کا زمانہ زیادہ تر خلافت کے قیام کا زمانہ تھا لیکن اب خلافت کے کام کا زمانہ شروع ہو رہا تھا۔ اس زمانہ میں خلافت کی بنیادوں پر عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اور مختلف لوگوں کو مختلف رنگوں میں خدمتِ دین کا موقع ملا۔ ابتدائی زمانہ میں میں سمجھتا ہوں کہ جو کام حضرت حافظ۔روشن۔علی۔صاحب کو کرنے کا موقع ملا ہے وہ کسی اَور کو نہیں ملا۔ وہ صفِ اول کے جرنیل تھے۔ انہوں نے مخالفینِ خلافت سے متواتر مباحثات کیے اور ان پر خلافت کی ضرورت اور اہمیت واضح کی۔ دنیوی لحاظ سے چودھری ظفراللہ خان صاحب کو بہت سے کاموں کے کرنے کا موقع ملا۔ وہ زیادہ تر قادیان میں نہیں رہے لیکن پھر بھی انہیں توفیق ملی اور دین کی اشاعت میں لگے رہے۔ انہوں نے میرے مختلف مضامین اور کتب کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ سلسلہ کے مقدمات مفت کیے۔ سلسلہ کے کاموں کے لیے افسروں اور دیگر عظماء سے ملتے رہے اور اس طرح اشاعتِ سلسلہ میں نمایاں حصہ لیا۔ درمیان میں کئی اَور بھی فتنے اُٹھے۔ کسی میں میر محمد اسحاق صاحب کو کام کرنے کا موقع ملا اور کسی میں مفتی محمد صادق صاحب کو۔ امریکہ میں جماعت احمدیہ کا مشن مفتی۔محمد۔صادق۔صاحب نے قائم کیا۔ انگلستان میں یہ کام چودھری فتح محمد صاحب نے کیا اور مغربی افریقہ میں مشن قائم کرنے کا سہرا مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کے سر رہا۔ یہ لوگ صرف مبلغ نہیں تھے بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہیں غیرمعمولی حالات میں کام کرنا پڑا۔ خصوصاً انگلستان اور امریکہ میں نہایت نامساعد حالات تھے۔ جب چودھری فتح محمد صاحب انگلستان تشریف لے گئے اُس وقت خواجہ کمال الدین صاحب وہاں چھائے ہوئے تھے اور ان کے سامنے چودھری صاحب کی مثال درخت کے نیچے پدبھیڑے8 کی سی تھی لیکن ان حالات کے باوجود چودھری صاحب نے اَنتھک محنت کے بعد وہاں مشن قائم کیا اور ایسے طور پر کیا کہ ہمیں احساس ہو گیا کہ اسے آئندہ بھی جاری رکھنا چاہیے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر چودھری صاحب وہاں نہ جاتے تو ہم انگلستان میں تبلیغی کام جاری نہ رکھ سکتے۔ امریکہ میں مفتی محمد صادق صاحب گئے اور انہوں نے عظیم الشان کام کیا۔امریکہ میں ہم مسجد بنانا چاہتے تو شاید آج تک بھی نہ بنا سکتے۔ مفتی صاحب نے وہاں خود ہی ایک مکان۔بے۔پوچھے لے لیا اور اس کا نام مسجد رکھ دیا اور پھر ہمیں لکھ دیا کہ میں نے اِس اِس طرح کیا۔ہے۔۔اس کے بعد ہم اس کو قائم رکھنے کے لیے مجبور ہو گئے۔ اِسی طرح شام میں مولوی۔جلال۔الدین۔صاحب شمس نے کام کیا ہے اور پھر انہوں نے فلسطین میں بھی جماعت کو قائم کیا ۔یا پھر دوبارہ چودھری۔فتح محمد صاحب کو فتنۂ۔ ارتداد کے وقت ملکانہ میں کام کرنا پڑا۔ پیغامی۔فتنہ کے وقت صدرانجمن۔احمدیہ کی مضبوطی کا کام کرنے کا موقع چودھری نصراللہ خاں صاحب مرحوم کو ملا۔ غرض متفرق اوقات میں متفرق کام نکلتے ہیں جو چند مخصوص آدمی کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی اَور آدمی وہ کام نہیں کر سکتا۔
    جماعتی طور پر ہم پر ایک بہت بڑا ابتلاء 1947ء میں آیا اور الٰہی تقدیر کے ماتحت ہمیں قادیان چھوڑنا پڑا۔ شروع میں مَیں سمجھتا تھا کہ جماعت کا جرنیل ہونے کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ قادیان میں لڑتا ہوا مارا جاؤں ورنہ جماعت میں بزدلی پھیل جائے گی۔ اور اس کے متعلق میں نے باہر کی جماعتوں کو چِٹھیاں بھی لکھ دی تھیں لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے مجھ پر یہ امر منکشف ہوا کہ ہمارے لیے ایک ہجرت مقدر ہے اور ہجرت ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔ ویسے تو لوگ اپنی جگہیں بدلتے ہی رہتے ہیں مگر اُسے کوئی ہجرت نہیں کہتا۔ ہجرت ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔ پس میں نے سمجھا کہ خداتعالیٰ کی مصلحت یہی ہے کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے میں نے سمجھا کہ ہماری ہجرت یقینی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجھے قادیان چھوڑ دینا چاہیے تو اُس وقت لاہور فون کیا گیا کہ کسی نہ کسی طرح ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے۔ لیکن آٹھ دس دن تک کوئی جواب نہ آیا اور جواب آیا بھی تو یہ کہ حکومت کسی قسم کی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے انکار۔کرتی ہے اس لیے کوئی گاڑی نہیں مل سکتی۔ میں اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات کا مطالعہ کر رہا تھا۔ الہامات کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے ایک الہام نظر آیا ’’بعدگیارہ‘‘۔9 میں نے خیال کیا کہ گیارہ سے مراد گیارہ تاریخ ہے اور میں نے سمجھا کہ شاید ٹرانسپورٹ کا انتظام قمری گیارہ تاریخ کے بعد ہوگا مگر انتظام کرتے کرتے عیسوی ماہ کی 28تاریخ آگئی لیکن گاڑی کا کوئی انتظام نہ ہو سکا۔ 28 تاریخ کو اعلان ہو گیا کہ31؍اگست کے بعد ہرایک حکومت اپنے اپنے علاقہ کی حفاظت کی خود ذمہ دار ہوگی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انڈین یونین اب مکمل۔طور پر قادیان پر قابض ہوگئی ہے۔ میں نے اُس وقت خیال کیا کہ اگر مجھے جانا ہے تو اس کے لیے فوراً کوشش کرنی چاہیے ورنہ قادیان سے نکلنا محال ہو جائے گا اور اس کام میں کامیابی نہیں ہو سکے گی۔ ان لوگوں کے مخالفانہ ارادوں کا اس سے پتا چل سکتا ہے کہ ایک انگریز کرنل جو بٹالہ لگا ہوا تھا میرے پاس آیا اور اس نے کہا مجھے ان لوگوں کے منصوبوں کا علم ہے ۔جو کچھ یہ31؍اگست کے بعد مسلمانوں کے ساتھ کریں گے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ باتیں کرتے وقت اُس پر رِقّت طاری ہوگئی لیکن اُس نے جذبات کو دبا لیا اور منہ ایک طرف پھیر لیا۔ جب میں نے دیکھا کہ اب گاڑی وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں ہو سکتا اور میں سوچ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہام۔’’بعد۔گیارہ‘‘سے کیا مُراد ہے تو مجھے میاں بشیر احمد صاحب کا پیغام ملا کہ میجر۔جنرل۔نذیر۔احمد۔صاحب کے بھائی میجر بشیر احمد صاحب ملنے کے لیے آئے ہیں۔ دراصل یہ اُن کی غلطی تھی۔ وہ میجر بشیر احمد صاحب نہیں تھے بلکہ ان کے دوسرے بھائی کیپٹن عطاء اللہ صاحب تھے۔ جب وہ ملاقات کے لیے آئے تو میں حیران تھا کہ یہ تو میجر بشیر احمد نہیں۔ ان کے چہرے پر تو چیچک کے داغ ہیں۔ مگر چونکہ مجھے ان کا نام میجر بشیر احمد ہی بتایا گیا تھا اس لیے میں نے دورانِ گفتگو میں جب انہیں میجر کہا تو انہوں نے کہا میں میجر نہیں ہوں کیپٹن ہوں اور میرا نام بشیر احمد نہیں بلکہ عطاء اللہ ہے۔ کیپٹن عطاء اللہ صاحب کے متعلق پہلے سے میرا یہ خیال تھا کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں سے زیادہ مخلص ہیں اور میں سمجھتا تھا کہ اگر خدمت کا موقع مل سکتا ہے تو اپنے بھائیوں میں سے یہی اِس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔میں نے انہیں حالات بتائے اور کہا کہ کیا وہ سواری اور حفاظت کا کوئی انتظام کر سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں آج ہی واپس جا کر کوشش کرتا ہوں۔ ایک جیپ میجر جنرل نذیر احمد کو ملی ہوئی ہے اگر وہ مل سکی تو دو اَورکا انتظام کر کے میں آؤں گا۔ کیونکہ تین گاڑیوں کے بغیر پوری طرح حفاظت کا ذمہ نہیں لیا جاسکتا۔ کیونکہ ایک جیپ خراب بھی ہو سکتی ہے اور اُس پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ضرورت ہے کہ تین گاڑیاں ہوں تا سب خطرات کا مقابلہ کیا جاسکے۔ یہ باتیں کرکے وہ واپس لاہور گئے اور گاڑی کے لیے کوشش کی مگر میجر۔جنرل۔نذیر احمد صاحب کی جیپ انہیں نہ مل سکی۔ وہ خود کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ آخر انہوں نے نواب محمدالدین صاحب مرحوم کی کار لی اور عزیز منصور احمد کی جیپ۔ اِسی طرح بعض اَوردوستوں کی کاریں حاصل کیں اور قادیان چل پڑے۔ دوسرے دن ہم نے اپنی طرف سے ایک اَورانتظام کرنے کی بھی کوشش کی اور چاہا کہ ایک احمدی کی معرفت کچھ گاڑیاں مل جائیں۔ اُس دوست کا وعدہ تھا کہ وہ ملٹری کو ساتھ لے کر آٹھ نو بجے قادیان پہنچ جائیں گے ۔لیکن وہ نہ پہنچ سکے یہاں تک کہ دس بج گئے۔اُس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ شاید گیارہ سے مراد گیارہ بجے ہو اور یہ انتظام گیارہ بجے کے بعد ہو۔ میاں۔بشیر۔احمد۔صاحب جن کے سپرد اُن دنوں ایسے انتظام تھے اُن کے باربار پیغام آتے تھے کہ سب انتظام رہ گئے ہیں اور کسی میں بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ میں نے انہیں فون کیا کہ حضرت۔مسیح۔موعود علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کے الہام ’’بعدگیارہ‘‘سے میں سمجھتا ہوں کہ گیارہ بجے کے بعد کوئی انتظام ہو سکے گا۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ اِس سے گیارہ تاریخ مراد ہے لیکن اب میرا خیال ہے کہ شاید اس سے مراد گیارہ بجے کا وقت ہے۔ میرے لڑکے ناصر احمد نے بھی جس کے سپرد باہر کا انتظام تھا مجھے فون کیا کہ تمام انتظامات فیل ہوگئے ہیں۔ ایک بدھ فوجی افسر نے کہا تھا کہ خواہ مجھے سزا ہو جائے میں ضرور کوئی نہ کوئی انتظام کروں گا اور اپنی گارڈ ساتھ روانہ کروں گا لیکن عین وقت پر اُسے بھی کہیں اَور جگہ جانے کا آرڈر آگیا اور اُس نے کہا مَیں اب مجبور ہوں اور کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتا۔آخر گیارہ بج کر پانچ منٹ پر میں نے فون اُٹھایا اور چاہا کہ ناصر احمد کو فون کروں کہ ناصر احمد نے کہا میں فون کرنے ہی والا تھا کہ کیپٹن عطاء اللہ یہاں پہنچ چکے ہیں اور گاڑیاں بھی آگئی ہیں۔ چنانچہ ہم کیپٹن عطاء اللہ صاحب کی گاڑیوں میں قادیان سے لاہور پہنچے۔
    یہاں پہنچ کر میں نے پورے طور پر محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے۔ ہمیں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ فوراً ایک نیا مرکز بنایا جائے جہاں قادیان کے لوگوں کو آباد کیا جائے اور مرکزی دفاتر بھی بنائے جائیں۔ اس کے لیے اور میرے آئندہ پروگرام کے طے کرنے کے لیے سات ستمبر 1947ء کو ایک میٹنگ بُلائی گئی لیکن شہر کے شہر کو دوسری جگہ پر بسانا کوئی معمولی کام نہیں تھابلکہ اس کے لیے انتہائی محنت کی ضرورت تھی۔ یہ جماعت پرندوں کی تو تھی نہیں کہ ایک جگہ سے اُڑ کر دوسری جگہ پر جابیٹھتی بلکہ ایک مرکز رکھنے والی جماعت تھی۔ اسے ایک ایسے مرکز کی ضرورت تھی جہاں جماعت پھر اپنی بنیادوں پر کھڑی ہو سکے۔
    جس طرح میرے قادیان سے نکلنے کا کام کیپٹن عطاء اللہ صاحب کے ہاتھ سے سرانجام پانا تھا اِسی طرح ایک نئے مرکز کا قیام ایک دوسرے آدمی کے سپرد تھا جو پیچھے آیا اور کئی لوگوں سے آگے بڑھ گیا۔ میری مراد نواب محمدالدین صاحب مرحوم سے ہے جن کی اِسی ہفتہ میں وفات واقع ہوئی ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اُن کی خدمات کی وجہ سے ربوہ میں کوئی ایسا نشان مقرر کیا جائے جس کی وجہ سے جماعت ہمیشہ اُن کی قربانیوں کو یاد رکھے اور اس بات کو مت بُھولے کہ کس طرح ایک 80سالہ بوڑھے نے جو محنت اور جفاکشی کا عادی نہیں تھا، جو ڈپٹی کمشنر اور ریاست کا وزیر رہ چکا تھا، جو صاحبِ جائداد اور متموّل آدمی تھا 1947ء سے 1949ء کے شروع تک باوجود اِس کے کہ اُس کی طبیعت اتنی مضمحل ہو چکی تھی کہ وہ طاقت کا کوئی کام نہیں کر سکتا تھا، اپنی صحت اور اپنے آرام کو نظرانداز کرتے ہوئے رات اور دِن ایک کر دیا۔ اس لیے کہ کسی طرح جماعت کا نیا مرکز قائم ہو جائے۔ سینکڑوں دفعہ وہ افسروں سے ملے، اُن سے جھگڑے کیے، لڑائیاں کیں، منّتیں اور خوشامدیں کیں اور پھر مرکز کی تلاش کے لیے بھی پھرتے رہے۔ انہیں اس کام میں اتنا انہماک تھا کہ ایک دفعہ میں اکیلا ربوہ گیا اور انہیں اطلاع نہ دی۔ میں نے سمجھا وہ ضعیف العمر آدمی ہیں انہیں تکلیف نہ دی جائے۔ ان کو ریٹائر ہوئے بھی بائیس سال ہوچکے تھے۔ 1926ء میں مَیں جب مالیر کوٹلہ گیا تو وہ وہاں منسٹر تھے۔ جب میں واپس آیا تو انہوں نے کہا مجھے سخت افسوس ہے کہ اس دفعہ میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکا۔ مجھے بھی اطلاع دیتے تو میں ساتھ چلا جاتا۔ میں نے کہا صرف آپ کی تکلیف کے خیال سے میں نے آپ کو اطلاع نہیں بھجوائی تھی۔ انہوں نے کہا میری تو خواہش تھی کہ میں آپ کے ساتھ جاتا اور اب نہ جانے کی وجہ سے مجھے انتہائی رنج ہوا۔غرض اس کام کے لیے انہوں نے دن رات ایک کر دیا تھا اور یقینا اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی موزوں آدمی تھے۔
    ہمارے مرکز کا قائم ہونا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ بڑی اہم چیز ہے۔ اگر ہمارا نیا مرکز کامیاب ہوگا اور ہمیں یقین ہے کہ وہ کامیاب ہوگا تو یہ ایک ویسی ہی اہمیت رکھنے والی چیز ہوگی جیسے کہ دنیا کے بڑے بڑے مذہبی مرکزوں کی تعمیر اہمیت رکھتی تھی۔ مقاماتِ مرکزی کا قیام ایک بہت بڑا کام ہوتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جدید مرکز کے قیام کا سہرا یقیناً نواب محمدالدین صاحب مرحوم کے سر پر ہے اور یہ عزت اور رتبہ انہی کا حق ہے۔ جب تک یہ جماعت قائم رہے گی لوگ ان کے لیے دعا بھی کریں گے اور ان کی قربانی کو دیکھ کر نوجوانوں کے دلوں میں یہ جذبہ بھی پیدا ہو گا کہ وہ ان جیسا کام کریں۔ کُجا ایک بوڑھا بیمار اور کمزور آدمی اور کُجا اس کی یہ حالت کہ وہ دن کو بھی وہاں موجود ہے اور رات کو بھی وہیں موجود ہے اور رپورٹیں پیش کر رہا ہے کہ آج میں فلاں سے ملا تھا، آج فلاں سے ملا تھا۔ اب بھی جب وہ مری میں تھے وفات سے دس دن پہلے انہوں نے مجھے لکھا کہ اب ربوہ میں تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے اور چونکہ یہ کام نگرانی چاہتا ہے اور میری صحت ٹھیک ہوگئی ہے اس لیے میرا ارادہ ہے کہ ربوہ چلا جاؤں اور کام میں مدددوں۔ غرض ’’ہرکارے و ہر مردے‘‘سینکڑوں کام ہوتے ہیں لیکن بہت برکت والا ہوتا ہے وہ آدمی جس سے کوئی ایسا کام ہو جائے جو اپنے اندر تاریخی عظمت رکھتا ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کام کا ان کے ہاتھ سے ہونا ان کی کسی بہت بڑی نیکی کی وجہ سے تھا اور میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ پیچھے آئے مگر آگے گزر گئے۔
    بیعت سے پہلے وہ احمدیت کے قائل تو تھے۔چنانچہ جب وہ دہلی میں افسر مال لگے ہوئے تھے اور میرقاسم علی صاحب وہاں تھے تو انہوں نے اپنے لڑکے چودھری محمد شریف صاحب وکیل کی بیعت کروا دی تھی لیکن خود بیعت نہیں کرتے تھے۔ غالباً 1927ء میں انہوں نے بیعت کی ہے۔ مجھے یاد ہے جب انہوں نے بیعت کی تو ساتھ یہ درخواست کی کہ میری بیعت ابھی مخفی رہے۔ انہوں نے کہا میں ریٹائر ہو چکا ہوں اور اب ملازمتیں ریاستوں میں ہی مل سکتی ہیں اس لیے اگر میری بیعت ظاہر نہ ہو تو ملازمت حاصل کرنے میں سہولت رہے گی۔ جب وہ ہمارے سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اُس وقت وہ ریاست مالیر کوٹلہ یا جَے پور میں ملازم تھے۔ بیعت کر کے وہاں جانے کی بجائے شملہ چلے گئے۔ میںبھی چند دنوں کے لیے شملہ گیا اور انہوں نے مجھے دعوت پر بلایا اور کہا اور تو میں کوئی خدمت نہیں کر سکتا لیکن یہ تو کر سکتا ہوں کہ دعوت پر بڑے بڑے آدمیوں کو بلا لوں اور آپ کا واقف کرا دوں اور مجھے ثواب مل جائے گا۔ میں دعوت پر چلا گیا انہوں نے بڑے بڑے آدمی بُلائے ہوئے تھے۔ میں اس انتظار میں تھا کہ کوئی اعتراض کرے اور میں اس کا جواب دوں کہ وہ کھڑے ہوگئے اور حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تقریر میں انہوں نے کہا یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ امام جماعت احمدیہ یہاں تشریف لائے ہیں۔ جو شخص کسی قوم کا لیڈر ہوتا ہے ہمیں اُس کا احترام کرنا چاہیے۔وہ ہمیں دین کی باتیں سُنائیں گے خواہ ہم مانیں یا نہ مانیں ان سے ہمیں فائدہ پہنچے گا۔ اس طرح تھوڑی دیر وہ تقریر کرتے رہے۔ دوتین جملوں کے بعد وہ تقریر کرتے ہوئے یکدم جوش میں آگئے اور کہنے لگے اِس زمانہ میں ایک شخص آیا اور وہ کہتا ہے کہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں۔ اگر آپ لوگ اسے نہیں مانیں گے توآپ پر خداتعالیٰ کی طرف سے عذاب آ جائے گا۔ جب وہ تقریر کر کے بیٹھ گئے تومیں نے کہا دیکھیے! نواب صاحب! میں نے تو ظاہر نہیں کیا کہ آپ احمدی ہیں۔ آپ نے تو خود۔ہی ظاہر کر دیا ہے۔ وہ کہنے لگے مجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں نے کہا میں تو پہلے ہی سمجھتا تھا کہ سچی احمدیت چُھپی نہیں رہتی۔ آپ خواہ کتنا بھی چھپائیں یہ ظاہر ہو کر رہے گی۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ وہ چندے باقاعدگی کے ساتھ دیتے تھے مگر جماعتی کاموں میں انہوں نے چند سال پہلے تک کوئی نمایاں حصہ نہیں لیا تھا لیکن یہ موقع انہیں ایسا ملاکہ جب تک یہ مرکز قائم رہے گا ان کا نام بطور یادگار دنیا میں لیا جائے گا۔ یہ ضروری نہیں کہ قادیان کے واپس مل جانے پر اِس مرکز کی اہمیت کم ہو جائے۔ اوّل تو ہمیں ایک ہی وقت میں کئی مرکزوں کی ضرورت ہے۔ دوسرے یہ مرکز ایک پیشگوئی کے ماتحت قائم کیا جا رہا ہے اور جو مرکز پیشگوئی کے ماتحت قائم کیا جائے اُس میں اور دوسرے مرکزوںمیں بہرحال امتیاز ہوتا ہے۔ یہ مقام چونکہ اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی کے ماتحت قائم کیا جا رہا ہے۔ اِسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ خداتعالیٰ کے فرشتے اِس کی حفاظت کریں گے اور اِس کی برکتیں اس سے وابستہ رہیں گی اور یقیناً اِس مقام سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نواب صاحب مرحوم کا نام بھی قیامت تک قائم رہے گا۔
    مجھے چودھری مشتاق احمد صاحب کا انگلستان سے جو خط آیا ہے اُس میں انہوں نے میری 1944ء کی ایک خواب لکھی ہے جو یہ ہے کہ میں نے رؤیا میں اُن کی بیوی کلثوم کو دیکھا کہ وہ کہہ رہی ہے کہ بابا جی اتنے بیمار ہوئے لیکن ہمیں کسی نے اطلاع تک نہیں دی۔ چودھری صاحب لکھتے ہیں کہ بالکل ایسا ہی واقعہ اِس وقت ہوا ہے۔ ہمیں اُن کی بیماری کی اطلاع تک نہیں ملی اور اب وفات کی خبر بھی صرف آپ کی طرف سے ملی ہے۔ خاندان کے کسی اَور فرد کی طرف سے نہیں ملی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے رشتہ داروں میں سے بھی کسی کو اُن کی بیماری کی خبر نہیں ملی۔ چودھری محمد شریف صاحب وکیل نے مجھے لکھا کہ وفات سے۔پہلے۔دن شام کے وقت ڈاکٹر آیا اور اُس نے کہا کہ خطرہ کی کوئی بات نہیں۔ چودھری۔عزیز۔احمد۔صاحب جو سب جج ہیں مجھے اطلاع کا خط لکھنے لگے تو والد صاحب نے منع کر دیا اور کہا کیا ضرورت ہے؟ پس خواب میں ’’ہم ‘‘سے مراد صرف کلثوم ہی نہیں تھی بلکہ سارے رشتہ دار مراد تھے۔ میں نے یہ ذکر تفصیل کے ساتھ اس لیے کیا ہے کہ تا اس قسم کے لوگوں کے نیک افعال آئندہ کے لیے بطوریادگار رہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اُذْکُرُوْا مَوْتَاکُمْ بِالْخَیْرِ۔10 عام۔طور پر اس کے یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ مُردوں کی بُرائی بیان نہیں کرنی چاہیے۔ وہ فوت ہو گئے ہیںاور اُن کا معاملہ اب خداتعالیٰ سے ہے۔ یہ معنی اپنی جگہ درست ہیں لیکن درحقیقت اس میں ایک قومی نکتہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ آپ نے ـ’’اُذْکُرُوا الْمَوْتٰی بِالْخَیْرِ‘‘ نہیں فرمایا بلکہ آپ نے’’مَوْتَاکُمْ‘‘کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی اپنے مُردوں کا ذکر نیکی کے ساتھ کرو جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے یہ صحابہؓ کے متعلق ارشاد فرمایا ہے۔ دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِاَیِّھِمُ اقْتَدَیْتُمُ اھْتَدَیْتُمْ۔11 میرے سب صحابی ستاروں کی مانند ہیں۔ تم اُن میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پا جاؤ گے۔ کیونکہ صحابہؓ میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی خدمت کا موقع ایسا ملا ہے جس میں وہ منفرد نظر آتا ہے۔ اسی لیے آپ نے ’’مَوْتَاکُمْ‘‘کا لفظ استعمال فرمایا ہے کہ تم ان کو ہمیشہ یاد رکھا کرو تا تمہیں یہ احساس ہو کہ ہمیں بھی اس قسم کی قربانیاں کرنی چاہییں اورتانوجوانوں میں ہمیشہ قربانی، ایثار اور۔جرأت کا مادہ پیداہوتا رہے اور وہ اپنے بزرگ اَسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتے رہیں‘‘۔ (الفضل 31جولائی 1949ء )

    1
    :
    الیواقیت و الجواہر جلد 2صفحہ22مطبوعہ مصر 1351ھ میں ــ’’لَمَا‘‘ کی جگہ ــ’’مَا‘‘ ہے۔
    2
    :
    تاریخ ابن اثیر جلد 2صفحہ 327 تا 329مطبوعہ بیروت 1965ء
    3
    :
    بخاری کتاب الاحکام باب الْاِسْتِخْلَافِ
    4
    :
    تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ 51مطبوعہ لاہور 1892ء
    5
    :
    تاریخ کامل ابن اثیر جلد2 صفحہ 335مطبوعہ بیروت 1965ء
    6
    :
    بخاری کتاب الجھاد باب دُعَائِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اِلَی الاسلام (الخ)
    نیز مسلم کتاب فضائل الصَّحَابۃ رضی اللّٰہ عنھم باب مِنْ فضائِلِ ابی دجانۃ (الخ)
    7
    :
    سیرت ابن ہشام جلد 4صفحہ 161مطبوعہ مصر 1936ء
    8
    :
    پد بھیڑے: ایک قسم کی جڑی بوٹی جو برسات کے دنوں میں زمین سے نکلتی ہے۔
    (پنجابی اردو لغت مرتبہ و مؤلفہ تنویر بخاری صفحہ 343ناشر اردو سائنس بورڈ لاہور1989ئ)
    9
    :
    تذکرہ صفحہ 401۔ ایڈیشن چہارم
    10
    :
    مرقاۃ المفاتیح شرح مشکٰوۃ المصابیح جلد6 صفحہ 271 مکتبہ امدادیہ ملتان 1968ء
    11
    :
    مشکٰوۃ باب مناقب الصحابۃ صفحہ 554مطبوعہ دہلی 1932ء


