1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 25

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 25


    1
    اپنے اندر صحابہؓ کے سے آداب
    اور قوّتِ ایمان پیدا کرو
    (فرمودہ 7 جنوری 4419ءبمقام لاہور)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہو گا جلسہ سالانہ کے معًا بعد جو مجھے یہاں آنا پڑا تو کچھ اس کی وجہ سے، کچھ رستہ کے گردو غبار کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ جلسہ کے کام کے نتیجہ میں میرا گلا پہلے ہی خراب ہو رہا تھا، یہاں آ کر مجھے کھانسی اور نزلہ کی شکایت ہو گئی اور کل سے تو نزلہ کی شکایت میں پھر تیزی پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے میں باہر نمازیں پڑھانے کے لیے بھی نہیں آسکا۔ اس وجہ سے اور اس وجہ سے بھی کہ میری ایک بیوی (مریم صدیقہ بیگم) کا آج گلے کا آپریشن ہوا ہے اور مجھے ان کاحال معلوم کرنے کے لیے جلدی جانا ہے مَیں مختصر خطبہ ہی پڑھا سکتا ہوں اور اس مجبوری کی وجہ سے نماز کے بعدبھی بغیر دوستوں سے مصافحہ کیے مجھے واپس جانا ہوگا۔ گویا20،25 منٹ یا آدھ گھنٹہ میں مَیں یہاں سے اِنْشَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰیروانہ ہو جاؤں گا۔ اس لیے جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں نہایت ہی مختصر الفاظ میں خطبہ کہہ سکتا ہوں اور چونکہ میری آواز دور نہیں جاسکتی اس لیے جب تک لاؤڈ سپیکر کام کرے گا اُسی وقت تک میں دوستوں تک اپنی آواز پہنچا سکوں گا۔
    سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے محض اپنے فضل و کرم سے ہماری جماعت کو تعداد کے لحاظ سے بہت بڑی زیادتی بخشی۔ ایک وہ وقت تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کی زندگی میں اگر جلسہ سالانہ پر اتنے آدمی جمع ہوتے جتنے اِس مسجد میں اِس وقت جمع ہیں تو اسے بہت بڑی کامیابی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اِس وقت کتنے آدمی مسجد میں جمع ہوں گے لیکن میرا خیال ہے پانچ چھ سو کے قریب ضرور ہوں گے اور اتنے ہی یعنی سات سو کے قریب آدمی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی زندگی کے آخری سال قادیان میں جلسہ سالانہ پر جمع ہوئے۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام اُس وقت بار بار فرماتے تھے کہ خدا نے ہمیں جس کام کے لیے دنیا میں بھیجا تھا وہ ہو گیا ہے اور اب اتنی بڑی جماعت پیدا ہو گئی اور اتنی کثرت سے لوگ ایمان لے آئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں ہمارا مقصد جو اِس دنیا میں آنے کا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔ اب کُجا وہ دن تھا کہ جلسہ سالانہ پر اس قدر اژدہام کو عظیم الشان اژدہام سمجھا جاتا تھا اور کُجا یہ وقت ہے کہ اب لاہور شہر میں ہی ہماری ایک جمعہ کی نماز میں اِس کے قریب قریب آدمی جمع ہوجاتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اُس کی تائید کا ایک عظیم الشان نشان ہے اور جن جماعتوں کے ساتھ اس کی نصرت ہوتی ہے وہ اسی طرح بڑھتی چلی جاتی اور دشمن کی نگاہوں میں کانٹوں کی طرح کھٹکنے لگ جاتی ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر پورا ہوئے بغیر نہیں رہتی اور باوجود دشمنوں کی حاسدانہ نگاہوں کے وہ اپنی جماعت کو بڑھاتا اور اُسے دنیا میں ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔
    اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ یہ چیز اپنی ذات میں ہمارے لیے بہت بڑی خوشی کا موجب ہے لیکن سب سے بڑی بات جس کا ہمیں ہر وقت فکر رکھنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ایمان اور اس کے اخلاق درست رہیں۔ ہمیں اپنی تعداد پر کبھی اس قدر اطمینان کا اظہار نہیں کرنا چاہیے جس قدر اس بات کا ہمیں فکر رکھنا چاہیے کہ ہماری جماعت کے اخلاق اور اس کی عادات میں کس حد تک ترقی ہو رہی ہے۔
    ابھی یہاں مسجد میں داخل ہونے سے پہلے مجھے ایک دوست ملے۔ مجھے اس وقت تک یہ معلوم نہیں تھا کہ لاؤڈ سپیکر کا مسجد میں انتظام کر لیا گیا ہے، مَیں نے ان سے کہا کہ قادیان میں جب مَیں جمعہ کا خطبہ پڑھ رہا ہوتا ہوں تو مجھے یہی احساس ہوتا ہے کہ مَیں جمعہ پڑھا رہا ہوں۔ لیکن لاہور میں جہاں کی جماعت قادیان کی جماعت کے مقابلہ میں پانچواں حصہ بھی نہیں، جب مَیں خطبہ پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کسی جلسہ میں تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوں۔ کیونکہ یہاں وہ سکون اور وہ خاموشی نہیں ہوتی جو قادیان میں جمعہ کے موقع پر سات آٹھ گنے زیادہ افراد پر طاری ہوتی ہے۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں جب جمعہ کے دن خطیب خطبہ کے لیے کھڑا ہو تو ہر شخص کو خاموش رہنا چاہیے اور کسی شخص کو بھی خطبہ کے وقت دوسرے سے گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔بلکہ آپ نے یہاں تک فرمایا کہ اگر کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ خطبہ میں بولنا منع ہے اور وہ بول پڑے تو دوسرا آدمی جو اسے منع کرنا چاہے اسے بھی یہ نہیں کہ وہ بول کر منع کرے بلکہ اگر بالکل ہی مجبوری ہو جائے تو وہ اشارہ سے دوسرے کو کلام کرنے سے منع کرے، زبان سے کوئی لفظ نہ نکالے۔1 پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تو یہاں تک حکم دیا ہے کہ خطبہ میں جو شخص شور مچا رہا ہواُسے بھی بول کر نہ روکا جائے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں بعض لوگ خطبہ میں باتیں کر لیتے اور بعض دفعہ بِلا وجہ ایک دوسرے کو اشارے کرتے ہیں۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شریعت کا ایک حکم توڑنے والے کو اشارہ سے منع کرنے کی اجازت دی ہے۔ مگر یہاں لوگ بعض دفعہ ہاتھ کے اشارے سے دوسرے کو اپنے پاس بلا لیتے ہیں اور بعض دفعہ ہاتھ کے اشارے سے کوئی اَور حرکت کر لیتے ہیں۔ مثلاً پانی منگوانا ہو تو ہاتھ کے اشارہ سے منگوا لیں گے۔ حالانکہ خطبہ کی حالت میں سوائے خطیب کے اور سوائے ایسی صورت کے جونا گزیر ہو اور جب ایسے خطرہ کی حالت ہو کہ بولنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہے، کسی کے لیے بولنا جائز ہی نہیں ہوتا۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجالس میں اس قدر خاموشی ہوتی تھی کہ صحابہؓ کہتے ہیں کہ کَاَنَّ عَلٰی رُؤُوْسِھِمُ الطُّیُوْرُ۔2 یوں معلوم ہوتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں بیٹھنے والے ہر شخص کے سر پر پرندہ بیٹھا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے سر ہلایا تو پرندہ اڑ جائے گا۔اگر کسی مجلس میں دس پندرہ آدمی بیٹھے ہوں اور ان میں سے ہر شخص کے سر پر پرندہ بیٹھا ہو اور ان میں یہ شرط طے پا جائے کہ ہمیں اس طرح سکون کے ساتھ بیٹھنا چاہیے کہ یہ پرندے ہمارے سروں پر سے اُڑیں نہیں تو جس خاموشی کے ساتھ وہ بیٹھ سکتے ہیں اُسی قسم کی خاموشی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں بیٹھنے والوں پر طاری ہؤا کرتی تھی۔ پرندہ انسان سے بہت بھاگتا ہے۔ پھر اگر پرندہ کسی انسان کے سر پر بیٹھا ہؤا ہو تو اس کی ادنیٰ سے ادنیٰ حرکت سے بھی اُڑ جائے گا مگر صحابہؓ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں بیٹھتے تو ایسے ساکت اور ایسے خاموش ہوتے کہ اگر پرندے بھی ان کے سروں پر اُس وقت بیٹھے ہوتے تو انہیں یہ پتہ نہ چلتا کہ وہ درختوں پر بیٹھے ہیں یا آدمیوں کے سروں پر بیٹھے ہیں۔ صحابہؓ کی یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ کَاَنَّ عَلٰی رُؤُوْسِھِمُ الطُّیُوْرُ یعنی وہ قطعی طور پر خاموش رہتے تھے اور کوئی ایسی حرکت نہیں کرتے تھے جو اس مجلس کے آداب کے خلاف ہو۔ پس ہمیں بھی اپنے اندر وہ آداب پیدا کرنے چاہییں جو صحابہؓ کے اندر پائے جاتے تھے اور وہی قوتِ ایمان ہمیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے جو صحابہؓ کے اندر پائی جاتی تھی۔جب تک ہم ان آداب کو اختیار نہیں کرتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ میں پائے جاتے تھے اُس وقت تک ہم ان فتوحات کی قطعی طور پر امید نہیں کرسکتے جو ہمارے لیے مقدر ہیں اور نہ ان فتوحات کی امید کرسکتے ہیں جو اسلام کو حاصل ہونے والی ہیں۔کیونکہ ان فتوحات کا ہمارے ساتھ تعلق ہے اور ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنے نفوس کو ان فتوحات کا اہل ثابت کریں۔ اگر ہم اپنے نفوس میں کوئی تغیر پیدا نہیں کرتے، اگر ہم وہ آداب اختیار نہیں کرتے جو صحابہؓ نے اختیار کیے، اگر ہم اُس طریقِ عمل پر نہیں چلتے جس طریقِ عمل پر صحابہؓ چلے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان فتوحات سے محروم رکھ رہے ہیں جو فتوحات ہمارے ذریعے سے اسلام اور احمدیت کو حاصل ہونے والی ہیں۔کسی جماعت کی طاقت اور قوت کا صحیح معیار یہ ہوا کرتا ہے کہ اس جماعت کے امام کو یہ معلوم ہو کہ میرے احکام کی کس حدتک پابندی کی جائے گی اور درحقیقت وہی امام دنیا میں لڑائی لڑ سکتا ہے جو جانتا ہو کہ میں نے جو بھی حکم دیا لوگ اس کی اطاعت کریں گے۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں اَلْاِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِہٖ3 کہ امام ایک ڈھال کی طرح ہوتا ہے جس کے پیچھے ہو کر لڑائی لڑی جاتی ہے۔ جب وہ ڈھال آگے کرتا ہے تو جماعت بھی آگے ہو جاتی ہے اور جب پیچھے کرتا ہے تو جماعت بھی پیچھے ہو جاتی ہے۔ جب تک یہ بات کسی جماعت میں پیدا نہ ہو اور جب تک امام کو یہ معلوم نہ ہو کہ لوگوں کے اندر اطاعت اور فرمانبرداری کی ایسی روح پائی جاتی ہے کہ اگر میں کہوں گا بیٹھ جاؤ تو سب بیٹھ جائیں گے، اگر کہوں گا کھڑے ہو جاؤ تو سب کھڑے ہو جائیں گے، اگر کہوں گا لیٹ جاؤ تو سب لیٹ جائیں گے اُس وقت تک وہ کبھی دلیری سے دشمن پر حملہ نہیں کرسکتا۔
    مشہور ہے کہ کوئی شخص کسی کے گھر مہمان آیا۔ اس نے اپنے نوکر کو ہر قسم کے ضروری آداب سکھائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ بروقت اور نہایت عمدگی سے کام کرنے کا عادی تھا۔ اتفاقاً مہمان کے سامنے میزبان کو کسی چیز کی ضرورت پیش آ گئی۔ مثلاً دہی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس نے اپنے نوکر کو دہی لینے کے لیے بازار بھیج دیا اور اس دوست سے کہا، میرا نوکر بہت مؤدب اور فرض شناس ہے جو کام بھی اسے کرنے کے لیے کہا جائے وہ ٹھیک وقت کے اندر اسے سرانجام دیتا ہے۔ چنانچہ کہنے لگا دیکھ لیجیے میں نے اسے دہی لینے کے لیے بازار بھیجا ہے اور دکان تک دو منٹ کا راستہ ہے اب چونکہ ایک منٹ گزر چکا ہے اس لیے مجھے یقین ہےکہ وہ فلاں جگہ تک پہنچ گیا ہو گا۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا اب مجھے یقین ہے کہ وہ دکان تک پہنچ گیا ہوگا۔ پھر منٹ دو منٹ انتظار کرنے کے بعد جو سودا خریدنے پر صَرف ہوسکتے تھے وہ کہنے لگا اب مجھے یقین ہے کہ وہ دہی لے کر وہاں سے چل پڑا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا اب وہ فلاں نکڑ تک پہنچ گیا ہے۔ کچھ اَور دیر گزری تو کہنے لگا اب مجھے یقین ہے کہ اب وہ ڈیوڑھی میں آچکا ہے۔ چنانچہ اُس نے آواز دی کہ کیوں میاں! دہی لے آئے؟ نوکر کہنے لگا حضور! حاضر ہے۔ یہ نمونہ ایسا اعلیٰ تھا کہ اسے دیکھ کر ہر شخص کی طبیعت خوشی محسوس کرتی تھی۔ چنانچہ مہمان بھی بہت خوش ہؤا اوراس نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ مَیں بھی اپنے نوکر کی ایسی ہی تربیت کروں گا مگر وہ مہمان خود اُجڈ اور جاہل تھا۔اس نے اپنے نوکر کو تہذیب و شائستگی کے اصول کیا سکھانے تھے اس کے اپنے کاموں میں بھی کوئی باقاعدگی نہ پائی جاتی تھی مگر اس کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے کہا اب میں بھی اپنے نوکر کو ایسی ہی تہذیب سکھاؤں گا۔ چنانچہ اس نے واپس جاکر اپنے نوکر کو سکھانا شروع کر دیا مگر وہ اُجڈ، اَن پڑھ اور جاہل تھا۔اُس پر اِن سبقوں کا کیا اثر ہوسکتا تھا۔ پانچ چھ ماہ گزر گئے تو اس نے اپنے شہری دوست کی دعوت کی اور اسے کہا کہ گاؤں کی آب و ہوا بہت اچھی ہوتی ہےآپ میرے ہاں تشریف لائیں۔ چنانچہ وہ اس دعوت پر اس کے گاؤں میں گیا۔ جب دسترخوان بچھا تو اس نے بھی اس کی نقل کرنی شروع کردی۔زمینداروں کے گھروں میں عام طور پر دہی ہوتا ہے مگر اس نے چونکہ اپنے دوست کو یہ بتانا تھا کہ میرا نوکر بھی بڑا ہوشیار اور فرض شناس ہے اس لیے اسے آواز دے کر کہنے لگا میاں! ذرا جانا اور فلاں دکاندار کے ہاں سے دہی تو لے آنا۔پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا میرا نوکر بھی بڑا ہوشیار اور مؤدب ہے اب وہ فلاں جگہ پہنچ چکا ہوگا۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا مجھے یقین ہے کہ اب وہ دکان تک پہنچ چکا ہوگا۔پھر کہنے لگا اب وہ دہی لے رہا ہوگا۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا اب وہ دہی لے کر وہاں سے ضرور چل پڑا ہے۔ ایک منٹ کے بعد کہنے لگااب وہ فلاں جگہ پہنچ چکا ہوگا۔ پھر کچھ وقت گزرا تو کہنے لگا کہ اب مجھے یقین ہے کہ وہ دہی لے کر ڈیوڑھی میں پہنچ چکا ہے۔ چنانچہ اسے آواز دے کر کہنے لگا کیوں میاں! دہی لے آئے؟ نوکر کہنے لگا "تُسیں اینے کاہلے کیوں پے گئے ہو! مَیں جُتّی تے لب لواں۔ فیر دہی بھی لے آواں گا"۔یعنی آپ اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں! مَیں جوتی تو تلاش کرلوں پھر دہی بھی لے آؤں گا۔
    اب بتاؤ! ایسے انسان جس کے تحت ہوں اُس نے دشمن سے کیا مقابلہ کرنا ہے۔ مقابلہ کی جرأت تو وہی کرتا ہے جو دل میں یہ یقین اور وثوق رکھتا ہو کہ میرے ہر حکم کی لوگ اطاعت کریں گے اور جانتا ہو کہ جب بھی مَیں کوئی حکم دوں گا وہ نتائج اور عواقب کی پروا کیے بغیر اس کی تعمیل پر کمر بستہ ہو جائیں گے۔ اگر مَیں کہوں گا اٹھو! تو وہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔اگر کہوں گا بیٹھو! تو وہ بیٹھ جائیں گے۔ اگر کہوں گا آگے بڑھو! تو وہ آگے بڑھیں گے۔ اور اگر کہوں گا پیچھے ہٹو! تو وہ پیچھے ہٹ جائیں گے۔ مگر آجکل ہمارے زمانہ میں بالخصوص ہندوستانیوں کی یہ ذہنیت ہے کہ اگر وہ فوج میں باقاعدہ کام نہ کرتے ہوں، انہیں ملازمت سے برطرف کیے جانے یا تنخواہ کے بند ہو جانے کا ڈر نہ ہو اور وہ اسی طرح رضا کارانہ رنگ میں کام کر رہے ہوں جس طرح ہماری جماعت کام کر رہی ہے تو اگر ان کا امام یا لیڈر انہیں یہ کہے کہ چلو! دشمن پر حملہ کرو اور وہ بڑی امیدوں اور بہت بڑی امنگوں کے بعد ایسا حکم دے تو ان میں سے کوئی شخص یہ کہنے لگ جائے گا کہ حملہ کے لیے اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے مَیں اپنے کپڑے تو گھر سے لے آؤں۔ کوئی کہے گا مَیں اپنا مال تو کسی محفوظ جگہ میں رکھ لوں۔ کوئی کہے گامَیں اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کا سامان تو کرلوں۔غرض کوئی کچھ بہانہ بنانے لگ جائے گا اور کوئی کچھ۔ ان چیزوں کے ہوتے ہوئے صرف ظاہری سامانوں کے ساتھ کسی جماعت کا اپنی کامیابی کی امید رکھنا بالکل غلط ہوتا ہے۔ کامیابی اُسی جماعت کو حاصل ہوتی ہے جسے جن الفاظ میں حکم دیا جائے وہ ان الفاظ کی اتباع کرے اور ایک لمحہ کے لیے بھی اطاعت سے انحراف نہ کرے۔ مثلاً مجھے یہاں آتے ہی مقامی امیر صاحب نے بتایا کہ دوستوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ مصافحہ نہ کریں۔ مَیں نے کہا یہ تو آپ نے ٹھیک کیا کہ ایسا اعلان کردیا کیونکہ مَیں نے جلدی واپس جانا ہے لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ لوگ اس امر کی کہاں تک تعمیل کرتے ہیں۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ ایسے مواقع پر جب یہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ کوئی شخص مصافحہ نہ کرے تو پھر بھی کوئی نہ کوئی شخص آگے بڑھ کر مصافحہ کر لیتا ہے اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ مصافحہ کرنا تو منع تھا تم نے مصافحہ کیوں کیا؟ تو وہ شور مچانے لگ جاتا ہے کہ کوئی شخص مصافحہ نہ کرے۔ حالانکہ وہ خود مصافحہ کر چکا ہوتا ہے۔ پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو چودھری سمجھ لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اِس قسم کے حکم کی فرمانبرداری دوسروں پر فرض ہے ان پر نہیں۔حالانکہ جو شخص اپنے آپ کو قوم میں سے اعلیٰ فرد سمجھتا ہے، جو خیال کرتا ہے کہ مَیں دوسروں سے زیادہ مقرب ہوں یا جماعت کا افسر اور اس کا عہدہ دار ہوں اسے اطاعت اور فرمانبرداری کا بھی دوسروں سے اعلیٰ نمونہ دکھانا چاہیے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھ لیتا ہے۔اول تو ایسے موقع پر جب خلیفہ یا کوئی اَور افسر آرہا ہو اسے اطلاع دینی چاہیے کہ ہم نے ایسا قانون بنا دیا ہے تاکہ اسے بھی معلوم ہو کہ کس قانون کا اعلان کیا گیا ہے اور وہ معلوم کرسکے کہ لوگ اس قانون کا کس حد تک احترام کرتے ہیں۔ پھر میرے نزدیک ایسے حالات میں مقدم امر یہ ہوتا ہے کہ امیر یا پریذیڈنٹ یا کوئی اَور عہدیدار خود بھی مصافحہ نہ کرے تاکہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ بنے اور اگر اُس نے اپنے آپ کو مستثنیٰ ہی رکھنا ہو تو اس کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کردے کہ مَیں فلاں فلاں وجوہ سے اس حکم سے مستثنیٰ رہوں گا۔اس کے بعد وہ بے شک مستثنیٰ سمجھا جائے گا۔ مگر اس اعلان کے بغیر اگر وہ اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھ لے تو اس کا دوسروں پر اچھا اثر نہیں پڑسکتا اور میرے نزدیک بعض حالات یقیناًً ایسے پیدا ہوسکتے ہیں جب اس قسم کے حکم سے بعض لوگوں کو مستثنیٰ کرنا ضروری ہو۔ مثلاً استقبال ہے۔ اگر ساری جماعت استقبال کے لیے کھڑی ہے اور خلیفۂ وقت یا امیر یا جماعت کا کوئی افسر آرہا ہے تو ایسے موقع پر کوئی نہ کوئی ایسے لوگ ضرور مقرر کرنے پڑیں گے جو دوسروں سے آگے بڑھ کر استقبال کا فرض ادا کریں۔یہ نہیں ہوگا کہ سب قطاروں میں کھڑے رہیں اور کوئی شخص بھی استقبال کے لیے آگے نہ بڑھے۔ لیکن بہرحال ایسے موقع پر پہلے سے یہ اعلان کردینا چاہیے کہ اس ضرورت کے ماتحت فلاں فلاں دوست مستثنیٰ ہوں گے۔ تاکہ لوگوں پر یہ اثر نہ ہو کہ آپ ہی ایک حکم دیا جاتا ہے اور آپ ہی اس کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ یہ ایک غلط خیال ہے جو بعض افسروں کے اندر پایا جاتا ہے اور بعض ماتحت بھی سمجھتے ہیں کہ افسر اپنے حکم کا خود پابند نہیں ہوتا۔ حالانکہ اُس حکم کا وہ ایسا ہی پابند ہوتا ہے جیسے دوسرے لوگ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتا ہے تو لوگوں سے کہہ دے اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔4 یعنی جب مَیں کوئی بات کہتا ہوں تو سب سے پہلے اس بات کا مخاطب میرا نفس ہوتا ہے اور مَیں اپنے آپ کو اس پر عمل کرنے والا قرار دیتا ہوں۔ لیکن پھر بھی اگر کسی وجہ سے مقامی امیر یا کوئی افسر اپنے آپ کو مستثنیٰ کرنا چاہے تو اُسے یہ اعلان کردینا چاہیے کہ اس حکم کا اطلاق مجھ پر نہیں ہوگا۔ تاکہ جماعت میں اگر بعض ایسے کمزور طبع لوگ موجود ہوں جنہیں دھوکا لگ سکتا ہو تو اس قسم کے اعلان کی وجہ سے وہ دھوکا نہ کھائیں اور ٹھوکر سے محفوظ رہیں۔
    غرض جماعتی ترقی کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا مادہ پایا جاتا ہو۔اگر امام کو یہ یقین ہو اور وہ کامل وثوق سے کہہ سکتا ہو کہ لوگ میرے ہر حکم کی اطاعت کریں گے تو مَیں سمجھتا ہوں جتنا کام وہ پہلے کرتا ہو اس سے کئی گنا زیادہ کام وہ کرسکتا ہے۔مثلاً مجھے اپنی جماعت کے بارہ میں بہت سی باتوں کے متعلق یہ یقین اور وثوق ہے کہ اُن امور میں جماعت میری فرمانبرداری کرے گی۔ مگر جن باتوں کے متعلق میرا تجربہ نہیں اُن میں ہمیشہ مجھے شبہ ہی رہتا ہے کہ نہ معلوم جماعت کے افراد اُن باتوں میں بھی اطاعت کا کامل نمونہ دکھائیں گے یا نہیں۔اگر مجھے یقین ہو کہ ان باتوں میں بھی جماعت اُسی ایمان اور اُسی اِخلاص اور اُسی اطاعت کا نمونہ دکھائے گی جس ایمان، اخلاص اور اطاعت کا نمونہ وہ دوسری باتوں میں دکھا چکی ہے تو میرا کام پہلے سے کئی گنا بڑھ جائے۔ مگر اب ہر قدم کے اٹھاتے وقت مجھے دیکھنا پڑتا ہے کہ جماعت کے کمزور طبقہ کو مَیں اپنے ساتھ چلا سکتا ہوں یا نہیں۔بے شک الٰہی جماعتوں پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے، جب اس بات کی پروا نہیں کی جاتی کہ کمزور پیچھے رہ گئے ہیں۔ مگر بہرحال جب تک وہ وقت نہیں آتا کمزور طبع کا خیال رکھنا ہی پڑتا ہے۔
    غزوہ تبوک کے موقع پر کئی لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آتے اور آپ سے جنگ پر نہ جانے کی اجازت حاصل کرتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ان کی کمزوری ٔ ایمان کو دیکھتے ہوئے انہیں اجازت دے دیتے۔ وہ بظاہر تو مومن تھے مگر ان کے دل میں نفاق تھا اور اس وجہ سے جنگ پر جانے سے ان کا دل لرزتا تھا۔ کوئی آتا اور کہتا میری بیوی بیمار ہے، کوئی کہتا اگر مَیں گیا تو میری فصل کو نقصان ہوگا، کوئی کہتا میرے بغیر گھر کی حفاظت کا کوئی ذریعہ نہیں، کوئی کہتا اگر میں جنگ پر چلا گیا تو میرا مال سب برباد ہوجائے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس خیال سے کہ یہ کمزور طبقہ جماعت کے ساتھ شامل رہے انہیں اجازتیں دینی شروع کردیں۔چنانچہ جس نے بھی آپ سے پوچھا آپ نے فرمایا بہت اچھا تم رہ جاؤ۔ مگر جب آپ جنگ سے واپس تشریف لائے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً فرمایا کہ تمہیں یہ حق حاصل نہیں تھا کہ تم ان کو جنگ سے پیچھے رہنے کی اجازت دے دیتے۔ اب خدا نے فیصلہ کردیا ہے کہ جو لوگ کمزور ہیں انہیں پیچھے کردیا جائے اور جماعت کو ترقی کے میدان میں بڑھا دیا جائے۔ 5 پس بے شک پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کمزوروں کو جماعت کے طاقتور حصہ کے ساتھ شامل رکھتے مگر پھر الٰہی حکم کے ماتحت آپ نے ان کو پیچھے کردیا۔ چنانچہ اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے منافقوں کو ننگا کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ وہ اکثر لوگوں کو نظر آنے لگ گئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پھر بھی حیا سے کام لیا اور صرف چند صحابہؓ کو ان منافقین کے نام بتائے مگر بہرحال آپ نے ان کو بے نقاب کردیا۔ حضرت حذیفہؓ کو اس بات کا بڑا شوق رہتا تھا کہ وہ منافقوں کے نام معلوم کریں۔چنانچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑے رہتے اور کہتے یارسول اللہ! مجھے ان کے نام ضرور بتا دیجیے۔ میں ڈرتا ہوں کہ میں کسی منافق کے پیچھے نماز نہ پڑھ لوں یا غلطی سے کسی منافق کا جنازہ نہ پڑھ لوں اور آپ انہیں بتا دیتے۔6 مگر فرماتے دیکھو! حیا سے کام لینا اور ان کو بدنام نہیں کرنا۔ چنانچہ صحابہؓ کہتے ہیں ہم جب حضرت حذیفہؓ سے پوچھتے کہ کون کون منافق ہے؟ تو وہ ان کے نام نہ بتاتے۔لیکن ہم اگر دیکھتے کہ حضرت حذیفہؓؓ کو کسی مسلمان کا جنازہ پڑھنے کا موقع تو ملا مگر انہوں نے اُس کا جنازہ نہیں پڑھا تو ہم بھی اُس کا جنازہ نہ پڑھتے اور سمجھ لیتے کہ وہ ضرور منافق ہوگا۔اِسی طرح اگر حذیفہؓ کسی شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے گریز کرتے تو ہم بھی اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے اور سمجھ لیتے تھے کہ وہ منافق ہے۔ تو ایک وقت ایسا آیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گو منافقوں کا نام لے کر اُن کی تشہیر نہیں فرمائی مگر عملی طور پر آپ اُن کو پیچھے چھوڑ گئے اور وہ تمام جماعت سے الگ نظر آنے لگ گئے۔اسی طرح ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ موجود ہیں جن کے متعلق یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر اسلام اور احمدیت کے لیے جان اور مال کُلّی طور پر قربان کردینے کا مطالبہ کیا گیا تو وہ اپنی جان، اپنے مال، اپنے بیوی بچوں اور اپنے وطن کو قربان کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور اسلام اور احمدیت کے منشاء کے مطابق کام کریں گے یا نہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سےگزشتہ تجربہ کی بناء پر میں امید کرتا ہوں کہ جب بھی اسلام اور احمدیت کی طرف سے انتہائی قربانی کا مطالبہ کیا گیا اکثر احمدی لبّیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور اپنی جانوں، اور اپنے اموال کو قربان کردیں گے۔ لیکن پھر بھی اِس بات کا یقین نہیں آتا کہ اگر وہ دن آگیا اور اگر الٰہی مشیّت نے کسی دن یہ فیصلہ کردیا کہ اب سب لوگ آگے بڑھیں اور اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو قربان کردیں تو جماعت میں سے کتنے لوگ اس کی اطاعت کرنے والے ہوں گے اور کتنے لوگ یہ کہنے والے ہوں گے کہاِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ۔7 مگر بہرحال ہر مومن کو اپنے دل میں اس مقصدِ عظیم کے لیے تیار ہونا چاہیے اور ابھی سے اس آنے والے دن کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔
    غفلت کا سب سے بڑا نقص یہ ہوتا ہے کہ انسان یہ سمجھتا ہے میرے ساتھ یہ معاملہ پیش نہیں آسکتا یا میرے ساتھ وہ معاملہ پیش نہیں آسکتا۔ مثلاً اس زمانہ میں ہمیں یہ یقین ہے کہ تلوار کے جہاد کا کوئی موقع نہیں آئے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت یہ اعلان کیا ہے کہ اس زمانہ میں تلوار کے جہاد کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے ماتحت ملتوی کردیا ہے۔8 مگر اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ تلوار کے جہاد کا التواء کتنی دیر تک ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام پر ایمان لانے والی پہلی جماعت ہم ہیں اور اس وجہ سے تلوار کے جہاد کا وقت ہم پر نہیں آسکتا۔ لیکن پھر بھی ہمارے دلوں میں یہ ایمان ہونا چاہیے کہ گو خدا تعالیٰ ہمیں تلوار کے جہاد کے لیے کھڑا نہیں کرے گا لیکن اگر اس کی مشیّت تلوار کے جہاد کا فیصلہ کردے تو موقع آنے پر ہم اس جہاد کے لیے تیار ہوں گے اور اپنی جانیں احمدیت کے لیے قربان کردیں گے۔ جب تک ہم اُس قربانی کے لیے اپنے آپ کو تیار نہیں کرتے بلکہ جب تک ہم ہر اس قربانی کے لیے اپنے آپ کو تیار نہیں کرتے جو پہلے انبیاء کی جماعتوں کو کرنی پڑی اور اپنے نفوس کو اس بات پر آمادہ نہیں کرتے کہ جب بھی اور جس قسم کی قربانی کا بھی موقع آیا ہم اپنے آپ کو پیش کردیں گے اُس وقت تک ہم کبھی بھی اپنے ایمان کی پختگی پر یقین نہیں رکھ سکتے۔ اور ہم کبھی بھی اطمینان کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم پر وہ دن نہیں آسکتا کہ ہم رات کو ایمان کے ساتھ سوئیں اور صبح کافر اٹھیں یا صبح مومن ہوں اور شام کو کافر ہوں۔وہ شخص جس کے دل میں پختہ ایمان نہ ہو اور جو ہر وقت اپنے آپ کو ان قربانیوں کے لیے تیار نہ کرتا رہے وہ وقت آنے پر یقیناً اگر رات کو مومن ہونے کی حالت میں سوئے گا تو صبح کافر اٹھے گا یا صبح مومن ہوگا تو شام کو کافر ہوگا۔
    پس ہمیں جہاں اپنی جماعت کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے وہاں ہر جماعت کے امیر اور پریذیڈنٹ کو چاہیے کہ وہ جماعت کی اخلاقی نگرانی کی طرف بھی توجہ کریں۔ ہر شخص جو اپنے ادنیٰ سے ادنیٰ بھائی یا ہمسایہ یا کسی مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والے فرد کے مال میں معمولی سے معمولی خیانت بھی کرتا ہے اس کے متعلق تم کبھی یہ خیال نہ کرو کہ وہ خدا کے مال میں خیانت نہیں کرے گا۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ کسی ہندو یا سکھ یا عیسائی یا ایک دہریہ سے معاملہ کرتے وقت دیانت کی ضرورت نہیں تو اس کے متعلق تمہیں یہ کبھی گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ مسلمان سے معاملہ کرتے وقت دیانت داری سے کام لے گا۔ جو شخص بددیانت ہے وہ ہمیشہ بددیانتی کرے گا خواہ وہ ایک مسلمان سےمعاملہ کر رہا ہو یا ایک ہندو، سکھ اور عیسائی سے معاملہ کررہا ہو۔ یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ مسلمان کے مال میں بددیانتی نہیں کرتا صرف ہندو یا سکھ یا عیسائی یا دہریہ کے مال میں بددیانتی کرتا ہے۔ کیونکہ بددیانتی ایسے شخص کی فطرت میں داخل ہوجاتی ہے اور فطرت ایسی چیز ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔ اگر کسی اونچی جگہ پر قرآن رکھا ہؤا ہو اور اسے ایک مسلمان اور ایک سکھ اٹھانے لگیں اور فرض کرو کہ سکھ لمبے قد کا ہو اور مسلمان چھوٹے قد کا تو یہ نہیں ہوگا کہ چھوٹے قد کے مسلمان کا ہاتھ تو قرآن تک پہنچ جائے اور لمبے قد کے سکھ کا ہاتھ وہاں نہ پہنچے۔ اگر قرآن اونچی جگہ پر ہے تو یقیناً لمبے سکھ کا ہاتھ وہاں تک پہنچ جائے گا لیکن چھوٹے قد کے مسلمان کا ہاتھ وہاں نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح اگر سمندر کی تہہ میں کوئی چیز جا پڑی ہے تو ایک مسلمان متقی خدا تعالیٰ کی خشیت اور اس کی محبت رکھنے والا اگر تیرنا نہیں جانتا تو وہ اس چیز کو نہیں نکال سکے گا۔ لیکن ایک ہندو، سکھ، عیسائی بلکہ دہریہ جو مذہب سے بکلی آزاد ہوتا ہے، وہ اگر تیرنا جانتا ہوگا تو وہ اسے نکال لے گا۔ پس فطرت کبھی نہیں بدلتی۔اِسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر کوئی شخص تمہارے پاس آکر یہ کہے کہ اُحد پہاڑ اپنی جگہ سے بدل گیا ہے تو تم اس کی بات کو مان لو لیکن اگر کوئی شخص تمہیں یہ کہتا سنائی دے کہ فلاں شخص کی فطرت بدل گئی ہے تو تم اسے کبھی تسلیم نہ کرو۔ تو جو شخص بددیانت ہے وہ ہر جگہ بددیانتی کرے گا۔ چاہے وہ ہندو سے معاملہ کررہا ہو یا سکھ سے معاملہ کررہا ہو یا عیسائی سے معاملہ کررہا ہو یا ایک مسلمان سے معاملہ کررہا ہو۔ جو شخص جھوٹ بولنے کا عادی ہے اس کے متعلق یہ یقین کر لینا کہ وہ ایک سکھ سے تو جھوٹ بولے گا، ایک ہندو سے تو جھوٹ بولے گا، ایک عیسائی سے تو جھوٹ بولے گا، ایک دہریہ سے تو جھوٹ بولے گا، ایک مسلمان سے جھوٹ نہیں بولے گا صریح غلط ہے۔ وہ جب بھی جھوٹ بولے گا یہ نہیں دیکھے گا کہ جس کے سامنے وہ جھوٹ کہہ رہا ہے وہ ایک مسلمان ہے یا ہندو، سکھ اور عیسائی ہے۔
    ہماری جماعت میں ایک شخص ہؤا کرتا تھا مَیں نے بعض دفعہ اس کا نام بھی لیا ہے مگر اب میں اس کا نام نہیں لوں گا کیونکہ میں اُس کا ایک نقص بیان کرنے لگا ہوں۔ وہ شخص بعد میں شاید پیغامی ہو گیا تھا اور اب تو مر بھی چکا ہے۔ وہ ایک دفعہ میرے ساتھ ایک ایسی جگہ گیا جہاں احمدیت کی تبلیغ نہیں پہنچی تھی۔ اُس کو جھوٹ بولنے کی بہت عادت تھی اور ہم ہمیشہ اُسے کہا کرتے تھے کہ بندۂ خدا تم کبھی تو سچائی سے کام لیا کرو ہمیشہ جھوٹ ہی بولتے ہو۔ ایک دفعہ وہ کسی شخص کو تبلیغ کرنے لگا اور احمدیت کی صداقت ثابت کرنے کے لیے اس نے لیکھرام والی پیشگوئی بیان کرنی شروع کردی۔ مگر اس نے بیان اس طرح کیا کہ لیکھرام ایک شخص تھا۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق سخت بدزبانی کیا کرتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے اس کے متعلق پیشگوئی کی کہ وہ فلاں دن، فلاں تاریخ، فلاں سال اور فلاں وقت قتل کردیا جائے گا۔یعنی جن امور کو ہم استدلال کے طور پر بیان کرتے ہیں اُن کو اُس نے اِس رنگ میں بیان کرنا شروع کردیا کہ گویا انہی لفظوں میں پیشگوئی کی گئی تھی۔ پھر کہنے لگا چونکہ پیشگوئی اتنی واضح تھی اور اس میں لیکھرام کے قتل ہونے کا سال، اس کی تاریخ، اس کا دن بلکہ وقت تک بتا دیا گیا تھا اس لیے جب وہ دن آیا لاہور کی پولیس اس کے مکان کے اندر اور باہر بیٹھ گئی اور چاروں طرف پہرہ دار مقرر کر دیئے گئے تاکہ کوئی شخص قتل کے ارادہ سے اندر داخل نہ ہوسکے۔ میں اُس وقت کوئی کتاب پڑھ رہا تھا وہ یہ باتیں کرتا رہا اور میں سنتا رہا،سنتا رہا۔ آخر کہنے لگا جب مقررہ وقت آ پہنچا تو لیکھرام ایک کمرہ کے اندر بیٹھ گیا اور اُس کمرہ کو باہر سے تالا لگا دیا گیا، سیڑھیوں پر اور مکان کے اندر باہر سب جگہ پولیس بیٹھ گئی اور اپنی طرف سے تمام کوششیں اِس غرض کے لیے کر لی گئیں کہ کوئی شخص اسے قتل نہ کرسکے۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد جب لوگوں نے دروازہ کھولا تو وہ اندر زخمی پڑا تھا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کون شخص زخمی کرگیا ہے؟ تو وہ کہنے لگا میں اندر بیٹھا تھا کہ یکدم چھت پھٹی اور اس میں سے ایک فرشتہ نے اندر داخل ہو کر مجھے خنجر سے زخمی کردیا۔ وہ جب یہاں تک پہنچا تو مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اور میں نے اسے کہا کیا اِس قسم کی کذب بیانی پر تمہیں شرم محسوس نہیں ہوتی؟ یہ کونسی پیشگوئی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے کی اور کب اِس رنگ میں پوری ہوئی۔ اِس پر پہلے تو اُس نے بہانہ بنایا کہ میں نے ایسا ہی پڑھا تھا۔ میں نے کہا یہ تمہارا دوسرا جھوٹ ہے۔ احمدیوں کی کسی کتاب میں، یہاں تک کہ ان رطب ویابس سے بھری ہوئی تحریروں میں بھی جن میں بعض دفعہ ٹوٹی پھوٹی پنجابی کے اشعار درج ہوتے ہیں لیکھرام والی پیشگوئی کو اِس رنگ میں بیان نہیں کیا گیا جس رنگ میں تم نے بیان کیا ہے۔آخر کہنے لگا میں نے سمجھا تھا کہ دوسرے کے دل میں ایمان پیدا کرنے کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔ میں نے کہا خدا اور اس کا سلسلہ تمہارے جھوٹ کا محتاج نہیں۔ اگر تم جھوٹ بول کر سلسلہ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرتے ہو تو چاہے تم دوسرے کے اندر ایمان پیدا کرنے کے لیے ہی ایسا کیوں نہ کرو، یہ ایک شدید ترین گناہ ہے اور اس کا ارتکاب تمہیں مجرم بنانے والا ہے۔
    تو بعض دفعہ انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ فلاں موقع پر جھوٹ بولنا جائز ہے یا فلاں شخص سے بددیانتی، بددیانتی نہیں کہلاسکتی۔ مگر یہ اس کے نفس کا دھوکا ہوتا ہے۔جسے جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے وہ ہر شخص سے جھوٹ بولتا ہے چاہے وہ مسلمان ہو، ہندو ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو۔ اور جو شخص سچ بولنے کا عادی ہے وہ مسلمان سے بھی سچ بولے گا، وہ ہندو سے بھی سچ بولے گا، وہ سکھ سے بھی سچ بولے گا، وہ عیسائی سے بھی سچ بولے گا۔ اسی طرح جس شخص کے اندر دیانت پائی جاتی ہے وہ ہر شخص سے دیانتداری کا معاملہ کرے گا چاہے وہ اس کی قوم کا فرد ہو یا کسی اَور قوم کا۔ اور جس شخص کے اندر بددیانتی پائی جاتی ہے وہ ہر شخص سے بددیانتی کرے گا چاہے وہ اس کے مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو یا تعلق نہ رکھنے والا ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام فرمایا کرتے تھے ایک دفعہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی چوری ہو گئی۔ ان کا ایک غلام گھبرا کر اِدھر اُدھر دوڑتا پھرتا اور کہتا خدا *** کرے اُس شخص پر جس نے چوری کی۔ ارے چوری اور پھر ابوبکر کی چوری۔شام کو وہی زیور جو چرایا گیا تھا ایک یہودی کے پاس سے ملا اور اُس نے بیان کیا کہ میرے پا س یہی غلام فروخت کرنے کے لیے لایا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہؤا تو آپ نے فرمایا اگر یہ چوری کرنے والے پر *** نہ کرتا تو شاید بچ جاتا۔ مگر اس نے تو *** ڈال کر اپنے آپ کو خود ننگا کر لیا۔ تو یہ کہنا کہ یہ مسلمان کی چوری نہیں ہندو کی چوری ہے،یا مسلمان سے جھوٹ نہیں بولا گیا سکھ سے جھوٹ بولا گیا ہے،یا مسلمان سے یہ بددیانتی نہیں کی گئی ایک عیسائی سے بددیانتی کی گئی ہے بالکل لغو اور فضول بات ہے۔
    مومن کے اخلاق تو ایسے ہونے چاہییں کہ جن لوگوں سے وہ معاملہ کررہا ہو انہیں وہ خواہ جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، سب کے ساتھ اس کا حسن سلوک یکساں ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن وہ ہے جو ہر ملنے والے کو سلام کرتا ہے۔ چاہے وہ اسے جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔9 اس حدیث کے اَور بھی معنے ہیں مگر اس کا ایک یہ مفہوم بھی ہے کہ مومن کا سلام اور اس کا حُسنِ سلوک کسی خاص شخص سے مخصوص نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص کے ساتھ اس کا اخلاقی برتاؤ یکساں ہوتا ہے چاہے وہ اس کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ تو مومن وہی ہے جس کے حُسنِ سلوک اور جس کے اعلیٰ اخلاق کا تعلق کسی خاص شخص یا کسی خاص قوم سے مخصوص نہ ہو بلکہ ہر شخص کے ساتھ اس کا یکساں تعلق ہو۔ خواہ وہ اُس کا واقف ہو یا ناواقف۔ یہ نہ ہو کہ وہ اپنے دوست سے معاملہ کرتے وقت تو حُسنِ سلوک سے کام لے اور دشمن سے معاملہ کرتے وقت بداخلاقی پر اُتر آئے۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تمہاری جیب میں مشک پڑا ہو اور اس کی خوشبو صرف تمہارا دوست سُونگھے تمہارا دشمن اُس کو نہ سُونگھ سکے؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تمہارے گلے میں پھولوں کا ہار پڑا ہوا ہو اور اس کے پھولوں کی مہک تمہارے دماغ میں تو آئے یا تمہارے عزیزوں کے دماغ میں تو آئے لیکن تمہارا غیر اُس سے محروم رہے؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اگر تم خوبصورت ہو، تمہارا رنگ سفید ہے، تمہارے نقش اچھے ہیں تو تم اپنے دوست کو تو خوبصورت نظر آؤ لیکن دشمن کو خوبصورت نظر نہ آؤ؟اگر تمہارے اندر حسن پایا جاتا ہے تو وہ ہر شخص کو نظر آئے گا، چاہے وہ تمہارا واقف ہو یا ناواقف۔ اسی طرح اگر تمہارے گھر میں گند ہوگا تو یہ نہیں ہوگا کہ وہاں اگر تمہارا دشمن آجائے تو اس کا دماغ تو گند سے پھٹنے لگے لیکن تمہارے دوست کو گند محسوس نہ ہو۔یقیناً جس طرح تمہارے دشمن کا دماغ پھٹے گا اُسی طرح اُس گند سے تمہارے دوست کا دماغ بھی پھٹے گا۔ اسی طرح اگر تمہارے پاس خوشبو ہے تو وہ ہر ایک کو آئے گی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ دوست کو آئے اور دشمن کو نہ آئے۔ اگر خوشبو تم میں اور تمہارے غیر میں امتیاز نہیں کرسکتی تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ تمہارے دل میں ایمان پایا جائے اور پھر تم زید سے اَور سلوک کرو اور بکر سے اَور سلوک کرو، مسلمانوں سے اَور رنگ میں پیش آؤ اور ہندوؤں، سکھوں اَور عیسائیوں سے اور رنگ میں پیش آؤ۔ اگر تمہارے دل میں ایمان ہوگا، اگر تم واقع میں بااخلاق ہوگے اور اگر تم حقیقت میں اپنے اندر نیکی اور تقوٰی رکھتے ہوگے تو تمہاری نیکی کی خوشبو جس طرح تمہارے دوست کے ناک میں جائے گی اُسی طرح تمہارا دشمن بھی اس سے متاثر ہوگا۔ لیکن اگر ایسا نہیں، اگر تمہارا دشمن تمہارے اندر اعلیٰ اخلاق نہیں دیکھتا، اگر تمہارے حسن سلوک کا وہ کوئی مشاہدہ نہیں کرتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے اندر ایمان نہیں پایا جاتا۔ ورنہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ہی شیشی کا منہ جب دوستوں کی طرف ہو تو انہیں اس میں سے خوشبو آئے اور جب اس کا منہ دشمنوں کی طرف کردیا جائے تو انہیں اس سے بَدبو محسوس ہو۔
    پس اخلاق کی درستی نہایت ہی ضروری چیز ہے اور ہماری جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ یاد رکھو! اخلاق کے بغیر تم میں کبھی وہ مضبوطی اور وہ جرأت پیدا نہیں ہوسکتی جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ مومن تو اپنے ایمان میں ایسی پختگی رکھتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین کے لیے ہر قربانی کرنےکے لیے تیار رہتا ہے۔ زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں لیکن اس کی قربانی کے ارادے نہیں ٹل سکتے کیونکہ وہ غیر متزلزل ہوتے ہیں۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اُحد پہاڑ کے متعلق اگر تم سنو کہ وہ اپنی جگہ سے بدل گیا ہے تو اسے تسلیم کر لو لیکن تم اس بات کو کبھی تسلیم نہ کرو کہ کسی شخص کی فطرت اور طبیعت بدل گئی ہے۔ اسی طرح جب ایمان کسی شخص کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتا ہے تو اُسے کوئی طاقت ایمان سے منحرف نہیں کرسکتی۔اس کا سلوک جیسے مومنوں سے ہوتا ہے اُسی طرح کافروں سے حسنِ سلوک کرنا اس کا شیوہ ہوتا ہے۔جس طرح تمہاری شکلیں تبدیل نہیں ہوسکتیں، جس طرح تمہارا رنگ تبدیل نہیں ہوسکتا، جس طرح یہ نہیں ہوسکتا کہ تمہاری شکل تمہارے دوست کو اَور طرح نظر آئے اور تمہارے دشمن کو اَور طرح دکھائی دے، تمہارا دوست تمہارے رنگ کو سفید سمجھے اور تمہارا دشمن تمہارے رنگ کو سیاہ سمجھے اِسی طرح اگر ایمان تمہاری طبیعتِ ثانیہ بن چکا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ تم ایک سے کچھ سلوک کرو اور دوسرے سے کچھ سلوک کرو۔ لیکن اگر تمہاری طبیعتِ ثانیہ نہیں بنا تو جب بھی قربانی کا موقع آئے گا تم پھسل جاؤ گے اور تم کبھی بھی مومنوں کی صف میں کھڑے نہیں رہ سکوگے۔
    پس اگر ایمان کسی شخص کی طبیعتِ ثانیہ نہیں بنا۔یا اگر کوئی شخص ایسا ہے جو کہتا ہے میں احمدی سے جھوٹ نہیں بولتا صرف غیر احمدی سے جھوٹ بولتا ہوں، یا احمدی سے بددیانتی نہیں کرتا صرف ہندو یا سکھ سے بددیانتی کرنا جائز سمجھتا ہوں تو یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا، یہ تھرمامیٹر ہوتا ہے اس امر کے پہچاننے کا کہ تمہارے اندر کس قدر ایمان پایا جاتا ہے۔ پس اگر کسی شخص میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ اپنوں اور غیروں سے معاملہ کرتے وقت اخلاق اور حُسنِ سلوک میں امتیاز کرتا ہے تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اُس کا ایمان کچا ہے اور جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کے دین کے لیے قربانی کی آواز آئے گی اُس کا نفس کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اُسے قبول کرنے سے محروم رہ جائے گا۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس نقص سے بچائے اور ہمارے اندر وہ اخلاق پیدا فرمائے جو دنیا میں ہر شخص کو نظر آنے لگ جائیں۔ خواہ وہ ہمارا واقف ہو یا ناواقف اور خواہ وہ ہمارے مذہب کو ماننے والا ہو یا نہ ماننے والا۔ ہمارا حسن سلوک ہر شخص سے یکساں ہو اور ہمارے اندر وہ اپنے فضل و کرم سے ایسی مضبوطی پیدا کرے کہ ہم خدا تعالیٰ کی آواز سننے اور اُسے قبول کرنے کے لیے ہر وقت اور ہر حالت میں تیار رہیں۔ اَللّٰھُمَّ آمِیْنَ۔’’
    (الفضل12؍اپریل1944ء)

    2
    جماعت احمدیہ کا پروگرام
    عبادتیں کرنا اورقربانیوں میں ترقی کرنا
    (فرمودہ 14 جنوری 4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "قرآن کریم میں ایک سورۃ ہے مختصر چھوٹی سی، صرف تین آیتوں کی جس کے متعلق اس سال میں نے جلسہ سالانہ پر عورتوں میں ایک تقریر کی تھی۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس کا مضمون اس قابل ہے کہ اُسے بار بار اور مختلف پیرایوں میں ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں میں دُہرایا جائے کیونکہ اس کا ایک مفہوم ہماری جماعت کے پروگرام کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۝اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ ۝ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۝ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۝1 اَور بھی اس کے مفہوم اور مطالب ہیں جن کا بیان کرنا اس موقع پر ضروری نہیں۔ جس مفہوم کی طرف مَیں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کوثر کے ایک معنے ایسے آدمی کے بھی ہیں جو کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے والا ہو۔2 پس جہاں اس سورۃ میں اَور مطالب کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو توجہ دلائی گئی ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی آپ کو توجہ دلائی ہے کہ ہم تجھے ایک ایسا بیٹا عطا فرمانے والے ہیں جو بہت ہی صدقہ و خیرات کرنے والا ہوگا۔ دوسری طرف ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی نسبت جو پیشگوئی احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فرمائی ہوئی پاتے ہیں اس میں یہ نظر آتا ہے کہ وہ مال تقسیم کرے گا اور لوگ اس کو لیں گے نہیں۔یُفِیْضُ الْمَالَ۔3 وہ مال دنیا میں بہادے گا۔لوگوں نے اس کے معنے یہ سمجھے ہیں کہ شاید وہ سونے اور چاندی کے سکّے لوگوں کو دے گا۔ حالانکہ سونے اور چاندی کے جو سکّے ہیں ان کو قبول کرنے والے کچھ نہ کچھ لوگ ہمیشہ ہی دنیا میں موجود رہتے ہیں۔کروڑوں کروڑ روپیہ رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں مگر پھر بھی ان کے دلوں میں لوگوں سے مال لینے کی حرص اور خواہش ہوتی ہے۔کئی دفعہ بڑے بڑے افسروں کے خلاف ریل میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے کے الزام میں مقدمات چل جاتے ہیں۔حالانکہ غریب آدمی بالعموم پیسے ادا کرکے ٹکٹ لیتے ہیں۔ تم کبھی کسی دکاندار کے سامنے ایک غریب سے غریب شخص کو بھی یہ کہتے نہیں سنو گے کہ میری غربت کی وجہ سے تم فلاں چیز کی قیمت کم کردو۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دکاندار میرے کہنے پر قیمت کم نہیں کرے گا۔لیکن کئی مالداروں کو میں نے دیکھا ہے وہ دکانداروں سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری خاطر تم اِس میں سے کتنا چھوڑو گے؟ حالانکہ وہ روپے والے ہوتے ہیں۔ مگر باوجود اپنے تموّل اور اپنی دولت کے اور باوجود اپنے پاس زیادہ روپیہ رکھنے کے اُن کی حرص کم نہیں ہوتی بلکہ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ اور وہ دکاندار سے بار بار یہی کہتے سنے جاتے ہیں کہ ہم جو تمہاری دکان پر چل کر آئے ہیں تو اب ہماری خاطر تمہیں قیمتیں ضرور کم کرنی پڑیں گی۔
    چند سال ہوئے مَیں بمبئی گیا۔ وہاں ایک دن میں کپڑا خریدنے کے لیے ایک دکان پر چلا گیا اور مَیں نے دکاندار سے کہا کہ کئی دکاندار ایسے ہوتے ہیں جو اپنی چیزوں کی قیمتیں آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں۔ پنجاب میں بھی ایسے دکاندار پائے جاتے ہیں اور بمبئی میں بھی ہیں۔ تم یہ بتاؤ کہ تمہارا کیا اصول ہے؟وہ کہنے لگا ہماری چیزوں کی تو ایک ہی قیمت ہوا کرتی ہے۔میں نے کہا اب اس پر قائم رہنا۔ ہم بھی تمہارے ساتھ قیمتوں کے متعلق کوئی جھگڑا نہیں کریں گے۔ اُس وقت اس دکان میں دو اَور آدمی بھی بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے اُس سے کوئی سودا خریدا تھا جس کا بِل ایک سو تین یا ایک سو چار روپیہ تک جا پہنچا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ دونوں اس دکاندار سے بحث کر رہے تھے کہ یہ تو ہوئی چیزوں کی قیمت، تم یہ بتاؤ کہ اب تم نے اِس میں سے چھوڑنا کیا ہے؟ اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ ہمارا تو ایک ہی بھاؤ مقرر ہے ہم قیمتوں میں کمی بیشی نہیں کیا کرتے۔ تھوڑی دیر کےبعد مجھے معلوم ہؤا کہ ان میں سے ایک بمبئی کے کوئی مشہور سیٹھ صاحب ہیں اور دوسرا ان کا سیکرٹری ہے کیونکہ دوسرا شخص بار بار کہتا تھا کہ سیٹھ صاحب تمہارے پاس آئے ہیں تمہیں ان کی خاطر تو قیمتوں میں ضرور کمی کرنی چاہیے اور دکاندار یہ کہتا تھا کہ میری دکان پر ایک ہی قیمت ہوتی ہے کمی بیشی نہیں ہوتی۔ غرض اِسی طرح آدھ گھنٹہ ضائع ہو گیا۔ آخر وہ ایک سو روپیہ کا نوٹ اسے دے کر چلے گئے اور اوپر کی رقم انہوں نے نہ دی۔ان کے چلے جانے کے بعد مَیں نے دکاندار سے کہا کہ آپ تو کہتے تھے ہمارا ایک ہی بھاؤ مقرر ہے اور ان لوگوں سے آپ نے اتنے روپے کم وصول کیے ہیں۔ وہ کہنے لگا یہ کوئی انصاف ہے؟ یہ تو صریح جبر ہے کہ سَودا لے لیا اور قیمت نہ دی۔پھر کہنے لگا یہ جو سیٹھ میری دکان پر آیا ہے یہ بمبئی کے تمام ہندوستانی تاجروں میں سے دوسرے نمبر پر ہے اور یہ روزانہ جتنی کمائی کرتا ہے اُس کا آپ اِس سےاندازہ لگا سکتے ہیں کہ آدھ گھنٹہ جو اُس نے میری دکان پر ضائع کیا ہے اس آدھ گھنٹے میں یہ دس پندرہ ہزار روپیہ کما لیتا ہے۔ مگر باوجود اِس قدر دولت و ثروت کے صرف تین چار روپے چُھڑانے کے لیے اس نے اپنا وقت بھی ضائع کیا اور میرا وقت بھی ضائع کیا۔ تو مال کے لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ایسا آدمی جس کی سالانہ آمدنی چالیس پچاس بلکہ ساٹھ لاکھ روپیہ کی تھی وہ بھی آدھ گھنٹہ تک ایک دکاندار سے لڑتا جھگڑتا رہا۔ محض اس لیے کہ اس کے بل میں سے تین چار روپے کم ہو جائیں اور وہ بار بار اپنی امارت کا واسطہ دیتا تھا۔ وہ یہ نہیں کہتا تھا کہ مَیں غریب ہوں اس لیے تم اتنی قیمت کم کر دو بلکہ وہ کہتا تھا مَیں امیر ہوں اور میری امارت کا تقاضا یہ ہے کہ چونکہ میں خود چل کر تمہارے پاس آیا ہوں اس لیے تم مجھ سے کم قیمت وصول کرو۔جب دنیا کی یہ حالت ہے تو کون عقلمند یہ خیال کرسکتا ہے کہ کسی زمانہ میں مسیح موعود لوگوں کو لاکھوں روپیہ دے گا اور وہ اس کے لینے سے انکار کردیں گے۔ وہ شخص جس نے دوچار روپوں کے لیے اپنا آدھ گھنٹہ ضائع کردیا، وہ شخص جس نے دو چار روپوں کے لیے دکاندار کے ایک اصول کو توڑ دیا، وہ شخص جس نے دو چار روپوں کے لیے نہ صرف اپنا وقت ضائع کیا بلکہ ہمارا وقت بھی ضائع کیا وہ اور اِسی قسم کے اَور لوگ بجائے مال لینے سے انکار کرنے کے میرے نزدیک تو اس بات کے لیے بھی تیار ہو جائیں گے کہ اگر انہیں روپوں کے لیے ناک بھی رگڑنی پڑے توانہیں اس میں کوئی عذر نہ ہوگا۔
    ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ نوحؑ کے زمانے سے لے کر تمام انبیاء یہ خبر دیتے چلے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اتنے گناہ ہوں گے، اتنی خرابیاں ہوں گی کہ اتنی خرابیاں اور کسی نبی کے وقت میں نہیں ہوں گی۔گویا ادھر تو آپ یہ فرماتے ہیں کہ وہ زمانہ ایسا خراب ہوگا کہ اس کی مثال اور کسی زمانہ میں نہیں ملے گی اور دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ آپ یہ فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے لوگ اتنے وسیع الحوصلہ ہوں گے، اس قدر ان کے نفس دنیوی اموال کی محبت سے بیزار ہو چکے ہوں گے اور ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اِس طرح جاتی رہے گی کہ مسیح موعود اُنہیں مال دے گا مگر وہ لینے سے انکار کردیں گے۔ان دونوں باتوں کا ایک زمانہ میں اجتماع عقل کے بالکل خلاف ہے۔ یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ فرماتے کہ مسیح موعود کا زمانہ ایسا اعلیٰ ہوگا کہ لوگ سیرچشم ہوں گے، ان کی طبیعتوں میں غناء کا مادہ کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوگا، ان کے دل دنیاوی اموال کی محبت سے بالکل خالی ہوں گے، حرص اور لالچ اور طمع ان کے اندر نہیں ہوگا اور وہ اس قدر دنیا سے دور ہوں گے کہ مسیح موعود ان کو مال دے گا تو وہ کہیں گے حضرت! ہم نے اس جیفۂ دنیا کو کیا کرنا ہے ہمیں خدا کی رضا کافی ہے۔مگر ایک طرف یہ کہنا کہ اس زمانہ کے لوگ سخت خراب اور گندے ہوں گے، ان کی طبیعتوں میں لالچ پایا جاتا ہوگا، وہ شیطان کی اتباع کرنے والے ہوں گے، بات بات پر لڑائی جھگڑا کریں گے،خدا اور رسول کی محبت ان کے دلوں سے اٹھ جائے گی اور اس قدر خرابیاں ان میں پیدا ہو چکی ہوں گی کہ نوحؑ کے زمانہ سے لے کر آج تک کسی نبی کے زمانہ کے لوگ اتنے خراب نہیں ہوئے۔ اور دوسری طرف یہ کہنا کہ وہ اتنے سیرچشم، اتنے نیک اور متقی اور اس قدر غناء کا مادہ اپنے اندر رکھنے والے ہوں گے کہ مسیح موعود ان کو مال دے گا تو وہ اس کو لینے سے انکار کردیں گے۔ یہ دو باتیں ایسی ہیں جن کا اجتماع کوئی عقلمند مان ہی نہیں سکتا۔ اور اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس مال سے مراد ظاہری مال و دولت نہیں، ظاہری سونا اور چاندی مراد نہیں ہے بلکہ مال سے مراد وہ معارف ہیں جو مسیح موعود کی زبان پر جاری ہوں گے، علم و عرفان کے وہ چشمے ہیں جو اس کے لبوں سے پُھوٹیں گے، تعلق باللہ کے وہ اسرار ہیں جو اس کے ذریعہ عالَم پر منکشف ہوں گے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خبر یہ دی ہے کہ جب مسیح موعود آئے گا تو وہ قرآن و حدیث کے ایسے ایسے نکات بیان کرے گا، خدا اور بندوں کے تعلق کے متعلق ایسی پُرمعرفت باتیں پیش کرے گا اور اسلام کو غالب کرنے کے لیےایسے ایسے علوم دنیا میں ظاہر کرے گا کہ جن سے لوگ بالکل واقف نہیں ہوں گے۔ گویا اموالِ روحانی کا ایک خزانہ ان کے سامنے رکھا جائے گا مگر لوگ اپنی بیماری کی وجہ سے اور اپنی طبیعت کے گند اور نفس پرستی کی وجہ سے اُس خیر کا انکار کردیں گے جو مسیح موعود اُن کو دے گا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں جن کے دلوں میں اس قسم کی روحانی باتوں کی قدروقیمت ہوتی ہے وہ جب دیکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ معارف کا ایک دریا بہایا جا رہا ہے تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ یہ جماعت کر کیا رہی ہے اور کیوں ایسے انمول موتی لوگوں کے سامنے بکھیرتی چلی جا رہی ہے۔ مَیں نے جب ایک دفعہ ذکر الٰہی پر جلسہ سالانہ میں تقریر کی تو غالباً ایک غیر احمدی صاحب نے مجھے ایک رقعہ لکھا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں کہ وہ باتیں جو صوفیاء دس دس سال کی محنتِ شاقہ کے بعد لوگوں کو بتایا کرتے تھے آپ نے وہ ساری باتیں اپنی ایک ہی تقریر میں بیان کردی ہیں۔ گویا ایک طرف مسیح موعود کی بعثت سے پہلے دنیا کے لوگ ایسے خراب ہو چکے تھے کہ دین کی اچھی سے اچھی باتیں ان کے سامنے پیش کی جاتیں تو وہ ان کا انکار کر دیتے اور دوسری طرف وہ لوگ جنہیں تھوڑا بہت دین آتا تھا، انہوں نے دین کی ان باتوں کو اپنی تجارت کا ایک ذریعہ بنا لیا تھا۔ چنانچہ وہ پہلے لوگوں سے اچھی طرح خدمت لیتے اور پھر سالہا سال کے بعد کوئی ایک بات ان کو بتاتے۔
    منشی احمد جان صاحب لدھیانہ والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے دعویٰ سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔ مگر ان کی روحانی بینائی اتنی تیز تھی کہ انہوں نے دعویٰ سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو لکھا کہ ؎
    ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر

    تم مسیحا بنو خدا کے لیے

    انہوں نے اپنی اولاد کو مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میں تو اب مر رہا ہوں مگر اس بات کو اچھی طرح یاد رکھنا کہ مرزا صاحب نے ضرور ایک دعوٰی کرنا ہے اور میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ مرزا صاحب کو قبول کر لینا۔ غرض اس پایہ کے وہ روحانی آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی جوانی میں 12 سال تک وہ چکّی جس میں بیل جوتا جاتا ہے اپنے پیر کی خدمت کرنے کے لیے چلائی اور 12 سال تک اس کے لیے آٹا پیستے رہے تب انہوں نے روحانیت کے سبق اِن کو سکھائے۔ تو وہ لوگ جو روحانی کہلاتے تھے وہ بھی لوگوں کو روحانی باتیں بتانے میں سخت بخل سے کام لیا کرتے تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے نہ صرف وہ ساری باتیں دنیا کو بتا دیں بلکہ ان سے ہزاروں گُنا زیادہ اَور باتیں بھی ایسی بتائیں جو پہلے لوگوں کو معلوم نہیں تھیں اور اس طرح علوم کو آپ نے ساری دنیا میں بکھیر دیا۔ مگر جیسا کہ حدیثوں میں خبر دی گئی تھی دنیا نے اس کی قدر نہ کی۔
    پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس تشریح نے بھی بتا دیا کہ کوثر سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ کوثر کے معنے اُس سخی انسان کے ہوتے ہیں جو کثرت سے صدقہ وخیرات کرنے والا ہو۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو خزانے لُٹائے گا مگر لوگ ان خزانوں کو قبول نہیں کریں گے۔ اس تشریح سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوثر سے مراد مسیح موعود ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔اے محمد رسول اللہ!ہم تجھے ایک ایسا روحانی بیٹا عطا کرنے والے ہیں جو خیر ِکثیر رکھتا ہوگا جو علومِ روحانیہ کا ایک خزانہ ہوگا۔ ایسے آدمی کی بعثت پر ہر مومن کا فرض ہوگا کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور عبادتیں کرے اور زیادہ سے زیادہ قربانیاں بجا لائے۔
    یہ صاف بات ہے کہ جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جن کے زمانہ میں اس عظیم الشان انسان نے نہیں آنا تھا ان کو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم اس شکریہ میں میری عبادت کرو اور قربانیوں میں پہلے سے بھی زیادہ جوش سے حصہ لو تو وہ لوگ جن کے زمانہ میں اس انسان نے آنا تھا ان پر یہ کیوں فرض نہیں ہو گا کہ وہ اس شکریہ میں اللہ تعالیٰ کی زیادہ عبادتیں کریں اور اس کے دین کی اشاعت کے لیے زیادہ سے زیادہ قربانیاں کریں۔ آخر فائدہ تو انہوں نے ہی اٹھانا تھا جن کے زمانہ میں اس انسان نے مبعوث ہونا تھا اور اس لحاظ سے اس نعمت کا زیادہ شکریہ ادا کرنا انہی کا فرض ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فائدہ نہیں پہنچا جس رنگ میں لوگوں کو آپ کی بعثت کا فائدہ ہؤا ہے۔ اور اگر دین کی اشاعت کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فائدہ ہؤا ہے تو پھر بھی استاد استاد ہی ہے اور شاگرد شاگرد ہی ہے۔ مگر جب ایک اچھے شاگرد کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ عبادتیں کریں اور قربانیوں میں حصہ لیں تاکہ اس فضل کا شکریہ ادا ہوسکے تو وہ لوگ جو اس مسیح موعود کے شاگرد ہیں ان پر یہ کس قدر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ عبادتوں اور قربانیوں میں پہلے سے بہت زیادہ حصہ لیں۔ جس شاگرد کے متعلق استاد کو یہ کہا گیا ہے کہ تم نمازیں پڑھو اور قربانیاں کرو، اس کے اپنے شاگردوں کو تو یقیناً لاکھوں گنا زیادہ عبادتیں کرنی چاہییں اور لاکھوں گنا زیادہ قربانیوں میں حصہ لینا چاہیے۔ پس مسیح موعود کی بعثت کے بعد اس حکم کی تعمیل سب سے زیادہ جماعت احمدیہ پر فرض ہے۔ فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی کی خاطر عبادتیں بجا لاؤ اور تم اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قربانیاں کرو۔ اس شکریہ میں کہ اس نے تمہیں کوثر سے حصہ عطا فرمایا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مخاطب کرکے احمدی جماعت کو یہ بتایا ہے کہ مسیح موعود کی بعثت کے وقت ان کو کیا کام کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ۔ احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کریں اور اس کے دین کے لیے قربانیوں پر قربانیاں کرتے چلے جائیں۔ یہی ہمارا پروگرام ہے جو اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے۔
    عربی زبان میںنحراُس جانور کی قربانی کو کہتے ہیں جو ہمارے اپنے قبضہ میں ہوتا ہے۔ پس اِس لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں سب سے بڑی قربانی اپنے نفس کا جہاد ہوگا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں سب سے بڑا کام دشمن سے جہاد کرنا تھا مگر اس زمانہ میں سب سے بڑا کام نحر کرنا ہوگا۔ اور نحراُس جانور کی قربانی کو کہتے ہیں جو انسان کے اپنے قبضہ میں ہوتا ہے۔ پس اس لفظ نے یہ بھی بتا دیا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد نہیں ہوگا یعنی دشمن کو تلوار سے مارنا ان کا کام نہیں ہوگا۔ بلکہ ان کا سب سے بڑا کام اپنے نفس کو مارنا اور اس سے جہاد کرنا ہوگا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بڑی بھاری قربانی یہ تھی کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال کر دشمن کو کیفر ِکردار تک پہنچایا جائے مگر فرمایا مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد نہیں ہوگا بلکہ نحر ہوگا یعنی اُس زمانہ میں سب سے بڑی جنگ انسان کو اپنے نفس سے کرنی پڑے گی۔ صحابہؓ کے زمانہ میں بڑی قربانی یہ تھی کہ عتبہ اور شیبہ اور ابوجہل کو قتل کرنے کی کوشش کی جائے خواہ اس کوشش اور جدوجہد میں انسان خود ہی کیوں نہ مارا جائے۔ لیکن مسیح موعود کے زمانہ میں دشمن کو مارنے کا کام نہیں ہوگا۔ بلکہ بڑی قربانی یہ ہو گی کہ ہر انسان براہ راست اپنے نفس کو مارنے اور اسے ہلاک کرنے کی کوشش کرے۔ یہ ایک ایسا واضح پروگرام ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور پروگرام کی طرف جانا قطعاً دانائی نہیں ہوسکتی۔ خدا سے بہتر کون پروگرام بنا سکتا ہے۔ یقیناً خدا سے بڑھ کر اور کوئی صحیح پروگرام نہیں بناسکتا اور خدا نے جماعت احمدیہ کا یہ پروگرام بتا دیا ہے کہ وہ عبادتیں کرے اور قربانیوں میں ترقی کرے۔
    عبادتوں میں سے سب سے اہم عبادت نماز باجماعت ہے۔اس کے بعد ذکر الٰہی، نوافل پڑھنا، درود پڑھنا، تسبیح، تحمید اور تکبیر کرنا۔یہ سب چیزیں عبادت میں شامل ہیں مگر مَیں دیکھتا ہوں ابھی تک ہماری جماعت میں اس طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔ وہ مسجدوں میں آتے ہیں تو بجائے ذکر الٰہی کرنے کے فضول اور لغو باتوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ صحابہؓ کا طریق یہ تھا کہ جب وہ اکٹھے ہوتے تو کہتے آؤ ہم اپنے ایمان تازہ کریں اور پھر وہ ایک دوسرے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں اور آپ کے حالات سنتے۔ آخر ہر شخص مجلس میں موجود نہیں ہوتا۔ کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک شخص تو سنتا ہے مگر دوسرا نہیں سنتا۔ ایسی صورت میں صحابہؓ کا یہی طریق تھا کہ وہ بیٹھ کر ایک دوسرے کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں سنایا کرتے تھے۔ مگر اِس زمانہ میں لغو اور فضول باتوں میں بہت زیادہ وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے لیے حکم یہی ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ تم اپنے اوقات اِس طرح صَرف کرو کہ وہ سب کے سب تمہاری عبادت کی گھڑیاں بن جائیں۔ پھر فرماتا ہے وَانْحَرْ۔تمہارا دوسرا کام یہ ہے کہ تم قربانیوں میں حصہ لو۔
    جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے آہستہ آہستہ ہماری جماعت ایک نہایت اعلیٰ مقام پر پہنچتی جا رہی ہے۔ مگر صرف مالی قربانی ہی قربانی نہیں بلکہ اَور بھی کئی قسم کی قربانیاں کرنا جماعت کا فرض ہے۔ مثلاً وقت کی قربانی ہے یہ بھی ایک اہم قربانی ہے۔ جذبات کی قربانی ہے یہ بھی ایک اہم قربانی ہے، مگر ان قربانیوں میں ابھی بہت بڑی ترقی کی ضرورت ہے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ذرا ذرا سی بات پر لوگ ایک دوسرے سے لڑنے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ اپنے جذبات کی قربانی سے کام لیں تو اس قسم کے جھگڑوں کی نوبت ہی نہ آئے۔ اِسی طرح وقت کی قربانی میں تبلیغ بھی شامل ہے مگر اس طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں اگر ہماری جماعت تبلیغ کا فرض پورے طور پر ادا کرتی تو اب تک موجودہ جماعت سے بیسیوں گُنا زیادہ جماعت ہوجاتی۔مگر یہ قربانی پیش کرنے کے لیے ہماری جماعت کے بہت کم دوست تیار ہوتے ہیں۔ ہر شخص جو یہاں بیٹھا ہے وہ اپنے اپنے نفس میں سوچے اور غور کرے کہ اس نے پچھلے مہینے میں تبلیغ کے لیے کتنا وقت دیا ہے۔ اگر آپ لوگ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کئی لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے سارے مہینے میں شاید ایک منٹ تبلیغ کے لیے دیا ہوگا۔ کئی ایسے ہوں گے جنہوں نے سارے مہینے میں شاید کسی کو دس منٹ تبلیغ کی ہو گی اور کئی ایسے ہوں گے جنہوں نے تبلیغ کی ہی نہیں ہو گی یا تبلیغ تو کی ہو گی مگر وہ حقیقی تبلیغ نہیں ہو گی۔ جب اس قسم کی مُردنی طبائع پر چھائی ہوئی ہو تو محض مالی قربانی سے جماعت کی ترقی کس طرح ہوسکتی ہے۔ مالی قربانی کے ساتھ اگر اوقات کی قربانی نہیں، اگر تبلیغ کے لیے دلوں میں ایک دیوانگی اور جوش نہیں تو یہ جماعت کی ترقی کی کوئی خوشکن علامت نہیں۔ بلکہ میرے نزدیک اگر روپیہ دینے والا تبلیغ نہیں کرتا اور وہ روپیہ دے کر ہی سمجھ لیتا ہے کہ اُس نے اپنے فرض کو ادا کردیا تو وہ اپنے آپ کو ایک شدید الزام کے نیچے لاتا ہے۔ کیونکہ وہ کہتا ہے تبلیغ کا جو کام میرے سپرد کیا گیا ہے وہ میری شان سے بہت ادنیٰ ہے اس لیے مَیں روپیہ دے دیتا ہوں تاکہ اس روپیہ کے بدلے کوئی اَور شخص یہ کام کردے مجھے یہ کام نہ کرنا پڑے۔ یہ ایک ایسا خطرناک الزام ہے جو اسے کسی صورت میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور بری نہیں کرسکتا۔کیونکہ ایک طرف وہ روپیہ دے کر تبلیغ کی ضرورت کو تسلیم کر لیتا ہے مگر دوسری طرف کہتا ہے میرے اپنے لیے تبلیغ ضروری نہیں۔ پس جو شخص چندہ تو دیتا ہے مگر تبلیغ نہیں کرتا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مَیں تبلیغ کو ضروری نہیں سمجھتا۔کیونکہ وہ چندہ دے کر تبلیغ کی ضرورت کو تسلیم کر لیتا ہے۔ اُس سے جب خدا پوچھے گا کہ تُو نے کیوں تبلیغ میں حصہ نہیں لیا تو وہ اِس کا ایک ہی جواب دے سکتا ہے کہ مَیں تبلیغ کوایک ادنیٰ کام سمجھا کرتا تھا اس لیے میں نے چندہ دے دیا تھا تاکہ یہ کام کوئی اَور شخص کرتا رہے۔
    پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اس پروگرام کو اپنے سامنے رکھے جو خدا نے تجویز کیا ہے۔ و ہ ایک طرف تسبیح، تحمید، تکبیر، درود اور ذکر الٰہی میں حصہ لے اور دوسری طرف نہ صرف مالی قربانیوں میں حصہ لے بلکہ اپنے اوقات اور جذبات کی قربانی بھی کرے۔ اس کے بغیر وہ شکریہ ادا نہیں ہوسکتا جس کا ادا کرنا مسیح موعودؑ کی بعثت کے بعد ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے۔
    جیسا کہ میری آواز سے ظاہر ہو رہا ہے گلے کی تکلیف کی وجہ سے بیٹھ گئی ہے اِس لیے مَیں اِس وقت کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا۔ صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں کہ جس طرح اُس نے ہمیں مالی قربانیوں میں بڑھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے اُسی طرح اللہ کرے ہماری جماعت پر وہ دن بھی آجائے جب ہم میں سے ہر شخص اپنے جذبات کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوجائے، اپنے نفس کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوجائے، اپنے اوقات کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوجائے اور دنیا یہ ماننے پر مجبور ہوجائے کہ ان قربانیوں میں بھی کوئی قوم جماعت احمدیہ کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی"۔
    خطبہ ثانیہ میں فرمایا:۔
    "مَیں نماز قصر کرکے پڑھاؤں گا اور گو مجھے یہاں آئے چودہ دن ہو گئے ہیں مگر چونکہ علم نہیں کہ کب واپس جانا ہوگا اِس لیے مَیں نماز قصر کرکے ہی پڑھاؤں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ایک دفعہ گورداسپور میں دو ماہ سے زیادہ عرصہ تک قصر نماز پڑھتے رہے کیونکہ آپ کو پتہ نہیں تھا کہ کب واپس جانا ہوگا"۔(الفضل25 مئی 1944ء)

    3
    اپنے زمانہ کی اہمیت کو سمجھو
    اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھاؤ
    (فرمودہ 21 جنوری 4419ء بمقام لاہور)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "انسانی فطرت کچھ اس قسم کی ہےکہ انسان بار بار کے تجربہ کے باوجود وہ اپنے لیے ایک ایسی عادت اور ایسا دستورالعمل نہیں بناسکتا کہ وہ اپنے وقت پر کسی چیز کے فوائد کو حاصل کرسکے۔ پہلے تو وہ ایک عرصہ اس بات میں ضائع کر دیتا ہے کہ جو چیز اس کے سامنے آئی ہے آیا وہ کوئی اہمیت رکھتی بھی ہے یا نہیں رکھتی۔ پھر کچھ عرصہ وہ اس بات میں گزار دیتا ہے کہ وہ چیز اگر اہمیت رکھتی ہے تو اس کی اہمیت نیک ہے یا بد۔ پھر جب وہ اس کی اہمیت کو سمجھ لیتا ہے مثلاً اس کے متعلق یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ نیک اہمیت رکھتی ہے اُس سے فائدہ اٹھانا چاہیے تو پھر وہ ایک عرصہ اس بات کا اندازہ لگانے میں صَرف کر دیتا ہے کہ وہ نیک اہمیت کتنا درجہ رکھتی ہے۔ اور بسااوقات جب وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ نیک اہمیت اتنی اہم اور ضروری ہے کہ نہ صرف وہ موجودہ زمانہ کے لوگوں کے لیے بلکہ آئندہ آنے والے لوگوں کے لیے بھی ایک بہت بڑا خدائی فضل اور خدائی انعام ہے تو اُس وقت تک و ہ اہمیت رکھنے والی چیز دنیا سے گزر چکی ہوتی ہے۔آج ہمیں لاکھوں کروڑوں یہودی اس بات کے لیے تکلیف اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ وہ دینِ موسوی کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ان کی تجا رتیں توڑی جاتی ہیں، ان کے مکان اور جائیدادیں ضبط کی جاتی ہیں، انہیں قتل کیا جاتا ہے، انہیں ملک بدر کیا جاتا ہے مگر وہ موسوی دین کے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ موسوی دین کے ساتھ اب ان کا تعلق صرف سطحی رہ گیا ہے، حقیقی نہیں۔ اگر موسیٰؑ کی صحیح امت دنیا میں موجود ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کا زمانہ اس سے اَور پیچھے جا پڑتا جس زمانہ میں آپ ظاہر ہوئے۔بلکہ اگر موسیٰؑ کی امت حقیقی موجود ہوتی تو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آنے کی بھی اُس وقت ضرورت نہ ہوتی جب آپ مبعوث ہوئے۔تو جو حقیقی تعلق موسوی قوم کو حضرت موسٰی علیہ السلام سے تھا وہ ہزاروں سال اپنے اصل مقام سے پیچھے ہٹ چکا تھا۔ کم سے کم دو ہزار سال سے وہ تعلق قطع ہو چکا تھا۔ مگر باوجود اِس کے کہ وہ حقیقی تعلق کھو چکے تھے اس تعلق کی اہمیت اُن کے دلوں میں رہ گئی۔ اور اس اہمیت کے احساس کا صحیح طریق اب انہیں یہی نظر آتا ہے کہ وہ اپنی جائیدادوں سے بے دخل ہو جائیں، اپنے وطنوں سے الگ ہو جائیں، اپنے مال و اسباب کو قربان کردیں، اپنی جانوں کو ہلاک کردیں مگر موسوی دین سے ان کا جو اتصال ہو چکا ہے اس پر کوئی زَدْ نہ آنے دیں۔لیکن وہی قوم جو آج صحیح طور پر موسوی تعلیم کو بھی نہیں سمجھتی، جو اس تعلیم پر عمل بھی نہیں کرتی جو اُسے دی گئی صرف اس کی اہمیت کا اثر اس کے دل پر باقی رہ گیا ہے۔ ایک زمانہ میں جبکہ یہ قوم صحیح طور پر موسوی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرتی تھی جبکہ موسوی دین سے اس کا تعلق موجودہ تعلق سے یقیناً ہزاروں گُنا بڑھ کر تھا جبکہ موسٰیؑ کی تعلیم کے زیراثر اللہ تعالیٰ سے اتصال کی کوشش اس کا شب و روز کا کام تھا۔اس کی حالت یہ تھی کہ اسے اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ موسیٰؑ کے ساتھ مل کردشمن سے جنگ کرناکس قدر ضروری اور ان کی قومی زندگی کے لیے کیسا مفید ہے۔ بلکہ ایک موقع پر جب موسٰیؑ کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ آگے بڑھ کر دشمن کا مقابلہ کرو تو موسوی قوم کے لوگوں نے باوجود اِس کے کہ وہ اِس وقت کے یہود سے زیادہ نیک تھے، اِس وقت کے یہود سے زیادہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے خواہش مند تھے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہہ دیا کہ اذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ۝1 موسیٰ!جان دینا کوئی معمولی بات ہوتی ہے؟مانا کہ ہمارا تمہارے ساتھ تعلق ہے،مانا کہ ہم تمہیں ایک قیمتی وجود سمجھتے ہیں مگر اتنا قیمتی تو نہیں کہ تمہارے لیے قوم کی قوم کو برباد کردیا جائے۔جس جنگ کی آگ میں تم ہم کو جھونکنا چاہتے ہو، جس فتنہ میں تم ہم کو مبتلا کرنا چاہتے ہو وہ تو ایک ایسی خطرناک آگ ہے جو ساری قوم کو بَھسم کردے گی اور تم اتنے قیمتی وجود نہیں کہ تمہارے کہنے پر تمام قوم کو تباہ ہونے دیا جائے۔ آخر تمہارا وجود قوم کے لیے ہے نہ کہ قوم کا وجود تمہارے لیے۔یہ نقطۂ نگاہ تھا جو اُس وقت کے یہود کا تھا حالانکہ وہ موجودہ یہودیوں سے بہت زیادہ ترقی یافتہ اور بہت زیادہ ایمان رکھنے والے تھے۔ آخر ہم یہ کس طرح مان سکتے ہیں کہ موسٰی کے ساتھ رہنے والے،دن رات اللہ تعالیٰ کے نشانات دیکھنے والے، اس کے معجزات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے والے اور اس کی تائیدات کے کرشمے اپنی ذات میں دیکھنے والے موجودہ یہودیوں سے اپنے ایمان اور اپنے اخلاص میں کم تھے؟ یقیناً وہ ان سے بڑھ کر تھے اور ہزاروں گنا بڑھ کر تھے۔ مگر وہ جو ساتھ رہنے والے تھے، انہوں نے تو یہ جواب دیا کہ اذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ۔ تُو اور تیرا ربّ دونوں جائیں اور جاکر دشمن سے لڑیں ہم یہاں سے نہیں ہلیں گے۔ مگر آج اس یہودی قوم کے افراد جن کے اعمال اُس زمانہ سے بہت ہی کم ہیں، جن کے ایمان اُس زمانہ کے ایمان سے بہت ہی ادنیٰ ہیں، جن کا اخلاص اُس زمانہ کے لوگوں کے اخلاص کے مقابلہ میں بالکل حقیر اور ہیچ ہے اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں، اپنے اموال بھی قربان کر رہے ہیں، اپنے وطن بھی قربان کر رہے ہیں، اپنے رشتہ داروں، عزیزوں اور دوستوں کو بھی قربان کر رہے ہیں، اپنے ملک کو بھی قربان کر رہے ہیں مگر وہ اس بات کے لیے تیار نہیں ہیں کہ موسٰی کو چھوڑ دیں۔ اس لیے کہ وہ اُس چیز کی اہمیت کو آج اُس سے بہت زیادہ سمجھتے ہیں جس قدر اہمیت موسٰیؑ کے زمانہ کے لوگ سمجھتے تھے۔ گویا علم دماغی تو رہ گیا، موسٰی کی اہمیت تو ان کے دلوں میں رہ گئی لیکن ایمان اور اخلاص مٹ گیا۔ مگر باوجود ایمان اور اخلاص کے مٹ جانے کے وہ دماغی تعلق جو ان کا حضرت موسٰیؑ علیہ السلام سے تھا اتنا روشن ہؤا کہ اب دنیا کی کوئی طاقت ان کو اس سے چھڑا نہیں سکتی۔ اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ موسٰیؑ کے زمانہ کے لوگ بھی موسٰیؑ کی اہمیت پر غور ہی کر رہے تھے کہ ان کی آزمائش کا وقت آ گیا اور چونکہ انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ موسٰیؑ کی اہمیت کتنا درجہ رکھتی ہے وہ اس امتحان میں فیل ہو گئے اور انہوں نے کہہ دیا کہ جاؤ! تم اور تمہارا ربّ دشمن سے لڑتے پھرو ہم تو نہیں جاسکتے۔پھر ان پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ انہوں نے اپنے دلوں میں موسٰی کی اہمیت کا فیصلہ کر لیا اور انہوں نے کہا موسٰیؑ کی اہمیت قومی زندگی سے بھی زیادہ ہے۔ بلکہ ہماری قومی زندگی اُس وقت تک ناممکن ہے جب تک موسٰیؑ کی اہمیت کو ہماری قوم کا ہر فرد اچھی طرح نہ سمجھ لے۔ مگر جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا اُس وقت حضرت موسٰی علیہ السلام گزر چکے تھے، حضرت موسٰی علیہ السلام کے خلفاء گزر چکے تھے بلکہ حضرت موسٰی علیہ السلام پر ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والے اور ان کو دیکھنے والے اتباع بھی گزر چکے تھے۔ اُس وقت وہ ایمان اور وہ اخلاص جو حضرت موسٰی علیہ السلام کے ذریعہ قوم میں پیدا ہوا تھا پھیکا پڑ چکا تھا، اللہ تعالیٰ سے قوم کا تعلق کمزور ہو چکا تھا، اتصال ٹوٹ چکا تھا، محبت اور اطاعت کا جوش سرد ہو چکا تھا۔ اب خالی موسٰی کی اہمیت ان کو قُربِ الٰہی نصیب نہیں کرا سکتی تھی۔ پس جب تک موسٰیؑ کی اہمیت کے پرکھنے کا وقت تھا، جب تک موسٰیؑ سے فائدہ اٹھانے کا وقت تھا انہوں نے حضرت موسٰیؑ کی اہمیت کو نہ پرکھا، انہوں نے موسٰی ؑسے فائدہ نہ اٹھایا۔ اور جب انہوں نے موسٰیؑ کی اہمیت کو سمجھا تو فائدہ اٹھانے کا زمانہ گزر چکا تھا۔ پھر وہ ایک عام قوم کی طرح ہو گئے جو صرف زور اور طاقت کے ساتھ بڑھتی ہے ایمان کے ساتھ اس کے بڑھنے کا تعلق نہیں ہوتا۔
    یہی حال ہمیں باقی دنیا میں نظر آتا ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ عیسائی پادریوں نے مسیحیت کی اشاعت کے لیے کس قسم کی قربانیاں کی ہیں۔ بعض جگہ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ پادری آدم خور علاقوں میں تبلیغ کے لیے گئے اور حبشی انہیں بُھون بھان کر کھا گئے مگر جب مرکز میں تار پہنچا کہ فلاں علاقہ میں ہمارے پادریوں پر ایسا حادثہ گزرا ہے تو ہزاروں عیسائیوں نے اُسی دن اپنے آپ کو اِس غرض کے لیے وقف کردیا کہ ہم وہاں تبلیغ کی خاطر جانے کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے اِس بات کی ذرابھی پروا نہ کی کہ اس علاقہ میں مردم خور لوگ رہتے ہیں وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ مگر ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب مسیحؑ کے ایک مقرب صحابی بلکہ بعد میں ہونے والے خلیفہ کی یہ حالت تھی کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اُس نے تکلیف کی حالت میں دیکھا اور اسے معلوم ہؤا کہ سپاہیوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو گرفتار کر لیا ہے تو بعض لوگوں نے اُسے دیکھ کر کہا کہ یہ بھی مسیح کے ساتھیوں میں سے ہے۔اِس پر اُس نے کہا میں اس کے ساتھیوں میں سے نہیں، میں تو اُس پرخدا کی *** ڈالتا ہوں۔2 مگر پھر یہی شخص اِس واقعہ کے چالیس یا پچاس سال کے بعد روم میں گیا اور اسے مسیحؑ کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے پھانسی دے دیا گیا اور وہ خوشی سے ہنستا ہؤا صلیب پر چڑھ گیا۔حالانکہ حضرت عیسٰیؑ کے زمانہ میں یقیناً اس کا ایمان اُس سے بہت زیادہ تھا جتنا ایمان بعد میں اس کے دل میں تھا۔اُس وقت زندہ خدا کے نشانات ہر وقت آنکھوں کے سامنے پورے ہوتے نظر آتے تھے جو بعد میں عیسوی امت کی نظر سے اوجھل ہو گئے۔ پس جس قسم کا ایمان پطرس کو مسیحؑ کی زندگی میں حاصل تھا یقیناً بعد میں ویسا ایمان اس کے دل میں نہ تھا۔مگر اُس وقت اُس نے کیوں قربانی نہ کی اور بعد میں کیوں قربانی کی؟ اِسی لیے کہ اُس وقت تک حضرت عیسٰی علیہ السلام کی زندگی کی قدروقیمت اور اس کی اہمیت کا صحیح اندازہ اس کے دل نے نہیں لگایا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ چیز کتنی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ مگر بعد میں جب وہ صلیب پر چڑھ گیا تو گو اُس وقت اُس کا ایمان ویسا نہیں ہوگا جیسا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں تھا مگر یہ پختگی ضرور پیدا ہو چکی تھی کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بغیر یہودی قوم اور وہ قبائل جن کی ہدایت کے لیے آپ مبعوث ہوئے دنیا میں کوئی پائیدار کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتے۔ اور یہ کہ دنیا میں تغیر پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسیحؑ کی اہمیت کو سمجھا جائے اور اس کی اہمیت لوگوں کے دلوں میں قائم کی جائے۔ چنانچہ وہ اِسی اہمیت کی وجہ سے جو اُس کے دل پر نقش ہو چکی تھی خوشی سے صلیب پر چڑھ گیا اور اُس نے اپنی جان کی پروا نہ کی۔
    تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ بھی اس بات کو خوب سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں جو ایمان انہیں نصیب تھا وہ بعد میں اُس شکل میں نہیں رہا جس شکل میں وہ ایمان آپ کے زمانہ میں انہیں حاصل تھا اِلَّا مَا شَاءَ اللّٰہ۔ جس نے اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھ لیے اور اس سے تعلق پیدا کرکے مقامِ قُرب حاصل کر لیا وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ حضرت عمرو بن العاصؓ کے متعلق ہی آتا ہے جب آپ وفات پانے لگے تو رونے لگ گئے۔ ان کے بیٹے نے جو بہت بڑے مخلص اور بڑی شان رکھنے والے تھے اور باپ سے پہلے ایمان لائے تھے، ان سے پوچھا کہ آپ روتے کیوں ہیں؟ آپ کو تو خدا تعالیٰ نے اسلام کی خدمت کی بڑی بھاری توفیق عطا فرمائی ہے اور اب ان سب جذبات کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اجر ملنے والا ہے۔ انہوں نے جواب دیا تم کو کیا معلوم ہے۔ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زندہ خدا نظر آیا کرتا تھا مگر بعد میں ہم دنیا کے جھمیلوں میں ایسے گرفتار ہوئے اور ایسے ایسے جھگڑے آ پڑے کہ ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا بڑا مشکل ہو گیا کہ سچائی کیا ہے۔ اس لیے نہ معلوم ہم اس دوران میں کیا کیا گناہ اور کیا کیا غلطیاں کر چکے ہیں اور میں ڈرتا ہوں کہ مرنے کے بعد میں خدا کو کیا جواب دوں گا۔3
    تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نبیوں کے زمانہ میں انسان کو جو ایمان حاصل ہوتا ہے وہ بعد میں ویسا نہیں رہتا۔سوائے اُن لوگوں کے جن کا خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور وہ اس کے کلام اور الہام سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ عام لوگ جن کا ایمان ایک دوسرے کو دیکھ کر ہوتا ہے نبی کا زمانہ گزرنے کے بعد اُن کا ایمان اُس رنگ میں نہیں رہتا جس رنگ میں پہلے ہؤا کرتا ہے۔گو اس میں شبہ نہیں کہ نبی کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ کر بلکہ بعض دفعہ دوبارہ اور بعض دفعہ سہ بارہ ان کو پورا ہوتے دیکھ کر ایک اَور رنگ کی پختگی ان کے ایمان میں ضرور پیدا ہوجاتی ہے۔ مگر وہ زندہ خدا جو نبی کے زمانہ میں انہیں اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، باتیں کرتے اور خاموش رہتے نظر آیا کرتا تھا بعد میں نظر نہیں آتا۔ سوائے اُن لوگوں کے جن کا خدا تعالیٰ سے ذاتی تعلق ہوتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کے قرب کی وجہ سے اس کی محبت اور تائید کے نمونے اپنی ذات میں بھی اُسی طرح مشاہدہ کرتے ہیں جس طرح انبیاء کے زمانہ میں وہ ان نشانات کا مشاہدہ کیا کرتے ہیں۔
    ہم دیکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے زمانہ میں بھی بڑی بڑی قربانیاں کرنے والے لوگ موجود تھے۔ ایسے ایسے لوگ پائے جاتے تھے جن کی مثال آج جماعت میں بہت کم نظر آتی ہے۔ ایسے بیسیوں آدمی تھے جو اپنے گزارے اتنی تنگی سے رکھتے تھے کہ ان کو دیکھ کر کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کرسکتا تھا کہ وہ لوگ خوشحال ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے مال کا ایک بہت بڑا حصہ دین کی اشاعت کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو بھجوا دیا کرتے تھے۔مگر پھر ہم نے انہیں کو دیکھا کہ بعد میں ان کے دلوں میں یہ حسرت پیدا ہوتی گئی کہ کاش! ہم اس سے بھی زیادہ خدمت کرتے۔ حالانکہ ان کی خدمت یقیناً موجودہ لوگوں سے بہت زیادہ تھی۔ مجھے اس کی ایک مثال یاد ہے۔ چودھری رستم علی صاحب غالباً پہلے سب انسپکٹر تھے پھر خدا تعالیٰ نے ان کو انسپکٹر بنا دیا۔سب انسپکٹری کی تنخواہ میں سے وہ ایک معقول رقم ماہوار چندہ کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو بھجوایا کرتے تھے۔اُس وقت غالباً ان کی اسّی روپے تنخواہ تھی۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان کو انسپکٹر بنا دیا اور ان کی ایک سَو اسّی روپے تنخواہ ہو گئی۔ جب ان کا خط آیا، اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیمار تھے۔میں نے خود اُن کا خط پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سنایا۔ انہوں نے خط میں لکھا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے عُہدہ میں ترقی دے کر تنخواہ میں ایک سَو روپیہ کی زیادتی عطا فرمائی ہے۔ مجھے اپنے گزارہ کے لیے زیادہ روپوں کی ضرورت نہیں۔میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے میری تنخواہ میں یہ اضافہ محض دین کی خدمت کے لیے کیا ہے اس لیے میں آئندہ علاوہ اُس چندہ کے جو میں پہلے ماہوار بھیجا کرتا ہوں یہ سَو روپیہ بھی جو مجھے ترقی کے طور پر ملا ہے ماہوار بھیجتا رہوں گا۔
    دیکھو! اس قسم کے نمونے آجکل کتنے نادر ہیں۔ مگر اُس وقت کثرت سے جماعت میں اس قسم کے نمونے پائے جاتے تھے۔ لیکن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وفات کے بعد ان کو دیکھا کہ ان کے دل اِس بات پر خوش نہیں تھے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ کافی تھا بلکہ بعد میں جب انہوں نے محسوس کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا وجود اُس سے بہت زیادہ اہم تھا جتنا انہوں نے سمجھا اور اُس سے بہت زیادہ آپ کے وجود پر دنیا کی ترقی کا انحصار تھا جس قدر انہوں نے پہلے خیال کیا تو ان کے دل روتے تھے کہ کاش! انہیں یہ بات پہلے معلوم ہوتی اور وہ اس سے بھی زیادہ خدمت کرسکتے۔مگر پھر انہیں یہ موقع نصیب نہ ہؤا اور وقت ان کے ہاتھ سے چلا گیا۔ اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں کئی لوگ ایسے تھے جنہیں قادیان میں صرف دو تین دفعہ آنے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنے دل میں یہ سمجھا کہ خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ ہمارا قادیان سے تعلق پیدا ہو گیا اور ہم نے زمانہ کے نبی کو دیکھ لیا۔ مگر آج اس چیز کی اس قدر اہمیت ہے کہ ہماری جماعت میں سے کئی لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا زمانہ یاد کرکے بڑی خوشی سے یہ کہنے کے لیے تیار ہو جائیں گے کہ کاش! ہماری عمر میں سے دس یا بیس سال کم ہوجاتے لیکن ہمیں زندگی میں صرف ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو دیکھنے کا موقع مل جاتا۔تو جنہیں زندگی میں آپ کو دیکھنے کا موقع ملا گو انہوں نے آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا مگر بہرحال انہوں نے اس کی اہمیت کا اُتنا اندازہ نہ کیا جتنا اندازہ انہیں کرنا چاہیے تھا۔
    اِس بارہ میں سب سے زیادہ صحیح اندازہ لگانے والی قوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ ہیں۔ ان کی زندگیوں پر غور کرنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے میں قریباً تکمیل کے مقام تک پہنچ چکے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اہمیت کو انہوں نے ایسا سمجھا کہ انہوں نے آپ کے لیے کسی قسم کی قربانی کرنے سے دریغ نہ کیا۔ لیکن پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی کی جو عظیم الشان برکات تھیں، آپ کی زندگی کی جو اہمیت تھی اگر اُس پر پورا غور کیا جاتا تو صحابہؓ اُس مقام سے بہت اونچے ہوتے جو انہیں حاصل تھا اور اُس سے بہت زیادہ قربانیاں کرنے والے ہوتے جتنی قربانیاں انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں کیں۔
    اب اِس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا مبارک زمانہ ہمیں ملا ہے اور ہمارے لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم وقت پر اس چیز کی اہمیت کو سمجھتے ہیں جس اہمیت کا سمجھنا ہمارے لیے دینی و دنیوی برکات کا موجب ہوسکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا زمانہ تو گزر گیا۔ اب آپ کے خلفاء اور صحابہؓ کا زمانہ ہے۔ مگر یاد رکھو! کچھ عرصہ کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب چین سے لے کر یورپ کے کناروں تک لوگ سفر کریں گے، اس تلاش، اِس جستجو اور اِس دُھن میں کہ کوئی شخص انہیں ایسا مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام سے بات کی ہو۔ مگر انہیں کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا۔پھر وہ کوشش کریں گے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام سے بات نہ کی ہو صرف مصافحہ ہی کیا ہو۔ مگر انہیں ایسا شخص بھی کوئی نہیں ملے گا۔ پھر وہ کوشش کریں گے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام سے بات نہ کی ہو، آپ سے مصافحہ نہ کیا ہو، صرف اُس نے آپ کو دیکھا ہی ہو۔ مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نظر نہیں آئے گا۔ پھر وہ تلاش کریں گے کہ کاش! انہیں کوئی ایسا شخص مل جائےجس نے گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام سے بات نہ کی ہو، آپ سے مصافحہ نہ کیا ہو، آپ کو دیکھا نہ ہو مگر کم سے کم وہ اُس وقت اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے اُس کو دیکھا ہو مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نہیں ملے گا۔ لیکن آج ہماری جماعت کے لیے موقع ہے کہ وہ ان برکات کو حاصل کرے۔ آج بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے وہ دروازہ کھلا ہے جس سے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے زمانہ کی قریب ترین برکات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے زمانہ کی برکات سے دوسرے نمبر پر ہیں، بڑی آسانی کے ساتھ حاصل کرسکتے ہیں۔ مگر کتنے ہیں جو اس چیز کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، وہ اِسی دُھن میں رہتے ہیں کہ افسوس انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا زمانہ نہ ملا، افسوس وہ ان برکات سے محروم رہ گئے اور اس حسرت وافسوس میں وہ دوسری برکت جو اِن کو حاصل ہوتی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا ان کے امکان میں ہوتا ہے وہ بھی ان کے ہاتھ سے نکلتی چلی جاتی ہے۔ رسّہ کھنچتا چلا جاتا ہے، وقت گزرتا چلا جاتا ہے، فائدہ اٹھانے کا زمانہ ختم ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے مگر وہ پہلی برکت کے نہ ملنے پر ہی افسوس کرتے رہتے ہیں اور موجودہ برکت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرتے۔اِس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ یہی کہ جب ان کے دل اس افسوس سے تھک جائیں گے کہ انہیں کیوں پہلی برکت سے حصہ لینے کا موقع نہ ملا اور وہ کہیں گے اگر پہلی برکت نہیں ملی تو آؤ اَب دوسرے درجہ کی برکت سے ہی حصہ لے لیں تو اُس وقت وہ دوسرے درجہ کی برکت بھی جاچکی ہو گی۔ پھر وہ اس بات پر افسوس کرنے لگ جائیں گے کہ ہمیں دوسرے درجہ کی برکت سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملا اور جو تیسرے درجہ کی برکت ان کے سامنے ہو گی اُس سے کوئی فائدہ نہ اُٹھائیں گے۔ آخر جب وہ فیصلہ کریں گے کہ چلو اگر دوسرے درجہ کی برکت نہیں ملی تو تیسرے درجہ کی برکت سے ہی فائدہ حاصل کریں تو اُس وقت تیسرے درجہ کی برکت بھی جاچکی ہو گی اور چوتھے درجہ کی برکت آ چکی ہو گی۔ اُس وقت وہ پھر تیسرے درجہ کی برکت سے فائدہ نہ اٹھانے پر افسوس کریں گے اور افسوس کرتے چلے جائیں گے مگر انہیں یہ خیال نہیں آئے گا کہ وہ اب چوتھے درجہ کی برکت سے ہی فائدہ حاصل کر لیں۔ آخر ایک لمبے عرصہ کے بعد جب ان کے دل فیصلہ کریں گے کہ اگر تیسرے درجہ کی برکات سے ہم حصہ نہیں لے سکے تو چوتھے درجہ کی برکت سے ہی فائدہ اٹھائیں تو اُس وقت چوتھے درجہ کی برکت بھی آسمان پر جاچکی ہو گی۔ پھر وہ چوتھے درجہ کی برکات نہ ملنے پر افسوس کریں گے اور یہ زمانۂ افسوس اتنا لمبا ہوگا کہ اس عرصہ میں وہ پانچویں درجہ کی برکت سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکیں گے۔ آخر جب وہ فیصلہ کریں گے کہ اگر ہمیں پہلے درجہ کی برکت نہیں ملی، دوسرے درجہ کی برکت نہیں ملی،تیسرے درجہ کی برکت نہیں ملی،چوتھے درجہ کی برکت نہیں ملی تو آؤ ہم پانچویں درجہ کی برکت سے ہی فائدہ حاصل کریں تو کیا دیکھیں گے کہ وہ پانچویں درجہ کی برکت بھی گزر چکی ہے۔ غرض جیسے جیسے خدا تعالیٰ نے مختلف زمانوں میں مختلف برکات رکھی ہیں اور ان برکات کے مختلف مدارج مقرر کیے ہیں اس طرح وہ برکات ظاہر تو ہوتی رہیں گی مگر ایسے لوگ جو وقت پر کسی چیز کی پوری اہمیت نہیں سمجھتے جب وقت گنوا دیتے ہیں اُس وقت توجہ کرتے ہیں۔ پہلی برکت کے نہ ملنے کا دوسری برکت کے زمانہ میں افسوس کرتے ہیں اور دوسری برکت کے نہ ملنے کا تیسری برکت کے زمانہ میں افسوس کرتے ہیں اور تیسری برکت کے نہ ملنے کا چوتھی برکت کے زمانہ میں افسوس کرتے ہیں اور چوتھی برکت کے نہ ملنے کا پانچویں برکت کے زمانہ میں افسوس کرتے ہیں اور پانچویں برکت کے نہ ملنے کا چھٹی برکت کے زمانہ میں افسوس کرتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے مگر وہ کسی ایک برکت سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔لیکن مومن وہ ہوتا ہے جو اپنی سابقہ کوتاہی پر جہاں افسوس کا اظہار کرتا ہے وہاں موجودہ نعمت کو وہ اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ذریعہ اسلام کی جو تشریح ہمیں معلوم ہوئی ہے، جو علوم خدا نے ہم پر کھولے ہیں، جو معارف اُس نے ہمیں سکھائے ہیں اور جو باتیں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی صحبت میں بیٹھ کر سیکھی ہیں آج دنیا اُن کاکہاں مقابلہ کرسکتی ہے۔ لیکن اگر ہم میں سے ایک حصہ نے وہ زمانہ نہیں دیکھا تو اُسے اب وہ معارف اور علوم ہم سے سیکھ کر دوسرے درجہ کی نعمت سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ دوسرے درجہ کی نعمت بھی اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔
    میں نے بتایا ہے کہ یہ زمانہ ایسا ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ ابھی بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں جبکہ خلافت کا نظام ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم ہے اور جبکہ خلافت کے نظام پر وہ لوگ فائز ہوئے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے صحابیؓ ہیں۔ پس اِس وقت سے فائدہ اٹھانے کا جن لوگوں کو موقع نصیب ہے اگر وہ اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور جو خدا تعالیٰ کی مشیّت کے ماتحت انہیں نصیب نہیں ہؤا اُس پر افسوس کرتے ہوئے اپنی عمریں گزار دیتے ہیں تو ممکن ہے بلکہ غالب امر یہ ہے کہ وہ پہلے زمانہ کی طرح اِس دوسرے زمانہ کی برکات کو بھی کھو دیں گے۔پس ہمارے دوستوں کو اس امر کی اہمیت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے اور انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ابھی ان کی زندگیوں میں فائدہ اٹھانے کے اہم مواقع موجود ہیں۔ اگر پہلا زمانہ انہوں نے اپنی غفلت سے کھو دیا ہے یا خدا تعالیٰ نے وہ زمانہ انہیں نصیب نہیں کیا تو اب دوسرا زمانہ کھو دینے کا انہیں کوئی حق نہیں ہے۔ مجھے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانے کا اس وجہ سے خیال پیدا ہؤا کہ میں ایک مجبوری کی وجہ سے قریباً ایک مہینہ سے لاہور میں موجود ہوں۔ مگر میں نے دیکھا ہے لاہور کے بہت ہی کم دوستوں نے میری موجودگی سے فائدہ اٹھایا ہے۔ میں باہر آخر ایک ہی وقت میں بیٹھ سکتا ہوں۔ گو اِس کے علاوہ نمازیں پڑھانے کے لیے بھی میں آتا جاتا ہوں مگر لاہور کے بہت ہی کم لوگ ہیں جو اِس موقع پر آتے رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے دلوں میں بہت دفعہ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا زمانہ انہیں نہ ملا۔ اگر ملتا تو ہم یوں کرتے اور اس اس طرح فائدہ اٹھاتے۔ مگر ان کی ان خواہشات کا باطل اور غلط ہونا اِسی سے ثابت ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت حاصل کرنے کا جو دوسرا موقع ملا اس سے انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ اگر واقع میں ان کے دلوں میں دین کی اہمیت اور اس کی عظمت کا احساس ہوتا تو جو چیز اُن کے ہاتھ سے نکل چکی تھی اُس پر افسوس کرنے کی بجائے جو چیز موجود تھی اس سے فائدہ اٹھاتے۔ ٭
    میں نے دیکھا ہے کہ کئی دوست اِس خیال میں رہے ہیں اور بعض سے میں نے پوچھا تو انہوں نے جواب بھی یہی دیا کہ جگہ تھوڑی ہے وہاں زیادہ لوگ نہیں آسکتے۔ لیکن میرے نزدیک گو وہ چھوٹی جگہ ہے پھر بھی اگر دوست آنا چاہتے تو باری باری آکر سب فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ آخر تھوڑی جگہ میں یہ تو نہیں ہوسکتا کہ جماعت کے سب دوست اکٹھے ہوسکیں۔ ایسی صورت میں فائدہ اٹھانے کا طریق یہی ہوتا ہے کہ باری باری لوگ فائدہ اٹھا لیں۔ پس بے شک وہ جگہ چھوٹی ہے اور سب دوست وہاں نہیں آسکتے لیکن اگر ان کے دلوں میں فائدہ حاصل کرنے کی خواہش اور تڑپ ہوتی تو بعض لوگ ایک دن فائدہ اٹھا لیتے، بعض دوسرے دن فائدہ اٹھا لیتے اور بعض تیسرے دن فائدہ اٹھا لیتے۔ اس طرح جگہ کی تنگی کا سوال بھی حل ہو جاتا اور فائدہ بھی سب جماعت کو پہنچ جاتا۔
    یاد رکھو! خدا تعالیٰ کے انبیاء اور ان کے خلفاء جب کسی جگہ جاتے ہیں تو وہاں کے رہنے والوں کے لیے ایک رنگ میں ابتلاء کا بھی موجب ہوتے ہیں۔یہاں کی جماعت کے دوست خیال کرتے ہوں گے کہ ہمیں مرکز میں رہنے کا موقع نہیں ملا۔اگر ہم مرکز میں رہتے تو یوں دین کی خدمت کرتے اوریوں علمی اور روحانی باتوں کے پھیلانے میں حصہ لیتے۔ مگر کسی زمانہ میں خدا تعالیٰ خود لوگوں کے گھروں میں مرکز کو لے آتا ہے اور پھر اُن سے پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ تم نے کیا فائدہ اٹھایا۔
    بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے وقت میں اتنی اہم نظر نہیں آتیں لیکن کچھ زمانہ گزرنے کے بعد وہی چیزیں عظیم الشان اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ آج کئی دینی مسائل خدا تعالیٰ ہماری زبانوں سے اِس طرح آسانی کے ساتھ حل کرا دیتا ہے کہ لوگوں کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ دین کے اہم ترین مسائل ہیں اور وہ سمجھتے ہیں ان باتوں سے کون انکار کرسکتا ہے۔ لیکن ایک زمانہ آئے گا جب بڑے بڑے عالم، بڑے بڑے سمجھدار اور بڑی بڑی کتابوں کا مطالعہ رکھنے والے ان باتوں کی تلاش کریں گے اور انہیں معلوم نہیں ہوگا کہ ان مسائل کا کیا حل ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حدیثیں بیان فرمایا کرتے تھے اُس وقت کتنے صحابی تھے جنہوں نے اِس کی اہمیت کو سمجھا۔ عام لوگ یہی سمجھتے تھے کہ یہ تو ہماری فطرت کے مطابق باتیں ہیں کون ہے جسے ان باتوں کا بھی علم نہیں ہوسکتا اور کون ہے جو ان کا انکار کرسکتا ہے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وفات پا گئے اور چند صحابہؓ،جنہوں نے اس چیز کی اہمیت کو سمجھا تھا انہوں نے حدیثیں بیان کرنا اپنے ذمہ لے لیا۔مگر پھر ایک ایسا زمانہ آیا جب حدیث اتنی نایاب ہو گئی کہ بعض محدثین کو ایک ایک حدیث دریافت کرنے کے لیے ہزار ہزار، دو دو ہزار میل کا سفر کرنا پڑا۔ موجودہ زمانہ میں جو سہولتیں سفر کرنے میں لوگوں کو میسر ہیں اِن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ہزار دو ہزار میل کا سفر ایسا ہی تھا جیسے کوئی دنیا کے گرد چکر لگانے کے لیے چل پڑے۔ یا یہاں سے پیدل چل کر امریکہ جائے اور پھر وہاں سے واپس آئے۔ بعض محدثین بخارا سے قیروان تک ایک ایک حدیث معلوم کرنے کے لیے گئے ہیں۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں کتنے لوگ تھے جنہوں نے حدیثوں کی اہمیت کو سمجھا۔ صرف تین چار صحابی ایسے نظر آتے ہیں جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے اور دوسروں کو سنانے کا غیر معمولی اشتیاق تھا۔ ان میں سے ایک حضرت ابوہریرہؓ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی کے آخری چند سالوں میں ایمان لائے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرؓ تھے جو کثرت سے حدیثیں سنتے اور بیان کرتے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو حدیثیں لکھنے کا بھی شوق تھا اور انہوں نے بہت سی حدیثیں لکھ رکھی تھیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کو جلا ڈالو۔ ایسا نہ ہوکہ لوگ غلطی سے ان کو قرآن سمجھ لیں۔ غرض یہ تین صحابیؓ خصوصیت سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے۔ ان سے نیچے اُتر کر دو تین درجن اَور صحابیؓ ہیں جن سے متعدد روایات مروی ہیں۔ مگر پھر ان سے نیچے اتر کر کسی صحابیؓ سے ایک اور کسی سے دو حدیثیں پائی جاتی ہیں اور کسی سے ایک حدیث بھی مروی نہیں۔ حضرت ابوبکرؓ جیسے آدمی سے بہت محدود روایتیں آتی ہیں۔ مگر اس کمی کی وجہ اَور تھی۔ عورتوں میں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کثرت سے روایتیں ہیں۔ غرض یہ صرف چھ سات آدمی ہیں جنہوں نے احادیث کی اہمیت کو سمجھا اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ بعد میں آنے والے لوگوں تک ان باتوں کو پہنچا دینا ہمارا فرض ہے۔ اگر یہ پانچ سات صحابہؓ بھی یہی سمجھتے کہ یہ مجلسیں قیامت تک چلی جائیں گی اور ہمیشہ ان باتوں کے سننے اور سنانے والے موجود رہیں گے تو ہم اس قیمتی ذخیرہ کو کہاں سے حاصل کرسکتے۔ دنیا میں نہ کوئی مجلس قیامت تک رہی ہے اور نہ باتیں سنانے والے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ آخر ایک دن مجلسیں ختم ہوجاتی ہیں، باتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ پھر لوگوں کے دلوں میں سوالات پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں، پھر لوگوں کے دلوں میں شبہات اور وساوس پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں اور ان وساوس اور شبہات کا ردّ کرنے والا اور ان سوالات کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ بے شک رستہ موجود ہوتا ہے مگر اس رستے پر چلنے کا خیال کسی کو نہیں آتا۔ رستہ تو یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرے۔ پھر اس طرح دل کی کھڑکی کُھل جاتی ہے کہ جو مشکلات ہوں وہ آپ ہی آپ حل ہوجاتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد بڑے بڑے تاریک زمانے آئے۔ ایسے ایسے زمانے آئے جب علوم مِٹ گئے، روشنی جاتی رہی، ظلمت اور تاریکی پھیل گئی لیکن ایسے تاریک زمانوں میں بھی بعض لوگوں نے جب خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسے ایسے علوم پائے کہ اُن کے ذریعہ سے اپنے زمانہ کی تمام تاریکیوں کو انہوں نے دور کردیا۔ انہی بزرگوں میں سے ایک حضرت سید احمد صاحب سرہندیؒ ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے زمانہ میں بہت سا باطل جو پھیل چکا تھا اللہ تعالیٰ سے نور حاصل کرکے دور کیا۔ اسی طرح اس میدان کے ایک مشہور پہلوان حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی ہوئے ہیں۔ ان کے زمانہ میں بھی بہت گند تھا، دین سے نفرت پائی جاتی تھی اور اسلامی احکام کی غلط ترجمانی کی جاتی تھی۔ انہوں نے خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق پیدا کرکے اس ظلمت کو مٹانے کے لیے جو علوم حاصل کیے اُن کے مطالعہ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر آسمانی علوم کی جو بارش اللہ تعالیٰ نے برسائی اس کا کچھ ترشّح ایک دو صد یاں پہلے بھی ہو چکا ہے۔ اگر وہ علوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان کردہ علوم اور مطالبِ قرآنی تک نہیں پہنچے تو کم سے کم اُن کے قریب ضرور پہنچ گئے ہیں۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ زمانہ میں ایسے مفاسد بھی پیدا ہو چکے تھے جو حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی کے زمانہ میں نہیں تھے اور اِس وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ان مفاسد کی اصلاح کے لیے جن علوم پر روشنی ڈالی وہ اُن کے وہم وخیال میں بھی نہیں آئے اور نہ آسکتے تھے۔ لیکن بہرحال خدا تعالیٰ کے تعلق اور اس کے قُرب نے ان پر وہ علوم ظاہر کیے جو زمانۂ نبوت سے بُعد کی وجہ سے مِٹ چکے تھے اور دنیا اُن سے ناواقف ہو چکی تھی۔ گویا وہ زنجیر جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان اتّصال پیدا کرنے کے لیے قائم تھی اور جو زنجیر ایک لمبے عرصے سے لوگوں کی بد اعمالی کی وجہ سے کٹ چکی تھی اس زنجیر کے ٹکڑے انہوں نے از سرِ نَو جوڑ کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا اور نئے سرے سے پھر آسمان سے گمشدہ علوم کو واپس لائے۔
    پس بے شک یہ راستہ کُھلا ہے اور قیامت تک کُھلا رہے گا۔ اگر خدا اس دروازہ کو بند کردے تو نَعُوْذُ بِاللہِ اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ دنیا کو روحانی زندگی عطاء کرنے کا خواہشمند نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ دنیا میں سے کتنے ہیں جو اس قسم کی قربانی کرتے اور اپنی نفسانی خواہشات کو کچل کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرتے ہیں؟ کم اور بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں۔بعض دفعہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ سال تک ایسے لوگ پیدا نہیں ہوتے اور دنیا کُلّی طور پر تاریکی میں مبتلا چلی جاتی ہے۔ پس بہتر اور آسان طریق دنیا کی ترقی کا یہی ہے کہ اس زنجیر کو نہ ٹوٹنے دیا جائے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان قائم ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت سید احمد صاحب سرہندیؒ، حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلویؒ، حضرت معین الدین صاحب چشتیؒ، حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانیؒ اور اَور بہت سے بزرگ ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرکے دنیا کو تاریکی سے نکالا اور اسے آسمانی نور سے منور کیا۔ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگر یہ زنجیر قائم رہتی، اگر نیکی کا تسلسل قائم رہتا، اگر ایسا ہوتا کہ جیسے ابوبکرؓ کے بعد عمرؓ ہوئے، عمرؓ کے بعد عثمانؓ ہوئے، عثمانؓ کے بعد علیؓ ہوئے۔ اِسی طرح یہ سلسلہ چلتا اور چلتا چلا جاتا تو حضرت سید احمد صاحب سرہندیؒ، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلویؒ، حضرت معین الدین صاحب چشتیؒ اور حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانیؒ کو وہ تکالیف اور وہ مشکلات برداشت نہ کرنی پڑتیں جو تکالیف اور مشکلات انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں برداشت کیں۔ اور نہ صرف ان کو وہ مصیبتیں جھیلنی نہ پڑتیں بلکہ مسلمانوں کی روحانیت کو اُس سے بہت زیادہ فائدہ پہنچتا جتنا فائدہ اس زنجیر کے ٹوٹ جانے کے بعد مسلمانوں کو پہنچا۔ کیونکہ زنجیرِ نبوت سلامت ہوتی اور مسلمانوں کے ہاتھ خدا کے ہاتھ میں رہتے۔ پھر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ گو ان لوگوں نے بڑی بڑی محنتیں کیں اور گم شدہ علوم کو یہ لوگ آسمان سے واپس لائے۔ لیکن یہ لوگ جماعتوں کو واپس نہیں لائے۔ بے شک ہم تسلیم کرتے ہیں کہ تقوٰی اور روحانیت اور علومِ آسمانی کے حاصل کرنے میں ان لوگوں نے اتنی محنتیں کیں اور اِس قدر قربانیاں کیں کہ ان کا قدم صحابہؓ کے قدم سے جا ملا۔
    مَیں اس بات کا قائل نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کوئی شخص صحابہؓ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ میرے نزدیک یہ بالکل باطل خیال ہے اور دنیا میں مایوسی پیدا کرتا اور خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں سے کم کرتا ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ حضرت سید احمد صاحب سرہندیؒ، حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلویؒ، حضرت معین الدین صاحب چشتیؒ، حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانیؒ اور اَور بہت سے بزرگ ایسے ہیں جو کئی صحابہؓ سے بڑھ کر ہوسکتے ہیں۔بلکہ میرے خیال میں یقیناً کئی صحابہؓ سے بڑھ کر تھے۔ لیکن باوجود اِس کے کہ یہ اپنے ایمان اور اپنی قربانیوں کی وجہ سے صحابہؓ میں جا شامل ہوئے پھر بھی انہوں نے دنیا میں صحابہؓ کی سی جماعتیں پیدا نہیں کیں۔ اِنہوں نے بے شک کتابیں لکھ دیں، علوم کے دروازے کھول دیئے، شیطان کے حملوں کا ردّ کردیا لیکن صحابہؓ جیسی کام کرنے والی کوئی جماعت پیدا نہ کرسکے۔ یہ کام اسی صورت میں ہوسکتا تھا جب تسلسل قائم ہوتا اور زنجیرِ نبوت سلامت ہوتی۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد زنجیر ِنبوت کو ٹوٹنے نہ دیا جاتا، پیچھے آنے والے پہلوں سے علوم حاصل کرتے اور وہ ان علوم کو اپنی آئندہ نسلوں تک پہنچا دیتے تو گو صحابہؓ سے کم درجہ کی جماعتیں پیدا ہوتیں مگر بہرحال وہ جماعتی طور پر صحابہؓ کے رنگ میں رنگین ہوتیں اور ہر ملک اور ہر علاقہ میں وہ عوام کی بہتری کا ذریعہ بن جاتیں۔قوم میں سے کسی خاص شخص کا بڑا ہو جانا یا چند اشخاص کا کوئی اعلیٰ اعزاز حاصل کر لینا زیادہ اہم بات نہیں ہوا کرتی۔ یورپ میں ہزاروں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جن کی آمدنی کلکتہ اور بمبئی کے بعض تاجروں سے بہت کم ہے۔ انگلستان کا ایک کثیر حصہ کلکتہ اور بمبئی کے بعض تاجروں سے کم مالدار ہے۔ لیکن باوجود اس کے ہمارا ملک انگریزوں کی دولت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ وہاں عوام اچھی حالت میں ہیں اور یہاں صرف چند کروڑ پتی ہیں۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں تمام مسلمان اونچے مقام پر تھے لیکن حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلویؒ کے زمانہ میں اگر ایک مسلمان آسمان پر بھی چڑھ گیا تو کیا ہؤا، باقی لوگ تو غلاظت کے ڈھیروں پر ہی کھڑے تھے۔ پس سوال یہ ہے کہ حضرت سید احمد صاحب سرہندیؒ،حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلویؒ، حضرت معین الدین صاحب چشتیؒ اور سید عبدالقادر صاحب جیلانیؒ کے زمانہ میں کتنے لوگ تھے جن کے دلوں میں انہوں نے تغیر پیدا کیا؟ کتنے لوگ تھے جنہیں انہوں نے زمینی سے آسمانی بنا دیا؟ کتنے لوگ تھے جو ان کے ذریعہ اسلام کی خدمت کے لیے تیار ہوئے؟ بے شک کچھ لوگ انہوں نے ایسے بھی تیار کیے جو اپنے دلوں میں اسلام کا درد رکھتے تھے، جو اسلام کی اشاعت کے لیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے تیار رہتے تھے لیکن بہرحال یہ چند افراد تھے۔ مگر نبوت کا زمانہ وہ ہوتا ہے جو چند لوگوں کے قلوب میں نہیں ہزاروں لاکھوں قلوب میں تغیر پیدا کردیا کرتا ہے۔ پس اگر اس کڑی کو ٹوٹنے نہ دیا جائے تو عوام میں سے بیشتر وہی روح اپنے اندر رکھنے والے ہوں گے جو زمانۂ نبوت میں مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے لیکن جب وہ کڑی ٹوٹ جائے تو اس کے بعد بے شک امتِ محمد یہ میں بڑے بڑے لوگ پیدا ہو جائیں بلکہ میں کہتا ہوں اگر بعض وقتوں میں ابوبکرؓ سے بھی بڑے لوگ پیدا ہو جائیں تو بھی اسلام کو وہ شوکت نصیب نہیں ہوسکتی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں اسے نصیب تھی۔ اس لیے کہ گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک ہی ابوبکرؓ تھا، ایک ہی عمرؓ تھا، ایک ہی عثمانؓ تھا، ایک ہی علیؓ تھا۔ لیکن اکثر مسلمان ایسے تھے جن کے دلوں میں ایمان تازہ تھا اور جو اللہ تعالیٰ کا عشق اپنے دلوں میں رکھتے تھے۔ پس گو وہ ابوبکرؓ نہ تھے، گو وہ عمرؓ نہ تھے، مگر وہ سارے مسلمان چھوٹے چھوٹے درجہ کے ابوبکرؓ اور چھوٹے چھوٹے درجہ کے عمرؓ تھے۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مقام اور اپنے اپنے درجہ کے لحاظ سے ایک چھوٹا محمدؐ تھا (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ اس لیے وہ تغیر جو یہ لوگ پیدا کرسکتے تھے بعد میں پیدا نہ ہؤا اور نہ ہوسکتا تھا۔ کیونکہ وہ اکیلے تھے جماعتیں ان کے ساتھ نہ تھیں۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اِلَّا مَاشَاءَ اللہُ ساروں میں ایسا تغیر پیدا کردیا جو دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب پیدا کرنے کا موجب بن گیا۔
    پس اپنے زمانہ کی اہمیت سمجھنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اب بھی جو اخلاص کی روح ہماری جماعت میں موجود ہے اگر یہ اِسی طرح بڑھتی چلی جائے اور نہ صرف ہم میں یہ روح رہے بلکہ ہماری نسلوں میں بھی منتقل ہوتی رہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دن یہ روح لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں لوگوں میں پھیل جائے گی۔ لیکن اگر اس زنجیر کو ٹوٹنے دیا جائے، اگر یہ تعلق قائم نہ رہے تو چاہے بعد میں بعض ایسے لوگ بھی پیدا ہو جائیں جو اپنے درجہ اور مقام کے لحاظ سے خلفاء سے بھی بڑھ کر ہوں پھر بھی وہ دنیا کو وہ ترقی نہیں دے سکیں گے جو آج جماعت احمدیہ کے افراد کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے۔کیونکہ وہ اکیلے ہوں گے اور آج ایک جماعت موجود ہے۔ اور اس کی وجہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہی ہے کہ نبی دنیا کے قلوب میں تغیر پیدا کرنے کے لیے آتے ہیں چند بڑے بڑے آدمی پیدا کرنے کے لیے نہیں آتے۔
    پس یہ موقع جو آج لوگوں کو نصیب ہے اِس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہماری جماعت کا اہم ترین فرض ہے۔ ورنہ جب یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو نہ صرف اپنی آخری عمر میں وہ اس حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ ملیں گے کہ کاش! ہم اس زمانہ سے فائدہ اٹھاتے بلکہ ان کی آئندہ نسلوں کی طرف سے ان پر یہ شدید ترین الزام عائد ہوگا کہ انہوں نے اپنی آئندہ نسل کی بہبودی اور اس کی ترقی کے لیے وہ کچھ بھی نہ کیا جو ایک بد معاش دنیا دار بھی اپنی اولاد کی ترقی کے لیے کیا کرتا ہے"۔(الفضل15؍اپریل1944ء)

