1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 23

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 23, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 23



    1
    مومن کا فرض ہے کہ نئے سال میں گزشتہ سال سے زیادہ قربانیاں کرے
    (فرمودہ 2، جنوری 1942ء)

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مجھے کھانسی اور نزلہ کی تکلیف تو کئی دن سے تھی بلکہ کل سے اس میں کچھ افاقہ بھی شروع ہو گیا تھا کہ کل سے کمر میں شدید درد شروع ہو گیا ہے۔ جسے پنجابی میں ’’چُک‘‘ کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے سیدھا کھڑا بھی نہیں ہؤا جاتا بلکہ زیادہ بیٹھا بھی نہیں جا سکتا۔ اس لئے مَیں دو تین منٹ ہی خطبہ بیان کر سکوں گا۔ چونکہ یہ نئے سال کا پہلا خطبہ تھا اس لئے مَیں تکلیف کے باوجود آ گیا ہوں۔
    ہر سال جو مومن کے لئے آتا ہے۔ وہ اس کے لئے نئی برکات لاتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى 1 جس کے معنے یہ ہیں کہ تیری ہر اگلی گھڑی پہلی گھڑی سے اچھی ہے۔
    مومن اسے کہتے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کا سچا متبع ہو اور آپؐ کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہو اور جو آپؐ کا سچا متبع ہو گا اور آپؐ کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہو گا۔ یہ لازمی بات ہے کہ اس کے درجہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی اس سے ایسا ہی ہو گا جیسا محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ۔ پس ہر مومن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک وہی ہونا چاہئے جو قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کے متعلق بیان کیا ہے یعنی وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى۔اس کی بعد میں آنے والی حالت پہلی حالت سے اچھی ہو۔ بعض لوگ دنیا میں ہمیشہ نیا سال آنے پر اس کے بہتر ہونے کی امیدیں دوسروں کو دلاتے ہیں۔ مَیں ہمیشہ اس پر حیران ہؤا کرتا ہوں۔
    اخباروں والے جب بھی نیا سال شروع ہوتا ہے۔ اپنے خریداروں کو دھوکا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پچھلے سال میں بعض کوتاہیاں ہوئیں۔ بعض مشکلات درپیش تھیں۔ مگر اب ایسا نہ ہو گا۔ نئے سال میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے گی لیکن اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ گزشتہ سال تو ہم نے خوب غداری کی۔ ہمارے مضمون ردّی تھے۔ کاغذ ناقص لگایا جاتا رہا اور اس طرح ہم نے گاہکوں کے پیسے کھائے لیکن اپنے گاہکوں سے تحریک کرتے ہیں کہ تم ایک سال کے لئے اَور اپنے آپ کو احمق اور کودن بناؤ۔ وہ بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں کہ نئے سال کے لئے بہت اچھا انتظام کر دیا گیا ہے لیکن وہ پچھلے سال سے بھی بدتر ثابت ہوتا ہے۔ اور وہ اٰخِرَةٌ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى کے بجائے شَرٌّ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی ثابت ہوتا ہے۔ اس سال وہ پہلے سے بھی زیادہ ناغے کرتے ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ ردّی مضامین چھاپتے ہیں اورپہلے سے بھی زیادہ ناقص کاغذ لگاتے ہیں لیکن جب وہ سال بھی گزر جاتا ہے تو پھر اپیلیں شروع کر دیتےہیں کہ جو ہو چکا سو ہو چکا۔ گزشتہ را صلوٰة۔ جو غلطیاں گزشتہ سال ہوئیں وہ اب نہ ہوں گی۔ اور آپ لوگ اس سال ضرور خریدار بنے رہیں۔ گویا وہ اپنے گاہکوں سے یہ کہتے ہیں کہ آپ لوگ ایک سال کے لئے اَور بیوقوف بننا پسند کریں۔ یہ اخبار نویس ہمیشہ جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں۔ سوائے دینی اخباروں کے یا بڑے بڑے دنیوی اخباروں کے جو اس الزام سے بری ہیں۔ نیز یہ ہندوستان کے اخبار نویسوں کی حالت ہے۔ ورنہ یورپ کے اخبار نویس ایسے نہیں ہوتے۔ بے شک اب ہندوستان میں بھی بہت سے اخبار ٹھیک ہو رہے ہیں لیکن ایک کافی حصہ ابھی تک ایسا ہی ہے ۔ ان اخبار نویسوں کے علاوہ ایک طبقہ اَور ہے جو یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ گزشتہ سال ان کے لئے اچھا گزرا یا برا گزرا اور آئندہ سال کیسا ہو گا۔ وہ ہمیشہ دُبدھا اور شک کی حالت میں رہتے ہیں۔ وہ جانتے نہیں کہ پچھلا سال کیسا گزرا اور آئندہ کیسا گزرے گا۔ مگر دیکھو مومن کی حالت کیسے اطمینان کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے لئے ایک قانون مقرر فرما دیا کہ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى کہ ہر دن پہلے دن سے اور ہر سال پہلے سال سے بہتر ہو گا۔ پس جو شخص آپؐ کی اتباع کرنے والا اور آپؐ کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہو گا۔ یہ قانون اس پر بھی حاوی ہو گا۔ اور اس کے لئے ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے اور ہر آنے والا سال گزرے ہوئے سال سے اچھا ہو گا۔ دنیا کے لوگ جب کوئی سال گزرتا ہے تو اس پر لعنتیں کرتے ہیں اور نئے سال کے آنے سے گھبراتے ہیں۔ گزشتہ سال پر لعنتیں ڈالتے ہیں کہ وہ کیسی مشکلات اور مصائب کا سال تھا اورنئے سال سے گھبراتے ہیں کہ معلوم نہیں کیسا ہو۔ لیکن مومن پچھلےسال پر بھی خوش ہوتا ہے کہ یہ اس کے رب کی طرف سے تھا اور آئندہ پر بھی مطمئن ہوتا ہے کہ یہ بھی اس کے رب کی طرف سے ہے اورا س کے رب کا وعدہ ہے کہ وہ پچھلے سے اچھا ہو گا۔ مگر ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کایہ وعدہ ہے کہ اگلا سال پچھلے سال سے اچھا ہو گا۔ وہاں مومن کا بھی فرض ہے کہ وہ نئے سال میں پچھلے سے زیادہ قربانیاں کرے کیونکہ اگر یہ سچ ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے سچے متبع ہیں تو یہ بھی سچ ہے کہ ہمارا اگلا سال ضرور پچھلے سے بہتر ہو گا اور اگر یہ سچ ہے کہ ہمارا اگلا سال پچھلے سے بہتر ہوگا تو اس میں شبہ نہیں کہ ہمیں شکربھی پہلے سے زیادہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ شکر ہمیشہ نعمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر نعمت کم ہے تو ماننا پڑے گا کہ اس سال محمد رسول اللہ ﷺ کے سچے متبع نہیں رہے اور اگر رہے ہیں تو نعمت زیادہ ہونی چاہئے اور نعمت زیادہ ہو تو شکر بھی زیادہ لازم ہے اور قربانیاں بھی گزشتہ سال سے زیادہ کرنی ضروری ہیں۔
    ہو سکتا ہے کہ کسی سال کسی پر ظاہری مشکلات اور تکالیف زیادہ ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی سال اس کا بیماری میں گزرا ہو اور اس سے پہلا نہ گزرا ہو۔ کوئی سال مالی مشکلات میں گزرا ہو لیکن اس سے پہلا مالی لحاظ سے اس کے لئے اچھا ہو۔ مگر قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ اگلی حالت پچھلی سے اچھی ہو گی ان ظاہری مشکلات کا اس سے تعلق نہیں۔ یہ اس زندگی کے متعلق وعدہ ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور ہے۔ اس سے مراد یہ چند سالہ زندگی نہیں بلکہ وہ ہے جو لاکھوں کروڑوں بلکہ اَن گنت سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ اگر مومن کے لئے پہلے سال جنت میں ادنیٰ سامان جمع کئے گئے تھے اور اگلے سال اس سے بہتر جمع ہوں تو یہ وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى ہو گا یا نہیں۔دراصل یہ دونوں زندگیاں مل کر ایک زندگی بنتی ہے۔ جو لوگ اسی دنیا کی زندگی کو زندگی سمجھ لیتے ہیں وہ بھی ٹھوکر کھاتے ہیں۔ اور جو آخرت کی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھ لیتے ہیں وہ بھی ٹھوکر کھاتے ہیں۔ جو لوگ اس دنیا کو اصل زندگی سمجھ لیتے ہیں وہ اس دنیا کی مشکلات اور ابتلاؤں کو دیکھ کر خیال کر لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ ان کےساتھ اچھا نہیں۔ اور جو لوگ اگلی زندگی کو ہی زندگی سمجھتے ہیں وہ اس دنیا میں سچائی کو معلوم کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ اس زندگی پر اگلی دنیا کو قیاس نہیں کرتے بلکہ دونوں کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔ چاہئے یہ کہ اس زندگی پر اگلی زندگی کا قیاس کیا جائے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى2یعنی جو اس زندگی میں اندھا ہو گا وہ اگلی زندگی میں بھی اندھا ہو گا۔ اور اگر اس زندگی میں بینائی حاصل ہو گی تو اگلی میں بھی ہو گی۔ جو لوگ اس زندگی کو لغو اور کھیل سمجھتے ہیں اور اگلی زندگی کو ہی صرف زندگی سمجھتے ہیں وہ بھی محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے نشانات کو تلاش نہیں کرتے۔ اور ان کا ایمان پختہ نہیں ہوتا۔ پس جب بھی کوئی ٹھوکر انہیں لگتی ہے وہ اس کی برداشت نہیں کر سکتے اور ارتداد اختیار کر لیتے ہیں۔
    دراصل یہ دونوں زندگیاں ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ یہ جہان اگلے جہان کی تصویر ہے۔ ایک شخص کی اگر پہلے سال کی تصویر دیکھیں کہ وہ بالکل ٹھیک ہو لیکن اگلے سال کی تصویر دیکھیں تو ناک کٹی ہوئی ہو۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جس شخص کی یہ تصویر ہے اس کی ناک کٹ چکی ہے۔ اسی طرح ہر اگلے سال کی تصویر کا حال ہے۔ اگر ان میں کوئی خرابی دیکھیں تو سمجھنا چاہئے کہ اگلے جہان میں بھی حقیقی خرابی پیدا ہو گئی ہے لیکن اگر خرابی صرف تصویری ہو۔ یعنے صرف اس دنیا کی زندگی میں تو وہ یقیناً عارضی روک ہو گی۔ جیسے اگر ناک تو انسان کی درست ہو مگر تصویر کے اندر ناک میں کوئی نقص پیدا ہو جائے۔ تو اس سے صاحبِ تصویر کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ بلکہ فوٹو گرافر معذرت کرے گا اور اس کا بدلہ اگر ممکن ہو تو دوسری طرح دے گا۔ اسی طرح اگر کسی صحیح تصویر کو یہاں فرشتے کسی مصلحت کے ماتحت غلط طور پر پیش کریں تو اگلے جہان میں اس کے بدلہ میں وہ زیادہ نعمتیں جمع کرتے ہیں تاکہ اس غلط تصویر کا ازالہ ہو جائے۔ پس میں اس نئے سال کے آغاز پر احمدی احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سال میں زیادہ اچھا نمونہ دکھائیں۔ اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کسی حد تک بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی ہے۔ قلیل سے قلیل اتباع بھی کی ہے۔ تو یقین رکھیں کہ ان کا اگلا سال اس سے اچھا ہو گا۔ اور اگر ان کا اگلا سال اس سے اچھا ہو گا تو گزشتہ سال کی نسبت اس سال ان کے شکر، گزشتہ سال کی نسبت ان کی قربانیاں گزشتہ سال کی نسبت ان کی حمدیں، ثنائیں اور تسبیحیں بھی زیادہ ہونی چاہئیں۔‘‘ (الفضل 8،جنوری 1942ء)
    1 : الضحٰی: 5 2 : بنی اسرائیل: 73



    2
    جلد سے جلد چندہ تحریک جدید کے وعدوں کی فہرستیں مکمل کر کے بھیج دیں
    ( فرمودہ 9، جنوری 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’مَیں نے نومبر کے آخر میں تحریکِ جدید سال ہشتم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے دوستوں کو اس میں شمولیت کی تحریک کی تھی اور ہندوستان کے لئے اس کے وعدوں کی آخری تاریخ 31، جنوری مقرر کی تھی یعنی وعدوں کے جن آخری خطوط پر ڈاکخانہ کی 31، جنوری کی مہر ہو گی یا یکم فروری کی مہر لگی ہوئی ہو گی۔ ان کو تو درج کر لیا جائے گا مگر اس کے بعد آنے والے وعدوں کو قبول نہیں کیا جائے گا سوائے ہندوستان کے ان علاقوں کے وعدوں کے جہاں اُردو زبان نہیں بولی جاتی مثلًا بنگال یا مدراس وغیرہ۔ اور سوائے ان ہندوستانی افراد اور ہندوستانی جماعتوں کے وعدوں کے جو ہندوستان سے باہر ہیں۔ ان کے وعدے 30، اپریل تک قبول کئے جا سکتے ہیں اور 30 جون مَیں نے ان وعدوں کی تاریخ مقرر کی تھی جو ان غیر ممالک سے آتے ہیں جہاں کی جماعتیں ان ممالک کے باشندوں سے ہی بنی ہوئی ہیں یا ان کی اکثریت ان ممالک کے باشندوں پر مشتمل ہے۔ ہندوستانیوں کی ان میں کثرت نہیں جیسے انگلینڈ ہے۔ سماٹرا ہے، جاوا ہے، ویسٹ افریقہ ہے یا امریکہ وغیرہ ہیں۔ ان ممالک کے احمدیوں کے لئے وعدے بھجوانے کی آخری تاریخ 30، جون ہے۔
    20، دسمبر سے چونکہ دوست اور احباب قادیان آنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں اورکئی لوگ تو اس سے پہلے ہی قادیان آجاتے ہیں اور چونکہ قریباً تمام جماعتوں کے کارکن جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لئے لازمی طور پر دسمبر کا آخری ہفتہ اورجنوری کا پہلا ہفتہ اس کام کے لحاظ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ کیونکہ واپس جانے والے دوست متفرق اوقات میں واپس جاتے ہیں۔ اور پھر کچھ دن آرام میں گزر جاتے ہیں۔ اس طرح سات آٹھ جنوری تک وہ صحیح رنگ میں کوئی کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ بہرحال اب چونکہ وہ آرام کا وقت گزر گیا ہے۔ اور صرف تین ہفتے ہندوستان کے دوستوں کے وعدوں کی میعاد میں باقی رہ گئے ہیں جن میں کارکنوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے ہر فرد تک پہنچنا ہے۔ ان سے وعدے لکھوانے ہیں۔ جو لوگ فوری طور پر چندہ ادا کر سکتے ہوں ان سے چندے وصول کرنے ہیں۔ اور اس امر کو بھی مدنظر رکھنا ہے کہ دوستوں نے گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں نمایاں اضافے کے ساتھ وعدے کئے ہیں یا نہیں۔ اس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ آج پھر احباب جماعت کو اس چندہ میں شمولیت اور اس تحریک کی اہمیت کی طرف توجہ دلادوں۔
    تحریک جدید کے چندہ کی اہمیت کے متعلق مَیں نے جلسہ سالانہ پر بھی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی اور اس سے پہلے جب مَیں نے اس سال کی تحریک کا اعلان کیا تھا تو اُس وقت بھی دوستوں کو اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔ اور مَیں سمجھتا ہوں کہ اب مجھے اس چندہ کی اہمیت کے متعلق کچھ مزید کہنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم مَیں اس قدر کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے متواتر خطبات سے جماعت کے دوست اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے کہ یہ تحریک کس نیت سے کی گئی ہے اور ہمارا ارادہ اس سے کتنا عظیم الشان کام لینے کا ہے۔ نتائج اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ اور وہی بہتر جانتا ہے کہ اس تحریک کے کیا نتائج رونما ہوں گے لیکن بہرحال ہم نے اس تحریک سے اشاعتِ دین کے لئے ایک عظیم الشان بنیاد رکھنے کی نیت کی ہے۔ اور اس میں کیا شبہ ہے کہ مومن صرف نیت تک ہی اپنے کام کی حفاظت کر سکتا ہے۔ نیت کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت سے ہوتا ہے۔ گو اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ نیتِ صالح بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ مگر پھر بھی صرف نیت اور ارادہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد بنایا ہے ورنہ اعمال حالات کے لحاظ سے بالکل بدلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا اَلْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ 1 یعنی اعمال نیتوں کے تابع سمجھے جاتے ہیں۔ نیت عمل کے تابع نہیں سمجھی جاتی۔ اس حدیث میں جہاں مومنوں کے لئے ایک عظیم الشان بشارت ہے۔ وہاں منافقوں کے لئے ایک عظیم الشان تہدید بھی ہے۔ مومنوں کے لئے اس میں بشارت اس طرح ہے کہ بعض اوقات مومن خدا تعالیٰ کی راہ میں پوری طرح اپنے دل کے حوصلے نہیں نکال سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ مَیں دین کی راہ میں قربان ہو جاؤں۔ مگر قربانی کا کوئی موقع ہی نہیں آتا اور اس کی خواہش دل میں ہی رہتی ہے کیونکہ محض قربانی کی خواہش کرنے سے کوئی شخص قربان نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی دشمن ہو اور وہ بھی محض دینی مخالفت کی بناء پر اس کو قتل کرے اور یہ چیز ایسی ہے جو کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔ اور اگر کوئی شخص بجائے اس رنگ میں اپنی قربانی پیش کرنے کے کسی دوسرے شخص کے پاس جائے اور کہے کہ میری گردن پر کلہاڑی مار دو تاکہ مَیں خدا تعالیٰ کے رستہ میں قربان ہو جاؤں تو یہ قربانی نہیں کہلائے گی بلکہ خود کشی کہلائے گی۔ ایسا شخص اگر نادان ہے تو اپنی نادانی کے مطابق خدا تعالیٰ سے سزا پائے گا اور اگر عالم ہے اور اس نے دین کا علم رکھتے ہوئے اس فعل کا ارتکاب کیا ہے تو وہ اپنے علم کے مطابق خدا تعالیٰ سے سزا پائے گا۔ بہرحال اس رنگ میں مرنے والا خودکشی کرنے والا ہی سمجھا جائے گا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ اسے دین کے ساتھ بڑا عشق تھا اور اس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ ہاں اگر کوئی شخص دین سے بغض رکھتے ہوئے اسے اسلام سے پھرانا چاہتا ہے اور جب وہ اسلام چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ تو اپنے اندرونی خبث کے نتیجہ میں اس پر حملہ کر دیتا ہے اور مومن جان سے مارا جاتا ہے۔ تب اس کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ شہید ہؤا ہے اس کے بغیر نہیں تو شہادت کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ دوسرے کے اختیار میں ہوتی ہے اور دوسرا بھی کوئی دوست نہیں ہوتا جس کے اختیار میں یہ بات ہو بلکہ دشمن کے اختیار میں یہ بات ہوتی ہے۔ جو کام دوستوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہو اس کے متعلق تو انسان خیال کر سکتا ہے کہ مَیں وہ کام کرانے کے لئے اپنے دوستوں سے درخواست کروں گا۔ ان سے التجا کروں گا اور اصرار کروں گا کہ وہ میری خواہش پوری کر دیں مگر یہ چیز اس کے دوستوں کے اختیار میں بھی نہیں ہوتی مثلًا مہمان نوازی بڑے ثواب کاکام ہے۔ مگر یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ اسی طرح کسی دوست کی دعوت کرنا یہ بھی انسان کے اختیار میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے دوست کے پاس جا کر کہہ سکتا ہے کہ میری خواہش ہے آپ آج کا کھانا ہمارے ہاں کھائیں اور وہ اس بات کو مان لیتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کو ہم کھانے کے لئے بلانا چاہتے ہیں وہ بزرگ ہوتا ہے۔ اس صورت میں ہم اس بزرگ کے پاس جا کر اس سے التجا کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں کھانا کھایا جائے اور اصرار کے ساتھ اس کی عنایت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ تب اگر اس بزرگ کے پاس وقت ہوتا ہے اور وہ دعوت میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں دیکھتا تو ہماری بات مان لیتا ہے۔ اسی طرح ہم اپنے خورد کے پاس جا کر پیار اورمحبت سے چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے گھر آئے اور کھانا کھائے اور وہ ہماری بات مان لیتا ہے۔ پس یہ چیز ایسی ہے جو ہمارے دوستوں کے قبضہ میں ہے مگر شہادت دوست کے قبضہ میں نہیں بلکہ دشمن کے قبضہ میں ہوتی ہے اور اس میں درخواست التجا یا اصرار کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔ یہ بات اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتی ہے کہ چاہے تو وہ مارے اور چاہے تو نہ مارے۔
    پھر یہ شہادت ان افعال میں سے ہے جن کو خدا نے گو بہت بڑے ثواب کا موجب قرار دیا ہے۔ مگر ساتھ ہی اس قسم کے افعال کو اس نےر وکنے کا حکم دیا ہے۔ اس نے یہ تو بیشک کہا ہے کہ شہادت ایک بہت بلند مقام ہے اور جو شخص شہید ہوتا ہے وہ بہت بڑے ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ مگر اس نے یہ نہیں کہا کہ دشمن اگر تم پر حملہ کرے تو تم اس کا مقابلہ نہ کرو۔ بلکہ اس نے یہی حکم دیا ہے کہ جب دشمن تم پر حملہ کرے تو تم اس کا خوب مقابلہ کرو۔
    پس ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے شہادت کو نعمت قرار دیا ہے مگر دوسری طرف اسلام کی حفاظت کے خیال سے اس نعمت کی طرف دوڑ کر جانے سے منع کیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کیا کریں تاکہ اسلام کی حفاظت ہوتی رہے۔ پس اول تو شہادت کی نعمت دشمن کے قبضہ میں ہوتی ہے۔ پھر جس کے سامنے شہادت کا موقع آتا ہے۔ اسے بھی یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ اسے فوراً قبول کر لے بلکہ اسے یہی حکم ہوتا ہے کہ دشمن کے حملہ کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ روکو۔ اور اگر پھر بھی دشمن کامیاب ہو جائے تو شہادت کا انعام پاؤ۔ تو شہادت ان نعمتوں میں سے ہے جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔ مگر کسی کو دعوت پر مدعو کرنا یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔
    پس بعض نعمتیں دنیا میں ایسی ہوتی ہے جن کو انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے۔ اور بعض نعمتیں دنیا میں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے اختیار سے باہر ہوتی ہیں۔ جو نعمتیں انسان کے اختیار سے باہر ہوتی ہیں ان کا مل جانا انسان کے نصیبے کی بات ہوتی ہے ورنہ کئی لوگ باوجود خواہش اور کوشش کے ایسی نعمتوں سے محروم رہتے ہیں۔
    صحابہؓ کو ہم دیکھتے ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں شہید ہو جائیں اور انہوں نے مرتبہ شہادت حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی کوششیں کیں مگر باوجود شدید خواہش رکھنے کے بعض شہید ہوئے اور بعض نہ ہوئے۔ چنانچہ بعض کو تو فوراً ہی شہادت کا مقام حاصل ہو گیا اور بعض ساری عمر لڑائیوں میں شامل ہونے کے باوجود شہید نہ ہوئے۔
    امیر حمزہؓ جب جنگ کے لئے نکلے تو انہوں نے ابھی کوئی کام بھی نہیں کیا تھا کہ شہید ہو گئے حالانکہ وہ اسلام کے بہترین جرنیلوں میں سے تھے اور ابتدائے زمانۂ اسلام میں صرف 2 شخص مسلمانوں میں بہادر سمجھے جاتے تھے ۔ ایک حضرت عمرؓ اور دوسرے امیر حمزہؓ۔جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے رسول کریم ﷺ سے درخواست کی کہ ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہم گھروں میں چھپ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کریں ۔ جب کعبہ پر ہمارا بھی حق ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے اس حق کو حاصل نہ کریں اور کھلے بندوں اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ جو کفار کو فساد کے جرم سے بچانے کے لئے گھر میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ خانہ کعبہ میں عباد ت کے لئے تشریف لے گئے اور اس وقت آپ کے ایک طرف حضرت عمرؓ تلوار کھینچ کر چلے جا رہے تھے اور دوسری طرف امیر حمزہؓ اور اس طرح رسول کریم ﷺ نے خانۂ کعبہ میں عَلَی الْاِعْلان نمازا اد اکی 2 مگر باوجود اس کے کہ وہ اسلام کے بہترین جرنیلوں میں سے تھے۔ مکہ کے رئیس تھے اور دشمنان اسلام ان سے ڈرتے تھے۔ جب وہ پہلی مرتبہ لڑائی میں شامل ہوئے تو بغیر اس کے کہ وہ اپنی بہادری کے کوئی جوہر دکھاتے بیس تیس منٹ کے اندر اندر مارے گئے۔ وہ ایک دشمن کو زیر کرنے کے بعد واپس آ رہے تھے کہ پیچھے سے ایک شخص نے خنجر مار دیا 3اور وہ بہادر جو اسلام کے ابتدائی ایام کے زبردست جرنیلوں میں سے تھا اور جسے لڑائی میں شامل ہوئے ابھی بمشکل نصف گھنٹہ گزرا تھا۔ شہید ہو گیا۔ اس کے مقابلہ میں کئی لوگ بعد میں آئے اور وہ بارہ بارہ تیرہ تیرہ جنگوں میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ شامل رہے اور آپؐ کی وفات کے بعد بیسیوں جنگوں میں شامل ہوئے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت انہیں شہید ہونے کا موقع نہ ملا۔
    حضرت خالدؓ بن ولید جنہیں رسول کریم ﷺ نے سَیْفٌ مِّنْ سُیُوْفِ اللہِ4 قرار دیا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار، ان کے دل میں اسلام کو پھیلانے کا جو جوش تھا وہ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے خوب جانتے ہیں۔ وہ سالہا سال اسلامی فوج کے کمانڈر رہے اور اسلامی فوج کا کمانڈر گھر میں نہیں بیٹھ رہتا تھا بلکہ وہ لڑائی میں فوج کے ساتھ شامل ہؤا کرتا تھا۔ حضرت خالدؓ بن ولید بھی لڑائی میں شامل ہوتے اور ہر موقع پر جہاں جنگ کا زور ہوتا تھا اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کردیتے تھے۔ گو جرنیل ہونے کے لحاظ سے ان کے لئے یہ بات نا مناسب تھی اور بڑے بڑے صحابہؓ ان کو کہا بھی کرتے تھے کہ یہ طریق آپ کے منصب کے خلاف ہے آپ کا کام فوج کو صحیح طور پر لڑانا ہے نہ کہ اپنے آپ کو ہر خطرہ کے مقام پر ڈال دینا۔ مگر جوش شہادت میں وہ اس بات کی کوئی پروا ہ نہیں کرتے تھے اورہمیشہ خطرناک مواقع پر اپنی جان قربان کرنے کے لئے میدان جنگ میں کود پڑتے تھے۔ مگر مشیت ایزدی کے ماتحت وہ شہید نہ ہوئے بلکہ ایک لمبی بیماری کے بعد انہوں نے گھر میں وفات پائی۔ حالانکہ بیسیوں لوگ جنہوں نے ان کے بعد اسلام قبول کیا تھا اور جنہیں ان خطرات میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا تھا جن خطرات میں شامل ہونے کا حضرت خالدؓ بن ولید کوموقع ملا۔ وہ آپ سے پہلے شہادت پا گئے۔ تاریخوں میں آتا ہے کہ جب حضرت خالدؓ وفات پانے لگے تو ایک دوست ان کے ملنے کے لئے آیا۔ اور اس نے دیکھا کہ حضرت خالدؓ حسرت کے ساتھ کراہ رہے ہیں۔ وہ کہنے لگا خالدؓ ! کیوں کراہتے ہو؟ اللہ تعالیٰ کی جنت تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ حضرت خالدؓ نے یہ سنا تو بے اختیار رو پڑے اورکہنے لگے مَیں نے اپنی ساری عمر اس انتظار اور اس امید میں گزار دی کہ شاید خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے کا مجھے بھی موقع میسر آ جائے مگر افسوس مَیں شہید نہ ہؤا اور آج مَیں اپنے بستر پر جان دے رہا ہوں حالانکہ خدا جانتا ہے مَیں نے اپنی طرف سے اس پیالہ کے پینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اور مَیں نے پورا زور لگایا کہ کسی طرح شہادت کا مرتبہ مجھے نصیب ہو جائے مگر افسوس مَیں اس سے محروم رہا۔ پھر اسے کہنے لگے میرے سینہ پر سے کرتہ تو اٹھاؤ اور بتاؤ کہ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں۔ اس نے کہا کوئی جگہ نہیں۔ سب جگہ تلوار کے زخموں کے نشانات پائے جاتے ہیں۔
    پھر کہنے لگے اچھا اب میری پیٹھ پر سے کرتہ اٹھاؤ اور دیکھو کہ کیا میری پیٹھ پر بھی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں۔ اس نے پیٹھ پر سے کرتہ اٹھایا اور دیکھ کر کہنے لگا کہ پیٹھ پر بھی ہر جگہ تلوار کے زخموں کے نشانات پائے جاتے ہیں۔
    پھر انہوں نے کہا اب میرے پائنچے اٹھا کر دیکھو کہ کیا میری لاتوں پر کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں۔ اس نے دیکھا اور کہا کہ کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں۔
    یہ نشانات دکھانے کے بعد حضرت خالدؓ کہنے لگے۔ تم دیکھ سکتے ہو کہ مَیں نے کس طرح اپنے آپ کو بے پرواہ ہو کر جنگ میں ڈالا کہ آج میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر تلوار کے زخموں کے نشانات نہ ہوں مگر وہ لوگ جو میرے پیچھے آئے تھے وہ تو جامِ شہادت پی کر اپنے رب کے پاس چلے گئے اور مَیں بستر پر تڑپ تڑپ کر جان دے رہا ہوں۔5
    تو دیکھو۔ ایک قربانیاں وہ ہوتی ہیں جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتیں بلکہ دشمن کے قبضہ میں ہوتی ہیں۔ مگر ایک قربانیاں وہ ہوتی ہیں جو انسان کےا پنے اختیار میں ہوتی ہیں۔ جو قربانیاں انسان کے اپنے اختیار میں ہوتی ہیں درحقیقت انہی کے ذریعہ یہ پتہ چلتا ہے کہ انسان وہ قربانیاں بھی کر سکتا ہے یا نہیں جو اس کے اختیار سے باہر ہیں۔ ورنہ انسان اپنے دل میں خواہشیں تو کیا ہی کرتا ہے تو اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا انسانی عمل نیتوں کے مطابق ہوتا ہے۔ دیکھو خالدؓ کی نیت یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں مگر عمل نیت کے مطابق نہ ہو سکا۔ یعنی وہ شہید نہ ہوئے مگر کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جس وقت ارواح پیش ہوں گی اس وقت وہ لوگ جو خالدؓ سے سالہا سال پیچھے آئے اور جنہوں نے خالدؓ سے سینکڑوں گنا کم قربانیاں کی تھیں وہ تو شہیدوں کی صف میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے اور حضرت خالدؓ پچھلی صف میں محض صلحاء کے زمرہ میں پیش ہوں گے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا بلکہ حق یہ ہے کہ اگر ان شہداء کی ارواح صرف ایک ایک شہید کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گی تو حضرت خالدؓ کی روح ہزاروں شہیدوں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ کیونکہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ۔ اعمال نیت کے تابع ہوتے ہیں۔ نہ کہ نیت اعمال کے تابع ہوتی ہے۔ اگر ان لوگوں نے صرف ایک ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے کا ارادہ کیا اور وہ شہید ہو گئے تو خالدؓ نے سینکڑوں دفعہ خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے کا ارادہ کیا تھا گو حکمتِ الٰہی نے انہیں ظاہر میں شہید نہ ہونے دیا۔
    اگر عمل پر خدا تعالیٰ جزا دیتا تووہ ہزاروں لوگ جن کے دلوں میں بہت زیادہ قربانی کا جذبہ ہوتا ہے مگر حالات کی وجہ سے وہ اپنے دل کے حوصلے نہیں نکال سکتے اور قربانیاں اپنے دل کے ارادہ کے مطابق نہیں کر سکتے وہ تو محروم رہ جاتے۔ اور جن کو کسی قربانی میں شریک ہونے کا موقع مل جاتا گو ان کا دل بہت زیادہ قربانی پر آمادہ نہ ہوتا وہ زیادہ ثواب لے جاتے مگر اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا ۔ پھر اگر انسانی اعمال پر ہی اللہ تعالیٰ کی جزاء کا انحصار ہوتا تو جتنے امراء ہیں وہ دنیا میں بھی آرام سےر ہیں اور اگلے جہان میں بھی زیادہ انعامات لے جائیں۔ مگر ایسا نہیں ہو گا۔ ایک کروڑ پتی آدمی اگر چاہے تو آسانی سے دس لاکھ روپیہ چندہ دے سکتا ہے مگر ایک غریب آدمی جس کے پاس صرف ایک مٹھی بھر آٹا ہے وہ اس سے ایک دانہ زیادہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں نہیں دے سکتا۔ اب اگر خدا تعالیٰ کے حضور محض یہی بات دیکھی جاتی کہ ایک شخص نے دس لاکھ روپے دئیے ہیں اور دوسرے نے صرف مٹھی بھر آٹا تو کہا جا سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ انسانی عمل کو دیکھتا ہے۔ اس کی نیت کو نہیں دیکھتا اور اس صورت میں صرف وہی لوگ انعامات حاصل کر سکتے جو امراء ہوتے یا جنہیں کسی قربانی میں شامل ہونے کا موقع ملا ہوتا۔ مگر اللہ تعالیٰ ان باتوں کو نہیں دیکھتا اور نہ اس کی نظر ظاہر پر ہوتی ہے بلکہ وہ انسان کی نیت اور اس کے ارادہ کو دیکھتا اور اسی کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے پاس ایک کروڑ روپیہ موجود ہے وہ اگر دس لاکھ روپیہ چندہ دے دیتا ہے تو گو یہ بھی ایک نیکی ہے مگر اس کے مقابلہ میں وہ شخص جس کے پاس صرف مٹھی بھر جَو تھے اور اس نے وہ تمام کے تمام جَو خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دئیے اور اپنے لئے یا اپنی بیوی اوربچوں کے لئے اس نے کچھ نہیں رکھا۔ وہ یقیناً ان دس لاکھ روپے دینے والے سے خدا تعالیٰ کے حضور زیادہ عزت کا مستحق ہے۔ کیونکہ دس لاکھ دینے والے کی نیت یہ تھی کہ مَیں اپنی جائداد کا دسواں حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دوں اور مٹھی بھر جَو دینے والے کی نیت یہ تھی کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ مَیں خدا تعالیٰ کے رستہ میں قربان کر دوں۔ بے شک اس کے پاس صرف مٹھی بھر جَو تھے جو اس نے دے دئیے لیکن اس نیت کے مطابق اگر اس کے پاس ایک کروڑ روپیہ ہوتا تو وہ اس ایک کروڑ روپیہ میں سے دس لاکھ نہ دیتا، بیس لاکھ نہ دیتا، تیس لاکھ نہ دیتا بلکہ جس طرح اس نے سالم مٹھی جَو کی خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دی تھی اسی طرح وہ سب کا سب روپیہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیتا اور اپنے پاس ایک پیسہ بھی نہ رکھتا۔
    تو رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اَلْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ یہ مت خیال کرو کہ تمہارے اعمال ظاہری صورت میں خدا تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں وہ ظاہری صورت میں نہیں جاتے بلکہ جس قسم کی نیت کے تابع ہوتے ہیں اسی قسم کی نیت کے ساتھ خدا تعالیٰ تک پہنچتے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو اچھی طرح بول بھی نہیں سکتا وہ اگر ٹوٹی پھوٹی زبان میں کسی کو تبلیغ کرتا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے حضور اس کا مقام ادنیٰ ہو گا اور وہ شخص جو بڑا لسّان ہو، بڑا مشہور لیکچرار ہو اور اپنی تقریر سے لوگوں کو گرویدہ بنا لیتا ہو اس کا مقام زیادہ بلند ہو گا؟ ایسا ہرگز نہیں ہو گا بلکہ خدا تعالیٰ کے حضور دونوں کی نیت دیکھی جائے گی۔ بسا اوقات ایسا ہو گا کہ جو شخص نہایت عمدہ تقریر کرنے والا ہے اس کی نیت خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول نہیں ہو گی بلکہ وہ اس لئے تقریریں کرتا ہو گا تاکہ لوگ واہ واہ کریں اور اس کی تعریف کریں۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی نیت تو خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول اور اس کی مخلوق کو فائدہ پہنچانا ہی ہو مگر اس کے دل میں وہ سوز اور گداز نہ ہو جس کے بغیر قلوب کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص نہایت عمدہ تقریر کرنے والا ہو، اس کے دل میں سوز اور گداز بھی ہو مگر اس کے اندر یہ آگ نہ ہو کہ جب تک دنیا کے کونہ کونہ میں مَیں خدا تعالیٰ کا پیغام نہ پہنچا لوں گا آرام کا سانس نہیں لوں گا۔ اس کے مقابلہ میں وہ شخص جو بہت تھوڑی باتیں کر سکتا ہے۔ جو لمبی تقریریں نہیں کر سکتا مگر اس کے دل میں ہر وقت یہ آگ سلگتی رہتی ہے کہ مَیں خدا تعالیٰ کا پیغام اس کی بھولی بھٹکی مخلوق تک پہنچاؤں اور وہ رات اور دن کرب اور بے اطمینانی کےساتھ گزارتا ہے اور کہتا ہے کہ جب تک مَیں اپنے بھائیوں کو خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے وصال کی طرف نہ لے آؤں گا مجھے امن اور چین حاصل نہیں ہو گا۔ یقیناً خدا تعالیٰ کے حضور زیادہ بلند مقام رکھے گا اوریقیناً اس کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ خدا تعالیٰ کو دوسرے کی اعلیٰ درجہ کی تقریروں سے زیادہ پسند آئیں گے کیونکہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ پہلے شخص کی تقریر کے پیچھے جو نیت تھی وہ ایسی اعلیٰ نہیں تھی مگر اس کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے پیچھے جو نیت تھی وہ بہت اعلیٰ تھی۔ اسی طرح قربانی کے متعلق قرآن کریم نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خون اور گوشت کو نہیں دیکھتا بلکہ قربانی کرنے والے کی نیت کو دیکھتا ہے۔ ایک امیر آدمی آسانی کے ساتھ سو اونٹ یا سو دُنبے خدا تعالیٰ کی راہ میں ذبح کر سکتا ہے لیکن ایک غریب آدمی جو سال بھر قربانی کے لئے پیسے جمع کرتا رہتا ہے اور جس کا ایک ایک دن اس حسرت سے گزرتا ہے کہ کاش میرے پاس اتنی رقم جمع ہو جائے کہ مَیں ایک دفعہ عید کے موقع پر قربانی کر کے اس کا کچھ گوشت خدا کی راہ میں تقسیم کر دوں۔ اور کچھ گوشت اپنے دوستوں کو تحفةً پیش کروں وہ اگر سال بھر کی محنت اور تگ و دو کے بعد ایک معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی قربانی کرتا ہےتو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ اس کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی کو ردّ کر دے گا اور اس امیر کے موٹے تازے دُنبوں کو قبول کرے گا۔ اگر خدا تعالیٰ انسانی عمل پر فیصلہ کرتا تو یقیناً اس امیر کے موٹے تازے دُنبے قبول کر لئے جاتے اور اس غریب کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی ردّ کر دی جاتی مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ انسانی اعمال پر نہیں ہو گا بلکہ وہ فرماتا ہے يَنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ6خداتعالیٰ کے حضور قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا اگر اس کے پاس گوشت اور خون پہنچا کرتا تو وہ اچھا گوشت پسند کر لیتا اورتب وہ ان قربانیوں کو قبول کر لیتا جن میں بہت زیادہ خون بہایا گیا ہو۔ مگر وہ فرماتا ہے ہمارے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں پہنچتی۔ ہمارے پاس تو يَنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ قربانی کے پیچھے جو نیت ہوتی ہے وہ پہنچا کرتی ہے۔اگر ایک چھوٹی سی دُنبی ذبح کرنے والے کی نیت بہت اعلیٰ تھی اور دو سو بڑے بڑے دنبے ذبح کرنے والی کی نیت ایسی اعلیٰ نہیں تھی اور اگر اگلے جہان میں تمام قربانیوں نے متمثل ہونا ہے جیسا کہ قرآنِ کریم سے اس کا پتہ چلتا ہے تو قیامت کے دن جس نے دو سو دُنبے ذبح کئے ہوں گےاگر اس کے ساتھ اعلیٰ اخلاص نہ ہو گا تو اس کے ساتھ دو سَو دُنبے نہیں ہوں گے بلکہ ایک مریل سی دُنبی ہو گی اور جس نے ایک چھوٹی سی دُنبی ذبح کی تھی۔ اگر اس نے اعلیٰ اخلاص اور محبت کے ساتھ یہ قربانی کی تھی تو قیامت کے دن اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی دُنبی نہیں ہو گی بلکہ ہزارہا موٹے تازے دُنبے ہوں گے کیونکہ اس جہان میں چیزیں بدل جاتی ہیں اور وہ سب کی سب نیت کے تابع ہو جاتی ہیں۔
    تو یاد رکھو اعمال نیتوں کے تابع ہیں۔نیتیں اعمال کے تابع نہیں ہیں۔ پس اپنی نیت کے مطابق ہر انسان خدا تعالیٰ کے راستہ میں جو قربانی کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس سے ویسا ہی سلوک کرتا ہے جیسے اس کی نیت ہوتی ہے او رجبکہ نیت ہر انسان کے اختیار میں ہے مگر عمل اس کے اختیار میں نہیں۔ تو کتنے افسوس کی بات ہو گی اگر کوئی شخص اپنی نیت کی درستی کی طرف بھی توجہ نہ کرے۔ مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کے تمام افراد اپنی نیتوں کی درستی کی طرف توجہ کریں تو یہ نہیں کہ قربانی کم ہو جائے گی بلکہ قربانی کا درجہ بہت زیادہ بلند ہو جائے گا کیونکہ نیتوں کی درستی کےساتھ انسان کے کاموں میں برکتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی قربانیاں عظیم الشان نتائج پیدا کر دیا کرتی ہیں۔
    ہم نے بھی تحریک جدید سے ایک عظیم الشان کام سر انجام دینے کی نیت کی ہے اور ہمارا ارادہ اس روپیہ سے ایک بہت بڑے اور اہم کام کی داغ بیل ڈالنے کا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم سے کتنا کام ہو گا اور ہم اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوں گے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہماری جماعت کے تمام افراد اپنی نیتوں کو درست کر لیں اور نیتوں کو درست کرنے کے بعد تحریک جدید کی قربانیوں میں حصہ لیں۔ تو افراد کی نیتوں کی درستی ہماری جماعتی نیت میں بھی عظیم الشان برکت پیدا کر سکتی اور ہماری حقیر کوششوں کے بہت بڑے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ جماعت کیا ہے؟ جماعت افراد کے مجموعہ کا نام ہے اور جماعتی لحاظ سے ہم نے یہ نیت کی ہوئی ہے کہ ہم تحریکِ جدید کے چندہ سے تبلیغ اسلام کا ایک مرکزی فنڈ قائم کریں گے۔ جس کے نتیجہ میں ایک دن ہماری تبلیغ خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا تک پہنچ جائے گی۔ اور احمدیت تمام عالم پر چھا جائے گی۔ یہ نیت ہے جو تحریک جدید کے چندہ کے متعلق جماعتی رنگ میں ہم رکھتے ہیں۔ اگر اس تحریک میں حصہ لینے والے دوست بھی اپنی اپنی نیتوں کو درست کر لیں تو چونکہ جماعت افراد کے مجموعہ کا ہی نام ہوتا ہے اس لئے افراد کی نیت کی درستی ہماری جماعتی نیت کو بھی درست کر دے گی۔ اور اس میں ایسی برکت پیدا ہو جائے گی کہ جلد سے جلد اس کے شیریں ثمرات پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔
    پس مَیں جماعت کے دوستوں کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی نیتوں کو درست کرو۔ اپنے ارادوں کو نیک بناؤ اور اپنی کمروں کو کَس لو کیونکہ اب تحریک جدید کا ایک لمبا دور گزر چکا ہے اور بہت تھوڑا باقی ہے۔ جو جماعتیں اپنے چندوں کی لسٹیں بھجوا چکی ہیں ان کو مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی لسٹوں پر نظر ثانی کریں اور جن دوستوں نے اپنی طاقت سے کم قربانی کی ہے ان کے پاس ایک دفعہ پھر جائیں اور ان کے سامنے ان کی آمد اور ان کی قربانی کا نقشہ پیش کر کے کوشش کریں کہ وہ پھر اپنے وعدوں پر غور کریں اور اپنے چندوں میں اضافہ کریں۔ اسی طرح ہماری جماعت کے سینکڑوں افراد ایسے ہیں جو براہِ راست چندہ بھجواتے ہیں۔ ان کو بھی مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ جن افراد نے اپنی حیثیت کے مطابق قربانی نہیں کی یا کچھ چندہ تو دے دیا ہے مگر وہ کسی صورت میں ان کی قربانی نہیں کہلا سکتا۔ وہ بھی اپنے وعدوں پر نظر ثانی کریں اور مطالبہ کے مطابق قربانی کریں۔ پھر جن جماعتوں کی طرف سے ابھی تک چندوں کی فہرستیں نہیں آئیں یا وہ افراد جنہوں نے ابھی تک اپنےوعدے نہیں لکھائے اور ایسے لوگ ہماری جماعت میں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں ان کو بھی مَیں توجہ دلاتا ہوں کہ 31، جنوری آخری تاریخ ہے اور چونکہ 31، جنوری کی شام تک کا وعدہ ہم قبول کر لیا کرتے ہیں اور کئی مقامات ایسے ہیں جہاں سے شام کو ڈاک روانہ نہیں ہوتی اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جس خط پر یکم فروری کی مُہر ہو گی اسے بھی 31، جنوری تک کے وعدوں کے اندر شمار کیا جائے گا۔ پس اس قسم کی تمام جماعتیں جنہوں نے ابھی تک اپنی لسٹیں مکمل کر کے نہیں بھجوائیں انہیں چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اپنی فہرستیں مکمل کر کے مرکز میں بھجوا دیں۔ اسی طرح جن افراد نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی انہیں چاہئے کہ بہت جلد اپنے وعدوں کی فہرستیں مکمل کر کے مرکز میں بھجوا دیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہ سَابِقُوْن میں شامل ہوں۔ پیچھے رہنےو الوں میں شامل نہ ہوں۔ یاد رکھو جو لوگ آخری تاریخ کا انتظار کرتے رہتے ہیں وہ بعض دفعہ اپنی غفلت کی وجہ سے آخری تاریخ کو بھی وعدہ نہیں کر سکتے اور ان کا وعدہ ہمارے پاس ایسےو قت میں پہنچتا ہے جبکہ اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پس یہ مت خیال کرو کہ 31، جنوری آخری تاریخ ہے۔ اس تاریخ کو تم اپنا وعدہ لکھا دو گے۔ اس لئے کہ اگر تم نے 31، جنوری کو اپنا وعدہ لکھایا تو تم وعدہ کرنے والوں میں آخری آدمی ہو گے اور یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہو سکتی۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت میں جانے والا آخری شخص وہ ہو گا جو دوزخ میں سے سب کے بعد نکلے گا۔7 پس اگر تم بھی وعدہ کرنے والوں میں آخری آدمی بنتے ہو تو یہ تمہارے لئے کوئی خوشی کا مقام نہیں ہو سکتا۔ تمہیں تو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ تم نیکی میں سب سے پہلے حصہ لینے والے بنو اور اگر تم کسی وجہ سے پہلے حصہ لینے والوں میں نہیں آ سکے تو کوشش کرو کہ درمیانی درجہ تمہیں میسر آ جائے اور اگر تم درمیان میں بھی شامل نہیں ہو سکے تو اس کے بعد جس قدر جلد نیکی میں حصہ لے سکتے ہو لے لو اور کم سے کم تم یہ کوشش کرو کہ تم آخری آدمیوں میں سے مت بنو۔
    پس مَیں اس خطبہ کے ذریعہ ایک دفعہ پھر جماعتوں اور افراد کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدوں کی فہرستیں مکمل کر کے مرکز میں بھجوا دیں اورجو جماعتیں اپنی لسٹیں بھجوا چکی ہیں۔ اسی طرح جو افراد اپنے وعدے ایک دفعہ لکھا چکے ہیں وہ تمام جماعتیں اور افراد اپنے اپنے وعدوں پر نظر ثانی کریں اور تحریک جدید کے ماتحت زیادہ سے زیادہ قربانیاں کریں۔ اس تحریک کے دس سالوں میں سے سات سال گزر چکے ہیں اور اب صرف تین سال باقی رہ گئے ہیں۔ خدا ہی جانتا ہے کہ ہماری آئندہ نسلوں کو اس تحریک کے ماتحت کام کرنے کا کس حد تک موقع ملے گا لیکن یہ تو ظاہر ہی ہے کہ ہماری نیت اس روپیہ سے ایک ایسا فنڈ قائم کرنے کی ہے جس سے قیامت تک اسلام اور احمدیت کی تبلیغ ہوتی رہے اور قیامت تک مسلمان ہونے والوں اور احمدیت میں داخل ہونے والوں کا ثواب اس تحریک میں شامل ہونے والے دوستوں کو ملتا رہے۔ کیونکہ یہ روپیہ ایک مرکزی تبلیغی فنڈ پر خرچ ہو گا او راس فنڈ کے قیام میں جن لوگوں کا حصہ ہو گا یقیناً ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت تک ثواب عطا فرماتا رہے گا۔ یہ اتنے بڑے فخر کی بات ہے کہ اگر ہماری جماعت کے احباب اس نکتہ کو اچھی طرح سمجھ لیں تو اپنی قربانیاں ان کو حقیر نظر آنے لگیں۔ تم اپنے ایک لڑکے پر خوش ہوتے ہو اور اگر تمہارے دو لڑکے ہوں تو تم اَور بھی زیادہ خوش ہوتے ہو۔ اگر تمہارے تین لڑکے ہو جائیں تو تم اَور زیادہ خوش ہوتے ہو اور اگر تمہارے پانچ یا دس لڑکے ہو جائیں تو تم خوشی سے اپنے جامہ میں پھولے نہیں سماتے اور تم فخر سے اپنے دوستوں کے پاس ان کا ذکر کرتے ہو اور کہتے ہو کہ میرے پانچ یا دس لڑکے ہو گئے ہیں۔ اب میری نسل خوب چلے گی۔ حالانکہ بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص کے دس لڑکے ہوئے مگر وہ دس کے دس بے اولاد رہے اور اس کی نسل کا خاتمہ ہو گیا۔ اسی طرح ہم نے دیکھا ہے کہ ایک شخص کے دس لڑکے ہوئے ان دس لڑکوں میں سے ہر ایک کے آگے پانچ پانچ سات سات ، آٹھ آٹھ لڑکے ہوئے۔ پھر ان لڑکوں کے لڑکے ہوئے اور اسی طرح نسل چلتی چلی گئی مگر سات آٹھ پشتوں کے بعد کوئی ایسی وبا پڑی یا ایسی تباہی آئی کہ اس قوم کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ لیکن ہم نے ان لوگوں کے نام کو کبھی مٹتے نہیں دیکھا جنہوں نے خدا تعالیٰ کے نام پر قربانیاں کی ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی نسلیں آج تلاش کرنے کے باوجود نہیں مل سکتیں۔ ممکن ہے وہ بالکل مٹ گئی ہوں اور بالکل ممکن ہے کہ ان فاتح بادشاہوں کی نسلیں آج چوڑھوں اور ساہنسیوں کی شکلوں میں موجود ہوں لیکن ہم انہیں پہچان نہ سکتے ہوں کہ یہ فلاں بادشاہ کی نسل میں سے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے بندے جو اس کی راہ میں قربانیاں کرتے ہیں ان کو ہم نے آج تک کبھی مٹتے نہیں دیکھا۔ بلکہ جب ان کی قربانیاں انتہاء کو پہنچ جاتی ہیں تو بسا اوقات خدا تعالیٰ ان کی جسمانی نسلوں کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو قربانیاں کیں۔ ان کا تعلق دین سے ہی ہے۔ ان قربانیوں کے بدلہ میں اگر خدا تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام کو دنیا میں ہمیشہ قائم رکھتا اور آپ پر قیامت تک درود اور سلام بھیجا جاتا تو یہی انعام کافی تھا۔ مگر خدا تعالیٰ نے انہیں صرف روحانی انعام ہی نہیں دیا بلکہ یہ بھی کیا کہ مَیں تیری نسل کو بھی بڑھاؤں گا اور اسے ہمیشہ سرسبز و شاداب رکھوں گا۔ یہ ایک مادی انعام ہے جو روحانی انعام کے ساتھ آپ کو حاصل ہوا اور جس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ روحانی انعام سے سبق حاصل نہیں کرتے وہ مادی انعام سے ہی سبق حاصل کر لیں کیونکہ دنیا میں ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے روحانی انعامات کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کے مادی انعامات کو دیکھتا ہے۔ اسی طرح بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے روحانی عذاب سے فائدہ نہیں اٹھاتے البتہ کسی پر جسمانی عذاب نازل ہو تو اس سے ان کو بڑی عبرت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ بعض دفعہ جسمانی عذاب کا نظارہ بھی دکھا دیتا ہے جیسے فرعون اس وقت ایک روحانی عذاب میں بھی مبتلا ہےمگر کئی لوگ ہیں جو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمیں اگلے جہان کا کیا پتہ۔ معلوم نہیں اسے عذاب ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جسمانی عذاب کا نظارہ دکھانے کے لئے فرعون کی لاش کی حفاظت کی جو آج تک موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ جو فرعون کی لاش کی حفاظت کے متعلق تھا 8 ایک دنیوی عذاب تھا جو فرعون کو ملا۔چنانچہ آج ہر شخص جو موسیٰ ؑ کو ماننے والا ہے، ہر شخص جو عیسیٰ ؑ کو ماننے والا ہے، ہر شخص جو محمد رسول اللہ ﷺ کو ماننے والا ہے۔ جب بھی فرعون کی لاش کو دیکھتا ہے اس پر *** ڈالتا ہے۔ یہ کتنا بڑا عذاب ہے جو فرعون کو مل رہا ہے۔ پھر اس عذاب کی اہمیت اَور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ فرعون ان بادشاہوں میں سے تھا جو اپنے منہ پر ہمیشہ نقاب اوڑھے رہتے تھے اور انہوں نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ جو شخص بادشاہ کی شکل دیکھ لے وہ کوڑھی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اس کی ہتک کرتا ہے۔ اسی لئے وہ ہمیشہ اپنے منہ پر نقاب رکھتے تھے یہ بتانے کے لئے کہ ہم ایسے عالیشان انسان ہیں کہ ہماری شکل دیکھنا بھی ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ اور اگر کسی شخص کے لئے بادشاہ اپنا نقاب اٹھا دیتا تھا تو وہ بہت بڑا مقرب سمجھا جاتا تھا اور وہ اپنی قوم کا سردار بن جاتا تھا۔ مگر آج اس کی لاش عجائب گھر میں پڑی ہوئی ہے اور دو دو آنے کا ٹکٹ لے کر ہر چوڑھا اور بھنگی بھی اسے دیکھ سکتا ہے اور جس طرح بندر کا تماشا دیکھا جاتا ہے اسی طرح فرعون کی لاش دیکھی جاتی ہے۔ پھر دیکھنے والا کن جذبات کے ماتحت اسے دیکھتا ہے۔ اچھے جذبات کے ماتحت نہیں بلکہ ہر دیکھنے والا اس پر *** ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ خبیث تُو تھا موسیٰ ؑ کو دکھ دینے والا!
    تو اللہ تعالیٰ کبھی کبھی روحانی عذابوں کے ساتھ جسمانی عذاب کا سلسلہ بھی جاری کر دیا کرتا ہے اور کبھی کبھی روحانی انعاموں کے علاوہ جسمانی انعام بھی قربانی کرنے والوں پر نازل کرد یتا ہے۔ پس بالکل ممکن ہے کہ جو لوگ تحریک جدید میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے اعلیٰ درجہ کی قربانی کرنے والے لوگوں کو اللہ تعالیٰ صرف اپنے روحانی انعامات ہی نہ دے بلکہ اپنے جسمانی انعامات سے بھی انہیں حصہ عطا فرمائے۔ کیونکہ جس طرح ہم نے قربانی کے مختلف درجے مقرر کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے حضور قربانیوں کے مختلف مدارج ہیں۔ پس بالکل ممکن ہے کہ جو لوگ اعلیٰ درجہ کی نیت کے ساتھ قربانی کرنے والے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان کے متعلق یہ فیصلہ فرما دے کہ ان کے جسمانی نام کو بھی قائم رکھا جائے گا اور ان کے روحانی نام کو بھی قائم رکھا جائے گا۔ مگر اس کا تعلق روپیہ سے نہیں بلکہ نیت کے ساتھ ہے۔ اگر ایک شخص تحریک جدید میں سو روپیہ چندہ دیتا ہے مگر درحقیقت وہ ایک ہزار روپیہ دینے کی توفیق رکھتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے سو روپیہ چندہ کو کبھی اعلیٰ قربانی قرار نہیں دے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص دس ہزار روپیہ دینے کی توفیق رکھتا ہے مگر وہ صرف ایک ہزار روپیہ چندہ دیتا ہے تو اس کا ایک ہزار روپیہ دینا خدا تعالیٰ کے نزدیک ہرگز اعلیٰ قربانی نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی نیت کو دیکھتا اور اس کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہے۔
    پس اپنی نیتوں کو درست کرو اور ان نیتوں کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرو تاکہ اس دس سالہ جہاد کا اختتام تمہیں اس دس سالہ جہاد کے آغاز سے بہت زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث کرے اور تاکہ تمہارے بیعت میں داخل ہونے والے دن سے تمہاری موت کا دن تمہارے لئے زیادہ شاندار ہو۔ بالعموم انسان جب کسی صداقت کو قبول کرتا ہے تو ابتدا میں اس کے اندر بڑا ولولہ اور جوش ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن مومن وہ ہے جس کی موت کا دن اس کی بیعت کے دن سے زیادہ بابرکت ہو۔ بیعت کیا ہے؟ بیعت ایک انسان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے کا نام ہے۔ مگر تم جانتے ہو زندگی کی بیعت تو کسی بندے کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر کی جاتی ہے مگر موت کی بیعت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر کی جاتی ہے۔ زندگی میں چونکہ انسان خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دے سکتا کیونکہ وہ کوئی جسمانی وجود نہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ کے نمائندوں کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی ہے جو جسمانی زندگی کی بیعت کہلاتی ہے۔ مگر ایک بیعت وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر کی جاتی ہے اور وہ بیعت وہی ہے جو موت کےو قت مومن اپنے خدا کے ہاتھ پر کرتا ہے۔ اور اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت اس بیعت سے بہت زیادہ شاندار ہونی چاہئے جو اس کے کسی نمائندہ کے ہاتھ پر کی جائے۔ پس کامل مومن وہی ہے جس کی زندگی کی بیعت کے دن سے اس کی موت کا دن زیادہ شاندار ہو اوریہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ مومن اپنی نیت اور اپنے اعمال کو اَور بڑھاتا چلا جائے یہاں تک کہ وہ وفات پا کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو جائے۔
    مَیں امید کرتا ہوں کہ جماعتیں جلد سے جلد اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ کریں گی اور اسی میعاد کے اندر جو تجویز کی گئی ہے اپنی قربانیوں کا اعلیٰ نمونہ دکھائیں گی۔ یعنی ہندوستان کی جماعتیں اپنے وقت مقررہ کے اندر اس تحریک میں اپنی طاقت کے مطابق حصہ لیں اوربیرونی ممالک کی جماعتیں اس تاریخ کے اندر اندر حصہ لیں جو ان کے لئے مقرر کی گئی ہے اور اس طرح سب جماعتیں اور افراد مل کر اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے اس مستقل بنیاد کو مضبوط کرنے میں مدد دیں جو تحریک جدید کے ذریعہ قائم کی جا رہی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری ناچیز کوششوں کو بار آور کرے اور دنیا میں اسلام کا درخت ایسی مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جائے کہ اس کو کوئی دشمن اکھاڑ نہ سکے اور اس کے سایہ سے کوئی شخص بھاگ نہ سکے۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرنی چاہئیں کہ وہ اپنے فضل سے ایسا درخت قائم کر دے اوراس کی جڑیں ایسی مضبوط کر دے کہ نہ اسے کوئی شخص اکھاڑ سکے اور نہ اس کے سایہ سے کوئی شخص باہر جا سکے۔ ‘‘ (الفضل 14، جنوری 1942ء)
    1: بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللہ ﷺ (الخ)
    2 : سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 366 مطبوعہ مصر 1936ء
    3: بخاری کتاب المغازی باب قَتْل حَمْزَة بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ
    4: بخاری کتاب المغازی باب غَزْوَة مُؤتَةَ مِنْ اَرْضِ الشَّامِ
    5: الاستیعاب فی مَعْرِفَةِ الْاَصْحَابِ جلد 2 صفحہ 14 مطبوعہ بیروت 1995ء
    6: الحج: 38
    7: بخاری کتاب الاذان باب فَضْل السُّجُوْد
    8: فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ (یونس: 93)

    3
    انبیاء کی بعثت کے ساتھ جو تکالیف ہوتی ہیں مومن کو دلیری سے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے
    ( فرمودہ 16، جنوری 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مجھ سے ایک سوال کیا گیا ہے۔ ابھی جمعہ کی نماز کے وقت بعض دوستوں میں یہ اختلاف ہؤا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کا فتویٰ ہے کہ اگر نمازیں جمع کی جائیں تو پہلی پچھلی اور درمیان کی سنتیں معاف ہوتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جب نماز ظہر و عصر جمع ہوں تو پہلی اور درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں یا اگر نماز مغرب اور عشاء جمع ہوں تو درمیانی اور آخری سنتیں معاف ہو جائیں گی لیکن اختلاف یہ کیا گیا ہے کہ ایک دوست نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں میرے ساتھ تھے۔ مَیں نے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور جمعہ کی پہلی سنتیں پڑھیں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔ نمازوں کے جمع ہونے کی صورت میں سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ رسول کریم ﷺ جمعہ کی نماز سے قبل سنتیں پڑھا کرتے تھے مَیں نے وہ سفر میں پڑھیں اور پڑھتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے جو نوافل پڑھے جاتے ہیں وہ نماز ظہرکی پہلی سنتوں سے مختلف ہیں۔ ان کو دراصل رسول کریم ﷺ نے جمعہ کے اعزاز میں قائم فرمایا ہے۔ سفر میں جمعہ کی نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور چھوڑنا بھی جائز ہے۔ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفر میں پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی دیکھا ہے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمہ کے موقع پر گورداسپور تشریف لے گئے ہوئے تھے اور آپ نے فرمایا کہ آج جمعہ نہیں ہو گا کیونکہ ہم سفر پر ہیں۔ ایک صاحب جن کی طبیعت میں بے تکلفی ہے وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ سنا ہے حضور نے فرمایا ہے آج جمعہ نہیں ہو گا۔ حضرت خلیفة المسیح الاول یوں تو اُن دنوں گورداسپور میں ہی تھے مگر اس روز کسی کام کے لئے قادیان آئے تھے۔ ان صاحب نے خیال کیا کہ شاید جمعہ نہ پڑھے جانے کا ارشاد آپ نے اس لئے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب یہاں نہیں ہیں۔ اس لئے کہا کہ حضور مجھے بھی جمعہ پڑھانا آتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں آتا ہو گا مگر ہم تو سفر پر ہیں۔ ان صاحب نے کہا کہ حضور مجھے اچھی طرح جمعہ پڑھانا آتا ہے اور مَیں نے بہت دفعہ پڑھایا بھی ہے۔ آپ نے جب دیکھا کہ ان صاحب کو جمعہ پڑھانےکی بہت خواہش ہے تو فرمایا کہ اچھا آج جمعہ ہو جائے۔
    تو مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کو سفر کے موقع پر جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی۔ اور جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے تو مَیں پہلی سنتیں پڑھا کرتا ہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں کیونکہ وہ عام سنن سے مختلف ہیں اور وہ جمعہ کے احترام کے طور پر ہیں۔
    اس کے بعد مَیں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آج بارش ہو رہی ہے۔ زمیندار بارش کے لئے بہت تڑپ رہے ہیں کیونکہ اس کے نہ ہونے سے غلہ میں کمی ہو جاتی۔ پچھلے سال بھی غلہ کم ہؤا تھا اور آجکل بہت گراں ہے اور ایسے وقت میں بارش بہت مفید ہے۔ گو ایک ہفتہ قبل بھی کچھ بارش ہو گئی تھی مگر وہ پوری نہ تھی آج بہت اچھی ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مگر اس کے ساتھ دیکھ لو کچھ تکلیف بھی ہے۔ نمازیں جمع ہوں گی۔ پھر مَیں نے اعلان کرا دیا ہے کہ جو دوست اپنے اپنے محلوں میں جمعہ پڑھنا چاہیں پڑھ لیں۔ ہاں جو شوق سے یہاں آنا چاہیں اور آ سکتے ہوں وہ آ جائیں۔ بہت سے بوڑھوں، بچوں، کمزوروں اور کام والوں نے اپنے اپنے محلہ میں ہی پڑھا ہے اور جو تندرست تھے، آ سکتے تھے یا جن کے پاس کافی کپڑے تھے وہ یہاں آ گئے ہیں۔ پھر بارش ہو رہی ہے، پانی ہے اور اگرچہ ہماری شریعت نے ہر موقع کے لئے سہولت پیدا کر دی ہے اور اجازت دی ہے کہ جگہ کی تنگی کی صورت میں ایک دوسرے کی پیٹھوں پر بھی سجدہ کر سکتے ہیں پھر بھی جو لوگ بعد میں آئیں گے ان کو باہر کھڑا ہو کر نماز پڑھنی پڑے گی اور ان کے ہاتھ پاؤں اور پیشانی گیلی ہو گی۔ پھر جن کو نماز کے لئے چل کر آنا پڑا ہے۔ ان کو کیچڑ میں تکلیف ہوئی، کپڑے خراب ہوئے یا جن کو سَودا سلف کے لئے جانا پڑے گا ان کو کیچڑ میں سے گزرنا پڑے گا پھر جن لوگوں نے وقت پر مکانوں کی چھتوں پر لپائی نہیں کرائی ان کی چھتیں ٹپکتی ہوں گی۔ جس سے ان کو تکلیف ہو گی۔ بعض لوگوں کے پاس جانور باندھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ عام حالت میں تو وہ صحن میں باندھ لیتے ہیں مگر ایسی بارش اور سردی میں انہیں ان کو اپنے کمروں میں باندھنا پڑتا ہے اور وہ وہیں گوبر وغیرہ کرتے ہیں، ان کو بدبو آتی ہے، تکلیف ہوتی ہے مگر وہ مجبور ہیں۔ تو جہاں بارش اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہاں اس میں کچھ تکلیف کے پہلو بھی ہیں۔ پھر اس میں اندھیرا ہوتا ہے۔ بعض اوقات کڑک ہوتی ہے جس سے بچوں اور کمزور لوگوں کے دل ہل جاتے ہیں۔ بعض اوقات کمزور بچے ڈر سے مر بھی جاتے ہیں۔ پھر بارش میں بعض اوقات بجلی بھی چمکتی ہے اورکبھی گرتی بھی ہے جس سے جان و مال کا نقصان ہو جاتا ہے اور یہ سب اس میں تکلیف کے پہلو ہیں۔ مگر اس فضل کے مقابلہ میں لوگ ان تکالیف کی کوئی پروا ہ نہیں کرتے۔ سب جانتے ہیں کہ بارش ہو گی تو اس کےساتھ کیچڑ بھی ہو گا۔ کیا کوئی ایسا زمینداربھی ہے جو سمجھتا ہو کہ بارش ہو گی تو زمین گیلی نہ ہو گی اورکیچڑ نہ ہو گا یا پھر کوئی ایسا زمیندار ہے جو یہ نہ جانتا ہو کہ بارش ہونے سے سردی بڑھ جائے گی۔ پھر کوئی نہیں جو یہ نہ جانتا ہو کہ بارش کے ساتھ کڑک بھی ہوتی ہے۔ بعض اوقات بجلی بھی گرتی ہے جس سے لوگوں کو نقصان بھی پہنچتا ہے۔ سب ان باتوں کو جانتے ہیں مگر پھر بھی یہی دعائیں کرتے ہیں کہ یا اللہ بارش ہو، یا اللہ بارش ہو۔ وہ کیوں یہ دعائیں کرتے ہیں جب بارش سے تکلیف بھی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ بارش کے ساتھ جو فضل ہوتا ہے اس سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں تکلیف بہت کم ہے۔
    یہی حال انبیاء کی بعثت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب انبیاء آتے ہیں تو ان کی مثال بھی بارش کی ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ۔1 جس طرح بادلوں میں سے بارش ہوتی ہے تو جہاں اس کے بےشمار فائدے اور برکتیں ہوتی ہیں وہاں اس میں ظلمات، کڑک اور بجلی بھی ہوتی ہے۔ اس سے کچھ تکلیف بھی ہوتی ہے اوربعض اوقات نقصان بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح انبیاء کی بعثت کا حال ہے۔اس میں برکتیں بھی بہت ہوتی ہیں مگر کچھ تکلیف بھی پہنچتی ہے لیکن جس طرح بارش کی تکلیف کے باوجود اس کی ناقدری نہیں کی جاتی۔ اسی طرح انبیاء کی بعثت کی بھی ناقدری نہیں کرنی چاہئے۔
    اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک مامور مبعوث فرمایا اور اس سے تعلق پیدا کرنے والوں کو کچھ تکالیف بھی پہنچتی ہیں، گالیاں سننی پڑتی ہیں، بعض کو گھروں سے نکالا گیا۔ چونکہ انبیاء کی مثال بھی بادل کی سی ہوتی ہے ان کی بعثت کے ساتھ بھی اسی طرح کچھ تکالیف ہوتی ہیں جس طرح بارش کے ساتھ مگر بارش کی تکلیف کے باوجود سب یہی دعا کرتے ہیں کہ بارش ہو اورتھوڑی بہت تکالیف کے باوجود اس کی قدر کرتے ہیں۔ اسی طرح انبیاء کے زمانہ کی بھی قدر کرنی چاہئے او رتکالیف سے نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ یہ جو تکالیف ہیں ان کی قیمت اس وقت معلوم ہو گی جب نتیجہ نکلے گاجب فصل پکے گی تو معلوم ہو گا کہ یہ اندھیرے اور یہ کڑک اور برق کتنی قیمتی تھی۔ اگر یہ نہ ہوتی تو زمیندار جب اپنے کھیت میں فصل پکنے پر جاتا تو سوائے تھوڑے سے سوکھے اور جلے ہوئے دانوں کے اس کے ہاتھ کچھ نہ آ سکتا۔ لیکن بارش ہونے کے بعد جب اس کی فصل پکتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اندھیرا اور وہ کڑک اور وہ بجلی کتنی مفید تھی۔ اسی کے نتیجہ میں اس کے ایک سال کے لئے غلہ پیدا ہؤا، کپڑوں اور دوسرے اخراجات مثلاً شادیوں بیاہوں کے لئے سامان میسر آیا۔ ایک ایک دانہ کے ستّر ستّر اسّی اسّی اور سَو سَو ہوئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ بھی کچھ تکالیف ہوتی ہیں مگر جو انسان ان تکالیف کے باوجود اس نعمت کی قدر کرتا ہے اس کی مثال ویسی ہی ہوتی ہے جیسے وہ زمیندار جس کی فصل پر اچھی بارش برس چکی ہو۔
    پس بارش سے سبق سیکھنا چاہئے۔ زمیندار طبقہ بوجہ کم تعلیم یافتہ ہونے کے اور بوجہ اس کے کہ اسے قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بار بار پڑھنے اور سننے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کے ایمان عام طور پر تازہ نہیں ہوتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے موٹی موٹی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں موجود ہیں۔ جیسے یہ مثال ہے جس میں یہ بتایا ہے کہ انبیاء کے زمانہ کی مثال ایسے پانی کی طرح ہوتی ہے جو بادلوں سے برستا ہے اس کے ساتھ اندھیرے بھی ہوتے ہیں، کڑک بھی ہوتی ہے، بجلیاں بھی ہوتی ہیں مگر پھر بھی لوگ اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں اور اس کے فوائد کے مقابلہ میں اس کی تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہو جاتا کہ اگر ہر زمیندار دس دفعہ پھسلے تو پھر بارش ہو گی تو دیکھو کس طرح زمیندار بیس بیس دفعہ پھسلتے یا اگر خدا تعالیٰ یہ قانون بنا دیتا کہ ہر بارش کے ساتھ بیس دفعہ کڑک پیدا ہو گی تو زمیندار کہتے کہ خدایا تیس دفعہ کڑک پیدا ہو مگر بارش ہو جائے۔ تو ان باتوں کی بارش کے فوائد کے مقابلہ میں انسان کیا پرواہ کرتا ہے۔ آخر ہر انسان نے ایک روز مرنا ہے اور خدا تعالیٰ سے ہر ایک کا واسطہ پڑنا ہے۔ مضبوط سے مضبوط پہلوان بھی مرتے ہیں اورجہاں جا کر انسان نے فصل کاٹنی ہے وہاں اگر غلہ نکلا ہؤا ہو تو یہ تکالیف کیا حقیقت رکھتی ہیں۔ جب موت سامنے نہ ہو تو انسان پروا نہیں کرتا مگر جب وہ قریب ہو تو چاہتا ہے کہ اگر ایک گھنٹے کی بھی مہلت مل جائے تو مَیں ساری تلافیاں کر دوں۔ مگر اس وقت اس ارادہ کا کیا فائدہ۔ یہ تو اسی وقت فائدہ دے سکتا ہے جب قربانی کرنے کا موقع اور وقت ہو۔ اب دیکھو اگر اس وقت بارش نہ ہوتی اور دو تین ماہ بعد مثلاً اپریل میں ہوتی تو اس وقت زمیندار یہی دعا کرتے کہ خدایا اب بارش نہ ہو کیونکہ اس وقت بارش ہو تو باقی غلہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔
    تو انبیاء کی بعثت کے ساتھ جو تکالیف ہوتی ہیں مومن کو دلیری سے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ جب وہ ایک دفعہ دین کو سچا سمجھ کر قبول کرتا ہے تو پھر خواہ اسے کتنی تکالیف آئیں، خواہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں، ہاتھ کاٹ دئیے جائیں ، پاؤں کاٹ دئیے جائیں اسے ہرگز کمزوری نہ دکھانی چاہئے اور دین کے ساتھ اس طرح چمٹے رہنا چاہئے جس طرح چیونٹا جسے پنجابی میں ‘‘کاڈا’’ کہتے ہیں چمٹ جاتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں۔
    مجھے اپنا بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے میاں جان محمد صاحب کشمیری اسی مسجد کے امام تھے۔ ہمارے دادا صاحب نے انہیں مقرر کیا تھا۔ وہ ہمارے گھر کا کام کاج بھی کرتے تھے۔ ایک دن کوئی دوست مچھلی تحفہ کے طور پر لائے۔ ہماری ڈیوڑھی کے آگے ایک تخت پوش بچھا رہتا تھا۔ وہ اس پر بیٹھ کر مچھلی صاف کرنے لگے اور ہم چار پانچ بچے تماشہ دیکھنے کے لئے پاس بیٹھ گئے۔ میرے ہاتھ میں ایک پیڑا تھا جو مَیں کھا رہا تھا۔ مچھلی کے خیال میں شاید میرا ہاتھ تخت پر لگ گیا اور ایک چیونٹا پیڑے پر چڑھ گیا۔ مَیں جب اسے کھانے لگا تو اس نے ہونٹ پر کاٹ لیا۔ اسے بہتیرا کھینچا اور چھڑانے کی کوشش کی مگر اس نے نہ چھوڑا۔ آخر اسے میاں جان محمد صاحب نے چھری سے کاٹ دیا۔ یہی حال مومن کا ہونا چاہئے۔ یا تو وہ دین کو اختیار ہی نہ کرے اور اگر کرے تو پھر اس کے ساتھ اس طرح چمٹ جائے جس طرح چیونٹا چمٹ جاتا ہے۔ اور پھر چاہے اسے کاٹ ڈالا جائے چھوڑتا نہیں۔ اگر وہ مارا بھی جائے تو کوئی ہرج کی بات نہیں۔ ایمان کی فصل تو مرنے کے بعد ہی کٹتی ہے۔ پس اگر وہ مر بھی جائے گا تو اتنا ہی فرق پڑے گا کہ لوگوں کی فصل اگر مئی میں کٹتی تو اس کی فروری میں کٹ جائے گی اور اس کے دانے پہلے گھر آجائیں گے۔
    پس مومن کو چاہئے کہ پہلے تو صداقت کو سوچ سمجھ کر مانے اور جب مان لے تو پھر چھوڑے نہیں اور اس کی راہ میں جو تکالیف آئیں ان کی کوئی پروا ہ نہ کرے۔ ‘‘
    (الفضل 24، جنوری 1942ء)
    1: البقرة: 20

    4
    چندہ تحریک جدید سالِ ہشتم کے متعلق آخری اعلان
    ( فرمودہ 23، جنوری 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ’’مَیں کھانسی کی تکلیف کی وجہ سے آج زیادہ نہیں بول سکتا۔ لیکن چونکہ تحریکِ جدید سال ہشتم کے وعدوں کی معیاد میں اب صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے یعنی 31، جنوری کے ختم ہونے تک ہی ہندوستان کے دوستوں کے وعدے قبول کئے جا سکتے ہیں۔ سوائے ان علاقوں سے آنے والے وعدوں کے جن کا استثنیٰ پہلے کیا جا چکا ہے۔ اس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ ایک دفعہ پھر جماعت کے دوستوں کو اس چندہ کی اہمیت اور اس میں شمولیت کی طرف اختصار کے ساتھ توجہ دِلا دوں۔
    مَیں کہہ چکا ہوں کہ اب یہ تحریک موجودہ شکل میں اپنے اختتام کے ایام کے قریب پہنچ رہی ہے اور اس کے ختم ہو جانے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس میں حصہ لینے کی پھر کوئی اَور صورت پیدا ہو گی یا نہیں۔ اور جیسا کہ مَیں بتا چکا ہوں ہماری نیت یہ ہے کہ اس چندہ سے تبلیغِ اسلام کے لئے ایک مستقل فنڈ کھولا جائے جس کے ذریعہ مبلغین کے گزارہ کی صورت پیدا کی جائے تاکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آئندہ ہمارے چندے مبلغوں کے گزارہ کا انتظام کرنے کے لئے نہ ہوں بلکہ صرف تبلیغ و اشاعت کے کاموں کے لئے ان کی ضرورت باقی رہ جائے۔ جیسے اشتہارات ہیں یا کتابیں ہیں یا تبلیغ پر جانے والوں کے لئے کرائے ہیں یا مختلف ممالک میں مساجد کی تعمیر وغیرہ ہے۔ غرض جو عارضی یا وقتی کام ہیں ان کے لئے تو چندےکی ضرورت رہ جائے لیکن کارکنوں کے گزارہ کے لئے کسی چندہ کی تحریک نہ ہو بلکہ اسی تحریک جدید کے فنڈ سے ان کے گزارہ کا انتظام ہوتا رہے۔ اسی طرح ہمارا ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور ہمارے کام میں برکت ڈالے تو اس فنڈ سے زیادہ سے زیادہ مبلغ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ دنیا میں سینکڑوں ممالک ہیں اور ان ممالک میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان تمام ممالک میں رہنے والے لوگوں تک خدا تعالیٰ کا کلام پہنچانے اور اُس پیغام کو پہنچانے کے لئے جو اس آخری زمانہ میں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کے ذریعہ بھیجا اور اسلام کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلانے کے لئے ہمیں سینکڑوں مبلغوں کی ضرورت ہے اور پھر ان سینکڑوں زبانوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے جن کو سیکھنے کے بغیر ہم اپنے تبلیغی فرض کو ادا نہیں کر سکتے۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض زبانیں ایسی ہیں جن کے جان لینے کی وجہ سے انسان تعلیم یافتہ گروہ تک اپنے خیالات دنیا بھر میں پہنچا سکتا ہے مثلاً عربی ہے، انگریزی ہے، جرمن ہے، سپینش ہے، پرتگیزی ہے، فرانسیسی ہے۔ یہ چند زبانیں ایسی ہیں جن کو سیکھ کر انسان قریباً قریباً ساری دنیا میں تبلیغ کر سکتا ہے لیکن یہ تبلیغ صرف تعلیم یافتہ طبقہ تک محدود رہے گی۔ عوام کا گروہ جو بہت بڑی اکثریت رکھتا ہے اس کے کانوں تک خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے صرف ان زبانوں کا جاننا کافی نہیں بلکہ مقامی زبانوں کا جاننا بھی ضروری ہے مثلاً افغانستان میں چلے جاؤ وہاں بھی تمہیں ایک ایسا تعلیم یافتہ گروہ مل جائے گا جو عربی اور فارسی جانتا ہو گا۔ خصوصاً کابل اور اس کے اردگرد جو علاقہ ہے وہاں کےر ہنے والے لوگ فارسی ہی میں کلام کرتے ہیں اور انہیں فارسی زبان میں آسانی کے ساتھ تبلیغ کی جا سکتی ہے لیکن خوست کے علاقہ میں سوائے پشتو زبان جاننے والے کے اَور کوئی تبلیغ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح افغانستان کے بعض اَور علاقے ایسے ہیں جہاں صرف پشتو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ پھر ہندوستان اور کابل کے درمیان بعض ایسے قبائل ہیں جن میں تبلیغ کرنے کے لئے صرف پشتو جاننا کافی نہیں بلکہ مقامی زبانیں جاننا بھی ضروری ہے۔ یہ قبائل چالیس چالیس، پچاس پچاس ہزار کی تعداد میں ہیں اور صرف اپنی زبان میں ہی بات کو سمجھ سکتے ہیں کسی اَور زبان میں اُن سے بات کی جائے تو وہ نہیں سمجھ سکتے۔اسی طرح ہندوستان کے شمالی پہاڑوں پر چلے جاؤ تو تمہیں اُن پہاڑی لوگوں میں نہ کوئی عربی جاننے والا ملے گا، نہ کوئی فارسی جاننے والا ملے گا، نہ کوئی جرمن زبان جاننے والا ملے گا، نہ کوئی فرانسیسی زبان جاننے والا ملے گا، نہ کوئی اُردو جاننے والا ملے گا، نہ کوئی پنجابی جاننے والا ملے گا اور نہ کوئی ہندی جاننے والا ملے گا۔ یہ لوگ کسی جگہ دس ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں، کسی جگہ بیس ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں، کسی جگہ تیس ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں، کسی جگہ چالیس ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں اور کسی جگہ پچاس ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں اور ان سب کی اپنی اپنی مقامی زبانیں ہیں۔
    تو دنیا بھر میں تبلیغِ اسلام پہنچانے کے لئے ہمیں سینکڑوں زبانیں جاننے والوں کی ضرورت ہے۔ آخر جس طرح انگریزی جاننے ولے اس بات کےمستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے، جس طرح جرمن اس بات کےمستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے، جس طرح فرانسیسی اس بات کےمستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کوپہنچایا جائے، جس طرح عربی جاننے والے اس بات کےمستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے، جس طرح فارسی جاننے والے اس بات کےمستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے اسی طرح جو لوگ اپنی اپنی لوکل اور مقامی زبانیں بولتے ہیں وہ بھی اس بات کےمستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے اور یہ کوئی معمولی کام نہیں جب تک ہم بیسیوں سے شروع کر کے سینکڑوں اور ہزاروں تک اپنے مبلغین کی تعداد کو نہ پہنچا دیں اور جب تک ہر ملک ہر علاقہ اور ہر حصہ کی زبانیں جاننے والے لوگ ہم میں موجود نہ ہوں۔ اس وقت تک اس کام کو ہم صحیح طور پر سر انجام نہیں دے سکتے۔
    پس یہ کوئی معمولی کام نہیں اور نہ ہی یہ کام اس چندہ سے پورے طور پر ہو سکتا ہے جو تحریک جدید کے ذریعہ جمع کیا جا رہا ہے۔ ہاں اس روپیہ کو بیج کے طور پر استعمال کر کے اگر ہم اس کام کو بڑھانا شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا وقت آ سکتا ہے جب ہر زبان جاننے والے مبلغ ہمارے پاس موجود ہوں اورہر علاقہ میں تبلیغ کرنے کے لئے ہم اپنے افراد کو بھیج سکتے ہوں خواہ وہ علاقہ ایسا ہو جس میں صرف دس ہزار افراد ایک زبان کے جاننے والے ہوں اور خواہ اس سے بھی چھوٹا علاقہ ہو۔ بہرحال یہ معمولی کام نہیں بلکہ اس کے لئے بیسیوں سال کی محنت درکار ہے اور اس کے لئے متواتر بیداری اورمسلسل ہوشیاری اور قربانی کے ساتھ جماعت کو مبلغ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تب ایک لمبے عرصہ کے بعد ہماری جماعت یہ دعویٰ کر سکے گی کہ دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جس میں ہم نے خدا اور اس کے رسول کا پیغام نہ پہنچا دیا ہو۔ اور یہی غرض ہے جس کے لئے تحریک جدید کا یہ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔
    مَیں نے اس سال خصوصیت کے ساتھ جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ وہ اس سال پہلے سالوں سے نمایاں اضافہ کے ساتھ وعدے کریں اور قربانی کے میدان میں گزشتہ سالوں سے آگے قدم رکھیں چنانچہ اس سال کی تحریک کے ابتدا میں جماعت نے جس جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیا تھا اس کو دیکھتے ہوئے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس سال کی تحریک کا چندہ خدا تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سال سے بہت بڑھ جائے گا مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے بعد جماعتوں میں سستی پیدا ہو گئی ہے جو نہایت ہی افسوسناک امر ہے۔ ممکن ہے یہ میری ہی غلطی ہو اورجماعتیں چندوں کی فہرستیں تیار کر رہی ہوں اور ان کا یہ خیال ہو کہ آخری تاریخ تک ہم اپنی لسٹیں بھجوا دیں گے لیکن بہرحال اس وقت تک وعدوں کے جو اندازے یہاں پہنچ چکے ہیں وہ نہ صرف زیادہ نہیں بلکہ پچھلے سال کے وعدوں سے کم ہیں۔ دسمبر کے شروع حصہ میں اس سال کے وعدوں کی رقم پچھلے سال سے دس بارہ ہزار روپیہ زیادہ تھی۔ لیکن اب آ کر گزشتہ سال کے مقابلہ میں پانچ چھ ہزار روپیہ کی کمی ہو گئی ہے۔ ممکن ہے اس ماہ کے آخر تک یہ کمی پوری ہو جائے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پچھلے سال سے موجودہ سال کے وعدوں کی رقم زیادہ ہو جائے۔ لیکن سرِ دست ہم اپنی جماعت کے دوستوں کے موجودہ وعدوں سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں اور اگر خدانخواستہ یہی حقیقی اندازہ ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جماعت کے ایک طبقہ میں خطرناک سستی پیدا ہو گئی ہے۔ پس مَیں آج پھر جبکہ وعدوں کی میعاد کا وقت ختم ہو رہا ہے جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جہاں جہاں تحریک جدید کے کارکن موجود ہیں وہ فوراً اس کام میں مشغول ہو جائیں اور اپنی اپنی جماعتوں کی لسٹیں مکمل کر کے بہت جلد مرکز میں بھجوا دیں۔ اسی طرح وہ افراد جو اب تک تحریک جدید کے چندہ کے متعلق کوئی وعدہ نہیں لکھا سکے ان کو بھی مَیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے لکھا دیں۔
    قادیان کی جماعت باوجود دشمنوں اور منافقوں کے اعتراضات کے ہمیشہ قربانیوں کے میدان میں دوسروں سے آگے رہی ہے اور مَیں امید کرتا ہوں کہ اس سال بھی قادیان کی جماعت پچھلےسال سے بڑھ کر رہے گی اور اپنی قربانی کے معیار کو بلند کر کے نہ صرف اپنا مقام قائم رکھنے کی کوشش کرے گی بلکہ اسے پہلے سے بھی بڑھا کر دکھا دے گی۔
    پھر ہمارے ہزاروں بھائی ایسے ہیں جو میدانِ جنگ میں گئے ہوئے ہیں ان تک اخبار نہیں پہنچ سکتا کہ اس ذریعہ سے انہیں تحریک کا علم ہو اور دفتر کے پاس ان کے پتے نہیں ہیں کہ براہِ راست ان کو تحریک کی جا سکے اور چونکہ ان ہندوستانی افراد اور ہندوستانی جماعتوں کے لئے جو ہندوستان سے باہر ہیں وعدوں کی آخری تاریخ 30، اپریل ہے اور ان جنگ پر جانے والے احمدیوں میں سے کسی کا باپ ہندوستان میں موجود ہے کسی کا بیٹا موجود ہے کسی کا بھائی موجود ہے اور کسی کا کوئی اَور عزیز اور دوست موجود ہے اور انہیں اپنے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے پتے معلوم ہیں۔ اس لئے مَیں ایسے تمام دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ چونکہ باہر اخبارات نہیں پہنچ سکتے اس لئے وہ خطوط کے ذریعہ اپنے اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور دوستوں کو اطلاع دے دیں کہ تحریکِ جدید کے آٹھویں سال کے آغاز کا اعلان ہو چکا ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدوں کی اطلاع یہاں بھجوا دیں۔
    مَیں اس موقع پر اس امر پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ میری تحریک پر بعض لوگوں نے اپنے چندوں میں نمایاں طور پر اضافہ کیا ہے چنانچہ تین چار دن ہوئے ایک دوست کی طرف سے خط آیا کہ پہلے انہوں نے 108 روپے کا وعدہ کیا تھا مگر پھر میری اس تحریک پر کہ وعدوں میں اضافہ کرنا چاہئے انہوں نے 108 کی بجائے 337 روپے کا وعدہ کر دیا جو پہلے وعدہ سے تین گُنے سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح اور بھی کئی دوست ہیں جنہوں نے نمایاں اضافوں کے ساتھ وعدے کئے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی یہ ایک عجیب قدرت ہے کہ غرباء میں قربانی کی مثالیں زیادہ پائی جاتی ہیں حالانکہ قحط کی وجہ سے غرباء سخت تنگی سے گزارہ کر رہے ہیں اور ان کی مالی حالت کمزور ہے۔شاید اس میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ جانتا ہے کہ اس کے غریب بندے دنیا میں تکالیف سے دن گزار رہے ہیں اس لئےوہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کےگھر کو بہتر بنا دے اور اسی لئے وہ ان کے دل میں دین کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے کا جوش پیدا کر دیتا ہے تاکہ ان کی دنیوی تکالیف کا آخرت میں ازالہ ہو جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ نعماء کے مستحق ہو جائیں۔
    بہرحال اب ہندوستان کی جماعتوں اور افراد کے لئے تحریک جدید کے وعدوں میں صرف سات دن باقی رہ گئے ہیں۔ پس مَیں اس سال کی تحریک کے وعدوں کے لئے آج آخری اعلان کرتا ہوں اس کے بعد مَیں کوئی اَور اعلان نہیں کر سکوں گا کیونکہ اگلا جمعہ 31 تاریخ کو ہے جس کے بعد وعدوں کے بارہ میں کوئی تحریک نہیں کی جا سکے گی۔
    پس مَیں مقامی جماعت کے دوستوں اور بیرونی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ فوراً اس کام میں لگ جائیں اور وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے تمام جماعتیں اور افراد اپنے اپنے وعدوں کی اطلاع مرکز میں پہنچا دیں اور ایسا نیک نمونہ دکھائیں کہ جس طرح پہلے ہر سال کی تحریک گزشتہ سالوں سے بڑھ کر رہی ہے اسی طرح اس سال کی تحریک گزشتہ سال کے مقابلہ میں زیادہ کامیاب رہے بلکہ گزشتہ تمام سالوں سے اس سال کی تحریک بڑھ کر رہے تاکہ وعدوں میں زیادتی کی جو تحریک مَیں نے اس دفعہ کی ہے اس کا عملی نمونہ بھی ہماری جماعت پیش کر سکے۔ ‘‘ (الفضل 24، جنوری 1942ء)