    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت کی قربانیوں
    اور ذمہ داریوں کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے
    (فرمودہ 22 جولائی 1949ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت کی:1
    اس کے بعد فرمایا:
    ’’دنیا میں ہر نبی کے آنے پر اُس کو اور اُس کی جماعت کو مختلف قسم کی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن دوسرے نبیوں کی قربانیوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں میں یہ فرق ہے کہ دوسرے نبیوں کی قربانیاں کسی نہ کسی جگہ پر جا کر ختم ہو گئیں۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کی قربانیاں قیامت تک ختم نہیں ہوں گی۔ دنیا میں اگر کسی کو ملیریا بخار آتا ہے تو اس کو یہ تسلی ہوتی ہے کہ دوچار دن میں یہ بُخار اُتر جائے گا۔اسے یقین ہوتا ہے کہ اس تکلیف کے لیے ایک وقت مقرر ہے اُس وقت پر جا کر یہ خودبخود ختم ہو جائے گی۔ یا ٹائیفائڈ ہے یہ بیشک ایک سخت مرض ہے اور لمبے عرصہ تک چلاجاتا ہے لیکن بہرحال کسی نہ کسی وقت پر جا کر یہ بیماری ختم ہوجاتی ہے اور مریض سمجھتا ہے کہ اسے یہ بوجھ چودہ یا اکیس دن تک اُٹھانا پڑے گا ۔لیکن ایک بیماری ایسی ہوتی ہے جو ہمیشہ ہمیش تک چلی جاتی ہے۔ گویا کہ وہ تمام عمر کا روگ ہوتا ہے۔ مثلاً سِل، دِق اور دمہ کی بیماریاں ہیں ان کے متعلق انسان کو یہ اُمید نہیں ہوتی کہ یہ جلدی ختم ہو جائیں گی۔ بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک مجھے یہ بیماریاں برداشت کرنا پڑیں گی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کا بوجھ بھی ایسا ہی ہے جو قیامت تک کے لیے ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے حضرت موسٰی علیہ السلام کے کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس کی تعلیم ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی ہو۔ زیادہ سے زیادہ عرصہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی تعلیم کا ہے جو دوہزار سال کے قریب رہی۔ لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کا بوجھ صرف دوہزار سال کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے ہے۔ بعض لوگوں نے اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے قیامت کو بہت نزدیک کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ بعض احادیث کے غلط معنے کر کے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ کسی طرح یہ بوجھ ٹل جائے۔ مثلاً وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ2کے یہ معنے کرتے ہیں کہ میں اور قیامت دو انگلیوں کی طرح آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ یعنی جس طرح انگشتِ شہادت اور وُسطیٰ دونوں انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں اِسی طرح میں اور قیامت آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر قیامت آپ کے ساتھ اسی طرح ملی ہوئی تھی توآپ کی وفات کے فوراً بعد نہ سہی دس بیس سال کے بعد تو آ جانی چاہیے تھی، پچاس سال کے بعد آجانی چاہیے تھی، سَوسال کے بعد آجانی چاہیے تھی، دوسَو یا تین۔سَوسال کے بعد آ جانی چاہیے تھی۔ مگر تیرہ۔سو سال سے اوپر عرصہ گزر گیا اور ابھی تک قیامت نہیں آئی۔ دراصل اس حدیث کا یہ مطلب تھا کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نئی شریعت والا نبی نہیں آئے گا۔ میرا زمانہ اور قیامت آپس میں ملتے ہیں اور خواہ قیامت دوکروڑ سال کے بعد ہی کیوں نہ آئے میرے اور اس کے درمیان کوئی اَور شریعت نہیں آئے گی۔ چنانچہ وہ بات تو غلط نکلی۔ تمام مسلمان سمجھتے تھے اور یہ بات سچی نکلی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تیرہ سَوسال کے بعد اگر کوئی نبی آیا بھی تو اس نے آکر یہی بات کہی کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جُدا نہیں ہوں۔ میں آپ کے ہی خادموں میں سے ایک خادم ہوں اور آپ کے دین کی اشاعت۔کے۔لیے آیا ہوں۔ مجھے نبوت کا انعام رسول۔کریم۔صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کی غلامی میں ہی ملا ہے۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا تھا کہ میں اور قیامت ان دواُنگلیوں یعنی انگشتِ شہادت اوروُسطٰی کی طرح آپس میں ملے ہوئے ہیں اس کے محض اتنے ہی معنے تھے کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اَور نبی نہیں آئے گا۔اور اگر آئے گا تو ایک رنگ میں وہ میں ہی ہوں گا۔اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میں اور قیامت آپس میں دو اُنگلیوں کی طرح اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ میں فوت ہوا تو قیامت واقع ہو جائے گی۔ اگر اس کے یہی معنی تھے تو آپ کی وفات کے بعد قیامت آ جانی چاہیے تھی۔ مگر تیرہ سَو سال کا عرصہ گز گیا اور ابھی تک قیامت نہیں آئی بلکہ آپ کے دعوٰی کو لیا جائے تو اس پر قریباً چودہ سَو سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ پھر ابھی مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق مسیح اور مہدی نے بھی آنا ہے۔ لیکن قیامت کے جو آثار اور علامات بیان کی جاتی ہیں وہ ابھی موجود نہیں۔
    قیامت دو ہی طرح آ سکتی ہے۔ اوّل اس طرح کہ دنیا کی مادی حیثیت ایسی ہو جائے کہ اس میں انسان رہ نہ سکے مگر یہ تغیر ابھی تک نظر نہیں آتا۔ دوم اس طرح کہ اس کی اقتصادی حالت ایسی ہو جائے کہ اس میں کوئی آدمی نہ رَہ سکے اور یہ تغیر بھی ابھی تک پیدا نہیں ہوا۔
    ایٹم بم کے متعلق جو عام طور پر تصور پایا جاتاہے وہ بھی درست نہیں۔ ایٹم بم سے چند بڑے بڑے شہروں کو ہی تباہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایک ایک ایٹم بم پر دو تین کروڑ روپیہ خرچ آتا ہے اور اتناروپیہ خرچ کرنے کے بعد وہ کونسی حکومت ہوگی جو اسے چھوٹے چھوٹے قصبات اور گاؤں پر پھینکنا شروع کر دے۔ یہ تو چند بڑے بڑے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے جن کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ اگر وہ شہر برباد ہو گئے تو قوم کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی یا اس قدر اقتصادی نقصان پہنچ جائے گاکہ وہ پھر اُٹھ نہ سکے گی۔ ورنہ چھوٹے چھوٹے قصبات اور گاؤں ایٹم بم سے اسی طرح محفوظ ہیں جیسے ہوائی جہازوں سے پھینکے جانے والے دوسرے بموں سے۔ اگر۔کوئی حکومت چھوٹے چھوٹے قصبات پر ایٹم بم پھینکنا شروع کر دے تو اس کا دیوالہ نکل جائے۔ غرض ابھی تک کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی جو دنیا کے خاتمہ پر دلالت کرتی ہو۔ پھر اقتصادی لحاظ سے بھی یہ دنیا ابھی ہزاروں سال تک باقی رہ سکتی ہے۔ آجکل سب سے زیادہ اہم سوال خوراک کا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ خوراک کی وجہ سے اس دنیا کا زیادہ دیر تک چلنا مشکل ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جنگ کے بعد غلہ کی قیمت گرنی شروع ہو جاتی ہے۔ پچھلی جنگ کے بعد لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ دنیا اب باقی نہیں رہ سکتی اب قیامت آ جائے گی اور یہ دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی لیکن 1928ء اور 1929ء میں غلہ کی قیمت گر کر سَواروپیہ فی مَن پر آگئی تھی اور قیمت کم اُس وقت ہوتی ہے جب اُس کے خریدار کم ہوں۔ 1928ئ،1929ء میں غلہ کی قیمت اتنی کم ہوگئی تھی کہ زمینداروں کے لیے حکومت کو مالیہ ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ مجھے یاد ہے ان دنوں ایک سِکھ رئیس میرے پاس آیا۔ وہ کانگرس سے ہمدردی رکھتا تھا۔ اس کے پاس بیس پچیس۔مربع۔زمین تھی۔اس نے کہا گانگرس سے ہمدردی رکھنے کی وجہ سے حکومت مجھ سے دشمنی کرتی ہے آپ میری سفارش کر دیں۔ میں گندم کا ایک دانہ بھی نہیں اُٹھاتا سب گندم حکومت اُٹھائے لیکن مجھ سے مالیہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس وقت گندم کی قیمت کس حد تک گِر گئی تھی اور یہ اُسی وقت ہوتا ہے جب کھانے والے کم ہوں۔
    گزشتہ سالوں میں جو قحط پڑے ہیں وہ عارضی حالات کا نتیجہ تھے۔ آبادی کا بہت سا حصہ ایسا تھا جو لڑائی کی وجہ سے اپنی جگہ چھوڑ کر دوسرے علاقہ میں بھاگ کر چلا گیا تھا اور اس طرح اس علاقہ میں پوری طرح کاشت نہ ہوسکی۔ یا لوگوں کے مکانات گِر گئے تھے اور وہ جلد اپنے علاقوں میں دوبارہ نہ بس سکے جس کی وجہ سے پوری طرح کاشت نہ ہو سکی۔ اَور بھی کئی قسم کی تباہیاں آئیں مثلاً بیج نہیں مل سکتے تھے جس کی وجہ سے قحط کے آثار پیدا ہو گئے لیکن اب لوگ اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے ہیں اور کاشت میں جو روکیں تھیں وہ دُور ہو چکی ہیں۔ اس سے اب غلہ بڑھ رہا ہے لیکن قطع نظر اِس سے کہ موجود ہ زمین کی آمد دنیا کو پالنے کے لیے کافی ہے۔
    قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اگر صحیح طور پر زمین کی طاقتوں کو استعمال کیا جائے تو چار پانچ سَو مَن فی ایکڑ پیداوار ہو سکتی ہے۔ یہ بات بظاہر عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن مجھے ایک ماہر سائنسدان نے بتایا ہے کہ زمین کے نمک جن سے غلہ پیدا ہوتا ہے پوری طرح استعمال کیے جائیں تو گندم کی آمد۔ دو۔سَو من فی ایکڑتک ہو سکتی ہے اور جب دو سَو من فی ایکڑ آمد ہو سکتی ہے تو چار پانچ سَو مَن فی ایکڑ بھی ناممکن نہیں۔ اِس وقت اوسط آمد آٹھ دس مَن فی ایکڑ سے بھی کم ہے لیکن اس مقدار تک گندم کی آمد کو پہنچایا جائے جو قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے تو موجودہ دنیا اگر 48گُنا اَور بڑھ جائے تب بھی اس کا گزارہ ہو سکتا ہے اور اس کے لیے کئی ہزارسال کا عرصہ درکار ہے۔ غرض خوراک کے لحاظ سے بھی دنیا موجودہ دَور میں ہزاروں سال تک چل سکتی ہے۔ پس اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ والی حدیث کے معنے قُربِ قیامت کے کرنے درست نہیں۔ باقی رہا خداتعالیٰ کا فعل سو وہ اگر مارنا چاہتا تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا کر سکتا تھا بلکہ اگر وہ اس دنیا کو پیدا ہی نہ کرتا تو کیا تھا؟ پس خداتعالیٰ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ ہم اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔
    غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی قربانیوں اور ذمہ داریوں کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور ان کا کوئی دوسرا نبی اور اس کی قوم مقابلہ نہیں کر سکتی۔پھر رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم اور آپ کی امت کی قربانیاں اور ذمہ داریاں نہ صرف سب سے زیادہ ہیں بلکہ خداتعالیٰ نے آپ کی اور آپ کی امت کی قربانیوں اور ذمہ داریوں کی نوعیت کو بھی بدل دیا ہے۔ گویا نہ صرف زمانہ کو نامعلوم حد تک لمبا کر دیا گیا ہے بلکہ قربانیوں کی نوعیت کو بھی بدل دیا ہے۔ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے رسول! تُو لوگوں سے کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب خداتعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے۔ اس آیت میں گو مخاطب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن دوسرے لوگ بھی مخاطب ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ اس کے مخاطب صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہو سکتے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ باربار فرماتا ہے اے میرے رسول! تُو ان لوگوں سے کہہ دے کہ تمہاری نجات اسی بات میں ہے کہ تم میرے کامل متبع بنو۔ ایک مشہور آیت یہ ہے کہ3یعنی اے میرے رسول! تُو ان سے کہہ دے کہ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ سے محبت ہے تو تم میرے پیچھے چلو اور میرے اعمال کی نقل کرو خداتعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔ پس کی آیت جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ویسے ہی دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے کیونکہ انہیں آپ کی مکمل اتباع کا حکم ہے۔
    صلٰوۃ کے معنے نماز کے ہیں اور نماز ایسی چیز ہے جس کا تعلق جسم، دماغ اور دل کے ساتھ ہوتا ہے۔ پس ’’صلٰوۃ‘‘اُس قربانی کو کہتے ہیں جو جسم اور دل و دماغ سے تعلق رکھتی ہو ۔اور ’’نَسِیْکَۃ‘‘ جسم سے باہر کی قُربانی کو کہتے ہیں جو انسان اپنے اموال کی صورت میں پیش کرتا ہو۔ ’’صلٰوۃ‘‘ میں دل۔و۔دماغ اور جسم کے ساتھ تعلق رکھنے والی قربانی کو مدنظر رکھا گیا ہے اور’’نَسِیْکَۃ‘‘میں اموال کی قربانیوں کو مدنظر رکھا گیا ہے خواہ وہ کسی مقصد کے ماتحت ہوں یا بِلامقصد کی گئی ہوں۔ ’’نَسِیْکَۃ‘‘ میں یہ عجیب بات ہے کہ بعض قربانیاں ایک خاص مقصد کے ماتحت کی جاتی ہیں اور بعض بِلامقصد کی جاتی ہیں۔ مثلاًحج پر لوگ جاتے ہیں اور وہاں قربانیاں کرتے ہیں۔ حج پر جانے والوں کی تعداد تین تین، چارچار لاکھ تک جا پہنچتی ہے اور ہر ایک شخص یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ قربانی کرے۔ اگر اس موقع پر ایک لاکھ بکرے کی قربانی بھی کی جائے تو وہ لوگ انہیں کھا نہیں سکتے۔ایک ایک بکرے کو کھانے کے لیے پچاس پچاس آدمی چاہییں۔ اس طرح ایک لاکھ بکروں سے حاجیوں کے لیے پانچ ہزار بکرا کافی ہو سکتا ہے یا زیادہ سے زیادہ دس پندرہ ہزار بکرے ان کے اپنے استعمال میں آجائیں گے باقی سب گوشت ضائع چلا جاتا ہے۔ اسی لیے وہاں ایک کھیل سی کھیلی جاتی ہے اور وہ یہ کہ بکرا ذبح کرنے کے فوراً بعد لوگ اُسے اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہاں بکرے کی کوئی قیمت نہیں۔
    میں جب حج پر گیا تو مَیں نے خیال کیا کہ حج کا موقع باربار کہاں ملتا ہے اس لیے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول اور دیگرعزیزوں اور جماعت کی طرف سے سات آٹھ قربانیاں دیں۔ جب ہم بکرے ذبح کروا تے تھے توذبح کرنے والوں کی چُھری ابھی ذبیحہ کے جسم سے باہر نہیں نکلتی تھی کہ عرب آتے ،بکرے کو ٹانگوں سے پکڑتے اور گھسیٹ کر لے جاتے، اور یہ چیز صرف ہمارے ہی ساتھ نہیں تھی دوسرے سب لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو رہا تھا۔ ہر طرف قہقہے لگ رہے تھے جن کا مطلب یہ تھا کہ یہاں بکروں اور دُنبوں کو پوچھتا ہی کون ہے۔قصاب نے کہا آپ ایک بکرے کی چھاتی پر بیٹھ جائیے تاکہ آپ کے کھانے کے لیے ایک آدھ بکرا بچ جائے۔ لیکن سوال یہ تھا کہ ہمیں بھی تو گوشت کی ضرورت نہیں تھی۔ ہمارے وہاں کونسے واقف اور عزیز تھے جنہیں ہم نے گوشت دینا تھا۔ ہم۔یہ۔سمجھتے تھے کہ یہ لوگ بکروں کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں تو لے جانے دو ہماری طرف سے تو قربانی ہوگئی۔ اِسی وجہ سے بعض مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ حج کے موقع پر جب وہاں لاکھوں کی تعداد میں اکٹھے ہوتے ہیں تو جو قربانیاں کی جاتی ہیں اُن کا کیا فائدہ؟ ویسے تو حج پر غرباء بھی جاتے ہیں لیکن حج کے لیے حکم تو یہی ہے کہ صاحبِ استطاعت لوگ جائیں اور ہر ایک شخص یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ قربانی کرے لیکن اتنا گوشت کھائے گا کون؟ پھر وہاں صرف بکروں اور دُنبوں کی ہی قربانی نہیں دی جاتی بلکہ بعض لوگ اونٹ بھی ذبح کرتے ہیں۔ حج کے موقع پر گائے کی قربانی بہت کم ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ ایک دفعہ اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی لیکن اس کا رواج بہت کم ہے۔ اونٹ کی قربانی لوگ عام کرتے ہیں اور اونٹ کا گوشت سینکڑوں آدمیوں کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ آریوں کی طرف سے بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حج کے موقع پر گوشت ضائع کیا جاتا ہے اور ایسے موقع پر کیا جاتا ہے جب لاکھوں کی تعداد میں وہاں مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے یہ کام ہوتا ہے۔ اب بظاہر یہ بات بے فائدہ اور بے مقصد معلوم ہوتی ہے لیکن اسلام نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے۔
    درحقیقت دنیا میں ہزاروں کام ایسے ہوتے ہیں جو قوم کو اس لیے کرنے پڑتے ہیں کہ ان کا لیڈر کہتا ہے کہ تم ایسا کرو۔ وہ موقع ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی پوچھے تم نے مجھے یہ حکم کیوں دیا اور میں ایسا کیوں کروں؟ کیونکہ زندہ قومیں جانتی ہیں کہ ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانیاں کرنا ہی اصل چیز ہے اور یہ ان کے زندہ ہونے کی علامت ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمِ اطہر ہمیشہ کے لیے مبارک تھا اُس کے لیے کوئی خاص وقت برکت کا نہ تھا۔ جس وقت سے خداتعالیٰ نے آپ کو نبی قرار دیا تھا اُسی وقت سے آپ کا جسم مبارک تھا۔ پھر صحابہؓ کے سامنے آپؐ ایک دفعہ نہیں آئے کم از کم پانچوں وقت نماز کے لیے آپ باہر تشریف لاتے تھے اور آپ کو نماز کے لیے وضو کرنا پڑتا تھا لیکن صحابہؓ یہ نہیں کرتے تھے کہ آپ کے وضو کا پانی اُٹھا اُٹھا کر لے جائیں۔ لیکن صلح حدیبیہ کے موقع پر آپؐ وضو کرنے لگے تو صحابہؓ آئے اور پانی کا ایک ایک قطرہ جو گِرا انہوں نے اٹھا کر اپنے منہ اور دوسرے اعضاء پر لیا۔ ایک صحابیؓ کہتے ہیں کہ شاید ہی کوئی قطرہ نیچے گرا ہو۔ صحابہؓ پانی لینے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس طرح لڑتے تھے کہ گویا۔وہ ایک دوسرے کو مار ڈالیں گے۔4 ہم یہ مانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں اور ان کے مستعمل پانی میں بھی برکت تھی۔ لیکن ہم یہ نہیں مانتے کہ برکت اُس دن ہی تھی پہلے نہیں تھی۔ اُس دن اگر صحابہؓ نے ایسا کیا تو دنیا کو دکھانے کے لیے کیا تھا۔ آپؐ کے شدید ترین دشمن آئے ہوئے تھے اور اُن میں سے ایک نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ تم آوارہ گرد لوگوں پر اعتبار کرتے ہو۔ لوگ وقت پر تمہارے کام نہیں آئیں گے۔ وقت پر کام آنے والے وہی لوگ ہوں گے جن کا آپ سے خونی رشتہ ہے۔ اس لیے صحابہؓ اُس وقت یہ دکھانا چاہتے تھے کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کے لیے قربانی کرنا تو الگ رہا ہمیں آپؐ سے اتنی محبت ہے کہ تم اس کا خیال بھی نہیں کر سکتے۔ ہم تو آپؐ کے مستعمل پانی کو بھی نیچے گرنے دینا پسند نہیں کرتے۔ تو دیکھو وہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، وہی صحابہؓ تھے اور وہی پانی تھا جو روزانہ پانچ وقت کم سے کم وضو کرتے ہوئے صحابہؓ کے سامنے نیچے گرتا تھا لیکن حدیبیہ کے موقع پر صحابہؓ نے اپنی محبت کا یہ نمونہ دکھایا کہ پانی نیچے نہیں گرنے دیا اور ثابت کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو انہیں محبت ہے وہ دُشمن کے واہمہ میں بھی نہیں آسکتی۔ مگر یہاں تو ایک مقصد تھا جس کو سامنے رکھ کر صحابہؓ نے کام کیا لیکن بعض دفعہ ایسی قربانی بھی کی جاتی ہے جس کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور قربانی کرنے والا بھی یہ نہیں جانتا کہ وہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ خداتعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ اس کے حکم کی فرمانبرداری میں ایسا کر رہا ہے۔
    صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکینِ مکہ سے صلح کر لی جس کی وجہ سے صحابہؓ کے اندر اس قدر بے چینی پیدا ہو گئی کہ حضرت عمرؓ جیسا آدمی رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کے پاس گیا اور انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ ہم طوافِ کعبہ کریں گے یا کیا اسلام کے لیے غلبہ مقدر نہیں تھا؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں! حضرت عمرؓ نے کہا پھر ہم نے دَب کر صلح کیوں کر لی؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک خداتعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم طواف کریں گے مگر یہ نہیں تھا کہ اِسی سال کریں گے۔5 صحابہؓ پر اِس صدمہ کا اتنا اثر تھا کہ اس کی برداشت ان کے لیے ناممکن ہوگئی تھی۔ اس لیے رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرمایا کہ قربانیاں یہیں ذبح کر دو تو یہ بات انہیں عجیب۔سی معلوم ہوئی۔ وہ سمجھتے تھے کہ قربانی تو مکے میں ہونی تھی اور پھر عمرہ یا حج کے بعد ہونی تھی اور جب ہم مکہ گئے نہیں، خانہ کعبہ کا طواف کیا نہیں یا ہم نے عمرہ یا حج کیا نہیں تو پھر یہ قربانی کیسی؟ اسی لیے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ قربانیاں یہیں ذبح کردو تو انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے۔آپؐ کی عادت تھی کہ جب کسی بات پر آپؐ ناراض ہو جاتے۔ طبیعت میں جوش آجاتا تو اپنی بیویوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے تمہارے بھائیوں یا تمہاری قوم نے ایسا کیا ہے۔ اُس وقت اپنی طرف قوم کی نسبت نہ فرماتے۔ غرض آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اور اپنی بیوی سے فرمایا آج تیری قوم کو میں نے یہ حکم دیا تھا کہ قربانیاں یہیں ذبح کر دو مگر وہ اپنی جگہوں سے اُٹھے نہیں اور ان پر میری آواز کا کچھ اثر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! اتنی قربانیاں کرنے کے بعد یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ حکم دیں اور صحابہؓ جان بوجھ کر اس کی نافرمانی کریں۔ انہوں نے محبت کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کیا بلکہ صدمہ کا ان پر اس قدر اثر ہے کہ وہ اپنے حواس میں نہیں ہیں۔ وہ یہ امیدیں لے کر آئے تھے کہ ہم دس بارہ سال کے بعد مکہ جائیں گے عمرہ یا حج کریں گے اور اپنے دلوں کو خوش کریں گے۔ انہیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ اُن کے راستہ میں کوئی روک پیدا ہو جائے گی۔ آپ نے مشرکین مکہ سے صلح کر لی جس کی و جہ سے انہیں صدمہ پہنچا۔ پس آپ کے حکم پر اُن کا قربانی کرنے کے لیے تیار نہ ہونا ایمان کی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس صدمہ کے اثرکی وجہ سے ہے۔ آپ سیدھے جا کر اپنی قربانی ذبح کرنا شروع کر دیجیے۔6 صحابہؓ ۔۔کو کچھ نہ کہیں۔ پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا بہت اچھا! آپ نے نیزہ ہاتھ میں لے لیا اور صحابہؓ کی طرف کوئی توجہ کیے بغیر سیدھے اپنی قربانی کی طرف گئے۔ آپ کا اونٹ کو نیزہ مارنا تھا کہ صحابہؓ پاگلوں کی طرح اپنی جگہوں سے اٹھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔ کچھ صحابہ آپ کی مدد کرنے لگ گئے اور کچھ اپنی قربانیاں ذبح کرنے لگ گئے۔ اس وقت صحابہؓ میں اِس قدر جوش پایا جاتا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے تلواریں چھینتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کی یہ کوشش تھی کہ میں دوسرے سے پہلے قربانی ذبح کر لوں اور تھوڑی دیر میں انہوں نے سب قربانیاں ذبح کر دیں۔7 یہ قربانی بظاہر بے معنی تھی، صحابہؓمکہ میں داخل نہیں ہوئے، انہوں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا تھا، انہوں نے عمرہ یا حج نہیں کیا تھا مگر پھر بھی ان سے قربانیاں کروائی گئیں کیونکہ خداتعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ کسی جگہ کو بالذات تقدیس حاصل نہیں ہوتی۔ خداتعالیٰ جس جگہ کو مقدم قرار دے دیتا ہے وہی مقدس بن جاتی ہے۔ ایک اردو شاعر نے کہا ہے۔
    ؎ جدھر ملے وہ قبلہ اُدھر طواف کریں
    یعنی ہم تو اپنے معشوق کے دیوانے ہیں اور ہمارا قبلہ ہمارا معشوق ہے۔ جہاں وہ ملے ہم طواف کر لیں گے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے واقعہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ بیشک خانہ کعبہ ایک مقدس ترین مقام ہے جس کا طواف کیا جاتا ہے مگر اس کو تمہارے خدا نے ہی مقدس بنایا ہے۔ اگرلوگ تمہیں وہاں نہیں جانے دیتے، تمہیں رستہ میں ہی روک لیتے ہیں تو جہاں وہ روک دیتے ہیں وہیں قربانی کر دو۔ کیونکہ وہی جگہ خداتعالیٰ کا گھر ہے۔ غرض بظاہر یہ ایک بے مصرف قربانی تھی، ایک’’نَسِیْکَۃ‘‘تھی جو صحابہؓ نے بیسیوں دفعہ بعد میں کی لیکن اپنے اندر ایسی شان رکھتی تھی کہ دوسری قربانیاں اس کے سامنے ہیچ ہیں۔
    مکہ فتح ہوا اور بعض صحابہؓ نے بیس بیس، تیس تیس حج کیے اور قربانیاں بھی کیں لیکن روحانیت سے دیکھنے والی آنکھ جانتی ہے کہ وہ قربانیاں صلح حدیبیہ والی قربانی کے سامنے کچھ قیمت نہیں رکھتیں ۔کیونکہ وہاں خداتعالیٰ خود اُتر آیا تھا اور خداتعالیٰ کے سامنے جو قربانی کی جائے اُس کے سامنے دوسری قربانیاں حیثیت ہی کیا رکھتی ہیں۔ وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خداتعالیٰ خود جلوہ افروز ہوا اور اس نے خود جلوہ فرما کر مشرکینِ مکہ کو بتا دیا کہ تم کہتے ہو خانہ کعبہ ہمارا ہے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو وہاں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ سو ہم عارضی طور پر اسے تمہارا ہی سمجھ لیتے ہیں اور اپنا گھر اس جگہ کو قرار دے دیتے ہیںجہاں محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھی اُترے ہوئے ہیں۔
    غرض بظاہر یہ ایک بے حقیقت قربانی تھی لیکن کتنا فلسفہ ہے جو اس میں پایا جاتا ہے۔ پس:میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت اگر ایک طرف جسم اور دل اور دماغ سے تعلق رکھنے والی قربانیاں پیش کرتی ہے تو دوسری طرف وہــ’’نَسِیْکَۃ‘‘ یعنی اموال سے تعلق رکھنے والی قربانی جو خواہ کسی مقصد کے ماتحت ہو یا بِلامقصد ہو پیش کرتی ہے اور اس میں کوئی دوسرانبی اور اس کی قوم آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتی‘‘۔
    (الفضل 16دسمبر 1959ء )

    1
    :
    الانعام:163
    2
    :
    بخاری کتاب الرقاق باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعثتُ انا والساعۃ کھاتین
    3
    :
    آل عمران:32
    4تا7
    :
    بخاری کتاب الشروط باب الشُّروْط فی الجھاد



    قربانی کی وہ روح اپنے اندر پیدا کرو جو الٰہی جماعتوں میں کارفرما ہوتی ہے
    (فرمودہ 29 جولائی 1949ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج میں اختصاراً جماعت کو ایک اہم امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ وہ بات ایسی ہے کہ قادیان میں بھی میں دوستوں کو اس کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں اور ہجرت کے بعد بھی میں نے بارہا توجہ دلائی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ جماعت اس مضمون کو پوری طرح سمجھ نہیں سکی اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر اس طرف جلد توجہ نہ کی گئی تو ممکن ہے کہ قربانیوں کا وقت آنے پر بعض لوگ گِر جائیں اور اپنے پہلے ایمان کو بھی کھو بیٹھیں۔
    وہ بات یہ ہے کہ الٰہی جماعتیں ہمیشہ ایک خاص رنگ میں ترقی کیا کرتی ہیں اور آج تک اس میں ہمیں کوئی استثناء نظر نہیں آتا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا زمانہ ہمارے سامنے ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ ہمارے سامنے ہے، حضرت موسٰی علیہ السلام کا زمانہ ہمارے سامنے ہے، حضرت عیسٰی علیہ السلام کا زمانہ ہمارے سامنے ہے، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ جن حالات میں سے گزرے اُن سے بھی ہم ناواقف نہیں۔ ان کے علاوہ باقی انبیاء جن کا ذکر قرآن کریم نے مختصراً کیاہے یا نہیں کیا اُن کے زمانے بھی ہمارے سامنے ہیں ۔یہ تمام کے تمام انبیاء ایسے تھے جن کی جماعتیں ایک خاص رنگ کے مصائب سے گزر کر ترقی کے مقام کو پہنچیں۔ لیکن ہماری جماعت ابھی تک اس رنگ کے مصائب میں سے نہیں گزری۔ دراصل اس میں ابتدائی زمانہ سے ہی کچھ ایسا عنصر آ گیا تھا جس نے اسے بجائے ایک الٰہی جماعت سمجھنے کے سوسائٹی اور انجمن سمجھ لیا اور یہ خیال کر لیا کہ جس طرح کسی خاص مقصد میں کامیابی حاصل کرنے اور ترقی حاصل کرنے کے لیے کسی انجمن یا سوسائٹی میں داخل ہونا ضروری ہے اسی طرح ہم بھی اس میں داخل ہو کر اپنے مقصد کو پالیں گے۔ اس سے زیادہ انہوں نے کوئی بات اپنے مدنظر نہ رکھی۔
    مجھے خوب یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا مجھے یاد نہیں کہ اُس موقع پر گھر میں کوئی اَور آدمی بھی موجود تھا یا نہیں۔ ہو سکتا ہے وہاں میرے سِوا اَور بھی کوئی ہو کیونکہ میری عمر چھوٹی تھی اور اتنی اہم بات آپ نے صرف مجھے مخاطب کر کے نہیں کہی ہو گی۔ غالباً حضرت۔اماں۔جان یا حضرت نانا جان میرناصر نواب صاحب۔۔گھر میں موجود ہوں گے اور ان کی موجودگی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بات بیان فرمائی۔ آپ نے فرمایا ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ شامل ہیں۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے میرے دعوٰی کو اچھی طرح سمجھا اور پھر مجھ پر دل سے ایمان لا کر جماعت میں داخل ہوئے۔ دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جنہیں مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے ساتھ حُسنِ ظنّی تھی انہوں نے جب آپ کے علم کا شُہرہ سنا اوردیکھا کہ وہ اس جماعت میں داخل ہو گئے ہیں تو آپ کی نقل میں انہوں نے بھی میری بیعت کر لی اور تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے ہماری جماعت کو منظم اور کام کرنے والی دیکھا، دوسرے مسلمانوں کا انہوں نے تجربہ کیا تو اُن میں کسی قسم کی زندگی اور بیداری نہ پائی لیکن ہماری جماعت میں ایک خاص قسم کا جوشِ عمل انہیں نظر آیا اس لیے وہ اس میں داخل ہوگئے۔ وہ بھی ایمان کی وجہ سے اس جماعت میں داخل نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اسے حصولِ مقصد کے لیے ایک ذریعہ بنانا چاہا۔
    حقیقت یہ ہے کہ خواہ دانستہ طور پر انہوں نے ایسا کیا یا نادانستہ طور پر بہرحال ہماری جماعت میں شروع سے ہی کچھ ایسے لوگ شامل ہو گئے تھے جنہوں نے اسے ایک سوسائٹی یا انجمن سمجھا۔ ان میں یہ حِس ہی نہیں تھی کہ الٰہی جماعتیں کس طرح تمام دنیا پر چھا جایا کرتی ہیں۔ اسی بات کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے جماعت کو ایک معمولی سوسائٹی یا انجمن سے زیادہ درجہ نہ دیا اور سمجھ لیا کہ ہم نے جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ کر لیا ہے ۔مثلاً ریڈکراس سوسائٹی ہے وہ تمام دنیا پر غالب تو نہیں ہے لیکن تاہم اس کا کام تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے، لوگ ان کی تعریفیں کرتے ہیں اور یہی ان کا مطمحِ ۔نظر تھا اس کو حاصل کرنے میں وہ لوگ کامیاب ہوگئے اور سمجھ لیا کہ ہم نے اپنے مقصد کو پا لیا۔ یا مثلاً سالویشن آرمی(Salvation Army)1 ہے۔ عیسائیوں کا یہ مقصد نہیں تھا کہ دنیا کا اکثر حصہ اس میں داخل ہو جائے یا اس کے ذریعہ وہ دنیا کے اصول بدل ڈالیں۔ کچھ لوگ اس میں داخل ہو گئے اور انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہم نے اپنے مقصد کو حاصل کر لیا ہے۔ یہی خیال تھا جو ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں پایا جاتا تھا۔ وہ عنصر تو نکل گیا لیکن واقعہ یہ ہے کہ ابھی تک جماعت کے بعض لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا ہوا ہے وہ درست نہیں۔ اور جس طریق پر جماعت اب چل رہی ہے اس سے ہم باقی دنیا کو اپنے ساتھ مل جانے پر مجبور نہیں کر سکتے اور اُن پر ایسا اثر نہیں ڈال سکتے کہ وہ بھی ہمارے پیچھے چلیں۔ یہ سلسلہ سچا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ایک نہ ایک وقت خداتعالیٰ اس پر ایسا لے آئے گا کہ تمام دنیا کی توجہ اس طرف پھر جائے گی اور وہ اس میں گروہ در گروہ داخل ہوں گے اور اس کے آثار نظر بھی آرہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اس سلسلہ میں کیا کچھ کیا؟ ہم نے اس اہم مقصد کی طرف وہ توجہ نہیں دی جو ہمیں دینی چاہیے تھی۔
    افغانستان میں ہمارے کچھ آدمی شہید کر دیئے گئے اُس کے بعد ہم نے اُسے اسی طرح چھوڑ دیا گویا وہ علاقہ دنیا سے مٹ گیا ہے۔ حالانکہ الٰہی جماعتوں کا یہ طریق ہوتا ہے کہ اگر دشمن ان کے افراد کو مارنا چاہتا ہے تو وہ گھبراتے نہیں۔ وہ اپنے آپ کو موت کے لیے پیش کرتے چلے جاتے اور مرتے چلے جاتے ہیں۔افغانستان میں اگر کچھ لوگ احمدی ہوئے تو وہ اتفاقی طور پر ہوئے ہیں ورنہ ہم نے اُس طرف سے اپنی توجہ بالکل پھیر لی ہے۔ اِسی طرح بعض اَور ملکوں میں بھی ہو رہا ہے۔ اگر ہم ایک مامور کی جماعت ہیں جیسا کہ ہمارا دعوٰی ہے تو یقیناً ایک وقت ایسا آئے گا جب دنیا ہمیں مٹا دینے کے درپے ہو گی۔ مگر جب ایسا وقت آئے گا تو کیا وہ لوگ جو اپنی آمد کا 1/10 یا 1/9 یا 1/8 بھی چندہ کے طور پر نہیں دیتے وہ اُس وقت احمدیت کی خاطر اپنی سینکڑوں روپے کی آمد کو چھوڑ دیں گے؟ اگر اِس وقت وہ سلسلہ کے لیے اپنی آمد کا 1/10 حصہ بھی دینے کے لیے تیار۔نہیں تو ہم ان پر یہ امید کس طرح کرسکتے ہیں کہ وہ اُس وقت احمدیت کے لیے سب کچھ قربان کر دیں گے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی جماعت کے اکثر حصہ میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور اس سلسلہ میں وہ جوشِ عمل نہیں پایا جاتا جس کی الٰہی جماعتوں سے امید کی جاتی ہے حالانکہ الٰہی سلسلوں میں شامل ہونے والے سب کے سب واقفینِ زندگی ہوا کرتے ہیں۔ وہ رات کو جب سونے لگتے ہیں تو اپنے دن بھر کے اعمال پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا رات ان پر ایمان کی حالت میں آئی ہے۔ اور پھر جب نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو دن بھر کے لیے ایک مذہبی پروگرام بناتے ہیں۔ گویا اُن کا دن اور رات دین کی خدمت میں گزرتا ہے۔ جب تک جماعت کے تمام دوستوں میں یہ روح پیدا نہ ہو جائے وقت آنے پر وہ قربانی کے لیے تیار نہیں ہو سکتے۔ اور جب یہ روح پیدا ہوجائے گی اور ہم میں سے ہر فرد کا دن اور رات دین کے کاموں میں گزرے گا تو یقیناً ہماری کامیابی میں کچھ بھی شُبہ باقی نہیں رہے گا۔
    میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ میں نے بچپن میں ایک کشتی خریدی، اگرچہ اسے تالا لگا دیا جاتا تھا لیکن چونکہ اُن دنوں تالے دیسی قسم کے پیچوں والے ہوتے تھے جو لکڑی سے کھول لیے جاتے تھے۔ اس لیے دوسرے لڑکے آسانی کے ساتھ کشتی کھول کر لے جاتے، اسے چلاتے اور اس میں چھلانگیں مارتے اور کُودتے جس کی وجہ سے کشتی میں سوراخ ہوگئے اور پانی اندر آنا شروع ہوگیا۔ سوراخوں میں روئی ڈال ڈال کر بند کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن سوراخ اتنے بڑے اور کثیر تعداد میں تھے کہ ان کا بند کرنا مشکل تھا۔ میں نے تنگ آ کر کچھ لڑکوں سے کہا کہ کسی طرح کشتی کھول کرلے جانے والوں کو پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔ ایک دن میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ مدرسہ احمدیہ کا ایک لڑکا آیا اور اس نے کہا لڑکے کشتی کھول کر اسے چلارہے ہیںآپ آ کر دیکھ لیں۔ وہ کشتی چھ سات آدمیوں کے لیے بنوائی گئی تھی لیکن جب میں وہاں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دس بارہ لڑکے بے تحاشا کشتی میں اس طرح کُود رہے ہیں جس طرح شکر بنانے والے شکر کو مَلتے ہیں اور وہ اس کو بھی ایک ذوق سمجھتے تھے۔ انہیں ایساکرتے دیکھ کر مجھے غصہ آیا۔ میں نے کچھ لڑکے دوڑائے اور انہیں کہا کہ تمام راستے روک لو۔ یہ بھاگنے نہ پائیں۔ ایک طرف میں خودکھڑا ہو گیا۔ میں مدرسہ احمدیہ کی طرف تھا اور کشتی دوسری طرف تھی۔ وہ لڑکے گاؤں کے رہنے والے تھے اوررئیس سے لوگ عموماً خوف کھاتے ہیں۔ وہ ڈر کے مارے بھاگے اور جس طرف منہ آیا نکل گئے۔ اتفاق سے ان کا ایک رِنگ لیڈر جو قصاب کا لڑکا تھا میری طرف ہی بھاگ آیا۔ وہ مجھ سے عمر میں بڑا تھا اور طاقت میں بھی مضبوط تھا۔ وہ چاہتا تو مجھے مار سکتا تھا لیکن اُس پر خوف طاری ہوگیا جس کی وجہ سے وہ اچانک مجھے دیکھ کر سہم گیا۔ میں دیوار کے پیچھے چُھپ کر کھڑا تھا وہ میرے پاس سے گزرا تو میں نے اسے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا لیکن مارا نہیں۔ مجھے اپنے نفس پر قابو تھا۔ میرا ہاتھ اوپر اٹھا ہوا دیکھ کر اُس کا ہاتھ یکدم اُوپر اُٹھا جس کی وجہ سے میرا غصہ اور تیز ہو گیا لیکن بعد میں اسے عقل آگئی اور اس نے ہاتھ نیچے گِرا کر کہا اچھا جی! اگر آپ مارنا چاہتے ہیں تو مار لیں۔ یہ میرے بچپن کا واقعہ ہے اور اب میری عمر ساٹھ برس کی ہے۔ لیکن اب بھی جب وہ واقعہ مجھے یاد آتا ہے تو میرے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مارنا تو دُور کی بات ہے میں نے مارنے کے لیے صرف ہاتھ اُٹھایا تھا اور پھر اسے نیچے گرا لیا تھا۔ لیکن اب بھی وہ واقعہ مجھے یاد آجائے تو شرم آتی ہے۔ اُس لڑکے نے اپنا ہاتھ نیچے گرا لیا تو میں نے شرمندگی کے ساتھ اپنی پیٹھ پھیری اور دوسری طرف نکل گیا۔ غرض مار کھانا بڑے حوصلہ کی بات ہے۔ جومارتے ہیں وہ دنیا کی توجہ اپنی طرف نہیں پھیر سکتے۔ مگر جو مار کھاتے ہیں اُن کی طرف دنیا کی توجہ پھر جاتی ہے۔
    پس جماعت کو یہ روح اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔ اگر جماعت کے دوست اپنے اندر یہ روح پیدا نہیں کریں گے تو میں ڈرتا ہوں کہ ایسے لوگ وقت آنے پر کچّے دھاگے ثابت ہوں گے اور اپنے دلوں کو یہ تسلی دے لیں گے کہ ہم دل سے تو احمدی ہی ہیں۔ لیکن جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے یہ ایمان قابلِ قبول نہیں ہو سکتا اور ایسے لوگ خداتعالیٰ کے رحم کے نہیں بلکہ اُس کے غضب کے مستحق ہوتے ہیں‘‘۔ (الفضل 16مارچ 1960ء )

    1
    :
    سالویشن آرمی:(Salvation Army):مکتی فوج یعنی عیسائیوں کی وہ مذہبی تنظیم جس کے ممبروں کو فوج کا نام دیا گیا جو 1865ء میں جنرل ولیم بُوتھ (Gen. William Booth) کے ذریعہ غرباء کی مدد کے نام پر قائم ہوئی۔ اس کا مرکز لندن میں ہے اور دنیا کے 126ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔
    ‏(The Concise Oxford Dictionary of Current English)


    مومن کی قربانیاں محض اللہ تعالیٰ کی خاطر ہونی چاہییں اور ساری مخلوقات کی ہمدردی اس کے پیشِ نظر ہونی چاہیے

