1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 29

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 29



    نماز خدا تعالیٰ سے باتیں کرنے کا ذریعہ ہے
    (فرمودہ2جنوری 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "پہلے تو مَیں نظارت تعلیم و تربیت کو اور ساتھ ہی صدر انجمن احمدیہ کو بھی ایک ایسے امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کی طرف اُن کا ذہن جانا چاہیے تھا مگر گیا نہیں۔ ہمارے ملک کے لوگوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ وہ ہر کام کے متعلق اُس کام کا وقت گزر جانے کے بعد سوچا کرتے ہیں۔ مسلمان ہمیشہ اِس بات پر ہنسا کرتے ہیں کہ سکھ پہلے کام کرتا ہے اور بعد میں سوچتا ہے۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان بالکل سوچتا ہی نہیں۔ پہلے تو وہ بالکل غافل ہو کر سویا رہتا ہے اور جب مصیبت اُس کے سر پر آ کھڑی ہوتی ہے تب وہ سوچنا شروع کرتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ حالانکہ سوچنے کا اصل وقت ماضی کی لپیٹ میں آ چکا ہوتا ہے۔ اب دیکھ لو ہر شخص جانتا تھا کہ مشرقی پنجاب اور دوسرے علاقوں سے مہاجرین آئیں گے اور سردی کے ایام میں آئیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ ان مہاجرین کو فوراً ہی ٹھکانوں پر نہیں پہنچایا جاسکے گا اور ان کے لیے کمبلوں اور لحافوں کی فوری طور پر ضرورت ہو گی۔ لیکن مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ افسرانِ متعلقہ کو کمبلوں اور لحافوں کا خیال 15دسمبر کے بعد پیدا ہوا اور یہ وقت خیال پیدا ہونے کا نہ تھا بلکہ مہاجرین کو کمبل اورلحاف مہیّا کرنے کا تھا۔ اِسی طرح مجھے نظر آ رہا ہے کہ اب نیا سال شروع ہو چکا ہے اور دو یا اڑھائی ماہ کے بعد گرمی کے آثار شروع ہو جائیں گے اور جمعہ کی نماز کے وقت لوگ دھوپ میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔ اور چونکہ ہر چیز کی تیاری کے لیے ایک خاص وقت ہوتا ہے اِس لیے صدر انجمن احمدیہ اور تعلیم وتربیت کے افسران کا یہ فرض تھا کہ ابھی سے اس کام کے متعلق سوچتے کہ مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی سائبانوں کا کوئی انتظام ہونا چاہیے۔ مگر ابھی تک انہوں نے اِس امر کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔پس آج مَیں ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ ضرورت کے ایام سے پیشتر ہی سائبانوں کا انتظام کر لیں۔ میرے خیال میں سائبان نئے بنوا لینے چاہییں۔ وہ اچھے بھی ہوں گے اور سستے بھی رہیں گے۔ لیکن چونکہ سائبان نئے تیار کرانے میں دو یا تین ماہ لگ جائیں گے اس لیے ابھی سے نئے سائبانوں کے لیے آرڈر دے دینا چاہیے۔ یہ ایک نہایت ضروری کام تھا جس کی طرف اگر آج مَیں توجہ نہ دلاتا تو بظاہر یہی آثار نظر آ رہے تھے کہ اپریل یا مئی کے مہینہ میں ناظر ایک دوسرے کامنہ دیکھ کر سنجیدگی کے ساتھ کہتے کہ اب سائبانوں کے لیے کوئی انتظام کرنا چاہیے اور شاید اگست یا ستمبر تک جا کر سائبان تیار ہوتے۔ مگر مَیں نے آج اُنہیں متنبہ کر دیا ہے کہ سائبان تیار ہونے میں دو یا تین مہینے لگیں گے اور اتنے عرصہ تک گرمی بھی آ جائے گی۔ اس لیے آج ہی اُتنے سائبانوں کے لیے آرڈر دے دیا جائے جتنے سائبانوں سے عورتوں پر بھی سایہ ہوسکے اور مردوں پر بھی ہوسکے۔ اِس خیال میں نہیں رہنا چاہیے کہ ہم کرایہ پر سائبان لے لیں گے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جو ہمیشہ کام آنے والی ہے۔ اور جو چیز ہمیشہ کام آنے والی ہو اُس کے لیے کرایہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جمعہ بھی ہمیشہ آتا رہے گا اور گرمیاں بھی ہر سال آتی رہیں گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کا منشا ہمیں دیر کے بعد قادیان واپس لے جانے کا ہے تو ہم جہاں رہیں گے سائبان ہمارے کام آئیں گے۔ اگر ہم نے یہیں رہنا ہے تو یہاں بھی ہر سال گرمی آتی رہے گی۔ اور اگر ہم نے کسی اَور جگہ رہنا ہے تو وہاں بھی گرمی آتی رہے گی۔ اور اگر ہم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے جلدی قادیان واپس چلے گئے تو بھی سائبان ہمارے کام آئیں گے۔ پس ابھی سے سائبان تیار کرانے کا انتظام شروع ہو جانا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی نوٹ کر لینی چاہیے کہ ہرضرورت کے لیے اُس کے پیش آنے سے پیشتر سوچ لینا ہی فائدہ دیا کرتا ہے۔ یوں تو ہر شخص گرمی کے ایام میں گرمی محسوس کرتا ہے اور سردی کے ایام میں سردی محسوس کرتا ہے۔ مگر عقلمند وہ ہوتا ہے جو سردی کی ضروریات کے لیے گرمی کے ایام میں ہی تیاری شروع کر دے اور گرمی کے ایام کی ضروریات کے لیے سردی کے ایام میں ہی تیاری شروع کر دے۔
    یہ جمعہ جس کے خطبہ کے لیے آج مَیں کھڑا ہوا ہوں یہ 1948ء کا پہلا جمعہ ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے 1944ء میں مجھے ایک رؤیا میں بتایا تھا یہ سال اپنے اندر نئی نئی امیدیں رکھتا ہے۔ اُس رؤیا میں جو وقت بتایا گیا تھا اُس کا آخری زمانہ مارچ 1949ء ہے۔ مارچ 1944ء میں مَیں نے ایک رؤیا دیکھا جبکہ بعض لوگ میرے متعلق ایسی خبریں شائع کر رہے تھے اور کچھ احمدی دوست بھی نہ معلوم کن اثرات کے ماتحت یہ خوابیں دیکھ رہے تھے کہ میری زندگی کے دن ختم ہو رہے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے جب مَیں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو مجھے ایک نظارہ دکھایا گیا کہ ایک سمندر ہے اور اس میں کچھ بوائے (Buoy)ہیں۔ بوائے انگریزی کا لفظ ہے اور چونکہ یہ صنعتی شے ہے اس لیے اردو زبان میں اِس کا کوئی ترجمہ نہیں۔یہ بوائے ڈھول سے ہوتے ہیں جنہیں آہنی زنجیروں سے سمندر میں چٹانوں کے ساتھ باندھا ہوتا ہے اور وہ سمندر میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو جہاز وہاں سے گزرتے ہیں ان کو دیکھ کر جہاز ران یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ اس بوائے سے چٹان قریب ہے اور اس سے بچ کر چلنا چاہیے اور اگر سمندر کے اندر چٹانوں کا نشان بتانے کے لیے بوائے نہ لگے ہوئے ہوں اور جہاز آ جائے تو جہاز کے چٹان سے ٹکرا کر ڈوب جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ بعض جہاز ایسے ہوتے ہیں جو پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ فٹ پانی کے اندر ہوتے ہیں بوجہ اپنے سائز کے یا بوجہ بوجھ کے یا بعض بوجہ اپنی ساخت کے۔ اور اگر چٹان پانی کی سطح سے پندرہ یا بیس فٹ نیچے ہو تو ایسے جہاز چٹان کا نشان نہ ہونے کی وجہ سے چٹان سے ٹکرا کر ڈوب جاتے ہیں۔ پس جہاز کو ہوشیار کرنے کے لیے اور اُسے اطلاع دینے کے لیے کہ اس جگہ چٹان ہے متمدن حکومتیں اپنے اپنے سمندری علاقوں میں لوہے کے بنے ہوئے بوائے زنجیروں کے ذریعہ چٹانوں کے ساتھ باندھ دیتی ہیں۔ اُن کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور وہ ہر وقت پانی کی سطح پر تیرتے رہتے ہیں اور اُن کو دیکھ کر جہاز والے یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہاں خطرہ ہے اور وہ اُس جگہ سے جہاز کو بچا کر لے جاتے ہیں۔ تو مَیں نے دیکھا کہ سمندر میں اِسی قسم کے بوائے لگے ہوئے ہیں اور ان کی زنجیریں بہت لمبی ہیں اور دور تک چلی جاتی ہیں۔ خواب میں مَیں خیال کرتا ہوں کہ اِس بوائے کا تعلق میری ذات سے ہے اور تمثیلی رنگ میں وہ بوائے مَیں ہی ہوں اورمجھے بتایا گیا ہے کہ یہ نظارہ پانچ سال کے عرصہ سے تعلق رکھتا ہے۔ تب مَیں نے سمجھا کہ آئندہ پانچ سال کے اندر کوئی اہم واقعہ اسلا م کے متعلق پیش آنے والا ہے اور گویا مسلمانوں کو اُس آفت سے بچانے کے لیے مَیں بطور بوائے ہوں۔ اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ جب تک وہ واقعہ پیش نہ آئے مجھے زندہ رکھا جائے گا۔ اِس رؤیا کے پورا ہونے کا ایک پہلو تو یہ بھی نظر آتا ہے کہ ہمارا ملک اس عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے آزاد ہو چکا ہے اور ایسے حالات میں آزاد ہوا ہے جن کی موجودگی میں آزادی مل جانا خلافِ توقع تھا اور کسی کو یہ وہم بھی نہیں گزر سکتا تھا کہ اتنی جلدی ہمارا ملک آزاد ہو جائے گا۔ پھر آزادی ملنے کے ساتھ ہی ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جو آج سے تھوڑا عرصہ پہلے کسی کے خیال میں بھی نہ تھے۔ مسلمانوں پر ایک بہت بڑی تباہی آئی اور بہت بڑی آفت کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔ گو یہ تباہی ہندوؤں پر بھی آئی مگر اس زمانہ میں جب مجھے یہ رؤیا دکھایا گیا تھا کسی شخص کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا کہ ہمارے ملک میں اتنا بڑا اور عدیم المثال تغیر آئے گا اور ہمارا ملک چند سالوں کے اندر اندر آزادی حاصل کرلے گا اور وہ آزادی ایسی ہوگی جو اپنے ساتھ بہت سی تاریکیاں اور ظلمتیں بھی رکھتی ہوگی۔
    اِس رؤیا کے ساتھ ایک اَور رؤیا بھی تھی جس کے متعلق مجھے تو کچھ یاد نہ تھا لیکن آج کے اخبار الفضل میں مجھے ایک شخص کا مضمون پڑھ کر وہ رؤیا یاد آگئی۔ اس رؤیا میں ایک مضمون بار بار مجھ پر نازل ہوا۔ وہ پورا مضمون تو مجھے یاد نہیں مگر اِتنا یاد ہے کہ اس میں بار بار بیالیس اور اَڑتالیس کا لفظ آتا تھا۔بیالیس کی تعبیر تو میری سمجھ میں نہیں آئی۔ شاید بیالیس سے مراد 1942ء ہی ہو جیسا کہ مَیں نے رؤیا کی تعبیر کرتے وقت خطبہ میں بھی بیان کیا تھا۔ کیونکہ 1942ء میں جمعوں کے متواتر ایسے اجتماع ہوئے جو اسلام کی ترقی کی طرف توجہ دلاتے تھے۔٭ بہرحال اڑتالیس کا لفظ پنج سالہ زمانہ کی طرف توجہ دلاتا تھا۔ یہ رؤیا مَیں نے مارچ 1944ء میں دیکھی تھی اور یہ پنج سالہ زمانہ مارچ 1949ء میں ختم ہوتا ہے۔ اور جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے رؤیا کی تعبیر میں اگر پورا سال ہو تو اُس کی کسر بھی ساتھ ہی شامل ہوتی ہے۔ اِس لیے ممکن ہے کہ پانچ سال کی کسر بھی یعنی چھ ماہ اَور ملا کر یہ پانچ سالہ زمانہ اکتوبر 1949ء تک ہو۔ بہرحال زیادہ سے زیادہ مدت 1949ء کے آخر تک ہے۔ اور اگر پورے پانچ سال ہوں تو یہ زمانہ مارچ 1949ء میں ختم ہوتا ہے۔ گویا 25مارچ 1948ء کے بعد پانچواں سال شروع ہو جائے گا۔ پس یہ سال اپنے اندر بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اِس لیے اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیں یہ دعائیں کرنی چاہیں کہ اِس سال میں جو تغیرات رونما ہوں وہ ہمارے لیے، اسلام کے لیے اور مذہب کی حقیقی روح کے لیے بابرکت ثابت ہوں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر نیا سال شروع ہونے پر لوگ نئے ارادے، نئی اُمنگیں اور نئی امیدیں لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہوتے ہیں جن کے ارادے، امنگیں اور امیدیں اِس سال کے پہلے مہینے میں ہی ختم ہوجاتے ہیں اور اُنہیں یاد تک نہیں رہتا کہ ان کی اُمنگیں اور امیدیں کیا تھیں۔ ایسے لوگ گھاس کی اُن پتیوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں ہوا کے جھونکے کبھی دائیں سے بائیں اور کبھی بائیں سے دائیں اُڑاتے پھرتے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں میں سے جو نیا سال چڑھنے پر نیا نیا جوش اور نئے نئے ولولے اپنے دلوں میں لے کر کھڑے ہوتے ہیں اکثر ایسے ہوتے ہیں جو باوجود ارادوں کے، باوجود اُمنگوں کے اور باوجود امیدوں کے عملی اقدام سے دور رہتے ہیں اور دنیا کے تغیرات میں حصہ نہیں لیتے۔ اُن کے وجود ایسے درختوں اور ایسے چھوٹے چھوٹے پودوں کی مانند ہوتے ہیں جو پہاڑوں پر اُگتے ہیں اور بڑھتے ہیں۔ مگر تُندہوائیں اُنہیں اُکھاڑ کر پھینک دیتی ہیں اور پھر وہ یا تو آندھیوں میں اُڑتے پھرتے ہیں یا پانی انہیں اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔ گویا ایسے لوگوں کی زندگی اور موت بے حقیقت ثابت ہوتی ہے۔ مگر اِن تھک جانے والوں اور تھوڑا سا چل کر ہمت ہار بیٹھنے والوں کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ارادوں کو پورا کرنے کی توفیق پاتے ہیں اور تھک کر ہار جانے یا ہمت ہار بیٹھنے کے نام سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اولوالعزمی کے ساتھ کامیابی کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو باقی دنیا کے لیے ستون ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی کامرانیوں سے دوسری دنیا سُکھ پاتی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لیتے ہیں۔ ہمارے لیے بھی یہ سال نئی اُمنگوں اور نئی اُمیدوں کا ہوسکتا ہے اور ہوا ہے۔ یعنی ہمارا ملک آزاد ہو گیا ہے۔ مگر جس طرح دوسرے لوگوں کی اُمنگیں ہوں گی ہماری اُس طرح نہیں کیونکہ ہمارے لیے صرف ایک ہی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس مقصد کو پورا کرے جس کے لیے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا۔ اِس لیے جب تک ہمارا یہ مقصد پورا نہیں ہوجاتا اُس وقت تک ہر نیا سال ہمارے لیے دکھ پیدا کرنے کا موجب ہوگا۔ لیکن اگر ہم ہر سال اِس کام کی کچھ نہ کچھ کوشش کرلیں تو ہر نیا سال ہمارے لیے رحمت اور برکت لانے کا موجب ہوگا۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم آنے والے سال کے لیے اپنے آپ کو بابرکت بنائیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ہر ارادہ کو پورا کرنے کے لیے کوئی کام کرنا پڑتا ہے اور ہر کام کے کرنے کے لیے کوئی تدبیر کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے اِس ارادے اور کام کی تکمیل کے لیے بھی کچھ رستے ہیں اور کچھ تدبیریں ہیں۔ جب تک ہم اُن رستوں پر گامزن نہیں ہو جاتے اور جب تک ہم اُن تدابیر پر غور نہیں کرتے ہمیں کامیابی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ ہمارے اِس کام سے تعلق رکھنے والی سب سے اہم چیز تعلق باللہ ہے۔ اِس لیے جب تک ہم اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا نہیں کرتے اور جب تک ہم اُس کے فضلوں کو جذب کرنے کے قابل نہیں بن جاتے اُس وقت تک یہ عظیم الشان کام سرانجام دینا ہماری طاقت سے بالا ہے۔
    پس ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے اور اس تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے اندر اکثر لوگ ایسے ہیں جن کو تعلق باللہ مضبوط کرنے کی طرف بہت کم توجہ ہے۔ وہ فکری احمدی تو ہیں قلبی احمدی نہیں۔ اُن کے دماغ توبے شک تسلی پاگئے ہیں مگر اُن کے دلوں کے اندر خدا تعالیٰ کے لیے عشق پیدا نہیں ہوا۔حالانکہ بغیر عشق کے اور بغیر جذبات کی فراوانی کے کوئی چیز حاصل نہیں ہوسکتی۔ پس مَیں جماعت کے دوستوں کو اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اندر عشق پیدا کریں اور اپنے عشق کے جذبات کو اتنا اُبھاریں کہ خدا تعالیٰ کی محبت اُن کی طرف کھنچتی چلی آئے۔
    میری عمر اُس وقت چھوٹی تھی جب کہ مَیں نے ایک رؤیا دیکھی۔ (یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کی بات ہے۔ جب آپؑ فوت ہوئے۔ اُس وقت میری عمر 19 سال تھی اور یہ رؤیا جس کا مَیں ذکر کرنے لگا ہوں غالباً آپؑ کی وفات سے دو سال قبل کی ہے۔ گویا میری عمر اس رؤیا کے دیکھنے کے وقت سترہ سال کی ہوگی)۔ مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں امرتسر میں ہوں۔ (امرتسر میں ایک مجسّمہ کوئین وکٹوریہ( Queen Victoria )کا ہے۔ اُس کے گرد سنگِ مرمر کا چبوترا بنا ہوا ہے۔ کٹہرا بھی سنگِ مرمر کا ہے اور سیڑھیاں بھی سنگ مرمر کی ہیں۔ مَیں نہیں جانتا کہ گزشتہ فسادات اور لُوٹ مار کے زمانہ میں اس سنگِ مرمر کے مجسمہ کا کیا بنا۔ مگر جب ہم امن کے دنوں میں امرتسر جایا کرتے تھے تو اس مجسمہ کو دیکھا کرتے تھے) مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایسا ہی سنگِ مرمر کا ایک چبوترا ہے۔ اُسی طرح سنگِ مرمر کا کٹہرا ہے اور اُسی طرح سنگِ مرمر کی سیڑھیاں اوپر کو چڑھتی ہیں۔ مَیں نے دیکھا کہ سیڑھیوں پر ایک بچہ ہے جو دو یا تین سال کی عمر کا معلوم ہوتا ہے۔ وہ بچہ گُھٹنوں کے بل جُھکا ہوا ہے اور وہ اُن سیڑھیوں کی بالائی سیڑھی پر ہے۔ وہ چبوترے کے آگے اِس طرح سر جھکا کر کھڑا ہے جیسے کسی سے کوئی چیز طلب کر رہا ہے۔ یا جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کی گود میں آ کر یہ خواہش کرتا ہے کہ ماں اُس سے پیار کرے۔ وہ بچہ نہایت خوبصورت ہے اور خوبصورت لباس میں ملبوس ہے۔ جب مَیں نے اُس بچے کو دیکھا تو خواب میں مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ مسیحؑ ہے۔ اُس وقت میری نظر اوپر آسمان کی طرف اٹھی اور مَیں نے دیکھا کہ آسمان پھٹا ہے اور اُس پھٹی ہوئی جگہ میں سے ایک نوجوان عورت جس کی عمر بیس یا بائیس سال کی معلوم ہوتی ہے اور اُس کا خوبصورت رنگ آنکھوں کو خیرہ کیے دیتا ہے نیچے اُترنا شروع ہوئی۔ اُس عورت کے پَر بھی ہیں جیسے عام طور پر قصے کہانیوں میں پریوں کے بیان کیے جاتے ہیں۔ وہ عورت جُوں جُوں نیچے کو اُترتی ہے، اپنے پروں کو ہلاتی ہے گویا وہ اُس بچے کو اپنے پروں میں لے لینا چاہتی ہے۔ اُس وقت مَیں نے سمجھا کہ یہ عورت مریم ہے۔ اور معاً میری زبان پر جاری ہوا کہ’’ لَوْ کری ایٹس لَو ْ ‘‘(Love creates love)محبت محبت پیدا کرتی ہے۔
    پس اِس رؤیا کے ذریعہ مجھے بتایا گیا کہ ہر انسان اپنے اندر مسیحی صفت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس کے ساتھ مریمی رنگ میں محبت کرتا ہے۔ جب کسی انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت موجزن ہوتی ہے اور جب انسان اپنے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کی سوزش اور جلن محسوس کرتا ہے تو یہ سوزش اور جلن بغیر جواب کے نہیں رہتی۔ بلکہ آسمان پر خدا تعالیٰ کے دل میں بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور جیسے ایک محبت کرنے والی ماں اپنے بچے کی آواز پر دوڑتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے کی محبت کا جواب محبت میں دینے کے لیے دوڑتا ہے اور آکر اُسے پیار کرتا ہے۔ پس اگر ان محبت کے تعلقات میں کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو بندے کی طرف سے ہوتی ہے اور اگر کوئی غفلت یاسُستی ہوتی ہے تو وہ بھی بندے کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔ ورنہ خدا تعالیٰ ایک محبت کرنے والی ماں سے بھی بڑھ کر چاہتا ہے کہ اپنے بندوں سے پیار کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں سے محبت کا سلوک کرے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندے کو اپنی محبت بھری گود میں اٹھا کر اُسے تسلی دے۔ لیکن انسان! وہ انسان جو مصائب میں مبتلا ہوتا ہے، وہ انسان جو آلام کے بوجھ کے نیچے ہوتا ہے، وہ انسان جو ہر وقت محتاج ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ اُس کی مدد کرے اور اُسے ان مصائب و آلام سے نجات بخشے اور وہ انسان جو ہر وقت محتاج ہوتا ہے اِس بات کا کہ کوئی اُس کا سہارا بنے اور اُسے تسلی دے وہ محتاج اور کمزور انسان مستغنی بنا رہتا ہے۔ مگر وہ مستغنی خدا عرش پر بے تاب رہتا ہے اِس بات کے لیے کہ اُس کا بندہ اُس کی طرف آئے۔ پس اپنے قلوب کے اندر نمایاں تغیر پیدا کرو اور خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرکے اُس سے مدد مانگو اور دکھ درد، رنج و غم اور مصائب و آلام کے وقت اُسے پکارو۔ کیونکہ ہمارا حق ہے کہ اُس کی مدد چاہیں۔ یاد رکھو! خدا تعالیٰ ہمارا محتاج نہیں بلکہ ہم اُس کے محتاج ہیں۔ اگر مسلمانوں کے اندر وہی جذبات ہوتے اور اگران کے اندر وہی پیار، محبت اور اتحاد ہوتا جو صحابہؓ میں تھا تو جو کچھ گزشتہ ایام میں ہوا اور آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سُنا وہ کبھی نہیں ہوسکتا تھا۔ ہماری کوتاہیوں، ہماری غفلتوں اور ہماری سُستیوں نے یہ بدانجام دکھایا۔ اور اب ہماری اصلاح ہی ہمیں اِس بدانجام سے محفوظ کرسکتی ہے۔ اور ہماری اصلاح نہیں ہوسکتی جب تک ہم خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنے اندر جذب نہیں کر لیتے۔
    اب مَیں وہ طریق بیان کرتا ہوں جن سے خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کیا جاسکتا ہے۔ اِس کا سب سے پہلا طریق تو نماز ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز پڑھنے والا خدا تعالیٰ سے باتیں کرتا ہے۔ اور نماز ایک ایسی چیز ہے جیسے کوئی ایک دوسرے سے باتیں کرتا ہے۔ اور نماز کی کیفیت بھی بتاتی ہے کہ وہ کسی عظیم الشان ہستی کے ساتھ باتیں کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ہم کہتے ہیں اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ ایک ہندوستانی پر شاید یہ امر واضح نہ ہوسکے مگر عربی جاننے والے جانتے ہیں کہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کسی عظیم الشان نظارہ کے دیکھنے کے وقت کہا جاتا ہے۔ یعنی جب کبھی عرب کے لوگ کوئی پُررعب اور پُرہیبت نظارہ دیکھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ یا یوں سمجھ لو کہ جب ہم کوئی اِس قسم کا نظارہ دیکھتے ہیں تو بے اختیارــــ’’اُف‘‘ کا لفظ ہمارے منہ سے نکل جاتا ہے اور ہم کہہ ُاٹھتے ہیں اُف! کیسا شاندار نظارہ ہے۔ اِسی طرح جب عرب کے لوگ کوئی عجیب و غریب نظارہ دیکھتے ہیں تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ پس جب ایک نمازی نماز کے لیے کھڑا ہوتے وقت اَللّٰہُ اَکْبَرُکہتا ہے تو اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ مَیں جو نظارہ دیکھنے لگا ہوں یعنی خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے لگا ہوں اِس نظارہ کی مجھے امید بھی نہ ہوسکتی تھی کیونکہ خدا تعالیٰ تو وراء الوراء ہستی ہے۔ خدا تعالیٰ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے 1یعنی انسان کی آنکھیں خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتیں مگر جب وہ اپنے آپ کو انسان پر منکشف کر دیتا ہے تو انسان اُسے دیکھ سکتا ہے۔ پس جب ہم نماز شروع کرتے وقت اَللّٰہُ اَکْبَرُکہتے ہیں تو گویا ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اُفّ! ہم یہ کیا چیز دیکھ رہے ہیں جس کے دیکھنے کی ہمیں امید ہی نہ تھی اور ہمارے اندر اس کے دیکھنے کی طاقت ہی نہ تھی۔ پھر جب ہم اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ چکتے ہیں تو گویا ہم غائب ہو جاتے ہیں اِس دنیا سے، غائب ہو جاتے ہیں دوستوں، رشتہ داروں سے اور غائب ہو جاتے ہیں خویش و اقرباء سے۔ حتّٰی کہ ہم کسی دوست یا رشتہ دار کے سلام کا جواب نہیں دیتے اور کسی چھوٹے یا بڑے کی گفتگو کے جواب میں گفتگو نہیں کرتے۔ اور ہم گویا تمثیلی طور پر اِس دنیا سے غائب ہو جاتے ہیں۔ اور جب ہم نماز کو ختم کرتے ہیں تو جیسے باہر سے آنے والا کوئی شخص کہتا ہے السَّلامُ عَلَیْکُمْ۔ اِسی طرح ہم بھی دائیں کو منہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں السَّلامُ عَلَیْکُماور بائیں کو منہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں السَّلامُ عَلَیْکُمْ۔ گویا ہم کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور اب واپس آئے ہیں۔ پس اَللّٰہُ اَکْبَرُ سے شروع ہونے والے نظارہ کے وقت ایک مسلمان یہ اعتراف کرتا ہے کہ مَیں اب دنیا سے غائب ہو گیا ہوں اور اب مَیں ایسا نظارہ دیکھ رہا ہوں جو مَیں دنیا میں رہ کر نہ دیکھ سکتا تھا اور مَیں اس نظارہ کی وجہ سے محو اور سرشار ہو گیا ہوں اور یہ محویت اس قدر ہے کہ مَیں کسی اَور سے بات کرنا بھی نہیں چاہتا۔ پھر جب وہ سلسلہ ختم ہوتا ہے تو مسلمان اپنے آپ کو واپس اِس دنیا میں پاکر کہتا ہے السَّلامُ عَلَیْکُمْ۔ یعنی وہ کہتا ہے کہ مَیں خدا تعالیٰ کے دربار میں گیا ہوا تھا اور اب اپنا کام کرکے واپس آ رہا ہوں۔ پس نماز خدا تعالیٰ سے باتیں کرنے کا ذریعہ ہے اور اسلام میں سب ارکان سے مقدم اور اہم ہے۔ اس لیے مَیں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے لیے سب سے مقدم چیز یہ ہے کہ ہم نمازوں کے پابند ہوں کیونکہ تعلق باللہ کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نماز کی پابندی کئی رنگ کی ہوتی ہے:۔
    سب سے پہلا درجہ جس سے اُتر کر اور حقیر اَور کوئی رنگ نہیں یہ ہے کہ انسان بالالتزام پانچوں وقت کی نمازیں پڑھے۔ جو مسلمان پانچوں وقت کی نمازیں پڑھتا ہے اور کبھی ناغہ نہیں کرتا وہ ایمان کا سب سے چھوٹا درجہ حاصل کرتا ہے۔
    دوسرا درجہ نماز کا یہ ہے کہ پانچوں نمازیں وقت پر ادا کی جائیں۔ جب کوئی مسلمان پانچوں نمازیں وقت پر ادا کرتا ہے تو وہ ایمان کی دوسری سیڑھی پر قدم رکھ لیتا ہے۔
    پھر تیسرا درجہ یہ ہے کہ نماز باجماعت ادا کی جائے۔ باجماعت نماز کی ادائیگی سے انسان ایمان کی تیسری سیڑھی پر چڑھ جاتا ہے۔
    پھرچوتھا درجہ یہ ہے کہ انسان نماز کے مطالب کو سمجھ کر نماز ادا کرے۔جو شخص ترجمہ نہیں جانتا وہ ترجمہ سیکھ کر نماز پڑھے اور جو شخص ترجمہ جانتا ہو وہ ٹھہر ٹھہر کر نماز کو ادا کرے۔ یہاں تک کہ وہ سمجھ لے کہ مَیں نے نماز کو کَمَاحَقُّہٗ ادا کیا ہے۔
    پھرپانچواں درجہ نماز کا یہ ہے کہ انسان نماز میں پوری محویت حاصل کرے اور جس طرح غوطہ زن سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں اُسی طرح وہ بھی نماز کے اندر غوطہ مارے۔ یہاں تک کہ وہ دو میں سے ایک مقام حاصل کرلے۔ یا تو یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو اور یا یہ کہ وہ اِس یقین کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو کہ خداتعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔ اِس مؤخرالذکر حالت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی اندھا بچہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہو۔اپنی ماں کی گود میں بیٹھے ہوئے اُس بیٹے کو بھی تسلی ہوتی ہے جو بیناہو اور اپنی ماں کو دیکھ رہا ہو۔ مگر ماں کی گود میں بیٹھے ہوئے اُس بیٹے کو بھی تسلی ہوتی ہے جو نابینا ہو۔ اِس خیال سے کہ اُس کی ماں اُسے دیکھ رہی ہے۔ گو وہ نابینا ہوتا ہے اور اپنی ماں کو نہیں دیکھ سکتا مگر اُس کا دل مطمئن اور تسلی یافتہ ہوتا ہے۔ صرف اِس لیے کہ اُسے یہ یقین ہوتا ہے کہ اُس کی ماں اُسے دیکھ رہی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے وقت بندے کو ایک مقام ضرور حاصل ہونا چاہیے۔ یا تو یہ کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہو۔ یا یہ کہ اُس کا دل اِس یقین سے لبریز ہو کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔2 یہ ایمان کا پانچوں مقام ہے اور اِس مقام پر بندے کے فرائض پورے ہو جاتے ہیں۔ مگر جس بامِ رفعت پر اُسے پہنچنا چاہیے اُس پر نہیں پہنچ سکتا۔
    اِس کے بعد چھٹا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ نوافل پڑھے جائیں۔ یہ نوافل پڑھنے والا گویا خدا تعالیٰ کے حضور یہ ظاہر کرتا ہے کہ مَیں نے فرائض کو تو ادا کر دیا ہے مگر ان فرائض سے میری تسلی نہیں ہوئی اور وہ کہتا ہے کہ اے خدا! مَیں چاہتا ہوں کہ مَیں ان فرائض کے اوقات کے علاوہ بھی تیرے دربار میں حاضر ہوا کروں۔ جیسے کئی لوگ جب کسی اعلیٰ افسر یا بزرگ کی ملاقات کو جاتے ہیں تو وہ مقررہ وقت گزر جانے پر کہتے ہیں دو منٹ اَور دیجیے۔ اور وہ ان مزید دو منٹوں میں لذت محسوس کرتے ہیں اور وہ ان دو منٹوں کو چٹّی نہیں سمجھتے بلکہ اُن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اِسی طرح ایک مومن جب فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل پڑھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ اب مَیں اپنی طرف سے کچھ مزید وقت حاضر ہونا چاہتا ہوں۔
    ساتواں درجہ ایمان کا یہ ہے کہ انسان نہ صرف پانچوں نمازیں اور نوافل ادا کرے بلکہ رات کو بھی تہجد کی نماز پڑھے۔ یہ وہ سات درجات ہیں جن سے نماز مکمل ہوتی ہے اور اِن درجات کو حاصل کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ رات کے وقت عرش سے اُترتا ہے اور اُس کے فرشتے پکارتے ہیں اے بندو! خدا تعالیٰ تمہیں ملنے کے لیے آیا ہے۔ اُٹھو!اور اُس سے مل لو۔3
    پس اِن سات درجوں کوپورا کرنا ہم میں سے ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔ ہماری جماعت چونکہ ایک مامور کی جماعت ہے اِس لیے ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کا پابند ہو۔ ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نمازوں کو وقت پر ادا کیا کرے۔ یا ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز باجماعت ادا کیا کرے، ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کو سوچ سمجھ کر اور ترجمہ سیکھ کر ادا کرے، ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ علاوہ فرض نمازوں کے رات اور دن کے نوافل بھی پڑھا کرے اور ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کے اندر محویت پیدا کرے اور اِتنی محویت پیدا کرے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق یا تو وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو یا وہ اپنے دل میں یہ یقین رکھتا ہو کہ خدا تعالیٰ اسے ضرور دیکھ رہا ہے۔ پھر ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ فرائض اور نوافل دن کو اور رات کو اس التزام اور باقاعدگی سے ادا کرے کہ اُس کی راتیں دن بن جائیں۔ اِسی طرح تہجد کی مناجات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔ جب تک ہم وہ طریق استعمال نہیں کریں گے جن سے ہم خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کرسکیں اُس وقت تک یہ امید کرنا کہ ہم دنیا میں کامیاب ہو جائیں گے وہم اور عبث خیال ہے کیونکہ وہ عظیم الشان کام جو ہمارے سپرد ہے بہت بڑا ہے۔ لوگ تو چھوٹی چھوٹی چیزیں پاکر ہی خوش ہو جایا کرتے ہیں۔ کوئی اچھی تجارت کرکے خوش ہو جاتا ہے، کوئی اچھی نوکری مل جانے پر خوشیاں مناتا ہے مگر مومن سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے مل جانے کے اَور کسی چیز میں تسلی نہیں پاتا۔
    عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے بچے بعض اوقات آسمان کی چیزیں مانگتے ہیں۔ خود میرے متعلق ہی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی ایک روایت ہے کہ مَیں جب چھوٹا سا تھا تو ایک دفعہ کسی بات پر چِڑ گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اُٹھا لیا اور بہلانے لگے۔ مَیں جب ذرا چُپ ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اِس خیال سے کہ اب یہ بالکل چُپ ہو جائے گا آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے کہا محمود! وہ دیکھو چاند۔ مَیں نے چاند کو دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیا کہ مَیں نے چاند لینا ہے۔4 بچوں کی اِس قسم کی چِڑ سے پتہ لگتا ہے کہ وہ بعض اوقات ایسی چیزیں مانگ بیٹھتے ہیں جن کا میسر آنا ناممکن ہوتا ہے۔ مگر ایک مومن کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے مَیں نے خدا لینا ہے۔ پس جب تک تم یہ خدا لینے والا جذبہ اپنے اندر پیدا نہیں کر لیتے تب تک تمہارے ایمان کامل نہیں ہوسکتے اور تمہارے کوئی کام کر دکھانے کے دعوے عبث اور فضول ہیں۔
    یاد رکھو! جب مومن کو اُس کا محبوب مل جاتا ہے تو ساری دنیا اُس کے تابع ہو جاتی ہے اور ساری دنیا اُس کے پیچھے پیچھے کھنچی چلی آتی ہے۔ جس کام کو تم نے اختیار کیا ہے وہ تمہاری کوششوں اور تمہاری عقلوں اور تمہاری تدبیروں سے نہیں ہوسکتا۔ وہ صرف اسی طرح ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود آسمان سے اُترے اور تمہاری مدد کرے۔ مگر اُس کے آسمان سے اُترنے کا ذریعہ صرف یہی ہے کہ نمازیں پڑھو اور دعائیں کرو اور رات کی تاریکیوں میں چِلّاؤ اور اُس کے حضور اِتنا گڑگڑاؤ کہ اُس کی محبت جوش میں آ جائے اور وہ آسمان سے اُتر کر تمہیں تسلی دے کہ جب مَیں تمہارے ساتھ ہوں تو تمہیں کس بات کا غم ہے۔
    دو تین دن کی بات ہے کہ مجھے الہام ہوا جس کی عبارت کچھ اِس قسم کی تھی اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ۔ اِس سے آگے کی عبارت یاد نہیں رہی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُنہی کی دعائیں قبول کرتا ہے جو ...مَیں سمجھتا ہوں کہ اِس سے آگے کی عبارت وہی ہے جو آج مَیں نے اپنے خطبہ میں بیان کی ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ اُنہی کی دعائیں قبول کرتا ہے جو اُس کی محبت کو جذب کر لیتے ہیں۔ اِسی طرح آج سورہ الرحمان کی بہت سی آیتیں متواتر میری زبان پر جاری ہوئیں۔ جن میں سے کچھ تو مجھے یاد نہیں رہیں مگر یہ فقرہ جو بار بار جاری تھا مجھے یاد ہے کہ۔5اِس کے علاوہ 6کے لفظ بھی یاد ہیں اور بھی بعض آیتوں کے لفظ یاد تھے مگر وہ جاگنے کی حالت میںبھُول گئے۔ وہ آیتیں یاد نہیں رہیں۔شاید قرآن کریم پڑھنے سے یاد آ جائیں گی مگر بار بار جاری ہوتا رہا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اِس میں اِسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ تو انسان کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے معمور کرنا چاہتا ہے مگر انسان اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اُس انعام سے محروم رہ جاتا ہے اور اُس کو ضائع کر دیتا ہے۔ پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ اگر اُنہیں پچھلے سال خدا تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں ہوسکی تو وہ اَب حاصل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اسلام کی فتح کا دن قریب سے قریب تر آتا جا رہا ہے"۔
    (الفضل 4فروری 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    الانعام:104
    2
    :
    بخاری کِتَاب الایمان بَاب سُؤَالِ جِبْرِیلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِیمَانِ وَالْاِسْلامِ وَالاِحْسَانِ
    3
    :
    بخاری کتاب التھجد بَابُ الدُّعَاء وَالصَّلَاۃِ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ
    4
    :
    سیرت مسیح موعود از حضرت مولوی عبدالکریم صاحب صفحہ37۔ ’’چاند لینا ہے‘‘ کی بجائے ’’تارے جانا ہے‘‘ کے الفاظ ہیں۔
    5
    :
    الرحمٰن:14
    6
    :
    الرحمٰن:67


    اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا
    بہترین طریق نماز ہے
    (فرمودہ9جنوری 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "جیسا کہ مَیں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بھی جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ اسلام کی اصل بنیاد تعلق باللہ ہے۔ یوں تو دوسرے مذاہب کے لوگ دنیا میں بغیر قرآنی تعلیم کے بھی ایک دوسرے کی امداد کرتے ہیں اور خدمت بھی، جدوجہد بھی کرتے ہیں اور محنت بھی، تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں اور دنیا کے دوسرے کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ بلکہ مذہب ہی نہیں جو لوگ مذہب سے باہر ہیں اور دہریہ کہلاتے ہیں بلکہ دہریہ ہی نہیں وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے اِتنے مخالف ہیں کہ وہ باقی دنیا پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ سے منحرف ہو جائے وہ بھی ایسے تمام کام کرتے ہیں۔ مجھے اُن لوگوں کے عقائد سے واقفیت ہے اور مَیں نے اُن کی کئی کتابیں بھی پڑھی ہیں۔ یہاں لاہور میں بھی ایک مجلس دہریوں کی ہوا کرتی تھی۔ وہ لوگ اپنے آپ کو دیوسماجی کہا کرتے تھے۔ فیروز پور میں اُن کا ایک کالج تھا اور یہاں ایک سکول تھا۔ سکول کی عمارت میں ہم نے جلسہ سالانہ کے موقع پر مہمان ٹھہرائے تھے۔ ان دیوسماجیوں کی رفاہِ عامہ کی کوششیں بہت زیادہ تھیں اور وہ ہمیشہ خدا کے ماننے والوں پر اعتراض کیا کرتے تھے کہ تم لوگ مرنے کے بعد ایک نئی زندگی کے بھی قائل ہو اور تم خدا کے وجود پر ایمان رکھتے ہو مگر تمہاری جدوجہد بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے اُتنی نہیں جتنی ہماری ہے۔ یہ دلیل ان کی غلط ہو یا صحیح مگر اِس میں شبہ نہیں کہ وہ رفاہِ عامہ کے کاموں میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔ اُن کی اس جدوجہد سے یہ نتیجہ تو ضرور نکلتا ہے کہ رفاہِ عامہ کے کاموں کو سرانجام دینے کے لیے خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لانا ضروری نہیں۔ اور ایک شخص بغیر خدا پر ایمان لائے بھی رفاہ عامہ کے کاموں میں حصہ لے سکتا ہے۔ لیکن یہ امر کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والوں کو نہ ایمان لانے والوں کی نسبت رفاہِ عامہ کے کاموں میں زیادہ حصہ لینا چاہیے یہ ایک الگ بات ہے۔حصہ نہ لینے اورلے سکنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہر انسان ہر وقت اپنے مخاطب کو گالی بھی دے سکتا ہے اور اُس کی تعریف بھی کرسکتا ہے۔ مگر ہر انسان ہر وقت نہ تو اپنے مخاطب کو گالی دیتا ہے اور نہ ہی تعریف کرتا ہے۔ پس کر سکنا اَور چیز ہے اور کرنا اَور چیز ہے۔ ہر انسان گھر سے سارا دن باہر بھی رہ سکتا ہے اور گھر کے اندر بھی رہ سکتا ہے مگر نہ تو ہر انسان چوبیس گھنٹے گھر سے باہر رہتا ہے اور نہ ہی چوبیس گھنٹے گھر کے اندر رہتا ہے۔ اِسی طرح ہر انسان کپڑے کی دکان کھول سکتاہے، ہر انسان آٹے دال کی دکان کھول سکتا ہے اور ہر انسان مزدوری کر سکتا ہے، ہر انسان قلیوں کا کام کرسکتا ہے، ہر انسان لکڑیاں چِیرنے کا کام کر سکتا ہے اور ہر انسان ہرکارے کا کام کر سکتا ہے۔ مگر ہر انسان یہ کام کیا نہیں کرتا۔ نہ تمام دنیا کے انسان ہرکارے ہیں نہ ساری دنیا کے انسان لکڑیاں چیرنے کا کام کرتے ہیں، نہ ساری دنیا کے انسان قلیوں کا کام کرتے ہیں اور نہ ہی ساری دنیا کے انسان زمیندارہ کرتے ہیں۔ مگر کر سارے ہی سکتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا دعوٰی کرنے والے بھی رفاہِ عامہ کا کام اُسی طرح کر سکتے ہیں جس طرح کہ خدا کے مخالف۔ اگر وہ نہیں کرتے تو اِس کا سبب اَور ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اِس کا سبب یہی ہے کہ ایک دہریہ پر تو ظاہر اور باطن میں دہریت غالب ہوتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ دوسرے لوگ آسانی کے ساتھ اُس کے دام میں نہیں پھنسیں گے۔ اِس لیے وہ اپنے عقائد کو نافذ کرنے اور اُن کو پھیلانے کے لیے کچھ کام ایسے بھی کرتا ہے جن سے وہ دوسروں پر اپنی برتری ثابت کرسکے۔ لیکن ایک نسلی مسلمان اور خدا تعالیٰ کو ماننے والا مسلمان اپنے عقیدہ کی وجہ سے اور ورثہ میں ملے ہوئے عقیدہ کی وجہ سے سُست اور غافل رہتا ہے۔ اُس کے اندر حقیقی ایمان نہیں ہوتا۔ اُس کی زبان تو اقرار کرتی ہے کہ خدا ہے مگر اُس کا دل اقرار نہیں کرتا۔ اگر اُس کا دل اقرار کرتا تو خدا کی موجودگی سے جو حالات پیدا ہونے چاہییں اُس کے اندر پیدا ہو جاتے۔ دنیا میں ہزاروں لاکھوں انسان ایسے ہیں جو بظاہر خدا پرستی کا دعوٰی کرتے ہیں مگر اُن کا باطن اُسی طرح دہریہ ہوتا ہے جیسے اُس کی ہستی کے منکر دہریہ کا۔ غرض جہاں تک دنیوی اعمال کا سوال ہے اور جہاں تک رفاہِ عامہ کا سوال ہے ان کے لیے یہ ضروری نہیں کہ خدا یا مذہب پر ایمان لایا جائے۔ اور نہ ہی مذہب پر ایمان لانا اِن کاموں کا جزو یا بنیاد ہے۔ انسان مذہب پر ایمان لائے بغیر بھی ایسے کام کر سکتا ہے اور مذہب پر ایمان لا کر بھی کر سکتا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ مذہب پر ایمان لا کر یہ کام بہت اچھے ہوسکتے ہیں اور ایمان نہ لانے سے اُتنے اچھے نہیں ہوسکتے۔ مگر یہ بات صرف ممکن ہے ضروری نہیں کہ ایسے کام وہی کر سکے جو مذہب پر ایمان رکھتا ہو اور دوسرا کوئی نہ کر سکے۔
    مگر وہ چیز جو سچے مذہب کو دوسرے مذاہب یا عقائد پر فوقیت بخشتی ہے وہ تعلق باللہ ہے۔ ایک انسان سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر محنتی ہوسکتا ہے، وہ سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر اچھا تاجر بن سکتا ہے، وہ سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر اچھا صنّاع بن سکتا ہے اور وہ سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر صدقہ و خیرات بھی کرسکتا ہے۔ مگر دنیا کا کوئی انسان سچے مذہب میں شامل ہوئے بغیر خدا رسیدہ نہیں ہوسکتا۔ یہی وہ چیز ہے جو سچے مذہب پر چلنے والے اور نہ چلنے والے میں مَابِہِ الْاِمْتِیَاز ہے اور جس سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص سچے مذہب پر چلتا ہے یا نہیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ خدارسیدہ وہی ہو سکتا ہے جو اُس راستے پر چلتا ہے جو خدا تک پہنچتا ہے۔ جو شخص خدا تک جانے والے رستہ پر نہیں چلتا وہ خدا تک کس طرح پہنچ سکے گا۔
    اِس میں شبہ نہیں کہ خدا کوئی مادی چیز نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی خاص مکان ہے مگر ساری روحانی اور معنوی چیزوں کے لیے رستے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر پڑھنا یا علم حاصل کرنا مادی چیز نہیں، زبان جاننا مادی چیز نہیں۔ اِسی طرح جغرافیہ، تاریخ اور حساب کا علم حاصل کرنا مادی نہیں مگر ان سب کے حصول کے لیے کچھ راستے مقرر ہوتے ہیں۔ جب تک زبان دانی کے لئے زبان نہ سیکھی جائے، جب تک علمِ حساب کے لیے حساب کی کتابیں نہ پڑھی جائیں، جب تک جغرافیہ کے علم کے لیے جغرافیہ کی کتابیں نہ پڑھی جائیں اور جب تک تاریخ دانی کے لیے تاریخ کی کتابیں نہ پڑھی جائیں تب تک انسان زبان تک، حساب تک، جغرافیہ تک اور تاریخ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اِسی طرح گو خدا کوئی مادی چیز نہیں مگر اُس تک پہنچنے کے لیے ایک راستہ مقرر ہے۔ اور جس طرح خدا غیر مادی ہے اِسی طرح وہ راستہ بھی غیر مادی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ وہ راستہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کیا جائے اور اُن کو سمجھ کر اپنے اندر جذب کیا جائے۔دنیا کی ہر چیز دوسری چیز کے مشابہ ہو کر ہی اُس تک پہنچ سکتی اور اُس سے پیوست ہوسکتی ہے۔ جو چیز دوسری چیز کے مشابہہ نہ ہو وہ اُس سے پیوست نہیں ہوسکتی۔ تم لکڑی کے ساتھ لوہے اور چمڑے کو تو پیوست کرسکتے ہو کیونکہ ان میں مشابہت پائی جاتی ہے مگر تم لکڑی کے ساتھ ہوا یا پانی کو پیوست نہیں کرسکتے۔ اور اِس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی جنس مختلف ہے۔ لوہے، لکڑی اور چمڑے کی بناوٹ تو مختلف ہے مگر یہ چیزیں آپس میں متشارک ہیں اور گو وہ ایک جنس کی نہیں ہیں مگر ان کی حقیقت مشترک ہے۔ پس دو چیزوں کے اتّصال کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اُن کی آپس میں مشارکت ہو۔ اور جو چیزیں مادی نہیں بلکہ روحانی ہوتی ہیں اُن کی مشارکت بھی روحانی ہی ہوتی ہے۔ پس خدا سے ملنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے ساتھ روحانی مشارکت ہو اور وہ مشارکت یہی ہے کہ انسان اپنے اندر الٰہی صفات پیدا کرے۔ جب کوئی شخص اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات پیدا کر لیتا ہے اور اُس کی محبت کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے تو وہ اپنے اندر الوہیت کا رنگ پیدا کر لیتا ہے۔ اور جب اُس کے اندر الوہیت کا رنگ آ جائے تو اُس کا خدا سے اِتّصال اُسی طرح ممکن ہو جاتا ہے جیسے لکڑی کا لوہے سے۔ اور گو وہ خدا نہیں بن جاتا مگر وہ خدا نما ضرور ہو جاتا ہے۔ لکڑی لوہا نہیں بن سکتی اور لوہا لکڑی نہیں بن سکتا۔ مگر وہ آپس میں جُڑنے کے قابل ہوتے ہیں۔ہوا اور لکڑی یا پانی اور لوہا کبھی ایک نہیں ہوسکتے کیونکہ ان میں مشارکت نہیں پائی جاتی۔ پس خدا کے اِتّصال کے لیے اور اُس کے قرب کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ا نسان اپنے اندر صفات الٰہیہ پیدا کرے اور اُس کی محبت کو اپنے اندر اِتنا جذب کرے کہ وہ خدا کی طرف کھنچنے لگ جائے۔ جس طرح مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے اِسی طرح محبت الٰہی اسے خدا کی طرف کھینچنے لگ جائے گی۔ مگر محبتِ الٰہی اور صفات الٰہیہ کے پیدا کرنے کا بہترین طریق اسلام کے دعوے کے مطابق نماز ہے۔ یہ کوئی منطقی مسئلہ نہیں جس کو ہم منطق سے ثابت کرسکتے ہوں اور نہ ہی یہ کوئی فلسفیانہ مسئلہ ہے کہ ہم اس کو فلسفہ سے ثابت کریں۔ ہم اسلام اور قرآن کو مانتے ہیں اور اسلام اور قرآن ہی ہمیں بتاتے ہیں کہ خدا کے ملنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ اگر ہمِیں1 کہیں کہ نمازخداتک پہنچنے کا ذریعہ نہیں تو ہمارا اخلاقی فرض ہوگا کہ ہم (نَعُوْذُ بِاللّٰہ)اسلام کو چھوڑ دیں۔
    پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ نماز کی پابندی کرے اور زیادہ سے زیادہ پابندی کرے۔ اور ہم میں سے ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو بھی نماز کی پابندی کے لیے مجبور کرے۔ اِسی طرح دوستوں کو بھی نماز کی پابندی کے لیے تلقین کی جائے۔ اور نہ صرف فرض نمازوں کی پابندی کے لیے زور دیا جائے بلکہ نوافل پڑھنے پر بھی زور دیا جائے اور نوافل بھی رات کے نوافل۔ اگر ہماری جماعت پوری طرح اِس پر قائم ہوجائے تو اس کا قدم تیز تیز بڑھے گا اور وہ جلد سے جلد روحانیت کے بلند مقام پر پہنچ جائے گی۔ ہر چیز کے ملنے کا ایک گُر ہوتا ہے اور اسلام نے خدا کے ملنے کا گُر نماز بتایا ہے۔ نماز سے دوسرے درجہ پر اسلام نے زکوٰۃ کو رکھا ہے۔ تیسرے درجہ پر روزہ کورکھا ہے اور چوتھے درجہ پر حج کو رکھا ہے۔ اگر ہم ان درجات پر غور کریں تو ہمیں اِس سے عظیم الشان سبق حاصل ہوتا ہے۔ دیکھ لو! نماز کا درجہ اول رکھا گیا ہے اور اگر اِس کی اہمیت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسان کی ذاتی اصلاح کے لیے ہے۔ زکوٰۃ کا دوسرا درجہ ہے۔ اگر اس کی اہمیت پر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ قومی اصلاح کے لیے ہے۔ اگر روزہ کی اہمیت پر غور کریں تو یہ ذاتی اصلاح کے لیے معلوم ہوتا ہے۔ اور اگر حج کی اہمیت پر غور کریں تو یہ قومی اصلاح کے لیے معلوم ہوتا ہے۔ اس ترتیب سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قومی اصلاح کبھی کامل نہیں ہوسکتی جب تک ذاتی اصلاح نہ کی جائے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ قومی اصلاح ذاتی اصلاح کے بغیر بھی ہوسکتی ہے وہ بالکل غلط کہتے ہیں۔ کیونکہ ذاتی اصلاح پہلا قدم ہے اور قومی اصلاح دوسرا قدم۔ اور کوئی شخص دوسرا قدم نہیں اٹھا سکتا جب تک وہ پہلا قدم نہ اٹھا لے۔جو شخص کہتا ہے کہ مَیں نے پہلا قدم اٹھائے بغیر دوسرا قدم اٹھا لیا ہے وہ پاگل ہے۔ جس طرح پہلا قدم اٹھائے بغیر دوسرا نہیں اٹھایا جاسکتا۔ اِسی طرح قومی اصلاح کا کام مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس کے لیے پہلا قدم نہ اٹھا لیا جائے۔ جو شخص زکوٰۃ تو ادا کرتا ہے مگر نماز نہیں پڑھتا اس کی اصلاح نامکمل ہے۔ اور وہ مکمل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زکوٰۃ سے پہلا قدم نہ اٹھا لے۔ اِسی طرح جو شخص زکوٰۃ اور نماز روزہ میں لگا رہا اور باوجود استطاعت کے اُس نے حج نہ کیا اُس نے بھی اپنی اصلاح کو مکمل نہیں کیا کیونکہ باوجود استطاعت کے اُس نے حج نہ کیا۔ ایسے شخص کی زکوٰۃ بھی بے کار گئی اور نماز روزہ بھی بیکار گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مقدم قرار دیا ہے نماز کو زکوٰۃ پر اور روزہ کو حج پر۔ گویا ذاتی اصلاح کو قومی اصلاح پر آپ نے مقدم قرار دیا ہے اور اِس طرح آپ نے یہ حقیقت ذہن نشین کی ہے کہ۔2 پس نماز بھی ضروری ہے اور زکوٰۃ بھی، روزہ بھی ضروری ہے اور حج بھی۔ گویا انفرادی اصلاح بھی ضروری ہے اور قومی بھی۔ لیکن اگر کوئی موقع ایسا آ جائے کہ ذاتی اصلاح کا ٹکراؤ قومی اصلاح سے ہو جائے تو اُس وقت حکم یہ ہے کہ۔ اگر تمہاری ذاتی عبادتوں کا ٹکراؤ قومی عبادتوں سے ہو جائے تو تم قومی عبادت کو چھوڑ دو اور ذاتی عبادت کو مقدم رکھو۔ اگر نماز کے مقابلہ میں کوئی قومی کام آ جائے تو قومی کام چھوڑ کر نماز کو ادا کرو۔ اور اگر روزہ کے مقابلہ میں کوئی قومی کام آ جائے تو روزہ کو رکھو اور قومی کام چھوڑ دو۔ مگر یہاں قومی ذمہ داری سے مراد وہی ذمہ داری ہے جو دین سے تعلق رکھتی ہو۔ اور ذاتی ذمہ داری سے بھی مراد وہی ذمہ داری ہے جو دین سے تعلق رکھتی ہو۔ ہاں بعض مستثنیات بھی اِس میں ہوتی ہیں یعنی ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تاخّر اور تقدّم شریعت کے حکم کے مطابق ہوسکتا ہے۔ مثلاً اگر کسی کے گھر میں آگ لگ جائے اور ایسے وقت میں لگے کہ ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو اُس کے لیے حکم ہے کہ وہ نماز بعد میں پڑھے اور پہلے آگ کو بجھائے۔ کیونکہ اصل جُزو ایمان کا عبادت ہے جو ایک گھنٹہ بعد بھی ہوسکتی ہے۔ عبادت کا بالکل ترک کر دینا ناجائز ہے مگر اُس کا اشد ضرورت کے موقع پر آگے پیچھے کرنا ناجائز نہیں۔ پس مَیں جماعت کو پھر اِس خطبہ کے ذریعہ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نماز کی پوری طرح پابندی کرے۔ اور مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسا اصولی مسئلہ ہے کہ اس کی طرف ہمیشہ ہی توجہ دلاتے رہنا چاہیے۔ اور صرف مجھے ہی نہیں بلکہ جماعت کے تمام دوستوں کو اپنے اردگرد والوں کو توجہ دلاتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ اسلام اور قرآن کی تعلیم کے مطابق مومن وہی ہوتا ہے جو 3پر عمل کرے اور جو نماز کو گرنے نہ دے بلکہ اُسے قائم رکھے اور کھڑا رکھے کیونکہ کے معنے کھڑا کرنے والوں کے ہوتے ہیں۔ پس اگر تم چاہتے ہو کہ تم مومن بن جاؤ تو نماز کی پابندی اختیار کرو۔ اور اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا خاندان ایسا مومن بن جائے تو اپنے خاندان کو نماز کی پابندی کے لیے توجہ دلاتے رہو۔ اِسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ ہماری ساری جماعت مومن بن جائے تو اپنے اردگرد کے لوگوں اور دوستوں کو نماز کی پابندی کی تلقین کرتے رہو"۔
    (الفضل 8 فروری 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    ہمِیں: ہم ہی کا مخفف ( فیروز اللغات اردو)
    2
    :
    المائدۃ:106
    3
    :
    البقرۃ:4


    یہ زمانہ ہماری جماعت کے لیے
    خاص قربانیوں کا زمانہ ہے
    (فرمودہ16جنوری 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "گزشتہ سفر میں شاید ہوا لگ جانے کی وجہ سے میری طبیعت کل سے زیادہ خراب ہے۔ اِسی لیے کل مَیں نمازوں میں بھی نہ آسکا۔ آج صبح طبیعت اچھی تھی لیکن اِس وقت پھر حرارت کی وجہ سے تکلیف ہو رہی ہے۔ اِس لیے آج مَیں جمعہ اور عصر کی نمازیں بھی جمع کرکے پڑھاؤں گا اور خطبہ بھی طبعاً مختصر ہی دے سکتا ہوں۔
    دنیا میں ایک قانونِ قدرت ہے جو اُس کے ہر شعبہ میں کام کرتا ہوا ہمیں نظر آتا ہے۔ وہ قانونِ قدرت یہ ہے کہ ہر چیز کے متعلق ایک زمانہ اُس کے بونے کا ہوتا ہے اور ایک زمانہ اُس کے کاٹنے کا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا قانونِ قدرت ہے جو دنیا کی ہر چیز میں ہمیں کارفرما نظر آتا ہے۔ درخت ہیں تو اُن کے لیے بھی سال میں ایک زمانہ بونے کا ہوتا ہے تو دوسرا کاٹنے کا۔ فصلیں ہیں تو اُن کے لیے بھی سال میں ایک بونے کا زمانہ آتا ہے اور دوسرا کاٹنے کا۔ اِسی طرح انسانوں کی حالت ہے۔ انسان بھی اسی طرح بویا جاتا اور کاٹا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تو انسان پر ایسا آتا ہے کہ وہ اپنے اندر نسل پیدا کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ مگر پھر ایک زمانہ اُس پرایسا بھی آتا ہے کہ یہ قابلیت اُس کے اندر سے مفقود ہو جاتی ہے اور اُس وقت وہ اپنی پہلی پیدا شدہ نسل سے ہی فائدہ اُٹھا رہا ہوتا ہے یا نقصانات برداشت کر رہا ہوتا ہے۔ یعنی ایک نسل جو اُس نے بوئی تھی اُس کی نیک یا بد تربیت کرنے کی وجہ سے اُسے اجر یا سزا مل رہی ہوتی ہے۔ اگر اُس نے اپنی نسل کی تربیت اچھی کی ہوئی ہو تو اُسے نیک پھل ملتا ہے اور اگر تربیت اچھی نہ کی ہوئی ہو تو وہ اُس کا خمیازہ بھگتتاہے۔ اِسی طرح قوموں کی بھی حالت ہوتی ہے۔ اُن کے لیے بھی ایک زمانہ بونے کا اور ایک زمانہ کاٹنے کا مقدر ہوتا ہے۔ قوموں کے بونے کا زمانہ تو وہ ہوتا ہے جب قومیں اپنی بقا کے لیے قربانیاں کرتی ہیں اور کاٹنے کا زمانہ وہ ہوتا ہے جب وہ اپنی قربانیوں سے فائدہ اُٹھا رہی ہوتی ہیں۔ انبیاء کی جماعتوں کا ابتدائی زمانہ بونے کا ہوتا ہے اور آخری زمانہ کاٹنے کا ہوتا ہے یعنی انبیاء کی جماعتوں کا ابتدائی زمانہ جماعت کے افراد سے انفرادی اور اجتماعی قربانیوں کا متقاضی ہوتا ہے مگر اس قربانیوں کے زمانہ میں بھی الگ الگ دَور ہوتے ہیں۔ کوئی دَور تو ایسا آ جاتا ہے کہ وہ قربانیوں کی انتہا چاہتا ہے اور کوئی دَور ایسا آ جاتا ہے کہ قربانیوں کی گو ضرورت تو ہوتی ہے مگر کم۔ گویا یہ قربانیوں کے زمانے لہروں کی طرح آتے ہیں۔ کبھی یہ لہریں اونچی اُٹھنے لگتی ہیں اور کبھی نیچی ہو جاتی ہیں۔ ہماری جماعت کے لیے بھی یہ زمانہ دوسروں کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور بہت زیادہ محنت اور توجہ کے ساتھ بونے کا زمانہ ہے۔ اِس لیے یہ زمانہ ہم سے زیادہ سے زیادہ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ کیا اس لحاظ سے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب ہونے کی وجہ سے ابتدائی زمانہ میں سے گزر رہے ہیں اور کیا اِس لحاظ سے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اِس ابتدائی زمانہ کو لمبا کرتا چلا جا رہا ہے۔
    مصلح موعود کی پیشگوئی کے معنی ہی یہ تھے کہ حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کو لمبا کر دیا جائے۔ گو اِس زمانہ کے لمبا ہونے کی وجہ سے ہمیں بہت زیادہ قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہوگی۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ثو اب بھی ہمیشہ اُنہی زمانوں کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے ابتدائی زمانوں میں قربانیاں کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ ثواب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ زمانہ بالکل اُسی طرح لمبا کر دیا ہے جیسے حضرت موسٰی علیہ السلام کے لیے کیا تھا۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰیؑ کے زمانہ کو یوشعؑ نبی تک لمبا کر دیا تھا۔ اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ مصلح موعود کی پیشگوئی کرا کر یہ بتا دیا کہ یہ زمانہ مصلح موعود کے زمانہ تک لمبا ہو جائے گا۔ پس یہ زمانہ ہماری جماعت کے لیے خاص قربانیوں کا زمانہ ہے۔ اور جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے ہمارے زمانہ میں قربانیوں کے لحاظ سے لہریں پیدا ہو رہی ہیں اور موجودہ لہر تو بہت زیادہ بلندی تک چلی گئی ہے اور ہماری جماعت کو ایسے ابتلاء اور ایسی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے جن کی مثال ہماری گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ بے شک پہلے بھی ہماری جماعت پر ابتلاء آتے رہے مگر وہ ابتلاء محدود ہوتے تھے مگر موجودہ ابتلاء ایسا ہے جس میں جماعت کو علاوہ دیگر نقصانات کے ایک بڑا بھاری نقصان یہ بھی پہنچا ہے کہ جماعت کا بیشتر حصہ مرکزی مقام سے کٹا ہوا ہے۔ پس یہ زمانہ ہم سے زیادہ سے زیادہ قربانیاں چاہتا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ زمانہ ہماری انفرادی اور قومی اصلاح کا بھی تقاضا کر رہا ہے کیونکہ ہر قسم کی اقتصادی مشکلات کا ایک سیلاب ہے جو ہم پر اُمڈا چلا آرہا ہے۔ ہم اپنے مرکز سے دُور ہو چکے ہیں۔ نہ ہمارے پاس دفاتر بنانے کے لیے کوئی جگہ ہے اور نہ اپنے کارکنوں کے ٹھہرانے کے لیے کوئی جگہ ہے۔ نہ ہمارے پاس کوئی ایسی جگہ ہے جہاں ہم سارے اداروں کو اکٹھا رکھ سکیں اور نہ ہی کوئی ایسی جگہ ہمارے پاس موجود ہے جہاں ہم باہر کی جماعتوں کو بار باربُلا کر ٹھہرا سکیں۔ پھر ہماری جماعت کا معتدبہ حصہ تہی دست ہو چکا ہے اور اِسی لیے ہمارے چندوں میں بھی کمی واقع ہو گئی ہے۔ گویا اِس وقت ہماری مشینری کی کوئی کل بھی ٹھیک نہیں رہی اور کوئی پُرزہ بھی اپنی چُول میں ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ ہر کل اور ہر چُول ڈھیلی ہو چکی ہے اور ہر سامان بِگڑ ا ہوا ہے۔ اِس وقت دنیا کی کوئی اَور جماعت ہوتی تو اُسے بہت زیادہ پریشانی لاحق ہوتی مگر ہماری جماعت کے لیے یہ وقت پریشانی کے خیالات کو لے کر بیٹھ جانے کا نہیں بلکہ قربانیوں کے مظاہرے کا وقت ہے۔ اِس وقت جماعت کا کچھ حصہ تو ایسا ہے جو اپنی قربانیوں میں اضافہ کرکے یہ ثابت کر رہا ہے کہ اُس کا قدم آگے کی طرف اُٹھ رہا ہے مگر کچھ حصہ یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ اُس نے اِس عظیم الشان تغیر کو ایک کھیل سے زیادہ وقعت نہیں دی۔ یا تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس حصہ کے اندر احساس کی کمی ہے اور یا یہ سمجھا جائے گا کہ اُس کے اندر ایمان کی کمی ہے اور عقل کے ہوتے ہوئے بھی اُس نے غور نہیں کیا کہ یہ تغیر ہم سے کیا چاہتا ہے۔ اِس حصہ کو چھوڑ کر باقی جماعت اخلاص اور قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کر رہی ہے اور ہر شہر اور ہر قصبہ میں اخلاص دکھانے والے موجود ہیں۔ اِسی طرح ایشیا، یورپ اور امریکہ اور انڈونیشیا کی جماعتیں بھی قربانی کا شاندار مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہ اخلاص کا نمونہ دکھانے والے ہمارے لیے اِس خوشخبری کا پیش خیمہ ہیں کہ آہستہ آہستہ جماعت ایک ایسے مقام پرجا پہنچے گی جس پر پہنچنا خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔ بہرحال جماعت کو قربانیوں کی طرف اور اُس کے فرائض کی طرف توجہ دلانا اور اُس کو اُبھارنا میرا اور جماعت کے ہر کارکن کا فرض ہے۔
    گزشتہ ایام میں مَیں نے تحریک جدید کے چودھویں سال کا اعلان کیا تھا مگر اُس کے متعلق باربار دفتر کی طرف سے مجھے یہ رپورٹ ملی ہے کہ اِس سال گزشتہ سال کی نسبت وعدوں میں بہت زیادہ کمی ہے۔ اِس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ جماعت میں سے چالیس فیصدی لوگ غریب ہو چکے ہیں۔ اُن کی جائیدادیں جاتی رہیں۔ اُن کی تجارتیں تباہ ہو گئیں اور اُن کے املاک و اسباب چھِن گئے اور وہ اِس وقت کنگالی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور اگر وہ تھوڑا بہت کماتے بھی ہیں تو بڑی مشکل سے وہ اپنے لیے بستر یا کپڑے یا خورونوش کا انتظام کرتے ہیں۔ لیکن جہاں کمی کی یہ وجہ موجود ہے وہاں ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ جماعت کا ساٹھ فیصدی حصہ ایسا ہے جس پر کوئی مصیبت نہیں آئی اور خدا تعالیٰ نے اُنہیں تباہی اور بربادی سے بچا لیا ہے۔ اگر یہ ساٹھ فیصدی تباہی سے بچ جانے والا حصہ اِس نکتہ کو سمجھتا اور وہ اپنے تباہ شدہ چالیس فیصدی بھائیوں کا بوجھ اُٹھا لیتا تو اِس کمی کو دور کیا جا سکتا تھا اور وہ حصہ سلسلہ کے لیے مفید ثابت ہوسکتا تھا۔ مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس ساٹھ فیصدی حصہ نے جو تباہی سے سو فیصدی بچا رہا اپنے فرائض کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ پھر تحریک جدید کے چودھویں سال میں وعدے پیش کرنے والوں میں اُن لوگوں کے وعدے بھی شامل ہیں جن کی ساری جائیدادیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اُنہوں نے یہ وعدے اس لیے پیش نہیںکیے کہ اُن کے پاس اِن وعدوں کے پورا کرنے کے سامان موجود ہیں بلکہ اُنہوں نے میرے کہنے پر اپنے وعدے پیش کر دئیے ہیں۔ اِس اُمیدپر کہ شاید خدا تعالیٰ اُنہیں وعدوں کے پورا کرنے کی توفیق دے دے۔ اور یہ تو خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں کی حالت اِس سال درست ہو گی یا اگلے سال یا چند سالوں میں جا کر ہو گی۔ بہرحال چودھویں سال کے وعدوں میں سے ایسے لوگوں کے وعدے جو شاید بیس یا پچیس فیصدی ہوں گے کم کر دینے پڑیں گے۔ اِس لیے کہ شاید وہ لوگ اپنے وعدوں کو پورا نہ کرسکیں۔ اگر ان وعدوں کو بھی کم کر دیا جائے تو باقی وعدوں کی تعداد بہت تھوڑی رہ جاتی ہے۔ پس مَیں جماعت کے اُن دوستوں کو جن پر وہ آفت نہیں آئی جو مشرقی پنجاب کے احمدیوں پر آئی تھی اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے بھجوائیں اور زیادہ سے زیادہ بھجوائیں اور جلد سے جلد اُنہیں پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اِس کے ساتھ ہی پچھلے سال کے وعدوں میں سے جو ایک لاکھ کے وعدے ابھی تک وصول ہونے باقی ہیں۔ اُن کو بھی پورا کریں۔ تحریک جدید کے وعدوں کی کمی کے ساتھ ہی صدر انجمن احمدیہ کے چندوں میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ صورت حال نہایت خطرناک ہے۔ کیونکہ سلسلہ گزشتہ مہینوں میں دو تین لاکھ کا مقروض ہو چکا ہے۔ اگر جماعت نے اپنے فرائض کو نہ پہچانا اور اِس کمی کو پورا کرنے کی طرف توجہ نہ کی تو دو چار مہینوں کے اندر سلسلہ کے دیوالیہ ہو جانے کا خطرہ نظر آ رہا ہے۔ یہ تو مجھے یقین ہے اور میری قریباً ساٹھ سالہ عمر کا تجربہ بتا رہا ہے کہ سلسلہ کبھی دیوالیہ نہیں ہو گا۔ مگر مجھے ڈر ہے کہ قربانیوں اور چندوں میں سستی دکھانے والے دیوالیہ نہ ہو جائیں۔
    ایک لمبا تجربہ میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ایک لمبا زمانہ ہماری جماعت کی مخالفت میں مولویوں نے بھی زور لگایا اورحکومت نے بھی، عیسائیوں نے بھی زور لگایا اور آریوں نے بھی۔ہندوؤں نے بھی زور لگایا اور سکھوں نے بھی۔ اور یکے بعد دیگرے مخالفت کے بیسیوں طوفان آئے۔ سینکڑوں گھٹائیں اُٹھیں۔ مگر عین اُس وقت جب کہ جماعت کو کوئی راستہ کامیابی کا نظر نہ آتا تھا۔ خدا تعالیٰ نے ہمیشہ ہی مجھے اور جماعت کو کامیاب بنایا اور مخالفین کو نیچا دکھایا اور مخالفت کے وہ خوفناک بادل جن کے متعلق یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ کبھی دُور نہیں ہوں گے خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ ہی آپ چھٹ جاتے رہے۔ پس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مایوس نہیں ہوں۔ اور اِس وقت بھی صرف یہی ایک راستہ مجھے نظر آ رہا ہے کہ وہ خدا جو ہمیشہ میرا اور ہماری جماعت کا ساتھ دیتا رہا وہ اب بھی اپنی ساری قوتوں کے ساتھ موجود ہے اور اُس کی سنت ہمیں بتاتی ہے بلکہ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اب بھی وہ ہماری مدد کرے گا۔ پس خدائی سنت کے ماتحت تو ہمیں کامیابی کا پورا پورا یقین ہے مگر اپنے مادی اسباب کے ذریعہ ہمیں کامیابی کی کوئی امید نہیں۔ کیونکہ مادی اسباب کو مہیا کرنے کا کام جماعت کے کندھوں پر ہے اور جماعت نے اُس حد تک اپنے فرض کو نہیں پہچانا جس حد تک پہچاننا چاہیے تھا۔ اِس لیے مَیں ڈر رہا ہوں کہ جماعت کے وہ لوگ جو اِس عظیم الشان تغیر سے سبق حاصل نہ کرتے ہوئے سُستیوں کو نہیں چھوڑتے وہ کہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد نہ بن جائیں۔
    میری مثال اِس وقت اُس عورت کی سی ہے جس کی ایک لڑکی کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری مالیوں کے ہاں۔ جب کبھی بادل اُسے آسمان پر نظر آتے تھے تو وہ عورت گھبراہٹ کی حالت میں اِدھر ُادھر پھرتی اور کہتی کہ میری دونوں بیٹیوں میں سے ایک کی خیر نہیں۔ یعنی اگر بادل برس گیا تو وہ لڑکی جو کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی ہے اُس کے مٹی کے برتنوں کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ اور اگر بادل نہ برسا تو وہ لڑکی جو مالیوں کے ہاں بیاہی ہوئی ہے اس کے باغ کے پودوں اور سبزیوں کے خشک ہو جانے کا خطرہ ہے۔ مَیں بھی جب اِن حالات پر غور کرتا ہوں تو میری حالت بالکل اُس عورت کی سی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جب مَیں سوچتا ہوں کہ سلسلہ کو اِس وقت فلاں فلاں مشکلات کا سامنا ہے تو میرا دل سلسلہ کی وجہ سے گھبرا اُٹھتا ہے مگر جب مَیں گزشتہ لمبے تجربہ کی بناء پر خدا تعالیٰ کی سنت اور اُس کے سلوک کو دیکھتا ہوں تو مجھے اِن سُستی دکھانے والے لوگوں کے انجام کی وجہ سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ جب خدا تعالیٰ سلسلہ کو اِن تمام مصائب اور ابتلاؤں سے نکال لے گا تو اِن سُستی دکھانے والوں کو مصائب میں ڈال دے گا۔ پس کبھی ایک صدمہ میرے دل پر طاری ہو جاتا ہے اور کبھی دوسرا۔ کیونکہ قدرتی طور پر مجھے اُن لوگوں سے جنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کرکے سلسلہ میں شمولیت اختیار کی ہے محبت اور اُنس ہے۔ یوں تو سلسلہ پر میرا کوئی عزیز سے عزیز بھی قربان ہو جائے تو مجھے ہر گز پروا نہ ہوگی۔ مگر ایک شخص کے میرے ہاتھ پر بیعت کرکے سلسلہ میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھے جو محبت اور پیار اُس کے ساتھ ہوتا ہے اُس سے مَیں مجبور ہوں کہ مَیں اُسے توجہ دلاؤں کہ وہ اپنے حالات کو درست کرے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچا لے۔ اور ساتھ ہی وہ مایوس بھی نہ ہو کہ جماعت کا اب کیا بنے گا۔ بلکہ وہ سمجھ لے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے گزشتہ ساٹھ سالوں میں جماعت کو مخالفتوں کے باوجود بڑھایا ہے اُسی طرح اب بھی وہ بڑھائے گا۔ بلکہ یہ تو ممکن ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے نکل آئے مگر یہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا سلسلہ درہم برہم ہو جائے۔ خدا تعالیٰ کی باتیں ضرور پوری ہو کر رہیں گی۔ اور اِس طرح پوری ہوں گی کہ دشمن حیرت کے ساتھ کہے گا کہ یہ بھی کوئی ابتلاء تھا جو اِس جماعت پر آیا۔ ایسے معمولی ابتلاؤں میں سے تو لوگ بچ کر نکلا ہی کرتے ہیں‘‘۔
    (الفضل 12 فروری1948ئ)

    انبیاء کی جماعتیں مادی ذرائع سے نہیں
    بلکہ تائیدِ الٰہی اور توکّل باللہ سے کامیاب ہوا کرتی ہیں
    (فرمودہ23جنوری 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مَیں نے پہلے بھی کئی بار جماعت کو اِس طرف توجہ دلائی ہے کہ آسمانی جماعتوں اور زمینی جماعتوں میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔آسمانی جماعتوں کا طریقِ کار اَور ہوتا ہے اور زمینی جماعتوں کا طریقِ کار اَور ہوتا ہے۔ زمینی اور دنیوی جماعتیں آسمانی جماعتوں کے طریقِ کار کو استعمال کر ہی نہیں سکتیں۔ اِس لیے آسمانی جماعتوں کا انحصار اللہ تعالیٰ کی تائید اور توکّل پر ہوتا ہے۔ اور دنیوی جماعتیں اگر توکل پر انحصار رکھنے لگیں تو اُن کی تباہی اور بربادی میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ اِسی طرح اگر آسمانی جماعتیں اپنے مادی ذرائع پر انحصار رکھیں جنہیں زمینی جماعتیں اختیار کرتی ہیں تو ان کی تباہی اور بربادی میں بھی کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اُن کے ذمہ جو کام لگایا جاتا ہے وہ سوائے اللہ تعالیٰ کی مدد اور توکّل کے ہو ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ِان دونوں جماعتوں کے نظریے بالکل جُداگانہ نظر آتے ہیں۔ جہاں آسمانی جماعتوں نے بعض بڑے بڑے کام کیے ہیں وہاں مادی اور زمینی جماعتوں نے بھی بعض بڑے بڑے کام سرانجام دئیے ہیں۔ لیکن اِن دونوں کا طریقِ کار اتنا متبائن اور اِتنا مختلف ہے کہ اِن میں کسی قسم کی مشابہت پائی نہیں جاتی۔ اگر دنیا میں ایک ہی نبی آیا ہوتا تو اُس کے ساتھ اور اُس کی جماعت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے سلوک کو دیکھ کر ہم اِس غلط فہمی میں مبتلاہوسکتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا معاملہ اُس کے ساتھ استثنائی تھا لیکن جب دنیا میں بعض روایات کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار نبی آئے۔ بلکہ ایک لاکھ بیس ہزار کا سوال جانے دو اُنہی انبیاء کے حالات کا مطالعہ کرو جن کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے جو ایک یا دو نہیں بلکہ ایک درجن سے بھی زیادہ ہیں اور دو درجن کے قریب ہیں۔ پھر ان کے علاوہ بعض ایسے انبیاء بھی گزرے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں آتا۔ مگر قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہم مجبور ہیں کہ ان کے حالات اور کام کو دیکھتے ہوئے اُنہیں نبی سمجھیں۔ جیسے ہندوستان میں رامؑ اور کرشنؑ، ایران میں زرتشتؑ، چین میں کنفیوشسؑ، عرب میں خالد1، یونان میں سقراط۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیوں کے حالات قرآن کریم کے بتائے ہوئے نبیوں کے حالات کے مطابق ہیں۔ اس لیے ہم قرآن کریم کے اصول کے پیش نظر ان کو نبی ماننے کے لیے مجبور ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں دنیا کو خدا کی طرف توجہ دلائی اور ہزاروں لاکھوں لوگوں کو گمراہی اور ضلالت سے بچایا۔ دنیا نے ان کے ساتھ دشمنی کی، انہیں ایذائیں پہنچائیں اور انہیں دکھ دئیے مگر انہوں نے خدا کی خاطر یہ سب تکلیفیں برداشت کیں۔ پس ایک یا دو نبیوں کا سوال نہیں بلکہ متعدد انبیاء ایسے گزرے ہیں جن کے واقعات تاریخی طور پر ہم تک پہنچے ہیں۔ ان کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہم مجبور ہیں کہ ان سب کو یکساں نبی مانیں کیونکہ ان سب کی زندگیاں اور ان کے متبعین کی زندگیاں بتاتی ہیں کہ وہ لوگ مادی ذرائع سے الگ ہو کر کام کرتے رہے۔
    مَیں جماعت کو متواتر توجہ دلا رہا ہوں اور آج بھی اِسی امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انبیاء کی جماعتیں مادی ذرائع سے نہیں بلکہ تائید الٰہی اور توکّل بِاللہ سے کامیاب ہوا کرتی ہیں۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت جس زمانہ اور جن حالات میں سے گزر رہی ہے اِس سے پیشتر کسی زمانہ میں بھی اِتنا غلبہ مادیت کا نہیں ہوا تھا۔ اِس لیے ضروری ہے کہ ہماری جماعت مادیت سے بچنے کے لیے پورا زور لگائے اور کوشش کرے کہ وہ مادیت کے اثرات سے بچی رہے۔ہم سے پہلی جماعتوں کو بھی مادیت کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر ہمارے زمانہ میںمادیت کو جو غلبہ حاصل ہے اس کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں مل سکتی۔ اِس لیے ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ اگر ہم نے اپنے آپ کو مادیت کے اثرات سے کلی طور پر محفوظ کر لیا تو خدا تعالیٰ ہمیں اُن جماعتوں کی نسبت ثواب بھی زیادہ دے گا۔ یہ دو باتیں تو مَیں تسلیم کرتا ہوں کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ہمارا کام بہت زیادہ مشکل ہے اور اگر ہم اس کام کو کر لیں جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے تو بِلاشُبہ ہمیں ثواب بھی پہلی جماعتوں سے زیادہ ملے گا۔ کیونکہ ان کو اتنی قربانیاں نہیں کرنی پڑی تھیں جتنی کہ ہمیں کرنی پڑیں گی۔ لیکن مَیں اِس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ ہم اُن طریقوں کو استعمال نہ کریں جن کو پہلی جماعتوں نے استعمال کیا تھا اور ہم کامیاب ہو جائیں۔
    خدا تعالیٰ نے بچہ کی پیدائش کے لیے مرد اور عورت کا باہمی اتحاد مقرر فرمایا ہے۔ اگر ایک مومن جو کھاتا پیتا اور خوشحال ہو اِس نیت کے ساتھ شادی کرے کہ خدا تعالیٰ نے شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے کا حکم دے رکھا ہے تو وہ ثواب کا ضرور مستحق ہے۔ لیکن اگر ایک غریب آدمی خدا تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنی غربت اور افلاس کی وجہ سے اِس ارادہ میں ناکام رہتا ہے مگر پھر وہ بہت زیادہ کوشش کرکے خدا تعالیٰ کے حکم پورا کرتا ہے تو ہم کہیں گے کہ وہ اُس امیر کی نسبت بہت زیادہ ثواب کا مستحق ہے۔ لیکن بچے پیدا کرنے کا جو قانون خدا تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے وہ کبھی نہیں بدل سکتا۔ بچے پیدا ہونے کے لیے عورت اور مرد کا باہمی اتحاد مقرر ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص چونکہ غریب ہے اِس لیے اُس کے لیے درختوں سے بچے پیدا ہونے شروع ہو جائیں تو یہ ناممکن بات ہے۔ یہ دونوں باتیں تو صحیح ہیں کہ اُس امیر نے بھی خدا تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے شادی کی اور اِس غریب نے بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے شادی کی گو مشیّتِ الٰہی کے ماتحت اِس کی شادی دیر میں ہوئی لیکن چونکہ وہ نیت یہی رکھتا تھا کہ خدا تعالیٰ کے حکم کو پورا کرے اِس لیے وہ امیر کی نسبت زیادہ ثواب کا حقدار ہوگا کیونکہ اِسے اِس حکم کے پورا کرنے کے لیے امیر سے بہت زیادہ کوشش اور قربانی کرنی پڑی۔ یہاں تک تو صحیح ہے۔ لیکن بچے پیدا کرنے کا قانون نہیں بدل سکتا۔ اِسی طرح جو قربانی پہلے انبیاء کی جماعتوں کو کرنی پڑی ہے اُس سے کہیں زیادہ قربانی ہمیں کرنی پڑے گی۔ اور ہم میں سے جو لوگ اپنے آپ کو مادیت سے محفوظ رکھیں گے اُن کو ثواب بھی پہلوں کی نسبت زیادہ ملے گا۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ کسی نہ کسی حد تک ہم مغربیت کی تقلید ضرور کریں گے تو یہ ناممکن ہے کہ ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکیں۔ جس طرح ایک غریب کے گھر میں باوجود اِس کے کہ اُسے خدا کے حکم کو پورا کرنے کے لیے زیادہ کوشش اور قربانی کرنی پڑے گی درختوں سے بچے پیدا نہیں ہوتے اِسی طرح جب تک ہم بھی اُن ذرائع سے کام نہ لیں گے جو خدا تعالیٰ نے آسمانی جماعتوں کی کامیابی کے لیے ضروری قرار دے رکھے ہیں ہمیں بھی کبھی کامیابی حاصل نہ ہوسکے گی۔
    مَیں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت بھی کسی حد تک مغربی تأثرات سے متأثر ہے۔ ساتھ ہی مَیں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنا خاندان بھی مغربی تأثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنے سے پیشتر یہ ضروری ہوتا ہے کہ اپنوں کو سمجھایا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 2پہلے اپنے اقرباء کو سمجھاؤ۔ آگے ماننا یا نہ ماننا اُن کا کام ہے۔ انگریزی میں بھی مثل مشہور ہے کہ Charity begins at home یعنی صدقہ و خیرات پہلے گھر سے شروع ہوتا ہے۔ اِسی طرح وعظ و نصیحت بھی گھر سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ اگر اقرباء مان جائیں تو بہتر ورنہ اُن کے نہ ماننے کی صورت میں سمجھانے والا بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ آخر حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی نہیں مانا تھا اور بہت سے دوسرے انبیاء کی اولادوں یا اُن کے اقرباء میں بھی اِس قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔ اب اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد میں سے بھی کوئی نہ مانے اور حضرت نوحؑ کی اولاد بننا چاہے تو اُس کی مرضی۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ہمارے اپنے خاندان کے بعض نوجوانوں کے اندر بھی دین کی خاطر وہ رغبت اور شوق نہیں پایا جاتا جس کا اُن کے اندر پایا جانا ضروری ہے۔ ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک ایسا پیغام لے کر آئے تھے جسے ہم نے ساری دنیا تک پہنچانا ہے اور ایسے مخالف حالات میں پہنچانا ہے جو پہلے کسی اَور جماعت کو پیش نہیں آئے۔ اِس لیے ظاہر ہے کہ یہ کام بہت سے آدمی بھی آسانی کے ساتھ سرانجام نہیں دے سکیں گے۔ بہت زیادہ آدمیوں کو بھی بہت زیادہ قربانیاں کرنا پڑیں گے۔ یہ ایک چھوٹا سا اور سیدھا سادھا مسئلہ ہے اس میں کوئی مشکل لایَنحَلْعُقدہ نہیں کہ اڑھائی ارب دنیا کی ہدایت کے لیے اور اس اڑھائی ارب کی ہدایت کے لیے جو مادیات سے بالکل مغلوب ہو چکی ہے بہت زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہے۔
    اِن حالات میں جبکہ اس وقت بہت زیادہ تعداد میں مبلغین کی ضرورت ہے سب سے مقدم فرض قربانی کا خاندانِ حضرت مسیح موعودؑ پر عائد ہوتا ہے لیکن ہمارے خاندان کی جو نئی پَود نکل رہی ہے اُن میں سے کتنے ہیں جو اپنے آپ کو دین کے لیے پیش کرنے کو تیار ہیں؟ ان میں سے کتنے ہیں جن کی زندگیاں دوسرے کی زندگیوں سے متمیز اور متبائن نظر آتی ہیں؟ اور ان میں سے کتنے ہیں جن کی کیفیت ایک مجنون مبلغ کی سی ہے؟ ان میں سے بعض کو جب مَیں کوئی نصیحت کرتا ہوں تو اُن کے بڑے اُن کی تائید میں ہو کر کہتے ہیں کہ دین کا کام تو کریں مگر کھائیں گے کہاں سے؟ یہ سوال دنیوی انجمنوں اور دنیوی اداروں کے لحاظ سے تو ٹھیک ہے کیونکہ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ کوئی دنیوی انجمن قائم نہیں رہ سکتی جب تک وہ دنیاوی قوانین کے مطابق نہ چلے، اور کوئی ادارہ نہیں چل سکتا جب تک وہ دنیوی قوانین کو نہ اپنا لے اور کوئی حکومت نہیں چل سکتی جب تک وہ اپنی رعایا کے خورو نوش کا انتظام نہ کرے۔ اگر کوئی ادارہ رائج الوقت دنیوی قوانین کے خلاف قدم اٹھائے گا تو وہ ناکام رہے گا۔ اگر کوئی انجمن دنیوی ذرائع کو ترک کر دے گی تو وہ قائم نہ رہ سکے گی اور اگر کوئی حکومت اپنی رعایا کا خیال نہ رکھے گی تو وہ دیرپا نہ ہوگی۔ لیکن مذہبی سلسلوں میں اِس قسم کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی سکول یا کالج کے ہیڈماسٹر یا پروفیسر تو نہ تھے کہ آپؑ کے ادارہ یا انجمن کو چلانے کے لیے ہمیں دنیوی قوانین کی اتباع کرنی پڑے۔ بلکہ آپؑ خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک پیغام لے کر آئے تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کہتے ہیں کہ مَیں نے کسی بزرگ کی اولاد کو سات پُشتوں تک فاقوں مرتے نہیں دیکھا۔ پس اگر سات پُشتوں تک بزرگوں کی اولاد کا خداتعالیٰ پر حق ہوتا ہے کہ وہ اسے فاقوں سے نہ مرنے دے تو کیا سات پُشتوں تک بزرگوں کی اولاد پر خدا تعالیٰ کا کوئی حق نہیں ہوتا؟ اُن پر یقیناً دوسروں کی نسبت زیادہ حق ہوتا ہے اور اُن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ کم ازکم سات پُشتوں تک مبلغ بن کر دین کی خدمت کرتے رہیں۔ پھر یہ کہنا کہ اگر وہ دین کی خدمت کریں تو کھائیں گے کہاں سے؟ کیا معنے رکھتا ہے۔ مَیں کہوں گا وہ کھائیں گے اُسی باورچی خانہ سے جس سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے تھے، وہ کھائیں گے اُسی باورچی خانہ سے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کھاتے تھے۔ پھر دُور کیوں جاتے ہو۔ وہ کھائیں گے اُسی باورچی خانہ سے جس سے مَیں کھا رہا ہوں۔
    مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک گھوڑی خرید کر دی تھی۔ درحقیقت وہ خرید تو نہ کی گئی تھی بلکہ تحفۃً بھیجی گئی تھی۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ مَیں نے لڑکوں کو سائیکل پر سواری کرتے دیکھا تو میرے دل میں بھی سائیکل کی سواری کا شوق پیدا ہوا۔ مَیں نے اِس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں کیا۔ آپؑ نے فرمایا مجھے سائیکل کی سواری تو پسند نہیں مَیں تو گھوڑے کی سواری کو مردانہ سواری سمجھتا ہوں۔ مَیں نے کہا اچھا آپ مجھے گھوڑا ہی لے دیں۔ آپؑ نے فرمایا پھر مجھے گھوڑا بھی وہ پسند ہے جو بہت مضبوط اور طاقتور ہو۔ اِس سے غالباً آپؑ کا منشا یہ تھا کہ مَیں اچھا سوار بن جاؤں گا۔ آپؑ نے کپور تھلہ والے عبدالمجید خان صاحب کو لکھا کہ ایک اچھا گھوڑا خرید کر بھجوا دیں۔ خان صاحب کو اِس لیے لکھا کہ اُن کے والد صاحب ریاست کے اصطبل کے انچارج تھے اور اُن کا خاندان گھوڑوں سے اچھا واقف تھا۔ انہوں نے ایک گھوڑی خرید کر تحفۃً بھجوادی اور قیمت نہ لی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے تو چونکہ آپ کی وفات کا اثر لازمی طور پر ہمارے اخراجات پر بھی پڑنا تھا اِس لیے مَیں نے ارادہ کیا کہ اُس گھوڑی کو فروخت کر دیا جائے تاکہ اُس کے اخراجات کا بوجھ والدہ صاحبہ پر نہ پڑے۔ مجھے ایک دوست نے جن کو میرا یہ ارادہ معلوم ہو گیا تھا اور جو اَب بھی زندہ ہیں کہلا بھیجا کہ یہ گھوڑی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تحفہ ہے اسے آپ بالکل فروخت نہ کریں۔ اس وقت میری عمر اُنیس سال کی تھی۔ وہ جگہ جہاں مجھے یہ بات کہی گئی تھی اب تک یاد ہے۔ مَیں اُس وقت ڈھاب کے کنارے تشحیذالاذہان کے دفتر سے جنوب مشرق کی طرف کھڑا تھا جب مجھے یہ کہا گیا کہ یہ گھوڑی حضرت مسیح موعودؑ کا تحفہ ہے اس لیے اسے فروخت نہ کرنا چاہیے۔ تو بغیر سوچے سمجھے معاً میرے منہ سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے کہ بے شک یہ تحفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے مگر اِس سے بھی بڑا تحفہ حضرت اماں جان ہیں۔ مَیں گھوڑی کی خاطر حضرت اماں جان کو تکلیف دینا نہیں چاہتا۔ چنانچہ مَیں نے اُس گھوڑی کو فروخت کردیا۔
    پھر آپ کی وفات کے بعد ہماری زمینوں وغیرہ کا انتظام ہمارے نانا جان مرحوم کیا کرتے تھے۔ وہ کسی بات پر والدہ صاحبہ سے ناراض ہوگئے۔ مَیں مسجد مبارک والے چوک میں کھڑا تھا کہ میرصاحب مرحوم ہماری زمینوں کے حساب کتاب والا رجسٹر ہاتھ میں لیے ہوئے آئے۔ آتے ہی رجسٹر میرے ہاتھ میں دے کر کہنے لگے لو! یہ زمینوں کا انتظام خود سنبھالو۔ میری اس وقت یہ حالت تھی کہ مَیں نہیں جانتا تھا کہ زمین کیا ہوتی ہے اور اُس کا انتظام کس طرح کیا جاتا ہے۔ اِس لیے اُن کا میرے ہاتھ میں رجسٹر دینا ایسا ہی تھا جیسے مجھ پر بجلی گر پڑی ہو۔ مَیں نے رجسٹر اُن کے ہاتھ سے لے لیا اور چل پڑا۔ مَیں نے خیال کیا کہ مَیں خود اِس رجسٹر کے متعلق کچھ جانتا نہیں اور یہ رجسٹر والدہ صاحبہ کے سپرد کرنا اور کہنا کہ آپ یہ انتظام سنبھالیں یہ بھی نامردی ہے۔ یہی سوچ و بچار کرتا ہوا مَیں تشحیذالاذہان کے دفتر میں چلا گیا۔ قاضی اکمل صاحب وہاں بیٹھے کام کر رہے تھے۔ مَیں اُن کے پاس بیٹھ گیا۔ رجسٹر میرے ہاتھ میں تھا مگر مجھے اتنا بھی علم نہ تھا کہ ساری جائیداد کی قیمت ایک پیسہ ہے یا ایک لاکھ روپیہ ہے، اس کی آمد ایک آنہ ہے یا ایک ہزار روپیہ ہے یا دس ہزار روپیہ ہے۔ مَیں گھبراہٹ کی حالت میں بیٹھا ہوا اُس انتظام کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ابھی مجھے وہاں بیٹھے دس یا پندرہ منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک شخص دفتر میں آیا اور آتے ہی کہنے لگا مَیں نے سنا ہے کہ آپ کو اپنی زمینوں کے انتظام کے لیے ایک آدمی کی ضرورت ہے۔ مَیں نے کہا ضرورت تو ہے۔ مگر یہ کہتے وقت مَیں نے خیال کیا کہ ضرورت تو بے شک ہے مگر اِس کی تنخواہ کہاں سے آئے گی؟چنانچہ مَیں نے پھر اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ضرورت تو ہمیں ایک آدمی کی ضرور ہے مگر اُس کی تنخواہ کا معاملہ ابھی تک زیر غور ہے۔ اِس کے متعلق جب تک سوچ نہ لیا جائے کسی آدمی کو مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ اُس نے کہا آپ جو چاہیں مجھے دے دیں مجھے منظور ہوگا۔ (مجھے جو چاہیں دے دیں، کے الفاظ سے بچپن کے زمانہ سے چِڑ ہے اور اگر سودا خریدتے وقت کوئی دکاندار مجھ سے کہہ دیا کرتا تھا کہ جو چاہیں دے دیں تو مجھے بہت بُرا محسوس ہوا کرتا تھا۔) چنانچہ مَیں نے اُن سے کہا آپ مجھے اپنا مطالبہ بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ اُنہوں نے کہا دس روپے ماہوار دے دیا کریں۔ مَیں نے خیال کیا کہ اگر ہماری واقعی زمین ہے اور اس کی آمد بھی ہوتی ہے تو دس روپے تو ضرور آ ہی جاتے ہوں گے۔ یہ سوچ کر مَیں نے رجسٹر اُسی وقت اُن کے ہاتھ میں دے دیا۔
    حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جب قرآن کریم کے ترجمہ کا کام ہم نے شروع کرنا چاہا تو سوال پیدا ہوا کہ اس کے اخراجات کے لیے روپیہ کہاں سے آئے گا۔ مَیں الفضل کے دفتر میں بیٹھا ہوا اِس کے متعلق سوچ رہا تھا میرا دل چاہا کہ اِس کارخیر میں روپیہ اپنے پاس سے لگانا چاہیے تاکہ ہمیں ثواب ملتا رہے۔ مگر اس کے لیے بھی روپیہ کا سوال تھا مگر مَیں نے ارادہ کر لیا کہ کوشش کروں گا۔ اگر روپیہ مل گیا تو ضرور اپنے پاس سے لگاؤں گا۔ مَیں اِسی فکر میں بیٹا تھا اور اندازہ لگا رہا تھا کہ اِس کام کے لیے ایک ہزار اور پندرہ سو کے درمیان روپیہ درکار ہوگا۔ مگر اُس زمانہ میں ایک ہزار یا پندرہ سو ایسا ہی تھا جیسے آجکل بیس یا پچیس لاکھ روپیہ۔ اِس لیے روپیہ کے حصول کی کوئی صورت نظر نہ آرہی تھی۔ مَیں ابھی اِس معاملہ کے متعلق غور و فکر کر رہا تھا کہ وہی شخص جو ہماری زمینوں کے منتظم تھے آگئے۔ مَیں نے اُن سے ذکر کیا کہ مجھے اِتنے روپے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری جائیداد فروخت ہو کر اتنا روپیہ مل سکے گا؟ وہ کہنے لگا آپ فکر نہ کیجیے ابھی انتظام ہو سکتا ہے اور تھوڑی سی زمین فروخت کرنے سے ہوسکتا ہے۔ مَیں نے کہا مجھے تو اس کام میں مشکل یہ نظر آ رہی ہے کہ قادیان میں سب غریب لوگ ہیں اتنا روپیہ کون دے گا؟اس نے کہا اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ کام ہو جائے تو آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ مَیں خود اسے سرانجام دے لوں گا۔ پھر انہوں نے کہا کہ فلاں جگہ کی زمین اگر فروخت کر دی جائے تو بعض دوستوں کو مکان بنانے کے لیے زمین کی ضرورت ہے۔ مَیں نے اجازت دی اور وہ اُٹھ کر چلے گئے۔ ابھی مَیں دفتر میں بیٹھا ہوا مضمون جو اُن کے آنے سے پیشتر مَیں نے شروع کیا تھا لکھ رہا تھا کہ وہ واپس آگئے۔ پندرہ سو روپیہ کی ڈھیری انہوں نے میرے سامنے لگا دی۔ چنانچہ اُس روپیہ سے ہم نے قرآن کریم کے ترجمہ کی ابتدا کی اور پہلا پارہ شائع کرایا گیا۔
    اِن واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی چھوٹی سی چیز سے خود میری زندگی شروع ہوئی۔ اسی ضمن میں مجھے ایک اَور واقعہ یاد آگیا ہے۔ وہ یہ کہ جب مَیں خلیفہ ہوا تو وہ لوگ جو پیغام صلح سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے میری خلافت کے خلاف ٹریکٹ اور اشتہارات شائع کیے۔ اُس وقت ہمارے خزانہ میں کم و بیش اٹھارہ روپے تھے۔ گو یا اتنا روپیہ بھی نہ تھا کہ ہم ان کے اشتہاروں اور ٹریکٹوں کا جواب شائع کرسکتے۔اُن دنوں میر ناصر نواب صاحب باہر کے دورہ سے آئے تھے اور دورہ میں اُنہوں نے دارالضعفاء کے لیے چندہ اکٹھا کیا تھا۔ مَیں ایک دن سیر کر کے باہر سے آ رہا تھا انہوں نے پانچ سو کی ایک پوٹلی مجھے دی کہ ِاس وقت اشتہاروں کے لیے روپیہ کی ضرورت ہوگی۔ اِس سے خرچ چلائیں۔ جب روپیہ آ جائے تو واپس کر دیں۔ یہ حالات بتاتے ہیں کہ ہم نے کتنی چھوٹی ابتدا سے کام شروع کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے 1944ء میں مَیں نے چالیس ہزار چندہ دیا تھا۔ وہ کہاں سے آیا تھا؟ وہ خدا تعالیٰ نے ہی دیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے خلافت کا کام میرے سپرد کیا تو مَیں نے یہ نہ پوچھا تھا کہ مَیں کھاؤں گا کہاں سے؟ بلکہ پوچھنا تو درکِنار میرے واہمہ میں بھی یہ سوال نہ تھا کیونکہ مَیں جانتا تھا اور مجھے یقین تھا کہ جس نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے وہی میرے لیے کھانے کا بھی انتظام کرے گا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی عقیدہ رکھتا تھا کہ اگر وہ مجھے نہیں کھلائے گا تو مجھے یہ کہنے کا کوئی حق نہیں کہ اے خدا! پہلے میرے لیے کھانے کا انتظام فرما اُس کے بعدمَیں اِس کام کو سنبھالوں گا۔ پھر جب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کر م کی بارش مجھ پر کی تو مَیں نے یہ نتیجہ نہ نکالا کہ یہ میرے کسی کام کا بدلہ مجھے دیا جا رہا ہے بلکہ مَیں نے کہا اے خدا! یہ سب تیرے فضل و کرم سے ہو رہا ہے۔تُو نے ہی مجھے کام کرنے کی توفیق دی ہے اور تُو نے ہی ہر قسم کے رزق سے مالا مال کیا ہے۔ تو نے مجھے سب کچھ دیا ہے اور کسی کا ممنونِ احسان بنا کر نہیں دیا۔ یوں تو اپنی جماعت سے دنیا کے ہر کام کے متعلق مَیں جو جو کہنا چاہوں کہہ سکتا ہوں مگر مالی معاملہ میں مَیں نے اپنے اختیار سے کبھی کام نہیں لیا۔ اور میں اِس میں اِس قدر حسّاس ہوں کہ ہروقت آزاد کمیشن کے سامنے اپنا حساب رکھنے کو تیار ہوں۔
    پس یہ سوال کہ اگر ہمارے خاندان کے نوجوان خدمتِ دین کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے؟ میرے نزدیک اِس سے زیادہ مشرکانہ اور اِس سے زیادہ بے ایمانی کا سوال اَور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ واقعی خدا تعالیٰ کا کام کریں گے تو خدا تعالیٰ نَعُوْذُ بِاللّٰہاتنا غدار نہیں کہ وہ اُنھیں بھُوکا مار دے گا۔ کیا خدا تعالیٰ نے آدمؑ سے لے کر اب تک کسی کے ساتھ دھوکا بازی کی ہے جو وہ اِن کے ساتھ کرے گا؟ پھر یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ جن لوگوں کے دادے ہمیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دیا کرتے تھے اب اُن کے احمدی ہونے پر ہم اُن کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دین کی خدمت کرو اوروہ کرتے ہیں لیکن خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاندان دکانداریوں اور دوسرے دُنیوی کاموں کے پیچھے پھر رہا ہے۔ مَیں کہتا ہوں جانے دو اِس توکّل کو بھی کہ خدا تعالیٰ خدمتِ دین کرنے سے اُنہیں بھُوکا نہیں مارے گا۔ اور اگر انہوں نے خدا کی راہ میں مرنا ہے تو اِس سے زیادہ سعادت اور خوش بختی اَور کیا ہوسکتی ہے۔ پھر اِس اعلیٰ قسم کے توکّل کو بھی جانے دو۔ اِس سے ذرا ادنیٰ قسم کے توکل کو لے لو۔ ہمارے محکموں میں بعض ایسے کارکنان بھی ہیں جنہیں بیس بیس، تیس تیس اور چالیس چالیس روپے مل رہے ہیں اور وہ خوشی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جس روٹی سے اُن کا پیٹ بھر سکتا ہے اِن کا کیوں نہیں بھر سکتا؟ جس کپڑے سے وہ اپنے تن کو ڈھانک سکتے ہیں اُس کپڑے سے اِن کا تن کیوں نہیں ڈھانکا جاسکتا؟ جن مکانوں میں وہ رہ سکتے ہیں اُن مکانوں میں یہ کیوں نہیں رہ سکتے؟ کیا بیس بیس اور تیس تیس روپیہ میں گزارہ کرنے والوں پر خدا تعالیٰ کا حق زیادہ ہے اور اِن پر کم ہے یا اِس کے برعکس اُن پر زیادہ ہے اور اِن پر کم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی نسبت خداتعالیٰ کا حق اِن پر زیادہ ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت سے فرماتا ہے اگر تم میرے راستہ پر چلتے ہوئے نیکی اور تقوٰی اختیار کرو گے تو دوسروں کی نسبت تم دُہرے ثواب کے مستحق ہوگے لیکن اگر تم نیکی اور تقوٰی اختیار نہیں کرو گے تو دوسروں کے لیے بدنمونہ پیش کرو گے تو تم دوسروں کی نسبت دُہرے عذاب کے مستحق ہو گے۔3 مَیں سمجھتا تھا کہ قادیان سے نکلنے کے بعد اور جماعت پر یہ عظیم الشان ابتلا دیکھنے اور اپنے آپ کو بعض مشکلات اور مصائب میں پانے کے بعد ایسے نوجوانوں کو ہوش آ جائے گا۔ لیکن یہ سب کچھ ہونے کے بعد بھی مَیں دیکھتا ہوں کہ وہ روح جو ایسے نوجوانوں کے اندر پیدا ہو جانی چاہیے تھی ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔ اور مَیں سمجھتا ہوں کہ اِس بات کی ذمہ داری جماعت پر بھی ہے کیونکہ جب جماعت کے لوگ ہمارے خاندان کے اِن نوجوانوں کو دیکھتے ہیں تو نہایت ادب کے ساتھ اِن کو صاحبزادہ صاحب کہتے ہیں۔ بس یہی صاحبزادہ صاحب کہنے والے لوگ ہی ایسی باتوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
    مجھے ایک دوست کا احسان اپنی ساری زندگی میں نہیں بُھول سکتا اور مَیں جب کبھی اُس دوست کی اولاد پر کوئی مشکل پڑی دیکھتا ہوں تو میرے دل میں ٹیس اُٹھتی ہے اور مَیں اُن کی بہبودی کے لیے دعائیں کیاکرتا ہوں۔ اُنہیں کئی ایسے مسائل کا سامنا ہوا جن سے کہ وہ سمجھتے تھے ہم بچ نہیں سکیں گے لیکن خدا تعالیٰ نے میری دعاؤں کے طفیل اُن پر فضل کرتے ہوئے اُنہیں بچا لیا۔ اُن کا مجھ پر احسان یہ ہے کہ 1903ء کی بات ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مولوی کرم دین والے مقدمہ کی پیروی کے لیے گورداسپور میں مقیم تھے۔ وہ دوست جن کا مَیں ذکر کر رہا ہوں مراد آباد یوپی کے رہنے والے تھے اور فوج میں رسالدار میجر تھے۔ محمد ایوب اُن کا نام تھا۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملنے کے لیے گورداسپور آئے تھے۔ اُنہوں نے دو باتیں ایسی کیں جو میرے لیے ہدایت کا موجب ہوئیں۔ دلّی میں رواج تھا اور شاید اب بھی ہو کہ بچے باپ کو تم کہہ کر خطاب کرتے ہیں۔ اِسی طرح بیوی خاوند کو تم کہتی ہے۔ لکھنؤ وغیرہ میں آپ کے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں۔ ہمارے گھر میں چونکہ دلّی کی اردو بولی جاتی تھی اور گھر میں ہمیشہ تُم تُم کا لفظ سنتے رہنے سے میری عادت بھی تم کہنے کی ہو گئی تھی۔ یوں تو میری عادت تھی کہ مَیں حتی الوسع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کرنے سے ہمیشہ کتراتا تھا لیکن اگر ضرورت پڑ بھی جائے اور مجبوراً مخاطب کرنا ہی پڑے تو تم کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے اُس دوست کی موجودگی میں آپ سے کوئی بات کرنا پڑی اور مَیں نے تم کا لفظ استعمال کیا۔ یہ لفظ سن کر اُس دوست نے مجھے بازو سے پکڑلیا اور مجلس سے ایک طرف لے گئے اور کہا میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے لیکن یہ ادب ہی چاہتا ہے کہ آپ کو آپ کی غلطی سے آگاہ کروں ۔ اور وہ یہ کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کرتے وقت کبھی بھی تم کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ آپ کے لفظ سے مخاطب کیا کریں ورنہ آپ نے پھر یہ لفظ بولا تو مَیں جان لے لوں گا۔ مجھے تو تم کا لفظ استعمال کرتے رہنے کی وجہ سے تم اور آپ میں کوئی فرق محسوس نہ ہوتا تھا بلکہ مَیں آپ کی نسبت تم کے لفظ کو زیادہ پسند کرتا تھا۔ اور حالت یہ تھی آپ کا لفظ بولتے ہوئے مجھے عادت نہ ہونے کے شرم سے پسینہ آ جاتا تھا کیونکہ مَیں سمجھتا تھا کہ آپ کہنا جُرم ہے۔ مگر اُس دوست کے سمجھانے کے بعد مَیں آپ کا لفظ استعمال کرنے لگا اور اُن کی اِس محبت کا اثر اب تک میرے دل میں موجود ہے
    دوسری بات اُنہوں نے یہ کی کہ مَیں نے ایک دفعہ لاہور آنے پر یہاں بعض لڑکوں کو نکٹائی لگاتے دیکھا۔ مَیں نے بھی شوق سے ایک نکٹائی خرید کر لگائی۔ پھر وہی دوست مرحوم مجھے پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے آج آپ نے نکٹائی پہنی ہے تو ہم کل کنچنیوں کا تماشہ دیکھنے لگ جائیں گے کیونکہ ہم نے تو آپ سے سبق سیکھنا ہے۔ جو قدم آپ اٹھائیں گے ہم بھی آپ کے پیچھے چلیں گے۔ یہ کہہ کر اُنھوں نے مجھ سے نکٹائی مانگی اور مَیں نے اُتار کر اُن کو دے دی۔ پس اُن کی یہ دو نصیحتیں مجھے کبھی نہیں بھُول سکتیں اور مَیں سمجھتا ہوں کہ ایک مخلص متبع کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اگر ہمارے خاندان کا کوئی نوجوان اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا تو صاحبزادہ صاحب، صاحبزادہ صاحب کہہ کر اُس کا دماغ بگاڑنا نہیں چاہیے۔ بلکہ ُاس سے کہنا چاہیے کہ آپ ہوتے تو صاحبزادہ ہی تھے مگر اب غلام زادہ سے بھی بدتر معلوم ہو رہے ہیں اِس لیے آپ کو چاہیے کہ اپنی اصلاح کریں۔ اسلام میں نسلی فوقیت ہرگز نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ جاہلیت کے زمانہ میںجو شرفاء تھے اب اُن کی کیا حیثیت ہے؟ آپ نے فرمایا جو لوگ جاہلیت میں شرفاء تھے وہ اب بھی شرفاء ہیں بشرطیکہ وہ نیک کام کرتے ہوں۔ 4اِسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر اہلِ بیت نیک کام کریں گے اور تقوٰی اختیار کریں گے تو اُنہیں دوسروں کی نسبت دُہرا ثواب ملے گا اور اگر وہ اِس کے برعکس کریں گے تو اُنہیں دوسروں کی نسبت عذاب بھی دُہرا ملے گا۔
    پس مَیں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کامیابی کا گُر وہی ہوگا جو پہلے انبیاء کی جماعتوں نے اپنایا تھا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فقیروں کی طرح گزارہ کیا جائے وہ بھی غلطی پر ہیں۔ اسلام میں اِفراط و تفریط دونوں ناجائز ہیں۔ مومن کا کام یہ ہونا چاہیے کہ جہاں اُسے خدا تعالیٰ رکھنا چاہے وہاں رہے۔ اِس لیے نہ تو مَیں اِفراط کا قائل ہوں نہ تفریط کا۔ اور نہ ہی انبیاء کی جماعتوں میں ان دونوں حالتوں کی کوئی گنجائش ہوتی ہے۔ نہ اسلام نے رہبانیت کی اجازت دی ہے اور نہ ہی تعیّش کی اور خالص دنیا داری کی اجازت دی ہے۔ وہ حد بھی کاٹی گئی ہے اور یہ حد بھی کاٹی گئی ہے۔ اسلام کا رستہ اِن دونوں حدود کے درمیان ہے۔ پس انبیاء کی جماعتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ درمیانی راستہ اختیار کریں اور دین کے کاموں میں لگے رہیں۔ ہاں اپنے فارغ اوقات میں دوسرے دنیوی کام بھی بے شک کریں مگر دین کے کاموں کو مقدم رکھیں۔ اور دین کا کام کرنے کے بعد اگر وہ کوئی دنیا کا کام کرنا چاہیں تو اِس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے نوجوانوں کو روپیہ میسر آ جائے تو وہ خود دین کے کام کریں اور روپیہ کسی دوسرے آدمی کو دے کر اُسے دکان وغیرہ کھُلوا دیں تو کوئی حرج نہیں کیونکہ ایسا کرنا اسلامی اصول کے خلاف نہیں ہے بشرطیکہ وہ آمد کو خدا کی سمجھیں اور اُسے خدا کے دین اور اُس کے بندوں کی بہبودی کے لیے خرچ کریں۔ اسلامی اصول کے خلاف جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ وہ محض دنیا دار بن کر رہ جائیں۔یوں تو مَیں خود بھی زمیندار ہوں اور زمینداری کا سارا انتظام بھی کرتا ہوں مگر دین کے کام کرنے کے بعد اپنے فارغ اوقات میں کرتا ہوں۔ ایک انسان چودہ یا پندرہ گھنٹے دین کا کام کرنے کے باوجود پاخانہ پیشاب کے لیے روزانہ اپنا وقت فارغ کر سکتا ہے تو دس منٹ زمینداری کے لیے کیوں فارغ نہیں کر سکتا۔ بہرحال مَیں دین کا کام بھی کرتا ہوں اور زمینداری کے کاموں کے لیے بھی تھوڑا بہت وقت نکال لیتا ہوں۔ مگر اپنی زندگی کو محض دنیا کے کاموں میں لگا دینا ہرگز اُس مقام کے شایانِ شان نہیں ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔
    ابھی اِس مضمون کے کچھ حصے باقی ہیں مگر چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اِس لیے سرِدست اِس مضمون کو ختم کرتا ہوں اور بقیہ حصہ اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو اگلے خطبہ میں بیان کروں گا اِنشَاء َ اللّٰہ تَعَالٰی"۔ (الفضل 13فروری 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    خالد بن سنان: عرب کا نبی ۔ خالد بن سنان کی نبوت حضرت محمدرسول اللہ ﷺکے قرب کا شرف رکھتی ہے ۔ خالد بن سنان کو اطلاع دی گئی تھی کہ حضرت محمد ﷺکو اللہ تعالیٰ رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجے گا ۔ آنحضرت ﷺکے پاس ایک موقع پر ان کی بیٹی آئی تو آپ ؐ نے فرمایا ’’ مَرْحَبًا یَا بْنَۃَ نَبِیٍّ اَضَاعَہٗ قَوْمُہٗ‘‘(شرح فصوص الحکم لابن عربی الجزء الثانی صفحہ 451-449مطبوعہ 1416ھ زیرِ عنوان فص حکمۃ صمدیۃ فی کلمۃ خالدیۃ(.....
    2
    :
    الشعرائ:215
    3
    :
    ‏O O (الاحزاب:31،32)
    4
    :
    بخاری کتاب ا لمناقب باب المناقب


    اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کے لیے تیار کرو
    (فرمودہ30جنوری 1948 بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’1909ء کی بات ہے کہ مَیں کشمیر گیا۔ سرینگر جو کشمیر کا دارالحکومت ہے اُس میں ایک جھیل ہے جو ڈل کہلاتی ہے۔ کوئی ایک میل کے قریب لمبی اور نصف میل کے قریب چوڑی ہے۔چونکہ سری نگر کی سبزیاں اور ترکاریاں اُس میں بوئی جاتی ہیں اُس کے کناروں پر یا اُس میں گیلیاں ڈال کر اُن پر مٹی ڈال لیتے اوراِس طرح مصنوعی زمین بنا لیتے ہیں۔ اس لیے اُن سبزیوں کو آسانی کے ساتھ شہر میں لے جانے کے لیے جہلم دریا میں سے جو سری نگر کے پاس بلکہ درمیان میںبہہ رہا ہے ایک نہر نکالی گئی ہے جو ڈل کے ساتھ ساتھ گزرتی ہے۔ اور ڈل میں ایک دروازہ بنا دیا گیا ہے جس سے دونوں کے پانیوں کا آپس میں اتّصال ہو جاتا ہے۔ کبھی نہر میں پانی زیادہ ہو تو ڈل کا پانی نیچا ہو جاتا ہے اور نہر کی طرف سے ڈل کا بہاؤ اونچا ہو جاتا ہے اور کبھی نہر کا پانی نیچا ہو تو ڈل کا پانی اونچا ہو جاتا ہے اور پانی کا بہاؤ نہر کی طرف ہو جاتا ہے۔ اِس نہر کے کنارے پر کھڑے ہو کر ایک دفعہ مَیں اس نظارہ کو دیکھ رہا تھا کہ کس طرح کشتیاں ڈل سے نہر میں آتی اور کبھی شہر کی طرف سے آکر ڈل میں چلی جاتی ہیں۔ جس دن کا یہ واقعہ ہے اُس دن نہر کا پانی نیچا تھا اور ڈل کا پانی اونچا تھا۔ اِس وجہ سے ڈل سے آنے والی کشتیاں آسانی سے نہر میں آ جاتی تھیں لیکن نہر سے جانے والی کشتیاں بڑی مشکل سے ڈل کی طرف جاتی تھیں۔ چھوٹی کشتیاں جن کو کشمیری اصطلاح میں شکارا کہتے ہیں وہ تو معمولی سی کوشش سے ڈل میں چلی جاتی ہیں لیکن بھاری کشتیوں کے لیے سخت دقّت ہوتی ہے اور اُن کو بوجھ کی وجہ سے بہاؤ کے مقابل پر لے جانا بڑی مشکل بات ہوتی ہے ۔مَیں نے دیکھا کہ اِس اثناء میں ایک ایسی کشتی آئی جو اپنی سبزی ترکاری بیچ چکی تھی اور واپس گھر کی طرف جا رہی تھی۔ اس کشتی میں تین چار مرد تھے اور تین چار عورتیں اور کچھ بچے تھے۔ اُن سب کو ملا کر گیارہ بارہ آدمی ہوں گے۔ جب یہ کشتی ڈل کی طرف جانے لگی تو پانی کے بہاؤ کی وجہ سے اُس کے راستہ میں سخت روک پیدا ہوگئی اور بانس کا استعمال اور چپو کا استعمال بیکار نظر آنے لگا۔ اِس پر کشتی میں سے ایک دو آدمی پھاند کر نیچے اُتر گئے اور اُنہوں نے رسّہ سے کشتی کو اوپر کھینچنا شروع کیا۔ لیکن اُن آدمیوں کا زور بھی اِس بارہ میں کامیاب ثابت نہ ہوا اور کشتی پھر بھی اوپر نہ چڑھ سکی۔ تب اَور مرد بھی کُود گئے اور انہوں نے زور لگا کر کشتی کو اوپر کھینچنا چاہا لیکن پھر بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔ کشمیری لوگوں کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آئے اور اُنہیں زور لگانا پڑے تو وہ عام طور پر جیسے ایک دوسرے کا تعاون حاصل کرنے کے لیے بعض لوگ خاص الفاظ استعمال کرتے ہیں تاکہ اکٹھا زور لگ سکے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہکے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اور کشمیری لہجہ کے مطابقلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی بجائے لَا یلٰہَ یلَّ اللّٰہُ کہتے ہیں۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ کشتی اوپر نہیں آتی تو مردوں نے مل کر رسّہ اوپر کی طرف کھینچنا شروع کیا اور ساتھ ہی لَا یلٰہَ یِلَّ اللّٰہُکا نعرہ بھی لگانے لگے۔ اِس آواز سے کشتی میں بیٹھی ہوئی عورتوں اور بچوں نے بھی سمجھ لیا کہ اب مشکل وقت آ گیا ہے۔ چنانچہ جو چپّو خالی پڑے تھے وہ اُنہوں نے پکڑ کر خود چلانے شروع کردیئے اور جن کے پاس بانس تھے وہ بانس چلانے لگے اور اِس کے ساتھ ہی بچوں نے اپنے ہاتھ سے پانی دھکیلنا شروع کر دیا لیکن اُن کی یہ ساری تدبیریں ناکام رہیں۔ تب جو بچوں میں سے لڑکے تھے وہ کُود گئے اور اُنہوں نے بھی مل کر مردوں کے ساتھ زور لگانا شروع کیا مگر جب اُنہوں نے دیکھا کہ یہ کشتی کسی طرح نہیں ہلتی اور لَا یلٰہَ یلَّ اللّٰہُ کے الفاظ نے کوئی کام نہیں کیا تو اُنہوں نے یا شیخ ہمدان کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ شیخ ہمدان ایک بزرگ تھے جنہوں نے اِس علاقہ میں ابتدائی زمانہ میں اسلام کی تبلیغ کی ۔ اب تک اُن کی یادگار اِس علاقہ میں پائی جاتی ہے اور ان کے مقام پر بہت سے پُرانے تبرکات مصنوعی یا سچے بھی رکھے ہوئے ہیں۔ کشمیری لوگوں کی عادت ہے کہ جبلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے نعرے سے کچھ نہ بنے تو وہ سمجھتے ہیں اِس کے بعد زیادہ زور کا نعرہ شیخ ہمدان کا ہے۔ چنانچہ اُنہوں نے یا شیخ ہمدان کہہ کر زور لگانا شروع کیا مگر جب پھر بھی کام نہ چلا تو ایک عورت اور باقی بچے بھی نیچے اُتر آئے۔ ایک عورت جو بانس سے زور لگا رہی تھی وہ اندر رہی۔ اِس طرح دو اَور عورتیں بھی اندر بیٹھی رہیں مگر پھر بھی کشتی نہ ہلی۔ جب پھر بھی کشتی نہ ہلی تو اُنہوں نے دستور کے مطابق اپنے سب سے بڑے دیوتا کو پکارنا شروع کیا یعنی انہوں نے یا پیر دستگیر کا نعرہ لگایا۔ جب اُنہوں نے پیر دستگیر کا نعرہ لگایا تو مَیں نے دیکھا کہ سوائے اُس عورت کے جو بانس سے زور لگا رہی تھی اور کشتی کا رُخ سیدھا کر رہی تھی باقی سب کے سب نیچے کُود گئے اور دیوانہ وار اُنہوں نے زور لگانا شروع کیا اور وہ کشتی کو نکال کر لے گئے۔
    جہاں تک کشمیری اخلاق کا تعلق ہے مَیں نے اِس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اِن کے دلوں میں خداتعالیٰ کی عظمت سب سے کم ہے۔ خدا سے بڑے ان کے نزدیک شیخ ہمدان ہیں۔ اور شیخ ہمدان سے بڑے ان کے نزدیک پیر دستگیر ہیں۔ لیکن جہاں تک اِس امر کا تعلق ہے کہ جس ذات کو وہ عزیز سمجھتے ہیں اُس کی بے عزتی کو برداشت نہیں کر سکتے اور اُس کے نام پر وہ ہر قربانی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اُن کا عمل درحقیقت ایک سبق تھا جو مَیں نے سیکھا اور جس کا میرے دل پر گہرا اثر ہوا۔ مَیں نے کہا یہ لوگ اسلام سے اچھی طرح واقف نہیں۔ ان لوگوں کے دلوں میں وہ روح نہیں جو قرآن اور اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کو بھی مانتے ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مانتے ہیں لیکن خدا سے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا شیخ ہمدان کو سمجھتے ہیں اور شیخ ہمدان سے بڑا پیر دستگیر کو سمجھتے ہیں۔ مگر ایک چیز جو تمام انسانوں میں مشترک ہے اُن میں بھی پائی جاتی ہے۔ اور وہ یہ کہ جس چیز سے محبت کامل ہو اُس کے نام پر بٹہ لگنے نہیں دینا چاہیے۔ مانا کہ وہ خدا اور رسول سے شیخ ہمدان کو بڑا سمجھتے ہیں اور شیخ ہمدان سے پیر دستگیر کو بڑا سمجھتے ہیں مگر بہرحال جس کو وہ بڑا سمجھتے ہیں اُس کے نام کو بے عزتی سے بچانے کے لیے وہ ہر قربانی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے جو پانچ چھ سال کے تھے پیر دستگیر کا نام آنے پر مَیں نے دیکھا کہ اُن کے چہرے سُرخ ہو گئے۔ اُن کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی اور اُنہوں نے بھی زور لگانا شروع کر دیا اورسمجھ لیا کہ پیر دستگیر کا نام آنے کے بعد ہماری کوشش بے کار نہیں جانی چاہیے کیونکہ اس سے پیر دستگیر کے نام پر دھبہ آئے گا۔ اُن کا عقیدہ غلط سہی، اُن کا ایمان ناقص سہی لیکن یہ چیز جو انسان کو انسان بناتی ہے بشرطیکہ اِس سے صحیح طور پر کام لیا جائے اُن کے اندر موجود تھی کہ جس سے محبت اور لگاؤ ہو اُس کے نام پر بدنامی کا دھبّہ نہیں لگنا چاہیے۔
    آج سے قریباً چالیس سال پہلے کا یہ واقعہ ہے مگر میری نظروں کے سامنے آج بھی یہ واقعہ اُسی طرح ہے جس طرح اُس وقت تھا۔ شاید اس کے نقش کچھ دھندلے ہو گئے ہوں تو ہو گئے ہوں مگر بہرحال اس کے نقش زندہ ہیں۔ اور جب بھی اِس واقعہ کا مجھے خیال آتا ہے یہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتا ہے۔ ہم اُن کے اِس فعل کو بے شک بُرا کہیں کہ خدا اور رسولؐ سے اُنہوں نے شیخ ہمدان اور پیر دستگیر کو بڑا بنا لیا لیکن جہاں ہمارا فرض ہے کہ ہم بُری بات کو بُرا کہیں وہاں ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم اچھی بات کو اچھا کہیں۔ اُن کے اندر بے شک بُرائی تھی لیکن اُن میں یہ خوبی بھی تھی کہ اُن کے دلوں میں یہ احساس پایا جاتا تھا کہ ہمیں اپنے محبوب اور پیارے کے نام پر دھبہ نہیں لگنے دینا چاہیے۔ بے شک اُنہوں نے غلطی کی، بے شک ہم یہی کہیں گے کہ وہ غلطی میں مبتلا تھے لیکن اُن کو ایک غلطی خوردہ انسان قرار دیتے ہوئے بھی اُن کی نادانی میں ایک ایسا سبق پوشیدہ تھا جو بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھولنے والا ہے۔ اور وہ سبق یہ ہے کہ جب وہ ایک غلط عقیدہ پر قائم ہوتے ہوئے بھی اپنے محبوب کے نام پر بٹّہ لگنا گوارا نہیں کر سکتے تو وہ شخص جو ایمان کا دعوٰی کرتا ہے اُسے تو بہرحال ایمان میں اُن سے بہت زیادہ ثابت قدم ہونا چاہیے۔ جس طرح کشتی والوں کے نزدیک ایک نازک وقت آگیا تھا اور اُنہوں نے اپنا سارا زور کشتی کے نکالنے میں لگا دیا اُس سے بہت زیادہ نازک وقت اِس وقت اسلام اور احمدیت کے لیے آیا ہوا ہے۔ شاید آپ لوگوں میں سے ہر شخص اگر وہاں موجود ہوتا اور اُن کے اِس طریقِ عمل کو دیکھتا تو استغفار پڑھنے لگ جاتا اور کہتا یہ کیسے مشرک اور ناقصُ الْاِیمان لوگ ہیں، مسلمان کہلاتے ہیں لیکن مشرکانہ عقائد میں مبتلاہیں، اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں لیکن ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جن کی اسلام سے دور کی بھی نسبت نہیں۔ لیکن اگر وہ سوچتا تو اُسے معلوم ہوتا کہ وہ اپنے شرک اور بے ایمانی میں بھی ایمانداروں کو سبق دے رہے تھے۔ وہ مشرک سہی، وہ بے ایمان سہی لیکن وہ وفاداری کا جذبہ اپنے اندر رکھتے تھے۔ اور اگر ایک مشرک اور کافر وفادار ہو سکتا ہے تو مومن کو اُس سے بڑھ کر کیوں وفادار نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک مشرک اپنے پیر کا نام آنے پر یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اُسے ناکامی ہو تو وہ مومن کیسا مومن ہے جو مشکلات اور آفات کے وقت میں یہ چاہے کہ خدا اور رسول کا نام بے شک بدنام ہو جائے یا ناکامی کا داغ (نَعُوْذُ بِاللّٰہ) اُن کے چہرے پر لگ جائے۔
    یاد رکھو یہ زمانہ ہماری جماعت کے لیے نہایت ہی نازک ہے۔ نہ صرف ہماری جماعت کے لیے بلکہ سارے اسلام کے لیے نازک ہے۔ دوسرے مسلمان اِس حقیقت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ہماری جماعت اِس بات کی مدعی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے تازہ پیغام کی حامل ہے۔ اگر دوسرے لوگ اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت کرتے ہوں تو اس کا یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہیے کہ ہم بھی غافل ہو جائیں۔ اگر مسلمان اِس حالت پر غور کریں جو اِس وقت اسلام کی ہے۔ اگر وہ جھوٹے دعووں کو چھوڑ دیں، اگر وہ اس امر کو اپنے دلوں میں سے نکال دیں کہ ہم اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے نعرے لگائیں گے تو یُوں ہو جائے گا اور وہ اس دھوکا سے اِس طرح بچ سکتے ہیں کہ وہ غور اور فکر سے کام لیں۔ اگر وہ اسلام کی موجودہ حالت پر صحیح طور پر تدبر کریں تو اُنہیں نظر آئے گا کہ اسلام کے پاؤں اِس وقت اُکھڑ رہے ہیں، اسلام کی جڑیں اِس وقت ہِل رہی ہیں، اسلام کی سیاسی حالت پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی اب عقائد کی حالت بھی کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے اور اِس وقت اسلام کے نام کو دنیوی اغراض کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس طرح آج سے پہلے دنیا کا ہر وہ کام جس کے لیے قرآن آیا تھا لوگوں نے نظر انداز کر دیا تھا اور قرآن کریم کے صرف دو کام رہ گئے تھے۔ مُردوں پر پڑھنا اور عدالتوں میں قرآن ہاتھ میں لے کر جھوٹی قسمیں کھانا۔ اِسی طرح اِس زمانہ میں اسلام کی غرض صرف اِس قدر رہ گئی ہے کہ اسلام کا نام لے کر عوام الناس میں جوش پیدا کیا جائے اور سیاسی اَغراض میں اِس کی مدد سے اپنے رقیب کو شکست دینے کی کوشش کی جائے۔وہ عدالتوں میں جھوٹی قسمیں کھانا اور قبروں پر قرآن کا پڑھنا بھی ایک لغو کام تھا مگر یہ تو بہت ہی خطرناک اور اسلام کو سخت نقصان پہنچانے والا فعل ہے۔ نام اسلام کا لیا جاتا ہے مگر غرض ایک دوسرے پر سیاسی فوقیت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اسلام اسلام کا نعرہ لگانے والا خود اسلام پر عامل نہیں ہوتا۔ وہ نماز کا تارک ہوتا ہے، وہ اُن تمام آداب اور طریقوں کے خلاف چل رہا ہوتا ہے جن کا اسلام نے بنی نوع انسان سے مطالبہ کیا ہے مگر وہ اسلام کا نعرہ لگانے میں سب سے زیادہ حصہ لیتا ہے۔ اُس کی آواز باقی سب آوازوں سے اونچی ہوتی ہے۔ وہ جتنا زیادہ اسلام کا منکر ہوتا ہے اُتنی ہی بلند آواز سے وہ اسلام اسلام کا نعرہ لگاتا ہے تا اُس کے اسلا م سے انکار اور اسلام پر عمل نہ کرنے کے عیب پر پردہ پڑ سکے۔
    پس یہ وقت ہماری جماعت کے لیے نہایت ہی نازک ہے۔ اس لیے کہ اسلام کی کشتی کو پار لگانا ہمارے ذمہ ہے۔ بے شک ہر شخص جو مسلمان کہلاتا ہے یہ فرض اُس پر بھی عائد ہوتا ہے لیکن یہ فرض اُسے بھُولا ہوا ہے اور نئے سرے سے وہ کوئی عہد نہیں کرتا۔ اور اگر عہد کی کوئی حقیقت ہے، اگر عہد جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے مسئول ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے متعلق سوال کیا جائے گا تو پھر اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے حضور تازہ عہد کرنے والے زیادہ ذمہ دار اور جوابدہ ہیں۔ باقی لوگ وہ ہیں جن میں سے کسی نے دس پُشت سے اور کسی نے بیس پُشت سے عہد کیا تھا۔ ماں باپ نے عہد کیا جو اولاد نے بھُلا دیا۔ بے شک اُن کی اولاد کا بھی فرض ہے کہ اپنے ماں باپ کے عہد کی قدر و قیمت کا احساس کریں اور اپنے اعمال میں تغیر پیدا کریں لیکن اس عہد کی وہ شان نہیں جو اُس عہد کی ہے جو براہ راست کیا جائے۔ پس جب تک جماعت اِس ذمہ داری کو نہیں سمجھتی جو اِس تازہ عہد کی وجہ سے اُس پر عائد ہوتی ہے اُس وقت تک وہ اپنے ایمان کا کوئی ثبوت مہیا نہیں کرتی اور اُس وقت تک اسلام اور احمدیت کا بھی روشن مستقبل نظر نہیں آسکتا۔ اِس بارہ میں بے شک جماعت کے اَور افراد بھی ذمہ دار ہیں مگرسب سے زیادہ فرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان پر عائد ہوتا ہے۔ مَیں نے کہا تھا کہ اِن میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے، بہت سے ایسے ہیں جو دُنیوی کاموں میں مشغول ہیں اور ایسے نازک وقت میں خدا اور اُس کے رسولؐکو چھوڑ کر اپنے ذاتی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔
    مَیں نے بتایا تھا کہ اُن کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں بِالصراحت اِس کا ذکر آتا ہے کہ اگر وہ نیکی کریں گے تو ان کی نیکیاں اُنہیں دوسروں سے زیادہ ثواب کا مستحق بنائیں گی۔ لیکن اگر وہ غلطیاں کریں گے تو اُن کی غلطیاں اُنہیں دوسروں سے زیادہ سزا کا مستحق بنائیں گی۔ مَیں نے اِس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ جماعت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ جماعت بھی لفظی صاحبزادگیوں کی طرف جاتی ہے حالانکہ لفظی صاحبزادگیوں کی بجائے ہمیں حقیقی صاحبزادگی اپنے مدنظر رکھنی چاہیے۔ گویا اُن کا طریقِ عمل بھی دوسروں کو سبق دینے والا نہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں جتنی کمزوری ہوگی ہم کو اس سے زیادہ کمزوری دکھانے کا موقع ملے گا۔ اِس لیے منع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ مگر اِس طریق پر چل کر دونوں میں سے کسی کا بچاؤ نہیں ہو سکتا۔ خدا سے عہد باندھ کر اُسے توڑ دینا ایسی چیز نہیں جو معاف کی جاسکے۔ یہ اِس دنیا میں بھی اُن کو ذلیل کر دے گی اور اگلے جہان میں بھی اُن کو ذلیل کرے گی۔
    میرے اُس خطبہ کے جواب میں ہمارے خاندان کے دو نوجوانوں نے مجھے لکھا ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کی ہوئی ہیں۔ مَیں نے اُس محکمہ کے ذریعہ جو وقف کا ریکارڈ رکھتا ہے اُ نہیں جواب دیا ہے کہ پہلے اپنی شکل تو اسلام اور احمدیت والی بناؤ اور اسلام اور احمدیت پر عمل کرکے دکھاؤ۔ اگر تم اپنی شکل اسلام اور احمدیت والی نہیں بنا سکتے اور نہ اُس کی تعلیم پر عمل کرتے ہو تو تمہارا اپنے آپ کو وقف کرنا محض ایک دھوکا ہوگا۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کس چیز کے لیے آئے تھے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دفتروں کی کلرکیاں کرنے کے لیے آئے تھے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تجارتیں کرنے کے لیے آئے تھے؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کارخانے قائم کرنے کے لیے آئے تھے؟ آخر کس چیز پر ہم اُن کو لگائیں؟ جب وہ قرآن اور حدیث ہی نہیں جانتے اور جب وہ اُن پر عامل ہی نہیں تو ہم اُن کو کس چیز پر لگائیں۔ جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے تیار نہیں، جب اُن کا لباس اور طور طریق بھی اسلام کے مطابق نہیں تو ہم نے اُن کے وقف کو لے کر کیا کرنا ہے۔ آخر اُن کو دیکھ کر ایک چمار عیسائی کے لباس اور اُن کے لباس میں کیا فرق نظر آتا ہے۔ ایک چُوڑھا عیسائی ہوتا ہے تو وہ بھی اِسی طرح پینٹ پہن لیتا ہے۔ ایک سانسی عیسائی ہوتا ہے تو وہ بھی اِسی طرح پینٹ پہن لیتا ہے۔جب اُن کے اندر اِتنی بھی غیرت نہیں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُن کے دلوں میں اِتنی بھی محبت نہیں کہ وہ اپنے لباس اور طریق کو درست کر سکیں۔ اور جب اسلام کی اُن میں اِتنی بھی محبت نہیں کہ وہ قرآن اور حدیث پڑھ کر دین کی واقفیت حاصل کریں تو اُن کے وقف کے معنے ہی کیا ہیں؟ کلرک تو ہم عیسائی بھی نوکر رکھ سکتے ہیں یا تجارت کا کام بھی عیسائیوں سے کروایا جا سکتا ہے۔ جس کام پر غیرمذاہب کے لوگ نہیں رکھے جا سکتے وہ تبلیغ ہے۔ وہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت ہے۔ اگر واقع میں اُن کے دلوں میں اسلام اور احمدیت کی کوئی محبت ہے تو اُنہیں قرآن پڑھنا چاہیے، حدیث پڑھنی چاہیے، اپنے لباس اور طرزِ بودوباش کو درست کرنا چاہیے۔ جب تک وہ یہ کام نہیں کر سکتے اُس وقت تک اُن کا اپنے آپ کو وقف کرنا دنیا کو بھی دھوکا دینا ہے اور اپنے آپ کو بھی دھوکادینا ہے۔ دنیا کو وہ دھوکا دے سکتے ہیں لیکن اگر اپنے آپ کو بھی وہ دھوکا دیتے رہے تو اُنہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنی نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کریں گے۔ جس قسم کے حالات جماعت کو آئندہ پیش آنے والے ہیں وہ نہایت خطرناک ہیں۔
    پہلے بھی مَیں نے تفصیل سے حالات نہیں بتائے تھے صرف اِجمالاً آئندہ آنے والی مشکلات کا ذکر کیا تھا اور تم نے دیکھا کہ جو کچھ مَیں نے کہا تھا وہ لفظاًلفظًا پورا ہوا۔ اب مَیں اُس سے بھی زیادہ خطرناک حالات جماعت کے متعلق دیکھتا ہوں۔مَیں اُس سے بھی زیادہ مشکلات احمدیت کے راستہ میں حائل ہوتی ہوئی دیکھتا ہوں۔ احمدیت تو بہرحال غالب آئے گی لیکن احمدیت کی جنگ پندرہ بیس سال سے زیادہ نہیں چل سکتی۔ پندرہ بیس سال کے عرصہ میں یا تم غالب آ جاؤ گے یا تم تباہ کر دیئے جاؤ گے۔ اِن دونوں میں سے ایک بات ضرور ہو کر رہے گی۔ مَیں "تم"کا لفظ استعمال کرتاہوں احمدیت کا لفظ استعمال نہیں کرتاکیونکہ احمدیت بہرحال غالب آئے گی۔ صرف پندرہ بیس سال کی مہلت ہے جوتمہیں دی گئی ہے۔ اِن پندرہ بیس سالوں میں سے ہر پہلا سال آئندہ آنے والے سال سے زیادہ قیمتی ہے۔ 1948ئ، 1949ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 1949ئ، 1950ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 1950ئ، 1951ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 1951ئ، 1952ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 1952ئ، 1953ء سے زیادہ قیمتی ہے۔ تم اگر یہ کہو کہ اگر مَیں نے 1948ء میں یہ کام نہیں کیا تو کیا ہوا 1949ء میں کر لیں گے تو تم کچھ نہیں کر سکو گے۔لیکن اگر تم یہ کہو 1949ء کا کام ہم 1948ء میں کر لیں تب بے شک تمہاری کامیابی قریب آسکتی ہے۔ بہرحال اِس زمانہ میں سب سے بڑا فرض اور سب سے اہم فرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولادکاہے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ قادیان سے نکلنے اور نظام کے درہم برہم ہو جانے پر بجائے اِس کے کہ جماعت کے نوجوان خدمتِ دین کے لیے آگے آتے چالیس فیصدی انجمن کے کارکن بھاگ کر باہر چلے گئے۔ گویا جس وقت لوگ دنیا میں اکٹھے ہو جایا کرتے ہیں اُس وقت ہماری جماعت کے نوجوانوں نے غداری اور بے ایمانی کا ثبوت دیا ہے۔ بجائے اِس کے کہ وہ اپنے کام چھوڑ کر خدمت کے لیے آ جاتے وہ سلسلہ کا کام چھوڑ کر باہر چلے گئے ہیں۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ بُہتوں کے منہ پر یہ الفاظ ہیں کہ اگر ہم نہ جائیں تو کھائیں کہاں سے؟ مگر یہ سوال صرف تمہارے سامنے ہی نہیں بلکہ پہلی جماعتوں کے سامنے بھی یہ سوال تھا اور پھر بھی وہ دین کا کام کرتی چلی گئیں۔ پس مَیں کہتا ہوں کہ اگر یہ سوال غلط اور بے معنٰی ہے تو پھر وہ کون ہے جس کو سب سے زیادہ سزا ملے گی اور وہ خدا کے سامنے ایک ذلیل چور کی حیثیت میں پیش ہوگا؟ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کے ایسے افراداِس دنیا میں بھی ذلیل کیے جائیں گے اور اگلے جہان میں بھی ذلیل کیے جائیں گے۔ وہ کوئی عزت اپنی تجارتوں اور اپنی نوکریوں سے حاصل نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ اُن کو جو خدا نے عزت دی تھی وہ دوسروں کو نہیں دی۔ اور خدا نے اُن پر جو فضل نازل کیے تھے وہ دوسروں پر نہیں کیے۔ اِس لیے اب اللہ تعالیٰ جو قربانی اُن سے چاہتا ہے وہ بھی دوسروں سے نمایاں ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے دربار میں آگے بڑھنیکا ہر ایک کو موقع دیتا ہے مگر جونہیں آتے یا آ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں وہ سب سے بڑے مجرم ہو جاتے ہیں۔ پس جن لوگوں میں بھاگنے کی روح پیدا ہو رہی ہے اُن کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اپنا فرض ادا نہیں کر رہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں شاید تمام محکمے بند کر نے پڑیں گے اور ہمیں پھر اپنا تمام کام اُسی ابتدائی حالت پر لے جانا پڑے گا جس حالت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں تھا۔ اور شاید وہ وقت بھی آ جائے جب کہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد پر اگر ان میں ایمان اور دیانت ہوئی یہ تمام بوجھ آ پڑے۔ لیکن وہ اِسی بات کی طرف متوجہ ہیں کہ دوسرے لوگ یہ کام کریں اور ہم اپنے دنیوی کاموں میں مصروف رہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں ایسا وقت آچکا ہے کہ ہم اِس بارہ میں زیادہ سخت قدم اٹھائیں۔ اگر ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم کسی سُست اور کوتاہ بین انسان کو اُس کے اعمال کی وجہ سے سلسلہ سے نکال دیں تویقیناً ہمیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام کو اختیار کرتے ہوئے جو لوگ خدمتِ دین میں حصہ نہیں لے رہے اُن کو ہم خاندان حضرت مسیح موعود میں سے نکال دیں۔ اگرہمیں عام احمدیوں کے مقاطعہ کا حق حاصل ہے تو یقیناً ہمیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان میں سے دین کی خدمت سے غافل ہیں اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان سے نکال دیں۔ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے نکالا جاسکتا ہے تو مسیح موعودؑ کی اولاد سے کیوں نکالا نہیں جاسکتا۔ اور اگر دوسرے لوگ قربانیاں کر سکتے ہیں تو مسیح موعودؑ کی اولاد کیوں قربانی نہیں کرسکتی؟ ان کی قربانیاں یقیناً دوسروں کے اندر جوش پیدا کریں گی۔ اور اگر نہیں کریں گی تو اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کے ذریعہ ایک نئی جماعت پیدا کر دے گا۔
    بہرحال اُن کا یہ کام نہیں کہ وہ دین سے غافل رہیں۔ قرآن اور حدیث سے واقفیت پیدا نہ کریں اورکرنٹے 1بنے ہوئے چُوڑھے عیسائیوں کی طرح پتلونیں پہنتے پھِریں۔ اگر ایسی صورت میں وہ اپنے آپ کو وقف بھی کرتے ہیں تو اُن کے وقف کے کوئی معنے نہیں ہوسکتے۔ آخر وقف کے بعد ہم اُن سے کیا کام لیں گے؟ یہی کام لیں گے کہ وہ مختلف علاقوں میں جائیں اور تبلیغ کریں۔ مگر اِس کے لیے اُنہیں سب سے پہلے اپنا نمونہ پیش کرنا چاہیے۔ اگر وہ یہ کام نہیں کر سکتے، اگر وہ اِس اہم امر کی طرف توجہ نہیں کر سکتے تو اُنہوں نے کرنا کیا ہے؟ کیا ہم نے اُن کا مربّہ اور اچار ڈالنا ہے یا ہم نے اُن کی چٹنیاں ڈالنی ہیں؟ یہی کام ہے جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دنیا میں مبعوث ہوئے تھے کہ اسلام اور احمدیت کو پھیلایا جائے۔ اگر اُن کے دلوں میں قرآن اور حدیث پڑھنے کا شوق نہیں، اگر اُن کے دلوں میں قرآن اور حدیث کا درس دینے کا شوق نہیں تو کیا کام ہے جو وہ کرنا چاہتے ہیں؟ اور کس غرض کے لیے وہ اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں؟ جو کام وہ اِس وقت کر رہے ہیں اُس کے لیے تو ایک ہندو اور عیسائی بھی نوکر رکھا جاسکتا ہے۔ پس پہلے اُنہیں اپنے اندر دین پیدا کرنا چاہیے، پہلے اپنی نمازیں درست کرنی چاہییں، پہلے قرآن اور حدیث پڑھنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے اُس کے بعد اُنہیں دین کی تبلیغ کے لیے نکل جانا چاہیے۔ جیسے پرانے زمانہ میں صوفیاء باہر نکلے اورمُلکوں کے ملک انہوں نے اسلام میں داخل کر لیے۔ یہی ملک جس میں سے آج چھپن لاکھ مسلمان اِس طرح بھاگا ہے کہ چند دنوں میں ہی سارا مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔ اِس ملک میں حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتیؒ آئے اور سارا ملک اُنہوں نے مسلمان بنا لیا۔ آخر وہ کیا چیز تھی جو خواجہ معین الدین صاحب چشتی ؒ کو حاصل تھی؟ وہ کیا چیز تھی جس نے حضرت باوانانکؒ کو حضرت فریدالدین صاحب شکر گنج ؒوالوں کے دروازہ پر لا کر ڈال دیا۔ اگر فریدالدین صاحب شکر گنج ؒ والے اپنے عمل اور طریق سے باوانانکؒ کی آنکھوں کو نیچا کر سکتے تھے تو اگر اِس زمانہ کا مسلمان بھی فریدالدین بن جائے تو کیوں وہ سکھ کی آنکھ کو نیچا نہیں کر سکتا۔ یقیناً وہ ایسا کر سکتا ہے۔ مگر اِس کے لیے ضرورت اِس بات کی ہے کہ قرآن اور حدیث کو پڑھا جائے، قرآن اور حدیث پر عمل کیا جائے اورقرآن اور حدیث کی تعلیم کو پھیلایا جائے۔ اگر اِس کام کے لیے ہم تیار ہیں تو یقیناً ابتلاؤں پر ہم غالب آ جائیں گے۔ لیکن اگر ہم اِس کے لیے تیار نہیں تو ابتلاء ہم پر غالب آ جائیں گے۔
    پس مَیں ایک دفعہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کے افراد کو اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ اپنی اصلاح کر لیں تو وہ دُہرے ثواب کے مستحق ہوں گے۔ لیکن اگر اُنہوں نے اصلاح نہ کی تو جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے وہ دُہرے عذاب کے مستحق ہوں گے۔ بہرحال خدا تعالیٰ کی طرف سے جب تک سلسلہ کی یہ حیثیت قائم ہے جب بھی کوئی آواز بلند ہوگی اُس آواز کا پہلا مخاطب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاندان ہو گا۔ اور اُن کا فرض ہو گا کہ وہ قرآن پڑھیں، حدیث پڑھیں اور مختلف ملکوں میں تبلیغ کے لیے نکل جائیں تا پھر مسلمان ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اسلام کی عظمت کا موجب بنیں۔ جو اِفتراق اورشِقاق اِس وقت مسلمانوں میں پایا جاتا ہے وہ اِس قدر بڑھا ہوا ہے کہ ہر مسلمان اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانے کی فکر میں ہے۔ کہیں مذہبی اختلاف کو آپس کے افتراق کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے اور کہیں سیاسی اختلافات کو آپس کے افتراق کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ اِس تباہی اور بربادی کا سوائے اِس کے اور کوئی علاج نہیں کہ پھر مسلمان احمدیت کے ذریعہ ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں اور پھر کفر پر حملہ کر کے اُسے تباہ کر دیا جائے ۔اور یقیناً ایسا ہو سکتا ہے۔ یہ خیال کہ ہم تھوڑے ہیں اور دشمن زیادہ ہے بالکل غلط ہے۔ ہندوستان کے نو کروڑ مسلمان جو اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اگر اُن کا چوتھا حصہ یعنی سَوا دو کروڑ مسلمان بھی ایک ہاتھ پر جمع ہو جائے تو نہ صرف ہندوستان کے تیس کروڑ غیرمسلموں پر بلکہ چین اور جاپان پر بھی جس کی آبادی شامل کر کے ایک ارب تک پہنچ جاتی ہے ہمیں غلبہ حاصل ہوسکتا ہے۔ ہم اِس سے گھبرانے والے نہیں کہ ہم تھوڑے ہیں اور دشمن زیادہ ہے۔ روحانیت میں بہت بڑی طاقت ہوتی ہے اور یہ طاقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں حاصل ہے۔بے شک مادی اور ظاہری سامانوں میں بھی طاقت ہوتی ہے مگر مادی اور ظاہری سامان صرف جسم فتح کرتے ہیں اور روحانی طاقت دشمن کے اُس مقام پر حملہ کرتی ہے جہاں اُس کا بچاؤ بالکل ناممکن ہوتا ہے۔ اگر اسلام کا صحیح نمونہ پیش کیا جائے اور والہانہ طور پر اِس کی تبلیغ اور اشاعت کی جائے تو وہی لوگ جو آج ہمارے دشمن اور ہمارے مقابل میں لڑ رہے ہیں کل ہمارے ساتھ شامل ہو کر اسلام کی طرف سے کفر کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑے ہوں گے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو خانہ کعبہ کے پجاری بھی بظاہر مسلمان ہو گئے۔ اُس وقت کا ایک پجاری کہتا ہے کہ میرے خاندان کے بہت سے آدمی چونکہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے اِس لیے گو مَیں بظاہر مسلمان ہو گیا مگر مَیں نے اپنے دل میں قسم کھائی کہ جب بھی مجھے موقع ملا مَیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے اپنے خاندان کے افرادکا بدلہ لوں گا۔ اِس کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اُس کی اِس خواہش کے پورا ہونے کا ذریعہ بھی نکل آیا۔ طائف والوں سے جنگ ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ طائف کا مقابلہ کرنے کے لیے صحابہ کو لے کر چل پڑے۔ اُس وقت یہ شخص بھی جو آپ کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا لشکر میں شامل ہو گیا۔ اُس کا اپنا بیان ہے کہ مَیں نے سمجھا میرے لیے یہ بہت ہی عمدہ موقع پیدا ہو گیا ہے۔ اگر لڑائی میں کوئی ایسا موقع آیا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم اکیلے ہوئے تو مَیں انہیں مار ڈالوں گا۔ اِس لیے مَیں آپ کے قریب قریب رہتا تھا۔ آخر ایسے سامان بھی پیدا ہو گئے کہ اُسے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا۔ اسلامی لشکر جب آگے بڑھا تو دشمن نے کمین گاہوں سے تیر برسانے شروع کر دیئے۔ مکہ کے حدیثُ العہد اور نئے نئے مسلمان جن میں بعض کافر بھی شامل تھے اور جو بڑے تکبر سے آگے آگے چل رہے تھے۔ جب اُن پر تیروں کی بوچھاڑ پڑی تو وہ بے تحاشا پیچھے کی طرف بھاگے۔ اُن کے بھاگنے اور سواریوں کے بدکنے کی وجہ سے باقی لشکر میں بھی بھاگڑ 2مچ گئی اور سب لشکر میدان سے بھاگ نکلا۔ یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ اُس وقت حضرت ابوبکرؓ نے چاہا کہ رسول کریم صلی علیہ وسلم کو واپس لَوٹائیں۔ چنانچہ اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی باگ پکڑ لی اور کہا یارسولَ اللہ! اب ہمیںلَوٹنا چاہیے تاکہ ہم لشکر کو جمع کر کے پھر حملہ کریں۔ اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے جوش سے فرمایا چھوڑ دو میری سواری کی باگ کو۔ اور حضرت عباسؓ کو بلا کر کہا عباس! آواز دو کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت مہاجرین کا نام نہیں لیا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ مہاجرین کی سفارشوں پر ہی کفارِ مکہ کو ساتھ لیا گیا تھا چونکہ وہ مہاجرین کے رشتہ دار تھے۔ اُنہوں نے سفارش کی کہ اُن کو بھی ساتھ لیا جائے اورا نہیں خدمت کا موقع دیا جائے۔ چونکہ اُن کی سفارش کی وجہ سے اسلامی لشکر کو نقصان پہنچا تھا اِس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خفگی کا اِس نہایت ہی لطیف پیرایہ میں اظہار کیا کہ مہاجرین کا نام نہیںلیا۔ بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اے انصار! اللہ کا رسول تم کو بلاتا ہے۔مہاجرین بعض دوسرے الفاظ میں بے شک شریک ہو جاتے تھے مگر علیحدہ طور پر آپ نے اُن کا نام نہیں لیا۔ مثلاً بعض روایتوں میں ذکر آتا ہے کہ آپ نے فرمایا اے بیعتِ رضوان والے لوگو! اور بیعتِ رضوان میں مہاجرین شامل تھے۔ بہرحال اِس عرصہ میں دشمن نے اَور حملہ کیا اور ایک وقت ایسا بھی آ گیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ جنگ میں اکیلے رہ گئے۔ اُس وقت صرف ایک صحابی ابوسفیانؓ 3 آپ کے پاس تھے یا وہ شخص تھا جو آپ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا تھا۔ وہ کہتا ہے جب مَیں نے دیکھا کہ آپ اکیلے ہیں تو مَیں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لیے عمدہ موقع آ گیا ہے۔ مَیں آگے بڑھا اِس نیت اور اِس ارادہ سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مار دوں۔ جب میں آگے بڑھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔ آپ نے فرمایا آگے آ جاؤ۔ مَیں اَور آگے چلا گیا۔ جب مَیں آپ کے قریب پہنچا تو آپ نے اپنا ہاتھ لمبا کیا۔ میرے سینہ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور کہا اے خدا! تُو اس کے دل سے سارا کینہ اور بُغض نکال دے۔ وہ کہتا ہے رسول کریم صلی علیہ وسلم کے ہاتھ کا میرے سینہ پر سے ہٹنا تھا کہ مجھے یوں معلوم ہوا کہ دنیا کی ساری محبت میرے دل میں سمٹ آئی ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اِتنے پیارے معلوم ہونے لگے کہ اُن سے زیادہ پیارا مجھے دنیا میں اَور کوئی وجود نظرنہیں آتا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔ وہ کہتا ہے اُس وقت یہ بات میرے واہمہ اور خیال میں بھی نہ رہی کہ مَیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لیے آیا تھا بلکہ اُس کی بجائے آپ کی محبت کا اِس قدر جوش میرے دل میں پیدا ہوا کہ خدا کی قسم! اگر اُس وقت جو بھی میرے سامنے آتا مَیں فوراً اُس کی گردن کاٹ دیتا۔ 4 اسی واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جب کسی انسان میں تغیر پیدا ہوتا ہے تو اُس کی حالت کیا سے کیا ہو جاتی ہے۔ وہ ایک معمولی آدمی تھا۔ وہ کفر کی حالت میں نکلا اور اِس ارادہ کے ساتھ نکلا کہ مَیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پھِر جانے کی وجہ سے اُس میں ایسا تغیر پیدا ہو گیا کہ وہ آپؐ کی خاطر ہر بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد سے امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے اندر اِتنا تو تغیر پیدا کریں جتنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پھِر جانے کی وجہ سے اُس انسان میں پیدا ہوا۔
    غرض مَیں جماعت کو عموماً اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کو خصوصاً اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کے لیے تیار کریں۔ دشمن اپنا سارا زور اسلام کے مٹانے کے لیے لگائے گا۔ بے شک جہاں تک احمدیت کا سوال ہے خدا اِس کا محافظ ہے۔ مگر ہمارا بھی فرض ہے کہ جب خدا یہ کام کرنا چاہتا ہے تو ہم اُس کے ہتھیار بن کر زیادہ سے زیادہ برکات اور ثواب حاصل کریں۔ اور جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے یہ فضل اِسی طرح حاصل ہو سکتا ہے کہ ہم قرآن ا و رحدیث پڑھیں، ہم قرآن اور حدیث پر عمل کریں اور قرآن اور حدیث پر عمل کرائیں۔ مَیں سمجھتا ہوں اب وقت آ گیا ہے کہ جس طرح پرانے زمانے میں حضرت معین الدین صاحب چشتیؒ، حضرت خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکیؒ اور دوسرے اولیاء بغیر ڈر کے دشمن میں گھس گئے اور اُنہوں نے اسلام پھیلا دیا۔ اُسی طرح اب بھی لوگ بغیر کسی ڈر کے اسلام کی تبلیغ کے لیے نکل جائیں اور اِس امر کی پروا تک نہ کریں کہ دشمن اُن سے کیا سلوک کرے گا۔ اور یقیناً جو لوگ اِس نیت اور ارادہ سے نکلیں گے کہ وہ اِس قابل ہوں گے کہ بڑے سے بڑے دشمنوں کے دلوں کو بھی پھِرا دیں جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے اُس کافر کے دل کو بدل دیا۔ آخر خدا کے کام معجزانہ ہی ہوتے ہیں۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کیونکر ہو گا؟ جو کام خدا کے ہوتے ہیں اُن میں "کیونکر"اور"کس طرح"کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیا تم کو پتہ ہے کہ دنیا کیونکر پیدا ہوئی؟ کیا تم کو پتہ ہے کہ کائنات کیونکر بنی؟ نہ تم کو یہ پتہ ہے کہ دنیا کیونکر پیدا ہوئی اور نہ تم کو یہ پتہ ہے کہ کائنات کیونکر بنی۔ فلاسفر آج تک بحثیں کرتے رہے مگر وہ اِن امور کو حل نہ کر سکے۔ تمہارے سامنے دنیا موجود ہے۔ تم بتاؤ تو سہی کہ ستارے کہاں ختم ہوتے ہیں؟ پھر اُس کے بعد کیا ہے؟ اگر کہو کہ یہ سلسلہ غیرمحدود ہے تو غیرمحدود ایک ایسی اصطلاح ہے جو کسی انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی؟ جس طرح وہ یہ باور نہیں کرسکتا کہ کوئی چیز محدود ہو اور اُس کے بعد کچھ نہ ہو۔ جس طرح انسان یہ نہیں سمجھ سکتا کہ دنیا ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اِسی طرح وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ پہلے کچھ نہ ہو اور پھر دنیا کا سلسلہ قائم ہواہو۔ بیوقوف اور جاہل بے شک اِن باتوں کو مان لیتے ہیں مگر جو لوگ عقلمند ہوتے ہیں وہ صاف طور پر کہہ دیتے ہیں کہ یہ باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ پھر بعض لوگ اِس سے یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ خدا کوئی نہیں۔اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خدا تو ہے مگر اُس کی باتیں انسانی سمجھ سے بالا ہیں۔ غرض خدا تعالیٰ کے تمام کام "کیوں"اور "کیونکر" "اور "کس طرح"سے بالا ہوتے ہیں۔ اگر تم ہر بات کو "کیوں" اور "کس طرح" سے حل کرنے لگے تو تمہیں پہلے اپنا انکار کرنا پڑے گا۔ تمہیں ستاروں کا انکار کرنا پڑے گا، تمہیں دنیا کا انکار کرنا پڑے گا۔ جب خدا دنیا میںایک نئی جماعت قائم کرنا چاہتا ہے تو باوجود مخالف حالات کے وہ کس طرح غالب آجاتی ہے؟ اسے نہ تم سمجھ سکتے ہو اور نہ کوئی اَور سمجھ سکتا ہے۔ مگر دنیا میں ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے اس "کیونکر" اور "کس طرح" کے سوال کے ہوتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا پر غالب آگئے۔ اس "کیونکر"اور "کس طرح"کے سوال کے ہوتے ہوئے حضرت موسٰیؑ اپنے مخالفین پر غالب آ گئے۔ "کیونکر" اور" کس طرح" کے سوال ہوتے ہی رہے اورنوحؑ اپنے مخالفین پر غالب آگئے۔ اب بھی دنیا "کیونکر" اور"کس طرح "ہی کہتی رہے گی اور سچا احمدی پھر دنیا پر اسلام کو غالب کرے گا۔ پھر دنیا کی مایوسی اور ناامیدی کے باوجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کر دے گا۔ مگر پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت اپنے دلوں پر قائم کرو۔ تمہارے دلوں پر قائم ہونے کے بعد ہی وہ دنیا میں قائم ہو سکتی ہے"۔ (الفضل 7؍اپریل1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    کرنٹے:عیسائی۔
    2
    :
    بھاگڑ:بھگدڑ
    3
    :
    ابو سفیانؓ: ابو سفیانؓ بن الحارث بن عبدالمطلب
    4
    :
    سیرت ابن ہشام جلد 4صفحہ87مطبوعہ مصر 1936ء


    ہم پُھولوں کی سیج پر چل کر دلوں کو فتح نہیں کرسکتے
    (فرمودہ13فروری 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مَیںنے گزشتہ دو خطبوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائی تھی۔ صرف پچھلے خطبہ میں اِس موضوع کے متعلق مَیں کچھ نہیں کہہ سکا کیونکہ میری طبیعت نزلہ اور کھانسی کی وجہ سے خراب تھی۔ اِس کے بعد بھی طبیعت برابر خراب رہی بلکہ پچھلے چند دنوں میں تو میری طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تھی لیکن رات کو یکدم افاقہ ہو گیا اَور مَیں اِس قابل ہو گیا کہ آج جمعہ کے خطبہ کے لیے آ سکوں۔ کھانسی تو اب بھی ہے اَور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جسم میں بیماری کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے۔ اس لیے کمزوری اَور نقاہت اب تک پائی جاتی ہے لیکن بہرحال پہلے جیسی حالت نہیں۔
    مَیں نے گزشتہ دو خطبوں میں جیسا کہ مَیں ذکر کر چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائی تھی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاندان تو انسانوں میں سے ہے اور باقی انسان نہیں یا وہ تو احمدی ہیں اور باقی احمدی نہیں۔ بلکہ وہ بھی انسان ہی ہیں اور باقی بھی انسان ہیں، وہ بھی احمدی ہیں اور باقی بھی احمدی ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ مَیں نے اُن کو خاص طور پر کیوں مخاطب کیا؟ ہمارے مُلک میں پنجابی کی ایک مثل مشہور ہے جسے عام طور پر عورتیں استعمال کیاکرتی ہیں اَور وہ مثل یہ ہے کہ:
    دھی اے نی میں گل کراں۔ نونہہ ایں نی تُو کن دھر
    بہو ایک غیر گھر سے آئی ہوئی ہوتی ہے۔ اگر بہو کو کوئی نصیحت کی جائے تو وہ بُرا مناتی اور یہ خیال کرتی ہے کہ مَیں چونکہ غیر گھر کی تھی اِس لیے مجھے ایسے کہا گیا ہے۔ اِسی لیے جو بے وقوف ساس ہوتی ہے وہ تو بہو کو مخاطب کرتی ہے لیکن جو عقلمند ساس ہوتی ہے وہ بیٹی کو مخاطب کرتی ہے۔ اِس طرح بیٹی تو بُرا نہیں مناتی کیونکہ وہ اپنی ہوتی ہے اور بہو بھی بُرا نہیں مناتی کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ یہ بات بیٹی کو کہی گئی ہے۔ اگر مَیں نے بھی یہ بات سُن لی تو کیا ہوا۔ اِس طرح فساد اور اختلاف سے بچاؤ کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ بات بھی کہی جاتی ہے اور فائدہ بھی ہو جاتا ہے۔
    اِس مثل کے ماتحت مَیں نے گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کو مخاطب کیا ہے لیکن ساری جماعت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بھی میری مخاطب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کو اگر مَیں نے مخاطب کیا ہے تو اِس لیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کا مجھ پر دُہرا حق ہے۔ ایک رشتہ داری کا اور دوسرا احمدیت کا۔ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 1یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تُو دنیا کو ڈرا اَور اُسے بیدار اور ہوشیار کر۔ مگر پہلے اپنے رشتہ داروں اور قریبیوں کو ڈرا کیونکہ اُن کا تجھ پر دُہرا حق ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ رشتے داریاں دنیا میں بڑا اثر رکھتی ہیں اور تاریخ میں اِس کے اثرات کی بعض حیرت انگیز مثالیںہمیں ملتی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جب تبلیغ شروع کی اور کفار نے انتہائی طور پر ہر رنگ میں اپنا اثر استعمال کر لیا اور کسی طرح بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم اور حق کے اعلان کو نہ چھوڑا تو مکہ کے لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور اُنہیں کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو سمجھا لیجیے۔ ورنہ ہم مجبور ہو جائیں گے کہ اُس کے ساتھ آپ کا بائیکاٹ کردیں۔ حضرت ابوطالب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور اُن سے کہا اے میرے بھتیجے! آج تک مَیں نے تیرا ساتھ دیا ہے مگر آج میری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں اور اُنہوں نے کہا ہے کہ ابوطالب ہم تیرا بہت لحاظ کرتے رہے ہیں مگر آج ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر تُومحمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کو نہیں چھوڑے گا اور اُس کی حمایت بدستور کرتا چلا جائے گا تو ہم تیری سرداری سے بھی انکار کر دیں گے۔ ابوطالب ایک غریب آدمی تھے مگر وہ سارا وقت اپنی قوم کی خدمت میں لگاتے تھے اِس لیے اُن کی ساری جائیداد ہی قوم کی محبت تھی۔ دنیا میں کچھ لوگ کمانے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ قوم کی خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ کمانے والے اپنا بدلہ روپیہ کی صورت میں لے لیتے ہیں مگر خدمت کرنے والے اپنا بدلہ قوم کی محبت کی صورت میں لیتے ہیں۔ ابوطالب چونکہ دن رات اپنی قوم کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اِس لیے اُن کی ساری کمائی ہی یہی تھی کہ وہ قوم کی خدمت کرتے تھے اور قوم اُنہیں سلام کرتی تھی۔ اس لیے جب قوم کی طرف سے اُنہیں یہ نوٹس ملا توانہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے! میری قوم آج کہہ رہی ہے کہ اگر تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہیں چھوڑ سکتا تو پھر ہم بھی تجھ کو چھوڑ دیں گے۔ اُس وقت یہ خیال کر کے کہ ساری عمر مَیں نے اپنی قوم کی خدمت میں لگا دی تھی مگرآج بڑھاپے میں آ کر وہی قوم مجھے چھوڑنے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔ حضرت ابوطالب پر رقت طاری ہوئی اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہ دیکھ کر کہ میرے چچا باوجود اِس کے کہ مسلمان نہیں ہمیشہ میری خدمت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ انہوں نے میری تائید کی ہے اور اب میری خدمت اور میری تائید کی وجہ سے ان کی ایک ہی قیمتی دولت جو اِن کے پاس تھی یعنی قوم میں عزت وہ کھوئی جانے لگی ہے رقّت طاری ہو گئی۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا اے چچا! جوپیغام مَیں لایا ہوں وہ خدا نے میرے سپرد کیا ہے۔ ایسا نہیں کہ کسی کے کہنے پر مَیں اُسے چھوڑ دوں۔ اے میرے چچا! مَیں جانتا ہوں کہ خدا ایک ہے لیکن مَیں اپنی قوم کی خاطر یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدا ایک نہیں۔ اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دے اور اِتنا بڑا نشان دکھائے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی اور پھر کہے کہ اب بھی یہ مان جاؤ کہ دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک نہیں تب بھی مَیں ایسا نہیں کرسکتا۔اے میرے چچا! مَیں آپ سے بھی یہ امید نہیں کرتا کہ آپ میری خاطر اتنی بڑی قربانی کریں۔ آپ نے جو خدمت کی ہے مَیں اُس کا ممنون ہوں لیکن آئندہ کے لیے مَیں یہ بوجھ آپ پر ڈالنا نہیں چاہتا۔ آپ بے شک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم سے کہہ دیں کہ مَیں نے اپنے بھتیجے کو چھوڑ دیا ہے اور اب مَیں تمہارے ساتھ ہوں۔
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور یقین کے ساتھ یہ حیرت انگیز محبت ایک طرف تھی اور دوسری طرف وہ محبت کھڑی دیکھ رہی تھی جو ابوطالب کو اپنے بھتیجے کے ساتھ تھی۔ ابوطالب اُس وقت اِن دو محبتوں کے درمیان آ گئے۔ ایک طرف اُن کا بیٹا تھا۔ یوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطالب کے بھتیجے تھے مگر ابوطالب نے اپنے بیٹوں سے بڑھ کر آپ سے محبت کی اور اپنے بیٹوں سے زیادہ غوروپرداخت کے ساتھ آپ کو پالا۔پس ایک طرف وہ محبت کھڑی تھی جو ابوطالب کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور دوسری طرف بھتیجے کا یہ یقین اور ایمان تھا کہ مَیں نے جس صداقت کو قبول کیا ہے مَیں اُسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ اُن کی ایک آنکھ کے سامنے بیک وقت یہ دو محبتیں آکر کھڑی ہو گئیں اور دوسری آنکھ کے سامنے اُن کے باپ عبدالمطلب کی روح آکرکھڑی ہو گئی جنہوں نے مرتے وقت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ابوطالب کے ہاتھ میں یہ کہتے ہوئے دیا تھا کہ ابوطالب! اِس کا باپ فوت ہو گیا ہے، اِس کی ماں بھی فوت ہو گئی ہے۔ مَیں نے اِس کو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز سمجھ کر پالا ہے۔ اَب مَیں مرنے لگا ہوں اور مجھ کو تجھ پر اعتبار ہے کہ تو اِس کام میںسُستی اور کوتاہی نہیں کرے گا۔ مَیں اپنی سب سے زیادہ قیمتی امانت تیرے سپرد کرتا ہوں۔ غرض باپ کی روح ایک طرف کھڑی تھی اور صداقت کے فدائی اور سچائی پر جان دینے والے بیٹے کی روح دوسری طرف کھڑی تھی۔ باوجود اسلام نہ لانے کے ابوطالب ان دو محبتوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور اُنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا اے میرے بیٹے! جاؤ اور جس چیز کو سچا سمجھتے ہو اُس کو پھیلاؤ۔ قوم کا مذہب تو مَیں چھوڑ نہیں سکتا لیکن اگر تیری خاطر قوم مجھے چھوڑ دے تو مَیں تیرے لیے یہ قربانی بھی کروں گا اور ہمیشہ تیرا ساتھ دوں گا۔2 تب قوم نے یہ فیصلہ کیا کہ بنوہاشم کا مقاطعہ کیا جائے۔ اِس اعلان پر بنوہاشم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر ایک وادی میں جو ابوطالب کی ملکیت میں تھی چلے گئے۔ وادی سے مُراد کوئی سرسبز و شاداب مربع یا وسیع زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ مکہ میں بے پانی اَور بے سبزی کے وادیاں ہوا کرتی ہیں۔ گویا بے آب و گیاہ زمین کے کچھ ٹکڑے ہوتے ہیں لیکن چونکہ اُن میں کوئی کوئی جھاڑی بھی پائی جاتی ہے جس میں اونٹ وغیرہ چر لیتے ہیں اِس لیے اُنہیں وادی کہہ دیا جاتا ہے۔ مکہ کے پاس ایک ایسی ہی وادی ابوطالب کی تھی۔ ابوطالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اور اُن چند مسلمانوں کو لے کر جو اُس وقت مکہ میں تھے اُس وادی میں چلے گئے۔ جب وہ اُس وادی میں گئے تو وہ ہاشمی دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر بعض دفعہ گالیاں دیا کرتے تھے، وہ ہاشمی دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکنے میں خوشی محسوس کرتے تھے، وہ ہاشمی دشمن جو ابوجہل کو اُکسا اُکسا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف پہنچایا کرتے تھے۔ وہ بھی قومی عصبیت اور رشتہ داری کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر اُس وادی میں محصور ہو گئے۔ یہاں تک کہ وہ شدید ترین دشمن جس کا قرآن کریم میں بھی اُس کے ظلموں اور بداعمال کی وجہ سے ابولہب نام آتا ہے وہ بھی اپنے دوستوں اور ہمنوا لوگوں کو چھوڑ کر اُس جگہ چلا گیا اور اُن سب نے کہا کہ ہم اپنے رشتہ داروں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ تو رشتہ داری ایک اثر رکھتی ہے اور خونی تعلق کبھی کبھی ایسی قربانیاں بھی کروا لیتا ہے جو دوسرے حالات میں ناممکن نظر آتی ہیں۔ چنانچہ وہی شخص جس کو ابولہب کہتے ہیں (اُس کا نام ابولہب نہیں تھا) اَور جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے 3ابولہب ہلاک ہو گیا اور اُس کی طاقت توڑ دی گئی۔ جب ابوطالب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی ابی طالب میں پناہ گزیں ہوئے تو اِسی ابولہب نے کہا کہ مَیں بھی اب مکہ میں نہیں رہ سکتا۔ جہاں یہ لوگ رہیں گے وہیں مَیں بھی رہوں گا۔ حالانکہ وہ مسلمان نہیں تھا بلکہ شدید ترین دشمنِ اسلام تھا مگر رشتہ داری کی وجہ سے اُس نے ایسا کیا۔ تو رشتہ داریاں فائدہ بھی دیتی ہیں اور رشتہ داریاں کبھی کبھار کام بھی آجایا کرتی ہیں۔ اِس لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تُو دنیا کے کونے کونے کے لوگوں کو ڈرالیکن پہلے اپنے عزیزوں کو ڈرا۔ اِس لیے کہ اُن کا تجھ پر دُہرا حق ہے۔ ایک حق تو یہ ہے کہ باقی دنیا کی طرح یہ بھی تباہ ہو رہے ہیں اور ایک حق یہ ہے کہ یہ تیرے رشتہ دار ہیں اور ان کے باپ دادوں نے تیرے ساتھ کبھی حُسن سلوک کیا تھا۔ چنانچہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو ڈرایا۔ کچھ لوگ اُن میں سے ہدایت پاگئے اور کچھ گمراہ ہی رہے۔
    پس مَیں کے حکم کے ماتحت بھی اَور حقِّ رشتہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد کو اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ اُن کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مامور کیا ہوا کرتے ہیں اور اُن پر ایمان لانے کے بعد انسان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اگر ایک مامور کے گھر میں پیدا ہونے کے بعد اُن کو اِتنا بھی پتہ نہیں کہ مامور کیا ہوتا ہے یا مامور کی جماعت کیسی ہوتی ہے تو اُن سے زیادہ نابینا اور کورچشم اَور کون ہو سکتا ہے۔ ایک انگلستان کا آدمی اگر یہ کہتا ہے کہ مَیں نہیں جانتا آم کیا چیز ہوتی ہے، اگر امریکہ کا ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ مَیں نہیں جانتا کمرخ4(کمرکھ) کیا چیز ہوتی ہے تو ہم اُسے معذور خیال کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایک ہندوستانی یہ کہے کہ مَیں نہیں جانتا کہ آم کیا چیز ہوتی ہے تو تم اُسے کتنا ذلیل اور کتنا حقیر خیال کر و گے۔ تم اُسے پاگل سمجھو گے یا اُس کے متعلق یہ کہو گے کہ یہ شخص دنیا میں کسی مصرف کا نہیں اور اس نے دنیا میں رہ کر کچھ بھی نہیں سیکھا۔ اگر کوئی غیر یہ کہتا ہے کہ مَیں نہیں جانتا مامور کی کیا ضرورت ہوتی ہے، اگر کوئی غیر یہ کہتا ہے کہ مَیں نہیں جانتا مامور کس چیز کی قربانی کا مطالبہ کیا کرتے ہیں، اگر کوئی غیر یہ کہتا ہے کہ مَیں نہیں جانتا مامور کی جماعت کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے، اگر کوئی غیر یہ کہتا ہے کہ مَیں نہیں جانتا مامور کو قبول کر کے انسان کو کیا قربانی کرنی پڑتی ہے۔ تو اگر ایسا کہنے والا احمدی ہے تب بھی اُس پر افسوس ہے اور اگر ایک شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی طرف منسوب ہے یہ بات کہتا ہے تو وہ ایک نہایت ہی حقیر اور ذلیل انسان ہے کیونکہ اُس نے اپنی ذمہ داری کے سمجھنے میں سخت کوتاہی سے کام لیا ہے۔
    یاد رکھو زمانے بدلتے ہیں اور زمانوں کے ماتحت حالات بھی بدلتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آ پ اچھی سے اچھی غذا بھی کھا لیتے تھے۔ مگر یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے فاقے بھی کیے اور بعض دفعہ اتنے لمبے فاقے کیے کہ آپ کو اپنا پیٹ باندھنا پڑا۔ جس واقعہ کی وجہ سے غلطی سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے حالانکہ یہ عربی کا محاورہ ہے۔ عربی میں جب کوئی فاقہ زدہ انسان اپنا پیٹ کَس کر باندھ لے مثلاً پٹکا باندھ لے تا کہ پیٹ ہلے نہیں تو کہتے ہیں اُس نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیے ہیں۔ مگر چونکہ ہندوستانی عربی نہیں جانتا اُس نے پتھر کا لفظ دیکھ کر یہ سمجھ لیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بُھوک کی شدّت کے وقت واقع میں پتھر اُٹھا کر باندھ لیے تھے۔ حالانکہ عقلاً بھی کمزور انسان بوجھ کم اُٹھا سکتا ہے زیادہ نہیں اُٹھا سکتا۔ بہرحال ہمارے ملک میں جو بعض دفعہ پٹکا باندھ لیتے ہیں عرب اُسے پتھر باندھنا کہتے ہیں۔ جس طرح ہمارے ملک میں کہتے ہیں مَیں نے اپنے دل پر پتھر رکھ لیا ہے اور اِس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ مَیں نے صبر کیا۔ اِسی طرح کا یہ محاورہ ہے۔ اگر اُردو میں کوئی شخص یہ محاورہ استعمال کرے اور کہے کہ جب مصیبت آئی تو مَیں نے اپنے دل پر پتھر رکھ لیا اور انگریزی میں اِس کا ترجمہ ِاس طرح کیا جائے کہ جب مجھ پر مصیبت آئی تو مَیں نے دِل پر پتھر رکھ کر پٹی باندھ لی تو کیسی ہنسی کی بات ہو گی۔ اِسی طرح جب ایک عرب پڑھتا ہے کہ فلاں ہندوستانی یہ کہہ رہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے تو وہ ہنستا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پتھر باندھنے کے معنے صرف اِتنے ہیں کہ پٹکا باندھ لیا۔ یہ نہیں کہ پتھر باندھ لیے۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اپنے پیٹ پر پٹکا بھی باندھنا پڑا۔5 اور کبھی اچھی غذائیں بھی آپ نے کھائیں۔
    ایک صحابی کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دفعہ دسترخوان پر گوشت پکا ہوا آیا جس میں کدو پڑا ہوا تھا۔ تو آپ اپنے ہاتھ سے کدو کے قتلے تلاش کر کر کے کھاتے تھے کیونکہ وہ آپ کو بہت مرغوب تھا6 مگر پھر وہ وقت بھی آیا جب آپ کو کھانا نصیب نہ ہوا۔ وہ شخص احمق ہے جو کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمدہ گوشت کیوں کھایا۔ وہ شخص احمق ہے جو کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمدہ شہد کے شربت کیوں پئے۔ وہ شخص احمق ہے جو کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی غذائیں کیوں کھائیں۔ کیونکہ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاقے بھی کیے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر پٹکے بھی باندھے۔ ایسے دن بھی تو آپؐ پر آئے کہ ایک فقیر عورت آپ کے گھر میں مانگنے کے لیے آئی تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ اُس دن ہمارے گھر میں اپنے کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ آخر سارے گھر میں تلاش کرنے پر صرف ایک کھجور ملی اور وہ مَیں نے اُس عورت کو دے دی۔ اُس عورت نے وہ کھجور اپنے منہ میں رکھ کر اُس کے دو ٹکڑے کیے۔ اُس کے ساتھ دو بچیاں تھیں۔اُس نے آدھا ٹکڑا ایک بچی کو اور آدھا ٹکڑا دوسری بچی کو دے دیا۔ حضرت عائشہؓ اِس سے بڑی متأثر ہوئیں اور اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اِس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا یارسول اللہ! وہ بڑی بھُوکی تھی مگر ہمارے گھر میں بھی کچھ نہ تھا۔ صرف ایک کھجور ملی جو مَیں نے اُس کو دے دی۔ مگر یارسول اللہ! وہ کھجور بھی اُس نے خود نہیں کھائی بلکہ اُس کے دو ٹکڑے کر کے اُس نے ایک ٹکڑا اپنی ایک بیٹی کو دے دیا اور دوسرا ٹکڑا دوسری بیٹی کو دے دیا۔ آپؐ نے فرمایا عائشہ! اگر کسی کے گھر میں دو لڑکیاں ہوں اَور وہ اُن کی اچھی پرورش کرے تو خدا اُس کے لیے جنت واجب کر دیتا ہے۔7 غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دن بھی تو آئے جب آپ کو فاقے کرنے پڑے۔ مگر کیا جب فاقہ کے دن آئے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خدا سے یہ کہا کہ مجھے فاقے کیوں آ رہے ہیں؟ جو شخص فاقہ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے کیوں فاقہ آیا ہے وہ مستحق ہے اِس بات کا کہ دنیا کی ہر نعمت اُس کو دی جائے کیونکہ وہ ہر حالت پر خوش ہے۔وہ اپنے آقا سے بطور حق کے کچھ نہیں مانگتا۔ جب دینے والا کچھ دے دیتا ہے تو وہ لے لیتا اور استعمال کرتا ہے۔ اور جب نہیں دیتا تو اُس کی زبان پر کوئی شکوہ نہیں آتا۔
    لوگ ملازمت تلاش کرتے ہیں تو سب سے پہلے یہ دریافت کرتے ہیں کہ بتائیے ہمارا گریڈ کیا ہو گا۔ جب بتایا جاتا ہے کہ فلاں گریڈ ہو گا اور مثلاً دو سو سے تین سو تک تنخواہ ہو گی تو و ہ پوچھتے ہیں کہ کیا اِسی پر ملازمت ختم ہو جائے گی یا اَور بھی ترقی ملے گی؟ اِس پر اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد تمہیں فلاں گریڈ دیا جائے گا جس میں چھ سَو تک تنخواہ جاتی ہے۔ مگر کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کوئی مطالبہ کیا تھا؟ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ آواز آئی تھی کہ اُٹھ اور دنیا کی خدمت کے لیے کھڑا ہو تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھا تھا کہ میرا کیا گریڈ ہو گا؟ یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھا تھا کہ مجھے کیا ملے گا؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک ہی بات جانتے تھے کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ کھڑا ہو جا اور وہ کھڑے ہو گئے۔ اگر خدا نے اُنہیں کچھ کھلایا تو اُنھوں نے کہا یہ کھانا میرے ربّ کی نعمت ہے۔ اور اگر نہیں کھلایا تب بھی اُنہوں نے کہا کہ یہ فاقہ میرے ربّ کی نعمت ہے۔ ہزاروں ہزار بلکہ لاکھوں لاکھ اشرفیاں لوگوں کے گھروں میں بھری ہوئی ہوتی ہیں مگر اُن کے دلوں میں کبھی یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ ہم پر خدا تعالیٰ نے کتنا بڑا احسان کیا ہے۔ اِس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تعالیٰ کے ساتھ احسان مندی کے جذبات کچھ اِس قسم کے تھے کہ آسمان سے بارش برستی تو وہ زمیندار جس کی کھیتیاں اُس بارش سے تیار ہوتیں خاموشی کے ساتھ گزر جاتا۔ اُسے پانی جمع کرتے ہوئے کبھی خیال بھی نہ آتا کہ یہ کہاں سے آگیا ہے۔ وہ شہر جن میں کنویں نہیں ہوتے اور جہاں کے رہنے والے بارش ہونے پر تالابوں میں پانی جمع کر لیتے ہیں تاکہ سال بھر اُن کی ضروریات پوری ہوتی رہیں وہ بھی اپنے لیے اور اپنے جانوروں کے لیے پانی جمع کرتے ہیں مگر اُن کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ اُن کے ربّ نے اُن پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کے نہ تالاب تھے نہ کھیتیاں تھیں نہ جانور تھے بارش آتی تو آپ کمرہ سے نکل کر باہر صحن میں آ جاتے۔ اپنی زبان باہر نکال دیتے اور جب اُس پر پانی کا قطرہ گرتا تو آپ فرماتے میرے ربّ کا تازہ احسان ہے۔8 جس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کے احسانات کی یہ عظمت ہو، جس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کے احسانات کی یہ قدر ہو اُس کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔ اگر اُس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتیں ملتی ہیں اور وہ اُن نعمتوں کو کھاتا ہے تو اُن نعمتوں کے کھانے پر اگر کوئی شخص اعتراض کرتا ہے تو وہ کافر ہے بغیر اِس کے کہ وہ خدا کا انکار کرے۔ کیونکہ وہ خدا کی صفت کا انکار کرتا ہے۔ اور اگر وہ فاقے کرتا ہے اور کوئی دوسرا شخص اُس کے فاقے پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ کیا یہ بھی خدا کا بندہ ہے جو فاقے کر رہا ہے؟ تو وہ بھی کافر ہے۔ اِس لیے کہ اُس کی زندگی اپنی زندگی نہیں۔ نہ اُس کا کھانا اپنا ہے نہ اُس کا پینا اپنا ہے نہ اُسکا جینا اپنا ہے۔ وہ کھاتا ہے تو خدا کے لیے کھاتا ہے، وہ پیتا ہے تو خدا کے لیے پیتا ہے، وہ فاقے کرتا ہے تو خدا کے لیے فاقے کرتا ہے۔ یہ وہ زندگی ہے جو ایک مومن کی زندگی ہوتی ہے۔ جب تک اِس احساس کے ساتھ کوئی شخص خدا کے لیے اپنی زندگی وقف نہیں کرتا اُس وقت تک وہ ہرگز مومن نہیں کہلا سکتا۔
    مَیں اُن کو بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان میں سے زندگیاں وقف کر چکے ہیں اور کام کر رہے ہیں اور خصوصاً وہ میرے بیٹے ہی ہیں کہتا ہوں کہ تم بھی میرے پچھلے خطبوں پر یہ مت خیال کرو کہ تم کو بَری سمجھا گیا ہے۔ تمہارا اپنے آپ کو وقف کرنا یا کام کرنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ تم خدا کے بندے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم خدا کے بندے نہ ہوبلکہ میرے بندے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ تم نے خدا کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ مجھے خوش کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہو۔ اِس لیے تم بھی اپنے حالات کا جائزہ لو۔ اگر اپنی زندگی وقف کرنے کے بعد پھر بھی تمہارے اندر دنیا کی لالچ پائی جاتی ہے، اگر پھر بھی تمہارے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ تمہارا باپ یا تمہاری ماں کس حد تک تمہاری خدمت کرتے ہیں، اگر پھر بھی تمہارے قلوب میں بشاشت پیدا نہیں ہوئی بلکہ وقف کے بعد تمہارے اندر مایوسی پیدا ہو جاتی ہے یا اُمنگ پیدا نہیں ہوتی تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ تم نے جبر کے ماتحت اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے۔ جس طرح زبردستی کا کلمہ پڑھانا کسی کو جنت کا مستحق نہیں بنا دیتا اِسی طرح زبردستی کا وقف بھی کسی کو خدا رسیدہ نہیں بنا سکتا۔ اگر تم نے خدا کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں تو تم پر مایوسی کیوں طاری ہو۔ کسی تکلیف کے پہنچنے پر تمہارے اندر احساس کمتری کیوں پایا جائے۔ اگر تمہارا کوئی عزیز دنیا کماتا ہے تو تمہارے دل میں لالچ کیوں پیدا ہوتی ہے۔ کیا کسی کو پاخانہ کھاتے دیکھ کر تمہارے دل میں بھی رغبت پیدا ہوتی ہے؟ اگر تم نے صحیح طریق اختیار کیا ہوا ہوتا تو تم سمجھتے کہ وہ نجاست کھا رہا ہے اور ہمیں اُس نجاست کھانے والے شخص سے گھِن آنی چاہیے تھی، نفرت اور کراہت آنی چاہیے تھی۔ لیکن اگر تمہیں کراہت نہیں آتی تو تم بھی ویسے ہی مجرم ہو جیسے وہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ ظاہر کافر ہے اور تم باطنی کافر ہو اَور کوئی فرق نہیں۔ اور اگر جس لائن کو تم نے اختیار کیا ہے اُس کے فوائد تم پر روشن ہیں، تم اپنی زندگی وقف کرنے کے بعد اپنے دلوں میں ایک عظیم الشان تغیر محسوس کرتے ہو، تم یقین رکھتے ہو کہ یہ ایک بھاری نعمت ہے جو تمہیں دی گئی ہے، دنیا تمہاری نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے اور خدا ہی خدا تمہیں نظر آنے لگتا ہے، اسی طرح تمہارے کاموں میں وہ اولوالعزمانہ شان پیدا ہو جاتی ہے جو خدا کے بندوں میں پیدا ہونی چاہیے اور تم صرف مفوّضہ کام کا بجا لانا ہی کافی نہیں سمجھتے بلکہ تمہیں یہ بھی مدنظر ہوتا ہے کہ جماعت کی ساری ذمہ داریاں تم پر ہیں اور تم اِس راہ میں مرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہو۔ تب بے شک یہ کہا جا سکتا ہے کہ تم نے وقف کی حقیقت کو سمجھا ہے۔
    یاد رکھو !بغیر موت قبول کرنے کے کوئی مذہبی جماعت مذہبی جماعت نہیں بن سکتی۔ تم کو پہلے قربانیاں دینی پڑیں گی اور جماعت کو بعد میں قربانی کے لیے بلایا جائے گا۔ تم اگر یہ امید کرتے ہو کہ پہلے دوسرے لوگ قربانیاں کریں تو تم کافر اور مرتد ہو۔ پہلے تمہیں اپنی قربانیاں پیش کرنی پڑیں گی۔ اور وہ دن اب کچھ زیادہ دور نہیں بلکہ وہ دن دروازے پر کھڑے ہیں جب تم کو اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرنی پڑیں گی۔ یہ عیاش لوگوں کے خیالات ہوتے ہیں کہ اگر ہم آگے بڑھے تو ہمارے بچے یتیم اور ہماری بیویاں بیوہ ہو جائیں گی۔ مومن اِن چیزوں کو فخر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قبول کرتا ہے۔ اگر خدا کی مرضی یہی ہے تو ہونے دو بیویوں کو بیوہ، ہونے دو بچوں کو یتیم۔ ہمارا مٹ جانا خدا کی راہ میں اگر اسلام کو مضبوط بناتا ہے تو ہم ضرور مٹیں گے اور ہمارا مٹنا ہمارے لیے فخر کا موجب ہو گا۔ ہمارا یہ احساس کہ ہم زندہ رہ کر دین کی خدمت کریں یہ دہریت ہے، یہ کفر ہے، یہ بے ایمانی ہے۔تم کو سب سے پہلے اپنی قربانی پیش کرنی ہو گی۔ اور تمہاری اِس قربانی کے بعد وہ ہزاروں ہزار اور لاکھوں لاکھ احمدی جو اِس وقت نابینا ہیں اور صرف منہ سے اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کی آنکھوں کو بھی بینا کر دے گا اور اُن کے ایمانوں کو بھی مضبوط بنا دے گا۔ ہم پھُولوں کی سیج پر چل کر دلوں کو فتح نہیں کر سکتے۔ دلوں کو فتح کرنے کے لیے بارود کی سُرنگوں پر چلنا پڑتا ہے۔ اور بارودی سُرنگیں جب پھٹتی ہیں تو ہڈیوں تک کو اُڑا دیتی ہیں اور جسم کا پتہ بھی نہیں لگتا کہ کہاں گیا ہے۔ اِن رستوں پر چلے بغیر تم خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم نہیں کر سکتے۔ اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم کیے بغیر تم خدا تعالیٰ کو منہ بھی نہیں دکھا سکتے"۔
    (الفضل 11مارچ 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    الشعراء :215
    2
    :
    سیرت ابن ہشام، جلد1 صفحہ 284،285 مطبوعہ مصر 1936ء
    3
    :
    اللّھب:2
    4
    :
    کمرخ:کمرخ ایک ترش پھل جس کی قدرتی طور پر چار پھانکیں ہوتی ہیں ۔مرادکمرکھ۔
    5
    :
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خندق و ھی الاحزاب
    6
    :
    بخاری کتاب الاطعمۃ باب الْقَدِیْدِ
    7
    :
    بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الولد و تقبیلہ ومعانقتہٖ
    8
    :
    سنن النسائی الکبرٰی کتاب الاستسقاء باب کراھیۃ الاستمطار با لانوائِ
    جلد 1صفحہ 563حدیث نمبر1837مطبوعہ بیروت لبنان (مفہومًا)


    جو لوگ موت سے نہیں ڈرتے
    وہ ہمیشہ زندہ رکھے جاتے ہیں
    (فرمودہ20فروری 1948ء بمقام ناصر آبادسندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "ہندوستان پر جو مصیبت آئی ہے خصوصاً مسلمانوں پر وہ ایسی نہیں ہے کہ اُس کو کوئی سمجھدار انسان جُھٹلا سکے۔ ہندوؤں کی حالت مسلمانوں سے الگ ہے۔ اول تو ہندو اِتنا مارا نہیں گیا جتنا مسلمان مارا گیا ہے۔ پھرچونکہ ہندوؤں اور سکھوں میں اتنا اغوا نہیں ہوا جتنا مسلمانوں میں ہوا ہے۔ پھر ہندوؤں اور سکھوں کی اِتنی جائیداد تباہ نہیں ہوئی جتنی مسلمانوں کی تباہ ہوئی ہے۔ ہندوؤں کی جائیداد زیادہ ترروپیہ کی شکل میں تھی جسے وہ نکال کر لے گئے۔ سکھوں کی بے شک زمین تھی اور زمینداری کے لحاظ سے اُن کا نقصان بھی ہوا مگر وہ ہندوؤں کا صرف ایک ٹکڑا تھے اور مسلمان بحیثیت مجموعی تباہ ہوئے۔ اس لیے غیرمسلموں کا نقصان کم تھا۔ پھر مالدار ہونے کی وجہ سے اب وہ مغربی پنجاب میں پھر واپس آ رہے ہیں اور اُن کی جائیدادیں اُنہیں مل رہی ہیں۔ مگر مسلمانوں کی جائیدادیں واپس کرنے میں لیت و لعل کیا جارہا ہے اور اُس میں قسم قسم کی رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ قادیان ہی کو لو وہاں کے لوگ جانا چاہتے ہیں مگر حکومت اب تک جواب ہی دینے میں نہیں آتی۔ دنیا کی تاریخ میں اتنے لوگوں کی جبری ہجرت کا آج تک کوئی نمونہ نہیں ملتا۔ زیادہ سے زیادہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ یادو تین لاکھ لوگوں کی ہجرت کا ثبوت ملتا ہے۔ بڑی سے بڑی مثال ٹرکی اور یونان کی ہجرت کی ہے مگر اُس میں بھی ہجرت کرنے والوں کی مجموعی تعداد بیس لاکھ بیان کی جاتی ہے۔ اِس کے مقابلہ میں صرف پنجاب کی ہجرت ایک کروڑ افراد کی ہے اور باقی علاقے اِس کے علاوہ ہیں۔ اگر سارے ہندوستان کی مجموعی تعداد دیکھی جائے تو ڈیڑھ کروڑ افراد تک یہ تعداد پہنچ جاتی ہے۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ اِتنی بڑی مصیبت کے باوجود مسلمانوں کی سُستی ابھی دُور نہیں ہوئی۔ وہ اُسی طرح رہ رہے اور اُسی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں جس طرح اِس حادثہ سے پہلے زندگی بسر کرتے تھے۔ اُن میں اب حِسّ ہی نہیں کہ خدا نے اُن کو جو چوٹ لگائی ہے اِس کے بعد اُنہیں اپنی زندگی بدل لینی چاہیے اور اپنے اندر ایک نیک اور پاک تغیر پیدا کرنا چاہیے۔ دنیا کے اَور ممالک بھی ہیں مگر اُن میں سے کسی ملک کے لوگوں میں بھی اتنی سُستی اور غفلت نہیں پائی جاتی جتنی مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔ اور اُن میں سے ہر شخص سمجھتا ہے کہ مَیں نے اپنی زندگی مفید طور پر بسر کرنی ہے۔ اُن میں سے ہر شخص کو شش کرتا ہے کہ اُس کا وجود لوگوں کے لیے نفع رساں ہو۔ مگر ہم میں سے ہر شخص اُسی طرح زندگی بسر کرتا ہے جس طرح دریا میں ایک کارک یا لکڑی پھینک دی جائے تو وہ ہوا کے زور سے کبھی اِدھر چلی آتی ہے اور کبھی اُدھر چلی جاتی ہے، کبھی دریا کے کنارے پر آ لگتی ہے اور کبھی اُس کی لہروں میں غائب ہو جاتی ہے۔ نہ اُن میں عقل ہے نہ خردہے، نہ محنت سے کام کرنے کی عادت ہے نہ وقت پر کام کرتے ہیں، نہ عمدگی اور نفاست سے کام سرانجام دیتے ہیں نہ کوشش اور جدوجہد سے کام لیتے ہیں۔سُستی اور غفلت اور نحوست اُن کے ہر کام میں نظر آرہی ہے اور وہ اپنی زندگی اِس طرح گزار رہے ہیں جس طرح کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ پھر اِس بے حیائی کو دیکھو کہ مسلمان اپنے گھروں سے نکالے گئے، اپنی جائیدادوں سے بے دخل کیے گئے، اپنے مال و املاک سے محروم کیے گئے مگر یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود وہ اِس تلخ گھونٹ کو پی کر خاموش ہو گئے ہیں اور اب اُن کے دلوں میں یہ غیرت بھی پیدا نہیں ہوتی کہ وہ پھر اپنی جائیدادوں کو حاصل کریں اور پھر اپنے وطنوں کو واپس لوٹیں۔ یورپ میں کسی قوم کا اگر ایک آدمی بھی مارا جائے تو سارے ملک میں اُس وقت تک آگ لگی رہتی ہے جب تک اُس کا بدلہ نہ لے لیا جائے۔ بے شک اسلام ہمیں اِس بات سے روکتا ہے کہ ہم کسی پر ظلم کریں۔ وہ ہدایت دیتا ہے کہ کسی پر ظلم نہ کرو۔ وہ ظالمانہ بدلہ سے بھی منع کرتا ہے۔ مگر وہ حقیقی بدلہ لینے سے نہیں روکتا کیونکہ حقیقی بدلہ نہ لینا بے غیرتی اور بے حیائی ہوتی ہے۔ مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ جہاں سے اُن کو کسی نے نکالا وہاں سے وہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہہ کر اور اپنے کپڑے جھاڑ کر چلے آئے۔ اِس سے زیادہ بے حیائی اور بے شرمی اَور کیا ہو سکتی ہے کہ بجائے اِس کے کہ مسلمانوں کے اندر ایک آگ لگ جاتی اور وہ تہیّہ کر لیتے کہ ہم نے پھر اپنے وطنوں کو واپس جانا ہے، پھر اپنے ملک میں عزت اور آبرو کا مقام حاصل کرنا ہے اور اِس غرض کے لیے وہ اپنے اندر طاقت اور قوت پیدا کرتے اور اپنے آپ کو منظم کرنے کی کوشش کرتے اور اِس طرح پنجاب کا ابتلاء اُن کی بیداری کا موجب ہو جاتا بلکہ سب دنیا کے مسلمانوں کی بیداری کا موجب ہو جاتا۔ ہوا یہ کہ دوسرے ممالک میں تو کیا تغیر ہونا تھا خود پنجاب کے مسلمانوں میں بھی بیداری پیدا نہیں ہوئی۔ بلکہ جو کچھ ہم نے پنجاب میں دیکھا ہے وہ تو یہ ہے کہ اپنی جائیدادیں کھونے کے بعد مسلمان بھک منگے اور فقیر بن گئے ہیں۔
    کثرت کے ساتھ حکام نے مجھے بتایا ہے کہ مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ اُن کو ایک مقام پر بٹھایا جاتا ہے، اُن کے لیے غلہ کا انتظام کیا جاتا ہے، ہندو جو برتن وغیرہ چھوڑ گئے ہیں اُن میں سے برتن اُن کو دیئے جاتے ہیں، کپڑے اُن کو دئیے جاتے ہیں اور اِس طرح اُن کو ہر طرح آرام پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر تیسرے چوتھے دن رات کے وقت وہ اچانک سب سامان لے کر بھاگ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ زمین ہمیں پسند نہیں۔ پھر پندرہ بیس میل کے فاصلے پر کسی دوسرے مقام پر ڈیرہ لگالیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مہاجر ہیں اور مشرقی پنجاب سے لٹے ہوئے آئے ہیں۔ پھر اُنہیں زمین دے دی جاتی ہے۔ جب زمین ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم کھائیں کہاں سے؟ پھر ان کو غلہ دیا جاتا ہے۔ غلہ مل جائے تو کہتے ہیں اب ہم پکائیں کس طرح؟ برتن تو ہمارے پاس ہے نہیں۔ اِس پر اُنہیں برتن دیئے جاتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں ہمارے پاس کپڑا کوئی نہیں۔ چنانچہ اُنہیں کپڑے بھی دیئے جاتے ہیں۔ مگر پھر تین چار دن کے بعد وہ تمام چیزیں سمیٹ کر وہاں سے بھی بھاگ جاتے اور کسی اَور مقام پر برتن اور کپڑے لینے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ گویا بجائے اِس کے کہ اِس مصیبت کے بعد اُن میں قوتِ عملیہ پیدا ہوتی، بجائے اِس کے کہ اُن میں کوئی نیک تغیر پیدا ہوتا وہ فقیر اور بھک منگے بن گئے ہیں اور تھوڑی بہت غیرت جو اُن میں باقی تھی وہ بھی جاتی رہی ہے۔ مسلمانوں کی بدقسمتی اور اُن کی تباہی کی کتنی بڑی علامت ہے کہ جب خدا کی طرف سے اُن کو مار پڑی تب بھی اُن کو ہوش نہ آیا اور جب خدا نے اُن پر فضل نازل کیا اور اُن کی مصیبتوں اور بلاؤں کو ہٹایا تب بھی اُن کو ہوش نہ آیا۔
    دنیا میں سمجھانے کے دو ہی طریق ہوا کرتے ہیں یا تو کوئی شخص پیار سے سمجھاتا ہے یا سزا اور تعذیب سے سمجھاتا ہے مگر مسلمان نہ پیار سے سمجھے نہ بلا ء سے اور نہ عذاب سے سمجھے۔ ایسے لوگوں کو سوائے تباہی کے اَور حاصل ہی کیا ہو سکتا ہے۔ اگر یہی حالت رہی تو یا تو مسلمان شدھ ہو کر ہندو بن جائیں گے اور یا پھر قتل کر دیئے جائیں گے۔ شدھ ہونے کی حالت میں اُن کی جانیں بے شک بچ جائیں گی مگر چوڑھوں اور چماروں کا کام اُن کے سپر د ہو جائے گا کیونکہ چُوڑھوں اور چماروں میں اب بیداری پیدا ہو رہی ہے اور وہ اپنی پہلی حالت کو تر ک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اِس طرح مسلمانوں کے لیے دو ہی صورتیں ہیں۔ جن میں غیرت ہو گی وہ تو مارے جائیں گے اور اُن کی عورتیں اور بچے بھی اغوا کر لیے جائیں گے۔ اور جن میں غیرت نہیں ہو گی اور ایمانی لحاظ سے کمزور ہوں گے وہ چُوڑھوں اور چماروں اور سانسیوں کی جگہ کھڑے کر دیئے جائیں گے اور اُن سے کہا جائے گا کہ اب تم یہ کام کرو کیونکہ یہ قومیں اب بیدار ہو چکی ہیں۔ اِس کے سوا مجھے اَور کوئی مستقبل مسلمانوں کا نظر نہیں آتا۔ مگر مسلمان ہے کہ اپنی موجودہ حالت پر بالکل مطمئن بیٹھا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جب کوئی مصیبت کا وقت آیا تو خدا خود سب کام کرے گا۔ ہمیں ہاتھ پاؤں ہلانے یا اپنے لیے کوئی تدبیر سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔ حالانکہ خدا نے اگر اِس رنگ میں اُن کی مدد کرنی ہوتی تو پہلے کیوں نہ کر دیتا۔
    پچھلے دنوں پانچ چھ لاکھ مسلمان مارا گیا ہے اَور ساٹھ ستّر ہزار مسلمان عورتیں اِس وقت بھی ہندوؤں اور سکھوں کے قبضہ میں ہیں۔ اصل میں تو یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی مگر اب بھی سترّہزار کے قریب مسلمان عورتیں سکھوں کے قبضہ میں ہیں اور وہ ان سے بدکاریاں کر رہے ہیں۔ مگر مسلمان ہیں کہ آرام سے بیٹھے ہیں اور کبھی ایک جگہ بھیک مانگنے چلے جاتے ہیں اور کبھی دوسری جگہ بھیک مانگنے چلے جاتے ہیں۔ اُن کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ آخر یہ ہوا کیا ہے۔ کسی کی بیوی سکھوں کے قبضہ میں ہے، کسی کی بہن سکھوں کے قبضہ میں ہے اور کسی کی ماں سکھوں کے قبضہ میں ہے اور وہ دن رات سکھوں سے بدکاریاں کروا رہی ہیں مگر یہ بے شرم آرام سے کبھی اِدھر چلے جاتے ہیں اور کبھی اُدھر چلے جاتے ہیں حالانکہ اگر ان میں ایک ذرہ بھر بھی غیرت ہوتی تو جب تک یہ اپنی اِس ہتک کا ازالہ نہ کر لیتے اُس وقت تک سانس لینا بھی انہیں دوبھر ہوتا۔ ان کا فرض تھا کہ خواہ صلح سے ملتا یا جنگ سے وہ اپنا علاقہ لینے کی کوشش کرتے۔ اور سانس نہ لیتے جب تک اپنی کھوئی ہوئی عزت حاصل نہ کرتے۔ گو ہندو اپنی جگہ واپس لینے کو پاکستان آ رہا ہے مگر مسلمان سو رہا ہے۔ وہ اِدھر ُادھر بھیک مانگتا پھرتا ہے۔ وہ اپنی اُٹھائی ہوئی بیوی یا بہن یا لڑکی کو بھُول چکا ہے اور اُس کی نظر سکھوں کے چھوڑے ہوئے مربعوں پر ہے یا ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی دکانوں پر۔ اس بے غیرت کا دنیا میں کوئی مقام نہیں۔ ایسا انسان زندہ رہنے کے قابل نہیں۔
    مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک ان میں غیرت پیدا نہیں ہو گی، جب تک وہ محنت کی عادت اپنے اندر پیدا نہیں کریں گے نہ خدا کی مدد اُنہیں حاصل ہو سکتی ہے اور نہ دنیا میں کوئی عزت کا مقام وہ حاصل کر سکتے ہیں۔ آخر خدا نے ہر چیز کے حصول کے لیے کچھ رستے مقرر کیے ہیں۔ جب تک کوئی شخص اُن رستوں کو اختیار نہیں کرتا اُس وقت تک اُسے کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ نے روٹی پکانے کے لیے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ پسے ہوئے آٹے میں پانی ملا کر اُسے گوندھا جائے۔ پھر چولہے میں آگ جلائی جائے۔ چولہے پر توا رکھا جائے اور پھر گُندھے ہوئے آٹے سے روٹی تیار کی جائے۔ اگر کوئی شخص اِس طریق کو اختیار نہیں کرتا اور سارا دن آٹے پر ڈنڈے مارتا رہتا ہے تو وہ کبھی بھی روٹی تیار نہیں کر سکتا۔ جس طرح سارا دن اگر کوئی شخص نکمّا بیٹھا رہے تو روٹی تیار نہیں ہو جائے گی اِسی طرح اگر کوئی شخص سارا دن آٹے پر ڈنڈے مارتا رہے اور غلط قسم کی محنت کرتا رہے تب بھی روٹی تیار نہیں ہو گی۔ کیونکہ روٹی کے لیے خدا تعالیٰ نے جو قانون مقرر کیا ہے اُس کو نہ اِس نے اختیار کیا ہے نہ اُس نے۔ اِسی طرح خدا تعالیٰ نے کپڑے سینے کے جو اصول مقرر فرمائے ہیں جب تک کوئی شخص اُن اصول کو اختیار نہیں کرے گا اور اُن اصول کے مطابق محنت نہیں کرے گا وہ کبھی کپڑا نہیں سی سکے گا۔ خدا نے کپڑا سینے کے لیے یہ اصول مقرر فرمایا ہے کہ سوئی میں تاگا ڈالا جائے اور پھر سُوئی سے سِلائی کی جائے۔ جو شخص سوئی ہاتھ میں نہیں پکڑتا یا مشین سے کام نہیں لیتا وہ کبھی بھی کپڑا نہیں سی سکتا۔ جس طرح مادی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے قانون جاری کیے ہیں اِسی طرح دنیا کی حالت اور دین کی حالت سدھارنے کے لیے بھی خدا تعالیٰ نے کچھ قانون مقرر فرمائے ہیں۔ اُن قانونوں کی پابندی کرنے کے بعد ہی انسان کامیاب ہو سکتا ہے۔ جو شخص اُن قانونوں کی پابندی نہیں کرتا وہ سوائے ندامت اَور ناکامی کے اور کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ مَیں نے دیکھا ہے وہ لوگ جن کو مسلمان وحشی کہتے ہیں وہ بھی اِس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ زندگی کس طرح بسر کرنی چاہیے اور کامیابی کِن اصول پر چل کر حاصل ہوتی ہے مگر مسلمان اُس وحشی قوم کے افراد کے برابر بھی اِس نکتہ کو نہیں سمجھتے۔
    قادیان میں مَیں جب بھی سیر کے لیے جاتا اور راستہ میں کھیتیاں آتیں تو مَیں فوراً سمجھ جاتا کہ یہ سکھ زمیندار کی کھیتی ہے اور یہ مسلمان زمیندار کی کھیتی ہے۔ اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ سکھ کی فصل تو یہاں یہاں تک ہوتی‘‘۔
    حضور نے سینہ کی طرف اشارہ کیا۔
    ــ’’اور مسلمان کی فصل یہاں تک ہوتی‘‘۔
    حضور نے کمر پر ہاتھ لگایا۔
    ’’ اِس امتیاز کی وجہ سے بغیر اِس علم کے کہ یہ سکھ کی کھیتی ہے یا مسلمان کی مَیں فوراً سمجھ جاتا تھا کہ دونوں میں سے یہ کس کی کھیتی ہے۔ درجنوں دفعہ ایسا ہوا ہے کہ مَیں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ سکھ کی فصل معلوم ہوتی ہے۔ اور جب آدمی بھجوا کر پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ واقع میں وہ سکھ کی ہے۔ حالانکہ زمین وہی ہوتی ہے، پانی وہی ہوتا ہے، بیج وہی ہوتا ہے مگر ایک کی فصل اچھی ہوتی ہے اور دوسرے کی ناقص۔مسلمان کہتے ہیں کہ ملیریا نے ہمیں مار لیا مگر سوال یہ ہے کہ ملیریا سکھ کو کیوں نہیں مارتا۔ اِسی لیے کہ وہ خود نہیں مرتا۔ اور جو شخص پہلے ہی مرنے کے لیے تیار ہو اُسے ملیریا بھی مار لیتا ہے۔ ہیضہ بھی مارلیتا ہے ۔ ٹائیفائیڈ بھی مار لیتا ہے مگر جو آپ مرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اُسے کوئی بھی مارنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ جس شخص کی حالت یہ ہو کہ وہ پہلے ہی اپنے آپ کو نیچا کر دیتا اور زمین پر گرادیتا ہے اور کہتا ہے کہ مَیں ختم ہو گیا اس کی خدا کیوں مدد کرے۔ جو شخص اپنے آپ پر بدظنی کرتا اور اپنی قابلیتوں کو کھو دیتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کی کبھی مدد نہیں کرتا۔
    مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت نے بھی اِس معاملہ میں اچھا نمونہ نہیں دکھایا۔ اُنیس بیس کا فرق ہو تو اَور بات ہے ورنہ جہاں تک محنت کا سوال ہے ، جہاں تک کوشش اور ہمت کا سوال ہے، جہاں تک کام کرنے کی روح کا سوال ہے ہمیں اِن میں اَور اُن میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ تم شیشے اپنے سامنے رکھ کر دیکھ لو سارے کے سارے مُردار معلوم ہوتے ہو۔ اِس کے مقابلہ میں سکھوں کی شکلیں دیکھ لو اُن کے قد بلند ہیں، اُن کے جسم مضبوط ہیں، اُن کی شکلوں سے رُعب ٹپکتا ہے، اُن کے اندر طاقت اور قوت زیادہ ہے۔ آخر تم میں اور اُن میں یہ فرق کیوں ہے؟ وہی زمین اُن کے پاس ہے جو تمہارے پاس ہے، وہی خوراک وہ کھاتے ہیں جو تم کھاتے ہو، وہی سامان اُن کے پاس ہے جو تمہارے پاس ہے۔ پھر یہ فرق کیوں ہے؟ یہ فرق اِسی لیے ہے کہ سکھ محنت کے عادی ہیں۔ کام کرتے ہیں تو پوری دیانت داری کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور چونکہ اُن کے جسم محنت اور مشقت کرنے کے عادی ہیں اُن کے پیٹ میں جب روٹی جاتی ہے تو اچھی طرح ہضم ہوتی اور اچھا خون پیدا کرتی ہے۔ اِسی طرح وقت پر اور صحیح طور پر کام کرنے کے نتیجہ میں اُن کے اَور کاموں میں بھی نمایاں فرق نظر آتا ہے۔پھر جب لڑائی ہوتی ہے تو لڑائی میں بھی وہ مسلمانوں کو مار لیتے ہیں۔ مشرقی پنجاب میں مسلمان چوالیس فیصدی تھے اور سکھ چھبیس فیصدی۔ مگر چوالیس فیصدی مسلمان چھبیس فیصدی سکھ کے مقابلہ میں اِس طرح بھاگاہے کہ جس طرح دُھواں دیکھتے ہی دیکھتے انسانی نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔اِسی طرح چند دنوں میں سارا مشرقی پنجاب مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔ بٹالہ جیسا شہر جس میں ساٹھ ہزار مسلمان تھے ہم نے اُن سے بہتیرا کہا کہ ایک طرف تم ڈٹے رہو اور دوسری طرف ہم قادیان میں ڈٹے رہتے ہیں سکھ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ مگر ساٹھ ہزار کا شہر دو گھنٹہ کے اندر اندر خالی ہو گیا اور سارے مسلمان شہر چھوڑ کر بھاگ گئے حالانکہ بٹالہ میں صرف چند سو سکھ تھے اور اسّی فیصدی مسلمان۔ مگر اسّی فیصدی مسلمان کے چند سو سکھ سے ڈر کر اوسان خطا ہو گئے۔یہ ڈر آخر کیوں پیدا ہوا؟ اِس لیے کہ سکھوں کی شکلیں ہی ہیبت ناک ہوتی ہیں اور وہ ہر قربانی کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان کی شکل سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوستی اور منحوس ہے اور خدا کی *** اُس پر برس رہی ہے۔ سکھ کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں ہمت ہے، طاقت ہے، ہوشیاری ہے، چالاکی ہے، کام کرنے کی روح ہے، مشکلات پر غلبہ پانے کی اُس میں طاقت ہے۔ لیکن مسلمان جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی ماں مر گئی ہے یا ابھی اپنی بیٹی کو دفن کر کے آیا ہے۔اُس کے چہرے پر نحوست اور افسردگی اور غم کی کیفیات ہوتی ہیں، اُس کی کمر ٹیڑھی ہو رہی ہوتی ہے، مُردنی اُس پر چھائی ہوئی ہوتی ہے، وہ کھانا کھاتا ہے تو اُسے ہضم نہیں ہوتا اور ڈکارتا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سوائے اِس کے اَور کیا ہوتی ہے کہ وہ کام نہیں کرتا اور پھر یہ امید رکھتا ہے کہ جب میرا اور دوسری قوموں کا مقابلہ ہو تو مَیں کامیاب ہو جاؤں۔ مگر یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ جو خدا تعالیٰ نے قانون مقرر کیے ہیں اُن کی پابندی کرنے والے لوگ ہی کامیاب ہوں گے خلاف ورزی کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
    اِس امر کو جانے دو کہ مسلمان ایک نبی کے مخالف ہیں اور چونکہ خدا اُن سے ناراض ہے اِس لیے اُن پرتباہی آ رہی ہے۔ مَیں احمدیوں سے کہتا ہوں کہ آخر تم کو کیا ہو گیا ہے اور تم نے احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے اندر کونسی تبدیلی پیدا کی ہے؟ کون سا تغیر ہے جو تم میں پیدا ہوا ہے؟ چندعقائد بے شک تم نے مان لیے ہیں مگر عقائد سے کیا بنتا ہے۔ جب تک تم اپنی زندگیوں میں تغیر پیدا نہیں کرتے، جب تک تم قربانی اور ایثار اور خدا تعالیٰ پر توکّل کا مادہ اپنے اندر پیدا نہیں کرتے اُس وقت تک اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم نے احمدیت کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر لی ہے تو تم سے زیادہ غلطی خوردہ اَور کوئی نہیں ہوسکتا۔ مومن کی حالت تو یہ ہوتی ہے کہ دشمن اُسے مارتا چلا جاتا ہے مگر وہ پھر بھی یہی کہتا ہے کہ مَیں نے نہیں مرنا کیونکہ میرا خدا میرے ساتھ ہے۔ آخر یہ یقین اُسے غالب کر دیتا ہے۔ اور دشمن بھی حیران ہو کر کہتا ہے کہ نہ معلوم یہ ہے کیا بلاء کہ مارنے کے باوجود نہیں مرتا اور پہلے سے بھی زیادہ اُبھرتا چلا جاتا ہے۔
    تم لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ ِاتنی بڑی مصیبت اور بَلاء کے بعد تمہاری زندگیوں میں کونسا تغیر پیدا ہوا ہے؟ تم اپنے اندر محنت کی عادت پیدا کرو، کام کو وقت پر اور صحیح طور پر سرانجام دو، ایک ایک منٹ بجائے گپّوں میں ضائع کرنے کے مفید کاموں میں صَرف کرو اور رات کو تم اُس وقت تک سوؤ نہیں جب تک تم اِس امر کا جائزہ نہ لے لو کہ تم نے دن بھر میں کیا کیا ہے، تمہیں کیا کیاکام کرنا چاہیے تھا اور تم نے کیا کچھ کیا۔ کام سے ہی انسان ترقی کیا کرتا ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ کام سے دوسروں کا فائدہ ہوتا ہے حالانکہ دوسروں کا ہی نہیں انسان کا اپنا بھی فائدہ ہوتا ہے۔ یہاں ناصر آباد آنے میں گو میری ذاتی غرض بھی ہوتی ہے کیونکہ میری یہاں زمینیں ہیں مگر مَیں دیکھتا ہوں یہاں بھی سُستی سے کام ہو رہا ہے۔ اور چونکہ مسلمانوں کو سُست رہنے کی عادت ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُن سے نماز بھی وقت پر نہیں پڑھی جاتی۔ وہ ٹھیک طرح اپنے بیوی بچوں کی خبرگیری بھی نہیں کرتے۔ وہ اپنے کپڑوں کی صفائی کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ آخر اِس میں کونسی مشکل ہے کہ کپڑوں کو صاف رکھا جائے۔ مگر مقابلہ کر کے دیکھ لو ایک سکھ کے کپڑے صاف ہوںگے مگر مسلمان کے کپڑے صاف نہیں ہوں گے۔ اِس کے کپڑے جب تک پھٹ کر دھجیاں نہ ہو جائیں یہ اُن کو دھوناپسند نہیں کرتا حالانکہ زندہ رہنے والی قومیں ظاہری صفائی کا بھی ایک حد تک خیال رکھا کرتی ہیں۔ مکہ میں جو لاکھوں کا شہر ہے اب تک یہ رواج پایا جاتا ہے کہ روزانہ رات کو سوتے وقت بیوی میاں اپنے دن کے کپڑے اُتار دیتے اور صبح دھو کر پہنتے ہیں۔ یہ لازمی بات ہے کہ جس شخص کو یہ فکر ہو گا کہ میں نے صبح دھوئے ہوئے کپڑے پہننے ہیں وہ علی الصبح اُٹھے گا، سُستی اور غفلت میں وہ ساری رات نہیں گزار سکتا۔ صبح اُٹھنے اور کپڑے دھونے کی وجہ سے اُنہیں محنت کی عادت پڑتی ہے۔ اُن کو صفائی سے محبت ہو جاتی ہے۔ اُن کے ذہنوں میں ایک روشنی اور تازگی پیدا ہوتی ہے اور وہ دن بھر اپنے تمام کام نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ جو شخص6 گھنٹے سوتا اور 18 گھنٹے کام کرتا ہے وہ نمازوں میں بھی باقاعدہ ہوگا اور اُس کے اَور کاموں میں بھی ایک نفاست اور عمدگی پائی جائے گی۔ مگر جو شخص 10گھنٹے سوتا اور 5 گھنٹے گپّوں میں ضائع کر دتیا ہے وہ باقی گھنٹوں میں بھی کوئی مفید کام نہیں کر سکتا۔وہ نمازوں کو چٹّی سمجھے گا، وہ کام کو ایک مصیبت اور بلاء خیال کرے گا اور یہی چاہے گا کہ مَیں کسی طرح اِس سے بچ جاؤں۔ مگر جو 18 گھنٹے کام میں لگا رہتا ہے اُسے چونکہ کام کرنے کی عادت ہوتی ہے اِس لیے وہ نمازوں کے لیے بھی بڑی آسانی سے وقت نکال لیتا ہے۔ پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔ جب تک تم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرو گے مت سمجھو کہ خدا تمہاری مدد کے لیے آسمان سے نازل ہوگا۔ یہ خدا کی سنت کے قطعاً خلاف ہے۔ خدا تعالیٰ اُنہی لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اُس کے بنائے ہوئے قانونوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے اور ہر قسم کی سُستی اور غفلت سے دور رہتے ہیں۔
    یورپ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض ایسے لوگ جو پہلے بالکل جاہل تھے محنت اور کوشش سے کہیں سے کہیں نکل گئے کیونکہ وہ کام کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ وہ ہل چلاتے چلے جاتے ہیں اور ساتھ ہی کسی کتاب کا بھی مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ بیسیوں مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ ہل چلاتے چلاتے وہ کتابیں پڑھتے چلے گئے اور آخر اُدھیڑ عمر یا بڑھاپے میں بہت بڑے عالم بن گئے۔ مگر ہمارا پڑھا ہوا آدمی بھی بھُولتا چلا جاتا ہے۔ وہ بجائے کچھ اَور سیکھنے کے جاہل ہوتا چلا جاتاہے۔ بجائے محنت کا عادی بننے کے سُستی اَور ضُعف کا شکار ہوتا جاتا ہے۔ اور بجائے جوان ہونے کے کُبڑا ہوتا جاتا ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے یہی ہے کہ اُسے کام میں نہیں بلکہ سارا مزا سُستی اور غفلت میں آتا ہے۔ جب بھی کسی سے پوچھا جائے کہ مزہکیا ہوتا ہے؟ تو ہمیشہ وہ کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اُس کی سُستی کو آشکار کرنے والی ہوتی ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک بوڑھا تھا۔ اُس سے ہم پوچھا کرتے تھے کہ بتاؤ سب سے زیادہ مزہ تم کس بات میں محسوس کرتے ہو اور تمہاری بڑی سے بڑی خواہش کیا ہے؟ اِس کا وہ ہمیشہ یہ جواب دیا کرتا کہ مجھے سب سے زیادہ خواہش اِس امر کی ہے کہ مجھے چھوٹا چھوٹا بخار ہو، چارپائی میں لیٹا ہوا ہوں، باہر آہستہ آہستہ بارش ہو رہی ہو، لحاف مَیں نے اوڑھا ہوا ہو اور بھُنے ہوئے چنے ایک ایک کر کے مَیں کھا رہا ہوں۔ آپ فرماتے تھے ہم ہمیشہ اُس کی یہ بات سُن کر ہنسا کرتے تھے۔ مگر جب بھی ہم اُس سے پوچھتے وہ یہی جواب دیا کرتا تھا۔ اب واقع میںاگر غور کر کے دیکھا جائے تو اگر اِس شکل میں نہیں تو ایک دوسری شکل میں ہر مسلمان کا یہی جواب ہوتا ہے۔ جب بھی کسی سے پوچھو کہ مزہ کیا ہوتا ہے۔ تو وہ یہی جواب دیتا ہے کہ مزہ بس یہی ہے کہ ذرا لیٹ جائیں اور کام چھوڑ دیں۔ حالانکہ اصل مزہ کام میں ہے نکمّے پن میں نہیں۔ مگر مسلمان کو نکمے پن میں اِتنا مزہ آیا اِتنا مزہ ا ٓیا کہ اُس نے ہماری جنت بھی خراب کر دی۔ جب بھی جنت کا نقشہ کھینچا جائے مسلمان اِس رنگ میں جنت کا نقشہ کھینچتے ہیں کہ وہاں بڑا مزہ ہو گا، آرام سے بیٹھے رہیں گے اور پکی پکائی روٹی مل جائے گی۔ نہ نماز ہو گی۔ نہ روزہ اور نہ کوئی اَور کام۔ بس کھائیں گے اور عیش کریں گے۔ حالانکہ یہ جنت نہیں۔ یہ تو بڑا خطرناک دوزخ ہے۔ کیا جیل خانہ کا قیدی اپنے آپ کو جنت میں سمجھتا ہے؟ اِس لیے کہ وہ سارا دن کوٹھڑی میں بیٹھا رہتا ہے اور اُسے کوئی کام نہیں ہوتا۔ وہ اپنے آپ کو جنت میں نہیں بلکہ دوزخ میں سمجھتا ہے۔ حالانکہ وہ ہر قسم کے کام سے فارغ ہوتاہے۔ جنت یہی ہے کہ کام کیا جائے۔ اور ہمیں جو کچھ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے وہ بھی یہی ہے کہ مومن وہاں خوب کام کرے گا اور یہی جنت ہو گی۔
    پس اگر تم آنے والی آفات اور بلاؤں سے بچناچاہتے ہو تو اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ اور اگر تم میں سے کوئی شخص اِن بلاؤں سے بچنا نہیں چاہتا بلکہ مرنا چاہتا ہے تو بے شک مرے مگر ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ احمدیت کو بدنام نہ کرے۔ اب حالات اِس قسم کے ہیں کہ جب تک ساری جماعت مرنے کے لیے تیار نہیں ہو گی، جب تک ساری جماعت دیووں کی طرح کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگی مجھے اِس کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ ہو سکتا ہے کہ اِس غرض کے لیے ہمیں جماعت کو چھانٹنا پڑے اور ایک ایسی جماعت تیار کرنی پڑے جو مرنے کے لیے تیار ہو۔ مگر یاد رکھو جو لوگ مرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے دنیا کی کوئی طاقت اُن کو مار نہیں سکے گی۔ لوگ اُنہی کو مارتے ہیں جو موت سے ڈرتے ہیں۔ جو لوگ موت سے نہیں ڈرتے وہ ہمیشہ زندہ رکھے جاتے ہیں۔ کفر میں بھی اِس قسم کی مثالیں ملتی ہیں اور ایمان میں بھی اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔ کفر میں بھی وہی لوگ جیتے ہیں جو قربانی اور ایثار سے کام لیتے ہیں اور ایمان میں بھی وہی لوگ جیتے ہیں جو محنت کرتے اور قربانی اور ایثار سے کام لیتے ہیں۔ جب یہ باتیں کسی قوم میں نہیں رہتیں وہ تباہ اور برباد ہو جاتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھوڑے سے مسلمان تھے مگر چونکہ اُنہوں نے قربانیاں کیں وہ دنیا کے بادشاہ بن گئے۔ اُس کے بعد جب مسلمانوں میں عیاشیاں آگئیں تو وہ تباہ اور برباد ہوگئے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے قوموں کی ترقی کے لیے جو قانون بنائے ہیں اُن کے خلاف چل کر کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا"۔
    (الفضل 28 فروری1948ئ)
















































