    4
    میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں
    (فرمودہ 28 جنوری 1944ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "آج میں ایک ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جس کا بیان کرنا میری طبیعت کے لحاظ سے مجھ پر گراں گزرتا ہے لیکن چونکہ بعض نبوتیں اور الٰہی تقدیریں اس بات کے بیان کرنے کے ساتھ وابستہ ہیں اس لیے میں اس کے بیان کرنے سے باوجود اپنی طبیعت کے انقباض کے رُک بھی نہیں سکتا۔ جنوری کے پہلے ہفتہ میں غالباً بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو ( میں نے غالباً کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ میں اندازہ سے یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات تھی) میں نے ایک عجیب رؤیا دیکھا۔ میں نےجیسا کہ بارہا بیان کیا ہے، غیرمامورین کا اپنے کسی رؤیا کو بیان کرنا ضروری نہیں ہوتا اور میں خود تو سوائے پچھلے ایام کے جبکہ اس جنگ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بعض اہم خبریں مجھے دیں، بہت کم ہی اپنی رؤیا بتایا کرتا ہوں۔ بلکہ (اللہ بہتر جانتا ہے یہ طریق درست ہے یا نہیں) میں اپنے رؤیاء و کشوف اور الہامات لکھتا بھی نہیں اور اس طرح وہ خود بھی کچھ عرصہ کے بعد میری نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ابھی لاہور میں مجھے چودھری ظفراللہ خان صاحب نے ایک امر کے سلسلہ میں میرا ایک بیس پچیس سال کا پرانا رؤیا یاد کرایا۔ پہلے تو وہ میرے ذہن میں ہی نہ آیا۔ مگر بعد میں جب انہوں نے اس کی بعض تفصیلات بیان کیں تواُس وقت مجھے یاد آگیا۔ تو یہ میری عادت نہیں ہے کہ میں رؤیاء و کشوف بیان کروں لیکن چونکہ اس رؤیا کا تعلق بعض اہم امور سے ہے۔ نہ صرف ایسے امور سے جو کہ میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ ایسے امور سے بھی جو بعض سابق انبیاء کی ذات اور ان کی پیشگوئیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ صرف وہ بات سابق انبیاء کی ذات اور ان کی پیشگوئیوں سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ آئندہ رونما ہونے والے دنیا کے اہم حالات سے بھی تعلق رکھتے ہیں اس لیے میں مجبور ہوں کہ اُس رؤیا کا اعلان کروں اور میں نے اس کے اعلان سے پہلے خدا تعالیٰ سے اس بارہ میں دعا بھی کی ہے اور استخارہ بھی کیا ہے تاکہ اس معاملہ میں مجھ سے کوئی بات خدا تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضا کے خلاف نہ ہو۔
    وہ رؤیا یہ تھا کہ میں نے دیکھا میں ایک مقام پر ہوں جہاں جنگ ہو رہی ہے وہاں کچھ عمارتیں ہیں۔ نامعلوم وہ گڑھیاں1 ہیں یا ٹرنچز2 ہیں۔بہرحال وہ جنگ کے ساتھ تعلق رکھنے والی کچھ عمارتیں ہیں۔ وہاں کچھ لوگ ہیں جن کے متعلق میں نہیں جانتا کہ آیا وہ ہماری جماعت کے لوگ ہیں یا یونہی مجھے ان سے تعلق ہے میں ان کے پاس ہوں۔ اتنے میں مجھے معلوم ہوتا ہے جیسے جرمن فوج نے جو اس فوج سے کہ جس کے پاس میں ہوں برسرپیکار ہے یہ معلوم کر لیا ہے کہ میں وہاں ہوں اور اس نے اس مقام پر حملہ کردیا ہے۔ اور وہ حملہ اتنا شدید ہے کہ اس جگہ کی فوج نے پسپا ہونا شروع کردیا۔ یہ کہ وہ انگریزی فوج تھی یا امریکن فوج یا کوئی اَور فوج تھی اِس کا مجھے اُس وقت کوئی خیال نہیں آیا۔ بہر حال وہاں جو فوج تھی اس کو جرمنوں سے دَبنا پڑا اور اُس مقام کو چھوڑ کر وہ پیچھے ہٹ گئی۔ جب وہ فوج پیچھے ہٹی تو جرمن اس عمارت میں داخل ہو گئے جس میں مَیں تھا۔ تب میں خواب میں کہتا ہوں دشمن کی جگہ پر رہنا درست نہیں اور یہ مناسب نہیں کہ اب اس جگہ ٹھہرا جائے یہاں سے ہمیں بھاگ چلنا چاہیے۔ اُس وقت میں رؤیا میں صرف یہی نہیں کہ تیزی سے چلتا ہوں بلکہ دوڑتا ہوں۔ میرے ساتھ کچھ اَور لوگ بھی ہیں اور وہ بھی میرے ساتھ ہی دوڑتے ہیں اور جب میں نے دوڑنا شروع کیا تو رؤیا میں مجھے یوں معلوم ہؤا جیسے میں انسانی مقدرت سے زیادہ تیزی کے ساتھ دوڑ رہا ہوں اور کوئی ایسی زبردست طاقت مجھے تیزی سے لے جا رہی ہے کہ میلوں میل ایک آن میں طے کر تا جا رہا ہوں۔ اُس وقت میرے ساتھیوں کو بھی دوڑنے کی ایسی ہی طاقت دی گئی مگر پھر بھی وہ مجھ سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور میرے پیچھے ہی جرمن فوج کے سپاہی میری گرفتاری کے لیے دوڑتے آرہے ہیں۔ مگر شاید ایک منٹ بھی نہیں گزرا ہوگا کہ مجھے رؤیا میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ جرمن سپاہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں مگر میں چلتا ہی جاتا ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ زمین میرے پَیروں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے یہاں تک کہ میں ایک ایسے علاقہ میں پہنچا جو دامنِ کوہ کہلانے کا مستحق ہے۔ ہاں! جس وقت جرمن فوج نے حملہ کیا ہے رؤیا میں مجھے یاد آتا ہے کہ کسی سابق نبی کی کوئی پیشگوئی ہے یا خود میری کوئی پیشگوئی ہے اس میں اس واقعہ کی خبر پہلے سے دی گئی تھی اور تمام نقشہ بھی بتایا گیا تھا کہ جب وہ موعود اس مقام سے دوڑے گا تو اس طرح دوڑے گا اور پھر فلاں جگہ جائے گا۔ چنانچہ رؤیا میں جہاں مَیں پہنچا ہوں وہ مقام اس پہلی پیشگوئی کے عین مطابق ہے اور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ پیشگوئی میں اس امر کا بھی ذکر ہے کہ ایک خاص رستہ ہے جسے میں اختیار کروں گا اور اس رستہ کے اختیار کرنے کی وجہ سے دنیا میں بہت اہم تغیرات ہوں گے اور دشمن مجھے گرفتار کرنے میں ناکام رہے گا۔ چنانچہ جب میں یہ خیال کرتا ہوں تو اس مقام پر مجھے کئی پگڈنڈیاں نظر آتی ہیں جن میں سے کوئی کسی طرف جاتی ہے اور کوئی کسی طرف۔ مَیں ان پگڈنڈیوں کے بالمقابل دوڑتا چلا گیا ہوں تا معلوم کروں کہ پیشگوئی کے مطابق مجھے کس کس راستہ پر جانا چاہیے اور میں اپنے دل میں یہ خیال کرتا ہوں کہ مجھے تو یہ معلوم نہیں کہ میں نے کس راستہ سے جانا ہے اور میرا کس راستہ سے جانا خدائی پیشگوئی کے مطابق ہے۔ ایسا نہ ہو میں غلطی سے کوئی ایسا راستہ اختیار کرلوں جس کا پیشگوئی میں ذکر نہیں۔ اُس وقت میں اُس سڑک کی طرف جا رہا ہوں جو سب کے آخر میں بائیں طرف ہے۔ اُس وقت میں دیکھتا ہوں کہ مجھ سے کچھ فاصلہ پر میرا ایک اَور ساتھی ہے اور وہ مجھے دیکھ کر کہتا ہے کہ اس سڑک پر نہیں، دوسری سڑک پر جائیں اور مَیں اس کے کہنے پر اس سڑک کی طرف جو بہت دور ہٹ کر ہے واپس لَوٹتا ہوں۔ وہ جس سڑک کی طرف مجھے آوازیں دے رہا ہے انتہائی دائیں طرف ہے اور جس سڑک کو مَیں نے اختیار کیا تھا وہ انتہائی بائیں طرف تھی۔ پس چونکہ میں انتہائی بائیں طرف تھا اور جس طرف وہ مجھے بلا رہا تھا وہ انتہائی دائیں طرف تھی اس لیے مَیں لَوٹ کر اس سڑک کی طرف چلا۔ مگر جس وقت میں پیچھے کی طرف واپس ہٹا، ایسا معلوم ہؤا کہ مَیں کسی زبردست طاقت کے قبضہ میں ہوں اوراس زبردست طاقت نے مجھے پکڑ کر درمیان میں سے گزرنے والی ایک پگڈنڈی پر چلا دیا۔ میرا ساتھی مجھے آوازیں دیتا چلا جاتا ہے کہ اُس طرف نہیں اِس طرف۔ اُس طرف نہیں اِس طرف۔ مگر مَیں اپنے آپ کو بالکل بے بس پاتا ہوں اور درمیانی پگڈنڈی پر بھاگتا چلا جاتا ہوں۔ اس جگہ کی شکل رؤیا کے مطابق اس طرح بنتی ہے:۔






    جب میں تھوڑی دور چلا تو مجھے وہ نشانات نظر آنے لگے جو پیشگوئی میں بیان کیے گئے تھے۔ اور میں کہتا ہوں میں اسی راستہ پر آگیا جو خدا تعالیٰ نے پیشگوئی میں فرمایا تھا۔ اُس وقت رؤیا میں مَیں اس کی کچھ توجیہہ بھی کرتا ہوں کہ میں درمیانی پگڈنڈی پر جو چلا ہوں تو اس کا کیا مطلب ہے۔ چنانچہ جس وقت میری آنکھ کھلی معاً مجھے خیال آیا کہ دایاں اور بایاں راستہ جو رؤیا میں دکھایا گیا ہے اس میں بائیں رستہ سے مراد خالص دنیوی کوششیں اور تدبیریں ہیں اور دائیں رستہ سے مراد خالص دینی طریق، دعا اور عبادتیں وغیرہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ہماری جماعت کی ترقی درمیانی راستے پر چلنے سے ہو گی۔ یعنی کچھ تدبیریں اور کوششیں ہوں گی اور کچھ دعائیں اور تقدیریں ہوں گی۔ اور پھر یہ بھی میرے ذہن میں آیا کہ دیکھو قرآن شریف نے امتِ محمدیہ کو اُمَّةً وَّسَطًا3 قرار دیا ہے۔اس وسطی راستہ پر چلنے کے یہی معنے ہیں کہ یہ امت اسلام کا کامل نمونہ ہو گی۔ اور چھوٹی پگڈنڈی کی یہ تعبیر ہے کہ راستہ گو درست راستہ ہے مگر اس میں مشکلات بھی ہوتی ہیں۔غرض مَیں اُس راستہ پر چلنا شروع ہؤا اور مجھے یوں معلوم ہؤا کہ دشمن بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ اتنی دور کہ نہ اُس کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے اور نہ اُس کے آنے کا کوئی امکان پایا جاتا ہے۔مگر ساتھ ہی میرے ساتھیوں کے پیروں کی آہٹیں بھی کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہ بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ مگر مَیں دوڑتا چلا جا تا ہوں اور زمین میرے پیَروں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے۔ اُس وقت مَیں کہتا ہوں کہ اس واقعہ کے متعلق جو پیشگوئی تھی اُس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس رستہ کے بعد پانی آئے گا اور اُس پانی کو عبور کرنا بہت مشکل ہوگا۔ اُس وقت مَیں رستے پر چلتا تو چلا جاتا ہوں مگر ساتھ ہی کہتا ہوں وہ پانی کہاں ہے؟ جب مَیں نے یہ کہا وہ پانی کہاں ہے تو یکدم مَیں نے دیکھا کہ مَیں ایک بہت بڑی جھیل کے کنارے پر کھڑا ہوں اور مَیں سمجھتا ہوں کہ اس جھیل کے پار ہو جانا پیشگوئی کے مطابق ضروری ہے۔ مَیں نے اُس وقت دیکھا کہ جھیل پر کچھ چیزیں تیر رہی ہیں، وہ ایسی لمبی ہیں جیسے سانپ ہوتے ہیں اور ایسی باریک اور ہلکی چیزوں سے بنی ہوئی ہیں جیسے بیّے4 وغیرہ کے گھونسلے نہایت باریک تنکوں کے ہوتے ہیں۔ وہ اُوپر سے گول ہیں جیسے اژدہا کی پیٹھ ہوتی ہے اور رنگ ایسا ہے جیسے بیّے کے گھونسلے سے سفیدی، زردی اور خاکی رنگ ملا ہؤا۔ وہ پانی پر تیر رہی ہیں اور اُن کے اُوپر کچھ لوگ سوار ہیں جو اُن کو چلا رہے ہیں۔ خواب میں مَیں سمجھتا ہوں یہ بُت پرست قوم ہے اور یہ چیزیں جن پر یہ لوگ سوار ہیں اُن کے بُت ہیں اور یہ سال میں ایک دفعہ اپنے بتوں کو نہلاتے ہیں اور اب بھی یہ لوگ اپنے بتوں کو نہلانے کی غرض سے مقررہ گھاٹ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جب مجھے اور کوئی چیز پار لے جانے کے لیے نظر نہ آئی تو مَیں نے زور سے چھلانگ لگائی اور ایک بُت پر سوار ہو گیا۔ تب مَیں نے سنا کہ بُتوں کے پجاری زور زور سے مشرکانہ عقائد کا اظہار منتروں اور گیتوں کے ذریعہ سے کرنے لگے۔ اس پر مَیں نے دل میں کہا کہ اِس وقت خاموش رہنا غیرت کے خلاف ہے اور بڑے زور زور سے مَیں نے توحید کی دعوت ان لوگوں کو دینی شروع کی اور شرک کی برائیاں بیان کرنے لگا۔ تقریر کرتے ہوئے مجھے یوں معلوم ہؤا کہ میری زبان اُردو نہیں بلکہ عربی ہے۔ چنانچہ مَیں عربی میں بول رہا ہوں اور بڑے زور سے تقریر کررہا ہوں۔ رؤیا میں ہی مجھے خیال آتا ہے کہ ان لوگوں کی زبان تو عربی نہیں یہ میری باتیں کس طرح سمجھیں گے۔ مگر مَیں محسوس کرتا ہوں کہ گو ان کی زبان کوئی اَور ہے مگر یہ میری باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ چنانچہ مَیں اسی طرح ان کے سامنے عربی میں تقریر کررہا ہوں اور تقریر کرتے کرتے بڑے زور سے ان کو کہتا ہوں کہ تمہارے یہ بُت اس پانی میں غرق کیے جائیں گے اور خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم کی جائے گی۔ ابھی مَیں یہ تقریر کر ہی رہا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ اسی کشتی نما بت والا جس پر میں سوار ہوں یا اس کے ساتھ کے بت والا بت پرستی کو چھوڑ کر میری باتوں پر ایمان لے آیا ہے اور موحّد ہو گیاہے۔ اس کے بعد اثر بڑھنا شروع ہؤا اور ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں شخص میری باتوں پر ایمان لاتا، مشرکانہ باتوں کو ترک کرتا اور مسلمان ہوتا چلا جاتا ہے۔ اتنے میں ہم جھیل پار کرکے دوسری طرف پہنچ گئے۔ جب ہم جھیل کے دوسری طرف پہنچ گئے تومَیں ان کو حکم دیتا ہوں کہ ان بتوں کو جیسا کہ پیشگوئی میں بیان کیا گیا تھا، پانی میں غرق کردیا جائے۔ اس پر جو لوگ موحّد ہو چکے ہیں وہ بھی اور جو ابھی موحّد تو نہیں ہوئے مگر ڈھیلے پڑ گئے ہیں میرے سامنے جاتے ہیں اور میرے حکم کی تعمیل میں اپنے بتوں کو جھیل میں غرق کر دیتے ہیں اور مَیں خواب میں حیران ہوں کہ یہ تو کسی تیرنے والے مادے کے بنے ہوئے تھے۔ یہ اس آسانی سے جھیل کی تہہ میں کس طرح چلے گئے۔ صرف پُجاری پکڑ کر ان کو پانی میں غوطہ دیتے ہیں اور وہ پانی کی گہرائی میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد مَیں کھڑا ہو گیا اور پھر انہیں تبلیغ کرنے لگ گیا۔ کچھ لوگ تو ایمان لا چکے تھے مگر باقی قوم جو ساحل پر تھی ابھی ایمان نہیں لائی تھی اس لیے میں نے ان کو تبلیغ کرنی شروع کردی۔ یہ تبلیغ میں ان کو عربی زبان میں ہی کرتا ہوں۔ جب میں انہیں تبلیغ کررہا ہوں تاکہ باقی لوگ بھی اسلام لے آئیں تو یکدم میری حالت میں تغیر پیدا ہوتا ہے اور مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب مَیں نہیں رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں جاری کی جا رہی ہیں۔ جیسے خطبہ الہامیہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاری ہؤا۔ غرض میرا کلام اُس وقت بند ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ میری زبان سے بولنا شروع ہو جاتا ہے۔ بولتے بولتے میں بڑے زور سے ایک شخص کو جو غالباً سب سے پہلے ایمان لایا تھا، غالباً کا لفظ مَیں نے اس لیے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ وہی شخص پہلے ایمان لایا ہو۔ہاں غالب گمان یہی ہے کہ وہی شخص پہلا ایمان لانے والا یا پہلے ایمان لانے والوں میں سے بااثر اور مفید وجود تھا، بہرحال مَیں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہے اور مَیں نے اس کا اسلامی نام عبدالشکور رکھا ہے۔میں اس کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ پیشگوئیوں میں بیان کیا گیا ہے مَیں اب آگے جاؤں گا اس لیے اے عبدالشکور! تجھ کو میں اس قوم میں اپنا نائب مقرر کرتا ہوں۔ تیرا فرض ہوگا کہ میری واپسی تک اپنی قوم میں توحید کو قائم کرے اور شرک کو مٹا دے اور تیرا فرض ہوگا کہ اپنی قوم کو اسلام کی تعلیم پر عامل بنائے۔ میں واپس آ کر تجھ سے حساب لوں گا اور دیکھوں گا کہ تجھے میں نے جن فرائض کی سرانجام دہی کے لیے مقرر کیا ہے ان کو تُو نے کہاں تک ادا کیا ہے۔ اس کے بعد وہی الہامی حالت جاری رہتی ہے اور میں اسلام کی تعلیم کے اہم امور کی طرف اسے توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ تیرا فرض ہوگا کہ ان لوگوں کو سکھائے کہ اللہ ایک ہے اور محمدؐ اس کے بندہ اور اس کے رسول ہیں اور کلمہ پڑھتا ہوں اور اس کے سکھانے کا اسے حکم دیتا ہوں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام پر ایمان لانے کی اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے کی اور سب لوگوں کو اس ایمان کی طرف بلانے کی تلقین کرتا ہوں۔جس وقت میں یہ تقریر کررہا ہوں (جو خود الہامی ہے) یوں معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذکر کے وقت اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری زبان سے بولنے کی توفیق دی ہے اور آپ فرماتے ہیں اَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ذکر پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور آپ فرماتے ہیں اَنَا الْمَسِیْحُ المَوْعُوْدُ۔ اس کے بعد مَیں ان کو اپنی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ چنانچہ اُس وقت میری زبان پر جو فقرہ جاری ہؤا وہ یہ ہے اَنَا الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِیْلُہٗ وَخَلِیْفَتُہٗ اور میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی اس کا مثیل اور اس کا خلیفہ ہوں۔تب خواب میں ہی مجھ پر ایک رعشہ کی سی حالت طاری ہوجاتی ہے اور میں کہتا ہوں کہ میری زبان پر کیا جاری ہؤا اور اس کا کیا مطلب ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اُس وقت معاً میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کے آگے جو الفاظ ہیں کہ مَثِیْلُہٗ میں اس کا نظیر ہوں وَخَلِیْفَتُہٗ اوراس کا خلیفہ ہوں۔یہ الفاظ اس سوال کو حل کر دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کہ "وہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا"5 اِس کے مطابق اور اسے پورا کرنے کے لیے یہ فقرہ میری زبان پر جاری ہؤا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کا مثیل ہونے اور اس کا خلیفہ ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں مَیں بھی مسیح موعود ہی ہوں۔ کیونکہ جو کسی کا نظیر ہوگا اور اس کے اخلاق کو اپنے اندر لے لے گا وہ ایک رنگ میں اُس کا نام پانے کا مستحق بھی ہوگا۔ پھر میں تقریر کرتے ہوئے کہتا ہوں میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لیے انیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی تھیں اور جب مَیں کہتا ہوں "میں وہ ہوں جس کے لیے انیس سو سال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں"۔تو میں نے دیکھا کہ کچھ نوجوان عورتیں جو سات یا نو ہیں جن کے لباس صاف ستھرے ہیں، دوڑتی ہوئی میری طرف آتی ہیں، مجھے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتی اور ان میں سے بعض برکت حاصل کرنے کے لیے میرے کپڑوں پر ہاتھ پھیرتی جاتی ہیں اور کہتی ہیں "ہاں ہاں! ہم تصدیق کرتی ہیں کہ ہم انیس سو سال سے آپ کا انتظار کر رہی تھیں"۔اس کے بعد مَیں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جسے علوم ِاسلام اور علومِ عربی اور اس زبان کا فلسفہ ماں کی گود میں اس کی دونوں چھاتیوں سے دودھ کے ساتھ پلائے گئے تھے۔ رؤیا میں جو ایک سابق پیشگوئی کی طرف مجھے توجہ دلائی گئی تھی اس میں یہ بھی خبر تھی کہ جب وہ موعود بھاگے گا تو ایک ایسے علاقہ میں پہنچے گا جہاں ایک جھیل ہو گی اور جب وہ اس جھیل کو پار کرکے دوسری طرف جائے گا تو وہاں ایک قوم ہو گی جس کو وہ تبلیغ کرے گا اور وہ اس کی تبلیغ سے متاثر ہو کر مسلمان ہوجائے گی۔ تب وہ دشمن، جس سے وہ موعود بھاگے گا اس قوم سے مطالبہ کرے گا کہ اس شخص کو ہمارے حوالے کیا جائے۔ مگر وہ قوم انکار کردے گی اور کہے گی ہم لڑ کر مر جائیں گے مگر اسے تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔چنانچہ خواب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جرمن قوم کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ تم ان کو ہمارے حوالے کر دو۔ اُس وقت مَیں خواب میں کہتا ہوں یہ تو بہت تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے۔ مگر وہ قوم باوجود اِس کے کہ ابھی ایک حصہ اُس کا ایمان نہیں لایا بڑے زور سے اعلان کرتی ہے کہ ہم ہرگز ان کو تمہارے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم لڑ کر فنا ہو جائیں گے مگرتمہارے اس مطالبہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ تب مَیں کہتا ہوں دیکھو! وہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی۔اس کے بعد میں پھر ان کو ہدایتیں دے کر اور بار بار توحید قبول کرنے پر زور دے کر اور اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کرکے آگے کسی اَور مقام کی طرف روانہ ہو گیا ہوں۔اُس وقت میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم میں سے اَور لوگ بھی جلدی جلدی ایمان لانے والے ہیں۔ چنانچہ اسی لیے مَیں اس شخص سے جسے مَیں نے اس قوم میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے کہتا ہوں جب مَیں واپس آؤں گا تو اے عبدالشکور! میں دیکھوں گا کہ تیری قوم شرک چھوڑ چکی ہے؟ موحّد ہو چکی ہے؟ اور اسلام کے تمام احکام پر کار بند ہو چکی ہے؟
    یہ رؤیا ہے جو مَیں نے جنوری 1944ءمطابق صلح 1923ہش دیکھی اور جو غالباً پانچ اور چھ کی درمیانی شب بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات میں ظاہر کی گئی۔ جب میری آنکھ کھلی تو میری نیند بالکل اُڑ گئی اور مجھے سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ کیونکہ آنکھ کھلنے پر مجھے یوں محسوس ہوتا تھا گویا مَیں اردو بالکل بھول چکا ہوں اور صرف عربی ہی جانتا ہوں۔ چنانچہ کوئی گھنٹہ بھر تک میں اس رؤیا پر غور کرتا اور سوچتا رہا۔ مگر میں نے دیکھا کہ مَیں عربی میں ہی غور کرتا تھا اور اسی میں سوال و جواب میرے دل میں آتے تھے۔ اس رؤیا میں تین پیشگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک پیشگوئی تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا مَیں نے ہی کی ہے یا کسی سابق غیرمعروف نبی نے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کس نبی کی پیشگوئی ہے اور آیا دنیا کے سامنے اس رنگ میں یہ پیشگوئی پیش بھی ہو چکی ہے یا نہیں۔ لیکن اس کے علاوہ دو اَور پیشگوئیوں کی طرف بھی اس میں اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی پیشگوئی جس میں یہ ذکر ہے کہ اُنیس سو سال سے کنواریاں میرا انتظار کر رہی تھیں وہ درحقیقت حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ایک پیشگوئی ہے جس کا انجیل میں ذکر آتا ہے۔ حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں جب میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا تو بعض قومیں مجھے مان لیں گی اور بعض قومیں انکار کریں گی۔ آپ ان اقوام کا تمثیلی رنگ میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کی مثال ایسی ہی ہو گی جیسے کچھ کنواریاں اپنی اپنی مشعلیں لے کر دولہا کے استقبال کو نکلیں۔ وہ دولہا کے انتظار میں بیٹھی رہیں، بیٹھی رہیں اور بیٹھی رہیں۔ مگر دولہا نے آنے میں بہت دیر لگائی۔ جو عقلمند تھیں، انہوں نے تو اپنی مشعلوں کے ساتھ تیل بھی لے لیاتھا۔ مگر جو بیوقوف تھیں انہوں نے مشعلیں تو لے لیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لیا۔ جب دولہا نے بہت دیر لگائی تو سب اونگھنے لگیں۔ تب وہ، جو بے احتیاط عورتیں تھیں انہوں نے معلوم کیا کہ ان کا تیل ختم ہو رہا ہے اور انہوں نے دوسری عورتوں سے کہا اپنے تیل میں سے کچھ ہمیں بھی دے دوکیونکہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا ہم تمہیں تیل نہیں دے سکتیں۔ اگر دے دیں تو شاید ہمارا تیل بھی ختم ہوجائے۔ تم بازار میں جاؤ شاید تمہیں وہاں سے تیل مل جائے۔ جب وہ مول لینے کے لیے بازار گئیں تو پیچھے سے دولہا آ پہنچا اور وہ جو تیار تھیں اُس کو ساتھ لے کر قلعہ میں چلی گئیں اور دروازہ بند کردیا گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ بے احتیاط عورتیں بھی آئیں اور دروازے کو کھٹکھٹا کر کہنے لگیں ہمارے لیے بھی دروازہ کھولا جائے ہم اندر آنا چاہتی ہیں۔مگر دولہا نے جواب دیا تم نے میرا انتظار نہ کیا،تم نے پوری طرح احتیاط نہ برتی۔اس لیے اب صرف اُنہیں کو حصہ ملے گاجو چوکس تھیں تمہارے لیے دروازہ نہیں کھولا جاسکتا۔6 یہ درحقیقت حضرت مسیح ناصری کی اپنی بعثتِ ثانیہ کے متعلق ایک پیشگوئی تھی جو انجیل میں پائی جاتی ہے۔ پس رؤیا میں مَیں نے جو یہ کہا کہ "مَیں وہ ہوں جس کے لیے اُنیس سوسال سے کنواریاں اس سمندر کے کنارے پر انتظار کر رہی تھیں" اس سے مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے زمانہ میں یا میری تبلیغ سے یا ان علوم کے ذریعہ سے جو اللہ تعالیٰ نے میری زبان اور قلم سے ظاہر فرمائے ہیں اُن قوموں کو جن کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام پر ایمان لانا مقدر ہے اور جو حضرت مسیح ناصریؑ کی زبان میں کنواریاں قرار دی گئی ہیں ہدایت عطا فرمائے گا اور اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ میرے ہی ذریعہ سے ایمان لانے والی سمجھی جائیں گی۔ اور یہ جو فرمایا کہ مَثِیْلُہٗ وَخَلِیْفَتُہٗ اس خدائی الہام نے وہ بات جو ہمیشہ میرے سامنے پیش کی جاتی تھی اور جس کا جواب دینے سے ہمیشہ میری طبیعت انقباض محسوس کیا کرتی تھی آج میرے لیے بالکل حل کردی ہے۔ یعنی اس الہامِ الٰہی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیشگوئی جو مصلح موعود کے متعلق تھی خدا تعالیٰ نے میری ہی ذات کے لیے مقدر کی ہوئی تھی۔ لوگوں نے کہا اور بار بار کہا کہ آپ کی ان پیشگوئیوں کے بارہ میں کیا رائے ہے مگر میری یہ حالت تھی کہ میں نے کبھی سنجیدگی سے ان پیشگوئیوں کو پڑھنے کی بھی کوشش نہیں کی تھی۔ اس خیال سے کہ میرا نفس مجھے کوئی دھوکا نہ دے اور مَیں اپنے متعلق کوئی ایسا خیال نہ کرلوں جو واقعہ کے خلاف ہو۔
    حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ مجھے ایک خط دیا اور فرمایا میاں! یہ خط ہے جو تمہاری پیدائش کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے مجھے لکھا۔ اس خط کو تشحیذ الاذہان میں چھاپ دو۔ یہ بڑے کام کی چیز ہے۔ مَیں نے اُس وقت اُن کے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ خط لے لیا اور ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اُسے تشحیذ میں شائع کرا دیا۔ مگر اللہ بہتر جانتا ہے مَیں نے اُس وقت بھی اس خط کو غور سے نہیں پڑھا۔ صرف سرسری طور پر پڑھا اور اشاعت کے لیے دے دیا۔ لوگوں نے اُس وقت بھی کئی قسم کی باتیں کیں مگر مَیں خاموش رہا۔ اس کے بعد بھی بار بار یہ سوال میرے سامنے لایا گیا مگر ہمیشہ مَیں نے یہی جواب دیا کہ اِس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ جس شخص کے متعلق یہ خبریں ہیں اُسے بتایا بھی جائے کہ یہ تمہارے متعلق خبریں ہیں یا ہرگز یہ ضروری نہیں کہ جس شخص کے متعلق یہ پیشگوئیاں ہیں وہ دعوٰی بھی کرے کہ مَیں ان پیشگوئیوں کا مصداق ہوں۔ بلکہ مثال کے طور پر مَیں نے بعض دفعہ بیان کیا ہے کہ ریل کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔7 ماننے والے مانتے ہیں کہ پیشگوئی پوری ہو گئی کیونکہ وہ واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔اب یہ ضروری نہیں کہ ریل خود دعوٰی بھی کرے کہ مَیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فلاں پیشگوئی کی مصداق ہوں۔ ہماری جماعت کے دوستوں نے یہ اور اسی قسم کی دوسری پیشگوئیاں بارہا میرے سامنے رکھیں اور اصرار کیا کہ مَیں اُن کا اپنے آپ کو مصداق ظاہر کروں۔ مگر مَیں نے انہیں ہمیشہ یہی کہا کہ پیشگوئی اپنے مصداق کو آپ ظاہر کیا کرتی ہے۔اگر یہ پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں تو زمانہ خودبخود گواہی دے دے گا کہ ان پیشگوئیوں کا مَیں مصداق ہوں اور اگر میرے متعلق نہیں تو زمانہ کی گواہی میرے خلاف ہوگی۔دونوں صورتوں میں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ پیشگوئیاں میرے متعلق نہیں تو مَیں یہ کہہ کر کیوں گنہگار بنوں کہ یہ پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں اور اگر میرے ہی متعلق ہیں تو مجھے جلد بازی کی کیا ضرورت ہے وقت خودبخود حقیقت ظاہر کردے گا۔ غرض جیسے الہامِ الٰہی میں کہا گیا تھا "انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہیں تکیں"۔8 دنیا نے یہ سوال اتنی دفعہ کیا، اتنی دفعہ کیا کہ اس پر ایک لمبا عرصہ گزر گیا۔ اس لمبے عرصہ کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے الہامات میں خبر موجود ہے۔ مثلاً حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے یہ کہا تھا کہ تُو اسی طرح یوسف کی باتیں کرتا رہے گا یہاں تک کہ قریب المرگ ہوجائے گا یا ہلاک ہوجائے گا9۔ اور یہی الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا۔10 اسی طرح یہ الہام ہونا کہ یوسف کی خوشبو مجھے آ رہی ہے،11 بتاتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت یہ چیز ایک لمبے عرصہ کے بعد ظاہر ہوگی۔
    مَیں اب بھی اس یقین پر قائم ہوں کہ اگر ان پیشگوئیوں کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے موت کے قریب وقت تک یہ علم نہ دیا جاتا کہ یہ میرے متعلق ہیں بلکہ موت تک مجھے علم نہ دیا جاتا اور واقعات خودبخود ظاہر کر دیتے کہ چونکہ یہ پیشگوئیاں میرے زمانہ میں اور میرے ہاتھ سے پوری ہوئی ہیں اس لیے مَیں ہی ان کا مصداق ہوں تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔ کسی کشف یا الہام کا تائیدی طور پر ہونا ایک زائد امر ہوتا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی مشیت کے ماتحت آخر اِس امر کو ظاہر کردیا اور مجھے اپنی طرف سے علم بھی دے دیا کہ مصلح موعود سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں۔ چنانچہ آج مَیں نے پہلی دفعہ وہ تمام پیشگوئیاں منگوا کر اِس نیت کے ساتھ دیکھیں کہ مَیں ان پیشگوئیوں کی حقیقت سمجھوں اور دیکھوں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن میں کیا کچھ بیان فرمایا ہے۔ ہماری جماعت کے دوست چونکہ میری طرف ان پیشگوئیوں کو منسوب کیا کرتے تھے اس لیے مَیں ہمیشہ ان پیشگوئیوں کو غور سے پڑھنے سے بچتا تھا اور ڈرتا تھا کہ کوئی غلط خیال قائم نہ ہوجائے۔ مگر آج پہلی دفعہ مَیں نے وہ تمام پیشگوئیاں پڑھیں اور اب ان پیشگوئیوں کو پڑھنے کے بعد مَیں خدا تعالیٰ کے فضل سے یقین اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی میرے ذریعہ سے ہی پوری کی ہے۔
    میں اس کے متعلق اِس وقت تفصیل سے کچھ نہیں کہہ سکتا مگر یہ جو آتا ہے کہ "وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا"۔12 اس کے متعلق ہمیشہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں؟ اسی طرح "دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ"13 کے متعلق سوال کیا جاتا ہے۔ سو یہ جو الہام ہے کہ وہ "تین کو چار کرنے والا ہوگا"۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ذہن اس طرف گیا ہے کہ وہ تین بیٹوں کو چار کرنے والا ہوگا۔ یعنی وہ چوتھا بیٹا ہوگا۔ اگر یہ مفہوم لے لیا جائے تو چوتھے بیٹے کے لحاظ سے بھی بات بالکل صاف ہے۔ مجھ سے پہلے مرزا سلطان احمد صاحب، مرزا فضل احمد صاحب اور مرزا بشیر احمد (اول) پیدا ہوئے اور چوتھا مَیں ہوا۔۔۔۔۔اسی طرح میرے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین بیٹے ہوئے۔ اس لحاظ سے بھی مَیں تین کو چار کرنے والا ہؤا۔ پھر میری خلافت کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے مرزا سلطان احمد صاحب کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق دی۔ اِس طرح بھی مَیں تین کو چار کرنے والا ہؤا۔ گویا تین کو چار کرنے والا مَیں تین طرح ہوں۔ اول و دوم اس طرح۔


    سوم اس طرح:۔
    سلطان احمد 1، مرزا بشیر احمد 2، مرزا شریف احمد3، مرزا محموداحمد4۔ اس طرح میں نے تین کو چار کردیا۔ لیکن میرا ذہن خدا تعالیٰ نے اس طرف بھی منتقل کیا ہے کہ الہامی طور پر یہ نہیں کہا گیا تھا کہ وہ تین بیٹوں کو چار کرنے والا ہوگا۔ الہام میں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔
    پس میرے نزدیک یہ اس کی پیدائش کی تاریخ بتائی گئی ہے۔ یہ پیشگوئی ابتدا 1886ء میں کی گئی تھی۔پس 1886ء، 1887ء، 1888ء تین سال ہوئے۔ اِن تین سالوں کو چار کونسا سال کرتا ہے؟ 1889ء کرتا ہے اور یہی میری پیدائش کا سال ہے۔ پس تین کو چار کرنے والی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ اس کی پیدائش چوتھے سال میں ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
    اور یہ جو آتا ہے "دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ" اس کے اورمعنے بھی ہوسکتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس کی ایک واضح تشریح یہ ہے کہ دو شنبہ ہفتے کا تیسرا دن ہوتا ہے؛ شنبہ پہلا، یکشنبہ دوسرا اور دو شنبہ تیسرا۔ دوسری طرف روحانی سلسلوں میں انبیاء اور ان کے خلفاء کا الگ الگ دَور ہوتا ہے اور جس طرح نبی کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے اسی طرح خلیفہ کا زمانہ اپنی ذات میں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔اس لحاظ سے غور کرکے دیکھو پہلا دَور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا تھا۔ دوسرا دَور حضرت خلیفہ اول کا تھا اور تیسرا دَور میرا ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کا ایک اَور الہام اس تشریح کی تصدیق کررہا ہے اور وہ الہام ہے "فضل عمر"۔14 حضرت عمرؓ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیسرے مقام پر ہی خلیفہ تھے۔ پس "دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ" سے یہ مراد نہیں کہ کوئی خاص دن خاص برکات کا موجب ہوگا بلکہ مراد یہ ہے کہ اس موعود کے زمانہ کی مثال احمدیت کے دَور میں ایسی ہی ہوگی جیسے دو شنبہ کی ہوتی ہے۔ یعنی اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خدمتِ دین کے لیے جو آدمی کھڑے کیے جائیں گے ان میں وہ تیسرے نمبر پر ہوگا۔ "فضل عمر" کے الہامی نام میں بھی اسی طرف اشارہ ہے۔ گویا کلامُ اللہ میں یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا کے مطابق "فضل عمر" کے لفظ نے "دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ" کی تفسیر کردی۔
    مگر اس الہام میں ایک اَور خبر بھی ہے اور خدا تعالیٰ مبارک دو شنبہ اب ایک ایسے ذریعہ سے بھی لانے والا ہے جو میرے اختیار میں نہیں تھا اور کوئی انسا ن نہیں کہہ سکتا کہ مَیں نے اپنے ارادہ سے اور جان بوجھ کر اس کا اجراء کیا۔میں نے 1934ء میں تحریک جدید کو ایسے حالات میں جاری کیا جو ہرگز میرے اختیار میں نہیں تھے۔ گورنمنٹ کے ایک فعل اور احرار کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اس تحریک کا القاء فرمایا اوراس تحریک کے پہلے دَور کی تکمیل کے لیے مَیں نے دس سال میعاد مقرر کی۔ ہر انسان جب کوئی قربانی کرتا ہے تو اس قربانی کے بعد اس پر ایک عید کا دن آتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو رمضان کے مہینہ میں لوگ روزے رکھتے اور تکلیف برداشت کرتے ہیں مگر جب رمضان گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ مومنوں کے لیے ایک عید کا دن لاتا ہے۔ اسی طرح ہماری دس سالہ تحریک جدید جب ختم ہوگی تو اس سے اگلا سال ہمارے لیے عید کا سال ہوگا۔دوست جانتے ہیں تحریک جدید کا پہلا دس سالہ دَور اسی سال یعنی 1944ء میں ختم ہوتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ سن 1945ء جو ہمارے لیے عید کا سال ہے، پیر کے دن سے شروع ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں یہ خبر بھی دی تھی کہ ایک زمانہ میں اسلام کی نہایت کمزور حالت میں اس کی اشاعت کے لیے ایک اہم تبلیغی ادارہ کی بنیاد رکھی جائے گی اور جب اس کا پہلادَور کامیابی سے ختم ہوگا تو یہ جماعت کے لیے ایک مبارک وقت ہوگا۔ اس لیے وہ سال جب مومن اس عہد و قربانی کو پورا کر چکیں گے جو وہ اپنے ذمہ لیں گے تو ایک مبارک بنیاد ہو گی اور اس سے اگلے سال سے خدا تعالیٰ ان کے لیے برکت کا بیج بوئے گا اور خوشی کا دن ان کو دکھائے گا۔ اور جس سال میں یہ وقوع میں آئے گا اُس کا پہلا دن پیر یا دو شنبہ ہوگا۔ پس وہ سال بھی مبارک اور وہ دن بھی مبارک۔ پس "دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ"۔
    مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ مصلح موعود اس سلسلہ کی تیسری کڑی ہوگا۔بعض دفعہ ایک چیز کی کسی اور چیز سے مشابہت دے دی جاتی ہے مگر ضروری نہیں ہوتا کہ اس سے مراد وہی ہو۔ پس میرے نزدیک اس کے معنے بالکل واضح ہیں اور "فضل عمر" جو الہامی نام ہے وہ ان معنوں کی تائید کرتا ہے۔
    میں اس امر کا بھی ذکر دینا چاہتا ہوں کہ جب رؤیا کے بعد میری آنکھ کھلی تو مَیں اس مسئلہ پر سوچتا رہا اور جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے عربی میں ہی سوچتا رہا۔ سوچتے سوچتے میرے دماغ میں جو الفاظ آئے اور مَیں جس نتیجہ پر پہنچا وہ یہ تھا کہ اب تو خدا نے بالکل فیصلہ کردیا ہے جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ۔ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔15 اور عجیب بات یہ ہے کہ آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا اشتہار پڑھ رہا تھا تو اس میں مجھے یہی الفاظ نظر آئے کہ حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ گیا اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ گیا۔16 پس اللہ تعالیٰ نے میرے لیے (میں یہ نہیں کہتا کہ دوسروں کے لیے بھی۔ کیونکہ دوسرا شخص کسی غیر مامور کے کشف یا الہام کو ماننے کا مکّلف نہیں لیکن میرے لیے خدا تعالیٰ نے) حقیقت کو کھول دیا ہے اور اب مَیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور خدا تعالیٰ نے ایک ایسی بنیاد تحریک جدید کے ذریعہ سے رکھ دی ہے جس کے نتیجہ میں حضرت مسیح ناصریؑ کی وہ پیشگوئی کہ کنواریاں دولہا کے ساتھ قلعہ میں داخل ہوں گی، ایک دن بہت بڑی شان اور عظمت کے ساتھ پوری ہوگی۔ مثیل مسیحؑ ان کنواریوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور لے جائے گا اور وہ قومیں جو اُس سے برکت پائیں گی خوشی سے پکار اٹھیں گی کہ ھو شعنا، ھو شعنا۔17 اُس وقت انہیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانا نصیب ہوگا اور اُسی وقت انہیں حقیقی رنگ میں مسیح اولؑ پر سچا ایمان نصیب ہوگا۔ اب تو وہ قومیں انہیں خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دے کر درحقیقت گالیاں دے رہی ہیں لیکن مقدر یہی ہے کہ میرے بوئے ہوئے بیج سے ایک دن ایسا درخت پیدا ہوگا کہ یہی عیسائی اقوام مثیل مسیحؑ سے برکت حاصل کرنے کے لیے اس کے نیچے بسیرا کریں گی اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہو جائیں گی اور جیسے خدا کی بادشاہت آسمان پر ہے ویسےہی زمین پر آجائے گی"۔
    (الفضل یکم فروری 1944ء)

    5

    مصلح موعود کے متعلق
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی
    (فرمودہ 4فروری 4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مَیں نے پچھلے جمعہ میں اپنی ایک رؤیا سنائی تھی جس میں مجھے بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وہ پیشگوئی جو ایک ایسے لڑکے کے متعلق تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی مقرر کردہ میعاد کے اندر پیدا ہونے والا تھا اور جو 1886ء کی پیشگوئی کا مصداق تھا وہ میرے ہی متعلق تھی۔ آج مَیں بتاتا ہوں کہ کس طرح اس رؤیا میں بہت سی باتیں اس پیشگوئی کی دہرائی گئی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمائی۔
    جیسا کہ مَیں نے بتایا تھا مَیں نے اس پیشگوئی کو غور و فکر سے پڑھنے کی پہلے کبھی کوشش نہیں کی۔ بلکہ جب کبھی یہ پیشگوئی میرے سامنے آتی، مَیں اس کے مضمون پر سے جلدی سے گزر جاتا تھا تاکہ میرا نفس میرے دل میں اس کے متعلق کوئی جھوٹا شُبہ پیدا نہ کرے اور جبکہ جماعت کے دوستوں کا اصرار تھا کہ وہ اس پیشگوئی کو میرے متعلق سمجھتے ہیں میں ہمیشہ ہی اس مضمون سے کتراتا تھا۔ اس لیے پیشگوئی کی جو تشریحات تھیں وہ میرے ذہن میں نہ تھیں۔خصوصاً اس سال کے شروع میں جب یہ رؤیا ہؤا یعنی جنوری کے مہینہ میں، اُس وقت تو کوئی وجہ نہ تھی کہ یہ تشریحات میرے سامنے ہوتیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مضمون عرصہ دراز سے میرے سامنے نہ آیا تھا۔ بے شک بعض علامتیں جو اس پیشگوئی میں بیان کی گئی ہیں وہ میرے ذہن میں تھیں۔ لیکن باوجود اس کے یہ رؤیا مجھے ایسے رنگ میں آئی ہے جسے دماغی ترجمانی نہیں کہا جاسکتا۔ اور بعض علامتیں جو اس پیشگوئی میں تو تھیں مگر میرے علم میں نہ تھیں اور گو میں نے وہ علامتیں پڑھی ضرور تھیں مگر اُن علامتوں نے کبھی میرے ذہن میں معیّن جگہ نہیں پکڑی تھی اور مجھے یاد بھی نہیں تھیں اُن علامتوں کو اس رؤیا میں اللہ تعالیٰ نے عجیب طریق پر دُہرا دیا ہے۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں اُن مشابہتوں کا ذکر کروں، مَیں اس امر کا ذکر کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ظاہری مشابہت میری رؤیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی پیشگوئی کے درمیان پائی جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو یہ خبر ایک سفر کے موقع پر دی گئی تھی جبکہ آپ ہوشیارپور گئے ہوئے تھے اور ہوشیارپور میں ہی آپ نے وہ اشتہار لکھا جس میں اس پیشگوئی کا تفصیل کے ساتھ ذکر آتا ہے۔ چنانچہ اس اشتہار کے شائع کرتے وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس الہام کو درج کرتے ہوئے کہ "میں نے تیری تضرعات کو سُنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایۂ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو تیرے لیے مبارک کردیا"۔تحریر فرمایا ہے "جو ہوشیارپور اور لدھیانہ کا سفر ہے" لدھیانہ کا سفر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے پہلے کیا اور ہوشیار پور کا سفر بعد میں اور یہ الہامات آپ کو ہوشیار پور میں ہی ہوئے۔ چنانچہ میاں بشیر احمد صاحب نے اپنی کتاب "سیرۃ المہدی" میں مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی یہ روایت شائع کی ہے کہ مَیں اس سفر میں آپ کے ہمراہ تھا۔ وہیں آپؑ پر یہ الہامات نازل ہوئے اور وہیں آپؑ نے یہ اشتہار شائع کیا۔ پس یہ خبر آپ کو ہوشیارپور کے سفر میں ملی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ مجھ کو بھی یہ رؤیا سفر میں ہی ہوئی ہے جبکہ میں لاہور میں تھا۔پس اس پیشگوئی اور رؤیا میں سفر کے لحاظ سے بھی آپس میں مشابہت پائی جاتی ہے بلکہ جس وقت مَیں یہ بات بیان کرنے لگا ہوں، میرے ذہن میں ایک اَور مشابہت بھی آئی ہے مگر مجھے اس پر ابھی پورا یقین نہیں۔ اس کے متعلق اِنْشَاءَ اللّٰہبعد میں تحقیقات کروں گا۔ اور وہ مشابہت یہ ہے کہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شیخ بشیر احمد صاحب جس مکان میں رہتے ہیں اور جس میں رؤیا کے وقت میری سکونت تھی وہ ہوشیارپور کے رہنے والے ایک صاحب شیخ نیاز محمد صاحب پلیڈر مرحوم کا ہے ۔٭ پس یہ عجیب بات ہے کہ یہ رؤیا مجھے سفر میں آئی اور اس مکان میں آئی جو ہوشیارپور کے رہنے والے ایک دوست کا مکان ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو یہ الہامات بھی ہوشیارپور میں ہی ہوئے اور ان کی برادری کے ایک آدمی کے گھر پر ہوئے۔ شیخ نیاز محمد صاحب کا بھی عجیب معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ میری ان سے کوئی زیادہ واقفیت نہ تھی۔ ہاں یہ جانتا تھا کہ وہ ایک کامیاب وکیل ہیں اور یہ معلوم تھا کہ لوگوں میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اچھے درجہ پر پہنچ جائیں گے۔ مگر مجھے وہ صرف ایک دفعہ ملے تھے۔ اس ملاقات کے مہینوں بلکہ سالوں بعد مَیں نے ایک رؤیا دیکھی کہ ایک بہت بڑا اژدہام ہے جس میں ان کو ایک ہاتھی پر چڑھا کر لوگ جلوس کی صورت میں شہر کی طرف لا رہے ہیں۔ بہت سے مسلمان جمع ہیں اور لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے اور وہ بہت خوش ہیں کہ ان کو کوئی عزت ملی ہے یا ملنے والی ہے۔ مَیں رؤیا میں دیکھتا ہوں کہ جلوس مفتی محمد صادق صاحب کے گھر کی طرف آرہا ہے مَیں ان کے گھر کے قریب جو موڑ ہے وہاں کھڑا ہو گیا اور جلوس نے اس طرف بڑھنا شروع کردیا۔ جس وقت وہ عین منزلِ مقصود پر پہنچ گئے جہاں ان کا اعزاز ہونا تھا تو یکدم آسمان سے ایک ہاتھ آیا اور وہ انہیں اٹھا کر لے گیا۔ اس رؤیا کے مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے بعد وہ فوت ہو گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہائی کورٹ کی ججی کے لیے ان کا نام گیا ہوا تھا اور منظوری آنے ہی والی تھی کہ وہ فوت ہو گئے۔ یہ رؤیا تھی جو مَیں نے ان کے متعلق دیکھی۔ حالانکہ میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ صرف ایک دفعہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے ساتھ وہ مجھ سے ملنے کے لیے آئے تھے۔ اس سے زیادہ میری ان سے کوئی واقفیت نہ تھی لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ وہ عنقریب فوت ہونے والے ہیں اور ایسے حالات میں فوت ہونے والے ہیں جبکہ مسلمانوں کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے ان کو عزت ملنے والی ہے۔ آج مَیں سمجھتا ہوں کہ باوجود کوئی ظاہری تعلق نہ ہونے کے ان کی وفات کی خبر کا مجھے دینا اسی نسبت کی وجہ سے تھا کہ ان کے گھر پر اللہ تعالیٰ نے مجھے مصلح موعود ہونے کی خبر دینی تھی۔ اب مَیں ان مشابہتوں کو بیان کرتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی پیشگوئی کے ساتھ میری رؤیا کو ہیں۔
    رؤیا میں مَیں نے دیکھا کہ میری زبان پر یہ فقرہ جاری ہوا اَنَا الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِیْلُہٗ وَخَلِیْفَتُہٗ ان الفاظ کا میری زبان پر جاری ہونا میرے لیے اس قدر عجوبہ تھا (ظاہر میں تو ہو ہی سکتا ہے لیکن خواب میں ہی میری ایسی کیفیت ہو گئی) کہ قریب تھا اس تہلکہ سے مَیں جاگ اٹھتا کہ میرے مُنہ سے یہ کیا الفاظ نکل گئے ہیں۔ بعد میں بعض دوستوں نے توجہ دلائی کہ مسیحی نفس ہونے کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے اشتہار مورخہ 20 فروری 1886ء میں بھی آتا ہے۔ گو اس روز مَیں یہ اشتہار پڑھ کر آیا تھا لیکن جب مَیں خطبہ پڑھ رہا تھا اُس وقت اشتہار کے یہ الفاظ میرے ذہن میں نہ تھے۔خطبہ کے بعد غالباً دوسرے دن مولوی سید سرور شاہ صاحب نے توجہ دلائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے اشتہار میں بھی لکھا ہے کہ "وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا"۔اس پیشگوئی میں بھی مسیح کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
    دوسرے مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں نے بُت تڑوائے ہیں۔ اس کا اشارہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی اس پیشگوئی کے دوسرے حصہ میں پایا جاتا ہے کہ وہ "روح الحق کی برکت سے بُہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا"۔ روح الحق توحید کی روح کو کہا جاتا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ اصل چیز خدا تعالیٰ کا وجود ہی ہے،باقی سب چیزیں اظلال اور سائے ہیں۔ پس روح الحق سے مراد توحید کی روح ہے جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ اس کی برکت سے بُہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔
    تیسرے مَیں نے دیکھا کہ مَیں بھاگ رہا ہوں۔ چنانچہ خطبہ میں مَیں نے ذکر کیا تھا کہ رؤیا میں یہی نہیں کہ مَیں تیزی سے چلتا ہوں بلکہ دوڑتا ہوں اور زمین میرے قدموں تلے سمٹتی چلی جاتی ہے۔ پسر ِموعود کی پیشگوئی میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ وہ جلد جلد بڑھے گا۔ اسی طرح رؤیا میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں بعض غیر ملکوں کی طرف گیا ہوں اور پھر وہاں بھی مَیں نے اپنے کام کو ختم نہیں کیا بلکہ مَیں اور آگے جانے کا ارادہ کررہا ہوں۔ جیسے مَیں نے کہا اے عبدالشکور! اب مَیں آگے جاؤں گا اور جب اس سفر سے واپس آؤں گا تو دیکھوں گا کہ اس عرصہ میں تُو نے توحید کو قائم کردیا ہے،شرک کو مٹا دیا ہے اور اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی تعلیم کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کردیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام پر اللہ تعالیٰ نے جو کلام نازل فرمایا اس میں بھی اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے وہ "زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا"۔ یہ الفاظ بھی اس کے دور دور جانے اور چلتے چلے جانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
    پھر یہ جو پیشگوئی میں ذکر آتا ہے کہ وہ :" علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا"۔ اس کی طرف بھی میری رؤیا میں اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ خواب میں مَیں بڑے زور سے کہہ رہا ہوں کہ "مَیں وہ ہوں جسے علوم اسلام اور علوم عربی اور اس زبان کا فلسفہ ماں کی گود میں اس کی دونوں چھاتیوں سے دودھ کے ساتھ پلائے گئے تھے"۔
    پھر لکھا تھا وہ "جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا"۔اس کے متعلق بھی رؤیا میں وضاحت پائی جاتی ہے جیسا کہ مَیں نے بتایا کہ رؤیا میں میری زبان پر تصرف کیا گیا اور میری زبان سے خدا تعالیٰ نے بولنا شروع کردیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے اور آپ نے میری زبان سے کلام فرمایا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام آئے اور آپ نے میری زبان سے بولنا شروع کردیا۔ یہ جلالِ الٰہی کا ایک عجیب ظہور تھا جس کا پیشگوئی میں بھی ذکر پایا جاتا تھا۔ پس یہ بھی ان دونوں میں ایک مشابہت پائی جاتی ہے۔
    پھر لکھا تھا۔"وہ صاحبِ شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا"۔اور رؤیا میں بھی یہ دکھایا گیا کہ ایک قوم ہے جس کا مَیں ایک شخص کو لیڈر مقرر کرتا ہوں اور ان الفاظ میں جیسے ایک طاقتور بادشاہ اپنے ماتحت کو کہہ رہا ہو،اسے کہتا ہوں اے عبدالشکور! تم میرے سامنے اس بات کے ذمہ دار ہوگے کہ تمہارا ملک قریب ترین عرصہ میں توحید پر ایمان لے آئے، شرک کو ترک کردے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیم پر عمل کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ارشادات کو اپنے مدنظر رکھے۔ یہ "صاحبِ شکوہ اور عظمت" کے ہی کلمات ہوسکتے ہیں جو رؤیا میں میری زبان پر جاری کیے گئے۔
    اور یہ جو پیشگوئی میں ذکر آتا ہے کہ "ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے"۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس پر کلامِ الٰہی نازل ہوگا اور رؤیا میں اس کا بھی ذکر آتا ہے۔ چنانچہ الٰہی تصرف کے ماتحت رؤیا میں مَیں سمجھتا ہوں کہ اب مَیں نہیں بول رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں جاری کی جا رہی ہیں۔پس اس حصہ میں پیشگوئی کے انہی الفاظ کے پورا ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ "ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے"۔
    پھر رؤیا کا یہ حصہ بھی پیشگوئی کے ان الفاظ کی تصدیق کرتا ہے کہ رؤیا میں مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر قدم جو مَیں اٹھا رہا ہوں وہ کسی پہلی وحی کے مطابق اٹھا رہا ہوں۔ اب مَیں خیال کرتا ہوں کہ یہ جو مَیں سمجھتا ہوں کہ آئندہ مَیں جو سفر کروں گا وہ ایک سابق وحی کے مطابق ہوگا اس سے اشارہ مصلح موعود والی پیشگوئی ہی کی طرف تھا۔ اور یہ بتایا گیا تھا کہ میری زندگی اس پیشگوئی کا نقشہ ہے اور الٰہی تصرف کے ماتحت ہے۔ اب مَیں سمجھتا ہوں کہ پہلی پیشگوئی کے متعلق جو یہ ابہام رکھا گیا کہ یہ کس کی پیشگوئی ہے، اس میں یہ حکمت تھی تا مصلح موعود کی پیشگوئی کی طرف توجہ دلا کر اس ذہنی علم کا رؤیا میں دخل نہ ہو جائے جو مجھے اس پیشگوئی کی نسبت حاصل تھا۔ اس قسم کی تدابیر رؤیا اور الہام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ اختیار کی جاتی ہیں اور اسرارِ سماویہ میں سے ایک سرّ میں یہ وہ مشابہتیں ہیں جو میری رؤیا اور حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کی پیشگوئی میں پائی جاتی ہیں۔
    اب مَیں واقعات کے لحاظ سے اس پیشگوئی کا تطابق دیکھتا ہوں۔ اس بارہ میں جماعت میں سالہاسال سے کثرت سے مضامین نکل چکے ہیں اور لوگوں نے اس رؤیا سے پہلے ہی پیشگوئی کی بہت سی باتیں مجھ پر چسپاں کی ہیں۔ اس لیے میں اِس وقت چند باتیں جو نہایت اہم ہیں بیان کرتا ہوں۔
    اول یہ کہ جب لوگ میرے متعلق کہتے تھے کہ یہ بچہ ہے اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کے مقام پر مجھے کھڑا کیا۔ اس کی طرف بھی پیشگوئی کے ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا تھا کہ "وہ جلد جلد بڑھے گا"
    میرے لیے وہ حیرت کا زمانہ تھا۔ بلکہ اب تک مَیں اپنی اس حیرت کو نہیں بُھولا۔حضرت خلیفہ اول کا زمانہ تھا اور مجھے کچھ پتہ نہ تھا کہ جماعت میں کیا جھگڑا ہے۔ کس بات پر فساد اور ہنگامہ برپا ہے۔ جیسے ایک شفاف آئینہ ہر قسم کی میل کچیل اور داغوں سے منزّہ ہوتا ہے وہی میرے دل کی کیفیت تھی۔ ہر قسم کے بغض سے پاک ہر قسم کی سازش کے خیالات سے مبّرا بلکہ حالات کے علم سے بھی خالی تھا۔ صبح کی نماز کا وقت تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے کچھ سوالات لوگوں کو جواب لکھنے کے لیے بھجوائے ہوئے تھے اور مَیں نے بھی ان کے جواب لکھے تھے۔مَیں اُس وقت حضرت اماں جان کے کمرہ میں، جو مسجد کے بالکل ساتھ ہے نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھا کہ مسجد سے مجھے لوگوں کی اونچی اونچی آوازیں آنی شروع ہو گئیں جیسے کسی بات پر وہ جھگڑ رہے ہوں۔ ان میں سے ایک آواز جسے میں نے پہچانا وہ شیخ رحمت اللہ صاحب کی تھی۔ مَیں نے سنا کہ وہ بڑے جوش سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک بچہ کو آگے کرکے جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے، ایک بچہ کو آگے کرنے کی خاطر یہ سب فساد برپا کیا جا رہا ہے، ایک بچہ کو خلیفہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مجھے یاد ہے، مَیں اُس وقت ان باتوں سے اتنا غافل اور اس قدر ناواقف تھا کہ مجھے ان کی یہ بات سن کر حیرت ہوئی کہ وہ بچہ ہے کون، جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جا رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر دوسروں سے پوچھا کہ آج مسجد میں یہ کیسا شور تھا اور شیخ رحمت اللہ صاحب یہ کیا کہہ رہے تھے کہ ایک بچہ کو آگے کرنے کی خاطر جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے؟ وہ بچہ ہے کون جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جا رہے تھے؟ اس پر ایک دوست نے ہنس کر کہا کہ وہ بچہ تم ہی تو ہو،اور کون ہے؟پس مَیں اُس وقت ان باتوں سے اس قدر ناواقف تھا کہ مَیں اتنا بھی نہ سمجھ سکا کہ اس بچہ سے مراد مَیں ہوں۔ لیکن دشمن کا یہ قول درحقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے انہی الفاظ کی تصدیق کررہا تھا کہ "وہ جلد جلد بڑھے گا"۔ خدا نے مجھے اتنی جلدی بڑھایا کہ دشمن حیران رہ گیا۔ چند ماہ پہلے مجھے بچہ قرار دے کر وہ ناقابل قرار دے رہا تھا اور چند ماہ بعد وہ مجھے ایک شاطر، تجربہ کار قرار دے کر میری برائی کررہا تھا۔ گویا بچپن کی عمر میں ہی اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے سلسلہ میں رخنہ ڈالنے والوں کو شکست دلوا دی۔ یہ ویسے ہی ہوا جیسے حضرت مسیح ناصریؑ سے ہوا۔ ان کے دشمنوں نے بھی کہا تھا کہ ہم ایک بچے سے کس طرح باتیں کریں۔ جب حضرت مسیح ناصری اپنی والدہ کے ساتھ شہر میں آئے اور حضرت مریم نے لوگوں سے کہا کہ ان سے باتیں کرو۔ تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم ایک بچے سے کس طرح باتیں کریں۔ یہی وہ بات تھی جس کی طرف قرآن کریم میں ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا۔1 پس اُس وقت میرے متعلق دشمنوں کی طرف سے یہی کہا جاتا تھا کہ یہ ایک بچہ ہے مگر باوجود اس کے کہ یہ لوگ مجھے بچہ سمجھتے تھے اور باوجود اس کے کہ مَیں واقع میں بچہ تھا، میری عمر اُس وقت پچیس سال تھی، اللہ تعالیٰ نے مجھے پچیس سال کی عمر میں ایک حکومت پر قائم کردیا، اور حکومت بھی ایسی جو روحانی حکومت تھی۔ جسمانی حکومت میں تو بادشاہ کے پاس تلوار ہوتی ہے، طاقت ہوتی ہے، جتھا ہوتا ہے، فوجیں ہوتی ہیں، جرنیل ہوتے ہیں، جیل خانے ہوتے ہیں، خزانے ہوتے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے پکڑ کر سزا دیتا ہے لیکن حکومتِ روحانی میں جس کا جی چاہتا ہے مانتا ہے اور جس کا جی چاہتا ہے انکار کر دیتا ہے۔زور اور طاقت کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ پھر خدا تعالیٰ نے مجھے اس حکومتِ روحانی پر ایسی حالت میں کھڑا کیا جب خزانہ میں صرف چند آنے تھے اور ہزارہا روپیہ قرض تھا اور پھر خدا تعالیٰ نے یہ کام ایسی حالت میں سپرد کیا جب جماعت کے ذمہ دار افراد قریباً سارے کے سارے مخالف تھے اور یہاں تک مخالف تھے کہ ان میں سے ایک شخص نے مدرسہ ہائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تو جاتے ہیں لیکن عنقریب تم دیکھ لو گے کہ ان عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہوجائے گا۔ ایک پچیس برس کا لڑکا تھا جس کو ایک ایسی حکومت سپرد کی گئی جس میں طاقت و قوت کا نام و نشان تک نہ تھا، جس کو ایک ایسی قوم کی حکومت سپرد کی گئی جس کا خزانہ خالی تھا، جس کو ایک ایسی قوم کی حکومت سپرد کی گئی جس کے اپنے سردار اور تجربہ کار لیڈر اسے چھوڑ کر جار ہے تھے۔ میدان دشمن کے قبضہ میں تھا اور وہ اس بات پر خوشیاں منا رہا تھا کہ ہمارے جاتے ہی اس قوم کی عمارتوں پر عیسائی قابض ہو جائیں گے اور اس کی ترقی کے ایام تنزل اور ادبار سے بدل جائیں گے۔ تم سمجھ سکتے ہو، ایسے نازک حالات میں اس قوم کا کیا حال ہوسکتا ہے۔ مگر وہ دن گیا اور آج کا دن آیا۔ دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ جماعت کی جو تعداد اُس وقت تھی جب وہ میرے سپرد کی گئی آج خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے سینکڑوں گُنے زیادہ ہے۔جن ملکوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا نام پہنچ چکا تھا آج اس سے بیسیوں گُنے زیادہ ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچ چکا ہے۔ جس خزانے میں صرف اٹھارہ آنے تھے آج اس میں لاکھوں روپیہ پایا جاتا ہے۔ جس جماعت کے افراد نہایت کمزور حالت میں تھے آج اس جماعت کے افراد ہر لحاظ سے ترقی کر چکے ہیں۔ اگر مَیں آج بھی مر جاؤں تب بھی مَیں خزانہ میں اُس سے بہت زیادہ روپیہ چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملا۔ مَیں اس سے بہت زیادہ جماعت چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملی۔ میں ان سے بہت زیادہ علماء چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملے تھے۔ مَیں سلسلہ کی تائید میں اس سے بہت زیادہ کتابیں چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملیں اور مَیں سلسلہ کی خدمت کے لیے ان سے بہت زیادہ علوم چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے اس وقت ملے تھے جب خدا نے مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا۔پس وہ جو خدا نے کہا تھا کہ "وہ جلد جلد بڑھے گا" اور "خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا" وہ پیشگوئی ایسے عظیم الشان رنگ میں پوری ہوئی ہے کہ دشمن سے دشمن بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے اس پیشگوئی کو اتنا اہم قرار دیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں "یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشانِ آسمانی ہے"۔2 جس کو خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لیے نازل کیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس پیشگوئی کو سمجھ کر اس پر ایمان لاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عظیم الشان نشان دیکھتا ہے جس کی مثال اور نشانوں میں بہت کم ملتی ہے۔ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے تحریر فرمایا کہ "نو برس کے عرصہ تک تو خود اپنے زندہ رہنے کا ہی حال معلوم نہیں اور نہ یہ معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاد خواہ مخواہ پیدا ہوگی۔ چہ جائیکہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی اٹکل سے قطع اور یقین کیا جائے"۔3
    پھر آپ نے لکھا کہ اس پیشگوئی میں صرف یہی نہیں کہ نوبرس میں ایک لڑکا پیدا ہونے کی خبر دی گئی ہے بلکہ ساتھ ہی ایسی شرطیں لگا دی گئی ہیں کہ وہ لڑکا اسلام کی شان وشوکت کا موجب ہوگا۔ اور ایسی شرائط کے ساتھ کسی لڑکے کا پیدا ہونا "انسانی طاقتوں سے بالاتر" اور "بڑا بھاری آسمانی نشان"ہے۔4 کسی انسان کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ ایسا کرسکے۔
    وہ بھی کیا زمانہ تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام پر چاروں طرف سے دشمنوں کے حملے ہو رہے تھے۔ محض اس بناء پر کہ آپؑ نے الہام کا دعوٰی کیا ہے۔ آپ نے مجددیت کا دعوٰی اُس وقت نہیں کیا تھا۔ ماموریت کا دعوٰی اُس وقت نہیں تھا۔صرف الہام نازل ہونے کا دعوٰی کیا اور دنیا آپ کی مخالف ہو گئی۔ صرف چند افراد آپ کے ساتھ تھے۔اُس وقت اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو بتایا کہ تمہیں ایک ایسا لڑکا ملے گا جو صاحبِ شکوہ اور عظمت ہوگا جو تمہارے رنگ میں رنگین ہو کر اصلاح کے لیے کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوگا۔ وہ سلسلہ اور اسلام کی بہتری کے سامان مہیا کرے گا اور دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔
    یہ صاف بات ہے کہ جو شخص کسی کا نائب ہونے کی حیثیت سے کھڑا کیا جائے گا وہ جب دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا تو جو اُس کا آقا اور مطاع ہے اُس کا نام بھی دنیا کے کناروں تک ضرور پہنچے گا۔ پس جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ وہ "زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا" تواس کے معنے یہ تھے کہ اس کے ذریعہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا نام بھی دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔
    اب دیکھ لو! یہ پیشگوئی کتنی واضح ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے زمانہ میں بیرونی ممالک میں سے صرف افغانستان ہی ایک ایسا ملک تھا جہاں کسی اہمیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا نام پہنچا تھا۔ اَور ممالک میں صرف اُڑتی ہوئی خبریں پہنچی تھیں اور وہ بھی یا تو مخالفوں کی پھیلائی ہوئی تھیں اور یا ایسا ہوا کہ کسی شخص کے پاس سلسلہ کی کوئی کتاب پہنچی اور اس نے آگے کسی کو دِکھادی۔ باقاعدہ جماعت کسی ملک میں قائم نہیں تھی۔ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں خواجہ کمال الدین صاحب انگلستان گئے مگر وہاں انہوں نے احمدیت کا ذکر سمِّ قاتل قرار دے دیا۔ اِس وجہ سے انگلستان میں جو مشن قائم ہوا اس کے ذریعہ احمدیت کا نام نہیں پھیلا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا نام نہیں پھیلا۔ اگر پھیلا تو خواجہ صاحب کا نام پھیلا۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں سلسلہ احمدیہ کی باگ دی تو میرے زمانہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے سماٹرا میں احمدیت پھیلی، جاوا میں احمدیت پھیلی،سٹریٹ سیٹلمنٹ میں احمدیت پھیلی،چین میں احمدیت پھیلی،ماریشس میں احمدیت پھیلی، افریقہ کے چاروں کناروں تک احمدیت پہنچی اور پھیلی،مصر میں احمدیت پھیلی،شام میں احمدیت پھیلی،فلسطین میں احمدیت پھیلی، ایران میں احمدیت پہنچی، عراق میں احمدیت پہنچی،یورپ کے کئی ممالک میں احمدیت پہنچی، چنانچہ اٹلی میں احمدیت پہنچی، سپین میں احمدیت پہنچی، ہنگری میں احمدیت پہنچی،زیکوسلویکیا میں احمدیت پہنچی،جرمنی میں احمدیت پہنچی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں کے لحاظ سے انگلستان اور امریکہ میں بڑی بڑی احمدی جماعتیں قائم ہوئیں۔ اب ساؤتھ امریکہ میں آہستہ آہستہ احمدیت کا نام پھیل رہا ہے۔گویا دنیا کے چاروں کناروں تک میرے زمانۂ خلافت میں ہی احمدیت کا نام پہنچا اور مختلف مقامات پر جماعتیں قائم ہوئیں۔ ان میں سے بعض جماعتیں بہت ہی اہم ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان جماعتوں کے افراد ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ چنانچہ سماٹرا اور جاوا میں ہمارے جو مشن قائم ہیں ان کے ماتحت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں احمدی ہیں۔ آجکل وہاں دشمن کا قبضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے لوگوں کے ساتھ ہو اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔ اس کے بعد افریقہ کی جماعتیں ہیں۔ ان میں سے بھی ایک ایک جماعت میں ہزاروں افراد پائے جاتے ہیں اور یہ اپنے اخراجات آپ برداشت کرتی ہیں۔ سیرالیون کی جماعت بالکل نئی ہے۔ مگر پھر بھی اس جماعت نے وہاں مدرسے قائم کر لیے ہیں، مبلغ رکھے ہیں اور ان تمام اخراجات کو وہاں کے افراد خود برداشت کرتے ہیں۔ لیگوس میں بھی احمدیہ مدارس قائم ہیں اور جماعتیں ارد گرد کے علاقوں میں کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے ذاتی اخراجات پر مبلغ اور مدرّس رکھے ہوئے ہیں۔ ہم انہیں کوئی خرچ نہیں دیتے۔ نائیجیریا میں بھی ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی تعداد میں پائی جاتی ہے اور وہاں کے افراد بھی اخراجات کا بیشتر حصہ خود ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جن میں سےبعض بعض جگہ پچیس پچیس، تیس تیس ہزار احمدی پائے جاتے ہیں۔ اور ان کے سالانہ جلسوں کے موقع پر ہی تین تین چار چار ہزار آدمی اکٹھے ہوجاتے ہیں اور یہ ساری جماعتیں ایسی ہیں جن میں سے ایک فرد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے زمانہ میں احمدی نہیں تھا، جن میں سے ایک فرد بھی حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں احمدی نہیں تھا، جن میں سے ایک فرد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے نام سے آشنا نہ تھا اور جن میں سے ہزاروں ایسے تھے کہ گو وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نام سے آشنا تھے مگر درحقیقت آپ کے دشمن اور عیسائی مذہب کے پَیرو تھے یا بُت پرست تھے۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان کو میرے زمانہ میں ہی کلمہ توحید سکھایا اور ان کو مسلمان ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔
    پھر اسلام کی تبلیغ کی ایک اہم ترین بنیاد اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تحریک جدید کے ماتحت رکھ دی۔ تحریک جدید ایک ایسی تحریک ہے کہ اس کا سارا سلسلہ ہی الہامی ہے۔ اس لیے کہ تحریک جدید شروع ہوئی احرار اور گورنمنٹ کے ایک فعل سے۔اب کیا گورنمنٹ میرے اختیار میں تھی اور کیا مَیں نے اُسے کہا تھا کہ وہ مجھے نوٹس دیتی؟ پھر گورنمنٹ نے جو نوٹس دیا وہ درحقیقت غلطی سے دیا۔ گورنمنٹ چاہتی تھی کہ احرار کے اجتماع کے موقع پر باہر سے احمدیوں کو نہ بلوایا جائے اور ہم نے اُس کی اس خواہش کو تسلیم کر لیا اور اُسے لکھ دیا کہ اس اجتماع کے موقع پر باہر سے احمدیوں کو نہیں بلایا جائے گا۔ آگے اختلاف ہو جاتا ہے۔ سی۔آئی۔ڈی کے جو افسر تھے وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے گورنمنٹ سے کہہ دیا تھا کہ انہوں نے احرار کے اجتماع پر احمدیوں کو قادیان آنے سے منع کردیا ہے۔ لیکن باوجود اس کے گورنمنٹ نے نوٹس جاری کردیا اور بالا افسر یہ کہتے ہیں کہ سی۔آئی۔ڈی کے سپرنٹنڈنٹ نے ہمیں آکر یہ کہا کہ وہ احمدیوں کو اس موقع پر قادیان آنے سے روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔چنانچہ انسپکٹر جنرل پولیس نے درد صاحب سے یہی کہا کہ سی۔آئی۔ڈی کے سپرنٹنڈنٹ صاحب ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کے ساتھ آئے۔ ان کے ہاتھ میں اُس وقت ایک خط تھا جس کی طرف اشارہ کرکے انہوں نے کہا کہ قادیان سے جواب آگیا ہے کہ ہم احمدیوں کو اس اجتماع کے موقع پر باہر سے آنے سے روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ چونکہ ایک اہم عہدیدار یہ خط لایا تھا اور ڈی۔آئی۔جی اُس کے ساتھ تھا اس لیے اُن کے کہنے پر اعتبار کر لیا گیا اور چونکہ گورنر صاحب بار بار فون کر رہے تھے کہ قادیان سے کیا جواب آیا ہے اس لیے انہیں فوری طور پر جواب دے دیا گیا کہ قادیان سے جوا ب آگیا ہے۔ وہ احمدیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس پر گورنر صاحب نے فوراً اپنی کونسل کا اجلاس بلایا اور کہا کہ قادیان سے یہ جواب آیا ہے کہ وہ احمدیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کونسل نے بغیر اس کے کہ وہ یہ دیکھتی کہ خط میں لکھا کیا ہے، جھٹ فیصلہ کیا کہ پنجاب کریمنل لاء امنڈمنٹ ایکٹ (PUNJAB CRIMINAL LAW AMENDMENT ACT) 1932ء کے ماتحت امام جماعت احمدیہ کو نوٹس دے دیا جائے کہ وہ ایسا نہ کریں ورنہ وہ قانون کی زد میں آ جائیں گے۔ حالانکہ ابتدا میں جو لوگوں کو بلایا بھی گیا تھا اور جسے بعد میں منسوخ بھی کردیا گیا وہ میری طرف سے نہ تھا بلکہ امور عامہ کی طرف سے تھا۔ پس اگر واقع میں اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ سی۔آئی۔ڈی نے افسرانِ بالا کو کوئی دھوکا دیا تو وہ میرے اختیار میں نہیں تھا اور اگر انہوں نے دھوکا دیا تو کیا ڈی۔آئی۔جی اُن کے ساتھ نہ تھے؟ اور کیا ان کا فرض نہ تھا کہ وہ اس خط کو پڑھ لیتے اور دیکھ لیتے کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ پھر کیا انسپکٹر جنرل پولیس اس خط کو پڑھ نہیں سکتا تھا کہ اُسے بھی دھوکا لگ گیا؟ پھر اگر انسپکٹر جنرل پولیس نے غلطی کر دی تو کیا گورنر صاحب اُس خط کو نہیں پڑھ سکتے تھے؟ کیا ان کی کونسل اس خط کو نہیں پڑھ سکتی تھی؟ اور کیا چیف سیکرٹری اس خط کو نہ پڑھ سکتے تھے؟ پس اگر یہ غلطیاں ہیں جو یکے بعد دیگرے تمام افسروں سے سرزد ہوتی چلی گئیں تو کیا یہ سب کچھ میرے اختیار میں تھا یا میری طاقت میں تھا کہ مَیں ایسا کرسکتا؟ واقعات پر غور کرکے دیکھ لو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا کا ایک فعل تھا اور خدا ہماری جماعت میں بیداری پیدا کرنا چاہتا تھا۔ خدا میرے ہاتھ سے اسلام کے اس نازک دَور میں تبلیغِ دین کی ایک عظیم الشان بنیاد رکھنا چاہتا تھا۔ خدا ہماری جماعت کو ایک کوڑا مار کر جگانا چاہتا تھا اس لیے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نے غفلت کی کہ اُس نے خط کو نہ پڑھا۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے غفلت کی اور اس نے خط کو نہ پڑھا۔ پھر یہی غلطی گورنر صاحب سے ہوئی۔ پھر یہی غلطی ان کی کونسل کے ارکان سے ہوئی اورساروں نے ہی یہ سمجھ لیا کہ ہماری طرف سے یہ جواب دیا گیا ہے کہ ہم احمدیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حالانکہ اس جواب کی کوئی بنیاد ہی نہ تھی اور کوئی ایسا خط گورنمنٹ کو لکھا ہی نہیں گیا تھا۔ مگر اُن ساروں نے یہ غلطی کی اور اُس خط کی بناء پر مجھے نوٹس دے دیا گیا جس کی کوئی بنیاد نہ تھی۔ چنانچہ جب بعد میں ہم نے بالا افسروں سے کہا کہ ہم نے تو احمدیوں کو روک دیا تھا اور امور عامہ نے بھی میری ہدایت کے مطابق اپنے اس حکم کو منسوخ کردیا تھا، آپ ہمیں وہ خط دکھائیں جس میں ہم نے یہ لکھا ہو کہ ہم احمدیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو وہ اتنے شرمندہ ہوئے کہ اُن سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ آخر چیف سیکرٹری نے چھ ماہ کے بعد ہمارے ایک وفد سے کہا کہ اب ہماری کافی ذلّت ہو گئی ہے ہم مانتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ آپ ہم سے بار بار اُس خط کا مطالبہ کرکے ہمیں شرمندہ نہ کریں۔تو دیکھو خط میں بالکل اُلٹ مضمون تھا۔ اُس خط میں لکھا یہ گیا تھا کہ احمدیوں سے کہہ دیا گیا ہے وہ احرار کے جلسہ کے موقع پر قادیان میں نہ آئیں۔ مگر گورنمنٹ نے یہ نوٹس دے دیا کہ چونکہ تم احمدیوں کو قادیان آنے سے روکنے کے لیے تیار نہیں ہو اس لیے تمہیں آگاہ کیا جاتا ہے کہ اگر اس موقع پر احمدی آئے تو تم قانون کی زد میں آ جاؤ گے۔ حالانکہ وہ خط جس کی بناء پر انہوں نے یہ نوٹس دیا اُن کے ہاتھ میں تھا، اُن کی فائل میں موجود تھا مگر پھر اُن سے یہ غلطی ہو گئی۔ پس اگر یہ غلطی ہے تو پھر یہ غلطی اُسی خدا کی کروائی ہوئی ہے جس خدا نے غار ِثور کے مُنہ پر پہنچ جانے والے کفار کی زبان سے یہ الفاظ نکلوا دئے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس غار میں نہیں ہوسکتے۔
    اس کے بعد حکومت کی طرف سے ہماری تبلیغ کے راستے میں روکیں پیدا ہونی شروع ہوئیں اور ہمیں یہاں تک خوف پیدا ہوا کہ سلسلہ کے مقدس لٹریچر پر بھی گورنمنٹ ہاتھ نہ ڈالے اور میں نے سلسلہ کی کتب کی متعدد کاپیاں مختلف ممالک میں پھیلا دیں۔ غرض گورنمنٹ کے یہ افعال میری آنکھیں کھولنے کا موجب ہو گئے اور میں نے سمجھا کہ یہ اسلام کی مظلومیت اور احمدیت کی بے کسی کا ثبوت ہے کہ ہر کس وناکس، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ادنیٰ ہو یا اعلیٰ احمدیت کو اپنے بُوٹ کی ٹھوکر لگانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا۔تب مَیں نے سمجھا کہ ہماری طرف سے اب تک احمدیت کو پھیلانے کی گو کوششیں ہوئی ہیں مگر وہ کوششیں اور محنتیں اتنی نہیں ہیں کہ اسلام اور احمدیت کو جلد سے جلد پھیلا سکتیں۔ہم نے بے شک اپنے فرض کو ایک حد تک ادا کیا ہے۔ مگر ایسا احساس ابھی ہم میں پیدا نہیں ہوا کہ اس کے نتیجہ میں قلیل سے قلیل عرصہ میں احمدیت کا رُعب دنیا پر چھا جاتا اور اس قسم کی فرعونی طبائع کو پتہ لگ جاتا کہ یہ سلسلہ خدائی طاقت سے بڑھ رہا ہے، اس کا مقابلہ دنیا کا کوئی شخص نہیں کرسکتا۔ اس طرح تحریک جدید کا آغاز ہوا اور پھر ہر قدم پر اس تحریک نے ایسا رنگ بدلا جو میرے اختیار میں نہیں تھا اور جماعت میں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک ایسی روح پیدا کردی جو ترقی کرنے والی جماعتوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔
    مَیں تحریک جدید کے اُس چندہ کو اتنی عظمت نہیں دیتا جو ان چند سالوں میں جمع ہوا۔ مَیں عظمت دیتا ہوں مجاہدین کی اُس جماعت کو جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کی ہوئی ہیں یا آئندہ وقف کریں گے اور مَیں عظمت دیتا ہوں قربانی کی اُس روح کو جو جماعت میں پیدا ہوئی۔
    خدا تعالیٰ کی قدرت ہے اس سے پہلے صدر انجمن احمدیہ ہمیشہ مقروض رہا کرتی تھی اور اُسے اپنا بجٹ ہر سال کم کرنا پڑتا تھا۔ جب مَیں نے اس تحریک کا اعلان کیا تو ناظروں نے میرے پاس آ آکر شکایتیں کیں کہ اس تحریک کے نتیجہ میں انجمن کی حالت خراب ہو جائے گی۔ مَیں نے ان سے کہا کہ تم خدا تعالیٰ پر توکل کرو، انتظار کرو اور دیکھو کہ حالت سدھرتی ہے یا گرتی ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ یا تو صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ دو اڑھائی لاکھ روپیہ کا ہوا کرتا تھا اور یا اس تحریک کے دوران میں چار پانچ لاکھ روپیہ تک جا پہنچا۔ اُدھر جماعت نے تحریک جدید کی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کردیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سال کے اندر ہی مطالبہ سے کئی گنا زیادہ رقم جمع ہو گئی۔ جب مَیں نے پہلے دن جماعت سے 27 ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا ہے تو واقع میں مَیں یہی سمجھتا تھا کہ میرے مُنہ سے یہ رقم نکل تو گئی ہے مگر اس کا جمع ہونا بظاہر بڑا مشکل ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ کس قدر عظیم الشان فضل ہے کہ 27 ہزار کیا اب تک 27 ہزار سے پچاس گنے سےبھی زیادہ رقم آ چکی ہے اور یہ اتنی زیادہ رقم ہے کہ مولوی محمد علی صاحب بھی حیرت سے پوچھتے ہیں کہ اگر تیرہ لاکھ روپیہ اکٹھا ہوا تھا تو وہ گیا کہاں ہے؟ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ اتنا روپیہ جمع ہوا ہو۔ کیونکہ اگر آیا ہوتا تو یہ سارا روپیہ غالباً ان کے خیال میں ہمیں حفاظت کے ساتھ ان کے پاس بھجوا دینا چاہیے تھا یا کم سے کم ان کا حصہ تو انہیں ضرور بھجوا دینا چاہیے تھا۔ مگر وہ روپیہ آیا اور وہیں خرچ ہوا جہاں اس خدا کا منشاء تھا جس نے میری زبان سے اس تحریک کا اجراء کرایا۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان کام ہونے والا تھا۔سو وہ کام ہوا اور خدائی سامانوں سے ہوا اور ان ذرائع سے ہوا جو ہمارے اختیار میں نہ تھے۔
    پھر اس پیشگوئی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ وہ "علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا"۔مَیں خدا تعالیٰ کے فضل سے دعوے کرنے کا عادی نہیں ہوں لیکن باوجود اس کے مَیں اس حقیقت کو چُھپا نہیں سکتا کہ اسلام کے وہ مہتم بالشان مسائل جن پر روشنی ڈالنا اس زمانہ کے لحاظ سے نہایت ضروری تھا خدا تعالیٰ نے اُن کے متعلق میری زبان اور میرے قلم سے ایسے ایسے مضامین نکلوائے ہیں کہ مَیں دعوٰی کرکے کہہ سکتا ہوں کہ اُن تحریروں کو اگر ایک طرف کردیا جائے تو یقیناً اسلام کی تبلیغ دنیا میں نہیں کی جاسکتی۔ قرآن کریم میں بہت سے ایسے امور ہیں جن کو اس زمانہ کے لحاظ سے لوگ سمجھ نہیں سکتے تھے جب تک دوسری آیات سے ان کی تشریح نہ کردی جاتی۔ اور یہ خدا تعالیٰ کا بے انتہا فضل ہے کہ اس نے میرے ذریعہ سے اُن مشکلات کو حل کیا اور اُن آیات کے صاف اور روشن معنے دنیا کے سامنے ظاہر کیے۔ باقی مَیں نے ایسے امور کے متعلق کبھی دعوے نہیں کیے۔ جیسے مَیں نے ابھی کہا ہے کہ میں دعوے کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ اب بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو میرے اس تازہ اعلان پر جو مَیں نے اللہ تعالیٰ کے ایک الہام کی بناء پر کیا، کہتے ہیں کہ یہ دعوٰی ہے یا کیا چیز ہے؟ بعض نے کہا کہ کیا اس کے معنے نبوت کے ہیں؟ اور بعض نے کہا کہ اس کہنے سے کیا حاصل ہوا جبکہ یہ بات پہلے ہی ظاہر تھی۔ یہ ذہنی کشمکشیں لازمی چیز ہیں اور لوگوں کے دماغی تفاوت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قسم کی کشمکش کا پیدا ہونا کوئی تعجب انگیز امر نہیں۔ وہ لوگ جو پوچھتے ہیں کہ کیا اس کے معنے نبوت کے ہیں؟ مَیں ان سے کہتا ہوں کہ یاد رکھو! مومن کے لیے وہی بات سجتی ہے جو اس کا خدا اُسے کہتا ہے اور اُتنی ہی بات اُسے سجتی ہے جتنی اُس کا خدا اُسے کہنے کا حکم دیتا ہے۔ مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنے قیاسات کے پیچھے چلے۔اُس کا فر ض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی نگاہ رکھے۔ جہاں اللہ تعالیٰ اسے کہے کہ کھڑے ہو جاؤ وہاں اسے کھڑا ہوجانا چاہیے اور جہاں اللہ تعالیٰ اسے کہے کہ آگے بڑھو وہاں اُسے آگے بڑھنا چاہیے۔ تمہارا حق نہیں ہے کہ تم کوئی نیا لفظ بناؤ یا نئے معنے اور نیا مفہوم پیدا کرنے کی کوشش کرو۔جو کچھ خدا نے کہا وہ یہ ہے کہ مصلح موعود کی وہ پیشگوئی جو اِس زمانہ کو انوار و برکات کے لحاظ سے ویسا ہی زمانہ ثابت کر رہی ہے جیسے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا زمانہ تھا میرے ہی ذریعہ سے پوری ہوئی ہے اور نشانات اور علامات نے بھی بتا دیا ہے کہ یہ پیشگوئی میرے ہی ذریعہ سے پوری ہوئی ہے۔ اگر تم میں سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تو مَیں تم کو بتاتا ہوں کہ ایسے لوگوں کے نزدیک درحقیقت کسی چیز کا بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر کسی شخص کو خدا بھی مل جائے تو وہ کہیں گے کہ پھر کیا فائدہ ہوا؟ سوال یہ ہے کہ اسلام اِس وقت ایک ایسے دَور میں سے گزر رہا ہے جو ضعف اور کمزوری کا دَور ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے پھر اسلام کی حفاظت کی بنیاد رکھی۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے زمانہ میں دشمن کی طرف سے اسلام پر وہ تمدنی حملہ نہیں ہوا تھا جو آج کیا جا رہا ہے۔ پس خدا نے چاہا کہ آپ کی پیشگوئی کے مطابق موجودہ زمانہ میں ایک ایسے شخص کو اپنے کلام سے سرفراز فرمائے جو روح الحق کی برکت اپنے ساتھ رکھتا ہو، جو علوم ظاہری اور باطنی سے پُر ہو اور جو دشمن کے ان تمدنی حملوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصَلوٰۃوالسلام کی تشریح، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ تشریح اور قرآن کریم کے منشاء کے مطابق دُور کرے اور اسلام کی حفاظت کا کام سرانجام دے۔ سو خدا نے اپنا کام کردیا اور میری تحریروں پر اپنی مہر تصدیق کردی اور اگر اُس کی مشیّت کچھ اور کام کروانے والی ہے تو وہ کام بھی ایک دن دنیا کے سامنے آجائے گا۔ یہ چیز ہے جو اس پیشگوئی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص اس پیشگوئی کی عظمت کو نہیں سمجھتا تو وہ خدا کے سامنے خود جواب دہ ہے اور اگر کوئی شخص اس کا نیا نام رکھتا اور کوئی نیا عُہدہ اس کے لیے تجویز کرتا ہے تو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ عُہدہ وہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے۔ اگر کوئی شخص اس بارہ میں خود قیاس کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے قُرب کو حاصل نہیں کرتا بلکہ اُس کے غضب کو اپنے اوپر بھڑکاتا ہے۔ جو کچھ خدا نے کہا ہم اُتنا ہی کہہ سکتے ہیں اُس سے زیادہ کچھ کہنا ہمارے لیے جائز نہیں۔ بلکہ میں نے تو اس بارہ میں اتنی احتیاط کی کہ جو پیشگوئیاں پوری ہو رہی تھیں مَیں نے ان سے بھی اپنی آنکھیں بند کر لیں اور مَیں نے کہا جب تک خدا مجھے نہیں بلوائے گا مَیں ان پیشگوئیوں کے متعلق کچھ نہیں کہوں گا۔ مَیں نےاپنے دل میں کہا اگر میرے چُپ رہنے سے اِن پیشگوئیوں کی عظمت ثابت ہوتی ہے تو پھر میرے بولنے سے کیا فائدہ۔ اور اگر میرے بولنے کے بغیر ان پیشگوئیوں کی عظمت ثابت نہیں ہوسکتی تو بلوانے والا آپ بلوا لے گا۔ مَیں خود کیوں بولوں؟ پس اگر میرے نہ بولنے سے خدا تعالیٰ کا منشاء پورا ہو جاتا تھا تو میرا بولنا سُوءِ ادبی اور کبر تھا اور اگر میرے چُپ رہنے سے نہیں بلکہ بولنے سے خدا تعالیٰ کا منشاء پورا ہوتا تھا تو پھر جس کا یہ کام تھا اُسی کا یہ بھی کام تھا کہ وہ میری زبان کھلواتا۔چنانچہ جب وقت آیا، اُس نے یہ بات مجھے بتا دی اور نہ صرف بات بتا دی بلکہ ارشاد فرمایا کہ اب مَیں اور لوگوں کو بھی یہ بات بتلا دوں۔ اور نہ صرف اُس نے مجھے یہ ارشاد کیا بلکہ اپنے فضل سے ایسے حالات بھی پیدا فرما دیئے جو اس پیشگوئی کی صداقت کے لیے بطور دلیل کے ہیں۔ جس طرح آسمان پر جب چاند چمکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ارد گرد ستارے پیدا کردیا کرتا ہے اسی طرح اِن ایام میں بہت سے لوگوں کو ایسی خوابیں آئی ہیں جن میں اسی خواب کا مضمون دُہرایا گیا ہے جو مَیں نے دیکھی تھی۔ چنانچہ ابھی مَیں لاہور میں ہی تھا کہ میری رؤیا کے بعد ایک دوست نے جن کا نام ڈاکٹر محمد لطیف صاحب ہے مجھے بتایا کہ انہوں نے رؤیا میں دیکھا ہے کہ ایک فرشتہ میرا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ انبیاء و رُسل کے ساتھ اس کا نام لیا جائے گا۔
    انبیاء و رُسل کے ساتھ نام لیے جانے کے وہی معنے ہیں جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی پیشگوئی میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ مثیل مسیح ہوگا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام جو نبی اور رسول ہیں ان کے ساتھ میرا بھی نام لیا جائے گا۔
    اسی طرح ایک دوست نے لکھا کہ رؤیا میں مَیں نے دیکھا کہ مینار پر کھڑے ہوکرآپ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ کا اعلان کر رہے ہیں۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ5 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ابتدائی الہاموں میں سے ہے اور مینار پر اس الہام کے اعلان کرنے کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تبلیغِ احمدیت کو میرے ذریعہ سے اور بھی مضبوط کر دے گا۔
    اسی طرح ایک دوست نے دیکھا کہ ایک درخت پر کھڑے ہو کر مَیں کوئی اعلان کررہا ہوں۔ یہ میری رؤیا سے پہلے کی بات ہے اور درخت سے مراد گو اُس وقت میرا ذہن اس طرف نہیں گیا الہامِ الٰہی ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں الہام کو شجرۂ طیبہ قرار دیا گیا ہے۔6 پس اس کے معنے یہ تھے کہ خدا تعالیٰ کے الہام اور رؤیا کے ماتحت میں لوگوں کے سامنے کوئی اعلان کرنے والا ہوں لیکن اس بارہ میں سب سے زیادہ عجیب رؤیا منصف خان صاحب اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کا ہے۔ اس رؤیا کو پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ کس طرح اس میں میرے پچھلے خطبہ اور خواب کا سارا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 30 اور 31 جنوری کی درمیانی شب کو مَیں نے یہ رؤیا دیکھا ہے۔ خطبہ مَیں نے 28 جنوری کو پڑھا تھا اور یقیناً یہ خطبہ خواب دیکھنے کے وقت تک ان کو نہیں ملا۔ "الفضل" میں اس بارہ میں پہلی خبر 30جنوری کے پرچہ میں شائع ہوئی ہے اور الفضل کا یہ پرچہ ان کو 31 جنوری کو مل سکتا تھا۔ لیکن انہوں نے 30 اور 31 جنوری کی درمیانی رات کو یہ خواب دیکھا۔ اور پھر اُن کے خط میں بھی اس امر کا کوئی ذکر نہیں کہ اخبار میں انہوں نے یہ خبر پڑھ لی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رؤیا ان کو ایسے حالات میں ہوئی ہے جبکہ انہیں اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ مَیں نے اپنے خطبہ میں اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا اعلان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ رؤیا میں مَیں نے دیکھا کہ احمدیوں کا ایک بہت بڑا ہجوم ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی عظیم الشان نشان ظاہر ہوا ہے جس پر وہ خدا تعالیٰ کی حمد اور اس کی تسبیح و تحمید کر رہے ہیں اور بڑے جوش سے ان کے مُنہ سے تسبیح کی آوازیں نکل رہی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں رؤیا میں مَیں نے دیکھا کہ اَور لوگوں پر بھی اس کا اثر ہے لیکن مفتی محمد صادق صاحب پر تو وجد کی حالت طاری ہے۔
    اب دیکھو! پچھلے خطبہ میں تمام احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کے اس نشان کا اثر تھا مگر مفتی صاحب پر تو اس کا ایسا اثر ہوا کہ وہ خطبۂ جمعہ میں ہی بول پڑے۔ وہ لکھتے ہیں مَیں حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے۔ اس کے بعد مجھے ایک کمرہ نظر آیا جس میں شیشے کی تین چوکھٹیں لگی ہوئی ہیں اور ان پر نہایت اعلیٰ پالش کیا ہوا ہے تاکہ اُن پر تصویر آسکے۔اس کے بعد مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ اُن پر دو تصویریں نمودار ہو گئی ہیں۔ ایک تصویر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی ہے اور ایک آپ کی ہے اور یہ دونوں تصویریں اکٹھی کمرہ کے اندر چکر کھار ہی ہیں اور ان کو دیکھ کر لوگ خوش ہو رہے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کر رہے ہیں۔ انہوں نے تیسری تصویر کا ذکر نہیں کیا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تصویر کو انہوں نے نہیں دیکھا۔ یا شاید دیکھا تو ہو مگر چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل انہوں نے دیکھی ہوئی نہیں تھی اور آپ کی تصویر بھی دنیا میں کوئی موجود نہیں اس لیے وہ نہ سمجھ سکے ہوں کہ یہ کس کی تصویر ہے۔ لیکن رؤیا میں انہوں نے شیشے تین ہی دیکھے ہیں اور میری رؤیا میں بھی تین وجودوں کے بولنے کا ذکر آتا ہے۔ پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور میری زبان سے بولے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام آئے اور میری زبان سے بولے اور پھر مَیں خود بولا۔ پھر وہ لکھتے ہیں خواب میں عربی زبان میں کچھ باتیں ہو رہی ہیں جنہیں مَیں سمجھ نہیں سکا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نُزُوْلُ السَّمَاء نُزُوْلُ السَّمَاء کہا جا رہا ہے۔اس میں درحقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے اُس الہام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو آنے والے موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے اشتہار میں پایا جاتا ہے کہ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاء۔ چونکہ وہ عربی سے ناواقف ہیں اس لیے کہتے ہیں مجھے اَور تو کچھ یاد نہیں رہا صرف اتنا یاد رہا کہ عربی میں کچھ باتیں ہو رہی ہیں جن میں نُزُوْلُ السَّمَاء کے الفاظ ہیں۔ تو دیکھو کس طرح خدا تعالیٰ نے انہیں رؤیا میں خطبہ کے وقت کی کیفیت بتا دی اور کس طرح اس رؤیا کا نقشہ بھی بتا دیا جو مَیں نے دیکھی تھی۔ حالانکہ اُس وقت تک انہیں میرے اس اعلان کا کوئی علم نہیں تھا۔ اِسی طرح اور لوگوں کو بھی اِن ایام میں ایسی خوابیں دکھائی گئی ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں ایک درجن سے زیادہ لوگوں کو ایسی خوابیں آئی ہیں۔ اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو یہ خوابیں بھی لوگوں کے ایمان کی زیادتی کا موجب ہوسکتی ہیں۔
    پس وہ دوست جنہوں نے مجھے اپنی اپنی خوابیں لکھی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ الفضل میں ایسی تمام خوابیں شائع کرادیں اور اگر کسی اور دوست کو بھی کوئی خواب آئی ہو لیکن مجھے اس نے نہ بتائی ہو تو اُسے بھی وہ خواب "الفضل" میں شائع کرا دینی چاہیے۔ یہ بھی ایک نشان ہے جو لوگوں کے لیے ان کے ایمانوں میں زیادتی کا موجب ہوسکتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں الْمُؤْمِنُ یَرٰی اَوْ یُرٰی لَہٗ۔7 کہ مومن بعض دفعہ خود خواب دیکھتا ہے اور بعض دفعہ دوسروں کو اس کے متعلق خوابیں دکھائی جاتی ہیں۔ یہ نشان درحقیقت شکی طبائع کی ہدایت کے لیے ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو دیر سے واقف ہوتے ہیں وہ تو سمجھتے ہیں کہ فلاں شخص جھوٹ بولنے والا نہیں۔ لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی خوابیں خیالات کا اثر ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ خوابیں جو مختلف افراد کو اور مختلف مقامات میں رہنے والوں کو آتی ہیں اپنے اندر ہدایت کا سامان رکھتی ہیں۔خیالات کا اثر آخر ایک شخص پر تو ہوسکتا ہے لیکن یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ پانچ، دس، پندرہ یا بیس لوگوں کو ایک مہینہ کے اندر اندر ایسی خوابیں آ جائیں اور وہ لوگ بھی ایسے ہوں جو ایک دوسرے کے واقف نہ ہوں، ایک جگہ پر نہ رہتے ہوں، ایک دوسرے سے ملتے نہ ہوں اور ایک دوسرے سے ان کا کوئی زیادہ گہرا تعلق نہ ہو۔ایسے لوگوں کو ایک وقت میں ایک جیسی خوابوں کا آ جانا بغیر الٰہی تدبیر کے کس طرح ہوسکتا ہے۔ پس یہ خوابیں بھی جو مختلف دوستوں کو آئیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِس بات کا ایک مزید ثبوت ہیں کہ اس نے مجھ پر جس امر کو منکشف فرمایا وہ اپنے اندر صداقت اور راستی رکھتا ہے۔
    مَیں نے بتایا ہے کہ مصلح موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو الہامات نازل ہوئے ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی ایک یہ علامت بھی بتائی گئی تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے کلام سے مشرف ہوگا۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک میرے ساتھ دیر سے چلا آرہا ہے مگر اُن الہامات اور رؤیا و کشوف کو مَیں نے آج تک بہت ہی کم بیان کیا ہے۔ کبھی بہت ہی مجبور ہو گیا تو اُس وقت اپنے کسی رؤیا یا الہام کو میں نے بیان کیا ہے۔ یا کبھی ایسا ہوا کہ میں نے اپنے کسی رؤیا کا کسی دوست سے ذکر کردیا۔ ورنہ بالعموم مَیں اپنے رؤیا اور الہامات بتایا نہیں کرتا۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جیسا کہ پیشگوئی میں بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک میرے ساتھ ہے اور دیر سے چلا آرہا ہے۔
    سب سے پہلی چیز جو اِس منصب کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ میرا ایک الہام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی زندگی میں مجھے ہوا اور مَیں نے جاکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو بتا دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو اپنے الہامات کی کاپی میں لکھ لیا۔ وہ الہام مَیں نے بارہا سنایا ہے۔ پہلے مَیں اسے صرف خلافت کے متعلق سمجھتا تھا لیکن اب میرا ذہن اِس طرف منتقل ہوا ہے کہ اس الہام میں میرے اس منصب کی طرف اشارہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے ملنے والا تھا۔ وہ الہام یہ تھا کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ یقیناً اللہ تعالیٰ تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھے گا۔ اس میں ایک لطیف اشارہ ہے جو پیشگوئی کے پورا ہونے کی ترتیب پر دلا لت کرتا ہے اور وہ یہ کہ یہ وہ الہام ہے جو حضرت مسیح ناصری کو ہوا اور جس کا قرآن کریم میں بھی ذکر آتا ہے مگر وہاں یہ الفاظ ہیں وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیَامَۃِ8 اور یہاں یہ الہام ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری کا دعوٰی موسوی سلسلے کی آخری نبوت کا تھا اور اِس قسم کے دعوے کے متعلق پہلے لوگوں کی مخالفت ضروری ہوتی ہے۔ پھر ایک لمبے عرصے کے بعد وہ اُس نبی پر ایمان لاتے ہیں لیکن مصلح موعود کی پیشگوئی کے مورِد کو چونکہ اللہ تعالیٰ پہلے خلیفہ بنانا چاہتا تھا اور خلیفہ کو معاً بنی بنائی جماعت مل جاتی ہے اس لیےیہاں جَاعِلُ الَّذِیۡنَ والے حصے کی ضرورت نہیں تھی۔ حضرت مسیح کے عہدہ والا نبی تو جب بھی لوگوں کے سامنے اپنا دعوٰی پیش کرتا ہے لوگ اسے سنتے ہی کہنے لگ جاتے ہیں جھوٹا، جھوٹا۔ کوئی ابوبکرؓ جیسی صفت رکھنے والا انسان ہوا اور اس نے مان لیا تو یہ علیحدہ بات ہے۔ ورنہ عام طور پر ایسا نبی جب اپنی نبوت کا اعلان کرتا ہے ساری دنیا اُسے جھوٹا قرار دینے لگ جاتی ہے۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ابتدا میں صرف تین لوگ ایمان لائے۔ لیکن خلیفہ کو پہلے دن ہی ایک جماعت مانتی ہے۔ پس اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم کو ایک دن بنی بنائی جماعت دیدے گا اور پھر اس جماعت کا تعلق تمہارے ساتھ مضبوط کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ ایک دن وہ تمہاری جماعت ظلی طور پر کہلائے گی۔ اور کچھ لوگ تمہارے مخالف بھی ہوں گے مگر تمہاری بیعت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ قیامت تک تمہارے منکروں پر غلبہ دے گا اور یہ غلبہ تمہارے امام بنتے ہی شروع ہوجائے گا۔ اور جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡكَ والے حصہ کی ضرورت نہیں ہوگی کہ تم انتظار کرو کہ لوگ کب ایمان لاتے ہیں یا اکثر لوگ مخالفتیں کریں، فتوے لگائیں، مضحکہ اڑائیں، تحقیر و تذلیل کی کوشش کریں،مٹانے اور برباد کرنے کی تدبیریں کریں اور دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک طوفانِ مخالفت اُمڈ آئے بلکہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی بنی بنائی جماعت کے اکثر حصہ کو تیرے سپرد کردے گا اور جس دن یہ جماعت تیرے سپرد ہوگی اُسی دن سے تجھے ماننے والوں کا تیرے مخالفوں پر غلبہ شروع ہوجائے گا۔ چنانچہ دیکھ لو ایسا ہی ہوا۔ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی جماعت کو تو تین سو سال کے بعد غلبہ حاصل ہوا لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے جس وقت خلافت کے مقام پر مجھے کھڑا کیا اُس کے چند ہفتوں کے اندر ہی وہ لوگ جو میرے بالمقابل کھڑے ہوئے تھے اور میرے عہدہ کے منکر تھے یعنی پیغامی،اللہ تعالیٰ نے اُن پر مجھے اور میرے ساتھیوں کو غلبہ دینا شروع کردیا اور یہ غلبہ خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پیغامی آج کہہ رہے ہیں کہ ایک خواب پر انحصار کیا گیا۔ حالانکہ وہ بھی خواب نہیں کیونکہ اس میں الفاظ ہیں۔ مگر یہ الہام جو مَیں نے اوپر لکھا ہے یہ تو الہام ہے اور چالیس سالہ پرانا ہے۔اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ میں ایک جماعت کا امام ہوں گا۔ کچھ حصہ میری مخالفت کرے گا، اکثر میرے ساتھ مل جائیں گے اور انہیں اللہ تعالیٰ قیامت تک دوسروں پر غلبہ دے گا۔ یہ جو فرمایا کہ تیرے ماننے والوں کو تیرے کافروں پر اللہ تعالیٰ قیامت تک غلبہ دے گا اس میں اِسی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دن مجھے ظلی طور پر نبیوں کا یعنی مسیح ناصری اور مسیح محمدی کا نام دینے والا ہے کیونکہ خلیفہ کی جماعت اُس کی زندگی تک ہوتی ہے۔ وفات کے بعد صرف نبیوں کی جماعت یا ان کے اظلال کی جماعت چلتی ہے۔ اسی طرح کَفَرُوْا کے الفاظ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ خلافت کے بعد مجھے ایک اور رُتبہ ملنے والا ہے جو بعض نبیوں کے ظلّ کے طور پر ہوگا۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ۔
    دوسرے مجھے ایک کشف ہؤا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی زندگی میں ہی مَیں نے دیکھا تھا۔ وہ بھی اِسی مقام پر دلا لت کرتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ مَیں اُس کمرہ سے نکل رہا ہوں جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام رہتے تھے اور باہر صحن میں آیا ہوں۔ وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام تشریف رکھتے ہیں۔ اُس وقت کوئی شخص یہ کہہ کر مجھے ایک پارسل دے گیا ہے کہ یہ کچھ تمہارے لیے ہے اور کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے لیے ہے۔ کشفی حالت میں جب مَیں اُس پارسل پر لکھا ہوا پتہ دیکھتا ہوں تو وہاں بھی مجھے دو نام لکھے ہوئے نظر آتے ہیں اور پتہ اس طرح درج ہے کہ محی الدین اور معین الدین کو ملے۔ مَیں کشف میں سمجھتا ہوں کہ اِن میں سے ایک نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ہے اور دوسرا نام میرا ہے۔ اُس وقت چونکہ مَیں بچہ تھا اور حضرت محی الدین صاحب ابن عربی کا نام مَیں نے سنا ہوا نہیں تھا، صرف اورنگ زیب کے متعلق مَیں جانتا تھا کہ ان کا نام محی الدین تھا اس لیے مَیں نے اُس وقت سمجھا کہ محی الدین سے مراد مَیں ہوں۔ اور حضرت معین الدین چشتی چونکہ ہندوستان میں ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں اس لیے مَیں نے سمجھا کہ معین الدین سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ہیں لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی بھی ایک بہت بڑے بزرگ ہوئے ہیں تو مَیں نے سمجھا کہ محی الدین سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ہیں جنہوں نے دین کو زندہ کیا اور معین الدین سے مراد مَیں ہوں جس نے دین کی اعانت کی۔ پس دین کو زندہ کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ہیں اور دین کی نصرت اور اعانت کرنے والا مَیں ہوں۔ جیسے ماں بچہ جنتی ہے اور دایہ دودھ پلاتی ہے۔
    تیسرا الہام جو مجھے اسی رنگ میں ہؤا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وفات کے بعد۔ وہ یہ ہے کہ اِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا۔اے آلِ داؤد! تم اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کرو۔ اس الہام کے ذریعہ اِعْمَلُوْا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے منشاء پر پوری طرح عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور آلِ داؤد کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت سلیمان علیہ السلام سے مشابہت دی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد خلیفہ ہوئے تھے اور اُن کے بیٹے بھی تھے۔ مجھے یاد ہے اُس وقت یہ الہام اتنے زور سے ہوا کہ کتنی دیر تک مجھ پر اس الہام کے نازل ہونے کی کیفیت تازہ رہی۔ اور یہ الہام اتنا واضح تھا کہ باوجودیکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام اس وقت فوت ہو چکے تھے جب مَیں اپنے بعض ہم عمروں سے سیر میں اس کا ذکر کررہا تھا یکدم میرے ذہن سے آپ کی وفات کا خیال نکل گیا اور مجھے جوش پیدا ہوا کہ مَیں دوڑ کر جاؤں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جاکر اس کا ذکر کروں۔
    چوتھی شہادت اس رؤیا کی تصدیق میرا یہ کشف ہے کہ مَیں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے بیت الدعا میں بیٹھا دعا کررہا ہوں کہ یکدم مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ابراہیمؑ تھے۔ پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ اس اُمت میں اور بھی کئی ابراہیم ہوئے ہیں۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اول کے متعلق بتایا گیا کہ آپ بھی ابراہیم ہیں اور آپ کا نام مجھے ابراہیم ادھم بتایا گیا ہے۔ ادھم ایک بادشاہ تھے جو بادشاہت کو چھوڑ کر تصوف کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔ پس مجھے بتایا گیا کہ حضرت خلیفہ اول ابراہیم ادھم ہیں۔ پھر مجھے بتایا گیا کہ ایک ابراہیم تم بھی ہو۔
    پانچویں شہادت جو اس بارہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وفات کے قریب مجھے ملی یہ ہے کہ مَیں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ ایک گھنٹی بجی ہے اور اس کی آواز ایسی ہے جیسے پیتل کا کوئی کٹورا ہو اور اُسے کسی چیز سے ٹھکوریں تو اُس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ اس گھنٹی میں سے بھی ٹن کی آواز آئی۔ مگر وہ آواز ایسی سُریلی اور لطیف ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے سارے جہان کی موسیقی کی لذّت اُس میں بھر دی گئی ہے۔ یہ آواز بڑھتی گئی، بڑھتی گئی یہاں تک کہ تمام جَوّ میں متشکّل ہو کر ایک فریم بن گئی جیسے تصویر کا فریم ہوتا ہے پھر میں نے دیکھا کہ اس فریم میں ایک تصویر نمودار ہوئی جو کسی نہایت ہی حسین اور خوبصورت وجود کی ہے۔ پھر وہ تصویر ہلنی شروع ہوئی اور تھوڑی دیر کے بعد یکدم اس میں سے کُود کر ایک وجود میرے سامنے آگیا جس کے متعلق مَیں سمجھتا ہوں کہ وہ خدا کا فرشتہ ہے اور اس نے مجھے کہا آؤ مَیں تم کو سورۂ فاتحہ کا درس دُوں۔ چنانچہ اُس نے مجھے سورۂ فاتحہ کا درس دینا شروع کردیا اور دیتا گیا،دیتا گیا، دیتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ9 کی تفسیر شروع کرنے لگا تو کہنے لگا۔ آج تک جتنے مفسر ہوئے ہیں اُن سب نے مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ10 تک تفسیر لکھی ہے لیکن مَیں تمہیں اس کے آگے بھی تفسیر بتاتا ہوں۔ چنانچہ اس نے ساری سورۃٔ فاتحہ کی تفسیر مجھے پڑھا دی۔جب میری آنکھ کھلی تو رؤیا میں اُس فرشتہ نے جو باتیں مجھے بتائی تھیں اُن میں سے کچھ باتیں مجھے یاد تھیں لیکن مَیں نے اُن کو نوٹ نہ کیا اور بعد میں مَیں خود بھی اُن کو بھول گیا۔ جب صبح مَیں نے اپنے اِس رؤیا کا حضرت خلیفہ اول سے ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ خواب میں فرشتہ نے جو کچھ باتیں بتائیں تھیں اُن میں سے بعض آنکھ کھلنے پر مجھے یاد تھیں لیکن صبح اُٹھنے پر وہ بھی میرے ذہن میں سے نکل گئیں۔ تو حضرت خلیفہ اول خفا ہو کر کہنے لگے کہ تم نے اتنا علم ضائع کردیا ان کو نوٹ کر لینا چاہیے تھا۔ مگر وہ دن گیا اور آج کا دن آیا سورۂ فاتحہ سے خدا تعالیٰ ہمیشہ ہی مجھے نئے نئے نکات سمجھاتا ہے۔ چنانچہ اب بھی اِس رؤیا کے بعد جب مَیں نے توجہ کی کہ جماعت کی اصلاح اور اسلامی نظام کی فوقیت ثابت کرنے کے لیے کونسا واضح پروگرام ہوسکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے سورۂ فاتحہ سے ہی ایک نہایت واضح اور مکمل پروگرام بتایا جس پر چل کر اسلام ایسی ترقی حاصل کرسکتا ہے کہ دشمن اس کو دیکھ کر حیران رہ جائے اور اسلامی تمدن کی فوقیت کا اعتراف کیے بغیر اُس کے لیے کوئی چارۂ کار نہ رہے۔ اس پروگرام کے مطابق اُن تمام غلطیوں کا بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ازالہ ہوسکتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمان نظامِ اسلام اور اس کے تمدنی احکام کو سمجھنے میں کر چکے ہیں اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ کے ذریعہ سے ہی مجھے سمجھا دیا۔ اور اس رؤیا کی اصل تعبیر یہ تھی کہ میرے قوائے باطنیہ میں سورۂ فاتحہ کا علم خصوصاً اور فہمِ قرآن کا عموماً رکھ دیا گیا ہے جو وقتاً فوقتاً الہامِ باطنی کے ساتھ ضرورت کے مطابق ظاہر ہوتا رہے گا۔
    چھٹی شہادت اس بارہ میں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی وحی سے نوازا اور اس بات کی بھی کہ اُس نے اُس کام کے لیے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی پیشگوئی میں ہے مجھے تیار کیا ہے یہ ہے کہ مجھے ایک رؤیا ہوا جو غالباً زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا ابتدائے خلافت حضرت خلیفہ اول میں مَیں نے دیکھا تھا۔ )یہ رؤیا مَیں نے اُسی وقت میجرسیدحبیب اللہ شاہ صاحب حال سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل لاہور کو اور دوسرے احباب کو سنا دی تھی۔ ابھی چند دن ہوئے انہوں نے خودبخود مجھ سے اس رؤیا کا ذکر کیا۔( مَیں نے دیکھا کہ مَیں مدرسہ احمدیہ میں ہوں اور اُسی جگہ مولوی محمد علی صاحب بھی کھڑے ہیں۔ اتنے میں شیخ رحمت اللہ صاحب آ گئے اور ہم دونوں کو دیکھ کر کہنے لگے آؤ مقابلہ کریں۔ آپ کا قد لمبا ہے یا مولوی محمد علی صاحب کا۔ مَیں اس مقابلہ سے کچھ ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہوں مگر وہ زبردستی مجھے کھینچ کر اُس جگہ پر لے گئے جہاں مولوی محمد علی صاحب کھڑے ہیں۔ یوں تو مولوی محمد علی صاحب قد میں مجھ سے چھوٹے نہیں بلکہ غالباً کچھ لمبے ہی ہیں لیکن جب شیخ صاحب نے مجھے اور اُن کو پاس پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ مَیں تو سمجھتا تھا مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے۔چنانچہ رؤیا میں مَیں دیکھتا ہوں کہ بمشکل میرے سینہ تک اُن کا سر پہنچا ہے۔ پھر شیخ رحمت اللہ صاحب ایک میز لائے اور اُس پر اُن کو کھڑا کردیا مگر تب بھی وہ مجھ سے چھوٹے ہی رہے۔ اس کے بعد انہوں نے اُس میز پر ایک سٹول رکھا اور اُس پر مولوی صاحب کو کھڑا کیا مگر پھر بھی مولوی صاحب مجھ سے چھوٹے ہی رہے۔ اس کے بعد انہوں نے مولوی صاحب کو اٹھا کر میرے سر کے برابر کرنا چاہا لیکن وہ پھر بھی نیچے ہی رہے۔ بلکہ مزید براں اُن کی ٹانگیں اِس طرح ہوا میں لٹک گئیں گویا کہ وہ میرے مقابل پر بالکل ایک بچہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور بمشکل میری کہنیوں تک پاؤں آئے۔ اب دیکھو! اس میں کس طرح اس تمام مقابلہ اور پھر اس کے انجام کی بھی خبر دی گئی ہے جو مولوی محمد علی صاحب سے ہونے والا تھا۔حالانکہ اگر ابتدائے خلافتِ اولیٰ کے وقت کی رؤیا ہے تو اُس وقت جماعت میں خواجہ کمال الدین صاحب سر اٹھا رہے تھے نہ کہ مولوی محمد علی صاحب۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں عجیب طریق پر بعد میں پیدا ہونے والے جھگڑوں کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔چنانچہ دیکھ لو! مولوی محمد علی صاحب میرے مقابلے میں اتنے نیچے ہوئے، اتنے نیچے ہوئے کہ اب اُن کا سارا زور ہی اس بات کے ثابت کرنے پر صَرف ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور وہی لوگ معزز ہوتے ہیں جو چھوٹے ہوں۔ پہلے کہا کرتے تھے کہ ہم 95 فیصدی ہیں اور یہ چار پانچ فیصدی ہیں اور جماعت کی اکثریت کبھی ضلالت پر نہیں ہوسکتی۔ مگر اب کہتے ہیں بے شک قادیان کی جماعت زیادہ ہے اور ہم تھوڑے ہیں لیکن ان کا زیادہ ہونا ہی ان کے جھوٹے ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے حقیقی بندے تھوڑے ہؤا کرتے ہیں۔ یہ بالکل وہی نقشہ ہے جو اِس رؤیا میں بتایا گیا تھا۔ وہ اتنے چھوٹے ہوئے، اتنے چھوٹے ہوئے کہ اب انہیں اپنا چھوٹا ہونا ہی اپنی صداقت کی دلیل نظر آتا ہے۔
    پھر جس وقت جماعت میں اختلاف پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاماً بتایا کہ لَنُمَزِّقَنَّھُمْ ہم ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔اُس وقت یہ لوگ اپنے آپ کو 95 فیصدی کہا کرتے تھے مگر اب اُن کی کیا حالت ہے۔خدا نے اُن کواِس پیشگوئی کے مطابق حقیقت میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنی وفات سے پہلے لکھا کہ مرزا محمود نے ہمارے متعلق جو الہام شائع کیا تھا وہ بالکل پورا ہو گیا ہے اور ہم واقع میں ٹکڑےٹکڑے ہو گئے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو جیسا کہ الہام میں خبر دی گئی تھی میرے مقابلہ میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ مَیں اُس کلامِ الٰہی کی مثالیں جو مجھ پر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے نازل فرمایا اِس وقت اِسی قدر بیان کرتا ہوں۔ ہاں میرا ارادہ ہے کہ تحدیثِ نعمت کے طور پر ایک مختصر رسالہ میں کسی قدر تفصیل کے طور پر اپنے بعض الہاموں، کشوف اور رؤیا کا ذکر کر دوں۔
    خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد دفعہ مجھ پر اپنے غیب کو ظاہر کرکے اس پیشگوئی کو سچا کردیا ہے کہ مصلح موعود خدا تعالیٰ کی روحِ حق سے مشرف ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ہیں جو اس نے میرے ذریعہ سے ظاہر فرمائے۔ مَیں نے اب بھی اس پیشگوئی کا مصداق ہونے کا اُس وقت تک اعلان نہیں کیا جب تک خود خدا نے اپنے فضل سے مجھے اس حقیقت سے آگاہ نہیں فرما دیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں کیا حکمت تھی کہ جماعت کے دوست تو پہلے ہی ان پیشگوئیوں کا مجھے مصداق قرار دیتے رہے اور مَیں نے اب ان پیشگوئیوں کے مصداق ہونے کا دعوٰی کیا۔ مَیں اُن سے کہتا ہوں اِس میں حکمت وہی ہے جس کا قرآن کریم نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے کہ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ۔11 اللہ تعالی ٰ جب ایک نبی کی بعثت کے بعد کوئی اَور موعود کھڑا کرتا ہے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ اُس کی قائم کردہ جماعت دوبارہ کفر کا شکار ہوجائے اور اُس کا وہ ایمان ضائع ہوجائے جو اُسے حاصل تھا۔ اِسی لیے وہ پہلے سے ایسا رنگ پیدا کر دیتا ہے کہ اکثریت اُس موعود کو ماننے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ فرض کرو کوئی ایسا موعود کھڑا ہو جاتا جس کی صداقت کی کوئی علامت پہلے ظاہر نہ ہو چکی ہوتی تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا۔ یہی نتیجہ نکلتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی پیشگوئیوں پر ہنسی اور تمسخر شروع ہو جاتا اور وہ جماعت جسے بڑی بڑی مشکلات، بڑی بڑی قربانیوں، بڑی بڑی دعاؤں اور بڑی بڑی کوششوں کے بعد قائم کیا گیا تھا اس کا اکثر حصہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے خلاف کھڑا ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ جنہوں نے اب تک مصلح موعود ہونے کے دعوے کیے ہیں ان کی ساری لڑائی جماعت کے ساتھ رہی ہے اور ان کی ساری لڑائی محض اِس وجہ سے ہوا کرتی ہے کہ احمدی ان کی کیوں بیعت نہیں کرتے۔ حالانکہ صاف بات ہے کہ اگر خدا نے تمہیں طاقت اور قوت عطا فرمائی ہے تو جس طاقت اور قوت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ایک جماعت بنا لی تھی اُسی طاقت اور قوت سے تم بھی ایک نئی جماعت بنا لو۔ تمہیں کس نے منع کیا ہے۔ لیکن وہ نئی جماعت بھی نہیں بنا سکتے اور ہماری جماعت کو بھی اس وجہ سے کافر قرار دیتے ہیں کہ یہ اُن پر ایمان کیوں نہیں لاتی۔ گویا اُن کے نزدیک ہماری جماعت کے افراد ہیں تو کافر، لیکن وہ اصرار کرتے ہیں ہم نے لینے یہی کافر ہیں۔ اب بتاؤ ایسے حالات میں کون ہے جو اُن کے دعوے کو تسلیم کرسکے۔ پس میری طرف سے بعد میں اعلان ہونے اور جماعت کی طرف سے پہلے مجھے اس پیشگوئی کا مصداق قرار دینے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہی ہے کہ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ اللہ تعالیٰ مومنوں کو دوسری دفعہ کفر واسلام کے امتحان میں ڈال کر اُن کے ایمان کو ضائع کرنے کے لیے تیار نہ تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ وہ دو موتیں اپنی جماعت پر وارد کرے۔ پہلی موت تو وہ تھی جو غیر احمدیت کی حالت میں اُن پر وارد ہوئی کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے دعوٰی کو جھٹلایا۔ لیکن آخر ان کے دل کی کسی نیکی کو قبول کرکے اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا اور وہ جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے اور صداقت کو قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کیا، مصیبتوں اور تکلیفوں کو برداشت کیا، ہزاروں دُکھوں اور بَلاؤں کا مقابلہ کیا اور اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے ہر وہ عذاب برداشت کیا جو بندے دے سکتے تھے۔ اس کے بعد یہ خیال کرنا کہ اس ابتلاء میں سے گزرنے والے لوگوں کی زندگی میں خدا تعالیٰ ایک ایسا موعود بھیج دے گا جس کی صداقت کے نشانات اس کے دعوے کے ایک لمبے عرصہ بعد ظاہر ہوں گے، اس کے یہ معنے ہیں کہ مومنوں کو پھر کفر کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے اور صحابہ کو دوبارہ کافر و منکر بنا دیا جائے، نئے سرے سے جماعت ابتلاء میں پڑجائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کی سنت کے خلاف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ایسا ہرگز نہیں کرسکتا اور اس وجہ سے اس نے مصلح موعود کے متعلق جو حضرت مسیح موعوؑد کی تیار کردہ جماعت کی زندگی میں ہی آنے والا تھا یہ تدبیر اختیار کی کہ پہلے اُسے جماعت کا خلیفہ بنا کر اُن سے عہدِ اطاعت لے لیا اور اُن پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے سامان پیدا کر دیے جو اس کے متعلق بتائی گئی تھیں اور جب حقیقت جماعت پر روزِ روشن کی طرح کھل گئی تو پھر اسے بھی اس حقیقت سے بذریعہ آسمانی اخبار کے علم دے دیا تا آسمان اور زمین دونوں کی گواہی جمع ہوجائے اور مومنوں کی جماعت کفر و انکار کے داغ سے بھی محفوظ کردی جائے۔ یہ ایسی ہی بات تھی جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات پر کہا تھا کہ خدا کی قَسم! اللہ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔12 یہی حال سب انبیاء کی قائم کردہ جماعتوں کاہو تا ہے اور خدائی قانون یہی ہے کہ وہ اپنی جماعت پر دو موتیں وارد نہیں کیا کرتا۔ دنیا کو کافر قرار دینے والے اور تمام جہان سے لڑائی کرنے والے نبی اور مامور اور مصلح ایک عرصہ دراز کے بعد آیا کرتے ہیں۔قریب زمانہ میں نہیں آیا کرتے۔ وہ اُس وقت آتے ہیں جب لوگوں کے دل واقع میں کافر اور بے دین ہو چکے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ مصلح اور وہ موعود اور پھر ان سے بڑھ کر وہ نبی اور مامور اور مرسل جنہوں نے ایسے وقت میں ظاہر ہونا ہوتا ہے جب جماعت کا قیام ابھی تازہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ جماعت کی اکثریت کو ان کا انکار کرنا نہیں پڑتا۔ جیسے حضرت ہارون علیہ السلام تھے کہ ان کے لیے قوم کو کوئی علیحدہ جنگ نہیں کرنی پڑی۔ جب وہ حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو حضرت ہارونؑ پر خودبخود ایمان لے آئے۔ یا یوشعؑ نبی ہوئے تو ان کو حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرح دنیا سے جنگ نہیں کرنی پڑی بلکہ حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لانے کی وجہ سے اُس قوم نے یوشعؑ پر خودبخود اپنے ایمان کا اظہار کردیا۔ تو خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ ایک قوم پر دو دفعہ موت وارد نہیں کیا کرتا۔ جب خدا تعالیٰ ایک دفعہ اپنی جماعت کا ایمان کسی نبی کے ذریعہ سے محفوظ کر دیتا ہے تو پھر وہ اسی محفوظ ایمان کے ساتھ بڑھتی اور دنیا میں ترقی کرتی ہے۔اسی لیے خدا تعالیٰ نے پہلے علامتیں ظاہر کیں اور پھر مجھے بتایا بلکہ پہلے جماعت خود کہتی رہی تاکہ وقت آنے پر ایمان کی موت سے خدا تعالیٰ اسے بچا لے۔ باقی جس قدر مدعی ہیں وہ سارے ہی ایسے ہیں جن کے دعوے کو جماعت چونکہ تسلیم نہیں کرتی اس لیے وہ جماعت کے افراد کو کافر اور بے دین قرار دیتے ہیں۔حالانکہ یہ خدائی سنت کے خلاف ہے کہ وہ ایک نبی کی جماعت پر دو موتیں وارد کرے۔ بعد میں جب بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور نبی کے زمانہ پر ایک عرصہ دراز گزر جاتا ہے اُس وقت بے شک ایسا مامور آسکتا ہے جس کے انکار کی وجہ سے لوگ کافر اور بے دین قرار پا جائیں۔ لیکن جب نبی کے قریب ترین زمانہ میں کوئی مصلح اور موعود آتا ہے خواہ وہ نبی ہو یا غیر نبی تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ماتحت پہلے سے ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے جن کی وجہ سے جماعت کی اکثریت ٹھوکر سے محفوظ رہتی ہے۔تب ایمان اور جماعتی ترقی کا ایک تسلسل جاری رہتا ہے اور اس میں کوئی روک پیدا نہیں ہوتی۔ ہاں جب جماعت بگڑ جائے، ایمان مٹ جائے، اخلاق درست نہ رہیں، بے دینی، کفر اور الحاد ہر طرف چھا جائے اُس زمانہ میں جب کوئی موعود آئے گا تو لازماً لوگ اُس کا انکار کریں گے اور وہ ایسے طور پر ہی آئے گا کہ اگر کوئی اس کا انکار کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کافر قرار پائے گا۔ پس موعود دو الگ الگ قسم کے زمانوں میں آیا کرتے ہیں۔ اِس وقت چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے انوار چاروں طرف دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، آپ کی تعلیم پر جماعت قائم ہے، آپ کے احکام کو لوگ تسلیم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر چلتے اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے موجودہ زمانہ میں ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ جس موعود کو کھڑا کرتا اُس کے متعلق پہلے سے علامات ظاہر کردیتا تاکہ جماعت ٹھوکر سے محفوظ رہے۔ ہاں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نور لوگوں کی نظر سے اوجھل ہوجائے گا اور پھر دنیا میں تاریکی اور ظلمت چھا جائے گی اُس وقت کوئی ایسا موعود بھی آسکتا ہے جس کے انکار پر لوگوں کو کافر قرار دیا جائے۔ اور اس میں کوئی حرج نہ ہوگا کیونکہ اُس وقت جیسے وہ ظاہر میں کافر ہوں گے اُسی طرح اُن کے دل کافر ہوں گے اور انہیں کافر قرار دینا درحقیقت اُن کے اپنے کفر کا ہی اظہار کرنا ہوگا۔لیکن موجودہ زمانہ میں ایسا نہیں ہوسکتا تھا بلکہ جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے ایسا ہونا اللہ تعالیٰ کی سنت اور اُس کے طریق کے خلاف ہے اور یہ صریح ظلمِ عظیم ہے کہ ایک قوم کو اللہ تعالیٰ دو موتوں میں داخل کرے"۔
    خطبہ ثانیہ میں فرمایا:۔
    "مجھے کل سے لاہور سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ اُمّ طاہر کی حالت پھر نازک ہو رہی ہے اور آج کی اطلاع تو یہ ہے کہ ان کی نبض بھی کمزور ہے اس لیے مَیں کل کی بجائے آج ہی لاہور جا رہا ہوں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو مَیں اگلا جمعہ قادیان میں ہی آکر پڑھانے کی کوشش کروں گا۔ خدا تعالیٰ نے انسان پر جو خانگی فرائض رکھے ہیں ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس لیے مَیں جمعہ کے بعد لاہور جاؤں گا اور چونکہ مجھے جلدی جانا ہے اس لیے جمعہ کی نماز کے ساتھ ہی عصر کی نماز بھی پڑھا دوں گا"۔(الفضل 16 فروری ، 7 مارچ 1944ء)