    کی نہایت لطیف اورپُرمعارف تفسیر
    (فرمودہ 5؍اگست 1949ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’پچھلے خطبے میں مَیں نے قرآن کریم کی ایک آیت َ1 کے متعلق بتایا تھا کہ قربانیاں تو ہمیشہ انبیاء کی جماعتوں کو کرنی پڑتی ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کی امت سے جن قربانیوں کا مطالبہ خداتعالیٰ نے فرمایا ہے وہ دوسرے انبیاء اور ان کی امتوں کی قربانیوں سے زیادہ سخت ہیں۔ اوّل تو عرصہ قربانی قیامت تک کے لیے ہے یعنی قیامت تک نہ ختم ہونے والا زمانہ آپ ؐ کا زمانہ ہے اور اس سارے عرصہ میں آپ ؐ کواور آپ ؐ کی امّت کو قربانیاں کرنا ہوں گی۔ دوسرے ان قربانیوں کی نوعیت بھی بدل دی گئی ہے۔
    آج اس سلسلہ میں مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ان چاروں کے متعلق یہ قید لگا دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور پھر اس اللہ کے لیے ہیں جو رب العٰلمین ہے۔ گویا اپنی ذات میں ان چاروں چیزوں میں سے ہر چیز کے ساتھ دو قیود لگ گئیں۔ پہلی قید تو قربانیوں کے ساتھ یہ لگائی گئی ہے کہ وہ کسی دکھاوے یا جلبِ منفعت2 کے لیے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی خاطر ہیں۔ اور دوسری قید یہ لگائی گئی ہے کہ میری قربانیاں اُس اللہ تعالیٰ کی خاطر ہیں جس کی صفتِ۔ربوبیت کو سامنے رکھ کر میں یہ قربانیاں کر رہا ہوں۔ اگر یہاں صرف’’ لِلّٰہِ‘‘ کہا جاتا تب بھی درست تھا لیکن ربّ العٰلمین ساتھ لگا کر یہ بتانا مقصود ہے کہ جس طرح وہ ذات جس کے لیے میں عبادت کر رہا ہوں رب العٰلمین ہے اِسی طرح اُس کے واسطہ سے میری یہ قربانیاں بھی ساری مخلوق پر پھیلی ہوئی ہیں۔ صفت کو اسم کے ساتھ تبھی لگاتے ہیں جب خصوصیت سے اُس طرف توجہ دلانا مقصود ہو۔ مثلاً اگر ہم کہیں کہ زید جو بڑا عالم ہے وہ ایسا کہتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ زید معتبر تو ہے لیکن میری اس بات کا اُس کے علم کے ساتھ تعلق ہے اور وہ علاوہ بااعتبار ہونے کے عالم بھی ہے۔ گویا زید کے عالم ہونے کی صفت کو بیان کر کے خصوصیت سے اس کے علم کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ زید بااعتبار اور ثقہ ہو لیکن اس کی علمی واقفیت زیادہ نہ ہو۔ مگر جب یہ دونوں صفات کسی شخص میں اکٹھی ہو جائیں تو پھر سونے پر سہاگا ہو جاتا ہے۔ اسی طرحکے ساتھ رب العٰلمین کی صفت لگا دینے سے ایک تیسرے معنے نکل آئے۔ یہ فقرہ کہ میری قربانیاں اللہ تعالیٰ کی خاطر ہیں خود اپنی ذات میں معنے رکھتا ہے۔ لیکن رب۔العٰلمین کی صفت بیان کر کے یہ بتایا کہ اس وقت خداتعالیٰ کی صفت ربوبیت میرے مدنظر ہے اور جس طرح وہ سب جہانوں کا رب ہے اِسی طرح میری قربانیاں بھی سارے جہانوں پر اور سب مخلوقات پر پھیلی ہوئی ہیں ۔گویا اس آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ میری قربانیاں خداتعالیٰ کے لیے ہی ہیں اور اس کا سچا اور خالص پرستار ہونے کی وجہ سے جس طرح وہ سب جہانوں کا رب ہے اُسی طرح میں بھی سب مخلوقات اورسب جہانوں کا ہو گیا ہوں اور میری قربانیاں ساری دنیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔
    آج میں ان چاروں چیزوں میں سے صرف صَلٰوۃ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اس آیت قرآنیہ میں صلوٰۃ کو ربّ العٰلمین کے ساتھ متعلق کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ بعض عبارتیں ایسی ہوتی ہیں جو ماسِوَی۔اللہ کے لیے ہوتی ہیں جیسے بعض لوگ سورج کی یا ستاروں کی یا پہاڑوں کی یا دریاؤں کی عبادت کرتے ہیں یا بعض دیوی دیوتاؤں کی عبادت کرتے ہیں۔ َ کہہ کر ان تمام عبادتوں کی نفی کر دی گئی ہے جو ماسِوَی۔اللہ کے لیے کی جاتی ہیں۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ میری عبادت معبودانِ باطلہ کے لیے نہیں۔ میری عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اُسی سے تعلق رکھتی ہے۔ پھر بعض عبادتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں ظاہری طور پر عبادت کرنے والا خداتعالیٰ کو ہی سجدہ کر رہا ہوتا ہے اور وہ کہتا بھی یہی ہے کہ میں اُس کو سجدہ کر رہا ہوں لیکن مقصد اُس کا یہ ہوتا ہے کہ میں بڑا سمجھا جاؤں ۔ اُس کی نماز صرف دکھاوے کے لیے ہوتی ہے۔ ْ …َ کہہ کر رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے اس بات کی بھی نفی کر دی اور فرمایا کہ میری عبادت اس لیے نہیں کہ میں بڑا سمجھا جاؤں یا قوم میں میرا رُعب بیٹھ جائے یا میں بزرگ یا عالم کہلانے لگ جاؤں بلکہ جب میں نماز پڑھتا ہوں تو میں ماسِوَی۔اللہ کو بھول جاتا ہوں۔ میری نماز صرف خداتعالیٰ کے لیے ہوتی ہے۔ اور جو آدمی ماسِوَی۔اللہ یا دکھاوے کے لیے نماز نہیں پڑھتا لازمی بات ہے کہ اس کی نماز رسمی نہیں ہوگی۔ جو شخص روزانہ پانچ وقت نماز ادا کرنے میں غفلت سے کام لیتا ہے یا بالکل نہیں پڑھتا صرف عیدین کی نمازیں پڑھنے کے لیے یا جمعۃ۔الوداع کے لیے چلا جاتا ہے اُس کی نماز اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ہوتی۔ اگر اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی تو وہ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا ء کی نمازیں بھی روزانہ ادا کرتا کیونکہ یہ بھی خداتعالیٰ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ہیں۔ پس جو شخص صرف عیدین میں یا جمعۃ الوداع میں چلا جاتا ہے اُس کا اس سے زیادہ اَور کوئی مقصد نہیں ہوتا کہ عیدین یا جمعۃ الوداع میں لوگ کثرت سے آتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ میں بھی نماز پڑھتا ہوں اور وہ اُس دن کی نماز پر یہ قیاس کر لیں کہ وہ اَور دنوں میں بھی باقاعدہ نمازیں ادا کرتا ہے۔ اگر وہ نماز اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے عیدین یا جمعہ کی نمازیں مقرر کی ہیں اُسی طرح اُس نے روزانہ پانچ نمازیں بھی مقرر کی ہوئی ہیں وہ روزانہ یہ نمازیں بھی ادا کرتا۔ وہ صرف اس لیے سال میں عیدین یا جمعہ کی نمازیں ادا کرتا ہے تا کہ قوم کو اس کے نمازی ہونے کا پتا لگ جائے۔ اس لیے اس کی نماز لوگوں کی خاطر ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی خاطر نہیں ہوتی میں بتایا ہے کہ بعض لوگ قوم کی خاطر نماز پڑھتے ہیں تاکہ وہ بڑے سمجھے جائیں لیکن میری نماز لوگوں کے دکھاوے کے لیے نہیں۔ اور نہ صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ میرا دل تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ دوسرے لوگ بھی ایسا کریں یا عبادت میں غفلت سے کام لیں۔ چنانچہ احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی جگہ کسی اَور کو امام مقرر کر دوں اور خود کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر ان کے سروں پر لکڑیوں کے گٹھے رکھوں اور ان لوگوں کے گھروں کو مکینو ں سمیت جلا دوں جو عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کرنے کے لیے مسجد میں نہیں آتے۔3 گویا یہ سوال تو الگ رہا کہ آپ ؐ۔کی نماز خداتعالیٰ کے لیے تھی یا نہیں ۔آپ نے فرمایا کہ میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ۔دوسرے۔لوگ نمازیں پڑھنا ترک کر دیں۔پسَ کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عبادت کے ساتھ ایک طرف تو یہ شرط لگا دی ہے کہ وہ غیراللہ کے لیے نہیں ۔اور دوسری طرف یہ کہا کہ غیراللہ کو سجدہ کرنا تو بڑی بات ہے مَیں خداتعالیٰ کو بھی اس لیے سجدہ نہیں کرتا کہ لوگ دیکھیں کہ میں عبادت کر رہا ہوں۔ کسی کے عیدین اور جمعہ کی نمازوں میں چلے جانے کے صرف یہی معنے نہیں ہوتے کہ دوسرے لوگ سمجھ لیں کہ وہ خداتعالیٰ سے بالکل باغی نہیں بلکہ یہ بھی ہوتے ہیں کہ وہ قوم کو احمق بنانے اور اس کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کے لیے تیار ہے۔
    پھر ایک شخص ایسا ہوتا ہے جس کی عبادت ماسِوَی۔اللہ کے لیے نہیں ہوتی اور نہ دکھاوے کی خاطر ہوتی ہے وہ خداتعالیٰ کی خاطر ہی عبادت کرتا ہے لیکن وہ اس کے پاس اپنی ذاتی اغراض کے لیے جاتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اگر میں نماز پڑھنا چھوڑ دوں تو خداتعالیٰ مجھ سے ناراض ہو جائے گا یا ممکن ہے میری صحت خراب ہو جائے یا میں بیمار ہو جاؤں یا خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی اَور عذاب آجائے۔ پس وہ خوف کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے خدا تعالیٰ کے لیے نہیں پڑھتا ہے۔ اس کی نماز اللہ کے لیے کہلاتی تو ہے مگر وہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں کہلائے گی۔ ایسا آدمی صرف ادنیٰ درجہ کا مومن ہو گا۔ کیونکہ وہ خداتعالیٰ کے غضب سے ڈر کر نماز پڑھتاہے۔ اُس کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ اگر میں نماز نہ پڑھوں تو میری دنیا اور عاقبت خراب ہو جائے گی۔ حالانکہ خوف کا تعلق بالواسطہ ہوتا ہے بِلاواسطہ نہیں ہوتا۔ بِلاواسطہ تعلق محبت کا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے پاس اس لیے جاتا ہے کہ وہ کہیں ناراض نہ ہو جائے تو اُس کی نظر صرف غضب کی طرف ہوتی ہے لیکن جب وہ خدا کی خاطر جاتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ ناراض ہو گا یا نہیں تو اُس کا درجہ بلند ہوگا۔
    پھر اس کے آگے ایک اَور مقام ہوتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پڑھنے والے کا تعلق خداتعالیٰ سے خوف کا نہ ہو بلکہ اُس کے انعامات حاصل کرنے کی غرض سے ہو۔ لیکن یہ عبادت بھی ناقص ہے۔ اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اگر اخروی زندگی نہ ہوتی اور خداتعالیٰ انسان کو پیدا کر کے کہہ دیتا کہ تم میری عبادت کرو تو انسان کہتا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ مگر اب چونکہ خداتعالیٰ کہتا ہے اخروی زندگی ہے اس لیے وہ اس کی عبادت کرتا ہے تا اس کے انعامات کو حاصل کرے۔ یہ درجہ خوف کے درجہ سے بالا ہے اور اس میں انسان خداتعالیٰ کے حُسن کے زیادہ قریب پہنچ جاتا ہے مگر پھر بھی اس کی عبادت محض خداتعالیٰ کی صفات سے کچھ حصہ لینے کے لیے ہوتی ہے۔ گویا اس کا خداتعالیٰ سے تعلق تو ہوتا ہے لیکن صرف اس کے افعال کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ اور جس شخص کا صرف افعال کے ساتھ تعلق ہوتا ہے وہ پورا عاشق نہیں کہلاتا۔…َ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ مَیں خداتعالیٰ کی اس لیے عبادت نہیں کرتا کہ وہ محافظ ہے میری حفاظت کرے، وہ رازق ہے مجھے رزق دے، وہ واسع ہے مجھے وسعت عطا کرے یا غالب ہے مجھے غلبہ بخشے۔ میں تو صرف اللہ کے حصول کی خاطر نماز پڑھتا ہوں۔ وہ مجھے کچھ دے یا نہ دے مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہ انتہائی مقام ہے۔ وہ شخص جو صرف خوف یا انعام کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے جب اسے پتا لگے کہ اخروی زندگی محض ایک استعارہ ہے تو وہ نماز چھوڑ دے گا ۔لیکن جو شخص محض لِلّٰہ نماز پڑھتا ہے جس کی عبادت محمدی عبادت کے ہمرنگ ہو گی وہ کہے گا میں نے تو جہنم کے ڈ رسے یا جنت کے لالچ سے نماز پڑھی ہی نہیں۔خداتعالیٰ مجھے جنت میں ڈالے یا جہنم میں مَیں اُس کی عبادت کرتا چلا جاؤں گا۔ میرے سامنے یہ سوال ہی نہیں کہ وہ مجھے کہاں لے جاتا ہے۔ مجھے تو وہ حسین نظر آتا ہے اور جب میں اُس کے سامنے جاتا ہوں تو اُس کا حُسن باقی سب چیزوں کو نظرانداز کرا دیتا ہے۔ دیکھو!پھول اچھی چیز ہے۔ ایک شخص اس کے پاس جاتا ہے اور وہ اُسے حسین نظر آتا ہے۔ اُس کے اردگرد کانٹے بھی ہوتے ہیں لیکن اُس کے حُسن کو دیکھ کر وہ اُس پر ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ اُس کا ہاتھ زخمی ہو جاتا ہے مگر وہ پھول کی خاطر کانٹوں کو بھول جاتا ہے۔ اسی طرح لِلّٰہ نماز پڑھنے والا باقی سب چیزوں کو بھول جاتا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں نماز پڑھتے تو لوگ آپ ؐ کو مارتے۔ آخر ان کا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ آپ کی نماز بتوں کی خاطر نہیں تھی، رسم و رواج کی خاطر نہیں تھی، قوم کی خاطر نہیں تھی ،کسی موہوم نفع کی خاطر نہیں تھی۔ اگر آپ کے سامنے کوئی موہوم نفع تھا تو آپ ؐ کو آپ ؐ کی قوم نے یہ پیشکش بھی کی تھی کہ آپ تبلیغ کرنا چھوڑ دیں۔ اگر آپ کو شادی کی ضرورت ہو تو قوم کی لڑکیاں حاضر ہیں۔ ان میں سے جو سب سے زیادہ خوبصورت ہو اُس سے آپؐ شادی کر لیں۔ اگر آپؐ کو مال کی ضرورت ہو تو ہمارے مال حاضر ہیں۔۔اگر حکومت کی خواہش ہو تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔4 لیکن آپ نے فرمایا اگر تم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر کھڑا کر دو تب بھی مَیں تبلیغ کے کام سے باز نہیں آسکتا۔5
    احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ خانہ کعبہ کے باہر ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ران پر کہنی اور ہاتھ پر ٹھوڑی رکھی ہوئی تھی اور اشاعتِ اسلام یا مشرکین مکہ کی مخالفت کے متعلق سوچ رہے تھے کہ اچانک ابوجہل جو کفار کا سردار تھا آیا۔ اُس کے دل میں ایک ہیجان پیدا ہوا اور اس نے بے تحاشا آپ کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ وہ گالیاں دیتا رہا لیکن آپ خاموش بیٹھے رہے۔ اس پر اسے اَور غصہ آیا کہ میں اسے گالیاں بھی دے رہا ہوں لیکن یہ جواب نہیں دیتا۔ اسی غصہ میں اس نے آپ کو مارنا شروع کر دیا۔ مگر آپؑ نے اسے کچھ نہیں کہا۔آپ خاموشی سے اٹھے اور اپنے گھر میں تشریف لے گئے۔ جس جگہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اُس کے قریب ہی حضرت حمزہؓ کا گھر تھا۔ حضرت حمزہؓ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ آپ کی لونڈی اس نظارہ کو دیکھ رہی تھی۔ پرانی لونڈیاں درحقیقت گھر کا ایک حصہ ہی سمجھی جاتی ہیں۔ وہ گھر کے بڑے افراد کو اپنے بزرگ، ہم عمر افراد کو بھائی اور چھوٹوں کو بیٹوں کی طرح سمجھتی ہیں۔ اس نظارہ کو دیکھ کر اس لونڈی پر گہرا اثر ہوا اور اُسے حیرت ہوئی کہ ابوجہل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں مار رہا ہے۔ اس کا مارنا اور گالیاں دینا اس کے لیے عجیب بات تھی۔ اس کے اندر ایک ہیجان سا پیدا ہو گیا لیکن وہ کر ہی کیا سکتی تھی۔ وہ دل ہی دل میں کڑھتی رہی۔ حضرت حمزہؓ باہر شکار کے لیے گئے ہوئے تھے۔ انہیں شکار کا بہت شوق تھا اور وہ روزانہ صبح شکار کے لیے جاتے اور شام کو واپس آ جاتے۔ شام کو وہ تیرکمان لٹکائے شکار ہاتھ میں لیے اور شکاری لباس میں ملبوس اکڑتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ لونڈی بھری بیٹھی تھی۔ اس نے حضرت حمزہؓ کو جو دیکھا تو غصہ میں کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی تمہیں شرم نہیں آتی بڑے سپاہی بنے پھرتے ہو۔ کمان ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے اور شکار کر کے فخر سے گھر میں داخل ہوئے ہو۔ تم کو پتانہیں کہ آج تمہارے بھتیجے کے ساتھ کیا ہوا؟ حضرت حمزہؓ نے پوچھا کیا ہوا؟ لونڈی نے سارا واقعہ سنا دیا اور واقعہ سنانے کے بعد جوش میں آ کر کہنے لگی خدا کی قسم!محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے اسے کچھ بھی تو نہیں کہا۔ مگر ابوجہل اسے گالیاں دیتا چلا گیا۔ یہ ایک مختصر سی گفتگو تھی لیکن وہی حمزہؓ جو سالہا سال سے آپ کی تبلیغ سے متأثر نہیں ہوئے تھے اِس چھوٹی سی بات سے اتنے متأثر ہو گئے کہ ان کے آگے سارا نقشہ پھر گیا کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم خداتعالیٰ کی صفات کے متعلق یا مکہ والوں کی مخالفت کے متعلق پتھر پر بیٹھے ہوئے تنہائی میں غور کر رہے ہیں۔ابوجہل آیا ہے اور اس نے بغیر پوچھے آپ کو گالیاں دینی شروع کر دی ہیں اور جب آپ نے جواب نہیں دیا تو اس نے مارنا شروع کر دیا۔ اور پھر وہ سادہ سا فقرہ جو لونڈی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے متعلق کہا ان کے سامنے آ گیا کہ خدا کی قسم!محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے اسے کچھ بھی تو نہیں کہا۔ حضرت حمزہؓ کی آنکھوں پر سے تکبر اور غرور کا پردہ اُٹھ گیا۔ کفر کا پردہ چاک ہو گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر جن پر اثر نہیں ہوا تھا ۔اس دن کے واقعہ سے جس کی خبر اُن کی ایک اَن پڑھ لونڈی نے انہیں دی تھی اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے شکار وہیں پھینکا اور وہی تیر کمان ہاتھ میں پکڑے ہوئے خانہ کعبہ میں آئے۔ وہاں دربار لگا ہوا تھا اور ابوجہل دوسرے سردارانِ مکہ میں بیٹھا شاید صبح کا واقعہ ہی سنا رہا تھا۔ حضرت حمزہ ؓابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور رؤساء ِمکہ میں سے تھے اس لیے دوسرے رؤساء نے جو ابوجہل کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ کے لیے رستہ بنایا اور کہا آؤ حمزہ!تم بھی آؤ اور یہاں بیٹھو۔ حضرت حمزہؓ نے اُن کی اس بات کا کوئی جواب نہ دیا بلکہ سیدھے ابوجہل کی طرف گئے اور کمان جو ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی اُس کے سر پر مار کر کہا میں نے سنا ہے تم نے آج ایسی شرارت کی ہے۔ تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو مگر تمہاری بہادری یہی ہے کہ تم محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کو مارتے ہو۔ اس لیے کہ وہ خاموش رہتا ہے۔ میں نے سارے مکہ کے سامنے تجھے مارا ہے اگر تم میں طاقت ہو تو آؤ!مجھ سے مقابلہ کرلو اور اس کا بدلہ لو۔ حضرت حمزہؓ بیشک رؤسائِ مکہ میں سے تھے مگر ابوجہل تو اُس وقت کفار کا سردار تھا اس لیے سارے رؤسا ء کھڑے ہو گئے اور حضرت حمزہؓ پر کُود پڑے۔ مگر صبح والا واقعہ صرف حمزہؓ کو ہی متاثر نہیں کر سکا تھاوہ ابوجہل کے دل پر بھی کاری زخم لگا چکا تھا۔ وہ بھی خیال کرتا تھا کہ اُس صبح والے فعل میں معقولیت نہیں پائی جاتی تھی۔ جب رؤساء حضرت حمزہؓ کو مارنے کے لیے اُٹھے تو ابوجہل نے کہا حمزہؓ کو کچھ نہ کہو۔ دراصل مجھ سے ہی صبح غلطی ہو گئی تھی۔6
    تو دیکھو صَلٰوتِیْ لِلّٰہِ میں کتنی تاثیر پائی جاتی تھی۔ وہ نماز جس کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بُتوں کے لیے نہیں تھی، وہ نماز جسے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قوم کے لیے نہیں تھی، وہ نماز جسے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ جہنم سے ڈر کر بھی نہیں تھی اور نہ ہی جنت کے لالچ کی وجہ سے تھی، وہ نماز جس کا دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ عبادت کرنے والا خداتعالیٰ کے عشق میں کھڑا ہے اور وہ مطالبہ کر رہا ہے کہ تُو مجھے مل جائے۔ وہ پہاڑوں کو ہِلا دیتی ہے، وہ دریاؤں کو خشک کر دیتی ہے، وہ دلوں پر ایک زلزلہ طاری کر دیتی ہے ایسا زلزلہ جو کوئٹہ اور بہار کے زلزلوں سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ یہ نماز اپنی ذات میں تبلیغ ہے۔ اِس نماز میں اور اُس نماز میں جو بُتوں کے لیے ہو یا دکھاوے کی غرض سے ہو یا وہ جہنم کے خوف یا انعام کے لالچ کی وجہ سے پڑھی جائے زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بیشک وہ نماز جو بتوں کی خاطر نہیں پڑھی جاتی، وہ نماز جو دکھاوے کی خاطر نہیں پڑھی جاتی، وہ نماز جو جہنم کے خوف یا جنت کے لالچ کی وجہ سے پڑھی جاتی ہے وہ بھی نماز ہے لیکن وہ لِلّٰہِ نہیں۔ لِلّٰہِ۔اور خالی نماز میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
    غرض … میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری نماز میں اور دوسرے لوگوں کی نماز میں فرق ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی قوم کے لیے نماز پڑھتے ہیں، بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نماز پڑھتے تو خداتعالیٰ کے لیے ہیں لیکن دوزخ سے ڈر کے مارے پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو انعامات کے لالچ کی وجہ سے نماز پڑھتے ہیں۔ بیشک یہ مقامات بھی مومن کے ہیں لیکن یہ مومن اعلیٰ درجہ کا نہیں کہلا سکتا۔ میں صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر نماز پڑھتا ہوں۔بیشک وہ مجھے دوزخ میں ڈال دے میں نماز پڑھتا چلا جاؤں گا، بیشک وہ یہ کہہ دے کہ جنت کوئی چیز نہیں میں نماز پڑھتا چلا جاؤں گا۔ میری نماز تو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہے بُتوں کے لیے نہیں، قوم کی خاطرنہیںاورنہ شیطان کے لیے ہے۔ یہ وہ قیدیں ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کے ساتھ لگائی ہیں اور فرمایا میری نماز ایسی ہے۔ اور دوسری طرف قرآن کریم میں یہ آتا ہے7 یعنی۔اگر تم خداتعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میرے نقشِ قدم پر چلو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مومن کی نماز بھی ایسی ہی ہوتی ہے اور وہی سچا مومن کہلا سکتا ہے جس کی نماز محمدی نماز ہو۔ ہم نوح علیہ السلام کی شریعت کے متبع نہیں ہیں، ہم موسٰی علیہ السلام یا عیسٰی علیہ السلام کے متبع نہیں ہیں اور بیشک ہم انہیں بھی نبی سمجھتے ہیں لیکن ہمیں ان کی نماز سے غرض نہیں ہماری نماز وہی ہونی چاہیے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیا تھی؟اس کے متعلق آپ ؐ خود نہیں فرماتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے َتُو لوگوں سے کہہ دے کہ میری نماز صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے جو رب العٰلمین ہے۔ گویا خداتعالیٰ نے اس بات کی توثیق کر دی ہے کہ آپ کی نماز واقع میں اُسی کے لیے ہے۔ پڑھنے والے کا یہاں ذکر نہیں کہ اُس کی کیا نیت ہے۔ جس کی خاطر پڑھی جاتی ہے وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے مجھے پتا ہے کہ یہ نماز میرے لیے ہی ہے۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عبادت کے ساتھ اتنی قیدیں لگا دی ہیں کہ اسے انتہائی درجہ تک پہنچا دیا ہے۔ کتنا کنٹرول کرنا پڑتا ہے اپنے نفس پر کہ کوئی ایسی بات دل میں نہ آئے جس سے ظاہر ہو کہ اُسے قوم یا کسی اَور شخص سے خوف ہے یا دوزخ کا ڈر اور جنت کو حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جہاں ماسِوَی اللہ کے لیے نہیں تھی وہاںوہ جہنم کے خوف یا جنت کے انعامات حاصل کرنے کی غرض سے بھی نہیں تھی۔ وہ صرف وصالِ۔الٰہی کی خاطر تھی۔ اور وصالِ الٰہی کے یہ معنے ہیں کہ انسان ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ اس کے سامنے صرف اس کی ذات ہی ذات رہ جائے۔ یہ وہ نماز ہے جس کا اسلام نے تقاضا کیا ہے۔ دوسری کسی امت نے اس کا تقاضا نہیں کیا ۔صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوٰی کیا ہے کہ میری نماز اللہ کے حصول کی خاطر ہے دیکھ۔لو!یہ آیت لفظ سے شروع ہوتی ہے۔ خداتعالیٰ خود کہتا ہے ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ تُو ایسا کہہ۔دے۔ گویا اُس نے آپ کے دعوٰی کی تصدیق کر دی ہے۔
    یہ وہ صلوٰۃ ہے جس کا حقیقتاً اسلام ہر مسلمان سے تقاضا کرتا ہے۔ نچلے درجے بھی مومن کے۔ہی ہیں لیکن وہ محمدی مقام کے ہمرنگ نہیں کہلا سکتے۔ اگر جہنم کے خوف یا انعام کے لالچ سے نماز۔پڑھی۔جائے تو وہ مقبول ضرور ہو جائے گی، اس کا پڑھنے والا مومن بھی کہلائے گا لیکن رسول۔کریم۔صلی۔اللہ۔علیہ۔وسلم اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں صرف خدا ہی خدا سامنے ہوتا ہے اور۔صرف اُسی کی خاطر عبادت کی جاتی ہے‘‘۔ (الفضل 23دسمبر 1959ء )

    1
    :
    الانعام:163
    2
    :
    جلب:حاصل کرنا۔ اخذ کرنا(اردو لغت تاریخی اصول پر جلد6صفحہ 709۔ اردو ترقی بورڈ کراچی 1984ئ)
    3
    :
    بخاری کتاب الاذان باب فضل صلٰوۃ العشاء فی الجماعۃ
    4
    :
    سیرت ابن ہشام جلد 1صفحہ315 ،316 مطبوعہ مصر 1936ء
    5
    :
    سیرت ابن ہشام جلد 1صفحہ284 ،285 مطبوعہ مصر 1936ء
    6
    :
    سیرت ابن ہشام جلد 1صفحہ311 ،312 مطبوعہ مصر 1936ء
    7
    :
    آل عمران:32


    کامل انسان وہ ہے جس کی سب قربانیاںخداتعالیٰ کے لیے ہوں
    (فرمودہ 12؍اگست 1949ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت کی: َ1
    اس کے بعد فرمایا:
    ’’میں نے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو مختلف قیود کے ساتھ مقید کر دیا ہے اور اسے ایسی صورت میں پیش کیا ہے کہ وہ عام نمازوں سے بہت بڑھ جاتی ہے اوریہی وہ صلوٰۃ ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے حاصل ہے۔
    دوسری چیز جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے ہے۔ نُسُکٌ ۔یہنَسِیْکَۃٌ کی جمع ہے جونَسَکَ سے نکلا ہے۔ اور نُسُکٌ کے معنے ہوتے ہیں کسی نیک کام کو بغیر اس کے کہ اس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو، بغیر اس کے کہ اس کی ذمہ داری کسی پر ڈالی گئی ہو اپنی خوشی اور مرضی سے کسی شخص نے سرانجام دیا اور اس نیت سے کام کیا کہ خداتعالیٰ کی رضا اسے حاصل ہو جائے۔ اس مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے نَسِیْکَۃٌ کا لفظ ایسی قربانی پر دلالت کرتا ہے جو خالصۃ ً لِلّٰہ ہو اور پھر اپنی خواہش، ارادے اور طبعی رغبت کے ماتحت کی جائے۔ اس میں جبر اور حکم کا دخل نہ ہو۔ جبر اور حکم کے ماتحت کی۔جانے والی بھی لِلّٰہ ہو سکتی ہے لیکن وہ مشتبہ ہو تی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دیکھنے والا اس کے متعلق ایسا شُبہ کر لے کہ شاید اگر حکم نہ دیا جاتا تو قربانی کرنے والا قربانی نہ کرتا۔
    پھر نَسِیْکَۃٌ ایسے چاندی اور سونے کو بھی کہتے ہیں جس میں سے ہر قسم کی مَیل نکال دی جائے۔ اس لحاظ سے نَسِیْکَۃٌ کے معنے اس فعل کے بھی ہو سکتے ہیں جو ہرقسم کے نقص اور خرابی سے پاک ہو۔ ہر زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ کسی لفظ کے جتنے معنے ہو سکتے ہیں وہ سب کے سب اپنی ذات میں مستقل سمجھے جاتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان تمام معنوں میں روح ایک ہی پائی جاتی ہے اور ہر مفہوم دوسرے مفہوم سے مشابہت کے رشتہ سے وابستہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسا سونا اور چاندی جس میں سے ہر قسم کی مَیل نکال دی جائے نَسِیْکَۃٌ کے مستقل معنے ہیں اور ایسی قربانی جو خالصۃً لِلّٰہ ہو وہ بھی اس کے مستقل معنے ہیں اور ان دونوں معنوں کو اگر ملا کر دیکھا جائے تو دونوں مشابہت کے رشتہ سے آپس میں وابستہ ہیں کیونکہ ہر وہ قربانی جو مصفّٰی ہو، غیرچیز کی اس میں ملونی نہ ہو محض لِلّٰہ ہو، وہ قربانی بھی ہر قسم کے عیب اور نقص سے صاف ہو جاتی ہے اور ہر قسم کی مَیل سے صاف کی ہوئی چاندی اور سونے میں بھی یہی معنے پائے جاتے ہیں یعنی اس میں سے بھی غیرجنس کو نکال دیا جاتا ہے۔ ان دونوں معنوں کو مدنظر رکھ کر یہاں نَسِیْکَۃٌ کے معنے اس قربانی کے ہوں گے جو ہر قسم کی خرابی اور نقص سے پاک ہو، خالصۃً لِلّٰہ ہو اور کوئی غیرچیز جس کے لیے قربانی نہیں ہونی چاہیے اس میں شامل نہ ہو۔پھر وہ قربانی طبعی رغبت سے ہو جبراور حکم کا اس میں دخل نہ ہو۔
    خالصۃً لِلّٰہ قربانی اور عام قربانی میں زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ جب صرف قربانی کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد ہر قسم کی قربانی ہوتی ہے۔ مثلاً اگر ہم کہیں کہ فلاں شخص نے اپنے بیوی بچوں کو بھوکا رکھا اور ماں باپ کی خدمت کی تو اسے بھی ہم قربانی ہی کہیں گے۔یہ نہیں کہ وہ کام جو ماسِوَی۔اللہ کے لیے کیا جائے۔ قربانی کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی۔ ماسِوَی۔اللہ کے لیے جو کام کیا جائے اس کے لیے بھی قربانی کا لفظ استعمال کیا جائے گا۔ احادیث میں آتا ہے کہ تین آدمی تھے جو کسی پہاڑی علاقہ میں سے گزر رہے تھے کہ طوفانِ بادوباراں آیا اور وہ ڈر کے مارے ایک غار میں چُھپ گئے۔ جب وہ غار میں چُھپے تو ایک بڑی سِل ہوا اور بارش کے زور سے لُڑھک کر اس کے دروازہ پر آگری اور اُن کا رستہ رُک گیا۔ انہوں نے طوفان سے محفوظ رہنے کے لیے غار میں پناہ لی تھی لیکن۔ہوا۔اور۔بارش نے اُن کے باہر نکلنے کا رستہ بھی بند کر دیا۔ ان تینوں کے اندر اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس سِل کو دروازہ سے ہٹا سکتے۔ پس تینوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ کوئی ایسی تدبیر اختیار کی جائے جس سے یہ سِل دروازہ سے ہٹ جائے اور آخر انہوں نے یہ تجویز کی کہ آؤ!ہم اپنے کسی خاص فعل کو پیش کر کے خداتعالیٰ سے یہ دعا مانگیں کہ اے اللہ!ہمارے فلاں فعل کی وجہ سے جو خالص تیرے لیے تھا تُو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص نے خداتعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے اللہ!تُو جانتا ہے کہ میرا اور میرے اہل و عیال کا گزارہ بکریوں کے دودھ پر ہے مگر ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ میں جلدی واپس گھر نہ پہنچ سکا۔ بہت رات گئے میں گھر پہنچا۔ میرے بڈھے والدین میرا انتظار کرتے کرتے تھکان کی وجہ سے مزید بیدار رہنے کی برداشت نہ کر سکے اور سوگئے۔ جب میں گھر پہنچا تو میرے بچے بھوک کی وجہ سے تڑپ رہے تھے اور بیوی بھی بیتاب تھی۔ میری بیوی نے کہا تمہارے والدین تو تھکان کی وجہ سے سو گئے ہیں لیکن ہم لوگ جاگ رہے ہیں اور کھانے کی انتظار میں ہیں تُو ہمیں دودھ پلا دوبچے بھوک کی زیادہ برداشت نہیں کر سکتے۔ میں نے اسے جواب دیا ماں باپ کا حق بیوی بچوں پر مقدم ہے۔ میں پہلے انہیں دودھ پلاؤں گا اور پھر بیوی بچوں کی طرف توجہ کروں گا۔ چنانچہ میں نے دودھ کا پیالہ اُٹھایا اور اُن کی پائنتی کھڑا ہو گیا۔ کیونکہ میں انہیں جگانا اور ان کی نیند میں دخل انداز ہونا نہیں چاہتا تھا میں نے خیال کیا جب یہ نیند سے خودبخود بیدار ہوں گے تو ان کی خدمت میں دودھ پیش کروں گا۔ لیکن وہ تھکان کی وجہ سے ایسے سوئے کہ ساری رات گزر گئی اور وہ نہ جاگے۔ میرے بچے بھی آخر بھوک کی برداشت نہ کر سکے اور نیند کے غلبہ کی وجہ سے سو گئے۔ میں ساری رات والدین کی پائنتی دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیے کھڑا رہا۔صبح جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو میں نے انہیں دودھ پلایا اور ان کے بعد بیوی بچوں کو دودھ دیا۔ اے میرے رب!میری اس میں کوئی ذاتی غرض نہیں تھی۔ میں نے ان سے یہ حُسنِ سلوک صرف اُس فرض کے ادا کرنے کے لیے کیا جو تُو نے مجھ پر عائد کیا تھا۔ اے میرے خدا!اگر تیرے نزدیک میرا یہ فعل مقبول ہے تو تُو ہم پر رحم کر کے غار کے دروازہ سے پتھر ہٹا دے۔ احادیث میں آتا ہے کہ ان تینوں میں سے ہر ایک شخص جب اپنی کسی خاص قربانی کو پیش کر کے خداتعالیٰ سے دعا کرتا تو پتھر کا 1/3حصہ دروازہ سے ہٹ جاتا۔ جب تیسرے شخص نے دعا کی تو آندھی زور سے چلی اور پتھر کے باقی حصہ کو بھی غار کے دروازہ سے پرے ہٹا کر لے گئی2۔ اب یہ چیز بھی قربانی ہی کہلائے گی لیکن اس میں احسان کا بدلہ اتارنے کا پہلو زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس شخص نے والدین کی خاطر جو فعل کیا وہ اس احسان کی قدر کی وجہ سے تھا جو والدین نے اس پر کیا تھا۔ اس قدر کی وجہ سے ہی اس نے ساری رات جاگتے ہوئے کاٹی اپنے بیوی بچوں کو بھوکا رکھا اور جب تک والدین کو دودھ نہ پِلا لیا اپنے بیوی بچوں کو نہ پلایا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قربانی نہیں تھی مگر اس کے خالصۃً لِلّٰہ ہونے میں دوسروں کو شبہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اَور بہت سے واقعات پائے جاتے ہیں جن میں وہ لوگ جن پر کسی کا احسان ہوتا ہے اُس شخص کی خاطر اپنی جانیں تک قربان کر دیتے ہیں۔
    مغلوں کی تاریخ کا واقعہ ہے کہ ہمایوں کا وزیر جب شکست کھا کر بھاگا جا رہا تھا تو سندھ میں اُسے پٹھانوں نے گھیر لیا اور سمجھ لیا کہ وہی ہمایوں کا وزیر ہے۔ ان کے ساتھ ایک خادم بھی تھا۔ اس نے حملہ آوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وزیر میں ہوں وہ نہیں اور وزیر کہہ رہا تھا کہ وزیر میں ہوں وہ نہیں۔ آخر اس خادم نے اتنے زور اور اصرار کے ساتھ اپنے آپ کو بطور وزیر پیش کیا کہ حملہ آوروں کو یقین ہو گیا کہ یہ غلام ہی اصل وزیر ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے قید کر لیا اور پھانسی دے دی۔ اب یہ بھی ایک قربانی تھی۔ لیکن یہ قربانی خالصۃً لِلّٰہ نہیں تھی۔ایک محسن کے لیے تھی۔ بالکل ممکن تھا وہ غلام دہریہ ہوتا تب بھی وہ اپنے محسن کے لیے جان قربان کر دیتا۔
    دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قوم کی خاطر اس کے رُعب اور وقار کو قائم رکھنے کے لیے اپنی جانوں اور مالوں کی پروا نہیں کرتے اور ہر ملک میں اس کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ جاپانی لوگ کوئی خداپرست نہیں تھے۔ وہ مشرک اور دہریہ تھے۔ مگر گزشتہ جنگ میں جو قربانیاں انہوں نے کی ہیں ان کے واقعات پڑھ کر حیرت آتی ہے۔ جہاز سے گرائے ہوئے بم کے خطا جانے کا امکان ہو سکتا ہے مگر جنگ میں بعض مواقع ایسے بھی آ جاتے ہیں کہ دو منٹ کا بھی وقفہ پڑ جائے تو دشمن غالب آ جاتا ہے۔ ایسے وقت پر اگر ہاتھ سے بم پھینکا جائے یا جہاز سے گرایا جائے تو ممکن ہے وہ نشانہ پر نہ بیٹھے۔ لیکن لائف بم کا خطا ہو جانا ممکن نہیں۔ جاپانی لوگ ایسے مواقع پر بم اپنے سینوں پر باندھ لیتے اور مقابل پارٹی کے مورچوں اور حفاظت کی جگہوں پر کُود کر گر جاتے تو خود تباہ ہو جاتے لیکن دشمن کی پوزیشن کو نقصان پہنچا دیتے۔ غرض ملک اور قوم کی خاطر انہوں نے قربانی کی اور ایسی کی جس کے واقعات پڑھ کر حیرت آتی ہے۔ لیکن وہ قوم کی خاطر تھی، ملک کی خاطر تھی خالصۃً لِلّٰہ نہیں تھی۔
    وہ قربانی جو خالصۃً لِلّٰہنہ ہو وہ بھی آگے کئی قسم کی ہوتی ہے۔ لوگ قوم کے لیے بھی قربانیاں کرتے ہیں، ملک کے لیے بھی قربانیاں کرتے ہیں، ماں باپ اور اولاد کے لیے بھی قربانیاں کرتے ہیں، مائیں اولاد کے لیے جو قربانی کرتی ہیں اُس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ دوسری قربانیاں خواہ کتنی شاندار ہوں ماؤں کی قربانیوں کی طرح عام نہیں پائی جاتیں مگر ان قربانیوں سے تو کوئی بستی بھی خالی نہیں۔ بچہ بیمار ہو جاتا ہے تو ماں ساری ساری رات جاگتی رہتی ہے باپ اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ بسااوقات تنگ آ کر دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے۔ اس کے سامنے صرف سونے کا سوال ہوتا ہے اور بیوی کے سامنے ساری رات پھرنے کا ۔لیکن وہ ساری ساری رات جاگتی ہے اور بچے کو گود میں لے کر اِدھر اُدھر پھرتی ہے۔ اب یہ بھی قربانی تو ہے لیکن اللہ کے لیے نہیں کہلا سکتی۔ ماں اپنی مامتا کی ماری یہ قربانی کرتی ہے، ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور اس کا ذکر سن کر متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے بعض دفعہ ہماری آواز میں ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔ ہماری آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے۔ لیکن وہ قربانی خالصۃً لِلّٰہ نہیں کہلا سکتی۔ قوم، ملک، والدین یا بیوی بچوں کے لیے جو قربانی کی جاتی ہے اور وہ قربانی جو خداتعالیٰ کے لیے کی جاتی ہے دونوں میں ایک فرق ہے اور وہ فرق عقل کا ہے۔ قوم، ملک، والدین یا بیوی بچوں کے لیے جو قربانی کی جاتی ہے اس کے ساتھ ایک جنون سا پایا جاتا ہے لیکن خداتعالیٰ کی خاطر کی ہوئی قربانی کے ساتھ جنون نہیں پایا جاتا۔ اوّل الذکر قسم کی قربانی کرنے والے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح احسان کا بدلہ اتارے۔ ماں اپنے بچے کی خاطر اس لیے قربانی کرتی ہے کہ وہ آئندہ قوم کا سپوت ثابت ہو اور بڑے ہو کر وہ اس کی خدمت کرے۔ حالانکہ خداتعالیٰ اس سے بھی زیادہ احسان کرنے والا ہے۔ اگر اس کے اندر قربانی کا حقیقی جذبہ ہوتا تو وہ دونوں کے درمیان موازنہ کرتی کہ کس کا احسان زیادہ ہے۔ وہ ماں جو ساری ساری رات اپنے بچے کی خاطر جاگتی ہے اور اسے گود میں لیے پھرتی ہے بسااوقات وہ تہجد کے لیے نہیں اٹھتی حالانکہ خداتعالیٰ کا احسان اس پر زیادہ ہوتا ہے۔ وہ قوم کے لیے قربانی کرتی ہے تو اس لیے کرتی ہے کہ آئندہ نسلوں کو فائدہ پہنچے لیکن اللہ تعالیٰ کا گزشتہ نسلوں پر بھی فضل ہوتا ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی وہ رحمت کا موجب ہوتا ہے۔ پس قوم، ملک یا بیوی بچوں کی خاطر کی گئی قربانی کی خالصۃً لِلّٰہ قربانی کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں۔ ملک اور قوم اور بیوی بچوں اور دوسرے عزیزوں سے نیک سلوک کرنے والے کی قربانی بھی بیشک قربانی کہلائے گی لیکن ہوگی ادنیٰ۔ اس لیے کہ اس نے بڑی چیز کو چھوڑ کر چھوٹی چیز کو اختیار کیا۔ اگر وہ اس جذبہ کا صحیح استعمال کرتا تو وہ ہر مقام کی نسبت سے اپنی قربانی کو تقسیم کرتا۔ قوم، ملک، والدین اور بیوی بچوں وغیرہ کے لیے قربانی کرنے والے کی خداتعالیٰ پر نظر نہیں ہوتی۔ کتاب میں ہم پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ فلاں شخص نے قوم کی خاطر قربانی کی، فلاں نے اپنے آقا کے ساتھ نیکی کی مگر ہم موازنہ نہیں کر رہے ہوتے۔ ہم ایک پہلو کو ترک کر دیتے ہیں اور ایک پہلو پر سارا زور خرچ کر دیتے ہیں۔ ہم ایک پہلو کو دیکھ کر اسے کامل تصور کر لیتے ہیں لیکن جب عقل کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا خیال غلط تھا۔ مثلاً ایک شخص ایک تنومند انسان کو جو سخت پیاسا ہو ایک چُلّو بھر پانی دے دیتا ہے اور بچے کے سامنے پانی کی گڑوی رکھ دیتا ہے تو تنومند شخص کا ایک چُلّو بھر پانی سے کیا بنے گا۔ وہ اسے پیاس سے بچا نہیں سکتا اور نہ ہی پانی کی گڑوی بچے کے کام آ سکے گی۔ تنومند شخص چُلّو بھر پانی پی کر مر جائے گا اور بچہ پانی کی گڑوی پی کر مر جائے گا۔ غرض اس کی قربانی قربانی تو کہلائے گی لیکن عقل کے ساتھ موازنہ نہ کرنے کی وجہ سے ناقص رہ جائے گی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میں یہ بتایا ہے کہ میں اپنی وہ قربانی پیش کرتا ہوں جو خالصۃً لِلّٰہ ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری قربانیاں نہیں کرتے تھے۔ آپ ؐ نے دوسری قربانیاں بھی کیں اور ان کا ذکر قرآن کریم میں بار بار آتا ہے۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے 3َ اے محمد رسول اللہ! کیا تُو اس وجہ سے کہ وہ ایمان نہیں لاتے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے گا۔ آپ ؐ نے جس رنگ میں اپنی قوم سے وفاداری کی اور صرف اپنے دوستوں کے لیے ہی نہیں اپنے دشمنوں کے لیے بھی قربانیاں کیں وہ اپنی نظیر آپ ہیں۔
    حضرت عباسؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے اور محسن بھی۔ آپ ؐ دوسروں کی نسبت ان سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ جنگِ بدر میں وہ قید ہوئے۔ جب اسلامی لشکر مدینہ واپس آ رہا تھا تو راستے میں ایک جگہ پر کچھ دیر آرام کرنے کے لیے قیام کیا گیا۔ اُن دنوں بیڑیاں اور ہتھکڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔ قیدیوںکورسیوں سے باندھ دیا جاتا اور رسیاں زیادہ سخت کر کے باندھی جاتی تھیں تا ڈھیلی نہ رہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت آرام کرنے کے لیے ایک جگہ پر قیام پذیر ہوئے۔ قیدیوں کی جگہ آپ ؐ کی آرام گاہ کے بالکل قریب تھی۔ رسیوں کے سخت بندھے ہونے کی وجہ سے حضرت عباسؓ کے کراہنے کی آواز آنے لگ گئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اِدھر کروٹ لیتے تھے کبھی اُدھر۔ آپ ؐ کونیند نہیں آتی تھی۔ صحابہؓ کے اندر یہ بات پائی جاتی تھی کہ وہ آپ ؐ کی ہر حرکت کو دیکھتے رہتے تھے۔ پہریداروں نے جب دیکھا کہ آپ کو نیند نہیں آ رہی تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے۔ انہوں نے خیال کیا کہ آپ کو چونکہ حضرت عباسؓ کے کراہنے کی آواز آ رہی ہے اور ان سے آپ کو محبت ہے اس لیے دُکھ اور تکلیف کی وجہ سے آپ ؐ کو نیند نہیں آتی۔چنانچہ انہوں نے حضرت عباسؓ کی رسیاں ڈھیلی کر دیں جس کی وجہ سے ان کے کراہنے کی آواز بند ہو گئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ دیر کے لیے نیند آ گئی۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دیر کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وہم پیدا ہوا کہ تکلیف برداشت نہ کر کے حضرت عباسؓ کہیں فوت ہی نہ ہو گئے ہوں یا بیہوش نہ ہو گئے ہوں۔ چنانچہ آپ ؐ نے پہریداروں کو بلایا اور دریافت فرمایا کہ حضرت عباسؓ کی آواز کیوں نہیں آتی؟ انہوں نے بتایا یَارَسُوْلَ اللّٰہ!ہم نے دیکھا کہ آپ ؐ کو نیند نہیں آ رہی۔ ہم نے خیال کیا کہ یہ صرف حضرت عباسؓ کے کراہنے کی وجہ سے ہے اس لیے ہم نے ان کی رسیاں ڈھیلی کر دی ہیں جس کی وجہ سے ان کے کراہنے کی آواز بند ہو گئی ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا عباس سے بیشک مجھے محبت ہے لیکن دوسرے قیدی بھی تو کسی نہ کسی کو پیارے ہیں۔ یا تو تم عباس کی رسیاں بھی باندھ دو اور یا پھر دوسروں کی رسیاں بھی ڈھیلی کر دو۔ اس پر صحابہؓ نے دوسرے قیدیوں کی رسیوں کو بھی ڈھیلا کر دیا۔4یہ قربانی تھی جو آپ ؐ نے کی۔ حضرت عباسؓ کے ساتھ آپ کو محبت تھی، وہ آپ کے چچا تھے اور محسن بھی تھے اس لیے دوسروں کی نسبت آپ ؐ ان کی زیادہ حمایت کرتے تھے لیکن جہاں محبت کے تعلقات تھے وہاں آپ ؐ نے برداشت نہ کیا کہ حضرت عباسؓ کی رسیاں کھول دی جائیں اور دوسرے قیدی تکلیف کی وجہ سے کراہتے رہیں۔
    حضرت خدیجہؓ نے بھی آپ ؐ کے ساتھ حُسنِ سلوک کیا تھا۔ اس کا آپ پر اتنا گہرا اثر تھا کہ آپ حضرت خدیجہ ؓکا بڑی کثرت سے ذکر فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ پر طبعاً یہ بات گراں گزرتی۔ آپ فرماتی ہیں میں نے تنگ آ کر ایک دن کہا یارسول اللّٰہ!آپ بھی کیا کرتے ہیں۔ خداتعالیٰ نے آپ کو اُس سے اچھی بیویاں دے دی ہیں آپ ؐ اس کا خیال چھوڑ دیں۔ آپ ؐ نے فرمایا عائشہ!تمہیں معلوم نہیں کہ اُس میں کیا کیا خوبیاں تھیں۔ اگر تمہیں معلوم ہوتا تو یہ بات کبھی نہ کہتیں۔5
    اسی طرح اَور بھی جس جس شخص نے آپ سے حُسنِ سلوک کیاآپ ؐ نے اسے بُھلایا نہیں بلکہ آپ نے ہمیشہ اس کی قدر کی۔ اَوروں کو جانے دو جس قوم نے آپ ؐ کو پالا تھا آپ ؐ نے اُس سے جو سلوک کیا وہ کیا کم قربانی تھی۔ وہ قوم آخر وقت تک آپ ؐ سے لڑتی رہی اور بالآخر ایک لمبی اور خطرناک جنگ کے بعد مغلوب ہوئی اور ساری کی ساری قید ہو کر آئی۔ اس جنگ میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان بھی خطرے میں پڑ گئی تھی لیکن اس قوم کے حُسنِ۔سلوک کا آپ ؐ پر اتنا اثر تھا کہ آپ نے دو ماہ تک ان کے قیدیوں اور اموال کو تقسیم نہ کیا۔ وہ بھی ضدی تھے۔ آپ ؐ کے پاس جلدی نہ آئے۔ آپ ؐ کا خیال تھا کہ وہ میرے پاس آئیں گے تو میں صحابہؓ سے ان کی سفارش کر دوں گا کہ چاہو تو ان کو چھوڑ دو ان کا مجھ پر احسان ہے، انہوں نے مجھے پالا تھا مگر جب آپ ؐ نے دیکھا کہ وہ دو ماہ تک نہیں آئے تو آپ نے قیدی اور مال صحابہؓ میں تقسیم کر دیئے۔ اس کے بعد آپ ؐ کی دودھ شریک بہن آئی اور اس نے درخواست کی کہ آپ ؐ۔ان سے حُسن ِ سلوک کریں۔ آپ ؐ نے فرمایا میں دیر تک انتظار کرتا رہا کہ تم آ ؤ تو میں تمہاری سفارش کر دوں مگر تم نہیں آئیں اور میں نے سب کچھ صحابہؓ میں تقسیم کر دیا ہے۔ اب میں ایک بات کر سکتا ہوں۔ میں سفارش کروں گا کہ یا تو صحابہؓ۔۔تمہارے قیدی چھوڑ دیں اور یا تمہارے مال واپس کر دیں۔ ان دونوں چیزوں میں سے جو چاہو پسند کر لو۔ انہوں نے مال کے مقابلہ میں جانوں کو ترجیح دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو جمع کیا اور فرمایا میری دودھ شریک بہن آئی ہے اور درخواست کرتی ہے کہ اُس سے حُسنِ سلوک کیا جائے۔ میں نے ان سے دو چیزوں میں سے ایک چیز کا وعدہ کیا ہے چاہے مال واپس لے لیں اور چاہے قیدی آزاد کرا لیں۔ غنیمت کا مال تقسیم کر دیا گیا ہے اور میں مسلمانوںکو اس سے بالکل محروم نہیں رکھنا چاہتا۔ انہوں نے جانوں کو مال پر ترجیح دی ہے۔ اب میں تمہارے سامنے یہ بات رکھتا ہوں۔ صحابہؓ نے سب غلام چھوڑ دیئے اور کہا یارسول۔اللّٰہ!ہم مال واپس کرنے کو تیار ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک ہی چیز کا وعدہ کیا ہے۔6
    پھر یہ تو آپ کے محسن تھے۔آپ ؐ نے دوسروں کے محسنوں کو دیکھ کر اُن کی بھی قدر کی ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ اسلامی لشکر جب لڑائی سے واپس آیا تو آپ قیدیوں کا معائنہ فرما رہے تھے۔ قیدیوں میں عورتیں مرد سب شامل تھے۔ آپ قیدیوں کو دیکھ رہے تھے کہ ایک عورت بولی یارسول اللّٰہ!کیا آپ کو معلوم ہے میں کون ہوں؟ آپ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں تم خود ہی بتا دو۔ اس نے کہا میں حاتَم طائی کی بیٹی ہوں۔ پھر اس نے کہا میں نے سنا ہے کہ آپ ؐ بڑے مُحسن ہیں اور مُحسن مُحسنوں کی قدر کیا کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو جمع کیا اور فرمایا دیکھو!اس لڑکی کا باپ غریبوں کی مدد کیا کرتا تھا، مسافروں کے کام آتا تھا اور جہاں تک اُس کے بس میں ہوتا وہ دوسروں سے حُسنِ سلوک کرتا۔ مجھے یہ دیکھ کر شرم آتی ہے کہ اس کی لڑکی ہمارے پاس قید ہو۔ میرا یہ مشورہ ہے کہ انہیں آزاد کر دو۔ چنانچہ صحابہؓ نے صرف اس لڑکی کو ہی نہیں بلکہ اُس کے اصرار پر اُس کی ساری قوم کو آزاد کر دیا۔7 غرض آپ ؐ نے اپنے محسنوں سے ہی نیک سلوک نہیں کیا بلکہ دوسرے لوگوں کے محسنوں کی بھی قدر کی ہے۔ حاتم طائی کا قبیلہ آپ سے بہت دور رہتا تھا۔ اس کا آپ ؐ پر کوئی احسان نہ تھا۔ آپ نے محض اس لیے کہ ان کا ایک فرد دوسروں سے حُسنِ سلوک کیا کرتا تھا ان کی قدر کی اور آزاد کر دیا۔
    پس کے یہ معنے نہیں کہ آپ ؐ دوسری قربانیاں نہیں کرتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میری ساری قربانیاں جو انسانوں کی خاطر ہوتی ہیں وہ بھی خداتعالیٰ کے واسطہ سے ہوتی ہیں۔ بعض لوگ نماز اس لیے پڑھتے ہیں کہ ان کے ماں باپ نماز پڑھتے تھے۔ وہ صحیح معنوں میں خداتعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔ بعض دفعہ انسان ایک محسن کی خاطر دینی کاموں میں حصہ لینے لگ جاتا ہے ۔مثلاً وہ دیکھتا ہے کہ اس کا استاد دیندار ہے تو وہ بھی دیندار بن جاتا ہے۔ اب اس کا یہ فعل خالص خداتعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں ہو گا بلکہ استاد کے لیے ہو گا۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور دینداری محض خداتعالیٰ کی خاطر تھی۔ گویا ایک وہ ہے جو پیر کی خاطر خداتعالیٰ کو مانتا ہے اور ایک وہ ہے جو خداتعالیٰ کی خاطر پیر کو مانتا ہے۔ ادنیٰ درجہ کا مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اللہ تعالیٰ کو مانتا ہے لیکن اعلیٰ درجہ کا مسلمان وہ ہے جو خداتعالیٰ کی خاطر محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے۔
    غرض میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ میری تمام قربانیاں خداتعالیٰ کے لیے ہیں۔ میں اگر بیوی بچوں کی قدر کرتا ہوں، میں اگر والدین کی قدر کرتا ہوں، میں اگر قوم کی قدر کرتا ہوں، میں اگر اپنے محسنوں یا دوسرے لوگوں کے محسنوں اور بزرگوں کی قدر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ وہ رحمت اور شفقت جو اِن کے دلوں میں پائی جاتی ہے وہ میرے خدا نے ہی ان کے اندر رکھی ہے۔اور وہی بندوں سے حُسنِ سلوک کرواتا ہے۔ چیز تو وہی رہی ۔ایک عام آدمی نے بھی قربانی کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قربانی کی مگر ایک عامی 8شخص نے اپنی اغراض کے لیے قربانی کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خداتعالیٰ کے مظاہر سمجھ کر ان کے لیے قربانی کی۔ لوگ ماں باپ سے حُسنِ سلوک کرتے ہیں تو ذاتی اغراض کے لیے کرتے ہیں۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کے حقیقی والدین تو فوت ہو چکے تھے لیکن دودھ پلانے والی ماں تو موجود تھی اور وہ ماں کی قائمقام تھی۔ لوگ بچوں سے حُسنِ سلوک کرتے ہیں تو ذاتی اغراض کے لیے کرتے ہیں۔ لوگ دوستوں سے حُسنِ سلوک کرتے ہیں تو ذاتی اغراض کے لیے کرتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں ان سب سے اس لیے حُسنِ سلوک کرتا ہوں کہ یہ خداتعالیٰ کے مظاہر ہیں۔ لوگ ماں کی محبت کو دیکھ کر اس کی خاطر قربانی کرتے ہیں مگر میں ماں کے لیے اس لیے قربانی کرتا ہوں کہ اس کے دل میں وہ محبت خداتعالیٰ نے ہی رکھی ہے۔لوگ ماں کو ہی اصل محبت کا مستحق قرار دے لیتے ہیں۔ دوستوں کو دیکھتے ہیں تو انہیں براہ۔راست محسن قرار دے لیتے ہیں اور اُن کے احسان کے بدلے اتارنا چاہتے ہیں لیکن میری سب قربانیاں خداتعالیٰ کے لیے ہیں۔ میں اپنے بھائیوں سے، اپنی قوم سے اوراپنے دوسرے رشتہ۔داروں سے اگر حُسنِ۔سلوک کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے اندرمحبت اور شفقت کا جذبہ خداتعالیٰ نے ہی رکھا ہے۔
    غرض نَسِیْکَۃ کے معنوں میں یہ چیز شامل ہے کہ وہ قربانی ہو اور خالصۃً لِلّٰہ ہو۔ لیکن رب۔العٰلمین کے الفاظ ساتھ لگا کر اسے اَور بھی مقیّد کر دیا گیاہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے َ کے ساتھ رب العٰلمین لگا کر اس کی وجہ بیان کر دی ہے کہ میری قربانی کیوں لِلّٰہ ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ۔وہ۔رب العٰلمین ہے۔ یعنی وہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔وہ ماؤں کو بھی پیدا کرنے والا ہے، وہ بچوں کوبھی پیدا کرنے والا ہے،وہ دوستوں کو بھی پیدا کرنے والا ہے۔ سب چیزیں جو مجھے نظر آتی ہیں اُسی کی طرف سے ہیں۔ ایک شخص اپنی ماں کی قربانیوں اور حُسنِ سلوک کو دیکھتا ہے تو وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے۔ باپ کے حُسنِ سلوک کو دیکھتا ہے تو وہاں ٹھہر جاتا ہے۔ دوستوں کے حُسنِ سلوک کو دیکھتا ہے تو وہاں ٹھہر جاتا ہے لیکن میں ہر چیز کے پیچھے خداتعالیٰ کا ہاتھ دیکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ وہی ان خدمات کا محرک ہے۔ رحمت اور شفقت جو ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے اُسی کی طرف سے ہے۔ اُسی نے دنیا کے ہر ذرہ سے مجھے فائدہ پہنچایا ہے۔ مثلاً ٹھنڈا پانی ہے میں اسے پیتا ہوں اور اپنی پیاس بجھاتا ہوں۔پیاس کو بجھانا پانی کی ذاتی خصوصیت نہیں ہے۔ اس کے اندر میرے خدا نے ہی یہ خوبی پیدا کی ہے۔ اِسی طرح دوسری چیزیں ہیں۔ ان کے اندر بعض خصوصیتیں جو موجود ہیں وہ خداتعالیٰ کی ہی رکھی ہوئی ہیں۔ میں ہر چیز کے پیچھے خداتعالیٰ کا ہاتھ دیکھتا ہوں۔ اصل محسن خداتعالیٰ ہے اور یہ چیزیں ذرائع ہیں اور جب اصل محسن خداتعالیٰ ہے تو پھر میں قربانی بھی اُسی کی خاطر کیوں نہ کروں۔
    غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کے ساتھ رب العٰلمین لگا کر یہ بتایا ہے کہ ہر چیز جو فائدہ مند ہے اس کے پیچھے خداتعالیٰ کا ہاتھ ہے۔ لوگ بے وقوفی اور نادانی سے اس چیز کو فی ذاتہٖ فائدہ مند سمجھ لیتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ رب العٰلمین ہے اور سب چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ پھر میں اس کے لیے قربانی کیوں نہ کروں۔ گویا یہ الفاظ بڑھا کر آپ نے اپنے دعوٰی کے لیے وجہِ جواز بیان کر دی ہے۔ یہ بھی بتا دیا کہ میری سب قربانیاں خداتعالیٰ کے لیے ہیں اور یہ بھی بتا دیا کہ ان قربانیوں کی وجہ کیا ہے۔ کامل انسان وہ ہے جس کی سب قربانیاںخداتعالیٰ کے لیے ہوں۔ اس طرح وہ اپنے ظاہری محسنوں کا بھی شکریہ ادا کر دیتا ہے اور خداتعالیٰ کا بھی جو اصل محسن ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اپنے محسنوں کے لیے نہیں اپنے دشمنوں کے لیے بھی قربانیاں کی ہیں۔ اور آپ نے َ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ میں بندوں کے احسانوں کی بھی قدر کرتا ہوں لیکن یہ سمجھ کر کرتا ہوں کہ اس کے پیچھے خداتعالیٰ کا ہاتھ ہے۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہر ذرّہ کے پیچھے خداتعالیٰ کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔ جو شخص ایسی قربانی کرتا ہے وہ بظاہر قوم اور وطن اور رشتہ داروں کے لیے قربانی کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ انہیں ایک ذریعہ سے زیادہ درجہ نہیں دیتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ ہر فعل دراصل خداتعالیٰ ہی کر رہا ہے اس طرح وہ دونوں کا حق ادا کر دیتا ہے۔قریبی محسن کا بھی اور دُور کے محسن کا بھی جس نے قریبی محسن کے دل میں وہ خواہش پیدا کی ۔اور یہی قربانی اصل اور اعلیٰ درجہ کی ہے‘‘۔ (الفضل 30دسمبر 1959ء )