    5
    خدا تعالیٰ کی حقیقی محبت اور عظمت اپنے دلوں میں پیدا کرو اور اُسے قومی جذبہ بناؤ
    ( فرمودہ 30 جنوری 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’پہلے تو مَیں گزشتہ جمعہ کے خطبہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں اس خوف کا اظہار کیا تھا کہ اس سال کے چندہ تحریکِ جدید کے جو وعدے ہیں وہ بجائے گزشتہ سال سے زیادہ ہونے کے اس وقت کمی پر جا رہے ہیں اور جماعت کے دوستوں کو تحریک کی تھی کہ جلد سے جلد اپنے وعدے بھجوا کر اس کمی کو پورا کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے جماعت کو اس بات کی توفیق دی کہ پیشتر اس کے کہ دوسرا جمعہ آئے اس نے گزشتہ کمی بھی پوری کر دی اور گزشتہ سال سے وعدے بھی بڑھ گئے۔ کام کرنے والی قوموں کے لئے یہ اصل مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے کہ اس کا ہر قدم پہلے کی نسبت آگے پڑے اور ان کے کام بڑھتے چلے جائیں۔ کام کےلحاظ سے دُنیا میں کوئی ایسی قوم نہیں جو کچھ نہ کچھ نہ کرتی ہو۔ لیکن فرق کام کرنے اورنہ کرنے والی قوموں میں یہی ہوتا ہے کہ نکمی قوم ایک جگہ پر کھڑی رہتی ہے یا اس کا قدم پیچھے پڑنے لگتا ہے اورجن کو خدا تعالیٰ نے بڑھانا ہوتا ہے اور جو کام کرنے والی ہوتی ہیں ان کا ہر قدم پہلے سے آگے پڑتا ہے اور اس لئے سلسلہ کے کاموں کے متعلق مجھے ہمیشہ یہ خیال رہتا ہے کہ ہمارا ہر قدم پہلے سے آگے پڑے۔ اور اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت ترقی کی طرف ہی جا رہی ہے۔ کیا بلحاظ تعداد کے اور کیا بلحاظ قربانیوں کے۔
    دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو اس وقت ہماری خاص توجہ چاہتی ہیں۔ میری مراد ان نقائص سے ہے جو جماعتوں کے بڑھنے سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض ہم میں سے بھی بعض میں پیدا ہو رہے ہیں اور وہ لوگ ایمان اور اس کے اثرات کے لحاظ سے اس پایہ کے نہیں جیسے کہ ہونے چاہئیں۔ ایسے نقص اس وقت تک دور نہیں ہو سکتے جب تک کلّی طور پر ساری جماعت میں یہ احساس پیدا نہ ہو جائے کہ ایسا وجود جماعت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اصلاح کی طرف انسان کا پہلا قدم احساس کی درستی کے ساتھ اٹھتا ہے اور جب کسی قوم میں اصلاح کا زبردست جذبہ پیدا ہو جائے تو یا تو ایسے کمزور افراد اس میں آتے ہی نہیں اور اگر آتے ہیں تو اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔ جتنا جذبہ کسی قوم میں مضبوط پیدا ہو جائے اتنا ہی وہ کمزور افراد کو برداشت نہیں کر سکتی۔ مسلمانوں میں بعض باتیں ایسی ہیں جو بہت بڑی ہیں مگر ان کے متعلق ان میں صحیح جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ اس لئے ایسے افراد ان میں ہیں جو ان باتوں میں کمزوری دکھا جاتے ہیں۔
    مسلمانوں سے میری مراد اس پاک زمانہ کے مسلمان نہیں جب وہ صحیح طور پر اسلام کی تعلیم پر چلتے تھے بلکہ میری مراد موجودہ زمانہ کے گرے ہوئے مسلمانوں سے ہے۔ انہیں دیکھ کر مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ ان میں خدا تعالیٰ کی محبت اتنی نہیں جتنی رسول کریم ﷺ کی ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ آج مسلمانوں میں رسول کریم ﷺ کی اتنی محبت ہے جتنی ہونی چاہئے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ سے ان کی محبت خدا تعالیٰ کی محبت سے بڑھی ہوئی ہے۔ گو وہ بھی کم ہے۔ نسبتی طور پر اگر کمی ہو تو وہ بھی ایمان کو قائم رکھنے والی چیز ہوتی ہے مگر وہ نسبت بھی آج ٹوٹ چکی ہے۔ رسول کریم ﷺ کی شان کے خلاف کوئی مسلمان کوئی بات نہیں کرتا مگر ایسے ہزاروں مسلمان ہیں جو خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف باتیں کر دیتے ہیں۔ ہزاروں، لاکھوں مثالیں اس قسم کی مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں۔
    مَیں جب حج کے لئے گیا تو اسی جہاز میں بعض مسلمان نوجوان بھی سوار تھے جو بیرسٹری کی تعلیم کے لئے انگلستان جا رہے تھے اور وہ سارا دن مذہب اور خدا تعالیٰ کی ذات کے خلاف حملے کر تے رہتے تھے۔ خدا تعالیٰ کی ہستی اس کی صفات اور مذہب کی ضرورت کی ہنسی اڑاتے تھے۔ کئی دن تک یہی حال رہا۔ ان میں ایک ہندو نوجوان بھی تھا اور وہ بھی ویسا ہی دہریہ مزاج تھا جیسے مسلمان۔ وہ سارے مل کر اعتراض کرتے رہتے تھے اور مَیں ان کو جواب دیتا تھا۔ ان کے اعتراض بھی کوئی علمی اعتراض نہ ہوتے تھے بلکہ ہنسی مذاق کی قسم کے اعتراضات کرتے تھے بیشتر اعتراض اس قسم کے ہوتے تھےکہ مثلاً جہاز کا سٹیوارڈ (Steward) جو کھانا لاتا ہے وہ پانچ چھ پلیٹیں اٹھا لاتا ہے اور مَیں یہ چھوٹا سا تنکا میز پر رکھتا ہوں۔ خدا اسے تو یہاں سے اٹھا دے۔ اسی قسم کی باتوں کے دوران میں مذہب کےساتھ ہنسی کرتے کرتے ایک دن اس ہندو نوجوان نے رسول کریم ﷺ کی شان کے خلاف کوئی بات کہہ دی۔ اس پر وہ سب مسلمان نوجوان طیش میں آ گئے اورکہنے لگے کہ ہم رسول کریم ﷺ کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے حالانکہ وہ خود سارا سارا دن خدا تعالیٰ کا مذاق اڑاتے رہتے تھے۔ مَیں نے ان سے کہا کہ اگر خدا ہی کوئی نہیں تو محمد مصطفیٰ ﷺ تو رسول رہتے ہی نہیں۔ ان کی تو ساری عمر ہی اس خیال کے پھیلانے میں صرف ہوئی کہ خدا ایک ہے وہ زندہ ہے اور وہی اس دنیا کا سارا کارخانہ چلاتا ہے۔ اگر خدا ہی کوئی نہیں اور نہ وہ اس دنیا کے کارخانے کو چلاتا ہے اور یہ سب باتیں غلط ہیں تو پھر یہ تعلیم پھیلانے والا کتنے اعتراض کے نیچے ہے۔ مگر انہوں نے کہا کہ ہم دلیل وغیرہ نہیں جانتے۔ ہمیں رسول کریم ﷺ کی ذات سے محبت ہے اور ان کے خلاف ہم کوئی بات نہیں سن سکتے۔
    یہ بالکل عیسائیوں والی کیفیت ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کے خلاف باتیں کر لیتے ہیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے حتّٰی کہ ان میں سے جو دہریہ ہیں ان میں سے بھی اکثر خدا تعالیٰ کو تو گالیاں دیتے ہیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے۔ مَیں جب ولایت گیا تو وہاں بعض دوست ایک دہریہ ڈاکٹر کو میرے ساتھ ملاقات کے لئے لائے۔ مَیں نے ان سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دل میں مذہب موجود ہے؟ مگر اس نے کہا کہ نہیں مَیں کلّی طور پر مذہب کو چھوڑ چکا ہوں۔ مَیں نے باتوں باتوں میں بعض وہ اعتراضات جو اناجیل کے رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی پر پڑتے ہیں بیان کئے تو وہ طیش میں آ گئے اور کہنے لگے کہ آپ یسوع مسیح پر اعتراض کیوں کرتے ہیں۔ مَیں نے کہا کہ جب آپ مذہب کے ہی قائل نہیں تو پھر حضرت عیسیٰ کی عزت آپ کیوں کرتے ہیں۔ مگر انہوں نے کہا کہ نہیں مَیں حضرت عیسیٰ پر اعتراض برداشت نہیں کر سکتا۔ تو مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو اس نسبت کو قائم نہیں رکھ رہا جو خدا تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کے مقام میں ہے اور اس وجہ سے وہ عقلی توازن بھی کھو بیٹھا ہے جو انسان بڑی چیز کو چھوٹی اور چھوٹی کو بڑی قرار دیتا ہے وہ اَور بھی بیسیوں قسم کی غلطیاں کرتا ہے اور اپنے عقلی توازن کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ یہ فرق اس لئے ہے کہ مسلمانوں میں آنحضرت ﷺ سے محبت کے جذبات بڑھانے کے لئے پورا زور لگایا گیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے جذبات پیدا کرنے کے لئے اتنا زور نہیں لگایا گیااور اس لئے اللہ تعالیٰ سے محبت کا احساس قوم میں شدید نہیں ہؤا۔ کسی کے دل میں خدا تعالیٰ کے متعلق کوئی شبہ پیدا ہؤا اور اس نے کسی مجلس میں اظہار کیا تو لوگوں نے وہ غیرت نہیں دکھائی جو آنحضرت ﷺ کے متعلق دکھائی۔ اس لئے قوم میں ایک جذبہ بڑھتا گیا اور دوسرا کم ہوتا گیا۔ یہی حال کھانے پینے کے بارہ میں ہے۔ سؤر کے متعلق مسلمانوں میں شدید جذبہ ہے مگر شراب کے متعلق اتنا نہیں۔ اگر کسی کو شراب پیتا دیکھ لیں تو اس سے اتنی نفرت نہیں کرتے لیکن سؤر کھانے والا مسلمانوں میں نہیں رہ سکتا۔ اگرچہ بعض مغربی تہذیب کے اثر میں آ کر کھا بھی لیتے ہیں مگر ایسے بہت کم ہیں۔ سینکڑوں نوجوان یورپ میں جا کر حلال حرام کی تمیز چھوڑ دیتے ہیں مگر سؤر سے پھر بھی پرہیز کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض ایسے بھی ہیں جو وہاں سؤر بھی کھا لیتے ہیں مگر یہاں آ کر اس کا اظہار نہیں کرتے لیکن سینکڑوں ہیں جو وہاں جا کر شراب پیتے ہیں، ناچوں وغیرہ میں شامل ہوتے ہیں اور باقی سب باتیں کرتے ہیں مگر سؤر نہیں کھاتے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں میں اس کے خلاف شدید جذبہ ہے۔ تو جب قومی جذبات شدت اختیار کر لیں تو قوم کے افراد میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ کام نہیں کرنا حالانکہ اس سے زیادہ برے کام بھی کر لیتے ہیں۔ مسلمانوں میں کئی حرام خور ہیں، بد دیانت، چور، ڈاکے مارنے والے اور ظالم بھی ہیں مگر وہ سؤر نہیں کھاتے کیونکہ اس کے خلاف شدید جذبات پیدا کر دئیے گئے ۔ اسی طرح ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو رسول کریم ﷺ کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی محبت نہیں۔ شرک کرتےہیں، قبروں پر جا کر سجدے کرتے ہیں اور غیر اللہ سے مرادیں مانگتے ہیں بلکہ بعض واعظ تو برملا اپنے وعظوں میں کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف اگر کوئی بات ہو تو ہمیں اس کی پروا ہ نہیں مگر ہم آنحضرت ﷺ کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ذریعہ نجات کا ہے حالانکہ جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتا اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ نسبت قائم کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ تو قیامت کے روز اس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہ کریں گے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا ایک نظارہ اس سلسلہ میں ہمارے لئے سبق ہے۔ آپ ایک دفعہ باہر تشریف لے گئے۔ لاہور کا ریلوے سٹیشن تھا۔ دوست آپ کے گرد حلقہ باندھ کر کھڑے تھے کہ اتنے میں پنڈت لیکھرام بھی وہاں آ گئے اور جیسے آدمی بڑے آدمی کو سلام کرتا ہے پنڈت صاحب نے بھی آپ کو سلام کیا مگر آپ نے مُنہ دوسری طرف پھیر لیا۔ پنڈت صاحب نے پھر سلام کیا مگر آپ نے پھر مُنہ پھیر لیا۔ وہ آریہ سماج میں بہت شہرت رکھتے تھے اور یہ فرقہ پنجاب کے ہندوؤں میں بہت طاقت رکھتا ہے اور معزز ترین عہدے ان لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ جماعت کے بعض دوستوں نے خیال کیاکہ یہ بڑا آدمی ہے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کو جو سلام کیا ہے تو گویا ہماری بڑی عزت قائم ہوئی ہے اور آپ نے جو جواب نہیں دیا تو اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ آپ نے سنا نہیں۔ شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت رکھتے تھے۔ گو بعد میں پیغامی ہو گئے تھے مگر وفات کے وقت آپ نے اس پر اظہارِ ندامت بھی کیا اور مجھے دعا کے لئے کہلا کے بھی بھیجا۔ انہوں نے یہ سمجھ کر کہ آریوں کے لیڈر کا سلام کرنا بڑی عزت کی بات ہے عرض کیا کہ حضور نے شاید دیکھا نہیں ، پنڈت لیکھرام صاحب سلام کہتے ہیں۔ مَیں تو اس وقت بچہ تھا مگر دوسرے دوستوں کی روایت ہے کہ آپ یہ بات سن کر جوش میں آ گئے اور فرمایا کہ یہ شخص میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کہتا ہے۔
    جس طرح آنحضرت ﷺہمارے آقا ہیں، اسی طرح ہمارا اور آنحضرت ﷺ کا آقا اللہ تعالیٰ ہے اور وہی اصل ہستی ہے۔ انسان خواہ کتنا بڑا ہو خدا تعالیٰ کی برابری تو نہیں کر سکتا۔ تو چاہئے تو یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کے لئے مسلمانوں کے دِلوں میں غیرت زیادہ ہوتی اور محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے اس کی نسبت کم۔ مگر ایسا نہیں ہے حالانکہ خود آنحضرت ﷺ کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ احد کی جنگ میں بعض مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کی فتح شکست سے بدل گئی اور کفار نے پیچھے سے حملہ کر کے مسلمانوں کو تتّر بتّر کر دیا تو ایسی خطرناک حالت پیدا ہو گئی کہ بعض مسلمانوں نے یہ خیال کیا کہ ہمیں آج کفار تَہہ ِتیغ اور نیست و نابود کر دیں گے اور لشکر میں سے بعض تو ایسے گھبرائے کہ بھاگ کر مدینہ جا پہنچے اوریہ بھی مشہور ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ شہید ہو گئے ہیں اور مسلمانوں کی یہ کیفیت تھی کہ زمین و آسمان ان کے لئے تنگ ہو گئے تھے اور وہ سمجھنے لگے تھے کہ آج ہمارے ٹھکانے کی کوئی جگہ نہیں۔
    ایک انصاری کے متعلق لکھا ہے کہ وہ فتح ہونے کے بعد لشکر سے پیچھے چلے گئے۔ انہوں نے کھانا نہ کھایا تھا اور فتح حاصل ہونے کے بعد جب مسلمان کافروں کو قید کرنے لگے تو وہ الگ چلے گئے۔ ان کے پاس کچھ کھجوریں تھیں جو وہ کھانے لگے۔ وہ ٹہلتے ٹہلتے جو آئےتو دیکھا کہ حضرت عمرؓ ایک پتھر پر بیٹھے رو رہے ہیں۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ عمرؓ مسلمانوں کو فتح ہوئی ہے اور آپ رو رہے ہیں۔ کیا بات ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ کیا تمہیں پتہ نہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا نہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ دشمن نے اچانک پیچھے سے حملہ کر دیا اور مسلمان تتّر بتّر ہو گئے اور آنحضرت ﷺبھی شہید ہو گئے۔ ان کے پاس دس پندرہ یا بیس جتنی بھی کھجوریں تھیں وہ کھا چکے تھےاور صرف ایک کھجور باقی تھی۔ حضرت عمرؓ کی یہ بات سنی تو اس کھجور کو زمین پر پھینک دیا اور کہا کہ میرے اور خدا تعالیٰ کی جنت کے درمیان اس کھجور کے سِوا اور کیا ہے۔ پھر حضرت عمرؓ کی طرف تعجب سے دیکھا اورکہا کہ عمر! رو کس لئے رہے ہو۔ ہمارا کام یہ ہے کہ جہاں رسول کریم ﷺ گئے ہیں وہیں ہم بھی جائیں ۔ یہ کہہ کر تلوار کھینچی اور اکیلے ہی دشمن کے لشکر پر جا پڑے اور ایسی بے جگری سے لڑے کہ جنگ کے بعد ان کی لاش بھی ایک جگہ نہ ملی۔ بلکہ ہاتھ کٹا ہوا کہیں سے ملا۔ پاؤں کہیں سے اور دھڑ کہیں سے ۔1 تو یہ گویا ایسا سخت وقت تھا کہ جو اسلام کے تاریک ترین اوقات میں سے ایک تھا مگر جلدی ہی صحابہ ؓ کو معلوم ہو گیا کہ یہ ان کی غلطی تھی اور رسول کریم ﷺ زندہ ہیں۔ آپ کے جو محافظ تھے وہ شہید ہو ہو کر آپ کے اوپر گر پڑے تھے اور آپؐ بے ہوش ہو کر ان کے نیچے پڑے تھے۔ صحابہؓ نے آپؐ کو لاشوں کے نیچے سے نکالا اور جوں جوں مسلمانوں کو علم ہوتا گیا وہ آپ کے گرد جمع ہوتے گئے مگر پھر بھی ان کی تعداد تھوڑی تھی۔ رسول کریم ﷺ ان کو ساتھ لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔ ابو سفیان نے بڑے تکبر سے آواز دی کہ مسلمانو! کہاں ہے تمہارا محمد؟ (ﷺ) ہم نے اسے مار دیا۔ صحابہؓ جواب دینا چاہتے تھے مگر آپ نے روک دیا۔ کفار کو خیال تھا کہ مسلمانوں کے سب لیڈر مارے گئے ہیں۔ اس لئے ابو سفیان نے پھر آواز دی۔ کہاں ہے ابو بکرؓ ؟ہے تو بولے۔ صحابہؓ پھر جواب دینا چاہتے تھے مگر آپؐ نے روک دیا۔ پھر اس نے کہا کہ کہاں ہے عمرؓ؟ ہے تو جواب دے۔ حضرت عمرؓ تو کہنا چاہتے تھے کہ مَیں تمہارا سر توڑنے کے لئے یہاں موجود ہوں مگر آپؐ نے فرمایا۔ مت بولو۔ دشمن کو کیوں اپنی اطلاع دیں۔ دراصل ابو سفیان کی غرض یہی تھی کہ مسلمانوں کی خبر معلوم کرے اور پتہ لگائے کہ کون کون زندہ ہے اور کون کون نہیں اور وہ اپنے خیال کو یقین سے بدلنا چاہتا تھا۔ آجکل بھی جنگ میں ایسی خبریں مشہور ہوتی رہتی ہیں جن کی غرض صرف اطلاع حاصل کرنا ہوتی ہے مثلاً مشہور کر دیتے ہیں کہ فلاں جرنیل پکڑا گیا ہے یا فلاں جہاز ڈوب گیا ہے اور جرنیل یا جہاز جس حکومت کا ہوتا ہے وہ خاموش رہتی ہے اس وقت تردید نہیں کرتی۔ بعد میں کسی وقت اس کی تردید کر دیتی ہے۔ ایسی غلط خبر مشہور کرنے سے دشمن کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ معلومات حاصل کرے۔ کفار کی غرض بھی یہی تھی۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے منع فرما دیا کہ دشمن کو پتہ دے کر کیوں حملہ کرواتے ہو۔ جب مسلمانوں کی خاموشی سے ابو سفیان نے سمجھ لیا کہ آنحضرتﷺ، حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ سب کو ہم نے مار دیا ہے تو اس نے بڑے زور سے اپنا مشرکانہ نعرہ بلند کیا اور کہا اُعْلُ ھُبَل، اُعْلُ ھُبَل یعنی ہمارا ھبل دیوتا بڑی شان والا ہے مسلمان بھلا اس کے مقابل پر کب ٹھہر سکتے تھے۔ یہ بات سن کر آنحضرت ﷺ نے جو اپنی موت کا اعلان سن کر اور اپنے صحابہؓ کی موت کا اعلان سن کر خاموش تھے اور اپنے صحابہؓ کو بھی جواب دینے سے روک رہے تھے۔ صحابہؓ سے فرمایا کہ جواب کیوں نہیں دیتے۔ چونکہ پہلے کئی بار آنحضرت ﷺ صحابہؓ کو روک چکے تھے ۔ اس وجہ سے صحابہؓ خیال کرتے تھے کہ شاید ہمیں بولنے کا حکم نہیں اس لئے خاموش تھے مگر جب ابو سفیان نے کہا اُعْلُ ھُبَل تو آپؐ نے فرمایا کہ جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللہ! ہم تو آپؐ کی وجہ سے خاموش تھے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ جواب دو کہ اَللہُ اَعْلٰی وَ اَجَلّ یعنی تمہارے ھبل کی کیا حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بلند اور سب سے زیادہ طاقتور ہے۔2
    دیکھو کس طرح اپنی اور اپنے صحابہؓ کی موت کا اعلان تو برداشت کر لیا مگر جب خدا تعالیٰ کا نام آیا تو اس وقت آپ نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ ہم تھوڑے ہیں۔ اگر دشمن کو پتہ لگ گیا تو وہ حملہ کرکے نقصان پہنچائے گا بلکہ صحابہؓ سے فرمایا کہ جواب دو۔ تو نسبت کو قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے شرک کے خلاف صحابہ میں ایسا جذبہ پیدا کر دیا تھا کہ وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ چنانچہ جب آپؐ کی وفات ہوئی تو بعض صحابہؓ نے خیال کیا کہ آپؐ کی وفات بے وقت ہوئی ہے۔ بعض نے خیال کیا کہ آپؐ ابھی زندہ ہیں، آسمان پر گئے ہیں اور پھر آئیں گے اور یہ خیالات اتنی طاقت پکڑ گئے تھے کہ کسی کو جرأت نہ ہوتی تھی کہ ان کی تردید کرے حتّٰی کہ جن کے حواس قائم تھے وہ بھی اس کی تردید نہ کر سکتے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ مدینہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل رسول کریم ﷺ کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تھی۔ اس لئے آپ کسی کام کے لئے باہر چلے گئے۔ بعض صحابہؓ نے آپ کی طرف آدمی بھیجا۔ آپ کو اطلاع ہوئی تو فوراً وپس آئے۔ اس وقت ایسی حالت تھی کہ حضرت عمرؓ تلوار لے کر کھڑے تھے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ہیں مَیں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ آپ بہت جوشیلے آدمی تھے اور مسجد میں یہ کہہ رہے تھے کہ اگر کسی نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کی وفات ہو گئی ہے تو مَیں اس کی گردن اڑا دوں گا۔3 حضرت عمرؓ کو آنحضرت ﷺ سے جو عشق تھا اسے مدنظر رکھتے ہوئے ان کی یہ حالت سمجھ میں آ سکتی ہے۔ حضرت ابو بکرؓ جب تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ کے گھر میں جو آپ کی بیٹی تھیں چلے گئے۔ آنحضرت ﷺ کی لاش بھی وہیں پڑی تھی۔ آپ نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ کیا رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے ؟ انہوں نے کہا ہاں فوت ہو گئے ہیں۔ آپ خاموشی سے جسم اطہر کے پاس پہنچے، سر سے کپڑا اٹھایا،پیشانی کو بوسہ دیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا یعنی ایک تو آپ جسمانی طور پر فوت ہو گئے ہیں اب یہ نہیں ہو گا کہ مسلمانوں میں مشرکانہ عقائد قائم ہو جائیں اور روحانی طور پر آپ کا مشن مر جائے۔ یہ کہہ کر آپ مسجد میں آئے حضرت عمرؓ نے آپ کو بٹھانا چاہا مگر آپ نے جھٹکا دے کر ان کو پرے ہٹا دیا اور کھڑے ہوگئے اور یہ آیت پڑھی وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ۔ 4 یعنی اے مسلمانو! محمد ﷺ ہمیں کتنے ہی محبوب تھے، کتنے ہی پیارے تھے۔ ہم آپ کے لئے جانیں دیتے تھے لیکن بہرحال وہ انسان تھے اور جس طرح آپ سےسے پہلے تمام رسول فوت ہو گئے آپ بھی فوت ہو گئے۔ پھر آپ نے زور سے فرمایا کہ بعض لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ آپ کی وفات ناممکن ہے لیکن مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللہَ فَاِنَّ اللہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ۔5 جو تم میں سے محمد رسول اللہ ﷺ کو پوجتا تھا۔ میں اسے علی الاعلان سناتا ہوں کہ محمد (ﷺ) فوت ہو گئے لیکن جو خدا تعالیٰ کی پوجا کرتا تھا اسے بتاتا ہوں کہ وہ زندہ ہے اور اس پر موت کبھی نہیں آ سکتی۔ یہ وہ اعلان تھا جسے سن کر کسی کے دل میں بھی وہ وسوسہ باقی نہ رہا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارا خیال قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں نہیں ٹھہر سکتا۔
    حضرت عمرؓ جو تلوار لے کر کھڑے تھے کہ جو کہے گا آنحضرت ﷺ وفات پا گئے ہیں مَیں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکرؓ نے یہ آیت پڑھی کہ وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔ یعنی محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جس طرح آپ سے پہلے تمام رسول فوت ہو گئے۔ آپ کے لئے بھی موت مقدر ہے۔ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ کیا اگر آپ وفات پا جائیں یا قتل ہو جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے تو مجھے یوں معلوم ہؤا کہ گویا یہ آیت قرآن کریم میں پہلے نہ تھی اور اب نئی نازل ہوئی ہے اور مجھے سمجھ آ گئی کہ واقعی آپ فوت ہو گئے ہیں اور یہ خیال آتے ہی میری ٹانگیں کانپنے لگیں اور باوجود تلوار کا سہارا ہونے کے مَیں زمین پر گر گیا۔6 تو یہ صحابہ کاایک نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ کس قدر عشق ان کو رسول کریم ﷺ کی ذات سے تھا۔ کیا آج کے مسلمان اس کا کوئی نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ اس عشق کی مثال قومی لحاظ سے قطعاً کہیں نہیں ملتی۔ کیا شاندار وہ قربانیاں ہیں جو محمد مصطفیٰ ﷺ کی خاطر ان لوگوں نے کیں۔ اس عشق کی مثالیں بہت سی ہیں۔ ایک دفعہ ایک صحابی جنگ میں کفار کے ہاتھوں قید ہو گئے۔ کئی مسلمان پکڑے گئے جن میں سے ایک وہ بھی تھے۔ دشمن نے انہیں مکہ والوں کے ہاتھ بیچ دیا۔ خریدنے والوں کے کسی رشتہ دار کو انہوں نے قتل کیا ہؤا تھا۔ اس لئے انتقام لینے کی خاطر انہوں نے انہیں خرید لیاتا قتل کر کے اپنے کلیجہ کو ٹھنڈا کریں۔ وہ انہیں طرح طرح کی تکالیف دیتے تھے۔ ہاتھوں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال رکھی تھیں۔ ایک دن انہیں کہا کہ تم یہ پسند نہ کرو گے کہ تمہاری جگہ یہاں محمد (ﷺ) ہماری قید میں ہوں اور تم گھر میں اپنے بیوی بچوں میں آرام سے بیٹھے ہو۔ یہ کیسا نازک وقت ہوتا ہے جب انسان سمجھتا ہے کہ مَیں دشمن کے قابو میں ہوں اور وہ جو چاہے مجھے تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ قیدی کی طاقت ہی کیا ہوتی ہے کہ وہ اپنے پکڑنے والوں کے سامنے جواب دے سکے مگر وہ صحابی کفار کی یہ بات سن کر حقارت کی ہنسی ہنسے اور جواب دیا کہ تمہیں میرے جذبات کا علم ہی نہیں۔ تم کہتے ہو کہ مجھے یہ پسند ہے یا نہیں کہ محمد (ﷺ) یہاں تم لوگوں کی قید میں ہوں اور مَیں آرام سے گھر میں بیٹھا ہوں۔ مَیں تو یہ بھی پسند نہیں کرسکتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ مدینہ میں ہی ہوں اور ان کے پاؤں میں کانٹابھی چبھے اور مَیں گھر میں بیوی بچوں کے پاس آرام سے بیٹھا ہوں۔7 غرض یہ شدید عشق تھا جو ان لوگوں کو آنحضرت ﷺ سے تھا۔ اسی اُحد کی جنگ کا ایک اور واقعہ ہے۔ ایک صحابی جنگ میں زخمی ہوئے۔ جب کفار میدان سے ہٹ گئے تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ زخمیوں کو دیکھو۔ صحابہ تلاش کرنے لگے۔ ایک انصاری رئیس زخمی پڑے تھے اور ان کی حالت ایسی تھی کہ چند منٹ میں ہی فوت ہونے والے تھے۔ ایک صحابی دیکھتے دیکھتے ان کے پاس پہنچے اور بیٹھ گئے۔ حال دریافت کیا اور کہا کہ کوئی پیغام اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو دینا ہو تو دے دو۔ انہوں نے کہا کہ ہاں مَیں اسی انتظار میں تھا کہ کوئی مسلمان ملے تو اس کے ہاتھ پیغام بھیجوں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ موت کا وقت گھر میں بھی کیسا سخت ہوتا ہے، مرنے والے کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ چند منٹ بھی اور مل جائیں تو بیوی بچوں اور بہن بھائیوں سے کوئی اَور بات کر لوں۔ ان کے لئے کوئی وصیت کر جاؤں لیکن وہ صحابی بیوی بچوں کے پاس نہیں تھے، گھر میں نہیں پڑے تھے، کسی ہسپتال میں نرم بستر پر نہیں لیٹے تھے بلکہ پتھریلی زمین پرپڑے تھے مگر ایسی حالت میں بھی انہوں نے یہ پیغام نہیں دیا کہ میری بیوی کو سلام دینا اور اسے کہنا کہ بچوں کی اچھی طرح پرورش کرے یا یہ کہ میری جائداد اس رنگ میں تقسیم ہو یا فلاں فلاں جگہ میرا مال ہے وہ لے لیا جائے بلکہ کہا تو یہ کہا کہ میرے بچوں اور بھائیوں کو میری طرف سے یہ پیغام دینا کہ محمد رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی قیمتی امانت ہیں۔ مَیں نے جب تک جان میں جان تھی اسے قربان کر کے بھی اس امانت کی حفاظت کی اور اب اپنے عزیز بھائیوں اور بچوں کو میری آخری وقت کی یہ وصیت ہے کہ وہ بھی اپنی جانوں کے ساتھ اس امانت کی حفاظت کریں اور یہ کہہ کر دم توڑ دیا۔8
    ذرا اس حالت کا نقشہ اپنے ذہنوں میں کھینچو۔ تم میں سے ہر ایک نے مرنے والوں کو دیکھا ہو گا۔ کسی نے اپنی ماں کو، کسی نے باپ کو، کسی نے بھائی بہن کو مرتے دیکھا ہو گا۔ ذرا وہ نظارہ تو یاد کرو کہ کس طرح اپنے عزیزوں کے ہاتھوں میں اور گھروں میں اچھے سے اچھے کھانے پکوا کر اور کھا کر علاج کروا کر اور خدمت کرا کر مرنے والوں کی حالت کیا ہوتی ہے اور کس طرح گھر میں قیامت بپا ہوتی ہے اور مرنے والوں کو سوائے اپنی موت کے کسی دوسری چیز کا خیال تک بھی نہیں ہوتا مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ کے دلوں میں ایسا عشق پیدا کر دیا تھا کہ انہیں آپ کے مقابلہ میں کسی اَور چیز کی پرواہ ہی نہ تھی۔ مگر یہ عشق صرف اس وجہ سے تھا کہ آپ خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں۔ آپ کے محمدؐ ہونے کی وجہ سے یہ عشق نہ تھا بلکہ آپ کے رسول اللہ ہونے کی وجہ سے تھا۔ وہ لوگ دراصل خدا تعالیٰ کے عاشق تھے اور چونکہ خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ سے پیار کرتا تھا اس لئے آپ کے صحابہؓ آپ سے پیار کرے تھے اور یہ تو مردوں کے واقعات ہیں عورتوں کو دیکھ لو۔ ان کے دلوں میں بھی آپ کی ذات کے ساتھ کیا محبت اور کیا عشق تھا۔ اُحد کی جنگ کا ہی ایک اَور واقعہ ہے۔ اس جنگ میں مشہور ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔ مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو عورتیں اور بچے بھی گھبرا کر روتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئے اور اُحد کی طرف بھاگے۔ اُحد مدینہ سے آٹھ نو میل کے فاصلہ پر ہے۔ جب وہ ادھر جا رہے تھے تو اس وقت مسلمانوں کا لشکر بھی واپس آ رہا تھا اور آنحضرت ﷺ بھی اس کے ساتھ تھے۔ ایک سوار آگے آ رہا تھا۔ جب وہ ایک عورت کے پاس سے گزرا تو اس نے دریافت کیا کہ بھائی رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہے؟ وہ چونکہ آپؐ کو دیکھ کر آیا تھا اور جانتا تھا کہ آپؐ بخیریت ہیں اور اس وجہ سے اس کا دل مطمئن تھا۔ اس لئے اس عورت کے سوال کی طرف تو دھیان نہ دیا اور کہا کہ بہن بڑا افسوس ہے تمہارا باپ جنگ میں مارا گیا۔ اس عورت نے کہا کہ مَیں نے تو باپ کا نہیں پوچھا۔ مَیں نے تو رسول کریم ﷺ کے متعلق دریافت کیا ہے مگر اس کا دل چونکہ مطمئن تھا اس نے پھر اس عورت کے سوال پر توجہ نہ دی اور کہا کہ افسوس ہے تمہارا بھائی بھی مارا گیا۔ اس نے کہا کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہے۔ مگر وہ چونکہ جانتا تھا کہ آپؐ خیریت سے ہیں اس لئے پھر کہا کہ تمہارا خاوند بھی شہید ہو گیا۔ مگر اس عورت نے پھر کہا کہ تم مجھے رسول کریم ﷺ کے متعلق بتاؤ میں کچھ اَور نہیں پوچھتی۔ اس نے کہا کہ وہ تو خیریت سے ہیں۔ یہ سن کر اس عورت نے کہا کہ بس پھر مجھے کسی کے مرنے کی کوئی پرواہ نہیں۔ اگر رسول کریم ﷺ زندہ ہیں تو ہر چیز میرے لئے زندہ ہے۔9
    دیکھو کس طرح ایک عورت کے لئے اس کے بھائی، باپ اور خاوند پیارے ہوتے ہیں لیکن وہ سارے کے سارے مارے جاتے ہیں مگر اسے یہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ وہ صحابی اس کے سوال کا جواب کیوں نہیں دیتا۔ یہ محبت تھی جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے متعلق ان لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دی تھی مگر باوجود اس کے وہ خدا تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے اور یہی توحید تھی جس نے ان کو دنیا میں ہر جگہ غالب کر دیا تھا۔ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں وہ نہ ماں باپ کی پرواہ کرتے تھے اورنہ بہن بھائیوں کی اور نہ بیویوں اور خاوندوں کی۔ ان کے سامنے ایک ہی چیز تھی اور وہ یہ کہ ان کا خدا ان سے راضی ہو جائے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ فرما دیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مقدم کیا ۔مگر بعد میں مسلمانوں کی یہ حالت نہ رہی اور اب اگر ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے تو محض دماغی ہے، دل کا نہیں۔ رسول کریم ﷺ کا ذکر اگر ان کے سامنے کیا جائے تو ان کے دلوں میں محبت کی تاریں ہلنے لگتی ہیں۔ رسول کریم ﷺ کے عزیزوں کے ذکر پر بھی یہ تاریں ہلتی ہیں۔
    ابھی محرم گزرا ہے۔ شیعہ تو اس پر امام حسینؓ کا ماتم کرتے ہیں اور سُنِّی بھی ان کے ذکر پر جوش میں آ جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ان کے دلوں میں محبت کی کوئی تار نہیں ہلتی حالانکہ انہیں سوچنا چاہئے کہ محمد ﷺ اگر قیمتی وجود ہیں تو یہ قیمتی وجود ہمیں کس نے دیا۔ یہ ہمارے رب نے ہی دیا تھا۔ جو شخص موتی کو یاد رکھتا ہے مگر اس کے دینے والے کو بھول جاتا ہے اس سے زیادہ کافر نعمت اَور کون ہو سکتا ہے۔ حقیقی ترقی اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہی حاصل ہوتی ہے مگر چونکہ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کو قومی جذبہ نہ بنایا اس لئے وہ ان میں سرد ہو گئی۔
    پس مَیں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس جذبہ کو اپنے دلوں میں پیدا کریں۔ یہ تمام نیکیوں کی جڑ ہے۔ اگر کسی کو جھوٹ کی عادت ہے تو اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں پوری نہیں۔ اگر بد دیانتی ہے تو اسی لئے کہ خدا تعالیٰ کی محبت کامل نہیں۔ باقی انبیاء کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی لئے آئے تھے کہ خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں قائم کریں اور جب یہ جذبہ کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو سب باتیں خود بخود رو بہ اصلاح ہو جاتی ہیں۔ جس دل میں خدا تعالیٰ کی محبت ہو وہ ایک قیمتی موتی ہوتا ہےاور جس طرح تم میں سے کوئی بھی قیمتی موتی کو پاخانہ میں نہیں پھینکتا۔ اللہ تعالیٰ بھی اس دل کو جس میں اس کی محبت ہو گندگی میں نہیں پھینکتا۔ پس اپنے دلوں میں بھی اس جذبہ کو پیدا کرو اور جماعت میں بھی اسے پیدا کرو۔
    ہماری جماعت کے مبلغ اور واعظ جب بھی موقع ملے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی عظمت دلوں میں قائم کریں اور یہ آگ اس طرح ہر دل میں لگی ہوئی ہو کہ تمہیں بھی اور تمہارے گرد و پیش رہنے والوں کو بھی جلاتی رہے۔ یہی نقطۂ مرکزی ہے ہر مذہب کا اور یہی نقطہ مرکزی ہے خدا تعالیٰ سے آنے والے سب دینوں کا۔ جس دین میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں وہ دین مردہ ہے۔ جس دل میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں وہ دل مردہ ہے اور جس قوم میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں وہ قوم مردہ ہے۔ نہ وہ مذہب کسی کو نجات دلا سکتا ہے جس میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں اور نہ وہ دل نجات پا سکتا ہےجس میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں اور نہ وہ قوم دنیا میں کوئی کام کر سکتی ہے جس قوم میں خدا تعالیٰ کی محبت نہ ہو۔ پس خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کرو، اس جذبہ کو قومی جذبہ بناؤ پھر سب کمزوریاں خود بخود دور ہو جائیں گی۔ وہ انسان بھی کیا انسان ہے جو صبح اٹھتا ا وراپنے دنیوی کام کاج میں لگ جاتا اور جب رات ہوتی ہے سو جاتا ہے اور دن رات میں ایک منٹ کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی محبت کی چنگاری اس کے دل میں نہیں سلگتی۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کے وجود کا خیال کر کے بھی سر سے پیر تک جسم میں رعشہ طاری ہو جانا چاہئے اور قلب کی تار تار ہل جانی چاہئے۔ آج دنیا میں کسی نے کسی امام کی محبت کو قومی جذبہ بنا لیا ہے، کسی نے ختم نبوت کے غلط معنے کر کے اسے قومی جذبہ بنا لیا ہے، کسی قوم نے سَوراج کو اپنا قومی جذبہ بنا لیا ہے مگر مَیں احمدیوں سے کہتا ہوں کہ تمہارا قومی جذبہ خدا تعالیٰ کی محبت ہونا چاہئے اور تمہارے اندر سے خدا تعالیٰ کی محبت کی ایسی چنگاریاں نکل رہی ہوں کہ تمہارے گرد و پیش رہنے والے بھی اس آگ سے جلنے لگیں۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ آگ جلے اور اس میں سے چنگاریاں نہ نکلیں۔ اس لئے جب تم اس آگ کو روشن کرو گے تو وہ تمہارے گرد و پیش رہنے والوں کو بھی ضرور جلائے گی۔ جب تم خدا تعالیٰ کی محبت کو قومی جذبہ بنا لو گے تو تمہارے اردگرد ایسی دیوار قائم ہو جائے گی کہ جسے توڑ کر شیطان اندر نہ آ سکے گا اور کوئی ہلاک کر سکنے والی بلا اندر نہ آ سکے گی اور یہ ایسا پاک مقام ہو گا کہ خدا تعالیٰ اس سے جدا رہنا کبھی پسند نہیں کرے گا۔ دنیا کو دیکھو اور دنیا داروں کے جذبات کو دیکھواور ان جذبات کے لئے جو وہ قربانیاں کر رہے ہیں ان کو دیکھو اور ان سے سبق حاصل کرو۔ ان کے جذبات بالکل ادنیٰ اور معمولی ہیں لیکن تمہارا خدا جو تمہارا معشوق ہونا چاہئے، حسین ترین وجود ہے۔ پس اس سے تمہاری محبت بہت زیادہ ہونی چاہئے اور اس محبت میں بہت زیادہ جوش اور بہت زیادہ گرمی ہونی چاہئے۔ ایسی گرمی اور ایسا جوش کہ اس کی مثال دنیا کی اَور محبتوں میں نہ پائی جاتی ہو۔ ‘‘
    (الفضل 7 فروری 1942ء)
    1: سیرت ابن ہشام جلد 3 صفحہ 88 مطبوعہ مصر 1936ء
    2: بخاری کتاب المغازی باب غزوة احد
    3: اسد الغابة جلد 3 صفحہ 221 ، مطبوعہ ریاض 1286ھ
    4: اٰل عمران :145
    5: بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب قَوْل النَّبِیِّ ﷺ لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیْلًا
    6: تاریخ کامل ابن اثیر جلد 2 صفحہ 324 ۔ مطبوعہ بیروت 1965ء
    7: اسد الغابة جلد 2 صفحہ 230 مطبوعہ بیروت 1285ھ
    8: سیرت ابن ہشام جلد 3 صفحہ 100-101۔ مطبوعہ مصر 1936ء
    9: سیرت ابن ہشام جلد 3 صفحہ 105 مطبوعہ مصر 1936ء

    6
    موجودہ نازک حالات کے متعلق نہایت اہم ہدایات
    ( فرمودہ 20 مارچ 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’مَیں متواتر کئی مہینوں بلکہ سالوں سے جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ یہ دن نہایت ہی نازک ہیں۔ ان کو اپنے عمل میں اصلاح کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت اپنے دلوں میں پیدا کرنی چاہئے اورایک جماعت ہو کر جیسا کہ جماعت ہونے کے فرائض ہیں اپنی زندگی بسر کرنی چاہئے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت کے ایک حصہ نے میری اس نصیحت پر عمل نہیں کیا جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے اور اگر اب بھی اصلاح نہ ہوئی تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اَور کس حد تک خمیازہ بھگتنا پڑے۔
    مَیں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ جنگ کے ایام میں بعض لوگ وقتی یا ذاتی مخالفتوں کی وجہ سے جنگ کی بری خبروں پر خوشی کا اظہار کیا کرتے ہیں اوریہ امر کئی لحاظ سے نہ صرف دوسروں کے لئے بلکہ خود ان کے لئے بھی مضر ہوتا ہے۔ مَیں کئی خطبے اس پر پڑھ چکا ہوں اور بہت دفعہ جماعت کو اس طرف توجہ دلا چکا ہوں۔ اگر ہماری جماعت کا یہ فیصلہ ہو کہ ہم کسی رنگ میں بھی جماعتی طور پر حکومت کے کاموں میں دخل نہیں دیں گے اور اس سے کسی قسم کا تعاون نہیں کریں گے تب تو اس قسم کے خیالات ایک حد تک جائز سمجھے جا سکتے ہیں لیکن ایک طرف جماعت اپنی طاقت اور قوت سے بھی بڑھ کر فوجی کاموں میں حصہ لے رہی ہو، فوجی رنگروٹ دے رہی ہو اور اس کے جگر گوشے اور بھائی لڑائی میں شامل ہوں اور دوسری طرف ایک حصہ ان لوگوں کی طرح جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا اور جو خدا تعالیٰ کے غضب کے وقت میں بھی ڈرنا نہیں جانتے۔ ایسی خبروں پر جن میں گورنمنٹ کی کسی شکست کا ذکر ہو بے پروائی ظاہر کرے یا دل میں خوشی محسوس کرے تو اس کے سوائے اس کے اَور کیا معنے ہو سکتے ہیں کہ اپنے بھائیوں کی تباہی اور بربادی پر خوشی ظاہر کی جاتی ہے۔ ابھی میرے سفر کے دوران میں ملایا اور رنگون اور سماٹرا اور جاوا کی لڑائیوں نے نہایت تکلیف دہ شکل اختیار کر لی ہے۔ مَیں ایسے لوگوں سے خواہ وہ کتنے ہی تھوڑے ہوں پوچھتا ہوں کہ کیا اب وہ ان سینکڑوں احمدیوں اور درجن کے قریب مبلغوں کی قید پر خوش ہیں جو ان علاقوں میں رہتے تھے۔ ملایا کی فوجوں میں بڑے اور چھوٹے افسر اور سپاہی وغیرہ ملا کر سینکڑوں احمدی تھے اور اب وہ سارے ہی قید ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ انہیں تکلیفیں دی جا رہی ہیں یا نہیں دی جا رہیں اور اگر نہیں دی جا رہیں تو بھی قید بہرحال قید ہے۔ ہمارا ایک مبلّغ سنگا پور میں تھا اورہمارے آٹھ نو مبلّغ سماٹرا اور جاوا میں تھے ان سب کے متعلق اب جب تک جنگ کا خاتمہ نہ ہو جائے ہمیں کچھ علم نہیں ہو سکتا کہ ان کا کیا حال ہے۔ حالانکہ وہ ان ممالک میں ہمارا فرض ادا کر رہے تھے۔ جب کوئی شخص اپنے وطن اور اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر تبلیغ کے لئے جاتا ہے تو درحقیقت وہ ہمارافرض ادا کرنے کے لئے جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ویسی ہی میرے اور تمہارے ذمہ ہے جیسے اس کے ذمے۔ مگر اس نے ہمارے بوجھ کو آپ اٹھا لیا اور ہمارے کام کو پورا کرنے کے لئے اس نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا اور اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر غیر ملک میں تبلیغ اسلام کے لئے چلا گیا یا اگر اس ملک کا ہی باشندہ تھا تب بھی اس نے مبلغ ہو کر ہزاروں لاکھوں کی دشمنیاں مول لے لیں۔ اگر وہ جماعت کا ایک عام فرد ہوتا تو اس کی زیادہ دشمنی نہ ہوتی مگر چونکہ وہ مبلّغ بن گیا اس لئے مبلّغ ہونے کی وجہ سے سب لوگوں نے اس کو اپنی مخالفت کا مرکز بنا لیا۔
    پس جو مبلّغ وہاں کے رہنے والے ہیں وہ بھی ہمارا ہی فرض ادا کرتے ہیں جیسے سماٹرا اور جاوا میں ہمارے کئی مبلّغ ایسے ہیں جو وہاں کے ہی رہنے والے ہیں۔ وہ پہلے یہاں پڑھنے کے لئے آئے اور جب تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک کو واپس چلے گئے تو بعض کو ہم نے مبلغ مقرر کر دیااور بعض کو وہاں کی جماعتوں نے مبلغ مقرر کر دیا۔ ان لوگوں نے جماعت کی خاطر اور ہم میں سے ہر ایک کی خاطر اپنے آپ کو آگ کے سامنے کھڑا کر دیاتاکہ خدا کے سامنے ہم بَری ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کہے کہ اس جماعت نے تبلیغ کے کام کو جاری رکھا تھا۔ اگروہ لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش نہ کرتے، اگر وہ لوگ اپنا وطن چھوڑ کر غیر ممالک میں تبلیغ کے لئے نہ جاتے، اگر وہ لوگ اپنی بیوی اور اپنے بچوں کی قربانی نہ کرتے یا اگر وہ لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش کر کے دنیا کی دشمنی مول نہ لیتے تو خداتعالیٰ کے حضور وہی مجرم نہ ہوتے بلکہ ہم بھی ہوتے اور خدا تعالیٰ کہتا کہ جماعتی طور پر تم نے تبلیغ میں کوتاہی سے کام لیا ہے۔ مگر ان کے تبلیغ پر چلے جانے کی وجہ سے وہی بری الذمہ نہیں ہو گئے بلکہ ہم بھی بری الذمہ ہو گئے ہیں اوراس تبلیغ کا ثواب صرف انہیں ہی نہیں ملتا بلکہ ہمیں بھی ملتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سمجھتا ہے کہ تمام جماعت تبلیغ کا فرض ادا کر رہی ہے۔ گویا جب خدا کے حضور خوشنودی کا وقت آیا تو تم آگے بڑھے اور تم نے کہا کہ خدایا یہ ہمارا بھائی تھا اور خدا نے تمہارے اس عذر کو قبول کر لیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ جس جس جگہ مبلغ گیا ہے ۔ اس جگہ کے متعلق یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ وہاں صرف ایک مبلغ گیا ہے بلکہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہاں ساری جماعت گئی ہے اور صرف اسے ہی ثواب نہیں ملے گا بلکہ ساری جماعت کو تبلیغ کا ثواب دیا جائے گا لیکن جب وہ مبلغ مصیبتوں میں مبتلا ہوئے ، قید و بند کی تکلیفوں میں ڈالے گئے اور انہیں جانی اور مالی نقصان پہنچا۔ تو اگر ان مصیبتوں میں تمہاری بھی کسی بے پروائی کا دخل ہؤا تو تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ انعام کے لئے تو ان مبلغوں کے ساتھ تمہارا نام لکھ دیا جائے گا مگر سزا کے لئے تمہارا نام نہیں لکھا جائے گا یا تو تمہیں یہ پوزیشن قبول کرنی چاہئے کہ ہم خدا کے مجرم ہیں۔ ہم نے تبلیغ نہیں کی اور اگر تم اس پوزیشن کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اور تم سمجھتے ہو کہ جب کوئی مبلغ تبلیغ کرتا ہے تو درحقیقت وہ تمہارا کام کرتا ہے اور تم اس کے ثواب میں شریک ہو تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جب وہ مبلغ تمہاری کسی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے قید و بند کی تکالیف میں مبتلا ہوتا ہے اور اس طرح تبلیغ کے راستہ میں روک پیدا ہو جاتی ہے توسزا کے بھی تم ہی مستحق ہو۔ اسی طرح وہ تمام لوگ جو انگریزوں کی شکست پر خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اچھا ہؤا انگریزوں کو خوب سزا مل رہی ہے۔ مَیں کس طرح مان لوں کہ وہ دعاؤں میں ہمارے ساتھ شریک ہؤا کرتے تھے یقیناً وہ دعاؤں میں شریک نہیں ہؤا کرتے تھے اور یقیناً وہ دعاؤں میں شریک نہیں ہو سکتے تھے اور اگر وہ دعا کرتے بھی تھے تو منافقت سے کام لیتے تھے اور یقیناً خدا ان کی دعا ان کے منہ پر مارتا ہو گا کہ ادھر تو تم انگریزوں کی شکست پر خوش ہوتے ہو اور ادھر کہتے ہو کہ تمہارے مبلّغ اور جماعت کے دوسرے افراد بچ جائیں۔ پس ان تمام احمدیوں کی تکلیف کا موجب درحقیقت وہی لوگ ہیں جنہوں نے دعاؤں میں کوتاہی سے کام لیا۔ فرض کرو خدا نےسو آدمیوں کی متفقہ دعا قبول کرنی تھی۔ جن میں سے نوّے آدمیوں نے تو دعا کی مگر دس نے غفلت کی یا ایسی حالت میں دعا کی جب کہ ان کا دل اس دعا کے خلاف تھا تو ایسی حالت میں سو آدمیوں کی دعا سے جو نتیجہ نکلنا چاہئے تھا وہ نہیں نکلے گا اور محض دس آدمیوں کی غفلت کی وجہ سے سب لوگ تکلیف میں مبتلا ہو جائیں گے۔ آخر تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ آگ تو جلے مگر تم اس آگ میں نہ جلو۔ یہ عقل کے بالکل خلاف ہے اگر آگ لگے گی تو تم کو بھی لگے گی۔ اور اگر دنیا میں تباہی و بربادی آئے گی تو وہ تباہی و بربادی تم پر بھی اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہے گی۔ یہ خدا کا قانون نہیں ہے کہ عام عذاب کے وقت چن چن کر کسی جماعت کے تمام افراد کو بچا لے پس مَیں سمجھتا ہوں کہ وہ تمام لوگ جو ایسے مواقع پر خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے یا عدم دلچسپی ظاہر کیا کرتے تھے۔ ان مشکلات اور تباہیوں کی وجہ سے جو ہماری جماعت کے سینکڑوں آدمیوں اور مبلّغوں پر بھی اثر انداز ہوئی ہیں۔ خدا کے سامنے مجرم ہیں اور ان کی قیدوں اور تکلیفوں کے وہی لوگ ذمہ دار ہیں۔
    اب مَیں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ فتنہ ہندوستان کے اَور زیادہ قریب پہنچ گیا ہے۔ پہلے صرف وہی مبلّغ اس کی زد میں تھے جو باہر گئے ہوئے تھے اور پہلے صرف وہی سپاہی اس کی زد میں تھے جو ہندوستان سے باہر تھے مگر اب تم میں سے ہر شخص اس کی زد میں ہے۔ جو حکومت کسی جگہ دیر سے قائم ہوتی ہے وہ بھی بعض دفعہ سختی کرتی ہے جیسے آجکل لوگوں کو شکوہ ہے کہ حکومت فوجیوں کے لئے غلّہ ہندوستان سے باہر لے گئی ہے حالانکہ باہر جانے والے سپاہی ہمارے ہی آدمی ہیں۔ اگر وہ ہمارے ملک میں ہوتے تو کیا وہ غلہ نہ کھاتے۔ اگر وہ یہاں ہوتے تو انہوں نے یہاں بھی غلہ استعمال کرنا تھا۔
    پس میں نہیں سمجھتا کہ ان کے لئے غلہ لے جانا ہمارے لئے مضر کس طرح ہو گیا۔ کئی لاکھ سپاہی اس وقت ہندوستان سے باہر ہیں۔ اگر وہ باہر نہ ہوتے تو یہاں بھی انہیں غلہ کی ضرورت پیش آتی اور اس صورت میں بھی گندم ان کے لئے اتنی ہی خرچ ہوتی، جتنی اب ان کے لئے بھجوائی گئی ہے لیکن بہرحال وہ حکومت جو دیر سے قائم ہوتی ہے ایسے معاملات میں عموماً احتیاط سے کام لیتی ہے مگر نئی حکومتیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتیں ، ان کے مدنظر صرف ایک ہی بات ہوتی ہےا ور وہ یہ کہ ان کے آدمیوں اور ان کے ملک کو فائدہ پہنچے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ مفتوح ملک کے لوگوں کا کیا حال ہے بلکہ وہ اپنے آرام اور اپنی آسائش اور اپنے ملک کے لوگوں کی ترقی کا خیال رکھتے ہیں اور جو کچھ انہیں ملتا ہے لوٹ لیتے ہیں۔ ان حالات کے نتیجہ میں جو تکلیف نئی آنے والی حکومت سے پہنچی ہے وہ پرانی قائم شدہ حکومت سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ پھر لڑائی میں گولہ باری ہوتی ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو اگر ہمارے ملک میں بھی لڑائی آ جائے تو شہروں اور دیہات کی وجہ سے حکومت توپیں چلانا چھوڑ دے گی۔ ایسے موقع پر یہ قطعاً نہیں دیکھا جاتا کہ گولوں کی زد میں کوئی شہر آ رہا ہے یا گاؤں۔ اصل مقصد سامنے یہ رکھا جاتا ہے کہ لڑائی میں فتح ہو اور اگر فوجی ضرورت کے باوجود گولہ باری نہ کی جائے تو یہ بہت بڑی غداری ہوتی ہے۔
    دہلی کی بادشاہت کا تختہ الٹنے میں بہت بڑا دخل اسی غداری کا تھا۔ شاہی قلعہ میں ایک ایسی جگہ توپ لگی ہوئی تھی جس کی زد عین انگریزی فوج پر پڑتی تھی مگر انگریزی جرنیل بڑا ہوشیار تھا۔ اس نے فوراً بادشاہ کی بیگم 1 کو رشوت دی اور اسے کہلا بھیجا کہ تمہارے بیٹے کو بادشاہ بنا دیا جائے گا تم کسی طرح توپ نہ چلنے دو۔ بادشاہ کو وہ بیوی بڑی پیاری تھی ۔ جب سپاہیوں نے زور دیا کہ قلعہ شاہی سے توپ چلائی جائے ورنہ فتح کی کوئی امید نہیں تو اس نے توپ چلانے کی اجازت دے دی مگر ابھی ایک گولہ ہی چلا تھا کہ بیگم نے اپنا دل پکڑ لیا اور شور مچانے لگ گئی کہ ہائے مَیں مر گئی ، ہائے مَیں مر گئی۔ آخر مجبوراً بادشاہ کو حکم دینا پڑا کہ توپ نہ چلائی جائے۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ بادشاہ قید ہو گیا، شہزادے قتل ہو گئے اور جس لڑکے کے متعلق کہا گیا تھا کہ اسے بادشاہ بنا دیا جائے گا وہ بھی مارا گیا یا قید ہو گیا۔ تو جس وقت لڑائی ہوتی ہے اس وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی کو کیا تکلیف ہوتی ہے بلکہ اس وقت جرنیلوں کا فرض ہوتا ہے کہ کسی بات کی پرواہ نہ کریں اور اگر گاؤں درمیان میں آ جائیں تو انہیں بھی تباہ ہونے دیں۔ اس وقت اس گاؤں یا شہر کو بچانا کسی حکومت کے ذمہ نہیں ہوتا بلکہ یہ تو انگریزی حکومت ہے اگر اسلامی حکومت ہو تب بھی ہم اس سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ گاؤں کو بچانے کا فکر کرے گی اور فوجی ضروریات کو مقدم نہیں رکھے گی۔ ایسی حالت میں بے شک اگر کوئی گاؤں اڑتا ہے تو اُڑ جائے، جلتا ہے تو جل جائے۔ اس کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔
    پس حالات نہایت ہی نازک صورت اختیار کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ہمیں بہت زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ان فتنوں کو دور کرے اور دنیا کو اس عذاب سے نجات دے۔ اگر تم اپنے بھائیوں کی قید کی تکلیف کو اب دور نہیں کر سکتے اور اپنی غفلت سے تم نے پہلے وقت کو ضائع کر دیا ہے۔ تو اب مزید لوگوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے دعاؤں میں لگ جاؤ تا اللہ تعالیٰ ہمارے پچھلے گناہ معاف کرے اور آئندہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت فرمائے۔ اس وقت ہماری جماعت کے ہزاروں آدمی فوج میں شامل ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو ابھی کام سیکھ رہے ہیں۔ اگر ان ہزاروں احمدیوں کا بھی کسی شخص کے دل میں درد نہیں ہے تو مَیں ہرگز نہیں سمجھ سکتا کہ وہ سچا احمدی ہے۔ سچا احمدی تو وہ ہے جو ایک چھوٹے سے چھوٹے احمدی کی تکلیف کو بھی اس طرح محسوس کرے کہ گویا اس کی ساری اولاد ذبح کر دی گئی ہے۔ جب تک اپنے بھائیوں کے متعلق ہمارے دلوں میں ایسا درد پیدا نہ ہو۔ اس وقت تک ہم ہرگز سچے احمدی نہیں کہلا سکتے۔
    دوسری بات جس کی طرف مَیں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مَیں نے جماعت کے دوستوں سے کہا تھا کہ جنگ کا ایک خطرناک اثر یہ ہوتا ہے کہ ملک میں قحط پڑ جاتا ہے اور مَیں نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے ہر زمیندار کو غلہ محفوظ رکھنا چاہئے تاکہ اگر تکلیف کا وقت آئے۔ تو ہم نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے ہمسائیوں کے لئے بھی روٹی کا انتظام کر سکیں۔ اس وقت میری تقریر میں قادیان کے لوگ بھی بیٹھے تھے اور باہر کی جماعتوں کے دوست بھی موجود تھے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لوگوں نے میری اس بات کی طرف توجہ نہ کی۔ چنانچہ اب جو مجھے رپورٹیں پہنچی ہیں اور پہنچ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جو روزانہ روٹی کے لئے غلہ کے محتاج ہیں۔ مجھے اطلاعیں ملی ہیں کہ بیسیوں آدمیوں کو گزشتہ دنوں باوجود اس بات کے کہ ان کے پاس پیسے تھے۔ غلہ نہ ملا اور انہیں فاقہ کرنا پڑا۔ مجھے بعض روٹیاں دکھائی گئی ہیں جو میرے نزدیک جانوروں کے کھانے کے بھی قابل نہیں مگر لوگ ان ایام میں وہ کھاتے رہے۔
    مَیں نے آج سے دو مہینے پہلے (کیونکہ سفر پر جانے سے پندرہ بیس دن پہلے کی یہ بات ہے) بعض دوستوں کو جو آسودہ حال تھے، کہلا بھیجا تھا کہ غلہ خرید لو کیونکہ ملک میں قحط کے آثار پائے جاتے ہیں اور میری غرض اس سے یہ تھی کہ اگر وہ غلہ خرید لیں گے تو مصیبت کے وقت وہ غرباء کا غلہ چھیننے والے نہیں بنیں گے۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قریباً ساروں نے جواب دے دیا اور کسی نے بھی غلہ نہ خریدا۔ کسی نے تو یہ جواب دیا کہ ہمیں ضرورت ہی نہیں۔ کسی نے یہ جواب دیا کہ ضرورت ہوئی تو خرید لیا جائے گا اور کسی نے یہ جواب دیا کہ ہمارا تو توکّل پر گزارہ ہے مگر اب وہ توکّل پر گزارہ کرنے والے بھی امور عامہ میں عرضیاں لے لے کر آتے ہیں کہ ہمارے لئے آٹے کا انتظام کیا جائے۔ اگر انہوں نے اس وقت میری بات کو مان لیا ہوتا تو آج ان کی یہ حالت کیوں ہوتی۔ مجھے افسوس ہے کہ جماعت کے دوستوں میں ابھی تک اطاعت کا کامل مادہ پیدا نہیں ہؤا۔ کیا تم سمجھتے ہو اگر رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں صحابہؓ کو ایسا حکم دیا جاتا تو وہ اس میں کوتاہی کرتے۔ مَیں تو سمجھتا ہوں اگر انہیں دس دس من گندم خریدنے کے لئے کہا جاتا تو وہ بیس بیس مَن خرید لیتے۔ اگر میری تحریک پر جماعت کے ان دوستوں نے گندم خرید لی ہوتی تو اب انہیں نیکی کی کتنی توفیق مل جاتی اور کس طرح نہ صرف وہ اپنا گزارہ کرسکتے بلکہ دوسرے غرباء کی بھی مدد کر سکتے مگر اب تو ان کی یہ حالت ہے کہ جو غلہ ہم غریبوں کے لئے لاتے ہیں۔ اس میں بھی وہ شریک ہو جاتے ہیں اور اس طرح بجائے ان کی مدد کرنے کے ان کے حصہ کو بھی چھیننے والے بن رہے ہیں۔ یہ اسی غفلت کا نتیجہ ہے جو دوستوں سے سرزد ہوئی۔ حالانکہ مَیں نے یہ تحریک ایک خواب کی بناء پر کی تھی جو ایک عورت نے مجھے سنایا اور جس کو سنتے ہی مَیں نے یقین کر لیا تھا کہ یہ خدائی خواب ہے۔ اس عورت نے سنایا کہ مَیں نے خواب میں دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة وا لسلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ دو ہزار کا غلہ خرید لو یا یہ کہ دو ہزار مَن غلہ خرید لو کیونکہ قحط پڑنے والا ہے۔ مَیں نے یہ رؤیا سنتے ہی سمجھ لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے چنانچہ مَیں نے ایک آدمی مقرر کیا اور خاص طور پر ان لوگوں کو تحریک کی جو غلّہ خریدنے کی توفیق رکھتے تھے مگر جہاں تک مَیں سمجھتا ہوں۔ ان میں سے ایک نے بھی غلّہ نہیں خریدا۔ اب ہم اس کے ازالہ کے لئے کوشش کر ہے ہیں چنانچہ آج ہی مَیں نے صدر انجمن احمدیہ کو پانچ ہزار روپیہ کے خرچ کی اجازت دی ہے تاکہ اس سے غلہ خرید کر لوگوں کو مہیا کیا جائےاور گو صدر انجمن احمدیہ مول ہی دے گی مگر وہ غلہ اسی صورت میں جمع کر سکتی ہے جب اس کے خریدنے کے لئے روپیہ پاس ہو اورغلہ بھی میسر آ جائے۔ ابھی نئی فصل کے نکلنے میں قریباً ڈیڑھ ماہ باقی ہے اور قادیان کا خرچ سَو من روزانہ ہے۔ گویا ہمیں قادیان کے لئے پانچ ہزار من غلّہ کی ضرورت ہے لیکن آجکل اس قسم کے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ 20 ، 30 من غلّہ لینا ہو تب بھی بڑی مشکل پیش آتی ہے۔
    مَیں اس امر کی بھی تحقیقات کر رہا ہوں کہ اگر بیرونی صوبوں سے غلّہ لانے کی اجازت ہو تو سندھ سے غلّہ لانے کا انتظام کیا جائے کیونکہ سندھ میں غلّہ کچھ پہلے پک جاتا ہے مگر ابھی مجھے یقینی طور پر معلوم نہیں کہ گورنمنٹ کی طرف سے اس کی اجازت ہے یا نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہاں سے غلّہ لانے میں خرچ زیادہ ہوتا ہے لیکن جب غلّہ ملتا ہی نہ ہو تو اس وقت قیمت کے تھوڑے یا بہت ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہاں سے اگر ہم غلہ لائیں تو قریباً چھ روپے چار آنے من پڑے گا۔ یعنی روپے کا ساڑھے چھ سیر۔ گورنمنٹ کا بھاؤ آٹھ سیر ہے۔ ہم اس بات کے لئے بھی تیار ہیں کہ اس نقصان کو خود برداشت کر لیں اور اگر اجازت ہو تو وہیں سے غلہ منگوا لیا جائے مگر ابھی مجھے معلوم نہیں کہ گورنمنٹ کی طرف سے اس کی اجازت ہے یا نہیں۔ احتیاطاً مَیں وہاں کی جماعت کے دوستوں کو ہدایت دے آیا ہوں کہ وہ غلّہ کو جمع کرنے کی کوشش کریں تاکہ اگر اجازت ہو تو وہاں سے غلّہ منگوایا جا سکے۔ مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ مَیں نے صاحبِ استطاعت لوگوں پر کیوں انحصار کیا۔ اگر مَیں عام اعلان کر دیتا تو شاید غرباء ہی دو دو من گندم خرید لیتے اور اس طرح اس عام تکلیف سے بچ جاتے۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن پر عمل کرنے میں غرباء کو زیادہ توفیق مل جاتی ہے اور امراء کو نہیں ملتی۔
    پس شاید یہ میری ہی غلطی تھی کہ مَیں نے چند آدمیوں پر انحصار کیا اور جماعت میں عام اعلان نہ کر دیا۔ بہرحال یہ دن بہت نازک ہیں۔ ان ایام میں زیادہ سے زیادہ دوسروں کی ہمدردی کرنی چاہئے۔
    اب بھی مَیں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اسے اپنی غذا کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جنگ کے دنوں میں تو بعض دفعہ چھ چھ سات سات وقت کا بھی فاقہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ جماعت کے دوست ابھی سے اپنی غذا کو بدل دیں۔ گندم نہیں ملتی تو جَو پر گزارہ کریں۔ جَو نہیں ملتے تو مکّی پر گزارہ کریں اور جن کو چاول میسر ہوں وہ چاولوں پر گزارہ کریں۔ خصوصاً آسودہ حال لوگ اگر ان دنوں چاول کھانے کی عادت ڈال لیں تو یہ غرباء کی امداد ہو گی۔ چھ مہینہ تک اگر وہ ایک وقت چاول کھانے کی عادت ڈال لیں تو ان کی صحت کو بھی کوئی ایسا نقصان نہیں ہو گا اور گندم کی گاہکی میں بھی کمی آ جائے گی اور غرباء کو کھانے کے لئے غلّہ مل جائے گا۔ اسی طرح جو لوگ مکّی کھا سکتے ہیں ۔ وہ مکّی پر گزارہ کرنے کی کوشش کریں۔ گندم مل جائے تو بڑی اچھی بات ہے مگر مَیں نے جو گندم کا نمونہ دیکھا ہے وہ قطعاً انسانی خوراک بننے کے قابل نہیں۔ زیرہ کے برابر اس کا قد تھا اور رنگ ایسا تھا جیسے سیاہ گُڑ ہوتا ہے۔ ایسے غلّہ سے بھلا طاقت کیا آنی ہے او رلوگوں کی صحتوں پر اس نے کیا مفید اثر ڈالنا ہے۔
    چونکہ اس وقت زمیندار دوست بھی بہت سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اس لئے ان کو بھی مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ اگلی فصل پر وہ اپنی ضرورت سے زیادہ غلّہ محفوظ رکھیں اور سوائے اشد ضرورت کے روپیہ کی صورت میں غلّہ بدلنے کی کوشش نہ کریں۔ غالباً یہ سال یعنی 1942ء مشکلات کا آخری سال معلوم ہوتا ہے۔ 1942ء کے آخر یا 1943ء کے شروع میں حالات ایسا پلٹا ضرور کھا جائیں گے کہ دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ اس لئے اس سال خصوصیت کے ساتھ ہر کام جماعتی رنگ میں ادا کرو اور اگر پہلے غلطی سے تم اپنے آپ کو صحیح طور پر جماعت کا فرد ثابت نہیں کر سکے تو اب اس غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کرو اور مصیبت کے وقت نفسی نفسی والی صورت اختیار نہ کرو کہ اس طرح انسان جماعتی رنگ میں دوسرے کی امداد کا مستحق نہیں رہتا۔ قرآن کریم نے یہ منافقوں کی علامت بیان کی ہے کہ جب مسلمان جنگ کے لئے جاتے تھے تو کہتے تھے ہم اپنے آپ کو مصیبت میں کیوں ڈالیں مگر جب وہ فتح کے بعد غنیمت کے اموال لے کر واپس آتے تھے تو منافق ان کے پاس دوڑے ہوئے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم بھی تمہارے بھائی ہیں ہمیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ ملنا چاہئے۔
    پس یہ منافق کی علامت ہے کہ وہ سکھ اور آرام کے وقت تو جماعت کے ساتھ شامل رہتا ہے مگر تکلیف کے دنوں میں اپنے آپ کو جماعت کا فرد نہیں سمجھتا۔ تمہیں چاہئے کہ تم تکلیف کے دنوں میں جماعت کے فرد بنو تا راحت کے دنوں میں خدا تمہیں ان نعمتوں سے حصہ دے جو خدا نے جماعت کے لئے مقدر کی ہوئی ہیں۔
    مجھے یہ بات بھی بڑے افسوس سے معلوم ہوئی ہے کہ بعض احمدی دکانداروں نے ان دنوں غلّے چھپا لئے تھے۔ مَیں اس بات کی تحقیقات کروں گا اور اگر کسی دکاندار کے متعلق یہ بات ثابت ہوئی کہ اس نے غلّہ چھپا رکھا تھا جو انسانیت اور قانون دونوں لحاظ سے نہایت ہی شرمناک امر ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس قسم کا آدمی ہماری جماعت میں نہیں رہ سکتا۔ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی کہ نام کے لحاظ سے وہ احمدی کہلاتا ہے کیونکہ ہمیں اس قسم کے نام کے احمدیوں کی ضرورت نہیں۔ پس ہر وہ دکاندار جس کے متعلق یہ بات ثابت ہو گئی اس کی سزا یہی ہو گی کہ اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔ اگر تم لوگوں کی مصیبت کے وقت بھی اپنا فائدہ سوچتے ہو تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ لوگوں کو ہدایت دیں کہ وہ دوسروں سے سودا نہ خریدیں۔ صرف تم سے سودا خریدیں۔ میری خلافت کے ایام میں سے 22 سال سے یہاں کے دکاندار فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر احمدی کو مجبور کیا جاتا ہے کہ خواہ اسے مہنگا سودا ملے وہ احمدی دکاندار سے ہی لے دوسروں سے نہ لے۔ پس کیا یہ قابل شرم بات نہیں کہ جب لوگوں کی تکلیف کا وقت آیا تو انہوں نے غلّے کے ذخیروں کو چھپا لیا۔ 22 سال تک جماعت کے لوگ ان سے سودا خریدتے رہے اور انہیں آنہ دو آنے زیادہ دیتے رہے۔ محض اس لئے کہ وہ احمدی ہیں۔ انہیں ہندوؤں سے سستا سودا مل سکتا تھا مگر انہوں نے نہ لیا اور یہی کہا کہ ہم احمدی دکاندار سے سودا لیں گے۔ پس 22 سال انہوں نے احمدی لوگوں سے فائدہ اٹھایا مگر جب ایک سال ان پر تنگی کا آیا تو ان میں سے بعض نے غلّے دبا لئے۔ اس قسم کا انسان میرے نزدیک ہرگز احمدی نہیں کہلا سکتا اور اللہ تعالیٰ نے جب تک مجھ کو توفیق دی۔ ایسے آدمی جماعت کے ساتھ ہرگز نہیں رہیں گے۔ میرے نزدیک تو اس قسم کا انسان انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔ کُجا یہ کہ اسے احمدی سمجھا جائے۔ یہ دن تو ایسے خطرہ کے ہیں کہ جن کے پاس تھوڑا بہت غلّہ ہے۔ انہیں بھی لے آنا چاہئے تھا اور کہنا چاہئے تھا کہ آؤ ہم سارے مل جائیں۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اس قسم کے واقعات نظر آتے ہیں۔ ایک موقع پر کھانے کی کمی ہو گئی تو آپ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہے لے آئے۔ چنانچہ جس کے پاس جو کچھ تھا، لے آیا اور آپ نےسب میں برابر بانٹ دیا۔2 میرے نزدیک ہم جماعت کے فرد کبھی کہلا ہی نہیں سکتے جب تک زندگی اور موت میں ہم سب اکٹھے نہ ہوں۔ آرام کی حالت میں بے شک مختلف اموال مختلف افراد کی ملکیت ہوتے ہیں۔ کچھ مال زید کا ہوتا ہے، کچھ بکر کا ہوتا ہے ، کچھ خالد کا ہوتا ہے مگر مصیبت کے وقت سارا مال قوم کا ہوتا ہے اور لوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ سب اکٹھے ہو کر کھائیں۔ پھر چاہے ذخیرہ ختم ہو جانے کے بعد سارے ہی مر جائیں۔ پس اگر کسی دکاندار نے ایسا کیا ہے تو ہم پورا زور لگا کر اس کی تحقیقات کریں گے ا وراسے جماعت میں نہیں رہنے دیں گے۔ اسی طرح ایسے شخص کو قادیان میں بھی رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہاں اگر وہ مرتد ہو کر احراریوں سے مل جائے تو اَور بات ہے جماعتی فرد ہونے کے لحاظ سے وہ قادیان میں نہیں رہ سکے گا۔
    مَیں باہر کی جماعتوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مَیں نے کہا تھا خطرات کے وقت دوستوں کو مرکز میں جمع ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مَیں نے کہا تھا کہ جو دوست قادیان آ سکیں وہ قادیان آ جائیں اور جو نہ آ سکیں وہ ضلع کے کسی مقام پر جہاں جماعت زیادہ ہو یا جہاں احمدی مالک ہوں جمع ہو جائیں۔ میری اس تحریک پر بعض اضلاع کی جماعتوں نے اپنے اپنے حلقوں میں مرکز تجویز کرنے کا انتظام کر لیا ہے۔ مگر جہاں مرکز نہ بن سکے وہاں کے دوستوں کو قادیان آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس وقت قادیان میں کئی لوگوں نے اپنی بیویوں اور بچوں کو بھیج دیا ہے اور کئی بھیجنے والے ہیں۔ ان سب کی خبرگیری کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہماری جماعت کا فرض ہے۔ ہمیں بعض غیر احمدیوں کی طرف سے بھی اطلاع ملی ہے کہ وہ بھی اپنے بیوی بچے قادیان میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان مصیبت کی گھڑیوں میں اپنے نمونہ سے اس بات کو ثابت کر دیں گے کہ ہماری ہمدردی کسی خاص جماعت سے وابستہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق سے ہمدردی کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے لئے اپنی جماعت کے افراد کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کرنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ ان کا اَور کوئی نگران نہیں لیکن اگر کوئی غیر شخص ہم پر اعتماد کرتا ہے اور وہ اپنی جان، مال اور ناموس کی حفاظت ہمارے سپرد کرتا ہے تو خطرہ کے اوقات میں جس طرح ہم اپنی جان مال اور ناموس کی حفاظت کریں گے اسی طرح ہم دوسروں کی جان مال اورناموس کی بھی حفاظت کریں گے۔ پس مَیں پھر جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرض کو سمجھیں اور ان دنوں میں بہت ہی خشیت اللہ سے کام لیں۔ ہر شخص جس قدر زیادہ سے زیادہ قربانیاں کر سکتا ہے اسی قدر قربانیاں کرے اور مصیبت کے وقت اپنے آپ کو دوسروں کا مُمِد اور معاون ثابت کرے ۔ مالداروں کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ خطرہ کے وقت دوسروں کی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت انہی کو ہو گی۔ غریب کا کیا ہے وہ تو تہ بند اٹھائے گا اور چل پڑے گا۔ زیادہ دقت مالداروں کو ہی پیش آئے گی۔ پس اگر وہ اس تکلیف کے وقت دوسروں کے کام نہیں آتے تو ان کا کوئی حق نہیں ہو گا کہ وہ مصیبت کے وقت ہم کو اپنی مدد کے لئے بلائیں۔ اس وقت ہم انہیں یہی کہیں گے کہ اپنے خزانے لے جاؤ اور جہاں رکھ سکتے ہو رکھ دو۔ اگر روپے کی کوئی قیمت تھی تو وہ تکلیف کے وقت کام آنا چاہئے تھا۔ یوں اسلام میں مال و دولت جمع کرنے کی اجازت ہے۔ مَیں خود زمیندار ہوں اور اپنے پاس زمینیں رکھتا ہوں مگر مصیبت کے وقت کسی کی کوئی ملکیت نہیں ہوتی۔ اس وقت سب کو مل کر کام کرنا چاہئے اور یہی اسلام کی تعلیم ہے۔ مَیں جماعت کے عہدیداروں کو بھی ان امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ مَیں خوش ہوں کہ امور عامہ والوں نے ہمت سے کام لیا اور فراہمی غلّہ کے لئے بہت کوشش کی ہے۔ مگر مَیں امید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ اس سے بھی زیادہ قربانی کریں گے اور پوری کوشش کریں گے کہ ہر شخص کو غلّہ میسر آ تا رہے۔اس کے لئے رات دن ، اگلے پہر اور پچھلے پہر کا کوئی سوال نہیں۔ ہر وقت انہیں خدمت کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اسی طرح وہ فوراً گورنمنٹ سے دریافت کریں کہ آیا دوسرے صوبہ سے غلّہ منگوایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر اس بات کی اجازت ہو تو ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے آسانی کے ساتھ اس کا انتظام کر سکتے ہیں۔ لیکن بہرحال آئندہ کے لئے زمینداروں کو احتیاط سے کام لینا چاہئے اور سوائے اس غلّہ کے جو فروخت کر چکے ہیں یا معاملہ کے لئے فروخت کریں باقی سب غلّے کا اپنے پاس ذخیرہ رکھیں اور کپڑے لتّے کے لئے بھی اسے فروخت نہ کریں۔ کیونکہ کپڑے لتّے بھی تبھی کام آتے ہیں جب امن ہو ورنہ آرام کے وقت اگر انسان پانچ جوڑوں میں گزارہ کیا کرتا ہو تو مصیبت کے وقت دو جوڑوں میں ہی گزارہ کر لیتا ہے اور اگر پہلے دو جوڑوں میں گزراہ کرنے کا انسان عادی ہو تو پھر ایک جوڑہ میں ہی گزارہ کر لیا کرتا ہے اور اگر پہلے ایک جوڑے میں انسان گزارہ کیا کرتا ہو تو مصیبت کے وقت پھٹے پرانے کپڑے پہن کر بھی گزارہ کر لیتا ہے۔ پس انہیں کپڑوں کے لئے بھی غلّہ فروخت نہیں کرنا چاہئے۔ صرف ایک دو سال کی بات ہے۔ بظاہر یہ اب ایک سال کی بات ہے جس میں جنگ خاص پلٹا کھا جائے گی لیکن اگر دو سال بھی ہوں تو بھی دو سال انسان پھٹے ہوئے کپڑے پہن کر گزارہ کر سکتا ہےاس لئے گو غلّہ کو غلّہ کی صورت میں ہی رہنے دیں۔ کیونکہ سونے کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہے، چاندی کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہے لیکن غلّہ کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔ سال بھر اگر کسی انسان کو ننگا رہنا پڑے تو وہ ننگا رہ سکتا ہے مگر بھوکا نہیں رہ سکتا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے متعلق بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ جسم پر پتے لٹکا کر ستر ڈھانکتے تھے۔ واقعہ کی صداقت کو تو خدا تعالیٰ ہی جانے مگر اس میں یہ سبق ضرور ہے کہ ضرورت کے موقع پر کپڑے کے بغیر بھی گزارہ ہو سکتا ہے لیکن غلّہ نہ ہو تو گزارہ نہیں کر سکتا۔ شیخ سعدی نے ایک نہایت ہی لطیف حکایت لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کوئی بھوکا شخص تھا جسے کئی وقت کا فاقہ تھا۔ وہ ایک دن جنگل میں سے گزر رہا تھا کہ اسے ایک تھیلی زمین پر پڑی ہوئی نظر آئی۔ اس نے سمجھا کہ تھیلی میں مکی کے دانے ہیں۔ چنانچہ وہ نہایت شوق سے اس کی طرف لپکا اور اسے اٹھا کر کھولنے لگا مگر جب اس نے کھول کر دیکھا تو معلوم ہؤا کہ تھیلی میں دانے نہیں بلکہ موتی ہیں۔ اس نے نہایت غصے سے تھیلی کو زمین پر دے مارا اور پھر آگے چل پڑا۔ یہ مثال شیخ سعدی نے یہ بتانے کے لئے لکھی ہے کہ بھوک کےو قت موتی کی بھی کوئی قیمت نہیں ہوتی اس وقت سب سے مقدم چیز انسان کو پیٹ بھرنا نظر آتی ہے اور واقعہ یہی ہے کہ پیٹ بھرا ہؤا ہو تبھی انسان دشمن سے لڑ سکتا ہے۔ اپنی جان و مال اور دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کر سکتا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتا ہے لیکن اگر فاقہ سے ہو تو نہ وہ اپنی مدد کر سکتا ہے اور نہ دوسروں کی مدد کر سکتا ہے۔ روزوں میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہی مشق کراتا ہے۔ چنانچہ روزوں کے ذریعہ ہم ہر سال اپنی زندگی میں ایسا وقت لاتے ہیں۔ جب ہم خدا کے لئے فاقہ کرتے ہیں اور ہم میں نہ صرف خود فاقہ برداشت کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے بلکہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ فاقہ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جب بارہ گھنٹے کا فاقہ اتنی تکلیف کا موجب ہوتا ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ جن لوگوں کو اس سے زیادہ فاقہ برداشت کرنا پڑے انہیں کتنی تکلیف ہوتی ہو گی۔ آجکل بہت سی ریلیں لڑائی کے کاموں کے لئے رکی ہوئی ہیں لیکن فرض کرو جنگ بڑھ جائے اور گورنمنٹ حکم دے دے کہ سوائے جنگ کی ضروریات کے اَور کسی کام کے لئے ریلیں نہیں چلائی جائیں گی۔ تو وہ ایسا کر سکتی ہے۔ موٹریں پہلے ہی رکی ہوئی ہیں۔ اس کے بعد فرض کرو۔ گورنمنٹ چھکڑوں اور گڈّوں کو بھی اپنے مصرف میں لے آئے تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکے گا۔ یہ گورنمنٹ کا حق ہے کہ اگر وہ ضروری سمجھے تو ریلوں پر قبضہ کر لے۔ چھکڑوں اور گڈّوں کو بھی لے لے۔ ایسی حالت میں تم سمجھ سکتے ہو کہ دس پندرہ میل سے بھی غلّہ لانا مشکل ہو گا لیکن اگر غلّہ تمہارے گھروں میں ہو گا تو تم ان تکلیفوں کے باوجود اپنا گزارہ کر سکو گے۔ پس وقت کی ضرورت کو سمجھو اور جیسے مومن کو عقلمند اور ہوشیار ہونا چاہئے۔ ویسے ہی تم عقلمند اور ہوشیار بنو۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں حوادث آتے رہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ان حوادث کی تکالیف کو کم کرنے کا ذریعہ بھی بتلا دیا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے بتلایا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ جب ایسی ہی تکلیف ہو گئی تو آپ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ کھانے کو ہےلے آئے، جس کے پاس دو سیر جَو تھے وہ دو سیر جَو لے آیا اور جس کے پاس مٹھی بھر جَو تھے وہ مٹھی بھر جَو لے آیا اور پھر سب غلّہ رسول کریم ﷺ نے صحابہؓ میں تقسیم کر دیا۔ اب فرض کرو اس کے بعد کوئی اور غلّہ نہ آتا تو یہ کتنی شاندار بات ہوتی کہ لوگ کہتے مسلمان زندہ رہے ہیں تو اکٹھے اور مرے ہیں تو اکٹھے۔ جو آدمی اس طرح قربانی کرتا ہؤ ا اپنی جان دیتا ہے۔ اس کی نسلیں اس پر فخر کرتی ہیں اور وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جاتا ہے۔ یوں مر جاؤ تو کوئی پوچھے گا بھی نہیں۔ لیکن اگر قحط کا زمانہ ہو اور تم سب مل کر یہ فیصلہ کر لو کہ ہم اکٹھے کھائیں گے اور اکٹھے مریں گے اورپھر اس فیصلہ کے مطابق عمل کرو تو قیامت تک لوگ تمہارے نام کو یاد رکھیں گے اور وہ اس واقعہ کا ذکر کر کے فخر محسوس کریں گے کہ انہوں نے کہا۔ ہم اکٹھے کھائیں گے اور اکٹھے مریں گے۔ چنانچہ انہوں نے اکٹھے کھایا اور اکٹھے ہی ذخیرہ ختم ہونے پر مر گئے۔
    پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے اعمال ان کے مطابق بناؤ اور اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ جب کوئی قوم خدا کی خاطرمرنے کے لئے تیار ہو جائے تو وہ نہیں مرا کرتی۔ جب مَیں تمہیں کہتا ہوں کہ تم مصیبت کے دنوں میں اکٹھے کھاؤ اور اکٹھے مرو تو اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ خدا بھی تمہیں مرنے دے گا اسے اگر ساری دنیا کو مارنا پڑے گا تو وہ مار دے گا مگر تمہیں نہیں مارے گا کیونکہ تم نے اس کے لئے مرنا قبول کر لیا اورجو شخص اس کے لئے مرنا قبول کرے اور اللہ تعالیٰ پر ایسا توکل کرے کہ اپنی موت اور اپنی بیوی اور اپنے بچوں کی موت برداشت کرے مگر اس بات کو پسند نہ کرے کہ دوسرے لوگ ہلاک ہوں وہ کبھی برباد نہیں ہو سکتا ۔ فرض کرو اس کے پاس پانچ سیرغلّہ ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس سے مَیں اور میرے بیوی بچے دس دن زندہ رہ سکیں گے مگر وہ اس بات کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ سے پانچ سیر غلّہ لے لو اور دوسرے لوگوں کو دے دو۔ تو یہ لازمی بات ہے کہ خدا ایسے آدمی کو مرنے نہیں دے گا اور اگر بالفرض بعض کمزور لوگ مر بھی جائیں تو ان کی موت ان کی ہمیشہ کی زندگی ہو گی اور وہ دنیا سے جاتے وقت اکیلے نہیں جائیں گے بلکہ خدا تعالیٰ کے فرشتے عرش سے اتر کر ان کو لینے کے لئے آئیں گے اور جنت اس دن خوشیاں منائے گی کہ ایسے پاکیزہ آدمی میری طرف آر ہے ہیں۔ پس اپنے اندر ان تکلیف کے دنوں میں قربانی کی وہ سچی روح پیدا کرو جو مومنوں میں ہونی چاہئے اور جس کے پیدا ہونے کے بعد خدا ہمیشہ کے لئے انسان سے خوش ہو جاتا ہے۔‘‘ (الفضل 30 مارچ 1942ء)
    1: زینت محل مراد ہے جو بادشاہ کے جلاوطنی میں بھی ساتھ رہی اور بادشاہ کی وفات کے بعد 24 سال زندہ رہی اور فوت ہو جانے کے بعد بادشاہ کے پہلو میں دفن ہوئی۔ اس نے بادشاہ کو اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالہ کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ (اردو انسائیکلو پیڈیا)
    2 : بخاری کتاب الشرکۃ باب الشرکۃ فی الطعام والنھد والعروضِ حدیث نمبر 2484

    7
    زبردست غنیم1 طوفان کی طرح ہندوستان کی طرف چلا آ رہا ہے
    (فرمودہ 3،اپریل 1942ء)

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’پچھلے دس دنوں میں کل سے مجھے دوسرا حملہ انفلوئنزا کا ہو رہا ہے اور علاوہ کھانسی و نزلہ کے شدید تکلیف سر درد کی ہے جس کی وجہ سے حرکت کرنا، اٹھنا، بیٹھنا، وضو کرنا اور سجدہ میں جانا بھی درد کی شدت پیدا کر دیتا ہے۔ اس لئے آج میرے لئے بولنا قریباً تکلیف مَا لَا یُطَاق ہو رہا ہے مگر چونکہ مجلسِ شوریٰ کے لئے مَیں نے بہرحال آنا ہی تھا اس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ جمعہ بھی مَیں ہی پڑھاؤں۔
    ہماری شریعت نے ہمارے لئے ہر قسم کی سہولت بہم پہنچا دی ہوئی ہے اور جس قدر ہمارے اندر طاقت ہو اسی قدر کا حکم دیا ہے۔ آج میری تکلیف کو دیکھ کر میری ایک بیوی نے پوچھا کہ آپ خطبہ کس طرح پڑھائیں گے۔ مَیں نے کہا کہ ہماری شریعت نے ہمارے لئے سہولتیں بہم پہنچا دی ہیں اس لئے اگر مَیں ایک فقرہ کہہ کر بھی بیٹھ جاؤں تو اسلامی احکام کے مطابق وہ بھی خطبہ کی غرض کو پورا کرنے والا ہو گا اور ایسے جامع مذہب کے ہوتے ہوئے مجھے خطبہ کے متعلق کوئی فکر نہیں ہو سکتا۔
    مَیں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ سال نہایت نازک سال ہے۔ آپ لوگ مجلسِ شوریٰ کے لئے اس موقع پر جمع ہوئے ہیں اور دسیوں، بیسیوں بلکہ سینکڑوں سال کے آئندہ پروگرام آپ لوگوں کی نظروں کےسامنے ہوں گے مگر ملک کی حالت ایسی خطرناک ہے کہ ظاہری عقل کے لحاظ سے آئندہ چھ ماہ کا پروگرام بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ زبردست غنیم طوفان کی طرح ہندوستان کی طرف چلا آ رہا ہے اور ہر روز اس کا قدم آگے ہی آگے پڑ رہا ہے۔ پھر دوسری طرف سے بھی ہندوستان کی طرف خطرہ اس سال کم نظر نہیں آتا۔
    ان حالات میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور وہی بتا سکتا ہے کہ آئندہ پروگرام اسلام اور احمدیت کے لئے کیا ہو گا۔ ہم ایماناً اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام اور احمدیت کے لئے کوئی نیک صورت ہی پیدا ہو گی لیکن ہمارے دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر نیکی پھولوں کی سیج پر چل کر نہیں ملا کرتی۔ کئی اچھے انجام کانٹوں پر گھسٹنے کے بعد حاصل ہوتے ہیں اور کئی زندگیاں بار بار موت کی چاشنی چکھنے کے بعد ملتی ہیں۔ اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ سال ہمارے لئے کس قسم کی مشکلات، تکالیف، ٹھوکریں اور ابتلاء اپنے اندر مخفی رکھتا ہے۔
    پس اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری طاقتوں سے زیادہ مصائب نہ ڈالے۔ ہمارے دشمنوں کو ہم پر غلبہ نہ دے، ہمارے شیرازہ کو بکھرنے سے بچائے، ہمارے قدم پیچھے پڑنے سے روکے اوراپنے رحم اور فضل سے ہمارے کاموں میں سہولتیں بہم پہنچائے اور ہمارے نفسوں کی اصلاح کر دے تا ہم وہی کام کریں جو اس کی مرضی کے مطابق ہوں۔ یہ دن بہت ہی نازک ہیں۔ اس بارہ میں مَیں جتنا بھی کہوں تھوڑا ہے اور جتنا بھی میرے الفاظ کے معنے آپ بڑھا کر کریں کم ہے۔ پس ان ایام کی نزاکت کو محسوس کرو اور اپنے آپ کو ایک بے جان چیز کی طرح خدا تعالیٰ کے آگے ڈال دو کہ وہی حفاظت کر سکتا ہے۔ نہ حملہ آور ہمارے ہاتھ میں ہے اورنہ دفاع ہمارے اختیار میں ہے۔ سودا ہماری جانوں کا ہو رہا ہے مگر ہماری رائے کا کوئی دخل نہیں۔ ہماری مثال اس غلام کی سی ہے جو منڈی میں بکنے کے لئے لایا گیا ہو۔ فروخت کرنے والا اس کی خوبیاں بیان کرتا اور اس کے عیوب کو چھپاتا ہے اور لینے والا اس کی قیمت کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دونوں طرف سے قیمتوں کے اندازے ہوتے ہیں مگر اس غلام سے کوئی پوچھتا تک بھی نہیں کہ اس کا منشا ء وہاں جانے کا ہے بھی یا نہیں جہاں اسے بھیجنے کی گفتگو ہو رہی ہے۔
    اسی طرح نہ حملہ آور کو ہمارے ارادوں کی کچھ پرواہ ہے اور نہ دفاع میں ہمارا کچھ دخل ہے۔ دنیا ہمارے ملک کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے بیٹھی ہے کہ کون اسے چھین کر لے جائے مگر ہماری رائے کی کسی کو بھی کوئی قدر نہیں۔ ایسے حالات میں ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل اور دل میں حِس موجود ہے، محسوس کرے گا کہ ہمارے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ہم اسی درگاہ میں جا گریں جہاں غلام و آزاد اور چھوٹے بڑے کو مساوات حاصل ہے۔ جو مظلوم کی داد رسی کرتا اور سب کی آواز کو سنتا ہے۔ جس کا کوئی سہارا نہ ہو وہ اس کا سہارا ہوتا ہے اور جب کوئی بھی پکار کو سننے والا نہ ہو وہ سنتا ہے۔ سوائے اس دروازہ کے ہندوستان بالخصوص احمدیت کے لئے کوئی چارۂ کار نہیں۔ کوئی آلہ ہمارے پاس حفاظت کا نہیں۔ سوائے اس کے کہ اسی دروازہ کو کھٹکھٹائیں اور اسی سے مدد مانگیں۔
    مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ آج اس دَر کو چھوڑ رہے ہیں۔ جھوٹے آقاؤں نے ہمیں بیچ ڈالا اور جھوٹے مدعی ہماری ملکیت کے لئے بڑھ رہے ہیں لیکن وہ سچا آقا جو ہمیشہ ہماری آبرو اور عزت کا خیال رکھتا ہے اسے لوگوں نے بھلا دیا ۔ کاش لوگ اب بھی اس طرف متوجہ ہوں اور اس کی محبت کی چنگاریاں ان کے دلوں میں سُلگنے لگیں۔ وہ ہمیں خود ہی اپنی طرف کھینچ لے اور ہم بھولے ہوئے سبق کو یاد کر لیں۔ ہماری کھوئی ہوئی متاع دوبارہ حاصل ہو جائے ورنہ ہمارا ٹھکانہ نہ اس دنیا میں کوئی ہے اور نہ اگلے جہان میں۔ دنیوی لحاظ سے ہماری بربادی اور تباہی میں کوئی شک نہیں۔ وہی ایک راستہ امید کا باقی ہے اور وہ ایک ایسی ذات ہے جو مایوسیوں کو امید سے، تکلیفوں کو راحتوں سے اور ناکامیوں کو کامیابیوں سے بدل ڈالتی ہے۔ کاش ہمارے لئے یہ برکتوں کا رستہ کھل جائے اور اس کی رحمتیں ہمارے لئے نازل ہوں اور ان کے لئے جن کے دماغوں کو ابھی اس ایمان سے حصہ نہیں ملا جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتا ہے۔ کاش وہ بھی اس ایمان کو حاصل کر سکیں اور اس درگاہ پر آ جائیں جو بخشش اور غُفران کی درگاہ ہے اور جو درحقیقت ایک ہی مقام ہے مخلوق کے آرام پانے کا۔ ‘‘ (الفضل 11 اپریل 1942ء )
    1: غنیم: دشمن