    6
    حضرت محمد ﷺ کے صحابہ ؓ خدا تعالیٰ کےقرب کے جس مقام پر پہنچے اُس مقام پر آج بھی ہم پہنچ سکتے ہیں
    (فرمودہ 11 فروری 4419ء بمقام لاہور)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مغرب کی نماز کے بعد جبکہ مَیں باہر بیٹھتا ہوں دوست مجھ سے مختلف سوالات دریافت کیا کرتے ہیں۔آج رات جو سوالات کیے گئے اُن میں سے ایک سوال ایسا اہم ہے جس کے متعلق میں پھر زیادہ تشریح اور وضاحت کے ساتھ کچھ بیان کردینا مناسب سمجھتا ہوں۔ کیونکہ وہ سوال ہماری تمام جماعت بلکہ تمام مسلمانوں کی عملی زندگی کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتا ہے۔
    وہ سوال یہ تھا کہ کیا ہم اب بھی صحابہؓ میں شامل ہوسکتے ہیں؟ مَیں نے اختصار کے ساتھ اس کا جواب دیا تھا کہ صحابی ہونا اپنی ذات میں صرف اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی انسان ایسی صورت اختیار کر لے جو اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہم مجلس اور ہم شریک بنا دے۔ ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ملنے والوں میں سے ابوجہل بھی تھا، عتبہ اور شیبہ بھی آپ کی مجلس میں بیٹھنے والوں میں سے ہی تھے۔ اور ظاہر میں ایمان کا دعوٰی کرنے والوں میں سے عبداللہ بن اُبَی ابن سلول بھی تھا مگر ہم ان کو صحابی نہیں کہتے۔ حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلسوں میں بیٹھتے اور آپ سے ہمیشہ باتیں کیا کرتے تھے۔ کچھ لوگوں کو تو ہم اس لیے صحابی نہیں کہتے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دعوٰی کے منکر تھے حالانکہ جہاں تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جسم کا تعلق ہے وہ لوگ آپ کے قرب میں بیٹھنے والے تھے۔ اور کچھ لوگوں کو ہم اس لیے صحابی نہیں کہتے کہ گو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دعویٰ کو منہ سے تسلیم کرتے تھے مگر عملاً آپ سے عقیدت نہ رکھتے اور آپ کے ارشادات کے مطابق عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ پس باوجود اس کے کہ ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جسمانی قرب حاصل ہوا، ہم اُن کو صحابی نہیں کہتے۔ ہم یوں نہیں کہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ایک صحابی تھا ابوجہل۔ مگر وہ آپ کا مخالف ہو گیا اور اس نے بڑی شدید دشمنی کی۔ ہم یہ کبھی نہیں کہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ایک صحابی تھا عبداللہ بن ابی ابن سلول۔ وہ منہ سے تو کہتا تھا کہ مَیں اسلام کاشیدائی ہوں لیکن دل سے اسلام کا شدید ترین دشمن تھا حالانکہ جو صحابی کے معنے ہیں یعنی پاس بیٹھنے والا اور صحبت سے حصہ پانے والا، وہ اس میں پائے جاتے تھے۔ تو مَیں نے بتایا یہ تھا کہ درحقیقت صحابیت اس محبت اور اخلاص کے تعلق پر مبنی ہے جو انسا ن کسی رسول کے ساتھ رکھتا ہے اور اسی وجہ سے جن لوگوں نے اس قِسم کا اخلاص اپنے اندر پیدا کر لیا وہ باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کے بہت بعد پیدا ہوئے، انہوں نے وہی مقام حاصل کر لیا جو صحابؓہ کو حاصل تھا۔ چنانچہ مَیں نے اس کی مثال بھی دی تھی کہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی فرماتے ہیں کہ مَیں نے ساری بخاری سبقًا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پڑھی ہے۔اسی طرح اور بہت سے لوگ امتِ محمدیہ میں ایسے گزرے ہیں جنہیں رؤیا یا کشف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، آپؐ سے باتیں کرنے کا ان کو موقع ملا اور جاگنے کی حالت میں بھی ان کے دلوں میں اخلاص اور تقوٰی پایا جاتا تھا۔ ایسے لوگ یقیناً صحابی تھے۔ یہی حالت اگر آج بھی ہم میں پیدا ہوجائے، یہی مرتبہ اگر آج بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم کو میسر آجائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم آج بھی صحابہؓ کا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم خدا تعالیٰ پر بخل کا الزام نہیں لگاتے۔ ہمارا خدا بخیل اور مُمسک نہیں کہ ہم یہ خیال کر لیں کہ اس نے اپنی نعمتوں سے پہلوں کو تو حصہ دیا مگر ہمارے لیے ان نعمتوں کے حصول کا دروازہ اس نے بند کردیا ہے۔یہ جواب تھا جو مَیں نے اس سوال کا دیا۔ آج مَیں کسی قدر زیادہ وضاحت سے اس امر کو خطبہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں اور جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ درحقیقت کسی انعام کے متعلق انسان کے دل میں خواہش کا پیدا ہونا یہ بھی بعض دفعہ بناوٹی ہوتا ہے اور کسی انعام کے حصول سے مایوس ہو جانا یہ بھی انسا ن کے لیے بڑی تباہی کا موجب ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں مَنْ قَالَ ھَلَكَ الْقَوْمُ فَھُوَ اَھْلَـکَھُمْ۔1 اے لوگو!جس نے اعلان کرنا شروع کردیا کہ ہماری قوم ہلاک ہوگئی، ہماری قوم برباد ہو گئی فَھُوَ اَھْلَـکَھُمْ وہی شخص ہے جس نے اس قوم کو تباہ و برباد کیا۔ اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قومی ہلاکت کی وجہ بتائی ہے اور فرمایا ہے کہ اس ہلاکت اور بربادی کی ذمہ داری اس آدمی پر ہے جو کہتا ہے کہ قوم ہلاک ہو گئی۔ بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ کسی شخص کے یہ کہنے سے کہ قوم ہلاک ہو گئی، ساری کی ساری قوم کس طرح ہلاک ہوسکتی ہے اور چونکہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی اس لیے وہ کہتے ہیں اس حدیث میںاَھْلَـکَھُمْ کا لفظ نہیں بلکہ اَھْلَـکُھُمْ کا لفظ ہے۔ یعنی وہ شخص سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔ حالانکہ واقع یہ ہے کہ انہوں نے قومی نفسیات کو سمجھا ہی نہیں۔یہ کہہ دینا کہ جو شخص کہتا ہے قوم ہلاک ہو گئی وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔ اول تو بعض حالتوں میں یہ درست ہی نہیں اور پھر یہ بھی صحیح نہیں کہ ان الفاظ کی وجہ سے وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا بن جاتا ہے۔ درحقیقت ان لوگوں نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا کہ جب کسی قوم میں مایوسی پیدا کردی جائے تو وہ بڑے بڑے کام کرنے سےہمیشہ کےلئے محروم ہوجاتی ہے۔ کبھی کسی قوم کا دانا اور سمجھ دار لیڈر ایسا نہیں ہوسکتا جو اس کو مایوس کردے اور آئندہ ترقیات کے متعلق اس کے دل میں ناامیدی پیدا کردے۔ جب کوئی قوم یہ سمجھ لے کہ وہ ترقی کے انتہائی درجہ پر پہنچ گئی ہے یا جب کوئی قوم یہ سمجھ لے کہ وہ تنزل کے انتہائی درجہ پر پہنچ گئی ہے تو وہ تباہ ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ چنانچہ دیکھ لو مسلمانوں میں جب یہ خیال پیدا ہؤا کہ قرآن کریم کی تفاسیر جو لوگ پہلے لکھ چکے ہیں ان سے زیادہ اب کچھ نہیں لکھا جا سکتا، اب قرآن کی کوئی نئی تفسیر نہیں کی جاسکتی، معرفت کی کوئی نئی بات اس کی آیات سے نکالی نہیں جاسکتی تو مسلمانوں میں اُسی وقت تنزّل پیدا ہونا شروع ہو گیا اور ان کی معرفت جاتی رہی، ان کا علم سلب ہو گیا اور ان کی عقل کمزور ہو گئی اور ان کا فہم جاتا رہا اور وہ ان آسمانی علوم سے اس قدر محروم ہو گئے کہ اس زمانہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے قرآن کریم کے نئے معارف بیان کرنے شروع کر دیے اور ہمارے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نےاس کے عجیب و غریب اسرار کھولے تو مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ تفسیر بالرائے ہے۔ گویا انہیں معرفت کی باتوں سے اتنی دُوری ہو گئی کہ اسلام کی باتیں انہیں کفر کی باتیں دکھائی دینے لگیں اور قرآن کی باتیں انہیں بے دینی کی باتیں نظر آنے لگیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جب قوم سے کہہ دیا گیا کہ آئندہ لوگوں کو کوئی ذہنی ارتقاء حاصل نہیں ہوسکتا، آئندہ کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوسکتا جو قرآن کریم کو پہلوں سے زیادہ سمجھ سکے۔آئندہ کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوسکتا جو حدیثوں کو پہلوں سے زیادہ سمجھ سکے۔ تو دوسرے الفاظ میں انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ہماری قوم ہلاک ہو گئی۔ اب اس میں کوئی زندہ وجود باقی نہیں رہا اور جب انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ ہماری قوم میں کوئی زندہ وجود باقی نہیں رہا، ہماری قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں رہا جو یہ کہہ سکے کہ مَیں نے قرآن سے فلاں نئی بات نکالی ہے تو نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے قرآن پر تدبر کرنا ترک کردیا۔ انہوں نے حدیثوں پر غور کرنا چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا جب ہمیں کوئی نئی بات نہ قرآن سے حاصل ہوسکتی ہے نہ حدیث سے مل سکتی ہے تو ہمیں قرآن اور حدیث پر غور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ پرانی تفسیریں ہی ہمارے لیے کافی ہیں۔یہ ایک لازمی نتیجہ تھا اس خیال کا کہ قرآن سے اب کوئی نیا نکتہ نہیں نکل سکتا۔ بلکہ رازی اور ابن حیان اور دوسرے مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے، وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس تباہ کن خیال کے زیرِ اثر قرآن کریم کے پڑھنے اور اسے سمجھنے کو ترک کردیا اور اپنا تمام تر انحصار تفسیروں پر رکھ لیا۔پھر یہ عذاب اتنا بڑھا ،اتنا بڑھاکہ آج سے پچیس تیس سال پہلے بڑے بڑے مولوی ایسے تھے جو قرآن کریم کا صحیح ترجمہ تک نہیں جانتے تھے۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے ہمارے لیے قرآن کریم کا ترجمہ جاننا ضروری نہیں۔ اتنا ہی کافی ہے کہ اگر موقع ملے تو کوئی پرانی تفسیر دیکھ لی جائے۔
    یہ ہلاکت ہوئی محض اس بات سے کہ قوم کو مایوس کردیا گیا۔ اسے کہہ دیا گیا کہ قرآن کریم کے معارف تک اس کی رسائی نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح جب مسلمانوں کو کہہ دیا گیا کہ خدا بولتا نہیں، وہ کسی سے محبت نہیں کرتا، وہ کسی سے پیار نہیں کرتا، وہ کسی کی التجا اور دعا کا جواب نہیں دیتا تو لوگوں کے دلوں سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس سے ملنے کی خواہش بھی مٹنی شروع ہو گئی۔ آخر یہ خواہش کہ خدا مجھ سے ملے اور وہ میرے ساتھ باتیں کرے، وہ مجھے اپنا پیارا بنالے، وہ میرا ہوجائے اور میں اس کا ہو جاؤں۔کوشش انسان تبھی کرے گا جب اسے یہ خیال ہوگا کہ ایسا ہوسکتا ہے۔ لیکن جب اس کا یہ خیال ہو کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا تو وہ اس غرض کے لیے کوشش ہی کیوں کرے گا۔ جب مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کردیا گیا کہ ہم خدا کے نہیں ہوسکتے اور خدا ہمارا نہیں ہوسکتا۔ جب قوم کے لیڈروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ھَلَكَ الْقَوْمُ ہماری قوم ہلاک ہو گئی، ہماری قوم میں وہ استعداد ہی نہیں رہی کہ جس سے کام لے کر وہ خدا سے محبت کرسکے، اس کے فضل کو اپنی طرف کھینچ سکے، اس کی وحی اور الہام کی مورد بن سکے تو نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس طرف سے اپنی توجہ ہی ہٹا لی اور خدا تعالیٰ کے دروازہ کو بند سمجھ کر اسے کھٹکھٹانا ترک کردیا۔ مگر کسی مکان کا دروازہ بند ہو، باہر کی طرف اس پر قفل لگا ہوا ہو تو کون بے وقوف ہے جو اس دروازہ پر بیٹھ کر مالک مکان کو آوازیں دینی شروع کرے گا۔ اگر کسی مکان کے دروازہ کے متعلق یہ اعلان کردیا جائے کہ اسے قطعی طور پر بند کردیا گیا ہے اور پھر اس دروازہ کو کوئی شخص کھٹکھٹانا شروع کردے تو سب لوگ اسے احمق اور پاگل سمجھیں گے۔ کیونکہ وہ ایسا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہوگا جو بند ہو چکا ہے، جس کے بند ہونے کا اعلان ہو چکا ہے اور جس کے کھلنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں اگر کسی عمارت کا دروازہ تو بند ہو لیکن کھڑکی کھلی ہو تو سب لوگ اس کھڑی کی طرف جائیں گے دروازہ کی طرف نہیں جائیں گے۔ وہ کھڑکی کی طرف اس لیے جائیں گے کہ کھڑکی کھلی ہوگی اور دروازہ کی طرف اس لیے نہیں جائیں گے کہ دروازہ بند ہوگا۔ اسی طرح جب خدا تعالیٰ کی محبت کا دروازہ بند کردیا گیا اور جب مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کردیا گیا کہ اس دروازہ سے تمہیں کوئی آواز نہیں آسکتی۔خواہ تم کس قدر چلّاؤ، خواہ تم کس قدر آہ و زاری سے کام لو۔ تو نتیجہ یہ ہؤا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا دروازہ چھوڑ دیا اور پیروں اور فقیروں کے پیچھے چل پڑے۔ کیونکہ گو وہ چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں تھیں۔ مگر یہ چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں انہیں کھلی نظر آئیں اور بڑا دروازہ انہوں نے مقفّل پایا۔ پس وہ خدا کے دروازہ کو چھوڑ کر پیروں اور فقیروں کے پیچھے چل پڑے۔ کیونکہ انہوں نے کہا، یہ ہیں تو کھڑکیاں مگر کھلی کھڑکیاں ہیں۔ پس آؤ! ہم ان کھڑکیوں سے اندر کی طرف جھانکیں۔ مگر جانتے ہو اس کا کیا اثر ہوا؟ یہی ہوا کہ خدا کی محبت اور خدا کا پیار مسلمانوں کے دلوں سے جاتا رہا، روحانیت کا ان میں فقدان ہو گیا، وہ اس کے قرب سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے اور خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ کلام سننے سے ان کے کان ہمیشہ کے لیے ناآشنا ہو گئے۔
    اسی طرح اسلامی تمدن اور سیاست میں بھی خطرناک نقص پیدا ہو گیا۔ کیونکہ کہہ دیا گیا کہ صحابہؓ کے زمانہ میں تمدن نے جو شکل اختیار کی تھی اُس سے زیادہ اسلامی تمدن کو کوئی شکل نہیں دی جاسکتی۔حالانکہ تمدن کی شکل ہر زمانہ کے لحاظ سے بدلتی چلی جاتی ہے۔ کسی زمانہ میں اس کی کوئی شکل موزوں ہوتی ہے اور کسی زمانہ میں اس کی کوئی شکل موزوں ہوتی ہے۔سچا مذہب وہی ہوتا ہے جو اپنے اندر لچک رکھتا ہے اور اسی لیے وہ مذہب دنیا میں ایک لمبے عرصہ کے لیے آتے ہیں۔ ان کی تعلیم کے اندر ایک قسم کی لچک پائی جاتی ہے جو مختلف زمانوں اور مختلف حالات کے مطابق تغیر پذیر ہوتی چلی جاتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں اسلامی تمدن نے جو شکل اختیار کی وہ اَور تھی۔ مگر اب اس تمدن نے جو شکل اختیار کرنی ہے وہ اَور ہے۔بے شک اس تمدن کے اصول ایک ہی رہیں گے مگر اس کی شکل زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بدلتی چلی جائے گی۔ اعتراض تب ہو جب اصول میں تبدیلی ہو۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے اصول ہمیشہ ایک ہی رہیں گے لیکن اس تمدن کی شکل اور طریقِ عمل میں ہمیں ضرور فرق کرنا پڑے گا اور موجودہ سوسائٹی کی طرز اور اس کے طریق کے مطابق ہمیں اس میں تبدیلی کرنی پڑے گی اور شکل میں یہ تبدیلی بالکل جائز ہوگی۔مگر چونکہ کہہ دیا گیا کہ اسلامی تمدن انتہا تک پہنچ چکا ہے اور یہ کہ اس کے قانون میں کوئی لچک نہیں، اگر لوگ پرانے زمانہ کے تمدن کی نقل کریں تو بے شک کریں لیکن اس کے خلاف کوئی اور شکل تجویز نہیں کرسکتے۔ تو نتیجہ یہ ہؤا کہ مسلمانوں نے تمدن کے متعلق غوروفکر کرنا چھوڑ دیا اور وہ اس چھوٹے سے تالاب کی صورت میں بدل گیا جس کا پانی نہیں بہتا، جس میں بُو تو پیدا ہوجاتی ہے، جس میں تعفّن تو پیدا ہو جاتا ہے، جس میں سڑاند تو آنے لگتی ہے مگر خوشنمائی اور دلکشی باقی نہیں رہتی۔اسلامی تمدن بھی مسلمانوں کی اس حماقت کے نتیجہ میں ایک متعفّن چیز بن گیا جس سے خود مسلمان بھی نفرت کرنے لگے۔
    پس یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تھا کہ مَنْ قَالَ ھَلَكَ الْقَوْمُ فَھُوَ اَھْلَـکَھُمْ یہ درحقیقت آپ نے ایک بہت بڑا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا تھا۔ اگر قوم کے لیڈر، اگر قوم کے صلحاء، اگر قوم کے علماء، اگر قوم کے امراء اس ایک حدیث کو ہی یاد رکھتے، اگر وہ اپنی قوم کو مایوس نہ کرتے، اگر وہ اپنی قوم کو پژمُردہ اور کم ہمت نہ بناتے، اگر وہ ان کی امیدوں کو قائم رکھتے، اگر وہ ان کی امنگوں کو بڑھاتے، اگر وہ اپنی جہالت سے ان کو یہ نہ کہتے کہ تمہارے لیے اب ترقی کا کوئی موقع نہیں تو مسلمان روحانی میدان میں بھی آگے رہتے، اقتصادی میدان میں بھی آگے رہتے،علمی میدان میں بھی آگے رہتے اور سائنٹیفک میدان میں بھی آگے رہتے۔ مگر ہمارے ہاں تو یہاں تک مصیبت بڑھی کہ مذہب تو الگ رہا انہوں نے دنیوی علوم بھی پہلے لوگوں پر ختم کر دیے۔ بوعلی سینا کے متعلق کہہ دیا کہ اس نے طب میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں لکھا جاسکتا، منطق کے متعلق کہہ دیا کہ اس بارہ میں فلاں منطقی جو کچھ کہہ گیا ہے اس کے بعد منطق کے علم میں کوئی زیادتی نہیں کی جاسکتی۔ گویا اول تو انہوں نے خاتم النبیّین کے غلط معنے کیے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فیضان کو جو ایک دریا کی صورت میں بہہ رہا تھا محدود کردیا اور دوسری طرف یہ غضب ڈھایا کہ کسی کو خاتمِ طب بنا دیا، کسی کو خاتمِ منطق بنا دیا، کسی کو خاتمِ فلسفہ بنا دیا اور اس طرح ایک ایک کرکے سارے علوم کے متعلق یہ فیصلہ کردیا گیا کہ ان کے متعلق پہلے لوگ جو کچھ لکھ چکے ہیں ان سے زیادہ اب کوئی شخص نہیں لکھ سکتا۔ دماغی ترقی رک گئی ہے، ذہنی ارتقا جاتا رہا ہے، علم و فہم کا مادہ سلب ہو چکا ہے اور علوم کے دروازے سب بند ہو چکے ہیں۔ گویا انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ھَلَكَ الْقَوْمُ کہ جو پہلوں کو مل گیا وہ اب دوسروں کو نہیں مل سکتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان بالکل تباہ و برباد ہو گئے۔ نہ مسلمانوں میں خدا پرست رہے، نہ مسلمانوں میں فقیہہ رہے، نہ مسلمانوں میں قاضی رہے، نہ مسلمانوں میں عارف رہے، نہ مسلمانوں میں محدث رہے کیونکہ جو چیز بھی تھی اسے گزشتہ لوگوں پر ختم کردیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ آئندہ لوگوں کو کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ فطرت ان کی اس قدر بڑھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں بھی انہوں نے اسی حربہ سے کام لینا شروع کردیا۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ایک فقرہ لکھا ہے۔ وہ بظاہر ایک سادہ فقرہ ہے مگر انتہائی طور پر دلوں کی گہرائیوں پر اثر کرنے والا اور قلوب کو تڑپا دینے والا ہے۔ آپ پر جب لوگوں نے اعتراض کیا کہ پہلے مسیح سے آپ کس طرح بڑھ سکتے ہیں، تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا جواب دیتے ہوئے ایک جگہ تحریر فرمایا کہ یہ لوگ تو اس طرح باتیں کر رہے ہیں گویا ان کے نزدیک جو کچھ ہے پہلا مسیح ہی ہے، دوسرا مسیح کچھ چیز نہیں۔ یہ بظاہر ایک سادہ سا فقرہ ہے۔ مگر کس طرح اس گری ہوئی ذہنیت کی دھجیاں اڑا رہا ہے جو مسلمانوں میں پیدا ہو چکی تھی کہ تم کہتے یہ ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اپنے ساتھ تمام ترقیات کے سامان لائے، تم کہتے یہ ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اپنے ساتھ تمام برکات لائے، تم کہتے یہ ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اپنے ساتھ تمام انوار لائے۔ مگر دوسری طرف تم اسی منہ سے یہ بھی کہہ رہے ہو کہ اب تمام برکتیں ختم ہو چکیں،تمام فیضان بند ہو چکے، اب کوئی شخص وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جو پہلے لوگوں کو مِلا۔ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں کو مِلا گویا اسلام کا چشمہ نَعُوْذُ بِاللہِ خشک ہو گیا ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان نَعُوْذُ بِاللہِ ختم ہو گیا ہے، قرآن کا زندگی بخش اثر نَعُوْذُ بِاللہِ جاتا رہا ہے۔ اب خواہ لاکھ کوششیں کرو تمہیں وہ برکات کبھی نہیں مل سکتیں جو پہلے لوگوں کو ملیں۔ یہ توایسی گندی تعلیم ہے، یہ تو ایسی قوم کو تباہ و برباد کرنے والی تعلیم ہے کہ کوئی انسان جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھتا ہو، کوئی انسان جس کے دل میں خدا تعالیٰ کا سچا ادب پایا جاتا ہو ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی ایسی تعلیم قبول نہیں کرسکتا۔یہ تو ایسی گندی اور متعفّن اور بدبودار تعلیم ہے کہ اس قابل ہے کہ اسے اٹھا کر میلے کے ڈھیروں پر پھینک دیا جائے، بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں اور ان کے دماغوں میں اسے جگہ دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے بھیجا تھا کہ آپ اعلیٰ سے اعلیٰ کمالات کے دروازے لوگوں کے لیے کھول دیں جو آپ کے زمانہ کے لیے ہی مخصوص نہ ہوں بلکہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے کھلے رہیں۔ اگر یہ تعلیم صرف صحابہ کے لیے ہی تھی، اگر یہ تعلیم باقی ساری دنیا کو خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کی محبت سے ہمیشہ کے لیے محروم کرنے والی تھی تو یہ گندی دنیا جو خدا تعالیٰ کے قرب سے محروم ہو چکی تھی، یہ گندی دنیا جو خدا تعالیٰ کے الہام سے محروم ہو چکی تھی، یہ گندی دنیا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو سمجھنے سےمحروم ہو چکی تھی، یہ گندی دنیا جو اخلاق میں ترقی کرنے سے محروم ہو چکی تھی یہ تو اس قابل تھی کہ اس کو تباہ کردیا جاتا، اس کو برباد کردیا جاتا، اس پر عذاب نازل کرکے اسے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا جاتا۔ نوح کی قوم پر وہ تباہی نہیں آئی جو اس دنیا پر آنی چاہیے تھی، لوط کی قوم پر وہ عذاب نازل نہیں ہوا جو اس دنیا پر نازل ہونا چاہیے تھا۔ بشرطیکہ وہ سب کچھ درست ہوتا جو اِس زمانہ کے نادان مولوی کہہ رہے ہیں۔ مگر یہ جھوٹ اور افترا ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے ہم نے تجھے مبعوث کیا ہے۔ کسی ایک قوم کی طرف نہیں، کسی ایک ملک کی طرف نہیں بلکہ دنیا کے سارے انسانوں کی طرف ہم نے تجھے مبعوث کرکے بھیجا ہے۔2 اسی طرح آپ حاضر اور غائب سب کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں مَیں اللہ کا رسول ہوں جو تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور خدا نے آپ کو وہ تعلیم دی ہے جو سب کو سمیٹنے والی اور ان کو ایک نقطہ مرکزی پر جمع کرنے والی ہے تو کیسا نادان اور احمق ہے وہ انسان جو کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تمام برکات پہلے لوگوں پر ہی ختم ہو چکیں، اب کوئی انسان وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جو پہلے لوگوں نے حاصل کیا۔ یہ تو ایسے گندے اور ناپاک خیالات ہیں کہ قرآن اور اسلام ان کو ایک منٹ کے لیے بھی برداشت نہیں کرسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارے زمانوں کے لیے ہیں اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سارے زمانوں کے لیے ہیں تو برکات کا دروازہ اگلے لوگوں کے لیے بھی کُھلا ہونا چاہیے۔ تاکہ جس طرح پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھے اور انہوں نے اپنی اپنی قربانیوں کے مطابق خدا تعالیٰ کی رضا کا مقام حاصل کیا اُسی طرح آئندہ آنے والوں میں سے جو لوگ زیادہ قربانی کریں وہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ قرب حاصل کر لیں۔ اور جو لوگ کم قربانی کریں وہ اپنے معیار کے مطابق کم درجہ حاصل کریں۔ یہی چیز ہے جو دلوں میں یقین اور ایمان پیدا کرتی ہے اور یہی چیز ہے جو عمل کا ولولہ قلوب میں موجزن کرتی ہے۔ اس یقین کے بعد جب ہم خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، جب ہم اس کی صفات پر غور کرتے ہیں، جب ہم اس کے افضال کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں، جب ہم اس کی محبت کے سچے دل سے طالب بن جاتے ہیں تو رفتہ رفتہ ہم اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا پہنچتے ہیں جس طرح ہم اپنی محبت سے خدا کے قریب پہنچ جاتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں ہم خدا نما بھی ہوسکتے ہیں اور ہم محمدنما بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر ہم نہ خدا نما ہوسکتے ہیں، نہ محمد نما بن سکتے ہیں تو ہم نے اس غرض کے لیے کوشش ہی کیوں کرنی ہے۔ پھر تو ہمیں نہ نماز کی ضرورت ہے، نہ روزہ کی ضرورت ہے، نہ حج کی ضرورت ہے، نہ زکوٰۃ کی ضرورت ہے، نہ کسی اور حکم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ جب دروازہ بند ہو چکا، جب خدا تعالیٰ کے قرب کا راستہ مسدود ہو چکا تو کون احمق ہے جو اس بند دروازہ کے سامنے بیٹھے گا اور اس مسدود راستہ پر چلنے کی کوشش کرے گا۔ یقیناً کوئی نہیں جو اس علم کے بعد سچی کوشش کرسکے اور اس علم کے بعد صحیح جدوجہد کرے۔ لیکن خدا ہمیں کہہ رہا ہے کہ تم کوشش کرو۔ خدا ہمیں نمازوں کا بھی حکم دے رہا ہے، وہ ہمیں روزوں کا بھی حکم دے رہا ہے، وہ ہمیں زکوٰۃ کا بھی حکم دے رہا ہے، وہ ہمیں حج کا بھی حکم دے رہا ہے اور اس طرح بتا رہا ہے کہ تمہیں ان عبادات کے نتیجہ میں وہ سب کچھ مل سکتا ہے جو پہلے لوگوں کو ملا۔ مگر مسلمان ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ان نمازوں اور ان روزوں کے بعد تمہیں وہ مقام کبھی حاصل نہیں ہوسکتا جو پہلے لوگوں نے حاصل کیا۔ گویا خدا ہمیں ہدایت تو یہ دیتا ہے کہ تم نمازیں پڑھو اور ابوبکرؓ جیسی پڑھو۔ مگر کہتا یہ ہے کہ میں بناؤں گا تمہیں ابوہریرہؓ جیسا بھی نہیں۔ خدا ہمیں ہدایت تو یہ دیتا ہے کہ تم روزے رکھو اور ابوبکرؓ جیسے رکھو بلکہ ابوبکرؓ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جیسے رکھو کیونکہ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ3 تمہارے لیے ہمارا رسول نمونہ ہے۔ مگر دیکھنا مَیں تمہیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی کا مقام بھی نہیں دوں گا۔ تم زکوٰتیں دو اور صحابہؓ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب صحابہؓ جیسی زکوٰتیں دو مگر یاد رکھنا تمہیں اُس زمانہ کے ایک ادنیٰ مسلمان جیسا درجہ بھی ہمارے ہاں حاصل نہیں ہوگا۔ آخر کونسی عقل ہے جو اِس تضاد اور تخالف کو تسلیم کرسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی وہی دل دیا ہے جو اس نے صحابہؓ کو دیا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی وہی دماغ دیا ہے جو اس نے صحابہ ؓ کو دیا، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں بھی اپنے لقاء اور وصال کی وہی تڑپ رکھی ہے جو اس نے صحابہؓ کے دلوں میں رکھی۔ ہمارے قلوب میں بھی اُس نے یہ تمنا اور خواہش پیدا کردی ہے کہ ہم عرش پر پنجہ ماریں اور خدا کی محبت بھری گود میں جا پہنچیں۔ مگر دوسری طرف لوگ یہ بتاتے ہیں کہ خدا نے آسمان پر فرشتے بٹھا رکھے ہیں کہ دیکھنا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی بھی جس مقام پر پہنچا ہو اس سے تم نے ان لوگوں کو نیچا ہی رکھنا ہے۔ اوپر اٹھا کر نہیں لے جانا۔ یہ خدا ہؤا یا نَعُوْذُ بِاللہ ہوّا ہوا۔ یہ سب غلط اور تباہ کن خیالات ہیں جو مسلمانوں میں رائج ہو چکے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ اللہ تعالیٰ کے قرب کے جس مقام پر پہنچے ہیں اُس مقام پر آج بھی ہم پہنچ سکتے ہیں۔ بلکہ اگر ہم کوشش کریں تو صحابہؓ سےبھی آگے بھی نکل سکتے ہیں۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے صحابہؓ سے آگے نکل کر دکھا دیا یا نہیں؟ صحابہ تو کیا آپ گزشتہ انبیاء سے بھی افضل ہیں اور صحابؓہ تو یقیناً درجہ کے لحاظ سے آپ سے بہت نیچے ہیں۔ بلکہ آپ کا مقام تو وہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں ؎
    صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا4
    یعنی جو شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرتا اور سچے دل سے میری جماعت میں شامل ہو جاتا ہے وہ ویسا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ تھے۔ گویا آپ سے تعلق پیدا کرکے انسان آج بھی صحابہؓ جیسا بن سکتا ہے۔
    پھر آپ کے بعد اب خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مثیل قرار دیا ہے۔ پس جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے والے صحابہؓ سے جا ملےاسی طرح وہ لوگ جو آج یا آئندہ میرے نقشِ قدم پر چلیں گے، جو میری اتباع میں اسلام اور احمدیت کے لیے ویسی ہی قربانیاں کریں گے جیسے صحابہؓ نے کیں، چونکہ مَیں مسیح موعود کا مثیل ہوں اس لیے وہ مجھ پر ایمان لانے اور میرے نقشِ قدم پر چلنے کی وجہ سے مسیح موعودؑ کے صحابہ کے مثیل ہو جائیں گے اور وہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کے مثیل ہیں اس لیے یہ بھی اس مماثلت کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں شامل ہو جائیں گے۔
    وہ لفظ جو عام طور پر لوگوں کو دھوکا میں ڈالتا ہے اور جسے سن کر وہ سمجھتے ہیں کہ اب شاید یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا، صحابی کا لفظ ہے۔ صحابی کے معنے ہوتے ہیں صحبت یافتہ شخص۔ پس وہ کہتے ہیں جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا ہی نہیں اور جسے آپ کی صحبت نصیب ہی نہیں ہوئی وہ صحابی کس طرح کہلا سکتا ہے ۔چاہے اپنے دل میں وہ کتنا ہی اخلاص رکھتا ہو ہم اُسے صحابی نہیں کہیں گے کیونکہ اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہیں ہوئی۔اس کے لیے یاد رکھو کہ دو باتیں ایسی ہیں جن سے اس وسوسہ کا ازالہ ہوسکتا ہے۔ جہاں تک صحابیت کے درجے اور مقام کا تعلق ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ آنے والے لوگوں کے لیے اس وجہ سے کہ ان کے دلوں میں پژمردگی پیدا نہ ہو اِخْوَان کا لفظ استعمال کیا ہے۔ چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد لوگ پیدا ہوں گے وہ میرے اِخْوَان ہوں گے۔ صحابہ نے کہا یارسول اللہ! کیا وہ اِخْوَان ہوں گے ہم اِخْوَاننہیں ہیں؟ حالانکہ دین کے لیے قربانیاں ہم کر رہے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بے شک تم دین کے لیے قربانیاں کر رہے ہو مگر تم میرے صحابی ہو اور وہ لوگ میرے اِخْوَانہوں گے۔5 گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے متعلق جو بعد میں پیدا ہونے والے تھے اور جن پر صحابی کا لفظ ظاہراً اطلاق نہیں پاسکتا تھا اِخْوَان کا لفظ استعمال کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم تو میرے صحابہ ہو مگر وہ میرے بھائی ہوں گے۔ اور بھائی اور صحابی میں یہ فرق ہوتا ہے کہ صحابی وہی ہوتا ہے جسے صحبت میسر آئے۔ لیکن بھائی وہ بھی ہوسکتا ہے جس کی دوسرے بھائی نے شکل بھی نہ دیکھی ہو اور جو اس کی پیدائش سے پہلے فوت ہو چکا ہو یا اسکی موت کے بعد پیدا ہوا ہو۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر کہ آئندہ پیدا ہونے والے میرے بھائی ہوں گے اِس امر کی طرف اشارہ فرما دیا کہ جہاں تک محبت اور پیار اور موانست کے تعلقات کا سوال ہے وہ لوگ کم نہیں ہوں گے۔ جیسے بھائی اپنے دوسرے بھائی سے محبت اور پیار کے تعلقات رکھتا ہے اسی طرح اُن کے اور میرے تعلقات ہوں گے۔ لیکن چونکہ وہ میری مجلس میں نہیں بیٹھے ہوں گے اس لیے انہیں صحابہ نہیں کہا جائے گا، اخوان کہا جائے گا۔ پس وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ خلش پیدا ہوتی ہے کہ کاش! ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتے اور ہم صحابی کہلاتے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے لیےاس خلش اور بے کلی کی کوئی وجہ نہیں۔ وہ بے شک صحابی نہ کہلا سکیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اِخْوَانکہلاسکتے ہیں۔کیونکہ یہ وہ نام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود اُن کو دیا۔ پس وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی ہیں۔ اور یہ بھائی کا لفظ کوئی معمولی نہیں بلکہ یہ وہ لفظ ہے جسے سن کر صحابہؓ کو تکلیف ہوئی اور انہوں نے کہا یارسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے صحابہ ہو کیونکہ تم میرے زمانہ میں ہو اور تمہیں میری صحبت نصیب ہوئی ہے۔ بھائی وہ ہوں گے جو بعد میں آئیں گے اور جنہیں اِس جسمانی قرب کا موقع نہیں ملا ہوگا۔پس صحابہ کا جو مقام ہے وہ یقیناً بعد میں آنے والوں کو حاصل ہوسکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ لوگ صحابی کہلائے اور بعد میں آنے والوں کا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھائی رکھا ہے۔اور جب تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی بن گئے تو تمہارے دلوں میں یہ خلش کس طرح رہ سکتی ہے کہ کاش ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ بننے کا موقع میسر آتا۔تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے جسمانی طور پر نہیں ملے مگر تم وہ ہو جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بھائی قرار دیا ہے اور دنیا میں بھائی کا ہی ایک رشتہ ہے جو بغیر دوسرے بھائی سے ملنے کے بھی قائم ہو جاتا ہے لیکن صحابی کا رشتہ ملے بغیر قائم نہیں ہوتا۔
    پھر ایک اور بات بھی مدّ نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین دیا ہے وہ ایک زندہ دین ہے۔ اگر ہم اس دین اور مذہب پر چل کر خدا سے مل سکتے ہیں جو وراء الورٰی ہستی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کیوں نہیں مل سکتے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم چونکہ فوت ہو چکے ہیں اس لیے اب ہم اُن سے مل نہیں سکتے۔ حالانکہ ہم تو اس با ت کے قائل ہی نہیں کہ جو شخص فوت ہو جاتا ہے وہ بالکل مٹ جاتا ہے۔ ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ موت کے بعد انسانی روح زندہ رہتی ہے اور اُسے اگلے جہان میں ایک اَور جسم دے دیا جاتا ہے۔ جب ہمارا یہ اعتقاد ہے تو کیا دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا ہے جو یہ خیال کرتا ہو کہ انسانی روح خدا تعالیٰ سے زیادہ لطیف ہے۔ بہرحال ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ انسانی روح خواہ اس کے جسم کے مقابلہ میں کتنی ہی لطیف ہو اللہ تعالیٰ سے زیادہ لطیف نہیں ہوسکتی۔بلکہ اس کے مقابلہ میں نسبتًا کثیف اور مادہ کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ پھر جب ہم اس بات کے قائل ہیں کہ ہم خدا سے مل سکتے ہیں، اس کا قرب حاصل کرسکتے ہیں، اس کے کلام سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، وہ ہماری دعائیں سنتا ہے، ہماری حاجات کو پورا کرتا ہے، ہماری ضروریات کا کفیل بنتا ہے تو یہ کیسا بیہودہ خیال ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہو چکے ہیں اس لیے اب ہمیں آپ کی صحبت میسر نہیں آسکتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح تو الگ رہی ہم تو کافروں کی ارواح کے متعلق بھی اس بات کے قائل ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔ پس جب ہر کافر کی روح زندہ ہے، ہر مومن کی روح زندہ ہے تو ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نَعُوْذُ بِاللہِ فنا ہو چکی ہے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح آج بھی زندہ ہے تو یقیناً آپ کا قرب بہت زیادہ ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کی حقیقت اور اس کی کُنہ کو پانا بہت مشکل ہوتا ہے اور انسان بہت بڑی جدوجہد، بہت بڑی قربانیوں اور بہت بڑی عبادتوں کے بعد اپنے درجہ کے مطابق اس چیز کو حاصل کرتا ہے۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ انسانوں میں سے ہی ایک انسان ہیں اس لیے آپ کو سمجھنا اور آپ کی کُنہ کو پانا خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے اور اس کی کُنہ کو پانے سے بہت زیادہ آسان ہے۔ پس اگر انسان سچا اخلاص اور سچی محبت رکھنے والا ہو تو اُسے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت کرنے اور آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھانے اور آپ سے باتیں کرنے کے اس دنیا میں بھی کئی مواقع نصیب ہوسکتے ہیں اور جب بھی اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوجائے گی یا آپ سے کوئی کلام سننے کی اسے سعادت حاصل ہوجائے گی وہ اُسی وقت آپ کا صحابی بن جائے گا۔ جیسے امت محمدیہ میں بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے کہا کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور آپؐ نے ہم سے باتیں کیں وہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی بھی تھے مگر چونکہ محبت کے جوش کی وجہ سے وہ چاہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی ان کو نصیب ہوجائے اس لیے خدا نے ان کی خواہش کو پورا کردیا اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ملاقات میسر آگئی اور وہ علاوہ بھائی ہونے کے آپ کے صحابی بھی ہو گئے۔ یہ خواہش آج بھی پوری ہوسکتی ہے بلکہ آج اس خواہش کے پورا ہونے کے سامان بدرجۂ اتمّ موجود ہیں۔ اس لیے کہ پچھلے لوگوں کو خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھنے کا وہ موقع نہیں ملا جو آج لوگوں کو مل رہا ہے۔ آج خدا تعالیٰ کا زندہ کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام وہ انسان ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں اس قدر بڑھے کہ آپ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک ہو گئے۔ آپ سے پہلے اسلام پر جو مُردنی چھائی ہوئی تھی اور جس طرح اسلام کا تجزیہ ان کے ہاتھوں ہو رہا تھا اُس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی وحدت مٹ چکی تھی ان کا اتحاد کسی ایک نقطۂ مرکزی پر نہیں رہا تھا بلکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی فرقہ کام کر رہا تھا تو ایران میں مسلمانوں کا کوئی اَور فرقہ اپنے رنگ میں اسلام کی خدمت سرانجام دے رہا تھا، عرب میں مسلمان کسی اور فرقہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کر رہے تھے تو شام اور مصر کے مسلمان کسی اور فرقہ میں داخل تھے حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ہندوستان کے رسول نہیں تھے، صرف ایران کے رسول نہیں تھے، صرف عرب کے رسول نہیں تھے، صرف شام اور مصر کے رسول نہیں تھے بلکہ ساری دنیا کے رسول تھے۔ جس طرح ربّ العالمین کی حکومت سب جہان پر ہے اُسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دائرہ سے دنیا کا کوئی خطہ اور دنیا کا کوئی ملک باہر نہیں۔ ہر اسود و احمر کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور ایک ہی دین لے کر آئے۔ لیکن مسلمان فیج اعوج کے زمانہ میں اِس طرح گروہ در گروہ ہو چکے تھے کہ وہ وحدت جو مسلمانوں کی امتیازی شان تھی، بالکل مٹ گئی تھی۔ تب خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو مبعوث فرمایا اور آپ کے ذریعہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ سے وہ مشابہتِ تامّہ عطا کردی جو پہلے لوگوں کو حاصل نہیں تھی۔ پہلے انسان اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا چاہتا تھا تو کوئی چشتیوں میں سے ہو کر کرتا تھا، کوئی نقشبندیوں میں سے ہو کر کرتا تھا، کوئی سہروردیوں میں سے ہو کر کرتا تھا، کوئی قادریوں میں سے ہو کر کرتا تھا۔ اور یہ تو چند بڑے بڑے فرقوں کے نام ہیں ان کے علاوہ اور ہزاروں روحانی فرقے مسلمانوں میں پیدا ہو چکے تھے۔لیکن آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعہ پھر ساری دنیا کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے جمع کردیا ہے۔پس آج جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے وہ براہ راست محمدی سلسلہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت کرتا ہے۔ وہ قادری سلسلہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت نہیں کرتا، وہ چشتی سلسلہ میں داخل ہوکر آپ سے محبت نہیں کرتا، وہ نقشبندی سلسلہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت نہیں کرتا، وہ سہروردی فرقہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت نہیں کرتا بلکہ محمدی سلسلہ میں داخل ہو کر آپ سے محبت کرتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام بنی نوع انسان کو پہلے لوگوں سے بہت زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کرسکتے اور انہیں آپ کی صحبت سے مستفیض ہونے کے مواقع بہم پہنچا سکتے ہیں۔ پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لے جانے والے حضرت معین الدین صاحب چشتی یا حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی وغیرہ تھے۔ مگر آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لے جانے کے لیے مثیل محمد موجود ہے اور یہ صاف بات ہے کہ جہاں مثیلِ محمد پہنچ سکتا ہے وہاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کوئی جزوی نمونہ نہیں پہنچ سکتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ زمانہ عطا فرمایا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کُلّی نمونہ ہم میں آیا۔ اور جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلی نمونہ ہمیں پہنچا سکتا ہے وہاں یقیناً کوئی اور انسان ہمیں نہیں پہنچا سکتا۔ پس آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قرب حاصل کرنے، آپ کی صحبت میں بیٹھنے اور رؤیاو کشوف میں آپ کو دیکھنے کے پہلے سے بہت زیادہ مواقع میسر ہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ فیوض کو بند نہیں کردیا۔ بلکہ جیسا کہ پیشگوئی کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ نے پھر اس زمانہ میں مجھے آکر بتا دیا کہ اَنَا الْمَسِیْحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِیْلُہٗ وَخَلِیْفَتُہٗ6 میں مسیح موعود کا مثیل اور اس کا خلیفہ اور جانشین ہوں۔ گویا وہی نام جو مسیح موعود کو دیا گیا تھا اب مجھے دے کر جماعت کو اور زیادہ بشارت دے دی گئی کہ ابھی تمہارے لیے خدا تعالیٰ کے قرب میں ترقی کرنے کے لیے ویسی ہی آسانیاں ہیں جیسی آسانیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تمہیں میسر تھیں۔ تم آج بھی اسی طرح خدا تعالیٰ کے قرب میں ترقی کرسکتے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قرب حاصل کرسکتے ہو جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تم حاصل کیا کرتے تھے۔ کیونکہ مسیح موعودؑ کا ایک مثیل اور بروز تم میں موجود ہے۔ مگر یہ مقام انسان کو حاصل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی قربانیوں سے اس بات کو ثابت نہیں کر دیتا کہ وہ واقع میں اس مقام اور انعام کا مستحق ہے۔ محض اس بات پر خوش ہو جانا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے اور ہم آپ کے صحابی بن گئے یا مصلح موعود آیا اور ہم اس پر ایمان لا کر صحابہ مسیح موعود کے مثیل بن گئے تمہیں حقیقۃً اس مقامِ بلند کا مستحق نہیں بنا سکتا جب تک تم اپنی قربانیوں اور اپنی عبادتوں اور اپنی نیکیوں میں ویسی ہی ترقی نہ کرو جیسی پہلے لوگوں نے کی۔ ہاں! اگر تم ویسی ہی قربانیاں کرو، ویسی ہی عبادتیں بجا لاؤ۔ ویسی ہی نیکیوں کے حصول کی جدوجہد کرو جس طرح کہ پہلے بزرگ کیا کرتے تھے تو پھر یقین رکھو کہ وہ منزل جو انہیں دس قدم چل کر ملی تمہیں چھ قدم چل کر مل جائے گی۔ مگر بہرحال تمہیں چلنا ضرور پڑے گا۔ پھر جس سہولت اور آسانی کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ والوں کو صحابیت کا مقام حاصل ہو گیا اُسی کے قریب قریب سہولت اور آسانی کے ساتھ تمہیں بھی یہ مقام حاصل ہوجائے گا۔ مگر بہر حال یہ مقام تمہیں اُسی وقت ملے گا جب تم صحابہؓ کے قریب قریب اپنی قربانیوں کو پہنچا دو گے۔ درمیانی زمانہ میں جب نورِ نبوت سے بہت بُعد پیدا ہو چکا تھا، مسلمانوں کو بہت بڑی مشکلات اور بہت بڑی کوششوں کے بعد یہ مقام حاصل ہوا اور وہ بھی انفرادی طور پر صرف چند مسلمانوں کو کیونکہ ان کے لیے کوئی ایسا سہارا نہ تھا جس پر ٹیک لگا کر وہ سہولت سے ان مدارجِ قرب کو طے کرسکتے۔ لیکن اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے کئی قسم کے سہارے بہم پہنچائے ہوئے ہیں اور تم ان سہاروں کے ذریعہ آسانی سے ان مقامات قرب کو حاصل کرسکتے ہو۔ مگر قربانیاں بہرحال ضروری ہوں گی۔ پس اس بات پر خوش مت ہو کہ تمہارے لیے صحابیت کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔ اس دروازے کا کھلنا تمہارے لیے عمل کا موجب ہونا چاہیے۔ سستی اور غفلت کا موجب نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے لوگوں پر ناامیدی کی وجہ سے سُستی طاری ہوئی اور اب ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ محض اس امید کی وجہ سے کہ دروازہ تو کھلا ہے جب چاہیں گے داخل ہو جائیں گے سستی اور غفلت میں مبتلا ہو جائیں اور اس دروازے کا کھلنا ان کے لیے کسی خیر اور برکت کا موجب نہ ہوسکے۔ پس یہ مقام تو تمہیں مِل تو سکتا ہے مگر ملے گا قربانیوں کے بعد ہی۔انہی قربانیوں کے بعد جو صحابؓہ نے کیں اور جن کا ذکر سن کر آج بھی انسانی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائے اور کچھ ایسے عشق اور محبت سے بھر گئے کہ اپنی تمام جائیدادیں انہوں نے چھوڑ دیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہونے کے لیے مدینہ جا پہنچے اور آپؐ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔ تم غور کرو! آج کتنے لوگ ہیں جو اس قسم کی قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں۔
    اسلام کی فتح اور کامیابی کے لیے کئی قسم کی جنگوں کی ضرورت ہے اور کئی لڑائیاں ایسی ہیں جن کو آج بھی لڑا جائے تو اسلام کے لیے فتح کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔ مگر چونکہ یقین نہیں ہوتا کہ اگر جماعت کو اس لڑائی کا حکم دیا گیا تو وہ پوری طرح اس کے لیے تیار بھی ہوگی یا نہیں،وہ اعلانِ جنگ کا جواب اپنے شاندار نمونہ سے دے گی یا سستی اور غفلت کا نمونہ دکھائے گی اس لیے ان جنگوں کو دوسرے وقت پر ملتوی کردیا جاتا ہے تاکہ جماعت سے اُس وقت ان قربانیوں کا مطالبہ ہو جب اس کا قدم مضبوط ہو اور اس میں اضمحلال کے آثار نہ ہوں۔ اس طرح وقت گزرتا جا رہا ہے اور اسلام کی فتح کا دن ہم سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ تم میں سے کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اسے ذاتی طور پر جماعت کے متعلق یہ تسلّی ہے کہ اسے جن قربانیوں کے لیے بھی کہا جائے، وہ ان کے لیے پوری طرح تیار ہوگی۔ مگر مجھے چونکہ پوری تسلّی نہیں کہ جماعت میں قربانی کا پورا مادہ پایا جاتا ہے اس لیے جتنا جتنا زمانہ دیکھا جاتا ہے اس کے مطابق جماعت کے سامنے اعلان کردیا جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ زبردستی کسی قربانی کا اعلان کرا دیتا ہے اُس وقت وہ اس مطالبہ کو پورا کرنے کا خود ذمہ دار ہوتا ہے، ہمیں فکر نہیں ہوتا کہ یہ مطالبہ کس طرح پورا ہوگا۔ بہرحال میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں ابھی ایسی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اور جماعت ایسے مقام پر نہیں پہنچی کہ اُسے جو بھی حکم دیا جائے اسے ماننے کے لیے وہ تیار ہوجائے۔ بعض قسم کی قربانیاں ایسی ہیں جن کی روح جماعت میں پیدا ہو چکی ہے اور جماعت ان کے متعلق بے شک اچھا نمونہ دکھا رہی ہے۔ گو اس میں بھی ابھی کمزوری پائی جاتی ہے اور ابھی اس میں بھی ترقی کی گنجائش ہے لیکن باقی قربانیاں تو ایسی ہیں کہ ابھی جماعت کا قدم ان کی طرف اٹھا ہی نہیں۔ حالانکہ ایمان ایک عمارت کا نام ہے۔ ایک ایسی عمارت کا جس کی شرقی جانب بھی درست ہو، جس کی غربی جانب بھی درست ہو، جس کی شمالی جانب بھی درست ہو، جس کی جنوبی جانب بھی درست ہو،جس کی چھت بھی درست ہو، جس کی کھڑکیاں بھی درست ہوں، جس کے روشندان بھی درست ہوں، جس کے دروازے بھی درست ہوں، جس کا فرش بھی درست ہو اور جس کا پلستر بھی درست ہو۔ اسی طرح جب تک دین کے سارے حصے درست نہ ہوں اور جب تک سارے معاملات میں کوئی شخص اعلیٰ نمونہ پیش نہ کررہا ہو وہ کامل مومن نہیں کہلا سکتا اور جب کامل مومن نہیں کہلا سکتا تو صحابی کس طرح کہلا سکتا ہے۔ صحابی ایک روحانی درجے کا نام ہے۔ صحابی وہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت میں بیٹھا اور جس نے اپنے دین کے سارے حصوں کو مکمل کر لیا۔ پس صحابی وہ ہے کہ جس سے اگر جان کی قربانی کا سوال ہو تو وہ اس کے لیے تیار ہو،اگر مال کی قربانی کا سوال ہو تو وہ اس کے لیے تیار ہو، اگر وقت کی قربانی کا سوال ہو تو وہ اس کے لیے تیار ہو، اگر جذبات کی قربانی کا سوال ہو تو وہ اس کے لیے تیار ہو، اگر وطن کی قربانی کاسوال ہوتو وہ اس کے لیے تیار ہو۔ غرض جس جس قربانی کا سوال ہو وہ اس کے کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ کو دیکھ لو، انہوں نے کس طرح رات اور دن قربانیاں کیں اور اسلام کی اشاعت کے لیے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو قربان کردیا۔ ہم اپنے زمانہ میں دیکھتے ہیں،بڑی بڑی زبردست باتیں بیان کی جاتی ہیں، بڑی بڑی تقریریں کی جاتی ہیں، بڑی بڑی علمی اور روحانی باتیں بتائی جاتی ہیں۔ لوگ ان باتوں کو سنتے ہیں۔ سر بھی ہلاتے ہیں، سُبْحَانَ اللہ بھی کہتے جاتے ہیں، زندہ باد کے نعرے بھی ان کی زبانوں سے سنے جاتے ہیں۔ مگر ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ جب یہ لوگ اپنے گھروں کو جائیں گے تو یہ سبق ان کو بھولا ہوا ہوگا۔ اور اگر ان سے پوچھو کہ کیا کہا گیا تھا تو یہی جواب دیں گے کہ ہمیں تو یاد نہیں صرف اتنا پتہ ہے کہ خدا اور رسول کی باتیں بتائی گئی تھیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ایک دفعہ عورتوں میں ان کی تربیت کے لیے مختلف لیکچر دینے شروع کیے اور کئی دن تک آپ لیکچر دیتے رہے۔ ایک دن آپ نے فرمایا کہ ہمیں عورتوں کا امتحان بھی لینا چاہیے تا معلوم ہو کہ وہ ہماری باتوں کو کہاں تک سمجھتی ہیں۔ باہر سے ایک خاتون آئی ہوئی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے پوچھا بتاؤ مجھے آٹھ دن لیکچر دیتے ہو گئے ہیں مَیں نے ان لیکچروں میں کیا بیان کیا ہے؟ وہ کہنے لگی یہی خدا اور رسول کی باتیں آپ نے بیان کی ہیں اور کیا بیان کیا ہے۔ آپ کو اس جواب سے اس قدر صدمہ ہوا کہ آپ نے لیکچروں کے اس سلسلہ کو بھی بند کردیا اور فرمایا ہماری عورتوں میں ابھی اس قسم کی غفلت پائی جاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے ابھی وہ بہت ابتدائی تعلیم کی محتاج ہیں، اعلیٰ درجہ کی روحانی باتیں سننے کی ان میں استعداد ہی نہیں۔ یہی بعض مردوں کا حال ہے۔ اس کے مقابلہ میں صحابہ کو دیکھو، وہ کس طرح رات اور دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتوں کو سنتے اور پھر ان پر عمل کرنے کے لیے کھڑے ہوجاتے۔ انہوں نے آپ کی چھوٹی سی چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات کو لیا اور دنیا میں نہ صرف اس کو پھیلا دیا بلکہ اس پر عمل کرکے بھی دکھا دیا۔
    مَیں یہاں لاہور میں مغرب کے بعد روزانہ بیٹھتا ہوں اور مجلس میں کئی قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اگر لاہور کے لوگ میری ان باتوں کو اُسی طرح یاد رکھیں جس طرح صحابہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں تعہد کے ساتھ یاد رکھا کرتے تھے تو مَیں سمجھتا ہوں یہی باتیں ان کی زندگی کی کایا پلٹ کر رکھ دیں۔ لیکن اگر اسی وقت پوچھا جائے کہ کل مَیں نے کیا کیا باتیں بیان کی تھیں؟ تو کئی لوگ کھڑے ہو کر کہہ دیں گے ہمیں اُس وقت مزا تو بڑا آیا تھا مگر یہ یاد نہیں رہا کہ آپ نے کیا کہا تھا۔ اگر یہاں کی جماعت صحابہ کے طریق پر عمل کرے اور نہ صرف باتیں سنے بلکہ ان کو یاد کرے اور دوسروں تک ان باتوں کو پہنچائے تو ان باتوں سے جماعت کو غیرمعمولی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
    آجکل ایک نوجوان میری ان باتوں کو لکھ بھی رہا ہے اور اس طرح وہ باتیں محفوظ ہو رہی ہیں۔ اگر مجھ سے نظر ثانی کرانے کے بعد "تفہیماتِ لاہوریہ" کے نام سے یا اَور کسی مناسب نام سے ان تمام باتوں کو ایک رسالہ کی صورت میں شائع کردیا جائے اور لاہور کے دوست ہی اس کے اخراجات برداشت کریں تو مَیں سمجھتا ہوں یہاں کی جماعت کی تربیت اور اس کی ترقی کے لیے یہ ایک نہایت ہی مفید چیز ہوگی۔ مگر صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ ان باتوں کو ایک رسالہ کی صورت میں شائع کردیا جائے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت ان باتوں کو یاد کرے۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ وہ اس کے الفاظ یاد کریں، مَیں یہ کہتا ہوں کہ وہ اس کے مضمون اور اس کی روح اور اس کے مفہوم کو یاد کریں اور نہ صرف خود پڑھیں بلکہ دوسروں کو بھی پڑھائیں اور جب بعد میں لاہور میں اَور لوگ ایسے آئیں جو ان مجالس میں شامل نہیں ہوئے تو ان کو وہ تمام باتیں ایک ایک کرکے سنائیں جس طرح صحابہؓ ایک دوسرے کو حدیثیں سنایا کرتے تھے۔ یہ طریق ہے جس پر عمل کرکے وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ خالی باتیں سننا اور ان پر عمل نہ کرنا کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ پس لاہور والوں کو چاہیے، وہ "تفہیمات لاہوریہ" کے نام سے ان تمام باتوں کو ایک کتابی صورت میں شائع کردیں اور پھر اس کا باقاعدہ در س دیں اور ایک دوسرے کو بتائیں کہ مَیں نے کیا کہا ہے۔ اور پھر اس امر کی نگرانی کریں کہ لوگوں نے ان باتوں کو یاد کیا ہے یا نہیں کیا۔ اگر یہاں کی جماعت کے دوست ایسا کریں تو یقیناً ان کی زندگیوں میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہوجائے گی۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہوتا جو کسی قیمتی چیز کو ضائع کردے۔ کیا تم نے کبھی سنا کہ کوئی شخص کہہ رہا ہو کہ فلاں جگہ سونے کی بارش ہوئی تھی مگر مَیں نے کہا سونے کو کیا اکٹھا کرنا ہے اگر ضائع ہوتا ہے تو بے شک ہوجائے۔ اگر کوئی شخص ایسا کہے تو سب اس پر ہنسیں گے کہ یہ کیسا احمق ہے جس کے سامنے سونے کی بارش ہوئی اور اس نے اس کو اکٹھا نہ کیا۔ اگر واقع میں سونے کی بارش ہوئی تھی تو اس کا یہ بھی تو فرض تھا کہ اس سونے کو اکٹھا کرتا اور اس کو اہمیت دیتا۔ اسی طرح دینی باتیں سن کر صرف یہ کرنا کہ کسی بات پر ہنس دینا اور کسی پر افسوس کا اظہار کردینا یہ ہرگز کسی عقلمند انسان کا طریق نہیں ہوسکتا۔ صحابہؓ یہ نہیں کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کسی بات پرواہ وا کہہ دیں، کسی بات پر افسوس کا اظہار کردیں اور پھر خالی ہاتھ اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ وہ ایک ایک بات کو سنتے اور اس نیت اور اس ارادہ کے ساتھ سنتے تھے کہ ہم اس پر عمل کریں گے۔ یہی طریق اگر لاہور والے اختیار کریں تو بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
    پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی کتابیں ہیں ان کو پڑھنا اور ان سے فائدہ اٹھانا بھی جماعت کے اہم ترین فرائض میں سے ہے۔ مگر یاد رکھو! صرف لذّت حاصل کرنے کے لیے تم ایسا مت کرو۔ بلکہ فائدہ اٹھانے اور عمل کرنے کی نیت سے تم ان امور کی طرف توجہ کرو۔ تم لذّت حاصل کرنے کے لیے سارا قرآن پڑھ جاؤ تو تمہیں کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے ہوئے اس کی محبت کے جوش میں ایک دفعہ بھی سُبْحَانَ اللہ کہہ لو تو وہ تمہیں کہیں کا کہیں پہنچا دے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ایک دفعہ مجلس میں بیان فرمایا کہ بعض دفعہ ہم تسبیح کرتے ہیں تو ایک تسبیح سے ہی ہم کہیں کے کہیں جا پہنچتے ہیں۔ مَیں اس مجلس میں موجود نہیں تھا۔ ایک نوجوان نے یہ بات سنی تو وہ وہاں سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا خبر نہیں آج حضرت صاحب نے یہ کیا کہا ہے۔ وہ صاحبِ تجربہ نہیں تھا مگر مَیں اُس عمر میں بھی صاحبِ تجربہ تھا۔ حالانکہ میری عمر اُس وقت سترہ اٹھارہ سال کی تھی۔مَیں نے جب اُس سے یہ بات سُنی تو مَیں نے کہا ہاں! ایسا ہوتا ہے۔ وہ کہنے لگا کس طرح؟ مَیں نے کہا کئی دفعہ مَیں نے دیکھا ہے کہ مَیں نے اپنی زبان سے ایک دفعہ سُبْحَانَ اللہ کہا تو مجھے یوں معلوم ہوا جیسے میری روحانیت اُڑ کر کہیں سے کہیں جا پہنچی ہے۔ وہ یہ سنتے ہی نہایت تحقیر سے کہنے لگا لَاحَوۡلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ اس نے کبھی سنجیدگی سے سُبْحَانَ اللہ کے مضمون پر غور ہی نہیں کیا تھا۔ اسے سارا سارا دن سُبْحَانَ اللہ کہہ کر کچھ نہیں ملتا تھا۔ مگر مَیں اپنے ذاتی تجربہ کی وجہ سے جانتا تھا کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب مَیں نے سُبْحَانَ اللہ کہا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ پہلے مَیں اَور تھا اور اب مَیں کچھ اَور بن گیا ہوں۔ دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی اس مضمون کو کس عمدگی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ حالانکہ میں نے اُس وقت تک بخاری نہیں پڑھی تھی مگر میرا تجربہ صحیح تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحمٰنِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ۔7 دو کلمے ایسے ہیں کہ رحمٰن کو بہت پیارے ہیں۔ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ زبان پر بڑے ہلکے ہیں۔ انسان ان الفاظ کو نہایت آسانی کے ساتھ نکال سکتا ہے کوئی بوجھ اسے محسوس نہیں ہوتا۔ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ۔ لیکن قیامت کے دن جب اعمال کے وزن کا سوال آئے گا تو وہ بڑے بھاری ثابت ہوں گے اور جس پلڑے میں ہوں گے اسے بالکل جھکا دیں گے۔ وہ کیا ہیں؟ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔مجھے ان کلمات کے پڑھنے کی بڑی عادت ہے اور مَیں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ایک ایک مرتبہ ہی ان کلمات کو کہنے سے میری روح اُڑ کر کہیں کی کہیں جا پہنچتی ہے۔تو اصل چیز یہی ہے کہ ہم سنجیدگی سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر غور کریں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ تم صحابہؓ کبھی خواہش سے نہیں بن سکتے۔ تم میرے متعلق خواہ کس قدر سمجھو کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشابہت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃکو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مشابہت ہے، تمہیں خالی ایسا اعتقاد صحابیت کے مقام تک نہیں پہنچا سکتا۔ صحابہ تم تبھی بنو گے جب تم اپنی قوتِ عملیہ سے کام لو گے اور دین کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ گے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تمہیں ایک پیسہ ملے اور تم اسے چھوڑ دو؟ یا کوئی شخص تسلیم کر سکتا ہے کہ تمہیں راستہ میں پڑی ہوئی ایک سُوئی ملے اور تم اسے نہ اُٹھاؤ؟ جب تم ایک چیز لینے کے لیے بھی تیار ہوجاتے ہو، جب تم ایک سُوئی اٹھانے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہو تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ راک فیلر کا خزانہ تمہارے سامنے پیش کیا جائے اور تم اس کو ردّ کر دو۔ اور اگر تم اس کو ردّ کر دیتے ہو تو اس کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ تمہیں اعتبار ہی نہیں کہ جو چیز تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے وہ ایک خزانہ ہے۔ نہ صرف تمہارے لیے، نہ صرف تمہاری نسلوں کے لیے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے لیے بھی۔ پس اپنی روحانی بینائی کو درست کرو اور دین کا خزانہ جو تمہارے سامنے ہے اُس کی عظمت اور اہمیت کو سمجھو۔ پھر تمہیں وہ انعامات بھی حاصل ہو جائیں گے جو تم سے پہلے لوگوں کو حاصل ہوئے۔ میں نے بتایا ہے تمہارے لیے ایک ضروری امر یہ ہے کہ یہاں مجلس میں جو باتیں ہوتی ہیں، ان کو سنو۔ پھر سُن کر یاد رکھو اور یاد رکھنے کے بعد عمل کرنے کی کوشش کرو۔ بلکہ جب تمہیں موقع ملے ان باتوں کو رسالہ کی صورت میں چھپوا دو۔ لاہور کے آدمیوں کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ خصوصیت سے اس کے مضامین کو یاد رکھیں، دوسروں کو سنائیں اور بار بار اُن کو اپنے مطالعہ میں لائیں۔ اس طرح دینی امور کی اہمیت بھی ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے گی اور صحابہؓ کے مقام تک پہنچانے والے اعمال بھی ان سے صادر ہونے شروع ہو جائیں گے۔اگر یہ بات نہیں تو یوں ہی مجلس میں بیٹھ جانا اور باتوں سے مزہ حاصل کرنا اور عمل کے لیے کوئی قدم نہ اُٹھانا ایک لغو چیز ہے اور یہ داستانِ امیر حمزہ سننے والی بات ہے۔ دلّی اور لکھنؤ میں داستانِ امیر حمزہ لوگ بڑے شوق سے سنتے بلکہ بعض دفعہ رات کے دو دو بجے تک سنتے رہتے ہیں۔ وہ اسے سنتے وقت سُبْحَانَ اللہ بھی کہتے ہیں، اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ بھی کہتے ہیں۔ ان کے دل بھی اُس وقت جھوم رہے ہوتے ہیں مگر جب وہاں سے اٹھتے ہیں تو بالکل خالی ہاتھ ہوتے ہیں، نہ اُن کے دلوں پر کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ اُن کے جوارح پر کوئی اثر ہوتا ہے۔
    پس جب تک دین کی باتوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہ کیا جائے اُس وقت تک خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہوسکتا، اُس وقت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل نہیں ہوسکتا، اُس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا قرب حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ وہ تو وفات یافتہ ہیں۔ اُس وقت تک ہماری مجلس میں بیٹھنے والے بھی ہم سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔ وہ بظاہر ہماری مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن وہ ہم سے ہزاروں میل دور ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دل ہم سے دور ہوتے ہیں اور ہم میں اور اُن میں کوئی روحانی اتّصال نہیں ہوتا۔پس یہ رستے کھلے ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ جو شخص خدا تعالیٰ کے قرب کے ان راستوں کو بند قرار دیتا ہے وہ نہایت ہی ظالم انسان ہے۔ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے، وہ خدا کا دشمن ہے، وہ انسانیت کا دشمن ہے، وہ ایمان کا دشمن ہے۔ مگر اس رستے کے کھلے ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہیں آپ ہی آپ تمام مقاماتِ قُرب حاصل ہو جائیں گے۔ رستہ بے شک کھلا ہے مگر یہ قربانیوں کا رستہ ہے۔ اس راستہ پر چلے بغیر تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔
    مَیں دیکھتا ہوں کہ ادب جو دین کا اہم ترین حصہ ہے وہ ابھی تک ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں پایا جاتا۔ بعض دفعہ مجلس میں جب کوئی غیر شخص سوال کررہا ہو تو اسے ایسا جواب دینا پڑتا ہے جو اپنے اندر مذاق کا رنگ رکھتا ہے۔ تم کسی تاریخ سے یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ ایسے موقع پر صحابہؓ قہقہہ مار کر ہنستے ہوں۔ مگر اپنی مجلس میں مَیں نے دیکھا ہے جب کسی مخالف کو کوئی ایسا جواب دیا جاتا ہے تو لوگ قہقہہ مار کر ہنس پڑتے ہیں اور وہ شخص شرمندہ ہو جاتا ہے۔ حالانکہ وہ ہمارا مہمان ہوتا ہے اور اُس کا ادب ہم پر واجب ہوتا ہے۔ بے شک ایسی حد تک جو جائز ہو اس جواب سے لذت اندوز ہونا درست ہوتا ہے۔ مگر کوئی ایسا طریق جائز نہیں جو آدابِ مجلس کے بھی خلاف ہو اور مہمان کی دل شکنی کا بھی موجب ہو۔ اسی طرح اَور بہت سی باتیں ہیں جن کی طرف ہماری جماعت کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر وہ ایک دن میں آنے والی نہیں۔ جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے آپ کی مجلس میں بیٹھ کر سیکھا خدا تعالیٰ نے اُن تمام باتوں کو ہم پر کھول دیا ہے، اس کی حقیقت اُس نے ہمیں سمجھا دی ہے اور اُن امور پر عمل کرکے یقیناً ہمیں صحابہؓ کا مقام حاصل ہوسکتا ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم بعض صحابہؓ سے بھی بڑا درجہ حاصل کرنا چاہیں تو حاصل کرسکتے ہیں۔ بلکہ ہم اپنے درجہ میں ترقی کرکے وہ مقام بھی حاصل کرسکتے ہیں جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز بن جائیں۔ بلکہ اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کوئی شخص بڑا درجہ حاصل کرسکتا ہے؟ تو مَیں کہا کرتا ہوں خدا نے اس مقام کا دروازہ بھی بند نہیں کیا۔ مگر تم میرے سامنے وہ آدمی تو لاؤ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقاماتِ قرب کے حصول میں زیادہ سرعت اور تیزی کے ساتھ اپنا قدم اُٹھانے والا ہو۔ ہوسکتا اَور چیز ہے اور ہونا اَور چیز ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تُو عیسائیوں سے کہہ دے کہ اگر خدا کا بیٹا ہوتا تو مَیں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔8 اب اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ واقع میں خدا کا کوئی بیٹا ہے۔ اسی طرح ہم یہ نہیں کہتے کہ دنیا میں کوئی شخص ایسا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے درجہ میں آگے نکل گیا۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی شخص بڑھنا چاہے تو بڑھ سکتا ہے۔ خدا نے اِس دروازے کو بند نہیں کیا۔مگر عملی حالت یہی ہے کہ کسی ماں نے کوئی ایسا بچہ نہیں جنا اور نہ قیامت تک کوئی ایسا بچہ جن سکتی ہے جو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ سکے۔ وہ شخص جو روحانی میدان میں لنگڑا ہے، جو دو قدم بھی صحیح طور پر نہیں چل سکتا قرب کا میدان تو اس کے لیے بھی کھلا ہے مگر وہ کہاں برق رفتار انسانوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ انسان ہیں جو ایک سیکنڈ میں کروڑوں میل خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھ جاتے ہیں اور لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ سالوں میں بھی ایک منزل طے نہیں کرسکتے۔اُن کا اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ ہی کیا ہے؟ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ سکنا اَور چیز ہے اور بڑھ جانا اَور چیز ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس شان اور شوکت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے قرب میں بڑھے ہیں، اُس شان اور شوکت کے ساتھ کوئی شخص بڑھ کر دکھائے گا تو پھر یہ سوال بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ مگر جب کوئی شخص ہمیں ایسا نظر نہیں آتا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مقاماتِ قُرب طے کرسکا ہو یا آئندہ کرسکتا ہو تو بہرحال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے افضل رہے۔ وہی سب کے سردار اور وہی سب کے آقا رہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صحابہؓ سے تو یقیناً انسان زیادہ قرب حاصل کرسکتا ہے اور یقیناً ان سے بڑھ سکتا ہے۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے بڑھ کر دکھا دیا یا نہیں؟ مگر یہ مقام محض منہ کی لاف وگزاف سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ تم منہ سے ہزار بار مچاکے مارتے جاؤ اور کہو مَیں متنجن کھا رہا ہوں، مَیں پلاؤ کھا رہا ہوں، مَیں زردہ کھا رہا ہوں تو تمہیں متنجن اور پلاؤ اور زردہ کا مزہ نہیں آسکتا۔ تمہارا پیٹ ان خالی مچاکوں سے بھر نہیں سکتا۔ اسی طرح تم محض خواہش سے صحابیت کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے۔ تم یہ مقام حاصل کرسکتے ہو مگر اس طرح کہ عمل کرو اور ایسا عمل کرو کہ وہ تمہاری رگ رگ اور نس نس میں سمویا جائے۔ تم نماز پڑھو تو سنوار کر پڑھو۔ تم اَلْحَمْدُ لِلہ کہو تو تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ تم ایک لفظ اپنی زبان سے نکال رہے ہو۔ بلکہ تمہیں یوں معلوم ہو کہ تم اَلْحَمْدُ لِلہ کا مضمون کھا رہے ہو، تم رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ کہو تو تمہیں یوں معلوم ہو کہ تم خالی الفاظ اپنی زبان سے نہیں نکال رہے بلکہ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ کالطیفہ9 کھا رہے ہو۔ پھر رحمانیت کا ذکر آئے تو تمہاری یہی کیفیت ہو۔ رحیمیت کا ذکر آئے تو تمہاری یہی کیفیت ہو۔ پھر بے شک تم یقین رکھ سکتے ہو کہ تمہارا خدا تمہیں بھی پہلے لوگوں کے انعامات سے حصہ دے گا اور وہ تمہارے ساتھ بخل نہیں کرے گا۔ پس یہ مت خیال کرو کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہوسکتا ہے اور یقیناً ہوسکتا ہے۔ بلکہ اِس زمانہ میں صحابہ کے بعد کے زمانہ سے زیادہ سے زیادہ سہولت سے یہ مقام تم حاصل کرسکتے ہو۔ کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے جسے خدا نے اپنی برکتوں کے لیے مخصوص کر لیا۔ یہ وہ زمانہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۔10 جنت اُس زمانہ میں قریب کردی جائے گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے بھی جنت لوگوں کے زیادہ قریب کردی جائے گی۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ فیج ِاعوج کے زمانہ میں لوگوں کو اپنے خدا کو پانا اور اس کے قرب میں بڑھنا بہت مشکل تھا۔ مگر مسیح موعودؑ کے زمانہ میں یہ تمام مشکلات آسان ہو جائیں گی۔ رستہ بتانے والے موجود ہوں گے، برکات و انوار کا مشاہدہ کرنے والے وجود ان کے سامنے ہوں گے اور ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرکے وہ زیادہ سرعت سے جنت حاصل کریں گے۔ چنانچہ موجودہ نشان، جو خدا تعالیٰ نے مصلح موعود کی پیشگوئی کے سلسلہ میں ظاہر کیا اس کو دیکھ لو کہ کس طرح اس نشان کے بعد تمہارے لیے جنت اَور زیادہ قریب کردی گئی ہے۔ لوگ اس تقریب پر بڑی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔مگر جہاں تک لفظی خوشی کا تعلق ہے مجھے اس سے کیا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔لیکن جہاں تک حقیقی خوشی کا تعلق ہے اس کے بعد آپ لوگوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، کم نہیں ہوتیں۔ یہ تازہ نشان خدا نے لاہور میں ظاہر کیا ہے۔ پس جس طرح مکہ اور مدینہ کے رہنے والوں پر اسلام کی طرف سے خاص ذمہ داریاں عائد ہو گئی تھیں اُسی طرح مَیں سمجھتا ہوں اس انکشاف کے بعد جو لاہور میں مجھ پر ہوا، یہاں کی جماعت کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مَیں نے جہاں تک غور کیا ہے اس انکشاف کا مجھ پر سفر میں ہونا جہاں اس لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی سے مشابہت رکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہ پیشگوئی سفر کی حالت میں ہوشیار پور میں فرمائی اور مجھ پر بھی اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا انکشاف سفر کی حالت میں ہی ہوا وہاں آج اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک اَور بات بھی سمجھائی ہے۔ بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام لاہور میں فوت ہوئے تھے اور آپ کے لاہور میں فوت ہونے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں لاہور کے متعلق ایک قسم کا بُغض پایا جاتا تھا۔ یوں تو ہر شخص نے فوت ہونا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فوت ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو گئے۔ لیکن جب کوئی شخص اپنے گھر پر فوت ہوتا ہے تو اس کے متعلقین کو گو طبعی طور پر رنج ہوتا ہے مگر ان کے دلوں میں کوئی حسرت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن اگر کوئی شخص سفر کی حالت میں فوت ہوجائے تو اس کے متعلقین کے دل ساری عمر اِس حسرت و اندوہ سے پُر رہتے ہیں کہ کاش وہ سفر کی حالت میں فوت نہ ہوتا۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید اس کے علاج میں کوتاہی ہوئی ہو، شاید اس کی تیمارداری میں کمی رہ گئی ہو، شاید وہاں کی آب و ہوا اُسے موافق نہ آئی ہو یا شاید کوئی اور وجہ ہو گئی ہو۔پس ساری عمر اُن کے دلوں سے ایک آہ اُٹھتی رہتی ہے اور انہیں یہ تصور کرکے بھی تکلیف ہوتی ہے کہ اُن کا کوئی عزیز فلاں سفر پرگیا تو پھر وہ واپس نہ آیا بلکہ اُسی جگہ فوت ہو گیا۔وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید اگر وہ سفر پر نہ جاتا تو نہ مرتا۔ اسی طرح مَیں سمجھتا ہوں جماعت کے دلوں پر یہ ایک بہت بڑا بوجھ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام لاہور میں آئے اور اس جگہ آکر فوت ہو گئے۔ خود لاہور کی پیشانی پر بھی ایک بدنما داغ تھا مگر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو الہام کے ذریعہ خبر دی گئی تھی کہ "لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں" اور یہ کہ "وہ نظیف مٹی کے ہیں"۔11خدا تعالیٰ نے ان پاک ممبروں کی دعاؤں کو سن کر لاہور کی پیشانی سے اس داغ کو ہمیشہ کے لیے دور کردیا اور مسیح موعودؑ کو لاہور میں ہی دوبارہ زندہ کردیا۔ اب لاہور والے کہہ سکتے ہیں کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام ہم میں فوت ہوئے مگر وہ دوبارہ زندہ بھی ہمارے شہر میں ہی ہوئے ہیں۔ پس وہ جو لاہور والوں پر ایک داغ تھا خدا نے اس انکشاف کے ذریعہ اس داغ کو دھو دیا اور گو منہ سے احمدی اس بات کا اظہار نہیں کرتے تھے مگر لاہور کا ذکر آنے پر اُن کے دل ضرور بے چین ہوجاتے تھے کہ یہ کیسا شہر ہے جس میں خدا کا مسیحؑ چند روز کے لیے گیا اور فوت ہو گیا۔ پس یہ داغ خدا نے لاہور والوں سے اب دور کردیا ہے۔ مگر اس چیز سے وہ ذاتی طور پر اُس وقت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جب اُن میں عمل کی قوت موجود ہو۔
    مَیں نے بتایا ہے کہ سنجیدگی سے دین کی باتوں پر عمل کرنے کے مواقع ہماری جماعت کے لیے پوری طرح میسر ہیں۔ اگر خدا نے ان کو وہ زمانہ نہیں دکھایا جو مسیح موعود کا زمانہ تھا تو اب اس دوسرے موقع سے فائدہ اُٹھا کر وہ اپنی زندگیوں میں بہت کچھ تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں۔ مگر فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا تمہارا اپنا کام ہے۔ یہ تمہارے اپنے اختیار میں ہے کہ تم صحابہ جیسا بنو یا اُن سے بھی آگے نکل جاؤ۔ گویا جہاں تک کوشش اور جدوجہد کا تعلق ہے وہ تمہاری طرف سے ہونی چاہیے اور جہاں تک انعام اور مقام کا سوال ہے وہ خدا کی طرف سے آئے گا۔ مگر یہ دوسرا مرحلہ اُس وقت آسکتا ہے جب پہلا مرحلہ طے کر لو۔ اگر تم پہلے مرحلہ کو طے کر لو تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا اپنے وعدہ کو پورا نہ کرے اور تمہیں صحابہؓ کا مقام عطا نہ کرے۔ اگر تم چوتھا حصہ صحابی بننے کی کوشش کرو تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ خدا تمہیں اپنے فضل سے آدھا صحابی بنا دے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تمہیں چوتھے حصہ سے ایک انچ بھی کم رکھے۔ اگر تم آدھا صحابی بننے کی کوشش کرتے ہو تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ خدا تمہیں پورا صحابی بنا دے مگر یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ وہ تمہیں آدھے حصہ سے ایک سُوت بھی کم رکھے۔ وہ تمہیں بڑھا کر تو اپنا انعام دے سکتا ہے مگر وہ یہ نہیں کرسکتا کہ تمہاری کوشش کے بدلہ میں تمہیں کم بدلہ دے۔ ہمارا خدا بخیل نہیں ہے،ہمارا خدا کنجوس اور مُمسک نہیں ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات دنیا میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی برکات دنیا میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ قیامت تک اس سلسلۂ فیوض کو کوئی شخص بند نہیں کرسکتا۔ قیامت تک اللہ تعالیٰ کے قرب کے اس دروازے کو کوئی شخص مسدود قرار نہیں دے سکتا۔ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا،محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی اور آپ کا بھائی بننا یہ سب رستے کھلے ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ ان رستوں کو بند کرنے والے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائیں گے مگر انہیں ناکامی اور نامرادی کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمارا خدا زندہ ہونے کے لیے بے تاب ہے اور وہ زندہ ہو کر رہے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح زندہ ہونے کے لیے تڑپ رہی ہے اور وہ زندہ ہو کر رہے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی روح دنیا میں جلوہ نما ہونے کے لیے بے قرار ہے اور وہ جلوہ نما ہو کر رہے گی اور دنیا کی کوئی طاقت اس الٰہی مشیت کو ظاہر ہونے سے روک نہیں سکتی"۔ (الفضل 16 جون 1944ء)