    ایسا ایمان جو ایمان کی کیفیتوں سے خالی ہے
    تمہارے کسی کام نہیں آسکتا
    (فرمودہ5مارچ 1948ء بمقام ناصر آبادسندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "ہر چیز کا نام اپنے اندر کئی تفصیلات رکھتا ہے۔ نام کے ماتحت کوئی چیز مفرد نہیں ہوتی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی چیز مفرد نہیں۔ ساری چیزیں مرکب ہوتی ہیں۔ مثلاً جب ہم درخت کا لفظ بولتے ہیں تو درخت سے کوئی خاص اور معیّن چیز ہمارے ذہن میں نہیں آتی۔ اِس میں انگور کا درخت بھی شامل ہے، اُس کی شکل بالکل اَور ہوتی ہے۔ اِس میں سنگترے کا درخت بھی شامل ہے اُس کی شکل اَور ہوتی ہے۔ اِس میں آم کا درخت بھی شامل ہے اُس کی شکل اَور ہوتی ہے۔ اِس میں لوکاٹ کا درخت بھی شامل ہے اُس کی شکل اَور ہوتی ہے۔ غرض سینکڑوں قسم کے درخت ہیں جن میں سے ہر ایک کی شکل مختلف ہوتی ہے۔ جب ہم لفظ درخت استعمال کرتے ہیں تو درحقیقت اِس کے مفہوم کو قریب کرنے کی کوشش کرتے ہیں کوئی معیّن شکل اپنے ذہن میں نہیں لاتے۔ یا جب ہم آم کہتے ہیں تو آم بھی بیسیوں قسم کے ہوتے ہیں۔ کوئی چالیس چالیس، پچاس پچاس فٹ گھیرے والا آم ہوتا ہے، کوئی ایک فٹ گھیرے والا آم ہوتا ہے اور کسی میں صرف ڈنٹھل ہوتے ہیں اور ایک لکڑی کھڑی ہوتی ہے وہ بھی آم ہوتا ہے اور یہ بھی آم ہوتا ہے۔ اگر خالی آم کا لفظ استعمال کیا جائے تو اِس سے کوئی حقیقت ذہن میں نہیں آتی۔ چیز بے شک سامنے آ جائے گی مگر اُس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں گی۔ اِسی طرح پھلوں کو لے لو۔ خربوزہ کہنے سے اُس کی کوئی خاص حقیقت ذہن میں نہیں ہوتی۔ کیونکہ ایک طرف اگر ہمیں ایسے خربوزے دکھائی دیتے ہیں جو پیسے بٹی بکتے ہیں تو دوسری طرف ہمیں ایسے خربوزے بھی دکھائی دیتے ہیں جو روپیہ بٹی تک بکتے ہیں۔ اگر خالی خربوزہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اِس میں میٹھے، پھیکے، کھٹے، سیٹھے1، تلخ اور بدمزہ سب کے سب خربوزے شامل ہوں گے۔ اُس وقت اگر کوئی شخص یہ کہے کہ چیز تو ایک ہی ہے مگر ایک خربوزہ پیسے بٹی بک رہا ہے اور لکھنؤ کا خربوزہ ایک روپیہ بٹی بک رہا ہے۔ یہ فرق آخر کیوں ہے؟ تو ہر شخص اُسے کہے گا کہ تُو احمق اور بے وقوف ہے۔ کُجا وہ خربوزہ کُجا یہ خربوزہ۔ دونوں کی آپس میں نسبت ہی کیا ہے۔ اِسی طرح آم کو لے لو۔ ایک چھوٹے تخمی آم ہوتے ہیں جو اِس گرانی کے زمانے میں بھی روپیہ دو روپے سینکڑہ مل جاتے ہیں۔ اور ایک فجری آم ہوتے ہیں جوسَو سَو روپیہ سینکڑہ بِکتے ہیں۔ پہلے عام طور پر وہ چالیس پچاس روپے سینکڑہ بِکا کرتے تھے۔ اِن دونوں آموں کو دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم اِس کا تو روپیہ بھی نہیں دیتے اور اُس کے پچاس بلکہ سَو روپے بھی دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہو۔ اگر کوئی ایسا اعتراض کرے تو تم اُسے پاگل کہو گے۔
    مَیں ایک دفعہ سیر کر کے واپس آ رہا تھا اور نیک محمد صاحب پٹھان میرے ساتھ تھے کہ ہمیں راستے میں ایک شخص ملا جو حصار سے بیل خرید کر لایا تھا۔ اُن میں چھوٹے بھی تھے اور بڑے بھی، موٹے بھی تھے اور دُبلے بھی، مضبوط بھی تھے اور کمزور بھی، اعلیٰ نسل کے بھی تھے اور معمولی نسل کے بھی۔ مَیں نے نیک محمد صاحب کو بھیجا کہ جاؤ اور اُس سے پوچھو کہ اوسط قیمت بیلوں کی کیا پڑتی ہے؟ نیک محمد صاحب اوسط قیمت تو بھول گئے اور اُسے جا کر کہنے لگے کہ بتاؤ ایک بیل کی کیا قیمت ہے؟ اُس نے کہا کیہڑا بیل؟ اِن کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور وہ بار بار یہی کہتے چلے گئے کہ ایک بیل کی قیمت بتاؤ۔ دوتین دفعہ جو اُس نے کہا کہ کس بیل کی قیمت؟ تو یہ چِڑ گئے اور کہنے لگے مَیں جو کہتا ہوں کہ مجھے ایک بیل کی قیمت بتا دو۔ آخر مَیں نے انہیں آواز دے کر بُلایا اور کہا کہ وہ ٹھیک کہتا ہے۔ جب مَیں نے انہیں تمام بات سمجھائی تب انہیں پتہ لگا اور کہنے لگے پہلے مَیں سمجھا نہیں تھا کہ آپ کا منشاء کیا ہے۔ تو دیکھو لفظ بیل ایک ہے مگر اِس سے کوئی معیّن حقیقت ذہن میں نہیں آتی۔ گائے کو لو تو دو ہزار روپے کو بھی گائے آتی ہے اور بیس تیس روپے کو بھی گائے آ جاتی ہے۔گھوڑے کو لو تو ایسے ایسے گھوڑے بھی ہیں جو تین تین لاکھ روپیہ تک بِکتے ہیں اور ایسے گھوڑے بھی ہیں جو پچیس تیس روپے میں مل جاتے ہیں۔ غرض یہ ایک حقیقت ہے جو دنیا کی ہر چیز میں ہمیں نظر آتی ہے کہ محض نام سے کسی چیز کا معیّن نقشہ سامنے نہیں آتا جب تک اُس کی تفاصیل بھی ساتھ نہ ہوں۔
    لیکن تعجب ہے مسلمان ایمان کا لفظ تو استعمال کرتا ہے مگر یہ نہیں دیکھتا کہ ایمان کی حقیقت بھی اُس کے اندر پائی جاتی ہے یا نہیں۔وہ یہ تو کہتا ہے کہ مَیں مومن ہوں، وہ یہ بھی کہتا ہے کہ مَیں احمدی ہوں۔ مگر پوچھو کہ کس قیمت کا احمدی؟ تو خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ کبھی یہ سوچنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتا کہ وہ دو پیسے بٹی بکنے والا خربوزہ ہے یا ایک روپیہ بٹی بِکنے والا خربوزہ ہے، وہ گندا آم جس کا پیٹ پھُول جاتا ہے اور اُس میں کیڑے پڑ جاتے ہیں وہ بھی آم کہلاتا ہے اور وہ بھی آم کہلاتا ہے جوسَو سَو روپیہ سینکڑہ فروخت ہوتا ہے۔ کیا کبھی تم نے غور کیا کہ تم کونسا آم ہو؟ تم وہ آم ہو جس کا پیٹ پھُول کر پھٹ جاتا اور اُس میں کیڑے پڑ جاتے ہیں یا وہ آم ہو جسے لوگ پچاس یا سَو روپیہ سینکڑہ کے حساب سے لے جاتے ہیں اور پھر بھی سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے نفع کمایا۔ ہر چیز کی قیمت اُس کی تفصیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوتی ہے۔ مثلاً اچھے آم کی تفاصیل یہ ہیں کہ اُس کا حجم معقول ہو، اُس کا مزہ اچھا ہو، اُس کی خوشبو اعلیٰ ہو۔ جو آم اِن تفاصیل کا حامل ہوتا ہے اُسے ہم اچھا آم کہہ دیتے ہیں۔ اور جو آم اِن تفاصیل کا حامل نہیں ہوتا اُسے اچھا آم نہیں کہتے۔ اِسی طرح ایمان کی بھی بعض تفاصیل ہیں۔ مثلاً جو شخص ایمان کا دعوٰی کرے اُس کے لیے ضروری ہے کہ اُس کی نمازوں میں باقاعدگی پائی جاتی ہو، وہ امانت اور دیانت کا حامل ہو، وہ سچ بولنے والا ہو، وہ محنت کرنے والا ہو، وہ ظلم اور دھوکا اور فریب سے بچنے والا ہو، وہ بنی نوع انسان کے حقوق کو ادا کرنے والا ہو۔ اگر کسی شخص میں یہ علامات نہیں پائی جاتیں اور وہ منہ سے ہزار بار بھی مومن ہونے کا دعوٰی کرتا ہے تو اُس کا دعوٰی اُسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اگر تم سڑا ہوا خربوزہ کسی کو دو تو وہ خوش نہیں ہو گا بلکہ تمہارے منہ پر مارے گا کہ تم نے اُس کی ہتک کی۔ یہی حال آم اور دوسرے پھلوں کا ہے۔ ایسے آم بھی ہوتے ہیں جنہیں اَور لوگ تو الگ رہے بادشاہ بھی شوق سے کھاتے ہیں۔ اور ایسے آم بھی ہوتے ہیں کہ اگر وہ آم تم کسی فقیر کو بھی دو تو وہ نظر بچا کر پھینک دے گا۔ سردہ بھی مختلف قسم کا ہوتا ہے۔ ایسے اعلیٰ سردے بھی ہوتے ہیں جنہیں کھا کر لذت محسوس ہوتی ہے، جسم میں طراوت پیدا ہوتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارے اعضاء میں تازگی آ گئی ہے۔ اور ایسے بھی ہوتے ہیں جو خشک کھٹّے اور بدبودار ہوتے ہیں۔ اُنہیں چِیرو تو پھُس کر کے اُن میں سے گیس نکلتی ہے اور کھاؤ تو سخت تلخ اور بدمزہ ہوتے ہیں۔ اب اگر ایسا سردہ تم کسی کو دو تو وہ اُسے کھائے گا یا اسے اٹھا کر پھینک دے گا؟ وہ اسے کھائے گا نہیں بلکہ اٹھا کر پرے پھینک دے گا۔اور اگر کوئی کھائے گا تو تم اُسے وحشی اور اُجڈ قرار دو گے۔ لیکن ایسے بھی سردے ہوتے ہیں جنہیں بڑے بڑے اُمراء بھی بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ غرض نام کے لحاظ سے چیز ایک ہی ہوتی ہے مگر ایک کے کھانے والے کو جب تم دیکھتے ہو تو کہتے ہو یہ بڑا امیر آدمی ہے اور دوسرے کے متعلق کہتے ہو یہ بڑا وحشی اور اُجڈ ہے۔ ایک آم کا ذکر آئے تو تم ترستے ہو اور کہتے ہو ہم غریبوں کو وہ کہاں میسر آ سکتا ہے۔ وہ تو سَو سَو روپیہ سینکڑہ بِکتا ہے۔ اور دوسرا شخص ایک آم کھاتا ہے تو تم کہتے ہو وہ تو وحشی اور اُجڈ ہے۔ اِس طرح تمہیں بھی سوچنا چاہیے کہ کونسا ایمان ہے جو تمہارے اندر پایا جاتا ہے۔ اُس بیل والے کو اِتنی تمیز تھی کہ اُس نے پوچھ لیا کہ کیہڑا بیل؟ مگر تمہاری سمجھ میں آتا ہی نہیں کہ جب تم ایمان ایمان کہتے ہو تو کبھی یہ بھی سوچ لیا کرو کہ تمہارے اندر کونسا ایمان پایا جاتا ہے؟
    اگرتمہارا ایمان و ہ تفاصیل اپنے ساتھ رکھتا ہے جو اعلیٰ درجہ کے ایمان کے ساتھ ہوا کرتی ہیں۔ اگر تم نمازوں کے پابند ہو، اگر تم روزے رکھنے سے جی نہیں چراتے،اگر تم دوسروں کا مال نہیں کھاتے، اگر تم اپنے کاموں میں سُست اور غافل نہیں، اگر دین کے لیے قربانی کرنے کی روح تم میں پائی جاتی ہے، اگر قربانی کے مواقع پر تم بھاگنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے جان قربان کرنے کی تڑپ تمہارے اندر ہر وقت پائی جاتی ہے، اگر صداقت اور راست گفتاری کی عادت تمہارے اندر پائی جاتی ہے، اگر تم میں یہ وصف پایا جاتا ہے کہ تم ہمیشہ سچ بولتے ہو خواہ تمہارے باپ کو نقصان پہنچے یا تمہارے بیٹے کو تکلیف پہنچے، اگر سچ بولنے کی وجہ سے تمہارا بیٹا پھانسی چڑھتا ہے یا تمہارا باپ پھانسی چڑھتا ہے اور تم کہتے ہو مَیں تو سچ ہی بولوں گا، اگر میرا باپ یا میرا بیٹا پھانسی چڑھتا ہے تو بے شک چڑھ جائے، اگر تم میں اتنا اخلاص پایاجاتا ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ دین کے مقابلہ میں مَیں کسی چیز سے محبت نہیں کر سکتا۔ تب بے شک یہ کہا جا سکتا ہے کہ تمھارے اندر وہ چیز پائی جاتی ہے جس کا نام ایمان ہے کیونکہ یہی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے اُس کا نام ایمان رکھا گیا ہے۔ بے شک ایک سڑا گلا آم بھی آم ہی کہلاتا ہے مگر آم کا نام رکھنے والے کے مدنظروہ آم نہیں تھا جس کو ایک فقیر بھی اُٹھا کر پھینک دے بلکہ وہ آم تھا جسے امراء کھاتے ہیں اور جن کو درمیانی طبقہ کے لوگ بھی ترستے ہیں۔ جب کسی نے خربوزہ کو اچھا پھل قرار دیا تھا تو خربوزہ کو اُس نے وہ خربوزہ قرار دیا تھا جو روپیہ ڈیڑھ روپیہ سیربِکتا ہے جس کا مزہ شیریں ہوتا ہے اور جسے درمیانے درجہ کے لوگ بھی ترستے ہیں۔ یا جب کسی نے انگور کو اچھا پھل قرار دیاتھا یا انار کو اچھا پھل قرار دیا تھا تو اِس سے مراد اعلیٰ درجے کاانگور اور اعلیٰ درجے کا انار ہی تھا اور ادنیٰ اور ذلیل قسم کا پھل نہیں تھا۔ ایسے ایسے انار بھی ہوتے ہیں جو روپیہ کے پچاس پچاس مل جاتے ہیں اور اُن کا انار دانہ بھی نہیں بن سکتا۔ بے شک لوگ اُن اناروں کو کھاتے ہیں اِس لیے کہ اُن کا نام انار ہوتا ہے۔ لیکن وہ قیمتی انار جو طائف میں ہوتا ہے یا مسقط وغیرہ میں ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے انار کو اچھا پھل قرار دیا جاتا ہے اُس کا یہ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اور درحقیقت اُسی انار کا کھانا انسان کے اندر خون صالح پیدا کرتا ہے ورنہ یہ انار جو ہمارے ملک کے پہاڑوں میں خود رَو طور پر پایا جاتا ہے مزہ میں کھٹّا ہوتا ہے، معدہ کو خراب کرتا ہے اور کھانسی وغیرہ پیدا کر دیتا ہے۔ اِسی طرح جب کوئی شخص ایمان کا دعوٰی کرتا ہے تواُسے سوچنا چاہیے کہ ُاس کے اندر کس قسم کا ایمان پایا جاتا ہے؟ کیا وہ ایمان تو نہیں پایا جاتا جس میں جھوٹ بولنا بھی جائز ہے، جس میں ظلم بھی جائز ہے، جس میں پرایا مال کھانا بھی جائز ہے، جس میں قربانی کے مواقع پر بھاگ جانا بھی جائز ہے، جس میں نمازوں کو چھوڑ دینا بھی جائز ہے، جس میں زیادہ چندہ دینے کے خوف سے اپنی اصل آمد کو چھُپانا بھی جائز ہے۔ اگر کسی کے اندر یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں اور پھر وہ کہتا ہے کہ میرے اندر ایمان پایا جاتاہے تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اِن چیزوں کا نام ایمان نہیں۔ اِسی طرح خربوزہ اُس گندے اور بدمزہ پھل کا نام نہیں رکھا گیا جس کو جانور بھی نہیں کھاتا۔ اِس طرح ایمان بھی اس چیز کا نام نہیں۔ بے شک ایک سڑے ہوئے خربوزے کو بھی ہم خربوزہ ہی کہیں گے لیکن وہ اصل خربوزہ کی ایک بِگڑی ہوئی اور خراب شدہ شکل ہو گی، اُسے کوئی عقل مند انسان کھانے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ یا وہ کھانا جس پرکئی دن گزر جائیں اور سڑ کر بدبودار ہو جائے وہ کہلاتا تو کھانا ہی ہے لیکن جب وہ سڑ جائے تو تم کیا کرتے ہو؟ تم اُسے اٹھا کر کتّے کے آگے پھینک دیتے ہو۔ اِسی طرح اگر تم بھی ناقص اور بدبودار ایمان رکھ کر یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے اندر ایمان پایا جاتا ہے تو تمہاری مثال ایسی ہی ہے جیسے تم سڑا ہوا کھانا کھا رہے ہو۔ اگر سڑا ہوا کھانا کوئی شخص تمہارے سامنے کھائے تو تم اُسے پاگل قرار دو گے۔ مگر تم کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ تم بھی سڑا ہوا ایمان رکھتے ہو اور پھر یہ دعوٰی کرتے ہو کہ تم مومن ہو، یہ دعوٰی کرتے ہو کہ تم ایماندار ہو۔
    مَیں نے بتایا کہ ہر نام کے اندر کچھ کیفیتیں ہوتی ہیں اور جب کسی چیز کا کوئی نام رکھا جاتا ہے تو ہمیشہ اُس کی اچھی کیفیتوں کی وجہ سے وہ نام رکھا جاتا ہے۔ جب وہ کیفیتیں کسی میں پائی جائیں تب تو بے شک وہ نام اُس کے لیے موزوں ہوتا ہے لیکن اگر وہ کیفیتیں نہ پائی جائیں تو محض نام کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ جب تک تم اِس طرح اپنے ایمان کے متعلق سوچنے اور غور کرنے کی عادت پیدا نہیں کرو گے اُس وقت تک یہ خطرہ ہے کہ تم دھوکا کی حالت میں ہی مر جاؤ۔ تم یہ سمجھتے رہو کہ ہمارے اندر ایمان پایا جاتا ہے لیکن جب تم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو تو تمہیں معلوم ہو کہ تم بے ایمان ہو۔
    یاد رکھو محض نام سے کوئی حقیقت ظاہر نہیں ہوتی۔ اگر سڑے ہوئے آم لے کر کوئی شخص بیچنے لگ جائے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ آم بیچنے والا ہے بلکہ لوگ کہیں گے کہ یہ نجاست بیچتا ہے۔ اُسے تویہ آم رُوڑی پر پھینک دینے چاہییں تھے مگریہ ان آموں کو فروخت کر رہا ہے۔ اِسی طرح اگر سڑے ہوئے خربوزے کوئی شخص بیچتا ہے تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ خربوزوں کی تجارت کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص گدڑیاں بیچنی شروع کر دے یا میلے کے ڈھیروں پر سے دھجیاں2 اٹھائے اور فروخت کرنے لگے تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ یہ بزاز3ہے یا اگر کوئی شخص سڑا ہوا کھانا اٹھا کر باہرپھینکتا ہے اور دوسرا شخص باہر جا کر اُس کھانے کو اُٹھا کر تھالی میں ڈال لیتا ہے اور اس کے فروخت کرنے کے لیے اُس کی پھیری شروع کر دیتا ہے تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ وہ باورچی ہے۔ مگرجو سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے لوگ اُس کے متعلق اِس قسم کی حرکت کرتے ہیں اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے دعوٰی ایمان میں بالکل سچے ہیں۔
    درحقیقت تمہارا خدا سے ایسا ہی معاملہ ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک ملّاں کے پاس ایک دن ایک لڑکا آیا اور کہنے لگا میری اماں نے یہ کھیر آپ کے لیے بھجوائی ہے۔ ملّاں نے کہا یہ بات کیا ہے کہ تمہاری اماں نے آج کھیر بھجوا دی۔ پہلے تو کبھی اِس کا خیال بھی اُسے نہیں آیا۔ لڑکے نے جواب دیا کہ کھیر میں کتّا منہ ڈال گیا تھا میری ماں نے کہا کہ ملّاں جی کو دے آؤ۔ ملّاں کو غصہ آیا اور اُس نے کھیر کا برتن اُٹھا کر زمین پر دے مارا اور وہ ٹوٹ گیا۔ اِس پر لڑکا رونے لگا۔ ملّاں نے کہا تُو روتا کیوں ہے؟ کیاتوُ نے یہ کھیر کھانی تھی؟ اُس نے جواب دیا کہ مَیں نے تو نہیں کھانی تھی لیکن اب مَیں گھر گیا تو اماں مجھے مارے گی۔ کیونکہ یہ وہ برتن تھا جس میں اماں بچے کو پاخانہ پھرایا کرتی تھی۔ یہی تمہارے ایمان کا حال ہوتا ہے اور تم بھی ایسی ہی چیز خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہو۔ ملّاں کے قصہ کو سن کر تم سب لوگ ہنس پڑتے ہو مگر تم کبھی یہ غور نہیں کرتے کہ تم بھی خدا تعالیٰ کے سامنے کتّے کی جُوٹھی چیز پیش کرتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ ہم مومن ہیں، پھر کہتے ہو کہ ہماری نجات ہو جائے اور ہمیں جنت مل جائے۔ تمہیں اس قربانی اور ایمان کے بدلہ میں ایک ایکڑ زمین بھی تو نہیں مل سکتی۔ مگر تم امید یہ رکھتے ہو کہ تمہیں وہ جنت ملے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔ 4کہ آسمان اور زمین کے برابر اُس کی لمبائی اور چوڑائی ہو گی۔ یہ جنت ہے جس کا مومنوں کو وعدہ دیا گیا ہے۔ اور یہ وہ جنت ہے جس کے مقابلہ میں ساری دنیا کی بادشاہت بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ امریکہ بھی اور یورپ بھی اور ہندوستان بھی اور چین بھی اور جاپان بھی اور دوسرے ممالک بھی اس کا کروڑواں بلکہ اربواں حصہ بھی نہیں۔ مگر تم کام وہ کرتے ہو جن کے بدلہ میں کوئی شخص ایک گز زمین بھی تمہیں دینے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا ۔بلکہ گز بھر زمین کا بھی سوال نہیں اگر تم کسی کے سامنے ایسی چیز پیش کرو تو وہ تمہارے منہ پر تھپڑ مارے گا کہ تم میرے سامنے کیا چیز پیش کر رہے ہو۔ تم جاؤ کسی چودھری کے پاس اور اُسے میلے کے ڈھیر پر سے اُٹھایا ہوا ایک جُوتا تحفۃً پیش کرو اور پھر دیکھو کہ وہ تم سے کیا معاملہ کرتا ہے۔ وہ جُوتا تمہارے سر پر مارے گا اور تمہیں ذلیل کر کے اپنے گھر سے باہر نکال دے گا۔ مگر تم ایسا ہی پھٹا ہوا اور ذلیل جُوتا خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ ہمیں جنت مل جائے۔ ایک ذلیل سے ذلیل انسان کو بھی تم یہ چیز نہیں دے سکتے مگر وہ خدا جو ساری دنیا کا مالک ہے، جو ساری دنیا کا خالق اور رازق ہے تم اُس کے سامنے ایسی ہی چیز پیش کرتے ہو اور پھر اِس کا نام ایمان رکھتے ہو۔ حالانکہ یہ ایمان نہیں یہ کفر سے بھی بدتر چیز ہے۔ کافر اپنے کفر کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش نہیں کرتا بلکہ شیطان کے سامنے پیش کرتا ہے اوراُس کے سامنے ہی اُسے پیش کرنا چاہیے۔ مگر تم اُس خدا کے سامنے یہ چیز پیش کرتے ہو جس کے سامنے نہایت طیب اور اعلیٰ درجہ کی چیزیں پیش کرنی چاہییں۔
    پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور مرنے سے پہلے اپنے آپ کو پاک اور بے عیب بناؤ۔ بے ایمانی، بددیانتی، جھوٹ، دھوکا اور فریب یہی ہر جگہ نظر آتا ہے۔ اِسی طرح سُستی اور غفلت بات بات میں پائی جاتی ہے۔ مگر جب گرفت کی جائے تو قسم کھا کر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بے ایمانی نہیں کر رہے۔ اگر بے ایمانی نہیں تو اَور کیا ہے کہ انہوں نے محنت نہ کی اور جماعت کو نقصان پہنچا دیا۔ وہ سمجھتے ہیں بے ایمانی یہی ہوتی ہے کہ دوسرے کا روپیہ اُڑا کر جیب میں ڈال لیا جائے۔ گویا وہ بے ایمانی بھی کرتے ہیں اور پھر اتنے پاگل ہوتے ہیں کہ بے ایمانی کے معنی بھی نہیں جانتے۔ وہ شخص جو محنت کر کے کماتا اور پھر دوسرے کا حق اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے اور وہ شخص جو محنت سے کام نہیں لیتا اور قوم کے روپیہ کو ضائع کر دیتا ہے دونوں بے ایمان ہیں۔ یہ بے ایمان ہے اِس لیے کہ اِس نے محنت تو کی مگر روپیہ اپنی جیب میں ڈال لیا اور وہ بے ایمان ہے اِس لیے کہ اُس نے محنت نہ کی اوراِس طرح وہ نتیجہ پیدا نہ ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ ایک ایسا شخص جو نماز نہیں پڑھتا وہ بھی بے نماز ہے اور ایک ایسا شخص جوصرف دکھاوے کے لیے نماز پڑھتا ہے وہ بھی بے نماز ہے۔ یہ کہنا کہ دوسرے نے خواہ دکھاوے کے لیے نماز پڑھی ہے نماز تو پڑھ لی ہے بے وقوفی کی بات ہے۔ نماز وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے لیے ادا کی جائے۔
    غرض جب تک تقوٰی کے ساتھ انسان اپنے تمام اعمال کا جائزہ نہ لیتا رہے اُس وقت تک وہ کبھی ایمان کی موت نہیں مر سکتا۔ اِسی لیے صوفیاء کہتے ہیں کہ حَاسِبُوْا قَبلَ اَنْ تُحَاسَبُوا۔5 مرنے سے پہلے اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہا کرو۔ ایسا نہ ہوکہ تمہارا خانہ خالی ہو اور تم صرف ایمان کا لفظ لے کر بیٹھے رہو اور یہ خیال کرو کہ جب ہم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو ایمان کا لفظ اُس کے سامنے رکھ دیں گے اور کہہ دیں گے کہ لیجیے یہ ہمارا ایمان ہے۔ ایسا ایمان تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا"۔
    (الفضل25مارچ 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    سیٹھے: بے مزہ ۔ پھیکے
    2
    :
    دھجیاں:کپڑے یا کاغذ کی کترن۔ چیتھڑے۔
    3
    :
    بزاز:کپڑا بیچنے والا۔ پارچہ فروش۔
    4
    :
    آل عمران:134
    5
    :
    کنز العمال جلد 16حدیث نمبر44203 الباب الثالث فی الحکم و جوامع الکلم کتاب المواعظ والرقائق والخطب والحکم خطب ابی بکر الصدیق ومواعظہٗ میں ــ’’حَاسِبُوْا اَنْفُسَکُمْ قَبلَ اَنْ تُحَاسَبُوا‘‘کے الفاظ ہیں۔

    خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کو اختیار کرنا ہماراسب سے پہلا اوراہم فرض ہے
    (فرمودہ12مارچ 1948ء بمقام کراچی)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مجھے رات سے دردِ نقرس کا دورہ شروع ہے جس کی وجہ سے مَیں زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہوسکتا۔ پھر اس لیے بھی مجھے احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ یہاں اتوار کے دن میرا لیکچر مقرر ہے۔ گو اُس کے متعلق تفصیلی اطلاع مجھے کارکنان کی طرف سے ابھی تک نہیں ملی لیکن بہرحال وہاں بھی کھڑے ہو کر بولنا پڑا تو پاؤں پر بوجھ پڑے گا۔ اِس لیے مَیں خطبہ نہایت اختصار کے ساتھ پڑھاؤں گا۔ نمازمیں بھی اگر خطبہ کی تکلیف کی وجہ سے مجھے ڈر محسوس ہوا کہ مَیں کھڑا نہیں ہو سکتا تو ممکن ہے نماز کا کوئی حصہ مَیں بیٹھ کر پڑھا دوں۔ یہ مَیں اس لیے بتا رہا ہوں کہ جب مَیں بیٹھ کر نماز پڑھانے لگتا ہوں تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بُھول چوک ہو گئی ہے اور وہ سُبْحَانَ اللّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِکہنے لگ جاتے ہیں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے طریقِ عمل سے یہ بات ثابت ہے کہ امام بیٹھ کر بھی نماز پڑھا سکتا ہے۔ ابتدا میں جب نماز فرض ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نماز پڑھانے کی ضرورت محسوس ہوتی تو آپ کا ارشاد تھا کہ مقتدی بھی ساتھ ہی بیٹھ جایا کریں لیکن آخر میں آپ نے اِس حکم کو منسوخ فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ امام اگر بیمار ہو اوروہ بیٹھ کر نماز پڑھانا چاہے تو وہ تو بیٹھ جائے لیکن مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کریں۔ 1
    اِس کے بعد میں ایک امر کی تشریح کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ جماعت کے دوستوں نے ہماری رہائش کے لیے یہاں ایک جگہ تجویز کی تھی جس کا نام مندر ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ وہ مندر نہیں تھا بلکہ مذہبی امور کے لیے وہ عمارت بنائی گئی تھی لیکن بہرحال مَیں نے اُس مکان میں رہنے سے انکار کر دیا ہے۔ جس طرح وہ لوگ جو یہاں کے کارکن ہیں اس سے ایک حد تک غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور اِسی غلط فہمی میں وہ مجھ سے مل کر معذرت کرتے رہے ہیں کہ ہمیں معاف کر دیا جائے ہم سے غلطی ہوگئی ہے۔ اِسی طرح ممکن ہے بعض اَور لوگوں کو بھی اس کے متعلق غلط فہمی ہو اِس لیے مَیں یہ بتادیناضروری سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ ایسا نہیں تھا جس کے متعلق پہلے سے حقیقت واضح ہوتی اور جس کی بناء پر اُن کے اِس فعل کو کوئی غلطی یا خطا کہا جا سکے اِس لیے اِس فعل کے متعلق معافی کا کوئی سوال ہی پیدانہیںہوتا۔
    اصل بات یہ ہے کہ قادیان کے چھوڑنے پر ہم نے انڈین یونین کے ساتھ یہ گفتگو شروع کی ہوئی ہے کہ قادیان ہمارا مقدس مذہبی مقام ہے اُس میں کسی اَور کو رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انڈین یونین کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ قادیان کے مکانات کس نقطہ نگاہ سے مقدس ہیں؟ کیایہ مساجد ہیں؟ یا ان جگہوں پر مذہبی امور طے ہوتے رہے ہیں جن کی بناء پر ان کو مذہبی مقام کہا جاتاہے۔ اِس کے جواب میں گورنمنٹ پاکستان کے نمائندوں کے ذریعہ ہم نے یہ بات پیش کی کہ مقدس مقام ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ عبادت گاہ ہی ہو بلکہ اگر کوئی مقام ایسا ہو جس سے دوسرے کے مذہبی احساسات وابستہ ہوں تو پھر بھی کسی دوسرے کا قبضہ کر لینا یقیناً تکلیف کا موجب ہوتا ہے۔ اِس لیے قادیان کا ہر مکان اور قادیان کی ہر دکان جو کسی احمدی نے بنائی وہ ہمارے لیے مقدس ہے اور صرف احمدیوں کے پاس ہی رہنی چاہیے۔ یہ کہنا کہ وہ دکان ہے کافی نہیں۔ کیونکہ گووہ دکان ہے مگر وہ دکان ایک احمدی نے اِس لیے بنائی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر پیشگوئی فرمائی تھی کہ قادیان بڑھے گا اور احمدی ہجرت کر کے یہاں آ بسیں گے۔2 اسی طرح اگر کسی احمدی نے وہاں مکان بنایا تو اس لیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی قادیان کے متعلق خبر دی تھی۔ پس جب کوئی شخص وہاں مکان بناتا ہے تو اُس کے مذہبی احساسات اُس کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور وہ ایک پیشگوئی کی صداقت کے لیے وہاں رہائش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد خواہ وہ دکان ہے یا مکان یا کوئی اَور چیز جب اُس پر کوئی اَور شخص قبضہ کرتا ہے تو اُن جذبات کو ٹھیس لگتی ہے جن جذبات کی وجہ سے قادیان کی آبادی بڑھی تھی اور جن جذبات کی وجہ سے وہاںمکانات بنائے گئے تھے۔
    جب مَیں لاہورمیں آیا تو چونکہ ہمیں کالج اور دوسری ضروریات کے لیے جگہ کی تلاش تھی حکومتِ پنجاب کے بعض افسروں نے یہ تجویز کیا اور بعض لوگ متواتر اِس غرض کے لیے مجھے ملے کہ ہم ننکانہ لے لیں اور اُس پر قبضہ کر لیں۔ جب بھی ہم اپنی ضروریات اُن کے سامنے رکھتے وہ زور دیتے کہ ہم ننکانہ آپ کو دے دیتے ہیں۔ لیکن مَیں نے ہمیشہ اِس سے انکار کیا اور کہا کہ جو قانون ہم اپنے جذبات کے متعلق ضروری سمجھتے ہیں اُس قانون کے ماتحت ہم دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ چونکہ ننکانہ سکھوں کی ایک مذہبی جگہ ہے اِس لیے ہم اُس پر قبضہ کر کے دوسروں پر یہ اثر ڈالنا نہیں چاہتے کہ ہم بھی ضرورت کے موقع پر دوسروں کے مذہبی مقامات پر قبضہ کر لینا جائز سمجھتے ہیں۔ ہمیں کہا گیا کہ یہ مکانات خالی ہیں اور بہرحال کسی نے لینے ہیں آپ ہی لے لیں۔ ہم نے کہا کوئی لے لے۔ سوال تو ہمارے جذبات کا ہے۔ کسی دوسرے شخص کے اگر وہ جذبات نہیں جو ہمارے ہیں یا ایسے مقامات پر قبضہ کر لینا کوئی شخص جائز سمجھتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ فلاں شخص کے جذبات کے لحاظ سے یہ کوئی بُری بات نہیں یا چونکہ ایسے مقامات پر قبضہ کر لینا اَور لوگ جائز سمجھتے ہیں اِس لیے آپ بھی قبضہ کر لیں۔ اُن کا معاملہ اُن کی ذات سے تعلق رکھتا ہے ہم سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاسکتا کہ ہم بھی اِس معاملہ میں وہی کچھ کریں جو اَور لوگ کرتے ہیں۔
    دوسرے ہم یہ ضروری نہیں سمجھتے کہ عبادت گاہ ہی ہو تو اُس پر قبضہ کر لینے سے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے بلکہ عبادت گاہ کے بغیر بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے چھِینے جانے یا جن پر دوسرے مذاہب کے قبضہ کر لینے سے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے۔ اِس نقطہ نگاہ کے ماتحت قطع نظر اِس سے کہ اُس کا نام صرف مندر تھا چونکہ وہ ایک ہندو کی عمارت ہے اور یہ عمارت مذہبی مجلسوں اور مذہبی انجمنوں کے انعقاد کے لیے استعمال کی جاتی تھی اِس لیے اپنے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے مَیں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ہم اُس عمارت میں ٹھہریں تاکہ ہماری وہ دلیل جو ہم قادیان کے متعلق دے رہے ہیں کمزور نہ ہو جائے اور ہمارا وہ اصول نہ ٹُوٹے جو مذہبی مقامات کی تقدیس اور ان کے احترام کے متعلق ہم دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ بعض دوستوں نے کہا ہے کہ وہ اِس عمارت کو خریدنے کا انتظام کر رہے ہیں بلکہ مجھے کہا گیا ہے کہ خود مالکِ مکان اسے فروخت کرنا چاہتا ہے۔ چونکہ یہ ایک اہم امر ہے اِس لیے اِس معاملہ میں اگر کوئی قدم مقامی جماعت کی طرف سے اٹھایا جائے تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے پوری طرح تمام حالات کو میرے سامنے رکھے۔ اگر میری تسلی ہو گئی اور مجھے اِس میں شبہ کی کوئی گنجائش نظر نہ آئی تب بھی میرے نزدیک مناسب یہی ہو گا کہ ہم یہ عمارت نہ لیں کیونکہ اپنے اصول کی پابندی ہمارے لیے نہایت ضروری ہے۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت اُس حادثہ کی وجہ سے جو پیش آیا ہے کراچی میں یکدم بڑھ گئی ہے یا تو جمعہ میںسَو سَوا سو لوگ آیا کرتے تھے اور وہ بھی میرے آنے پر۔ اور یا اب کہتے ہیں کہ پانچ چھ سَوتک جماعت کے مردوں کی تعداد پہنچ چکی ہے اور عورتیں بھی چار پانچ سو کے قریب ہیں۔ اِن حالات میں ضروری ہے کہ جماعت کوئی ایسی جگہ لے جس میں وہ اپنی مسجد بنائے، لائبریری بنائے اور دوسری ضرورتوں کو پورا کرے۔مَیں جب گزشتہ سال یہاں آیا تھا تو مَیں نے مختلف جگہیں دیکھی تھیں اور ایک جگہ مَیں نے پسند بھی کی تھی جو قریباً چھ کنال یا اِس سے کچھ زیادہ تھی اور جس میں تمام ضرورتیں پوری کی جا سکتی تھیں مگر اُس وقت جماعت کا رجحان اِس طرف تھا کہ بندر روڈ کے قریب ملنی چاہیے۔ چنانچہ وہ جگہ رہ گئی اور لوکل انجمن احمدیہ نے بندر روڈ کے قریب 480 گز زمین اکتیس ہزار روپیہ میں خرید لی مگر مجھے بتایا گیا ہے کہ اس میں بھی زیادہ سے زیادہ تین سَوا تین سَو آدمی آ سکتے ہیں حالانکہ ہماری جماعت کے افراد یہاں پانچ چھ سَو ہیں۔ پھر پانچ سَو کے قریب عورتیں ہیں اور اُن کا بھی مسجد میں آنا ضروری ہے۔ اِن حالات میں مَیں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کوئی نئی جگہ تلاش کرنی چاہیے۔ موجودہ جگہ ایسی ہے جس میں ایک ہزار آدمی کے سمانے کی کوئی صورت نہیں بلکہ اگر یہاں دو منزلہ عمارت بنائی جائے تب بھی چھ سات سو آدمی آ سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔ حالانکہ ہماری جماعت کے افراد اِس وقت کراچی میں ایک ہزار کے قریب ہیں اور پھر آدمی بڑھتے رہتے ہیں۔ اِس کے علاوہ مہمان بھی وقتاًفوقتاً آتے رہتے ہیں۔ ممکن ہے سال بھر کے بعد ہمیں ڈیڑھ دو ہزار آدمیوں کے لیے جگہ کی ضرورت محسوس ہو۔ اور چونکہ موزوں مقام جلدی میسر نہیں آ سکتا اِس لیے ابھی سے جماعت کو اپنے لیے کوئی اَور جگہ تلاش کرنی چاہیے۔ اگر وہ جگہ جہاں ہماری رہائش کا انتظام کیا گیا تھا اُس کے متعلق میری تسلی ہو جائے اور مجھے یہ اطمینان ہو جائے کہ اُس کے متعلق کسی قسم کا اشتباہ پیدا نہیں ہو سکے گا اور یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ ہم نے ناجائز طور پر اُس سے فائدہ اٹھایا ہے توہو سکتا ہے مَیں اُس عمارت کو خریدنے کی اجازت دے دوں۔ گو اس وقت مجھے شرح صدر نہیں اور میری طبیعت کا رُجحان اِس طرف ہے کہ ہمیں کوئی اَور جگہ تلاش کرنی چاہیے جہاں ایک بڑی مسجد بنائی جا سکے۔ مہمان خانہ ہو، لائبریری کی جگہ ہو، اسی طرح دوسری ضروریات کا انتظام ہو۔ صدر مقام ہونے کی وجہ سے ضروری ہے کہ کراچی بہت جلد ترقی کر جائے۔ جو حال کلکتہ اور دلّی کا ہے وہی دس سال کے بعد کراچی کا ہو گا۔ اِس لیے ضروری ہے کہ موجودہ حالات سے ہم فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔ اب سَستی جگہیں مل سکتی ہیں۔ جماعت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اِس طرف توجہ کرے تاکہ آئندہ اس کے لیے پریشانی پیدا نہ ہو۔
    دوسری چیز جس کی طرف مَیں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ مَیں نے آج سٹیشن پر دوستوں کو منع کر دیا تھا کہ وہ میرے گلے میں ہار نہ ڈالیں۔ یوں بھی ہار پہننے میں مجھے حیا سی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اِس امر کو اگر نظرانداز کر دیا جائے تب بھی مَیں سمجھتا ہوں کہ حقیقی ضرورتوں کو سمجھنے والے افراد کو اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے زمانہ کے مطابق قدم اُٹھانا چاہیے۔ ہمارے لیے اِس وقت ایک ایسا زمانہ آیا ہوا ہے جس میں ہم اپنے مقدس مقام سے محروم ہیں اور دشمن اُس پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ ہار پہننے کے معنے خوشی کی حالت کے ہوتے ہیں۔ مَیں جہاں جماعت کو یہ نصیحت کیا کرتا ہوں کہ اُن کے دلوں میں پژمردگی پیدا نہیں ہونی چاہیے، اُن کے اندر کم ہمتی نہیں ہونی چاہیے، اُن کے اندر پَست ہمتی نہیں ہونی چاہیے وہاں مَیں اِس بات کو بھی پسند نہیں کرتا کہ جماعت اِس صدمہ کو بھُول جائے اور ایسی غیرطبعی خوشیاں منانے میں محو ہو جائے جن کی وجہ سے وہ ذمہ داری اِس کی آنکھ سے اوجھل ہو جائے جواللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد کی گئی ہے۔ نمائشی باتیں تو یوں بھی ناپسندیدہ ہوتی ہیں مگر کم سے کم اُس وقت تک کے لیے ہمارے نوجوانوں میں یہ احساس زندہ رہنا چاہیے جب تک ہمارا مرکز ہمیں واپس نہیں مل جاتا۔ آخر کوئی نہ کوئی چیز ہو گی جس کے ساتھ نوجوانوں کو یہ بات یاد دلائی جا سکے گی۔ اگر ایسے مظاہروں سے نوجوانوں کو روکا جائے تو چونکہ پہلے ہم روکا نہیں کرتے تھے اِس لیے قدرتی طور پر ہر احمدی کے دل میں یہ بات تازہ رہے گی کہ مَیں نے اپنے مرکز کو واپس لینا ہے۔ مجھے غیرطبعی خوشیوں کی طرف مائل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر خدانخواستہ ہم بھی غیرطبعی خوشیوں میں محو ہو گئے اور نوجوانوں کو ہم نے یہ محسوس نہ کرایا کہ کتنا بڑا صدمہ ہمیں پہنچا ہے تو ان کے اندر اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد اور کوشش کی سچی تڑپ زندہ نہیں رہ سکے گی۔ اِس لیے مَیں سمجھتا ہوں میرے لیے یا کسی اَور کے لیے ایسے مظاہروں میں کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔
    آخر ہار پہنانا کوئی مذہبی مسئلہ نہیں۔ مذہبی مسائل کی حیثیت بالکل اَور ہوتی ہے مثلاً عید کے دن اگر کوئی شخص نئے کپڑے نہیں پہنتا یا دُھلے ہوئے کپڑے نہیں پہنتا تو مَیں کہوں گا کہ وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عید کے دن غسل کرو،نئے کپڑے پہنو یا اگر نئے کپڑے نہیں تو دُھلے ہوئے کپڑے پہن لو۔3 یا مثلاً جمعہ کے دن نیا دُھلا ہوا جوڑا پہننے کا حکم ہے۔ گو آج مَیں نے کپڑے نہیں بدلے کیونکہ مَیں ابھی سفر سے آیا ہوں مجھے کپڑے بدلنے کا موقع نہیں ملا مگر یہ مجبوری کی بات ہے۔یوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرو، کپڑے بدلو، خوشبو لگاؤ اور اِس طرح جسم اور لباس کی صفائی کر کے مسجد میں جاؤ۔4 پس جس چیز کا شریعت نے ہمیں حکم دیا ہے وہ ہم ضرور کریں گے کیونکہ اس کے چھوڑنے سے خدا تعالیٰ ناراض ہوتا ہے مگر جو خوشی خدا تعالیٰ نے مقرر نہیں کی بلکہ ہم اپنے لیے آپ پیدا کرتے ہیں اُس کے متعلق ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس وقت تک اسے نظرانداز کر دیں جب تک خدا تعالیٰ کے سامنے ہم اپنے فرض کو ادا کر کے سُرخرو نہ ہو جائیں۔ ہمارے سامنے ایک بہت بڑا کام ہے۔ ہمارا مقدس مقام دشمن کے قبضہ میں ہے اور باوجود انڈین یونین کے انکار کرنے کے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا ہم سمجھتے ہیں کہ انڈین یونین کی اجازت اور اُس کی پُشت پناہی سے اُس پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انڈین یونین چاہے نئی گورنمنٹ ہو وہ تیس کروڑ آبادی کی گورنمنٹ ہے اور تیس کروڑ کی آبادی کوئی معمولی چیز نہیں۔ درحقیقت انڈین یونین آبادی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر کی حکومت ہے۔ پہلے درجہ کی حکومت کی آبادی کے نقطہ نظر سے چین کی حکومت ہے اور دوسرے درجہ کی حکومت انڈین یونین ہے۔ بلکہ جس طرح پاکستان کو نکال کر انڈین یونین کی آبادی تیس کروڑ کی بنتی ہے اسی طرح اگر چین کے کمیونسٹ حلقہ کو نکال دیا جائے توغالباً چین کی حکومت بھی آبادی کے لحاظ سے انڈین یونین سے نیچے رہ جاتی ہے۔ دراصل سارے ہندوستان کی آبادی پہلے چالیس کروڑ تھی۔ اس لیے ہم جب انڈین کی آبادی کا اندازہ لگاتے ہیں تو پاکستان کی آبادی کو نکال کر اندازہ لگاتے ہیں۔ اِسی طرح اگر چین کی وہ آبادی نکال دی جائے جو چین کے ماتحت نہیں اَور جو چین کی آبادی کا1/3 حصہ ضرور ہے اور مجموعی طور پر اُس کی تعداد سولہ سترہ کروڑ تک پہنچ جاتی ہے تو چین کی آبادی بھی انڈین سے کم رہ جاتی ہے۔ بعض لوگ تو چین کے کمیونسٹ حلقہ کی آبادی بہت زیادہ بتاتے ہیں۔ آج ہی مَیں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ بعض لوگوں کے خیال میں اس طرح نصف چین نکل جاتا ہے۔ اِس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ انڈین یونین کا مقابلہ کوئی آسان بات نہیں۔ مگر انڈین یونین چاہے صلح سے ہمارا مرکز ہمیں دے چاہے جنگ سے دے ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ اگر وہ صلح کے ساتھ دے تب بھی جس جدوجہد کی ضرورت ہے وہ بڑی بھاری سنجیدگی اور بڑی بھاری قربانی چاہتی ہے اور اگر جنگ کے ساتھ ہمارے مرکز کی واپسی مقدر ہے تب بھی ضروری ہے کہ آج سے ہی ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہے۔ اگر ایک چھوٹی سی جماعت کے کچھ افراد یہ کہیں کہ ہم اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور باقی لوگ تیار نہ ہوں تو وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہماری جماعت صلح کی بنیادوں پر قائم ہے اور جہاں تک ہو سکے گا ہم صلح سے ہی اپنے مرکز کو واپس لینے کی کوشش کریں گے۔
    دوسرے ہمارے ہاتھ میں حکومت نہیں اور جنگ کا اعلان حکومت ہی کر سکتی ہے افراد نہیں کر سکتے۔ گویا اِس وقت اگر جنگ کا اعلان ہو تو دو ہی حکومتیں کر سکتی ہیں یا انڈین یونین کرسکتی ہے یا پاکستان کر سکتا ہے۔ ہم پاکستان گورنمنٹ نہیں کہ انڈین یونین سے اعلانِ جنگ کرسکیں۔ ہم آزاد علاقہ کے بھی نہیں کہ ہم ایسا اعلان کرنے کے مجاز ہوں۔ اِس لیے اگر جنگ کے ذریعہ ہی ہمارے مرکز کا ملنا ہمارے لیے مقدر ہے تب بھی جنگ کے .. ..سامان خدا ہی پیدا کر سکتا ہے۔ ہمارے اندر یہ طاقت نہیں کہ ہم ایسا کر سکیں اور نہ شریعت ہمیں جنگ کی اجازت دیتی ہے۔ شریعت جنگ کا اختیار صرف حکومت کو دیتی ہے اور حکومت ہمارے پاس نہیں۔ پس جنگ سے بھی اُسی صورت میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب خدا ایسے سامان پیدا فرمائے اور انڈین یونین سے کسی اَور حکومت کی لڑائی شروع ہو جائے۔ بہرحال خواہ صلح سے ہمارا مرکز ہمیں واپس ملے یا جنگ سے دونوں معاملات میں ظاہری تدابیر کام نہیں دے سکتیں۔ صرف خدا ہی ہے جو ہماری مدد کر سکتا اور ہمارے لیے غیب سے نصرت اور کامیابی کے سامان پیدا فرما سکتا ہے۔ اگر دلائل کو لو تو دلائل کا اثر بھی خدا تعالیٰ ہی پیدا کر سکتا ہے ورنہ جو نشۂ حکومت میں سرشار ہو اور جسے اپنی طاقت کا گھمنڈ ہو اُس کے سامنے کتنے بھی دلائل پیش کیے جائیں وہ سب کو ٹھکرا دیتا ہے اور کہتا ہے ہم اِن باتوں کو نہیں مانتے۔ اور اگر طاقت کو لو تو اول تو مادی طاقت ہمارے پاس ہے ہی نہیں اور اگر ہو بھی اور فرض کرو ہماری جماعت موجودہ تعداد سے پچاس یاسَو گُنے بھی بڑھ جاتی ہے اور پانچ دس کروڑ تک پہنچ جاتی ہے تب بھی گورنمنٹ ہمارے قبضہ میں نہیں اور ہم شرعی نقطہ نگاہ سے جنگ نہیں کر سکتے۔ گویا ہماری حالت صلح کی صورت میں بھی اور جنگ کی صورت میں بھی کُلّی طور پر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اُس کی رضا کو اختیار کرنا ہمارا سب سے پہلا اور اہم فرض ہے۔ اگر ہم اپنے اِس فرض کو ادا کرلیں تو یقیناً وہ کام جو ہم نہیں کر سکتے خدا اُسے خود پورا فرمائے گا۔ اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ خدائی طاقت اور قوت کی کوئی حدبندی نہیں۔ بندے کی بڑی سے بڑی جدوجہد اور کوشش بھی خداتعالیٰ کے فضل کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جب خدا کرنے پر آتا ہے تو باوجود اِس کے کہ دنیا ایک کام کو ناممکن سمجھ رہی ہوتی ہے وہ ممکن ہو جاتا ہے۔ شام کو وہ اِس حالت میں سوتی ہے جب وہ اُسے ناممکن سمجھ رہی ہوتی ہے مگر جب صبح اٹھتی ہے تو اُسے وہ ناممکن امر ممکن نظر آرہا ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ صبح وہ ایک کام کو ممکن سمجھتی ہے مگر جب شام ہوتی ہے تو وہی ممکن امر اُسے ناممکن نظر آنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ہمارے سب کام کرنے ہیں اور اُسی پر بھروسہ کرنا ہمارا اولین کام ہونا چاہیے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کاموں اور اپنی خوشیوں اور اپنی ہر قسم کی مصروفیتوں میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ راضی کرنے کی کوشش کریں اور اُس سے رات اور دن یہ دعا کرتے رہیں کہ وہ اپنے فضل اور کرم سے ہماری وہ کوتاہیاں اَور غلطیاں جن کی وجہ سے عارضی طور پر ہمیں اپنے مقام سے ہٹنا پڑا ہے معاف کرکے پھر ہمیں وہ مقام دلا دے تا دنیا کی نظروں میں عارضی طور پر جو اعتراض ہم پر عائد ہوتا ہے وہ دُور ہو جائے اور قادیان جسے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا مرکز مقرر کیا ہے وہ دنیا میں پھر اللہ تعالیٰ کے انوار اور اُس کی برکات کی اشاعت کا مرکز بن جائے"۔اٰمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔
    (الفضل 30اپریل 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    بخاری کِتَاب الْأَذَانِ بَاب إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ
    2
    :
    تذکرہ صفحہ 419 طبع چہارم (مفہومًا)
    3
    :
    ابوداؤد کتاب الصلٰوۃ اَبْوَاب اِقَامَۃِ الصَّلَوَاتِ وَالسُّنّۃِ باب ماجاء فِی الْاِغْتِسَالِ فِی الْعِیْدَیْنِ
    4
    :
    بخاری کتاب الجمعۃ باب فضل الغسل یوم الجمعۃ و باب الطِّیْبِ للجمعۃ


    وقت ضائع کرنے سے بچو
    اور اسے زیادہ سے زیادہ قیمتی کاموں میں صَرف کرو
    (فرمودہ19مارچ 1948ء بمقام کراچی)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہو گا مَیں آج میل (Mail)میں واپس جا رہا ہوں۔ یہاں قیام کے لیے مجھے اِتنا تھوڑا وقت ملا ہے کہ وہ بہت سے مقاصد جن کو مدنظر رکھ کر مَیں یہاں آیا تھا انہیں مَیں پورے طور پر سرانجام نہیں دے سکا۔اِس میں بڑی دقّت مکان کی ہے۔ اب تک یہاں رہنے کے لیے ہمیں کوئی مکان میسر نہیں آسکا۔ اگر دوست اپنے اپنے رنگ میں امیر جماعت کے مشورہ سے کوشش کرتے رہیں اور کسی مکان کا انتظام ہو جائے تو ارادہ ہے کہ موقع ملنے پر مَیں پھر کراچی آؤں۔ کیونکہ بوجہ پاکستان کا مرکز ہونے کے بہت سے اہم اور ضروری مسائل ایسے ہیں جو کراچی میں ہی حل کیے جاسکتے ہیں لاہور یا کسی اَور شہر میں حل نہیں کیے جا سکتے۔
    اِس کے بعد مَیں جماعت کے دوستوں کو اِس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ایک زمانہ طفولیت کا ہوتا ہے جس میں بہت سی باتیں معاف کر دینے کے قابل ہوتی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَلصَّبِیُّ صَبِیٌّ وَ لَوْکَانَ نَبِیًّا1۔ بچہ بچہ ہی ہے خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔نبی تو وہ تب بنے گا جب 2کے مطابق وہ ایسی عمر کو پہنچے گا جب اُس کے قوٰی مضبوط ہو جائیں گے، اُس کی عقل کامل ہو چکی ہو گی اور وہ نبوت کی ذمہ داریوں کو پورے طور پر سرانجام دینے کے قابل ہوجائے گا تبھی اُس پر خدا کا کلام نازل ہو گا۔ لیکن اِس بلوغت سے پہلے جتنی حالتیں انسان پر گزرتی ہیں وہ اس پر بھی گزریں گی۔ وہ کھیلے گا بھی، وہ کسی زمانہ میں ننگا بھی رہے گا، وہ ماں کا دودھ بھی پئے گا، وہ چھوٹی عمر میں غذا بھی نرم نرم استعمال کرے گا، پھر وہ چلنا پھرنا سیکھے گا۔ اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے اُس کے لیے پڑھائی مقدر کی ہے تو بہرحال اسے پڑھنا بھی پڑے گا۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء دنیا کو یہ بتانا ہو (جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا) کہ ہم اگر چاہیں تو ایک اُمّی کو بھی اپنے پاس سے علم دے سکتے ہیں اور علم بھی ایسا کہ دنیا کے بڑے بڑے عالم اُس کے سامنے اپنی گردنیں جھکانے پر مجبور ہوں تو یہ اَور بات ہے۔ بہرحال طفولیت کا زمانہ بہت سے امور میں معافی چاہتا ہے۔ گو وہ تربیت کا زمانہ ضرور ہوتا ہے ہم اس زمانہ میں بچے کو تربیت سے آزاد نہیں کر سکتے۔ وہ لوگ جو بچوں کی غلطی پر یہ کہا کرتے ہیں کہ بچہ ہے جانے دو وہ اول درجہ کے احمق ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ بچپن کا زمانہ ہی سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے۔ اگر اِس عمر میں وہ نہیں سیکھے گا تو بڑی عمر میں اُس کے لیے سیکھنا بڑا مشکل ہوجائے گا۔ درحقیقت اگر ہم غور کریں تو بچپن کا زمانہ سب سے زیادہ سیکھنے کے لیے موزوں ہوتا ہے اور اِسی عمر میں اس کی تربیت اسلامی اصول پر کرنی چاہیے۔ پس گو بچہ بعض اعمال کے لحاظ سے معذور سمجھا جاتا ہے مگر سیکھنے کا عمدہ زمانہ اُس کی وہی عمر ہے۔
    جس طرح انسان پر بچپن کا زمانہ آتا ہے اِسی طرح قوموں پر بھی ایک بچپن کا زمانہ آتا ہے۔ جب خدا کسی جماعت کو دنیا میں قائم کرتا ہے تو کچھ عرصہ اسے سیکھنے کا موقع دیتا ہے مگر پھر اُس پر ایک دوسرا زمانہ آتا ہے جب وہ قوم بالغ ہو جاتی ہے اور اُس پر ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں جیسے بالغوں پر عائد ہوتی ہیں۔ تب بہت سی باتیں جو طفولیت میں معاف ہوتی ہیں اور غلطی ہونے پر چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے بلوغت کے زمانہ میں نہ وہ باتیں اُسے معاف ہوتی ہیں اور نہ غلطی واقع ہونے پر اُس سے چشم پوشی کا سلوک کیا جاتا ہے۔
    ہماری جماعت پر بھی بلوغت کا زمانہ آ رہا ہے اور خدا تعالیٰ کے فعل نے بتا دیا ہے کہ ہماری جماعت اب اُن راستوں پر نہیں چل سکتی جن پر وہ پہلے چلا کرتی تھی۔ بلکہ اب اسے وہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو قربانی اور ایثار کا راستہ ہے اور جس پر چلے بغیر آج تک کوئی قوم بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ہندوستان میں احمدیوں کی آبادی کا زیادہ تر حصہ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ستّر فیصدی حصہ پنجاب میں تھا۔ اب چونکہ مشرقی پنجاب کے مسلمان بھی ادھر آ چکے ہیں۔ اِس لیے اب اسّی فیصدی بلکہ اِس سے بھی زیادہ حصہ ہماری جماعت کے افراد کا پاکستان میں آ چکا ہے اور بوجہ آزاد گورنمنٹ کا ایک حصہ ہونے کے ان پر بھی ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہیں جیسی آزاد قوموں پر عائد ہوتی ہیں۔ یہ امر ظاہر ہے کہ آزاد قوموں کو جنگ بھی کرنی پڑتی ہے۔ یہ تو نہیں کہ جنگ کے اعلان پر وزیر جا کر لڑا کرتے ہیں یاسیکرٹری جا کر لڑا کرتے ہیں۔ بہرحال افراد ہی لڑا کرتے ہیں۔ اور اگر کسی ملک کے افراد اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھیں تو جنگ میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہوتا ہے کہ افراد میں قومیت کا احساس ہو۔ اگر لڑنے والے افراد میں قومیت کا احساس نہیں ہو گا تو لازماً ان میں کمزوری پیدا ہو گی اور یہ کمزوری اُن کی کامیابی میں حائل ہوجائے گی۔ پس بوجہ اِس کے کہ اسّی بلکہ پچاسی فیصدی احمدی آزاد اسلامی حکومت میں آ گئے ہیں ان کا فرض ہے کہ اب وہ پورے طور پر اپنے اندر تغیر پیدا کریں تاکہ اگر ملک اور قوم کے لیے کوئی خطرہ درپیش ہو تو وہ اُس وقت قربانی اور ایثار کا نمونہ دکھا سکیں اور اس طرح ملک کی کامیابی کی صورت پیداکردیں۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکی دفاع کے لیے ہر فرد پر ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض بعض انسانوں اور جماعتوں کو لیڈر بننے کی توفیق عطا کی جاتی ہے۔ اگر لیڈر آگے آ جاتے ہیں تو ساری قوم اُن کے پیچھے چل پڑتی ہے۔ اور اگر لیڈر آگے نہیں آتے تو قوم میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ لیڈر بعض دفعہ افراد ہوتے ہیں اور بعض دفعہ قومیں ہوتی ہیں۔ وہ قومیں ایسی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں کہ لوگ ہر اہم موقع پر اُن کی طرف دیکھتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا کررہی ہیں۔ ہماری جماعت کی بھی خواہ لوگ کتنی مخالفت کریں اِسے ایسی پوزیشن ضرور حاصل ہو گئی ہے کہ لوگ ہماری جماعت کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ اس جستجو میں رہتے ہیں کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ اگر آئندہ آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہماری جماعت ہر وقت آمادہ رہے گی اور پاکستان کو جب کوئی خطرہ پیش آیا وہ سب سے بڑھ کر اس کے لیے قربانی کرے گی تو لازمی طور پر دوسرے مسلمان بھی ہماری جماعت کی نقل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اِس طرح لوگوں کو بتائیں کہ ملک اور قوم کی خدمت کے معاملہ میں ہم جماعت احمدیہ کے افراد سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ملک کو فائدہ پہنچ جائے گا۔ چاہے وہ ایسا طریق ہمارے بُغض کی وجہ سے اختیار کریں یا رشک کی وجہ سے کریں یا معاملہ کی خواہش کی وجہ سے کریں۔ بہرحال جتنے لوگ آگے آئیں گے اُتنا ہی یہ امر ملک کے لیے مفید اور بابرکت ہوگا۔پس جماعت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنی چاہییں۔ مگر ذمہ داریوں کا احساس آپ ہی آپ پیدا نہیں ہو جاتا۔ اِس کے لیے پہلے اپنی ذہنیت میں تغیر پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جب تک وہ ذہنیت پیدا نہ ہو اُس وقت تک لوگوں کا وجود نفع رساں نہیں ہو سکتا۔ اِس ذہنیت کو پیدا کرنے کے لیے سب سے پہلی چیز جس کو مدنظر رکھنا ہر شخص کے لیے ضروری ہے وقت کی قیمت کا احساس ہے۔ ہمارے ملک میں لوگوں کو وقت ضائع کرنے کی عام عادت ہے۔ بازار میں جاتے ہوئے کوئی شخص مل جائے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہہ کر اُس سے گفتگو شروع کر دیں گے اور پھر دو دوگھنٹے تک کرتے چلے جائیں گے۔
    مَیں ایک دفعہ منالی گیا۔ ایک سکھ رئیس جو اِس قسم کی عادت رکھتے تھے ایک انگریز کے ساتھ پھر رہے تھے کہ مجھے دیکھ کر جھٹ میرے پاس آ گئے اور کہنے لگے مرزا صاحب آپ کہاں؟ مَیں نے کہا تبدیلیٔ آب و ہوا کے لیے یہاں آیا ہوں۔ اُن کے دادا اور ہمارے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کے زمانہ میں اکٹھے جرنیل رہے تھے۔ اِس لیے وہ میرے پرانے واقف تھے۔ مَیں اُس وقت ابھی منالی میں اُترا ہی تھا اور مجھے مستورات کے آرام اور اُن کی رہائش وغیرہ کا انتظام کرنا تھا۔ قافلہ بھی ساتھ تھا اور ضرورت تھی کہ فوری طور پر ہمیں فارغ کیا جاتا۔ وہ خود بھی کہنے لگے اچھا مَیں کسی دوسرے وقت حاضر ہوں گا۔ مگر اس کے معاً بعد اُنہوں نے ایک سوال کر دیا جس کا مجھے جواب دینا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسرا سوال کر دیا۔ دوسرا سوال ختم ہوا تو تیسرا سوال کر دیا۔یہاں تک کہ ڈیڑھ دو گھنٹے صَرف ہو گئے۔ اُن کی گفتگو کو لمبا ہوتے دیکھ کر انگریز بھی چلا گیا اور قافلہ بھی میری آمد سے مایوس ہو گیا۔ مگر انہوں نے مجھے شام کے قریب چھوڑا۔ اور چھوڑا بھی یہ کہہ کر کہ اچھا پھر بات کریں گے۔
    اِسی طرح ایک دفعہ مَیں کلّو کے ڈاک بنگلہ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ شام کے وقت مستورات کے ساتھ باہر سیر کے لیے نکلا کہ خاکسار کے بنگلہ کے برآمدہ میں مجھے وہی سکھ رئیس مل گئے۔ مَیں نے مستورات سے کہا۔ اب تم جاؤ مجھے یہاں سے ہلنا نصیب نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا آپ کو کس طرح پتہ لگا؟ مَیں نے کہا مَیں اِس شخص کو جانتا ہوں مجھ میں طاقت ہی نہیں کہ اب ہل سکوں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے آپ کہاں؟ مجھے آپ سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا مگر اب غالباً آپ کو فرصت نہ ہو اِس لیے پھر ملوں گا لیکن اتنا کہہ کر وہ بیٹھ گئے اور رات کے گیارہ بجے تک باتیں کرتے چلے گئے۔ یہ مَیں نے ایک خاص مثال دی ہے اور گو اِس حد تک تو نہیں لیکن اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا ہندوستانی بھائی وقت کو ضائع کرنا کچھ بُرا نہیں سمجھتا۔
    مَیں اِس کے لیے آپ لوگوں کو ایک موٹا طریق بتاتا ہوں۔ اگر آپ لوگ اِسے اختیار کر لیں تو یقیناً آپ سمجھ سکیں گے کہ آپ اپنے وقت کا بہت بڑا حصہ غیرضروری بلکہ لغو باتوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ وہ طریق یہ ہے کہ چند دن آپ اپنے روزمرہ کے کام کی ڈائری لکھیں جس میں یہ ذکر ہو کہ مَیں فلاں وقت اٹھا۔ پہلے مَیں نے فلاں کام کیا۔ پھر فلاں کام کیا۔ دن کو تین حصوں میں تقسیم کر لیں اور ہر حصہ کے ختم ہونے پر پانچ دس منٹ تک نوٹ کریںکہ آپ اس عرصہ میں کیا کرتے رہے ہیں۔ اِس طرح آٹھ دس دن مسلسل ڈائری لکھنے کے بعد دوبارہ اپنی ڈائری پر نظر ڈالیں اور نوٹ کریں کہ ان میں سے کون کون سے کام غیرضروری تھے۔ اِس کے بعد آپ اندازہ لگائیں کہ روزانہ 24 گھنٹوں میں سے کتنا وقت آپ نے ضروری کاموں میں صَرف کیا اور کتنا غیرضروری کاموں میں صَرف کیا۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ بہت جلد ہی اندازہ لگا سکیں گے کہ آپ کی بہت سی زندگی رائیگاں چلی جا رہی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں صرف آٹھ دس دن ایسا کرنے سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جن کاموں کو آپ بوجھ محسوس کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض دفعہ گھنٹہ گھنٹہ بھر یہی کہتے چلے جاتے ہیں کہ مر گئے بہت بڑا بوجھ آ پڑا ہے، ذرا بھی فُرصت نہیں ملتی۔ ان کاموں میں آپ بہت تھوڑا وقت صَرف کرتے ہیں اور اکثر حصہ لغو کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ پس ایک تو یہ تبدیلی اپنے اندر پیدا کرو کہ وقت ضائع کرنے سے بچو اور اسے زیادہ سے زیادہ قیمتی کاموں میں صَرف کرنے کی کوشش کرو۔
    دوسری چیز جس کی مَیں جماعت کو نصیحت کرنی چاہتا ہوں بلکہ اصل میں تو یہ پہلی نصیحت ہونی چاہیے تھی وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو قرآن کریم پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہماری ساری ضرورتیں قرآن کریم سے پوری ہو سکتی ہیں۔ اور یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی حقیقت ہے جس میں شبہ کی کوئی بھی گنجائش نہیں۔ آپ لوگ میرے مُرید ہیں اور مُرید کی نگاہ میں اپنے پیر کی ہر بات درست ہوتی ہے۔ بعض دفعہ اُس کی کوئی بات اُسے بُری بھی لگتی ہے تو وہ کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ۔ کیا اچھی بات کہی گئی ہے۔ پس آپ لوگوں کا سوال نہیں کہ آپ میرے متعلق کیا کہتے ہیں۔ مَیں کہتا ہوں غیروں کا میرے متعلق کیا تجربہ ہے۔ غیر احمدیوں کی کوئی مجلس ہو خواہ پروفیسروں کی ہو، خواہ سائنس کے ماہرین کی ہو، خواہ علمُ الْاِقتصاد کے ماہرین کی ہو میرے ساتھ مختلف دنیوی علوم سے تعلق رکھنے والے افراد نے جب بھی بات کی ہے اُنہوں نے محسوس کیا ہے کہ میرے ساتھ گفتگو کر کے انہوں نے اپنا وقت ضائع نہیں کیا بلکہ فائدہ ہی اٹھایا ہے۔ کثرت کے ساتھ ہر طبقہ کے لوگ مجھ سے ملتے رہتے ہیں مگر ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے میری علمی برتری اور فوقیت کو تسلیم نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے ماہر فوجیوں کو بھی مَیں نے دیکھا ہے مجھ سے گفتگو کر کے وہ یہی محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فائدہ اٹھایا ہے۔ یوں میری تعلیم کے متعلق جب وہ مجھ سے سوال کرتے ہیں مجھے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ مَیں نے پرائمری بھی پاس نہیں کی۔ لیکن جب علمی رنگ میں گفتگو شروع ہو تو انہیں میری علمی فوقیت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایم۔اے، ایل ایل بی یا ایک پروفیسر یا ایک ڈاکٹر یا ایک فوج کا ماہر بعض دفعہ وہ کچھ بیان نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ میری زبان سے بیان کروا دیتا ہے؟ اِس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اُن کے علم کا منبع زید اور بکر کی کتابیں ہیں لیکن میرے سارے علم کا منبع خداتعالیٰ کی کتاب ہے۔ یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ قرآن کریم کو دوسرے لوگوں کی عینک لگا کر پڑھتے ہیں اور چونکہ وہ اُس مفسّر یا اُس مفسّر کی عینک لگا کر قرآن کریم پڑھتے ہیں اِس لیے اُن کی نظر قرآنی معارف کی تہہ تک نہیں پہنچتی۔ وہ وہیں تک دیکھتے ہیں جہاں تک اُس مفسر نے دیکھنا ہوتا ہے۔ لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے شروع سے یہ توفیق عطا فرمائی ہے کہ مَیں نے خدا تعالیٰ کے کلام کو کبھی انسان کی عینک سے نہیں دیکھا۔ جس دن سے مَیں نے قرآن کریم پڑھا ہے مَیں نے یہ سمجھ کر نہیں پڑھا کہ مجھے یہ قرآن رازی کی معرفت ملا ہے، یا علامہ ابوحیّان کی معرفت ملا یا ابن جریر کی معرفت ملا ہے۔ بلکہ مَیں نے یہ سمجھ کر اسے پڑھا ہے کہ مجھے یہ قرآن براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے بے شک واسطہ بنایا ہے لیکن مجھے اُس نے خود مخاطب کیا ہے۔ اور جب اُس نے مجھے خود مخاطب کیا ہے تو معلوم ہوا کہ میرے سمجھنے کے لیے اُس نے تمام سامان اس میں رکھ دیا ہے۔ اگر سامان نہ ہوتا تو مجھے مخاطب ہی نہ کرتا۔ اِس رنگ میں قرآن کریم کو پڑھنے کی وجہ سے جو فائدہ مَیں نے اٹھایا ہے وہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے بعد اَور کسی نے نہیں اٹھایا۔ مَیں نے اپنے تصور میں خداتعالیٰ کو اپنے سامنے بٹھا کر اُس سے قرآن کریم پڑھا ہے اور دوسرے لوگوں نے انسانوں سے قرآن کریم کو پڑھا ہے۔ اِسی لیے مجھے قرآن کریم سے وہ علوم عطا ہوئے ہیں جو دوسروں کو عطا نہیں ہوئے اور اِسی وجہ سے ہر علم والے پر اللہ تعالیٰ مجھے کامیابی دیتا چلا آیا ہے۔ اکثر دفعہ ایسا ہوا ہے فریقِ مخالف نے مجھ سے گفتگو کر کے تسلیم کیا ہے کہ وہی بات درست ہے جو مَیں پیش کررہا ہوں۔ اور اگر کوئی ضدی بھی تھا تو بھی وہ میری بات کا انکار نہیں کر سکا۔
    غرض قرآن کریم میں وہ علوم موجود ہیں جو دوسری کتب میں نہیں۔پھر یہ کیسی بدقسمتی ہو گی کہ ہمارے گھر میں تو خزانہ پڑا ہو اور ہم دوسروں سے پیسہ پیسہ مانگ رہے ہوں، ہمارے گھر میں سونے کی کان پڑی ہو اور ہم دوسروں کے سامنے دست ِسوال دراز کر رہے ہوں۔ قرآن کریم کی موجودگی میں دوسروں سے علم حاصل کرنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے خزانہ رکھنے والا دوسروں سے ایک پیسہ مانگنے لگ جائے۔ پس قرآن کریم پڑھنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ اِس کے لیے کسی لمبے غور اورفکر کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے ایسے علوم عطا فرمائے ہیں جن سے بہت آسانی کے ساتھ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ میری کتابیں پڑھیں ان سے بہت جلد وہ قرآنی علوم سے آگاہ ہو جائیں گے۔
    ہو سکتا ہے کہ ِاس موقع پر کسی شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ ابھی تو آپ نے کہا کہ مَیں نے رازی کی معرفت قرآن کریم نہیں پڑھا، مَیں نے ابوحیان اور ابن جریر کی عینک لگا کر قرآن کریم پر غور نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ کے کلام کو خدا تعالیٰ کے کلام کی عینک لگا کر پڑھا ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ دوسروں کو میری کتابیں پڑھنی چاہییں۔ اس فرق کی کیا وجہ ہے؟ اِس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ علامہ ابوحیان اور ابن جریر وغیرہ نے ایسی طرز پر قرآن کریم کی تفسیر کو لیا ہے کہ وہ زیادہ تر ظاہری علوم کی طرف چلے گئے ہیں مغز کی طرف نہیں گئے۔ لیکن میری تفسیر ایسی ہے جس میں صرف مغز کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اِس لیے ہمارے علوم کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی معرفت انسان کو جلد حاصل ہوتی ہے۔ خود ایک مسلمان عالم کا قول ہے کہ کُلُّ شَیْئٍ فِی تَفْسِیْرِ الرَّازِیْ اِلَّا تَفْسِیْر القُرْاٰنِ یعنی تفسیر رازی میں ہر قسم کے علوم پائے جاتے ہیں سوائے قرآن کریم کی تفسیر کے۔ اِس کی وجہ یہی ہے کہ وہ کہیں صَرف کی طرف چلے گئے ہیں، کہیں نحو کی طرف چلے گئے ہیں، کہیں دوسرے ظاہری علوم کی طرف چلے گئے ہیں۔ قرآن کریم کا جو اصل مغز تھا اُس کی طرف نہیں گئے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک حد تک صَرفی اور نحوی باتیں ہماری تفسیر میں بھی موجود ہیں مگر اُسی حد تک جس حد تک کسی آیت کی تفسیر کے لیے ضروری ہوتی ہیں ورنہ بیشتر حصہ ہماری تفسیر میں وہی ہوتا ہے جو مطلوب اور مقصود ہوتا ہے۔ ضمنی باتیں بہت کم ہوتی ہیں اور اگر اُن کا ذکر کرنا ہی پڑے تو اُسی قدر کیا جاتا ہے جس کے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک بچہ ہے اگر ہم اُسے اِتنا سکھا دیتے ہیں کہ’’ ماں‘‘ تو اِس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ ماں کی طرف متوجہ ہو جائے گا اور جب اُسے دودھ کی ضرورت محسوس ہو گی وہ اپنی والدہ کو ماں کہہ کر بُلا سکے گا۔ اِتنا حصہ تو بہرحال ضروری ہے۔ لیکن اگر ہم یہ بحثیں شروع کر دیں کہ تمہاری ماں کس خاندان سے ہے اور اُس کا رشتہ تمہارے باپ سے کس طرح ہوا، لڑکی کے ماں باپ نے کس طرح مخالفت کی اور پھر بعد میں یہ کس طرح رشتہ دینے پر رضامند ہوئے، مہر کے کیا اصول ہیں، عائلی زندگی کو بہتر بنانے کے کیا طریق ہیں تو ہمارا اپنا وقت بھی ضائع ہو گا اور بچہ کی سمجھ میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ خالی’’ اماں‘‘ کا لفظ سکھانا تو ضروری ہے۔ اگر ہم اسے یہ لفظ نہیں سکھائیں گے تو وہ اپنی ماں کو بُلا نہیں سکے گا لیکن اَور تشریحات کی اُسے ضرورت نہیں ہو گی۔ اِسی طرح وہ دنیوی علوم جو قرآن کریم سمجھنے کے لیے اَقَلّ طور پر ضروری ہیں اُن کو ایک حد تک ہم بھی پیش کرتے ہیں لیکن اصل چیز جو ہماری تفسیر میں نظر آئے گی وہ یہی ہو گی کہ فلاں آیت کا پہلی آیت سے کیاجوڑہے؟ اس آیت کا پچھلی آیت سے کیا تعلق ہے؟سارے رکوع کا آپس میں کیا جوڑ ہے؟ایک سورۃ کا دوسری سورۃ سے کیا تعلق ہے؟ پھر کئی کئی سورتیں مل کر کیا مضمون پیدا کرتی ہیں؟ کونسے امتیازی نشانات قرآن کریم کو حاصل ہیں؟ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کو کیوں نازل کیا اور اسے دوسرے مذاہب کی کتب کے مقابلہ میں کیا فوقیت حاصل ہے؟ یہ مضامین ایسے ہیں کہ جب انسان ان پر غور کرتا ہے تو اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا نور عطا ہوتا ہے جس سے دنیا کے تمام علوم کو سمجھنے کا ملکہ اس کے اندر پیدا ہو جاتا ہے۔ مَیں یہ نہیں کہتاکہ قرآن کریم میں فلسفہ کی وہ تمام تشریحات موجود ہیں جو فلسفی بیان کرتے ہیں، مَیں یہ نہیں کہتا کہ قرآن کریم میں سائیکالوجی کے وہ تمام اصول موجود ہیں جو علم ُالنفس کے ماہرین پیش کرتے ہیں، مَیں یہ نہیں کہتا کہ قرآن کریم میں قانون کے وہ تمام اصول بیان ہیں جو علمِ قانون کے ماہرین نے بیان کیے ہیں۔ لیکن مَیں یہ ضرور کہتا ہوں کہ قرآن کریم نے عقلی طور پر ایسے اصول بیان کر دئیے ہیں کہ اگر اُن کو سمجھ لیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام علوم ہم نے پڑھے ہوئے ہیں۔ پس قرآن کریم کو پڑھو اور اس پر غور کرو۔ اِس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا لٹریچر بھی موجود ہے اور پھر میری تفسیر اور مضامین بھی ہیں اُن کو بار بار پڑھو اور اِس قدر قرآن کو اپنے اندر داخل کر لو کہ تمہارے سارے علوم قرآنی بن جائیں اور تم دنیوی علوم کے بھی اُستاد بن جاؤ۔
    تیسری بات جس کی مَیں جماعت کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے افراد اپنے عمل میں درستی پیدا کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں جن کے چھوڑنے میں کوئی بھی دقّت نہیں مَیں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک اُنہی باتوں کو ہماری جماعت کے افراد نہیں چھوڑ سکے۔ مثلاً داڑھی رکھنا ہے مَیں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں جو داڑھی نہیں رکھتے حالانکہ اِس میں کونسی دِقّت ہے۔ آخر ان کے باپ دادا داڑھی رکھتے تھے یا نہیں؟ اگر رکھتے تھے تو پھر اگر وہ بھی داڑھی رکھ لیں تو اِس میں کیا حرج ہے؟ پھر باپ دادا کو جانے دو ۔سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم داڑھی رکھتے تھے یا نہیں؟ اگر رکھتے تھے تو آپ کی طرف منسوب ہونے والے افراد کیوں داڑھی نہیں رکھ سکتے۔ مجھ سے ایک دفعہ ایک نوجوان نے بحث شروع کر دی کہ داڑھی رکھنے میں فائدہ کیا ہے۔ وہ میرا عزیز تھا اور ہم کھانا کھا کر اُس وقت بیٹھے ہوئے تھے اور چونکہ فراغت تھی اِس لیے بڑی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ جب مَیں نے دیکھا کہ وہ کج بحثی کر رہا ہے تو مَیں نے اُسے کہا مَیں مان لیتا ہوں کہ داڑھی رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں۔آخر تم مجھ سے یہی منوانا چاہتے ہو سو مَیں مان لیتا ہوں کہ داڑھی رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں۔ اِس پر وہ خوش ہوا کہ آخر اُس کی بات تسلیم کر لی گئی ہے۔ مَیں نے کہا مَیں تسلیم کر لیتا ہوں کہ اِس میں کوئی بھی خوبی نہیں۔ مگر تم بھی ایک بات مان لو اور وہ یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لینے میں ساری خوبی ہے۔ بے شک داڑھی رکھنے میں کوئی بھی خوبی نہ ہو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لینے میں ساری خوبی ہے۔ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ داڑھی رکھو۔3 تم بے شک سمجھو کہ یہ چیز ہر رنگ میں مُضِر اور نقصان دہ ہے مگر کیا بیسیوں مُضِر چیزیں ہم اپنے دوستوں کی خاطر اختیار نہیںکر لیا کرتے اول تو مجھے داڑھی رکھنے میں کوئی ضرر نظر نہیں آتا لیکن سمجھ لو کہ یہ مُضِر چیز ہے پھر بھی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کہتے ہیں کہ داڑھی رکھو تو ہماری خوبی آیا اِس میں ہے کہ ہم داڑھی نہ رکھیں یا اِس میں ہے کہ داڑھی رکھیں؟ آخر ایک شخص کو ہم نے اپنا آقا اور سردار تسلیم کیا ہوا ہے۔ جب ہمارا آقا اور سردار کہتا ہے کہ ایسا کرو تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس کے حکم کے پیچھے چلیں۔ خواہ اُس کے حکم کی ہمیںکوئی بھی حکمت نظر نہ آئے۔
    صحابہؓ کو دیکھو اُن کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا عشق تھا۔ داڑھی کے متعلق تو ہم دلیلیں دے سکتے ہیں اور داڑھی رکھنے کی معقولیت بھی ثابت کر سکتے ہیں لیکن صحابہؓ بعض دفعہ اِس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سُن کر اُس پر عمل کرنے کے لیے بے تاب ہو جاتے کہ بظاہر اُس کی معقولیت کی کوئی دلیل اُن کے پاس نہیں ہوتی تھی۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریر فرما رہے تھے کہ آپ نے کناروں پر کھڑے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اُس وقت گلی میں سے آ رہے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ اُن کے کانوں میں بھی پڑ گئے اور وہ وہیں گلی میں بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھِسٹ گھِسٹ کر اُنہوں نے مسجد کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ ایک دوست اُن کے پاس سے گزرے تو اُنہیں کہنے لگے عبداللہ بن مسعود! تم اتنے معقول آدمی ہو کر یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میرے کان میں آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ۔ اِس پر مَیں بیٹھ گیا۔ انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خطاب آپ سے تو نہیں تھا۔ اُنہوں نے تو یہ بات اُن لوگوں سے کہی تھی جو مسجد میں آپؐ کے سامنے کھڑے تھے۔ عبداللہ بن مسعوؓد نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو۔ بے شک آپؐ کا یہی مطلب ہو گا لیکن مجھے یہ خیال آیا کہ اگر مَیں مسجد پہنچنے سے پہلے پہلے مر گیا تو ایک بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغیر عمل کے رہ جائے گی۔ اِس لیے مَیں گلی میں ہی بیٹھ گیا تاکہ آپ کے حکم پر عمل کرنے کا ثواب حاصل کرسکوں۔4
    یہ ایمان ہے جو صحابہؓ کے اندر پایا جاتا تھا اور یہی ایمان ہے جو انسان کی نجات کا باعث بنتا ہے۔ ہمیشہ انسان کو یہ عادت اختیار کرنی چاہیے کہ یا تو وہ کسی بات کو مانے یا نہ مانے دوغلاپن سے کبھی جرأت پیدا نہیں ہو سکتی۔ جرأت ہمیشہ یکجہتی سے پیدا ہوتی ہے یا تو ہمارے لیے ابھی یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ فیصلہ کرنا باقی ہے تو مَیں تمہیں کہوں گا ابھی ٹھہر جاؤ اور سوچو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں یا نہیں؟ مَیں اِس پر اعتراض نہیں کرتا۔ مَیں خود جبکہ ابھیبچہ تھا ایک دفعہ سوچنے لگا کہ آیا حضرت مرزا صاحب واقع میں سچے ہیں یا نہیں؟ اور مَیں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھ پر یہ ثابت ہو گیا کہ آپ سچے نہیں تو پھر مَیں اِس گھر میں داخل نہیں ہوں گا بلکہ کہیں باہر نکل جاؤں گا۔ حالانکہ اُس وقت میری عمر صرف گیارہ سال تھی۔ پس مَیں تمہارا حق بھی تسلیم کرتا ہوں۔ تم کہہ سکتے ہو کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں یا نہیں؟ تم کہہ سکتے ہو کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے جو دعوٰی کیا ہے اُس میں وہ سچے ہیں یا نہیں؟ بلکہ تمہارا یہ بھی حق ہے کہ تم سوچو جس خلیفہ کے ہاتھ پر تم نے بیعت کی ہے یہ سچا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص بنی نوع انسان کو اِس فیصلہ کا اختیار دینے سے انکار کرتا ہے تو وہ دنیا میں منافقت پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ دنیا میں جہالت پیدا کرنا چاہتا ہے، وہ دنیا میں بے ایمانی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ لوگوں کا یہ بھی حق ہے کہ وہ سوچیں کہ ا ٓیا کوئی خدا ہے یا نہیں؟ مگر جب فیصلہ ہو جائے کہ خدا ہے، جب فیصلہ ہو جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو پھر کسی کا کوئی حق نہیں رہتا کہ وہ کہے مَیں یُوں کروں گا کیونکہ میرے نزدیک یہ زیادہ مناسب ہے۔ اُسے وہی کچھ کرنا پڑے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ آپ لوگ بھی ایک دفعہ فیصلہ کریں کہ اِس دنیا کا کوئی خدا ہے یا نہیں؟ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے رسول ہیں یا نہیں؟ اگر ثابت ہو جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو جس طرح بھیڑیں ایک دوسرے کے پیچھے کُودتی چلی جاتی ہیں تمہارا بھی فرض ہے کہ خواہ کوئی بات تمہیں بُری لگے یا سچی، لوگ ہنسی اور ٹھٹھا کریں یا تعریف، تم وہی کچھ کرو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ مَیں کہتا ہوں داڑھی رکھنا تو کوئی چیز ہی نہیں۔ تم ہندو قوم کو دیکھو! ہولی میں وہ ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں اور ہر سال ایسا کرتے ہیں۔ بھلا اِس میں کونسی معقولیت پائی جاتی ہے؟ مگر بڑے بھی اور چھوٹے بھی سب کے سب اس میں حصہ لیتے ہیں یہاں تک کہ اب کی دفعہ تو وائسرائے کے گھر بھی جا پہنچے۔ یہ کتنی لغو حرکت ہے جو ہندو قوم کرتی ہے۔ مگر وہ قوم اس کی پروا نہیں کرتی اور اِس لیے پروا نہیں کرتی بلکہ کہتی ہے یہ ہمارے مذہب کا حکم ہے۔ حالانکہ اُن کا مذہب کیا ہے؟ نہ دینیات کے متعلق اُس میں کوئی تعلیم ہے نہ خواہشات کے متعلق اُس میں کوئی تعلیم ہے، نہ اقتصادیات کے متعلق اُس میں کوئی تعلیم ہے نہ سیاسیات کے متعلق اُس میں کوئی تعلیم ہے۔ مگر باوجود اِس کے کہ وہ صرف رسم و رواج کا مجموعہ ہے پھر بھی وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں۔ کہیں کوئی قمیص پر رنگ پڑا ہواہوتا ہے کہیں پاجامے پر رنگ پڑا ہوا ہوتا ہے، کہیں بُوٹ پر رنگ پڑا ہوا ہوتا ہے۔ مگر وہ ذرا بھیپروا نہیں کرتے اور اپنے مذہب کے حکم پر عمل کرتے چلے جاتے ہیں۔
    یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ وہ لوگ تو اپنی لغویات پر جس میں کوئی بھی معقولیت نہیں، جس میں کوئی بھی نفع نہیں عمل کرتے چلے جاتے ہیں اور ہم لوگ اُس حکم پر عمل کرنے کے تیار نہیں ہوتے جس میں نفع ہی نفع ہے اور فائدہ ہی فائدہ ہے۔داڑھی میں اگر اَور نہیں تو کم از کم قومی شعار تو ہے۔ مگر یہ قومی شعار بھی اختیار نہیں کیا جاتا اور اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہوئے اِس کی بدنامی کا باعث بنا جاتا ہے۔ اِنہی چیزوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مسلمان ہمیشہ ذلّت کی زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔ اب توانگریز چلا گیا مگر جب وہ تھا اُس وقت بھی فوج میں وہ سکھ کو داڑھی رکھنے دیتا تھا مگر مسلمان کو نہیں۔ اور اِس کی وجہ یہی تھی کہ سکھوں میں سے ہر ایک داڑھی رکھتا تھا مگر مسلمانوں میں ہر ایک داڑھی نہیں رکھتا تھا۔ اِس وجہ سے اگر کوئی مسلمان فوج میں داڑھی رکھتا تو اُسے سزا دی جاتی تھی۔ گویا ایک شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا چاہتا تھا اُسے مسلمان اپنے بدعمل کی وجہ سے انگریز کے ہاتھوں سے سزا دِلواتے تھے کہ کیوں اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اور کیوں ہماری طرح اُس نے داڑھی منڈوا کر نہیں رکھی۔ یہ کتنا بڑا فرق ہے جو سکھوں اور مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ مَیں اس قوم کو وحشی بھی کہتا ہوں، مَیں اس قوم کو جوشیلا بھی کہتا ہوں مگر مَیں کہتا ہوں ان میں ایک چیز ایسی ہے جو مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ اور وہ یہ کہ انگریز آئے اور چلے بھی گئے مگر سکھ اپنے گوروؤں کی رکھوائی ہوئی داڑھی کو انگریز کے ہاتھوں سے سلامت لے گئے۔ سکھ گوروؤں کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا ہے۔ مگر ایک سکھ جس طرح فخر سے اپنی گردن اونچی کر سکتا ہے مسلمان اپنی گردن اونچی نہیں کر سکتا۔ انگریز آئے تو مسلمان بھی اُسی طرح داڑھی رکھتے تھے جس طرح سکھ داڑھی رکھتے تھے مگر جب سَو سال کے بعد انگریز چلے گئے تو سکھ اپنے گوروؤں کی اطاعت کرتے ہوئے اپنی داڑھیوں کو بچا کر لے گئے مگر مسلمان اپنی داڑھیوں کو نہ بچا سکے۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ ہزاروں اسلامی شعار ایسے ہیں جو ایک ایک کر کے مسلمانوں نے چھوڑ رکھے ہیں۔
    کراچی میں مجھ سے قسم قسم کے لوگ ملنے کے لیے آتے رہے ہیں۔ آج ہی ایک آئی سی ایس افسر مجھ سے ملنے کے لیے آئے تو انہوں نے بتایا کہ مَیں فلاں مجلس میں شریک ہوا تو مجھے یہ دیکھ کر سخت تعجب ہوا کہ مسلمان کثرت سے شراب پی رہے ہیں حالانکہ اب تو انگریز جا چکا ہے اور مسلمانوں کی اپنی آزاد حکومت قائم ہو گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک شعائر ِاسلامی کی پابندی نہیں کی جائے گی اُس وقت تک اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکے گی۔ وہ شخص جو آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتا ہے اُس کا کیا حق ہے کہ وہ دشمن سے یہ کہے کہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کر۔ جو آپ کسی بزرگ کا ادب کرتا ہے وہ تو دوسرے سے کہہ سکتا ہے کہ تُو بھی فلاں بزرگ کا ادب کر۔ لیکن جو آپ ادب نہیں کرتا وہ دوسرے کو کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ وہ اُس کا ادب اور احترام کرے۔ چونکہ مسلمان خود عمل کرنے میں ہمیشہ غفلت سے کام لیتا ہے اِس لیے اور لوگ بھی اُس کی اِس کمزوری کو خوب سمجھتے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کو زبردستی شراب پلانے کے واقعات مل جائیں گے مگر سکھوں کو زبردستی گائے کھلانے کے واقعات نظر نہیں آئیں گے کیونکہ لوگ جانتے ہیں کہ مسلمان اِس زبردستی پر بُرا نہیں منائے گا۔
    پس تیسری بات جس کی طرف مَیں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم ہر قسم کے اسلامی احکام کو قائم کرو اور ایسا نمونہ پیش کر و جو لوگوں کو خودبخود عمل کی تحریک کرنے والا ہو۔ شیعہ ہو، سنّی ہو، کوئی ہو ہر ایک کے پاس جاؤ اور اُسے منت سے، سماجت سے، ادب سے، محبت سے کہو اور بار بار کہو کہ یہ اسلامی حکم ہے میرا نہیں۔ آپ کو اگر حضرت مرزا صاحب سے مخالفت ہے تو کیجیے مخالفت۔ اگر احمدیت کو آپ جھوٹا سمجھتے ہیں تو کہیے جھوٹا۔ مگر یہ حکم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے میرا یا کسی اَور کا نہیں۔ اِس لیے اِس حکم پر عمل خود آپ کے لیے بھی ویسا ہی ضروری ہے جیسا کہ کسی اَور کے لیے۔
    مَیں نے گزشتہ ایام میں جہلم میں ایک تقریر کی جس میں مسلمانوں کو نصیحت کی کہ اُنہوں نے جو پاکستان مانگا تھا تو اِس لیے مانگا تھا کہ وہ اسلامی تہذیب اور اسلامی تمدن کو آزادانہ طور پر قائم کرسکیں۔ اب جبکہ پاکستان قائم ہو چکا ہے کم از کم پانچ وقت کی نماز ہی مسلمان مسجد میں آ کر ادا کرنا شروع کر دیں۔اگر وہ پانچوں وقت نماز بھی نہیں پڑھتے تو پاکستان مانگ کر اُنہوں نے کیا لیا؟ اِس پر ایک شخص نے پریذیڈنٹ کو رقعہ لکھا کہ مَیں والنٹئیرز کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ بعد میں مجھے موقع دیا جائے۔ چنانچہ بعد میں اُسے بولنے کا موقع دیا گیا۔ اتفاق سے پریذیڈنٹ ایک ایسے دوست تھے جو احمدیت کے مخالف رہے ہیں۔ وہ شخص کھڑا ہوا اوراُس نے کہا مرزا صاحب نے باتیں تو بڑی اچھی کہی ہیں لیکن ہاتھی کے دانت کھانے کے اَور اور دکھانے کے اَور ہوتے ہیں۔ اگر نماز کا اِنہیں اِتنا ہی احساس ہے تواب ہماری نماز ہونے والی ہے مرزا صاحب چلیں اور ہمارے پیچھے نماز پڑھ کر دکھا دیں۔ غرض ایک لمبی تقریر اُس نے صرف اِسی بات پر کی۔اُس وقت میرے دل میں بدظنی پیدا ہوئی کہ شاید پریذیڈنٹ کی مرضی اور ایماء سے یہ تقریر ہو رہی ہے۔ بعد میں پریذیڈنٹ صاحب کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے کہا مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مجھے تورُقعہ میں یہ دکھایا گیا تھا کہ مَیں والنٹیئروں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر تقریر کسی اَور بات پر شروع کر دی گئی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تقریر کرنے والے صاحب کا منشاء کیا ہے۔ امام جماعت احمدیہ نے اپنی تقریر میں یہ کہا ہے کہ مسلمانوں کو نماز پڑھنی چاہیے۔ نماز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ اور مسجدیں بھی ہماری اپنی ہیں۔ انہوں نے صرف توجہ دلائی ہے کہ تم اپنے رسول کی بات مانو اور مسجدوں میں نمازیں پڑھا کرو۔ مگر یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب اُن کے پیچھے نماز پڑھیں۔ اگر تو اُنہوں نے یہ کہا ہوتا کہ مسلمانوں کو میرے پیچھے نمازیں پڑھنی چاہییں تب بھی کوئی بات تھی۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ آپ ہمارے پیچھے پڑھیں۔ یا اگر کہتے کہ مسلمانوں کو احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھنی چاہییں تب بھی یہ بات ان کے منہ پر سج سکتی تھی کہ اگر ہمیں احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے کہاجاتا ہے تو وہ بھی ہمارے پیچھے پڑھیں۔ لیکن اُنہوں نے تو ہمارے آقا کی ایک بات ہمیں یاد دلائی ہے۔ کیا ہمارا یہ کام ہے کہ ہم اپنے آقا کی بات پر عمل کریں یا یہ کام ہے کہ ہم کہیں جب تک تم ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو ہم اپنے آقا کے حکم پر بھی عمل کرنے کے لیے تیار نہیں؟ غرض اُنہوں نے اُسے خوب رگیدا اور لتاڑا۔
    یہی طریق ہے جو اسلامی احکام کو قائم کرنے کے لیے تمہیں اختیار کرنا چاہیے۔ تم مسلمانوں سے کہو کہ ہمیں بے شک گالیاں دیجیے، ہمیں بُرا بھلا کہیے۔ مگر یہ حکم ہمارا نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ اِس لیے ہماری خاطر نہیں بلکہ اپنے آقا اور اپنے مطاع کی خاطر اِس حکم پر عمل کریں۔ مگر ہم دوسروں کو کب ایسی نصیحت کر سکتے ہیں جب خود ہمارے اندر ایسے نوجوان موجود ہوں جو احکامِ اسلامی کے پوری طرح پابند نہ ہوں۔ ہم دوسروں سے کہیں گے تو وہ فوراً ہمیں جواب میں کہیں گے کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ جب فلاں فلاں اشخاص خود تم میں ایسے موجود ہیں جو اسلامی احکام کے پابند نہیں۔ پس پہلے اِس نقص کی اصلاح اپنے گھر سے شروع کرو اور پھر ہر مجلس میں لوگوں کو اِس طرف توجہ دلاؤ۔ بے شک وہ تمہیں پاگل کہیں، تمہیں دیوانہ قرار دیں، تمہیں جاہل اور احمق سمجھیں۔ تم اُن کے پاگل اور دیوانہ اور احمق کہنے پر گھبراؤ نہیں بلکہ اگر تم اپنی نصیحت میں مشغول رہے تو یقیناً اُن کا تمہیں پاگل اور دیوانہ کہنا لوگوں کے قلوب میں تمہاری عظمت پیدا کر دے گا اور آخر ایک دن وہ ضرور اسلامی احکام کی اتباع کی طرف رجوع کریں گے۔ اور جب وہ اسلام کی طرف رجوع کریں گے تو یہ یقینی امر ہے کہ وہ احمدیت کو بھی قبول کرلیں گے۔ جس طرح رات کے وقت سورج کا ہونا ناممکن ہے، جس طرح دوپہر کے وقت تاریک رات کا ہونا ناممکن ہے اِسی طرح یہ ناممکن امر ہے کہ کسی شخص کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت پیدا ہو جائے اور مرزا صاحب کی محبت پیدا نہ ہو۔ یہ ناممکن امر ہے کہ ایک شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کرے اور مرزا صاحب کی اتباع نہ کرے۔ ایک نے دوسرے کی روشنی کو اِس طرح کھولا ہے، ایک نے دوسرے کے نور کو اِس طرح کھولا ہے، ایک نے دوسرے کے معارف کو اِس طرح کھولا ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرے اور مرزا صاحب سے محبت نہ کرے۔ جب وہ اسلام کو سمجھ جائیں گے تو یقیناً احمدیت کی طرف بھی توجہ کریں گے اور جب وہ احمدیت کی طرف توجہ کریں گے تب مسلمان ایک ہاتھ پر جمع ہوں گے اور تب مسلمان دنیا کے تمام کناروں تک غالب آ جائیں گے۔ مگر عمل اور پھر عمل اور پھر عمل ۔اور اِس سے پہلے ایمان اور ایمان اور پھر ایمان کی ضرورت ہے"۔
    (الفضل 14؍اپریل 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    موسوعۃ امثال العرب جزء رابع زیر حرف ’’ص‘‘میں ’’الصبیّ صبیًّا ولَقِیَ النَّبِیَّ‘‘کے الفاظ ہیں۔
    2
    :
    الاحقاف:16
    3
    :
    بخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللّحٰی
    4
    :
    ابوداؤد، کتاب الصلٰوۃ باب الامامُ یُکَلِّمُ الرَّجُلَ فی خطبتہٖ (مفہوماً)

    رخصتیں شریعت کو کمزور کرنے کے لیے نہیں
    بلکہ اِس لیے دی گئی ہیںکہ مومن بِلا وجہ تکلیف میں نہ پڑیں
    (فرمودہ26مارچ 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مجھے زکام نزلہ اور سوزشِ حلق کی تکلیف ہے۔ اِس وجہ سے مجھے طبی طور پر اونچی آواز سے بولنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اِس کے علاوہ آج صبح سے مجھے دردِ نقرس کی بھی تکلیف ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں اب تیسری دفعہ مجھ پر دردِ نقرس کا حملہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مَیں زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہو سکتا۔ لیکن چونکہ آج ہماری شورٰی کا اجلاس ہے اور چونکہ بہت سے دوست باہر سے تشریف لائے ہوئے ہیں اور اُن کی خواہش تھی کہ مجھ سے ملیں۔ اِس لیے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ آج چند الفاظ کہہ کر مَیں جمعہ کا خطبہ ختم کر دوں اور خود ہی جمعہ کی نماز پڑھانے کی کوشش کروں۔مَیں آج کسی اَور خطبہ کی بجائے صرف اِس امر کو جماعت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مَیں نے گزشتہ ایام میں اِس بات پر غور کیا ہے کہ ہماری جماعت رخصتوں سے ضرورت سے زیادہ فائدہ اٹھانے لگ گئی ہے۔ شریعت نے رخصتیں اِس لیے نہیں دیں کہ اِن سے شریعت کو کمزور کیا جائے بلکہ اُس نے رخصتیں اِس لیے دی ہیں کہ مومن بِلاوجہ تکلیف میں نہ پڑیں۔ لیکن ہماری جماعت میں اِس مسئلہ پر زور دینے کی وجہ سے رُخصتوں کا استعمال اتنا بڑھ گیا ہے کہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ دین میں آہستہ آہستہ اباحت نہ پیدا ہو جائے۔ اِس لیے مَیں نے سرِدست نماز کے متعلق اِس بات پر زور دینا شروع کیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے نماز وقت پر اور الگ الگ پڑھی جائے۔ حضر میں تو لازمی ہی ہے۔ سفر میں بھی اگر کوئی خاص روک نہ ہو تو علیحدہ علیحدہ نماز پڑھی جائے۔ علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنے میں یہ بھی فائدہ ہے کہ خواہ فرائض سے آگے پیچھے ادا کی جانے والی رکعات کا نام سنتیں نہ رکھو نوافل رکھ لو۔ بہرحال اِس طرح کئی دفعہ خدا تعالیٰ کو یاد کرنے اور اُس کی عبادت کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح سفر میں بعض دفعہ انسان کو کھانا دیر سے کھانا پڑتا ہے۔ اگر کوئی مشکل ہو تو وہ نمازیں جمع کر سکتا ہے۔ اور نمازوں کا جو مقررہ وقت ہے اُس کے اندر رہتے ہوئے وہ نمازوں کو آگے پیچھے بھی کر سکتا ہے۔ لیکن یہ نہیں ہوتا کہ اگر کھانا کسی کو مل رہا ہو تو وہ اِس لیے نہ کھائے کہ چونکہ مجھے سفر درپیش ہے اور سفر میں عام طور پر کھانا وقت پر نہیں ملتا اِس لیے مَیں یہ کھانا بھی نہیں کھاتا۔ یا چونکہ مَیں سفر میں ہوں اور سفر میں بعض دفعہ ناشتہ کا انتظام نہیں ہوتا اِس لیے مَیں ناشتہ نہیں کرتا۔ کوئی مسافر یہ نہیں کہا کرتا کہ چونکہ مجھے بعض دفعہ سفر میں صبح کا کھانا نہیں ملتا اِس لیے صبح کا کھانا ملنے پر بھی مَیں نہیں کھاؤں گا۔یا چونکہ شام کا کھانا بعض دفعہ سفر میں نہیں ملتا اِس لیے شام کا کھانا ملنے کے باوجود مَیں نہیں کھاؤں گا۔ اگر کھانا نہیں ملتا تو وہ نہیں کھاتا اور اگر مل جاتا ہے تو وہ کھا لیتا ہے۔ اِسی طرح نماز کے متعلق بھی اِس سفری تقاضا کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔ اگر سفر میں علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے مثلاًفرض کرو گاڑی کے کمرہ میں الگ الگ نمازیں پڑھنے کی گنجائش ہے یا کوئی اسٹیشن ہے جہاں پانچ سات منٹ گاڑی نے ٹھہرنا ہے اور انسان الگ الگ نماز پڑھ سکتا ہے تو اُسے ضرور الگ الگ نماز پڑھنی چاہیے۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ شریعت کی طرف سے نمازیں جمع کرنے کی رخصت ہے مگر یہ رخصت ہماری کمزوریوں اور مشکلات کو دیکھ کر ہے۔ جہاں بعض لوگوں کی یہ غلطی ہے کہ وہ باوجود مشکلات کے رُخصتوں پر عمل نہیں کرتے جیسے غیر احمدی کہتے ہیں کہ آجکل کا سفر آرام دِہ ہے اِس لیے آجکل کے سفر میں رُخصتوں سے فائدہ نہیں اُٹھانا چاہیے حالانکہ آجکل کا سفر بعض دفعہ اِتنا تکلیف دِہ ہوتا ہے کہ پرانے سفر بھی اتنے تکلیف دِہ نہیں ہوا کرتے تھے۔ پس جہاں یہ غلطی ہے کہ آجکل کے سفروں کو آرام دہ قرار دیتے ہوئے رخصتوں کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے وہاں یہ بھی غلطی ہے کہ ان رخصتوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے اور شریعت کے احکام کے وہ حصے جن کے متعلق کوئی حکم نہیں بلکہ صرف رُخصتیں ہیں اُن میں باوجود موقع ملنے کے صرف رخصت کی طرف اپنی طبیعتوں کا میلان رکھا جائے۔ مثلاً نماز قصر کرنے کا حکم قرآن کریم سے ثابت ہے یہ رخصت نہیں بلکہ حکم ہے۔1 اِس لیے خواہ ہمیں کوئی شخص تختِ سلیمان پر بٹھا کر لے جائے جب ہم سفر پر ہوں گے نماز کا قصر کرنا ہمارے لیے واجب ہو گا۔ جس طرح حضر میں چار رکعتیں فرض ہیں اِسی طرح سفر میں دو رکعتیں پڑھنا فرض ہے۔جس طرح حضر میں چار کی بجائے دو رکعتیں پڑھنی ناجائز ہیں اِسی طرح سفر میں دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھنی ناجائز ہیں۔ لیکن نمازوں کو جمع کرنا یہ اجازت اور رخصت ہے۔ اِس کے متعلق ہمیں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت سے نمازیں جمع کرنے کا ثبوت ملتا ہے مگر یہ کہیں سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ اِس کے خلاف عمل کرنا ناجائز سمجھتے ہوں۔ بلکہ اَور تو اَور غزوہ احزاب میں آپ نے ظہر کی نماز الگ پڑھی اور عصر کی نماز الگ پڑھی۔
    پس مَیں جماعت کو اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اب ہمارے لیے چستی کا زمانہ آچکا ہے جس میں رُخصتوں پر عمل کم ہوتا ہے۔ اب ہمارے لیے قربانی کا زمانہ آ گیا ہے جس میں رخصتوں پر عمل کم ہوتا ہے۔ اِس لیے زیادہ سے زیادہ زور اِس بات پر دو کہ شریعت کے احکام اُن شرائط کے مطابق ادا کرو جو شرائط خدا اور اُس کے رسول نے مقرر فرمائے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں اجتماعی کاموں اور جلسوں کے لیے اگر نماز جمع کر لی جائے تو اِس میں کوئی حرج نہیں ہوتا مگر آج میں نمازیں جمع نہیں کراؤں گا۔ اِس لیے کہ ہماری شورٰی کا پہلا اجلاس صرف اِس قدر ہو گا کہ کمیٹیاں بنا کر ہم کہہ دیں گے کہ وہ اپنا کام کل پیش کریں اور چونکہ عصر کی نماز کا وقت اجلاس کے بعد ہمیں مل جائے گا اِس لیے مَیں صرف جمعہ کی نماز پڑھاؤں گا۔ عصر کی نماز علیحدہ وقت پر اِنْشَاء َ اللّٰہُپڑھاؤں گا۔ اگر خطبہ دینے کی وجہ سے تکلیف نہ بڑھی تو خود پڑھا دوں گا ورنہ جو امام مقرر ہو گا وہ پڑھا دے گا‘‘۔
    (الفضل 21؍اپریل 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    (النساء :102)