    1
    :
    الانعام:163
    2
    :
    بخاری کتاب الاجارَۃ باب من استاجر اجیرا فترک اجرہ(الخ)
    3
    :
    الشعرائ:4
    4
    :
    اسد الغابۃ جلد 3صفحہ109 مطبوعہ ریاض 1286ھ
    5
    :
    بخاری کتاب مناقب الانصار باب تزویج النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خَدِیْجَۃَ (الخ)
    6
    :
    مغازی للواقدی مَسیرالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الی الجعرانۃِ بَعْد عَوْدِہٖ مِنَ۔الطّائف جلد 1صفحہ 950۔ ذکر وفد ھوازن میں رضاعی بہن کی بجائے رضاعی چچا کا ذکر ہے۔(مفہومًا)
    7
    :
    تفسیر روح البیانسورۃ ابراھیم آیت 18 جلد 4صفحہ409 مطبعالمکتبۃ الاسلامیۃ عثمانیۃ 1330ھ
    8
    :
    عامی: عام ، کم علم ، عام آدمی،جو کسی فن میں عالم یا صاحبِ فن کے مقابلہ میں نابلد ہو
    ( اردو لغت تاریخی اصول پرجلد 13 صفحہ 294مطبوعہ کراچی 1991ئ)


    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بلند مقام
    (فرمودہ 19؍اگست 1949ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت کی: 1
    اس کے بعد فرمایا:
    ’’تیسری بات اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مَحْیَایَ بیان فرمائی ہے۔ مَحْیَا کے ایک معنے تو زندگی کے ہوتے ہیں۔ یعنی جس بات کے لیے لفظ ’’حیات‘‘ استعمال ہوتا ہے انہی معنوں میں لفظ مَحْیَا بھی استعمال ہوتا ہے لیکن مَحْیَا کے معنے علاوہ زندگی کے مقامِ زندگی کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی جس۔جگہ کوئی شخص رہتا ہے اور اپنی زندگی بسر کرتا ہے وہ بھی مَحْیَا کہلاتی ہے۔اس کے ساتھ بھیَ کہہ کر یہ قید لگا دی گئی ہے کہ میری ساری زندگی اس خدا کی خاطر ہے جو تمام جہانوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔ خداتعالیٰ کی خاطر زندگی کئی درجے رکھتی ہے۔ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو اس بات پر آمادہ کر لے کہ اگر خداتعالیٰ کے لیے اسے دُنیا چھوڑنی پڑی تو وہ چھوڑ دے گا۔ بیشک وہ عملاً دنیا چھوڑ نہیں دیتا لیکن ضرورت پڑنے پر وہ اپنے نفس کو اس بات کے لیے تیار پاتا ہے۔ مگر یہ خدا کے لیے زندگی بسر کرنے کاسب سے ادنیٰ درجہ ہے کامل درجہ نہیں۔ کیونکہ ایک آدمی وہ ہوتا ہے جو دنیا کو چھوڑ دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور ایک آدمی وہ ہوتا ہے جو صرف ارادہ ہی نہیں رکھتا بلکہ عملاً ایسا کر دیتا ہے اور یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ ایثار والی زندگی کا درجہ عام زندگی سے بہرحال بالا ہے۔ خداتعالیٰ کی خاطر دنیا چھوڑنے والے لوگ صرف یہ نہیں کہتے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنی زندگی خداتعالیٰ کی خاطر وقف کر دیں گے بلکہ وہ عملی طور پر بھی وقف کر دیتے ہیں اور ان کے تمام کام خداتعالیٰ کے لیے ہو جاتے ہیں۔ وہ خداتعالیٰ پر توکّل کر کے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ دنیا کی کمائی کے ایسے ذرائع تجویز کرتے ہیں جو اُن کی وقف شدہ زندگی میں رخنہ نہ ڈالیں اور ان کے مذہبی کاموں میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ مثلاً جب فتح خیبر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زمین اپنے خاندان کے لیے وقف کر دی جس سے ان کے گزارہ کا سامان ہوتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں پر خود کام نہیں کرتے تھے بلکہ جس طرح اِجارہ پر زمین دی جاتی ہے وہ زمین دوسروں کو دے دی گئی تھی اور اس سے جو حصہ آتا تھا وہ آپ ؐ خاندان میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اسی طرح حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت۔عیسٰی علیہ۔السلام کی زندگیاں بھی نظر آتی ہیں۔ وہ اپنے اوقات دنیوی کاموں میں استعمال نہیں کرتے تھے۔ گو ضمنی طورپرایسے کام ہو بھی جاتے تھے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت۔سلیمان علیہ السلام نے کیا۔ وہ ایساکام کر لیتے تھے مگر اس طرح نہیں کہ وہ ان کے اصل کام میں روک پیدا کر دیں۔ یہ مقام نہایت اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ میری ساری زندگی خداتعالیٰ کی خاطر ہے مگر اس سے اوپر ایک اَور مقام بھی ہے۔ یعنی ایک مقام تو یہ ہوتا ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے لیے زندگی بسر کرے مگر یہ مقام ادنیٰ ہوتا ہے کیونکہ اس میں صرف اتنی بات پائی جاتی ہے کہ انسان اپنے ارادے اور نیت سے اس کام میں لگا رہتا ہے لیکن ایک مقام ایسا ہوتا ہے کہ زندگی قربان کرنے والا ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ خداتعالیٰ اُس کی اس قربانی کو قبول کر لیتا ہے۔ یہ دونوں مقام الگ الگ ہیں۔ جو انسان اپنے ارادے اور نیت سے اپنی زندگی کو خداتعالیٰ کی خاطر وقف کر دے ضروری نہیں کہ خداتعالیٰ اسے قبول بھی کر لے۔ ایک شخص اپنے آپ کو خدمت کے لیے آقا کے سامنے پیش کر دیتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ آقا اس کی خدمت کو قبول بھی کر لے۔ اس شخص کی زندگی خداتعالیٰ کی خاطر تو شمار ہوگی لیکن یہ اعلیٰ مقامِ قربانی نہیں۔ ہاں!خداتعالیٰ اس کی قربانی کو قبول کر لے تو یہ علیحدہ امر ہے۔
    مَحْیَایَمیں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ میری زندگی اب ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے کہ میری زندگی درحقیقت اللہ کی زندگی ہو گئی ہے۔ میں چلتا ہوں تو میں نہیں چلتا خداتعالیٰ چل رہا ہوتا ہے، مَیں دیکھتا ہوں تو اُس وقت میں نہیں دیکھ رہا ہوتا خداتعالیٰ دیکھ رہا ہوتا ہے، میں کوئی بات سنتا ہوں تو اُس وقت میں نہیں سن رہا ہوتا خداتعالیٰ سن رہا ہوتا ہے۔ گویا میری زندگی باختیارِخود زندگی نہیںبلکہ میری زندگی باختیارِ اللہ ہو گئی ہے۔میری مرضی خداتعالیٰ کی مرضی ہو گئی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ خداتعالیٰ کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور ہوتے ہوتے وہ ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ خداتعالیٰ اس کے کان بن جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے، خداتعالیٰ اُس کی آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے، خداتعالیٰ اُس کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ چکھتا ہے، خداتعالیٰ اُس کے ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے، خدا تعالیٰ اُس کے پاؤں بن جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے۔2 گویا وہ صرف اپنی طرف سے ہی کوشش نہیں کرتا بلکہ خداتعالیٰ بھی اس کی کوششوں کو قبول کر لیتا ہے اور اسے اپنی صفات کے ظہور کا مقام بنا لیتا ہے۔
    پھر اس سے اوپر ایک اَور مقام آتا ہے اور وہ مَحْیَا کے دوسرے معنے ہیں اور وہ مقام یہ ہے کہ اُس کا مقامِ زندگی بھی خداتعالیٰ کے لیے ہو جاتا ہے اور وہ اشاعتِ اسلام اور اعلائے کلمۃ۔اللہ اور خداتعالیٰ کی ذات کی طرف توجہ دینے میں اتنا مشغول ہو جاتا ہے کہ جس جگہ بھی وہ جاتا ہے لوگ کھچے ہوئے اُسی کی طرف آ جاتے ہیں۔ یہ مقام انبیاء کو نصیب ہوا ہے مگر جس شان کے ساتھ یہ مقام محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کو ملا ہے کسی دوسرے نبی کو نہیں ملا۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کو بھی یہ مقام نصیب ہوا ہے مگر آپ کی زندگی میں ایسا نہیں ہوا بلکہ وفات کے بعد ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی جس جگہ تھے وہ ماحول پاکیزہ ہو گیا تھا۔ اس جگہ کے رہنے والے قربانی کرنے والے تھے مگر وہ ماحول بھی محدود تھا۔ اگر کوئی ہستی ایسی ہوئی ہے جس نے اپنے آپ کو خداتعالیٰ کی خاطر اس کے دین کی خدمت میں اس قدر محو کر دیا ہو کہ تمام ماحول کلّی طور پر خداتعالیٰ کے لیے ہو گیا ہو تو وہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک ہے۔ آپ ؐ کے شہر اور علاقہ کے جو رہنے والے تھے آپ ؐ نے ان سب کو اپنی قوتِ قدسیہ کے ساتھ خداتعالیٰ کے لیے کر دیا۔
    پھر رَبُّ الْعَالَمِیْنَ کی شرط تمام معنوں کے ساتھ اپنے اپنے رنگ میں لگتی ہے۔ خصوصاً آخری معنوں کے ساتھ اس کا خاص تعلق ہے۔ آپ نے نہ صرف تبلیغ کی بلکہ آپ ؐ کے ملنے کی وجہ سے لوگوں میں خداتعالیٰ کی اتنی محبت پیدا ہو گئی تھی کہ اس کی وجہ سے نہ صرف مدینہ اور اس کے اردگرد کا علاقہ مسلمان ہو گیا بلکہ قریباً سارا عرب مسلمان ہو گیا۔ صرف کہیں کہیں عیسائی اور یہودی قبائل رہ گئے تھے۔ اس کے علاوہ آپ کو ایک زائد بات بھی حاصل تھی۔ آپ کے شہر اور علاقہ کا مسلمان ہو جانا تو چھوٹی سی بات ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںَ میری زندگی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔ یعنی میرے تمام کام ایسے ہیں جو صرف میری ذات کے لیے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے ہیں۔ دوسرے انبیاء بھی اس کام میں ایک حد تک آپ کے مشابہہ ہیں۔ حضرت موسٰی کے اتباع میں بھی یہ جذبہ پایا جاتا تھا مگر وہ محدود رنگ رکھتا تھا۔ تورات میں یہی حکم آتا ہے کہ تم بنی۔اسرائیل کے ساتھ یوں سلوک کرو، یوں سلوک کرو۔ ساری دنیا سے سلوک کرنے کا اس میں کہیں حکم نہیں دیا گیا۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ساری دنیا کے لیے ہمدردی پائی جاتی تھی۔ اسی لیے آپ کو ساری دنیا کی طرف مبعوث کیا گیا ۔مگر اس سے بڑھ کر آپ کو یہ بات حاصل تھی کہ آپ کامقامِ۔حیات جو تھا وہ بھی رب العٰلمین کے لیے ہو گیا تھا۔ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی نہیں بلکہ آپ کے ماننے والوں نے بھی بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔ اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ اگر کسی قوم کے اندر دوسروں کے فوائد کو اپنے فوائد پر مقدم رکھنے کا جذبہ پایا جائے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس کا مقامِ حیات کس قدر بلند ہو گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب شام میں لڑائیاں ہوئیں اور بیت المقدس بھی فتح ہوا تو عیسائیوں نے دوبارہ حملہ کیا اور مسلمانوں کو کچھ وقت کے لیے بیت المقدس چھوڑنا پڑا۔ جب مسلمان پیچھے ہٹے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ بیت المقدس کو کچھ وقت کے لیے چھوڑ دیں گے تو انہوں نے شہر کے باشندوں کوبلایا اور آئندہ سال کے لیے جو ٹیکس وصول کیے ہوئے تھے وہ سب واپس کر دیئے۔ اِس کا اُن پر اتنا اثر ہوا کہ تاریخ۔میں آتا ہے کہ جب لشکر شہر سے باہر نکل آیا تو عوام الناس تو الگ رہے بڑے بڑے پادری بھی روتے اور دعائیں کرتے تھے کہ اے خدا!ان لوگوں کو جلد واپس لا۔3 اُن کی اپنی قوم ان پر قابض ہو رہی تھی۔ لیکن وہ غیرقوم کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے کہ خدا ان کو جلد واپس لے آئے۔ مسلمانوں نے سال بھر حفاظت کرنے کے بدلہ میں اُن سے ٹیکس وصول کیا تھا لیکن جب دیکھا کہ اب انہیں حفاظت کرنے کا موقع نہیں ملے گا تو سب ٹیکس واپس کر دیئے۔ اتنے تدیّن اور ورع 4 کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم ان لوگوں کی خدمت کے لیے آئے تھے اگر ہم ان سے کوئی ٹیکس لیتے ہیں تو اُس خدمت کے لیے لیتے ہیں اور اگر ہمیں ان کی خدمت کرنے کا موقع نہیں ملا تو ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ ان کے ٹیکس اپنے پاس رکھیں۔ یہ رب العٰلمین والی صفت تھی جو ان میں پائی جاتی تھی کہ وہ ہر نقطہ اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو بنی نوع انسان کا خادم سمجھتے تھے یہ کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر ڈھونڈنے سے بھی کہیں اَور نہیں مل سکتی۔ باقی حکومتیں اور ادارے بھی دوسروں کے حقوق کی نگرانی کرتے ہیں اور جہاں جاتے ہیں وہ ایسا کرتے ہیں لیکن یہ اُن کا ایسا کرنا خالص بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لیے ہو اور رب العٰلمین خدا کے لیے ہو اِس کی مثال نہیںمل سکتی۔ یہ کتنا بڑا تغیر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا لیکن اتنا بڑا کام سوائے اسلامی تعلیم کا گہرا مطالعہ کرنے والے اور موت کے لیے ہر وقت تیار رہنے والے کے کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔ چھوٹے چھوٹے کاموں میں لالچ آ جاتی ہے۔ معمولی معمولی باتوں میں انسان کوشش کرتا ہے کہ اس کے آرام کی کوئی صورت نکل آئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںنہ صرف میں بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لیے مقرر کیا گیا ہوں بلکہ دوسرے انبیاء پر مجھے یہ فوقیت حاصل ہے کہ میرے شہر اور علاقہ کے لوگ بھی بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لیے آمادہ ہیں اوروہ اپنے فوائد کو بھول کر دوسروں کی ہمدردی میں مشغول رہنے کی خواہش رکھتے ہیں‘‘۔ (الفضل 6جنوری1960ء )

    1
    :
    الانعام:163
    2
    :
    بخاری کتاب الرقاق باب التواضع
    3
    :
    فتوح البلدان بلاذری صفحہ 143، 144۔ مطبوعہ قاہرہ 1319ھ
    4
    :
    وَرَع: پرہیز گاری (فیروز اللغات اردو)