    8
    اس یقین کے ساتھ دعائیں کرو کہ تمہاری ہر ضرورت صرف خدا تعالیٰ ہی پوری کر سکتا ہے
    ( فرمودہ 10 اپریل 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’ مَیں نے احباب کو متواتر دعاؤں کی طرف توجہ دلائی ہے اور اب جو بعض دوستوں کی طرف سے رقعے اور خطوط ملتے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ جماعت کے ایک حصہ میں موجودہ زمانہ کے فتن کے لئے دعا کی تحریک پائی جاتی ہے مگر ایک حصہ کی دعا کافی نہیں۔ ضرورت ہے کہ مردوں اور عورتوں اور بچوں سب کی ذہنیت کو دعا کے لئے بدلا جائے اور یہ ذہنیت اس رنگ میں بدلی جاتی ہے کہ سب سے پہلے دعا پر یقین اور ایمان پیدا ہو۔ جو شخص بغیر یقین کے دعا مانگتا ہے اس کی دعا خدا تعالیٰ کے حضورمیں مقبول نہیں ہؤا کرتی۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی ایسے شخص کی دعا قبول ہو جائے صرف نمونہ کے طور پر اور اس کے دل میں یقین پیدا کرنے کے لئے لیکن قانون کے طور پر اُسی شخص کی دعا قبول ہوتی ہے جس کے دل میں یقین ہوتا ہے کہ خدا میری سنے گا۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ 1 کہ مُضْطَر کی دعا کون سنتا ہے؟ اور پھر فرماتا ہے ۔ اللہ ہی سنتا ہے اور مُضْطَر کے معنے عربی زبان میں یہ ہوتے ہیں کہ کسی کو چاروں طرف سے دھکّے دے کر کسی طرف لے جائیں جو چاروں طرف سے رستہ بند پا کر کسی ایک طرف کو جاتا ہے۔ اس کو مُضْطَر کہتے ہیں یعنی وہ ہر طرف آگ دیکھتا ہے۔ اپنے دائیں دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے، اپنے بائیں دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے، اپنے پیچھے دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے، اپنے نیچے دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے، اپنے اوپر دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے۔ صرف ایک جہت اس کے سامنے خدا تعالیٰ والی باقی رہ جاتی ہے اور اسی پر اس کی نظر پڑتی ہے اَور سب جگہ اسے آگ ہی آگ دکھائی دیتی ہے مگر صرف ایک طرف اُسے امن نظر آتا ہے ۔ اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ مُضْطَر کے معنوں میں یقین پایا جانا ضروری ہے۔ مُضْطَر کے صرف یہی معنے نہیں ہیں کہ اس کے دل میں گھبراہٹ ہو کیونکہ گھبراہٹ میں بعض دفعہ ایک شخص بے تحاشا کسی طرف چل پڑتا ہے بغیر اس یقین کے کہ جس طرف وہ جا رہا ہے وہاں اسے امن بھی حاصل ہو گا یا نہیں بلکہ بعض لوگ گھبراہٹ میں ایسی طرف چلے جاتے ہیں جہاں خود خطرہ موجود ہوتا ہے اور وہ اس سے نہیں بچ سکتے۔ پس محض اِضطراب کا دل میں پیدا ہونا اِضطرار پر دلالت نہیں کرتا۔ اِضطرار پر وہ حالت دلالت کیا کرتی ہے جب چاروں طرف کوئی پناہ کی جگہ انسان کو نظر نہ آتی ہو اور ایک طرف نظر آتی ہو۔ گویا اِضطرار کی نہ صرف یہ علامت ہے کہ چاروں طرف آگ نظر آتی ہو بلکہ یہ علامت بھی ہے کہ ایک طرف امن نظر آتا ہو اور انسان کہہ سکتا ہو کہ وہاں آگ نہیں ہے۔ تو وہی دعا خدا تعالیٰ کے حضور قبول کی جاتی ہے جس کے کرتے وقت بندہ اس رنگ میں اس کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔ اُسے یقین ہوتا ہے کہ سوائے خدا کے میرے لئے اَور کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔ یہی وہ مُضْطَر کی حالت ہے جسے رسول کریم ﷺ نے ان الفاظ میں ادا فرمایا ہے کہ لَا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَأَ مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ 2 اے خدا لَا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَأَ مِنْکَ تیرے عذاب اور تیری طرف سے آنے والےابتلاؤں سے کوئی پناہ کی جگہ نہیں، کوئی خوف کی جگہ نہیں سوائے اس کے کہ مَیں سب طرف سے مایوس ہو کر اور آنکھیں بند کر کے تیری طرف آ جاؤں۔ تو لَا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَأَ والی جو حالت ہے یہی اِضطرار کی کیفیت ہے اور جب خدا نے قرآن میں کہا کہ اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ بتاؤ مُضْطَر کی کون سنتا ہے۔ تو مُضْطَر کے معنے یہی ہوئے کہ ایسے شخص کی دعا جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو مَلْجَا وَ مَاْوٰی نہیں سمجھتا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا مَلْجَا وَ مَنْجَاقرار نہیں دیتا۔ اور اس آیت میں کہ اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ درحقیقت اسی کیفیت اِضطرار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
    اِضطرار دنیا میں کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ اسی لئے یہاں اَلْمُضْطَرّکا لفظ رکھا گیا ہے۔ جس کے معنے تمام قسم کے مضطر کے ہیں۔ بعض بندے دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو مضطر ہوتے ہیں اور گو حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہی ہر مضطر کا علاج ہے مگر اس کے دئیے ہوئے انعام کے ماتحت کوئی بندہ بھی ان کے اضطرار کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ چنانچہ بعض دفعہ ایک آدمی سخت غریب ہوتا ہے اس کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں اور اسے نظر نہیں آتا کہ وہ نئے کپڑے کہاں سے بنوائے۔ ایک امیر آدمی جو بعض دفعہ ہندو ہوتا ہے،بعض دفعہ سکھ ہوتا ہے، بعض دفعہ پارسی ہوتا ہے بعض دفعہ جینی یا بت پرست ہوتا ہے اسے دیکھتا ہے اور کہتا ہے تمہارے کپڑے پھٹ گئے ہیں آؤ مَیں تمہیں نیا جوڑا بنوا دوں اب گو ہمارے یقین کے مطابق خدا نے ہی اس امیر آدمی کے دل میں یہ تحریک پیدا کی ہو گی کہ وہ اسے کپڑے بنوا دے مگر جو کامل الایمان نہیں ہوتا وہ سمجھتا ہے کہ میرے اضطرار کی حالت میں فلاں آدمی کام آیا ہے مگر وہی آدمی جس نے اسے کپڑوں کا جوڑا بنا کر دیا تھا جب یہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کے لئے کھانا اور پینا حرام ہو جاتا ہے۔ پانی تک اسے ہضم نہیں ہوتا۔ تمام جسم کی صحت کی حالت خراب ہو جاتی ہے اور چل پھر بھی نہیں سکتا تو ایسی حالت میں وہ امیر آدمی اس کی مدد نہیں کر سکتا بلکہ اگر کوئی طبیب اچھا لائق اور رحمدل ہوتا ہے اور وہ اسے اس حالت میں دیکھتا ہے تو کہتا ہے تمہیں علاج پر روپیہ خرچ کرنے کی توفیق نہیں مَیں تمہیں مفت دوائی دینے کے لئے تیار ہوں۔ تم میرے پاس رہو اور اپنے مرض کا علاج کراؤ۔ اب اس اضطرار کی حالت میں امیر اس کے کام نہیں آیا بلکہ طبیب اس کے کام آیا۔ جب وہ کپڑوں کے لئے مضطر تھا تو امیر آدمی اس کے کام آ گیا مگر جب وہ علاج کے لئے مضطر ہؤا تو ایک طبیب اس کے کام آ گیا۔ پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس پر کوئی مقدمہ بن جاتا ہے۔ وہ بے گناہ ہوتا ہے اس کا دشمن زبردست ہوتا ہے اور وہ کسی وجہ سے ناراض ہو کر اسے کسی مقدمہ میں ماخوذ کرا کے عدالت تک پہنچاتا ہے۔ اب اسے نہ وکیل کرنے کی توفیق ہے، نہ خود اسے مقدمہ لڑنے کی قابلیت ہے اور وہ حیران ہوتا ہے کہ کیا کرے۔ آخر کوئی رحمدل وکیل اسے مل جاتا ہے اور وہ کہتا ہے مَیں بغیر فیس کے تمہاری وکالت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اب ایسے موقع پر نہ امیر اس کے کام آ سکا، نہ طبیب اس کی مشکل کو دور کر سکا۔ صرف وکیل اس کے کام آیا۔ اسی طرح ایک اَور وقت میں یہ مضطر ہوتا ہے بوجھ اٹھائے جا رہا ہوتا ہے کہ تھک کر چُور ہو جاتاہے اور بوجھ اس سے گر جاتا ہے اس میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اس بوجھ کو پھر اٹھا سکے۔ اب ایسے وقت میں نہ امیر اس کے کام آ سکتا ہے، نہ طبیب اس کے کام آ سکتا ہے ، نہ وکیل اس کے کام آ سکتا ہے البتہ کوئی مضبوط زمیندار چلتے ہوئے اسے دیکھتا ہے اور پوچھتا ہےتُو یہاں کیوں بیٹھا ہے۔ وہ جواب دیتا ہے بوجھ مجھ سے اٹھایا نہیں جاتا چنانچہ وہ زمیندار اس کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ اب یہ مضطر تو تھا مگر اس حالت میں نہ امیر اس کے کام آسکا، نہ طبیب اس کے کام آسکا، نہ وکیل اس کے کام آ سکا بلکہ اس کا ایک زمیندار بھائی اس کے کام آ گیا۔ تو ایک ہی انسان کے مختلف اضطراروں میں مختلف لوگ اس کے کام آ سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ مطلق مضطر جس کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس قسم کا مضطر ہو۔ خواہ وہ بھوکا ہو، ننگا ہو ، پیاسا ہو، بیمار ہو، بوجھ اٹھائے جا رہا ہو، کسی قسم کا اضطرار ہو اس کی ساری ضرورتوں کو پورا کرنے والی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ہو سکتا ہے ایک شخص کے پھٹے پرانے کپڑے ہوں تو کوئی امیر اس کے کام آ جائے مگر طبیب اس کے کام نہیں آ سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی بیمار ہو تو طبیب اس کے کام آ جائے مگر وکیل اس کے کام نہیں آ سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی بے گناہ کسی مقدمہ میں مبتلا ہو تو وکیل اس کے کام آ جائے مگر بوجھ اٹھانے کے وقت وکیل اس کے کام نہیں آ سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ بوجھ اٹھانے کے وقت ایک زمیندار اس کے کام آ جائے لیکن امیر، طبیب اور وکیل اس کے کام نہیں آ سکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ یہ سارے کام کر سکتا ہے باقی انسان جس قدر ہیں وہ تو کسی کسی ضرورت میں کام آ سکتے ہیں۔ کوئی ایک قسم کے مضطر کے کام آ سکتا ہے اور کوئی دوسری قسم کے مضطر کے کام آ سکتا ہے مگر ہر قسم کے مضطرین کی ضرورتیں پورا کرنے والی خدا کی ہی ذات ہوتی ہے۔ انسان کے اضطرار کی ہزاروں حالتیں ہوتی ہیں۔ بھلا ان حالتوں میں تو کوئی بادشاہ بھی کسی کے کام نہیں آ سکتا۔ فرض کرو ایک شخص سخت بیمار ہے۔ اب بادشاہ کا خزانہ اس کے کام نہیں آ سکتا، بادشاہ کی فوجیں اس کے کام نہیں آ سکتیں، بادشاہ کا قرب اس کے کام نہیں آ سکتا۔ اس کے کام تو اللہ تعالیٰ ہی آ سکتا ہے جو ہر قسم کی بیماریوں کو دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے یا ایک جنگل میں گزرنے والا شخص جس پر بھیڑیا یا شیر اچانک جھپٹ کر حملہ کر دیتا ہے وہ چاہے بادشاہ کا کتنا ہی مُنہ چڑھا ہو یا بادشاہ کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو بادشاہ اس کے کیا کام آ سکتا ہے۔ یا طبیب جو اس کا علاج کرتا تھا وہ اس کے کیا کام آ سکتا ہے۔ یا امیر جو نئے کپڑے سِلا دیتا تھا وہ اس کے کیا کام آ سکتا ہے ۔یا وکیل جس نے رحم کر کے اس کا مقدمہ لے لیا تھا اس کے کس کام آ سکتا ہے۔ جنگل میں وہ تن تنہا جا رہا ہوتا ہے کہ شیر چیتا یا بھیڑیا اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں وہاں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو کام آتی ہے کوئی انسان کام نہیں آ سکتا۔ تو جب تک انسان کے اندر یہ یقین پیدا نہ ہو کہ ہر قسم کے اضطرار کی حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کام آتا ہے اس وقت تک وہ مضطر نہیں کہلا سکتا ۔مثلاًَ آجکل لڑائی ہو رہی ہے۔ اب یہ بھی ایک اضطرار کی حالت ہے۔ ہمارا ملک سینکڑوں سال سے بندوق اور تلوار چلانے کے فن سے نا آشنا ہے اوریہاں کے رہنے والے اس بات سے بالکل ناواقف ہیں کہ دشمن کا مقابلہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کانگرس والے تعلّی کرتے ہیں کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ مگر یہ محض ایک لاف ہے جس کے اندر کوئی حقیقت نہیں۔ جو قومیں بہت کچھ کر سکتی تھیں ان میں سے بھی کئی اس جنگ میں مقابلہ کر کے دب گئی ہیں مثلاً فرانس کی بہت بڑی طاقت تھی مگر جرمنی کے مقابلہ میں بالکل دب گئی۔ تو دعویٰ کرنا اَور بات ہے اور عملی رنگ میں کچھ کر کے دکھانا اَور بات ہے ۔ یوں مُنہ سے کانگرسی کہتے رہتے ہیں کہ ہندوستان کو آزاد کر دیا جائے ہم خود دفاع کا انتظام کر لیں گے مگر یہ بالکل ناممکن بات ہے کہ وہ آزاد ہو کر اپنی حفاظت کا خود سامان کرسکیں ۔ وہ جونہی آزاد ہوئے فوراً انگریزوں سے مطالبہ کریں گے کہ تم ہم کو توپ خانہ بھیجو۔ تم ہم کو ہوائی جہاز بھیجو، تم ہم کو ٹینک بھیجو۔ گویا پھر بھی انگریزوں کے ہی محتاج رہیں گے۔ زیادہ سے زیادہ کانگرسی یہ کر سکتے ہیں کہ چندے دے دیں یا زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ چند کانگرسی دھواں دھار تقریریں کر دیں کہ اٹھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔ مگر ان میں ہمت کہاں سے آئے گی اور بہادری کی روح ان میں کس طرح پیدا ہو گی پھر اس خطرہ کی حالت میں انگریز بھی صرف ٹینک دے سکتے ہیں، ہوائی جہاز دے سکتے ہیں، توپ خانہ دے سکتے ہیں، فوجیں دے سکتے ہیں مگر خالی ٹینکوں ، ہوائی جہازوں اور فوجوں سے فتح حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ فتح دلوں کی جرأت سے حاصل ہوتی ہے اور یہ جرأت نہ انگریز پیدا کر سکتے ہیں اورنہ کانگرسی پیدا کر سکتے ہیں۔ انگریزوں کے ماتحت ہی ہندوستان میں کئی بزدل قومیں ہیں مگر انگریز ان کو بہادر نہیں بنا سکے۔ صرف اتنا کہہ دیا کہ انہیں فوج میں بھرتی نہ کیا جائے۔ گویا بجائے اس کے کہ وہ ان کی ترقی کا باعث بنتے۔ انہوں نے ان کو اسی بزدلی کے گڑھے میں گرائے رکھا جس میں وہ پہلے گرے ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھو۔ اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے بڑے بڑے بزدل بہادر بن جاتے ہیں اور بڑی بڑی غیر منظم قومیں منظّم ہو جاتی ہیں۔ آجکل لوگ جرمنی کی مثال دیتے ہیں کہ اس کی تنظیم حیرت انگیز ہے حالانکہ جرمنی پہلے ہی منظّم تھا۔ وہ آزاد قوم تھی اس کی حکومت اپنی تھی۔ سامان اس کے پاس موجود تھا اور دنیا کی حاکم قوموں میں سے سمجھی جاتی تھی۔ اگر اس نے ان سامانوں سے کام لے کر اپنی تنظیم کو زیادہ بہتر بنا لیا۔ تو یہ معمولی بات ہے۔ یہی حال اٹلی اورجاپان کا ہے۔ لیکن خدا جن قوموں کو ترقی دیتا ہے ان کی کایا پلٹ کر رکھ دیتا ہے اور ان کے دل بالکل بدل جاتے ہیں۔ ان کی کمزوری اور بزدلی جاتی رہتی ہے اور ان کے اندر ایسی طاقت اور قوت آ جاتی ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔
    مسلمانوں کو ہی دیکھ لو عرب ایک اَیسا ملک تھا جس کے باشندے کسی ایک بادشاہ کے ماتحت رہنا اور باقاعدہ کسی نظام کے ماتحت آنا گوارا نہیں کیا کرتے تھے بلکہ قبائل کے سردار عوام سے مشورہ لے کر کام کرتے تھے اور ہر قبیلہ اپنی اپنی جگہ آزاد سمجھا جاتا تھا مگر ان کی اتنی حیثیت بھی نہ تھی۔ جتنی آجکل چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی ہوتی ہے۔ کوئی قبیلہ ہزار افراد پر مشتمل تھا ، کوئی قبیلہ دو ہزار افراد پر مشتمل تھا، کوئی قبیلہ تین ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ گویا آجکل جو چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں ان سے بھی وہ قبائل بہت چھوٹے تھے۔ مکہ کی آبادی بھی اُس وقت صرف دس پندرہ ہزار تھی پھر ان میں کوئی نظام نہ تھا، ان کے پاس کوئی خزانہ نہ تھا، کوئی سپاہی نہ تھا، کوئی ایسا محکمہ نہ تھا جس کے ماتحت باقاعدہ فوجیں رکھی جاتی ہوں اور سپاہی بھرتی کئے جاتے ہوں۔ صرف کام کے متفرق شعبے ایک دوسرے میں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔
    غرض وہ ایک ایسی قوم تھی جو بالکل بے راہ رو تھی، کوئی طریقہ اور کوئی صحیح نظام ان میں نہیں پایا جاتا تھا۔ ایسی حالت میں رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا مگر بہت ہی تھوڑے لوگ آپ پر ایمان لائے۔ محققین کے نزدیک ساری مکی زندگی میں جو لوگ مکہ میں اسلام لائے۔ ان کی تعداد سَو کے قریب بنتی ہے۔ غرض یہ تھوڑے سے آدمی رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے۔ مکہ کے لوگ اول تو خود ہی دنیوی لحاظ سے نہایت حقیر تھے اور ان میں کوئی طاقت و قوت نہ تھی۔ پھر ان کمزور لوگوں میں سے بھی ایسے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جو مکہ والوں کی نگاہ میں بھی کمزور سمجھے جاتے تھے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کتنی بہادری پیدا کر دی اور بے نظامی کی جگہ کیسی اعلیٰ درجہ کی تنظیم کا نظارہ نظر آنے لگا۔ یہی مکّہ کے لوگ یا عرب کے باشندے کسی کی بات ماننا گوارا نہیں کیا کرتے تھے۔ یعنی اطاعت جو دنیا میں مہذّب قوموں کا شعار سمجھا جاتا ہے۔ وہ ان کے نزدیک سخت ذلت کی بات تھی۔ چنانچہ عربی ادب کی کتب میں لکھا ہے کہ عرب میں ایک بادشاہ عمرو بن ہند 3 تھا۔ اس نے ایک علاقہ پر جو شام اور عراق کی طرف تھا حکومت قائم کی اور عرب کے لحاظ سے اس قدر شوکت حاصل کر لی کہ اسے یہ خیال پیدا ہؤا کہ سارا عرب میری بات مانتا ہے۔ ایک دن درباریوں سے اُس نے باتیں کرتے ہوئے کہا۔ کیا عرب میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو میری بات ماننے سے انکار کر سکے۔ وہ اس بات کو خوب سمجھتا تھا کہ عرب کے لوگ اطاعت کرنا نہیں جانتے مگر اس نے خیال کیا کہ مجھے ایسا رعب حاصل ہو گیا ہے کہ اب عرب کا کوئی شخص کم از کم میری بات ماننے سے انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا ایک شخص عمرو بن کلثوم ہے جو اپنے قبیلہ کا سردار ہے۔ ہمارے خیال میں وہ ایسا شخص ہے جو آپ کی اطاعت نہیں کرے گا۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ مَیں اس کی تصدیق کرنے کے لئے اسے بلواتا ہوں۔ چنانچہ بادشاہ نے عمرو بن کلثوم کو دعوت دی اور اسے خط لکھا کہ آپ یہاں تشریف لائیں۔ آپ سے ملنے کوجِی چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے قبیلہ کے کچھ لوگوں کو لے کر آ گیا جیسے عرب کا دستور تھا۔ بادشاہ اس وقت کسی جگہ خیموں میں ٹھہرا ہؤا تھا۔ وہیں اس نے آ کر اپنے خیمے لگا دئیے۔ اس نے عمرو بن کلثوم کو یہ بھی لکھا تھا کہ اپنی والدہ اور دوسرے عزیزوں کو بھی لیتے آنا۔ چنانچہ وہ اس کے مطابق اپنی والدہ کو بھی لے آیا۔ عمرو ابن ہند نے اپنی والدہ سے کہا۔ کام کرتے کرتے عمرو بن کلثوم کی ماں سے کوئی چھوٹا سا کام لے کر دیکھنا تا پتہ لگ سکے کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔ چنانچہ جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو عرب کے دستور کے مطابق گو وہ بادشاہ کہلاتا تھا مگر اس کی ماں خود کھانا برتانے بیٹھ گئی۔ اپنے بیٹے کے لئے بھی اور عمرو بن کلثوم کے لئے بھی۔ گویا عمرو بن ہند کی والدہ اس وقت عملاً عمرو بن کلثوم اور اس کے دوسرے عزیزوں کا کام کر رہی تھی۔
    پس ایسے وقت میں عمرو بن کلثوم کی ماں کا کسی کام میں ہاتھ بٹانا ہرگز اس کی ہتک کا موجب نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ جب بادشاہ کی ماں خود ایک کام کر رہی تھی تو اسی کام میں عمرو بن کلثوم کی ماں کا ہاتھ بٹانا ہرگز کوئی ایسی بات نہیں تھی جو اس کی شان اور عزت کے منافی ہوتی مگر واقعہ کیا ہوتا ہے۔ کھانا برتاتے وقت ایک تھال کچھ فاصلے پر پڑا تھا۔ عمرو بن ہند کی والدہ کھانا برتاتے برتاتے اسے کہنے لگی۔ بی بی ذرا وہ تھال تو سِرکا کر ادھر کر دینا اسے بھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ اس سے زیادہ اسے کوئی کام کرنے کے لئے کہے مگر تاریخوں میں لکھا ہے۔ جونہی اس نے عمرو بن کلثوم کی والدہ سے یہ بات کہی ۔ وہ کھڑی ہو گئی اور اس نے زور سے پکارنا شروع کر دیا کہ او ابن کلثوم! تمہاری ماں کی ہتک ہو گئی ہے۔ عمرو بن کلثوم اس وقت بادشاہ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور شاہی اعزاز کی وجہ سے وہ اپنے ہتھیار خیمہ میں ہی چھوڑ آیا تھا۔ گویا وہ اس وقت بالکل بے ہتھیا رتھا مگر جونہی اس نے اپنی ماں کی اس آواز کو سنا اس نے اپنی ماں سے جا کر یہ نہیں پوچھا کہ تمہاری کیا ہتک ہوئی ہے؟ وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگ گیا۔ خیمہ میں بادشاہ کی تلوار لٹک رہی تھی اس نے اُچک کر تلوار کو میان سے نکالا اور بادشاہ کو قتل کر دیا پھر باہر نکل کر اس نے اپنے قبیلہ والوں سے کہا۔ بادشاہ کا سب مال و متاع لوٹ لو۔ چنانچہ اس کا سب مال و متاع لوٹ کر وہ اپنے وطن کی طرف واپس چلا آیا۔ تو عرب لوگ کسی کی اطاعت کو برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے۔ جو بات ان کی مرضی کے مطابق ہوتی تھی اسے تو مان لیتے تھے مگر جو بات ان کی مرضی کے خلاف ہوتی تھی۔ اس کو سننا بھی وہ گوارا نہیں کرتے تھے لیکن پھر انہیں عربوں کو ہم دیکھتے ہیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے دل بدل ڈالے۔ انہی عربوں میں سے ایک سمجھدار اور پڑھے لکھے اور اپنی قوم کے معزز فرد حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ گلی میں سے گزر رہے تھے اور رسول کریم ﷺ مسجد میں وعظ فرما رہے تھے۔ وہ اسی وعظ کو سننے کے لئے مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ مسجد اس وقت لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور جیسے ہماری مجلسوں میں بعض لوگ کناروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اس وقت بعض لوگ مسجد کے کناروں پر کھڑے تھے۔ جب وعظ فرماتے فرماتے رسول کریم ﷺ نے کنارے کے لوگوں کو دیکھا تو آپ نے خیال فرمایا کہ ان کے پیچھے بھی بعض لوگ ہیں جن تک ان کے کھڑے ہونے کی وجہ سے آواز نہیں جاتی ہو گی۔ چنانچہ آپ نے ان سے فرمایا بیٹھ جاؤ۔ جب آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ تو عبد اللہ بن مسعود جو گلی میں چل رہے تھے اور اس وقت مسجد کے قریب پہنچ چکے تھے وہیں بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھسٹ گھسٹ کر انہوں نے مسجد کی طرف جانا شروع کر دیا۔ کوئی دوست جو پاس سے گزر رہا تھا اس نے کہا عبد اللہ بن مسعودؓ یہ تم نے کیا مضحکہ خیز حرکت شروع کر دی ہے کہ زمین پر بیٹھے بیٹھے چل رہے ہو سیدھی طرح کیوں نہیں چلتے۔ انہوں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ مجھے محمد رسول اللہ ﷺ کی آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ۔ مَیں نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے کیا پتہ مَیں وہاں تک زندہ پہنچوں یا نہ پہنچوں۔ ایسا نہ ہو میرا خاتمہ محمد رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی میں ہو۔ اس لئے مَیں یہیں بیٹھ گیا اورمَیں نے بیٹھے بیٹھے مسجد کی طرف جانا شروع کر دیا۔ 4
    اب ذرا مقابلہ کرو اس واقعہ کا عمرو بن کلثوم کے واقعہ سے کہ ایک بادشاہ کی دعوت پر وہ جاتا ہے اور اس کی ماں کو بادشاہ کی ماں کوئی بڑا کام نہیں بتاتی بلکہ وہ کام بتاتی ہے جو وہ خود کر رہی ہے اور اپنے بیٹے سے کم درجہ رکھنے والے شخص کے لئے کر رہی ہے۔ پھر وہ کام کوئی بہت بڑا نہیں بتاتی بلکہ جو کچھ وہ کر رہی تھی اس میں سے بھی ایک نہایت معمولی اور چھوٹا سا کام کرنے کے لئے اسے کہتی ہے مگر اس کی طبیعت اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی اور اِدھر وہ بات کہتی ہے اُدھر وہ شور مچانے لگ جاتی ہے کہ میری ہتک ہو گئی مگر اسی گروہ کا ایک اَورفرد گلی میں رسول کریم ﷺ کی آواز سنتا ہے اور گلی میں سن کر ہی بیٹھ جاتا اور ایسی حرکت کرتا ہے جو دنیا میں عام طور پر ذلیل سمجھی جاتی ہے۔ تم اپنے طور پر ہی اندازہ کر لو کہ اگر کوئی بڑا آدمی جو فرض کرو گاؤں کا نمبردار یا مکھیا یا چودھری وغیرہ ہو زمین پر بیٹھا ہؤا اپنے پیروں پر گھسٹ گھسٹ کر جا رہا ہو تو تم پر کیسا بُرا اثر پڑے گا۔ تم یقیناً اسے پاگل سمجھو گے مگر صحابہؓ کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنے آپ کو پاگل ہی بنا بیٹھے تھے محمد ﷺ کی اطاعت میں کیونکہ وہ سمجھتے تھے محمد ﷺ کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔
    پھر مدینہ کے لوگ لڑائی کے کام میں نہایت ادنیٰ اور ذلیل سمجھے جاتے تھے جیسے ہمارے ملک میں بعض قومیں لڑائی کے فن کی اہل نہیں سمجھی جاتیں۔ اسی طرح مدینہ کے لوگوں کو لڑائی کے قابل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مدینہ کے لوگ بے شک مالدار تھے اور وہ اچھے زمیندار تھے مگر جیسے ہمارے ملک میں بعض قومیں بعض پیشوں کی وجہ سے ذلیل سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح وہ ذلیل سمجھے جاتے تھے کیونکہ وہ کھیتی باڑی کیا کرتے تھے اور کھیتی باڑی کو عرب لوگ پسند نہیں کرتے تھے۔ عرب لوگ اس بات پر ناز کرتے تھے کہ ان کے پاس اتنے گھوڑے ہیں، اتنے اونٹ ہیں، وہ اس طرح ڈاکہ مارتے ہیں اور اس اس طرح لوگوں پر حملے کرتے ہیں مگر مدینہ کے لوگ ایک گاؤں میں بستے اور کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ وہ نہ ڈاکہ مارتے تھے، نہ اونٹ اور گھوڑے کثرت سے رکھ سکتے تھے کیونکہ اگر وہ اونٹ اور گھوڑے رکھتے تو انہیں کھلاتے کہاں سے۔ اس لئے وہ دوسرے عربوں کی نگاہ میں نسبتاً ادنیٰ سمجھے جاتے تھے اور عرب کے لوگ تو ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ وہ تو سبزی ترکاری بونے والے ہیں اور درحقیقت وہ تھے بھی ایسی ہی حالت میں۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ جو لوگ ترفُّہ میں پڑ جائیں، باغات بنا لیں، کھیتی باڑی میں مشغول ہو جائیں اور مال و دولت جمع کرنے میں لگ جائیں انہوں نے کیا لڑنا ہے اور وہ تو کئی پشتوں سے نسلاً بعد نسلٍ یہی کام کرتے چلے آ رہے تھے۔ اس لئے وہ لڑائی کے قابل نہیں سمجھے جاتے تھے۔ آپس میں بے شک بعض دفعہ لڑ پڑتے تھے مگر آپس میں لڑنا اَور بات ہے اور لڑائی کے میدان میں جا کر لڑنا اور بات ہے۔ ہمارے ملک میں کشمیری لڑائی کے قابل نہیں سمجھے جاتے مگر آپس میں وہ بھی لڑتے ہیں چنانچہ مَیں نے کشمیر میں ہانجیوں5کو دیکھا ہے کہ جب وہ آپس میں لڑتے ہیں تو کسی نے چاول کُوٹنے کا موصل اٹھایا ہؤا ہوتا ہے، کوئی لوٹا اٹھا کر دوسرے کو مارنے کے لئے دوڑتا ہے اور کوئی تھالی کسی کے سر پر دے مارتا ہے۔ نہ سہی تلوار، نہ سہی بندوق مگر لوٹے، ڈنڈے اور تھالیاں تو ان کے پاس ہوتی ہیں۔ وہ انہی کو اٹھا کر ایک دوسرے سے لڑنے لگ جاتے ہیں۔ تو بے شک مدینہ کے لوگوں میں بھی لڑائی ہوتی تھی مگر وہ ایسی نہیں تھی جیسی جنگی قوموں میں لڑائی ہوتی ہے بلکہ وہ اسی رنگ کی ہؤا کرتی تھی جیسے کشمیری آپس میں لڑتے ہیں۔ لیکن بہادر جنگجو تجربہ کار سپاہیوں سے جا کر لڑنا اَور بات ہوتی ہے اور آپس میں لڑنا اَور بات ہوتی ہے۔ تو عرب کی نگاہ میں مدینہ کے لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے اور حقارت سے وہ ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ تو کھیتی باڑی کرنے والے لوگ ہیں۔ مگر انہی لوگوں کو دیکھو رسول کریم ﷺ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے بعد ان میں کتنا عظیم الشان فرق پیدا ہو گیا کہ وہی سبزی ترکاری بونے اور کھیتی باڑی کرنے والے لوگ دنیا کے بہترین سپاہی بن گئے۔
    بدر کے موقع پر مکہ کے بڑے بڑے سردار جمع تھے اور وہ خیال کرتے تھے کہ آج ہم مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ اس دن ایک ہزار تجربہ کار سپاہی جو بیسیوں لڑائیاں دیکھ چکا تھا اور جن کا دن رات کا شغل لڑائیوں میں شامل ہونا اور دشمنوں پر تلوار چلانا تھا مسلمانوں کے مقابلہ میں صف آراء تھا اور مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے۔ بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ ان تین سو تیرہ مسلمانوں میں سے بعض کے پاس تلواریں تک نہ تھیں اور وہ لاٹھیاں لے کر آئے ہوئے تھے۔ ایسی بے سر وسامانی کی حالت میں جب رسول کریم ﷺ جنگ کے لئے چلے تو دو انصاری لڑکے بھی بضد ہو گئے کہ ہم نے بھی ساتھ چلنا ہے۔ آخر رسول کریم ﷺ نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی۔ جب دونوں صفیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں کھڑی ہوئیں تو حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ جو نہایت ہی بہادر اور تجربہ کار سپاہی تھے کہتے ہیں اُس دن ہمارے دلوں کے ولولے کوئی شخص نہیں جان سکتا تھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ آج جبکہ خدا نے ہمیں لڑنے کی اجازت دے دی ہے ہم مکّے والوں سے ان مظالم کا بدلہ لیں گے جو انہوں نے ہم پر کئے۔ مگر وہ کہتے ہیں اچھا سپاہی تبھی اچھا لڑ سکتا ہے جب اس کا دایاں اور بایاں پہلو مضبوط ہو تاکہ جب وہ حملہ کرے اور دشمن کی صفوں میں گھس جائے تو وہ دونوں اس کی پشت کو دشمن کے حملہ سے محفوظ رکھیں۔ آخر ایک شخص کی چار آنکھیں تو ہوتی نہیں کہ وہ آگے بھی دیکھے اور پیچھےسے بھی اپنی پیٹھ کو دشمن کے وار سے محفوظ رکھ سکے۔ اس لئے بہادر سپاہی ہمیشہ درمیان میں کھڑے کئے جاتے ہیں تا اُن کے دائیں بائیں حفاظت کا خاص سامان رہے اور جب وہ دشمن کی صف کو چیر کر آگے بڑھیں تو ان کی پیٹھ کی حفاظت ہوتی رہے۔ حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کہتے ہیں مَیں نے اسی خیال کے ماتحت اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ دیکھوں میرے دائیں بائیں کون کھڑے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میری جو نظر پڑی تو مَیں نے دیکھا وہی دو انصاری لڑکے پندرہ پندرہ سال کی عمر کے میرے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ان لڑکوں کو دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا اور مَیں نے اپنے دل میں کہا۔ اول تو یہ مدینہ کے رہنے والے ہیں جہاں کے لوگ لڑائی کے فن سے نا آشنا ہیں۔ پھر یہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے ہیں انہوں نے میری کیا حفاظت کرنی ہے۔ بس آج تو میرے دل کے جوش دل میں ہی رہیں گے اور مَیں اپنی حسرت نکال نہیں سکوں گا۔ مگر وہ کہتے ہیں یہ خیال ابھی میرے دل میں آیا ہی تھا کہ مجھے اپنے دائیں طرف سے پہلو میں کُہنی لگی مَیں نے مڑ کر اس لڑکے کی طرف دیکھا کہ وہ مجھے کیا کہنا چاہتا ہے وہ اپنا مُنہ میرے کان کے قریب لایا اور اس نے آہستگی سے مجھے کہا۔ چچا وہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم ﷺ کو دکھ دیا کرتا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ آج اس سے بدلہ لوں۔ وہ کہتے ہیں اس سوال پر میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ مَیں جو تجربہ کار سپاہی تھا میرے دل میں بھی یہ خیال نہیں آ سکتا تھا کہ ابو جہل پر جو سالار لشکر تھا اور جس کے اردگرد ایک ہزار تجربہ کاراور مسلّح سپاہی کھڑا تھا حملہ کروں۔ مگر وہ کہتے ہیں مَیں ابھی اس کو کوئی جواب دینے نہیں پایا تھا کہ مجھے اپنی بائیں طرف سے پہلو میں کُہنی لگی۔ مَیں نے اس کی طرف رخ کیا تو وہ بھی میرے کان کے قریب اپنا مُنہ لایا اور کہنے لگا چچا! وہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم ﷺ کو دکھ دیا کرتا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ آج اس سے بدلہ لوں۔ گویا دونوں لڑکوں نے ایک ہی سوال کیا اور دونوں نے آہستگی کے ساتھ حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ سے اس لئے دریافت کیا کہ ان میں سے ہر ایک چاہتا تھا کہ میرا دوسرا ساتھی یہ بات نہ سن لے اور یہ نعمت اس کی بجائے اس کے دوسرے ساتھی کو حاصل نہ ہو جائے۔ مگر ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان دونوں کے دلوں میں ایمان نے ایک ہی جذبہ پیدا کر رکھا تھا۔ حضرت عبد الرحمانؓ بن عوف کہتے ہیں ان دونوں کے اس سوال سے میرے دل پر حیرت طاری ہو گئی اور مجھے ان کے ایمان کو دیکھ کر بہت ہی تعجب ہؤا چنانچہ مَیں نے انگلی اٹھا کریہ بتانے کے لئے کہ تمہارا خیال کیسا ناممکن ہے۔ کہا کہ وہ قلبِ لشکر میں جو شخص گھوڑے پر سوار ہے اور سر سے پیر تک مسلّح ہے اور جس کے آگے دو جرنیل ننگی تلواریں لے کر پہرہ دے رہیں وہ ابو جہل ہے۔ اس وقت ابو جہل کے سامنے ایک تو عکرمہ ننگی تلوار لے کر پہرہ دے رہا تھا اور ایک اَور مشہور جرنیل تھا جس کا نام اس وقت یاد نہیں۔ عکرمہ جیسے بہادر سپاہی نے بعد میں اسلام لا کر جو قربانیاں کی ہیں اور جس طرح دشمنوں کی صفوں کو چیرا ہے وہ بتاتا ہے کہ عکرمہ کوئی معمولی انسان نہیں تھا بلکہ اس وقت دنیا کے بہترین سپاہیوں میں سے تھا اور وہ دونوں اُس وقت ننگی تلواریں لے کر ابو جہل کے سامنے کھڑے تھے۔ غرض عبدالرحمان بن عوف کہتے ہیں مَیں نے انگلی اٹھا کر انہیں بتایا کہ ابو جہل کونسا ہے اور میری غرض یہ تھی کہ انہیں معلوم ہو جائے ان کا خیال کیسا ناممکن ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں ابھی میری انگلی نیچے نہیں آئی تھی کہ جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا ہے اسی طرح انہوں نے یکدم حملہ کر دیا اورپیشتر اس کے کہ کفار کے لشکر کو ہوش آئے کہ یہ ہو کیا گیا ہے انہوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے نیچے گرا دیا۔ اس دوران میں ایک کا ہاتھ کٹ گیا تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کو الگ پھینک کر پھر آگے بڑھا اور دونوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے نیچے گرا دیا اور اس طرح کفار کی طرف سے اس دن بد رکی لڑائی بے جرنیل کے لڑی گئی۔6
    حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں جب لڑائی ختم ہو گئی تو مَیں یہ دیکھنے کے لئے میدان جنگ میں گیا کہ ابو جہل کا کیا بنا ہے؟ مَیں نے دیکھا کہ وہ زخموں کی تکلیف کی وجہ سے کراہ رہا ہے۔ مَیں نے اس سے کہا سناؤ کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگا مَیں اب مرنے والا ہوں مگر مجھے اپنی موت کا کوئی افسوس نہیں کیونکہ سپاہی موت سے نہیں ڈرا کرتا ۔ مجھے حسرت ہے تو یہ ہے کہ مدینہ کے دو لڑکوں نے مجھے مارا ہے۔ اب تُو مجھے دیکھنے کے لئے آیا ہے تُو مکّے کا آدمی ہے اور تُو جانتا ہے کہ مَیں اپنی قوم میں کیسا معزز ہوں۔ مَیں اب زخموں کی تکلیف کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتا تُو تلوار لے کر میری گردن کاٹ دے مگر دیکھنا میری گردن ذرا لمبی کاٹنا کیونکہ تجھے معلوم ہے کہ مَیں اپنی قوم کا سردار ہوں۔ سر کے پاس سے میری گردن کاٹی گئی تو اس میں میری ذلت ہو گی۔ دھڑ کے پاس سے میری گردن لمبی رکھ کر کاٹنا تاکہ میری سرداری کا نشان قائم رہے۔ عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں مَیں نے اسے کہا یہ تیری آخری خوشی بھی مَیں تجھے نصیب نہیں ہونے دوں گا اور سر کے پاس سے تیری گردن کاٹوں گا چنانچہ انہوں نے سر کے پاس سے اس کی گردن کاٹی۔7
    تو دیکھو وہ قوم جو اتنی ذلیل سمجھی جاتی تھی کہ اس کے افراد کو لڑائی کے قابل ہی خیال نہیں کیا جاتا تھا محمد ﷺ پر ایمان لانے کے طفیل اس میں کتنا تغیر پیدا ہؤا کہ ابو جہل مرتا ہے تو اس حسرت کے ساتھ کہ مجھے مدینہ کے دو لڑکوں نے مارا۔ وہ کہتا ہے مرنے کی پرواہ نہیں۔ سپاہی لڑائی میں مرا ہی کرتے ہیں مجھے حسرت اور افسوس ہے تو یہ کہ مدینہ کے دو لڑکوں نے مجھے مارا۔ گویا وہ لوگ جنہیں عرب سپاہی تک نہیں سمجھتے تھے جب محمد ﷺ پر ایمان لائے تو وہ خدا جس کے قبضہ میں دل ہیں اور جو کمزورکو قوی بنانے کی طاقت رکھتا ہے اس نے ان کو ایسا بہادر اور جری بنا دیا کہ ایک تجربہ کار جرنیل جس بات کو ناممکن سمجھتا تھا خدا نے وہ کام اس قوم کے دو بچوں کے ہاتھ سے کرا دیا۔
    پھر عرب لوگوں کے اندر اس قدر غیرت ہؤا کرتی تھی کہ وہ غیرت میں اپنی ہر چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔ مگر دیکھو پھر کس طرح خدا نے ان کے دل بدل ڈالے اور ان کے دلوں سے جھوٹی غیرت کا احساس تک جاتا رہا۔
    ایک نوجوان ایک دفعہ شادی کے لئے ایک شخص کے پاس پہنچا اور کہنے لگا مَیں تیری لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں بھی تجھے ہر طرح پسند کرتا ہوں اور مجھے اپنی لڑکی کا تجھ سے نکاح کر دینے میں کوئی عذر نہیں۔ نوجوان نے کہا مگر مَیں لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس شخص نے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ مَیں تجھے اپنی لڑکی دکھا دوں۔ وہ رسول کریم ﷺ کے پاس گیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مَیں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں مگر اس کا باپ لڑکی کی شکل مجھے نہیں دکھاتا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ غلطی کرتا ہے۔ اسے لڑکی دکھا دینی چاہئے۔ وہ پھر اس کے پاس پہنچا اور کہنے لگا تم نے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ مَیں لڑکی نہیں دکھاتا۔ مَیں نے اس بارہ میں رسول کریم ﷺ سے پوچھا ہے اور آپؐ نے فرمایا ہے کہ نکاح کے موقع پر لڑکی کو دیکھ لینا جائز ہے۔ باپ کہنے لگا جائز ہو گا مگر مَیں تمہیں نہیں دکھاتا۔ جائز ہونا اَور بات ہے اور میرا تمہیں اپنی لڑکی دکھانا اَور بات ہے۔ تم کسی اَور جگہ رشتہ کر لو۔ اس کی لڑکی اندر بیٹھی ہوئی یہ تمام باتیں سن رہی تھی۔ جونہی اس نے یہ بات سنی وہ فوراً ننگے مُنہ باہر نکل آئی اور کہنے لگی۔ باپ! آپ کیا کہتے ہیں؟ جب محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں کہ لڑکی کو نکاح سے قبل دیکھ لینا جائز ہے تو آپ کو اس سے کیا انکار ہو سکتا ہے۔ پھر وہ اس نوجوان سے کہنے لگی لو مَیں تمہارے سامنے کھڑی ہوں مجھے دیکھ لو۔ اس نوجوان نے کہا مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں مجھے ایسی ہی لڑکی پسند ہے جو خدا اور اس کے رسول کی ایسی فرمانبردار ہے۔ 8
    تو دیکھو کس طرح اہل عرب کے قلوب کو بظاہر دنیوی عزتیں قربان کرنے کے لئے رسول کریم ﷺ نے تیار کر دیا کہ ان کے مدنظر سوائے اس کے اَور کوئی بات نہ رہی کہ خدا اور اس کے رسول کا کیا حکم ہے؟
    تو قلوب کو دنیا کی کوئی حکومت نہیں بدل سکتی۔ قلوب کو اللہ تعالیٰ ہی بدلتا ہے۔ بزدل بہادر بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور بہادر بزدل بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت، کنجوس سخی بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور سخی کنجوس بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت ، جاہل عالم بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اورعالم جاہل بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت ۔ جب خدا کسی قوم کے متعلق حکم دیتا ہے کہ اس کو مٹا ڈالو تو اس کے عالم جاہل ہو جاتے ہیں، اس کے بہادر بزدل ہو جاتے ہیں، اس کے سخی کنجوس ہو جاتے ہیں اور اس کے طاقتور کمزور ہو جاتے ہیں۔ مگر جب خدا کسی قوم کے متعلق فیصلہ کرتا ہے کہ اسے بڑھایا جائے تو اس کے کمزور بہادر بن جاتے ہیں، اس کے جاہل عالم بن جاتے ہیں، اس کے بخیل سخی بن جاتے ہیں اور اس کے بیوقوف عقلمند بن جاتے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگیوں میں اس قسم کی کئی مثالیں دیکھی ہیں۔ صحابہؓ کی مثالیں تو ظاہر ہی ہیں۔
    احمدیوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ ایک شخص اخلاص کے ساتھ احمدی ہوتا ہے وہ اَن پڑھ اور جاہل ہوتا ہے مگر احمدی ہوتے ہی اس کی زبان اس طرح کھل جاتی ہے کہ بڑے بڑے مولوی اس کے ساتھ بات کرنے سے گھبرانے اور کترانے لگ جاتے ہیں۔ مگر ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض علم والے آدمی ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں مگر چونکہ اُن کے دلوں میں احمدیت کے متعلق اخلاص نہیں ہوتا اس لئے وہ اسی طرح جاہل رہتے ہیں جس طرح غیر احمدی ہونے کی حالت میں علمِ دین سے جاہل ہؤا کرتے تھے جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ ہمارا علم ذاتی نہیں بلکہ خدا کا دیا ہؤا علم ہے ہماری بہادری اپنی نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی بہادری ہے اور ہماری قربانیاں اپنی نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی توفیق کا نتیجہ ہیں اگر وہ خدا کی دی ہوئی بہادری نہ ہوتی، اگر وہ خدا کا دیا ہؤا علم نہ ہوتا۔ اگر وہ خدا کی دی ہوئی جرأت نہ ہوتی تو اس کا اخلاص سے کیا تعلق ہوتا؟ پھر تو عادات سے اور محنت سے اور ذاتی جد و جہد اور کوشش سے اس کا تعلق ہوتا حالانکہ ہم دیکھتے ہیں ، وہ لوگ جو دنیوی لحاظ سے ان باتوں سے بالکل نابلد ہوتے ہیں مگر ان کے دلوں میں اخلاص ہوتا ہے۔ ان کو بھی خدا تعالیٰ وقت پر ایسی ایسی باتیں سمجھا دیتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔ یہاں ایک شخص ‘‘پِیرا’’ ہؤا کرتا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کا خادم تھا۔ وہ اتنی موٹی عقل کا آدمی تھا کہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتا تھا کہ احمدیت کیا ہے لیکن اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کے ساتھ ایک ذاتی لگاؤ تھا کہیں اس کو گنٹھیا کی بیماری ہو گئی۔ وہ پہاڑی آدمی تھا اس کے رشتہ داروں کو بعض لوگوں نے کہا کہ یہاں اس کا علاج نہیں ہو سکے گا۔ اسے کہیں میدانوں میں لے جاؤ چنانچہ وہ اسے گورداسپور لے آئے مگر چونکہ وہ سب غریب آدمی تھے اور ایسے لوگوں کو روٹی بھی کھلانی پڑتی ہے اور دوائی بھی دینی پڑتی ہے۔ اس لئے کوئی شخص علاج کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا آخر کسی نے ان کو بتایا کہ قادیان میں ایک مرزا صاحب ہیں جو بڑے خدا پرست ہیں۔ وہ معالج اور حکیم بھی ہیں۔ ان کے پاس لے جاؤ وہ اس کی خبرگیری بھی کریں گے اور دوائی بھی دیں گے۔ چنانچہ اس کے رشتہ دار اسے حضرت صاحبؑ کے پاس لے آئے اور اُسے یہاں چھوڑ کر کِھسک گئے۔ حضرت صاحب نے اس کا علاج کیا اور آہستہ آہستہ اُسے آرام آنا شروع ہو گیا۔ جب اس کے رشتہ داروں کو معلوم ہؤا کہ اب وہ اچھا ہو گیا ہے اور کام کاج کر سکتا ہے تو دوسری سردیوں میں پھر اس کے رشتہ دار یہاں آئے اور کوشش کی کہ وہ ان کے ساتھ چل پڑے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے قلب میں نیکی تھی جب انہوں نے اسے کہا کہ ہم تجھے لینے کے لئے آئے ہیں تو وہ کہنے لگا تم بے شک میرے رشتہ دار ہو مگر تم مجھے چھوڑ کر چلے گئےتھے اس لئے اب تو جس نے میرا علاج کیا اور جس کی وجہ سے مَیں اچھا ہؤا، میرا رشتہ دار وہی ہے۔ مَیں اسے چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ وہ ڈیوڑھی پر پڑا رہتا تھا اور جو مہمان آتا تھا اس کی خدمت کرتا تھا اسی طرح گھر کا معمولی کام کاج بھی کر دیا کرتا تھا۔ اس کی عقل کا یہ حال تھا کہ حضرت خلیفہ اول اسے بڑا مجبور کیا کرتے تھے کہ وہ نماز پڑھے مگر وہ یہی جواب دیتا تھا کہ مجھے نماز نہیں آتی۔ حضرت خلیفہ اول کو بھی بڑا جوش تھا کہ یہ حضرت مسیح موعودؑ کے دروازے پر بیٹھا رہتا ہے اور نمازیں نہیں پڑھتا۔ لوگ اسے دیکھیں گے تو اعتراض کریں گے۔ اس لئے آپ اُسے بار بار نماز پڑھنے کی نصیحت کیا کرتے تھے مگر وہ جواب دیتا کہ مجھے نماز یاد ہی نہیں ہوتی۔ آخر حضرت خلیفہ اول نے تنگ آ کر اسے فرمایا کہ نماز نہیں آتی تو سُبْحَانَ اللہ سُبْحَانَ اللہ ہی کہہ لیا کرو۔ چنانچہ اس کے بعد وہ کبھی ساتویں آٹھویں دن نماز میں شامل ہو جاتا تھا اور سُبْحَانَ اللہ سُبْحَانَ اللہ کہتا رہتا تھا۔ حضرت خلیفہ اول نے ایک دن اس خیال سے کہ شاید انعام کے لالچ سے اُسے نماز پڑھنے کی عادت ہو جائے۔ اُسے فرمایا ۔ پِیرے اگر تم ایک دن پانچوں نمازیں وقت پر پڑھو اور ایک نماز کا بھی ناغہ نہ کرو تو مَیں تمہیں دو روپے انعام دوں گا۔ دو روپے اس کے لئے بڑا بھاری انعام تھا۔ وہ کہنے لگا آج ضرور پانچوں نمازیں پڑھوں گا۔ شاید عشاء کا وقت تھا جب اس نے نماز شروع کی صبح ہوئی تو پھر بھی اس نے ہمت کر کے نماز پڑھ لی۔ ظہر اور عصر میں بھی کسی نہ کسی طرح شامل ہو گیا۔ صرف مغرب کی نماز رہتی تھی ان دنوں چونکہ مہمان بہت تھوڑے ہؤا کرتے تھے اس لئے ان کا کھانا ہمارے گھر میں تیار ہؤا کرتا تھا اورمغرب کے وقت ان کا کھانا گھر سے جایا کرتا تھا۔ اتفاق ایسا ہؤا کہ اس دن مغرب کی نماز نسبتاً دیر سے ہوئی اور کھانا لے جانے کا وقت ہو گیا۔ جو عورت اندر سے کھانا لایا کرتی تھی اس نے پِیرے کو آواز دی کہ پِیرے کھانا تیار ہے مہمانوں کے لئے لے جاؤ مگر پِیرا مسجد میں تھا اور اُس وقت نماز ہو رہی تھی۔ لیکن بلانے والی عورت کو اس کا علم نہ تھا۔ اس نے دو چار آوازیں دیں مگر پِیرا وہاں ہوتا توجواب دیتا۔ آخر اس نے زور سے آواز دی کہ پِیریا کھانا لے جا نہیں تو مَیں تیری شکایت کروں گی۔ یہ آواز چونکہ اس نے زور سے دی تھی اس لئے پیرے نے بھی سن لی جس پر اس نے نماز میں ہی جواب دیا کہ ٹھہر جا اَلتَّحِیَّات پڑھ لواں تے آنداں آں۔ یعنی تشہد پڑھ کر آتا ہوں۔ گویا عین آخری تشہد میں وہ بول پڑا اوراس طرح اس نے اپنے دو روپے کھو دئیے۔ تو وہ بہت ہی موٹی عقل کا آدمی تھا اور اسے اتنی سمجھ بھی نہیں تھی کہ نماز میں بولنا منع ہے۔ اُس وقت قادیان میں نہ تارگھر تھا اور نہ ریل آیا کرتی تھی۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کو کبھی تار دینے کی ضرورت پیش آتی یا کوئی ریلوے پارسل منگوانا ہوتا تو آپؑ بٹالے کسی آدمی کو بھجوا دیا کرتے تھے اور کبھی کبھی پِیرے کو بھی اس غرض کے لئے بھیج دیتے تھے۔ ان دنوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو ہمارے سلسلہ کے اشدّ ترین مخالفوں میں سے تھے۔ سٹیشن پر جایا کرتے تھے اور جب کسی نووارد مہمان کو اترتے دیکھتے تو اس سے پوچھتے کہ وہ کہاں جانا چاہتا ہے اور جب کسی کے متعلق معلوم ہوتا کہ وہ قادیان جانا چاہتا ہے تو اسے ورغلانے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ یہیں سے واپس چلے جاؤ۔ قادیان میں جا کر تو تمہارا ایمان خراب ہو جائے گا۔ ایک دن انہیں اَور کوئی شکار نہ ملا تو انہوں نے پِیرے کو ہی پکڑ لیاوہ اُس دن کوئی تار دینے یا کوئی بلٹی لینے کے لئےبٹالے گیا ہؤا تھا۔ مولوی محمد حسین صاحب اسے کہنے لگے۔ پِیرے تیرا تو ایمان خراب ہو گیا ہے۔ مرزا صاحبؑ کافر اور دجّال ہیں تو اپنی عاقبت ان کے پیچھے لگ کر کیوں خراب کرتا ہے۔ پِیرا ان کی باتیں سنتا رہا سنتا رہا۔ جب وہ اپنا جوش نکال چکے تو انہوں نے اپنی باتوں کی پِیرے سے بھی تصدیق کرانی چاہی اور انہوں نے اس سے پوچھا بتاؤ میری باتیں کیسی ہیں۔ پِیرا کہنے لگا مولوی صاحب مَیں تو اَن پڑھ اور جاہل ہوں، مجھے نہ کوئی علم ہے اور نہ مَیں مسئلے سمجھ سکتا ہوں لیکن ایک بات ہے جو مَیں بھی سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ مَیں سالہا سال سے بلٹیاں لینے اور تاریں دینے کے لئے یہاں آتا ہوں اور مَیں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ سٹیشن پر آ کر لوگوں کو قادیان جانے سے منع کرتےہیں۔ آپ کی اب تک شاید اس کوشش میں کتنی ہی جوتیاں گِھس گئی ہوں گی مگر مولوی صاحب پھر بھی آپ کی کوئی نہیں سنتا اور مرزا صاحب قادیان میں بیٹھے ہیں اور پھر بھی لوگ اُن کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔ آخر کوئی بات تو ہے جس کی وجہ سے یہ فرق ہے۔
    اب دیکھو یہ کیسا لطیف اور صحیح جواب ہے۔ وہ فی الحقیقت دینی مسائل کو نہیں سمجھ سکتا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ دلائل کیا ہوتے ہیں مگر فطرت کے لگاؤ اور محبت کی وجہ سے اس نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ شیطان ہے اور یہ شخص بہرحال جھوٹ بول رہا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو بعض دفعہ ایسی باتیں سمجھا دیتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ ہو جاتی ہے کیونکہ اس کے پاس سارے سامان ہیں اورجس چیز کی کمی ہو وہ اس کے پاس موجود ہوتی ہے۔ عقل کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے، جرأت کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے، سخاوت کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے،صحت کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے، عزت کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے، مال کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے۔غرض ہر چیز کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں اور وہ اپنے بندوں کو ان خزانوں میں سے ایسے رنگ میں حصہ دیتا ہے کہ انسان حیران ہو جاتے ہیں۔
    حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے (مَیں اس وقت بچہ تھا) کہ آتھم کے مباحثے میں مَیں نے جو نظارہ دیکھا اس سے پہلے تو ہماری عقلیں دنگ رہ گئیں اور پھر ہمارے ایمان آسمان پر پہنچ گئے۔ فرماتے تھے جب عیسائی مباحثہ سے تنگ آ گئے اور انہوں نے دیکھا کہ ہمارا کوئی داؤ نہیں چلا تو چند مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر انہوں نے ہنسی اڑانے کے لئے یہ شرارت کی کہ کچھ اندھے،کچھ بہرے، کچھ لولے اور کچھ لنگڑے بلا لئے اور انہیں مباحثہ سے پہلے ایک طرف چھپا کر بٹھا دیا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة وا لسلام تشریف لائے تو جھٹ انہوں نے ان اندھوں، بہروں اور لولوں لنگڑوں کو نکال کر آپ کے سامنے پیش کر دیا اور کہا زبانی باتوں سے جھگڑے طے نہیں ہوتے۔ آپ کہتے ہیں مَیں مسیح ناصری کا مثیل ہوں اور مسیح ناصری اندھوں کو آنکھیں دیا کرتے تھے، بہروں کو کان بخشا کرتے تھے اورلُولوں لنگڑوں کے ہاتھ پاؤں درست کر دیا کرتے تھے۔ ہم نے آپ کو تکلیف سے بچانے کے لئے اس وقت چند اندھے بہرے اور لولے لنگڑے اکٹھے کر دئیے ہیں۔ اگر آپ فی الواقع مثیل مسیح ہیں تو ان کو اچھا کر دیجئے۔ حضرت خلیفہ اولؓ فرماتے تھے کہ ہم لوگوں کے دل ان کی اس بات کو سن کر بیٹھ گئے اور گو ہم سمجھتے تھے کہ یہ بات یونہی ہے مگر اس خیال سے گھبرا گئے کہ آج لوگوں کو ہنسی اورٹھٹھے کا موقع مل جائے گا۔ مگر جب ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ کو دیکھا تو آپ کے چہرہ پر ناپسندیدگی یا گھبراہٹ کے کوئی آثار نہ تھے۔ جب وہ بات ختم کر چکے تو آپ نےفرمایا دیکھئے پادری صاحب مَیں جس مسیح کے مثیل ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں، اسلامی تعلیم کے مطابق وہ اس قسم کے اندھوں، بہروں اور لُولوں لنگڑوں کو اچھا نہیں کیا کرتا تھا۔ مگر آپ کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح جسمانی اندھوں ، جسمانی بہروں، جسمانی لولوں اور جسمانی لنگڑوں کو اچھا کیا کرتا تھا اور آپ کی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر تم میں ایک ذرہ بھر بھی ایمان ہو اور تم پہاڑوں سے کہو کہ وہ چل پڑیں تو وہ چل پڑیں گے او رجو معجزے مَیں دکھاتا ہوں وہ سب تم دکھا سکو گے۔ پس یہ سوال مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ مَیں تو وہ معجزے دکھا سکتا ہوں جو میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دکھائے ۔ آپ ان معجزوں کا مطالبہ کریں تو مَیں دکھانے کے لئے تیار ہوں۔ باقی رہے اس قسم کے معجزے سو آپ کی کتاب نے بتا دیا ہے کہ ہر وہ عیسائی جس کے اندر ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو ویسے ہی معجزے دکھا سکتا ہے جیسے حضرت مسیح ناصری نے دکھائے۔ سو آپ نے بڑی اچھی بات کی جو ہمیں تکلیف سے بچالیا اور ان اندھوں، بہروں ، لُولوں لنگڑوں کو اکٹھا کر دیا۔ اب یہ اندھے ، بہرے اور لولے لنگڑے موجود ہیں۔ اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان موجود ہے تو ان کو اچھا کر کے دکھا دیجئے۔ آپ فرماتے تھےاس جواب سے پادریوں کو ایسی حیرت ہوئی کہ بڑے بڑے پادری ان لولوں لنگڑوں کو کھینچ کھینچ کر الگ کرنے لگ گئے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے مقربین کو ہر موقع پر عزت بخشتا ہے اور ان کو ایسے ایسے جواب سمجھاتا ہے جن کے بعد دشمن بالکل ہکّا بکّا رہ جاتا ہے۔
    یہیں قادیان میں ایک دفعہ پادری زویمر آیا جو دنیا کا مشہور ترین پادری اور امریکہ کا رہنے والا تھا۔ وہ وہاں کے ایک بہت بڑے تبلیغی رسالہ کا ایڈیٹر بھی تھا اور یوں ساری دنیا کی عیسائی تبلیغی سوسائٹیوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔ اس نے قادیان کا بھی ذکر سنا ہؤا تھا۔ جب وہ ہندوستان میں آیا تو اَور مقامات کو دیکھنے کے بعد وہ قادیان آیا۔ اس کے ساتھ ایک اَور پادری گارڈن نامی بھی تھا۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اُس وقت زندہ تھے انہوں نے اسے قادیان کے تمام مقامات دکھائے مگر پادری آخر پادری ہوتا ہے نیش زنی سے باز نہیں آ سکتا۔ اُن دنوں قادیان میں ابھی ٹاؤن کمیٹی نہیں بنی تھی اور گلیوں میں بہت گند پڑا رہتا تھا۔ پادری زویمر باتوں باتوں میں ہنس کر کہنے لگا ہم نے قادیان بھی دیکھ لیا اور نئے مسیح ؑ کے گاؤں کی صفائی بھی دیکھ لی۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسے ہنس کر کہنے لگے پادری صاحب ابھی پہلے مسیح کی حکومت ہندوستان پر ہے اور یہ اُس کی صفائی کا نمونہ ہے نئے مسیح کی حکومت ابھی قائم نہیں ہوئی اس پر وہ بہت ہی شرمندہ اور ذلیل ہو گیا۔
    پھر اس نے مجھے کہلا بھیجا کہ مَیں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میری طبیعت کچھ خراب تھی مَیں نے جواب دیا کہ پادری صاحب بتائیں وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا چند باتیں پوچھنا چاہتا ہوں مگر پہلے نہیں بتا سکتا۔ خیر مَیں نے اُن کو بلا لیا۔ وہ بھی آ گئے اور پادری گارڈن صاحب بھی آ گئے۔ ایک دو دوست اور بھی موجود تھے۔ پادری زویمر کہنے لگے مَیں ایک دو سوال کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے کہا فرمائیے۔ کہنے لگے اسلام کا عقیدہ تناسخ کے متعلق کیا ہے؟ آیا وہ اس مسئلہ کو مانتا ہے یا اس کا انکار کرتا ہے۔ جونہی اس نے یہ سوال کیا معاً اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال دیا کہ اس کا سوال سے منشا یہ ہے کہ تم جو مسیح موعودؑ کو مسیح ناصری کا بروز اور ان کا مثیل کہتے ہو تو آیا اس سے یہ مطلب ہے کہ مسیح ناصری کی روح ان میں آ گئی ہے۔ اگر یہی مطلب ہے تو یہ تناسخ ہؤا اور تناسخ کا عقیدہ قرآن کریم کے خلاف ہے۔ چنانچہ مَیں نے اسے ہنس کر کہا پادری صاحب آپ کو غلطی لگی ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ مرزا صاحب میں مسیح ناصری کی روح آ گئی ہے بلکہ ہم ان معنوں میں آپ کو مسیح ناصریؑ کا مثیل کہتے ہیں کہ آپ مسیح ناصریؑ کے اخلاق اور روحانیت کے رنگ میں رنگین ہو کر آئے ہیں۔ مَیں نے جب یہ جواب دیا تو اس پادری کا رنگ فَق ہو گیا اور کہنے لگا آپ کو کس نے بتایا ہے کہ میرا یہ سوال ہے۔ مَیں نے کہا آپ یہ بتائیں کہ آیا آپ کا اس سوال سے یہی منشاء تھا یا نہیں۔ کہنے لگا ہاں میرا منشاء تو یہی دریافت کرنا تھا اور مَیں حیران تھا کہ جب قرآن تناسخ کے خلاف ہے تو احمدی مرزا صاحب کو مسیح موعود کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ پھر مَیں نے کہا اچھا اب آپ دوسرا سوال پیش کریں۔ کہنے لگا میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ نبی کی بعثت کیسے مقام پر ہونی چاہئے یعنی اس کو اپنا کام سر انجام دینے کے لئے کس قسم کا مقام چاہئے۔ جونہی اس نے یہ دوسرا سوال کیا معاً دوبارہ خدا نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس سوال سے اس کا منشاء یہ ہے کہ قادیان ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہ دنیا کا مرکز کیسے بن سکتا ہے اور اس چھوٹے سے مقام سے ساری دنیا میں تبلیغ کس طرح کی جا سکتی ہے۔ اگر حضرت مرزا صاحب کی بعثت کا مقصد ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ پہنچانا ہے تو آپ کو ایسی جگہ بھیجنا چاہئے تھا جہاں سے ساری دنیا میں آواز پہنچ سکتی نہ یہ کہ قادیان جو ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اس میں آپ کو بھیج دیا جاتا۔ غرض اللہ تعالیٰ نے اس کے سوال کے معاً بعد یہ بات میرے دل میں ڈال دی اور مَیں نے پھر اسے مسکرا کر کہا۔ پادری صاحب ناصرہ یا ناصرہ سے بڑا کوئی شہر ہو وہاں نبی آ سکتا ہے۔ حضرت مسیح ناصری جس گاؤں میں ظاہر ہوئے تھے اس کا نام ناصرہ تھا اور ناصرہ کی آبادی بمشکل دس بارہ گھروں پر مشتمل تھی۔ میرے اس جواب پر پھر اس کا رنگ فَق ہو گیا اور وہ حیران ہؤا کہ مَیں نے اس کی اسی بات کا جواب دے دیا جو درحقیقت اس کے سوال کے پس پردہ تھی۔ اس کے بعد اس نے تیسرا سوال کیا جو اس وقت مجے یاد نہیں رہا مگر پہلے بعض دفعہ بیان کر چکا ہوں۔ بہرحال اس نے تین سوال کئے اور تینوں سوالات کے متعلق قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے القاء کر کے مجھے بتا دیا کہ اس کا ان سوالات سے اصل منشاء کیا ہے او رباوجود اس کے کہ وہ چکر دے کر پہلے اَور سوال کرتا تھا پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کا اصل منشاء مجھ پر ظاہر کر دیا اور وہ بالکل لا جواب ہو گیا۔ تو اللہ تعالیٰ قلوب پر عجیب رنگ میں تصرف کرتا اور اس تصرف کے ماتحت اپنے بندوں کی مدد کیا کرتا ہے اور یہ تصرف صرف خدا کے اختیار میں ہوتا ہے۔ بندوں کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
    ایک دفعہ ایک کَج بحث ملّا مسجد میں مجھے ملا اور کہنے لگا۔ مجھے مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت دیجئے۔ مَیں نے کہا قرآن موجود ہے۔ سارا قرآن حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت ہے۔ کہنے لگا کونسی آیت؟ مَیں نے کہا قرآن کی ہر آیت مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت ہے۔ اب یہ تو صحیح ہے کہ قرآن کی ہر آیت ہی کسی نہ کسی رنگ میں نبی پر چسپاں ہو سکتی ہے مگر بعض آیتیں ایسی ہیں کہ ان کا سمجھانا اور یہ بتانا کہ کس رنگ میں اس سے نبی کی صداقت کا ثبوت نکلتا ہے بہت مشکل ہوتا ہے۔ فرض کرو کسی آیت میں لڑائی کا واقعہ بیان ہو تو اب گو اس سے بھی نبی کی صداقت ثابت کی جا سکتی ہے مگر وہ ایسا رنگ ہوتا ہے جو عام طبائع کی سمجھ سے بالا ہوتا ہے مگر مجھے اس وقت یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ تصرف فرما کر اس کی زبان سے وہی آیت نکلوائے گا جس سے نہایت وضاحت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہو جائے گی۔ خیر وہ اِصرار کرتا رہا کہ آپ کوئی آیت بتائیں۔ مگر مَیں اسے یہ کہوں کہ آپ کوئی آیت پڑھ دیں اسی سے مَیں حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت کر دوں گا۔ آخر اس نے یہ آیت پڑھی کہ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ۔9 مَیں نے سمجھ لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی تصرّف ہے کہ اس نے اس کی زبان سے یہ آیت نکلوائی۔ چنانچہ مَیں نے اس سے کہا یہ آیت کن لوگوں کے متعلق ہے۔ مسلمانوں کے متعلق ہے یا غیر مسلموں کے متعلق۔ اس کا اصل سوال یہ تھا کہ جب مسلمان نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں تو ان کے لئے کسی نبی کی کیا ضرورت ہے؟ جب اس نے یہ آیت پڑھی تو مَیں نے اس سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے متعلق ہے۔ اس نے کہا مسلمانوں کے متعلق۔ مَیں نے کہا تو پھر یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں میں بھی بعض لوگ خراب ہو جاتے ہیں۔ وہ مُنہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں مگر درحقیقت وہ مومن نہیں ہوتے اَور قرآن یہ بتاتا ہے کہ خالی اپنے آپ کو مومن کہہ لینا کافی نہیں جب تک انسان اپنے عمل سے بھی ایمان کا ثبوت نہ دے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جب مسلمان بھی بگڑ سکتے ہیں تو کیا خدا ان کی اصلاح کے لئے کسی نبی کو بھیجے گا یا نہیں بھیجے گا۔ دلوں کو تسلّی دینا تو خدا کا کام ہے مگر اس کی زبان بند ہو گئی اور وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکا اور اس بات کا میرے دل میں پہلے ہی یقین تھا کہ جو آیت اس کے مُنہ سے نکلے گی وہ وہی ہو گی جس سے اس کی زبان بند ہو جائے گی۔ تو علم بھی خدا کے اختیار میں ہے ، جرأت بھی خدا کے اختیار میں ہے، عزت بھی خدا کے اختیار میں ہے اور سخاوت بھی خدا کے اختیار میں ہے۔ بڑے بڑے بہادر ہوتے ہیں مگر جب خدا ان کے دلوں سے بہادری نکال لیتا ہے تو وہ بزدل ہو جاتے ہیں۔
    فتح مکہ کے بعد جب ہوازن کی طرف سے حملہ کی تیاریاں ہونے لگیں تو رسول کریم ﷺ نے مسلمانوں کو ان کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اورمکہ کے نَو مسلموں کو بھی اس جنگ میں شریک ہونے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ مکہ کے دو ہزار نو مسلم بڑی بڑی لافیں مارتے اوراپنی بہادری کے دعوے کرتے ہوئے نکلے مگر جب ہوازن نے زور سے حملہ کیا اور تیروں کی بوچھاڑ ڈالی توسب سے پہلے وہ میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔ اُن کے بھاگنے کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی بھگدڑ مچ گئی اور ان کے اونٹ اور گھوڑے میدان جنگ سے دوڑ پڑے۔ وہ کوشش کرتے تھے کہ اپنی سواریوں کو روکیں مگر سواریاں تھیں کہ کسی طرح مڑنے میں نہیں آتی تھیں۔ صرف رسول کریم ﷺ اور آپ کےساتھ بارہ آدمی میدانِ جنگ میں رہ گئے۔ باقی سب میدان جنگ سے بھاگ گئے۔ تو دیکھو وہ لوگ جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے یا کفر کی حالت میں ہی جنگ میں شامل ہوئے تھے اور سارے عرب میں بہترین سپاہی سمجھے جاتے تھے جب انہوں نے تکبر سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جرأتیں نکال لیں اور وہ بے تحاشا بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر پھر جو مومن تھے ان کو ان کے ایمان نے بچا لیا ورنہ نو مسلم جب بھاگے تو انہوں نے مکہ میں آ کر دم لیا اور کئی منزلوں تک بھاگتے چلے آئے مگر مومن جو بھاگ رہے تھے وہ رک گئے اور بعض بھاگنا نہیں بھی چاہتے تھے مگر ان کی سواریاں بے قابو ہو رہی تھیں اور وہ بے تحاشا تیزی کے ساتھ بھاگتی چلی جا رہی تھیں۔ رسول کریم ﷺ نے حضرت عباسؓ کو بلایا اور فرمایا۔ اے عباس زور سے آواز دو کہ اے انصار! اے خدا کے رسول کے صحابیو! تم کو خدا کا رسول بلاتا ہے۔ جس وقت حضرت عباسؓ نے یہ آواز دی۔ ایک صحابی کہتے ہیں یا تو ہماری یہ حالت تھی کہ ہمارے اونٹ اور گھوڑے بھاگتے چلے جاتے تھے، ہم انہیں موڑنے کے لئے اپنا پورا زور صَرف کرتے تھے مگر وہ نہیں مڑتے تھے اور یا یہ حالت ہو گئی کہ جس وقت حضرت عباسؓ کی آواز ہمارے کانوں میں پہنچی یوں معلوم ہؤا جیسے قیامت کا دن ہے اور خدا تعالیٰ کھڑا ہؤا روحوں کو بلا رہا ہے اور وہ قبروں سے اٹھ اٹھ کر اس کی طرف بھاگ رہی ہیں۔ غرض حضرت عباسؓ کی آواز کا ہمارے کانوں میں پہنچنا تھا کہ ہم اس طرح جوش سے بھر گئے کہ اُڑ کر محمد ﷺ کے قدموں میں پہنچ جائیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں۔ ہم میں سے بعض نے اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کو موڑ لیا اور جن کی سواریاں نہ مڑیں انہوں نے اپنی تلواریں نکال کر سواریوں کی گردنیں کاٹ دیں اور دوڑتے ہوئے رسول کریم ﷺ کے گرد جمع ہو گئے۔10
    تو دیکھو ایک وقت خدا نے کہا۔ نکال لو ان کے دلوں سے بہادری اور وہ نکال لی گئی مگر دوسرےہی منٹ اس نے حکم دیا کہ بنا دو اِن کو دنیا کا سب سے بڑا بہادر اور وہ اسی وقت دنیا کے سب سے بڑے بہادر بنائے گئے۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی سب کچھ آتا ہے انسانی طاقت کچھ نہیں کر سکتی۔ اس لئے یاد رکھو دعائیں جب تک مضطر ہو کر نہ کی جائیں یعنی اس یقین کے ساتھ کہ دنیا کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والی ہستی صرف اور صرف خدا کی ذات ہے۔ اس وقت تک قبول نہیں ہوتیں۔ بے شک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گو خدا کے دئیے ہوئے میں سے دیتے ہیں مگر بہرحال وہ انسان کو کپڑا ہی دے سکتے ہیں۔ بے شک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گو خدا کے دئے ہوئے میں سے دیتے ہیں مگر بہرحال وہ دوسرے کو مکان ہی دے سکتے ہیں۔ بے شک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گو خدا کے دئے ہوئے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں مگر بہرحال وہ بیماروں کا علاج ہی کر سکتے ہیں۔ بے شک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گو خدا کے دئے ہوئے علم سے دوسروں کی حفاظت کے لئے مقدمہ مفت لڑ سکتے ہیں مگر بہرحال وہ مقدمہ ہی بغیر فیس کے لینے کے لڑ سکتے ہیں مگر کوئی انسان دنیا کا ایسا نظر نہیں آ سکتا جس کے ہاتھ میں یہ ساری چیزیں ہوں۔ کوئی انسان ایسا نہیں جس کے ہاتھ میں دلوں کی تبدیلی ہو، کوئی انسان ایسا نہیں جس کے ہاتھ میں جذبات کی تبدیلی ہو۔ یہ صرف خدا کی ہی ذات ہے جس کے قبضہ و تصرف میں تمام چیزیں ہیں اور جو دلوں اور اس کے نہاں در نہاں جذبات کو بھی بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ پس جب تک مضطر ہو کر دعا نہ کی جائے اور جب تک چاروں طرف سے مایوس ہو کر اور خداپر کامل ایمان رکھ کر دعا نہ کی جائے اس وقت تک دعا قبول نہیں ہوتی لیکن جب اس رنگ میں دعا کی جائے تو وہ خدا کے عرش پر ضرور پہنچتی اورقبول ہو کررہتی ہیں۔
    پس دعائیں کرو اور اس شرط کو جو دعاؤں کی قبولیت کے لئے خدا تعالیٰ نے ضروری قرار دی ہے مدنظر رکھو۔ وقت نازک ہے اور ایک ایک دن قیمتی ہے۔ چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے آج مَیں صرف ایک شرط کے بیان کرنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ ‘‘
    (الفضل 18 اپریل 1942ء)
    1: النمل: 63
    2 : بخاری کتاب الدعوات باب النوم علی الشق الایمن
    3: المنذر الثالث معروف بابن السماء کا لڑکا اور حیرہ کا بادشاہ ۔ (الشعر و الشعراء لابن قتیبہ۔ رجال المعلقات العشر از شیخ مصطفیٰ علابینی)
    4 : اسد الغابة جلد 3 صفحہ 157 مطبوعہ ریاض 1286ھ
    5: ہانجیوں: ہانجی : ملاح ، کشتی چلانے والا
    6: بخاری کتاب المغازی باب فَضْلُ مَنْ شَھِدَ بَدْرًا
    7: الاستیعاب جلد اول صفحہ 247 تا 249
    8: ابن ماجہ ابواب النکاح باب النظر الی المرأة اذا اراد ان یتزوّجھا
    9: البقرة: 9
    10: سیرت ابن ہشام جلد 4 صفحہ 87 مطبوعہ مصر 1936ء


    9
    صرف ایمان ہی مومنوں کو خطرات سے بچاتا اور انبیاء کی جماعتوں کو زندہ رکھتا ہے
    ( فرمودہ 17 اپریل 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’ مَیں نے پچھلے جمعہ دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ یہ دن بہت نازک ہیں اور ہماری جماعت کے لئے جو نہایت ہی کمزور اور تعداد میں کم ہے خود حفاظتی کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں۔
    پچھلے ہفتہ میں مختلف دوستوں نے خصوصیت سے مجھے کہا ہے کہ ہمیں اپنی حفاظت کے کوئی سامان کرنے چاہئیں۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ وہ سامان آئیں کہاں سے؟ حفاظت کے لئے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہمارے پاس ہیں نہیں، حفاظت کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہمارے پاس نہیں ہے، حفاظت کے لئے ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہمارے پاس نہیں ہیں، حفاظت کے لئے دوسرے سامان جنگ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہمارے پاس نہیں ہے، حفاظت کے لئے حکومت کی اور طاقت کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ اس حالت میں وہ کون سے ذرائع ہیں جن کو ہم اختیار کر سکتے ہیں۔ مَیں مانتا ہوں کہ نہایت ہی محدود حد تک ہم مادی سامان بھی اپنی حفاظت کے اکٹھے کر سکتے ہیں مگر جن قوتوں اور جن دشمنوں سے ہمیں خوف ہے وہ مادی قوت کے لحاظ سے ہم سے سینکڑوں گُنا زیادہ ہیں۔ اگر کوئی بیرونی دشمن آ جائے تو ہمارے پاس وہ کونسی طاقت ہے جس سے ہم اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر کوئی اندرونی فتنہ پیدا ہو تو ہمارے پاس کون سی طاقت اس کے مقابلہ کے لئے ہے۔ ہم تو ہندوستان بلکہ پنجاب میں بھی اتنے نہیں جتنا کہ آٹے میں نمک ہو۔ پس جہاں تک ظاہری اورمادی سامانوں کا تعلق ہے۔ ہمارا خانہ خالی ہے لیکن جہاں تک روحانی سامانوں کا تعلق ہے وہ مَیں یا کوئی اَور شخص پیدا نہیں کر سکتا۔ ان کا ایمان کے ساتھ تعلق ہے اور ایمان ہر ایک کے دل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ ایمان ایک ایسی چیز ہے کہ جب وہ دل میں پیدا ہو جائے تو دنیوی سامان اس کے مقابل پر ہیچ نظر آنے لگتے ہیں۔ دنیا میں انسان اپنی حفاظت کے سامانوں کی اسی واسطے جستجو کرتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ مَیں بچ جاؤں مگر مومن کا مقام بالکل جدا ہوتا ہے۔ جہاں دنیا کے لوگ جان بچانے کی فکر میں ہوتے ہیں وہاں مومن جان دینے کی فکر میں ہوتا ہے اور جو تیار ہو جائے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے دین کے لئے جان دے دے اسے اَور کون سی طاقت ہے جو ڈرا سکتی ہے اور خائف کر سکتی ہے۔ بہرحال اگر خطرہ پیدا ہو تو دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مومن یا جیتے گا یا مرے گا اور اس کے لئے نہ جیتنے سے اور نہ مرنے سے ڈرنے کی کوئی وجہ ہے۔ مومنوں کو دنیا ہمیشہ سے مجنون کہتی چلی آئی ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ ایک ایک پاگل دس دس عقلمندوں پر بھاری ہوتا ہے۔ انسان خطرہ کے وقت اپنی بہت سی طاقت اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ وہ ڈرتا ہے کہ لڑتے ہوئے میرا ہاتھ ٹوٹ جائے گا یا پیر ٹوٹ جائے گا یا سر ٹوٹ جائے گا مگر پاگل کو یہ احساس نہیں ہوتا۔ عقلمند اپنی حفاظت کے خیال سے اپنا سارا زور صرف نہیں کرتا لیکن پاگل کے سامنے اپنی حفاظت کا خیال نہیں ہوتا۔ حضرت خلیفة المسیح الاول عورتوں میں قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے۔ اس زمانہ میں یہاں ایک استانی تھیں جو اب فوت ہو چکی ہیں۔ ان کو جنون کا دَورہ ہؤا کرتا تھا۔ ایک دن حضرت خلیفہ اول اس کمرہ میں جو ہمارے مکان کے مشرق سے گزرنے والی گلی کے اوپر ہے۔ درس دے رہے تھے۔ آجکل اس کمرہ میں میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ رہتی ہیں۔ اس کمرہ کی وہی کھڑکی اب تک قائم ہے۔ حضرت خلیفہ اول وہاں درس دے رہے تھے کہ استانی کو جنون کا دَورہ ہؤا اور انہوں نے اس کھڑکی میں سے نیچے کود کر گرنا چاہا۔ ہمارے گھر کی مستورات نے سنایا کہ حضرت خلیفہ اول نے اٹھ کر جلدی سے اسے پکڑا۔
    اس زمانہ میں حضرت خلیفہ اول ایسے کمزور نہ تھے۔ ابھی بیماری نہ آئی تھی۔ آپ بڑے مضبوط جسم کے آدمی تھے۔ بعض اوقات آپ اپنا ہاتھ لمبا کر دیتے اور فرماتے کہ کوئی جوان اسے ٹیڑھا کر کے دکھائے۔ تو آپ اچھے مضبوط آدمی تھے اور مضبوط ہونے کا آپ کو دعویٰ تھا مگر وہ استانی دبلی پتلی منحنی اور چھوٹے قد کی عورت تھی مگر آپ اسے روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور آپ نے بلند آواز سے عورتوں کو کہا کہ آ کر میری مدد کرو۔ یہ میرے ہاتھ سے چھوٹی جاتی ہے اور آپ کے ساتھ آٹھ دس عورتوں نے مل کر بمشکل اسے پکڑا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ یہ پکڑنے والے سب عقلمند تھے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی پوری طاقت کا استعمال نہ کرتا تھا مگر وہ عورت پاگل تھی اور پاگل کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ میرا ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائے گا، پسلیاں ٹوٹ جائیں گی یا کمر ٹوٹ جائے گی اسے صرف ایک ہی خیال ہوتا ہے اور پورا زور لگا کر اسے کرنا چاہتا ہے۔
    انبیاء کی جماعتوں کو لوگ اسی وجہ سے پاگل کہا کرتے ہیں کہ انہیں سارا زور لگا دینے کی عادت ہوتی ہے اور جب کوئی انسان پورا زور لگا دے تو بڈھا نوجوانوں پر بھاری ہوتا ہے اور جو ان دسیوں جوانوں پر بھاری ہوتا ہے۔ رسول کریم ﷺ بدر کی جنگ کے لئے مدینہ سے نکلے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی اطلاع دی گئی تھی کہ دونوں قافلوں میں سے کوئی نہ کوئی مل جائے گا اوراس سے مقابلہ ہو گا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی حکم تھا کہ شروع میں آپ اس امر کو ظاہر نہ کریں۔ آپ نے چونکہ جنگ کے پہلو پر زور نہ دیا تھا۔ اس لئے صحابہ بھی سارے آپ کے ساتھ نہ گئے بلکہ کم گئے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ تجارتی قافلہ سے مقابلہ ہے۔ مدینہ میں اَور سپاہی تھے مگر وہ ساتھ نہ گئے تھے۔ جب آپ چند منزل آ گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر پوری حقیقت کھول دی گئی اور ساتھ اجازت بھی دی گئی کہ بیان فرمائیں کہ اصل غرض کیا ہے۔ آپ نے صحابہؓ کو جمع کیا اور بتایا کہ قافلہ نکل چکا ہے مگر کفار کا لشکر آ رہا ہے۔ اب مشورہ دو کہ کیا کیا جائے۔ آپ کے ساتھ کُل 313 صحابہ تھے۔ اور ان میں سے بھی ایک حصہ ناتجربہ کاروں کا تھا۔ کچھ انصارؓ تھے جو جنگی فنون سے ایسے واقف نہ تھے اور ان حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا تھا کہ آپ ان لوگوں کے لئے موت خریدنا چاہتے تھے۔ آپ نے جب مشورہ پوچھا تو مہاجرین میں سے ایک کے بعد دوسرا کھڑا ہوتا ہو گیا اور کہتا گیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ) اگر جنگ مقدر ہے تو ہم تیار ہیں لیکن انصار خاموش تھے اور اس کی وجہ یہ تھی ۔ مکہ والے مہاجرین کے رشتہ دار تھے اور اس لئے انصار نے خیال کیا کہ اگر ہم نے جنگ کا مشورہ دیا تو مہاجرین سمجھیں گے کہ چونکہ مکہ والے ہمارے رشتہ دار ہیں اس لئے یہ لوگ ان سے لڑنے پر آمادہ ہو گئے ہیں اور ان کا مرنا ان لوگوں پر گراں نہیں گزرتا۔ اس لئے وہ اپنے مہاجر بھائیوں کے احساسات کا احترام کرتے ہوئے خاموش رہے۔ مہاجرین یکے بعد دیگرے اٹھتے اور مشورہ دیتے اور اپنے جوش اور اخلاص کا اظہار کرتے مگر ان میں سے جب کوئی بات ختم کر لیتا تو رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ لوگو مشورہ دو پھر دوسرا مہاجر اٹھتا اور اسی طرح جوش اور اخلاص کے ساتھ لڑنے کا مشورہ دیتا مگر آپ پھر فرماتے کہ لوگو مشورہ دو۔ اس پر انصار نے سمجھا کہ شاید آپ ہمیں مخاطب فرما رہے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک کھڑا ہؤا اور عرض کیا یا رسول اللہ مشورہ تو مل رہا ہے مگر آپ پھر بھی یہی فرماتے ہیں کہ لوگو مشورہ دو اور شاید آپ کی مراد انصار سے ہے (انصار جب رسول کریم ﷺ کو مدینہ میں لائے۔ تو یہ اقرار کیا تھا کہ اگر کوئی دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو ہم اپنی جانوں سے آپ کی حفاظت کریں گے۔ لیکن مدینہ سے باہر کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں) اس انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ! اب چونکہ ہم لوگ مدینہ سے باہر ہیں اس لئے شاید آپ کو خیال ہے کہ اس اقرار کے مطابق ہم آپ کا ساتھ نہ دیں گے۔ لیکن یا رسول اللہ! جس وقت ہم نے یہ اقرار کیا تھا اس وقت ہمیں اسلام کی پوری خبر نہ تھی اور آپ کی ذات کی بھی ہمیں کما حقہٗ قدر نہ تھی مگر اب کہ اسلام ہم پر کھل چکا اور آپ کی قدر کو ہم نے پہچان لیا۔ اب اس اقرار کا کوئی سوال نہیں۔ یا رسول اللہ! سامنے سمندر ہے۔ آپ حکم دیں تو ہم اس میں گھوڑے ڈال دیں گے اور اگر مقابلہ ہؤا تو ہم آپ کے دائیں لڑیں گے اور بائیں لڑیں گے، آگے لڑیں گے اور پیچھے لڑیں گے اور کوئی دشمن آپ کی ذات تک ہرگز نہ پہنچ سکے گا۔ جب تک کہ وہ ہماری لاشوں پر سے نہ گزرے۔1
    ایک صحابی کہتے ہیں کہ مَیں بارہ جنگوں میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ شامل ہؤا ہوں مگر باوجود اس کے مجھے ہمیشہ یہ حسرت رہی ہے کہ گو مَیں اس سعادت سے محروم رہتا مگر کاش یہ الفاظ میرے مُنہ سے نکلے ہوتے۔
    گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں مَیں نے بتایا تھا کہ انصار کے ہی دو نو عمر لڑکوں نے کس طرح ثابت کر دیا کہ یہ لوگ کن جذبات کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ آج مَیں مضمون کے لحاظ سے بتاتا ہوں کہ کس طرح یہ لوگ اپنی تمام قوتوں کو اسلام کے لئے صرف کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ جب دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کے بالمقابل ڈیرے ڈل دئیے تو مکہ والوں میں ہی چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ مسلمانوں میں اکثر حصہ مہاجرین کا ہے جو ہمارے رشتہ دار ہیں۔ اگر لڑائی میں ہم لوگ مارے گئے جب بھی اور اگر وہ مارے گئے جب بھی مرنے والے ہماری ہی قوم کے مریں گے۔ اس لئے بعض سمجھدار لوگوں نے یہ تحریک کی کہ صلح کر لی جائے اورلڑائی نہ کی جائے۔ یہ بات ایسی پختہ ہوتی چلی گئی کہ لشکر میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا اوربہتوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ لڑائی نہیں ہونی چاہئے۔ حالت یہ تھی کہ کسی کا ایک بھائی مسلمانوں میں تھا اور دوسرا کفار میں، کسی کا بیٹا مسلمانوں میں تھا اورباپ کافروں کے لشکر میں، کسی کا باپ اِدھر تھا اور بیٹا اُدھر (حتّٰی کہ حضرت ابو بکرؓ کا ایک بیٹا بھی کفار کے لشکر میں شریک تھا۔) اور یہ چرچا ہونے لگا کہ کیا باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے اور بھائی بھائی سے لڑے گا۔ ان باتوں کا طبعاً لوگوں پر اثر ہؤا اور جب ہیجان بہت بڑھا تو ابو جہل جو رسول کریم ﷺ اور مسلمانوں کا سخت دشمن تھا۔ ایک شخص کے پاس گیا جس کا بھائی ابتدائی زمانہ میں کسی مسلمان کے ہاتھ سے مارا گیا تھا اور اس سے کہا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے بھائی کا بدلہ نہ لیا جائے۔ اس نے کہا ضرور لیا جانا چاہئے۔ ابو جہل نے کہا کہ بس آج ہی تو اس کا موقع ہے۔ تم شور مچاؤ کہ میرے بھائی کا بدلہ ضرور لیا جائے۔ عرب قوم مہذب نہ تھی اور ان میں بعض بے ہودہ رسوم تھیں۔ اپنی ایک رسم کے مطابق وہ شخص مادر زاد ننگا ہو کر باہر آیا اور رونے پیٹنے لگا اور بَین کرنے لگا کہ او میرے بھائی! آج تیری قوم نے تجھے چھوڑ دیا اور وہ تیرا بدلہ لینا نہیں چاہتی۔ عربوں میں یہ ایک رسم تھی کہ جب کوئی شخص اپنی قوم کے دلوں میں جوش پیدا کرنا چاہتا تھا تو اس طرح مادر زاد ننگا ہو کر رونے پیٹنے اور بَین کرنے لگتا۔ اس شخص نے بھی جب اس طرح کیا تو دلوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور پہلے خیالات جاتے رہے اور لوگ لڑائی کے لئےتیار ہو گئے۔ اسی دوران میں کفار نے اپنے ایک تجربہ کار افسر ٭کو تیار کیا کہ جا کر اندازہ کرے۔ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔ وہ شخص معلوم ہوتا ہے جنگی کاموں سے بخوبی ماہر تھا۔ وہ پہلے اس طرف گیا جس طرف باورچی خانہ کا انتظام تھا اور ذبح شدہ اونٹوں کی تعداد دیکھ کر اندازہ کیا کہ مسلمانوں کی تعداد تین ساڑھے تین سَو کے درمیان ہو گی اور جا کر کفار سے کہا کہ باقی سب اندازے غلط ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد تین اور ساڑھے تین سَو کے درمیان ہے۔ کفار نے کہا کہ بس پھر تو کوئی بات نہیں۔ ہم تو انہیں فوراً مار لیں گے لیکن اس شخص نے کہا کہ بھائیو! گو مسلمانوں کی تعداد تو تھوڑی ہے مگر مَیں تمہیں یہی مشورہ دوں گا کہ ان سے لڑائی کا خیال چھوڑ دو۔ انہوں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ مَیں نے بعض مسلمانوں کو بھی دیکھا ہے مگر مَیں سچ کہتا ہوں کہ مَیں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمی نہیں موتیں سوار دیکھی ہیں۔ 2 ان میں سے ہر ایک کے چہرے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مرنے کے لئے آیا ہے اور کسی کام کے لئے نہیں اور اگر تم نے ان سے لڑائی کی تو یا تو وہ سب کے سب خود مر جائیں گے یا تم کو مار دیں گے اور جو قوم مرنے کے لئے آمادہ ہو چکی ہو۔ اس سے لڑنا اچھا نہیں ہوتا مگر کفار میں چونکہ جوش پیدا ہو چکا تھا۔ اس کامشورہ نہ مانا گیا اور انہوں نے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ لڑائی ہوئی اور مسلمان اسی نیت اور ارادہ سے لڑے کہ ان میں سے کوئی بھی واپس نہ جائے گا۔ ان کا یہ ارادہ اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے ایک عرشہ بنایا جس پر رسول کریم ﷺ کو بٹھا دیا۔ دو تیز رفتار اونٹنیاں پاس باندھ دیں اور باہم مشورہ کر کے حضرت ابو بکرؓ کو آپ پر پہرہ دار مقرر کیا کہ اگر جنگ کی حالت خراب ہوئی تو وہ رسول کریم ﷺ کو ساتھ لے کر مدینہ پہنچ جائیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسلام کی زندگی آپ کے دم سے ہے اگر لڑائی کی حالت خراب ہوئی تو ہم میں سے تو کوئی واپس جائے گا نہیں مگر اسلام کی خاطر آپ کا زندہ رہنا ضروری ہے۔ ہمارے مارے جانے سے اسلام کی شکست نہیں ہو سکتی کیونکہ مدینہ میں اسلام کے اَور سپاہی بھی موجود ہیں اس لئے ہم نے ابو بکرؓ کو آپ کا پہرہ دار مقرر کیا ہے جن پر ہمیں سب سے زیادہ اعتماد ہے کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر بھی آپ کی حفاظت کریں گے۔ آپ ان کے
    ٭ عمیر بن وھب (سیرة لابن ھشام)
    ساتھ مدینہ تشریف لے جائیں۔3 اس کے معنے یہ ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ واپس جانے کو تیار نہ تھا۔
    دنیا میں کتنی کتنی بڑی جنگیں ہوئی ہیں جن میں لڑنے والوں کی بڑی تعریفیں ہوتی ہیں مگر وہ سب ایسی ہیں کہ کسی میں ہزار میں سے دو سَو سپاہی مارے گئے ، کسی میں تین سو سپاہی مارے گئے اور باقی بچ کر آ گئے مگر پھر بھی وہ سارا لشکر ہی بہادر سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ میں ایسے مجنونانہ مقابلہ کی ایک مثال صرف یونان کی تاریخ میں ملتی ہے۔ سپارٹا کے درہ پر جتنے کے جتنے سپاہی متعین تھے۔ وہ سب کے سب مارے گئے مگر وہ ایک درّہ میں تھے اور ان کے لئے دشمن کو بالکل روک لینے کا امکان موجود تھا مگر مسلمانوں کا لشکر باوجود تعداد میں دشمن سے بہت کم ہونے کے کھلے میدان میں تھا اور دشمن پر فتح پانے کا امکان بظاہر اس کے لئے کوئی نہ تھا۔ باوجود اس کے ان میں سے ہر ایک اس نیت اور اس ارادہ سے میدان جنگ میں گیا تھا کہ واپس گھر جانے کا موقع اسے نہ مل سکے گا۔ یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں نے دنیا کا تختہ الٹ دیا۔ یہ لوگ مجنونوں کی طرح لڑتے تھے۔ تو ایمان انسان کے اندر ایسی قوت پیدا کر دیتا ہے کہ لوگ اسے پاگل سمجھنے لگتےہیں کیونکہ جس طرح پاگل مقابلہ کے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ میرا سر ٹوٹ جائے گا یا ہاتھ پَیر ٹوٹیں گے یا کوئی اَور حصہ جسم کا ٹوٹ جائے گا۔ مومن بھی دین کے مقابلہ میں اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا۔ گو اس کے اس جوش کا باعث جسمانی جنون نہیں ہوتا بلکہ عشق کا جنون ہوتا ہے۔
    جنگِ موتہ کا واقعہ ہے۔ رسول کریم ﷺ نے حضرت زیدؓ کو اس کا کمانڈر بنا کر بھجوایا اور فرمایا کہ اگر زید مارے جائیں تو جعفرسردار لشکر ہوں۔ اگر وہ مارے جائیں تو عبداللہ بن رواحہ اس کے سردار ہوں اور اگر وہ شہید ہوں تو جسے مسلمان چاہیں سردار منتخب کر لیں۔ جب اول الذکر شہید ہوئے۔ حضرت جعفر نے جھٹ اپنے گھوڑے سے چھلانگ لگا دی۔ گھوڑے کو زخمی کر دیا اور جھنڈا ہاتھ میں لے لیا۔ گھوڑے کو زخمی کرنے کے یہ معنے تھے کہ مَیں واپس نہیں لوٹوں گا جھنڈا لے کر زور سے نعرہ لگایا اَوْفَیْتُ اَوْفَیْتُ اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس پر عبد اللہ بن رواحہ نے جھنڈا ہاتھ میں لے لیا۔ لڑائی سخت ہوئی دشمن کی تعداد مسلمانوں سے بیس تیس گُنا زیادہ تھی۔ رومیوں سے مقابلہ تھا جن کی فوج بہت تربیت یافتہ اور ٹرینڈ تھی۔ جس طرح آجکل انگریزوں اور جرمنوں وغیرہ کی فوجیں ہیں۔ آخر حضرت عبداللہ بن رواحہ کا ہاتھ کٹ گیا۔ اس پر انہوں نے دوسرے ہاتھ میں جھنڈا لے لیا۔ وہ بھی کٹ گیا تو ٹانگوں میں دبا کر کھڑے ہو گئے۔ آخر ایک ٹانگ بھی کٹ گئی تو گردن کا سہارا دے کر جھنڈے کو کھڑا کر لیا اور مرتے مرتے یہ آواز دی کہ مسلمانو! اسلام کا جھنڈا نیچا نہ ہونے پائے۔ ایک مسلمان آگے بڑھا اور اس نے جھنڈا زمین میں گاڑ دیا۔ یہ جنون ہی کی حالت ہے، ورنہ کس طرح ایک ہٹے کٹے آدمی کو جب معمولی سا بھی زخم آ جائے تو مرہم پٹی کرانے کے لئے بھاگتا ہے مگر حضرت عبد اللہ کے دونوں بازو اور ٹانگ بھی کٹ گئی لیکن کوئی پرواہ نہیں کی۔ ان کو صرف ایک خیال تھا کہ اسلام کا جھنڈا نیچا نہ ہو اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ ایسے لوگ جب بھی میدان میں آتے ہیں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ اگر زندہ رہتے ہیں تو فاتح کی حیثیت سے اور اگر مرتے ہیں تو ہمیشہ زندہ رہنے والوں کی حیثیت سے ۔ ایسے لوگوں کا نام دنیا سے کبھی نہیں مٹایا جا سکتا۔ یہ لوگ ہر لمحہ زندگی کو موت سے بدلنے کے لئے تیار رہتے ہیں اورموت ہمیشہ ان کو زندگی بخشتی ہے۔ پس ایمان ہی ہے جو دنیا میں ہمیشہ مومنوں کو بچایا کرتا ہے اور انبیاء کی جماعتوں کو زندہ رکھا کرتا ہے اور یہ نہ میرے اختیار میں ہے اور نہ کسی اَور کے کہ ہر ایک کے ایمان کو زندہ اور تازہ کرے۔ یہ ایمان اسی صورت میں پیدا ہوتا ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو اور جب ایمان کا یہ ولولہ پیدا ہو جائےتو پھر دنیا کی کوئی طاقت ایسے مومن کو دبا نہیں سکتی اور کوئی قوت اسے مٹا نہیں سکتی۔ بھلا موت سے انسان کیوں ڈرے جو کبھی بھی کسی کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ہزاروں انسان دنیا میں بڑے بڑے بن کر مرتے ہیں مگر ایک کتّے کی طرح ان کا نام مٹ جاتا ہے اورہزاروں غریب جانیں دیتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے ان کا نام یاد رکھا جاتا ہے۔ چاہے فرد کے لحاظ سے اور چاہے قوم کے لحاظ سے ہو۔ مَیں نے یونان کے بعض سپاہیوں کی مثال دی ہے جو سپارٹا کے بہادر کہلاتے ہیں۔ یونان میں کتنے بادشاہ ہوئے ہیں مگر سوائے سکندرکے یا اس کے طفیل اس کے باپ کے نام کے سوا کسی ایک کا بھی نام تم میں سے کسی کو معلوم ہے؟ مجھے تو معلوم نہیں حالانکہ مَیں نے یونان کی تاریخ کا بھی ایک حصہ پڑھا ہے مگر سپارٹا کے بہادروں کا ذکر یاد ہے۔گو وہ کافر تھے مگر خدمت وطن کے جذبہ کے ماتحت بہادری دکھائی اور ان کا نام روشن ہو گیا۔ تو جو ایمان کی خاطر مرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ان کی یاد کو اللہ تعالیٰ خود تازہ کر دیتا ہے۔ دیکھو موسیٰ عمران جن کے نام کے ساتھ علیہ السلام کہے بغیر ہماری زبانیں آگے نہیں گزر سکتیں۔ کیسے غریب والدین کا بیٹا تھا۔ حتّٰی کہ وہ روٹی کے لئے فرعون کے گھر میں پرورش پانے پر مجبور تھا۔ ناصرہ کے بڑھئی کے بیٹے کو آج بھی ہم عیسیٰ علیہ السلام کہے بغیر نہیں رہ سکتے۔ عراق کے ایک معمولی بُت بیچنے والے تاجر کا بیٹا ابراہیم؟ کون سا دن ہے جب مسلمان دن میں پانچ وقت نماز پڑھتے ہوئے اس کا نام نہیں لیتے اور کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ نہیں کہتے۔ دیکھو دنیوی حیثیت سے ان لوگوں کی کیا شان تھی۔ انہیں دنیوی لحاظ سے کوئی بھی حیثیت حاصل نہ تھی مگر خد اتعالیٰ کی طرف سے انہیں عزتیں دی گئیں۔ ان کے بعد بڑے بڑے بادشاہ آئے جنہوں نے دنیا کو تہِ تیغ اور زیرِ نگیں کیا مگر آج ان کا نام بھی کوئی نہیں جانتا یا ان کے نام سے کسی کے دل میں کوئی جوش پیدا نہیں ہوتا مگر وہ چھوٹے سے تاجر کا بیٹا یا ایک معمولی پیشہ ور کا بیٹا جس کا باپ غالباً رعمسیس کے حکم کے مطابق اینٹیں پاتھا کرتا تھا۔ اس وقت بھی ہمارے سردار ہیں اور آج بھی ہماری زبانیں ان کو دعائیں دئیے بغیر آگے نہیں گزر سکتیں۔ یہ کون سی چیز ہے جس نے ایک معمولی سوداگر کے لڑکے یا ایک اینٹیں پاتھنے والے کے بیٹے کو ہمارا سردار بنا دیا۔ یہ خدا تعالیٰ کی محبت ہی تھی اور اس کی نازل کردہ برکات۔ جن سے ان لوگوں کو ایسی عزت ملی جو دنیا کے بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوئی۔ آج انگریز اور جرمن لڑتے ہیں۔ یہ کتنی بڑی بڑی سلطنتیں ہیں مگر یہ دونوں ہی آج بھی اس بڑھئی کے بیٹے کو سرداری کا تاج پہناتے ہیں۔ جرمن کہتے ہیں کہ سچے عیسائی ہم ہیں اور انگریز کہتے ہیں ہم ہیں۔ جرمن عیسائیت سے باغی ہیں آج بھی دیکھ لو اتنی بڑی بڑی حکومتیں جس سے بغاوت کا طعنہ دے کر اپنی اپنی قوموں کو ایک دوسرے کے خلاف اکساتی ہیں وہ وہی بڑھئی کا بیٹا ہے اور اس سے بغاوت کا طعنہ دے کر اکسانے والے وہ ہیں جن کے پاس ہزاروں طیارے اور بے شمار سامان جنگ ہے مگر اتنے ساز و سامان کے باوجود اس بڑھئی کے بیٹے کی مدد کے وہ آج بھی محتاج ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے اسے اپنا لیا اور کہا کہ آج سے یہ ہمارا اور ہم اس کے کہلائیں گے۔ آج ایک بڑھئی کا لڑکا ہونا اس کے لئے عزتوں کا موجب ہے۔ اگر وہ کسی بادشاہ کا بیٹا ہوتا تو آج اس کی یہ شان ظاہر نہ ہوتی۔ اسی طرح ہمارے آقا سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کس غربت کی حالت رہے۔ یتیم کی حالت میں آپ پیدا ہوئے اور ابھی چھوٹے ہی تھے کہ آپ کی والدہ بھی گزر گئیں۔ مکہ کے لوگ اپنے بچوں کو باہر دیہات میں دائیوں کے پاس پرورش کے لئے بھیج دیا کرتے تھے تا شہر کی ہوا سے بچہ محفوظ رہے اور دیہات کی کھلی ہوا میں پرورش پا کر تندرست اور مضبوط ہو۔ ان دودھ پلانے والی عورتوں کو بڑے بڑے تحفے ملتے تھے اور جب وہ بچہ کو واپس لاتیں تو بڑے بڑے انعام ملتے تھے مگر آمنہ کا خاوند فوت ہو چکا تھا اور کوئی جائداد تھی نہیں۔ ایسی عورت کے بچہ کو پرورش کرنے کے نتیجہ میں کسی کو انعام یا تحائف ملنے کی کیا امید ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں دوسرے گھروں میں عورتیں خود جا جا کر بچے حاصل کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ وہاں آمنہ خود ہر ایک سے درخواست کرتی تھیں کہ اس کے بچے کو لے جائے مگر ہر ایک ناک بھوں چڑھا کر چلی جاتی تھی۔
    حلیمہ جسے آنحضرت ﷺ کی پرورش کی سعادت نصیب ہوئی خود بھی ایک غریب عورت تھی۔ وہ اگرچہ پہلے تو آپ کو ساتھ لے جانے سے انکار کر کے چلی گئی لیکن بوجہ غریب ہونے کے اسے بھی کوئی اپنا بچہ دینا پسند نہ کرتا تھا کیونکہ دینے والے بھی تو یہ دیکھتے تھے کہ ان کے بچوں کو کھانے پینے کے لئے اچھا مل سکے گا یا نہیں۔ تو جہاں آمنہ کے بچہ کو لینے سے ہر دایہ نے انکار کیا وہاں حلیمہ کو ہر ایک نے اپنا بچہ دینے سے انکار کر دیا اور آخر وہ مجبور ہو کر اس شرم کے مارے کہ اس کی قوم کے لوگ کہیں گے کہ یہ بچہ لینے گئی تھی مگر کسی نے اسے پوچھا تک نہیں پھر لوٹ کر آمنہ کے پاس آئی کہ اچھا مجھے اپنا بچہ دے دو گویا ساری دائیوں کا ردّ کردہ بچہ اس دایہ نے لیا جسے سب مکہ والوں نے ردّ کر دیا تھا اور اس طرح وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ ’’جس پتھر کو معماروں نے ردّ کیا، وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔‘‘ 4
    دایہ بھی معمار ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی بچہ کی پرورش کرتی اور بناتی ہے۔ تو وہ تمام دائیوں کا ردّ کیا ہؤا بچہ حلیمہ کے گھر گیا اوروہ بھی اپنی شرم مٹانے کے لئے اسے لے گئی۔ لیکن ایک دن ایسا آیا کہ اسلامی لشکر نے حلیمہ کی قوم کو تہِ تیغ کیا اور اس کے تمام نوجوان قید کر لئے گئے جس وقت وہ ساری قوم آہ و بکا میں مصروف تھی۔ اس کی شان و شوکت مٹ چکی تھی۔ وہی حلیمہ جو ایک وقت اتنی غریب تھی کہ مکہ کا کوئی شخص اپنا بچہ اسے دینے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔ اس کی قوم کے بزرگوں نے جن میں ایک آپ کا رضاعی چچا بھی تھا ۔ اس کے نام پر رسول کریم ﷺ سے اپیل کی اور عرض کیا کہ ہم نے آپ کا بچپن دیکھا ہے۔ جب آپ دودھ پیتے تھے اور آپ کو اپنی گودیوں میں کھلایا ہے اور اب آپ اس شان کو پہنچ گئے ہیں۔ اب آپ ہم پر رحم کریں۔ خدا تعالیٰ آپ پر رحم کرے گا۔ آپ نے محبت سے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ دو چیزوں میں سے ایک چن لو۔ اپنے آدمی یا اپنے مال۔ انہوں نے کہا ہمارے آدمی واپس کر دئیے جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ بہت اچھا، میرے اور میرے خاندان کے حصہ میں جس قدر قیدی آئے ہیں سب آزاد ہیں۔ باقیوں کے متعلق مَیں سفارش کروں گا۔ مکہ اور مدینہ کے لوگوں نے خوشی سے قیدی آزاد کر دئیے مگر بعض نو مسلم قبائل نے انکار کیا اس پر آپ نے فرمایا کہ آئندہ غنیمت میں سے فی قیدی چھ اونٹ آپ ادا کریں گے۔ اس پر ان لوگوں نے بھی قیدی چھوڑ دئیے۔ اب دیکھو کجا تو وہ دن تھا کہ حلیمہ رسول کریم ﷺ کو اپنے گھر لے جانا پسند نہ کرتی تھی اور کجا یہ دن کہ اس کی قوم کے معززین نے اس کی خدمت کا واسطہ دے کر رسول کریم ﷺ سے رحم کی اپیل کی اور وہ منظور کی گئی اور اس قوم کے سب قیدی آزاد کر دئیے گئے۔5
    آج ان واقعات پر تیرہ سو سال گزر چکے ہیں اَور عرب پھر تنزل کی طرف چلے گئے ہیں۔ وہ پھر وحشی ہو گئے ہیں اور بدوی بن رہے ہیں مگر آج بھی ان کے دلوں پر محمد مصطفیٰ ﷺ کی حکومت ہے۔ دس بارہ روز ہوئے ہیں میں ریڈیو پر خبریں سن رہا تھا۔ آواز کی خرابی کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف سوئی کر رہا تھا کہ جرمنی ریڈیو کی آواز سنائی دی (یا اٹیلین تھا پختہ نہیں کہہ سکتا) اس کی ایک بات سن کر مجھے حیرت بھی ہوئی، ہنسی بھی آئی، لطف بھی آیا اَور تعجب بھی ہؤا۔ اردو میں تقریر ہو رہی تھی۔ مقرر کہہ رہا تھا کہ اے مسلمانو! انگریز تمہارے سخت دشمن ہیں۔ تم لوگوں کو پتہ نہیں کہ انہوں نے تم پر کتنے مظالم کئے ہیں۔ انہوں نے فلاں اسلامی ملک پر حملہ کیا، فلاں پر کیا، سوڈان پر بھی حملہ کیا اور اسے فتح کر لیا اور وہاں تمہارے نبی کی قبر پر گولہ باری کی اور اس ظلم میں چرچل بھی شامل تھا۔ سمالی لینڈ کے مخالف لیڈر کا نام محمد تھا۔ اس سے مقرر نے سمجھا کہ شاید بانی اسلام علیہ الصلوٰة و السلام کی قبر وہاں ہے۔ مَیں نے خیال کیا کہ دیکھو یہ لوگ اسلام اور اس کی تاریخ سے اتنے جاہل ہیں اور دنیا کو دھوکا یہ دے رہے ہیں کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے بڑے خیر خواہ ہیں۔ مگر دیکھو کس طرح یہ لوگ رسول کریم ﷺ کی محبت کو اکسانے کے لئے جھوٹے واقعات بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اس طرح مسلمان طیش میں آ جائیں گے۔ پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کی عزت کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔ ان کا نام لیتے ہی وہ ولولہ اور جوش پیدا ہوجاتا ہے کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا قرآن کریم نے بتایا ہے کہ کمزور ایمان والا شخص دو کا مقابلہ کرسکتا ہے اورپورے ایمان والا دس کا بلکہ دس سے زیادہ کا بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں زیادتی رکھی ہے۔ گویا ایک ہزار مومن دس ہزار دشمن کے لئے کافی ہے اور صحابہؓ پر تو ایسے وقت بھی آئے ہیں کہ ایک ایک نے ہزار ہزار کا مقابلہ کیا ہے۔ رومیوں کے ساتھ ایک جنگ میں ساٹھ مسلمانوں نے جن میں سے کچھ صحابہ اور کچھ دوسرے تھے۔ ساٹھ ہزار پر حملہ کیا تھا۔
    پس دنیا کے سامانوں پر نگاہ نہ کرو۔ مومن کبھی ظاہری سامانوں پر انحصار نہیں رکھتا۔ یہ صحیح ہے کہ اگر کسی کے پاس ایک لٹھ ہے تو وہ بھی کام آ سکتا ہے اور اس نے اس پر جو چار یا پانچ آنے خرچ کئے ہیں وہ بھی قوم کی خدمت کی ہے لیکن اگر وہ دعاؤں میں لگا رہے تو وہ ہزار لٹھ اور جمع کر سکتا ہے۔ جو شخص ظاہری لٹھ رکھتا ہے اس نے غلطی نہیں کی کیونکہ ایک ہزار ایک، ایک ہزار سے زیادہ ہی ہے۔ اس لئے وہ بھی ثواب کا مستحق ہے مگر اصل اور حقیقی لٹھ جس سے ہم مقابلہ کر سکتے ہیں دعا ہی ہے۔ گذشتہ خطبہ میں مَیں نے بیان کیا تھا کہ دعا کا ایک پہلو یہ ہے کہ اضطرار کے ساتھ دعا کی جائے۔ آج مَیں اس کا دوسرا پہلو بیان کرنا چاہتا تھا مگر اب تین بج گئے ہیں۔ اس لئے کسی اگلے جمعہ میں اسے بیان کروں گا اور اس وقت صرف اس نصیحت پر اکتفا کرتا ہوں کہ بے شک جو دنیوی سامان کر سکتے ہو اپنی حفاظت کے لئے کرو۔ مگر اس بات کو یاد رکھو کہ اصل چیز ایمان ہے۔ اپنے اندر ایک تغیر پیدا کرو۔ قرآن کریم کی تلاوت باقاعدہ کرو اور صحابہ کرامؓ کی قربانیوں کے واقعات بار بار سامنے لاتے رہو۔ قرآن کریم کے درس کا باقاعدہ انتظام کرو اور صحابہ کرامؓ کی ابتدائی تاریخ کے واقعات کا بھی درس جاری کرو تا ان کی قربانیاں ہر وقت سامنے آتی رہیں۔ ذکر حبیبؑ سے بھی حبیب کے ساتھ محبت میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔ انفرادی دعائیں بھی کرو اور اجتماعی بھی۔ ہر مسجد میں روزانہ مغرب یا کسی اور نماز کی آخری رکعت میں سب مل کر دعائیں کریں تا اللہ تعالیٰ بیرونی اور اندرونی فتنوں سے محفوظ رکھے۔ اور ہمیں فتنوں کے مقابلہ کے لئے ایمان اور طاقت عطا کرے تا کسی نازک وقت میں ہم اپنے ایمان کا ویسا ہی ثبوت پیش کر سکیں جیسا پہلے انبیاء کی جماعتوں نے کیا اور دنیا یہ نہ کہے کہ وقت آنے پر یہ قوم کچا دھاگا ثابت ہوئی۔ اَلْعَیَاذُ بِاللہِ اَسْتَغْفِرُ اللہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ۔‘‘ (الفضل 29 اپریل 1942ء)
    1: السیرۃ الحلبیة جلد 2 صفحہ 160 ۔ مطبوعہ مصر 1935ء
    2: سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 274۔ مطبوعہ مصر 1936ء
    3: سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 272،273۔ مطبوعہ مصر 1936ء
    4: متی باب 21 آیت 42
    5: زاد المعاد حصہ دوم حالات غزوہ حنین

    10
    موجودہ نازک ایام میں خصوصاً الہامی دعائیں کرنی چاہئیں
    (فرمودہ 24 اپریل 1942ء )