    علم سیکھنے کی تڑپ، قوتِ عملیہ اور تدبّر وفکر کی عادت
    مومن کا خاص شیوہ ہے
    (فرمودہ2 ؍اپریل 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "انسانی زندگی کے ہر حصہ کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں اور ہر حصہ میں کچھ کمزوریاں اور کچھ اچھی باتیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً بچپن کی زندگی ہے۔ جہاں بچپن کی زندگی میں جسمانی کمزوری پائی جاتی ہے، نسلی کمزوری پائی جاتی ہے، سنجیدگی کی کمی پائی جاتی ہے وہاں بچپن میں سیکھنے کی خواہش انتہا درجہ کی موجود ہوتی ہے۔ شاید انسانی زندگی کے مختلف اَدوار میں سے کسی ایک دَور میں بھی سیکھنے کی خواہش اِتنی شدید نہیں ہوتی جتنی بچپن کی زندگی میں ہوتی ہے۔ وہ بیسیوں باتیں جن کو سن کر بڑے آدمیوں کے دلوں میں کبھی یہ خیال بھی نہیں گزرتا کہ وہ کیوں ہیں؟ کس لیے ہیں؟ اُن کی کیا تشریح ہے ؟اور ان کا کیا مقصد ہے؟ بچہ اُن باتوں کو سن کریا دیکھ کر فوراً جرح شروع کر دیتا ہے۔ ہر ابتدائی تغیر پر، ہر آسمانی تبدیلی پر، زمینی آواز یا زمینی نظارے کا جو فرق ہوتا ہے اِس پر بچہ فوراً سوال کر دیتا ہے کہ اماں! یہ کیا ہے؟ یہ کیوں ہے؟ یہ کس لیے ہے؟ حقیقتاً اگر مائیں تعلیم یافتہ ہوں تو بچے سکول میں جانے سے پہلے ہی اعلیٰ درجہ کی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مگر مائیں چونکہ خود نہیں جانتیں کہ اصلیت کیا ہے کوئی اُوٹ پٹانگ جواب دے دیتی ہیں۔ کبھی وہ اُسے خاموش کرا دیتی ہیں، کبھی بچہ کو یہ کہہ دیتی ہیں کہ یہ کوئی جادو ہے یا کوئی اَور ایسی ہی چیز ہے۔ اِس طرح بچے کا علم سیکھنے کا وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ بہترین معلّم بچہ کی ماں ہو سکتی ہے بشرطیکہ ماں خود تعلیم یافتہ ہو۔ ماں تعلیم یافتہ نہ ہو تو بچہ بجائے علم سیکھنے کے جہالت کی باتیں سیکھتا ہے۔ یا علم سیکھنے کی خواہش بالکل ماری جاتی ہے اور وہ ایک بے خواہش اور بے اُمنگ ہستی ہو کر رہ جاتا ہے۔
    اِس کے بعد جوانی کا زمانہ آتا ہے۔ کہتے ہیں "جوانی دیوانی"لیکن جتنی قربانی کی روح جوانی کے زمانہ میں پائی جاتی ہے اُتنی قربانی کی روح نہ بچپن میں پائی جاتی ہے نہ بڑھاپے میں پائی جاتی ہے۔ بچہ ڈرتا بہت ہے اور بوڑھا سوچتا بہت ہے لیکن جوان کام بہت زیادہ کرتا ہے۔ وہ نہ اِتنا ڈرتا ہے جس سے کام خراب ہو جائے اور نہ اِتنا سوچتا ہے کہ سوچتے سوچتے کام کا وقت نکل جائے۔ قوتِ عمل اُس میں پورے زور اور پورے شباب پر پائی جاتی ہے۔ اِس کے بعد بڑھاپا آتا ہے۔ بڑھاپے میں نہ بچے کی سی سیکھنے کی خواہش ہوتی ہے نہ نوجوانوں جیسی قوتِ عمل پائی جاتی ہے۔ وہ عادی ہو جاتا ہے اُن چیزوں کو دیکھنے کا جن چیزوں کے متعلق اُسے سوچنا چاہیے تھا، جن پر اُسے غور کرنا چاہیے تھا اور جن کے متعلق اُسے فکر سے کام لینا چاہیے تھا اور ایک پرانی عادت کی وجہ سے اور بار بار ان چیزوں کو دیکھنے کی وجہ سے اُس کے سیکھنے اور غور و فکر کرنے کی حِسّ ماری جاتی ہے۔ وہی چیز جو بچہ کے لیے عجوبہ ہوتی ہے اور واقع میں عجوبہ ہوتی ہے وہ ایک بڈھے کے لیے کوئی سوچنے والی بات نہیں ہوتی۔ بچہ اپنی ماں سے پوچھتا ہے کہ سورج اِدھر سے کیوں نکلتا ہے اور اُدھر کیوں ڈوبتا ہے؟ وہ سمجھتا ہے کہ اِدھر سے نکلنے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے اور اُدھر ڈوبنے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے۔ مگر بڈھا سمجھتا ہے اِدھر سے سورج نکلا ہی کرتا ہے اور اُدھر سورج ڈوبا ہی کرتا ہے حالانکہ اگر اِدھر سے سورج نکلا ہی کرتا ہے اور اُدھر سورج ڈوبا ہی کرتا ہے تب بھی اس کے نکلنے اور ڈوبنے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے۔ مگر چونکہ وہ بار بار یہ دیکھتا رہا کہ سورج اِدھر سے نکلتا ہے اوراُ دھر غروب ہوتا ہے اِس لیے رفتہ رفتہ اُس کے سوچنے اور غوروفکر کرنے کی حِسّ ہی ماری گئی اور وہ سمجھنے لگا کہ ایسا ہوا ہی کرتا ہے۔ حالانکہ یا تو اُسے یہ بتانا چاہیے کہ اُسے پتہ لگ گیا ہے کہ سورج اِدھر سے کیوں نکلتا ہے اور اُدھر کیوں ڈوبتا ہے یا اُسے یہ کہنا چاہیے کہ اِس کی کوئی وجہ نہیں۔ ورنہ اگر دس کروڑ دفعہ بھی سورج ایک طرف سے نکلے اور دس کروڑ دفعہ بھی دوسری طرف غروب ہو تب بھی یہ کوئی جواب نہیں کہ سورج اِدھر سے نکلا ہی کرتا ہے یا سورج اُدھر غروب ہی ہوا کرتا ہے۔ اُسے بتانا پڑے گا کہ ِاس نکلنے اور ڈوبنے کی فلاں وجہ ہے۔ یا یہ کہنا پڑے گا کہ اِس کا نکلنا اور ڈوبنا بِلاوجہ ہے۔ لیکن بچہ اِن باتوں پر غور کرتا اور صحیح حقیقت معلوم کرنے کی جستجو کرتا ہے۔ برسات کے موسم میں رات کے وقت لیمپوں پر پروانے گرنے شروع ہوتے ہیں۔ ایک بڈھے کو کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ یہ پروانے کہاں سے آ گئے ہیں۔ لیکن بچہ جب پہلی دفعہ پروانوں کو دیکھتا ہے تو وہ حیران ہو کر کہتا ہے کہ یہ کہاں سے آ گئے ہیں؟ کیوں نکلے ہیں اور چراغ کے گرد کیوں گرتے ہیں؟ یہی سوال ہے جو علمِ طبیعات اور علمِ حیوانات کے ماہر کے دل میں بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ اِس کا جواب دیتا ہے۔ وہ جواب صحیح ہے یا غلط ہے اُس سے بحث نہیں۔ بہرحال وہ اِس کی کوئی نہ کوئی وجہ قرار دیتا ہے۔ لیکن ماں بوجہ اِس کے کہ اُسے خود علم نہیں ہوتا جب بچہ اُس سے سوال کرتا ہے تو وہ کہہ دیتی ہے بچہ! یوں ہی ہوا کرتا ہے۔ اِسی طرح پروانے نکلتے اور اس طرح لیمپوں پر گرا کرتے ہیں۔ بچہ اِس جواب پر حیران ہوتا ہے کیونکہ وہ یہی تو پوچھنا چاہتا تھا کہ پروانے کیوں نکلتے ہیں، کیوں لیمپ پر گرا کرتے ہیں۔ اگر وہ اِسی طرح نکلتے اور اِسی طرح گرا کرتے ہیں تب تو ان کے نکلنے اور گرنے کی ضرور کوئی وجہ ہونی چاہیے۔ مگرماں کے نزدیک چونکہ وہ اِسی طرح نکلتے اور اِسی طرح لیمپوں پر گرتے ہیں اِس لیے اُن کے نکلنے اور گرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اور بچہ کے نزدیک یہی فعل تقاضا کرتا ہے کہ ان کے نکلنے کی کوئی وجہ ضرور ہو۔ اِسی طرح ان کے لیمپ پر گرنے کی بھی کوئی وجہ ضرور ہو۔ یہ فرق اِسی لیے ہے کہ بچے کا دماغ علم کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور ماں کا دماغ جہالت کی طرف جا رہا ہوتا ہے۔ بڈھا کسی چیز کی کُنہہ اور حقیقت معلوم کرنے سے تھک جاتا ہے اور وجوہات دریافت کرنے کی حِسّ اُس کے اندر نہیں رہتی اور جب اُس سے کسی چیز کے متعلق دریافت کیا جائے کہ ایسا کیوں ہے؟ تو وہ بِالعموم یہی جواب دیتا ہے کہ ایسا ہوا ہی کرتا ہے۔ لیکن باوجود اِس کے جتنا عرصہ اُس نے سوچا تھا جتنے سوالات اُس کے دل میں پیدا ہوئے تھے، جتنی جوانی کی اُمنگیں اُس کے قلب میں موجزن ہوئی تھیں۔ ان ساری چیزوں نے ایک خلاصہ نکال کر اُس کے دماغ میں رکھا ہوا ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی اہلیت اُس میں پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ بہت سی چیزوں کو جہاں عادتاً ترک کر دیتا ہے یا ان کے متعلق سوچتا نہیں وہاںبہت سی چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں اُس نے ایک مناسب رائے قائم کرنی ہوتی ہے۔
    گویا بڑھاپا عقل کا زمانہ ہے ،جوانی عمل کا زمانہ ہے اور بچپن سیکھنے کا زمانہ ہے۔ بچپن کی عمر میں انسان جوانی اور بڑھاپے کی خوبیوں سے محروم ہوتا ہے۔ جوانی میں عام طور پر بچپن اور بڑھاپے کی خوبیوں سے محروم ہوتا ہے اور بڑھاپے میں جوانی اور بچپن کی خوبیوں سے محروم ہوتا ہے۔ لیکن اِس میں ایک استثناء بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا کا بندہ یعنی سچا اور حقیقی مومن ان ساری چیزوں کو اپنے اندر جمع کر لیتا ہے۔ اس کا بڑھاپا اُسے قوتِ عمل سے محروم نہیں کرتا۔ اور اُس کی جوانی اُس کی سوچ کو ناکارہ نہیں کردیتی۔ بلکہ جس طرح بچپن میں جب وہ ذرا بھی بولنے کے قابل ہوتا ہے سوالات سے اپنی ماں کو دِق کر دیتا ہے۔ اُسی طرح اس کا بڑھاپا بھی علوم سیکھنے میں لگا رہتا ہے۔
    اِس کی موٹی مثال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات میں ملتی ہے۔ آپ کو پچپن چھپن سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ 1یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تیرے ساتھ ہمارا سلوک ایسا ہی ہے جیسے ماں کا اپنے بچہ کے ساتھ ہوتا ہے۔تُو دیکھتا ہے کہ کس طرح بچہ کُودکُود کر اپنی ماں سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیوں ہے وہ کیوں ہے؟ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تُواِس وقت پچاس ساٹھ سال کی عمر میں ہے مگر اِس عمر میں جہاں دوسرے لوگ بے کار ہو جاتے ہیں اور زائد علوم اور معارف حاصل کرنے کی خواہش اُن کے دلوں سے مٹ جاتی ہے اور اُن کو کہنے کی عادت ہو جاتی ہے کہ ایسا ہوا ہی کرتا ہے تجھے ہماری ہدایت یہ ہے کہ تُو ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعا کیجیئو کہ خدایا! میرا علم اَور بڑھا، میرا علم اَور بڑھا۔ چنانچہ دیکھ لو آخر اسلام نے کونسی ایسی نئی بات پیش کی ہے جوفطرت میں موجود نہیں تھی۔ سب چیزیں موجود تھیں سوائے چند مسائل کے جو خدا تعالیٰ کی ہستی یا اُس کی صفات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ باقی سارے مسائل خواہ عبادات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یا معاملات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں فطرتی مسائل ہیں۔ نئی ایجادیں نہیں پھر کیوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان معاملات میں بنی نوع انسان کی راہنمائی کی اور کس ذریعہ سے وہ پیشوا بن گئے؟اِسی لیے کہ آپ ہر وقت کی دعا مانگتے رہتے تھے۔ آپ نے کسی چیز کو اِس لیے نہیں دیکھا کہ ایسا ہوا ہی کرتا ہے بلکہ اِس لیے دیکھا کہ ایسا کیوں ہے؟ اور جب آپ نے ہر چیز کے متعلق غور کیا کہ ایسا کیوں ہے یا کیا ہونا چاہیے تو آپ کو ایسی راہنمائی عطا ہوئی جس سے آپ کا علم صبح شام بلکہ ہر گھنٹہ اور ساعت کے بعد بڑھتا چلا گیا۔ مزید بات یہ ہے کہ خود سوچنے اور غور کرنے کے علاوہ آپؐ اللہ تعالیٰ سے بھی سوالات کرتے گئے (جیسے بچہ اپنی ماں سے سوالات کرتا ہے) کہ خدایا! مجھے اِس کی بھی وجہ بتا اُس کی بھی وجہ بتا۔
    پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھ لو۔ آپ بڑی عمر کے آدمی تھے مگر پھر بھی کہتے ہیں2دنیا کے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ احیائے مَوْتٰی پر کبھی غور ہی نہیں کرتے۔ نہ جسمانی زندگی اُنہیں عجوبہ معلوم ہوتی ہے نہ حیوانی زندگی اُنہیں عجوبہ معلوم ہوتی ہے۔ہزاروں سال سے زندگی کا دَور چلا آ رہا ہے مگر یہ کبھی غور نہ کیا گیا کہ انسان کی زندگی کس طرح شروع ہوئی ہے۔ اِس زمانہ میں صرف ڈارون(Darwin) کی ایک مثال ہے۔ اُس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ زندگی کس طرح ظاہر ہوئی ہے اور وہ کیا کیا مدارج ہیں جن میں سے انسان گزرا ہے۔ اس کی تحقیق غلط تھی یا صحیح بہرحال اُس کے دل میں ایک خیال پیدا ہوا اور اُس کے بعد ساری دنیا میں ایک رَو چل گئی کہ دیکھیں دنیا کس طرح پیدا ہوئی ہے۔ اِسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہگویا وہی خیال جو دُنیوی اور مادی لوگوں کے دلوں میں ڈارون کے زمانہ میں پیدا ہوا آج سے ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں بھی پیدا ہوا۔ اور اُنہوں نے کہا اے میرے رب! یہ بے جان مادہ کس طرح زندہ ہو جایا کرتا ہے؟ ڈارون نے تو مادی احیاء کے متعلق سوال کیا تھا لیکن ابراہیم علیہ السلام کو مادی زندگی سے کوئی غرض نہیں تھی۔ اُسے روح کی زندگی مطلوب تھی۔ جسمانی تغیرات سے تعلق رکھنے والے اُمور اُس نے سائنسدانوں کے لیے چھوڑ دئیے اور سمجھا کہ میرا کام صِرف اتنا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے یہ پتہ لگاؤں کہ ارواح کس طرح زندہ ہوا کرتی ہیں۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ ابراہیم ؑ تُو پچاس ساٹھ سال کا ہو چکا ہے، اب یہ بچوں کی سی باتیں چھوڑ دے۔ بلکہ اُس نے بتایا کہ ارواح کس طرح زندہ ہوا کرتی ہیں۔ ابراہیم سمجھتا تھا کہ مَیں اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک بچہ کی سی حیثیت رکھتا ہوں۔ جس طرح بچہ حق رکھتا ہے کہ اپنی ماں سے سوالات کرے اُسی طرح میرا بھی حق ہے کہ مَیں اللہ تعالیٰ سے سوالات کروں اور جس چیز کی حقیقت معلوم نہ ہو اُس کی حقیقت دریافت کروں۔ چنانچہ اُس نے کہا اللہ میاں! مجھے یہ بتا دیجیے کہ روحیں کس طرح زندہ ہوتی ہیں؟
    غرض مومن کی زندگی میں بچپن بھی ہوتا ہے اور بڑھاپے کی حالت میں بھی علم سیکھنے، علم کی کُرید کرنے اور علم کے حاصل کرنے سے وہ غافل نہیں ہوتا بلکہ اِس سے وہ ایک لذت اور سرور حاصل کرتا ہے۔ اِس کے مقابلہ میں جب انسان پر ایسا دَور آتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ مَیں نے جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ لیا ہے۔ اگر مَیں کسی امر کے متعلق کوئی سوال کروں گا تو لوگ کہیں گے کیسا جاہل ہے۔ اِسے ابھی تک فلاں بات کا پتہ ہی نہیں تو وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔
    حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ جب آپ مہاراجہ کشمیر کے دربار میں طبیب مقرر ہوئے تو جاتے ہی بعض علاج نہایت کامیاب ہوئے جن سے آپ کی شُہرت لوگوں میں خوب پھیل گئی۔ کچھ اِس وجہ سے بھی شہرت تھی کہ آپ ہندوستان سے علمِ طب پڑھ کر گئے تھے۔ آپ کی عمر اس وقت زیادہ نہ تھی مگر پھر بھی ساری ریاست میں آپ کا شہرہ ہو گیا اور مہاراجہ بھی آپ کا بڑا ادب اور لحاظ کرتا۔ آپ فرماتے تھے ایک دن مجھے خیال آیا کہ یونانی طب تو پڑھ ہی لی ہے ویدک طب بھی پڑھ لوں۔اِس سے علم کی زیادتی ہی ہو گی۔ مَیں نے پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ ایک پنڈت نے ویدک طب پڑھی ہوئی ہے مگر وہ پنڈت 15 روپے پردربار میں معمولی ملازم تھا جیسے دفتری ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے تھے مَیں نے اُسے بلایا، اُس کی تنخواہ مقرر کی اور اُس سے ویدک طب پڑھنی شروع کر دی۔ چونکہ ریاست میں آپ کے حاسد بھی پیدا ہو گئے تھے اُنہوں نے جب سنا کہ حضرت مولوی صاحب نے ایک پنڈت سے جو معمولی دفتری کی حیثیت رکھتا ہے طب پڑھنی شروع کی ہوئی ہے تو اُنہوں نے سمجھا کہ یہ مہاراجہ کو آپ کے خلاف بھڑکانے کا اچھا موقع ہے۔ ایک دن دربار لگا ہوا تھا کہ انہوں نے مہاراجہ کے کان بھرنے شروع کر دئیے کہ آپ نورالدین کی بڑی عزت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا طبیب ہے حالانکہ اُس کی حالت یہ ہے کہ اُس نے فلاں دفتری سے طب پڑھنی شروع کی ہے۔ اُسے توطب آتی ہی نہیں۔ مہاراجہ کو اِس پر تعجب ہوا۔ چنانچہ کسی وقت وہ پنڈت کا غذات لے کر دربار میں آیا تو مہاراجہ نے کہا حکیم صاحب! مَیں نے سنا ہے لوگ آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ طب میں آپ کا استاد ہے۔ آپ کہتے تھے مَیں نے اِس پر بڑے ادب سے اُس پنڈت کی طرف اشارہ کر کے کہا حضور واقع میں یہ میرے اُستاد ہیں۔ مَیں اِن سے ویدک طب پڑھتا ہوں۔ اِس صاف گوئی اور حقیقت تسلیم کرلینے کا مہاراجہ پر اِتنا اثر ہوا کہ بجائے اِس کے کہ وہ بدظن ہوتا اُس کی نگاہ میں آپ کی قدرومنزلت اَور بھی بڑھ گئی اور وہ اعتراض کرنے والوں پر خفا ہوا اور اُس نے کہا بڑے آدمی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ دیکھو! اُن کو ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ مَیں ایک معمولی آدمی سے طب پڑھتا ہوں بلکہ اُنہوں نے برملا اُس کو اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔ تو علم حاصل کرنے کی خواہش مومن کے اندر ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ وہ کبھی یہ خیال نہیں کرتا کہ اگر مَیں نے کوئی بات پوچھی تو لوگ کہیں گے یہ اِتنا بڑا عالم بنا پھِرتا تھا مگر اسے فلاں بات بھی معلوم نہیں۔ وہ پوچھنے اور علم حاصل کرنے کی خواہش کے لحاظ سے باوجود اُستاد بن جانے کے ہمیشہ شاگرد رہتا ہے اور نہ صرف لوگوں سے علم حاصل کرتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے بھی یہی کہتا ہے کہ۔
    دوسرے مومن کے اندر ہمیشہ جوانی والی قوتِ عملیہ پائی جانی چاہیے۔ بوڑھا ہونے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ انسان ناکارہ ہو جائے اور کام کرنے سے اُسے چُھٹی مل جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے مگر اِس عمر میں بھی جہاد اور دوسرے تمام قومی کاموں میں آپ حصہ لیتے تھے اور یہی اللہ تعالیٰ کے تمام مومن بندوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ خدا کے بندے کبھی پنشن نہیں لیتے۔ یہ دنیادار لوگوں کے خیالات ہوتے ہیں کہ اب پنشن کا زمانہ آ گیا ہے۔ خدا تعالیٰ کے بندے اِس دنیا میں کبھی آرام نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُن کے لیے آرام کا مقام مرنے کے بعد ہے۔ اگلے جہان میں فرشتے انسان کی خدمت میں لگے رہیں گے اور انسان ذکر الٰہی کرے گا۔ لیکن اِس جہان میں بندے خدمت میں لگے رہتے ہیں اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی ترقی میں حصہ لیں اور ایسے کام کریں جن سے لوگوں کی فلاح و بہبود وابستہ ہو۔ غرض مومن بڑھاپے میں قوتِ عمل کے لحاظ سے جوان ہوتا ہے اور جوانی میں عقل اور تجربہ کے لحاظ سے بڈھا ہوتا ہے۔ اور پھر جوانی اور بڑھاپے کی کسی حالت میں بھی وہ علم سے محرومی برداشت نہیں کر سکتا۔ جس شخص میں یہ تین خوبیاں پائی جائیں یعنی وہ جوانی میں بڈھا بھی ہو اور بچہ بھی اور بڑھاپے میں جوان بھی ہو اور بچہ بھی وہ کبھی ذلت اور رسوائی کا منہ نہیں دیکھ سکتا۔ ہر شخص جو دنیا میں عزت کا کوئی مقام حاصل کرتا ہے اس میں یہ تین خوبیاں ضرور پائی جاتی ہیں۔ علم بڑھانے کی خواہش اُس میں انتہا طور پر پائی جاتی ہے۔ وہ بِلاوجہ کسی بات کو نہیں مانتا بلکہ ہر چیز کی کُنہہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر اُس میں قوتِ عملیہ ہوتی ہے اور وہ ہرقربانی کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ پھر اُس میں تدبّر اور سوچ بچار اور غور و فکر کا مادہ پایا جاتا ہے اور جلد بازی سے وہ کام کو خراب نہیں کر دیتا۔ جب کسی شخص میں یہ تین خوبیاں جمع ہو جائیں وہ اللہ تعالیٰ کا کامل مومن بندہ بن جاتا ہے۔ ایسا بندہ جو دنیا کا سہارا ہوتا ہے اور جو دنیا کو تباہی سے بچانے کا ذریعہ اور اُن کے دکھوں کا علاج اور مداوا ہوتا ہے۔ بچپن میں یہ تینوں باتیں جمع نہیں ہوتیں کیونکہ وہ معذوری کا زمانہ ہوتا ہے۔ لیکن جب سے معذوری کا زمانہ جاتا رہتا ہے اور احکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کا وہ مکلّف ہوتا ہے اُس وقت سے اِن تینوں باتوں کا اُس میں جمع ہونا ضروری ہوتا ہے۔ صرف بچپن کا زمانہ ایسا ہے جس کو ہم مستثنٰی کر سکتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں اَلصَّبِیُّ صَبِیٌّ وَ لَوْ کَانَ نَبِیًّا3بچہ بچہ ہی ہے خواہ وہ بعد میں نبی ہی کیوں نہ بن جائے۔
    ہماری جماعت کو بھی یہ تینوں باتیں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر عمر میں علم سیکھنے کی تڑپ اُس کے اندر ہونی چاہیے۔ جب تک علم سیکھنے کی تڑپ نہ ہو اُس وقت تک انسان کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ مگر علم سیکھنے کے معنے کج بحثی کے نہیں۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ نوجوانوں میں یہ نقص پایا جاتا ہے کہ وہ جواب پر غور نہیں کرتے اور کج بحثی شروع کر دیتے ہیں۔ یا ایسی گفتگو کرتے ہیں جو اُن کی پراگندہ دماغی کا ثبوت ہوتی ہے۔ مثلا ً ذکر ہو گا موت کا تو وہ سوال کر دیں گے بچہ کس طرح پیدا ہوتا ہے؟ یا ذکرہو گا بچہ پیدا ہونے کا تو وہ بات سن کر کہہ دیں گے جنت میں حوریں کیسی ہوں گی؟ پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ کس جِہت کی طرف جا رہے ہیں۔ جیسے چڑیا پھُدکتی ہے یا جیسے بندر ایک شاخ سے پھُدک کر دوسری شاخ پر چلا جاتا ہے یہی حال اُن کے دماغ کا ہوتا ہے حالانکہ ہر چیز میں انسان کو سمویاجانا چاہیے۔ جب وہ کسی چیز کی طرف مائل ہو تو وہ اُس کے سیاق و سباق کو دیکھے، اُس کے بواعث کو دیکھے، اس کے نتائج کو دیکھے اور پھر کوئی گفتگو کرے۔ غرض خیالات پر قبضہ اور تصرّف نہایت ضروری ہے۔ اِس کے بغیر کوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ جو شخص صرف پھُدکنا جانتا ہے وہ اپنے اندر علم جذب نہیں کر سکتا۔ علم جذب کرنے والا ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف انتقال کرنے میں کچھ وقت چاہتا ہے۔ مگر اِس کے یہ معنے بھی نہیں کہ تم ایسے بن جاؤ جیسے افیونی ہوتا ہے اور جسے دوسری جہت کی طرف لے جانے کے لیے بہت بڑی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا انسان بھی کسی کام کے قابل نہیں ہوتا جسے ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف جانے کے لیے مدتیں درکار ہوں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ خیالات کی رَو کو اِس طرح توڑ دینا کہ بات کوئی شروع ہے اور سوال کوئی کیا جا رہا ہے بتاتا ہے کہ دماغ میں سنجیدگی نہیں۔
    پس ایک طرف علم سیکھنے کی ہماری جماعت کو زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے اور دوسری طرف اپنی قوتِ عملیہ کو مضبوط کرنا چاہیے۔ مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت میں قوتِ عملیہ بہت کم پائی جاتی ہے حالانکہ جب تک قوتِ عملیہ نہ ہو کوئی قوم اپنی کوششوں کے اعلیٰ نتائج نہیں دیکھ سکتی۔ اِسی طرح نوجوانوں میں تدبّر اور فکر کی عادت ہونی چاہیے۔ جوانی جوش کا تقاضا کرتی ہے اور بڑھاپا حکمت اور تدبّر کا متقاضی ہوتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عقل اور تدبر سے جو بات ہوتی ہے وہی کامیابی کا موجب ہوتی ہے۔ مَیں دیکھتا ہوں آجکل کے نوجوان سیاسیات اور دوسرے امور میں فوراً حصہ لینے لگ جاتے ہیں حالانکہ اُن کی سمجھ ابھی پختہ نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے خیالات کی رَو غلط طریق پر چل پڑتی ہے اور ملک کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔
    پس یہ تین چیزیں اپنے اندر پیدا کرو۔ ایک ہی وقت میں تمہارے جوان بچے بھی ہوں اور بوڑھے بھی۔ اور تمہارے بوڑھے بچے بھی ہوں اور جوان بھی۔ اور اگر ممکن ہو سکے تو تمہارے بچے بھی ایک ہی وقت میں جوان بھی ہوں اور بوڑھے بھی۔ جب یہ تینوں چیزیں تمہارے اندر پیدا ہو جائیں گی تو تمہاری زندگی کے سارے پہلو محفوظ ہو جائیں گے۔ دوسرے اِس کا یہ بھی نتیجہ ہو گا کہ کوئی دو گروہ ہماری جماعت میں پیدا نہیں ہو سکیں گے۔ یہ جو لوگ کہا کرتے ہیں کہ جوانوں کے لیے جگہ خالی کرو یہ عام سیاسی دنیا کے خیالات ہیں۔ ہمارے اندر یہ خیالات پیدا نہیں ہونے چاہییں۔ تم اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کرو کہ ہماری قوم میں جس کو دنیا جوان کہتی ہو وہ بچہ اور بوڑھا بھی ہو اور جس کو دنیا بوڑھا کہتی ہو وہ جوان اور بچہ بھی ہو۔ اور جس کو دنیا بچہ کہتی ہو وہ جوان اور بوڑھا بھی ہو۔ جب تمہارا ہر جوان بوڑھا ہو گا اور تمہارا ہر بوڑھا جوان ہو گا اور ہر بچہ جوان اور بوڑھا ہو گا تو جماعت کی زندگی میں ایسی یکجہتی پیدا ہو جائے گی جس سے اِفتراق اور اِنشقاق کی کوئی صورت بھی باقی نہیں رہے گی"۔
    (الفضل 23 جون 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    طٰہٰ:115
    2
    :
    البقرۃ:261
    3
    :
    موسوعۃ امثال العرب جزء رابع زیر حرف ’’ص‘‘میں ’’الصبیّ صبیًّا ولَقِیَ النَّبِیَّ‘‘کے الفاظ ہیں۔

    ہماری ترقی دنیوی اسباب سے نہیں
    بلکہ روحانی اسباب سے ہوگی
    (فرمودہ9؍اپریل 1948ء بمقام پشاور)
    غیرمطبوعہ
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مَیں نے آج سے دس سال پہلے رؤیامیں دیکھا تھا کہ مَیں پشاور آیا ہوں اور جس گاڑی میں مَیں سوار ہوں وہ شہر کے اندر آ گئی ہے۔ جب گاڑی سٹیشن پر آ کر ٹھہری اور مَیں گاڑی سے اُترا تو مَیں نے دیکھا کہ ایک گلی اُس جگہ سے ایک طرف کو جاتی ہے۔ وہاں مولوی غلام حسن صاحب مرحوم کھڑے ہیں اور شاید دلاور خاں صاحب یا کوئی اَور دوست بھی آپ کے ساتھ میرے استقبال کے لیے موجود ہیں۔ جس وقت سے مَیں نے یہ رؤیا دیکھا تھا اُس وقت سے ہی میرا ارادہ تھا کہ مَیں پشاور آؤں۔ اِس سے پہلے 1906ء میں مَیں پشاور آیا تھا۔ اُس وقت مَیں بچہ تھا اور اُس وقت کی کوئی بات بھی مجھے یاد نہیں۔ مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ اُس وقت شہر کی کیا حالت تھی۔ اُس وقت کی یادداشت دھندلی سی ہو گئی ہے اور اُس وقت کی کوئی بھی بات مجھے یاد نہیں سوائے ایک مکان کے کہ جس میں ہم ٹھہرے تھے۔ اُس مکان کا نقشہ میرے سامنے ہے اِس سے زیادہ میں اُس وقت کے کسی نظارہ کو یاد نہیں کر سکتا۔ اِس خواب کی بناء پر جو مَیں نے بیان کی ہے ایک تو مَیں سمجھا کرتا تھا کہ شاید مولوی غلام حسن صاحب کو جو اس وقت غیرمبائعین میں شامل تھے خدا تعالیٰ ہدایت دے دے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے اس خواب کے چند سال بعد میری بیعت کر لی اور وہ مبائعین میں شامل ہوگئے اور فوت ہونے کے بعد مقبرہ بہشتی میںمدفون ہوئے۔ دوسرے حصہ کے متعلق میری خواہش تھی کہ مَیں خود پشاور آؤں۔ پشاور آنے کے متعلق خود جماعت کے بعض افراد کسی اَوروقت آنے کا مشورہ دیتے تھے اور بعض کسی اور وقت آنے کا مشورہ دیتے تھے۔ اِس طرح میری پشاور آنے کی خواہش جلد پوری نہ ہو سکی۔اب اتنے سالوں کے بعد یعنی رؤیا کے دس گیارہ سال بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیداکیے کہ مَیں یہاں آسکا اور مجھے خوشی ہے کہ جماعت کے دوستوں نے اخلاص کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔ سرحد کے چاروں طرف سے جماعت کے اکثر دوست آکر مجھے ملے۔ نوجوانوں اور لڑکوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ وہ مجھے ملتے۔ اور ان کے لیے خدا تعالیٰ نے یہ صورت پیدا کر دی کہ مَیں پشاور آؤں اور یہاں کے حالات دیکھوں اور ایسی سکیم بناؤں جس سے اِس علاقہ میں احمدیت کی ترقی کی صورت جلد پیدا ہو۔ اِس طرح میرے آنے سے یہاں کے لوگوں کو مجھے ملنے کا موقع حاصل ہوگیا۔ پھر اخلاص اور ایمان ہی تھا جس کی وجہ سے بعض دوستوں نے دعوتیں کیں اور مختلف مجالس میں مختلف طبقہ کے لوگوں سے ملاقات ہوگئی۔ جماعت کی کوشش سے دولیکچر بھی ہوگئے اور اِس طرح شہر کے لوگوں تک ہمارے خیالات پہنچ گئے۔میل ملاقات کے ساتھ اختلاف دور ہو جاتا ہے یوں تو اختلاف باپ بیٹے میں، بھائی بھائی میں اور بیوی اور خاوند میں بھی ہوتا ہے مگر اختلافات کو تفرقہ اور افتراق کا موجب بنالینا درست نہیں۔ میل ملاقات نہ ہو تو لوگ خیال کر لیتے ہیں معلوم نہیں احمدی کیسے ہوں گے۔ ایک دوست جو ڈاکٹر ہیں اور اب مخلص احمدی ہیں وہ اختلافِ خلافت کے وقت لاہور والوں کے ساتھ تھے۔ وہ قادیان آئے اور مغرب کی نماز کے بعد مجھے ملے اور کہنے لگے مَیں نے بیعت کرنی ہے۔ وہ بہت نازک مزاج ہیں۔ مَیں نے اُنہیں کہا آپ اچھی طرح سوچ سمجھ لیں۔ اُنہوں نے کہا مَیں نے سب باتیں سوچ سمجھ لی ہیں۔ میں قادیان میں جب نہیں آیاتھا تو یہاں کے لوگوں کے متعلق سنتا تھا کہ وہ چندہ کے نام پر روپیہ جمع کر لیتے ہیں اور پھر آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔یہ دیکھنے کے لیے قادیان آیا کہ یہ بات کہاں تک ٹھیک ہے۔ یہاں آکر دیکھا کہ بالکل اُلٹ بات ہے۔ جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ چندے کھاتے ہیں وہ دوسروں سے زیادہ چندے دیتے ہیں، جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ لوگوں کا مال لُوٹتے ہیں وہ دوسروں سے زیادہ قربانی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا مَیں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے اور سمجھ لیا ہے۔ مَیں نے یہ دیکھنا تھا کہ قادیان کے متعلق جو پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کیا وہ سچ ہے۔ سو اس جھوٹ کے کُھل جانے پر اب کوئی روک نہیں۔ آپ میری بیعت لیں۔ اس کے بعد مَیں نے ان کی بیعت لی۔ تو قادیان کے متعلق بھیانک خیال ان کے ذہن میں تھا وہ ان کے قادیان آنے اور حالات کو خود دیکھنے سے غلط ثابت ہوگیا اور ان کو ہدایت میسر آگئی۔ غرض میل ملاقات سے بیسیوں باتوں کا ازالہ ہوجاتا ہے۔ جو باتیں ایک آدمی ہمارے خلاف سنتا رہتا ہے جب وہ حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے تو خواہ وہ عقائد میں ہم سے کتنا ہی اختلاف کرے ناواجب اختلاف مٹ جاتا ہے۔ درحقیقت دیانتداری کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی بات کو بے سوچے سمجھے نہ مانے۔ مجھے سینکڑوں آدمیوں کی طرف سے خطوط موصول ہوتے ہیں کہ ہماری بیعت قبول کی جائے مگر مَیں اُنہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ ابھی نہ کرو، سوچ لو پھر بیعت کرنا تا کل تمہیں دھکّا نہ لگے۔
    یہاں پشاور میں اللہ تعالیٰ نے یہ سامان فرما دیئے کہ میرے دو لیکچر ہو گئے۔ لوگوں نے میری باتیں سنیں۔ ہم نے اُن کی ضرورتوں کو دیکھا۔ اُنہوں نے ہمارے متعلق اندازہ لگایا۔ خداتعالیٰ نے اختلاف سے منع نہیں فرمایا بلکہ ناواجب اختلاف سے منع فرمایا ہے۔ وہ اختلاف جو اسلام کے لیے مُضِر ہو، مسلمانوں کے لیے مُضِر ہو ایسے اختلاف سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
    مجھ پر ایک یہ بھی اثر ہے کہ آئندہ صوبہ سرحد کو پاکستان میں اہمیت حاصل ہو گی۔ صوبہ سرحد پہلے مغربی حملہ کی حفاظت کا ذریعہ تھا اب مغرب اور مشرق والوں کی حفاظت کا ذریعہ ہو گا۔ میری مدت سے خواہش تھی کہ ہم پشاور میں یا تو مکان کے لیے کوئی زمین خرید لیں یا کوئی بنا بنایا مکان خرید لیا جائے تا آئندہ آنے میں سہولت ہو۔ اگر بنا بنایا مکان مل جائے تو آتی دفعہ تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب چاہا آگئے۔ مکان کا انتظام ہو تو تیاری میں تو وقت زیادہ نہیں لگتا۔ باقی چھوٹی موٹی تیاری کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے وہ تھوڑے سے وقت میں کی جاسکتی ہے۔ جہاں مسلمان کی خوراک سادہ ہوتی ہے وہاں اُس کا لباس بھی سادہ ہوتا ہے۔ ایک جوڑا پہن لیا اور ایک ساتھ لے لیا۔ کھانا مل گیا تب بھی اور نہ ملا تب بھی مومن ہر حال میں خوش ہوتا ہے۔ غرض ایک مدت سے میری یہ تجویز تھی کہ پشاور میںزمین مکان کے لیے خرید لی جائے یا کوئی بنا بنایا مکان خرید لیا جائے۔
    1941ء میں کون کہہ سکتا تھا کہ قادیان پر حملہ ہو گا اور اس حملہ میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال ہوں گے اور اس حملہ میں احمدی بھی لڑ رہے ہوں گے اور شہر کے باہر کے سب محلے خالی ہو جائیں گے اور ہمیں وہاں سے بھاگنا پڑے گا اور ہم قادیان سے باہر ایسی جگہ جائیں گے جہاں پہاڑیاں بھی ہوں گی۔ پھر آج سے چند سال پہلے کون خیال کر سکتا تھا کہ انگریز چلے جائیں گے اور اِس طرح خونریزی ہوگی اور قادیان پر بندوقوں سے حملہ کیا جائے گا اور مَیں قادیان سے باہر آجاؤں گا۔ اور باہر آکر کسی مرکز کی تلاش کروں گا۔ایک جگہ ہم نے زمین مرکز کے لیے دیکھی ہے۔ اُس کے پاس پہاڑیاں بھی ہیں ۔ مگر مَیں نے اُس زمین پر خواب میں گھاس بھی دیکھا تھا مگر اِس زمین پر گھاس نہیں۔ پشاور آتی دفعہ نوشہرہ اور کیمبل پور کے درمیان جو میدان مَیں نے دیکھا ہے اُس کے پاس پہاڑیاں بھی ہیں اور گھاس بھی ہے۔ اس علاقہ میں اگر پندرہ بیس ایکڑ زمین خرید لی جائے تو یہاں مکان بھی بنائے جا سکتے ہیں، مہمان خانہ بھی بنایا جا سکتا ہے اور اِس طرح صوبہ سرحد میں جماعت کا ایک مرکز بنایا جاسکتا ہے میری مدت سے یہ سکیم تھی کہ ہر صوبہ میں ایسے مرکز قائم کیے جائیں مگر اِس طرف جماعت نے توجہ نہ کی۔ اگر ہر صوبہ میں مرکز قائم ہو گئے ہوتے تو آج تکلیف کا سامنا نہ ہوتا۔ اِسی طرح اگر صوبہ سرحد میں مرکز قائم ہوجائے تو ہم ایک خالص احمدی ماحول پیدا کر سکتے ہیں اور نوجوانوں کی تربیت اچھی طرح کر سکتے ہیں۔
    اس کے بعدمیں پشاور کی جماعت کو اِس طرف توجہ دلاتا ہوں اور افسوس کرتا ہوں کہ آج جمعہ کے دن اتنے آدمی جمعہ پڑھنے کے لیے نہیں آئے جتنے اَور نمازوں کی تعداد کے لحاظ سے آنے چاہییں تھے۔ حالانکہ یہاں مردان، نوشہرہ، چارسدہ، پشاور اور پشاور کے گردونواح کے لوگ بھی آئے ہوئے ہیں مگر پھر بھی جمعہ میں آنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ اِس کے مقابلہ میں جب مَیں کراچی گیا تووہاں جمعہ میں کراچی شہر کے آدمی اتنے تھے کہ مکان سب کا سب بھر گیا تھا۔
    میں جماعت کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری ترقی دنیوی اسباب سے نہیں ہو گی بلکہ روحانی اسباب سے ہوگی۔ علومِ ظاہری سے نہیں ہو گی بلکہ علومِ باطنی سے ہو گی۔ تم میری زندگی کے واقعات کو ہی لے لو۔ میری حیثیت کیا تھی؟ میں ایک پرائمری فیل طالب علم تھا۔ ہر جماعت میں مجھے رعایتی پاس کر دیا جاتا تھا۔ پھر میں مڈل میں بھی فیل ہوا اور انٹرنس(ENTRANCE) میں بھی فیل ہوا۔ بچپن سے ہی میری صحت خراب رہتی تھی۔ چھ چھ ماہ بخار رہتا تھا۔ ڈاکٹر بتاتے تھے کہ سِل کی بیماری کا احتمال ہے۔ حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمت میں میری صحت کے متعلق عرض کیا تو آپ نے فرمایا اِس نے کونسے دنیوی اسباب سے زندگی بسر کرنی ہے۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا بخاری اور قرآن شریف کا ترجمہ مولوی صاحب سے پڑھ لو اور تھوڑی سی طب بھی پڑھ لو۔ طب ہمارے والد صاحب نے بھی پڑی ہوئی تھی۔ اِس طرح خدمتِ خلق کا ایک موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فرمان کے مطابق میں نے حضرت خلیفہ اول سے پڑھنا شروع کیا۔ میری آنکھوں کی بیماری اور گلے کی خرابی کی وجہ سے حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ میاں کتاب لاؤ مَیں خود ہی پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ۔ اِس طرح مَیں نے قرآن کریم، بخاری اور تھوڑی سی طب پڑھی۔ مگر اُس علم کے ساتھ مسجد میں کوئی شخص ملّاگیری بھی تو نہیں کر سکتا۔ جب مَیں خلیفہ ہوا تو کئی لوگوں نے میرے متعلق کہا کہ ایک ایسے شخص کو خلیفہ چن لیا گیا ہے جو جاہل ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا لیمپ اپنی ذات میں کوئی حیثیت رکھتا ہے؟ بجلی کے لیمپ کا تعلق جب تک بجلی کی اُس تار سے ہوگا جہاں سے بجلی آتی ہے وہ روشنی دینے کی طاقت رکھے گا۔ اِسی طرح میرا علم کسی انسان کا سکھایا ہوا نہیں بلکہ یہ وہ علم ہے جو قرآن کریم کا علم ہے اور خدا تعالیٰ کا سکھایا ہوا ہے۔
    جن دنوں میں حضرت خلیفہ اول سے پڑھا کرتا تھا اُن دنوں میں مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں مشرق کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوں اور میرے سامنے ایک وسیع میدا ن ہے۔ اُس میدان میں اِس طرح کی ایک آواز پیدا ہوئی جیسے برتن کوٹھکورنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ آواز فضا میں پھیلتی گئی اور یوں معلوم ہوا کہ گویا وہ سب فضاء میں پھیل گئی ہے۔ اُس کے بعد اُس آواز کا درمیانی حصہ متمثل ہونے لگا اور اُس میں ایک چوکھٹا ظاہر ہونا شروع ہوا جیسے تصویروں کے چوکھٹے ہوتے ہیں۔ پھر اُس چوکھٹے میں کچھ ہلکے سے رنگ پیدا ہونے لگے۔ آخر وہ رنگ روشن ہو کر ایک تصویر بن گئے۔ اوراُس تصویر میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ ایک زندہ وجود بن گئی۔ مَیں نے خیال کیا کہ یہ ایک فرشتہ ہے۔ وہ فرشتہ مجھ سے مخاطب ہوا اور اُس نے مجھے کہا کیا مَیں تم کو سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں؟ مَیں نے کہا ہاں۔ پھر اُس فرشتہ نے مجھے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھانی شروع کی یہاں تک کہ وہ 1 تک پہنچا۔یہاں پہنچ کر اُس نے کہا اِس وقت تک جس قدر تفاسیر لکھی جا چکی ہیں وہ اِس آیت تک ہی ہیں۔ اِس کے بعد کی آیات کی کوئی تفسیر اب تک نہیں لکھی گئی۔ پھر اُس نے مجھ سے پوچھا کیا مَیں اِس کے بعد کی آیات کی تفسیر بھی تم کو سکھاؤں؟ مَیں نے کہا ہاں سکھاؤ۔ جس پر فرشتہ نے مجھے 2 اور اِس کے بعدکی آیات کی تفسیر سکھانی شروع کی۔ جب وہ ختم کر چکا تو میری آنکھ کھل گئی۔ جب میری آنکھ کُھلی تو اُس تفسیر کی ایک دو باتیں مجھے یاد تھیں۔ لیکن معاً بعد مَیں سو گیا اور جب دوبارہ اُٹھا تو تفسیر کا کوئی حصہ بھی یاد نہ تھا۔ مَیں نے اس خواب کا حضرت خلیفہ اول سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا جب تم جاگے تھے تو اُسی وقت تم کو تفسیر لکھ لینی چاہیے تھی تا ہم بھی اُس سے فائدہ اٹھاتے۔ لیکن درحقیقت میری تعلیم اِس خواب سے ہی شروع ہوئی۔ مَیں نے کسی انسان سے علم نہیں پڑھا بلکہ فرشتوں سے پڑھا۔ کوئی مشکل سے مشکل سوال جو دین سے کسی نہ کسی رنگ میں تعلق رکھتا ہو جب بھی میرے سامنے پیش ہوا مَیں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے اُس کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سائل ضد سے میرے جواب کو تسلیم نہ کرے۔ بلکہ بسااوقات لوگوں نے مجھے حیرت سے پوچھا ہے کہ یہ علوم آپ نے کہاں سے پڑھے ہیں؟ مَیں لاہور میں تھا کہ ایک لڑکی جو ایم۔اے فلاسفی میں پڑھتی تھی وہ مجھے ملنے آئی اور اُس نے فلسفہ پر گفتگو شروع کر دی۔ جب مَیں نے اُس کے سوالات کے جوابات دیئے تو وہ مجھے کہنے لگی آپ نے فلسفہ کہاں تک پڑھا ہے؟مَیں نے جواب دیا کہ مَیں نے فلسفہ بالکل نہیں پڑھا۔ تھوڑی دیر باتیں کرکے کہنے لگی آپ پروفیسر ہیں؟ مَیں نے کہا مَیں پرائمری فیل ہوں۔تھوڑی دیر اَور باتیں کرنے کے بعد بولی کیا آپ بشیراحمد ایڈووکیٹ ہیں؟ اُن دنوں مَیں شیخ بشیراحمد صاحب ایڈووکیٹ کی کوٹھی میں ٹھہرا ہوا تھا۔ مَیں نے کہا مَیں تو پرائمری فیل ہوں۔ اِس پر وہ گھبرا گئی اور کہنے لگی آپ مجھے دھوکا کیوں دے رہے ہیں؟ اُس دن قاضی اسلم صاحب مجھے ملے۔ وہ لڑکی اُن کی شاگرد تھی۔ مَیں نے اُنہیں کہا مَیں نے آج آپ کی تعلیم دیکھ لی۔آپ کی ایک شاگرد آئی تھی۔ پرائمری فیل کو کبھی پروفیسر کہتی تھی، کبھی ایڈووکیٹ کہتی تھی۔
    تو قرآن کریم کا علم اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا عطا فرمایا ہے کہ کسی قسم کا اعتراض قرآن کریم پر کیا جائے مَیں اُس کا جواب قرآن سے ہی دے سکتا ہوں۔ اور یہ سب علم اُسی علم کا نتیجہ ہے جو فرشتہ نے مجھے خواب میں سکھایا۔اِس خواب کے بعد بیسیوں مواقع ایسے آئے کہ چند سیکنڈ کے اندر اتنے لمبے مضامین سورتوں کی تفسیر پر مشتمل مجھے سکھائے گئے کہ اگر اُن کو تقریر میں بیان کیا جائے تو کئی گھنٹوں میں بھی ختم نہ ہوں۔ بعض اوقات سجدہ سے سر اٹھاتے ہوئے، بعض دفعہ رکوع جاتے ہوئے، بعض دفعہ رکوع سے اُٹھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مجھے کئی سورتوں کی تفسیر سکھائی ہے مگر اُن سب علوم کا منبع اللہ تعالیٰ ہے۔
    دیکھ لوجب حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ۔3یعنی اے میرے خدا! میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے یہ کام آسان کر دے اور میری زبان کی گِرہ کھول دے۔ تو اس کے بعد آپ کی زبان کی گرہ ایسی کھلی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایسی فصاحت و بلاغت عطا ہوئی جو اپنی ذات میں اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان تھی۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسٰیؑ کی زبان میں لکنت تھی۔چونکہ خداتعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ فرعون کے پاس جائیں اور اُسے تبلیغ کریں۔ اِس لیے آپ نے خدا تعالیٰ سے یہ عرض کی کہ۔4یعنی اے میرے خدا! میرے رشتہ داروں میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا۔ وہ زیادہ اچھی طرح بول سکتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اِس دعا کو قبول کیا اور ہارونؑ کو بھی خداتعالیٰ نے نبی بنادیا۔ مگروالی دعا کے بعد جب آپ فرعون کے پاس تبلیغ کے لیے گئے تو آپ نے ایک لفظ بھی حضرت ہارون ؑکو نہیں بولنے دیا۔ خداتعالیٰ نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو وہ قوتِ گویائی عطا فرمائی کہ ہارونؑ کے بولنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ تو اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے سب علوم ملتے ہیں۔ اِس لیے خداتعالیٰ پر توکل کرو اور اُس سے دعائیں مانگو تاوہ تمہیں اپنے پاس سے قرآن کریم کے علوم عطا کرے۔
    کوئی علم ایسا نہیں جس کے اصول قرآن کریم نے بیان نہ کر دیئے ہوں۔ دوسرے مسلمان قرآن کریم سے غافل ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دنیا کے لیے قرآن کریم کو ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا ہے۔ ہماری جماعت کے سامنے کتنا بڑا کام ہے یعنی قرآن کریم کی حکومت کو سب دنیا میں قائم کرنا ہے۔ساری دنیا کی آبادی دو اَرب ہے اور ہندوستان اور پاکستان کی آبادی چالیس کروڑ ہے جس میں تیس کروڑ غیرمسلم ہیں۔ میری مدت سے خواہش تھی کہ ایسا ملک مل جائے جہاں ہم اسلامی حکومت اور اسلامی تہذیب جاری کر سکیں۔ پاکستان میرے ذہن میں بھی نہیں تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں اسلام پھیلانے کے لیے ایک بنیاد رکھ دی ہے جو پاکستان ہے۔ ہم نے صرف ہندوستان کو ہی فتح نہیں کرنا بلکہ ساری دنیا کو فتح کرنا ہے۔ پس ہمیں موجودہ انقلاب سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ایک نئی جہات، ایک نیا عزم، ایک نیا ارادہ اور ایک نئی قوت ہمیں لے کر کھڑے ہو جانا چاہیے۔ اِس وقت دنیا میں ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا محسن جس کا احسان آئندہ زمانہ کے لوگوں پر بھی ہے اور گزشتہ زمانہ کے لوگوں پر بھی ہے اور اِس زمانہ کے لوگوں پر بھی ہے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اُسے آج حقیر سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ زمانہ کے لوگوں پر تو اُس کا احسان اِس طرح سے ہے کہ کئی انبیاء ایسے ہیں جن پر خود اُن کی اُمتیں نہایت گندے اور ناپاک الزامات لگا دیتی تھیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن الزامات کو دور کیا اور بتایا کہ وہ الزامات بالکل غلط ہیں۔ مثلاً حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق یہودیوں اور عیسائیوں کی مذہبی کتاب بائبل کہہ رہی تھی کہ ہارون نے بچھڑا بنایا اور شرک کیا۔5 یہ کتنا بڑا ظلم تھا جو ہارون کی اولاد آپ کی طرف منسوب کرتی تھی؟ یہ کتنا بڑا جھوٹ تھا جو بنی اسرائیل آپ پر باندھتے تھے؟ یہ ایک کلنک کا ٹیکا تھا جو ہارونؑ کے ماتھے پر لگایا جا رہا تھا۔ مگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی تھی جس نے آکر یہ اعلان کیا کہ ہارونؑ نے کوئی شرک نہیں کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت اِس بات کو پیش کر رہی تھی کہ عیسٰیؑ خدا کا بیٹا ہے اور اِس طرح وہ آپ کی شدید ترین ہتک کر رہی تھی۔ یہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی جنہوں نے دنیا کے سامنے یہ اعلان کیا کہ حضرت عیسٰیؑ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔ مگر آپ نہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے۔ دنیا میں کوئی انسان اِتنا بڑا محسن نہیں ہو سکتا جو اپنی اولاد کا بھی محسن ہو، اپنے بھائیوں کا بھی محسن ہو اور اپنے آباء و اجداد کا بھی محسن ہو۔ یہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے جو اپنی اولاد کے لیے بھی محسن ہے، اپنے بھائیوں کے لیے بھی محسن ہے اور اپنے آباء و اجداد کے لیے بھی محسن ہے۔ وہ شخص جو اتنا بڑا محسن ہے آج دنیا کی نگاہ میں (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ)ذلیل ترین وجود نظر آتا ہے۔ آج یہودی، عیسائی، ہندو اور ہر غیرمسلم آپؐ کی ذات پر اعتراض کر رہا ہے۔ وہ شخص جس نے دنیا کو بچایا دنیا نے کوشش کی کہ اُس کو مار دے۔ ہمارے سوا کوئی بھی اُس کی قدر نہیں جانتا۔ ہمارے سوا کوئی بھی اس کے مقام کو نہیں پہچانتا۔ ہمارے سوا کوئی بھی اس کی بزرگی کو نہیں سمجھتا۔ کاش! وہی آگ دوسروں کے دل میں بھی لگ جائے جو ہمارے دلوں میں لگی ہوئی ہے۔ مگر اِس کا طریق یہی ہے کہ تم میں سے ہر شخص یہ عہد کر کے اُٹھے، یہ عزم لے کر اُٹھے کہ وہ خود مٹ جائے گا، اُس کی آئندہ نسل مٹ جائے گی مگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر کے چھوڑے گا۔ اب ہماری زندگیاں ہمارے لیے نہیں ہوں گی بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کے اِحیاء اور قیام کے لیے ہوں گی"۔
    (غیرمطبوعہ از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    الفاتحۃ:5
    2
    :
    الفاتحۃ:6
    3
    :
    طٰہٰ:26 تا28
    4
    :
    طٰہٰ:30
    5
    :
    خروج باب 32آیت1 ، 9، 35۔


    پہلے اونٹ کا گُھٹنا باندھو پھرخدا پر توکّل کرو
    (فرمودہ16؍اپریل 1948ء رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "پہلے تو مَیں نظارت تعلیم و تربیت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ سائبان جو آج لگائے گئے ہیں نماز کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے نمازیں متواتر ہوتی دیکھی تھیں اور ان کو معلوم ہونا چاہیے تھاکہ جمعہ کی نمازمیں اِس سے زیادہ لوگ آتے ہیں جتنے لوگوں کے لیے یہ سائبان تیار ہوئے ہیں۔ اِس لیے انہیں فوراً کچھ اَور سائبان تیار کرانے چاہییں جس سے لوگوں کو جمعہ کی نماز کے وقت تکلیف نہ ہو۔ اگر خدا تعالیٰ نے ہمیں جلد کسی مرکز کے بنانے کی توفیق عطا فرمائی تو وہاں بھی مسجد فوراً تو نہیں بن جائے گی اور نہ وہ مسجد اِتنی کافی ہو گی کہ ہمیں سائبان نہ لگانے پڑیں۔ وہاں بھی موجودہ سائبانوں سے زیادہ سائبانوں کی ضرورت ہو گی۔ ہاں ایک صورت ضرور ملحوظ رکھنی چاہیے اور وہ یہ کہ سائبان چھوٹے چھوٹے ہوں جن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھیلایا جا سکے تاکہ کناروں پر جو چھوٹی چھوٹی جگہیں رہ جاتی ہیں۔ اُن میں بھی سائبان آسانی سے لگ سکیں گے۔
    اِس کے بعد مَیں جماعت کو پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ دن نازک سے نازک تر ہورہے ہیں لیکن مَیں دیکھتا ہوں کہ ابھی آپ میں سے بہت سے لوگ آئندہ آنے والے خطرات سے پوری طرح واقف نہیں ہوئے اور شاید وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ واقف نہ ہوں۔ وہ میری باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں اور اُس کبوتر کی طرح جو بلّی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے سمجھ رہے ہیں کہ محض آنکھیں بند کر لینے سے وہ خطرہ سے محفوظ ہو جائیں گے لیکن یہ درست نہیں۔ خطرے آنکھیں بند کر لینے سے دور نہیں ہوا کرتے۔ خطرے مقابلہ کرنے سے دور ہوتے ہیں۔ بے شک مقابلہ کی مختلف اقسام ہیں۔ کچھ لوگ خالص دنیوی سامانوں کو مقابلہ کی تیاری کہتے ہیں اور کچھ لوگ خالی بیٹھ رہنے اور خدا تعالیٰ پر ایک جھوٹا توکّل کر لینے کو خطرہ سے محفوظ رہنے کا سامان قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ دونوںگروہ غلطی پر ہوتے ہیں۔ نہ تو خطرات کے لیے صرف جسمانی کوششیں خصوصاً ان قوموں کی جو کمزور ہوں کافی ہوتی ہیں اور نہ خطرات سے جھوٹے توکّل انسان کو بچایا کرتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے دنیا میں دو قانون جاری کیے ہیں۔ ایک مادی اور ایک روحانی۔ مادی قانون کے ماتحت وہ ساری تیاری جو خدا نے کسی چیز کے لیے مقرر کی ہوئی ہے اُس کا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ وہ تمام قسم کے سامان جن سے اُن خطرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اُن کو مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ وہ تمام قسم کی جتھا بازی جس جتھا بازی کا سامان کرنا اُن خطرات کے دور کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے اُس جتھا بازی کا مہیا کرنا بھی نہایت ضروری ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی پھر خدا تعالیٰ پر توکّل کرنا ۔ جس کے معنی زیادہ سے زیادہ کام کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔ وہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر توکّل محنت اور قربانی کے بعد ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں ایک دفعہ ایک وفد آیا۔ اُس وفد کے افراد میں سے ایک شخص جلدی سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کو اس وفد کے آنے کی اطلاع مل گئی تھی اور آپ سمجھتے تھے کہ اس کے مدینہ میں داخل ہونے کے بعد اِتنی جلدی کوئی شخص آپ کے پاس نہیں پہنچ سکتا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اپنی سواری کا کیا انتظام کیا ہے؟ اُس نے کہا یارسول اللہ! مَیں نے اپنے اونٹ کو خدا تعالیٰ کے توکّل پر چھوڑ دیا ہے۔ آپ نے فرمایا جاؤ اپنے اونٹ کاگُھٹنا باندھو اور اونٹ کا گُھٹنا باندھنے کے بعد خدا پر توکل کرو۔ 1
    پس وہ لوگ بے وقوف ہوتے ہیں جو دُنیوی سامانوں کے جمع کرنے کے بغیر خداپرتوکّل کرتے ہیں۔ ہم ثنویت کے قائل نہیں جیسے بگڑا ہوا زرتشتی مذہب ثنویت کا قائل ہے۔ اُن کا عقیدہ ہے کہ خدادوہیں۔ ایک نے نیکی پیدا کی ہے اور دوسرے نے بدی پیدا کی ہے، ایک خدا نے نور پیدا کیا ہے اور دوسرے خدا نے ظلمت پیدا کی ہے، ایک خدا نے آرام دہ چیزیں پیدا کی ہیں اور دوسرے خدا نے تکلیف دہ چیزیں پیدا کی ہیں۔ ہمارا اُن کی طرح یہ عقیدہ نہیں کہ خدا دو ہیں۔ ایک نے روحانیت پیدا کی ہے اور دوسرے نے مادیت پیدا کی ہے۔ اگر دو خدا ہوتے اور ہم روحانی خدا کے ساتھ ہوتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ہم اپنے خدا کے پیدا کیے ہوئے سامانوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ہم دوسرے خدا کے پیدا کیے ہوئے سامانوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن اسلام کے رو سے روح کا پیدا کرنے والا بھی وہی خدا ہے اور مادہ کا پیدا کرنے والا بھی وہی خدا ہے۔ پس جس طرح روحانی سامانوں سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے اِسی طرح جسمانی اور مادی سامانوں سے فائدہ اٹھانا بھی ضروری ہے۔ جس طرح وہ اِس بات پر ہم سے ناخوش ہوتا ہے کہ ہم نے کیوں روحانی سامانوں سے فائدہ نہیں اُٹھایا، کیوں عبادتِ الٰہی سے غفلت برتی؟ کیوں دعاؤں میں کوتاہی کی؟ کیوں اُس پر یقین اور توکّل نہ کیا؟ اِسی طرح وہ اِس بات پر بھی خفا ہوتا ہے کہ کیوں ہم نے اُن مادی سامانوں کو استعمال نہیں کیا جو اس نے ہمارے لیے دنیا میں پیدا کیے تھے۔ وہ قرآن کریم میں بڑے زور سے فرماتا ہے2کیا تم خدائی تعلیم کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو؟ حالانکہ یہ بھی خدا کا پیدا کیا ہوا ہے اور وہ بھی خدا کا پیدا کیا ہوا ہے۔ پس روحانی سامانوں کا جمع کرنا اور مادی سامانوں کا جمع کرنا دونوں ایک وقت میں ضروری ہوتے ہیں خصوصاً اس قوم کے لیے جس کے پاس مادی سامان کم ہوتے ہیں یا اس کے افراد کی تعداد کم ہوتی ہے۔ اُس کے لیے جہاں روحانی سامان نہایت ضروری ہوتے ہیں وہاں مادی سامانوں کا جمع کرنا بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی تھوڑے تھے مگر آپ نے کام کرنا چھوڑ نہیں دیا۔ بلکہ اِس لیے کہ آدمی کم تھے آپ نے اُن سے زیادہ سے زیادہ کام لینا شروع کیا ہوا تھا۔ مکہ والوں کے دل میں جو مسلمانوں کی دشمنی تھی وہ انتہا تک پہنچی ہوئی تھی۔مگر ہمیں نظر آتا ہے کہ مکہ والے تو حملہ کر کے سو جاتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوسونے نہیں دیتے تھے۔ بلکہ حملہ کے بعد حملہ کرواتے تھے اور وفد کے بعد وفد باہر نگرانی اور حفاظت کے لیے بھجواتے تھے۔ اور متواتر صحابہؓ کو فنونِ جنگ سیکھنے پر آمادہ کرتے اور پھر اِس بات کی نگرانی فرماتے کہ وہ فنونِ جنگ سیکھنے میں حصہ لیتے ہیں یا نہیں۔ ہماری جماعت کو بھی اِن امور کی اہمیت سمجھنی چاہیے۔ مت سمجھو کہ خطرہ گزر گیا ہے۔ خطرہ اُس سے بھی زیادہ شدید پیش آنے والا ہے جتنا کہ پیچھے آیا۔ اگر اس کے آنے سے پہلے ہم لوگ تیاری کر لیں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ دو موتیں ہماری جماعت پر وارد نہیں کرے گا۔ لیکن اگر ہم غفلت کریں گے تو اللہ تعالیٰ غنی ہے وہ اُن لوگوں سے جو اُس کے بنائے ہوئے قانونوں سے فائدہ نہیں اُٹھاتے بیزاری ظاہر کرتا ہے اور اُن کی مدد سے دستکش ہو جاتا ہے۔ پس وقت کو سمجھو۔ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔ نمازوں اور عبادتوں میں چُست ہو جاؤ۔ جہاں تک ہو سکے تہجد پڑھنے کی کوشش کرو۔ اپنے بچوں اور بیویوں کو بھی تہجد کا پابند بناؤ۔ ہر قسم کی مالی اور جسمانی قربانی کرنے اور وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے پوری کوشش کرو۔ عادتوں کا چھوڑنا آسان کام نہیں۔ تمہیں سُستی اور غفلت کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ عادتیں موت کے بعد چھُوٹا کرتی ہیں۔ جب تک انسان اپنے آپ پر موت وارد نہیں کرتا اور ایک نیا وجود نہیں بن جاتا اُس وقت تک اُس کی عادتیں دور نہیں ہوتیں۔ پس اپنے پہلے وجود کو مارو اور ایک نیا وجود پیدا کرو تاکہ تمہاری سُستی اور غفلت کی عادتیں جاتی رہیں۔ خطرہ کا دن آنے والا ہے۔ اُس سے پہلے پہلے تیار ہو جاؤ تا تمہاری قربانی کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی غیرت بھیبھڑکے اور وہ کہے کہ میرے بندوں سے جو کچھ ممکن تھا وہ اُنہوں نے کر لیا اب جو کسر باقی ہے وہ مجھے پوری کرنی چاہیے"۔
    خطبہ ثانیہ میں حضور نے فرمایا:
    "مجھے آج ہی ایک رُقعہ ملا ہے جس میں پونچھ کے احمدی شہداء کے متعلق اطلاع دی گئی ہے۔ سفر پر جانے سے پہلے جموں سے ایک دوست آئے تھے۔ اُنہوں نے بھی بتایا تھا کہ وہاں ہمارے کون کونسے دوست شہید ہوئے ہیں اور آج اس علاقہ کے مبلغ کی طرف سے بھی تفصیلاً رپورٹ آ گئی ہے۔ بابو عبدالکریم صاحب جو پونچھ کے سیکرٹری جماعت تھے اور نہایت جوشیلے احمدی تھے شہید کر دئیے گئے ہیں۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے مصر کے جامعہ ازہر کے پروفیسر سے وفاتِ مسیح کے متعلق فتوٰی لیا اور پھر اخبارات میں شائع کرایا۔ اب اُن کے حالات کی تفصیل آئی ہے۔ وہ وہاں اطمینان سے بیٹھے رہے اور اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم یہ جگہ نہیں چھوڑیں گے۔ کچھ دن کسی محلہ میں رہنے کے بعد وہ مسجد احمدیہ میں آئے۔ وہاں سکھ اور ہندو قابض ہو چکے تھے۔ انہوں نے پہلے اُن کو باندھ دیا۔ پھر اُن کی بڑی بیوی کو مارا، پھر اُن کی لڑکیوں کو مارا، پھر اُن کی جوان بیوی سے بدکاری کرنے کی کوشش کی۔ اِس پر عبدالکریم صاحب نے رسیاں توڑنے کی کوشش کی اور شور مچایا تو اُن کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ اس کے بعد اُن کی ایک بیوی اور ایک لڑکی کا پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں گئیں۔ مسجد احمدیہ بنانے کے لیے جموں سے کئی مستری گئے ہوئے تھے اور اُن کے پانچ سات خاندان وہاں رہتے تھے وہ بھی سارے کے سارے شہید کر دئیے گئے ہیں۔ (مَیں ان حالات کے متعلق کچھ نہیں کہتا۔ ان کو پڑھو، غور کرو، غور کرو ،غور کرواور پھر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو)۔ مَیں جمعہ کی نماز کے بعد اِن سب کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ اِسی طرح مَیں اِس نماز جنازہ میں اُن تمام احمدی شہداء کو شامل کروں گا جو مشرقی پنجاب یا ریاست جموں میں مارے گئے ہیں خواہ ہم نے پہلے اُن کا جنازہ پڑھا ہے یا نہیں تاکہ ایک دفعہ پھر سب کے لیے دعا ہوجائے"۔ (الفضل 21جولائی 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    ترمذی ابواب صفۃ الجنۃ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم باب حدیث اعقلھا و توکّل(مفہوماً)
    2
    :
    البقرۃ:86


    ابتلاؤں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا الٰہی خبریں بتاتی ہیں
    کہ ابھی اَور مصائب آنے والے ہیں
    (فرمودہ23؍اپریل 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "گزشتہ جمعہ کے موقع پر مَیں نے نظارت تعلیم و تربیت کو ہدایت کی تھی کہ و ہ اِس بات کا انتظام کرے کہ آئندہ جمعہ سے سائبان کافی لگے ہوئے ہوں تا کہ لوگوں کو دھوپ میں نہ بیٹھنا پڑے۔ اُسی دن شام کے قریب نائب ناظر صاحب کی طرف سے مجھے رپورٹ ملی کہ آئندہ جمعہ میں ایک احمدی بھی دھوپ میں بیٹھا ہوا نہیں ہو گا لیکن اِس وقت مجھے سینکڑوں آدمی باہر بیٹھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ نہ معلوم میری نظر کا قصور ہے یا ناظر صاحب کے نزدیک جو باہر بیٹھے ہیں وہ احمدی نہیں یا کوئی اَور وجہ ہے۔ بہرحال جتنی شان کے ساتھ اور جس قدر جلدی وعدہ کیا گیا تھا اُسی شان کے ساتھ عدمِ ایفاء کا بھی نمونہ دکھایا گیا ہے۔ مومن کو اول تو ہوشیار ہونا چاہیے اور جو فرض اُس کے ذمہ لگایا گیا ہو اُسے اداکرنا چاہیے۔ پھر کم سے کم ایمان کی علامت جس سے اُتر کر پھر نِفاق ہی رہ جاتا ہے یہ ہے کہ جو نہیں کرنا اُس کے متعلق انسان کہہ دے کہ مَیں نے نہیں کرنا۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں وہ مجھے اَور خط لکھ دیں گے کہ یہ غلطی ہوئی وہ غلطی ہوئی یا فلاں وجہ سے سائبانوں کا انتظام نہیں ہو سکا۔ مگر سوال یہ ہے کہ وجوہات تو ہوتی ہی رہتی ہیں مجھے اپنے مُلک کی ذہنیت میں سے سب سے بڑی قابلِ اعتراض بات یہی نظر آتی ہے کہ وہ پہلے سوچتے نہیں کہ کیا مشکلات پیش آئیں گی۔ اور چونکہ وہ سوچتے نہیں اِس لیے مشکلات کو دور کرنے کے لیے جدوجہد نہیں کرتے۔ اور چونکہ وہ جدوجہد نہیں کرتے اِس لیے جب کام نہیں ہوتا تو کہہ دیتے ہیں کہ فلاں فلاں مشکل پیش آ گئی تھی اس لیے کام نہ ہو سکا۔ حالانکہ سوال یہ ہے کہ کیا وہ مشکلات آسمان سے اچانک آ گری تھیں؟ اگر وہ ممکن مشکلات تھیں تو پھر ممکن کو شش بھی ان کو کرنی چاہیے تھی یا ممکن مشکلات کے پیش نظر انہیں ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دینا چاہیے تھا۔ بہرحال دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہونی چاہیے۔ یا تو جو ممکن مشکلات ہوں اُن کے متعلق ممکن جدوجہد کرنی چاہیے یا ممکن مشکلات کو دیکھتے ہوئے کام کرنے سے انکار کر دینا چاہیے۔ انہوں نے بھی جب ایک کام کرنے کا وعدہ کیا تھا تو اُس کام میں جو ممکن مشکلات تھیں اُن کا انہیں پتہ ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کیوں یہ خیال کر لیا کہ جو سو فیصدی آج حالات ہیں وہی کل بھی ہوں گے۔ یہی خیال کر لینا بددیانتی ہوتی ہے۔ خدا نے ہر کام میں مشکلات بھی پیدا کی ہیں اور پھر حالات بھی روز بروز بدلتے رہتے ہیں۔ جب کوئی شخص کسی کام کا اقرار کرے تو اُسے سوچنا چاہیے کہ مَیں اسے کہاں تک پورا کر سکتا ہوں۔ مگر ہمارے ملک کے لوگ وعدہ کر کے اول تو بیٹھے رہیں گے اور اگر کام کے لیے جائیںگے توآخری روز جائیں گے اور آ کر کہہ دیں گے کہ ہم تو گئے تھے مگر دُکان بند تھی۔ یہ سیدھی بات ہے کہ جب دکان اَور دنوں میں بھی کھُلی ہوتی ہے تو تم جمعرات یا جمعہ کو کیوں گئے؟ تمہارے جھوٹے ہونے کی علامت ہی یہی ہے کہ تم جمعرات کو جاتے ہو اور جب تم دکان بند پاتے ہو تو اس کے بعد تمہارے لیے اَور کوئی صورت نہیں رہتی۔ تمہارا فرض تھا کہ تم ہفتہ کو جاتے اور اگر ہفتہ کے دن دکان کو بند پاتے تو اتوار کو جاتے۔ مَیں اتوار کا اِس لیے ذکر کر رہا ہوں کہ آجکل بعض دکانیں تو اتوار کو بند ہوتی ہیں مگر بعض پیر یاکسی اَور دن بند ہوتی ہیں۔ اگر اتوار کو بھی دکان کو بند پاتے تو پیر کو جاتے اور اگر پیر کے دن بھی تم اُس دکان کو بند پاتے اور تم میں عقل ہوتی تو تم سمجھتے کہ اب ہمیں کسی اَور دکان پر جانا چاہیے۔ چنانچہ منگل کے دن تم کسی اَور دکان پر جاتے۔ فرض کرو وہ دوسری دکان کھلی تو ہے مگر دکاندار ریٹ زیادہ بتاتا ہے توبدھ اور جمعرات دو دن ابھی تمہارے پاس ہوتے۔ تم بدھ کے دن کسی اَور دکان پر چلے جاتے اور اُس سے ریٹ دریافت کرتے۔ اگر وہ بھی اتنا ہی ریٹ بتاتا تو تم بدھ یا جمعرات کو دونوں میں سے کسی ایک دکان سے سامان خرید لیتے یا کرایہ پر لے لیتے اور اپنے کام میں کامیاب ہو جاتے۔ لیکن اگر تم جمعہ کے دن وعدہ کرکے اگلے جمعہ کو جاتے ہو یا اگلی جمعرات کو جاتے ہو تو تم خوداس بات کا ثبوت بہم پہنچاتے ہو کہ تمہارا نفس نیک نہیں تھا وہ جھوٹا تھا۔ وہ فریب کرنا چاہتا تھا کیونکہ تم نے اس دن کام کیا جس کے بعد اصلاح ناممکن تھی۔ اگر تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ چونکہ پچھلے جمعہ میں لوگ زیادہ نہیں تھے اِس لیے اس جمعہ میں بھی لوگ اتنے ہی ہوں گے۔ اس لیے زیادہ انتظام کی ضرورت نہیں اور تھوڑے سائبانوں سے گزارہ ہو جائے گا۔ تو یہ بھی تمہارے نفس کا ایک دھوکا تھا۔ پچھلے جمعہ میں اگر لوگ زیادہ نہیں تھے تو اس لیے کہ نماز جلدی ہو گئی تھی۔ آج بہت زیادہ لوگ آئے ہوئے ہیں اور اگلے جمعوں میں بھی آئیں گے۔ ان میں سے بہت سے گو اندر برآمدہ میں بیٹھے ہیں مگر اسی لیے کہ باہر دھوپ کی وجہ سے جگہ نہیں اور وہ مجبوراً اندر بیٹھے ہیں ورنہ ان کو باہر بیٹھنا چاہیے تھا۔
    اس کے بعد مَیں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں پہلے بھی بہت دفعہ مَیں توجہ دلا چکا ہوں لیکن جو بات ضروری ہو اس کو اُس وقت تک دہرانا پڑتا ہے جب تک لوگ عمل نہ شروع کر دیں۔ بلکہ اگر عمل بھی کرنے لگیں تب بھی ضروری باتوں کو دہرانا پڑتا ہے کیونکہ بہت سے لوگ بعد میںسُست ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ان باتوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔
    مَیں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جو واقعات گزشتہ ایام میں ابتلاؤں اور مصیبتوں کے پیش آئے ہیں اور جن کے متعلق خدائی خبریں بہت دیر سے چلی آ رہی تھیں وہ ختم نہیں ہو گئے بلکہ بعض نئے حالات ایسے پیدا ہو رہے ہیں جن سے فساد اور تفرقہ کی نئی صورتیں پیدا ہونی ممکن ہیں۔ اور اِس حد تک ممکن ہیں کہ گزشتہ فسادات اور گزشتہ تباہیاں ان کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہو جائیں۔ یہ باتیں آج تمہارے وہم اور قیاس سے اُسی طرح بالا ہیں جس طرح آج سے سال بھر پہلے تم یہ قیاس بھی نہیں کر سکتے تھے کہ چھ مہینہ کے اندراندر کیا ہو جائے گا اور کس طرح 76 لاکھ کے قریب انسان اِدھر اُدھر بھاگ جائے گا۔ بلکہ اگر دونوں طرف کی آبادی کو ملا لیا جائے تو سوا کروڑ یا ڈیڑھ کروڑ آدمی اِدھر اُدھر چلا جائے گا۔ اگر کوئی شخص تم کو صبح یہ خبر سنائے کہ ایران کا سارا ملک خالی ہو گیا ہے یا تم کو صبح یہ خبر سنائے کہ سکاٹ لینڈ کا سارا ملک خالی ہو گیا ہے یا مثلاً تمہیں یہ خبر سنائے کہ یونان اور البانیہ اور بلغاریہ، یہ سارے کے سارے خالی ہو گئے ہیں اور اُن میں کوئی آبادی نہیں رہی تو تم اسے مانو گے بلکہ فوراً کہو گے کہ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ یا کہو گے کہ یہ اپریل فول ہے اِس میں صداقت کا شمہ بھر بھی نہیں۔ لیکن تمہارے ملک میں یہی بات ہوئی۔ ڈیڑھ کروڑ آدمی چند دنوں کے اندر اندر اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر آ گیا۔ اور یہ ڈیڑھ کروڑ اپنی جائیدادوں سے بے دخل ہو گیا، اپنے مکانوں سے محروم ہو گیا اور اپنی تمام ملکیتی زمینوں کو کھو بیٹھا۔ کسی کی زمین کا ایک حصہ بلکہ حصہ کیا اگر دو کھیتوں کے درمیان کی ایک لائن جو بتاتی ہے کہ یہ کھیت اُس کا ہے اور وہ کھیت اِس کا یا ایک بٹ جو پانی روکنے کے لیے بنائی جاتی ہے یہ ساری بٹ نہیں یہ ساری لائن نہیں بلکہ اس کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی اگر کوئی دوسرا شخص لے لیتا ہے تو مقدمات شروع ہو جاتے ہیں، وکیل کیے جاتے ہیں، عدالتوں میں پیشیاں ہوتی ہیں۔ اور پھر اگر ایک جج خلاف فیصلہ دیتا ہے تو دوسرے جج کے پاس مقدمہ پہنچایا جاتا ہے۔ دوسرا جج بھی خلاف فیصلہ کرے تو تیسرے جج کے پاس مقدمہ پہنچایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ہائیکورٹ تک مقدمات پہنچائے جاتے ہیں۔ اور بعض دفعہ جب لوگ ہائیکورٹ کے فیصلہ پربھی مطمئن نہیں ہوتے تو پریوی کونسل تک مقدمات لڑے جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ایک ایک روپیہ کے مقدمے قانونی نقائص کی وجہ سے پریوی کونسل میں گئے ہیں۔ کیمل پور کے ایک نواب ہیں اُن کا ایک مقدمہ ایک یا دو روپیہ کا تھا مگر چونکہ اُس میں ایک قانونی سوال تھا وہ ہائی کورٹ میں گیا اور ہائی کورٹ کے بعد پریوی کونسل میں گیا اور آخر انہوں نے مقدمہ جیت لیا۔ غرض چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے سالہا سال مقدمات لڑے جاتے ہیں اور معمولی معمولی اختلافات پر دنوں، ہفتوں اور سالوں تک مجالس شکوے شکایتوں سے پُر رہتی ہیں۔ مگر یہاں کسی منڈیر کا سوال نہیں تھا، کسی پرنالے کا سوال نہیں تھا، کسی بٹ کا سوال نہیں تھا، کسی لکیر کا سوال نہیں تھا، کسی معمولی زمین کا سوال نہیں تھا بلکہ لاکھوں لاکھ ایکڑ زمین کا سوال تھا۔ غیر مسلم ہمارے علاقہ میں 72 لاکھ ایکڑ زمین چھوڑ گیا ہے اور مسلمان صرف مشرقی پنجاب میں 45 لاکھ ایکڑ چھوڑ آیا ہے۔ عمارتیں اور کارخانے الگ ہیں، لاکھوں روپے کے کارخانے صرف قادیان میں ہی تھے اور وہاں جو جائیدادیں تھیں وہ کروڑوں روپیہ کی تھیں حالانکہ وہ ایک معمولی سا قصبہ تھا۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشرقی اور مغربی پنجاب میں ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں نے کتنی جائیداد چھوڑی۔ درحقیقت امرتسر، جالندھر اور لدھیانہ وغیرہ میں جو جائیداد مسلمانوں نے چھوڑی اور لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لائل پور، ملتان اور راولپنڈی میں ہندوؤں نے چھوڑی اُس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ اِدھر والے بھی اربوں کی جائیداد چھوڑ کر اُدھر گئے اور اُدھر والے بھی اربوں کی جائیداد چھوڑ کر اِدھر آئے مگر باوجود اِس کے نہ مقدمہ بازی ہے اور نہ ہو سکتی ہے اور نہ اتنا شور ہے جتنا چند ایکڑ زمین کے کھوئے جانے پر بلکہ ایک زمین کی ایک لائن پر پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اسی لیے کہ
    مرگِ انبوہ جشنے دارد
    جب سب لوگ مر جائیں گے تو یہ موتوں کی کثرت بھی ایک جشن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے مرنے والے کو روتا ہے تو لوگ اُسے کہتے ہیں تم کیوں روتے ہو؟ کیا فلاں نہیں مر گیا؟ یا فلاں کے رشتہ دار نہیں مر گئے؟ یا جب کوئی شخص کہتا ہے کہ میرا مکان جاتا رہا اور وہ غم میں رونا شروع کرتا ہے تو لوگ اُسے کہتے ہیں شرم کر کیا ہمارا مکان نہیں جاتا رہا؟ یہ قدرت کا ایک قانون ہے کہ سب کو ایک وقت میں رونا نہیں آتا۔ رونا مختلف اوقات اور مختلف حالات میں آتا ہے۔ اگر کسی کا کوئی عزیز 11 بج کر ایک منٹ پر فوت ہو ا ہو تو اُسے 11 بج کر ایک منٹ پر رونا آئے گا۔ مگر کوئی ایسا ہو گا جس کے ہاں موت 11 بج کر دس منٹ پر ہوئی ہے اُسے اُس وقت رونا آئے گا کیونکہ رونے کے بھی محرکات ہوا کرتے ہیں۔ فرض کرو کسی کا بچہ 11 بج کر ایک منٹ پر فوت ہوا ہے دوسرے دن اُس کی نظر گھڑی پر پڑی اور اُس نے دیکھا کہ 11 بج کر ایک منٹ ہو گیا ہے تو وہ رونے لگ جائے گا کیونکہ اُس وقت کو دیکھ کر اُسے اپنا بچہ یاد آ جائے گا۔ لیکن کوئی دوسرا شخص جس کا لڑکا ٹھیک بارہ بجے گھر آیا کرتا تھا وہ 11 بج کر ایک منٹ پر نہیں روئے گا بلکہ جب بارہ بجیں گے اُسے رونا آ جائے گا کیونکہ وہ کہے گا یہ وہ وقت ہے جب میرا بیٹا گھر آیا کرتا تھا۔ اِسی طرح اگر کوئی اَور ایسا واقعہ ہوا ہو جو جذبات کو برانگیختہ کرنے والا ہو تو وہ واقعہ رونے کا محرک بن جائے گا۔ مثلاً کسی کا لڑکا بیمار تھا اُس نے مرنے سے چار پانچ دن پہلے پانی مانگا۔ طبیب نے کہا تھا کہ بچے کو پانی نہ پلایا جائے۔ اگر پانی دیا گیا تو مرض بڑھ جائے گا۔ چنانچہ اُسے پانی نہ دیا گیا اور وہ اِسی حالت میں فوت ہو گیا۔ فرض کرو وہ دن کے چار بجے فوت ہوا تھا اب اگر تو وہ زندہ رہ جاتا تو لوگ کہتے طبیب بڑا عقلمند ہے مگر چونکہ وہ مر گیا اِس لیے طبیب احمق بن گیا۔ جونہی چار بجیں گے اُسے اپنے لڑکے کا مرنا اور طبیب کا یہ کہنا کہ بچے کو پانی نہ پلایا جائے یاد آ جائے گا۔ وہ رونے لگے گا اور کہے گا حکیم ایسے نالائق ہوا کرتے ہیں کہ میرا بیٹا پیاسا مر گیا۔ یا کسی شخص کا بچہ مر رہا تھا تو باہر ایک عورت یہ آوازیں دے رہی تھی لے لو مُولیاں، لے لو گاجریں۔ وہ یہ آواز سنے گا تو اُسے کوئی اہمیت نہیں دے گا لیکن دوسرے دن جو نہی یہ آواز اُس کے کانوں میں آئے گی اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں گے کیونکہ اس آواز سے اُسے یہ واقعہ یاد آ جائے گا کہ کل جب میرا بچہ مر رہا تھا اُس وقت بھی یہی آواز آئی تھی کہ لے لو مُولیاں، لے لو گاجریں۔ گویا مُولیوں اور گاجروں کی آواز اُسے اپنے بچے کی موت یاد دلا دے گی اور اسے رونا آ جائے گا۔ غرض ایک شخص کو جس وقت رونا آتا ہے دوسرے شخص کو اُس وقت رونا نہیں آتا۔ اور وہ مصیبت زدہ اُس وقت رو لیتا ہے۔ لیکن جب سب کے سب لوگ ایک ہی قسم کی مصیبت میں مبتلا ہوں تو اُس وقت رونا بے معنی معلوم ہوتا ہے اور حواس پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ افسوس کرنا کچھ بے حیائی سی معلوم ہوتی ہے کیونکہ انسان سوچتا ہے کہ اگر مَیں رویا یا مَیں نے افسوس کیا تو دوسرے لوگ جو میری جیسی مصیبت میں مبتلا ہیں اور رو نہیں رہے، افسوس نہیں کر رہے۔ میری نسبت کیا کہیں گے۔ اور اِسی طرح رونے اور افسوس کرنے کا وقت ٹلتا جاتا ہے۔ اِسی لیے کہتے ہیں
    مرگِ انبوہ جشنے دارد
    جب اکٹھی مصیبت آتی ہے تو ایک دوسرے کے جذبات اور ایک دوسرے کی کیفیات میں اطمینان اور سہارے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ اِس وقت جو ہمارے ملک پر مصیبت آئی ہے اس سے اربوں ارب کم حصہ پر خون بہائے جاتے ہیں، اِس سے اربوں ارب کم حصہ پر تباہیاں واقع ہو جاتی ہیں، اِس سے اربوں ارب کم حصہ پر مقدمات ہوتے اور آپس میں لڑائیاں لڑی جاتی ہیں، اِس سے اربوں ارب کم حصہ پرسرپھٹول ہو جاتا ہے اور اِس سے اربوں ارب کم حصہ پر شہروں اور گاؤں اور قصبوں بلکہ ضلعوں تک کے امن برباد ہو جاتے ہیں۔ قصبہ کی ایک عورت اُدھا ل1 لی جاتی ہے تو سارے آدمی کھڑے ہو جاتے ہیں اور بیسیوں دنوں تک تمام علاقہ کا امن جاتا رہتا ہے۔ مگر اِس وقت پچاس ہزار مسلمان عورت ہندوؤں اور سکھوں کے قبضہ میں ہے اور چند ہزار یا کم و بیش سکھ اور ہندو عورت مسلمانوں کے قبضہ میں ہے مگر اِس پر وہ شورش نہیں، وہ اضطراب اوروہ دکھ نہیں جو صرف ایک عورت کے اِغوا پر برپا ہوا کرتا تھا۔ اِسی وجہ سے کہ ہر شخص سمجھتا ہے اگر مَیں نے اپنا دکھ بیان کیا تو لوگ مجھے روکیں گے اور کہیں گے کہ کیا صرف اکیلے تم پر مصیبت آئی ہے؟ یہ تو سب پر آئی ہے۔ پس
    مرگ انبوہ جشنے دارد
    قومیں جب مصیبت میں مبتلا ہوتی ہیں تو اُن کی غم کی کیفیتیں بدل جاتی ہیں اور اُن کے دکھ درد عام حالات سے بالکل مختلف ہو جاتے ہیں لیکن اِس کے باوجود اِس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عقل کا پہلو کسی وقت بھی ترک نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری عقل کہتی ہے کہ اِس وقت اِتنی بڑی مصیبت آئی ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ یہاں تک کہ نوحؑ کے وقت بھی وہ تباہی نہیں آئی جو آج آئی۔ نوحؑ کے وقت دنیا کی آبادی بہت کم تھی۔ اِس لحاظ سے جہاں طوفان سے بچنے والے قلیل لوگ تھے وہاں جو لوگ طوفان سے تباہ ہوئے اُن کی تعداد بھی غیرمعمولی طور پر زیادہ نہیں تھی۔ نوحؑ کی قوم جو اُن پر ایمان لائی پرانے زمانہ کی لکڑی کی ایک کشتی میں سوار ہوگئی تھی۔ اِس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ لوگ کتنے تھے۔ اور اُنہی پر قیاس کر کے باقی آبادی کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بے شک قرآن کریم نے نوحؑ پر ایمان لانے والوں کے متعلق قلیل کا لفظ استعمال کیا ہے مگر قلیل اور کثیر میں کچھ تو نسبت ہوتی ہے۔ اگر نوحؑ پر ایمان لانے والے اور طوفان سے محفوظ رہنے والے افراد ہم ساٹھ ستّر سمجھ لیں تو وہ لوگ جو تباہ ہوئے وہ زیادہ سے زیادہ چھ سات ہزار ہوں گے۔ گویا ایک قصبہ بھی جو آج تباہ ہوا اُس کے مقابلہ میں نوحؑ کے طوفان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ لیکن قرآن کریم کو دیکھو تو وہ نوحؑ کے طوفان کے ذکر سے بھرا پڑا ہے۔ اِسی طرح فرعون کا لشکر جو غرق ہوا اُس کی کتنی تعداد ہو گی؟ زیادہ سے زیادہ آٹھ ہزار ہو گی۔ مگر تمہارا تو پانچ لاکھ آدمی مشرقی پنجاب میں مارا گیا ہے اور اِدھر بھی کچھ نہ کچھ سکھ اور ہندو مارا گیا ہے۔ اگر دونوں کو ملا کر چھ سات لاکھ تعداد سمجھ لی جائے اور دو تین لاکھ جموں اور کشمیر کے لوگ سمجھ لیے جائیں تو یہ دس لاکھ تعداد بن جاتی ہے۔اگر اِس میں وہ مسلمان بھی شامل کر لیے جائیں جو ہندوستان میں مارے گئے تو بارہ تیرہ لاکھ تعداد بن جاتی ہے۔ اِس کے مقابلہ میں بھلا نوحؑ کے طوفان کی کیا نسبت ہے۔ اور فرعون کے لشکر میں سے ڈوبنے والوں کی تباہی اِس کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتی ہے۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنگ عظیم میں بھی بہت لوگ تباہ ہوئے۔ دس گیارہ لاکھ جرمن مارا گیا۔ چار پانچ لاکھ جاپانی مارا گیا۔ جاپانی نسبتاً کم مارے گئے کیونکہ اُنہوں نے جلد ہی ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ اِسی طرح روسی بھی دس بارہ لاکھ مارے گئے۔ انگریز بھی تین ساڑھے تین لاکھ مارے گئے، امریکن بھی لاکھ ڈیڑھ لاکھ مارے گئے۔ اِن سب کو ملا لیا جائے تو اندازاً 26،27لاکھ آدمی پانچ سال میں مارا گیا ہے۔ یہ 26،27لاکھ آدمی دنیا کے تمام گوشوں اور کناروں پر مارا گیا ہے۔ ایک کے مرنے کی جگہ دوسرے مرنے والے کی جگہ سے بعض دفعہ پندرہ پندرہ، بیس بیس میل دور تھی اور ایک مرنے والے اور دوسرے مرنے والے کے درمیان بعض دفعہ پانچ پانچ سال کا فاصلہ تھا۔ مگر یہاں جو بارہ تیرہ لاکھ آدمی مارا گیا ہے ایسے محدود علاقہ میں مارا گیا ہے اور اِتنی چھوٹی سی جگہ میں مارا گیا ہے کہ جس میں ایک ہی زبان بولی جاتی تھی۔ ایک ہی قسم کی عادات لوگوں میں پائی جاتی تھیں۔ ایک ہی حکومت رائج تھی اور رسم و رواج بھی ایک ہی قسم کے تھے۔ یہ سارے کے سارے ایک مہینہ یا ڈیڑھ مہینہ کے اندر اندر مارے گئے اور اِس طرح مارے گئے کہ ایک کی موت پر ابھی لوگوں کے آنسو نہیں تھمے تھے کہ دوسرا مر گیا۔ ایک خاندان کی چیخیں ابھی بند نہیں ہوئی تھیں کہ دوسرے خاندان میں سے چیخوں کی آوازیں اُٹھنے لگیں اور یہ سب کچھ اِس سُرعت سے ہوا اور اتنے تھوڑے سے علاقہ میں ہوا کہ جرمنی کی تباہی بھی اِس کے مقابلہ میں بالکل ہیچ نظر آتی ہے۔ یوں ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں آدمی ہر روز مرتے ہیں۔ دو ارب کی دنیا اگر ہم سمجھ لیں اور یہ فرض کر لیں کہ 1/4 فی ہزار مرتا ہے تو اِس کے لحاظ سے پچیس آدمی فی لاکھ اور اڑھائی ہزار آدمی فی کروڑ مرتا ہے۔ دنیا کی آبادی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آجکل دو ارب کے قریب ہے۔ اڑھائی ہزار فی کروڑ کے لحاظ سے اڑھائی لاکھ آدمی روزانہ مرتا ہے مگر پتہ بھی نہیں لگتا کہ اتنے آدمی مر گئے ہیں۔ اِس کے مقابلہ میں اگر ایک کشی ڈوب جاتی ہے یا موٹر اُلٹ جاتی ہے اور پانچ سات آدمی مر جاتے ہیں تو ایک آفت آ جاتی ہے اور سب لوگ باتیں کرنے لگتے ہیں کہ فلاں جگہ موٹر گری دس آدمی مر گئے اور پندرہ زخمی ہوئے۔ یاکشتی غرق ہوئی اور اتنے آدمی ڈوب گئے۔ غرض تین چار دن مسلسل ایک کُہرام مچا رہتا ہے۔اِس لیے کہ وہ موت قریب واقع ہوتی ہے لیکن جو اڑھائی لاکھ آدمی روزانہ مرتا ہے یہ فاصلہ فاصلہ پر مرتا ہے۔ اِتنے فاصلہ پر کہ ایک کی خبر دوسرے کو نہیں پہنچتی یا اگر پہنچتی بھی ہے تو بُعدِ مقام اور بُعد ِاحساس اور بُعدِحکومت کی وجہ سے تکلیف نہیں پہنچتی۔ مگر یہاں قُربِ مقام اورقُربِ قومیت اور مطابقتِ رسم و رواج اور ایک حادثہ سے ہلاک ہونے کی وجہ سے مرنے والوں کا صدمہ بہت سخت ہوا ہے۔ورنہ اڑھائی لاکھ آدمی دنیا میں روزانہ مرتا ہے اور پتہ بھی نہیں لگتا۔ اگر پانچ دس آدمی کسی حادثہ کی وجہ سے مر جائیں توکہرام مچ جاتا ہے مگر یہاں تو پانچ دس نہیں بارہ تیرہ لاکھ آدمی مارا گیا ہے اور اتنا آدمی مارا گیا ہے کہ جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔کہا جاتا ہے کہ تیمور نے اتنے آدمی مارے تھے کہ بعض جگہ مُردوں کے تودے لگ جاتے تھے۔ نہ معلوم تاریخ اِس بارہ میں کتنا مبالغہ کرتی ہے لیکن اگر یہ واقعہ ہے اور سچ ہے تو بھی تیمور نے جو تودے لگائے تھے اُس سے سینکڑوں گُنا بڑے تودے پچھلی تباہی کی وجہ سے لگے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تیمور نے مُردوں کا ایک جگہ ڈھیر لگا دیا تو تودہ بن گیا مگر پنجاب کے مُردوں کا ڈھیر نہیں لگا یا گیا۔ اگر پنجاب کے مُردوں کی لاشیں بھی ایک جگہ اکٹھی کی جائیں تو تیمور کے تودوں سے سینکڑوں گُنا بڑے تو دے بن جاتے۔ مثلاً وہی قافلہ جو قادیان سے پیدل چلا تھا اس کے متعلق ہمارا اندازہ یہ ہے کہ اس میں سے ہزار سے دو ہزار تک آدمی رستہ میں مار دئیے گئے تھے۔ چنانچہ اس کے سات آٹھ دن بعد جو قافلے قادیان گئے اور جن میں بعض انگریز بھی تھے اُنہوں نے بتایا کہ راستہ میں مُردوں کی بُو کی وجہ سے ناک کو کھولا نہیں جا سکتا تھا۔ نہر میں ریت کے اندر مُردے پڑے ہوئے تھے، کھیتوں میں مُردے پڑے ہوئے تھے اور گدھ اور چِیلیں چاروں طرف منڈلاتی اور لاشوں کو نوچتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ اگر ان تمام مُردوں کا ایک جگہ ڈھیر لگا دیا جاتا تو شاید تیمور کی گردن بھی شرم کے مارے جھک جاتی یا یوں کہو کہ اُس کی گردن اونچی ہوجاتی اور وہ کہتا کہ مَیں نے تو اتنے آدمی نہیں مارے جتنے اِن لوگوں نے مارے ہیں۔
    غرض حالات کے فرق کی وجہ سے بعض دفعہ ایک چیز کی اہمیت نظر نہیں آتی مگر جو کچھ پیچھے ہوا اس کے حالات بتا رہے ہیں کہ وہ ایک شدید ترین مصیبت کا دَور تھا جو مسلمانوں پر آیا۔ اگر خدا نخواستہ اب اِس سے بھی بڑی مصیبت آئی تو تم خود ہی اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ کیا ہوگی۔ جتنی رپورٹیں ملتی ہیں اُن سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ بُغض اور کینہ کی آگ کو ہوائیں دی جا رہی ہیں اور آئندہ فساد کے منصوبے کیے جا رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی یہی آوازیں آ رہی ہیں اور تمہارے نفوس کی حالت بھی یہی بتاتی ہے کہ ابھی اَور مصائب آنے والے ہیں۔ دیکھو! کوئی ماں اپنے بچے کو مارنا نہیں چاہتی۔ اگر وہ کسی غلطی پر اُسے تھپڑ مارتی ہے اور بچہ پھر وہی کام کرتا ہے جس پر اُسے تھپڑ مارا گیا تھا تو صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ ماں اُسے پھر تھپڑ مارے گی کیونکہ وہ پھر وہی کام کرنے لگ گیا ہے جس سے ماں نے اُسے روکا تھا۔ اگر بچہ اُس فعل کے ارتکاب سے رُک جائے تو عقلمند انسان جان لیتا ہے کہ اب ماں اُسے نہیں مارے گی۔ سوائے اِس کے کہ وہ غصہ میں پاگل ہو جائے مگر ہمارا خدا غصہ میں پاگل نہیں ہو سکتا۔ ماں کے متعلق تو یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ اسے بعض دفعہ اِتنا غصہ ہو کہ اگر بچہ اس فعل سے رُک جائے تب بھی دیوانگی اور جوش کی حالت میں وہ اُسے مارنے لگ جائے۔ گو عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ ماں کی مامتا فوراً روک بن جاتی ہے اور وہ بچے کو بِلاوجہ نہیں مارتی۔ وہ سمجھتی ہے کہ جب میری غرض پوری ہو گئی ہے تو مجھے مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن اگر کوئی ماں اپنے بچہ کو بِلاوجہ مارنے لگ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بِلاوجہ اپنے بندوں کو دکھ میں ڈالتا ہے۔ جب ہمیں نظر آتا ہے کہ خدا نے مسلمانوں کو تھپڑ مارا اور اِتنا سخت مارا کہ اُس رحیم و کریم ہستی پر نظر کرتے ہوئے اِس کی امید نہیں کی جاسکتی تھی۔ تو صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ رحیم و کریم ہستی لوگوں کے گناہوں سے تنگ آ گئی تھی۔ وہ ان کے اعمال سے زچ ہو گئی تھی، وہ انہیں سمجھاتے سمجھاتے تھک گئی تھی۔ اُس نے چاہا کہ بندہ اُس کی طرف آئے اور اُس کی محبت اور پیار کو حاصل کرے مگر انسان نے اُس کی آواز کو نہ سنا، نہ سمجھا اور نہ مانا۔ آخراُس نے انسان کے فائدہ کے لیے ایک تھپڑ مارا اور بڑا سخت مارا۔ چاہیے تھا کہ اِس کے بعد لوگ اپنی اصلاح کر لیتے اور دوسرے تھپڑ کی نوبت نہ آتی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اب تک انسان اُنہی کاموں میںمشغول ہے جن میں وہ پہلے مشغول تھا۔ اب تک ایثار اور قربانی کا مادہ اُس نے اپنے اندر پیدا نہیں کیا، اب تک نیکی اور تقوٰی کی روح اُس نے اپنے اندر پیدا نہیں کی۔ وہ پھر اُنہی غفلتوں اور اُسی لُوٹ مار اور دنگا فساد میں مشغول ہے جس میں وہ پہلے مشغول تھا۔ صاف پتہ لگتا ہے کہ اب کے پھر تھپڑ پڑے گا اور وہ پہلے سے زیادہ سخت ہو گا۔
    بہرحال یہ ساری چیزیں ایک چیز کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ الٰہی خبریں کہہ رہی ہیں کہ ابھی اَور ابتلا آنے والے ہیں۔ رپورٹیں اور مخبریاں بتا رہی ہیں کہ شرارتوں اور فسادوں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ تمہارے نفس بتا رہے ہیں کہ جس غرض کے لیے تھپڑ مارا گیا تھا وہ پوری نہیں ہوئی، جس مقصد کے لیے تمہیں پِیٹا گیا تھا وہ ابھی حاصل نہیں ہوا۔ جب پہلے تھپڑ کی غرض یہی تھی کہ تمہاری اصلاح ہو تو اصلاح نہ ہونے کی صورت میں لازمی طور پر دوسرے تھپڑ کی تیاری کی جائے گی سوائے اِس کے کہ تم اُس کے مارنے سے پہلے اپنی اصلاح کر لو۔
    پس مَیں تمہیں ایک دفعہ پھر توجہ دلاتا ہوں۔ یہ نہیں کہ آخری دفعہ بلکہ اگر ہر دفعہ بھی مجھے یہی کہنا پڑے تو مَیں کہوں گا یہاں تک کہ تمہارے نفسوں میں اصلاح پیدا ہو جائے۔ یوں تو مَیں سب لوگوں کو یہی کہوں گا مگر مَیں تمہیں خاص طور پر اِس طرف توجہ دلاتا ہوں کیونکہ مَیں تمہارا ذمہ دار ہوں سب کا نہیں۔ یہ مَیں جانتا ہوں کہ اگر تم اپنی اصلاح کر لو گے تو تم عذاب میں شریک نہیں کیے جاؤ گے۔ تمہیں خدا نے دنیا کی اصلاح کے لیے پیدا کیا ہے اور اِس وجہ سے وہ اپنا سارا زور اِس بات میں صَرف کرے گا کہ تمہیں اس عذاب سے بچائے۔ جب دنیا میں لوگ غرق ہو رہے ہوں تو اُس وقت تیراکوں کو نہیں مارا جاتا۔ اگر تیراک مار دئیے جائیں تو دنیا کو بچایا نہیں جا سکتا۔
    ہماری تاریخ میں ایک واقعہ آتا ہے کہ حضرت سعدؓ کو ایران کی ایک ایسی جنگ میں شامل ہونا پڑا جس جنگ سے پہلے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچ چکا تھا۔ یہ نقصان ایک غزوہ میں ہوا جسے غزوہ جسر کہتے ہیں۔ اس میں ہزاروں ہزار کی تعداد میں مسلمان مارے گئے تھے کیونکہ دشمن نے دریا کے پار اُن پر حملہ کیا اور ایسی ہوشیاری کی کہ اُس نے پُل پر قبضہ کر لیا۔ جب مسلمانوں کو دھکیلا گیا تو چونکہ پیچھے زمین نہیں تھی اور پُل پر دشمن قابض تھا اُن کے لیے یہی صورت رہ جاتی تھی کہ وہ دریا کے کناروں پر آجاتے۔ وہاں دشمن نے اَور زیادہ دباؤ ڈالا تو مسلمان پانی میں گر گئے اور چونکہ عرب تیرنا نہیں جانتے تھے سینکڑوں آدمی ڈوب گئے۔ اِس جنگ کا بدلہ لینے کے لیے حضرت عمرؓ نے سعدؓ بن ابی وقاص کو مقرر کیا اور چونکہ بہت سی اسلامی فوج شام میں بھیجی جا چکی تھی اور چونکہ پچھلی جنگ میں بڑا بھاری نقصان ہوا تھا حضرت عمرؓ کوئی بڑا لشکر نہ بھجوا سکے۔ جو لشکر دشمن کے مقابلہ میں لڑنے کے لیے بھجوایا گیا اُس کی تعداد ایرانی لشکر کے مقابلہ میں صرف 1/10 تھی۔ ایرانی لشکر کی کمانڈ ،رستم کر رہا تھا مگر قصوں والا رستم نہیں۔ اگر اُس کا کوئی وجود ہوا ہے تو وہ دو تین سو سال پہلے ہوا تھا۔ یہ اَور رستم تھا اور یہ بھی اپنی قوم میں بہت دلیر اور جری سمجھا جاتا تھا۔ غرض رستم ایرانی لشکر کی کمانڈ کر رہا تھا اور جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے اسلامی لشکر کی تعداد ایرانی لشکر کے مقابلہ میں صرف 1/10 تھی۔ ایرانی لشکر میں ہاتھی بھی تھے جن سے اونٹ بہت ڈرتا ہے اور اِسی طرح اَور بھی بہت سا سامان جنگ تھا۔ اُس وقت عرب کا ایک سردار جو اسلامی تعلیم سے زیادہ واقف نہیں تھا لوگوں کے رغبت دلانے پر شراب پی بیٹھا اور حضرت سعدؓ نے اُس کو قید کر دیا۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو پاس ہی اُس جگہ جہاں خیمے لگے ہوئے تھے ایک عرشہ بنایا گیا تھاتااُس پر بیٹھ کر حضرت سعدؓ لڑائی کا نظارہ دیکھ سکیں اور اپنی فوجوں کو مناسب احکام دے سکیں۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت سعدؓ کی سرین پر ایک پھوڑا نکلا ہوا تھا اور اِس وجہ سے وہ لڑائی میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ پہلے دن کی لڑائی میں اسلامی لشکر کے قدم پوری طرح جمے نہیں۔ وہ قیدی جو بہت بہادر اور جری انسان تھا جب وہ اِن باتوں کو سنتا تو اُس سے برداشت نہیں ہو سکتاتھا اور وہ قید خانہ میں ٹہلنے لگ جاتا۔ تھوڑی دیر تک اُس نے ٹہل کر وقت گزارا مگر اُس سے پھر بھی برداشت نہ ہوا اور آخر اُس نے دستک دے کر حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کی بیوی کو بُلوایا ۔وہ آئیں تو اُس نے کہا بی بی! ایک عرب کی زبان جس طرح اپنے وعدہ کو پورا کرتی ہے تم اُس سے خوب واقف ہو کیونکہ تم توخود عرب ہو۔ مَیں ایک عرب کی حیثیت سے تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر لڑائی میں مَیں زندہ رہا تو شام کو خود یہاں آ جاؤں گا۔ تم مجھے ہتھکڑیاں پہنا دینا لیکن مسلمانوں کی یہ کمزوری مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔ مَیں چاہتا ہوں کہ مَیں بھی لڑائی میں حصہ لوں۔حضرت سعدؓ کی بیوی ایک دلیر عورت تھیں اُن پر اِس دلیری اور قربانی کا اِتنا اثر ہوا کہ انہوں نے قانون کو توڑتے ہوئے اُس کی بیڑیاں کاٹ ڈالیں اور کہا مَیں تم پر اعتبار کرتی ہوں۔ اگر زندہ رہے تو واپس آ جانا۔ وہ گیا اور اُس نے لڑائی میں حصہ لیا اور ایسی بے جگری سے لڑا کہ جہاں جاتا مسلمانوں کے قدم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتے۔ مگر لڑتے وقت اُس نے اپنے منہ پر نقاب ڈالی ہوئی تھی۔ یہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ کون ہے۔ حضرت سعدؓ اُسے دیکھتے تو کہتے خدا اِس کا بھلا کرے یہ لگتا تو فلاں شخص ہے مگر وہ توقید میں ہے۔ اِسی طرح اُس نے لڑائی کے ایک یا دو دن گزارے۔ آخر حضرت سعدؓ کو پتہ لگ گیا کہ یہ وہی شخص ہے جسے انہوں نے قید کیا ہوا تھا اور یہ کہ اُن کی بیوی نے اُسے چھوڑا ہے۔ سعدؓ اپنی بیوی پر ناراض ہوئے اور کہا کہ تم نے ایک خلافِ قانون فعل کیا ہے جو تمہیں سزا کا مستحق بناتا ہے۔ مَیںنے بتایا ہے کہ حضرت سعدؓ کو پھوڑا نکلا ہوا تھا اور وہ عرشہ پر یا سواری پر بیٹھ کر فوج کی حالت دیکھا کرتے تھے۔ خود لڑائی میں شامل نہ ہو سکتے تھے۔ جب وہ اپنی بیوی پر خفا ہوئے تو اُن کی بیوی نے نہایت غصہ سے جواب دیا کہ تم کو شرم نہیں آتی! خود سواری یا عرشہ پر بیٹھ کر حکم چلاتے ہو اور تم مجھے یہ کہتے ہو کہ مَیں اُس شخص کو لڑائی میں حصہ لینے سے محروم کر دیتی جو جری اور دلیر تھا اور تمہاری طرح بیٹھ کر حکم دینے کا عادی نہیں تھا۔ سعدؓ نے یہ سنا تو خاموش ہو گئے۔2 کیونکہ گویہ بات غیرآئینی تھی مگر اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ وقت پر جس کام سے تعلق رکھنے والا کوئی آدمی ہوتا ہے اُسے اُس کام سے محروم نہیں رکھاجاتا کیونکہ اُس وقت کا خاص مرد وہی ہوتا ہے۔
    سو اگر تم اپنی اصلاح کر لو تو چونکہ دنیا کو بچانے کی ذمہ داری تم پر ہے اِس لیے اگر عالمگیر تباہی دنیا پر آ بھی گئی تو خدا تم کو ضرور بچائے گا اور تمہارے لیے کوئی نہ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔ اِس لیے نہیں کہ تم اُس کے بندے ہو اور وہ اس کے بندے نہیں بلکہ اِس لیے کہ اگر عالمگیر عذاب میں تم بھی مبتلا ہو گئے تو دنیا کو کون بچائے گا۔ دنیا کا سہارا اِس وقت تم ہو۔ اِس لیے وہ تمہارے نکالنے کے لیے کوئی راہ ضرور پیدا کر دے گا کیونکہ تمہارے بغیر دنیا کی اصلاح اور اِس کی نجات کا اَور کوئی ذریعہ نہیں۔ لیکن اگر تم نے اپنے اندر تغیر پیدا نہ کیا اور عالمگیر مصیبت آ گئی تو خدا کہے گا اِن لوگوں کو بھی مرنے دو کیونکہ یہ بھی ویسے ہی ہیں جیسے اَور لوگ۔ پس اپنی زندگیوں میں تبدیلی پیدا کرو اور اپنے اندر ایسا تغیر رونما کرو کہ خدا کی ذات اِس بات کا اقرار کرے کہ یہ قوم دوسری قوموں سے بالکل الگ ہے۔ اِس کی قربانی اور اِس کی اطاعت اور اِس کی محبت دوسری قوموں کی قربانی اور اطاعت میں زمین و آسمان کا فرق ہے"۔
    (الفضل یکم دسمبر 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    اُدھال:اغوا ۔کسی کی عورت کو بھگا کر لے جانا( پنجابی اردو لغت مؤلفہ تنویر بخاری ، صفحہ 302اردو سائنس بورڈ لاہور)
    2
    :
    تاریخ ابن اثیر جلد دوم صفحہ 475،476 مطبوعہ بیروت 1965ء







