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیبنی نوع انسان کی ہمدردی میں عدیم المثال قربانیاں
    (فرمودہ 26؍اگست 1949ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت کی: 1
    اس کے بعد فرمایا:
    ’’اِس آیت کے تین حصوں کو میں بیان کر چکا ہوں۔ اب چوتھا حصہ رہ گیا ہے اور وہ ’’مَمَاتِیْ‘‘ہے یعنی میری موت اللہ کے لیے ہے اور اُس اللہ کے لیے ہے جو رب العٰلمین یعنی سب جہانوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔ موت کے معنے جسمانی موت کے بھی ہوتے ہیں اور موت کے معنے مصیبت اور دکھ کے بھی ہوتے ہیں اور موت کے معنے اُن حالات کے بھی ہوتے ہیں جو خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے انسان اپنے اوپر خود وارد کر لیتا ہے۔ اگر ہم موت کے یہ معنے کریں کہ وہ حالات جو میں اپنے اوپر وارد کرتا رہتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور اُس خدا کے لیے ہیں جو رب۔العٰلمین ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ دنیا میں تمام انبیاء ایسے گزر ے ہیں جنہوں نے اپنی۔قوم اور اپنی ذات کے لیے دکھ اور مصائب اُٹھائے۔ مگر میں پہلا شخص ہوں جس نے رب۔العٰلمین خدا کے لیے دکھ اور مصائب اُٹھائے ہیں۔ میرا تکلیف اُٹھانا کسی خاص قوم کے لیے نہیں تھا، میرا تکلیف اُٹھانا کسی خاص ملک کے لیے نہیں تھا۔ میری تکالیف اور دکھ سب دنیا کے لیے ہیں۔ اور جیسا کہ میں اپنے خطبات میں بتا چکا ہوں اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ساتھ ایسی قیود لگادی گئی ہیں جو دوسرے نبیوں کی قربانیوں میں بھی نہیں پائی جاتیں کُجا یہ کہ دوسرے انسانوں کی قربانیوں میں وہ قیود پائی جائیں۔ حضرت نوح علیہ السلام دنیا میں آئے اور انہوں نے تکالیف برداشت کیں اور دکھ اُٹھائے مگر وہ تکالیف اور دکھ انہوں نے اپنی قوم کے لیے اٹھائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑی بڑی قربانیاں کیں مگر انہوں نے بھی وہ قربانیاں اپنی قوم کے لیے کیں۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے بھی قربانیاں کیں مگر انہوں نے بھی وہ قربانیاں اپنی قوم کے لیے ہی کیں۔ گزشتہ انبیاء کو بنی نوع انسان کے مجموعی وجود کا احساس ہی نہیں تھا۔ بائبل کو دیکھ لو وہاں باربار یہی آتا ہے ’’اے اسرائیل کے خدا!‘‘ وہاں رب العٰلمین کا خیال نہیں پایا جاتا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ خداتعالیٰ کو رب العٰلمین نہیںمانتے تھے۔ بنی اسرائیل بھی خداتعالیٰ کو رب العٰلمین مانتے تھے لیکن رب۔العٰلمین کا جذبہ ربِّ بنی۔اسرائیل کے جذبہ کے ماتحت تھا۔ تورات یہ نہیں کہتی کہ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی لوگ خداتعالیٰ کی مخلوق نہیں۔ وہ دوسرے لوگوں کو بھی خداتعالیٰ کی مخلوق ہی سمجھتی ہے لیکن وہ یہ بھی سمجھتی ہے کہ بنی۔اسرائیل دوسری مخلوق سے زیادہ شان والے ہیں۔ چنانچہ گو بائیبل خداتعالیٰ کو بنی اسرائیل کے علاوہ دوسری مخلوق کا بھی خدا خیال کرتی ہے مگر سوتیلے اور سگے کا فرق ضرور پایا جاتا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ پہلے شخص تھے جو ایسے ملک میں پیدا ہوئے جس کے تعلقات باقی دنیا سے نہیں تھے۔ عرب باقی ساری دنیا سے کٹا ہوا تھا۔ عرب کے رہنے والے باقی دنیا کے متعلق کوئی قطعی اور یقینی خیال نہیں رکھتے تھے۔ ان کے پاس کوئی تاریخ نہیں تھی۔ عرب کی دنیا عرب تک ہی محدود تھی۔ اگر وہ دوسری قوموں کے متعلق کوئی خیال رکھتے بھی تھے تو وہ صرف منافرت کا خیال تھا۔ عربوں میں تکبر اتنا پایا جاتا تھا کہ وہ سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں کوئی ہے ہی نہیں وہ صرف سیاسی برتری کو اپنے سے بالا سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ رومن اور ایرانی حکومتوں کے برابر اور کوئی حکومت نہیں۔ گویا سیاسی نقطہ نگاہ سے تو وہ عرب کو حقیر خیال کرتے تھے اور قومی نقطہ نگاہ سے وہ باقی دنیا کو عرب کے مقابلہ میں ذلیل خیال کرتے تھے۔ اسی طرح خواہ کوئی نقطہ نگاہ ہو جغرافیائی ہو یا تاریخی وہ دنیا میں مساوات کا رنگ تسلیم نہیں کرتے تھے ۔بلکہ قومی برتری کا خیال آتے ہی وہ عرب کو دوسری قوموں سے بالا سمجھتے تھے۔ اور جب سیاست کا سوال آتا تھا وہ رومن اور ایرانیوں کے درباروں میں جا کر رومی اور ایرانی بادشاہوں کو حضور کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ انہیں سیاسی تفاخر کے متعلق کوئی حِس نہیں تھی۔ وہ رومی اور ایرانی بادشاہوں کو بڑے فخر سے اپنا بادشاہ کہہ دیتے تھے کیونکہ جب وہ ان کے درباروں میں جاتے تھے تو کچھ لینے کے لیے جاتے تھے۔ غرض نہ وہ جغرافیائی حیثیت سے ایک دنیا کے قائل تھے اور نہ قومی لحاظ سے وہ ایک دنیا کے قائل تھے۔ پھر جو لوگ رومن اور ایرانی درباروں میں جاتے تھے اُن کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔بالعموم یہ لوگ وہ تھے جنہوں نے اپنے گھر کے اردگرد سَو سَو میل سے باہر قدم نہیں رکھا تھا۔ ان کے مقابلہ میں بنی اسرائیل قوم ترقی یافتہ قوم تھی۔ وہ مصر میں رہتے تھے اور ایسی قوم کے اقتدار میں رہتے تھے جن کی اپنی حکومت اور اقتدار تھا۔ پھر مصر اُن دنوں سب سے زیادہ متمدن ملک تھا۔ مصر کے جہاز یورپ، افریقہ اور ہندوستان وغیرہ دوسرے ممالک میں جاتے تھے۔ اس کی بیرونی ممالک سے تجارتیں تھیں اور مصری لوگ تجارتوں کے لیے باہر جاتے تھے اور دوسرے ممالک سے سیاسی اور تمدنی تعلقات رکھتے تھے۔ غرض مصر میں رہنے والی قوم باقی دنیا کے حالات سے غافل نہیں رہ سکتی تھی۔ مصری قوم اُس زمانہ میں بڑی متمدن قوم تھی اور اس کے باقی ممالک سے وسیع تعلقات تھے ۔جیسے آجکل انگلستان ہے۔ انگلستان سیاسی اور تمدنی طور پر اتنی ترقی کرچکا ہے کہ اس میں رہنے والا دنیا کے حالات سے غافل نہیں رہ سکتا۔ افغانستان میں رہنے والا غافل رہ سکتاہے کیونکہ تمدنی اور سیاسی ترقی میں وہ ابھی بہت پیچھے ہے۔ یہی حالت عرب کی مصر کے مقابل میں تھی لیکن مصر میں رہتے ہوئے، مصری اقتدار کے ماتحت رہتے ہوئے اور مصری تہذیب کے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے حضرت موسٰی علیہ السلام نے اسرائیل کا خدا پیش کیا۔ چنانچہ باربار تورات میں یہی آتا ہے کہ بنی اسرائیل کا خدا یوں کہتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام جن کے زمانہ میں تمدن بہت پھیل چکا تھا، یورپ اور ایشیا آپس میں مخلوط ہو چکے تھے وہ بھی یہی کہتے رہے کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے لیے آیا ہوں۔ باوجود دنیا میں اتحاد ہو جانے کے حضرت مسیح علیہ السلام قومی نظر سے اوپر نہیں جا سکے۔ حضرت مسیح علیہ السلام بھی یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی لوگ خداتعالیٰ کی مخلوق نہیں۔ وہ یہ بھی خیال نہیں کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی مخلوق کا خدا،خدا نہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام یہی سمجھتے تھے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی مخلوق بھی خداتعالیٰ کی مخلوق ہے اور خدا بنی اسرائیل کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بھی خدا ہے۔ مگر باوجود اس کے موسوی نظریہ کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی یہی نظریہ پیش کیا کہ بنی اسرائیل خاص طور پر خداتعالیٰ کے بیٹے ہیں اور خداتعالیٰ خاص طور پر بنی اسرائیل کا باپ ہے باقی لوگ خداتعالیٰ کے سوتیلے بیٹے ہیں اور خداتعالیٰ ان کا سوتیلا باپ ہے۔ اس کے مقابل پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ آپ ایک ایسے ملک میں پیدا ہوئے جو تہذیب اور تمدن کے لحاظ سے بہت پیچھے تھا وہ باقی دنیا سے بہت کٹا ہوا تھا پہلی دفعہ یہ نظریہ پیش کیا کہ تمام قومیں خداتعالیٰ کی مخلوق ہیں اور خداتعالیٰ تمام قوموں کا خدا ہے اور یکساں خدا ہے۔ آپ نے فرمایا بیشک عرب قوم میری پہلی مخاطب ہے اور میں اسی میں پیدا ہوا ہوں مگر میں صرف اسی قوم کی بہبودی کے لیے مبعوث نہیں ہوا بلکہ بُعِثْتُ اِلَی الْاََسْوَدِ وَالْاَبْیَضِ وَالْاََحْمَرِ وَالْاَصْفَرِ2 میں تمام سیاہ، سفید، سُرخ اور زرد قوموں کی بہبودی کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔ کوئی چینی ہو یا افریقن، انگریز ہو یا امریکن، ہندوستانی ہو یا جاپانی ان ساروں کے لیے مجھے مبعوث کیا گیاہے۔
    پھر خداتعالیٰ کے حکم سے آپ فرماتے ہیں3یعنی یہ نہیں کہ میں نے اپنے زمانہ میں ہی یہ دعوٰی کیا ہے کہ مَیں ساری دنیا سے تعلق رکھتا ہوں اور میری زندگی اسی کی بہتری کے لیے صَرف ہو رہی ہے بلکہ پہلے نبیوں پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں مجھے انہیں بھی دُور کرنا ہے۔ گویا یہ چیز خداتعالیٰ کو آج ہی نہیں سُوجھی کہ سب مخلوق اسی کی ہے بلکہ پہلے بھی مختلف انبیاء مختلف قوموں کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کا سامان پیدا کرتا رہا ہے۔ دراصل بنی اسرائیل کا یہ ایک محاورہ تھا کہ ہم خدا کے بیٹے ہیں۔ ورنہ وہ یہی سمجھتے تھے کہ خدا سب کا خدا ہے۔ نہ خداتعالیٰ نے کسی وقت اپنے بندوں کو بھلایا اور نہ بندوں نے خداتعالیٰ کی خدائی سے انکار کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ محض الزامات ہیں جو پہلے نبیوں پر عائد کیے گئے ہیں۔ ورنہ انہوں نے خداتعالیٰ کو رب العٰلمین کی صورت میں پیش کیا ہے۔ مگر اِس حقیقت کے باوجود اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام زندہ رہے۔مگر۔بنی۔اسرائیل کے لیے، حضرت عیسٰی علیہ السلام زندہ رہے مگر اپنی قوم کے لیے، حضرت۔ابراہیم۔علیہ۔السلام زندہ رہے مگر فلسطینیوں کے لیے، حضرت نوح علیہ السلام زندہ رہے مگر عراقیوں کے لیے، حضرت کرشن اور حضرت رامچندر علیہما السلام زندہ رہے مگر ہندوستانیوں کے لیے۔انہوں نے تکالیف اٹھائیں، مصائب برداشت کیں مگر صرف بنی۔اسرائیل کے لیے یا صرف فلسطینیوں کے لیے یا صرف عراقیوں کے لیے یا صرف ہندوستانیوں کے لیے۔ لیکن رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم خداتعالیٰ کے حکم سے فرماتے ہیں َ میں اگر تکالیف اور دکھ اُٹھاتا ہوں تو صرف ایک قوم کے لیے نہیں۔ بیشک میں عرب قوم میں پیدا ہوا ہوں اور وہ میری پہلی مخاطب ہے لیکن میرے دُکھ اور مصائب ساری دنیا کے لیے ہیں۔ اور یہ ایک قوم کے لیے ہو بھی کس طرح سکتے ہیں میں نے تو اپنی زندگی خداتعالیٰ کے لیے وقف کی ہوئی ہے اور ایسے خدا کے لیے وقف کی ہوئی ہے جو رب العٰلمین یعنی سب جہانوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔ میں صرف عرب قوم کا لیڈر نہیں ہوں۔ میں تو خداتعالیٰ کا جو رب العٰلمین ہے بندہ ہوں۔ اُس کی خاطر میں نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔ وہ اگر رب العٰلمین ہے، وہ اگر سب جہانوں کی ربوبیت کرتا ہے تو اُس کا خادم ہونے کی حیثیت سے میری تکالیف اور دکھ کسی خاص قوم کے ساتھ کیوں مختص ہوں۔ جس شخص کے دو بیٹے ہوں اُس کا خادم دونوں بیٹوں کی خدمت کرے گا لیکن اگر تم نوکر نہیں ہو تو تمہیں اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے دوست بن جاؤ۔ دوسرے سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھو۔ بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کے دو بیٹے ہوتے ہیں۔ ایک شخص کے ان میں سے ایک کے ساتھ گہرے تعلقات ہو جاتے ہیں حالانکہ اس کے دوسرے بھائی کے ساتھ اس کے عام رواداری اور ہمدردی کے بھی تعلقات نہیں ہوتے۔ لیکن نوکر ایسا نہیں کر سکتا۔ اسے دونوں کی خدمت کرنی ہو گی، دونوں سے وفاداری کا سلوک کرنا پڑے گا۔ ہمسایہ ایسا کر سکتا ہے، غیرنوکر ایسا کر۔سکتا۔ہے لیکن نوکر ایسا نہیں کر سکتا۔ پس کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں نے خداتعالیٰ کو رب۔العٰلمین سمجھ کر مانا ہے۔ ربِّ۔عرب یا ربِّ بنی اسرائیل سمجھ کر نہیں مانا۔ اور جب میں نے اسے رب۔العٰلمین سمجھ کر مانا ہے تو اس کی جتنی بھی مخلوق ہے ساری کی خاطر مجھے اپنے اوپر تکالیف وارد کرنی پڑیں گی۔ اِسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں کثرت سے یہ چیز پائی جاتی ہے کہ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے، مگر حضرت موسٰی علیہ السلام کہتے ہیں فضیلت ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں فضیلت ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس کسی غیرقوم کی ایک عورت آ کر کہتی ہے اے استاد!تُو مجھے بھی اس سچائی سے حصہ دے جو تُو بنی اسرائیل کے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتی کہ تُو میرے لیے بھی تکلیف اُٹھا، میری بہتری کے لیے بھی قربانی کر بلکہ وہ صرف اتنا کہتی ہے کہ مجھے بھی وہ باتیں سنا جو تُو بنی اسرائیل کو سناتا ہے لیکن اس عورت کی خاطر دکھ اور تکالیف اٹھانا تو الگ رہا حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں ’’بیٹوں کی روٹی میں کُتّوں کے آگے کیسے پھینک سکتا ہوں‘‘۔4 گویا بنی اسرائیل خداتعالیٰ کے بیٹے ہیں اور یہ ان کی روٹی ہے۔ دوسری قومیں جو بمنزلہ کُتّوں کے ہیں یہ روٹی ان کے آگے کیسے پھینک سکتا ہوں۔ اس کے مقابلہ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ میں ایسے ابتدائی زمانہ میں جبکہ ابھی تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی تھی قرآن کریم کا ایک پارہ بھی پورا نازل نہیں ہوا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام آتے ہیں۔ ان میں سے کوئی یونانی ہوتا ہے جیسے سہیلؓ ،کوئی حبشہ کا ہوتا ہے جیسے بلالؓ، کوئی آرمینیا کا ہوتا ہے اور کوئی ایران کا۔ یہ لوگ آتے ہیں اور رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کے سامنے اپنی یہ خواہش پیش کرتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنی تعلیم سنائیے۔ اُن کے جواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں فرماتے کہ کیا کوئی شخص اپنے بیٹوں کی روٹی کُتّوں کے آگے بھی پھینک سکتا ہے۔ بلکہ آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح عرب قوم ہے ویسے ہی یہ لوگ بھی ہیں۔ آپ فوراً اُنہیں دینی تعلیم دینا شروع کر دیتے ہیں ۔بلکہ دینی تعلیم دینا تو الگ رہا یہاں تک ثابت ہے کہ دو بھائی تھے، وہ عربی زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتے تھے یا بہت کم علم رکھتے تھے وہ صرف بائبل جانتے تھے۔ وہ کسی شخص کے غلام تھے اورلوہا کُوٹا کرتے تھے۔آپ ؐاُن دونوں بھائیوں کو اشاروں کے ساتھ تبلیغ کیا کرتے تھے۔ جب آپ ؐ وہاں سے گزرتے تو اُن کے پاس کھڑے ہو جاتے۔ وہ دونوں یونانی تھے اور آپ کی باتیں نہیں سمجھ سکتے تھے۔ آپ محبت کی وجہ سے وہاں کھڑے ہو جاتے اور ان کی باتیں سُنتے۔ پھر آپ انہیں تبلیغ کرنے لگ جاتے۔ زبان تو وہ سمجھ نہیں سکتے تھے اشاروں سے انہیں تبلیغ کرتے ۔مثلاً اللہ کا لفظ کہہ کے آسمان کی طرف اشارہ کر دیا۔ آہستہ آہستہ اُن دونوں کو آپ سے اُنس ہوتا گیا اور بِالآخر وہ دونوں ایمان لے آئے۔ ایسے لوگ دس گیارہ کی تعداد میں تھے جو غیرقوموں کے تھے اور آپ ؐ پر ایمان لائے۔
    جب طائف میں آپ ؐ تشریف لے گئے تو وہاں لوگوں نے آپ ؐ سے بدسلوکی کی۔ آپ ؐ کے ساتھ حضرت زیدؓ۔بھی تھے۔ آپ ؐ جب واپس لَوٹے تو طائف والوں نے پتھر برسائے اور آپ کے پیچھے کُتّے چھوڑ دیئے۔ آپ ؐ ان لوگوں کے آگے آگے بھاگے آ رہے تھے اور زخموں سے لہولہان تھے۔5 رستہ میں مکہ کے ایک شخص کا باغ تھا۔ وہاں ذرا سستانے کے لیے آپ ٹھہر گئے۔ باغ کا مالک آپ ؐ کا شدید دشمن تھا لیکن عربوں میں ایک عجیب بات پائی جاتی ہے کہ ان پر عزیزوں کی محبت ضرور غالب رہتی ہے۔ یہ بات دوسری قوموں میں نہیں پائی جاتی۔ مذہب کے جوش میں آکر وہ سختی بھی کرتے تھے، ایذائیں بھی دیتے تھے لیکن بھائی کی خاطر قربانی کا احساس انہیں ضرور ہوتا تھا۔ باغ کا مالک آپؐ۔کا شدید دشمن تھا اور ہمیشہ آپ کو دُکھ دیا کرتا تھا۔اس لیے آپ ؐ اس کے باغ میں داخل نہیں ہوئے بلکہ کنارے پر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ وہ باغ میں آیا ہوا تھا اور چشمہ پر بیٹھا باغ کی نگرانی کر رہا تھا، اُس کے غلام کام کر رہے تھے۔ اُس کی نظر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زیدؓ پر پڑ گئی۔ مکہ میں یہ مشہور ہو چکا تھا کہ آپ ؐ طائف تشریف لے گئے ہیں۔اس نے آپ ؐ کے کپڑوں پر خون بھی دیکھا۔ اُس شخص میں بُغض اور کینہ کی وجہ سے یہ جرأت نہ ہوئی کہ خود پاس آئے لیکن اس نے آپ کی تکلیف کا احساس ضرور کیا اور یہ سمجھا کہ اُس کے برادری کے بھائی پر لوگوں نے ظلم کیا ہے۔ اُس نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور کہا کہ ایک تھال لاؤ۔ وہ ایک تھال لایا اور اس نے انگور کے کچھ خوشے اُس میں رکھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زیدؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ دونوں آدمی جو درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں اُن کے پاس جاؤ اور انہیں یہ انگور کھِلاؤ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کھانے پینے سے زیادہ تبلیغ کے لیے جلن رہتی تھی جو افسوس ہے کہ ہماری جماعت میں نہیں پائی جاتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخموں سے چُورچُور تھے۔ لیکن اُدھر یہ غلام انگور لیے آپ ؐ کے پاس پہنچا اور اُدھر آپ ؐ کے اندر جوشِ تبلیغ موجزن ہوا۔ آپ نے اُس غلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ اُس نے جواب دیا میں نینوا کا رہنے والا ہوں۔ آپ نے فرمایا اچھا!تم میرے بھائی یونس کے وطن کے ہو۔ آپ ؐ کا یہ فقرہ سُن کر اُس غلام کے کان کھڑے ہو گئے کہ یہ عرب کا باشندہ ہونے کے باوجود نینوا کے رہنے والے یونس (علیہ السلام)کو اپنا بھائی تصور کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے اُس کے اندر آپ ؐ کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی۔ اُس نے پوچھا آپ کا یہ کیا حال ہے اور لوگوں نے آپ سے ایسا سلوک کیوں کیا ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا تم تو یونسؑ کے ملک کے ہو تم جانتے ہو کہ خداتعالیٰ۔کی طرف سے جو مصلح دنیا میں آتے ہیں ان کیساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ میں نے ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اے نینوا کے رہنے والے! میں نے انہیں اتنا ہی کہا تھا کہ تم ایک خدا کی طرف آؤ اور بُتوں کی پرستش نہ کرو اور میں تمہیں بھی کہتا ہوں کہ تم خداتعالیٰ کی باتوں پر عمل کرو۔ وہ غلام عیسائی تھا، دین اُس کے پاس تھا ہی۔ اُسے یقین ہو گیا کہ یہ شخص خداتعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور جیسے انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ بعض عورتیں آپ ؐ کے پاس آئیں اور انہوں نے آنسوؤں کے ساتھ آپ کے پاؤں دھونے شروع کر دیئے اور بالوں سے ،پاؤں پر سے مٹی صاف کی اِسی طرح وہ غلام بھی آپ ؐ کے پاؤں پر گر گیا اور اس نے آپ کے پاؤں سے مٹی اور خون صاف کرنا شروع کر دیا۔ جب واپس گیا تو باغ والے نے پوچھا تم نے یہ کیا حرکتیں کی ہیں؟ اس شخص سے میرے خاندانی تعلقات ہیں اور میں جانتا ہوں کہ یہ پاگل ہے۔ اُس غلام نے کہا نہیں یہ تو اُس برادری میں سے ہے جس میں سے ہمارے نبی یونس علیہ السلام تھے۔ باغ کے مالک نے اُسے ڈانٹا ڈپٹا مگر اُس کا دل کھل چکا تھا اور وہ ایمان لا چکا تھا۔6
    اب دیکھو!حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس ایک عورت آتی ہے اور کہتی ہے اے استاد! مجھے بھی وہ تعلیم سنا جو تُو اپنی قوم کو دیتا ہے مگر وہ جواب دیتے ہیں میرے پاس تیرے لیے کچھ نہیں۔ یہ تعلیم صرف بنی اسرائیل کے لیے ہے اور بیٹوں کی روٹی کُتّوں کے آگے میں کیسے پھینک سکتا ہوں۔ مگر رسول۔کریم صلی۔اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جو آپ ؐ کی قوم کا نہ تھا۔ ایسے وقت میں آیا جب آپ ؐ زخموں سے چُور تھے اور خون سے لت پت ۔بہت حد تک دشمن کے آگے آگے بھاگے چلے آئے تھے اور ایک ایسی جگہ پر آیا جو آپ ؐ کے دشمن کی تھی اور ذرا سی تبلیغ کرنے سے بھی ایک بڑی آفت آ سکتی تھی وہ آتا ہے اور خود بھی نہیں کہتا کہ تم مجھے تبلیغ کرو مگر آپ خود اسے تبلیغ کرتے ہیں۔
    غرض میں بتا دیا گیا ہے کہ آپ کے لیے عرب اور غیرعرب دونوں برابر تھے۔ آپ ؐ کے دکھ اور تکالیف صرف عرب قوم کے لیے ہی نہیں تھیں بلکہ کالے، گورے، عربی، مصری، ہندوستانی سب کے لیے تھیں۔ آپ اپنی ایک ایک حرکت میں اس بات کا احساس رکھتے تھے کہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔ حضرت بلالؓ حبشی تھے، عربی زبان نہیں جانتے تھے اور عربی بولتے ہوئے وہ بہت سی غلطیاں کر جاتے تھے۔ مثلاً حبشہ کے لوگ’’ش‘‘کو’’س‘‘کہتے تھے۔ چنانچہ بلالؓ جب اذان دیتے ہوئے اَشْھَدُ کو اَسْھَدُکہتے تو عرب لوگ ہنستے تھے کیونکہ ان کے اندر قومی برتری کا خیال پایا جاتا تھا۔ حالانکہ دوسری زبانوں کے بعض الفاظ وہ خود بھی نہیں اد اکر سکتے تھے۔ مثلاً وہ روٹی کو روٹی نہیں کہہ سکتے روتی کہیں گے اور چوری کو جوری کہیں گے۔ جس طرح غیرعرب عربی کے بعض الفاظ ادا نہیں کر سکتے اِسی طرح عرب بھی غیرزبانوں کے بعض الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن قومی برتری کے نشہ میں وہ یہ بات سوچتے نہیں تھے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ کے اَسْھَدُپر دوسرے لوگوں کو ہنستے دیکھا تو آپ ؐ نے فرمایا تم بلالؓ۔۔کی اذان۔پر ہنستے ہو حالانکہ جب وہ اذان دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ عرش پر خوش ہوتا ہے اور تمہارے اَشْھَدُسے اس۔کا۔اَسْھَدُ کہنا خداتعالیٰ کو زیادہ پیارا لگتا ہے۔ بلالؓ حبشی تھے اور حبشی غلام بنائے جاتے تھے لیکن رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے نہیں تھے جن کے نزدیک کوئی غیرقوم مقہوروذلیل ہو۔ آپ ؐ کے نزدیک سب قومیں یکساں طور پر خداتعالیٰ کی مخلوق تھیں۔ آپ ؐ کو یونانیوں اور حبشیوں سے بھی ویسا ہی پیار تھا جیسے عربوں سے۔ یہی محبت تھی جس نے اُن غیرقوموں کے دلوں میں آپؐ۔کا وہ عشق پیدا کر دیا تھا جس کو عرب کے بھی بہت سے لوگ نہیں سمجھ سکتے تھے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے پھر عرب قوم میں پیدا ہوئے، اور عربوں سے بھی قریش قبیلہ میں پیدا ہوئے جو دوسری عرب قوموں کو بھی حقیر اور ذلیل سمجھتا تھا۔ آپ کو حبشیوں سے کیا جوڑ تھا۔ اگر آپ ؐ سے کسی قوم یا قبیلہ کو محبت ہونی چاہیے تھی تو بنوہاشم کو ہونی چاہیے تھی، آپ سے کسی کو محبت ہونی چاہیے تھی تو قریش کو ہونی چاہیے تھی یا پھر عرب کے لوگوں کو ہونی چاہیے تھی ۔غیرقوموں کے دلوں میں جن کی حکومتوں کو آپ کے لشکروں نے پامال کر دیا تھا، جن کی قومی سرداری کو اسلامی سلطنت نے تباہ کر کے رکھ دیا تھا محبت ہو ہی کیسے سکتی تھی۔ انہیں تو آپ سے دشمنی ہونی چاہیے۔ لیکن واقعات کیا ہیں؟ اس کے لیے ہم پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کی قوم کی اُس محبت کا جائزہ لیتے ہیںجو اُسے اپنے آقا کے ساتھ تھی۔ جب آپ پکڑے گئے اور آپ کے خاص حواری پطرس کو جسے آپ نے اپنے بعد خلیفہ بھی مقرر کیا تھا پولیس نے کہا کہ تم اس کے پیچھے پیچھے کیوں آرہے ہو؟معلوم ہوتا ہے تم بھی اس کے ساتھ ہو۔ تو اُس نے کہا میں اس کا مُرید نہیں ہوں۔ میں تو اس پر *** بھیجتا ہوں7۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے حواری آپ سے محبت ضرور کرتے تھے۔ بعد میں پطرس بھی روما میں صلیب پر لٹکایا گیا اور اس نے بڑی دلیری کے ساتھ موت کو قبول کیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی محبت اور اطاعت سے انکار نہیں کیا لیکن جب حضرت۔مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکا یا گیا اُس وقت اس کا ایمان پختہ نہیں تھا اُس وقت وہ دوچارتھپڑوں سے ڈر گیا تھا۔ مگر بعد میں اس نے صلیب کو بھی نہایت خوشی سے قبول کیا۔ بہرحال یہ ایک نظارہ تھا اُس محبت کا جو مسیح علیہ السلام سے آپ کی قوم کو تھی۔ اب آپ کی قوم کے مقابلہ میں ہم اُن غلاموں کو دیکھتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور پھر وہیں کے ہو رہے۔ بلالؓ جو حبشی غلام تھا اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو محبت تھی ہم دیکھتے ہیں اُس کا بلالؓ پر کیا اثر تھا۔ بعض لوگوں کو ظاہری طور پر اپنے محبوب سے گہری محبت ہوتی ہے لیکن حقیقتاً ان کی محبت ایک دائرہ کے اندر محدود ہوتی ہے۔ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ سے جس کے حبشی غلام ہونے کی وجہ سے قریش ہی نہیں بلکہ سارے عرب نفرت کا اظہار کرتے تھے جس محبت کا اظہار کیا آیا وہ ایک عام رواداری کی روح کی وجہ سے تھا یا حقیقی محبت کا مظاہرہ تھا؟ اس کا جائزہ بلالؓ ہی لے سکتے ہیں ہم نہیں لے سکتے۔ اِس واقعہ پر تیرہ سَو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ہم اس کا کیا جائزہ لے سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بلالؓ نے آپ کی محبت کے اظہار کو کیا سمجھا۔ یہاں یہ سوال نہیں کہ میں نے کیا سمجھا، یہاں یہ سوال نہیں کہ ہم سے پہلی صدی کے لوگوں نے کیا سمجھا، یہاںیہ سوال نہیں کہ اس سے پہلی صدی کے لوگوں نے کیا سمجھایہاں یہ سوال بھی نہیں کہ خود صحابہؓ نے کیا سمجھا بلکہ سوال یہ ہے کہ یہی چھوٹا سا فقرہ کہ تم بلالؓ کے ’’اَسْھَدُ‘‘ کہنے پر ہنستے ہو حالانکہ اس کی اذان سن کر خداتعالیٰ بھی عرش پر خوش ہوتا ہے۔ وہ تمہارے اَشْہَدُ سے اس کے اَسْہَدُ کی زیادہ قدر کرتا ہے۔ یہ صرف دلجوئی اور دافع الوقتی کے لیے تھا یا گہری محبت کی بناء پر تھا؟ دیکھنا یہ ہے کہ اس فقرہ سے بلالؓ نے کیا سمجھا۔ بلالؓ نے اس فقرہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ ؐ کے دل میں خواہ میں غیرقوم کا ہوں اور ایسی قوم کا ہوں جو انسانیت کے دائرہ سے باہر سمجھی جاتی ہے اور غلام بنائی جاتی ہے محبت اور عشق ہے۔
    ہم اس واقعہ سے کچھ عرصہ پیچھے چلے جاتے ہیں۔ یہی شخص جو کہتا ہےَْ میری موت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو رب العٰلمین ہے فوت ہو جاتا ہے، نئی حکومتیں بن جاتی ہیں،نئے افراد آگے آ جاتے ہیں اور نئے تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں۔ بعض صحابہؓ عرب سے سینکڑوں میل باہر نکل جاتے ہیں۔ انہی صحابہؓ میں بلالؓ بھی تھے۔ وہ شام چلے جاتے ہیں اور دمشق جا پہنچتے ہیں۔ ایک دن کچھ لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بلالؓ اذان دیا کرتا تھا ہم چاہتے ہیں کہ بلالؓ پھر اذان دے۔ انہوں نے بلالؓ سے کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ بلالؓ نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں اذان نہیں دوں گا۔ کیونکہ جب بھی میں اذان دینے کا ارادہ کرتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ مبارک میرے سامنے آ۔جاتا ہے اور میری برداشت سے یہ بات باہر ہو جاتی ہے۔ حضرت عمرؓ۔بھی اُن دنوں دمشق آئے ہوئے تھے۔ لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ بلالؓ سے کہیے کہ وہ اذان دے ۔ہم میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور ہمارے کان ترس رہے ہیں کہ ہم بلالؓ۔کی اذان سُنیں ۔اور ہم میں وہ بھی ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں دیکھا صرف باتیں سنی ہیں ان کے دل بھی خواہش رکھتے ہیں کہ اُس شخص کی اذان سن لیں جس کی اذان رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم سنا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت بلالؓ کو بلایا اور فرمایا لوگوں کی خواہش ہے کہ آپ اذان دیں۔ آپ ؓنے فرمایا آپ خلیفۂ۔وقت ہیں، آپ کی خواہش ہے تو میں اذان دے دیتا ہوں لیکن میرا دل برداشت نہیں کر سکتا۔ حضرت بلالؓ۔۔کھڑے ہو جاتے ہیں اور بلند آواز سے اُسی رنگ میں اذان دیتے ہیں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان دیا کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو یاد کر کے آپ ؐ کے صحابہؓ جو عرب کے باشندے تھے اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور بعض کی چیخیں بھی نکل گئیں۔ حضرت بلالؓ اذان دیتے چلے جاتے ہیں اور سننے والوں کے دلوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو یاد کر کے رِقّت طاری ہو جاتی ہے8 لیکن حضرت بلالؓ جو حبشی تھے جن سے عربوں نے خدمتیں لیں، جنہیں عربوں سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا اور نہ بھائی چارے کا تعلق تھا ہم نے دیکھنا ہے کہ خود اُن کے دل پر کیا اثر ہوا۔وہ اذان ختم کرتے ہیں تو بیہوش ہو جاتے ہیں اور چند منٹ بعد فوت ہو جاتے ہیں۔ یہ گواہی تھی غیرقوموں کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس دعوٰی پر کہ میرے نزدیک عرب اور غیرعرب میں کوئی فرق نہیں۔ یہ گواہی تھی غیرقوموں کی جنہوں نے آپ ؐ کی محبت بھری آواز کو سُنا اور اس کا اثر جو انہوں نے دیکھا۔اس۔نے انہیں یقین کروا دیا کہ اُن کی اپنی قوم ان سے وہ محبت نہیں کر سکتی جو محبت رسول۔کریم۔صلی۔اللہ۔علیہ۔وسلم اُن سے کرتے ہیں۔
    پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)تُو لوگوں سے کہہ دے ہماری اتھارٹی پر، تُو اعلان کر دے ہماری تصدیق پر، کہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو رب العٰلمین یعنی سب جہانوں کا خدا ہے۔
    مَمَاتِیْ کے دوسرے معنے ظاہری موت کے ہوتے ہیں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے تو وہ موت تھی جو انسان دکھ اور تکلیف کی شکل میں اپنے اوپر وارد کر لیتا ہے۔ اور اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ بنی نوع انسان کی خاطر جو موت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر وارد کی اُس کی مثال کہیں نظر نہیں آتی۔ کسی عام انسان کی تو کیا کسی نبی میں بھی ایسی مثال نہیں پائی جاتی۔ اب ہم موت کے دوسرے معنے لیتے ہیں جو جسم سے روح کی جُدائی کا نام ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری ظاہری موت بھی خداتعالیٰ کے لیے ہے۔ لوگ مرتے ہیں اور مرتے ہوئے اپنی تکلیف اور دکھ کی وجہ سے دوسروں کا خیال نہیں کرتے کیونکہ وفات کے وقت غیرمعمولی تکلیف ہوتی ہے۔ حضرت عائشہؓ۔۔فرماتی ہیں کہ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی وفات سے پہلے جس شخص کو وفات کے وقت زیادہ تکلیف ہوتی تھی میں خیال کرتی تھی کہ وہ گنہگار ہے مگر جب میں نے آپؐ کی وفات دیکھی تو سمجھی یہ جھوٹی بات ہے9 کیونکہ آپ ؐ کی نزع کی حالت نہایت تکلیف دِہ تھی۔ وفات کے وقت مرنے والوں کو عموماً یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ اپنا کام اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو سنبھال جائیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری کی وجہ سے جب ایسی حالت کو پہنچے کہ آپ ؐ کے لیے چلنا بھی مشکل ہو گیا تو ایک دن آپ سہارا لے کر مسجد میں آئے اور صحابہؓ کو اکٹھا کیا۔ فرمایا ہر ایک انسان آخری وقت میں کوئی نہ کوئی نصیحت کرتا ہے۔ میں بھی تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ یہ غلام بھی تمہاری طرح خداتعالیٰ کے بندے ہیں اور تمہارے بھائی ہیں اُن کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کرنا۔ اور جو شخص یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرے یا انہیں اپنے برابر رکھ سکے اُسے چاہیے کہ انہیں آزاد کر دے۔ لیکن جو شخص اُن سے کام لینا چاہتا ہے وہ انہیں اپنے برابر رکھے ،جو کچھ خود کھائے وہی انہیں کھِلائے ،جو خود پہنے وہی انہیں پہننے کو دے، جس حالت میں وہ خود رہے اُسی حالت میں انہیں بھی رکھے۔ اگر تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کرتا تو یہ تمہاری طرح خداتعالیٰ کے بندے ہیں۔ ان سے خدمت لینے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ پھر فرمایا اے میرے صحابہ!عورت پر بہت بڑا ظلم ہوتا رہا ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو اور ان کے حقوق ادا کرو۔10
    ہمیں گزشتہ انبیاء کے متعلق یہ معلوم نہیں کہ وہ کیسے فوت ہوئے۔ صرف حضرت عیسٰی علیہ۔السلام کی وفات کے وقت کا پتا لگتا ہے۔ جب آپ کو صلیب پر لٹکایا گیا تو اگرچہ وہ وفات کا وقت نہیں تھا۔ آپ نے آنکھیں کھولیں تو حضرت مریم کو رنجیدہ کھڑا دیکھا اور سمجھ لیا کہ وہ اپنے بیٹے کے مصلوب ہو جانے کے بعد اپنے ولی اور نگران کی عدم موجودگی پر افسوس کر رہی ہے۔ آپ نے اپنے حواری تھومس سے کہا گو جذبات کی وجہ سے آپ اپنا فقرہ مکمل نہ کر سکے کہ اے تھومس!یہ ہے تمہاری ماں اور اے عورت یہ ہے تمہارا بیٹا۔11 جس کے یہ معنے تھے کہ میں تھومس پر اعتبار کرتا ہوں اور اسے تمہارا بیٹابناتا ہوں ۔اور اے تھومس!میں تم پر اعتبار کرتا ہوں اور اسے تمہاری ماں بناتا ہوں۔ یہ بڑا نیک جذبہ ہے ۔مگر اُس شخص کی محبت اَور بھی بالا ہے جو وفات کے وقت اپنے اعزہ و اقرباء کو بھول جائے اور غریب اور مظلوم کی۔ہمدردی۔میں اپنے آخری لمحے گزارے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں َ میری موت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ موت کے وقت اگر کسی کا آپ نے خیال کیا تو وہ مظلوموں، مقہوروں، متروکوں اور اُن بے۔بس اور بے۔بس لوگوں کا تھا جن کی پرورش کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
    پھر عین وفات کا وقت آتا ہے تو آپ ؐ کی زبان پر باربار یہ کلمہ جاری ہوتا ہے۔ خدا *** کرے یہود اور نصارٰی پر جنہوں نے اپنے بزرگوں کی قبروں کو عبادت گاہیں بنا لیا 12یہود اور نصارٰی بھی مُوَحِّد تھے۔مگر ان میں سے جو قبروں کوسجدہ کرتے ہیں انہیں آپ نے حقارت سے دیکھا اور اُن سے اظہارِنفرت فرمایا۔ اس فقرے کے معنے یہ تھے کہ اے مسلمانو!تم کسی کو رب العٰلمین نہ بنانا۔ پھر جب موت کا وقت اَورقریب آتا ہے اور آپ ؐ کی زبانِ مبارک بولنے سے عاجز آ جاتی ہے تو اُس وقت آپ ؐ کی زبان پر جوالفاظ جاری ہوتے ہیں وہ یہ ہیں اِلٰی رَبِّیَ الْاَعْلٰی اِلٰی رَبِّیَ الْاَعْلٰی13 میں اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں جو بڑی عظمت و شان رکھنے والا ہے۔ بیشک آپ نے یہاں رَبِّیْ کا لفظ استعمال کیا ہے مگر الْاَعْلٰیکا لفظ رب العٰلمین کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ رَبِّیْ کہہ کر اپنے محبت کے تعلق کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میری محبت کا تقاضا ہے کہ میں اپنے رب کے پاس جانا چاہتا ہوں جو اصل محبوب ہے۔
    اسی طرح احادیث میں آتا ہے جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ ؐ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام آپ کو دیا کہ آپ کو موت و زندگی دونوں میں اختیار دیا گیا ہے۔ آپ چاہیں تو آپ کی زندگی بڑھا دی جائے اور اگر چاہیں تو میرے پاس آ جائیں۔ آپ نے فرمایا میں موت کو اختیار کرتا ہوں۔ میں نے زندہ رہ کر کیا کرنا ہے۔ میں نے یہاں اس لیے رہنا قبول کر لیا تھا کہ میرے سپرد ایک کام کیا گیا تھا۔ وہ کام جب میں نے ختم کر لیا تو اب میں یہاں کیوں رہوں۔ آپ جب خطبہ کے لیے صحابہؓ میں تشریف لائے تو فرمایا خداتعالیٰ کا ایک بندہ تھا۔ خداتعالیٰ نے اُسے اختیار دیا کہ چاہو تو تمہاری زندگی بڑھا دی جائے اور چاہو تو تم میرے پاس آ جاؤ۔ اس نے خداتعالیٰ کے پاس جانے کو پسند کیا۔ صحابہؓ نے اسے ایک گزشتہ حکایت سمجھا لیکن حضرت ابوبکرؓ رو پڑے۔ سارے صحابہؓ خوش تھے کہ انہیں ایک نئی روایت مل گئی اور ایک نیا نکتہ مل گیا۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب میں نے حضرت ابوبکرؓ کو روتے دیکھا تو کہا کہ ابوبکر کو کیا ہو گیا ہے؟ خداتعالیٰ نے ایک بندہ کو اختیار دیا ہے کہ چاہو تو تم زندہ رہو اور چاہو تو موت قبول کر لو اس میں رونے والی کیا بات ہے؟ مگر رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے جب حضرت ابوبکرؓ کو روتے ہوئے دیکھا تو سمجھ لیا کہ انہوں نے بات سمجھ لی ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا میں حکم دیتا ہوں کہ مسجد کی سب کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔ صرف ابوبکر کی کھڑکی کھلی رہے۔ پھر فرمایا خداتعالیٰ نے ابوبکر کو بہت رقیق القلب بنایا ہے۔14
    دوسرے لوگوں کی موت اتفاقی ہوتی ہے۔ آپ ؐ کی وفات اتفاقی نہیں تھی۔ لوگوں کی موت لِلّٰہ نہیں ہوتی۔ وہ بیمار ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ آپ ؐ کو اختیار دیا گیا تھا کہ چاہو تو موت قبول کرلو اور چاہو تو زندہ رہو۔ آپ ؐ نے موت کو ترجیح دی اور کہا میں نے تو ان دنیاوی تکالیف کو اس لیے برداشت کیا ہے کہ میرے سپرد ایک کام کیا گیا تھا۔جب میں نے وہ کام ختم کر لیا ہے تو اب زندہ رہ کر میں نے کیا کرنا ہے۔
    غرض ان چاروں امور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے جو نمونہ پیش فرمایا اس کی مثال دنیا میں اَور کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ آپ جس طرح اپنے ہر کمال میں یکتا اور بینظیر بھی ہیں اسی طرح ان قربانیوں میں بھی آپ کا کوئی ثانی اور مثیل نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کا مطاع قرار دیا ہے۔ پس آپ پر سچا ایمان رکھنے والوں کا فرض ہے کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کے لیے انتہائی قربانیوں کا مظاہرہ کیا اسی طرح وہ بھی اپنی اپنی روحانی استعداد کے مطابق ان قربانیوں میں حصہ لیں تا کہ اللہ انہیں بھی محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں جگہ دے۔ اور جس طرح آپ تمام انبیاء سے افضل ہیں اسی طرح آپ کی امت بھی اپنی قربانیوں میں تمام امتوں سے افضل ثابت ہو‘‘۔
    (الفضل 31جنوری 1962ء )

    1
    :
    الانعام:163
    2
    :
    تفسیر ابن کثیر (سورہ سبا آیت28) الجزء الثالث صفحہ 856مطبوعہ بیروت لبنان 1992ء میں ’’ بُعِثْتُ اِلَی الْاَسْوَدِ وَالْاَحْمَرِ‘‘ کے الفاظ ہیں۔
    3
    :
    فاطر:25
    4
    :
    متی باب15آیت 21تا 26(مفہوماً)
    5
    :
    السیرۃ الحلبیۃ جلد1صفحہ392 مطبوعہ مصر 1932ء
    6
    :
    سیرت ابن ہشام جلد 2صفحہ62، 63 مطبوعہ مصر 1936ء
    7
    :
    متی باب26آیت 74
    8
    :
    اسد الغابۃ جلد1صفحہ238(بلال بن رباح)مطبوعہ بیروت لبنان 2001ء
    9
    :
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3صفحہ389 مطبوعہ مصر 1935ء
    10
    :
    بخاری کتابالانبیاء باب خلق اٰدم و ذریتہٖ
    11
    :
    یوحنا باب19آیت 26،27
    12
    :
    بخاری کتاب الجنائز باب مَاجَاء فی قَبْرِ النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم
    13
    :
    تفسیر الالوسی۔سورۃ المائدۃ:3 ـ میں’’اِلَی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی‘‘کے الفاظ ہیں۔
    14
    :
    بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب قول النَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سُدُّوا الْاَبْوَابَ اِلَّا بَابَ اَبِیْ بَکْرٍ

    ایک زندہ قوم کے لیے ضروری ہے
    کہ وہ ہر وقت اپنے اعمال کی نگرانی کرتی رہے

    (فرمودہ 2 ستمبر 1949ء بمقام کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’آج میں جماعت کو نہایت اختصار کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انہیں افراد کی اخلاقی نگرانی کی طرف توجہ رکھنی چاہیے۔ تعلیم و تربیت کا محکمہ اول تو ہر جماعت میں ہوتا نہیں اور اگر ہوتا ہے تو اس کے معنے صرف یہ سمجھ لیے جاتے ہیں کہ سال گزارنے پر رپورٹ کر دی جائے کہ حضور ہماری جماعت میں بہت سی کمزوریاں ہیں۔ دعا فرمائیں کہ خداتعالیٰ ان کی اصلاح کر دے۔ حالانکہ تعلیم و تربیت کے تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ دیکھا جائے جماعت میں کون کون سے عیوب پائے جاتے ہیں اور پھر ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ مختلف جماعتوں میں مختلف کمزوریاں ہوں گی۔ کسی جماعت کے افراد میں ہمدردی کم ہو گی، کسی میںمالی قربانیوں کے لحاظ سے کمزوری ہو گی، کسی جگہ نمازوں میں سُستی ہو گی۔ پھر کئی گناہ ایسے ہوتے ہیں جو بعض حالات میں زیادہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً پارٹیشن کے بعد وقتی لُوٹ مچائی گئی کہ اس کی اہمیت دلوں میں کم ہوگئی۔
    سیکرٹریان تعلیم و تربیت کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے مشورہ کر کے اس قسم کے تمام عیوب کو دُور کرنے کی کوشش کریں جو جماعت میں پائے جاتے ہیں۔ خصوصاً نوجوانوں اور بچوں کی اصلاح کی طرف انہیں توجہ کرنی چاہیے ۔اور ماں باپ کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو نمازیں پڑھائیں، چھوٹے چھوٹے مسائل سکھائیں۔ مثلاً ہاتھ دھو کر کھانا ، کھاناچاہیے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہاور سُبْحَانَ اللّٰہکے فقرات کہتے رہنا چاہیے، تسبیح اور استغفار کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے تو بڑی عمر میں ایمان اتنا مضبوط ہو جائے گا کہ اگر انہیں کوئی ٹھوکر بھی لگے گی تو وہ ٹھوکر ان کو بے ایمان نہیں کرے گی۔ یہ چیز ایسی ہے جس کا استدراج کے ساتھ تعلق ہے انقلاب کے ساتھ نہیں۔انقلابی حالات شاذونادر آتے ہیں باقی اوقات میں ہمیشہ بتدریج ترقی ہوتی ہے۔ انقلابی تغیر کے تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ سب کمزوریاں یکدم دور ہو جائیں لیکن استدراج یہ ہے کہ کبھی ایک کمزوری دور ہو گئی تو کبھی دوسری اور یہ چیز جدوجہد اور محنت اور قربانی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔
    پس میں جماعت کے تمام دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس طریق کو اختیار کریں اور روحانیت میں ترقی کرنے کی کوشش کریں۔ جب تمہاری حالت انقلاب کے ساتھ وابستہ نہیں تو پھر انقلاب کے انتظار کے کیا معنے؟ اگر تمہارے لیے انقلاب مقدر ہوتا تو ایمان لانے کے فوراً بعد تمہاری حالت درست ہو جاتی ۔لیکن ہوا یہ کہ ایمان لانے کے ساتھ تم نے بعض کمزوریوں پر غلبہ حاصل کر لیا اور اب دوسری کمزوریوں کو تمہیں محنت اور قربانی کے ساتھ دور کرنا پڑے گا۔ ہر سیکرٹری کو چاہیے کہ وہ جماعت کو بیدار کرے اور جماعت کا فرض ہے کہ وہ سیکرٹری کو بیدار کرے۔ اور ایک معیّن پروگرام بنایا جائے کہ فلاں فلاں کمزوریوں کی اصلاح کرنی ہے ۔اور رجسٹر بنائے جائیں جن میں اس بات کا ریکارڈ رکھا جائے کہ فلاں فلاں کمزوریوں کی اصلاح کر لی گئی ہے اور فلاں فلاں کمزوریوں کی اصلاح باقی ہے۔ اسی طرح جماعت کے افراد کو نوافل اور تہجد پڑھنے کی عادت ڈالی جائے۔ جماعت کے افراد سے ہمیشہ پوچھتے رہنا چاہیے کہ کتنے افراد ہیں جو تہجد پڑھتے ہیں۔ورنہ ہو سکتا ہے کہ سُستی بڑھتے بڑھتے ایک وقت ایسا آ جائے کہ فرائض اور سنن بھی ترک ہو جائیں۔
    حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کی ایک بہن تھیں۔ وہ ان سے ملنے گئے تو اس نے کہا بھائی !مجھے تو ذکرِالٰہی میں بڑا لطف آتا ہے اس لیے میں نے نوافل کم کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ بات ٹھیک نہیں۔نوافل بھی ذکرِالٰہی ہیں لیکن ان کی ایک معیّن صورت ہے اور ان کا ترک کرنا میں پسند نہیں کرتا۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی خرابی پیدا ہو جائے۔ دوسرے جمعہ وہ پھر بہن کو ملنے گئے تو اس نے کہا بھائی! میں نے نوافل چھوڑ دیئے ہیں اور وہ وقت بھی ذکرِالٰہی میں ہی صَرف کرنا شروع کر دیا ہے کیونکہ جو لطف ذکرِالٰہی میں ہے وہ نوافل میں نہیں۔ بھائی نے کہا اب کے نوافل ترک کر دیئے ہیں تو دوسرے وقت سنتوں پر بھی ہاتھ صاف ہوگا۔ اس نے کہا نہیں نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ تیسرے جمعہ پھر گئے تو بہن نے کہا جو بات آپ نے کہی تھی وہ ٹھیک نکلی۔ مجھے اب سنتوں میں بھی وہ لطف نہیں آتا جو ذکرِالٰہی میں آتا ہے۔ بھائی نے کہا دیکھنا اب فرضوں پر بھی ہاتھ صاف ہو گا۔ چنانچہ اگلے جمعہ جب ملنے گئے تو اس نے کہا میرا دل اب فرضوں میں بھی نہیں لگتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی شیطانی حملہ ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت اسے بتائی اور کہا کہ اس آیت کو مدنظر رکھ کر خداتعالیٰ سے دعا مانگو۔اس نے دعا مانگی تو خداتعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ وہ حالت دور ہو گئی۔ دوسرے جمعہ جب بھائی ملنے گئے تو بہن نے کہا میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ میں نماز پڑھ رہی ہوں۔ جب میں نے سلام پھیرا تو پاس ہی ایک بندر نظر آیا۔ اس بندر نے کہا میں نے تو تجھے نماز چُھڑوا کے رہنا تھا مگر تمہارا بھائی بہت چالاک نکلا اور اس نے میرا داؤ چلنے نہ دیا۔ بھائی نے کہا وہ بندر شیطان تھا جو تمہیں ورغلا رہا تھا۔
    غرض جو شخص اپنے اعمال کی نگرانی نہیں کرتا اُس کی یہی حالت ہوتی ہے۔ وہ گرتے ہوئے کہیں کا کہیں جا پہنچتا ہے لیکن زندہ قوم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے اعمال کی نگرانی کی جائے۔ مثلاً اگر حرام خوری کی مرض کسی جماعت میں پائی جاتی ہے اور اس کی اصلاح کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی تو اِس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کچھ مدت کے بعد دیانت اُٹھ جائے گی۔ یا اگر کسی جماعت میں ظلم زیادہ ہوتا ہو تو دیکھنے والے کہیں گے کہ ظلم میں کیا رکھا ہے۔ اگر یہ چیز بُری ہوتی تو فلاں عہدیدار ایسا کیوں کرتا۔ غرض آہستہ آہستہ ایسے وساوس پیدا ہو جائیں گے جو جماعت کی دینی حالت کو گرا دیں گے اور پھر اس کی اصلاح کے لیے لمبی اور متواتر جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔ وقت زیادہ گزر رہا ہے۔ ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ لوگ زمانہ نبوی سے جتنا دُور ہوتے جا رہے ہیں انوارِالٰہی کی بارشوں میں اتنا ہی وقفہ پڑ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک چوکس اور بیدار انسان کی طرح اپنے فرائض کو سمجھو اوراپنی اصلاح کو باقی تمام کاموںپر مقدم قرار دو کہ اس میں تمہاری نجات ہے‘‘۔ (الفضل 11مئی1960ء )