    تشہد ، تعوّذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے حسب ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت کی:
    اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ٞۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ۰۰۲۸۵لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِيْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۔ 1
    اس کے بعد فرمایا:۔
    ’’سب سے پہلے تو مَیں قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ و تفسیر کے متعلق جو قرضہ کی تحریک کی گئی تھی۔ اس کے بارے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس رقم کا اندازہ اس وقت شائع کیا گیا تھا اور جو زیادہ اندازہ بعد میں لگایا گیا۔ ان دونوں اندازوں کے مطابق خدا تعالیٰ کے فضل سے دو ہفتہ کے اندر اندر بلکہ اعلان کے لحاظ سے دس بارہ دن کے اندر اندر مطلوبہ رقم پوری ہو گئی ہے۔ چنانچہ آج کے وعدوں کو ملا کر کیونکہ بعض دوستوں کی طرف سے آج بھی بذریعہ تار وعدوں کی اطلاع ملی ہے اور بعض خطوط بھی پہنچے ہیں۔ تئیس چوبیس ہزار روپیہ کے وعدوں کی اطلاع آ چکی ہے۔
    مَیں چاہتا ہوں کہ سب دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ عمدگی کے ساتھ قرآن کریم کی چھپوائی کا انتظام فرما دے۔ مجھے افسوس ہے کہ جب اُس کی چھپوائی کا فیصلہ ہو چکا تو بعد میں مجھے معلوم ہؤا کہ وہ نوٹ ابھی صحیح ترتیب سے لکھے ہی نہیں گئے۔ متفرق طور پر تو لکھے ہوئے ہیں مگر چھپوائی کے لئے جس ترتیب کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ترتیب ابھی نہیں دی گئی۔ اس لئے اب اُن نوٹوں کو ترتیب دینا بہت بڑی محنت کا کام ہو گا اور مجھے کئی آدمی اس غرض کے لئے لگانے پڑیں گے۔ بہرحال دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کو عمدگی کے ساتھ سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
    اس کے بعد مَیں ان خطبات کے تتمّہ کو بیان کرنا چاہتا ہوں جو گزشتہ دو جمعوں میں مَیں نے پڑھے ہیں۔ مَیں نے ان خطبات میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ دعا ہی ہمارا ہتھیار ہے اور دعا ہی ہماری مشکلات کا واحد علاج ہے ورنہ اور سب حیلے جاتے رہے ہیں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام فرماتے ہیں۔
    حیلے سب جاتے رہے اک حضرت توّاب ہے2
    پس اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی حیلہ ہمارے پاس باقی نہیں۔ اس وقت ایک ایسے زبردست دشمن سے ہمارے ملک کی لڑائی ہے جو اپنے ساز و سامان کے لحاظ سے اس بات کا مدعی ہے کہ اس کے پاس انگریزوں اور امریکنوں سے زیادہ طاقت موجود ہے اس کے مقابلہ میں ہندوستان کے پاس کوئی بھی طاقت نہیں اور عوام تو بالکل خالی ہاتھ ہیں حالانکہ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جنگ کے دَوران میں جب تباہی آتی ہے تو وہ صرف حکومت پر ہی نہیں آتی بلکہ اس کا رعایا پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے چنانچہ وہ ہزاروں ہزار آدمی جو برما اور ملایا سے نکل کر آئے ہیں۔ ان کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ جو تکلیفیں اور دکھ ان کو اٹھانے پڑے ہیں۔ ان کا قیاس بھی ہم لوگ اس جگہ پر نہیں کر سکتے۔ کئی کئی دن بم باری کی وجہ سے لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر رہنا پڑا، وہ نہ کھانا پکا سکتے تھے، نہ دفتروں کو جا سکتے تھے، نہ دکانوں میں بیٹھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنے مکانوں میں واپس جا سکتے تھے اس خوف سے کہ کہیں وہ مکانوں کے نیچے دب کر ہلاک نہ ہو جائیں۔ بعض دوستوں نے بتایا کہ جس وقت بعض علاقے انگریزی فوج خالی کر رہی تھی اور دشمن کی آمد کا انتظار تھا۔ اس وقت بد طینت اور بد اخلاق لوگ ڈاکوؤں کی صورت میں شہروں کو اس طرح ظالمانہ طور پر لوٹ رہے تھے کہ کوئی والی وارث نظر نہیں آتا تھا۔ بڑے بڑے شہروں کی گلیاں اس طرح خالی پڑی تھیں جیسے قبرستان سنسان ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں بعض دفعہ ہم میلوں میل نکل گئے مگر ہمیں کوئی آدمی نظر نہیں آتا تھا اور اگر آتا تھا تو وہ ڈاکو ہوتا تھا۔ چونکہ زیادہ تر ان علاقوں میں سے آنے والے مدراس اور بنگال کے لوگ ہیں۔ اس لئے ان علاقوں میں رہنے والوں پر جنگ کی اہمیت اور اس کی ہولناکی بالکل واضح ہو گئی ہے۔ چنانچہ اب مدراس کی کانگرس پارٹی نے بھی زور دینا شروع کر دیا ہے کہ موجودہ جنگ میں انگریزوں کی مدد کرنی چاہئے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ان علاقوں کے رہنے والے ہزاروں ہزار لوگ جب واپس آئے تو انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھے حالات سنائے جو نہایت ہی ہولناک تھے اور جن سے لوگوں کو متاثر ہونا اور ان کے دلوں میں اس خیال کا پیدا ہونا لازمی تھا کہ اس جنگ میں حکومت کی پوری پوری مدد کرنی چاہئے تاکہ دشمن اَور زیادہ آگے نہ بڑھنے پائے۔ گورنمنٹ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ اخباروں میں زیادہ بھیانک حالات چھپنے نہیں دیتی تاکہ لوگ ڈر نہ جائیں مگر جو لوگ وہاں سے آئے ہیں اور جو ہندوستان میں رہنے والے ہزاروں لاکھوں لوگوں کے بھائی بند اور رشتہ دار ہیں۔ ان کی زبان کو کون روک سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ جنگ کے حالات سے زیادہ واقف ہو چکے ہیں۔ بہ نسبت ان لوگوں کےجو دور رہتے ہیں اور اب تو یہ جنگ روز بروز قریب ہوتی جا رہی ہے۔ اب تک برما میں انگریزی فوج بہت کم جا سکی ہےاور اس کی وجہ یہ ہے کہ برما کو ہندوستان سے جو پہاڑی راستہ جاتا ہے اس راستہ سے زیادہ سامان اور آدمی نہیں پہنچائے جا سکتے اور سمندر پر بہت حد تک دشمن کا قبضہ ہے۔ اس وجہ سے ہمارے ایک ایک سپاہی کو دشمن کے چار چار پانچ پانچ سپاہیوں سے لڑنا پڑتا ہے۔ جس زمانہ میں لڑائیاں ایسی ہوتی تھیں دو چار گھنٹے لڑائی ہوئی اور پھر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ دشمن بھاگ گیا یا کچھ حصہ مارا گیا اور کچھ قید کر لیا گیا۔ اس زمانہ میں ایک ایک سپاہی دس دس بیس بیس سپاہیوں کا بھی مقابلہ کر سکتا تھا۔ مگر اب وہ زمانہ ہے کہ لڑائی میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا اور رات دن لڑائی جاری رہتی ہے۔ اُس زمانہ میں تو آدمی لڑتے تھے مگر اب توپخانہ کام کرتا ہے۔ اس لئے لازماً جب سپاہی تھوڑے ہوں اور دشمن زیادہ ہوں تو چار چار پانچ پانچ دن تک ان سپاہیوں کو سونے کا موقع بھی نہیں ملتا اور یہ تجربہ ہر شخص کو ہو گا کہ اگر ایک دن بھی کسی کو نیند نہ آئے تو وہ کیسا مضمحل ہو جاتا ہے۔ پس تم سمجھ سکتے ہو کہ جب چار چار پانچ پانچ دن کسی کو سونے کا موقع نہیں ملے گا تو وہ کس طرح لڑ سکے گا۔ وہ تو خواہ کیسا بہادر ہو تلوار اور بندوق خود بخود اس کے ہاتھ سے چھوٹ جائے گی اور وہ کھڑا ہو گا تب بھی سویا ہؤا ہو گا اور بیٹھے گا تب بھی سویا ہؤا ہو گا۔ تو اس زمانہ کی لڑائی متواتر جاری رہنے والی لڑائی ہے۔ اگر سپاہی زیادہ تعداد میں ہوں تو ایک حصہ لڑتا ہے اور دوسرا حصہ آرام کر لیتا ہے۔ لیکن اگر سپاہیوں کی تعداد کم ہو تو انہیں آرام کا موقع نہیں ملتا اور اس طرح باوجود دلیری سے لڑنے کے ان میں دشمن کے مقابلہ کی طاقت نہیں رہتی چنانچہ برما کی لڑائی میں باوجود اس کے کہ جو واقعات اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سپاہیوں نے بہت بڑی بہادری سے کام لیا پھر بھی چونکہ ان کی تعداد کم ہے اور دشمن کی تعداد زیادہ اور اسے کمک آسانی سے پہنچ سکتی ہے۔ ہمارے سپاہی تھکتے چلے جاتے ہیں اور بعض جگہ گورنمنٹ کو خود اقرار کرنا پڑا ہے کہ صرف تھکان کی وجہ سے ہمارے سپاہی مقابلہ نہیں کر سکے۔ تو کئی کئی دن نہ سونے کی وجہ سے انسانی جسم میں طاقت ہی نہیں رہتی کہ وہ دشمن کا مقابلہ کر سکے۔ ایسی صورت میں جبکہ دشمن روزانہ بڑھ رہا ہے اور ادھر سمندر میں بھی اسے طاقت اور غلبہ حاصل ہے۔ ہمیں بہت زیادہ دعاؤں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ابھی ہندوستان کے ملک کی وسعت اور اس کے آدمیوں کی کثرت کی وجہ سے جاپان کو جرأت نہیں ہوئی کہ وہ ہندوستان میں اپنی فوجیں اتارے۔ اگر کوئی چھوٹا ملک ہوتا تو وہ اب تک اپنی فوجیں اتار چکا ہوتا۔ اب وہ سمجھتا ہے کہ اگر مَیں نے لاکھ دو لاکھ فوج اتار بھی دی تو ہندوستان جس میں کروڑوں لوگ رہتے ہیں۔ اس میں جوش پیدا ہو جائے گا اور وہ حکومت سے تعاون کرنا شروع کر دے گا جس کے مقابلہ میں میرا ٹھہرنا مشکل ہو جائے گا۔
    غرض خطرہ قریب سے قریب تر آ گیا ہے اور جیسا کہ مَیں نے بتایا ہےصرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو ہندوستان کی محافظ ہو سکتی ہے۔ مَیں نے بتایا تھا کہ دعا کے سوا ہمارے لئے اَور کوئی چارہ نہیں اور مَیں نے بتایا تھا کہ دعا میں پہلی چیز اس یقین کامل کا پیدا ہونا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا سن سکتا ہے۔ جب تک کسی انسان کو یہ یقین حاصل نہ ہو اس وقت تک اسے کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی کیونکہ یقین کامل جہاں ایک طرف انسان میں عظیم الشان تبدیلی پیدا کر دیتا اور اسے ایسا دلیر اور جری بنا دیتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی شخص نہیں ٹھہر سکتا۔ وہاں دوسری طرف یہ یقین خدا تعالیٰ کے فضل کو بھی جذب کرتا ہے۔ دنیا میں بھی جب کسی انسان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ دوسرا صرف مجھ پر ہی انحصار رکھتا ہے تو وہ اس کی طرف زیادہ توجہ کیا کرتا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ دعا سب سے زیادہ جوش سے کس کے لئے کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ مَیں سب سے زیادہ جوش سے اس شخص کے لئے دعا کیا کرتا ہوں جو میرے پاس آئے اور کہے کہ میرے لئے آپ کے سوا اَور کوئی دعا کرنے والا نہیں۔ اس وقت مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ مَیں اس کا نگران اور محافظ مقرر کر دیا گیا ہوں اور مَیں پنی ذات پر بھی اس کے لئے دعا کرنا مقدم کر لیتا ہوں جب ایک نیک بندے کا یہ حال ہوتا ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اس وقت کس قدر جوش پیدا ہوتا ہو گا جب کوئی بندہ اس کے پاس جائے اور کہے کہ میرا تیرے سِوا اَور کوئی نہیں۔ ایسے انسان کی نگرانی خود خدا تعالیٰ شروع کر دیتا ہے اور وہ اپنے فرشتوں کو کہتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ۔ اس کو اب میرے سوا اور کوئی نظر نہیں آتا گو یہ اپنی مدد کے لئے پکارے اور یہ میرے پاس بہت بڑی امید لے کر آیا ہے۔ اگر یہ ناقص العقل اور کمزور انسان مجھ پر ایسا یقین رکھتا ہے کہ مَیں اس کی مدد کروں گا تو مَیں جو طاقتور اور تمام صفات اور خوبیوں کا مالک ہوں کیوں اس کی مدد نہیں کروں گا۔
    اب مَیں یہ بتاتا ہوں کہ ان نازک ایام میں گو ہر شخص اپنی زبان میں بھی دعا کر سکتا ہے مگر خصوصیت سے الہامی دعاؤں کو مدنظر رکھنا چاہئے اور زیادہ تر وہی دعائیں مانگنی چاہئیں جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں۔ سب سے پہلے چونکہ یہ دجالی زمانہ ہے اس لئے مَیں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا ہے سورۂ کہف کی پہلی اور پچھلی دس آیتیں اگر کوئی شخص پڑھ لیا کرے۔ تو وہ دجالی فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ 3 اس لئے سب سے پہلے مَیں جماعت کو اسی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جن دوستوں کو توفیق ملے وہ سورۂ کہف کی ابتدائی اور آخری دس آیات کو حفظ کر لیں اور جو ان آیتوں کو حفظ نہ کر سکیں۔ وہ روزانہ قرآن شریف کو کھول کر پہلی اور آخری دس آیتیں پڑھ لیا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ اس دجالی فتنہ سے ان کو اور ہماری سب جماعت کو محفوظ رکھے۔
    اس کے بعد جیسا کہ مَیں کہہ چکا ہوں روزانہ کوئی ایک نماز مقرر کر لی جائے۔ جس میں بِالْجَہْر یا بِالسِّر دل میں یا بلند آواز سے۔ امام اور مقتدی اکٹھے یا الگ الگ التزام کے ساتھ دعائیں کریں اور ہماری جماعت کا ہر فرد ان دعاؤں میں حصہ لے تاکہ ہماری متحدہ دعائیں اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کریں۔ ان دعاؤں میں خصوصیت کے ساتھ وہ دعائیں مدنظر رکھنی چاہئیں جو اس زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور جو مشکلات کو دور کرنے میں کام آسکتی ہیں۔
    بے شک اپنی زبان میں بھی دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس طرح زیادہ جوش پیدا ہوتا ہے مگر اپنی دعا اور خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی دعا میں یہ فرق ہوتا ہے کہ انسان بعض دفعہ غلط دعا کرنے لگ جاتا ہے اور اُسے مانگنا تو کچھ چاہئے مگر مانگنے کچھ لگ جاتا ہے۔ اس قسم کی غلطی ان دعاوں کے مانگنے میں نہیں ہو سکتی جو خدا تعالیٰ نے بتائی ہیں۔ اس لئے بے شک تم اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو مگر زیادہ تر ان دعاؤں پر زور دو جو الہامی ہیں اور جو خدا تعالیٰ نے مشکلات کو دور کرنے کے لئے بتائی ہیں کیونکہ انسان اپنے الفاظ میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے بعض دفعہ کئی قسم کی غلطیاں کر جاتا ہے مثلاً کئی لوگ دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ہم کو بچہ دے۔ اب بظاہر یہ ایک اچھی دعا ہے لیکن اگر وہ قرآن کریم کی بتائی ہوئی ہدایت کی روشنی میں دعا مانگیں گے تو وہ زیادہ بہتر ہو گی کیونکہ خدا تعالیٰ صرف یہ نہیں کہتا کہ تم یہ دعا کرو کہ الٰہی ہم کو بچہ دے بلکہ خدا یہ دعا سکھاتا ہے کہ تم کہو خدایا ہم کو نیک بچہ دے مگر انسان کو بچے کے خیال میں یہ ہوش ہی نہیں رہتا کہ وہ صحیح دعا مانگے بلکہ وہ صرف اسی قدر دعا کرنا کافی سمجھتا ہے کہ خدایا مجھ کو بچہ دے حالانکہ وہ بچہ اس کی بدنامی، اس کی تباہی اور اس کی بربادی کا بھی موجب ہو سکتا ہے۔ اس کے خاندان کی بدنامی اور تباہی و بربادی کا بھی موجب ہو سکتا ہے بلکہ ایک بچہ ساری دنیا کی تباہی اور بربادی کا بھی باعث ہو سکتا ہے۔ آخر ابو جہل ایک بچہ ہی تھا جو پیدا ہؤا ۔ اس کے ماں باپ نے اس کے لئے کتنی ہی منتیں مانی ہوں گی اور اس کے پیدا ہونے پر وہ کس قدر خوش ہوئے ہوں گے مگر پھر وہ بچہ کیسا ظالم اوربرا ثابت ہؤا۔ تو انسان بسا اوقات دعا کرتے ہوئے جوش میں آ کر کہہ دیتا ہے کہ خدایا مجھے بچہ مل جائے اور اس کی یہ دعا ناقص ہوتی ہے لیکن اگر وہ قرآن اور رسول کریم ﷺ کی بتائی ہوئی دعاؤں کو مدنظر رکھے گا تو وہ کہے گا کہ الٰہی مجھے نیک اور صالح اولاد عطا ہو۔
    اسی طرح بعض دفعہ انسان غریب ہوتا ہے وہ جوش میں آتا ہے اور دعا کرتے ہوئے کہتا ہے یا اللہ مجھے مال دے لیکن مال تو چوری کا بھی ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے اس کا ایمان خراب ہو جائے او ر وہ چور اور ڈاکو بن جائے۔ اس طرح بھی وہ مالدار تو ہوجائے گا مگر ایمان جاتا رہے گا لیکن اگر وہ قرآن اور رسول کریم ﷺ کی بتائی ہوئی دعاؤں کی روشنی میں اللہ تعالیٰ سے مال مانگے گا تو وہ کہے گا۔ الٰہی مجھے حلال اور طیب مال دے۔ پھر وہ خالی یہی نہیں کہے گا کہ مجھے ایسا مال دے جو حلال اور طیب ہو بلکہ قرآن کریم اور رسول کریمﷺ کی بتائی ہوئی دعاؤں کی روشنی میں وہ یہ کہے گا کہ الٰہی مجھے ایسا حلال اور طیب مال دے جس سے مَیں فائدہ بھی اٹھا سکوں۔ اگر اسے حلال اور طیب مال تو ملے مگر اسی دن مر جائے تو اس مال کا اسے کیا فائدہ ہؤا۔ تو انسان جب اپنی عقل سے دعا مانگے تو اس سے کئی قسم کی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں لیکن اگر وہ خدا اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی دعائیں مانگے تو چونکہ وہ کامل ہوتی ہیں اس لئے بہت سے ایسے خطرات جو اس دعا کے پورا ہونے کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ان کا بھی ساتھ ہی علاج ہو جاتا ہے۔
    مَیں سمجھتا ہوں اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے ایک جامع دعا جو رسول کریم ﷺ کثرت سے مانگا کرتے تھے اور دوسروں کو بھی بتایا کرتے تھے اور مسلمانوں میں بھی عام طور پر رائج ہے اور جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی وحی کے ذریعہ نازل ہوئی ہے۔ یہ ہے رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ 4 خدا تعالیٰ کے کلام اور ا س کی وحی میں بہت سی دعائیں ہیں مگر یہ ایسی دعا ہے جسے رسول کریم ﷺ نے خصوصیت سے چُن کر صحابہؓ کو بتایا اور خود بھی اسے کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ بظاہر بہت چھوٹی سی دعا ہے لیکن ہر قسم کی انسانی ضرورتوں پر حاوی ہے۔ انسان کہتا ہے رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً اَے ہمارے رب! ہم کو اس ورلی زندگی میں حسنہ دے۔ یہ نہیں فرمایا کہ حسنات دے۔ یہاں ایک فرق ہے جس کو مدنظر رکھنا چاہئے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حسنہ کا جو لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ درست نہیں حسنات کا لفظ استعمال کرنا چاہئے تھا جس کے معنے بہت سی نیکیوں کے ہیں مگر یہ اعتراض عربی زبان سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر یہاں حسنات کا لفظ ہوتا تو اس کے معنے یہ ہوتے کہ ہمیں کچھ نیکیاں ملیں لیکن حسنہ کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں جو کچھ ملے، نیکی ملے۔ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۔ اے ہمارے رب دنیا میں ہم کو جو کچھ دے حسنہ دے، روٹی دے تو حلال ہو ، طیب ہو، پچنے والی ہو، جسم میں خون صالح پیدا کرنے والی ہو، بیماریوں سے بچانے والی ہو۔کپڑا دے تو حلال دے، طیب دے، ضرورت کے مطابق دے، ننگ ڈھانکنے والا دے، پسندیدہ دے۔ بیوی دے تو ایسی دے جو ہمدرد ہو۔ ہم خیال ہو، دیندار ہو، محبت کرنے والی ہو، نیکی میں تعاون کرنے والی ہو، بچے پیدا کرنے والی ہو۔ ان بچوں کی نیک تربیت کرنے والی ہو۔ مکان دے تو مبارک دے وہ بیماریوں والا گھر نہ ہو، سِل، دِق اور ٹائیفائڈ کے جراثیم اس میں نہ ہوں کوئی چیز ایسی نہ ہو جو صحت پر بُرا اثر ڈالنے والی ہو۔ کوئی ہمسایہ ایسا نہ ہو جو دکھ دینے والا ہو۔ وہ ایسے محلہ میں نہ ہو جہاں کے رہنے والے بُرے ہوں، وہ ایسے شہر میں نہ ہو جسے تُو اچھا نہ سمجھتا ہو۔ ہمیں حاکم دے تو ایسے دے جو رحمدل ہوں، تقویٰ سے کام لینے والے ہوں، انصاف کرنے ولے ہوں، ماتحتوں سے محبت کرنے والے ہوں۔ ہمیں استاد دے تو ایسے دے جو علم رکھنے والے اور اچھا پڑھانے والے ہوں۔ وہ شوق سے پڑھائیں، وہ ظالم نہ ہوں، خرابیاں پیدا کرنے والے اور دوسروں کو ورغلانے والے نہ ہوں۔ دوست دے تو ایسے دے جو خیر خواہ ہوں، محبت کرنے والے ہوں، مصیبت میں کام آنے والے ہوں، خوشی میں شریک ہونے والے ہوں اور دکھوں میں ہاتھ بٹانے والے ہوں۔ غرض رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً اے ہمارے رب! دنیا میں ہم کووہ چیز دے جو حسنہ ہو۔ تو یہاں حسنات کی بجائے حسنہ کا لفظ رکھ کر اس کے مفہوم کو خدا تعالیٰ نے وسیع کر دیا ہے اورجب مومن یہ دعا کرتا ہے تو دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہتا ہے کہ خدایا مجھے ہر وہ چیز دے جو میری ضرورت کے مطابق ہو اور پھر وہ چیز ایسی ہو جو نہایت اچھی ہو مگر اچھی چیز کے لئے اَور الفاظ بھی استعمال ہو سکتے تھے ۔ خدا تعالیٰ نے وہ الفاظ استعمال نہیں کئے بلکہ حسنہ کا لفظ استعمال کیا ہے اس لئے کہ یہ لفظ ظاہری اور باطنی دونوں خوبیوں پر دلالت کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز اپنے فوائد اورخوبیوں کے لحاظ سے اچھی ہو مگر ظاہری صورت کے لحاظ سے اچھی نہ ہو مثلاً کسی شخص کی بیوی بڑی با اخلاق ہو مگر فرض کرو وہ نکٹی ہے یا اندھی ہے یا بہری ہے تو وہ حسنہ نہیں کہلائے گی۔ حسنہ وہی بیوی کہلائے گی جس کے اخلاق بھی اچھے ہوں اور شکل بھی اچھی ہو، ظاہر بھی اچھا ہو اور باطن بھی اچھا ہو۔ تو حسنہ کا لفظ ظاہری اور باطنی دونوں خوبیوں پر دلالت کرتا ہے اور مومن اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہے کہ خدایا مجھے جو چیز بھی دے وہ ایسی ہو جو ظاہری اور باطنی دونوں خوبیاں رکھتی ہو۔
    پھر فرمایا وَ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً آخرت میں بھی ہمیں وہ چیز دے جو حسنہ ہو۔ یعنی وہ بھی ظاہر و باطن میں ہمارے لئے اچھی ہو۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ آخرت میں تو ہر چیز اچھی ہوتی ہے وہاں کی چیزوں کے لئے حسنہ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ سو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ آخرت میں بھی بعض چیزیں ایسی ہیں جو باطن میں اچھی ہیں مگر ظاہر میں بُری ہیں مثلاً دوزخ ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ انسان کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ پس ایک لحاظ سے وہ بُری بھی ہے۔ پس جب آخرت کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے حسنہ کا لفظ رکھا تو اسی لئے کہ تم یہ دعا کرو کہ الٰہی ہماری اصلاح دوزخ سے نہ ہو بلکہ تیرے فضل سے ہو اور آخرت میں ہمیں وہ چیز نہ دیجیو جو صرف باطن میں ہی اچھی ہو جیسے دوزخ باطن میں اچھا ہے کہ اس سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے مگر ظاہر میں بُرا ہے کیونکہ وہ عذاب ہے۔ آخرت میں حسنہ صرف جنت ہے جس کا ظاہر بھی اچھا ہے اور جس کا باطن بھی اچھا ہے۔
    پھر فرمایا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ہم کو عذابِ نار سے بچا۔اس سے مراد وہی عذابِ نار نہیں جو مرنے کے بعد ملےگا۔ یہ عذابِ نار دنیا کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی دعاؤں کے بعد وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِکہا گیا ہے۔ پس وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں دنیا کے عذابِ نار سے بھی بچا اور آخرت کے عذابِ نار سے بھی محفوظ رکھ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں دنیا میں کئی لوگ عذابِ نار میں گرفتار ہوتے ہیں۔ انہیں کئی قسم کے دکھ ہوتے ہیں۔ تکلیفیں ہوتی ہیں، حسرتیں ہوتی ہیں، قسم قسم کے مصائب ہوتے ہیں مگر جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ خدایا مجھے عَذَابَ النَّار سے بچا۔ تو خدا اسے اس عذاب سے بچا لیتا ہے۔ تب وہی چیزیں جو پہلے اس کے لئے نار تھیں جنت بن جاتی ہیں۔ اسی طرح اس سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہے جس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھلائی ہے۔ اب بظاہر یہ ایک مختصر سی دعا ہے مگر بڑی جامع اور وسیع دعا ہے۔ عَذَابُ النَّار کے لحاظ سے دنیا کی لڑائی بھی مراد لی جا سکتی ہے کیونکہ لڑائی بھی آگ کا ہی عذاب ہے۔ پس جو شخص یہ دعا کرے گا کہ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ وہ گویا خدا تعالیٰ کے بیان فرمودہ الفاظ میں یہ دعا کرے گا کہ الٰہی دنیا میں مجھ پر کوئی ساعت ایسی نہ آئے جو بُری ہو۔ لڑائی مجھ سے دور رہے اور یہ آگ کا عذاب میرے قریب نہ پہنچے۔ اگر کوئی سپاہی لڑائی میں شامل ہو اور وہ یہ دعا کرے تو اس کی دعا کے یہ معنی ہوں گے کہ الٰہی لڑائی کے بد اثرات سے مجھے بچا۔ بندوق کی گولی آئے تو وہ مس کر جائے میرے دائیں نکل جائے یا بائیں نکل جائے ، اوپر نکل جائے یا نیچے نکل جائے۔ بہرحال وہ مجھے نہ لگے اور مَیں محفوظ رہوں۔
    پس ایک تو یہ دعا ہے جس پر زور دینا چاہئے۔ دوسری دعا جس پر ان ایام میں خصوصیت سے زور دینا چاہئے۔ وہ ہے جو سورۂ بقرہ کے آخر میں بیان ہوئی ہے کہرَبَّنَا لَاتُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِيْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا اے ہمارے رب ہمیں مت پکڑ۔ اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا سرزد ہو جائے۔ بھول جانے کے معنی یہ ہیں کہ کوئی کام کرنا ضروری ہو مگر وہ نہ کیا جائے اور خطا کے معنی یہ ہیں کہ کام تو کیا جائے مگر غلط کیا جائے۔ بعض لوگ اس بحث میں پڑ گئے ہیں کہ نسیان اور خطا دو ہم معنی لفظ یہاں کیوں لائے گئے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دنیا میں کام دو قسم کے ہوتے ہیں۔ کوئی کام تو ایسے ہوتے ہیں جو کرنے ضروری ہوتے ہیں مگر انسان نہیں کرتا اور کوئی کام ایسے ہوتے ہیں جو انسان کرتا تو ہے مگر غلط طور پر کرتا ہے اور یہ دونوں ہی غلطیاں ہوتی ہیں۔ نسیان کے معنی بھول جانے کے ہیں اوربھولناِ کرنے کے متعلق ہوتا ہے نہ کرنے کے متعلق نہیں ہوتا۔ پس ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِيْنَاۤ کے معنی یہ ہوئے کہ خدایا ایسا نہ ہو کہ جو کام کرنے ضروری ہیں وہ ہم نہ کریں اور اس طرح ہم ترقی سے محروم ہو جائیں۔ پس تُو ہماری حفاظت فرما اور ہمیں اس غلطی سے محفوظ رکھ اَوْ اَخْطَاْنَااور یا الٰہی یہ بھی نہ ہو کہ جو کام ہمیں نہیں کرنا چاہئیں وہ ہم کر لیں یا ہم کریں تو وہی جو ہمیں کرنا چاہئے مگر غلط طریق پر کریں۔ پس نسیان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کام کرنے تھے وہ کسی انسان سے رہ جائیں اور خطا کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کام نہیں کرنے چاہئے تھے وہ کر لئے جائیں یا جن کاموں کا کرنا ضروری تھا وہ غلط طور پر کئے جائیں۔ تو نسیان عدم عمل کا نام ہے اور خطا عمل کی خرابی کو کہتے ہیں۔ اسی لئے یہاں دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں۔ پس ان میں سے کوئی لفظ زائد نہیں بلکہ ہر لفظ اپنی اپنی جگہ ضروری ہے۔
    پھر فرماتا ہے رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا اور اے ہمارے رب ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جس کے ساتھ سزا لگی ہوئی ہو۔ جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر بوجھ ڈالا۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ ہمیں اتنی نمازیں پڑھنے کو نہ بتا جو ہم پڑھ نہ سکیں کیونکہ خدا تعالیٰ شریعت کے متعلق قرآن کریم میں ہی ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ ہم نے اسے آسان بنایا ہے۔ اسی طرح فرماتا ہے لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو حکم آتے ہیں وہ انسان کی طاقت اور اس کی توفیق کے مطابق ہوتے ہیں۔ پس اس کے یہ معنی نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ بعض جرائم کی بناء پر پہلے لوگوں کے لئے جو سزائیں نازل کی گئی تھیں وہ سزائیں ہم پر نازل نہ ہوں اورہم سے وہ غلطیاں سرزد نہ ہوں جو پہلے لوگوں سے سرزد ہوئیں اور جن کی وجہ سے وہ تباہ کر دئیے گئے۔ انہوں نے تیری نافرمانیاں کیں اور تیرے احکام کے خلاف انہوں نے قدم اٹھایا جس کی وجہ سے ان پر ایسی حکومتیں مسلّط ہوئیں اور ایسے قانون ان کے لئے مقرر کر دئیے گئے جو ان کے لئے ناقابلِ برداشت تھے۔ تو ہمیں اپنے فضل سے ایسے مقام پر کھڑا نہ کیجئو کہ ہم سے ایسی خطائیں سرزد ہوں اور ہمیں بھی ایسی سزائیں ملیں جو ہمارے نفس کی طاقت برداشت سے باہر ہوں۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ نفس کی طاقت برداشت کے مطابق اگر خدا تعالیٰ سے سزا ملے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بات یہ ہے کہ ہر روحانی سزا برداشت سے باہر ہوتی ہے اس کی رذالت ہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ایسی سزا کو برداشت کر لیتا ہے ورنہ اگر شرافت نفس ہو تو چھوٹی سے چھوٹی سزا بھی انسان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ چنانچہ دیکھ لو جب کسی کو دوسرے سے محبت ہوتی ہے تو اس کی معمولی سی ناراضگی سے ہی اس کا دل بے چین ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ کہتا ہے اس نے آنکھیں میری طرف نہیں پھیریں۔ بعض دفعہ کہتا ہے اس نے مجھ سے اچھی طرح باتیں نہیں کیں، بعض دفعہ کہتا ہے اس نے مجھ سے باتیں تو کیں مگر ان میں بشاشت نہیں ہوتی تھی اور اسی بات کا اس کی طبیعت پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ وہ غمگین ہو جاتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں کہ ہمیں بڑی سزا نہ دیجئو ، چھوٹی سزا دیجئو بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں سزا دیجئوہی نہیں چھوٹی نہ بڑی۔ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا درحقیت نتیجہ ہے اِنْ نَّسِيْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا کا۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ ہم سے کوئی خطا سرزد ہو جائے اورہم اسی طرح سزا کے مستحق ہو جائیں جیسے پہلی قومیں سزا کی مستحق ہوئیں مگر دنیا میں بعض مصائب ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغیر قصور کے آ جاتے ہیں۔ قصور ہمسایہ کا ہوتا ہے اور دکھ اسے پہنچ جاتا ہے۔ قصور اس کے دوست کا ہوتا ہے اور سزا کا اثر اس پر پڑتا ہے۔ اس لئے جہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ دعا سکھائی کہ تم یہ کہا کرو کہ مجھ سے کوئی ایسا خطا یا نسیان نہ ہو جائے جس کی وجہ سے مَیں تیری سزا کا مستحق ہو جاؤں۔ وہاں دوسری دعا یہ سکھائیرَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ اے خدا ایسا نہ ہو کہ قصور تو میرے ہمسایہ کا ہو اور سزا مجھے مل جائے یا قصور دنیا کا ہو اور اس کی مصیبت کا اثر مجھ پر آ پڑے۔ جیسے اس وقت جو لڑائی ہو رہی ہے یہ نتیجہ ہے اس شکوے کا جو جاپانیوں کو انگریزوں سے ہے۔ مگر گولہ باری ہندوستانیوں پر ہو رہی ہے۔ انہیں شکوہ ہے انگلستان سے، انہیں شکوہ ہے امریکہ سے مگر اس کی لپیٹ میں ہندوستان آ گیا ہے حالانکہ وہ ریڈیو پر برابر یہ اعلان کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں ہندوستان والوں سے کوئی دشمنی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر انہیں ہندوستان والوں سے کوئی دشمنی نہیں تو پھر ہندوستانیوں پر گولہ باری کیوں کر رہے ہیں۔ اس کا جواب وہ یہی دیں گے کہ ہمیں تم سے کوئی دشمنی نہیں مگر چونکہ انگریزوں نے یہاں قبضہ کیا ہؤا ہے اس لئے ہمارے لئے یہاں حملہ کرنا ضروری ہے۔ تو معلوم ہؤا کہ بعض دفعہ کسی ساتھی کی وجہ سے بھی انسان کو سزا مل جاتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی ازالہ کیا اور فرمایا تم یہ دعا کیا کرو کہ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ خدایا ایسا بھی نہ ہو کہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے قصور کی وجہ سے سزا مل جائے۔ مگر یہاں ایک شرط بڑھا دی اور وہ یہ کہ مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ اور اس شرط کو اس لئے بڑھایا کہ یہاں ناراضگی کا سوال نہیں بلکہ دنیوی مصائب اور ابتلاؤں کا ذکر ہے۔ ناراضگی بے شک چھوٹی بھی برداشت نہیں ہو سکتی مگر چھوٹی تکلیف برداشت کر لی جاتی ہے۔ پس جہاں روحانی سزا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ذکر تھا وہاں تو یہ دعا سکھائی کہ ہم میں تیری کسی ناراضگی کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ۔ وہ ناراضگی چھوٹی ہو یا بڑی مگر جب دنیوی تکالیف کا ذکر آیا تو وہاں یہ دعا سکھلائی کہ چھوٹے موٹے ابتلاؤں پر مجھے اعتراض نہیں اور مَیں یہ نہیں کہتا کہ میرا قدم ہمیشہ پھولوں کی سیج پر رہے البتہ وہ ابتلاء جو تیری ناراضگی کا موجب نہیں اور جو دنیا میں عام طور پر آیا ہی کرتے ہیں ان کے متعلق میری صرف اتنی درخواست ہے کہ کوئی ابتلاء ایسا نہ ہوجو میری طاقت سے بالا ہو۔ یہ مطلب نہیں کہ مومن ایسے ابتلاء خود چاہتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے چونکہ بتایا ہؤا ہے کہ مَیں مومن کا امتحان لیا کرتا ہوں اس لئے مومن یہ نہیں کہتا کہ خدایا میرا امتحان نہ لے بلکہ وہ کہتاہے خدایا امتحان تو لیجئو مگر ایسا نہ لیجئو جو میری طاقت سے بڑھ کر ہو۔ تو جو حصہ ناراضگی کا تھا وہاں تو کہہ دیا کہ مَیں ذرا سی ناراضگی بھی برداشت نہیں کر سکتا مگر جہاں دنیوی تکالیف اور ابتلاؤں کا ذکر تھا وہاں کہہ دیا کہ خدایا تکالیف تو آئیں مگر ایسی نہ ہوں جو طاقت سے بڑھ کر ہوں۔ مثلاً لڑائی ایک ایسا ابتلاء ہے جو انسانی طاقت سے بالا ہوتا ہے۔ پس جب مومن یہ دعا کرے گا کہ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ تو دوسرے الفاظ میں وہ یہ دعا کرے گا کہ خدایا اس لڑائی کے عذاب کو مجھ سے ہٹا دے۔ وَ اعْفُ عَنَّا اور مجھ سے عفو کر۔ مَیں سمجھتا ہوں یہ نَسِیْنَا کے مقابلہ میں ہے۔ یعنی جو کلام مجھے کرنا چاہئے تھا چونکہ مَیں نے نہیں کیا اس لئے تو مجھے معاف کر ۔ وَ اغْفِرْ لَنَااور جو غلط کام مَیں کر چکا ہوں اس کے خمیازہ سے تُو مجھے بچا لے۔ میرے فعل پر پردہ ڈال دے اور اس کام کو نہ کئے کی طرح کر دے۔
    عفو کے معنے رحم کے بھی ہوتے ہیں اور جو چیز کسی انسان سے رہ جائے اس کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ مہیا کر دی جائے۔ اس لئے فرمایا وَ اعْفُ عَنَّا جو چیز رہ گئی ہے اس کو تُو اپنے فضل اور رحم سے مہیا فرما دے۔ اس کے مقابلہ میں جو کام غلط ہو جائے اس کی درستی اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس کام کو مٹایا جائے چنانچہ اَخْطَاْنَا کے مقابلہ میں اغْفِرْ لَنَارکھ دیا اور غَفَرَ کے معنے عربی زبان میں مٹا دینے کے ہوتے ہیں یعنی اے خدا جو کام ہم غلط طور پر کر چکے ہیں اس کو تُو مٹا دے اور اسے نہ کئے کی طرح کر دے۔ گویا ایک طرف تو یہ کہہ دیا کہ جو کام مَیں نے نہیں کیا اور اس طرح رخنہ واقع ہو گیا ہے اس رخنہ کو تُو اپنے فضل سے پُر کر دے اور دوسری طرف یہ کہہ دیا کہ جو کام مَیں غلط طور پر کر چکا ہوں اس کو تُو مٹا ڈال۔ وَ ارْحَمْنَا ۔ پھر اس کام کے نتیجہ میں مجھ سے جو اَور غلطیاں ہوئی ہیں اور جن ترقیات کے حصول میں روک واقع ہو گئی ہے اُن غلطیوں کے متعلق بھی مجھ پر رحم کر اور ترقیات کے راستہ میں جو روکیں حائل ہو گئی ہیں ان کو اپنے فضل سے دُور کر دے۔ اَنْتَ مَوْلٰىنَا تُو ہمارا مولیٰ، ہمارا آقا اور ہمارا مالک ہے۔ آخر ہماری کمزوریاں کسی نہ کسی رنگ میں لوگوں نے تیری طرف ہی منسوب کرنی ہیں۔ لوگوں نے یہی کہنا ہے کہ یہ خدائی جماعت کہلاتی تھی مگر اسے بھی دکھ پہنچا اور اسے بھی دوسروں کی طرح تکلیف ہوئی۔ پس اَے مولا تُو ہمارا آقا ہے اور ہم تیرے خادم ، تُو آقا ہونے کے لحاظ سے ہم پر رحم کر کیونکہ ہماری کمزوریاں آخر تیری طرف منسوب ہوں گی اور لوگ ہدایت سے محروم ہو جائیں گے۔ فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ پس اے ہمارے رب! ہم کو کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما اور جو لوگ ایسے کام کر رہے ہیں جن سے اسلام کی ترقی میں روک واقع ہوتی ہے ان پر تُو ہمیں غالب کر اور ایسے سامان پیدا فرما جو تیری تبلیغ اور تیرے نام کو دنیا میں پھیلانے کا باعث ہوں۔
    پس مَیں سمجھتا ہوں اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی دعا ہے اور ہماری جماعت کو التزام کے ساتھ یہ دعا مانگتے رہنا چاہئے۔
    پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کو بھی بعض دعائیں الہام کے ذریعہ بتائی گئی ہیں جن کو یاد رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ ان میں سے دو دعائیں ایسی ہیں جو خاص طور پر اس زمانہ کے لئے ہیں اور وہ یہ ہیں:۔
    (1) رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَ انْصُرْنِیْ وَ ارْحَمْنِیْ۔ 5
    (2) یَا حَفِیْظُ یَا عَزِیْزُ یَا رَفِیْقُ ۔6
    اگر ہم غور سے دیکھیں تو درحقیقت یہ دونوں دعائیں ایک دوسرے کی ترجمان ہیں کیونکہ اس دعا میں تین صفات کا ذکر ہے حفیظ، عزیز اور رفیق کا اور پہلی دعا میں بھی خدا تعالیٰ کے مالک ہونے کا ذکر ہے جو عزیز کا ہم معنی ہے۔ فرماتا ہے رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ اے رب ہر چیز تیری خادم ہے اور جس کی ہر چیز خادم ہو گی وہی عزیز ہو گا۔ تو رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ کی جگہ اس دعا میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یَا عَزِیْزُ ۔ پھر اُس دعا میں تھا رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ اے میرے رب تیری ہر چیز خادم ہے پس تُو میری حفاظت فرما کیونکہ جب ہر چیز تیری خادم ہوئی تو تیرے کہنے کے بغیر وہ نہیں ہلے گی۔ تُو ہی حکم دے گا تو ان میں نفع یا نقصان کے لئے کوئی حرکت پیدا ہو گی پس وہاں فَاحْفَظْنِیْ کہا گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسری دعا میں یَا حَفِیْظُ کہا گیا۔ پس وہاں بھی حفاظت کا ذکر ہے اور یہاں بھی خدا تعالیٰ کی صفت حفیظ کا ذکر کر کے اس سے حفاظت طلب کی گئی ہے۔ پھر تیسری صفت جو اس دعا میں استعمال کی گئی ہے وہ رفیق ہے چنانچہ کہا گیا ہے یَا رَفِیْقُ ۔ اے رفیق اور دنیا میں رفیق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک رفیق وہ ہوتے ہیں جو نگرانِ بالا کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے ماں باپ رفیق ہوتے ہیں مگر ان کی رفاقت بالا رنگ رکھتی ہے اور وہ اپنے بچوں کے نگران ہوتے ہیں۔ مگر ایک رفیق وہ ہوتے ہیں جنہیں ساتھی، دوست اور بھائی کہا جاتا ہے، وہ مصیبت کے وقت کام آتے اور دکھ میں اپنے ساتھی کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بھی اپنے بندوں سے دو قسم کے تعلق ہوتے ہیں۔ کسی وقت تو اس کا تعلق دوستی اور محبت کا رنگ لئے ہوئے ہوتا ہے اَور وہ کہتا ہے۔ اے میرے بندے مجھ سے اپنی تکالیف بیان کر کہ مَیں تیری تکلیفوں کو دور کروں۔ مگر کبھی وہ کہتا ہے اے میرے بندے مَیں تجھے حکم دیتا ہوں کہ تو ایسا کر۔ پس چونکہ اس کا اپنے بندوں سے دو قسم کا تعلق ہوتا ہے اس لئے رفیق کے مقابلہ میں بھی دو الفاظ رکھے کہ وَ انْصُرْنِیْ وَ ارْحَمْنِیْ یعنی جہانتک تیری رفاقت کا تعلق اس بات سے ہے کہ تو تنزل فرما کر مجھے اپنی مرضی پر چھوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے بتا تیری مرضی کیا ہے کہ مَیں اس کے مطابق تیرا کام کر دوں۔ اس حد تک میری تجھ سے یہ دعا ہے کہ تُو مجھے اپنی سعی پر نہ رہنے دے کیونکہ کیا معلوم میری کوشش غلط نتائج پیدا کرنے والی ہو۔ اس لئے تو آپ میری مدد کر اور میرے لئے وہی اسباب مہیا فرما جو میرے لئے مفید اور بابرکت ہوں اورجن کے ساتھ تیری مرضی بھی شامل ہو۔ لیکن اے اللہ! کبھی تیری رفاقت اس رنگ میں ہوتی ہے کہ تُو کہتا ہے یہ میرا حکم ہے اس پر عمل کر جیسے ماں باپ انسان کے رفیق ہوتے ہیں مگر ان کی رفاقت حکومت کے رنگ میں ہوتی ہے۔ پس جب اس مقام پر مَیں کھڑا ہوں اور تُو مجھے کوئی حکم دے تو چونکہ مَیں کمزور ہوں اس لئے مجھ پر رحم کر کے ایسا حکم نہ دیجئو جس پر مَیں اپنی کمزوری کی وجہ سے عمل ہی نہ کر سکوں۔ غرض جب تیری رفاقت دوستانہ رنگ میں آئے تو اس وقت تُو میرا ساتھی بن کرمیری مدد کیجئو اور اگر تیری رفاقت حاکم بالا کی صورت میں ہو تو اس وقت رحم کا پہلو مدنظر رکھیو اَور کوئی ایسا حکم نہ دیجئو جسے مَیں پورا نہ کر سکوں۔ پس یہ دونوں دعائیں ہم معنی ہیں اور چونکہ دعا سے پہلے مناسب حال صفات الٰہیہ کا ذکر قبولیت دعا کا موجب ہوتا ہے اس لئے میرے نزدیک یَاحَفِیْظُ یَا عَزِیْزُ یَا رَفِیْقُ کی دعا پہلے پڑھنی چاہئے اور پھر یہ دعا مانگنی چاہئے رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَ انْصُرْنِیْ وَ ارْحَمْنِیْ ۔ اس دوسری دعا میں حفیظ پہلے ہے اور عزیز بعد میں۔ مگر رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ والی دعا میں عزیز کے ہم معنے الفاظ پہلے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یَا حَفِیْظُ والی دعا ایک ایسی دعا کا حصہ ہے جو خطرناک بیماری میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سکھائی گئی اور اس وقت حفاظت کا پہلو مقدم تھا۔ پس اسے پہلے رکھا گیا لیکن ان دعاؤں کی ایک اَور ترتیب بھی ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ کو الگ جملہ سمجھا جائے اور رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَ انْصُرْنِیْ وَ ارْحَمْنِیْ کو یَا حَفِیْظُ یَا عَزِیْزُ یَا رَفِیْقُ کے بالمقابل سمجھا جائے۔ اس صورت میں فَاحْفَظْنِیْ یَا حَفِیْظُ کے مقابل پر ہو گا اور اُنْصُرْنِیْ یَا عَزِیْزُ کے مقابل پر اور اِرْحَمْنِیْ یَا رَفِیْقُ کے مقابل پر اور یہ ترتیب بھی طبعی ہے۔ اس کے علاوہ ایک دفعہ مجھے بھی رؤیا میں ایک دعا بتلائی گئی تھی۔ یہ 1914ء کی بات ہے جب چوہدری فتح محمد صاحب ولایت میں تھے اور مَیں اس سے یہ نتیجہ نکالا کرتا تھا کہ اس رؤیا میں جس عذاب کا ذکر ہے وہ اسی وقت آئے گا جب چودہری فتح محمد صاحب ہندوستان میں ہوں گے۔ مَیں نے دیکھا کہ دنیا میں ایک بہت بڑا طوفان آیا ہے جس سے چاروں طرف تباہی اور بربادی واقع ہو رہی ہے یہانتک کہ پانی بڑھتے بڑھتے اس مکان کے قریب آ گیا ہے جس میں مَیں ہوں اور ہم سب اس کی چھت پر چڑھ گئے ہیں۔ اس وقت مجھے ایسا معلوم ہؤا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام مشرق کی طرف سے تیزی کے ساتھ دوڑتے چلے آ رہے ہیں اور فرماتے ہیں تم سب یہ دعا کرو اَللّٰھُمَّ اھْدَیْتُ بِھَدْیِکَ وَ اٰمَنْتُ بِمَسِیْحِکَ کبھی فرماتے ہیں بِنَبِیِّکَ۔ تب تم اس سے بچو گے۔ 7 کہ اے میرے رب مَیں تیری ہدایت کے اس راستے پر چل رہا ہوں جو تیرے مسیح ؑ نے ہمیں دکھایا ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ مَیں اس جماعت میں شامل ہوں جو تیرے مسیح کی جماعت ہے اس لئے اگر مجھ پر کوئی دکھ یا عذاب آیا تو لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوگا۔ پس تُو مجھے اس واسطہ اور طفیل اس عذاب سے بچا اور ہمیں لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنا۔ اس دن کے متعلق بھی مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ تو موقع کے مناسب حال ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی دعا ہر لحاظ سے کامل، نقائص سے پاک اور بہت بڑی برکات کا موجب ہو گی۔ بندے اپنی زبان میں جو دعائیں کرتے ہیں بے شک وہ زیادہ جوش پیدا کرنے والی ہوتی ہیں اور بے شک اپنی زبان میں دعائیں مانگنا جائز ہے مگر ان پر زیادہ زور نہیں دینا چاہئے۔ زیادہ زور انہی دعاؤں پر دینا چاہئے جو خدا اور اس کے رسول نے بتائی ہیں۔
    پس مَیں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ روزانہ کوئی ایک نماز مخصوص کر کے اس میں ان دعاؤں کو کثرت کے ساتھ پڑھا کریں۔ چاہیں تو خاموشی کے ساتھ اور چاہیں تو بلند آواز سے۔ اسی طرح نماز کے علاوہ جب بھی دعا کا موقع ملے یہ دعائیں بار بار مانگی جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان فتنوں سے دنیا کو بچائے اور ہماری جماعت کی خصوصیت سے حفاظت فرمائے اور تا ایسانہ ہو کہ تبلیغ کے سامان جو ہمیں میسر ہیں وہ ضائع ہو جائیں۔ ہماری خطائیں اور کوتاہیاں ہمیں ترقی سے روک دیں اور اس طرح کچھ عرصہ یا ایک لمبے عرصہ کے لئے اس کے سلسلہ پر حرف آئے اور لوگ یہ کہیں کہ یہ سلسلہ بھی آخر ناکام ہو گیا۔ وَ نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ ۔’’
    (الفضل یکم مئی 1942ء)
    1: البقرة : 286 ، 287
    2 : درثمین اردو صفحہ 78۔ مطبوعہ لجنہ اماء اللہ کراچی
    3: مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 446، 449 ۔ مطبوعہ بیروت 1313ھ
    4: البقرة: 202
    5: تذکرہ صفحہ 654۔ ایڈیشن چہارم
    6: تذکرہ صفحہ 485۔ ایڈیشن چہارم
    7: الفضل 13 دسمبر 1914ء



    11
    قادیان میں مکانوں کے کرایہ کے متعلق انتظام اور قادیان کی حفاظت کے متعلق بیرونی جماعتوں کا فرض
    (فرمودہ یکم مئی 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’آج مَیں ایک ایسے معاملہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو قادیان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ چونکہ ان ایام میں خطرہ بھی ہندوستان کے لئے بہت بڑھتا چلا جاتا ہے اورخطرہ سے زیادہ افواہیں بڑھتی جاتی ہیں اس لئے جماعت کے بہت سے احباب باہر سے اپنے خاندانوں کو قادیان بھجوا رہے ہیں اوریا تو یہ حالت تھی کہ قادیان میں بڑھتے ہوئے مکانوں کی وجہ سے کئی مکان خالی پڑے رہتے تھے اوریا آج یہ حالت ہے کہ عمارت بنانے کی دِقّتوں کی وجہ سے مکان تو نئے بن نہیں رہے مگر مکین بہت زیادہ ہو رہے ہیں اور اس وجہ سے قادیان میں مکانوں کی خاص طور پر دِقّت محسوس ہو رہی ہے حتّٰی کہ بعض لوگوں کو مہینہ مہینہ مکان کی تلاش میں انتظار کرنا پڑا مگر پھر بھی مکان میسر نہ آیا۔ اس سلسلہ میں میرے پاس متعدد شکایات آئی ہیں۔ خصوصیت سے اس بارہ میں کہ وہ لوگ جن کے مکان یہاں ہیں بلا وجہ کرائے دُگنے تِگنے کرتے جا رہے ہیں۔ اگر عام نگاہ سے دیکھا جائے تو بے شک مکان کے مالک کو اختیار ہے کہ کرایہ بڑھا سکے اور رہنے والے کو اختیار ہے کہ چاہے تو اس مکان میں نہ رہے مگر جو جماعتیں نظام کی پابند ہوتی ہیں ان کے لئے ایسے عام قاعدوں پر عمل درست نہیں ہوتا۔ مَیں نے کئی دفعہ وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان کی ہے کہ قادیان کی جماعت کا بڑا حصہ اس نظام سے فائدہ اٹھا رہا ہے جو یہاں خدا تعالیٰ کےفضل سے منظم جماعت ہونے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی بہت دیر کی بات نہیں میری خلافت کے ایام کی ہی بات ہے کہ یہاں صرف ایک احمدی دکاندار سید احمد نور صاحب کابلی تھے اور وہ بھی شاکی رہتے تھے کہ ان کی دکان اچھی طرح چلتی نہیں پھر بعض وجوہ سے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت کی ترقی کے لئے پیدا کیں اسی مسجد میں اور اسی مقام پر مَیں نے جماعت کا ایک جلسہ کیا اور ان مشکلات کو جو اپنے ہمسائیوں کی وجہ سے پیش آ رہی تھیں دوستوں کے سامنے رکھیں اور ان کو اجازت دی کہ وہ جو فیصلہ چاہیں کر لیں۔ خواہ یہ فیصلہ کر لیں کہ صرف اپنی ہی دکانوں سے سَودا لینا ہے دوسروں سے نہیں اور چاہے یہ کہ دوسروں سے سودا لینے میں کسی قسم کی روک نہیں ہو نی چاہئے۔ وہ جو بھی رائے دیں گے اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ ہاں یہ پابندی مَیں نے لگا دی کہ دوست جو فیصلہ بھی کئے جانے کا مشورہ دیں گے اس پر قائم رہنے کے وہ پابند ہوں گے۔ انہیں اپنے ہی کئے ہوئے فیصلہ کے خلاف چلنے کا اختیار نہ ہو گا چنانچہ تمام جماعت نے بحیثیت مجموعی اس امر کا فیصلہ کیا کہ ان حالات میں وہ یہی پسند کرتے ہیں کہ احمدی دکانداروں سے سَودا لیا جائے۔ سوائے چھ سات دوستوں کے جنہوں نے کہا کہ وہ ایسی پابندی کو پسند نہیں کرتے اور باوجود اس بارہ میں کثرت رائے ہونے کے کہ دوسروں سے سَودا نہ لیا جائے۔ مَیں نے ان چھ سات کو یہ اجازت دے دی کہ جس سے چاہیں سودا لے لیں اور باقی سے کہہ د یا کہ چونکہ انہوں نے خود یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس لئے وہ پابند ہیں کہ آئندہ احمدی دکانداروں سے سَودا لیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ساٹھ ستّر بلکہ قریباً ایک سَو دکانیں یہاں احمدیوں کی ہیں اور ان میں سے بعض اچھی حیثیت کے ہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہاں کی ساری تجارت احمدیوں کے ہاتھ میں ہے اورنہ ہی ہمارا یہ منشاء تھا بلکہ اس وقت بھی بعض ایسی صورتیں پیدا کی گئی تھیں کہ جن کے ماتحت بعض دوسرے دکاندار بھی ہمارے ساتھ مل سکتے تھے اور ان کو اس پابندی سے مستثنیٰ کیا جا سکتا تھا اور ان کے مطابق ہمیشہ بعض ہندو، سکھ اور غیر احمدی دکاندار مستثنیٰ کئے گئے اور دوستوں کو اجازت دی گئی کہ ان سے سودا لے سکتے ہیں مگر پھر بھی اس پابندی کا یہ نتیجہ ہؤا کہ یہاں احمدیوں کی تجارت ایسی معقول ہے کہ سارے پنجاب میں کسی اَور جگہ مسلمانوں کے ہاتھ میں اس طرح نہیں ہے۔ اور اس فیصلہ کی وجہ سے کم سے کم دو ہزار مرد، عورتیں اور بچے مستفید ہو رہے ہیں اور یہ نظام کا ہی فائدہ ہے جو وہ اٹھا رہے ہیں بلکہ میرا خیال ہے کہ دو ہزار سے بھی زیادہ لوگ فائدہ اٹھا رہے ہوں گے۔ یہ کم سے کم اندازہ ہے جو مَیں نے لگایا ہے کیونکہ مزدور پیشہ اور کاریگر بھی اس معاہدہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ شروع میں دِقتیں اور مشکلات بھی پیدا ہوئیں جماعت کے دوستوں کو قربانیاں بھی کرنی پڑیں تجارت سے ناواقف دکاندار مہنگے سودے لاتے اور مہنگے ہی فروخت کرتے۔ لیکن کوئی تو اپنے شوق سے کوئی اپنے عہد کی پابندی کی وجہ سے اور کئی جو کمزور تھے۔ نظام کے ڈر سے انہی سے سودا لیتے۔ سالہا سال تک یہاں کے احمدیوں نے دوسروں کی نسبت گراں سَودے خریدے اور اس طرح اگر جمع کیا جائے تو لاکھوں روپیہ کا نقصان انہوں نے اٹھایا اور تاجروں اور کاریگروں نے فائدہ اٹھایا۔ یہ سب نظام کی وجہ سے ہی ہؤا۔ جماعت نے قربانی کی جنہوں نے خلاف ورزی کی ان کو نظام کے ماتحت سزائیں دی گئیں اور ان سزاؤں کا فائدہ بھی دکاندروں کو ہؤا۔ اگر یہاں ہمارا نظام قائم نہ ہوتا تو یہاں کے دکاندار یہ فائدہ نہ اٹھا سکتے ۔ اس معاہدہ کے باوجود بعض سے کمزوریاں سرزد ہوئیں اور نظام کے ماتحت ان کو پکڑا گیا اور سزائیں دی گئیں۔ بعض بعد میں آنے والوں نے کہا کہ ہمیں پتہ نہ تھا تو ان کو بلایا اور سمجھایا گیا اور پھر بھی انہوں نے اصرار کیا تو ان کو سزائیں دی گئیں اور مجبور کیا گیا کہ احمدی دکانداروں سے ہی سودا خریدیں۔ یہ نظام ہی کا فائدہ تھا جو دکانداروں نے اٹھایا۔ اسی طرح نظام کے اَور بھی فائدے ہیں۔ کسی کی چوری ہو جائے کسی کو مارا جائے تو وہ نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ لوگ اس کی مدد کے لئے آگے پیچھے دوڑتے اور ظلم کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باہر بھی تو مسلمان رہتے ہیں مگر ان کا کوئی نگران نہیں اور کوئی ان کی تائید کرنے والا نہیں اور کوئی ان کو ظلموں سے بچانے والا نہیں۔ یہ قادیان میں جماعت کی تنظیم کا ہی نتیجہ ہے کہ یہاں کے لوگ ہر قسم کے فائدے اٹھاتے ہیں مثلاً یہاں کمیٹی قائم ہے اور اس میں احمدیوں کو پورا پورا حق مل رہا ہے، باہر بھی ایسے علاقے ہیں جہاں مسلمان بڑی تعداد میں بستے ہیں۔ مگر وہ اپنا پورا حق حاصل نہیں کر سکتے۔ دوسرے ان کو باہم لڑا دیتے ہیں ان کا آپس میں جھگڑا کرا دیتے ہیں ایک دوسرے کا مدمقابل بنا دیتے ہیں اور پھر خود ان کے حق پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ اس لئے یہاں کا کوئی مکان والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا مکان ہے جس کرایہ پر چاہوں دوں، بلکہ ہمیں معقولیت کے ساتھ دیکھنا ہو گا کہ کس حد تک اور کس صورت میں کرایہ بڑھانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ایک اَور ناجائز پہلو بھی میرے علم میں آیا ہے کہ بعض بہانے سے چابیاں منگواتے ہیں مثلًا یہ کہہ کر کہ صفائی کرانی ہے یا سفیدی کرانی ہے اور اس طرح مکان پر قبضہ کر کے دوسرے کو زیادہ کرایہ پر دے دیتے ہیں۔ یہ نہایت ہی ناجائز بات ہے اور بد دیانتی ہے۔ جہاں ہم اس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ کہاں تک جائز طور پر مکان والوں کو اپنے لگائے ہوئے روپیہ سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے۔ وہاں اس جھوٹ اور بد دیانتی کو کبھی گوارا نہیں کر سکتے جو کسی مذہبی جماعت میں جائز نہیں۔ پس جہاں تک اس پہلو کا تعلق ہے۔ مَیں یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ بددیانتی ہے۔ جس کے ساتھ ایسا دھوکا کیا جائے وہ فوراً امور عامہ میں رپورٹ کرے اور ایسے شخص کے ساتھ نظام کے ماتحت ہم وہی معاملہ کریں گے جو بد دیانت اور خائن سے کرتے ہیں۔ پس جن لوگوں کو یہ شکایت ہو کہ ان کے ساتھ اس طرح کی بد دیانتی کی گئی ہے مَیں ان کو اطلاع دیتا ہوں کہ ان کو حق ہے کہ فوراً امور عامہ میں رپورٹ کریں اور مَیں امور عامہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ ایک الگ افسر مقرر کرے جس کا کام ان دنوں میں ایسے جھگڑوں کی تحقیقات ہو مگر جیسا کہ مَیں نے بارہا کہا ہے امور عامہ کو کسی کو سز ادینے کا کوئی حق نہیں سوائے اس کے کہ انتظامی پہلو کی سزا ہو۔ اس لئے ایسے معاملات قضاء میں پیش ہوں اور اگر قاضیوں کی موجودہ تعداد کافی نہ ہو تو ان معاملات کے لئے مزید قاضی مقرر کئے جا سکتے ہیں جنہیں یہ حکم ہو کہ وہ تین دن کے اندر اندر ایسے معاملہ کا فیصلہ کر دیں۔ پس مَیں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر کسی نے کسی سے وعدہ کیا اور پھر بغیر کسی شرعی اور قانونی حق کے اسے مکان نہیں دیا یا دھوکا دے کر چابیاں لے لیں تو وہ فوراً امور عامہ میں رپورٹ کرے جہاں اس کی حق رسی کی جائے گی۔ مگر اس سوال کا ایک اَور پہلو بھی ہے جسے باہر سے آنے والوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ یہاں مکان بناتے ہیں وہ برکت کے لئے اور اخلاص کے ماتحت بناتے ہیں۔ کسی پر پانچ ہزار، کسی پر دس ہزار روپیہ خرچ آتا ہے بلکہ بعض مکانوں پر تو بیس بیس ہزار روپیہ بھی خرچ آیا ہے۔ ہندوستان میں عام دستور کے ماتحت چھ روپیہ فیصدی مکان کی آمدنی جائز سمجھی جاتی ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ ایک دو روپیہ فی صدی مرمت وغیرہ پر خرچ آتا ہے۔ ایک دو فیصدی اس کی بوسیدگی کا اور باقی تین چار روپیہ مالک کے روپیہ کا حق ہے اور عام تجارتوں کے لحاظ سے یہ زیادہ نہیں۔ تاجر لوگ اس سے بہت زیادہ نفع کماتے ہیں۔ دو سو روپیہ سے جو تجارت شروع کی جائے۔ وہ سال میں ڈیڑھ دو سو روپیہ منافع لاتی ہے۔ گویا سو فی صدی منافع ہوتا ہے اور اگر اس میں سے کام کرنے والے کی مزدوری بھی وضع کی جائے تو خالص تجارتی منافع 50 فی صدی تک چلا جاتا ہے مکان پر جو روپیہ لگایا جائے۔ اس میں چونکہ خطرہ کم ہوتا ہے اور وہ دوسری تجارتوں کی نسبت زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ اس واسطے چھ فیصدی کرایہ کم نہیں۔ لیکن یہ زیادہ بھی نہیں اور عام طور پر یہ شرح جائز سمجھی گئی ہے اور اگر کسی کو اتنا کرایہ مل جائے تو مرمت وغیرہ کا خرچ اور مکان بوسیدگی کا معاوضہ اگر مدنظر رکھا جائے تو یہ منافع کم یا زیادہ نہیں ہے لیکن یہاں کرائے اس نسبت سے بہت کم ہیں۔ جس مکان پر پانچ ہزار روپیہ لگا ہو۔ چھ فیصدی کے لحاظ سے اس کا کرایہ 25 یا 30 روپیہ ماہوار چاہئے۔ مگر یہاں ایک بھی مکان ایسا نہیں جو اتنے کرایہ پر چڑھا ہؤا ہو بلکہ پندرہ روپیہ بھی شاید ہی کسی ایسے مکان کا کرایہ ہو بالعموم آٹھ آٹھ دس دس روپیہ کرایہ ایسے مکان کا ہوتا ہے۔
    مجھے یاد ہے ہمارے ایک عزیز نے یہاں مکان بنوایا وہ میری ہی معرفت بنا اور میرے ہی ذریعہ اس پر روپیہ خرچ کیا گیا اس پر قریباً 27 سَو روپیہ خرچ آیا تھا مگر ایک دفعہ انہیں اسے کرایہ پر دینے کی ضرورت محسوس ہوئی تو کوئی چھ روپیہ کرایہ بھی دینے کو تیار نہ تھا۔ حالانکہ عام مروّجہ شرح کے لحاظ سے اس کا کرایہ 12، 13 روپیہ ماہوار ہونا چاہئے تھا مگر چھ روپیہ بھی نہ مل سکا۔ اگرچہ اب اگر وہ اسے خالی کر دیں تو ممکن ہے 15، 16 بھی کوئی دے دے۔ مگر جنگ سے قبل چھ روپیہ بھی بمشکل مل سکتا تھا، مَیں اس لئے کہتا ہوں کہ ایک شخص چھ روپیہ دینے کو تیار ہؤا تھا مگر بعد میں انکار کر دیا۔ اگر چھ روپیہ مل جاتا تو اس کے معنے ہوئے 72 روپیہ سال۔ اس میں سے اگر 12 روپیہ بھی معمولی مرمت وغیرہ کے نکال دیئے جائیں تو باقی ساٹھ بچے اور اگر ساٹھ کو 2700 پر پھیلایا جائے تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ ½2 فیصدی سے بھی کچھ کم۔ اور یہ کوئی منافع نہیں بعض حالتوں میں بنک کا سُود بھی اس سے زیادہ ہوتا ہے حالانکہ مکان پر خرچ بھی آتا رہتا ہے اور جو مکان بنایا جائے وہ بیس تیس یا چالیس سال تک یوں بھی بوسیدہ ہو جاتا ہے اور کرایہ پر دینے والے کو یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ کرایہ میں سے اتنی بچت بھی کرے کہ جس سے اسے دوبارہ بنا سکے۔ ورنہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کرایہ میں ہی مکان ختم ہو گیا۔
    پس اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے شہروں میں جس نسبت سے کرائے ہوتے ہیں۔ قادیان میں اس سے نصف سے بھی کم ہیں۔ اس لئے اگر مناسب طور پر کرایوں میں اضافہ ہو جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ جن لوگوں نے یہاں مکانوں پر روپیہ لگایا ہؤا ہے۔ وہ اگر دس سال یا پندرہ سال نقصان اٹھاتے رہے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اب بھی نقصان اٹھائیں اور ہمیشہ وہی قربانیاں کرتے جائیں۔ باہر والوں کو بھی کچھ قربانی کرنی چاہئے۔ آخر جنگ کی وجہ سے وہ فائدے بھی اٹھا رہے ہیں۔ جن لوگوں کی آمدنی دس دس بارہ بارہ روپیہ ماہوار تھی۔ وہ اب ستّر، اسّی بلکہ سَو سَو روپیہ ماہوار کما رہے ہیں اور جب وہ خود فائدہ اٹھا رہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان مکان والوں کو فائدہ پہنچائیں۔ جنہوں نے دس بیس سال تک اپنا روپیہ بند کئے رکھا اور اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا۔ مَیں نے سنا ہے کہ نظارت امور عامہ نے حکم دیا ہے کہ کرائے نہ بڑھائے جائیں مگر یہ ٹھیک نہیں۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ مکان پر کتنا روپیہ خرچ آیا ہے اور اس روپیہ پر کتنا نفع تجارتی طور پر ملنا چاہئے۔ گو قادیان اتنا بڑا شہر نہیں کہ لاہور، امرتسر کی طرح یہاں کے کرائے ہوں۔ لیکن ان شہروں میں تو کرائے بہت زیادہ ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ لاہور میں بعض اوقات کسی نے دو ہزار میں کوئی دکان لی ہے تو اس کا کرایہ بھی تیس چالیس مل جاتا ہے۔
    پس جہاں میں ایسے بد دیانت لوگوں کو ہوشیار کرتا ہوں جو چند روپوں کے لالچ میں آ کر دھوکا کرتے اور احمدیت کو داغ لگاتے ہیں وہاں باہر سے آنے والوں کو بھی یہ کہتا ہوں کہ وہ بھی اس بات پر اصرار نہ کریں کہ پہلے جو کم کرائے تھے وہی رہیں اور مکان والوں سے ہی قربانی کا مطالبہ کرتے جائیں۔ وہ یہاں اپنے فائدہ کے لئے آتے ہیں اور اس رنگ میں ان کا آنا دین کے لئے کوئی ایسی قربانی نہیں کہ وہ مکان والوں سے بھی قربانی کا مطالبہ کریں ۔ ایسا مطالبہ اس صورت میں کیا جا سکتا تھا جب وہ دین کی خاطر یہاں آتے۔ قرآن کریم نے انصار کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے مہاجرین کو اپنے مکان تک تقسیم کر دیئے۔ 1 مگر مہاجرین تو مدینہ میں دین کے لئے اپنی جانیں لڑانے کے لئے آئے تھے اور یہاں تو یہ حالت ہے کہ مرد تو باہر ہیں اور عورتوں بچوں کو یہاں بھیج رہے ہیں کہ قادیان والے ان کی حفاظت کریں۔ وہ گویا قادیان والوں سے اس رنگ میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں اگر یہ کہا جائے کہ قادیان والے اپنے مکانوں کے جائز کرائے بھی نہ لیں۔ تو یہ ظالمانہ فیصلہ ہو گا اور اندھیر نگری چوپٹ راجہ والی مثال صادق آئے گی۔ ہاں اگر یہاں لوگ دین کی خاطر جمع ہوں تو یہاں کے لوگوں سے قربانی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر یہاں کے لوگوں سے ان کے مکان خالی کرائے جاتے ہیں تا مہمان ٹھہر سکیں اور کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں دیا جاتا۔ اسی طرح اگر کسی وقت قادیان کی حفاظت کا سوال پیدا ہو اور باہر سے لوگوں کو اس کے لئے بلایا جائے تو کیا ان کے لئے کرایہ پر مکان حاصل کئے جائیں گے۔ اس وقت تو ہر مخلص سے امید کی جائے گی کہ وہ بغیر کرایہ کے اپنا مکان باہر سے آنے والوں کے لئے چھوڑ دے۔ مگر جب یہاں رہائش کی غرض دنیوی ہو بلکہ یہ کہ یہاں ان کے بیوی بچوں کی حفاظت کی جائے تو یہ امید رکھنا کہ یہاں کے لوگ جائز طور پر مکانوں کا کرایہ بھی نہ لیں درست نہیں اور جو فائدہ لاہور، امرتسر اور دوسرے شہروں کے لوگ سالہا سال سے اٹھا رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ اب بھی نہ اٹھائیں کسی طرح مناسب نہیں۔ پس مَیں امور عامہ کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ ایک کمیٹی مقرر کی جائے جس کے نصف ممبر کرایہ داروں میں سے ہوں اور نصف مالکان مکانات میں سے۔ کرایہ وغیرہ کے متعلق باہر سے بھی معلومات حاصل کی جائیں اور پتہ کیا جائے کہ عام رواج کیا ہے اورپھر یہاں کے مکانوں کے متعلق یہ معلوم کر کے کہ کتنا روپیہ کسی مکان پر لگا ہے اور اس کے مطابق اس کے کرایہ میں مناسب اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ مکان کا کرایہ اس روپیہ کے مطابق ہونا چاہئےجو اس کی تعمیر پر خرچ آیا ہے۔ اگرچہ اسے قاعدہ کلّیہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کیونکہ بعض دکانیں وغیرہ ایسے موقع پر ہوتی ہیں کہ گو ان پر روپیہ کم خرچ آیا ہو مگر موقع کے لحاظ سے ان کا کرایہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایسی استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر باقی مکانوں کے کرائے ان کی لاگت کے لحاظ سے ہونے چاہئیں۔ ہاں موقع کا لحاظ ضروری ہے۔ ایک مکان آبادی سے تین چار میل دور ہو تو خواہ اس پر دس ہزار روپیہ کیوں نہ خرچ آیا ہو۔ اس کا کرایہ خرچ کے لحاظ سے نہیں ہو سکتا۔ پس نظارت امور عامہ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ یہاں مکانوں کے کرائے نہ تو حد سے بڑھ جائیں اور نہ گر جائیں۔ کرایوں کا اندازہ کیا جائے ۔گورداسپور اور بٹالہ سے معلومات حاصل کی جائیں اور پھر ایک حد مقرر کر دی جائے اور جو لوگ پہلے سے مکانوں میں رہتے ہیں۔ مقررہ اضافہ کا ان سے بھی مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور اگر وہ زیادہ نہ دینا چاہیں تو مکان خالی کر دیں لیکن اگر وہ اضافہ منظور کر لیں تو پھر ان کو نکالا نہیں جا سکتا۔ سوائے اس کے کہ مالک مکان کو خود ضرورت ہو یا اس کے ایسے رشتہ دار کو جس کا گزارہ اسی پر ہے مثلًا کسی کی بیوی یا بچے اور جو شخص اپنا مکان خالی کرانا چاہے اس کا زبانی کہنا کافی نہیں بلکہ اسے چاہئے کہ تحریری نوٹس دے جس میں وجہ لکھے کہ وہ کیوں خالی کرانا چاہتا ہے اور وہ نوٹس امور عامہ کو دیا جائے جو اس بات کی تحقیق کرے گا اور اگر یہ ثابت ہؤا کہ مکان صرف بہانہ سے خالی کرایا گیا ہے تا دوسرے سے زیادہ کرایہ وصول کیا جا سکے تو ایسے شخص کا مکان کسی احمدی کو لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اس نے دھوکا کیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا شخص اپنا مکان کسی غیر احمدی کو دے دے۔ اس صورت میں بھی اسے سلسلہ کی طرف سے کوئی دوسری سزا دی جائے گی اور اگر اس نے اس سے بھی بچنے کا کوئی اَور ذریعہ تجویز کر لیا تو سلسلہ بھی اسے سزا دینے کا کوئی اَور جائز ذریعہ اختیار کرے گا۔
    پس مَیں اعلان کرتا ہوں کہ کسی کو اجازت نہیں کہ اپنے مکان سے کرایہ دار کو بلا وجہ نکالے، اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کے مکان کا کرایہ زیادہ ہونا چاہئے تو چاہئے کہ وہ امور عامہ میں دعویٰ کرے اور وہ دیکھے کہ مکان کتنے میں بنا تھا۔ آج کا حساب نہ لگایا جائے کیونکہ آج تو بیس اکیس روپیہ ہزار اینٹ ملتی ہے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ جب یہ مکان بنا اس وقت لاگت کیا تھی۔ اس وقت کی قیمت دیکھی جائے اور اس کے لحاظ سے مکان کا جائز کرایہ دلایا جائے اور اگر کوئی کرایہ دار وہ کرایہ نہ دے تو بے شک مالک کو حق ہو گا کہ اسے خالی کرا لے اور نظام اس کے خالی کرانے میں اس کی مدد کرے گا لیکن اگر کوئی شخص دھوکا اور بہانہ سے اور اپنے حق سے زیادہ کرایہ حاصل کرنے کے لئے کسی کو نکالے گا تو اس وقت کرایہ دار کی حمایت کی جائے گی۔ پس نظارت امور عامہ اس بات کا خیال رکھے کہ نہ مالک مکان کو نقصان ہو اور نہ کرایہ دار کو۔ اگر کسی مکان کا کرایہ مناسب اور صحیح ہے تو کرایہ دار کو نکالا نہیں جا سکتا اور اگرصحیح نہیں تو اسے بڑھایا جا سکتا ہے جو کرایہ دار کو دینا ہو گا ورنہ مکان خالی کر دینا ہو گا۔ جو لوگ باہر سے آتے ہیں اور کرایہ پر مکان تلاش کرتے ہیں۔ مَیں ان کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے تکلیف کے ایام میں ضروری نہیں کہ عمدہ اور پختہ مکانوں میں ہی رہا جائے۔ لوگ تکلیف کے وقت شہروں کو چھوڑ کر خیموں اور چھپروں میں بھی گزارہ کر لیتے ہیں۔ اس لئے جن لوگوں کو مکان نہیں مل رہے وہ کوئی عارضی انتظام کر لیں۔ سلسلہ کے مشورہ سے کوئی زمین لے لی جائے اور وہاں چھپر وغیرہ ڈال لئے جائیں یا ایسے سامان کر لئے جائیں جنہیں بعد میں آسانی سے اتارا جا سکے مثلاً بانس کی چھتیں ڈال لی جائیں۔ سندھ میں ہم نے جو مکان اپنی رہائش وغیرہ کے لئے بنائے ہیں سالہا سال ان کی چھتیں بانسوں کی ہی رہیں اور اب تک ان میں سے اکثر کی چھتیں بانسوں کی ہیں اور وہاں ہمارے جو افسر رہتے ہیں وہ سب ایسے ہی مکانوں میں رہتے ہیں اورپنجابی تو چند سالوں سے وہاں گئے ہیں۔ سندھی لوگ کئی سو سالوں سے اسی طرح کے مکانوں میں رہتے ہیں۔ پس ایسے مکان یہاں بھی تیار کرائے جا سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اس طرح کے مکان بنانے میں تھوڑا سا نقصان ہو گا لیکن یہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ خطرہ کی حالت ہو اور اس سے بچنے کے انتظام کرنے میں کوئی نقصان بھی نہ ہو۔ پس اگر دوست چاہیں تو ایسے ساٹھ ستر بلکہ سَو مکان بنائے جا سکتے ہیں ۔ دیواریں اینٹوں کی اور چھتیں بانس کی ہوں۔ بعد میں ان اینٹوں کو فروخت بھی کیا جا سکتا ہے یا پھر کچی اینٹوں کے مکان بنا دئیے جائیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ پختہ مکان اس وقت بنانا تو سراسر نقصان ہے کیونکہ اینٹ جو پہلے آٹھ روپیہ میں ہزار ملتی تھی بلکہ ادنیٰ درجہ کی چھ روپیہ میں بھی ہزار مل جاتی تھی اب بیس اکیس روپیہ ہزار ملتی ہے۔ گویا پہلے جو مکان پانچ ہزار میں تیار ہو سکتا تھا اب پندرہ ہزار میں ہو گا اور اتنی لاگت سے اس وقت مکان بنایا جائے۔ کیا امید کی جا سکتی ہے کہ جنگ کے بعد کوئی شخص اس کا کرایہ تین ہزار روپیہ کی مالیت کے مکان کے کرایہ کے برابر بھی دے گا۔ پس ان حالات میں روپیہ کو خطرہ میں ڈالنا نادانی ہے۔ اس وقت تو معمولی کچے مکان بنا لینے چاہئیں اور جو لوگ اتنی معمولی تکلیف بھی نہیں اٹھا سکتے وہ اپنے اپنے شہروں میں رہیں۔
    پس جو شخص اس وقت کرایہ پر کسی مکان میں رہتے ہیں وہ اگر نظارت امور عامہ کا فیصلہ کردہ کرایہ ادا کریں تو انہیں مکان سے نکالنے کی ہرگز اجازت نہیں خواہ دس گنا زیادہ کرایہ کیوں نہ ملے اور خواہ پانچ کے بجائے پچاس روپیہ کوئی دوسرا دینے والا کیوں نہ ہو اور جو لوگ دھوکا یا بہانہ سے کسی کو اپنے مکان سے نکالیں ان کا علاج بھی مَیں نے بتا دیا ہے۔ ایک پہلو رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ معاہدات کر لیتے ہیں کہ مثلاً دو یا تین سال تک مکان خالی نہ کرایا جا سکے گا۔ ایسے معاہدات کی بھی پابندی کی جانی چاہئے۔ یہ مومن کی شان نہیں کہ چند پیسوں کے لئے معاہدہ کی خلاف ورزی کرے۔
    اس کے بعد مَیں ایک اَور بات کہنا چاہتا ہوں اور جو قادیان سے ہی تعلق رکھنے والی ہے اور اسی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر مَیں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ خطرہ کے وقت جو احمدی مرد اور عورتیں اپنے کو خطرہ میں محسوس کریں وہ قادیان آ جائیں مگر ہو یہ رہا ہے کہ لوگ عورتوں اَور بچوں کو یہاں بھیجتے جاتے ہیں اَور خود باہر ہیں جیسا کہ مَیں نے بتایا تھا قادیان دنیوی نقطۂ نگاہ سے غیر محفوظ مقام ہے۔ اس لئے مَیں باہر کی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ فیصلہ کر کے اطلاع دیں کہ اگر کسی وقت خطرہ محسوس ہو تو وہ قادیان کی حفاظت کے لئے کتنے کتنے مرد بھیج سکیں گے۔
    پنجاب کی سب جماعتیں جلد سے جلد اس کا فیصلہ کر کے اطلاع دیں۔ یہاں ہماری مقدس عمارتیں اور شعائر اللہ ہیں اَور ان کی حفاظت صرف قادیان والوں کا ہی فرض نہیں بلکہ سب جماعت احمدیہ کا ہے۔ دور دور کی جماعتوں سے تو مَیں فی الحال نہیں کہتا لیکن پنجاب کی سب جماعتیں اس کے متعلق فیصلہ کر کے جلدی اطلاع دیں۔ ضلع گورداسپور میں ہی احمدیوں کی تعداد پچیس تیس ہزار کے قریب ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ کم سے کم پانچ ہزار مرد ضرور ہیں اور اس وجہ سے اس ضلع سے ڈیڑھ ہزار آدمی بآسانی مل سکتے ہیں۔ سیالکوٹ کا ضلع بھی ایک ہزار کے قریب دے سکتا ہے۔ ہوشیار پور اور جالندھر کے اضلاع مل کر ایک ہزار آدمی دے سکتے ہیں اسی طرح لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور امرتسر مل کر ایک ہزار دے سکتے ہیں۔ پس بجائے اس کے کہ باہر کی جماعتیں عورتوں اوربچوں کو یہاں بھیج کر خطرہ کو بڑھائیں یہ فیصلہ کریں کہ اگر خطرہ کا وقت آیا تو وہ کتنے مرد قادیان کی حفاظت کے لئے یہاں بھجوائیں گے۔ مَیں یہ تو نہیں کہتا کہ اس وقت میرے سامنے جو لوگ بیٹھے ہیں وہ سب کے سب مومن ہیں لیکن مَیں یہ یقین رکھتا ہوں کہ شعائر اللہ کی حفاظت کا اگر موقع آیا تو ایک بھی مومن پیچھے نہ ہٹے گا اور اس انصاری 2کی طرح جس کا ذکر مَیں نے 17 اپریل کے خطبہ میں کیا تھا، ہم میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ جب تک دشمن ہماری لاشوں پر سے نہ گزرے وہ شعائر اللہ تک نہ پہنچ سکے گا۔ اس میں بوڑھے اور بچے کا بھی کوئی فرق نہیں ۔ بوڑھے اور بچے بھی ایمان کے ماتحت شاندار قربانیاں کر سکتے ہیں بلکہ بوڑھا تو موت کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں لڑا دیں۔ اس کے بعد ہماری ذمہ واری ختم ہو جائے گی اور مجھے یقین ہے کہ جماعت کے مومن خواہ وہ یہاں ہوں یا باہر۔ وہ اس فرض کو ادا کرنے سے کبھی پیچھے نہ ہٹیں گے۔ ہاں جو منافق یا کمزور ہیں ان کی بات علیحدہ ہے۔ ایسے لوگ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی شور مچاتے رہتے تھے اور آج بھی مچاتے ہیں مگر ان کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ پس دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ قادیان کی حفاظت ان کا بھی ویسا ہی فرض ہے جیسا یہاں رہنے والوں کا اور اگر اس کا موقع آیا تو وہ غفلت نہ کریں گے۔ اور اگر وہ اپنی طرف سے غفلت نہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں پر پردہ ڈال دے گا اَور جو جو کام ان کی طاقت سے باہر ہو گا اسے خود کر دے گا۔
    غرض میری جلسہ سالانہ کی تقریر کا مطلب غلط سمجھا گیا ہے۔ میرا یہ مطلب نہ تھا کہ صرف عورتوں اور بچوں کو یہاں بھجوا دیاجائے بلکہ یہ تھا کہ ساتھ مرد بھی ہوں۔ کثرت کے ساتھ عورتوں اور بچوں کو یہاں بھیج دینے کا ایک نتیجہ تو یہ ہؤا ہے کہ مکانوں کی سخت دِقّت محسوس ہو رہی ہے بلکہ پہلے سے رہنے والوں کو بھی تکلیف ہوئی ہے اور دوسری طرف قادیان کی حفاظت کا سوال بھی خطرناک ہو گیا ہے۔ مَیں نے جو کہا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ ضرور کوئی خطرہ ہے۔ البتہ افواہیں بہت پھیل رہی ہیں اور افواہوں میں لوگ بہت مبالغہ سے کام لیتے ہیں اَور ان افواہوں کی وجہ سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزوں کو ضرور شکست ہو گی حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ انگریزوں کو بے شک بعض شکستیں ہوئی ہیں لیکن ان کا یہ لازمی نتیجہ نہیں کہ انجام کار بھی ان کو ضرور شکست ہو گی۔ جب فرانس کو شکست ہوئی ہے اس وقت انگریز آج کی نسبت بہت زیادہ کمزور تھے اورآج تو دو سال بعد وہ بہت زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔
    فرانس کی شکست کے وقت ان کے لئے خطرہ بہت زیادہ تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے مطابق جو مَیں نے دیکھا تھا اور جو مَیں نے اسی زمانہ میں دوستوں کو سنا بھی دیا تھا۔ اس خطرہ سے ان کو بچا لیا اَور ان کی حفاظت کے سامان کر دئے ، اللہ تعالیٰ کی ترکش میں ابھی اَور بھی بے شمار تیر ہیں اور وہ چاہے تو آئندہ بھی ان کی حفاظت کر سکتا ہے اَور خطرناک حالات کو بھی بدل سکتا ہے۔ پس جن لوگوں کا خیال ہے کہ انگریز کمزور ہیں اورلازماً شکست کھائیں گے وہ غلطی پر ہیں۔ اگر انصاف کے قیام کے لئے ان کا وجود اللہ تعالیٰ کے نزدیک ضروری ہؤا تو وہ اب بھی انگریزوں کی حفاظت کے سامان کر دے گا۔ جب ان کا ہاتھ شل ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بلند ہو گا اور جب ان کے سامان ختم ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے سامانوں کے خزانے کھول دے گا اور جب ان کے سپاہی پیچھے ہٹیں گے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آگے بڑھیں گے اور ان کے دشمنوں کو شکست دے دیں گے۔ اس لئے سوال ان کی کمزوری یا طاقت کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ انصاف کے قیام سے ان کا تعلق کیسا ہے۔ اگر دوسرے دنیا داروں کی نسبت ان کا وجود قیام انصاف کے لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ مفید ہؤا۔ تو ان کی ظاہری کمزوریاں ان کو ہرگز تباہ نہ کر سکیں گی۔ ہاں اگر انصاف کو انہوں نے قائم نہ رکھا اور ظلم پر کمر باندھ لی تو پھر ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے ساتھ نہیں ہؤا کرتا۔ اگر ہمارے لئے خطرہ ان کے جانے کی صورت میں زیادہ ہؤا تو پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کے لئے نہیں بلکہ ہمارے لئے ان کی حفاظت کرے گا۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ بعض نادان سمجھتے ہیں کہ تُرک حرمین کی حفاظت کرتے ہیں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ حرمین ترکوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
    اسی طرح اگر انگریزوں کی شکست سے احمدیوں کے لئے خطرہ ہو تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے نہیں بلکہ ہمارے لئے ان کی حفاظت کرے گا اور اس کے فرشتے ان کے ہاتھ مضبوط کریں گے مگر اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو جذب کرنے کے لئے احمدیوں کو بھی زیادہ قربانیاں کرنے کی ضرورت ہے اور جو لوگ چند پیسوں کے لئے دوسروں سے دھوکا کریں وہ ان فضلوں کے مورد نہیں ہو سکتے ۔ پس اپنے اندر بھی نیک تبدیلی پیدا کرو، اپنے ایمانوں میں اَور اخلاص میں ترقی کرو اور اپنی طرف سے اس بات کے لئے تیار ہو جاؤ کہ اگر خدانخواستہ کسی وقت احمدیت یا اس کے مقدس مقامات کے لئے خطرہ پیدا ہؤا تو ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہو گا جو اپنی جان دینے سے دریغ کرے اور قدم پیچھے ہٹائے۔ یہ تبدیلی اپنے اندر پیدا کرو اور پھر دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے اور حالات کو ہمارے حق میں بدل دیتے ہیں۔‘‘ (الفضل 10 مئی 1942ء )
    1: وَ الَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَ لَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الحشر: 10)
    2: بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ تعالیٰ و اذ تستغیثون ربّکم۔الخ

    12
    حالات زیادہ سے زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے الہام سے ماخوذ دعائیں خصوصیت سے کی جائیں
    ( فرمودہ 8 مئی 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’مَیں گزشتہ خطبات میں جماعت کے دوستوں کو جنگ کے متعلق خاص طور پر دعاؤں سے کام لینے کی نصیحت کرتا آ رہا ہوں اور آج پھر اس نصیحت کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ آجکل جو خبریں آ رہی ہیں۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہیں اور ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جنہوں نے جنگ کو ہندوستان کے بہت زیادہ قریب کر دیا ہے۔
    پس آج مَیں پھر ایک دفعہ جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جو دعائیں مَیں نے دوستوں کو قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کے الہامات سے بتائی ہیں اورجن میں یہ بھی شامل ہے کہ سورۂ کہف کی پہلی اور آخری دس آیتیں روزانہ پڑھی جائیں۔ یہ سب دعائیں خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے الہام سے ماخوذ ہیں اور ایک خزانہ ہے جو اس کے بندوں کوملا ہے۔ لوگ اپنے طور پر تلاش کرتے پھرتے ہیں کہ کوئی ان کو خزانہ مل جائے۔ کوئی کیمیا کی جستجو کرتا ہے، کوئی جنّوں کو اپنے قابو میں لانے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی دیوی دیوتاؤں کی نیازیں چڑھاتا ہے۔
    غرض مختلف قسم کے ذرائع جن کا کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلتا۔ لوگ اختیار کرتے ہیں مگر جو سچا اورحقیقی ذریعہ ہےاللہ تعالیٰ کی امداد اور اس کی نصرت حاصل کرنے کا، اس کو لوگ بھول جاتے ہیں حالانکہ یہ خدا تعالیٰ کا بتایا ہؤا رستہ ہے۔ اوریہ وہ رستہ ہے جس پر چلنے والے کی مدد کرنے کا خود اس نے وعدہ کیا ہؤا ہے۔ پس قرآن کریم کی ان دعاؤں کو یارسول کریم ﷺ کی بتائی ہوئی دعاؤں کو یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کی الہامی دعاؤں کو خاص طور پر پڑھنا اور جماعتی طور پر پڑھنا یقیناً بہت نیک نتائج پیدا کرنے والی چیز ہے۔
    پس ان پُرخطر ایام میں ان دعاؤں پر خاص طور پر زور دینا چاہئے اور جماعتی طور پر زور دینا چاہئے۔ جماعتی طور پر دعاؤں پر زور دینے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ کمزور ہوتے ہیں وہ بھی اس طرح دعاؤں میں شریک ہو جاتے ہیں۔ جب جماعتی رنگ میں دعا نہیں ہوتی تو صرف چند لوگ دعا کرتے ہیں اور باقی غفلت اور سستی کی وجہ سے یا اپنی بے علمی کی وجہ سے ان دعاؤں میں حصہ نہیں لے سکتے۔ کئی لوگ دعا کا ارادہ تو رکھتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں اور کئی ایسے ہوتے ہیں جو بھولتے تو نہیں مگر ان کو دعائیں آتی ہی نہیں اوران میں اتنی چستی یا اتنا علم نہیں ہوتا کہ وہ ان دعاؤں کو یاد کر سکیں۔ پھر کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو غفلت کی وجہ سے ان دعاؤں میں اتنے جوش کا اظہار نہیں کرتے جتنے جوش کا اظہار انہیں کرنا چاہئے مگر جب اس قسم کے لوگ دوسروں کے ساتھ دعا میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں بھی دعاؤں میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور اجتماعی دعاؤں میں ہمیں ہمیشہ یہ نظارہ نظر آتا رہتا ہے۔ چنانچہ جلسہ سالانہ کے اختتام پر یا مجلس شوریٰ کے آخر میں یا رمضان کے دنوں میں درس قرآن کریم کے خاتمہ پر جب اجتماعی رنگ میں دعا کی جاتی ہے توکس طرح لوگ چیخ چیخ کر رونے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہی لوگ اپنے گھروں میں شاید دو دو مہینے میں بھی دعاؤں میں ایک آنسو نہیں بہاتےمگر ایسی مجالس میں شامل ہو کر ان کے دو دو سَو آنسو بہہ جاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر اور ان کے پاس بیٹھنے کی وجہ سے ایسا روحانی اثر ان پر پڑتا ہے کہ ان میں ایک تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے گو وہ تبدیلی عارضی اور وقتی ہوتی ہے مگر بہرحال اس وقت ان میں ایسا جوش اور اخلاص رونما ہو جاتا ہے اور ان کی دعاؤں میں ایسی رقّت اور ایسا سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے جو ان کی دعاؤں کو قبولیت کے قابل بنا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ دوسروں کی پُر اخلاص دعاؤں کی وجہ سے ان کی دعاؤں کو بھی قبول کر لیتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے تاجر بعض دفعہ اچھی چیز کے ساتھ بعض بُری چیزیں ملا کر رکھ دیتے ہیں اور جب اچھی چیز فروخت ہوتی ہے تو اس کے ساتھ بُری چیز بھی فروخت ہو جاتی ہے۔ ولایت میں چونکہ قیمتیں زیادہ مل جاتی ہیں اس لئے وہاں تو یہ قاعدہ ہے کہ تاجر اچھی چیزوں کو الگ رکھ دیتے ہیں اورناقص چیزوں کو الگ۔ مگر ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ تاجر اچھی اور بری دونوں چیزیں ملا دیتے ہیں مثلًا دس سنگترے اچھے ہوئے تو دو ناقص سنگترے ان میں ملا دیتے ہیں۔ اس طرح گاہک جب سنگترے خریدتا ہے تو اسے تاجر اچھے اور بُرے دونوں سنگترے ملا کر دے دیتا ہے اور گاہک بھی کہتا ہے کہ کیا ہؤا بارہ میں سے دو ہی خراب ہیں یا سولہ میں سے دو سنگترے جو ناقص ہیں باقی تو اچھے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حضور جب اکٹھی دعائیں پہنچتی ہیں تو ان میں سے کچھ مخلصانہ ہوتی ہیں کچھ کمزور ہوتی ہیں اور کچھ بالکل خراب اور ردّی ہوتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان سب کو قبول کر لیتا ہے اور کہتا ہے یہ مشترک سودا ہے۔ اس میں اگر کچھ ناقص دعائیں آ گئی ہیں تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ پس جو دعائیں متحدہ طور پر مانگی جائیں۔ ان کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر ان میں کوئی خراب اور ناقص دعائیں ہوں تو وہ بھی قبول کر لی جاتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے یہ ناقص دعائیں اچھی دعاؤں کے ساتھ مل کر آئی ہیں اور چونکہ سودا مشترک طور پر پیش ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ اس لئے وہ صرف مخلص لوگوں کی دعائیں ہی قبول نہیں کرتا بلکہ کمزور لوگوں کی دعائیں بھی قبول کر لیتا ہے۔ اس طرح جہاں دعا کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب مل جاتا ہے وہاں اس کی دعا سے قوم کو بھی فائدہ پہنچ جاتا ہے۔ گویا متحدہ دعائیں ایک طرف تو کمزور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ثواب بہم پہنچاتی چلی جاتی ہیں اور دوسری طرف ان کی دعاؤں سے قوم ترقی کرتی ہے کیونکہ جہاں تک دعا کا انسان کی ذات سے تعلق ہے۔ وہ ایک عبادت ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ویسا ہی ثواب ملتا ہے جیسے کسی اَور عبادت پر اس کی طرف سے ثواب حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح جب قوم اور ملک کے فائدہ کے لئے دعا کی جاتی ہے تو لازماً قوم اور ملک کو فائدہ پہنچتا ہے۔
    پس اجتماعی دعاؤں کے نتیجہ میں جہاں تک عبادت کاتعلق ہے۔ کمزور انسان کو بھی دعا کا ثواب مل جاتا ہے حالانکہ اس کی دعا ثواب والی نہیں ہوتی بلکہ لولی لنگڑی اور ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے مگر چونکہ وہ دعا سب دعاؤں کے ساتھ پیش ہوتی ہے۔ اس لئے اس پر بھی ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔ غرض دعا کا یہ ثوابی پہلو نہایت اہمیت رکھنے والی چیز ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ جس شخص کی ایک دعا قبول ہو کر اسے ثواب مل جائے گا لازماً وہ اور دعا کرے گا اور پھر اَور ثواب حاصل کرے گا۔ اس طرح وہ اپنے اخلاص اور ایمان میں ترقی کرتا چلا جائے گا کیونکہ جب خدا کسی کو ثواب دیتا ہے تو اس کا ایک حصہ ایمان کی صورت میں دیتا ہے اور جسے بار بار ثواب ملتا رہے اس کا ایمان آہستہ آہستہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ پس دوسروں کے ساتھ مل کر دعا کرنے کا قوم کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اورخود انسان کی اپنی ذات کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور جو شخص ایسا کرے گا، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بدلہ ملے گا اس کا کچھ حصہ ایمان کی زیادتی کی شکل میں ملے گا اور اس طرح اس کے ایمان میں بھی تازگی اور قوت پیدا ہو جائے گی۔ پس نہ صرف قوم اس کی دعا سے فائدہ اٹھائے گی بلکہ وہ بھی ایمان کی زیادتی کی شکل میں اس سے فائدہ اٹھائے گا۔
    غرض اجتماعی دعائیں اپنے اندر خاص رنگ اور خاص حیثیت رکھتی ہیں جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    انفرادی دعا اعلیٰ ترین مخلصوں کے لئے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جب وہ دنیا سے الگ ہو کر اکیلے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کا جو ناز اور پیار اپنے رب سے ہوتا ہے۔ اس کی مثال مجلس کی دعاؤں میں نہیں مل سکتی مگر مجلسی دعاؤں میں کمزور او ر ناتوان اور تھوڑے ایمان والوں کے دلوں میں مضبوط ایمان رکھنے والے بھائیوں کو دیکھ کر جو جوش پیدا ہوتا ہے وہ جوش اور وہ درد انہیں انفرادی دعاؤں میں میسر نہیں آ سکتا۔ پس مجلسی دعائیں اپنی عام حیثیت اور وسعت کےلحاظ سے مفید ہیں اور انفرادی دعائیں ایمان اور اخلاص کی شدت کے لحاظ سے مفید ہیں اور دونوں ہی اپنی جگہ نہایت کارآمد اور مفید چیزیں ہیں۔
    پس مَیں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس نازک موقع پر مَیں نے جو تحریک کی ہوئی ہے کہ نمازوں میں امام اورمقتدی مل کر اور الگ الگ کثرت کے ساتھ دعائیں کریں اسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اس پر زیادہ سے زیادہ پختگی اور مضبوطی کے ساتھ عمل کیا جائے۔ بعض جگہ چونکہ احمدیوں کی مسجدیں نہیں ہیں۔ اس لئے ممکن ہے بعض جماعتیں غفلت سے کام لے رہی ہوں اور انہوں نے التزام کے ساتھ ان دعاؤں کی طرف توجہ نہ کی ہو۔ اگر ایسا ہی ہو اور کسی جماعت میں یہ غفلت اور سستی پائی جاتی ہو تو وہاں کی جماعت کے کسی اور مخلص دوست کو چاہئے کہ یہ کام اپنے ذمہ لے لے اور امام اور مقتدیوں دونوں کو توجہ دلاتارہے کہ وہ کسی نہ کسی نماز میں ان دعاؤں کو جو مَیں بتا چکا ہوں پابندی کے ساتھ مانگتے رہیں۔ ‘‘ (الفضل10،مئی 1942ء)

    13
    احباب 31 مئی تک چندہ تحریک جدید کے وعدے پورے کر دیں
    (فرمودہ 15 مئی 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’مَیں آج جماعت کو پھر ایک دفعہ تحریک جدید کے چندوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ نئے سال کی تحریک پر چھ ماہ کے قریب گزر گئے ہیں اور گویا وعدوں کی تاریخ کے لحاظ سے میعاد میں سے صرف چھ ماہ باقی ہیں۔ مجھے اس بات سے مسرت ہے کہ اس دفعہ دوستوں نے پہلے بعض سالوں کی نسبت زیادہ مستعدی سے اپنے چندے ادا کرنے کی کوشش کی ہے اور پچھلے سال کی نسبت اس سال انہوں نے پچاس فیصدی زیادہ جلدی سے چندے ادا کئے ہیں۔ گویا گزشتہ سال اگر آج کی تاریخ تک جماعت نے سو روپیہ ادا کیا تھا تو اس سال ڈیڑھ سو ادا کیا ہے۔ مگر پھر بھی پہلے چھ ماہ میں کہ یہی درحقیقت زیادہ زور کے ساتھ کام کرنے کے مہینے ہوتے ہیں۔ ابھی تک نصف وعدے ادا نہیں ہوئے۔ گویا باوجود پچاس فیصدی ادائیگی میں زیادتی کے وعدوں کا نصف ابھی تک ادا نہیں ہؤا بلکہ قریب چالیس فیصدی کے ادا ہؤا ہے۔
    پس جہاں یہ بات موجبِ مسرت ہے کہ گزشتہ سالوں کی نسبت کہ جن میں گزشتہ سال بھی مستعدی کا سال تھا کیونکہ اس سال اس سے گزشتہ سالوں کی نسبت دوستوں نے زیادہ مستعدی اور چُستی سے کام لیا تھا۔ اس سال اس مستعدی اور چستی کے سال سے بھی پچاس فیصدی زیادہ دوستوں نے ہمت دکھائی ہے مگر وعدوں کے لحاظ سے ابھی کمی ہے چونکہ وعدہ کی غرض اسے جلد سے جلد پورا کرنا ہوتی ہے۔ اس لئےپہلے چھ ماہ میں کم سے کم وعدوں کا ساٹھ پینسٹھ فیصدی ادا ہو جانا چاہئے مگر ادائیگی اب تک ہوئی ہے 42 فیصدی کے قریب۔
    جیسا کہ مَیں نے کئی بار دوستوں کو توجہ دلائی ہے اس روپیہ سے ہماری جماعت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت بڑی جائداد خریدی جا رہی ہے جس کی قسطیں ادا کی جا رہی ہیں اور ایک لاکھ روپیہ سالانہ کے قریب اس پر خرچ آتا ہے اگر ہم یہ قسطیں ادا کر کے اس جائداد کو چھڑانے کے قابل ہو جائیں تو عام قیمتوں کے لحاظ سے بھی یہ پندرہ سولہ لاکھ روپیہ کی جائداد ہو جاتی ہے اور اگر صحیح طور پر آبادی کی جا سکے تو یہ بیس بائیس لاکھ روپیہ کی جائداد ہو گی اور یہ جائداد گویا ایک ایسا ریزرو فنڈ ہو جائے گا کہ جس سے تحریک جدید کے مستقل اخراجات پورے کئے جا سکیں گے اور مبلغوں کو دنیا میں پھیلایا جا سکے گا لیکن اگر دوست اس وقت چستی اور ہمت سے کام نہ لیں تو یہ بوجھ بالکل بے کار اور بے سود ثابت ہو گا کیونکہ وقت پر اگر قسطیں ادا نہ ہوں تو گورنمنٹ زمین کو ضبط کر سکتی ہے اور بعض دفعہ بڑے بڑے تاوان ڈال دیتی ہے۔
    پس چونکہ یہ اقساط مئی میں ادا کی جاتی ہیں۔ مَیں پچھلے سالوں میں بھی دوستوں کو یہ تحریک کرتا رہا ہوں کہ وہ 31، مئی تک اپنے وعدے ادا کرنے کی کوشش کریں اور اب تو مئی کے ختم ہونے میں بہت ہی تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ پھر بھی جن کو خدا تعالیٰ نے عزم اور ہمت دی ہے وہ ان تھوڑے دنوں میں بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
    زمیندار احباب کے لئے جون کے آخر تک مدت مقرر ہے اور اگر وہ بھی ہمت کریں تو اپنے وعدوں کا بہت سا حصہ ادا کر سکتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس زمانہ میں قحط کی وجہ سے بوجھ بہت ہیں مگر اس میں بھی شک نہیں کہ جس وقت انسان کو تباہی کے آثار نظر آتے ہیں تو قربانی کی روح بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ ذلیل ترین وجود بھی ایسے وقت میں بڑی بڑی قربانیاں کر دیتے ہیں ہمارے ملک میں ہر سال یہ سوال علماء و فقہاء کے سامنے پیش ہوتا ہے کہ کوئی کنچنی مسجد کی تعمیر کے لئے روپیہ دینا چاہتی ہے اسے قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کے سامنے بھی یہ سوال بار بار پیش ہوتا رہتا تھا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر سال ہی کچھ کنچنیاں مرتے وقت دین کے لئے اپنی جائداد یا روپیہ وقف کرنا چاہتی ہیں۔ دیکھو انہوں نے یہ روپیہ کتنی بے حیائی سے کمایا ہوتا ہے، وہ عصمت فروشی روپیہ کے لئے ہی کرتی ہیں مگر جب موت سامنے آتی ہے تو وہی روپیہ جس کی خاطر انہوں نے خاندان کی ناک کٹوائی، جس کی وجہ سے وہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے سامنے آتے ہوئے شرماتی ہیں اور جس کی وجہ سے وہ شرفاء میں مُنہ دکھانے کے قابل نہیں ہوتیں ان میں سے بعض جب مرنے لگتی ہیں تو منتیں کرتی ہیں کہ یہ روپیہ لے لو اور کسی دینی کام پر خرچ کر دو۔تو اگر کنچنی بھی مرتے وقت خَشْیتُ اللہِ سے اتنی متاثر ہو جاتی ہے تو مومنوں پر کتنا اثر ہونا چاہئے۔ جتنا جتنا قرب کسی کو اللہ تعالیٰ کا حاصل ہوتا ہے اتنا ہی ایسے موقع پر اس کے دل میں خشیت زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ رسول کریم ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ جب بادل آتا تو آپ گھبرا کر کبھی کمرہ کے اندر جاتے کبھی باہر آتے۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے۔ آخر یہ بادل ہی ہیں ان سے گھبرانے کی کیا وجہ ہے۔ آپ نے فرمایا بے شک یہ بادل ہیں مگر تم سے پہلی قوموں پر بھی ایسے بادل آتے تھے اور وہ ان کو دیکھ کر خوش ہوتی تھیں مگر بعض بادل ہی ان کے لئے عذاب ثابت ہوئے اور ان کو تباہ کر گئے۔1 ہمارے ملک میں دیکھو جب گرمیوں میں بادل آئیں تو لوگ کس طرح خوش ہوتے ہیں اور بعض لوگ خوشی سے گاتے ہیں۔ بچے خوش ہو ہو کر اچھلتے اور کودتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا رسول (ﷺ) جس نے خدا کے کلام میں یہ پڑھا تھا کہ کبھی ان بادلوں سے پتھر بھی برسنے لگتے ہیں اور یہی بادل کبھی عذاب کا موجب بھی بن جایا کرتے ہیں، بادلوں کو دیکھ کر گھبراہٹ میں کبھی باہر آتا ، کبھی کمرہ کے اندر جاتا اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتا کہ اس کے غضب کا بادل نہ آئے اور رحمت کی بارش ہو۔ پس اگر ہمارے آقا و سردار کو بادل دیکھ کر اس قدر گھبراہٹ ہوتی تھی تو ہمیں ان عظیم الشان فوجوں کے بادلوں کو دیکھ کرجو ہماری جانب بڑھتے چلے آ رہے ہیں کتنی گھبراہٹ ہونی چاہئے جن کا مقصد ِ وحید ہی یہ ہے کہ اپنے گولوں اور بموں سے جس قدر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتار سکیں، اتار دیں۔ بادل دنیا میں اکثر رحمت کا اور کبھی کبھی عذاب کا موجب ہؤا کرتے ہیں۔ ایک لاکھ میں سے شاید کوئی ایک بادل تکلیف کا موجب ہوتا ہو مگر فوج اور لشکر کوئی بھی رحمت کا موجب نہیں ہوتا۔ وہ جب بھی آتے ہیں تباہیاں ساتھ لاتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً۔ 2 یعنی جب بھی کوئی نئے بادشاہ کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں وہ ان کو خراب کر دیتے ہیں اور اس ملک کے معزز لوگوں کو ذلیل کر کے چھوڑتے ہیں۔ دنیا کی تمام تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی تو کسی بادشاہ کی نہیں ملتی کہ جو کسی ملک میں داخل ہؤا ہو اور اس نے وہاں کے نظام کا تختہ نہ الٹ دیا ہو۔ اس سلسلہ میں بعض نادان آنحضرت ﷺ کا نام لیا کرتے ہیں مگر وہ جانتے نہیں کہ آنحضرت ﷺ بادشاہ نہ تھے بلکہ آپ اس لفظ کو نفرت و حقارت سے دیکھتے اور خدا سے دور اور لوگوں پر ظلم کرنے والے کے معنوں میں اسے استعمال فرماتے تھے۔ یہ صحیح ہے کہ ہم بھی کبھی کبھی آپ کے متعلق بادشاہ کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں مگر یہ تو صرف اپنے اوپر آپ کی حکومت جتانے کے لئے ہے اور یہ اس لفظ کا مجازی استعمال ہے جیسے کبھی کوئی اپنے محسن کو باپ کہہ دیتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ اسے اپنی ماں کا خاوند بناتا ہے۔ تو آنحضرت ﷺ کو ہم جو کبھی بادشاہ کہہ لیتے ہیں تو صرف مجازی رنگ میں ورنہ دنیوی مفہوم کے لحاظ سے آپ کو بادشاہ کہنا ویسا ہی ہے جیسے آپ کو گالی دے دی جائے۔ ہاں حاکم ہونے کے لحاظ سے اور یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ ہمارے دلوں پر آپ کی حکومت ہے اگر آپ کو کبھی بادشاہ کہہ لیا جائے تو یہ اَور بات ہے ورنہ بادشاہوں میں اور آپ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسی طرح آپ کے خلفاء بھی بادشاہ نہ تھے۔ ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ ، ان میں سے کوئی بھی بادشاہ نہ تھا۔ ہم ان کو بھی جو کبھی بادشاہ کہہ لیتے ہیں تو یہ بھی مجازی رنگ میں ہے جیسے گو موجودہ زمانہ کی پیری مریدی کے لحاظ سے ہم اسے بہت برا سمجھتے ہیں مگر اس لحاظ سے کہ جماعت کے دوستوں نے میری بیعت کی ہوئی ہے۔ یہ لفظ ہمارے لٹریچر میں بھی استعمال شدہ مل جائے گا۔ مگر یہ صرف نسبت بتانے اور سمجھانے کے لئے ہوتا ہے ورنہ ہم اسے بہت بُرا سمجھتے ہیں۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کی اپنے اوپر حکومت جتانے کے لئے آپ کے متعلق بادشاہ کا لفظ استعمال کر لیتے ہیں ورنہ دنیا کے نزدیک اس کا جو مفہوم ہے اس کے لحاظ سے آپ کے متعلق اس کا استعمال ہرگز جائز نہیں۔ پس جو لوگ آپ کی مثال پیش کرتے اور کہتے ہیں کہ آپ جب مکہ میں داخل ہوئے تو وہاں امن و امان رہا نادان ہیں۔ کیونکہ یہ فعل ایک اولو العزم رسول کا تھا بلکہ نبیوں کے سردار کا، کسی بادشاہ کا فعل نہ تھا ورنہ کوئی امن پسند اور عادل بادشاہ بھی جب کسی ملک میں داخل ہو تو وہ نیا نظام قائم کرتا ہے۔ یوں تو نظام کے لحاظ سے انبیاء بھی تغیر کرتے ہیں مگر ان کا تغیر خیر کا ہوتا ہے۔ مکہ کی حکومت آنحضرت ﷺ کے داخل ہونے کے بعد ویسی نہ تھی جیسے آپ سے پہلے تھی بلکہ اس سے بہت زیادہ بہتر اور اچھی تھی۔ مگر آنحضرت ﷺ سے قبل جن لوگوں کا مکہ میں اثر و رسوخ تھا وہ آپ کے بعد قائم نہ رہا گو آپ نے ان لوگوں کو اس سے محروم نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیکُمُ الْیَوْمَ 3 لیکن اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا اثر و رسوخ چھین لیا۔ آپ نے ابو جہل، عتبہ اور شیبہ کی جائدادیں نہیں چھینیں اور ان پر کوئی تعدی نہ کی مگر وہ لوگ چونکہ اللہ تعالیٰ کے مجرم تھے اس نے ان کا رسوخ چھین لیا۔ رسول کریم ﷺ نے اپنے رحم کی وجہ سے ایسا نہیں کیا مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ ہمارے مجرم ہیں ہم ان کی شوکت چھین لیں گے۔ باوجودیکہ رسول کریم ﷺ نے ان پر کوئی عتاب نازل نہ کیا بلکہ کرم اور بخشش کا سلوک کیا اور ان لوگوں پر بہت احسان کئے چنانچہ بعد کی جنگوں میں آپ نے ان لوگوں اور ان کی اولادوں کو سینکڑوں اونٹ دئیے مگر پھر بھی ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جسے وہی عزت حاصل رہی ہو جو پہلے تھی۔ پہلے تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کو بھی اپنا تابع اور ماتحت سمجھتے اور دنیوی لحاظ سے آپ کو اپنے سے ادنیٰ خیال کرتے اور سمجھتے تھے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ اس لئے کیا ہے کہ ہماری سرداری چھین لیں اور ہم پر حاکم ہو جائیں مگر آخر ایک دن ایسا آیا کہ آپ کے ایک ادنیٰ غلام اور خادم حضرت عمر ؓ مکہ میں حج کرنے کے لئے داخل ہوئے تو وہی لوگ جو اپنے آپ کو مکہ کے حاکم سمجھتے تھے اور آنحضرت ﷺ کو حقیر خیال کرتے تھے ان کے ایک ادنیٰ غلام عمرؓ کہ جو اُس وقت مسلمانوں کا بادشاہ تھا مگر انہی دینی معنوں میں جو مَیں اوپر بیان کر چکا ہوں مکہ میں آیا تو مکہ کے انہی سرداروں کے بیٹے آپ سے ملنے کے لئے آئے تا ان کی اطاعت کا اقرار کریں۔ آپ زمین پر بیٹھے تھے جب یہ لوگ آئے تو آپ نے ان کا اعزاز کیا اور ان سے ہمکلام ہوئے۔ اسی دوران میں ان غلاموں میں سے جن کو ان نوجوانوں کے باپ دادا نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتے تھےاور جن کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے تھے پاؤں میں رسیاں باندھ کر گلیوں میں گھسیٹتے تھے، ان پر کتّے چھوڑ دیتے تھے، گرم ریت پر لٹا کر سینہ پر وزنی پتھر رکھ دیتے تھےاور اس قدر مارتے تھے کہ ان میں سے بعض کی کھال ایسی سخت ہو گئی تھی جیسے بھینسے کی کھال ہوتی ہے اور جن کو ٹھوکریں مار کر بھی یہ خیال کرتے تھے کہ ہم نے ان کی عزت اَفزائی کی ہے۔ ان میں سے ایک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنے آیا، حضرت عمرؓ نے ان سرداروں کے بیٹوں سے کہا کہ ان کے لئے جگہ چھوڑ دو اور ان سے توجہ ہٹا کر ان سے باتیں کرنے لگے۔ پھر انہی غلاموں میں سے کوئی اَور آیا تو آپ نے پھر ان نوجوانوں سے فرمایا کہ ان کے لئے جگہ چھوڑ دو اسی طرح مہاجرین اور انصار میں سے بھی بعض وہ لوگ جن کو مکہ کے رؤساء نہایت حقیر اور ذلیل خیال کرتے تھے، ایک ایک کر کے آتے گئے اور ہر ایک کے آنے پر حضرت عمرؓ ان لوگوں سے کہتے کہ ان کے لئے جگہ چھوڑ دو حتّٰی کہ ہٹتے ہٹتے یہ لوگ جوتیوں میں پہنچ گئے۔ آخر جب یہ نوجوان مجلس سے باہر آئے تو ایک دوسرے سے کہا کہ آج ہماری جو ذلّت ہوئی ہے وہ تم نے دیکھ لی۔ اس پر ان میں سے ایک نے جو زیادہ سعید تھا کہا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ بہت ذلّت ہوئی، مگر یہ قصور کس کا ہے؟ جس وقت ہمارے باپ دادا آنحضرت ﷺ کو طرح طرح کے دکھ دیا کرتے تھے یہ لوگ آپ کے لئے سینہ سپر ہوتے تھے۔ اس لئے اس نظام میں جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ قائم کیا ہے پہلی جگہ انہی لوگوں کو مل سکتی ہے ہم کو نہیں۔ اس پر انہوں نے آپس میں پوچھا کہ اس ذلّت کو دھونے کا کوئی ذریعہ بھی ہے۔ آخر انہوں نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا چلو حضرت عمرؓ سے ہی اس کا علاج بھی دریافت کرتے ہیں۔ وہ پھر حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور عرض کیا کہ آج کا نظارہ آپ نے دیکھ لیا۔ آپ نےفرمایا ہاں۔ مَیں سمجھتا ہوں، آپ لوگوں کو ضرور تکلیف ہوئی ہو گی مگر وہ لوگ آنحضرتﷺ کے صحابی تھے اور آپ ان کی عزت کیا کرتے تھے اس لئے مَیں مجبور تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اس بات کو تو سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کا وہی مقام تھا جو آپ نے ان کو دیا اور ہمارا وہی تھا جو ہمیں حاصل ہؤا مگر ہم تو یہ پوچھتے ہیں کہ اب ہمارے گناہوں کا بھی کوئی کفارہ ہو سکتا ہے۔ حضرت عمرؓ یہ سن کر تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر سر اٹھا کر فرمایا کہ اسلامی ممالک کی سرحد پر جنگ ہو رہی ہے اگر تم لوگ جاؤ اور اپنی جانیں اسلام کے لئے دے دو تو خدا تعالیٰ کے دربار میں اسی طرح تمہارے گناہوں کا ازالہ ہو سکے گا۔ معلوم ہوتا ہے وہ سب کے سب سچے مسلمان تھے ایمان کی قدر و قیمت کو سمجھتے تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ ان کا خدا ان سے راضی ہو۔ چنانچہ وہ فوراً اپنی اپنی اونٹنیوں پر سوار ہوئے اورجنگ کے میدان میں جا پہنچے اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ واپس نہ آیا اور سب کے سب شہید ہو گئے۔4 اور گو ان کے باپ دادا نے تو ان کے لئے ذلّت مول لے لی تھی مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت حاصل کر لی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو آنحضرت ﷺ کے ذریعہ عزت ملی تھی۔
    پس یہ بادشاہت اَور قسم کی ہے اور روحانی ہے مگر اس میں بھی جیسا کہ اوپر کے واقعہ سے ظاہر ہے خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے ماتحت ضرور تغیرات ہوئے اورپہلی عزتیں ضرور برباد ہوئیں۔ پس جب کسی نظام میں تبدیلی ہو خواہ روحانی ہو یا جسمانی، تغیرات ضرور ہوتے ہیں، خواہ اچھے ہوں یا بُرے۔ نئے قوانین بنتے اور نئے اصول وضع ہوتے ہیں اس لئے آجکل جو تغیرات دنیا میں ہو رہے ہیں ان کے متعلق یہ خیال کرنا کہ معمولی ہیں نادانی ہے۔ سینکڑوں سالوں سے دنیا پر کبھی اتنی تباہی نہیں آئی جتنی اب آ رہی ہے۔
    پس مَیں ان دوستوں کو جو متبع رسول کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ تمہارا آقا بادل کو دیکھ کر خشیت اللہ سے بھر جاتا تھا تو تمہارے قلوب اتنے بڑے طوفانوں کودیکھ کر کیوں خشیت اللہ سے بھر نہ جانے چاہئیں اور کیوں تمہاری قربانیاں پہلے سے بہت بڑھ نہ جانی چاہئیں۔ جن لوگوں سے اب تک کوتاہی ہوئی ہے مَیں ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ زیادہ ہمت اور زیادہ مستعدی سے کام لیں اور جو کوئی رکاوٹ ان کے رستہ میں ہو اسے دور کریں تا اللہ تعالیٰ ان طوفانوں میں سے ان کے لئے اور ان کی اولادوں کے لئے بہتری کے سامان پیدا کرے اور تا ایسا نہ ہو کہ یہ طوفان ان کے لئے عذاب کا موجب بن جائیں۔ ‘‘
    (الفضل 19 مئی 1942ء)
    1: ابو داؤد کتاب الادب باب مَا یَقُوْلُ اِذَا ھَاجَتِ الرِّیْحُ
    2: النمل: 35
    3: السیرة الحلبیة جلد 3 صفحہ 89 مطبوعہ مصر 1935ء
    4: اسد الغابة جلد 2 صفحہ 372 مطبوعہ ریاض 1285ھ