    آزادی اور حریّت ہی ایسی چیز ہے
    149جو سچا ایمان پیدا کر سکتی ہے
    (فرمودہ14 مئی1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "انگریزی کی ایک مثل ہے کہ ’’TIT FOR TAT‘‘(ٹٹ فار ٹیٹ) عربی میں اس کے مقابلہ میں کہا جاتا ہیکَمَا تَدِیْنُ تُدَانُ۔ یعنی جیسا کر وگے ویسا بھرو گے۔ مَیں نے کچھ عرصہ ہوا جماعت لاہور کو اُس کی بعض غلطیوں کی طرف توجہ دلائی تھی۔ مجھے کہا گیا ہے کہ افسرانِ جماعت ان امور کی اصلاح کی فکر میں ہیں۔ گو یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ غلطیاں جن کی اصلاح کی طرف اُنہیں سات آٹھ ماہ سے توجہ دلائی جار ہی ہے اُن کی اصلاح کا اُنہیں آج کیوں احساس ہوا ہے؟ اُس کی اصلاح کا خیال یقیناً اُنہیں بہت عرصہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن کہتے ہیں صبح کا بُھولا اگر شام کو گھر آ جائے تو اُس کو بھُولا نہیں کہتے۔ بہرحال یہ ایک ناپسندیدہ امر تھا کہ الفضل نے اِس قسم کی باتوں کو شائع کر دیا۔ حالانکہ میری ہمیشہ سے اسے یہ ہدایت ہے کہ کسی شخص یا جماعت کے متعلق اگر کسی نقص کا ذکر میری مجلس میں آئے تو اُس کو بغیر مجھے دکھانے کے ہر گز شائع نہ کیا جائے۔ مگر بعض لوگوں کو شوق ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کے عیب بیان کریں اور انہیں اس میں ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔ اِسی کے ماتحت الفضل کے نمائندہ نے ان باتوں کو نمایاں نہ کیا حالانکہ اترسوں کی تقریر کے بعد جب شیخ بشیر احمد صاحب نے مجھ سے کہا کہ مناسب ہے کہ اس تقریر کو ابھی شائع نہ کیا جائے اور ہمیں اصلاح کا موقع دیا جائے تو مَیں نے اُسی وقت پرائیویٹ سیکرٹری کو حکم دیا کہ وہ الفضل کو اِس تقریر کے شائع کرنے سے روک دیں۔ لیکن پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے اُس امیر کے مقولہ پر عمل کیا جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اُس کے پاس ایک فقیر نے آ کر سوال کیا کہ وہ اس کو کچھ دے۔ اُس امیر نے لوگوں پر رعب جمانے کے لیے اپنے نوکروں کے بڑے بڑے شاندار نام رکھے ہوئے تھے نام تو مجھے یاد نہیں تاہم یوں سمجھ لو کہ اُس نے آواز دی اے پکھراج! تم یاقوت سے کہو اور اے یاقوت! تم لعل سے کہو اور اے لعل! تم زمرد سے کہو اور اے زمرد! تم عقیق سے کہو اور اے عقیق! تم جوہر سے کہو اور اے جوہر! تم اس فقیر سے کہو(جو اُس کے سامنے کھڑا تھا) کہ میرے پاس اُس کے دینے کے لیے کچھ نہیں۔ ہمارے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے بھی اسی کمرہ میں بیٹھے بیٹھے اپنے اسسٹنٹ سیکرٹری کو کہا کہ تم یہ ہدایت آگے پہنچا دو۔ اسسٹنٹ سیکرٹری نے دوسرے اسسٹنٹ سیکرٹری سے کہا۔ اُس نے سپرنٹنڈنٹ سے کہا، سپرنٹنڈنٹ نے ڈسپیچر(Despatcher) سے کہا۔ڈسپیچرنے دفتری سے کہنا چاہا کہ تم یہ ہدایت آگے پہنچا دو۔ مگر وہ دفتری پہلے ہی کہیں پہنچا ہوا تھا۔ اِس طرح کاغذ دفتر میں ہی رہ گیا اور مضمون چھپ گیا۔ بہرحال مَیں نے اس کی تردید کرا دی ہے لیکن اِس پر مردوں کو تو جوش نہ آیا ایک عورت کو جوش آیا ہے اور اُس کا ایک رجسٹری خط مجھے ملا ہے جس میں اُس نے بعض اعتراضات کیے ہیں۔ مجھ پر تو نہیں لیکن اُس نے خاندان کا لفظ استعمال کیا ہے کسی کا نام اُس نے نہیں لکھا۔ اِس لیے مَیں نہیں کہہ سکتا کہ اُس کی مراد کس سے ہے۔ البتہ مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح میرے اعتراضات کی وجہ بدنیتی نہیںبلکہ اصلاح تھی اِسی طرح اس خاتون کے اعتراضات کی وجہ بھی بدنیتی نہیں بلکہ اصلاح ہی معلوم ہوتی ہے۔ شروع میں تو اس عورت نے اپنے خاوند کی شکایت کی ہے۔ اس نے اپنا نام بھی لکھا ہے۔ ممکن ہے وہ نام اصلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ فرضی ہو۔ اِس لیے مَیں اُس کو ظاہر کرنا نہیں چاہتا۔ بہرحال اُس نے بیان کیا ہے کہ مَیں نے اپنے خاوند سے یہ شکایت کی تو خاوند نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ خلیفۃ المسیح تو بادشاہ ہیں۔ تم اُن پر کیا اعتراض کرتی ہو! اور ان کی مثال اپنے گھر میں کیوں جاری کرنا چاہتی ہو۔ جہاں تک اتنے حصہ کا تعلق ہے مَیں تسلیم کرتا ہوں کہ خاوند نے اخلاص کا ثبوت دیا ہے مگر اس نے اپنی بات منوانے کے لیے اور اپنی بیوی کے اعتراض کو ردّ کرنے کے لیے صحیح طریق اختیار نہیںکیا۔ اول تو جیسا کہ ہم کہتے ہیں خاوند اور بیوی میں اِس قسم کا تعلق نہیں ہو سکتا کہ دونوں کے دماغ ایک طرح کام کریں۔ ہو سکتا ہے بیوی کا دماغ اَور طرح کام کر رہا ہو اور خاوند کا دماغ اَور طرح کام کر رہا ہو۔ ہم مجبور نہیں کر سکتے نہ خاوند کو اور نہ بیوی کو کہ وہ ایک طرح کام کریں۔ کیونکہ ایسا کرنے کی ہمیں طاقت حاصل نہیں۔ ایسا کرنے کی خدا تعالیٰ بھی ہمیں اجازت نہیں دیتا۔ پس گو اخلاص کے ماتحت ہی خاوند نے یہ بات کہی مگر میرے نزدیک ایسا کہنا درست نہیں تھا۔ عورت کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ خاوند سے جزئیات میں اختلاف کرے۔ ایک عورت کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اصولی امور میں اُس سے اختلاف کرے بلکہ اُسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خاوند سے مذہب میں کُلّی طور پر اختلاف کرے۔ پس یہ طریق درست نہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو حکومت کے ذریعہ اپنی بات منوانا چاہے۔ عورت کا دماغ اُتنا ہی آزاد ہے جتنا کہ مرد کا دماغ آزاد ہے۔ ہم دلیل کے ماتحت تو عورت کو قائل کر سکتے ہیں جس طرح دلیل کے ساتھ مرد کو قائل کر سکتے ہیں لیکن رعب کے ساتھ ہم نہ کسی مرد کو اپنی بات منوا سکتے ہیں اور نہ عورت کو اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ہاں اُسے چپ ضرور کر ا سکتے ہیں۔ دوسرا حصہ دلیل کا کہ وہ بادشاہ ہیں یہ اُس سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ اگر بادشاہ سے مراد روحانی بادشاہت کے لیے تو اس اعتراض کے صحیح ہونے کی صورت میں بیوی کا اعتراض اَور بھی بڑھ جاتا ہے۔ بہرحال میرے نزدیک یہ دونوں طریق اُس کے خاوند نے غلط اختیار کیے ہیں۔ اُس کو خاموش کرانے کی کوشش کرنا بھی غلط تھا اور اسے یہ دلیل دینا کہ وہ بادشاہ ہیں یہ بھی غلط ہے۔ اگر واقع میں وہ اعتراض غلط تھا تو اُس کو دلیل کے ساتھ غلط ثابت کرنا چاہیے تھا اور اگر اعتراض ضد کی بناء پر تھا تو پھر ڈانٹنے کا کیا مطلب۔ "جواب جاہلاں باشد خموشی"۔ وہ خاموش ہی ہو جاتا۔ اور اگر یہ اعتراض درست تھا تو پھر خاوند کو چاہیے تھا کہ وہ خود یہ اعتراض مجھے پہنچاتا نہ یہ کہ اُس اعتراض پر بیوی کو ڈانٹتا۔ ہمیں تو شکایت ہی یہ ہے کہ آجکل مردوں اور عورتوں کا ایمان بھیڑ چال کا رنگ رکھتا ہے۔ عورت مرتد ہوتی ہے تو ساتھ ہی مرد بھی مرتد ہو جاتا ہے اور مرد اِرتداد اختیار کرتا ہے تو ساتھ ہی عورت بھی مرتد ہو جاتی ہے۔ یہ کوئی ایمان نہیں۔ صحابہؓ میں ہمیں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگر کوئی مثال ملتی ہے تو یہ کہ مرد اگر غلط بات کہتا ہے تو بیوی اَڑ جاتی ہے اور اگر بیوی غلط بات کہتی ہے تو خاوند اَڑ جاتا ہے۔
    دیکھو یہ کیسی شاندار مثال ہے جو صحابہؓ کی زندگی میں ہمیں نظر آتی ہے کہ ایک نوجوان کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ پردہ کا حکم اُس وقت نازل ہو چکا تھا۔اُس نوجوان نے چاہا کہ وہ لڑکی کی شکل بھی دیکھ لے مگر چونکہ پردہ کا حکم نازل ہوچکا تھا لڑکی کے باپ نے اُس کو ناپسند کیا اور کہا کہ شادی کرو یا نہ کرو مَیں تمہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اُس نوجوان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ یارسول اللہ! مَیں فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور تو سب باتیں مجھے پسند ہیں صرف مَیں لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں مگر لڑکی کا باپ اجازت نہیں دیتا۔ آپ نے فرمایا ہاں شادی کی غرض سے لڑکی کو دیکھ لینا جائز ہے۔ تم میری طرف سے یہ کہہ دو۔ اُس نوجوان نے لڑکی کے باپ سے جا کر یہ بات کہہ دی مگر اُس نے کہا مجھ سے تو یہ بے غیرتی برداشت نہیں ہو سکتی۔ لڑکی پردے کے اندر بیٹھی ہوئی یہ باتیں سُن رہی تھی۔ جب اُس نے یہ بات سُنی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو شکل دیکھنے کی اجازت دی ہے مگر میرا باپ اِس پر رضامند نہیں تو وہ خود پردہ اُٹھا کر باہر آ گئی اور کہنے لگی۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جاؤ اور لڑکی کو دیکھ لو تو میرے باپ کا کیا حق ہے کہ وہ اِس میں روک بنے۔ لو مجھے دیکھ لو۔ مَیں سامنے کھڑی ہوں۔1 دیکھو وہ اُس کا باپ تھا اور وہ اُس کے گھر میں پل رہی تھی۔ مگر پھر بھی اُس نے دین کے معاملے میں اپنے باپ سے اختلاف کر لیا۔ یہ خیال درست نہیں کہ پُرانے زمانہ میں لڑکیاں شادی کے موقع پر بول پڑا کرتی تھیں حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اِس زمانہ میں لڑکیاں شادی کے موقع پر خاموش رہتی ہیں اِسی طرح پرانے زمانے میں بھی خاموش رہا کرتی تھیں۔ اِسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رَضَائُ ھَا سُکُوْتُھَا2 اُس کی خاموشی ہی اُس کی رضا ہے۔ مگر باوجود اِس کے کہ شریعت نے اِس معاملہ میں اپنے حکم کے معنی بدل دئیے ہیں اور لڑکی کی خاموشی کو اُس نے رضا قرار دے دیا ہے۔ پھر بھی جب دین کا معاملہ آیا لڑکی دلیری سے باہر نکل آئی اور اُس نے کہا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لڑکی کو دیکھنے کی اجازت دی ہو تو اَور کون اِس میں روک بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی اور حریت ہی ایسی چیزیں ہیں جو سچا ایمان پیدا کر سکتی ہیں۔ اگر یہ حریت حاصل ہو تو نہ عورت کے ساتھ خاوند مرتد ہو سکتا ہے اور نہ خاوند کے ساتھ عورت مرتد ہو سکتی ہے۔ یہی ایمان ہے جو لوگوں کو پختہ کار بناتا ہے اور جس کے ہوتے ہوئے کسی قسم کا ابتلاء نہیں آ سکتا۔ ہر شخص اپنے ایمان پر کھڑا ہو گا۔ یہ نہیں ہو گا کہ خاوند بیوی کے ایمان پر کھڑا ہو اور بیوی خاوند کے ایمان پر کھڑی ہو۔
    اِس خاتون نے جو اعتراضات لکھے ہیں وہ یہ ہیں کہ "خاندان کی عورتیں سادہ زندگی بسر نہیں کرتیں۔ خود کام نہیں کرتیں بلکہ گھروں میں انہوں نے نوکر رکھے ہوئے ہیں۔ گوٹہ کناری سے دوسروں کو منع کیا جاتا ہے مگر خود گوٹہ کناری استعمال کی جاتی ہے، سواری استعمال کرتی ہیں، لجنہ کی کلرک ہیں وہ خود کام نہیں کرتیں۔ جہاں تک سادہ زندگی کا تعلق ہے یہ ایک نسبتی لفظ ہے۔ ہم سادہ زندگی کی کوئی ایک تعریف نہیں کر سکتے۔ مثلاً سادہ زندگی میں پہلے کھانا آتا ہے۔ کھانے کے متعلق ہم نے یہ اصول مقرر کیا ہوا ہے کہ ایک کھانا ہو۔ اس کے متعلق اس خاتون سے بہرحال مَیں زیادہ واقف ہو سکتا ہوں کیونکہ مَیں روزانہ گھر میں کھانا کھاتا ہوں۔ اور یہ بھی لازمی بات ہے کہ اگر گھر میں ایک سے زیادہ کھانے پکے ہوں تو عورت اپنے خاوند کے آگے ہی وہ کھانے رکھتی ہے۔ مگر جہاں تک میرا علم ہے ہمارے گھروں میں ایک ہی کھانا پکتا ہے سوائے بیمار کے۔ مثلاً بیمار کو بے مرچ سالن چاہیے۔ اب سب گھر والوں کو تو بے مرچ سالن نہیں دیا جاسکتا۔اگر کسی بیمار کے لیے بعض دفعہ بے مرچ سالن بھی تیار ہو جائے تو اس کو دو کھانے نہیں کہہ سکتے۔ یا مثلاً کسی کو پیچش ہو اور اُس کے لیے خشکہ پک جائے تو یہ بھی دو کھانے نہیں ہوں گے کیونکہ روٹی اَور نے کھانی ہے اور خشکہ اَور نے کھاناہے۔ پچھلے دنوں مجھے پیچش کی شکایت رہی ہے۔ اِس لیے میرے لیے ساگودانہ الگ پکتا رہا ہے کیونکہ اطباء نے لکھا ہے کہ پیچش میں ساگودانہ وغیرہ چیزیں استعمال کرنی چاہییں تا کہ انتڑیوں میں لزوجت3 پیدا ہو اور زخم جلدی مندمل ہو سکیں۔ ایک بچہ تو ساگودانہ پر گزارہ کر سکتا ہے مگر بڑا ٓدمی گزارہ نہیں کر سکتا۔ اِس لیے علاوہ ساگودانہ کے خشکہ شوربا یا خشکہ دال بھی پکانا پڑتا ہے۔ یا بعض دفعہ اطباء اسبغول تجویز کرتے ہیں مگر اُس کو بھی دوسرا کھانا نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال جہاں تک کھانے کا سوال ہے مَیں گواہی دے سکتا ہوں اور باورچی خانہ والے بھی گواہی دے سکتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ہمیشہ ایک کھانا تیار ہوتا ہے سوائے اس کے کہ غلطی سے کوئی شخص اَور نتیجہ نکال لے۔ مثلاً ہمارے باورچی خانہ میں سات آٹھ گھروں کے کھانے پکتے ہیں۔ میرے بہنوئی ہیں، بہنیں ہیں، بھائی ہیں، بھتیجے ہیں چونکہ سب کے کھانے ایک ہی جگہ تیار ہوتے ہیںاِس لیے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص غلطی سے یہ سمجھ لے کہ یہ سب کھانے ایک گھر کے لیے ہیں حالانکہ وہ الگ الگ گھروں کے لیے تیار ہوتے ہیں اور الگ الگ افراد اُن کے اخراجات کے ذمہ دار ہیں۔ بہرحال ہمارے گھر میں صرف ایک کھانا پکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔
    باقی رہا لباس کا سوال سو لباس آجکل جس قدر گراں ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ دو دو اڑھائی اڑھائی روپے میں آجکل لٹھے کا ایک گز آتا ہے۔ اِس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ لباس میں تعیّش یا آرائش کا خیال بہت بڑی رقم کے ساتھ ہی کیا جا سکتا ہے اور رقم جو مَیں دیتا ہوں اُس کا علم بھی مجھ کو ہی ہو سکتا ہے اور مَیں سمجھ سکتا ہوں کہ اُس رقم میں سے کس حد تک اخراجات کیے جا سکتے ہیں۔ جنگ سے پہلے مَیں اپنی بیویوں کو پندرہ روپے ماہوار دیا کرتا تھا (یہ بھی قریب کی بات ہے ورنہ شروع میں سات روپے ہی ماہوار کپڑے اور دوسرے اخراجات کے لیے دیا کرتا تھا) لیکن جب سے جنگ شروع ہوئی ہے مَیں اپنی بیویوں کو تیس روپے ماہوار دیا کرتا ہوں۔ میری بڑی بیوی جب سے لاہور آئی ہیں وہ ساری کی ساری رقم انجمن میں بھیج دیتی ہیں اور اُن کے پاس صرف صفر رہ جاتا ہے۔ اب وہ خاتون خود ہی سوچیں کہ صفر میں کتنی عیاشی کی جا سکتی ہے۔ میری باقی بیویوں کے اخراجات کا بھی آسانی کے ساتھ پتہ لگ سکتا ہے۔ وصیت سب نے کی ہوئی ہے، تحریک جدید کے دفتر سے پوچھ لیں کہ وہ تحریک میں کتنا چندہ دیتی ہیں۔ پھر لجنہ اماء اللہ کا چندہ بھی دیتی ہیں۔ یہ چندہ کم از کم پندرہ روپے ماہوار جا پڑتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ روپے اُن کے پاس باقی رہ جاتے ہیں۔ اگر یہ سارے کے سارے کپڑوں پر ہی لگا دئیے جائیں تو سال میں وہ صرف چھ سات جوڑے لٹھے اور ململ کے بنا سکتی ہیں۔ اب وہ خاتون خود ہی سوچیں کہ وہ کون سی عیاشی ہے جو اِس رقم میں ہو سکتی ہے۔یہ تو مَیں نے عقلی دلیل دی ہے باقی اُن کے لباس مجھے نظر آتے ہیں۔ یہ تو نہیں کہ وہ دروازے بند کر لیتی ہیں اور صرف لجنہ کے ممبروں کو کہتی ہیں کہ آؤ اور ہمارے لباس دیکھ لو۔ سب سے زیادہ میری ہی نظر اُن کے لباس پر پڑتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے سات آٹھ ماہ میں ان میں سے ہر ایک کے لباس اتنے بوسیدہ ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس کوئی جوڑا بھی ایسا نہیں جو کئی جگہ سے سِلا ہوا نہ ہو۔اِسی وجہ سے بعض دفعہ تحفہ کے طور پر جب لٹھا یا ململ بعض دوست مجھے دے جاتے ہیں تو مَیں اُس میں سے کبھی کسی کو پاجامہ یا کوئی اَور کپڑا بنوا دیتا ہوں جس سے گزارہ ہوتا رہتا ہے۔ مگر اِس کے باوجود یہ اعتراض کیوں پیدا ہوا؟ اصل بات یہ ہے کہ بعض عورتیں انتظام اچھا جانتی ہیں اور بعض اچھا انتظام کرنا نہیں جانتی ہیں۔ اس انتظام کے اچھا یا بُرا ہونے کی وجہ سے بہت بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ اچھا انتظام کرنے والے تھوڑے روپیہ میں اچھا گزارہ کر لیتے ہیں اور ناقص انتظام والے زیادہ روپیہ میں بھی اچھا گزارہ نہیں کر سکتے۔
    پرسوں انجمن کی میٹنگ تھی۔ مَیں نے لنگر والوں سے لنگر کا حساب پوچھا۔ لنگر والے پہلے سالن میں نہ بناسپتی گھی ڈالتے تھے نہ حیوانی۔ جب مجھے معلوم ہوا تو مَیں نے اُن سے کہا کہ اِس سے تولوگوں کی صحتیں برباد ہو جائیں گی۔ کم سے کم دو چھٹانک فی سیر گھی ضرور ڈالنا چاہیے۔ پرسوں اُنہوں نے حساب بتایا کہ اِس طرح چودہ روپے مہینہ فی کس خرچ بن گیا ہے۔ مَیں نے کہا اِتنا خرچ کس طرح آ سکتا ہے؟ اِس کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ آپ نے جو فرمایا تھا کہ گھی ڈالا کرو۔ اِس وجہ سے یہ خرچ اِتنا نکلا ہے۔ یکدم مجھے خیال آیا کہ ہمارے گھر میں لنگر کی طرف سے جو بل بھیجا گیا ہے وہ اس سے کم ہے۔ قادیان میں جب ہم تھے تو ملازم بازار سے سَودا سلف لے آیا کرتے تھے لیکن جب سے لاہور آئے ہیں لنگر والے ہی سب اشیاء مہیا کرتے ہیں۔ پھر بل بنا کر بھیج دیتے ہیں۔ میری بیویاں رقعہ لکھ کر بھیج دیتی ہیں اور سودا اُنہیں لنگر والے منگوا دیتے ہیں۔ مَیں نے کہا آپ نے ابھی مجھے بل بھجوایا ہے اور اُس بل میں ہمارے گھر کا خرچ اِس سے کم دکھایا گیا ہے۔ ہمارے گھر میں3، 4 چھٹانک کے درمیان گھی پڑتا ہے اور آپ نے جو مجھے بل بھجوایا ہے اُس میں ہمارے گھر کا خرچ پونے دس روپے فی کس لکھا ہے حالانکہ ہمارے گھر کا کھانا آپ سے بہت اچھا ہوتا ہے۔ پھر آپ کا چودہ روپے کس طرح خرچ ہو گیا۔(پکا ہوا کھانا لنگر نہیں بھجواتا کہ یہ سمجھا جا سکے کہ وہ ہم سے رعایت کرتے ہیں بلکہ ہم اُن کی معرفت جنس منگواتے ہیں جس پر وہ کچھ رقم اور مزدوری وغیرہ کی لگا کر ہم کو بل دیتے ہیں۔ کھانا پکتا ہمارے گھر میں ہے)۔اُنہوں نے کہا خرچ یہی ہے ہم حساب سامنے رکھ دیتے ہیں آپ دیکھ لیں بیان کرنے والا بھی باورچی نہیں تھا کہ یہ سمجھا جا سکے کہ وہ حساب نہیں سمجھا بلکہ ملک سیف الرحمان صاحب تھے۔ یہ درست ہے کہ اُنہوں نے اپنی طرف سے کوشش کی تھی کہ صحیح حساب پیش کریں۔ مگر آخر مَیں نے اُن کی غلطی نکال لی۔ مَیں نے ان سے پوچھا کہ آپ کا خرچ کیا ہے؟انہوں نے بتایا کہ ہم 320 آدمیوں کے لیے 20 سیر گوشت پکاتے ہیں۔ گویا ایک وقت میں ایک چھٹانک فی کس جا پڑتا ہے۔ مَیں نے کہا آپ نے ہمارا خرچ 90 آدمیوں پر ڈالا ہے اور آپ کی پرچیوں سے پتہ لگتا ہے کہ دو سیر گوشت ایک وقت میں آتا ہے۔ گویا جہاں ایک سیر میں آپ 16 آدمیوں کو کھانا کھلاتے ہیں وہاں ہمارے گھر میں سیر میں 45 آدمی کھانا کھاتے ہیں۔ پھر ہمارا کھانا لنگر کی نسبت زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ لنگر کا کھانا یقینا ً ہم لوگ زیادہ دیر تک نہیں کھا سکتے۔ اصل میں نوے کا حساب تو غلط تھا۔ دراصل 70 آدمی کھانا کھاتے ہیں اور اِس طرح 45 کی بجائے 35 آدمی کھانا کھانے والے بن جاتے ہیں۔ مگر یہ بھی نصف چھٹانک فی کس سے کم بنتا ہے حالانکہ بہت سے گھر ایسے ہیں جن میں چھٹانک چھٹانک ڈیڑھ ڈیڑھ چھٹانک فی کس گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ ہمارے گھر کا کھانا دیکھ لیں تو شور مچانے لگ جائیں کہ یہ کھانا زیادہ اچھا ہے۔ اصل میں کھانا پکانے کی بہت سی جُزئیات ہوتی ہیں۔ اگر کھانا صحیح طور پر پکایا جائے، گوشت کو اچھی طرح گلایا جائے تو بہت تھوڑی سی چیز میں نہایت اچھا کھانا تیار ہو سکتا ہے۔
    مَیں ایک دفعہ راجپورہ گیا۔ میرے پاس بائیس تئیس آدمی تھے۔ گوشت سبزی وہاں نہیں ملتی بلکہ بعض دفعہ دال تک بھی میسر نہیں آتی۔ مَیں نے کہا چلو مرغی لے کر اُس کا شوربا ہی پکا لو۔ میرا خیال تھا کہ شوربا اِتنا بن جائے گا کہ وہ بائیس تئیس آدمیوں کو کافی ہو گا۔مگر مَیں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک برات آگئی اور اُنہوں نے کہا کہ ہم نکاح پڑھوانا چاہتے ہیں۔ اس برات میں 35 کے قریب آدمی تھے۔ مَیں نے اُمّ ِطاہرمرحومہ کو اندر رُقعہ لکھا کہ چیز تو یہاں ملتی کوئی نہیں اور 35 مہمان آ گئے ہیں۔ اب اِس کی تدبیر کچھ اِس طرح کرو کہ مجھے اندر بُلا لو۔ ہم سب فاقہ کر لیں گے اور اِن کو کھانا کھلائیں گے۔ انہوں نے کہا مَیں نے باورچی سے بات کر لی ہے۔ اُس نے کہا ہے کہ مَیں اِسی میں 55 آدمیوں کو بھگتا لوں گا۔ آپ کوئی فکر نہ کریں۔ مَیں اُن سے باتیں بھی کروں اور دل بھی دھڑکے اب بنے گا کیا؟ پہلے خیال تھا کہ شاید وہ نہ ٹھہریں۔ مگر چونکہ وہ دُور سے آئے تھے اِس لیے مَیں نے اُمّ ِطاہر مرحومہ سے کہا کہ غالباً وہ یہاں ٹھہریں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہی صورت ہے کہ اُن کو کھانا کھلا دو ہم سب فاقہ کر لیں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد کھانا آ گیا۔ شوربا نہایت مزیدار پکا ہوا تھا۔ ہم سب نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ اس کے بعد مَیں گھر گیا اور پوچھا کہ باہر تو گزر گئی۔ تم نے بھی کچھ کھایا یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے کھا لیا ہے۔ اب یہ اُس باورچی کا کمال تھا کہ اس نے بوٹی اور ہڈی کو اِس طرح گلا دیا کہ پانی کے اندر بھی شوربے کا مزہ آنے لگا۔ ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم جب زندہ تھے اُن کا میرے ساتھ ہمیشہ یہی جھگڑا رہتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ مَیں مان ہی نہیں سکتا کہ اتنے تھوڑے روپیہ میں گزارہ ہو سکتا ہے۔ اُس وقت ہماراسات روپیہ مہینہ فی کس ناشتہ اور کھانے پر خرچ آتا تھا۔ مجھے یاد ہے امۃ الحی مرحومہ جب تک زندہ رہیں مَیں سات روپیہ فی کس کے حساب سے خرچ دیا کرتا تھا۔ اُس وقت اُن کے بطن سے دو بچے تھے۔ تیسرا اُن کی وفات کے قریب پیدا ہوا۔ مَیں تھا، نوکر تھا پھر اوپر کے اخراجات لباس وغیرہ کے متعلق تھے مگر ان سب اخراجات کو ملا کر ہمارا بجٹ ہمیشہ 59 روپے مہینہ ہوتا تھا لیکن اعتراض کرنے والے اُس وقت بھی اعتراض کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے لکھا کہ میری بیوی کہتی ہے آپ کی بیویوں کے پاس پانچ پانچ سَو روپے کا ایک ایک جوڑا ہے۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ وہ بڑے شوق سے آ جائیں۔ مَیں اپنی بیویوں کے ٹرنک لا کر ان کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ وہ پانچ پانچ سو کے جوڑے ہمیں دیتی جائیں اور ہمارے کپڑے خود اُٹھا کر لے جائیں۔ اس طرح ہمارا ہی فائدہ ہو گا اُن کا نہیں۔ بلکہ اگر ہمارے سارے کپڑے اور جُوتیاں وغیرہ ملا کر بھی پانچ سو سے کم کے ہوئے تو اُنہیں کم از کم ایک جوڑا تو پانچ سو کا ہمیں ضرور دینا پڑے گا۔
    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے گھر میں گوٹہ کناری بھی استعمال کرنے والے ہیں مگر ایک بھی نہیں جس نے اِن دنوں گوٹہ کناری خریدا ہو۔ پھر بات کیا ہے؟ بات وہی سلیقہ اور ہُنر والی آ جاتی ہے۔ ہماری والدہ ہندوستانی ہیں اور اِس وجہ سے ہمارے ہاںدلّی کا رواج ہے اور دلّی کی عورتیں گوٹہ کناری کو ایسا سنوار کر رکھنا جانتی ہیں کہ ہماری والدہ کو اُن کی دادی کے لباس جہیز میں ملے تھے اور وہ ہم کو دکھایا کرتی تھیں بلکہ دلّی والے تو سَو سَو سال تک بھی گوٹہ لے جاتے ہیں۔ پس یہ تو ٹھیک ہے کہ ان میں سے بعض گوٹہ کناری استعمال کرتی ہیں مگر یہ گوٹہ وہی ہے جو اُن کی شادیوں پرخریدا گیا تھا۔ اُس کے بعد انہوں نے نہیں لیا یا تحریک جدید کے بعد نہیں لیا۔ گوٹہ کناری والے کپڑے ایسے ہی ہیں جو یا تو بیویوں کو بَری میںدئیے گئے تھے یا جہیز میں آئے تھے۔ ابھی چند دن ہوئے مَیں نے اپنی بڑی لڑکی ناصرہ کے جہیز کے ایک جوڑے کے متعلق پوچھا۔ اُس کی شادی 1933ء میں ہوئی تھی جس پر چودہ سال گزر چکے ہیں۔ اُس وقت مَیں نے اُس کو ایک سُنہری کام والا کپڑا خرید کر دیا تھا جو مجھے بہت پسند آیا تھا۔ مَیں نے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ جوڑا اُس کے پاس ہے؟ اُس نے کہا وہ اب تک محفوظ ہے۔ اب وہ اُس لباس کو کہیں استعمال کر لے تو یہ قابلِ اعتراض بات نہیں ہو گی۔ دیکھنے والے میں اگر عقل کا مادہ ہو تو اُسے پہلے یہ پوچھنا چاہیے کہ یہ کپڑے کب کے بنے ہوئے ہیں؟ اگر جواب میں اُسے یہ بتایا جائے کہ یہ 1934ء کے بعد کے ہیں تب تو قابلِ اعتراض امر ہے لیکن اگر وہ کہے کہ مَیں نے دیر سے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں تو یہ قابلِ تعریف بات ہو گی اور اِس بات کی علامت ہو گی کہ وہ بڑے اقتصادی دماغ رکھنے والے آدمی ہیں اور اپنی ہر چیز کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ میرا بُوٹ ہی ہے اِس کو پہنے اڑھائی سال گزر چکے ہیں حالانکہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی دوسرے مہینہ میں ہی ایڑی کُھل جاتی ہے اور وہ سلیپر بنا کر اُسے گھسیٹتے پھرتے ہیں۔ پس اگر کسی چیز کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ قابلِ اعتراض بات نہیں بلکہ قابلِ تعریف بات ہے۔
    پھر اصل سوال جو قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ مساوات کے یہ معنی ہیں کہ تمام دنیا ایک لیول پر ہو؟ یا مساوات کے یہ معنی ہیں کہ نسبتی طور پر ہر شخص قربانی کرے؟ اگر اِس کے معنی یہ لیے جائیں کہ سب لوگ ایک لیول پر ہوں تو یہ بات ایسی ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عمل نہیں کرتے تھے۔ احادیث میں ایک شخص کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ نماز پڑھایا کرتا تھا تو ننگا ہو جاتا تھا کیونکہ اُس کا کُرتہ لمبا نہ تھا۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس بھی ایسا ہی ہوتا تھا؟ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس پورا ہوتا تھا بلکہ احادیث میں یہاں تک ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جُبّہ تھا جو آپؑ خاص طور پر جمعہ کے دن پہن کر جایا کرتے تھے۔ تو مساوات کہاں رہی؟ پھر احادیث میں آتا ہے کہ آپؑ کے پاس گھوڑا، اونٹ اور خچر بھی تھے4مگر صحابہؓ میں وہ بھی تھے جن کے متعلق ذکر آتا تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اُنہوں نے کہا یارسول اللہ! ہمیں کوئی چپلی ہی دے دیں ہم جہاد میں شامل ہونا چاہتے ہیں مگر آپ نے فرمایا میرے پاس چپلی بھی نہیں۔5 اگر مساوات کے یہ معنی ہیں کہ سب کے لباس ایک جیسے ہوں تو مَیں اس خاتون سے یہی سوال کرتا ہوں کہ کیا اُس کا اور اُس کی چُوڑھی کا لباس ایک جیسا ہے؟ وہ یہی کہے گی کہ مَیں اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتی ہوں اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتی ہے۔ پھر اگر خدا کسی کو زیادہ دیتا ہے اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتا ہے تو اُس پر اعتراض کیسا؟ اب تو ہماری جائیداد کو ایک حدتک نقصان پہنچ گیا ہے۔ پچھلے ایام میں میرا چندہ آمد پر 80 فیصد ی ہوتا تھا اور یہ بھی اُس صورت میں جبکہ مجھ پر اِتنا قرض تھا اَور اتنا قرض ہے کہ دوسرے آدمی کا اُتنے قرض میں دل بیٹھ جائے۔ ایسے لوگ جن پر نسبتی طور پر اس کا دسواں حصہ بھی قرض ہوتا ہے چندہ دینے سے عموماً گریز کرنے لگ جاتے ہیں۔ مگر میں اِتنے قرض کے باوجود اپنی آمد پر 80 فیصدی چندہ دیتا رہا ہوں۔ پس سوال نسبتی بات کا ہوتا ہے۔
    بعض چیزوں کے بارہ میں بے شک اصول مقرر ہیں اور اُس میں سب برابر ہیں مثلاً ہم نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ سب لوگ ایک کھانا کھائیں۔ مگر ہم نے یہ نہیں کہا کہ صرف دال کھاؤ۔ جو گوشت کھا سکتا ہے وہ گوشت کھائے، جو بھُنا ہوا گوشت کھا سکتا ہے وہ بھُنا ہوا گوشت کھائے۔ ہزاروں احمدی ایسے ہوں گے جن کے گھر میں بُھنا ہوا گوشت پکتا ہو گا۔ ہم تو پچھلے آٹھ مہینہ سے پتلے اور لمبے شوربا پر ہی گزارہ کرتے ہیں لیکن اِس کے یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی بُھنا ہواگوشت کھاتا ہے تو یہ قابلِ اعتراض امر ہے۔ اگر ایک آدمی کے گھر کے افراد کم تھے اور اُسکے گھر کے حالات بھی اچھے تھے اور اُس نے بھنا ہوا گوشت کھایا تو یقیناً اُس نے ایک کھانا کھانے کے حکم کو پورا کر دیا۔ لیکن کئی احمدی ایسے بھی ہیں جن کو شوربا تو کیا دال بھی مشکل سے ملتی ہے۔ ایسے احمدیوں سے ہماری حالت یقیناً اچھی ہے۔ پھر کئی ایسے بھی ہیں جن کو دال بھی نہیں ملتی۔ بلکہ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جن کو دو وقت کے فاقے آتے ہیں۔ تم ساروں کے متعلق کوئی ایک قانون نہیں بنا سکتے۔ ہاں اپنی اپنی حالت کے مطابق ہر شخص سادہ زندگی اختیار کرے گا۔ دو وقت کا فاقہ کرنے والا یا وہ جس نے پھٹا پرانا لباس پہنا ہے دوسرے کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیوں سیر ہو کر کھانا کھاتا ہے یا کیوں اُس نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہیں؟۔ ہم کہیں گے کہ ایک کی آمد زیادہ ہے وہ اچھے کھانے کھاتا اور اچھے کپڑے پہنتا ہے اور دوسرے کی آمد کم ہے اس لیے وہ فاقے کرتا ہے۔ یا تن ڈھانکنے کے لیے اُس کے پاس پھٹا پرانا لباس ہے لیکن قانون کی پابندی دونوں نے کی ہے۔ یعنی ہر ایک ہی نے کھانا کھایا ہے اور گوٹے کناری پر اپنا روپیہ تحریک کے بعد ضائع نہیں کیا۔
    غرض سادگی ایک نسبتی چیز ہے اور قربانی بھی نسبتی امر ہے۔ پھر ہمارے لیے کیوں ایسا کرنا جائز نہیں؟ اگر ہم چندہ دوسروں کی نسبت زیادہ رکھیں اور ہمارا معیارِ قربانی بھی دوسروں کی نسبت زیادہ بلند ہو اور پھر ہماری حالت ہر شخص سے اچھی ہو اور بعض سے خراب تو ہم پر اعتراض کیسا؟ بہرحال تمہیں دو میں سے ایک بات ضرور ماننی ہو گی۔ شُتر مرغ کی طرح تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اونٹ بھی ہیں اور مرغ بھی۔ یا تو تمہیں اونٹ بننا پڑے گا یا مرغ۔ یہ دونوں چیزیں ایک وقت میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ یاتو یہ فیصلہ کیا جائے کہ جماعت کے غریب سے غریب آدمی کی حالت کے برابر سب کو رہنا چاہیے۔ اگر ایسا فیصلہ کیا جائے تو ہم اِنْشَاء َ اللّٰہُکسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ اور اگر یہ فیصلہ ہو کہ یہ نسبتی چیز ہے تو جو اپنے لیے قانون بناؤ گے وہی ہمارے لیے ہونا چاہیے۔ بہرحال ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ کسی کے لیے کوئی قانون ہو اور کسی کے لیے کوئی قانون۔ اگر جماعت یہ فیصلہ کرے کہ ہر امیر و غریب کو فاقہ سے رہنا چاہیے تو ہمیں اِس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔یقیناً اگر جماعت ایسا کرنا چاہے تو گو یہ غیر طبعی بات ہو گی مگر ہو گی مفید۔ دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ سوائے جنگ کے حالات کے۔ جنگ کے دوران میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اگر کسی کے پاس ایک من غلہ ہے تو ایک من غلہ لے آئے اور جس کے پاس ایک سیر غلہ ہے تو وہ ایک سیر غلہ لے آئے… اور سب مل کر کھائیں مگر عام حالات میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، نہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے ایسا کیا، نہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے ایسا کیا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایسا کیا۔ پھر بھی جماعت اگر ایسا فیصلہ کر دے تو اُس کے کئی پہلو نیک بھی ہو سکتے ہیں. لیکن اگر یہ فیصلہ ہو کہ سادگی اور قربانی دونوں نسبتی چیزیں ہیں تو ہمارے خاندان کے افراد سے بھی نسبتی قربانی کا ہی مطالبہ ہو سکتا ہے۔ اگر وہ اس سے زیادہ کریں یہ اُن کی خوش قسمتی ہو گی۔مثلاً جماعت سے مَیں نے مطالبہ کیا ہے کہ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ 50 فیصدی چندہ دیں۔ اب اگر کوئی ایسا شخص 50 فیصدی چندہ دے دیتا ہے اور پھر اُس کے پاس اتنا روپیہ بچ جاتا ہے جس سے وہ گوشت کھاتا ہے تو دال کھانے والا آدمی اُس پر یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ وہ دال کیوں نہیں کھاتا۔ یہ اعتراض اُسی وقت ہو سکتا ہے جب جماعتی طور پر یہ فیصلہ کیا جائے کہ ہر شخص دال ہی کھائے۔ تب بے شک اگر کوئی شخص دال نہیں کھاتا اور شوربا کھاتا ہے تو وہ غداری کرتا اور دھوکا بازی کا ارتکاب کرتا ہے۔
    پھر اُس خاتون نے لکھا ہے کہ خاندان کی عورتیں کام نہیں کرتیں۔ یہ بھی واقعہ کے خلاف ہے۔ اوّل تو ہر چیز کی ایک نسبت ہوتی ہے۔ میری بڑی بیوی کی عمر اِس وقت 57 سال کی ہے۔ پھر اُنہیں بلڈ پریشر(Blood Pressure ) کا مرض ہے۔ دل کی دھڑکن ہے اور استحاضہ کی بھی بیماری ہے جس میں عورت قریبُ المرگ ہو جاتی ہے۔ اب مساوات تو تبھی ہو سکتی ہے جب اُس عورت کو بھی یہی بیماریاں ہو جائیں ورنہ یہ کتنی حماقت کی بات ہو گی کہ ساٹھ سالہ عمر والی عورت کے متعلق ایک 25 سالہ عورت یہ کہنے لگ جائے کہ دیکھو مَیں یہ کام کر لیتی ہوں مگر وہ نہیں کرتی۔ اِس عمر اور اِن بیماریوں کے ساتھ اگر موازنہ کیا جائے پھر مساوات ہوتی۔ ولایت میں دستور ہے کہ گھوڑ دوڑ سے پہلے گھوڑے اور سوار کا وزن کر لیتے ہیں اور جتنی کمی ہو اُتنا بوجھ ساتھ باندھ دیتے ہیں۔ اِس طرح اعتراض تبھی صحیح ہو سکتا ہے جب اعتراض کرنے والی کی وہی عمر، وہی صحت ہو۔ یہ کیا کہ بڑی عمر اور کمزور صحت والی عورت سے وہ عورت مقابلہ کرنے کے لیے کھڑی ہو جائے جو چھوٹی عمر کی ہو اور جس کی صحت اچھی ہو اور کہے کہ مَیں کام کرتی ہوں اور وہ کام نہیں کرتی۔
    پھر یہ بھی غلط ہے کہ ہمارے گھر کی مستورات کام نہیں کرتیں۔ جب ہم قادیان سے آئے ہیں تو ہمارے گھر میں ایک لنگر جاری تھا۔ اڑھائی سَو کے قریب افراد تھے اور اُن اڑھائی سو افراد کے کھانے کا انتظام جن میں میرے بھائی، بہنیں، بھتیجے سب شامل ہیں سات آٹھ ماہ تک میری بڑی بیوی اُمِّ ناصر کے سپرد رہا۔ وہی سب کھانا پکواتی اور تقسیم کرتی تھیں۔ باقی گھر کے لوگ اگر کسی چھوٹی موٹی بات میں مدد کر دیتے تو اَور بات تھی ورنہ پکا پکایا کھانا ہی ہمیشہ اُن کے سامنے جاتا تھا۔ پھر اُنہی دنوں یہاں رتن باغ میں چودہ سَو سے زیادہ مہاجر عورتیں ٹھہری ہوئی تھیں اُن کوکون کھلاتا تھا؟ کیا لاہور کی عورتیں اُن کو آ کر کھلاتی تھیں؟ مہینوں سینکڑوں عورتیںیہاں پڑی رہیں سب عورتوں کی ہر طرح خدمت کی جاتی رہی۔ یہ خدمت ہمارے گھر کی مستورات ہی کرتی تھیں اور یا پھر مہاجرات میں سے بعض عورتیں اُن کی مدد کر دیتی تھیں۔ پس یہ کہنا کہ ہمارے گھر کی عورتیں کام نہیں کرتیں غلط ہے۔
    باقی رہا یہ سوال کہ ہماری عورتیں موٹر وغیرہ پر سواری کرتی ہیں اِس کا جواب یہ ہے کہ اگر سواری گھر میں ہو گی تو ضرور استعمال کی جائے گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سواری استعمال کرتے تھے۔ جس کو سواری نصیب ہو آخر وہ کیوں استعمال نہ کرے۔ اِس طرح وقت بھی بچ جاتا ہے اور کام بھی جلدی ہو جاتا ہے۔ مجھ پر بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مَیں موٹر میں سواری کیا کرتا ہوں۔ اگر سواری نہ کروں تو پھر کہیں گے کہ کام تھوڑا کرتا ہے۔ یہ بات تو ویسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی خاوند اپنی بیوی کے پیچھے پڑ گیا کہ جب تُو روٹیاں پکاتی ہے تو تیری کُہنیاں کیوں ہلتی ہیں؟اب یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک عورت روٹیاں بھی پکائے اور اُس کی کُہنیاں بھی نہ ہِلیں۔ اِسی طرح یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کام بھی زیادہ ہو اور اَسباب بھی مہیا نہ ہوں۔ جماعت یہ تو کہے کہ ہماری چِٹھیوں کا جواب جلدی کیوں نہیں دیا جاتا مگر اعتراض یہ کرے کہ ایک پرائیویٹ سیکرٹری اور سات آٹھ آدمی عملہ میں کیوں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بھی مطالبہ کرے کہ رُقعوں کا جواب جلدی دیا جائے اور یہ بھی کہے کہ جواب دینے والا عملہ نہ ہو یہ عقل کے خلاف بات ہے۔
    یہ جو کہا گیا ہے کہ لجنہ کی کلرک کیوں ہے؟ اِس کے متعلق یاد رہے کہ لجنہ کی ایک کلرک نہیں بلکہ دو کلرک ہیں۔ اِس طرح مَیں اعتراض کرنے والی کے اعتراض کو اَوربھی پکا کر دیتا ہوں لیکن مجھے دو پر بھی اعتراض ہے۔ مَیں قریباً سال بھر سے اپنی بیوی سے جھگڑا کر رہا ہوں کہ دو کلرک کافی نہیں ایک تنخواہ دار سیکرٹری کا بھی اضافہ کیا جائے۔ مگر اُس خاتون کو اعتراض ہے کہ ایک کلرک بھی کیوں ہے۔ اُنہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان اور امریکہ میں چار سَو لجنات پائی جاتی ہیں۔ اُن سب کا کام ایک کلرک کیسے کر سکتی ہے۔ اُس خاتون نے تو دفتر میں کبھی کام نہیں کیا۔ اُس کے خاوند نے کیا ہو گا وہ اپنے خاوند سے پوچھے کہ چار سَو ڈپٹی کمشنروں سے خط و کتابت کرنے کے لیے کتنے عملہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں پنجاب میں سولہ ڈپٹی کمشنر ہیں۔ ان سولہ ڈپٹی کمشنروں کی نگرانی کے لیے کمشنروں کے دفاتر میں کتنا عملہ رکھا ہوا ہے۔ پھر چار سو لجنات کے لیے کوئی ایک کلرک کس طرح کافی ہو سکتی ہے۔ پھر اُس خاتون نے تو غالباً تعلیم نہیں پائی اِس لیے شاید وہ اِس کی اہمیت نہ سمجھ سکیں لیکن وہ اس بارہ میں اپنے خاوند سے ہی دریافت کر لیں۔ میری بیوی ایم اے کا امتحان دے رہی ہے اور دو سال کی پڑھائی آٹھ مہینے میں کر رہی ہے۔ اُس خاتون نے خود تو کوئی امتحان نہیں دیا ہو گا۔ اُس کے خاوند اور بھائیوں نے تو ایم اے کی تیاری کی ہو گی۔ وہ اُن سے ہی پوچھ سکتی ہیں کہ اس پر کتنا وقت صَرف ہوتا ہے۔ چار گھنٹے اُن کو صرف پروفیسر پڑھاتے ہیں اور پھر پڑھائی کو یاد کرنے کے لیے بھی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ مَیں بھی اُن سے دفتر کا کام لیتا ہوں۔ اِس لیے اُن پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ وہ کام نہیں کرتیں۔
    یہ بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ آپ کی خاندان کی عورتیں لجنہ میں نہیں جاتیں۔ واقع یہ ہے کہ عورتیں اِس وقت بیٹھی سن رہی ہیں کہ یہاں دو جلسے ہو تے ہیں۔ ایک جلسہ قادیان کی لجنہ کا ہوتا ہے اور دوسرا جلسہ لاہور کی لجنہ کا ہوتا ہے۔ ابھی کچھ دن ہوئے لاہور کی لجنہ کا جلسہ ہوا۔ جب تعداد معلوم کرنے کے لیے پوچھا گیا کہ لاہور کی عورتیں کھڑی ہو جائیں تو اُس میں لاہور کی صرف پچاس عورتیں تھیں اور دو سو قادیان کی عورتیں تھیں۔ یہ لاہور کی لجنہ کا حال ہے۔ لیکن قادیان والی عورتوں کے جلسہ میں شازونادر ہی کوئی لاہور کی عورت آتی ہے۔ پس یہ اعتراض بھی غلط ہے۔
    غرض تمام باتیں جو اُس خاتون نے لکھی ہیں غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ لیکن اگر میرے اِس جواب سے بھی اُن کو تسلی نہ ہو تو صحیح طریق یہ ہے کہ وہ خاتون اپنے خاوند کو ساتھ لے کر آ جائیں ہم ٹرنک اُن کے سامنے رکھ دیں گے۔ وہ دیکھ لیں کہ ہمارے گھر میں کتنے گوٹہ کناری والے کپڑے ہیں اور وہ کب سے بنے ہوئے ہیں۔وہ کپڑوں کی قیمت کا بھی اندازہ لگا لیں۔ اگر اُن کی بیان کردہ قیمت سے وہ کم قیمت کے ہوئے تو وہ اِس کمی کو پورا کر دیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ جو چیز آسانی سے طے کی جا سکتی ہے اُس کے لیے کسی جھگڑے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اب بھی جمعہ کی نماز میں میری بیویاں آئی ہوئی ہیں اور وہ وہاں بیٹھی ہیں۔ اُن کا لباس وہ دیکھ لیں۔ دو کو مَیں نے یہ خط بتایا ہی نہیں دو کو مَیں نے بتایا ہے مگر وہ اُسی لباس میں ہی آ گئی ہیں۔ خط سننے کے بعد اُنہوں نے لباس کو بدلا نہیں اور اِس کی مَیں خود گواہی دیتا ہوں۔ اُن کے لباس کو دیکھ لیں کہ کیا یہ اعتراض درست ہے؟
    باقی رہا سنگھار کا سوال۔ سو ظاہر ہے کہ وہ سنگھار اُسی رقم میں سے کر سکتی ہیں جو مَیں اُن کو دیتا ہوں اور وہ رقم مَیں بتا چکا ہوں۔ایک کے پاس جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے صفر بچتا ہے اور صفر سے جتنا سنگھار کیا جا سکتا ہے وہ ظاہر ہے۔باقی بیویوں کے پاس بھی زیادہ سے زیادہ پندرہ روپے بچتے ہیں اور آجکل گرانی کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اِن پندرہ روپوں میں جتنا کپڑا خریدا جا سکتا ہے یا جتنی جُوتیاں خریدی جا سکتی ہیں اُس کے متعلق ہر شخص خود ہی اندازہ لگا سکتا ہے۔ آجکل تو اتنے روپیہ میں جُوتیاں بھی مشکل سے خریدی جا سکتی ہیں۔ قیمتیں اِتنی بڑھ گئی ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ دس پندرہ روپے میں ایک معمولی جُوتی آتی ہے۔ اگر دیسی جُوتی کا بھی استعمال کیا جائے تو جو جُوتی کبھی سوا روپے میں آتی تھی اب آٹھ آٹھ نو نو روپے میں آتی ہے۔ پھر تیل اور صابن وغیرہ سب چیزیں نکال کر دیکھنا چاہیے کہ ان کے پاس کیا بچتا ہے اور اُس میں سے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔
    باقی رہا ہُنر۔ سو اگر کوئی ہُنر اور سلیقہ شعاری سے کام لیتا ہے تو اُس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ قابلِ تعریف بات ہے۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کے لیے ایک بکرے کی ضرورت تھی۔ آپ نے ایک صحابی کو بلایا اور اُسے ایک دینار دے کر فرمایا کہ اس کا بکرا لے آؤ۔ وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو اُس نے کہا یا رسول اللہ! یہ بکرا بھی حاضر ہے اور دینار بھی حاضر ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا؟ کیابغیر قیمت ادا کیے لے آئے ہو؟ اُس نے کہا یارسول اللہ! یہ بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ بجائے مدینہ سے خریدنے کے میں تین چار میل باہر چلا گیا۔ وہاں ایک دینار کے دو بکرے مل گئے۔ مدینہ آ کر مَیں نے ایک بکرا ایک دینارمیں بیچ دیا۔ اب یہ بکرا بھی حاضر ہے اور دینار بھی حاضر ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سُن کر اُس صحابی کو کوئی سزا نہیں دی۔ یہ نہیں فرمایا کہ تُو بہت نالائق ہے، تُو بکرا بھی لے آیا اور دینار بھی واپس کر رہا ہے بلکہ فرمایا خدا تعالیٰ تمہارے کاموں میں برکت دے۔ پھر اُس صحابی کے کاموں میں اِتنی برکت پیدا ہوئی کہ صحابہؓ کہتے ہیں اگر وہ مٹی کو بھی ہاتھ لگاتا تو سونا بن جاتی۔ لوگ آتے اور اُس کے گھر میں روپیہ دے کر کہتے کہ کسی ایک تجارت میں ہی ہمارا حصہ ڈال لو۔ پس عقل اور سمجھ سے کام لیتے ہوئے اگر کسی کی صفائی زیادہ ہو تو بری بات نہیں اچھی بات ہے۔
    میری ایک شادی ہوئی۔ اُس بیوی کی والدہ انتظامی معاملات میں کچھ کچی تھیں۔ اُنہوں نے لڑکی کو بستر دیتے وقت ایک گدیلا بھی ساتھ رکھ دیا اور کہا کہ اگر لڑکی ایک گدیلا کہیں پھینک دے تو دوسرا استعمال کر لینا۔ اُن کی اِس بات پر اب بھی ہمارے خاندان میں ہنسی ہوا کرتی ہے۔ اُنہوں نے خیال کیا کہ جس طرح مَیں اپنی چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کی عادی نہیں اِس طرح یہ بھی ہو گی۔ ایسی حالت میں یہ گدیلا اُس کے کام آ جائے گا۔ پس ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مگر وہ بھی ہوتے ہیں جو چیز کو سنبھال کر رکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ایسی چیز خواہ کتنی ہی پرانی ہو جائے لوگوں کو اچھی نظر آتی ہے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ میرا لباس اور دوسری چیزیں عام طور پر دیر تک چلتی چلی جاتی ہیں اور پھر اِس قدر اکٹھی ہو جاتی ہیں کہ مَیں اُن کو بانٹ دیتا ہوں۔ پھر دوبارہ یہ سلسلہ اِسی طرح پر چل پڑتا ہے۔لباس کو بار بار بدلنا اور اُس کے متعلق خاص احتیاط سے کام لینا یہ مجھے پسند نہیں۔ جب مَیں ولایت گیا تو مَیں دو کوٹ بنوا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ اُن میں سے مَیں نے صرف ایک ہی استعمال کیا۔ دوسرے کو چھُوا بھی نہیں۔ دوستوں نے کہا بھی کہ اِس کا بُرا اثر پڑے گا مگر مَیں اُن سے یہی کہتا کہ یہ اِن لوگوں کے نزدیک معیوب بات ہے ہمارے نزدیک تو معیوب نہیں۔ چنانچہ جس لباس میں مَیں گیا تھا اُسی میں واپس آ گیا۔ وہاں کے لحاظ سے یہ بات معیوب ہو گی مگر یہاں کے لحاظ سے ہمیں تو بُرا لگتا ہے کہ بار بار کپڑے بدلنے پر وقت ضائع کیا جائے۔
    بہرحال پُھوہڑ پن6 قابلِ ملامت چیز ہے اور عقل قابلِ تعریف چیز ہے۔ اسراف قابلِ الزام چیز ہے اور عقل اور سمجھ سے کام لے کر چیزوں کو سنبھال کر رکھنا قابلِ تعریف چیز ہے۔ اگر کوئی شخص عقل اور سمجھ کا دروازہ بند کر کے اعتراض کرتا ہے تو اِس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ انسانی دماغ کی قیمت کو گراتا ہے اور چاہتا ہے کہ انسانی تمدن اور تہذیب پہلے سے گر جائے۔ بہرحال جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے اُس خاتون کے الفاظ پر پتہ لگتا ہے کہ اُس کے مدنظر صرف اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ اعتراضات کی اصل غرض اصلاح تھی۔ چاہے یہ اعتراضات کیسی ہی غلط فہمی پر مبنی تھے۔ اِس لیے مَیں اُس خاتون کے اس فعل کو اچھا سمجھتا ہوں اور اُس کے خاوند پر ہی الزام لگاتا ہوں کہ وہ کیوں خفا ہوا اور کیوں اُس نے ایسا جواب دیا جو اعتراض کوپکا کرنے والا تھا اسے چاہیے تھا کہ اعتراض کو بجائے پکا کرنے کے اُس کا مدلّل جواب دیتا۔ ہر شخص کو دلیل سے قائل کرنا چاہیے خواہ بیوی ہو یا خاوند۔ کسی کا کوئی حق نہیں کہ وہ دماغی افکار پر حکومت کرنا چاہے۔ دماغی افکار پر سوائے خدا کے اَور کوئی حکومت نہیں کر سکتا۔ اور خدا بھی کہتا ہے کہ مَیں ایسا نہیں کیا کرتا۔ پھر اَور کون ایساکر سکتا ہے"۔
    (الفضل 26مئی 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    ابن ماجہ ابواب النکاح باب النظر الی المرأۃ اذا اراد ان یتزوجھامیں ’’اَبَوَیْھَا‘‘کے الفاظ ہیں ۔
    2
    :
    مسند احمد بن حنبل جلد 2مسند المکثرین من الصحابہ۔ مسند ابی ھریرۃؓ میں ’’سُکُوْتُھَا رَضَاھَا‘‘ کے الفاظ ہیں۔
    3
    :
    لَزَوجت:لیس۔ چیپ۔ لُعاب۔
    4
    :
    بخاری کتاب الجھاد باب اسْمِ الْفَرَسِ وَالْحِمارِ وبا ب ناقَۃ النّبیﷺ
    5
    :
    تفسیر بیضاوی۔ سورۃ التوبہ آیت.92
    6
    :
    پُھوہڑ پن: نادانی۔ بیوقوفی۔ بے ہُنری

    آج کم سے کم مظاہرہ ایمان یہ ہے
    کہ جماعت کا ہر فرد وصیت کر دے
    چندے کی حد 25 فیصدی کی بجائے ساڑھے سولہ فیصدی
    اور 50 فیصدی کی بجائے 33 فیصدی ہو گی
    (فرمودہ28مئی 1948ء رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "ہماری جماعت باقی مسلمانوں کے ساتھ چونکہ ایک بڑے ابتلاء میںسے گزری ہے اِس لیے میرا یہ خیال تھا کہ بوجہ ایمان کی زیادتی کے، بوجہ نشانات اور معجزات دیکھنے کے، بوجہ آسمانی تائیدات دیکھنے کے اور بوجہ مرنے کے بعد کی زندگی پر کامل ایمان اور پورا یقین ہونے کے ہماری جماعت قربانی اور ایثار کے اُس درجہ پر پہنچ چکی ہو گی کہ وہ یکدم کُو د کر ایک بڑی منزل کو تھوڑے سے وقت میں طے کرے۔ لیکن تجزیہ سے معلوم ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم کے متعلق تھی کہ وہ بہت آہستہ آہستہ ترقی کرے گی وہ پیشگوئی ابھی تک جاری ہے اور ابھی جماعت میں وہ طاقت اور قوت پیدا نہیں ہوئی کہ وہ بڑی قربانیوں کے لیے یکدم تیارہوسکے۔ شاید میرا وہ الہام جو1943ء میں ہوا تھا اور اُسی وقت شائع بھی ہو گیا تھا کہ ــ’’روز جزا قریب ہے اور راہ بعید ہے‘‘۔ 1اُس کا ایک مفہوم یہ بھی تھا کہ الٰہی نشانات کے ظاہر ہونے کا وقت تو قریب آ چکا ہے مگر جماعت کے لیے اِن حالات سے فائدہ اٹھانے کی راہ ابھی بعید ہے اور ہم آہستہ آہستہ اس درجہ کے مقام تک پہنچیں گے کہ ان عظیم الشان نشانات کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو ہماری نسبت اچھی طرح پڑھ سکتا ہے۔ ہم اپنے متعلق غلطی کر سکتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ غلطی نہیں کر سکتا۔ جو وہ کہتا ہے وہی صحیح ہے اور جو اُس کا علم ہے ہمیں بہرحال اُس کے تابع چلنا چاہیے اور تابع چلنا پڑے گا۔
    غرض اِس بات پر غور کر کے اور اِس بات کو سمجھ کر اور اِس کے فوائد کی اہمیت کو محسوس کر کے کہ چند افرادِ قوم کا کوئی بڑی قربانی کر دینا اتنا شاندار نہیں ہوتا جتنا اکثر افرادِ قوم کا یا سب قوم کا اس سے کم قربانی کرنا۔ اگر قوم میں سے دو یا چار آدمی سو میں سے اسّی یا نوّے نمبر حاصل کر لیتے ہیں تو یہ جماعت کے لیے اتنا شاندار اور بابرکت نہیں ہو سکتا جتنا سَو میں سے اسّی کا چالیس یا پینتالیس نمبر لے لینا۔ مَیں اِس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جس قربانی کا مَیں نے جماعت سے مطالبہ کیا تھا اُس کی شکل بدل دوں۔ میرے نزدیک جو بات میں نے کہی تھی وہ چوٹی کی قربانی کے مطابق نہیں تھی۔ چوٹی کی قربانی یقیناً اُس سے زیادہ شاندار ہوتی ہے اور ہونی چاہیے کیونکہ جہاں تک ایمانِ کامل کا سوال ہے اِس میں کسی نسبت اور غیر نسبت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مومن کی طرف سے شرطیں نہیں ہوا کرتیں، مومن کی طرف سے حدبندیاں نہیں ہوا کرتیں۔ یہ سب چیزیں ایمان کی کمزور ی تک ہی چلتی ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوٰی کو سن کر جب مدینہ کے لوگوں نے آپ کے پاس ایک وفد بھیجا تاکہ وہ آپ کی باتیں سن کر کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں کہ آیا آپؐ صادق ہیں یا نہیں۔ اور یہ وفد مکہ میں آیا تو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے باتیں کیں اور وہ اِس نتیجہ پر پہنچا کہ آپ راستباز اور صادقُ الْقول ہیں۔ اس کے بعد وہ وفد واپس مدینہ چلا گیا اور اپنے ہم قوموں کے سامنے اُس نے اپنی تحقیقات کی رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد مدینہ کے لوگوں نے پھر ایک وفد آپ کے پاس بھیجا تا وہ باقاعدہ بیعت بھی کریں اور ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دعوت دیں کہ آپ بجائے مکہ میں ٹھہرنے کے مدینہ تشریف لے آئیں کیونکہ اُس وفد کے جانے کے بعد ایسے امکانات پیدا ہو گئے تھے کہ مدینہ والوں کا اکثر حصہ یا تمام لوگ بہت جلد مسلمان ہو جائیں۔ جب یہ وفد آیا تو اُس نے بیعت بھی کی اور اِس بات کا اظہار بھی کیا کہ ہمارا شہر آپ کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے اور ہمارے رؤسائے شہر نے ہم کو یہ اختیار دیا ہے کہ ہم آپ سے معاہدہ کریں کہ آپ مدینہ تشریف لے چلیں ہم آپ کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔ لیکن ہماری شرط یہ ہو گی کہ جب تک مدینہ پر دشمن حملہ آور ہو ہم اِس معاہدہ کے پابند ہوں گے اور آپ کی حفاظت کریں گے لیکن مدینہ سے باہر نکل کر اگر لڑائی کرنی پڑے تو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ ہم میں اتنی طاقت ہو کہ ہم باہر نکل کر دشمنوں کا مقابلہ کر سکیں۔ اس لیے اگر باہر لڑائی ہوئی تو ہم اِس بات کے پابند نہیں ہوں گے کہ اس لڑائی میں ضرور شامل ہوں۔ متفرق امور پر گفتگو کرنے کے بعد حضرت عباسؓ نے اُس وفد سے معاہدہ کیا جس میں اُنہوں نے یہ بات دُہرائی کہ ہم آپ سے یہ عہد کرتے ہیں کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمارے ملک میں آئیں گے تو جب تک آپ مدینہ میں ہوں گے ہم آپؐ کی حفاظت کے لیے اپنی جان، مال، عزت اور آبرو غرض سب کچھ قربان کر دیں گے لیکن جب آپ مدینہ سے باہر نکل کر لڑے تو ہم اِس عہد کے پابند نہیں ہوں گے۔ 2ان سب نے اقرار کیا کہ یہ ٹھیک ہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تک تو مدینہ میں جانے کا موقع پیدا نہ ہوا لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نازل ہوا اور آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد بھی دشمن نے متواتر ریشہ دوانیاں کیں اور ایک وقت ایسا آ گیا کہ مدینہ اور مکہ والوں کے درمیان لڑائی کے سامان پیدا ہو گئے جو بدر کی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اطلاع ملی کہ ابوسفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام کی طرف سے آ رہا ہے اور وہ رستہ میں تمام قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اُکساتا چلا آتا ہے۔ قافلہ کا رستہ بھی مدینہ کے پاس سے گزرتا تھا۔ ایسا قریب تو نہیں تھا مگر مکہ کی نسبت مدینہ سے زیادہ قریب تھا۔ سارے قبائل جو مدینہ کے ارد گرد رہتے تھے وہ شام سے آنے والے قافلہ سے ملتے اور تجارتی چیزوں کا آپس میں تبادلہ کرتے تھے۔ اس لیے شام سے جو قافلہ آتا تھا اُس کے تعلقات مدینہ کے تمام قبائل سے ہو جاتے تھے۔ اور چونکہ اِس قافلہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو اُکساتے اور اشتعال دلاتے تھے اِس لیے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم ہوا کہ ابوسفیان قافلہ کو لے کر مدینہ کے پاس سے گزر رہا ہے اور یہ بھی علم ہوا کہ مکہ والے بھی اِس خیال سے کہ قافلہ پر مدینہ والے حملہ نہ کر دیں کچھ لشکر لے کر نکلے ہیں تو آپ نے اپنے دوستوں سے مشورہ لیا کہ اگر ہم مدینہ میں بیٹھے رہے تو دشمن دلیر ہو جائے گا۔ ہمیں آگے چلنا چاہیے تا دشمن یہ نہ سمجھے کہ ہم اُس سے ڈرتے ہیں۔ چنانچہ آپ صحابہؓ کی ایک جماعت کو لے کر مدینہ سے باہر تشریف لے گئے اور بدر کے مقام پر پہنچے۔ الٰہی کلام سے آپ کو معلوم ہو چکا تھا کہ مکہ سے ایک لشکر آ رہا ہے جس کے ساتھ اسلام کا مقابلہ ہو گا لیکن آپ کو یہ اجازت نہ تھی کہ اس خبر کو ظاہر کریں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مدینہ سے بہت کم لوگ آپ کے ساتھ گئے کیونکہ وہ اسے لڑائی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اُسے صرف جرأت کے اظہار کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے۔ بدر کے مقام کے قریب جا کر آپ نے مناسب سمجھا کہ اب یہ بات ظاہر کر دی جائے۔ آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے خدا نے کہا ہے کہ دشمن کا لشکر قریب آ گیا ہے اور بجائے اِس کے کہ قافلہ سے لڑائی ہو شاید اِسی سے لڑائی ہو جائے۔ تمہاری اِس بارہ میں کیا رائے ہے؟ مہاجرین صحابہ یکے بعد دیگرے کھڑے ہونے شروع ہوئے اور انہوں نے کہا یارسول اللہ! ہم لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن انصار نہ بولے۔ وہ اس لیے نہ بولے کہ جو فوج آ رہی تھی اُس میں مہاجرین کے بھائی، بہنوئی، سالے، چچے اور تائے وغیرہ کے بیٹے اور اِسی طرح اَور قریبی رشتہ دار تھے۔ انہوں نے خیال کیا کہ اگر ہم نے کہا ہم لڑنے کے لیے تیار ہیں تو مہاجرین سمجھیں گے کہ ہمیں اُن کے رشتہ داروں سے لڑنے کابڑا شوق ہے۔ اُن کی دلجوئی اور اپنے مہمانوں کی عزت کی وجہ سے سب انصار خاموش رہے۔ مہاجر یکے بعد دیگرے اُٹھے اور اُٹھ اٹھ کر قربانی کی رغبت، ایثار اور فدائیت کے جوش کا اظہار کرتے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر صحابی کی تقریر کے بعد فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو ۔جب متواتر آپ نے یہ بات دہرائی تو ایک انصاری اٹھے اور انہوں نے کہا یارسول اللہ! آپ کو مشورہ تو دیا جا رہا ہے لیکن باوجود مشورہ پیش کیے جانے کے آپ یہی فرماتے ہیں کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ شاید آپ کی مُراد لوگوں سے ہم انصار ہیں کہ ہم مشورہ دیں۔ ورنہ مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے میری یہی مراد تھی۔3 پھر اس صحابیؓ نے کہا یا رسول اللہ! ہم نے آپ سے مکہ میں ایک بیعت کی تھی اور اقرار کیا تھا کہ اگر دشمن مدینہ میں حملہ آور ہوا تو ہم ہر طرح سے اُس کا مقابلہ کریں گے۔ لیکن مدینہ کے باہر اگر لڑائی ہوئی تو ہم اس معاہدہ کے پابند نہیں ہوں گے کیونکہ ہمارے اندر اِتنی طاقت نہیں کہ سارے عرب سے لڑ سکیں۔ شاید آپ جو بار بار ہم سے مشورہ چاہتے ہیں تو آپ کا اشارہ اُس معاہدہ کی طرف ہے۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اُس انصاری نے یہ بات سن کر بڑے جوش سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ! جب آپؐ سے ہم نے مکہ میں وہ معاہدہ کیا تھا اُس وقت تک ایمان ہم پر پوری طرح روشن نہیں ہوا تھا۔ صرف ایک محدود روشنی ہمیں ملی تھی اور ہم شرطیں باندھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے لیکن یارسول اللہ!اس کے بعد حقیقتِ اسلام ہم پر پوری طرح کھل گئی ہے اور آپ کی صداقت کو ہم نے پوری طرح پرکھ لیا ہے۔ اس صداقتِ اسلام کے روشن ہو جانے اور پرکھنے کے بعد کیا اب بھی کوئی شرط باقی رہ سکتی ہے؟ اب توشرطوں کا کوئی سوال ہی نہیں۔یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ تم اپنے گھوڑوں اور سواریوں کو سمندر میں ڈال دو (اُس جگہ کے قریب چند منزل پر سمندر تھا اور عرب سمندر سے بڑا ڈرا کرتے تھے) تو ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۔ اور یارسول اللہ! اگر یہاں جنگ ہوئی تو دشمن گو بہت طاقتور ہے اور تعداد میں بہت زیادہ ہے مگر ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔ خدا کی قسم! دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔4
    تو دیکھو جب ایمان کے اعلیٰ مقام پر انسان پہنچ جاتا ہے تو سب شرطیں ختم ہو جاتی ہیں۔ جان، مال یا اَور کسی قسم کی شرط باقی نہیں رہ جاتی۔ اُس وقت کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کہ ہم نے جان دینے کا وعدہ کیا تھا مال دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ یا ملک میں رہنے کا وعدہ کیا تھا، ہجرت کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ دن کو کام کرنے کا وعدہ کیا تھا رات کو کام کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ کامل ایمان حاصل ہو جانے کے بعد اور اُخروی زندگی پر پورا یقین ہو جانے کے بعد کوئی شرط نہ صرف پیدا نہیں ہوئی بلکہ شرط کی طرف ایک اشارہ کرنا بھی مومن اپنی بدترین ہتک سمجھتا ہے۔ اگر اُس کے سر پر دو سو جُوتا بھی مار لیا جائے تو وہ اتنا بُرا نہیں سمجھے گا جتنا وہ اس بات کو برا سمجھے گا کہ کوئی اُس کی طرف یہ بات منسوب کرے کہ اُس کا ایمان شرطی ہے۔ کیونکہ ایمان کے ساتھ شرط کے معنی پورے تقویٰ اور آنکھیں کھل جانے کے بعد بے ایمانی کے ہوتے ہیں اَور کچھ نہیں۔ بے شک کمزور ایمان کا آدمی شرطیں بھی لگاتا ہے اور وہ شرطیں اُسے بے ایمان نہیں بناتیں۔ جس طرح مدینہ کے لوگوں نے شرطیں کیں اور وہ ایمان پر قائم رہے۔ مگر اُن کے ایمان پر قائم رہنے کی یہ وجہ نہیں تھی کہ شرط ایمان میں جائز ہے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان پر ابھی ایمان کی حقیقت نہیں کھلی تھی۔ جیسے ایک چھوٹا بچہ اگر ماں باپ کی گود میں پیشاب کر دے تو وہ بے ادب نہیں کہلاتا۔ اُس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ادب کی حقیقت اُس پر کھلی نہیں ہوتی۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ مَیں جب چھوٹا بچہ تھا تو ماں باپ کی گود میں پیشاب کر لیا کرتا تھا اس لیے مَیں حق رکھتا ہوں کہ اُن کی گود میں اب بھی پیشاب کر دوں۔ یا بچپن میں ماں باپ بچوں کو سر پر بٹھا لیتے ہیں مگر تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مَیں چونکہ بچپن میں اپنے ماں باپ کے سر پر بیٹھا کرتا تھا اس لیے اب بھی مَیں اُن کے سروں پر بیٹھوں گا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم بچپن میں ایک فعل کو جائز سمجھتے ہیںلیکن بڑے ہو کر اس فعل کو ناجائز سمجھنے لگ جاتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ بچپن میں اگر تم اپنے ماں باپ کی گود میں پیشاب کر دیتے تھے تودیکھنے والے تم پر کسی قسم کا عیب نہیں لگاتے تھے لیکن اب اگر تم ایسا کرو تو ہر شخص تمہیں بے ادب اور بے حیاء کہے گا؟ اِسی وجہ سے کہ فعل تو ایک ہی ہے مگر پہلا فعل اُس وقت کیا گیا تھا جب بچہ میں ماں باپ کا ادب پہچاننے کی طاقت نہیں تھی لیکن اب تمہارا دماغ اس قابل ہو گیا ہے کہ تم ماں باپ کے ادب کو پہچان سکو۔ اور چونکہ تمہارے دماغ میں اس قدر روشنی پیدا ہو چکی ہے اور حقیقت تم پر واضح ہو چکی ہے اس لیے اب وہی فعل جو پہلے جائز تھا ناجائز ہو گیا ہے۔ غرض مدینہ کے لوگوں نے شرط کی اور معاہدہ کیا کہ ہم مدینہ میں رہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔ اس قسم کی شرط کوئی اَور بھی کر سکتا ہے۔ اب بھی کر سکتا ہے اور آئندہ بھی کر سکے گا۔ مگر ایسے انسان کے منہ سے ہی یہ شرط نکل سکتی ہے جو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرے کہ مَیں ابھی مبتدی ہوں یا ابھی مؤلفۃ القلوب میں شامل ہوں کامل مومن نہیں ہوں۔ لیکن ایک ہی وقت میں اگر کوئی کہے کہ مَیں مومن کامل بھی ہوں اور اپنے ایمان کے ساتھ یہ شرط بھی لگاتا ہوں تو ایسے شخص کے پاگل یا منافق ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔
    مَیں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ جماعت ایک بڑا قدم ترقی کے لیے اٹھا سکتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ سمجھتے ہوئے کہ جماعت ابھی اُس مقام پر نہیں پہنچی کہ بِلاشرط قربانی کے لیے تیار ہو جائے یہ تحریک کی تھی کہ اب بڑی مصیبت کے نازل ہونے کے بعد جبکہ ہماری جماعت کی جائیدادیں مکان کی صورت میں بھی اور نقد روپیہ کی صورت میں ضائع ہو چکی ہیں اور باہر اور قادیان میں ہمارے اخراجات بڑھ گئے ہیںجماعت کے افراد 25 فیصدی سے لے کر 50 فیصدی تک چندہ دیں۔ مگر اِس مجلس میں شریک ہونے والوں میں سے چند افراد کے سوا باقی جماعت نے اِس میں کوئی حصہ نہ لیا۔ لیکن اس تحریک کو مَیں نے جاری رکھا اور یہ تحریک مختلف ذرائع سے کی جاتی رہی۔ کیونکہ میرا یہ تجربہ ہے کہ جماعت کے اکثر افراد کے دلوں میں ایمان موجود ہے۔ گو وہ کمزور ہی سہی ایسا ہی سہی۔ جیسے بجلی کے بڑے بڑے قمقموں کے مقابلہ میں مٹی کے تیل کا ایک چھوٹا سا دیا ہوتا ہے، لیکن ہے ضرور۔ مَیں نے سمجھا کہ متواتر تحریک کے نتیجہ میں جماعت کا ایک حصہ ضرور اِس پر عمل کرے گا۔ گو مَیں یہ سمجھتا تھا کہ جماعت ایمان کے اس مقام پر نہیں پہنچی کہ اُس کا سو فیصدی یا ایک معتدبہ حصہ اِس میں حصہ لے۔ چنانچہ متواتر تحریک کے نتیجہ میں بہت سے لوگ جنہوں نے پہلے اِس تحریک میں حصہ نہیں لیا تھااب انہوں نے بھی حصہ لینا شروع کردیا ہے اور شاید اب سینکڑوں تک ایسے لوگوں کی تعداد پہنچ گئی ہو جنہوں نے 25 سے 50 فیصدی تک چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن جماعت کی تعداد لاکھوں کی ہے ہزاروں کی بھی نہیں۔ اِس لیے سینکڑوں کا لفظ ہمارے لیے کسی قسم کی خوشی کا موجب نہیں ہو سکتا۔ بہرحال یہ تحریک بڑھ رہی ہے اور مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر اِسے جاری رکھا جائے تو یہ سینکڑوں سے نکل کر ہزاروں تک پہنچ جائے گی ۔لیکن جیسا کہ مَیں نے شروع میں بتایا ہے میری رائے ہے کہ بعض افراد کا زیادہ سے زیادہ قربانی کرنا اِتنا خوش کُن نہیں ہو سکتا جتنا زیادہ سے زیادہ افراد کا تھوڑی قربانی کرنا۔ گو تجربہ نے بتادیا ہے کہ جماعت متواتر تحریکات کے نتیجہ میں اپنے اخلاص میں ترقی کرتی ہے اور کرتی چلی جائے گی۔ پہلے اگر روکیں پیدا بھی ہوں تو آہستہ آہستہ وہ روکیں دُور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اِس تحریک کے شروع میں بھی روکیں پیدا ہوئیں لیکن وہ روکیں آہستہ آہستہ دور ہو رہی ہیں اور لوگوں میں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ لیکن اس رفتار کو دیکھ کر مَیں ڈرتا ہوں کہ اِس کے نتیجہ میں زیادہ تر جماعت ثواب سے محروم رہ جائے گی۔ اِس لیے غور کرنے پر مَیں نے اِس سکیم میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں جن کا مَیں آج اعلان کر دیناچاہتا ہوں۔ وہ تبدیلی یہ ہے کہ بجائے 25 فیصدی کے ساڑھے سولہفیصدی اور بجائے 50 فیصدی کے 33 فیصدی رکھی جائے۔ اِس میں وہ تمام چندے شامل ہوں گے جو اس وقت تک سلسلہ کی طرف سے عائد ہیں۔ مثلاً تحریک جدید کا چندہ،جلسہ سالانہ کا چندہ ،نئے مرکز کا چندہ، انجمن کا چندہ۔ لیکن شرط یہ ہو گی کہ اِس تحریک سے ستمبر والی تحریک کے پہلے جو چندہ کوئی شخص دیتا تھا اس سے یہ چندہ کم نہ ہو۔ مثلاً اگر 1946ء یا 1947ء میں کسی نے کوئی وعدہ کیا تھا اور اُس وعدہ کے مطابق سوائے حفاظتِ مرکز کے چندہ کے، تحریک جدید اور دوسرے چندوں کو مِلا کر اُس کا چندہ ساڑھے سولہ فیصدی سے زیادہ ہوجائے تو اُسے زیادہ دینا پڑے گا۔ اور اگر کم ہو تو اُتنا چندہ ہی کافی سمجھا جائے گا۔ حفاظتِ مرکز کے چندہ کے لیے جو تحریک کی گئی تھی چونکہ وہ رقم بڑی بھاری ہے اِس لیے شرط یہی ہو گی کہ اگر کوئی شخص 25 فیصدی چندہ دیتا ہے تو چندہ حفاظتِ مرکز اس میں شامل ہو گا لیکن 25 فیصدی تک اگر چندہ نہیں دیتا تو حفاظتِ مرکز کا چندہ اس میں شامل نہیں ہو گا۔ ساڑھے سولہ فیصدی میں سے تمام چندوں کو نکال کر جو روپیہ باقی بچے گا اُسے علیحدہ ریزور رکھا جائے گا۔ مثلاً ایک شخص کا چندہ 15 فیصدی بنتا ہے تو اُس میں سے ڈیڑھ فیصدی ریزرو فنڈ میں شامل کر دیا جائے گا۔ اور اگر بارہ فیصدی بنتا ہے توساڑھے چار فیصدی ریزرو فنڈ میں شامل کر لیا جائے گا۔ اور اگر دس فیصدی بنتا ہو تو ساڑے چھ فیصدی ریزرو فنڈ میں شامل کر دیا جائے گا۔ حفاظت مرکز کی اِس سال کی تحریک کے ختم ہونے کے بعد آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اُس وقت تک اسے جاری رکھا جائے گا جب تک ہمیں قادیان واپس نہیں مل جاتا بلکہ قادیان کے مل جانے کے بعد بھی اِس تحریک کو چند سالوں تک جاری رکھنا پڑے گا۔ بہرحال اِس سال جو تحریک کی گئی ہے اُس کا ادنیٰ درجہ ساڑھے سولہ فیصدی ہو گا اور اوپر کا درجہ 1/3 تک کا۔ بشرطیکہ کسی کے پچھلے موعودہ چندوں کی مقدار ساڑھے سولہ فیصدی سے زیادہ نہ ہو جاتی ہو۔ ایسی صورت میں وہ اپنے موعودہ چندہ کے مطابق چندہ دے گا۔
    اِس کے علاوہ اِس وقت میرے نزدیک کم سے کم تحریک یہ ہونی چاہیے کہ جماعت کا ہر فرد وصیت کر دے۔ دنیا میں ہر چیز کے مظاہرے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ ہمارے ہاتھ سے قادیان نکل جانے کی وجہ سے دشمن کی نظریں اِس وقت تک اِس طور پر اِس امر کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ بہشتی مقبرہ اِن کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے جس کے لیے یہ لوگ وصیت کیا کرتے تھے۔ اب ہم دیکھیں گے کہ یہ لوگ کیسے وصیت کرتے ہیں۔ اِس اعتراض کو ردّ کرنے کا ہمارے پاس ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہر احمدی وصیت کر دے اور دنیا کو بتا دے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں پر جو ایمان اور یقین حاصل ہے وہ قادیان کے ہمارے ہاتھ سے نکلنے یا نہ نکلنے سے وابستہ نہیں بلکہ ہم ہر حالت میں اپنے ایمان پر قائم رہنے والے ہیں۔ یہ کم سے کم مظاہرۂ ایمان ہے جس کی اِس وقت تم سے امید کی جاتی ہے۔ پس جو شخص ساڑھے سولہ فیصدی بھی نہیں دے سکتا مَیں سمجھتا ہوں اُس کے لیے کم از کم اِس قدر ایمان کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے کہ وہ وصیت کر دے اور کوشش کریں کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جس نے وصیت نہ کی ہو۔اگر اِس تحریک کو پورے زور سے جاری رکھا جائے تو دشمن کا منہ خودبخود بندہوجائے گا اور وہ کہے گا کہ اِن لوگوں میں ایمان کی سچی علامت پائی جاتی ہے۔ پس ہر شخص کو چاہیے کہ وہ وصیت کر دے اور اِس طرح دنیا کو بتا دے کہ قادیان کے نکلنے سے ہمارا ایمان کمزور نہیں ہوا بلکہ ہم اپنے ایمان میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ مقبرہ بہشتی کے وعدے دنیا کے ہر گوشہ میں ہم کو ملتے رہیں گے۔
    ایک بات مَیں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ چونکہ اِس کا تعلق صدر انجمن احمدیہ سے ہے اور دفاتر میں عام طور پر رقابت پائی جاتی ہے۔ اِس لیے اِس بارہ میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ صدر انجمن ا حمدیہ میں جماعتوں اور افراد کی طرف سے اِس تحریک کے سلسلہ میں جو روپیہ آ رہا ہے اس میں تحریک جدید کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے مگر صدر انجمن احمدیہ خاموشی سے اِس روپیہ کو اپنے خزانہ میں ڈال لیتی ہے۔ تحریک جدید والوں کو اُن کا چندہ ادا نہیں کرتی۔ پس چونکہ اِس قسم کے خدشات موجود ہیں اِس لیے مَیں یہ قانون مقرر کرتا ہوں کہ ہر شخص کی طرف سے صدر انجمن احمدیہ کو جوچندہ ملتا ہے اُس سے زیادہ کی وہ مالک نہیں ہو گی جتنا کوئی پہلے چندہ دیا کرتا تھااُ سی نسبت سے صدر انجمن احمدیہ کو چندہ ملے گا۔ باقی روپیہ میں اگر تحریک جدید کا چندہ شامل ہو گا تو وہ حصہ تحریک جدید کو ملے گا۔ حفاظتِ مرکز کا چندہ شامل ہو گا تو اُتنا حصہ حفاظت ِمرکز کو ملے گا ۔اور جو کچھ باقی بچے گا اُسے مَیں اپنے اختیار سے سلسلہ کے مختلف محکموں میں تقسیم کروں گا۔ وہ رقم صدر انجمن احمدیہ کی ملکیت نہیں ہو گی۔ صدر انجمن احمدیہ کا حصہ صرف اُتنا ہی ہو گا جتنا اُسے پہلے ملا کرتا تھا لیکن بہرحال صدر انجمن احمدیہ کے پاس عذر ہوتا ہے کہ چندہ آیا، بھیجنے والے نے کوئی خاص وضاحت نہیں کی تھی اِس لیے ہم نے اُسے اپنے خزانہ میں داخل کر لیا۔ اگر چندہ بھیجنے والا واضح کر دیتا تو ایسا نہ ہوتا۔
    پس مَیں جماعت پریہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص فتنہ سے بچنا چاہتا ہے اور آئندہ خط و کتابت کی اِس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کا خواہش مند ہے تو تحریک جدید والوں کو بھی لکھ دینا چاہیے کہ اتنا چندہ مَیں دیا کرتا ہوں۔ اِس میں اتنا حصہ تمہارا ہے باقی ریزرو فنڈ میں شامل کر دیا جائے اور اسے خلیفۃ المسیح کے حکم کے ماتحت خرچ کیا جائے۔ جو لوگ ایسا نہیں کریں گے اُنہیں زائد چندوں میں الگ حصہ لینا پڑے گا۔ مثلاً نئے مرکز کی تحریک ہو تو لازمی طور پر اُس کا الگ وعدہ لیا جائے گا۔ لیکن میرا منشا یہ ہے کہ سردست عام چندوں اور تحریک جدید کے چندوں کو کاٹ کر جو کچھ بچے اُسے ریزرو رکھا جائے۔ مگر یہ ایسی صورت میں ہو سکتا ہے جب چندہ دینے والا صدر انجمن احمدیہ کو اور مقامی سیکرٹری کو اطلاع دے دے کہ پہلے میرا چندہ اِتنا تھا اب مَیں اِتنا دوں گا۔ اِس میں سے اِتنی ریزور فنڈ کی رقم ہو گی جو محفوظ رہنی چاہیے اور اِتنی تحریک جدید کی ہو گی ورنہ وہ ساری رقم صدر انجمن احمدیہ کے عام چندوں میں داخل کر لی جائے گی اور اُسے نئے سِرے سے چندہ دینا ہو گا یا صدر انجمن احمدیہ سے جھگڑا شروع کرنا پڑے گا۔ اب تک یہی ہو رہا ہے کہ جو رقم آتی ہے صدر انجمن احمدیہ اُسے اپنے کھاتہ میں جمع کر لیتی ہے۔ جب تحریک جدید نے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا تو اِن کو مشکل پیش آ گئی۔ اور اِس سے زیادہ مشکل اُن لوگوں کو ہو گی جنہوں نے چندہ دیا ہے۔ دفتر والے مانگیں گے وہ کہیں گے کہ ہم نے چندہ دے دیا ہے مگر تحریک والے کہیں گے کہ تمہاری طرف سے کوئی چندہ نہیں آیا۔ پس ہر چندہ دینے والا ان پر یہ واضح کر دے کہ اِتنا چندہ صدر انجمن احمدیہ کا ہے ،اِتنا وصیت میں وضع کر لیا جائے، اِتنا تحریک میں دے دیا جائے اور باقی روپیہ ریزرو فنڈ میں داخل ہو ۔یا لکھ دیں کہ یہ روپیہ ستمبر کی تحریک میں جمع کرلیا جائے۔ کیونکہ یہ تحریک ستمبر 1947ء میں جاری ہوئی تھی۔ اِس لیے ریزور فنڈ کی جگہ اُس کا نام تحریک ستمبر مناسب رہے گا۔ بہرحال عام قاعدہ یہی ہو گا کہ نئے مرکز کا چندہ اُس سے وضع کر لیا جائے گا۔ مگر یہ تبھی ہو سکتا ہے جب سب دوست یہ واضح کر دیں کہ پہلے مَیں اِتنا چندہ دیا کرتا تھا اب اِتنا دوں گا اور اِس میں سے پہلے چندہ کی رقم کاٹ کر باقی روپیہ تحریک ستمبر میں داخل کیا جائے۔
    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہاری کمزوری کو دیکھتے ہوئے تخفیف کر دی ہے۔5 مَیں نے بھی یہ دیکھ کر کہ تم ابھی اُس مقام تک نہیں پہنچے جو کامل ایمان کا مقام ہوتا ہے اپنے مطالبہ میں تخفیف کر دی ہے۔ قرآن مجید کا مفہوم تو اَور ہے مگر کمزور ایمان والے اِس کے یہی معنے لیتے ہیں اور میں نے بھی اِنہیں معنوں میں تخفیف کی ہے۔ پس اِس تحریک کی آئندہ یہ صورت ہو گی کہ ساڑھے سولہ فیصدی سے 33 فیصدی تک چندہ دینا ہو گا۔ اور جو لوگ اِس مقام پر نہ پہنچ سکیں اُن کے لیے کم سے کم ایمان کا مظاہرہ یہ ہو گا کہ وہ وصیت کر دیں۔ کوئی مرد، کوئی عورت اور کوئی بالغ بچہ ایسا نہ رہے جس نے وصیت نہ کی ہو تادنیا کو معلوم ہو جائے کہ تم میں حقیقی ایمان پایا جاتا ہے اور قادیان کے کھوئے جانے کی وجہ سے مقبرہ بہشتی یا اُس کے نظام کے متعلق تمہیں کسی قسم کا شک و شبہ پیدا نہیں ہوا۔
    مَیں پھر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ چندہ دینے والوں کو یہ بتا دینا چاہیے کہ پہلے وہ اِتنا چندہ دیتے تھے اور اب اِتنا چندہ دیں گے۔ بعض لوگ یہ کرتے ہیں کہ میری اِس تحریک کے جواب میں چندہ وصیت کو بڑھا دیتے ہیں۔ میری تحریک کا ہرگز یہ مطلب نہیں۔ مَیں نے چندہ بڑھانے کو کہا ہے وصیت کو بڑھانے کو نہیں کہا۔ میری بات کو پورا کرنے والے آپ تبھی بنیں گے جب آپ اپنے موعودہ چندہ وصیت اور دوسرے موعودہ چندوں سے زائد رقم کو تحریک ستمبر میں جمع کرنے کی ہدایت دیں گے۔ اگر وصیت کو بڑھائیں گے تو وصیت کی زیادتی کا ثواب تو ضرور آپ کو ملے گا مگر میری بات کا ثواب آپ کو نہیں ملے گا ۔مگر میری بات ماننے کی صورت میں آپ کو دو ثواب ملیں گے۔ اِسی طرح خدا تعالیٰ چاہے توہر شخص کو تحریک کا ممبر بننے کی توفیق بھی مل جائے گی۔آخر تبلیغ کا وہ وسیع سلسلہ جو تحریک جدید کے ذریعہ دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جس کے نہایت اچھے آثار اور خوش کُن نشانات نظر آرہے ہیں اُس کے متعلق کسی مومن کا دل یہ برداشت ہی کس طرح کر سکتا ہے کہ اُس میں اُس کا حصہ نہ ہو۔ ہم تو دیکھتے ہیں دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی باتوں میں بھی حصہ لینے کے لیے انسان تیار ہو جاتا ہے بلکہ اچھی باتیں تو الگ رہیں بُری سے بُری بات میں بھی حصہ لینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
    مجھے یاد ہے کہ قادیان میں ایک دفعہ ایک شخص نے کچھ بے جا الفاظ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے متعلق کہے۔ لوگوں نے اُسے مارنا شروع کر دیا۔وہ شخص ضدی تھا۔ لوگ اُسے مارتے جاتے مگر وہ یہی کہتا جاتا کہ مَیں تو یہی کہوں گا۔ لوگ اُسے پھر مارنا شروع کر دیتے اور یہ جھگڑا بڑھ گیا۔ ہم اُس وقت چھوٹی عمر کے تھے۔ ہمارے لیے یہ ایک تماشہ بن گیا۔ وہ مار کھاتا جاتا اور کہتا جاتا کہ مَیں تو یہی کہوں گا۔ لوگ اُسے مارتے۔ یہاں تک کہ وہ اُسے مار مار کر تھک گئے۔ اُن دنوں ایک غیر احمدی پہلوان حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے پاس علاج کے لیے آیا ہوا تھا۔ (آپ اُس وقت خلیفۃ المسیح نہیں تھے) اُس نے جب یہ شور سُنا تو خیال کیا مَیں کیوں اِس ثواب سے محروم رہوں۔ مجھے بھی اِس میں حصہ لینا چاہیے۔ چنانچہ وہ گیا اور اُسے بھمبیری کی طرح اُٹھا کر زمین پر دے مارا لیکن وہ گر کر یہی کہتا کہ مَیں تو یہی کہوں گا۔ ہمارے لیے یہ ایک تماشہ بن گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جب معلوم ہوا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ کیا ہماری یہی تعلیم ہے؟ دیکھو! لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں لیکن ہمارا اُس سے کیا بگڑ جاتا ہے۔ اگر اُس نے کچھ بے جا الفاظ مولوی عبدالکریم صاحب کے متعلق بھی استعمال کر دئیے تو کیا ہو گیا اَور تو اَور ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے جب یہ دیکھا توآپ وہاں گئے اور لوگوں سے کہا یہ کیا لغو بات ہے کہ تم اِس شخص کو مارنے لگ گئے ہو۔ مگر ابھی آپ یہ نصیحت کر ہی رہے تھے کہ اُس شخص نے پھر وہی الفاظ دہرائے جو اُس نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے متعلق کہے تھے۔ اِس پر میر صاحب نے خود بھی اُسے دو چار تھپڑ لگا دئیے۔
    تو بسا اوقات انسان اِس قسم کے بھی کام کر لیتا ہے جو لغو ہوتے ہیں۔ دراصل رو چلنے کی دیر ہوتی ہے۔ جب رَو چل جائے تو لوگ خودبخود اُس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ اگر ہماری جماعت میں بھی قربانی کی رَو چل جائے گی تو یہ لازمی بات ہے کہ ہر رَو اُنہیں پہلے سے اَور زیادہ آگے لے جائے گی اور یہ سلسلہ اِسی طرح بڑھتا چلا جائے گا۔ ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی رَو پیدا ہو گی اور قربانی میں ترقی کرتے کرتے تمہاری یہ حالت ہو جائے گی کہ وہی چیز جسے تم آج اپنی موت سمجھتے ہو اگر اس کے چھوڑنے کا تم سے تمہاری بیوی مطالبہ کرے گی تو تم اُس بیوی کو طلاق دینے کے لیے تیار ہو جاؤ گے۔ اگر تمہارا بچہ اِس قربانی کے خلاف مشورہ دے گا تو تم اُس بچہ کو عاق کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ گے اور وہی چیز جو آج تم کو موت سے پیچھے ہٹا دیتی ہے تمہیں سب سے زیادہ پیاری، سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ خدا کے قریب کرنے والی نظر آئے گی"۔
    خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا:
    "نماز جمعہ کے بعد مَیں کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔ پیر اکبر علی صاحب جو ہماری مجلس شورٰی کی مالی سب کمیٹی میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا کرتے تھے اور بڑے نیک اور مخلص انسان تھے فالج کے حملہ سے راولپنڈی میں فوت ہو گئے ہیں۔ آپ فیروز پور کے رہنے والے تھے اور وہاں کی جماعت کے امیر بھی رہ چکے ہیں۔
    اِسی طرح قادیان میں حافظ نور الٰہی صاحب وفات پا گئے ہیں۔ یہ بہاول پور کے رہنے والے تھے اور قادیان کی حفاظت کے لیے گئے تھے۔ کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد وہیں فوت ہو گئے۔مجھے اُن کا ذکر کرتے ہوئے اُن کی وفات کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک اَور واقعہ کی وجہ سے رقّت آگئی۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو قربانی سے گریز کرتے اور بھاگتے ہیں اور ایک وہ لوگ ہیں جوقربانی میں ہی لذت محسوس کرتے ہیں۔ حافظ نور الٰہی صاحب کا ایک ہی بچہ ہے اور وہ بھی ابھی چھوٹا اور نابالغ ہے۔ کوئی جائیداد بھی ایسی نہیں جو گزارہ کے لیے کافی ہو۔ صرف تنخواہ پر انحصار تھا جو اِن کی وفات کی وجہ سے جاتی رہی۔ لڑکیاں بھی بے شادی کے ہیں۔ بڑی لڑکی کی عمر سولہ سترہ سال کی ہے۔ وہ مجھ سے ملنے کے لیے آئی۔ حافظ صاحب کی بہن بھی ساتھ تھیں۔ اُس نظارے کا مجھ پر اب تک اثر ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ اُن کے حالات ایسے نہیں جو گزارہ کے لحاظ سے اچھے سمجھے جا سکتے ہوں۔ اس کا میری طبیعت پر اثر ہوا اور دل میں کچھ سوز پیدا ہوا۔ مَیں نے سمجھا کہ مجھے اُس لڑکی کو اور اُس کے دوسرے رشتہ داروں کو تسلی دینی چاہیے۔ لیکن اُس لڑکی نے کمرہ میں داخل ہوتے ہی کہا۔ دیکھیں جی! ہمارے ابا جی کا کیسا اچھا انجام ہوا کہ وہ خدا کی راہ میں فوت ہو گئے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہوتا ہے کہ جو انسان کو ایسی موت نصیب ہو۔ یہ ہمارے لیے کتنی خوشی کی بات ہے کہ خدا نے اُن کا کیسا اچھا انجام کیا۔ میری طبیعت پر اُس بچی کی بات کا بڑا ہی گہرا اثر پڑا۔ مَیں نے دیکھا کہ اُس کی آواز میں کسی قسم کا ارتعاش نہیں تھا، کسی قسم کا اضطراب نہیں تھا۔ جتنی دیر وہ میرے پاس رہی اطمینان سے بیٹھی رہی۔ غم کا اُس پر کوئی اثر نہیں تھا۔ اُس کی پھوپھی بھی ساتھ تھی۔ پھوپھی تو شاید غیراحمدی تھی۔ اس پر اپنے بھائی کی وفات کی وجہ سے آثار ِغم تھے لیکن لڑکی برابر اِسی رنگ میں گفتگو کرتی رہی اور گھر جا کر اُس نے جو چِٹھی لکھی اُس میں بھی یہی لکھا کہ ہماری یہ کتنی خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے باپ کو قادیان میں جان دینے کی توفیق دی ہے۔ یہ نمونہ ہے اُن لوگوں کے لیے جو قادیان جانے سے گھبراتے ہیں۔
    دوست محمد صاحب علاقہ جاجی اطلاع دیتے ہیں کہ اسلام جان صاحب کی بیوی فوت ہو گئی ہے۔ شیخ غلام حسین صاحب ریٹائرڈقانونگو اطلاع دیتے ہیں کہ اُن کی دو بچیاں فوت ہو گئی ہیں۔ قریشی عطاء اللہ صاحب کی بیوی فوت ہو گئی ہے۔ مولوی سید اختر الدین صاحب سونگڑہ والے فوت ہو گئے ہیں۔ آپ صحابی اور موصی تھے۔ غلام محمد صاحب بھینی بانگر والے اطلاع دیتے ہیں کہ اُن کی دو بچیاں فوت ہو گئی ہیں۔ جنازہ پڑھانے والا کوئی نہ تھا۔ضیاء الحق صاحب اطلاع دیتے ہیں کہ اُن کے والد حاجی نور محمد صاحب فیض اللہ چک کے رہنے والے تھے۔ گزشتہ فسادات میں شہید ہو گئے۔ آپ صحابی اور موصی تھے۔ ماسٹر عبدالعزیز صاحب نوشہرہ والے کی بیوی فوت ہو گئی ہیں۔ ماسٹر صاحب مخلص احمدی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالاحد صاحب فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ہمشیرہ زینب بیگم صاحبہ فوت ہو گئی ہیں۔ فضل حسین صاحب کی بیوی فوت ہو گئی ہے۔ جنازہ پڑھنے والا کوئی نہ تھا۔ قاضی عبدالرحیم صاحب ولد قاضی فتح الدین صاحب نواں کوٹ لاہور میں فوت ہو گئے ہیں۔ آپ مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی کے نواسہ تھے اور موصی تھے۔ حاجی محمد عبداللہ خاں صاحب یکدم بیمار ہو کر فوت ہو گئے ہیں۔آپ بڑی عمر کے تھے۔ قادیان جانے کا وعدہ کیا ہوا تھا۔ پانچ چھ گھنٹے بیمار رہ کر فوت ہو گئے۔ عبدالخالق صاحب مہتہ اطلاع دیتے ہیں کہ اُن کے بڑے بھتیجے عبدالمالک صاحب ابن شیخ عبدالقادر صاحب ابن بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی موٹر سے ٹکر لگنے کی وجہ سے فوت ہو گئے ہیں۔ مَیں نماز جمعہ کے بعد اِن سب کا جنازہ پڑھاؤں گا"۔ (الفضل 5جون1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    الفضل 27؍اپریل 1944ء صفحہ 6 ، 7
    2
    :…
    بخاری کتاب المغازی باب …الخ
    3
    :
    سیرت ابن ہشام جلد 2صفحہ 267غزوۃ بدر الکبرٰی۔ مطبع مصر 1936ء
    4
    :
    بخاری کتاب المغازی باب قصۃ غزوۃ بدر
    5
    :
    (الانفال:67)