    کوشش کرو کہ تم اِس دنیا کی زندگی میں ہی
    خداتعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو
    (فرمودہ 9ستمبر 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’پہلے تو میں دوستوں سے یہ معذرت کرنا چاہتا ہوں کہ آج یہاں آنے میں مجھے کچھ دیر ہو گئی ہے جس کی وجہ یہ ہوئی کہ جب میں نماز کے لیے آنے لگا تو یکدم میری انتڑیوں میں تکلیف شروع ہوگئی اور آہستہ آہستہ یہ تکلیف اتنی بڑھ گئی اور درداتنی شدت اختیار کر گیا کہ پہلے تو میں نے خیال کیا کہ کہلا بھیجوں کہ نماز پڑھا دی جائے لیکن پھر خیال آیا کہ ممکن ہے یہ درد پیچش کی شکایت کی وجہ سے ہو اور اگر اِجابت ہو جائے تو درد دور ہو جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد مجھے قضائے حاجت کا احساس ہوا اور گو مروڑ کے ساتھ ہی اِجابت ہوئی مگر بہرحال درد کی جو شدت تھی وہ اِجابت کے بعد جاتی رہی اور میں اس قابل ہو گیا کہ جمعہ کے لیے آ سکوں۔
    دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ احباب کو علم ہو چکا ہے اب ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم ربوہ چلے جائیں۔ ہمارے بہت سے دفاتر تو پہلے ہی ربوہ جا چکے ہیں۔ جو حصہ باقی رہ گیا تھا اس کے متعلق اب ہمارا ارادہ ہے کہ وہ بھی ربوہ چلا جائے اور اس طرح ہم سب وہاں پہنچ کر ربوہ کی ترقی اور سلسلہ کی عمارتوں کی تعمیر کی طرف توجہ کریں۔ ہمیں یہاں آئے ہوئے دو سال ہو چکے ہیں۔ 31؍اگست 1947ء کو میں یہاں آیا تھا اور آج 9 ستمبر 1949ء ہے گویا دو سال آٹھ دن میرے اس قیام پر گزر گئے ہیں۔ کچھ دوستوں پر اس سے کم زمانہ گزرا ہے کیونکہ وہ بعد میں آئے تھے اور کچھ دوست جو پہلے آگئے تھے ان پر اس سے زیادہ دن گزرے ہیں۔بہرحال اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی مشیّت کے ماتحت ہم جتنے عرصہ تک یہاں رہے اس میں ہمیں کئی قسم کے تجارب حاصل ہوئے۔ قادیان کی رہائش کی وجہ سے جس طرح ہم دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے وہ بات یہاں نہیں تھی۔یہاں لوگوں سے میل جول پیدا کرنے کے زیادہ مواقع تھے اور یہ ایک نیا تجربہ تھا جس نیہمیں بہت سے نئے سبق دیئے۔ ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آئندہ بہت کچھ فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے منفی بھی اور مثبت بھی۔
    میں اِس وقت دوستوں کی آگاہی کے لیے صرف یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ پہلے تو ہمارا ارادہ تھا کہ ہم پیر کے دن یہاں سے چلے جائیں مگر جیسا کہ احباب کو معلوم ہے میری بیوی اُمِّ۔متین کوئٹہ میں سخت بیمار ہو گئی تھیں۔ وہاں علاج کے بعد کسی قدر آرام آ گیا تھا مگر یہاں آنے کے بعد لیڈی۔ڈاکٹر کو دکھایا گیا تو اس نے ایک ایسی بیماری کا شبہ پیدا کر دیا جو بہت خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ اس بیماری کے متعلق بعض ٹیسٹ ایسے کیے جانے ہیں جن کا نتیجہ پیر کے دن نکلے گا اس لیے اب اس نتیجہ کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جا سکے گا کہ ہماری یہاں سے کب روانگی ہو گی۔ آج ہی ایک دوسرے ڈاکٹر سے بھی مشورہ لیا گیا تھا۔ انہوں نے لیڈی ڈاکٹر کی رائے سے اتفاق ظاہر نہیں کیا مگر ساتھ ہی کہا ہے کہ چونکہ ڈاکٹرنی نے خود ملاحظہ کیا ہے اس لیے ٹیسٹ بہرحال ہو جانا چاہیے۔ اس کے بعد ہم یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ ہم یہاں سے کب روانہ ہوں۔ اگر خدانخوانستہ لیڈی ڈاکٹر کی رائے درست ہوئی تو پھر آپریشن کی ضرورت ہو گی اور اگر آپریشن نہ بھی ہو تب بھی شعاعوں کے ذریعہ ایک لمبے عرصہ تک علاج کرانا پڑے گا۔ بہرحال اس پیر کو ہمارے جانے کا ارادہ ملتوی ہے۔ اس کے بعد دوسری تاریخ ڈاکٹری مشورہ سے مقرر کی جائے گی۔
    میں جب جمعہ کے لیے آیا تو راستہ میں مَیں نے اتنی کثرت سے جماعت کے دوستوں کو نماز کے انتظار میں بیٹھے دیکھا کہ مجھے حیرت ہوئی کہ اتنے دوست کہاں سے آ گئے ہیں۔ بعض نے کہا کہ چونکہ آپ کئی ماہ کے بعد آئے ہیں اس لیے لوگ زیادہ جمع ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا پہلے بھی تو میں یہیں جمعہ پڑھاتا رہا ہوں مگر اتنا اجتماع میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کی کوئی خاص وجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس مسجد میں بھی لوگ پہلے سے زیادہ سِمٹ کر بیٹھے ہیں اور ان کی تعداد پہلے سے زیادہ معلوم ہوتی ہے اور باہر گلی بھی مسجد کی طرح بھری ہوئی ہے۔ اس غیرمعمولی اجتماع کو دیکھ کر میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ جس طرح مسلمانوں میں یہ رواج ہے کہ وہ جمعۃ الوداع کے دن خاص طور پر نماز پڑھنے کے لیے آ جاتے ہیں اِسی طرح چونکہ پیر کے دن ہماری روانگی کا پروگرام تھا لاہور والوں نے سمجھا کہ یہ آخری جمعہ تو ہم مسجد میں جا کر پڑھ آئیں۔ گویا یہ بھی لاہور والوں کا ایک جمعۃ الوداع ہے مگر اس سے اتنا پتا ضرور لگ گیا ہے کہ یہاں ہماری جماعت بہت زیادہ ہے اور جمعہ میں لوگ عام طور پر اتنے نہیں آتے جتنے کہ آنے چاہییں۔ بہرحال جیسا کہ میں نے بتایا ہے فی الحال پیر کے دن ہمارے جانے کی تجویز ملتوی ہے ممکن ہے ڈاکٹری مشورہ کے بعد اگلا جمعہ بھی مجھے یہیں پڑھانا پڑے اور اگر ایسا ہی ہوا تو لاہور والوں کے دو جمعۃ الوداع بن جائیں گے۔
    میں نے سنا ہے کہ بعض دوسری مساجد میں بھی نمازیں ہوتی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں آج کے اجتماع میں کچھ نہ کچھ دخل اس بات کا بھی ہے کہ بعض دوستوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ دو سال کے بعد یہ واپس جا رہے ہیں۔ آؤ! آج تو ہم مسجد میں جا کر جمعہ پڑھ لیں۔ میں ایسے دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جب انہیں ایک دفعہ جمعہ پڑھنے کا موقع مل گیا ہے تو اب وہ ہمیشہ کے لیے جمعہ پڑھنے کی عادت ڈال لیں۔ اور اگر وہ کسی اَور جگہ جمعہ پڑھتے تھے تب بھی ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ نہایت مستعدی سے جمعہ کی نماز ادا کیا کریں اور جو سُست ہوں اُن کو بھی اپنے ساتھ لایا کریں۔ مومن کی ایسی قربانی خداتعالیٰ کے حضور کافی نہیں سمجھی جاتی۔ اسی شخص کی قربانی قبول ہوتی ہے جو دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو نماز میں باربار جمع کے صیغے استعمال کیے جاتے ہیں۔ نماز پڑھنے والا ایک فرد ہوتا ہے مگر وہ اِھْدِنِی کہنے کی بجائے دعا یہ مانگ رہا ہوتا ہے کہ 1اے خدا !تُو ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلا۔پس دوستوں کو صرف اس بات پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خود نماز پڑھتے ہیں بلکہ ہمیں اُس وقت مطمئن۔ہونا چاہیے جب دوسرے لوگ بھی نماز پڑھنے لگ جائیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صریح طور پر فرماتا ہے کہ مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اہل کو بھی نماز پڑھنے کی تاکید کرتا رہے۔2 سو احباب کو نماز کی پابندی کرنے اور نماز کی پابندی کروانے کی طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہیے۔ یہ ایک علامت ہے جس سے پتا لگ سکتا ہے کہ تمہارے اندر کس قدر ایمان پایا جاتا ہے اور تم اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی اپنے دل میں کس قدر تڑپ رکھتے ہو۔ میں تمہیں یہی نہیں کہتا کہ تمہیں فرض نمازوں کی پابندی اختیار کرنی چاہیے بلکہ میں تمہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ تمہیں فرض نمازوں کے علاوہ نوافل کی بھی پابندی کرنی چاہیے تا کہ تمہارے قلب میں نور پیدا ہو اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل ہو۔ آخر جو شخص احمدیت کو قبول کرتا ہے وہ اسی لیے قبول کرتا ہے کہ اس کا خداتعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق بغیر نماز ، روزہ اور ذکرِالٰہی کی کثرت کے کس طرح پیدا ہو سکتا ہے ۔اور اگر کوئی شخص احمدیت کو تو قبول کرتا ہے مگر اپنے اندر ایسا تغیر پیدا نہیں کرتا جس کے نتیجہ میں اسے خداتعالیٰ نظر آنے لگ جائے، اس سے وہ کلام کرنے کے لیے تیار ہو جائے اور اس سے محبت اور پیار کرے تو ایسی احمدیت کا کیا فائدہ۔ اور یہ چیزیں بغیرنمازوں اور نوافل اور ذکرِالٰہی کی پابندی کے حاصل نہیں ہو سکتیں۔
    آج ہی مولوی محمدابراہیم صاحب بقاپوری کا اخبار میں ایک مضمون چَھپا ہے جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اطمینانِ قلب حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ صبر اور استقلال کے ساتھ ذکرِالٰہی اور نمازوں پر زور دیا جائے۔ اس کے نتیجہ میں تمہارے دلوں میں وہ جِلا پیدا ہو گی جس سے تم بدیوں پر غالب آ سکو گے اور خداتعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ یہی چیز ہے جس کی تمہیں ضرورت ہے۔ اگر یہ جِلا تمہارے دلوں میں پیدا نہ ہوئی تو تمہاری زندگی کیسی اور ایمان کا دعوٰی کیسا؟ پس کوشش کرو کہ تم اس دنیا کی زندگی میں ہی خداتعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ مرنے کے بعد خداتعالیٰ کو دیکھنے کی امید کوئی اطمینان بخش بات نہیں کہلا سکتی۔ اگر انسان مرنے لگے اور اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ نہ معلوم میں دوزخ میں ڈالا جاؤں گا یا جنت میں تو اس کی موت کتنے دکھ کی موت ہو گی۔ کتنا غم اس پر چھایا ہوا ہوگا اور کس طرح وہ ایک بے چینی اور خلش اپنے دل میں محسوس کر ے گا۔ سُکھ والی موت وہی ہے جورسول۔کریم۔ صلی۔اللہ ۔علیہ وآلہٖ وسلم کو حاصل ہوئی۔ احادیث میں آتا ہے۔ جب رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو بار بار آپؐ کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے تھے کہ اِلَی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی اِلَی الرَّفِیْقِ الْاَعلٰی۔3 چلوسب سے بڑے دوست کے پاس چلیں۔ چلو سب سے بڑے دوست کے پاس چلیں۔
    یہی حال صحابہؓ کا تھا۔ وہ خداتعالیٰ کی راہ میں مرنے پر اتنے خوش ہوتے تھے اور اس قدر لذّت اور سرور محسوس کرتے تھے کہ ان کے واقعات پڑھ کر حیرت آتی ہے۔ تاریخوںمیں آتا ہے ایک جنگ کے موقع پر ایک عیسائی سردار نے کئی بڑے بڑے مسلمان سرداروں کو مار ڈالا۔ اُس زمانہ میں قاعدہ تھا کہ عام حملہ سے پہلے دونوں لشکروں میں سے ایک ایک آدمی نکلتا اور وہ آپس میں مقابلہ کرتے۔ وہ عیسائی چونکہ ایک بڑا ماہر جرنیل تھا اس لیے انفرادی مقابلہ میں اس نے یکے بعد دیگرے کئی مسلمان مار ڈالے۔ آخر حضرت ابوعبیدہؓ نے جو اسلامی فوج کے کمانڈر انچیف تھے حضرت ضرارؓ کو حکم دیا کہ وہ اس عیسائی کے مقابلہ کے لیے جائیں۔ جب وہ مقابلہ کے لیے نکلے اور اس عیسائی سردار کے سامنے کھڑے ہوئے تو بجائے اس کے کہ اس کا مقابلہ کرتے بے تحاشا میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور دوڑتے ہوئے اپنے خیمہ کی طرف چلے گئے۔ اِس پر عیسائیوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور انہوں نے بڑے زور سے نعرے بلند کیے اور مسلمان جو پہلے ہی افسردہ خاطر ہو رہے تھے ان کی سخت دل شکنی ہوئی۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے جب یہ نظارہ دیکھا تو انہوں نے ایک شخص کو جو حضرت ضرارؓ کے دوست تھے بلایا اور کہا تم ضرار کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے؟ وہ خیمہ کے قریب پہنچے تو اتنے میں حضرت ضرارؓ خیمہ میں سے باہر نکل رہے تھے۔ انہوں نے جاتے ہی کہا ضرار! آج تم نے کیا کیا؟ سارے مسلمانوں کے سر آج شرمندگی اور ندامت کے مارے جھکے ہوئے ہیں اور وہ کفار کے سامنے اپنی گردنیں اونچی کرنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ کتنی بڑی ذلّت کی بات ہے کہ تم عیسائی سردار کے سامنے ہوتے ہی میدان چھوڑ کر خیمہ کی طرف بھاگ آئے اور کفار کو خوش ہونے کا موقع بہم پہنچا دیا۔ انہوں نے کہا میں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں ہمیشہ زِرہ کے بغیر لڑا کرتا ہوں مگر آج اتفاقاً صبح سے میں نے زِرہ پہنی ہوئی تھی۔ جب ابوعبیدہؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس عیسائی جرنیل کے مقابلہ کے لیے نکلوں تو میں بغیر خیال کیے زِرہ پہنے اس کے سامنے چلا گیا مگر جونہی میں سامنے کھڑا ہوا مجھے یاد آیا کہ میں نے زِرہ پہنی ہوئی ہے۔ اس پر میرے نفس نے مجھے ملامت کی اور کہا ضرار! معلوم ہوتا ہے توُ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مرنے سے ڈرتا ہے اور شاید زِرہ تُو نے اس لیے پہن رکھی ہے کہ یہ بڑا مشہور جرنیل ہے اور کئی مسلمانوں کو شہید کر چکا ہے۔ اگر تُو نے زِرہ اتار دی تو ایسا نہ ہو کہ تجھے بھی یہ شخص مار ڈالے۔ یہ خیال میرے دل میں آیا ہی تھا کہ میں دوڑ کر اپنے خیمہ کی طرف چلا گیا اور میں نے سمجھا کہ اگر اِس وقت میں مارا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ ضرار! تم نے زِرہ کیوں پہن رکھی تھی؟ معلوم ہوتا ہے تمہیں ہم سے ملنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ اگر شوق ہوتا تو اس طرح موت سے بھاگنے اور بچنے کی کوشش کیوں کرتے۔ تو میں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے سکوں گا۔ میرے لیے سوائے ندامت اور شرمندگی کے اَور کوئی چارہ نہیں ہوگا اور میری موت مومنوں والی موت نہیں ہو گی۔ پس میں دوڑتے ہوئے اپنے خیمہ میں گیا اور میں نے زِرہ اتار دی تاکہ اگر میں مروں تو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ چنانچہ اب میں بغیر زِرہ کے لڑنے کے لیے جارہا ہوں اور میں مطمئن ہوں کہ اگر میں مرا تو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ نہیں ہوں گا۔
    یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اِسی دنیا میں ہی خداتعالیٰ کو دیکھ لیا تھا اور وہ اسکی ملاقات کے لیے ہر وقت بیتاب رہتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ موت ایک پُل ہے جس پر سے گزر کر ہم اپنے محبوب سے ملتے ہیں۔ اس لیے موت سے ڈرنے اور گھبرانے کے کوئی معنی ہی نہیں اور یہی ایمان کا اصل مقام ہوتا ہے۔اس مقام کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ انسان نمازوں کی پابندی اختیار کرے، نوافل پڑھے، تہجد کی عادت ڈالے، ذکرِالٰہی کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی یہ سمجھنے لگے کہ یہ شخص ہمارا عاشق ہے۔ اور جب کوئی شخص عاشق بن جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کا قرب ضرور حاصل ہو کر رہتا ہے۔ سو آپ لوگ جو یہاں آئے ہوئے ہیں میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ نمازوں کی عادت ڈالیں۔ آج کا ہجوم بتاتا ہے کہ لاہور میں ہماری جماعت کے احباب بہت کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ پس آپ لوگوں میں سے جو سُست ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ تم نمازوں کی پابندی کی عادت ڈالو ۔اور جو سُست نہیں ان سے میں کہتا ہوں کہ تم دوسروں کو بیدار کرنے کی کوشش کرو۔ تا کہ کوئی فرد بھی ایسا نہ رہے جو نمازوں اور نوافل اور ذکرِالٰہی میں سُست ہو ۔بلکہ جمعہ پڑھنا تو الگ چیز ہے، فرض نمازوں کی پابندی بھی الگ چیز ہے میں تو یہ کہتا ہوں ہر احمدی کو ان عبادات اور ذکرِالٰہی کی طرف اس قدر توجہ رکھنی چاہیے کہ غیرشخص ہمیں دیکھتے ہی اس یقین پر پہنچ جائے کہ چونکہ یہ احمدی ہے اس لیے جمعہ یا فرض نمازوں کا تو کیا کہنا ہے یہ تہجّد کے لیے بھی باقاعدہ اُٹھتا ہو گا اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا اور دعائیں کرتا ہوگا۔اگر یہ چیز صحیح طور پر پیدا ہو جائے تو بددیانتی، جھوٹ، ظلم، دھوکا، فریب اور ایذارسانی وغیرہ کئی قسم کے گناہوں پر انسان بڑی آسانی سے غالب آ سکتا ہے۔
    یہ جو اللہ۔تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ مومن اپنے نشانات سے پہچانے جاتے ہیں یہ نشانات عبادت سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔4 دیانتداری سے انسانی جسم پر کوئی نشان نہیں پڑتا، انصاف سے انسانی جسم پر کوئی نشان نہیں پڑتا لیکن نماز پڑھی جائے تو اس سے نشان پڑ جاتا ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ نماز کے اندر ساری نیکیاں آ جاتی ہیں۔ جو شخص نماز کا پابند ہو گا وہ آہستہ آہستہ ہر قسم کے گناہوں پر غالب آ جائے گا اور اس کے اندر ایسا تقوٰی پیدا ہو جائے گا جو اسے نیکی کے راستہ پر چلاتا چلا جائے گا۔ پس نمازوں کی پابندی اختیار کرو اور سمجھ لو کہ یہی ایک چیز ہے جو مومنوں کی امتیازی علامت ہے اور جس کے بعد ان پر ایسا نشان پڑ جاتا ہے جو ان کے ایمان کی ایک نمایاں علامت ہوتی ہے۔ نماز پڑھی جائے تو اس کا انسانی جسم پر ایک تو ظاہری نشان پڑتا ہے اور ایک باطنی نشان پڑتا ہے۔ ظاہری نشان یہ ہے کہ ماتھے اور ناک پر مٹی وغیرہ لگ جاتی ہے اور باطنی نشان یہ ہے کہ چہرہ سے اللہ تعالیٰ کے عشق اور اس کی محبت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ پس دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نمازوں کی عادت ڈالو،ذکر الٰہی کی عادت ڈالو، نوافل کی عادت ڈالو، تہجد پڑھنے کی عادت ڈالو اور پھر ان عادتوں کو اتنا راسخ کرو کہ ہر شخص کو یہ یقین حاصل ہو جائے کہ جو شخص احمدیت میں داخل ہو جائے وہ نمازوں اور نوافل اور ذکرِالٰہی کا پابند ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    تیسری بات جس کی طرف میں یہاں کے دوستوں کو بھی مگر زیادہ تر باہر کی جماعتوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیم الاسلام کالج لاہور میں دو سال سے قائم ہے اور ابھی ایک دو سال تک جب تک کہ ہم کالج کی عمارت تیار نہ کر لیں لاہور میں ہی رہے گا۔ اس کالج کے قائم کرنے سے ہماری غرض یہ تھی کہ احمدی طلباء ایک جگہ اکٹھے رہیں اور احمدی اساتذہ سے ہی تعلیم حاصل کریں تا کہ دنیو ی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے اندر دینی روح بھی ترقی کرتی چلی جائے اور وہ سلسلہ کے لیے مفید وجود ثابت ہوں۔ مگر یہ فائدہ تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب باہر سے طالب علم آئیں اور ہمارے کالج میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کریں۔ خالی کالج بنا دینے سے ہماری غرض پوری نہیں ہو سکتی۔ اس غرض کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ باہر سے بکثرت طلباء آئیں اور تعلیم الاسلام کالج میں داخل ہو کر اپنی تعلیم کو مکمل کریں۔
    ابھی چند دن ہوئے مجھے ایک جاہل نے خط لکھا ہے جو کالج کا ذکر کرتے ہوئے مجھے اتفاقاً یاد آ گیا۔ اس خط میں اس نے بہت سے اعتراضات کیے ہیں جن میں سے ایک اعتراض اس نے یہ بھی کیا ہے کہ ناصر احمد کو کالج کا پرنسپل کیوں بنایا گیا ہے؟ اسے باہر کسی ملک میں تبلیغ کے لیے کیوں نہیں بھیج دیا جاتا؟ اس کی جگہ تو ایک عیسائی بھی پرنسپل رکھا جا سکتا ہے اور وہ ناصراحمد سے زیادہ بہتر کام کر سکتا ہے۔ یہ لکھنے والے کی کمال درجہ کی جہالت ہے کہ طالب علم جس کی زندگی ایک نہایت ہی قیمتی چیز ہوتی ہے اور جس کی حفاظت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس کو وہ کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ سمجھتا ہے کہ ایک عیسائی پرنسپل بھی لڑکوں کی اس طرح تربیت کر سکتا ہے جس طرح ناصر احمد کر رہا ہے۔ اوّل تو مالی نقطہ نگاہ سے ہی کوئی اَور پرنسپل رکھا جائے تو وہ ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار سے کم نہیں لے گا۔ لیکن اگر اس فائدہ کو نظرانداز بھی کر دیا جائے تو سوال یہ ہے کہ اگر ہم نے ہندو اور عیسائی ہی پرنسپل اور پروفیسر رکھنے ہیں تو پھر ہمیں اپنا الگ کالج بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ دوسرے کالجوں میں بھی عیسائی پروفیسر اور پرنسپل ہیں ان میں داخل ہو کر لڑکے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ہماری غرض تو اس کالج کو الگ قائم کرنے سے یہ ہے کہ احمدی طلباء احمدی اساتذہ سے تعلیم حاصل کر کے احمدیت کی روح اپنے اندر پیدا کریں اور یہ روح نہ کسی دوسرے کالج میں پڑھ کر پیدا ہو سکتی ہے نہ عیسائی پرنسپل رکھ کر پیدا ہو سکتی ہے۔ اس روح کے پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنا کالج ہو، اپنا ماحول ہو اور اپنے اساتذہ کی زیرِنگرانی تعلیم و تربیت کا کام ہو تا کہ ہماری آئندہ نسل اسلام اور احمدیت کے لیے کارآمد وجود ثابت ہو۔
    گزشتہ فسادات کی وجہ سے ہمارے کالج کے نتائج اچھے نہیں نکلے تھے مگر اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کالج کا نتیجہ غیرمعمولی طور پر نہایت شاندار رہا ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ گزشتہ سال کے نتائج کی خرابی ان حالات کی وجہ سے تھی جو1947ء میں پیدا ہوئے۔ اس سال ہمارے تعلیم۔الاسلام کالج کی ایک جماعت کا نتیجہ90 فیصدی کے قریب رہا ہے جو ایک حیرت انگیز امر ہے حالانکہ یونیورسٹی کی اوسط 39 فیصدی ہے۔ یہی حال اَور جماعتوں کے نتائج کا ہے۔ کوئی ایک جماعت بھی ایسی نہیں جس کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے کم ہو بلکہ ہر جماعت کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے بڑھ کر ہے۔ اگر کسی کلاس کے متعلق یونیورسٹی کی اوسط 35 فیصدی ہے تو ہمارے کالج کی اوسط ساڑھے سینتیں فیصدی ہے ۔یا اگر یونیورسٹی کی اوسط 35 فیصدی ہے تو ہمارے کالج کی 39 فیصدی ہے اور ایک کلاس کے متعلق تو میں نے بتایا ہے کہ ہمارے کالج کا نتیجہ اس میں90 فیصدی کے قریب ہے حالانکہ یونیورسٹی کی اوسط اس سے بہت کم ہے۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شبہات ہوا کرتے تھے کہ ہمارے کالج میں لڑکوں کی تعلیم کا زیادہ بہتر انتظام نہیں اب ان نتائج کے بعد ان کے شبہات دور ہو جانے چاہییں کیونکہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہمارے کالج کے نتائج سوائے ایک کے باقی تمام کالجوں سے زیادہ شاندار نکلے ہیں اور ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حصولِ تعلیم کے لیے فوراً تعلیم الاسلام کالج میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔ اس بارہ میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی سے کام نہ لیں۔ اس کالج میں اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے بھجوانا اس قدر ضروری اور اہم چیز ہے کہ میں تو سمجھتا ہوں جو شخص اپنے بچوں کو باوجود موقع میسّر آنے کے اس کالج میں داخل نہیں کرتا وہ اپنے بچوں کی دشمنی کرتا اور سلسلہ پر اپنے کامل ایمان کا ثبوت مہیا نہیں کرتا۔ اگر وہ کسی اَور جگہ اپنے بچوں کو داخل کرے گا تو صرف اس لیے کہ فلاں بورڈنگ اچھا ہے یا فلاں جگہ کھانا زیادہ اچھا ملتا ہے یا فلاں جگہ غیرقوموں کے لوگوں سے ملنے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔ حالانکہ اصل چیز تعلیم ہے، اصل چیز دینی تربیت اور اعلیٰ اخلاق کا حصول ہے اور یہ چیزیں تعلیم الاسلام کالج کے سوا کسی اَور کالج میں زیادہ بہتر طریق پر حاصل نہیں ہو سکتیں۔ تعلیم الاسلام کالج کی غرض یہ ہے کہ لڑکوں کو دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینیات کی تعلیم بھی دی جائے اور یہ تعلیم کسی اَور جگہ نہیں دی جاتی۔پس باہر کی جماعتوں کو اس بارہ میں اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے بچوں کو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ لڑکے بھی غلط قدم اُٹھا لیتے ہیں اور وہ اپنے ماں باپ کو صحیح حالات سے بے خبر رکھتے ہوئے دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل بچپن کی عمر ہی ایسی ہے کہ اس میں انسانی عقل پختہ نہیں ہوتی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے بچہ کئی دفعہ ایسی باتیں کہہ دیتا ہے جو واقعات کے خلاف ہوتی ہیں اور اس طرح ماں باپ دھوکا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں اَلصَّبِیُّ صَبِیٌّ وَلَوْکَانَ نَبِیًّابچہ بچہ ہی ہے خواہ اس نے بعد میں نبی ہی کیوں نہ بن جانا ہو۔ بہرحال لڑکے بعض دفعہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں جن سے ماں باپ دھوکا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
    ایک نوجوان جو آجکل بڑا مخلص اور فدائی احمدی ہے اُسے طالب علمی کے زمانہ میں والدین نے قادیان میں داخل کروایا۔ یہ حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ کی بات ہے۔ ایک دن میں حضرت۔خلیفہ۔اول کے پاس گیا تو ابھی میں وہاں بیٹھا ہی تھا کہ اوپر سے ڈاک آ گئی اور آپ نے اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ ڈاک پڑھتے پڑھتے آپ نے ایک خط نکالا اور اسے پڑھ کر آپ ہنسے۔ اُس وقت ایک طرف میں بیٹھا تھا اور دوسری طرف وہ لڑکا بیٹھا تھا۔ آپ نے میری طرف مسکرا کر دیکھا اور فرمایا میاں! تم اس لڑکے کو جانتے ہو؟ مجھے یاد نہیں میں نے اُس وقت کیا جواب دیا۔ (اُس لڑکے کے والد بہت پرانے صحابی تھے اور انہوں نے پہلے دن لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی تھی)۔ بہرحال اس گفتگو کے بعد حضرت خلیفہ اول اُس لڑکے کی طرف مخاطب ہوئے اور ہنس کر فرمانے لگے میاں!آج تم میرے پاس کس طرح پہنچ گئے ہو؟ اس نے کہا حضور! جس طرح میں پہلے حاضر ہوا کرتا تھا اُسی طرح آج بھی حاضر ہو گیا ہوں۔ آپ فرمانے لگے تم یہ بتاؤ کہ تم پنجرے میں سے کس طرح نکلے ہو؟ اِس پر اُس کا رنگ زرد ہو گیا اور شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔ پھر آپ نے وہ خط مجھے پڑھنے کے لیے دے دیا۔ میں نے پڑھا تو اُس میں لڑکے کی نانی نے حضرت خلیفہ اول کو لکھا تھا کہ میرے نواسے نے قادیان سے مجھے لکھا ہے کہ جب سے میں یہاں آیا ہوں مجھے انہوں نے ایک پنجرے میں ڈال کر لٹکا رکھا ہے۔ صبح شام سُوکھی روٹی اور ذرا سا پانی اس پنجرے میں رکھ دیتے ہیں جس پر میں گزارا کرتا ہوں۔ لڑکے اِدھراُدھر سے آتے اور مجھے دیکھ کر ہروقت مذاق کرتے رہتے ہیں۔ میں آپ کو یہ خط اس لیے لکھ رہا ہوں کہ اگر آپ مجھے دیکھنا چاہتی ہیں تو خدا کے لیے آپ مجھے جلدی بُلوا لیں اور اس قید سے نجات دلوائیں۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اول نے اس سے فرمایا کہ میاں! تم آج پنجرے میں سے کس طرح باہر آگئے ہو؟
    اِسی طرح میرے ساتھ ایک واقعہ ہوا۔ ایک دفعہ ایک شخص نے میرے پاس شکایت کی کہ میرے لڑکے کو استاد نے عربی میں فیل کر دیا ہے حالانکہ وہ اس مضمون میں بہت ہوشیار تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ استاد نے میرے لڑکے سے کوئی چیز لانے کے لیے کہا تھا چونکہ اس نے ایسا نہ کیا اس لیے اس نے لڑکے کو فیل کر دیا۔ میں نے کہا میں یہ مان نہیں سکتا کہ ایک احمدی استاد اس قسم کی کمینہ حرکت کرے۔ یہ تو میں مانتا ہوں کہ سارے احمدی نیک نہیں مگر جو مثال میرے سامنے پیش کی گئی ہے وہ ایسی ہے کہ میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی احمدی ایسی حرکت کر سکے۔ انہوں نے کہا آپ بیشک تحقیق کر لیں۔ لڑکے کو بِلاوجہ فیل کیا گیا ہے حالانکہ وہ بہت لائق اور ہوشیار تھا۔ میں نے کہا اچھا میں آپ کی خاطر سکول سے پرچہ منگواتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کیا بات ہے۔مگر آپ پہلے وعدہ کریں کہ اگر یہ بات غلط ہوئی تو آپ لڑکے کو سخت سزا دیں گے۔ انہوں نے وعدہ کیا اور میں نے ہیڈماسٹر کو رقعہ لکھا کہ اگرچہ قاعدہ کی رو سے ایسا نہیں چاہیے مگر جماعتی نظام کی خاطر میں چاہتا ہوں کہ آپ فلاں لڑکے کا عربی کا پرچہ میرے پاس بھجوا دیں کیونکہ میرے پاس شکایت کی گئی ہے کہ اسے بِلاوجہ فیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے پرچہ بھجوا دیا۔ پرچہ آیا تو میں نے دیکھا کہ ممتحن نے اسے اڑھائی نمبر دیئے ہوئے تھے مگر جب میں نے پرچے کو کھول کر دیکھا تو میں اس استاد کی عقل پر حیران ہوا جس نے اسے اڑھائی نمبر دیئے تھے کیونکہ میرے نزدیک وہ اڑھائی نمبروں کا مستحق نہیں تھا صرف صفر کا مستحق تھا۔ چنانچہ میں نے اس لڑکے کے باپ کو لکھا کہ میں اس استاد کی عقل پر حیران ہوں جس نے اس لڑکے کو سَو میں سے اڑھائی نمبر دے دیئے ہیں۔ میرے نزدیک تو یہ صفر کا مستحق تھا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ استاد کو شرم آئی کہ صفر نمبر کیا دینا ہے چلو اڑھائی نمبر ہی دے دیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے کیا پتاتھا کہ میرے لڑکے نے مجھے اس طرح دھوکا دیا ہے۔ میں تو یہی سمجھتا رہا کہ وہ جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے۔
    بہرحال جب ایک طرف بالغ، عاقل اور سمجھدار اساتذہ ہوں اور دوسری طرف ناتجربہ کار بچہ ہو تو عقلمند انسان کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ مقابلہ کے وقت اپنے بچے کو غلطی پر سمجھے اساتذہ کو بددیانت اور نالائق قرار نہ دے۔ بعض دفعہ لڑکے اسی بات کو دیکھ کرکہ سینما دیکھنے پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں یا نمازوں وغیرہ کی سختی سے پابندی کرائی جاتی ہے کالج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں اور یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ پروفیسر لڑکوں کو پڑھاتے نہیں وہ سارا دن اِدھراُدھر پھرتے رہتے ہیں۔ اور جب یہ بات باپ سنتا ہے تو کہتا ہے اچھا! میرے بچہ پر یہ یہ مصیبتیں آ رہی ہیں اور پھر وہ کوشش کرتا ہے کہ اسے کسی اَور کالج میں داخل کرا دے۔ میرے نزدیک ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اس قسم کی باتوں میں نہ آئیں اور اپنی عقل اور سمجھ سے کام لیں۔آخر یہ موٹی بات ہے کہ تم اپنے بچوں کی بات پر زیادہ اعتبار کرو گے یا یونیورسٹی کے نتائج پر زیادہ اعتبار کرو گے۔ یونیورسٹی کا نتیجہ بتا رہا ہے کہ ہمارے کالج کی ہر کلاس کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے اوپر رہا ہے۔ ایک کا نتیجہ90 فیصدی کے قریب رہا ہے اور دوسری کلاسوں کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے اوپر رہا ہے اور یہ ایک نہایت ہی خوشکن بات ہے؟ مگر پھر بھی بعض لوگ ان حقائق پر غور کرنے کی بجائے لڑکوں کی بات پر کان رکھنے کے زیادہ عادی ہوتے ہیں۔
    ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی سادہ لوح آدمی تھا جس کی طبیعت میں شرم اور حیا کا مادہ بہت غالب تھا۔ اس نے ایک گدھا خریدا۔ عربوں میں گدھے رکھنے کا عام رواج تھا اور وہ اس سے سواری اور باربرداری کا کام لیا کرتے تھے۔ جب اس کے دوستوں کو پتالگا کہ اس نے گدھا خریدا ہے تو وہ روزانہ اس کے پاس آتے اور گدھا مانگ کر لے جاتے۔ اس طرح مہینہ دومہینے گزر گئے اور وہ ایک دن بھی گدھا اپنی ذاتی ضروریات کے لیے استعمال نہ کر سکا۔ ہر وقت وہ دوسروں کے پاس ہی رہتا۔ آخر تنگ آ کر اس نے فیصلہ کیا کہ اب میں کسی کوگدھا نہیں دوں گا۔مگر ادھر طبیعت میں نرمی بھی تھی اور انکار بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ایک دن اس کے پاس کوئی دوست آیا اور اس کے گھر کے باہر سے آواز دے کر کہا بھائی صاحب! مجھے گدھا چاہیے اگر آپ دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ اس نے چونکہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں کسی کو گدھا نہیں دوں گا اس لیے اس نے مکان کی چھت پر سے ہی اسے جواب دیا کہ آپ کی بات کو میں ردّ تو نہیں کر سکتا تھا مگر فلاں دوست آئے تھے اور وہ مجھ سے گدھا مانگ کر لے گئے اس لیے میں آپ کے مطالبہ کو پورا کرنے سے قاصر ہوں۔ اِدھر اس نے یہ بات کہی اور اُدھر گھر کے صحن سے گدھے نے چیخنا شروع کر دیا۔ اس کی آواز سن کر دوست کہنے لگا عجیب بات ہے گھر سے گدھے کے چیخنے کی آواز آ رہی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں گدھا کوئی دوست لے گیا ہے۔ وہ کہنے لگا آپ بھی عجیب آدمی ہیں کہ میری بات پر اعتبار نہیں کرتے اور گدھے کی بات پر اعتبار کر رہے ہیں۔یہ ہے تو لطیفہ مگر ان لوگوں کی حالت بالکل ایسی ہی ہے۔ وہ یونیورسٹی کی بات پر اعتبار نہیں کرتے اور اپنے بچے کی بات پر اعتبار کر لیتے ہیں۔
    پس میں دوستوں کو خواہ وہ مقامی ہوں یا بیرونی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تعلیم الاسلام کالج میں اپنے لڑکوں کو داخل کرنے کی کوشش کریں ۔مگر اس کے ساتھ ہی میں تعلیم الاسلام کالج کے عملہ کو بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ میرے نزدیک انہیں اپنے نتائج اس سے بھی بہتر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آخر قربانی ایک طرف سے نہیں ہوتی بلکہ دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ ہم جو اپنے عزیزوں اور جماعت کے دوستوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کراؤ تو لازمی طور پر اس کے نتیجہ میں ان کے دل کے گوشوں سے بھی یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ اگر ہم سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو آپ لوگوں کا بھی فرض ہے کہ ہمارے لیے قربانی کریں۔ اگر پرنسپل اور کالج کے پروفیسر لڑکوں کے ساتھ محبت اور پیار کا تعلق رکھتے ہیں اور ان کی تعلیم کو اعلیٰ معیار تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے اخلاق کی نگرانی رکھتے ہیں، ان کی صحت کو درست رکھنے کی تدابیر اختیار کرتے ہیں، ان کے اندر ذہانت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ماں باپ اور لڑکوں دونوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ صرف ہم نے ہی قربانی نہیں کی بلکہ یہ لوگ بھی ہمارے لیے قربانی کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت میں ذاتی طور پر جماعت کو مخاطب کر کے تحریک کر رہا ہوں کہ وہ کالج کی طرف توجہ کریں اور اپنے لڑکوں کو اس میں تعلیم کے لیے بھجوائیں مگر بہرحال میں یہ آواز انہی کی طرف سے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو کالج کا پرنسپل نہیں نہ پروفیسر یا مینیجر ہوں ۔میں جو آواز اٹھا رہا ہوں وہ انہی کی طرف سے اٹھا رہا ہوں۔ اور جب میں دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس کالج میں اپنے لڑکے بھجوائیں تو درحقیقت میں ایک رنگ میں ان کی زبان بن جاتا ہوں اور ان کی طرف سے جماعت کے دوستوں کو یہ کہتا ہوں کہ تم کالج کے لیے قربانی کرو اور اپنے لڑکوں کو اس میں داخل کرو۔ اور جب میں دوسروں کو قربانی کے لیے کہتا ہوں تو ان لوگوں کا بھی حق ہے کہ وہ آپ سے یہ پوچھیں کہ آپ ہمارے لیے کیا قربانی کر رہے ہیں۔ اور چونکہ یہ ایک جائز مطالبہ ہے جو ان کی طرف سے ہو سکتا ہے اس لیے کالج کے پرنسپل اور پروفیسروں کو چاہیے کہ وہ دوسروں سے زیادہ وقت کالج کی ترقی اور لڑکوں کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے صَرف کرنے کی عادت ڈالیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ دینی احکام کا پابند اور اخلاقِ فاضلہ سے مُتّصِف بنائیں۔ خصوصاً لڑکوں کی خوراک کی طرف زیادہ توجہ رکھنی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ انہیں اچھی اور عمدہ غذا میسر آئے۔ میں کچھ عرصہ سے مختلف کتب کے مطالعہ کے نتیجہ میں اور کچھ اپنی صحت کو دیکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بچوں کی خوراک کا خیال نہ رکھنا اور ان کے لیے صحیح اور اعلیٰ درجہ کی غذا مہیا نہ کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ کئی بیماریاں اس وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں کہ لڑکوں کی خوراک کا خیال نہیں رکھا جاتا۔اس میں کبھی تو غفلت کا دخل ہوتا ہے اور کبھی عدمِ علم کی وجہ سے خوراک کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مثلاً جب ہم بچے تھے اور اس زمانہ میں چونکہ خوراک کی قدروقیمت کا لوگوں کو صحیح علم نہیں تھا اس لیے عدمِ علم کی وجہ سے ہماری غذا میں بعض نقائص رہ جاتے تھے۔ مثلاً مجھے یاد نہیں کہ ہمیں باقاعدہ ناشتہ ملاہو۔ دودھ گھر میں ہوتا تھا جس کا دل چاہا اس نے پی لیا۔ سکول سے پہلے کھانے کا انتظام نہیں ہوتا تھا۔ سکول سے وقت بچا کر کھانے کے لیے آ جاتے تھے جس کے معنے ہیں کہ بے قاعدہ کھانا کھانا پڑتا تھا۔ اب یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ہماری مائیں نَعُوْذُ بِاللّٰہِ ہماری دشمن تھیں۔ انہیں ہم سب سے محبت بھی تھی، پیار بھی تھا۔ وہ ہمارے لیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے بھی تیار رہتی تھیں لیکن چونکہ انہیں علم نہیں تھا کہ ناشتہ ایک ضروری چیز ہے اور کھانا وقت پر کھانا ضروری ہے انہوں نے نہ ناشتہ کا خاص خیال رکھا اور نہ صبح سکول جانے سے پہلے کھانے کا انتظام کیا۔ بہرحال خوراک کا اعصاب پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے۔ یورپین لوگ بڑی بڑی مشکلات کے باوجود اپنے حوصلے بلند رکھتے ہیں کیونکہ بچپن سے ہی انہیں اچھی اور وقت پر خوراک ملتی ہے لیکن ہمارے ملک کے لوگ بہت جلد اپنا حوصلہ ہار دیتے ہیں۔ ان کا حوصلہ ہارنا اخلاق کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ ان کے جسم میں اتنی طاقت ہی نہیں ہوتی کہ وہ حوادث اور آفات کا مقابلہ کر سکیں۔ پس بچوں کی خوراک کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے کہ انہیں اچھی سے اچھی غذا میسّر آسکے۔ میں نے دیکھا ہے گھر میں کھانے کا انتظام ہوتا ہے تو آدھی رقم میں نہایت اعلیٰ درجے کا کھانا تیار ہو جاتا ہے۔ میرے بعض بچے اس وقت بورڈنگ میں رہتے ہیں اور ان کے ماہوار اخراجات کا مجھے علم ہے۔
    وہی منافق جس نے یہ لکھا تھا کہ پرنسپل تو ایک عیسائی بھی رکھا جا سکتا ہے اُسی نے یہ بھی لکھا تھا کہ تمہارے اپنے دو لڑکے دوسرے کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور تم دوسروں سے یہ کہتے ہو کہ اپنے بچوں کو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کرو۔ میں اس کا بھی جواب دے دیتا ہوں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میرے دو لڑکے اَور کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک لڑکا وہ تعلیم حاصل کر رہا تھا جو تعلیم الاسلام کالج میں ہے ہی نہیں۔ وہ ڈاکٹری کے لیے تیاری کر رہاتھا اور یہ تعلیم ایسی ہے جس کا ہمارے کالج میں کوئی انتظام نہیں۔ دوسرا لڑکا بہت پہلے سے اُس کالج میں داخل تھا اور وہ بھی چونکہ ڈاکٹری کلاس میں داخل ہوا تھا اس لیے تعلیم الاسلام کالج میں داخل نہ ہو سکا۔ بہرحال دو لڑکے بعض دوسرے کالجوں میں پڑھ رہے ہیں اور ان کا خرچ خوراک ستّر روپیہ ماہوار ہے۔ ہمارے گھرمیں زیادہ سے زیادہ 35 روپیہ کے قریب ایک آدمی کا خرچ بنتا ہے اور اس میں ہم بہتر سے بہتر خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ مگر میں نہیں سمجھتا کہ ان کا کھانا ہمارے کھانے سے زیادہ اچھا ہوتا ہو۔ یہ خرچ بھی لاہورمسافرانہ زندگی کی وجہ سے ہوا ہے۔ ورنہ قادیان میں تو پندرہ سولہ روپیہ ماہوار خرچ ہوتا تھا۔ اس سے پہلے دس روپیہ ماہوار ہوا کرتا تھا۔ آخر میں جب ہم وہاں سے چلے ہیں تو اُس وقت بیس روپیہ کے قریب خرچ ہوتا تھا۔ لیکن یہاں کالج میں ستّر روپیہ فی لڑکا خوراک پر خرچ کیا جاتا ہے۔ کسی زمانہ میں یہ حالت تھی کہ کہا جائے کہ فلاں شخص ستّر روپیہ اپنی خوراک پر خرچ کر رہا ہے تو لوگ کہتے بڑا لاٹ صاحب ہے مگر آج ہر کالج کاطالبعلم یہ خرچ ادا کر رہا ہے۔ لیکن اس خرچ کے باوجود مَیں سمجھتا ہوں انہیں وہ خوراک نہیں مل رہی جو اتنے روپیہ میں انہیں ملنی چاہیے۔ تعلیم۔الاسلام کالج والے دیانتداری سے کام لیں تو اس سے کم روپیہ میں ان کے ماہوار اخراجاتِ خوراک کو پورا کیا جا سکتاہے۔ میرے نزدیک پروفیسروں کا فرض ہے کہ وہ تمام اخراجات پر کڑی نگرانی رکھیں اور کسی قسم کا ناجائز خرچ نہ ہونے دیں۔ میں نے دیکھا ہے اگر پُھلکے پکانے والے کی ہی نگرانی کرو تو ستّر فیصدی آٹے میں گزارہ ہو جاتا ہے اور اگر نگرانی چھوڑ دو تو سو فیصدی آٹا خرچ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گوشت وغیرہ کے متعلق احتیاط کی جا سکتی ہے۔ اگر وہ توجہ کریں تو اس خرچ کو یقیناً کم کیا جا سکتا ہے مگر خرچ کم کرنے کے یہ معنے نہیں کہ لڑکوں کی صحت کو تباہ کیا جائے۔ان کی صحت کو خراب کرنے کی تمہیں اجازت نہیں۔ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تھوڑے روپیہ سے بہتر سے بہتر کھانا ان کو مہیا کرو اور انہیں اچھی غذا دو تا کہ ان کے دماغ اور اعصاب کو طاقت حاصل ہو اور وہ اپنی قوم کے لیے مفید وجود ثابت ہوں۔
    اسی طرح دینیات کی تعلیم کی طرف اِنہیں خاص طور پر توجہ کرنی چاہیے۔ اگر دینی باتیں سننے کا لڑکوں کوزیادہ موقع ملے تو یہ لازمی بات ہے کہ ان کے اندر دینی روح بھی ترقی کرے گی اور اگر کم موقع ملے تو دینی روح کی ترقی میں بھی کمی واقع ہو جائے گی۔ مجھے افسوس ہے کہ اس طرف کالج کے عملہ کو پوری توجہ نہیں ۔مثلاً لڑکوں کے اندر صحیح دینی جذبہ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مرکز سے وابستہ ہوں۔ اور مرکز سے وابستگی پیدا کرنے کے جہاں اَور کئی طریق ہیں وہاں ایک یہ بھی طریق ہے کہ خلیفۂ۔وقت سے کالج میں کم سے کم دو چار لیکچر سالانہ کروائے جائیں تا کہ ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو اور قربانی کی روح ان کے اندر ترقی کرے۔ اس کے علاوہ جماعت کے دوسرے علماء اور مبلغین سے بھی وقتاً فوقتاً لیکچر کروانے چاہییں تاکہ باربار ان کے سامنے مختلف دینی مسائل آتے رہیں اور ان کی اہمیت ان کے ذہن میں راسخ ہوتی چلی جائے۔ خالی کتابیں پڑھا دینے سے دماغی تربیت نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے اندر جرأت، ہمت اور بہادری کا مادہ پیدا کیا جائے۔ اور جرأت کا مادہ ہمیشہ ایسے لوگوں کے ذریعہ ہی پیدا ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں کوئی نمایاں کام کیا ہوا ہوتا ہے۔ جب انسان ان کی باتیں سنتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ صرف منہ کی باتیں نہیں بلکہ ان کے ساتھ عمربھر کا تجربہ بھی شامل ہے۔ اس کے بعد وہ ضد کر کے بیٹھ جائے تو اَور بات ہے ورنہ اگر اس کے دل میں ذرہبھر بھی صداقت کا احساس ہو تو وہ خداتعالیٰ کی محبت کا شکار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔مثلاً جب ایک شخص کہتا ہے کہ اگر میں دین کی خدمت کروں تو روٹی کہاں سے کھاؤں تو اس کا صحیح جواب وہی شخص دے سکتا ہے جس نے ساری عمر دین کی خدمت کی ہو، جس نے ساری عمر دنیا کا کوئی کام نہ کیا ہو اور پھر خداتعالیٰ نے ہمیشہ اسے باعزت رزق دیا ہو۔ جب ایسا شخص اس سے گفتگو کرے گا اور کہے گا کہ میں نے دین کی خدمت کی ہے اور ایسے حالات میں کی ہے کہ میرے لیے روٹی کا کوئی امکان نہیں تھا مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے روٹی دی تو اس کا حوصلہ بلند ہو جائے گا اور وہ سمجھے گا کہ اگر میں بھی دین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کردوں تو میں بھوکا نہیں مر سکتا۔ اسی طرح جب ایسا شخص ان سے گفتگو کرے گاجس نے خداتعالیٰ سے باتیں کی ہوں گی، جس کی تائید کے لیے اس نے معجزات و نشانات دکھائے ہوں گے، جس پر اس کے فضل بارش کی طرح برسے ہوں گے تو اس کی گفتگو کا جو نتیجہ ہو گا وہ ان لوگوں کی گفتگو سے بالکل مختلف ہو گا جن کے ساتھ خداتعالیٰ کا کوئی معجزانہ سلوک نہیں ہوتا اور جو محض لوگوں کے قصے اور کہانیاں سنانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص اگر یہ بیان کرے کہ احمدی غیرممالک میں اس اس طرح قربانیاں کر رہے ہیں تو لوگوں پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا لیکن اگر امریکہ یا افریقہ سے کوئی شخص آ کر اپنے مشاہدات کا ذکر کرے تو اس کا بالکل اَور اثر ہوتا ہے اور لوگوں کے اندر ایک نئی زندگی پیدا ہو جاتی ہے اور ان کے حوصلے بلند ہوجاتے ہیں۔
    بہرحال ہمارے کالج کے افسروں کے اندر یہ احساس ہونا چاہیے کہ انہوں نے اپنے طالبعلموں کی زندگیوں کو سنوارنا اور انہیں قوم کے لیے اعلیٰ درجہ کا وجود بنانا ہے۔ یہاں تک کہ وہ جس محکمہ میں بھی جائیں اس میں چوٹی کے آدمی ثابت ہوں اور کوئی دوسرا شخص ان کا مقابلہ نہ کر سکے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ ہم اپنی تعداد کے لحاظ سے دنیا کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور پھر لوگوں کی مخالفت اور ان کا عِناد اس کے علاوہ ہے۔ اگر ہم کسی وقت ترقی کرتے کرتے1/1000 سے 1/100 تک بھی پہنچ جائیں تب بھی وہ جماعت جو ایک فیصدی ہو وہ ننانوے فیصدی لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔اور جبکہ تعداد کے لحاظ سے ہم کسی صورت میں بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو کیوں نہ ترقی کر کے ہم میں سے ہر شخص چوٹی کا آدمی بننے کی کوشش کرے ۔اور کیوں ہم اپنے اندر اتنی قابلیت اور لیاقت پیدا نہ کر لیں کہ جس وقت کوئی دوسرا شخص یہ سنے کہ یہ احمدی انجنیئر ہے یا احمدی ڈاکٹر ہے یا احمدی وکیل ہے یا احمدی بیرسٹر ہے یا احمدی تاجر ہے تو وہ کسی انٹرویو کی ضرورت ہی نہ سمجھے بلکہ محض ایک احمدی کا نام سنتے ہی یقین کر لے کہ اس شخص کا اپنے فن میں کوئی اَور مقابلہ نہیں کر سکتا ۔مگر یہ چیز ایسی ہے جو کالج کی مدد کے بغیر ہمیں حاصل نہیں ہو سکتی۔ پس کالج کے عملہ کو میں خاص طور پر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ لڑکوں کی علمی، اخلاقی اور مذہبی تربیت کی طرف توجہ کریں۔ جس طرح میں نے کہا ہے کہ انہیں لڑکوں کی خوراک کے معاملہ میں خاص طور پر نگرانی رکھنی چاہیے اسی طرح کالج کے عملہ کو لڑکوں کی تربیت میں اس قدر دلچسپی لینی چاہیے اور اس قدر توجہ اور انہماک کے ساتھ انہیں یہ کام کرنا چاہیے کہ ہر شخص کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ یہ لڑکوں کو کسی غیر کا بیٹا نہیں بلکہ اپنا بیٹا سمجھ کر تعلیم دے رہے ہیں اور ان کی تربیت کا خاص خیال رکھ رہے ہیں۔ اسی طرح مارپیٹ اور جھڑکیاں دینے کی بجائے انہیں بچوں سے محبت اور پیار کا سلوک کرنا چاہیے۔ جب وہ بچوں کے لیے اس قسم کی محبت اور پیار کا نمونہ دکھائیں گے تو اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر ان کے دلوں میں بھی یہ جذبہ پیدا ہو گا کہ جب یہ لوگ ہماری خاطر مر رہے ہیں تو ہم اپنی خاطر کیوں نہ مریں اور ہم اپنی زندگیوں میں وہ تغیر کیوں پیدا نہ کریں جو ہمارے رب کے منشا کے مطابق ہو۔ اس طرح وہ زیادہ سے زیادہ وقت دینی کاموں میں صَرف کریں گے اور رفتہ رفتہ اپنے آپ کو اچھا شہری بنانے کی کوشش کریں گے۔
    اِسی سلسلہ میں ایک اَور نصیحت کالج کے عملہ کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں لڑکوں کی دماغی تربیت کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ان کا صرف اچھے نمبروں پر پاس ہو جانا کافی نہیں بلکہ ان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی دماغی تربیت اس رنگ کی ہو کہ جب وہ نماز پڑھیں تو عقلمندانسان کی طرح نماز پڑھیں اور جب کتاب پڑھیں تو عقلمند انسان کی طرح کتاب پڑھیں۔ یہ ایک الگ مضمون ہے کہ عقل اور ذہانت کی ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔ میں اس وقت صرف اصولی طور پر اس امر کی طرف کالج کے عملہ کو توجہ دلاتا ہوں۔ اگر وہ ان امور کا خیال رکھیں گے تو لوگوں کے اندر خودبخود یہ احساس پیدا ہو گا کہ یہ کالج اپنے اندر بعض نمایاں خصوصیات رکھتا ہے جن سے ہمیں اپنے بچوں کو محروم نہیں رکھنا چاہیے۔
    اب میں اپنے خطبہ کو ختم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ لاہور کی جماعت بھی اور بیرونجات کی جماعتیں بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنے لڑکوں کو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کرنے کی کوشش کریں گی اور کالج کے پرنسپل اور پروفیسر بھی جنہوں نے مجھ سے درخواست کر کے یہ چاہا ہے کہ میں لوگوں کو یہ تحریک کروں کہ وہ ان کے لیے اپنی اولاد کی قربانی کریں اپنے اندر زیادہ سے زیادہ قربانی کا مادہ پیدا کرکے لڑکوں کی تعلیم کو اعلیٰ معیار تک پہنچانے کی کوشش کریں ۔کیونکہ جب ایک طرف وہ لوگوں سے قربانی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف میرا بھی حق ہے اور دوسرے لوگوں کا بھی حق ہے کہ وہ ان سے یہ کہیں کہ آپ بھی کچھ قربانی کریں تا ہماری اور آپ کی قربانیاں دونوں مل کر نیک نتائج پیدا کریں اور ہماری آئندہ نسلیں اسلام کی فدائی اور اس کا جاں نثار گروہ ثابت ہوں ۔ وَآخِرُ دَعْوٰنَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ‘‘۔
    (الفضل 14ستمبر 1949ء )