    14
    (1) واقعۂ ڈلہوزی کے متعلق حکومت کا اظہارِ افسوس قبول کر لیا گیا ہے
    (2) غرباء کے لئے پانچ سَو مَن غلّہ کی تحریک اور بیرونی غرباء کی امداد کے لئے تاکید
    ( فرمودہ 22 مئی 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’قریباً نَو مہینے کا عرصہ گزرا کہ مَیں نے ایک خطبہ میں جو اسی مسجد میں مَیں نے پڑھا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر کیا تھا جو ڈلہوزی کے سفر میں مجھے پیش آیا۔ مَیں نے جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ یہ واقعہ اس قسم کا ہے کہ اگر اس کی طرف گورنمنٹ مناسب توجہ نہ کرے تو جائز اور قانونی صورتوں کے ساتھ ہمیں گورنمنٹ پر دباؤ ڈالنا پڑے گا تاکہ وہ انصاف کو قائم کرے اور ظلم کا انسداد کرے۔ پھر مَیں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کو دوبارہ اس طرف توجہ دلائی تھی اور کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو انفرادی طور پر مَیں جماعت کے احباب کو ان قربانیوں کے لئے بلاؤں گا جو میرے نزدیک انصاف کے قیام کے لئے ضروری ہیں باوجود اس کے کہ مَیں نے کہہ دیا تھا کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا جبکہ دوستوں کو اپنے نام پیش کرنے کی ضرورت ہو اور یہ کہ ابھی ہمیں گورنمنٹ کو وقت دینا چاہئے تاکہ اگر وہ اس واقعہ پر اظہارِ افسوس کرنا چاہے تو کر دے۔ پھر بھی ہماری جماعت کے بعض مخلصوں نے اسی وقت اپنے نام پیش کرنے شروع کر دئے تھے اور بعض نے اعلان کا انتظار کیا۔ گو دلوں میں ہر قربانی پر آمادہ ہو گئے فَجَزَاھُمُ اللہُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔ یہ سوال نَو مہینے تک برابر گورنمنٹ اور ہمارے درمیان چلتا رہا۔ اس کے متعلق گورنمنٹ نے لوکل تحقیقات بھی کرائی ہے اور پھر پولیس کے ڈی۔آئی۔ جی بھی یہاں تحقیقات کے لئے آئے تھے۔ غالباً دسمبر یا نومبر کا مہینہ تھا جبکہ وہ آئے۔
    ایک حاسد نے گزشتہ ایام میں لکھا تھا کہ احمدی جماعت اپنا نظام لئے پھرتی ہے تم کو نظام نے کیا فائدہ دیا۔ ڈلہوزی کے واقعہ پر ہی گورنمنٹ تمہاری کوئی تسلی نہ کر سکی۔ مَیں نے اس وقت جواب میں کچھ لکھنا مناسب نہیں سمجھا تھا کیونکہ ابھی معاملہ چل رہا تھا حالانکہ اس کا جواب مَیں اسی وقت دے سکتا تھا کہ جہاں تک امام جماعت احمدیہ کا سوال ہے۔ گورنمنٹ شروع میں ہی اظہارِ افسوس کر چکی تھی لیکن ہماری بحث گورنمنٹ سے یہ نہیں تھی کہ امام جماعت احمدیہ سے یہ واقعہ پیش نہیں آنا چاہئے تھا بلکہ ہماری بحث یہ تھی کہ کسی ہندوستانی سے بھی ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہئے چنانچہ گورنمنٹ نے جو مجھے اس وقت چِٹھی لکھی تھی اس میں اس نے لکھا تھا کہ افسوس ہے کہ ہمیں غلطی لگی اور ہمیں اس وقت یہ معلوم نہیں ہؤا کہ امام جماعت احمدیہ کا اس سے کوئی تعلق ہے۔ مَیں نے اسی وقت اس چِٹھی کے جواب میں گورنمنٹ کو لکھ دیا تھا کہ میری اس جواب سے تسلی نہیں ہو سکتی کیونکہ میرا سوال انصاف کے قیام کے متعلق ہے۔ میرا سوال یہ نہیں کہ امام جماعت احمدیہ سے اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آنا چاہئے تھا بلکہ میرا سوال یہ ہے کہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی ہندوستانی کو بھی ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔ پس اس کا یہ اعتراض کہ جماعت کے نظام کا کوئی فائدہ نہ ہؤا۔ بے محل اعتراض تھا کیونکہ جہاں تک امام جماعت احمدیہ کا تعلق تھا۔ گورنمنٹ چند دنوں کے اندر اندر معذرت کا اظہار کر چکی تھی اور مَیں نے اس معذرت کو قبول نہیں کیا تھا اس لئے کہ میرے نزدیک امام جماعت احمدیہ ہونے کی حیثیت سے حکومت کی معذرت کافی نہ تھی۔
    درحقیقت کوئی مومن صرف اس بات پر خوش نہیں ہو سکتا کہ اس کے ساتھ بد سلوکی نہیں ہوتی بلکہ مومن کا کام یہ ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی بدسلوکی نہ ہونے دے۔ بہرحال گورنمنٹ کی وہ چِٹھی ہمارے پاس موجود ہے او راس سے اس معترض کے اعتراض کا جواب ہو سکتا ہے کہ اس رنگ میں ازالہ پہلے ہی گورنمنٹ کر چکی ہے مگر ہمارا مطالبہ گورنمنٹ سے یہ نہیں تھا اورنہ ہمیں اس معاملہ میں درحقیقت کوئی ایسا خیال ہو سکتا ہے کیونکہ جہاں تک امام جماعت احمدیہ کا سوال ہے۔ امام جماعت احمدیہ ہونے کے لحاظ سے اور سلسلۂ احمدیہ کے لحاظ سے ہمارا یقین ہے کہ جو خدائی سلسلے ہوتے ہیں ان کے کارکنوں کی کوئی شخص ہتک نہیں کر سکتا اور جو بظاہر ہتکیں نظر آتی ہیں وہ ان ہتک کرنے والوں کا اپنی گردنوں پر اپنا وار ہوتا ہے۔
    رسول کریم ﷺ کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے جب آپ سجدہ میں گئے تو ابو جہل نے اونٹ کی اوجھڑی اور انتڑیاں لا کر آپؐ کے سر پر رکھ دیں۔ اونٹ کی اوجھڑی اور انتڑیاں بڑی بھاری چیز ہیں پھر وہ گندی اور غلیظ چیز ہیں مگر بہرحال اس نے ایسا کیا۔ اب اس نے تو اپنے دل میں سمجھا ہو گا کہ اس نے اس فعل سے رسول کریم ﷺ کی ہتک کر دی مگر جاننے والے جانتے رہیں گے کہ ابو جہل نے اونٹ کی اوجھڑی اور اونٹ کی انتڑیاں رسول کریم ﷺ کی گردن پر نہیں رکھیں بلکہ اس نے اپنی اوجھڑی اور اپنی انتڑیاں اپنی گردن میں لٹکائی تھیں۔ اب واقعہ تو یہ ضرور ہؤا کہ اونٹ کی اوجھڑی اور انتڑیاں رسول کریم ﷺ کی گردن پر رکھی گئیں چنانچہ ساری تاریخیں بتاتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ یہ واقعہ ہؤا اور تاریخوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس سے رسول کریم ﷺ کو تکلیف ہوئی اور آپ سجدہ سے اپنا سر نہ اٹھا سکے یہاں تک کہ بعض صحابہ آئے اور انہوں نے اس بوجھ کو رسول کریم ﷺ پر سے دور کیا 1 مگر اس سے رسول کریم ﷺ کی کیا ہتک ہو گئی۔ آج تک ہم فخر سے اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں اورہم جب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی گردن پر ابو جہل نے اونٹ کی اوجھڑی اور انتڑیاں لا کر رکھ دیں تو ہمارے دل شرمندگی محسوس نہیں کرتے بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس نے رسول کریم ﷺ کی نبوت اور آپ کی صداقت کا ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر دیا کیونکہ ہمیشہ دنیادار لوگ انبیاء کی مخالفت کرتے، ان کو دکھ دیتے، انہیں قسم قسم کی اذیتیں پہنچاتے اورہر رنگ میں ان کی ہتک کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ ہتک ان نبیوں کی نہیں ہوتی بلکہ خود دشمنوں کی ہوتی ہے۔ یہیں قادیان میں ایک دفعہ غیر احمدیوں کا جلسہ ہؤا۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کو بھی انہوں نے تقریر کے لئے بلایا۔ انہوں نے بڑے فخر سے بیان کیا کہ قادیانی میرے مقابلہ میں اپنی کامیابی کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔ ان کا امام میرے ساتھ کلکتے تک چلے اور پھر دیکھے قادیان سے کلکتے تک کس کو پھول پڑتے ہیں اورکس پر پتھر برستے ہیں۔ مَیں نے اس کے جواب میں کہا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنے جھوٹے ہونے کی خود شہادت دے دی ہے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ پتھر ابو جہل کو پڑے تھے یا محمد ﷺ کو پڑے تھے۔ پتھرفرعون کو پڑے تھے یا موسیٰ کو پڑےتھے۔ بے شک اگر مَیں ان کے ساتھ جاؤں تو قادیان سے کلکتے تک ان پر پھول پڑیں گے اور مجھ پر پتھر۔ مگر اس طرح قادیان سے کلکتے تک کی زمین کا ہر چپہ یہ شہادت بھی دے گا کہ مَیں محمد ﷺ کا خلیفہ ہوں اور مولوی ثناء اللہ صاحب ابو جہل کے مثیل ہیں۔ ہر پھول جو ان پر پڑے گا وہ انہیں ابو جہل ثابت کرے گا اور ہر پتھر جو مجھ پر پڑے گا وہ مجھے محمد ﷺ کا نائب اور آپ کا خلیفہ ثابت کرے گا۔ غرض ان باتوں سے کیا بنتا ہے؟ ان سے خدائی سلسلوں کی ہتک نہیں ہؤا کرتی، صرف اس سے اس کینے اور بغض کا پتہ چل جاتا ہے جو مخالفوں کے دلوں میں ہوتا ہے اور یہی کینہ اور بُغض بعض دفعہ گورنمنٹ کے بعض افسروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ وہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے پہلے ہی دوسرے مذاہب کے لوگوں سے تعصب رکھتے ہیں پھر جب افسر بنتے ہیں تو اس وقت بھی اس غضب کا شکار ہوتے ہیں چنانچہ دیکھ لو ایک تھانیدار جب اپنی کرسی پر بیٹھتا ہے تو اس وقت اسلام کا تعصب یا ہندو مذہب کا تعصب یا سکھ مذہب کا تعصب اس کے دل سے نکل تو نہیں جاتا۔ ہزارہا واقعات دنیا میں ایسے ہوتے رہتے ہیں جن کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ فلاں مسلمان تھانیدار تھا۔ اس لئے اس نے مسلمانوں کی رعایت کی یا فلاں ہندو تھانیدار تھا اس نے ہندوؤں کی رعایت کی یا فلاں سکھ تھانیدار تھا اس نے سکھوں کی رعایت کی۔ ابھی گزشتہ دنوں ڈھاکہ میں فسادات ہوئے تھے۔ گورنمنٹ نے بڑے بڑے معزز افسر اس کی تحقیق کے لئے بطور کمیشن مقرر کئے۔ کل پرسوں ہی ان کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہم تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فسادات کے دوران میں پولیس کے افسروں نے تعصب سے کام لیا اورجس جس مذہب کے ساتھ کوئی پولیس افسر تعلق رکھتا تھا۔ اس مذہب کے افراد کو اس نے بچانے کی کوشش کی۔ تو یہ تعصب دلوں سے نکل تو نہیں جاتا سوائے اس کے کہ جہاں کوئی حقیقی نقصان پہنچنے والا ہوتا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ دلوں پر تصرف کر کے حالات کو بدل دے تو اَور بات ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا یہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک پادری نے آپ پر نالش کی اور یہ نالش امرتسر میں ہوئی۔ ہو سکتا تھا کہ وہ مقدمہ امرتسر میں ہی چلتا مگر وہاں سے ڈپٹی کمشنر کو خیال پیدا ہؤا یا اسے گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر نے جب تعمیل کے لئے سمن گورداسپور پہنچے تو لکھا کہ امرتسر میں یہ مقدمہ نہیں ہو سکتا اور اس نے اس بات کو تسلیم کر لیا گو ہمارے وکلاء کہتے ہیں کہ یہ اس کی غلطی تھی ۔ یہ مقدمہ امرتسر میں بھی چل سکتا تھا مگر بہرحال یہ مقدمہ گورداسپور میں دائر ہؤا۔ اس وقت گورداسپور میں ایک ایسے ڈپٹی کمشنر صاحب تشریف لائے ہوئے تھے جو سخت متعصب عیسائی تھے۔ اب تو وہ ہماری جماعت کے گہرے دوست ہیں اور اس نشان کا وہ ہمیشہ ذکر کیا کرتے ہیں مگر اس وقت ان کی یہ حالت تھی کہ جب وہ گورداسپور میں آئے تو انہوں نے اپنے بعض اہلکاروں سے کہا کہ مَیں نے سنا ہے کہ اس ضلع میں ایک شخص مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس طرح ہمارے خداوند یسوع مسیح کی ہتک کرتا ہے۔ کیا اب تک اسے کسی افسر نے گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ غرض اس وقت وہ سخت تعصب رکھتے تھے اور مقدمہ امرتسر سے بدل کر انہی کے پاس پہنچا۔ انہوں نے مقدمہ کی اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے اپنی عدالت میں ہی رکھ دیا۔ اب ایک ایسا انسان جس کے دل میں اس قسم کا تعصب ہو اس کے متعلق یہ بالکل ممکن تھا کہ ایک طرف کی باتیں اس پر اثر کر جاتیں اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف فیصلہ کر دیتا بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ یہ مقدمہ ایک پادری کی طرف سے تھا مگر اللہ تعالیٰ کے تصرفات کو دیکھو کہ اس مقدمہ کی پیشی بٹالہ میں ہوئی اور پہلا تغیر خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں کیا کہ باوجود اس بات کے کہ انسپکٹر پولیس غیر احمدی مسلمان تھا اور سررشتہ دار بھی غیر احمدی مسلمان تھا اور اس وجہ سے ان سے مخالفت کا زیادہ ڈر تھا مگر وہ دونوں شریف الطبع تھے۔ جو دوست اُس وقت سررشتہ دار تھے اور جو بعد میں احمدی بھی ہو گئے تھے ان سے جب ڈپٹی کمشنر نے اس مقدمہ کا ذکر کیا اور ان سے مشورہ لیا تو انہوں نے کہا مرزا صاحب بڑے شریف آدمی ہیں اور گورنمنٹ برطانیہ کے بہت وفادار ہیں۔ مقدمہ کے بعد جو صورت ہو وہ ہو مگر مقدمہ سے پیشتر کوئی ایسی کارروائی نہیں کرنی چاہئے جس سے ان کی کسی رنگ میں ہتک ہو۔ پھر انہوں نے پولیس سے مشورہ لیا تو انسپکٹر پولیس جن کا نام غالباً جلال الدین تھا انہوں نے بھی یہی مشورہ دیا۔ آخر انہوں نے ایسے رنگ میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بلایا جس میں آپ کا اعزاز قائم رہتا تھا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام عدالت میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ڈپٹی کمشنر پر ایسا اثرکیا کہ بجائے اس کے کہ وہ آپ کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کرتا اس نے کمرۂ عدالت میں اپنے پاس کرسی بچھا کر آپ کو اس پر بٹھا دیا۔ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام پر مقدمہ دائر ہونے کی خوشی میں دوڑتے پھرتے تھے اور باوجود مسلمان ہونے کے اور باوجود اس بات کے کہ یہ مقدمہ ایک عیسائی کی طرف سے تھا اس بات پر خوش تھے کہ اب مرزا صاحب کو سزا ہو جائے گی۔ انہوں نے جب عدالت میں آپؑ کو ڈپٹی کمشنر کے پاس کرسی پر بیٹھے دیکھا تو وہ غصہ سے جَل بُھن گئے۔ اسی دن عیسائیوں کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی بطور گواہ پیش ہونے والے تھے اور وہ اس امید میں تھے کہ جب میں کمرۂ عدالت میں داخل ہوں گا تو مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہو گی اور وہ ملزموں کے کٹہرے میں نہایت ذلت کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور جب مجھے دیکھیں گے تو بہت شرمندہ ہوں گے مگر جب وہ اندر داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ڈپٹی کمشنر کے پہلو میں کرسی بچھی ہوئی ہے اور بجائے ملزموں کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کے وہ ملزم نہایت اعزاز کے ساتھ عدالت کے پاس اس کرسی پر بیٹھا ہؤا ہے۔ یہ دیکھ کر اُن کو آگ لگ گئی۔ وہ اپنی گواہی تو بھول گئے اور ڈپٹی کمشنر سے کہنے لگے۔ صاحب سے مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے بھی عدالت میں کرسی ملنی چاہئے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا تم کو کس وجہ سے کرسی دی جائے۔ تم گواہ کی حیثیت سے آئے ہو اور گواہوں کو کرسی نہیں ملا کرتی۔ انہوں نے کہا مَیں تو گواہ ہوں جب آپ نے ملزم کو کرسی دے رکھی ہے تو مجھے کیوں کرسی نہیں مل سکتی۔ مجھے بھی کرسی ملنی چاہئے۔ اس پرڈپٹی کمشنر نے کہا ہم جانتے ہیں کہ کس کا ادب اور احترام کرنا چاہئے۔ مرزا صاحب کے خاندان سے ہم واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ گورنمنٹ ان کے خاندان کو کس عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی چلی آ رہی ہے اس لئے انہیں جائز طور پر کرسی دی گئی ہے مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی بد قسمتی کہ وہ پھر بھی خاموش نہ رہے اور درحقیقت جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی کے خلاف کوئی فیصلہ ہو جائے تو وہ ذلت سے کہاں بچ سکتا ہے۔ بجائے اس کے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی خاموش رہتے، وہ کہنے لگے۔ لاٹ صاحب کے پاس مَیں ملنےکے لئے جاتا ہوں تو وہ مجھے کرسی دیتے ہیں۔ آپ عدالت میں مجھے کیوں کرسی نہیں دیتے؟ ڈپٹی کمشنر کہنے لگا اگر ایک چوہڑا بھی ہمیں اپنے مکان پر ملنے آئے تو ہم اسے کرسی دے دیتے ہیں مگر یہ عدالت کا کمرہ ہے یہاں اسی کو کرسی ملے گی جس کی خدمات کو گورنمنٹ جانتی ہو۔ اس پر انہوں نے پھر اصرار کیا اور کہا کہ مجھے ضرور کرسی ملنی چاہئے۔ آخر ڈپٹی کمشنر نہایت غصے سے انہیں کہنے لگا۔ بَک بَک مت کر پیچھے ہٹ اورجوتیوں میں کھڑا ہو جا۔
    غرض وہ تو یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام عدالت میں نَعُوْذُ بِاللہ نہایت ذلت سے کھڑے ہوں اور انہیں ہتھکڑی لگی ہوئی ہو اور وہ سمجھتے تھے کہ یا تو انہیں گرفتار کر کے عدالت میں لایا جائے گا یا کم از کم ملزموں کے کٹہرے میں آپ کو ضرور کھڑا کیا جائے گا مگر انہوں نے دیکھا تو یہ کہ کمرۂ عدالت میں ڈپٹی کمشنر کے پاس ملزم ایک کرسی پر بیٹھا ہؤا ہے۔ اب یہ ایک غیر معمولی تغیر ہے جو خدا تعالیٰ نے کیا اور جس نے ڈپٹی کمشنر کے دل پر تصرف کر کے اسے ایسا سلوک کرنے پر مجبور کر دیا۔ آجکل ہماری جماعت کتنی منظم اورکتنی پھیلی ہوئی ہے مگر اب بھی ہمارے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کے ساتھ یہ سلوک محض الٰہی تصرف کا نتیجہ تھا ورنہ بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام بعض اَور عدالتوں میں پیش ہوئے ہیں اور آپؑ کو کھڑا رہنا پڑا ہے مگر اس وقت چونکہ مقابلہ میں ایک عیسائی دشمن تھا اور مسلمان بھی آپ کو گرانے کے لئے عیسائیوں کے ساتھ مل گئے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ دکھا دیا کہ بجائے اس کے کہ وہ آپؑ کو ذلت کی حالت میں دیکھتے۔ انہوں نے آپ کو نہایت اعزاز کے ساتھ کمرۂ عدالت میں ڈپٹی کمشنر کے پاس بیٹھے دیکھا۔ پھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی ذلت کا یہیں پر خاتمہ نہیں ہؤا بلکہ جب وہ بیان دے کر کمرہ سے باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک کرسی پڑی ہوئی تھی اس کرسی پر وہ بیٹھ گئے تاکہ کم از کم باہر کے لوگ جب انہیں برآمدہ میں کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھیں تو یہ خیال کر لیں کہ اندر بھی انہیں کرسی ملی ہو گی مگر خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ حاکم کے اثر کے نیچے اس کے ماتحت بھی ہوتے ہیں۔ عدالت کا چپڑاسی جو کمرہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا حال دیکھ چکا تھا اور جسے معلوم تھا کہ صاحب ان پر سخت ناراض ہوئےہیں اس نے جب دیکھا کہ وہ باہر برآمدہ میں کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں تو وہ ڈرا کہ کہیں صاحب مجھ پر ناراض نہ ہو جائیں چنانچہ وہ دوڑا دَوڑا آیا اور کہنے لگا مولوی صاحب کرسی چھوڑئیے۔ آپ کو یہاں بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔ چنانچہ مولوی صاحب با دلِ ناخواستہ وہاں سے اٹھے اور باہر آئے جہاں لوگوں کا بہت سا ہجوم تھا اور خیا ل کیا کہ ان کو تو میری ذلت کا علم نہیں یہیں کوئی بیٹھنے کے لئے اچھی سی جگہ مل جائے تو بیٹھ جاؤں۔ چنانچہ وہاں زمین پر کسی نے اپنی چادر بچھائی ہوئی تھی۔ مولوی صاحب اسی چادر پر بیٹھ گئے تا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ پبلک میں انہیں اعزاز حاصل ہے مگرچادر کا مالک دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا میری چادر چھوڑ دو۔ تم عیسائیوں کی طرف سے ایک مسلمان کے خلاف گواہی دینے کے لئے آئے ہو تم نے تو میری چادر پلید کر دی ہے۔ آخر مولوی صاحب کو وہاں سے بھی نہایت ذلت کے ساتھ اٹھنا پڑا۔
    اب دیکھو یہ کیسا ایک سلسلہ ہے اس ذلت کا جو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو پہنچی اور کیسی غیر معمولی عزت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کو حاصل ہوئی مگر یہ ایک الٰہی تصرف تھا۔ مجھے ان کے جو سر رشتہ دار تھے۔ انہوں نے بعد میں خود سنایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کے مقدمہ کی پیشی سے فارغ ہو کر ڈپٹی کمشنر سٹیشن پر پہنچا تو بٹالہ سٹیشن پر نہایت اضطراب کے ساتھ ٹہلنے لگ گیا۔ وہ کہتے ہیں تھوڑی دیر تو مَیں دیکھتا رہا آخر مَیں نے آگے بڑھ کر کہا کہ صاحب ویٹنگ روم میں کرسی پر تشریف رکھئے۔ٹہلنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ کہنے لگا نہیں۔ مَیں اس وقت کرسی پر نہیں بیٹھ سکتا اور پھر ٹہلنے لگ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد مَیں نے پھر کہا کہ صاحب آپ کو تکلیف ہو گی، دھوپ کا وقت ہے آپ ویٹنگ روم میں تشریف لے چلیں۔ مگر وہ پھر کہنے لگا کہ ٹھہرو مجھے ابھی کچھ نہ کہو۔ خیر کچھ دیر مَیں اَور انتظار کرتا رہا آخر مَیں نے پھر کہا کہ صاحب آپ ٹہل کیوں رہے ہیں۔ ویٹنگ روم میں کیوں تشریف نہیں رکھتے۔ منشی غلام حیدر صاحب ان کا نام تھا اوروہ راولپنڈی کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے سنایا کہ جب مَیں نے بار بار ڈپٹی کمشنر سے یہ بات کہی تو اس نے مجھے قریب بلایا اور کہا مجھے اس وقت بڑی سخت تکلیف ہے اور اگر میری اس تکلیف کا ازالہ نہ ہؤا تو مَیں سمجھتا ہوں مَیں پاگل ہو جاؤں گا۔ مَیں نے کہا کیا تکلیف ہے۔ کہنے لگا مَیں نے جس وقت سے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے میرے دل میں یہ کامل یقین پیدا ہو گیا ہے کہ مرزا صاحب مجرم نہیں ہیں۔ ادھر مَیں دیکھتا ہوں کہ شہادت ان کے خلاف ہے۔ اور جس نے مقدمہ کیا ہے وہ ایک معزز پادری ہے جسے جھوٹا سمجھنے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اب میری یہ حالت ہے کہ مرزا صاحب کی شکل دیکھنے کے بعد مَیں جس طرف دیکھتا ہوں مرزا صاحب کی تصویر میرے سامنے آ جاتی ہے اوروہ کہتی ہے مَیں مجرم نہیں۔ مَیں اس سے بری ہوں۔ پس میری حالت اس وقت بالکل پاگلوں کی سی ہے۔ عدالت اور قانون کہتا ہے کہ مَیں ان کو سزا دوں مگر ادھر میرے سامنے ہر وقت ان کی تصویر رہتی ہے اور وہ میری آنکھوں کے سامنے سے ہٹتی ہی نہیں اور وہ تصویر مجھے یہ کہتی ہے کہ مَیں مجرم نہیں ہوں۔ مَیں سمجھتا ہوں اگر مجھ پر یہی حالت طاری رہی تو مَیں پاگل ہو جاؤں گا۔ وہ کہتے ہیں مَیں نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ آپ اندر تشریف رکھئے مَیں ابھی سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کو بلاتا ہوں۔ آپ ان سے اس بارہ میں مشورہ لیں۔ چنانچہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میرے دل پر بھی یہی اثر ہے کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے مگر اس میں خود عدالت کی غلطی ہے جس شخص کو مرزا صاحب کے خلاف گواہ پیش کیا جاتا ہے اسے پادریوں کے حوالے کیا ہؤا ہے اور وہ اس سے جو جِی چاہتا ہے کہلوا لیتے ہیں حالانکہ اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہئے تھا۔ آپ اس گواہ کو میرے حوالے کر دیں مَیں اس کا بیان لے کر اصل حقیقت معلوم کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ڈپٹی کمشنرنے آرڈر دے دیا کہ عبد الحمید کو پادریوں سے لے کر سپرنٹنڈنٹ پولیس کے حوالے کیا جائے۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کا بیان ہے کہ جب مَیں نے اس سے بیان لیا تو پہلے تو اس نے وہی بیان دیا جو پادریوں کے سکھلانے پر دے چکا تھا مگر مَیں نے اسے کہا کہ جو بات ہے سچ سچ بیان کر دو اور بہت دیر میں اسے نصیحت کرتا رہا کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے اور جو اصل واقعہ ہے وہ سچ سچ بیان کر دینا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں مَیں نے دیکھا کہ اس دوران میں وہ کبھی کچھ کہنے کی کوشش کرتا مگر پھر رک جاتا۔ آخر مَیں نے اسے کہا اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں صحیح واقعات بیان کر دینے کے بعد پھر پادریوں کے حوالے کر دیا جائے گا اور وہ تمہیں دکھ دیں گے تو مَیں تمہیں اطمینان دلاتا ہوں کہ تمہیں مشن والوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ تم جو کچھ واقعہ ہے سچ سچ بیان کر دو۔ اس پر وہ روتا ہؤا سپرنٹنڈنٹ پولیس کے قدموں میں گر گیا اور کہنے لگا کہ پادریوں نے مجھے سکھلا کر مجھ سے جھوٹا بیان دلوایا ہے ورنہ حضرت مرزا صاحب بالکل بری ہیں۔
    اب یہ ایک ایسا الٰہی تصرف تھا جو ڈپٹی کمشنر کے دل پر ہؤا اور جس نے حالات کو بالکل بدل دیا۔ پس اگر کسی جگہ خاص طور پر سلسلہ پر زد پڑتی ہو یا دشمن کو کوئی خاص جھوٹی خوشی نصیب ہوتی ہو جس کا دکھانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص تصرف کے ماتحت اس قسم کے سامان بھی پیدا کر دیا کرتا ہے۔ جن سے دشمنوں کو جھوٹی خوشی بھی نصیب نہیں ہوتی اور سلسلہ دشمن کی زد سے محفوظ رہتا ہے ورنہ عام طور پر انبیاء کی ہتک کرنے والے ان کی ہتک کرنے کی کوشش کیا ہی کرتے ہیں اور جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے اس سے انبیاء کی نہیں بلکہ خود ان کی ہتک کرنےو الوں کی ہتک ہوتی ہے اور وہی لوگ جو نبیوں کی ہتک کرنے والے ہوتے ہیں جب بعد میں ایمان لے آتے ہیں یا اگر وہ ایمان نہیں لاتے اور ان کی نسلیں ایمان لاتی ہیں تو اس وقت وہ سخت شرمندہ ہوتے ہیں اور ان کا نفس ایسی ذلت محسوس کرتا ہے جسے وہ کبھی بھول نہیں سکتے۔ درحقیقت یہ ان کے دل پر ایک بڑا بھاری زخم ہوتا ہے کہ کچھ تو ان میں سے انبیاء کے مقابلہ میں مارے جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو بعد میں صداقت کو قبول کر لیتے ہیں مگر ساری عمر ان کے دلوں پر یہ گھاؤ رہتا ہے کہ انہوں نے انبیاء اور ان کی جماعتوں کو تکلیف دی اور ان پر کئی قسم کے ظلم کئے۔ تو اللہ تعالیٰ کے انبیاء اوران کی جماعتوں کی کبھی ہتک نہیں ہوتی، نہیں ہو سکتی۔ پس اس میں ہماری ہتک کا کوئی سوال ہی نہیں۔ وہ ہتک نہ ہماری ہوئی ہے اور نہ انبیاء اوران کی جماعتوں کی ہو سکتی ہے۔ حضرت مسیح ؑ کو اگر لوگوں نے صلیب پر چڑھا دیا تو اس سے ان کی کیا ہتک ہو گئی۔ اسی طرح ان کی جماعت کو اگر تکلیف دی گئی تو اس سے وہ کیسے ذلیل ہوئی۔ پس سوال ہتک کا نہیں تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ ایک گورنمنٹ جس سے ہم تعاون کرتے ہیں قدرتی طور پر ہم اس سے حق اورانصاف چاہتے ہیں تاکہ ہمارا تعاون ناجائز نہ ہو۔ اگر ایک گورنمنٹ کے متعلق ہمیں یقینی طور پر یہ پتہ لگ جائے کہ وہ ظالم ہے اور انصاف سے کام نہیں لیتی تو اس سے تعاون کرنا ہمارے لئے ناجائز ہو جائے گا۔
    غرض ہمارے اور گورنمنٹ کے درمیان اس معاملہ کے متعلق عرصہ تک خط و کتابت ہوتی رہی۔ ڈیڑھ مہینہ کی بات ہے کہ گورنمنٹ نے کمشنر صاحب لاہور کو اس غرض کے لئے مقرر کیا کہ وہ اس معاملہ کے متعلق میرے پاس اظہارِ افسوس کریں چنانچہ وہ گورداسپور آئے اور ان کی چٹھی مجھے آئی کہ مَیں آپ سے ملنا چاہتا ہوں کیا آپ مجھے یہاں آ کر مل سکتے ہیں؟ اور اگر آپ نہ مل سکتے ہوں تو اپنے کسی رشتہ دار کو ہی بھجوا دیں کیونکہ گورنمنٹ کی طر ف سے مَیں ایک پیغام لایا ہوں۔ جو آپ کو پہنچانا چاہتا ہوں مجھے قبل از وقت معلوم ہو چکا تھا کہ کمشنر صاحب لاہور اس غرض کے لئے آنے والے ہیں چنانچہ مَیں نے انہیں کہلا بھیجا کہ مجھے اگر آپ سے ملاقات کی ضرورت ہوتی تو مَیں خود آپ کے پاس آتا مگر چونکہ کام آپ کو ہے اس لئے میرے آنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اگر کسی افسر کو مجھ سے کوئی کام ہے تو یہ اس کا فرض ہے کہ وہ میرے پاس آئے۔ نہ یہ کہ مَیں اس کے پاس جاؤں۔باقی مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے آپ کو واقعۂ ڈلہوزی پر اظہار افسوس کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ مگر آپ مجھے یہ بتائیں کہ وہ واقعہ گورنمنٹ کی نادانی سے پریس میں آ چکا اور سارے ہندوستان میں مشہور ہو چکا ہے۔ اب اگر مَیں یہ اعلان کر دوں کہ گورنمنٹ نے اپنی غلطی کا ازالہ کر دیا ہے اور اس نے اپنے فعل پر اظہار افسوس کیا ہے تو دشمن ہنسے گا اورکہے گا کہ خود ہی ایک بات بنا لی گئی ہے ور نہ گورنمنٹ نے اظہار افسوس نہیں کیا۔ جیسے ہمارے پنجابی زبان میں ضرب المثل ہے کہ ‘‘آپے میں رجّی پجّی! آپے میرے بچے جیون۔’’ اگر گورنمنٹ اس فعل پر اظہارِ ندامت کرنا چاہتی ہے۔ تو اسے چاہئے کہ تحریراً کرے تاکہ دنیا کے سامنے اس تحریر کو رکھا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے میری اس بات کو درست سمجھا اور جو آدمی میری طرف سے گیا تھا اسے کہلا بھیجا کہ مَیں تو ایسی تحریر نہیں دے سکتا کیونکہ مجھے اجازت نہیں البتہ مَیں گورنمنٹ کو آپ کی یہ بات پہنچا دوں گا۔ اس کے بعد اپریل کی 27 تاریخ کو گورنمنٹ کی طرف سے چِٹھی آئی جس کا پیغام پہلے صرف زبانی بھیجا گیا تھا۔یہ چِٹھی 27 اپریل کو چلی ہے اور 28 اپریل کو یہاں پہنچی ہے۔ یہ چِٹھی ہوم سیکرٹری مسٹر ویس کی طرف سے ہے۔ چِٹھی کے الفاظ یہ ہیں:۔
    “No 2952-H (G) 42/26395
    From:
    F.B.Wace Esquire, C.I.E,I.C.S. Home Secretary to Government Punjab.
    To,
    Khalifatul Masih Hazrat Mirza Bashirud- din Mahmud Ahmad Head of the Ahmadiyya Community Qadian Distt. Gurdaspur.
    Your Holiness,
    The Punjab Government have had under examination the incident in Dalhousie last September at your residence there, when ceratin action was taken by the police in connection with unauthorized news sheets.
    Owing to a chain of unfortunate circumstances, no superior police officer was available in Dalhousie, to take charge of this action and enquiry seems to show that the junior officer who was in charge displayed a lack of tact and consideration in carrying out his duties. Suitable action has been taken against this officer and the subordinate officials concerened and I am to express the great regret of the Punjab Government for any unnecessary inconvenience which may have been caused to you and your household in consequence. It need hardly be said that no kind of insult or indignity was intended to you personally or to the religious body of which you are the respected head.
    I have the honour to be your holiness
    Your most obedient servant
    F.B. Wace
    Home Secretary to Government Punjab.”
    اس چِٹھی کا ترجمہ یہ ہے کہ پنجاب گورنمنٹ اس واقعہ کے متعلق جو گزشتہ ستمبر میں ڈلہوزی میں آپ کے گھر پر ہؤا تھا اورجس میں پولیس نے ایک ضبط شدہ ٹریکٹ کے متعلق کارروائی کی تھی۔ اس وقت تک تحقیقات کرتی رہی ہے اور اب اس کے متعلق مندرجہ ذیل تحریر بھی بھجواتی ہے۔
    بعض اتفاقی واقعات کی وجہ سے جو قابل افسوس ہیں پولیس کا کوئی اعلیٰ افسر اس وقت ڈلہوزی میں موجود نہیں تھا جو اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیتا مگر یہ بات تحقیقات سے ثابت ہے کہ جونیئر افسر انچارج نے اپنے فرائض کے ادا کرنے میں عقل اور پوری توجہ سے کام نہیں لیا۔ گورنمنٹ نے اس افسر اور ماتحت افسروں کے خلاف جن کا اس واقعہ سے تعلق تھا مناسب کارروائی کی ہے اور مجھے گورنمنٹ پنجاب کی طرف سے ہدایت ہوئی ہے کہ مَیں اس بارہ میں تحریر کروں کہ گورنمنٹ پنجاب کو اس تکلیف پر جو آپ کو یا آپ کے خاندان کے لوگوں کو پہنچی ہو گی شدید افسوس ہے۔
    آخر میں مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس امر کے اظہار کی ضرورت نہیں۔ اس واقعہ سے کسی قسم کی ہتک یا تحقیر مدنظر نہیں تھی آپ کی ذات کی یا اس مذہبی جماعت کی جس کے آپ معزز سردار ہیں۔
    گو اس چِٹھی میں ان بعض سوالات کا جو ہم نے اٹھائے ہوئے تھے جواب نہیں دیا گیا مگر بہرحال اس میں گورنمنٹ نے اس طریق کو اختیار نہیں کیا جو پہلے کیا تھا کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اس میں آپ کا تعلق ہے تو ایسا واقعہ نہ ہوتا بلکہ محض واقعہ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ قابلِ افسوس ہے اور ان افسروں کو سزا دی گئی ہے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ مَیں نے جنگ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ کے اس اظہار افسوس کو قبول کر لیا ہے اور اسے لکھ دیا ہے کہ ہم اس واقعہ کو اب ختم شدہ سمجھتے ہیں۔
    مَیں جہاں تک سمجھتا ہوں گو گورنمنٹ کے لئے یہ ماننا مشکل ہے کہ اس واقعہ کی بنیاد بعض اعلیٰ حکام کی سلسلہ احمدیہ سے مخالفت ہے کیونکہ واقعات بتاتے ہیں کہ جن امور کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی ہے وہ ڈیڑھ سال پہلے کے تھے اور اس کی ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بھی اطلاعیں دی جا چکی تھیں۔ ان مخالف افسروں میں سے مثال کے طور پر میں سی۔ آئی۔ ڈی کے ایک اعلیٰ افسر کا ذکر کرتا ہوں۔ سال سوا سال ہؤا انہوں نے ہمارے مبلغ صوفی عبد القدیر صاحبکو بلایا اور ان سے کہا کہ جاپان کے متعلق مجھے وہ معلومات دو جو تم نے وہاں رہ کر حاصل کی ہیں اور جو کارروائیاں وہاں ہو رہی ہیں وہ مجھے بتاؤ۔ صوفی عبد القدیر صاحب نے درست طور پر جواب دیا کہ مَیں جماعت کا ایک فرد ہوں اور اس کی طرف سے مَیں جاپان میں تبلیغی خدمت پر مقرر رہا ہوں۔ مَیں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا اگر جماعت کی معرفت مجھ سے جواب مانگا جائے تو مَیں جواب دے سکتا ہوں۔ ایک مبلغ کی حیثیت سے ان کا یہ جواب بالکل صحیح اور درست تھا۔ دنیا کی تمام مہذب گورنمنٹیں پادریوں کو اس قسم کے معاملات میں لپیٹا نہیں کرتیں اور اگر وہ مبلغوں کو بھی اس لپیٹ میں لے لیں تو تبلیغ کرنی مشکل ہو جائے۔ آخر مبلغ دوسرے ملکوں میں تبلیغ کرنے کے لئے جاتا ہے جاسوسی کرنے کے لئے تو نہیں جاتا، اگر جاپان اور امریکہ اور روس اور اٹلی اور سپین اورجرمنی وغیرہ حکومتوں کو یہ خیال پیدا ہو جائے کہ احمدی مبلغ انگریزوں کے جاسوس ہوتے ہیں تو وہ انہیں تبلیغ کی کہاں اجازت دیں گی۔ ایسی صورت میں تو جب کوئی مبلّغ ان کے ملک میں جائے گا وہ اسے پکڑ کر باہر نکال دیں گے۔ پس یہ نہایت ہی نامناسب بات ہے کہ کسی جماعت کے مبلّغوں کو اس کام پر مامور کیا جائے۔ اس افسر نے صوفی صاحب سے یہ بھی کہا کہ اگر آپ جاپان کے حالات نہیں بتائیں گے تو ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ صوفی صاحب نے کہا اگر آپ نے مجھے گرفتار ہی کرنا ہے تو بے شک کر لیں۔ اس واقعہ کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں نمبر دس کے بستے میں رکھ لیا گیا۔ چنانچہ اب تک ان کی مخفی نگرانی کی جاتی ہے۔ یوں مخفی تو نہیں کہ کسی کو اس کا پتہ نہیں۔ جس شخص کی نگرانی کی جاتی ہے، اسے تو پتہ لگ ہی جاتا ہے۔ اسی طرح اس کے دوستوں کو بھی پتہ لگ جاتا ہے۔ البتہ ظاہر میں پولیس ان کے دروازے پر نہیں بیٹھتی۔ اس کے بعد یکدم وہ پرانا واقعہ جو سال ڈیڑھ سال کا تھا اٹھانا شروع کر دیا گیا۔ پس ہمارے لئے اس بات کے یقین کرنے کی وجوہ موجود ہیں کہ اس میں بعض اعلیٰ حکّام اور بعض سی۔ آئی۔ ڈی کے افسروں کا ہاتھ تھا چنانچہ ہمارے دوسرے مبلّغ مولوی عبد الغفور صاحب کو جو مولوی ابوالعطاء صاحب کے بھائی ہیں انہیں بھی دھوکا دے کر امرتسر بلایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ کیا تم جاپان کے متعلق ہمیں معلومات دے سکتے ہو یا اگر تمہیں جاسوس بنا کر بھیجا جائے تو تم یہ کام کر سکتے ہو حالانکہ جس افسر نے یہ بات کہی اس کا ضلع گورداسپور کے کسی فرد کو گورداسپور کی پولیس کی وساطت کے بغیر بلانے کا کوئی اختیار ہی نہیں تھا اس کے ساتھ ہی اس نے یہ دھمکی بھی دی کہ جاپان سے جو لوگ آئے ہیں انہیں گورنمنٹ پکڑ رہی ہے اگر تم نے حالات نہ بتائے تو تمہیں بھی پکڑ لیا جائے گا حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو جاپان سے آئے مگر انہیں کسی نے گرفتار نہیں کیا صرف سی آئی ڈی کے بعض افسر معلومات حاصل کرنے کے لئے اس قسم کی دھمکی دے دیتے ہیں۔ پس اگر گورنمنٹ کے معنے وزراء کی باقاعدہ مجلس کے ہیں تو مَیں مان سکتا ہوں کہ اس واقعہ میں گورنمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا لیکن دوسرے بعض حکّام اور سی۔آئی۔ڈی کے بعض افسروں کا اس میں ہاتھ ضرور تھا انہوں نے ناجائز طور پر ہمارے مبلغوں سے معلومات حاصل کرنا چاہیں تاکہ گورنمنٹ کو بتا کر وہ خود عزت حاصل کر لیں جیسا کہ صوفی عبد القدیر صاحب کے واقعہ سے ظاہر ہے مگر جب وہ عزت انہیں حاصل نہ ہوئی تو انہوں نے ایک گزشتہ واقعہ جو ہو چکا تھا اسے نئے سرے سے ایسی شکل دے دی کہ دنیا یہ سمجھے کہ یہ کوئی نیا واقعہ ہؤا ہے۔ جب یہاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آئے تو مَیں نے ان کے سامنے ایسے واقعات رکھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ڈیڑھ سال کا ایک پرانا واقعہ ہے اور مَیں نے ان سے پوچھا کہ یہ ڈیڑھ سال کا واقعہ نئی صورت کس طرح اختیار کر گیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک عجیب اتفاق ہے مگر دنیا میں عجیب اتفاقات ہو ہی جایا کرتے ہیں۔ پھر مَیں نے دوسری مثال دی۔ کہنے لگے یہ بھی عجیب اتفاق ہے۔ مَیں نے کہا یہ سارے عجوبے یہاں کس طرح اکٹھے ہو گئے اور ان پرانے واقعات نے نئی صورت کس طرح اختیار کر لی۔
    غرض ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ درحقیقت اس واقعہ میں بعض بالا افسروں کا ہاتھ تھا لیکن جو فعل ہؤا وہ مقامی آدمیوں سے ہؤا۔ گویا وہی لفظ جو اس چِٹھی میں استعمال کیا گیا ہے یعنی ‘‘اَن فارچون’’ وہ اس واقعہ پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے بعض اَور لوگ مارے گئے حالانکہ اصل مجرم اَور تھے۔ مَیں اس وقت ساری باتیں اپنے خطبہ میں بیان نہیں کر سکتا اور بعض باتیں تو ایسی ہیں جن کا بیان کرنا مناسب بھی نہیں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسے یقینی ثبوت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بالا افسر اس کارروائی میں شامل تھے۔ مَیں یہ ماننے کے لئے تیار ہوں کہ قانوناً جس شکل کو گورنمنٹ کہتے ہیں وہ اس واقعہ کی ذمہ دار نہ تھی مگر بعض اَور بھی بالا افسر ایسے ہوتے ہیں جو گورنمنٹ کےقائمقام سمجھے جاتے ہیں اور جب ان کی رائے کسی کے خلاف ہوتی ہے تو ماتحت افسر اسے خود بخود نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں۔ پس بے شک اصطلاحی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گورنمنٹ کا ہاتھ اس واقعہ میں نہیں تھا مگر حقیقی طور پر گورنمنٹ کے بعض افسروں کا اس میں ہاتھ تھا۔ بہرحال چونکہ گورنمنٹ نے قطع نظر اس سے کہ اس واقعہ کا تعلق امام جماعت احمدیہ سے تھا یا نہیں کھلے طور پر اقرار کیا ہے کہ اس کے افسروں نے عقل اور تدبیر سے کام نہیں لیا بلکہ ہتک آمیز طریق اختیار کیا جس پر اس نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ان افسروں کے خلاف ایکشن لیا ہے جو اس فعل کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس لئے جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے مَیں اس معاملہ کو موجودہ جنگ کے حالات کے پیشِ نظر ختم کرتے ہوئے دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا پہلا اعلان جس میں مَیں نے انفرادی طور پر جماعت کے احباب کو قربانیوں کے لئے تیار رہنے کے لئے کہا تھا اب ختم ہو گیا ہے۔ اب اس کے لئے کسی تیاری یا بلاوے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
    (2)
    اس کے بعد ایک اور امر ہے جس کی طرف مَیں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مَیں نے گزشتہ خطبات میں جماعت کے دوستوں سے کہا تھا کہ اس سال انہیں غلہ جمع کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ ابھی قحط کے آثار پائے جاتے ہیں اور جنگ کے خطرات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ ہم نے صدر انجمن احمدیہ کے کارکنوں کے متعلق ایسا انتظام کر دیا ہے کہ کٹوتی کی رقموں کا ایک حصہ انہیں واپس کر دیا جائے اورجن کی کٹوتی کی کوئی رقم نہیں مثلاً وہ بعد میں ملازم ہوئے ہیں انہیں قرض دے دیا جائے اور وہ قرض دس مہینے کے اندر اندر واپس لے لیا جائے لیکن انجمن کے کارکنوں اور تاجروں کے علاوہ ایک اَور طبقہ بھی ایسا ہے جسے غلہ کی ضرورت ہے۔ تاجر تو قحط کے آثار کے ساتھ ہی اپنی اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ آٹھ آنے کی چیز ہو تو دس آنے کی کر دیتے ہیں۔ دس آنے کی چیز ہو تو بارہ آنے کی کر دیتے ہیں۔ اس وجہ سے تاجروں کو ان دنوں میں کوئی نقصان نہیں ہو سکتا بلکہ بعض تاجر ان اندنوں میں پہلے سے بہت زیادہ نفع کما لیتے ہیں۔ پھر جو لوگ گورنمنٹ کے ملازم ہیں اور انہوں نے بیوی بچوں کو قادیان بھیجا ہؤا ہے۔ وہ اپنی بیوی بچوں کو ہر مہینے خود خرچ بھیج دیتے ہیں اور ان کا گزارہ ہوتا رہتا ہے۔ مگر ان کے علاوہ ایک غرباء کا طبقہ ہے جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ انجمن کے ملازم نہیں کہ انہیں انجمن سے روپیہ مل جائے، وہ تاجر نہیں کہ دکانداری سے نفع کمائیں، ان کے کوئی رشتہ دار باہر ملازم نہیں کہ ان کی طرف سے انہیں ماہوار روپے آتے رہیں۔ اگر خدانخواستہ قحط پڑےتو ایسے لوگوں کو اپنے لئے روزانہ روٹی مہیا کرنی بالکل مشکل ہو جائے گی کُجا یہ کہ وہ سال بھر کے لئے غلہ جمع کر سکیں۔ اس قسم کے کئی لوگ ہیں جو مجھے درخواستیں بھجوا رہے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی انتظام کیا جائے اور بعض نے تو یہ لکھا ہے کہ اگر ہمیں قرض دیا جا سکے تو قرض ہی دے دیا جائے۔ ہم بعد میں روپیہ واپس کر دیں گے حالانکہ اُن میں سے بعض بے شک ایسے ہیں جو بعد میں قرض ادا کر سکتے ہیں مگر بعض ایسے ہیں جن کی نیت ہی نیت ہے انہیں توفیق نہیں کہ وہ قرض اتار سکیں۔ وہ منہ سے تو کہتے ہیں کہ اگر ہمیں قرض مل جائے تو ہم بعد میں ادا کر دیں گے مگر یا تو وہ اپنے نفس پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں جو نہیں رکھنا چاہئے اور یا ان کا تقویٰ اتنا کامل نہیں کہ وہ وعدے کی اہمیت کو سمجھیں۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ اس وقت تو قرض مل جائے بعد میں ادا نہ ہو سکا تو معاف کرا لیں گے ورنہ وہ قرض لے کر ادا کر ہی نہیں سکتے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہیں ضرورت ہے مگر ضرورت کے پورا کرنے کا کوئی اَور طریق ہونا چاہئے۔ وہ طریق جسے وہ اختیار ہی نہیں کر سکتے ان کے لئے کس طرح جاری کیا جا سکتا ہے۔ بے شک اس بات کا امکان ہے جیسا کہ گورنمنٹ کوشش کر رہی ہے کہ آئندہ ساونی میں بہت سی زمین کاشت کرا دے اور اس کے نتیجہ مین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکئی اور چاول وغیرہ بکثرت ہو جائے اور ستمبر اکتوبر میں گندم کا بھاؤ گر جائے مگر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اس دفعہ گندم کی پیداوار زیادہ نہیں ہوئی رقبہ زیر کاشت کم تھا اور پھر گندم کی جو پیداوار ہوئی۔ اس کے زیادہ حصہ کو بارش کی وجہ سےنقصان پہنچ گیا۔ اس وجہ سے اس سال گندم کی ہندوستان میں جو پیداوار ہوئی ہے وہ گزشتہ سال سے کئی لاکھ ٹن کم ہے اور پچھلے سال سے غلہ کے کھِتّے بھی بہت تھوڑے ہیں۔ گورنمنٹ کا اعلان ہے کہ گزشتہ سال یو۔پی میں دو ہزار گندم کا کھِتّہ2 تھا جو سار اخرچ ہو گیا اور اب صرف تیس کھِتّے باقی رہ گئے ہیں۔ اگر خدانخواستہ قحط پڑ جائے تو دسمبر سے اپریل تک کے ایام گزارنے کتنے مشکل ہو جائیں گے۔ تو یہ غرباء جو ہیں ان کی اس صورت میں کیا امداد ہو سکتی ہے؟ آخر یہ تو لوگوں نے کرنا نہیں کہ غلہ اتنا زیادہ جمع کر لیں کہ جب ضرورت ہو اس وقت اپنا غلہ غرباء کو دے دیں۔ اگر اس وقت غلہ مہنگا ہو جائے تو یہ تو ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ غرباء کے لئے روپیہ دے دیں لیکن اگر غلہ ملے ہی نہ تو روپیہ کیا کام دے سکے گا۔ پس اس صورت حالات کا ایک ہی علاج ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جن لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف ہے کھڑے ہو جائیں اور غرباء کے لئے غلہ بطور چندہ دیں۔ میرا خیال ہے کہ قادیان کے جو غرباء ہیں اور جنہیں لازمی طور پر مدد دینی پڑے گی انہیں اس مدد کی آخری مہینوں میں زیادہ ضرورت پیش آئے گی۔ ابتدائی مہینوں میں چونکہ غلہ عام ہے اس لئے ہمیں ان مہینوں کا فکر نہیں۔ زیادہ فکر دسمبر سے اپریل تک کے مہینوں کا ہے کہ ان پانچ مہینوں کے لئے ان کے لئے اتنا غلہ جمع ہو جائے جس سے ان کا گزارہ ہو سکے اورمیرا خیال ہے کہ قادیان کے غرباء کے لئے ہمیں ان پانچ مہینوں کے لئے کم سے کم پانچ سو مَن غلہ کی ضرورت ہو گی۔ مَیں امید کرتا ہوں کہ جن دوستوں کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ اس امر کو مدنظر رکھیں گے کہ غرباء کی ذمہ داری جماعت پر ہے اور ان کا فرض ہے کہ جہاں وہ اپنے لئے غلہ جمع کریں وہاں غرباء کی ضروریات کا بھی خیال رکھیں مثلًا قادیان کے لوگوں میں سے کسی نے دس مَن غلہ خریدا ہے کسی نے بیس مَن اور کسی نے تیس یا چالیس مَن۔ مَیں نے اپنے ذہن میں سوچا کہ ہماری شریعت نے زکوٰة کا طریق ایسے رنگ میں رکھا ہے جو نہایت ہی معقول ہے اور جس سے انسان پر کوئی زیادہ بار نہیں پڑتا۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ زکوٰة کے رنگ میں اپنے غلہ میں سے غرباء کے لئے غلہ نکالیں۔ زکوٰة چالیس حصہ کی ہوتی ہے۔ پس اگر کسی نے دس من غلہ لیا ہو تو وہ اس میں سے دس سیر غلہ غرباء کے لئے نکالے اور دس سیر غلے کا بوجھ قطعاً ایسا نہیں جو کسی کے لئے ناقابل برداشت ہو بلکہ مَیں تو سمجھتا ہوں اگر عورتیں خشکے میں ہی احتیاط سے کام لیں تو دس سیر غلہ کی کمی کو وہ پورا کر سکتی ہیں۔ ہمارے ملک میں عورتیں خشکے پر بہت سا آٹا ضائع کر دیتی ہیں۔ پہلے آٹے کے پیڑے پر کافی خشکہ لگاتی ہیں پھر اس خشکہ کو جھاڑتی ہیں اور جب روٹی پک جاتی ہے تو ایک دفعہ پھر اس پر سے خشکہ جھاڑتی ہیں۔ اگر عورتیں خشکے میں احتیاط سے کام لیں تو دس سیر غلہ کی کمی وہ آسانی سے پوری کر سکتی ہیں لیکن فرض کرو اگر کوئی عورت خشکے میں یہ کمی نہیں نکال سکتی تو پھر بھی اس کے نتیجہ میں اگر کسی دن تکلیف پہنچ جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔ چالیسویں حصہ کے حساب سے چالیس دنوں کے بعد ایک دن کا فاقہ بنتا ہے اور یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔ اگر کوئی شخص 39 دن آپ روٹی کھاتا ہے اور ایک دن اپنے غریب بھائی کو کِھلا دیتا ہے تو یہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ قربانی ہے جو وہ کر سکتا ہے۔ اول تو عورتیں اگر احتیاط سے کام لیں تو فاقہ کی نوبت ہی نہیں آ سکتی۔ وہ روٹی کا بہت سا حصہ ضائع کر دیتی ہیں ، کچھ حصہ جل کر ضائع ہو جاتا ہے، کچھ کچا رہ جاتا ہے، کچھ زائد پک جاتا ہے اور اس طرح وہ گائیوں اور بھینسوں یا کُتّوں کے آگے ڈالنا پڑتا ہے یا بعض دفعہ بے وقت روٹی پکا لی جاتی ہے اور اس طرح روٹی کا ایک حصہ ضائع ہو جاتا ہے پھر قریباً روزانہ ایسی بے احتیاطی سے روٹی پکائی جاتی ہے کہ ہر گھر میں روٹی آدھ روٹی روزانہ بچ جاتی ہے۔ اگر عورتیں اس بارہ میں احتیاط کریں تو یقیناً وہ اپنے چالیسویں حصہ کی کمی کو پورا کر سکتی ہیں لیکن اگر بفرض محال یہ کمی ان سے پوری نہ ہو سکے تو بھی اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ چالیس دن میں ایک دن کا فاقہ۔ حالانکہ ہمیں اسلام نے روزوں کے ذریعہ بارہ دن میں ایک دن کا فاقہ کرنا سکھایا ہے۔ گویا عام دنوں میں جب کوئی خاص مصیبت نہیں ہوتی۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ تم گیارہ دن کھاؤ اور بارھویں دن اپنے غریب بھائیوں کے لئے فاقہ کرو۔ پھر ایسی عظیم الشان مصیبت کے وقت جبکہ غلہ ملتا ہی نہ ہو چالیس دن میں ایک دن فاقہ کرنا کونسی بڑی بات ہے۔
    آجکل لوگ میری ہدایت کے ماتحت غلہ خرید رہے ہیں۔ کسی کے گڈے آ رہے ہیں، کسی کے ہاں مزدور غلہ لا رہے ہیں، کوئی اِدھر اُدھر پھر کر گندم اکٹھی کر رہا ہے مگر پاس ہی ان کے ہمسایہ میں ایک غریب ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ آج تو روٹی کا انتظام ہے کل نہ معلوم کیا ہو گا۔ ایسی حالت میں طبعی طور پر غرباء کے دلوں میں یہ خیال آتا ہے کہ ان کا گزارہ کیسے ہو سکے گا بالخصوص دوسروں کے گھروں میں غلہ آتے دیکھ کر غریب لوگوں اور ان کے بیوی بچوں کے دلوں کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ ایسی نہیں جسے آسانی کے ساتھ برداشت کیا جا سکے۔
    پس اول تو میں قادیان والوں سے کہتا ہوں کہ جنہوں نے غلے خریدے ہیں۔ ان میں سے جن کو خدا تعالیٰ ہمت اور توفیق دے۔ وہ غلہ خرید کر اس کا چالیسواں حصہ غرباء کے لئے الگ کر لیں اور اپنی بیویوں کو سنا دیں کہ تم نے پکانے میں ایسی احتیاط سے کام لینا ہے کہ یہ کمی پوری ہو جائے اور اگر یہ کمی پوری نہ ہوئی تو ہمیں چالیس دنوں میں سے ایک دن فاقہ کرنا پڑے گا۔ پھر باہر کی جماعتوں کو بھی مَیں توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ بھی اس میں حصہ لیں۔ اس میں روپیہ کی صورت میں وعدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ غلہ کی صورت میں وعدہ ہونا چاہئے۔ یعنی چاہے تو کوئی ایک مَن غلہ دے دے، کوئی دو من غلہ دے دے، کوئی تین مَن غلہ دے دے اور کوئی چار مَن غلہ دے دے۔ اگر وہ غلہ نہ دے سکیں تو انہیں رقم بھیج کر لکھ دینا چاہئے کہ ہمارے اس روپیہ سے اتنا غلہ خرید کر غرباء کو دے دیا جائے۔ قادیان سے باہر میری اپنی کچھ زمین ہے جو مَیں نے بٹائی پر دی ہوئی ہے اور کچھ گِرو ہے جو پھر واپس مقاطعہ 3پر لی ہوئی ہے چونکہ اس دفعہ بارش کی وجہ سے فصل کو نقصان ہؤا ہے اس لئے اس کا مقاطعہ، اوپر کے اخراجات اور گورنمنٹ کا معاملہ وغیرہ ادا کر کے کوئی پچاس مَن کے قریب غلہ بچتا ہے۔ مَیں نے رات یہ حساب کر کے فیصلہ کیا کہ یہ پچاس مَن غلہ مَیں اس چندے میں دے دیتا ہوں۔ پانچ سَو من غلے کا مطالبہ ہے جس میں سے پچاس مَن غلہ دینے کا مَیں نے وعدہ کیا ہے۔ اب باقی صرف ساڑھے چار سَو من غلہ رہتا ہے جو ساری جماعت کے لئے جمع کرنا کوئی مشکل نہیں۔ ہو سکتا تھا کہ ہماری جماعت کے بڑے بڑے آٹھ دس زمیندار ہی اس غلہ کو جمع کر دیتے مگر آٹھ دس آدمیوں کے حصہ لینے سے چونکہ ساری جماعت کو ثواب نہیں پہنچ سکتا تھا اس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ اس کا عام اعلان کر دوں تاکہ جو دوست اس ثواب میں حصہ لینا چاہیں وہ لے لیں۔
    پس مَیں تحریک کرتا ہوں کہ قادیان کے وہ دوست جنہوں نے غلہ خرید لیا ہے یا غلہ کے لئے انہوں نے روپیہ کا انتظام کر لیا ہے۔ وہ اپنے غریب بھائیوں کے لئے اپنے غلے کا چالیسواں حصہ بطور چندہ ادا کریں تاکہ مصیبت اور تنگی کے وقت غرباء کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ دیکھو مومنوں کے متعلق قرآن کریم میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ وہ بھوک اور تنگی کے وقت غرباء کو اپنے نفس پر ترجیح دیتے ہیں۔ 4 اور درحقیقت ایمان کے لحاظ سے یہی مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے مگر موجودہ زمانہ میں ہمیں وہ نمونہ دکھانے کا موقع نہیں ملتا جو صحابہؓ نے مدینہ میں دکھایا اس لئے ہمیں کم سے کم اس موقع پر غرباء کی مدد کر کے اپنے اس فرض کو ادا کرنا چاہئے جو اسلام کی طرف سے ہم پر عائد کیا گیا ہے اور اگر ہم کوشش کریں تو اس مطالبہ کو پور اکرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ پانچ سَو من غلے کا اندازہ بھی درحقیقت کم ہے اور یہ بھی سارے سال کا اندازہ نہیں بلکہ آخری پانچ مہینوں کا اندازہ ہے جبکہ قحط کا خطرہ ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سےآئندہ فصل اچھی کر دے اور جوار وغیرہ نکل آنے کی وجہ سے گندم سستی ہو جائے۔ بہرحال ہم میں سے ہر ایک کو سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے غریب بندے خدا تعالیٰ کے رزق کے ہم سے کم حصہ دار نہیں۔ خدا کی نامعلوم کس حکمت نے ہم کو رزق دے دیا اور ان کو نہیں دیا۔ شاید خدا تعالیٰ کو ہمارا امتحان منظور ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ ہم اس رزق کو کس طرح استعمال کرتے ہیں یا شاید بعض کے لئے اس میں سزا کا کوئی پہلو مخفی ہو یا شاید اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے ہمیں ثواب دینا چاہتا ہو کہ چونکہ ان کو رزق نہیں ملا اس لئے تم ان کو رزق دے کر اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرو۔ نہ معلوم ان تینوں باتوں میں سے کونسی بات اللہ تعالیٰ کے مدنظر ہے لیکن بہرحال یہ یقینی بات ہے کہ غریب بندے خدا تعالیٰ کے رزق میں ہم سے کم حصہ دار نہیں اور ہم میں سے کوئی فرد ایسا نہیں جو بشر ہونے کے لحاظ سے ایک غریب پر فوقیت رکھتا ہو بلکہ بشر ہونے کے لحاظ سے نبی اور کافر بھی برابر ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں بار بار اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ سے فرماتا ہے کہ قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ 5 یعنی اے رسول! کہہ دے۔ ابو جہل سے کہہ دے، عتبہ سے کہہ دے، شیبہ سے کہہ دے کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مَیں تمہاری طرح ہی ہوں اور مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔ اگر فرق ہے تو یہ کہ مَیں نے خدا تعالیٰ کے قرب کو پا لیا اور تم نے اس کا انکار کر کے اسے نارض کر دیا۔ اگر تم بھی نیکی اور تقویٰ اختیار کرو اور تم بھی قربانیوں میں حصہ لو تو اللہ تعالیٰ تم کو بھی ویسا ہی محبوب بنا سکتا ہے جیسے اس نے اَور لوگوں کو بنایا۔ آخر خدا نے ابو جہل کو ابو جہل اور ابو بکرؓ کو ابو بکرؓ اسی لئے بنایا کہ ابو بکرؓ نے اپنی بشریت کا صحیح استعمال کیا اور ابو جہل نے صحیح استعمال نہ کیا۔ اگر ابو جہل بھی اپنی بشریت کا صحیح استعمال کرتا تو وہ بھی ابو بکرؓ بن جاتا۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی حکمتیں ہیں جن کے ماتحت وہ کسی کو رزق دے دیتا ہے اور کسی کو نہیں دیتا۔ یہ بات غلط ہے کہ اگر کوئی عالم ہو تو اسے رزق مل جاتا ہے اور اگر عالم نہ ہو تو رزق نہیں ملتا۔ ہزاروں انٹرنس پاس ہیں جو چار چار پانچ پانچ سو روپیہ تنخواہ لے رہے ہیں اور ہزاروں بی۔ اے اور ایم۔ اے ہیں جنہیں بیس بیس تیس تیس روپے کی بھی نوکری نہیں ملتی اور اگر ملتی ہے تو عارضی طور پر ۔ پس یہ کوئی خدا کی مشیّت ہے جس کے ماتحت وہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا رہتا ہے۔ ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہو۔ پس مَیں قادیان والوں کو بھی اور باہر کی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ ثواب حاصل کرنے کا موقع ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ غرباء کے لئے غلہ دیں اور جو لوگ غلہ نہ دے سکیں وہ رقم بھیج کر ہمیں اجازت دیں کہ ہم یہاں سے غلہ خرید کر ان کی طرف سے غرباء میں تقسیم کر دیں تاکہ وہ اس گندم کو ان ایام کے لئے سنبھال کر رکھ لیں جن میں گندم کی کمی اور قحط کا خطرہ ہے۔ پھر مَیں باہر کی جماعتوں کو یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ اگر مقامی طور پر ان کی جماعتوں میں غریب احمدی ہوں تو وہ ان کا بھی خیال رکھیں۔ صرف یہی نہیں کہ قادیان کے غرباء کا خیال رکھا جائے بلکہ ہر جگہ کے غرباء کا مقامی جماعتیں خیال رکھیں اور جو لوگ اپنے لئے غلہ جمع نہیں کر سکتے ان کے لئے کچھ حصہ اپنے غلے میں سے الگ کر دیں تاکہ وہ ان ایام میں اطمینان کے ساتھ روٹی کھا سکیں اور آج سے ہی ان کے دلوں میں یہ پریشانی پیدا نہ ہو کہ ہم مصیبت کے وقت کیا کریں گے۔ یہاں کی جماعت کے دوستوں کو مَیں اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ غلہ خرید رہے ہیں وہ سخت غلط طریق اختیار کر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ نظام سے فائدہ اٹھاتے بے تحاشا اِدھر اُدھر دوڑے پھرتے ہیں۔ آپ لوگوں نے اجتماع اور نظام کا فائدہ دیکھا ہؤا ہے۔ ہماری جماعت کتنی چھوٹی سی ہے مگر نظام کی وجہ سے لوگوں پر اس کا بہت بڑا رعب ہے۔ اسی طرح آپ کو نظام سے اپنے ہر کام میں فائدہ اٹھانا چاہئے اور بجائے انفرادی رنگ میں کوشش کرنے کے اجتماعی رنگ میں کام کرنا چاہئے۔ اگر اکٹھے مل کر غلہ خریدا جاتا تو پونے چار روپے مَن تک مل جاتا مگر جونہی لوگوں کو روپیہ ملا انہوں نے اِدھر اُدھر دوڑنا شروع کر دیا۔ باہر کے زمیندار اور سکھ ان کا عجیب نقشہ کھینچتے ہیں۔ کہتے ہیں مولویوں نے بائیسکلوں پر بوریاں باندھی ہوئی ہوتی ہیں اور چاروں طرف دوڑتے پھرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ پانچ چھ دن کے اندر اندر ایک روپیہ قیمت بڑھ گئی کیونکہ بعض لوگوں نے تو گھبرا کر اپنا غلہ روک لیا کہ نہ معلوم کیا مصیبت آنے والی ہے کہ یہ لوگ گندم خریدنے کے لئے دوڑے پھرتے ہیں اورجنہیں روپیہ کی ضرورت تھی انہوں نے گراں قیمت پر غلہ فروخت کرنا شروع کر دیا۔ اگر ایک کمیٹی بنا لی جاتی اوروہ لوگوں کے لئے اکٹھا غلّہ خریدتی تو پونے چار روپے مَن تک بسہولت غلہ مل سکتا تھا۔
    پس مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ یہ طریق درست نہیں۔ آپ لوگوں نے نظام کی خوبیاں دیکھی ہوئی ہیں۔ اس نظام کو اپنے تمام کاموں میں وسیع کرو اور بجائے اس کے کہ گھبرائے گھبرائے اِدھر اُدھر پھرو، کمیٹیاں بنا لو اور باہمی مشورہ اور انتظام سے غلہ خریدو۔ اگر تم ذرا صبر سے کام لو گے تو گندم کی قیمت گِر جائے گی۔ اس وقت جو اس کی قیمت چڑھی ہوئی ہے یہ بالکل عارضی ہے۔ اتنی قیمت ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ مَیں سمجھتا ہوں اگر اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے اور جیسا کہ گورنمنٹ کوشش کر رہی ہے ستمبر اکتوبر میں مکی، باجرہ اور چاولوں کی کثرت ہو جائے تو گندم کی قیمت یکدم گرنے کا احتمال ہے۔ اس وقت زمیندار گندم کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے اور چاول یا باجرہ یا مکی پر گذارہ کر کے گندم کو سستے بھاؤ فروخت کر دیں گے۔ جو لوگ غلہ خرید رہے ہیں انہیں یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ تکلیف کے وقت ایک ہی قسم کی غذا پر اصرار نہیں کیا جا سکتا۔ پس وہ صرف گندم پر ہی اکتفاء نہ کریں بلکہ چاول وغیرہ بھی خرید لیں۔ اس طرح گندم کا خرچ بھی کم ہو گا اور ان کی صحتوں کو بھی کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اگر دوست میری اس نصیحت پر عمل کریں گے تو مجھے امید ہے کہ گندم کے جو بھاؤ اس وقت بڑھے ہوئے ہیں وہ گِر جائیں گے کیونکہ گندم کی اتنی کمی نہیں جتنا ڈر کی وجہ سے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ تکلیف کا سال کے آخری مہینوں میں خطرہ ہے اور اس کے لئے بھی ابھی سے غلّے کا ذخیرہ کر لینا چاہئے۔ ‘‘ (الفضل 30 مئی 1942ء)
    1: بخاری کتاب الصَّلٰوة باب الْمَرْأة تَطْرَحُ عَنِ الْمُصَلّٰی (الخ)
    2:کھتّہ: کھیت کی تخفیف
    3:مقاطعہ: ٹھیکہ ،اجارہ
    4: وَ الَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَ لَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الحشر: 10)
    5: الکہف : 111

    15
    جماعت کے غرباء کی اِمداد کے لئے غلّہ کی تحریک
    ( فرمودہ 29 مئی 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورہ ٔفاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔
    مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ۔ 1
    اور فرمایا:۔
    ’’پہلے تو مَیں ایک دفعہ جماعت کے دوستوں کو قادیان کے غرباء کے لئے خصوصاً اور بیرونی جماعتوں میں بسنے والےغرباء کے لئے عموماً پھر غلہ کی تحریک کرتا ہوں اور یہ امر بھی مَیں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ جو تحریک مَیں نے کی ہے اس کے جواب میں جو دوست حصہ لیں وہ اس امداد کے متعلق صدقہ کی نیت نہ رکھیں بلکہ اپنے بھائیوں اور عزیزوں کی امداد کی نیت رکھیں۔ اس اعلان کے کرنے میں میری دو غرضیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ قرآن کریم نے خرچ کرنے کی مختلف اقسام بیان فرمائی ہیں۔ ان اقسام میں سے ایک قسم خرچ کی اپنے دوستوں، اپنے رشتہ داروں اور اپنے بھائیوں کی امداد ہے مثلاً والدین کی امداد ہے، بیوی کی امداد ہے یا بیوی کی طرف سے خاوند کی امداد ہے یا بھائی کی امداد ہے یا بچوں کی امداد ہے اوریہ اخراجات بھی اسلامی اخراجات کی اقسام میں سے نہایت ضروری اور نہایت اہم ہیں۔ مگر یہ اخراجات ان معنوں میں صدقہ نہیں کہلاتے جن معنوں میں غرباء کو روپیہ دینا صدقہ کہلاتا ہے۔ عربی زبان میں صدقہ کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس میں صرف اتنی بات داخل ہے کہ اپنے اس خرچ کے ذریعہ سے اس تعلق کا ثبوت دیا جائے جو انسان کو اپنے پیدا کرنے والے سے ہے۔ صدقہ کے معنے خدا تعالیٰ سے اپنے سچے تعلق کا اظہار ہے اور چونکہ ماں باپ کی خدمت بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے اس لئے وہ بھی صدقہ کہلا سکتا ہے مگر عربی میں جو صدقہ کا مفہوم ہے اس کے لحاظ سے ان معنوں کے لحاظ سے نہیں کہ یہ ایسا خرچ ہے جو ردّ بلا کے لئے انسان کرتا ہے۔ اسی طرح بیوی کے ساتھ سلوک بھی عربی کے مفہوم کے لحاظ سے صدقہ ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے مُنہ میں لقمہ ڈالتا ہے تو وہ بھی صدقہ ہے۔2 مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ انسان یہ سلوک ردِّ بلا کے خیال سے اور آئندہ کی امید کے لئے کرتا ہے بلکہ ان معنوں کے لحاظ سے کہ وہ بیوی کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے، اس سے اس کی بیوی کا دل خوش ہوتا ہے اور وہ خیال کرتی ہے کہ میرے خاوند کو میرے کھانے کا فکر ہے اور یہ فعل تعلقات کو بڑھانے والا اور خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے والا ہے۔ یہ صدقہ ہے۔ مگر ہماری زبان میں صدقہ کے معنے یہ ہیں کہ جو خرچ ردّ بلا کے لئے اور آئندہ کی امید میں غرباء پر کیا جائے۔ مثلاً اس امید میں کہ ہمارا فلاں رشتہ دار بیمار ہے وہ اچھا ہو جائے یا کوئی مقدمہ ہے وہ ہمارے حق میں ہو جائے یا قرض اتر جائے یا عزت پر کوئی حرف آتا ہے اس سے محفوظ رہیں۔ صدقہ کا عربی میں یہ مفہوم بھی ہے اور اسی مفہوم کے لحاظ سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی3 کہ صدقہ دینے والا اسے قبول کرنے والے سے اچھا ہے اور مال کی اس تقسیم کو رسول کریم ﷺ نے عذابوں سے بچنے کا ذریعہ قرار دیا ہے اور یہ گویا خدا تعالیٰ کے ساتھ سَودے کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا اللہ مَیں یہ خرچ کرتا ہوں اور تُو اس کے عوض فلاں چیز مجھے دے دے۔ دوسرے اخراجات اپنے اندر یہ رنگ نہیں رکھتے۔ کسی شخص کا کوئی رشتہ دار یا دوست باہر سے آتا ہے تو وہ اس کی دعوت کرتا ہے۔ وہ ردّ بلا کے خیال سے اور آئندہ کی امید کے لئے صدقہ نہیں کہلا سکتا بلکہ خدا تعالیٰ کا شکریہ سابق احسان پر ہے۔ اسی طرح ماں باپ سے نیک سلوک، بیوی سے نیک سلوک، بچوں سے نیک سلوک، ہمسایوں سے نیک سلوک، مسافروں سے نیک سلوک، یہ سب ان معنوں میں صدقہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور اس کی غرض یہ ہے کہ دنیا میں محبت بڑھے، امن و چین کا دَور دورہ ہو اور دنیا کا تمدن اچھا ہو اور لوگ آپس میں مل ملا کر رہیں اور اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت کریں۔ اس کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ ہمارا فلاں پیارا اچھا ہو جائے، قرض اتر جائے، مقدمہ میں کامیابی ہو جائے یا عزت پرجو حرف آنے والا ہے، اس کا ازالہ ہو جائے۔ تو صدقہ کی کئی اقسام ہیں اور لوگ عام طور پر قرآنی صدقہ کی بہت سی قسموں سے غافل ہوتے ہیں۔ پس اس تحریک سے میرا ایک مطلب تو یہ ہے کہ عربی زبان میں صدقہ کا جو مفہوم ہے وہ بھی پورا کرنے کا دوستوں کو موقع مل جائے اور یہ مفہوم نہیں کہ ردِّ بلا کے لئے خرچ کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جائے۔ پس میرا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن دوستوں کو پہلے ایسا خرچ کرنے کا موقع نہیں ملا انہیں اس کا موقع مل جائے اور نیکی کا یہ خانہ خالی نہ رہے۔
    دوسری غرض میری یہ ہے کہ ہماری جماعت میں یہاں بھی اور باہر بھی بعض سادات قابلِ امداد ہیں اور سادات کو معروف صدقہ دینا منع ہے۔ پس اگر یہ انہی معنوں میں صدقہ کی نیت سے دیا جائے جو ہمارے ملک میں اس کا مفہوم ہے تو اس سے ہم سادات کی مدد نہیں کر سکتے۔ ہاں ہدیہ اور تحفہ سے ان کی مدد بھی کر سکتے ہیں۔ تحفہ انسان ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، بچوں، دوستوں، رشتہ داروں غرضیکہ سب کو دے سکتا ہے۔
    پس میری یہ دو اغراض ہیں جن کی وجہ سے مَیں نے کہا ہے کہ جو دوست میری اس تحریک میں حصہ لیں وہ صدقہ کی نیت نہ کریں جس طرح کہ وہ اپنے بھائیوں، بہنوں، بیوی بچوں یا ماں باپ کو تحفہ دیتے ہیں تا جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے ایک طرف تو ان کی نیکی کا یہ خانہ خالی نہ رہے یا جن کا پہلے ہی خانہ نہیں ان میں زیادتی ہو سکے اور دوسرے یہ کہ اس تحریک سے وہ لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں جو صدقہ کی صورت میں نہیں اٹھا سکتے۔
    اس سلسلہ میں دوسری بات جو مَیں کہنی چاہتا ہوں، یہ ہے کہ گو اس وقت تک کافی وعدے آ چکے ہیں، باوجودیکہ اس تحریک پر ابھی تھوڑا وقت گزرا ہے اور میرا خطبہ آج ہی شائع ہؤا ہے اِس وقت تک غلہ اور نقد کے جو وعدے آئے ہیں وہ غلہ کی صورت میں سوا دو سَو من کے قریب کے ہیں اور گو ابھی تک مکمل فہرست تو میرے سامنے نہیں آئی مگر مَیں سمجھتا ہوں ابھی قادیان کے بھی بہت سے دوست ہیں جنہوں نے اس میں حصہ نہیں لیا اور باہر کی جماعتیں تو قریباً ساری ہی ایسی ہیں جنہوں نے ابھی اس میں حصہ نہیں لیا۔ باہر کی جماعتوں میں سے سب سے بڑھ کر حصہ لینے والی اور اول نمبر حاصل کرنے والی لائل پور کی جماعت ہے۔ اس جماعت نے سب سے پہلے اور فوری طور پر اور جماعتی رنگ میں اپنا وعدہ بھجوایا۔ اس کے سوا باہر کی کوئی ایسی جماعت نہیں جس نے اس وقت تک جماعتی طور پر حصہ لیا ہو۔ گو یہ جماعت چھوٹی ہے اور اس لحاظ سے اس نے حصہ بھی تھوڑا ہی لیا ہے مگر سب سے پہلے حصہ لیا ہے اور خطبہ شائع ہونے سے بھی پہلے لیا ہے اور اجتماعی رنگ میں لیا ہے اور اس وجہ سے وہ بیرونی جماعتوں میں سے اول نمبر لے گئی ہے۔ سوائے ان جماعتوں کے جن تک ابھی یہ اطلاع نہیں پہنچی اور نہ پہنچ سکتی تھی۔ ان میں سے بعض کو تو اب اطلاع ملی ہو گی مثلاً کلکتہ، بمبئی، حیدر آباد و سکندر آباد وغیرہ کی جماعتیں ہیں۔ ان کو جب خبر پہنچے تو اگر وہ جلدی کریں تو ممکن ہے اول نمبر میں شامل ہو جائیں۔ پس مَیں پھر ایک دفعہ بیرونی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں حصہ لیں اور صدقہ کی نیت نہ رکھیں اور اس طرح نیکی کے اس خانہ کو پُر کریں جس میں اب تک بہت کم عمل درج ہیں۔
    اس کے بعد ایک اَور بات ہے جس کے متعلق مَیں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ مَیں دوستوں کو ہمیشہ دعاؤں کے متعلق کہتا رہتا ہوں اور خود بھی دعائیں کرتا ہوں۔ اس وقت حالات ایسے خراب ہو چکے ہیں کہ ملک کے امن میں بہت خلل پڑنے کا ڈر ہے۔ ایک طرف تو بیرونی حکومتیں اور طاقتیں کوشش کر رہی ہیں کہ ہندوستان پر قبضہ کر لیں اور دوسری طرف بدقسمتی سے ہندوستان کی مختلف قوموں میں اختلاف بڑھ رہے ہیں۔ ہر قوم منصوبے کر رہی ہے کہ موقع ملے تو مَیں دوسری قوموں کے اموال اور جائدادوں پر قبضہ کر لوں اور ان کی جانوں کو ضائع کروں حالانکہ یہ کتنی خراب بات ہے جو صرف اخلاق کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ دوسرے ملکوں میں اگر مصیبت آئے تو لوگ ایک دوسرے کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مدد کریں گے مگر ہمارے ملک میں یہ حالت ہے کہ ہر شخص اپنے گاؤں میں بیٹھا خوش ہو رہا ہوتا ہے کہ موقع ملے تو لوٹ مار کریں گے۔ ایک طرف ہندوستان کے لئے آزادی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف شیطان کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کی طر ف کوئی توجہ نہیں۔ حالانکہ حقیقی آزادی وہی ہے جو شیطان کی غلامی سے حاصل کی جائے۔ دنیا میں کوئی قوم حکومت نہیں کر سکتی جب تک وہ ایک حد تک شیطان کی غلامی سےآزاد نہ ہو۔ بے شک غیر قومیں بھی دوسروں پر ظلم کرتی ہیں مگروہ غیروں پر ظلم کرتی ہیں اپنوں پر نہیں۔ جرمنوں نے بہت سے ملکوں پر قبضہ کر لیا ہے اور بعض پر حملے کر رہے ہیں مگر ان کی غرض یہ نہیں کہ ہٹلر کو بہت سا مال مل جائے یا گوئرنگ کی جائداد میں اضافہ ہو جائے۔ وہ دوسروں کو ضرور لوٹتے ہیں مگر قوم اور ملک کے فائدہ کے لئے لوٹتے ہیں اور اس طرح اس لوٹنے میں ایک رنگ نیکی کا بھی ہے۔ روس پر جرمن حملہ کی غرض یہ نہیں کہ ہٹلر کی جائداد بڑھ جائے یا اگر جرمنوں نے پولینڈ کو لوٹا تو کسی خاص فرد نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اس سے ہزاروں لاکھوں جرمن پل رہے ہیں۔ وہ دوسروں پر ظلم تو کرتے ہیں مگر بنی نوع انسان کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جس کی خیر خواہی کی جاتی ہے مگر ہمارے ملک میں یہ حالت نہیں۔ یہاں کے لوگوں کی ذہنیت ڈاکوؤں کی سی ہے اور اس ذہنیت کے لوگ کسی کے بھی خیر خواہ نہیں ہوتے اورہمارے ملک کی یہی ذہنیت ہے۔ جاپان اس وقت بڑھ رہا ہے مگر اس پیش قدمی سے اس کا مقصد یہ نہیں کہ اس کے وزیر اعظم جنرل ٹوچو کو بہت سا مال مل جائے یا اس کے بادشاہ میکاڈو کی جائداد وسیع ہو جائے بلکہ یہ غرض ہے کہ بحیثیت مجموعی سب جاپانی فائدہ اٹھا سکیں۔ انگریزوں کو برا کہا جاتا ہے اور ان میں بھی نقائص ہیں مگر ہندوستان پر قبضہ کر کے ان میں سے خاص اشخاص نے فائدہ نہیں اٹھایا، ہر فرد نے اٹھایا ہے بلکہ ان کی سیاست کے پیش نظر یورپ کے ہر فرد نے فائدہ اٹھایا ہے۔ فرانسیسی بھی یہاں ملازم ہیں اور جرمن بھی تجارتیں کرتے ہیں۔ صرف ہندوستانیوں یا ایشیائیوں کے لئے دقتیں ہیں، یورپینوں کو نہیں۔ مَیں نے ملاقات کے وقت بعض انگریزوں کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ جب کوئی ہندوستانی ان سے ملنے آئے تو وہ اسے ملیں گے بھی تو اس طرح جس طرح کتے کے آگے روٹی ڈالی جاتی ہے مگر جب کوئی جرمن ان کی کوٹھی پر آ جائے تو برادرانہ طور پر ملتے ہیں۔ اس وقت وہ انقباض جاتا رہتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا ہم جنس ملنے آیا ہے۔ ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ سیاسی قبضہ ہے ڈاکوؤں والا نہیں مگر ہمارے ملک کی ذہنیت ڈاکوؤں والی ہے۔ فاتح قومیں بے شک بالواسطہ فائدہ اٹھاتی ہیں ، ٹیکس بڑھا دیتی ہیں، تجارتوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اس طرح ظلم تو کرتی ہیں مگر یہ سیاسی ظلم ہیں جو ایک حد تک برداشت کئے جا سکتے ہیں اور اس طرح دوسری قوم کو کمزور کرنے میں سینکڑوں سال لگ جاتے ہیں مگر ڈاکو اس طرح نہیں کرتے۔ وہ تو ایک ہی دن میں مال لوٹ لیتے ، جانیں ضائع کر دیتے اور گھر بار جلا دیتے ہیں لیکن جو قومیں سیاسی قبضہ کرتی ہیں وہ سینکڑوں سالوں میں جا کر دوسری قوم کو کمزور کرتی ہیں۔ انگریز ہندوستان میں قریباً تین سو سال سے ہیں لیکن آج بھی یہاں لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔ اپنی زمینوں اورجائدادوں کے مالک ہیں۔ مگر ہمارے ملک کی ذہنیت ڈاکوؤں والی ہے اور یہ ذہنیت خطرات کو بہت بڑھا دیتی ہے۔ ایک طرف تو انگریزوں کے خلاف جذبۂ نفرت پیدا کیا جا رہا ہے، پیدا ہو گیا ہے اور پیدا ہوتا جائے گا۔ حکومت کو یا تو پتہ نہیں اوریا پھر وہ مصلحتاً خاموش ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک دوسری قوم کے خلاف بھی لوگوں کو اُکسایا جا رہا ہے۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ یہ سکھوں کا ملک ہے، کہیں کہا جاتا ہے ہندوؤں کا ہے۔ چوری چوری ہتھیار جمع کئے جا رہے ہیں، ایمونیشن اکٹھا کیا جا رہا ہے، تیزاب فراہم کیا جاتا ہے اور یہ ذہنیت مقامی طور پر بہت بڑی بربادی کا موجب ہو سکتی ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ ایک گاندھی نہیں اگر دس کروڑ گاندھی ہوں بلکہ ہندوستان کی آبادی چالیس کروڑ بتائی جاتی ہے اگر 40 کروڑ گاندھی بن جائیں لیکن ذہنیت یہی ہو جو اس وقت ہے تو چالیس کروڑ گاندھی مل کر بھی انگریزوں کو یا کسی دوسری قوم کو ہندوستان سے نہیں نکال سکتے۔ جس قوم کی ذہنیت غلام ہو وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتی۔ جو قوم اندرونی نظم و نسق کو درست نہیں کر سکتی وہ دوسرے کے مقابل پر کبھی کھڑی نہیں ہو سکتی اور بھلا کون معقول آدمی تسلیم کرے گا کہ جو قومیں پیپل کی ٹہنیوں پر لڑتی ہیں، جو تعزیوں پر اور گائے کی قربانی کے لئے لڑتی ہیں وہ ایک دوسری سے حکومت لینے یا ملک حاصل کرنے کے لئے نہ لڑیں گی۔ یہ تو محض بہانہ ہے کہ انگریز لڑاتے ہیں اور یہ لڑائیاں اس وجہ سے ہیں کہ انگریز یہاں ہیں۔ یہ عقائد انگریزوں نے تو نہیں بنائے۔ گائے کی قربانی یا حرمت کے عقائد ان کے بنائے ہوئے نہیں۔ اسلام میں سینکڑوں سالوں سے اس کی اجازت چلی آتی ہے اور ہندوؤں کے اندر بھی سینکڑوں سالوں سے اس کی حرمت کا عقیدہ چلا آتا ہے۔ انگریزوں سے پہلے بھی یہاں تعزیے نکلتے تھے، گھوڑا نکلتا تھا، ہولی انگریزوں سے پہلے بھی ہوتی تھی اور ان سے پہلے بھی ایک دوسرے پر رنگ پھینکا جاتا تھا۔ یہ باتیں انگریزوں نے پیدا نہیں کیں اور گو یہ باتیں نامناسب ہیں لیکن اگر ہر شخص اور ہر قوم یہ سمجھے کہ دوسرے کے معاملات میں دخل نہیں دینا تو کوئی جھگڑا پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ اگر ہندو ایک دوسرے پر رنگ پھینکنا چاہیں تو کسی کا حق نہیں کہ انہیں روکے بلکہ اگر کوئی اپنے اوپر نیل کا مٹکا بھی گرانا چاہے تو کسی کو روکنے کا حق نہیں۔ لیکن اگر کوئی مسلمان اسے ناپسند کرتا ہے اور اس میں اپنی ذلت سمجھتا ہے تو اس پر کیوں پھینکا جائے۔ اب ان باتوں میں انگریزوں کا کیا دخل ہے۔ انہوں نے تو یہ تعلیم نہیں دی اور نہ یہ عقائد پھیلائے ہیں یا کوئی مسلمان اپنے گھر میں گائے کی قربانی کرتا ہے، بازاروں میں اس کا گوشت لئے نہیں پھرتا اور ہندوؤں کو نہیں دھمکاتا تو اس میں ہندوؤں کا کیا نقصان ہے یا ہندو دسہرہ مناتے ہیں تو اس میں مسلمانوں کا کیا نقصان ہے۔ ہندو باجا بجاتے ہیں گو اس سے نماز کا وقت ہو تو ایک حد تک نماز میں حرج ہوتا ہے لیکن اگر ہندو مسلمانوں کے کاموں میں دخل نہ دیں تو باجا پر ان کو اعتراض کی ضرورت نہیں ۔ جتنا زیادہ مسلمان اس سے چِڑتے ہیں اتنا ہی وہ اور بجاتے ہیں۔ یہاں بھی بعض اوقات ہندو باجا بجاتے ہیں مگر ہم نہیں روکتے اور مسجد میں بھی کبھی اتنا شور ہم نے نہیں سنا۔ اگر دوسرے مسلمان بھی اس پر بُرا نہ منائیں تو ہندو خود بخود چھوڑ دیں۔ وہ سمجھیں گے کہ مسلمان تو اس سے چِڑتے نہیں یہ خوامخواہ اپنے ڈھول پھاڑنے والی بات ہے۔ تو اگر آپس میں محبت اور پیار کا طریق جاری ہو تو ان چیزوں کا خود بخود علاج ہو سکتا ہے۔ یہ جھگڑے صرف اس وجہ سے ہیں کہ اس بات پر اصرار کیا جاتا ہے کہ دوسرے سے بھی وہی کرائیں جو خود کرتے ہیں اور یہ باتیں انگریزوں نے پیدا نہیں کیں۔ دوسرے کے ذمہ اتنا ہی قصور لگانا چاہئے جتنا اس سے سرزد ہو اور ہمیشہ سچائی کو دیکھنا چاہئے اور سچائی کے پیچھے چلنا چاہئے۔ ان باتوں نے ملک کے امن و چین کو بگاڑ دیا ہے اور اسی وجہ سے مَیں دوستوں کو دعا کی تحریک کرتا رہتا ہوں اور خود بھی دعائیں کرتا رہتا ہوں۔
    پرسوں کی بات ہے کہ مَیں اسی طرح دعا کررہا تھا۔ میرے دل میں خیال آیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہو جائے تو اطمینان ہو۔ ہماری تو 32 دانتوں میں زبان کی سی حالت ہے ۔ ہم مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں مگر وہ ہمارے دشمن ہیں، ہم ہندوؤں کے خیر خواہ ہیں مگر ہندو ہمارے دشمن ہیں، ہم سکھوں کے خیر خواہ ہیں مگر سِکھ ہمارے دشمن ہیں، ہم عیسائیوں کے خیر خواہ ہیں مگر عیسائی ہمارے دشمن ہیں، ہم انگریزوں کےو فادار ہیں مگر وہ بھی ہمارے دشمن ہیں۔ ان کی مشین جب چلتی ہے ہمارے خلاف ہی چلتی ہے۔ گویا ہم 32 دانتوں میں زبان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں مگر ہمارا ہر ایک دشمن ہے اس وقت لڑائی ہو رہی ہے، ہماری جماعت کے ہزاروں نوجوان بھرتی ہو کر جنگ میں جا رہے ہیں اور ماں باپ اور خویش و اقارب کو چھوڑ کر جاتے ہیں۔ کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہمیں نوکری کی ضرورت نہیں مگر ان کے ماں باپ کہتے ہیں کہ نہیں حضرت خلیفة المسیح کا حکم ہے اس لئے ضرور جاؤ۔ مگر پنجاب کے انگریز افسر ہمیں باغی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ ہمارا اس سے کچھ نہیں بگڑتا جتنا وہ ہم کو باغی ثابت کرنا چاہتے ہیں اتنا ہی خدا تعالیٰ کی نظر میں ہمارا درجہ زیادہ بلند ہوتا ہے۔ مسلمان ہم کو کافر قرار دیتے ہیں، ان کی سیاسی انجمنیں قانون بناتی ہیں کہ ہمارے ممبروں کا پہلا فرض یہ ہو گا کہ احمدیوں کو دائرہ اسلام سے نکلوائیں مگر ان پر جو بھی مصیبت آتی ہے اس میں ہم ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور مشکلات میں قربانیاں کرتے ہیں اور اپنے مال اور اپنی جانیں خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ہندوؤں کی بھی مدد کرتے ہیں۔ جہاں کہیں فساد ہو، احمدی ان کی مدد کرتے ہیں۔ جب مولچوں کے علاقہ میں فساد ہوئے تو ہائیکورٹ کے ایک جج نے یہ بیان کیا کہ جب مسلمان ہندوؤں کو مارتے تھے تو احمدی اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر ان کو بچاتے تھے مگر ہندوؤں کا جہاں بھی بس چلے احمدیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ سِکھ گوروؤں کی ہم اتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی کی جا سکتی ہے مگر سِکھ ہمارے خلاف ہیں اور ان کی آنکھوں سے ہمارے خلاف شعلے نکلتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو ان کو ختم کر دیا جائے۔ دوسرے مسلمانوں کی ہم ہر موقع پر مددد کرتے ہیں مگر وہ ہمیشہ ہمارے خلاف رہتے ہیں اور اَیسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ اسماعیلی سلسلہ ہے اور حضرت ابراہیم کی پیشگوئی ہے کہ:۔
    ‘‘سب کے ہاتھ اس کے برخلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بود و باش کرے گا۔’’4
    سو اگر ہمارے خلاف ہمارے بھائیوں کی تلوار اٹھی رہتی ہے تو یہ ثبوت ہے ہمارے سلسلہ کے اسماعیلی سلسلہ ہونے کا۔ آنحضرت ﷺ نے دنیا میں تمام بانیانِ مذاہب کی عزت قائم کی۔ آپ نے اعلان فرمایا کہ اے عرب کے لوگو! سن لو کہ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ۔ 5 ہندوستان میں بھی اللہ تعالیٰ کے نبی آئے ہیں۔ شام میں بھی اللہ تعالیٰ کے نبی آئے ہیں، عراق میں بھی آئے ہیں اور ایران میں بھی آئے ہیں اور دنیا کی ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے ہادی بھیجے ہیں۔ مگر ہندو کوئی کتاب لکھتا ہے تو رسول کریم ﷺ کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ جھوٹا ، فریبی اور دغا باز لکھتا ہے۔ عیسائی کوئی کتاب لکھتا ہے تو اس میں آپ کو نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ جھوٹا، فریبی اور دغا باز لکھتا ہے۔ وہ محمد (ﷺ) جس نے اپنے ماننے والوں کے دلوں سے دوسری قوموں کے سرداروں اور لیڈروں کی نفرت کو دور کر کے ان کی محبت کو قائم کیا۔ اسے اس کا بدلہ یوں دیا جاتا ہے کہ جب بھی کسی کو موقع ملتا ہے آپ کو جھوٹا، فریبی اور دغاباز کے نام سے یاد کرتا ہے۔ یہ کیوں ہے؟ حالانکہ لوگ دنیا میں بالعموم قدر کرنے والے ہوتے ہیں۔ حسن و احسان کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ اسی لئے ہے کہ تا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہو۔ ‘‘ سب کے ہاتھ اس کے برخلاف ہوں گے۔’’اور تا وہ نشان ظاہر ہو جو خدا تعالیٰ نے اسماعیلی سلسلہ کے لئے مقرر کیا ہے۔ محمد (ﷺ) سے زیادہ محسن اَور کوئی نہیں مگر آپ سے زیادہ دشمنی بھی کسی کےساتھ نہیں کی گئی اور یہی ہمارا حال ہے۔ ہم سب کی خیر خواہی کرتے ہیں مگر سب ہمیں مٹانا چاہتے ہیں۔ تو مَیں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ سلسلہ سب سے زیادہ خطرات میں گھرا ہؤا ہے۔ یا الٰہی تُو اپنا فضل کر اور یہی دعا کرتا کرتا مَیں سو گیا۔ صبح کےقریب کا وقت تھا کہ میرے سامنے ایک کاغذ لایا گیا جس پر کچھ لکھا تھا۔ مَیں نے اسے پڑھنا شروع کیا مگر کشف میں ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رات کا وقت ہے اور وہ ٹھیک طرح پڑھا نہیں جاتا۔ کئی بار مَیں نے کوشش کی مگر ٹھیک طور پر پڑھا نہیں گیا لیکن آخر پڑھا گیا۔ اس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا اس کے بعد یہ الفاظ میرے دل پر بھی اور زبان پر بھی نازل ہونے شروع ہوئے اور بہت دیر تک آدھ گھنٹہ یا معلوم نہیں کتنے عرصہ تک میری زبان پر یہ الفاظ جاری رہے۔ زبان بھی یہی الفاظ کہتی تھی اور دل میں بھی بار بار دہرائے جاتے تھے۔ جب مَیں اٹھا تو میرے ذہن میں یہ آیت نہ تھی جو مَیں نے شروع خطبہ میں پڑھی ہے اور مجھے یہ یاد نہ تھا کہ یہ قرآن کریم کے الفاظ ہیں۔ مَیں سمجھتا تھا کہ قرآن کریم میں شجرہ طیبہ کی جو مثال دی گئی ہے انہی الفاظ کا ترجمہ کر کے میرے سامنے لایا گیا ہے۔ کل مجھے خیال آیا کہ دیکھوں تو سہی یہ کسی آیت قرآنی کا ٹکڑا تو نہیں اور میرے مدنظر تُؤْتِيْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍ والی آیت تھی۔ اور مَیں نکالنے بھی وہی لگا تھا کہ اُکُل کے لفظ کے نیچے یہی آیت مل گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس جنت کا مومنوں کو وعدہ دیا گیا ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُاس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ اُكُلُهَا دَآىِٕمٌاس کے پھل دائمی ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔ وَظِلُّهَااور اس کا سایہ بھی دائمی ہے وہ بھی کبھی ختم نہیں ہوتا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْا مگر یہ انجام ان کا ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور متقیوں کی زندگی بسر کرتے ہیں وَ عُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ اور جو اس سچائی کا انکار کریں ان کا انجام دوزخ ہے۔ پہلے میرا یہ خیال نہ تھا کہ یہ الفاظ کسی آیت کا ٹکڑا ہیں۔ قرآن ہمیشہ پڑھا جاتا ہے مگر بعض اوقات کوئی آیت ذہن میں نہیں ہوتی۔ پہلے مَیں اسے آیت نہیں سمجھتا تھا مگر بعد میں معلوم ہؤا کہ آیت ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا۔ اللہ تعالیٰ نے احمدیت کے پھلوں کو اور اس کے سایہ کو دائمی بنانے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اس لئے کوئی دشمن اسے کچل نہیں سکتا۔ اتنی تکرار کے ساتھ یہ الفاظ الہام ہوتے رہے کہ شاید نصف یا پون گھنٹہ مسلسل جس طرح تار سارنگی پر پڑتی ہے یہ الفاظ میرے قلب پر پڑتے رہے یہاں تک کہ میری آنکھ کھل گئی۔ مَیں نے آنکھ کھل گئی کے الفاظ بولے ہیں کیونکہ کشف یا الہام کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ نرالی ہوتی ہے وہ ایک غنودگی کی حالت ہوتی ہے مگر انسان سمجھتا نہیں کہ غنودگی کی حالت ہے۔ وہ اپنے بستر کو بھی محسوس کرتا ہے اور گردو پیش کی دوسری چیزوں کو بھی۔ مگر پھر بھی ایک غنودگی اور ربودگی کی حالت ہوتی ہے۔ وہ اپنے آپ سے کھویا ہؤا ہوتا ہے اور حواس باطنی کے ماتحت دیکھتا ہے۔ مَیں نے جب یہ حالت دیکھی تو اس وقت مَیں جانتا تھا کہ میری کروٹ کس طرف ہے، کس جگہ ہوں اور حِس ایسی تھی جیسے جاگتے ہوئے ہوتی ہے مگر حواس ظاہری کھوئے ہوئے تھے اور باطنی حواس پیدا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک طرف تو بشارت دی ہے مگر دوسری طرف یہ بتایا ہے کہ یہ انجام متقیوں کا ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْا گو یہ حصہ الہام میں شامل نہیں مگر جب کسی آیت کا کوئی ٹکڑا الہام ہو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ساری آیت اس میں شامل ہے۔ اس لئے ہماری جماعت کو چاہئے کہ متقی بنے۔ بعض لوگ معمولی معمولی باتوں میں جھوٹ بول دیتے ہیں، بعض لوگ آجکل غلہ کے معاملہ میں بھی بد عہدی کر دیتے ہیں، بعض ایسے لوگوں سے خریدتے ہیں جن سے خریدنے کی ممانعت ہے۔ اگر تو ہماری حالت افراد کی ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ہمارے ہزار میں سے صرف بیس ایسے ہیں اور اس بات پر ہم فخر کر سکتے تھے مگر ہمیں تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ساری دنیا کو شامل کرو اور پھر سارے نیک بنو۔ پس مَیں دوستوں کو پھر یہ نصیحت کرتا ہوں کہ متقی بنو، سچائی کو شعار بناؤ جو کام کرو اس میں سچ بولو، ڈرو نہیں۔ ڈرنے کی آخر بات ہی کیا ہے۔ انسان ڈرتا اس وجہ سے ہے کہ سمجھتا ہے میرا روپیہ ضائع ہو جائے گا، جان چلی جائے گی یا عزت پر حرف آئے گا لیکن سوچنا تو چاہئے کہ وہ روپیہ آیا کہاں سے تھا، جان کس نے دی تھی اور عزت خدا تعالیٰ کے سوا کس کے ہاتھ میں ہے۔ پس مومن کو چاہئے کہ نڈر ہو اور سوائے خدا تعالیٰ کے کسی سے نہ ڈرے۔ جان مال اور عزت، کسی چیز کے ضائع ہونے سے خوف نہ کھائے کہ یہ سب عارضی چیزیں ہیں۔ حضرت مسیح ناصری کو جب دشمنوں نے صلیب پر لٹکایا تو دنیا یہ خیال کرتی تھی کہ آپ کی ذلت انتہا کو پہنچ گئی۔ آپ کو جس مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا وہ آپ کا ہمدرد تھا اور اس نے کوشش کی کہ آپ اپنے دعویٰ کو ذرا نرم کر دیں مگر آپ نے ایسا نہ کیا۔ محمد (ﷺ) سے کفار نے یہ کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ شرک کرو یا اسلام چھوڑ دو بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے دیوتاؤں اور معبودوں کو بُرا نہ کہو۔ یہ تجویز بظاہر اتنی معقول تھی کہ ابو طالب جو آپ کےچچا تھے انہوں نے بھی ابتداءً معقول سمجھا، کفار نے ابو طالب کو دھمکی بھی دی کہ اگر تم اتنی سی بات بھی نہ منوا سکے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم بھی محمد (ﷺ) کے ساتھ ہو اور ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہو۔ ابو طالب نے آنحضرت ﷺ کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے آج تیری قوم میرے پاس آئی تھی۔ وہ لوگ بڑے دکھی ہیں اور وہ کہتے تھے کہ آخر محمد (ﷺ) ہم میں سے ہی ہے۔ اسے ہمارے معبودوں کو بُرا کہنے میں کیا مزہ آتا ہے۔ ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ اس سے صلح کر لیں۔ اپنے آپ کو اس کے ماتحت کر دیں اور اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیں اور اس سے یہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنا کوئی عقیدہ چھوڑ دے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کو بُرا نہ کہے۔ ابو طالب نے آپ سے یہ بھی کہا کہ میرے بھتیجے مَیں نے کس طرح ہر مصیبت کے وقت تیری مدد کی ہے مگر قوم آخر قوم ہی ہے آج تو وہ مجھے بھی نوٹس دے گئے ہیں کہ اگر تم اپنے بھتیجے سے اتنی سی بات بھی نہ منوا سکو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم بھی اس کے ساتھ ہو اور ہم تم سے بھی قطع تعلق کر لیں گے۔ چونکہ ابو طالب کے آنحضرت ﷺ پر احسان تھے اور وہ ہمیشہ آپ کا ساتھ دیتے آئے تھے اس لئے اس بات کا خیال کر کے کہ ابو طالب کو اپنی قوم کے چھوٹ جانے کا ڈر ہے۔ آپ نے فرمایا چچا آپ کے مجھ پر بڑے احسان ہیں، آپ سے مَیں کچھ نہیں کہتا، آپ بے شک اپنی قوم سے صلح کر لیں اور لوگوں کو خوش کر لیں اور بے شک میرا ساتھ چھوڑ دیں لیکن اگر وہ دائیں طرف سورج اور بائیں طرف چاند لا کر کھڑا کر دیں تو بھی خدا تعالیٰ کی توحید میں کسی قسم کی کمی کرنے کو مَیں تیار نہ ہوں گا۔ ابو طالب مسلمان نہ تھے مگر صداقت بہرحال دل پر اثر کرتی ہے۔ یہ بات سن کر آپ نے کہا کہ میرے بھتیجے جا، جس چیز کو تُو سچائی سمجھتا ہے اسے بےشک پھیلا۔ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ 6 تو سچائی کے لئے انسان اگر ایک رنگ میں ذلت بھی اٹھائے تو خدا تعالیٰ اسے دوبارہ قائم کر دیتا ہے۔ لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ذلیل کرنے کی کتنی کوششیں کیں مگر کیا وہ کامیاب ہوئے۔ پھر وہ تو پرانی باتیں ہیں۔ احرار کے فتنہ کو تو تم لوگوں نے خود دیکھا ہے۔ 1934ء سے شروع کر کے دو تین سال پیچھے تک انہوں نے کتنا زور لگایا، وہ کس جوش سے آتے تھے اور دھڑلے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر گندے اعتراضات کرتے اور گندے الفاظ سے آپ کو یاد کرتے تھے اور کس دعوے سے کہتے تھے کہ ہم مرزائیت کا جنازہ نکال دیں گے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا نام انہوں نے مرزائیت رکھا ہؤا ہے) مگر جنازہ بھی جب نکلتا ہے تو لوگوں کو نظر آتا ہے۔ لیکن ان احرار کا تو اب جنازہ بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ تم میں سے کتنے تھے جو اس شورش سے ڈرا کرتے تھے، کئی گھبرا گھبرا کر مجھے رقعے لکھتے تھے کہ اب کیا ہو گا، کئی تھے جن کو گورنمنٹ پر غصہ آتا تھا کہ وہ کیوں کچھ کرتی نہیں مگر میرا دل یقین سے پُر تھا اور مَیں یقین رکھتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی بات کو کوئی انسان ردّ نہیں کر سکتا۔ پس مَیں نہ احرار کی شرارتوں سے خائف تھا، نہ ان رقعوں سے گھبراتا تھا اَور نہ منافقین کی کمزوری سے۔ اور جانتا تھا کہ یہ سب باتیں ہوا کے جھونکوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ جو آتا ہے اَور اُڑ جاتا ہے اور اس کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ اتنے بڑے نشان دیکھ کر بھی تم لوگ کیوں اپنے عقائد اور اعمال میں مضبوط نہیں ہوتے۔ کسی چیز سے نہ ڈرو۔ خوب یاد رکھو کہ کسی انسان کا رزق اور عزت کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ عزت اور ذلت بھی اس کے ہاتھ میں ہے اور آخری فیصلہ اسی نے کرنا ہے۔ چھوٹی عدالتوں کے فیصلے کچھ حقیقت نہیں رکھتے اور اصل فیصلہ ہائی کورٹ کا ہوتا ہے اور ہمارا ہائی کورٹ خدا تعالیٰ ہے۔ اگر تم سچائی پر قائم رہو، متقی بن جاؤ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا کہ اس کے پھل بھی دائمی ہوں گے اور سایہ رحمت بھی دائمی ہو گا۔ پس تم متقی بن جاؤ، اپنے، اپنی اولاد کے ، اَور اپنے ہمسایوں کے اخلاق درست کرو، ان کو سچائی پر قائم کرو اور غیر اللہ کا ڈر دلوں سے نکال دو تا تمہارے پھل اور تمہارے اچھے کاموں کے نتائج اچھی صورت میں ہمیشہ کے لئے جاری رہیں اور تمہاری نسلیں بھی ہمیشہ کے لئے جاری رہیں۔ ظل کا لفظ اگر انسان کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے اولاد کے بھی ہو سکتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرو اور عارضی تکالیف کے خیال سے سچائی کو کبھی نہ چھوڑو، کسی سے دھوکا نہ کرو، کسی سے جھوٹ نہ بولو اور متقی بن جاؤ اور پھر یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ نہ صرف تم نقصان سے بچائے جاؤ گے بلکہ تمہاری اولادیں بھی بچائی جائیں گی۔ ‘‘
    (الفضل 5 جون 1942ء)
    1: الرعد : 36
    2: بخاری کتاب النفقات باب فضل نفقة الرجل علی الاھل
    3: بخاری کتاب الزکوٰة باب الاستعفاف عن المسألة
    4: پیدائش باب 16 آیت 12
    5: الفاطر: 25
    6: سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 285۔ مطبوعہ مصر 1936ء