    ہر احمدی کے امتحان کا یہ موقع ہے کہ
    اگر وہ زیادہ قربانی نہیں کر سکتا تو وصیت والی قربانی کر دے
    (فرمودہ4جون 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مَیں آ ج خطبہ جمعہ مختصر ہی پڑھنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے صبح سے سر درد کا دورہ ہے اور اس آندھی نے اِس کی وجہ بھی بنا دی ہے۔ میرے جسم میں کوئی ایسی مرض ہے کہ آندھی آنے سے مجھے سردرد شروع ہو جاتا ہے بلکہ کبھی سردرد پہلے شروع ہو جاتا ہے اور پھر آندھی آ جاتی ہے۔ شاید بجلی کی رَو کا کوئی اثر ہو۔
    مَیں نے گزشتہ ہفتہ جماعت کو اِس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ہماری ذمہ داریاں پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہیں اور ہماری قربانیاں بھی پہلے سے بہت زیادہ ہونی چاہییں۔ مَیں نے جماعت کو بتایا تھا کہ قادیان سے آنے کے بعد جو تحریک مَیں نے کی تھی کہ جماعت کے لوگ پچیس سے پچاس فیصدی تک اپنی آمدنیاں دیں یہ تحریک آہستہ آہستہ کچھ بڑھی تو سہی مگر اس نے اتنی ترقی نہیں کی کہ یہ جماعتی تحریک کہلا سکے۔ اور جب تک کوئی تحریک جماعتی تحریک نہ بنے اُس وقت تک جماعت کو اس کے نتیجہ میں برکات حاصل نہیں ہوتیں صِرف چند افراد تک وہ برکات محدود رہتی ہیں۔ اس کے بعد مَیں نے کچھ تبدیلیاں اس پہلی تجویز میں کیں اور مَیں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ہمیں اِس نئی تحریک کے دو معیار مقرر کرنے چاہییں۔ ایک تو یہ کہ جماعت کے احباب ساڑھے سولہ فیصدی اپنی آمد کا چندہ میں دیں اور دوسرا اونچا معیار یہ ہو کہ 33 فیصدی دیں۔ اس کے درمیان جتنی جتنی کسی کو توفیق ہو دے۔ مگر کم سے کم اس تحریک کے علاوہ ہماری جماعت کے ہر بالغ فرد کو خواہ وہ عورت ہو یا مرد اِس بات کا پختہ عہد کر لینا چاہیے کہ وہ جلد سے جلد وصیت کر دے کیونکہ وصیت کا سوال روپیہ کے لیے بھی ہمارے لیے ضروری ہے اور اِس لیے بھی ضروری ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں قادیان کے چُھٹ جانے اور مقبرہ بہشتی کے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے اب اِس جماعت کا تعلقِ اخلاص مقبرہ سے اُس قسم کا نہیں ہو سکتا جس قسم کا پہلے تھا۔ ہم نے اپنے مخالف کو جواب دینا ہے اور اسے بتانا ہے کہ ہمارا ایمان اِن چیزوں سے وابستہ نہیں۔ ہمارا ایمان خدا تعالیٰ کے وعدوں سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ کے وعدوں کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی خاص خطّہ سے پورے ہوں۔ یہ چیز اُن وعدوں کے پورا ہونے کی ایک ظاہری علامت تو ہے مگر باوجود اِس کے کہ یہ ظاہری علامت کچھ عرصہ کے لیے مٹ جائے یا کمزور پڑ جائے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ علامت جس چیز کی قائم مقام ہے وہ ہمیشہ زندہ رہے گی اور اُس پر ہمارا ایمان قائم رہے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وجود ایک علامت تھا اسلام کے لیے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فوت ہونے کے بعد اور اِس علامت کے غائب ہونے کے بعد اسلام سے ہمارا تعلق کمزور نہیں ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجود ہمارے اندر احمدیت کی ایک علامت تھا مگر آپ کی وفات کے بعد اور اِس علامت کے محو ہونے کے بعد احمدیت پر ہمارا ایمان کمزور نہیں ہوا۔
    مجھے یا د ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہوئے میری عمر 19سال کی تھی۔ اُس وقت جماعت کے بعض کمزور لوگ ایسے بھی تھے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات پر شُبہ پیدا ہوا کہ بعض پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور آپ کی وفات آپ کی صداقت کو مشتبہ کر دیتی ہے۔ ایسے ایک دو آدمی ہی تھے مگر میرے کان میں اُن کی باتیں پڑیں۔ گو وہ بڑی احتیاط سے باتیں کرتے تھے اور صرف اِس رنگ میں گفتگو کرتے تھے کہ لوگ کہیں گے فلاں فلاں پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اب کیا بنے گا اور دشمن کے اعتراضات کا کیا جواب دیا جائے گا؟ جب میرے کان میں اُن کے یہ الفاظ پڑے مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی لاش کے پاس گیا اور آپ کے سرہانے کھڑے ہو کر مَیں نے خدا تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا کہ الٰہی! میرا یہ یقین ہے کہ یہ شخص تیری طرف سے ہے اور تُو نے ہی اِس کو مسلمانوں کی ترقی اور اُن کے احیاء کے لیے بھیجا ہے مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ چند لوگوں کے دلوں میں اِس کی صداقت کے متعلق شبہ پیدا ہو رہا ہے۔ مَیں اِس شخص کی لاش کے سامنے کھڑے ہو کر تیرے حضوریہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ایک احمدی بھی باقی نہ رہے اور سارے کے سارے مرتد ہو جائیں تب بھی مَیں اِس تعلیم کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ بے شک ایک 19سالہ نوجوان کے منہ سے یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے اور شاید اکثر اوقات انسان ایسا عہد کچھ دنوں کے بعد بھُولنا شروع کر دیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ ایسے حالات پیدا ہوتے رہے جن میں اِس عہد کو بار بار دُہرانے اور اِس عہد کو بار بار پورا کرنے کے سامان پیدا ہوتے رہے۔ اب جبکہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے اٹھاون سال میری عمر میں سے گزر چکے ہیں اور اُنسٹھواں سال جا رہا ہے۔ پھر ایسا واقعہ پیش آیا جس نے احمدیت کو بظاہر اس کی بنیادوں سے ہِلا دیا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے پھر مجھے اِس عہد کو پورا کرنے کی توفیق بخشی اور اب بھی مَیں یہی سمجھتا ہوں کہ اگر ساری جماعت مرتد ہو جائے تب بھی اِس عمر تک پہنچ جانے کے باوجود مَیں یہ امید اور یقین رکھتا ہوں کہ پھر نئے سرے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو قائم کر دوں گا اور مَیں سمجھتا ہوں ہر مومن کے لیے یہی معیار اُس کے ایمان کے پرکھنے کے لیے ہونا چاہیے۔ جب تک ہم میں سے ہر شخص اِس معیار پر پورا نہیں اُترتا، جب تک زید اور بکر کی طرف سے اُس کی نظریں ہٹ نہیں جاتیں اور جب تک وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میرے ذریعہ سے ہی اسلام نے قائم ہونا ہے اُس وقت تک وہ حقیقی خدمت احمدیت کی نہیں کر سکتا۔
    سو اِس مصیبت کے وقت میں ہمارا فرض ہے کہ مَیں سمجھتا ہوں ہر احمدی کے امتحان کا یہ موقع ہے کہ اگر وہ زیادہ قربانی نہیں کر سکتا تو وصیت والی قربانی کر دے اور دشمن کو بتا دے کہ قادیان کے نکلنے کو ہم صرف ایک عارضی مصیبت سمجھتے ہیں ورنہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ مقام ہمارا ہے اور ہماری لاشیں وہیں دفن ہوں گی۔ میری اِس تحریک کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک رَو چلنی شروع ہو گئی ہے اور اب مَیں دیکھتا ہوں کہ روزانہ اچھی خاصی اطلاعیں ایسے لوگوں کی طرف سے آ جاتی ہیں جنہوں نے اپنی آمدنیں ساڑھے سولہ سے 33 فیصدی تک وقف کر دی ہیں یا دس فیصدی تک اُنہوں نے وصیت کر دی ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ تحریک جاری رکھی جائے تو جماعت میں جس قسم کا ایمان پایا جاتا ہے اس کے لحاظ سے شاید ایک سال کے اندر اندر ہر احمدی موصی بن جائے اور اکثر احباب اپنی آمدنیں ساڑھے سولہ سے 33 فیصدی تک وقف کر دیں۔ بعض دوست جنہوں نے اپنی آمد کا اِس سے زیادہ حصہ دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے مثلاً وہ چالیس فیصدی دیتے ہیں یا پچاس فیصدی دیتے ہیں اُنہوں نے کہا ہے کہ ہم اپنے وعدوں پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔ سو اگر وہ زیادہ چندہ دینا چاہتے ہیں تو بے شک دیں یہ امر اُن کی مرضی پر منحصر ہے مگر قانون کے لحاظ سے اُن کو اِس امر کی اجازت حاصل ہے کہ جب بھی ان میں سے کسی کو تکلیف محسوس ہو وہ اپنے چندہ کو پچاس فیصدی سے 33 فیصدی تک گرا دے یا 33 فیصدی تک وعدہ کرنے والا اس چندہ کی آخری حد یعنی ساڑھے سولہ فیصدی تک اپنے چندہ کو گرا دے۔ حالات کے مطابق دوستوں کا اپنے چندہ دینے کی نسبت کو بدل دینا بالکل جائز ہے۔ اِسی طرح حالات کے بدلنے کی وجہ سے جو بڑھا سکے اُسے بڑھا بھی دینا چاہیے۔ پس اگر کسی کو زیادہ چندہ دینے سے تکلیف پہنچ رہی ہو تو اُسے گھبراہٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ دفتر کو صرف اطلاع دے دے کہ پہلے مَیں 33 فیصدی چندہ دیا کرتا تھا اب 25 فیصدی یا بیس فیصدی یا ساڑھے سولہ فیصدی دوں گا۔ اِسی طرح اگر آج کسی نے ڈرتے ڈرتے ساڑھے سولہ فیصدی آمد دینے کا وعدہ کیا ہے مگر کل اُس کے حالات اچھے ہو جاتے ہیں یا اُس کا ایمان بڑھ جاتا ہے تو ساڑھے سولہ سے 33 فیصدی تک اپنے چندہ کو بڑھا سکتا ہے۔ اِن دو حدوں کے درمیان چکر کھانا ہر شخص کی مرضی پر رکھا گیا ہے اور چونکہ اِسے مرضی پر رکھا گیا ہے اِس لیے دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ یہ خیال نہ کریں کہ وہ 33 فیصدی سے 25 فیصدی نہیں کر سکتے یا 25 فیصدی سے بیس فیصدی نہیں کر سکتے یا بیس فیصدی سے ساڑھے سولہ فیصدی نہیں کر سکتے یا ساڑھے سولہ فیصدی سے 33 فیصدی نہیں کر سکتے، حالات کے مطابق وہ اپنے وعدوں کو اوپر نیچے کر سکتے ہیں۔ وعدہ خلافی یا کسی قسم کی بدعہدی کا اِس میں کوئی سوال نہیں۔ اگر وہ اپنے وعدہ کو حالات کی مجبوری کی وجہ سے 33 فیصدی سے ساڑھے سولہ فیصدی تک گرا دیتے ہیں تو نہ یہ بدعہدی ہو گی اور نہ وعدہ خلافی ہو گی۔ قانون ہی ایسا لچکدار رکھا گیا ہے کہ انسان ضرورت کے مطابق اپنے چندہ کو اوپر نیچے کر سکتا ہے۔ ہاں قبل از وقت اطلاع دینا ضروری ہے تا قانون شکنی نہ ہو۔
    غرض جماعت کے ایمان کے متعلق جو اظہار مَیں نے پچھلے خطبہ میں کیا تھا اِس ہفتہ نے اُس کو صحیح ثات کر دیا ہے۔ مَیں نے کہا تھا کہ جماعت میں ایمان تو ہے مگر ضرورت اُس کو اُبھارنے کی ہے اور ضرورت تدریجی رنگ میں ترقی کرنے کی ہے۔ مَیں پچھلا خطبہ دے کر گھر گیا تو کئی رُقعے مجھے اُسی وقت پہنچ گئے۔ مردوں کے بھی اور عورتوں کے بھی۔ جن میں یا تو نئی وصیتیں کرنے کی اطلاع تھی یا زائد چندہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اور مَیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ رَو متواتر بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کام کرنے والے اگر اچھی طرح کام کریں تو چھ ماہ یا سال کے اندر اندر ساری جماعت اِس معیار پر آجائے گی۔ سو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سکیم کامیاب ہو گئی ہے اور آئندہ اَور بھی کامیاب ہو گی۔ اب سوال بظاہر حالات صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ کونسی جماعت اِس تحریک میں آگے بڑھتی ہے۔ جب ہم قادیان میں ہوتے تھے تو باوجود اِس کے کہ قادیان کی جماعت زیادہ تر غرباء پر مشتمل تھی پھر بھی ہر تحریک پر وہاں کے دوست جلد سے جلد لبیک کہتے اور بڑی سرگرمی اور جوش سے اُس میں حصہ لیتے۔ جب بھی کوئی تحریک ہوتی جمعہ کے بعد سے لے کر شام تک قادیان کی جماعت کی طرف سے اِتنی لَبَّیْک آجاتی کہ حیرت آتی تھی۔ اب بھی مَیں دیکھتا ہوں کہ باوجود اِس کے کہ ہم لاہور میں ہیں زیادہ تر قادیان کے مجاہدین کی طرف سے ہی وعدے آتے ہیں۔ حالانکہ سُننے میں قادیان والے اور باہر والے دونوں برابر ہوتے ہیں۔ بہرحال ساری جماعتوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ تحریک خدا تعالیٰ کے فضل سے قبولیت کا جامہ پہن چکی ہے۔ اب جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ کچھ دیر اَور انتظار کر لیں وہ صرف اپنے ثواب میں کمی کر رہے ہیں ورنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کی تقدیر ظاہر ہو چکی ہے۔ اب اِس تقدیر سے جلد یا بدیر فائدہ اُٹھانے کا سوال ہے۔ پس مَیں تمام جماعتوں کو (کیونکہ مَیں نہیں جانتا کس کے لیے آگے بڑھنا مقدر ہے) تنبیہہ کر دیتا ہوں کہ اِس تحریک کے متعلق ایک رَو چل چکی ہے۔ اب ان کے ثواب کی زیادتی یا کمی کا انحصار اِس تحریک میں جلد یا دیر سے حصہ لینے پر ہے۔ ایک ہی رقم ہے وہ جلدی حصہ لے کر زیادہ ثواب حاصل کر سکتے ہیں اور اِس رقم سے سُستی کر کے وہ کم ثواب لے سکتے ہیں۔ مَیں امید کرتا ہوں کہ رقابت اور ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کا وہ جذبہ جو1 میں بیان کیا گیا ہے اُس کے مطابق تمام جماعت اپنے آپ کو صفِ اول میں شامل کرنے کی کوشش کرے گی"۔ (الفضل30جون 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    البقرۃ:149


    ہم صرف تبلیغ سے ہی دنیا کو فتح کر سکتے ہیں
    (فرمودہ11جون 1948ء بمقام یارک ہاؤس لٹن روڈ کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مجھے ایک دوست نے کوئی دو مہینے ہوئے لکھا کہ کوئٹہ کی جماعت دو تین سو افراد پر مشتمل ہے لیکن اس جمعہ میں جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان کا اندازہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئٹہ کی جماعت سو افراد یا اس سے کچھ کم پر مشتمل ہے کیونکہ چھ صفیں نظر آ رہی ہیں اور فی صف 19 ، 20کے قریب آدمی ہیں اور 20، 22 آدمی ہمارے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ اِس طرح مرد افراد کی تعداد سو سے بھی کم بنتی ہے اور پھر ان میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔ اگر بچے نکال دئیے جائیں تو ساٹھ ستّر کی جماعت رہ جاتی ہے۔ نہ معلوم اِس کی یہ وجہ ہے کہ افراد ہی کم ہیں یا وجہ یہ ہے کہ جمعہ کا وقت ایسا معیّن نہیں کیا گیا جس میں تمام دوست شامل ہو سکیں۔ میرے پاس ابھی ایک پیغام گیا تھا کہ دو بج گئے ہیں اور لوگوں نے دفتر جانا ہے۔ لیکن اس سے پہلے مجھے جماعت کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی کہ جمعہ کے لیے کونسا وقت مقرر ہے۔ لاہور کی جماعت تو اس بات پر مُصِرّ ہوا کرتی ہے کہ دو بجے سے پہلے جمعہ نہ پڑھایا جائے۔ وہاں جمعہ کے دن ایک بجے کے قریب چُھٹی ہو جاتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ دفتروں سے فارغ ہو کر لوگ جمعہ میں پہنچ سکیں ۔مگر یہاں یہ کہا گیا ہے کہ دو بجے سے پہلے لوگوں کو فارغ کر دیا جائے تا دو بجے کے بعد وہ دفاتر میں جا سکیں۔ مَیں نہیں کہہ سکتا کہ مجھے پیغام غلط گیا تھا یا صحیح۔اگر صحیح تھا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ یہاں جمعہ کی چُھٹی نہیں ہوتی مگر یہ عجیب بات ہے۔ لاہور میں جمعہ کے دن ایک بجے کے بعد چھٹی ہو جاتی ہے اور دوسری جگہوں میں بھی جمعہ کے لیے نصف دن کی تعطیل کی جاتی ہے۔ پھر یہاں چھٹی کیوں نہیں ہوتی؟ بہرحال یہ چیز حکومت کے اختیار میں ہے ہمارے اختیار میں نہیں۔ دراصل طریق یہ ہوتا ہے کہ ایسے اجتماعی کاموں کے لیے پہلے سے وقت مقرر کر لیا جائے اور امام کو بھی اطلاع دے دی جائے کہ لوگوں کے آنے کا یہ وقت ہو اورجانے کا یہ وقت ہو تاکہ ان دونوں باتوں کی پابندی کی جا سکے اور اس طرح لوگوں کا عہد بھی خراب نہ ہو اور بعض کے لیے دفتری مشکلات بھی پیش نہ آئیں۔
    پس آئندہ کے لیے (گو اگلا جمعہ غالباً مَیں یہاں نہیں پڑھاؤں گا کیونکہ مَیں کچھ عرصہ کے لیے سندھ جا رہا ہوں) مجھے معلوم ہونا چاہیے کہ کونسا وقت جماعت کی اکثریت کے لیے موزوں ہے؟ کس وقت جمعہ شروع کیا جائے؟ کس وقت تک یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سب لوگ جمع ہو جائیں گے اور کونسا وقت جمعہ ختم کرنے کے لیے موزوں ہے؟ جس میں یہ امید کی جا سکے کہ لوگ اپنے اپنے دفاتر میں وقت پر پہنچ سکیں گے۔
    اس کے بعد مَیں کوئٹہ کی جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے متعلق جو اثر مجھ پر ہے یا مثال کے طور پر ہمارے اس سفر کے لیے اور پھر یہاں آنے کے موقع پر جس رنگ میں جماعت نے قربانیاں کی ہیں اور دیواریں وغیرہ اپنے ہاتھوں سے بنائی ہیں اُس سے اِتنا تومعلوم ہوتا ہے کہ جماعت میں خدمت کا احساس پیدا ہو چکا ہے لیکن کسی کام کا صرف احساس پیدا ہو جانا کافی نہیں ہوتا بلکہ اُس احساس کا صحیح استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔ بسا اوقات خدمت کا احساس انسان کو ایسے غلط طریق پر ہوتا ہے کہ اُس کی ساری کوششیں رائیگاں چلی جاتی ہیں اور وہ کسی قسم کا ذاتی یا قومی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ درحقیقت سب سے زیادہ خدمت کا حق ہم پر اپنے نفس کاہوتاہے۔ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے1 یعنی تمہاری اپنی ہدایت باقی لوگوں کی عدمِ ہدایت سے بہرحال بہتر ہے۔ اگر یہ سوال پیدا ہو جائے کہ تم ہدایت پاؤ یا تمہارا غیرہدایت پائے اور ان دونوں میں ٹکراؤ ہو جائے تو تمہیں اپنی ہدایت کو مقدم رکھنا چاہیے کیونکہ ہدایت کوئی ایسی چیز نہیں جس کو دوسرے کی خاطر قربان کیا جاسکے۔ ہم سے یہ امید تو کی جا سکتی ہے کہ اگر ہم پیاسے ہوں اور ہمارے پاس تھوڑا سا پانی ہو اور ہمارے پاس ہی کوئی دوسرا شخص پیاس کی شدت کی وجہ سے تڑپ رہا ہو تو ہم اپنا پانی اُس کو دے دیں خواہ خود موت کا شکار ہو جائیں۔ یا ہم بھُوکے ہوں اور ہمارے پاس کھانا موجود ہو اور ہمارے پاس کوئی دوسرا شخص بھوک سے بے تاب ہو رہا ہو تو شریعت اِس کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے گی کہ ہم خود کھانا نہ کھائیں اور اُس کو کھلا دیں۔ لیکن شریعت اِس کو پسندیدگی کی نظر سے نہیںدیکھے گی کہ ہم خود نماز نہ پڑھیں اور دوسرے کو موقع دیں کہ وہ نماز پڑھ لے یاخود جہاد میں شامل نہ ہوںاوردوسرے کو موقع دیں کہ وہ جہاد کرے۔ یا یہ کہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اظہارِایمان نہیں کرتے اور دوسرے کو موقع دے دیتے ہیں کہ وہ اظہارِ ایمان کر لے۔ یہ دین کا معاملہ ہے جو دنیا کے معاملوں سے مختلف ہے۔ دنیوی معاملات میں دوسروں کے لیے قربانی کرنا پسند کیا جاتا ہے۔ لیکن دین کے معاملہ میں کسی کے جذبات کی پروا نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے کہ دنیوی قربانی تو 20،30 یا 50 سال کے لیے ہو گی لیکن دین کی قربانی لاکھوں کروڑوں بلکہ اَن گِنت سالوں تک جائے گی۔اِس لیے کسی سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ خود دائمی دوزخ میں جا پڑے اور دوسرے کے لیے آرام مہیا کرے۔ دنیا میں یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی خود پیاسا مر جائے اور دوسرے کو پانی دے دے، یہ تو ہو سکتا ہے کہ خود بھوکا مر جائے اور دوسرے کو کھانا کھلا دے، یہ تو ہو سکتا ہے کہ خود ننگا رہے اور دوسرے کو لباس دے دے، یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ خود تکلیف برداشت کرے اور دوسرے کو آرام پہنچائے۔ لیکن کسی سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ خود بے ایمان ہونے کی حالت میں مر جائے اور دوسرے کو ایماندار بننے کا موقع دے بلکہ مومن سے اس کے خلاف امید کی جائے گی۔
    پس سب سے مقدم چیز انسان کے لیے اُس کا اپنا ایمان ہے۔ اِس لیے دنیا کے وقتوں میں سے سب سے زیادہ وقت انسان کو اپنی نماز، عبادت اور ذکر الٰہی کے لیے نکالنا چاہیے بشرطیکہ یہ کام ایک حد کے اندر ہو۔ نماز فرض ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑی جا سکتی۔ پھر بعض حصے نماز کے ایسے بھی ہیں جنہیں شریعت نے خصوصیت سے پسند کیا ہے جیسے قرآن مجید میں تہجد کا ذکر آتا ہے اور بعض حصے ایسے ہیں جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تعامل اور سنت نے ثابت کیا ہے جیسے اشراق کی نماز ہے یا ضحٰی کی نماز ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی پابندی انسان کر سکتا ہے اور اسے کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ کوئی شخص سارا دن نماز میں لگا رہتا ہے اور وہ دوسرے کاموں کی طرف توجہ نہیں کرتا یہ چیز ناجائز ہے۔ بہرحال جس حد تک نفس کی صفائی کے لیے اپنے آپ کو عبادت میں لگانا ضروری ہے اُس حد تک نفس کی اصلاح کے لیے جماعت کو اختیار کرنا ہر انسان پر فرض ہے۔ اگر نفس کی اصلاح ہو گی تو دین کی سچی خدمت کی توفیق ملے گی اور انسان اسلام کا بہادر سپاہی بن سکے گا۔ تمام خرابیاں ہمیشہ نفس کے بگاڑ سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو نہ اطاعت کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور نہ عقل و فہم کا مادہ پیدا ہوتا ہے لیکن عقل سے سب چیزیں آپ ہی آپ درست ہو جاتی ہیں۔ مگر عقل کبھی مکمل نہیں ہو سکتی جب تک نماز، روزہ، ذکرِ الٰہی، توکّل اور خشیتِ الٰہی کی عادت نہ پیدا کی جائے۔ یہ چیزیں نفس کے جِلا اور اُس کو نور بخشنے کے لیے ضروری ہیں۔پس اُس حد تک عبادت کرنا جس حد تک نفس کے جِلا کے لیے ضروری ہو نہایت اہم ہے اور دوسرے سب کاموں کے لیے مقدم ہے۔
    پھر اِس کے بعد دوسرا قدم خدمتِ خلق کا ہے اور اس میں سب سے مقدم چیز تبلیغ ہے۔ اگر تم کسی کو روٹی کھلاتے ہوتو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم اُسے شام تک تکلیف سے بچاتے ہو، اگر تم کسی کو کپڑا پہناتے ہو تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ تم تین چار مہینے تک اُس کو ننگا رہنے سے بچاتے ہو، اگر تم کسی کو گرمیوں میں پانی پِلا دیتے ہو تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ تم گھنٹہ دو گھنٹہ تک اُس کی پیاس بجھاتے ہو۔ لیکن اگر تم کسی کو دین دیتے ہو تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ تم اُسے ابدی زندگی بخشتے ہو۔ اور تم اُسے وہ تحفہ دیتے ہو جو دو گھنٹے کے بعد ختم نہیں ہو گا، جو دو مہینوں کے بعد ختم نہیں ہو گا، جو دو سال کے بعد ختم نہیں ہو گا، جو ایک صدی کے بعد بھی ختم نہیں ہو گا، جو دنیا کی عمر کے بعد بھی ختم نہیں ہو گا بلکہ ابدالآباد تک چلتا چلا جائے گا جس کا اندازہ لگانا بھی انسانی طاقت سے باہر ہے۔
    غرض بہترین تحفہ تبلیغ کا تحفہ ہے اور بہترین احسان جو انسان کسی پر کر سکتا ہے وہ تبلیغ کا احسان ہے۔ لیکن مجھے کوئٹہ کی جماعت کی تبلیغ کا کوئی نظارہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا اور نہ ہی خط و کتابت سے کسی بیعت کا پتہ چلا ہے۔ شاید کئی کئی مہینے بلکہ سالہاسال گزر جاتے ہیں مگر یہاں کوئی احمدی نہیں ہوتا۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ ایک دفعہ کے سوا جس کے بعد وہ بیعت کرنے والا مرتد ہو گیا کوئٹہ کی تو اصل باشندوں کی کوئی بیعت مجھے یاد نہیں۔ ممکن ہے اس میں میرے حافظہ کی غلطی ہو مگر مجھے یاد ہے کہ اب تک کوئٹہ کی کسی بیعت کی کوئی اطلاع مجھے نہیں ملی۔ صرف آٹھ دس سال ہوئے کوئٹہ میں ایک شخص احمدی ہوا تو یہاں کی جماعت نے اس پر بڑی خوشی کا اظہار کیا مگر ایک سال کے بعد جب مَیں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ شخص مرتد ہو گیا ہے۔ پس سوائے اس واقعہ کے جس کا انجام اچھا نہیں ہوا اَور کسی بیعت کا مجھے علم نہیں۔ مشرقی پنجاب ہے اگر کوئی یہاں آ بسا ہے یا دوسرے علاقوں سے آ کر یہاں آباد ہو گیا ہے یا ملازمت کی وجہ سے اِس میں آ گیا ہے تو یہ یہاں کی جماعت کی کوشش کا نتیجہ نہیں۔ مَیں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کوئٹہ ایسی جگہ ہے جہاں کے لوگوں کے متعلق یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِاحمدیت سے محروم رہیں گے یا کوئٹہ کی آب و ہوا انسان کی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے کہ اُس کے دل سے خشیتِ الٰہی بالکل مٹ جاتی ہے۔ اور وہ کسی کی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا۔ اگر واقع میں کسی علاقہ کی آب و ہوا ایسی ہوتی تو یقیناً اللہ تعالیٰ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونبوت دیتے وقت اُس علاقہ کو مستثنٰی قرار دے دیتا اور کہتا کہ تُو نبی تو ہے مگر اُس حصہ کے لیے نہیں۔ مگر نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی جگہ بتائی جہاں آپ کی تعلیم اثر نہیں کر سکتی تھی یا جہاں کی آب و ہوا میں رہ کر انسان نصیحت سے بالا ہو سکتا تھا اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی جگہ بتائی جس کے متعلق کہا جائے کہ یہاں کے لوگ احمدیت کی تعلیم کو قبول نہیں کرسکتے۔ پس مَیں اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مَیں یہ تو ماننے کے لیے تیار ہوں کہ یہاں کے لوگ تبلیغ نہیں کرتے مگر یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ یہاں کے رہنے والوں پر تبلیغ اثر نہیں کر سکتی۔کیونکہ ان میں سے ایک بات ماننے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حرف آتا ہے اور خدا تعالیٰ پر بھی حرف آتا ہے کہ اُس نے اِس علاقہ کی فضا ایسی بنا دی کہ کوئی شخص مسیح کو مان ہی نہیں سکتا۔اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس کی ذمہ داری خدا تعالیٰ پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئٹہ کے لوگ تبلیغ نہیں کرتے تو اس کا الزام کوئٹہ کی جماعت پر آئے گا۔ اور یہ سیدھی بات ہے کہ اگر کسی بات کی دو تاویلیں ہوں اور سوال یہ پیدا ہو کہ ان میں سے کس کو مانا جائے ایک سے خدا تعالیٰ پر اعتراض پڑے اور دوسری سے جماعت کو مجرم ٹھہرانا پڑے تو کون بیوقوف ہو گا جوخدا تعالیٰ کو مجرم ٹھہرائے گا؟ لازمی بات ہے کہ وہ جماعت کو ہی مجرم ٹھہرائے گا۔
    احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ یارسول اللہ! میرے بھائی کو دست آتے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ اور اُس کو شہد پلا دو۔ وہ دوسری دفعہ آیا اور اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!میرے بھائی کے دست بڑھ گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا اُسے اَور شہد پلا دو۔ تیسری دفعہ وہ پھر آیا اور اس نے کہا یارسول اللہ! میرے بھائی کے دست اَور بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام سچا ہے۔ جب خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ2تو مَیںاسے غلط کس طرح مان سکتا ہوں۔3 اب دیکھو یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو انسان روحانی نگاہ سے ہی مان سکتا ہے جسمانی نگاہ سے نہیں۔ ورنہ دست تو اُسے آ رہے تھے پھر اُس کا پیٹ کیسے جھوٹا ہو گیا۔ روحانی نگاہ سے تو ہم اِس کو ضرور مان لیں گے مگر جسمانی عقل اِس کو نہیں مان سکتی۔ بلکہ اس واقعہ میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نکال دو اور پھر کسی کو یہ قصہ سناؤ تو ہو سکتا ہے کہ وہ شخص کوئی سخت لفظ منہ سے نکال دے اور کہہ دے کہ یہ بات خلافِ عقل ہے۔ لیکن چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ساتھ ہوتا ہے اِس لیے لوگ مسلمانوں کے جذبات کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں مگر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مَیں اِس کی مادی تعبیر کر سکتا ہوں۔ بے شک ہم روحانیت کی نگاہ سے تو اِس بات کی صداقت کو ثابت کر دیں گے اور یہ بات سچی ہے ہم روحانیت کی نگاہ سے آپ کی بات کی معقولیت کو بھی ثابت کر دیں گے مگر جہاں تک دنیوی مادی دلائل کا سوال ہے دشمن کو جواب دینا ہمارے لیے مشکل ہو گا۔ اب دیکھو یہ صرف ایک واقعہ ہے۔ ایک شخص کو شہد پلایا جاتا ہے اور اُس کے دست کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس میں کسی تاویل یا تشریح کا کوئی سوال ہی نہیں۔ ایک سے زیادہ افراد کا بھی سوال نہیں۔ یہ بھی صاف طور پر نظر آ رہا تھا کہ اسے شہد سے فائدہ نہیںہوا بلکہ بظاہر نقصان ہی ہوا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے خدا کا کلام جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسے موقع پر جہاں بظاہر انسانی عقل اس شخص کی تائید کرتی تھی جس کے دست بڑھ گئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ جاؤ تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے تو مجھ سے یہ کس طرح امید کی جا سکتی ہے کہ مَیں کوئٹہ کی جماعت کو سچا مان لوں گا اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات کو غلط کہہ دوں گا۔ یہاں مثال بھی موجود ہے کہ ایک شخص نے بیعت کی۔ گویا یہاں واقعات نتیجہ کی تائید میں ہیں۔ مگر وہاں واقعات اس نتیجہ کی تائید میں نہیں تھے مگر پھر بھی آپؐ نے خدا تعالیٰ کے کلام کو ہی سچا قرار دیا۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوکچھ فرمایا وہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ درست نہیں تھا ۔ جو کچھ آپ نے فرمایا وہی درست تھا لیکن ظاہری واقعات اور باطنی امور میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ بسااوقات ایک چیز ظاہر میں بُری ہوتی ہے لیکن باطن میں اچھی ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کو ہی دیکھو ایک شخص کو دست آتے ہیں وہ آ کر ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ مجھے دست آتے ہیں۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ اسے کسٹرائل دے دو یا منگنیشیا دے دو۔ اس سے دست اَور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اِس پر وہ پھر شکایت لے کر آتا ہے تو ڈاکٹر کہتا ہے اسے منگنیشیا کی اَور ڈوز دے دو۔ڈاکٹر جانتا ہے کہ دستوں کا سبب غذا کی سڑانڈ تھی۔ جب تک سڑانڈ نکالی نہ جائے گی دست بند نہیں ہوں گے۔ اس طرح گو دست بڑھ جائیں گے مگر دستوں کے بڑھنے سے ہی دست رُکنے لگیں گے۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے تو اِس کے معنے درحقیقت یہی تھے کہ تیرے بھائی کا علاج تو ہو رہا ہے مگر تم یہ سمجھتے ہو کہ علاج نہیں ہو رہا۔ تم یہ شکایت کرتے ہو کہ تمہارے بھائی کے دست بڑھ رہے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ دستوں کے بڑھنے سے ہی اس کے دست بند ہوں گے۔
    غرض ہماری جماعت کا سب سے پہلا فرض اپنے نفس کی اصلاح ہے اور نفس کی اصلاح کے بعد خدمتِ خلق ہے جس میں سے مقدم چیز تبلیغ ہے۔ بھلا یہ کوئی عقل کی بات ہے کہ ایک طرف تو ہم یہ دعوٰی کریں کہ دنیا ہمارے ہاتھ پر فتح ہو گی اور دوسری طرف دنیا کو فتح کرنے کا جو ایک ہی ذریعہ ہے یعنی اسلام اور احمدیت کی تبلیغ اُس کی طرف توجہ نہ کریں۔دنیا کی فتح کے یہ معنے تو نہیں کہ دس بیس آدمی ڈنڈے لے کر کھڑے ہو جائیں گے اور دو ارب کی دنیا پر حکومت شروع کر دیں گے۔ دنیا کی فتح کے معنے یہ ہیں کہ دنیا کی دو ارب آبادی میں سے کم از کم سَوا اَرب احمدی ہو جائیں۔اور یا پھر ان لوگوں کو اگر ہم تبلیغ نہیں کرتے تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ احمدیوں کو اِتنی طاقت حاصل ہو جائے گی اور ساتھ ہی وہ اِتنے ظالم بن جائیں گے کہ وہ دوسرے لوگوں کے حقوق کو تلف کر کے اُن پر جابرانہ اور ظالمانہ حکومت کرنی شروع کر دیں گے ۔ ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ساری دنیا کو مار ڈالے اور صرف احمدی ہی دنیا میں باقی رہ جائیں۔ آخر ہم اگر تبلیغ سے کام نہیں لیتے اور ساتھ ہی یہ امید رکھتے ہیں کہ دنیا پر غالب آجائیں گے تو سوائے اِن دو باتوں کے ہم دنیا پر غالب ہی کس طرح آ سکتے ہیں۔ دنیا پر غالب یا تم تبلیغ کے ذریعے آ سکتے ہو اور یا پھر دنیا پر غالب آنے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم ایٹم بم کی ایجاد کر لیں اور لوگوں کو ایسا ڈرائیں کہ ہمارے چند لاکھ آدمیوں کے سامنے سب لوگ ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جائیں اور جو حکم ہم اُنہیں دیں وہ مان لیں۔گویا دوسرے لوگ وحشی اور جانور بن جائیں گے اور ان کی انسانی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور ہم اُن پر ایسے چھا جائیں گے جیسے ٹڈی دل کھیتوں پر چھا جاتا ہے۔ کیا یہ وہی دنیا ہے جس کا قرآن مجید اپنے مومن بندوں سے وعدہ کرتا ہے؟ اور کیا یہی وہ دنیا ہے جس میں خدا کی بادشاہت قائم ہو گی؟ یہ خدا کی بادشاہت نہیں شیطان کی بادشاہت ہو گی۔ غرض جب ہم کہتے ہیں کہ احمدیت دنیا پر غالب آ جائے گی تو یقیناً اِس کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ ہمیں ایسی طاقت حاصل ہو جائے گی کہ سب لوگ چُوہڑوں اور چماروں کی طرح ہمارے ڈنڈے کے ڈر سے ہمارے سامنے ہاتھ جوڑتے پھریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم یقیناً ظالمانہ حکومت کو قائم کرنے والے ہوں گے۔ ہم یقیناً جابرانہ حکومت کو قائم کرنے والے ہوں گے۔ ایسی حکومت جو نمرود اور شدّاد کی حکومت کو بھی مات کرنے والی ہو گی مگر خدا تعالیٰ اپنے رسولوں کو اِس غرض کے لیے دنیا میں نہیں بھیجا کرتا۔
    دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی ایسی بیماری پڑ جائے جس سے سارے غیراحمدی مرجائیں اور اِسی طرح سارے ہندو، سکھ اور غیر مذاہب والے مر جائیں۔ اگر ایسا ہو تو ہم تو بلوچستان کو بھی آباد نہیں کر سکتے جس کی آبادی بہت ہی کم ہے۔ ہمارے احمدی دو تین لاکھ ہیں مگر بلوچستان کی آبادی دس بارہ لاکھ کے قریب ہے۔ اگر ساری قومیں مر جائیں اور احمدی ہی زندہ رہ جائیں تو یہ بلوچستان بھی ویران نظر آنے لگ جائے گا۔ اگر ہم کہیں کہ چلو باقی بلوچستان چھوڑ دو ہم صرف پاکستانی بلوچستان کو ہی آباد کر لیں گے تو پاکستانی بلوچستان کی آبادی بھی چار لاکھ ہے۔ اِس میں بھی صرف دوتین لاکھ احمدی آباد ہوں گے باقی سارا بلوچستان خالی پڑا ہو گا۔ اِسی طرح سب کا سب چین، جاپان، انڈونیشیا، انگلستان، فرانس، امریکہ اور دوسرے ممالک بالکل ویران اور اُجاڑ ہو ں گے۔ شیر اور چیتے ہر جگہ پھر رہے ہوں گے اور ہم دنیا کے ایک گوشہ میں بیٹھے اس بات پر خوش ہوں گے کہ ہم نے ساری دنیا فتح کر لی۔مگر کیا یہ مقصد کوئی اعلیٰ درجہ کا مقصد ہے؟
    پھر کیا چیز رہ جاتی ہے جس سے ہم دنیا کو فتح کر سکتے ہیں؟ وہ یہی چیز ہے کہ تم لوگوں کو احمدی بناؤ اور احمدیت کی تبلیغ اپنے پورے زور کے ساتھ کرو۔ یہی ایک معقول چیز ہے جوروحانی بھی ہے اور جسمانی فائدہ بھی اس سے حاصل ہوتا ہے اور جس سے دنیا کو حقیقی معنوں میںسُکھ اور آرام میسر آ سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اِس کے لیے کیا کوشش کی ہے؟ بے شک نفس کی اصلاح بھی ایک ضروری چیز ہے مگر دوسرا قدم تبلیغ کا ہے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ دنیا میں مومن ہی مومن نظر آئیں اور یہ دنیا مومنوں سے آباد ہو تو اِس کا یہی ایک طریق ہے کہ تبلیغ کرو اور لوگوں کو احمدی بناؤ۔ اگر ہم تبلیغ نہیں کرتے تو پھر اِس دنیا کا فائدہ ہی کیا ہے۔ پھر خدا نے کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا؟ کیوں قرآن مجید نازل کیا؟ اور کیوں لوگوں تک اسلام کی تعلیم پہنچانا ہم پر فرض قرار دیا؟ پھر تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت صرف آدم کی سی رہ جاتی ہے جو چند آدمیوں کو ابتدائی انسانی حقوق کی تعلیم دینے کے لیے آیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا ہے کہ تیری حکومت ساری دنیا پرہے اور تجھے تمام دنیا کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت تو اِسی طرح واضح ہو سکتی ہے کہ دنیا کا ایک بڑا طبقہ آپ کو ماننے والا ہو۔ اور یا پھر دوسرے لوگوں کو خدا تعالیٰ ختم کر دے۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدے خدا تعالیٰ نے کیے ہیں اُن کی عظمت اور اہمیت اِسی طرح ظاہر ہو سکتی ہے کہ ہم ایک وسیع دنیا کو احمدی بنا لیں۔ اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جو وعدے کیے گئے ہیں اُن کی عظمت اور اہمیت بھی اِسی طرح ظاہر ہوسکتی ہے کہ ہم ایک وسیع دنیا کو احمدی بنا لیں۔ اگر اِس کے علاوہ ہم کوئی اور ذریعہ اختیار کرتے ہیں تو اُس کا سوائے اِس کے کوئی اَور مفہوم نہیں ہو سکتا کہ یا تو اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی ایسا ایٹم بم دے دے جس سے ڈر کر ساری دنیا چُوہڑوں اور چماروں کی طرح ہمارے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو جائے اور یا پھر ساری دنیا مر جائے صرف احمدی ہی احمدی باقی رہ جائیں اور ہم رات اور دن اپنے گھروں کے دروازے بند کر کے اِس ڈر سے اندر بیٹھے رہیں کہ شیر اور چیتے ہم پر حملہ نہ کر دیں اور ہمیں چِیر پھاڑ کر نہ کھا جائیں۔ یہ دونوں دنیائیں ایسی ہیں جنہیں انسانی عقل نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔صرف اور صرف ایک ہی دنیا ہے جس کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھ سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میںقائم ہو جائے، قرآن کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے، اسلام کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے، احمدیت کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائے۔ اور دنیا کی اکثریت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو جائے۔ اور یہ سلسلہ اِس طرح بڑھتا چلا جائے یہاں تک کہ دنیا کے گوشے گوشے اور کونے کونے میں خدائے واحد کی عبادت کی جائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے لوگ پیدا ہو جائیں"۔
    (الفضل 8جولائی 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    المائدۃ:106
    2
    :
    النحل:70
    3
    :
    ترمذی ابواب الطب باب ماجاء فی التداوی بِالْعَسْلِ


    اگر موجودہ حالات ہم کو بیدار نہیں کر سکے
    تو کونسی چیز ہمیں بیدار کرے گی
    (فرمودہ18جون 1948ء بمقام ناصر آباد سندھ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مَیں نے پچھلے سفر پر بھی جماعت کو اِس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ہماری زمینداریاں ملک کے کنارہ پر واقع ہیں اور ملکی حالات روزبروز زیادہ خراب ہو رہے ہیں۔ اس لیے ہمارے کارکنوں کو پوری طرح تیار ہو جانا چاہیے تا ان حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کم از کم بندوق کا چلانا ہر شخص کو سکھایا جائے مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی اور کسی قسم کی تیاری نہیں کی گئی۔ نہ تو بندوق چلانے کی کوئی ٹریننگ دی گئی ہے اور نہ ہی بندوقوں کا کوئی انتظام کیا گیا ہے۔ اگر فی سٹیٹ ایک ایک بندوق بھی ہوتی تو ہفتہ میں دو دفعہ تمام لوگوں کو اکٹھا کر کے ٹریننگ دی جا سکتی تھی۔ اگر اِس طرف تھوڑی سی بھی توجہ دی جاتی تو اب تک کافی آدمی تیار کیے جا سکتے تھے۔ لیکن اِس وقت ہمارے پاس سَو میں سے دس آدمی بھی ٹرینڈ نہیں۔ اگر ہم سو میں سے دس آدمی کو بھی ٹرینڈ کر لیتے تو وہ دس آدمی دوسرے نوّے آدمیوں کو تیار کر سکتے تھے۔ اوریہ دس آدمی اگر مر جاتے تو دوسرے نوّے آدمیوںکو قدرتی طور پر یہ احساس ہو جاتا کہ ہمارے دس بہادر مر گئے ہیں ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چل کر بہادر بننا چاہیے۔ پھر یہ دس آدمی باقی نوّے آدمیوں کو بزدلی دکھانے سے بھی روک سکتے تھے کیونکہ بزدل آدمی اِسی خیال میں رہتا ہے کہ دوسرے بھاگیں تو وہ بھاگے۔ بھاگنے میں خود پہل نہیں کرتا۔ پھر بزدل بننے میں زیادہ ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بزدل بننے میں اپنی خودداری کو چھوڑنا پڑتا ہے، عزت و ناموس کو چھوڑنا پڑتا ہے، اپنی قوم کو چھوڑنا پڑتا ہے اور ایسا کرنے کے لیے زیادہ ہمت کی ضرورت ہوتی ہے، زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصل میں جو آدمی سب سے زیادہ بزدل ہو گا وہی سب سے زیادہ بہادر ہو گا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ا گر اُس نے بزدلی دکھائی تو وہ اپنے رشتہ داروں کو منہ نہیں دکھا سکے گا، اپنے دوستوں اور واقف کاروں کو منہ نہیں دکھا سکے گا، وہ اپنے گاؤں کے رہنے والوں کو منہ نہیں دکھا سکے گا بلکہ وہ اپنے بچے کو بھی منہ نہیں دکھا سکے گا۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر اُس نے بزدلی دکھائی تو یہ اُس کے لیے بدنامی کا موجب ہو گا، اُس کے خاندان کے لیے بدنامی کا موجب ہو گا۔ لیکن باوجود اِس کے وہ اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ ایک رنگ کی بہادری اُس میں بھی پائی جاتی ہے۔ بلکہ اپنے رنگ میں اُس کی بہادری بہت زیادہ ہے۔
    پٹھانوں میں ہوا کا خارج ہونا بہت بُرا سمجھا جاتا ہے۔ پنجابی اِس کی پروا بھی نہیں کرتے۔ لیکن ایک پٹھان کی کسی مجلس میں ہوا خارج ہو جائے تووہ ساری عمر کسی کو منہ نہیں دکھا سکتا۔ کہتے ہیں کہ ایک پٹھان کی کسی مجلس میں ہوا خارج ہو گئی تو شرم کے مارے وہ کہیں چلا گیا اور ایک لمبے عرصہ تک گاؤں میں نہ آیا۔ دس بیس سال کے بعد جب اُسے گھر جانے کا خیال پیدا ہوا تو وہ اپنے گاؤں گیا۔ اُس نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ ایک لمبے عرصے تک گاؤں سے باہر رہا ہے اِس لیے گاؤں والے وہ بات بھُول گئے ہوں گے۔ وہ گاؤں گیا اور اپنے گھر کی دیوار کے ساتھ کان لگا کر کھڑا ہو گیا تا وہ باتیں سُن سکے جو اندر ہو رہی ہیں۔ اِتنے میں اُس کے بچے نے کوئی بات کی جس پر اُس کی اماں نے کہا چل دیّوث کہیں کے۔تُو اُسی کا ہی بچہ ہے جس کی مجلس میں ہوا خارج ہو گئی تھی۔ یہ بات سن کر وہ واپس چلاآیا اور اندر جانے کی جرأت نہ کی کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اب وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ غرض بزدلی دکھانے کے لیے بھی کافی ہمت کی ضرور ت ہوتی ہے۔ حقیقت میں بزدل دلیر ہوتا ہے اوربزدل بہادری کے ہی غلط استعمال کا نام ہے۔ ایک بزدل آدمی اپنی قوم کے خلاف جرأت کرتا ہے، اپنی عزت و آبرو اور نیک نامی کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ اپنی ساری قوم کے ہوتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس جب بُزدل بھی بہادر ہوتا ہے توبہادر تو خود بہادر ہوتا ہے۔ اگر اُسے ٹریننگ دی جائے اور اِس طرح ٹریننگ دی جائے کہ وہ دوسرے کو بھی ٹرینڈکر سکے تو یہ قوم کے لیے بہت مفید ہو گا۔ اب توہندوستان میں بھی بندوقیں بننے لگ گئی ہیں اور ایک نالی والی بندوق سَو سَواسَو تک مل جاتی ہے۔ اکثرزمیندار بڑے شوق سے گھوڑیاں رکھتے ہیں۔ اِسی طرح اگر وہ کوشش کریں تو بندوق بھی خرید سکتے ہیں ۔ مَیں تو سمجھتا ہوں کہ اگر اُنہیں ٹریننگ دی جائے تو اُنہیں بندوق رکھنے کی خواہش بھی پیدا ہوجائے گی۔ افسرانِ متعلقہ سے تعلق پیدا کر کے لائسنس بنوائے جائیں۔ سرحدی علاقوں کے لیے تورائفلوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اِس لیے سٹیٹوں کے افسروں کو چاہیے کہ وہ رائفلیں خریدیں۔ رائفل ہندوستان میں ہزار بارہ سَو کی آ جاتی ہے اور اگر باہر سے منگوائی جائے تو اِس پر چار پانچ سو سے زیادہ خرچ نہیں آتا۔ اِس زمین سے ہمیں پہلے بھی کچھ پلّے نہیں پڑتا۔ ہر سال یہی کہہ دیا جاتا ہے کہ اب معاف کر دو آئندہ کام اچھا ہو گا۔ اس کے سوا اَور کچھ نہیں ہوتا۔ تحریک کی زمین پر 18 لاکھ سے زیادہ خرچ آ چکا ہے لیکن حرام ہے کہ ایک پیسہ بھی تحریک کو حاصل ہو ا ہو۔ میرا بھی یہی حال ہے۔ اب اگر رائفلیں اور بندوقیں خریدنے پر کچھ مزید خرچ کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اگر اسلام کی عظمت قائم ہو جائے ، احمدیت کی عظمت قائم ہو جائے ، تمہاری جانیں بچ جائیں اور تمہاری آبروئیں اور عزتیں بچ جائیں تو یہ خرچ اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر کوشش کی جائے تو یہ کام ہو سکتا ہے مگر جماعت نے اِس طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اِس میں بہت سُستی برتی ہے۔ فی سٹیٹ اگر دو یا دو سے زیادہ رائفلیں ہو جائیں تو پندرہ بیس رائفلیں ہو جاتی ہیں اور پھر ایک حد تک دشمن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ پندرہ بیس رائفلوں کے ساتھ تین چارسَو کا لشکر بڑی آسانی کے ساتھ روکا جا سکتا ہے۔ پھر مومن اگر حقیقی مومن ہو تو دووسرے کی رائفل بھی چِھین سکتا ہے۔ کشمیریوں کو ہی دیکھ لو اُن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا جو کچھ بھی اُن کے پاس ہے اُنہوں نے دشمن سے ہی چِھین کر لیا ہے۔
    مجھے ایک واقعہ یادہے کہ ایک جگہ پر کشمیریوں کی دشمن سے لڑائی ہو گئی۔ دشمن پانچ رائفلیں چھوڑ کر بھاگ گیا اور وہ رائفلیں کشمیریوں کے ہاتھ آئیں۔ اِسی طرح کسی جگہ سے پانچ رائفلیں ہاتھ آئیں اور کسی جگہ سے دس دس، بیس بیس رائفلیں اُن کے ہاتھ آئیں اور کئی جگہوں پر تو اُنہوں نے اِس سے بھی زیادہ ہتھیار دشمن سے چھِین لیے۔ کئی توپیں، مشین گنیں اورسٹین گنیں اُن کے ہاتھ آئیں اور پھر آہستہ آہستہ خاص فوج ان کی تیار ہو گئی۔پس اگر پندرہ بیس رائفلیں مہیا کر لی جائیں تو ضرورت کے وقت اپنی طاقت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر سب لوگ ٹریننگ حاصل کر لیں اور منظم ہو جائیں تو دشمن اِس طرف منہ بھی نہیں کرے گا اور اگر اُس نے حملہ کیا تو وہ منہ کی کھائے گا۔
    سکھوں نے جب قتل و غارت شروع کیا اُس وقت بھی ہم شور مچاتے رہے اور لوگوں کو جگاتے رہے لیکن وہ باوجود جگانے کے سوئے رہے۔ مسلمان یہ سمجھتے رہے کہ اگر سکھوں نے اُن پر حملہ کر دیا تو وہ نعرہ تکبیر بلند کریں گے اور دشمن بھاگ جائے گا یا حکومت اُن کی مدد کرے گی۔ مگر یہ نعرہ ہائے تکبیر اُلٹے اُن پر ہی آ پڑے اور حکومت نے بھی اُن سے آنکھیں پھیر لیں۔ سکھوں کے پاس رائفلیں تھیں اور مسلمانوں کے پاس صرف نعرہ ہائے تکبیر۔ مگر نعرہ ہائے تکبیر بھی اُس وقت تک فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک کوئی عملی صورت اختیار نہ کی جائے۔
    حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں اور خطرات بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں یہ افواہ عام مشہور تھی کہ 15 جون کو دونوں ملکوں میں لڑائی ہو جائے گی۔ اصل میں دونوں ملکوں کے حالات بہت زیادہ بگڑ گئے ہیں۔ کشمیر کا معاملہ جُوں جُوں لمبا ہوتا جاتا ہے لوگوں میں جوش بڑھتا جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا بدلہ ہم ان علاقوں سے لیں گے۔ پس لڑائی جتنی لمبی ہو گی اُتنا ہی لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف جوش پیدا ہو گا۔ ممکن ہے کہ عوام اپنے آپ سے باہر ہو کر کسی جگہ پر ہلّہ بول دیں اور یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کونسی جگہ پر ہلّہ بولیں۔ مثلاً جودھپور کو ہی لے لو۔ اگر جودھپور کی حکومت یہ کہہ دے کہ ہم اب کوئی بندوبست نہیں کر سکتے، ہم دشمن کو زیادہ دیر تک نہیں روک سکتے تو تم کیا کر سکتے ہو۔ دشمن کی فوجیں بھی عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے لگ جائیں گی بڑوں کی کون پروا کرتا ہے۔ وہ بے شک اعلان پر اعلان کرتے رہیں مگر اُن کی سُنتا کون ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو صاحب بے شک کہتے رہیں کہ ایسا مت کرو، دوسرے لیڈر بے شک شور مچاتے رہیں ، گاندھی جی کی سکیم کو بے شک اُن کے سامنے رکھا جائے وہ اِس کی بھی پروا نہیں کریں گے۔ پچھلے فسادات میں عموماً لوگ یہی سمجھتے تھے کہ ہم گاندھی جی کے ساتھ نہیں ہم تو اپنی قوم کے ساتھ ہیں۔ قوم جو کہے گی وہی ہم کریں گے۔ گاندھی جی کی بات ہم ماننے کے لیے تیار نہیں۔ غرض عوام اور چھوٹے حکام کے درمیان خواہ کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو وہ ایسے وقت میں بالکل متحد ہو جائیں گے اور اسے اپنے اوپر ایک قومی فرض سمجھیں گے۔ فوج عوام کے ساتھ مل جائے گی اور اِس بات کی پروا نہیں کرے گی کہ پنڈت جواہر لال صاحب نہرو یا دوسرے لیڈر اُنہیںکیا حکم دیتے ہیں۔ لیڈروں کو تو بعد میں بھی منایا جا سکتا ہے۔ مہاراجہ سے بعد میں بھی معافی مانگی جا سکتی ہے۔ مگر قومی فرض کو پیچھے نہیں ڈالا جا سکتا۔
    پس جہاں تک ہو سکے اِس علاقہ کے لوگوں کو بہت جلد تیار ہو جانا چاہیے۔ اِس علاقہ کی توریل بھی ہمارے قبضہ میں نہیں۔ حکومت پاکستان نے ابھی اُسے نہیں خریدا۔ وہ جس وقت چاہیں اُسے روک سکتے ہیں۔ دشمن اگر اپنی فوجیں یہاں بھیجنا چاہے تو اُسے ہر قسم کی سہولتیں حاصل ہیں جوپاکستان کو حاصل نہیں۔ دشمن کی فوجیں گاڑی کے ذریعہ یہاں آ سکتی ہیں۔ مگر پاکستانی فوجوں کو حیدر آباد سے آگے پیدل چل کر آنا پڑے گا۔ پھر دشمن گاڑی سے اَور بھی زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دشمن کی فوجیں گاڑی میں بیٹھ کر اردگرد کے علاقہ پر فائر کر سکتی ہیں اور خود محفوظ رہ سکتی ہیں اور اردگرد کے علاقہ کو خالی کراسکتی ہیں۔ پس یہاں کے لوگوں کو بہت جلد بیدار ہو جانا چاہیے اور فوجی ٹریننگ حاصل کرنی چاہیے۔ تمہیں تو بیدار کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی تمہیں تو خود اِس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ تمہاری اپنی بیٹی اگر سکھوں کے ساتھ نہیں گئی تو تمہاری بھتیجی اور بھانجی سکھوں کے ساتھ گئی ہو گی یا تمہارے بھتیجے اور بھانجے کی بیٹی سکھوں کے ساتھ گئی ہو گی۔ اگر تمہارے خاندان کی کوئی لڑکی سکھوں کے ساتھ نہیں گئی تو تمہارے گاؤں کی کوئی لڑکی اُن کے ساتھ گئی ہو گی۔ تمہارے ساتھ والے گاؤں کی لڑکیوں کو سکھ اُٹھا کر لے گئے ہوں گے۔ غرض کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں کی لڑکیاں سکھ اُٹھا کر نہیں لے گئے۔ اِن حالات کو دیکھ کر ہر مسلمان کی غیرت کو جوش میں آ جانا چاہیے تھا۔ اِن حالات کو دیکھ کر ہر مسلمان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے اوپر سپاہی بننا فرض کر لیتا اور اُس وقت تک دم نہ لیتا جب تک آئندہ کے لیے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو خطرہ سے محفوظ نہ کر لیتا۔ مسلمانوں میں یہ احساس خودبخود پیدا ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر ہوا کیا؟ وہ دوسروں کے سمجھانے سے بھی نہیں سمجھے۔ وہ تین تین ،چار چار ایکڑ زمین پر تسلی پا گئے ہیں اور آپس میں لڑائیاں ہو رہی ہیں کہ فلاں شخص کو فلاں زمین کیوں مل گئی؟ وہ مجھے ملنی چاہیے تھی۔ اُنہیں تو چاہیے تھا کہ وہ اپنی اور اپنی قوم کی عزت کی طرف زیادہ توجہ کرتے اور اپنا مقصد ِزندگی یہ مقرر کرتے کہ وہ ظالم کو آئندہ ظلم نہیں کرنے دیں گے اور امن و انصاف کو دنیا میں قائم کریں گے۔ نہ یہ کہ تین تین، چار چار ایکڑ زمین پر تسلی پا جاتے یا اِدھر اُدھر سے سامان اکٹھا کرنے کی فکر میں لگے رہتے۔
    ہماری جماعت تو کوئی معمولی جماعت نہیں۔ ہمارا دعوٰی ہے کہ ہماری جماعت زندہ اور بیدار جماعت ہے۔ اِسے ایسے احساسات سے بالا ہونا چاہیے۔ اگر ہم اب تک بیدار نہیں ہوئے تو وہ کونسی اَورچیز ہو گی جو آ کر ہمیں بیدار کرے گی۔ ہم نے دنیا کے دلوں کو فتح کرنا ہے تو بیداری سے فتح کرنا ہے۔ ہم نے دوسرے لوگوں میں عقل سے کام لینے کا احساس پیدا کرنا ہے، محنت اور قربانی کرنے کا احساس پیدا کرنا ہے اور جب ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تبھی ہم خدا کے فضلوں کے وارث ہوں گے اور تبھی ہم اُس کے فضل کو جذب کر سکیں گے"۔ (الفضل 28جولائی 1948ئ)








    سب دولت خدا کی طرف سے ہی آتی ہے
    پس اسے خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل نہ کرو
    رمضان کے مہینے سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو
    (فرمودہ2جولائی 1948ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مَیں نے گزشتہ جمعہ میں جو یہاں پڑھایا تھا جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اگرچہ یہاں کی جماعت زیادہ منظم ہے اور یہاں کی جماعت کے کارکن زیادہ ہوشیار ہیں مگر تبلیغ کی طرف پوری توجہ نہیں دی گئی۔ اِس کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ مجھے نماز کے بعد بتایا گیا تھا کہ جماعت نے اِس طرف بھی توجہ دی ہے اور یہ بھی خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ امید ہے کچھ افراد قریب میں بیعت بھی کر لیں۔ لیکن میری اِس سے تسلی نہیں ہوئی کیونکہ جس سُرعت کے ساتھ ہماری جماعت نے آگے بڑھنا ہے اس سُرعت کے ساتھ ہماری موجودہ جدوجہد کو کوئی نسبت نہیں۔
    یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ جہاں جماعت کے اَور محکموں میں اچھی چُستی پائی جاتی ہے وہاں چندہ میں بھی کافی سرگرمی دکھائی گئی ہے۔ خطبہ کے بعد یہاں کی جماعت کے فنانشل سیکرٹری (قاضی شریف الدین احمد صاحب) مجھے ملے۔ جو فنانشل سیکرٹری مَیں نے اب تک دیکھے ہیں اُن میں سے وہ سب سے زیادہ ہوشیار اور زیادہ مستعد معلوم ہوئے اور مَیں نے دیکھا کہ وہ صحیح طور پر کام کرنے والے ہیں۔ مَیں نے ان پر جرحیں بھی کیں اور بتایا کہ حسابات کو اِس طرح بھی پرکھا جا سکتا ہے۔ شروع میں وہ رُکے۔ بعد میں اپنی کاپی نکال کر رکھ دی اور بتایا کہ مَیں نے حسابات کو اِس طرح بھی پرکھا ہے۔ حسابات میں اگرچہ بہت سی خامیاں اب بھی ہیں مگر پھر بھی اُنہوں نے بڑی محنت سے کام کیا ہے اور نہ صرف محنت سے کام کیا ہے بلکہ عقل سے بھی کام کیا ہے۔ دنیا میں ہزارہا آدمی ایسے ہوتے ہیں جو محنت کرتے ہیں، لاکھوں ایسے ہوتے ہیں جو پوری کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں مگر اُن کی سب کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔ اُن کی محنت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کیونکہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ مگر ایک اَور شخص آتا ہے وہ ایک نیا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن کو روشنی مل جاتی ہے اور وہ اُس کام کو صحیح طور پر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح یہاں کے فنانشل سیکرٹری نے عقل سے کام لے کر کام کو مکمل کر نے کی کوشش کی ہے مگر پھر بھی ترقی کی ابھی کافی گنجائش ہے۔ بعض احباب نے صحیح تشخیص اپنی آمد کی نہیں بتائی۔ بہرحال انہوں نے کوشش کی ہے۔ اگر وہ مزید کوشش کریں اور احباب جماعت اُن کے ساتھ تعاون کریں تو یقیناً کوئٹہ کا یہ محکمہ اپنے رنگ میں باقی جماعت کے لیے مثال بن جائے گا۔
    پس مَیں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اُنہیں اِس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ تمام افرادِجماعت پر واضح کر دیں کہ صرف ظاہری طور پر چندہ کا بڑھا دینا عزت کا موجب نہیں مثلاً ایک شخص کی آمدن سو روپیہ ہے اور وہ چالیس روپے بتاتا ہے اور اپنی آمد کا پچاس فیصدی چندہ دیتا ہے۔ یہ مخلص ترین انسان ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہو گی کہ اس نے چالیس میں سے بیس دئیے اور اس کی آمد چالیس نہ تھی بلکہ سَو تھی اور سَو میں سے بیس دینے کے معنے یہ ہوئے کہ اس نے بیس فیصدی چندہ دیا ۔ اسے چاہیے تھا کہ سَو میں سے پچاس چندہ دیتا۔ اور یا پھر کہہ دیتا کہ وہ بیس فیصدی چندہ دے گا اور یہ اُس کے لیے زیادہ مناسب ہوتا۔ ایسا کرنے والا شخص، انسان کو دھوکا دے سکتا ہے مگر خدا جو عالم الغیب ہے اُسے دھوکا نہیں دے سکتا۔ انسانی معلومات ناقص ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چندہ دینے والا زیادہ چست اور چالاک ہو، زیادہ تیز اور تند ہو۔ وہ چندہ لینے والے سے بِگڑ بیٹھے اور کہے کہ جو مَیں کہتا ہوں وہ صحیح ہے ہم اُس کی بات مان لیں۔ پھر وہ پھسلنے والا بھی ہو سکتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ہم اُس کے گھر بیس دفعہ جائیں ، دوسَو پھیرے ڈالیں اور وہ ہر پھیرے پر کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دے۔ اِن پھیروں سے بچنے کے لیے اور اس لیے کہ زیادہ وقت ضائع نہ ہو ہم اُس پر اعتبار کر لیتے ہیں اور وہی آمد سمجھ لیتے ہیں جو وہ بتاتا ہے اور اُسی کے مطابق چندہ لے لیتے ہیں۔ یہ ساری باتیں ہو سکتی ہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا جو عالم الغیب ہے وہ بھی حقیقت کو نہ جانتا ہو۔ چندہ کا بدلہ فنانشل سیکرٹری صاحب نے نہیں دینا بلکہ وہ تو اس کے ہزارویں حصہ کا بھی بدلہ نہیں دے سکتے۔ فنانشل سیکرٹری صاحب کی آمد زیادہ سے زیادہ دوتین سَو ہو گی اور چندہ بیس تیس ہزار ہے اور دس سال میں یہ چندہ لاکھوں تک جا پہنچتا ہے۔ بلکہ ناظربیت المال میں بھی یہ طاقت نہیں کہ وہ چندہ کا بدلہ ادا کر سکے۔ صدر انجمن احمدیہ بھی اِس کا بدلہ ادا نہیں کر سکتی۔ مَیں بھی اِس کا بدلہ ادا نہیں کر سکتا۔ غرض چندے کا بدلہ خدا نے دینا ہے اور خدا کو یہ پتہ ہے کہ اس شخص کی آمد سو تھی چالیس نہیں تھی۔ اگر تو اِس کا خدا کو بھی پتہ نہیں تب تو ایک حد تک گزارہ ہوسکتا ہے لیکن خدا کو اگر اِس کا پتہ ہے اوروہ ہماری سب باتوں کو جانتا ہے تو وہ یقیناً اِس کا محاسبہ کرے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کام بھی کرو احتساباً کرو اور یہ سمجھ کر کرو کہ اِس کا بدلہ خدانے دینا ہے ۔اور خدا عالم الغیب ہے تو ہماری کیا حالت ہو گی جب رجسٹر پیش ہوں گے تو ہم نے چالیس میں سے بیس چندہ لکھایا ہو گا لیکن ہماری وہ آمدن صحیح نہ تھی۔ ہماری صحیح آمدن سو تھی اور اس میں سے ہم نے بیس چندہ دیا۔ مگر ایک دوسرے شخص نے جس کی آمدن80 تھی اُس نے بھی بیس چندہ دیا اورپچیس فیصدی چندہ دینے کا وعدہ کیا۔ دیکھنے والے تو ہمیں مخلص ترین انسان سمجھیں گے اور واہ واہ کریں گے کیونکہ ہم نے چالیس میں سے بیس چندہ دیا۔ اسے کم ایمان والا کہیں گے۔ اس کا قصور یہی ہے کہ اس نے سچائی سے کام لیا۔ پس اگر سچ بولنا قصور ہے، اگر سچ بولنا جرم ہے، اگر سچ بولنا خطا ہے توواقعی 80 میں سے بیس دینے والے میں اخلاص کی کمی ہے۔ لیکن اگر حقیقت کو دیکھا جائے تو اُس نے اپنی آمد کو صحیح دکھایا اور 80 میں سے بیس چندہ دیا۔ مگر ہم نے سو میں سے بیس دیئے اور آمدن کو کم دکھایا اور خدا تعالیٰ کا جُرم کیا۔ جھوٹ بولنا بھاری گناہ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر فرمایا ہے کہ مومن جھوٹ نہیں بولتا۔ ایک شخص جھوٹ بول کر اپنی ساری کی ساری نیکی کو ضائع کر دیتا ہے۔دنیا میں بھی یہی دیکھنے میں آتا ہے گورنمنٹ ایک آدمی کو مالیہ اکٹھا کرنے کے لیے بھیجتی ہے وہ پچاس ہزار روپیہ اکٹھا کر کے لاتا ہے۔ لوگ نادہند تھے اس نے تحقیقاتیں کیں اور روپیہ وصول کر لیا۔ اِس طرح خزانہ میں روپیہ بڑھ گیا۔ لیکن بعد میں گورنمنٹ کو پتہ چلا کہ وہ ایک ہزار روپیہ کھا گیا ہے اُس نے غلط حساب پیش کیا ہے۔ پچاس ہزار روپے اُس نے اکٹھے کیے تھے جن میں سے ایک ہزار روپیہ وہ کھا گیا۔ اُس نے دیانت اور امانت کی قیمت کو نہ جانا۔انچاس ہزار روپیہ جمع کرائے اور ایک ہزار روپیہ خود کھاگیا۔ اب دیکھو یہ ایک ہزار روپیہ اُس کی تمام کوششوں کو باطل کر دے گا۔ گورنمنٹ اُسے ضرور سزا دے گی اور اُس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرے گی۔ یہ صحیح ہے کہ اُس نے کوشش کر کے اور محنت کر کے انچاس ہزار روپیہ جمع کر کے گورنمنٹ کے خزانہ میں داخل کرا دیا مگر ایک ہزار جو اس نے کھا لیاوہ باقی انچاس ہزار پر بھی پانی پھیر دے گا۔ اب اگر وہ یہ کہے کہ یہ روپیہ گورنمنٹ کو نہیں مل سکتا تھا مَیں نے کوشش کی اور انچاس ہزار روپیہ اکٹھا کر کے لے آیا۔ اب اس میں سے دو، چار، دس، بیس جتنا تم سمجھتے ہو کہ آ سکتا ہے کاٹ لو اور باقی کو میری پیدا کر دہ آمد سمجھ لو تو کیا کوئی بیوقوف سے بیوقوف مجسٹریٹ بھی اُسے صحیح مانے گا؟ اور کیا کوئی احمق سے احمق افسر بھی اسے درست مانے گا؟ پس اگر ایک دنیاوی گورنمنٹ اِس جھوٹ کو معاف نہیں کر سکتی تو پھر اللہ تعالیٰ جھوٹ کو کیسے معاف کر سکتا ہے۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ اُس نے غلط آمد لکھوائی اور اُس نے پچاس فیصدی چندہ دینے کا وعدہ کیا جس سے لوگوں میں تحریک پیدا ہو گئی اور وہ بھی پچاس فیصدی چندہ دینے لگ گئے مگر خدا کو اِس سے کیا فائدہ پہنچا۔ اُس نے جھوٹ بولا اور گناہ کا ارتکاب کیا۔ گورنمنٹ کو تو فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ اُسے فائدہ کی ضرورت ہے۔ اگر اُسے پچاس ہزار روپیہ نہ آتا تو اُسے نقصان ہوتا مگر خدا تعالیٰ کو فائدہ کی کیا ضرورت ہے؟ اگر تم چندہ نہ دو تو اُسے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وہ تو ثواب کے لیے ہم سے نیک کام کرواتا ہے اور جب ثواب کا سوال آئے گا تو اُسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی رعایت کرے۔
    اللہ تعالیٰ انسان کو اس طرح غیب سے دیتا ہے کہ اس کا اندازہ لگانا ہی ناممکن ہے اور نہ ہی اُس کا کوئی حساب کر سکتاہے۔ مَیںنے کئی دفعہ سوچا ہے کہ میری آمدن بہت کم ہے اور خرچ بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی خرچ چلتا چلا جاتا ہے۔ حساب سے اس کا ٹھیک پتہ نہیں چلتا۔ بعض دفعہ میں دو دو تین گھنٹہ تک حساب کرتا رہتا ہوں مگر پھر پریشان ہو کر اسے چھوڑ دیتا ہوں۔ بہرحال میرا خرچ چلتا جاتا ہے۔ اگرچہ آمد بہت ہی کم ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میرے پاس کچھ گندم تھی۔ میں اس میں سے کھاتی رہی اور کبھی اس کا حساب نہ کیا۔ کچھ عرصہ کے بعد مجھے خیال آیا کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اب کتنی گندم باقی رہ گئی ہے۔ ایک دن میں نے اس گندم کو نکالا اور اندازہ کیا۔ اس کے بعد وہ گندم دس دن میں ہی ختم ہو گئی1۔
    اللہ تعالیٰ کے راہ بے انتہا ہیں۔ سب چیزیں اور مال و دولت اُس کے پاس ہے۔ زمین و آسمان اُس کے پاس ہے، اُس کا اربوں ارب حصہ بھی کسی کے پاس نہیں۔ پھر اُسے ہمارے چندوں کی کیا ضرورت ہے۔ وہ تو اِن ذریعوں سے ہمیں ثواب کا موقع عطا کرتا رہتا ہے ورنہ اُسے اِن کی ضرورت نہیں۔ ہزاروں ایسے امیر ہیں جو غریب ہو گئے اور ہزاروں ایسے غریب ہیں جو امیر ہو گئے۔ پرسوں اخبار میں بلغاریہ کے سابق بادشاہ کے متعلق چھپا تھا کہ ایک شخص جو بلغاریہ میں اُس کا مکان اور گلیاں صاف کیا کرتا تھا بلغاریہ سے امریکہ چلا گیا۔ وہاں اُس نے محنت سے کام کیا اور کوشش کی اور کچھ عرصہ کے بعد وہ لکھ پتی ہو گیا۔ اُس نے بادشاہ کو ایک خط لکھا۔ بعض لوگوں کو خط لکھنے کا شوق ہوتا ہے خواہ اُس سے کوئی فائدہ مدنظر ہو یا نہ ہو۔ ایسے لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ چلو ہمارے خط کا جواب آ جائے گا تو ہمارے پاس نشان کے طور پر رہے گا۔ بلغاریہ کے سابق بادشاہ نے اُس خط کا فوراً جواب لکھا کہ اُسے کھانے پینے کی سخت تکلیف ہے۔ اگر وہ شخص اُسے خوراک کا پارسل بھیج دے تو اُس کی بڑی مہربانی ہو گی۔ اخبار نے یہی سُرخی دی تھی کہ بادشاہ خاکروب سے بھیک مانگتا ہے۔ اب دیکھو وہ خاکروب ایک وقت میں گلیاں صاف کیا کرتا تھا اور یہ بادشاہ تھا۔ اب بادشاہ اُس خاکروب کو لکھتا ہے کہ اگر تم خوراک کا ایک پارسل مجھے بھیجو تو تمہاری مہربانی ہو گی۔ کیونکہ میں اب بڈھا ہو گیا ہوں اور خوراک کم ملتی ہے۔
    غرض بعض دفعہ بڑے سے بڑے آدمی کی حالت بھی گر جاتی ہے اور ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی ترقی کرکے بڑا بن جاتا ہے۔وہ شخص بیوقوف ہوتا ہے جو اِس پر صدمہ کرتا ہے۔دہلی کے بادشاہوں کے بعض شہزادوں کو مَیں نے خود پانی پلاتے دیکھا ہے۔ ایک دفعہ مَیں دہلی گیا۔ ایک شخص گلیوں میں پانی پلا رہا تھا۔ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ یہ شہزادہ ہے۔ مَیں نے اُسے کہا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہوا کہ یہ شہزادہ ہے۔ اُس نے کہا کہ مَیں جانتا ہوں اور مَیں اِس کا ثبوت بھی دے سکتا ہوں۔ اُس نے اُس شہزادے کو بلایا اور پانی مانگا۔ ہم نے پانی پیا۔ اُس وقت قاعدہ یہ تھا کہ سقّے پانی پلاتے تھے اور پھر کٹورا آگے کر دیتے تھے۔ قیمت مقرر نہیں ہوتی تھی۔ پانی پینے والا پیسہ دو پیسے اُسے دے دیتا تھا۔ پانی پینے کے بعد اُس دوست نے مجھے اشارہ کر دیا کہ اسے پیسہ نہ دینا۔ وہ شہزادہ تھوڑی دیر گردن اکڑا کے کھڑا رہا اور پھر چلا گیا۔ اُس دوست نے مجھے بتایا کہ احساسِ خودداری کی وجہ سے یہ مانگتا نہیں۔ صرف تھوڑی دیر کے لیے گردن اکڑا کے کھڑا ہو جاتا ہے اور لَوٹ جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اگر تم نے میرا حق دینا ہے تو دے دو ورنہ مَیں مانگتا نہیں۔
    ابھی دیکھ لو مشرقی پنجاب سے بعض لوگ ایسے آئے ہیں جن کا وہاں ہزاروں کا نقصان ہو گیا ہے۔ مگر وہ کسی سے مانگتے نہیں۔ اُن میں ہمت پائی جاتی ہے ،وہ کام کرنا چاہتے ہیں اور کسی سے مانگتے نہیں۔ نقصان جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اُس نقصان کی وجہ سے اُن کے دل کی کیا حالت ہے۔ قادیان میں میری لاکھوں کی جائیداد تھی۔ میری کوٹھی دارالحمد کی موجودہ قیمتدس لاکھ تھی۔ اور پھر یہی جائیداد ہی نہیں تھی بلکہ اَور بھی جائیداد تھی۔ قادیان میں جائیدادوں کی قیمتیں یکدم بڑھ گئی تھیں اور اِس طرح ہمارے خاندان کی ایک کروڑ سے بھی زیادہ قیمت کی جائیداد تھی۔ لیکن مجھے ایک لمحہ کے لیے بلکہ ایک سیکنڈ کے کروڑویں حصہ کے لیے بھی اس کا کبھی خیال نہیں آیا کہ میرا کوئی نقصان ہو گیا ہے۔ مجھے تو اِس کا احساس ہی نہیں ہوتا بلکہ دوسرے کے سامنے ذکر کرنے سے شرم آتی ہے کہ یہ بھی کوئی چیز ہے۔ آخر ہمارا کونسا حق تھا اور ہم نے کونسی خدمت کی تھی کہ جس کے بدلہ میں خدا نے ہمیں یہ جائیداد دی، ہمارے باپ دادوں کی وجہ سے یہ جائیداد ہمارے ہاتھ آئی۔ خدا نے قادیان کو بڑھایا، لوگ ہجرتیں کر کے قادیان آ گئے۔ جائیداد کی قیمت بڑھ گئی اور اِتنی بڑھی کہ ہزار گُنا ہو گئی۔ میری کوٹھی دارالحمد بیس ہزار روپیہ میں تیار ہوئی تھی اور اُس کی زمین پچاس ہزار روپیہ کی تھی۔ اب اُس کی قیمت بیس ہزار سے دس لاکھ ہو گئی تھی۔ قادیان کے بعض ٹکڑوں کی قیمت بیس بیس ہزار روپے فی کنال ہم نے خود دی ہے۔ کیا یہ جائیدادیں ہم نے خود بنائی تھیں یا ہم نے خود خریدی تھیں؟ اُس خدا نے ہم کو یہ جائیدادیں دیں۔ اُسی نے بھاؤ بڑھا دئیے۔ اُسی نے گاہک بھیجے اور اِس طرح ہماری جائیداد کو کئی گُنا زیادہ کر دیا۔ ہمارا اِس میں کوئی دخل نہ تھا ۔دنیوی لحاظ سے تو مَیں اسے کچھ نہیں سمجھتا خواہ وہ جائیداد ہمیں واپس ملے یا نہ ملے۔ لیکن چونکہ قادیان ہمارا دینی مقام ہے، اس کی عظمت کی وجہ سے ہماری یہ خواہش ہے کہ وہ جگہ ہمیں واپس مل جائے۔ ورنہ اگر نہ بھی ملے تو کوئی افسوس نہیں۔ مَیں تو یہ خیال کر رہا ہوں کہ جماعت میں تحریک کروں کہ اب اگر دوست واپس قادیان جائیں تو اپنی جائیدادیں وقف کر کے جائیں تا قادیان خالص مذہبی مقام ہو جائے۔ دنیا میں دولتیں آتی بھی ہیں اور جاتی بھی ہیں۔ انسانی عقل کا اِس میں چنداں دخل نہیں ہوتا۔ یہ تو خدا کا فضل ہے کہ وہ ہمیں دولت دیتا ہے۔ سب دولت محض خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اگر کوئی اِس میں بخل سے کام لیتا ہے تو یہ اُس کی غلطی ہے۔ ہاں اگر کوئی بخیل ہے تو وہ معذور ہے۔ ایک شخص مانتا ہے کہ خدائی تحریکات کوئی چیز نہیں، اگلا جہان کوئی چیز نہیں اور جو خدا کہتا ہے وہ غلط ہے تو وہ معذور ہے۔ مگر جو اِن چیزوں کو مان کر بھی بخل سے کام لیتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔
    پس میں یہاں کی جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جماعت کے فنانشل سیکرٹری سے تعاون کریں اور اُنہیں صحیح آمدنیں بتائیں تا ان کا حساب ٹھیک ہو۔ اگر کوئی شخص اپنی آمد نہیں بتانا چاہتا تو پھر وہ سَو میں سے دس ہی دے۔ بیت المال والوں کو بھی اِس قسم کی ہدایات ملی ہوئی ہیں کہ وہ کسی کی آمدن کو ظاہر نہ کریں اور اُسے راز کے طور پر رکھیں۔ گورنمنٹ بھی اُسے راز کے طور پر رکھتی ہے۔ بنکوں کو لے لو۔ بنک کا حساب کسی دوسرے کو نہیں بتایا جا سکتا۔ ایک دفعہ ایک ذمہ دار افسر سے گفتگو میں یہ ذکر آ گیا کہ ایک شخص باہر سے فساد پیدا کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اُس کے پاس روپیہ کہاں سے آتا ہے؟ مَیں نے کہا کہ مَیں بتاؤں کہ اُس کے پاس روپیہ کہاں سے آیا؟ فلاں شخص کو امریکہ سے روپیہ آتا ہے اور فلاں بنک میں جمع ہوتا ہے۔ وہاں سے وہ روپیہ باہر جاتا ہے اور اُس شخص تک پہنچتا ہے۔ مَیں نے بنک کا نام بھی بتایا۔ اُس نے بتایا کہ یہ سارے امکانات ہو سکتے ہیں۔ آپ نے ٹھیک اندازہ لگایا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ بات نہ تھی کہ دشمن کو ہمارے ملک میں سے ہو کر روپیہ جاتا ہے لیکن قرائن سے آپ کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ پھر بنک میں سے پتہ کر لو صحیح علم حاصل ہو جائے گا۔ اُس نے کہا کہ اکاؤنٹ ایک راز ہوتا ہے اور بنک بھی نہیں بتائے گا۔ پس اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اُس کی آمد راز میں رہے تو بیت المال والوں کو بھی چاہیے کہ وہ اُسے راز میں رکھیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی صحیح آمدن نہیں بتاتا تو اس کے لیے کئی گنا بہتر ہوتا کہ وہ سَو میں سے دس چندہ دیتا۔ بجائے اس کے کہ وہ سَو کی بجائے چالیس آمد لکھوا کر اُس کا پچیس فیصدی وعدہ لکھواتا۔ یہ چیز اُس کی موجودہ نیکیوں کو ہی برباد نہیں کرتی بلکہ اُس کی پرانی نیکیوں کو بھی برباد کر دیتی ہے اور اُسے فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔ اگر وہ سو میں سے دس چندہ دیتا تو اُس کے لیے آگے بڑھنے کا بھی موقع نکل آتا اور وہ قربانی میں اَور ترقی کر سکتا۔ مگر جب وہ اپنے قول کے لحاظ سے آخری حد تک پہنچ گیا تو پھر وہ اس نیکی سے بھی محروم ہو جائے گا۔ کبھی بھی کوئی اُسے مزید قربانی کی تحریک نہیں کرے گا۔ لیکن اگر وہ سو میں سے دس دیتا تو پھر کبھی نہ کبھی اُسے اپنے چندہ میں زیادتی کرنے کا خیال آ جاتا اور وہ چندہ دس فیصدی سے زیادہ کر دیتا۔ لیکن اگر وہ پہلے ہی غلط آمدنی لکھا کر آخری حد تک پہنچ جاتا ہے تو چندے مانگنے والے جب اُس کے پاس پہنچیں گے تو وہ یہی سمجھیں گے کہ یہ تو پہلے ہی آخری حد تک پہنچا ہوا ہے اِس کو نیک تحریک کی ضرورت ہی نہیں۔ایسا شخص تو یہ چاہتا ہے کہ فرشتے بھی اُس کے پاس نہ آئیں۔ لوگ تو یہ دھوکا کھا جائیں گے کہ جتنی وہ قربانی کر سکتا تھا اُس نے کر دی ہے مگر وہ ایسا کرنے سے خدا کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ ایک شخص اگر یہ کہتا ہے کہ وہ 24 گھنٹے مصلّٰی پر ہی بیٹھا رہتا ہے تو اُسے مزیدعبادت کے لیے کیا کوئی تحریک کر سکتا ہے۔ دن میں 25 گھنٹے تو ہو نہیں سکتے اور نہ اِس سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ پس جب وہ کہتا ہے کہ مَیں 24 گھنٹے مصلّٰی پر ہی بیٹھا رہتا ہوں تو پھر اُسے مزید عبادت کی تحریک کیسے ہو سکتی ہے۔ اگر وہ غلط بات بتا دے گا تو اُسی کے ساتھی اور دوست بھی اسے کوئی مزید تحریک نہیں کر سکتے اور نہ ہی اُس کے خیرخواہ اُسے نیکی کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔ وہ یہ سمجھیں گے کہ یہ تو پہلے ہی قربانی کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ اِسے اور کیا تحریک کریں۔ غرض اِس طرح وہ نیک تحریک سے بھی محروم ہو جائے گا اور دوستوں کو بھی اُس کے حالات ٹھیک کرنے اور درست کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
    دوسری بات جس کی طرف مَیں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ رمضان آنے والا ہے اور شاید اگلا جمعہ رمضان میں ہی آئے۔میں کوئٹہ اِس نیت سے آیا تھا کہ تا مَیں روزے رکھنے کے قابل ہو سکوں ۔مگر جب سے مَیں یہاں آیا ہوں میری طبیعت خراب ہے۔ سندھ میں مَیں بالکل اچھا رہا ہوں۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ بیماریاں بھی آتی رہی ہیں مگر طبیعت میں طاقت تھی اور کام کرنے کو جی چاہتا تھا مگر یہاں یہ حالت ہے کہ مَیں بیٹھ کر کام نہیں کر سکتا۔ جی یہی چاہتا ہے کہ چارپائی پر لیٹا رہوں اور لیٹ کر ہی کام کروں۔ چارپائی سے اُٹھنے کی ہمت نہیں پڑتی۔٭ لیکن تمہیں یہ چیز میسر ہے اور پھر یہاں سردی بھی ہے۔۔ باہر دوسرے علاقوںمیں تو شدت کی گرمی پڑتی ہے۔ اِس لیے تم پورے روزے رکھنے کی کوشش کرو تا اِس مبارک مہینہ سے پوری طرح فائدہ حاصل کر سکو۔
    اکثر دفعہ یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ بہانے بنا کر روزے چھوڑ دیتے ہیں۔ ہماری جماعت میں روزے کی عبادت کم ہے ۔ قادیان میں تو اَب یہ عبادت شروع ہو گئی ہے اور اِس کی طرف خاص توجہ دی جاتی ہے۔ مَیں نے قادیان والوں سے کہا تھا کہ اگر تم قادیان میں رہتے ہو اور دین کی خاطر رہتے ہو تو تمہیں اِس عبادت کی طرف خاص توجہ دینی چاہتے۔ کم از کم ہفتہ میں دو روزے تو رکھا کرو۔ ہمارے ایک دوست حافظ نور الٰہی صاحب مرحوم تھے۔ اُنہوں نے تو وہاں ہر روز روزہ رکھنا شروع کر دیا تھا۔ چونکہ بڑی عمر کے آدمی تھے مسلسل روزے رکھنے کی وجہ سے اُن کے دماغ میں نقص آ گیا اور وہ وہیں فوت ہو گئے۔ بہرحال ہماری جماعت میں روزے کی عبادت کی کمی ہے اور مَیں نے جہاں تک دوستوں سے گفتگو کی ہے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ پچھلے چُھوٹے ہوئے روزے بہت ہی کم رکھے جاتے ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری جتنی توفیق تھی اُتنے روزے رکھ لیے۔ اب اگر کوئی روزہ رہ گیا ہے تو کیا ہوا۔ حالانکہ یہ ایک قرض ہوتا ہے۔ سوائے اس کے کہ کوئی دائم المریض ہو یا اتنا کمزور ہو کہ وہ روزہ نہ رکھ سکے۔ لیکن اگر وہ دائم المریض نہیں اور نہ اتنا کمزور ہے کہ وہ اِس عبادت سے مستثنٰی ہو سکے اور پھر اس سے کچھ روزے چھُٹ گئے ہوں اور اس کے بعد اُس پر جوانی کے دن باقی رہے ہوں اور روزے رکھنے کی طاقت بھی باقی رہی ہو اور پھر روزے اُس نے پورے نہ کیے ہوں تو اُس کے لیے بخشش کی کوئی صورت نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ پچھلے کیے ہوئے گناہ کو اگلی عمر دُور کر دے۔ بڑھاپا اُس گناہ کو تو دور کر سکتا ہے جس سے پہلے بڑھاپا ہو لیکن اُس گناہ کو دور نہیں کر سکتا جو بڑھاپا آنے سے پہلے کیا گیا ہو اور پھر اُس پر کئی سال جوانی کے گزر چکے ہوں اور اس میں روزہ رکھنے کی طاقت باقی رہی ہو۔ ہاں اب وہ کمزور ہو گیا ہو یا بوڑھا ہو گیا ہو کہ وہ روزے نہ رکھ سکتا ہو تو ایسے شخص کے گناہ پھر توبہ، کفارہ اور خدا کے سامنے ندامت کے اظہار سے ہی معاف ہوں تو ہوں یا شاید مختلف نیکیوں کی زیادتی اُسے معاف کرا دے لیکن بظاہر اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں۔ پس روزوں کے ایام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔
    مَیں نے کچھ عرصہ پہلے اِس بات پر زور دیا تھا کہ بچے روزے نہ رکھا کریں مگر اِس سے غلط مطلب لے لیا گیا ہے اور بچے کی تعریف بہت لمبی کر دی گئی ہے۔ گویا روزے حذف ہی کر دئیے گئے ہیں۔ 17 ،18 سال کی عمر کے بچے کو بھی کہتے ہیں کہ چونکہ یہ ابھی بچہ ہے اِس لیے روزے نہیں رکھ سکتا۔ حالانکہ روزوں کا زمانہ آٹھ نو سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے۔ پہلے ایک دو روزے رکھے اور پھر اِسی طرح ترقی کرتا جائے۔ 14 ،15 سال کی عمر میں تو اِتنی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ اُسے ضرور روزے رکھنے چاہیں۔ ہاں بعض بچے اِس عمر میں بھی کمزور ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر اُن کے متعلق سرٹیفکیٹ دے سکتا ہے کہ اُنہیں روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ بہرحال 15 ،16 سال کا بچہ اِس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اکثر روزے رکھ سکے یا سارے روزے رکھ سکے۔ 18 ،19 سال کی عمر میں تو اُس پر بلوغت کا زمانہ آ جاتا ہے۔ اُس وقت تو کوئی وجہ ہی نہیں کہ وہ پورے روزے نہ رکھے۔ اگر کوئی اِس میں کوتاہی کرتا ہے یا کمزوری دکھاتا ہے تو اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اچھے بھلے آدمی روزے نہیں رکھتے اور یہ کہہ دیتے ہیں کہ روزے رکھنے سے پیچش لگ جاتی ہے۔ حقیقت میں اُن کی اپنی نیت نیک نہیں ہوتی اور مروڑوں کا بہانہ کر دیا جاتا ہے۔ اصل میں مروڑ اُن کے دل میں اٹھتا ہے اور ایسی کمزوری حائل ہو جاتی ہے کہ وہ اِس عبادت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
    پس کوشش کرو اور اِس مہینہ سے پورا پورا فائدہ اٹھاؤ۔ تہجد پڑھو اور اِس طرح پڑھو کہ یہ مہینہ تمہیں تہجد کی عادت ڈال دے۔ ہماری جماعت میں یہ کمی بھی پائی جاتی ہے کہ تہجد کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ صرف نماز پڑھنی ہی کافی نہیں بلکہ ذکر ِالٰہی کی بھی عادت ڈالنی چاہیے۔ قادیان میں تو مَیں نے اکثر کو ذکرِ الٰہی کی عادت ڈال دی تھی۔ دوسرے احباب کو بھی اِس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ مَیں کسی دن مجلس میں پوچھوں گا کہتم میں سے کتنے تہجد گزار ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اِتنوں میں کوئی ایسی تعداد تہجد پڑھنے والی نہیں نکلے گی جو خوشی کا موجب ہو۔ دوسرے ذکر الٰہی سے طبیعت میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔ ذکر الٰہی کرنا تو گویا سوِچ اون(Switch on) کرنا ہے۔ سوِچ اون(Switch on)کر دیا جائے تو روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور اگرسوِچ اون(Switch on) نہ کیا جائے تو پھر اندھیرا ہی رہتا ہے۔ اِسی طرح اگر ذکر الٰہی نہ کیا جائے تو طبیعت روشن نہیں ہوتی۔ پس تم اپنے اندر ذکر الٰہی کی عادت پیدا کرو تا خدا سے تمہارا تعلق بڑھ جائے۔ تمہارے اندر ہمت پیدا ہو جائے، تمہاری نظروں میں تاثیر پیدا ہو جائے اور دشمن کے دلوں میں بھی تمہارا رُعب بیٹھ جائے کہ دشمن خود بول اٹھے کہ یہ لوگ واقعی روحانیت کے پُتلے ہیں۔ آخر اِس سلسلہ نے غالب آنا ہے اور تھوڑے رہ کر غالب نہیں آنا۔ ہماری تعداد زیادہ ہو گی تبھی ہم دنیا پر غلبہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن جو قدم اِس کے لیے تم اٹھا رہے ہو وہ اِتنا لمبا ہے کہ اس سے کامیابی مشکل ہے۔ خدا ہی ہے کہ کوئی نشان دکھائے تو دکھائے مگر خدا کی بھی یہ سنت ہے کہ وہ ہر جگہ نشان نہیں دکھاتا ۔ وہ بھی اُس وقت نشان دکھاتا ہے جب قوم ایسی مصیبت میں پڑ جائے کہ اُس مصیبت سے چھُٹکارا حاصل کرنا اُس کے بس کی بات نہ ہو۔ پھر اگر وہ نشان دکھا بھی دے تو ہمیں اُس سے کیا فائدہ؟ لوگوں کا تو گھر بھر جائے گا ہم تو کورے کے کورے ہی رہیں گے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کی مجلس میں ایک دفعہ مولوی برہان الدین صاحب جہلمی مرحوم بیٹھے ہوئے تھے۔ باتیں ہو رہی تھیں۔ وہ کہنے لگے کہ میری بہن نے خواب میں دیکھا ہے کہ وہ جنت میں ہے اور مَیں (مولوی برہان الدین صاحب مرحوم) بھی وہاں پھر رہا ہوں اور بیر بیچتا پھرتا ہوں۔ اِس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ مولوی برہان الدین صاحب مرحوم پر اِس خواب کا اِتنا گہرا اثر تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تعبیر بیان کرنے سے پہلے ہی رو پڑے اور کہنے لگے حضور! مسیح بھی آیا، ہم نے اُس کا انتظار کیا اور پھر اُس پر ایمان بھی لائے مگر مَیں تو پھر بھی جھڈّو کا جھڈّو ہی رہا۔ جنت میں گیا بھی، مگر بیر ہی بیچے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ خواب میں بیر بیچنا تو مبارک ہے۔ یہ تو نہیں کہ آپ کو اصلی شکل میں ٹوکری پکڑا دی جائے گی۔ تو یہ حقیقت ہے کہ لوگ آتے ہیں، سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور نیکی کے اتنے مواقع اُنہیں ملتے ہیں کہ بادشاہت اس کے مقابل پر ہیچ ہے۔ مگر اتنے مواقع ملنے کے باوجود وہ بقول مولوی برہان الدین صاحب جہلمی مرحوم جھڈّو کے جھڈّو ہی رہتے ہیں۔
    پس تمہیں کوشش کرنی چاہیے کہ تم اپنے اندر ذکر الٰہی کی عادت پیدا کرو اور روحانیت میں ترقی کرو۔ رمضان کے مہینہ سے پورا پورا فائدہ حاصل کرو۔ موت کا وقت مقرر نہیں۔ موت آ گئی توپھر تمہیں کونسا موقع ملے گا کہ تم اپنی کھوئی ہوئی چیز کو واپس لا سکو یا تم اپنے کھوئے ہوئے وقت کو لَوٹا سکو"۔ (الفضل 10جولائی 1949ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    بخاری کتاب الرقاق باب فَضْلِ الفقر






    (1)حفاظتِ قادیان کے وعدے خود بھی ادا کرو اور دوسروں سے بھی کراؤ
    (2)تبلیغ کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ اپنے دوستوں سے صاف صاف کہہ دو کہ یا مجھے سمجھاؤ یا اپنی غلطی مان لو
    (فرمودہ16جولائی 1948ء یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "جیسا کہ مَیں نے درس کے شروع میں بتایا تھا کہ جمعہ کے دن درس نہیں ہوا کرے گا۔آج درس نہیں ہو گا۔ خطبہ میں مختصر طور پر مَیں دو باتوں کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ میری طبیعت آج خراب ہے۔ روزہ تو مَیں نے رکھ لیا ہے شاید مَیں روزہ نہ رکھنے میں معذور سمجھا جا سکتا تھا مگر خواہ میرا روزہ رکھنا صحیح تھا یا غلط تھا بہرحال مَیں نے آج اپنے اجتہاد سے روزہ رکھ لیا ہے کیونکہ مَیںنے اتنا لمبا سفر اسی لیے کیا تھا تا بیماری میں شدتِ گرمی زیادتی پیدا نہ کردے اور اس طرح مَیںروزوںسے محروم نہ رہ جاؤں۔
    وہ دو باتیں جن کی طرف مَیں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ حفاظتِ قادیان کے وعدے جن لوگوں نے کیے تھے اب وہ ان وعدوں کی ادائیگی میں بہت سستی سے کام لے رہے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا اور قادیان اور مشرقی پنجاب سے ہمیں ہجرت نہ کرنی پڑتی تب تو سستی کی کوئی وجہ ہو سکتی تھی۔ دشمن نے جو کچھ کیا اس کی وجہ سے تو لوگوں میں پہلے کی نسبت زیادہ جوش پیدا ہو جانا چاہیے تھا۔ میرا چندہ حفاظتِ قادیان بیس ہزار روپے بنا تھا جو مَیں نے قادیان میں ہی دے دیا تھا۔ مَیں نے یہ رقم ادا نہ کی ہوئی ہوتی تو اگر تھوڑی سے تھوڑی طاقت بھی اس کی ادائیگی کی ہوتی تو مَیں ضرور سب سے پہلے یہ رقم ادا کرتا اور ہرگز یہ عذر پیش نہ کرتا کہ چونکہ میری جائیداد قادیان میں رہ گئی ہے اس لیے مَیں یہ چندہ ادا نہیں کر سکتا۔ حق تو یہ ہے کہ اگر کوئی چیز ہمارے پاس باقی رہ گئی ہے تو اس میں خدا تعالیٰ کا حق سب سے مقدم ہے اور ہمارا حق بعد میں ہے۔ مجھ سے قادیان کے بعض دوستوں نے پوچھا تھا کہ ہماری جائیدادیں قادیان میں رہ گئی ہیں ہمارے لیے اس چندہ کے متعلق کیا حکم ہے؟ مَیں نے ان سے کہا ان کی جائیدادیں خواہ کم تھیں یا بالکل ہی نہیں تھیں وہ صرف محنت مزدوری کر کے اپنا گزارہ کرتے تھے۔ پس اس کا سوال ہی نہیں ہے کہ ان کی جائیدادیں مشرقی پنجاب میں رہ گئی ہیں۔ اگر انہوں نے حفاظتِ قادیان کے چندے کے وعدے کیے ہوئے تھے تو انہیں بھی اپنے وعدے ادا کرنے چاہییں اور یہ چندہ بہرحال دینا چاہیے۔ میری جائیداد بھی تو قادیان میں رہ گئی ہے۔ مَیں نے یہ چندہ قادیان میں ہی ادا کر دیا تھا۔ کیا مجھے سزا اس بات کی ملنی چاہیے کہ مَیں نے چندہ پہلے کیوں ادا کر دیا۔ اگر آپ نے ابھی تک چندہ ادا نہیں کیا تو یہ آپ کی غفلت ہے اور آپ کی غفلت کی سزا آپ کو زیادہ ملنی چاہیے نہ یہ کہ آپ کو چندہ ہی معاف کر دیا جائے۔ قادیان کے دوستوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ اگر میری ان کے متعلق یہ رائے ہے تو دوسروں کو مَیں کس طرح معذور سمجھ سکتا ہوں۔ یہ چندہ نہایت ہی اہم ہے لیکن اس کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ کل کی رپورٹ جو مجھے ملی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اس مد میں صرف 56 روپے کی رقم وصول ہوئی ہے۔ گویا اس طرح کی وصولی کے یہ معنے ہوئے کہ پندرہ سو روپیہ فی مہینہ آمد ہوئی اور ابھی آٹھ لاکھ کی وصولی باقی ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ 42 سال میں جا کر یہ رقم وصول ہو گی۔ کیا کوئی معقول آدمی یہ خیال کر سکتا ہے کہ اگر اس طرح آمد رہی تو یہ اتنا ضروری اور اہم کام چل سکتا ہے۔ ہمارا کام پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ پھر قادیان میں جو لوگ جاتے ہیں وہاں ان کی کمائی کی کوئی صورت نہیں۔ان پر بھی بہرحال سلسلہ کا خرچ آتا ہے۔ وہ اپنے کام بند کر کے قادیان چلے جاتے ہیں۔ ان کا بوجھ بھی سلسلہ نے اٹھانا ہے۔ پچھلے لوگوں کو تو ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ جس طرح ہو سکے گزارہ کیے جاؤ لیکن جو لوگ قادیان میں ہیں وہ تو بالکل بے کار ہیں اور وہ کوئی کام کر ہی نہیں سکتے۔ ان کے کھانے ،نہانے دھونے کے لیے صابن کا خرچ وغیرہ سلسلہ کو برداشت کرنا ہو گا۔ پھر قادیان میں جو مکانات ہمارے قبضہ میں ہیں ان کے ٹیکس بھی ہمیں ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اگر ہم ان کے ٹیکس ادا نہ کریں تو حکومت ہمیں وہاں سے نکال دے گی۔ ہم یہ عذر پیش نہیں کر سکتے کہ ان مکانات کے مالک یہاں نہیں ہیں اس لیے ہم ٹیکس ادا نہیں کر سکتے یا وہ ہیں تو یہاں مگر کچھ کما نہیں سکتے۔ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہم ٹیکس نہیں دے سکتے تو حکومت کے ہاتھ میں یہ ایک ہتھیار آ جائے گا کہ اچھا یہ ٹیکس نہیں دیتے ان کے مکان نیلام کروا دو۔
    پس اگر ہم ان محلوں کو جو ہمارے قبضہ میں ہیں خالی کرنا نہیں چاہتے تو ہمیں ان مکانات کے ٹیکس ادا کرنے پڑیں گے اور پھر یہ سیدھی بات ہے کہ ایسی خطرناک جگہوں پر اور بہت سے اخراجات بھی کرنے پڑتے ہیں۔ پھر ہمیں ساری دنیا میں پروپیگنڈا بھی کرنا ہے اور پروپیگنڈا کے لیے دوسرے ممالک میں ٹریکٹ وغیرہ بھی بھیجنے پڑتے ہیں اور اس سوال کو زندہ رکھنے کے لیے وزارتوں ، اسمبلیوں اور پارلیمنٹوں وغیرہ کے ساتھ تعلق تازہ رکھنا پڑتا ہے اور ان جماعتوں میں پروپیگنڈا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری قومیں اگر اس کام کو کرنا چاہیں تو ایک لاکھ روپیہ فی مہینہ سے بھی اس کام کو نہیں چلا سکتیں لیکن ہمارا کام تو بہت تھوڑے پیسوں سے ہو رہا ہے مگر پھر بھی اخراجات اوسطاً پچیس تیس ہزار روپیہ سے کم نہیں۔اگر پندرہ سو روپیہ ماہوار کی ہی آمد رہی تو ہم مجبور ہو کر قادیان کے دوستوں سے کہہ دیں گے کہ وہ قادیان خالی کر کے آ جائیں۔ اس لیے کہ تمہاری قوم تمہاری حفاظت کے لیے تیار نہیں۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ آیا کوئٹہ کی جماعت اپنا حق ادا کر چکی ہے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سال کے وعدے تھے جس پر ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور ابھی تک جماعت کے دوستوں نے اپنے وعدوں کی ادائیگی کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ اب تو دوسرے سال کا مطالبہ ہونا چاہیے تھا مگر ابھی تک پچھلے سال کے وعدے بھی ادا نہیں ہوئے۔ یہ خطبہ تو شائع ہو جائے گا اور دوسری جماعتوں میں بھی جائے گا لیکن میرے پہلے مخاطب آپ ہیں۔ مَیں جماعت کے سیکرٹری صاحب مال کو جن کے کام سے مجھے بہت خوشی حاصل ہوئی ہے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ حساب کریں کہ جماعت کے کتنے وعدے تھے اور کیا وہ ٹھیک تھے غلط تو نہیں تھے۔ اگر غلط تھے تو وہ انہیں ٹھیک کروائیں اور اگر ٹھیک تھے تووہ دیکھیں کہ کیا ان کی ادائیگی ہو چکی ہے؟ اور اگر ادائیگی نہیں ہوئی تو وہ ادائیگی کروائیں اور دوسری جماعتوں کے لیے نمونہ بنیں تا ان کا نمونہ دیکھ کر دوسری جماعتیں بھی نیکی کی طرف بڑھیں۔٭
    دوسری بات جس کی طرف مَیں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ مَیں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہاں تبلیغ کم ہو رہی ہے اور احباب پوری طرح اس کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔ اب بھی مَیں سمجھتا ہوں کہ حقیقی طور پر یہاں تبلیغ نہیں ہو رہی ۔ اِس وقت مجھے یہ کہا بھی گیا تھا کہ تبلیغ ہو رہی ہے اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ بعض دوست بیعت کے لیے تیار بھی ہیں مگر ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح عام لوگوں میں یہ غلطی پائی جاتی ہے کہ جب کوئی کسی سے سر سری بات کر لیتا ہے تو یہ سمجھ لیا جاتاہے کہ تبلیغ ہو گئی۔ کسی کے سامنے جماعت کی سرگرمیوں کا سرسری طور پر ذکر کر دیا اور اس نے ہاں میں ہاں ملا دی یا کہہ دیا کہ تمہاری جماعت بہت اچھا کام کر رہی ہے تو پھرسمجھ لیا جاتا ہے کہ بس وہ احمدی ہو جائے گا۔ یہاں بھی یہ غلطی پائی جاتی ہے۔ اپنے مطلب کی بات میں تو ہر ایک ہاں میں ہاں ملا دیتا ہے۔ اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کر لینا کہ وہ احمدیت کی طرف مائل ہے یا جلد ہی احمدی ہوجائے گا غلط ہے۔ کسی کے گھر میں کوئی پھلوں کی ٹوکری بھیج دے اور وہ جَزَاکَ اللّٰہُ کہہ دے اس سے یہ مطلب نکال لینا کہ وہ احمدیت کی طرف مائل ہے نہایت ہی عقل کے خلاف ہے۔ یہ خیال کر لینا کہ لوگ سرسری ذکر سے تسلی پا جاتے ہیں درست نہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مَیں نے یہ سنا تھا کہ ایک لڑکا تھا۔ ماں نے اسے نوکری کے لیے ایک امیر آدمی کے پاس بھیج دیا۔ وہ خود بیوہ تھی اور اس کے اَور بھی بچے تھے۔ اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا جو تنخواہ تمہیں مِلا کرے گی وہ سب مجھے بھیج دیا کرنا۔ بیٹے نے کہاکہ اگر مجھے کوئی ضرورت ہوئی تو وہ مَیں کہاں سے پوری کروں گا؟ ماں نے کہا وہ انعاموں سے پوری کر لینا۔ بیٹے نے کہا کہ انعام کیسے ملتے ہیں؟ تو ماں نے کہا اچھے آقا اپنے نوکروں کو انعام دیا کرتے ہیں۔ بیٹے نے کہا اگر وہ نہ دے؟ ماں نے کہا جب خوش ہو انعام مانگ لیا کرنا۔ بیٹے نے کہا مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ وہ خوش ہوا ہے؟ ماں نے کہا مَیں تمہیں بتاتی ہوں۔ جب وہ ہنسے گا تو سمجھ لینا وہ خوش ہو گیا ہے۔ پھر اس سے انعام مانگ لینا۔کچھ عرصہ کے بعد وہ امیر آدمی سفر پر گیا۔ راستے میں وہ ایک سرائے میں ٹھہرا۔ رات کو بارش شروع ہو گئی۔ اس امیر آدمی نے نوکر سے کہا کہ لیمپ بجھا دو۔ مجھے روشنی میں نیند نہیں آتی۔ نوکر نے جواب دیا منہ پر لحاف لے لو خود بخود اندھیرا ہو جائے گا کیونکہ مجھے بھی اندھیرے میں نیند نہیں آتی۔ وہ امیر آدمی اسے بچہ سمجھ کر چپ ہو رہا ۔ پھر کچھ دیر کے بعد اس نے کہا کہ جاؤ دیکھو کہ کیا بارش ہو رہی ہے؟ نوکر نے چارپائی پر لیٹے ہوئے ہی جواب دے دیا ہاں بارش ہو رہی ہے۔ مالک نے پوچھا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ بارش ہو رہی ہے؟ نوکر نے جواب دیا میرے پاس سے ایک بلی گزری ہے۔ میں نے اس پر ہاتھ مار کر دیکھا ہے وہ بھیگی ہوئی تھی۔ پھر مالک نے کہا کہ ہوا ٹھنڈی آ رہی ہے کواڑ بند کر دو۔ نوکر نے جواب دیا۔ دو کام مَیں نے کیے ہیں یہ کام آپ کر لیں۔ مالک اپنے نوکر کی بیوقوفی پر ہنس پڑا۔ اس پر وہ لڑکا فوراً کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ حضور ا!انعام دیجیے۔ یہی حال سرسری تبلیغ کا ہے۔ مطلب کی بات پر تو ہر ایک خوش ہو جاتا ہے۔ مطلب کی باتیں کسی کے سامنے پیش کر دینے سے تبلیغ کا فرض ادا نہیں ہوتا اور نہ ایسی تبلیغ سے کوئی نتیجہ نکلتا ہے۔ بلکہ ایسے مسائل پیش کرنے چاہییں جس سے وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ پھر ایسی صورت سے پیش نہیں کرنے چاہییں جس سے وہ چِڑ جائیں بلکہ اس طرح پیش کرنے چاہییں کہ ان کے اندر صداقت کو قبول کرنے کا میلان پیدا ہو جائے۔ اگر تمہارا کوئی دوست ہے تو اس سے پوچھو کہ دیکھو بھائی مَیں تم سے اتنی دیر سے ملتا جلتا رہا ہوں یا تو مَیں بے ایمان ہوں یا تم بے ایمان ہو۔ دونوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔ مَیں تو تمہیں سمجھاتا رہا ہوں۔ اگر میری باتیں ٹھیک ہیں، اگر میری باتوں کا تم پر اثر ہے اور تم سمجھتے ہو کہ مَیں صحیح راستہ پر ہوں تو پھر تم کیوں سزا کو قبول کرتے ہو اور جہنم میں پڑتے ہو۔ لیکن اگر تم سمجھتے ہو کہ میں غلط راستہ پر ہوں تو پھر تمہیں چاہیے کہ مجھے سمجھاؤ تا مَیں غلط راستہ کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ ہو جاؤں گا۔ اس طرح وہ اپنا اندرونہ آپ پر کھول دے گا۔ اگر اسے آپ کی کچھ باتیں سمجھ نہیں آئیں تو وہ باتیں تمہیں بتائے گا کہ دیکھو بھئی یہ باتیں میری سمجھ میں نہیں آئیں اور اس طرح آپ کو دوبارہ سمجھانے کا موقع مل جائے گا۔ بغیر اس کے کام نہیں چلے گا۔ محض باتیں سننے سے کسی کے چہرے پر بشاشت کا ظاہر ہو جانا اس بات کی علامت نہیں کہ وہ احمدی ہو گیا ہے یا یہ کہ وہ احمدیت کے قریب ہے اور جلد بیعت کر لے گا۔ اگر کسی نے آپ کے گھر آ کر کھانا کھا لیا اور اس نے خوش ہو کر کہہ دیا کہ آپ کی جماعت بڑی اچھی ہے، آپ لوگ تبلیغ کرتے ہیں، قربانی اور ایثار کا جذبہ آپ لوگوں میں پایا جاتا ہے اس سے آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ احمدیت کے قریب ہے اور وہ جلدی بیعت کر لے گا۔ اگر آپ ایسا سمجھ لیتے ہیں تو یہ آپ کا غلط اندازہ ہے۔ پچھلے دنوں جب ہم قادیان میں دشمن کے مقابلہ میں ڈٹے ہوئے تھے اُس وقت ہر طرف یہ شور تھا کہ جماعت احمدیہ قربانی کا بہت اچھا نمونہ پیش کر رہی ہے۔ یہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ دوسرے مسلمانوں پر احمدیت کا اثر تھا یا انہوں نے احمدیت کو سچا جان لیا تھا بلکہ اُس وقت ان کے سامنے اپنی غیرت اور عزت کا سوال تھا۔ وہ دنیا کو بتانا چاہتے تھے کہ دیکھو مسلمانوں کا ایک حصہ تو اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ اس طرح اس نیک نامی اور شہرت میں ہمارے ساتھ شریک ہو جائیں اور اس کام میں ہمارے ساتھ برابر کے حصہ دار ہو جائیں جو ان کے اپنے مطلب کی بات تھی جس کی وجہ سے وہ ہمارے اس کام پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ جب کام نکل گیا تو اب انہی لوگوں میں سے بہت سے مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ لیکن کامل دوست تو وہ ہے جو اچھے اور بُرے ، آرام اورتکلیف، سکھ اور دکھ سب میں شریک ہو اور یہ اس طرح ہی ہو سکتا ہے کہ وہ جماعت میں داخل ہو جائے۔ آپ کو ایسے افراد سے تصفیہ کر لینا چاہیے۔ یونہی لٹکائے نہیں جانا چاہیے۔ تبلیغ کرو اور دیکھو تمہاری تبلیغ کا ان پر کیا اثر ہے۔ اگر آپ کی باتوں کا ان پر اثر ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ آپ ٹھیک راستہ پر جا رہے ہیں تو پھر ان سے کہہ دو کہ اگر تمہارے نزدیک میری باتیں صحیح ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ مَیں ٹھیک راستہ پر جا رہا ہوں تو پھر تمہیں ماننے میں کیا انکار ہے۔ مَیں نے جو درست سمجھا تھا وہ تمہیں بھی سمجھا دیا ہے۔ اب اگر تم کو کوئی اعتراض ہے تو وہ پیش کرو ورنہ تم مجھے سمجھاؤ اوراس راستہ پر مجھے بھی لگا لو جس کو تم صحیح خیال کرتے ہو۔ اس طرح اگر تمہارا دوست تمہاری باتوں کو ہی درست سمجھتا ہے تو وہ تمہارے ساتھ آ جائے گا اور اگر اسے ابھی کچھ اعتراضات ہیں تو پھر تمہیں ان کے جوابات دینے کا موقع مل جائے گا۔ جب تمہاری تبلیغ سے اس کی تسلی ہو جائے اور تم اس پر حجت تمام کر لو تو اسے کہو کہ مرد بنو بزدل نہ بنو۔ آؤ ان اکھلیوں میں تم بھی سر دو جن میں مَیں نے اپنا سر دیا ہوا ہے۔ اگر تم اسے ٹھیک کام سمجھتے ہو تو پیچھے کیوں ہٹتے ہو۔ حق یہی ہے کہ کسی نہ کسی جگہ پر بات پہنچے۔ یونہی غلط طور پر کسی کی نسبت خیال کر لینا کہ اب یہ احمدیت کے قریب ہے اور ضرور بیعت کر لے گا درست نہیں۔ اس طرح بات تو لٹکتی جائے گی۔ وہ پانچ سال بعد بھی وہی بات کہہ دے گا جو بات اس نے اب آپ کے سامنے کہی ہے یا پانچ سال قبل آپ کے سامنے کہی تھی۔ دوست وہی ہے جو تمہارے ہر کام میں شریک ہو ورنہ دوستی کا فائدہ ہی کیا۔
    پس رسمی اور سرسری باتیں کرنا کافی نہیں۔ تبلیغ کرو اور ایسی تبلیغ کرو جس کا کوئی نتیجہ بھی نکلے۔ یا تو وہ سچے طور پر تمہاری باتوں پر غور کرے اور یا وہ کہہ دے کہ وہ صرف ظاہرداروں کی باتیں کرتا تھا اور قطع تعلق کر لے۔ اس طرح تمہیں جو اس پر اعتماد تھا اس کی حقیقت کھل جائے گی۔ پس حقیقت یہی ہے کہ یہاں سچے طور پر تبلیغ نہیں کی گئی۔ وہ تبلیغ جس سے کہ کسی پر حجت تمام ہو۔ جب تک کسی سے کھول کر باتیں نہ کی جائیں تب تک کوئی تبدیلی مذہب پر تیار نہیں ہوتا۔اپنے مذہب اور عقیدے کو چھوڑنے پر کوئی اس وقت ہی تیار ہو سکتا ہے جب اس کے سامنے ایسی دلیلیں پیش کی جائیں جن سے اس پر حجت تمام ہو جائے اور وہ سمجھ لے کہ جس مذہب کی طرف تم اسے بلا رہے ہو وہی سچا ہے ورنہ سرسری باتوں سے یہ سمجھ لینا کہ وہ تمہارا ہم خیال ہو جائے غلط ہے۔ پس اس طرح تبلیغ کرو کہ یا تو وہ سلسلے میں داخل ہو جائے اور یا وہ اپنا عندیہ کھول کر رکھ دے اور تمہارا یہ خیال باطل ہو جائے کہ وہ قریب زمانہ میں احمدیت میں شامل ہو جائے گا۔ دوست وہی ہے جو اِس جہان میں بھی ساتھ ہو اور اگلے جہان میں بھی ساتھ ہو۔ اگر کوئی دوست دونوں جہان میں ساتھ نہیں تو وہ دوست کس کام کا۔ اگر تمہارا دوست جہنم میں جاتا ہے اور تمہیں خدا تعالیٰ جنت میں بھیج دیتا ہے تو پھر وہ دوستی دوستی نہیں۔ حقیقی دوستی تب ہی ہے جب تم اپنے دوست کو بھی جنت میں لے جاؤ۔ جب تک تمہارا دوست بھی تمہارے ساتھ جنت میں نہ ہو تو تمہیں جنت میں رہ کر بھی حقیقی سکھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارا دوست جہنم میں ہے تو تمہیں جنت میں کیسے سکھ نصیب ہو سکتا ہے۔
    پس وہ دو باتیں جن کی طرف مَیں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں:۔
    اوّل اگر حفاظتِ قادیان کے وعدے کیے ہوئے ہیں اور ان کی ابھی تک ادائیگی نہیں ہوئی تو انہیں ادا کروائیں یا اگر غلط وعدے لکھوائے ہوئے ہیں تو انہیں صحیح کروائیں۔ یہاں کی جماعت کا تو مجھے علم نہیں دوسری جماعتوں کے بعض دوستوں کا مجھے علم ہے جن کی جائیداد مجھ سے کسی صورت میں بھی کم نہیں لیکن میرے چندے کا پانچواں یا چھٹا حصہ انہوں نے چندہ لکھوایا ہے حالانکہ ان کی جائیدادیں بہت زیادہ ہیں۔ ایسی غلطی کرنے والوں کی اصلاح کریں اور ان سے صحیح وعدے لے کر ادائیگی کروائیں۔ کئی دوست چھوٹی چھوٹی آمدوں کو آمد ہی خیال نہیں کرتے۔ ایک بڑی آمد کو آمد سمجھ کر اس کا چندہ دے دیتے ہیں اور بڑی آمد پر بھی پہلے ہی ڈسکاؤنٹ (Discount) لگا لیتے ہیں۔ تاجر خیال کرتے ہیں کہ وہ دکان سے جو گھر کا خرچ نکالتے ہیں وہی ان کی آمد ہے۔ بعض لوگ آپ ہی اپنی تنخواہ مقرر کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری آمد یہ ہے اور باقی نفع کہتے ہیں کہ دکان میں لگا دیا گیا حالانکہ جو آمد ہے وہی آمد ہے خواہ وہ دکان میں ڈال دی جائے یا بنک میں جمع کرا دی جائے۔ ایک ہی بات ہے۔ یہ کہہ دینا کہ دکان والی رقم کا مجھے کیا فائدہ، غلط ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے والے ہیں تو مومن ،لیکن غلط فہمی کی بناء پر ایسا کرتے ہیں۔ اگر انہیں سمجھایا جائے تو اصلاح ہو سکتی ہے۔ اگر ان کے اندر ایمان نہیں ہے تو وہ جماعت سے علیحدہ ہو جائیں گے اور اس طرح جماعت ان کے بوجھ سے بچ جائے گی لیکن اگر ان میں ایمان ہے اوروہ سمجھتے ہیں کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے تو وہ ضرور اپنی اصلاح کر لیں گے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ جماعت میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو وضاحت کر دینے کے بعد بھی پیچھے رہنے والے ہوں۔ ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد اور اس کے نقش قدم پر چلنے والوں کی طرح مجھے جماعت میں عیب ہی عیب نظر نہیں آتے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ جب بات کھل جاتی ہے تو جماعت کا اکثر حصہ قربانی میں پیچھے نہیں رہتا۔ نیک کام کے لیے عادت کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کام کی عادت پڑنے میں کچھ دیر لگتی ہے۔ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کبھی کوئی نیا حکم دیا تو کچھ دیر تک اس میں رکاوٹ پڑ جاتی تھی مگر کچھ عرصہ بعد وہ صحیح ہو جاتی تھی۔ چندے کی عادت پڑنے میں بھی دیر لگتی ہے۔ جب سلسلہ کا کام خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے سپرد ہوا اُس وقت دو پیسہ فی روپیہ چندہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں دھیلا فی روپیہ چندہ تھا۔ پھر پیسہ ہوا، پھر دو پیسے ہوا اور پھر ایک آنہ فی روپیہ چندہ ہوا۔ اب جماعت کے ایک حصہ نے وصیت بھی کی ہوئی ہے جو کم از کم اپنی آمد کا 1/10 چندہ دیتے ہیں اور اب سینکڑوں کی تعداد بلکہ جیسا کہ مجھے پچھلی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے یہ تعداد ہزار تک پہنچ گئی ہے جوساڑھے سولہ فیصدی سے پچاس فیصدی تک چندے دے رہے ہیں۔ بعض دوستوں نے میری پہلی تحریک پر عمل کرتے ہوئے 50 فیصدی چندہ دینا شروع کر دیا تھا۔ اگرچہ مَیں نے اسے بعد میں 33 فیصدی کر دیا ہے مگر وہ ابھی تک 50 فیصدی ہی دے رہے ہیں۔ ایسے دوستوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ جائے گی بلکہ جماعت کا اکثر حصہ ایسا ہو گا جوساڑھے سولہفیصدی سے 33 فیصدی تک چندہ دیتا ہو گا۔ اب دیکھو کہ کس طرح ترقی کرتے کرتے جماعت چندہ میں ترقی کر گئی اور ابھی اِنْشَاء َ اللّٰہُاَور کرے گی۔
    اسی طرح جان کی قربانی کے سوال ہی کو لے لوجب مَیں نے یہ چیز جماعت کے سامنے پیش کی تو جماعت کی یہ حالت تھی1گویا وہ موت کی طرف ہنکائے جاتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے بعد جماعت میں جان کی قربانی کی بھی عادت پڑ جائے گی۔ موت تو سب سے ہلکی چیز ہے خدا اور اس کے کام کی خاطر اگر کسی کو موت آ جاتی ہے تو کیا ہوا یہ خدائی تقدیر ہے جس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ دنیاکے کاموں میں کیا کسی نے گارنٹی دی ہوئی ہے کہ کام کرتے ہوئے اسے موت نہیں آئے گی۔ اگر دنیاوی کام کرتے ہوئے وہ مر جائے تو پھر اس کے بچوں کی کون پرورش کرے گا۔ لیکن اگر خدا کا کام کرتا ہوا مر جائے گا تو خدا تعالیٰ اس کے لیے کچھ تو غیرت دکھائے گا اور وہ اس کی خاطر کچھ تو کرے گا۔ پھر یہ ضروری نہیں کہ وہ مر جائے بسااوقات انسان زندہ رہتا ہے۔ غرض جماعت میںاب بیداری پیدا ہو رہی ہے اور کچھ عرصہ کے بعد جماعت کے اندر یہ روح پیدا ہو جائے گی کہ وہ جہاد کرنے لگ جائے گی۔ پس ہر کام عادت ڈالنے سے ترقی کرتا جاتا ہے۔
    تبلیغ کی طرف جماعت کو توجہ دلانا بھی ایک وقت اور محنت چاہتا ہے۔ باقاعدہ اس طرف توجہ کی جائے تو ہر شخص اس کام کا عادی ہو جائے گا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کہیں کی کہیں جا پہنچے گی۔ اس سلسلہ میں جماعت کے مقرر کردہ تبلیغ کے عہدہ داروں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ محنت سے کام کریں۔ سونے سے کام نہیں بنے گا۔مجھے یہ علم نہیں کہ یہاں کے سیکرٹری تبلیغ کون ہیں۔ ابھی تک وہ مجھ سے نہیں ملے۔ اگر وہ مجھ سے ملتے اور اپنے حالات بتاتے تو مَیں ان کو تبلیغ کے کئی ایک طریقے بتا سکتا تھا جن پر عمل کر کے وہ اس میدان میں کامیاب ہو سکتے تھے لیکن انہوں نے کوئی پروا نہیں کی۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے فرائض کی طرف توجہ دیں۔ جماعت کے لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سیکرٹری تبلیغ مقرر کر دیا ہوا ہے جس کا کام ہے کہ وہ تبلیغی کام کرے۔ جب وہ سیکرٹری ان سے کہتا ہی نہیں تو وہ تبلیغ کیا کریں۔ سیکرٹری تبلیغ کو چاہیے کہ وہ کام کرنا سیکھے۔ اور کوئی مشکل پیش آتی ہو تو وہ مجھ سے پوچھے مَیں اسے بتاؤ ں گا کہ وہ مشکل کیسے آسان ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں کو اس چیز کا احساس ہوتا ہے۔ ہمارے ایک نئے احمدی دوست ہیںجو بلوچستان میں ملازم ہیں ویسے یوپی کے رہنے والے ہیں۔ وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ وہ کونسے طریقے ہیں جن کو اختیار کرنے سے بلوچستان میں تبلیغ کامیاب ہو سکتی ہے؟ مَیں نے سمجھ لیا کہ ان میں اس چیز کا احساس پایا جاتا ہے اور مَیں نے ان کو کئی ایک طریقے بتائے جن کو اختیار کرنے سے بلوچستان میں تبلیغ کامیاب ہو سکتی ہے۔ قادیان کے اردگرد کی جماعتوں کو مَیں نے اس طرف توجہ دلائی تھی اور پھر تھوڑے ہی عرصہ میں جماعت کی تعداد دس بارہ ہزار سے ترقی کر کے ساٹھ ستّر ہزار ہو گئی تھی۔ پس اگر اس طرف ذرا بھی توجہ کی جاتی تو یہ مشکل کام نہ تھا ۔ جو طریقہ یہاں کی جماعت کے دوستوں نے اختیار کیا ہوا ہے یا عام طور پر احمدی جماعتیں اختیار کرتی ہیں وہ غلط ہے۔ دوستوں کو اس کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ صحیح طریقہ یہی ہے کہ تم اپنے دوستوں سے صاف صاف کہہ دو کہ یا تم غلطی پر ہو یا مَیں غلطی پر ہوں۔ اگر تم مجھے غلطی پر سمجھتے ہو تو دوستی کا حق یہ ہے کہ تم مجھے سمجھاؤ تا مَیں صحیح راستہ پر آجاؤں اور اگر مَیں حق پر ہوں توتمہیں بھی میرے ساتھ ہو جانا چاہیے اور اگر صحیح طور پر کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ انہیں اس طرف توجہ نہ دلائی جاسکے"۔
    (الفضل 4؍اگست 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    الانفال:7


