    1
    :
    الفاتحۃ:6
    2
    :
    (التحریم:7)
    3
    :
    تفسیرروح المعانی از علامہ الوسی۔سورۃ المائدۃ آیت 3ـجلد3صفحہ 233۔ بیروت لبنان 2005ء
    4
    :
    (الفتح:30)

    ہمیشہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہو
    اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کوشاں رہو
    (فرمودہ 16ستمبر 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’ہماری جماعت جس بنیاد پر قائم ہے وہ دوسری جماعتوں سے بالکل الگ ہے۔دوسری جماعتوں کی بنیاد ورثہ پر ہے لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ نہ ورثہ کا گناہ انسان کی ہدایت کے رستہ میں روک بن سکتا ہے اور نہ ورثہ کی نیکیاں اسے کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا ہے تم اپنی صلیب آپ اٹھا کر چلو۔1 جس کے معنے یہی ہیں کہ ہر ایک انسان کو اس کے اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ نہ ماں باپ کی نیکیاں اس کے کام آئیں گی اور نہ ان کی بدیاں اس کے ثواب کو کم کر سکیں گی۔ احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے بعض عزیزوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا قیامت کے دن میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکوں گا۔ تمہیں اپنا بوجھ خود اُٹھانا پڑے گا اور اپنی جنت کے لیے خود رستہ تیار کرنا پڑے گا۔2 اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کو اپنا بوجھ خود ہی اُٹھانا پڑتا ہے لیکن عملی طور پر تمام مذاہب عموماً ورثہ پر ہی اپنی بنیاد رکھتے ہیں مثلاً آجکل کا ایک مسلمان اس بات کو کافی سمجھتا ہے کہ وہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا اور اپنے عقیدہ کے مطابق ایک سچے مذہب کا پیروکار کہلایا۔ ایک ہندو اس بات کو کافی سمجھتا ہے کہ وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا اور اپنے عقیدہ کے مطابق ایک سچے مذہب کا پیروکار کہلایا۔ ایک عیسائی، ایک یہودی یا ایک زرتشتی اس بات پر بالکل مطمئن ہے کہ وہ ایک عیسائی، یہودی یا زرتشتی گھرانے میں پیدا ہوا اور اپنے عقیدہ کے مطابق ایک سچے مذہب کا پیرو کہلایا۔ لیکن پیدائش خداتعالیٰ کے فضل کا وارث نہیں بنایا کرتی۔ خداتعالیٰ کے فضل کا وارث بننے کے لیے ضروری ہے کہ عملی طور پر اس کے حصول کے لیے کوشش کی جائے۔ ایک چھوٹی سے چھوٹی اور ادنیٰ سے ادنیٰ ہستی کو بھی اُس وقت تک تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس میں کسی قسم کی حرکت نہیں پائی جاتی۔ انسانی زندگی ایک ادنیٰ کیڑے سے شروع ہوئی ہے لیکن ڈاکٹر اس کے متعلق بھی یہ اصول پیش کرتے ہیں کہ جب تک اس میں کوئی حرکت نہ ہو وہ انسانی پیدائش کے قابل نہیں ہو سکتا۔یہ کیڑا کتنا حقیر ہے ،یہ کیڑا کتنا چھوٹا ہے ،وہ عام نظروں سے چھپا رہتا ہے بلکہ تیز سے تیز نظر والا انسان بھی اسے نہیں دیکھ سکتا۔ کئی سَوطاقت والی خوردبین سے وہ دیکھا جاتا ہے وہ بھی اگر حرکت نہ کرے تو سمجھا جاتا ہے کہ وہ بیکار ہے۔ پس جب ایک ادنیٰ سے ادنیٰ چیز بھی حرکت نہیں کرتی تو اسے بیکار سمجھا جاتا ہے تو پھر انسان کے اندر اگر زندگی کے لیے کشمکش نہیں پائی جاتی، اس میں اگر منزلِ مقصود تک پہنچنے کی جدوجہد نہیں پائی جاتی اور اگر اس جدوجہد کا صحیح نتیجہ نہیں نکلتا تو پھر کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ وہ کامیاب ہے گو وہ کامیاب ہونے والا ہے۔
    اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے دنیا کی ہر چیز کو جوڑا بنایا ہے۔3 خداتعالیٰ نے’’ہرچیز‘‘ فرمایا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ میں نے انسانوں کو جوڑا بنایا ہے، میں نے حیوانوں کو جوڑا بنایا ہے بلکہ فرمایا ہے کہ میں نے ہر چیز کو جوڑا بنایا ہے۔ اور ہر چیز کو جوڑا بنانے کے یہ معنے ہیں کہ خداتعالیٰ کے سوا ہر چیز کا جوڑا ہے۔ کیونکہ کہتا ہے میں نے ہر چیز کو جوڑا بنایا ہے۔ اس لیے وہ تو ’’ہرچیز‘‘ میں شامل نہیں ہو سکتا وہ تو بنانے والا ہے اور جوڑا اُس چیز کا ہے جو بنائی گئی ہے۔ اگر خداتعالیٰ نے ہر چیز کو جوڑا بنایا ہے تو اِس کا یہ مطلب ہے کہ انسانوں، فرشتوں، حیوانوں، جمادات اور نباتات وغیرہ میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو بغیر اپنے جوڑے کے کوئی نتیجہ پیدا کرتی ہو۔ اس طرح روح اور اعمال بھی ایک جوڑا ہیں۔ جب تک یہ دونوں آپس میں نہیں ملیں گے کوئی صحیح نتیجہ نکلنا محال ہے۔ اسی۔لیے۔صوفیائ۔نے کہا ہے کہ روح خداتعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا جوڑا ہے اور جب تک خداتعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت روح سے نہیں ملتے اُس وقت تک روحانی نسل قائم نہیں ہو سکتی۔ جب ایک طرف روح ہو گی اور دوسری طرف خداتعالیٰ کا فضل اور رحمت ہوں گے تب ان میں صحیح نتیجہ پیدا ہو گا اور یہی دونوں چیزیں ہیں جو مل کر روحانی نسل کو قائم کرتی ہیں۔
    مجھے یاد ہے میں ابھی بچہ ہی تھا۔ میری عمر چودہ پندرہ سال کی تھی کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں امرتسر میں ہوں۔ امرتسر میں ملکہ کا ایک بُت تھا جو سنگِ مرمر کا بنا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد ایک چبوترا تھا وہ بھی سنگ مرمر کا بنا ہوا تھا۔ہال بازار سے گزر کر جب شہر کو جائیں تو یہ بُت رستہ میں آتا تھا۔ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں اُس جگہ پر ہوں۔ چبوترے پر چڑھنے کے لیے سنگِ مرمر کی سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ میں نے دیکھا اُن سیڑھیوں پر تین یا چار سال کا ایک بچہ تھا جو نہایت حسین اور صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔وہ آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ رؤیا میں مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ مسیحؑ ہے۔ تھوڑی دیر میں آسمان پھٹا اور اوپر کی طرف سے کوئی اُڑتا ہوا شخص زمین کی طرف آیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ خوبصورت رنگوں والے لباس میں لِپٹا ہوا ہے اور اُس کے پَر ہیں جن سے وہ اُڑتا ہوا آ رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت مریم ہیں۔ وہ شخص اُڑتے اُڑتے نیچے پہنچا اور جیسے مرغی اپنے پَر پھیلا کر اپنے بچوں کو پروں کے نیچے لے لیتی ہے اِس طرح اس شخص نے اس بچہ پر اپنے پَر رکھ دیئے۔ اور جب اس نے ایسا کیا تو یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے کہ Love creates Love یعنی محبت محبت پیدا کرتی ہے۔ میری آنکھ کھلی تو اس رؤیا کی میں نے یہی تعبیر سمجھی کہ مریم جو رؤیا میں بطور ماں دکھائی گئی تھی وہ خدائی محبت ہے اور بچہ جو مسیح کی شکل میں دکھایا گیا تھا وہ روح کی خداتعالیٰ کی طرف اِنابت اور جھکنے کا تمثّل ہے۔ جب انسانی روح خداتعالیٰ کی طرف جھکتی ہے تو اس کے نتیجہ میں ایک روحانی وجود پیدا ہوتا ہے جو خداتعالیٰ کو ایسا ہی پیارا ہوتا ہے جیسے ماں کو اس کا بچہ۔ خداتعالیٰ جسم کے ساتھ پیار نہیں کیا کرتا۔ظاہری ناک،کان اور ہاتھ تو مادی ہیں اور فانی ہیں۔ وہ وجود جس کے ساتھ خداتعالیٰ پیار کیا کرتا ہے وہ خداتعالیٰ کی رحمت کے ساتھ مل کر پیدا ہوتا ہے۔ وہ گویا بچہ ہے اور خداتعالیٰ اس کے لیے بمنزلہ ماں ہے اور یہی وہ چیز ہے جس سے زندہ انسان پہچانا جاتا ہے۔ زندہ انسان تو سارے ہی ہوتے ہیں مگر اولاد کے ناقابل مرد اور بانجھ عورت سے نسل نہیں چلا کرتی۔ وہ وجود اپنی ذات پر ختم ہو جاتا ہے۔ جاری اور زندہ رہنے والی وہ چیز ہوتی ہے جس سے نسل کے چلنے کا امکان ہو۔ مگر کیا اس سے ظاہری نسل مراد ہے؟ ظاہری نسل سے تو وہ لوگ بھی پیدا ہوتے ہیں جو خداتعالیٰ کو گالیاں دیتے ہیں، ظاہری نسل سے وہ لوگ بھی پیدا ہوتے ہیں جو اس کے رسول سے منہ پھیر لیتے ہیں، جو کتابوں اور الہاموں سے متنفر ہوتے ہیں اور بنی نوع انسان کے لیے عذاب ثابت ہوتے ہیں۔ ہلاکو۔خاں وغیرہ بھی اسی نسل میں سے تھے، ابوجہل، فرعون، نمرود اور شدّاد بھی اسی نسل میں سے تھے۔ اسی میں سے وہ شیاطین بھی تھے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں انبیاء کی مخالفت کی۔ اب ظاہر ہے کہ یہ وہ نسل نہیں جس پر خداتعالیٰ فخر کرتا ہے۔ خداتعالیٰ جس نسل پر فخر کرتا ہے وہ وہ نسل ہے جو روحانی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص ایسی نسل کے پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ صحیح معنوں میں انسان نہیں کہلا سکتا۔ صحیح معنوں میں انسان وہی ہے جو روحانی نسل پیدا کرے اور اپنے پیچھے ایسے وجود چھوڑ جائے جن کے ذریعہ دنیا ہدایت پاتی رہے۔ اگر کوئی ایسا شخص ہے جس کے ذریعہ روحانی نسل پیدا ہوتی ہے تو وہ اپنے فرض کو پورا کر رہا ہے اور وہ کامیاب کہلا سکتا ہے اور نسلِ۔انسانی کی پیدائش سے اسی انسان کا پیدا کرنا مقصود ہے۔ اگر لوگ ایسی نسل جاری کرتے رہیں تو دنیا پر کیوں بربادی آئے۔ دنیا پر تباہی و بربادی اُسی وقت آتی ہے جب ظاہری طور پر ایسے وجود پائے جاتے ہوں لیکن باطنی طور پر ان میں وہ خوبیاں نہ پائی جائیں جن کی وجہ سے روحانی نسل قائم رہتی ہے۔
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہےُ4 اے محمد رسول اللہ! تیرے دشمن کی نرینہ اولاد نہیں حالانکہ واقع یہ تھا کہ آپؐ کی ظاہری طور پر نرینہ اولاد نہیں تھی اور آپؐ کے شدید ترین دشمنوں میں قریباً تمام کی نرینہ اولاد تھی۔ ابوجہل کی نرینہ اولاد تھی، عتبہ کی نرینہ اولاد تھی، شیبہ کی نرینہ اولاد تھی، عاص کی نرینہ اولاد تھی۔ یہ آپ کے شدید ترین دشمن تھے اور ان سب کی نرینہ اولاد موجود تھی اور نرینہ اولاد نہیں تھی تورسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی۔ لیکن جس شخص کی اولاد نہیں تھی اُسے مخاطب کرتے ہوئے خداتعالیٰ کہتا ہے کہ تیری نرینہ اولاد موجود ہے اور جن لوگوں کی نرینہ اولاد موجود تھی انہیں خداتعالیٰ کہتا ہے کہ ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ ان دونوں متقابل بیانات سے صاف پتا چلتا ہے کہ ان میں اِسی نکتہ کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف میں نے ابھی اشارہ کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ خداتعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ تیری نرینہ اولاد ہے تو اس سے یہ مراد تھی کہ آپؐ کی روحانی اولاد ہو گی۔ اور دشمن کے متعلق جب کہا کہ ان کی نرینہ اولاد نہیں ہو گی تو اس سے مراد یہ تھی کہ ان کی روحانی اولاد نہیں ہو گی۔ چنانچہ حضرت عکرمہؓ کو دیکھ لو۔ حضرت عکرمہؓ ابوجہل کے بیٹے تھے۔ ابوجہل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ نرینہ اولاد نہ ہونے کا طعنہ دینے والا تھا۔ جیسے پنجابی میں کہا کرتے ہیں’’اونترا۔نکھترا‘‘۔ اِسی طرح وہ کہا کرتا تھا کہ آپ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ اونترے نکھترے ہیں۔ ان کا کیا ہے مر جائیں گے تو یہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ اِسی ابوجہل کا بیٹا موجود تھا۔ وہ آخری وقت تک مخالفت کرتا رہا اور جب فتح مکہ ہوئی تو وہ مکہ سے بھاگ گیا اور اس نے کہا کہ میں اب یہاں نہیں رہوں گا بلکہ کسی اَور ملک میں چلا جاؤں گا۔ حضرت عکرمہؓ۔کی بیوی دل سے مسلمان تھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللّٰہ! آپ کا عفو بہت بڑا ہے۔ اگر آپ کا ایک دشمن آپ کے زیرِسایہ پرورش پا جائے تو کیا حرج ہے؟ شاید خداتعالیٰ اسے ہدایت دے دے۔ آپؐ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا کیا آپ اجازت دیں گے کہ عکرمہ اِسی ملک میں رہے اور آپ کے زیرِسایہ زندگی بسر کرے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا لیکن وہ تو دشمن ہے اور میں جانتی ہوں کہ وہ یہ پسند نہیں کرے گا کہ اسلام لے آئے۔ کیا آپؐ اسے کفر کی حالت میں ہی یہاں رہنے دیں گے؟ آپ ؐ نے فرمایا ہاں۔ اس نے پھر کہا کیا میں عکرمہ سے کہوں کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے مکہ میں رہ سکتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ عکرمہ مکہ سے بھاگ کر سمندر کے کنارے پہنچ چکا تھا۔ بیوی اپنے خاوند کی محبت کی وجہ سے تیسرے دن وہاں پہنچی۔ عکرمہ کشتی میں سوار ہونے والا تھا کہ وہ وہاں پہنچی۔ اس نے کہا تم مکہ میں رہنا پسند نہیں کرتے۔ تم کہتے ہو کہ جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ہے وہاں میں نہیں رہوں گا۔ لیکن جن کی وجہ سے تم مکہ میں رہنا پسند نہیں کرتے اُن کا یہ حال ہے کہ جب میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ عکرمہ کو مکہ میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا وہ آپ کا شدید ترین دشمن ہے اور یہ میں جانتی ہوں کہ وہ اسلام نہیں لائے گا، وہ کافر ہونے کی حالت میں ہی مرے گا۔ کیا آپ اسے اس صورت میں بھی یہاں رہنے کی اجازت دیں گے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ وہ تو اتنی مہربانی کرتے ہیں اور تم ان کے زیرِسایہ مکہ میں رہنا بھی پسند نہیں کرتے۔ عکرمہ نے کہا کیا یہ سچ ہے؟ اس کی بیوی نے کہا ہاں۔ عکرمہ نے کہا چلو۔ میں خود یہ بات ان سے پوچھ لینا چاہتا ہوں۔ عکرمہ واپس آئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ملا دو۔ میں یہ بات خود ان کے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔ بیوی ساتھ لے کر انہیںرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ عکرمہ ؓنے رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ایک بات ہے جو میں دریافت کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میری بیوی کہتی ہے آپ نے فرمایا ہے کہ میں آپ کے زیرِسایہ مکہ میں رہ سکتا ہوں۔ کیا یہ درست ہے ؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ عکرمہؓ نے کہا ایک اَور بات بھی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میں باوجود دشمن ہونے کے اور اسلام نہ لانے کے بھی یہاں رہ سکتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ بظاہر تو یہ ایک معمولی بات ہے، یہ ایک دنیوی معاملہ ہے۔ غالب شخص مغلوب سے یہ کہتا ہے کہ میں تمہارا قصور معاف کرتا ہوں اور اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے ملک میں رہنے کی تمہیں اجازت دیتا ہوں۔ لیکن اگر سیاق کو دیکھا جائے، جب ان کی پچھلی تاریخ کو دیکھا جائے اور اُس سلوک کو سامنے رکھا جائے جو وہ رسول۔کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ یہ انسانی فعل نہیں۔ عکرمہؓ یہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اُن سے ایسا سلوک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے جب یہ بات سنی تو یقین کر لیا کہ یہ سلوک سوائے رسول کے کوئی اَور شخص نہیں کر سکتا۔ جونہی یہ فقرہ آپؐ کے منہ سے نکلا کہ عکرمہ! تم باوجود دشمن ہونے کے مکہ میں رہ سکتے ہو تو عکرمہ ؓنے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے فرمایا عکرمہ! ہم تمہیں معاف ہی نہیں کرتے بلکہ تم اپنے لیے جو کچھ مانگو آج تمہیں دیں گے۔ اس پر وہی دنیادار عکرمہؓ جو مکہ میں آپ کے زیرِسایہ رہائش کو بھی پسند نہیں کرتا تھا وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ آپ نے دوسروں کو لاکھوں کے اموال بخش دیئے ہیں۔ میں بھی کچھ مانگ لوں تا آرام کے ساتھ زندگی بسر کر سکوں بلکہ ایک منٹ کے اندراندر ایمان نے اُس کے اندر ایسا تغیر پیدا کر دیا کہ جب آپؐ نے کہا عکرمہ! تم اپنے لیے جو کچھ مانگو ہم آج دیں گے تو اس نے کہا یارسول اللّٰہ! اِس سے بڑھ کر اَور کونسی چیز آپ مجھے دے سکتے ہیں کہ مجھے ہدایت مل گئی۔ آپ میرے لیے دعا کریں کہ خداتعالیٰ میرے تمام گناہ معاف کر دے۔5 اُس گھڑی عکرمہؓ ابوجہل کا بیٹا نہیں رہا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونترانکھترا کہا کرتا تھا بلکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا بن گیا تھا۔ اُس وقت ابوجہل اونترانکھترا تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد موجود تھی۔ ماؤں نے بچے جنے، باپوں کے ہاں نرینہ اولاد پیدا ہوئی اس لیے کہ اسے اُٹھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں دے دیا جائے۔
    عاص آپؐ کا کتنا دشمن تھا۔ وہ مکہ کا باپ کہلایا کرتا تھا اور مخالفت میں انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ اس شخص کا بھی ایک بیٹا تھا جو مسلما ن ہوگیا۔ اس کا پوتا اپنے باپ کی زندگی میں ہی مسلمان ہو گیا تھا اور اس کے خلاف ایک عرصہ تک لڑتا رہا۔ اس کا نام عبداللہ بن عمروؓ تھا۔ عبداللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑا کرتا تھا مگر عمرو اتنا شدید دشمن تھا کہ ایک لمبے عرصہ تک آپؐ کے خلاف لڑتا رہا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ اس کی آنکھیں کھلیں۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لے آیا۔ یہ عمرو جب مرنے لگے تو وہ روتے تھے۔ بیٹے نے دریافت کیا آپ روتے کیوں ہیں؟ خداتعالیٰ نے اس بات کی آپ کو توفیق دی ہے کہ آپ مسلمان ہو کر مر رہے ہیں لیکن ان کے اندر اسلام اس قدر جاگزیں ہو چکا تھا کہ صرف لفظِ۔اسلام سے انہیں کوئی لطف حاصل نہیں ہوتا تھا۔ وہ محض اسلام لے آنے کو کافی نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا میرے بیٹے !مجھے پتا نہیں کہ اگلے جہان میں میرا کیا حال ہوگا۔ ایمان لانے سے پہلے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا دشمن تھا کہ باوجود اس کے کہ آپ میرے قریبی رشتہ دار تھے جس دن سے آپ نے دعوٰی کیا بُغض کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہیں دیکھی اور اُس وقت اگر کوئی مجھ سے آپ کا حلیہ دریافت کرتا تو میں اسے بتا نہیں سکتا تھا۔ پھر اے میرے بیٹے !مجھے خداتعالیٰ نے ایمان نصیب کیا اور وہ معمولی تغیر نہیں تھا۔ جب میں ایمان لایا تو آپؐ کی عظمت کا مجھ پر اتنا اثر تھا کہ رُعب کی وجہ سے میں نے آپؐ کی شکل نہیں دیکھی اور اگر اب بھی کوئی مجھ سے آپ کا حلیہ پوچھے تو میں نہیں بتا سکتا۔ پھر آپؐ فوت ہوئے۔ آپ کے فوت ہونے کے بعد دنیا کے جھگڑے شروع ہوئے۔ ہم آپس میں لڑتے رہے۔ ہمیں دین کی طرف وہ توجہ نہ رہی جو آپ کی زندگی میں تھی۔ میں کفر کی حالت میں مر جاتا تو اَور بات تھی۔ آپ کی زندگی میں مر جاتا تو اَور بات تھی لیکن آج ایک لمبے عرصہ کے بعد میں فوت ہو رہا ہوں اور پتا نہیں آپ کی وفات کے بعد میں نے کیا کیا کوتاہیاں کی ہیں۔6 ۔۔میں ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو میں اگلے جہان میں بھی آپؐ کی شکل نہ دیکھ سکوں۔ اب دیکھو! یہ عمرو ؓ،عاص کا بیٹا تھا یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ؟ہر شخص جس میں عقل ہے یہی کہے گا کہ عاص کے گھر میں وہ پیدا ہوا لیکن اُس نے اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا۔
    خالدؓ بن ولید رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عداوت میں بہت شہرت رکھتے تھے۔ یہ وہ شخص ہیں جنہوں نے عکرمہ ؓسے مل کر اُحد کے موقع پر اپنے خیال میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیا تھا۔ یہ وہ شخص ہے جس نے پہاڑ کے پیچھے سے ہو کر مسلمانوں پر حملہ کیا اور ان کی فتح کو شکست سے بدل دیا۔ پھر یہی وہ شخص ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جب تین جرنیل شہید ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ نے لشکر کی کمان سنبھال لی اور اس طرح مسلمان محفوظ ہو گئے۔7 یہی خالدؓ جب مرتے ہیں تو مرنے سے قبل روتے ہیں۔ ان کے ایک دوست نے پوچھا خالد !روتے کیوں ہو؟ خداتعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے کی آپ کو کتنی توفیق ملی ہے۔ خالد ؓنے کہا ہاں ہاں مجھے بے شک قربانی کے مواقع ملے ہیں لیکن مجھے حسرت ہے کہ میں چارپائی پر جان دے رہا ہوں۔ پھر خالدؓ نے اپنے اُس دوست سے کہا میری ٹانگ سے ذرا کپڑا تو اُٹھاؤ۔ کیا کوئی انچ بھر بھی ایسی جگہ تم دیکھتے ہو جس پر تلوار کا نشان نہ ہو؟ اُس نے کہا نہیں۔ خالد ؓنے کہا اچھا میری دوسری ٹانگ ننگی کرو۔ اُس نے دوسری ٹانگ ننگی کی اور دیکھا کہ اس پر بھی ہر جگہ تلوار کے نشان لگے ہوئے ہیں۔ خالد ؓنے کہا اچھا میرے ہاتھ ننگے کرو۔ میرے سینے پر سے کپڑا اُٹھاؤ، میری پیٹھ پر سے کپڑا اُٹھا کر دیکھو۔ میرے پر نظر دوڑاؤ اور میری گردن کو ننگا کر کے دیکھو۔ میرے تمام جسم پر ایک انچ بھر بھی ایسی جگہ نہیں جس پر تلوار کا نشان نہ ہو۔ پھر خالدؓ روپڑے اور کہا خدا کی قسم! میں اپنے آپ کو ہر خطرہ میں ڈالتا رہا اور میری خواہش تھی کہ میں شہید ہو کر دائمی زندگی پاؤں لیکن وہ زندگی میرے نصیب میں نہیں تھی۔ میں آج چارپائی پر تڑپ تڑپ کر مر رہا ہوں۔8 اَب دیکھ لو کیا یہ خالدؓ ولید کا بیٹا تھا؟ وہ ظاہری طور پر ولید کا بیٹا تھا لیکن باطنی طور پر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں شامل ہو گیا تھا۔وہ یقیناً ولید کے گھر میں پیدا ہوا لیکن فرشتوں نے اسے محمد۔رسول۔اللہ صلی۔اللہ۔علیہ وسلم کی گود میں لا ڈالا اور ثابت کر دیا کہ محمد۔رسول۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد موجود ہے، آپ کے دشمن کی نرینہ اولاد نہیں۔
    پس یہ ایک روحانی نشان اور علامت ہے کہ زندہ انسان اپنے پیچھے ایسے وجود چھوڑتا ہے جن سے لوگ ہدایت پاتے ہیں۔ جو شخص ایسا وجود اپنے پیچھے چھوڑتا ہے وہ کامیاب کہلا سکتا ہے اور اپنی زندگی پر فخر کر سکتا ہے۔ لیکن جس کے پیچھے ایسے وجود نہیں پائے جاتے اسے خالی نمازیں اور روزے کچھ فائدہ نہیں دے سکتے۔
    پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہا کرو۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے حَاسِبُوْا قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا9 یعنی پیشتر اِس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے تم اپنا محاسبہ خود کرو۔ ہوشیار کلرک معائنہ سے پہلے دو چار راتیں لگا کر اپنا حساب ٹھیک کر لیتا ہے۔ اِسی طرح تمہیں بھی اپنے نفس کا محاسبہ کر کے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا تمہاری روحانیت کے نتیجہ میں کوئی چیز پیدا ہوئی ہے؟ اگر تمہاری روحانیت کے نتیجہ میں کوئی چیز پیدا ہورہی ہے تو سمجھ لو تمہارا ایمان درست ہے اور اگر نہیں تو تمہارا ایمان ورثہ کا ایمان ہے اور ورثہ کا ایمان فائدہ نہیں دیتا۔ نجات وہی شخص پاتا ہے جو بقول حضرت مسیح علیہ السلام اپنی صلیب خود اُٹھاتا ہے۔ نجات وہی شخص پاتا ہے جو اپنی نہریں خود کھودتا ہے۔ نجات وہی شخص پاتا ہے جو اپنے درخت خود لگاتا ہے۔جو شخص دوسرے کے باغ میں داخل ہوتا ہے اُسے چوروں کی طرح باہر نکال دیا جاتا ہے۔ اِسی طرح وہ شخص جو ورثہ کے طور پر جنت میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا اُسے فرشتے پرے دھکیل دیں گے کیونکہ وہ چور ہے اور چور کو وہاں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا‘‘۔
    (الفضل 14دسمبر 1960ء )