    16
    نماز باجماعت پڑھنے کی سخت تاکید
    ( فرمودہ 5 جون 1942ء)

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’مَیں پھوڑے کی تکلیف کی وجہ سے نماز کے لئے تو نہیں آ سکتا کیونکہ پیٹ پر پھوڑا ہے اور اس وجہ سے مجھے بیٹھ کر نماز پڑھنی پڑتی ہے لیکن جمعہ کی وجہ سے مَیں آج آ گیا ہوں اور مختصر طور پر جماعتِ قادیان کو خصوصاً اور بیرونی جماعتوں کو عموماً اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ احمدیت ایک مذہب ہے، کوئی سوسائٹی یا انجمن نہیں ہے جو اپنے لئے چند قانون بنا کر باقی امور میں لوگوں کو آزاد چھوڑ دیتی ہے بلکہ مذہب ہونے کے لحاظ سے اس کی بنیاد انسان اور خدا کے تعلق پر ہے۔ اگر احمدیت اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے تعلق کو قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ کامیاب ہے خواہ اس کے ماننے والوں کی تعداد کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو۔ اور اگر خدا اور اس کے بندوں کا تعلق قائم کرنے میں احمدیت کامیاب نہ ہو تو خواہ ساری دنیا احمدی کیوں نہ ہو جائے احمدیت کامیاب نہیں کہلا سکتی اور اللہ اور اس کے بندے کے تعلق کی پہلی نشانی بندے کے دل میں عبادت کی تڑپ کا پیدا ہونا ہے اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تڑپ لوگوں کے دلوں میں نہ ہو تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ان کےد لوں میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں اور دوسرے معنے اس کے یہ ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کے دل میں بھی ان کی محبت نہیں ہے۔ مَیں نے متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ نماز ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انسان نماز نہ پڑھے یا اس کو التزام کے ساتھ ادا کرنے میں غفلت سے کام لے تو پھر بھی وہ مسلمان اور احمدی رہ سکتا ہے۔ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو چھوڑ دینے کی وجہ سے انسان کمزور کہلاتا ہے مگر نماز ایسی چیز ہے کہ اس کو چھوڑ دینے کی وجہ سے وہ کچھ بھی نہیں کہلا سکتا۔ ایک شخص جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اورپھر نماز نہیں پڑھتا اور نماز نہ پڑھنے کے یہی معنے نہیں کہ وہ کبھی نماز نہیں پڑھتا بلکہ سال بھر میں اگر وہ ایک نماز بھی چھوڑ دیتا ہے یا دس سال میں وہ ایک نماز کو بھی ترک کر دیتا ہے تو وہ کسی صورت میں احمدی نہیں کہلا سکتا۔ اگر اس کو یہ خیال ہو کہ مَیں نے بیس سال میں صرف ایک نماز چھوڑی ہے پھر کیا ہو گیا ۔تو وہ ایک وہم میں مبتلا ہے۔ اگر وہ بیس سال میں ایک نماز بھی چھوڑ دیتا ہے تو پھر بھی وہ احمدی نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ جس وقت کوئی شخص کسی نماز کو چھوڑتا ہے اُسی وقت وہ احمدیت سے خارج ہو جاتا ہے اور جب تک دوبارہ اس کے دل میں ندامت اور اپنے فعل پر افسوس پیدا نہ ہو اور جب تک دوبارہ اس کے دل میں دین کی رغبت پیدا نہ ہو اُس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے حضور احمدی نہیں سمجھا جاتا۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک جماعت نے نماز کی اس اہمیت کو نہیں سمجھا۔ چنانچہ میرے پاس شکایتیں پہنچتی رہی ہیں کہ بعض لوگ نمازوں میں سست ہیں اور بعض بالکل ہی نہیں پڑھتے۔ مَیں اس نقص کو دیکھتے ہوئے خصوصیت سے قادیان کے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سے کہتا ہوں کہ نماز کے متعلق ان میں سے ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اسی طرح جاسوسی کرے جس طرح پولیس مجرموں کی جاسوسی کا کام کیا کرتی ہے جب تک رات اور دن ہم میں سے ہر شخص اس طرف متوجہ نہ ہو کہ ہمارا ہر فرد خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، بچہ ہو یا جوان، نماز باقاعدگی کے ساتھ ادا کرے اور کوئی ایک نماز بھی نہ چھوڑے اس وقت تک ہم کبھی بھی اپنے اندر جماعتی روحانیت قائم نہیں کر سکتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو سکتے ہیں مثلاً مَیں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ نماز کے وقت دکانیں کھلی نہیں ہونی چاہئیں ۔ آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی دکان کھلی بھی رہے اور پھر اس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ نماز باجماعت بھی ادا کرتا ہے۔
    پس مَیں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نمازوں کے وقت دکانداروں کی نگرانی رکھیں اور جس شخص کی دکان کھلی ہو اس کی دکان پر نشان لگا دیں اور اسی دن اس کی میرے پاس رپورٹ کریں۔ اگر نمازوں کے وقت کوئی شخص اپنی دکان کو کھلا رکھتا ہے تو اس کے سوائے اس کے اَور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ اس کے دل میں نماز کا احترام نہیں۔ اس وقت بہرحال ایک احمدی کہلانے والے کو اپنی دکان بند کرنی چاہئے اور نماز باجماعت کے لئے مسجد میں جانا چاہئے۔ اگر خطرہ ہو کہ دکانیں بند ہوئیں تو کوئی دشمن نقصان نہ پہنچا دے تو ایسی صورت میں باری باری پہرے مقرر ہو سکتے ہیں مگر یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ دکاندار اپنی دکانوں پر ہی بیٹھے رہیں اور نماز کے لئے مسجد میں نہ جائیں۔ پہرہ ایک قومی فرض ہے اور جب کوئی شخص پہرے پر ہو تو وہ اپنے فرض کو ادا کرنے والا سمجھا جاتا ہے، نماز کا تارک نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن بغیر اس کے اگر کوئی شخص مسجد میں نہیں جاتا تو وہ نماز کا تارک ہے اَور محلوں اور جگہوں کا تو میں کیا شکوہ کروںمَیں تو دیکھتا ہوں کہ مسجد مبارک جو اپنی برکات کے لحاظ سے مکہ اور مدینہ کی مساجد کے بعد تیسرے درجہ پر ہے اس کے زیر سایہ جو دکانیں ہیں ان میں سے بھی بعض نماز کے اوقات میں کھلی رہتی ہیں۔ پس آج سے مَیں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کا فرض مقرر کرتا ہوں کہ وہ قادیان میں اس امر کی نگرانی رکھیں کہ نمازوں کے اوقات میں کوئی دکان کھلی نہ رہے۔ مَیں اس کے بعد ان لوگوں کو مذہبی مجرم سمجھوں گا جو نماز باجماعت ادا نہیں کریں گے اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو قومی مجرم سمجھوں گا کہ انہوں نے نگرانی کا فرض ادا نہیں کیا۔ ہم پر اس شخص کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو سکتی جو بے نماز ہے اور ایسے شخص کا یہی علاج ہے کہ ہم اس کے احمدیت سے خارج ہونے کا اعلان کر دیں گے مگر جو منتظم ہیں وہ بھی مجرم سمجھے جائیں گے اگر انہوں نے لوگوں کو نماز باجماعت کے لئے آمادہ نہ کیا۔ وہ صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ ہم نے لوگوں سے کہہ دیا تھا ۔ اگر لوگ نماز نہ پڑھیں تو ہم کیا کریں۔ خدا نے ان کو طاقت دی ہے اور انہیں ایسے سامان عطا کئے ہیں جن سے کام لے کر وہ اپنی بات لوگوں سے منوا سکتے ہیں۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ لوگ ان کی بات نہ مانیں۔ وہ انہیں نماز باجماعت کے لئے مجبور کر سکتے ہیں اور اگر وہ مجبور نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے اخراج از جماعت کی رپورٹ کر سکتے اور مجھے ان کے حالات سے اطلاع دے سکتے ہیں۔ بہرحال کوئی نہ کوئی طریق ہونا چاہئے جس سے ان لوگوں کا پتہ لگ سکے جو بظاہر ہمارے ساتھ ہیں مگر درحقیقت ہمارے ساتھ نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایسے لوگ ہمارے ساتھ لٹکتے چلے جائیں اور اپنی اصلاح بھی نہ کریں۔ اس کے نتیجہ میں اَور لوگوں پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے اور وہ بھی نمازوں میں سست ہو جاتے ہیں۔
    مَیں آج سے خود اپنے طور پر بھی انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے اس کام کی نگرانی کروں گا۔ اس کے ساتھ ہی مَیں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں بھی اپنے بچوں اور نوجوانوں اور عورتوں اور مردوں کو نماز باجماعت کی پابندی کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اگر اس بات میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے تو وہ ہرگز خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو نہیں ہو سکتے ، چاہے وہ کتنے ہی چندے دیں اور چاہے کتنے ہی ریزولیوشن پاس کر کے بھجوا دیں۔‘‘
    (الفضل 7 جون 1942ء)

    17
    ہر بات کے لئے اسلام نے جو قانون مقرر کیا ہے اس کی پابندی کرنی چاہئے
    ) فرمودہ 12 جون 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’دنیا میں جب سے انسان اکٹھے رہنے لگے ہیں۔ انہوں نے اپنے لئے کچھ قوانین بنانے کی کوشش کی ہے۔ کوئی ملک ہو، کوئی قوم ہو خواہ وہ تمدن کے اعلیٰ مقام پر ہو اور خواہ تمدن کے ادنیٰ مقام پر ہو اس میں کوئی نہ کوئی قانون جاری ہوتا ہے حتٰی کہ جن قوموں میں حکومت نہیں پائی جاتی بلکہ طوائف الملوکی پائی جاتی ہے۔ ان میں بھی رسم و رواج کے طور پر کوئی نہ کوئی قانون ضرور ہوتا ہے مثلاً اس زمانہ میں ہندوستان کی سرحد پر بعض قبائل ہیں جن کا کوئی بادشاہ نہیں۔ ہر شخص آزاد ہے اور اپنی مرضی سے جو چاہے کرتا ہے مگر ان میں بھی بعض قانون، رسم و رواج کے طور پر مقرر ہیں۔ مثلاً اگر کوئی قتل ہو جائے تو دستور مقرر ہے کہ کس طرح بدلہ لیا جائے، خاص خاص رشتہ داروں کو بدلہ لینے کا حق ہے، جھگڑے چکانے کے لئے پنچایتیں ہوتی ہیں، کچھ دستور اور رواج ہیں۔ جن کے مطابق وہ باہمی فیصلہ کرا دیتے ہیں۔ ایک زمانہ میں عرب میں بھی طوائف الملوکی تھی۔ باہمی جھگڑے چکانے کے لئے کچھ انتظامات تھے۔ مکہ کا کوئی بادشاہ تو نہ تھا مگر وہاں بھی لوگوں کے لئے کچھ قوانین مقرر تھے مثلاً یہ کہ جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کو جسے قوم قومی مجرم قرار دیتی تھی۔ پناہ دے دیتا تو جب تک اس شخص کے ساتھ تصفیہ نہ کیا جائے جس نے اسے پناہ دی ہے اس وقت تک لوگ اسے دکھ نہ دیتے تھے اور اس کی آزادی میں روک نہ ڈالی جاتی تھی۔ عام طور پر تو کوئی قانون وہاں نہ تھا مگر رسمًا بعض ایسے قوانین رائج تھے۔ جب اسلام ظاہر ہؤا تو مکہ کے لوگوں نے مسلمانوں کو قومی مجرم قرار دے دیا تھا اور اس وجہ سے ان کو مارنا ، دکھ دینا حتّٰی کہ قتل کر دینا ان کے نزدیک کوئی بُری بات نہ تھی۔ اسی سلسلہ میں جب کفار نے مسلمانوں کو زیادہ تکالیف دینا شروع کیں تو حضرت ابو بکرؓ نے خیال کیا کہ مکہ سے باہر کسی دوسرے قصبہ یا گاؤں میں چلا جاؤں۔ چنانچہ وہ تیار ہو کر باہر جا رہے تھے کہ مکہ کا ایک رئیس انہیں رستہ میں ملا اور کہا کہ ابو بکر کہاں جاتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اب اس شہر میں میرے لئے رہنا مشکل ہو گیا ہے۔ لوگ اس قسم کے دکھ اور تکالیف دیتے ہیں کہ آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس لئے مَیں نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی اَور جگہ جا رہوں۔ اس نے کہا کہ تمہارے جیسے نیک آدمی کا مکہ کو چھوڑ کر جانا مکہ کے لئے عذاب ہے۔ مَیں تمہاری ذمہ داری لیتا ہوں تم باہر نہ جاؤ۔ اس کے کہنے سے حضرت ابو بکرؓ واپس آ گئے اور اس رئیس نے خانہ کعبہ میں آ کر اعلان کر دیا کہ لوگو آج سے ابو بکرؓ میری ذمہ داری میں ہے۔ اس کا اعلان کرنا تھا کہ ان کے رسمی قانون کے مطابق باوجود اس کے کہ دوسرے مروجہ قانون کے مطابق مسلمان واجب القتل سمجھے جاتے تھے کسی کا حق نہ تھا کہ حضرت ابو بکرؓ کو کچھ کہہ سکے۔ اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ مکہ میں رہنے لگے مگر وہ ہر روز اپنے گھر میں اونچی اونچی آواز سے قرآن پڑھتے اور اس سوز و گداز سے پڑھتے کہ نوجوان اور عورتیں سنتے تو یہ اثر محسوس کرتے کہ باتیں تو بہت اچھی ہیں۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ حضرت ابو بکرؓ کے قرآن پڑھنے سے ان کے نوجوان اور عورتیں متاثر ہوتے ہیں تو وہ اس رئیس کے پاس پہنچے اور کہا کہ تم نے ابو بکرؓ کو پناہ دی تھی مگر وہ اونچی آواز سے قرآن پڑھتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں اور عورتوں کے ایمان خراب ہونے لگے ہیں۔ یہ بات سن کر وہ رئیس حضرت ابو بکرؓ کے پاس آیا اورکہا کہ آپ اونچی آواز سے اپنی کتاب پڑھتے ہیں اور اس میں ایسا جادو ہے کہ دوسروں کے ایمان خراب ہونے کا ڈر ہے اور لوگ شکایت کرتے ہیں اس لئے آپ اونچی آواز سے نہ پڑھا کریں۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ مَیں ایسی پناہ لینے کو تیار نہیں جس میں کہ مجھے اپنے ایمان اور عقائد کو چھپانا پڑے۔ مَیں آپ کی یہ شرط نہیں مان سکتا۔ آپ اپنی ضمانت واپس لے لیں۔ چنانچہ اس نے پھر خانہ کعبہ میں جا کر اعلان کر دیا۔ مَیں نےابو بکرؓ کو جو ضمانت دی تھی اسے واپس لیتا ہوں۔1 تو اس وقت مکہ میں یہ رسمی قانون تھا حالانکہ وہاں کوئی بادشاہ نہ تھا اور کوئی حکومت نہ تھی، کوئی تعزیرات نہ تھیں اور کوئی ہدایت نامہ نہ تھا، پھر بھی کچھ رواج تھے جن کے ماتحت کام کئے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اہلِ مکہ نے رسول کریم ﷺ کو قتل کر دینے کا ارادہ کیا تو اس وقت ان کے ذہنوں میں یہ بات آئی کہ مکہ کے رسمی قانون کے ماتحت آپ کےر شتہ داروں کو حق ہو گا کہ خون کے انتقام کا مطالبہ کریں۔ یہ کوئی حکومت کا قانون نہ تھا مگر رسمی قانون تھا جس کے مطابق وہ جانتے تھے کہ انہیں قاتل کی جان دینی پڑے گی اور آخر غور کر کے انہوں نے یہ تجویز کی کہ سب قبائل کے نمائندے اس کام میں شامل ہوں تا جب آپ کے رشتہ دار خون کا انتقام لینے کا مطالبہ کریں تو ان کی تائید میں آواز اٹھانے والا کوئی نہ ہو اور اگر آپ کے رشتہ دار انتقام لینے پر مُصر ہوں تو ان کوسب قبائل سے لڑنا پڑے۔ گو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تجویز کو بھی ناکام کر دیا اور اپنے فضل سے اپنے رسول کی جان کو بچایا مگر ان کی اس تجویز سے ظاہر ہے کہ وہ اس قانون کی قیمت کو سمجھتے تھے۔
    ان کے علاوہ منظم حکومتیں ہوتی ہیں جن کے باقاعدہ قوانین ہوتے ہیں۔ بعض قوموں میں مذہبی قوانین ہیں۔ ہندوؤں میں منو کا دھرم شاستر ہے اور یہی قانون سمجھا جاتا تھا اور اپنے زمانہ میں ہندو اس کی پابندی ضروری سمجھتے تھے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنے آپ سےباہر سمجھتے تھے۔ پھر رومیوں کا اپنا قانون تھا، بابلیوں کے جو پرانے کتبے ملتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بھی قوانین تھے۔ غرض منظم حکومتوں میں زیادہ تفصیلی قوانین ہوتے ہیں اور جہاں طوائف الملوکی ہو وہاں رسمی طور پر بعض قواعد ہوتے ہیں جن کی پابندی اور احترام تمام افراد کا فرض سمجھا جاتا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اسلام بھیجا جس نے ہر معاملہ کے متعلق قوانین مقرر کئے۔ ایسے تفصیلی قوانین اسلام میں موجود ہیں کہ اَور کسی مذہب میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ جب ہم کھانا کھانے لگتے ہیں تو اسلامی قانون پاس آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے پہلے ہاتھ دھو لو۔ پھر جب کھانا شروع کرنے لگتے ہیں تو وہ سامنے آ جاتا ہے اورکہتا ہے کہ توجہ سے بیٹھو، استغناء اور بے پروائی سے کھانا نہ کھاؤ، دایاں ہاتھ آگے بڑھاؤ۔ پھر جب ہم کھانے میں ہاتھ ڈالنے لگتے ہیں تو وہ کہتا ہے دیکھنا حلال کھاؤ اور جب حلال کھانے لگیں تو وہ کہتا ہے کہ طیب کھاؤ اور جب حلال و طیب کھانے لگیں تو اسلامی قانون ہمیں کہتا ہے کہ اسراف نہ کرو۔ ایک حد کے اندر کھاؤ، زبان کی لذت کے ماتحت نہ کھاؤ بلکہ بھوک کے مطابق کھاؤ۔ جانوروں کی طرح پیٹ نہ بھرو بلکہ صحت اور عقل کا خیال رکھو۔ پھر جب کھا چکتے ہیں تو اسلامی قانون پھر سامنے آ جاتا اور کہتا ہے کہ جس نے کھانے کو دیا اس کا شکریہ ادا کرو اور کہواَلْحَمْدُ لِلہ۔ پھر ہم پانی پیتے لگتے ہیں تو اسلامی قانون سامنے آ جاتا اور کہتا ہے کہ سانس لے لے کر پیو ، یکدم نہ پیو، سانس برتن کے اندر نہ لو۔ پھر جب کھانے سے فارغ ہو چکتے ہیں تو کہتا ہے کہ ہاتھ دھو لو۔ ہم کپڑا پہننے لگیں تو اسلامی قانون پھر ہمیں روک لیتا ہے اور کہتا ہے کہ دائیں طرف سے پہننا شروع کرو اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کر لو جس نے یہ کپڑا عطا کیا۔ جوتا پہننے لگیں تو کہتا ہے اس طرح پہنو، اتارنے لگیں تو کہتا ہے کہ اس طرح اتارو۔ پھر جب ہم کام کاج سے فارغ ہو کر گھر میں اپنے بیوی بچوں میں جاتے ہیں تو وہاں بھی اسلامی قانون ہمارے سامنے آ جاتا اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں عورت سامنے نہ آئے، فلاں فلاں وقت اپنے بچے بھی سامنے نہ آئیں۔ ہم سونے لگتے ہیں تو کہتا ہے اس طرح سؤو۔ اٹھتے ہیں تو ہمیں بتاتا ہے کہ اس طرح اٹھو۔ کاروبار کے متعلق بھی وہ ہدایات دیتا ہے کہ کس طرح دیانت، ہمت، چستی اور عقل کے ساتھ کرو۔ وہ ہمیں بتاتاہے کہ قدم قدم پر اپنے مالک اور آقا سے استخارہ کرتے رہو۔ جب وہ تمہارے کاروبار میں برکت دے تو اس کا شکریہ ادا کرو اور جب اس کی طرف بلانے کے لئے مؤذن کی آواز بلند ہو تو کام کاج بند کر کے مساجد کی طرف چلے جاؤ۔ جب مسجد کی طرف چلو تو سنجیدگی اور وقار کے ساتھ چلو۔ پھر جب ہم مسجد کے دروازہ پرپہنچتے ہیں تو وہ روک کر کہتا ہے کہ دیکھنا کوئی بدبودار چیز تم نے نہ کھائی ہوئی ہو، تمہارے کپڑوں سے بُو نہ آتی ہو جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔ جب مسجد میں پہنچو تو آرام اور ادب سے بیٹھو دنیوی کاروبار کی باتیں وہاں نہ کرو، جھگڑے تنازعہ کی باتیں نہ کرو بلکہ نماز کا انتظار کرو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو۔ پھر جب نماز شروع ہوتی ہے تو اس کے لئے بھی شروع سے آخر تک ہدایات ہیں۔ ہمارے روز مرہ کے معاملات، ہمسایوں سے معاملات، غریبوں اور امیروں سے معاملات، آقا و ماتحت کے تعلقات ہر ایک امر کے متعلق وہ تفصیلی ہدایات دیتا ہے۔
    یہ اتنی ہدایات ہیں کہ بظاہر انسان سمجھتا ہے کہ یہ اتنا بڑا طومار ہے کہ اطاعت ناممکن ہے لیکن حق یہ ہے کہ کوئی بھی بات ایسی نہیں جو ہمارے لئے بوجھل اور گراں ہو مثلاً یہی کھانے پینے کے متعلق ہدایات ہیں۔ ان میں سے کونسی ایسی ہے جو ہمارے لئے ناممکن ہے ۔ کیا ہاتھ دھونا ناممکن ہے اس میں سراسر ہمارا ہی فائدہ ہے گندگی دور ہوتی ہے اور صفائی سے ہمیں ہی فائدہ پہنچتا ہے ۔ اس سے خدا و رسول کو کیا فائدہ۔ پھر اگر ہم دائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہیں تو اس میں کیا مشکل ہے اور اس سے خدا کو یا رسول کو کیا فائدہ ہے۔ ہمار اہی فائدہ ہے کہ ایک ہاتھ پاخانہ وغیرہ کی صفائی کے لئے رکھتے ہیں اورایک کھانا کھانے کے لئے۔ کیا پاخانہ سے آلودہ ہونے والے ہاتھ سے روٹی کھائی جائے تو اچھا ہے۔ پھر اگر کھانے سے پہلے بِسْمِ اللہ پڑھتے ہیں تو اس میں کونسا زائد وقت لگتا ہے۔ پھر حلال کھانے میں ہمارا کیا نقصان ہے۔ حرام سؤر، خون، مردار اور مشرک کا کھانا ہی ہیں اور سؤر یا مُردار یا خون یا مشرک کا کھانا کھائے بغیر کیا ہمارا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ پھر طیب کھانے کا حکم ہے اس میں ہمارا کیا نقصان ہے۔
    طیب کے معنی ہیں جو ہر طرح فائدہ رساں ہو مثلاً اس کے معنی یہ ہیں کہ کچی روٹی نہ کھاؤ اور اگر ہم روٹی اچھی طرح پکا کر کھائیں تو اس میں اللہ تعالیٰ کا کیا فائدہ ہے یا رسول کریم ﷺ کا کیا فائدہ ہے یا اگر مٹی ملا ہؤا آٹا ہم نے نہیں گوندھا تو اس سے اللہ تعالیٰ کو کتنے روپے مل گئے یا رسول کریم ﷺ کو کیا مل گیا؟ اس میں سراسر ہمارا ہی فائدہ ہے یا اگر ہم نے تین چار دن کا سڑا ہؤا کھانا جو گو حلال تھا مگر طیب نہ تھا نہیں کھایا تو اس سے کسی کو کیا فائدہ پہنچا۔ ہمارا ہی فائدہ ہے کہ دستوں یا ہیضہ سے بچ گئے۔ اللہ تعالیٰ یا رسول کریم ﷺ کو تو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ یا اگرہم نے سڑی گلی ہوئی ترکاری نہیں کھائی تو اس سے خدا تعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچا۔ ہمارا ہی فائدہ ہؤا ۔ غرضیکہ کوئی بھی حکم ایسا نہیں جس کا فائدہ ہمیں نہ پہنچتا ہو اور کوئی بھی حکم ایسا نہیں جس سے خدا یا رسول کو کچھ ملتا ہو اور اگر ایسے احکام جن کا فائدہ سراسر ہمیں ہی پہنچتا ہے طومار بلکہ اس سے بھی بڑا ہو تو کیا۔ اس میں ہمارا ہی نفع ہے کسی اَور کا تو نہیں ۔ جتنا عمل کریں گے اتنا فائدہ ہم ہی اٹھائیں گے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ بعض باریک احکام کی حکمت ہماری سمجھ میں نہ آئے مگر جہاں اور دس بیس یا سَو کی حکمت سمجھ میں آتی ہے وہاں اگر ایک آدھ کی نہ آئے تو اسے بھی ان پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہمیں سو علمی باتیں سکھاتا ہے تو اگر اس کی بتائی ہوئی کسی ایک بات کی ہمیں سمجھ نہ آئے تو ہم اسے بھی مان لیں گے۔ اگر کوئی کسی پر دو احسان کرے تو وہ اس کی تیسری بُری بات کو بھی برداشت کرنا ضروری سمجھتا ہے بلکہ کسی شریف آدمی پر تو اگر کوئی ایک احسان بھی کرے تو وہ اس کی تین بُری باتیں سننا بھی اپنا فرض سمجھتا ہے۔ تو ایسا محسن جس کی سینکڑوں باتوں کی حکمت اور فائدے کو ہم سمجھتے ہیں۔ اس کی کوئی ایک دو باتیں اگر نہ بھی سمجھ میں آئیں تو کوئی حرج نہیں اتنے احسانات کے بعد ہمیں یہ جرأت کیسے ہو سکتی ہے کہ سوال کریں اس کی حکمت کیا ہے؟
    صلح حدیبیہ کے موقع پر جب مکہ والوں کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ آپس میں سمجھوتہ ہو جائے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اچھا ہے اگر سمجھوتہ ہو جائے۔ مکہ والوں نے ایک شخص کو اپنی طرف سے شرائط طے کرنے کے لئے آپ کے پاس بھیجا جس کے لوگوں پر بہت احسانات تھے حتّٰی کہ وہ اپنے آپ کو عرب کا باپ کہتا تھا۔ وہ آیا او رباتیں کرنے لگا۔ وہ بہت ہوشیار اور تجربہ کار آدمی تھا اور چاہتا تھا کہ مَیں ایسے رنگ میں صلح کراؤں کہ میری قوم کی عز ت رہ جائے اور لوگ میری ہوشیاری کی تعریف کریں۔ چنانچہ وہ کہنے لگا کہ دیکھو بچہ! مَیں بڑا آدمی ہوں، بوڑھا ہوں، میرے عقل اور تجربہ کی قدر کریں۔ یہ لوگ جو آپ کے گرد جمع ہیں یہ قابلِ اعتبار نہیں ہیں بلکہ کوئی کہیں کا اور کوئی کہیں کا ہے۔ ان پر اعتماد کر کے اپنی قوم سے نہ بگاڑو۔ اگر آج ایسی شرائط طَے ہوئیں جن میں اہل مکہ کی ہتک ہو تو یہ گویا تمہاری ہتک ہو گی۔ کل کو اگر تم نے اپنی قومی عزت سے فائدہ اٹھانا چاہا تو نہ اٹھا سکو گے۔ وہ دنیا دار آدمی تھا اور سمجھتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے کام کی بنیاد بھی دنیا داری پر ہی ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو جو برکات حاصل تھیں ان کا اسے کوئی علم نہ تھا۔ باتیں کرتے کرتے اس نے آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا اور کہا کہ قوم کی عزت رکھ لو۔ ہمارے ملک میں یہ بھی رواج ہے کہ کہتے ہیں مَیں تمہاری داڑھی کو ہاتھ لگاتا ہوں۔ یہ بات مان لو۔ اسی طرح اس نے بھی آنحضرت ﷺ کی ریشِ مبارک کو ہاتھ لگایا لیکن ایک صحابی نے اپنے تلوار کے دستے سے اس کے ہاتھ کو پرے ہٹاتے ہوئے کہا کہ اپنے ناپاک ہاتھ کو رسول اللہ (ﷺ) کی پاک داڑھی سے پرے ہٹاؤ۔ صحابہ اس وقت زرہیں اور خَود پہنے ہوئے تھے اور خَود مُنہ کو ڈھانک دیتا ہے۔ جب اس صحابی نے تلوار کے دستے سے اس کے ہاتھ کو پرے ہٹایا تواس رئیس نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پہچان لیا کہ فلاں شخص ہے اور کہا کون؟ کیا فلاں ہے؟ تم کو کس طرح جرأت ہوئی کہ میر اہاتھ پرے ہٹاؤ۔ یاد ہے مَیں نے تم پر فلاں احسان کیا ہے۔ یہ بات سن کر باوجودیکہ صحابہ رسول کریم ﷺ کے عاشق و شیدا تھے مگر احسان کا شریف آدمی پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ صحابی پیچھے ہٹ گئے اور دوسرے کسی کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ اس کا جواب دے۔ آخر باتیں کرتے کرتے اس نے پھر جوش میں آنحضرت ﷺ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا اور کہا کہ میری بات مان لو۔ اس وقت سب صحابہ کھڑے تھے مگر کوئی بول نہ سکتا تھا کیونکہ سب کو یاد تھا کہ اس شخص نے مجھ پر یا میرے خاندان پر فلاں فلاں وقت احسان کیا ہؤا ہے۔ ان کے دل کو یہ حرکت بُری تو لگتی تھی مگر وہ شرم کے مارے آگے نہیں بڑھتے تھے۔ اتنے میں ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے اس رئیس کے ہاتھ کو سختی سے ہٹاتے ہوئے کہا کہ ہٹاؤ اپنا ناپاک ہاتھ رسول اللہ (ﷺ) کی پاک داڑھی سے۔ اس رئیس نے پھر اس شخص کو دیکھا اور پہچان کر آنکھیں نیچی کر لیں اور کہا ابو بکر بے شک تم یا تمہارے خاندان پر میرا کوئی احسان نہیں۔ تمہیں بے شک حق حاصل ہے کہ میرے ہاتھ کو پَرے ہٹا سکو۔ 2تو دیکھو ایسے نازک وقت میں بھی شریف آدمی کی آنکھیں احسان کو یاد کر کے نیچی ہو جاتی ہیں جیسے صحابہ کی اس وقت ہو گئیں۔ تو اگر کوئی کسی پر ایک بھی احسان کرے تو سالہا سال تک آنکھیں نیچے رہتی ہیں مگر جس محسن کے احسانات بے شمار ہوں۔ صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے جس کے احسانات ہوں اس کے اتنے احسانات کے بعد اگر کوئی ایک آدھ بات سمجھ میں نہ آئے تو یہ کتنی حماقت ہے کہ انسان اَکڑ کر بیٹھ جائے اور کہے کہ جب تک میری سمجھ میں یہ بات نہ آئے۔ مَیں کس طرح مان لوں۔ اسلام نے ایسی کامل تعلیم دی ہے جو انسان کے ہر شعبہ زندگی میں جاری ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں اس کے احکام ہمارے سامنے نہیں آ جاتے۔ یہ بات دشمنانِ اسلام کے لئے بھی حسرت کا موجب رہی ہے۔ چنانچہ ایک یہودی نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ جب مَیں آپ کی شریعت کے احکام سنتا ہوں تو میرا دل حسرت سے بھر جاتا ہے کیونکہ اس میں ہر بات کے لئے ہدایت موجود ہے۔ پیشاب پاخانہ کرنے، روٹی کھانے، پانی پینے، کپڑا پہننے، سونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے غرضیکہ کوئی شعبہ زندگی کا اَیسا نہیں جس میں تمہارے مذہب نے ہدایت نہ دی ہو۔3 اور جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے یہ ہدایت نامہ ہمارے لئے احسان ہی احسان ہے۔ اس کا بڑا ہونا بوجھ نہیں بلکہ بڑے ہونے سے احسان اَور بھی بڑھ جاتا ہے۔ بھلا اس شخص کا احسان ہم پر زیادہ ہوتا ہے جو ایک میل تک ہمیں رستہ دکھائے یا اس کا جو دس میل تک دکھائے۔ کیا دس میل تک راہ نمائی کرنے والا ہم پر کوئی بوجھ ڈالتا ہے یا اس کا احسان اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ پس اسلامی شریعت ایک وسیع قانون ہے جو ہمیں ہر قسم کی غلطیوں سے بچاتا ہے اور ساری عمر ہمارے ساتھ چلتا ہے۔ جس وقت بیوی اور میاں آپس میں ملتے ہیں اوربچہ کی پیدائش کا بیج بویا جاتا ہے اس وقت سے یہ ہدایت نامہ شروع ہوتا ہے پھر بچہ کے پیدا ہوتے ہی اسلام کی ہدایت اس کے کان میں ڈالی جاتی ہے اور اسلامی قانون ساری عمر اس کے ساتھ چلتا ہے اور پھر جب انسان مرنے لگتا ہے تو اس وقت بھی اسلامی ہدایت اس کے کان میں ڈالی جاتی ہے تاکہ آئندہ زندگی میں بھی اس کے کام آئے۔
    لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ احسان اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب ہم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کریں۔ دین کے معاملات میں بھی شریعت نے قانون مقرر کئے ہیں اور دنیا کے معاملات میں بھی۔ لڑائی جھگڑے کے متعلق بھی قوانین ہیں مثلاً اگر کسی کو کسی سے کوئی نقصان پہنچے تو اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ اس نقصان کا ازالہ قاضیوں سے کرایا جائے۔ آج ہمارے ملک میں چونکہ غیر ملکی گورنمنٹ ہے۔ اس لئے اسلامی قضاء سارے قانون پر حاوی نہیں ہے۔ بعض امور ایسے ہیں کہ گورنمنٹ کا حکم ہے کہ ان کا فیصلہ بہرحال اس سے کرایا جائے اور چونکہ گورنمنٹ کے قانون کی پیروی کرنا بھی ہمارا فرض اسلام نے قرار دیا ہے۔ اس لئے ایسے امور کا فیصلہ اسی کے مقررکردہ ججوں سے کرانا چاہئے مگر جن میں اس نے آزادی دی ہے کہ چاہیں تو آپس میں ہی فیصلہ کر لیں اور جو امور قابلِ دست اندازی پولیس نہیں ہیں ان میں اسلامی قانون جاری کرنا ہمارا فرض ہے اور چونکہ ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے منظم ہے اور ایک ہاتھ پر جمع ہے۔ اس لئے ایسے امور میں جن میں گورنمنٹ نے آزادی دی ہے کہ اگر چاہیں تو انہیں اس کے پاس لے جائیں اور چاہیں تو نہ لے جائیں۔ ان میں اسلامی شریعت کا دوبارہ زندہ کرنا ہمارا فرض ہے اگرچہ ہمارے لئے دوسرا حصہ بھی زندہ ہی ہے کیونکہ ہماری جماعت ہی واحد جماعت ہے جس کا عقیدہ یہ ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت بھی خدا تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے۔ اس لئے جن امور کو ہم اس کے پاس لے جاتے ہیں۔ ان میں بھی گویا شریعت کی اطاعت ہی کرتے ہیں۔ جو لوگ حکومت وقت کے قانون کی پیروی کو جائز نہیں سمجھتے وہ اگر اپنے معاملات اس کے پاس لے جاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے لئے یہ بھی ثواب ہی ہے کیونکہ اس طرح بھی ہم شریعت کی اطاعت ہی کرتے ہیں اور اسے زندہ کرتے ہیں۔ جس طرح نماز کھڑے ہو کر پڑھنے کا حکم ہے لیکن بیمار بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے اور جو بیٹھ کر پڑھنے کو جائز سمجھتا ہے اس کا بیٹھ کر پڑھنا بھی ثواب ہی ہے لیکن جو بیٹھ کر پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتا اور پھر پڑھتا بھی ہے وہ گویا گناہ کرتا ہے اس کا بیٹھ کر پڑھنا اسلام کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ پس جو لوگ حکومت کے پاس اپنے معاملات لے جانا جائز نہیں سمجھتے خواہ انہیں جبراً ہی جانا پڑے وہ خدا تعالیٰ کے قانون کو توڑنے والے ہیں۔ صرف ہماری جماعت ہی ایک ایسی جماعت ہے جو حکومت وقت کی اطاعت کو بھی خدا تعالیٰ کی اطاعت ہی سمجھتی ہے ۔ اس لئے جن امور میں ہمیں حکومت کے پاس جانا پڑتا ہے ان میں بھی شریعت کا دوسرا حصہ ہمارے لئے زندہ ہی ہے۔
    پس ہر احمدی جسے کوئی جھگڑا درپیش ہو اس کے لئے دو راستے ہیں۔ اگر تو حکومت کا قانون یہ ہے کہ اسے اس کی قائم کردہ عدالتوں میں لے جائیں اور حکومت کا دروازہ ہی کھٹکھٹائیں تو جو شخص کوئی اَور راستہ اس کے سوا اختیار کرتا ہے وہ حکومت اور سلسلہ دونوں کا باغی ہے لیکن جن امور کا فیصلہ سرکاری عدالتوں سے کرانا ضروری نہیں بلکہ ہمیں آزادی ہے کہ چاہیں تو خود کر لیں اور چاہیں تو رحم سے کام لیتے ہوئے معاف کر دیں۔ ان معاملات کو جو شخص قضاء میں نہیں لے جاتا بلکہ خود فیصلہ کرنا چاہتا ہے یا زور و جبر سے کام لیتا ہے وہ مجرم ہے خدا تعالیٰ کا بھی اور جماعت کا بھی۔ یہ قاضی کا ہی کام ہے کہ وہ کسی شخص کوسزا دے یا نہ دے اور اگر دے تو کتنی دے۔ کسی چور کو قاضی کے پاس لے جایا جاتا ہے اور وہ اسے ایک سال کی سزا دیتا ہے، کسی کو دو سال کی دیتا ہے، کسی کو چھ سال کی دیتا ہے اور کسی کو صرف ایک ماہ کی اور کسی کو صرف ضمانت لے کر ہی چھوڑ دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہؤا کہ ایک ہی جرم میں فیصلے مختلف ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اپنے چور کو خود ہی سزا دینا چاہے تو گو وہ واقعی چور ہو تو بھی اسے کیا معلوم کہ اسے اتنی سزا ملنی چاہئے۔ اگر خود ہی سزا دے دے تو اسے کس قانون کے مطابق پتہ لگے گا کہ کتنی سزا دینی چاہئے۔ اس لئے اگر وہ خود سزا دے گا تو وہ نفس کا تابع ہو گا شریعت کا نہیں کیونکہ جو فیصلہ خدا تعالیٰ نے ایک اَور کے ذمہ رکھا تھا اسے اس نے خود کر دیا حتّٰی کہ جن امور میں شریعت نے سزا معیّن اور مقرر کی ہے یعنی نہ بدلنےو الی وہ بھی خود بخود دینے کی اجازت شریعت نے نہیں دی۔ مثلاً مسلمانوں کے ایک طبقہ کا یہ عقیدہ ہے۔ مَیں اس بحث میں اس وقت نہیں پڑتا کہ غلط ہے یا صحیح مگر بہرحال ایک طبقہ کا یہ عقیدہ ہے کہ ایسی عورت یا مرد جو شادی شدہ ہوں وہ اگر زنا کریں تو ان کی سزا رجم ہے یعنی پتھر مار مار کر انہیں مار دیا جائے۔ ایک شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی شادی شدہ مسلمان مرد یا عورت زنا کرے تو اس کی سزا رجم ہے یا نہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں ہے۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو اس حالت میں دیکھے تو کیا جائز ہے کہ وہ اس مرد کو مار دے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ قاتل ہو گا۔4یہ قاضی کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کوئی زانی رجم کے قابل ہے یا نہیں۔ اگر کوئی شخص خود ہی فیصلہ کر کے کسی کو قتل کرے گا تو خواہ مقتول واقعی مجرم ہو پھر بھی ہم قتل کرنے والے کو قاتل سمجھ کر اسے قتل کریں گے۔ تو جہاں سزا معیّن ہے ایسی معیّن کہ اس میں تبدیلی کا امکان ہی نہیں۔ اس میں بھی شریعت نے خود بخود فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ رسول کریم ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ اگر کوئی ایسی سزا بھی خود دے گا اور ایسے جرم کے نتیجہ میں بھی جس کی سزا واقعی قتل ہے خود کسی کو قتل کر دے گا تو اسے قاتل قرار دیا جائے گا کیونکہ سزا دینا اس کا حق نہ تھا۔ تو ہر بات کے لئے اسلام نے قانون مقرر کئے ہیں مگر افسوس کہ ہم میں سے بعض لوگ ابھی ایسے ہیں جو جوشِ نفس یا غصہ کے ماتحت قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو کیا ہے انصاف کیا ہے۔ لیکن دراصل وہ خود جرم کرتے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے مثال دی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے شادی شدہ زنا کرنے والے مرد یا عورت کو خود قتل کر دینے کو ناجائز قرار دیا اور ایسا کرنے والے کو قاتل ٹھہرایا۔ فرض کرو ایک شخص کسی مجرم کو سزا دیتا ہے اور واقعی انصاف بھی وہی ہے جو اس نے کیا پھر بھی اس کا ایسا کرنا اسے مجرم بناتا ہے مثلاً اس نے کسی شخص کو دو تھپڑ مارے اور واقعی اس شخص کی سزا دو تھپڑ ہی تھی۔ مگر پھر بھی اس کا خود بخود اسے دو تھپڑمارنا اسے مجرم بنا دیتا ہے کیونکہ یہ قاضی کا حق تھا کہ اس کے لئے تھپڑ تجویز کرے یا چاہے تو اسے چھوڑ دے۔ پس جو شخص خود بخود دو تھپڑ مار دیتا ہے وہ جرم کرتا ہے۔
    مَیں نے دوستوں کو متواتر اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا کسی طرح بھی جائز نہیں مگر پھر بھی لوگ جوش میں اس بات کو بھول جاتے ہیں اور ذرا سی بات پر غصہ میں آ کر قانون کو ہاتھ میں لینے پر اتر آتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ ‘‘نقصان جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں’’5
    کسی کا ذرا سا بھی نقصان ہو جائے تو وہ اندھا ہو کر اپنے فرائض اور مناصب کو بھول جاتا ہے اور قانون کو ہاتھ میں لے لیتا ہے جب تک یہ روح نہ مٹے ہمارا یہ دعویٰ کرنا کہ ہمارے دلوں پر احمدیت کی حکومت ہے بالکل غلط ہے۔ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بارہا سنا ہے کہ مومن ہونا خصّی ہونے کے برابر ہے۔ جس طرح گھوڑے یا اونٹ یا بیل کو خصّی کر دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی جوش ، شوخی اور نفسانی خواہشات باقی نہیں رہتیں۔ اسی طرح انسان جب تک غصہ اور جوش کی حالت میں اپنے نفس کو قابو میں نہیں رکھ سکتا وہ کس بات میں اسلام پر عمل کرنے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
    حقیقی اطاعت کا وقت یہی ہوتا ہے ۔ اگر اپنے نفس کی مرضی بھی وہی ہو جو شریعت کا منشاء ہے تو وہ کوئی اطاعت نہیں۔ مولانا روم نے اس بات کو نہایت لطیف پیرایہ میں بیان کیا ہے۔ آپ نے ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک چوہے نے کسی اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور چل پڑا اور اونٹ بھی پیچھے پیچھے چلتا گیا آگے سمندر آ گیا۔ اونٹ پانی سے ڈرتا ہے۔ چوہے نے نکیل کو کھینچا کہ وہ پانی میں داخل ہو مگر اونٹ اَڑ گیا۔ چوہے نے کہا کہ اس وقت تک تم میری اطاعت کرتے آئے ہو اورمیرے پیچھے پیچھے چلتے آئے ہو اب کیا ہو گیا جو تم آگے نہیں چلتے۔ اونٹ نے کہا کہ مَیں تمہاری اطاعت نہیں کر رہا تھا بلکہ دراصل مَیں نے خود بھی اِدھر ہی آنا تھا۔ جب تک تم میری مرضی کے مطابق چلتے آئے مَیں بھی تمہارے پیچھے پیچھے چلتا آیا مگر اب کہ تم میری مرضی کے خلاف چلنا چاہتے ہو مَیں نے انکار کر دیا۔ یہی حال اس شخص کا ہے جو خوشی میں تو اطاعت کرتا ہے مگر جہاں غصہ اور رنج کی حالت پیدا ہوئی وہ جھٹ اطاعت سے باہر ہو جاتا ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ اس کی پہلی اطاعت بھی حقیقی اطاعت نہ تھی بلکہ اپنی مرضی کی اطاعت تھی۔ حقیقی اطاعت وہی ہے جب حکم مرضی کے خلاف ہو اور جو خوشی میں بھی اور رنج میں بھی ہو ، جو تنگی میں بھی ہو اور فراغت میں بھی، جو اس وقت بھی ہو جب انسان کو اس کا حق مل رہا ہو اور اس وقت بھی جب اس کا حق چھینا جا رہا ہو اورجب تک کوئی شخص اس طرح اطاعت نہیں کرتا اور اس طرح اپنے آپ کو اسلامی احکام کے ماتحت نہیں کر دیتا وہ فرمانبردار نہیں کہلا سکتا۔ اول تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تم سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو لیکن کسی کو اگر نقصان پہنچا بھی ہو اَور وہ اس کا ازالہ بھی ضرور کرانا چاہتا ہے تو چاہئے کہ قاضی کے پاس جائے بشرطیکہ حکومت وقت کا قانون اجازت دیتا ہو اور اگر وہ اجازت نہیں دیتا تو پھر سرکاری عدالت میں جائے لیکن جو شخص ان دونوں صورتوں کے خلاف چلتا ہے اور قانون کو خود ہاتھ میں لیتا ہے تو وہ اطاعت کی روح کے خلاف فعل کرتا ہے اور فتنہ پیدا کرتا ہے اور جب تک یہ حالت دور نہ ہو یہ دعویٰ کرنا کہ احمدیت کی حکومت ہمارے دلوں پر ہے اور کہ ہم احمدیت پر عمل کرتے ہیں ایک ناقص دعویٰ ہے۔‘‘
    (الفضل 17 جون 1942ء)
    1 :بخاری کتاب الکفالة باب جوار ابی بکر فی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ وَ عَقْدِہٖ
    2 : سیرت ابن ھشام جلد نمبر 3 صفحہ 327مطبوعہ مصر 1936ء
    3: مسلم کتاب الطہارة باب الاستطابة
    4: مسلم کتاب اللِّعَان حدیث نمبر 3743
    5:درثمین اردو صفحہ 11 زیر عنوان’’ سرائے خام‘‘



    18
    ڈاڑھی منڈانے والے احمدی شکست خوردہ ذہنیت رکھتے ہیں انہیں جماعت کے کسی عہدہ کے لئے منتخب نہ کیا جائے
    ( فرمودہ 19 جون 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’مَیں نے پہلے بھی جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہماری جماعت کوئی انجمن یا اسی قسم کا اَور کوئی نظام نہیں ہے بلکہ ایک مذہبی نظام ہے جو اپنے ساتھ ایک شریعت رکھتا ہے۔ قرآن کریم کی شریعت جو قیامت تک جاری رہنےو الی ہے۔ پس ہماری جماعت کے افراد کو اپنے کاموں میں اور اپنی گفتگوؤں میں اس امر کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ دنیا میں اسلامی شریعت کا قیام اور اس کا احیاء ہو۔ مُنہ سے احمدی احمدی کہہ دینے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ ہم اپنے معاملات اور اپنے تعلقات اور اپنی ہیئت اور اپنی شکل کو احمدیت اور اسلام کے مطابق نہ بنائیں۔
    اس وقت اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور مغربیت اسلام کے رہے سہے نشانوں کو بھی مٹا دینا چاہتی ہے۔ کہیں مغربی فلسفی اسلام کے اُس والہانہ تعلق کو جو وہ بندے اور خدا کے درمیان پیدا کرتا ہے تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کہیں مذہبی تمدن اور اسلامی شریعت کو ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بتا رہا ہے اور کہیں مغربی دستور العمل اور طریقہ اور فیشن اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں کی محبت دلوں سے مٹا رہا ہے۔ پس ہر وہ شخص جو اس فلسفے سے متاثر ہوتا ہے وہ اتنا ہی اسلام کو چھوڑ دیتا ہے، ہر وہ شخص جو اس مغربی تمدن سے متاثر ہوتا ہے وہ اسی قدر اسلام سے دور ہو جاتا ہے اور ہر وہ شخص جو اس فیشن کو اختیار کرتا ہے جسے مغرب نے پیش کیا وہ اتنا ہی اپنے آپ کو اسلام سے نکال دیتا ہے اور اپنے عمل سے اسلام اور احمدیت کو کمزور کرنے کا موجب بنتا ہے۔ کئی لوگ قسم قسم کے حیلے اور بہانے تراش کر یورپ کے فلسفے، یورپ کے تمدن یا یورپ کے فیشن کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور اپنے ان اعمال کے لئے دنیا کے سامنے بہانے پیش کرتے ہیں مگر ان بہانوں سے اسلام کی تقویت کسی صورت نہیں ہو سکتی اور نہ ان بہانوں سے ان کی بریت ثابت ہو سکتی ہے۔ بہرحال ان کے اعمال کے نتیجہ میں اسلام اتنی ہی شکست کھا کر پیچھے ہٹتا ہے اور اتنا ہی دشمن اسلام پر حملہ کرنے کے لئے دلیر ہوتا ہے جتنا وہ اس کے اثر سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب ایک یورپین ایک مسلمان کو اپنے فیشن کے لحاظ سے یا اپنے تمدن کے لحاظ سے یا اپنے فلسفہ کے لحاظ سے یا اپنی سائنس کے لحاظ سے اس کے مقام سے ہٹا دیتا ہے تو اس کے دل میں یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ اسلام شکست کھا رہا ہے اور وہ زیادہ جرأت اور زیادہ دلیری سے اسلام پر حملہ کرتا ہے اور اس کی اس جرأت اور دلیری کا ذمہ دار وہ مسلمان ہوتا ہے جس نے اس کی نقل کی۔ پس اس کے نتیجہ میں اسلام کو جتنی شکست ہوتی ہے اس کا ذمہ دار وہی مسلمان ہوتا ہے اور وہ مسلمان کہلانے والا، اپنے اسلام پر اَلْحَمْدُ لِلہ کہنے والا اور اپنے آپ کو غلط طور پر رسول کریم ﷺ کی غلامی کی طرف منسوب کرنے والا درحقیقت موذی، مجرم اور مفسد ہوتا ہے۔
    مَیں جب ولایت گیا تو ہمارے ایک مبلّغ نے اپنے دل کی کمزوری کی وجہ سے جاتے ہی مجھے اس بات کی رغبت دلانی شروع کر دی کہ ہیٹ تو نہیں مگر کوٹ پتلون یہاں ضرور پہننا چاہئے ورنہ لوگوں پر بُرا اثر پڑے گا اور احمدیت کی تبلیغ کو نقصان پہنچے گا۔ مَیں یہاں سے جاتی دفعہ اپنے لئے گرم پاجامے بنوا کر لے گیا تھا اورگرم پاجامے ہمارے ملک میں عام طور پر پتلون کے مشابہ ہوتے ہیں کیونکہ اگر زیادہ کپڑا لگایا جائے تو پاجامہ بوجھل ہو جاتا ہے۔ عام طور پر ہمارے ملک میں لوگ لٹھے کی شلوار پہنتے ہیں گو بعض علاقوں میں تنگ پاجامے کا بھی رواج ہے مگر بہرحال شلوار پہننے والے اور تنگ پاجامہ پہننے والے دونوں ہی جب گرم پاجامے بنواتے ہیں تو وہ تنگ ہوتے ہیں اور اپنی شکل میں پتلون کے مشابہ ہوتے ہیں۔ وہاں چونکہ سردی شدید ہوتی ہے اور وہاں کی سردی کی شدت کی وجہ سے مَیں یہاں سے گرم پاجامے بنوا کر لے گیا تھا مگر جب ہمارے اس مبلّغ نے مجھے یہ مشورہ دیا تو مَیں نے اپنے دل میں کہا کہ وہی ابلیس جس نے پہلے حوّا کو بہکا کر آدم کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اسی ابلیس نے ہمارے اس مبلّغ کو بہکایا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اب مجھے بھی بہکانے کی کوشش کرے چنانچہ مَیں نے اسی وقت نیت کر لی کہ اب مَیں گرم پاجامہ بھی یہاں نہیں پہنوں گا گو گرم پاجامے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی پہن لیا کرتے تھے اور اس ملک میں گرم پاجامہ پہننے کے یہ معنی ہرگز نہیں تھے کہ انگریزی تمدن سے ڈر کر یا انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے مَیں نے ایسا پاجامہ پہنا ہے اور گو میرا یہ فعل سردی کی وجہ سے ہوتا نہ کہ مغربیت کا اثر قبول کرنے کی وجہ سے مگر چونکہ لوگوں کے دلوں میں اس سے یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ مغربی تمدن سے تھوڑی سی صلح کر لی گئی ہے اس لئے جتنا جتنا وہ مبلّغ اس بات پر زور دیتے کہ خدا کے لئے شلوار چھوڑ دیں لوگ ہنستے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ گویا آپ ننگے پھر رہے ہیں اتنا ہی میرا دل اس بات پر اَور زیادہ مضبوط ہو جاتا کہ مَیں اس ملک میں اب شلوار پہننا نہیں چھوڑوں گا خواہ یہاں کے رہنے والے یہی سمجھیں کہ ہم ننگے پھر رہے ہیں۔ انگریزوں میں دستور ہے کہ کُرتا پاجامہ ان کے نزدیک رات کا لباس ہوتا ہے اور یہ ان کے دلوں پر اتنا حاوی ہے کہ ہمارے ایک مبلّغ نے جو امریکہ میں بھی رہ چکے ہیں مجھے سنایا کہ ایک دن آٹھ نو بجے کے قریب وہ اپنے کمرہ میں بیٹھے تھے کہ دو عورتیں آئیں اور انہوں نے دروازہ پر دستک دی، دریافت کرنے پر معلوم ہؤا کہ وہ اسلام کے متعلق بعض مسائل معلوم کرنا چاہتی ہیں۔ ہمارے وہ مبلّغ اس وقت ہندوستانی لباس میں تھے مگر ان عورتوں کے جوش اور اخلاص کو دیکھ کر وہ نہایت شوق سے نیچے اترے اور انہوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے شکار بھیجا ہے مگر جونہی عورتوں نے ان کو دیکھا وہ چیخیں مارتی ہوئی گلی میں بھاگ گئیں اور شور مچانے لگ گئیں کہ ایک پاگل ننگا نکل آیا ہے۔ اس شور پر بہت سے لوگ جمع ہو گئے ۔ ہمارے اس مبلّغ نے بتایا کہ مَیں تو انہیں تبلیغ کرنے کے لئے آیا تھا مگر یہ دیکھتے ہی بھاگ گئیں۔ آخر ایک لمبی گفتگو کے بعد یہ راز کھلا کہ دراصل ہندوستانی لباس پہننے کی وجہ سے انہیں ننگا قرار دیا گیا ہے۔ مگر مَیں ولایت میں اسی لباس میں رہا۔ ایک دن کچھ معززین مجھ سے ملنے کے لئے آئے جن میں سے ایک سر ڈینی سن راس تھے جو اورنٹیل کالج لنڈن کے پرنسپل تھے۔ اب وہ فوت ہو چکے ہیں۔ ہمارے سلسلہ سے ان کے نہایت اچھے تعلقات تھے اور وہ ایشیائی مضامین ے متعلق انگلستان میں اہم اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔ ان کے ساتھ کچھ اَور پروفیسر ،علم دوست اصحاب اور ریلیجئس کانفرنس کے سیکرٹری وغیرہ بھی تھے۔ باتوں باتوں میں مَیں نے ان سے لباس کا ذکر شروع کر دیا اور کہا کہ ہمارے ایک مبلغ مجھے مجبور کر رہے ہیں کہ مَیں اپنے لباس کو ترک کر دوں کیونکہ انگریز اسے بُرا سمجھتے ہیں اور مَیں اس بات پر اصرار کرتا ہوں کہ مَیں یہی لباس رکھوں گا۔ آپ ہمارے دوست ہیں، آپ بے تکلفی سے بتائیں کہ آپ کے ملک پر ہمارے لباس کا کیا اثر پڑتا ہے اورلوگ اسے کیسا سمجھتے ہیں۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد انہوں نے کہا کہ ہاں بُرا تو سمجھتے ہیں۔ مَیں نے کہا کیوں؟ کہنے لگے اس لئے کہ یہ لباس ہمارے ملک کا نہیں ہم لوگ جو ہندوستان کو دیکھ آئے ہیں۔ اس لباس پر کسی قسم کا تعجب نہیں کرتے مگر باقی لوگ جنہوں نے ہندوستان کو نہیں دیکھا وہ اس لباس کو ایک عجیب سی چیز سمجھتے ہیں اور ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسے کوئی تماشہ ہوتا ہے۔ مَیں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ جب ہمارے ملک میں جاتے ہیں تو ہمیں بھی آپ کا لباس تماشہ معلوم ہوتا ہے۔ کیا آپ اپنا لباس چھوڑ کر ہمارا لباس پہننے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم تو نہیں کر سکتے۔ مَیں نے کہا جب آپ ایسا نہیں کر سکتے تو آپ یہ امید کس طرح کر سکتے ہیں کہ ہندوستانی اپنے لباس کو چھوڑ دیں اوروہ یہاں آ کر آپ کا لباس اختیار کر لیں۔ کیا اس کی وجہ یہی نہیں کہ آپ چونکہ حاکم ہیں اس لئے آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم دوسرے ملک میں جا کر لوگوں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں مگر ان کا فرض ہے کہ وہ ہمارے ملک میں آ کر ہمارے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں۔ پھر مَیں نے ان سے کہا جب کوئی شخص ہندوستانی لباس کو ترک کر کے انگریزی لباس اختیار کر لیتا ہے تو کیا آپ کے دل کے اندرونی گوشوں میں یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ ایک شکست خوردہ اور ذلیل شکار ہے۔ ہنس کر کہنے لگے ہم سمجھتے تو یہی ہیں کہ وہ ڈر کر ہمارے ماتحت ہو گیا ہے۔ پھر مَیں نے ان سے کہا اس لباس کی تبدیلی میں جو نفسیاتی نکتہ ہے وہ درحقیقت یہی احساس ہے جو آپ لوگوں کے دلوں میں ہوتا ہے کہ یہ ایک شکار ہے جسے ہم نے اپنے خیال کے مطابق بنا لیا ہے اور اب اس میں مقابلہ کی طاقت نہیں رہی۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جو لوگ دوسروں کے تمدن کو اختیار کر لیتے اور ان کی نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں وہ انہی کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں اور خود ذمہ داری کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستانی لباس میں اگر انگلستان کے لوگوں کے سامنے کوئی شخص جاتا ہے تو وہ انہیں اچھا معلوم نہیں ہوتا مگر یہ صرف انگریزوں پر ہی منحصر نہیں ہمارے ملک میں بھی جب کوئی غیر ملکی کسی اَور لباس میں آتا ہے تو لوگوں کو وہ اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ انگریز چونکہ ہندوستان میں ایک عرصہ سے ہزاروں کی تعداد میں رہتے ہیں اس لئے ان کا لباس ہندوستانیوں کو بُرا معلوم نہیں ہوتا۔ مگر چینی چونکہ ہمارے ملک میں کم آتے ہیں اس لئے اگر کوئی چینی آ جائے تو عورتیں اور بچے اپنے گھروں سے نکل نکل کر اسے تماشہ کےطور پر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ چینیوں کی اسی طرح چوٹی ہوتی ہے جس طرح عورتوں کی ہوتی ہے اور پھر ان کے پاجامےگھگھروں کی طرح ہوتے ہیں۔ لوگ ان کو دیکھتے اور حیران ہوتے ہیں کہ ایک مرد نے عورت کا لباس کیوں پہن رکھا ہے۔ تو صرف عادت کے نہ ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ کوئی چیز عجیب لگتی ہے حالانکہ وہ عجیب نہیں ہوتی اور قدرتی طور پر انسان چاہتا ہے کہ دوسرا شخص میری نقل کرے حالانکہ اس قسم کی نقل عقل کے بغیر ہوتی ہے اور وہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں دے سکتا کہ دوسرا شخص کیوں پاجامہ نہ پہنے اور پتلون پہنے یا پگڑی چھوڑ دےاور ہیٹ پہننا شروع کر دے۔ اگر کوئی نقل عقل کے مطابق ہو تب تو اسے درست تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن جو نقل عقل کےبغیر ہوتی ہے وہ ضرور انسان کو حقیر بنا دیتی ہے اور گو ظاہری طور پر انسان کتنا ہی معزز ہو کر دوسروں کی سوسائٹی میں رہے مگر وہ اپنے دل میں یہ ضرور محسوس کرتے ہیں کہ یہ ایک کمزور دل کا آدمی ہے جس نے ہمارے اثر کو قبول کر لیا ہے اور لوگ دراصل انہیں کا اثر قبول کرتے ہیں جن کے تمدن کو وہ اپنے تمدن سے بہتر سمجھتے ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ راشے1 جو سرحد سے ہمارے ملک میں آتے ہیں لوگ ان کا لباس اختیار نہیں کرتے یا چینیوں کا لباس کیوں نہیں پہنتے یا جاویوں کے لباس کو اپنا لباس نہیں بنا لیتے یا افریقہ کے لوگوں کے لباس کو اپنے لباس پر کیوں ترجیح نہیں دیتے۔ اسی وجہ سے کہ ان پر ان کے تمدن کا اثر نہیں ہوتا ۔ یہ نہیں کہ ان کا لباس یورپین لوگوں سے کسی دلیل کی رو سے ادنیٰ ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ صرف یہی ہوتی ہے کہ تمدنی لحاظ سے چینیوں یا جاویوں یا افریقی لوگوں کے لباس کو اختیار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ پس جو لوگ انگریزی لباس کی نقل کرتے ہیں وہ انگریزی لباس کی کسی خوبی کی وجہ سے اس کی نقل نہیں کرتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ انگریز حاکم ہیں اور وہ ہندوستانی بندر کی طرح ان کے نقّال بننا چاہتے ہیں۔ انگریز تو اس بات پر مجبور ہیں کہ وہ خواہ ہندوستان میں رہیں اپنے قومی لباس کو ترک نہ کریں مگر جو ہندوستانی ان کے لباس کی نقل کرتا ہے وہ ضرور نقّال ہوتا ہے۔ پھر بھی جہاں تک ایسے احکام کا تعلق ہے جن میں ہماری شریعت روک نہیں بنتی ہم کہہ سکتے ہیں کہ چلو اگر کسی نے ایسی بات نقل کر لی ہے تو کیا ہؤا۔ مثلاً اگر کسی ہندوستانی کو انگریزوں سے مل کر رہنا پڑتا ہے اور وہ اکثر انہی کی سوسائٹی میں رہتا ہے تووہ اگر انگریزوں کا لباس پہن لیتا ہے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ مجبور ہے اس کا زیادہ تر تعلق چونکہ ہندوستانیوں کی بجائے انگریزوں سے ہے اور انگریزوں کے ہاں اس کا آنا جانا اکثر رہتا ہے ۔ اس لئے اگر اس نے انگریزوں کا لباس اختیار کر لیا ہے تو یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ ہماری شریعت نے اس سے منع نہیں کیا گو بعض لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جن کا انگریزوں سے اس قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوتا او رپھر بھی وہ انگریزی لباس پہنے پھرتے ہیں۔ یہیں قریب کے ایک گاؤں کا ایک نیم پاگل لڑکا ہے جو ہمیشہ کوٹ پتلون پہنتا ہے۔ اس کے سارے رشتہ دار دھوتی اور لنگوٹی باندھے پھرتے ہیں مگر اُسے کوٹ پتلون کے بغیر کوئی لباس پسند ہی نہیں آتا۔ مجھے ہمیشہ اسے دیکھ کر ہنسی آتی ہے اور مَیں سمجھتا ہوں کہ یہی بندروں والی نقل ہے۔ اگر کسی کو ہمیشہ انگریزوں سے مل کر رہنا پڑتا ہے تو اُن کے احساسات اور جذبات کا خیال رکھنے کے لئے اگر وہ انگریزی لباس پہن لیتا ہے تو یہ اَور بات ہے مگر دوسرے لوگ جو انگریزی لباس پہننے کے عادی نہیں ان کا انگریزی لباس پہننا محض ایک نقل ہوتی ہے اور وہ دوسرے لباسوں کو اس لئے اختیار نہیں کرتے کہ ان کے دل پر انگریزی لباس کا ہی رعب ہوتا ہے اور لباسوں کا رعب نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر کسی اَور لباس کی وہ کسی اَور کو نقل کرتے دیکھیں تو شاید وہ خود بھی اس پر ہنسنے لگ جائیں۔
    مجھے ہمیشہ ایک لطیفہ یاد رہتا ہے جو مَیں پہلے بھی بعض دوستوں کو سنا چکا ہوں کہ 1918ء میں جب انفلوئنزا کا شدید حملہ ہؤا تو مجھ پر بھی اس کا شدت سے حملہ ہؤا اور کئی سال تک میری طبیعت کمزور رہی۔ مَیں ایک دفعہ آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے دریا پر گیا ہؤا تھا کہ ایک دوست نے اپنے متعلق ذکر کیا کہ مَیں ریوڑیاں بڑی اچھی بنا لیتا ہوں اور مذاق مذاق میں بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ ریوڑیاں ان کے گھر کے لوگ اچھی بناتے ہیں یہ تو صرف دیکھنے والے ہیں۔ اس پر کچھ اُن کو غیرت آئی اور کچھ لوگوں نے زور دیا آخر گُڑ اور تِل منگوائے گئے اور انہیں ریوڑیاں بنانے کے لئے کہا گیا پھیروچیچی میں ان دنوں احمدیہ سکول ہؤا کرتا تھا اس کے کمروں میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک کمرہ میں مَیں لیٹا ہؤا تھا اور ہمارے دوست عبدالاحد خان صاحب افغان کابلی مجھے دبا رہے تھے کہ ریوڑیاں تیار ہونے میں دیر ہو گئی اور جتنے عرصہ میں ہم سمجھتے تھے کہ ریوڑیاں تیار ہو جائیں گی اس سے کچھ زیادہ وقت ہو گیا اور آخر ہوتے ہوتے ساڑھے نو دس بجے رات کا وقت آ گیا۔مَیں نے کہا۔ میاں عبد الاحد خان جاؤ اور دیکھو کہ کیا ہؤا۔ اتنی دیر کیوں ہو گئی ہے۔ انہوں نے آکر کہا۔ کئی دوست بیٹھے ہوئے ہیں۔ گاؤں کے لوگ بھی موجود ہیں مگر جو گُڑ ہے وہ راب کی طرح پتلا ہو گیا ہے اور کبھی ایک کو چکھایا جاتا ہے اور کبھی دوسرے کو۔ کوئی کہتا ہے یہ آدمیوں کے کھانے کے قابل نہیں رہا یہ تو گدھوں کے آگے ڈالنے کے قابل ہے اور کوئی کہتا ہے گھوڑوں کے آگے ڈال دو۔ غرض اسی طرح باتیں ہو رہی ہیں یہاں تک تو انہوں نے بڑی سنجیدگی سے باتیں کیں۔ اس کے بعد کہنے لگے اور درد صاحب اور یہ کہہ کر وہ بے اختیار ہو کر ہنس پڑے ان کی عادت نہیں کہ میرے سامنے اس طرح ہنسیں مگر وہ اس وقت بے اختیار ہو کر ہنس پڑے اور جیسے کہتے ہیں ہنستے ہنستے پسلیاں ٹوٹ گئیں یہی کیفیت ان کی تھی وہ ہنستے چلے جاتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہنستے ہنستے گر جائیں گے۔ آخر مَیں نے کہا درد صاحب کو کیا ہؤا۔ وہ کہنے لگے۔ درد صاحب اور پھر ہنسنے لگ گئے۔ مَیں حیران ہؤا کہ آخر ہؤا کیا جو ان کی ہنسی نہیں رکتی۔ مَیں نے کہا میاں عبد الاحد خان درد صاحب کی کیا بات ہے۔ اس پر وہ کچھ ہنسی کو ضبط کر کے کہنے لگے۔ درد صاحب ۔ اور پھر ہنسنے لگ گئے۔ آخر مَیں نے کہا یہ کیا لغو طور پر ہنس رہے ہو سیدھی طرح کیوں نہیں بتاتے کہ ہؤا کیا۔ اس پر انہوں نے بڑی مشکل سے رُک رُک کر اور سینے کو ہاتھ سے دبا دبا کر کہا کہ درد صاحب عورتوں والی پر بیٹھے ہیں۔ مَیں اس پر اَور حیران ہؤا کہ یہ ’’عورتوں والی‘‘ کیا چیز ہے۔ مگر مَیں نے سوچا کہ اب ان سے کچھ پوچھنا فضول ہے خود ہی دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ کمرہ کی کھڑکی کھولی تو مَیں نے دیکھا کہ درد صاحب بڑے آرام سے ایک پیڑھی پر بیٹھے ہیں۔ پٹھانوں میں چونکہ مرد پیڑھی پر نہیں بیٹھتے بلکہ عورتیں بیٹھتی ہیں اس لئے میاں عبد الاحد خان صاحب کے نزدیک درد صاحب کا پیڑھی پر بیٹھنا ایسی ہی حرکت تھی جیسے ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ فلاں کا مُنہ کالا کر کے اور گدھے پر سوار کر کے شہر میں پھرایا گیا۔ ان کے نزدیک درد صاحب جیسا عالم آدمی چونکہ عورتوں والا کام کر رہا تھا اس لئے یہ بات ان کے نزدیک سخت ہنسی کا موجب تھی۔ مگر ہمارے ملک میں عام طور پر مَرد پیڑھی پر بیٹھ جایا کرتے تھے۔
    اب دیکھو یہ ایک رواج ہے جو ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے مگر میاں عبد الاحد خان صاحب کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ خود بھی پیڑھی لے کر بیٹھ جائیں بلکہ اپنے رواج کے مطابق انہوں نے درد صاحب کا پیڑھی پر بیٹھنا ہنسی کا موجب سمجھا۔ تو مختلف ملکوں میں مختلف رواج ہوتے ہیں اور انسان ان سب رواجوں کی نقل نہیں کرتا۔ نقل اسی کی کرتا ہے جس کو اپنے دل میں عظمت دے دیتا ہے اور نقل کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اب اس شخص نے اس قوم کو عظمت دے دی ہے جس کے رواج اور جس کے طریق کو اس نے اختیار کیا ہے مگر جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے جس حد تک سوال ملکی رواج کا ہے اس حد تک ان باتوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ مگر جہاں شریعت کے احکام کا سوال آ جائے وہاں اگر ہم دوسروں کی نقل کریں گے تو یقیناً ہم اسلام کی ذلت کے سامان پیدا کر کے دشمنوں کی مدد کرنے والے قرار پائیں گے۔ انہی نقلوں میں سے ایک نقل ڈاڑھی منڈوانا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ نہیں متواتر ڈاڑھی منڈوانے سے منع فرمایا ہے۔2 اور ڈاڑھی منڈوا کر کوئی خاص فائدہ بھی انسان کو نہیں پہنچتا لیکن باوجود اس کے مَیں دیکھتا ہوں کہ مسلمان کہلانے والے دوسرے لوگوں میں سے تو اکثر شہری ڈاڑھی منڈواتے ہی ہیں۔ احمدیوں میں سے بھی ایک حصہ ڈاڑھی منڈواتا ہے اور باوجود بار بار سمجھانے کے وہ اپنے اس فعل سے باز نہیں آتا۔ یوں وہ کہیں گے ہم اسلام کے لئے قربان، ہم احمدیت کے لئے قربان مگر اس شخص کی قربانی کے دعویٰ پر کوئی احمق ہی یقین کر سکتا ہے جو رسول کریم ﷺ کے صریح احکام کی عَلَی الْاِعْلَان نافرمانی کرتا اور پھر قربانی اور محبت کا بھی دعویٰ کرتا چلا جاتا ہے۔ میرے نزدیک تو وہ شخص بڑا احمق ہے جو اسلام کی عزت اور شریعت کی عزت اور رسول کریم ﷺ کی عزت کے قیام کے لئے ایسے شخصوں پر اعتبار کر لیتا ہے جو شخص رسول کریم ﷺکی اتنی چھوٹی سی بات نہیں مان سکتا۔ اس سے یہ کب توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر اس کے سامنے کوئی بڑی بات پیش کی جائے گی تو وہ اسے مان لے گا وہ تو فوراً اکڑ کر کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا کہ مَیں اس کے مطابق عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جیسے گزشتہ خطبہ میں ہی مَیں نے بیان کیا تھا کہ کسی شخص کا ایک حد تک فرمانبرداری کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ وہ فرمانبردار ہے۔ ممکن ہے اس کی طبیعت کا رخ ہی اسی طرف ہو اور جب اس کی طبیعت کے خلاف کوئی بات پیش ہو تو اس کا انکار کر دے۔ اس صورت میں وہ فرمانبردار نہیں بلکہ اپنی طبیعت کے مطابق کام کرنے والا سمجھا جائے گا۔ پس جو شخص بلا کسی ایسی وجہ کے جو شرعی طور پر اسے بری قرار دے ڈاڑھی منڈواتا ہے وہ صاف طور پر اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ محمد ﷺ کے اس حکم کو ماننے کے لئے مَیں تیار نہیں ہوں۔ یہ حکم میری مرضی کے خلاف ہے اور جو شخص محمد ﷺ کو بزبانِ حال کہہ دیتا ہے کہ آپ کا فلاں حکم چونکہ میری مرضی کے خلاف ہے۔ اس لئے اس پر مَیں عمل نہیں کر سکتا۔ اس پر میرے جیسا انسان کیا اعتبار کر سکتا ہے جو رسول کریم ﷺ کے خادموں کا ایک خادم ہے۔ جو شخص میرے آقا کی بات نہیں مانتا اور پھر یہ توقع رکھتا ہے کہ مَیں اسے احمدیت کا پہلوان، اسلام کا خادم اور محمد ﷺ کا جاں نثار سپاہی سمجھوں۔ وہ میری عقل کی بڑی توہین کرتا ہے اور دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یا تو وہ مجھے پاگل سمجھتا ہے یا ایسا مغرور اور متکبر خیال کرتا ہے کہ گویا میرا خیال ہے کہ جو شخص محمد ﷺ کی بات نہیں مانتے وہ میری ضرور مان لیں گے اور ان دونوں صورتوں میں وہ میری ہتک کرتا ہے۔ پس یا تو وہ مجھے متکبر اور اپنے فہم کے مطابق نَعُوْذُ بِاللہ محمد ﷺ سے بھی افضل خیال کرتا ہے اور یا مجھے بے وقوف خیال کرتا ہے کہ میں اس کی ظاہری باتوں سے دھوکا میں آ جاؤں گا۔ بو علی سینا ایک مشہور طبیب گزرے ہیں۔ اخلاقی طور پر تو وہ اچھے آدمی نہیں تھے۔ کثرت سے شراب پیتے اور کئی مَنْہیات کے مرتکب ہؤا کرتے تھے لیکن جیسے بعض لوگ عقیدے میں راسخ ہوتے ہیں انہیں بھی عقیدہ میں رسوخ حاصل تھا۔ فلسفی بڑے تھے اوربال کی کھال نکالنے کے عادی تھے۔ کسی موقع پر انہوں نے فلسفہ کے متعلق ایک اچھی سی تقریر کی۔ ایک شاگرد ان کی اس تقریر سے ایسا متاثر ہؤا کہ کہنے لگا خدا کی قسم تم نبی ہو اورپھر اسی جوش کی حالت میں یہاں تک کہہ بیٹھا کہ اگر محمد ﷺ کے زمانہ میں تم ہوتے تو تم کو اس مقام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا کیا جاتا جس مقام پر محمد ﷺ کھڑے ہوئے تھے۔ بو علی سینا حکیم تھے اور وہ طبائع کو اور طبائع کےسمجھانے کے اوقات کو سمجھتے تھے۔ اس وقت وہ خاموش ہو گئے اور مہینوں انہوں نے اپنے دل میں یہ بات رکھی۔ وہ سرد ملک کے رہنے والے تھے ایک دفعہ سردی کا موسم تھا صبح کا وقت تھا وہ تالاب کے کنارے کھڑے تھے اور پانی یخ بستہ تھا کہ انہوں نے اپنے اسی شاگرد کو بلایا اور کہا کہ اس تالاب میں چھلانگ لگاؤ۔ وہ شاگرد انہیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا اور کہنے لگا جناب پاگل ہو گئے ہیں۔ اس قدر حکمت کا آپ کو دعویٰ ہے اور اس یقینی موت میں آپ مجھے دھکیل رہے ہیں اور اگر آپ پاگل ہی ہو چکے ہیں تو کم از کم میں تو پاگل نہیں کہ آپ کی بات مان لوں۔ بو علی سینا نے کہا تمہیں یاد ہے کچھ مہینے گزرے تم نے مجھے کہا تھا کہ اگر محمد ﷺ کے زمانہ میں مَیں ہوتا تو جس مقام پر محمد ﷺ کھڑے کئے گئے ہیں اس مقام پر مَیں کھڑا کیا جاتا۔ احمق! محمد ﷺ نے ایک نہیں ہزاروں کو یقینی موت کے مُنہ میں دھکیلا اور وہ بغیر چون و چرا کئے موت کے مُنہ میں چلے گئے اور انہوں نے اُف تک نہ کی مگر مَیں نے تو صرف تجھ کو جس نے مجھے وہ مقام دینا چاہا تھا جو محمد ﷺ کو خدا نے دیا اس تالاب میں کُودنے کو کہا اور تُو مجھے پاگل سمجھنے لگا۔ کیا تُو اس فرق کو نہیں سمجھتا کہ بات کرنی اَور چیز ہے اور دنیا کے حالات میں تغیر پیدا کرنے کی قابلیت اور چیز ہے۔
    مَیں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ یوں تو جہاد کے موقع پر ہمیشہ ہی مسلمانوں نے اپنے آپ کو آگ میں جھونکا مگر ایک موقع پر ایک صحابی نے بعینہٖ یہی فقرہ کہا تھا۔ چنانچہ بدر کے موقع پر جب بار بار رسول کریم ﷺ مشورہ دینے کو فرماتے تو ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللہ! کیا آپ ہم انصار سے مشورہ لینا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس مقام سے سمندر کچھ منزل پر تھا۔ اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللہ ہمیں آپ کی صداقت پر ایسا یقین ہے کہ اگر آپ کہیں کہ یہ جو سامنے سمندر ہے اس میں تم سب کُود جاؤ تو ہم بغیر کسی عذر کے اس میں کودنے کے لئے تیار ہیں حالانکہ سمندر میں سے کوئی شخص تیر کر نہیں گزر سکتا ۔وہ سینکڑوں میل کا سمندر تھا اور چار پانچ سو میل چوڑا تھا۔ اس میں سے ان کو کوئی چیز بچا نہیں سکتی تھی مگر انہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللہ!آپ اگر کہیں کہ ہم سمندر میں کُود جائیں تو ہم اس میں بھی کُود جائیں گے اور اس کے مقابلہ میں کسی قسم کا عذر نہیں کریں گے۔3 تو رسول کریم ﷺ کو عملی طور پر ایسے لوگ ملے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو موت کے مُنہ میں ڈال دیا اوریہ آپ کا ہی کمال تھا ورنہ یہ وہی عرب تھے جو دو دو پیسوں کے لئے لڑا کرتے تھے جو خربوزوں اور تربوزوں کے لئے ایک دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہو جاتے تھے مگر پھر یہی عرب تھے جنہوں نے محمد ﷺ کی آواز پر ایسی قربانی کی کہ جس کی مثال دنیا کے پردہ پر نہیں مل سکتی۔
    قربانی کی مثالیں اورجگہ بھی مل جائیں گی مگر اتنی کثرت سے ساری قوم کا چند منافقوں کو چھوڑ کر قربانی کے لئے تیار ہو جانا ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ ہے کہ انسان کی عمر اس پر حیرت اور استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ اس قسم کے لوگوں کا مِل جانا فتح کو بالکل یقینی بنا دیتا ہے مگر یہ تغیر محمد ﷺ کی صحبت میں ہی رہ کر صحابہ میں پیدا ہؤاتھا اور صحابہ کو بھی رسول کریم ﷺ سے ایسی محبت تھی کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ان کا نقطۂ مرکزی صرف محمد ﷺ کی ذات تھی چنانچہ جب کسی شخص نے حضرت عائشہ سے سوال کیا کہ رسول کریم ﷺ کی کچھ صفات تو بیان کیجئے تو آپ نے جواب دیا کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنُ 4 آپ کے اخلاق وہی ہیں جو قرآن میں لکھا ہے اور جو کچھ قرآن میں لکھا ہے وہ آپ کے اخلاق ہیں پھر کس قسم کی محبت تھی ان لوگوں کے دلوں میں؟ مجھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہمیشہ ہی یاد رہتا ہے کہ مدینہ میں کم سے کم اس وقت تک جبکہ یہ واقعہ ہؤا اچھی چکیوں کا رواج نہیں تھا۔ لوگ پتھروں پر دانے کچل لیتے اور پتھروں پر ہی پیس کر پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکا لیا کرتے تھے۔ جب ایران فتح ہؤا تو پَن چکیاں اور ہوا کی چکیاں آئیں اور ان سے میدے جیسا باریک آٹا پسنے لگا۔ صحابہؓ نے کہا سب سے پہلا آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیجنا چاہئے چونکہ یہ چکی کا پہلا اعلیٰ درجے کا باریک آٹا تھا اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں صحابہ کی طرف سے نذر کے طور پر بھیجا گیا۔ اس وقت کئی عورتیں آپ کے اردگرد بیٹھی تھیں، روٹی پکانے والی نے روٹی پکائی اور ساری عورتیں اسے دیکھ دیکھ کر حیرت کا اظہار کرنے لگیں کہ کیا ہی نرم روٹی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی اس کا ایک لقمہ توڑ کر مُنہ میں ڈالا مگر لقمہ مُنہ میں ڈالنا ہی تھا کہ ٹپ ٹپ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ عورتیں جو پاس بیٹھی تھیں پھر پھلکے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں۔ اُمّ المومنین روٹی تو بڑی نرم ہے ایسی روٹی تو ہم نے کبھی دیکھی نہین تھی۔ آپ اسے کھا کر روتی کیوں ہیں؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا یہ لقمہ میرے گلے میں پھنستا ہے ۔ پھر انہوں نے کہا تم کو کیا معلوم کہ ان پن چکیوں اور ہوا کی چکیوں سے پہلے ہم کیا کیا کرتی تھیں۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں چکیاں نہیں ہوتی تھیں۔ ہم غلہ کو پتھر سے کُوٹ کر اور اس کا آٹا بنا کر روٹی پکایا کرتے تھے۔ جب یہ لقمہ میرے منہ میں گیا تو مجھے معاً وہ زمانہ یاد آ کر رونا آ گیا۔ اگر اس وقت بھی ایسی ہی چکیاں ہوتیں۔ تو مَیں اس آٹے کی روٹی پکا کر محمد ﷺ کو کھلاتی۔تو دیکھو جو آٹا مدینہ کے دوسرے لوگوں کے لئے حیرت پیدا کرنے کا موجب تھا جو آٹا لوگوں کو ملائم ملائم دکھائی دیتا تھا۔ جو آٹا لوگوں کو روٹی کھانے کا اشتیاق دلا رہا تھا۔ اسی آٹے کا لقمہ عائشہؓ کے گلے میں پھنسنے لگ گیا۔
    یہ رسول کریم ﷺ کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق ہی تھے جنہوں نے ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کیا ورنہ اگر دنیوی نگاہ سے دیکھو تو حضرت عائشہؓ کو رسول کریم ﷺ سے شادی کر کے کیا فائدہ پہنچا۔ گیارہ بارہ سال کی عمر میں ایک لڑکی بیاہی گئی جو بیس سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی اور پھر اس کی ساری عمر ہی بیوگی میں کٹ گئی۔ دنیاداروں کی بیویاں ایسے موقع پر شاید روز اپنے خاوندوں کو بدعائیں دیتی ہوں گی مگر وہ تعلق دنیا کا نہیں تھا بلکہ دین کا تھا عائشہؓ یہ نہیں سمجھتی تھیں کہ میری شادی ایک انسان سے ہوئی ہے بلکہ عائشہؓ یہ سمجھتیں کہ میری شادی ایک ایسے انسان سے ہوئی ہے جو دوسرے کے ہاتھ کو پکڑ کر اس کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ اسی طرح اَور بھی بیسیوں واقعات صحابہؓ کی زندگیوں میں پائے جاتے ہیں۔ جن سے اس محبت کا پتہ چلتا ہے جو انہیں رسول کریم ﷺ کی ذات سے تھی اور درحقیقت یہی وہ نمونہ تھا جس نے لوگوں کے اندر ایک تغیر پیدا کر دیا۔ پس بو علی سینا کا یہ مثال دینا واقع میں ایک بہت بڑی علمی دلیل تھی۔
    تو رسول کریم ﷺ نے ایک ایسا تغیر دنیا میں پیدا کر دیا ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ ایسے انسان کی فرمانبرداری اور اطاعت سے اگر کوئی شخص مُنہ موڑ لیتا ہے تو پھر میرا اس پر کس طرح یقین ہو سکتا ہے بلکہ جس شخص کےد ماغ میں ایک ذرّہ بھر بھی عقل ہو وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ اس نے رسول کریم ﷺ کی بات تو نہیں مانی مگر میری مان لے گا۔ مَیں نے بتایا ہے کہ یا تو وہ پاگل ہو گا یا انتہاء درجے کا متکبر اور مغرور ہو گا جو اس دھوکا میں آ جائے گا۔
    مَیں نے متواتر جماعتوں کو توجہ دلائی ہے اور ہمارے ہاں قانون بھی ہے کہ کم سے کم جماعت کے عہدیدار ایسے نہیں ہونے چاہئیں جو ڈاڑھی منڈواتے ہوں اور اس طرح اسلامی احکام کی ہتک کرتے ہوں مگر مَیں دیکھتا ہوں اب بھی دنیاداری کے لحاظ سے جس کی ذرا تنخواہ زیادہ ہوئی یا چلتا پرزہ ہؤا یا دنیوی لحاظ سے اسے کوئی اَور اعزاز حاصل ہؤا اسے جماعت کا عہدیدار بنا دیا جاتا ہے۔ خواہ وہ ڈاڑھی منڈواتا ہی ہو حالانکہ دنیوی لحاظ سے ہماری جماعت کے بڑے سے بڑے آدمی بھی ان لوگوں کے پاسنگ بھی نہیں۔ جو اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں اور اگر دنیوی لحاظ سے ایسے لوگوں کو عہدیدار بنایا جا سکتا ہے تو عیسائیوں اور ہندوؤں کو کیوں نہیں بنایا جا سکتا وہ بہت زیادہ دولت مند اور دنیوی لحاظ سے بہت زیادہ معزز ہوتے ہیں مگر درحقیقت یہ کام وہی کر سکتا ہے جسے اسلام اور احمدیت کے جیتنے کی امید نہیں اور جو اسلام اور احمدیت کو ایک شکست خوردہ مذہب سمجھتا ہے ورنہ جو شخص اسلام اور احمدیت کو جیتنے والا مذہب سمجھتا ہے اس کے سامنے تو اگر کروڑ پتی بھی آ جائیں تو وہ ان کو حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے اور دنیا کے تمام بادشاہوں کو بھی ایک سچے مومن کے مقابلہ میں ذلیل سمجھتا ہے۔
    دنیا آخر ہے کیا چیز؟ کب یہ خدا کے نبیوں کے مقابلہ میں کھڑی ہوئی اور کامیاب ہوئی۔ آخر ہزاروں نبی دنیا میں آئے ہیں۔ ان ہزاروں نبیوں میں سے کب کوئی ایسا نبی آیا کہ اسے دنیوی لحاظ سے کوئی عزت حاصل تھی لیکن کب اس کا سلسلہ ختم ہؤا اوروہ فاتح اور حکمران نہیں تھا۔ یہی حال احمدیت کا ہے۔ پس ایسی شکست خوردہ ذہنیت کے لوگ جنہوں نے مغربیت کے آگے اپنے ہتھیار ڈال رکھے ہیں وہ ہرگز کسی عہدہ کے قابل نہیں ہیں۔ وہ بھگوڑے ہیں اور بھگوڑوں کو حکومت دے دینا اول درجہ کی حماقت اور نادانی ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھو۔ یہ وہ بہادر لوگ تھے جو سمجھتے تھے کہ اسلام کی باگ کن لوگوں کے ہاتھ میں دی جانی چاہئے۔
    عکرمہ بن ابو جہل اسلام کے ایک بہت بڑے بہادر جرنیل گزرے ہیں۔ ایک جنگ کے موقع پر اتفاقیہ طور پر ان کی فوج کے پاؤں اکھڑ گئے اور اس لشکر کے ساتھ وہ بھی بھاگ کھڑے ہوئے۔ دنیا میں اگر کسی گندی اور سڑاند والی چیز سے اعلیٰ درجے کا ہیرا پیدا ہؤا ہے تو وہ عکرمہؓ ہے۔ ابو جہل جیسے خبیث اور ناپاک آدمی کے نطفہ سے عکرمہؓ ایسا اعلیٰ درجہ کا مومن پیدا ہؤا ہے جس کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔ مگر وقت ہوتا ہے۔ کسی وقت انسان کا قدم اکھڑ جاتا ہے۔ اس وقت لشکر جو بھاگا تو حضرت عکرمہؓ بھی بھاگ کھڑے ہوئے اس میں کچھ غلطی ان کی بھی تھی۔ حضرت ابو بکرؓ نے حکم دیا تھا کہ جب تک فلاں لشکر نہ پہنچ جائے حملہ نہ کرنا مگر انہوں نے اس لشکر کے آنے سے پہلے ہی جہاد کے شوق میں حملہ کر دیا اور جب لشکر پسپا ہؤاتو وہ بھی میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ اسلام کے لئے ایک بہت بڑی ہتک کا موقع تھا کیونکہ اسلام نے کبھی ایسی شکست نہیں کھائی تھی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس جب یہ معاملہ پہنچا تو آپ نے فیصلہ کیا کہ عکرمہ کو آئندہ کسی لشکر کی کمان سپرد نہ کی جائے اور نہ آئندہ وہ میرے سامنے کبھی مدینہ میں آئیں۔ گویا وہ مقدس مقام جس کے ایک ایک انچ پر محمد ﷺ کے پاؤں پڑے تھے اور جس کو دیکھنے کے لئے مسلمان تڑپتے رہتے تھے اس کے متعلق عکرمہؓ کو حکم دے دیا گیا کہ وہ اس مقام میں آئندہ نہ آئیں چنانچہ عکرمہ حضرت ابو بکرؓ کے زمانہ میں پھر مدینہ میں نہیں آئے۔ یہ مجھے معلوم نہیں کہ بعد میں انہیں آنے کی اجازت دی گئی تھی یا نہیں۔ عکرمہؓ نے جس جس رنگ میں اپنی اس غلطی کا کفارہ کیا ہے اور سالہا سال اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا یہانتک کہ آخر شہادت کی موت قبول کر لی وہ ایمان کا ایسا اعلیٰ درجے کا مظاہرہ ہے کہ ہر سچا مومن اس کی نقل کرنے کی آرزو اپنے دل میں رکھتا ہے مگر بہرحال ان کی اس وقت شکست کو جو بعد میں بدل گئی اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اتنا محسوس کیا کہ انہوں نے فیصلہ فرما دیا کہ ایسی بھگوڑی ذہنیت رکھنے والے شخص کو اسلامی لشکر کی کمان سنبھالنے کے قابل نہیں سمجھا جا سکتا۔
    پس غور کرو کہ تائب عکرمہؓ کو بھی ابو بکرؓ اسلامی لشکر کی کمان نہیں دیتے، بھاگنے والے عکرمہؓ کو نہیں ۔ وہ عکرمہ جو میدان سے بھاگا اس کے متعلق یہ فیصلہ نہیں بلکہ یہ فیصلہ اس کے متعلق ہے جو واپس لَوٹا اور جس نے مختلف میدانوں میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر دشمن پر فتح حاصل کی مگر توبہ کرنے والے عکرمہؓ کے متعلق بھی حضرت ابو بکرؓ کا فیصلہ یہی تھا کہ ایسی بھگوڑی ذہنیت کے انسان کے ہاتھ میں اسلامی لشکر کی کمان نہیں دی جا سکتی۔ پھر کیسے افسوس کی بات ہے ان احمدیوں کے لئے جو محض اس وجہ سے کہ فلاں شخص کی تنخواہ زیادہ ہے، فلاں دو سو روپے لیتا ہے اور فلاں پانچ سو اور فلاں ہزار۔ ان دنیا دار لوگوں کو اپنی جماعت اور پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بنا دیتے ہیں اوریہ نہیں دیکھتے کہ وہ اپنے عمل سے اسلام اور احمدیت کی ہتک کرنے والے ہیں۔ جس فوج کے بھگوڑے کمانڈر ہوں اس فوج کی شکست میں کسی کو شبہ نہیں ہو سکتا اور جو لوگ اتنا بھی خدا اور رسول کے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے اور خیال کرتے ہیں کہ اگر فلاں شخص گو وہ کیسا ہی دنیادار ہے عہدیدار نہ ہؤا تو جماعت کی عزت نہیں رہے گی وہ اپنے عمل سے اسلام اور احمدیت کی شکست کا اظہار کرتے ہیں۔پس ایسے لوگ بھی مجرم ہیں جو ان لوگوں کو عہدیدار بناتے ہیں اور وہ لوگ بھی مجرم ہیں جو ایسی باتوں میں یورپین لوگوں کی نقل کرتے ہیں۔ وہ محمد ﷺ کی طرف پیٹھ کر کے دجال کی طرف مُنہ کر کے کھڑے ہیں۔ گویا دجال ان کے نزدیک بڑی عزت والی چیز ہے جس کی نقل کرنے میں ان کی نجات ہے۔ لیکن محمد ﷺ ان کے نزدیک نَعُوْذُ بِاللہ ایک بے عزت وجود ہے کہ ان کی طرف انہوں نے پیٹھ کر لی ہے۔ پس مَیں ایک دفعہ پھر جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں سوال چند بالوں کا نہیں بلکہ یہاں سوال اس ذہنیت کا ہے جو مغربیت کے مقابلہ میں اسلام اور احمدیت نے پیدا کرنی ہے اور جس ذہنیت کو ترک کر کے انسان مغربیت کا غلام بن جاتا ہے۔ آخر کونسی بات ہے جس کے لئے لوگ انگریزوں کی نقل کرتے ہیں۔ بس اتنی سی بات کے لئے کہ وہ کہہ سکیں ہم فلاں انگریز سے ملنے کے لئے گئے تھے تو اس نے مسکرا کر ہم سے بات کی۔ اتنی سی بات پر وہ لٹو ہو جاتے ہیں اور بندر کی طرح ان کی نقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
    تُف ہے ایسے ایمان پر اور تُف ہے ایسی عزت پر۔ تمہارا ایمان تو ایسا ہونا چاہئے کہ اگر دس کروڑ بادشاہ بھی تمہیں آ کر کہیں کہ ہم تمہارے لئے اپنی بادشاہتیں چھوڑنے کے لئے تیار ہیں تم ہماری صرف ایک بات مان لو جو اسلام کے خلاف ہے تو تم ان دس کروڑ بادشاہوں سے کہہ دو کہ تُف ہے تمہاری اس حرکت پر۔ مَیں تو محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایک بات کے مقابلہ میں تمہاری اور تمہارے باپ دادا کی بادشاہتوں کو جوتی بھی نہیں مارتا۔ یہ ہے ایمان کی کیفیت ۔ جو شخص یہ کیفیت اپنے دل میں محسوس نہیں کرتا اس کا یہ دعویٰ کہ اس کا ایمان پکا ہے ہم ہرگز ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسے لوگ مومن نہیں، گنہگار بھی مومن ہوتے ہیں۔ مگر ایسی بھگوڑی ذہنیت رکھنے والے کمان اور سرداری کے مستحق نہیں سمجھے جا سکتے۔ سرداری اور کمان ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہی ہونی چاہئے جو بہادر ہوں، دلیر ہوں اور سمجھتے ہوں کہ احمدیت کی خاطر اور اس کے وقار کو قائم رکھنے کے لئے ہم ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مَیں نے ایسی مثالیں اپنی جماعت میں بھی دیکھی ہیں۔ مَیں ایک دفعہ ایک جماعت میں گیا۔ اس جماعت کے امیر ایک ایسے دوست تھے جو صرف ستّر اَسّی روپے ماہوار تنخواہ لیا کرتے تھے مگر ان کے ماتحت اس وقت ایک احمدی افسر مال تھے، ایک احمدی سب جج تھے، ایک فوج کے کپتان تھے اور ایک جیل خانہ کے افسر تھے۔ یہ چار بڑے بڑے عہدیدار ان کے ماتحت تھے جن میں سے دو امپیریل سروس کے سمجھے جاتے تھے اور گورنمنٹ کی اعلیٰ درجہ کی نوکریاں امپیریل سروس والوں کو ہی ملا کرتی ہیں۔ مَیں نے ان امیر صاحب کو ایک ضرورت کے ماتحت لکھا تھا کہ سٹیشن پر کوئی شخص استقبال کے لئے نہ آئے سوائے اس کے کہ وہ اپنے امیر سے اس کی اجازت لے چکا ہو۔ جب میں سٹیشن پر پہنچا تو ایک نوجوان انہی افسروں میں سے سٹیشن پر موجود تھا۔ مَیں نے ان کی طرف دیکھا تو وہ اپنے امیر صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ مَیں ان سے اجازت لے کر آیا ہوں اور امیر صاحب نے بھی کہا کہ مَیں نے انہیں آنے کی اجازت دے دی تھی۔ پھر وہاں مَیں نے دو دن قیام کیا اور مَیں نے دیکھا کہ وہ نوجوان جو صرف ساٹھ ستّر یا اسّی روپے ماہوار تنخواہ لیتا تھا احمدیت کا اخلاص رکھنے اور اس کی تعلیم کو سمجھنے کی وجہ سے ذرا بھی ان افسروں سے مرعوب نہیں تھا اور ایسی عمدگی سے ان پر حکومت کر رہا تھا کہ مجھے دیکھ کر بہت ہی خوشی ہوئی کہ یہ سچا احمدی نمونہ ہے اور وہ دوسرے افسر بھی اس کی اطاعت کر رہے تھے اور اپنی ذات میں ان کی اطاعت بھی ایک نمونہ تھی مگر ایک معمولی تنخواہ پانے والے کا اپنی تنخواہ سے دس دس پندرہ پندرہ گنا زیادہ تنخواہ لینےو الوں اور اپنے افسروں سے بھی بڑے افسروں پر حکومت چلا لینا ان کی قربانی سے زیادہ بہتر نمونہ تھا جس کے ساتھ حکمت عملی بھی شامل تھی۔ تو مومن جب کوئی کام کرتا ہے وہ اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ بڑا کون ہے اور چھوٹا کون ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ بڑا وہی ہے جو سب سے بڑے کی اطاعت کرے اور انسانوں میں سے سب سے بڑے محمد ﷺ ہیں۔ پس جو شخص ان کی اطاعت نہیں کرتا وہ بڑا کس طرح ہو سکتا ہے۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہی واقعہ ہے۔ کوفہ کے لوگ بڑے باغی تھے اور وہ ہمیشہ اپنے افسروں کے خلاف شکایتیں کرتے رہتے تھے کہ فلاں قاضی ایسا ہےفلاں میں یہ نقص ہے اور فلاں میں وہ نقص ہے۔ حضرت عمرؓ ان کی شکایت پر حکام کو بدل دیتے اور اَور افسر مقرر کر کے بھیج دیتے بعض لوگوں نے کہا بھی کہ یہ طریق درست نہیں۔ آپ بار بار افسروں کو نہ بدلیں مگر حضرت عمرؓ نے کہا مَیں افسروں کو بدلتا ہی چلا جاؤں گا۔ یہانتک کہ کوفہ والے خود ہی تھک جائیں۔ جب اسی طرح ایک عرصہ تک ان کی طرف سے شکایتیں آتی رہیں تو حضرت عمرؓ نے کہا اب مَیں کوفہ والوں کو ایک ایسا گورنر بھجواؤں گا جو انہیں سیدھا کر دے گا ۔یہ گورنر انیس سال کا ایک نوجوان تھا۔ عبد الرحمان اس کا نام تھا۔ جب کوفے والوں کو پتہ لگا کہ انیس سال کا ایک لڑکا ان کا گورنر مقرر ہو کر آیا ہے تو انہوں نے کہا آؤ ہم سب مل کر اس سے مذاق کریں۔ وہ شریر اور شوخ تو تھے ہی۔ انہوں نے بڑے بڑے جُبّہ پوش لوگوں کو جو ستّرستّر ، اَسّی اسّی، نوّے نوّے سال کے تھے اکٹھا کیا اور فیصلہ کیا کہ ان سب بوڑھوں کے ساتھ شہر کے تمام لوگ مل کر عبد الرحمان کا استقبال کرنے کے لئے جائیں اور مذاق کے طور پر اس سے سوال کریں کہ جناب کی عمر کیا ہے۔ جب وہ جواب دے گا تو خوب ہنسی اڑائیں گے چنانچہ اس سکیم کے مطابق وہ شہر سے دو تین میل باہر اس کا استقبال کرنے کے لئے آئے۔ اُدھر سے گدھے پر سوار عبد الرحمان ابن ابی لیلیٰ بھی آ نکلے۔ کوفہ کے تمام لوگ صفیں باندھ کر کھڑے تھے اور سب سے اگلی قطار بوڑھے سرداروں کی تھی۔ جب عبد الرحمان ابن ابی لیلیٰ قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا۔ کیا آپ ہی ہمارے گورنر مقرر ہو کر آئے ہیں اور عبد الرحمان آپ کا ہی نام ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ اس پر ان میں سے ایک بہت بوڑھا آدمی آگے بڑھا اور اس نے کہا جناب کی عمر! عبد الرحمان نے کہا میری عمر! تم میری عمر کا اندازہ اس سے لگا لو کہ جب رسول کریم ﷺ نے اسامہ بن زیدؓ کو دس ہزار صحابہؓ کا سردار بنا کر بھیجا تھا جس میں ابو بکرؓ اور عمرؓ بھی شامل تھے تو جو عمر اُس وقت اسامہ بن زیدؓ کی تھی اُس سے ایک سال میری عمر زیادہ ہے۔ یہ سنتے ہی جیسے اوس پڑ جاتی ہے وہ پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ جب تک یہ لڑکا یہاں رہے خبردار! تم نے بولنا نہیں ورنہ یہ کھال ادھیڑ دے گا چنانچہ انہوں نے بڑے عرصہ تک گورنری کی اور کوفہ والے ان کےسامنے بول نہیں سکتے تھے۔ یہ اتنا زبردست لائق نوجوان تھا کہ بچپن میں انگریزی کی جو ریڈریں ہمیں پڑھائی جاتی تھیں ان میں بھی ان کے قصے درج ہوتے تھے نام تو نہیں لکھا ہوتا تھا صرف سگیشس قاضی (Sagacious Qazi) یعنی عقلمند قاضی لکھ کر ان کے کئی فیصلے قصوں کہانیوں کے رنگ میں لکھے ہوتے تھے۔ انگریزوں نے نظموں کی شکل میں بھی ان کے کئی فیصلے نقل کئے ہیں۔ تو جو شخص اللہ تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اسے کسی دنیوی عہدے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ بڑی عمر کی اسے ضرورت ہوتی ہے، نہ دولت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ظاہری علم کی بھی اسے ضرورت نہیں ہوتی ۔ محمد ﷺ آخر کون سے کالج میں پڑھے ہوئے تھے ؟یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام نے کس کالج میں تعلیم حاصل کی تھی ؟مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ علم دیا کہ دنیا ہزاروں سال تک ان کی خوشہ چینی کرتی چلی جائے گی اَور پھر بھی ان کا خزانہ ختم نہیں ہو گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو جو کتاب دی وہ ہے تو خدا کا کلام مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا کا کلام ظرف کے مطابق اترتا ہے پس بے شک وہ خدا کا کلام ہے مگر جہاں وہ خدا کا کلام اور اس کا الہام ہے وہاں وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ محمد ﷺ کا ظرف کتنا بڑا ہے۔ میری تو یہ حالت ہے کہ اس کتاب کو دیکھ کر بعض دفعہ میری مجنونانہ حالت ہو جاتی ہے اور جب مَیں اس کے علوم کو دیکھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں۔ ہے تو وہ پاگلوں کی سی بات مگر چونکہ خدا کے کلام کی شان اس سے ظاہر ہوتی ہے اس لئے مَیں اسے بیان کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے۔ مَیں ایک دن قرآن کو دیکھ رہاتھا کہ اس کے مطالب در مطالب مجھ پر کھلنے لگے اور ایک کے بعد دوسرااور دوسرے کے بعدتیسرا نکتہ مجھ پر کھلنے لگ گیا اور ایسا علوم کا تانتا بندھا کہ میری عقل حیران ہو گئی اور مَیں نے یہ کہتے ہوئے قرآن کو اپنےسامنے فرش پر رکھ دیا کہ واہ اللہ میاں! تیری کتاب بھی عجیب ہے۔ تو یہ ایک ایسا علم خدا نے ہمیں دیا ہے کہ اگر ہزاروں سال تک دنیا کے عالم اس کی خوشہ چینی کرتے رہیں تب بھی یہ علم ختم نہیں ہو سکتا۔ پس اگر خدا سے سچا تعلق ہو تو ظاہری علم کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسے شخص کو علم لدنی عطا کیا جاتا ہے اور وہ کسی موقع پر بھی شرمندہ نہیں ہوتا خواہ دنیا کے کتنے بڑے بڑے عالموں سے اس کا مقابلہ کیوں نہ ہو۔
    پس اپنی جماعت کے عہدیدار منتخب کرتے وقت ہمیشہ اس امر کو مدنظر رکھو کہ ان میں دین ہو تقویٰ ہو، پاکیزگی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی سچی محبت ہو اور ہر قسم کی قربانی کے لئے وہ تیار رہنے والے ہوں۔ اگر ان میں دین اور تقویٰ نہیں اور محض اس لئے عہدہ دے دیا جاتا ہے کہ کوئی شخص بڑا چلتا پرزہ ہے یا حکام کے نزدیک عزت رکھتا ہے یا بڑی تنخواہ لیتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کو اپنا عہدیدار بنانے والے اسلام اور احمدیت کی طاقت کے منکر ہیں ۔ ایسے لوگ یاد رکھیں کہ ان کی نہ انجمنیں کامیاب ہو سکتی ہیں نہ عہدیدار کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ شکست خوردہ ذہنیت کے بھگوڑے ہیں اور جب بھی اسلام کی طرف سے جنگ ہو گی یہ لوگ پیچھے رہ جائیں گے اور شیطان کا مقابلہ کرنے کے لئے وہی لوگ آگے آئیں گے جو گو بظاہر کمزور اور ناطاقت ہیں۔ مگر ان کے ایمان کی طاقت ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ ‘‘
    (الفضل 30 جون 1942ء)
    1: راشے: پر ، بال و پر
    2: مسلم کِتَابُ الْاِیْمَان باب تحریم ضرب الْخُدُوْد (الخ)
    3: السّیرة الحلبیة جلد 2 صفحہ 160 مطبوعہ مصر 1935ء
    4: مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91۔ مطبوعہ مصر 1313ھ