    رمضان کے بابرکت مہینہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاؤ اور اپنے اوقات کو خدمتِ دین میں صَرف کرو۔
    (فرمودہ6؍اگست 1948ء یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مسلمانوں کے عام رسم و رواج کے مطابق آج جمعۃ الوداع ہے جو لوگوں کی بدعملیوں اور گناہوں کے دھونے کے لیے آتا ہے۔ انہوں نے اپنی کمزوریٔ ایمان کی وجہ سے یہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ سارا سال کوئی نماز پڑھے یا نہ پڑھے یہ جمعہ پڑھ لے تو اس کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر جمعہ ہی ہمارے لیے برکتیں لے کر آتا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگا جائے وہ اُسے مل جاتا ہے1 لیکن یہ ساعت بڑی لمبی ہوتی ہے۔ جمعہ کا وقت اشراق سے شروع ہوتا ہے اور عصر تک چلا جاتا ہے اس لیے اس گھڑی کا پکڑنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ سوائے اس کے کہ کوئی ہر وقت دعا میں لگا رہے اور اس کی توجہ اِدھر اُدھر نہ ہو اور اس کے خیالات بھی پراگندہ نہ ہوں۔ لیکن اتنی محنت کون کرتا ہے اور کون اتنی دیر دعا میں مشغول رہ سکتا ہے۔ سوائے اس کے جسے خدا تعالیٰ خاص طور پر توفیق دے۔ رمضان کے بعد کچھ ایسے لوگ ہوں گے جن سے اگر کچھ روزے رہ گئے ہوں تو وہ انہیں پورا کریں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جنہیں رمضان کے پورے روزے رکھنے کی توفیق ملی ہے اور وہ نفلی روزے رکھیں گے جو حدیثوں سے ثابت ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی بدقسمت ہوں گے جنہیں رمضان کے پورے روزے رکھنے کی توفیق نہیں ملی اور وہ انہیں پورا کرنے کی بھی کوشش نہیں کریں گے لیکن یہ وہی لوگ ہوں گے جو رمضان کی عظمت پر یقین نہیں رکھتے اور جو اسلام کی عظمت پر یقین نہیں رکھتے۔
    مَیں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے جن میں رمضان کی زیادہ قدر نہیں۔ اگر وہ ایسی جگہ ہوں جہاں روزے رکھے جاتے ہیں تو وہ بھی شرم کے مارے روزے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر کچھ روزے رہ جائیں تو ان کو پورا کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ بعض ایسے نوجوان بھی ہیں جو بہانہ کر دیتے ہیں کہ روزہ رکھنے سے انہیں پیچش لگ جاتی ہے۔ بیماری کے نتیجے میں اگر کوئی روزہ نہ رکھ سکے تو قرآن کریم نے یہ حکم دیا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے لیکن اُس وقت جب اس کا نفس بھی سمجھتا ہو کہ وہ بیمار ہے اور پھر اس کا فرض ہے کہ یہ روزے رمضان کے بعد رکھے۔ محض اِس خیال سے کہ اسے پیچش لگ جائے گی اس لیے وہ روزے نہیں رکھتا جائز نہیں بلکہ گناہ ہے اور محض نفس کا بہانہ ہے۔ پھر بعض بیماریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں انسان سارے کام کر لیتا ہے۔ مثلاً پرانی بیماریاں ہیں ان میں انسان سب کام کرتا رہتا ہے۔ ایسا بیمار بیمار نہیں سمجھا جاتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک دفعہ یہ فتویٰ پوچھا گیا کہ کیا اس ملازم کا سفر شمار کیا جائے گا جو ملازم ہونے کی وجہ سے سفر کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا سفر سفر نہیں گِنا جا سکتا۔ اس کا سفر تو اس کی ملازمت کا ایک حصہ ہے۔ اسی طرح بعض ایسی بیماریاں ہوتی ہیں جن میں انسان سارے کام کرتا رہتا ہے۔ فوجیوں میں بھی ایسے ہوتے ہیں جو اِن بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں مگر وہ سارے کام کرتے رہتے ہیں۔ چند دن پیچش ہو جاتی ہے لیکن اِس وجہ سے وہ ہمیشہ کے لیے کام کرنا چھوڑ نہیں دیتے۔ پس اگردوسرے کاموں کے لیے وقت نکل آتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایسا مریض روزے نہ رکھ سکے۔اس قسم کے بہانے محض اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل روزہ رکھنے کے ہی خلاف ہوتے ہیں۔ بے شک یہ قرآنی حکم ہے کہ سفر کی حالت میں اور اسی طرح بیماری کی حالت میں روزے نہیں رکھنے چاہییں اور ہم اس پر زور دیتے ہیں تا قرآنی حکم کی ہتک نہ ہو۔ مگر اس بہانہ سے فائدہ اٹھا کر جو لوگ روزہ رکھ سکتے ہیں اور پھر وہ روزہ نہیں رکھتے یا ان سے کچھ روزے رہ گئے ہوں اور وہ کوشش کرتے تو انہیں پورا کر سکتے تھے لیکن وہ ان کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ ایسے ہی گنہگار ہیں جس طرح وہ شخص گنہگار ہے جو بِلاعذر رمضان کے روزے نہیں رکھتا۔ اس لیے ہر احمدی کو چاہیے کہ جتنے روزے اس نے کسی غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے نہیں رکھے وہ انہیں بعد میں پورا کرے۔ یا اگر اس کے کچھ روزے غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے پانچ چھ سال سے رہ گئے ہوں تو وہ انہیں بھی پورا کرے تاعذاب سے بچ جائے۔ یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔ بلوغت کے زمانہ کے بعد کے جتنے روزے رہ گئے ہوں وہ بڑھاپے سے پہلے پہلے پورے کرنے چاہییں۔ محض اس قرضہ کے زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا اور نہ پچھلے روزے معاف ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ بعض لوگ دو دو، تین تین سال تک چندہ نہیں دیتے اور جب ان سے مانگا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں اچھا پچھلے سالوں کا چندہ معاف کر دو پھر چندہ دیں گے۔ اس طرح پچھلے سالوں کے جو روزے رہ گئے ہیں وہ معاف نہیں ہو سکتے۔ خدا بھی وہ چیز معاف کرتا ہے جو ناممکن ہو اور انسان کی طاقت سے باہر ہو۔ اگر کسی شخص نے ایسا کیا ہے تو اس نے قرآن کریم کے حکم کے خلاف کیا ہے۔ اس نے اگر بیماری کی سہولت سے فائدہ اٹھایا تھا تو اسے چاہیے کہ اپنے چھُوٹے ہوئے روزے پورے کرے۔ سارا سال ہی اس کی یہ حالت نہیں رہتی کہ وہ روزے نہ رکھ سکے۔ کوئی نہ کوئی زمانہ ایسا آتا ہے جب وہ روزے رکھ سکتا ہے۔ بڑھاپے میں بھی ایک زمانہ ایسا آتا ہے جب انسان روزے رکھ سکتا ہے۔ اگر وہ گرمیوں میں روزے نہیں رکھ سکتا تو سردیوں میں رکھ لے۔ مگر ایک بڑھاپا ایسا بھی ہوتا ہے جس میں نہ گرمیوں میں روزے رکھے جاسکتے ہیں اور نہ سردیوں میں روزے رکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن مختلف انسانوں کی مختلف طاقتیں ہوتی ہیں۔ مولوی سید سرور شاہ صاحب 84 سال کی عمر کے تھے مگر برابر روزے رکھتے تھے۔ گرمیوں میں ڈلہوزی میں وہ میرے پاس آ جاتے تھے۔ وہاں گرمی سے تو بچاؤ ہو جاتا تھا مگر دن تو اتنا ہی لمبا ہوتا تھا مگر باوجوداس کے شاذ ہی کوئی روزہ اُن سے چھُوٹتا تھا۔ پس اگر انسان ہمت کرے تو وہ کمزوریوں پر غالب آ جاتا ہے۔
    پس ایک تو مَیں جماعت کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے رمضان کے سارے روزے نہیں رکھے وہ بعد میں روزے رکھیں اور اُن کو پورا کریں۔ خواہ وہ روزے غفلت کی وجہ سے رہ گئے ہوں یا وہ روزے بیماری یا سفر کی وجہ سے رہ گئے ہوں۔ اسی طرح اگر گزشتہ سالوں میں ان سے کچھ روزے غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے رہ گئے ہوں تو ان کو بھی پورا کرنے کی کوشش کریں تا خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے سے پہلے پہلے وہ صاف ہو جائیں۔ بعض فقہاء کا یہ خیال ہے کہ پچھلے سال کے چھُوٹے ہوئے روزے دوسرے سال نہیں رکھے جا سکتے۔ لیکن میرے نزدیک اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکا تو لاعلمی معاف ہو سکتی ہے۔ ہاں اگر اس نے دیدہ دانستہ روزے نہیں رکھے تو پھر اس پر قضا نہیں۔ جیسے جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نماز کی قضا نہیں۔ لیکن اگر اس نے بھول کر روزے نہیں رکھے یا اجتہادی غلطی کی بناء پر اس نے روزے نہیں رکھے تو میرے نزدیک وہ دوبارہ رکھ سکتا ہے اور اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ روزے رکھے۔ ہاں اگر وہ روزہ رکھ سکتا تھا اور اس نے جان بوجھ کر روزہ نہیں رکھا تو اس پر کوئی قضا نہیں۔ وہ جب توبہ کرے گا اس کے اعمال نئے سرے سے شروع ہوں گے۔ لیکن اگر اس نے غفلت کی وجہ سے روزے نہیں رکھے یا کسی اجتہادی غلطی یا بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھے تو میرے نزدیک خواہ وہ روزے کتنی ہی دُور کے ہوں وہ دوبارہ رکھے جا سکتے ہیں۔
    اس کے بعد مَیں جماعت کو توجہ دلاتاہوں کہ رمضان کے مہینہ سے بھی انسان کو نیکیوں کی توفیق ملتی ہے۔اِس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ رمضان میں ایک مدت تک مسلسل انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے۔ دوسرے دنوں میں اگر وہ چاہے تو متواتر ایک ماہ تک روزے نہیں رکھ سکتا۔ ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جو رمضان کے علاوہ باقی دنوں میں اتنے روزے رکھ سکتے ہوں کیونکہ کبھی نہ کبھی انسان کو خواہش پیدا ہو ہی جاتی ہے کہ چلو آج فلاں کے گھر دعوت ہے آج روزہ نہیں رکھتے یا آج فلاں کام ہے آج ناغہ کر لیتے ہیں لیکن رمضان میں اگر کوئی روزہ رکھتا جائے تو وہ ایک ماہ تک لگاتار روزے رکھ سکتا ہے۔ اسلام رمضان میں روزے چھوڑنے یا توڑنے کی اجازت نہیں دیتا اور اس حکم کی وجہ سے انسان پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے اسے وہ طاقت مل جاتی ہے جو اُسے دوسرے دنوں میں نہیں ملتی۔ مثلاً اسلام میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ ہم پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں اور ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا۔ لیکن اگر وہ چار ہوتیں، پانچ نہ ہوتیں تو پانچویں نماز اکثر کے لیے دوبھر ہوتی۔ اسی طرح ہم پانچ نمازیں تو پڑھ لیتے ہیں لیکن چھٹی نماز اکثر لوگوں کے لیے دوبھر معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر یہ نمازیںچھ ہوتیں پانچ نہ ہوتیں تو ہزاروں لاکھوں انسان ایسے ہوتے جو انہیں پوری طرح ادا کرتے۔ توکیاچیزہے جوانسان کو اس طرف مائل کرتی ہے؟ وہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔ حکم بھی ایک طرح جبر کا حکم رکھتا ہے اور جبر انسان کو عمل کرنے کی طاقت دے دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان ارادہ کر لیتاہے تو کسی نہ کسی طرح وہ اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کر لیتا ہے۔ دوسرے دنوں میں اس کے لیے ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پس احباب کو چاہیے کہ وہ اس مہینہ سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں اور اپنے اندر ایک خاص قسم کی تبدیلی پیدا کریں۔
    ہماری جماعت کے سپرد ایک بہت بڑا کام ہے اور یہ سیدھی بات ہے کہ جتنا بڑا کام ہو گا اتنا ہی اس کے لیے کوشش کی جائے گی۔ ایک چھوٹے کام کے لیے بڑی کوشش کرنا حماقت ہے اور بڑے کام کے لیے چھوٹی کوشش کرنا حماقت ہے۔ حضرت خلیفہ المسیح الاول کے زمانہ کی بات ہے ڈلہوزی میں ایک پادری آیا وہ پادری اکثر سیالکوٹ میں رہا کرتا تھا۔ بعد میں وہ تبدیل ہو کر پونا چلا گیا تھا اور وہاں سے تبدیلیٔ آب و ہوا کی غرض سے وہ ڈلہوزی آیا تھا۔ پچھتر یا اسّی سال اس کی عمر تھی اور پھر بھی وہ ٹریکٹ تقسیم کرتا پھرتا تھا۔ لوگوں میں بہت چرچا ہوا کہ فلاں پادری ٹریکٹ تقسیم کر رہا ہے ۔اسے اس کا جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے تلاش کی کہ کوئی عالم مل جائے جو اس پادری سے گفتگو کرے مگر جب انہیں اور کوئی آدمی نہ ملا تو وہ میرے پاس آئے۔ ہم اُس وقت بچے ہی تھے اور سیر کے لیے ڈلہوزی گئے ہوئے تھے۔ بیس بائیس سال کی میری عمر ہو گی۔ وہ لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ فلاں پادری صاحب آئے ہیں اور وہ ٹریکٹ تقسیم کر رہے ہیں۔ ہم آپ کے پاس آئے ہیں تا آپ اس کے پاس چلیں۔ اُس کے ساتھ وقت مقرر کر لیا جائے ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔ ہم وہاں گئے اور اُس پادری سے ملاقات کی۔ مَیں نے اُسے کہا آپ یہاں تبلیغ کرنے آئے ہیں مجھے بھی تلاشِ حق کا شوق ہے اس لیے میں خود آپ کے پاس چل کر آیا ہوں۔ سچ کو قبول کرنے میں کیا حرج ہے۔ لیکن میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ پادری صاحب نے کہا کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ مَیں نے کہا آپ کے نزدیک مسیح خدا کا بیٹا ہے اور روح القدس بھی خدا ہے۔ کیا آپ کے نزدیک یہ تینوں خدا ہیں؟اس پادری نے کہا ہاںہمارے نزدیک یہ تینوں خدا ہیں۔ مَیں نے کہا پھر میں سنتا ہوں کہ خدا ایک ہے۔ کیا یہ ممکن ہے قطع نظر اِس سے کہ ایک تین ہیں اور تین ایک ہے۔ مَیں مان لیتا ہوں کہ یہ خدائی راز ہیں اور الٰہیات کو انسان پورے طور پر نہیں سمجھ سکتا لیکن ایک بات جہاں تک میں نے عیسائی لٹریچر کو پڑھا ہے یہ ہے کہ دنیا کو خدا نے پیدا کیا ہے۔ تو کیا دنیا کا پیدا کرنا اور چلانا ایک کے ہی سپرد ہے یا اس کے الگ الگ حصے تینو ں کے سپرد ہیں یا تینوں ہی یہ کام کر سکتے ہیں؟ دنیا میں جس قدر قوانینِ قدرت چل رہے ہیں اور جو تغیر و تبدّل ہو رہا ہے کیا کچھ طاقتیں خدا کے سپر د ہیں اور کچھ طاقتیں روح القدس کے سپرد ہیں اور کچھ طاقتیں مسیح کے سپرد ہیں یا ساری طاقتیں خدا ہی کو حاصل ہیں یا پھر یہ ساری طاقتیں ساروں کو ہی حاصل ہیں؟ یعنی خدا اکیلا بھی دنیا کو چلا سکتا ہے اور روح القدس بھی اکیلا دنیا کو چلا سکتا ہے۔ اور مسیح خدا کا بیٹا بھی اکیلا دنیا کو چلا سکتا ہے۔ آپ کے نزدیک ان میں سے کیا صورت ہے؟ پادری صاحب نے جواب دیا کہ یہ طاقتیں ساروں کو حاصل ہیں۔ مَیں نے کہا اچھا مَیں مان لیتا ہوں یہ طاقتیں ساروں کو حاصل ہیں لیکن ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ جب باپ بوڑھا ہو جاتا ہے تواس کے جوان بیٹے اسے کہتے ہیں تم گھر بیٹھو کام ہم کریں گے۔ توکیا اس طرح خدا کے بیٹے اور روح القدس نے بھی خدا کو کرسی پر بٹھا رکھا ہے اور آپ کام کر رہے ہیںیا خداسارے کام خود کر رہا ہے یا سب مل کرکر رہے ہیں؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ سارے مل کر کام کرتے ہیں جیسا کہ آپ نے تسلیم کیا ہے تو یہ نظر آتا ہے کہ خدا کو بھی طاقت حاصل ہے کہ وہ دنیا کو چلا سکے، روح القدس کو بھی طاقت حاصل ہے کہ وہ دنیا کو چلاسکے اور مسیح خدا کے بیٹے کو بھی یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ دنیا کو چلا سکے۔ یعنی وہ الگ الگ بھی کام کرسکتے ہیں اور اکٹھے مل کر بھی کر سکتے ہیں۔ اب دیکھیے میز پر ایک پنسل پڑی ہے اور آپ اسے اٹھا کر اپنے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ مَیں یہاں بیٹھا ہواہوں۔ آپ مجھے کہیں کہ یہ پنسل اٹھا کر میرے سامنے رکھ دو۔ پھر آپ اپنے بیرہ کو بھی بلا لیں، باورچی کو بھی بلا لیں اور اپنے دوسرے خدام کو بھی بلا لیں اور وہ سب دوڑتے ہوئے آئیں۔ جب وہ آجائیں تو ہم سب کو آپ کہیں کہ یہ پنسل اٹھا کر میرے سامنے رکھ دو تو دیکھنے والا آپ کے متعلق کیا رائے قائم کرے گا؟ پادری صاحب نے کہا یہی کہ مَیں پاگل ہوں۔ مَیں نے کہا اچھا آپ کو دیکھنے والے آپ کو اس لیے پاگل کہیں گے کہ آپ میں پنسل اٹھانے کی طاقت تھی پھر آپ نے دوسروں کو کیوں بلایا۔ اب آپ فرمائیے کہ جب خدا تعالیٰ میں یہ طاقت تھی کہ وہ دنیا کو چلا سکے، مسیح خدا کے بیٹے میں یہ طاقت تھی کہ وہ دنیا کو چلا سکے، روح القدس کو یہ طاقت حاصل تھی کہ وہ دنیا کو چلا سکے تو پھر اس کام میں تینوں کیوں لگے ہوئے ہیں؟ آپ کواگر پنسل اٹھانے پر پاگل کہا جائے گا تو پھر وہ بھی پاگل ہیں۔ اس پادری نے کہا کہ یہ سب خدائی باتیں ہیں۔ ان کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔تو یہ سیدھی بات ہے کہ جب ایک کام کو آسانی کے ساتھ ایک آدمی کر سکتا ہو اور پھر اس میں سارے لگے ہوئے ہوں تو دیکھنے والا یقیناً انہیں پاگل کہے گا۔ ہاں اتفاقی طور پر ایسا ہو تو اَور بات ہے۔ بعض دفعہ ماں بچے کی گاڑی کو دھکیلتی ہے تو باپ بھی اس کے اوپر ہاتھ رکھ دیتا ہے تو یہ ایک اتفاقی چیز ہے لیکن اگر ایک کام کو تھوڑے آدمی آسانی کے ساتھ چلا رہے ہوں اور اس میں سب لگ جائیں اور یہ اتفاقی امر بھی نہ ہو تو یہ جنون کی علامت ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی جنون کی علامت ہے کہ بڑے کام میں جس میں زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہو تھوڑے آدمی لگے ہوئے ہوں۔ یا زیادہ وقت کی ضرورت ہو اور وہ اسے تھوڑے وقت میں ختم کرنے کی کوشش کریں۔
    دنیا میں اسلام قریباً مٹ چکا ہے صرف نام باقی ہے۔ حقیقت مفقود ہو چکی ہے۔ اس پر عمل کرنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی صفات پر صحیح صحیح عمل کرنے اور ان کے مطابق کام کرنے کی روح بہت کم ہو گئی ہے۔ یہ کہ اسلام کی اطاعت کر کے کوئی اس قابل ہو جائے کہ اس کو دنیا میں قائم کر سکے، یہ جذبہ بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔ ساری دنیا جو اسلام کی دشمن بن گئی ہے اُس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔ خداتعالیٰ نے یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سپرد کیا ہے۔ اور ہم لوگ جو احمدی کہلاتے ہیں یہ اقرار کر کے احمدیت میں داخل ہوتے ہیں کہ ہم یہ کام کریں گے۔ لیکن کتنے ہیں جو اپنے اوقات کو اس طرز پر لگاتے ہیں کہ دن میں سے اکثر حصہ خدمت دین کے لیے نکل آئے۔ اکثر کو بھی جانے دو وہ لوگ کتنے ہیں جودن میںاڑھائی گھنٹے ہی دین پر لگاتے ہوں۔ اگر سب لوگ اڑھائی گھنٹے روزانہ ہی اِس کام پر لگاتے تواِس وقت تک جماعت بہت ترقی کر جاتی مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے افراد اتنی قربانی بھی نہیں کر رہے۔
    پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ اس کام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ وقت خدمتِ دین کے لیے دیں اور احمدیت کوپھیلانے کی کوشش کریں۔ اگر ہماری جماعت پہلے یہ کام کرتی تو اب تک جماعت کافی ترقی کر چکی ہوتی۔ اسلام اس وقت ایسی خطرناک حالت سے گزر رہا ہے کہ گویا اسلام کے لیے اب کوئی ٹھکانا نہیں رہا۔ اب ہمارے سوا اور کوئی نہیں جو دشمن کی تلواروں کو اپنے سینوں پر برداشت کرے۔ پس ہمارا فرض ہے کہ قطع نظر اس کے کہ ہمیں کوئی برا کہتا ہے یا اچھا تبلیغِ اسلام کے لیے ہم اپنا پورا زور لگا دیں مگر اس کے ساتھ ہی اپنے نفس کی اصلاح بھی کرنی چاہیے تاکہ ہمارے کاموں میں برکت ہو اور ہماری کوششیں کامیاب ہوں"۔
    (الفضل 8مارچ 1961ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    صحیح بخاری کتاب الجمعۃ باب فی الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ


    پورے جوش اور عزم و ہمّت کے ساتھ دین کی خدمت کرنے اور اسے دنیا میں پھیلانے کی کوشش کرو
    (فرمودہ13؍اگست 1948ء بمقام کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مجھے آج کچھ حرارت اور سر درد کی شکایت ہے جس کی وجہ سے مَیں زیادہ دیر بول نہیں سکتا۔ مگر مَیں جماعت کو مختصر الفاظ میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ گو یہ عام قاعدہ ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کا کوئی مامور دنیا میں آتا ہے لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے حقیر اور ذلیل خیال کرتے ہیں۔ مگر اس زمانہ میں جس مامور نے مبعوث ہونا تھا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی اصلاح کے لیے دنیا میں آنا تھا اس کے متعلق خصوصیت سے احادیث میں یہ خبر دی گئی تھی کہ اس سے اور اس کی جماعت سے نفرت کی جائے گی اور لوگ ان کی شدید مخالفت کریں گے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر بعض لوگ جماعت احمدیہ کی تعریف کر دیتے ہیں یا کسی ایسی بات پر جو ان کے عقائد کے موافق ہو پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں تو ہماری جماعت کے دوست خوش ہو جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہمیں کامیابی حاصل ہو گئی ہے حالانکہ یہ کامیابی نہیں ہوتی بلکہ ایک ابتلاہوتا ہے، آزمائش اور امتحان کا وقت ہوتا ہے۔ سچی بات جب بھی کہی جائے گی سننے والے کو وہ کڑوی لگے گی۔ اگر وہ ہماری کسی بات کی تعریف کر دیتے ہیں یا اس پرپسندیدگی کا اظہار کر دیتے ہیں تواس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ ہمارے عقائد کو صحیح ماننے لگ گئے ہیں۔ بلکہ وہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ان کی کسی بات کی تصدیق ہو گئی ہے۔
    احادیث میں ایک واقعہ آتا ہے جو میرے نزدیک یہ کفار کی ایک سازش کا نتیجہ تھا مگر اس میں اس چیز کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب صحابہؓ کا ایک حصہ کفار کے مظالم سے تنگ آ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلا گیا تو کفار نے انہیں واپس بلانے کے لیے ایک فریب کیا۔ اور وہ اس طرح کہ ایک دن جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سورہ نجم کی تلاوت فرما رہے تھے کسی کافر نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ آپ کی پیٹھ کے پیچھے جاکر یہ فقرات پڑھ دئیے کہ
    تِلْکَ الْغَرَانِیقُ الْعُلٰی
    وَإِنَّ شَفَاعَتَہُنَّ لَتُرْتَجٰی1
    یعنی یہ بت بھی بڑا بلند مرتبہ رکھتے ہیں اور قیامت کے دن ان بتوں کی شفاعت بھی سنی جائے گی۔
    یہ فقرات پڑھنے والے نے اس طرح پڑھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہ آیاتِ قرآنیہ ہیں جو آپ نے تلاوت کی ہیں اور مشہور کر دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات بھی قرآن کریم میں بڑھا دی ہیں۔ یہ ایک منصوبہ تھا جو ایسے وقت پر کیا گیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سجدہ کی آیت تلاوت فرما رہے تھے۔ اس کے بعد جب آپ نے سجدہ کیا تومشرکین بھی آپ کے ساتھ سجدہ میں چلے گئے اور بعد میں انہوں نے مشہور کر دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نَعُوْذُبِاللّٰہِدین ِ توحید سے توبہ کر لی ہے اور اقرار کر لیا ہے کہ ان بتوں کی شفاعت بھی قبول ہو گی۔ اِس پر سارے خوش ہو گئے۔ اس لیے کہ اس واقعہ سے ان کی ایک بات کی تصدیق ہو گئی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک پرانا طریق چلا آ رہا ہے۔ آجکل ہی ایجاد نہیں ہوا۔ دراصل انسانی فطرت کمزور ہوتی ہے اس لیے انسان تھوڑی سی تعریف پر خوش ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ خدمتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ چلو میری ایک بات کی تصدیق ہو گئی۔ پس جن باتوں میں اتحاد و اتفاق پایا جاتا ہے ان پر ہر ایک خوش ہو جایا کرتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اب رستہ کھل گیا ہے کہ ہم کامیاب ہو گئے ہیں بلکہ دوسرا شخص صرف اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اس کی ایک بات کی تصدیق ہو گئی ہے۔
    ہر انسان میں خواہ وہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ ہو کچھ اچھی باتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ بلکہ ایک دہریہ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس میں بھی بعض اچھی باتیں پائی جاتی ہیں۔ وہ محنت کرتاہے، خدمتِ خلق کرتا ہے مصیبت زدوں کی امداد کرتا ہے، بیواؤں کی خبر گیری کرتا ہے اور یتیموں کی نگہداشت کرتا ہے مگر ہوتا دہریہ ہی ہے۔ اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں ہوتا۔ غرض دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں پایا جاتا جس میں کوئی نیکی بھی نہ ہو بلکہ کوئی دہریہ بھی ایسا نہیں ہوتا جس میں کوئی نیکی نہ پائی جاتی ہو۔ دنیا کے بد سے بد تر انسان میںبھی کوئی نہ کوئی نیکی ضرور پائی جائے گی حتّٰی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین دشمنوں میں بھی بعض اچھی باتیں پائی جاتی تھیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب طائف میں تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو طائف والوں نے آپ کو طرح طرح کی ایذائیں دیں، دکھ دئیے، پتھراؤ کیا اور آپ کے پیچھے کُتّے چھوڑدئیے۔ جب آپ واپس تشریف لائے تو مکہ والوں کے دستور کے مطابق آپ دوبارہ شہر میں داخل ہونے کے مجاز نہیں تھے کیونکہ آپ ایک دفعہ مکہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور مکہ والوں کے اصول کے مطابق آپ وہاں کے شہری نہیں رہے تھے۔ اب آپ کے سامنے یہ سوال تھا کہ آپ مکہ میں دوبارہ کس طرح داخل ہوں۔ آپ نے شہر کے ایک رئیس کے پاس جو آپ کا شدید ترین دشمن تھا پیغام بھجوایا کہ مَیں شہر میں داخل ہونا چاہتا ہوںکیا تم میرے لیے اعلان کرو گے کہ مجھے شہر میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔؟اُس وقت مکہ میں کوئی خاص قانون رائج نہیں تھا، کوئی پارلیمنٹ وغیرہ نہیں تھی۔ کوئی رئیس اگر اعلان کر دیتا کہ فلاں شخص کو میری طرف سے شہر میں داخل ہونے کی اجازت ہے تو عرب کے دوسرے سردار اسے مان لیتے تھے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اس رئیس کو ملا تو اس نے اپنے پانچوں بیٹوں کو بلا کر کہا کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اگرچہ ہمارے دشمن ہیں مگر وہ ہماری امان میں مکہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ ہم امان نہیں دیتے تو اس میں ہماری ہتک ہوگی۔ لیکن اگر ہم ان کو امان دے دیں تو شہر میں ان کی بہت مخالفت ہے اور اس مخالفت کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ تم پر بھی کوئی حملہ کر دے۔ اس لیے تم سب ہتھیار پہن لو اور آپ کے آگے آگے چلو تاکہ کوئی دشمن آپ کو ایذا نہ پہنچا سکے۔2 دیکھو یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی خوبی تھی جو آپ کے شدید ترین دشمن میں پائی جاتی تھی۔ اس رئیس کے پانچوں بیٹے اپنی ننگی تلواریں لے کر آپ کے آگے آگے چلے اور آپ کو اپنے گھر چھوڑ آئے۔3
    اس قسم کے کئی اَور واقعات بھی پائے جاتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو آپ کی ایک بیٹی پیچھے مکہ میں رہ گئی تھی۔ آپ نے اپنی بیٹی کو مدینہ بلایا اور اسے لینے کے لیے کچھ آدمی بھیجے۔ جب وہ آدمی آپ کی بیٹی کو لے کرمدینہ جانے لگے تو وہ حاملہ تھیں۔ کسی خبیث نے آپ کے اونٹ کی ہودج کی رسیاں کاٹ دیں جس کے نتیجہ میں وہ اونٹ سے نیچے گرپڑیں اور انہیں چوٹیں آئیں جن کی وجہ سے مدینہ جا کر آپ کا حمل بھی گر گیا اور ایک مہینہ کے بعد انہی چوٹوں کی وجہ سے آپ وفات پا گئیں۔ وہ شخص بھاگتا ہوا خانہ کعبہ میں گیا ۔ مکہ کے تمام سردار اور رؤساء وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے وہاں جا کر ان کے سامنے بڑے فخر کے ساتھ کہا کہ مَیں نے کیا ہی اچھا کام کیا ہے۔ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی زینب مدینہ جا رہی تھیں کہ مَیں نے اس کے ہودج کی رسیاں کاٹ دیں جس کی وجہ سے وہ اونٹ سے نیچے گر گئیں اور انہیں بہت سے چوٹیں آئیں۔ اس مجلس میں ابوسفیان کی بیوی ہندہ بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ ہندہ جس نے حضرت حمزہؓ کے ناک اور کان کٹوائے تھے اور آپ کا پیٹ چاک کروایا تھا ۔ جب اس نے یہ بات سنی تو وہ غصہ میں آ کر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی تجھے شرم نہیں آتی کہ تُو نے ایک عورت پر ہاتھ اٹھایا ہے۔ عرب ہمیشہ طاقتور پر ہی ہاتھ اٹھایا کرتے تھے عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے۔ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارے دشمن ہی سہی مگر تُو نے ان کی بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی کیسے جرأت کی۔ تُو نے تو ہماری ناک کاٹ دی ہے۔ تمہیں اپنے فعل پر شرم کرنی چاہیے اور بجائے اس کے کہ تم اپنے اس کارنامہ کو فخریہ طور پر بیان کرو تمہیں تو کسی کو اپنا منہ بھی نہیں دکھانا چاہیے۔ یہ کتنی اعلیٰ درجہ کی خوبی تھی جس کا ہندہ جیسی شدید دشمن نے اظہار کیا۔ پس کسی کافر اور بے ایمان یا شدید سے شدید ترین دشمن کے متعلق بھی یہ خیال کر لینا کہ اس کے اندر کوئی خوبی نہیں پائی جاتی غلط ہے۔
    مشرقی پنجاب میں ایک ڈاکو تھا جو اپنے علاقہ میں ڈکیتی کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ لوگ اُس سے بہت خوف کھاتے تھے۔ عورتیں اُس کا نام سن کر بے ہوش ہو جایا کرتی تھیں۔ ہم نے اس کے متعلق اس کے گاؤں والوں سے خود سنا ہے کہ وہ غریبوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا بلکہ ہمیشہ ان کی خبرگیری کیاکرتاتھا۔ ایک دفعہ ایک عورت جا رہی تھی۔ اس نے اُس عورت سے کہا کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے نکال دو۔ اس عورت کو پتہ نہیں تھا کہ وہ فلاں مشہور ڈاکو ہے ورنہ وہ اسے دیکھ کر ہی بے ہوش ہو جاتی۔ جب اس ڈاکو نے اس عورت سے کہا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے نکال دو۔تو اس عورت نے کہا بیٹا! تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اپنی ماں پر ہاتھ اٹھاتے ہو۔ مَیں تمہاری ماں کے برابر ہوں اور پھر تم مجھ پر اپنا ہاتھ اٹھاتے ہو۔ اس ڈاکو نے کہا اچھااب تُونے مجھے اپنا بیٹا کہا ہے مَیں بھی اب تمہارا بیٹا ہی بن کر رہوں گا۔ اس کے بعد وہ جب بھی کوئی چوری کرتا تھا تو اس سے اس عورت کو کچھ نہ کچھ نذرانہ دے کر آتا تھا اور اس کی بہت خدمت کیا کرتا تھا۔ غرباء کو اُس سے اِس قدر محبت تھی کہ جب وہ گرفتار ہوا اور پولیس اُسے اسٹیشن پر لے گئی تو غرباء وہاں کثرت سے جمع ہو گئے اور انہوں نے اُس کی گرفتاری پر رونا شروع کردیا۔ اس لیے کہ وہ غرباء کی خدمت کیا کرتا تھا اور وہ اس دن اپنے محسن کی گرفتاری پر آنسو بہا رہے تھے۔ وہ ڈاکو تھا ، ظالم تھا مگر یہ نہیں کہ اس کے اندر کوئی بھی خوبی نہیں تھی۔ گندے سے گندا فرد ہی کیوں نہ ہو، گندی سے گندی قوم ہی کیوں نہ ہو اُس کے اندر کچھ نہ کچھ نیکی ضرور پائی جاتی ہے۔ پس اگر کوئی شخص ہماری کسی بات کی تعریف کر دے اور ہم سمجھ لیں کہ وہ برائی کو چھوڑ بیٹھا ہے اوراس بات پر ہم خوش ہو جائیں تو یہ ہماری نادانی ہو گی۔
    ہماری جماعت کو ہمیشہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ جب تک وہ اُس صداقت کو پھیلا نہیں لیتی جو دنیا سے مٹ چکی ہے اُس وقت تک اسے صبر سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ کسی معمولی سی اتحاد و اتفاق کی بات پر اگر کوئی پسندیدگی کا اظہار کر دے اور ہم اس پر خوش ہو کر اپنے فرض کی ادائیگی میں سست ہوجائیں اور یہ سمجھ لیں کہ بس ہم کامیاب ہو گئے ہیں تو یہ حماقت کی بات ہو گی۔ یہ کوئی کامیابی نہیں ہے۔ دوسرا آدمی اس بات پر خوش نہیں ہوتا کہ اس نے ہماری بات مان لی ہے اور احمدیت کو سچا جان لیا ہے بلکہ وہ اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اس کی بات مان لی گئی ہے۔ پس جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت اشاعتِ دین میں صَرف کرنے کی کوشش کریں۔ ہمارے سپرد بہت بڑا کام ہے جسے ہم نے سرانجام دینا ہے۔ دنیا کی اڑھائی ارب آبادی ہے جس کی ہم نے اصلاح کرنی ہے۔ پھر ہم نے ان کے جسموں پر حکومت نہیں کرنی بلکہ ہمارے سامنے ان کے دلوں کی اصلاح کا سوال ہے۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ سالہا سال کوشش کرتے ہیں مگر پھر بھی وہ دوسرے سے اپنی بات نہیں منوا سکتے۔ باپ بیٹے کو اپنی بات نہیں منوا سکتا، بیوی خاوند کو اپنی بات نہیں منوا سکتی، خاوند بیوی کو اپنی بات نہیں منوا سکتا، بھائی بھائی کو اپنی بات نہیں منوا سکتا حالانکہ ان کے درمیان قریب ترین رشتہ ہوتا ہے۔ پاس پاس رہتے ہیں جب چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اپنے قریبی رشتہ دار سے نہیں منوائی جا سکتی تو وہ ساری دنیا سے کیسے منوائی جاسکتی ہے۔ وہ دنیا جو ہمارے ساتھ نہیں رہتی ہماری رشتہ دار بھی نہیں۔ ہم اس کی ساری زبانوں کے واقف بھی نہیں۔ اعتقادی، عملی، جذباتی اور فکری ہر لحاظ سے وہ ہم سے مختلف ہے۔ پھر اس میں ہر قسم کی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ کیا اقتصادی، کیا سیاسی اور کیا مذہبی ہم نے ان سب خرابیوں کو دور کرنا ہے۔ پھر وہ ہماری مخالف ہے۔ ہمارے پاس نہیں بیٹھتی بلکہ ہم سے دور بھاگتی ہے۔ ہم نے اس دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔ اس کے لیے ہمیں کتنی محنت کی ضرورت ہے۔ کتنی بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔ پس مخالفت کے کم ہو جانے پر مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہیے بلکہ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے پہلے سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ لوگوں کو سمجھانے اور ا ن کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس دنیا میں اگر کسی سے آپ کی چالیس پینتالیس سال تک دوستی رہتی ہے اور اگلے جہان میں وہ جہنم میں چلا جاتا ہے تو یہ کوئی دوستی نہیں کہلا سکتی۔ حقیقی دوستی یہی ہے کہ وہ بھی تمہارے ساتھ جنت میں ہو۔ پس سنجیدگی اور پختہ عزم کے ساتھ کام کرو۔ جب تک اس اہم کام کے متعلق آپ کے اپنے نفسوں میں سنجیدگی پیدا نہیں ہوتی دوسروں پر آپ کا کوئی نیک اثر نہیں پڑ سکتا۔
    اِس وقت زمانہ کی حالت نازک سے نازک تر ہوتی چلی جا رہی ہے اور مسلمانوں کے روحانی بچاؤ کی اب یہی صورت رہ گئی ہے کہ وہ ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں اور سوائے احمدیت کے اَور کسی ذریعہ سے مسلمان ایک ہاتھ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ آخر دنیا کے تمام ممالک کسی ایک آدمی کے ہاتھ پر کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ یہ تغیر اسی صورت میں ہو سکتا ہے۔ جب کوئی کہے کہ مجھے خدا نے بھیجا ہے۔ پھر جس کی سمجھ میں اس کی بات آ جائے گی وہ اس کے ہاتھ پر اکٹھا ہو جائے گا ورنہ تمام ملکوں اور حکومتوں کے اپنے اپنے پروگرام ہوتے ہیں اور وہ کسی دوسرے کی غلامی اختیار نہیں کر سکتے۔ پس جب تک مختلف قومیتیں ایک آواز کے تابع نہیں ہو جاتیں۔ اُس وقت تک تمام مسلمانوں کا ایک ہاتھ پر اکٹھا ہونا مشکل ہے۔ یہ اختلاف اسی صورت میں ختم ہو سکتا ہے جب کوئی کہے کہ مَیں خدا کی طرف سے ہوں اور تمام لوگ قطع نظر اس سے کہ وہ مصری ہوں یا ایرانی، عربی ہوں یا افغانی اس کے ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں۔ تب باوجود مختلف ممالک میں رہنے اور مختلف اقوام سے تعلق رکھنے کے ان میں اتحاد ہو گا اور وہ اسلام کی ترقی کے لیے کوشش کرتے چلے جائیں گے۔ پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور احمدیت کو بڑھانے کی کوشش کرو۔ آپ لوگ سلسلہ کی اشاعت میں کوتاہی کر کے اپنی کامیابی کو پیچھے ڈال رہے ہیں اور ان برکات سے جن کے آپ مستحق ہو سکتے ہیں اپنے آپ کو محروم کر رہے ہیں۔ سو کوشش کرو کہ اسلام دنیا پر جلد غالب آ جائے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے4کا نظارہ نظر آنے لگے"۔
    (الفضل 22دسمبر 1961ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    تفسیر البغوی (معالم التنزیل)جلد 4 صفحہ125۔ سورۃ الحج آیت 52 … مطبع دارالفکر بیروت 1985ء
    2
    :
    سیرت ابن ہشام جلد2 صفحہ20۔ مطبع مصر 1936ء
    3
    :
    طبقات ابن سعد جلد 1صفحہ 212مطبوعہ بیروت 1985ء
    4
    :
    النصر:3



    ڈاکٹر میجر محمود احمد صاحب کی شہادت پر جماعت کو
    کیا ردّعمل دکھانا چاہئے۔
    (فرمودہ 20؍ اگست 1948ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ)
    (غیرمطبوعہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "پرسوں رات جوو اقعہ ہوا ہے ٭ وہ ایسا نہیں ہے جسے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا جائے۔ دنیا میں ہر بڑے کام کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ہوتا ہے اور وہ نتیجہ ہر شخص اپنے اپنے رنگ میں نکالتا ہے۔ گندے لوگ گندے پہلو سے اُس کا نتیجہ نکالتے ہیں اور شریف آدمی شریف پہلو سے اُس کا نتیجہ نکالتے ہیں۔ مگر بہرحال عقلمند آدمی کسی اہم کا م کو نظر انداز نہیں کیا کرتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو یہ اُسے احمق تو ثابت کر دے گا مگر اُس کام کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ جیسے کہتے ہیں جب کبوتر پر بلی حملہ آور ہوتی ہے تو وہ آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ اب وہ بلّیسے محفوظ ہوگیا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ چونکہ اُسے بلّی نظر نہیں آرہی اِس لیے وہ بھی اِس بلّی کو نظر نہیں آرہا۔ حالانکہ کسی اہم کام کو نظرانداز کر دینے سے اُس کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
    جو واقعہ پرسوں رات ہوا ہے اُس کا کیا ردِّعمل ہو گا؟ یہ ایک سوال ہے جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ دنیا میں سب لوگ برابر نہیں ہوتے۔ کوئی رذیل ہوتا ہے اور کوئی شریف ہوتا ہے اور ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں ردِّعمل اختیار کر لیتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک انصاری نوجوان سے غلطی ہوئی اور اُس کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال مکہ والوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ آپؐ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے انصار کو اکٹھا کیا اور فرمایا اے انصار! مَیں نے سنا ہے تم میں سے ایک نوجوان نے یہ کہا ہے کہ خون توہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مالِ غنیمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم وطنوں اور رشتہ داروں کو دے دیا ہے۔ انصار نے روتے ہوئے عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہم میں سے ایک بیوقوف نوجوان نے یہ بات کہہ دی ہے ورنہ ہم اُس سے بیزار ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار! تم یہ کہہ سکتے ہو کہ جب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو آپ کے ہم وطن تھے اور رشتہ دار تھے اپنے شہر سے نکال دیا تو ہم نے آپؐ کو پناہ دی۔حالانکہ آپؐ ہماری قوم کے نہیں تھے،آپ ہمارے وطن کے نہیں تھے۔ پھرمکہ والوں نے یہیں تک بس نہیں کیا بلکہ انہوں نے آپؐ کا مدینہ میں بھی پیچھا نہ چھوڑا اور آپ پر حملہ کر دیا۔ اِس پر ہم نے اپنی جانیں قربان کر کے آپ کی حفاظت کی لیکن جب ہماری قربانیوں اور فدائیت کی وجہ سے آپؐ نے فتح پائی تو آپ نے غنیمت کے تمام اموال اپنے ہم وطنوں اور رشتہ داروں کو دے دیئے اور مدینہ والوں کو نظرانداز کر دیا۔ انصار نے عرض کیا یَارسولَ اللہ! ہم ایسا نہیں کہتے۔ یہ الفاظ ہمارے ایک بیوقوف نوجوان کے منہ سے نکلے ہیں۔ آپ نے فرمایا اے انصار! اگر تم چاہو تو یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مبعوث ہوئے۔ وہ مکہ جس کے لیے یہ عزت اور رتبہ مقدّر تھا اُس کے رہنے والوں نے اِس نعمت کی ناقدری کی اور خدا کے رسول کو باہر نکال دیا اور خدا نے یہ نعمت مدینہ والوں کے سپرد کردی۔ آخر خدا نے اپنے نشانوں اور معجزات کے ذریعے اُسے فتح دی، اپنے فرشتوں کی مدد سے اُسے دشمنوں پر غلبہ بخشا اور یہ چھوٹی سی قوم فاتح بن گئی۔ جب مکہ فتح ہو گیا تو مکہ والے یہ اُمیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ ہماری امانت ہمیں واپس مل جائے گی اور اللہ تعالیٰ کا رسول مکہ میںپھر واپس آجائے گا۔ مگر بجائے اللہ کے رسول کو مکہ میں لے جانے کے مکہ والے تو اونٹ اوربکریاں ہانک کر اپنے گھروں میں لے گئے اور مدینہ والے اللہ تعالیٰ کے رسول کو اپنے ساتھ لے گئے۔ 1 پس ہر ایک چیز کو مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے۔
    پرسوں رات جو واقعہ ہوا ہے اُس کا یہ ردِّعمل بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ ایک جان ضائع ہو گئی ہے اِس لیے ہمیں احمدیت کو چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ بے ایمانی کا ردِّعمل ہو گا۔ اِس کا یہ بھی ردِّعمل ہو سکتا ہے کہ اب کمزوری اور بزدلی دکھائی جائے ورنہ ہم بھی مارے جائیں گے۔ یہ غیراسلامی ردِّعمل ہوگا۔ پھر ایک یہ بھی ردِّعمل ہو سکتا ہے کہ ہم بھی دوسروں کو مارنے لگ جائیں۔ مگر یہ بھی غیراسلامی ردِّعمل ہو گا۔ کیونکہ مارنے سے دل درست نہیں ہوتے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تلوار اٹھائی تھی تو کفار کے انتہائی ظلم کے بعد اٹھائی تھی اور پھر اُن ظلموں کو ایک لمبے عرصہ تک برداشت کرنے کے بعد اٹھائی تھی۔ پہلے ہی دن آپ نے ایسا نہیں کیا کہ اگر کسی کافر نے کسی مسلمان کو مارا ہو تو آپ نے بھی اُسے مارنا شروع کر دیا ہو۔ بلکہ جب انتہائی مظالم کی وجہ سے آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور پھر بھی کفار نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا تب خدا تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی جماعت کو اجازت دی کہ وہ بھی دشمن کے مقابلے میں تلوار اٹھا سکتے ہیں۔ 2 پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھائی تو اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اور اُس وقت اُٹھائی جب آپ نے دیکھ لیا کہ دشمن اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتا۔ پھر ایک ردِّعمل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم یہ جگہ چھوڑ کر بھاگ جائیں جیسے بزدل بھاگ کھڑے ہوتے ہیں مگر اسلام اس کی بھی اجازت نہیں دیتا۔
    مَیں جماعت کے دوستوں کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ فعل صرف اس لیے ہوا ہے کہ ان لوگوں میں ایمان نہیں تھا، انہیں صداقت کا کوئی علم نہیں تھا۔ اُنہوں نے یہ کام بیوقوفی سے کیا اور اِس میں صرف آپ لوگوں کا ہی قصور ہے۔ اگر آپ نے انہیں احمدیت سے واقف کیا ہوتا تو وہ اِتنے جاہل کیوں بنتے؟ پس پرسوں رات جو واقعہ ہوا ہے اس کا ایک ردِّعمل یہ بھی ہے کہ آپ لوگ تبلیغ کو زیادہ کر دیں۔
    غرض اِس کے کئی ردِّعمل ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم ڈر جائیں اور خاموش ہوجائیں یہ منافقت اور بے دینی کا ردِّعمل ہوگا ۔یا ہم لڑنے لگ جائیں یہ اسلام سے ناواقفیت کا ردِّعمل ہوگا۔ یا ہم بھاگ جائیں یہ کمزوروں اور بزدلوں کا ردِّعمل ہوگا۔ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف اِسی وجہ سے ہوا ہے کہ وہ لوگ احمدیت سے ناواقف تھے ۔ یہ حملہ ہمارے اپنے فرض کی ادائیگی میں کمزوری دکھانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ پس ہمیں اب پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ان لوگوں کو احمدیت کی تعلیم سے روشناس کریں اور اِس کام کے لیے زیادہ سے زیادہ قربانی کا نمونہ دکھائیں۔ یہی ایک صحیح ردِّعمل ہے اور یہی فطرتِ صحیحہ کے مطابق ہے اور اِسی میں حقیقی جرأت اور دلیری پائی جاتی ہے۔
    اِس واقعہ کے بعد آپ کو چاہیے کہ اپنے اندر ایک خاص تبدیلی پیدا کریں اور وہ اِس رنگ میں کہ آپ سمجھ لیں کہ جو کچھ کیا گیا ہے وہ اِسی لیے کیا گیا ہے کہ آپ کے غیر بہت زیادہ تعداد میں تھے اور آپ بہت کم تھے۔ اگر آپ بھی دس بیس ہزار ہوتے تو اُنہیں ایسا کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ اگر ہماری جماعت کے لوگ تبلیغ میں سُست نہ ہوتے اور یہ لوگ جان لیتے کہ احمدیت کیا ہے، اگر یہ لوگ جان لیتے کہ احمدیت کے ذریعہ ہی اسلام نے غالب آنا ہے تو احمدیت کے خلاف ان میں اتنا جوش کبھی نہ پایا جاتا۔ اور پھر اگر جماعت صحیح رنگ میں تبلیغ کرتی تو اِس کی تعداد بھی بڑھ جاتی۔ بزدل ایسے لوگوں پر کبھی حملہ آور نہیں ہوتے جن کی تعداد زیادہ ہو۔بزدل ہمیشہ اُن لوگوں پر ہی حملہ کرتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ وہ کمزور ہیں ۔اور جب کسی جماعت کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے تو پھر بزدل ڈر جاتا ہے۔ پس اگر صحیح طور پر تبلیغ ہوتی تو جماعت اب سے کئی گُنازیادہ ہوتی اور دشمن اِس وقت تک مرعوب ہوچکاہوتا۔
    جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی بتایا تھا یہاں پورے طور پر تبلیغ نہیں کی گئی۔ جس کا نتیجہ اب نظر آگیا ہے۔ جماعت کا ہر فرد اپنی اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ میاں خود ہی تبلیغ کریں گے۔ یا اگر اُس نے چندہ دے دیا ہے تو گویا اُس نے اللہ تعالیٰ پر احسان کر دیا ہے۔ مگر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہؓ اتنا ہی وقت تبلیغ پر صَرف کیا کرتے تھے جتنا تم کرتے ہو۔ جب دشمن اعتراض کرتا ہے کہ اسلام تلوار کے ساتھ پھیلا ہے تو آپ لوگ یہی جواب دیتے ہیں کہ اسلام تلوار کی وجہ سے نہیں بلکہ تبلیغ کی وجہ سے پھیلا ہے۔ تو کیا صحابہ تلوار کے علاوہ تبلیغ پر اِتنا ہی وقت خرچ کرتے تھے جتنا آپ لوگ کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو اِس کے صاف معنے یہ ہیں کہ ہم اپنے فرض کو نہیں پہچانتے۔ سو اِس واقعہ کا صحیح ردِّعمل یہی ہے کہ آپ تبلیغ کو اَور زیادہ تیز کر دیں۔ مومن ڈرا نہیں کرتا۔ آپ خداتعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں۔ اگر آپ خداتعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں گے تو وہ احمدیت کی حقیقت کو پہچان لیں گے اور اُن کے دلوں سے خودبخود کینہ نکلتا جائے گا۔ اور جب احمدیت کی اشاعت ہو جائے گی تو اِس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ جہالت جاتی رہے گی اور ان لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ احمدیت اسلام کی دشمن نہیں بلکہ احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے۔ اور جو شخص انہیں احمدیت کے خلاف مائل کرے گا وہ اُس کی بات نہیں مانیں گے بلکہ سمجھ لیں گے کہ وہ انہیں اسلام کے خدمت گاروں کے خلاف لڑانا چاہتا ہے۔
    پس اس کی کُلّی ذمہ داری جماعت پر ہے۔ جماعت نے تبلیغ میں سُستی کی اور سچائی کو لوگوں تک نہیں پہنچایا۔ یہ لوگ جاہل ہیں اور احمدیت سے ناواقف ہیں۔ مذہبی جوش میں آکر وہ ایسا کر جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خداتعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ درحقیقت وہ خداتعالیٰ کو ناراض کر رہے ہیں اور اُس کی تعلیم کے خلاف حرکات کر رہے ہیں۔ چونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں اِس لیے دیوانگی کے ساتھ اُنہوں نے ایسا کیا۔ اوراپنے خیال میں اُنہوں نے سمجھ لیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر رہے ہیں اور اُس کے رسول کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ احمدیت کی عدمِ اشاعت کا نتیجہ ہے۔ یہ انہیں احمدیت سے ناواقف رکھنے کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ لوگ احمدیت سے واقف ہوتے تو یہ نتیجہ کبھی نہ نکلتا۔ چنانچہ جہاں جہاں بھی احمدیت سے لوگوں کو واقفیت ہوگئی ہے اگرچہ وہاں کے تمام لوگ احمدیت میں داخل نہیں ہوئے مگر وہ اتنے جوش میں بھی نہیں آتے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ علماء انہیں غلط راستے پر لے جاتے ہیں۔ بہرحال ایسے افعال احمدیت سے عدمِ واقفیت کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ان کی تمام ذمہ داری جماعت پر ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ غیراحمدی مولوی لوگوں کو احمدیت کی باتیں سنائیں۔ بہرحال وہ تو احمدیت کو غلط طور پر ہی پیش کریں گے۔ یہ احمدیوں کا اپنا فرض ہے کہ وہ دلیری اور بہادری سے احمدیت کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں۔
    مَیں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ہے کہ جماعت پوری طرح تبلیغ کی طرف توجہ نہیں کرتی۔ تبلیغ یہ نہیں کہ کوئی آپ کے پاس آئے اور وہ آپ کی باتیں سن کر کہہ دے سُبْحَانَ اللّٰہِ! احمدیہ جماعت نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ اور آپ کہیں بس تبلیغ ہو گئی۔ یہ کوئی تبلیغ نہیں ۔تبلیغ کے معنے یہ ہیں کہ اُن باتوں کو پیش کیا جائے جنہیں دوسرے لوگ نہیں مانتے، اُن کے سامنے وہ چیزیں پیش کی جائیں جن کے متعلق دشمن اُنہیں اشتعال دلاتا ہے۔ اُنہیں بتایا جائے کہ دراصل آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ یہ توسچائیاں ہیں اور آپ کو چاہیے کہ انہیں قبول کریں۔ ویسے کسی کو گھر لے جاکر اور چائے پلا کر یہ بتا دینا کہ ہم اسلام کی بڑی خدمت کر رہے ہیں یہ تبلیغ نہیں۔ تبلیغ یہ ہے کہ اُن کے سامنے وہ تلخ باتیں پیش کی جائیں جن کو وہ تلخ سمجھتے ہیں اور جن کی وجہ سے وہ ہماری مخالفت کرتے ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوٰی نبوت فرمایا اور مکہ میں مخالفت کی آگ بھڑک اُتھی تو ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ قریش کی طرف سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے کہا کہ مَیں تم سے صرف یہ دریافت کرنے آیا ہوں کہ آخر تم نے جو اپنی قوم میں اِتنا بڑا فتنہ برپا کر رکھا ہے تو اِس سے تمہاری غرض کیا ہے؟ اگر تم مال چاہتے ہو تو ہم سب مل کر تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم ہم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ۔ اگر حکومت کی خواہش ہے تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ اگر شادی کی خواہش ہے تو ہم سب سے زیادہ حسین اور اعلیٰ گھرانے کی لڑکی تمہیں دینے کے لیے تیار ہیں۔ غرض جو بھی تمہاری خواہش ہے کُھل کر بتادو ہم اُسے پورا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ جب وہ اپنی تقریر ختم کر چکا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب میرا جواب بھی سن لو۔ اور یہ کہہ کر آپ نے سورۃ حٰمٓ سجدۃ کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں جن میں خداتعالیٰ کی توحید کا ذکر آتا ہے۔ جب آپ اِس آیت پر پہنچے کہ 3یعنی اگر یہ لوگ اِعراض کریں تو تُو انہیں کہہ دے کہ مَیں تمہیں اُسی قسم کے عذاب سے ڈراتاہوں جس قسم کا عذاب عاد اور ثمود پر آیا۔ تو عتبہ کارنگ فق ہو گیا اور اُس نے بے اختیار اپنا ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر رکھ دیا اور کہادیکھو! محمد ایسا نہ کہو۔آخر یہ آپ ہی کی قوم ہے۔4 اب دیکھو مکہ والے آپؐ پر ظلم کرتے تھے مگر وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ دعا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے گی وہ عرش کو ہِلا دے گی اور ہمیں تباہ کر دے گی۔ پس یہ غلط ہے کہ دشمن ظلم کو نہیں سمجھتا۔ ظلم کبھی لمبا نہیں چلا کرتا بلکہ ایک حد تک ہی چلتا ہے اور پھر بند ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح آجکل لوگ بیشک ہماری مخالفت کریں مگر آخر اِنہی میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو صداقت کو قبول کریں گے۔
    مجھے یاد ہے ایک دفعہ قادیان میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے تقریر کی۔لوگوں میں ہمارے خلاف بڑا جوش تھا۔ اُنہوں نے اپنی تقریر میں میرے متعلق کہا کہ اگر یہ سچے ہیں تو میرے ساتھ مقابلہ کریں۔ہم اکٹھے کلکتہ تک کا سفر کرتے ہیں۔پھر ہم دیکھیں گے کہ کس پر پتھر پڑتے ہیں اور کس پر پُھول برستے ہیں؟ مَیں نے شام کو اپنے جلسہ میں جواب دیا کہ مولوی صاحب نے تو خود ہی صداقت کا فیصلہ کر دیا ہے۔ وہ سوچیں کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پڑا کرتے تھے یا پُھول برسا کرتے تھے؟ اورابوجہل پر پتھر پڑا کرتے تھے یا پُھول برسا کرتے تھے؟ پس جو پتھر مارتا ہے یا پتھر مارنے پر اُکساتاہے وہ دونوں یہ جانتے ہیں کہ صداقت کارگر ہوگی۔ اِس لیے اُن کے لیے سوائے ظلم کے اَور کوئی چارہ نہیں۔
    پھر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مظالم دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں۔ پرسوں ہی ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ایک نوجوان آیا اور اُس نے کہا مَیں نے بیعت کرنی ہے۔ پھر اُس نے خود ہی بتایا کہ آج صبح مَیں دکان پر گیا تو ابھی مَیں دکان کھول ہی رہا تھا کہ ایک شخص نے مجھے بتایا کہ ہم نے رات ایک قادیانی مار دیا ہے اور اب اُن کا ایک نمبر کم ہو گیا ہے۔ مَیں نے کہا اچھا! اگر اُن کا ایک نمبر کم ہوگیا تومَیں اُسے پورا کرتا ہوں۔ چنانچہ مَیں نے پھر دکان کو قفل لگا دیا اور سیدھا یہاں چلا آیا تاکہ بیعت کرلوں۔ اب دیکھو وہ پہلے ہماری جماعت میں شامل نہیں تھا مگر جب اُس نے دیکھا کہ شرافت اور انسانیت دنیا سے اِتنی مٹ چکی ہے کہ محض صداقت اور سچائی کے لیے ایک انسان کو قتل کر دیا جاتا ہے تو وہ اسے برداشت نہ کرسکا اور اُس نے جرأت کرکے احمدیت کو قبول کرلیا۔
    دنیا میں سارے لوگ گندے نہیں ہوتے۔ دنیا میں بہادر بھی ہوتے ہیں۔ اور ایسے بھی ہوتے ہیں جو مظالم کو دیکھ کر سچائی اور صداقت کو قبول کر لیتے ہیں۔ حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ جو اسلام سے پہلے عرب میں بڑے بہادروں میں شمار ہوتے تھے اور اسلام لانے کے بعد بھی انہوں نے بہادری کے کارہائے نمایاں دکھائے ہیں ایسے ہی واقعات کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ حضرت حمزہؓ آپؐ کے چچا تھے لیکن اُن کی زندگی سپاہیانہ تھی اور ہر وقت تیراندازی وغیرہ میں مشغول رہتے تھے اورسمجھتے تھے کہ وہ بڑا کام کر رہے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوٰی نبوت کیا تو آپ نے بھی سنا۔ آخر آپ قریبی رشتہ دار تھے اور پاس ہی رہتے تھے لیکن آپ نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ آپ سمجھتے تھے کہ یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے۔ زندگی ہے تو ہماری ہے۔ ہر وقت شکار کھیلتے اورتیراندازی میں مشغول رہتے ہیں۔ اِس سے بڑھ کر اَور کیا کام ہو گا۔ایک دن مکہ کے نزدیک صفا پہاڑی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوجہل آیا۔ وہ جوش میں بھرا ہوا تھا۔اُس نے آتے ہی آپؐ کو بے تحاشا گالیاں دینی شروع کردیں۔ اور پھر اُس نے یہیں تک بس نہ کی بلکہ آپ کو ایک تھپڑ بھی دے مارا۔ مگر آپؐ نے اُس کے جواب میں صرف اِتنا کہا کہ مَیں نے آپ کا کیا قصور کیا ہے کہ آپ لوگ مجھے دکھ دیتے ہیں؟صرف اللہ تعالیٰ کا پیغام ہی مَیں آپ لوگوں کو پہنچاتا ہوں اَور تو کچھ نہیں کہتا۔ مگر اُس کا جوش پھر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور وہ گالیاں دیتا ہوا واپس چلا گیا۔حضرت حمزہؓ کا گھر قریب ہی تھا۔ آپ کی ایک لونڈی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔ گھر کی لَونڈیاں اگرچہ لَونڈیاں ہی ہوتی ہیں مگر زیادہ دیر گھر میں رہنے کی وجہ سے اپنے آپ کو رشتہ دار ہی سمجھنے لگ جاتی ہیں۔ جب آپ کی لَونڈی نے وہ نظارہ دیکھا تو اُس کے اندر دردپیدا ہوا۔ مگر عورت تھی وہ کر ہی کیا سکتی تھی؟ شام کو جب آپ شکار سے واپس آئے تو وہ چیل کی طرح جھپٹ کر آپ کی طرف آئی اور کہنے لگی تم سپاہی بنے پھرتے ہو۔ صبح مَیں نے دیکھا ہے کہ تمہارا بھتیجا صفا پہاڑی پر بیٹھا ہوا تھا کہ ابوجہل آیا اوراُس نے بے نقط گالیاں دینی شروع کردیں۔ پھر عورتوں کی طرح اُس نے قسم کھا کر کہا خدا کی قسم! اُس نے اُسے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ ابوجہل گالیاں دیتا گیا،دیتا گیا مگر وہ خاموش رہا۔ اِس پر اُسے اَور غصہ آیا اور اُس نے اُسے ایک تھپڑ مار دیا۔ مگر اِس پر بھی اُس نے صرف یہی کہا کہ میرا کیا قصور ہے جس کی وجہ سے تم مجھے مارتے ہو؟ مَیں تو آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی باتیں ہی سناتا ہوں۔ حضرت حمزہؓ بہادر آدمی تو تھے ہی صرف عقل کو دین کی روشنی نہیں ملی تھی۔ اُن کی غیرت نے جوش مارا اور وہ اُسی وقت باہر چلے گئے اور خانہ کعبہ میں آئے۔ ابوجہل وہاں بیٹھا ہوا تھا اور دوسرے رؤسائے مکہ بھی اُس کے اردگرد بیٹھے تھے اور اسلام کے خلاف باتیں ہو رہی تھیں۔ آپ بھی ایک رئیس آدمی تھے۔ جب اُنہوں نے آپ کو آتے دیکھا تو آپ کے لیے جگہ خالی کر دی۔ مگر انہوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور آگے گزر کر ابوجہل کے منہ پر کمان ماری اور کہا تم میرے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اِس لیے گالیاں دیتے اور مارتے ہو کہ وہ تمہاری باتوں کا جواب نہیں دیتا؟ اب سُن لے کہ مَیں بھی اُس کے دین پر ہوں۔ اگر تم میں طاقت ہے تو مجھ سے لڑ لو۔ سارے رؤسائے مکہ کھڑے ہوگئے تاکہ وہ اِس ہتک کا بدلہ لیں۔ لیکن ابوجہل نے سمجھ لیا کہ اگر انہوں نے حمزہ کو مارا تو یہ مسلمان تو ہے نہیں مکہ میں لڑائی شروع ہو جائے گی اور بنوہاشم اور اُن کے حلیف ایک طرف ہوجائیں گے۔ چنانچہ ابوجہل نے اُن سے کہا جانے دو۔ آج صبح مجھ سے ہی غلطی ہوگئی تھی۔ پھر حضرت حمزہؓ وہاں سے اُٹھے اور سیدھے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اسلام قبول کرلیا۔ 5
    حضرت عمرؓ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے نکلے تھے۔ آپ نے انعام مقرر کیا ہوا تھا کہ جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر کاٹ کر لائے گا مَیں اُسے اتنے اونٹ انعام دوں گا۔ مگر کسی نے آپؐ کو نہ مارا۔آخر حضرت عمرؓ کو کسی نے طعنہ دیا کہ تم اتنے بہادربنے پھرتے ہو تو خود ہی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کیوں نہیں مار ڈالتے؟ آپ نے سمجھا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔ آپ فوراً گھر سے نکل پڑے۔ آپ کی طبیعت چونکہ جوشیلی تھی اِس لیے گھر سے نکلتے ہی تلوار سونت لی ۔ آپ ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جا ہی رہے تھے کہ کسی نے آپ سے پوچھاعمر! کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا محمد(رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارنے جا رہا ہوں۔ اُس شخص نے کہا تمہاری اپنی بہن اور بہنوئی تو مسلمان ہوچکے ہیں اور تم محمد رسول اللہ ؐکو قتل کرنے چلے ہو! حضرت عمرؓ نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو۔ اُس نے کہا نہیں۔ تم خود جا کر دیکھ لو۔ حضرت عمرؓ واپس لوٹے اوراپنی بہن کے گھر کی طرف گئے۔ آپ کی بہن اور بہنوئی نے قرآن سیکھنے کے لیے ایک صحابی کو گھر پر بلایا ہوا تھا۔ پردہ ابھی نازل نہیں ہوا تھا۔ پردہ کا حکم مدینہ میں نازل ہوا ہے۔ اُنہوں نے احتیاطاً دروازہ بند کیا ہوا تھا۔ حضرت عمرؓ دروازہ پر گئے اور اپنی بہن کو آواز دی۔ وہ حضرت عمرؓ کی طبیعت کو جانتی تھیں۔ اس لیے انہوں نے اس صحابی کو چُھپا دیا اور آگے ایک پردہ ڈال دیا اور پھر دروازہ کھولا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا تم نے دروازہ کھولنے میں اِتنی دیر کیوں لگائی ہے؟ انہوں نے کہا کچھ کام کر رہے تھے جس کی وجہ سے دیر لگ گئی ہے۔ آپ نے کہا معلوم ہوتا ہے تمہارے ساتھ کوئی اَور آدمی بھی تھا۔ اور مَیں نے سنا ہے کہ تم صابی ہوگئے ہو۔ مسلمانوں کو اُس وقت صابی کہا جاتا تھا جیسے آجکل ہمیں قادیانی کہا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کے بہن اور بہنوئی چونکہ ابھی ایمان چُھپانا چاہتے تھے اِس لیے اُنہوں نے ٹلاواں جواب دے دیا۔ حضرت عمرؓ کو جوش آگیا اور زور سے ہاتھ اُٹھا کر اپنے بہنوئی کو مارنا چاہا۔ چونکہ آپ اپنے بہنوئی کو محض اسلام لانے کی وجہ سے مارنا چاہتے تھے اِس لیے آپ کی بہن کو جوش آگیا اور اُس نے یہ پسند نہ کیا کہ اسلام کی وجہ سے اُس کے خاوند کو مار پڑے۔وہ کُود کر آگے آگئی اور حضرت عمرؓ اور اپنے خاوند کے درمیان حائل ہوگئی اور کہا مَیں تمہیں مارنے نہیں دوں گی۔ اگر مارنا ہے تو مجھے مارو۔ ہم ایمان لاچکے ہیں۔ تمہاری جو مرضی ہو کرلو۔ حضرت عمرؓ بہادر تھے اور شرافتِ نفس آپ کے اندر پائی جاتی تھی مگرچونکہ آپ ہاتھ اُٹھا چکے تھے اِس لیے اپنے ہاتھ کو روک نہ سکے اور مُکّا آپ کی بہن کے ناک پر لگا جس سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ چونکہ آپ نے عربوں کے دستور کے خلاف ایک عورت پر ہاتھ اُٹھایا تھا اورپھر غیرمجرم پر ہاتھ اٹھایا تھا، اپنی بہن کا خون نکلتے دیکھ کر اُنہیں ندامت محسوس ہوئی اور اُنہوں نے کہا بہن! مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔ مجھے بتاؤ تو سہی کہ تم کیا پڑھ رہی تھیں؟ لیکن آپ کی بہن کو بھی غصہ تھا۔ وہ بھی آخر حضرت عمرؓ کی ہی بہن تھی۔ انہوں نے کہا تم ناپاک ہو اور مشرک ہو ہم تمہیں قرآن کریم کو ہاتھ نہیں لگانے دیں گے۔ اگر قرآن کریم سننا ہے تو پہلے نہا کر آؤ۔حضرت عمرؓ جیسا بہادر آدمی بھیگی بلّی کی طرح نہانے کے لیے چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ نہا کر واپس آئے اور فرمایا بہن! میں اب نہا آیا ہوں۔ اب مجھے قرآن سناؤ۔ بہن نے قرآن کریم کا ورق آپ کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہی عمرؓ تھا جس نے سارا قرآن کریم سنا تھا مگر پھر بھی مخالفت پر ہی کمربستہ رہا۔ مگر اب ظلم کی وجہ سے اُس کے دل میں نرمی پیدا ہو چکی تھی اور خدا کاخوف پیدا ہو گیا تھا اور دل کی کھڑکیاں جو پہلے بند تھیں اب کھل چکی تھیں۔ آپ نے ابھی تین چار آیات ہی پڑھی تھیں کہ کھڑے ہوگئے اور کہا بہن! مجھے بتاؤکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں رہتے ہیں؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں خطرے کی وجہ سے ایک مکان میں نہیں ٹھہرتے تھے بلکہ کبھی کسی گھر میں ہوتے تھے اور کبھی کسی گھر میں۔ آپ کی بہن نے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ بتا دیا اور آ پ فوراًاُس طرف چل دیئے۔ مگر بعد میں خیال آیا کہ کہیں بھائی کی نیت خراب نہ ہو اِس لیے انہوں نے آگے بڑھ کر آپ کی گردن پکڑ لی اور کہا خدا کی قسم! مَیں تمہیں اُس وقت تک نہیں جانے دوں گی جب تک تم یہ اقرار نہیں کر وگے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی نہیں کرو گے۔ حضرت عمرؓ نے کہا مَیں اقرار کرتا ہوں کہ مَیں آپؐ کی بے ادبی نہیں کروں گا۔پھر انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا اور آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں دارِارقم میں مُقیم تھے۔ دروازہ بند تھا اور آپ قرآن کریم کا درس دے رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ صحابہؓ نے پوچھا کون ہے؟ آپ نے جواب دیا عمر بن خطاب۔ صحابہ نے کہا کہ یہ تو بڑا ظالم آدمی ہے۔ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لیے انعام مقرر کیا ہوا ہے کہیں یہ شرارت نہ کرنے آیا ہو اِس لیے دروازہ نہیں کھولنا چاہیے۔ حضرت حمزہؓ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے لڑنا صرف عمر کو ہی نہیں آتا ہمیں بھی آتا ہے۔ دروازہ کھول دو۔ مَیںدیکھوں گا کہ وہ کیا کر سکتا ہے۔ اگر نیک نیتی کے ساتھ آیا ہے تب تو خیر ورنہ اُسی کی تلوار سے مَیں اُس کی گردن کاٹ دوں گا۔ صحابہؓ نے دروازہ کھولا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! تم شرارتوں سے باز بھی آؤ گے یا نہیں؟ مگر عمرؓ اب وہ عمرنہیں تھے جو پہلے تھے۔آپ نے گردن جُھکا لی اورفرمایایارسول اللہ! مَیں تو اسلام قبول کرنے کے لیے آیا ہوں۔ حضرت عمرؓ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لیے انعام مقرر کیا ہوا تھا آپ کا ایمان لانا صحابہؓ کے لیے ایک عجیب چیز تھی۔ صحابہؓ نے جوش میں آکر اَللّٰہُ اَکْبَرُ کا نعرہ مارا۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے ہمیں کبھی نعرہ تکبیر بُلند کرنے کی جرأت نہیں ہوئی تھی۔ ہم ڈرتے تھے کہ کہیں کفار ہم پر حملہ نہ کردیں۔حمزہؓ پہلے ہی مسلمان ہوچکے تھے اور اب حضرت عمرؓ بھی مسلمان ہو گئے توہم نے خیال کیا کہ اب ہمیں چُھپ کر بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔6
    تو دیکھو یہ دونوں پہلوان مظالم کی وجہ سے ہی اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ دلیلیں تو انہوں نے پہلے بھی سُنی ہوئی تھیں۔ قرآن کریم پہلے بھی سنا ہوا تھا مگر پہلے اُن پر اثر نہیں ہوتا تھا۔ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے تھے۔ مگر جب دیکھا کہ اسلام باوجود مخالفت کے بڑھ رہا ہے اور ہم بِلاوجہ مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں تو اُن کی آنکھیں کھل گئیں۔
    حضرت عمرؓکے ساتھ پہلے بھی ایک واقعہ اِسی رنگ کا ہو چکا تھا۔ ایک صحابیہؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی تو ہم رات کو نکلتے تھے تاکہ کفار کو ہمارا علم نہ ہو سکے اوروہ ہمیں لُوٹ نہ لیں۔ ہم سحری کے وقت سامان باندھ رہے تھے کہ اتفاقاً حضرت عمرؓ بھی پھرتے پھراتے وہاں آگئے۔ حضرت عمرؓ شاید اُس صحابیہؓ کے رشتہ دار تھے یا ویسے ہی واقف تھے۔ احادیث میں تعلقات کا ذکر نہیں آتا۔ وہ صحابیہ کہتی ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا بی بی! تم کہاں جا رہی ہو؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم وطن چھوڑ کر کہیں باہر جا رہی ہو۔ انہوں نے کہا وطن کیوں نہ چھوڑیں وطن کس کو عزیز نہیں ہوتا پھر مکہ جیسا وطن۔ مگر تم ہمیں یہاں آزادی سے عبادت نہیں کرنے دیتے۔ اِس لیے باوجود اِس کے کہ مکہ ہمیں بہت عزیز ہے ہم مجبور ہیں کہ یہاں سے نکل جائیں۔ حضرت عمرؓ اس وقت کافر ہی تھے مگر وہ صحابیہ بیان کرتی ہیں کہ جب مَیں نے حضرت عمرؓ سے یہ کہا کہ ہم وطن اِس لیے چھوڑ رہے ہیں کہ تم یہاں ہمیں آزادی سے عبادت نہیں کرنے دیتے تو میری آواز میرے خاوند نے بھی سن لی اور اُس نے بعد میں پوچھا کہ یہ کون شخص تھا جس سے تم باتیں کر رہی تھیں؟ مَیں نے کہا یہ عمرؓ تھا۔ اور پھر مَیں نے بتایا کہ مَیں نے اُسے کیا کہا ہے۔ میرے خاوند نے کہا عمر بڑا سنگدل آدمی ہے، اُس پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ مَیں نے کہا آج تو اُس پر اثر تھا۔ جب مَیں نے اُسے کہا کہ تم ہمیں آزادی سے یہاں عبادت کرنے نہیں دیتے اِس لیے ہم مکہ جیسے عزیز وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہیں تو اُسے اُس وقت یقینا صدمہ پہنچا تھا۔ اُس نے فوراًدوسری طرف اپنا منہ کر لیا۔ شاید اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے جو وہ مجھ سے چھپانا چاہتا تھا اور پھر منہ پھیر کر اُس نے کہا اچھا جاؤ خدا حافظ۔7 غرض مظالم کو دیکھ کر سنگدل سے سنگدل انسان کے اندر بھی نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو آپ کی ایک صاحبزادی یعنی حضرت زینب پیچھے رہ گئی تھی۔ آپؐ نے وہاں سے چند آدمی بھیجے تا اُنہیں مدینہ لے آئیں۔ آپ اُن دنوں حاملہ تھیں۔ راستہ میں کسی بدبخت نے آپ کے ہودج کی رسیاں کاٹ دیں جس کی وجہ سے ہودج نیچے گر پڑا اور آپ کو چوٹیں آئیں جن کے نتیجہ میں آپ کا حمل بھی گر گیا اورایک مہینہ کے بعد اُسی تکلیف کی وجہ سے آپ فوت ہوگئیں۔ وہ شخص فوراً دوڑتا ہوا خانہ کعبہ میں آیا۔وہاں رؤسائے مکہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ بھی وہاں تھی۔ وہ ہندہ جس نے حضرت حمزہؓ کے ناک اور کان کٹوائے تھے اور آپ کا پیٹ چاک کروایا تھا۔ وہ شخص بڑے جوش سے اُن کے پاس جا کر کہنے لگا کہ مَیں نے آج خوب ہی اچھا کام کیا ہے۔ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کی بیٹی زینب مدینہ جارہی تھی کہ مَیں نے اُس کے ہودج کی رسیاں کاٹ دیں اور وہ نیچے گر پڑی اور اُسے بُری طرح چوٹیں آئیں۔ اب دیکھو یہ ایک ظلم کی بات تھی۔ ہندہ آپؐ کی شدید ترین دشمن تھی لیکن جب اُس نے یہ بات سُنی تو فوراً کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی اے مکہ والو! کیا تم میں اب کوئی شرافت باقی نہیں رہی کہ پہلے تو تم عورتوں پر ہاتھ نہیں اُٹھایا کرتے تھے اور اب تم نے عورتوں پر بھی ہاتھ اُٹھانا شروع کر دیا ہے۔8
    غرض مظالم صداقت کو دبایا نہیں کرتے بلکہ اُسے بالا کیا کرتے ہیں۔ دنیا کے سارے لوگ گندے نہیں ہوتے۔ اُن میں شریف بھی ہوتے ہیں۔ بہادر اور دلیر بھی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ آگے آجاتے ہیں اور اُنہی کی الٰہی سلسلوں کو ضرورت ہوا کرتی ہے۔ یہی دلیر لوگ قوم کو بڑھانے اور مذہب کو ترقی دینے کا موجب بنتے ہیں کیونکہ جو شخص دین کی راہ میں جرأت دکھاتا ہے اور جان تک کی بھی پروا نہیں کرتا خدا خود اُس کا رعب پیدا کردیتا ہے اور شریف اور بہادر آدمی مذہب کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
    جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی بتایاہے آج تک کوئی قوم پھولوں کی سیج پر چل کر کامیاب نہیں ہوئی۔ ہمیشہ اُسے کانٹوں پر سے گزرنا پڑا ہے۔ سو آپ لوگ اپنے اندر ایک نیک تبدیلی پیدا کریں اور تبلیغ کو وسیع کریں۔آپ نے بیعت کرتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ آپ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔دین کو دنیا پر مقدم آپ اِسی صورت میں رکھ سکتے ہیں جب کہ آپ زیادہ وقت تبلیغ میں صَرف کریں۔ اگر تم پر ظلم ہوتے ہیں، لوگ تم پر سختیاں کرتے ہیں، تمہاری تجارتیں اور نوکریاں چُھٹ جاتی ہیں تو تم مت پرواکرو۔ صحابہؓ کا جب آپ لوگ نام لیتے ہیں تو آخر میں رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا لفظ بڑھا دیتے ہیں۔یہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے الفاظ صحابہؓ کے ناموں کے ساتھ کیوں چل رہے ہیں؟ اِس لیے کہ انہوں نے ابتدائی وقت میں قربانیاں کیں اور اِس درخت کے بیج بوئے جس کا پھل آج ہم کھا رہے ہیں۔ اگر وہ اس درخت کا بیج نہ بوتے اور اس کو اپنے خونوں سے نہ سینچتے تو آج ہم اسلام کے نور سے منور نہ ہوتے۔ چونکہ صحابہؓ نے ایک ایسے زمانے میں جب اسلام لانے کی وجہ سے ہر شخص واجبُ الْقتل قرار دیا جاتا تھا نڈر ہو کر تبلیغ کی۔ اِس لیے جب ہم اُن کا نام لیتے ہیں تو ساتھ ہی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کہتے ہیں۔ آپ لوگوں کا بھی یہ دعوٰی ہے کہ آپ کو بھی وہی مقام حاصل ہے جو صحابہؓ کو حاصل تھا۔آپ بھی امید کرتے ہیں کہ آپ کے ناموں کے ساتھ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے الفاظ لگیں اور اگر آپ امید نہیں بھی کرتے تب بھی خداتعالیٰ نے آپ کے لیے یہ انعام مقدر کر دیا ہے کہ آپ کے ناموں کے ساتھ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے الفاظ کہے جائیں اور یہ اُس وقت ہو سکتا ہے جب آپ صحابہؓ کی طرح دیوانہ وار تبلیغ کے لیے کھڑے ہوجائیں اور اپنی کسی چیز کی بھی پروا نہ کریں۔رات دن آپ تبلیغ میں لگا دیں۔ آپ کے اندر ہمدردی اور درد اِس قدر پایا جائے کہ آپ کا مخاطب بھی یہ محسوس کرنے لگ جائے کہ آپ اُس کی خاطر مرے جارہے ہیں۔ اگر آپ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر لیں تو پھر احمدیت یقینا پھیلے گی۔ اور وہی لوگ جو آج آپ کو پتھر مارتے ہیں کل آپ کے سامنے دو زانوہوکر بیٹھیں گے اور کہیں گے ہم تو آپ کو پتھر نہیں مارا کرتے تھے۔ جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب مسلمانوں کا کوئی لشکر مدینہ سے باہر جاتا تو منافق کہتے تھے کہ یہ بیوقوف ہیں۔ یونہی اپنی جانیں ضائع کرنے جارہے ہیں۔ مگر وہی لشکر جب فاتح ہو کر واپس آتا تو وہ منافق باہر نکل کر اُس کے ساتھ ہوجاتے اور کہتے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ مالِ غنیمت میں ہمارا بھی حصہ ہونا چاہیے۔یہ لوگ بالکل مُردہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اُن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر کسی کی کوئی حقیقت ہے تو اُن لوگوں کی جو قربانیوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر توکّل کر کے اپنے فرض کو ادا کرتے جاتے ہیں۔ اگر وہ اِس راہ میں مارے جاتے ہیں تو اُن پر اور اُن کی تُربت پر خداتعالیٰ کی رحمتیں ہوتی ہیں۔ اور اگر زندہ رہتے ہیں تو اُن پر اوراُن کی اولادوں پر خداتعالیٰ کی رحمتیں ہوتی ہیں"۔
    (غیرمطبوعہ از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    صحیح بخاری کتاب مناقب الانصار باب مناقب الانصار رضی اللہ عنھم
    2
    :
    (الحج:40)
    3
    :
    حٰمٓ السجدۃ:14
    4
    :
    مستدرک حاکم جلد 2صفحہ 278حدیث نمبر3002۔ مطبع بیروت 1990ء
    5
    :
    سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ 311،312۔ اسلام حمزۃ رحمہُ اللّٰہ ۔ مطبع مصر 1936ء
    6
    :
    سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ 367تا371۔اسلام عمر بن الخطّابؓ۔ مطبع مصر 1936ء
    7
    :
    السیرۃ الحلبیۃ جلد اول صفحہ 361۔ مطبوعہ مصر 1932ء
    8
    :
    سیرت ابن ہشام جلد دوم309تا311۔ خروج زینب الی المدینۃ ۔ مطبع مصر 1936ء