    7
    لاہور میں مصلح موعود کی پیشگوئی کے متعلق انکشاف
    اور جماعت احمدیہ لاہور کی ذمہ داریوں میں اضافہ
    (فرمودہ 18 فروری 4419ء بمقام لاہور)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    " اللہ تعالیٰ جب کسی جگہ پر *** ڈالتا ہے تو وہ *** اُس وقت ہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ وہ چلتی چلی جاتی ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ کی کوئی اَور رحمت اُس *** کو دھو نہیں دیتی۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی جگہ پر کوئی رحمت نازل کرتا ہے تو وہ رحمت چلتی چلی جاتی ہے ختم نہیں ہوتی جب تک کہ انسان اپنے اعمال سے اُس رحمت کے استحقاق کو کھو نہیں بیٹھتے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی دوبارہ اس جگہ پر نازل نہیں ہوجاتی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک دفعہ ایک غزوہ پر جا رہے تھے کہ ہجر شہر آپ کےراستہ میں آیا اور اس جگہ پر تھوڑی دیر کے لیے آپ نے پڑاؤ کیا تو پڑاؤ کی صورت دیکھ کر صحابہؓ نے اپنے اپنے آٹے نکالے اور گوندھ کر روٹی پکانے کی فکر میں ہوئے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُن کو آٹا گوندھتے اور روٹی پکانے کی فکر کرتے دیکھا تو آپؐ گھبرا گئے اور آپؐ نے اپنے صحابہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا جلدی اپنی سواریوں پر چڑھ جاؤ اور اپنے آٹے پھینک دو کیونکہ اِس جگہ خدا کا غضب نازل ہوا تھا۔ وہ لوگ جن پر غضب نازل ہوا تھا مر گئے۔ جس شہر پر غضب نازل ہوا تھا اُجڑ گیا۔ سالوں کے بعد سال اور صدیوں کے بعد صدیاں گزرتی چلی گئیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اب بھی اُس مقام پر عذاب نازل ہوتا نظر آرہا تھا۔ آپ نے نہ صرف صحابہؓ کو وہاں سے جلدی نکل جانے کا ارشاد کیا بلکہ ساتھ ہی مسلمانوں کی دولت کا ایک حصہ یعنی وہ آٹا جو انہوں نے روٹی پکانے کے لیے گوندھا تھا اُسےبھی آپ نے پھینکنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اِس جگہ کے پانی سے گوندھا ہوا آٹا کھانا بھی تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔1
    حضرت خلیفہ اول کے متعلق مجھے یاد ہے وہ عبدالحکیم مرتد پٹیالوی سے جب وہ احمدی تھا بہت محبت کیا کرتے تھے اور وہ بھی آپ سے بہت تعلق رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی مخالفت کی تو اُس وقت بھی اُس نے یہی لکھا کہ آپ کی جماعت میں سوائے مولوی نورالدین صاحب کے اور کوئی نہیں جو صحابہ کا نمونہ ہو۔ یہ شخص بے شک ایسا ہے جو جماعت کے لیے قابلِ فخر ہے۔ عبدالحکیم پٹیالوی نے ایک تفسیر بھی لکھی تھی اور اُس میں بہت کچھ حضرت خلیفہ اول سے پوچھ کر لکھا تھا۔ جب عبدالحکیم نے اپنے ارتداد کا اعلان کیا تو مَیں نے دیکھا، آپ نے گھبرا کر اپنے شاگردوں کا بلایا اور اُن سے فرمایا جاؤ اور جلدی میرے کتب خانہ میں سے عبدالحکیم کی تفسیر نکال دو۔ ایسا نہ ہو کہ اُس کی وجہ سے مجھ پر خدا کی ناراضگی نازل ہو۔حالانکہ وہ قرآن کریم کی تفسیر تھی اور اُس کی بہت سی آیات کی تفسیر اُس نے خود آپ سے پوچھ کر لکھی تھی۔ مگر اِس وجہ سے کہ اُس پر خدا کا غضب نازل ہوا، اُس کی لکھی ہوئی تفسیر کو بھی آپ نے اپنے کتب خانہ سے نکلوا دیا اور اپنے ذوق کے مطابق سمجھا کہ یہ کتاب دوسری کتب کے ساتھ مل کر ان کو پلید کردے گی۔ یہی حال خدا کی رحمتوں کا ہوتا ہے۔
    مکہ مکرمہ میں خدا نے ایک برکت نازل کی۔ برکتوں والے چل بسے اور دو ہزار سال کا شرک کا لمبا زمانہ مکہ پر آیا مگر اب بھی هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ۔2 کے الفاظ اُس کے متعلق قرآن کریم میں نازل ہو رہے تھے۔ اب بھی اُس کی عزت کی جاتی تھی، اب بھی اُس کی حرمت ایسی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اِس مکہ کو خدا نے صرف آج کے دن صرف دو گھڑیوں کے لیے صرف میری خاطر حلال کیا ہے ورنہ اِس شہر پر حملہ کرنا اور یہاں کی کسی چیز کو نقصان پہنچانا کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے۔ دو ہزار سال کے لمبے عرصۂ شرک کے بعد بھی مکہ مکرمہ کی تقدیس میں فرق نہیں آیا۔ دو ہزار سال کے لمبے عرصۂ شرک کے بعد بھی مکہ مکرمہ کی عزت اور اُس کے احترام میں فرق نہیں آیا۔ کیونکہ خدا نے اس کو اپنے عذاب کا شہر قرار نہیں دیا تھا۔ مدینہ منورہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رہائش پذیر ہوئے اور وہ قیامت تک منورہ ہی کہلائے گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے آخری نبی اور اس کے محبوب ترین وجود نے اس جگہ پر بسیرا کیا۔ گو بعد میں وہاں خرابیاں بھی ہوئیں، وہاں کے لوگ بگڑے بھی، دین کی طرف سے انہوں نے بے رغبتی کا بھی اظہار کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو ہمیشہ کے لیے بابرکت کردیا۔
    تو جب کسی جگہ پر خدا کی طرف سےکوئی رحمت نازل ہوتی ہے تو اُس شہر والوں کی ذمہ داریاں اور اُس شہر والوں کی برکات بھی بڑھ جایا کرتی ہیں۔ سوائے اِس کے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے ماتحت کہ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ3 جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر کوئی فضل نازل کرتا ہے تو جب تک وہ اپنے دلوں کو بگاڑ نہیں لیتے، خدا بھی اپنے سلوک میں بگاڑ پیدا نہیں کرتا۔ وہ اپنے اعمال میں بگاڑ پیدا کرکے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بن جاتے ہیں۔
    مَیں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی حکمت کے ماتحت مجھ پر جو لاہور میں موجودہ انکشاف کیا ہے اُس سے لاہور کی جماعت کی ذمہ داریوں اور ساتھ ہی ان کی امداد کے وعدے کا بھی اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے۔ کیونکہ یہ خدا کی سنت کے خلاف ہے کہ وہ ایک چیز کو اپنے کلام اور اپنی رحمت کے لیے مخصوص کرے اور پھر اُسے یونہی بھول جائے۔ لوگ بھول جاتے ہیں لیکن خدا نہیں بھولتا جب تک بندے اُس کو نہیں بھول جاتے۔ بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جیسے مکہ مکرمہ ہے یا جیسے مدینہ منورہ ہے یا جیسے قادیان ہے کہ یہاں کے رہنے والے اگر خدا کو بُھول جائیں تب بھی یہ شہر مغضوب نہیں بن سکتے۔ وہ ان لوگوں کو تو سزا دے دے گا مگر شہروں کی برکتیں واپس نہیں لے گا۔ لیکن بعض شہر ایسے ہوتے ہیں جن کو عارضی برکتیں مل جاتی ہیں۔ وہ اگر ان کو دائمی بنانا چاہیں تو دائمی بن جاتی ہیں اور اگر ان کو چھوڑ دیں تووہ چُھوٹ جاتی ہیں۔
    مَیں دیکھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو یہ الہام بھی یہاں لاہور میں ہی ہوا کہ ؎
    سپردم بتو مایۂ خویش را

    تو دانی حساب کم و بیش را
    4
    یہ الہام درحقیقت آپ کی وفات کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان سے یہ کلمات جاری فرمائے کہ
    سپردم بتو مایۂ خویش را
    اے خدا! میرے لیے اِس دنیا میں تیری مرضی کے مطابق جس قدر رہنا مقدر تھا وہ مَیں رہ چکا۔ میری عمر کا جوسرمایہ تھا وہ اب مَیں تیرے سپرد کر رہا ہوں۔
    تو دانی حساب کم و بیش را
    تُو چاہے تو میرے اِس سرمایہ کو تباہ کر دے اور چاہے تو قائم رکھ۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنے کرم سے یہی فیصلہ کیا کہ وہ اِس سرمایہ کو قائم رکھے۔ دشمن نے چاہا کہ وہ اِس کے اندر بگاڑ پیدا کردے مگر وہ ہمیشہ منہ کی کھاتا رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب فوت ہوئے ہیں مَیں اُس وقت پاس ہی تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ بعض احمدی کہلانے والے بھی اُس وقت گھبرا گئے۔ لاہور کا ہی ایک شخص تھا جو اب فوت ہو چکا ہے بلکہ بعد میں وہ مرتد بھی ہو گیا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے زمانہ میں وہ مخلص احمدی تھا مَیں نے دیکھا کہ وہ گھبرایا ہوا کبھی کمرہ کے اندر جاتا تھا اور کبھی باہر نکلتا تھا اور کہتا تھا اب کیا ہوگا؟ اب کیا ہوگا؟ میری عمر اُس وقت انیس سال کی تھی اور میری تعلیم کچھ بھی نہ تھی۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو میری بیوی اُس سے کچھ دن پہلے مجھ سے اجازت لے کر اپنے والدین سے ملنے کے لیے میکے گئی ہوئی تھیں۔ والدین کا لفظ صحیح نہیں صرف اُن کی والدہ وہاں تھیں اور وہ اُن سے ملنے کے لیے گئی تھیں۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی شدّتِ بیماری میں ہمارے نزدیک وقفہ پیدا ہوا اور درحقیقت یہ وہ حالت ہوتی ہے جب مرنے والے کی طبیعت موت کا مقابلہ کرکے تھک جاتی ہے اور بظاہر اطمینان کی حالت نظر آنے لگتی ہے اُس وقت میں وہاں سے چل پڑا تاکہ ان کو لے آؤں۔ جس وقت مَیں چلا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چارپائی اُس کمرہ میں جدھر سے اندر داخل ہوتے ہیں دیوار کے قریب تھی۔ مَیں نے زور دے کر اور بمشکل، کیونکہ عورتیں ایسےمواقع کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکتیں اُن کو واپس بلایا۔ بلکہ مجھے اُس وقت ایک حد تک ایسی سختی بھی کرنی پڑی جو میری عام طبیعت کے خلاف تھی۔میرے سسرال والوں نے کہا کہ ہم ابھی ان کو نہیں بھیج سکتے کچھ دنوں کے بعد بھیج دیں گے۔ مَیں نے اُس وقت، یہاں تک لفظ کہہ دیئے کہ اگر یہ اِس وقت میرے ساتھ نہیں جائیں گی تو چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی حالت نازک ہے مَیں انہیں وہاں سے طلاق بھیج دوں گا۔ خیر وہ میرے ساتھ چل پڑیں۔ جب مَیں واپس پہنچا تو اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے آخری سانحے تھے۔ میرے دل میں سخت اضطراب یہ تھا کہ مَیں سمجھتا تھا میری بیوی کے لیے یہ بڑی نحوست کی بات ہوگی اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی آخری گھڑیوں میں وہ یہاں نہیں ہوگی اور میرے دل میں یہ ڈر تھا کہ مَیں جو اِتنی قربانی کر کے چلا ہوں ایسا نہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام پیچھے ہی فوت ہو جائیں۔ جب مَیں پہنچا ہوں اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی چارپائی بدل کر دیوار کا جو مقابل کا حصہ تھا وہاں رکھ دی گئی تھی۔ مَیں نہیں جانتا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ بہرحال وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے آخری لمحے تھے اور آپ کے اِرد گِرد مرد ہی مرد تھے۔ مستورات وہاں سے ہٹ گئی تھیں۔چارپائی کے تینوں طرف مرد کھڑے تھے۔ مَیں وہاں جگہ بنا کر آپ کے سرہانے کی طرف چلا گیا یا شاید وہاں نسبتًا کم آدمی ہوں۔مَیں وہاں کھڑا ہوا اور مَیں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام اپنی آنکھ کھولتے، اِدھر اُدھر پھیرتے اور پھر بند کر لیتے۔ پھر کھولتے، اُن کی پتلیاں اِدھر اُدھر مُڑتیں اور پھر تھک کر آپ اپنی آنکھوں کو بند کر لیتے۔ کئی دفعہ آپ نے اِسی طرح کیا۔ آخر آپ نے زور لگا کر، کیونکہ آخری وقت طاقت نہیں رہتی اپنی آنکھ کو کھولا اور نگاہ کو چکر دیتے ہوئے سرہانے کی طرف دیکھا۔ نظر گھومتے گھومتے جب آپ کی نظر میرے چہرہ پر پڑی تو مجھے اُس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے آپ میری ہی تلاش میں تھے اور مجھے دیکھ کر آپ کو اطمینان ہوگیا۔ اس کے بعد آپ نے آنکھیں بند کر لیں۔ آخری سانس لیا اور وفات پا گئے۔اُس وقت مَیں نے سمجھا کہ آپ کی نظر مجھ کو ہی تلاش کر رہی تھی اور مَیں نے اپنے ذہن میں سمجھا کہ مَیں جو دعائیں کررہا تھا اُس کا یہ نتیجہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرما دی کہ مَیں آخری وقت میں آپ کی آنکھوں کو دیکھ سکوں۔
    آپ کی وفات کے معاً بعد کچھ لوگ گھبرائے کہ اب کیا ہوگا۔ انسان انسانوں پر نگاہ کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دیکھو یہ کام کرنے والا موجود تھا یہ تو اَب فوت ہو گیا اب سلسلہ کا کیا بنے گا۔ جب مَیں نے اس شخص کو گھبرائے ہوئے اِدھر اُدھر پھرتے دیکھا۔ اِسی طرح بعض اَور لوگ مجھے پریشان حال دکھائی دیئے اور مَیں نے ان کو یہ کہتے سنا کہ اب جماعت کا کیا حال ہوگا؟ تو مجھے یاد ہےگو مَیں اُس وقت انیس سال کا تھا مگر مَیں نے اُسی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا کہ اے خدا! مَیں تجھ کو حاضر ناظر جان کر تجھ سے سچے دل سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ذریعہ تُو نے نازل فرمایا ہے مَیں اُس کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلاؤں گا۔
    انسانی زندگی میں کئی گھڑیاں آتی ہیں سُستی کی بھی، چُستی کی بھی،علم کی بھی، جہالت کی بھی، اطاعت کی بھی،غفلت کی بھی۔ مگر آج تک مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ میری گھڑی ایسی چُستی کی گھڑی تھی، ایسی علم کی گھڑی تھی، ایسی عرفان کی گھڑی تھی کہ میرے جسم کا ہر ذرہ اِس عہد میں شریک تھا اور اُس وقت میں یقین کرتا تھا کہ دنیا اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ مل کر بھی میرے اِس عہد اور اِس ارادہ کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ شاید اگر دنیا میری باتوں کو سنتی تو وہ ان کو پاگل کی بڑ قرار دیتی۔ بلکہ شاید کیا یقیناً وہ اسے جنون اور پاگل پن سمجھتی۔مگر مَیں اپنے نفس میں اس عہد کو سب سے بڑی ذمہ داری اور سب سے بڑا فرض سمجھتا تھا اور اس عہد کے کرتے وقت میرا دل یہ یقین رکھتا تھا کہ مَیں اس عہد کے کرنے میں اپنی طاقت سے بڑھ کر کوئی وعدہ نہیں کررہا۔ بلکہ خدا تعالیٰ نے جو طاقتیں مجھے دی ہیں انہی کے مطابق اور مناسب حال یہ وعدہ ہے۔مَیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے اُس نے ہمیشہ ہی اِس عہد کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور جب بھی کوئی ایسا رخنہ جماعت میں پیدا ہونے لگا جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی لائی ہوئی تعلیم میں کوئی نقص واقع ہونا تھا تو خدا نے میرے ہاتھ سے اُس رخنہ کو بند کرا دیا۔
    دشمن ہمیشہ مجھ پر الزام لگاتا ہے کہ مَیں نے ایک ایک کرکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی تعلیم کو نَعُوْذُ بِاللہ بگاڑ دیا ہے اور مَیں اپنے دل میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا نے ایک ایک کرکے مجھے سچائیوں کے قائم کرنے کا موقع دیا ہے۔ ایک منٹ کے لیے بھی مَیں شبہ نہیں کرسکتا کہ مجھ سے ان معاملات میں غلطیاں ہوئی ہیں۔ بلکہ خواہ مجھے ایک کروڑ زندگیاں دی جائیں اور ایک کروڑ دفعہ مر کر مَیں پھر اِس دنیا میں واپس آؤں تو مَیں یقین رکھتا ہوں کہ مَیں پھر بھی اِسی طرح ان صداقتوں کی تائید کروں گا جس طرح گزشتہ زندگی میں کرتا رہا ہوں۔ میرے لیے سب سے بڑا فخر یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وہ تعلیمیں جنہیں بعض لوگ مٹانے کی فکر میں تھے، جنہیں بعض لوگ دبانے کی فکر میں تھے اللہ تعالیٰ نے اُن کو میرے ذریعہ زندہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا صحیح مقام میرے منہ سے ظاہر فرمایا۔چیز موجود تھی مگر دنیا اس چیز کو مٹانے لگی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ایک الہام ہے اور بار بار کا الہام ہے کہ خدا کا ایک نور آیا لوگوں نے اس کو مٹانا چاہا۔ مگر اللہ نے اُن کی اِس بات کو ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ ضرور اِس نور کو پورا کرکے چھوڑے گا۔ وَیَأْبَی اللّٰہُ اِلَّا اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَكَ۔5 اس الہام میں اِسی امر کی طرف اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی تعلیم اور آپ کے درجہ پر لوگوں نے حملہ کرنا تھا۔ کچھ لوگوں نے اندرونی طور پر اور کچھ لوگوں نے بیرونی طور پر۔اللہ تعالیٰ اپنے کام کے لیے آسمان سے نہیں اُترتا۔ وہ اپنے کسی بندے کے ہاتھ کو ہی اپنا ہاتھ قرار دیتا اور اپنے کسی بندے کی زبان کو ہی اپنی زبان قرار دیتا ہے۔ تب اس کا ہاتھ جو کچھ کرتا ہے وہ درحقیقت خدا ہی کرتا ہے اور اس کی زبان جو کچھ کہتی ہے وہ درحقیقت خدا ہی کہہ رہا ہوتا ہے۔ پس مجھے خوشی ہے کہ اس ہاتھ کے بلند کرنے کے لیے خدا نے اپنے فضل سے مجھے چُن لیا اور جو کچھ وہ عرش سے کہہ رہا تھا اُسے اُس نے میرے ذریعہ سے دنیا میں پھیلایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی تعلیم کو ایسے طور پر قائم کردیا کہ اُن مسائل کے متعلق دشمن اب کسی طرح حملہ نہیں کرسکتا۔ تیس سال ہو گئے جب سے یہ جنگ شروع ہے بلکہ تیس سال تو میری خلافت کے ہی ہیں اگر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کو بھی شامل کرلیا جائے تو پینتیس چھتیس سال گزر چکے ہیں اِس عرصہ دراز میں کس طرح مُڑ مُڑ کر دشمن نے حملہ کیا۔ مگر پھر کس طرح خدا نے اُس کو ناکام و نامراد کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا درجہ قائم ہی رہا۔ پھر ایک اَور فضل یہ ہوا کہ ایسے نازک موقع پر جب ایک فریق تنقیص اور درجہ کی کمی کی طرف اپنا قدم اٹھا رہا ہو دوسرے فریق کے متعلق یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ مقابلہ میں کہیں مبالغہ اور غلو سے کام لینے نہ لگ جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اِس نقص سے بھی ہمیشہ مجھے محفوظ رکھا۔ حالانکہ جو کام ہمارے سپرد تھا ہوسکتا تھا کہ ہم اس کے کرتے وقت ایسا درجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے ہتک کا موجب ہوتا یا خدا کے لیے ہتک کا موجب ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ میرے قدم کو استوار رکھا اور کبھی کسی کو جرأت نہیں ہوسکی کہ میرے ساتھ ہوتے ہوئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ میں کمی کرے یا اللہ تعالیٰ کے درجہ میں کمی کرے۔
    قادیان میں ہی ایک دفعہ کسی نے کہا کہ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی شان میں آگے سے بڑھ کر آئے ہیں۔ مجھے جب اس بات کا علم ہوا تو مَیں نے فوراً نوٹس لیا اور اِس فقرہ کے کہنے والے کو تنبیہہ کی کہ ہر چیز کو اُس کی اپنی جگہ پر قائم رکھنا ہی دین ہے۔ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے قطعاً برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
    اسی طرح ایک اَورشخص نے ایک دفعہ غلو سے کام لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی نبوت کو اس نے شرعی نبوت کا نام دینا شروع کردیا۔ مَیں نے اس شخص کے خلاف فوراً اعلان کیا اور اس سے قطع تعلق کا حکم دے دیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ شاید احمدی اس کی اس بات سے خوش ہوں گے مگر مَیں نے اپنی جماعت کو اُس سے تعلق رکھنے سے منع کردیا۔ ہاں! پیغامیوں نے اسے اپنے سینہ سے لگا لیا۔ غرض کسی کو موقع نہیں ملا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بالمقابل کھڑا کرسکے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق غیرت میرے دل میں اپنے رسولوں سے بھی زیادہ رکھی ہے اور یہی اصل ایمان ہوتا ہے۔ ہم کتنا ہی رسولوں سے عشق رکھتے ہوں خدا کا مقام خدا کا ہی ہے۔ پس جہاں خدا نے مجھے توفیق دی کہ مَیں اپنے عمل اور اپنی زبان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے درجہ کو قائم کروں، وہاں اس نے مجھے اس امر کی بھی توفیق عطا فرمائی کہ رات اور دن، سوتے اور جاگتے ایک منٹ اور ایک ساعت کے لیے بھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقابل کا وجود خیال نہیں کیا۔ بلکہ ہر حالت میں مَیں نے یہی سمجھا کہ مَیں آپ کو وہی جگہ دوں جو ایک استاد کے مقابلہ میں شاگرد کو اور ایک آقا کے مقابلہ میں غلام کو حاصل ہوتی ہے۔ مگر باوجود اس شدید محبت کے جو مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے۔ چنانچہ جو لوگ میرے خطبات اور تقریریں سنتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مجھ پر کبھی کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی کا کوئی واقعہ مَیں نے بیان کیا ہو اور رقّت سے میرا گلا نہ پکڑا گیا ہو۔ دنیا میں محبتیں ہوتی ہیں کسی وقت کم اور کسی وقت زیادہ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مجھے ایسی شدید محبت ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں کہ مَیں نے آپ کا ذکر کیا ہو اور مجھ پر رِقّت طاری نہ ہوگئی ہو اور میرا قلب محبت کی گہرائیوں میں نہ ڈوب گیا ہو۔ لیکن باوجود اس کے مَیں نے ایک لمحہ کے لیے بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وجود کو خدا کے مقابلہ میں نہیں رکھا بلکہ ہمیشہ اُس کے چاکروں اور غلاموں کی حیثیت میں ہی آپ کو دیکھا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت میرے دل پر اِس طرح ڈال دی ہے کہ وہ ہمیشہ میرے سامنے اُسی طرح آیا ہے جس طرح قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ6 میں اُس کی شان کو بیان کیا گیا ہے۔ مَیں نے اس کی محبت اپنے قلب میں ایسے رنگ میں محسوس کی ہے کہ مَیں سمجھتا ہوں شایدکیا یقیناً۔ دنیا کے جو پاگل عاشق ہوتے ہیں وہ بھی اپنے معشوق کا اپنے جسم میں ایسا اثر محسوس نہیں کرتے جیسے اللہ تعالیٰ کے ذکر پر میرے جسم کا ذرہ ذرہ اُس کا اثر محسوس کرتا ہے۔
    مجھے یاد ہے مَیں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ جیسے پہاڑوں میں ٹنلز(TUNNELS)ہوتی ہیں۔ اِسی طرح ایک پہاڑی راستہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی عاشق روحیں جا رہی ہیں۔ مَیں بھی اُن میں شامل ہوں۔ بہت سے لوگ میرے آگے ہیں اور بہت سے میرے پیچھے ہیں۔ مگر وہ سب کے سب ایسے ہی ہیں جیسے دیوانہ وار مجذوب ہوتے ہیں۔ نہ انہیں سر کی فکر ہے نہ پَیر کی، نہ لباس کی فکر ہے نہ کسی اَور چیز کی۔ ہم سب بڑھتے چلے جا رہے ہیں کہ مجھے محسوس ہوا ہمارے آگے اللہ تعالیٰ کے فرشتے کچھ شعر پڑھ رہے ہیں۔ اُن کی آواز میں گونج ہے اور وہ بڑی محبت اور جوش کے ساتھ ان شعروں کو پڑھتے جا رہے ہیں۔ ہم اُن کی طرف بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ہم اس مقام کے قریب پہنچ گئے جہاں سے فرشتوں کے گانے کی آواز آ رہی تھی اور جو گویا ٹنل7 (TUNNEL) کا آخری سِرا تھا جب ہم وہاں پہنچے تو مجھے وہاں اللہ تعالیٰ کا نور نظر آیا۔ نہایت تیز روشنی جیسا نور جو تمام اُفق پر چھایا ہوا تھا۔ اور مَیں نے دیکھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کے اِرد گِرد کھڑے اُس سے محبت اور عشق کا اظہار کر رہے ہیں۔ مَیں بھی جس طرح دیوانہ انسان اپنا سر مارتا ہے سر مارتے ہوئے وہاں کھڑا ہو گیا اور مَیں نے یہ شعر پڑھنا شروع کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا ہی ہے کہ :۔
    ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغِ تیز
    جس سے کٹ جاتا ہےسب جھگڑا غمِ اغیار کا
    یہی شعر میں پڑھتا رہا۔ پڑھتے پڑھتے جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا میں اپنی چارپائی پر لیٹا ہوا یہی شعر پڑھ رہا تھا کہ :۔
    ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغِ تیز
    جس سے کٹ جاتا ہےسب جھگڑا غمِ اغیار کا
    تو اللہ تعالیٰ کی محبت سب سے مقدم ہے۔ ہر شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ایسا دیوانہ ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کو بھول جاتا ہے وہ مومن نہیں کافر ہے۔ ہر شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی محبت میں ایسا دیوانہ ہو جاتا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو بھول جاتا ہے وہ مومن نہیں کافر ہے۔ ہر شخص جو کسی درجہ پر قائم ہے جو شخص اُسے چھوڑتا ہے سوائے اِس کے کہ وہ کوئی ایسی غلطی کر بیٹھے جو اجتہاد سے تعلق رکھتی ہو وہ نادان ہے۔ بلکہ بعض حالتوں میں وہ ایمان سے باہر اور کافر ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ سے جو محبت ہے وہ ایسی نہیں کہ ہم لفظوں اور عبارتوں کے پیچھے مرتے ہیں۔ دنیا میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی ساری عمر اِس حسرت و افسوس میں ہی گزر جاتی ہے کہ کاش! ہمارا محبوب ہم پر محبت کی ایک نگاہ ہی ڈالتا۔ پھر کیسا نادان ہے وہ انسا ن جو کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایک ملاقات سے کیا بنتا ہے۔جس شخص کے دل میں ایسی ناشکری پائی جاتی ہے اور جو سمجھتا ہے کہ مجھ کو جب تک ساری دنیا کی نعمتیں نہ ملیں مَیں اُس کی طرف توجہ نہیں کرسکتا۔اُسے ساری دنیا سے بڑھ کر کام بھی تو کرنا چاہیے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے غیراحمدی کہا کرتے ہیں ہم نے جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا تو پھر مسیح موعود کو ماننے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ ان کا یہ کہنا کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا ہے یہ بھی تو ایک خیال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر انہوں سچے دل سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو قبول کیا ہوتا تو وہ یہ بھی تو دیکھتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس شان کے ساتھ مسیح موعود کی صورت میں آیا۔ مگر جب انہوں نے مسیح موعود کو نہ مانا تو معلوم ہو گیا کہ ان کا یہ کہنا بالکل غلط تھا کہ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا ہے یا انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور آپ کے جمال کو دیکھا ہے۔ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم آقا تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام آپ کے غلام۔ لیکن سچی محبت رکھنے والا تو اپنے آقا اور محبوب کی قلیل سے قلیل چیز ملنے پر بھی اپنے جذبات میں تلاطم محسوس کرتا ہے اور وہ بجائے اس کو رد کرنے کے محبت کے ہاتھوں سے اُس کو لیتا اور اپنے سینہ کے ساتھ اس کو لگاتا ہے۔ہم جانتے ہیں ہمارے ساتھ ہی جو لوگ محبت رکھتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ بسااوقات وہ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں ایک کاغذ پر اپنے دستخط ہی کردیں یا خط لکھتے ہیں تو بڑی منّت اور عاجزی سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے اس خط کا جو جواب ہو اُس پر آپ اپنے دستخط ضرور کریں۔ کیونکہ ہم اس کو محبت کی یادگار کے طور پر اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ اب کسی کے خط پر دستخط کرنے سے اُس کو ہماری محبت سے کتنا قلیل حصہ ملتا ہے مگر وہ اُسی کو غنیمت سمجھتا ہے اور اس کے متعلق ناشکری کے کلمات اپنی زبان پر نہیں لاتا۔ اسی طرح ہر شخص کو آخر اس کی قربانی کے مقابلہ میں ہی درجہ ملے گا۔ دنیا میں کون ہے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جیسی محبت کی ہو۔ امتِ محمدیہ میں کروڑوں کروڑ لوگ ہوئے ہیں مگر سوائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے اَور کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جس نے آپ سے ایسی محبت کی ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل نقش اس کے دل پر پیدا ہو گیا ہو۔ پس جب سوائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے اب تک امتِ محمدیہ میں اَور کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کے عشق میں انتہائی مقام تک پہنچ گیا ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ اب دوسرا شخص آپ کے توسط سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکتا ہے۔ اپنے طور پر اگر وہ اس محبت کو حاصل کرنا چاہے تو بے شک زور لگا کر دیکھ لے اور اگر اُس میں اتنا زور صَرف کرنے کی ہمت نہیں تو اس کے لیے نجات کا اب یہی ایک راہ ہے کہ خدا نے اس کے لیے آگے بڑھنے کا جو ذریعہ بنایا ہے اُس کو اختیار کرے اور اسی کے توسط سے مقاماتِ قرب کو طے کرے۔
    تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں کا نزول ہمیشہ قربانیوں کا تقاضا کیا کرتا ہے۔ مَیں یہاں کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس جگہ مصلح موعود کی پیشگوئی کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر انکشاف کا ہونا لاہور کی جماعت کی ذمہ داریوں کو بہت بڑھا دیتا ہے۔ یہیں سے پیغامی فتنہ نے سر اٹھایا اور یہیں ان کا مرکز ہے۔ یہیں سے احراری فتنہ اٹھا اور یہیں ان کا مرکز ہے۔ اور بھی جس قدر فتنے اٹھے ان میں زیادہ تر لاہور کا ہی حصہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو بھی زیادہ تر چیلنج لاہور سے ہی ملا کرتے تھے اور یا پھر امرتسر سے۔ امرتسر سے کم اور لاہور سے زیادہ۔ پھر اِس وقت پنجاب کا سیاسی مرکز بھی لاہور ہی ہے۔ پس بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں جو یہاں کی جماعت پر عائد ہوتی ہیں۔ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے ہی تمہیں اُن برکات سے حصہ مل سکتا ہے جو خاص مقامات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب خدا کسی مقام کو اپنی برکتوں کے لیے مخصوص قرار دے دیتا ہے تو وہاں کے رہنے والوں کو اپنے انعامات سے بھی زیادہ حصہ دیا کرتا ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اُن مقامات کے رہنے والوں کو قربانیاں بھی دوسروں سے زیادہ کرنی پڑتی ہیں۔ جو قربانیاں مکہ اور مدینہ والوں کو کرنی پڑیں وہ کسی اَور جگہ کے رہنے والوں کو نہیں کرنی پڑیں۔ مگر جو انعامات مہاجرین اور انصار کو ملے وہ بھی کسی اَور کو نہیں ملے۔ یہ خیال کرنا کہ مکہ اور مدینہ والوں کو اللہ تعالیٰ نے یونہی انعام دے دیا ہوگا ایک پاگل پن کی بات ہے۔ انہوں نے اِس قدر قربانیاں کیں کہ بِلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو فنا کردیا، انہوں نے خدا کے لیے اپنے آپ کو خاک میں ملا دیا اور پھر اپنی خاک کو بھی اس کی رضا کے حصول کے لیے اُڑا دیا۔ تب انہیں انعامات حاصل ہوئے تب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مستحق ہوئے۔
    پس جماعت لاہور کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے، اپنے اندر تغیر پیدا کرے، اپنے اخلاص اور اپنی نیکی میں ترقی کرے اور خدا تعالیٰ کی محبت اپنے قلوب میں پیدا کرے۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کی محبت کے بغیر تمہیں کوئی مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمارے دلوں میں کوئی عظمت ہے تو اِسی وجہ سے کہ انہوں نے بندوں کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے دیا۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی ہمارے دلوں میں کوئی عظمت ہے تو اِسی وجہ سے کہ انہوں نے بندوں کا ہاتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن ہاتھوں کو خدا کے ہاتھ میں دے دیا۔ پس اصل چیز خدا ہی ہے۔ جو شخص اس سے دور ہے وہ نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پاسکتا ہے، نہ مسیح موعودؑ کو پاسکتا ہے اور نہ کسی اَور کو پاسکتا ہے۔ خدا کی شان خدا کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ جس شخص کے دل میں خدا کی محبت نہیں اس کے اسلام اور احمدیت کے سب دعوے باطل ہیں۔
    پس اپنے دل خدا کی طرف متوجہ کرو اور ایسے اخلاص اور ایسی محبت سے اُس کی طرف جھکو کہ تمہیں اس کے ذکر میں لذّت آنے لگے۔ پھر اس ذکر پر مداومت اختیار کرو تامداومت کی وجہ سے اس کی محبت تمہارے جسم کا جزو بن جائے۔ جب خدا کی محبت تمہارے دلوں میں حقیقی طور پر پیدا ہوجائے گی تو وہی وقت ہوگا جب تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور اس کی عظمت کو سمجھ سکوگے۔ حقیقت یہ ہے کہ گو انبیاء خدا تعالیٰ کی شان دنیا میں ظاہر کرکے دکھاتے ہیں مگر وہ ایک مبہم سا نظارہ ہوتا ہے۔ اصل حقیقت یہی ہے کہ خدا کے ذریعہ سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جاسکتا ہے اور خدا کے ذریعہ سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو دیکھا جاسکتا ہے۔ جس نے خدا کو نہیں دیکھا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا اور جس نے خدا کو نہیں دیکھا اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو بھی نہیں دیکھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا ایک ظلی نور ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام خدا تعالیٰ کا ایک ظلی نور ہیں۔ پس جس کا خدا سے تعلق ہوجائے گا وہ اِن نوروں کا بھی مشاہدہ کر لے گا اور جس کا خدا سے تعلق نہیں ہوگا وہ ان نوروں کو بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع میں ہی اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ8 کہا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ سچی تعریف کرنا خدا کا ہی کام ہے۔ پس ہم کسی صاحبِ کمال کی حقیقت کو اُسی وقت پہچان سکتے ہیں جب ہم خدا تعالیٰ کو مل کر اُس کے درجہ سے واقف ہوتے ہیں۔
    پس حقیقت یہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی شخص محمدؐ نہیں مان سکتا جب تک وہ خدا تعالیٰ کا عارف نہیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کو کوئی شخص مسیح موعودؑ نہیں مان سکتا جب تک وہ خدا کا عارف نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن نشانات کو جو انبیاء کے ذریعہ ظاہر ہوتے ہیں اپنی جلوہ نمائی کا ایک ذریعہ بنا لیتا ہے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ اُن کو ذریعہ کس نے بنایا؟ خدا نے۔ ورنہ اگر خدا ان کو ذریعہ نہ بناتا اور وہ اپنی طرف سے شور مچاتے رہتے تو دنیا کی نظر ان کی طرف کہاں اُٹھ سکتی تھی۔ خدا کا کلام ہی تھا جس سے وہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اور اس لیے مرکز بنے کہ لوگوں نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کی باتیں ہمیں سناتے ہیں، یہ اُسی کی طرف ہمیں بلاتے ہیں۔ آؤ ہم ان کی باتوں کی طرف توجہ کریں کہ اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور فتنوں کے اس مرکز میں رہ کر ہر قسم کے فتنے مٹانے کی پوری کوشش کرو۔ صوبہ کا مرکز ہونے کے لحاظ سے اِس جگہ کی ترقی سارے پنجاب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی طرح یہاں کے جو فتنے ہیں اُن کا مقابلہ بھی ضروری ہے۔ کیونکہ ان کا اثر بھی مقامی نہیں بلکہ بہت دور تک جاتا ہے۔
    یاد رکھو! خدا تعالیٰ نے جو تمہارے ساتھ وعدے کیے ہیں اُن کے پورا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ لوگ قربانیاں کریں۔ آپ لوگوں کی قربانیاں ہی ہیں جو سلسلہ کو فائدہ پہنچائیں گی اور وہ قربانیاں ایسی ہی ہونی چاہییں جیسے اعلیٰ درجہ کے صحابہؓ نے کیں۔ وہ ایسے تھے کہ انہوں نے اپنے نفس کے تمام گوشوں سے دُنیا کی محبت نکال دی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں ایسے مست ہو گئے تھے کہ دنیا انہیں بالکل حقیر اور ذلیل نظر آتی تھی۔ وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کے کام کو مقدم رکھتے تھے اور اپنے کام مؤخر رکھتے تھے۔ مگر اب وہ زمانہ ہے کہ لوگ اپنے کاموں کو مقدم رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جس قربانی کا مطالبہ ہو اُسے مؤخر کرتے ہیں۔ حالانکہ صحابہؓ کی یہ حالت تھی کہ جب بھی قربانی کا کوئی مطالبہ ہوتا پہلے وہ اُس قربانی میں حصہ لیتے تھے اور بچا ہوا حصہ آپ لیتے تھے۔
    حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ چند مہمان بعض صحابہؓ میں تقسیم کر دیئے کہ وہ اُن کو اپنے اپنے گھروں میں لے جائیں اور انہیں روٹی کھلائیں۔ ایک صحابی جب مہمان کو اپنے گھر میں لائے تو انہیں معلوم ہوا کہ اُن کے گھر میں ایک ہی آدمی کا کھانا ہے۔ انہوں نے بیوی سے مشورہ کیا کہ بچوں کو بھوکا سُلادیا جائے۔ چنانچہ انہیں بہلا کر بھوکا سُلادیا گیا۔ دوسری طرف بیوی نے یہ تدبیر کی کہ خاوند سے کہا جب مہمان تمہارے ساتھ کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تو مجھے کہنا دئے کی بتّی اونچی کر دو اور مَیں اسے اونچی کرنے کے بہانے سے گُل کردوں گی۔ چنانچہ جب مہمان آیا تو میاں بیوی دونوں اس کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ گئے۔ اُس وقت تک پردے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اور عرب کے دستور کے مطابق گھر والوں کو بھی مہمان کے ساتھ مل کر کھانا پڑتا تھا۔ جب کھانا چنُا گیا تو مرد نے اپنی بیوی سے کہا کہ دیے کی روشنی بہت مدھم ہے بتی اُونچی کر دو۔ بیوی اٹھی اور اس نے اونچی کرنے کے بہانہ سے بتی کو انگلی سے اِس طرح دبایا کہ دیا گُل ہو گیا اور اندھیرا چھا گیا۔ وہ صحابی کہنے لگا تم نے یہ کیا کردیا؟ اب جاؤ کسی ہمسائے کے ہاں سے آگ مانگ کر لاؤ کہ لیمپ کو روشن کیا جاسکے۔ وہ کہنے لگی اب کہاں جاؤں، ہمسائے سوچکے ہوں گے اندھیرے میں ہی کھانا کھالیں۔ مہمان بھی کہنے لگا۔ اس تکلیف کی کیا ضرورت ہے مَیں اندھیرے میں ہی کھانا کھا لوں گا۔ چنانچہ وہ دونوں اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور چونکہ کھانا صرف مہمان کے لیے تھا، انہوں نے بیٹھ کر خالی مچاکے مارنے شروع کر دیئے تاکہ مہمان کو یہی محسوس ہو کہ وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں۔ جب مہمان خوب سیر ہو کر کھا چکا تو انہوں نے برتن اٹھا لئے اور سوگئے۔ صبح نماز کے لیے جب وہ مسجد میں گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھانے کے بعد مسجد میں ہی بیٹھ گئے اور آپ نے اُس صحابی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا رات تم نے اپنے مہمان کے ساتھ کیا کیا؟ وہ دل میں گھبرایا کہ نہ معلوم کیا غلطی ہو گئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات مجھ سے دریافت کر لی۔ وہ کہنے لگا یارسولَ اللہ! مَیں نے کیا کیا؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ رات جب تم مہمان کو اپنے ساتھ لے گئے تو اُس کو کھانا کھلانے کے لیے تم نے بہانہ سے دیا بجھا دیا اور پھر میاں بیوی اس کے ساتھ بیٹھ کر خالی مچاکے مارتے رہے تاکہ اسے یہی محسوس ہو کہ گویا تم کھانا کھا رہے ہو۔ جب آپؐ نے یہ واقعہ بیان فرمایا تو ہنس پڑے اور پھر صحابہؓ سے فرمایا تم جانتے ہو مَیں کیوں ہنسا ہوں؟ صحابہؓ نے عرض کیا یارسولَ اللہ! ہمیں تو معلوم نہیں۔ آپؐ نے فرمایا میرا خدا بھی یہ واقعہ دیکھ کر عرش پر ہنسا تھا اس لیے مَیں بھی ہنس پڑا۔9
    تو دیکھو وہ لوگ خداتعالیٰ کی طرف سے جو چیز آتی تھی اس کوبھی اپنے آپ پر مقدم رکھتے تھے مگر آجکل کا عجیب زمانہ ہے کہ لوگ اپنی بچی ہوئی چیز خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ گویا نَعُوْذُ بِاللہ وہ اُسے ایک بھنگی یا چمار کی حیثیت دیتے ہیں کہ اپنا بچا ہوا کھانا، اپنا بچا ہوا مال اور اپنی ضرورت سے بچی ہوئی اشیاء اُس کی راہ میں دیتے ہیں۔ یہ پسند نہیں کرتے کہ اپنی ضروریات پر اس کو مقدم کر لیں۔ حالانکہ جب تک ہم اپنے نفس پر اس کو مقدم نہیں کر لیتے اُس وقت تک ہمارے لیے اس سے محبت کا ادنیٰ سے ادنیٰ دعوٰی کرنا بھی جائز نہیں ہوسکتا۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ جب کوئی شخص یہ کہے کہ اسے خدا سے محبت ہے تو وہ اُسی وقت اپنا مکان چھوڑ دے، اپنی جائیدادوں کو ترک کر دے اور اپنے اموال سے دست بردار ہوجائے۔ مگر ارادہ تو یہی ہونا چاہیے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز بلند ہوگی ہم اس کا زبان سے نہیں عمل سے جواب دیں گے۔ دنیا کیا جانتی ہے کہ کس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز بلند ہونے والی ہے کہ آؤ اور خدا تعالیٰ کے لیے اپنی جانوں کو قربان کر دو،آؤ اور خدا تعالیٰ کے لیے اپنے اموال کو قربان کر دو۔ اگر جماعت کو یہ یقین ہے کہ میرے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی ہے جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، اگر جماعت کو یہ یقین ہے کہ اسلام کے احیاء کا وقت اب آ پہنچا تو پھر جماعت کو اس امر پر بھی یقین رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قریب یا بعید میں احیاءِ اسلام کے لیے آواز بلند ہونے والی ہے۔ اور وہی لوگ اس آواز پر لبیک کہہ سکیں گے، وہی مومن اس جہاد میں اپنی جانیں اور اپنے مال لے کر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو سکیں گے جو ابھی سے اس کی تیاری میں مشغول ہو جائیں گے۔ مگر وہ جنہوں نے تیاری نہیں کی ہوگی، وہ جنہوں نے اپنے اعمال کا کبھی جائزہ نہیں لیا ہوگا وہ اس قربانی سے محروم رہ جائیں گے۔ حضرت مسیح ناصری کی پیشگوئی بھی بتا رہی ہے کہ کچھ کنواریاں تو دولہا کے ساتھ چل پڑیں گی مگر کچھ کنواریاں پیچھے رہ جائیں گی۔10 اس کے معنے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ کچھ لوگ اپنے ایمان کے دعووں میں ثابت قدم نکلیں گے اور قربانیوں کے معیار پر پورے اتریں گے۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو وقت پر کمزوری دکھا جائیں گے۔
    دیکھو! اخلاص ان کنواریوں میں بھی تھا جو دولہا کے استقبال کے لیے نکلیں۔ جو آدھی رات تک اس کا انتظار کرتی رہیں، جو اُس کے آنے کی خوشی مناتی رہیں۔ مگر چونکہ انہوں نے اپنی غفلت سے کافی تیل اپنے ساتھ نہ لیا اس لیے جب دولہا آیا تو و ہ اس کے ساتھ چلنے سے محروم رہ گئیں۔ تیل نہ ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وقت سے پہلے انہوں نے پوری تیاری نہیں کی ہوگی۔ دنیا میں بہت لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ کہتے ہیں ہم نے اسلام کے لیے اپنی جان اور اپنا مال قربان کردیا اِس لیے وقت آنے پر ہم اپنی جان اور اپنے مال کو قربان کردیں گے۔ حالانکہ جب تک پوری طرح تیاری نہ ہو محض زبانی دعوے انسان کے کسی کام نہیں آتے۔ اِسی لڑائی کو دیکھ لو انگریزوں نے چونکہ پہلے تیاری نہیں کی تھی اس لیے وہ جرمن کے مقابلہ میں شکست کھاتے چلے گئے اور دوسال تک ایسا ہی ہوتا رہا۔ مگر اس دوسال کے عرصہ میں انہوں نے یہ نہیں کیا کہ رنگروٹوں کو ہی میدانِ جنگ میں لے جائیں۔ کیونکہ انہوں نے اِس حقیقت کو سمجھ لیا کہ لڑائی کے لیے تیاری کی ضرورت ہے۔ پس انہوں نے شکستیں تو کھائیں مگر اس عرصہ میں اپنی تیاری کو انہوں نے مکمل کر لیا اور وہ رنگروٹوں کو اُس وقت میدانِ جنگ میں لے گئے جب وہ پوری طرح سپاہی بن چکے تھے۔ پس یاد رکھو! تیاری کے بغیر کوئی لڑائی نہیں لڑی جاتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ابھی ہم سے اُن قربانیوں کا مطالبہ نہیں کیا گیا جن قربانیوں کا صحابہؓ سے مطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ ابھی ہماری جماعت ان قربانیوں کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔ نادان انسان کہتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں وہ قربانیاں نہیں ہیں جو صحابہؓ کے زمانہ میں تھیں۔ وہ نادان یہ نہیں جانتا کہ ابھی اُن قربانیوں کا وقت ہی نہیں آیا ورنہ قربانیاں تمہیں وہی کرنی پڑیں گی جو صحابہؓ نے کیں۔ تم ابھی رنگروٹ ہو اور خدا تمہیں موقع دے رہا ہے کہ تم اِس عرصہ میں اپنی تیاری کو مکمل کر لو۔ پھر کیسا نادان اور احمق ہے وہ رنگروٹ جو کہتا ہے کہ مجھے ابھی سے میدانِ جنگ میں کیوں نہیں بھیج دیا جاتا۔ تم اپنی تیاری کو مکمل کرلو۔ پھر وہ وقت بھی آجائے گا جب تمہیں قربانیوں کے میدان میں جھونک دیا جائے گا۔ لیکن جلدی کرو اور سستی سے کام مت لو۔ آخر کب تک خدا تمہارا انتطار کرتا رہے گا کب تک خدایہ دیکھتا رہے گا کہ ان رنگروٹوں کو سپاہی بن لینے دو۔ آخر خدا کا بِگل ایک دن آسمان سے بجے گا اور کہے گا کہ آؤ اپنی جانیں اور اپنے اموال میری راہ میں قربان کردو۔ جس وقت خدا کی طرف سے یہ آواز بلند ہوگی وہ لوگ جنہوں نے ریکروٹنگ(RECRUITING) کے عرصہ میں اپنے آپ کو پوری طرح تیار کر لیا ہوگا آگے بڑھیں گے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں گے۔ مگر وہ جنہوں نے اس عرصہ میں اپنے آپ کو پوری طرح تیار نہیں کیا ہوگا اور جو اس بات پر خوش ہوں گے کہ وقت آنے پر ہم اپنے مال اور اپنی جانیں قربان کردیں گے وہ ناکام ونامراد اپنے گھروں کو لَوٹ جائیں گے اور خدا کا وہ نور جو پہلے اُن کو مل چکا تھا وہ بھی اُن سے چِھن جائے گا"۔ (الفضل 21 جون 1944ء)

    8
    کامل اور مخلص مومن بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے
    (فرمودہ25 فروری 4419ءبمقام لاہور)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "جب انسان کو کوئی صداقت ملتی ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ مجھے ایک صداقت ملی ہے تو وہ قدرتی طور پر اس کے ساتھ اپنا لگاؤ ظاہر کرتا اور اُس کے ماتحت چلنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ یہ خواہش اتنی وسیع ہے کہ جب بھی کسی اچھی چیز پر انسان کی نظر پڑتی ہے تو اس کے دل میں یہ خواہش ضرور پیدا ہوتی ہے۔ گو یہ ضروری نہیں کہ انسان اسے پورا کرنے کی کوشش بھی کرے اور جب تک وہ اس کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے اس کی پوری قدر کی ہے۔
    دنیا میں کروڑوں آدمی ایسے ہیں جو مختلف ممالک کے حالات جب کتابوں میں پڑھتے یا دوسرے لوگوں سے جو ان ممالک کی سیر کر آتے ہیں سنتے ہیں تو ان کے دل میں ان ممالک کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور ان کے دل و دماغ میں اچھے نظاروں کی طرف ایک لگاؤ پیدا ہوتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ ان کو دیکھا جائے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے مگر واقع میں دیکھنے کے لیے جو جاتے ہیں ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ جب لوگ کشمیر کے حالات پڑھتے یا وہاں کے نظاروں کا ذکر دوسروں سے سنتے ہیں یا یورپ کے ممالک کے حالات پڑھتے یا دوسروں سے سنتے ہیں تو چاہے کسی شخص کی آمد دس روپیہ ماہوار ہی کیوں نہ ہو اُس کا دل ضرور چاہتا ہے کہ مَیں بھی ان نظاروں کو دیکھوں مگر وہ خواہش عارضی ہوتی ہے۔آتی اور گزر جاتی ہے۔ اس خواہش کے پیدا ہونے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ یہ حقیقی خواہش ہے۔ بعض اوقات انسا ن کے دل میں خواہش تو بڑے زور کی ہوتی ہے مگر اُسے پورا کرنے کی مقدرت وہ نہیں رکھتا۔ اور بعض دفعہ مقدرت اور سامان تو میسر ہوتے ہیں مگر پھر بھی انسان اُسے پورا نہیں کرتا۔ ہزاروں لکھ پتی اور سینکڑوں کروڑ پتی ہندوستان میں ہیں مگر کیا وہ سارے یورپ کی سَیر کر آئے ہیں؟ ان کے دل میں خواہش بھی پیدا ہوتی ہے مگر باوجود سامان ہونے کے وہ جاتے نہیں۔ اسی طرح علوم کو لے لو۔ لوگوں کے اندر یہ خواہش تو پیدا ہوتی ہے کہ وہ علوم کو سیکھیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فلسفہ ایک دلچسپ چیز ہے منطق، علم النفس، علمِ ریاضی اور دیگر علوم بہت مفید ہیں ڈاکٹر بننا بڑی اچھی بات ہے، وکیل بڑا اچھا ہوتا ہے، ہر اچھے پیشے کو دیکھ کر انسان کے اندر اسے سیکھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ جب ایک آدمی کسی ڈاکٹر سے خوش ہوتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ وہ خود یا اُس کا لڑکا ڈاکٹر ہو۔جب وکیل کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے تو اس کے اندر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود وکیل بنے یا اپنے لڑکے کو وکالت کی تعلیم دلوائے۔ غرضیکہ ہر علم اور ہر پیشہ کو دیکھ کر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اُسے حاصل کروں۔ مگر کیا اس خواہش کے پیدا ہونے سے ہر شخص ڈاکٹر یا وکیل یا انجینئر بن جاتا ہے یا اپنے بیٹوں کو بنا لیتا ہے؟ نہیں۔ بلکہ بسا اوقات اُسی دن بلکہ ایک گھنٹہ کے بعد اُسے یہ امر یاد بھی نہیں رہتا۔ تو محض خواہش کا دل میں پیدا ہونا کسی کو اُس پیشہ یا فن کی خوبیوں سے متمتع نہیں کرسکتا۔ یہ نہیں ہوتا کہ آج کسی کے دل میں ڈاکٹر بننے کی خواہش پیدا ہو تو اگلے روز مریض اس کے پاس علاج کے لیے چلے آئیں۔ یا وکیل بننے کی خواہش ہو تو لوگ اُس کے پاس مقدمات لے آئیں۔ یا اگر دل میں یہ خواہش پیدا ہو کہ مَیں تاجر بنوں گا تو اگلے روز تھوک فروش دکاندار اسے ہول سیل نرخ پر مال دے دیں محض اس لیے کہ اس کے دل میں تاجر بننے کی خواہش پیدا ہوئی تھی۔ یہ خواہش پیدا ہونے کے باوجود وہ جب بازار سے اپنی ضروریات خریدنے جائے گا تو ایک عام فرد کی طرح ہی سودا لے گا۔ یہ نہیں کہ دکاندار اسے ایک تاجر کی حیثیت سے مال دے دیں گے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ۔1 یعنی جب کفار قرآن کریم کی تعلیم سنتے ہیں، اخلاق یا نظامِ قومی کے متعلق اسلامی ہدایات کا ان کو علم ہوتا ہے، ہمسایوں کے متعلق، عورتوں، خاوندوں، والدین، بچوں، غریبوں، مسافروں کے متعلق اسلام نے جو تعلیم دی ہے، مزدوروں اور سرمایہ داروں کے بارہ میں جو احکام دیئے ہیں ان سے ان کو آگاہی ہوتی ہے اور ہر شخص دیکھتا ہے کہ اس میں اس کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے اور ایسے قوانین بنائے گئے ہیں کہ کوئی کسی کا حق نہ دبا سکے۔ ہر ایک اطمینان حاصل کرسکے۔ ایک مزدور جو رات دن اپنے مالکوں سے لڑائی جھگڑا کرتا ہے کہ میرا یہ حق نہیں ملا وہ نہیں ملا جب دیکھتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ایسی ہے کہ جس سے اس کے تمام حقوق محفوظ ہوجاتے ہیں تو وہ بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ یہ بات بڑی اچھی ہے۔ اسی طرح عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ ہر ایک کے حقوق کی حفاظت تسلی بخش طور پر اسلام نے کی ہے اور جو بھی اپنے متعلق اس کی تعلیم سے آگاہ ہوتا ہے وہ اس کی خوبی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مگر اس کا نتیجہ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ اسے کہے گا کہ اے مسلمان! آ تجھے میں جنت میں داخل کروں۔ کیونکہ اس کے یہ معنے نہیں کہ اس شخص کے دل میں ایمان پیدا ہو چکا ہے۔ یہ تو اسلام کی تعلیم کی خوبی کی علامت ہے۔ جیسے کشمیر کے حالات پڑھ کر یا سن کر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ مَیں بھی اسے دیکھوں۔ یورپ کے حالات معلوم کرکے وہ چاہتا ہے کہ ایسے اچھے نظائر کا مشاہدہ کروں۔ تو اس کا یہ نتیجہ نہیں ہوتا کہ اگلے دن لوگ اس کے پاس ان مقامات کے حالات یہ سمجھ کر سننے کے لیے آ جائیں کہ اُس کے دل میں چونکہ ان کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی تھی اس لیے یہ ان کو دیکھ چکا ہوگا۔ بلکہ خواہش کا پیدا ہونا تو محض ان مقامات کے حالات میں بیان کردہ نظّاروں کی خوبی کی دلیل ہے۔ اسی طرح اسلام کی تعلیم کی خوبی کا اقرار محض اس تعلیم کی برتری کی دلیل ہے۔ اس سے نہ تو خود وہ انسان اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے لگتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اسے مسلمان سمجھ کر اس سے معاملہ کرے گا۔ اگر کسی شخص کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو کہ مَیں ملک کے لیے لڑوں تو گورنمنٹ اس کی تنخواہ مقرر نہیں کر دیتی۔ یہی حال دین اور ایمان کا ہے۔ اگر ایمان لانے کی دل میں محض خواہش پیدا ہو تو ایسا شخص خدا تعالیٰ کے ہاں مومن شمار نہیں ہونے لگتا۔ جیسے ایک شخص مثلاً مزدوروں کے بارہ میں اسلام کی تعلیم کو پڑھتا یا سنتا اور اس کی تعریف کرتا ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہر شخص کی روٹی اور کپڑے کی ذمہ دار حکومت تھی اور تعلیم کا بندوبست بھی حکومت کرتی تھی اور دوسری طرف یہ دیکھتا ہے کہ ہندوستان میں لاکھوں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ کاش! ہمیں بھی ایسی حکومت نصیب ہوتی۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ایسا کہنے والا مسلمان ہو گیا۔ کیا کوئی مسلمان اسے مسلمان سمجھ کر اس سے رشتہ وغیرہ قائم کرنے کو تیار ہوگا؟ ہرگز نہیں۔بلکہ اس کے معنے تو صرف یہ ہیں کہ تمدن کے متعلق اسلام کی تعلیم کو لوگ برتر اور افضل سمجھتے ہیں۔ یا مثلاً ایک عورت ہے جس کی اپنے خاوند سے لڑائی رہتی ہے اور خاوند اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا، کسی مسلمان عورت کے ساتھ اس کی ملاقات ہو اور اس کو پتہ لگے کہ اسلامی نظام اور احکام کے ماتحت عورت طلاق حاصل کرسکتی ہے اور وہ یہ بات معلوم کرکے کہے کاش! ہمارے مذہب میں بھی ایسا ممکن ہوتا۔ تو اس کے یہ معنے ہرگز نہیں ہوسکتے کہ وہ مسلمان ہو گئی۔ نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور مسلمان سمجھی جائے گی اور نہ لوگ اسے مسلمان سمجھ کر اس سے ایسا سلوک کریں گے جو ایک مسلمان دوسرے سے کرتا ہے۔ اس کے دل پر چونکہ چوٹ لگی ہوئی تھی جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی مشکل کا حل اسلامی تعلیم میں موجود ہے تو وہ اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکی۔ مگر اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ وہ اس بارہ میں اسلام کی تعلیم کی برتری کا اعتراف کرتی ہے۔
    غرض ہر شخص جب اپنے پیشہ یا اپنے طبقہ کے لیے اسلام کی تعلیم معلوم کرتا تو بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ کاش! ہمارے ہاں بھی ایسے ہی احکام ہوتے۔ مگر اس کے یہ معنے ہرگز نہیں کہ وہ مسلمان ہو گیا۔ نہ لوگ اسے مسلمان سمجھتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ اسے مسلمان قرار دیتا ہے۔ اس قسم کی ہزاروں مثالیں دنیا میں موجود ہیں اور ہزاروں قسم کے لوگ ہیں جو اپنی اپنی حیثیت مثلاً باپ بیٹا، بھائی بہن، ماں باپ، خاوند بیوی، مزدور آقا کی حیثیت سے اسلام کی تعلیم کی برتری کا اقرار کرتے ہیں۔ اپنے اپنے مذہب کی تعلیم سے دکھی دلوں کو جب اسلام کی تعلیم کا علم ہوتا ہے تو وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ کاش! ہمارے مذہب میں بھی ایسے ہی احکام ہوتے۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ مسلمان ہوگئے اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایک مسلمان کے طور پر سلوک کرے گا۔
    اسی مثال کو ہر شخص اپنے اوپر چسپاں کر کے دیکھے۔ ہم جب دین کی بات سنتے ہیں، اسلامی احکام سنتے یا قرآن کریم میں پڑھتے ہیں تو ہمارے اندر بھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ان پر عمل کریں۔جب ہم یہ معلوم کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ اسلام اور سلسلہ کے لیے اپنا وقت، اپنا علم، اپنا مال و دولت قربان کرتے ہیں تو ہمارے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم بھی ایسا کریں۔ مگر محض اس خواہش کے پیدا ہونے سے اسلام یا سلسلہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ محض دل میں قربانیوں کی خواہش کے پیدا ہونے پر تو ہمارے متعلق وہی بات کہی جاسکتی ہے جو قرآن کریم نے رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ بیان فرمائی ہے اور ہمارے متعلق اس کے بجائے یہ کہا جاسکے گا کہ رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لَوْ كَانُوْا مُخْلِصِیْنَ۔ اور جس طرح رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ کے مصداق لوگ مسلم کا مقام نہیں پاسکتے اِسی طرح رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لَوْ كَانُوْا مُخْلِصِیْنَ کے مصداق لوگ مخلصین کا مقام حاصل نہیں کرسکتے۔ اگر اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ وہ کافر مسلمان ہوگئے تو بے شک قربانی کی خواہش پیدا ہونے پر ہم لوگ بھی مخلص کہلا سکیں گے۔لیکن جب یہ خواہش کہ کاش! ہمارے ہاں بھی ایسی ہی تعلیم ہوتی، کفار کو مسلم نہیں بنا سکتی تو محض قربانی کی خواہش کا پیدا ہونا ہمارے اندر اخلاص کے موجود ہونے پر کیونکر دلالت کرسکتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ مَیں تو سچی خواہش رکھتا ہوں کہ دین کے لیے قربانی کروں تو ہم کہیں گے کہ وہ عورت جو ازدواجی زندگی کی پریشانیوں میں مبتلا ہے وہ بھی تو سچی خواہش ہی رکھتی ہے کہ کاش! خلع کے مسئلہ پر وہ عمل کرسکتی۔ اسی طرح ہر شخص جو اپنی حیثیت کے لحاظ سے دکھی ہے جب اسلام کی تعلیم کو سنتا تو اس کے دل میں بھی سچے طور پر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش! اسلام کے اس حکم پر وہ اور اس کے ساتھی عمل کرسکتے۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ کسی غیر مسلم کو خلع کے مسئلہ سے اختلاف ہو کیونکہ اُس کے دل پر کوئی چوٹ نہ لگی ہو۔ لیکن جس کے دل پر چوٹ لگی ہو وہ یقیناً اس سے اتفاق کرے گا اور اس کے دل میں یہ سچی خواہش پیدا ہوگی کہ یہ حکم ان کے ہاں ہونا چاہیے۔ اِسی طرح جن لوگوں کو اسلام سے بُغض نہیں، اسلامی احکام کو سن کر ان کے دل میں بھی لازماً یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ان کے ہاں بھی یہ تعلیم رائج ہو اور اس طرح فرداً فرداً بنی نوع انسان سے سارے اسلام کے مفید ہونے کی تصدیق کرائی جاسکتی ہے اور کوئی حکم اسلام کاایسا نہیں جس کی تصدیق نہ ہوسکے۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ جو لوگ یہ تصدیق کرتے ہیں وہ مسلمان ہوگئے۔ بعض لوگ خلع کے قانون کی تصدیق کرنے والے ہوں گے، بعض قانونِ وراثت کی، بعض ان قوانین کی جو مزدوروں کے متعلق ہیں اور بعض ان کی جو آقاؤں کے متعلق ہیں۔ اسی طرح اسلام کے ہر حکم کی تصدیق کرنے والے لاکھوں لوگ مل جائیں گے۔ مگر ان میں سے کسی ایک کو بھی مسلمان نہیں کہا جاسکتا۔ اس تصدیق کے معنے صرف یہ ہوں گے کہ اسلامی تعلیم بہت اعلیٰ ہے۔ اسی طرح ہم میں سے جو لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہم بھی دین کے لیے قربانیاں کریں، اسلام کی خدمت کریں، وہ خدا تعالیٰ کے ہاں خدمت کرنے والے شمار نہیں ہوسکتے۔ اس خواہش کے یہ معنے ہیں کہ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کے احکام بہت ضروری ہیں لیکن اس سے وہ کامل اور مخلص مومن نہیں بن سکتے۔
    کامل اور مخلص مومن وہی ہے جو عملی طور پر بھی قربانی کرتا ہے اور جو خدمت اس کے سپرد کی جاتی ہے اور جو ذمہ داری اس پر ڈالی جاتی ہے اس کو پوری طرح ادا کرتا ہے۔ ایسے لوگ جو خدمات نہیں کرسکتے ان کا بھی ثواب پاتے ہیں۔ جو خدمت ان کے سپرد ہوتی ہے اُس کا ثواب تو ملنا ہی ہے لیکن جن خدمات کا موقع ان کو میسر نہیں آتا ان کا ثواب بھی ان کو مل جاتا ہے۔ان کی مثال اُس شخص کی ہے جو بوجہ کسی بیماری کے اپنا ایک ہاتھ یا کوئی دوسرا عضو وضو کے وقت دھو نہیں سکتا لیکن اُس کے نہ دھونے کے باوجود اُس کا وضو مکمل ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح وہ مومن جو ان خدمات کو پوری طرح ادا کرتے ہیں جو ان کے سپر د ہیں ان سے جو خدمات رہ گئیں ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو نہیں پکڑے گا۔ ایک شخص نماز باقاعدہ اور باجماعت پڑھتا ہے، اپنی حیثیت کے مطابق چندہ دیتا اور تبلیغ کرتا ہے لیکن اس کے پاس اتنا مال جمع نہیں کہ زکوٰۃ ادا کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی سمجھا جائے گا کہ گویا اُس نے زکوٰۃ ادا کردی۔ یا اگر وہ حج نہیں کرسکا کیونکہ اس کے حالات ایسے نہ تھے کہ اس پر حج فرض ہوتا تو وہ خدا تعالیٰ کے دفتر میں حج کرنے والوں میں ہی لکھا جائے گا۔ کیونکہ اس نے دوسرے احکام پر عمل کرکے یہ ثابت کردیا کہ اگر اسے توفیق ملتی تو وہ ضرور ان نیکیوں کو بھی بجا لاتا جو وہ بجا نہ لاسکا۔ ایسی صورت میں بے شک اُس کی خواہش ہی اس کے عمل کے مترادف ہوگی کیونکہ اگر اُس نے زکوٰۃ نہیں دی تو اُس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے لیے زکوٰۃ ادا کرنے کا موقع ہی نہ تھا۔ اگر اس نے حج نہیں کیا تو اِس واسطے کہ وہ ایسا کرنے سے معذور تھا اس لیے اس کی خواہش ہی کافی سمجھی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے یہی سلوک ہے۔ پس دل میں نیکی کی خواہش کا پیدا ہونا کافی نہیں۔ ہاں! جن نیکیوں کی توفیق انسان کو ملتی ہے، جن کے کرنے کا اس کے لیے موقع ہے اگر وہ انہیں ادا کرتا ہے تو پھر بے شک جن نیکیوں کے کرنے کی طاقت اسے نہیں اللہ تعالیٰ کے دفتر میں اس کا نام ان کے کرنے والوں میں ہی لکھا جائے گا۔ پس انسان کو چاہیے کہ جو نیک خواہشیں وہ پوری کرسکتا ہے انہیں پورا کردے۔ پھر وہ خواہشات جن کا پورا کرنا اس کے اختیار میں نہیں ان کا اجر اللہ تعالیٰ اُسے خودبخود دے گا۔ جس درجہ کے مطابق اس کی نیکیاں ہوں گی اُسی درجہ کے مطابق اُسے ان نیکیوں کا ثواب مل جائے گا جن کا کرنا اس کے اختیار سے باہر ہوگا۔ ایک شخص نماز پڑھتا، روزے رکھتا، چندہ دیتا، تبلیغ کرتا اور وہ تمام نیکیاں کرتا ہے جو وہ کرسکتا ہے تو جس درجہ کے مطابق اُس کی یہ نیکیاں ہوں گی اُسی درجہ کا اُسے زکوٰۃ کا ثواب مل جائے گا، اُسی درجہ کا اُسے حج کا ثواب مل جائے گا۔ اگر معذوری کی وجہ سے وہ زکوٰۃ ادا نہ کرسکا یا حج نہ کرسکا ہو۔ لیکن اگر کسی کے دل میں کوئی نیک خواہش پیدا ہو وہ اسے پورا کر بھی سکتا ہو ادا نہ کرے تو اس نیک خواہش کے صرف پیدا ہونے سے اُسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا اور اس کی مثال انہی لوگوں کی ہوگی جن کا ذکر رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ میں کیا گیا ہے۔ایسے لوگ اسلامی احکام کی صحت و درستی کے قائل ہیں۔ مانتے ہیں کہ یہ تعلیم بڑی اچھی ہے اسے اپنے ہاں جاری کرنے کا احساس بھی ان کے دل میں ہوتا ہے اور اس کی زبردست خواہش پائی جاتی ہے۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود وہ ہیں کافر کے کافر۔اِسی طرح وہ مومن جو نیک خواہشات کو پورا کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود انہیں پورا نہیں کرتا اور سمجھتا یہ ہے کہ دوسرا موقع آنے پر پورا کرے گا وہ غیرمخلص کا غیرمخلص ہی ہے۔
    پس اپنے جذبات، احساسات اور خیالات کو ٹٹولو اور سوچو کہ تم پر جو ذمہ داریاں ہیں تم ان کو اس معیار کے مطابق ادا کرتے ہو یا نہیں جو تم کرسکتے ہو۔ اور دین کے لیے جتنی قربانی تم کر سکتے ہو اُتنی کرتے ہو یا نہیں۔ اگر کرتے ہو تو جن کا کرنا تمہارے قبضہ اور طاقت میں نہیں اُن کے کرنے کی خواہش کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ تمہیں ان کا اجر دے دے گا۔ لیکن اگر جو کچھ تم کر سکتے ہو وہ بھی نہیں کرتے تو یہ کہنا کہ دوسری نیکیوں کا موقع اگر ملے تو تم وہ ضرور کرو گے بالکل غلط خیال ہے۔ اگر چندہ دے سکنے کے باوجود ایک شخص چندہ نہیں دیتا تو اُس کا یہ کہنا کہ اگر دین کے لیے جان دینے کا موقع ملے تو مَیں ضرور دے دوں کیونکر درست سمجھا جاسکتا ہے۔ جو شخص تھوڑی سی مالی قربانی نہیں کرسکتا یہ کیونکر سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ جنگ میں جان بھی دیدے گا۔ پس اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو اور دیکھو کہ تم ان نیک خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہو یا نہیں جن کو تم پورا کرسکتے ہو۔ اگر کرتے ہو تو یقیناً تمہیں ان کا ثواب بھی ملے گا جن کا پورا کرنا تمہارے اختیار میں نہیں۔ یہ ایک ایسا گُر ہے کہ جس سے بہت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور اس کے مطابق اگر مومن اپنے نفس کامحاسبہ کرتا رہے تو ایمان اور عمل میں بہت ترقی کرسکتا ہے"۔ (الفضل 22 مارچ 1944ء)

    9
    بندہ کا مقام ہر حالت میں راضی برضائے الٰہی رہنا ہے
    (فرمودہ3 مارچ 4419ء بمقام لاہور)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "آج مجھے شدید سر دَرد کا دورہ ہوا ہے اور اُمّ طاہر کی حالت بھی ایسی نازک ہے کہ مَیں زیادہ دیر باہر نہیں رہ سکتا اس لیے میں نہایت ہی اختصار کے ساتھ خطبہ بیان کرنا چاہتا ہوں کیونکہ مَیں نے ابھی واپس جانا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ یہ قانون بنایا ہوا ہے کہ وہ جہاں تک دعاؤں کا تعلق ہے ان کے ساتھ دوستانہ رنگ کا معاملہ رکھتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام فرمایا کرتے تھے کہ دعاؤں کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ تو اپنی مالکیت کا اظہار کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے فضل سے بندے کی دُعا کو قبول فرما لیتا ہے۔1 آقا کے سامنے غلام کی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ کوئی بات کرے مگر خدا باوجود آقا ہونے کے اپنے بندوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اس سے دعائیں کریں، اس سے التجائیں کریں اور بعض دفعہ ناز اور بعض دفعہ نیاز سے اس سے مانگیں۔ مگر فرماتے تھے خدا اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ بندہ آقا بننے کی کوشش کرے۔ یعنی وہ یہ خیال کرلے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں اللہ تعالیٰ اسے ضرور مان لے۔ بے شک وہ دعائیں مانگے، بے شک وہ اللہ تعالیٰ پر امید رکھے کہ وہ اس کی دعاؤں کو قبول فرمائے گا۔ مگر پھر اسے سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح دو دوستوں کا آپس میں سلوک ہوتا ہے کہ کبھی وہ اس کی بات مان لیتا ہے اور کبھی یہ اس کی بات مان لیتا ہے اِسی طرح اللہ کا اپنے بندے کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔ کبھی اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ مَیں نے تمہاری خاطر اپنا ایک لمبا سلسلۂ حالات بدل دیا، تمہاری دعا میں نے سن لی اور تمہاری اس دعا کو قبول فرما کر ایک ایسی چیز کو جو بظاہر ہوتی ہوئی نظر آتی تھی مَیں نے ٹلا دیا اور اپنی تقدیر کو بدل دیا یا ایک ایسی چیز جو بظاہر نہ ہوتی ہوئی نظر آتی تھی اسے تمہاری خاطر مَیں نے ہونے والی بنا دیا۔لیکن کبھی خدا اپنے بندوں سے کہتا ہے کہ تم جو کچھ طلب کرتے ہو اُسے میری خاطر چھوڑ دو اِس وقت مَیں اپنی مرضی چلانا چاہتا ہوں۔ یہی رنگ مومن اور خدا میں ہمیشہ چلتا چلا جاتا ہے۔ بسااوقات ایک ہی شخص ہوتا ہے مگر ایک طرف تو اس کے متعلق ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ وہ خدا کے حکم کے ماتحت مُردوں کو زندہ کرتا چلا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ اسی کے ہاتھوں سے زندے نکل کر مر جاتے ہیں۔یہ دونوں چیزیں ہمیں سارے انبیاء کے حالات میں نظر آتی ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ وہ مُردے زندہ کیا کرتے تھے۔2 انجیل میں بھی لکھا ہے کہ کئی مُردے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے زندہ ہوئے۔3 اب مُردے زندہ کرنے کے کوئی معنے لے لو۔ چاہے وہ لے لو جو عیسائی مانتے ہیں یا بعض مسلمان بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حقیقی طور پر وہ جسمانی مُردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔ چاہے وہ معنے لے لو جو ہماری جماعت کرتی ہے کہ ایسے بیمار جو بظاہر مر جانے والے ہوتے تھے جب حضرت مسیح ان کے لیے دعا کرتے تو ان کی دعا اور توجہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندگی دے دیتا۔ چاہے یہ معنے لے لو کہ مُردہ دل لوگوں کو وہ تبلیغ کرتے اور اپنی روحانیت کا ایسا اثر ان پر ڈالتے کہ وہ لوگ جو مُردہ دل ہوتے، جو روحانیت سے ناآشنا ہوتے اللہ تعالیٰ ان میں تقوٰی اور ایمان پیدا کر دیتا۔ ان میں سے کوئی معنےلے لو بہرحال ہر جگہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ اگر جسمانی مُردوں کو زندہ کرنا مُراد لے لو تب بھی ان کے زمانہ میں لاکھوں لوگ مرے ہوں گے۔مگر انہوں نے جن لوگوں کو زندہ کیا ہوگا وہ پانچ سات ہی ہوں گے۔ خود وہ لوگ جو اس بات کے مدّعی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسمانی مُردوں کو زندہ کیا کرتے تھے وہ بھی پانچ سات مُردوں کو زندہ کرنے کے ہی قائل ہیں اور وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ لاکھوں لوگ ان کے زمانہ میں مرے مگر انہوں نے صرف چند مُردوں کو ہی زندہ کیا۔ اور اگر سخت بیماروں کی شفا لے لو تب بھی ان کے زمانہ میں لاکھوں لوگ بیمار ہوئے اور لاکھوں لوگ ہی بیماریوں سے فوت ہوئے ہوں گے مگر ان کی دعاؤں سے اچھے ہونے والے صرف چند لوگ ہی ہوں گے۔ اور اگر مُردوں کو زندہ کرنے سے مراد روحانی مُردوں کا احیاء لیا جائے تب بھی ان کی لاکھوں لاکھ کی قوم جو فلسطین میں آباد تھی اس میں سے چند سَو ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے باقی لوگ روحانی لحاظ سے مُردے ہی رہے۔ غرض کوئی معنے لے لو یہی تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا نے کچھ معاملات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سنی اور کچھ معاملات میں ان سے اپنی بات منوائی۔ یہی حال ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک دفعہ دعا فرمائی کہ الٰہی! تُو عمر بن الخطاب یا ابوجہل میں سے کسی ایک کو ہدایت دے کر اسلام کو تقویت عطا فرما۔4 اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کو ہدایت دے دی مگر ابوطالب جن کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑے احسانات تھے، جنہوں نے بڑے بڑے مشکل اوقات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدد فرمائی اور جن کی ہدایت کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعائیں بھی کیا کرتے تھے انہوں نے مرتے وقت بھی یہی کہا کہ اے میرے بھتیجے! میرا دل تو مانتا ہے کہ جو کچھ تُو کہتا ہے سچ ہے مگر مَیں اپنی قوم کے مذہب کو نہیں چھوڑ سکتا اور اُسی پر جان دیتا ہوں۔5 تو اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں حکمتیں ہوتی ہیں۔بندے کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر دم تک دعائیں کرتا چلا جائے اور خدا تعالیٰ پر توکل رکھے۔ لیکن جب خدا کی مشیت ظاہر ہوجائے چاہے خوشی کے رنگ میں، چاہے رنج کے رنگ میں تو اس کا دل تسلی پا جائے اور وہ خدا تعالیٰ پر کسی قسم کے شکوے کا اظہار نہ کرے۔اگر خوشی ہو تب بھی اور اگر رنج ہو تب بھی۔ بندہ کے لیے یہی اصلی اور حقیقی مقام ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے رب کی رضا پر راضی رہے اور یہ نہ کہے کہ جس طرح غلام آقا کی بات مانتا ہے اسی طرح خدا اس کی ہر بات مانتا چلا جائے۔ آقا آقا ہی ہے وہ جس قدر مانتا ہے اس کا احسان ہوتا ہے اور جو بات وہ نہیں مانتا اس میں بندے کو گلے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے میری یہ بات کیوں نہ مانی۔ اس کا ہماری کسی بات کو مان لینا احسان ہے اور کوئی شخص اپنے محسن سے یہ نہیں کہا کرتا کہ جب تُو نے مجھ پر دس احسانات کیے تو گیارھواں کیوں نہ کیا؟
    پس مومن کو ہمیشہ یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں تک دعا کا تعلق ہے، مومن کو کبھی تھکنا نہیں چاہیے اور ایک منٹ کے لیے بھی اس کے دل میں یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا نہیں سنے گا۔ چاہے کوئی مقدمہ ہو، بیماری ہو، مالی نقصان ہونے والا ہو یا جانی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو یا سیاسی یا اقتصادی نقصان کا احتمال ہو۔ غرض کتنا ہی بھیانک نقصان اسے پہنچنے والا ہو اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنے رب پر توکل رکھے۔ اُس سے دعائیں مانگتا چلا جائے اور یہ خیال تک بھی اپنے دل میں نہ لائے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہی کہے کہ سب کچھ خدا کے اختیار میں ہے اور وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ لیکن جب خدا کا فیصلہ صادر ہوجائے تو خواہ اُس کا فیصلہ بعض دفعہ اُس کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اُس کا فرض ہے کہ جس طرح پہلے اس نے مومنانہ رنگ دکھایا اُسی طرح اب دوسرا مومنانہ رنگ یہ دکھائے کہ وہ پوری طرح خدا تعالیٰ کے فعل پر راضی ہوجائے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی فطرت ایسے مصائب اور مشکلات کے وقت دکھ محسوس کرتی ہے مگر وہ دکھ اور رنج اَور چیز ہے اور خدا کی بات پر ناشکری کرنا اَور چیز ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ایک نواسے تھے۔ وہ بیمار ہوئے اور حالت زیادہ خراب ہو گئی۔ جب آپ کی لڑکی نے سمجھا کہ اب آخری وقت قریب ہے تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بلا بھیجا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم چونکہ بڑے رحیم و کریم اور شفیق تھے آپ نے خیال فرمایا کہ اگر مَیں جاؤں گا تو تکلیف ہوگی اس لیے آپ نے جانے سے گریز فرمایا۔ اس پر پھر آپ کی لڑکی نے بڑے اصرار سے کہلا بھیجا کہ ایک دفعہ ضرور تشریف لائیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لے گئے۔ بچہ پر اُس وقت نزع کی حالت طاری تھی۔ اسے دیکھ کر آپ کے آنسو جاری ہوگئے۔ ایک شخص نے آپ کے آنسو بہتے دیکھ کر کہا۔آپ خدا کے رسول ہوکر روتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔خدا نے میرے دل میں رحمت اور شفقت پیدا فرمائی ہے۔ اگر تجھے خدا نے اس شفقت اور محبت سے محروم کردیا ہے تو مَیں تیرا کیا علاج کرسکتا ہوں؟6
    تو کسی رنج اور صدمہ کے موقع پر ہرانسانی قلب کو جودکھ پہنچتا ہے اور جسمانی طور پر اس کی طرف سے اظہارِ غم ہوتا ہے، یہ اَور چیز ہے۔ شریعت اسے رأفت اور شفقت قرار دیتی ہے لیکن خدا سے شکوہ کرنا یا یہ کہنا کہ اس نے ہم پر سختی کی ہے یا ہمارا خدا پر کوئی حق تھا یہ کفر کی باتیں ہیں۔مومن ایسے کلمات اپنی زبان سے نہیں نکال سکتا۔ مومن کا دل اگر ایک طرف بنی نوع انسان کی محبت سے پُر ہوتا ہے تو دوسری طرف وہ خدا تعالیٰ کی رضا پر بھی کامل طور پر راضی رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنی بیوی سے، اپنے بچوں سے، اپنے رشتہ داروں سے، اپنے دوستوں اور عزیزوں سے بلکہ اپنے دوستوں اور عزیزوں کے رشتہ داروں اور تعلق رکھنے والوں سے محبت نہ کرے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہم دیکھتے ہیں آپ اپنی بیویوں سے اِس قدر محبت کیا کرتے تھے کہ بیویاں فرماتی ہیں ہم بعض دفعہ پانی پی کر گلاس رکھ دیتیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُس کو اٹھاتے اور جہاں ہم نے ہونٹ رکھ کر پانی پیا ہوتا وہاں اپنے ہونٹ رکھ کر پانی پیتے۔7 یہ گویا بِالواسطہ بوسہ ہوگیا۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دفعہ بیمار تھیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پاس بیٹھے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر کے اوپر ہاتھ مارا اور کہا ہائے میرا سر۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اُس وقت شدید سر درد تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں گھبراتی ہو؟ اللہ فضل کرے گا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا یا رسولَ اللہ! جانے بھی دیجیے اگر میں مرگئی تو آپ کا کیا ہے آپ ایک اَور شادی کرلیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فقرہ کو سن کر فرمایا عائشہ! تُو نے کہا تھا ہائے میرا سر! اور جب مَیں نے کہا کہ اللہ فضل کرے گا تو تم نے کہہ دیا میرا کیا ہےمیں اگر مر گئی تو آپ اَور شادی کرلیں گے۔سو اب مَیں تجھے کہتا ہوں"ہائے میرا سر"۔8 چنانچہ آپ اس کے تیسرے دن بیمار ہوئے اور چند دن بعد فوت ہوگئے۔ معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو علم ہوچکا تھا کہ اب میری وفات کا وقت قریب ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب ناز کے ساتھ کہا کہ آپ کو میری کیا فکر پڑی ہے مَیں مر جاؤں گی تو آپ اَور شادی کرلیں گے۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُس راز کو ظاہر کردیا اور فرمایا کہ تم تو یہ کہتی ہو مگر مَیں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ تم زندہ رہو گی اور مَیں وفات پا جاؤں گا۔
    تو مومن جس قدر خدا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے بنی نوع انسان کی ہمدردی اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کا مادہ بھی اس میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اُسے اِس بات کی بھی توفیق دے دیتا ہے کہ جب اسے کوئی تلخی پہنچے تو اسے وہ برداشت کرے۔ چنانچہ وہ پھر بھی خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہی ہوتا ہے اور اس کی حمد اس کی زبان پر جاری ہوتی ہے۔
    حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک لڑکا جو میری پہلی بیوی سے تھا اور اُس وقت تک میرا اکلوتا بیٹا تھا فوت ہوگیا اور وہ فوت بھی اِس طرح ہوا کہ مَیں سمجھتا ہوں مَیں نے ہی اُسے قتل کیا۔ اور یہ اِس طرح ہوا کہ وہ معمولی بیمار تھا آپ اسے دیکھنے کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے لیے دوائی کی ایک پڑیا تجویز کی۔ شاید اس کے گلے میں کوئی نقص تھا آپ نے وہ دوا تجویز فرما کر لڑکے کی والدہ سے کہا کہ یہ پڑیا اسے ابھی کِھلا دی جائے۔ آپ فرماتے تھے اُسی وقت بچے نے مجھے کہا ابّا! مجھے ایک گھوڑا لے دو۔ آپ باہر نکلے اور ایک رئیس سے جو گھوڑوں کا اچھا واقف تھا بات کرنے لگے کہ ہمیں ایسا گھوڑا چاہیے کہ اتنا قد ہو اور اتنی قیمت ہو۔فرماتے تھے ابھی میں اُس سے باتیں ہی کررہا تھا کہ نوکر دوڑا ہوا آیا اور کہنے لگا لڑکا فوت ہوگیا ہے۔ مَیں جو گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ پڑیا جب اُس کے منہ میں ڈالی گئی تو اسے اُچّھو آیا اور ساتھ ہی اس کا دم نکل گیا۔ آپ فرماتے تھے مجھے اِس کا اتنا صدمہ ہوا، اتنا صدمہ ہوا کہ جب مَیں نماز کے لیے کھڑا ہوا تو میرے منہ سے اَلْحَمْدُ لِلہ نہ نکلے اور بار بار میرے دل میں یہی خیال آئے کہ کس طرح اچانک میرا لڑکا فوت ہوگیا ہے۔ اِس پر یکدم میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ نورالدین! تجھے آخر یہی خیال ہے کہ تیرا یہ لڑکا تیری یادگار ہوتا اور تیرا نام دنیا میں باقی رہتا۔ لیکن اگر بڑے ہوکر یہ لڑکا چور بن جاتا تو پھر تیری کیا عزت ہوتی یا اگر بڑا ہوکر یہ ظالم ہوتا، ڈاکو بن جاتا اور بنی نوع انسان کو دکھ پہنچاتا تو لوگ صرف اس کو گالیاں نہ دیتے بلکہ تجھے بھی گالیاں دیتے۔ ایسی حالت میں بچے کو اٹھا لینا یہ تو اللہ تعالیٰ کا تجھ پرا حسان ہے اور تیرا فرض ہے کہ تُو اس کے اس احسان کا شکر ادا کرے۔ آپ فرماتے تھے جب میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تو اُس وقت بے اختیار میری زبان سے بڑے زور کے ساتھ نکلا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اور چونکہ مَیں نے بڑی بلند آواز سے اور چیخ کر کہا تھا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَاس لیے مقتدی بھی حیران ہوگئے کہ یہ کیا ہوا۔ چنانچہ بعد میں انہوں نے مجھ سے پوچھا اور مَیں نے بتایا کہ آج اِس طرح خدا نے میری راہ نمائی فرمائی ہے ورنہ میرے دل کو سخت صدمہ پہنچا تھا۔
    تو حقیقت یہی ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی ہر تقدیر پر خوش ہوتا ہے گو وہ اس کی مرضی کے مطابق ہو یا نہ ہو۔مگر جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی ہی تقدیر پر خوش ہوتا ہے وہاں وہ آخر تک مایوس نہیں ہوتا۔ ہم نے دیکھا ہے، اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور متواتر دیکھا ہے کہ جب کوئی چیز بظاہر بالکل ناممکن نظر آتی ہو اور ہم سمجھتے ہوں کہ وہ نہیں ہوسکتی اُسی وقت خدا تعالیٰ کا فعل اس ناممکن امر کو ممکن بنا دیتا ہے۔ ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی زندگی میں، خود اپنی ذات میں اور جماعت کے متعلق جو دعائیں کی جاتی ہیں ان کے نتیجہ میں یا دعاؤں کے بغیر خدا تعالیٰ کی رحمانیت کے فضل کے نتیجہ میں ہم نے ایسی سینکڑوں مثالیں دیکھی ہیں کہ انسان جب زندگی سے بالکل مایوس ہوجاتا ہے، عزت سے بالکل مایوس ہوجاتا ہے، حالات کی درستی سے بالکل مایوس ہوجاتا ہے، اقتصادی یا سیاسی نقصانات کی تلافی سے بالکل مایوس ہوجاتا ہے اور جب اسے نظر آتا ہے کہ اب اِس بات کا ہونا بالکل ناممکن ہے اُسی وقت خدا کی تقدیر آسمان سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور جس کام کے متعلق وہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ کبھی نہیں ہوسکتا اِتنی آسانی سے ہوجاتا ہے کہ کہنے والے کہتے ہیں یہ بات تو آخر ہو ہی جانی تھی اِس میں عجیب بات کونسی ہے۔ جس طرح انگریزوں کو جب ابتدا میں شکستیں ہونی شروع ہوئیں تو مَیں نے قبل از وقت اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر شائع کردیا تھا کہ انگریزوں کو فتح ہوگی۔ اُس وقت حالات ایسے مایوس کُن تھے کہ سب لوگ کہتے تھے انگریزوں کا فتح پانا بالکل ناممکن ہے۔ پرائم منسٹر نے بھی کہا کہ چھ مہینے پہلے اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ ہم اس جنگ میں فتح حاصل کر لیں گے تو ہم اسے پاگل سمجھتے۔ لیکن جب یہ واقعہ ہو گیا اور چھ ماہ کے بعد جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی انگریزوں کی حالت بدلنی شروع ہوئی اور انہوں نے فتوحات حاصل کرنی شروع کردیں تو بہت لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ کونسی عجیب بات تھی ہر شخص انگریزوں کی طاقت کو دیکھتے ہوئے قیاس سے کہہ سکتا تھا کہ آخر انہی کو فتح ہوگی۔ تو بسااوقات جن باتوں کو انسان ناممکن قرار دیتا ہے جب اللہ تعالیٰ ان کے متعلق آسمان پر فیصلہ کردیتا ہے کہ وہ ہوجائیں تو وہ باتیں ایسی آسانی کے ساتھ ہوجاتی ہیں کہ بعد میں لوگ ان حالات کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ایسا ہو ہی جانا تھا اس میں انوکھی بات کونسی ہے؟
    غرض مومن کے لیے دونوں حالتیں ضروری ہیں۔ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ پر سچا یقین رکھے اور اس کی نصرت اورتائید سےایک لمحہ کے لیے بھی مایوس نہ ہو۔ کیونکہ ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ ناممکن چیزوں کو وہ ممکن بنا دیتا ہے اور جب انسان کی عقل کسی کام کو ہونے والا قرار نہیں دیتی اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے ہونے والا بنا دیتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنے بندوں سے اپنی مرضی بھی منوانا چاہتا ہے۔ بہرحال وہ بادشاہ ہے اور حق رکھتا ہے کہ جس طرح چاہے کرے۔ کسی انسان کا اختیار نہیں کہ وہ یہ کہہ سکے کہ اس نے ایساکیوں کیا؟ رَضِيْنَا بِاللّٰہِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا وَ بِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَبِالْقُرْاٰنِ حَکِیْمًا۔ ’’ (الفضل 18؍اپریل 1944ء)
    ٭ اِس خطبہ کے بعد جماعت لاہور نے خاص طور پر نماز کی جماعت کے وقت میں آنا شروع کردیا اور جہاں تک ہوسکا میری موجودگی سے فائدہ اٹھایا۔ فَجَزَاھُمُ اللہُ اَحْسنَ الْجَزَاءِ۔منہ
    ٭ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خیال درست تھا۔ یہ صاحب ہوشیارپور ہی کے تھے اور شیخ مہر علی صاحب جن کے مکان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹھہرے تھے اور جہاں آپ کو 1886ء کے اشتہار والے الہامات ہوئے تھے اور جہاں آپ نے وہ اشتہار لکھا تھا، وہ گو قریبی رشتہ دار تو ان کے نہ تھے مگر ان کی برادری میں سے تھے۔منہ
    1 :ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ما جاء فی کراھیۃ الکلام والامام یخطب
    2 :بخاری کتاب الجھاد بابُ فضلِ النَّفَقَۃِ فی سبیل اللہ
    3 :بخاری کتاب الجھاد باب یقاتل من وراء الامام ویتقی بہ
    4 :الانعام:164
    5 : عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ(التوبۃ: 43)
    6 :زاد المعاد، حصہ سوم، صفحہ 50 (اردو ترجمہ از رئیس احمد جعفری)مطبوعہ انٹرنیشنل پریس کراچی۔1962ء
    7 :المائدة:25
    8 :ضمیمہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد 17صفحہ77
    9:بخاری کتاب الاستئذان باب السلام للمعرفة وغیر المعرفةِ
    1 :الکوثر:1تا آخر
    2 :المنجد
    3 :بخاری، کتابُ الْانبیاء، بابُ نزولِ عیسی ابن مریم
    1 :المائدۃ 25
    2 :متی، باب 26، آیات 69 تا 74
    3 :اسد الغابہ جلد ثالث صفحہ 743 زیر عنوان عمرو بن العاص۔ دارالفکر بیروت لبنان 1998ء(مفہوماً)
    1 :گڑھیاں(گَڑھی):چھوٹا قلعہ(فیروزاللغات اُردو جامع )
    2 :ٹرنچز(TRENCHES)
    3 :البقرۃ:144
    4 :بیّے (بَیّا):چھوٹی زرد رنگ کی چڑیا جو تنکوں سے بہت خوبصورت اور مضبوط گھونسلا بناتی ہے (اُردو لغت جلد دوم۔ شائع کردہ ترقی اردو بورڈ کراچی)
    5 : تذکرہ صفحہ164 ایڈیشن چہارم
    6 :متی، باب 25، آیات 1 تا 13
    7 :کنزالعمال۔ کتاب القیامۃ باب خروج الدجال۔جزء 14 صفحہ327 الطبعۃ الخامسۃ 1981ء۔ الناشر مؤسسۃ الرسالۃ
    8 : تذکرہ صفحہ144،طبع چہارم
    9 :قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ (یوسف:86)
    10:تذکرہ صفحہ163 طبع چہارم
    11:تذکرہ صفحہ622 ایڈیشن چہارم
    12: اشتہار 20 فروری 1886ء، تذکرہ صفحہ139طبع چہارم
    13: اشتہار 20 فروری 1886ء۔ تذکرہ، صفحہ139 طبع چہارم
    14:تذکرہ صفحہ165طبع چہارم
    15:بنی اسرائیل:82
    16: تذکرہ صفحہ137ایڈیشن چہارم میں الفاظ اِس طرح ہیں "تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے"
    17:تذکرہ صفحہ102 ایڈیشن چہارم
    1 :مریم:30
    2 :تذکرہ صفحہ139 حاشیہ طبع چہارم
    3 :تبلیغِ رسالت جلد اوّل صفحہ89
    4 :تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ 76، اشتہار 8 اپریل1886ء
    5 : تذکرہ صفحہ25 ایڈیشن چہارم
    6 :اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِ(ابراہیم 25)
    7 :ترمذی ابواب الرؤیا باب قولہ لھم البشرٰی فی الحیوٰۃ الدنیا (یَرَاھَا الْمُؤْمِنُ اَوْ تُرٰی لَہٗ)
    8 :آل عمران:56
    9 :الفاتحۃ:5
    10:الفاتحۃ:4
    11:البقرة:144
    12:بخاری کتاب المغازی بابُ مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم وَوَفَاتہِ
    1 :مسلم کتاب البر والصلۃ باب النھی عن قول ھلک الناس میں الفاظ اِس طرح ہیں:" ھَلَكَ النَّاسُ فَھُوَ اَھْلَـکَھُمْ"۔
    2 :وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(السبا:29)
    3 :الاحزاب:22
    4 :درثمین اُردو نظم "بشیر احمد شریف احمد اور مبارکہ کی آمین"
    5 :مسلم کتاب الطھارۃ باب استحباب اطالۃ الغرّۃ والتحجیل فی الوضوء
    6 :الفضل یکم فروری1944ء
    7 :بخاری کتاب الدعوات باب فضل التسبیح
    8 : قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ(الزخرف:82)
    9 :لطیفہ:اچھی چیز۔ شگوفہ۔ چُٹکلا(فیروز اللغات اردو جامع)
    10:التکویر:14
    11:تذکرہ صفحہ 402طبع چہارم
    1 :بخاری کتاب المغازی باب نزول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم الحجر وَ کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الحجر و مسلم کتاب الزھد باب النَّھْیِ عَنِ الدُّخُوْلِ عَلٰی اَھْلِ الْحجر اِلَّا مَنْ یَدْ خُلُ بَاکِیًا
    2 :التین:4
    3 :الرعد:12
    4 : تذکرہ صفحہ791۔ایڈیشن چہارم
    5 :تذکرہ صفحہ466، 489 ایڈیشن چہارم میں الفاظ اِس طرح ہیں"وَاللہُ یَأْبٰی اِلَّا اَنْ یُّتِمَّ اَمْرَكَ"
    6 :الاخلاص:2
    7 :ٹنل:زمین دوز راستہ۔ ریلوے یا سڑک کے لیے زمین دوز راستہ
    8 :الفاتحۃ:2
    9 :بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الحشرباب قولہ "وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِم"۔
    10 :متی باب 25 آیات 10تا12
    1 :الحجر:3
    1 :الحکم 10 نومبر 1902ء صفحہ3 (مفہومًا)
    2 :المائدۃ:111
    3 :متی باب 9 آیت 18تا26
    4 :ترمذی ابواب المناقب مناقب ابو حفص عمر بن الخطاب باب اِسْلَامِ عُمَرَ عَلٰی اِثْرِ دُعَائِہٖ
    5 :سیرت لابن ہشام جلد 2صفحہ 59 زیر عنوان وفاۃ ابی طالب وخدیجہ ۔ مصطفٰی البابی الحلبی واولادہ بمصر1936 ء
    6 :بخاری کتاب الجنائز باب قول النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یُعَذَّبُ المیّتُ بِبَعْضِ بُکَاءِ اَھْلِہٖ اِذَا کَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِہٖ
    7 : سنن النسائی کتاب الطھارۃ باب مواکلۃ الحائض و الشُّربِ مِنْ سؤرھا
    8 :سیرت ابن ہشام جلد 4 صفحہ 292 زیر عنوان ابتداء شکوی رسول اللہ ﷺ ۔ مطبوعہ مصطفٰی البابی الحلبی واولادہ بمصر 1936ء
    ------------------------------------------------------------