    19
    گورنمنٹ برطانیہ اگر دعا کی طرف توجہ کرے تو موجودہ جنگ میں اس کی کامیابی یقینی ہے
    ( فرمودہ 26 جون 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’ستمبر 1940ء کی بات ہے کہ مَیں چند دنوں کے لئے شملہ گیا تھا اور وہاں چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے مکان پر ٹھہرا تھا۔ غالباً 20 ستمبر کے دو چار دن بعد کی کوئی تاریخ تھی کہ مَیں نے رات کو رؤیا میں دیکھا کہ گویا مَیں مصر میں ہوں اور لیبیا کے محاذ پر دشمن کی فوجوں اور انگریزی فوجوں کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔ اس وقت لڑائی کا میدان مجھے اس شکل میں دکھایا گیا کہ گویا انگریزی علاقہ ایک ہال کی طرح ہے۔ اس ہال میں ایک طرف سے سیڑھیاں اترتی ہیں۔ چوڑی چوڑی سیڑھیاں کچھ دور تک سیدھی جا کر پھر ایک طرف کو مڑ جاتی ہیں۔ گویا وہ اس ہال میں آنے کا رستہ ہے۔ مَیں نے دیکھا کہ انگریزی فوج دشمن کے دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹتی ہے۔ وہ بڑی بہادری سے لڑتی ہے مگر دشمن کا زور اتنا زیادہ ہے کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی، رائفلیں دونوں فریق کے ہاتھوں میں ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر Bayonet Charge کرتی ہیں۔ مَیں نے دیکھا کہ پہلے تو انگریزی فوجیں سیڑھیوں کے دوسرے سرے پر دشمن سے لڑ رہی ہیں مگر آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر سے اترنا شروع ہو گئیں۔ دشمن اس کے پیچھے پیچھے بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ سیڑھیاں ختم ہو گئیں اور انگریزی فوجیں ہال میں اُتر آئیں اور دشمن کی فوج بھی ان کے پیچھے اترنا شروع ہو گئی۔ اس نظارہ کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ انگریزی فوج کمزور حالت میں ہے اور مَیں اپنے دل میں جوش محسوس کرتا ہوں کہ ان کی مدد کروں اس خیال کے آنے پر مَیں تیزی سے گھر کی طرف آتا ہوں اور گھر پہنچ کر میاں بشیر احمد صاحب کی تلاش کی ہے۔ وہ مجھے ملے ہیں تو مَیں نے ان سے کہا کہ ہم فوج میں تو داخل نہیں ہو سکتے مگر ہمارے پاس رائفلیں اور بندوقیں ہیں۔ وہ لے کر اپنے طور پر دشمن پر حملہ کریں۔ یہ کہہ کر مَیں ان کو ساتھ لے کر گیا ہوں۔ خواب کا نظارہ بھی عجیب ہوتا ہے اس وقت گو لڑائی ہال میں ہو رہی ہے مگر ہال کی دیواریں حائل نہیں ہیں اور مَیں گویا اس کے اندر کا سب کچھ دیکھتا ہوں۔ ہم دور کھڑے ہو گئے ہیں اور خواب میں مَیں سمجھتا ہوں کہ ہم بندوقیں چلا رہے ہیں گو ظاہری بندوق چلانا مجھے یاد نہیں۔ مگر مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم نے فائر کئے ہیں ہمارے فائروں کے بعد انگریزی فوج کا قدم آگے بڑھنا شروع ہؤا۔ دشمن بھی سختی سے مقابلہ کرتا ہے اور ایک ایک انچ پر لڑائی ہو رہی ہے مگر مَیں نے دیکھا کہ انگریزی فوج دشمن کو دباتے ہوئے سیڑھیوں تک لے گئی اور اسے ہٹاتے ہوئے دوسرے سرے تک چڑھ گئی گویا اسے اپنے علاقہ سے باہر کر دیا اس وقت آواز آئی کہ ایسا دو تین بار ہو چکا ہے یعنی کبھی تو دشمن انگریزی فوج کو دبا کر لے گیا اورکبھی انگریزی فوج اسے دباتی ہوئی اپنے علاقہ سے باہر لے گئی۔ اور دو تین بار ایسا ہؤا۔ یہ وہ وقت تھا جب لیبیا میں انگریزی فوج نے کوئی پیش قدمی نہ کی تھی۔ اٹلی کی فوجیں مصر میں تھوڑا سا آگے بڑھ آئی تھیں اور دونوں میں لڑائی ہو رہی تھی۔ دوسرے دن مَیں نے یہ رؤیا چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو سنایااور کہا کہ مَیں سمجھتا ہوں اس جگہ پر اس قسم کی جنگ ہو گی کہ کبھی تو انگریزی فوج دشمن کو دھکیلتی ہوئی دور تک لے جائے گی اور کبھی دشمن اسے دھکیل کر اس کے ملک میں گھس آئے گا اور یہ جو مَیں نے دیکھا ہے کہ ہم نے فائر کئے ہیں۔ اس کا مطلب مَیں دعا سمجھتا ہوں اور بشیر احمد کا نام بشارت ظاہر کرتا ہے اور اس کی تعبیر مَیں نے یہ کی کہ ہو سکتا ہے ہماری دعاؤں سے اللہ تعالیٰ انگریزی فوجوں کو آخری دفعہ دشمن کو دھکیلنے کی توفیق دے دے کیونکہ گو ضروری نہیں کہ خواب میں جو آخری نظارہ دکھایا جائے فی الواقع بھی وہ آخری نظارہ ہو۔ مگر کثیر الوقوع یہی امر ہے کہ جو آخری نظارہ نظر آئے وہی واقع میں بھی آخری ہوتا ہے۔ بہرحال جتنا واقعہ مَیں نے رؤیا میں دیکھا بتا دیا۔ چودھری صاحب نے اگلے دن اس رؤیا کا ذکر اپنے کئی دوستوں سے اور ہِزْ ایکسیلنسی وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری سر لیتھویٹ سے بھی کیا۔ ان پر اس کا ایسا اثر تھا کہ دوسرے یا تیسرے دن جب وہ چودھری صاحب کے ہاں چائے پر آئے تو انہوں نے خود مجھ سے اس کے متعلق دریافت کیا اور پوچھا کہ آپ نے کیا رؤیا دیکھا ہے اور مَیں نے ان سے مکمل رؤیا بیان کیا۔ اس کے دو ماہ بعد انگریزی فوج دشمن کو دھکیلتی ہوئی کئی سو میل تک لے گئی۔ 1941ء میں دشمن پھر آگے بڑھا اور انگریزی فوج کو دھکیلتا ہؤا مصری سرحد پر لے آیا۔ نومبر 1941ء میں پھر انگریزی فوج نے حملہ کیا اور دشمن کی فوجوں کو دھکیلتی ہوئی کئی سو میل تک لے گئی اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ دشمن کی فوجیں انگریزی فوجوں کو دھکیل کر مصر کی سرحد پر لے آئی ہیں۔ مَیں نے یہ رؤیا 1940ء کے جلسہ پر بھی بیس پچیس ہزار کے مجمع میں سنایا تھا اور غالباً جلسہ کی روئیداد میں شائع بھی ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کے غیب کے ثبوتوں میں سے یہ ایک عظیم الشان ثبوت ہے اور یہ ایک ایسی لڑائی ہے کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ پہلے ایک فوج دشمن کو دھکیلتی ہوئی کئی سَو میل تک لے جائے اور پھر وہ اسے دھکیل کر واپس لے آئے اور متواتر دو تین بار ایسا ہؤا ہو اور ہر بار فاتح فریق یہ سمجھے کہ اس نے دوسرے کی طاقت کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔ مَیں نے ایک انگریز فوجی مبصر کی ایک تحریر پڑھی ہے جو اس نے ایک مضمون کے دوران میں شائع کی ہے۔ اس نے روس کی لڑائی کو غیر معمولی قرار دیا اور لکھا ہے کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اس طرح کوئی دشمن کسی ملک میں اتنی دور تک گھس آیا ہو اور پھر دوسری فوج اس کے پیچھے ہٹانے میں کامیاب ہو جائے۔ یہ دعویٰ اس کا صحیح ہو یا نہ ہو مگر اس میں شک نہیں کہ لیبیا کی لڑائی کی کوئی مثال یقیناً تاریخ میں نہیں ملتی کہ ایک فریق دوسرے فریق کو کئی سَو میل تک دھکیلتا ہؤا لے جائے۔ پھر دوسرا فریق اسے دھکیل کر باہر نکال دے۔ پھر پہلا فریق اسے دوبارہ دھکیل کرباہر نکال دے۔ پھر دوسرا فریق اسے دھکیل کر سینکڑوں میل تک لے جائے مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رؤیا میں بتایا تھا لیبیا کی جنگ میں تین بار ایسا ہو چکا ہے اور تینوں دفعہ ایک فریق نے یہی سمجھا کہ اس نے دوسرے کو بالکل کچل دیا ہے۔ پہلے اطالوی فوجیں آگے بڑھیں اور انہوں نے سمجھا کہ انہوں نے انگریزی فوجوں کو بالکل کچل دیا ہے۔ پھر انگریزی فوجیں آگے بڑھیں اور دشمن کے ایک لاکھ سے زیادہ سپاہی قید کر لئے اور یہ خبریں آنے لگیں کہ وہ شاید ٹریپولی میں داخل ہو جائیں گی جو لیبیا کے آخر پر اس علاقہ کا صدر مقام ہے مگر یکدم انگریزی فوجوں کو پھر شکست ہوئی۔ ان کے پندرہ بیس ہزار سپاہی قید کر لئے گئے۔ جن میں دو بڑے جرنیل بھی تھے اور ایک جرنیل تو وہ قید کر لیا گیا جو جنگی سکیمیں بنایا کرتا تھا۔ ان کے بڑے بڑے ٹینک تباہ ہو گئے اور انگریزی فوجیں اس طرح پیچھے ہٹیں کہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ بالکل تباہ ہو جائیں گی مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر توفیق دی اور وہ دشمن کو دھکیلنے لگیں۔ اس کے 35 ہزار سپاہی قید کر لئے اور یہ خبریں مشہور ہونے لگیں کہ اب دشمن نہیں ٹھہر سکے گا مگر دشمن نے پھر انگریزی فوجوں کو دھکیلا اور مصری سرحد پر لے آیا اور تیس ہزار سپاہی قید کر لئے ہیں۔
    یہ سب واقعات سوچنے والے کے لئے اسلام اور احمدیت کی صداقت کا ایک واضح ثبوت ہیں۔لوگ مبصروں سے رائے لیتے ہیں، منجموں سے پوچھتے ہیں مگر ان کی سب باتیں قیاسی اور وہمی ہوتی ہیں۔ کوئی کسی لڑکی کے متعلق پوچھتا ہے کہ بتاؤ اس کے کیا اولاد ہو گی تو وہ ایک پرزہ لکھ کر دے دیتے ہیں کہ اتنے عرصہ کے بعد اسے کھول کر دیکھنا ۔ جب لوگ دیکھتے ہیں تو اس میں لکھا ہوتا ہے لڑکا نہ لڑکی ۔ اگر تو لڑکی ہو جاتی ہے اور منجم سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے تو لکھا تھا لڑکا ہو گا تو وہ جواب دیتا ہے کہ مَیں نے تو لکھا تھا کہ لڑکا نہ ہو گا لڑکی ہو گی۔ اگر لڑکا ہوتا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے لکھا تھا کہ لڑکا نہ ہوگا لڑکی ہوگی تو وہ کہہ دیتا ہے مَیں نے لکھا تھا کہ لڑکا، نہ لڑکی ۔اور اگر کچھ بھی نہ ہو تو وہ کہہ دیتا ہے کہ مَیں نے لکھا تھا کہ لڑکا نہ لڑکی کچھ بھی نہ ہو گا۔ گویا وہ تینوں امکانی پہلو مدنظر رکھ کر جواب دے دیتے ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔ مگر یہ کتنی واضح پیشگوئی تھی جو خدا تعالیٰ نے مجھے بتائی اور یہ ایک ایسے وقوعہ کی خبر تھی کہ جس کی مثال کم کیا کوئی ملتی ہی نہیں۔ پھر ایک اَور بات جو اس میں بتائی گئی یہ ہے کہ اگر مَیں اور احمدی جماعت دعا کرے تو انگریزوں کو کامیابی ہو سکتی ہے کیونکہ امام جماعت کا بھی قائمقام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے کہ اگر ہماری جماعت دعا کرے تو وہ اس فتنہ کو دور کر سکتا ہے۔
    مَیں نے متواتر انگریزوں کو توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ سچے دل سے ہماری طرف دعا کے لئے متوجہ ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور کر دے گا مگر افسوس کہ اپنی مادی ترقیات کی وجہ سے ان کو یہ تحریک نہیں ہوتی کہ ہمیں دعا کے لئے کہیں۔ ایک بہت بڑے انگریز افسر نے ہمارے ایک معزز دوست سے کہا کہ میرے نزدیک تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دعا کے لئے کہا جائے مگر بعض مشیروں نے یہ رائے دی ہے کہ اس سے مختلف قوموں میں انگریزوں کے متعلق بدظنی پیدا ہو جائے گی حالانکہ انگریزی قوم اس وقت مصائب میں سے گزر رہی ہے کہ ایسی بدظنیوں کی اس کو کوئی پرواہ نہ کرنی چاہئے۔ اب کیا مختلف قوموں میں اس کے متعلق بدظنی نہیں پائی جاتی۔ ہر قوم اس پر یہ الزام لگاتی ہے کہ وہ ہر موقع پر دوسری سے مل جاتی ہے اور فساد پیدا کر دیتی ہے۔ کانگرس کو یہ شکایت ہے کہ وہ مسلم لیگ سے مل کر ہندو مسلم اتحاد نہیں ہونے دیتی۔ مسلم لیگ کہتی ہے کہ وہ کانگرس سے ڈر کر مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھ رہی ہے۔ سوشلسٹ کہتے ہیں کہ وہ مالداروں کے ہاتھ میں ہے اور کیپٹلسٹ شور مچاتے ہیں کہ وہ برطانوی کیپٹلسٹوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہمیں نقصان پہنچاتی ہے۔ غرضیکہ کوئی ایک قوم بھی نہیں جو موجودہ حکومت پر خوش ہو ۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان قوموں میں بدظنی پیدا ہو جانے کے ڈر سے دعا کرانے کی طرف متوجہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے مدد نہ چاہتی ہوئی اپنی مشکلات کو لمبا کرتی جائے۔ توپیں دونوں کے پاس ہیں، کبھی اُن کی توپیں زیادہ ہو جاتی ہیں اور کبھی اِن کی۔ ہوائی جہاز دونوں کے پاس ہیں، کبھی ان کے ہوائی جہاز بڑھ جاتے ہیں اور کبھی ان کے۔ ٹینک دونوں کے پاس ہیں کبھی ایک کے ٹینک بڑھ جاتے ہیں اور کبھی دوسرے کے۔ فوجیں بھی دونوں کے پاس ہیں اور کبھی ایک فریق کی فوج زیادہ میدان میں آ جاتی ہے اور کبھی دوسرے کی۔ مگر ایک چیز ہے جو دونوں میں سے کسی کے پاس نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور دعا ہے۔ یہ چیز نہ انگریز کے پاس ہے اور نہ اس کے دشمن کے پاس۔ ہاں ظاہرطور پر دعا اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے کا شور انگریز اور ان کے ساتھی بھی مچاتے ہیں اور ان کے دشمن بھی۔ مگر دعا کے یہ معنی نہیں کہ انسان اپنے غلط خیال پر اصرار کرتے ہوئے کہے کہ مَیں خدا سے دعا مانگتا ہوں اور اس کے لئے کوئی قربانی نہ کرے۔ بغیر قربانی کرنے کے مُنہ سے کچھ مانگ لینا کسی کے لئے بھی کوئی مشکل نہیں۔ پس یہ دعائیں جو کی جاتی ہیں محض خیالی ہیں اور کسی کام نہیں آ سکتیں۔ جس طرح لکڑی کی توپیں کسی کام نہیں آ سکتیں۔ جس طرح ربڑ کی کشتیاں جو کھلونے کے طور پر بنائی جائیں کسی کام نہیں آ سکتیں، جس طرح ٹین کے ہوائی جہاز جنگ میں کام نہیں دے سکتے ، جس طرح سیسہ کے بنے ہوئے مصنوعی سپاہی کسی کام نہیں آ سکتے۔ اسی طرح اس قسم کی دعائیں بھی کام نہیں آ سکتیں اور جس طرح اصلی توپیں اصلی ہوائی جہاز، اصلی ٹینک اور حقیقی آدمی ہی جنگ میں کام آ سکتے ہیں۔ اسی طرح دعائیں بھی وہ فائدہ پہنچا سکتی ہیں جو حقیقی ہوں نقلی نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ انسانی فطرت کو خوب جانتا ہے۔ اس لئے ایسے موقع پر وہ یہ تو امید نہیں رکھتا کہ ساری قوم مذہب تبدیل کر لے کیونکہ یہ بات تو لمبی بحثوں اور لمبے تجربہ سے تعلق رکھتی ہے مگر یہ ضرور چاہتا ہے کہ وہ اصلاح نفس کی طرف متوجہ ہو کر دل میں فیصلہ کرے کہ خدا تعالیٰ کی بات جو بھی ہو گی، وہ اسے قبول کر لے گی۔ آج اللہ تعالیٰ انگریزوں سے یہ امید نہیں رکھتا کہ وہ عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو جائیں۔ البتہ ذہنیت کی تبدیلی ضرور چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ نادیدہ خدا کو جسے انہوں نے نہیں دیکھا، مخاطب کر کے کہیں کہ اے ہمارے رب ہم یہ نہیں جانتے کہ تیری سچائی کہاں ہے۔ مگر اپنے گرد و پیش کے حالات سے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ تو ایک زبردست ہستی موجود ہے اور تجھ سے امید رکھتے ہیں کہ اس بَلا کو ہم سے ٹال دے اور ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ تیری صداقت جہاں بھی ملے گی ہم اسے ضرور قبول کر لیں گے اور اگر متحارب قوموں میں سے کوئی اتنی تبدیلی کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ سے مدد مانگے تو مجھے یقین ہے کہ وہ اس سے مصیبت کو ٹال دے گا اور کامیابی کے رستوں پر چلا دے گا۔
    بہرحال اب جنگ ایسے خطرناک مرحلہ پر پہنچ گئی ہے کہ اسلام کے مقدس مقامات اس کی زد میں آ گئے ہیں۔ مصری لوگوں کے مذہب سے ہمیں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔ وہ اسلام کی جو توجیہہ اور تفسیر کرتے ہیں ہم اس کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہوں۔ اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ ظاہری طور پر وہ ہمارے خدا ہمارے رسول اور ہماری کتاب کو ماننے والے ہیں۔ ان کی اکثریت اسلام کے خدا کے لئے غیرت رکھتی ہے۔ ان کی اکثریت اسلام کی کتاب کے لئے غیرت رکھتی ہے اور ان کی اکثریت محمد (ﷺ) کے لئے غیرت رکھتی ہے۔ اسلامی لٹریچر شائع کرنے اور اسے محفوظ رکھنے میں یہ قوم صفِ اول میں رہی ہے۔ آج ہم اپنے مدارس میں بخاری اور مسلم وغیرہ احادیث کی جو کتابیں پڑھاتے ہیں وہ مصر کی چھپی ہوئی ہی ہیں۔ اسلام کی نادر کتابیں مصرمیں ہی چھپتی ہیں اور مِصری قوم اسلام کے لئے مفید کام کرتی چلی آئی ہے۔ اس قوم نے اپنی زبان کو بُھلا کر عربی زبان کو اپنا لیا۔ اپنی نسل کو فراموش کر کے یہ عربوں کا حصہ بن گئی اور آج دونوں قوموں میں کوئی فرق نہیں۔ مصر میں عربی زبان، عربی تمدن اور عربی طریق رائج ہیں اور محمد عربی ﷺ کا مذہب رائج ہے۔ پس مصر کی تکلیف اور تباہی ہر مسلمان کے لئے دکھ کا موجب ہونی چاہئے۔ خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو اور خواہ مذہبی طور پر اسے مصریوں سے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں۔ پھر مصر کے ساتھ ہی وہ مقدس سرزمین شروع ہو جاتی ہے جس کا ذرہ ذرہ ہمیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔ نہر سویز کے ادھر آتے ہی آجکل کے سفر کے سامانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چند روز کی مسافت کے فاصلہ پر ہی وہ مقدس مقام ہے جہاں ہمارے آقا کا مبارک وجود لیٹا ہے جس کی گلیوں میں محمد مصطفیٰ ﷺ کے پائے مبارک پڑا کرتے تھے۔ جس کے مقبروں میں آپ کے والا و شیدا خدا تعالیٰ کے فضل کے نیچے میٹھی نیند سو رہے ہیں۔ اس دن کے انتظار میں کہ جب صور پھونکا جائے گا۔ وہ لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر ہو جائیں گے دو اڑھائی سَو میل کے فاصلہ پر ہی وہ وادی ہے جس میں وہ گھر ہے۔ جسے ہم خدا کا گھر کہتے ہیں اور جس کی طرف دن میں کم سے کم پانچ بار منہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں اور جس کی زیارت اور حج کے لئے جاتے ہیں جو دین کے ستونوں میں سے ایک بڑا ستون ہے یہ مقدس مقام صرف چند سو میل کے فاصلہ پر ہے اور آجکل موٹروں اور ٹینکوں کی رفتار کے لحاظ سے چار پانچ دن کی مسافت سے زیادہ فاصلہ پر نہیں اوران کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں۔ وہاں جو حکومت ہے اس کے پاس نہ ٹینک ہیں نہ ہوائی جہاز اور نہ ہی حفاظت کا کوئی اور سامان۔ کھلے دروازوں اسلام کا خزانہ پڑا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ دیواریں بھی نہیں ہیں اور جوں جوں دشمن ان مقامات کے قریب پہنچتا ہے۔ ایک مسلمان کا دل لرز جاتا ہے، کانپ اٹھتا ہے کہ نہ معلوم کل کو کیا ہو گا۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی ان کی حفاظت فرمائے گا لیکن یہ ہمارا یقین ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے نہیں چھڑا سکتا۔ جس طرح مکہ کے متعلق خدا تعالیٰ کاو عدہ تھا کہ وہ اس کی حفاظت کرے گا جس طرح اسلام کی حفاظت کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کی حفاظت کا بھی وعدہ اس نے کیا ہؤا تھا چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 1 مگر باوجود اس وعدہ کے ایسے ہی مقدس اور یقینی وعدہ کے جیسا کہ مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کی حفاظت کے متعلق ہے۔ پھر بھی صحابۂ کرام اس وعدہ پر کفایت کر کے بے فکر نہیں ہو گئے تھے اور انہوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ خدا تعالیٰ خود آپ کو دشمنوں سے بچائے گا۔ ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مدینہ میں آپ کےد اخلہ سے لے کر آپ کی وفات تک برابر وہ آپ کے گھر کا پہرہ دیتے رہے۔ مدینہ کے لوگوں یعنی انصار پر اللہ تعالیٰ بڑی بڑی برکتیں نازل کرے۔ وہ بڑی ہی سمجھدار اور قربانی کرنے والی قوم تھی ۔ رسول کریم ﷺ مدینہ میں آئے تو انہوں نے فوراً اس بات کا فیصلہ کیا کہ اب آپ کی ذات کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے اور ہر رات الگ الگ گروہ آپ کے مکان پر پہرہ کے لئے آتا تھا ۔ پہلے تو انصار بغیر ہتھیاروں کے پہرہ کے لئے آتے تھے انہوں نے یہ خیال کیا کہ مدینہ اسلامی شہر ہے یہاں خطرہ کی کوئی بات نہیں ہر قبیلہ باری باری پہرہ کے لئے اپنے آدمی بھیجتا تھا مگر وہ بغیر ہتھیاروں کے ہوتے تھے۔ ایک رات رسول کریم ﷺ اپنےگھر میں تھے کہ باہر آپؐ نے تلواروں اور نیزوں کی جھنکار سنی۔ آپ باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ انصار کا ایک گروہ سر سے پاؤں تک مسلح آپ کے مکان کے گرد پہرہ کے لئے کھڑا ہے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا بات ہے تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! لوگ تو بغیر ہتھیاروں کے پہرہ کے لئے آیا کرتے تھے مگر ہمارے قبیلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پہرہ کے انتظام کے معنے یہ ہیں کہ خطرہ کا احتمال ہے اور جب خطرہ ہو سکتا ہے تو اسے روکنے کے لئے ہتھیار بھی ضرور ہونے چاہئیں اس لئے ہم مسلح ہو کر پہرہ کے لئے آئے ہیں۔ آپؐ نے ان لوگوں کے لئے دعا فرمائی اور اندر تشریف لے گئے اس کے بعد باقی قبائل نے بھی مسلح ہو کر پہرہ دینا شروع کر دیا۔ ایک دفعہ مدینہ میں کچھ شور ہؤا اور خیال تھا کہ شاید رومی حملہ کریں گے اس لئے مسلمان ہتھیار لے کر باہر کی طرف بھاگے مگر چند صحابی دوڑ کر مسجد نبوی میں جمع ہو گئے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے حملہ کا خوف تو باہر سے تھا۔ آپ لوگ مسجد میں کیوں آ بیٹھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں تو یہی جگہ حفاظت کئے جانے کے قابل نظر آتی ہے۔ اس لئے یہیں آ گئے۔
    مَیں نے بارہا جنگ بدر کا واقعہ سنایا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا کہ لڑائی کی جائے یا نہ کی جائے تو مہاجرین یکے بعد دیگرے اٹھتے اور لڑائی کا مشورہ دیتے مگر آپؐ ہر ایک مہاجر کا مشورہ سن کر فرماتے کہ لوگو مشورہ دو۔ انصار خاموش تھے اور ان کی خاموشی کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ مکہ والے مہاجرین کے رشتہ دار ہیں۔ ہم نے ان سے لڑائی کا اگر مشورہ دیا تو مہاجرین یہ نہ کہیں کہ یہ ہمارے بھائیوں سے لڑائی کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس لئے وہ خاموش تھے اور مہاجرین لڑائی کا مشورہ باری باری دیتے تھے مگر رسول کریم ﷺ بار بار یہی فرماتے کہ لوگو مشورہ دو۔ اس پر ایک انصاری سردار کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مشورہ تو دیا جا رہا ہے مگر آپؐ پھر مشورہ دریافت فرماتے ہیں۔ شاید آپؐ کی مراد یہ ہے کہ انصار بولیں۔ آپؐ نے فرمایا۔ ہاں۔اس سردار نے کہا کہ یا رسول اللہ! بے شک مکہ میں بیعت کرتے وقت ہم نے آپؐ سے یہ اقرار کیا تھا کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو گا تو ہم آپؐ کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔ مدینہ سے باہر نہیں مگر یہ اقرار تو اس وقت کیا تھا جب ہم پر آپؐ کی شان کھلی نہ تھی۔ اب توآپؐ کی شان ہم پر کھل چکی ہے۔ اب تو ہم سے پوچھنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر آپؐ کا ارادہ لڑنے کا ہے تو بسم اللہ چلئے۔ ہمارا تو ایک ہی کام ہے کہ آپؐ کے چاروں طرف لڑیں۔ ہم آپؐ کےد ائیں لڑیں گے ، بائیں لڑیں گے، آگے لڑیں گے اورپیچھے لڑیں گے اور کوئی دشمن آپؐ تک ہرگز نہ پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں پر سے نہ گزرے۔ 2پھر انہوں نے اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ ایک اونچی جگہ آپؐ کے لئے بنا دی اور باصرار آپؐ سے عرض کیا کہ اس جگہ تشریف رکھیں اور دعا کریں۔ حضرت ابو بکرؓ کو آپؐ کے پاس بٹھا دیا اور سب سے زیادہ تیز رفتار دو اونٹنیاں آپؐ کے پاس باندھ دیں اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! مدینہ والوں کو علم نہ تھا کہ جنگ ہونے والی ہے اس لئے تھوڑے لوگ ساتھ آئے ہیں ا ور جو پیچھے رہے ہیں۔ وہ اخلاص اور ایمان کےلحاظ سے ہم سے کم نہیں ہیں۔ ہم نے بہترین اونٹنیاں آپؐ کے پاس باندھ دی ہیں اور اپنے میں سے بہترین امین جس پر ہم کو سب سے زیادہ اعتبار ہے آپؐ کے پاس بٹھا دیا ہے۔ یا رسول اللہ اگر ہم مارے گئے تو آپؐ خدا تعالیٰ کی رحمت کے نیچے ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر ابو بکرؓ کے ساتھ مدینہ چلے جائیں وہاں ہمارے بھائی ہیں جو آپؐ کے لئے اسی طرح قربانیاں کرنے کو تیار ہیں جس طرح ہم کر رہے ہیں۔3 یہ قربانیاں کرنے والے جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش سے آپؐ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہؤا ہے اور فرمایا ہے کہ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ یعنی اے محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملوں سے بچائے گا مگر باوجود اس وعدہ کے جو قربانیاں انہوں نے آپؐ کی حفاظت کے لئے کیں۔ کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ ان کا ایمان کمزور تھا اور وہ خدا تعالیٰ کو اس وعدہ کو پورا کرنے پر قادر نہ سمجھتے تھے یا کیا وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی وعدہ نہیں فرمایا بلکہ نَعُوْذُ بِاللہِ محمد (ﷺ) نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے۔
    ان کی قربانیاں اور ان کا اخلاص دونوں بتاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بات بھی ان کے وہم یا خیال میں نہ تھی۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عرش سے آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ وہ آپ کو بچانے کی طاقت رکھتا ہے اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے سامان مہیا کر سکتا ہے مگر ان کی تمنا ان کی آرزو اور ان کی خواہش یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ محمد (ﷺ)کو بچانے کے لئے جو ہتھیار اپنے ہاتھ میں لے وہ ہم ہوں۔ انہیں خدا تعالیٰ کے وعدے پر شک نہ تھا۔ آنحضرت ﷺ کی زبان پر شک نہ تھا بلکہ حرص تھی کہ اس وعدہ کو پورا کرنے کا جو ذریعہ اللہ تعالیٰ اختیار کرے وہ ہم ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ کاش وہ ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچانے کا اختیار کرنا ہے وہ ہم بن جائیں اوروہ بن گئے اور انہوں نے متواتر دس سال تک اپنی جانوں اور عزیز ترین رشتہ داروں کی جانوں کو قربان کر کے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا ہتھیار ثابت کر دیا۔ وہ مہاجر اور وہ انصار اس وعدہ کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گئے جنہوں نے محمد مصطفیٰ ﷺ کے آگے اور پیچھے ہو کر ہر موقع پر جنگ کی۔ ان کی اول خواہش اور تمنا بھی اور ان کی آخری خواہش اور تمنا بھی یہی تھی کہ کاش وہ فنا ہو جائیں، وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں مگر آنحضرت ﷺ پر کوئی آنچ نہ آئے۔ ایک صحابی کو کچھ لوگ قید کر کے لے گئے اور مکہ والوں کے پاس بیچ دیا۔ مکہ والوں کا کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ سے مارا گیا تھا اوروہ اس کے بدلہ میں کسی مسلمان کو مارنا چاہتے تھے۔ اس لئے اسے خرید لیا۔ انہوں نے اس کے گلے میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ڈالی ہوئی تھیں اور قتل کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ ان میں سے کسی نے اس صحابی کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا تم یہ پسند نہ کرو گے کہ تم اس وقت آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہو اور تمہاری جگہ یہاں محمد (ﷺ) ہمارے قبضہ میں ہو۔ اس صحابی نے جواب دیا کہ تم لوگ بڑے بے وقوف ہو جو یہ سوال کرتے ہو۔ تم تو یہ کہتے ہو کہ مَیں یہ پسند کرتا ہوں یا نہیں کہ مَیں مدینہ میں اپنے بیوی بچوں میں بیٹھا ہوں اور میری جگہ رسول کریم ﷺ یہاں تمہاری قید میں ہوں۔ مَیں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ مَیں اپنے گھر میں ہوں اور آنحضرت ﷺ کے تلوے میں مدینہ کی گلیوں میں کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔ 4
    پھر ایک صحابی کے متعلق لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺایک جنگ کے لئے تشریف لے گئے اور وہ صحابی کسی اتفاقی حادثہ کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے ان کی بیوی بیٹھی تھیں۔ دونوں کی باہم بہت محبت تھی۔ وہ صحابی جوش سے پیار کے لئے اپنی بیوی کی طرف بڑھے مگر وہ حقارت سے پیچھے ہٹ گئیں اور کہا کہ تمہیں شرم تو نہیں آتی کہ محمد رسول اللہ ﷺ تو لڑائی کے لئے تشریف لے گئے ہیں اور تم بیوی کو پیار کرنے لگے ہو۔ یہ بات سن کر وہ فوراً باہر نکلے اور جنگ کے لئے چل پڑے۔ 5یہ وہ قربانیاں تھیں جو باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے وعدہ کے صحابہ نے آپ کی حفاظت کے لئے کیں۔ پس اس میں شبہ نہیں کہ مکہ اورمدینہ کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں مگر اللہ تعالیٰ حفاظت کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں اتارا کرتا بلکہ بعض بندوں کو ہی فرشتے بنا دیتا ہے اور ان کے دلوں میں اخلاص پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے ہتھیار بن جائیں۔ وہ گو انسان نظر آتے ہیں مگر ان کی روحوں کو فرشتہ کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاتے ہیں۔ ان کو مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں۔ 6 اس کا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کام فرشتوں سے لینا تھا اسے کرنے کے لئے وہ آگے بڑھتے ہیں۔ اس لئے وہ فرشتے بن جاتے ہیں اور جب وہ فرشتے ہو گئے تو مر کیسے سکتے ہیں۔ فرشتے نہیں مرا کرتے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ شہداء کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ مُردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کے حضور رزق دئیے جاتے ہیں۔
    پس گو ان مقامات کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ مسلمان ان کی حفاظت کے فرض سے آزاد ہو گئے ہیں بلکہ ضروری ہے کہ ہر سچا مسلمان ان کی حفاظت کے لئے اپنی پوری کوشش کرے جو اس کے بس میں ہے۔ یہ مقامات روز بروز جنگ کے قریب آ رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کسی مشیت اور اپنے گناہوں کی شامت کی وجہ سے ہم بالکل بے بس ہیں اور کوئی ذریعہ ان کی حفاظت کا اختیار نہیں کر سکتے ۔ ادنیٰ ترین بات جو انسان کے اختیار میں ہوتی ہے۔ یہ ہے کہ اس کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر جان دے دے مگر ہم تو یہ بھی نہیں کر سکتے اور اس خطرناک وقت میں صرف ایک ہی ذریعہ باقی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ جنگ کو ان مقامات مقدسہ سے زیادہ سے زیادہ دور لے جائے اور اپنے فضل سے ان کی حفاظت فرمائے۔ وہ خدا جس نے ابرہہ کی تباہی کے لئے آسمان سے وبا بھیج دی تھی اب بھی طاقت رکھتا ہے کہ ہر ایسے دشمن کو جس کے ہاتھوں سے اس کے مقدس مقامات اور شعائر کو کوئی گزند پہنچ سکے کچل دے۔ جنگ کے ہولناک اثرات کا اندازہ کچھ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کا کچھ مزہ چکھا ہو، برما سے ہندوستانی واپس آ رہے ہیں۔ ان کے حالات سنو تو دل لرز جاتا ہے ، کانپ اٹھتا ہے اور زندگی حقیر نظر آنے لگتی ہے۔ وہاں گیارہ لاکھ ہندوستانی بستے تھے۔ ان کو وطن پہنچانے کا کوئی ذریعہ انگریزوں کے پاس نہ تھا۔ اس لئے وہ لوگ پہاڑی راستوں سے پیدل چلے پانچ سو میل لمبا راستہ ہے۔ مجھے ایسے لوگ ملے ہیں جنہوں نے راستہ میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ماں نے بچہ کو گود میں اٹھایا ہؤا ہے اور چلی آ رہی ہے کھانے کو کچھ نہیں ملتا۔ پچاس ساٹھ یا ستّر اَسّی میل چلنے کے بعد پَیر زخمی ہو گئے قدم لڑکھڑانے لگے حتّٰی کہ خالی قدم اٹھانا بھی مشکل ہو گیا۔ چہ جائیکہ بچہ کو اٹھا کر چل سکے آخر اس نے مجبور ہو کر درخت کے نیچے بچہ کو لٹا دیا اسے پیار کیا اور آگے چل پڑی ۔ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ چلا آ رہا ہے، بیوی تھک کر چُور ہو چکی ہے اسے سہارا دئیے لئے آ رہا ہے۔ عورت گرتی پڑتی چلی آتی ہے کبھی کبھی مرد اسے اٹھا بھی لیتا ہے دوسرے لوگ پیچھے سے بھاگے چلے آتے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ جاپانی قریب پہنچ گئے۔ وہ بیوی کو سہارا دئیے ہوئے چلا آتاہے لیکن آخر اس کے پاؤں بھی لڑکھڑانے لگتے ہیں اور وہ مجبور ہو کر اسے ایک طرف بٹھا دیتا ہے اس کے سر پر بوسہ دیتا ہے اور خدا حافظ کہہ کر آگے چل پڑتا ہے۔ ایسے سینکڑوں واقعات لوگوں نے دیکھے ہیں کہ ماؤں نے بچوں کو گودیوں سے اتار دیا، خاوندوں نے بیویوں کو پہلو سے جدا کرکے مرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ گو معلوم نہیں وہ خود بھی پہنچ سکے یا نہیں۔ یہاں تو چار لاکھ ہی پہنچے ہیں، باقی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ سات لاکھ میں سے کتنے مر گئے اور کتنے ابھی وہیں ہیں تین چار روز ہوئے مجھے ایک لڑکا ملا جو یہاں تحریک جدید کے بورڈنگ میں ہے۔ اس نے اپنے باپ کا خط مجھے دیا جو فوج میں ملازم تھا اور مَیں جانتا ہوں مخلص احمدی ہے۔ اس نے لکھا تھا کہ برما میں لڑائی قریب آ جانے کی وجہ سے ہماری فوج کو واپس جانے کا حکم ملا مجھے تو فوج کے ساتھ جہاز میں واپس پہنچا دیا گیا اور تمہاری والدہ اور دوسرے بھائی بہنیں پیدل قافلوں کےساتھ روانہ ہوئے۔ وہ قافلے تو بنگال پہنچ چکے ہیں۔ مگر ان کا کوئی پتہ نہیں۔ میں نے سرکار سے تنخواہ لے لی ہے اور رخصت حاصل کی ہے اور اب میں اسی راستہ پر پیدل ان کی تلاش کے لئےجا رہا ہوں اور نہیں کہہ سکتاکہ خود بھی زندہ واپس آ سکوں گا یا نہیں۔ اس لئے تم کو (یہاں ان کے دو بچے ہیں) خدا تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ ایسا واقعہ ایک ہی نہیں سینکڑوں ہیں مگر قلوب کو زخمی کرنے کے لئے ایک ہی کافی ہے ہم تو کسی کے متعلق بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اسے ایسے واقعات پیش آئیں۔ چہ جائیکہ اس قوم کو پیش آئیں جو گو آج کتنی جاہل ہے مگر جس کے باپ دادوں نے رسول کریم ﷺ کے آگے اور پیچھے کھڑے ہو کر جانیں دے دیں۔ اس قوم کی نسبت تو اس نظارہ کا قیاس کر کے بھی ایک مسلمان کا دل پھٹ جاتا ہے۔ پس مَیں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ وہ خود ہی ان مقامات کی حفاظت کے سامان پیدا کر دے اور اس طرح دعائیں کریں جس طرح بچہ بھوک سے تڑپتا ہؤا چلّاتا ہے جس طرح ماں سے جدا ہونے والا بچہ یا بچہ سے محروم ہو جانے والی ماں آہ و زاری کرتی ہے۔ اسی طرح اپنے رب کے حضور رو رو کر دعائیں کریں کہ اے اللہ! تُو خود ان مقدس مقامات کی حفاظت فرما اور ان لوگوں کی اولادوں کو جو آنحضرت ﷺ کے لئے جانیں فدا کر گئے اور ان کے ملک کو ان خطرناک نتائج جنگ سے جو دوسرے مقامات پر پیش آ رہے ہیں بچا لے اور اسلام کے نام لیواؤں کو خواہ وہ کیسی ہی گندی حالت میں ہیں اور خواہ ہم سے ان کے کتنے اختلافات ہیں۔ ان کی حفاظت فرما اور اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ۔ جو کام آج ہم اپنے ہاتھوں سے نہیں کر سکتے۔ وہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ کر دے اور ہمارے دل کا دکھ ہمارے ہاتھوں کی قربانیوں کا قائم مقام ہو جائے۔
    پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عرب سے قریباً دو سو میل کے فاصلہ پر ہندوستان کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ عربوں کے پاس گو اور سامان تو نہیں مگر تلوار تو ہے لیکن ہم ہندوستانیوں کے پاس تو تلوار بھی نہیں۔ پھر 11 لاکھ کا نکلنا تو معمولی بات ہے مگر جب وہ بھی نہ نکل سکے تو ہم 33 کروڑ باشندے کہاں جائیں گے۔ ان کو تو چلنے کے لئے راستے بھی نہیں مل سکتے اور اگر خطرہ پیش آ جائے تو سونے کے لئے بھی جگہ نہیں مل سکے گی۔ دنیا میں جہاں کثرتِ آبادی رحمت سمجھی جاتی ہے وہاں ایسے مواقع پر وہ زحمت بھی ہو جاتی ہے پھر چند سو یا ہزار نکلنے والے ہوں تو ان کے لئے کھانے کا بھی کوئی انتظام ہو سکتا ہے مگر کروڑوں کے لئے کون انتظام کر سکتا ہے۔ پس اپنے ملک کی حفاظت اور اس کی حالت کو بھی مدنظر رکھو اور اس کے لئے بھی دعائیں کرو۔ گو یہ ادنیٰ چیز ہے۔ سب سے مقدم ہمارے لئے مقدس مقامات ہیں اور ملکی حفاظت کا سوال ان کی حفاظت کے سوال کے بعد ہے اور ان کی حفاظت کے لئے ہمارے دل میں درد اور تڑپ ملک کی حفاظت کے لئے درد اور تڑپ سے بہت زیادہ ہے۔ ہندو ہمیشہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا دل تو عرب میں اٹکا ہؤا ہے مگر ایسا اعتراض کرنے والے نادان ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ اصل انسان وہ ہے جس کا دل خدا تعالیٰ سے اٹکا ہؤا ہو۔ اگر ہمارے دل عرب سے اٹکے ہوئے ہیں، اگر خانہ کعبہ سے اٹکے ہیں تو اس میں کسی کے لئے کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ جہانتک ملک کے لئے قربانی کا سوال ہے۔ ہر سمجھدار مسلمان ویسا ہی اس کے لئے درد رکھتا ہے جیسا کہ کوئی بڑے سے بڑا ہندو۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم اپنے مقدس مقامات کو ملک پر مقدم رکھیں۔ تو یہ اعتراض کی بات ہے اس طرح تو کل کو کوئی نادان ہندو یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ مسلمان خدا تعالیٰ کو گاندھی سے بڑا سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ملک کی محبت اپنی جگہ پر ہے اور دین کی اپنی جگہ۔ دونوں آپس میں مقابلہ کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ دونوں کا مقام الگ الگ ہے۔ ہم یہ ہرگز نہیں مان سکتے کہ کوئی ہندو ملک کی محبت میں ہم سے بڑھ کر ہے اگر صرف ملک کی حفاظت کا سوال ہو تو ہم اس کے لئے ان سے زیادہ قربانی کرنے کو تیار ہیں لیکن دین کے مقابلہ میں اسے مقدم نہیں کر سکتے۔ اگر کسی جگہ بھائی اور ماں کی حفاظت کا سوال ہو تو کوئی احمق ہی اعتراض کر سکتا ہے کہ فلاں شخص نے ماں کے لئے بھائی کو قربان کر دیا۔ اور اگر والدین اور رسولؐ کی حفاظت کے لئے قربانی کا سوال ہو تو کوئی احمق ہی کہہ سکتا ہے کہ رسول کے مقابلہ میں ماں باپ کو پیچھے ڈال دیا۔
    احد کی جنگ کا واقعہ ہے کہ جب مدینہ میں یہ غلط خبر پہنچی کہ رسول کریم ﷺ نے شہادت پائی تو عورتیں اور بچے روتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئے ۔ ایک صحابی جو میدان جنگ سے واپس لوٹ رہا تھا اور رسول کریم ﷺ کو بخیر و عافیت دیکھ کر آیا تھا۔ وہ ایک عورت کے پاس سے گزرا اور اس نے اس سے رسول کریم ﷺ کا حال دریافت کیا۔ اس کا دل چونکہ مطمئن تھا کہ آپ خیریت سے ہیں اس لئے اس نے اس عورت کے سوال کا تو خیال نہ کیا اور کہا بہن افسوس ہے۔ تمہارا بھائی جنگ میں شہید ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ تم مجھے رسول کریم ﷺ کا حال بتاؤ اس نے پھر بھی اس کے سوال کا جواب نہ دیا اور کہا۔ افسوس تمہارا خاوند بھی شہید ہو گیا مگر اس عورت نے پھر بھی کوئی پرواہ نہ کی اور کہا۔ مجھے یہ بتاؤ کہ رسول کریم ﷺ کیسے ہیں۔ اس نےکہا افسوس تمہارا بیٹا بھی شہید ہو گیا۔ اس نے کہا کہ مَیں اور کسی کا نہیں پوچھتی۔ مجھے بتاؤ رسول کریم ﷺ تو خیریت سے ہیں۔ اس نے کہا ہاں وہ تو خیریت سے ہیں۔ یہ سن کر اس عورت نے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں تو مجھے کسی اَور کی شہادت کا غم نہیں۔7کیا اس عورت کو اپنے خاوند سے محبت نہ تھی، بھائی سے محبت نہ تھی، بیٹے سے محبت نہ تھی؟ سب سے تھی مگر محبتوں کے بھی درجے ہوتے ہیں۔ اسے رسول کریم ﷺ سے محبت سب سے بڑھ کر تھی۔ پس احمق اور نادان ہے وہ انسان جو سمجھتا ہے کہ ہر محبت وطن کی محبت میں مرکوز ہو جانی چاہئے۔ اگر کوئی ہندو اعتراض کرتا ہے کہ ہمارے دلوں میں خانہ کعبہ کی یا مکہ کی محبت وطن سے زیادہ ہے تو وہ صرف اپنی جہالت کا مظاہرہ کرتا ہے اور ایسے جاہل کی خاطر ہم ان مقامات کی محبت کو پیچھے نہیں ڈال سکتے۔ مگر اس کے یہ معنے بھی نہیں کہ ہم وطن کی محبت میں اس معترض سے پیچھے ہیں۔ بیشک دین کی محبت ہمارے دلوں میں زیادہ ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وطن کی محبت نہیں ہے۔ اگر ہمارا ملک خطرہ میں ہو تو ہم اس کے لئے قربانی کرنے میں کسی ہندو سے پیچھے نہیں رہیں گے لیکن اگر دونوں خطرہ میں ہوں۔ یعنی ملک اور مقامات مقدسہ، تو مؤخر الذکر کی حفاظت چونکہ دین ہے اور زندہ خدا کی شعائر کی حفاظت کا سوال ہے۔ اس لئے ہم اسے مقدم کریں گے۔ بیشک ہم عرب کے پتھروں کو ہندوستان کے پتھروں پر فضیلت نہ دیں گے لیکن ان پتھروں کو ضرور فضیلت دیں گے جن کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے فضیلت کا مقام بنایا ہے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ قیس کُتّے سے پیار کر رہا تھا۔ اس کے دوستوں نے دیکھا اور کہا۔ قیس کیا تم پاگل ہو گئے ہو جو کُتّے سے پیار کر رہے ہو۔ اس نے کہا۔ نہیں مَیں کُتّے سے پیار نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا یہ تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم کُتّے سے پیار کر رہے ہو۔ اس نے کہا کہ یہ تو لیلیٰ کا کُتّا ہے۔ مَیں کُتّے سے نہیں بلکہ لیلیٰ کے کُتّے سے پیار کرتا ہوں۔ کُتّے اور لیلیٰ کے کُتّے میں فرق کو عاشق ہی سمجھ سکتا ہے۔ ایک مادہ پرست ہندو کیا جانتا ہے کہ وطن اور خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ شعائر میں کیا فرق ہے۔ وہ عرفان اور نیکی نہ ہونے کی وجہ سے اس فرق کو نہیں سمجھ سکتا۔ پس ہمیں ہندوستان بیشک عزیز ہے، اس کا ذرہ ذرہ عزیز ہے۔ اگر کوئی غنیم باہر سے ہندوستان پر جارحانہ طور پر حملہ آور ہو تو باوجود بعض متعصب ہندوؤں کے جھوٹے اعتراضوں کے ہم اس کی حفاظت میں دوسروں سے پیچھے نہیں آگے ہوں گے خواہ غنیم کوئی مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَانِ 8 ہمارے ایمان کا جزو ہے مگر وہ گلیاں جن میں ہمارے پیارے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ چلتے رہے اور وہ پتھر جنہیں خد اتعالیٰ نے ہمارے لئے عبادت کا مقام بنایا۔ ہمیں وطن سے زیادہ عزیز ہیں اور اس پر کوئی ہندو یا عیسائی حاسد جلتا ہے تو جل مرے۔ ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔ ‘‘
    (الفضل 3 جولائی 1942ء)
    1: المائدة : 68
    2: السّیرة الحلبیة جلد 2 صفحہ 160 مطبوعہ مصر 1935ء
    3: سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 278-279 مطبوعہ مصر 1936ء
    4: اسد الغابة جلد 2 صفحہ 230 مطبوعہ بیروت1936ء
    5: سیرت ابن ہشام جلد 4 صفحہ 163-164 مطبوعہ مصر 1936ء
    6: وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ (البقرة: 155)
    7: سیرت ابن ہشام جلد 3۔ مطبوعہ مصر 1936ء
    8: موضوعات ملّا علی قاری صفحہ 35۔ مطبوعہ دہلی 1315ھ

    20
    (1) غرباء کے لئے غلّہ کا انتظام
    (2) دودھ اور گھی کا انتظام
    (3)احمدی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی تحریک
    ( فرمودہ 3 جولائی 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    (1)
    ’’آج مَیں خطبہ میں تین متفرق امور کے متعلق باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے تو مَیں اس غلّے کے انتظام کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو قادیان کے غرباء میں تقسیم کرنے کے لئے جمع کیا گیا ہے۔ مَیں نے پہلے اس تحریک کو بغیر اندازہ کے کہ کس قدر لوگ یہاں امداد کے مستحق ہیں اور ان کے لئے کس قدر غلّہ کی ضرورت ہو گی، شروع کیا تھا اور اپنے ذہن میں پانچ سَو من غلّہ کا اندازہ لگایا تھا۔ اگر میرے ہی اندازہ کے مطابق غلّہ جمع ہوتا یا اس غلّہ کے لئے رقم آتی تو ہم نصف کے قریب آدمیوں کو بھی غلّہ نہ دے سکتے لیکن جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا طریق ہمیشہ ہمارے ساتھ چلا آتا ہے اس نے جماعت کے دوستوں کو توفیق عطا فرمائی کہ وہ کثرت سے اس میں حصہ لیں۔ چنانچہ قریباً بارہ سَو من غلّے کا اندازہ ہے جس کی وصولی کی امید کی جاتی ہے اور ہمارا موجودہ اندازہ جو قادیان میں تقسیم کے متعلق ہے وہ بھی گیارہ بارہ سَو من کے قریب ہے۔ دو تین سَو من اتفاقی ضرورتوں کے لئے بھی جمع رکھنا ضروری ہوتا ہے اور چونکہ ابھی باہر سے آہستہ آہستہ وعدے آ رہے ہیں اور لوگوں کی طرف سےرقوم بھی پہنچ رہی ہیں اس لئے یہ کوئی بعید بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری یہ ضرورت بھی پوری ہو جائے مگر اس بارے میں مَیں ان کو جنہیں غلّہ دیا گیا ہے نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے ان کے لئے پانچ پانچ مہینے کے غلّے کا انتظام کر دیا ہے۔ گویا جو غلّہ انہیں اس وقت دیا گیا ہے یہ آئندہ دسمبر، جنوری، فروری، مارچ اور اپریل کے لئے ہے۔ مئی میں چونکہ نئی فصل شروع ہو جاتی ہے اس لئے مئی کے لئے کسی انتظام کی ضرورت نہیں۔ ہم غلّہ کی اتنی مقدار اپنے پاس جمع نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ اس صورت میں بہت سے غلّہ کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا اس لئے وہ غلّہ ہم نے آج ہی تقسیم کر دیا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ سب کو تقسیم کر دیا گیا ہے بلکہ تقسیم کرنا شروع کر دیا گیا ہے کیونکہ ابھی تک پورا غلّہ نہ ملنے کی وجہ سے سب کو غلّہ نہیں پہنچا یا جا سکا ۔ اس وقت تک ہم ساڑھے چھ سَو من گندم خرید سکے ہیں اور اس میں سے پونے پانچ سَو یا پانچ سَو من کے قریب تقسیم بھی کر چکے ہیں اور ہمارا ارادہ یہ ہے کہ جوں جوں غلّہ آتا جائے گا اسے فوراً تقسیم کرتے چلے جائیں گے۔ پس ایک تو وہ دوست جنہیں ابھی غلّہ نہیں پہنچا گھبرائیں نہیں۔بعض لوگ مجھے رقعے لکھتے رہتے ہیں کہ باقیوں کو تو غلّہ مل گیا ہے مگر ہمیں نہیں ملا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمیں غلّہ ابھی تک ملا نہیں۔ ہمارے پاس اس وقت سات آٹھ سَو من غلّہ خریدنے کے لئے روپیہ موجود ہے مگر غلّہ ملتا ہی نہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اردگرد کے دیہات سے غلّہ جمع کریں اور اگر اِردگرد کے دیہات سے غلّہ نہ ملا تو خواہ ہمیں گراں ہی خریدنا پڑا بٹالہ یا امرت سر سے خرید کر لایا جائے گا۔ پس جن لوگوں کے لئے غلّہ کی منظوری ہو چکی ہے وہ تسلی رکھیں۔ جوں جوں غلّہ آتا جائے گا اِنْشَاءَ اللہُ تَعَالٰی ان کے گھروں میں پہنچتا جائے گا۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اچھا غلّہ ملے۔ مَیں خود نمونہ دیکھ کر اسے پاس کرتا ہوں اور حتّی الوسع کوشش کرتا ہوں کہ کَنگنی1 نہ ہو اور نہ گندم میں کوئی اَور نقص ہو چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جن لوگوں نے خود دیکھ کر اور روپیہ دے کر اپنے گھروں کے لئے گندم خریدی ہے ہماری خریدی ہوئی گندم ان کے برابر بلکہ بعض صورتوں میں ان سے بھی اچھی ہے۔
    دوسری بات مَیں نصیحت کے طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کو ہم نے غلّہ دیا ہے۔ وہ اسے امانت کے طور پر اپنے پاس سال کے آخری مہینوں کے لئے محفوظ رکھیں۔ میرے پاس رپورٹیں پہنچی ہیں کہ بعض لوگوں نے ابھی سے اس غلّے کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے حالانکہ ابھی مارکیٹ میں غلّہ ملتا ہے اگر ابھی سے اس غلّہ کو استعمال کر کےخرچ کر لیا گیا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ جب غلّہ کی کمی کا خطرہ ہو گا اس وقت وہ غلّہ کھا چکے ہوں گے اور چونکہ ان ایام کے لئے سلسلہ اپنی ذمہ داری کو پورا کر چکا ہو گا۔ اس لئے ان کو دوبارہ مدد نہیں مل سکے گی۔ پس جہاں جماعت کے آسودہ حال لوگوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور اسے پورا کرنے کی کوشش کی ہے وہاں انہیں بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ انہیں خیال کرنا چاہئے کہ اگر انہیں غلّہ نہ ملتا تو لازماً وہ مارکیٹ سے خریدتے۔ پھر جبکہ ان کی ضرورتوں کے لئے غلّہ محفوظ ہو گیا ہے تو وہ کیوں انہی ایام میں اسے استعمال کر رہے ہیں جبکہ غلّہ منڈی میں مل سکتا ہے۔ اگر وہ اسی طرح کرتے رہے تو آنے والے خطرناک ایام میں وہ تکلیف اٹھائیں گے اور سلسلہ ان کی مدد کرنے سے قاصر ہو گا اور وہ تکلیف خود ان کے ہاتھوں کی پیدا کی ہوئی ہو گی۔
    مَیں اردگرد کے دیہات کے لوگوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ثواب کا موقع پیدا کر دیا ہے۔ وہ اچھی گندم تلاش کر کے ہمیں اطلاع دیں تاکہ ہم خرید سکیں۔ ہمیں اس وقت ایک ہزار مَن گندم کی ضرورت ہے۔ ہمارے اردگرد جو دیہات ہیں ان میں سے سری گوبند پور میں ہماری جماعت ہے۔ ماڑی بچیاں میں ہماری جماعت ہے۔ جاگو وال میں ہماری جماعت ہے، پھیرو چیچی میں ہماری جماعت ہے۔ اسی طرح عالمہ اور بھینی میں ہماری جماعت ہے، یہ سب جماعتیں مل کر اگر کوشش کریں تو آسانی کے ساتھ ہمیں گندم میسر آ سکتی ہے۔ اسی طرح گورداسپور کی طرف کا جو علاقہ ہے۔ اس میں بھی کافی غلّہ مل سکتا ہے اور زمینداروں کے پاس ابھی تک کافی غلّہ موجود ہے۔ وہ صرف اس امید پر اس کو روکے ہوئے ہیں کہ شاید گندم کی قیمت اَور بھی بڑھ جائے۔ مگر اب گندم کی قیمت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ گورنمنٹ نے جو انتہائی قیمت مقرر کر رکھی تھی اس حد کو پہنچ گئی ہے اور اس سے زیادہ قیمت بڑھنے کا سرِدست امکان نہیں۔ اس لئے اب زمیندار آہستہ آہستہ غلّہ نکال رہے ہیں کیونکہ قیمت اَور زیادہ بڑھ سکنے کی امید نہیں کر سکتے۔ پس غلّہ ملنے میں دقّت نہیں۔ دقّت صرف یہ ہے کہ غلّہ پھیلا ہؤا ہے اور ہمیں علم نہیں کہ کہاں کہاں ہے۔ ہمارے دوست اگر اردگرد کے دیہات میں پھر کر ہمیں اطلاع دیں کہ فلاں فلاں جگہ گندم مل سکتی ہے تو اس طرح وہ بہت کچھ ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کی اطلاع پر ہمارے کارکن وہاں جا کر نمونہ لے آئیں گے اور پسند آنے پر گندم خرید لی جائے گی اگر ایک مہینے تک غلّہ جمع نہ ہؤا تو مجبوراً ہمیں باہر کی منڈیوں سے غلہ لانا پڑے گا اور وہ گراں بھی ہو گا اور کچھ جو لوگ زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔ ان میں بے چینی بھی پیدا ہو گی اور وہ سمجھیں گے کہ شاید ہمارے حقوق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
    مَیں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ جن جن جماعتوں نے ابھی تک اس تحریک میں حصہ نہیں لیا۔ وہ اس طرف جلد توجہ کریں تاکہ وہ ثواب سے محروم نہ رہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری جماعت کو ایک ایسا نمونہ پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ جس کی مثال سارے ہندوستان میں نہیں مل سکتی اور کہیں نظر نہیں آتا کہ ضرورت کے موقع پر کسی قوم نے اپنے غریب بھائیوں کے لئے ایسے ایثار اور قربانی سے کام لیا ہو۔ میرے نزدیک اگر وہ دوست جنہوں نے ابھی تک اس تحریک میں حصہ نہیں لیا۔ اس طرف توجہ کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پندرہ سو من غلّہ کے قریب اکٹھا ہو سکتا ہے اور اس کی قیمت موجودہ نرخ کے مطابق آٹھ ہزار روپیہ ہے۔ اس وقت تک جو اندازہ وعدوں اور غلّے وغیرہ کا ہے وہ ساڑھے چھ بلکہ سات ہزار روپیہ کے قریب ہے۔ اگر ہزار ڈیڑھ ہزار روپیہ کے قریب اور وعدے آ جائیں تو پندرہ سَو مَن غلّہ یا آٹھ ہزار روپیہ اکٹھا ہو جائے گا۔
    دشمن احمدیہ جماعت پر ہمیشہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے آ کر کیا کام کیا اگر وہ اسی قسم کے کاموں کو دیکھیں تو انہیں اپنے اعتراض کی حقیقت معلوم ہو سکتی ہے۔ ہندوستان میں اس وقت ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو کروڑوں روپیہ کے مالک ہیں مگر کہیں بھی یہ مثال نہیں ملتی کہ اس طرح انہوں نے غریب لوگوں کے لئے غلہ جمع کیا ہو بلکہ سارے ہندوستان میں ہی نہیں، انجمنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ساری دنیا میں بھی کوئی ایسی مثال نہیں مل سکتی۔ گورنمنٹیں بے شک ایسا انتظام کرتی ہیں مگر وہ ٹیکس لگا دیتی ہیں اور جتنا چاہتی ہیں زبردستی ٹیکس وصول کر لیتی ہیں مگر یہاں کسی پر جبر نہیں کیا جاتا بلکہ لوگ اپنی خوشی سے چندہ دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے ہماری جماعت نے جو نمونہ پیش کیا ہے۔ وہ ایک نہایت ہی قابلِ تعریف فعل ہے۔
    (2)
    دوسرا امر جس کی طرف میں قادیان کے دوستوں کو خصوصاً توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ غلّہ کے سوا بعض اَور چیزیں بھی ایسی ہیں جن کے حصول میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور ان کی طرف بھی ہماری جماعت کو توجہ کرنی چاہئے مثلاً چند ایام سے گھی اور دودھ کی سخت تکلیف محسوس کی جا رہی ہے اور مدارس کے طالب علموں نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ انہیں دودھ ٹھیک نہیں ملتا۔ ان کی شکایت تو اپنے افسروں کے متعلق ہے مگر بات یہ ہے کہ دوسروں کو بھی دودھ نہیں مل رہا اور جو لوگ اپنے پاس روپیہ رکھتے ہیں ان کو بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔ اسی طرح گھی کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے۔ ممکن ہے آگے چل کر اَو ربھی بڑھ جائے۔ اس لئے مَیں قادیان کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جن کے لئے ممکن ہو اگر وہ گائیں یا بھینسیں رکھ لیں تو آئندہ آنے والے سخت ایام میں نہ صرف ان کو بلکہ ان کے بچوں اور دودھ پلانے والی ماؤں کو خالص دودھ اور گھی میسر آ سکے گا۔ دودھ پلانے والی ماؤں کا تو انحصار ہی دودھ پر ہوتا ہے کیونکہ دوسرے لوگ تو پھر بھی دودھ پینا چھوڑ سکتے ہیں لیکن اگر دودھ پلانےو الی مائیں دودھ پینا چھوڑ دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آئندہ نسل کو کمزور کر دیا جائے۔ اسی طرح بچوں کو دودھ دینا ضروری ہوتا ہے اور ان کو دودھ نہ دینے کے معنی بھی یہی ہیں کہ ان کو کمزور کر دیا جائے۔ پس اگر صاحب توفیق لوگ گائیں یا بھینسیں رکھنے لگ جائیں تو اس کے نتیجہ میں نہ صرف خالص دودھ اور گھی انہیں میسر آ سکے گا بلکہ جو لوگ بھینسیں نہیں رکھ سکتے۔ انہیں نسبتاً آسانی سے بازار سے دودھ مل جائے گا کیونکہ چیزوں کے ریٹ ہمیشہ اس طرح بڑھتے ہیں کہ جو لوگ زیادہ مالدار ہوتے ہیں جب انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے تو وہ بھاؤ بڑھا دیتے ہیں۔ مثلاً دودھ کا بھاؤ آٹھ سیر ہو اور کسی امیر کو اس بھاؤ دودھ ملنے میں ذرا بھی دقّت ہو تو وہ کہہ دے گا اچھا مجھے سات سیر ہی دے دو۔ دوسرا کہے گاسات سیر نہیں دیتے تو چھ سیر ہی دے دو تو باوجود اس بات کے کہ اگر وہ صبر کریں اور اپنے نفس کو تکلیف برداشت کرنے کی عادت ڈالیں تو انہیں بھی سستی چیز مل سکتی ہے۔ محض اس وجہ سے کہ ان کے پاس روپیہ ہوتا ہے وہ صبر نہیں کر سکتے اور اس طرح بازار کا بھاؤ بگاڑ دیتے ہیں ہماری لاہور کی جماعت کے ایک نہایت ہی مخلص دوست تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کے بڑے شیدائی تھے۔شروع شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام ہمیشہ ان کے ذریعہ اپنے سودے منگوایا کرتے تھے۔ گو آخر میں حکیم محمد حسین صاحب قریشیجو مفرح عنبری کے موجد تھےان کے سپرد یہ خدمت ہو گئی تھی۔ وہ دوست نہایت مخلص اور اچھے عہدہ پر تھے۔ جب بھی قادیان آتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ضرور کوئی تحفہ لاتے مگر لاہور کے دوست ہنسا کرتے تھے کہ اُن کی عادت ہے کہ دکاندار کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں سیب کس طرح دیتے ہو؟ وہ اگر کہتا ہے عام سیب تو روپیہ کے بیس ہیں مگر اچھے سیب روپیہ کے سولہ ہیں تو یہ جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ مَیں نے سیب حضرت صاحب کے لئے لے جانے ہیں تم روپے کے مجھے بارہ سیب دو مگر اچھے دو۔ اس پر وہ وہی سیب جو روپے کے بیس یا سولہ بکتے ہیں دے دیتا ہے۔
    غرض صرف ریٹ کے بڑھانے سے چیز اچھی نہیں ملتی بلکہ غور اور فکر اور تلاش سے اچھی چیز ملا کرتی ہے مگرجیسا کہ مَیں نے بتایا ہے جن کے پاس روپیہ ہوتا ہے وہ ایسے موقع پر جلد بازی سے کام لے کر ریٹ بڑھا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دس پندرہ یا بیس آدمی جو مالدار ہوتے ہیں اور جو درحقیقت ریٹ کو بڑھانے کا موجب بنتے ہیں۔ وہ تو خریدتے رہتے ہیں مگر غریبوں پر مصیبت آ جاتی ہے کیونکہ ان کے لئے بھی ریٹ بڑھ جاتے ہیں اور ان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اس ریٹ پر چیز خرید سکیں۔
    پھر اس کا اثر دکانداروں پر بھی پڑتا ہے جب گاہک زیادہ ہوں تو دکاندار زیادہ مال خریدتا ہے جو اسے سستا پڑتا ہے مگر جب گاہک کم ہو جائیں تو مال زیادہ خرید نہیں سکتا اورجو خریدتا ہے وہ گراں خریدتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چیزوں میں ملونی شروع ہو جاتی ہے۔ دودھ ہو تو اس میں پانی مِلا دیتے ہیں اور ایسی ایسی تدبیریں کرتے ہیں کہ ان کا پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے مثلاً دودھ کی شناخت کا ایک آلہ نکلا ہؤا ہے۔ جو سیّال چیز کا وزن بتا دیتا ہے۔ اس کے ذریعہ سے معلوم کر لیا گیا ہے کہ خالص دودھ کا اتنا وزن ہے اور پانی کا اتنا۔ پس اس کے ذریعہ سے اگر دودھ میں پانی ملا ہو تو معلوم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً فرض کرو۔ خالص دودھ کا وزن دس ڈگری ہے اور پانی کا وزن پندرہ ڈگری اور دودھ میں آلہ ڈال کر دیکھا جاتا ہے اور اس کا وزن ساڑھے بارہ ڈگری معلوم ہوتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ آدھا دودھ ہے اور آدھا پانی۔
    ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کے زمانہ میں بعض دوستوں نے بڑے جوش سے یہ انتظام کیا کہ قادیان میں جو دودھ فروخت ہونے کے لئے آئے۔ اس کا پہلے آلہ سے ٹیسٹ کیا جائے کہ وہ خالص ہے یا نہیں۔ کیونکہ ہمارے ملک میں ایک تو عام لوگوں نے یہ قانون بنایا ہؤا ہے کہ دودھ میں برکت نہیں ہوتی۔ جب تک دودھ دیتے وقت برتن میں کچھ پانی نہ ڈال لیا جائے پھر اس برکت کو بڑھانے کا خیال پیدا ہوتا ہے اور اَور زیادہ پانی ملا لیا جاتا ہے۔ ہمارے نانا جان صاحب مرحوم بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اس انتظام کا شوق تھا چنانچہ دودھ ٹیسٹ کرنے کا آلہ خریدا گیا اور اس کے مطابق دودھ کو دیکھا جانے لگا۔ باہر سے جو شخص دودھ لے کر آتا، اسے بٹھا لیا جاتا کہ پہلے دودھ کا امتحان کرا لو پھر بیچنے دیا جائے گا۔ چند دن تو اس کا فائدہ ہؤا مگر آخر جہاں پکڑنے والے موجود ہوتے ہیں وہاں تدبیریں نکالنے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نےہر انسان کے اندر عقل کا مادہ رکھ دیا ہے جس کے ذریعہ وہ اگر ایک طرف نیکی میں ترقی کر جاتا ہے تو دوسری طرف چوری اور ڈاکہ وغیرہ کے بھی نئے سے نئے طریق نکال لیتا ہے۔ ننگل گاؤں کا ایک شخص بھی دودھ لاتا تھا ، وہ کہا کرتا تھا کہ میرا دودھ بڑا خالص ہے۔ آلے سے دیکھا جاتا تو وہ بھی اس کے خالص ہونے کی تصدیق کرتا۔ پانچ سات دن تو اس کی خوب شہرت ہوئی مگر ایک دن کسی کو دودھ جو دینے لگا تو گڈوی میں سے مچھلی نکل آئی۔ اس وقت یہ راز کھلا کہ وہ دودھ میں چھپڑ کا پانی ملا کر لایا کرتا تھا۔ اس نے سوچا کہ عام پانی تو ہلکا ہوتا ہے۔ چھپڑ کا گندا پانی اگر میں ڈالوں تو اس کا پتہ نہیں لگے گا۔ چنانچہ وہ رستہ میں سے چھپڑ کا پانی ملا کر لے آتا مگر ایک دن پانی کے ساتھ مچھلی بھی آگئی اور دودھ ڈالنے لگا تو وہ نکل آئی جس سے اس کا راز کھل گیا۔
    غرض یہ نقائص درحقیقت اسی طرح دور ہو سکتے ہیں کہ خود گھر میں گائیں بھینسیں رکھی جائیں۔ اگر قادیان میں سو یا د و سَو گھر ایسے نکل آئیں جو بھینس رکھ لیں تو انہیں بھی دودھ کی سہولت ہو جائے گی اور ان کی وجہ سے باقیوں کو بھی آسانی سے دودھ میسر آنے لگ جائے گا۔ صدر انجمن احمدیہ کے جو کارکن ہیں۔ انہیں پراویڈنٹ فنڈ سے قرضہ دلا دیا جائے گا اور اگر ان کا پراویڈنٹ فنڈ نہ ہؤا تو ضمانت پر انجمن سے قرضہ دلا دیا جائے گا اور دس بارہ مہینوں کے اندر اندر واپس لے لیا جائے گا۔ اس طرح دودھ کی دِقّت اِنْشَاءَ اللہُ تَعَالٰی دور ہو جائے گی۔
    اسی طرح چارے وغیرہ کے متعلق انتظام کرنا چاہئے تاکہ چارے کی دِقّت بھی محسوس نہ ہو مثلاً میرے نزدیک اگر بورڈنگ والے ہوشیاری سے کام لیں تو سکول کی گراؤنڈز میں ہی کافی چارہ بویا جا سکتا ہے مگر بالعموم دیکھا گیا ہے کہ انتظام ٹھیک ہو تبھی چیز سستی ملتی ہے ورنہ انتظام کی خرابی کی وجہ سے گراں ہو جاتی ہے۔ پس ضرورت ہے کہ اس طرح محنت سے کام کیا جائے جیسے زمیندار کرتے ہیں جس طرح وہ اپنی بھینسوں کی حفاظت کرتے اور چارہ اور دودھ کو ضائع نہیں کرتے اسی طرح ہمارے دوستوں کو کام کرنا چاہئے۔ اگر اس طرح کام کیا جائے تو بورڈنگ کے لڑکوں کو اچھا دودھ مل سکتا ہے اور ان کی صحتیں بھی درست رہ سکتی ہیں۔
    مَیں سمجھتا ہوں آٹھ دس گھماؤں زمین ایسی نکل سکتی ہے جس میں چارہ بویا جا سکتا ہے اور چھ سات بھینسیں ایسی رکھی جا سکتی ہیں جن سے طلباء کی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔ اس کے لئے مَیں ایک کمیٹی تجویز کر دوں گا جو دودھ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے غور کرے گی اور کوشش کرے گی کہ لوگوں کو سستا دودھ میسر آ سکے۔ اسی طرح اس کمیٹی کا یہ بھی کام ہو گاکہ لوگوں کو یہ تحریک کرے کہ وہ گھروں میں بھینسیں رکھیں تا قادیان کی یہ دِقّت دور ہو جائے۔
    (3)
    تیسری چیز جس کی طرف مَیں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کی طرف سے فوج میں ایک احمدیہ ڈبل کمپنی پہلے سے موجود ہے۔ مگر اب گورنمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک اَور احمدیہ ڈبل کمپنی قائم کی جائے اور اس کے لئے اس نے رنگروٹ مانگے ہیں۔ ناظر صاحب امور عامہ اس غرض کے لئے مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں چنانچہ سیالکوٹ ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور گورداسپور کا دَورہ کرنا ان کے مدنظر ہے۔ بعض مقامات کا وہ دورہ کر چکے ہیں اور بعض جگہ وہ عنقریب دَورہ کے لئے پہنچنے والے ہیں۔ مَیں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اس بھرتی کے کام میں دلچسپی لینی چاہئے اور زیادہ سے زیادہ نوجوان اس غرض کے لئے پیش کرنے چاہئیں۔ میرے نزدیک اگر صرف گورداسپور کے ضلع کے لوگ ہی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں تو تین ساڑھے تین سَو آدمی صرف یہیں سے بھرتی ہو سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلے بہت سے رنگروٹ ہماری جماعت کی طرف سے جا چکے ہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جو امن اور آرام اور نماز کی پابندی کی نعمت اور نیکی کی تحریک احمدیہ کمپنی میں میسر آ سکتی ہے وہ کسی دوسری کمپنی میں میسر نہیں آ سکتی۔ پھر سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ کوئی جماعت زندہ نہیں رہ سکتی جب تک اس کے افراد فوجی فنون کے ماہر نہ ہوں۔ قوموں کے مرنے کی علامت یہی ہؤا کرتی ہے کہ موت کا خوف ان کے دلوں میں بڑھ جاتا ہے اور قوموں کی زندگی کی علامت یہ ہوتی ہے کہ موت کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے جو قومیں موت کا خوف اپنے دلوں میں بڑھا لیتی ہیں وہ کبھی فاتح نہیں ہو سکتیں اور جن قوموں کے دلوں میں سے موت کا خوف مٹ جاتا ہے۔ انہیں کوئی مفتوح نہیں کر سکتا۔ یہودیوں کو ہی دیکھ لو اب ان کی کہیں حکومت نہیں اور جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ ان میں سب سے بڑا نقص یہی ہے کہ وہ موت سے بے حد ڈرتے ہیں اور ان میں سے ہر شخص کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہزار سال تک زندہ رہے مگر فرماتا ہے اگر کوئی ہزار سال بھی زندہ رہا تو کیا ہے آخر ایک دن اس نے مرنا ہے اور جب سے کہ انسان پیدا کیا گیا ہے وہ موت کا شکار ہوتا چلا آیا ہے بلکہ جیسا کہ مَیں نے بارہا کہا ہے۔ موت بھی خدا تعالیٰ کی رحمتوں میں سے ایک بہت بڑی رحمت ہے۔ اگر موت نہ ہو تو دنیا پر ایسا عذاب آ جائے جو انسانی طاقتِ برداشت سے بالکل باہر ہو جائے۔ وہی ماں باپ جو اپنے بچوں سے پیار کرتے اوربعض دفعہ ان پر جانیں دے دیتے ہیں اور وہی بچے جو اپنے ماں باپ سے محبت رکھتے بلکہ بعض دفعہ ان کے لئے جانیں دے دیتے ہیں۔ اگر موت نہ ہو تو ایک دوسرے کو کاٹ کاٹ کر کھانے کی کوشش کریں۔ تم اندازہ کر لو کہ آدم سے لے کر آج تک کے آدمی نہیں بلکہ صرف دو صدیوں کے آدمی ہی جمع ہو جائیں تو دنیا میں رہنے کے لئے کوئی جگہ نہ رہے۔ دنیا میں انسان کی اوسط عمر 30 سال ہے اور اگر دو صدیوں کے لوگ جمع ہو جائیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ موجودہ آبادی سے سات گنا آبادی دنیا کی بڑھ جائے گی۔ اب سمجھ لو کہ اگر ایسا ہی ہو جائے تو وہ زمیندار جن کے پاس چار چار پانچ پانچ ایکڑ زمین ہے ان کے پاس صرف پانچ پانچ سات سات کنال رہ جائے اور جن کے پاس صرف پانچ پانچ چھ چھ کنال زمین ہے۔ ان کے پاس تو بارہ بارہ تیرہ تیرہ مرلہ زمین رہ جائے بلکہ یہ بھی مَیں نے غلط اندازہ لگایا ہے کیونکہ یہ صرف پیدا ہونے والے بچوں کا انداازہ لگایا گیا ہے ۔ مُردہ پیدا ہونے والے بچوں یا اسقاط والے بچوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ اگر ان سب کو شامل کر لیا جائے تو جن کے پاس آج پانچ پانچ گھماؤں زمین ہے۔ ان کے پاس پونا پونا مرلہ رہ جائے اس سے اندازہ کر لو کہ اگر موت نہ ہو تو دنیا کی کیا حالت ہو جائے۔ مَیں تو سمجھتا ہوں وہ ماں باپ جو آج اپنے بچوں پر جانیں دیتے ہیں شاید موت نہ ہونے کی صورت میں ان کے گلے کاٹنے کو دوڑتے کہ یہ کمبخت مرتے بھی نہیں۔ او روہی بچے جو اپنے ماں باپ پر جانیں فدا کرتے ہیں ماں باپ کو گالیاں دیتے کہ ہمارے لئے جگہ ہی خالی نہیں کرتے۔ ساری محبتیں اور سارے پیار موت کے نتیجہ میں ہیں۔ ماں باپ اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں تو ان کے پیار کے پیچھے موت کا خیال ہوتا ہے کہ ایک دن ہم مر جائیں گے اوریہ ہمارا نام قائم رکھیں گے ۔ بچے اپنے ماں باپ سے محبت کرتے ہیں تو ان کی محبت کے پیچھے بھی موت کا خیال ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک دن آئے گا جب ہمارے ماں باپ مر جائیں گے اور ہم ان کو یاد کیا کریں گے۔ آؤ ہم اپنی زندگی میں ان کی کچھ خدمت کر لیں۔ لیکن اگر موت نہ ہوتی تو نہ بچوں کے دلوں میں اپنے ماں باپ کی محبت ہوتی نہ ماں باپ کے دلوں میں اپنی اولاد کی محبت ہوتی۔ سب ایک دوسرے کے دشمن ہوتے۔ تو موت اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں سے ایک بہت بڑی رحمت اور اس کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے۔ موت اسی وقت بُری معلوم ہوتی ہے جب اس کی ضرورت اور حاجت مٹ جائے اسی لئے خدا تعالیٰ نے جنت میں موت نہیں رکھی۔ کیونکہ جنت میں رزق دینا خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ رکھا ہؤا ہے کسی انسان کے ذمہ نہیں کہ وہ دوسروں کو رزق دے ۔ وہاں یہ سوال نہیں ہو گا کہ فلاں مر جائے تاکہ اس کا لقمہ میرے مُنہ میں پڑے بلکہ وہاں ہر ایک کے لئے خدا نے خود انتظام کیا ہؤا ہو گا۔ اس لئے وہاں باوجود موت نہ ہونے کے عداوت نہیں ہو گی بلکہ سب محبت اورپیار سے رہیں گے۔ تو جنت میں سے موت کومٹا دینا اور دنیا میں موت کو رکھنا اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتوں میں سے ہے۔ دنیا میں چونکہ احتیاج ہے اس لئے ضروری تھا کہ یہاں موت ہو مگر جنت میں چونکہ احتیاج نہیں۔ اس لئے ضروری تھا کہ وہاں موت نہ ہو بلکہ جو لوگ دوزخ میں جائیں گے انہیں بھی کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نکال کر جنت میں لے آئے گا اور کسی کو بھی گھبراہٹ نہیں ہو گی کہ ان کے آنے سے ہمارے رزق میں کمی ہو جائےگی۔
    تو موت ایسی چیز نہیں جس سے ہمارے دلوں میں کوئی گھبراہٹ پیدا ہو سکے ۔ ہم سے پہلے لوگ مرتے چلے آئے، ہم مر جائیں گے اور ہمارے بعد آنے والے بھی مر جائیں گے۔ صرف فرق یہ ہے کہ ایک شخص عزت کی موت مرتا ہے اور ایک شخص ذلت کی موت مرتا ہے جو شخص عزت کی موت مرتا ہے۔اس کا نام دنیا میں بھی رہ جاتا ہے اور اگلے جہان میں بھی قائم رہتا ہے اور جو شخص ذلت کی موت مرتا ہے اس کا نام دنیا میں بھی مٹ جاتا ہے اور اگلے جہان میں بھی اس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ لڑائیوں میں ہی دیکھ لو۔ قید وہی ہوتے ہیں جو عزت کی موت مرنا نہیں جانتے۔
    جرمنوں کو دیکھو ہم ان کے افعال کو شدید نفرت سے دیکھتے ہیں مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بہادر ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے قیدی بہت کم پکڑے جاتے ہیں اس لئے کہ ہر لڑائی میں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم قید ہو گئے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہمارے دشمن کی فوج بڑھ گئی مثلاً اگر دس ہزار آدمی قید ہو جاتے ہیں تو یہ دس ہزار قیدی دوسروں کے کام آتے ہیں اور دشمن کے بالمقابل دس ہزار آدمی دوسری جگہوں پر حملہ کرنے کے لئے آزاد ہوجاتے ہیں۔ پس وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم قید ہو گئے تو اس کا دشمن کو فائدہ ہو گا اس کی دس ہزار فوج بڑھ جائے گی لیکن اگر ہم دس ہزار مر گئے تو گو ہماری فوج سے دس ہزار کم ہو گا مگر ان کی فوج کے لئے بھی دس ہزار آدمیوں کو ہم مار ڈالیں گے۔ چنانچہ لیبیا کی پہلی لڑائی میں انگریزوں نے چالیس ہزار قیدی بنائے تھے جن میں سے صرف دس ہزار جرمن تھے اور تیس ہزار اٹالین۔ یہی حال روس کی جنگ کا ہے۔ وہاں بھی جرمن بہت کم قید ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں۔ اگر ہم مر گئےتو ملک کو زیادہ فائدہ ہو گا بہ نسبت اس کے کہ ہم قیدی بن جائیں کیونکہ موت تو قید ہونے کی حالت میں بھی آ سکتی ہے اور آزاد ہونے کی حالت میں بھی۔ ہزاروں ہزار واقعات دنیا میں ایسے ہوتے رہتے ہیں کہ بعض دفعہ انسان بڑے غرور اور تکبر سے سمجھتا ہے کہ وہ دوسرے کو مار ڈالے گا مگر اچانک کوئی ایسا حادثہ ہو جاتا ہے کہ وہ خود ہلاک ہو جاتا ہے۔
    حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے متعلق لکھا ہے کہ دلّی کے ایک بادشاہ کی ان سے رقابت ہو گئی۔ جس کی وجہ یہ ہوئی کہ بعض لوگوں نے اس کے پاس شکایت کرنا شروع کر دی کہ بڑے بڑے لوگ آپ کےد ربار میں کم آتے ہیں مگر نظام الدین صاحب اولیاء کے پاس بہت جاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ بادشاہ کے دل میں رنج پیدا ہونا شروع ہو گیا اور آخر منصوبہ بازوں کی تحریک پر اس نے فیصلہ کیا کہ حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کو قتل کر دیا جائے۔ درباریوں میں سے ان کے جومعتقد تھے وہ دوڑے دوڑے حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ بادشاہ نے آپ کے قتل کا فیصلہ کیا ہے مگر کہا ہے کہ مَیں اب فلاں مہم پر جا رہا ہوں وہاں سے واپس آ کر انہیں قتل کروں گا۔ انہوں نے کہا موت اور حیات اللہ تعالیٰ کے اختیارمیں ہے کسی بادشاہ کے اختیار میں نہیں۔ خیر وہ مہم پر گیا اور جب واپس آنے لگا تو آپ کے مریدوں میں بے چینی پیدا ہونی شروع ہوئی اور انہوں نے کہا کہ ہمیں اجازت دیجئے۔ ہم بادشاہ کے امراء اور وزراء سے مل کر اس کی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے فرمایا ہنوز دلّی دور است۔ دو چار دن کے بعد پھر رپورٹیں پہنچیں کہ اب تو بادشاہ اَور زیادہ قریب آ گیا ہے چنانچہ انہوں نے پھر حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کی خدمت میں عرض کیا کہ بادشاہ تو اَور بھی قریب آ گیا ہے۔ انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دلّی دور است۔ غرض ہر ہر منزل پر مریدوں کی بے چینی بڑھتی جاتی اوروہ بار بار عرض کرتے کہ حضور بادشاہ تو اب اَور بھی دلّی کے قریب پہنچ گیا ہے۔ مگر وہ ہر بار یہی جواب دیتے کہ ہنوز دلّی دور است۔ آخر اطلاع ملی کہ بادشاہ دلّی کے باہر خیموں میں ٹھہرا ہؤا ہے اور کل شہر میں داخل ہو گا۔ مریدوں نے پھر جرأت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ حضور اب تو اجازت دیں کہ مصالحت کی کوئی کوشش کی جائے مگر انہوں نے کہا ابھی فکر کی کیا بات ہے۔ ہنوز دلّی دور است۔ اس دن بادشاہ کے کامیاب آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑاجشن منایا گیا اور جیسا کہ پرانے زمانہ میں دستور تھا۔ امراء شہر کے باہر بھی محل بنوایا کرتے تھے۔ ولی عہد کا بھی شہر کے باہر ایک محل تھا۔ اس نے بادشاہ سے اپنی دعوت قبول کرنے کی درخواست کی۔ بادشاہ نے اس کو منظور کر لیا اور چھت پر جشن کا انتظام کیا گیا۔ غالباً گرمی کا موسم ہو گا۔ بڑی کثرت سے امراء و رؤساء اس جشن میں شامل ہوئے اَور خوب ناچ گانا اور مجرا ہؤا۔ ابھی یہ ناچ گانا ہو ہی رہا تھا کہ یکدم چھت گری اور بادشاہ اس کے نیچے دب کرہلاک ہو گیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء کا مقام ایک سچے مومن کا مقام تھا۔ انہوں نے خدا تعالیٰ پر توکل کیا اور وہ سمجھتے تھے کہ موت اور حیات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔ اگر اس کی طرف سے مجھے موت آنی ہے تو مصالحت سے کیا بن جائے گا اور اگر موت نہیں آنی تو بادشاہ کیا اختیار رکھتا ہے کہ وہ مجھے موت کی سزا دے۔ اسی طرح اَور ہزاروں لوگ ہیں جو دوسروں کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ بچ جاتے ہیں اور مارنے کا ارادہ کرنے والے مر جاتے ہیں۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ تدابیر کوئی چیز نہیں۔ تدبیریں بھی ضروری ہوتی ہیں مگر وہ عام حالات میں ہوتی ہیں جب عام عذاب آتا ہے تو خدا تعالیٰ موت اور حیات اپنے ہاتھ میں لےلیتا ہے اور اس وقت موت سے ڈرنا اول درجہ کی حماقت ہوتی ہے۔ صحابہؓ کو دیکھ لو ۔ انہیں مارنے کے لئے دشمن نے کتنی کوششیں کیں قریباً تیس چالیس جنگیں ہوئیں مگر سوائے ایک دو جنگوں کے کہ جن میں چند مسلمان قید ہو گئے۔ کبھی مسلمان قید نہ ہوئے ورنہ کافر تو بیسیوں کی تعداد میں قید ہوتے تھے مگر مسلمان ایک بھی قید نہیں ہوتا تھا اور ان کے قید نہ ہونے کے معنے یہی تھے کہ وہ اتنا لڑتے تھے کہ یا تو مارے جاتے تھے یا فتح حاصل کر لیتے تھے گویا موت سے نڈر رہنے کی وجہ سے وہ قیدی نہیں بنتے تھے اوریہی چیز ان کے غلبہ کا موجب بن گئی مگر کافر ہمیشہ قیدی بننے کو ترجیح دیتے اور جب بھی دیکھتے کہ ان کا پہلو لڑائی میں کمزور ہو رہا ہے۔ وہ ہمت چھوڑ دیتے اور قیدی بن جاتے۔ رفتہ رفتہ یہی چیز ان کی تباہی کا موجب ہو گئی کیونکہ کچھ تو قید ہونے کی حالت میں ہی مسلمان ہو جاتے اور کچھ مسلمانوں سے ایسے مرعوب ہو جاتے کہ ان کا مقابلہ کرنے کی روح کھو بیٹھتے۔ پس کافر قیدی یا تو مسلمان ہوتے جاتے تھے یا آجکل کی اصطلاح کے مطابق وہ مسلمانوں کا ففتھ کالم بن جایا کرتے تھےاَور اپنی قوم کو ڈرایا کرتے تھے کہ دیکھ مسلمانوں کا مقابلہ نہ کرنا وہ بڑے سخت لوگ ہیں۔ بالآخر اس کا وہی نتیجہ نکلا جو نکلنا چاہئے تھا کہ مسلمان کامیاب ہو گئے اورکفار ناکام ہو گئے۔
    ہماری جماعت کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی پیشگوئیوں کے مطابق ایک زمانہ آنے والا ہے۔ جب ہماری جماعت جو اس وقت سب سے زیادہ کمزور اور دنیا کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی ہے دنیا کی فاتح اور حکمران ہو گی اور دنیا کی سب قومیں۔ دنیا کی سب حکومتیں اور دنیا کی سب سلطنتیں اس کی تابع اور فرمانبردار ہوں گی۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہماری جماعت ساری دنیا میں پھیل جائے گی اور دوسری قومیں اس کے مقابلہ میں ایسی ہی جائیں گی جیسے چوہڑے اور چمار ہوتے ہیں۔ پس جب تک ہماری جماعت کے افراد کے اندر جرأت اور بہادری پیدا نہ ہو اور جب تک وہ فنونِ جنگ سے آشنا نہ ہوں وہ ایسے زمانہ میں کس طرح کام آ سکتے ہیں۔ حکومت ہمارے پاس نہیں کہ اس کے زور سے ہم اپنی جماعت کے افراد کو ابھی سے یہ ٹریننگ دے سکیں۔ صرف یہی طریق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فوجی ٹریننگ حاصل کرنے کا جو ذریعہ ہماری جماعت کے لئے نکالا ہے۔ اس سے ہماری جماعت کے دوست زیادہ سےفائدہ اٹھائیں۔ فوج میں داخل ہونے سے صرف ایک چیز کا خوف ہو سکتا ہے اور وہ موت ہے مگر جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے۔ موت ایک ایسی چیز ہے جو گھر پر بھی آ جاتی ہے اور ایسے ایسے طریق پر آتی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ایک شخص رات کو اچھا بھلا سوتا ہے مگر اچانک پچھلی رات اسے ہیضہ ہوتا ہے اور وہ صبح ہونے سے پہلے پہلے فوت ہو جاتا ہے یا چھت گرتا ہے اور وہ اس کے نیچے دَب کر ہلاک ہو جاتا ہے یا پاؤں پھسل جاتا ہے اَور اس کی ہڈی پسلی ٹوٹ جاتی ہے اور ایسے بیسیوں واقعات روزانہ ہوتے رہتے ہیں۔ پس موت سے ڈرنا جہالت کی بات ہے۔ مَیں تو سمجھتا ہوں ہماری جماعت چونکہ فوجی فنون سےنا آشنا ہے۔ اس لئے اسے سب سے زیادہ فوجی کاموں میں حصہ لینا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس کے اندر جرأت اور دلیری پیدا ہو۔ ہمارے ملک میں سکھ بہت تھوڑے ہیں مگر عام طور پر لوگ ان سے ڈرتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ زیادہ تر فوج میں ملازم ہیں اور فوجی کاموں کی وجہ سے وہ نڈر ہو جاتے ہیں تو فوجی خدمت قوم کو بہادر بناتی اور اس کے افراد کے اندر جرأت اور بہادری پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح انتظام کی پابندی کی عادت بھی فوج میں داخل ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ مشہور ہے کہ کوئی فوجی کسی جگہ چوری کے لئے گیا جس گھر میں وہ چوری کرنے کے لئے داخل ہؤا وہ آدمی ہوشیار تھا۔ اس نے سمجھ لیا کہ کوئی فوجی چوری کرنے کے لئے آیا ہے۔ وہ خاموشی سے اسےدیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد یکدم اسے کہنے لگا۔ اٹن شن۔ اسے چونکہ پریڈ میں اٹنشن کے لفظ پر ساکت کھڑا ہونے کی عادت تھی اس لئے یہ سنتے ہی وہ فوراً سیدھا کھڑا ہو گیا اَور گھر والے نے اسے پکڑ لیا۔ یہ تو خیر لطیفہ ہے اصل سبق اس میں یہ دیا گیا ہے کہ فوجی زندگی نظام کی پابندی کا سخت عادی کر دیتی ہے۔ نوجوانوں میں عام طور پر آوارگی ہوتی ہے اگر وہ فوج میں چلے جائیں تو ان کی آوارگی بالکل دور ہو سکتی ہے۔ اسی طرح افسر کی بات نہ ماننے کی عادت بھی بعض نوجوانوں میں ہوتی ہے اَور اس نقص کا ازالہ بھی فوج میں ہو جاتا ہے۔
    ابھی پچھلے دنوں خدام الاحمدیہ کا ایک جلسہ ہؤا جس میں ایک شخص باتیں کرنے لگ گیا یا افسر نے خیال کیا کہ وہ بول رہا ہے۔ بہرحال خدام الاحمدیہ کے افسر نے اسے کہا کہ وہ کھڑ ا ہو جائے مگر اس نے کھڑا ہونے سے انکار کر دیا پھر وہ اسے میرے پاس لائے اور مَیں نے بھی اسے کہا کہ وہ سزا کو قبول کر لے مگر یہی کہتا رہا کہ میرا قصور کیا ہے؟ حالانکہ قصور ہو یا نہ ہو جب ایک افسر نے سزا دی ہے تو چاہے وہ غلط ہی ہو اطاعت کا تقاضا یہی ہے کہ اس سزا کو قبول کیا جائے۔ انگریزی فوج کے متعلق کسی نے یہ لطیفہ لکھا ہے کہ کوئی افسر پریڈ کرارہا تھا۔ اور اس کی اپنے کسی ماتحت سپاہی سے عداوت تھی۔ پریڈ کراتے کراتے اس نے کہا کہ سپاہی نمبر فلاں تمہارا قدم ٹھیک نہیں پڑتا مَیں تمہیں کواٹر گارڈ میں بھیجتا ہوں۔ سپاہی نے کہا میرا قدم بالکل ٹھیک ہے۔ اس پر افسر کہنے لگا دیکھو سپاہی نمبر فلاں تمہاری بات بالکل ٹھیک ہے مگر چونکہ تم نے اپنے افسر کی بات کا جواب دیا ہے اس لئے پہلے جرم کی سزا میں نہیں بلکہ اس جرم کی سزا میں مَیں تمہیں قید خانے میں بھیجتا ہوں۔ اب بظاہریہ ایک ہنسی کی بات ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا نظام بھی ایک دائرہ میں ضروری ہوتا ہے۔ اگر بحث کا دروازہ کھول دیا جائے اور ہر شخص کہے کہ جب تک فلاں بات مجھے سمجھا نہ دی جائے مَیں کوئی کام نہیں کر سکتا تو کیا ایسی صورت میں کوئی بھی کام ہو سکتا ہے۔ بےشک سمجھ کا بھی ایک وقت ہوتا ہے مگر اس کے بعد سمجھ کا نہیں بلکہ اطاعت کا سوال ہوتا ہے اور انسان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ بِلا چون و چرا ہر حکم کی تعمیل کرے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم دیکھیں خدا ہے یا نہیں۔ پھر اگر ثابت ہو جائے کہ خدا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم غور کریں آیا کوئی رسول ہو سکتا ہے یا نہیں۔ پھر اگر یہ بات بھی ہماری سمجھ میں آ جائے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول ہو سکتا ہے تو ہمارا حق ہے کہ ہم مطالبہ کریں کہ جو شخص اس وقت رسالت کادعویٰ کرتا ہے وہ اپنے دعویٰ میں سچا ہے یا نہیں مگر جب ہم اس کو خدا تعالیٰ کا رسول تسلیم کر لیں اور مان لیں کہ اسے خدا نے ہی دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے۔ تو پھر ہمارا یہ حق نہیں رہتا کہ ہم یہ کہیں کہ ہم نماز میں سینہ پر ہاتھ کیوں باندھیں اور رکوع میں کیوں جائیں اور سجدہ کیوں کریں۔ اگر ہم ایسا کہیں تو یہ حماقت ہو گی کیونکہ جہاں تک ہم عقل سے کام لے سکتے تھے ہم نے عقل سے کام لے لیا۔ اب ہمارا کام یہی ہے کہ ہم مانیں اور عمل کریں۔ اسی طرح احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے ہر شخص کو اجازت ہے کہ وہ کہے مَیں نہیں مانتا خدا کو، مَیں نہیں مانتا رسالت کو، مَیں نہیں مانتا محمد ﷺ کو، مَیں نہیں مانتا مرزا غلام احمد صاحب کی صداقت کو۔ لیکن اگر کوئی شخص مان لیتا ہے خدا کو، مان لیتا ہے رسول کریم ﷺ کو، مان لیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو، تو پھر اُسے حق نہیں رہتا کہ ان کے حکموں پر عمل کرنے سے پہلے ان کے سمجھ لینے پر اصرار کرے۔ بےشک ساتھ کے ساتھ سمجھنے کی بھی کوشش کرے مگر عمل حکم کے ساتھ ہی شروع کرنا ہو گا۔ البتہ وہ شخص کہہ سکتا ہے کہ مَیں مرزا غلام احمد صاحب کو تو مانتا ہوں مگر خلافت کو نہیں مانتا۔ جیسے پیغامی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو مانتے ہیں مگر خلافت کو نہیں مانتے ۔ لیکن اگر وہ کسی وقت خلافت کو بھی تسلیم کر لیتاہے تو پھر اس کا یہ حق بھی منسوخ ہو جائے گا اور اب اس کا یہی کام رہ جائے گا کہ وہ خلافت کے احکام کو مانے، نہ یہ کہ اس کے حکموں پر اعتراض کرے اور کہے کہ جب تک میری سمجھ میں کوئی بات نہیں آئے گی، مَیں عمل نہیں کروں گا۔ پس عقل ہمیشہ ایک حد تک چلتی ہے اگر ہمیشہ کے لئے عقل کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو کام بالکل بند ہو جائیں۔ مَیں ایک دفعہ دھرمسالہ سے آ رہا تھا۔ ان دنوں انفلوئنزا کے حملہ کی وجہ سے میرا دل بار بار کمزور ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب میرے ساتھ تھے۔ اتفاقاً راہ میں بھی تکلیف ہو گئی۔ وہیں قریب ہی بڑا ہسپتال تھا۔ ضلع کے سول سرجن اس وقت ایک مسلمان تھے۔ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ہسپتال میں کوئی دوائی لینے کے لئے گئے تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آئے اور کہنے لگے۔ سول سرجن صاحب کہتے ہیں آپ کی بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ تھوڑی دیر کے لئے یہاں تشریف لے آئیں چنانچہ مَیں ان کے پاس گیا۔ وہ بڑی محبت سے پیش آئے اور کہنے لگے مجھے آپ کی ملاقات کا عرصہ سے اشتیاق تھا۔ اب جو پتہ لگا کہ آپ آئے ہوئے ہیں تو مَیں نے مناسب سمجھا کہ آپ کی ملاقات کر لوں۔ پھر کہنے لگے مَیں نے ڈاکٹر صاحب کو آپ کے لئے نسخہ بتا دیا ہے اور اس میں صرف تین چیزیں پڑتی ہیں۔ نکس وامیکا، سوڈا بائیکارب اور ایک اَور دوا بتائی جو اس وقت مجھے یاد نہیں رہی۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگے یہ نسخہ جو ہے اس کے متعلق میرا بیس سالہ تجربہ یہ ہے کہ نکس وامیکا اگر اتنے ہی قطرے ڈالیں جتنے مَیں نے لکھے ہیں ، اسی طرح سوڈا بائیکارب اتنے گرین ہی ڈالیں جتنے مَیں نے لکھے ہیں، اسی طرح تیسری دوائی بھی جس مقدار میں مَیں نے لکھی ہے اسی مقدار میں ملائی جائے تب تو یقینی فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر ذرا بھی ان میں کمی بیشی کر دی جائے تو فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کیوں! تو مَیں اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا مگر میرا بیس سالہ تجربہ یہی ہے کہ اس نسخہ میں تبدیلی کرنے سے فائدہ نہیں ہوتا۔ فائدہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب دوائیں مقررہ اوزان میں ڈالی جائیں۔
    تو بیسیوں چیزیں دنیا میں ایسی ہوتی ہیں جن کی بنیاد تجربہ پر ہوتی ہے اور بیسیوں چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی بنیاد عقل پر ہوتی ہے۔مگر عقل میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص کی بات مانی جائے تو دنیا میں کبھی کوئی کام ہو ہی نہ سکے۔ فرض کرو لڑائی ہو رہی ہو اور دشمن شمال سے بھی حملہ کر رہا ہو، جنوب سے بھی حملہ کر رہا ہو، مشرق سے بھی حملہ کر رہا ہو اور مغرب سے بھی حملہ کر رہا ہو۔ ایسی حالت میں افسر سمجھتا ہے کہ اگر جنوب کے حملے کو روک دیا جائے تو سب حملے رک جائیں گے مگر ایک ماتحت یہ کہتا ہے کہ اگر شمال کے حملے کو روکا جائے تب فائدہ ہو گا اَور ایک سپاہی بولتا ہے اور کہتا ہے پہلے مشرق کے حملے کا دفاع کرنا چاہئے اور کچھ کہہ اٹھتے ہیں کہ مغرب کی طرف پہلے بڑھنا چاہئے۔ اب اگر یہی قانون ہو کہ جو بات کسی کے ذہن میں آئے اس پر عمل کر لے تو کچھ سپاہی مشرق کو چلے جائیں گے، کچھ مغرب کو ،کچھ شمال کو اور کچھ جنوب کو اور سب کو دشمن ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ پس وہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ زید یا بکر کی عقل میں کیا آتا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ جو افسر کہتا ہے اس پر عمل کیا جائے۔ پھر اس بات کی کون ذمہ داری لے سکتا ہے کہ جو بات وہ کہتا ہے وہ تو درست ہے مگر جو رائے اس کے افسر کی ہے وہ غلط ہے۔ تو نظام لوگوں سے خیالات کی قربانی کا سب سے زیادہ مطالبہ کیا کرتا ہے۔ پیغامی اس کا نام پیر پرستی رکھتے ہیں حالانکہ یہ پیر پرستی نہیں۔ ہم تو کہتے ہیں جن باتوں کے کرنے کا تمہیں خدا نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرو۔ پھر ہم کہتے ہیں جن باتوں کے کرنے کا تمہیں رسول کریم ﷺ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرو۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام نے تمہیں جو احکام دئے ہیں ان کو مانو اور پھر جو باتیں رہ جائیں ان میں خلیفہ اور جماعت کے دوسرے افسروں کی اطاعت کرو۔ پس یہ پیر پرستی کیسے ہو گئی۔ پیر پرستی تو تب ہوتی جب ہم کہتے کہ تم خدا کی نہ مانو، رسول کی نہ مانو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نہ مانو، صرف ہماری مانو۔ اگر ایسی بات ہوتی تو بے شک یہ پیر پرستی ہوتی۔ مگر ہم تو کہتے ہیں تم خدا کی مانو، خدا کے رسول کی مانو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مانو اور پھر جو باتیں رہ جائیں۔ ان میں ہمارے احکام مانو اور جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے اس کے بغیر دنیا میں کبھی کوئی نظام چل ہی نہیں سکتا۔ گھر میں میاں بیوی میں بھی بعض دفعہ اختلاف ہو جاتا ہے اور میاں کی کچھ مرضی ہوتی ہے اور بیوی کی کچھ۔ مگر پھر بھی ایک اصول کے ماتحت ان تمام اختلافات کو طے کیا جاتا ہے یعنی گھر کے اندرونی معاملات میں ماں کی بات مانی جاتی ہے اور بیرونی معاملات میں باپ کی بات مانی جاتی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو ہر گھر میں روزانہ سر پٹھول ہوتی رہے۔ باپ کہے کدو پکانا ہے، ماں کہے شلغم پکانا ہے، بہن کہے دال پکانی ہے اور بھائی کہے کہ بینگن پکانا ہے۔ اب سارے بیٹھے آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ مَیں کدو کھاؤں گا، دوسرا کہتا ہے کہ مَیں شلغم کھاؤں گا، تیسرا کہتا ہے کہ مَیں دال کھاؤں گا اور چوتھا کہتا ہے کہ مَیں بینگن کھاؤں گا۔ یا یہ صورت ہو گی کہ ہر ایک نے الگ الگ ہنڈیا چڑھائی ہوئی ہو گی۔ ایک نے کدو چڑھایا ہؤا ہو گا۔ ایک نے شلغم چڑھائے ہوئے ہوں گے۔ ایک نے دال چڑھائی ہوئی ہو گی۔ ایک نے بینگن چڑھائے ہو ئے ہوں گے ۔ اس طرح گھی الگ ضائع ہو رہا ہو گا۔ ایندھن الگ جل رہا ہو گا اور محنت الگ خرچ ہو رہی ہو گی ۔ تو یہ بھلا عقل کی بات ہے کہ جس کے جی میں جو بات آئے وہ اُسے منوانا شروع کر دے۔ اگر اس بات کی اجازت دی جائے تو لڑکے اور لڑکیاں روزانہ ماؤں کو دق کرنا شروع کر دیں۔ لڑکے کہیں کدو کیوں نہیں پکایا اور لڑکیاں کہیں بینگن کیوں نہیں پکایا۔ ماں صرف ایک ہی بات جانتی ہے کہ جو میرے جی میں آئے گا، پکاؤں گی۔ جب مَیں مَر جاؤں گی تو بے شک اپنی مرضی کے مطابق پکا لینا۔ اگر روزانہ بحثیں ہوتی رہیں تو وہ کبھی ختم ہی نہ ہوں۔
    تو ایسے معاملات میں نظام کی پابندی کی عادت ہی قوم کو زندہ رکھتی ہے اور نظام کی پابندی کی عادت بہت حد تک فوج میں پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے یہ جنگ اس قسم کی ہے کہ اسلام اور احمدیت پر اس کا بڑا بھاری اثر پڑنے والا ہے۔ اس لئے اسلام اور احمدیت پر اس جنگ کا جو بھی اثر ہو۔ اس کو مٹانے کا ذریعہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ زیادہ سے زیادہ فوج میں داخل ہوں تاکہ ان بد اثرات کو مٹا سکیں اور اگر اُن بد اثرات کو نہ مٹا سکیں۔ تو کم سے کم وقت پر اپنی جماعت کی حفاظت تو کر سکیں۔ اگر آج وہ فوجی فنون نہیں سیکھیں گے تو کل وہ ان برکات کو بھی حاصل نہیں کر سکیں گے جو فاتح قوموں کے لئے مقدر ہوتی ہیں۔ مَیں اس امر کی طرف خصوصیت سے زمیندار دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ شروع شروع میں زمینداروں نے جماعتی کاموں میں اچھا حصہ لیا تھا مگر اب سالہا سال سے شہریوں نے جماعت کا کثیر بوجھ اٹھایا ہؤا ہے۔ پس اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے ایک ترقی کا راستہ کھولا ہے۔ زمیندار دوستوں کو خصوصاً اس ذریعہ سے اپنے ثواب کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایسے موقع پر جی چرانا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے کاموجب بن جاتا ہے اَور جس جان کو بچانے کی انسان کوشش کرتا ہے وہ کسی اَور طرح ضائع ہو جاتی ہے۔ اب اس وقت دو ہی ذریعے ہیں کہ یا تو ہمارے آدمی جائیں اور دشمن کو سرحد پر ہی روک لیں یا دشمن ہمارے گھروں پر آ جائے اور وہ یہاں سب کو مار ڈالے۔ ان دونوں میں سے کونسا طریق بہتر ہے ۔یہ بہتر ہے کہ ہمارے آدمی سرحد پر جائیں اور ان میں سے کچھ مارے جائیں اور باقی دشمن کے حملہ کو روک دیں یا یہ بہتر ہے کہ وہ ہندوستان میں آ جائے اور یہاں کے لوگوں کو آ کر ہلاک کرنا شروع کر دے۔
    حضرت خلیفۂ اول کا یہ واقعہ نہایت ہی دردناک اور عبرت آموز ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب روس اور ترکی کی لڑائی ہوئی تو میرے دل میں مسلمانوں کی خدمت کا جوش پیدا ہؤا۔ ہم اس وقت پانچ بھائی تھے اور پانچوں نوجوان تھے۔ مَیں نے اپنی والدہ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بیٹے دئیے ہیں۔ آپ اپنا ایک بیٹا اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں اور مجھے اجازت دیں کہ مَیں ترکوں کے علاقہ میں جا کر فوج میں بھرتی ہو جاؤں اور روسیوں سے لڑوں۔ فرمایا کرتے تھے کہ میری والدہ نے اس بات کے جواب میں ایک بڑی آہ بھری اور کہا پانچ بیٹے ہوں یا سات کیا کوئی ماں اپنے ہاتھ سے بھی اپنا بچہ قربان کرنے کے لئے تیار ہو سکتی ہے؟ مَیں نے کہا۔ امّاں! اللہ میاں کا حکم ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کرو۔ اس لئے مَیں جاتا تو نہیں مگر مجھے ڈر ہے کہ آپ کے اس فعل کے نتیجہ میں آپ کے بیٹے آپ کی آنکھوں کے سامنے وفات پا جائیں گے۔ چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے ابھی ہماری ماں زندہ ہی تھیں کہ میرے چاروں نوجوان بھائی وفات پا گئے۔ جب میرا چوتھا بھائی فوت ہؤا تو مَیں اپنی ماں کے پاس گیا۔ مَیں نے دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔ مجھے دیکھ کر وہ بے قراری کے ساتھ مجھ سے چمٹ گئیں اور کہنے لگیں وہ ماں کیوں نہ روئے جس کے چار نوجوان بیٹے اس کی آنکھوں کے سامنے وفات پا گئے۔ مَیں نے کہا ماں !آپ نے اب بھی بے صبری سے کام لیا ہے۔ اس لئے مَیں ڈرتا ہوں کہ جب آپ مریں گی تو اُس وقت مَیں بھی موجود نہیں ہوں گا۔ چنانچہ ہم جموں میں تھے کہ ہماری والدہ بعد میں بیمار ہو کر فوت ہو گئیں۔ تو موت اور حیات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے جو قومیں زندگی اور بیداری رکھتی ہیں وہ موت کو خوشی سے قبول کرتی ہیں اور جو قومیں موت سے ڈرتی ہیں اور اپنے بچوں کی جانوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے بچے دوسرے ذرائع سے ان کے سامنے مار ڈالتا ہے ۔ پس مَیں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں خصوصاً ان اضلاع کی جماعتوں کو جن کا ناظر صاحب امور عامہ دورہ کر رہے ہیں کہ وہ ہمت اور کوشش کر کے نوجوانوں کو بھرتی کرائیں اور انہیں اس دن کے لئے تیار کریں جس دن احمدیت ان سے قربانی کا مطالبہ کرے گی۔ اگر آج وہ تیار نہیں ہوں گے تو وہ وقت پر کچّے دھاگے ثابت ہوں گے اور اسلام اور احمدیت کے لئے قربانی نہیں کر سکیں گے۔
    بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اگر فوج میں بھرتی ہوئے تو جرمنوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ فوج میں بھرتی نہ ہوئے تو کیا جرمن اسی جگہ نہیں آ جائیں گے۔ اس صورت میں تو وہ اسی جگہ جرمنوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے اور یہ ایک ذلت کی موت ہو گی جس سے انہیں بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پھر مَیں کہتا ہوں مومن تو وہ ہوتا ہے جو سوائے خدا کے کسی سے ڈرتا ہی نہیں۔ آج وہ جرمن سے ڈر گئے ہیں، کل جاپان سے ڈر جائیں گے، پرسوں کسی اَور قوم سے خوف کھاتے پھریں گے۔ پھر وہ فتح کس پر حاصل کریں گے حالانکہ مومن تو وہ ہوتا ہے جو کسی کی پرواہ ہی نہیں کرتا اور وہ سمجھتا ہے کہ میرے مقابلہ میں کوئی دشمن نہیں ٹھہر سکتا۔ جس مومن کے دل میں یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے وہ مقابلہ کے وقت سب پر بھاری ہوتا ہے۔
    ہم نے ایک دفعہ بچپن میں دیکھا کہ ایک جگہ کچھ احمدی مزدور کام کر رہے تھے کہ دس پندرہ سکھ ہاتھوں میں ڈنڈے اَور لاٹھیاں لئے ہوئے ان پر حملہ کرنے کے لئے آ گئے ۔ ایک مخلص احمدی اکیلا ہی ان سکھوں کے پیچھے دوڑ پڑا۔ بعض نے کہا بھی کہ آپ اکیلے ہیں نہ جائیں مگر اس نے کہا کہ کوئی پرواہ نہیں اور اس ایک احمدی کے مقابلہ میں وہ دس پندرہ سکھ اس طرح بھاگ کھڑے ہوئے کہ ہم چھوٹے چھوٹے بچے بے اختیار ہنسنے لگ گئے۔ اسی طرح یہاں ایک دفعہ ایک زمین کا معاملہ تھا وہ قانوناً ہماری تھی مگر بعض سکھ کہہ رہے تھے کہ ہماری ہے۔ میرا مختار میرے پاس آیا اور اس نے مجھے حالات سے اطلاع دی۔ مَیں نے اسے کہا کہ بعض آدمی اپنے ساتھ لے جاؤ اور زمین میں ہل چلا دو۔ اگر وہ مقدمہ کرنا چاہتے ہیں تو بے شک مقدمہ کر دیں۔ جو آدمی مَیں نے بھجوائے تھے ان سے اقرار لے لیا گیا تھا کہ وہ وہاں لڑائی نہیں کریں گے مگر خدا تعالیٰ کی قدرت سے جب وہ چلے گئے تو بعد میں کسی نے مشہور کر دیا کہ وہاں احمدی گئے ہیں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ اس کے نتیجہ میں بغیر میری اطلاع کے سو دو سو احمدی وہاں پہنچ گئے۔ ادھر سے سکھ وغیرہ بھی اکٹھے ہو گئے۔ جو لوگ میری طرف سے مقرر تھے۔ انہوں نے ہماری جماعت کے دوستوں کو روک دیا کہ تم اس میں کچھ دخل نہ دو مگر جب ان میں سے ایک ہل چلانے لگا تو سکھوں میں سے کسی نے چاقو کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا بچانے کے لئے نو آمدہ لوگوں میں سے ایک دو شخص آگے بڑھے ان میں سے ایک نے اس سکھ سے چاقو چھیننے کی کوشش کی۔ سکھوں نے اسے مارا ۔ یہ دیکھ کر ایک دو لڑکوں نے جو اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے ان کا سامنا کیا۔ مگر باوجود اس کے کہ سکھ تیس چالیس کے قریب تھے اور حملہ کرنے والے صرف دو تین سکول کے لڑکے تھے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ بھاگ نکلے۔ مولوی سید سرور شاہ صاحب سناتے ہیں کہ جب مَیں نے یہ سنا کہ سکول کے لڑکے بھی اس طرف چلے گئے ہیں تو مَیں ڈرا کہ کہیں لڑکے کسی لڑائی میں ملوث نہ ہو جائیں۔ چنانچہ مَیں اس طرف جا رہا تھا کہ آگے سے ایک سکھ جو چھ ساڑھے چھ فٹ لمبا تھا۔ بے تحاشا دوڑتا ہؤا آیا اور میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا مَیں لڑائی میں شامل نہیں تھا۔ خدا کے لئے مجھے بچائیے۔ وہ کہتے ہیں مَیں حیران ہؤا کہ اسے کس سے بچاؤں آخر پیچھے جو دیکھا تو بارہ تیرہ برس کا ایک لڑکا درخت کی ایک شاخ ہاتھ میں پکڑے اس کے پیچھے پیچھے دوڑا آ رہا تھا اور وہ سکھ یہ شور مچاتا جا رہا تھا کہ مولوی صاحب مجھے بچا لیں۔
    تو مومن کے جوش کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی اور میرے نزدیک تو وہ مومن ہی نہیں ہو سکتا جو یہ سمجھے کہ جاپانی یا جرمن زیادہ بہادر ہیں۔ مَیں تو ایک منٹ کے لئے بھی ایسے شخص کو احمدی نہیں سمجھ سکتا جو کسی جرمن یا جاپانی کو اپنے سے زیادہ بہادر سمجھتا ہو۔ مومن کے تو معنے ہی یہی ہیں کہ وہ ہر غیر مومن سے اپنے آپ کو زیادہ بہادر سمجھے۔ قرآن کریم نے سچے مومن کی شناخت کا معیار یہی بیان فرمایا ہے کہ ایک ایک مومن دس دس دشمنوں پر بھاری ہوتا ہے۔2 قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ ایک ایک مومن دس دس پر بھاری ہوتا ہے۔بشرطیکہ وہ جرمن یا جاپانی نہ ہوں بلکہ جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ہر سچا مومن دس پر بھاری ہوتا ہے تو اس میں جرمن بھی شامل تھے اور جاپانی بھی شامل تھے۔ پس جب تک ہر احمدی اپنے آپ کو دس دس غیر احمدی جاپانیوں اور دس دس غیر احمدی جرمنوں سے زیادہ بہادر، زیادہ دلیر اور زیادہ جری نہ سمجھے اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک سچا مومن نہیں قرار پا سکتا بلکہ تورات میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر تم سچے دل سے ایمان لاؤ تو تمہارے بیس آدمی دشمن کے دو ہزار آدمیوں پر غالب آجائیں گے اور صحابہؓ نے اپنے عمل سے ایسا ہی کر کے دکھایا ہے۔ ایک دفعہ ساٹھ صحابہؓ نے کفار کے ساٹھ ہزار لشکر پر حملہ کیا۔ اور اس کے بڑے بڑے افسروں کو مار دیا۔ تو ایمان کے معنے یہی ہیں کہ تمہارے دلوں میں ایسی قوت اور بہادری ہو کہ تم کسی سے بھی نہ ڈرو۔ مَیں تو جب اپنی جماعت کے بعض دوستوں سے سنتا ہوں کہ جرمن بڑے بہادر ہیں یا جاپانی بڑے دلیر ہیں۔ تو مَیں سمجھتا ہوں اب ضرور جرمنوں اور جاپانیوں کا مقابلہ کرنا چاہئے کیونکہ اب ان کا مقابلہ کرنا ایک لحاظ سے دین کا حصہ ہے۔ میرے نزدیک ایسے احمدی ایمان میں بڑے کمزور اور کچے ہیں۔ ان کی تو یہ ہمت ہونی چاہئے کہ اگر ساری دنیا سے بھی جنگ ہو جائے تو وہی غالب آئیں گے کُجا یہ کہ جرمنوں اور جاپانیوں سے ڈرتے پھریں۔ ہمیں خدا نے اس حکومت سے جنگ کرنے سے منع کیا ہؤا ہے جس کے ماتحت ہم رہتے ہوں لیکن اگر خدا کا حکم ہوتا تو کیا تم سمجھتے ہو ہم انگریزوں سے جنگ نہ کرتے؟ مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اگر خدا کا حکم ہوتا تو ہم میں سے ہر شخص اسی طرح حملہ کرتا جس طرح چیل چڑیا پر حملہ کرتی ہے اور اس یقین کے ساتھ حملہ کرتا کہ ہم غالب آئیں گے اور یہ مغلوب ہوں گے۔ تو ہمارا امن سے رہنا خدائی حکم کے ماتحت ہے ورنہ موت سے مومن نہیں ڈرا کرتا۔
    پس مَیں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے جو لوگ بھرتی کے قابل ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھرتی کے لئے پیش کریں۔ ہر شخص بھرتی کے قابل نہیں ہوتا۔ گورنمنٹ نے اس کے لئے صحت کا ایک معیار مقرر کیا ہؤا ہے جو دوست اس معیار پر پورے اترتے ہوں انہیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں بھرتی ہونا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان فنون جنگ سے آشنا ہو سکیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ کب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ آواز آنے والی ہے کہ اپنا سب کچھ قربان کر کے خد اتعالیٰ کے دین کے لئے نکل کھڑے ہوں اور یہ کام آسان نہیں بلکہ لڑائی سے بہت زیادہ مشکل ہے۔ لڑائی میں توپیں اور تلواریں ساتھ جاتی ہیں مگر اس لڑائی میں نہ توپ ساتھ ہوتی ہے، نہ تلوار ساتھ ہوتی ہے۔ پس کون کہہ سکتا ہے کہ ہمارے ایمان کی آزمائش کا موقع کب آنے والا ہے۔ یہ آزمائشیں جو اس وقت ہو رہی ہیں یہ تو بالکل ابتدائی ہیں اور ایسی ہی ہیں جیسے معمار اپنی ہتھوڑی سے اینٹ کے کنارے صاف کرتا ہے۔ اینٹ کے کنارے صاف کرنا اس کا اصل کام نہیں ہوتا بلکہ اصل کام وہ ہوتا ہے جب اینٹ دیوار میں لگ جاتی ہے۔ اسی طرح ابھی تو ہمارے کنارے صاف کئے جا رہے ہیں۔ پھر وہ وقت آ ئے گا جب ان اینٹوں کو دیوار میں لگا دیا جائے گا اور سار ابوجھ ان اینٹوں پر آ پڑے گا۔ اسی طرح جماعت کے جو کارکن ہیں ان کو بھی مَیں توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں ایسے دوست اپنے نام مجھے یا دفتر امور عامہ میں لکھ کر بھجوا دیں۔ جو اپنے اپنے علاقوں میں اس غرض کے لئے دورہ کرنے اور نوجوانوں کو بھرتی پر آمادہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ہمارے خاندان میں سے ایک بچہ، فوج میں گیا ہؤا ہے۔ باقی بچے اس قابل نہیں۔ کسی کی آنکھیں کمزور ہیں اور کسی کی عمر نہیں۔ ہمارے ایک اَور بچے نے تین دفعہ بھرتی ہونے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اس نے اس غرض کے لئے اپنی پڑھائی بھی چھوڑ دی تھی مگر کامیابی نہ ہوئی تو ہمارے خاندان نے اپنا نمونہ پیش کر دیا ہے۔ یہ نہیں کہ ہم نے اپنے بچے چھپا کر رکھے ہوئے ہوں۔ ایک بچہ فوج میں گیا ہؤا ہے اور دوسرے نے پوری کوشش کی مگر اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ غرض اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر یقین رکھتے ہوئے آئندہ سلسلہ کی خدمات کے لئے تیار کرنے اور اس وقت جنگی خدمات میں حصہ لینے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو بھرتی کے لئے پیش کریں۔ اسی طرح مجھے یا ناظر صاحب امور عامہ کو وہ دوست اپنے اپنے نام بھجوا دیں جو اپنے علاقوں میں اس غرض کے لئے دورہ کرنے کو تیار ہوں۔ ایسے دوستوں کو چاہئے کہ وہ گاؤں گاؤں میں پھر کر نوجوانوں کو تلقین کریں اور ان میں سے جو قابل ہوں انہیں فوج میں بھرتی کرائیں۔
    مَیں نے جیسا کہ کہا ہے ایک دفعہ پھر اس امر کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ موت کا ڈر کسی زندہ قوم کے افراد کے دل میں نہیں ہو سکتا اگر خدانخواستہ تمہارے دلوں میں موت کا ڈر ہے یا جاپانیوں کا ڈر ہے یا جرمنوں کا ڈر ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے دل کا اتنا حصہ ایمان سے خالی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے اِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ 3 کہ مجھ سے ہی ڈرو۔ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے تین دفعہ اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف خدا سے ہی ڈرنا چاہئے کسی اَور سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ چنانچہ اِيَّايَ سے پہلے فعل محذوف ہے۔ جو اِرْھَبُوْا ہے یعنی اِرْھَبُوْا اِیَّایَ۔ اس کے بعد ایک اَور امر محذوف ہے جس پر نا کا حرف دلالت کرتا ہے اور وہ فعل بھی اِرْھَبُوْا یا تَرْھَبُوْا ہے۔ تیسری بار فَارْهَبُوْنِ کہہ کر پھر تاکید کی گئی ہے۔ گویا اس فقرہ کو اگر پھیلایا جائے تو یوں بنے گا کہ اِرْھَبُوْا اِیَّایَ۔اِرْھَبُوْا فَارْهَبُوْنِ۔ یعنی مجھ سے ڈرو۔ ڈرو مجھ سے ہی ڈرو۔ یعنی سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ یہی مومن کی علامت ہے۔ جو شخص خدا تعالیٰ کے سوا کسی اَور سے نہیں ڈرتا اُس کو کوئی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔ اسی طرح جب کسی قوم کے دل سے ڈر نکل جائے تو وہ قوم یا تو مر جائے گی یا فاتح ہو کر زندگی بسر کرے گی غلام کی زندگی نہیں بسر کر سکے گی۔ پس اپنے دلوں سے موت کا ڈر نکال دو اور سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرو۔ پھر دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی تم کو مغلوب نہیں کر سکے گی ہاں اگر تم سچے احمدی نہیں تو تم کتّوں سے بھی ڈر سکتے ہو، بلیوں سے بھی ڈر سکتے ہو، چوہوں سے بھی ڈر سکتے ہو اور پھر اگر تمہارا ناقص ایمان ہے تو تمہیں سب سے زیادہ اپنے نفس سے ڈرنا چاہئے کیونکہ تمہارا نفس تمہیں جہنم میں لے جا سکتا ہے لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرنے لگ جاؤ تو پھر تمہیں نہ نفس سے ڈرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی اَور چیز سے۔ خدا تعالیٰ کا ڈر تمہاری حفاظت کے لئے کافی ہے ۔ اور یاد رکھو کہ جہاں دنیا سے ڈرنا بزدلی کی علامت ہے وہاں خدا تعالیٰ سے ڈرنا بزدلی نہیں بلکہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں وہ سب سے زیادہ بہادر اور دلیر ہوتے ہیں۔ ‘‘ (الفضل 9 جولائی 1942ء)
    1: کنگنی: ادنیٰ درجے کی جنس جس کے دانے نہایت باریک ہوتے ہیں
    2: اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ (الانفال: 66)
    3: البقرة: 41