    خدا تعالیٰ کے وعدے تبھی پورے ہوں گے
    جبکہ تم بھی انہیں پورا کرنے کی کوشش کرو
    (فرمودہ27؍اگست 1948ء بمقام کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے 1کہ اے مسلمانو! تم جہاں سے بھی نکلو تم اپنے منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔ اس آیت کے مفسرین یہ معنے کرتے ہیں کہ اس میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواہ اِس آیت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کیا گیا ہے اور خواہ مسلمانوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ اس کے یہ معنے نہیں ہو سکتے۔ جب یہ آیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہو گی تب بھی اس کے معنی قبلہ کی طرف منہ کرنے کے نہیں ہوں گے اور اگر مسلمانوں کے متعلق یہ آیت ہو گی تب بھی اس کے یہ معنی نہیں ہوں گے کیونکہ اِس آیت کے لفظی معنے یہ بنتے ہیں کہ جہاں سے بھی تم نکلو، تم اپنے منہ مسجد حرام کی طرف کر لو یا جہاں سے بھی تُو نکلے تُو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لے۔ اب یہ تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ چلتے وقت نماز نہیں پڑھی جا سکتی بلکہ نماز ٹھہر کر ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ ہاں اگر اس آیت کے یہ الفاظ ہوتے کہ حَیْثُمَا کُنْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِتم جہاں کہیں بھی ہو تم اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لو یا تُو جہاں کہیں بھی ہو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لے تب تو یہ معنے صحیح ہو سکتے تھے۔ لیکن یہ تو فرمایا گیا ہےیامِنْ حَیْثُ خَرَجْتُمْیعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اے مسلمانو! جہاں سے بھی تم نکلو تم اپنے منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔ یہاں ’’خروج‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنے نکلنے کے ہیں۔ اب یہ صاف بات ہے کہ نماز نکلتے وقت نہیں پڑھی جاتی بلکہ کسی جگہ ہوتے ہوئے نماز پڑھی جاتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہاں نماز پڑھنے کے معنے کرنا درست نہیں۔ چونکہ چلتے وقت نماز نہیں پڑھی جاتی اس لیے اس آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ جب تم نماز پڑھو تو قبلہ کی طرف منہ کر لو بلکہ اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے مستحق اور مورِد ہیں۔ جب آپ کو مکہ سے نکالا گیا اُس وقت دشمنانِ اسلام کو یہ اعتراض کرنے کا موقع ملا کہ جب آپ دعائے ابراہیمی کے موعود تھے اور خانہ کعبہ کے ساتھ آپ کا تعلق تھا تو آپ کو مکہ سے کیوں نکال دیا گیا؟ جب آپ کو مکہ سے نکال دیا گیا ہے تو آپ دعائے ابراہیم علیہ السلام کے کس طرح مستحق ہو سکتے ہیں؟ اس اعتراض کے جواب میں فرمایا یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تمہارا مکہ سے یہ نکلنا عارضی ہے۔ہم تم سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم دوبارہ تمہیں موقع دیں گے اور تم مکہ پر قابض ہو جاؤ گے۔ لیکن جہاں اللہ تعالیٰ کے اپنے مومن بندوں سے وعدے ہوتے ہیں وہاں وہ اُن سے یہ اُمید کرتا ہے کہ وہ بھی اس وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ یہ نہیں کہ خداتعالیٰ اُن سے وعدہ کر لے اور وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں اور اس وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش نہ کریں اور یہ سمجھ لیں کہ جب خدا تعالیٰ نے خود وعدہ کیا ہے تو وہ اسے پورا کرے ہمیں اس کے پورا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
    حضرت موسٰی علیہ السلام کی قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اسے کنعان کا ملک دیا جائے گا۔ حضرت موسٰی علیہ السلام اپنی قوم کو ساتھ لے کر چل پڑے۔ جب وہ ملک سامنے آ گیا تو آپ نے اپنی قوم سے کہا جاؤ اور لڑائی کر کے اس ملک پر قبضہ کر لو۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی قوم نے غلطی سے یہ خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ نے یہ ملک ہمیں دینے کا وعدہ کیا ہے اس لیے وہ خود ہی اس وعدہ کو پورا کرے گا اور یہ ملک ہمارے قبضہ میں دے دے گا۔ ہم نے اگر اس ملک کو فتح کیا تو پھر وعدے کا کیا فائدہ؟ وعدہ تو خدا نے کیا ہے وہ اسے خود پورا کرے گا۔ ہمیں اس کے لیے کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہہ دیا 2کہ اے موسٰی! تُو ہم سے کہا کرتا تھا کہ یہ ملک خدا تعالیٰ تمہیں دے دے گا۔ اب تمام ذمہ داری تجھ پر ہے یا تیرے خدا پر ہے۔ ہم نے اگر ملک فتح کیا تو پھر تیرے اور تیرے خدا کے وعدوں کا کیا فائدہ؟ چونکہ تُو ہمیں بتایا کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ یہ ملک ہمیں ضرور ملے گا۔ اس لیے اب تُو جا اور تیرا رب دونوں لڑو۔ ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔ جب تم ملک فتح کر کے ہمیں دے دو گے تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے۔ بظاہر ان کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے۔ اگرکوئی کسی سے کہے کہ مَیں تمہیں فلاں چیز دوں گا اور وہ اس سے آ کر وہ چیز مانگے اور وہ اسے کہہ دے کہ جاؤ بازار سے خرید لو تو سارے لوگ یہی کہیں گے کہ اگر اُس نے وہ چیز بازار سے ہی خریدنی تھی توپھر اُس کے وعدہ کی کیا ضرورت تھی۔ پس بظاہر یہ بات معقول معلوم ہوتی ہے لیکن الٰہی سلسلوں میں یہ اول درجہ کی غیر معقول بات ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُن بنی اسرائیل کی تعریف نہیں کی۔ یہ نہیں کہا کہ تمہیں لڑنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم یہ ملک تمہیں لے کر دیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے ہماری ہتک کی ہے اس لیے تمہیں اس ملک سے محروم کیا جاتا ہے۔ جاؤ چالیس سال تک جنگلوں میں بھٹکتے پھرو۔ تم اس ملک کے وارث نہیں بن سکتے۔ تمہاری نئی نسل اس ملک کی وارث ہو گی کیونکہ تم نے ہماری ہتک کی ہے۔ تو دیکھو یہ چیز انسانی لحاظ سے تو درست اور معقول کہلا سکتی ہے لیکن الٰہی سلسلہ کے لحاظ سے نہایت ہی غیر معقول ہے اور انسان کو عذاب کا مستحق بنا دیتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ جب کوئی انسان وعدہ کرتا ہے تو اسے تغیراتِ سماوی اور تغیراتِ ارضی پر اختیار نہیں ہوتا۔ اس لیے جب بھی وہ وعدہ کرتا ہے تو ایسی چیز کا کرتا ہے جو اس کے اختیار میں ہوتی ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے جو وعدہ ہو گا اُس کا یہ مطلب ہو گا کہ اگر چہ اس چیز کا حصول تمہارے لیے ناممکن ہے مگر یہ تمہیں ہماری مددسے مل جائے گی۔ وہ قوم فرعون کی سینکڑوں سال تک غلام رہی۔ اس کے لیے اینٹیں بناتی رہی، لکڑیاں کاٹتی رہی اور ذلیل سے ذلیل کام کرتی رہی۔ وہ اتنے بڑے اور عظیم الشان ملک پر جس پر عاد قوم حکمران تھی قبضہ کیسے کر سکتی تھی۔ اسے یہ ملک مل جانا آسان نہیں تھا لیکن خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہگو یہ ملک حاصل کرنا تمہیں ناممکن نظر آتا ہے لیکن ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم یہ ملک تمہیں دیں گے اور تم یہ ملک ہماری مدد سے حاصل کر لو گے۔ پس خدا تعالیٰ کے وعدے کے یہ معنی نہیں ہوا کرتے کہ اس نے وعدہ کر دیا اس لیے بندے کو کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تم اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے تدبیر اختیار کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ گویا اللہ تعالیٰ کے وعدے اَور رنگ کے ہوتے ہیں اور بندے کے وعدے اَور رنگ کے ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے وہ وعدے جن میں تدبیر شامل ہوتی ہے بندے کو اس میں دخل دینا پڑتا ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اگر بندہ اس میں دخل نہیں دے گا اور اس کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہو گا۔ لیکن بندے کے وعدے میں یہ نہیں ہوتا۔ بندہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مَیں تمہارے لیے خدا تعالیٰ کی تقدیر بدل دوں گا کیونکہ وہ اس کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ اگر وہ ایسا کہے گا تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ تم تقدیر کو بدلنے والے کون ہو لیکن خدا تعالیٰ یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو مَیں تمہاری مدد کروں گا اور اپنی تقدیر بدل دوں گا کیونکہ تقدیر ایک ایسی چیز ہے جو اس کے قبضہ میں ہے اور وہ جب چاہے اسے بدل سکتا ہے۔ خداتعالیٰ عمل کو رد نہیں کرتا۔ خدا تعالیٰ کے وعدے میں جس میں تدبیر شامل ہو یہ پایا جاتا ہے کہ تم اگر کوشش کرو تو اگرچہ یہ بظاہر ناممکن ہے لیکن مَیں تمہاری مدد کروں گا اور تم اسے حاصل کر لو گے۔
    جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کا وعدہ دیا گیا تو ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ کہا گیا کہ اے مسلمانو! تم موسٰی کی قوم کی طرح یہ نہ سمجھ لینا کہ خدا تعالیٰ نے مکہ کے دینے کا وعدہ کیا ہے وہ خود اسے پورا کرے گا۔ ہمیں اس کے لیے تدبیر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ بلکہ تمہیں بھی اس کے پورا کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔ خدائی وعدے کے یہ معنی ہیں کہ تم کمزور ہو۔ اگر تم کمزور نہ ہوتے تو تم مکہ کو چھوڑ کر کیوں آتے۔ مکہ کو چھوڑنے کے معنی ہی یہ تھے کہ تم کمزور ہو اور تمہارا دشمن مضبوط اور طاقتور ہے۔ لیکن خداتعالیٰ تمہیں طاقت دے گا اور تم دشمن سے مکہ چھین لو گے۔
    پسکے یہ معنے ہوئے کہ تم جہاں سے بھی نکلو یا جس جگہ سے بھی نکلو۔ تمہارا مقصد یہ ہو کہ ہم نے مکہ فتح کرنا ہے۔
    پھر خروج کے معنی لشکر کشی کے بھی ہوتے ہیں۔ اس صورت میں آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ تم جہاں بھی لشکر کشی کرو۔ کسی جگہ بھی لڑائی کے لیے جاؤ ۔چاہے تم مشرق کی طرف نکلو یا جنوب کی طرف نکلو، مغرب کی طرف نکلو یا شمال کی طرف نکلو تمہارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تمہارا یہ خروج فتح مکہ کی بنیاد قائم کرنے والا ہو۔ مثلاً تم اگر جنوب کی طرف دشمن پر حملہ کرنا چاہو لیکن تمہیں معلوم ہو جائے کہ اُس ملک کے مغرب کی طرف بھی دشمن موجود ہیں اور اُن کے متعلق یہ شبہ ہے کہ وہ کہیں پیچھے سے حملہ نہ کر دیں اور تم پہلے مغرب کی طرف حملہ کر کے اُن کو صاف کر لو تو اس کے معنے ہوں گے کہ یہ مغرب کی طرف حملہ اصل میں جنوب کے حملہ کا پیش خیمہ ہے۔اِسی طرح اگر اس قوم کے ساتھی شمال میں بستے ہوں اور پہلے تم ان پر حملہ کروتو .......تمہارا حملہ اصل میں جنوب پر ہی ہو گا کیونکہ اصل مقصد تمہارا جنوب کے دشمن پر حملہ کرنا ہی ہو گا۔ اسی اصل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تم کسی قوم، کسی ملک اورکسی علاقے پر چڑھائی کروتو اس کا مقصد یہی ہونا چاہیے کہ تم نے مکہ فتح کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑے کام پر قوم کی توجہ کا مرکوز کرنا ضروری ہوتا ہے اور اسی طرح افراد کو بھی بڑے کاموں کے کرتے ہوئے اپنی پوری توجہ ان کی طرف لگا دینا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم یا فرد ایسا نہ کرے تو وہ کبھی بڑے مقصد پورے نہیں کر سکتے۔
    خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایک خاص مقصد کے لیے قائم کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنا ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے3کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانیہ اس لیے فرمائی ہے تا اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کر دیا جائے۔ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی غرض ہی یہ ہے کہ آپ نے اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنا ہے۔ یہ غلبہ ہزاروں ہزار اقسام کا ہے۔ اِس زمانہ میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس میں اسلام غالب نظر آتا ہو۔ دین کو لے لو۔ اگرچہ عیسائیت جھوٹی ہے اور اسلام ہی سچا مذہب ہے مگر پھر بھی عیسائیوں میں کئی لاکھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے دین کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔ عیسائیوں کا چھ لاکھ باقاعدہ مبلغ ہے اور یہ صرف پروٹسٹنٹ اورپرولیٹیرین(PROLETARIAN) چرچوں کا ہے۔ رومن کیتھولک ان کے علاوہ ہیں۔ سارے ملا کر قریباً بیس پچیس لاکھ پادری بن جاتے ہیں۔ اب دیکھو! انہیں صرف جھوٹا کہنے سے کیا بنے گا۔ جھوٹے کے معنے تو یہ ہیں کہ آپ کے اندر اس سے زیادہ قربانی پائی جائے لیکن حال یہ ہے کہ جو جھوٹا ہے وہ تو ایک انسان کی خدائی منوانے کے لیے لاکھوں مبلغ دیتا ہے لیکن سچا، خدا کی خدائی منوانے کے لیے سینکڑوں مبلغ بھی نہیں دیتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں ایسے پچاس آدمی بھی نہیں پائے جاتے۔ اس کے مقابلہ میں عیسائیت کے پاس لاکھوں مبلغ ہیں جو بڑے جوش کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
    افریقہ کے ایک علاقہ میں ایک دفعہ عیسائیوں کے چھ سات مشنری گئے۔ وہاں کے مردم خور آدمیوں نے انہیں کھا لیا۔ جب یورپ میں یہ خبر پہنچی تو تین چار دن میں کئی ہزار مردوں اور عورتوں نے اپنے نام پیش کر دئیے کہ ہم وہاں جانے کے لیے تیار ہیں۔ مسلمان اول تو وہاں گئے ہی نہیں لیکن اگر چلے بھی جاتے اور مردم خور انسان انہیں کھا لیتے تو جب وہاں سے خبر آتی ہماری عورتیں کہتیں شکر ہے ہمارا بچہ نہیں گیا تھا۔ اس کے مقابلہ میں عیسائیوں میں کتنا جوش ہے۔ صرف یہ کہنے سے کہ ہمارا مذہب سچا ہے اور وہ جھوٹے ہیں کیا بن جاتا ہے۔ سچا مذہب کیا کوئی جادو اور ٹونہ ہے کہ اگر اس کا نام لے لیا تو اللہ تعالیٰ ہمیں آسمان پر جگہ دے دے گا؟ سچے کی کوئی علامت ہونی چاہیے۔
    پھر عیسائیت کے مقابلہ میں ہم اگر لاکھوں مبلغ بھی دیں تو وہ کون ہوں گے؟ وہ ایسے ہوں گے جن کی 25 سے 50 تک ماہوار آمدن ہو گی، جو دال روٹی کھانے والے ہوں گے۔ ان کو اگر ایک آدھ وقت کا فاقہ بھی آ گیا تو آخر کونسا فرق پڑے گا لیکن عیسائیت میں جن لوگوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں اُنہیں ہر قسم کی دولت میسر تھی۔ اگر مسلمان اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں تو گویا 50 روپے ماہوار خرچ کرتے ہیں لیکن اِس کے مقابلہ میں عیسائی لوگ ہزار، دو ہزار، تین ہزار روپیہ ماہوار خرچ کرتے ہیں۔ ان میں طاقت تھی کہ وہ اتنی کمائی کر سکیں لیکن اس آمدن کو چھوڑ کر وہ چلے گئے۔ ایسے ایسے ڈاکٹر جو سارے علاقے میں مشہور تھے، جو شہر میں پریکٹس کے ذریعہ چالیس چالیس، پچاس پچاس ہزار روپیہ ماہوار کما سکتے تھے گرجے میں تنگی سے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ انہیں وہاں معمولی کھانے پینے کو مل جاتا ہے۔د و تین جوڑے کپڑے پہننے کو مل جاتے ہیں اور پھر وہ اپنی ساری عمر گرجے میں لگا دیتے ہیں۔
    پنجاب میں ایک ڈاکٹر ٹیلر تھا۔ وہ آنکھوں کے علاج میں سارے پنجاب میں مشہور تھا۔ گزشتہ جنگ کے دنوں میں وہ چند دن سرکاری ہسپتال میں بھی لگا تھا۔ مَیں نے خود اُس سے علاج کروایا ہے۔ ہزاروں ہزار مریض اس کے پاس آتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کم از کم پندرہ روپیہ اسے دیتا تھا اور جو آپریشن کرواتے تھے وہ تو سو سودو دو سو بھی دیتے تھے لیکن وہ اپنی ساری آمدن گرجے میں دے دیتا تھا اور کہتا تھا مَیں تو پادری ہوں اور مَیں نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔ پس اگر ہم تعداد میں بھی ان کے برابر ہوتے تب بھی ہماری قربانی ان کی قربانی کے برابر نہیں ہو سکتی تھی۔ امریکہ کے بعض پروفیسر سوسو ڈیڑھ ڈیڑھ سو میں کام کر رہے ہیں۔ اگر انہیں گورنمنٹ منگواتی تو ہزار ہزار، ڈیڑھ ڈیڑھ ہزار ماہوار دیتی۔ پس اُن کے افراد کے مقابلہ میں بھی ہم نے کوئی قربانی نہیں کی اور لیاقت کے مقابلہ میں بھی ہم نے کوئی قربانی نہیں کی۔ اور پھر یہ تو مَیں نے ہزاروں شاخوں میں سے ایک شاخ گنوائی ہے۔ اب اگر ہم کہیںکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو دنیا کے باقی ادیان پر غالب کرنا ہے۔ تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ کوئی ایسی جماعت پیدا ہو جائے جس کے افراد دوسرے مذاہب سے زیادہ دین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں۔ وہ دوسرے مذاہب سے زیادہ لیاقت کی قربانی کریں۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو اسلام دوسرے مذاہب پر غالب کیسے ہو گا۔ یامثلاً تعلیم کو لے لو۔ تعلیم میں جتنی انہوں نے ترقی کی ہے ہمارا ان سے مقابلہ ہی کہاں ہے؟ اُن کا ادنیٰ سے ادنیٰ عالم ہمارے بڑے سے بڑے عالم کے مقابلہ میں زیادہ علم رکھتا ہے۔ گویا علم کے میدان میں بھی ہم انہیں اُس وقت تک شکست نہیں دے سکتے جب تک ایسے علماء پیدا نہ کیے جائیں جن کے سامنے یورپ کے علماء ہیچ رہ جائیں۔
    پھر خدمت خلق کا کام ہے وہ ہزاروں ہزار اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ کہیں ریڈکراس سوسائٹیاں قائم کی جا رہی ہیں، کہیں ہسپتال کھولے جا رہے ہیں اور کہیں سکول کھولے جا رہے ہیں۔ اس میدان میں بھی اگر ہم انہیں شکست نہ دیں تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ہماری خدمت خلق ایسی ہونی چاہیے کہ کوئی اَور مذہب ہمارا مقابلہ نہ کر سکے۔ پس اگر قرآن کریم کی یہ پیشگوئی پوری ہو سکتی ہے تو اُسی وقت جب ہم ہر میدان میں اور ہر کام میں انہیں شکست دیں۔
    پھر عیسائیوں کو جانے دو ہندوستان میں ہندوؤں کے کتنے سادھو پائے جاتے ہیں خواہ وہ مذہب جھوٹا ہی ہے مگر ان کے سادھوؤں کا کم از کم سولہ لاکھ کا اندازہ ہے۔ اس کے معنے یہ ہوئے کہ ہندوستان میں سولہ لاکھ ہندو ایسے ہیں جو شادی بیاہ کا خیال ترک کر کے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر ننگ دھڑنگ بھوت بنے پھر رہے ہیں۔ کانگرس کو جو کامیابی ہوئی ہے اس میں بڑی مدد ان سادھوؤں کی تھی اور مجھے یاد ہے کہ جب گاندھی جی نے رولٹ ایکٹ پر شورش کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہم نان کو آپریشن(Non-co-operation) کریں گے۔ اُس وقت تین چار دن کے اندر اندر سارے ہندوستان میں ایسی آ گ لگ گئی تھی کہ حیرت آتی تھی۔ ہم سمجھتے تھے کہ قادیان ایک طرف ہے اِس طرف کسی کی توجہ نہیں۔ انہوں نے صرف پندرہ دن پہلے اعلان کیا تھا۔ اس لیے خیال تھا کہ سب ملک میں خبر نہ پہنچی ہو گی۔ مَیں نے چاہا کہ مَیں اپنے گرد کے لوگوں کو سمجھاؤں تا فساد نہ ہو۔ میرا خیال تھا کہ یہاں کے لوگوں کو اس تحریک کی خبر تک نہ ہو گی۔ جب مَیں نے رؤساء کو اکٹھا کرنے کے لیے آدمی بھیجے تو ان میں سے ایک آدمی نے مجھے آ کر یہ بتایاکہ فلاں گاؤں کے زمینداروں کو مَیں نے بڑی مشکل سے یہاں آنے پر راضی کیا ہے۔ وہ بات سننے سے پہلے ہی کہنے لگے کہ آخر مرزا صاحب کے آباء و اجداد بھی اِس علاقہ کے حاکم تھے اور اگر وہ دوبارہ حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم اُن کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے ذہنوں میں یہ تھا کہ ہم نے انگریزوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ قادیان کے پاس ہی تین میل کے فاصلہ پر ٹھیکری والا ایک گاؤں ہے۔ وہاں اُن دنوں کافی تعداد میں پستول پہنچ گئے تھے اور وہاں ان کی پریکٹس بھی ہوا کرتی تھی۔ مَیں نے جب اس کی تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ یہ سب کام سادھوؤں کا تھا جنہوں نے تمام علاقہ میں پھر کر اور چکر لگا کر یہ خبر پہنچا دی تھی۔ ہندوستان میں آٹھ لاکھ گاؤں ہیں۔ اس طرح 16 لاکھ سادھوؤں کے یہ معنے ہوئے کہ دو دوسادھو ایک وقت میں ایک ایک گاؤں میں جا سکتے ہیں اور اس طرح ایک چیز سارے علاقہ میں ایک دن میں پھیلائی جا سکتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں ایسے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے اے مسلمانو! تمہارا جو مقصد ہے تمہاری ہر وقت اس کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ گزشتہ ایام میں جو کچھ ہندوؤں نے کوشش کی اُسے دیکھ لو اُن کا مقصد یہ تھا کہ ہندو قوم کی تنظیم کی جائے اور ان کو ترقی دی جائے۔ اگر کوئی ہندو ایکسائز ڈیپارٹمنٹ(EXCISE DEPARTMENT) میں ہوتا اور اس کے محکمہ میں کوئی معاملہ جاتا تو انسپکٹر سے لے کر حکومت ہند کے سیکرٹریوں اور وزیروں تک اس کی مدد کرتے۔ صرف اس لیے کہ وہ ہندو ہے وہ صرف یہ دیکھتے تھے کہ اس کا نام رلیا رام لکھا ہے اور سمجھ لیتے کہ اس کے مدمقابل عبدالرحمان نے ضرور غلطی کی ہے۔ مگر اس مقابلہ میں مسلمان ڈرتے تھے اور وہ خیال کر لیتے تھے کہ عبدالرحمان نے ضرور غلطی کی ہے اسے ضرور سزا ملنی چاہیے ورنہ ہندو کہیں گے کہ یہ متعصب ہے۔ ہندوؤں کے مدنظر اپنی قوم کی ترقی تھی اس لیے وہ ہر رستہ سے طاقت حاصل کر لیتے تھے اور اس لیے بڑھتے جا رہے تھے۔ مسلمانوں کے مدنظر اُن کا ذاتی مفاد تھا قوم کی ترقی نہیں تھی اس لیے وہ پراگندہ ہو گئے۔ خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ قوم کو پراگندہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے بلکہ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تم جس طرف بھی نکلو تمہارا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے دین کو کامیاب کرنا ہے۔ جب تک تم اس رنگ میں کام نہیں کرو گے تمہیں کامیابی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
    صحابہؓ میں یہ چیز پیدا ہو گئی تھی۔ اس لیے وہ ہر رنگ میں اس کے لیے کوشش کرتے تھے اور آخر انہیں کامیابی ہو جاتی تھی...........فتح مکہ کی جن لوگوں نے بنیاد رکھی وہ چند صحابی تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ پر تشریف لے گئے۔ آپ نے مشرکینِ مکہ سے معاہدہ کیا۔ آپ یہی خدائی منشا سمجھتے تھے کہ حملہ کر کے مکہ میں داخل نہ ہوں۔ اس لیے آپ نے مشرکینِ مکہ سے معاہدہ کر لیا اور اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ مکہ سے جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ چلا جائے اسے مسلمان واپس کر دیں مگر جو مسلمان مرتد ہو کر مکہ آ جائے اُسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ صحابہؓ پر یہ بہت گراں گزرا اور انہوں نے سمجھا کہ یہ تو بڑی بھاری شکست ہو گی۔ کفار میں سے جو مسلمان ہو کر آئیں گے اسے تو ہمیں واپس کرنا ہو گا لیکن ہم میں سے جو مرتد ہو کر مکہ چلا جائے گا اُسے مشرکین مکہ واپس نہیں کریں گے۔ بعض صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت بھی کی۔ آپ نے انہیں یہ جواب دیا کہ ہمارا آدمی جہاں کہیں بھی ہو گا اسلام کی خدمت کرے گا لیکن ہم میں سے جو مرتد ہو جائے گا اور مشرکین کے پاس چلا جائے گا وہ ہمارے کس کام کا؟ ہم نے اسے کیا کرنا ہے؟ معاہدے پر ابھی دستخط نہیں ہوئے تھے کہ وہ رئیسِ مکہ جومعاہدہ کر رہا تھا اُسی کا بیٹا جسے رسیاں بندھی ہوئی تھیں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں کسی نہ کسی طرح لڑھکتا لڑھکتا وہاں پہنچا اور عرض کیا یارسول اللہ! مَیں مسلمان ہوں اور مسلمان ہونے کی وجہ سے میرا یہ حال ہے۔ ان لوگوں نے مجھے قید کر رکھا ہے اور مجھے باہر نہیں نکلنے دیتے اور طرح طرح کی ایذائیں اور دکھ دیتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی طرح جان بچا کر آیا تھا، صحابہؓ اس کی مدد کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے لیکن وہ رئیس جو معاہدہ کر رہا تھا اُس نے کہا معاہدہ میں یہ شرط ہے کہ مکہ میں سے جو مسلمان ہو کر آپ کے پاس جائے گا اُسے واپس کیا جائے گا۔ اگرچہ معاہدے پر ابھی دستخط نہیں ہوئے مگر فریقین کے درمیان طے تو ہو چکا ہے اس لیے یہ آدمی آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہم معاہدہ کر چکے ہیں اور اس کے مطابق یہ واپس کیا جائے گا۔ آپ نے صحابہؓ سے فرمایا اسے واپس کر دو۔ اور آپ کے حکم کے مطابق وہ واپس کر دیا گیا۔ مسلمانوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا مگر آپ نے فرمایا ہم معاہدہ کر چکے ہیں ہمیں ایسا کرنا ہی پڑے گا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ واپس پہنچ گئے تو ایک مسلمان آپ کے پاس آیا اور اُس نے عرض کیا یارسول اللہ!مَیں مسلمان ہوں۔ کفار مجھے اس اس قسم کی ایذائیں دیتے تھے۔ مَیں بھاگ کر آیا ہوں۔ اس کے پیچھے پیچھے دوسرے لوگ بھی آ گئے اور انہوں نے کہا معاہدہ کے مطابق یہ شخص مدینہ میں نہیں رہ سکتا اسے واپس کریں۔ ہمارا یہ معاہدہ تھا کہ ہم میں سے جو بھی مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے اسے واپس کر دیا جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاںیہ ٹھیک ہے اور اس شخص کو واپس کر دیا۔ راستہ سے بھاگ کر وہ پھر آگیا۔ پھر اس کے متعاقب حاضر ہوئے اور اس کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا کہ آپ تو حوالہ کر چکے ہیں۔ اب تو مَیں ان سے بھاگ کر آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا نہیں تمہیں معاہدہ کی پابندی کرنی ہو گی اس لیے تمہیں واپس جانا ہی پڑے گا۔ وہ مدینہ سے واپس لَوٹا تو پھر ان سے چھُپ کر ایک جگہ پر جو شام کے قافلوں کے راستہ پر تھی جگہ بنا لی اور جو قافلہ اُس رستہ سے گزرتا تھا وہ اُس پر حملہ کرتا تھا اور جتنا نقصان اسے پہنچا سکتا تھا پہنچاتا تھا۔ جب مکہ کے دوسرے مسلمانوں کو اس کی خبر ملی تو وہ بھی اس کے اردگرد جمع ہو گئے۔ تھوڑے دنوں میں مکہ کی تجارت بالکل تباہ ہو گئی۔ وہ چند آدمی تھے مگر کے ماتحت انہوں نے اپنی جانوں کی پروا نہیں کی۔ اور یہ نہیں کیا کہ حبشہ کی طرف بھاگ جائیں وہاں انہیں پناہ مل سکتی تھی۔ انہوں نے یہ نہیں کیا کہ ایران بھاگ جائیں وہاں انہیں پناہ مل سکتی تھی۔ انہوں نے یہ نہیں کیا کہ روم بھاگ جائیں وہاں وہ امن پاسکتے تھے اور ملازمتیں وغیرہ کر سکتے تھے۔ بلکہ انہوں نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اس پہاڑی پر ڈیرا لگا لیا۔ کفار کے قافلوں پر حملے کیے اور ان کی طاقت کو کمزور کیا اور فتح مکہ کی بنیاد رکھ دی۔ تو دیکھو چند افراد نے مکہ کی طاقت کو توڑ دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار سے رعایت کر جاتے تھے مگر وہاں تو آپ موجود نہیں تھے۔ مسلمان پوری طرح حملہ کرتے تھے اور کفار کو تباہ کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ کفارِمکہ نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان مسلمانوں کو واپس بلا لیجیے۔ یہ لوگ تھوڑے سے تھے مگر انہوں نے مسلمانوں کا وہ رعب بٹھا دیا کہ مکہ والوں کی غیرت بالکل مٹ گئی۔ انہوں نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان کو واپس بلا لیجیے۔ سارے مکہ والے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس طرح فتح مکہ کی بنیاد قائم ہو گئی۔اس کے بعد قبائل میں خودبخود جوش پیدا ہو گیا۔ جن کے مکہ والوں سے معاہدات تھے جب انہوں نے دیکھا کہ مکہ والے دس بارہ آدمیوں کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے تو وہ ان سے الگ ہونے لگے اور مسلمانوں کے ساتھ ملنے لگے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ کوئی قوم اُس وقت تک جیت ہی نہیں سکتی جب تک کہ وہ ہر وقت اور ہر لمحہ اپنے مقصد کی طرف متوجہ نہ رہے۔جس طرح اُس زمانہ میں مسلمانوں کا یہ مقصد تھا کہ ہم نے مکہ فتح کرنا ہے اسی طرح ہر زمانہ میں، ہر ملک اور ہر قوم کے لیے ایک مقصد ہوتا ہے۔ جب تک کوئی قوم اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنی زندگیاں صَرف نہ کر دے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اُس وقت تک کسی کامیابی کی امید رکھنا ہی غلط ہے۔
    مَیں نے تمام مذاہب کی تاریخوں میں جو بھی محفوظ ہیں کہیں بھی نہیں دیکھا کہ ایک آدمی اگر تجارت کر رہا ہے تو وہ تجارت ہی کر رہا ہے اور اگر اس نے تھوڑا بہت چندہ دے دیا تو سمجھ لیا کہ اس نے دین کی بہت بڑی خدمت کر دی ہے۔ مَیں نے ایسی کوئی مثال نہیں دیکھی۔ نہ موسٰی علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا، نہ عیسٰی علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا ،نہ رام اور کرشن علیہما السلام کی قوموں نے ایسا کیا اور نہ زرتشت علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا۔ غرض کسی بھی نبی کی قوم نے ایسا نہیں کیا۔ سارے ہی موت کو قبول کرتے تھے۔ تجارت اور پیشے کرنا ان میں حق نہیں تھا مگر وہ جو بھی کرتے تھے اپنے مقصد کی تائید کے لیے کرتے تھے۔ وہ نوکریاں اس لیے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لیے موقع مل سکے۔ وہ زراعت اور صنعت و حرفت اس لیے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لیے کوئی موقع مل سکے۔ وہ پیشے اس لیے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لیے کوئی موقع مل سکے اور وہ تجارتیں اس لیے کرتے تھے تا جماعت کی ترقی کے لیے کوئی موقع مل سکے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بہت سے ایسے افراد ہیں کہ اگر وہ پانچ وقت نمازیں پڑھ لیتے ہیں یا چندہ دے دیتے ہیں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے خدائی سپاہی کا کام پورا کر دیا ہے۔ اگر کسی ملک کے ایسے سپاہی ہوں تو وہ ایک ہی سال میں تباہ ہو جائے۔
    جب بھی کوئی نبی دنیا میں آتا ہے اُس کے ماننے والے روحانی سپاہی ہوتے ہیں۔ اُن کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں صَرف کریں کہ وہ اپنے مقصد کو پورا کر لیں۔ اگر وہ اپنی زندگیوں کو ایسے رنگ میں صَرف نہیں کرتے کہ ان کا مقصد پورا ہو تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کامیاب وہی قوم ہو گی جو اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں لگا دے کہ وہ جب دفتر جا رہے ہوں تب بھی ان کے دماغ میں یہ ہو کہ ہم نے دین کو غالب کرنا ہے، جب دفتر سے واپس آ رہے ہوں تب بھی ان کے دماغ میں یہ ہو کہ ہم نے دین کو غالب کرنا ہے۔ وہ جب تجارت کر رہے ہوں اور ترازو اُن کے ہاتھ میں ہو تب بھی ان کے دماغ میں یہ ہو کہ ہم نے دین کو غالب کرنا ہے۔ وہ اگر ہل چلا رہے ہوں اُن کا ہاتھ ہل پر ہو مگر اُن کا دماغ اِس طرف جا رہا ہو کہ ہم نے دین کو غالب کرنا ہے۔ جب تک آپ لوگوں میں یہ روح پیدا نہیں ہو جاتی اُس وقت تک کامیابی کی امید رکھنا غلط ہے۔ مَیں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ سلسلہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قائم کیا ہوا ہے کامیاب نہیں ہو گا۔ یہ سلسلہ ضرور کامیاب ہو گا خواہ آپ سب مرتد ہو جائیں۔ مگر بے شرمی یہ ہے کہ ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مَیں اس کامیابی میں حصہ دار ہوں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب مسلمانوں کے افراد مدینہ سے باہر نکلتے تھے تو منافق کہتے تھے کہ یہ اپنی جانوں کو ضائع کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ مگر جب وہی لشکر فاتح ہو کر واپس آتے تو وہ مدینہ سے باہر نکل آتے اور لشکر کے ساتھ مل جاتے اور کہتے ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ایسی بیہودگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔ پس یہ سوال نہیں کہ یہ سلسلہ کامیاب ہو گا یا نہیں؟ یہ سلسلہ یقیناً کامیاب ہو گا۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ کمزور ایمان اور منافق لوگ بھی ان نعمتوں میں اپنے آپ کو شریک سمجھتے ہیں۔ وہ نوکریاں کرتے ہیں، تجارتیں کرتے ہیں، پیشے کرتے ہیں اور دنیا کے دیگر کاروبار کرتے ہیں مگر اسلام کو ان پر حاوی اور غالب نہیں سمجھتے۔ پھر وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس مقصدِ عالی میں شریک ہو گئے ہیں جس کے لیے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا ہے۔
    مَیں کوئٹہ کی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں اور اس جماعت کے ذریعہ دوسری جماعتوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میں طاقت ہے مگر وہ ہر کام نہیں کیا کرتا۔ کیا اُس میں یہ طاقت نہیںکہ وہ کوئٹہ کو اُٹھا کر اُلٹ دے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتا۔ کیا اُس میں یہ طاقت نہیں کہ تمام عیسائی مر جائیں؟ کیا اُس میں یہ طاقت نہیں کہ تمام عیسائی ایک دن اپنے خزانے کھولیں اور وہ سب خزانے احمدیوں کے گھروں میں پڑے ہوں اور وہ خود قلاش ہو جائیں۔ مگر کیا خدا تعالیٰ ایسا کرتا ہے؟ یہ کہہ دینا کہ وہ ایسا کر دے گا حماقت کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کس رنگ میں استعمال کرتا ہے۔ اُس میں یہ طاقت ہے کہ وہ دس بیس سال میں تمہیں دس کروڑ کر دے۔ یہ اس کے لیے ناممکن نہیں مگر کیا وہ ایسا کرتا ہے؟ وہ ایسا کر سکتا ہے کہ مُردوں کو پھر زندہ کر دے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ زندہ کر کے دنیا میںواپس لے آئے، حضرت موسٰی و عیسٰی علیہما السلام کو دوبارہ لے آئے۔ مگر کیا وہ ایسا کرتا ہے ؟اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو محض یہ کہہ دینا کہ وہ ایسا کر دے گا درست نہیں۔ وہ اپنے قانون کو تمہارے لیے کیوں توڑے گا۔ اس کا یہ قانون ہے کہ اگر اس کا کسی سے وعدہ ہے تو وہ قربانی کرے اور اس کے لیے جدوجہد کرے تو وہ اس کی مدد کرے گا اور وہ کامیاب ہو جائے گا۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں یا کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایسا کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جوایسا نہیں کرتے۔ جو ایسا کرتے ہیں خدا تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے اُن کو وہ مرتد اور بے ایمان بنا دیتا ہے۔ اُن کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔
    پس ہماری جماعت کو اپنے اندر یہ احساس پیدا کر لینا چاہیے کہ ہم اس چیز کی امید نہیں رکھ سکتے جو پہلے نبیوں کے ساتھ نہیں ہوئی۔ پہلے انبیاء کی جماعتوں کو قربانیاں کرنی پڑیں۔ پہلے انبیاء کے ماننے والے اپنے ملک اور قوم میں مجنون کہلاتے تھے۔ قرآن کریم اِس قسم کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ پس جب تک ہم پہلی جماعتوں کی طرح قربانیاں نہیں کرتے، پہلی جماعتوں کی طرح جب تک ہم مجنون نہیں کہلاتے ہم کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے گھر جاتے ہوئے اپنی حفاظت کے لیے اِدھر اُدھر نظر مارتے جاتے ہیں اور ڈر کی وجہ سے تبلیغ نہیں کرتے، دین کی خدمت کی طرف توجہ نہیں کرتے تو تم مجنون نہیں کہلا سکتے۔ مجنون کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ وہ اپنی عاقبت کی پروا نہیں کرتا۔ پھر بعض لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اِس طرح نوکریاں جاتی رہیں گی، تجارتیں ضائع ہو جائیں گی اور پھر جماعت کے پاس روپیہ کم ہو جائے گا، جماعت کے اخراجات کیسے چلیں گے؟ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہم مال کے ذریعہ دنیا کے مقابلہ میں جیت نہیں سکتے۔ امریکہ کا ایک مالدار ہماری جماعت کی تمام جائیدادیں خرید سکتا ہے اور پھر بھی اُس کے خزانے میں روپیہ رہتا ہے۔ امریکہ کے بعض مالداروں کے پاس ہماری ساری جماعت سے زیادہ روپیہ ہے۔ بعض کے پاس تو بیس بیس ارب روپیہ ہے اور اتنا روپیہ ہماری ساری جماعت کے پاس نہیں۔ ان میں ایسے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں جن کے پاس اربوں روپیہ ہے ۔وہ لوگ ڈالروں میں اس کا ذکر کرتے ہیں کہ فلاں کے پاس ہزار ملین ہیں، فلاں کے پاس دو ہزار ، فلاں کے پاس تین ،چار یا پانچ ہزار ملین ڈالر ہے اور یہ تین ارب روپیہ سے لے کر پندرہ ارب روپیہ تک ہو جاتا ہے۔ ایسی قوم کا مقابلہ تم دولت سے کس طرح کر سکتے ہو۔ پھر ہمارے پاس دنیاوی طاقت بھی نہیں۔ پیشوں کو لے لو ، تجارت کو لے لو، تعلیم کو لے لو، صنعت و حرفت کو لے لو، کسی چیز میں بھی تو ہم غالب نہیں آ سکتے۔ پس اگر ہم دنیوی لحاظ سے دیکھیں توسیدھی بات ہے کہ ہم دوسری قوموں پر غالب نہیں آ سکتے۔ اگر ہم غالب آ سکتے ہیں تو محض اِس طرح سے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کر کے اپنے آپ کو پاگل بنا دیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو پاگل بنادیں تو ایک سال میں ہم وہ کام کر لیں جس سے دنیا کی کایا ہی پلٹ جائے۔ مَیں نے جماعت کو کئی بار توجہ دلائی ہے کہ ہر احمدی سال میں کم از کم ایک احمدی بنائے اور مَیں نے حساب لگا کر بھی بتایا تھا کہ اس طرح ہم دس پندرہ سال میں کہیں کے کہیں پہنچ جائیں گے۔ اگر ہر احمدی سال میں ایک ایک احمدی بنائے تو اِس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم اِس وقت ہندوستان میں تین لاکھ ہیں۔ ایک سال کے بعد ہم چھ لاکھ ہوجائیں گے۔ دوسال کے بعد بارہ لاکھ ہو جائیں گے، تین سال کے بعد چوبیس لاکھ ہو جائیں گے، چار سال کے بعد اڑتالیس لاکھ ہو جائیں گے، پانچ سال کے بعد چھیانوے لاکھ ہو جائیں گے،چھ سال کے بعد ایک کروڑ بانویں لاکھ ہو جائیں گے، سات سال کے بعد تین کروڑ چوراسی لاکھ ہو جائیں گے،آٹھ سال کے بعدسات کروڑ اڑسٹھ لاکھ ہو جائیں گے، نو سال کے بعد پندرہ کروڑچھتیس لاکھ ہوجائیں گے، دس سال کے بعد تیس کروڑ بہتّر لاکھ ہو جائیں گے ۔ تو دیکھو اگر ہر ایک احمدی سال میں ایک ایک احمدی بنائے تو دس سال میں کتنا بڑا تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔
    مگر سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کرتے ہیں یا نہیں؟ سال میں ایک احمدی بنانا کوئی مشکل چیز نہیں۔ بشرطیکہ کوئی عقل سے کام لے اور اپنے اوپر جنون وارد کرے۔ لیکن اصل میں یہ رسمی طور پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی دوست پسند آ گیا اور اُس سے کوئی بات کہہ دی تو سمجھ لیا کہ اس نے سلسلہ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ درحقیقت دوست بنانا مقصود ہوتا ہے تبلیغ کرنا مقصود نہیں ہوتا۔ اس کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ تعیّش کے لیے کوئی بامذاق آدمی مل جائے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ سلسلہ پر وہ احسان کر رہا ہے حالانکہ وہ شخص بعض اوقات اِس قابل بھی نہیں ہوتا کہ اُسے تبلیغ کی جائے اور بسااوقات تبلیغ کی بھی نہیں جاتی۔ کسی وقت وہ اگر اِتنی سی بات کہہ دیتا ہے کہ فلاں ملک میں ہمارے فلاں مبلغ نے تبلیغ کی تو وہ دوست کہہ دیتا ہے واہ واہ سُبْحَانَ اللّٰہِ۔ یہ تو بہت ہی اچھا کام ہے اور وہ احمدی سمجھ لیتا ہے کہ آ ج وہ آدھا احمدی ہو گیا ہے۔پھر کسی دن یہ کہہ دیا کہ ہم نے ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کی ہے تو وہ دوست کہہ دیتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِبہت اچھا کام ہے۔ وہ احمدی اِس سے یہ نتیجہ نکال لیتا ہے کہ وہ آج تین چوتھائی احمدی ہوگیا ہے۔ غرض اگر کوئی اِتنی تعریف بھی کر دے جتنی کوئی ایک گاجر کے ٹکڑے پر تعریف کر دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتا ہے۔ آخر آپ کو دنیا کے کاموں سے اتنی محبت کیوں ہے؟دین کی خاطر تو اِتنا وقت بھی خرچ نہیں کیا جاتا جتنا وقت کسی کی بیوی یا خادمہ روٹی پکانے میں خرچ کر دیتی ہے ۔پھر یہ کیا بیہودگی اور مداہنت ہے کہ آپ تبلیغ پر اُتنا وقت بھی نہیں لگاتے جتنا وقت روٹی پکانے پر لگ جاتا ہے اور پھر سمجھتے ہیں کہ ہم قربانی کرتے ہیں۔
    میں آپ لوگوں کو ہوشیار کر دینا چاہتا ہو ں کہ خدائی بادشاہت کا وقت قریب آ رہا ہے اور جب خدائی بادشاہت کا وقت آتا ہے تو کمزور ایمان اور منافق لوگ کفار سے زیادہ مرتے ہیں ۔ جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیاتو لوگ ایک بزرگ کے پاس گئے اور عرض کیا کہ آپ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہلاکو خان سے ہمیں محفوظ رکھے۔ اُس بزرگ نے کہا میں کیا دعا کروں میں دیکھتا ہوں کہ آسمان پر سب فرشتے یہ دعا کر رہے ہیں اَیُّھَاالْکُفَّارُ اُقْتُلُوا الْفُجَّارَ اَیُّھَاالْکُفَّارُ اُقْتُلُوا الْفُجَّارَیعنی اے کافرو! فاجروں کو قتل کرو،اے کافرو! فاجروں کو قتل کروجہاں اِتنا فرشتہ یہ دعا کر رہا ہے وہاں میری دعائیں کیا کریں گی۔ پس جب خدائی بادشاہت کا وقت آتا ہے تو اس قسم کے لوگ مجرموں کی صف میں کھڑ ے ہوتے ہیں اور کسی قسم کے انعام کے مستحق نہیں ہوتے۔جب خدائی بادشاہت قائم ہو جائے پھر اِس قسم کے لوگ بھی کامیاب ہو جاتے ہیں ۔کیونکہ اس کے بعد تنزل کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور جب تنزل کا وقت آتا ہے تو منافق بھی دولت سے حصہ لے لیتے ہیں۔ جب مسلمانوں کی بادشاہت آئی تو جعفر بر مکی جیسے تو وزیر بن گئے لیکن سید عبدالقادرصاحب جیلانی جیسے بزرگ توگوشہ نشین ہی تھے ۔ پس دنیوی اقتدار کے وقت میں تو منافق کامیاب ہو جاتے ہیں مگر ابتدائی زمانہ میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ بلکہ بادشاہتوں کے بعد تو اکثر دولت منافق لے جاتے ہیں۔ بنوامیہ کے بادشاہوں کو لے لو وہ منافق ہی تھے جو دنیا کو لُوٹتے تھے، فسق و فجور میں مبتلا تھے، رشوتیں لیتے تھے، خیانتیں کرتے تھے مگر جو نیک تھے وہ گوشہ نشین ہی تھے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اُبی بن سلول کو تو خلافت نہیں ملی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ کا سلوک ابتدائی زمانہ میں اَور ہوتا ہے اور ترقی کے زمانہ میں اَور ہوتا ہے۔ اُس وقت دین غالب ہو جاتا ہے اور اُس کے غلبہ کے لیے دنیاوی اقتدار کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اِس لیے اگر اُس وقت منافق دولت میں سے حصہ لے لیتے ہیں تو خداتعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا۔ لیکن جب ابتدائی زمانہ ہوتاہے جب دین کے غلبہ کے لیے دنیوی اقتدار کی ضرورت ہوتی ہے اُس وقت دنیوی اقتدار میں سے حصہ اُس کو ملتا ہے جو مخلص اور مومن ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلیفہ ہم بناتے ہیں کیونکہ ابتدائی زمانہ میں خلیفہ وہی ہونا چاہیے جو خداتعالیٰ کے منشا کو جاری کرے ۔لیکن جب خداتعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو جاتی ہے تو پھر یزید جیسے بھی بادشاہ بن جاتے ہیں۔ ہزاروں ہزار ایسے فاسق ہوتے ہیں جو بادشاہ بن جاتے ہیں مگر اولیاء اللہ کو بعض اوقات روٹی بھی نہیں ملتی۔ دہلی کے تخت پر جب مسلمان بادشاہ متمکن تھے سید ولی اللہ شاہ صاحب جیسے بزرگ کپڑے کو بھی ترستے تھے۔ آپ کو صفائی کا بہت شوق تھا اور روز کپڑے دھلوا کر بدلتے تھے۔ آپ کی دنیوی حالت بادشاہوں کے نوکروں جیسی بھی نہیں تھی۔ پس جب دنیوی اقتدار حاصل ہوتا ہے اُس وقت یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اُس میں نیکوں کو ہی حصہ ملے۔ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ اُس وقت ختم ہو جاتا ہے۔
    پس جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر ایک خاص قسم کی تبدیلی پیدا کرے۔ جب بھی دنیا میں کوئی مامور آتا ہے تو ابتدائی زمانہ میں اُس کے ماننے والوں میں سے ہر ایک دین کا سپاہی ہوتا ہے جو اپنی جان دین کے لیے پیش کر دیتا ہے۔ اس کا بدلہ کیا ملتا ہے؟ حضرت ابوہریرہؓ ایک غریب آدمی تھے۔ اُن کے بھائی میں بھی اِتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے بھائی کو جو دین کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر بیٹھ گیا تھا کھانا دے سکے لیکن ابوہریرہؓ کو صرف ابوہریرہ ہی نہیں کہتے بلکہ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی جب آپ کا نام لے گا تو ساتھ رضی اللہ عنہ کہے گا۔ ایک مزدور چکی پیسنے والے، گدھے چلانے والے اور اونٹ لادنے والے صحابی کا بھی آج جب نام لیا جاتا ہے توساتھ رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔ لیکن بڑے سے بڑے بادشاہ کا جب نام لیا جاتا ہے تو کوئی اُسے رضی اللہ عنہ نہیں کہتا۔اکبر جو بہت بڑا بادشاہ گزرا ہے اُس کے نام کے ساتھ کوئی رضی اللہ عنہ نہیں کہتا مگر حضرت ابوہریرہ کا جب بھی نام لیا جاتا ہے تو ساتھ رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے۔ وہ ابو ہریرہ جس کو سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا، جس کی بعض دفعہ بھوک کی وجہ سے ایسی حالت ہو جاتی تھی کہ مرگی کا دَورہ سمجھ کر آپ کو لوگ جُوتیاں مارا کرتے تھے۔4 وہ تو رضی اللہ عنہ کہلاتا ہے مگر اکبر، بابر، ہمایوں، شاہجہان، عالمگیر، تیمور وغیرہ بادشاہوں کا نام جب لیا جاتا ہے تو اُن کے ساتھ کوئی بھی رضی اللہ عنہ نہیں کہتا۔ یہ ان صحابہ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا جو انہوں نے اسلام کے ابتدائی زمانہ میں کی تھیں۔ انہوں نے دنیا کو اپنے اوپر حرام کر دیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے انہیں بادشاہ کر دیا۔ اب بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُن کی برتری کا اقرار کرتا ہے۔ ہر زمانہ کے لیے الگ الگ انعام اور ذمہ داریاں ہیں۔ ہم اِس وقت کی ابتدائی جماعت ہیں ہماری حالت بالکل الگ ہے۔ بعد میں زمانہ اَور تقاضا کرے گا۔ ہوسکتا ہے کہ بعد میں اگر کوئی نمازیں پڑھ لے یا چندہ دے دے تو خدا تعالیٰ اُسے بڑا بزرگ سمجھ لے لیکن جب تک ہم تلوار کی دھار کے نیچے اپنی گردنوں کو نہیں رکھتے، جب تک آروں کے نیچے آ کر ہم نہیں چِیرے جاتے ہم اس انعام کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ جماعت کے ہر آدمی پر ایک جنون سا ہونا چاہیے اور وہ یہ کہ جو بوجھ خدا تعالیٰ نے اس کے کندھوں پر ڈالا ہے وہ اسے پورا کرے"۔ (الفضل 18ستمبر 1948ئ)
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    البقرہ:151
    2
    :
    المائدہ:25
    3
    :
    الصف:10
    4
    :
    بخاری کتاب الاعتصام باب ذکر النبی وحضَّ علی اتفاق (مفہوماً)

    کوشش کرو کہ اسلام کی وہ فتوحات جو احمدیت کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والی ہیں اُن میں تمہارا بھی حصہ ہو
    (فرمودہ3ستمبر 1948ء یارک ہاؤس کوئٹہ)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "چونکہ کل اِنْشَائَ اللّٰہُ دس بجے صبح کی گاڑی سے میرا یہاں سے چلے جانے کا ارادہ ہے اس لیے یہ جمعہ اگر خدا تعالیٰ کی مشیت یہی ہوئی تو ہمارے سفر کا آخری جمعہ ہو گا۔ ہر کام جو شروع ہوتا ہے اس کا کوئی انجام بھی ہوتا ہے۔ کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو ظاہری طور پر نہایت اہم معلوم ہوتے ہیں لیکن انجام کے لحاظ سے نہایت حقیر ثابت ہوتے ہیں اور کئی ایسے کام ہوتے ہیں جو بظاہر نہایت حقیر نظر آتے ہیں لیکن انجام کے لحاظ سے وہ بہت اہم ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے رؤیا میں دیکھا کہ چاند اور ستارے آپ کو سجدہ کر رہے ہیں لیکن ستاروں سے مراد محض ان کے بھائی تھے جو دینی لحاظ سے بھی کوئی بڑا درجہ نہیں رکھتے تھے اور دنیوی لحاظ سے بھی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ آپ نے رؤیا میں ستارے دیکھے لیکن نکلے بھائی۔ اس کے مقابلہ میں فرعون نے خواب میں چندسِٹّے دیکھے لیکن نکلا اُس سے ملک کا قحط۔ یہ نظارہ بہت چھوٹا تھا لیکن اس کی تعبیر بہت بڑی تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کا نظارہ بہت بڑا تھا لیکن تعبیر بہت چھوٹی تھی۔ اسی طرح ظاہری اعمال کا بھی حال ہوتا ہے۔ بعض دفعہ ایک چھوٹا سا بیج بویا جاتا ہے لیکن بعد میں وہ نشوونما پاتے پاتے اتنا ترقی کر جاتا ہے کہ دنیا حیران ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ ایک چیز ابتدا میں نہایت اہم نظر آتی ہے لیکن اس کا انجام اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے کہ ایک چھوٹی سی بات کو اتنی اہمیت اور عظمت کیوں دی گئی تھی۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل قریباً ہم عمر تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ایسی حالت میں ہوئی کہ آپ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔ اگر وہ زندہ بھی ہوتے تو پھر بھی وہ کوئی مالدار آدمی نہیں تھے۔ آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب امیر لوگوں میں سے نہیں تھے۔ آپ آسودہ حال تو ضرور تھے چنانچہ آپ کا دو اڑھائی سو اونٹ ثابت ہوتا ہے لیکن چونکہ آپ ایک سخی آدمی تھے اس لیے آخری عمر میں آپ کی دولت بہت کم ہو گئی تھی۔ پس اول تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہی کوئی امیر خاندان نہیں تھا۔ دوسرے آپ خصوصیت سے غریبانہ حالت میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔ آپ کی پیدائش پر آپ کی والدہ نے کیا خوشی کی ہو گی۔ آپ کی والدہ کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔ لوگ تو دنیا کو دیکھتے ہیں، مال اور دولت کو دیکھتے ہیں۔ جہاں روپیہ ہوتا ہے وہاں لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور جہاں روپیہ نہیں ہوتا وہاں سے وہ بھاگ جاتے ہیں۔ آپ کی والدہ کے پاس روپیہ نہیں تھا۔شاید آپ کے قریبی رشتہ دار مبارکباد کے لیے آ گئے ہوں مگر دوسرے لوگوں نے آپ کی پیدائش کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ لیکن ابوجہل کا باپ مالدار تھا۔ جب وہ پیدا ہوا ہو گا اس کے ماں باپ نے کتنی خوشیاں منائی ہوں گی۔ ابوجہل کا نام ابوالحکم تھا یعنی حکمتوں کا باپ،عقلمند، دانا اور مدبّر۔ لیکن بعد میں اُس نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کی اور حماقت کا اظہار کیا تو مسلمانوں نے اُس کا نام ابوجہل رکھ دیا۔ ابوجہل کے ماں باپ چونکہ مالدار تھے اس لیے جب وہ پیدا ہوا ہو گا تو ہر وہ شخص جس کی ضروریات ان سے وابستہ ہوں گی ان کے گھر پہنچا ہو گا اور اس کی پیدائش پر مبارک باد دی ہو گی اور کہا ہو گا ہمارا ملک کتنا ہی خوش قسمت ہے جس میں اس جیسا بچہ پیدا ہوا۔ اس کے چہرہ سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اقبال کا ستارہ کتنا بلند ہے۔ غرض اس کی تعریف میں لوگوں نے ہزاروں ہزار مبالغے کیے ہوں گے۔معلوم نہیں اس کی پیدائش پر کتنے اونٹ ذبح کر کے دعوتیں کی گئی ہوں گی، خوشی میں دَفیں بجائی گئی ہوں گی، عورتوں نے گیت گائے ہوں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر آپ کے گھر کے پاس سے گزرنے والے یہ خیال کرتے ہوں گے کہ ایک غریب کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے جو خود بخود ختم ہو جائے گا۔ لیکن ابوجہل کی پیدائش پر اس کے گھر کے پاس سے گزرنے والے یہ سمجھتے ہوں گے کہ آج ایک رئیس پیدا ہوا ہے، نہ معلوم بڑا ہو کر یہ کیا کچھ کرے گا۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدا بظاہر ایک ادنیٰ رنگ میں ہوئی لیکن انتہا کیا ہوئی؟ وہی بچہ جس کو دائیاں لینے کے لیے تیار نہیں تھیں، جس کی پیدائش پر مکہ والوں نے کوئی خوشی نہیں منائی تھی، جس کی پیدائش پر مکہ والوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا جب فوت ہوا تو وہ عرب کی تاریخ میں ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں ایک غیرمعمولی حیثیت رکھتا تھا۔ سارے عرب قبائل اس کے زیر سایہ تھے جو آپ سے پہلے کسی بادشاہ کے مطیع نہیں ہوئے تھے۔
    پھر بادشاہوں کو جو ظاہری عظمت حاصل ہوتی ہے اس کی وجہ سے ڈر کے مارے لوگ ان کی بزرگیاں بیان کرتے ہیں لیکن دل میں انہیں ہزاروں ہزار گالیاں دیتے ہیں۔ بادشاہ جب مر جاتے ہیں تو بے شک ان کی موت سے ملک کو صدمہ بھی ہوتا ہے لیکن لوگ یہی کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ اگر مر گیا ہے تو کوئی دوسرا شخص بادشاہ بن جائے گا اور وہ وہی کام شروع کر دے گا جو پہلا بادشاہ کرتا تھا۔انگریزی میں ایک مثل ہے ’’King never dies‘‘یعنی بادشاہ کبھی نہیں مرتے۔ ایک بادشاہ مرجاتا ہے تو دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے اور پہلے بادشاہ اور دوسرے بادشاہ میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا۔ اگر قوم بیدار ہوتی ہے تو دوسرے بادشاہ کے وقت میں بھی وہ ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کی وفات کو تمام عرب نے جو اُس وقت آپ کی خوبیوں، اہمیت اور عظمت کا قائل ہو چکا تھا ایک انسان کی موت خیال نہیں کیا،ملک کی موت خیال نہیں کیا بلکہ دنیا کی موت خیال کیا۔ چنانچہ حسان بن ثابتؓ نے آپ کی وفات پر جو شعر کہے وہ یہ ہیں
    کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ
    فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗ
    مَنْ شَاء َ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ
    فَعَلیْکَ کُنْتُ أُحَاذِرٗ1
    یارسول اللہ! کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْآپ میری آنکھوں کی پتلی تھے۔ آپ کی وفات نہیں ہوئی بلکہ میری آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔اب کوئی بادشاہ مرتا پھرے مجھے اُس سے کیا۔ مَیں تو آپ کے متعلق ہی ڈرتا تھا۔ یہ وہ جذبۂ عقیدت تھا جو آپؐ کے متعلق صحابہؓ میں پایا جاتا تھا۔
    حسان ؓبن ثابت نے ایک شاعرانہ کلام ہی نہیں کہا بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ تمام عرب نے حسانؓ بن ثابت کے ان شعروں کو اپنے ہی جذبات کا اظہارِ خیال کہا۔ گویا عرب کی آواز حسان ؓبن ثابت کی زبان پر جاری ہو گئی۔ تاریخ کہتی ہے کہ ہفتوں تک مدینہ، مکہ اور دوسرے مسلمان شہروں والے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے، بازاروں میں چلتے ہوئے اور اپنے کاروبار کرتے ہوئے یہی شعر پڑھتے تھے
    کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ
    فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗ
    مَنْ شَاء َ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ
    فَعَلَیْکَ کُنْتُ أُحَاذِرٗ
    لیکن ابوجہل جس کی پیدائش پر ہفتوں اونٹ ذبح کر کے لوگوں میں گوشت تقسیم کیا گیا تھا، جس کی پیدائش پر دفوں کی آواز سے مکہ کی فضا گونج اُٹھی تھی بدر کی لڑائی میں جب مارا جاتا ہے تو پندرہ پندرہ سال کی عمر کے دو انصاری چھوکرے تھے جنہوں نے اسے زخمی کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جنگ کے بعد لوگ جب واپس جا رہے تھے تو مَیں میدانِ جنگ میں زخمیوں کو دیکھنے کے لیے چلا گیا۔ آپ بھی مکہ کے ہی تھے اس لیے ابوجہل آپ کو اچھی طرح جانتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ مَیں میدانِ جنگ میں پھر ہی رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ابوجہل زخمی پڑا کراہ رہا ہے۔ جب مَیں اس کے پاس پہنچا تو اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مَیں اب بچتا نظر نہیں آتا۔تکلیف زیادہ بڑھ گئی ہے (اُس کا بیٹا عکرمہؓ بھی اسے چھوڑ کر بھاگ گیا تھا)۔ تم بھی مکہ والے ہو مَیں یہ خواہش کرتا ہوں کہ تم مجھے مار دو تا میری تکلیف دور ہو جائے۔ لیکن تم جانتے ہو کہ مَیں عرب کا سردار ہوں اور عرب میں یہ رواج ہے کہ سرداروں کی گردنیں لمبی کر کے کاٹی جاتی ہیں اور یہ مقتول کی سرداری کی علامت ہوتی ہے۔ میری یہ خواہش ہے کہ تم میری گردن لمبی کر کے کاٹنا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اس کی گردن ٹھوڑی سے کاٹ دی اور کہا کہ تیری یہ آخری حسرت بھی پوری نہیں کی جائے گی۔2خواہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق یہ بات نہ ہو کیونکہ آپ کی یہ تعلیم تھی کہ دشمن پر بھی رحم کیا جائے لیکن انجام کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ابوجہل کی موت کتنی ذلت کی موت تھی۔ جس کی گردن اپنی زندگی میں ہمیشہ اونچی رہا کرتی تھی وفات کے وقت اُس کی گردن نیچے سے کاٹی گئی اور اس کی یہ آخری حسرت بھی پوری نہ ہوئی۔ پھر چونکہ کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستہ میں گڑھے کھودا کرتے تھے اور آپ کی یہ پیشگوئی تھی کہ جن گڑھوں میں یہ لوگ آپ کو گرانا چاہتے ہیں ان میں یہ خود گرائے جائیں گے۔ اس لیے بدر کی جنگ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ ان کفار کی لاشوں کو کنویں میں گرا دیا جائے۔ آپ کے اس حکم کے مطابق صحابہؓ نے کفار کی لاشوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر ایک اندھے کنویں میں پھینک دیا۔3 غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل دونوں کی پیدائش اور وفات کو دیکھاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پیدائش کے وقت جو بظاہر ذلیل نظر آتا تھا وفات کے وقت سیّدِ عرب بنا۔ لیکن جو سیدِ عرب نظر آتا تھا وہ وفات کے وقت نہایت ہی ذلیل وجود ثابت ہوا۔ غرض بعض دفعہ ایک چیز کی ابتدا اَور ہوتی ہے اور انتہا اَور ہوتی ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب پیدا ہوئے تو آپؑ کے ماں باپ نے آپؑ کی پیدائش پر خوشی کی ہو گی مگر جب آپؑ کی عمر بڑی ہو گئی اور آپ کے اندر دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو گئی توآپ کے ماں باپ آپ کی اس حالت کو دیکھ کر آہیں بھرا کرتے تھے کہ ہمارا یہ بیٹا کسی کام کے قابل نہیں۔مجھے ایک سکھ نے بتایا کہ ہم دو بھائی تھے۔ ہمارے والد صاحب مرزا صاحب (مرزا غلام مرتضٰی صاحب) کے پاس آیا کرتے تھے۔ ہم بھی بسااوقات ان کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مرزاصاحب نے ہمارے والد سے کہہ دیا کہ تمہارے لڑکے غلام احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے پاس آتے جاتے ہیں تم اُن سے کہو کہ اسے جا کر سمجھائیں۔ ہم دونوں جب آپ کے پاس جانے کے لیے تیار ہو گئے تو مرزا صاحب نے کہا کہ غلام احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کو جا کر کہنا کہ تمہارے والد کو اس خیال سے بہت دکھ ہوتا ہے کہ اس کا چھوٹا لڑکا اپنے بڑے بھائی کی روٹیوں پر پلے گا۔اسے کہو کہ وہ میری زندگی میں ہی کوئی کام کرے۔ مَیں کوشش کر رہا ہوں کہ اسے کوئی اچھی نوکری مل جائے۔ مَیںمرگیا تو پھر سارے ذرائع بند ہو جائیں گے۔ مجھے اُس سِکھ نے بتایا کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے والد صاحب آپ کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ انہیں یہ دیکھ کر کہ آپ کچھ کام نہیں کرتے بہت دکھ ہوتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر مَیں مر گیا تو غلام احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا کیا بنے گا؟آپ اپنے والد صاحب کی بات کیوں نہیں مان لیتے؟ آپ کے والد صاحب اُس وقت کپورتھلہ میں کوشش کر رہے تھے۔ کپورتھلہ کی ریاست نے آپ کو ریاست کا افسر تعلیم مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور سکھ کہنے لگا کہ جب ہم نے یہ بات کہی کہ آپ اپنے والد کی بات کیوں نہیں مان لیتے، آپ کچھ کام کر لیں۔ تو آپ فرمانے لگے والد صاحب تو یونہی غم کرتے رہتے ہیں۔ انہیں میرے مستقبل کا فکر ہے۔ مَیں نے تو جس کی نوکری کرنی تھی کر لی ہے۔ ہم واپس آ گئے اورمرزا صاحب (مرزا غلام مرتضٰی صاحب) سے آ کر ساری بات کہہ دی۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ اگر اس نے یہ بات کہی ہے تو ٹھیک ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولا کرتا۔
    یہ آپ کی ابتدا تھی اور پھر ابھی تو انتہا نہیں ہوئی لیکن جو عارضی انتہا نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی وفات کے وقت ہزاروں ہزار آدمی آپؑ پر قربان ہونے والا موجود تھا۔ آپ خود فرماتے ہیں:۔
    لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ کَانَ اُکُلِیْ
    وَصِرْتُ الْیَوْمَ مِطْعَامَ الْاََھَالِیْ4
    ایک وہ زمانہ تھا جب بچے ہوئے ٹکڑے مجھے دیے جاتے تھے اور آج میرا یہ حال ہے کہ مَیں سینکڑوں خاندانوں کو پال رہا ہوں۔ آپ کی ابتدا کتنی چھوٹی تھی مگر آپ کی انتہا ایسی ہوتی ہے کہ علاوہ ان لوگوں کے جو خدمت کرتے تھے لنگر میں روزانہ دو اڑھائی سو آدمی کھانا کھاتے تھے۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ اپنے والد کی جائیداد میں اپنے بھائی کے برابر کے شریک تھے لیکن زمینداروں میں یہ عام دستور ہے کہ جو کام کرے وہ تو جائیداد میں شریک سمجھا جاتا ہے اور جوکام نہیں کرتا وہ جائیداد میں شریک نہیں سمجھا جاتا اور یہ دستور ابھی تک چلا آتا ہے۔ لوگ عموما کہہ دیتے ہیں کہ جو کام نہیں کرتا اُس کا جائیداد میں کیا حصہ ہو سکتا ہے۔ آپ کے پاس جب کوئی ملاقاتی آتا اور آپ اپنی بھاوجہ کو کھانے کے لیے کہلا بھیجتے تو وہ آگے سے کہہ دیتی کہ وہ یونہی کھا پی رہا ہے کام کاج تو کوئی کرتا نہیں۔ اس پر آپ اپنا کھانا اس مہمان کو کھلا دیتے اور خود فاقہ کر لیتے۔ خدا کی قدرت ہے کہ وہی بھاوجہ جو اُس وقت آپ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی تھی بعد میں میرے ہاتھ پر احمدیت میں داخل ہوئی۔
    غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی کام شروع کیا جاتا ہے تو اس کی ابتدا بڑی نظر نہیں آیا کرتی لیکن اس کی انتہا پر دنیا حیران ہو جاتی ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ جب آپ کو گاؤں کے لوگ بھی نہیں پہچان سکتے تھے کیونکہ آپ ہر وقت مسجد میں بیٹھے رہا کرتے تھے لیکن اب وہ وقت ہے کہ دنیا کے ہر گوشہ میں آپ کے ماننے والے تھوڑے بہت لوگ موجود ہیں۔ پھر آپ کی جماعت ایک جگہ پر ٹھہری ہوئی نہیں بلکہ روزبروز بڑھ رہی ہے۔ جب مَیں خلیفہ ہوا تو ہمارے خزانہ میں صرف چند آنے کے پیسے تھے اور وہ لوگ جو سلسلہ کے کرتا دھرتا تھے، جو لوگ خزانہ پر قابض تھے، سارے نظام پر قابض تھے سارے کے سارے قریباً مخالف ہو گئے تھے۔ اُس وقت جماعت کا اکثر حصہ مخالف تھا۔یہاں تک کہ "پیغام صلح"میں یہ شائع ہوا تھا کہ صرف جماعت کا پانچ فیصدی حصہ میاں محمود کے ساتھ ہے۔ اُس وقت مجھے الہام ہوا’’ کون ہے جو خدا کے کاموں کو روک سکے‘‘۔ چنانچہ مَیں نے اسے شائع کرا دیا اور لکھا کہ خداتعالیٰ نے مجھے یہ کہا ہے۔ ابھی اس الہام پر دو مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ جماعت کا پچانوے فیصدی حصہ میرے ساتھ شامل ہو چکا تھا اور صرف پانچ فیصدی حصہ باہر تھا۔ پھر خدا تعالیٰ نے جماعت کو ترقی دینی شروع کی اور ہندوستان سے باہر بھی ہمارے مشن قائم ہو گئے۔ سارے کے سارے مشن میرے ہی زمانہ میں قائم ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے ہمارا ایک بھی مشنری باہر نہیں تھا۔ خواجہ کمال الدین صاحب جو لندن گئے اُن کے متعلق ہر ایک جانتا ہے کہ وہ دراصل رضوی صاحب کا جو نظام حیدرآباد کی پھوپھی زاد بہن کے خاوند تھے مقدمہ لڑنے لندن گئے تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں بھی ہماراکوئی باقاعدہ مبلغ نہیں تھا۔ صرف شیخ غلام احمد صاحب واعظ کو انجمن سفر خرچ دیا کرتی تھی اور وہ دورہ کیا کرتے تھے۔ لیکن میرے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے جو جماعت کو دن بدن ترقی دی تو مبلغ بھی بن گئے، مشن بھی بن گئے اور جماعت کہیں کی کہیں جا پہنچی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت میں جو آخری جلسہ سالانہ ہوا اُس میں صرف 700 آدمی تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے زمانہ میں جوآخری جلسہ سالانہ ہوا اُس میں دو اڑھائی ہزار آدمی جمع ہوئے تھے مگر قادیان میں میرے ہر خطبہ جمعہ میں چار پانچ ہزار آدمی جمع ہو جاتے تھے اور جلسہ سالانہ پر تو چالیس ہزار سے بھی تعداد بڑھ جاتی تھی۔
    پس حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ انسان کی نظر پہلے بیج پر پڑتی ہے۔ واقف آدمی جب دیکھتا ہے کہ بیج اچھا ہے تو وہ فوراً سمجھ لیتا ہے کہ فصل بھی اچھی ہو گی مگر ناواقف آدمی اس انتظار میں رہتا ہے کہ جب فصل بڑی ہو جائے گی تو دیکھیں گے۔ میرا یہاں آنا بھی ایسا ہی تھا۔ ہر ایک کام جو کیا جاتا ہے اس کی ایک ابتدا ہوتی ہے اور ایک انتہا ہوتی ہے۔ میرے اس سفر کی ابتدا تو یہ تھی کہ مَیں عموماً اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے رمضان میں کسی ٹھنڈی جگہ پر چلا جاتا ہوں۔ اس دفعہ مَیں نے یہاں کے دوستوں کو لکھا کہ آیا کوئٹہ میں رہائش کا بندوبست ہو جائے گا؟ تو انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ انتظام ہو جائے گا۔ پہلے انتظام ناقص تھا۔ دوست کچھ اَور سمجھتے تھے مگر جب وہ سمجھ گئے توانہوں نے جگہ کا بندوبست کر دیا اور نہایت قربانی کے ساتھ اس عمارت کی چار دیواری بھی بنا دی۔ گویاایک نئی بلڈنگ تیار کر کے رکھ دی اور مَیں سمجھتا ہوں انہوں نے ایک نہایت عمدہ قربانی کا اظہار کیا ہے۔ یہ تو ہماری غرض تھی مگر خدا تعالیٰ یہ سمجھتا تھا کہ اس کے نتیجہ میں جماعت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
    میرے یہاں آنے پر مخالفت شروع ہو گئی۔ ہمارے خلاف باتیں کی جانے لگیں۔ جماعت احمدیہ پر اتہام لگانے شروع کر دئیے گئے اور مخالفین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم قرآن کو منسوخ سمجھتے ہیں، اسلام کو منسوخ سمجھتے ہیں، شریعت کو منسوخ سمجھتے ہیں۔ گویا جتنے منہ تھے اتنی باتیں شروع ہو گئیں۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ ایسی باتیں کر کے ہمارا ہی شکار ہو رہے ہیں۔ درحقیقت مخالفت کے ذریعہ ہی لوگوں میں خدائی سلسلہ کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم یہاں آتے اور ہماری مخالفت نہ ہوتی تو کوئی ہماری طرف توجہ بھی نہ کرتا بلکہ کسی کو ہمارے یہاں آنے کا پتہ بھی نہ لگ سکتا۔ اگر ہمارے آدمی دوسروں کے پاس جاتے تو وہ کہہ دیتے ـ’’اپنے منہ میاں مٹھو‘‘۔ لوگ کہتے کوئی ہو گا جو یہاں آ گیا ہے لیکن مولویوں نے ہمارے خلاف تقریریں شروع کر دیں اور لوگوں نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی بڑی چیز ہے معمولی چیز نہیں۔ تبھی تو یہ لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ بلّی کے آنے پر تو شور نہیں مچایا جاتا شیر کے آنے پرشور مچایا جاتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ خود ہی ہمارے شکار ہونے لگے۔ جب مَیں نے دیکھا کہ احمدیت کے لیے یہاں رستہ کھل گیا ہے تو مَیں نے درس دینا شروع کر دیا تا احمدیت اور اسلام کی عظمت ظاہر ہو۔ میرے اندر ایک بے کلی سی تھی جس کی وجہ سے مَیں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو تفسیر مَیں نے لکھوانی ہے اُس کا درس یہاں دے دوں۔ لکھنے والے لکھتے جائیں گے اور سننے والے اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ چونکہ لوگوں میں پہلے ہی رغبت پیدا ہو چکی تھی اس لیے لوگوں نے یہاں آنا شروع کر دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ مہینہ کے آخر تک پانچ چھ سو آدمیوں نے ہمارے خیالات سنے اور پھر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کسی نے ہماری تائید میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کسی نے ہماری مخالفت میں۔ اور پھر خداتعالیٰ نے ایک اَور ذریعہ بنا دیا کہ لوگوں نے جوش میں آ کر ایک احمدی نوجوان کو شہید کر دیا۔ مَیں نے یہ سمجھ لیا کہ اب ہم ہی کامیاب ہوں گے اور فتح ہماری ہی ہو گی۔ زمین میں جب کوئی بیج ڈالا جاتا ہے تو اس سے وہی چیز اُگتی ہے جس کا وہ بیج ہوتا ہے۔ جب زمین میں ہم گندم کا بیج ڈالتے ہیں تو اس سے گندم پیدا ہوتی ہے اور جب انسان کا بیج ڈالتے ہیں تو اس سے انسان پیدا ہوتے ہیں۔
    جب مسلمانوں نے ایران پر حملہ کیا تو بادشاہ نے اپنے افسروں کو بلایا اور کہا کہ تم ان کا کیا مقابلہ کرتے ہو؟ یہ تو ذلیل ترین وجود ہیں انہیں یونہی غلطی لگ گئی ہے۔ تم ان کو میرے پاس بلا لاؤ مَیں انہیں کچھ روپے دے دیتا ہوں اور وہ واپس چلے جائیں گے۔ بادشاہ نے اپنے کمانڈر کو حکم دیا کہ وہ مسلمان لشکر کے کمانڈر کو کہلا بھیجے کہ وہ ہمارے پاس اپنا ایک وفد بھیجے۔ اس نے ایسا ہی کیا اور مسلمانوں کا ایک وفد آ گیا جس کے لیڈر ایک صحابیؓ تھے۔ وہ ہاتھوں میں نیزے پکڑے ہوئے شاہی قالینوں پر سے بغیر جوتی اتارے گزر گئے۔ اِس پر بادشاہ کو اَور بھی یقین ہو گیا کہ یہ وحشی لوگ ہیں۔ بادشاہ نے اس وفد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم جاہل لوگ ہو۔ تمہیں سلطنت سے کیا غرض؟ تمہیں بادشاہت سے کیا واسطہ؟ تم لوگوں میں وہ گناہ اور عیب پائے جاتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر ایک شریف انسان اپنی گردن نیچے کر لیتا ہے۔ تم ڈاکے مارتے ہو، گوہیں کھاتے ہو، مُردار کھاتے ہو۔ مَیں تمہیں کچھ روپیہ دے دیتا ہوں وہ لے لو اور واپس چلے جاؤ۔وفد کے سردار نے جو ایک صحابی تھے جواب دیاکہ جو کچھ تم کہتے ہو وہ ٹھیک ہے۔ ہم ایسے ہی تھے بلکہ اِس سے بھی بدتر۔ مگر خداتعالیٰ نے ایک رسول بھیجا۔ اس نے ہماری کایا پلٹ کر رکھ دی۔ اب ہم دنیا کو پڑھانے کے لیے باہر نکلے ہیں۔ دنیا میں انصاف اور عدل کو قائم کرنے کے لیے باہر نکلے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں روپیہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ روپیہ تو ایک حقیر چیز ہے۔ بادشاہ کو اس جواب پر غصہ آ گیا۔ اس نے اپنے ایک نوکر کو حکم دیا کہ وہ مٹی کی ایک بوری بھر لائے۔ وہ نوکر مٹی کی ایک بوری بھر لایا۔ بادشاہ نے وفد کے سردار صحابیؓ کو آگے بلایا اور کہا جھک جاؤ۔ وہ اگر چاہتے تو انکار بھی کر سکتے تھے مگر وہ نہایت ادب سے آگے آ گئے اور جھک گئے۔ بادشاہ نے مٹی کی بوری ان کے سر پر رکھوا دی اور کہا جاؤ اس کے سوا تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ جیسے پنجابی میں کہتے ہیں’’ کھِہ کھاؤ‘‘۔ اس بادشاہ نے بھی کہا جاؤ مَیں تمہیں ذلیل کرتا ہوں۔ وہ صحابی اگر چاہتے تو مٹی کی بوری سر پر نہ رکھواتے مگر وہ جان بوجھ کر آگے آئے اور جھک گئے اور اس طرح بوری کو اپنے سرپر رکھوا لیا۔ مشرک کا دل کمزور ہوتا ہے۔ موحّدہی ہوتا ہے جس کا دل دلیر ہوتا ہے۔ مشرک تو چھوٹی سے چھوٹی بات سے بھی ڈر جاتا ہے۔ وہ ہوا کو بھی خدا سمجھتا ہے، پہاڑ کو بھی خدا سمجھتا ہے، پتھر کو بھی خدا سمجھتا ہے ۔ وہ ہر ایک چیز سے ڈرتا ہے۔ اس صحابی نے جب مٹی کی بوری سر پر رکھوا لی تو اپنے ساتھیوںسے کہا آ جاؤ بادشاہ نے اپنی ایران کی زمین خود اپنے ہاتھ سے ہمارے سپرد کر دی ہے۔ اس فقرہ کا اس صحابی کے منہ سے نکلنا ہی تھا کہ بادشاہ گھبرا گیا۔ اس نے اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ جلدی سے بوری واپس لے آؤ۔ مگر مسلمان گھوڑوں پر سوار ہو کر دور نکل چکے تھے۔5 بظاہر تو بادشاہ نے اس صحابیؓ کے سر پر مٹی رکھی تھی اور ذلیل کیا تھا لیکن واقعہ یہی ہوا کہ بادشاہ نے خود ہی اپنے ملک کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔
    اسلام انسانی قربانی کو جائز نہیں سمجھتا۔ پرانے زمانہ میں لوگ اپنی اولاد کو قربان کر دیتے تھے، اسے ذبح کر دیتے تھے مگر اسلام نے یہ نہیں کہا۔ اسلام اپنے ہاتھ سے انسانی قربانی دینے کو جائز نہیں سمجھتا۔خدا تعالیٰ دشمنوں کے ہاتھوں سے وہ قربانی کرواتا ہے۔ اس کے اختیار میں یہ ہے کہ وہ جب چاہے قربانی لے اور جس کی چاہے لے لیکن جب وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں کوئی تغیر پیدا ہو تو وہ لوگوں میں تحریک کر دیتا ہے اور وہ اس کی تدبیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    پس یہاں کے لوگوں نے ایک احمدی کو شہید کر کے بلوچستان میں احمدیت کا بیج بو دیا ہے۔ اب اس کا مٹانا ان کے اختیار میں نہیں رہا۔ دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی۔یہ بیج بڑھے گا اور ترقی کرے گا اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ ایک تناور درخت بن جائے گا اور تمام علاقہ پر چھا جائے گا۔ اب سارے مولوی بھی زور لگا لیں وہ اسے مٹا نہیں سکتے۔ خدا کی طاقتوں کا مقابلہ کرنا کس کے اختیار میں ہے۔ خدا تعالیٰ کی تدبیریں جداگانہ ہوتی ہیں۔ وہ اپنے کاموں میں نرالا ہے، وہ اپنی حکمتوں میں عجیب ہے۔ اس کی کُنہ کو پہنچناانسانی عقل کے اختیار میں نہیں۔ پس خدا تعالیٰ نے میرے اس سفر کو جس کی غرض یہاں رمضان کا گزارنا تھا۔ اگرچہ یہاں کوئی زیادہ سردی نہیں۔ اگر ہم مر ی چلے جاتے توشایداس سے بہتر رہتا، ایک دینی سفر بنا دیا اور اس کو ایک خاص اہمیت بخش دی۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ خداتعالیٰ کی بادشاہت کے دن اب قریب ہیں۔ مَیں خدا تعالیٰ کی انگلی کو اٹھا ہوا دیکھتا ہوں۔ مَیں اس کے اشارے کو نمایاں ہوتا ہوا پاتا ہوں۔ مَیں خدا تعالیٰ کے منشا کو اس کے فضل سے پڑھ رہا ہوں اور سن رہا ہوں اور مَیں یہ جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں سے نکل نہیں سکتا۔ یہ ہمارا ہی شکار ہو گا۔ دنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے اب یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔ یہی صوبہ نہیں بلکہ ہمیں سارے ملک ہی ملنے والے ہیں۔ دنیا ہمیں حقارت کی نظروں سے دیکھتی ہے مگر دنیا نے خدا تعالیٰ کے ماموروں اور ان کی جماعتوں کو کب عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ وہ ہمیشہ ہی انہیں حقیر اور ذلیل سمجھتی ہے۔ مگر وہ پتھر جسے حقیر سمجھ کر معماروں نے پھینک دیا تھا خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ وہی کونے کا پتھر ہو اور اس عمارت کے لیے سہارے اور روشنی کا موجب ہو۔ ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے اور اب بھی یہی ہو گا۔
    جب بھی خدا تعالیٰ کے مامور دنیا میں کوئی نئی تحریک لے کر آئے لوگ انہیں ذلیل اور حقیر ہی سمجھتے تھے۔ لیکن جب بھی کوئی ایسی تحریک آئی مخالفین اُس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے۔ اگر کوئی خطرہ ہوسکتاہے تو محض ماننے والوں سے ہو سکتا ہے۔ اتباع کے لیے اپنے دلوں میں بے ایمانی بڑھ جاتی ہے جو اس تحریک کے پھیلنے میں روک بنتی ہے۔دشمن خواہ کتنی مخالفت کرے وہ اس کے پھیلنے میں روک نہیں بن سکتا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے آپ کے خلاف کتنی کوشش کی مگر کیا وہ کامیاب ہوئے؟ وہ انصار پر بھی حملہ آور ہوئے۔ اس لیے کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں پناہ دی ہے۔ لیکن وہ ان کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے ۔ ہاں ان کی اپنی ایک غلطی نے انہیں بڑے بڑے انعامات سے محروم کر دیا۔ مکہ فتح ہوا، طائف والوں نے ایک لشکر جمع کیا اور مسلمانوں سے لڑائی کی تیاریاں کیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو آپؐ نے یہ مناسب سمجھا کہ آپ خود مقابلہ کے لیے باہر نکلیں۔آپؐ لڑائی کے لیے تشریف لے گئے۔ نئے مسلمانوں اور کچھ کافروں نے بھی آپ سے عرض کیا یارسول اللہ! پہلے لوگوں نے بہت سی قربانیاں کر لی ہیں۔ ہمیں بھی اب موقع دیا جائے کہ ہم اسلام کی خاطر لڑیں۔ آپؐ نے اجازت دے دی اور دو ہزار کے قریب نئے مسلمان آپ کے ساتھ چل پڑے۔ یہ لوگ آگے آگے تھے۔ چونکہ یہ کمزور تھے اس لیے دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم نہ رہ سکے۔ ان کے قدم اُکھڑ گئے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ اسلام میں اگر کوئی جنگ خالص طور پر انصار نے لڑی ہے تو وہ حنین یا ثقیف کی جنگ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں جب تشتّت اور افتراق دیکھا تو حضرت عباسؓ کو حکم دیا کہ وہ آواز دیں اے انصار! تمہیں خدا کا رسول بلاتاہے۔ آپ نے آواز دی اور انصار منٹوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔ ایک انصاری کہتے ہیں کہ ہمارے اونٹ اتنے ڈر گئے تھے کہ باوجود نکیلیں کھینچنے کے وہ پیچھے نہیں مڑتے تھے۔ جو اونٹ مڑ گئے سو مڑ گئے باقی کی گردنوں کو ہم نے خود اپنی تلواروں سے کاٹ دیا اور پیدل چل کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔ ان کی جوش کی حالت تھی جب اسلامی لشکر کو فتح ہوئی اورمالِ غنیمت ساتھ آیا تو مکہ والے چونکہ حدیثُ الْعہد تھے۔ اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کا مال اُن میں تقسیم کر دیا۔اِس پر ایک انصاری نے کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور اموال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم وطنوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کر دئیے ہیں۔6 آپ کو بھی کسی نے اطلاع دے دی۔ آپؐ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار! مَیں نے ایسی بات سنی ہے۔ انصار نے کہا یارسول اللہ! ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کہی۔یہ ایک احمق نوجوان نے کہی ہے۔ ہم خود اس سے متنفر ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اے انصار! اس بات کے دو پہلو ہو سکتے ہیں۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم کہو کہ جب مکہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باہر نکال دیا تو ہم نے آپ کو پناہ دی، ہم اس کے لیے لڑے، ہم نے ہی لڑ لڑ کر اسے فتح دلائی اور جب فتح ہو گئی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال اپنی قوم میں تقسیم کر دیا اور ہم کو محروم کر دیا۔ انصار کی حالت گریہ و زاری اور چیخ و پکار کی وجہ سے ایسی تھی جیسے قیامت کا شور ہوتا ہے۔ ان کے سینوں سے گونجیں اٹھ رہی تھیں اور وہ بار بار کہتے تھے یارسول اللہ! ہمارا اس میں کوئی قصور نہیں۔صرف ایک نوجوان نے ایسی بات کہہ دی ہے۔ ہم اس سے متنفر ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اے انصار! ایک پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی کہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مبعوث ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی دعا یہی تھی مگر مکہ والوں نے آپ کی قدر نہ کی اور آپ کو باہر نکال دیا۔ خدا تعالیٰ اپنے رسول کو مدینہ میں لے گیا اور خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیج کر اپنے رسول کو فتح دلائی۔ چنانچہ جو کام مدینہ والوں سے نہیں ہو سکتا تھا وہ خدا نے کیا۔ جب فتح مکہ ہوئی تو مکہ والے سمجھتے تھے کہ ہماری پرانی بیوقوفیوں کا ازالہ ہو جائے گا، ہمارا مال ہمیں واپس مل جائے گا، خدا تعالیٰ کا رسول مکہ میں واپس آ جائے گا۔ مگر خدا تعالیٰ نے یہ پسند نہ کیا کہ مدینہ والوں کو اس نعمت سے محروم کر دے۔ آخر لڑائی کے بعد مکہ والے تو اونٹ ہانک کر اپنے گھروں کو لے گئے اور مدینہ والے خدا تعالیٰ کے رسول کو اپنے ساتھ لے گئے۔7 فرمایا اے انصار! تم یوں بھی کہہ سکتے تھے۔ انصار نے پھر کہا یارسول اللہ! ہم نے ایسا نہیں کہا۔ کسی نوجوان نے ایسا کہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا مَیں تمہاری قربانیوں کی قدر کرتا ہوں مگر جو بات منہ سے نکل جاتی ہے وہ واپس نہیں لی جا سکتی۔ تمہیں اس دنیا میں اب بادشاہت نہیں ملے گی۔ تم کوثر پر ہی آ کر اپنا انعام مجھ سے لینا۔8
    آج اس بات پر 1300 سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر انصار میں سے کوئی بھی بادشاہ نہیںہوا۔ مغل بادشاہ ہوئے، پٹھان بادشاہ ہوئے مگر جن لوگوں کے خون سے اسلام کو قائم کیا گیا تھا اُنہیں دنیا میں بادشاہت نہیں ملی۔ پس حقیقت یہی ہے کہ اپنوں کی غلطی کی وجہ سے کوئی روک آتی ہے توآتی ہے دشمن کے ہاتھوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
    پس مَیں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اندر ایک خاص تبدیلی پیدا کریں اورسچے احمدی بننے کی کوشش کریں۔ دشمن کے دل میں جو کینہ بیٹھا ہوا ہے وہ تو کھاد کا کام دیتا ہے اور احمدیت کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ تمہیں جب بھی کوئی تکلیف پہنچے گی تمہارے اپنے نفس کی کمزوری کی وجہ سے پہنچے گی۔
    پس تم اپنے آپ کو تیار کر لو اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگو کہ وہ تمہیں ایسی غفلتوں سے بچائے تا تم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے جو تمہارے لیے مقدر ہو چکے ہیں وارث بن جاؤ۔ زمین اور آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے فضل نہیں ٹل سکتے۔ تم کوشش کرو تا تم ان فضلوں کے وارث بن جاؤ اور اسلام کی فتوحات جو احمدیت کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والی ہیں اُن میں تمہارا بھی حصہ ہو اورعزت والا حصہ ہو"۔ (الفضل 22؍اکتوبر 1948ء )
    ----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
    1
    :
    دیوان حسانؓ بن ثابت صفحہ308
    2
    :
    3
    :
    السیرۃ الحلبیۃ (اردو) جلد دوم نصف آخر ، صفحہ 35دارالاشاعت کراچی 1999ء
    4
    :
    آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحہ596
    5
    :
    تاریخ طبری جلد 4صفحہ 322تا 325۔ بیروت 1987ء
    6
    :
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الطائف
    7
    :
    بخاری کتاب مناقب الانصار باب مناقب الانصار
    8
    :
    بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الطائف


    مسلمانوں کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہرحال بہتر ہے
    (فرمودہ10ستمبر 1948ء بمقام رتن باغ لاہور)
    تشہّد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "دنیا کے حالات اتنی جلدی جلدی بدل رہے ہیں کہ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کل کیا ہو جائے گا۔ بہت سی قومیں ایسی ہوتی ہیں جن کی مثال گیہوں میں گھُن کی سی ہوتی ہے۔ جب گیہوں پیسا جاتا ہے تو گھُن بھی ساتھ ہی پس جاتا ہے۔بعض زبردست قومیں جن کی ضرورتیں دوسروں سے ٹکرانے پر انہیں مجبور کر رہی ہیں، جن کی طاقت حد سے بڑھ گئی ہے وہ دنیا کے امن پر اس قدر چھائی ہوئی ہیں کہ باقی دنیا بھی ان کے ساتھ بھنور میں چکر لگائے چلی جاتی ہے۔ جس طرح دریا میں بھنور آتا ہے اور تنکے اور لکڑیاں بغیر تعلق کے اس میں چکر کھاتی چلی جاتی ہیں، جس طرح بگولا آتا ہے تو ہوا بعض فوائدِ طبعیہ کی وجہ سے چکر کھاتی ہے لیکن گردوغبار اور کمزور اشیاء بھی ساتھ چکر کھاتی چلی جاتی ہیں۔ وہی حال اِس وقت دنیا کا ہو رہا ہے۔ ایک بگولا اٹھا ہے جس میں ہوا چکر کھاتی چلی جاتی ہے لیکن گرد بھی ساتھ ہی پریشان ہو رہی ہے جس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ دنیا کے تیز دھارے میں ایک بھنور آیا ہوا ہے جس کی وجہ سے پانی تو قاعدے کے مطابق چکر کھا رہا ہے لیکن ہزاروں تنکے اور لکڑیوں کے ٹکڑے جن کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں مجبور ہیں کہ اس کے ساتھ وہ بھی چکر کھائیں۔ ان میں طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس بھنور سے نکال سکیں۔ یہ بھنور اور بگولے آتے ہیں تو محدود جگہوں میں آتے ہیں۔ دریاؤں میں بھنور پڑتے ہیں تو محدود جگہوں میں پڑتے ہیں اور باقی علاقے راہ گزروں کے لیے محفوظ رہتے ہیں۔ بگولے آتے ہیں تو زمین کے محدود حصے پر آتے ہیں لیکن یہ بھنور ایسا آیا ہے، یہ بگولا ایسا اٹھا ہے جس کے اثر اور زد سے دنیا کا کوئی کونہ بھی محفوظ نہیں، پہاڑوں پر بسر کرنے والے بھی اس سے محفوظ نہیںاور دریاؤں میں بسر کرنے والے بھی اس سے محفوظ نہیں۔ سب کو اس میں داخل ہونا ہو گا اورسب کو اس کے ساتھ چکر کھانے پڑیں گے۔بگولا اڑانے والے اور بھنور بنانے والے تسلی پا جائیں گے۔ اس لیے کہ انہوں نے بہت بڑا کام کیا۔ اگر وہ جیتیں گے تو وہ کہیں گے ہم نے کامیابی حاصل کر لی اور اگر ہاریں گے تو کہیں گے کہ ہم ہار گئے تو کیا ہوا؟ ہم نے اپنی تسلی تو کر لی ہے۔ ہم نے اپنا پورا زور تولگا لیا ہے جیسے شاعر کہتا ہے
    شکست وفتح نصیبوں پہ ہے ولے1 اے میر
    مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا
    ہارنے والا تو کہے گا کہ اس نے خوب مقابلہ کیا اور جیتنے والا کہے گا کہ اس نے اپنے مقصد کو پالیا مگر جو بیچارے ساتھ یونہی چکر کھا رہے ہوں گے ان کے دل رو رہے ہوں گے اور باقی دنیا ان پر ہنس رہی ہو گی۔ نہ جیتنے والوں کو ان سے دلچسپی ہو گی اور نہ ہارنے والوں کو ان سے کوئی ہمدردی۔ ان کے اس بگولے اور بھنور میں پھنس جانے کی کیا وجہ تھی؟ اسے کون جانتا ہو گا؟ آئندہ آنے والے مؤرخ یہ لکھ دیں گے کہ یہ لوگ بالکل ناکردہ گناہ تھے۔ یونہی اس مصیبت میں پھنسا دئیے گئے تھے اور خواہ نخواہ اس مشکل میں ڈال دئیے گئے تھے۔ لیکن جہاں یہ ٹھیک ہے کہ بگولوں کے پیدا کرنے اور بھنور کو بنانے میں بہت سی مخلوق کا دخل ہے اور اس میں پھنس جانے والوں کے پاس طاقت کم ہے وہاں اس چیز میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ انسان سمجھ دار اور باعقل پیدا کیا گیا ہے۔ وہ بے شک مصیبت میں پھنس جاتا ہے مگر مصیبت کے وقت اس کا مقابلہ کرنے سے بھی باز نہیں رہ سکتا۔ جب ایک انسان شہد حاصل کرنے کے لیے مکھیوں کے چھتے کے پاس جاتا ہے اور اس سے شہد لینے کی کوشش کرتا ہے تو ساری دنیا جانتی ہے کہ مکھیاں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ لیکن باوجود اس کے وہ اس کے مقابلہ سے پیچھے بھی نہیں ہٹتیں۔ مکھی ڈنک مارتی ہے،چیونٹی اپنے منہ سے ڈسنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ نہیں ہے کہ مقابلہ وہی چیز کرتی ہے جسے معلوم ہو تا ہے کہ وہ مقابلہ میں کامیاب ہو جائے گی۔ مکھیاں اور چیونٹیاں دونوں جانتی ہیں کہ وہ مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتیں مگر اس کے باوجود وہ مقابلہ کو چھوڑتی نہیں۔ پھر انسان اگر اس کے حواس ٹھیک ہیں اس بات کی کب برداشت کر سکتا ہے کہ ایک طاقتور ہجوم اس پر حملہ کر دے، بگولے اسے اڑا کر لے جائیں۔ بھنور اسے چکر میں ڈال دیں اور وہ بِلاجدوجہد اپنے آپ کو اڑنے دے اور بھنور کو چکر دینے دے۔
    حقیقت یہ ہے کہ بگولے میں اڑ جانے اور بھنور میں چکر دینے کے ہزاروں موجب ہو سکتے ہیں۔ اس بگولے میں اڑ جانے اور بھنور میں چکر کھانے کا موجب ہماری کم ہمتی ہے، ہمارا مقابلے کو چھوڑ دینا ہے ۔اور مقابلہ نہ کرنے کی وجہ سے کامیابی کا جو امکان موجود تھا وہ بھی جاتا رہاہے۔
    پس ہمارا فرض ہے کہ ہم پوری کوشش سے اس کا مقابلہ کریں اور بے ہمتی، سستی، غفلت اور بزدلی کو پاس نہ آنے دیں یہاں تک کہ دشمن ہتھیار ڈال دے۔ اول تو مقابلہ میں جیتنے کا امکان بھی ہوتا ہے لیکن اگر کوئی ہار بھی جائے تب بھی وہ عزت کے ساتھ اس دنیا سے نکل جائے گا۔
    اِس وقت دنیا میں جو بھنور پیدا ہوا ہے، جو بگولا اڑ رہا ہے اس کی ساری زد مسلمانوں پر آتی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ان حالات میں کیا مزید انتظار کرنا مسلمانوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی ایسے امکانات پائے جاتے ہیں کہ ہم آئندہ قوت پکڑ لیں؟ میرے نزدیک یہ بات نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں میں اب بیداری پیدا ہو چکی ہے اور وہ آہستہ آہستہ آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ بیداری جس رنگ میں ہو رہی ہے اس کی قریب کے عرصہ میں تکمیل کی امید نہیں کی جاتی۔ امید اُسی وقت کی جا سکتی ہے جب ہم حقیقی طور پر بہادر بنیں، ہمارے اخلاق درست ہوں۔ اِس وقت نہ مسلمانوں کے انفرادی اخلاق ہی اعلیٰ ہیں اور نہ قومی اخلاق اعلیٰ ہیں۔ انفرادی اخلاق کے بغیر روحانی فتح نہیں ہو سکتی اور قومی اخلاق کے بغیر جسمانی اور مادی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اور اخلاق کی درستی کے لیے وقت چاہیے۔
    سب سے پہلے لیڈروں اور راہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر خاص تبدیلی پیدا کریں مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔ ہر ایک شخص یہ تو چاہتا ہے کہ وہ حاکم ہو جائے۔ وہ یہ تو چاہتا ہے کہ یورپ کی غلامی سے آزاد ہو جائے مگر ایک بھی ایسا نہیں جو شیطان کی غلامی سے آزاد ہونا چاہتا ہو۔ ایک طرف اگر وہ جھوٹ بولتا جائے، روحانیت کی ہتک کرتا جائے، بے ایمانیاں کرتا جائے، ظلم کرتا جائے، غریب کی مدد نہ کرے، یتیموں کی طرف کوئی توجہ نہ دے اور اپنے فرائض کو محنت سے پورا نہ کرے اور باوجود اس کے وہ دوسری طرف شان و شوکت حاصل کرنا چاہے تو یہ ناممکن ہے۔ نہ کبھی یہ پہلے ہوا ہے اور نہ آئندہ ہو گا۔ اگر وہ شان و شوکت کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے انفرادی اخلاق کو بدلنا پڑے گا۔ سچ، محنت،حُسنِ سلوک، حُسنِ معاملہ، دیانت، امانت وغیرہ ان سب اخلاق کو پیدا کرنا ہو گا۔
    دوسری چیز قومی اخلاق ہیں۔ مسلمانوں کی اس طرف توجہ ہے مگر اتنی نہیں کہ انہیں پورے طور پر کامیابی حاصل ہو سکے۔ مثلاً یہ ہوا ہے کہ انہوں نے آگے قدم رکھنا چاہا ہے اور یہ ایک حد تک نظر آ رہا ہے مگر ساتھ ہی ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو اگر دوسرے سے ٹکرا جائے تو وہ اپنے اوپر قابو نہیں رکھتا۔ دوسرے انفرادی اغراض کو قوم کے لیے قربان نہیں کیا جاتا۔ یہ دونوں عیب دور ہو جائیں تب ہم دشمن پر فتح حاصل کر سکتے ہیں اور تب ہم امید کر سکیں گے کہ ہم خدا کی دی ہوئی قوتوں اور طاقتوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔ جس طرح ایک پہلو ان کو جیل خانہ میں بند کر دیا جائے، اُس کے گلے میں طوق ڈال دئیے جائیں، پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی جائیں تو اس کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس میں طاقت اور قوت نہیں۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت و قوت کو استعمال نہیں کر سکتا۔ اِسی طرح ایک مسلمان میں خواہ کتنی دلیری اور جرأت ہو اگر اُس کے انفرادی اور قومی اخلاق کمزور ہیں یا ہے تو وہ بہادر لیکن اسے اپنے نفس پر قابو حاصل نہیں تو ہم کہیں گے کہ وہ نفس کے جیل خانے میں ہے۔ وہ شیطان کے قبضہ میں ہے۔ جہاں تک قومی اخلاق کا سوال ہے مسلمان ترقی کی طرف جا رہے ہیں اور آہستہ آہستہ آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اتنی جلدی ترقی حاصل کر لیں گے جتنی جلدی لڑائی شروع ہو رہی ہے؟ یہ بظاہر ممکن نہیں۔
    اب تو ایک ہی چارہ ہے کہ مسلمان متحد ہو جائیں اور جو کچھ ان کے پاس ہے وہی لے کر دنیا کا مقابلہ کریں۔ جب بعد میں بھی یہی ہونا ہے تو کیوں نہ ابھی سے اس پر عمل کیا جائے۔ ہندوستان کے مسلمان مصیبت میں گرفتار ہیں، انڈونیشیا کے مسلمان محفوظ نہیں، مصر کے مسلمان محفوظ نہیں، شام کے مسلمان محفوظ نہیں، ٹرانس جورڈن2 کے مسلمان محفوظ نہیں، سعودی عرب میں مسلمان امن میں نہیں اور لبنان میں بھی مسلمان خطرہ سے خالی نہیں۔ غرض کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں مسلمانوں کو خطرہ لاحق نہ ہو رہا ہو۔ صرف فلسطین کا ہی مسئلہ درپیش نہیں بلکہ سب مسلمان ممالک خطرہ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ عراق فلسطین کی جنگ میں اس لیے دخل نہیں دے رہا کہ وہ سمجھتا ہے کہ فلسطین کے عرب آزادی سے محروم ہو جائیں گے۔ شام اس لیے اس میں دخل نہیں دے رہا کہ فلسطین کے باشندے آزادی سے محروم ہو جائیں گے۔ اسی طرح لبنان اس میں اس لیے شامل نہیں ہو رہا کہ وہ سمجھتا ہے کہ فلسطین کے مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا کیونکہ لبنان میں تو ایک بڑی تعداد عیسائیوں کی بھی پائی جاتی ہے۔ سعودی عرب اس لیے اس میں دخل نہیں دے رہا کہ فلسطین میں یہودیوں کے غلبہ سے فلسطین کے مسلمانوں کی عزت میں فرق آ جائے گا۔ مصر اس میں اس لیے دخل نہیں دے رہا کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچے گا۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں کی لمبی تاریخ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہودیوں کے عربوں کے خلاف منصوبے بہت خطرناک ہیں۔ یہود فلسطین کے صرف اس حصہ کو نہیں لینا چاہتے جس پر انہوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ اگر صرف یہی سوال ہوتا تو عرب کبھی کے اس پر راضی ہوجاتے۔ وہ صرف اس حصہ کو ہی نہیں لینا چاہتے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے یہ حصہ لے لیا تو پھر وہ آسانی کے ساتھ باقی حصہ کو فتح کر لیں گے اور اس کے بعد سارے عرب کو فتح کر لیں گے۔ یہودیوں کی دولت اور تعداد ایسی نہیں کہ وہ دس ہزار مربع میل میں سما سکیں۔ یہودیوں کی تعداد دو کروڑ کی ہے اور دولت کے لحاظ سے وہ ہر قوم کے دو کروڑ سے زیادہ مالدار ہیں۔ یہودیوں کے دو کروڑ آدمی یورپین لوگوں کے دو کروڑ سے زیادہ مالدار ہیں۔ دو کروڑ یہودیوں کی دولت دو کروڑ امریکنوں سے زیادہ ہے۔ اس لیے یہودی اپنے دو کروڑ باشندوں کو دس ہزار مربع میل میں ترقی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے محسوس کر لیا ہے کہ سینکڑوں سال سے اُن پر جو ظلم ہوتے آ رہے ہیں اور دشمن اُن کو ذبح کرتا آ رہا ہے اس کے لیے جب تک وہ ایک زبردست حکومت نہ قائم کر لیں وہ عزت کی زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ اور اپنے اُن باشندوں کے جان اور مال کی حفاظت نہیں کر سکتے جو سلطنت کے قائم ہو جانے کے بعد بھی دنیا کے مختلف حصوں میں بس رہے ہوں گے۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک زبردست یہودی سلطنت قائم کی جائے جہاں ان کی آبادی کا بیشتر حصہ بس سکے، جہاں وہ مزید دولت کما سکیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ یہ باتیں اس تنگ علاقہ میں نہیں ہو سکتیںاس لیے انہوں نے یہ تجویز کی ہے کہ پہلے فلسطین کے ایک حصہ پر قبضہ کر لو۔ پھر آہستہ آہستہ باقی فلسطین پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ پھر ٹرانس جورڈن پر قبضہ کر لیا جائے گا کیونکہ وہ بھی فلسطین کا ایک حصہ ہے۔ پھر شام اور لبنان پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ اس لیے کہ اسرائیلی اپنے لمبے دَور میں ان پر قابض رہے۔ پھر عرب پر قبضہ کر لیا جائے گا اس لیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت یمن کے کناروں تک تھی۔ پھر مصر پر قبضہ کر لیا جائے گا اس لیے کہ وہاں وہ آباد تھے اور انہیں جبراً وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ ان کی اس تجویز کے مطابق حکومتِ اسرائیل آئندہ، شام، لبنان، ٹرانس جورڈن، عرب، یمن اور عراق پر مشتمل ہو گی۔ پھر ان سب ملکوں میں بھی وہ ڈیڑھ کروڑ کے قریب یہودیوں کو اُس وقت ہی بسا سکتے ہیں جبکہ وہ وہاں کے رہنے والے عربوں کو مار دیں ورنہ وہ ان کی زمینوں پر قبضہ نہیں کرسکتے،ان کے مکانوں پر قبضہ نہیں کر سکتے، ان کی صنعتوں پر قبضہ نہیں کر سکتے، شہر اور تجارتیں نہیں لے سکتے اور نہ ہی اپنی دولت کو بڑھا سکتے ہیں۔ جس طرح مشرقی پنجاب کے متعلق یہ خیال کیا گیا تھا کہ سکھ اور ہندو پناہ گزین جو مغربی پنجاب سے آئے ہیں وہ کہاں بسیں گے؟ اُن کو یہاں بسانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مسلمانوں کو نکال دیا جائے۔ پہلے سکھوں اور ہندوؤں کو بہکایا گیا کہ وہ مشرقی پنجاب آ جائیں اور جب وہ آ گئے تو پھر یہ سوال تھا کہ انہیں بسایا کس جگہ جائے؟ اس کی ایک ہی تجویز تھی کہ مسلمانوں کو مار ڈالو اور ان کی تجارتیں اور زمینیں اپنے قبضہ میں لو۔ یہی سکیم بعینہٖ فلسطین میں بھی چل رہی ہے۔ پس عراق لڑ رہا ہے اس لیے کہ فلسطین کے بعد وہ بھی زندہ نہیں رہے گا۔شام لڑ رہا ہے اس لیے کہ اس کی زندگی بھی فلسطین کے بعد خطرے میں پڑ جائے گی۔ لبنان لڑ رہا ہے اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ یہاں عیسائیت کا سوال نہیں۔ ان یہودیوں کو تو زمین اور ملک چاہیے۔ مصر جانتا ہے کہ اگر فلسطین میں یہودی سلطنت قائم ہو گئی تو اُن کی آئندہ تجویز سارے عرب ممالک کو فتح کرنا ہے۔ کیونکہ یہود قوم اتنے کم رقبہ میں نشوونما نہیں پا سکتی۔ غرض فلسطین کا جھگڑا شام، لبنان، عراق، مصر اور سعودی اور یمنی عرب کا جھگڑا ہے اور یہ سب اسلامی ممالک خطرہ میں ہیں۔ پنجاب اور دوسرے علاقوں کا یہی حال ہے۔ یہی حال انڈونیشیا کا ہے۔ افغانستان کے باشندے بہادر ہیں مگر ان کے پاس بھی کوئی طاقت نہیں۔ وہ صرف رقابت کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔ روس یہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کے بارہ میں کوئی دوسری حکومت دخل اندازی کرے۔ لیکن اب روس سمجھتا ہے کہ انگریزوں کے ہندوستان سے چلے جانے کی وجہ سے اس کے لیے موقع ہے۔ اس لیے روس کی طرف سے کوشش کی جا رہی ہے اوریہ روسی ایجنٹ ہی ہیں جو افغانستان کی حکومت کو پاکستان کے خلاف بھڑکا رہے ہیں کیونکہ اگر افغانستان اور پاکستان کے تعلقات خراب ہو جائیں تو جب وہ افغانستان میں داخل ہو گا تو افغانستان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ اب روسیوں نے افغانستان کے شمالی علاقوں کے متعلق دعوے کرنے شروع کر دئیے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں ایک گھبراہٹ سی پیدا ہو گئی ہے اور پاکستان کی مخالفت اب دب رہی ہے کیونکہ انہیں یہ نظر آ رہا ہے کہ انہیں ہڑپ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہرحال مسلمانوں کے بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان غور کریں کہ کیا مزید انتظار ان کے لیے مفیدہو سکتا ہے؟ اور اگر مزید انتظار مفید نہیں ہو سکتا اور پھر بھی یہی صورت باقی رہنی ہے کہ موت یا فتح۔ توپھر انتظار کرنے کے معنے ہی کیا ہوئے۔ اگر ڈاکٹر کسی مریض کے متعلق یہ کہہ دیتا ہے کہ وہ بغیر آپریشن کے ٹھیک نہیں ہو سکتا اور اُسے جلد یا بدیر آپریشن کرانا ہی ہو گا تو پھر آپریشن میں دیر کرنا مریض کے لیے کسی صورت میں بھی مفید نہیں ہو سکتا۔ بلکہ دیر کرنا اس کے لیے اَور مُضِر ثابت ہو گا اور اُسے زیادہ کمزور کر دے گا۔ اگر بعد میں بھی آپریشن ہی کرانا ہے تو پھر مزید انتظار کے معنے ہی کچھ نہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ اِس وقت تمام مسلمانوں کو مل کر غور کرنا چاہیے اور فیصلہ کر لینا چاہیے کہ یا تو وہ ان خطرات کو جو ان کے لیے پیدا ہو گئے ہیں دور کر دیں اور یا پھر ختم ہو جائیں اور عزت کی موت مر جائیں۔
    مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمان اب بھی بیدار ہو جائیں تو ایسا امکان ہے کہ حالات سازگار ہو جائیں۔ پس مسلمان لیڈروں اور راہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر خاص تبدیلی پیدا کریں اور ان خطرات کا اکٹھے ہو کر مقابلہ کریں۔ اس صورت میں یا تو وہ ان خطرات پر فتح پا لیں گے اور یا عزت کی موت مر جائیں گے جو ذلّت کی زندگی سے بہرحال بہتر ہے۔ مَیں نے اس کے متعلق بہت غور کیا ہے اور پہلے بھی اشارتاً توجہ دلائی ہے کہ اب مزید انتظار کی ضرورت نہیں۔ مسلمان لیڈروں اور راہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور موجودہ حالات کا مقابلہ کریں ورنہ دوسروں کے لیے جگہ چھوڑ دیں تاوہ کشتیٔ اسلام کو اس بھنور سے نکالنے کی کوشش کریں۔
    دوسری بات جس کے متعلق مَیں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم سات آٹھ مہینے سے کوشش کر رہے تھے کہ ایک جگہ لی جائے جہاں قادیان کی اُجڑی ہوئی آبادی کو بسایا جائے۔ یہ تجویز ستمبر 1947ء میں ہی کر لی گئی تھی اور اُس خواب کی بناء پر جو مَیں نے 1942ء میں دیکھی تھی کہ مَیں ایک جگہ کی تلاش میں ہوں جہاں جماعت کو پھر جمع کیا جائے اور منظم کیا جائے۔ ہم نے یہاں پہنچتے ہی ضلع شیخوپورہ میں کوشش کی۔ پہلے ہماری یہ تجویز تھی کہ ننکانہ صاحب کے پاس کوئی جگہ لے لی جائے تا سکھوں کو یہ احساس رہے کہ اگر انہوں نے قادیان پر جو احمدیوں کا مرکز ہے حملہ کیا تو احمدی بھی ننکانہ صاحب پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اس خیال کے ماتحت میں نے قادیان سے آتے ہی آٹھ نو دن کے بعد بعض دوستوں کو ہدایات دے کر ضلع شیخوپورہ بھجوا دیا تھا۔ وہاں ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی زمینوں کے متعلق ان کے ایجنٹوں سے بات چیت بھی کر لی گئی تھی اور بعض لوگ زمین دینے پر رضامند بھی ہو گئے تھے۔ لیکن جب اس کا گورنمنٹ کے افسران سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ غیرمسلموں کی چھوڑی ہوئی جائیداد فروخت نہ کی جائے۔ ہم نے انہیں کہا کہ ہم بھی ریفیوجی(Refugee) ہیں اس لیے کسی غیر کے پاس زمین فروخت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر انہوں نے جواب دیا کہ چونکہ ایسا کرنے میں غلط فہمی ہو سکتی ہے اس لیے یہ زمین قیمتاً نہیں دی جا سکتی۔ اسی دوران میں بعض احمدیوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ سکھوں میں ایک طبقہ حد سے زیادہ جوش والا ہے اس لیے بجائے اِس کے کہ اِس تجویز سے فائدہ ہو ایسے لوگ زیادہ شرارت پر آمادہ ہو جائیں۔ ایک دوست نے یہ بھی کہا کہ آپ نے خواب میں جو جگہ دیکھی تھی وہ جگہ تو پہاڑیوں کے بیچ میں تھی اور یہ جگہ پہاڑیوں کے بیچ میں نہیں ہے۔مَیں نے ایک جگہ دیکھی ہے کہ جو آپ کے خواب کے زیادہ مطابق ہے۔ چنانچہ ایک پارٹی تیار کی گئی اور مَیں بھی اُس کے ساتھ موٹر میں سوار ہوکر گیا۔ وہ جگہ دیکھی, واقع میں وہ جگہ ایسی ہی تھی۔ صرف فرق یہ تھا کہ مَیں نے خواب میں جو جگہ دیکھی تھی اس میں سبزہ تھا اور یہاں سبزہ کی ایک پتی بھی نہ تھی۔ یہ جگہ اونچی ہے اور نہر کا پانی اُس تک نہیں پہنچ سکتا۔ مَیں نے ایک گاؤں کے زمیندار سے پوچھا کہ آیا کسی وقت سیلاب کا پانی اس جگہ تک پہنچ جاتا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ اور ایک درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس کے نیچے ہم کھڑے تھے کہا اگر پانی اس درخت کی چوٹی تک پہنچ جائے تب اس جگہ تک پانی پہنچ سکتا ہے۔ اب حال میں جو سیلاب آیا ہے اس کا پانی بھی اس جگہ سے نیچے ہی رہا ہے اور اُس تک نہیں پہنچ سکا۔ لیکن ہم نے سمجھا کہ اگر کوشش کی جائے تو شاید یہاں بھی سبزہ ہو سکتا ہو۔ چنانچہ ہم نے گورنمنٹ سے اس کے خریدنے کی درخواست کی اور اس سے کہا کہ آخر آپ نے ہمیں کوئی جگہ دینی ہی ہے اور کہیں بسانا ہی ہے اگر یہ جگہ ہمیں مل جائے تو جتنے احمدی یہاں بس جائیں گے اُن کا بوجھ گورنمنٹ پر نہیں پڑے گا۔ قادیان کے باشندوں کو اگر کسی اَور جگہ آباد کیا جائے تو انہیں بنی بنائی جگہیں دی جائیں گی لیکن اگر وہ یہاں بس جائیں تو کروڑوں کی جائیداد بچ جائے گی جو دوسرے مہاجرین کو دی جا سکتی ہے۔
    قادیان میں دو ہزار سے زائد مکانات تھے جن میں بعض پچاس پچاس ہزار کے تھے اور بعض لاکھ دو لاکھ کے تھے لیکن اگر پانچ ہزار روپے فی مکان بھی قیمت لگائی جائے تو ایک کروڑ کے مکانات قادیان میں تھے اور یہ قیمت صرف مکانوں کی ہے زمین اس سے الگ ہے۔ زمین کی قیمت اُس وقت دس ہزار روپے فی کنال تک پہنچ گئی تھی اور پانچ سو ایکڑ کے قریب زمین مکانوں کے نیچے تھی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ چالیس ہزار کنال زمین پر مکانات بنے ہوئے تھے۔ اگر پانچ ہزار روپیہ فی کنال بھی قیمت لگا دی جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ دو کروڑ کی زمین تھی جس پر مکانات بنے ہوئے تھے۔ گویا تین کروڑ کے قریب مالیت کے مکانات قادیان والے چھوڑ کر آئے ہیں۔ اگر لاہور، لائلپور، سرگودھا وغیرہ اضلاع میں قادیان کے لوگوں کو بسایا جائے تو پھر وہاں زمین اور مکانات کی قیمتیں قادیان کی زمین اور مکانات کی قیمتوں سے بڑھ کر ہوں گی۔ اگر احمدیوں کو یہ جگہ دے دی جائے اور وہ وہاں بس جائیں تو قریباً چار کروڑ کی جائیداد بچ جاتی ہے جو دوسرے لوگوں کو دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس تجویز کو پسند کیا اور کہا کہ قاعدہ کے مطابق اسے پہلے گزٹ میں شائع کرنا ہو گا اور وعدہ کیا کہ وہ نومبر یا دسمبر میں اسے شائع کر دیں گے مگر جب جنوری میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہم بھُول گئے ہیں۔ ہم نے کہا یہ آپ کا قصور ہے۔ ہمارے آدمی آوارہ پھر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا خواہ کچھ بھی ہو بہرحال اسے شائع کرنا ضروری ہے تا معلوم کیا جائے کہ اس زمین کا کوئی دعویدار ہے یا نہیں۔ اس کے بعد کہہ دیا گیا کہ جب تک کاغذات کمشنر کی معرفت نہ آئیں کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ ایک مہینہ میں کاغذ کمشنر کے پاس سے ہو کر پہنچے اور اس طرح مارچ کا مہینہ آ گیا۔ پھر کہا گیا کہ ان کاغذات پر قیمت کا اندازہ نہیں لکھا گیا اس لیے ہم کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ پھر دوبارہ کاغذات مکمل کر کے بھیجے گئے۔ پھر افسر مقررہ نے ایک مہینہ بعد تعمیل کی۔ پھر اپریل میں قیمت لگائی گئی۔ پھر یہ سوال اٹھایا گیا کہ کاغذات منسٹری کے پاس جائیں۔ ہم نے کہا کہ یہ کام تو فنانشل کمشنر صاحب خود کرسکتے ہیں۔ مگر کہا گیا کہ یہ کام چونکہ اہم ہے اس لیے کاغذات کا منسٹری کے پاس جانا ضروری ہے۔ کاغذات منسٹری کے پاس بھیجے گئے۔ منسٹری نے کہا ابھی ان پر غور کرنے کے لیے فرصت نہیں۔ آخر ایک لمبے انتظار کے بعد جون میں فیصلہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ جو قیمت ڈالی گئی وہ وصول کی گئی۔ یہ واقعات مَیں نے اس لیے بتائے ہیں کہ گورنمنٹ کے افسران نے ہمارے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی بلکہ ان میں سے بعض کی غفلت کی وجہ سے ہم سال بھر تک اُجڑے رہے۔ اب جگہ ملی ہے۔ صرف ایک کسر باقی ہے اگر وہ دور ہو گئی تو جلد آبادی کی کوشش کی جائے گی۔
    گزشتہ تلخ تجربوں کے بعد اِس نئی اراضی پر مکانات بنانے کے متعلق چند فیصلے کیے گئے ہیں۔
    (1)
    مکانوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہنے دیا جائے گا۔ قادیان میں لوگوں نے زمینیں خرید کر کے اسے خالی ہی پڑا رہنے دیا تھا اور مکانات وغیرہ نہیں بنائے تھے جس کی وجہ سے ہم پوری طرح حفاظت کا بندوبست نہ کر سکے۔ ہمیں جو نقصان پہنچا اُس کی تمام ذمہ داری انہی لوگوں پر تھی۔ یہ نقصان ان جگہوں کے پُر ہو جانے کی صورت میں نہیں ہو سکتا تھا۔ ہم نے آبادی کے اردگرد دیواریں بنانے کی کوشش کی مگر گورنمنٹ نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا اور کہا کہ تم سڑکوں کو روکتے ہو۔ چونکہ اس کی مرضی تھی کہ مسلمان یہاں سے نکل جائیں اس لیے اس نے چاہا کہ کسی قسم کی کوئی حفاظتی تدبیر نہ کی جائے۔ اس تلخ تجربے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی بھی زمین خریدے اور مکان بنائے مکانوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہو گا۔ اور جو مقررہ مدّت میں مکان نہیں بنا سکے گا اس کی زمین کسی اَور کو دے دی جائے گی جو جلدی مکان بنا سکے۔ اس طرح بستی قلعہ کی صورت میں بدلتی جائے گی۔ ہاں جس کی زمین ہو گی اُسے دوسری جگہ پر زمین دے دی جائے گی۔
    (2)
    زمین فروخت نہیں کی جائے گی بلکہ ٹھیکہ پر دی جائے گی اور اس کی اصل مالک صدر انجمن احمدیہ پاکستان ہی رہے گی۔
    (3)
    اس وقت زمین سو روپے فی کنال کے حساب سے دی جائے گی۔ پچاس روپے بطور ہدیہ مالکانہ اور پچاس روپے شہر کی ضروریات کے لیے۔
    (4)
    زمین نوے سال کے لیے ٹھیکہ پر دی جائے گی لیکن شرح کرایہ ہر تیس سال کے بعد بدلتی رہے گی جو کبھی پچاس فیصدی سے زیادہ نہ ہو گی۔
    (5)
    زمین پر قبضہ قائم رکھنے کے لیے ہر خریدار سے ایک چھوٹی سی رقم بطور کرایہ وصول کی جائے گی مثلاً ایک روپیہ فی کنال سالانہ اور دس مرلہ پر آٹھ آنے سالانہ۔ اور یہ کرایہ تین پیسے فی مرلہ ماہوار بنتا ہے۔ یہ گورنمنٹ کی نقل کی گئی ہے۔ گورنمنٹ بھی پہاڑوں پر زمین ٹھیکہ پر ہی دیتی ہے۔ میں نے بھی ڈلہوزی میںٹھیکہ پر زمین لے کر کوٹھیاں بنائی تھیں۔
    (6)
    کسی واحد شخص کو دکان بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دکانیں سلسلہ کی ملکیت ہوں گی۔ ٹھیکہ پر لی ہوئی زمین میں صرف رہائشی مکان بنانے کی اجازت ہو گی کیونکہ بہت سی آوارگی دکانوں کے ذریعہ ہی پھیلتی ہے۔ قادیان میں ہم دیکھتے تھے کہ آوارہ مزاج لوگ عموماً دکانوں پر بیٹھا کرتے تھے اور جب دکانداروں کو اُن کے منع کرنے کے لیے کہا جاتا تھا تو وہ مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تھے کیونکہ ان کی وجہ سے اُن کی بِکری زیادہ ہوتی تھی اور اِس طرح دکانیں آوارگی کا ایک اڈہ بن کر رہ جاتی تھیں۔ بہرحال اس نئے قصبہ میں دکانیں کسی شخصِ واحد کی ملکیت نہیں ہو گی۔
    (7)
    الفضل میں اعلان شائع ہونے کی تاریخ سے لے کر ایک مہینہ تک ہدیہ مالکانہ ایک سو روپیہ فی کنال لیا جائے گا۔ اس کے بعد ہر سال یہ رقم بڑھتی جائے گی۔( یہ میعاد پندرہ اکتوبر کو ختم ہوجائے گی۔اِس وقت تین سو تیس کنال اراضی کی درخواست آ چکی ہے)۔ روشنی، پانی، سڑکوں اور دیگر انتظامات کے لیے پانچ لاکھ روپے کے اخراجات کا اندازہ ہے۔ سکولوں، کالجوں پر بھی پانچ لاکھ کا اندازہ ہے۔ تو دس لاکھ کے قریب مزید خرچ ہو گا اور وہاں رہنے والوں نے ہی اُن سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اس لیے یہ اخراجات زمین کی قیمت سے ہی نکالے جائیں گے۔ صرف چار پانچ سو ایکڑ زمین شہر میں لگ سکے گی۔ باقی زمین ایسی نہیں کہ اس پر مکان بن سکیں۔ پس اس زمین میں سے یہ اخراجات نکالے جانے ضروری ہیں۔
    (8)
    دکانوں کی عام اجازت نہ ہو گی بلکہ ضرورت کے مطابق نائیوں، دھوبیوں، موچیوں وغیرہ کی دکانیں ہوں گی اور گنجائش کے مطابق دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
    (9)
    بڑے کارخانے کھولنے کی کسی شخصِ واحد کو اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ جو بھی کارخانے کھولے جائیں گے اُن میں سب شہریوں کا حصہ ہو گا۔
    (10)
    یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کچھ زمین ان لوگوں کو دی جائے گی جو غرباء تھے اور قادیان میں اُن کے مکانات تھے یہ جگہ مفت دی جائے گی۔
    (11)
    دکانات بنانے میں ایسا کام جس میں فنی مہارت کی ضرورت نہ ہو باہمی تعاون سے کیا جائے گا اور اپنے ہاتھوں سے کیا جائے گا۔
    (12)
    جو قواعد اس بارہ میں حکومت یا سلسلہ کی طرف سے جاری ہوں اُن کی پابندی زمین لینے والوں کے لیے ضروری ہو گی