    1
    :
    مرقس باب8آیت 34
    2
    :
    بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الشعراء باب وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ
    3
    :
    (الذاریات:50)
    4
    :
    الکوثر:4
    5
    :
    السیرۃ الحلبیۃ جلد3صفحہ106 ، 107مطبوعہ مصر 1935ء
    6
    :
    مسلم کتاب الْاِیْمَان باب کوْنُ الْاِسْلَامِ یھدم مَاقَبْلَہٗ (الخ)
    7
    :
    بخاری کتاب المغازی باب غَزْوَۃ مؤُوْنَۃَ
    8
    :
    اسدالغابۃجلد2صفحہ95مطبوعہ ریاض1285ھ
    9
    :
    تفسیر روح البیان زیر آیت اِقْرَاْ کِتَابَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ ۔جلد 5کے مطابق یہ حضرت عمرؓ کا قول ہے

    لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے لاہور میں اپنے ہائی اسکول قائم کرنے چاہییںتااُن کی تربیت اچھے ماحول میں ہو
    (فرمودہ 23ستمبر 1949ء بمقام لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’میں اپنے اکثر حصہ خاندان کو ربوہ چھوڑ کر اُمِّ متین کی بیماری کی وجہ سے پھر لاہور آیا ہوں۔ اُمِّ۔متین کے متعلق ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ انہیں فوراً ہسپتال میں داخل کر وا دیا جائے۔ چنانچہ ابھی جس وقت میں اِدھر آ رہا تھا میں یہ ہدایت دے کر آیا ہوں کہ انہیں ہسپتال پہنچا دیا جائے۔ میری طبیعت آج خود بھی ناساز ہے۔ تین چار دن سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے بخار کی حرارت ہوتی ہے۔ بخار ایسا نمایاں تو نہیں مگر بعض دفعہ پیاس اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ ایک ایک گھنٹہ میں کئی کئی بار پانی پینا پڑتا ہے اس لیے میں زیادہ لمبا خطبہ نہیں پڑھ سکتا۔ اگلے خطبہ کے متعلق میری کوشش یہی ہو گی کہ اگر کوئی خاص روک پیدا نہ ہو جائے تو میں ربوہ میں پڑھاؤں۔ اگر اُس وقت تک اُمِّ متین کی طبیعت اچھی ہو گئی تو پھر مستقل طور پر میں وہیں رہوں گا ورنہ اگلے سے اگلا خطبہ پھر مجھے یہیں پڑھانا پڑے گا۔
    لاہور کے قیام میں مَیں نے لاہور کی جماعت کی حالت کے متعلق بہت کچھ غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بعض طبعی مشکلات جماعت لاہور کے راستہ میں ایسی ہیں جن پر قابو پانا یہاں کے کارکنوں کے بس کی بات نہیں۔ دنیا میں روحانی مضبوطی کے دو ہی سبب ہوتے ہیں اور جب میں نے کہا ہے کہ دنیا میں اس مضبوطی کے دو سبب ہوتے ہیں تو میری مراد یہ ہے کہ اس کے دنیوی اسباب دو ہیں۔ روحانی اسباب مُراد نہیں۔ اور وہ دنیوی سبب روحانی مضبوطی کے یہ ہیں کہ ایک تو صادقوں کی معیّت کبھی انسان کو نصیب ہو جائے۔ جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔1تم صادقوں کی معیت اختیار کرو ۔جس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارا ماحول اچھا ہو تو باوجود اس کے کہ کسی انسان کا ایمان زیادہ مضبوط نہ ہو پھر بھی وہ ماحول سے متأثر ہو کر ایمان میں ترقی کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ لاہور میں اچھا ماحول یہاں کی جماعت اور اِس کی اولاد کو میسّر نہیں۔ کیونکہ یہاں سترہ لاکھ کی آبادی ہے۔ اگر لاہور کی جماعت کے تمام مرد، عورتیں اور بچے ملا لیے جائیں تو اُن کی تعداد چارہزار کے قریب بنتی ہے۔ گویا سَو کے مقابلہ میں ایک نہیں بلکہ قریباً ساڑھے چار سَو افراد کے مقابلہ میں ایک کی نسبت اُن کو حاصل ہے ۔اور ساڑھے چار سَو میں ہمارے ایک آدمی کا ہو نا اسے ماحول سے اتنا دور کر دیتا ہے کہ اچھے ماحول سے جس فائدہ کی اُمید کی جا سکتی ہے وہ اُسے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جو نئی پَود نکلتی ہے وہ لازمی طور پر اُن تأثرات کو زیادہ قبول کرتی ہے جو غیر اُس پر ڈالتے ہیں۔ اور جب کسی گھر میں اختلاف واقع ہو جائے، پُرانی پَود مسجدوں کی طرف جائے اور نئی پَود سینما کی طرف جائے پُرانی پَود ذکرِالٰہی کی طرف جائے اور نئی پَود لغو باتوں اور ہنسی کھیل اور مذاق کی طرف جائے تو ظاہر ہے کہ گھر میں یکجہتی باقی نہیں رہے گی اور اُس کی جدوجہد ایک جہت کی طرف رُخ نہیں کرے گی۔
    ماحول کے بعد دوسری چیز مخالفت ہوتی ہے۔ جب ماحول اچھا نہیں ہوتا تو مخالفت ماحول کا کام دے جاتی ہے۔ لوگ گالیاں دیتے ہیں، مارتے پیٹتے ہیں، ہنسی مذاق کرتے ہیں تو ان کی مارپیٹ کی وجہ سے بجائے اِس کے کہ کمزوری پیدا ہو لوگوں کا ایمان اَور بھی بڑھتا اور ترقی کرتا ہے۔ یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اپنے اندر بہادری کی روح رکھتا ہے۔ بیشک کچھ لوگ بزدل بھی ہوتے ہیں لیکن اکثر لوگ اپنے اندر بہادری رکھتے ہیں۔ جب انہیں مارپیٹ شروع ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں اچھا جو تمہاری مرضی ہے کر لو ہم اپنے مذہب کو چھوڑنے کے لیے ہرگز تیار نہیں اور اس طرح وہ اپنے ایمانوں میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ پس مخالفت کی شدت کی وجہ سے بھی ایمان مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن اب احمدیت کو قائم ہوئے اتنا لمبا عرصہ گزر چکا ہے کہ گو ہم یہ جانتے ہیں کہ اندرونی طور پر لوگوں کے دلوں میں احمدیت کی نسبت بُغض پایا جاتا ہے مگر وہ نظارہ جو پہلے نظر آتا تھا کہ احمدیوں پر تالیاں پِٹ رہی ہیں، گالیاں دی جا رہی ہیں، پتھر پھینکے جا رہے ہیں وہ نظارہ اب نظر نہیں آتا۔ یہی لاہور جس میں ظاہری طور پر احمدیت کی کسی قسم کی مخالفت نظر نہیں آتی گو باطنی طور پر مخالفت موجود ہے بلکہ پہلے سے بھی بڑھی ہوئی ہے اسی لاہور میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پتھر پڑتے دیکھے ہیں۔ اسی لاہور میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر لوگوں کو ہنسی مذاق کرتے اور گالیاں دیتے دیکھا ہے۔
    مجھے خوب یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب ملتان تشریف لے گئے تو میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ مجھے ملتان کی تو کوئی بات یاد نہیں۔ لیکن واپسی پر جب آپ لاہور ٹھہرے تو اُس وقت کا نظارہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میری عمر اُس وقت آٹھ نو سال یا اس سے بھی کچھ کم تھی۔ ملتان سے واپسی پر آپ ایک دن کے لیے یہاں ٹھہرے۔ اُن دنوں میاں فیملی کا گھر فصیل سے باہر نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ وہ غالباً واٹر ورکس کے مقابل پر شہرکے اندرون کیحصہ میں رہا کرتے تھے۔ اُس روز میاں فیملی میں سے کسی دوست نے میاں چراغ دین صاحب یا میاں معراج دین صاحب نے حضرت۔مسیح۔موعود۔علیہ۔الصلوٰۃ والسلام کی دعوت کی۔ سنہری مسجد کے پاس اُن کے مکان کو رستہ جاتا تھا۔ اُس وقت لاہور کی حالت موجودہ حالت سے بالکل مختلف تھی۔ اب تو لنڈا بازار اور بیرون دلّی دروازہ سب آباد نظر آتا ہے لیکن اُن دنوں یہ سب غیرآباد علاقہ تھا۔ صرف لنڈے بازار میں چند دکانیں تھیں مگر وہ بھی بہت معمولی سی۔ باقی سارا علاقہ خالی اور غیرآباد پڑا تھا۔ حضرت مسیح۔موعود ۔علیہ۔الصلوٰۃ والسلام اُس جگہ سے واپس تشریف لا رہے تھے تو سنہری مسجد یا وزیر خان کی مسجد (یہ مجھے یاد نہیں رہا) ان دونوں میں سے کسی ایک مسجد کے قریب بہت سے لوگ جمع تھے۔ انہیں یہ پتا لگ چکا تھا کہ مرزا صاحب اس طرف گئے ہیں اور تھوڑی دیر میں ہی وہ واپس آنے والے ہیں۔ اُن دنوں سواری کے لیے شِکرمیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ ایک چار پہیے کی گاڑی ہوا کرتی تھی جس پر لکڑی کا ایک کمرہ سا بنا ہوا ہوتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی شکرم میں بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ شکرمیں آپ کے آگے پیچھے تھیں۔ میں بھی اُس شکرم میں تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف رکھتے تھے۔ جس وقت گاڑی وہاں پہنچی لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ میں سمجھتا ہوں غالباً مولویوں نے چیلنج دیا ہو گا کہ مرزاصاحب یہاں آئے ہیں تو ہم سے مباحثہ کر لیں۔ وہ جانتے تھے کہ اس بے موقع آواز کا جواب چونکہ یہی ہو گا کہ ہم مباحثہ نہیں کر سکتے اس لیے ہم لوگوں میں شور مچا دیں گے کہ مرزا صاحب ہار گئے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ جب آپ کی شکرم وہاں پہنچی تو لوگوں نے آوازے کسے اور یہ کہنا شروع کیا کہ مرزا صاحب ہار گئے۔ غالباً انہوں نے یہی کہا ہوگا کہ ہم سے مباحثہ کر لیں اور چونکہ مباحثہ کا یہ کوئی طریق نہیں ہوتا کہ جہاں کوئی شخص مباحثہ کے لیے کہے وہیں اُس سے مباحثہ شروع کر دیا جائے اسی لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انکار کیا ہو گا اور انہوں نے یہ سوچا ہو گا کہ جب گاڑیاں یہاں سے گزریں گی ہم شور مچا دیں گے کہ مرزا صاحب بھاگ گئے ہیں۔ اس مسجد کے آگے اونچی سیڑھیاں ہیں۔ سات آٹھ سیڑھیاں چڑھ کر مسجد کا دروازہ آتا ہے۔ ان سیڑھیوں پر بہت سا ہجوم تھا۔ جو لوگ لاہور کے واقف ہیں وہ شاید سیڑھیوں کے ذکر سے سمجھ جائیں کہ یہ کونسی مسجد ہے سنہری مسجد یا وزیر خاں کی مسجد۔ ‘‘
    اسی موقع پر بعض دوستوں نے عرض کیا کہ ایسی سیڑھیاں سنہری مسجد کے آگے ہیں۔
    ’’ سینکڑوں لوگوں کا ہجوم وہاں جمع تھا اور یہ شور مچا رہا تھا کہ مرزا ہار گیا مرزا دوڑ گیا۔ اس طرح کوئی ہُوہُو کر رہا تھا کوئی تالیاں پیٹ رہا تھا، کوئی گالیاں دے رہا تھا بلکہ بعض نے کنکر مارنے بھی شروع کر دیئے۔ اس ہجوم سے آگے ذرا فاصلے پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دلّی دروازہ کے باہر کیونکہ میرے ذہن پر یہی اثر ہے کہ جس جگہ کا یہ واقعہ ہے وہاں جگہ خالی تھی اور عمارتیں تھوڑی سی تھیں میں نے دیکھا کہ ایک شخص ممبر پر یا درخت کی ایک ٹہنی پر بیٹھا ہے۔ اُس کا ہاتھ کٹا ہوا ہے اور زردزرد پٹیاں اُس نے باندھی ہوئی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اسے کوئی زخم ہے اور اس نے ہلدی اور تیل وغیرہ ملا کر پٹیاں باندھی ہوئی ہیں۔ مجھے خوب یاد ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام وہاں سے گزرے تو وہ اپنا ٹُنڈ دوسرے ہاتھ پر مار مار کر کہتا تھا کہ مرزا دوڑ گیا مرزا دوڑ گیا۔ بچپن کے لحاظ سے مجھے یہ ایک عجیب بات معلوم ہوئی کہ اس کا ایک ہاتھ ہے نہیں صرف ٹُنڈہی ٹُنڈہے مگر یہ اپنا ٹُنڈ مارمار کر بھی یہی کہہ رہا ہے کہ مرزا دوڑ گیا مرزا دوڑ گیا۔ ایک اور مولوی ہوا کرتا تھا جو’’ٹاہلی2 والا مولوی‘‘ کہلاتا تھا۔ اُس کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ درخت پر بیٹھ کر گالیاں دیا کرتا تھا۔ غرض لاہور میں یا تو مخالفت کی یہ حالت ہوا کرتی تھی اور یا اَب اندرونی طور پر چاہے کیسی ہی مخالفت ہو ہم ان کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ ادب سے سلام بھی کرتے ہیں اور ہماری باتوں کی طرف متوجہ بھی ہوتے ہیں۔
    ایک دفعہ میں یہیں لاہور میں آیا۔ یہ آج سے پندرہ سولہ سال پہلے کی بات ہے۔ رسول۔کریم صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہٖ وسلم کی سیرت کے متعلق یہاں جلسہ تھا اور چونکہ میں بھی آیا ہوا تھا اس لیے جماعت نے خواہش کی کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک تقریر کروں اور اس غرض کے لیے انہوں نے بریڈ لا ہال تجویز کیا۔ جب میری اس تقریر کا لوگوں میں اعلان ہوا تو ’’زمیندار ‘‘نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ان لوگوں کا حق ہی کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نام لیں۔یہ تو آپؐ کے دشمن ہیں۔ بعض نے مجھے کہا کہ’’ زمیندار‘‘ اِس اِس طرح مخالفت کر رہا ہے ایسا نہ ہو کہ لوگ اس جلسہ میں کم آئیں۔ میں نے کہا لاہور والوں پر میری تقریروں کا اتنا اثر ہو چکا ہے کہ وہ’’زمیندار‘‘ کی مخالفت کے باوجود میری تقریر سننے کے لیے ضرور آ جائیں گے۔ انہیں میری تقریروں کا چَسکاپڑ چکا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب میں پہنچا تو ہال بالکل بھرا ہوا تھا۔ اس جلسہ میں شرارت کی غرض سے بعض شخص ان کے بھی آ گئے اور جلسہ کے باہر چودھری اسداللہ خاں صاحب سے بعض لوگوں کی لڑائی بھی ہوئی لیکن بہرحال جلسہ میں جو لوگ آئے ان میں سے اکثر ایسے تھے جو صرف تقریر سننے کے لیے آئے تھے۔ ایک شخص جو مولوی ٹائپ کا تھا بریڈ لا ہال میں کرسیوں کی آخری لائن میں آ کر بیٹھ گیا۔ جب میں نے تقریر شروع کی تو اُس نے فوراً کھڑے ہو کر’’زمیندار‘‘ کے اثر کے ماتحت یہ الفاظ کہے کہ’’اینی وڈی پگڑی بنھی ہوئی ہے پر عقل ذرا بھی نہیں‘‘(یعنی پگڑی تو اتنی بڑی باندھی ہوئی ہے مگر عقل بالکل نہیں)۔ میں نے کہا صاحب بیٹھ جائیے۔ جب میں بات کروں گا تب آپ کو پتالگے گا کہ میرے اندر عقل ہے یا نہیں۔ ابھی میں نے کوئی بات ہی نہیں کی تو آپ کو پتاکیسے لگ گیا کہ میں بے عقلی کی بات کروں گا۔ میرے اس جواب سے وہ ایسا مرعوب ہوا کہ بیٹھ گیا ۔اس کے بعد ساری تقریر میں مَیں انتظار کرتا رہا کہ وہ کچھ بولے مگر وہ ایسا محو ہوا ایسا محو ہوا کہ ایک احمدی دوست نے جو اس کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے بتایا کہ جب تقریر ختم ہو گئی تو وہ کہنے لگا بس اِتنی ہی تقریر تھی؟ ہمیں تو امید تھی کہ یہ تقریر کچھ دیر اَور بھی جاری رہے گی۔ اب کُجا تو مخالفت کی وہ حالت تھی اور کُجا یہ حالت ہے کہ تقریر ختم ہو جاتی ہے مگر وہ چاہتا ہے کہ یہ تقریر کچھ دیر اَور جاری رہتی۔
    بہرحال ظاہری مخالفت کا اب وہ دَور نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ اس لیے گالیوں اور مارپیٹ اور ہنسی مذاق کی وجہ سے نوجوانوں کے دلوں میں اپنے دین کے متعلق جو جوش پیدا ہوا کرتا ہے وہ بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہ دو ہی دنیوی سبب ہوا کرتے ہیں جن کی وجہ سے نئی پَود میں ایمان کی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ مگر اب لاہور میں ظاہری مخالفت بھی نہیں اور نئی پَود کو وہ ماحول بھی میسر نہیں جو اُسے ایمان میں مضبوط بنا سکے۔ جب بچہ گھر سے نکلتا ہے تو احمدیت کا ماحول اس کے لیے ختم ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اکیلا ہوتا ہے اور اس کے اردگرد چار سُو غیرلڑکے موجود ہوتے ہیں جو اُس پر اپنا اثر ڈال رہے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے بچہ سے کہتے ہیں سینما نہیں دیکھنا مگر ہمارے غیر کا بچہ جو اُس کا دوست اور ساتھی ہوتا ہے سینما دیکھ کر آیا ہوا ہوتا ہے بلکہ سینما کے گانے اسے یاد ہوتے ہیں۔ جب وہ سُرتال کے ماتحت فلمی اشعار گاتا ہے تو اس کے کان میں بھی پہلے تو شعروں کی آواز آتی ہے پھر متوازن الفاظ کی وجہ سے ان کی طرف اس کی طبیعت اَور زیادہ مائل ہوتی ہے اور یہ کان لگا کر اُن شعروں کو سننا شروع کر دیتا ہے۔ پھر بچپن میں نقل کی بھی عادت ہوتی ہے۔ جب وہ دوسرے کو لَے کے ساتھ بعض اشعار پڑھتے سنتا ہے تو اس کی نقل میں خود بھی وہی شعر گنگنانے لگ جاتا ہے اور ماں باپ کا سارا اثر باطل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد فرض کرو اُس کی آواز دوسرے لڑکے کی آواز سے زیادہ اچھی ہے تو دوسرا لڑکا جھٹ اُس سے دوستی لگا لے گا اور کہے گا آؤ ہم دونوں مل کر گائیں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد وہ کہے گا چلو! سینما دیکھ آئیں۔یہ کہے گا میرے ماں باپ تو سینما دیکھنے سے منع کرتے ہیں۔ وہ کہے گا اُن کو کس نے بتانا ہے کہ تم سینما دیکھ کر آئے ہو۔ کسی فرشتے نے بتانا ہے۔ چلو! ہم چوری چھپے سینما دیکھ آتے ہیں۔ چنانچہ وہ بھی سینما دیکھنے لگ جاتا ہے اور ماں باپ کی ساری کوششیں اَکارت چلی جاتی ہیں۔
    غرض احمدیت جس ماحول کا تقاضا کرتی ہے اُس کو قائم رکھنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو ہم نہیں کر سکتے کہ دروازہ بند کر لیں اور اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں۔ اگر اس طرح کیا جائے تو بچہ بالکل کمزور ہو جاتا ہے اور وہ شیطانی حملوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ تجربہ کیا گیا ہے کہ جن بچوں کو بیرونی ماحول سے بالکل بچانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ بیرونی اثرات کا بہت جلد شکار ہوجاتے ہیں۔ قادیان سے آنے کے بعد ہی ہم نے دیکھا ہے کہ بعض ایسے ایسے گھرانے جنہوں نے وہاں کبھی سینما نہیں دیکھا تھا، جن کی لڑکیاں کبھی بے پرد ۔ نہیں پھری تھیں وہ اب سینما دیکھتے ہیں اور ان کی عورتیں بے۔پرد۔ سائیکلوں پر دوڑتی پھرتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسی عورتیں ہزار میں سے ایک کی نسبت رکھتی ہیں لیکن بہرحال شیطان کو ہزار میں سے ایک عورت تو مل گئی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہاں وہ ایسے ماحول میں تھیں کہ انہیں اس رنگ میں شیطان کا مقابلہ کرنے کا موقع نہیں ملا اور چونکہ ان کو شیطان کا مقابلہ کرنے کی عادت نہیں تھی اس لیے انہوں نے یہاں آتے ہی ہتھیار پھینک دیئے اور اس رَو میں بہہ گئیں جس رَو میں دوسرے لوگ بہے جا رہے ہیں۔ بہرحال یہ دو چیزیں یہاں نہیں جن کی وجہ سے کسی جماعت کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔ اب یا تو لاہور شہر میں احمدیت اتنی مضبوط ہو جائے کہ نصف لوگ ایک طرف ہو جائیں اور نصف دوسری طرف۔ اگر ایک طرف کسی مسئلہ کے خلاف بولنے والے لوگ موجود ہوں تو دوسری طرف اس کی تائید کرنے والے لوگ موجود ہوں، اگر ایک طرف سینما دیکھنے کی تائید کرنے والے ہوں تو دوسری طرف سینما سے روکنے والے ہوں، ایک طرف ناچنے گانے کی تائید کرنے والے ہوں تو دوسری طرف ناچنے گانیسے روکنے والے ہوں، ایک طرف نماز پڑھنے سے روکنے والے ہوں تو دوسری طرف نماز پڑھنے کی تائید کرنے والے ہوں، ایک طرف روزہ کی مخالفت کرنے والے ہوں تو دوسری طرف روزہ کے فوائد بتانے والے ہوں تب بیشک متوازی آوازیں اُٹھیں گی اور ماحول کے بُرے اثرات سے انسان محفوظ رہ سکے گا ۔اور یا پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مخالفت شروع ہو جائے، لوگ گالیاں دینے لگیں اور مارپیٹ پر اُتر آئیں۔ اگر لوگ گالیاں دینے لگیں تب بھی ان کے ایمان مضبوط ہو جائیں گے ۔کیونکہ جب کوئی نوجوان یہ دیکھے گا کہ میرے ماں باپ کو محض اس لیے گالیاں دی جاتی ہیں کہ وہ احمدی ہیں اُس کی غیرت جوش میں آئے گی اور وہ کہے گا کہ اَب میں بھی لوگوں کو احمدی بن کر دکھاؤں گا اور ان کا مقابلہ کروں گا ۔مگر یہ صورت ہمارے اختیار میں نہیں۔ اب صرف یہی صورت ہو سکتی ہے کہ دینی ترقی کے لیے ایک نیا ماحول تیار کیا جائے۔ جب کسی محلہ میں ہم اپنا ماحول پیدا نہیں کر سکتے تو ہمارا فرض ہوتا ہے کہ ہم محلہ سے باہر نکل کر اپنا ماحول بنانے کی کوشش کریں۔ اور محلہ سے باہر دوسرا ماحول صرف ا سکول کے ذریعہ ہی پیدا کیا جاسکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسکول ایک محدود چیز ہے مگر اسکول میں تمام قسم کے ہم عمر بچے اکٹھے ہوتے ہیں۔ امیر۔اور غریب ،ادنیٰ اور اعلیٰ سب ایک جگہ موجود ہوتے ہیں اور یہ ایک قدرتی بات ہے کہ بچہ اپنے ہم عمروں سے ہی دوستی رکھ سکتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بچہ ستّر اسّی سال کے بڈھے سے دوستی لگا لے۔ آٹھ دس سال کا بچہ کوشش کرے گا کہ چھ سات سال یا گیارہ بارہ سال کے لڑکے سے دوستی لگائے اور۔اس کے ساتھ مل جُل کر باتیں کرے کیونکہ انسان طبعاً اپنے منشا کے مطابق باتیں کرنے میں زیادہ لذّت محسوس کرتا ہے اور اس قسم کی باتیں ہم عمروں سے ہی ہو سکتی ہیں جو زیادہ تر اسکول میں میسر آتے ہیں۔ پس گو بظاہر وہ ایک چھوٹی سی جگہ ہوتی ہے مگر سارا شہر اس میں جمع ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ ایک نیا ماحول پیدا کرنے کی بہترین جگہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی ایسا اسکول کسی جماعت کے قبضہ میں آ جائے جس میں شہر کے تمام لڑکے تعلیم حاصل کرتے ہوں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تمام شہر اس کے قبضہ میں ہے اور اگر محلہ کے سکول میں اثر پیدا کر لیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ سارا محلہ زیرِاثر آگیا ہے۔
    لاہور کے حالات پر غور کر کے میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے اور اس کی طرف میں نے ایک دفعہ پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ یہاں لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ہائی اِسکول قائم ہونا نہایت ضروری ہے۔ اگر تم احمدیت سے محبت رکھتے ہو، اگر تمہارا دل چاہتا ہے کہ تمہاری آئندہ اولاد بھی احمدی ہو تو میں آج تمہیں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ تم لاہور میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ہائی ا سکول قائم کرو۔ تمہارا خود احمدی ہونا تمہارے لیے ہرگز کافی نہیں۔ اگر احمدیت ایک اچھی چیز ہے تو ضروری ہے کہ اپنی اولادوں کو بھی احمدی بناؤ ۔اور اولاد کا احمدی ہونا اور اُس کا احمدیت کی تعلیم پر عمل کرنا ایک اچھے ماحول کا تقاضا کرتا ہے اور یہ ماحول صرف اپنے ا سکول میں اسے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو تو تم لاہور میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ہائی اسکول قائم کرو۔ ان اسکولوں سے ہماری تبلیغ میں بھی ترقی ہو گی اور لڑکوں کی تربیت بھی اچھے ماحول میں ہو سکے گی۔ یہ ظاہر ہے کہ ان اسکولوں میں ہماری جماعت کے لڑکے ہی داخل نہیں ہوں گے بلکہ دوسرے لڑکے بھی آئیں گے۔ اور جب وہ آئیں گے تو لازمی طور پر بعض اچھے اچھے خاندانوں میں جن میں یوں تبلیغ کا کوئی موقع نہیں مل سکتا ہماری تبلیغ کا رستہ کھل جائے گا اور ان میں سے کئی احمدیت کو قبول کر لیں گے۔ کالج ہی کو دیکھ لو ہمارا کالج یہاں اتفاقی طور پر کھلا ہے۔ مگر کل ہی پرنسپل کی رپورٹ آئی کہ اس دفعہ تیس فیصدی غیراحمدی لڑکے داخل ہوئے ہیں۔ اِسی طرح ایک بڑے غیراحمدی رئیس کے چچا کا بیٹا پچھلے سال ہمارے کالج میں داخل ہوا۔ اب وہ مجھ سے ملنے کے لیے آیا تو اس نے کہا میں احمدی ہونا چاہتا ہوں۔ پس ا سکول قائم کرنے کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ ہماری تبلیغ وسیع ہو گی۔
    دوسری یہ لازمی بات ہے کہ جب تک لوگوں کے دلوں میں تعصب موجود ہے ان کی اکثریت ہمارے اسکول میں نہیں آئے گی بلکہ ہمارے ا سکول میں زیادہ تر تعداد اپنے لڑکوں کی ہی ہو گی ۔اور چونکہ غیراحمدی تھوڑے ہوں گے اور زیادہ تر اپنے لڑکے ہوں گے اس لیے بہرحال احمدی ماحول قائم رہے گا اور زیادہ تر دوسرے لڑکے ہمارے لڑکوں کا اثر قبول کر کے نیک بنیں گے۔ ہمارے لڑکے بوجہ زیادہ ہونے کے ان کے کھیل تماشے کے اثر کو کم قبول کریں گے اور احمدیت کے ماحول کی وجہ سے دین سے محبت اور تعلق کو زیادہ مضبوط کرتے چلے جائیں گے۔ گویا فضا کو اپنے موافق بنانا ہمارے ہاتھ میں ہو گا اور ہم بچوں کی تربیت دینی رنگ میں نہایت آسانی سے کر سکیں گے۔ اور اگر کوئی وقت ایسا آگیا کہ زیادہ تر غیراحمدی لڑکوں نے ہمارے سکول میں داخل ہونا شروع کر دیا تو اِس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہماری مخالفت کی فضا موافقت میں بدل رہی ہے اور لوگوں کے قلوب ہماری طرف مائل ہو رہے ہیں اور جب وہ اَور زیادہ مائل ہو گئے تو لازماً وہ احمدیت قبول کر لیں گے۔ اِس صورت میں بھی فضا کو اپنے موافق بنانا ہمارے ہاتھ میں ہو گا۔ بہرحال لاہور جیسے شہر میں جو کئی میلوں میں پھیلا ہوا ہے بغیر کسی مناسب سکیم اور طریق کے کام نہیں ہو سکتا۔
    میں نے شروع میں یہاں کی جماعت کو بعض دفعہ ملامتیں بھی کی ہیں۔ بعض دفعہ انہیں نقائص کی طرف توجہ بھی دلائی ہے مگر جیسا کہ ایک خطبہ میں مَیں نے کہا تھا میں غور کر رہا تھا کہ آخر ان نقائص اور کمزوریوں کی وجہ کیا ہے؟ انفرادی طور پر جماعت میں مخلص لوگ موجود ہیں مگر جماعتی طور پر ان میں بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ یہ نقص اگر دور ہو سکتا ہے تو کس طرح؟ میں اس پر ایک لمبے عرصہ تک غور کرتا رہا اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جہاں تک افراد کے ایمان کا سوال ہے ان میں ایمان اور اخلاص موجود ہے مگر حالات ایسے ہیں کہ وہ اپنے ایمانوں کو زیادہ مضبوط نہیں بنا سکے۔ جیسے ماں بھنور میں پھنسی ہوئی ہو اور اُس کا بیٹا غرق ہو رہا ہو تو وہ اُس کی مدد نہ کر سکے گی مگر اس وجہ سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ ماں کی محبت کم ہو گئی ہے وہ اپنے بچہ کو غرق ہونے سے نہیں بچاتی بلکہ یہ کہا جائے گا کہ ماں کی محبت تو ویسی ہی ہے مگر حالات ایسے ہیں کہ ماں اپنے بچہ کی مدد کو نہیں پہنچ سکتی۔اِسی طرح انفرادی طور پر جماعت کی اکثریت اب بھی مخلصوں کی ہے اور جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ وہ احمدیت پر زندہ رہیں اور احمدیت پر ہی مریں لیکن وہ اردگرد کے حالات کی وجہ سے ایسے مجبور ہیں کہ باوجود اس خواہش کے وہ اپنے ارادوں کو تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے لاکھوں لاکھ آدمی لاہور میں موجود ہیں جن میں ہماری جماعت کا چند ہزار آدمی پھنس کر رہ گیا ہے اور وہ ایک دوسرے تک پہنچ نہیں سکتا۔ ان کے دلوں میں خواہش ہے کہ وہ اپنے دین میں ترقی کریں مگر مادی سامان وہ اپنے خلاف پاتے ہیں اور اس وجہ سے وہ اپنے ایمانوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔
    پس اب جبکہ میں لاہور سے جا رہا ہوں میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس سکیم کے ماتحت کام کرے جو میں نے اس کے سامنے رکھی ہے۔ میرے نزدیک اگر توجہ کی جائے اور صحیح کوشش اور جدوجہد سے کام لیا جائے تو یہ چیز ناممکن نہیں۔ پیغامی آپ سے کتنے تھوڑے ہیں۔ شاید آپ کے پندرہ آدمیوں کے مقابلہ میں بھی اُن کا ایک آدمی نہیں بلکہ آپ کے بیس آدمیوں کے مقابلہ میں بھی اُن کا ایک آدمی نہیں۔ مگر اُن کا پہلے یہاں ایک اسکول تھا اب انہوں نے دوسرا اسکول جاری کر دیا ہے۔ جب پیغامی دوسرا اسکول جاری کر سکتے ہیں حالانکہ وہ تعداد میں آپ لوگوں سے بہت تھوڑے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر ہمارے آدمی صحیح طور پر قربانی سے کام لیں تو اِس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔زیادہ سے زیادہ سوال جگہ کا ہے۔ سو اس کے متعلق اگر بالا افسروں سے ملاقات کی جائے تو جگہ کا سوال آسانی سے حل ہو سکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پیغامی افسروں سے مل لیتے ہیں اور ہمارے آدمی اُن سے ملنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ وہ دو چار دفعہ جا کر سلام کرتے ہیں تو افسروں کو شرم آ جاتی ہے اور وہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ فلاں عمارت لے لیں۔ لیکن ہماری جماعت کے دوستوں میں یہ مرض ہے کہ یا تو وہ اپنے ٹائپ کے دوستوں سے ملیں گے یا خالص احمدی افراد سے تعلقات رکھیں گے غیروں سے مل کر ان کی ملاطفت حاصل کرنے کا مادہ ان میں نہیں رہا ۔اور اگر اس عادت سے سلسلہ کو نقصان پہنچتا ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ اس میں تبدیلی نہ کیجائے۔ میں نام نہیں لیتا مگر لاہور کی جماعت میں سات آٹھ آدمی ایسے ہیں جو اپنے پیشہ اور کام اور رسوخ کے لحاظ سے مختلف صیغوں کے افسروں سے یقیناً کام لے سکتے ہیں مگر انہوں نے کبھی تکلیف گوارا نہیں کی کہ سلسلہ کی خاطر اُن لوگوں سے ملیں اور جماعتی مفاد کے لیے کوئی ٹھوس کام کریں۔ ہاں! گپّیں ہانکنے والے دوست مل جائیں اور وہ ان کی مجلس میں آ بیٹھیں یا ان کے لنگوٹئے۔یار انہیں مل جائیں تو وہ کئی کئی گھنٹے اُن سے لغو باتیں کرنے میں ضائع کر دیں گے اور۔انہیں۔کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ وہ اپنے وقت کو ضائع کر رہے ہیں۔ اگر وہ اپنے وقت کو بجائے گپوں میں ضائع کرنے کے کسی ایسے افسر سے ملنے چلے جائیں جو یہ کام کر سکتا ہو تو سلسلہ کو بھی نفع ہو اور ان کی عاقبت بھی سنور جائے اور آئندہ نسل بھی درست ہو جائے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے میرے نزدیک جماعت لاہور میں کم سے کم سات آٹھ آدمی ایسے ضرور ہیں جن کے لوگ محتاج ہیں اور جن کی طرف کسی نہ کسی وجہ سے لوگ توجہ کرتے ہیں۔ کسی کی طرف پیشہ کے لحاظ سے، کسی کی طرف خاندانی تعلق کے لحاظ سے، کسی کی طرف اس کے رسوخ یا رشتہ داری کے لحاظ سے اور اس طرح وہ ان کی نگاہِ التفات کے بھوکے ہوتے ہیں۔ وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔ اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی جائدادوں میں بہت سی بلڈنگس باقی ہیں جنہیں وہ اپنے لیے حاصل کر سکتے ہیں۔
    یہ ضروری نہیں کہ ا سکول کے لیے کوئی اعلیٰ درجہ کی بلڈنگ ہو۔ معمولی بلڈنگ میں بھی ا سکول قائم کیا جا سکتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تھوڑا بہت روپیہ خرچ کر کے اسے بڑھایا جا سکتا ہے ۔اور یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ محکمہ تعلیم سے کچاا سکول بنانے کی اجازت لے لی جائے۔میں نے انہیں مسجد کے لیے زمین کی تحریک کی تھی تو اُس وقت ایک ایجنٹ نے مجھے یقین دلایا تھا کہ زمین مل سکتی ہے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ گورنمنٹ ہندوؤں کی زمینوں کا سودا نہیں کرنے دیتی اس لیے اسکول کے لیے یہ زمین نہیں خریدی جا سکی۔ لیکن انجمن کی کچھ زمین یہاں ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر محکمہ تعلیم سے تعلق پیدا کر کے اسکول کے لیے کچے مکان بنانے کی اجازت لے لی جائے تو دس بارہ ہزار روپیہ میں آسانی سے ا سکول بن سکتا ہے صرف اُن سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ اجازت دے دیں تو فوراً بلڈنگ بنائی جا سکتی ہے اور جہاں ان کی مرضی ہو وہاں وہ اس قسم کی اجازت دے بھی دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جب ہمارے چنیوٹ کے تعلیم۔الاسلام ہائی اسکول کا انسپکٹر نے معائنہ کیا تو وہ یہ دیکھ کر کہ کس طرح مہاجر ہو کر انہوں نے ا سکول کو ترقی دی ہے اِس قدر متأثر ہوا کہ اُس نے کہا تم اپنے اسکول کا نقشہ بنا کر لے آؤ میں تمہیں کچے مکان بنانے کی اجازت دے دوں گا اور کچا اسکول دس بارہ ہزار روپیہ میں بلکہ پانچ سات ہزار روپیہ میں بھی بن جاتا ہے۔ بعد میں رفتہ رفتہ اسے پختہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارا مہمان خان