    ------------------------------------------------------------

    ------------------------------------------------------------





    10
    چند نہایت ہی اہم باتیں
    (فرمودہ 10 مارچ4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "حضرت سیدہ اُمِّ طاہر احمد صاحبہ کی وفات:اس ہفتے جو میرے گھر میں ایک واقعہ ہوا ہے یعنی میری بیوی اُمِّ طاہر فوت ہوئی ہیں اس کے متعلق مَیں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں بہت بڑا درد پایا جاتا ہے۔ خصوصاً عورتیں اور غریب عورتیں بہت زیادہ اس درد کو محسوس کرتی ہیں کیونکہ میری یہ بیوی جو فوت ہوئی ہیں ان کے دل میں غرباء کا خیال رکھنے کا مادہ بہت زیادہ پایا جاتا تھا۔ ان کی بیماری کے لمبے عرصہ میں جماعت نے جس قسم کی محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے وہ ایک ایسی ایمان بڑھانے والی بات ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ مومن واقع میں ایک ہی جسم کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ بلکہ حق یہ ہے کہ جماعت کی ہمدردی گو دعاؤں کی شکل میں ہی ہوتی تھی لیکن قادیان کے لوگوں کے متعلق جب مجھے معلوم ہوتا کہ وہ بار بار مسجد میں جمع ہوکر ان کی صحت کے لیے دعائیں کرتے ہیں تو کئی دفعہ مجھے شک گزرتا کہ ایسا نہ ہو ہمارا یہ اضطرار خدا کو ناپسند ہو۔
    جہاں تک میاں اور بیوی کا تعلق ہوتا ہے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے گھر میں آنے کے لیے چُنا اور ان کی پہلی شادی ہمارے چھوٹے بھائی مبارک احمد مرحوم سے ہوئی تھی۔ اس لیے ان کا انتخاب گویا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی کیا ہوا تھا۔1921ء کے شروع میں وہ مجھ سے بیاہی گئیں اور اب 1944ء میں وہ فوت ہوئی ہیں۔ اس طرح 23 سال کا لمبا عرصہ انہوں نے میرے ساتھ گزارا۔جو لوگ ہمارے گھر کے حالات جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ مجھے ان سے شدید محبت تھی لیکن باوجود اس کے جو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اُس پر کسی قسم کے شکوہ کا ہمارے دل میں پیدا ہونا ایمان کے بالکل منافی ہوگا۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ہی ہے۔ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہی تعلیم دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی یہی تعلیم دی ہےکہ جب کوئی شخص وفات پا جائے، ہمارا اصل کام یہی ہوتا ہے کہ ہم کہہ دیں اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ1 یہ کیسی لطیف تعزیت ہے ہمارے رب کی طرف سے۔اِس سے بڑھ کر بندہ بھلا کیا تعزیت کرسکتا ہے۔ کہتا تو بندہ ہی ہے اِنَّا لِلّٰهِ۔ مگر سکھانے والا خدا ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ نے یہ سکھایا اور بندے کے مُنہ سے اسے جاری کیا تو وہ الفاظ درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہیں۔ ان الفاظ کے معنے یہ ہیں کہ مرنے والا اور باقی رہنے والے سب اس کے ہی ہیں۔ پس اگر وہ اللہ کی چیز تھی اور ہم بھی اسی کے ہیں تو اللہ تعالیٰ اگر اپنے ایک غلام کے پاس رکھوائی ہوئی امانت اس سے واپس لے گیا تو اسے شکوہ کا کیا حق ہے۔ مگر یہ پہلا حصہ کچھ استغناء ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرما کر دوسرا حصہ اس کے ساتھ لگا دیا کہ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۔اس طرح اس تعزیت کو مکمل فرما دیا۔ پہلے فرمایا تھا کہ اگر ہم تم کو کوئی انعام دیتے ہیں اور پھر وہ انعام تم سے لے لیتے ہیں تو تمہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ میرے محسن نے فلاں چیز مجھے دی تھی اور میں اس سے پانچ سال یا دس سال یا بیس سال یا تیس سال یا چالیس یا پچاس سال تک فائدہ اٹھاتا رہا۔ اس کے بعد وہ اپنی امانت مجھ سے کیوں لے گیا؟ اس بات پر اسے شکوے کا کیا حق ہے۔ یہ تو اُس کا احسان تھا کہ جتنی مدت وہ چیز اس کے پاس رہی اُس سے وہ پوری طرح فائدہ اٹھاتا رہا۔ اب اس کے بعد فرماتا ہے کہ یاد رکھو اگر تمہارا کوئی عزیز ہم نے تم سے جُدا کردیا ہے تو مومن کو یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ دنیا سے کسی کا اٹھ جانا دائمی جدائی کا موجب تو نہیں ہوتا۔ اگر یہ دائمی جدائی ہوتی اور فرض کرو کہ بَعْدَ الْموت کوئی زندگی نہ ہوتی تب بھی کیا خدا کا حق نہیں تھا کہ جو چیز اس نے دی ہے وہ اسے واپس لے؟ لیکن وہ زائد وعدہ یہ کرتا ہے کہ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۔ایک شخص اگر خدا کی طرف گیا ہے تو ہم بھی ایک دن اسی کی طرف چلے جائیں گے۔فرق صرف یہ ہے کہ کسی نے پہلے سفر طے کر لیا ہے اور کوئی بعد میں سفر کے لیے چل پڑے گا ورنہ منزلِ مقصود سب کی ایک ہی ہے اور جب منزلِ مقصود ایک ہی ہے تو اس میں گھبراہٹ کی کون سی بات ہے۔ بچے بعض دفعہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ولایت بھیج دئیے جاتے ہیں۔ اب کسی کی زندگی کا کیا اعتبار ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک یا دو دن بھی اَور زندہ رہے گا۔ نہ والدین جانتے ہیں کہ انہوں نے اتنا عرصہ زندہ رہنا ہے اور نہ لڑکے جانتے ہیں کہ ان کی زندگی کب تک ہے۔ مگر باوجود اس کے جب لڑکوں کو پڑھنے کے لیے ولایت بھیجا جاتا ہے تو پانچ پانچ چھ چھ بلکہ دس دس سال تک مائیں صبر کرتی ہیں، باپ صبر کرتے ہیں اور وہ گھبراہٹ سے کام نہیں لیتے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آخر ہمارے بچے ایک دن آ جائیں گے۔ یا اگر کسی سفر پر کوئی شخص پہلے چل پڑتا ہے اور دوسروں نے بھی وہیں جانا ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں ہم چند دن کے بعد اس سے جا ملیں گے۔ جانا تو ہے ہی۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّا لِلّٰهِ پہلے یہ اقرار کرو کہ خدا نے ہم پر جو احسان کیا ہے ہم اس کے شکرگزار ہیں۔ پھر یہ بھی سمجھ لو کہ تم سارے ایک دن خدا کے پاس جمع ہونے والے ہو اور اس کے پاس پہنچ کر اکٹھے ہو جاؤ گے۔ پس فرماتا ہے جب تم سارے ایک دن اکٹھے ہونے والے ہو تو خدا کے فعل پر شکوہ یا جزع فزع کتنی بڑی نادانی ہے۔ اگر تم جزع فزع کرو گے تو اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا اپنے عزیزوں سے آخری اتّصال کمزور ہوجائے گا کیونکہ جس خدا کے اختیار میں یہ ہے کہ وہ اگلے جہان میں سب کو اکٹھا کردے اُسی کے اختیار میں یہ بھی ہے کہ وہ اگلے جہان میں بعض کو جُدا جُدا رکھے۔ پس مومن کی اصل تعزیت اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَہی ہے۔باقی جہاں تک جسم کا تعلق ہے جسم جب کٹتا ہے تو ضرور دکھ پاتا ہے۔ صحابہؓ جنگوں میں شہید ہوئے اور اپنی خوشی سے شہید ہوئے۔ آخر بدر یا اُحد یا اَحزاب کے موقع پر کون ان کو پکڑ کر لے گیا تھا۔ وہ اپنی خوشی سے گئے اور اپنی خوشی سے شہید ہوئے لیکن جہاں تک جسم کے کٹنے کا سوال ہے ان کو ضرور تکلیف ہوئی۔ پس جسم بے شک دُکھ پاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہوتاہے اُس بندے پر جس کی روح خدا کے آستانہ پر جھکی رہے اور اُس سے کہے کہ اَے میرے رب! مجھے کوئی شکوہ نہیں۔ تُو نے جو کچھ کیا ٹھیک کیا۔ یہی عین مصلحت تھی اور یہی چیز میرے لیے بہتر تھی۔ تیرا فعل بالکل درست ہے۔ اور گو مجھے سمجھ میں نہ آئے مگر میں یہی کہتا ہوں کہ تیرا کوئی کام حکمت کے بغیر نہیں۔مَیں نے جہاں تک ہوسکا مرحومہ کے علاج کے لیے کوشش کی۔ لمبی بیماری تھی۔ لیکن اس لمبی بیماری میں خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق عطا فرمائی کہ مَیں نے ان کی ہر طرح خدمت کی اور ان کے علاج کے لیے کوشش کی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے میرے لیے ثواب کا ایک موقع بہم پہنچا دیا۔ اور اس بات کا بھی کہ میاں بیوی میں بعض دفعہ رنجشیں ہوجاتی ہیں خصوصاً جس کی کئی بیویاں ہوں اُن میں سے بعض کہہ دیا کرتی ہیں کہ ہم سے محبت نہیں فلاں سے ہے، چاہے اُس سے زیادہ محبت ہو۔ مگر اس قسم کے شکوے بعض دفعہ پیدا ہو جایا کرتے ہیں۔ مجھے ان کی اِس لمبی بیماری کی وجہ سے بہت تکلیف تھی مگر مَیں سمجھتا تھا اس کے کئی فوائد بھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ مَیں سمجھتا تھا کم سے کم میری خدمت کی وجہ سے اگر ان کے دل میں اس قسم کا کوئی خیال ہوگا بھی کہ میرا خاوند مجھ سے محبت نہیں کرتا رہا، میری قدر نہیں کرتا تو یہ خیال اُن کے دل سے جاتا رہے گااور ان کی وفات اطمینان کی وفات ہوگی اور یہ سمجھتے ہوئے ہوگی کہ میرا خاوند مجھ سے محبت کرتا ہے۔ دوسری حکمت اس میں یہ تھی کہ ہر انسان سے اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ غلطیاں اور کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ لمبی بیماریاں بے شک انسان کے لیے بڑے دکھ کا موجب ہوتی ہیں مگر لمبی بیماریوں سے مرنے والا بشرطیکہ وہ مومن ہو خدا تعالیٰ کی مغفرت کا مستحق ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی بیماری کے ایام میں توبہ کی توفیق دے دیتا ہے، استغفار کی توفیق دے دیتا ہے، دُعا کی توفیق دے دیتا ہے اور یہ سب چیزیں مل کر اُس کی مغفرت اور ترقیٔ درجات کا باعث بن جاتی ہیں۔ تیسری حکمت یہ ہے کہ ایسی لمبی بیماریوں میں چونکہ بیمار کے رشتہ دار بھی کثرت سے دعائیں کرتے ہیں اس لیے خدا کے حضور جب وہ دعائیں ظاہری صورت میں قبول ہونے والی نہیں ہوتیں تو وہ اُن دعاؤں کے بدلہ میں مرنے والے کی عاقبت کو درست کردیتا ہے اور فرماتا ہے ہم نے اسے دنیا میں تو صحت نہیں دی مگر آخرت میں اس کی روح کو صحت دے دی ہے۔
    پھر ہمارے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ ہے اور درحقیقت تمام کامل اور سچے مومنوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ قبل از وقت ایسی خبریں دے دیتا ہے جن کے پورے ہونے پر رنج میں بھی خوشی کا سامان پیدا ہوجاتا ہے۔آج سے بارہ تیرہ سال پہلے مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ اُمّ طاہر کا آپریشن ہوا ہے مگر مَیں نے دیکھا کہ ان کا آپریشن دہلی میں ہوا ہے اور مجھے اطلاع ملی ہے کہ اُن کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے۔مَیں اس رؤیا کی وجہ سے باوجود اس کے کہ وہ بیمار تھیں اور لمبے عرصہ سے بیمار تھیں آپریشن سے گھبراتا تھا۔ کئی دفعہ بعض دوستوں نے کہا کہ دہلی میں ان کا آپریشن ہوجائے مگر مَیں رُکتا رہا اور چونکہ خواب کی اگر ظاہری شکل بدل جائے تو اس صورت میں بھی وہ بعض دفعہ ٹل جاتی ہے اس لیے ان کو لاہور کے ہسپتال میں داخل کردیا گیا۔ وہاں ایسی صورت پیدا ہوگئی کہ سوائے آپریشن کرنے کے اور کوئی چارہ نہ رہا۔ آپریشن کے بعد دوسرے دن ان کو دل کی کمزوری کا دَورہ ہوا اور خطرہ ہوگیا کہ کہیں ہارٹ فیل نہ ہوجائے۔ اُس وقت مَیں نے ان کے لیے دعا کرنی شروع کردی۔ جب مَیں دعا کررہا تھا تو یکدم مجھے یہ رؤیا یاد آگیا اور میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ اِس ہسپتال کا نام لیڈی ولنگڈن ہاسپٹل ہے اور لیڈی ولنگڈن وائسرائے کی بیوی تھیں جس کا صدر مقام دہلی ہوتا ہے۔ پس رؤیا میں جو دکھایا گیا تھا کہ اُن کا آپریشن دہلی میں ہوا اور اس کے بعد اُن کا ہارٹ فیل ہوگیا اِس سے مراد کہیں ایسا ہسپتال نہ ہو جس کی دہلی سے کوئی نسبت ہو۔ اس سے مجھے سخت تشویش ہوئی اور مَیں نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سے اِس کا ذکر کیا کہ اس خواب کا خیال آکر مجھے سخت تشویش ہے۔کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنی کوئی تقدیر پوری کرنا چاہتا ہے تو باوجود علم کے آنکھوں پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ مَیں سمجھتا رہا کہ اس سے مراد شہر دہلی کا ہسپتال ہے مگر اب خوف پیدا ہو رہا ہے کہ کہیں دہلی کے کسی آدمی سے تعلق رکھنے والا ہسپتال مراد نہ ہو۔ بہرحال اُس وقت مَیں نے ان کی صحت کے لیے خاص طور پر دُعا شروع کردی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُس وقت ان کو کچھ آرام بھی دے دیا۔ اس کے بعد جب مَیں جنوری کے آخر میں یہاں آیا تو مَیں نے ایک اَور رؤیا دیکھا۔ جب مَیں یہاں آیا ہوں اُس وقت برابر یہ خبریں آتی رہیں کہ ان کی صحت اچھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیّت ایسی ہی تھی کہ صحیح حالات کا علم نہ ہوسکا۔ ڈاکٹر غلام مصطفٰی صاحب اس ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بڑے اخلاص اور محبت سے تیمارداری میں حصہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ میری نیت اُس وقت یہی تھی کہ مَیں جمعہ پڑھا کر قادیان سے جاؤں اور اگلا جمعہ پھر قادیان میں ہی واپس آکر پڑھاؤں۔ لیکن ڈاکٹر غلام مصطفٰی صاحب نے یہ اطلاعات دینی شروع کیں کہ مریضہ بالکل اچھی ہیں اور چند دن میں ان کو ہسپتال سے فارغ کردیا جائے گا۔ اس وجہ سے مَیں نے مناسب سمجھا کہ مَیں اگلے جمعہ تک قادیان ہی ٹھہروں مگر واقعہ یہ تھا کہ اس عرصہ میں ان کا دوبارہ آپریشن ہوا تھا اور ان کی صحت گر رہی تھی۔چنانچہ جمعرات کی شب کو فون آیا کہ ان کی حالت بہت نازک ہے اور میرے نہ آنے کی وجہ سے وہ بہت گھبرا رہی ہیں۔ ڈاکٹر میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب ان کے بھائی ان کو ملنے کے لیے گئے تو انہوں نے آکر شیخ بشیر احمد صاحب کو فون پر ان کی نازک حالت کی اطلاع دی اور مزید کہا کہ وہ مجھے اطلاع کر دیں کہ آپ کے نہ آنے کی وجہ سے مریضہ بہت گھبرائی ہوئی ہیں۔ چنانچہ مَیں جمعہ پڑھا کر لاہور گیا اور اُس وقت مجھے معلوم ہوا کہ اُن کے پیٹ میں دوبارہ شگاف دیا گیا ہے اور حالت پہلے سے خراب ہے۔
    اس قادیان کے قیام کے ایام میں جبکہ ان کی صحت کے متعلق مجھے اچھی خبریں آرہی تھیں مَیں نے خواب میں دیکھا کہ شیخ بشیر احمد صاحب مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُمِّ طاہر کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے۔ پھر کہنے لگے انہوں نے آپ تک پہنچانے کے لیے مجھے کہا تھا کہ سو روپیہ فلاں عورت کو دے دیں اور سوروپیہ فلاں عورت کو دے دیں۔ ایک عورت کا انہوں نے نام بتایا اور دوسری کا نام انہوں نے نہ بتایا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کا نام بھول گئے ہیں مگر ساتھ ہی کہا کہ عجیب بات ہے کہ جب وہ وصیت کررہی تھیں اور ان کا دل ساکت ہو رہا تھا تو اُن کی طبیعت بالکل مطمئن تھی اور ان کے دل پر اُس وقت گھبراہٹ کے کوئی آثار نہ تھے۔ یہ خواب مَیں نے لاہور میں بہت سے دوستوں کو سنا دی تھی۔ خواب کا بعض دفعہ ایک حصہ پورا کردیا جائے تو وہ ٹل جایا کرتی ہے اِس بناء پر مَیں نے یہاں سے جاکر اُن کو دو سو روپیہ دیا اور کہا کہ ایک سو روپیہ تو فلاں عورت کو دے دو اور ایک سو روپیہ جس عورت کو چاہو دے دو مگر شرط یہ ہے کہ پورا سَو دو۔ تقسیم کرکے مختلف مستحقوں کو نہ دو۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس عورت کو انہوں نے سو روپیہ بھجوایا اُس کے متعلق بعد میں معلوم ہوا کہ اُس نے دو دن پہلے کسی سے کہا تھا کہ میرے بیٹے کو سوروپیہ کی ضرورت ہے۔ میری فلاں فلاں چیزیں فروخت کردو اور اس کے لیے روپیہ کا انتظام کردو۔
    اس کے بعد جب ہم ان کو دوسرے ہسپتال میں لے گئے تو ایک دن جب مَیں اُن کے لیے دعا کرکے سویا تو مجھے رؤیا میں ایسا معلوم ہوا جیسے اس مکان کی سیڑھیوں پر میرے ساتھی گھبرائے ہوئے چڑھ رہے ہیں۔ مَیں اُن کے قدموں کی آواز سن کر اور ان کی گھبراہٹ محسوس کرکے باہر نکلا تاکہ معلوم کروں کہ کیا بات ہے۔ جب مَیں باہر آیا تو مَیں نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں گاگریں ہیں۔ انہوں نے گاگریں میرے سامنے رکھ دیں اور کہا کہ سب نلکے سُوکھ گئے ہیں، کہیں پانی نہیں ملتا۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ کہیں سے پانی تلاش کرو۔ اِس پر انہوں نے کہا کہ حضور سب ہی نلکے سُوکھ گئے ہیں۔مَیں خواب میں ایسا سمجھتا ہوں کہ اس وقت پانی کی سخت ضرورت ہے اور زور دیتا ہوں کہ کہیں سے پانی تلاش کرو۔ مگر وہ یہی کہتے ہیں کہ سب نلکے سُوکھ گئے ہیں۔ اس کے بعد مَیں نے دیکھا کہ کوئی شخص بہت تلاش کرنے کے بعد پانی کا ایک لوٹا لایا ہے۔ مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ مَیں نے اُس سے پانی کا لوٹا لیا ہے یا نہیں۔پھر اس رؤیا کے معًا بعد یا پہلے جاگتے ہوئے جبکہ مَیں سو نہیں رہا تھا مَیں نے دیکھا کہ کوئی شخص میرے کان پر جھکا اور آہستہ سے میرے کان میں اُس نے کہا اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔ مَیں نے دوستوں کو یہ خواب سنایا تو انہوں نے کہا یہ بڑا اچھا خواب ہے کیونکہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا گیا ہے۔ مگر مَیں نے کہا مجھے تو یہ منذر معلوم ہوتا ہے کیونکہ آنے والا دُور سے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا کرتا ہے اور جانے والا پاس سے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا کرتا ہے۔ پانی نہ ملنے کے معنے بھی یہی تھے کہ ان کی زندگی کا پانی ختم ہوچکا تھا اور ایک لوٹا پانی کے معنے یہ تھے کہ اب وہ تھوڑا عرصہ ہی زندہ رہیں گی۔ چنانچہ اس رؤیا کے بعد وہ صرف اڑتالیس گھنٹے زندہ رہیں۔ اس کے بعد وفات پاگئیں۔ تو دیکھو کس طرح ساری باتیں پوری ہو گئیں۔ بارہ سال پہلے ایک خواب دیکھی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کا آپریشن ہوگا اور آپریشن کے بعد ان کی وفات دل کے کمزور ہو جانے کی وجہ سے، نہ کہ اصل آپریشن کی وجہ سے ہوگی۔ چنانچہ اس کے بعد وہ بیمار ہوئیں اور انہیں ایک ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں بظاہر علاج کرانا بہت مشکل تھا۔
    مردوں سے علاج کرانا عورتوں پر بہت گراں گزرتا ہے۔ گو شریعت میں اس کی اجازت ہے۔ چنانچہ مَیں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سنا۔ آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ اگر کوئی عورت کسی ایسے مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے جس کی معالج عورتوں میں کوئی نہ ہو اور کسی ماہر مرد ڈاکٹر سے علاج یا آپریشن کی ضرورت آپڑتی ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ عورت مرد ڈاکٹر سے علاج نہیں کراتی اور اس مرض سے فوت ہوجاتی ہے تو ہمارے نزدیک وہ خودکشی کا ارتکاب کرتی ہے۔ تو شریعت میں اس بات کی اجازت ہے مگر پردہ کے لحاظ سے عورتیں عام طور پر مرد ڈاکٹروں سے علاج کرانے سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر ان کی حالت ایسی نازک ہوگئی کہ ان خیالات کو چھوڑنا پڑا اور ایک ایسے ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا جس کا نام دہلی کی ایک خاتون سے منسوب تھا۔
    پھر عجیب بات یہ ہےکہ جس وقت مَیں انہیں روپیہ دینے کے لیے گیا کہ سو روپیہ فلاں عورت کو دے دو اور سو روپیہ جس عورت کو چاہو دے دو اُس وقت صرف ایک عورت ان کے پاس تھی۔ مگر انہوں نے اپنی وفات سے چار پانچ دن پہلے اصرار کیا کہ فلاں عورت کو بھی میرے پاس بھجوا دو۔ چنانچہ جب ان کی موت کا وقت آیا تو دو عورتیں اُن کے پاس تھیں۔ایک اُن کے دائیں طرف بیٹھی تھی اور دوسری ان کے بائیں طرف بیٹھی تھی۔ خواب میں مجھے شیخ بشیر احمد صاحب نظر آئے تھے مگر جب مَیں نے دوستوں کو یہ خواب سنائی تو مَیں نے کہہ دیا کہ میرا خیال ہے اس سے مراد میاں بشیر احمد صاحب ہیں اور خوابوں میں بِالعموم ایسا ہوجاتا ہے کہ ایک شخص کی بجائے دوسرا شخص نظر آجاتا ہے جو اُس کا ہم نام ہو۔ پس میں نے کہا اِس سے مراد میاں بشیر احمد صاحب ہوں گے۔ شیخ بشیر احمد صاحب سے انہوں نے کیا بات کرنی تھی اور اُن سے بات کرنے کا موقع بھی کیا ہوسکتا تھا۔میاں بشیر احمد صاحب چونکہ میرے بھائی ہیں اس لیے میرا خیال ہے کہ اس سے مراد وہی ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وفات کے قریب مَیں بار بار ان کے پاس جاتا انہیں دعائیں سکھاتا کہ یہ یہ دعائیں اِس وقت مانگو۔ پھر جب مَیں واپس آ جاتا تو تھوڑی دیر کے بعد اسی گھبراہٹ میں اپنے ماموں (یعنی ڈاکٹر میر محمداسمٰعیل صاحب) کو بھیج دیتا کہ آپ جائیں اور انہیں قرآن شریف سنائیں۔ جب ان کا آخری وقت تھا، اُس وقت دہلی کا ایک اَور تعلق بھی ظاہر ہوگیا۔ یعنی اُس وقت ڈاکٹر عبداللطیف صاحب دہلی والے ان کو آکسیجن سونگھا رہے تھے۔ پھر یہ جو مَیں نے دیکھا کہ شیخ بشیر احمد صاحب آئے ہیں اور انہوں نے وفات کی اطلاع دی ہے مگر ساتھ ہی کہا ہے کہ ان کا دل مطمئن تھا اور انہیں کوئی تکلیف نہ تھی یہ بھی پورا ہوا۔ چنانچہ جب انہوں نے آخری سانس لیا تو میاں بشیر احمد صاحب میرے پاس آئے۔ اُس وقت اُن پر رقّت طاری تھی۔ وہ مجھ سے بولے نہیں۔ صرف انہوں نے سر سے اشارہ کیا کہ اندر چلے جاؤ۔ مگر وہ کہتے ہیں جب مَیں باہر نکلا تو اُس وقت یہ گہرا اثر تھا کہ اُمّ طاہر کے دل پر موت کا کوئی اثر نہیں اور نہایت اطمینان کی حالت میں انہوں نے آخری سانس لیے ہیں۔ یہاں تک کہ آخری تشنّج جو عام طور پر مریض پر وارد ہوتا ہے وہ بھی نہیں ہوا بلکہ آہستگی سے سانس لیتے ہوئے وہ فوت ہوگئیں۔
    یہ خدا تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ اُس نے اگر ایک طرف سے ہم کو صدمہ پہنچایا تو دوسری طرف اپنی ہستی کا ایک زبردست ثبوت مہیا کرکے ہمارے دلوں کو اطمینان بھی بخشا فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
    اصل بات یہ ہے کہ مجھے اگر کسی چیز سے ان کی وفات کے وقت گھبراہٹ تھی تو وہ یہ تھی کہ لمبی بیماری کے نتیجہ میں بعض دفعہ انسان کے ایمان میں کمزوری پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ خدا نے اُس کی بخشش کا سامان کیا ہے اور اُس نے چاہا ہے کہ اِسی دنیا میں اسے گناہوں سے صاف کردے اور ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کرکے اپنے دربار میں لائے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے اُس پر سختی کی ہے۔ پس میرے دل میں یہ کرب تھا جس کی وجہ سے میں ان کے لیے دعا بھی کرتا اور ان کی آخری گھڑیوں میں انہیں بار بار یہی نصیحت کرتا کہ دیکھو ذکر الٰہی کرو، اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو۔ مَیں اِس وقت دُعا کرتا ہوں تم بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے دل میں دعائیں مانگو۔ مَیں نے اس وقت یہ بھی سمجھا کہ اگر اِس وقت سورہ یٰسین پڑھی جائے تو ممکن ہے اِسی سے ان کا ہارٹ فیل ہوجائے۔ اس لیے مَیں قرآن کریم کی بعض اور سورتیں پڑھ پڑھ کر ان کا ترجمہ کر کرکے انہیں سناتارہا اور جب مَیں کچھ دیر کے بعد ٹھہر گیا تو انہوں نے کہا کہ اَور قرآن پڑھو۔ اِس سے مَیں نے سمجھا کہ انہوں نے اپنی آخری حالت کو معلوم کرلیا ہے۔ چنانچہ اُس وقت میں نے سورہ یٰسین پڑھنی شروع کردی اور مَیں نے دیکھا کہ وہ برابر اپنی زبان سے یہ دعائیں مانگتی چلی جاتی تھیں۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ۔ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِیْثُ۔ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔ اور مَیں نے دیکھا کہ برابر وفات تک ان کے ہونٹ ہلتے رہے۔ اور گو ان کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی مگر ان کے ہونٹوں کے ہلنے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ برابر وہی دعائیں مانگ رہی ہیں۔ مَیں نے ان کی وفات پر جو پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ مَیں نے اُسی جگہ زمین پر خدا تعالیٰ کے حضور شکر کا سجدہ کیا کہ ان کا انجام بالخیر ہوگیا اور تکلیف دہ لمبی بیماری نے ان کے دل میں اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں پیدا کیا اور اس کی قضا پر وہ راضی ہوکر اِس دنیا سے گئیں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔مَیں سمجھتا ہوں درحقیقت ایک مومن کے لیے سب سے بڑی چیز یہی ہے کہ مرتے وقت اُس کی زبان پراور اُس کے عزیزوں کی زبان پر خدا تعالیٰ کا ذکر ہو۔ اُس کا دل مطمئن ہو اور دعائیں اُس کی زبان پر جاری ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو اور اس کی بخشش اُس کا احاطہ کرلے۔
    وفات کے بعد ان کی شکل سے کسی طرح بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ ان کے دل میں موت کے وقت کسی قسم کا کرب تھا۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی اطمینان سے سو رہا ہو۔ بلکہ شاید دیکھنے والا ان کے چہرہ کو دیکھ کر یہ بھی نہ سمجھ سکتا کہ وہ فوت ہو چکی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہم خوش ہیں۔ ہم خوش ہیں کہ اُس نے قبل از وقت ہمیں آنے والے حالات سے مطلع کیا۔ اگر وہ پہلے سے یہ خبریں ہمیں نہ بتاتا تو شاید ہمارے دل کا کرب زیادہ ہوتا۔ مگر جب اس کی بتائی ہوئی خبریں پوری ہوئیں تو ہمارے لیے یہ خوشی کا مقام ہے کہ اُس نے جو کچھ کہا وہ سچ ثابت ہوا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہمارے چھوٹے بھائی مبارک احمد مرحوم سے بہت محبت تھی۔ جب وہ بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اتنی محنت اور اتنی توجہ سے اس کا علاج کیا کہ بعض لوگ سمجھتے تھے اگر مبارک احمد فوت ہوگیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت صدمہ پہنچے گا۔ حضرت خلیفہ اول بڑے حوصلہ والے اور بہادر انسان تھے۔ جس روز مبارک احمد مرحوم فوت ہوا اُس روز صبح کی نماز پڑھا کر آپ مبارک احمد کو دیکھنے کے لیے تشریف لائے۔میرے سپرد اُس وقت مبارک احمد کو دوائیاں دینے اور اُس کی نگہداشت وغیرہ کا کام تھا۔ مَیں ہی نماز کے بعد حضرت خلیفہ اول کو اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔ مَیں تھا، حضرت خلیفہ اول تھے،ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے اور شاید ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی تھے۔ جب حضرت خلیفہ اول مبارک احمد کو دیکھنے کے لیے پہنچے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا حالت اچھی معلوم ہوتی ہے بچہ سو گیا ہے۔ مگر درحقیقت وہ آخری وقت تھا۔ جب مَیں حضرت خلیفہ اول کو لے کر آیا اُس وقت مبارک احمد کا شمال کی طرف سر اور جنوب کی طرف پاؤں تھے۔ حضرت خلیفہ اول بائیں طرف کھڑے ہوئے اور انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھا۔ مگر نبض آپ کو محسوس نہ ہوئی۔ اِس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ حضور مُشک لائیں اور خود ہاتھ کُہنی کے قریب رکھ کر نبض محسوس کرنی شروع کی کہ شاید وہاں نبض محسوس ہوتی ہو۔ مگر وہاں بھی نبض محسوس نہ ہوئی تو پھر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مخاطب ہوکر کہا کہ حضور جلدی مشک لائیں اور خود بغل کے قریب اپنا ہاتھ لے گئے اور نبض محسوس کرنی شروع کی۔ اور جب وہاں بھی نبض محسوس نہ ہوئی تو گھبرا کر کہا حضور! جلد مُشک لائیں۔ اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام چابیوں کے گچھے سے کنجی تلاش کرکے ٹرنک کا تالا کھول رہے تھے۔ جب آخری دفعہ حضرت مولوی صاحب نے گھبراہٹ سے کہا کہ حضور! مُشک جلدی لائیں اور اِس خیال سے کہ مبارک احمد کی وفات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت صدمہ ہوگا باوجود بہت دلیر ہونے کے آ پ کے پاؤں کانپ گئے اور آپ کھڑے نہ رہ سکے اور زمین پر بیٹھ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید نبض دل کے قریب چل رہی ہو اور مُشک سے قوت کو بحال کیا جاسکتا ہو۔ مگر ان کی آواز سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ امید موہوم تھی۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی آواز کے ترعّش2 کو محسوس کیا تو آپ سمجھ گئے کہ مبارک احمد کا آخری وقت ہے اور آپ نے ٹرنک کھولنا بند کردیا اور فرمایا مولوی صاحب! شاید لڑکا فوت ہوگیا ہے۔ آپ اتنے گھبرا کیوں گئے ہیں؟ یہ اللہ کی ایک امانت تھی جو اس نے ہمیں دی تھی اب وہ اپنی امانت لے گیا ہے تو ہمیں اس پر کیا شکوہ ہوسکتا ہے۔ پھر فرمایا آپ کو شاید یہ خیال ہو کہ مَیں نے چونکہ اس کی بہت خدمت کی ہے اس لیے مجھے زیادہ صدمہ ہوگا۔ خدمت کرنا تو میرا فرض تھا جو مَیں نے ادا کردیا اور اب جبکہ وہ فوت ہوگیا ہے ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر پوری طرح راضی ہیں۔ چنانچہ اُسی وقت آپ نے بیٹھ کر دوستوں کو خط لکھنے شروع کر دیئے کہ مبارک احمد فوت ہوگیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی جو اس نے ہم سے لے لی۔
    تو مومن کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ جہاں تک ہوسکتا ہے دوسرے کی خدمت کرتا ہے اور اس خدمت کو اپنے لیے ثواب کا موجب سمجھتا ہے۔ مگر دوسری طرف جب اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوتی ہے تو وہ کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کرتا۔ وہ سمجھتا ہے خدمت کا ثواب مجھے مل گیا ہے۔لیکن جو جزع فزع کرنے والے ہوتے ہیں وہ دنیا کی مصیبت الگ اٹھاتے ہیں اور آخرت کی مصیبت الگ اٹھاتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ بدبخت اَور کون ہوسکتا ہے جو دُہری مصیبت اٹھائے۔ اِس جہان کی مصیبت کو بھی برداشت کرے اور اگلے جہان کی مصیبت کو بھی برداشت کرے۔
    پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ زمانہ اسلام کی فتوحات کا ہے۔ بادشاہ کا کوئی نوکر یہ جرأت نہیں کرسکتا کہ جس وقت اُس کا بادشاہ کامیابی حاصل کرکے واپس آرہا ہو اور فتح کا جشن منا رہا ہو تو وہ اُس کے سامنے کسی قسم کے غم کا اظہار کرے خواہ اُس دن اُس کا باپ مرگیا ہو، اُس کا بیٹا مرگیا ہو، اُس کی بہن مرگئی ہو، اُس کی بیوی مرگئی ہو۔ وہ اپنی آنکھوں کو پونچھتا اور اپنی کمر کو سیدھی رکھتا ہے کیونکہ وہ کہتا ہے آج میرے آقا کی خوشی کا دن ہے۔ آج میرے لیے غم کا اظہار کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح آج ہمارے لیے خوشی کا دن ہے، آج ہمارے لیے مسرت و شادمانی کا دن ہے کہ تیرہ سو سال کے لمبے عرصہ اور ہزار سال کے فیج ِاعوج کے بعد خدا نے پھر چاہا کہ اُس کے بندے اُس کی طرف واپس آئیں۔ خدا نے پھر چاہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا میں پھیلے، خدا نے پھر چاہا کہ توحید کو دنیا میں قائم کرے، خدا نے پھر چاہا کہ شیطان کو آخری شکست دے کر دین کو ہمیشہ کے لیے زندہ کردے۔ پس آج جبکہ ہمارے رب کے لیے خوشی کا دن ہے ہمارے رنج اُس کی خوشی پر قربان۔ ہم اُس کی خوشی کے دن منحوس باتیں کرنے والے کون ہیں۔ جتنے احسانات اللہ تعالیٰ نے ہم پر کیے ہیں، واقع یہ ہے کہ اگر ہمارے جسم کا ذرّہ ذرّہ اور اگر ہماری بیویوں اور ہمارے بچوں کا ذرّہ ذرّہ آروں سے چِیر دیا جائے، تب بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اس کے احسانوں کا کوئی بھی شکریہ ادا کیا ہے۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ مَیں یا تم میں سے سارے اِس مقام پر ہیں۔ مجھ میں بھی کمزوریاں ہیں اور تم میں بھی۔ لیکن سچی بات یہی ہے اور جتنی بات اس کے خلاف ہے وہ یقیناً ہمارے نفس کا دھوکا ہے۔ آج آسمان پر خدا کی فوجوں کی فتح کے نقّارے بج رہے ہیں، آج دنیا کو خدا کی طرف لانے کے سامان کیے جا رہے ہیں، آج خدا کے فرشتے اس کی حمد کے گیت گا رہے ہیں اور ہم بھی اس گیت میں ان فرشتوں کے ہمنوا اور شریک ہیں۔ اگر ہم جسمانی طور پر غمزدہ ہیں اور ہمارے دل زخم خوردہ ہیں تب بھی مومنانہ طور پر ہمارا یہی فرض ہے کہ ہم اپنے رب کی فتح اور اس کے نام کی بلندی کی خوشی میں شریک ہوں تا اس کی بخشش کے مستحق ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور ہمارے غموں کو خود ہلکا کرے کہ روح اس کے آستانہ پر جُھکی ہوئی مگر گوشت پوست کا دل دکھ محسوس کرتا ہے۔
    اس کے بعد مَیں ایک دوسرا سوال لیتا ہوں۔ میرا ارادہ ہے کہ آئندہ نسلوں کو دعا کی تحریک کرنے کے لیے اپنی بیوی کی وفات کے متعلق کچھ اور بھی کہوں۔ لیکن ابھی نہ مَیں خطبہ میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں اور نہ قریب ترین عرصہ میں کوئی مضمون لکھنا چاہتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ الصَّبْرُ لِاَوّلِ وَھْلَۃٍ۔3 صبر پہلے پہلے دنوں میں ہی ہوتا ہے۔ رنج اور دکھ کے کلمات ہمیشہ انسان کے مُنہ سے نہیں نکلتے بلکہ صدمہ جب تازہ ہو اُس وقت اُس کے مُنہ سے نکلتے ہیں۔ پس میں نہیں چاہتا کہ اَوّلِ وَھْلَۃٍ میں مَیں کوئی ایسا مضمون لکھوں۔ بے شک مَیں نے اُن کی خوبیاں ہی بیان کرنی ہیں لیکن خوبیاں بیان کرتے وقت بھی بعض دفعہ ایسا فقرہ انسان کی زبان یا قلم سے نکل جاتا ہے جو رنج کا ہوتا ہے۔ اور گو رنج ایک طبعی چیز ہے، خدا نے اِس سے روکا نہیں مگر پھر بھی مَیں یہی چاہتا ہوں کہ اَوّلِ وَھْلَۃٍ میں مَیں خاموش رہوں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزار پر چالیس دن دعا:دوسرا مضمون جومَیں آج بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مَیں نے اعلان کیا تھا کہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبر پر جاکر چالیس دن دعا کروں گا تاکہ اللہ تعالیٰ اسلام کی فتح اور اُس کے غلبہ کا راستہ کھولے اور احمدیت کی اشاعت میں جو روکیں حائل ہیں اُن کو دور فرمائے۔ مَیں نے اِس کی وجہ بھی بتائی تھی کہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ شروع شروع میں قبر سے روح کا تعلق زیادہ ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک مقام پر فرمایا ہے کہ ارواح کا تعلق قبور سے ضرور ہوتا ہے۔4 اسی طرح اولیاء اللہ نے بہت سے کشوف اس بارہ میں بیان کیے ہیں اور انہوں نے لکھا ہے کہ ابتدا میں انسانی رُوح متوحّش ہوتی ہے اور اپنے رشتہ داروں سے جُدا ہونے کا اُسے صدمہ ہوتا ہے اور وہ گھبرائی گھبرائی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ ایک مقام پر ٹِک جاتی ہے۔ اگر سعید روح ہو تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت کے انعامات سے حصہ دینا شروع کردیتا ہے اور اگر ناپاک روح ہو تو رفتہ رفتہ اُسے دوزخ کا عذاب شروع ہوجاتا ہے۔ حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسانی روح جب قبر میں داخل ہوتی ہے تو اُسے سخت کرب ہوتا ہے۔ اس کے بعد اُس پر جو حالت بھی وارد ہوتی ہے وہ پہلے کرب سے ادنیٰ ہوتی ہے، زیادہ نہیں ہوتی۔5 اس کی وجہ سے اُمّتِ محمدیہ کے صلحاء و اولیاء قبروں پر جاتے اور دعائیں کیا کرتے تھے۔ مرنے والے کے لیے بھی، اپنے لیے بھی اور اس کے دوسرے رشتہ داروں اور عزیزوں کے لیے بھی۔ ان دعاؤں سے مرنے والی روح تسلی پا جاتی ہے اور اس کا توحُّش کم ہوجاتا ہے۔ یہ طریق جو عام طور پر لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ وہ قبر پر قرآن پڑھنے لگ جاتے ہیں، یہ بالکل لغو ہے۔قرآن پڑھنے کا تو ہم کو ثواب ملے گا مُردے کو اس کا کیا ثواب ہوسکتا ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ انسان جب قبر پر جائے تو میت کے لیے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اُس کی مغفرت کرے، اُس کے درجات کو بلند فرمائے اور اپنے قرب کے دروازے اُس کے لیے کھولے۔ پس چونکہ اِس قسم کی دعا کی خاطر مَیں نے کچھ دن متواتر اُمِّ طاہر کی قبر پر جانا تھا اس لیے مَیں نے مناسب سمجھا کہ اِس کے ساتھ ہی اسلام کی فتوحات کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعاؤں کا سلسلہ شروع کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا جائے کہ اے اللہ! تُو نے اِس شخص سے اسلام کی ترقی اور اس کی فتوحات کے متعلق کچھ وعدے کیے تھے۔ یہ شخص اب فوت ہوچکا ہے اور تیرے یہ وعدے بہرحال ہمارے ذریعہ سے ہی پورے ہوں گے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اندر ہزاروں قسم کی کمزوریاں اور کوتاہیاں پائی جاتی ہیں ہم میں ان کمزوریوں کو دور کرنے کی طاقت نہیں لیکن تُو اگر چاہے تو اِن کمزوریوں کو بڑی آسانی سے دور کرسکتا ہے۔ پس تُو اپنے فضل سے ان کمزوریوں کو دور فرما اور اپنے اِس مامور اور پیارے محبوب سے جو تُو نے وعدے کیے ہوئے ہیں اُن کو پورا کرنے کے سامان پیدا فرما دے۔ ہم کمزوروں کو طاقت بخش، ہم ناتوانوں کو قوت عطا فرما اور ہمارے اندر آپ اپنے فضل سے تغیر پیدا فرما تاکہ ہم دین کا جھنڈا دنیا میں گاڑ سکیں اور کفر کو نابود کرسکیں۔
    مَیں نے بتایا تھا کہ دعاؤں میں سے یہ قرآنی دعا بہت اعلیٰ درجہ کی ہے کہ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ۝رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۝6 بعض دوستوں نے اس کے متعلق کہا ہے کہ ایسا نہ ہو لوگوں میں اِس سے مشرکانہ خیالات پیدا ہوجائیں اور اصل حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے وہ قبروں سے استدعا کرنے لگ جائیں۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں ایسے جاہل لوگ موجود ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ قبروں پر دعا کرنے کے نتیجہ میں صاحبِ قبر اُس دعا کو قبول کرکے انسان پر فضل نازل کیا کرتا ہے۔ مگر کسی کی بدی کی وجہ سے ہم نیکی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خانہ کعبہ میں بُت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا کہ بیت المقدس کی بجائے کعبہ کی طرف اپنے منہ پھیر لو۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی اعتراض کیا کرتے تھے مَا وَلّٰهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا7 کہ یہ مسلمان سیدھے طور پر توحید کے ایک مقام کی طرف مُنہ کرکے نمازیں پڑھ رہے تھے اب انہیں کیا ہو گیا کہ وہ ایک ایسے مقام کی طرف مُنہ کرکے نمازیں پڑھنے لگ گئے ہیں جہاں بُت رکھے ہوئے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اُن کے اِس اعتراض کی پروا نہیں کی۔ بے شک مشرکانہ خیالات کو روکنا ایک ضروری چیز ہے۔ مگر ایک فائدہ والی چیز کو بالکل ترک کردینا، اُس سے کسی حد تک فائدہ نہ اٹھانا اور یہ سمجھنا کہ اِس طرح شرک کے خیالات قوم میں پھیل جائیں گے یہ بھی عقلمندی میں داخل نہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو چاہیے تھا کہ جب تک خانہ کعبہ کے تمام بُت توڑ نہ دیئے جاتے اُس وقت تک مسلمانوں کو اُس کی طرف مُنہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم نہ دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک کعبہ تمام بُتوں سےصاف نہیں ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ایک دن یہ تمام بت توڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں توڑے جائیں گے۔ پس وہ اگر چاہتا تو جس طرح پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف مُنہ کرکے نمازیں پڑھ رہے تھے اُسی طرح بعد میں بھی کچھ عرصہ تک پڑھتے رہتے اور اُس وقت تک خانۂ کعبہ کی طرف مُنہ نہ کرتے جب تک خدا تمام بُتوں کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کردیتا۔ مگر خدا نے اِس بات کی کوئی پروا نہ کی کہ خانہ کعبہ میں بُت موجود ہیں اور مسلمانوں کو حکم دے دیا کہ وہ اُس کی طرف مُنہ کرکے نمازیں پڑھا کریں۔ پس بعض لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے کسی اچھے فعل کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی غلطیاں بعض کمزور لوگوں میں ہمیشہ رہتی ہیں اور وہ منع کرنے کے باوجود بھی باز نہیں آتے۔ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر کس قدر لعنتیں کی ہیں جو اپنے نبیوں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔8 مگر کیا اب مسلمانوں میں وہ لوگ موجود نہیں جو قبروں پر سجدے کرتے اور مُردوں سے دعائیں مانگتے ہیں؟ ان چیزوں کو دیکھ کر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ جو چیزیں ضروری ہیں اُنہیں بھی چھوڑ دیا جائے۔
    مجھے بتایا گیا ہے بلکہ پہلے بھی میرے علم میں یہ بات تھی کہ بعض لوگ ہماری جماعت میں ایسے ہیں جو بعض مشرکانہ حرکات کرتے ہیں۔ ہماری جماعت چونکہ ایک دریا کی طرح ہے ایک پانی گزرتا اور اس کی جگہ دوسرا پانی آ جاتا ہے یعنی نئے نئے لوگ جماعت میں شامل ہوتے رہتے ہیں اس لیے کچھ لوگوں کی تربیت ہوتی ہے تو اُن کے معاً بعد کچھ اَور لوگ آجاتے ہیں جو ابھی دین سے ناواقف ہوتے ہیں۔ پھر اُنہیں سمجھانا پڑتا ہے۔ اِس پر کچھ لوگ سمجھ جاتے اور کچھ پھر بھی نہیں سمجھتے۔ اِسی طرح تربیت میں کئی قسم کے نقائص رہ جاتے ہیں۔ مگر ہمارا کام یہی ہے کہ ہم انہیں سمجھائیں اور سمجھاتے چلے جائیں۔ مَیں نے کئی دفعہ سنا ہے کہ بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزار پر جاتے اور وہاں سے تبرک کے طور پر مٹی اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اِسی طرح بعض لوگ قبر پر پُھول ڈال جاتے ہیں اور مَیں نے خود بھی ایک دو دفعہ وہاں پر پُھول پڑے دیکھے ہیں اور اُٹھوائے ہیں۔ یہ سب ناجائز باتیں ہیں، ناپسندیدہ حرکات ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اگر ہم کسی کو ایسا کرتے دیکھیں تو اُسے روکیں۔ مگر اِس کے یہ معنے نہیں کہ جو چیزیں دین سے ثابت ہیں اور ہمارے لیے برکت کا موجب ہیں اُن کو بھی ہم ترک کردیں۔
    جہاں تک قبروں پر جانے کا سوال ہے احادیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بارہا قبرستان میں جاتے اور دعائیں کرتے۔ یہاں تک کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں مجھے ایک دفعہ شبہ پیدا ہوا کہ آپ رات کے وقت مجھے چھوڑ کر دوسری بیویوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ایک دفعہ مَیں لیٹی ہوئی تھی۔ مَیں نے دیکھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جُوتیاں اُتاریں اور فرش پر لیٹ گئے۔ مَیں بھی آنکھیں بند کرکے لیٹی رہی اور دل میں مَیں نے سوچا کہ آج دیکھوں گی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں جاتے ہیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میری طرف دیکھتے اور معلوم کرتے کہ مَیں سوئی ہوں یا نہیں۔ اِس سے مجھے اَور شبہ پڑگیا۔ کچھ دیر کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا کہ مَیں سو گئی ہوں تو آپؐ نے آہستگی سے جُوتیاں پہنیں اور چل پڑے۔ مَیں بھی آپ کے پیچھے چلی مگر مَیں کیا دیکھتی ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلتے مقبرہ میں پہنچ گئے اور وہاں آپ نے دعائیں مانگنی شروع کردیں۔ مَیں یہ دیکھتے ہی بھاگ کر گھر آگئی کہ کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو میرا پتہ نہ لگ جائے۔9
    اس کے علاوہ احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور ایک ہزار صحابی آپ کے ساتھ تھا۔ صحابؓہ کہتے ہیں کہ آپ اُس وقت اِس قدر روئے کہ ہم نے آپ کو اِتنا روتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ کو روتے دیکھ کر سب صحابہؓ اُس دن بے تاب ہو ہو کر روتے تھے۔10 تو زیارتِ قبور کے لیے انبیاء و اولیاء کا جانا ایک ایسی ثابت شدہ حقیقت ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر کی زیارت کرنے کے لیے صلحاء جاتے اور وہاں جاکر بڑی تضرع اور عاجزی سے دعائیں کیا کرتے۔ حضرت بلالؓ آخری عمر میں شام چلے گئے تھے۔ وہ چونکہ حبشی تھے اِس لیے لوگ اُنہیں رشتہ نہیں دیتے تھے۔ آخر اُنہوں نے شام میں ایک جگہ رشتہ کے متعلق درخواست کی اور کہا کہ میں حبشی ہوں اگر چاہو تو رشتہ نہ دو اور اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی سمجھ کر مجھے رشتہ دے دو تو بڑی مہربانی ہوگی۔ انہوں نے رشتہ دے دیا اور وہ شام میں ہی ٹھہر گئے۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رؤیا میں اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا بلال! تم ہم کو بُھول ہی گئے۔ کبھی ہماری قبر کی زیارت کرنے کے لیے نہیں آئے۔ وہ اُسی وقت اُٹھے اور سفر کا سامان تیار کرکے مدینہ تشریف لے گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر پر رو رو کر دعا کی۔ اُس وقت ان کو اِتنی رقت پیدا ہوئی کہ لوگوں میں عام طور پر مشہور ہوگیا کہ بلال آئے ہیں۔ حضرت حسنؓ اور حسینؓ، جو اُس وقت بڑے ہو چکے تھے دوڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان دیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! وہ کہنے لگے ہمیں بھی اپنی اذان سناؤ۔ چنانچہ انہوں نے اذان دی اور لوگوں نے سنی۔11
    اِسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور سابق بزرگانِ اسلام نے بھی مجدد قرار دیا ہے وہ باقاعدہ سفر کرکے شام سے آتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر دعا کیا کرتے۔ جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ قبر والے سے دُعا مانگی جائے۔ یہ چیز بےشک ناجائز ہے اور ایسا کرنا شرک ہے۔ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر جاکر یہ کہتا ہے کہ یارسولَ اللہ! یہ مجھے دیں۔ یا مرزا غلام احمد! یہ مجھے دیں۔ وہ جاہل اور اسلامی تعلیم سے قطعاً ناواقف ہے۔ اُس نے سمجھا ہی نہیں کہ اسلام کیا چیز ہے۔ اسلام تو کہتا ہے کہ صرف خدا ہی زندہ ہستی ہے باقی سب فوت ہونے والے ہیں۔ پس کسی قبر والے سے دعا مانگنا ہرگز جائز نہیں خواہ وہ نبی ہو یا ولی۔ ہاں یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب صاحبِ مزار کی قبر پر کھڑے ہوکر انسان دعا مانگتا ہے تو اُس تعلق کی وجہ سے جو اُسے صاحبِ قبر سے ہوتا ہے۔ اُس کے دل میں زیادہ رقّت پیدا ہوتی ہے اُس کے دل میں زیادہ جوش پیدا ہوتا ہے اور اِس رقت اور جوش سے فائدہ اٹھا کر وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو زیادہ بھڑکا سکتا ہے۔ پس یہ فائدہ ہے جو قبر پر دعا کرنے سے حاصل ہوسکتا ہے ورنہ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ قبر میں جو دفن تھا وہ مٹی ہوچکا اور اُس کا جسم فنا ہوگیا۔ اُس سے کچھ مانگنا انتہائی حماقت اور پاگل پن ہے۔
    مَیں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ نبیوں کے جسم محفوظ رہتے ہیں۔ جو چیز مٹی سے بنی ہوئی ہے میرے نزدیک وہ بہرحال مٹی ہوجاتی ہے خواہ وہ نبیوں کا جسم ہی کیوں نہ ہو۔ بائبل میں صاف لکھا ہے کہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السلام کی ہڈیاں مصر سے کنعان میں لائی گئی تھیں۔12 پس مَیں عوام الناس کے اِس خیال کا قائل نہیں کہ نبیوں کے جسموں کو مٹی نہیں کھاتی۔ میرے نزدیک یہ بالکل لغو خیال ہے۔ آخر نبی بوڑھے ہوتے ہیں یا نہیں؟ بیماری آئے تو اس سے کمزور ہوتے ہیں یا نہیں؟ جب وہ عام انسانوں کی طرح بوڑھے ہوتے ہیں، کمزور ہوتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں تو کیا دلیل ہے کہ مٹی اُن کے جسم کو نہیں کھا سکتی۔ پس یہ ایک غلط خیال ہے جو مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ مگر بہر حال یہ امر انسانی فطرت میں داخل ہے کہ جب وہ اُس جگہ جاتا ہے جہاں اُس کا محبوب اور پیارا مدفون ہوتا ہے تو اُس پر زیادہ رقّت طاری ہوتی ہے اور وہ زیادہ جوش اور زیادہ گریہ و زاری سے خدا سے دعائیں کرتا ہے کہ الٰہی! تُو اُن وعدوں کو پورا فرما جو تُو نے اِس شخص سے کیے تھے۔
    دوسرے جس جگہ اللہ تعالیٰ کے نبی دفن ہوں خواہ اُن کے جسم مٹی ہوگئے ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ ان مقامات پر اپنی برکتیں نازل کرتا ہے اور ان مقامات کی ہتک کرنے والوں کو اپنے عذاب کا نشانہ بناتا ہے۔ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فوت ہوئے تیرہ سوسال ہو چکے ہیں۔ میرا عقیدہ جسے مَیں نے ابھی بیان کیا ہے یہ ہے کہ انبیاء کے جسم بھی اُسی طرح مٹی ہوجاتے ہیں جس طرح باقی لوگوں کے جسم۔ البتہ بعض زمینیں اِس قسم کی ہوتی ہیں کہ اُن میں جو مُردے دفن ہوں اُن کے جسم ایک لمبے عرصہ تک محفوظ رہتے ہیں۔ چنانچہ بعض مقامات سے کئی کئی سو سال کی پرانی نعشیں نکلی ہیں اور وہ بالکل سلامت ہیں۔ لیکن اِس میں مومن اور کافر یا ایک نبی اور غیر نبی میں کوئی فرق نہیں۔ ایسی زمین میں اگر ایک کافر دفن ہوگا تو اُس کا جسم بھی محفوظ ہوگا اور اگر ایک نبی دفن ہوگا تو اُس کا جسم بھی محفوظ ہوگا۔ پس میرے اِس عقیدہ کے مطابق اگر اُس مٹی کی جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دفن ہیں کوئی ایسی تاثیر نہیں ہے جس کی بناء پر وہ اجسام کو محفوظ رکھ سکے تو تیرہ سو سال کے بعد جہاں تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جسم کا تعلق ہے وہ متغیر ہوچکا ہوگا۔ لیکن اگر کوئی دشمن یہ چاہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر کو اکھیڑے تو کیا تم سمجھتے ہو خدا تعالیٰ کا عذاب اُس پر نازل نہیں ہوگا؟ اور کیا تم سمجھتے ہو اللہ تعالیٰ کے فرشتے اُس کے ہاتھ کو نہیں روکیں گے؟ فرض کرو وہ مٹی کا ایک ڈھیر ہو تو بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب اس ڈھیر کو کھودنے کا ارادہ کرنے والے پر نازل ہوگا۔ اِسی لیے کہ گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جسمِ اطہر اب دوسری صورت میں تبدیل ہوچکا ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو اپنی برکات کے نزول کے لیے مخصوص فرما دیا ہے اور اب اُس مقام پر حملہ کرنا اللہ تعالیٰ کی غیرت کو بھڑکانا اور اُس کے عذاب کو حرکت میں لانا ہے۔ اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا الہام ہے"بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے"۔13 اِس الہام سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کے جسم کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزوں میں اللہ تعالیٰ اپنی برکات رکھ دیتا ہے۔ اگر قبر پر جانے سے اللہ تعالیٰ کی برکت سے حصہ نہیں مل سکتا تو کپڑوں سے کس طرح برکت ڈھونڈی جاسکتی ہے۔اِس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نشان نمائی کے لیے نبیوں سے تعلق رکھنے والی ہر چیز میں برکت رکھ دیتا ہے اور لوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ان برکات کو حاصل کریں۔ پس ان برکات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عمل سے بھی اِس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اخبار "بدر" میں بھی چھپا ہوا موجود ہے اور مجھے بھی اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک دفعہ دہلی تشریف لے گئے تو آپ مختلف اَولیاء کی قبروں پر دُعا کرنے کے لیے گئے۔ چنانچہ خواجہ باقی باللہ صاحب، حضرت قطب صاحب، خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء، شاہ ولی اللہ صاحب، حضرت خواجہ میر درد صاحب اور نصیر الدین صاحب چراغ کے مزارات پر آپ نے دعا فرمائی۔ اُس وقت آپ نے جو کچھ فرمایا وہ جہاں تک مجھے یاد ہے گو ڈائری اس طرح چھپی ہوئی نہیں یہ ہے کہ دلّی والوں کے دل مُردہ ہوچکے ہیں۔ ہم نے چاہا کہ اُن وفات یافتہ اولیاء کی قبروں پر جاکر اُن کے لیے، اُن کی اولادوں کے لیے اور خود دہلی والوں کے لیے دعائیں کریں تاکہ ان کی روحوں میں جوش پیدا ہو اور وہ بھی ان لوگوں کی ہدایت کے لیے دعائیں کریں۔ ڈائری میں صرف اِس قدر چھپا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہم نے قبروں پر اُن کے لیے بھی دعا کی ہے اور اپنے لئے بھی دعا کی ہے اور بعض امور کے لیے بھی دعا کی ہے۔14 اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خالی ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قبر پر جاکر صرف مرنے والے کے لیے دعا کرنی چاہیے اُن کا اِس ڈائری سے ردّ ہوتا ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں ہم نے ان کے لیے بھی دعا کی اور اپنے لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب فرمائے اوراَور کئی امور کے لیے بھی۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ڈائری ہے جو‘‘ بدر ’’ میں چھپی ہوئی موجود ہے۔
    اِسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تذکرۃ الشہادتین میں تحریر فرماتے ہیں کہ میرا ارادہ تھا گورداسپور ایک مقدمہ پر جانے سے پیشتر اِس کتاب کو مکمل کر لوں اور اِسے اپنے ساتھ لے جاؤں۔ مگر مجھے شدید دردِ گُردہ ہوگیا اور مَیں نے سمجھا کہ یہ کام نہیں ہوسکے گا۔ اُس وقت مَیں نے اپنے گھر والوں یعنی حضرت اماں جان سے کہا کہ مَیں دُعا کرتا ہوں آپ آمین کہتی جائیں۔چنانچہ اُس وقت مَیں نے صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب شہید کی روح کو سامنے رکھ کر دُعا کی کہ الٰہی! اِس شخص نے تیرے لیے قربانی کی ہے اور مَیں اِس کی عزت کے لیے یہ کتاب لکھنا چاہتا ہوں تُو اپنے فضل سے مجھے صحت عطا فرما۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔"قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہوگیا اور اُسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا"۔15
    اب دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک مقدمہ پر جا رہے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ اُس سے پیشتر کتاب مکمل ہوجائے مگر آپ سخت بیمار ہوگئے۔اِس پر آپ نے حضرت شہید مرحوم کی روح کو جو آپ کے خادموں میں سے ایک خادم تھے اپنے سامنے رکھ کر دُعا کی کہ الٰہی! اِس کی خدمت اور قربانی کو دیکھتے ہوئے مَیں نے یہ کتاب لکھنی چاہی تھی۔ تُو مجھے اپنے فضل سے صحت عطا فرما۔ اور پھر خدا نے آپ کی اس دعا کو قبول فرما لیا۔ چنانچہ آپ نے اِس واقعہ کا ہیڈنگ ہی یہ رکھا ہے کہ"ایک جدید کرامت مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی"۔ پس یہ چیزیں صلحاء اور اتقیاء کے طریق سے ثابت ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اِس رنگ میں کئی بار دعائیں فرمائی ہیں۔ جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ مُردہ کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ وہ ہمیں کوئی چیز دے گا۔ یہ امر صریح ناجائز ہے اور اسلام اسے حرام قرار دیتا ہے۔
    باقی رہا اِس کا یہ حصہ کہ ایسے مقامات پر جانے سے رقّت پیدا ہوتی ہے یا یہ حصہ کہ انسان اُن وعدوں کو یاد دلاکر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کیے ہوں دعا کرے کہ الٰہی! اب ہمارے وجود میں تُو ان وعدوں کو پورا فرما۔ یہ نہ صرف ناجائز نہیں بلکہ ایک روحانی حقیقت ہے اور مومن کا فرض ہے کہ وہ برکت کے ایسے مقامات سے فائدہ اُٹھائے۔ مثلاً جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزار پر دعا کے لیے جائیں تو ہم اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ الٰہی! یہ وہ شخص ہے جس کے ساتھ تیرا یہ وعدہ تھا کہ مَیں اِس کے ذریعہ اِسلام کو زندہ کروں گا۔ تیرا وعدہ تھا کہ مَیں اِس کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ تیرا وعدہ تھا کہ اسلام کی فتح مَیں اِس کے ہاتھ پر مقدر کروں گا۔ تیرا وعدہ تھا کہ شیطان اِس کے ہاتھ سے آخری شکست کھائے گا۔ اے ہمارے ربّ! یہ تیرے وعدے اِس شخص سے تھے جو اَب مٹی کے ڈھیر تلے مدفون ہے اور اب اِن وعدوں کا پورا کرنا ہمارے ہی ذمہ ہے۔ پس اے خدا! ہم تجھ سے ان وعدوں کا واسطہ دے کر عرض کرتے ہیں کہ ہم ان کاموں کے کرنے کی طاقت نہیں رکھتے،ہم کمزور ہیں، ناطاقت ہیں، گنہگار ہیں اور خطاکار ہیں، جماعت میں ابھی اتنی قربانی کا مادہ اور اس قدر فدائیت نہیں پائی جاتی جس قدر قربانی اور فدائیت اِن عظیم الشان کامیابیوں کے لیے ضرور ی ہے۔ تُو اپنے فضل سے آسمان سے فرشتے نازل فرما،تُو ہمارے قلوب کو صیقل فرما، تُو آسمانی انوار سے ہمارے دل اور دماغ کو روشن فرما، تُو ہم کو ایمان بخش اور ان لوگوں کو بھی ایمان بخش جو کروڑوں کی تعداد میں دنیا میں پائے جاتے ہیں، تُو ہم کو سلسلہ پر استقامت عطا فرما اور اُن لوگوں کو بھی سلسلہ میں داخل فرما جو کروڑوں کی تعداد میں ابھی اِس سلسلہ کے نام سے بھی ناآشنا ہیں۔ تُو اسلام کی فتح کا دن قریب سے قریب تر لا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی بادشاہت کو دنیا میں قائم فرما دے۔ یہ دعا اگر کی جائے تو بتاؤ اِس میں کونسا شرک ہے۔ یہ تو وہ خدا کا فیصلہ ہے جو وہ آسمان پر کرچکا۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ فیصلہ زمین پر بھی نافذ ہو۔ پس ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعا کے لیے جانا صرف اِس لیے ہے کہ وہ نزولِ برکات کا مقام ہے اور اس لیے ہے کہ وہاں رقت زیادہ پیدا ہوتی ہے اور اس طرح ہم آسانی سے خدا تعالیٰ کی غیرت کو بھڑکا سکتے ہیں۔
    بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر یہ انکشاف فرمایا ہے کہ مَیں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ لڑکا ہوں جس کی نسبت آپ کو یہ خبر دی گئی تھی کہ اسلام کی فتوحات اِس کے ہاتھ پر ہوں گی تو اِس کے بعد میرے لیے ضروری تھا کہ مَیں اسلام کی فتح کے لیے کوئی روحانی قدم اُٹھاتا۔ مَیں دیکھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرے متعلق جو پیشگوئیاں فرمائی ہیں اُن میں سے اکثر پوری ہوچکی ہیں اور واقع یہ ہے کہ مجھے کوئی ایسی خبر نہیں ملی جس کی بناء پر مَیں کہہ سکوں کہ میری زندگی ابھی بہت باقی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وَاللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ16 اللہ تعالیٰ تجھے قتل سے محفوظ رکھے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ فریمیسن ترے قتل پر مسلّط نہیں کیے جائیں گے۔17 مگر میرے ساتھ خدا تعالیٰ کا ایسا کوئی وعدہ نہیں۔ مجھ سے خدا تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ فقط یہ ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیَامَۃِتیرے ماننے والے قیامت تک تیرے منکروں پر غالب رہیں گے۔ پس یہ وعدہ ہے جو خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ کیا۔ اگر مَیں آج ہی مر جاؤں تب بھی مَیں اِس الہام کے سچا ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کروں گا۔ اگر مَیں آج ہی قتل ہو جاؤں تو بھی مجھے کوئی شبہ نہیں ہوگا کہ میرے ساتھ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ میرے ماننے والے ہمیشہ میرے منکروں پر غالب رہیں گے۔ ہاں اگر کبھی یہ ثابت ہوجائے کہ میرے ماننے والے مغلوب ہوگئے ہیں اور انکار کرنے والے غالب آگئے ہیں تب بے شک تم سمجھ لو کہ مَیں نے خدا پر افترا کیا اور جھوٹ بولا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ زمین وآسمان ٹل سکتے ہیں مگر جو میرے ہاتھ پر بیعت کرنے والے ہیں وہ میرے منکروں سے کبھی مغلوب نہیں ہوسکتے۔ خدا اُن کو اُن کے مخالفوں پر قیامت تک غالب رکھے گا"۔
    اس موقع پر کسی شخص نے بلند آواز سے نعرۂ تکبیر لگانا چاہا۔ جس پر حضور نے اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے فرمایا۔
    "جمعہ میں بولنا منع ہے۔ خبردار! کوئی شخص نعرہ مت لگائے۔ معلوم نہیں احرار نے یہ کیسی گندی عادت لوگوں میں پیدا کردی ہے۔ ہمیں تو دوسرے مواقع پر بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے، کُجا یہ کہ جمعہ کا دن ہو اور خطبہ کی حالت میں نعرۂ تکبیر بلند کیا جائے۔ یاد رکھو خطبہ عبادت کا حصہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کی نماز کی دو رکعتیں رکھی ہیں۔باقی دو رکعتوں کی جگہ خطبہ رکھ دیا۔ پس خطبہ بھی عبادت کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اس میں بولنا جائز نہیں ہوتا۔پھر یہ بھی تو سوچو کہ اگر اس طرح جوش اپنے سینوں سے نکال دیا جائے تو دل سرد ہوجاتا ہے۔ حالانکہ انسان کو اپنے دل میں محبت کی ایسی آگ سلگانی چاہیے جو اُسے خدا کے قریب کردے۔
    تو مَیں جس چیز پر قائم ہوں اُس کو دیکھتے ہوئے میرے دل میں قدرتًا درد پیدا ہوتا ہے کہ معلوم نہیں میری کتنی زندگی ہے اور کب اسلام کی فتح کا دن آنے والا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے اسلامی علوم کی ایک بہت بڑی بنیاد قائم کردی ہے اور میرے لیکچروں اور میری کتابوں میں بہت سے علم پائے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی میں نے ان چالیس روزہ دعاؤں کا آغاز کردیا تاکہ اگر میری زندگی تھوڑی ہو تو مَیں ان دعاؤں کے ذریعہ بھی اسلام کی ترقی اور دین کی فتح کی ایک عظیم الشان بنیاد رکھ دوں تاکہ خدا کا منشاء جلد سے جلد اور مکمل طور پر دنیا میں ظاہر ہو۔
    مسجد مبارک کی توسیع کے سلسلہ میں نہایت شاندار اخلاص کا نمونہ:تیسری بات مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مَیں نے پرسوں مغرب کے بعد مسجد مبارک میں قادیان کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ اس مسجد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ الہام ہے مُبَارِکٌ وَّ مُبَارَکٌ وَ کُلُّ اَمْرٍ مُبَارَکٍ یُّجْعَلُ فِیْہِ18 کہ یہ مسجد لوگوں کو برکت دینے والی ہے،یہ مسجد برکت کے نزول کا مقام ہے اور جو کام بھی اِس مسجد میں کیا جائے گا وہ بابرکت ہوگا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اِس الہام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا تھا کہ دوستوں کو چاہیے کہ وہ کم سے کم ایک نماز روزانہ اس مسجد میں پڑھا کریں۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اِس توجہ دلانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ لوگ بڑی کثرت سے وہاں نمازیں پڑھنے کے لیے آنے لگ گئے اور مَیں جماعت پر یہ فضل اُس دن سے نازل ہوتا محسوس کررہا ہوں جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ انکشاف فرمایا۔ حالانکہ وہی مَیں ہوں وہی تم ہو۔ لیکن جس دن سے یہ انکشاف ہوا ہے جماعت کے قلوب میں ایسا تغیر پیدا ہورہا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اُنہیں ایک نئی زندگی حاصل ہوگئی ہے۔ چنانچہ اِدھر مَیں نے یہ تحریک کی اور اُدھر جماعت میں ایک ایسی بیداری پیدا ہوگئی کہ سینکڑوں لوگ مسجد مبارک میں نماز پڑھنے کے لیے آنے لگ گئے۔ لوگ شکوہ کیا کرتے ہیں کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب چونکہ لمبی نماز پڑھایا کرتے ہیں اس لیے لوگ اس مسجد کی بجائے دوسری مساجد میں نمازیں پڑھتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوگوں کی یہ شکایت درست ہے۔ مَیں نے خود مولوی صاحب کو کئی دفعہ کہلوایا ہے کہ وہ نماز بہت لمبی نہ پڑھایا کریں۔ لیکن یہ تو درست نہیں کہ اگر کوئی امام لمبی نماز پڑھائے تو ہم اُس مسجد میں نماز پڑھناہی چھوڑ دیں جسے خدا نے برکت کا مقام قرار دیاہے۔نماز تو خدا تعالیٰ کی عبادت کا نام ہے اور عبادت ٹکریں مارنے سے نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ نماز کے ارکان ادا کرنے اور خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔ پس اُن کو بھی اپنی عادت بدلنی چاہیے اور تم کو بھی اپنی عادت بدلنی چاہیے۔ اُن کو یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ وہ ہلکی نماز پڑھائیں اور تم کو یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ تم لمبی نمازیں پڑھو۔ بہرحال گزشتہ سال کا اکثر حصّہ چونکہ مَیں باہر رہا ہوں، پہلے بیماری کی وجہ سے پہاڑ پر رہا اور پھر قادیان میں بھی آیا تو اپنی بیماری کی وجہ سے گھر پر ہی نمازیں پڑھتا رہا اور نماز کے لیے مسجد میں نہ آسکا اور جلد ہی اُمِّ طاہر کی بیماری کی وجہ سے لاہور چلا گیا اِس لیے اکثر ایام میں مولوی صاحب ہی نمازیں پڑھاتے رہے ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ اِس وجہ سے عام طور پر لوگ مسجد مبارک میں نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے مگر مَیں نے بتایا ہے کہ یہ غلط طریق ہے۔ جہاں مولوی صاحب کا فرض ہے کہ وہ نسبتًا ہلکی نماز پڑھایا کریں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِتنی لمبی نماز پڑھانا کہ جس سے لوگ متنفر ہوجائیں ناپسند فرمایا ہے۔19 اِس کے ساتھ ہی دوستوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی حالت کو بدلیں اور جلدی جلدی نماز پڑھنے کی بجائے ٹھہر ٹھہر کر اور خشوع وخضوع کے ساتھ نمازیں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ مسجد اقصٰی چونکہ میرے بالکل قریب ہے اور یہاں کی نماز کی آواز میرے کان میں آتی رہتی ہے اس لیے مَیں اپنے اندازے کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ مسجد اقصٰی کی نماز حدِّمناسب سے چھوٹی ہوتی ہے۔ اِتنی چھوٹی اور ہلکی نماز پڑھانا بھی اچھا نہیں ہوتا۔ مسجد اقصٰی والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی نماز کو ذرا لمبا کردیں اور خشوع و خضوع اور آہستگی کے ساتھ نماز کے ارکان ادا کیا کریں۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ جب امام اَللہُ اَکْبَر کہہ کر سجدہ کو جاتا ہے تو لوگوں کے گُھٹنے کھٹ کھٹ کر کے زمین پر لگنے شروع ہوجاتے ہیں حالانکہ نماز کی تمام حرکات میں وقار اور آہستگی چاہیے۔اِس قسم کی جلدی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے خلاف ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم نماز پڑھو تو آہستگی اور وقار سے نماز ادا کرو۔ آہستگی اور اطمینان سے اس کے ارکان ادا کرو۔ اُٹھو تو آہستگی سے اٹھو، جھکو تو آہستگی سے جھکو۔20 یہ نماز کی روح ہے جو پیدا کرنی چاہیے۔ جو شخص اس طرح نماز نہیں پڑھتا اُس کے دل میں درد اور تضرع پیدا نہیں ہوسکتا۔
    بہرحال مَیں دیکھتا ہوں کہ اب سینکڑوں لوگوں نے مسجد مبارک میں نماز پڑھنے کے لیے آنا شروع کردیا ہے۔ اور یا تو مسجد کی دو تین صفیں ہی پُر ہوتی تھیں باقی مسجد خالی پڑی رہتی تھی اور یا اب مسجد کا نچلا حصہ بھی پُر ہوجاتا ہے، چھت بھی بھر جاتی ہے اور گلیوں میں کھڑے ہوکر لوگوں کو نمازیں پڑھنی پڑتی ہیں۔ یہ خدا کا کتنا بڑا فضل ہے جو ہم پر نازل ہوا کہ یا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ہم مسجد کو پُر کس طرح کریں کافی تعداد میں لوگ یہاں نماز پڑھنے کے لیے آتے ہی نہیں اور یا پرسوں رات سے ہی جبکہ مَیں نے اِس طرف توجہ دلائی لوگوں کے قلوب میں ایسا تغیر پیدا ہوا اور اُنہوں نے اتنی کثرت سے مسجد میں آنا شروع کردیا کہ اب مسجد نمازیوں کے لیے بالکل ناکافی معلوم ہوتی ہے۔ ہم نے مسجد مبارک کی توسیع کے لیے دیر سے اُس کے ساتھ ہی ایک جگہ لے رکھی تھی۔ مگر اُس کو بڑھانے کا خیال نہیں آتا تھا۔ کیونکہ جب پہلے ہی مسجد خالی رہتی ہو تو اُسے اور کس طرح بڑھایا جاسکتا تھا۔ مگر جب اِس تحریک کے نتیجہ میں لوگوں نے اِتنی کثرت سے وہاں نماز کے لیے آنا شروع کردیا کہ نمازیوں کے لیے گنجائش نہ رہی تو کل عصر کے وقت مَیں نے اِس کا ذکر کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں مسجد مبارک کی توسیع کرنی چاہیے۔ اِس کا اثر یہ ہوا کہ شام کی نماز کے بعد جب مَیں بیٹھا تو مَیں نے بعض ایسے دوستوں کا نام لکھوانا شروع کردیا جنہوں نے اِس غرض کے لیے مجھے چندہ دیا ہوا تھا۔ اِس پر دوسرے دوستوں نے بھی اُسی وقت چندہ دینا شروع کردیا اور بعض نے وعدے لکھوانے شروع کر دیئے اور اِس اخلاص سے چندے دیئے اور وعدے لکھوانے شروع کیے کہ نماز مغرب میں شامل ہونے والے نمازیوں سے ہی اندازہ کی رقم پوری ہوگئی۔ ہمارا اندازہ مسجد کی زیادتی کے خرچ کا دس ہزار روپیہ کا تھا۔ مگر اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے پندرہ ہزار روپے کے وعدے ہوچکے ہیں٭ اور ان میں سے سات ہزار روپیہ تو نقد وصول ہوچکا ہے۔ باقی روپیہ بھی اُمید ہے اَور دو چار دنوں میں دوستوں کی طرف سے مل جائے گا۔٭٭ یہ کیسا شاندار اخلاص کا نمونہ ہے جو ہماری جماعت نے دکھایا۔ دنیا میں آج کونسی جماعت ہے جو دین کی خدمت کے لیے ایسا نمونہ دکھا رہی ہے۔
    لوگ کہتے ہیں کہ قادیان میں لوگ بیٹھے ہیں جو مجاور ہیں اور جن کا کام روٹیاں کھانا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جو قربانی یہ ایک چھوٹی سی جماعت کررہی ہے جس کے افراد کو مجاور کہا جاتا ہے اس کی مثال آج دنیا میں کہیں نہیں مل سکتی۔ مَیں جانتا ہوں کہ دنیا میں کروڑ پتی نہیں ارب پتی لوگ بھی موجود ہیں اور وہ اگر چاہیں تو ایک ایک موقع پر بیس بیس، تیس تیس ہزار بلکہ بعض دفعہ لاکھ لاکھ روپیہ دے دیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ یہاں کن لوگوں کی جیبوں سے یہ چندہ نکلتا ہے۔ جن لوگوں کی جیبوں سے یہ چندہ نکلتا ہے وہ کروڑ یا ارب پتی نہیں بلکہ نہایت غریب لوگ ہیں اور ان کے گزارے بہت معمولی اور ادنیٰ ہیں۔ مگر دین کے لیے جس قربانی اور فدائیت کا وہ ثبوت دے رہے ہیں وہ یقیناً ایک بے مثال بات ہے۔ مَیں جانتا ہوں مسلمانوں میں بڑے بڑے جلسے ہوتے ہیں اور مسلمان لیڈر چندہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر انہیں سوائے ناکامی کے اَور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
    مجھے ایک دفعہ سرسکندر حیات خان مرحوم اور سرفیروز خان نون کا تار ملا کہ سائمن کمیشن کی رپورٹ پر ہم نے بحث کرنی ہے۔ آپ بھی شملہ اس غرض سے آئیں۔ چنانچہ مَیں شملہ چلا گیا۔ جو جلسہ اس غرض کے لیے منعقد ہوا اُس میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ اس غرض کے لیے مسلمانوں کو منظّم کیا جائے۔ اُس وقت جس قدر مسلمان لیڈر موجود تھے انہوں نے کہا اِس میں بڑی مشکل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس فنڈز موجود نہیں ہیں اور اس کام کے لیے روپے کی ضرورت ہے۔ مَیں نے کہا آپ لوگ اندازہ لگائیں کہ آپ کس قدر روپے میں یہ کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کے لیے ہمیں دو ہزار روپیہ کی ضرورت ہے۔ مَیں اُن کی یہ بات سن کر حیران رہ گیا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں کہ دو ہزار روپیہ سے یہ عظیم کام ہوجائے گا۔ مَیں نے اِس غلطی کی طرف اُن کو توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں اِس وقت ایسی بدظنی کی لہر دَوڑ رہی ہے کہ لوگ چندہ دیتے ہی نہیں۔ مَیں نے کہا کہ اِس غرض کے لیے لاکھوں روپے کی ضرورت ہے۔ اگر کام کرنا ہے تو ضرورت کے مطابق آپ لوگ روپیہ جمع کریں اور اِس کی یہ صورت ہے کہ ہر صوبے کے ذمے پچاس پچاس ہزار کی رقم ڈال دیں۔ مَیں پنجاب کا ذمہ لیتا ہوں۔ گو لوگ ہمارے مخالف ہیں مگر یہ رقم پنجاب سے جمع کردینے کا مَیں ذمہ لیتا ہوں۔ بہرحال آپ کو یہ رقم مَیں جمع کردوں گا۔ اِس پر ایک کمیٹی مقرر کی گئی جس میں مجھے بھی ممبر بنایا گیا۔ مَیں نے اس کمیٹی کے اجلاس میں مختلف ممبروں پر زور دے کر اُن سے رقوم لکھوائیں اور صرف اس کمیٹی کے ممبروں سے گیارہ ہزار سے زائد کے وعدے لکھوا دیئے۔ مگر لوگوں کے ڈر سے انہوں نے میری تجویز کو قبول نہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو ہزار مجھ سے ان کو وصول ہوا اور پانچ سو سرفیروز خاں صاحب سے۔ باقی چندہ انہوں نے وصول ہی نہ کیا بلکہ ایک دوسرے کو چندہ دینے سے روکتے رہے۔
    لیکن اِس کے برخلاف میں دیکھتا ہوں کہ یہاں مَیں عصر کی نماز میں اس کا ذکر کرتا ہوں اور عشاء کی نماز تک ہمیں اپنے اندازہ سے بھی زیادہ رقم وصول ہوجاتی ہے۔ باہر کی جماعتوں کو بے شک اِس سے صدمہ ہوگا کہ اُنہیں اِس تحریک میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا۔ لیکن اس مسجد اقصٰی کو دیکھو کہ اب یہ بھی تنگ ہو رہی ہے۔ کس طرح ایک ایک قدم اٹھا کر ہم نے اس مسجد کو بڑھایا۔ مگر حالت یہ ہے کہ اب پھر یہ مسجد خدا کے فضل سے تنگ ہو رہی ہے۔ اس مسجد کے ایک طرف پہلے عورتیں بیٹھا کرتی تھیں۔ ان بیچاریوں نے اس جگہ کے لیے چندہ بھی دیا تھا مگر ہم نے ان کو نکال دیا۔ اب مرد اس جگہ نماز پڑھتے ہیں اور عورتیں ہمارے گھر میں نماز پڑھتی ہیں۔ تو باہر کی جماعتوں کو فکر نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے لیے نیکی کے میدان میں آگے بڑھنے کے اَور کئی سامان پیدا کردے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ قادیان کی آبادی بیاس تک پھیل گئی ہے۔21 مَیں اس رؤیا سے یہ سمجھا کرتا ہوں کہ قادیان کی آبادی دس بارہ لاکھ کی ضرور ہوگی۔ اور اگر دس بارہ لاکھ کی آبادی ہو تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ چار لاکھ لوگ جمعہ پڑھنے کے لیے آیا کریں گے۔ پس میرے نزدیک یہ مسجد بہت بڑھے گی بلکہ ہمیں اِس قدر بڑھانی پڑے گی کہ چار لاکھ نمازی اِس مسجد میں آسکیں۔ اس غرض کے لیے اسے چاروں طرف بڑھایا جاسکتا ہے۔ اِس وقت بھی جس جگہ کھڑے ہوکر مَیں یہ خطبہ پڑھ رہا ہوں یہ اُس حصہ سے باہر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں تھا۔ وہ مسجد اِس موجودہ مسجد کا غالباً دسواں حصہ ہوگی۔ تو دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا فضل ہے کہ لوگوں کی مسجدیں خالی پڑی رہتی ہیں اور ہم اپنی مساجد کو بڑھاتے ہیں تو وہ اَور تنگ ہوجاتی ہیں۔ یہاں تک کہ لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جگہ نہیں ملتی۔
    مجھے یا د ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں صرف ایک ہی فعل مجھ سے ایسا ہوا جس سے مَیں سخت ڈرا۔ اس میں میری ہی غلطی تھی اور مَیں فوری طور پر پکڑا گیا۔ لیکن مَیں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میری جلد ہی بریت ہوگئی۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گُردہ میں درد تھا اور آپ جمعہ پڑھنے کے لیے تشریف نہ لاسکے۔ میری اُس وقت پندرہ سولہ سال کی عمر تھی۔ مَیں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلا اور مسجد کو آنے لگا۔ جب مَیں موڑ تک پہنچا تو ایک احمدی دوست مجھے ملے جو واپس جا رہے تھے۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ آپ واپس کیوں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مسجد میں بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ میری جو شامت آئی تو بغیر اِس کے کہ مَیں آگے بڑھ کر تحقیق کر لیتا کہ آیا واقع میں مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے یا نہیں اور وہاں کھڑے ہونے یا بیٹھنے کی جگہ ہے یا یہ شخص یونہی کہہ رہا ہے، وہاں سے واپس چلا گیا اور ظہر کی نماز گھر میں پڑھنی شروع کردی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ مَیں چھوٹی عمر سے ہی نمازوں کا پابند ہوں اور مَیں نے آج تک ایک نماز بھی کبھی ضائع نہیں کی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مجھ سے کبھی یہ دریافت نہیں فرمایا کرتے تھے کہ تم نے نماز پڑھی ہے یا نہیں پڑھی۔ مجھے یاد ہے جب مَیں گیارھویں سال میں تھا تو ایک دن میں نے ضحیٰ یا اشراق کے وقت وضو کرکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کوٹ پہنا اور خدا تعالیٰ کے حضور میں خوب رویا اور مَیں نے عہد کیا کہ مَیں آئندہ نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس عہد اور اقرار کے بعد مَیں نے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی۔ لیکن پھر بھی چونکہ مَیں بچہ تھا اور بچپن میں کھیل کُود کی وجہ سے بعض دفعہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں سُستی ہوجاتی ہے اس لیے ایک دفعہ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس میری شکایت کی کہ آپ اسے سمجھائیں۔ یہ نماز باجماعت پوری پابندی سے ادا کیا کرے۔ میر محمد اسحٰق صاحب مجھ سے دوسال چھوٹے ہیں اور بچپن میں چونکہ ہم اکٹھے کھیلا کرتے تھے اور ہمارے نانا جان میرناصر نواب صاحب کی طبیعت بہت تیز تھی اس لیے وہ میر محمد اسحاق صاحب کو ناراض ہوا کرتے تھے اور سختی سے انہیں نماز پڑھنے کے لیے کہا کرتے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کسی نے میرے متعلق یہ شکایت کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ایک تو میر صاحب کی نماز پڑھتا ہے۔ اب مَیں نہیں چاہتا کہ دوسرا میری نماز پڑھے۔ مَیں یہی چاہتا ہوں کہ وہ خدا کی نماز پڑھا کرے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے نماز پڑھنے کے متعلق کبھی نہیں کہا۔ مَیں خود ہی تمام نمازیں پڑھ لیا کرتا تھا۔ لیکن اُس دن شاید میری غفلت کو اللہ تعالیٰ دور کرنا چاہتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے دیکھ کر کہا کہ محمود اِدھر آؤ! مَیں گیا تو آپ نے فرمایا تم جمعہ پڑھنے نہیں گئے؟ مَیں نے کہا مَیں گیا تو تھا مگر معلوم ہوا کہ مسجد بھری ہوئی ہے وہاں نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ مَیں نے کہنے کو تو یہ کہہ دیا مگر اپنے دل میں سخت ڈرا کہ مَیں نے دوسرے کی بات پر کیوں اعتبار کرلیا۔ معلوم نہیں اُس نے جھوٹ کہا ہے یا سچ کہا ہے۔ اگر اُس نے سچ بولا ہے تب تو خیر۔ لیکن اگر اُس نے جھوٹ بولا ہے تو چونکہ اُسی کی بات میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے بیان کردی ہے اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مجھ سے ناراض ہوں گے کہ تم نے جھوٹ کیوں بولا۔ غرض میں اپنے دل میں سخت خائف ہوا کہ آج نہ معلوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کیا فرماتے ہیں۔ اتنے میں نماز پڑھ کر مولوی عبدالکریم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عیادت کے لیے آئے۔ مَیں قریب ہی اِدھر اُدھر منڈلا رہا تھا کہ دیکھوں آج کیا بنتا ہے۔ اُن کے آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُن سے سوال کیا کہ آج جمعہ میں لوگ زیادہ آئے تھے اور مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گنجائش نہیں رہی تھی؟ میرا دل تو یہ سنتے ہی بیٹھ گیا کہ خبر نہیں۔ اُس شخص نے مجھ سے سچ کہا تھا یا جھوٹ کہا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے میری عزت رکھ لی۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم میں خدا تعالیٰ کے احسانات پر شکر ادا کرنے کا مادہ بہت زیادہ پایا جاتا تھا۔ انہوں نے یہ سنا تو کہا کہ حضور! اللہ کا بڑا احسان تھا مسجد خوب لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ اُس میں بیٹھنے کے لیے ذرا بھی گنجائش نہیں رہی تھی۔ تب مَیں نے سمجھا کہ اُس احمدی نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کا یہی ذریعہ رکھا ہے کہ ہماری مسجدیں بڑھتی جائیں اور لوگوں سے ہر وقت آباد رہیں۔ جب تک تم مسجدوں کو آباد رکھو گے اُس وقت تک تم بھی آباد رہو گے اور جب تم مسجدوں کو چھوڑ دو گے، اُس وقت اللہ تعالیٰ تم کو بھی چھوڑ دے گا۔
    غرض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے میری تحریک کو قبول فرمایا اور چند گھنٹوں کے اندر اندر ہمارے اندازہ سے زیادہ روپیہ جمع ہوگیا۔ میرا منشاء ہے کہ اب مسجد مبارک میں ایک لاؤڈ سپیکر بھی لگا دیا جائے کیونکہ نمازیوں کے زیادہ آنے کی وجہ سے بات دُور تک آسانی سے پہنچائی نہیں جاسکتی۔٭
    باہر کے لوگوں کو گھبرانا نہیں چاہیے کہ وہ اس تحریک میں حصہ لینے سے محروم رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے لیے ثواب کے اَور مواقع بہم پہنچا دے گا۔ابتدائے خلافت میں جب لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ چند مجاوروں نے، جن کا کام روٹیاں کھانا تھا، خلافت کو تسلیم کرلیا ہے تو معلوم ہوتا ہے قادیان کے لوگوں کو اس سے ضرور صدمہ ہوا ہوگا۔ کیونکہ اُنہی دنوں میں مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ "مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں"۔پس یہ خلافت کی برکت ہی ہے جو تم دیکھ رہے ہو کہ کس طرح قادیان کے غریبوں اور مسکینوں نے ایسی قربانی پیش کی جس کی نظیر اور کسی جماعت میں نہیں مل سکتی۔ آج مجھے حیرت ہوئی جبکہ ایک غریب عورت جو تجارت کرتی ہے، جس کا سارا سرمایہ سو ڈیڑھ سو روپیہ کا ہے اور ہندوؤں سے مسلمان ہوئی ہے صبح ہی میرے پاس آئی اور اُس نے دس دس روپیہ کے پانچ نوٹ یہ کہتے ہوئے مجھے دیئے کہ یہ میری طرف سے مسجد مبارک کی توسیع کے لیے ہیں۔ مَیں نے اُس وقت اپنے دل میں کہا کہ اِس عورت کا یہ چندہ اِس کے سرمایہ کا آدھا یا ثُلث ہے۔ مگر اِس نے خدا کا گھر بنانے کے لیے اپنا آدھا یا ثُلث سرمایہ پیش کردیا۔ پھر کیوں نہ ہم یقین کریں کہ خدا بھی اپنی اس غریب بندی کا گھر جنت میں بنائے گا اور اسے اپنے انعامات سے حصہ دے گا۔
    پس اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہم پر ہیں اُن کو دیکھتے ہوئے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارا ہرقدم ترقی کے میدان میں بڑھتا چلا جائے گا۔ جتنا کام اِس وقت تک ہوا ہے خدا نے کیا ہے اور آگے بھی خدا ہی کرے گا۔
    خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نصیحت کہ اپنی تمام زندگی خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لیے وقف کردیں:اس کے بعد مَیں کچھ اَور باتیں کہنا چاہتا ہوں اور مَیں ان باتوں کو جلدی جلدی اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مَیں نہیں جانتا میری کتنی زندگی ہے۔ مَیں اِس مقام پر سب سے پہلے اپنے خاندان کو نصیحت کرتا ہوں کہ دیکھو ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کے اِس قدر احسانات ہیں کہ اگر سجدوں میں ہمارے ناک گِھس جائیں ہمارے ماتھوں کی ہڈیاں گِھس جائیں تب بھی ہم اُس کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری موعود کی نسل میں ہمیں پیدا کیا ہے اور اس فخر کے لیے اُس نے اپنے فضل سے ہمیں چُن لیا ہے۔ پس ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔ دنیا کے لوگوں کے لیے دنیا کے اور بہت سے کام پڑے ہوئے ہیں۔ مگر ہماری زندگی تو کلیۃً دین کی خدمت اور اسلام کے احیاء کے لیے وقف ہونی چاہیے۔ مگر مَیں دیکھتا ہوں ہمارے خاندان کے کچھ افراد دنیا کے کام میں مشغول ہوگئے ہیں۔ بے شک وہ چندے بھی دیتے ہیں، بے شک وہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں، بے شک وہ اَور دینی کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ مگر یہ وہ چیز ہے جس کی اللہ تعالیٰ ہر مومن سے امید کرتا ہے۔ ہر مومن سے وہ توقع کرتا ہے کہ وہ جہاں دنیا کے کام کرے وہاں چندے بھی دے، وہاں نمازیں بھی پڑھے، وہاں دین کے اَور کاموں میں بھی حصہ لے۔ پس اِس لحاظ سے ان میں اور عام مومنوں میں کوئی امتیاز نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ خدا ہم سے دوسروں کی نسبت زیادہ امید کرتا ہے۔ خدا ہم سے یہ نہیں چاہتا کہ ہم کچھ وقت دین کو دیں اور باقی وقت دنیا پر صَرف کریں۔ بلکہ خدا ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی تمام زندگی خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لیے وقف کردیں۔ حضرت داؤد فرماتے ہیں مَیں نے آج تک کسی بزرگ کی سات پُشتوں تک کو بھیک مانگتے اور فاقہ کرتے نہیں دیکھا۔22 اس کے معنے یہی ہیں کہ سات پُشتوں تک اللہ تعالیٰ خود اس خاندان کا محافظ ہوجاتا ہے اور پھر اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ جب سات پُشتوں تک خدا خود اُس خاندان کا محافظ ہوجاتا ہے تو اُس خاندان کے افراد کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ کم سے کم سات پُشتوں تک سوائے دین کی خدمت کے اور کوئی کام نہ کریں۔ اگر وہ دنیا کے کام چھوڑ دیں تو اس کے نتیجہ میں فرض کرو اُن کو فاقے آنے لگ جاتے ہیں تو پھر کیا ہوا۔ سب کچھ خدا کی مشیت کے ماتحت ہوتا ہے۔ اگر اِس رنگ میں ہی کسی وقت اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لینا چاہے اور انہیں فاقے آنے شروع ہوجائیں تب بھی اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ کیا لوگ دنیا میں فاقے نہیں کیا کرتے؟ اگر دنیا کے اور لوگ فاقے کر لیتے ہیں تو فاقہ سے ڈر کر ہمارے لیے دین کی خدمت کو چھوڑنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب فوت ہوئے اُس وقت ہمارے پاس اپنے گزارے کا کوئی سامان نہ تھا۔ والدہ سے اُس کے ہر بچہ کو محبت ہوتی ہے لیکن میرے دل میں نہ صرف اپنی والدہ ہونے کے لحاظ سے حضرت اماں جان کی عظمت تھی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے آپ کی دُہری عزت میرے قلب میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ جس چیز نے میرے دل پر خاص طور پر اثر کیا وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب فوت ہوئے ہیں اُس وقت آپ پر کچھ قرض تھا۔ آپ نے یہ نہیں کیا کہ جماعت کے لوگوں سے کہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اِس قدر قرض ہے یہ ادا کردو۔ بلکہ آپ کے پاس جو زیور تھا اُسے آپ نے بیچ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قرض کو فورًا ادا کردیا۔ مَیں اُس وقت بچہ تھا اور میرے لیے ان کی خدمت کرنے کا کوئی موقع نہ تھا۔ مگر میرے دل پر ہمیشہ یہ اثر رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کتنا محبت کرنے والا اور آپ سے تعاون کرنے والا ساتھی دیا۔ پھر ہمارے لیے حضرت خلیفہ اول نے کچھ گزارہ مقرر کرنا چاہا۔ مَیں نے اِس بات کا پہلے بڑا مقابلہ کیا اور کہا کہ ہم ہرگز گزارہ نہیں لیں گے۔ لوگ مجھے کہتے کہ آخر آپ کیا کریں گے؟ تو مَیں یہی کہتا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمیں بُھوکا رکھنا منظور ہے تو ہم بُھوکے رہیں گے مگر جماعت سے گزارہ کے لیے کوئی رقم نہیں لیں گے۔ یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول کو یہ بات معلوم ہوئی۔ اِس پر آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میاں! خدا کا ایک الہام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوا اور مَیں نے اُس الہام کے یہ معنے نکالے ہیں اس لیے تم اس گزارہ کو قبول کرلو۔چنانچہ مَیں نے وہ گزارہ قبول کر لیا مگر وہ گزارہ اُس سے بہت کم تھا جو آجکل ہماری اولادوں کو ملتا ہے۔ اُس وقت مجھے ساٹھ روپے ماہوار ملا کرتے تھے اور ہم نہ صرف میاں بیوی تھے بلکہ اُس وقت تک دو بچے بھی ہو چکے تھے اور ایک خادمہ بھی تھی۔ اِس کے علاوہ مَیں انہی روپوں میں سے دس روپے کے قریب دینی کاموں میں خرچ کرتا تھا۔ گویا پچاس روپیہ میں ہم گزارا کیا کرتے تھے۔ لیکن میرے دل میں اُس وقت یہ کبھی خیال پیدا نہیں ہوا کہ ہمیں گزارہ کم ملتا ہے۔ ہماری جائیداد بے شک تھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ جائیداد کی طرف توجہ نہیں کیا کرتے تھے اِس لیے ہمیں بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ جائیداد کیا ہے اور کتنی قیمت کی ہے۔ بعد میں وہ جائیداد خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں روپیہ کی ثابت ہوئی اور باوجود اِس کے کہ بہت سی جائیداد ہم بیچ کر کھا چکے ہیں اب بھی اگر سب بھائیوں میں وہ جائیداد تقسیم کی جائے تو ہر ایک کا لاکھ بلکہ ڈیڑھ،ڈیڑھ لاکھ روپیہ کا حصہ نکل سکتا ہے۔ حالانکہ چار پانچ لاکھ روپیہ کی جائیداد ہم بیچ چکے ہیں۔ تو یہ چیز موجود تھی مگر ہمیں اس کا پتہ نہیں تھا اور نہ اس جائیداد کی قیمت کا ہمیں کوئی علم تھا۔ نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جائیداد سے کوئی واسطہ رکھا اور نہ ہمیں اِس کی طرف کوئی توجہ پیدا ہوئی۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے ذرائع سے روپیہ دینا شروع کردیا جو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔ لوگ جہاں مجھ پر مختلف اعتراضات کیا کرتے ہیں مگر مَیں ان اعتراضات کی پروا نہیں کیا کرتا وہاں مالی معاملات میں جب بھی مجھ پر کوئی اعتراض کیا گیا ہے مَیں نے دلیری سے کہا ہےکہ تم مجھ سے پائی پائی کا حساب لے لو۔ مَیں تمہیں بتانے کے لیے تیار ہوں کہ میری جائیداد کس طرح بنی ہے۔ اور یہ تمام باتیں زبانی نہیں بلکہ رجسٹروں اور تحریروں سے میں ثابت کرسکتا ہوں۔ مَیں نے جماعت کے روپیہ سے جائیداد نہیں بنائی۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے خود ہی مجھ کو جائیداد دی ہے۔ چنانچہ آج بڑے سے بڑے دشمن کو بھی میں حساب دینے کے لیے تیار ہوں اور ثابت کرسکتا ہوں کہ مَیں نے جماعت کے روپیہ سے ہرگز کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے توقع سے بہت زیادہ جائیداد دی ہے۔ جس کا قیاس اور وہم و گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے پیشگوئی کے ذریعہ سے پہلےمجھے اس جائیداد کی خبر دی۔ پھر ایسے سامان کیے کہ معجزانہ رنگ میں و ہ جائیداد مجھے مل گئی اور ہر قدم پر ایسے حالات پیدا ہوئے کہ جبراً وہ جائیداد مجھے لینی پڑی۔ کہیں کوئی مجبوری پیدا ہوئی اور اُس کی وجہ سے جائیداد لینی پڑی اور کہیں کوئی مصلحت نظر آئی تو جائیداد لینی پڑی۔ بہرحال یاد رکھو خدا اپنے بندوں کو دیتا ہے اور ایسے طور پر دیتا ہے کہ بندہ لیتے لیتے تھک جاتا ہے۔ پھر کیوں وہ خدا پر یقین اور توکل نہیں کرتے اور دنیوی کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ پر توکل کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں ہونے کی وجہ سے جس طرح ہم تینوں بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی ہے کہ ہم نے اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کردی ہیں اِسی طرح وہ اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے لیے وقف کردیں، اپنی اولادوں کو خدا تعالیٰ کے لیے وقف کردیں اور دنیوی کاموں کی بجائے دین کے کاموں اور اسلام کے احیاء میں حصہ لیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اوّل تو مَیں انہیں بتاتا ہوں خدا انہیں فاقہ نہیں دے گا۔ لیکن مَیں کہتا ہوں اگر خدائی مشیت کے ماتحت کسی وقت انہیں فاقہ بھی کرنا پڑے تو یہ فاقہ ہزاروں کھانوں سے زیادہ بہتر ہوگا۔اِس وقت دین پر ایک آفت آئی ہوئی ہے، اسلام ایک مصیبت میں مبتلا ہے اور اِس کا وہی نقشہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان الفاظ میں کھینچا کہ ؎
    بیکسے شد دین احمد ہیچ خویش ویار نیست
    ہر کسے درکارِ خود با دینِ احمد کار نیست23
    پس اے ابنائے فارس! تم کو یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بیٹا قرار دیا ہے اور بیٹا اِسی وجہ سے قرار دیا ہے تا آپ کے خاندان کو معلوم ہو کہ وہ خویشوں میں سے ہیں اور اُن سے زیادہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دین کی خدمت کریں گے۔ پس تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خویشوں میں سے ہو۔ تمہیں اَوروں سے زیادہ دین کی خدمت کرنی چاہیے۔ مجھے تو اِس بات کی کبھی سمجھ ہی نہیں آسکتی کہ اگر خدا نے دین کی خدمت کا کام کرتے ہوئے دنیوی لحاظ سے مجھے اپنے فضلوں سے حصہ دیا ہے تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ میری اولاد یا اولاد در اولاد دین کی خدمت کا کام کرے اور وہ فاقہ سے مرتی رہے۔ اگر وہ مومنانہ رنگ اختیار کریں تو تھوڑے روپیہ میں بھی آسانی سے گزارہ کر سکتے ہیں اور اگر حرص بڑھا لیں تو پھر پانچ یا دس ہزار روپیہ کمانے کی کیا شرط ہے۔ انسان کہتا ہے مجھے بیس ہزار روپیہ ملے جب بیس ہزار روپیہ اکٹھا کر لیتا ہے تو کہتا ہے میرے پاس پچاس ہزار روپیہ ہوجائے۔ جب پچاس ہزار روپیہ ہوجاتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہوجائے۔ پس اگر اس حرص کو بڑھاتے چلے جائیں تو پھر بڑھتی چلی جاتی ہے اور اِس کا کہیں خاتمہ نہیں ہوتا۔ دنیا میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جن کی ماہوار آمد پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ لاکھ روپیہ ہے مگر پھر بھی وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے پاس اَور روپیہ آجائے۔ پس اللہ تعالیٰ پر توکل کرو، دنیوی کاموں کو چھوڑ دو اور دین کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردو۔ اِسلام اس وقت قربانی کا محتاج ہے اور سب سے پہلا حق اِس قربانی کو ادا کرنے کا ہم پر ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ اول المومنین تھے۔24 اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ آپ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے احکام کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھتے تھے اور دوسروں کو کہنے سے پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھا دیتے تھے۔ مجھ پر بھی جب یہ تازہ انکشاف ہوا اور اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو ایک دو منٹ تو اس رؤیا پر ہی مَیں غور کرتا رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے معاً مجھے سمجھ دی کہ اِتنا وقت مَیں نے ناحق ضائع کردیا اور مَیں نے فوراً اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا یَا رَبِّ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ جب خدا کسی کے سپرد کوئی کام کرتا ہے تو اُس پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ یہ خوشی کا مقام نہیں بلکہ گھبراہٹ کا مقام ہوتا ہے اور اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بات پر ایمان لائے۔
    خدا تعالیٰ کے دین کے لیے جائیدادیں وقف کرنے کی تحریک:اب مَیں ایک آخری اور ضروری بات کہہ کر اِس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔ وہ بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اب اسلام کی فتح کی ایک نئی بنیاد رکھ دی ہے تو یقیناً اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لیے ہم سے نئی قربانیوں کا مطالبہ کرنے والا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ آواز میرے منہ سے نکلے گی یا کسی اور شخص کے منہ سے نکلے گی۔ مَیں یہ بھی نہیں جانتا کہ یہ آواز کس رنگ میں نکلے گی لیکن بہرحال یہ آواز بلند ہونے والی ہے۔ ہماری جماعت بے شک چندے دیتی ہے اور بہت دیتی ہے، قربانیاں کرتی ہے اور بہت کرتی ہے۔ مگر یہ قربانیاں اسلام کی اشاعت کے لیے کافی نہیں۔ پس میں تجویز کرتا ہوں اور اس تجویز کے مطابق سب سے پہلے مَیں اپنے وجود کو پیش کرتا ہوں کہ ہم میں سے کچھ لوگ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے اپنی جائیدادوں کو اس صورت میں دین کے لیے وقف کردیں کہ جب سلسلہ کی طرف سے اُن سے مطالبہ کیا جائے گا انہیں وہ جائیداد اسلام کی اشاعت کے لیے پیش کرنے میں قطعاً کوئی عذر نہیں ہوگا۔ مَیں سب سے پہلے اس غرض کے لیے اپنی جائیداد وقف کرتا ہوں۔ دوسرے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی جائیداد میری اِس تحریک پر دین کی خدمت کے لیے وقف کردی ہے بلکہ انہوں نے مجھے کہا آپ جانتے ہیں، آپ کی پہلے بھی یہی خواہش تھی اور ایک دفعہ آپ نے اپنی اِس خواہش کا مجھ سے اظہار بھی کیا تھا اور مَیں نے کہا تھا کہ میری جائیداد اس غرض کے لیے لے لی جائے۔ اب دوبارہ مَیں اس مقصد کے لیے اپنی جائیداد پیش کرتا ہوں۔ تیسرے نمبر پر میرے بھانجےمسعود احمد خان صاحب ہیں۔ انہوں نے کل سنا کہ میری یہ خواہش ہے تو فوراً مجھے لکھا کہ میری جس قدر جائیداد ہے اُسے مَیں بھی اسلام کی اشاعت کے لیے وقف کرتا ہوں۔ اِس وقف کی صورت یہ ہوگی کہ ایک کمیٹی بنا دی جائے گی اور جب وہ فیصلہ کرے گی کہ اِس وقت اسلام کی ضرورت کے لیے وقف کرنے والوں کی جائیدادوں سے اِس اِس قدر رقم لے لی جائے اُس وقت پہلے عام چندے کی تحریک کی جائے گی۔ اس کےبعد چندہ میں جو کمی رہ جائے گی اُس کمی کو یہ کمیٹی ان لوگوں پر نسبتی طور پر تقسیم کردے گی جنہوں نے اپنی جائیدادیں وقف کی ہوں گی۔ اور ان کا اختیار ہوگا کہ وہ چاہیں تو نقد روپیہ دے دیں اور چاہیں تو اپنی جائیداد فروخت کرکے یا گِرو رکھ کر اتنا روپیہ دے دیں۔ گویا اسلام کی اشاعت کے لیے آئندہ یہ نہیں ہوگا کہ کہا جائے ہمارے پاس اتنا روپیہ نہیں۔ جماعت میں پہلے ایک عام تحریک کی جائے گی اور اس کے بعد جو کمی رہ جائے گی اُس بار کو ہم لوگ اپنے اوپر لے لیں گے جنہوں نے دین کے لیے اپنی جائیدادوں کو وقف کردیا ہوگا۔ اور جو کمیٹی مقرر ہوگی وہ جائیدادوں کے مطابق ہر ایک کا حصہ اُسے بتا دے گی۔ مثلاً فرض کرو ایک شخص کی جائیداد ایک لاکھ روپے کی ہے اور دوسرے کی دس ہزار روپیہ کی۔ تو لاکھ روپے کی جائیداد رکھنے والے کے ذمّے مثلاً کمیٹی دس حصے مقرر کردے گی اور دس ہزار روپیہ والے کے ذمہ ایک حصہ۔ اور اُن کا اختیار ہوگا کہ وہ چاہیں تو نقد روپیہ ادا کردیں اور چاہیں تو اپنی جائیداد کو فروخت کرکے یا گِرو رکھ کر ادا کردیں۔ بہرحال اس معاہدہ کے بعد اُن کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ کہہ سکیں کہ ہم اپنی جائیداد کا اِتنا حصہ دے سکتے ہیں اِتنا نہیں دے سکتے۔ یہ کمیٹی کا اختیار ہوگا کہ اُن سے جس قدر ضرورت سمجھے مطالبہ کرے۔ اُن کا حق نہیں ہوگا کہ وہ انکار کریں۔ اِس اقرار کے بعد اگر کوئی شخص اس جائیداد کو فروخت کرنا چاہے تو چونکہ اُس سے پہلے وہ اپنی جائیداد سلسلہ کو دے چکا ہوگا اس لیے اُس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ جائیداد فروخت کرتے وقت کمیٹی کو اطلاع دے کہ اِس اِس رنگ میں مَیں اپنی جائیداد کو بدلنے لگا ہوں تاکہ کمیٹی کو تمام جائیدادوں کے متعلق صحیح علم حاصل ہوتا رہے۔ اور چونکہ کچھ لوگ اِس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس جائیدادیں نہیں ہوتیں لیکن اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی کسی طرح ثواب میں شامل ہوں اِس لیے وہ اگر چاہیں تو اِس رنگ میں اپنا نام پیش کرسکتے ہیں کہ علاوہ دوسرے چندوں کو ادا کرنے کے جب کبھی اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لیے خاص قربانیوں کا مطالبہ ہوا مَیں اپنی ایک مہینہ کی یا دو مہینہ کی یا تین مہینہ کی آمد دے دوں گا۔ اور مجھے اور میرے بیوی بچوں کو خواہ کیسی ہی تنگی سے گزارہ کرنا پڑے مَیں اس کی پرواہ نہیں کروں گا۔ اس معاہدہ کے مطابق جب قربانیوں کا وقت آیا تو ان لوگوں سے اُن کے وعدے کے مطابق ایک یا دو یا تین مہینہ کی آمد وصول کر لی جائے گی اور اُن کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اِس میں کسی قسم کا پس و پیش نہ کریں۔
    یہ دو صورتیں ہیں جو اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لیے ضروری ہیں۔ جو لوگ صاحبِ جائیداد ہیں اُن کو چاہیے کہ وہ اپنی جائیدادیں دین کے لیے وقف کردیں اور ہمارے پاس نوٹ کرا دیں کہ ہماری جائیدادیں آج سے خدا کے دین کی اشاعت کے لیے خرچ ہوسکتی ہیں۔ ہمارا اُن پر کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ یہ جائیدادیں گو اُن کے پاس ہی رہیں گی مگر وقت آنے پر اُن سے فائدہ اُٹھایا جا سکے گا۔ اِس دوران میں اگر وہ اپنی جائیداد میں کوئی تغیر و تبدل کریں تو اُن کا فرض ہو گا کہ وہ ہمیں اس تبدیلی سے اطلاع دیں۔ جب اسلام کی طرف سے قربانی کی آواز بلند ہوگی اُس وقت اگر نصف کی ضرورت ہوگی تو اُن سے نصف جائیداد لے لی جائے گی، ثُلث کی ضرورت ہوگی تو ثُلث جائیداد لے لی جائے گی۔ پانچویں، ساتویں یا دسویں حصہ کی ضرورت ہوگی تو اُس قدر حصہ کا مطالبہ کرلیا جائے گا۔ مگر بہرحال یہ طوعی تحریک ہے۔ میرا حکم نہیں ہے کہ ہر شخص اِس تحریک میں ضرور شامل ہو۔ جو شخص ثواب کی خاطر اِس تحریک میں شامل ہونا چاہے اُسے چاہیے کہ وہ اِس میں جلد شامل ہوجائے اور اپنے نام سے ہمیں اطلاع دے تاکہ دین کے کاموں میں آئندہ کسی قسم کا رخنہ پیدا نہ ہو اور ہم دلیری اور جرأت سے تبلیغ و اشاعت کے کام میں ہر وقت حصہ لے سکیں۔
    پس آج اِس خطبہ کے ذریعہ مَیں یہ اعلان کرتا ہوں تاکہ ساری جماعت میں یہ بات پھیل جائے اور اللہ تعالیٰ جس جس کو توفیق عطا فرمائے وہ اِس تحریک میں شامل ہوتا چلا جائے۔ مَیں نے ابھی اس غرض کے لیے چونکہ کوئی کمیٹی مقرر نہیں کی اس لیے جو دوست اس تحریک میں شامل ہونا چاہیں وہ اپنے اپنے ناموں سے مجھے اطلاع دے دیں اور اس امر سے بھی کہ اُن کی کتنی جائیداد ہے جو اسلام کی اشاعت کے لیے وہ وقف کرنا چاہتے ہیں۔ جو دوست اطلاع دیں گے اُن کا نام رجسٹر میں نوٹ کرلیا جائے گا۔ اسی طرح تنخواہوں کے متعلق بھی براہ راست مجھے اطلاع دے دی جائے۔ بعد میں جب رجسٹر بن جائیں گے تو اُن کے نام وہاں درج کر دیئے جائیں گے٭۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم نہایت خوشی سے، نہایت فرحت سے، نہایت بشاشت اور دل کی ٹھنڈک سے اپنی ہر چیز، اپنی جان بھی، اپنا مال بھی، اپنی اولاد بھی، اپنی بیویاں بھی، اپنے عزیز اور رشتہ دار بھی، اپنے جذبات اور احساسات بھی اور اپنے خیالات اور افکار بھی اپنے رب کے پاؤں پر قربان کردیں اور اس راہ میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ اور تنگ دلی سے کام نہ لیں۔ اَللّٰھُمَّ آمِیْن"۔(الفضل 14 مارچ 1944ء)

    11
    ہر قابلیت کے نوجوان خدمتِ دین کے لیے
    اپنی زندگی وقف کریں
    (فرمودہ 24 مارچ 4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    " مجھے بہت کچھ کہنا ہے مگر نہ تو میری صحت زیادہ بولنے کی اجازت دیتی ہے اور نہ ہی وقت اتنا کافی ہے کہ مَیں اپنے سارے خیالات کا اظہار کرسکوں۔اِس وقت بھی کہ مَیں خطبہ کے لیے کھڑا ہوں میرے پاؤں کانپ رہے ہیں اور کھڑا ہونا دوبھر معلوم ہوتا ہے لیکن کام بہت ہے اور وقت تھوڑا ہے۔ ہماری ذمہ داریاں بے انتہا ہیں اور مشکلات کا کوئی اندازہ نہیں اور آخر جس طرح بھی ہو گرتے پڑتے ہمت سے کام کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہی چونکہ وہ کام کرنا ہے اس لیے ہماری کوشش کتنی کم کیوں نہ ہو یہ یقین ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کو پورا کرنے کی توفیق دے دے گا۔
    دو یا تین ہفتے ہوئے مَیں نے بیان کیا تھا کہ مجھے سلسلہ کی آئندہ ترقی کے متعلق بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر چونکہ ایک ہی خطبہ میں ان سب کا بیان کرنا ممکن نہیں اس لیے آہستہ آہستہ مختلف خطبات میں مَیں انہیں بیان کروں گا اور حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک دن جو دو جمعوں کے درمیان گزرتا ہے ہمارے لیے مشکلات بڑھاتا جاتا ہے اور ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو جلد سے جلد ایسے رنگ میں منظم کرلیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی بنیاد دین کی اشاعت کے لیے قائم ہوجائے کہ جس پر آئندہ سہولت کے ساتھ عمارت بنائی جاسکے۔
    مَیں جس سکیم کی طرف سب سے پہلے توجہ دلانا چاہتا تھا وہ جماعت میں علماء کے پیدا کرنے کے متعلق تھی۔ میرا دل کانپ جاتا ہے اِس خیال سے کہ اِس بارہ میں اِس وقت تک ہم سے بہت بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے زمانہ میں جن لوگوں کا انجمن پر تسلّط تھا انہوں نے چاہا تھا کہ دینی علوم سے جماعت کی توجہ ہٹا دی جائے اور احمدیہ سکول کو بند کردیا جائے اور جس قدر روپیہ میسر ہو وہ قوم کے بچوں کو ڈاکٹر، وکیل، بیرسٹر اور انجینئر وغیرہ بنانے پر صَرف کیا جائے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ دینی علوم تو غیروں سے بھی لیے جاسکتے ہیں مگر دنیوی تعلیم جماعت کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اُس وقت بھی مجھے اس ناپاک سکیم کے توڑنے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ 1908ء کے سالانہ جلسہ کی بات ہے۔ میری عمر اُس وقت بیس سال کی تھی اور مَیں کسی دوسرے کام میں مشغول تھا کہ کسی نے مجھے بتایا کہ مسجد مبارک میں جلسۂ مشاورت ہو رہا ہے اور سلسلہ کے لیے سکیمیں سوچی جا رہی ہیں۔باوجود یکہ مَیں انجمن کا ممبر تھا مگر مجھے کسی نے اس جلسہ کی اطلاع نہ دی تھی۔ مَیں یہ اطلاع ملتے ہی مسجد میں آیا اور مَیں نے دیکھا کہ وہاں جماعتوں کے نمائندے جمع ہیں۔ خواجہ کمال الدین صاحب تقریر کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جماعت کی ترقی کے لیے ایسے مبلّغوں کی ضرورت ہے جو بیرسٹر، وکیل اور انجنیئر وغیرہ ہوں جو اپنا اپنا کام بھی کریں اور ساتھ سلسلہ کی تبلیغ بھی۔ مولویوں کی ہمیں ضرورت نہیں۔ یہ لوگ تو جماعت پر بار ہوتے ہیں اور ان کے گزارہ کی جماعت کو فکر ہوتی ہے۔ اس لیے چاہیے کہ جو روپیہ مدرسہ احمدیہ پر خرچ ہوتا ہے اُسے محفوظ کرلیا جائے اور پھر وہ جماعت کے لڑکوں کو وکالت اور ڈاکٹری وغیرہ کی تعلیم دلوانے پر خرچ کیا جائے تا وہ اپنی روزی بھی کماسکیں، چندے بھی دیں اور تبلیغ بھی کرتے رہیں۔ اس طرح جماعت کو بہت ترقی حاصل ہوسکے گی۔میرا علم اور تجربہ اُس وقت ایسا نہ تھا کہ اس سکیم کے علمی پہلو پر زیادہ بحث کرسکتا۔ مَیں جب پہنچا تو جگہ بھی مجھے ایک کونہ میں ملی جہاں لوگ جُوتیاں اُتارتے ہیں اور مَیں وہیں کھڑا ہوگیا۔ مَیں نے وہیں سے کہا کہ مَیں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اُس وقت خواجہ صاحب کی پیش کردہ سکیم سے 99 فیصدی لوگ مسحور ہوچکے تھے کہ وہ سمجھتے تھے گویا کوئی سونے کی کان اُن کو مل گئی ہے اور اگر اس پر عمل کیا جائے تو جماعت کو بہت ترقی ہوگی اور دنیا کے کناروں تک آسانی سے تبلیغ ہوسکے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اُس وقت مجھے ایک نکتہ سُوجھایا اور مَیں نے کھڑے ہو کر جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ اسلام کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ نے اِس وقت تک دو جماعتیں کھڑی کی ہیں۔ ایک وہ جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھوں میں تربیت پائی اور دوسری وہ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھوں میں تربیت پائی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد تمام عرب باغی ہوگیا تھا اور اکثر قبائل نے زکوٰۃ کا دینا بند کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زکوٰۃ کا لینا صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہی حق تھا۔ قرآن کریم میں انہی کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً1 یعنی اے محمد! تُو ان کے مالوں سے صدقات لے اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی نہ رہے تو یہ حکم بھی باطل ہوگیا اس لیے اب زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں۔ مکہ مدینہ اور ایک اَور قصبہ کے لوگ تھے جو زکوٰۃ دینے کے لیے تیار تھے اور جو سمجھتے تھے کہ قرآن کریم کے احکام ہمیشہ کے لیے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ ہی ختم نہیں ہوگئے۔مدینہ چونکہ خلافت کا مرکز تھا اور حضرت ابوبکرؓ مُصر تھے کہ قرآنی تعلیم کے مطابق زکوٰۃ وصول کی جائے۔ اس لیے مرتدین نے چاروں طرف سے مدینہ پر چڑھائی شروع کردی تا اس نظام کو توڑ دیں جو ان پر زکوٰۃ کا جؤا ہٹانے کو تیار نہیں اور ان لشکروں میں جو مدینہ پر چڑھائی کر رہے تھے بعض میں ایک ایک لاکھ سے زیادہ سپاہی تھےلیکن ان کے مقابل پر صحابہؓ کی تعداد صرف چند ہزار تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم کے ماتحت ایک لشکر حضرت اسامہؓ بن زید کی قیادت میں شام کی طرف ایک ایسے حملہ کا جواب دینے کے لیے جانے کو تیار تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی میں ہوا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کی وجہ سے چند روز کے لیے رُک گیا تھا۔ اِس گھبراہٹ کے عالَم میں ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اکابر صحابہؓ ایک جگہ جمع ہوئے اور صورتِ حالات پر غور کرکے تجویز کی کہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس جا کر عرض کریں کہ یہ نازک وقت ہے، مدینہ پر مرتدین کی چڑھائی ہورہی ہے اس لیے کچھ وقت کے لیے اسامہ کے لشکر کو روک لیا جائے تا پہلے وہ مرتدین کا مقابلہ کرے اور پھر امن قائم ہونے پر شام کی طرف چلا جائے۔ وہ لوگ اس یقین اور وثوق کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے کہ اسلام کی بہتری اِسی تجویز میں ہے کہ اس لشکر کو روک کر پہلے مرتدین کا مقابلہ کر لیا جائے اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ ایسی عقل کی بات ہے کہ کوئی بے وقوف ہی اس کا انکار کر سکتا ہے۔ پھر جن لوگوں نے یہ تجویز کی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مشیر تھے۔ چنانچہ وہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئے اور کہا کہ ہم لوگ مشورہ کرکے آئے ہیں اور حضرت عمرؓ نے یہ تجویز ان کے سامنے پیش کی اور تفصیل کے ساتھ اسلام کی مشکلات کو پیش کیا اور حملہ کے خطرات بیان کیے اور کہا کہ ہم یہ درخواست کرنے آئے ہیں کہ اسامہ کے لشکر کو کچھ عرصہ کے لیے روک لیا جائے تا پہلے مرتدین کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اس کے بعد پھر اس لشکر کو شام کی طرف بھیجا جاسکتا ہے۔ جب حضرت عمرؓ اپنی بات ختم کرچکے تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا دوستو! آپ نے جو مشورہ دیا ہے وہ نہایت صحیح ہے مگر کیا ابوقحافہ کے بیٹے ابوبکرؓ سے آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ خلیفہ ہونے کے بعد پہلا کام یہی کرے کہ جو لشکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھیجنا تجویز فرمایا تھا اُسے روک لے؟ مَیں اپنی خلافت کا زمانہ اِس تاریک باب سے شروع کرنے کو تیار نہیں ہوں۔ اگر مرتدین مدینہ میں گھس آئیں اور مسلمان عورتوں کی لاشوں کو کُتّے گلیوں میں گھسیٹتے پھریں تب بھی یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اِس لشکر کو روک لوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھیجنا تجویز فرمایا تھا۔2 میں نے کہا یہ تو پہلی جماعت کا حال تھا۔ ہم دوسری جماعت ہیں جس کی تربیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کی۔ کیا یہ مناسب ہے کہ آپ کی وفات کے بعد پہلے ہی جلسہ پر ہم یہ مشورہ کریں کہ جو مدرسہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے حکم سے قائم فرمایا اور جس کا مشورہ آپ نے خود بیٹھ کر دوستوں سے کیا اور جس کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی برہان الدین صاحب کی یادگار ہے تا سلسلہ کے لیے نئے علماء پیدا کیے جائیں ہم آپ کی وفات کے بعد پہلا کام یہی کریں کہ اس مدرسہ کو جسے آپؑ نے جاری فرمایا تھا بغیر کسی ایسے خطرہ کے جو حضرت ابوبکرؓ کو درپیش تھا بند کردیں اور آپ کے کام کو منسوخ کرکے ایک نیا نظام قائم کردیں؟ اللہ تعالیٰ نے میری بات میں ایسا اثر دیا کہ اکثر احباب کے قلوب ہل گئے۔ بہت سوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کئی کی چیخیں نکل گئیں اور سب نے بِالاتفاق آواز بلند کی کہ ہم ایسا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس طرح یہ مدرسہ قائم فرمایا ہم اسے اُسی طرح رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ دیکھ کر خواجہ صاحب اپنی لسّانی اور تجربہ اور علم کے باوجود ایسے گھبرا گئے کہ انہوں نے جھٹ پہلو بدل کر کہا دوستوں نے میری بات کو سمجھا نہیں میرا مطلب کچھ اَور تھا، میں دین کی تعلیم کو روکنا نہیں چاہتا تھا۔ مگر جو کچھ انہوں نے سمجھانا چاہا کسی نے اُس کو نہ سمجھا اور آخر خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اب مناسب یہ ہے کہ بعد میں لکھ کر یہ تجویز چلی جائے اور جماعتیں آرام سے غور کرکے مشورہ دیں۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ اب چونکہ یہ لوگ اُن کی رائے کے خلاف رائے کے ہوگئے ہیں اِس لیے بعد میں کسی وقت بیرونی جماعتوں میں یہ تجویز بھیج دیں گے اور اُن کا خیال تھا کہ لوگ اُن کی اِس رائے کے مطابق ہی مشورے دیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ جس کو مامور بنا کر بھیجتا ہے اس کی جماعت ایسی کچی نہیں ہوتی۔ وقتی طور پر تو وہ دھوکے میں آسکتی ہے مگر مستقل طور پر دھوکے میں نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ دو تین ماہ کے بعد ان لوگوں کی طرف سے یہ تجویز بیرونی جماعتوں کو بھیجی گئی اور 99 فیصدی جماعتوں نے یہی مشورہ دیا کہ ہم اس مدرسہ کو توڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم فرمایا۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کو انجمن نے جس کے سپرد نظام کو چلانا ہے اور جس کے کاموں میں مَیں بہت ہی کم دخل دیا کرتا ہوں تا وہ اپنی ذمہ داری پر کام کو چلا سکیں پوری طرح پیش نظر نہیں رکھا اور ان کے ذہن سے بہت حد تک وہ پروگرام مستور ہوگیا۔ انہوں نے مدرسہ کو جاری تو رکھا بلکہ میرے مشورہ سے کالج بھی قائم کردیا مگر اس کے ساتھ ہی ان کے مدنظر یہ بات بھی رہی کہ ان میں تعلیم پانے والے نوجوان مولوی فاضل کا امتحان پاس کرسکیں اور ڈگریاں حاصل کرسکیں تا سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے میں ان کو آسانی ہو اور اس طرح تمام کوششیں مولوی فاضل کی ڈگری کے گرد ہی چکر لگاتی رہیں اور ایسے عالم پیدا نہ ہوسکے جو اسلام کا ٹھوس علم رکھنے والے ہوتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکشاف فرمایا کہ میرے ذمہ اِس وقت اسلام کی خدمت خاص طور پر ہے اور خلافت کی ذمہ داریوں سے علاوہ یہ خاص کام میرے سپرد ہے تو پہلی باتوں میں سے جو میرے ذہن میں آئیں ایک یہ تھی کہ علماء کا ایک مضبوط گروہ پیدا کرنا ضروری ہے۔ قاضی امیر حسین صاحب، حافظ روشن علی صاحب اور مولوی محمد اسمٰعیل صاحب اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے۔ قاضی صاحب علمِ حدیث کے ماہر تھے، حافظ صاحب قرآن کریم کی تفسیر کے اور مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کے۔ مگر ان کے قائمقام پیدا کرنے کا ہمیں اب تک احساس نہ ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ مَیں اِس کام کو اپنے ہاتھ میں لوں تاجلد از جلد اسلامی علماء کی ایک مضبوط جماعت قائم ہوسکے جو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی بنیاد کا کام دے جس سے آئندہ علماء کا سلسلہ چلتاجائے۔ لیکن ابھی مَیں اِس کا اعلان بھی نہ کرنے پایا تھا کہ ایک اَور جیّد عالم ہم میں سے اُٹھ گیا۔ اِس وقت جہاں تک تعلیم کا سوال ہے ہمارے پاس دو ہی آدمی تھے۔ یعنی مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور میر محمد اسحٰق صاحب لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت نے میر صاحب کو اٹھا لیا اور اب ہمیں تھوڑے سے وقت میں اور بہت تھوڑے سامان سے نئی عمارت کی بنیاد رکھنی ہے۔
    مولوی سید سرور شاہ صاحب بے شک بہت باہمت ہیں اور جس طرح وہ ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں اُسے دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے۔ مگر اب وہ بوڑھے ہوچکے ہیں، ان کی کمر بھی خم ہوگئی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اُنہیں زیادہ سے زیادہ عمر بھی دے تو بھی اب وہ زیادہ کام نہیں کرسکتے۔ اِس میں شک نہیں کہ جماعت میں دوسرے درجہ کے علماء کی ایک جماعت ہے جیسے شمس صاحب اور مولوی ابوالعطاء صاحب ہیں مگر یہ لوگ دوسرے نمبر پر ہیں۔ان کے مطالعہ کی وسعت اور کسی خاص علم میں ان کی خصوصیت مذکورہ علماء جیسی نہیں۔ ہم میں علماء کی ایک ایسی جماعت کا ہونا ضروری ہے کہ جن میں سے ہر ایک قرآن و حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کامل عالم ہو۔ بڑے سے بڑے قاضی، فقیہہ، محدث اور مفسر ہوں اور یہ چیز ابھی ہم سے بہت دور ہے۔ سال سے کچھ کم عرصہ ہوا مَیں نے اس کی بنیاد قائم کرنی شروع کی تھی۔
    اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی بندے کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اُس سے ایسے کام کراتا ہے کہ پہلے اُسے خود بھی نظر نہیں آتا کہ وہ کام کیسا اہم ہے۔ پھر آہستہ آہستہ جب وہ پھیلتا ہے تو اس کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ چنانچہ مَیں نے کچھ عرصہ ہوا یہ محسوس کیا کہ تحریک جدید کے واقفین کی تعلیم جس رنگ میں ہورہی ہے اس طرح وہ مکمل نہیں ہوسکتی اور مَیں نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا تا ایسے اصول پر ان کی تعلیم ہوسکے کہ وہ چوٹی کے علماء بن سکیں۔ اور مَیں نے ان سے کہا کہ پہلے وہ صَرف و نحو کی تعلیم حاصل کریں اور اس میں کامل بنیں کیونکہ یہ علم ہر دوسرے علم کے حاصل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ اب ان میں سے بعض طالب علم ایسے مقام پر ہیں کہ دو تین ماہ میں اسے مکمل کرسکیں گے اور پھر اس سے دوسروں کو پڑھانے اور سکھانے کی قابلیت ان میں پیدا ہوجائے گی۔ اب اللہ تعالیٰ نے جو انکشاف مجھ پر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جب یہ لوگ صَرف و نحو کی تعلیم مکمل کرلیں تو ان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا جائے۔ بعض کو فقہ کی اعلیٰ تعلیم دلائی جائے، بعض کو حدیث کی، بعض کو تفسیر کی اعلیٰ تعلیم دلائی جائے اور اس طرح تین تین چار چار کو مختلف علوم کی تکمیل کرائی جائے۔ اور پھر پانچ چھ ماہ یا سال کے بعد وہ ایک دوسرے کو اپنے اپنے حاصل کردہ علوم کی تکمیل کرا دیں اور جو جو علم کسی نے سیکھا ہو وہ دوسروں کو سکھا دیں اور اس طرح ان میں سے ہر ایک دوسرے کا شاگرد اور استاد بن جائے اور سب کے سب مختلف علوم میں کمال حاصل کرسکیں۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو اگر باری باری سارے علوم سکھائے جائیں تو ہوسکتا ہے کہ سب کے کامل ہونے تک وہ لوگ جماعت میں سے اُٹھ جائیں جو ان نوجوانوں کو تعلیم دیتے ہیں اس لیے ان کو گروہوں میں تقسیم کردیا جائے۔ تین چار تفسیرِ قرآن سیکھنے میں لگ جائیں، تین چار حدیث سیکھنے میں، تین چار تصوف سیکھنے میں، تین چار علمِ کلام کے سیکھنے میں اور تین چار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کے سیکھنے میں۔ اور چونکہ ان سب کو ان سب علوم کا سکھانا ضروری ہے اس لیے ان میں سے ہر ایک، ایک علم میں کمال حاصل کرنے کے بعد دوسرے کو سکھائے۔ فقہ کے علماء حدیث کے علماء کو فقہ کی اعلیٰ تعلیم دیں اور حدیث کے علماء فقہ کے علماء کو حدیث کی اعلیٰ تعلیم دیں اور اس طرح باہم استاد شاگرد ہو کر مکمل علوم کے ماہر بن جائیں۔ لیکن یہ سکیم پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ایسے افراد زیادہ تعداد میں نہ ہوں جو دین کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں۔ جسمانی کام ایک ایک آدمی سے بھی چل سکتے ہیں کیونکہ جسم کا فتح کرنا آسان ہے۔ مگر روحانی کاموں کے لیے بہت آدمیوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے کیونکہ دلوں کا فتح کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہمارے پاس اتنے معلّم ہوں کہ ہم انہیں تمام جماعت میں پھیلا سکیں اور تمام افرادِ جماعت کو حسبِ قابلیت قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کی تعلیم دے سکیں۔ اِس وقت یہ حالت ہے کہ علم صرف چند لوگوں تک محدود ہے باقی صرف ایمان رکھتے ہیں زیادہ علم اُن کو نہیں۔ اور یہ چیز جماعت کی ترقی میں مُمد نہیں ہوسکتی۔ ضروری ہے کہ ہماری جماعت کا ہر زمیندار، تاجر، پیشہ ور، وکیل، بیرسٹر، ڈاکٹر، انجنیئر ایک خاص حد تک قرآن، حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا علم رکھتا ہو۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا جب تک ہمارے پاس علماء کی کثرت نہ ہو۔
    اِس کے ساتھ ہی اِس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ علماء کی کثرت کے ساتھ اخراجات میں بھی اضافہ ہونا لازمی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ فی الحال دو سَو علماء کی ہمیں ضرورت ہے تب موجودہ حالات کے مطابق جماعتی کاموں کو تنظیم کے ماتحت چلایا جاسکتا ہے۔ لیکن اِس وقت واقفین کی تعداد 30،35 ہے۔ اِس وقت جماعت کے لوگ اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔ مگر مَیں کہتا ہوں کہ صرف مُنہ کی باتیں، بیانات اور نعرے لگا دینے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ ضرورت ہے کہ اِس تبدیلی سے فائدہ اٹھایا جائے اور عملی قربانی کے لیے نوجوان آگے آئیں۔ زمیندار طبقہ ہمارے ملک کی جان ہے۔ اِن میں سے اور اُن قوموں میں سے جو باہر سے ہندوستان میں آئی ہیں مثلاً پٹھان، قریشی، سید، مغل اور راجپوت وغیرہ اقوام میں سے بہت کم نوجوانوں نے زندگیاں وقف کی ہیں۔ زیادہ تر ایسے نوجوانوں نے زندگیاں وقف کی ہیں جن کا پشت پناہ جماعتی طور پر کوئی نہیں۔ اور ایسی صورت میں بعض اوقات دشمن اعتراض کرسکتا ہے کہ جن لوگوں کے گزارہ کی کوئی صورت نہ تھی انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ گو یہ بات ہے تو جھوٹ۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ روح ہماری جماعت میں نہیں مگر کم سے کم دشمن کے لیے اعتراض کا موقع تو ضرور ہے۔ اس لیے وہ اقوام جن کو اللہ تعالیٰ نے سیاسی عزت دی ہے اگر اپنے فرائض کو ادا کریں تو اُن کی عزت قائم رہ سکتی ہے۔ اگر ان کے اندر قربانی کا مادہ پیدا نہ ہوا تو ان کی عزت چِھن جائے گی۔ اِس وقت دنیا میں ایسے انقلاب اور تغیرات ہونے والے ہیں کہ اگر ان قوموں نے جو اِس وقت سیاسی طور پر معزز سمجھی جاتی ہیں اپنا حصہ قربانیوں کا ادا نہ کیا تو وہ گر جائیں گی اور وہ عزت پا جائیں گی جو اس وقت سیاسی طور پر معزز نہیں سمجھی جاتیں۔ قرآن و حدیث میں بھی ایسی پیشگوئیاں موجود ہیں جن سے پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں عزت والی قومیں گر جائیں گی اور ادنیٰ سمجھی جانے والی معزز ہو جائیں گی۔ اسلام نے تو کسی قوم کو ذلیل قرار نہیں دیا اور قومی فرق کو تسلیم نہیں کیا۔ اسلام کے نزدیک ہر شخص اگر خدمتِ دین کرے تو وہ معزز اور سردار ہے۔ مگر اُن قوموں کے لیے جو سیاسی طور پر معزز سمجھی جاتی ہیں بہت شرم کی بات ہوگی اگر وہ قربانیوں میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے گر جائیں اور سیاسی طور پر ادنیٰ سمجھی جانے والی قومیں آگے آجائیں ۔
    پس مَیں تحریک کرتا ہوں کہ سیاسی طور پر معزز سمجھی جانے والی اقوام کے لوگ اپنے کو اور اپنی اولادوں کو دین کے لیے وقف کریں۔ وقت بہت تھوڑا ہے اور کام بہت زیادہ ہے۔ خدا تعالیٰ اب زیادہ انتظار نہیں کرسکتا۔ اگر ہم سستی سے کام لیں گے تو خدا تعالیٰ اپنے کام کے لیے کوئی اَور انتظام کرے گا اور ہماری بدقسمتی پر مُہر ہوجائے گی۔ کاش! ہمارے دل اِس فرض کو پورے طور پر محسوس کریں۔
    اے عزیزو! کاش ہمارے ایمان آج ہم کو شرمندگی سے بچا لیں۔ کاش! ہمارے جسم ہماری روح کے تابع ہوکر ہمیں اپنا فرض ادا کرنے دیں۔ کاش! ہمارے آج کے افعال قیامت کے دن ہم کو شرمساری اور رُوسیاہی سے بچا لیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہر فرد آگے بڑھتا اور اپنی زندگی وقف کرتا مگر کم سے کم ایک حصہ کو تو آگے بڑھنا چاہیے۔ مَیں مانتا ہوں کہ دوست چندے میں قربانی کرتے ہیں لیکن زندگی وقف کرنے کے لیے بہت کم لوگ آئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ آئندہ مدرسہ احمدیہ میں زیادہ بچے داخل کرائے جائیں اور مَیں انجمن کو توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے رنگ میں ان کی تعلیم کا انتظام کیا جائے کہ چاہے مولوی فاضل وہ نہ ہوسکیں مگر دینی علوم کے ماہر بن جائیں۔ ہمیں مولوی فاضلوں کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت یہ ہے کہ مبلغ مل سکیں۔ مالی کمزوری کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہر سال تین نئے مبلغ رکھے جائیں مگر کئی سالوں سے ایک بھی نہیں رکھا گیا اور اب کئی سال کے بعد ایک رکھا گیا ہے۔ حالانکہ کام کی وسعت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر سال ایک سو نہیں بلکہ دو سو مبلغ رکھے جائیں۔ پس مَیں ایک تحریک تو یہ کرتا ہوں کہ دوست مدرسہ احمدیہ میں اپنے بچوں کو بھیجیں تا انہیں خدمتِ دین کے لیے تیار کیا جاسکے اور دوسری تحریک انجمن کو یہ کرتا ہوں کہ پڑھائی کی سکیم ایسی ہو کہ تھوڑے سے تھوڑے عرصہ میں زیادہ سے زیادہ دینی تعلیم حاصل ہوسکے اور اس رستہ میں جو چیز بھی حائل ہو اُسے نکال دیا جائے۔ مولوی فاضل بنانا ضروری نہیں۔ جس نے ڈگری حاصل کرنی ہو وہ باہر چلا جائے۔ اِس دوغلاپَن کو دور کرنا ضروری ہے۔ دو کشتیوں میں پاؤں رکھنے والا کبھی ساحل پر نہیں پہنچا کرتا۔ پس تعلیم کا انتظام ایسے رنگ میں کیا جائے کہ جلد سے جلد مکمل علماء ہمیں مل سکیں۔ فقہ، تفسیر، حدیث، تصوّف اور کلام وغیرہ علوم میں ایسی دسترس حاصل کرسکیں کہ چوٹی کے علماء میں ان کا شمار ہو۔ بلکہ دنیا میں صرف وہی علماء سمجھے جائیں اور اسلام کے ہر فرقہ اور ہر ملک کے لوگ اختلافِ عقائد کے باوجود یہ تسلیم کریں کہ اگر ہم نے ان علوم کو سیکھنا ہے تو احمدی علماء سے ہی سیکھناچاہئے ۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کا ایک حصہ تبلیغ میں حصہ لیتا ہے مگر ضرورت ہے کہ اِس طرف اَور زیادہ توجہ کی جائے۔ اب کے جو مَیں نے اعلان کیا تو دسویں جماعت کے پانچ طلباء نے بھی اپنے نام پیش کیے ہیں۔٭ دنیوی علوم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اگر اپنے نام پیش کریں تو اُن کو بھی ایسی تعلیم دی جاسکتی ہے کہ دین کا کام اُن سے لیا جاسکے اور دین کے اُن حصوں میں جن میں دنیوی تعلیم مُمد ہوتی ہے ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ مثلاً ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ ادنیٰ اقوام میں تبلیغ کے لیے ڈاکٹر بہت زیادہ مفید ہوسکتے ہیں۔ بلکہ ان کے لیے ان سے زیادہ بہتر مبلغ کوئی نہیں ہوسکتا۔ عیسائیوں نے ہسپتال کھول کر ہی چالیس لاکھ افراد کو عیسائی بنا لیا ہے۔ مدراس میں جو قریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے زیر نگین رہا مسلمانوں کا تناسب کُل آبادی کا چھ فیصدی ہے مگر عیسائی بارہ فی صدی ہیں۔ گویا ایک مسلمان کے مقابلہ میں دو عیسائی ہیں اور یہ ترقی انہوں نے صرف ایک صدی میں کی ہے۔ کیونکہ ان کے ڈاکٹر اپنی زندگیوں کو خطرہ میں ڈال کر ان میں جاکر ہسپتال جاری کرتے اور ان کا علاج کرتے ہیں۔ اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ جو ہم سے ہمدردی کرتے ہیں ہم بھی ان کی باتیں سنیں۔ اور چونکہ عیسائیت کی دینی تعلیم نورِ نبوت سے متمتع ہے اس لیے مشرکانہ تعلیم کی نسبت اچھی ہے اور وہ لوگ جب اِسے سنتے ہیں تو اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ لیکن ان کے بجائے اگر اسلامی ڈاکٹر اُن کا علاج کریں اور ساتھ اسلام کی سادہ اور مساوات کی تعلیم ان کے گوش گزار کریں تو بہت جلد کامیابی ہوسکتی ہے۔ عیسائی مشنریوں نے ان کو عیسائی تو بنا لیا مگر ان میں مساوات قائم نہیں کرسکے۔ وہی چُھوت چھات کے اثرات ابھی تک ہیں اور دوسری اقوام ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ مگر چونکہ اسلام میں جب ایک آدمی داخل ہوتا ہے تو ایسا پکّا مسلمان بن جاتا ہے کہ پہلی قومیت بالکل مٹ جاتی ہے اور کوئی مسلمان اس کے ساتھ کھانے پینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ اسلامی تعلیم میں جو خوبیاں ہیں اگر ڈاکٹر اسے ادنیٰ اقوام کے لوگوں کے سامنے پیش کریں تو لاکھوں کی تعداد میں ان کو داخلِ اسلام کیا جا سکتا ہے۔
    پس ایسے نوجوان بھی اپنی زندگیاں وقف کریں جنہوں نے سائنس میں میٹرک پاس کیا ہو یا اس سال پاس ہونے کی امید ہو۔ اسی طرح گریجوایٹ وغیرہ تا جو ڈاکٹری کے لیے مناسب ہوں اُنہیں ڈاکٹری کی تعلیم دلوا کر ادنیٰ اقوام میں جن تک ابھی اسلام کا نور نہیں پہنچا تبلیغ کے لیے بھیجا جاسکے اور جو دوسرے کاموں کے لیے مناسب ہوں اُنہیں دوسرے کاموں کے لیے تعلیم دلائی جائے۔ ہندو ان لوگوں کو ابھی تک ذلیل سمجھتے ہیں، ان سے چُھوت چھات کرتے ہیں،ان غریبوں کو غلام قرار دے رکھا ہے۔ اس لیے جب ہمدردی سے ان کی خدمت کی جائے اور احسن رنگ میں اسلامی تعلیم ان کے سامنے پیش کی جائے تو عیسائیوں کی نسبت کئی گُنا زیادہ کامیابی ہوسکتی ہے۔ پس یہ رستہ بھی بند نہیں۔ دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اپنے آپ کو وقف کرسکتے ہیں اور ان سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ تعلیم اور کام کے متعلق ان کا کوئی دخل نہ ہوگا۔ یہ کام ہمارا ہوگا کہ ہم فیصلہ کریں کہ کس سے کیا کام لیا جائے گا۔ بعض لوگ حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو تقریر اور تحریر کرے وہی مبلغ ہے۔ حالانکہ اسلام تو ایک محیطِ کُل مذہب ہے۔ اس کے احکام کی تکمیل کے لیے ہمیں ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ وہی مبلغ نہیں جو تبلیغ کے لیے باہر جاتا ہے جو سلسلہ کی جائیدادوں کا انتظام تندہی اور اخلاص سے کرتا ہے اور باہر جانے والے مبلغوں کے لیے اور سلسلہ کے لیے، لٹریچر کے لیے روپیہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں کماتا ہے وہ اُس سے کم نہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک مبلغوں میں شامل ہے۔ جو سلسلہ کی عمارتوں کی اخلاص سے نگرانی کرتا ہے وہ بھی مبلغ ہے، جو سلسلہ کے لیے تجارت کرتا ہے وہ بھی مبلغ ہے، جو سلسلہ کا کارخانہ چلاتا ہے وہ بھی مبلغ ہے، جو زندگی وقف کرتا ہے اور اسے سلسلہ کے خزانہ کا پہرہ دار مقرر کیا جاتا ہے وہ بھی مبلغ ہے۔ کسی کام کی نوعیت کا خیال دل سے نکال دو اور اپنے آپ کو سلسلہ کے ہاتھ میں دے دو۔ پھر جہاں تم کو مقر ر کیا جائے گا وہی مقام تمہاری نجات اور برکت کا مقام ہوگا۔
    غرض مَیں ایک تو اِس امر کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں اور دوسرا حصہ اخراجات کا ہے جس کی طرف مَیں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ مَیں نے جائیداد وقف کرنے کی تحریک کی تھی۔ قادیان کے دوستوں نے اس کے جواب میں شاندار نمونہ دکھایا ہے اور اس تحریک کا استقبال کیا ہے۔ بہت سے دوستوں نے اپنی جائیدادیں وقف کردی ہیں۔ مگر بیرونی جماعتوں کی طرف سے اِس تحریک کا جواب ایسا شاندار نہیں بلکہ قادیان کی نسبت نصف بھی نہیں۔٭ پس مَیں بیرونی جماعتوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ دوست جائیدادیں وقف کریں۔ یہ وقف جیسا کہ مَیں نے پہلے بیان کیا تھا اِس صورت میں ہوگا کہ ان کی جائیداد ان ہی کے پاس رہے گی اور آمد بھی مالک کی ہی ہوگی اور وہی اُس کا انتظام بھی کرے گا۔ ہاں جب سلسلہ کے لیے ضرورت ہوگی ایسی ضرورت جو عام چندہ سے پوری نہ ہوسکے تو جتنی رقم کی ضرورت ہوگی اُسے ان جائیدادوں پر بحصہ رسدی تقسیم کردیا جائے گا۔ مَیں پہلے بھی اس تجویز کو بیان کرچکا ہوں لیکن اب پھر اسے بیان کردیتا ہوں۔ فرض کرو ایک شخص کی جائیداد ایک ہزار کی ہے، دوسرے کی دس ہزار کی اور تیسرے کی ایک لاکھ کی ہے۔ ایک کمیٹی مقرر کردی جائے گی جو کسی ضرورت کے لیے اخراجات کا اندازہ کرے گی۔ فرض کرو کمیٹی کا اندازہ یہ ہے کہ ایک لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے اور یہ رقم اتنی ہے کہ اگر ایک ایک فیصدی حصہ وقف شدہ جائیدادوں کا لے لیا جائے تو پوری ہوسکتی ہے تو جس نے ایک ہزار کی جائیداد وقف کی ہے اُس سے دس روپیہ کا مطالبہ کیا جائے گا اور جس کی دس ہزار کی جائیداد ہے اُس سے ایک سَو کا اور جس کی ایک لاکھ کی ہے اُس سے ایک ہزار اور جس نے دس لاکھ کی جائیداد وقف کی ہے اُس سے دس ہزار کا مطالبہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اتنے عرصہ میں یہ روپیہ داخل کردو۔ جس کے پاس روپیہ ہو وہ اپنے حصہ کا روپیہ ادا کردے۔ لیکن جس کے پاس نہ ہو اُس کی جائیداد کو رہن کرکے اس کے حصہ کا روپیہ وصول کرلیا جائے گا اور اس طرح مطلوبہ خرچ چلایا جائے گا۔ پس جائیدادیں وقف کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی جائیدادیں انجمن کو دے دیں۔ صرف یہ اقرار کریں کہ جو چندہ ان کے ذمہ ڈالا جائے گا اُسے ادا کریں گے۔ اگر کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ مثلاً ایک کروڑ روپیہ کی ضرورت ہے اور وقف شدہ جائیدادیں دو کروڑ روپیہ کی مالیت کی ہیں تو پچاس فیصدی کا مطالبہ کر لیا جائے گا۔جس کی جائیداد دس لاکھ کی ہوگی اُسے پانچ لاکھ اور جس کی دس ہزار کی ہوگی اُسے پانچ ہزار دینا ہوگا۔ مگر یہ ابھی دور کی بات ہے۔ فِی الْحال میرا خیال ہے کہ ایک سے دس فیصدی تک کی ہی چند سالوں تک ضرورت پیش آسکتی ہے۔
    جن کی جائیدادیں نہیں ہیں اُن کے دل میں اگر خواہش ہو کہ وہ بھی اِس تحریک میں شامل ہوں تو وہ اپنی آمدنیاں وقف کرسکتے ہیں اور ایسے بھی بعض دوست ہیں جنہوں نے آمدنیاں وقف کی ہیں۔ کسی نے ایک ماہ کی، کسی نے دو کی، کسی نے تین کی اور بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے سال بھر کی آمدنیاں ہی وقف کی ہیں اور لکھا ہے کہ جب سلسلہ کو ضرور ت ہو تو ہم سارے سال کی آمد دینے کو تیار ہیں۔ خواہ ہمیں بھیک مانگ کر ہی گزارہ کرنا پڑے۔ جب ہم سے مطالبہ کیا جائے گا ہم سارے سال کی آمد پیش کردیں گے۔ اگر دوست اس تحریک کی طرف پوری توجہ کرتے تو تین چار کروڑ روپیہ کی جائیدادیں وقف ہونا مشکل نہ تھا۔ پس دوست اس طرف توجہ کریں۔ مگر اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ عام چندوں پر اس کا اثر نہ ہو۔ یہ تحریک طوعی ہے اور ہر شخص کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ چاہے تو اس میں حصہ لے تازیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرسکے۔ جب کوئی چیز جماعت کے نظام میں داخل ہوجائے تو ہر شخص کو اُس میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے اور وہ ہو بھی جاتے ہیں۔ مگر ان کا ثواب اس قدر نہیں ہوتا۔ اس لیے مَیں نے یہ تحریک محض طوعی رکھی ہے۔ کسی پر جبر نہیں کہ اس میں حصہ لے۔ اب مَیں پھر قادیان کے اُن دوستوں کو بھی جنہوں نے ابھی تک اِس تحریک میں حصہ نہیں لیا مگر حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں تحریک کرتا ہوں کہ اِس میں شامل ہوں اور بیرونی جماعت کے دوستوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں۔ وقت بہت تھوڑااور کام بہت زیادہ ہے۔ پس دوست جلد اس تحریک میں اپنے نام پیش کریں تاہم اندازہ کرسکیں کہ ضرورت کے وقت علاوہ انجمن اور تحریک جدید کے بجٹ کے کتنا روپیہ ہمیں مل سکتا ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ جماعت کے دوستوں کی ماہوار آمد پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ ہے اور اگر دوست توجہ کریں تو کافی روپیہ ملنے کی امید ہوسکتی ہے۔ یہ کام ابھی آہستہ آہستہ شروع ہوگا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ ربّانی کام وہی ہے جو تھوڑا شروع ہوکر ترقی کرتا ہے۔غالبًا ہم ابھی اس تحریک کے ماتحت اشد ضرورت کے وقت ایک فیصدی تک حصہ لینا شروع کریں گے۔ مگر مومن کی نیت یہی ہونی چاہیے کہ اگر ساری جائیداد کی بھی دین کے لیے ضرور ت ہو تو اُسے دینے میں کوئی عذر نہ ہوگا۔
    مجھے ایک رؤیا میں اِس تحریک کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک عورت ہے جس کا خاوند نیک ہے مگر وہ خود نیک نہیں۔ اس کا ایک بیٹا ہے۔ وہ اس سے کہتی ہے کہ تیرا باپ اسراف بہت کرتا ہے اگر اس سے کوئی ایک پیسہ مانگے تو پیسہ دے دیتا ہے،اگر دو آنے مانگے تو دو آنے دے دیتا ہے اور وہ اس قسم کا ہے کہ اگر کوئی اس سے سارا مال مانگے تو وہ سارا دے دے گا۔ اور وہ اپنے بیٹے سے کہتی ہے کہ آؤ ہم اس سے سارا مال مانگ لیں وہ ہمیں دے دے گا۔ تو پھر وہ دین کی راہ میں اس مال کو لُٹا نہ سکے گا۔ مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں جماعت کے دوستوں کے سامنے عربی میں تقریر کر رہا ہوں اور یہ مثال دیتا ہوں کہ اس طرح ایک نیک آدمی تھا مگر اس کی بیوی نیک نہ تھی۔ اس کا ایک بیٹا جو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ خود نیک تھا یا برا مگر اُس کی ماں یہ ضرور سمجھتی تھی کہ وہ اسے اپنا آلۂ کار بناسکے گی۔ وہ اُسے کہتی ہے کہ تیرے باپ سے کوئی جو کچھ مانگے وہ اسے دے دیتا ہے اور ڈر ہے کہ اگر اُس سے کوئی سارا مال دین کے لیے مانگے تو وہ سارا مال دے دے گا۔ اس لیے آؤ ہم اس سے سارا مال مانگ لیں۔ اس طرح وہ خدا کی راہ میں اسے خرچ نہ کرسکے گا اور ہمیں نقصان نہ ہوگا۔ یہ مثال دے کر مَیں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے فتنے بھی آدمی کو پیش آسکتے ہیں۔ ان سے ہوشیار رہو۔ مَیں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی اور مَیں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی ہیں جو دین کی راہ میں اپنا سارا مال خرچ کرنے کو تیار ہیں۔ مگر یہ بھی خطرہ ہے کہ اُن کی بیویاں اور بچے اُن کے لیے فتنہ بن جائیں۔پس پیشتر اِس کے کہ وہ فتنہ بنیں، کیوں نہ ہم ہی ان سے دین کے لیے ان کی جائیدادیں طلب کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان ایمان کے اِس درجہ پر قائم نہ ہو اُس وقت تک وہ صحیح معنوں میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا نہیں ہوسکتا۔
    اس رؤیا نے مجھے اس طرف توجہ دلائی کہ جب مومن دین کے لیے سب کچھ خرچ کرنے کو تیار ہے تو اگر ہم اس سے ایسا مطالبہ نہ کریں گے تو ہوسکتا ہے کہ اُس کے بیٹے اور اولادیں لے لیں۔ پس پیشتر اِس کے کہ اِس طرح مومنوں کے مال ضائع ہوں کیوں نہ دین کے لیے انہیں لے لیا جائے۔ پس اِسی رؤیا کے ماتحت مَیں نے اس وقف کی تحریک کی اور دوستوں کو چاہیے کہ اس تحریک میں حصہ لیں۔ یہ وقف ایسا ہے کہ ہم یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ہمیں جائیدادیں دے دو۔ صرف پابند کرتے ہیں کہ جب اور جتنا مطالبہ کیا جائے گا وہ پیش کردیں گے۔ یہ ادنٰی سے ادنٰی قربانی ہے۔ یہ اقرار تو دراصل وہ ہے جو ہر شخص احمدیت میں داخل ہوتے وقت کرتا ہے اور اب ایسا کرنا گویا اُس اقرار کو دُہرانا ہے جو ہر احمدی نے جماعت میں داخل ہوتے وقت کیا تھا۔ اور اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کا بیعت کے وقت کا اقرار مصنوعی نہ تھا بلکہ وہ جماعت کو اختیار دیتا ہے کہ جب اس کے اموال کی ضرورت ہو وہ لے سکتی ہے۔ پس مَیں جماعت کو اس کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں کیونکہ ابھی بہت سا حصہ جماعت کا ایسا ہے جس نے ابھی اس پر غور نہیں کیا۔ یہ مَیں نہیں کہتا کہ ہر شخص ایسا کرے۔ ہاں جسے خدا تعالیٰ بشاشتِ قلب عطا کرے اور توفیق دے وہ ضرور اس میں حصہ لے۔ ہاں جو بوجھ محسوس کرے اور جو سمجھتا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا اور اس کے بیوی بچے اُس پر معترض ہوئے تو اُسے پچھتانا پڑے گا وہ نہ حصہ لے۔صرف وہی حصہ لیں جو سمجھتے ہیں کہ خواہ بیوی، بچے یا عزیز ترین رشتہ دار بھی اس پر ناراض ہوں اسے کوئی پروا نہیں اور جسے اس قربانی کے بعد افسوس نہیں ہوگا بلکہ بشاشت حاصل ہوگی اور جسے یہ خیال نہ آئے گا کہ اُس سے ایسا مطالبہ کیوں کیا گیا۔ بلکہ اسے یہ افسوس ہوگا کہ اُس سے سارا مال کیوں نہیں لے لیا گیا۔ قربانی وہی فائدہ دے سکتی ہے جو بشاشت کے ساتھ کی جائے اور یہ بشاشت مَیں نے دیکھا ہے زیادہ تر غریبوں کو حاصل ہوتی ہے۔ میری تحریک کے بعد بعض غریب عورتیں میرے پاس آئیں اور اپنے زیور پیش کیے کہ یہ لے لیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم خرچ کرلیں اور پھر حصہ نہ لے سکیں۔ مَیں نے کہا کہ ابھی ہم اِس طرح نہیں لے رہے۔ ایک عورت نے تو ایک اَور عورت کے پاس اپنے زیور رکھ دیئے کہ جب ضرورت ہو دے دیئے جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ اُس کے پاس ہوں تو خرچ ہو جائیں۔ ایمان کی علامت یہی ہوتی ہے کہ انسان اپنی جان، مال سب کچھ دین کی راہ میں قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہی فرمایا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ3 اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اموال اور اُن کی جانیں جنت کے عوض اُن سے خرید لی ہیں۔ پس جنت کا ملنا اِس امر پر موقوف ہے کہ ہم اپنی جانیں اور اپنے مال دین کی راہ میں وقف کردیں۔
    اس کے بعد میں ایک اَور چندہ کی تحریک کرتا ہوں۔ہم نے قادیان میں کالج شروع کردیا ہے۔ ابتدائی اخراجات کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے اور ڈگری کالج بنانے کے لیے مزید ڈیڑھ لاکھ روپیہ درکار ہے۔ ڈگری کالج کے لیے جو خرچ چاہیے وہ تو ڈیڑھ دو سال کے بعد پیش آئے گا اِس وقت ڈیڑھ لاکھ روپیہ درکار ہے۔ عمارت وغیرہ کے لیے قرض لے کر روپیہ دے دیا گیا ہے تا کام شروع ہوسکے۔ جن لوگوں کو یہ احساس ہے کہ میٹرک پاس کرنے کے بعد بیرونی کالجوں میں جانے سے ہمارے نوجوانوں پر بُرا اثر پڑتا ہے کیونکہ ان کی عمر اور علم ابھی ایسا نہیں ہوتا کہ بیرونی اثرات سے وہ محفوظ رہ سکیں وہ خصوصیت سے اِس چندہ میں حصہ لیں تا ہمارے بچے باہر جانے سے پہلے کم سے کم دوسال اَور یہاں رہ سکیں اور بڑی عمر کے ہوکر باہر جائیں۔ پس میں جماعت میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ عام چندوں کے معیار کو قائم رکھتے ہوئے وہ اِس چندہ میں حصہ لے۔ اور مجھے امید ہے کہ جماعت کا مالدار حصہ خصوصاً وہ لوگ جن کو جنگ کی وجہ سے ٹھیکوں وغیرہ کے ذریعہ یا دوسرے ایسے ہی کاموں سے زیادہ روپیہ ملا ہے مثلاً تاجر وغیرہ ہیں جن کی آمدنیوں میں کافی اضافہ ہوا ہے،وہ اِس طرف خاص طور پر توجہ کریں۔ یا وہ زمیندار جن کی آمدنیاں بڑھ گئی ہیں۔ ہمارے ملک میں عام زمینداروں کی زمینیں پانچ دس ایکڑ ہی ہیں اور ایسے زمینداروں کے گھروں میں اجناس کی قیمتیں بڑھ جانے کے باوجود دولت جمع نہیں ہوگئی، زیادہ سے زیادہ قرضہ لینے سے بچ گئے ہیں اور وہ روٹی کھانے لگے ہیں۔ مگر جو بڑے بڑے زمیندار ہیں اُن کو کافی روپیہ مل گیا ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس روپے سے مربعے اور جائیدادیں وغیرہ خرید لیں۔ وہ بے شک خرید یں مَیں اِس سے روکتا نہیں کیونکہ اِس سے بھی سلسلہ کی دولت بڑھتی ہے۔ مگر مَیں اُن سے یہ ضرور کہوں گا کہ وہ دین کے حصہ کو نہ بُھولیں۔ پس ایسے لوگ اِس چندہ میں خاص طور پر حصہ لیں۔ مَیں کسی کو محروم نہیں کرتا۔ غریب بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اگر کوئی غریب ایک دھیلا بھی دیتا ہے تو وہ ردّ نہیں بلکہ شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے گا اور اِس امید کے ساتھ قبول کیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک لاکھ دینے والے امیر سے بھی زیادہ ثواب دے گا۔ گو اِس کا اعلان اخباروں میں ہوچکا ہے مگر اب اِس خطبہ کے ذریعہ مَیں باقاعدہ مقامی دوستوں کو اور پھر اخبار کے ذریعہ بیرونی دوستوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اِس چندہ میں حصہ لیں اور کوشش کریں کہ یہ ڈیڑھ لاکھ روپیہ چند ماہ کے اندر اندر آجائے تا کالج کے اخراجات کا بوجھ انجمن پر سے اُتر جائے۔ میری تجویز تو یہ ہے کہ پانچ سال کا بجٹ انجمن کے پاس محفوظ ہونا چاہیے۔ اِسی صورت میں صحیح رنگ میں اور دلیری کے ساتھ کام کیا جاسکتا ہے۔ اِس وقت انجمن کا بجٹ پانچ لاکھ کے قریب ہوتا ہے اور اس طرح کم از کم پچیس لاکھ روپیہ کا ریزرو فنڈ ہونا چاہیے۔ مگر انجمن ابھی پرانے قرضوں سے آزاد نہیں ہوسکی اور ایسی حالت میں اس پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے اور مخلصین کا فرض ہے کہ اس خرچ کو پورا کریں۔ جن دوستوں کا مَیں نے ذکر کیا ہے وہ خصوصیت سے اِس میں حصہ لیں اور باقی دوست بھی جس قدر دے سکیں دیں۔ باقی دوست اگر ماہوار آمد کا آدھا حصہ بھی دے دیں مثلاً دس روپے ماہوار پانے والا پانچ روپے دے دے اور پچاس والا پچیس تو یہ خرچ آسانی سے پورا ہوسکتا ہے۔ مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر شخص ماہوار آمد کا نصف ہی دے۔ بعض لوگوں پر تحریک جدید اور دوسرے چندوں کی وجہ سے بوجھ زیادہ ہے وہ جتنا بھی دے سکیں دے سکتے ہیں۔مومن کا کام یہی ہے کہ نیکی کے کام میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے۔
    اس کے علاوہ گریجوایٹوں اور ایم اے پاس نوجوانوں کی بھی کالج کے لیے ضرورت ہے تا پروفیسر وغیرہ تیار کیے جاسکیں۔ ایسے ہی واقفین میں سے آئندہ ناظروں کے قائمقام بھی تیار کیے جاسکیں گے۔ آگے ایسے لوگ نظر نہیں آتے جنہیں ناظروں کا قائمقام بنایا جاسکے۔ میری تجویز ہے کہ واقفین نوجوانوں کو ایسے کاموں پر بھی لگایا جائے اور ایسے رنگ میں اُن کی تربیت کی جائے کہ وہ آئندہ موجودہ ناظروں کے قائمقام بھی ہوسکیں۔ پس ایم۔اے پاس نوجوانوں کی ہمیں ضرورت ہے جو کوئی خاص علم پڑھانے کا ملکہ رکھتے ہوں۔ اگر گریجوایٹ بھی ہوں تو ایسے رنگ میں ان کی تربیت کی جاسکتی ہے کہ وہ کام دے سکیں مگر بہتر یہی ہے کہ ایم۔اے پاس ہوں۔
    دنیا اِس قدر تیزی سے بدل رہی ہے کہ جب تک ہم ایک میل کے مقابلہ میں سَومیل نہ چلیں ہم اسے زیر نہیں کرسکتے۔ پس ہمیں چاہیے کہ جلد جلد بڑھیں۔ مجھے رؤیا میں بھی یہی دکھایا گیا ہے کہ مَیں جلد جلد بڑھ رہا ہوں۔ شاید میرے کام کا وقت تھوڑا ہو اور اللہ تعالیٰ میری زندگی میں ہی فتح دلانا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ ہم جلدی جلدی آگے بڑھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی میں بھی ہے کہ وہ جلد جلد بڑھے گا اور قدرت اور فضل و رحمت کا نشان قرار دیا گیا ہے۔4 پس فتح کا دن وہی دیکھ سکتا ہے جو جلدی چلنے کی کوشش کرے اور میرے قدم کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کرے۔ اے میرے ربّ! تُو مجھے اَور بھی زیادہ تیز چلنے کی اور جماعت کو میرے قدم سے قدم ملانے کی توفیق بخش۔ اَللّٰھُمَّ آمِیْنَ"۔ (الفضل31 مارچ1944ء)

    12
    دین کی خدمت کے لیے مالی اور جانی قربانیوں
    کا مطالبہ ہمیشہ اور ہر آن ہوتا رہے گا

    (فرمودہ31 مارچ 4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "مجھے اترسوں شدید پیچش کی شکایت ہوگئی تھی جس سے خون کے دست بھی آتے رہے اور گو کل سے اس میں افاقہ ہے لیکن ابھی بخار روزانہ ہو جاتا ہے۔بلکہ اب بھی ہے۔ چنانچہ ابھی آتے ہوئے تھرمامیٹر لگا کر مَیں نے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ آج مجھے گُردے کے مقام پر درد بھی ہوگیا۔ ان وجوہ کے ماتحت میں آ تو نہیں سکتا تھا لیکن میرے دل نے گوارا نہ کیا اور یہی فیصلہ کیا کہ چاہے بیٹھ کر مجھے خطبہ دینا پڑے اور خواہ بعد میں تکلیف بڑھ جائے پھر بھی خود جاکر مجھے خطبہ پڑھنا چاہیے۔
    اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد جو کام کیا ہے وہ اتنا اہم اور اتنا عظیم الشان ہے کہ اُس کے لیے جتنی بھی قربانی جماعت کو کرنی پڑے درحقیقت وہ کام اس کا مستحق ہوگا اور جتنی بھی قربانی ہم کریں درحقیقت وہ قربانی اس فضل سے کم ہی رہے گی جو اللہ تعالیٰ نے یہ کام ہمارے سپرد کرکے ہم پر کیا ہے۔ مَیں تو حیران رہ جاتا ہوں اور میری عقل دنگ ہوجاتی ہے جب مَیں سوچتا ہوں کہ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ کام ہمارے سپرد کیوں کیا۔ ہم سے زیادہ صحت مند لوگ دنیا میں موجود تھے، ہم سے زیادہ مال رکھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے، ہم سے زیادہ بظاہر نمازیں پڑھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے، ہم سے زیادہ بظاہر روزے رکھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے، ہم سے زیادہ تسبیحیں پھیرنے والے اور اپنی زندگیوں کو خلوت کی حالت میں خدا تعالیٰ کی یاد میں گزار دینے والے لوگ دنیا میں موجود تھے۔ آخر خدا نے ہم کو جو اس کام کے لیے چُنا تو کوئی خوبی اللہ نے ہی دیکھی ہوگی ورنہ ہمیں تو وہ نظر نہیں آتی۔ مَیں تو سمجھتا ہوں کہ یہ محض اُس کا احسان ہے کہ اس نے یہ عظیم الشان کام ہمارے سپرد کیا۔ یعنی ایسا کام جو دنیا کی مختلف اقوام گزشتہ کے کاموں سے بڑھ کر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ کی اتباع اور مماثلت کا ہے۔ ہم حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حواریوں کی قربانیاں دیکھتے ہیں تو حیرت آجاتی ہے کہ کس طرح وہ پیدل چلتے ہوئے ایشیا سے لے کر یورپ تک تبلیغ کے لیے نکل گئے۔ وہ پھانسیوں پر چڑھ گئے اور انہوں نے ہر قسم کے دکھ نہایت خوشی اور بشاشت سے برداشت کیے۔ بغیر اس کے کہ کوئی انجمن ہو، بغیر اس کے کہ اُن میں تنظیم ہو، بغیر اس کے کہ انہیں روپیہ کی سہولت حاصل ہو، وہ بھیک مانگتے اور لوگوں کو تبلیغ کرتے چلے گئے۔یہاں تک کہ دنیا میں عیسائیت کے نام کو پھیلا دیا۔
    ہم حضرت موسٰی علیہ السلام کے ساتھیوں کو دیکھتے ہیں۔ ایک زبردست بادشاہ کا انہوں نے مقابلہ کیا اور گو انہوں نے کمزوریاں بھی دکھائیں مگر پھر بھی اُن کا نمونہ نہایت شاندار ہے۔ فرعون جیسا طاقتور بادشاہ جس نے ارد گرد کی تمام حکومتوں کو زیرنگین کر لیا تھا، جس سے ایران تک ڈرتا تھا، جس سے یورپ تک خائف تھا۔ ایسے بادشاہ کے مقابلہ میں وہ ہمت سے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اپنا وطن چھوڑ دیا اور غیر معیّن وعدوں پر حضرت موسٰی علیہ السلام کے ساتھ چل پڑے اور چالیس سال تک جنگلوں میں پھرتے رہے۔ ہم تو دیکھتے ہیں ہم نے صرف چالیس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مزار پر غلبۂ اسلام کے لیے لوگوں کو دعا کرنے کی تحریک کی۔ پھر بھی قادیان میں سے کتنے تھوڑے لوگ ہیں جو التزام کے ساتھ وہاں دعا کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ چالیس دن کی دعا اور چالیس سال تک جنگلوں میں بھٹکتے پھرنا کیا اِن دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے؟ لیکن اُن لوگوں نے ایسا کرکے دکھا دیا۔
    پھر ہم دیکھتے ہیں اَور انبیاء جو بنی اسرائیل میں ہوئے یا اَور ممالک میں پیدا ہوئے ان کے ساتھیوں نے بھی حیرت انگیز قربانیاں کیں۔ ہندوستان میں ہی حضرت کرشن علیہ السلام کے ساتھیوں نے ایک بھاری جنگ میں دشمن کے مقابلہ میں متواتر قربانی کی اور اپنی جانیں حضرت کرشن علیہ السلام کے حکم پر نثار کردیں۔ حالانکہ اس میں ان کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں تھا بلکہ ان کے لیے ایک ابتلاء اور ٹھوکر کا مقام تھا۔ کیونکہ حضرت کرشنؑ جس شخص کی تائید کے لیے کھڑے ہوئے تھے، وہ ان کا ایک رشتہ دار تھا۔ پس وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ لڑائی اپنے ایک رشتہ دار کے لیے کی جارہی ہے ہم اس میں کیوں حصہ لیں۔ مگر انہوں نے اس بات کی کوئی پروا نہ کی۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لوگ جمع ہوئے اور ان کے ساتھ مل کر دشمن سے جنگ کرتے رہے۔ دشمن زبردست تھا، وہ اپنی طاقت اور تعداد میں زیادہ تھا۔ مگر پھر بھی ایک لمبے عرصہ تک وہ اپنی جانوں کو ان کے حکم پر قربان کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پانسہ پلٹ دیا اور حضرت کرشنؑ اور ان کے ساتھیوں کو فتح ہوئی۔
    ہم حضرت زرتشتؑ اور ان کے ساتھیوں کو دیکھتے ہیں تو انہوں نے بھی اس قدر قربانیاں کی ہیں کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔ حالانکہ اُس زمانہ میں لوگوں کو وہ سہولتیں میسر نہیں تھیں جو اِس زمانہ میں میسر ہیں۔ اب نہ جان دینے کا مطالبہ ہوتا ہے، نہ وطن چھوڑنے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ صرف چند سالوں کے لیے ایک مبلغ باہر جاتا ہے اور ان چند سالوں کے لیے بھی اُسے اِس قدر سہولتیں میسر ہوتی ہیں کہ ڈاک جاری ہوتی ہے، ہوائی جہازوں سے خط آتے جاتے ہیں، تاریں آجاتی ہیں،وہ بیمار ہو تو چند گھنٹوں کے اندر اندر اطلاع پہنچ جاتی ہے، اُس کے بیوی بچے بیمار ہوں تو چند گھنٹوں میں اُسے اطلاع ہوجاتی ہے۔ کوئی موت ہو تو اُس کی فوراً اطلاع بھجوا دی جاتی ہے، اُس کے گھر میں کوئی مصیبت آئے تو سلسلہ ایک حد تک اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے روپیہ بھی خرچ کرتا ہے۔ کوئی بیمار ہو تو جماعت کے ڈاکٹر علاج کے لیے موجود ہوتے ہیں۔غرض اِس زمانہ میں کئی قسم کے آرام اور کئی قسم کی سہولتیں لوگوں کو میسر ہیں۔ مگر وہ زمانہ جب پہلے انبیاء کی امتوں نے قربانیاں کیں ایسا زمانہ تھا کہ اُس وقت ان سہولتوں میں سے کوئی سہولت بھی میسر نہ تھی۔ نہ ڈاک کا انتظام تھا، نہ تار کا انتظام تھا، نہ شفاخانوں کا انتظام تھا، نہ خرچ کا انتظام تھا۔ بس ان کے دل میں تبلیغ کا خیال آتا اور وہ اُسی وقت اٹھ بیٹھتے اور سینکڑوں ہزاروں میل پیدل سفر طے کرتے ہوئے غیر ملکوں میں تبلیغ کے لیے نکل جاتے۔ یہ قربانیوں کا نمونہ ایسا شاندار ہے کہ ہم جب اس نمونہ کو دیکھتے اور اس کے مقابلہ میں اپنی قربانیوں کو رکھتے ہیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابہؓ کا قائمقام اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیوں بنا دیا۔ درحقیقت ہمیں صحابہؓ کا قائمقام بنانا ہی ہمیں اپنے نفس میں شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ بعض دفعہ کسی شخص کو شرمندہ کیا جاتا ہے تو کوئی بھاری کام اُس کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ شخص بڑا ہو گیا۔ بلکہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو بڑا سمجھا کرتے تھے لو اب ایک بڑا کام ہم تمہارے سپرد کرتے ہیں تم اِس کو کرکے دکھاؤ۔ ایسے آدمی میں اگرچہ شرافت ہوتی ہے، ایسے آدمی میں اگر ایمان ہوتا ہے تو وہ اُسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے میں گرجا تا اور اس سے عاجزانہ دعا کرتا ہے کہ الٰہی تُو نے مجھے اس ابتلاء میں تو ڈال دیا اب اپنے فضل سے میری عزت رکھ لے اور میرے ہاتھوں سے یہ کام کرا دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وعدوں کو دیکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کو دیکھتے ہوئے جو ہمارے ساتھ ہے، ہمیں یقین ہے کہ یہ ابتلاء ٹھوکر والا ابتلا ء نہیں بلکہ اس کے ذریعہ ہمارے لیے کوئی بہت بڑی فضیلت مقدّر ہے۔ کیوں مقدّر ہے؟ شاید اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ پہلی قومیں ایسی تھیں جنہوں نے قربانیاں کرکے فتح حاصل کی۔باوجود اس کے کہ ان کے بانی شروع میں کمزور تھے، دنیا ان کی مخالف تھی اور سخت سے سخت تکلیفیں اور مصیبتیں ان کو پیش آئیں۔ مگر چونکہ ان کی جماعتوں نے بڑی بڑی قربانیاں کیں اس لیے دنیا نے کہا بے شک وہ نبی کمزور تھے، فتح کے سامان ان کے پاس نہیں تھے مگر چونکہ انہیں ایسی جماعتیں مل گئیں جو قربانیاں کرنے والی تھیں اِس لیے انہیں فتح حاصل ہوگئی۔ اگر ایسی قربانی کرنے والی جماعتیں اُن کو میسر نہ آتیں تو ان کو فتح اور کامیابی بھی حاصل نہ ہوتی۔ پس چونکہ دنیا نے یہ اعتراض کیا اس لیے شاید اللہ تعالیٰ اپنے آخری موعود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ لو بغیر جماعت کی خاص قربانیوں کے اور بغیر ترقی کے خاص سامانوں کے ہم اپنی طاقت اور قدرت سے ہی کام کرکے دکھا دیتے ہیں۔ لیکن بہرحال خواہ جماعت کی قربانیوں کے بغیر یہ کام ہو۔ چونکہ یہ کام ہمارے ہاتھوں سے ہوگا اس لیے ہمیں عزت ضرور مل جائے گی اور مفت میں ہمیں ثواب حاصل ہوجائے گا۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک تنکے سے خدا تعالیٰ کشتیوں کا کام لے لے۔ بے شک ایک تنکا اپنی ذات میں کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ لیکن جس تنکے میں خدا تعالیٰ یہ طاقت پیداکردے کہ وہ سہارا دے کر لوگوں کو دریا سے گزار دے اُس میں بھی ایک خوبی پیدا ہوجاتی ہے۔اس میں بھی ایک حرکت پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر وہ تنکا دنیا میں محفوظ ہو تو یقیناً ہزاروں میل سے لوگ اس کی زیارت کرنے کے لیے آئیں۔ اِسی طرح ہمارے ہاتھ سے اگر یہ کام ہوجائے تو ہماری مثال گو ایک تنکے کی سی ہوگی لیکن چونکہ خدا کا کام ہمارے ہاتھ سے ہوا ہوگا اِس لیے ہمارا وجود خدا تعالیٰ کی کرامت اور اس کی قدرت اور اس کی رحمت کا ایک مورد اور ذریعہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں ایک نشان بن جائے گا۔ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وہ کُرتہ نشان تھا جس پر سرخی کے چھینٹے پڑے اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وہ بقیہ کپڑے نشان ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ "بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے"۔1 یہ صاف بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کُرتہ قربانی نہیں کررہا تھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پاجامہ قربانی نہیں کررہا تھا بلکہ قربانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کررہے تھے۔ وہ سوزوگداز سے بھری ہوئی دعائیں جو عرش سے ٹکرا رہی تھیں، وہ خدا کے نام کی اشاعت اور اس کی بلندی کے لیے دن رات کی کوششیں جو دنیا میں ہورہی تھیں، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کو پھیلانے اور آپ کی عظمت سے دنیا کو روشناس کرانے کے لیے جدوجہد جو اِس عالَم میں جاری تھی وہ تمام جدوجہد، وہ تمام کوشش اور وہ تمام قربانی کُرتہ نہیں کررہا تھا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خود کررہے تھے۔ وہ رات دن کی کوفت جو مختلف علمی کتب لکھنے سے آپ کو ہوئی، وہ مخفی علوم جو آپ دنیا پر ظاہر کررہے تھے، وہ چُھپے ہوئے خزانے جن کو آپ زمین سے باہر نکال رہے تھے، وہ دولتیں جن پر لوگوں کے بخل کی وجہ سے زنگ لگ گیا تھا اور وہ سکّے جن پر اس قدر میل جم چکی تھی کہ وہ پہچانے تک نہیں جاتے تھے اُن کو صاف کرنے اور دنیا میں پھیلانے اور لوگوں کے گھروں میں وہ مال ودولت پہنچانے اور ان کی روحانی غربت و افلاس کو دور کرنے اور انہیں ایمان کی دولت سے مالا مال کرنے کا کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کررہے تھے۔ آپ کا کُرتہ یا پاجامہ یہ کام نہیں کررہا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے"۔گویا جس نے یہ کام کیا اُس کے جسم کے ساتھ لگا ہوا کُرتہ، اُس کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹا ہوا پاجامہ، اُس کے سر پر رکھا ہوا عمامہ، اس کی جیب میں پڑا ہوا رومال اور اس کے پاؤں میں پڑی ہوئی جُوتی بھی برکت والی ہوگئی۔ کیونکہ جس شخص سے خدا نے کام لیا یہ چیزیں اُس کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔ پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم اس کام کے مستحق نہیں، ہم اس کام کے اہل نہیں، ہم میں وہ خوبیاں نہیں جو اعلیٰ جماعتوں میں پائی جانی چاہییں۔ مگر چونکہ خدا نے ہمیں ایک درجہ دے دیا ہے اس لیے اس کام کے ہونے کی وجہ سے ہمیں وہ برکات ملنی ضروری ہیں جو برکات ایسے کاموں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ لیکن بہرحال ہمارے لیے ان برکات کے حصول کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔ دیکھو وہی کُرتہ برکت پاگیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم سے جاملا۔ اُسی پاجامہ نے برکت حاصل کی جو آپ کی ٹانگوں میں لپٹا رہا۔ اُسی پگڑی نے برکت حاصل کی جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پہنا۔ وہی کلاہ عزت کا مستحق ہوا جو آپ کے سر پر رہا، اُسی ٹوپی نے عزت حاصل کی جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے سر پر رکھا، وہی رومال برکت حاصل کرگیا جو آپ کی جیب میں پڑا رہا اور وہی جُوتی برکت والی قرار پائی جو آپ کے پاؤں میں رہی۔ پس برکت حاصل کرنے کے لیے کم سے کم اتنا لگاؤ کا ہونا تو ہمارے لیے ضروری ہے جس طرح کُرتہ آپ کے جسم سے چمٹا رہا، جس طرح پاجامہ آپ کی ٹانگوں سے لپٹا رہا، جس طرح رومال آپ کی جیب میں پڑا رہا، جس طرح عمامہ آپ کے سر پر دھرا رہا، جس طرح جُوتی آپ کے پاؤں میں پڑی رہی۔ اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ اگر ہم الٰہی برکات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم دھونی رما کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد بیٹھ جائیں۔ اگر ہم اپنے آپ میں کُرتے جیسی وابستگی پیدا کرلیں، اگر ہم اپنے آپ میں پاجامے جیسی وابستگی پیدا کرلیں، اگر ہم اپنے آپ میں ٹوپی جیسی وابستگی پیدا کرلیں، اگر ہم اپنے آپ میں کلاہ جیسی وابستگی پیدا کرلیں، اگر ہم اپنے آپ میں عمامہ جیسی وابستگی پیدا کرلیں، اگر ہم اپنے آپ میں رومال جیسی وابستگی پیدا کرلیں، اگر ہم اپنے آپ میں جُوتی جیسی وابستگی پیدا کرلیں تبھی ہم برکتوں کے مستحق ہوسکتے ہیں ورنہ نہیں۔ بے شک ایک کُرتہ میں ذاتی طور پر کوئی برکت نہیں ہوسکتی۔ مگر چونکہ وہ کُرتہ آپ کے جسم سے لپٹا رہا اس لیے برکت حاصل کرگیا۔ اسی طرح خواہ ہماری جماعت میں کس قدر کمزوریاں پائی جاتی ہوں جو لوگ مجازی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ لپٹے رہیں گے وہ برکت حاصل کرلیں گے۔ اور جو لوگ آپ کے ساتھ نہیں لپٹیں گے وہ برکت حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اول تو ہر شخص کو اپنے اندر ایسی خوبی پیدا کرنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی برکات اور اس کے انوار کو حاصل کرسکے اور خود اس کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی رحمت کا ایک نشان بن جائے۔لیکن جو شخص یہ خوبی اپنے اندر پیدا نہیں کرسکتا اسے کم سے کم کُرتہ اور پاجامہ اور رومال اور عمامہ کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ لپٹا تو رہنا چاہیے۔ ورنہ وہ ان برکات کو کس طرح حاصل کرسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہیں۔
    مَیں نے بتایا ہے کہ ہمارے سپرد جو کام کیا گیا ہے وہ نہایت ہی اہم ہے اور ایسے زمانہ میں یہ کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے جب دہریت اور عیش پرستی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ سائنس کے ذریعہ اسلام پر نئے نئے حملے کیے جا رہے ہیں اور ایمان کے خلاف دنیا میں ایک شدید زہریلی ہوا جاری ہے۔ دوسری طرف ظلم یہ ہو رہا ہے کہ آدھی دنیا دوسری آدھی دنیا پر حکومت کر رہی ہے اور لوگ مجبور ہیں کہ غلامی کی زندگی بسر کریں۔ پہلے زمانوں میں دس، بیس یا پچاس غلاموں پر حکومت کی جاتی تھی مگر آج وہ زمانہ ہے جب آدھی سے زیادہ دنیا غلام ہے۔ یورپ اور امریکہ اور دوسری فاتح قومیں جن کے ماتحت اَور ممالک ہیں چالیس پچاس کروڑ سے زیادہ نہیں ہیں بلکہ اس سے کچھ کم ہی ہیں۔ لیکن باقی دنیا کی آبادی ڈیڑھ ارب لوگوں پر مشتمل ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ ہر بچہ، ہر عورت اور ہر بوڑھا تین تین آدمیوں کو غلام بنائے بیٹھا ہے۔ تمام ایشیا، تمام افریقہ اِلَّامَاشَاءَ اللہ، تمام جزائر اِلَّامَاشَاءَ اللہ سارے کے سارے غلامی اور ماتحتی میں اپنی زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔ ان سارے حالات کو بدلنا اور محبت سے، پیار سے، نیکی سے، رأفت سے اور شفقت سے لوگوں کی اصلاح کرنا ہمارا کام ہے۔ کیا یہ کوئی معمولی کام ہے جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے؟ دنیا میں کونسی قوم ہے جس نے ایسا کام کیا ہو؟ کوئی قوم ایسی نہیں جس کے سپرد اتنا بڑا کام کیا گیا ہو جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔ پس جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے وہ دنیا کی سب قوموں کے کاموں سے بڑا ہے اور جو طاقت ہمارے اندر ہے وہ دنیا کی سب قوموں سے کم ہے۔ پس یہ کام سوائے اس کے کس طرح ہوسکتا ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہو اوروہ ہمارے کمزور ہاتھوں سے یہ عظیم الشان عمارت کھڑی کردے۔ پس ہماری ذمہ داریاں بہت وسیع ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو کام ہمارے سپرد کیا ہے وہ ایسی اہمیت رکھتا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ اگر ہم اپنے اندر کمزوری محسوس کرتے ہیں تو ساتھ ہی ہمارا فرض ہے کہ ہم اَور زیادہ قربانیاں کریں، اَور زیادہ جدوجہد سے کام لیں تاکہ ہماری جو اندرونی اور باطنی کمزوریاں ہیں اُن کا کچھ کفارہ ہماری ظاہری کوششیں کردیں۔
    مَیں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو ہندؤوں کی طرح ہر وقت سَودے کا خیال رہتا ہے۔ جس طرح ہندو سَودا کرنے کے بعد یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ انہیں کیا نفع ہوا۔ اِسی طرح وہ چند دن روزے رکھتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں اس کا کیا نتیجہ نکلا۔ کچھ دن تضرع اور ابتہال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور پھر دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ ان نمازوں سے انہیں کیا فائدہ حاصل ہوا۔ بے شک غیر احمدی یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر ہم نمازیں پڑھتے ہیں تو ان کا کیا نتیجہ نکلا۔ کیونکہ انہیں کہیں بھی نتیجہ نظر نہیں آتا۔ لیکن ہماری جماعت تو وہ ہے جس نےاپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کے ایک مامور کو دیکھا اور اس کی زندگی میں خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات کو آسمان سے اُترتے مشاہدہ کیا۔ پھر اب بھی ہماری جماعت میں وہ لوگ موجود ہیں جن کو ان کی نمازوں، ان کے روزوں اور ان کے چندوں کا نتیجہ مل گیا۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرتا ہے،ان کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتا ہے، ان کے دشمنوں کو مارتا اور تباہ کرتا ہے، ان کے دوستوں کو برکت دیتا ہے، انہیں ہر میدان میں فتحِ عظیم عطا کرتا ہے،انہیں روحانی علوم سے سرفراز کرتا ہے، قرآن کریم کے معارف ان پر کھولتا ہے، انہیں غیب کی خبروں سے اطلاع دیتا ہے۔ اور کونسا نتیجہ ہے جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ابھی ظاہر نہیں ہوا تو انہیں کم سے کم یہ تو یقین ہونا چاہیے کہ وہ جس راستہ پر چل رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ اگر اس راستہ پر چلنے کے باوجود ان کے اعمال کا نتیجہ ظاہر نہیں ہوا تو بجائے اِس کے کہ وہ یہ کہیں کہ ان اعمال کا نتیجہ کیا نکلا انہیں اپنے نفس سے سوال کرنا چاہیے کہ اے نفس! تم نے کیا کمزوری دکھائی کہ ہمارے اعمالِ نیک کا کوئی نتیجہ ظاہر نہیں ہوا۔ یہ تو نہیں مانا جاسکتا کہ وہ اعمال اپنا نتیجہ ظاہر نہیں کرتے۔ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو کہ تمہارے سامنے بعض وجودوں میں وہ نتائج ظاہر ہوگئے۔ پس اگر تمہاری ذات میں وہ نتائج ظاہر نہیں ہوئے تو تمہیں یقین کرلینا چاہیے کہ اس میں تمہارا اپنا ہی قصور ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ پانی میں پیاس بجھانے کی طاقت ہے؟ جو شخص بھی اُسے پیتا ہے اس کی پیاس بجھ جاتی ہے اور اس کی روح تروتازہ ہوجاتی ہے۔ لیکن بخار کا مریض پانی پینے کے باوجود اپنی پیاس کو بجھتا ہوا محسوس نہیں کرتا۔ وہ پانی پیتا ہے اور دو منٹ کے بعد پھر کہتا ہے پانی دو۔ پھر پانی دیا جاتا ہے تو دو منٹ کے بعد پھر کہتا ہے پانی دو۔ تم اسے پانی پلائے جاتے ہو مگر اُس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اِدھر وہ پانی پیتا ہے اور اُدھر اُس کے ہونٹ خشک ہوجاتے ہیں اور وہ پھر کہتا ہے اَور پانی دو۔ یہاں تک کہ پانی پیتے پیتے بعض دفعہ اُس کا پیٹ پُھول جاتا ہے۔ اس کے پیٹ میں پانی کے لیے گنجائش تک نہیں رہتی۔ مگر وہ یہی کہتا جاتا ہے کہ پیاس لگی ہے اَور پانی دو۔ اب کیا تم ایسے نظارہ کو دیکھ کر یہ سمجھنے لگتے ہو کہ پانی میں پیاس بجھانے کی طاقت نہیں رہی؟ یا تم خود اس شخص کو مریض تصور کرتے ہو؟ تم کبھی یہ نہیں کہتے کہ پانی میں پیاس بجھانے کی طاقت نہیں رہی۔ یہ پانی پیتا ہے اور پھر اسے پیاس لگ جاتی ہے۔ بلکہ تم کہتے ہو یہ پینے والے کا قصور ہے، اس کے اندر کوئی نقص پیدا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے پانی اس پر اثر نہیں کرتا۔ پس جس قوم میں نمونہ موجود ہو اور اس نمونہ سے یہ ظاہر ہو رہا ہو کہ خدا کی طرف توجہ کرنے اور اُس کے لیے اپنے نفس کی قربانی کرنے سے آسمان سے برکات نازل ہوتی ہیں اُس قوم کے بعض افراد اگر اسی راستہ پر چلتے ہوئے برکات و انوار کا مشاہدہ نہ کریں تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ رستہ ہی غلط ہے۔ بلکہ یہی کہا جائے گا کہ خود اس کی قربانیوں میں کوئی نقص ہے۔ ورنہ رستہ صحیح ہے اور وہی ایک طریق ہے جس پر چل کر برکت حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر مَیں کہتا ہوں اگر نتیجہ نہ بھی نکلے تو بھی ایک مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ قربانی کو ترک کردے۔ خدا تعالیٰ کے بعض کام ایسے ہوتے ہیں جن کے نتائج سالوں بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح ناصریؑ نے قربانی کی اور وہ صلیب پر چڑھ گئے۔ مسیح ؑ کے بعد پطرس جو آپ کا خلیفہ ہوا اور جو آپ کا بڑا مقرب حواری تھا یہاں تک کہ آپ نے ایک دفعہ کہا میری جماعت کے لیے یہ ایک پہاڑ کی طرح ہے وہ روم میں گیا اور اُسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ اِسی طرح اَور بہت سے لوگ آپ کی جماعت میں سے مارے گئے مگر جو دنیوی ترقیات ہیں وہ تین سو سال کے بعد مسیحی قوم کو حاصل ہوئیں۔ اب کیا مسیحؑ نے صلیب پر لٹکنے سے اس لیے انکار کردیا کہ میرے زمانہ میں تو حکومتیں نہیں آئیں گی مَیں نے صلیب پر لٹک کر کیا لینا ہے؟ یا کیا پطرس نے اِس وجہ سے اپنی جان قربان کرنے سے انکار کردیا کہ جب مجھے حکومت میں حصہ نہیں ملے گا تو مَیں اپنی جان کیوں قربان کروں؟ نہیں بلکہ مسیحؑ نے بھی صلیب کا مزہ چکھا اور پطرس نے بھی اپنی جان قربان کردی اور اسی طرح یکے بعد دیگرے اَور ہزاروں لوگ قربانیاں کرتے چلے گئے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے ہماری ترقیاں شخصی نہیں قومی ہیں۔ اور قومی ترقیاں قربانیوں کے بعد بعض دفعہ دو دو بلکہ تین تین سو سال کے بعد حاصل ہوتی ہیں۔
    دیکھو! خدا تعالیٰ کی قدرت کا دنیا میں ہمیں ایک عجیب نظارہ نظر آتا ہے۔ قدرت نے کئی جاندار چیزیں ایسی پیدا کی ہیں جو دنیا کے لیے قربانی کررہی ہیں مگر خود ان کو ان قربانیوں کے نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ مثلاً مونگا ایک کیڑا ہے جس کے نام پر کئی جزائر آباد ہیں۔ مونگے میں یہ عادت پائی جاتی ہے کہ زمینیں پیدا کرنے کے لیے ایک مونگا دوسرے مونگے پر چڑھ کر جان دے دیتا ہے۔ سمندر کی تَہہ میں لاکھوں مونگے ہوتے ہیں۔ دس بیس ہزار مونگے ایک دوسرے پر چڑھ کر مر جاتے ہیں۔ پھر اُن پر دس بیس ہزار اَور مونگے چڑھ کر مر جاتے ہیں۔ اُن پر دس بیس ہزار اَور مونگے چڑھ کر جان دے دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے سمندر کی تہہ جو بعض دفعہ دو دو تین تین میل گہری ہوتی ہے ان مونگوں سے بھر جاتی اور وہاں زمین پیدا ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ایک دن انہی مونگوں کے مرنے سے وہاں ایک جزیرہ آباد ہو جاتا ہے۔ جہاں درخت اُگتے ہیں، کھیتیاں ہوتی ہیں، مکانات بنتے ہیں اور ہزاروں لوگ رہائش رکھتے ہیں۔ اس قسم کے بیسیوں جزائر ہیں جو دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ کورل آئی لینڈز (Coral Islands)انہی کو کہتے ہیں اور وہ اسی طرح بنتے ہیں کہ ایک کثیرالتعداد کورلز کی مرکر جان دے دیتی ہے۔ جن پر اَور لاکھوں کروڑوں کورلز چڑھ کر جان دے دیتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی قربانی سے ایک زمین آباد ہوجاتی ہے۔ پس تعجب کی بات ہے کہ ہمارے اندر ایک کورل جتنی قربانی کا مادہ بھی نہ ہو اور ہم یہ خیال کریں کہ جب تک ہماری قربانیوں کا ہماری ذات کو فائدہ نہ ہو اُس وقت تک قربانیاں کرنا بے معنی ہے۔ تمہیں اس مثال کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اگر تم مر جاتے ہو اور تمہاری قربانیوں سے دو سو یا چار سو سال کے بعد جماعت کوفائدہ پہنچتا ہے تو تمہاری قربانی رائیگان نہیں گئی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہو گئی۔
    پھر ہمارے لیے تو ایک زائد بات یہ بھی ہے کہ جو شخص مر جاتا ہے اُسے اپنی قربانیوں کا مرتے ہی انعام ملنا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر قربانیوں کی ایک اَور مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ برسات کا موسم ہو اور تم لیمپ روشن کرو تو تم دیکھتے ہو کہ کس طرح پروانے اس پر گرگر کر مرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمارے شاعروں نے تو شمع اور پروانے کا اپنے اشعار میں اس قدر ذکر کیا ہے کہ کوئی شاعر ایسا نہیں جس کے کلام میں شمع اور پروانے کا قصہ نہ آتا ہو۔ پھر تمہیں سوچنا چاہیے کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کا حُسن ہماری نظروں میں ایک شمع جیسا بھی نہیں جو چھ پیسے کو مل جاتی ہے؟ اور کیا ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دینِ اسلام سے اتنی محبت بھی نہیں جتنی ایک پروانے کو شمع سے ہوتی ہے؟ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن ہم کو شمع جیسا بھی نظر نہیں آتا اور اگر اپنا عشق ہم کو پروانے جیسا بھی نظر نہیں آتا تو سچی بات یہی ہے کہ ہم نے اُس حُسن کو دیکھا ہی نہیں اور ہم نے اپنے عشق کو سمجھا ہی نہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حُسن تو کروڑوں شمعوں سے زیادہ ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے آپ کو سِرَاجًا مُّنِیْرًا2 قرار دیا ہے اور سراج منیر قرار دینے میں جہاں اَور حکمتیں ہیں وہاں ایک عظیم الشان حکمت ان الفاظ میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو پروانوں کی طرح آپ پر جانیں قربان کرتے رہیں گے۔ جس طرح لیمپ روشن ہو تو پروانے اُس پر گرنے لگ جاتے ہیں۔ اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ہمیشہ امت ِمحمدیہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو پروانوں کی طرح شمع محمدی پر قربان ہوتے رہیں گے۔ مگر پروانے اُس زمانہ میں ہوتے ہیں جب برسات کا موسم ہو۔ یہ نہیں ہوتا کہ موسم خواہ کوئی ہو۔ جب بھی لیمپ جلایا جائے پروانے اُس پر گرنے لگیں۔ پروانوں کے نکلنے کا موسم برسات ہے۔ اسی طرح عالَمِ روحانی میں جب بھی برسات کا موسم ہوگا جب آسمان سے الہام الٰہی کی تازہ بارش نازل ہوگی۔ اسی زمانہ میں ایسی جماعت پیدا ہوگی جو پروانوں کی طرح محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اپنی جانیں قربان کردے گی۔ دیکھو! ہر زمانہ میں پروانے شمع پر نہیں گرتے۔ بلکہ برسات کے موسم میں گرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سِرَاجًا مُّنِیْرًا کہہ کر اِس امر کی طرف اشارہ فرمایا تھا کہ جب نورِنبوت ظاہر ہوگا، جب الہام کی بارش آسمان سے اترے گی، جب عالَمِ روحانی میں برسات کا موسم ہوگا اُس وقت ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو پروانے بن بن کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شمع پر قربان ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے زمانوں میں قرآن بے شک موجود تھا، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہُ کہنے والے مسلمان بے شک موجود تھے، دعائیں اور عبادتیں کرنے والے لوگ بے شک پائے جاتے تھے مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چراغ پر پروانے نہیں گر رہے تھے۔ لیکن ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا اور ادھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر پروانے گرنے لگ گئے۔ کیونکہ یہ الہام اور وحی کی بارش کا وقت تھا۔ پس سِرَاجًا مُّنِیْرًا کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ جب بھی بارشِ وحی اور بارشِ الہام نازل ہوگی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر پروانے گرنے شروع ہو جائیں گے جو آپ کی صداقت اور راستبازی کا ایک ثبوت ہوگا کہ الہام ہوتا ہے "ب" پر اور پروانے گرنے لگ جاتے ہیں "الف" پر۔ گویا یہ ثبوت ہوگا آپ کی صداقت کا اور یہ ثبوت ہوگا اس بات کا کہ آنے والا آپ کے شاگردوں اور آپ کے متبعین میں سے ہی ہے۔ وہ اُس چمنی کی طرح ہوگا جو روشنی کے اردگرد ہوتی ہے۔ بے شک چمنی روشنی کو پھیلا رہی ہوتی ہے مگر پروانوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ چمنی کو چِیر کر روشنی تک پہنچ جائیں۔ اور اگر ننگی روشنی ہو تو وہ وہاں پہنچ جاتے اور شمع پر گر کر اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔
    پس اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کے سامان تو پیدا کیے ہیں مگر ہماری جماعت نے ابھی اپنے کام کی اہمیت کو پورے طور پر سمجھا نہیں۔ مثلاً مَیں نے اعلان کیا تھا کہ ہمیں تبلیغ کے لیے ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنی زندگی اس غرض کے لیے وقف کردیں۔ یہ کام اپنی ذات میں اس قدر اہم ہے کہ ہم اس پر جتنا بھی غور کریں اس کی اہمیت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سینکڑوں ملک ہیں جن میں ہم نے تبلیغ کرنی ہے، سینکڑوں زبانیں ہیں جو ہم نے سیکھنی ہیں، سینکڑوں کتابیں ہیں جو ان ممالک میں تبلیغِ اسلام کے لیے ہم نے شائع کرنی ہیں۔ پس اس غرض کے لیے ہمیں سینکڑوں مبلغوں کی ضرورت ہوگی، سینکڑوں ترجمہ کرنے والوں کی ضرورت ہوگی اور پھر ان مبلغوں اور سلسلہ کے لٹریچر اور دیگر اخراجات کے لیے جس قدر روپیہ کی ضرورت ہوگی اُس کا کچھ اندازہ اِس سے ہوسکتا ہے کہ مَیں نے ایک دن حساب کیا کہ اگر ہم پانچ ہزار مبلغ رکھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک کشف3 کو ایک دوسرے رنگ میں پورا کرنے کا ذریعہ ہے تو کس قدر خرچ ہوگا۔ مَیں نے اندازہ کیا کہ اگر ہم پانچ ہزار مبلغ رکھیں تو ان کا ایک سال کا کم سے کم خرچ دو کروڑ روپیہ ہوگا۔ امریکہ میں صرف روٹی کھانے کے لیے تین سو روپیہ ماہوار کی ضرورت ہوتی ہے، یورپ میں کم سے کم پونے دو سو روپیہ ماہوار میں گزارہ ہوتا ہے اور زیادہ تر یہی ممالک ہیں جن میں ہم نے تبلیغ کرنی ہے۔ ہندوستان سے باہر مشرقی ممالک میں سو ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار میں بھی گزارہ ہوسکتا ہے۔ پھر جو آدمی تبلیغ کے لیے جائیں گے اُن کا کرایہ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ اور پھر چند سال کے بعد جب پہلے مبلّغ واپس آئیں گے اور دوسرے مبلغ اُن کی جگہ بھیجے جائیں گے تو ان کی آمدورفت پر بھی بہت سا روپیہ خرچ ہوگا۔ اِسی طرح ان کے بیوی بچوں کا ہمیں گزارہ مقرر کرنا پڑے گا۔ پھر وہاں ملک کے مختلف حصوں میں دورے کرنے کے لیے روپیہ ضروری ہوگا۔ مساجد کے لیے روپیہ ضروری ہوگا۔ اُس ملک کی مختلف زبانوں میں ہر قسم کا لٹریچر شائع کرنے کے لیے روپیہ ضروری ہوگا۔ اِن تمام اخراجات کو اگر ہم کھلے دل کے ساتھ برداشت کریں تو در حقیقت اِسی صورت میں صحیح طور پر تبلیغ ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر ہم ان اخراجات کا کم اندازہ بھی کریں تو میرے نزدیک ہر مبلغ کے لیے اگر ہم پانچ سو روپیہ ماہوار کا خرچ رکھیں تب ادنیٰ طور پر ہم تبلیغ کا فرض ادا کرسکتے ہیں۔ اس میں سے دو سو روپیہ تبلیغ پر خرچ ہوگا اور باقی روپیہ اس کے ماہوار کھانے پینے کے اخراجات پر صَرف ہوگا۔ لیکن اگر ہم خالی گزارے کا اندازہ لگائیں تب بھی تین سو روپیہ فی کس خرچ ہوگا اور چونکہ پانچ ہزار مبلغ ہم نے رکھنے ہیں اس لیے پندرہ لاکھ روپیہ ایک مہینہ کا خرچ ہوگا اور سال میں ایک کروڑ اسّی لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔ بیس لاکھ روپیہ آنے جانے کے کرائے، سلسلہ کے لٹریچر کی اشاعت، مساجد کی تعمیر، کتابوں کی تصنیف اور دوسرے ضروری کاموں کے لیے رکھ لیں تو دو کروڑ روپیہ سالانہ خرچ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ بیس لاکھ روپیہ پانچ ہزار مبلغین کے لیے بہت ہی کم ہے اور اس قدر قلیل روپیہ سے صحیح طور پر تبلیغ نہیں ہوسکتی۔ درحقیقت ہمارے پاس ساڑھے تین کروڑ روپیہ سالانہ ہونا چاہیے تب ہم پانچ ہزار مبلغ رکھ کر انہیں دنیا میں پھیلا سکتے ہیں۔ لیکن ابھی تو ہماری یہ حالت ہے کہ اگر ہم اپنی ساری جائیدادیں بیچ دیں تب بھی ساری عمر میں ایک دفعہ بھی اتنا روپیہ خرچ نہیں کرسکتے۔ اگر ان مبلغوں کی تعداد کو کم کردیا جائے اور ہم سرِ دست صرف دوسَومبلغ رکھیں تب بھی تم سمجھ لو کہ ساٹھ ہزار روپیہ ماہوار ان کے کھانے پینے پر خرچ آئے گا۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ دو سو مبلغین کا سالانہ خرچ سات لاکھ بیس ہزار ہوگا۔ دو اڑھائی لاکھ روپیہ اگر لٹریچر کی اشاعت اور دوسرے ضروری اخراجات کے لیے رکھ لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے پاس دس لاکھ روپیہ سالانہ ہو توہم دو سو مبلغ رکھ سکتے ہیں۔ لیکن ابھی تو ہمارے سارے بجٹ ملا کر یعنی تحریک جدید کی آمد اور صدر انجمن احمدیہ کی آمد اور دوسری آمدنیں ملا کر دس بارہ لاکھ روپیہ کی رقم بنتی ہے۔ اور اگر ہم اِسی وقت دو سو مبلغ رکھ لیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم باقی سارے کام بند کردیں۔ حالانکہ ہمارا کام صرف تبلیغ کرنا نہیں بلکہ جماعت کی تربیت کرنا بھی ہے۔پس ضروری ہے کہ اس کے لیے علاوہ چندوں کے ہمارے پاس مستقل جائیدادیں ہوں جن کی آمد سے اِس قسم کے اخراجات کو پورا کیا جاسکے۔ اِسی لیے مَیں نے تحریک جدید جاری کی تھی اور اسی لیے مَیں نے تحریک جدید کے چندہ کے ذریعہ جائیدادیں بنائی ہیں۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جائیدادیں تو بن گئیں لیکن جتنا حصہ جماعت میں سے کام کرنے والے آدمیوں کا تھا وہ مجھے نہیں ملا۔چنانچہ اِس وقت تک جتنے آدمی میں نے سندھ کی زمینوں پر کام کرنے کے لیے بھجوائے ہیں وہ سارے کے سارے ناکام رہے ہیں۔ درحقیقت آجکل جو ایک عام زمیندار کو آمد ہورہی ہے اُس سے بھی ہماری زمینوں کی آمد کم ہے اور اِس کی وجہ یہی ہے کہ ہمیں ابھی تک کام کرنے والے آدمی نہیں ملے۔ مَیں سمجھتا ہوں اگر ایک شخص عام زمیندار کی حیثیت سے کام کرے تب بھی پندرہ بیس من فی ایکڑ کپاس ہوسکتی ہے۔ اور اگر سلسلہ کا کام سمجھ کر کوئی شخص محنت سے کام کرے تو پچیس،تیس من فی ایکڑ بھی ہوسکتی ہے۔ مصر میں پچیس من فی ایکڑ کی اوسط نکالی گئی تھی۔ مگر ایسا اسی صورت میں ہوسکتا ہےجب کام کرنے والے محنتی ہوں، دیانتدار ہوں، سلسلہ کے اموال کی اہمیت کو سمجھتے ہوں اور تقوٰی اور اخلاص سے کام کرنے والے ہوں۔ محمود آباد میں جہاں میری زمین ہے وہاں ایک دفعہ ایک کھیت میں سے پچاس من فی ایکڑ کپاس نکلی۔ کیونکہ کام کرنے والے نے محنت اور دیانتداری سے کام کیا۔ پس محنت سے فصل کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ لیکن مَیں دیکھتا ہوں سلسلہ کے کاموں پر اِس وقت تک جو لوگ گئے ہیں وہ ایسے سست اور غافل اور بددیانت ثابت ہوئے ہیں کہ وہاں اوسط پیداوار پانچ من کی ہوئی ہے کیونکہ محنت سے کام نہیں لیا گیا تھا۔ مَیں نے آخر ملازموں سے تنگ آکر بعض واقفینِ زندگی کو وہاں بھجوادیا مگر ان کی حالت بھی ایسی اچھی نہ تھی بلکہ ایک کے متعلق تو ایسی شکایتیں آرہی ہیں کہ شاید مجھے اُس کے متعلق کوئی کمیشن بٹھانا پڑے اور سخت ایکشن لینا پڑے۔کیونکہ شکایت ہے کہ اس نے علاوہ سستی اور ظلم کے بددیانتی سے بھی کام لیا ہے۔ پس ہمیں روپیہ کی ہی ضرورت نہیں بلکہ آدمیوں کی بھی ضرورت ہے۔ دنیا میں کوئی ترقی آدمیوں کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ مَیں نے تحریک جدید کے شروع میں ہی ایک خطبہ پڑھا تھا۔ وہ خطبہ چَھپا ہوا موجود ہے اور اسے نکال کر دیکھا جاسکتا ہے۔ مَیں نے اس میں کہا تھا کہ دنیا میں روپیہ کے ذریعہ کبھی تبلیغ نہیں ہوئی اور جو قوم یہ سمجھتی ہے کہ روپیہ کے ذریعہ وہ اکنافِ عالَم تک اپنی تبلیغ کو پہنچا دے گی اُس سے زیادہ فریب خوردہ، اس سے زیادہ احمق اور اس سے زیادہ دیوانی قوم دنیا میں اور کوئی نہیں۔ جس چیز کے ساتھ مذہبی جماعتیں دنیا میں ترقی کیا کرتی ہیں وہ ذات کی قربانی ہوتی ہے نہ کہ روپیہ کی۔ تم اگر دنیا میں فتح یاب ہونا چاہتے ہو تو جان دے کر ہوگے۔ جس دن تم یہ سمجھ لوگے کہ تمہاری زندگیاں تمہاری نہیں بلکہ اسلام کے لیے ہیں،جس دن سے تم نے محض دل میں ہی یہ سمجھ لیا بلکہ عملاً اس کے مطابق کام بھی شروع کردیا اُس دن تم کہہ سکتے ہو کہ تم زندہ جماعت ہو۔4
    پس اس تحریک کے ابتدا میں ہی میں نے اس کی بنیاد چندہ پر نہیں رکھی بلکہ مَیں نے اس کی بنیاد آدمیوں پر رکھی تھی۔ اور مَیں نے کہا تھا کہ مجھے وہ آدمی چاہییں جو اپنے دلوں میں اخلاص رکھتے ہوں، جو اپنی جانیں خلیفہ وقت کے حکم پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، جو رات اور دن کام کرنے والے ہوں اور جو سمجھتے ہوں کہ ہم نے جب اپنے آپ کو پیش کردیا تو اس کے بعد موت ہی ہمیں اس کام سے الگ کرسکتی ہے۔زندگی کے آخری لمحوں تک ہم یہی کام کریں گے اور پورے اخلاص اور پوری ہمت اور پوری دیانت سے کریں گے۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ مجھے جب تبلیغ کے لیے باہر بھجوایا جائے گا اُس وقت مَیں دیانتداری سے کام لے لوں گا اس سے پہلے اگر سلسلہ کے کسی اَور کام پر مجھے مقرر کیا جاتا ہے تو میرے لیے دیانتداری کی ضرورت نہیں وہ اول درجہ کا احمق اور نادان ہے اور یا پھر دوسروں کو دھوکا اور فریب دینے کے لیے ایسا کہتا ہے۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ صرف تبلیغ میں دیانتداری کی ضرورت ہے لیکن سلسلہ کے اموال میں وہ دیانتداری سے کام نہیں لیتا، سلسلہ کی زمینوں پر وہ محنت سے کام نہیں کرتا، سلسلہ کی مالی ترقی کے لیے اپنے آرام اور آسائش کو قربان نہیں کرتا، وہ سمجھتا ہی نہیں کہ دین کیا چیز ہے۔ وہ یقیناً فریب خوردہ ہے یا دوسروں کو فریب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ دین تو ایک مجموعہ نظام کا نام ہے جس میں زمینیں بھی شامل ہیں، جس میں جائیدادیں بھی شامل ہیں، جس میں مکانات بھی شامل ہیں، جس میں تجارتیں بھی شامل ہیں، جس میں کارخانے بھی شامل ہیں۔ صرف تبلیغ کرنا دین نہیں۔ اگر صرف تبلیغ کرنا دین ہو تو سوال یہ ہے کہ پھر دکانیں کون چلائے گا، کارخانے کون جاری کرے گا، زمینوں کی کون نگرانی کرے گا، صنعت وحرفت کی طرف کون توجہ کرے گا، علوم کون پھیلائے گا۔ پس یہ صحیح نہیں کہ صرف تبلیغ کرنا دین ہے۔ دین اسلامی نظام کے ہر شعبہ کا نام ہے اور اس نظام کا ہر شعبہ ویسا ہی اہم ہے جیسے تبلیغ کرنا۔ مثلاً جب بعض لوگ تبلیغ کے لیے جاتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کے پیچھے ایسے لوگ ہوں جو لٹریچر تیار کرکے اُن کو بھیجیں۔ کہیں قرآن کی تفسیر ہو رہی ہو، کہیں حدیثوں کے ترجمے شائع ہو رہے ہوں، کہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے تراجم ہو رہے ہوں، کہیں اَور لٹریچر تیار ہو رہا ہو۔ اگر ان کے پاس کثرت سے لٹریچر نہیں ہوگا، اگر ان کے پاس کتابیں نہیں ہوں گی، اگر ان کے پاس روپیہ نہیں ہوگا تو وہ تبلیغ کو وسیع کرنے کا کام کس طرح کرسکیں گے۔ پس سلسلہ کا ہر کام تبلیغ سے وابستہ ہے۔ جو شخص زمین میں ہل چلاتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے، جو شخص کارخانہ چلاتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے، جو شخص زمینوں کی نگرانی کرتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے، جو شخص لٹریچر شائع کرتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے، جو شخص سلسلہ کا کوئی اور کام کرتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے۔ آخر یہ تمام کام ہوں گے تبھی روپیہ آئے گا اور تبھی اس کے ذریعہ مبلغوں کو پھیلایا جاسکے گا۔ ہم پر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور تحریک جدید کے چندہ کے ذریعہ کئی سو مربع زمین ہمیں مل گئی۔ پنجاب میں ایک مربع پچیس تیس ہزار روپیہ کو ملتا ہے۔ گورنمنٹ کی نیلام میں بھی بیس سے پچیس ہزار تک مربع ملتا ہے اور اگر پبلک میں سے کوئی فروخت کرے تو تیس سے چالیس ہزار روپیہ تک ایک مربع فروخت ہوتا ہے۔ مگر ہم نے سندھ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے قریباً چار سو مربع زمین تحریک جدید کی لے لی ہے۔ اگر پنجاب میں اتنی ہی زمین خریدی جاتی تو ایک کروڑ بیس لاکھ روپیہ خرچ ہوتا۔ مگر ہم کو وہاں اوسطًا مختلف اخراجات شامل کرکے ایک مربع پانچ ہزار روپیہ میں ملا ہے اور وہاں ہماری ساری جائیداد بیس لاکھ روپیہ کی ہے۔ گویا بیس لاکھ روپیہ میں ہمیں وہ چیز مل گئی جو پنجاب میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپیہ میں مل سکتی تھی۔
    پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ سلسلہ کے لیے ہمیں اس قدر زمین مل گئی۔ اگر جماعت کے دوست اس کام کو دین کا کام سمجھ کر محنت اور دیانتداری سے سرانجام دیتے اور تمام زمین کو اس طرح کھود کر رکھ دیتے کہ وہ اپنے خزانے اُگلنے لگ جاتی تو پھر چاہے ایک سال کے بعد ہی وہ مر جاتے انہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ اگر انہیں سو سال کی زندگی ملتی تب بھی اس سوسال کی زندگی میں انہیں اتنا ثواب نہ ملتا جتنا ثواب وہ ایک سال میں حاصل کرگئے۔ مگر بجائے اِس کے کہ محنت اور اخلاص اور دیانتداری کے ساتھ کام کیا جاتا وہاں جو لوگ کام کرنے کے لیے بھیجے گئے انہوں نے محنت اور توجہ سے کام نہیں کیا۔ بے شک ہم نے اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ آدمی وہاں نہیں بھجوائے۔ ہم نے اب تک اُنہی لوگوں کو بھیجا ہے جن کی تعلیم ادنیٰ تھی۔ مگر بہرحال ایمان اور اخلاص تعلیم پر منحصر نہیں۔ صحابہؓ میں کونسی تعلیم تھی۔ مثلاً حضرت ابوہریرہؓ کہاں تک پڑھے ہوئے تھے؟ انہوں نے تعلیم نہ ہونے کے باوجود کام کیا اور ایسے اخلاص سے کام کیا کہ آج تک اُن کے نام زندہ ہیں اور ان کے لیے دعائیں کرنے والے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اگر سلسلہ کے لیے چوبیس گھنٹوں میں سے بائیس گھنٹے انہیں کام کرنا پڑتا ہے تب بھی انہیں کام کرنا چاہیے۔ وہ اپنے لیے موت پسند کر لیتے مگر چوبیس گھنٹوں میں سے بائیس گھنٹے ہی سلسلہ کے لیے وقف کر دیتے اور سمجھتے کہ جو بنیاد آج ہم اپنے ہاتھوں سے رکھ رہے ہیں اسی پر وہ عمارت تیار ہونے والی ہے جو اسلام کی اشاعت کے لیے ضروری ہے۔ سینکڑوں مبلغ اس کی آمد سے رکھے جائیں گے اور ہر مبلغ جو دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرے گا اُس کا ثواب ہمیں ملے گا۔ ایک مبلغ کو صرف اسی کوشش کا ثواب مل سکتا ہے جو وہ کرے۔ لیکن سلسلہ کی زمینوں پر اگر لوگ محنت سے کام کریں تو انہیں سینکڑوں مبلغوں کا ثواب حاصل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ انہی کی محنت کے نتیجہ میں تبلیغ کو وسیع کیا جا رہا ہوگا۔یہ وہ احساس ہے جس کے ماتحت انہیں کام کرنا چاہیے تھا۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں جس قدر کام کرنے کے لیے بھجوائے گئے ان میں سے کسی نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا۔ بجائے اس کے کہ ان کے ذریعہ سلسلہ کے اموال میں برکت ہوتی وہ اس طرف مشغول ہوگئے کہ انہیں اپنی بھینسوں کے لیے چارہ کا فکر ہے، انہیں اپنی گھوڑیوں کا فکر ہے، کہیں دوسروں کو ڈانٹنے اور ان پر جرمانہ کرنے کا انہیں ہر وقت خیال رہتا ہے۔ گویا جو اصل کام تھا وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اور دنیا داری میں ملوث ہوگئے اور یہی حال احمدی ہاریوں کا ہے۔ انہوں نے وہاں کوفہ کے بدفطرت لوگوں کا نمونہ دکھایا ہے اور نیک احمدیوں کا نمونہ نہیں دکھایا۔ مگر وہ خوش نہ ہوں کہ انہوں نے کچھ کما لیا ہے۔ زیادہ دن نہ گزریں گے کہ وہ خدا کی گرفت میں آئیں گے۔ مَیں ان کا جو انجام دیکھتا ہوں خوش کن نہیں ہے۔
    میری بھی چونکہ وہاں زمین ہے اس لیے مَیں نے اپنے ایک عزیز کو وہاں بھجوا دیا کہ شاید وہ شوق سے کام کرے مگر وہ بھی ناکام ثابت ہوا اور اس نے قطعاً اعلیٰ مخلصوں والی قربانی پیش نہیں کی۔ غرض اِس وقت تک جتنی کوفت اور تکلیف مجھے اس کام کی وجہ سے اٹھانی پڑی ہے اِتنی کوفت اور تکلیف مجھے اَور کسی کام سے نہیں ہوئی۔ دوسرے تمام کاموں میں مجھے اچھے آدمی مل گئے ہیں مگر یہاں شاید دنیا کی لالچ اور حرص آ جاتی ہے اس لیے صحیح طور پر کام کرنے والے ابھی تک نہیں ملے۔ یا شاید وہ کام بھی نہیں کرسکتے تھے اور شاید میں بھی ابھی تک ایسے لوگوں کو نہیں چُن سکا جو اِس کام کو پوری محنت اور دیانتداری سے کریں۔ بہرحال ہمیں ایسے مخلص آدمیوں کی ضرورت ہے جو زمینوں کا تجربہ رکھتے ہوں اور جو دیانتداری اور محنت کے ساتھ سلسلہ کا یہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاکہ ہمارا مالی پہلو مضبوط ہو اور ہم جلد سے جلد تبلیغ کی اس سکیم کو جاری کرسکیں جو میرے مدنظر ہے۔
    مَیں علاوہ سندھ کی زمینوں کے، سلسلہ کے اموال بڑھانے کے لیے بعض اَور ذرائع سے بھی کام لے رہا ہوں اور اس کام کو شروع بھی کردیا گیا ہے مگر مَیں ابھی اس کا اظہار نہیں کرتا۔ مجھے یقین ہے کہ اُس کے نتیجہ میں ہندوستان میں ہماری جماعت کو ایسی فضیلت حاصل ہوجائے گی کہ دنیا کے لوگ تسلیم کریں گے کہ یہ جماعت دینی طور پر ہی قابل نہیں بلکہ دنیوی طور پر بھی خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایسی عزت بخشی ہے جو دوسری قوموں اور جماعتوں کو حاصل نہیں۔ اگر یہ سکیم کامیاب ہوجائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ بڑی آسانی سے میسر آسکتا ہے۔ مَیں چار پانچ سال سے اس کے متعلق کوشش کررہا تھا۔ لمبا کام تھا اور تعلیم سے تعلق رکھتا تھا اور تھوڑے عرصہ میں نہیں بلکہ چھ سات سال میں یہ کام ہوسکتا تھا۔ اب یہ عرصہ چونکہ ختم ہونے کے قریب ہے اس لیے اس کام کی داغ بیل رکھ دی گئی ہے اور امید ہے کہ سال ڈیڑھ سال تک کام ایک معیّن صورت اختیار کرلے گا۔غرض یہ نئی سکیم اور ہماری سندھ کی زمینیں ایسی چیزیں ہیں جن سے سلسلہ کا مالی پہلو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط ہوسکتا ہے اور جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے تبلیغ کے لیے دس بارہ لاکھ روپیہ سالانہ کا بوجھ آسانی سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔
    سندھ کی زمینوں کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا بھی دکھایا تھا اور اسی رؤیا کی بناء پر مَیں نے صدر انجمن احمدیہ کو وہاں کی زمینیں خریدنے کی ہدایت کی۔ بہت عرصہ کی بات ہے مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں ایک نہر پر کھڑا ہوں، اس کا پانی نہایت ٹھنڈا اور اس کے چاروں طرف سبزہ ہے کہ اسی حالت میں ایک دم شور کی آواز آئی۔ مَیں نے اوپر کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ نہر ٹوٹ کر اس کا پانی تمام علاقہ میں پھیل گیا ہے اور سُرعت سے بڑھتا جا رہا ہے۔ مَیں نے چاہا کہ واپس لَوٹوں تاکہ پانی میرے قریب نہ پہنچ جائے مگر ابھی مَیں یہ خیال ہی کررہا تھا کہ مَیں نے دیکھا میرے چاروں طرف پانی آگیا ہے۔ پھر مَیں نے دیکھا کہ نہر کا بند ٹوٹ گیا اور مَیں بھی نہر کے اندر جا پڑا۔ جب مَیں نہر کے اندر گر گیا تو مَیں نے تیرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میلوں میل میں تیرتا چلا گیا مگر میرا پاؤں کہیں نہ لگا۔یہاں تک کہ مَیں نے سمجھا مَیں تیرتے تیرتے فیروز پور تک پہنچ گیا ہوں۔ تب گھبراہٹ کی حالت میں ہی مَیں دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ! سندھ میں تو پَیر لگ جائیں۔ یا اللہ! سندھ میں تو پَیر لگ جائیں۔ اور جب مَیں نے یہ دعا کی تو مجھے معلوم ہوا کہ سندھ آگیا ہے۔ پھر جو مَیں نے کوشش کی تو پیر ٹِک گیا اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے سب پانی غائب ہو گیا۔
    یہ رؤیا 1915ء میں مَیں نے دیکھا تھا۔ اُس وقت سندھ میں نہروں کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ اس کے ایک لمبے عرصہ کے بعد وہاں نہریں نکلیں اور ہم نے یہ زمین خریدنی شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے سندھ میں ہمیں اتنی بڑی زمین دے دی ہے کہ اگر پنجاب میں اتنی ہی زمین کسی زمیندار کو مل جاتی تو اس کے لیے شادی مرگ ثابت ہوتی۔ ساری عمر لوگ گورنمنٹ کی خوشامدیں کرتے رہتے ہیں اور پھر انہیں اگر پانچ یا دس مربعے مل جائیں تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ نے اُن کی سات پشتوں کی قدر افزائی کردی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے گھر بیٹھے ہمیں قریباً چار سو مربع زمین دے دیا۔ چار سو میں پندرہ بیس مربع کی کمی ہے مگر وہ اِنْشَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰیجلدی پوری ہوجائے گی۔ میری نیت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کی ہزاروں مربع زمین بن جائے۔ اسی طرح اور کئی کام میرے ذہن میں ہیں اور مَیں چاہتا ہوں ان کاموں میں اس قدر وسعت ہو اور ان ذرائع سے ہمیں اس قدر آمد ہو کہ سلسلہ کے وہ تمام کام جو مَیں نے کرنے ہیں آسانی اور سہولت سے ہو جائیں۔ مگر اس کے لیے مخلص آدمیوں کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ آمد کی زیادتی کے ہرگز یہ معنے نہیں ہیں کہ کسی وقت تم اپنے چندوں سے آزاد ہو جاؤ گے یا کوئی وقت جماعت پر ایسا بھی آجائے گا جب تم سے قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
    مَیں ایک انسان ہوں اور آخر ایک دن ایسا آئے گا جب مَیں مر جاؤں گا اور پھر اَور لوگ اس جماعت کے خلفاء ہوں گے۔ مَیں نہیں جانتا اُس وقت کیا حالات ہوں۔ اِس لیے مَیں ابھی سے تم کو نصیحت کرتا ہوں تاکہ تمہیں اور تمہاری اولادوں کو ٹھوکر نہ لگے کہ اگر کوئی خلیفہ ایسا آیا جس نے یہ سمجھ لیا کہ جب جماعت کو زمینوں سے اس قدر آمدنی ہورہی ہے، تجارتوں سے اس قدر آمدنی ہورہی ہے، صنعت و حرفت سے اس قدر آمدنی ہو رہی ہے تو پھر اب جماعت سے کسی اَور قربانی کا مطالبہ کی کیا ضرور ت ہے۔ اس قدر روپیہ آنے کے بعد ضروری ہے کہ جماعت کی مالی قربانیوں میں کمی کردی جائے۔ تو تم یہ سمجھ لو وہ خلیفہ خلیفہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خلافت ختم ہوگئی اور اب کوئی اسلام کا دشمن پیدا ہوگیا ہے۔ اور جس دن تمہاری تسلی اس بات پر ہو جائے گی کہ روپیہ آنے لگ گیا ہے اب قربانی کی کیا ضرورت ہے اُسی دن تم سمجھ لو کہ جماعت کی ترقی بھی ختم ہوگئی ہے۔ مَیں نے بتایا ہے کہ جماعت روپے سے نہیں بنتی بلکہ آدمیوں سے بنتی ہے اور آدمی بغیر قربانی کے تیار نہیں ہوسکتے۔ اگر دس ہزار ارب روپیہ آنا شروع ہوجائے تب بھی ضروری ہوگا کہ ہر زمانہ میں جماعت سے اسی طرح قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے جس طرح آج کیا جاتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ مطالبہ کیا جائے کیونکہ ابھی بڑی بڑی قربانیاں جماعت کے سامنے نہیں آئیں۔پس چاہے ایک ارب پونڈ خزانہ میں آجائے تب بھی خلیفۂ وقت کا فرض ہوگا کہ وہ ایک غریب کی جیب سے جس میں ایک پیسہ موجود ہے دین کے لیے پیسہ نکال لے اور ایک امیر کی جیب سے جس میں دس ہزار روپیہ موجود ہے دین کے لیے دس ہزار روپیہ نکال لے۔ کیونکہ اس کے بغیر دل صاف نہیں ہوسکتے۔ اور بغیر دل صاف ہونے کے جماعت نہیں بن سکتی۔ اور بغیر جماعت بننے کے خدا تعالیٰ کی رحمت اور برکت نازل نہیں ہوتی۔ وہ روپیہ جو بغیر دل صاف ہونے کے آئے وہ انسان کے لیے رحمت نہیں بلکہ *** کا موجب ہوتا ہے۔ وہی روپیہ انسان کے لیے رحمت کا موجب ہوسکتا ہے جس کے ساتھ ہی انسان کا دل بھی پاک ہو اور دنیوی آلائشوں سے مبرّا ہو۔ پس مت سمجھو کہ اگر کثرت سے روپیہ آنے لگا تو تم قربانیوں سے آزاد ہو جاؤ گے۔ اگر کثرت سے روپیہ آگیا تو ہمارے ذمہ کام بھی تو بہت پڑا ہے۔ ہم نے اسلام کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے۔ ہم نے دنیا میں وہ نظام قائم کرنا ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔ ہم نے ہر شخص کے لیے کھانا مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر شخص کے لیے کپڑا مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر شخص کے لیے مکان مہیا کرنا ہے، ہم نے ہر بیمار کے لیے علاج مہیا کرنا ہے، ہم نے ہرانسان کے لیے تعلیم کا سامان مہیا کرنا ہے۔ کیا یہ ساری چیزیں آسانی سے ہوسکتی ہیں؟ ان کے لیے تو اربوں ارب روپیہ کی ضرورت ہے۔ بلکہ اگر اربوں ارب روپیہ آجائے تو پھر بھی یہ کام ختم نہیں ہوسکتا۔ روپیہ ختم ہوسکتا ہے مگر یہ کام ہمیشہ بڑھتا چلا جائے گا۔ پس کسی وقت جماعت میں اس احساس کا پیدا ہونا کہ اب روپیہ کثرت سے آنا شروع ہو گیا ہے قربانیوں کی کیا ضرورت ہے اب چندے کم کر دیئے جائیں۔ اس سے زیادہ کسی جماعت کی موت کی اور کوئی علامت نہیں ہوسکتی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی موت کے فتویٰ پر دستخط کردے۔ پس مت سمجھو کہ ان زمینوں اور جائیدادوں وغیرہ کی آمد کے بعد چندے کم ہو جائیں گے۔اگر یہ روپیہ ہماری ضروریات کے لیے کافی ہوجائے تب بھی تمہارے اندر ایمان پیدا کرنے کے لیے، تمہارے اندر اخلاص پیدا کرنے کے لیے، تمہارے اندر زندگی پیدا کرنے کے لیے، تمہارے اندر روحانیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے اور ہمیشہ اور ہر آن کیا جائے۔ اگر قربانیوں کا مطالبہ ترک کردیا جائے تو یہ تم پر ظلم ہوگا، یہ سلسلہ پر ظلم ہوگا، یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ظلم ہوگا،، یہ تقویٰ اور ایمان پر ظلم ہوگا۔ جب مسلمانوں نے ترقی کی اور کثرت سے اموال آنے شروع ہوئے اُس وقت اگر ایک مسلمان بادشاہ کھڑا ہوکر اِسی طرح بھیک مانگتا جس طرح خدا کے دین کے لیے ہم بھیک مانگتے ہیں (ہم بھیک تو نہیں مانگتے دینے والا سمجھتا ہے کہ ہم اس پر احسان کر رہے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ خدا نے ہم پر یہ احسان کیا کہ ہمیں ایسے مقام پر کھڑا کیا لیکن بہرحال طریق بھیک مانگنے کا ہی ہے ) تو اس کو بھی یہ خیال رہتا کہ مَیں نے دین کی خدمت کرنی ہے اور لوگوں کے دلوں میں بھی یہ احساس رہتا کہ وہ اُس وقت تک ترقی کرسکتے ہیں جب تک وہ دین کے لیے اپنے اموال خرچ کرتے رہیں۔ اگر بادشاہ لوگوں سے دین کے لیے چندے مانگتے تو مَیں سمجھتا ہوں لوگوں میں یہ احساس ہمیشہ قائم رہتا کہ ہماری سلطنتیں دنیوی سلطنتیں نہیں بلکہ اسلامی کانسٹی ٹیوشنز(CONSTITUTIONS) ہیں۔ اسلام کے مختلف محکمے ہیں جو قائم کیے گئے ہیں۔ اور اُن کے ایمان بھی قائم رہتے۔ مگر افسوس کہ لوگوں نے اس حکمت کو نہ سمجھا اور انہوں نے قربانیوں کا دروازہ بند کردیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ترقی معدوم ہوگئی۔ پس طوعی چندے ہمیشہ قائم رہیں گے اور قائم رہنے چاہییں۔ جب یہ چیز ختم ہوجائے گی اُس وقت سمجھ لینا کہ ایمان بھی ختم ہوگیا۔ یہ چیز چلتی چلی جائے گی اور خواہ سلسلہ کو کس قدر روپیہ آنا شروع ہوجائے طوعی چندوں کا سلسلہ بند نہیں ہوگا اور نہیں ہوسکتا۔
    پس مَیں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں سندھ کی زمینوں کے لیے ایسے کارکنوں کی ضرورت ہے جو مضبوط ہوں، ہمت والے ہوں، باصحت ہوں اور دیانتداری اور محنت کے ساتھ کام کرنے والے ہوں۔ مَیں یہ نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اپنے آپ کو وقف کرے اور ساتھ ہی یہ کہے کہ مَیں فلاں قسم کے کام کے لیے اپنے آپ کو وقف کرتا ہوں۔ جو شخص اپنے آپ کو وقف کرے وہ اس نیت اور اس ارادہ کے ساتھ کرے کہ مَیں یہ نہیں دیکھوں گا کہ مجھے کہاں مقرر کیا جاتا ہے۔میرے سپرد جو کام بھی کیا جائے گا مَیں اسےکروں گا اور وہی کام کرنا اپنے لیے باعثِ سعادت تصور کروں گا۔ اگر ایک شخص کو سلسلہ کی ضروریات کے لیے چوہڑے کے کام پر مقرر کیا جاتا ہے تو وہ ہرگز اُس مبلغ سے کم نہیں ہے جو نیویارک اور لندن میں تبلیغ کررہا ہے۔ آخر سلسلہ کو چوہڑے کی ضرورت ہوگی تو وہ کہاں سے پوری کی جائے گی۔ وہ تم میں سے کسی شخص کے ذریعہ پوری کی جائے گی۔ یا اگر دھوبی کی ضرورت ہوتوسلسلہ اُس ضرورت کو کس طرح پورا کرسکتا ہے۔ اسی طرح پورا کرسکتا ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو دھوبی کے کام پر مقرر کردیا جائے۔ اور یقیناً اگر کوئی شخص سلسلہ کے لیے دھوبی کا کام کرتا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسے تبلیغ کرنے والا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ میں تشریف لے گئے اور آپ نے دیکھا کہ مسلمان عورتیں مشکیں بھر بھر کر زخمیوں کو پانی پلا رہی ہیں۔ جب جنگ ختم ہوئی، غنیمت کے اموال آئے تو آپ نے فرمایا ان عورتوں کو بھی حصہ دو کیونکہ یہ بھی جنگ میں شریک ہوئی ہیں۔5 اب دیکھو انہوں نے جنگ میں صرف پانی پلایا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ویسا ہی حصہ دیا جیسے میدانِ جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کو دیا۔ تو یہ ایک خطرناک غلطی ہے جو بعض لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم وہ کام کریں گے جو ہماری مرضی کے مطابق ہوگا۔ یہ تمہارا کام نہیں کہ تم فیصلہ کرو کہ تمہیں کس کام پر لگایا جائے۔ جو شخص تمہارا امام ہے، جس کے ہاتھ میں تم نے اپنا ہاتھ دیا ہے، جس کی اطاعت کا تم نے اقرار کیا ہے، جس کا فرض ہے کہ وہ تمہیں بتائے کہ تمہیں کس کام پر مقرر کیا جاتا ہے تم اس میں دخل نہیں دے سکتے۔ نہ تمہارا کوئی حق ہے کہ تم اس میں دخل دو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں اَلْاِمَامُ جُنَّۃٌ یُقَاتَلُ مِن وَّرَائِہِ۔6 امام ایک ڈھال کی طرح ہوتا ہے اور لوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے ہوکر دشمن سے جنگ کریں۔ پس جہاں امام تمہیں کھڑا کرتا ہے وہاں تم کھڑے ہو جاؤ۔ اگر امام تمہیں سونے کا حکم دیتا ہے تو تمہارا فرض ہے تم سوجاؤ۔ اگر امام تم کو جاگنے کا حکم دیتا ہے تو تمہارا فرض ہے تم جاگ پڑو۔ اگر امام تم کو اچھا لباس پہننے کا حکم دیتا ہے تو تمہاری نیکی، تمہارا تقوٰی اور تمہارا زہد یہی ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ لباس پہنو اور اگر امام تم کو پھٹے پُرانے کپڑے پہننے کا حکم دیتا ہے تو تمہاری نیکی، تمہارا تقویٰ اور تمہارا دینی عیش یہی ہے کہ تم پھٹے پرانے کپڑے پہنو۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ کشفی حالت میں ایک شخص کے ہاتھ میں کسرٰی کے سونے کے کنگن دیکھے۔ جب حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا اور اسلامی فوجوں کے مقابلہ میں کسریٰ کو شکست ہوئی تو غنیمت کے اموال میں کسرٰی کے سونے کے کنگن بھی آئے۔ حضرت عمرؓ نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا تمہیں یاد ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ تمہیں کہا تھا کہ مَیں تمہارے ہاتھ میں کسرٰی کے سونے کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔اس نے عرض کیا ہاں یاد ہے۔ آپ نے فرمایا تو لو یہ کسرٰی کے سونے کے کنگن اور انہیں اپنے ہاتھوں میں پہنو۔ اس نے اپنے ہاتھ پیچھے کرلیے اور کہا عمر!آپ مجھے اس بات کا حکم دیتے ہیں جس سے شریعت نے منع کیا ہے۔ شریعت کہتی ہے کہ مردوں کے لیے سونا پہننا جائز نہیں اور آپ مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ مَیں کسرٰی کے سونے کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنوں۔ حضرت عمرؓ جس طبیعت کے تھے وہ سب کو معلوم ہے۔ آپ اُسی وقت کھڑے ہوگئے کوڑا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فرمایا خدا کی قسم! اگر تم یہ سونے کے کنگن نہیں پہنو گے تو مَیں کوڑے مار مار کر تمہاری کمر اُدھیڑ دوں گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا تھا وہی مَیں پورا کروں گا اور تمہارے ہاتھوں میں مَیں سونے کے کنگن پہنا کر رہوں گا۔7 تو درحقیقت یہی نیکی اور یہی حقیقی ایمان ہے کہ انسان وہی طریق اختیار کرے جس طریق کے اختیار کرنے کا امام اُسے حکم دے۔ وہ اگر اسے کھڑا ہونے کے لیے کہے تو کھڑا ہوجائے اور اگر ساری رات بیٹھنے کے لیے کہے تو وہ بیٹھ جائے اور یہی سمجھے کہ میری ساری نیکی یہی ہے کہ مَیں امام کے حکم کے ماتحت بیٹھا رہوں۔ پس جماعت میں یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ نیکی کا معیار یہی ہے کہ امام کی کامل اطاعت کی جائے۔ امام اگر کسی کو مدرس مقرر کرتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ لڑکوں کو عمدگی سے تعلیم دے۔ امام اگر کسی کو ڈاکٹر مقرر کرکے بھیجتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ لوگوں کا عمدگی سے علاج کرے۔ امام اگر کسی کو زراعت کے لیے بھیج دیتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ زمین کی عمدگی سے نگرانی کرے اور امام اگر کسی کو صفائی کے کام پر مقرر کر دیتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ عمدگی سے صفائی کرے۔ وہ بظاہر جھاڑو دیتا نظر آئے گا، وہ بظاہر صفائی کرتا دکھائی دے گا مگر چونکہ اُس نے امام کے حکم کی تعمیل میں ایسا کیا ہوگا اس لیے اس کا جھاڑو دینا ثواب میں اس مبلغ سے کم نہیں ہوگا جو دلوں کی صفائی کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ وہ زمین پر جھاڑو دے رہا ہوگا لیکن فرشتے اس کی جگہ تبلیغ کر رہے ہوں گے۔ کیونکہ وہ کہیں گے یہ وہ شخص ہے جس نے نظام میں اپنے لیے ایک چھوٹی سے چھوٹی جگہ پسند کرلی اور امام کے حکم کی اطاعت کی۔ پس ایک نظام کے اندر رہ کر کام کرو اور تمہارا امام جس کام کے لیے تمہیں مقرر کرتا ہےاُس کو کرو کہ تمہارے لیے وہی ثواب کا موجب ہوگا۔ تمہارے لیے وہی کام تمہاری نجات اور تمہاری ترقی کا باعث ہوگا۔
    مَیں دیکھتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ تبلیغ کےلئے نئے نئے رستے کھول رہا ہے۔ اِدھر مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ اب کفر پر حملے کا وقت آ گیا ہے اور اُدھر چاروں طرف ایسے حالات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اب اسلام اور احمدیت کو جلد سے جلد دنیا میں پھیلانے کا ہے۔ ایک ملک کا مَیں نے خاص طور پر ذکر کیا تھا کہ وہاں کے ایک ایسے آدمی نے بیعت کرلی ہے جو بہت بڑا رسوخ اور اثر رکھنے والا ہے۔ مَیں نے مصلحتاً کہہ دیا تھا کہ اس ملک کا نام شائع نہ کیا جائے۔ اس کے بعد اب افریقہ سے ہمارے مبلغ مولوی نذیر احمد صاحب کی ایک تازہ چٹھی آئی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ یہاں عیسائیت کے خلاف اور اسلام کی تائید میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک زبردست رَو چل پڑی ہے۔ کئی نواب اور رؤساء ہمیں چٹھیاں لکھ رہے ہیں کہ ہمارےپاس جلدی پہنچو اور ہمیں اسلام کی حقیقت بتاؤ۔ مگر ہم صرف دو آدمی ہیں ہر جگہ پہنچ نہیں سکتے لیکن لوگوں کا اصرار روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور بعض تو ایک لمبے عرصے سے ہمیں بلا رہے ہیں۔ مگر پھر بھی ہم آدمیوں کی قلّت کی وجہ سے اُن تک نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے لکھا کہ ڈیڑھ سال سے ایک چیف ہمیں خط لکھ رہا تھا کہ جلدی آؤ اور مجھے اسلام کی حقیقت سمجھاؤ مگر ہم نہ جاسکے ۔اور اب خبر آئی ہے کہ وہ مرگیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری ہم پر ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کے لیے ہم کو بلاتا رہا مگر ہم نہ جاسکے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ رَو اس تیزی کے ساتھ چل رہی ہے کہ اب ضروری ہے کہ ہندوستان سے 12مبلغ اِس ملک میں روانہ کیے جائیں۔ بہت سے نواب، رؤساء اور ہزاروں کی تعداد میں عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ ہمارے مبلغ اُن کے پاس پہنچیں اور انہیں اسلام کی تبلیغ کریں۔ پس انہوں نے تبلیغ کے لیے 12 آدمیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ واقفینِ زندگی جن کو تیار کیا جا رہا ہے ان کے متعلق مَیں بتا چکا ہوں کہ اُن کی علمی میدان میں جماعت کا رعب قائم رکھنے کے لیے ضرورت ہے۔ پس انہیں اس تعلیم سے فارغ کرکے وہاں تبلیغ کے لیے نہیں بھجوایا جاسکتا۔ لیکن مَیں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جلد سے جلد اپنی تعلیم مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ سوال قطعاً سنا نہیں جاسکتا کہ تعلیم کا پانچ یا چھ یا سات گھنٹے وقت ہے۔ اگر وہ مسلسل چوبیس گھنٹے پڑھ کر بھی اپنی تعلیم کو جلد سے جلد مکمل کر لیتے ہیں تب بھی انہیں سمجھنا چاہیے کہ انہوں نے پوری قربانی ادا نہیں کی۔ پس اُن سے تو مَیں یہ کہتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنی تعلیم کو مکمل کرنے کی کوشش کریں اور جماعت سے مَیں یہ کہتا ہوں کہ ان کو اس کام سے چونکہ فارغ نہیں کیا جاسکتا اس لیے ضروری ہے کہ جماعت کے اَور نوجوان آگے بڑھیں اور ان اغراض کے لیے اپنے نام پیش کریں۔ اگر زمیندار گریجوایٹ ہمیں مل جائیں تو انہیں زمینوں کی نگرانی کے لیے بھیجا جاسکتا ہے یا ایسے مضبوط نوجوان جو زراعت میں گریجوایٹ تو نہ ہوں لیکن تعلیم یافتہ ہوں اور زمیندارہ کام سے دلچسپی رکھتے ہوں وہ بھی اپنے نام پیش کرسکتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو اکاؤنٹنٹ بنا دیا جائے گا،کسی کو منشی بنا دیا جائے گا اور کسی کو اَور کام سپرد کردیا جائے گا۔ مگر یاد رکھو زندگی وقف کرنے کے بعد انسان پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ صرف مرتد ہوکر ہی وہ واپس لَوٹ سکتا ہے۔ اس کے بغیر اس کے لیے کوئی صورت نہیں ہوگی۔
    یہاں پچھلے دنوں ایک شخص نے غفلت کی۔ اُس نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی تھی۔ مگر وقف کے بعد اس نے بدعہدی سے کام لیا جس پر مَیں نے اسے قادیان سے خارج کردیا اور مَیں نے کہہ دیا کہ صرف جلسہ سالانہ اور مجلس شورٰی کے دنوں میں دس دن کے لیے وہ قادیان آسکتا ہے۔ ان ایام کے علاوہ اسے قادیان آنے کی اجازت نہیں۔ یہ بھی درحقیقت اس سے نرمی ہی کی گئی ہے ورنہ اصل سزا یہی تھی کہ اسے جماعت سے خارج کردیا جاتا۔ پس جو شخص بھی آئے اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اُس کا رویہ ایسا قربانی والا ہو کہ وہ سمجھ لے اَب مَیں مر کر ہی اس کام سے ہٹوں گا اس کے علاوہ میرے لیے اور کوئی صورت نہیں۔
    جب تک کوئی شخص اس رنگ میں اپنے آپ کو وقف نہیں کرتا اُس وقت تک اس کا وقف اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ بہر حال جماعت میں ایسے ہمت والے لوگ موجود ہیں اور جبکہ خدا نے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے تو مَیں یقین رکھتا ہوں کہ سَو میں سے ننانوے ایسے ہی لوگ ہوں گے جو اپنی زندگی وقف کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ پس وہ لوگ اپنے آپ کو پیش کریں جو مضبوط جسم والے ہوں، زمیندارہ کام سے دلچسپی رکھتے ہوں اور محنت اور شوق سے کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس غرض کے لیے اگر ہمیں ایسے گریجوایٹ مل جائیں جنہوں نے زراعت کا امتحان پاس کیا ہو تو ان کو مینیجر اور بعض کو نائب مینیجر بنایا جاسکتا ہے اور جو کم تعلیم یافتہ ہوں ان کو اکاؤنٹنٹ یا منشی وغیرہ بنایا جاسکتا ہے۔
    بہرحال ایسے لوگوں کی ہمیں ضرورت ہے۔ کیونکہ یہی وہ سال ہیں جب اجناس کی قیمتیں زیادہ ہیں اور سلسلہ کو مالی لحاظ سے نفع حاصل ہوسکتا ہے۔ اس طرح ان زمینوں کی آمد سے ایک بھاری ریزرو فنڈ قائم کیا جاسکتا ہے۔ میرا دل چاہتا تھا کہ ہم اپنی ساری زمینیں آزاد کرالیں مگر ابھی تک ساری زمینوں کو آزاد نہیں کرایا جاسکا۔ بہت سی آزاد کرالی گئی ہیں۔مگر اس میں تین چار لاکھ روپیہ ایسا ہے جو قرض لیا گیا ہے۔ میرا منشاء ہے کہ نہ صرف ہم اپنی تمام زمینیں آزاد کرالیں بلکہ انہی کی آمد سے چار پانچ سال کے عرصہ میں کم سے کم پچیس لاکھ روپیہ کا ایک اَور ریزرو فنڈ قائم کرلیں اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اگر کام کرنے والے محنت سے کام کریں، دیانتداری سے کام کریں، اخلاص سے کام کریں تو پچیس لاکھ روپیہ کا مزید ریزرو فنڈ قائم ہونا کوئی مشکل بات نہیں۔ پھر اس پچیس لاکھ روپیہ کو نفع پر لگایا جائے تو اس کی آمد سے بعض اور کام کیے جاسکتے ہیں۔ معمولی تجارت پر بھی اگر اس قدر روپیہ لگا دیا جائے تو پچیس لاکھ پر پچھتّر ہزار روپیہ نفع ہوسکتا ہے اور اگر اس روپے کو کسی اعلیٰ کام پر لگایا جائے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہوسکتی ہے۔ اس طرح ایک ریزرو فنڈ سے آہستہ آہستہ دوسرا ریزرو فنڈ قائم ہوسکتا ہے اور دوسرے ریزرو فنڈ کی آمد سے تیسرا ریزرو فنڈ قائم ہوسکتا ہے۔ یہاں تک کہ دو تین کروڑ بلکہ دو تین ارب تک یہ رقم پہنچ سکتی ہے۔ پھر پانچ ہزار ہی نہیں پانچ لاکھ مبلغ اگر ہم رکھنا چاہیں گے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سےرکھ سکیں گے۔ کیونکہ پانچ ہزار مبلغ کافی نہیں۔ چونکہ ہمارا کام جماعت کی تربیت کرنا بھی ہے۔ اس لیے ہمارے مبلغ پانچ لاکھ ہونے چاہییں جن کا ایک حصہ تبلیغ کرے اور دوسرا حصہ تربیت کی طرف توجہ کرے۔ پس ایک تو یہ بات ہے جس کی طرف مَیں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔
    دوسرے مَیں نے بتایا ہے کہ افریقہ سے مطالبہ آیا ہے کہ وہاں بارہ مبلغوں کی ضرورت ہے۔ یہ مطالبہ بھی ایسا ہے جسے پورا کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ خدا تعالیٰ کے لاکھوں بندے جو افریقہ کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں اِس وقت غلامی میں مبتلا ہیں اور مصلح موعود کے متعلق اللہ تعالیٰ کی جو پیشگوئی ہے اس میں ایک خبر یہ بھی دی گئی ہے کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔ یہ وہ قومیں ہیں جو حقیقی معنوں میں اسیر ہیں۔ ہزاروں سال سے ان اقوام کو حکومت نہیں ملی اور دوسروں کی غلامی اور ماتحتی میں ہی اپنی زندگی کے دن گزارتی چلی آرہی ہیں۔ آج یہ قومیں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ آؤ اور ہمیں اسلام سکھاؤ، آؤ اور ہمیں حُریت کا سبق دو۔ خدا نے ہمیں اس کام کے لیے مقرر کیا ہے کہ ہم ان قوموں کو رستگاری بخشیں، ہم ان کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ دیں۔ اور نہ صرف انہیں ضمیر کی حُریت کا سبق دیں بلکہ ان کی جسمانی ذلت اور ظاہری نکبت کو بھی دور کریں۔ وہ قومیں تعلیم سے عاری ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان میں تعلیم کا سلسلہ جاری کریں اور ان میں عقل اور شعور پیدا کریں، انہیں تمدن اور تہذیب سے رہنا سکھائیں، ان میں تنظیم پیدا کریں اور پھر دین کی محبت اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کا مادہ ان میں پیدا کریں۔ دیکھو! وہ کس قدر قربانی کرنے والی قومیں ہیں۔ وہ اتنے جاہل اور تعلیم سے ناآشنا ہونے کے باوجود تمام مشنوں کا خرچ خود برداشت کر رہے ہیں۔ آپ ہی مدر سے چلاتے ہیں، آپ ہی مسجدیں بناتے ہیں، آپ ہی مبلغوں کو مختلف علاقوں میں مقرر کرتے اور ان کے گزارہ کا بندوبست کرتے ہیں۔ ابھی اُن کی تعلیم ایسی نہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کے مبلغ پیدا کرسکیں جو تعلیم یافتہ لوگوں کو مذہب کے متعلق اطمینان دلاسکیں۔لیکن بہرحال وہ بڑے اخلاص سے تمام کام کر رہے اور اپنے اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں۔ اس علاقہ میں کام کرنے کے لیے کچھ عربی اور کچھ انگریزی کا جاننا ضروری ہے۔ ان کو تین چار مہینہ کی ٹریننگ دے کر اس ملک میں تبلیغ کے لیے بھجوا دیا جائے گا۔ وہاں انگریزی میں تبلیغ کرنی ضروری ہوتی ہے۔ گو اعلیٰ درجہ کی انگریزی نہ آئےمگر ٹوٹی پھوٹی انگریزی ضرور آنی چاہیے۔ اسی طرح کسی قدر عربی کا آنا ضروری ہوتا ہے تاکہ اسلامی مسائل ان کو سمجھائے جاسکیں۔ پس وہ لوگ جن کو کچھ کچھ عربی اور کچھ کچھ انگریزی آتی ہو وہ اس غرض کے لیے اپنے نام پیش کریں تاکہ ان کو فوراً افریقہ میں بھجوایا جاسکے۔ دیکھو وہ لوگ خرچ بھی کس قدر کفایت سے کرتے ہیں۔ ہمارے مبلغ نے لکھا ہے کہ یہاں چالیس روپیہ میں ایک شخص کا گزارہ ہو جاتا ہے اور لکھا ہے کہ اگر چھ مہینے تک جماعت ان 12 مبلغین کا خرچ برداشت کرے تو اس کے بعد مقامی جماعتیں خود اس بوجھ کو اٹھا لیں گی۔ مَیں خدا تعالیٰ کے فضل سے چھ مہینے نہیں سال بلکہ دوسال تک بھی ان کے گزارہ کا انتظام کرسکتا ہوں۔اس کے بعد وہاں کی جماعتیں ان کے اخراجات کا بوجھ خود برداشت کرسکتی ہیں۔ بہرحال افریقہ کے ہزاروں لوگ ہمیں پکار رہے ہیں کہ ہم اسلام کی تبلیغ کے لیے اُن کے پاس پہنچیں۔ سیرالیون جس کا صدر مقام فری ٹاؤن ہے ایک نہایت ہی اہم مقام ہے۔ اگر اسلام وہاں سُرعت کے ساتھ پھیل جائے تو تمام افریقہ پر اس کا اثر ہوسکتا ہے۔ اسی طرح گولڈ کوسٹ اور نائیجیریا میں اسلام پھیل جائے تو قریباً تمام مغربی افریقہ فتح ہو جاتا ہے۔ وہاں کی ساری آبادی ایک کروڑ ہے اور یہ ایک کروڑ افراد اگر خدا چاہے تو چند سالوں میں ہی احمدی ہوسکتے ہیں اور یہ اتنی بڑی تعداد ہے جو ہماری موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک غیرمعمولی تعداد ہوگی۔
    پس مَیں آج کے خطبہ میں جماعت کے دوستوں کے سامنے یہ دو تحریکیں پیش کرتا ہوں۔ مَیں زیادہ تر وقفِ زندگی کی تحریک کرنے کے لیے ہی آیا تھا اور یہی وہ امر تھا جس کے لیے میں بیماری کی حالت میں اٹھ کر چلا آیا۔ مَیں کہہ نہیں سکتا کہ اِس وقت مجھے بخار ہے یا نہیں۔ کیونکہ بولنے کی وجہ سے مجھے اس کی حِس نہیں رہی۔ لیکن منہ کا ذائقہ خراب ہے جس سے مَیں سمجھتا ہوں کہ شاید بخار ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری جماعت کے افراد کو ایسی توفیق عطا فرمائے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور ان میں یہ احساس پیدا ہوجائے کہ زندگی وہی ہے جو دین کے لیے قربان ہوجائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہؓ سے پوچھا کہ تم کو وہ مال پسند ہے جو تمہارے کسی رشتہ دار کے ہاتھ میں ہو یا تم کو وہ مال پسند ہے جو تمہارے اپنے ہاتھ میں ہو؟ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کون ایسا شخص ہوسکتا ہے جو اس بات کو پسند نہ کرے کہ مال اس کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اُس کا مال اُس کے قبضہ میں ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر سُن لو۔ وہ مال جو تم خدا کے لیے خرچ کرتے ہو وہ تمہارا ہے اور وہ مال جو تم خدا کے لیے خرچ نہیں کرتے وہ تمہارے رشتہ داروں کا ہے۔ تم مر جاؤ گے تو تمہارے رشتہ دار آئیں گے اور اُس مال پر قبضہ کرکے لے جائیں گے۔8 پس یاد رکھو! وہ زندگی جو تم خدا کے لیے خرچ کرتے ہو وہی تمہاری زندگی ہے۔ لیکن وہ زندگی جو تم اپنے نفس کے لیے خرچ کرتے ہو وہ ضائع چلی گئی۔ جو شخص خدا کے لیے اپنی زندگی قربان کرتا ہے وہ چاہے کتنی ہی گمنامی کی زندگی بسر کرے، چاہے دنیا میں اُسے کوئی شخص نہ جانتا ہو آسمان پر خدا اُس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور اُس کو اپنے قرب میں عزت و احترام کی جگہ دیتا ہے۔ پس مت خیال کرو کہ دین کے لیے اپنی زندگی قربان کرنا زندگی کو ضائع کرناہے۔ یہ زندگی کو ضائع کرنا نہیں بلکہ اُسے ایک قیمتی اور ہمیشہ کے لیے قائم رہنے والی چیز بنانا ہے۔
    صحابہؓ کو دیکھو۔ انہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لیے قربان کردیں۔ مگر پھر ایک ایسا وقت آیا جب اسلام یورپ سے لے کر ایشیا تک پھیل گیا۔ اُس وقت امراء ہی نہیں اسلام کے علماء بھی کروڑ پتی بن چکے تھے۔ مگر پھر انہی امراء اور انہی علماء نے مل کر ایک ایک صحابؓی کا پتہ لگایا اور اس کے حالات کو کتابوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ یہاں تک کہ وہ عورت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کی مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی اُس کا بھی انہوں نے پتہ لگایا اور اُس کے حالاتِ زندگی انہوں نے کتابوں میں درج کر دیئے۔کیا تم سمجھتے ہو اگر وہ عورت مدینہ کی بڑی بھاری تاجر ہوتی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحابیت کا شرف اُسے حاصل نہ ہوتا تو یہ عزت اُسے حاصل ہوسکتی؟ اگر وہ کروڑ پتی ہوتی تب بھی کوئی شخص اُس کے حالات سے دلچسپی نہ رکھتا اور آج کسی کو معلوم تک نہ ہوتا کہ مدینہ میں کوئی کروڑپتی عورت تھی۔ لیکن تیرہ سوسال کے بعد آج بھی اُس جھاڑو دینے والی عورت کے حالات ہمیں کتابوں میں نظر آرہے ہیں۔ جب وہ مر گئی تو ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا حال لوگوں سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا یارسولَ اللہ! فلاں؟ وہ عورت تو مر گئی اور ہم نے اُسے دفن کردیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟تمہیں چاہیے تھا کہ تم مجھے بتاتے تاکہ مَیں اس کے جنازہ میں شریک ہوسکتا۔9 تو وہ لوگ جو دین کی خدمت کرتے ہیں دنیا میں ہمیشہ کے لیے ان کی عزتیں قائم کردی جاتی ہیں۔ بے شک یہ کہنا کہ مجھے عزت ملنی چاہیے شرم کی بات ہے۔ مومن ایسا مطالبہ نہیں کیا کرتا۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کی عزت دنیا میں ضرور قائم کی جاتی ہے۔ مومن کی حالت تو یہ ہوتی ہے کہ شبلی سے کسی نے پوچھا آپ اپنی عاقبت کے متعلق اللہ تعالیٰ سے کیا امید رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا مَیں تو خدا سے یہی کہوں گا کہ خدایا! تُو بے شک مجھے دوزخ میں ڈال دے مگر مجھ سے راضی ہوجا۔حضرت جنیدؓ کہنے لگے۔ شبلی ابھی بچہ ہے۔ اگر خدا مجھے کہے کہ جنید! تم کیا چاہتے ہو؟ تو مَیں اُسے یہ کہوں کہ خدایا !جس میں تیری رضا ہے۔ اگر تُو جنت میں لے جانا چاہتا ہے تو جنت میں لے جا اور اگر تُو دوزخ میں داخل کرنا چاہتا ہے تو دوزخ میں داخل کردے۔10 اب دیکھو دوزخ کا خیال کرکے بھی انسان کانپ اٹھتا ہے اور ایک منٹ کے لیے بھی دوزخ کے عذاب کو برداشت نہیں کرسکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے بڑی بڑی قربانیاں کرنے کے بعد بھی یہی کہتے ہیں کہ خدایا! اگر تُو اسی طرح راضی ہونا چاہتا ہے تو بے شک دوزخ میں ڈال دے۔ حالانکہ دوزخ وہ چیز ہے جس کا خیال کرکے بھی انسان کانپ جاتا ہے۔ تو دنیا کا دوزخ کچھ چیزنہیں اور کوئی قربانی ایسی نہیں جس کا کرنا خدا اور اس کے دین کے لیے ایک مومن انسان کے لیے دوبھر ہو۔
    ایک بزرگ تھے۔ اُن سے ایک دفعہ کسی علاقہ کے پانچ سو آدمی ملنے کے لیے گئے۔ جب زیارت کرچکے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ آپ ہمیں کوئی ہدایت دیں تاکہ ہم اُس پر عمل کریں۔ وہ بزرگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا مَیں نے سنا ہے ہندوستان میں ابھی اسلام پورے طور پر نہیں پھیلا اور وہ لوگ اس بات کے لیے بیتاب ہیں کہ مسلمان آئیں اور انہیں اپنے مذہب کی تعلیم سے آگاہ کریں۔ میری خواہش ہے کہ آپ لوگ ہندوستان چلے جائیں اور وہاں اسلام کی تبلیغ کریں۔ وہ پانچ سو آدمی اُسی وقت وہاں سے اُٹھے اور ہندوستان کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہ اپنے گھر بھی نہیں گئے اور سیدھے ہندوستان میں تبلیغ کرنے کے لیے چل کھڑے ہوئے۔ یہی وہ قربانیاں تھیں جن کی وجہ سے آج ہمیں اپنے اندر اسلام نظر آرہا ہے۔ اگر ہمارے باپ دادا سُست ہوتے اور وہ اسلام کی تبلیغ کے لیے بڑی سے بڑی قربانیاں دلیری سے کرنے کے لیے تیار نہ رہتے تو کبھی اسلام ہم تک نہ پہنچتا۔ انہوں نے قربانی کی اور ہم تک اسلام پہنچا۔ اب ہم قربانی کریں گے تو باقی دنیا تک اسلام پہنچ جائے گا۔ پس یہ ہمارا کام ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کام کو کریں اور چونکہ یہ کام درحقیقت خدا کا ہی ہے اس لیے ہم امید رکھتے ہیں کہ خدا ہمیں توفیق دے گا کہ ہم ایسا کریں۔ قادیان کے دوستوں کو اس خطبہ کے ذریعہ یہ تحریک پہنچ گئی ہے اور باہر کے دوستوں کو جب یہ خطبہ اخبار میں شائع ہوگا تو پہنچ جائے گی۔ مَیں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد ان تحریکوں کے لیے اپنے نام پیش کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں۔
    اے خدا! جب تُو نے مجھے اس کام پر مقرر کیا ہے تو میرے الفاظ میں برکت بھی دے اور میرے ہر کام کے لیے اپنی وحی کے ساتھ آدمی بھجوا اور پھر ان کی دنیا اور عاقبت کا محافظ ہوجا۔ اٰمِیْن"۔ (الفضل7؍اپریل 1944ء)


    13
    اشاعتِ دین کے لیے اموال
    اور زندگیاں وقف کرنے کا مطالبہ
    (فرمودہ 7؍اپریل 4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "دنیا میں فوجیں حکومت کی طرف سے بھیجی جاتی ہیں ایک معیّن کام کے لیے اور ایک معیّن مقصود کے لیے۔ حملہ آور فوجوں کے افسروں سے کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں قلعہ پر تم نے قبضہ کرنا ہے یا فلاں خندق پر قبضہ کرنا ہے یا فلاں شہر کو لینا ہے یا فلاں پہاڑی یا فلاں گھاٹ پر تم نے جھنڈا گاڑنا ہے۔ یہ آگے ان کی قسمت ہوتی ہے یا ان کی جدوجہد اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کام میں تین باتوں میں سے ایک کو حاصل کر لیتے ہیں۔ یا اس جگہ کو فتح کر لیتے ہیں یا فتح کرنے کی کوشش میں مارے جاتے ہیں یا شکست کھا کر بھاگ جاتے ہیں ۔مگر بہرحال ان کے سامنے ایک مقصد ہوتا ہے، ایک معیّن مقصد یا ایک محدود غایت اور منزل۔ یا پھر قلعوں میں فوجیں بند ہوتی ہیں، چاروں طرف سے ان کا محاصرہ دشمن نے کیا ہوتا ہے، اُن کے افسروں کا حکم ان کو ملتا ہے کہ تم نے یہ محاصرہ توڑ کر باہر نکلنا ہے۔ اس جدوجہد میں بھی تین صورتیں ان کے سامنے ہوتی ہیں۔ اُن کی قسمت یا بدقسمتی یا کوشش اور سستی ان کو ان میں سے کسی ایک جگہ پر پہنچا دیتی ہے اور ان کے ذہنوں میں یہ تینوں صورتیں مستحضر ہوتی ہیں۔ یا وہ محاصرہ کرنے والی فوج کو کاٹ کر باہر نکل جاتی ہیں یا باہر نکلنے کی کوشش میں ماری جاتی ہیں یا ہمت ہار کر ہتھیار ڈال دیتی ہیں۔ مگر وائے قسمت اُس فوج کی جس کو ایسے حملہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے جس کی کوئی تعیین نہیں، کوئی حدبندی نہیں۔ وہ نہیں جانتی کہ کس مقام پر اُس نے حملہ کرنا ہے۔ اور درحقیقت وہ اس کو جان سکتی ہی نہیں کیونکہ جن قلعوں پر حملہ کرنا اس کے سپرد کیا گیا ہے وہ زمین دوز ہیں۔ باہر ان کا کوئی نشان نہیں۔ بلکہ وہ انسانوں کے دلوں اور دماغوں میں ہیں۔ اس کو ان اندرونی سرنگوں کا کوئی علم نہیں جو مستقبل زمانہ کے لیے اندر ہی اندر کھو دی گئی ہیں۔ہر زمانہ کا ایک خیال اور ہر زمانہ کی ایک قوم ہوتی ہے۔ کبھی چین کے لیے آگے بڑھنا مقدر ہوتا ہے اور کبھی جاپان کے لیے، کبھی عرب کے لیے آگے بڑھنا مقدر ہوتا ہے اور کبھی فلسطین کے لیے، کبھی مصر اور شام کے لیے مقدر ہوتا ہے،کبھی مغرب کے لیے آگے بڑھنا مقدر ہوتا ہے اور کبھی مشرق کے لیے مقدر ہوتا ہے اور وہی قوم مستقبل میں کامیابی کا منہ دیکھتی ہے جو اس قوم کو جس کے لیے آئندہ زمانہ میں آگے بڑھنا مقدر ہے اپنے ساتھ ملا لیتی ہے۔ جب دنیا میں انبیاء صرف ایک ہی قوم کی طرف آیا کرتے تھے اُن کا کام آسان ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی کی قوم کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے ایک ہی مُنہ سے ساری دنیا کو مخاطب کرنا شروع کیا تب سے یہ بات مشتبہ ہو گئی کہ کونسی قوم ہے جس کا آگے بڑھنا مقدر ہے اور اس وجہ سے روحانی جماعتوں کا کام نہایت ہی مشکل ہوگیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں یہ آسانی تھی کہ اُس زمانہ میں شریعت کے قیام کا سوال تھااور شریعت لانے والے انبیاء کی زندگی میں ہی حکومت مل جایا کرتی ہے۔ ایک قوم تھی جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا پڑھایا اور پھر اسی کے ہاتھ میں حکومت آگئی اور اس نے اسلام کو پھیلایا۔ مگر جو کام ہمارے سپرد ہے وہ بہت ہی مشکل ہے۔ ہمیں کوئی علم نہیں کہ کونسی قوم ہے جس کا بڑھنا اس زمانہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا ہے۔ احمدیت کا چھینٹا تو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں دے دیا ہے۔ کوئی یہاں کوئی وہاں، کوئی اِس ملک سے کوئی اُس ملک سے، کوئی اِس مذہب سے کوئی اُس مذہب سے احمدیت کو قبول کرتا جارہا ہے۔ مگر کوئی معیّن صورت ہمارے سامنے نہیں جس سے مستقبل کا اندازہ کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک جدید کے شروع میں مَیں نے کہا تھا کہ مکہ کا تو ہمیں علم ہوگیا اب ہمیں احمدیت کے مدینہ کی تلاش کرنا ہے۔ نادانوں نے میرے کلام کی عظمت کو نہ سمجھتے ہوئے شور مچا دیا اور کہا آؤ تمہیں بتا دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور میں فوت ہوئے تھے اس لیے احمدیت کا مدینہ لاہور ہے۔ ان کے نزدیک مدینہ کی عظمت صرف اسی میں ہے کہ وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہوئے۔ حالانکہ یہ بات صحیح نہیں۔
    مدینہ کی اصلی عظمت اس میں ہے کہ اس نے دین کو لیا اور پھر تلواروں کے سایہ کے نیچے ساری دنیا میں پھیلا دیا۔ تو جب مَیں نے مدینہ کہا تھا تو اس کے معنے یہ تھے کہ دنیا میں آئندہ چلنے والی رَو کا پتہ لگایا جائے اور معلوم کیا جائے کہ اِس زمانہ میں کس قوم کے لیے بڑھنا مقدر ہے اور دیکھا جائے کہ وہ مدینہ سرزمینِ ہند ہے یا کوئی اَور ملک۔ جس نے اس زمانہ میں نقطۂ مرکزیہ بننا ہے،جس نے احمدیت کے لشکر کو سمیٹنا اور پھر اسے آگے بڑھانا ہے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کسے یہ فخر حاصل ہوگا۔ بظاہر اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو چُنا ہے اِس لیے پہلا حق ہمارا ہے۔ لیکن اگر ہم خود سستی سے پلوٹھے ہونے کا حق کھو دیں تو یہ ہماری بدقسمتی ہوگی۔ جہاں تک اسلام کی ترقی کا سوال ہے۔بلحاظ اس کے کہ سب انسان بھائی بھائی ہیں ہمیں کوئی شکوہ نہیں کہ احمدیت کا جھنڈا دنیا کی بلندیوں پر، خواہ کوئی قوم گاڑ دے۔ مگر جہاں تک دینی جدوجہد کا سوال ہے اس بارہ میں باہم رشک کرنا جائز ہے۔ اس لیے ہم اگر یہ رشک کریں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو مکہ بننے کے لیے چُنا ہے مدینہ بھی یہی ہو اور اسلام و احمدیت کی فتوحات ہمارے ذریعہ سے ہوں۔ اور یہ کوئی بُری بات نہیں۔ ایسا خیال اور ایسی خواہش رکھتے ہوئے ہم اپنے چینی بھائیوں سے غداری نہیں کریں گے، جاپانیوں، روسیوں، فرانسیسیوں سے غداری نہیں کریں گے، سپینش بھائیوں سے غداری نہیں کریں گے کیونکہ یہ دین کی خدمت کا سوال ہے اور اس میں رقابت جائز ہے۔ اِسی طرح ان اقوام کے دل میں بھی یہی خواہش ہو کہ وہ بغیر کسی پر ظلم کیے اور کسی کو پیچھے ہٹائے احمدیت کا جھنڈا دنیا میں گاڑنے والی ہوں تو ہمیں شکایت کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے قرب کے سوال میں بھائی بھائی کا مقابلہ کرنے اور اُس سے آگے بڑھنے میں حق بجانب ہوتا ہے۔ جب محبوب کے پاس جانے کا سوال ہو تو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا خیال اور اس کی خواہش ناجائز نہیں ہوتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پیشگوئی میں اجتہادی غلطی کے ماتحت اس ارادہ کے ساتھ مکہ کی طرف گئے کہ عمرہ کریں گے۔ جب مکہ والوں کو علم ہوا تو انہوں نے آپ کو روکنے کے لیے مختلف تدابیر اختیار کیں۔ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سمجھانے اور یہ بتانے کے لیے کہ ہم محض عمرہ کے لیے آئے ہیں لڑنے اور اپنی فوقیت جتانے کے لیے نہیں آئے اور اس میں تمہارا کیا حرج ہے کہ ہم عمرہ کرلیں ایک سفیر اہلِ مکہ کی طرف بھیجنا چاہا۔ اس کے لیے مختلف صحابہؓ کے نام تجویز ہوئے۔ مگر سب کی رائے یہی تھی کہ حضرت عثمانؓ اس کام کے لیے موزوں ترین ہیں۔ ان کے خاندان کا رسوخ بھی زیادہ ہے۔ تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کو اس سفارت پر جانے کا حکم دیا۔ حضرت عثمانؓ گئے اور مکہ والوں سے بات چیت شروع کی۔ مکہ والوں نے کہا کہ اگر مسلمان عمرہ کر جائیں تو یہ ہماری ہتک ہے۔ لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں نے تلوار کے زور سے عمرہ کیا ہے۔ حضرت عثمانؓ نے ان کو سمجھایا کہ اس میں تلوار کا کوئی سوال نہیں۔ یہ تو خدا تعالیٰ کی عبادت کا سوال ہے اور ہم عبادت کے لیے آئے ہیں اور ہم یہ نہ کہیں گے کہ ہم نے زور سے عمرہ کیا بلکہ کہیں گے کہ مکہ والوں کا احسان ہے۔ مگر انہوں نے کہا کہ یہ ہرگز نہ ہوگا۔ بحث ہوتی رہی اور ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ دیر ہوگئی اور شام کا وقت ہوگیا۔ ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ حضرت عثمانؓ کی واپسی کے منتظر تھے۔ جب ان کے واپس آنے میں اتنی دیر ہوگئی تو آپؐ نے خیال کیا کہ شاید مکہ والوں نے، جو اخلاق کے تمام ضابطوں کو توڑ چکے ہیں عثمانؓ کو شہید کردیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس بات کے لیے بڑا حسّاس تھا کہ جسے آپؐ کوئی کام سپرد کریں اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اپنی اس ذمہ واری کو سمجھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا صدمہ ہوا کہ آپؐ ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے جو صحابہ آپؐ کے گرد بیٹھے تھے اُن سے آپؐ نے فرمایا کیا آج تم میرے ہاتھ پر ایک بیعت کے لیے تیار ہو؟ آؤ مَیں اور تم آج ایک اقرار کریں۔ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ! ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اگر مکہ سے یہ خبر آئی کہ اہلِ مکہ نے عثمانؓ کو شہید کردیا ہے تو مَیں اور تم یہ اقرار کریں کہ اب اس جگہ سے زندہ واپس نہ جائیں گے بغیر اس کے کہ یا تو دشمن کو شکست دے کر آئندہ کے لیے رستہ صاف کرلیں یا پھر یہیں مارے جائیں گے۔ کیا تم اس پر راضی ہو؟ صحابہؓ نے کہا یارسول اللہ! بڑی خوشی سے راضی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر آؤ بیعت کرو۔1
    آپؐ کے ارد گرد چند صحابہؓ اُس وقت بیٹھے تھے باقی اِدھر اُدھر تھے۔ کسی نے بلند آواز سے اُن کو بھی اطلاع دی اور جس جس کے کان میں یہ آواز پڑتی گئی وہ دوڑتا چلا آتا تھا اور بیعت کااِس قدر زور تھا کہ صحابہؓ کہتے ہیں ہماری کیفیت یہ تھی کہ اگر خدا تعالیٰ کا خوف نہ ہوتا تو تلوار سے ایک دوسرے کی گردن کاٹ کر بھی پہلے بیعت کرتے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اس مجلس میں موجود تھے۔ انہوں نے دور دور تک نگاہ کی اور دیکھا کہ ان کے والد حضرت عمرؓ وہاں نہ تھے۔ ان کی بیٹا ہونے کی عصبیت ذاتی جوش پر غالب آگئی اور وہ دوڑ پڑے تا اپنے والد کو تلاش کرکے لائیں۔ آخر حضرت عمرؓ ان کو ایک جگہ مل گئے اور وہ ان کو لے آئے اور سب نے بیعت کی۔ وقت گزر گیا اور معلوم ہؤا کہ حضرت عثمان کی شہادت کا خیال صحیح نہ تھا۔ انہیں گفتگو میں دیر ہوگئی تھی۔ اہل مکہ نے حضرت عثمانؓ سے کہا کہ آپ آئے ہوئے ہیں آپ چاہیں تو عمرہ کرلیں۔ مگر آپ نے کہا کہ وہ عمرہ جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا گیا ہے میرے لیے حرام ہے۔ وہ وقت گزر گیا مگر اس بیعت کو صحابہ اپنے عظیم الشان کارناموں میں شمار کرتے تھے اور فخر کے ساتھ اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔ کوئی کہتا مَیں نے پہلے بیعت کی اور کوئی کہتا فلاں کے بعد مَیں نے کی۔ کسی مجلس میں ایک دفعہ اِسی طرح ذکر ہو رہا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی اس مجلس میں تھے اور حضرت عمرؓ بھی۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ مَیں سب سے پہلے بیعت کرسکتا تھا مگر مَیں نے دیکھا کہ میرے والد اس مجلس میں نہ تھے۔ مَیں نے خیال کیا کہ وہ ثواب سے محروم نہ رہ جائیں اور اُن کی تلاش میں چلا گیا اور اس طرح مجھے دیر ہوگئی۔ جب حضرت عمرؓ نے یہ بات سنی تو کہا خدا کی قسم! اگر مَیں تمہاری جگہ ہوتا تو پہلے خود بیعت کرتا اور تمہاری تلاش کے لیے نہ جاتا۔ تو بات یہی ہے کہ دینی امور میں خدا تعالیٰ کی قربت کا سوال ہوتا ہے اس لیے قریبی سے قریبی اور عزیز سے عزیز سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرنا ناجائز نہیں۔ ناپسندیدہ اور قابلِ اعتراض بات نہیں۔ کوئی عورت نماز میں کمی نہیں کرتی اس خیال سے کہ اپنے خاوند سے ثواب میں آگے نہ بڑھ جائے اور کوئی خاوند اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس لیے کوتاہی نہیں کرتا کہ اس کی بیوی پیچھے نہ رہ جائے۔کوئی بھائی بھائی اور کوئی باپ بیٹے اور کوئی بیٹا باپ سے آگے بڑھ جانے کے خوف سے نیکیوں میں کمی نہیں کرتا۔ بلکہ ہر شخص آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ اٰتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلٰى هَلَـكَتِهٖ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ اٰتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا2 یعنی فرمایا اللہ تعالیٰ کے نبی نے کہ دو باتیں ہیں جن میں حسد کرنا جائز ہے۔ ان کے سوا کسی میں جائز نہیں۔ ان دو میں بے شک باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے، بھائی بھائی سے حسد کرسکتا ہے۔ کیونکہ یہ باتیں روحانیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ دو کیا ہیں؟ ایک یہ کہ ایسے آدمی کی حالت کے متعلق کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے مال دیا اور اُسے اپنا مال اللہ تعالیٰ کے رستہ میں ہلاک کرنے کی توفیق دی گئی۔ اگر اس بات میں کوئی دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو یہ بالکل جائز ہے۔ دوسرے اس موقع پر جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو علم، حکمت اور تفقّہ عطا کیا ہو اور وہ اسے دنیا میں نافذ کرتا اور لوگوں کو دین سکھاتا ہے۔ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کا میں گزشتہ دو خطبوں میں جماعت سے مطالبہ کر چکا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی میری اس تحریک کی تصدیق فرماتے ہیں۔ مَیں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے لوگ سامنے آئیں جو اپنے مال دین کے لیے وقف کریں اور ایسے نوجوان آگے آئیں جو دین کی اشاعت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں۔ تا انہیں علم سکھا کر دین کے کاموں پر لگایا جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ دو باتیں ایسی ہیں جن میں حسد جائز ہے۔ خدا تعالیٰ یہ کسی سے ہرگز نہیں پوچھے گا کہ مَیں نے تجھے مال دیا تھا جو تُو خدا کی راہ میں خرچ کرنے لگا تھا کہ تیرے ماں باپ یا بیوی بچوں یا دوسرے رشتہ داروں نے ایسا کرنے سے تجھے روکا تو تُورُکا کیوں نہیں؟ یا دین کو چند مخلص خدام کی ضرورت تھی تیرے دل میں خیال آیا کہ اپنی زندگی وقف کردوں مگر تیرے ماں باپ اس کے خلاف تھے، وہ تجھے روکنا چاہتے تھے تو تُو رُکا کیوں نہیں۔ خدا تعالیٰ یہ سوال کسی سے نہ کرے گا۔ بلکہ کہے گا کہ اے شخص! میں نے تجھے مال دیا تھا تُو نے اسے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کا ارادہ کیا مگر تیرے ماں باپ یا بیوی بچوں نے اسے روکا اور تیرے رستے میں کھڑے ہوگئے۔ پھر بھی تُو رُکا نہیں بلکہ میری راہ میں دے دیا۔ اب میری جنت تیرا مال ہے۔ جا اور اس پر قبضہ کرلے۔ وہ یہ نہیں کہے گا کہ دین کے لیے زندگی وقف کرنے کے لیے تجھ سے مطالبہ کیا گیا۔ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دین پر آفت آئی ہوئی تھی، جب اسلام مددگاروں کے لیے چِلّا رہا تھا تُو نے خیال کیا کہ اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کردے۔ مگر تیرے ماں باپ اور بیوی بچے اس کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ کیوں زندگی کو ضائع کرنے لگا ہے۔ تیرے ماں باپ جن کے احترام کا مَیں نے حکم دیا ہے، تیری بیوی جس کے ساتھ حُسنِ سلوک کا میں نے حکم دیا ہے تجھے روکتے تھے مگر تُو پھر بھی نہ رُکا۔ تُو نے ایسا کیوں کیا اور کیوں ان کی بات نہ مانی۔ بلکہ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے یہ کہے گا کہ جس وقت اسلام مصیبت میں تھا، جب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روح مدد کے لیے پکار رہی تھی تُوآگے بڑھا کہ اسلام کی خدمت کرے۔اُس وقت تیرے ماں باپ جنہوں نے تجھے پالا تھا اور پڑھایا تھا انہوں نے اپنی ان خدمتوں کا واسطہ دے کر تجھے روکنا چاہا مگر پھر بھی تُو نہ رُکا۔ اے شخص! تُو نے میری خاطر ماں باپ کو چھوڑ دیا، بیوی بچوں کی کوئی پروا نہ کی اور رشتہ داروں سے قطع تعلق سے نہ ڈرا۔ پس آج مَیں ہوں تیری ماں اور مَیں ہوں تیرا باپ۔ یہی وہ چیز ہے جس کے لیے مومن قربانی کرتا ہے۔ بائبل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ ان کی ماں مامتا سے بے قرار ہوکر ان کے پاس پہنچیں تو کسی نے اُس سے کہا دیکھ! تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی"۔3 پھر واقعۂ صلیب سے قبل حضرت مسیح علیہ السلام کی دُور کی ماں اور اُس کی ماں کی بہن مریم، کلو پاس کی بیوی اور مریم مگدلینی کھڑی تھیں۔ حضرت مسیحؑ نے اپنی ماں اوراُس شاگرد کو جس سے محبت رکھتا تھا، پاس کھڑے دیکھ کر ماں سے کہا کہ اے عورت! دیکھ تیرا بیٹا یہ ہے۔ پھر شاگرد سے کہا دیکھ! تیری ماں یہ ہے اور اُسی وقت وہ شاگرد اُسے اپنے گھر لے گیا"۔4 گویا آپ نے ایک طرف تو یہ کہہ کر خدا تعالیٰ کا حق ادا کردیا کہ میرے بھائی اور ماں میرا خدا ہے اور اِس خیال سے کہ ماں ہونے کی حیثیت سے اُس کا بھی حق ہے مَیں جب دین کی خاطر پھانسی پا کر اس کی گود کو خالی کررہا ہوں اور اسے بے کس چھوڑ کر جا رہا ہوں تو اس کی دلجوئی کی صورت بھی پیدا کروں۔ اور پہلے جو کہا تھا کہ کون ہے میری ماں۔ اُس کا ازالہ اِس طرح کردیا کہ اپنے شاگرد سے کہا کہ آج سے تُو اس کو اپنی ماں کی طرح سمجھنا۔ اور ماں سے کہا کہ مجھے اپنے اِس شاگرد پر اتنا اعتماد ہے کہ مَیں کہہ سکتا ہوں کہ مَیں جو حکم اسے دوں گا اسے پورا کرے گا۔ پس آج سے تُو اِس کو اپنا بیٹا سمجھ کر جو حکم چاہے دے کہ یہ اُسی طرح تیری دلجوئی کرے گا جس طرح مَیں تیری دلجوئی کرسکتا تھا۔
    تو اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے مومن کی جان اور مال ہمیشہ حاضر ہوتی ہے۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ کہاں سے حملہ کیا جائے گا یا کب اور کس صورت میں کیا جائے گا۔ لیکن ہمیں ہر وقت اس کے لیے تیار رہنا چاہے۔ کئی ہیں جو فوری جوش کے ماتحت تو قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں لیکن اگر سال دو سال کے بعد مانگا جائے تو پس و پیش کرنے لگ جاتے ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ اِدھر ہمارا کارڈ پہنچے گا اور اُدھر سے مطالبہ آجائے گا کہ لاؤ دے دو۔ ایسے لوگ جو فاصلہ کی لمبائی سے غافل ہوتے ہیں ہمیشہ موقع پر پیٹھ دکھانے والے ثابت ہوتے ہیں۔ پس مومن کو کبھی غافل نہ ہونا چاہیے اور جب بھی اُس سے قربانی کا مطالبہ کیا جائے خواہ وہ سال کے بعد ہو یا دس بیس سال کے بعد اُسے تیار ہونا چاہیے۔جس طرح خدا تعالیٰ کے انعامات کا وقت مقرر نہیں،اُس نے یہ نہیں کہا کہ مجھ سے آج مانگو گے تو دوں گا کل نہیں دوں گا اُس کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کُھلے رہتے ہیں اِسی طرح مومن کو بھی ہر وقت قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جس طرح خدا تعالیٰ کی رحمت کا انتظار اور عدمِ انتظار سے تعلق نہیں اُس کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے اِسی طرح بندہ کو قربانی کے لیے بھی ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ مومن اور مخلص وہی ہے جو دین کی راہ میں قربانی کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ جو سمجھتا ہے کہ دین کا نمائندہ اور ذمہ دار میں ہی ہوں وہ دوسروں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ اپنے آپ کو ہی سارے کام کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ جب تک ہر شخص کے دل میں یہ بات راسخ نہیں ہوجاتی کہ مَیں ہی اللہ تعالیٰ کا واحد ایجنٹ ہوں اِس دنیا میں، خیر و برکت دنیا میں قائم نہیں ہوسکتی۔ نہ مذہب ترقی کرسکتا ہے اور نہ مذہب کے ماننے والے روحانیت حاصل کرسکتے ہیں۔ میں نے جلسہ سالانہ کی تقریر میں کہا تھا کہ اگر روحانیت حاصل کرنا چاہتے ہو تو تم میں سے ہر شخص محمدؐ بننے کی کوشش کرے۔ جب تک یہ کوشش نہ کی جائے، جب تک ہر شخص اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ نہ سمجھے، جب تک ہر شخص یہ نہ سمجھے کہ کوئی کرے یا نہ کرے مَیں نے اپنا فرض ضرور ادا کرنا ہے اور میرا فرض ہے کہ مَیں دین کا کام کروں اُس وقت تک وہ مومن کہلانے کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ مومن اِس بات کا محتاج نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کوئی جتھا ہو، اس کا کوئی مددگار اور سہارا دینے والا ہو۔ وہ اپنی قربانی پیش کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ باقی خدا تعالیٰ کا کام ہے وہ جو چاہے کرے۔ وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میری قربانی کوئی کام نہیں آسکتی اور اس سے کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا۔
    تاریخِ اسلام کی ان باتوں میں سے جو مجھے بہت پیاری لگتی ہیں ایک بات ایک ہسپانوی جرنیل کی ہے جن کا نام غالباً عبدالعزیز تھا۔جب سپین میں مسلمانوں کی طاقت اِتنی کمزور ہوگئی کہ اُن کے ہاتھ میں صرف ایک قلعہ رہ گیا جو آخری قلعہ تھا تو عیسائیوں نے ان کے سامنے بعض شرائط پیش کیں اور کہا کہ اگر بچنا چاہتے ہو تو ان کو مان لو۔ وہ شرائط ایسی تھیں کہ جنہیں مان کر اسلام سپین میں عزت کے ساتھ نہ رہ سکتا تھا۔ بادشاہِ وقت ان شرائط کو ماننے کے لیے تیار ہوگیا۔ دوسرے جرنیل بھی تیار تھے۔ مگر یہ جرنیل کھڑا ہوا اور کہا کہ اے لوگو! کیا کرتے ہو؟ کیا تمہیں یقین ہے کہ عیسائی اپنے وعدوں کو پورا کریں گے؟ ہمارے باپ دادا نے سپین میں اسلام کا بیج بویا تھا اب تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اس درخت کو گرانے لگے ہو!! ان لوگوں نے کہا کہ سوائے اِس کے ہو کیا سکتا ہے۔ دشمن سے کامیاب مقابلہ کی صورت ہے ہی کیا۔ اس جرنیل نے کہا یہ سوال نہیں کہ دشمن کے کامیاب مقابلہ کی صورت کیا ہے۔ نہ ہمیں اس کے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنا فرض ادا کرنا چاہیے اور ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ مر جائے مگر ان شرائط کو تسلیم نہ کرے۔اس طرح یہ ذلت تو نہ اٹھانی پڑے گی کہ اپنے ہاتھ سے حکومت دشمن کو دے دیں۔ جو کچھ تمہارے اختیار کی بات ہے وہ کردو اور باقی خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یہ بات سُن کر وہ لوگ ہنسے اور کہا کہ اِس قربانی کا کیا فائدہ؟ اور سب نے انکار کیا۔ مگر اس نے کہا کہ اگر تم اس بے غیرتی کو پسندکرتے ہو تو کرو مَیں تو اپنے ہاتھ سے اسلامی جھنڈا دشمن کے حوالہ نہ کروں گا۔ قریباً ایک لاکھ کا لشکر تھا جو قلعہ کے باہر جمع تھا۔ وہ اکیلا ہی تلوار لے کر باہر نکلا، دشمن پر حملہ کردیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔ بے شک اس کی شہادت کے باوجود سپین میں مسلمانوں کی حکومت تو قائم نہ رہ سکی مگر اُس کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ رہ گیا اور موت اُسے مٹا نہ سکی۔ وہ بادشاہ اور جرنیل جنہوں نے اُس کے مشورہ کو تسلیم نہ کیا اور اپنی جانیں بچانی چاہیں وہ مٹ گئے۔ اُن کا ذکر پڑھ کر اور سن کر ہم اپنے نفسوں کو بڑے زور سے اُن پر *** کرنے سے روکتے ہیں۔ لیکن کبھی سپین کے حالات کا مَیں مطالعہ نہیں کرتا یا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ باتیں میرے ذہن میں آئی ہوں اور اس جرنیل کے لیے دعائیں نہ نکلتی ہوں۔ اس کے خون کے قطرے آج بھی سپین کی وادیوں میں ہم کو آوازیں دیتے ہیں کہ آؤ! اور میرے خون کا انتقام لو۔ بے شک وہ بہادر جرنیل مرگیا۔ مگر مرنا ہے کیا؟ کیا یوں لوگ نہیں مرتے؟ کیا وہ بادشاہ اور جرنیل جو دشمن سے نہ لڑے، مر نہ گئے؟ وہ بھی ضرور مرگئے لیکن اُن کے لیے ہمارے دلوں سے *** نکلتی ہے اور اِس جرنیل کے لیے دعائیں۔ آج بھی اس کی کشش ہمیں سپین کی طرف بُلا رہی ہے اور اگر مسلمانوں کی غیرت قائم رہی اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے ظاہر ہوتا ہے نہ صرف قائم رہے گی بلکہ ترقی کرے گی اور پہلے سے بھی بڑھ کر ظاہر ہوگی۔ تو وہ دن دور نہیں جب اس جرنیل کے خون کے قطروں کی پکار، اس کی جنگلوں میں چِلّانے والی روح اپنی کشش دکھائے گی اور سچے مسلمان پھر سپین پہنچیں گے اور وہاں اسلام کا جھنڈا گاڑ دیں گے۔ اُس کی روح آج بھی ہمیں بلا رہی ہے اور ہماری روحیں بھی یہ پکار رہی ہیں کہ اے شہیدِ وفا! تم اکیلے نہیں ہو۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے سچے خادم منتظر ہیں۔ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی وہ پروانوں کی طرح اس ملک میں داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو وہاں پھیلائیں گے۔ یہ سوال نہیں کہ ہم امن پسند جماعت ہیں۔مخالف امن پسندوں پر بھی تلوار کھینچ کر اُن کو مقابلہ کی اجازت دِلوا دیا کرتے ہیں۔ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امن پسند نہ تھے مگر مخالفین کے ظلموں کی وجہ سے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو مقابلہ کی اجازت دے دی۔ جیسا کہ فرمایا اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُ۝5 جن لوگوں کو خوامخواہ نشانۂ مظالم بنایا گیا ہے اب اُن کو بھی اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔ پس سپین کے لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یوں مقدر ہے تو ہماری تبلیغ و تعلیم سے ہی کفر وشرک کو چھوڑ دیں گے۔ اور یا پھر ہم پر اتنا ظلم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقابلہ کی اجازت ہوجائےگی اور وہ جنہوں نے کان پکڑ کر مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکالا تھا، کان پکڑ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پر حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ حضور کے غلام حاضر ہیں اور اس اکیلے لڑنے والے کی روح ناکام نہیں رہے گی۔ پس کبھی یہ خیال نہ کرو کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔ یہ منافقوں والی بات ہے جنہوں کہا تھا کہ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنٰكُمْ6 یعنی اگر ہم کو پتہ ہوتا کہ یہ قتال ہے تو ہم ضرور ساتھ چلتے۔ مگر یہ قتال نہیں بلکہ خودکشی ہے اس لیے ساتھ نہ گئے۔ پس خودکشی ہو یا کچھ، ہمارا فرض ہے کہ اسلام کی فتح کے لیے مال اور جان کی قربانی کے لیے کھڑے ہوں۔ دوسروں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ اپنا فرض ادا کریں۔ جو ایسا کرے گا آئندہ نسلیں اُس پر درود بھیجیں گی۔ لیکن جو غداری کرے گا اور پیٹھ دکھائے گا اللہ تعالیٰ اُس پر رحم کرے۔ لاکھوں کروڑوں صالحین کی لعنتیں اُس پر پڑتی رہیں گی"۔(الفضل6مئی1944ء)

    14
    خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغام جماعت احمدیہ کے نام
    روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے
    (فرمودہ 14؍اپریل 4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "اللہ تعالیٰ کے انبیاء جب کبھی دنیا میں آتے ہیں اُن کے ساتھ قیامت کا وجود بھی وابستہ ہوتا ہے۔ اِسی لیے جب بھی کوئی نبی دنیا میں آیا اُس نے اپنے بعد ایک قیامت کی بھی خبر دی ہے۔ ایک قیامت تو اس کے ذریعہ یہ ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی جماعت کو ترقی دیتا، اُسے دنیا میں غلبہ عطا کرتا اور اُسے نئے سرے سے زندگی بخشتا ہے۔ اور ایک قیامت اس کے ذریعہ یہ ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ گویا ایک طرف اگر اس کے ذریعہ دنیا میں حشر برپا ہوجاتا ہے تو دوسری طرف ہلاکت کا عذاب دنیا کے ایک حصہ پر وارد ہوجاتا ہے۔ اور قیامت بھی دو ہی طرح ہوگی۔ ایک حشر کے ذریعہ اور ایک ہلاکت کے ذریعہ۔ قیامت اِسی کا نام ہے کہ ایک زمانہ میں سب لوگ مر جائیں گے۔ اور قیامت اسی کا نام ہے کہ ایک زمانہ میں سب لوگ زندہ ہوجائیں گے۔ پس قیامت کے دو حصے ہیں۔ ایک لوگوں کا مرجانا اور ایک لوگوں کا زندہ ہو جانا۔ جب کبھی دنیا میں اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی آیا ہے یہ دونوں باتیں ظاہر ہوئی ہیں۔ اس کے ذریعہ لوگ مر بھی گئے ہیں اور اس کے ذریعہ قوم زندہ بھی ہوئی ہے۔ جو لوگ اس کے دشمن تھے وہ بحیثیت قوم تباہ کر دیئے گئے اور جو لوگ اس کے ساتھی تھے وہ بحیثیت قوم ترقی پاگئے۔ اور یوں بھی نبیوں کے رخصت ہونے پر ایک قیامت دنیا میں آجاتی ہے۔ اتنا عظیم الشان انسان جس کا کام خدا تعالیٰ سے خبریں پانا، اپنی جماعت کو تسلی دینا، اس کے لیے دن رات دعائیں کرنا اور ہدایت اور رُشد کے سامان اس کے لیے مہیا کرنا ہواُس کا دنیا سے اُٹھ جانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ قیامت آنے والی ہے۔ مگر افسوس کہ لوگ قیامت کے اس مفہوم کو نہیں سمجھتے اور یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ اس نبی کے کچھ عرصہ بعد دنیا کے تمام لوگ یکدم مر جائیں گے اور اُن پر قیامت آجائے گی۔ مگر جب کچھ عرصہ گزر جاتا ہے اور لوگ نہیں مرتے تو باوجود اس کے کہ بے وقوفی ان کی اپنی ہوتی ہے کہ قیامت کے انہوں نے وہ معنے سمجھے ہوتے ہیں جو حقیقت میں نہیں ہوتے وہ اس طرف مائل ہونا شروع ہوجاتے ہیں کہ یہ بات ہی غلط ہے کہ قیامت آنے والی ہے۔ حالانکہ جو معنے انہوں نے سمجھے ہوتے ہیں وہی غلط ہوتے ہیں۔ اور قُربِ قیامت کے معنے یہ ہوتے ہی نہیں کہ وہ قیامت آنے والی ہے جس میں تمام دنیا فنا کر دی جائے گی۔ اس قیامت کے متعلق تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ وہ ہمارے ہی علم میں ہے کہ کب آئے گی کسی اَور کو اُس کا علم نہیں۔1 پس نبی کی بعثت کے ساتھ جو قیامت وابستہ ہوتی ہے وہ وہی تین قسم کی قیامت ہوتی ہے جس کا مَیں نے ابھی ذکر کیا ہےیعنی اس کے دشمنوں کی عام تباہی، اُس کے دوستوں کی عام ترقی اور پھر نبی کی وفات کے ساتھ جو تہلکہ واقع ہوتا ہے وہ بھی ایک بہت بڑی قیامت ہوتی ہے۔ آخر انسان کے لیے قیاس کا سامان موجود ہے۔ لوگوں کے باپ مرتے ہیں، لوگوں کی مائیں مرتی ہیں، لوگوں کی بیویاں مرتی ہیں، لوگوں کے بچے بلکہ اکلوتے بچے مرتے ہیں، لوگوں کے بھائی مرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے لیے اپنے ان عزیزوں کی وفات کس قدر صدمے کا موجب ہوتی ہے۔ پھر وہ یہ خیال کرلیں کہ جو شخص ساری دنیا کا باپ تھا، جو ساری دنیا کی ماں تھی، جو ساری دنیا کی پرورش کرنے والا تھا اُس کی موت کتنا عظیم الشان حادثہ نہ ہوگا۔ اس کی موت کے ساتھ ہزاروں نہیں لاکھوں یتیم ہوجاتے ہیں۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اُس کی موت کے ساتھ ساری دنیا یتیم ہوجاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو اپنے یُتم کا احساس ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کو اپنے یُتم کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ شخص جس کا کوئی بچہ گم ہوجائے اگر اُس کا وہی گمشدہ بچہ کسی دوسرے وقت اُسی شہر میں آجائے جس میں اُس کا باپ رہتا ہو اور وہ کوئی پیشہ اختیار کرلے مگر اُسے پتہ نہ ہو کہ میرا باپ بھی اِسی شہر میں رہتا ہے تو جس دن اُس کا باپ مرے گا، اُس دن جس طرح اُس کے دوسرے بیٹوں پر قیامت آئے گی اُسی طرح اُس پر بھی قیامت آجائے گی۔ مگر اسے پتہ نہیں ہوگا کہ مجھ پر قیامت آئی ہوئی ہے۔ اِسی طرح انبیاء کی وفات ساری دنیا کے لیے قیامت ہوتی ہے۔ مگر فرق یہ ہوتا ہے کہ کچھ بچوں نے اپنے باپ کو پہچان لیا ہوتا ہے اور کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے باپ کو پہچانا نہیں ہوتا۔ مثلاً جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی وفات ویسی ہی قیامت تھی صحابہؓ کے لیے جیسے وہ قیامت تھی یہودیوں کے لیے، جیسے وہ قیامت تھی عیسائیوں کے لیے، جیسے وہ قیامت تھی زرتشتیوں کے لیے، جیسے وہ قیامت تھی جینیوں کے لیے اور بدھوں کے لیے۔ کیونکہ جو نور آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے لائے تھے وہ ساری دنیا کے لیے تھا۔ وہ نور عیسائیوں کے لیے بھی تھا، وہ نور یہودیوں کے لیے بھی تھا،وہ نور زرتشتیوں کے لیے بھی تھا،وہ نور چینیوں کے لیے بھی تھا،وہ نور جاپانیوں کے لیے بھی تھا، وہ نور جزائر کے رہنے والوں کے لیے بھی تھا۔ اور روحانی طور پر آپ ہر قوم کے باپ تھے۔ مگر فرق یہ تھا کہ صحابہؓ نے اپنے باپ کو پہچان لیا تھا لیکن انہوں نے نہ پہچانا تھا۔ پس قیامت تو دونوں پر آئی۔ لیکن اس کا اندازہ احساس کی وجہ سے صرف صحابہؓ کو ہوا، دوسروں کو نہ ہوا۔ ورنہ نقصان سب کو یکساں برداشت کرنا پڑا۔غرض جب ایک شخص کی موت اُس کے رشتہ داروں میں کہرام مچا دیتی ہے تو انسان خود ہی سمجھ سکتا ہے کہ وہ شخص جس سے ساری خوبی وابستہ ہو، جس سے ساری نیکی وابستہ ہو، جس سے ساری ہدایت وابستہ ہو اُس کی موت کس قسم کی آفت اور مصیبت نہ ہوگی۔
    کیا ہی لطیف پیرایہ میں اِس حقیقت کو ہندوستان کے ایک مشہور شاعر نے بیان کیا ہے۔غالب کی بیوی کا ایک بھتیجا یا بھانجا تھا جسے اُس نے بچپن سے پالا ہوا تھا۔ جب وہ مرا تو غالب نے اُس کی وفات پر کہا ؎
    مرتے ہوئے کہتے ہیں قیامت کو ملیں گے
    کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اَور2
    یعنی میرا وہ عزیزجس کو مَیں نے بچہ کی طرح پالا ہوا تھا جب فوت ہونے لگا تو مرتے ہوئے کہنے لگا لو اب مَیں رخصت ہوتا ہوں اب قیامت کو ہی آپ سے ملاقات ہوگی۔ غالب اس کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے۔ ؏
    کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اَور
    کیا اس کے سوا کوئی اَور بھی قیامت آنے والی ہے۔ جب تم مرگئے تو قیامت تو تمہارے مرنے سے ہم پر آگئی۔ تو جس گھر میں کوئی موت ہوتی ہے اُس گھر کے رہنے والے سمجھتے ہیں کہ ان پر قیامت آگئی، پھر اگر کوئی ایسا آدمی فوت ہو جس کا سب دنیا کے ساتھ تعلق ہو اور جو تمام عزیزوں اور رشتہ داروں سے زیادہ محبوب اور پیارا ہو تو تم خود ہی سمجھ لو کہ اُس کی موت کیسی عظیم قیامت ہوگی۔
    صحابہؓ کو دیکھ لو وہ کتنی زیرک اور سمجھ دار قوم تھی۔ کتنی شرک کے خلاف تعلیم اسے دی گئی تھی اور کس قدر توحید کا سبق اسے بار بار دیا گیا تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات پر سوائے چند کے سب نے شور مچا دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر گئے ہیں اور وہاں سے زندہ واپس آئیں گے۔ یہ ایک قیامت تھی جو اُن پر آئی۔ اور یہ اتنی بڑی قیامت تھی کہ جو شخص انہیں ساری عمر سمجھاتا رہا کہ مَیں ویسا ہی انسان ہوں جیسے تم ہو،جو ساری عمر انہیں شرک کے خلاف تعلیم دیتا رہا، جو ساری عمر انہیں بتاتا رہا کہ اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا معبود ِحقیقی سمجھو۔ اُس کی وفات کا انہیں اِتنا شدید صدمہ ہوا کہ ان کے دماغ پھر گئے اور انہوں نے وہی کچھ کہنا شروع کردیا جس سے اُنہیں روکا گیا تھا۔
    پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات دنیا کے لیے ایک قیامت تھی اور بہت بڑی قیامت۔ صحابہؓ کو غلطی لگی اور شدید غلطی لگی۔ مگر وہ آدمی نیک تھے۔ آخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اُس مجلس میں گئے جہاں صحابہؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ حضرت عمر ؓ تلوار لیے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو شخص کہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئےمیں تلوار سے اُس کی گردن کاٹ دوں گا۔ 3 انسان اِس قیامت کا اندازہ حضرت عمرؓ کے کاموں کو دیکھ کر بآسانی لگا سکتا ہے۔ عمر وہ شخص ہے جس کی خوبیوں کو دنیا کی تمام قوموں اور مذاہب نے تسلیم کیا ہے۔ یہاں تک کہ اسلام کے وہ شدید ترین دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر عیب لگانا اور آپ پر گند اُچھالنا اپنے لیے فخر کا موجب سمجھتے ہیں وہ بھی جس وقت ابوبکرؓ اور عمرؓ کا ذکر آتا ہے یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ یہ لوگ غیر معمولی وجود تھے۔ ان کی خوبیوں کا اعتراف کرنے سے اسلام کے شدید ترین دشمن یعنی عیسائی اور یہودی بھی نہیں رہ سکے اور انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا درجہ غیرمعمولی تھا۔ پس وہ غیر معمولی انسان جس کی دشمنوں نے بھی تعریف کی ہے، جس کی ان لوگوں نے بھی تعریف کی ہے جو اس کے آقا کے دشمن تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات پر شدتِ غم سے اُس کی حالت ایسی ہوگئی جو ایک ادنیٰ سے ادنیٰ عقل والے بچہ کی بھی نہیں ہوتی۔بچے بھی جب ان کا باپ فوت ہوسمجھ جاتے ہیں کہ ان کا باپ فوت ہو گیا۔ بچے بھی جب ان کی ماں فوت ہوسمجھ جاتے ہیں کہ ان کی ماں فوت ہوگئی۔ مگر عمرؓ جیسا باہمت انسان جس نے ساری دنیا چند آدمیوں کے ساتھ فتح کر لی تھی تلوار لے کر مسجد میں گھومتا پھرتا تھا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہوگئے ہیں تو مَیں اُس کی گردن کاٹ دوں گا۔ بھلا کسی کی گردن کاٹنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کس طرح زندہ ہوسکتے تھے۔ مگر انہیں صدمہ اتنا شدید پہنچا تھا کہ وہ یہ سننا بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہوگئے ہیں۔ وہ سوچتے تھے مگر اپنے آپ کو اِس بات کے ناقابل پاتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کی خبر پر یقین لائیں۔ مَیں سمجھتا ہوں بُہتوں کے دل اُس وقت مانتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہو چکے ہیں مگر شدتِ محبت کی وجہ سے وہ اس کا خیال بھی اپنے دل میں لانا اپنے لیے موت اور ہلاکت سمجھتے تھے۔ آخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی وہاں گئے۔ آپ کی نعش کو انہوں نے دیکھا اور پھر واپس آگئے اور لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہوچکے اور اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔ یعنی ایک تو یہ موت جو آپ پر آئی اور دوسری یہ موت کہ تم چاہتے ہو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اِس دنیا میں آئیں اور پھر فوت ہوں۔ یا ممکن ہے آپ کا منشاء یہ ہو کہ تم اِس وقت جو کچھ کہہ رہے ہو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے منشاء اور آپ کی تعلیم کے خلاف ہے۔ وہ موت جو آپ پر وارد ہو چکی وہ اصل موت نہیں۔ وہ تو جسم سے روح نکل کر اپنے آقا اور محبوب کے پاس چلی گئی ہے۔اصل موت یہ ہے کہ وہ بات جس کو روکنے کے لیے آپ نے ساری عمر خرچ کردی وہی آپ کی وفات پاتے ہی پھر پیدا ہوجائے اور پھر ساری قوم شرک میں مبتلا ہوجائے۔ یہ موت ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی وارد نہیں کرے گا۔ اِس طرح یہ الفاظ کہہ کر انہوں نے بتا دیا کہ تمہارا یہ کہنا کہ اگر کسی شخص نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں تو ہم تلوار سے اس کی گردن اڑا دیں گے یہ محض ایک دھوکا اور غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اور تمہارا یہ جوش عارضی اور وقتی ہے ورنہ تم مومن اور موحّد ہو اور خدا اور رسول کے عاشق ہو۔ جب مَیں تمہیں سچی تعلیم بتاؤں گا تو اُس وقت تم اپنے ان تمام خیالات کو چھوڑ دو گے اور اُسی تعلیم کو اختیار کرو گے جو صحیح اور حقیقی ہے۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق حضرت ابوبکرؓ نے جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا اِس کا مطلب یہی تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ جسمانی طور پر بھی وفات پا جائیں اور روحانی طور پر بھی آپ کی قوم پر موت وارد ہوجائے۔ پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوْتُ۔ اے لوگو!تم میں سے جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں۔ مگر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا۔ چونکہ ان لوگوں کے دلوں میں ایمان تھا۔ صرف ایک قیامت تھی جو اُن پر آئی اور انہوں نے ایک ایسی خبر اپنے کانوں سے سُنی جس کا اندازہ انہوں نے اپنے ذہن میں کبھی نہیں لگایا تھا اور اس قیامت خیز حادثہ نے وقتی طور پر اُن کے حواس کو مختل کردیا تھا اس لیے جب حضرت ابوبکرؓ کی تقریر انہوں نے سنی تو فوراً ان کی سمجھ میں بات آگئی۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں جب مَیں نے ابوبکؓر کی بات سنی تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں سچ کہتے ہیں اور یا تو مَیں تلوار لے کر اِس نیت اور اِس ارادہ کے ساتھ کھڑا تھا کہ اگر کسی شخص کے مُنہ سے یہ بات نکلی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہوگئے ہیں تو مَیں اُس کی گردن اُڑا دوں گا اور یا مجھ پر جب صداقت کُھل گئی تو مَیں کھڑا بھی نہ رہ سکا۔ میرے گُھٹنے کانپ گئے اور مَیں زمین پر گِرگیا۔4
    حضرت حسانؓ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درباری شاعر تھے انہوں نے اُس وقت کا کیا ہی عجیب نقشہ کھینچا اور اُس درد کا اظہار کیا ہے جو اُس وقت ان لوگوں کے دلوں میں تھا۔ جب حقیقت کُھل گئی تو حضرت حسانؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا ؎



    کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ

    فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗ
    5

    اے محمد رسول اللہ! تم تو میری آنکھوں کی پتلی تھے۔ فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗ اے محمد رسول اللہ! آج تم نہیں فوت ہوئے مَیں اندھا ہوگیا۔



    مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْیَمُتْ

    فَعَلَیْكَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ
    6
    اب یارسول اللہ! کوئی مرے، باپ مرے، ماں مرے، بہن مرے، بھائی مرے، بیوی مرے، بچہ مرے، رشتہ دار مریں، دوست مرے کوئی پروا نہیں۔
    فَعَلَیْكَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ
    مَیں تو تیری ہی موت سے ڈرتا تھا۔یہ ہر شخص کے دل سے نکلا ہوا شعر تھا۔ کہا حسانؓ نے تھا مگر ہر صحابی کے دل کی کیفیت یہی تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ آج ہم اندھے ہوگئے۔ آج ہماری عزیز ترین چیز ہمارے ہاتھوں سے جاتی رہی۔ چنانچہ تاریخوں میں آتا ہے اُس دن تمام بازاروں میں ہر صحابی یہی شعر پڑھتا ہوا سنائی دیتا تھا۔ جدھر سے گزرو اِس شعر کی آواز سنائی دیتی تھی۔صحابہ ؓ بازاروں میں سے گزرتے تھے،ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ان کی زبان پر یہ شعر جاری تھے۔ کہ ؎
    کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ

    فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرٗ

    مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْیَمُتْ

    فَعَلَیْكَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت صحابہؓ کے دل میں جو کچھ تھی اُس کا تو ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ مجھے بعض دفعہ ہنسی آتی ہے کہ ہماری جماعت کے بعض مخلص نوجوان مجھے چِٹھیاں لکھتے ہیں کہ ہماری درخواست ہے کہ جب ہم مر جائیں تو ہمارا جنازہ آپ پڑھیں۔ مجھے اُس وقت خیال آتا ہے کہ دیکھو ان کی عمر اِس وقت 30 ،35سال کی ہے اور مَیں ان سے بڑی عمر کا ہوں مگر یہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ مَیں ان کا جنازہ پڑھوں۔ گویا وہ اپنے دل میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سارے مرتے چلے جائیں گے مگر یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی موت کا خیال بھی ان کے دلوں میں نہیں آسکتا تھا۔ ان میں سے ہر شخص خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، جوان ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت یہ سمجھتا تھا کہ ہم ان کے ہاتھوں میں ہی مریں گے اور یہ خود ہمارا جنازہ پڑھائیں گے۔ مگر جب وہ زندہ رہ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فوت ہوگئے تو ایک قیامت ان پر آگئی۔ پس یہ بھی ایک قیامت تھی اور بہت بڑی قیامت۔ اگر لوگ سمجھ لیتے کہ قیامت یہی نہیں کہ دنیا کے تمام لوگ اکٹھے مرجائیں بلکہ کسی اَور چیز کا نام بھی قیامت ہے تو وہ قیامت کا یہ دن آنے سے پیشتر زیادہ سے زیادہ روحانی فیوض اور برکات حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے۔ آخر ہر انسان نے ایک دن مرنا ہے۔ پھر اگر کسی دن تمام لوگ اکٹھے مرجائیں تو یہ کونسی بڑی آفت ہے۔ جب سب لوگ مرتے چلے آئے اور مرتے چلے جائیں گے تو اگر کسی دن اکٹھے سب لوگ مرگئے تو اسے ہرگز کوئی بڑی آفت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آفت یہی ہے کہ وہ تو زندہ رہیں مگران کو روحانی زندگی بخشنے والا چلا جائے۔ وہ جسے عرفِ عام میں قیامت کہا جاتا ہے اسے بھی ہم مانتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جس خدا نے یہ دنیا پیدا کی ہے وہ اسے ایک دن ختم بھی کرے گا۔ لیکن وہ قیامت کوئی صدمہ والی چیز نہیں۔ صدمہ تب ہو جب کوئی ایسی چیز ظاہر ہو جو نرالی ہو۔ مگر جب ہر انسان مرتا چلا آیا اور مرتا چلا جائے گا تو اگر کسی دن تمام انسان اکٹھے مرجائیں گے تو اس میں کونسی بڑی بات ہوجائے گی۔ یہ قیامت تو میرے نزدیک ذرا بھی اہمیت نہیں رکھتی۔ اگر کوئی ایک شخص بھی اُس وقت بچ رہتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ اس کے لیے بڑے صدمہ کی بات ہوگی کہ اَور تو سب لوگ مر جائیں گے اور وہ زندہ رہے گا۔ مگر جب سارے ہی مر جائیں گے تو اس میں دکھ کی کونسی بات ہے۔ بلکہ مَیں سمجھتا ہوں اس میں بہت بڑا سُکھ ہے۔ اب خاوند مرتے ہیں تو ان کی عورتیں بیوہ رہ جاتی ہیں۔ بیویاں مرتی ہیں تو ان کے خاوند رنڈوے رہ جاتے ہیں، بھائی مرتا ہے تو دوسرے بھائی صدمہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا ایک بھائی جاتا رہا۔ بچے مرتے ہیں تو ماں باپ کو صدمہ ہوتا ہے ۔ ماں باپ مرتے ہیں تو بچے یتیم رہ جاتے ہیں۔ غرض ہزاروں دکھ اور مصیبتیں وارد ہوجاتی ہیں۔ مگر اس وقت کیسا آرام ہوگا کہ سب لوگ یکدم مر جائیں گے اور صدمہ اٹھانے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ پس اصل قیامت یہی ہے کہ مرنے والے مرجاتے ہیں مگر ان کے عزیزوں اور رشتہ داروں میں سے جو لوگ رہ جاتے ہیں ان کا کوئی پُرسانِ حال نہیں رہتا، کوئی اُن کا مونس اور غم خوار نہیں رہتا۔ ماں باپ مرتے ہیں تو بچے رہ جاتے ہیں جو روٹیوں کے محتاج ہوتے ہیں اور دربدر دھکّے کھاتے پھرتے ہیں۔ خاوند مرجاتے ہیں تو ان کی عورتیں ایسی حالت میں رہ جاتی ہیں کہ ان کی دلداری کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ خاوند رہ جاتے ہیں اور ان کی محبت کرنے والی بیویاں اُن سے رخصت ہوجاتی ہیں۔ ماں باپ رہ جاتے ہیں مگر ان کے دلوں کی ٹھنڈک اور ان کے ساتھ کھیلنے والے بچے فوت ہوجاتے ہیں۔ بھائی رہ جاتا ہے مگر اس کا دوسرا بھائی جو اس کے لیے بازو کی حیثیت رکھتا ہے فوت ہوجاتا اور اس کا بازو کٹ جاتا ہے۔ دوست رہ جاتے ہیں مگر ایسی حالت میں جبکہ ان کا مونس و غمگسار دوست فوت ہوچکا ہوتا ہے۔ پس یہ ایک قیامت ہے جو لوگوں پر آتی ہے۔مگر وہ بھی کیا قیامت ہے جب سب لوگ اکٹھے مر جائیں گے اس کے آنے پر بھلا کسی کو کیا غم ہوسکتا ہے۔
    تو درحقیقت بڑی قیامت وہ ہوتی ہے جب خدا کا نبی کسی قوم میں سے گزر جاتا ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہ ایک بہت بڑی قیامت تھی جو دنیا پر آئی۔ پھر درجہ بدرجہ امت محمدیہ میں اَور لوگوں کے مرنے پر بھی مختلف اوقات میں قیامت آتی رہی۔ اگر مسلمان یہ سمجھتے کہ قرآن کریم میں جس قیامت کا ذکر آتا ہے اس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی موت بھی مراد ہوسکتی ہے تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی موت سے پہلے پہلے اس کے بداثرات سے بچنے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے بعد میں بہت کوششیں کیں کہ وہ اس کے بد اثرات سے محفوظ رہیں لیکن انہیں پورا فائدہ اُسی صورت میں ہوسکتا تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ قیامت ان کی آنکھوں کے سامنے رہتی۔ پھر اگر مسلمان سمجھتے کہ حضرت عمرؓ کی شہادت بھی مسلمانوں کے لیے ایک قیامت ہے تو شاید وہ حضرت عمرؓ کی شہادت کے سامان مہیا نہ ہونے دیتے اور اپنی تمام کوشش اور اپنی تمام جدوجہد ان سامانوں کے خلاف صَرف کردیتے جو حضرت عمرؓ کی شہادت کا موجب ہوئے۔ پھر اگر صحابہؓ سمجھتے کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت بھی ایک قیامت ہے جو درحقیقت حضرت عمرؓ کی شہادت کے نتیجہ میں واقع ہوئی تو وہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کا موقع نہ آنے دیتے۔ اگر مسلمان سمجھتے کہ حضرت عثمانؓ کی موت کے بعد مسلمانوں میں ایسا تفرقہ پیدا ہوجائے گا جو کبھی مٹ نہیں سکے گا تو مَیں سمجھتا ہوں وہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک اس غرض کے لیے بہا دیتے کہ یہ حادثہ رونما نہ ہو۔پھر حضرت علیؓ کے وقت اگر مسلمان یہ سمجھتے کہ اگر ہم علیؓ کو ماریں گے تو ہم علیؓ کو نہیں بلکہ اسلام کو ماریں گے۔ اگر علیؓ دنیا سے اٹھ گیا تو وہی گندی بادشاہت دنیا میں قائم ہوجائے گی جو بنی نوع انسان کے لیے مہلک ہے۔ اسی طرح مسلمان اگر سمجھتے کہ ہم علیؓ کو نہیں مار رہے بلکہ ہم اپنی اولادوں کو ہلاک کر رہے ہیں، ہم اپنی عورتوں کی عصمت دری کے سامان مہیا کر رہے ہیں، ہم ظالم بادشاہوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی جائدادوں سے بے دخل کردیں، ہم مالداروں کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ آئیں اور ہمارے گھروں کو لُوٹ لے جائیں، ہم اسلامی حکومت کو اجاڑنے اور اسے تباہ و برباد کرنے کے سامان جمع کر رہے ہیں، ہم دنیا میں ایک یزید پیدا کر رہے ہیں تو مَیں سمجھتا ہوں ایک ایک مسلمان حضرت علیؓ کے اردگرد کٹ کر مر جاتا مگر وہ قاتل کا ہاتھ آپ تک نہ پہنچنے دیتا۔ مگر وہ اس خیال میں ہی بیٹھے رہے کہ قیامت تو وہی ہے جو یکدم سب پر آئے گی اور نظامِ عالَم کو تہہ و بالا کرکے رکھ دے گی۔
    کسی انسان کی موت خواہ وہ کتنا بڑا ہو قیامت نہیں ہوسکتی۔ اگر غالب نے جو بات اپنے جنون کی حالت میں سمجھ لی تھی وہ مسلمان بھی سمجھ لیتے کہ ؏
    کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اَور
    تو وہ کبھی ذلت اور رسوائی کا شکار نہ ہوتے۔ مگر انہوں نے اس حقیقت کو نہ سمجھا۔ پھر جانتے ہو اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں پر قیامتیں ٹوٹیں اور بڑی بڑی آئیں۔ مگر چونکہ انہوں نے قیامت کی اَور تعبیر کی ہوئی تھی اس لیے ان کی اولادوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ قیامت کوئی چیز نہیں۔ اگر قیامت نے آنا ہوتا تو کیا اب تک آ نہ چکی ہوتی۔ اس طرح وہ بے ایمان اور بے دین ہوگئے۔ کیونکہ ان کے باپ دادا نے قیامت کی اَور تعبیر کی تھی اور خدا اور اس کے رسول نے اَور تعبیر کی تھی۔ انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تھا کہأَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ7 مَیں اور قیامت آپس میں اِس طرح ملے ہوئے ہیں جس طرح میری دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔مگر قیامت ہے کہ ابھی تک آنے میں نہیں آتی حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ مَیں اور قیامت آپس میں بالکل ملے ہوئے ہیں۔ مَیں مروں گا تو میرے مرنے کے ساتھ ہی تمہاری قیامت شروع ہوجائے گی۔پس جو کچھ مجھ سے حاصل کرنا ہے میری زندگی میں ہی حاصل کرلو۔ ورنہ جس دن مَیں مرا اُسی دن تم پر قیامت آجائے گی اور پھر تم ان برکات کو حاصل نہیں کرسکوگے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگ خواہش کریں گے کہ کاش! اِنہیں پھر دنیا میں لَوٹا دیا جائے تاکہ وہ نیک اعمال بجا لائیں مگر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کَلَّا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قیامت آنے کے بعد کسی کو واپس لَوٹایا نہیں جاسکتا۔8 اسی طرح آپؐ نے فرمایا جب مَیں مروں گا تو تمہارے دلوں میں جوش پیدا ہوگا کہ کاش! مَیں پھر اس دنیا میں واپس آجاؤں۔ کاش! میں پھر حکم دوں اور تم اپنی جانیں میرے حکم پر قربان کردو، مَیں پھر تمہیں مالی قربانی کی تحریک کروں اور تم میرے حکم پر اپنے مالوں کو قربان کردو۔ اُس وقت تمہارے دلوں میں جوش پیدا ہوگا، تمہارے دلوں میں حسرت پیدا ہوگی کہ کاش! ہم فلاں قربانی میں حصہ لے سکتے۔ کاش! ہم فلاں حکم کی تعمیل کر سکتے۔ مگر اُس وقت ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تم اگر فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اس کی صورت یہی ہے کہ اس قیامت کے آنے سے پہلے پہلے فائدہ حاصل کرلو۔
    غرض آپ نے بتا دیا کہ میری موت تمہارے لیے قیامت ہوگی اور میری موت کے آنے کے ساتھ ہی تم پر قیامت آجائے گی۔ مگر سننے والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس بات کو نہ سمجھا اور وہ اُسی قیامت کی اہمیت سمجھتے رہے جب سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت یکدم مر جائیں گے۔ حالانکہ وہ قیامت کوئی تکلیف دہ چیز نہیں بلکہ ایک راحت اور آرام کی چیز ہے۔ کیونکہ اب جو فکر ہوتا ہے کہ فلاں مرگیا تو کیا ہوگا یہ فکر اُس وقت نہیں ہوگا۔ اب مرنے والا کہتا ہے کہ جب مَیں مرگیا تو پچھلوں کا کیا حال ہوگا اور پچھلے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اب ہمارا کیا بنے گا۔ یہ دکھ اور تکلیف جو انفرادی اموات سے لوگوں کو ہوتی ہے اسے اگر قیامت کہا جائے تو بالکل ٹھیک اور درست ہے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے جو قیامت دنیا پر آئی یا حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کی شہادت سے لوگوں پر قیامت آئی اسے جس قدر بڑھا کر سمجھ لو درست ہے۔ اس کے مقابلہ میں وہ قیامت جسے لوگ عرفِ عام میں قیامت کہتے ہیں اور جبکہ سب لوگ مر جائیں گے قطعاً کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اگر یہ کہو کہ اس قیامت کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اُس وقت کچھ لوگ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے تو سوال یہ ہے کہ اب جو لوگ مرتے ہیں کیا اُن میں سے کچھ لوگ دوزخ میں نہیں جاتے؟ پھر اِس میں اور اُس میں فرق کیا ہوا؟ اب بھی لوگ مرتے ہیں اور اُس دن بھی لوگ مر جائیں گے۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ اب ایک ایک کرکے لوگ مرتے ہیں اور اُس دن سب لوگ اکٹھے مرجائیں گے۔پس یہ قیامت ہرگز کوئی ایسی چیز نہیں جس سے ڈر اور خوف محسوس کیا جائے۔ اصل قیامت جس کے لیے لوگوں کو تیار رہنا چاہیے وہ وہی قیامت ہے جب نبی فوت ہو جاتا ہے یا جب کسی نبی کی جماعت اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ترقی کرے اور اُس کے دشمن تباہ و برباد ہو جائیں۔ وہ وقت ایک قیامت کا وقت ہوتا ہے اور وہی ایک قیامت ہے جس کے لیے تیاری اور بہت بڑی تیاری کی ضرورت ہے۔ اگر نبی کی جماعت دنیا میں ترقی کر جائے، اس کے دشمنوں کی بربادی کا وقت قریب آپہنچے لیکن جماعت لوگوں کو سنبھالنے کی قوت اپنے اندر نہ رکھتی ہو تو پھر خود ہی سمجھ لو کہ اس صورت میں کتنی بڑی قیامت دنیا پر آ جاتی ہے۔ مَیں بتا چکا ہوں کہ قیامت کے ایک معنے جماعت کی ترقی اور نبی کے دشمنوں کی تباہی کے بھی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر دشمنوں پر تباہی آجائے،اگر ان کی ہلاکت اور بربادی کا وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے قریب آپہنچے اور جماعت غالب آجائے لیکن لوگوں کو سنبھالنے والا کوئی نہ ہو تو یہ جماعت کے لیے کتنی بڑی ذلت اور شرمندگی کی بات ہوگی کہ خدا نے دشمن کی عمارت کو تہہ و بالا کردیا، خدا نے اس کے قلعوں کو مسمار کردیا، خدا نے اُس کے بلندوبالا محلات کو تہس نہس کردیا اور خدا نے اپنی جماعت کے لوگوں سے کہا کہ آؤ اور اب اس متاع کو سنبھال لو، آؤ اور اب دشمن کی جائیدادوں پر قبضہ کرلو مگر جماعت کے لوگ ہیں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہم ان جائیدادوں کو کس طرح سنبھالیں ہم میں تو ان کے سنبھالنے کی طاقت ہی نہیں۔ یہ وہ قیامت ہے جس کے لیے تیاری کی ضرورت ہے، یہ وہ قیامت ہے جس کے آنے سے پہلے پہلے ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت کا کام ہے کہ وہ اس کے لیے ہمہ تن تیار ہوجائے۔ ورنہ دوسری قیامت کے لیے کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں۔ جو تیاری انسان اپنی موت کے لیے کرتا ہے اس سے ایک پشّہ9 کے پَر کے برابر بھی زیادہ تیاری کی ضرورت اُس قیامت کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ میرے نزدیک اس کے لیے اس سے بھی کچھ کم تیاری کی ہی ضرورت ہے۔ کیونکہ مرتے وقت تو انسان کو یہ بھی خیال آجاتا ہے کہ میری اس قدر جائیداد ہے اسے کون لے جائے گا۔ مگر قیامت کو یہ تمام جھگڑے ختم ہوجائیں گے اور سب لوگ اکٹھے مرجائیں گے۔
    پس اصل قیامت وہ نہیں جسے عرفِ عام میں قیامت کہا جاتا ہے۔ بلکہ اصل قیامت یہ ہے کہ جب نبی دُنیا سے گزر جائے یا نبی کی پیشگوئیوں کے مطابق دشمن کو تباہ کردیا جائے تو جماعت اُس وقت حیران و پریشان کھڑی ہو اور وہ کہے کہ اب کیا کیا جائے۔ اب ان آنے والے لوگوں کو سنبھالنے والا ہم میں کوئی نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں کو بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ مگر قابل آدمیوں کی کمی کی وجہ سے بہت سے انتظامات اور حکومت کے شعبے اُن لوگوں کے سپرد کرنے پڑے جو اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صحابہؓ میں ہزاروں لوگ قابل تھے، ہزاروں لوگ اسلام کی تعلیم کو سمجھتے تھے، ہزاروں لوگ قرآن کریم کو جانتے تھے اور وہ سب کے سب مختلف کاموں پر مقرر کر دیئے گئے۔ مگر پھر بھی بعض جگہیں رہ گئیں اور وہ ایسے لوگوں کو دینی پڑیں جو اس کام کے اہل نہیں تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کو سخت ضعف پہنچا اور مسلمان تباہ ہوگئے۔پس یہ ایک قیامت تھی اور بہت بڑی قیامت مگر افسوس کہ لوگوں نے اس کے لیے پوری تیاری نہ کی۔
    اب ہمارا زمانہ آیا ہے۔ اس زمانہ میں خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جماعت کی ترقی کے متعلق بڑے بڑے وعدے کیے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنی سنت کے مطابق ایک دن اپنے ان وعدوں کو ضرور پورا کرے گا۔ وہ دن آنے والا ہے جب جماعت کے لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اور دشمن یہ کہہ رہے ہوں گے کہ کہاں گئے تمہاری ترقی اور کامیابی کے وعدے۔ مگر آسمان پر خدا کے فرشتے دنیا کو بدلنے کے لیے تیار کھڑے ہوں گے۔ وہ رات کو یہ کہہ کر سوئیں گے کہ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ اور جب صبح اٹھیں گے تو کفر کی دیواریں ٹوٹی ہوئی ہوں گی اور اس کی بنیادیں فرشتوں کے ہاتھوں سے گرائی جاچکی ہوں گی۔ شام کو کافر کہیں گے کہ کہاں گئے وہ وعدے جو تمہاری ترقیات کے متعلق کیے گئے تھے اور جب صبح ہوگی تو اُن کی لاشیں کُتّے گھسیٹ رہے ہوں گے۔ لیکن ہمیں اُس دن کے آنے کی کیا خوشی ہوسکتی ہے جب اِن حالات کو سنبھالنے کی ہم اپنے اندر قابلیت نہیں پاتے۔ جب ہماری تیاری ابھی بہت پیچھے ہے اور جب ہم میں سے بُہتوں نے ابھی اپنے مقام کی اہمیت کو بھی پورے طور پر نہیں سمجھا۔
    مَیں نے دیکھا ہے بعض دفعہ گورنمنٹ جب کوئی نیا عہدہ نکالتی ہے اور کہتی ہے کہ ولایت کا پاس شدہ اس عہدہ پر مقرر کیا جائے گا تو کئی ماں باپ گھبرائے ہوئے پھرتے ہیں کہ ابھی تو ہمارے بیٹے کے آنے میں چھ ماہ باقی ہیں اور عہدہ اب نکل آیا ہے۔ ہمارا بیٹا اگر ولایت سے جلدی واپس نہ آیا تو یہ عہدہ کوئی اَور لے جائے گا۔ یہی ہماری حالت ہے۔ ابھی ہم نے وہ امتحان پاس ہی نہیں کیا جس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کے نئے نظام کی تکمیل کا کام ہمارے سپرد کیا جانے والا ہے۔ ابھی ہماری جماعت میں بہت بڑی جہالت اور بہت بڑی نادانی پائی جاتی ہے۔ قادیان کے لوگ تو پھر بھی دین کی باتیں اکثر سنتے رہتے ہیں لیکن باہر کے لوگوں میں سے بہت سے تو بدّو کے بدّو ہیں۔ انہیں کچھ پتہ نہیں کہ اسلام اُن سے کیا تقاضا کرتا ہے، احمدیت ان سے کیا چاہتی ہے، خدا اور اس کا رسول انہیں کس راستہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ صرف چند موٹے موٹے مسائل ان کو معلوم ہیں اِس سے زیادہ ان کو کچھ پتہ نہیں۔ اسلامی مسائل کی باریکیاں، احکامِ الٰہی کی حکمتیں، قرآن کریم کی تعلیم کی خوبیاں، اسلام کی تمدنی، سیاسی اور اقتصادی تعلیمیں، احمدیت اور اسلام کا روشن مستقبل، حکومت اور نظام سےتعلق رکھنے والی اسلامی تعلیم کی تفصیلات اور اس کی خوبیاں، عبادات اور روحانیت میں ترقی کرنے کے اصول، بندوں اور خدا کے آپس میں تعلقات، دنیا کی پیدائش کی حکمتیں یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو ابھی اُن کو معلوم نہیں اور جن کے سیکھنے اور معلوم کرنے کی تڑپ بھی بعض لوگوں کے اندر نظر نہیں آتی۔ فرض کرو کل ہی وہ دِن آجاتا ہے جب دشمن کو تباہ کردیا جاتا ہے، جب کفر کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک ہی ہاتھ مٹا کر رکھ دیتا ہے، جب خدا اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہے کہ جاؤ اور ان لوگوں کی حکومت کو سنبھال لو۔ تو ہم کہاں سنبھال سکیں گے۔ اور جب ہم اس کو سنبھالنے کی اپنے اندر طاقت نہیں پائیں گے تو یہ لازمی بات ہے کہ اُسے کوئی اَور قوم لے جائے گی۔
    انگریز جب افریقہ میں گئے توافریقن قبائل چونکہ چھوٹے چھوٹے تھے اور زمینیں ان کے پاس بڑی کثرت کے ساتھ تھیں جن کی وہ کاشت بھی نہیں کرسکتے تھے اس لیے انگریز اُن سے کہتے کہ جتنی زمین میں تم آسانی سے ہل چلا سکتے ہو اُتنی زمین اپنے پاس رکھ لو باقی زمین تمہیں اپنے پاس رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تمہارے لیے بیکار ہے۔ چنانچہ تھوڑی تھوڑی زمین ان لوگوں نے لے لی اور باقی سب زمین پر انگریزوں نے قبضہ کرلیا۔اب کینیا کالونی میں بعض انگریزوں کے پاس ایک ایک لاکھ ایکڑ زمین موجود ہے حالانکہ اس زمین کے مالک افریقہ کے حبشی قبائل تھے۔مگر چونکہ وہ ان زمینوں کو سنبھالنے کی قابلیت اپنے اندر نہیں رکھتے تھے اس لیے انگریزوں نے ان سے کہہ دیا کہ جتنی زمین تم سنبھال سکتے ہو وہ سنبھال لو اور باقی ہمیں دے دو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کسی نے دو ایکڑ زمین رکھ لی، کسی نے چار ایکڑ زمین رکھ لی اور باقی سب زمین پر انگریزقابض ہوگئے۔ اگر پنجابی زمیندار ہوتے تب بھی وہ تیس تیس چالیس چالیس ایکڑ زمین رکھ لیتے مگر انہوں نے صرف دو دو چار چار ایکڑ زمین اپنے پاس رکھی۔ بلکہ بعض نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں اتنی زمین کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہم اپنی زمین کو سنبھالنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ چنانچہ وہ سب زمین انگریزوں نے لے لی۔ اور انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ ان کی ضرورت سے جو زائد زمین تھی صرف وہ ہم نے اپنے قبضہ میں لی ہے۔ تو جیسے افریقہ کے حبشی قبائل سے ہوا کہ مال تو اُن کے پاس تھا مگر چونکہ وہ اُس کو سنبھالنے کی قابلیت نہیں رکھتے تھے اس لیےاُس پر دوسروں نے قبضہ کرلیا۔ یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جب دنیا کی حکومتیں اور طاقتیں ہمارے قبضہ میں آجائیں گی۔ مگر جب اُن حکومتوں کو سنبھالنے کی ہمارے اندر قابلیت نہیں ہوگی، جب تعلیم کے لیے ہمارے پاس مدرّس نہیں ہوں گے، جب وعظ و نصیحت کے لیے ہمارے پاس علماء نہیں ہوں گے، جب روحانیت کا درس دینے کےلیے ہمارے پاس عارف نہیں ہوں گے، جب تبلیغ و تربیت کے لیے ہمارے پاس مبلغ نہیں ہوں گے، جب زہد و اتقاء کی روح قائم کرنے کے لیے ہمارے پاس سالک اور عابد نہیں ہوں گے تو ہم اُس وقت کیا کرسکیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ چونکہ اس جائیداد کو ہم سنبھال نہیں سکیں گے، اس لیے وہ اسلام کے لیے فتح کیے ہوئے دل، وہ اسلام کے لیے فتحکی ہوئی جانیں، وہ اسلام کے لیے فتح کیے ہوئے قبائل، وہ اسلام کے لیے فتح کی ہوئی قومیں کچھ دن تو ہمارا انتظار کریں گی مگر پھر ان کے دلوں پر زنگ لگنا شروع ہوجائے گا۔ پھر خدا کی جائیداد دوبارہ شیطان کے قبضہ میں جانی شروع ہوجائے گی۔
    مجھے اس چیز کا دیر سے فکر تھا اور متواتر اس مضمون کو مَیں نے اپنے خطبات میں بھی بیان کیا ہے مگر کل مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے جو بات معلوم ہوئی اُس نے تو میری کمر ہی توڑ دی ہے۔ مَیں نے کشفی حالت میں یہ نظارہ دیکھا کہ گویا آسمان کے فرشتوں کی آوازیں سن رہا ہوں۔ مجھے بہت دفعہ کشفی حالت میں ملأ اعلیٰ کی آواز سننے کا موقع ملا ہے۔کل بھی ایسا ہی ہوا۔ اور مَیں نےآسمان کے فرشتوں کو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر پڑھ رہے ہیں مگر کچھ تغیر کے ساتھ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شعر ہے ؎
    یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا

    یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا10
    مگر مَیں خواب میں فرشتوں کے پڑھنے کی جو آواز سنتا ہوں اُس میں پہلے دو لفظ بدلے ہوئے ہیں۔ یعنی فرشتے بجائے یہ کہنے کہ ؎
    یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا

    یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا
    یہ کہتے ہیں کہ ؎
    سوچو جو شخص آنے کو تھا وہ تو آچکا

    یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا
    اور مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ تبدیلی اِس زمانہ کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر کہا اُس وقت ہمارے سلسلہ کا ابتدائی زمانہ تھا اور لوگوں کو اس رنگ میں اپیل کرنا مناسب تھا۔ مگر اب وہ زمانہ گزر چکا ہے اور اب سلسلہ کی ترقی اِس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگوں کو سوچنا چاہیے اور اس بارہ میں انہیں غوروفکر سے کام لینا چاہیے کہ جس شخص نے آنا تھا وہ تو آچکا۔ چنانچہ مَیں نے سنا کہ فرشتے کہہ رہے ہیں ؎
    سوچو جو شخص آنے کو تھا وہ تو آچکا

    یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا
    فرشتے اس شعر کو بہت بلند آواز سے اور بڑی رسیلی اور سریلی آواز میں پڑھ رہے ہیں اور مَیں سن رہا ہوں۔ اس کے بعد مجھ پر ایک الہام نازل ہوا جس نے میرے ہوش اُڑا دیئے۔ وہ الہام یہ تھا جو خود ایک مصرع کی شکل میں ہے کہ ؏
    روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے
    بڑے زور سے یہ الہام مجھ پر نازل ہوا اور بار بار اس کو دہرایا گیا۔ اس الہام کے اَور معنی بھی ہوسکتے ہیں مگر مَیں نے اُس وقت جو اس الہام کے معنٰے سمجھے وہ یہ ہیں کہ وہ تغیراتِ عظیمہ جن کا پیشگوئیوں میں ذکر کیا گیا تھا اور وہ اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے ایام جن کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی تھی بالکل قریب آپہنچے ہیں۔ روزِ جزا اب سر پر کھڑا ہے۔ قدرت کا زبردست ہاتھ اُس دن کو اب قریب تر لا رہا ہے۔ مگر رہ بعید ہے۔ جماعت نے اس آنے والے دن کے لیے ابھی وہ تیاری نہیں کی جو اِسے کرنی چاہیے تھی۔ اور ابھی اس نے وہ مقام حاصل نہیں کیا جو اس عظیم الشان یومِ جزا کے انعامات کا اسے مستحق بنانے والا ہو۔ اس کے لیے ابھی بہت بڑا اور لمبا راستہ پڑا ہے جسے اِسے طے کرنا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    روزِ جزا قریب ہے
    یعنی وہ جو ہمارا کام تھا ہم نے اسے پورا کردیا اور ہم نے اُس دن کو تمہارے سامنے لا کر رکھ دیا۔ جو تمہاری کامیابی اور تمہاری فتح اور تمہارے غلبہ کا دن ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ اس الہام کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو مخاطب کرتا اور اسے فرماتا ہے کہ اے احمدی جماعت! جو ہمارا حصہ تھا ہم نے اُسے پورا کردیا، جتنے سامان یومِ جزا کو قریب تر لانے کے لیے ضروری تھے وہ ہم نے سب مہیا کر دیئے اور اسلام اور احمدیت کی فتح کے سامان ہم نے جمع کر لیے۔ پس اب قریب ترین زمانہ میں اِس فتح کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو جائیں گے، قریب ترین زمانہ میں اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے راستے دنیا میں کھل جائیں گے۔مگر رہ بعید ہے۔وہ راستہ جو ابھی تم نے طے کرنا ہے اور جس پر چل کر تم نے اس روز جزا سے فائدہ اٹھانا ہے وہ ابھی بہت بعید ہے۔تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے ابھی اس راستہ پر چلنا بھی شروع نہیں کیا اور کئی ایسے ہیں جو اس راستے پر چل تو پڑے ہیں مگر انہوں نے سفر ابھی بہت کم طے کیا ہے۔ گویا ہم نے تو اپنا حصہ پورا کردیا مگر تم نے اپنے حصہ کو پورا نہیں کیا۔ اب دیکھو! یہ ایسی ہی بات ہے جیسے دو شخص آپس میں ٹھیکہ کریں اور ایک شخص دوسرے سے سمجھوتہ کرے کہ تم امرتسر سے دس میل کے فاصلہ پر اتنے لاکھ من سونا پہنچا دو۔ وہاں تک سونا پہنچانا تمہارا کام ہے۔ اس کے بعد میرا کام شروع ہوگا اور مَیں اُس سونے کو اُٹھا کر اپنے گھر لے آؤں گا۔ اب اگر دوسرا شخص اس معاہدہ کے مطابق ٹھیک مقررہ تاریخ کو امرتسر سے دس میل کے فاصلے پر سونا لا کر رکھ دے مگر یہ شخص ابھی قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر ہی ہو تو جانتے ہو اِس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ یہی ہوگا کہ چور آئیں گے اور اُس سونے کو اٹھا کر لے جائیں گے، ڈاکو آئیں گے اور اس سونے پر قبضہ کر لیں گے اور جب یہ شخص وہاں سونا لینے کے لیے پہنچے گا تو اُس جگہ کو بالکل خالی پائے گا۔ اللہ تعالیٰ بھی اِس الہام میں اِسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم نے تو ابھی اس راستے کو طے ہی نہیں کیا جس پر چل کر ان انعامات کے تم مستحق بن سکتے ہو۔ مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اُس دن کو جو تمہاری فتح اور کامیابی کا دن ہے تمہارے قریب لا چکے ہیں۔ ؎
    روزِ جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے
    میری طرف سے جو کچھ ظاہر ہونا تھا اُس کی تیاریاں آسمان پر مکمل ہو چکی ہیں مگر تم نے جو کچھ کرنا تھا اُس کے لیے ابھی کئی منزلیں طے کرنی باقی ہیں۔
    مجھے جب یہ الہام ہوا تو مَیں نے اُس وقت سوچا کہ گومَیں جماعت کو جلدی جلدی آگے کی طرف اپنا قدم بڑھانے کی تحریکات کررہا ہوں۔ جس پر بعض لوگ ابھی سے گھبرا اُٹھے ہیں کہ کتنی جلدی جلدی نئی سے نئی تحریکیں کی جارہی ہیں۔کبھی وقف جائیداد کی تحریک کی جاتی ہے، کبھی وقف زندگی کی تحریک کی جاتی ہے، کبھی کالج کی تعمیر کے لیے چندہ کی تحریک کی جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کو بھی ناکافی قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے تمہارا رہ بعید ہے۔ یعنی ابھی تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔ سفر ابھی بہت باقی ہے اور تمہارا قدم خطرناک طور پر سُست ہے۔ حالانکہ مَیں نے جو کام کرنا تھا وہ کرلیا، میرا ٹھیکہ پورا ہو گیا اور جو چیز میں نے تم کو دینی تھی وہ دے دی۔ مگر تم ابھی اپنے کام کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔
    اِس مفہوم کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اِس الہام کا ایک اَور امر کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔ گو نزولِ الہام کے وقت مَیں نے اِس کے وہی معنے سمجھے تھے جو مَیں نے ابھی بیان کیے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس الہام کا ایک اَور مطلب بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن وہ بھی اپنی ذات میں کوئی خوشکن نہیں۔ یعنی اس الہام کا ایک یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر شخص جو تم میں سے اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لیے کوشش کررہا ہے اُس کی یہ کوشش اِتنی تھوڑی اور اِس قدر کم ہے کہ اُس کی اِس کوشش اور جدوجہد کے مقابلہ میں اس کی زندگی کے جس قدر ایّام ہیں ان میں اِن کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ گویا تم میں سے ہر شخص جو کوشش آج اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے لیے کر رہا ہے اگر مرتے دم تک وہ اِسی رنگ میں کوشش اور جدوجہد کرتا رہے اور اپنا قدم تیز نہ کرے تو یہ کوششیں اِس قدر کم ہیں کہ یہ خیال کرنا کہ ان کوششوں کے نتیجہ میں تم اسلام کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو گے یہ ناممکن ہے۔ اگر تمہاری کوشش اور جدوجہد کی یہی رفتار رہی تو تم اپنی زندگی میں یومِ جزا کو نہیں دیکھ سکوگے۔ یہ معنے اگر لیے جائیں تو یہ بھی کوئی خوش کُن معنے نہیں۔ مگر جو معنے اُس وقت مَیں نے سمجھے وہ یہی تھے کہ
    روزِ جزا قریب ہے
    کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم سے اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے متعلق جو وعدے فرمائے ہیں اُن کے پورا ہونے کا وقت آگیا، آسمان پر فرشتوں کی فوجیں اُس دن کو لانے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ مگر جو کوشش تم کر رہے ہو وہ بہت ہی حقیر اور بہت ہی ادنیٰ اور معمولی ہے۔ جب ہم نے اپنے فضل کا دروازہ کھول دیا، جب آسمان سے فرشتوں کی فوجیں زمین میں تغیر پیدا کرنے کے لیے نازل ہوگئیں، جب کفر کی بربادی کا وقت آپہنچا، جب اسلام کے غلبہ کی گھڑی قریب آگئی تو اُس وقت تم اگر پوری طرح تیار نہیں ہوگے، تم نے اپنے اندر کامل تغیر پیدا نہیں کیا ہوگا، تم نے اپنی اصلاح کی طرف پوری توجہ نہیں کی ہوگی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تم اس دن سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جاؤ گے اور اسلام کی دائمی ترقی میں روک بن جاؤ گے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جس پانی کو سنبھالا نہ جائے وہ بجائے فائدہ پہنچانے کے لوگوں کو تباہ کردیتا ہے۔جس دودھ کو محفوظ نہ رکھا جائے وہ پھٹ جاتا ہے۔ وہی پانی فائدہ پہنچاتا ہے جس کو سنبھالا جائے اور وہی دودھ انسان کو طاقت بخشتا ہے جس کو پھٹنے سے محفوظ رکھا جائے۔ پھٹا ہوا دودھ کس کام آسکتا ہے۔ گِرا ہوا سالن کون استعمال کرتا ہے۔ کُتّے کے آگے پڑی ہوئی روٹی کون کھا سکتا ہے۔ اِسی طرح اگر ہم نے اس دودھ کو محفوظ نہ رکھا جو خدا نے ہمارے لیے نازل کیا ہے، اگر ہم نے اس کھانے کی حفاظت نہ کی جو خدا نے ہمیں دیا ہے، اگر ہم نے اس پانی کو نہ سنبھالا جو خدا نے آسمان سے اتارا ہے تو یہ پانی اور یہ دودھ اور یہ کھانا ہمارے لیے ایک طعنہ کا موجب بن جائے گا۔ کیونکہ ہمیں چیز تو ملی مگر ہم نے اُس کی قدر نہ کی۔
    پس مَیں آج پھر خدا تعالیٰ کے اِس پیغام کو جماعت تک پہنچاتا ہوں۔ پہلے میری طرف سے ہی گھبراہٹ تھی اور مَیں جماعت کو بار بار کہتا تھا کہ جلد جلد بڑھو، جلد جلد اپنا قدم آگے کی طرف بڑھاؤ۔ مگر اب خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی یہ گھبرا دینے والا پیغام آ گیا ہے۔ ؎
    روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے
    جزا کا دن بہت قریب ہے مگر تمہاری راہ بہت بعید ہے۔ اَب چاہے اس کے یہ معنے سمجھ لو کہ ہر شخص کی موت کا دن اُس سے زیادہ قریب ہے جتنا قریب اُس کے اعمال کے نتیجہ میں اسلام کی فتح آسکتی ہے۔ اگر وہ اِسی چال پر چلتے رہے تو اُن کا یہ خیال کرنا کہ اسلام کی فتح کا دن اُن کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا، ناممکن ہے۔ رفتار بہت سُست ہے، کوششیں بہت محدود ہیں مگر زندگی کے ایام تھوڑے ہیں۔ اور اگر چاہو تو اِس الہام کے یہ معنے سمجھ لو کہ مَیں نے تم سے اسلام کی ترقی اور احمدیت کے غلبہ کے متعلق جس قدر وعدے کیے تھے اُن تمام وعدوں کو پورا کرنے کے سامان مَیں مہیا کر چکا ہوں وہ وعدے اب عنقریب ظہور پذیر ہونے والے ہیں مگر اے مومنو! اگر قریب ترین عرصہ میں تم نے اس آنے والے دن کے لیے کوئی تیاری نہ کی تو تم ان نعمتوں کو سنبھال نہیں سکو گے۔ نعمتیں تو آئیں گی مگر بجائے اس کے کہ تم ان پر قابض رہو وہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔وہ زمین پر بکھر جائیں گی، وہ تباہ اور برباد ہو جائیں گی۔ پھر خدا ایک نیا نظام قائم کرے گا اور اُس نئے نظام کے ذریعہ اپنی ان نعمتوں کو دوبارہ واپس لانے کے سامان مہیا کرے گا۔ کیونکہ جو نعمتیں ایک دفعہ کسی قوم کے ہاتھ سے نکل جائیں وہی قوم اُن نعمتوں کو دوبارہ کبھی حاصل نہیں کرسکتی۔ دنیا کی تاریخ میں یہ کہیں بھی نظر نہیں آتا کہ ایک قوم کے ہاتھ سے جب کوئی نعمت نکل گئی ہو تو پھر وہی قوم اس نعمت کو سمیٹ سکی ہو۔ اُس وقت بحیثیت قوم اُن نعمتوں کو سمیٹا نہیں جاسکتا۔ ہاں! افراد ایک ایک دانہ چُنتے اور استعمال کرتے رہتے ہیں۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد بھی امت محمدیہ میں بعض بڑے بڑے بزرگ ہوئے۔ مثلاً حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانیؒ، حضرت معین الدین صاحب چشتیؒ، حضرت سید احمد صاحب سرہندیؒ، حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلویؒ، حضرت شہاب الدین صاحب سہروردیؒ اور اسی طرح اَور ہزاروں اولیاء امتِ محمدیہ میں ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی روحانی نعماء سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ مگر ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے مرغا زمین پر سے ایک ایک دانہ چُن کر کھاتا ہے۔ انہوں نے بھی نعمتوں کے ایک ایک دانے زمین سے چُنے اور استعمال کیے۔ مگر سونے سے بھری ہوئی کانیں، موتیوں سے بھرے ہوئے سمندر اور لعل و جواہرات اور ہیروں کے انبار اُن کے زمانہ میں نہ رہے۔ انہوں نے جس قدر انعامات حاصل کیے انفرادی انعامات تھے قومی انعامات نہیں تھے۔ لیکن انبیاء کے زمانہ میں تمام قوم کو انعامات میں سے حصہ دیا جاتا ہے۔ پس اگر یہ معنے اِس الہام کے ہیں تو یہ بھی تکلیف دہ ہیں۔ دنیا نے بڑا انتظار کیا ایک ایسی ہدایت کا جو اُسے نور سے بھر دے، دنیا نے بڑا انتظار کیا اُس جنگ کا جو شیطان کو ہمیشہ کے لیے آخری شکست دے دے۔ لیکن اگر اِس جنگ میں شیطان کو فرشتے شکست بھی دے دیں اور مومن آگے نہ بڑھیں تو شیطان پھر واپس لَوٹ آئے گا اور پھر اسلام کے قلعہ پر قبضہ کر لے گا۔ اُسی قلعہ میں دشمن واپس نہیں آیا کرتا جس کے متعلق وہ جانتا ہو کہ اس میں غنیم کی فوجیں جمع ہیں۔ لیکن اگر فرشتوں نے شیطان کا قلعہ سر کر لیا اور مومن آگے نہ بڑھے تو ہزاروں سال کی پیشگوئیاں اور وہ ایک لمبی لڑائی جو شیطان سے لڑی گئی تھی رائیگاں چلی جائے گی۔
    مَیں جانتا ہوں کہ پیشگوئیاں کُلّی طور پر یوں ہی نہیں چلی جاتیں مگر جب کوشش اور جدوجہد کا پہلو کمزور ہو تو اس کے نتائج ضرور تلخ ہوتے ہیں۔ پس مَیں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ دیکھو! رستہ دور کا ہے، وقت تھوڑا ہے، تمہاری کوششیں نامکمل ہیں اور فتح کا دن نزدیک آرہا ہے۔ تم جلد جلد اپنے قدم بڑھاؤ اور ہر میدان میں اسلام کے جانباز سپاہی بننے کی کوشش کرو۔ اگر تم میں سے ہر شخص اسلام کی فتح کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیتا ہے، اگر تم میں سے ہر شخص اپنے جسم کا ذرّہ ذرّہ اسلام کی فتح کے لیے اس طرح اُڑا دیتا ہے جس طرح روئی دھنکنے والا روئی کے ذرات کو ہوا میں اُڑاتا ہے تو تمہاری اس سے زیادہ خوش قسمتی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ تمہارا فرض ہے کہ تم باہر نکل جاؤ اور جو لوگ ہماری جماعت میں سے جاہل ہیں اُن کو مجبور کرو کہ وہ اسلام کی تعلیم کو سیکھیں اور قرآن کریم کے احکام پر عمل کریں۔ اسی طرح جماعت کے افراد کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اسلام کی خدمت کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کردیں۔ ضرورت ہے کہ ہمارے پاس ہزاروں ایسے لوگ ہوں جو دین کو پوری طرح سیکھے ہوئے ہوں تاکہ جب بھی کوئی ملک اسلام کے لیے فتح ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں نیک تغیر پیدا کرے تو ہمارے پاس اُس ملک کو سنبھالنے والی جماعت بھی موجود ہو اور ہم یہ نہ کہہ سکیں کہ ملک تو اسلام کے لیے فتح ہو گیا مگر جماعت اس کو سنبھالنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔ ہمارے پاس وہ آدمی موجود ہونے چاہییں جن کو اُس ملک میں پھیلایا جاسکے، ہمارے پاس وہ لٹریچر موجود ہونا چاہیے جو اُس ملک میں شائع کیا جاسکے، ہمارے پاس وہ کتابیں موجود ہونی چاہییں جو اُس ملک کے کونے کونے میں پھیلائی جاسکیں، ہمارے پاس روپیہ موجود ہونا چاہیے جس سے مبلغین کےسفر خرچ اور دیگر اخراجات کا انتظام کیا جاسکے۔
    اسی طرح ضروری ہے کہ اسلام کی جائیدادیں ہماری اپنی جائیدادوں سے لاکھوں بلکہ کروڑوں گُنا زیادہ ہوں اور ہماری مالی قربانیاں اسلام کے فنڈ کو اس قدر مضبوط کردیں کہ جب کسی ملک میں اسلامی لشکر بھجوانے کی ضرورت محسوس ہو، جب سپاہیوں کے لیے روحانی گولہ بارود کی ضرورت ہو، جب لوگوں کی پیاس بجھانے کے لیے لڑیچر فراہم کرنا ضروری ہو تو ہمارے پاس اِس قدر سامان موجود ہو کہ ہم بغیر کسی قسم کے فکر کے اور بغیر اِس کے کہ ہمارے سپاہیوں کو کسی قسم کی تشویش ہو اسلام کی ان تمام ضروریات کو پورا کرسکیں۔ اسی طرح ضروری ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں کو انگریزی یا دنیوی تعلیم ایسے رنگ میں دلائی جائے کہ بجائے اس کے کہ وہ تعلیم انہیں اسلام اور ایمان سے بے بہرہ کرنے والی ہو وہ اُن کے دلوں میں اسلام کی صداقت پر زیادہ سے زیادہ یقین اور وثوق پیدا کرنے والی ہو۔ بجائے اس کے کہ آئندہ سائنس اسلام پر کفر کو غالب قرار دے سکے، سائنس کفر کو کھا جانے والی اور اسلام کو غالب و برتر ثابت کرنے والی ہو اور اس کی توپوں کا منہ اسلام کے قلعہ کی بجائے کفر کی طرف ہو اور اس کے گولے کفر کی دیواروں کو گرا رہے ہوں۔
    اسی طرح ہمیں اپنی تمدنی اصلاح کی طرف ابھی بہت بڑی توجہ کی ضرورت ہے۔ ابھی تک خاوندوں کے بیویوں سے اچھے تعلقات نہیں، بیویوں کے خاوندوں سے اچھے تعلقات نہیں، اولاد اپنے ماں باپ سے اچھے تعلقات نہیں رکھتی اور ماں باپ اولاد کے حقوق کی نگہداشت نہیں کرتے۔ دوستوں کے دوستوں سے اور ہمسایوں کے ہمسایوں سے اچھے تعلقات نہیں، دکاندار گاہکوں سے اچھی طرح پیش نہیں آتے، گاہک تاجروں کا خیال نہیں رکھتے، قرض لینے والے قرض واپس کرنے کا خیال نہیں کرتے اور قرض دینے والے مقروض کی مجبوریوں کا خیال نہیں رکھتے، استاد شاگردوں سے اچھی طرح پیش نہیں آتے اور شاگرد اُستادوں کا احترام نہیں کرتے۔ غرض ہمیں تمدنی اصلاح کی ابھی بہت بڑی ضرورت ہے۔ جب تک ہماری تمدنی اصلاح نہیں ہوگی اُس وقت تک دل صاف نہیں ہوں گے اور جب تک دل صاف نہیں ہوں گے ایمان پیدا نہیں ہوگا اور جب تک ایمان پیدا نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں ہوگی۔پس بہت بڑا کام ہے جو ہم نے سرانجام دینا ہے۔ بلکہ اتنے بڑے کام ہم نے کرنے ہیں کہ اگر ہم ان کو گِننے لگیں تو شمار میں ہی نہ لاسکیں۔ یہ کام جب ہم نے کر لیے تو یَوْمُ الْجَزَاءِ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آجائے گا۔ جب کفر کو تباہ کردیا جائے گا اور اسلام کو غالب کردیا جائے گا۔
    پہلے لوگوں سے یہ غلطی ہوئی کہ انہیں جب قیامت کی خبر دی گئی تو انہوں نے اُس کی حقیقت کو نہ سمجھا اور قیامت آنے سے پہلے اس کے لیے کوئی تیاری نہ کی۔ اب ہماری جماعت کے لیے خوف کا مقام ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بعض نادان اب بھی قیامت کی حقیقت کو نہ سمجھیں اور اس کی تیاری سے غافل رہیں۔ مَیں جس قیامت کی خبر دے رہا ہوں وہ ہمیشہ دنیا میں آتی رہی اور آتی رہے گی۔ مگر لوگوں نے نہ سمجھا اور قیامت دیکھنے کے باوجود انہوں نے یہی کہا کہ قیامت ابھی تک نہیں آئی۔ کاش! ہم لوگ اِس زمانہ میں ہی قیامت کی حقیقت کو سمجھیں اور اس کے بدنتائج سے بچنے اور اس کے نیک نتائج سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں کہ اِسی میں اسلام کی ترقی اور اسی میں احمدیت کا غلبہ ہے"۔٭(الفضل27؍اپریل،1944ء)

    15
    دنیا فیصلہ کرسکتی ہے کہ دہلی میں جیت ہماری ہوئی
    یاہمارے دشمنوں کی؟
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی اس موقع پر پوری ہوئی
    (فرمودہ 21؍اپریل 4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "دوستوں نے اختصارًا دہلی کے جلسہ کے حالات سن لیے ہوں گے۔ مَیں اُسی کے متعلق آج کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اِس وقت مسلمانوں کی حالت جس قدر اسلام سے دور ہے وہ خود اس بات پر شاہد ہے کہ اِس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور آنا چاہیے تھا۔ قرآن کریم کی ایک ایک آیت کو آج مسلمانوں نے نظر انداز کردیا ہے۔ اس کی وہ تمام اعلیٰ درجہ کی تعلیمات جو اخلاقِ فاضلہ اور مُسَامَحَت1 اور بردباری اور استقلال اور ضبط ِنفس کے متعلق ہیں انہیں انہوں نے اس طرح طاقِ نسیان پر رکھ دیا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے اسلام میں ان امور کے متعلق کوئی ہدایت ہے ہی نہیں۔ حالانکہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے ان امور پر روشنی ڈالی ہے۔ جو باتیں کہ اسلام کا خاص جوہر ہیں،جن سے اسلام کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے انہی پر آج دشمنانِ اسلام اعتراض کرتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلام کی تعلیم اور قرآن کریم کو تدبر سے پڑھنے کی امید دشمن سے تو کی ہی نہیں جاسکتی۔ اگر اُن کو کوئی چیز اسلام کی طرف رہنمائی کرسکتی ہے تو وہ مسلمانوں کا نمونہ اور عمل ہی ہے۔ اور جب مسلمانوں کا عمل اسلامی تعلیم کے خلاف ہو وہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کو نظر انداز کردیں، ان کا معاملہ، ان کی گفتگو، اُن کے طور طریقے اسلام کی تعلیم کے خلاف ہوں تو دشمنانِ اسلام تو یہ خیال کریں گے کہ اسلام کی یہی تعلیم ہے اور اِس زمانہ میں مسلمانوں کی وجہ سے ہی اسلام اور بانیٔ اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں ملتی ہیں۔ ایک لمبے تجربہ نے بتا دیا ہے کہ مسلمانوں کا موجودہ طریقِ عمل کچھ مفید نہیں ثابت ہوا۔ اس سے خود اُن کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ان کے جوش و خروش نے اسلام کو کوئی طاقت نہیں بخشی اور ان کے غصہ نے ان کو کچھ آگے نہیں بڑھا دیا اور ان کی وحشت نے دنیا میں ان کی کوئی عزت قائم نہیں کی۔ بلکہ کیا سیاسی لحاظ سے، کیا اقتصادی لحاظ سے اور کیا علومِ ظاہری و باطنی کے لحاظ سے مسلمان ایک پسپا ہونے والا ہجوم نظر آتا ہے۔ مگر افسوس کہ اس بات کو دیکھتے ہوئے بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔
    ہم نے دہلی میں جو جلسہ کیا اُس کی غرض یہی تھی کہ جس بات کو ہم حق سمجھتے ہیں اُسے لوگوں تک پہنچائیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ لوگ اسےحق نہیں سمجھتے۔ لیکن اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ جو بات دوسرے کے نزدیک حق نہ ہو وہ اُسے نہ سنانی چاہیے تو پھر مکہ کے لوگوں کو باتیں سنانے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حق نہ تھا اور اہلِ مکہ کی ناشائستہ حرکات پر قرآن کریم کو کوئی اعتراض نہ کرنا چاہیے تھا۔ اور اگر یہ بات درست ہے کہ اپنے عقائد کے خلاف باتیں سننے سے اشتعال پیدا ہوتا ہے اور اس کا لحاظ کرکے کسی کے عقائد کے خلاف کوئی بات اُسے نہ سنانی چاہیے تو اس قانون کے ماتحت یہ بھی کہنا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بھی حق نہ تھا کہ اہل عرب کو ان کے عقائد اور عادات و اطوار کے خلاف باتیں سناتے۔ مگر کوئی مسلمان یہ نہیں سمجھتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اِس کا کوئی حق نہ تھا کہ مکہ کے لوگوں کو ان کے عقائد کے خلاف باتیں سناتے۔بلکہ اگر کوئی مسلمان ایک منٹ کے لیے بھی ایسا سمجھے تو وہ اسلام کے دائرہ سے خارج ہوجائے گا۔ کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض اور آپ کے اخلاق پر حملہ کرنے والا ہوگا۔ بلکہ خود قرآن کریم پر حملہ کرنے والا ہوگا جس نے متواتر نہ صرف اہلِ مکہ بلکہ تمام یہود و نصارٰی کے خلاف تعلیمات کو پیش کیا ہے اور اس کے نازل ہونے نیز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض یہی ہے۔ ہم نے تو اپنے ان جلسوں میں کسی کے عقائد کے خلاف کوئی بات نہیں کہی۔ گو ہمارا حق ہے کہ چاہیں تو کہیں۔ مگر ہمارے ان جلسوں میں دوسروں پر اعتراض کا کوئی پہلو نہیں۔ دہلی میں ہمارے جلسہ کے اعلان کے بعد کئی دن وہاں مختلف مقامات پر ایسے جلسے ہوتے رہے کہ احمدیوں کا یہ جلسہ نہ ہونے دیا جائے اور اشتہار بھی شائع کیے گئے بلکہ حکومت کو بھی توجہ دلائی گئی کہ چونکہ اس جلسہ میں ہمارے عقائد کے خلاف باتیں ہوں گی اس لیے اشتعال پیدا ہوگا۔ حالانکہ دنیا کے تمام مذاہب کا ایک دوسرے سے اختلاف ہے اور کوئی نیا فرقہ اور نئی جماعت تو قائم ہی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اُسے دوسروں سے اختلاف ہوتا ہے۔ مسلمان اپنے کو مسلمان کیوں کہتے ہیں؟ اِسی لیے کہ انہیں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں وغیرہ دیگر مذاہب کے لوگوں سے اختلاف ہے؟ اور اگر یہ اختلاف ناجائز ہے تو تمام مذاہب کو مٹا دینا ہوگا اور دنیا میں کبھی کوئی صداقت نہ پھیل سکے گی۔بہرحال وہ لوگ پہلے سے ہی ہمارے جلسہ کے خلاف جوش پیدا کر رہے تھے اور اسے خراب کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ یہ مسلمانوں کا عام طریق ہے بلکہ ہندوستان میں قریباً سب قوموں کا یہی طریق ہے۔ حتّٰی کہ کانگرس والے بھی ایسا کرتے ہیں کہ جب کوئی جلسہ ان کے خلاف ہونے والا ہو تو کثیر تعداد میں آکر سٹیج پر قبضہ کرلیتے ہیں اور اپنے زور سے جلسہ کرنے والوں کو نکال دیتے ہیں اور پھر اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے خلاف باتوں کو زبردستی روک دیا۔ اِسی نیت اور ارادہ سے مخالفین جلسہ میں آئے۔ اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کے لیے کچھ سامان بہم پہنچا دیتا ہے۔ عزیزم مرزا ناصر احمد صاحب نے تلاوت قرآن کریم شروع کی تو ایک لفظ میں زیر کی جگہ زبر اُن کے منہ سے نکل گئی۔ انہوں نے قُرْاٰنَ الْفَجْرِ2 کی بجائے قُرْاٰنِ الْفَجْرِ کہہ دیا۔ بس یہ الفاظ ان کے منہ سے نکلنے تھے کہ یہ لوگ جو منتظر ہی تھے کہ شور وغیرہ کرنے کا کوئی موقع مل سکے فوراً کھڑے ہوگئے اور شور مچانے لگے کہ قرآن کریم غلط پڑھا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے منہ سے زبر کے بجائے زیر نکل گئی۔ مگر اس پر اتنا شور مچانے کی تو کوئی وجہ نہ تھی۔ اتنا کافی تھا کہ ان میں سے کوئی صاحب کھڑے ہوتے اور کہہ دیتے کہ قاری صاحب قرآن کے لفظ پر زیر نہیں بلکہ زبر ہے تو ہم لوگ ان کے ممنون ہوتے۔ کیونکہ قرآن کریم کے پڑھنے میں اگر کوئی غلطی کرے تو اُس کی اصلاح کردینا ایک نیکی ہے۔ تمام عالَمِ اسلامی میں یہ طریق ہے کہ رمضان میں تراویح پڑھانے کے لیے جہاں حافظ مقرر کیے جاتے ہیں وہاں سامع بھی مقرر کیے جاتے ہیں تا اگر حافظ کوئی غلطی کر جائے تُو اس کی اصلاح کی جاسکے۔ اگر قرآن کریم پڑھنے میں یہ معمولی سی غلطی گویا قرآن کریم میں تحریف تھی تو کیا جب تراویح پڑھانے والے حفاظ کے ساتھ سامع مقرر کیے جاتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ حافظ صاحبان سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ قرآن کریم میں تحریف کریں گے یا اپنی طرف سے باتیں قرآن کریم میں داخل کرتے جائیں گے اور اس بات کی نگرانی کے لیے سامع مقرر کیے جاتے ہیں؟ سامع مقرر کرنے کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ حافظ غلطی کرسکتا ہے۔ مگر کیا اس غلطی کی بناء پر شور اور فساد کرنا جائز ہے؟ ساری دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا قاری اور حافظ ہو جو اِن تیس دنوں کی تلاوت کے دوران میں کوئی ایک بھی غلطی نہ کرے۔ لیکن اگر یہ طریق اختیار کیا جائے کہ وہاں تراویح کے لیے جاتے وقت جھولیوں میں پتھر بھر کے لے جائیں اور جہاں کسی حافظ سے کوئی غلطی ہو،بجائے اُسے توجہ دلانے کے اُس پر سنگباری شروع کردیں تو اگلے سال دنیا میں کہیں بھی نماز تراویح نہ پڑھی جاسکے۔غلطی ہوجانا ممکن ہے اور یہی وجہ ہے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار قاری مقرر کیے ہوئے تھے جو ایسی غلطیوں کی اصلاح کرتے رہتے تھے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے کہ حضرت علیؓ نے لقمہ دیا۔ نماز کے بعد آپ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ تمہارا کام نہ تھا۔ غلطی کی طرف توجہ دلانے کے لیے مَیں نے آدمی مقرر کیے ہوئے ہیں۔ دہلی کے مسلمانوں نے جو اصول پیش کیا اُس کی رُو سے تو چاہیے تھا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت میں کوئی غلطی ہوتی تمام صحابہؓ نماز توڑ دیتے اور شور مچانے لگ جاتے۔ تو غلطی کا امکان انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے اور جب کوئی غلطی ہوجائے تو صحیح طریق یہی ہے کہ اس کی اصلاح کردی جائے۔ ارادہ اور نیت کے ساتھ تلاوت کے وقت کوئی شخص غلطی نہیں کرتا۔ پھر دنیا میں جو قرآن چَھپتے ہیں ان میں بھی زیر زبر کی غلطیاں رہ جاتی ہیں۔ دہلی میں کئی ایسے لوگ ہیں جو قرآن کریم چھاپتے ہیں۔ کیا دہلی کے یہ لوگ جنہوں نے ہمارے جلسہ میں شور کیا بتا سکتے ہیں کہ وہ ان میں سے کتنوں کے گھروں پر سنگ باری کرنے گئے اور کتنے مطابع کو توڑا پھوڑا؟ اِس بناء پر کہ ان میں چھپے ہوئے قرآن کریم میں غلطی رہ گئی تھی۔ دہلی کے ایک مطبع والوں نے قرآن کریم شائع کیا اور انہیں اُس کی صحت پر اِس قدر اعتماد تھا کہ اعلان کیا کہ اِس میں غلطی نکالنے والے کو ایک اشرفی فی غلطی انعام دیا جائے گا۔ میر مہدی حسن صاحب مرحوم بڑے مُصَحِّح تھے انہوں نے ایک درجن سے زیادہ غلطیاں نکال کر بھیج دیں۔ مگر بجائے اس کے کہ اشرفیاں دیتے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ انعام کے لیے ایک وقت مقرر تھا اب نہیں دیا جاسکتا۔ مگر ہم نے یہ نہیں سنا کہ دہلی کے ان لوگوں نے اس مطبع والے کے گھر پر جاکر سنگباری کی ہو اور اس کے مطبع وغیرہ کو توڑ پھوڑ دیا ہو اور اس کے متعلق کہا ہو کہ اس نے قرآن کریم میں تحریف کی ہے۔ پھر جو غلطی ہوئی وہ ایسی نہ تھی جو صَرف و نحو کے اصول سے بالکل ناجائز ہوتی۔ عربی میں جوار کے لحاظ سے بھی اعراب آجاتے ہیں اور قرآن کریم میں اس کی بعض مثالیں موجود ہیں۔ پس اگر کسی قاری کے منہ سے ایسی غلطی نکل جائے تو یہ کوئی ایسی غلطی نہیں جو علمی لحاظ سے زیادہ قابلِ اعتراض ہو۔ مگر جونہی عزیزم ناصر احمد صاحب کے منہ سے یہ لفظ نکلا یہ لوگ شور مچانے لگ گئے اور کسی طرح چُپ ہونے میں نہ آتے تھے۔ آخر چند نوجوان مجبور ہوگئے کہ ان کو جلسہ گاہ سے باہر نکال دیں۔ مگر اُن کی بات سننے کی بجائے ان شور مچانے والوں نے ان پر حملہ کردیا۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ لڑائی شروع ہوگئی۔
    دوسری چیز یہ پیدا ہوئی کہ چونکہ اللہ تعالیٰ دہلی والوں کا امتحان لینا چاہتا تھا لاؤڈ سپیکر خراب ہوگیا۔ جب ہمارے بعض نوجوان ان لوگوں کو باہر نکالنے لگے اور ان شورش پسندوں نے ان میں سے بعض کو مارنا شروع کردیا اور ان کا جواب بھی بعض احمدیوں نے دینا شروع کردیا تو مَیں نے کہنا شروع کیا کہ ان سے تَعَرُّض نہ کرو۔ واپس آجاؤ اور اگر مار پڑے تو برداشت کرو۔ اور مَیں حیران تھا کہ میری تاکید کے باوجود احمدی واپس کیوں نہیں آرہے۔ اِس پر ایک شخص نے بتایا کہ لاؤڈ سپیکر خراب ہوگیا ہے اور آپ کی آواز ان لوگوں تک نہیں پہنچ رہی۔ تب مَیں نے آدمی مقرر کیے کہ میری آواز کو دہراتے جائیں۔ پھر کہیں جاکر دوستوں کو میری ہدایات کا علم ہوا اور وہ واپس آئے۔ تو یہ دوسرا ذریعہ ہوگیا اِس فتنہ کو بڑھانے کا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے نہایت ہی ناروا اور ناواجب طریق اختیار کیا اور ایسی گندی گالیاں دیں کہ جنہیں انسان برداشت نہیں کرسکتا۔ اور یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان تھا کہ اُس نے احمدیوں کو ان کے برداشت کرنے کی توفیق دی۔ مَیں جب جلسہ گاہ میں داخل ہوا توایک آدمی سٹیج کے پاس ہی کھڑا تھا۔ مَیں جب اُس کے پاس سے گزرا تو اُس نے زور سے کہا لَعۡنَتُ اللّٰہِ عَلَی الۡکَاذِبِیۡنَ۔اس کا مطلب یہ تھا کہ تم کاذب ہو اور تم پر اللہ تعالیٰ کی *** ہو۔ مگر ایک احمدی نے زور سے کہا اٰمِیْن۔پس ان لوگوں کا شروع سے ہی طریق اشتعال انگیز تھا۔ ہم نے پہلے جلسہ گاہ میں نماز پڑھی۔ پھر قرآن کریم کی تلاوت شروع ہوئی مگر ان سب باتوں سے بھی پہلے سے یہ لوگ آوازے کس رہے تھے۔ اس جھگڑے کے بعد ان لوگوں نے سارے شہر میں یہ اعلان کیا کہ احمدیوں نے ہم پر حملہ کر دیا ہے اور لوگوں کو وہاں چلنا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چاروں طرف سے لوگ اکٹھے ہوگئے اور سات آٹھ ہزار کی تعداد میں جلسہ گاہ کے اِرد گِرد جمع ہوگئے۔ لاؤڈ سپیکر تو خراب ہی تھا۔ اس لیے ان لوگوں کا شور و شر جلسہ کی کارروائی کو خراب کررہا تھا۔پھر بھی اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ میری تقریر کے دوران میں وہ کوئی ایسی بات نہ کرسکے کہ تقریر رُک جائے۔ لیکن جب مبلغین نے تقریریں شروع کیں اور انہوں نےسمجھا کہ شاید اب ہماری تعداد اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ ہم حملہ کر سکتے ہیں تو انہوں نے اَور بھی زور سے نعرے لگانا اور آگے بڑھنا شروع کیا۔ پولیس نے ان کو روکا مگر وہ رُکے نہیں۔ اتنے میں مجھے پاؤں کی آوازیں زور سے آنی شروع ہوئیں اور مَیں نے کھڑے ہوکر دیکھا تو سینکڑوں لوگوں کا ایک گروہ عورتوں کی جلسہ گاہ کی طرف حملہ کرنے کے لیے بھاگا جارہا تھا۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے کوئی شریف قوم برداشت نہیں کرسکتی۔ پولیس بھی ان کو روکنے کے لیے دوڑی۔ وہ لوگ پولیس کے پہلو بہ پہلو دوڑ رہے تھے مگر پہلے وہاں پہنچ گئے۔ زنانہ جلسہ گاہ کے اِردگرد دو قناتیں تھیں۔ ایک قنات کے اندر صحن تھا اور پھر آگے جاکر دوسری قنات تھی اور اس کے اندر عورتیں بیٹھی تھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس جلسہ کا ایسا خطرناک انجام ہوتا کہ ممکن ہے بہت زیادہ خون خرابہ ہو جاتا۔ ان لوگوں نے پہلی قنات کو پھاڑ دیا اور گِرا دیا۔ اتنے میں پولیس بھی پہنچ گئی۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ باہر کے پردہ کے اندر جب انہوں نے دیکھا کہ عورتیں نہیں ہیں تو غالباً یہ سمجھا کہ عورتیں یہاں سے چلی گئی ہیں اور اگلی قناتوں تک وہ نہ گئے اور اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس بڑے خطرے سے ہمیں بچالیا۔ ورنہ اگر عورتوں کی بے حرمتی تک نوبت پہنچتی تو پھر کوئی شریف آدمی صبر سے کام نہ لے سکتا تھا۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہو جاتا تو دہلی وہ نظارہ دیکھتی جو اُس نے گزشتہ اسّی سال میں نہیں دیکھا۔ جب انہوں نے عورتوں پر حملہ کا ارادہ کیا تو مَیں نے حکم دیا کہ ایک سَو مضبوط نوجوان جاکر عورتوں کی جلسہ گاہ کے باہر کھڑے ہوکر پہرہ دیں۔ عورتوں کا احترام نہایت ضروری اور لَابُدِّی ہے۔ اس لیے وہی کھڑا ہو جو مرنا جانتا ہو۔ بلکہ مَیں نے یہاں تک کہا کہ اگر تم میں سے کوئی مرنا نہیں جانتا تو وہ ہرگز نہ جائے اور واپس آجائے اُس کی جگہ مَیں خود جانے کو تیار ہوں کیونکہ مَیں خدا تعالیٰ کے فضل سے مرنا جانتا ہوں۔ اُس وقت جو غیرمسلم اور غیر احمدی خواتین وہاں تھیں اُن کے رشتہ داروں نے کہلا بھیجا کہ ہمیں اپنی مستورات کی نسبت بہت گھبراہٹ ہے،خطرہ بہت ہے،کوئی انتظام کیا جائے۔ اس پر مَیں نے اُن کی تسلی کے لیے اعلان کیا کہ آپ فکر نہ کریں اپنی عورتوں سے پہلے ہم آپ کی عورتوں کی حفاظت کریں گے۔ چنانچہ وہ اِس امر کے شاہد ہیں کہ ہم نے وہ وعدہ پورا کردیا۔ بعض غیر احمدی مستورات کے ساتھ میری بیٹیاں گئیں اور اُن کو گھر پہنچا کر پھر اپنے گھر آئیں۔
    جب وہ ہجوم وہاں سے ہٹا تو پھر مختلف جہات سے سنگباری شروع ہو گئی اور وہ لوگ آگے بڑھنے لگے۔ حتّٰی کہ ایک دفعہ اتنے قریب آگئے کہ سٹیج کے پاس پتھر پڑنے لگے۔ یہ وہی موقع تھا جب میرے داماد میاں عبدالرحیم احمد صاحب کے سر پر چوٹ آئی۔ بعد میں ایکسرے سے معلوم ہوا ہے کہ اُن کے سر کی ہڈیاں تین جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں اور حالت خطرناک ہے۔ اسی طرح اَور بھی بہت سے احمدی زخمی ہوئے۔ پہلے تو خیال تھا کہ زخمیوں
    حالت اب تک بھی خطرناک ہے۔ کی تعداد 24،25 ہے مگر بعد میں معلوم ہؤا کہ چالیس کے قریب ہے۔ اُن میں سے بعض کی ضربات شدید ہیں۔ جیسے میاں عبدالرحیم احمد صاحب کی اور میاں فضل کریم صاحب پراچہ کی۔ ان کے ہاتھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔اے۔ ایل۔ ایل۔ بی واقف تحریک جدید کے بھی سخت چوٹ آئی ہے اور شبہ ہے کہ ان کی آنکھ کے پاس کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ اب تک وہ سر نہیں اٹھا سکتے۔ مگر مَیں اس تمام عرصہ میں متواتر اپنے آدمیوں کو یہ نصیحت کر رہا تھا کہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں، ماریں کھائیں مگر جواب نہ دیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ دشمن کی جو غرض تھی کہ جلسہ نہ ہو اور مَیں تقریر نہ کرسکوں وہ پوری نہ ہوسکی اور ہم نے دعا اور تقریر کے بعد جلسہ ختم کیا۔
    جب خطرہ بڑھا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ عورتوں کو یہا ں سے پہرہ کے اندر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا جائے۔ پہلے غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین کو پہنچائیں اور پھر احمدی خواتین کو۔ اس کے لیے لاریاں منگوائی گئیں اور جس جس جگہ کو عورتوں نے اپنے لیے محفوظ سمجھا وہاں ان کو پہنچا دیا گیا۔ مثلاً سکھ عورتوں نے کہا ہمیں گوردوارہ میں پہنچا دیا جائے۔ چنانچہ ان کو گوردوارہ میں پہنچا دیا گیا۔اور عورتوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کی وجہ سے ایک لمبے عرصہ تک ہمیں جلسہ گاہ میں انتظار کرنا پڑا۔ مگر ان لوگوں کی شرافت کا یہ حال تھا کہ انہوں نے ان لاریوں پر بھی حملہ کیا جو عورتوں کو لے جارہی تھیں۔چنانچہ ایک گاڑی جس میں عورتیں تھیں انہوں نے اس کے آگے لاٹھیاں وغیرہ رکھ کر روک لی مگر مَیں چونکہ جانتا تھا کہ یہ لوگ ایسے اخلاق کے مالک ہیں اس لیے مَیں نے ہر لاری کے ساتھ محافظ لگانے کا حکم دیا تھا۔ جب لاری رُک گئی تو انہوں نے بے تحاشا پتھر برسانے شروع کردیئے۔ ان حملوں میں ہی ہمارے کئی نوجوان زخمی ہوئے اور بعض تو جب واپس آئے تو سر سے پاؤں تک خون میں نہائے ہوئے تھے۔ مگر اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے دشمن کو یہ بتادیا کہ گو احمدی صبر کرتے ہیں مگر جب ان پر خواہ مخواہ حملہ کیا جائے خصوصًا جب عورتوں کی حفاظت کا سوال ہو تو وہ ڈرتے نہیں۔ اسی سلسلہ میں ایک ہندو رئیس نے ڈاکٹر لطیف صاحب کو سنایا کہ مَیں سڑک پر جا رہا تھا کہ سامنے سے ایک لاری آتی دیکھی جس میں عورتیں تھیں۔ کئی سَو آدمیوں کا ایک ہجوم آگے بڑھا اور لاری کو روک لیا۔لاری کے ساتھ چند ایک نوجوان تھے۔ جب ہجوم نے لاری کو روکا تو مَیں نے خیال کیا کہ اب ان نوجوانوں کی خیر نہیں۔ ہجوم نے پتھر برسانے شروع کیے مگر میرے دیکھتے دیکھتے پانچ سات نوجوان سامنے آئے اور انہوں نے سینکڑوں لوگوں کا مقابلہ کیا۔ مَیں یہ دیکھ کر حیران تھا اور سمجھتا تھا کہ یہ نوجوان مارے جائیں گے۔ لیکن ابھی دو تین منٹ ہی نہ گزرے تھے کہ مَیں نے دیکھا وہ ہجوم بھیڑوں بکریوں کی طرح بے تحاشا بھاگا جا رہا تھا اور لاری اور اس کے محافظ سائیکلسٹ آرام سے اپنی منزلِ مقصود کی طرف جارہے تھے۔ بات یہ ہے کہ ہم امن کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں اور گورنمنٹ کا کا م اپنے ہاتھ میں لینا نہیں چاہتے۔ ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ انبیاء کی جماعتیں جہاں صبر کرنا جانتی ہیں وہاں مرنا بھی جانتی ہیں اور جو قوم مرنے کے لیے تیار ہو اُسے کوئی نہیں مار سکتا۔ میں خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ یہ سات آٹھ ہزار آدمی نہیں۔ اگر دہلی کے تمام لوگ بھی ہم پر حملہ کرتے تو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم اُن کو بھگا دیتے۔ مگر ہم نے پولیس کے کام میں دخل دینا پسند نہ کیا۔ جب عورتوں کی لاریوں پر انہوں نے حملہ کیا تو وہاں احمدیوں نے مقابلہ کیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے چند آدمی سینکڑوں کو بھگا کر لے گئے۔ غیر مسلم اور غیر احمدی خواتین کو خطرہ کا بہت احساس تھا۔ بعض تو گھبراہٹ میں کانپنے لگیں۔ مگر اُس وقت احمدی عورتوں نے بھی بہت بہادری دکھائی اور ان کے ارد گرد قطار باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ اگر کوئی اندر آیا تو ہم مقابلہ کریں گی۔ حکومتِ ہند کے ایک سیکرٹری صاحب کی اہلیہ صاحبہ بھی جلسہ میں تھیں ان کو جب موٹر میں بٹھایا گیا تو اُن کے ایک طرف میری لڑکی بیٹھ گئی اور دوسری طرف ایک اَور غیر احمدی خاتون جو بہادر دل کی تھیں تا اگر باہر سے پتھر وغیرہ آئیں تو ان کو نہ لگیں اور اس طرح موٹر میں بٹھا کر اُن کو گھر پہنچایا گیا۔ تو اللہ کے فضل سے اِس موقع پر عورتوں نے بھی ثابت کردیا کہ اگر موقع آجائے تو وہ جان دینے سے دریغ نہیں کرتیں۔ بہرحال رات تک یہ شور و شر ہوتا رہا۔ آخر جب عورتیں چلی گئیں تب مَیں نے افسروں سے کہلا بھیجا کہ اب ہم نے جانا ہے۔ کیا آپ لوگ ہمارے لیے رستہ بنادیں گے یا ہم خود بنالیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم خود آپ لوگوں کو بحفاظت پہنچائیں گے۔ چنانچہ پولیس گارڈ ہمارے آدمیوں کے آگے پیچھے ہوکر انہیں محفوظ جگہ پر پہنچا آئی۔
    مخالف خوش ہیں کہ انہوں نے شورش کی، پتھر برسائے اور گالیاں دیں۔ مگر ہم خوش ہیں کہ ہماری ایک اَور مماثلت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیدا ہوگئی۔ وہ اپنے نقطۂ نگاہ سے خوش ہے اور ہم اپنے نقطۂ نگاہ سے خوش ہیں۔ دشمن اس بات پر خوش ہے کہ اس نے سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو کر عورتوں کی موٹروں اور لاریوں پر حملے کیے۔ مگر ہم خوش ہیں کہ ہمارے چند نوجوانوں نے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر نہ صرف اپنی عورتوں کی بلکہ غیراحمدی اور غیر مسلم عورتوں کی بھی حفاظت کی۔ وہ خوش ہیں کہ انہوں نے بہت شور مچایا اور ہم خوش ہیں کہ اس قسم کے ماحول کے باوجود جبکہ ہمارے چاروں طرف دشمن ہی دشمن تھے اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اپنی آواز کو آخر تک سنا سکے۔ دشمن خوش ہے کہ اس نے گندی گالیاں دیں، ماؤں اور بہنوں کی فحش اور گندی گالیاں دیں اور ہم خوش ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی خاطر ایسی گالیاں سننی پڑیں۔ وہ خوش ہیں اس لیے کہ اپنے اخلاق کے مطابق انہیں کامیابی ہوئی اور ہم خوش ہیں کہ اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرنے میں ہم کامیاب ہوئے۔ وہ اس پر خوش ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ مگر ہم اس پر خوش ہیں کہ باوجود اِس قدر مخالف حالات کے ہم خدا تعالیٰ کی آواز پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ وہ اس پر خوش ہیں کہ وہ یہ مال و دولت لے کر گھروں کو لَوٹے کہ انہوں نے گندی گالیاں دیں، پتھر مارے اور عورتوں پر حملے کیے۔ مگر ہم خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ہم پہنچا سکے اور اپنی عزت، آبرو اور جان قربان کرکے اللہ تعالیٰ کی مشیّت کو پورا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اور اِس طرح وہ غلاظت کی پوٹلیاں لے کر اپنے گھروں کو گئے اور ہم خدا تعالیٰ کا نور اور اس کی رضا کو لے کر گھروں کو لَوٹے اور اب دنیا خود فیصلہ کرسکتی ہے کہ جیت ہماری ہوئی یا ہمارے دشمنوں کی؟ اگر یہ صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی امت کے اعمال پیش ہوتے رہتے ہیں تو کوئی ایک مسلمان بھی ہے جو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکے کہ وہ گندی اور فحش گالیا ں جو اِن لوگوں نے دہلی میں ہمیں دی ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے پیش کی جائیں گی تو آپ کا دل خوش ہو گا یا اس بات پر کڑھے گا کہ آپ کی امت کہلانے والوں کے اخلاق ایسے گِر چکے ہیں۔ بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تو بہت اعلیٰ و ارفع ہے مَیں کہتا ہوں اگر یہی گالیاں جو انہوں نے ہم کو دیں اِن لوگوں کی ماؤں کے سامنے دہرائی جائیں تو کیا ان کے دلوں کو خوشی ہوگی؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو کیا تم لوگ سمجھتے ہو کہ محمدمصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان کی گالیوں کو سن کر خوش ہوتی ہوگی؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت کہلانا اَور بات ہے مگر ایسے کام کرنا جن سے آپ کی روح خوش ہو اَور بات ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ یہ گالیاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں نہ پڑنے پائیں تا آپ کے دل سے ان لوگوں کے لیے *** نہ نکالے اور آپ کو ملال نہ ہو کہ میری امت اِس قدر گر گئی اور گمراہی میں مبتلا ہے۔ ہم اس لیے بھی خوش ہیں کہ اس شورش اور اس مخالفت کا کوئی بھی وجود نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے راحت اور ایمان میں ترقی کا سامان مہیا فرمادیا تھا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "رؤیا میں دیکھا کہ دہلی گئے ہیں اور بخیریت واپس آئے ہیں"۔ پھر الہاماً یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَوْصَلَنِیْ صَحِیْحًا۔3 یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جو فساد اور دشمن کے حملے سے صحیح و سالم بچا کر واپس لے آیا۔ اس الہام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لے ہی نہیں گئے۔ آخری سفر جو آپ نے دہلی کی طرف کیا وہ 1905ء کا ہے۔ تو یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کا مثیل دہلی جائے گا۔ لوگ اُس پر پتھراؤ کریں گے۔ یہ جو سنگ باری کی گئی یہ دراصل مجھ پر تھی جسے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کی مسند پر بٹھایا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ آپ کو یعنی آپ کے مظہر کو صحیح و سالم واپس قادیان لے آئے گا۔ پس جو کچھ ہؤا اس میں اِس لحاظ سے بھی ہماری فتح اور کامیابی ہے۔ سلسلہ کی صداقت کا ایک ثبوت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مامورمِنَ اللہ اور خدا تعالیٰ کا پیارا ہونے کا ایک ثبوت ہے۔ ہر پتھر جو وہ لوگ ہم پر مار رہے تھے وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَوْصَلَنِیْ صَحِیْحًا کی صداقت کی گواہی دے رہا تھا اور ہر پتھر شاہد تھا اِس امر کا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھے اور خدا تعالیٰ آپ سے ہم کلام ہوتا تھا۔ یہ جو کہا گیا کہ مجھے صحیح و سالم واپس پہنچا دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض دوسروں کو نقصان پہنچے گا۔ مگر ان لوگوں کی اصل غرض تو مجھے نقصان پہنچانا تھی۔ لیکن جہاں سیالکوٹ کے پتھراؤ میں تین پتھر مجھے بھی آلگے تھے۔ وہاں دہلی میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے ایک بھی نہیں لگا۔ غرض یہ ایک پیشگوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک مثیل دہلی جائے گا اور دشمن اُس کو ضرر پہنچانے کی پوری کوشش کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ اُسے بخیر و عافیت قادیان پہنچا دے گا۔ اور یہ پیشگوئی قریباً 37 سال کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہوئی۔ ہر انصاف پسند کو سوچنا چاہیے کہ کیا 37 سال قبل ایسی بات بیان کر دینا جو اپنے وقت پر صحیح ثابت ہو کسی انسان کی طاقت میں ہے؟ یہ ان لوگوں کے لیے بھی قابلِ غور بات ہے جو پیغامی کہلاتے ہیں۔ وہ بتائیں کہ اِس پیشگوئی کے مطابق کون ہے جو دہلی گیا؟ مخالفین نے اسے ضرر پہنچانے کی پوری کوشش کی اور اللہ تعالیٰ اُسے صحیح وسالم واپس قادیان لے آیا۔یہ لوگ تو اب قادیان آتے ہی نہیں بلکہ بہشتی مقبرہ کے لیے جو وصیتیں کر رکھی تھیں وہ بھی منسوخ کرالیں۔ ان میں سے اگر کوئی قادیان آئےتو اس کی نگرانی کرتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں دیکھا کہ دہلی گئے اور خیریت سے واپس آئے ہیں اور یہ رؤیا بتاتا ہے کہ قادیان میں ہی ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مثیل ہوں گے اور جن کا دہلی جانا اور بہ سلامت واپس پہنچنا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جانا اور صحیح وسالم واپس پہنچنا ہوگا۔
    پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اَلْمُؤْمِنُ یَرٰی اَوْ یُرٰی لَہٗ۔4 جس روز میں نے دہلی جانا تھا اُسی روز یا اُس سے ایک روز قبل خلیفہ صلاح الدین صاحب کا خط مجھے دہلی سے ملا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ قادیان سے خبر آئی ہے کہ خلیفۃ المسیح نگینہ سے بخیریت واپس قادیان پہنچ گئے ہیں۔ نگینہ انگوٹھی کے مرکز میں ہوتا ہے اور دہلی ہندوستان کا مرکزی شہر ہے۔ دہلی کو ہندوستان میں وہی حیثیت حاصل ہے جو نگینہ کو انگوٹھی میں۔ گویا اِس خواب میں بتادیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو رؤیا 13 جنوری 1906ء کو دیکھا تھا وہ اِسی سفر کے متعلق تھا۔ وہی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو 37 سال قبل دکھائی گئی تھی جلسہ سے چند روزقبل آپ کے ایک مرید کو دکھائی گئی۔ یہ گویا ایک اشارہ تھا اِس امر کی طرف کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ تو ہمارے لیے ہر حال میں خوشی ہی خوشی ہے۔ ؎
    ہر بلا کیں قوم را حق دادہ اند
    زیر آں گنج کرم بنہادہ اند
    اسی طرح اس فساد کے ذریعہ سے میرا ایک الہام بھی پورا ہوا جو دہلی کے جلسے سے چند دن پہلے ہوا تھا جو یہ ہے یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر۔اس الہام میں خبر دی گئی تھی کہ جلسہ کے فساد کے موقع پر چند احمدی سینکڑوں پر بھاری ثابت ہوں گے اور ہر جگہ ان کو فتح نصیب ہوگی۔ کیونکہ جہاں ان کو لڑنا پڑے گا وہاں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ان کی مدد کے لیے ان کے ساتھ اٹھے گا۔ چنانچہ جلسہ پر جن لوگوں نے یہ نظارہ دیکھا کہ کس طرح ضرورت کے موقع پر جب احمدی آگے بڑھتے تھے تو آٹھ دس کے مقابل پر سینکڑوں دہلی والے جن میں پٹھان طالب علم بھی شامل تھے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے جاتے تھے۔ یہ اِسی وجہ سے تھا کہ نوجوانوں کے ہاتھ پر خدا کا ہاتھ تھا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔
    ہم پر تو اِن پتھروں کا پڑنا بھی خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ہے۔سلسلہ کی صداقت اور ایمان کی زیادتی کا موجب ہے۔ مگر اِس میں ہماری جماعت کے لیے ایک سبق ہے۔ یہ خرابیاں جو مسلمانوں میں آج نظر آتی ہیں اِن کے ازالہ اور علاج کی یہی صورت ہے کہ احمدیت کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔ اِس کے سوا اِس گندی حالت کو بدلنے کی کوئی صورت نہیں۔ ہر ایسی حرکت ہمارے لیے ایک حجت ہے کہ ہم نے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت سے کام لیا ہے۔ اگر ہم دہلی والوں تک اسلام کی تعلیم اور احمدیت کی روشنی کو پھیلاتے تو پھر آج وہاں کے لوگ پتھر نہ مارتے بلکہ درود بھیجنے والے ہوتے۔ اِس لیے دوستوں کو چاہیے کہ پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ احمدیت کی تبلیغ میں لگ جائیں۔ مَیں لاہور کی جماعت کو تبلیغ کی طرف توجہ دلا کر آیا تھا اور وہاں تھوڑے ہی عرصہ میں کئی لوگوں نے بیعت کی ہے حالانکہ ابھی پورے طور پر اور باقاعدہ کام شروع نہیں کیا گیا۔ اگر تمام دوست پوری کوشش سے کام کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سال دو سال میں ہی تغیر ِعظیم پیدا ہوسکتا ہے اور حالات سُدھر سکتے ہیں۔ پس دوستوں کو چاہیے کہ قریب ترین عرصہ میں احمدیت کو پھیلانے میں اپنی ساری توجہات کو لگا دیں۔اگر وہ ایسا کریں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے کام میں سہولت پیدا کردے گا۔ یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور جب ہم اسے کرنے لگیں گے تو خدا تعالیٰ کی غیرت خود بخود جوش میں آئے گی کہ میرے بندے میرا کام کر رہے ہیں۔ تب فرشتے آسمان سے اُتریں گے اور اِس کام کو ہاتھ میں لے لیں گے اور تھوڑی سی کوشش سے شاندار نتائج پیدا ہوں گے۔ مَیں نے دوستوں کو بار بار اِس طرف توجہ دلائی ہے مگر ابھی انہیں پوری طرح اِس کا احساس نہیں ہوا اور جماعت نے مجموعی حیثیت سے کوئی کوشش نہیں کی۔ آج میں زیادہ نہیں بول سکتا۔ کیونکہ دہلی سے واپسی پر رستہ میں مجھ پر انفلوانزا کا حملہ ہوا اور اسہال ہوتے رہے اس لیے مشکل سے بول رہا ہوں۔ اور پھر اس مضمون پر میں اِتنی دفعہ بول چکا ہوں، اِتنی دفعہ توجہ دلا چکا ہوں کہ زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں اور قرآن کریم میں یہ مضمون بڑی وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ پس اپنی کوششوں کو تیز کریں۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُس کے بندے اُس کی طرف واپس آئیں۔ آپ لوگوں نے اقرار کیا ہے کہ "دین کو دنیا پر مقدم کریں گے"۔ اِس لیے سُستیاں ترک کردیں اور رات دن اِس کام میں لگ جائیں۔ اپنی جان اور اپنے اموال اِس کام میں لگا دیں تا خدا تعالیٰ کا نور جلد سے جلد دنیا میں پھیلے۔ اٰمیْن"۔ (الفضل3 مئی، 1944ء)


    16
    دین کی خاطر قربان کرنے کے لیے اپنی ہر چیز تیار رکھیں
    (فرمودہ 28؍اپریل 4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "رات کو مجھے اسہال کی تکلیف ہوگئی تھی۔صبح اللہ تعالیٰ نے اس میں کچھ افاقہ تو پیدا کردیا مگر معلوم ہوتا ہے یہ تکلیف انفلوئنزا کا نتیجہ تھی۔ کیونکہ آج صبح سے مجھے سر درد کی شکایت شروع ہوگئی ہے جو بڑھتی جارہی ہے۔ اس لیے اِس وقت مجھ سے زیادہ بولا نہیں جاتا۔
    آج بجائے کوئی نئی بات کہنے کے مَیں جماعت کو پھر اِس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہر بڑے کام کے لیے ایک تیاری کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ بہت لوگ ہوتے ہیں جو تیاری کو غیر ضروری قرار دے کر پیچھے ہٹے رہتے ہیں اور صرف اُس دن کے امیدوار رہتے ہیں جب اصل مقابلے کا وقت آجائے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اُس دن مقابلہ کے لیے میدان میں نکل کھڑے ہوں گے مگر یہ لوگ جیسا کہ حضرت مسیح ناصریؑ نے کنواریوں کی مثال میں بتایا ہے وقت آنے پر کام نہیں کرسکتے اور مقابلہ پر پیچھے ہٹنے والے ثابت ہوتے ہیں۔ پھر کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو تیاری کے لمبے عرصہ سے گھبرا جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی جنگ ہونے والی ہی نہیں۔ کچھ دن تو اُن کا جوش قائم رہتا ہے مگر پھر اُن میں مساوات کا سارنگ پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ بھی وقت آنے پر کبھی کامیاب ثابت نہیں ہوا کرتے۔
    مَیں نے جماعت کو اِس امر کی طرف پچھلے چند ہفتوں سے توجہ دلائی ہے کہ اسلام کی فتح اور اس کی کامیابی کے لیے جو جنگ ہونے والی ہے وہ اب قریب آرہی ہے اور ہمیں اس کی خاطر قربانیاں کرنے کے لیےتیار رہنا چاہیے۔ اس غرض کے لیے مَیں نے بعض مالی تحریکیں کی ہیں بعض وقفِ زندگی کی تحریکیں ہیں اور اِسی سلسلہ کی ایک کڑی گو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ وہ تحریک میں نے کی وہ دوسروں کی طرف سے آئی اور میرے دل نے اُس کو قبول کرلیا، کالج کی تحریک ہے۔ بعد میں مجھ پر انکشاف ہوا کہ یہ تحریک بھی آئندہ جنگ کی کڑیوں میں سے ایک اہم کڑی ہے۔ان تحریکوں کے معنے صرف یہ ہیں کہ ہمیں آئندہ جنگ کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔ جیسا کہ مَیں نے بارہا بتایا ہے وہ وقت جب اسلام کے لیے مسلمانوں کو فوری طور پر قربانیاں کرنی پڑیں گی اچانک آئے گا مگر جب تک اُس دن کے لیے پہلے سے تیاری نہ کی جائے وہ اچانک آئے یا خبر دے کر آئے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ تیاری ہی ایک ایسی چیز ہے کہ علم کے ساتھ جنگ ہو یا بغیر علم کے جنگ ہو انسان کے کام آیا کرتی ہے۔ پس مَیں نے جو مختلف تحریکات کی ہیں وہ اسی لیے ہیں کہ جماعت کو آئندہ جنگ کے لیے تیار کیا جائے۔ مَیں جانتا ہوں کہ کئی لوگ ایسے ہیں جو کچھ عرصہ کے بعد کہیں گے کہ کچھ بھی نہیں ہوا اُن کے دل بیٹھنے شروع ہوجائیں گے اور وہ سمجھیں گے کہ وہ دن جس کےلیے ہم تیاری کر رہے تھے نہ معلوم آتا بھی ہے یا نہیں آتا۔ مگر جب وقت آئے گا ایسے لوگ پیچھے گِر جائیں گے۔ اِسی طرح وہ لوگ جو اِس وقت اس آواز کا جواب نہیں دیتے اور سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے مخلص ہیں، ہم بڑی قربانی کرنے والے ہیں، ہم بڑا ایثار کرنے والے ہیں جب خدا کی طرف سے آواز آئے گی ہم فورًا قربانی کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ وہ بھی جب وقت آئے گا پیچھے ہٹ جائیں گے اور اسلام کے بہادر سپاہیوں کے ساتھ اپنے قدم ملا نہیں سکیں گے۔ صرف وہ منزل مقصود پر پہنچیں گے، صرف وہ کامیابی کا منہ دیکھیں گے اور صرف وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں گے جو اُس دن کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کریں گے اور کرتے چلے جائیں گے زمانہ کا بُعد یا زمانہ کا چھوٹا ہونا اُن کی تیاری میں روک نہیں بنتا۔
    حضرت مسیح ناصریؑ نے کہا مَیں جاتا ہوں تاکہ خدا تمہاری طرف دوسری قدرت بھیج دے اور مَیں اس لیے جاتا ہوں تاکہ خدا کی طرف سے تمہارے لیے فارقلیط آئے۔ لوگوں نے انتظار کیا اور کرتے چلے گئے۔ مگر آخر انہوں نے کہا فارقلیط کلیسیا ہی ہے۔ آخر چند صدیوں یعنی چھ سو سال کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعہ وہ فارقلیط ظاہر ہوا اور وہ لوگ جو انتظار کرکے تھک چکے تھے اُس فارقلیط پر ایمان لانے سے محروم رہ گئے۔ صرف وہ چند لوگ جو اس امید میں زندہ رہے اور اس کا ایک لمبے عرصہ تک انتظار کرتے چلے گئے انہوں نے اُس کو پالیا۔ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے کبھی اتنا لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے کہ قوم کی قوم سو جاتی ہے اور کبھی وہ گھڑی اتنی قریب کردی جاتی ہے کہ لوگ ابھی ہتھیار بھی سنبھالنے نہیں پاتے کہ لڑائی ختم ہوجاتی ہے۔ وہی شخص کامیاب ہوتا ہےجو اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ نہ معلوم کب اور کس چیز کا میرا دوست مجھ سے مطالبہ کرے گا۔
    مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سچی دوستی کے متعلق ایک کہانی سنایا کرتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے ایک امیر آدمی تھا جو بہت بڑا دولتمند تھا۔ اُس کا ایک لڑکا تھا جس نے اپنی دولت کی وجہ سے کئی اوباش نوجوان اپنے ارد گرد جمع کر لیے تھے۔ وہ اُن کے لیے قسم قسم کے کھانے تیار کرکے لے جاتا، قسم قسم کے شربت اُن کے پینے کے لیے تیار کراتا۔ کبھی فالودہ اُن کو کھلاتا، کبھی پھل اُن کے سامنے پیش کرتا، کبھی مٹھائیاں اُن کے لیے منگواتا، کبھی عطر اور خوشبودار تیل اُن کو دیتا، کبھی مختلف قسم کی خوشبودار دھونیوں سے اُن کے کمرے کو معطر کرتا۔ غرض ان کی مجلس خوب گرم رہتی۔ وہ شربت پیتے رہتے، کھانے کھاتے رہتے،مٹھائیاں اور پھل وغیرہ استعمال کرتے رہتے اور اقرار کرتے کہ ہم تجھ سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ ہمارے جیسے دوست کبھی کسی کو میسر نہیں آئے۔ باپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ نصیحت کرتا اور اُسے کہتا کہ ان دوستوں کا کوئی اعتبار نہیں مگر وہ جواب میں یہی کہتا کہ ابّا آپ کو کیا پتہ؟ یہ دوست تو ایسے اچھے اور وفادار ہیں کہ ان سے بڑھ کر وفادار دوست اَور کوئی ہوہی نہیں سکتا۔ایک دن باپ نے اپنے بیٹے سے کہا اگر تمہاری یہ بات درست ہے کہ یہ نوجوان تمہارے سچے دوست ہیں اور تمہیں میری بات پر اعتبار نہیں آتا تو تم اس کا تجربہ کرکے دیکھ لو۔ تم ان کے گھروں پر جاؤ اور اُن سے کہو میرے باپ نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا ہے اب میرے گزارہ کی کوئی صورت نہیں مجھے کچھ روپے دو تاکہ مَیں اُن سے تجارت کرسکوں۔ پھر دیکھو کہ تم سے یہ دوست کیسا سلوک کرتے ہیں۔ وہ کہنے لگا بہت اچھا مَیں اِس کا تجربہ کر لیتا ہوں۔ چنانچہ وہ کسی دوست کے پاس گیا اور اُس سے کہنے لگا ابّا نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا ہے اب مَیں چاہتا ہوں کہ گزارہ کے لیے کوئی تجارت کروں۔ فی الحال تم مجھے پانچ ہزار روپیہ دے دو۔ جب تجارت سے آمد شروع ہوگی تو آہستہ آہستہ یہ قرض اتار دوں گا۔ جس وقت دوست سے اُس نے یہ ذکر کیا وہ سنتے ہی کہنے لگا مجھے آپ سے بڑی ہمدردی ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ میرا روپیہ اِس وقت فلاں فلاں جگہ پھنسا ہوا ہے۔ اگر روپیہ میرے پاس ہوتا تو مَیں ضرور دیتا مگر مَیں معذور ہوں۔ یہ کہہ کر اور معذرت کا اظہار کرکے وہ واپس اپنے گھر چلا گیا۔ اس کے بعد یہ دوسرے دوست کے پاس گیا اور اس نے بھی یہی جواب دیا۔ پھر تیسرے دوست کے پاس گیا اور اُس نے بھی یہی جواب دیا۔چونکہ اِس عرصہ میں یہ بات اُس کے تمام دوستوں میں پھیل گئی اس لیے آخر میں تو ایسا ہوا کہ یہ جب اپنے کسی دوست کو آواز دیتا تو وہ باہر ہی نہ نکلتا اور نوکر کے ذریعہ کہلا بھیجتا کہ اُس سے جاکر کہہ دو میاں گھر میں نہیں ہیں۔ آخر وہ مایوس ہوکر رات کو اپنے گھر میں واپس آگیا اور باپ سے کہنے لگا کہ آپ کی بات تو سچی نکلی۔ مَیں سب کے پاس گیا مگر کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔ کچھ تو ایسے تھے جنہوں نے باہر نکل کر معذرت کر دی اور اکثر ایسے تھے جو باہر ہی نہ نکلے۔ باپ نے یہ سن کر کہا تم نے تو اپنے دوست دیکھ لیے آؤ اب مَیں تمہیں اپنا دوست بتاتا ہوں۔ یہ کہہ کر اُس نے اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور دوست کی طرف چل پڑا۔ راستہ میں اُسے کہنے لگا بیٹا! سچا دوست بڑی مشکل سے ملا کرتا ہے اور پھر جس طبقہ میں تم اپنے دوست تلاش کرتے ہو اس میں تو کسی سچے دوست کا ملنا اَور بھی مشکل ہوتا ہے۔ تمہیں میرا دوست دیکھ کر تعجب آئے گا مگر سچا دوست وہی ہے۔ یہ کہتے ہوئے و ہ اُسے شہر سے باہر لے گیا۔ وہاں ایک چھوٹی سی جھونپڑی تھی۔ اس جھونپڑی کے قریب پہنچ کر اُس نے دروازہ پر دستک دی اور جو شخص اس کے اندر تھا اُسے بلایا۔ بیٹا یہ دیکھ کر بڑا حیران ہوا کہ میرا باپ تو اتنا امیر آدمی ہے اور اس کا دوست ایسا غریب اور چھوٹے طبقے کا ہے کہ ایک جھونپڑی میں رہتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اندر سے آواز آئی کہ کون ہے؟ اس نے اپنا نام لیا کہ مَیں ہوں اور ایک ضروری کام کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔ اس آواز کو سننے کے بعد خاموشی طاری ہوگئی۔ دو منٹ، چار منٹ، دس منٹ، بیس منٹ گزر گئے مگر کسی نے دروازہ نہ کھولا۔ بیٹے نے اپنے باپ سے کہا آپ کا دوست بھی ویسا ہی نکلا جیسے میرے دوست تھے۔ باپ نے کہا ذرا ٹھہر جاؤ میرا دوست ایسا نہیں ہے۔ معلوم نہیں کیا وجہ پیش آئی کہ اُس نے نکلنے میں دیر لگا دی ہے۔ تھوڑی دیر گزری تو دروازہ کھلا اور اندر سے معمولی غریبانہ لباس میں ایک شخص نکلا جس کے ساتھ اُس کی عورت تھی۔ ہاتھ میں تلوار تھی اور کمر کے ساتھ ہمیانی1 بندھی ہوئی تھی جس میں روپے تھے۔ اُ س نے باہر نکل کر اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا اور پھر پوچھا کہ کیا کام ہے؟ اُس نے کہا کام تو پھر بتاؤں گا پہلے تم یہ بتاؤ کہ تم نے باہر نکلنے میں دیر کیوں لگائی ہے؟ وہ کہنے لگا میرے آپ کے ساتھ مدت سے دوستانہ تعلقات ہیں اور ہم کبھی کبھار آپس میں مل بھی لیتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے پر کامل یقین اور اعتبار ہے کہ آپ کو کوئی ضرورت پیش آئے تو مَیں آپ کے کام آؤں گا اور اگر مجھے کوئی ضرورت پیش آئے تو آپ میرے کام آئیں گے۔ لیکن یہ واقعہ کہ رات کو آپ میرے پاس آئے ہوں اور آپ نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا ہو ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ پس جب آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو مَیں نے سمجھ لیا کہ ضرور کوئی بڑی مصیبت آئی ہے تبھی آپ رات کو میرے پاس آئے ہیں۔لیکن مَیں نے کہا خواہ کوئی بھی مصیبت ہو مجھے اس کے لیے تیار رہنا چاہے۔ چنانچہ مَیں نے سوچا کہ میرے پاس تین چیزیں ہیں۔ ایک میری بیوی ہے، کچھ ساری عمر کا اندوختہ پانچ سَو روپیہ ہے جو زمین میں دفن ہے جو ایک چھوٹی موٹی ملازمت سے مَیں نے تھوڑا تھوڑا کرکے جمع کیا ہے اور ایک میری جان ہے۔ مَیں نے خیال کیا کہ گوآپ بڑے آدمی ہیں مگر کسی وقت بڑے آدمی کو بھی کوئی مصیبت پیش آجاتی ہے۔ شاید آپ کو روپیہ کی ضرورت ہو اور اِسی لیے آپ میرے مکان پر تشریف لائے ہوں۔ سو مَیں اٹھا اور روپیہ نکالنے لگا اور اِسی وجہ سے مجھے دیر لگی ہے۔ کیونکہ مَیں غریب آدمی ہوں اور مَیں نے ایک گہرا گڑھا کھود کر وہاں پانچ سو روپیہ دفن کیا ہوا تھا گڑھے کے کھودنے اور روپیہ نکالنے میں کچھ دیر ہوگئی۔ مگر بہرحال مَیں نے روپیہ نکال لیا۔ پھر مَیں نے اپنی بیوی کو ساتھ لیا اور خیال کیا کہ شاید عورتوں کی خدمت کی ضرورت ہو۔ چنانچہ مَیں نے اسے کہا چل نیک بخت! شاید تیری خدمت کی ضرور ت ہو۔ تیسری چیز میری جان ہے سو وہ بھی حاضر ہے۔ اور تلوار میرے ہاتھ میں ہے کوئی بھی آپ کا دشمن ہو مَیں اُس سے لڑنے اور اپنی جان دینے کے لیے تیار ہوں۔ سو مَیں تینوں چیزیں لے کر آگیا ہوں۔ اگر کسی عورت کی خدمت کی ضرورت ہے تو میری بیوی حاضر ہے، اگر روپیہ کی ضرورت ہے تو میری ساری عمر کا اندوختہ حاضر ہے، اگر جان کی ضرور ت ہے تو میری جان حاضر ہے۔ جس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے کہیں مَیں اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اُس امیر آدمی نے شکریہ کے ساتھ اُسے رخصت کیا اور کہا مَیں تو صرف اپنے بیٹے کو نصیحت کرنے کے لیے یہاں لایا تھا۔اس کے بعض اوباش نوجوان دوست تھے اور یہ ان کو بڑا وفادار اور سچا دوست سمجھتا تھا۔ مَیں نے اسے بتایا کہ وہ سچے دوست نہیں ہیں۔ سچا دوست اگر تم دیکھنا چاہتے ہو تو میرے ساتھ آؤ۔ چنانچہ مَیں نے اسے دکھا دیا کہ سچا دوست کیسا ہوا کرتا ہے۔ مجھے کسی خدمت کی ضرورت نہیں تم اپنے گھر چلے جاؤ۔
    حقیقت یہ ہے کہ االلہ تعالیٰ بھی اپنے ایسے ہی دوست دنیا میں چاہتا ہے۔ یہی لوگ خدا تعالیٰ کی جنت میں جاتے ہیں اور انہی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۝ ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً۝ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ۝ وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۝2 اے نفسِ مطمئنہ! جو ایک ہی طرف ٹِک گیا یعنی جو ایک طرف جھکا اور پھر جھکتا ہی چلا گیا اور میرے ساتھ تعلق پیدا کرنے پر اُسے اطمینان ہوگیا۔ جب کسی شخص کے دل میں کوئی خلش ہوتی ہے وہ کبھی دائیں جاتا ہے کبھی بائیں جاتا ہے کبھی آگے جاتا ہے کبھی پیچھے جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے مقصود کی تلاش اور اس کی جستجو میں محو ہوتا ہے۔ ابھی اس کا مقصود اُسے ملا نہیں ہوتا۔ لیکن نفسِ مطمئنہ وہ ہے جس کا مقصود اُسے مل گیا۔ جیسے بچہ جب ماں سے کھویا جاتا ہے تو وہ چیختا چِلّاتا کبھی دائیں جاتا ہے کبھی بائیں جاتا ہے کبھی ادھر جاتا ہے کبھی اُدھر جاتا ہے لیکن جب اُس کی ماں اُسے مل جاتی ہے تو وہ اس کی گودی میں آرام سے لیٹ جاتا بلکہ بسااوقات سوجاتا ہے۔ یہی مراد ہے نفسِ مطمئنہ سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نفسِ مطمئنہ! جسے میری جستجو تھی اور جس کو مَیں مل گیا اور جو مجھ پر ٹیک لگا کر ایسا لیٹا کہ پھر اِدھر اُدھر اُس نے نہیں دیکھا۔ ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ تُو نے جب مجھے دیکھ لیا تو تیرے دل سے کسی اور کی خواہش بالکل مٹ گئی۔ چونکہ تیرے دل میں میری بھی خواہش تھی اس لیے آ آ، اپنے ربّ کے پاس آجا۔ تجھے کسی اَور طرف جانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ تیری خواہش یہی تھی کہ تُو میری گودی میں آجائے۔ پس تُو آ اور میری گودی میں بیٹھ جا۔ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً۔ تُو خوش ہوگیا کہ جس چیز کی تجھ کو تلاش تھی وہ تجھے مل گئی۔ مگر یہی نہیں کہ تُو خوش ہوگیا کہ جس چیز کی تجھے تلاش تھی وہ تجھے مل گئی بلکہ بات یہ ہے کہ مَیں بھی خوش ہوگیا۔ کیونکہ جس طرح تجھے میری تلاش تھی اُسی طرح مجھے بھی تیری جستجو تھی۔ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۔آ آ اب تُو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور چونکہ اب تُو میرے بندوں میں داخل ہوگیا ہے اِس لیے جو چیز میری ہے وہ تیری ہے، جو میرا مال ہے وہ تیرا مال ہے۔ اور چونکہ میرا مقام جنت ہے اِس لیے تُو بھی جنت میں آجا اور اُن بندوں میں شامل ہوجا جو آقا سے دُوری نہیں رکھتے۔ آقا کی چیز اُن کی چیز ہوتی ہے اور اُن کی چیز آقا کی چیز ہوتی ہے۔ اب میری چیزیں میری ہی نہیں بلکہ تیری بھی ہیں اور تیرا حق ہے کہ تُو ان سے جس طرح چاہے حظ اٹھائے۔
    اِن آیات میں تمثیلی طور پر وہی بات بیان کی گئی ہے جو اس مثال میں بیان کی گئی تھی۔ جیسے اُس نے کہا کہ مَیں اپنی ہر چیز لے آیا ہوں۔ بیوی لے آیا ہوں کہ شاید کسی عورت کی خدمت کی ضرورت ہو، مال لے آیا ہوں کہ شاید روپیہ کی ضرورت ہو، جان لے آیا ہوں اور ساتھ ہی لڑنے کے لیے تلوار بھی کہ شاید میری جان کی ضرورت ہو۔ اسی طرح فرمایا ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً۔تُو چاہتا تھا کہ مجھ کو لے لے اور میرے پاس آجائے۔پس چونکہ تُو نے مجھ کو لے لیا اور میرے پاس آگیا اس لیے میرے پاس آنے کی وجہ سے جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہے۔ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ۝ وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۔ نہ صرف مَیں نے تجھ کو اپنا وجود دے دیا بلکہ تجھے کامیاب بھی کردیا اور اپنی جنت میں تجھ کو داخل کردیا۔
    یہ کیسی وفا اور اخلاص والی محبت ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے رکھتا ہے۔ پھر وہ ایسی محبت کا ہم سے بھی تقاضا کرتا ہے۔ خواہ وہ ہم سے ایک ہزار سال تک انتظار کرائے اور پھر کہے آجاؤ میرے بندو!مجھے تمہاری جان کی ضرورت ہے اور وہ دوسرے منٹ میں ہی کہے کہ آجاؤ اور اپنی جانیں میرے دروازہ پر قربان کردو۔ اُس کو ایسے خادموں کی ضرورت نہیں ہے جو قربانی کے لیے تیاری نہیں کرتے یا اُس کی طرف سے آواز بلند ہونے میں اگر دیر ہوجاتی ہے تو وہ سست ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔
    پس جو تحریکیں مَیں نے جماعت میں کی ہیں ان کی طرف میں ایک دفعہ پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ کوئی شخص میری ان تحریکات کو اِس رنگ میں نہ سمجھے کہ شاید کل ہی وہ دن آنے والا ہے جب اسلام کی ترقی کے لیے جماعت سے انتہائی قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ہم تو کہتے ہیں اُس دن کے آنے میں ابھی اَوردیر ہو۔ تاکہ ہمارے کمزور بھی تیاری کرلیں اور ہم میں سے ہر شخص کے اندر ایسا مادہ پیدا ہوجائے کہ وقت آنے پر ہم اپنے اموال، اپنے اوقات، اپنی جانیں، اپنی اولادیں، اپنی بیویاں اور اپنے دوست سب کچھ خدا کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔جس طرح سفر پر جانے سے پہلے لوگ اپنی پوٹلیوں اور اپنے ٹرنکوں میں اسباب بند کرکے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ اس بات کے منتظر ہوتے ہیں کہ گاڑی کی سیٹی بجے تو وہ اپنا اسباب اٹھا کر ڈبّے میں بیٹھ جائیں اِسی طرح ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ دین کے لیے اپنی تمام چیزیں تیار رکھے۔ تاکہ جب خدا کی طرف سے آنے والے انجن کی آواز سنائی دے تو وہ دو چار منٹ کے اندر اندر سٹیشن پر پہنچ جائے۔ اور پھر جتنے منٹ اُس گاڑی نے سٹیشن پر ٹھہرنا ہو اُس وقت کے اندر اندر اُس کا اسباب گاڑی پر لد جائے۔ اگر اِس طرح ہم اُس دن کے لیے تیار نہیں ہیں تو پھر ہم کسی خوش بختی یا ساعتِ سعید کا بھی انتظار نہیں کرسکتے۔ ہماری امیدیں محض ایک سراب کی حیثیت رکھیں گی جن سے آنکھیں تو چکاچوند ہوسکتی ہیں، جن سے مایوسی تو پیدا ہوسکتی ہے مگر تشنگی دور نہیں ہوسکتی"۔(الفضل9 مئی، 1944ء)
    ٭ آج ہفتہ کی شام تک سترہ ہزار سے زائد کے وعدے ہو چکے ہیں۔
    ٭٭آج ہفتہ کی شام تک دس ہزار سے اوپر نقد آچکا ہے۔
    ٭جمعہ کے معًا بعد ایک احمدی، بجلی کے کارخانہ کے مالک نے پیش کیا کہ وہ لاؤڈ سپیکر اس غرض کے لیے مسجد کو اپنی فرم کی طرف سے پیش کریں گے۔ فَجَزَاھُمُ اللہُ اَحْسَنَ الْجَزَاء۔
    ٭ اس کے بعد اَور نوجوان میٹرک پاس نے وقف کیا ہے اور بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ والوں نے بھی۔
    ٭ بعد میں یہ بات درست ثابت نہیں ہوئی۔ کئی دن کی ڈاک پڑی ہوئی تھی، جب اسے پڑھا گیا تو سینکڑوں وعدے اُس سے نکلے ہیں۔ مگر ابھی بہت توجہ کی ضرورت ہے۔
    ٭ اِس اعلان کے بعد چند گھنٹوں میں چالیس لاکھ کے قریب کی قیمت کی جائیدادیں دوستوں نے وقف کردیں۔ فَالْحَمْدُ لِلہ۔باہر کے دوستوں اور قادیان کے اَور دوستوں کی درخواستوں کے بعد تعجب نہیں کہ کئی کروڑ روپیہ کا ریزرو فنڈ اس غرض کے لیے قائم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کا رحم ان پر نازل ہو جو آگے بڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیں۔ اَللّٰھُمَّ آمِیْن
    1 : البقرة :157
    2 :ترعُّش:ارتعاش
    3 :بخاری کتاب الجنائز باب الصبر عند الصدمة الاولٰی (مفہوماً)
    4 :الحکم 23 جنوری 1899ء صفحہ 2
    5 : مسند احمد بن حنبل ،مسند عثمان بن عفّان صفحہ 62 بیت الافکار الدّولیہ لبنان 2004ء
    6 :آل عمران: 194،195
    7 :البقرۃ:143
    8 :صحیح بخاری کتاب الجنائز باب ما یکرہ من اتّخاذ المساجد علی القبور
    9 :ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان (مفہومًا)
    10:المصنف کتاب الجنائز باب من رخص فی زیارۃ القبور جلد3 صفحہ342،343 ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی1986ء (مفہومًا)
    11:اسد الغابہ جلد اول صفحہ 238 بلال بن رباح بیروت لبنان 2001ء
    12:پیدائش باب 50 ، یشوع باب 24 آیت 32 ، 33
    13:تذکرہ صفحہ10 ،195۔ ایڈیشن چہارم
    14:بدر 8 نومبر 1905ء
    15:تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ75
    16:المائدة:68
    17:تذکرہ صفحہ 411۔ ایڈیشن چہارم
    18:تذکرہ صفحہ 106۔ ایڈیشن چہارم
    19:بخاری کتاب العلم باب الغضب فی الموعظۃ والتعلیم اذا رأی ما یکرہ
    20:صحیح بخاری کتاب الاذان باب وجوب القراءۃ للامام……….
    21:تذکرہ صفحہ782۔ ایڈیشن چہارم
    22:زبور باب 37، آیت26
    23:برکات الدعاء روحانی خزائن جلد 6صفحہ 37
    24:وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ(الزمر:13)
    1 :التوبة:103
    2 :تاریخ الخلفاء للسیوطی صفحہ70۔ مطبع سرکاری لاہور 1870ء
    3 : التوبة:111
    4 :اشتہار 20 فروری 1886ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ95 ، 96
    1 : تذکرہ صفحہ10 ایڈیشن چہارم
    2 :الاحزاب:47
    3 :تذکرہ صفحہ177، 178۔ ایڈیشن چہارم
    4 :الفضل 24 جنوری 1935ء خطبہ فرمودہ 11 جنوری 1935ء
    5 :ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی المرأۃ والعبد یحذیان فی الغنیمۃ
    6 :بخاری کتاب الجہاد باب یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَاءِ الْاِمَامِ وَیُتَّقٰی بِہٖ
    7 :اسدالغابہ ذکر سراقہ بن مالک۔الجزء الثانی صفحہ 281دارالمعرفۃ بیروت لبنان 2001ء (مفہومًا)
    8 :سنن نسائی کتاب الوصایا باب الکراھیۃ فی تاخیر الوصیۃ
    9 :بخاری کتاب الصلٰوۃ باب کَنْسِ الْمَسجِدِ وَالْتِقَاطِ الْخِرَقِ وَالقَذٰی وَالْعِیْدَانِ
    10:تذکرۃ الاولیاء حضرت شیخ فرید الدین عطارؒ (اردو ترجمہ) صفحہ 225 ذکر حضرت جنیدؒ بغدادی تعلیمی پریس کشمیری بازار لاہور
    1 :تاریخ طبری جلد ثانی صفحہ631 ، 632 ۔ زیر عنوان ذکر الخبر عن عمرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم الّتی صدّہ المشرکون فیھا عن البیت و ھی قصۃ الحدیبیۃ۔ مطبوعہ مصر1961ء
    2 :بخاری كِتَاب الْعِلْمِ،بَاب الِاغْتِبَاطِ فِي الْعِلْمِ وَالْحِكْمَةِ
    3 :متی باب 12 آیت 46تا 49
    4 :یوحنا باب 19 آیت 25 تا 27
    5 :الحج:40
    6 :آل عمران:168
    ٭ بعض دوستوں نے خطبہ کے بعد مجھے لکھا ہے کہ اس الہام کا اس الہام کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ
    دیر آمدۂٖ ز راہِ دُور آمدۂٖ11
    یعنی گو جماعت کا راہ دُور ہے مگر اس اِلہام کے ماتحت تم جماعت کو لے کر اسی دور کی راہ کو جلد طے کر لو گے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوگے۔ خدا کرے یہ معنی درست ہوں مگر ہمارا کام یہ ہے کہ اپنی کمزوریوں پر نظر رکھیں اور قربانیوں کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔ یہ بہت اچھا ہے اس سے کہ ایسی امیدوں پر تکیہ رکھیں جو بعد میں پوری نہ ہوں اور ناکامیوں کے قریب کردیں ۔ اللہ تعالیٰ اس بُرے دن سے محفوظ رکھے۔ آمین
    1 : اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍ (حٰم السجدہ:48)
    2 :دیوان غالب مطبوعہ آئینہ ادب لاہور صفحہ89 میں شعر اس طرح سے ہے
    ‘‘ جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
    کیا خوب ! قیامت کاہے گویا کوئی دن اور’’
    3 :روح البیان فی تفسیر القرآن لشیخ اسماعیل حقی جلد 1 صفحہ 372 زیر آیت وَمَامُحَمَّدٌاِلَّا رَسُوْل…… المطبعۃ النفیسۃ العثمانیۃ 1306ھ
    4 :سیرت ابن ہشام، جلد نمبر 4 صفحہ 334۔ مطبع حجازی قاہرہ
    5 :دیوان حسان بن ثابت۔ الجزء الاول نمبر308صفحہ 478۔ المکتبۃ العلمیۃ لاہور
    6 : دیوان حسان بن ثابت۔ الجزء الاول نمبر 308 صفحہ 478۔ المکتبۃ العلمیۃ لاہور
    7 :بخاری كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ
    8 :حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ (المومنون:100،101)
    9 :پشّہ:مچھر
    10:ضمیمہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد 17صفحہ 79
    11:تذکرہ صفحہ 165۔ ایڈیشن چہارم
    1 :مُسَامَحَت:چشم پوشی کرنا۔ کسی سے نرمی کا برتاؤ کرنا
    2 :بنی اسرائیل:79
    3 :تذکرہ صفحہ581۔ ایڈیشن چہارم
    4 :ترمذی كِتَاب الرُّؤْيَا۔ بَاب قَوْلِهٖ لَهُمْ الْبُشْرٰی فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا میں یہ الفاظ ہیں:الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرٰی لَهٗ۔
    1 :ہمیانی:روپیہ پیسہ رکھنے کی پتلی تھیلی۔ خصوصاً وہ تھیلی جو حالتِ سفر میں کمر سے باندھی جاتی ہے
    2 :الفجر:28تا 31
    ------------------------------------------------------------

    ------------------------------------------------------------

    ------------------------------------------------------------










    17
    احمدی نوجوان جلد اس قابل بنیں کہ اسلام کی جنگ میں انہیں تنور کی لکڑیوں کی طرح جھونکا جاسکے
    (فرمودہ 5 مئی 4419ء)
    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    "ہر ایک تحریک کی تکمیل کے لیے کئی مرحلے ہوتے ہیں اور وہ ان میں سے گزر کر مکمل ہوا کرتی ہے۔ کسی تحریک کا سب سے پہلا حصہ خیال ہوتا ہے۔ ایک انسان کے دل میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ فلاں کام کرنا بھی اچھی بات ہے۔ پھر دوسرا قدم اس کے بعد ارادہ کا ہوتا ہے۔ یعنی وہ یہ ارادہ کرتا ہے کہ مَیں فلاں کام کروں گا۔ تیسرا قدم پھر اس کی تفصیلات کا ہوتا ہے۔ یعنی وہ اپنے اس خیال کو ایک تفصیلی شکل دیتا ہے۔ مثلاً کسی شخص کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ ہمیں ایک مکان بنانا چاہیے۔ تو اس خیال میں ابھی ارادہ شامل نہیں۔ کچھ دنوں کے غور کے بعد وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مَیں ایک مکان بناؤں گا۔ یہ گویا اس کا ارادہ ہے۔ جب تک صرف یہ خیال تھا کہ مکان بنانا چاہیے۔ اُس وقت تک یہ محض ایک خیال ہی تھا۔ مگر جب وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں مکان بناؤں گا تو یہ ارادہ ہے۔ اور جب وہ یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ بناؤں گا تو پھر یہ بھی سوچنا شروع کرتا ہے کہ وہ مکان کتنا لمبا کتنا چوڑا ہوگا، کتنے کمرے ہوں گے، کتنے کتنے رقبہ کے کمرے ہوں گے، مکان کی شکل کیا ہوگی۔ گویا ارادہ کے بعد تفصیلی شکل ہوتی ہے۔ پہلے خیال ہوتا ہے پھر ارادہ اور پھر تفصیلی تشکیل۔ جب اس ارادہ کو وہ تفصیلی تشکیل دے لیتا ہے تو اگر تو وہ فردی کام ہے تو اس کے لیے سامان جمع کرنا شروع کرتا ہے۔ یہ سامان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلے سامانِ ذریعہ وہ جمع کرتا ہے یعنی وہ سامان جو ذریعہ ہوتے ہیں اصلی اور حقیقی سامانوں کے مہیا کرنے کا۔ مثلاً میں نے مکان کی مثال دی ہے۔ تفصیلی تشکیل کے بعد انسان اندازہ کرتا ہے کہ اس پر ہزار دو ہزا، دس، بیس یا پچاس ہزار یا لاکھ یا دو لاکھ روپیہ صَرف ہوگا۔ اس لیے پہلے روپیہ کا انتظام کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ روپیہ سے اصلی اور حقیقی سامان مہیا کرتا ہے۔ یعنی اینٹ، لکڑی، چونا، سیمنٹ، لوہے کا سامان یعنی کیل، کانٹا، قبضہ وغیرہ وغیرہ اشیاء خریدتا ہے۔ گویا روپیہ سامانِ ذریعہ تھا۔ جب وہ اسے مہیا کر لیتا ہے تو پھر حقیقی سامان جمع کرتا ہے جس سے مکان تیار ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک اور مرحلہ ہے۔ یعنی وہ اس سامان کو استعمال کرنے والے لوگوں کو جمع کرتا ہے۔ ایسے مستری، معمار اور مزدور وغیرہ اکٹھے کرتا ہے جو اس اینٹ، لکڑی، لوہے اور چونے گارے وغیرہ کو استعمال کرسکیں اور مکان کی حیثیت کے مطابق دو، چار، دس، بیس یا سو پچاس معمار اور مزدور جمع کرتا ہے۔ یا اگر عمارت بڑی ہے تو کسی انجینئر کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ پھر سامان کا استعمال شروع کرتا ہے۔ اور جب تعمیرِ مکان کر لیتا ہے یعنی سامان کا استعمال بھی کر لیتا ہے تو پھر ایک اور مَرحلہ باقی ہوتا ہے۔ اور وہ اس مکان کی تزئین کا ہوتا ہے یعنی مکان کو رہائش اورآرام و آسائش کے قابل بنانا۔ محض مکان کی شکل کا مکمل ہوجانا انسان کی تسلّی، تشفّی اور آرام و آسائش کا موجب نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک تو صرف مکان کا سوال ہے۔ فرش کی بھی ضرورت نہیں۔ اس میں کسی پاٹ اور کموڈ کی ضرورت نہیں۔ دری، چارپائی، گلاس، لوٹا وغیرہ اشیاء میں سے چاہے ایک بھی کسی مکان میں نہ ہو۔ چاہے اس میں ایک بھی دیگچی نہ ہو، چلمچی نہ ہو، ایک بھی گڑوی نہ ہو، کوئی دری نہ ہو، چارپائی نہ ہو، پھر بھی وہ پورا مکان ہے۔ مگر جہاں تک رہائش کا تعلق ہے جب تک سامانِ تزئین نہ ہو، مکان رہائش اور آرام و آسائش کا موجب نہیں ہوسکتا۔ تو اگر کوئی کام فردی ہو تو اتنے مراحل کے بعد کہیں جاکر ارادہ کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور اگر وہ کام قومی ہو تو اُس کے لیے کام کے سامان جمع کرنے کے علاوہ لوگوں کے دلوں میں تحریک کرنا کہ وہ سامان مہیا کریں ایک مرحلہ ہوتا ہے۔لوگوں سے اپیل کرنی پڑتی ہے، اُن کو سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ ضروری کام ہے اس کی تکمیل میں مدد دیں۔ تو ایک کام کی تکمیل کے لیے کئی مرحلے ہوتے ہیں اور ان تمام سے گزر کر ہی وہ کام ہوسکتا ہے۔ بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ اِدھر خیال پیدا ہوا اور اُدھر کام ہوگیا۔ حالانکہ خیال تو محض ابتدائی حالت ہے۔ خیال کے بعد ارادہ، ارادہ کے بعد تفصیلی تشکیل، پھر ان اسباب کا مہیا کرنا جو حقیقی اسباب مہیا کرنے کاموجب ہوسکتے ہیں۔ اور پھر اگر وہ قومی کام ہو تو سامانِ ذرائع جمع کرنے سے پہلے لوگوں کو اُس کے لیے تحریک کرنا بھی ایک مرحلہ ہے۔ پھر چھٹا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقی اسباب مہیا کیے جائیں۔ پھر ساتویں اُن لوگوں کو جمع کرنا جو تفصیلی تشکیل کی تکمیل کرسکیں۔ پھر اس کے بعد یہ مرحلہ باقی ہوتا ہے کہ اُس کی تزئین کی جائے اور اُسے قابلِ رہائش اور قابلِ سکون و آرام و آسائش بنایا جائے۔ اور اگر وہ مکان کرایہ پر دینے کے لیے ہے تو نواں مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں رہنے کے لیے کوئی اچھا کرایہ دار تلاش کریں۔ تو مکان جیسی معمولی چیز جو ہر خاندان کے لیے ضروری ہے آٹھ نو مراحل گزرنے کے بعد مکمل ہوتی ہے۔
    قرآن کریم نے انسانی پیدائش کے بھی سات مراحل بیان کیے ہیں۔1 اِسی طرح وہ کام جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپر د کیا ہے اس کے بھی کئی مراحل ہیں۔ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ ابھی اُن کا خیال بھی ہمارے اندر پیدا نہیں ہوا۔ بعض کا خیال تو پیدا ہوچکا ہے مگر ابھی ارادہ نہیں کرسکے۔ بعض کا ارادہ کرچکے ہیں مگر اُس کی تفصیلی تشکیل ابھی نہیں کی۔ پھر بعض کے سامانِ ذریعہ ابھی مہیا نہیں کرسکے۔ بعض کے حقیقی سامان ابھی مہیا نہیں کیے گئے۔ بعض کے سامان بھی مہیا کر لیے ہیں مگر ابھی اس سامان کو استعمال کرنے والے آدمی مہیا نہیں کرسکے۔ اور بعض کام ایسے ہیں کہ اگر آدمی مل گئے ہیں تو ابھی کام شروع نہیں کرسکے۔کام شروع کرنا بھی ایک اہم مرحلہ ہے۔ بعض کام اگر شروع ہیں تو تکمیل ابھی نہیں ہوئی ۔اور بعض کی اگر تکمیل بھی ہوچکی ہے تو ابھی تزئین باقی ہے یعنی اسے ابھی قابلِ استعمال بنانا ہے۔ اور بعض ایسے ہیں کہ اگر تکمیل کے بعد تزئین بھی ہوچکی ہے تو کرایہ دار کی تلاش باقی ہے۔ گویا کئی ضروی کام ہیں جن کی ابتدا بھی ابھی ہم نے نہیں کی اور بعض کی ابھی ابتدائی حالت ہے۔ یوں نام کے طور پر توہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی جنگ لڑنی ہے مگر اسلام کی جنگ کوئی آسان کام نہیں۔ یہ پتھر اٹھا کر دریا میں پھینک دینا نہیں بلکہ اتنا اہم اور اتنا مشکل کام ہے کہ جب تک مردوں، عورتوں، بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کی صحیح رنگ میں تعلیم نہ ہو یہ کام نہیں ہوسکتا۔ جب تک لوگوں کے دلوں اور دماغوں کی صحیح رنگ میں تعلیم اور تربیت نہ ہو یہ کام نہیں ہوسکتا۔ اور یہ تعلیم کاکام بھی آسان نہیں۔یہ نہیں کہ ایک کتاب لکھ