    21
    جماعت احمدیہ موجودہ جنگ کو خدا تعالیٰ کی تقدیر کا ایک مظاہرہ سمجھے اور اس موقع کو غنیمت سمجھ کر
    فنونِ جنگ سیکھے
    ( فرمودہ 10 جولائی 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’دنیا میں دو قسم کے خیالات کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں جو اس دنیا میں بسنے والے انسانوں کو مجبور اور اپنے ماحول کے اثر سے معذور قرار دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کو ماننے والے جو لوگ ہیں۔ ان میں بھی یہ گروہ پایا جاتا ہے اورجو فلسفی ہیں اور خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے۔ ان میں بھی یہ گروہ پایا جاتا ہے۔ ان میں سے جو لوگ خدا تعالیٰ کو ماننے والے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ہر کام کو اپنے قبضہ میں رکھا ہے اور جو تقدیر اس نے مقرر کر دی ہے ۔ اس سے انسان سرِ مو اِدھر اُدھر نہیں ہو سکتا۔ اس نے اگر کسی انسان کو نیک بنا دیا ہے تو وہ نیک ہے اور اگر اس نے کسی کو بد بنا دیا ہے تو وہ بد ہے۔ اگر اس نے کسی کو عالم بنا دیا ہے تو اس کے عالم بنانے کی وجہ سے وہ عالم ہے اور اگر اس نے کسی کو جاہل بنا دیا ہے تو اس وجہ سے وہ جاہل ہے ۔جس کے لئے اس نے عالم ہونا مقدر کر دیا ہے وہ کسی صورت میں جاہل نہیں رہ سکتا اور جس کے لئے اس نے جاہل ہونا مقدر کر دیا ہے وہ کسی صورت میں عالم نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کے قائل نہیں وہ تقدیر کو اَور رنگ میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان آزاد نہیں۔ آزادی اس کا نام ہے کہ اس پر اردگرد کے حالات کا اثر نہ پڑے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم کہتے ہو ایک شخص عالم بن گیا اور دوسرا جاہل رہا مگر سوال تو یہ ہے کہ عالم کس طرح عالم بن گیا۔ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ اس کے ماں باپ امیر تھے۔ وہ اس کی تعلیم کا خرچ برداشت کر سکتے تھے۔ ا س لئے وہ پڑھ لکھ کر عالم ہو گیا مگر جاہل کے والدین غریب تھے اور اس کی تعلیم پر خرچ نہ کر سکتے تھے اس لئے وہ جاہل رہا ۔جو عالم ہو گیا علم کے حصول میں اس کے فعل کا دخل نہیں اور جو جاہل رہا اس کا جاہل رہنا اس کے اپنے فعل کے نتیجہ میں نہیں۔ عالم اس وجہ سے عالم ہو گیا کہ اس کے ماں باپ اس کی تعلیم پر خرچ کر سکتے تھے اور جاہل اس وجہ سے جاہل رہا کہ اس کے ماں باپ اس کی تعلیم پر خرچ نہ کر سکتے تھے۔
    دوسری مثال یہ ہو سکتی ہے کہ ایک امیر کا لڑکا جاہل رہا اور غریب کا عالم ہو گیا اس کا سبب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ بھی حالات کا نتیجہ ہے۔ امیر والدین نے اپنے بیٹے کو لاڈ اور پیار میں رکھا اور اس لاڈ کے نتیجہ میں وہ تعلیم نہ حاصل کر سکا۔ اس میں اس بچہ کا کوئی دخل نہیں۔ یہ بھی اس کے ماں باپ کے فعل کا اثر ہے اور جو غریب کا لڑکا عالم ہو گیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ اپنے کسی استاد یا کسی اَور امیر کی نظر پڑھ گیا یا گورنمنٹ سے اسے وظیفہ حاصل ہو گیا اور اس وجہ سے وہ پڑھ لکھ کر عالم ہو گیا۔ ان حالات نے اسے عالم بنا دیا۔ اس کا اپنا اس میں کوئی دخل نہیں یا مثلاً ایک لڑکے کا ذہن اچھا ہوتا ہے اور وہ پڑھ جاتا اور عالم بن جاتا ہے۔ دوسرا کُند ذہن ہوتا ہے اس لئے جاہل رہ جاتا ہے ۔ یہ بھی حالات کا ہی اثر ہے۔ اچھا ذہن بھی ماں باپ کی خوراک پرہیز وغیرہ کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ اس لئے اچھا ذہن رکھنے والا لڑکا اگر پڑھ گیا تو اپنے برتے پر نہیں بلکہ حالات کے نتیجہ میں۔ اسی طرح کُند ذہن کا جاہل رہنا بھی اردگرد کے حالات کے نتیجہ میں ہے۔ پس ایک کا علم اور دوسرے کی جہالت دونوں مجبوریوں کے نتیجہ میں ہیں۔
    پھر وہ کہتے ہیں نیکی، بدی کو لے لو۔ ایک شخص نیک ہے اور چوری نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہ کھاتا پیتا تھا، آسودہ حال تھا، اس کی ضروریات پوری ہوتی جاتی تھیں۔ اس لئے اسے چوری کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ اس کے حالات ہی ایسے تھے کہ اسے دوسرے کا مال کھانے کی ضرورت ہی نہ تھی لیکن دوسرا بھوکا ننگا اور محتاج تھااس نے کھانے کی کوئی چیز دیکھی اور اٹھا لی۔ اس کی یہ چوری مجبوری کی وجہ سے ہے اور اگر اسے چوری کی عادت ہو گئی ہے تو یہ بھی مجبوری کی وجہ سے ہے۔ اسے اپنے حالات نے بار بار چوری پر مجبور کیا اور اس طرح اسے عادت ہو گئی اور دوسرے کو اگر چوری کرنے کی عادت نہیں تو یہ بھی اس کے حالات کا نتیجہ ہے۔ حالات نے اسے کبھی چوری کرنے پر مجبور نہ کیا اور اس وجہ سے اسے چوری کی عادت نہ پڑ سکی اور یہ بھی مجبوری ہی ہے۔ اس کو مسلسل 25،30 سال تک کھانے پینے کو ملتا رہا۔ اس کی ضروریات پوری ہوتی رہیں اس لئے وہ چور نہ بنا اور اسے چوری کی عادت نہ پڑی اور اس نیکی میں اس کا کوئی دخل نہیں جن حالات میں وہ چور نہیں بنا۔ اگر چور بھی ان حالات میں سے گزرتا تو چور نہ بنتا۔ چور کو اپنے حالات کی وجہ سے بار بار چوری کرنی پڑی۔ اس لئے اسے چوری کی عادت ہو گئی جو پھر جاری رہی اور یہ مجبوری ہے اور ایسی مجبوریوں کا طریق اور طرز ایک ہی ہے۔ گو آگے چل کر پھر کچھ اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً چور نے زید کے ہاں چوری کی اور بکر کے ہاں نہ کی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میں بھی مجبوری کا دخل ہے۔ زید کی دیوار چھوٹی تھی اور آسانی سے پھاندی جا سکتی تھی اور بکر کی زیادہ اونچی تھی اور اس کا پھاندنا مشکل تھا یا اس رات زید کے گھر میں کوئی نہ تھا۔ سب کے سب کسی شادی یا اور تقریب میں شامل ہونے کے لئے کسی جگہ گئے ہوئے تھے اور بکر گھر پر تھا۔ اس لئے زید کے ہاں چوری ہونا اور بکر کے ہاں نہ ہونا یہ بھی حالات اور مجبوری کے ماتحت ہے۔ غرضیکہ خدا تعالیٰ کو ماننے والا ایک گروہ انسانی افعال کو تقدیر کے ماتحت مانتا ہے اور خدا تعالیٰ کو نہ ماننے والا انسانی مجبوریوں اور ماحول کی مجبوریوں کے ماتحت مانتا ہے۔ اسی طرح ایک اَور گروہ ہے جو کہتا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے آزاد اور مختار بنایا ہے۔ فلسفیوں میں بھی ایک ایسا گروہ ہے جو کہتا ہے کہ انسان مختار ہےاور خدا تعالیٰ کے ماننے والوں میں بھی ایسا گروہ ہے جو کہتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انسان کو سزا دیتا ہے، گرفت کرتا ہے تو معلوم ہؤااسے آزاد بنایا گیا ہے۔ فلسفی اس کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہر انسان میں دو خاصیتیں پائی جاتی ہیں بلکہ دنیا کی تمام چیزوں میں ان دونوں میں سے ایک خاصیت پائی جاتی ہے۔ ایک اثر ڈالنے کی دوسری اثر قبول کرنے کی۔ وہ کہتے ہیں کہ تم کہو گے لوہے پر اگر تلوار پڑے تو مڑ جاتی ہے مگر لکڑی یا ہڈی پر پڑے تو اسے کاٹ دیتی ہے۔ لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ لوہا مقابلہ کرتا ہے اور لکڑی و ہڈی مقابلہ نہیں کرتی۔ باوجود اس کے کہ انسان پر اس کے ماحول اور اردگرد کے حالات کا اثر پڑتا ہے اس کے اندر ایسا مادہ موجود ہے کہ اگر وہ ارادہ کر لے تو بیرونی اثرات کا مقابلہ کر سکتا ہے اور عادتوں کو چھوڑ سکتا ہے یا اختیار کر سکتا ہے۔ بہرحال جس حد تک انسان آزاد ہے اس حد تک وہ ویسا ہی نیکی میں بھی بڑھ سکتا ہے جیسا بدی میں اور یہ اس کے اختیار میں ہے کہ اس حد تک وہ نیکی یا بدی میں بڑھ جائے یا نہ بڑھے۔ دونوں قسم کے لوگ فلسفیوں میں بھی ہیں اور خدا پرستوں میں بھی۔ دنیا کے مذاہب بھی ان دونوں قسم کے خیالات کو بیان کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی جبری اور قدری دونوں قسم کے لوگ ہیں۔ جبریوں کا عقیدہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مجبور بنایا ہے اور قدری کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو مقدرت عطا کی ہے۔ چاہے تو نیکی کی طرف چلا جائے اور چاہے بدی کی طرف۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے موت و حیات بنائی ہے مگر موت سے بچنے اور حیات کو حاصل کرنے کے قواعد بھی بنا دئیے ہیں اگر وہ یہ قواعد نہ بناتا تو پھر علاج بھی پیدا نہ کرتا، غذا بھی نہ بناتا۔ اگر ایک انسان نے بہرحال سو پچاس یا بیس سال زندہ رہنا تھا تو خدا تعالیٰ نے غذا کیوں پیدا کی۔ غذا اور علاج پیدا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ صحت اور بیماری اور موت و حیات میں انسان کا دخل ہے۔ اگر موت ضروری تھی اور مقررہ وقت پر اس کا آنا لازمی تھا تو غذا کی کیا ضرورت تھی۔ غذا پیدا کرنا اور علاج وغیرہ بنانے کے یہ معنی ہیں کہ انسان اپنی صحت کو اچھا بھی بنا سکتا ہے اور خراب بھی کر سکتا ہے۔ موت کو قریب بھی لا سکتا ہے اور دور بھی کر سکتا ہے۔ تمام مذاہب میں کچھ لوگ جبری ہیں کچھ قدری۔ تناسخ کو ماننے والے سب جبری ہیں جو کہتے ہیں کہ گزشتہ جون میں جو کچھ ہو چکا وہ بدل نہیں سکتا۔
    اسلام کی تعلیم کو اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ نہ جبر کا قائل ہے اور نہ قدر کا۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو مجبور بنایا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انسان کو مجبوربنایا جاتا تو ہم اسے نیک بناتے۔ہم منبع ہیں تمام نیکیوں کے۔ پس اگر ہم نے جبر کرنا ہوتا تو یہ جبر اپنی صفت کے مطابق کرتے اور انسان کو نیک بناتے اور جو مخلوق جبر کے ماتحت بنائی ہے وہ نیکی پر ہی بنائی گئی ہے۔ فرشتے جبر کے ماتحت ہیں اور اس لئے ان میں بدی کرنے کی طاقت ہی نہیں اور وہ بدی کر ہی نہیں سکتے۔ فرشتوں کی زندگی جبر کی ہے اور وہ نیک ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے جو مخلوق جبر کے قانون کے ماتحت بنائی ہے وہ نیک ہی ہے۔ پس اسلام اس طرح جبر کو تسلیم نہیں کرتا مگر مقدرت کو بھی اس رنگ میں نہیں مانتا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مقدرت دے دی ہے۔ اب خدا تعالیٰ کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ جیسا نیچریوں کا عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو بنا دیا ہے اور اب وہ خالی ہو کر تماشہ دیکھ رہا ہے۔ اسلام یہ بتاتا ہے کہ ایک حد تک جبر بھی چلتا ہے اور ایک حد تک تقدیر بھی چلتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے ایک حد تک انسان کو آزاد بھی بنایا ہے، کھانا پینا، روشنی، نظارے، ہوا کے استعمال میں آزاد ہے۔ اس کے اختیار میں ہے کہ صاف پانی پئے اور اچھی ہوا میں رہے، روشنی میں رہے، عمدہ غذا کھائے اور اپنی صحت کو اچھا رکھے۔ مگر اس کے باوجود پھر تقدیر کا بھی دخل ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انسان اچھی غذا کھا لے تو اس کی صحت درست رہے گی مگر یہ نہیں کہ اگر وہ اچھی غذا کھائے تو بہرحال اس کی صحت درست ہی رہے گی یا اگر انسان کی صحت اس کی کسی غلطی کی وجہ سے خراب ہوئی ہے تو بہرحال خراب ہی رہے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ دخل دے اور جب اس کی صحت اچھی رہنی چاہئے وہ خراب ہو جائے یا جب انسان سے کوئی ایسی غلطی ہوگئی ہو کہ جس کے نتیجہ میں اس کی صحت خراب ہو جانی چاہئے خدا تعالیٰ دخل دے اور وہ خراب نہ ہو ۔اور جب اس کی صحت اچھی رہنی چاہئے وہ اچھی نہ ہو ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے دعا پر زور دیا ہے ۔اگر انسان کُلِّیّةً آزاد تھا تو پھر دعا کے کیا معنی ہیں۔ اگر کلّی طور پر اس کی صحت کا انحصار اچھی غذا پر ہے۔ اور اگر لازماً بد پرہیزی کے نتیجہ میں بیماری ہے تو دعا بے فائدہ ہے۔ پھر تو صرف علاج کا کام باقی رہ جاتا ہے، دعا کا نہیں۔ دعا کے معنی تو یہ ہیں کہ باوجود پورے طور پر بیماری کے سامانوں کے اللہ تعالیٰ چاہے تو صحت بھی دے سکتا ہے۔ اس کی ایک موٹی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش گوئی میں ملتی ہے۔ آپؑ کی پیشگوئی کے ماتحت طاعون پھیلی۔ اب عام قاعدہ تو یہی ہے کہ طاعون کے کیڑے جس کے پاس جائیں وہ بیمار ہو جائے۔ طاعون قادیان میں بھی آئی مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ آپ کے گھر میں طاعون نہ آ سکے گی ۔و ہ کیڑے آپؑ کے مکان کے دائیں بھی آئےبائیں بھی آئے اور موتیں پیدا کیں، سامنے بھی گئے اور موتیں پیدا کیں اور پچھواڑے بھی گئے اور وہاں بھی موتیں پیدا کیں۔ طاعون کے کیڑوں نے آپ کے مکان کے چاروں طرف چکر لگائے مگر کوئی کیڑا آپؑ کے مکان میں داخل نہ ہو سکا۔ اگر سب کچھ سامانوں کا ہی نتیجہ ہوتا تویہ کیا چیز تھی جس نے طاعون کے کسی کیڑے کو آپ کے گھر میں داخل نہ ہونے دیا۔ یہ نظارہ بتاتا ہے کہ گو اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی دی ہے مگر کبھی کبھی وہ دخل بھی دیتا ہے اور جب وہ دخل دے تو سارے سامان بے کار ہو جاتے ہیں چنانچہ اس نے فرمایا کہ ہم نے طاعون کے کیڑے کو بے کار کر دیا ہے اور وہ اب آپ کے گھر میں نہ جا سکے گا۔ یا لیکھرام کا واقعہ بھی اس امر کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ چاہے تو صحت کے تمام سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ فرما دیا تھا کہ عید کے دوسرے دن اس کی موت ہو گی اور چھ سال کے اندر اندر۔ اب چھ سال تک سال میں دو تین روز کے لئے حفاظت کے خاص طور پر سامان کر لینا کونسا مشکل امر ہے اور یہ اس کے اختیار میں تھا کہ ان دنوں میں حفاظت کے خاص سامان مہیا کر لیتا مگر باوجود اس کے خد اتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کو پورا کر دیا حالانکہ ظاہری سامان اس کے خلاف تھے۔ 6 مارچ اس کی موت مقدر تھی اور‘‘ یکم مارچ کو لیکھرام کو سبھا کی طرف سے ملتان پہنچنے کا حکم ہؤا۔ وہاں چار مارچ تک اس نے چار لیکچر دئیے پھر سبھا نے اسے سکھر جانے کے لئے تار دیا مگر وہاں پلیگ ہونے کی وجہ سے ملتان کے آریہ سماجیوں نے وہاں جانے سے روک دیا۔ پھر پنڈت لیکھرام مظفر گڑھ جانے کےلئے تیار ہوئے مگر یہ نہیں معلوم کہ وہ پھر سیدھے کیوں لاہور کو لَوٹ پڑے اور چھ مارچ دوپہر کو یہاں پہنچ گئے۔’’ اگر وہ اس روز واپس نہ آتا تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہوتی مگر باوجود اس کے کہ بظاہر اس کے باہر رہنے کا موقع پیدا ہو گیا پھر بھی وہ لاہور پہنچ گیا اور وقت مقررہ پر قتل ہو گیا۔ یہ مثال اس امر کی ہے کہ صحت اور حفاظت کے سارے سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی انسان ہلاک ہو سکتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انسان کے کاموں میں دخل دیتا ہے لیکن اس نے اسے آزاد بھی چھوڑا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کی وفات سے دو تین سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شدید کھانسی ہوئی۔ میری عمر اس وقت 17 سال کے قریب تھی اور میرے سپرد آپ کی دوائی وغیرہ پلانے کی خدمت تھی اور قدرتی طور پر جس کے سپرد کوئی کام کیا جائے وہ اس میں دخل دینا بھی اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ مَیں بھی اپنی کمپاؤنڈری کا یہ حق سمجھتا تھا کہ کچھ نہ کچھ دخل آپ کے کھانے پینے میں دوں۔ چنانچہ مشورہ کے طور پر عرض کر بھی دیا کرتا تھا کہ یہ نہ کھائیں، وہ نہ کھائیں۔ حضرت خلیفة المسیح الاول کے نسخے بھی تیار ہو کر استعمال ہوتے تھے اور انگریزی دوائیاں بھی۔ مگر کھانسی بڑھتی ہی جاتی تھی۔ یہ1907ٰء کا واقعہ ہے اور عبدالحکیم مرتد نے آپ کی کھانسی کی تکلیف کا پڑھ کر لکھا تھا کہ مرزا صاحب سِل کی بیماری میں مبتلا ہو کر فوت ہوں گے۔اس لئےہمیں کچھ یہ بھی خیال تھا کہ غلط طور پر بھی اسے خوشی کا کوئی بہانہ نہ مل سکے مگر آپ کو کھانسی کی تکلیف بہت زیادہ تھی اور بعض اوقات ایسا لمبا اوچھو آتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سانس رک جائے گا ایسی حالت میں باہر سے کوئی دوست آئے اور تحفہ کے طور پر پھل لائے۔ مَیں نے وہ حضور کے سامنے پیش کر دئیے۔ آپ نے انہیں دیکھا اور فرمایا کہہ دو جَزَاکَ اللہُ اور پھر ان میں سے کوئی چیز جو غالباً کیلا تھا اٹھایا۔ اور مَیں چونکہ دوائی وغیرہ پلایا کرتا تھا اس لئے شاید مجھے سبق دینے کے لئے فرمایا کہ یہ کھانسی میں کیسا ہوتا ہے؟ مَیں نے کہا اچھا تو نہیں ہوتا مگر آپ مسکراپڑے اور چھیل کر کھانے لگے۔ مَیں نے پھر عرض کیا کہ کھانسی بہت سخت ہے اور یہ چیز کھانسی میں اچھی نہیں۔ آپ پھر مسکرائے اور کھاتے رہے۔ مَیں نے اپنی نادانی سے پھر اصرار کیا کہ نہیں کھانا چاہئے۔ اس پر آپ پھر مسکرائے اور فرمایا مجھے ابھی الہام ہؤا ہے کہ کھانسی دور ہو گئی۔ چنانچہ کھانسی اُسی وقت سے جاتی رہی حالانکہ اُس وقت نہ کوئی دوا استعمال کی اور نہ پرہیز کیا بلکہ بد پرہیزی کی اور کھانسی بھی دور ہو گئی۔ اگرچہ اس سے پہلے ایک مہینہ علاج ہوتا رہا تھا اور کھانسی دور نہ ہوتی تھی۔ تو یہ الٰہی تصرف ہے۔ یوں تو بد پرہیزی سے بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور علاج سے صحت بھی ہوتی ہے مگر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے دخل بھی دے دیتا ہے اور دعا کا ہتھیار اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھایا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور جا کر کہے کہ مَیں آزادی نہیں چاہتا مَیں اپنے حالات سے تنگ آ گیا ہوں ، آپ مہربانی کر کے میرے معاملات میں دخل دیں اور اللہ تعالیٰ بھی دیکھتا ہے کہ بندہ متوکّل ہو گیا ہے اور چاہتا ہے کہ مَیں اس کے معاملات میں دخل دوں تو وہ دیتا ہے۔ پس گو اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی دی ہے مگر وہ دخل بھی دیتا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے انگلیاں دی ہیں ، مُنہ دیا ہے اس کے سامنے کھانا آتا ہے وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے لقمہ اٹھاتا ہے اور مُنہ میں ڈالتا ہے۔ فرشتے کہیں بھی اس کا ہاتھ نہیں روکتے۔ دنیا کی آبادی اس وقت دو ارب کے قریب ہے اور ہر جگہ لوگ عام طور پر دو بار کھانا کھاتے ہیں اور بعض ملکوں میں تو پانچ پانچ بار بھی کھاتے ہیں اور پھر مقررہ اوقات پر کھانوں کے علاوہ شغل کے طور پر بھی کئی چیزیں کھاتے پیتے ہیں۔ ہر شخص کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے لقمہ اٹھاتا اور منہ میں ڈالتا ہے اور وہ گلے سے نیچے اتر جاتا ہے ، کبھی کسی ایک جگہ بھی تو ایسا نہیں ہؤا کہ خدا تعالیٰ یا فرشتوں نے کسی کے ہاتھ کو روکا ہو۔ یہ ایک عام قانون ہے جس میں کافر و مومن کی بھی کوئی تمیز نہیں کہ کسی انسان کا ہاتھ کھانے سے نہیں روکا جاتا مگر جب خدا تعالیٰ کی تقدیر چلتی ہے تو ہاتھ رک بھی جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے ایک دفعہ کھانا لایا گیا آپ نے اس میں ہاتھ ڈالا، لقمہ بنایا، اسے مُنہ کے پاس لے گئے مگر پھر اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ کھانا خدا تعالیٰ کے حکم سے بولا ہے اور اس نے کہا ہے کہ مجھ میں زہر ہے اور آخر میزبان نے مان لیا کہ مَیں نے آپؐ کو ہلاک کرنے کی غرض سے اس میں زہر ڈالا تھا۔ 1 تو دیکھو جب خدا تعالیٰ کی مشیت ہوئی وہی سامان جو روزانہ چلتے تھے یکدم بدل گئے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے خاص تقدیر جاری کر دی اور آپ کو اطلاع دے دی کہ اس کھانے میں زہر ہے اسے نہ کھایا جائے۔ اسی طرح سید عبد اللطیف صاحب شہید کا ایک واقعہ ہے جب آپ افغانستان کو واپس جا رہے تھے تو لاہور میں کچھ تحائف وغیرہ خریدنے کے لئے ٹھہرے۔ انہی دنوں وہاں کسی احمدی کے لڑکے کے ولیمہ کی دعوت تھی جس میں اس نے آپ کو بھی مدعو کیا۔ آپ تشریف لے گئے۔ بہت سے اَور دوست بھی موجود تھے۔ آپ کو احترام کےساتھ بٹھایا گیا۔ جب کھانا شروع ہؤا تو آپ نے بھی لقمہ اٹھایا مگر پھر اسے پھینک دیا اور استغفار کرتے ہوئے وہاں سے چل دئیے۔ بعض دوست آپ کے پیچھے گئے اور کہا کہ میزبان کی بہت دل شکنی ہو گی آپ اٹھ کر نہ جائیں اور کھانے میں شریک ہوں مگر آپ نے کہا کہ مجھے الہام ہؤا ہے کہ :۔
    ‘‘یہ کھانا سؤر ہے’’
    انہوں نے عرض کیا صاحب خانہ مسلمان اور احمدی ہے۔ حلال کھانا پکایا گیا ہے۔ سؤر کا کیا مطلب ہے۔ مگر آپ نے کہا کہ مجھے یہی الہام ہؤا ہے اور مَیں یہ کھانا نہیں کھا سکتا۔ آخر جب تحقیقات کی گئی تو معلوم ہؤا کہ درحقیقت ولیمہ کا سوال ہی پیدا نہ ہؤا تھا ۔ ہماری شریعت کا حکم یہ ہے کہ جب میاں بیوی آپس میں ملیں اور حقیقی صورت میں میاں بیوی کے تعلقات قائم ہو جائیں تو ولیمہ ہو تا معلوم ہو جائے کہ بیوی پورے مہر کی حقدار ہو گئی ہے ۔ چونکہ ایسی بات کا اعلان اور الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا اس لئے شریعت نے اس کے لئے ولیمہ کا طریق مقرر کر دیا ہے تا آئندہ جھگڑا وغیرہ اگر کوئی پیدا ہو تو فیصلہ میں آسانی رہے۔ غرض اس وقت تحقیقات سے معلوم ہؤا کہ گو ولیمہ کی دعوت کی گئی مگر درحقیقت ایسا فعل ہؤا ہی نہ تھا اور لڑکے والوں نے شرم کے مارے ولیمہ کر دیا اور چونکہ ایسی دعوتِ ولیمہ شریعت کے منشاء کے خلاف تھی اللہ تعالیٰ نے الہاماً آپ کو اس سے روک دیا کیونکہ ایک اعلیٰ درجہ کے متقی انسان کے لئے تھوڑی سی بُری بات بھی بڑی ہوتی ہے اس لئے الہام میں آپ کے لئے اس کھانے کو سؤر کہا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے جہاں دخل دینا ہوتا ہے وہاں دے دیتا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے بتایا ہے کہ دونوں طرح اللہ تعالیٰ کی حکومت چلتی ہے اس نے انسان کو مختار بھی بنایا ہے۔ ہر انسان کھانا کھاتا ہے تو اس کا پیٹ بھرتا ہے ، پانی پیتا ہے تو پیاس سے سیری ہوتی ہے، سونے سے طبیعت کو آرام ملتا ہے،آگ جلتی ہے تو گرمی محسوس ہوتی ہے، گرم کپڑے پہننے سے بدن گرم ہوتا ہے، سرد کپڑے پہننے سے گرمی نہیں لگتی۔ انسان شلغم کھاتا ہے تو اس کی تاثیر ظاہر ہوتی ہے، مولی کھاتا ہے تو اس کی تاثیر، کھاتا تو انسان اپنی مرضی سے ہے مگر تاثیر وہی ظاہر ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ نے اس چیز میں پیدا کی ہے۔ انسان اگرچہ مختار ہے مگرتاثیر کو وہ نہیں بدل سکتا۔ اگر وہ چاہے کہ آگ اس کی پیاس بجھا دے تو یہ نہیں ہو سکتا۔ یا وہ چاہے کہ پانی کھانا پکا دے تو یہ ممکن نہیں۔ وہ آزاد تو ہے مگر اسی حد تک جس حد تک کہ مختلف چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے مختلف تاثیریں رکھی ہیں۔ ہر چیز میں اللہ تعالیٰ نے جو خواص رکھے ہیں اسی حد تک وہ ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جہاں خدا تعالیٰ کی حد بندی ختم ہو جاتی ہے وہاں انسان خواہ کتنا زور لگائے کچھ نہیں کر سکتا۔ حضرت خلیفۂ اول اس کی ایک لطیف مثال بیان کیا کرتے تھے۔ آپ فرماتے کہ اگر کوئی انسان زبان پر مصری کی ڈلی رکھ کر اسے کہے کہ وہ نمک چکھے تو وہ کبھی نہ چکھے گی۔ وہ میٹھے کو نمک کبھی نہیں بتا سکتی۔ مگر کوئی انسان اگر اسے کہے کہ کہہ خدا نہیں ہے تو وہ کہہ دیتی ہے کہ خدا نہیں ہے۔ اتنی چھوٹی سی بات وہ نہیں مانتی اور اتنی بڑی مان لیتی ہے اور یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اسی طرح قانون مقرر کر دیا ہے۔ جب کوئی زبان یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ خدا کوئی نہیں تو وہ اس وقت بھی خدا کی خدائی کا اقرار کر رہی ہوتی ہے کیونکہ اس کی دی ہوئی طاقت سے وہ چل رہی ہوتی ہے۔ انسان کی زندگی مختلف دائروں میں چلتی ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اسے آزادی دی ہے اس حد تک وہ آزاد ہے مگر جب وہ دخل دیتا ہے تو وہ آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا میں طاعون اور ہیضہ کے جراثیم ہر انسان پر اثر کرتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کہہ دیتا ہے کہ اثر نہیں کرنا تو وہ بیکار ہو جاتے ہیں اور آزادی چھن جاتی ہے اور جب وہ حکم دیتا ہے تو اسی چیز سے دوسرے خواص ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ زہر میں ہلاک کرنے کی تاثیر اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے مگر کبھی وہ تریاق کا کام بھی دیتا ہے، پانی تریاق بھی ہے مگر کبھی وہ زہر بن جاتا ہے۔ بعض اوقات انسان زہر کھاتا ہے تو بجائے ہلاک ہونے کے اس کی طاقتیں بڑھ جاتی ہیں مگر بعض اوقات وہ پانی کا ایک گھونٹ پیتا ہے تو ہیضہ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بے شک حد بندیاں مقرر کی ہیں مگر جب وہ دخل دیتا ہے تووہ سب حد بندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ پس مومن وہی ہے جو اس حکمت کو سمجھ کر خدا تعالیٰ کے تصرف کو تسلیم کرے اور جب تک وہ ایسا نہ کرے کبھی بھی کامل مومن نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف دائرے مقرر کر کےحکم دیا ہے کہ ان میں اس طرح عمل کرو۔ جہاں اس نے آزادی دی ہے وہاں اس نے یہ بھی مقدر کر دیا ہے کہ اسباب سے کام لو۔ مگر تقدیر کو نہ بھولنا مگر جہاں تقدیر کا حکم ہے وہاں فرمایا ہے کہ توکّل کرو مگر اسباب کو بھی نہ بھولنا۔ دونوں بیک وقت چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دونوں کے مطابق چلنے والوں کو بارور کرتا ہے۔ جہاں اس نے انسان کو اختیار دیا ہے وہاں تقدیر بھی ساتھ لگائی ہے۔ کھانے پینے، پہننے میں آزادی دی ہے مگر ساتھ دعائیں بھی سکھائی ہیں۔ اس کا یہ قانون ہے کہ کھانا کھانے سے پیٹ بھرتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا ہے کہ کھانا کھانے یا پانی پینے سے پہلے بِسْمِ اللہ کہہ لو۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ مَیں اللہ تعالیٰ کی مدد چاہتا ہؤا کھانا کھاتایا پانی پیتا ہوں۔ یہ انسان کی آزادی کا حلقہ ہے مگر تقدیر کو بھی ساتھ لگا دیا ہے اور ایسی صورت میں انسان کو یہ اجازت نہیں کہ اسباب اور تدبیر کو چھوڑ دے۔ اگر کوئی کھانا کھانا چھوڑ دے اور کہے کہ مَیں توکّل کرتا ہوں تو وہ گنہگار ہو گا۔ اگر بیمار اپنا علاج نہ کرے تو وہ گنہگار ہو گا سوائے اس کے کہ تقدیر خاص جاری ہو۔ جب خدا تعالیٰ یہ کہے کہ کھانا نہیں کھانا تو کھانے والا گنہگار ہو گا۔ مگر عام قانون کے ماتحت نہ کھانے والا گنہگار ہے کیونکہ حکم یہی ہے کہ کھانا کھایا جائے مگر کھانے سے پہلے بِسْمِ اللہِ کہنے کی ہدایت فرمائی ہے کیونکہ گو کھانا پیٹ بھرنے کا موجب ہوتا ہے مگر بعض اوقات ہیضہ کا موجب بھی بن جاتا ہے۔ پھر سیری تکبّر کا موجب بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے فرمایا کہ جب کھا چکو تو اَلْحَمْدُ لِلہِ کہو ۔ گو یہ دائرہ تدبیر کا ہے مگر تقدیر بھی ساتھ شامل ہے۔ کوئی تدبیر مکمل نہیں ہو سکتی جب تک تقدیر اس کے ساتھ شامل نہ ہو اور کوئی تقدیر مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ تدبیر شامل نہ ہو اِلَّا مَا شَاءَ اللہُ۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ تدبیر نہ کرنا ۔ایسے وقت میں تدبیر کرنا گناہ ہو جاتا ہے مگر عام قاعدہ یہی ہے کہ تدبیر کے دائروں میں تدبیر مقدم ہوتی ہے اور تقدیر دوسرے درجہ پر مگر جو تقدیر کا دائرہ ہے وہاں توکّل مقدم ہے اور اسباب کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان بیمار ہو تو علاج اصل کام ہے اور دعا ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اصل ذریعہ اسباب ہیں مگر اسباب کی حفاظت اور ان کے بے راہ نہ ہونے کے لئے دعا سکھائی ہے مگر جب تقدیر آتی ہے تو وہاں اسباب کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر اسباب میسر نہ آئیں تو نہ آئیں ۔ اسی طرح اسباب کے دائرہ میں دعا کی طرف کسی وقت رغبت نہ بھی ہو تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اسباب چھوڑ دئیے جائیں۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ مثلاً کسی علاقہ میں طاعون یا ہیضہ یا کوئی اَور وبا پھیلتی ہے اس صورت میں شریعت کا حکم ہے کہ اس علاقہ میں نہ جاؤ اور یہ مقدم ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مَیں دعا کر کے اس علاقہ میں چلا گیا تھا کیونکہ یہاں دعا کا مقام دوسرے نمبر پر ہے مگر استثنائی طور پر یہ دائرہ ٹوٹ بھی جاتا ہے مثلاً طبیب وہاں جاتا ہے یا ایسے علاقہ میں فساد ہو جاتا ہے تو کوئی حاکم اپنے فرض کو ادا کرنے کے لئے جاتا ہے۔ ان کا وہاں جانا ہی ضروری ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں طاعون یا ہیضہ ہے ہم وہاں کس طرح جائیں۔ یہ تو تدبیر کی مثال ہے۔
    تقدیر کی مثال جہاد ہے۔ وہاں اصل حکم مرنے کا ہے جیسے وباء کے موقع پر جان کو بچانا اصل حکم ہے۔ جہاد کے موقع پر اصل حکم جان دینا ہے۔ جہاں جان بچانے کا حکم ہے وہاں جان دینے کے خطرہ میں پڑنا استثنائی حیثیت رکھتا ہے مثلاً کسی طبیب یا حاکم کا اس علاقہ میں جانا، ان کے لئے یہی حکم ہے کہ وہاں جاؤ اور جان کی پرواہ نہ کرو مگر جہاں جان دینے کا حکم ہے وہاں جان بچانے کی تدبیر کرنا ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے جہاد کے موقع پر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس گھوڑا نہیں یا تلوار نہیں۔ مَیں جہاد کے لئے کس طرح جاؤں۔ جہاد کا جب بھی حکم ہو سامان ہو یا نہ ہو جانا ضروری ہے۔ سوائے اس کے کہ کوئی انسان جسمانی لحاظ سے معذور ہو۔ بعض احادیث میں آتا ہے کہ بدر کی جنگ میں بعض صحابہؓ کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں تلواریں نہ تھیں۔ تو جب تقدیر جاری ہو تو وہاں تدابیر ثانوی درجہ اختیار کر لیتی ہیں اور ان کا فقدان انسان کو معذور قرار نہیں دیتا۔ غرض دنیا میں دو قسم کے حالات خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہیں۔ ایک وہ جب تدبیر کا پہلو بھاری ہوتا ہے اور ایک وہ جن میں تقدیر کا پہلو بھاری ہوتا ہے۔ عذاب یا انقلاب کے مواقع دوسری قسم کے ہیں۔ ان میں تقدیر اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا تدابیر کی طرف زیادہ دھیان دینا اپنی قسمت سے کھیلنا ہوتا ہے۔ اس وقت انسان کو توکّل سے کام لے کر خدا تعالیٰ کی تقدیر کو قبول کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی نیک تقدیر دعاؤں کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
    مَیں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بعض افراد میں بوجہ اس کے کہ انہیں ہمیشہ امن کے ساتھ رہنے کی تعلیم دی جاتی ہے کچھ بزدلی پیدا ہو گئی ہے حالانکہ یہ نیکی نہیں کہ بزدل ہو کر انسان امن کو قائم رکھے۔ بزدل ہو کر کون امن سے نہیں رہتا۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کیسا بیوقوف ہے وہ انسان جو کسی خصّی کی نسبت یہ کہے کہ وہ بڑا پاکباز ہے یا اندھے کے متعلق کہے کہ وہ بڑا پاک نظر ہے۔ اس کی تو نظر ہی نہیں وہ پاک نظر کس طرح ہو گیا۔ اسی طرح بزدل پُر امن کیونکر ہو سکتا ہے وہ تو بزدلی کی وجہ سے فساد کر ہی نہیں سکتا۔ پُر امن وہی ہے جو مارنے کی طاقت رکھتا اور پھر امن سے رہتا ہے مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کا ایک طبقہ امن کی تعلیم سن سن کر بزدل ہو گیا ہے اور توکّل و تقدیر کے مقام کو بھول گیا ہے۔ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بعض جگہ جب ہماری جماعت میں سے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لئے افسر پہنچے تو بعض نوجوان تو تیار ہو گئے مگر ان کی مائیں روتی ہوئی آ گئیں کہ ہائے ہائے میرا بچہ مارا جائے گا اور ظاہر ہے کہ ایسے بزدل کیا قربانی کر سکتے ہیں۔ قربانی کے لئے تیاریاں ضروری ہوتی ہیں۔ دیکھو خدا تعالیٰ کے لئے فاقہ کرنے کا موقع تو شاید ہی کسی آدمی کو کبھی ملتا ہو مگر اللہ تعالیٰ ہر سال ایک ماہ بھوکا رہنے کی مشق کراتا ہے۔ اصل دن توشاید کبھی آتا ہی نہیں مگر مشق ہر سال میں ایک ماہ کرائی جاتی ہے اس لئے کہ کوئی کام بغیر مشق کے نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال لٹا دینے کا موقع تو شاذ ہی کسی کو ملتا ہے مگر زکوٰة ہمیشہ کے لئے مقرر کر دی گئی ہے۔ پس قربانی کے لئے مشق بہت ضروری چیز ہے۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ مجھے تیاری کی کوئی ضرورت نہیں جب وقت آئے گا مَیں قربانی کر لوں گا وہ نادان ہے۔ اور مَیں اس کی آنکھیں کھول دینا چاہتا ہوں کہ وہ وقت آنے پر ضرور ٹھوکر کھائے گا۔ جہاں تک مَیں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کو چاہئے تھا کہ اس جنگ کو خدا تعالیٰ کی تقدیر کا ایک مظاہرہ سمجھتے ہوئے اسے نعمت غیر مترقّبہ سمجھتی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جاری کر کے ہمارے لئے یہ موقع پیدا کر دیا کہ اگر چاہیں تو فنون جنگ سیکھ سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے یہ ایک ایسا موقع بہم پہنچایا تھا کہ جماعت کے دوستوں کو اس پر خوشی سے اچھلنا چاہئے تھا مگر بجائے اس کے کہ خوش ہوتے اور نعمت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھاتے وہ فوج میں داخل ہونے سے ڈرتے ہیں۔ جنگ کو بحیثیت ایک بَلا کے تو برا ہی سمجھنا چاہئے اور فوج میں داخل ہونے کے معنے یہی ہیں کہ اسے بَلا سمجھتے ہیں اور دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر فنون جنگ سیکھنے کے لحاظ سے اس موقع کو غنیمت سمجھنا چاہئے تھا کہ جرأت اور بہادری پیدا کرنے کا سامان میسر آ گیا۔
    مَیں ان عورتوں پر جنہوں نے یہ بُرا نمونہ دکھایا اظہارِ افسوس کرتا ہوں اور ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا ان میں سے کوئی ہے جو اپنے بچوں کے لئے ایک سال کی عمر کی بھی ضمانت دے سکے اورکیا جب جنگ ختم ہو جائے گی تو انہیں شرم نہ آئے گی کہ ان کی عزت کی حفاطت کے لئے ہندو، سکھ، غیر احمدی اور بعض احمدی تو میدان جنگ میں گئے مگر ان کے بچوں میں سے کوئی نہ گیا۔ اگر خدا تعالیٰ نے ہمارے ملک کو خطرہ سے بچا لیا تو کیا ان کو غیرت نہ آئے گی کہ ان کی عزت کی حفاظت ہندوؤں، سکھوں اور غیر احمدیوں اور دوسرے احمدیوں کے ذریعہ ہوئی اور انہوں نے خود اس میں کوئی حصہ نہ لیا اور کیا ان کے اندر شرافت کا جو جذبہ ہے وہ اس احساس سے ان کی زندگی کو تلخ نہ بنا دے گا۔ مومن تو کسی کا احسان نہیں اٹھایا کرتا پھر وہ نوجوان جو فوج میں جانے سے ہچکچاتے ہیں کس طرح اس بے غیرتی کو برداشت کریں گے کہ ان کی، ان کی بیویوں، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت ہندوؤں، سکھوں اور غیر احمدیوں نے کی مگر وہ خود چارپائی پر گھر میں بیٹھے رہے۔ پھر ایسی عورتوں سے مَیں پوچھتا ہوں کہ وہ لوگ جو اس وقت لڑائی میں گئے ہوئے ہیں اگر وہ اس بلا کو نہ روک سکے تو ان کے بیٹوں کی زندگیاں ان کے کس کام آ سکیں گی۔ کیا وہ گھروں میں نہ مارے جائیں گے اور کیا وہ یہ پسند کرتی ہیں کہ ان کے لڑکے لڑائی میں جا کر عزت کی موت تو نہ مریں مگر گھروں میں بزدلوں کی طرح مارے جائیں اور دیکھنے والے ان کو دیکھ کر کہیں کہ کیسے بے حیا تھے یہ لوگ جو اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کی عزت کو نہ بچا سکے۔ پھر ایسی ماؤں کو سوچنا چاہئے کہ جو نوجوان پہلے جا چکے ہیں وہ بھی تو ماؤں کے ہی بیٹے ہیں۔ وہ کہہ سکتی ہیں کہ وہ چند روپوں کے لئے چلے گئے مگر مَیں کہوں گا کہ اس کے یہ معنے ہوئے کہ چند روپوں میں تمہارے ایمان سے زیادہ کشش ہے۔ وہ تو بہت بہادر نکلے جو سترہ روپے کے لئے چلے گئے مگر تمہارا ایمان تو سترہ روپے سے بھی کم قیمت کا ہؤا۔ وہ سترہ روپے زیادہ قیمتی ہوئے جن کے لئے انہوں نےجانیں دے دیں مگر تمہارا ایمان تمہیں اپنے بیٹوں کو گھروں سے نکالنے پر بھی آمادہ نہ کر سکا۔
    خوب یاد رکھو کہ وقت آنے پر ایسے لوگ کوئی کام نہیں دے سکتے۔ دیکھو! ایک کے بعد ایک سلطنت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتی چلی گئی مگر وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ مسیح آ ئے گا تو ہم لڑیں گے اور یہ سب واپس لے لیں گے جس طرح آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیوی لڑائی ہے۔ جب احمدیت کے لئے لڑنے کا موقع آئے گا تو ہم لڑیں گے اور اپنے کرتب دکھائیں گے مگر جانتے ہو جب مسیح آیا تو مسلمانوں نے کیا کرتب دکھائے؟ جان و مال قربان کرنے کے بجائے وہ پتھر لے کر نکلے کہ مسیح کو مار ڈالیں۔ یہ اس لمبی بے حیائی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے لئے کوئی قربانی نہ کی تھی۔ وہ ہمیشہ جھوٹ بولتے رہے کہ مسیح آئے گا تو قربانیاں کریں گے اور اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان سے قربانی کی طاقت چھین لی۔ پس اسی طرح جو لوگ آج کہتے ہیں کہ دین کے لئے لڑائی کا موقع آیا تو وہ لڑیں گے۔ وہ صرف نفس اور شیطان کےد ھوکے میں مبتلا ہیں۔ بغیر تیاری کے کوئی قربانی ہر گز نہیں کی جا سکتی اور اگر کبھی موقع آیا تو یہ لوگ بھاگنے والوں میں سب سے آگے ہوں گے۔ خدا تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ ایمان کے ساتھ عادت ضروری ہے۔ آنحضرت ﷺ صحابہؓ کے فوجی کرتب مسجد کے صحن میں دیکھا کرتے تھے۔ صحابہؓ مسجد کے صحن میں تلواروں اور نیزوں سے لڑ کر آپ کو دکھاتے تھے۔2 پس جب تک آپ لوگ بھی مشق نہ کریں وقت آنے پر کوئی قربانی نہیں کر سکتے اور کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ پس مَیں ایسی تمام ماؤں، باپوں اور علاقہ کے با رسوخ لوگوں کے اس طریق پر کامل افسوس کا اظہار کرتا ہوں اور ان پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر ان کا یہ خیال ہے کہ دین کے لئے قربانی کا وقت آنے پر وہ قربانیاں کر سکیں گے تو وہ غلطی پر ہیں۔ جو مائیں آج روتی ہیں وہ کل زیادہ روئیں گی اور جو باپ آج ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں وہ کل زیادہ کریں گے اور جس شکست سے یہ لوگ آج ڈرتے ہیں وہ کل زیادہ بھیانک صورت میں ان کے سامنے آئے گی کیونکہ انہوں نے خدا کی تقدیر کو تدبیروں سے ٹالنے کی کوشش کی اور اس کے فیصلے پر راضی نہ ہوئے۔‘‘ ( الفضل 17 جولائی 1942ء )
    1: سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 189 مطبوعہ مصر 1295ھ
    2: بخاری کِتَاب الصَّلٰوة باب اَصْحَاب الحِرَابِ فِی الْمَسْجِدِ

    22
    ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب احمدیت کو تمام مذاہب کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑے گا
    ( 17 جولائی 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’آج بھی مَیں خطبہ اسی تسلسل میں کہنا چاہتا ہوں جس تسلسل میں پچھلے دو خطبے میں نے پڑھے ہیں۔ مَیں نے پچھلی دفعہ بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بعض افعال کا ظہور تقدیر کے ذریعہ ہوتا ہے اورجس وقت خدا تعالیٰ کی کوئی تقدیر ظاہر ہوتی ہے کسی عظیم الشان انقلاب یا کسی زبردست پیشگوئی کے ذریعہ سے۔ تو انسانوں کی جانیں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں یوں تو ہمیشہ ہی ہوتی ہیں مگر اس وقت خدا تعالیٰ خاص طور پر دخل دے دیتا اور اسباب کو ایک حد تک معطل فرما دیتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرامؓ اور مکہ والوں کے درمیان جو جنگیں ہوئیں ان جنگوں میں باوجود اس کے کہ صحابہ ؓ کم ہوتے تھے ، وہ بہت تھوڑی تعداد میں مارے جاتے تھے اور باوجود اس کے کہ دشمن بہت زیادہ تعداد میں ہوتا تھا وہ زیادہ مارا جاتا تھا یا اس کا خاصہ حصہ قیدی بن جاتا تھا۔ اس کا باعث درحقیقت یہی امر تھا کہ اس زمانہ میں صحابہؓ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے خاص احکام جاری ہوئے تھے اور وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ یہ ہماری تقدیر کا میدان ہے، عام تدبیر کا میدان نہیں۔ اگر تدبیر کا میدان ہوتا تو مسلمانوں میں موت زیادہ ہوتی اور کفار میں کم ہوتی لیکن تقدیر کا میدان ہونے کی وجہ سے سوائے ان لوگوں کے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے شہادت کی موت مقدر کی ہوئی تھی باقیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو یہی حکم دیتا تھا کہ وہ ان کی جانوں کو بچائیں۔ اسی لئے قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ بعض جنگوں میں پانچ پانچ ہزار ملائکہ کو اتار اجاتا تھا۔ 1 اب ملائکہ کو اتارنے کے یہ معنے تو نہیں کہ وہ تلواریں لے کر آسمان سے اتر آتے اور کفار سے لڑنے لگ جاتے تھے بلکہ اس کا مفہوم یہی ہے کہ وہ کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال کر اور بعض دوسرے ذرائع سے کام لے کر مومنوں کی حفاظت کرتے تھے اور دشمنوں کو ہلاکت کی طرف لے جاتے تھے۔
    جب تک مسلمانوں کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ تقدیر جاری رہی اس وقت تک ہر قسم کے خطروں میں اپنے آپ کو ڈالنے کے باوجود مسلمان بہت کم مارے جاتے تھے۔ رسول کریم ﷺ کے بعد جو جنگیں ہوئی ہیں ان میں بھی مسلمان بہت حد تک مَیدان جنگ سے سلامتی کے ساتھ واپس آتے اور بہت کم مارے جاتے تھے حالانکہ ان کا مقابلہ بڑی بڑی منظم اور طاقتور حکومتوں کے ساتھ ہؤا کرتا تھا۔ آجکل انگریزوں کی لڑائیاں جو بعض دفعہ سرحد پر ہو جاتی ہیں ان میں انگریزی فوج کے تو ایک دو آدمی مارے جاتے تھے مگر قبائلی لشکر جو ان کے مقابلہ میں آتے ہیں ان کے بیس بیس، تیس تیس، چالیس چالیس آدمی مارے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ انگریزی لشکر کے پاس سامان بہت زیادہ ہوتا ہے، وہی زیادہ منظم اور قواعد دان ہوتے ہیں اورلڑائی کے فن سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ پس زیادہ قواعد دان ہونے کی وجہ سے، زیادہ منظم ہونے کی وجہ سے، زیادہ ہتھیار رکھنے کی وجہ سے اور تعداد میں بھی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ دشمن کو زیادہ مار لیتے ہیں اور قبائلی لشکر چونکہ چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کے پاس سامان بھی بہت کم ہوتا ہے اس لئے وہ ان کا پوری طرح مقابلہ نہیں کر سکتے۔
    مسلمانوں کی لڑائیاں جو ایرانی اور رومی حکومتوں سے ہوئیں درحقیقت ایسی ہی تھیں جیسے آجکل قبائلی لشکروں کی انگریزوں سے لڑائیاں ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف وہ عظیم الشان اور منظم حکومتیں تھیں جن کے قبضہ میں دنیا کا تمام سر سبز و شاداب علاقہ تھا ، جن کا دنیا کی تمام پیداوار پر قبضہ تھا، جن کے ماتحت ممالک کے صنعت و حرفت کے مرکز تھے، جو جنگی قومیں کہلاتی تھیں اور جن کے نوجوان پندرہ پندرہ سولہ سولہ سال کی عمر سے ہی فوج میں ملازم ہو جاتےاور دن رات چھاؤنیوں میں فنونِ جنگ سیکھتے رہتے تھے اور باقاعدہ تنخواہ دار ملازم تھے۔ ان قوموں اور حکومتوں کے مقابلہ میں مسلمان آئے مگر باوجود اس کے کہ وہ تعداد میں بہت کم تھے، فنون جنگ سے پوری طرح آشنا نہ ہوتے تھے، سامان اور اسلحہ ان کے پاس بہت تھوڑا ہوتا تھا پھر بھی مسلمان بہت کم مارے جاتے تھے اور ان کے دشمن بہت زیادہ مارے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے۔ بعض دفعہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں دس دس، بیس بیس، پچاس پچاس، سَو سَو سیکھے ہوئے سپاہی آئے مگر نتیجہ ہمیشہ یہی نکلتا رہا کہ وہ ماہر اورفنون جنگ سیکھے ہوئے سپاہی مارے جاتے تھے اور مسلمان نہیں مرتے تھے حالانکہ ان کے پاس اپنی حفاظت کے کوئی سامان نہیں ہوتے تھے بلکہ بعض دفعہ وہ سامانوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے ان کو پھینک دیتے تھے۔ حضرت ضرارؓ کا ایک مشہور واقعہ تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک جنگ میں ایک عیسائی دشمن مسلمانوں کے مقابلہ میں نکلا اور اس نے یکے بعد دیگرے دو چار مسلمانوں کو مار ڈالا۔ وہ شخص فنون جنگ کا ماہر اور دشمنوں میں بہت بہادر سمجھا جاتا تھا۔ جب دو چار مسلمان اس کے مقابلہ میں آ کر شہید ہو گئے تو حضرت ضرارؓ اس کے مقابلہ کے لئے نکلے مگر جب وہ اس کے سامنے گئے تو کھڑے ہوتے ہی گھبرا کر اپنے خیمہ کی طرف دوڑ پڑے۔ صحابہؓ کہتے ہیں اس وقت ہمیں یوں محسوس ہؤا کہ جیسے ہماری ناک کٹ گئی ہے اور ہم نے اپنے دلوں میں سخت ذلت محسوس کی کہ ضرارؓ جسے ہم اتنا بہادر اور دلیر سمجھتے تھے وہ کیسا بزدل نکلا کہ دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے ہی وہاں سے بھاگ آیا اور تیزی سے اپنے خیمہ کی طرف چلا گیا۔ ان کے ایک دوست تھے انہوں نے جب ضرار کو اس طرح دوڑتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے خیمہ کی طرف گئے۔ جب وہ قریب پہنچے تو حضرت ضرارؓ پھر خیمہ سے باہر نکل رہے تھے۔ اس نے ضرارؓ سے مخاطب ہو کر کہا ضرارؓ آج تم نے یہ کیا کیا۔ تمہارے جیسے آدمی سے ہم یہ امید نہیں کر سکتے تھے کہ تم میدان جنگ سے اس طرح بھاگ آؤ گے۔ تمہارے اس فعل کے نتیجہ میں مسلمان اپنے دلوں میں سخت ذلت محسوس کر رہے ہیں اور وہ حیران ہیں کہ تم نے یہ کیا حرکت کی۔ ضرارؓ نے کہا میرے دوست تم نہیں جانتے کہ واقعہ کیا ہؤا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب مَیں اس عیسائی جرنیل کے مقابلہ میں نکلا اور اس کے سامنے کھڑا ہؤا تو مجھے یاد آیا کہ مَیں نے زرہ پہنی ہوئی ہے اس وقت مجھے خیال آیا کہ اے ضرارؓ! کیا تُو خدا تعالیٰ کے پاس جانے اور اس سے ملنے سے اتنا گھبراتا ہے کہ تُو نے زرہ پہن رکھی ہے اور تُو ڈرتا ہے کہ کہیں مَیں مارانہ جاؤں۔پس مَیں نے خیال کیا کہ اگر مَیں اسی حالت میں مر گیا تو مَیں خدا تعالیٰ کی جنت میں داخل ہونے کے قابل نہیں رہوں گا اور مَیں خدا تعالیٰ کو کیا مُنہ دکھاؤں گا کہ مَیں نے اس ڈر سے کہ کہیں مجھے موت نہ آ جائے لڑتے وقت زرہ پہن لی تھی چنانچہ مَیں دوڑ کر اپنے خیمہ کی طرف گیا تاکہ مَیں زرہ کو اتار دوں اور ننگے بدن لڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دے دوں۔ اب دیکھو یہ ایک حفاظت کا سامان تھا جو اس صحابی کو میسر تھا اور خدا تعالیٰ نے بھی اجازت دی ہوئی ہے کہ حفاظت کے سامانوں سے مومن کو کام لینا چاہئے مگر اس صحابی نے اس وقت اس سامان سے فائدہ نہ اٹھایا اور سمجھا کہ ہم اس وقت ایک ایسے میدان میں ہیں جو تقدیر کا میدان ہے۔ اگر ہم اس تقدیر کے میدان میں ظاہری سامانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ چنانچہ وہ بغیر زرہ کے لڑے اور انہوں نے اپنے دشمن کو مار لیا۔
    تو مسلمانوں کا طریق یہ بتاتا ہے کہ وہ بعض دفعہ ظاہری سامانوں کو استعمال نہیں کرتے تھے اور نہ صرف سامانوں کو استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے ان کو پھینک دیتے تھے کہ یہ تقدیری میدان ہے تدبیری میدان نہیں۔ پس جب تقدیری میدان آئے تو اس وقت سامانوں کو نظر انداز کر دینا جائز ہوتا ہے اور نہ صرف جائز ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ الٰہی حکم کے ماتحت ان سامانوں کو نظر انداز کر دینا ضروری ہوتا ہے اور اگر انسان ان سامانوں کو استعمال کرے تو وہ بے ایمان ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ سامانوں کو استعمال کرنا ناجائز تو نہیں ہوتا۔ مگر ان سامانوں کو زیادہ اہمیت دینا ناجائز ہوتا ہے اور جو لوگ ان سامانوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کو ٹھکرانے والے قرار پاتے ہیں کیونکہ وہ تقدیر کے میدان میں تدبیر سے کام لینا چاہتے ہیں اور تقدیر کے مقابلہ میں بھلا تدبیر انسان کو کیا فائدہ دے سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اگر تم مضبوط قلعوں اور بڑے بڑے پختہ محلّات کے اندر بھی بیٹھے ہوئے ہو تب بھی اس زمانہ میں جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے موت کا فیصلہ کر دیا ہے اسے بہرحال موت کا شکار ہونا پڑے گا اور مضبوط قلعے پختہ محلات اسے موت سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔2 بعض لوگوں نے غلطی سے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ موت اور حیات تقدیری چیزیں ہیں جنہیں بدلا نہیں جا سکتا حالانکہ اس آیت سے یہ مراد نہیں بلکہ یہ اسی زمانہ کے متعلق ہے جب خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص تقدیر جاری کی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ سے کہتا ہے تو بے شک بے سامان ہے، تیرے پاس ہتھیار نہیں، تیرے پاس فوجیں نہیں، تیرے پاس دشمنوں پر غلبہ پانے کے لئے کوئی ظاہری طاقت اور جتّھا نہیں مگر ہم تجھے کہتے ہیں کہ تُو بے سامان ہونے کی حالت میں ہی دشمن کے مقابلہ کے لئے نکل تاکہ ہم اپنی قدرت کا نشان دکھائیں کہ کس طرح ہم بے سامانوں کو سازو سامان اور بڑے بڑے جتھے رکھنے والوں پر غالب کر دیا کرتے ہیں اور کس طرح کم تعداد والوں کے مقابلہ میں بڑے بڑے لشکروں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اسی لئے صحابہؓ نے بے شک سامان استعمال کئے اور بے شک انہیں اجازت تھی کہ جن لوگوں کو گھوڑے میسر آ سکتے ہیں وہ گھوڑے لے لیں ۔ جو تلواریں اور نیزے خرید سکتے ہیں وہ تلواریں اور نیزے خرید لیں مگر ان سامانوں پر انحصار رکھنے کی انہیں اجازت نہیں تھی۔ اگر کسی کو کوئی سامان مل جاتا تو وہ لے لیتا اور اگر نہ ملتا تو بغیر سامانوں کے ہی میدان جنگ کی طرف روانہ ہو جاتا۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کے ہمسایہ کے مکان کو آگ لگ جائے تو ایسی صورت میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہی لوگ آ کرآگ بجھائیں جو باقاعدہ اس فن کو سیکھ چکے ہوں بلکہ ہر شخص آگ بجھانے کے لئے دوڑ پڑے گا خواہ اسے آگ بجھانے کا طریق آتا ہو یا نہ آتا ہو حالانکہ آگ بجھانا بھی ایک فن ہے جو سیکھے بغیر صحیح طور پر نہیں آتا۔ جو لوگ یہ فن سیکھتے ہیں انہیں بتایا جاتا ہے کہ کسی جگہ آگ لگ جائے تو اسے کس طرح بجھانا چاہئے، کس قسم کی آگ پر پانی ڈالنا چاہئے اور کس قسم کی آگ پر مٹی ڈالنی چاہئے۔ پھر جو لوگ یہ ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ ان کے سروں پر ایسے وقت میں خود ہوتے ہیں تاکہ سر کے بال جلنے کی وجہ سے وہ گھبرا کر وہاں سے بھاگ نہ جائیں۔ اسی طرح انہیں پمپ مہیا کئے جاتے ہیں اور وہ سارے سامان انہیں دئیے جاتے ہیں جن کا آگ بجھانے کے لئے پاس ہونا ضروری ہوتا ہے مگر جب تمہارے کسی ہمسایہ کے مکان کو آگ لگ جائے اور خدا تعالیٰ کی تقدیر کے ظہور کا وقت آ جائے تو کیا تم اس وقت یہ کہہ کر بری ہو جاؤ گے کہ ہم اس آگ کو کس طرح بجھائیں ، ہم کوئی فائر بریگیڈ کے سپاہی ہیں۔ ہمارے پاس نہ خَود ہیں ، نہ ویسا لباس ہے، نہ پمپ ہیں، نہ ہمیں آگ بجھانے کا فن آتا ہے۔ پھر ہم اس آگ کو بجھانے کے لئے آگے بڑھیں تو کس طرح بڑھیں؟ تم ہزار دلائل دو اس وقت تمہاری کسی بات کو معقول نہیں سمجھا جائے گا اور تمہیں یہی کہا جائے گا کہ اب خدا کی ایک تقدیر ظاہر ہو چکی ہے تمہیں یہ فن آتا ہے یا نہیں آتا۔ تمہارا فرض ہے کہ آگے بڑھو اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اس آگ پر قابو پاؤ۔ بے شک اگر اس وقت فائر بریگیڈ میسر آ سکتا ہے تو تم فائر بریگیڈ منگوا لو۔ بے شک اگر آگ بجھانے کا فن سیکھنے کا تمہیں اس سے پہلے کوئی موقع ملے تو تمہیں چاہئے کہ تم اس فن کو سیکھ لو لیکن اگر آگ لگ جائے تو اس وقت ہر شخص کا خواہ اس کے پاس آگ کو برداشت کرنے والا لباس ہے یا نہیں خواہ اسے آگ بجھانے کا فن آتا ہے یا نہیں، فرض ہو گا کہ وہ جائے اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر آگ کو بجھائے۔
    اسی طرح زمیندار اپنی زمینوں کے لئے لڑتے ہیں اور بسا اوقات ان لڑائیوں میں ان کے کئی کئی آدمی مارے جاتے ہیں۔ معمولی سی بَٹ کا سوال ہوتا ہے۔ صرف اتنا اختلاف ہوتا ہے کہ منڈیر اِدھر رکھنی ہے یا اُدھر مگر زمیندار کلہاڑیاں اور چھوّیاں اور دوسرے سامان جو انہیں میسر ہوتے ہیں لے کر آ جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے دشمن کو مار لیا تب بھی ہم پھانسی پر لٹکا دئیے جائیں گے۔کیونکہ ایک منظم گورنمنٹ موجود ہےاور اگر دشمن نے ہمیں مار لیا تب بھی ہم زندہ واپس نہیں جا سکتے۔ گویا دونوں صورتوں میں انہیں اپنے سامنے موت دکھائی دیتی ہے مگر باوجود اس بات کے جاننے کے کہ یا تو ہم دشمن کے ہاتھ سے مارے جائیں گے یا گورنمنٹ ہمیں پھانسی دے دے گی پھر بھی وہ پرواہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک قیمتی چیز (جو ان کے نزدیک قیمتی ہے) خطرہ میں ہے۔ اب ہمیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ یہ وہ منڈیر کی قیمت ہے جو ایک زمیندار کی نظر میں ہوتی ہے۔ پھر کیا ہمارے ملک کی قیمت ایک منڈیر کے برابر بھی نہیں کہ اس کے لئے اپنی جانوں کو قربان کرنے سے ہمارے دلوں میں ہچکچاہٹ پیدا ہو۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ کتنے ہی زمیندار ہیں جو ایک منڈیر پر لڑ مرتے ہیں اور اگر کوئی زمیندار منڈیر پر نہیں لڑے گا۔ تو جب وہ دیکھے گا کہ اس کی ایک مرلہ زمین پر کوئی اَور شخص قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اس وقت وہ چپ نہیں رہے گا اور لڑنے مرنے کے لئے تیار ہو جائے گا اور اگر کوئی شخص ایک مرلہ زمین کے چلے جانے پر خاموش رہے گا۔ تو اگر اس کی ایک کنال زمین کوئی شخص چھیننے کی کوشش کرے گا تو اس وقت وہ خاموش نہیں رہے گا اور اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ پھر کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک کنال زمین کا نقصان تو برداشت کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص ان کے کھیت پر قبضہ کرنا چاہے تو پھر وہ خاموش نہیں رہتے اور مقابلہ پر اتر آتے ہیں۔ بہرحال تمہیں کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا سوائے اس کے جو فاتر العقل ہو کہ اس کی ساری زمین لوگ چھین کر لے جائیں اور وہ چپ کر کے بیٹھا رہے پھر کیسی حیرت کا مقام ہے کہ لوگ اپنی زمین کی حفاظت کے لئے تو اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن اپنے ملک کی حفاظت کے لئے جانیں دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر لوگ مارے جاتے ہیں تو مارے جائیں۔ دشمن ہمارے ملک کو چھیننا چاہتا ہے تو بےشک چھین لے۔
    مَیں نے جیسا کہ پچھلے خطبات میں بھی توجہ دلائی ہے۔ کئی لوگ بہانے بناتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو دنیوی لڑائی ہے اس میں ہم کیوں حصہ لیں۔ اسی لئے مَیں نے دنیوی مثالیں پیش کی ہیں۔ کیا منڈیر کی لڑائی دنیوی لڑائی نہیں ہوتی۔ کیا ایک مرلہ زمین کے لئے لڑائی دنیوی لڑائی نہیں ہوتی، کیا ایک کنال زمین کے لئے لڑائی دنیوی لڑائی نہیں ہوتی۔ پھر یہ مثالیں تو الگ رہیں ۔ ہم جانتے ہیں زمینداروں میں بعض دفعہ ڈولوں پر لڑائی ہو جاتی ہے۔ ایک کہتا ہے مَیں نے پہلے ڈول نکالنا ہے اور دوسر اکہتا ہے مَیں نے نکالنا ہے اور اسی پر ان میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ پھر یہ بات بھی الگ رہی بعض دفعہ صرف اس لئے لڑائی ہو جاتی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں مجلس میں گئے تھے۔ انہوں نے ہمیں اپنی مجلس میں بیٹھنے نہیں دیا۔ اسی طرح بعض دفعہ معمولی معمولی طعنوں پر لڑائی اور خونریزی ہو جاتی ہے۔ بعض دفعہ ہنسی اور مذاق ناگوار صورت اختیار کر لیتا ہے اور لوگ آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ جب وجہ دریافت کی جاتی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ فلاں نے یہ مذاق کیا تھا حالانکہ وہ مذاق معمولی سا ہوتا ہے۔ کوئی بری بات اس میں نہیں ہوتی جب دنیوی معاملات میں لوگ اس طرح اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ تو اپنے ملک کی حفاظت کے لئے جان دینے سے وہی شخص انکار کر سکتا ہے جو جاہل ہو اور وہ جانتا ہی نہ ہو کہ اس غفلت کے کیا نتائج ہؤا کرتے ہیں۔ یہی چیز تھی جس نے ہندوستان کو انگریزوں کا غلام بنا دیا۔ جس وقت انگریز ہندوستان میں آئے ہیں ان کی تعداد دو چار سَو سے زیادہ نہیں تھی۔ ایک ہندوستانی تو شرم کے مارے زمین میں گڑ جاتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ دو چار سَو آدمی چھ ہزار میل سے آئے اور انہوں نے 33 کروڑ آبادی رکھنے والے ملک کو فتح کر لیا۔ یہ اسی بے حیائی کا نتیجہ تھا جو اس وقت ہندوستانیوں میں عام طور پر پائی جاتی تھی کہ یہاں لڑائیاں ہوئیں تو انہوں نے سمجھا یہ تو بمبئی میں لڑائی ہو رہی ہے۔ ہمیں اس سے کیا یا وہ تو بنگال میں لڑائی ہو رہی ہے۔ ہمیں اس سے کیا۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ آہستہ آہستہ تمام ہندوستان ان کے قبضہ سے نکل گیا۔ آج وہ شور مچاتے ہیں کہ انگریزوں نے ان پر بڑا ظلم کیا لیکن اپنی بے حیائی اور بےغیرتی کا ان کو ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔
    جب وہ اس قدر بے غیرت بن چکے تھے تو اگر انگریز اس ملک پر قبضہ نہ کرتے تو فرانسیسی کر لیتے، فرانسیسی نہ کرتے تو پرتگیز کر لیتے۔ جو لوگ ایسے بے غیرت ہو جائیں کہ ان کے دلوں میں اپنے ملک کے جانے کا ذرا بھی احساس نہ رہے۔ انہوں نے تو بہرحال دوسروں کا غلام بننا تھا۔ ایک نہ آتا دوسرا آ جاتا، وہ نہ آتا تو تیسرا آ جاتا۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کسی ملک میں ایسی مثال ملتی ہو کہ چند سو آدمی اس ملک میں گئے ہوں اور انہوں نے 33 کروڑ باشندوں پر غلبہ پا لیا ہو۔ مَیں تو جب بھی ہندوستان کی پرانی تاریخ پڑھتا ہوں پسینہ پسینہ ہو جاتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگ کیسے بزدل اور کم ہمت تھے کہ انہوں نے 33 کروڑ ہوتے ہوئے چند سَو لوگوں کو اپنے اوپر غالب آنے کا موقع دے دیا۔ پھر ان میں بے غیرتی یہاں تک بڑھ چکی تھی کہ ہمارے خاندان کی مسلمان بادشاہوں سے جو خط و کتابت ہوتی رہی ہے اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے ہمارے پردادا بادشاہِ وقت کو دہلی میں برابر توجہ دلاتے رہے کہ پنجاب میں سکّھوں کا زور بڑھ رہا ہے ہم ان کا مقابلہ تو کر رہے ہیں مگر ہماری چھوٹی سی ریاست ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ آپ مرکز سے فوج بھیجیں تاکہ سکھوں کا مقابلہ کیا جائے اور پنجاب کو جو خطرہ لاحق ہو گیا ہے وہ دور ہو جائے۔ مجھے حیرت آتی ہے اس زمانہ کے بادشاہوں کی بے غیرتی پر، مجھے حیرت آتی ہے اس زمانہ کے بادشاہوں کی بے حسی پر، اور مجھے حیرت آتی ہے ان کی بے توجہی اور لاپروائی پر کہ ایک نہیں دو نہیں متواتر چار بادشاہوں کو خطوط لکھے جاتے رہے اور ہمارے آباء انہیں توجہ دلاتے رہے کہ سکھوں کے مقابلہ کے لئے فوج بھیجی جائے مگر جیسا کہ ان خطوں سے ظاہر ہے وہ ہر خط کا یہی جواب دے دیتے کہ آپ کا خط پہنچا ہم بڑے خوش ہیں کہ آپ اپنے ملک میں سکھوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہمارا بھی ارادہ ہے کہ ہم کسی وقت پنجاب کی طرف آئیں اور اس فتنہ کا مقابلہ کریں مگر وہ چاروں بادشاہ یہ ارادہ کرتے کرتے ہی مر گئے۔ ان چار بادشاہوں میں سے محمد شاہ ، احمد شاہ اور شاہ عالم کے نام مجھے اس وقت یاد ہیں۔ چوتھے بادشاہ کا نام یاد نہیں رہا۔ یہ چاروں بادشاہ یہی کہتے رہے کہ ہمارا ارادہ ہے ہم پنجاب میں آئیں اور ایک نے تو لکھا کہ مَیں وزیر آباد میں آنے والا ہوں۔ جب وزیر آباد میں آیا تو اس علاقہ کی طرف بھی آؤں گا مگر وہ بھی نہ آیا۔ آخر نتیجہ یہ ہؤا کہ ملک ان کے ہاتھ سے نکل گیا، عزت برباد ہو گئی اور مسلمانوں کی حکومت کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ یہ بے غیرتی اوربے حسی کی انتہا نہیں تو اَور کیا ہے کہ چار بادشاہ ارادہ ہی کرتے رہے کہ وہ کسی وقت پنجاب کی طرف آئیں گے مگر ایک بادشاہ نے بھی اس ارادہ کو عملی جامہ نہ پہنایا۔ یہ بے حسی اور ملکی امور سے بے توجہی ہی تھی جس نے مسلمانوں کو برباد کیا اگر اس گری ہوئی حالت میں بھی مسلمان قربانی سے کام لیتے اور بے غیرتی کا بد ترین نمونہ نہ دکھاتے تو کسی کی مجال نہیں تھی کہ وہ پنجاب یا بنگال میں اپنا قدم بھی رکھ سکتا کیونکہ جو لوگ مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ ان کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ بے حِسیاں ہی ہیں جو ملکوں کو غلام بناتی ہیں اور یہ بے حسیاں ہی ہیں جو ملکوں کو تباہ و برباد کر دیا کرتی ہیں۔ پس میرے نزدیک ہندوستان پر قبضہ کرنے کا الزام انگریزوں پر لگانا کسی صورت میں درست نہیں ہو سکتا۔ یہ الزام خود ہندوستانیوں پر عائد ہوتا ہے کہ انہوں نے بے غیرتی سے کام لیا اور بجائے قربانی سے کام لینے کے غلام بننا منظور کر لیا۔ ہندوستان اس وقت ایک گرا ہؤا شکار تھا اور ایسے شکار پر قبضہ کر لینا اسلام نے جائز رکھا ہے چنانچہ رسول کریم ﷺ سے کسی شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی اونٹ جنگل میں آوارہ پھر رہا ہو تو آیا مَیں اس پر قبضہ کر لوں۔ آپ نے فرمایا تیرا اونٹ سے کیا کام؟ اس کی خوراک درختوں پر ہے، اس کا پانی اس کے پاس ہے۔(اونٹ کے اندر ایک تھیلی ہوتی ہے جس میں پانی جمع رہتا ہے) تیرا اس اونٹ سے کیا واسطہ اور تُو کون ہے کہ اس پر قبضہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ دوسرے شخص نے کہا یا رسول اللہ اگر جنگل میں مجھے کوئی آوارہ بکری مل جائے تو کیا مَیں اسے لے لوں۔ آپؐ نے فرمایا تُو اسے لے جا کیونکہ اگر تُو نے اسے نہ لیا تو کوئی بھیڑیا اسے کھا جائے گا۔ 3 تو دیکھو رسول کریم ﷺ نے آوارہ اونٹ پر قبضہ کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ اونٹ جنگل میں زندہ رہ سکتا ہے اور مالک کا حق ہے کہ اس کا انتظار کیا جائے لیکن آوارہ بکری کے متعلق آپ نے فرمایا کہ اس پر بے شک قبضہ کر لیا جائے کیونکہ اگر قبضہ نہیں کیا جائے تو بھیڑیا اسے کھا جائے گا۔ اگر ہندوستان میں بھی اونٹ جتنی طاقت ہوتی تو کسی کی مجال نہیں تھی کہ اس پر قبضہ کرتا مگر جب وہ بکری بن گیا تو محمد ﷺ کا یہ فیصلہ ہے کہ جو چاہے اسے لے لے۔ پس اگر ہندوستان کو انگریز نہ لیتے تو پرتگیز لے لیتے، پرتگیز نہ لیتے تو فرانسیسی لے لیتے، وہ نہ لیتے تو افغانستان اس پر قبضہ کر لیتا۔ افغانستان قبضہ نہ کرتا تو روس ہندوستان کو لے لیتا۔ بہرحال جس ملک میں اتنا شقاق ہو ،اتنا فساد ہو، اتنی لڑائیاں ہوں، اتنی بے غیرتی ہو، اتنی بے حسی ہو، اتنی جہالت ہو، اتنی بزدلی ہو، اتنی دون ہمتی ہو اور اس قدر علم سے دوری ہو وہ ملک کبھی آزاد نہیں رہ سکتا تھا اور کوئی نہ کوئی اسے ضرور غلام بنا لیتا جیسے مَیں نے بتایا ہے کہ عوام کا تو کیا ذکر ہے اس ملک کے بادشاہوں کی یہ حالت تھی کہ چار بادشاہوں کو برابر ہمارے آباء توجہ دلاتے رہے کہ پنجاب کی حالت خراب ہو رہی ہے ہم لڑ رہے ہیں مگر ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ اس فتنے کا کامیاب مقابلہ کر سکیں، ہماری امداد کے لئے مرکز سے فوج بھیجی جائے اور وہ چاروں بادشاہ یہ جواب دیتے ہیں کہ شاباش تم خوب مقابلہ کر رہے ہو۔ ہم بھی آنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی پنجاب میں نہیں آتا۔ یہاں تک کہ چاروں بادشاہ فوت ہو جاتے ہیں۔ یہ بےحسی کا ہی نتیجہ تھا ورنہ جن لوگوں میں حِس اور غیرت ہوتی ہے وہ اَور نہیں تو کم سے کم عزت سے جان دے دیتے ہیں اور ذلت کی زندگی برداشت نہیں کر سکتے مگر مسلمانوں نے اپنی بے حِسی کی وجہ سے سکھوں کے حملہ کو معمولی سمجھا اور اس کے ازالہ کے لئے کوئی کوشش نہ کی۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ وہ تمام شان و شوکت جو انہیں حاصل تھی جاتی رہی۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پردادا کا ہی واقعہ ہے کہ ایک سکھ رئیس ان سے ملنے کے لئے آیا اور اس نے آ کر کہا کہ مرزا صاحب کو اطلاع دی جائے کہ مَیں ان سے ملنا چاہتا ہوں ۔ مَیں نے خود یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ اس وقت کوٹھے پر تھے جب انہیں اطلاع ہوئی تو وہ ملاقات کے لئے نیچے اترے، پیچھے پیچھے وہ تھے اور آگے آگے ان کے بیٹے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کےد ادا تھے۔ گویا بیٹا پہلے اتر رہا تھا اور ان کے پیچھے ان کے والد چلے آ رہے تھے جو بہت بڑے بزرگ ہوئے ہیں حتّٰی کہ مَیں نے خود سکھوں سے سنا ہے کہ لڑائی میں انہیں گولی ماری جاتی تھی تو گولی ان پر اثر نہیں کرتی تھی۔ جب وہ نصف سیڑھیوں پر پہنچے تو نیچے سے انہیں آواز آئی سکھ رئیس ان کے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا واہ گورو جی کا خالصہ اس پر ان کے بیٹے نے بھی اسی رنگ میں جواب دے دیا کہ واہ گورو جی کا خالصہ۔ انہوں نے جب اپنے بیٹے کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے وہیں سیڑھیوں سے واپس لوٹ گئے اور فرمانے لگے سردار صاحب سے کہہ دو کہ میری طبیعت خراب ہو گئی ہے مَیں ان سے مل نہیں سکتا۔ پھر اپنے بیٹے کا ذکر کر کے فرمانے لگے کہ اس کے زمانہ میں ہماری ریاست جاتی رہے گی کیونکہ جس شخص کے اندر اتنی بے غیرتی پیدا ہو گئی ہے کہ اس نے اسلامی شعار کو اختیار نہیں کیا اور جب ایک سکھ نے واہ گورو جی کا خالصہ کہا تو اس نے بھی واہ گورو جی کا خالصہ کہہ دیا وہ ریاست کو کبھی سنبھال نہیں سکے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہؤا۔
    اب دیکھو ان کے اندر غیرت تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اتنے فقرہ کو بھی برداشت نہ کیا مگر دلّی کے بادشاہ متواتر چٹھیوں کے جواب میں یہی لکھتے چلے گئے کہ شاباش تم خوب کام کر رہے ہو، ہم بھی آنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر کسی کو اتنی توفیق نہ ملی کہ اپنے اس ارادہ کو پورا کر کے دکھاتا۔
    تو یہ حالت جب بھی کسی قوم میں پیدا ہو جاتی ہے وہ ذلیل ہو جاتی ہے، اس کی عزت مٹ جاتی ہے ، اس کا غلبہ جاتا رہتا ہے اور وہ تمام دنیا کی نگاہ میں حقیر ہو جاتی ہے لیکن جب کسی قوم میں غیرت پائی جاتی ہو تو وہ اس قسم کی ذلت کو بھی کبھی برداشت نہیں کیا کرتی۔ صحابہؓ کو دیکھو ان میں کس قسم کا جوش پایا جاتا تھااور یہ جوش صرف مردوں میں ہی نہیں تھا بلکہ عورتوں میں بھی پایا جاتا تھا۔ مجھے ہمیشہ ہی ان کے اخلاص اور جوش کی مثال میں خنساء کا واقعہ یاد آیا کرتا ہے۔ ایران کی ایک جنگ میں مسلمانوں پر ایرانیوں نے ہاتھیوں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں بہت سے مسلمان مارے گئے۔ مسلمانوں کی جس قدر کفار سے لڑائیاں ہوئی ہیں ان میں سے یہ پہلی لڑائی تھی جس میں مسلمان زیادہ مارے گئے۔ مَیں نے ابھی کہا تھا کہ لڑائیوں میں مسلمان اکثر محفوظ رہتے تھےاور اب مَیں نے کہا ہے کہ اس لڑائی میں مسلمان زیادہ مارے گئے۔ بظاہر یہ اختلاف نظر آتا ہے لیکن درحقیقت کوئی اختلاف نہیں کیونکہ واقعہ یہی ہے کہ کفار کے مقابلہ میں کثرت سے مسلمان محفوظ رہتے تھے اور ان میں سے بہت کم شہید ہوتے تھے لیکن شاذ و نادر کے طور پر کسی جنگ میں مسلمانوں کو بھی زیادہ نقصان ہؤا ہے۔ گو یہ نقصان مجموعی طور پر دیکھیں تو کفار کے مقابلہ میں پھر بھی کم ہؤا کرتا تھا۔ بہرحال اس جنگ میں مسلمانوں کو بڑا بھاری نقصان پہنچا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس جنگ کی خبروں کو سنا تو آپ گھبرا کر اس بات پر تیار ہو گئے کہ خود لڑائی کے میدان میں پہنچ کر لشکر کی کمان کریں مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو روکا اور کہا کہ خلیفہ کے لئے لڑائی کے میدان میں جانا درست نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ لڑائی پر چلے گئے تو لوگوں کو ہدایات کون دے گا۔ چنانچہ اس مشورہ پر حضرت عمرؓ نے لڑائی میں شامل ہونے کا ارادہ ترک کر دیا ورنہ گھبراہٹ میں آپ خود اس جنگ میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔
    اس جنگ کے بعد صحابہ نے دوبارہ اپنی طاقت کو جمع کیا اور ایرانیوں کے مقابلہ کے لئے تیار ہوئے مگر اس وقت بھی یہ حالت تھی کہ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد صرف 15 ہزار تھی اور ایرانیوں کے لشکر کی تعداد جن کا سپہ سالار رستم تھا ایک لاکھ تھی۔ اس جنگ میں ایرانیوں نے چونکہ حملہ کے وقت ہاتھیوں کو استعمال کیا تھا اس لئے مسلمان ہاتھیوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور ان میں سے اکثر مارے گئے۔ جیسے موجودہ جنگ میں بھی جاپانیوں نے برما میں ہاتھیوں کےذ ریعے حملے کئے تھے جس کا نتیجہ یہ ہؤا کہ آدمیوں اور گھوڑوں کے لئے ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا۔ پھر ایرانیوں کو یہ بھی فضیلت تھی کہ وہ تنخواہ دار سپاہی تھے اور ساری عمر چھاؤنیوں میں وہ ٹریننگ حاصل کرتے رہے تھے۔ اسی طرح ان کے پاس سامان نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے۔ غرض اس رنگ کی انہیں کئی فضیلتیں حاصل تھیں ۔ ادھر مسلمانوں کا لشکر صرف 15 ہزار تھا اور دشمن کا لشکر ایک لاکھ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس جنگ کی خبریں سن کر جلدی سے ایک آدمی شام کی طرف بھجوا دیا کہ وہاں جس لشکر کو روانہ کیا گیا ہے اس کا ایک حصہ ایران بھیج دیا جائے مگر وہاں سے بھی صرف 3 ہزار کے قریب سپاہی مل سکے۔ غرض مسلمانوں اور ایرانیوں میں شدید جنگ ہوئی اور متواتر دو دن تک ہوتی رہی تیسرے دن جنگ کا پہلو ایسا رنگ اختیار کر گیا کہ مسلمانوں نے سمجھ لیا اگر آج ہمیں فتح حاصل نہ ہوئی تو دشمن اپنی پوری طاقت سے مدینہ کی طرف بڑھنا شروع کر دے گا چنانچہ رات کو بڑے بڑے مسلمان بہادر اکٹھے ہوئے اور انہوں نے قسمیں کھائیں کہ ہم مر جائیں گے مگر دشمن کو مدینہ کی طرف بڑھنے نہیں دیں گے۔ اسی طرح بعضوں نے قسمیں کھائیں کہ ہم صرف ہاتھیوں کا مقابلہ کریں گے اوریا انہیں مار دیں گے یا خود مر جائیں گے۔ چنانچہ ایک پارٹی نے اقرار کیا کہ ہم صرف ہاتھیوں کا مقابلہ کریں گے ، ایک مر جائے گا تو دوسرا اس کی جگہ لے لے گا ، دوسرا مر جائے گا تو تیسرا اس کی جگہ لے لے گا۔ غرض اس رات کئی بہادروں کی پارٹیاں بنیں اور وہ آپس میں جنگ کے متعلق مشورے کرتے رہےاور قسمیں کھا کھا کر اقرار کرتے رہے کہ ہم مر جائیں گے مگر دشمن کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔ عین اسی وقت جہاں اورمسلمان بہادروں کی پارٹیاں اپنی اپنی مجالس میں اسلام کی برتری اور اس کی فوقیت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کا اقرار کر رہی تھیں وہاں ایک مجلس خنساء کے گھر میں بھی ہو رہی تھی۔ خنساء ایک بیوہ عورت تھی جس کی زندگی نہایت ہی تلخی میں گزری تھی۔ اس کا خاوند بہت بڑا شرابی اور جوئے باز تھا اورگو اس کے پاس بہت بڑی جائداد تھی مگر رفتہ رفتہ اس نے تمام جائداد جوئے اور شراب میں لٹا دی۔ جب اس کے حالات بہت خراب ہو گئے اور کھانے پینے کے لئے اس کے پاس کوئی پیسہ نہ رہا تو اس کی بیوی خنساء نے اس سے کہا چلو مَیں تمہیں اپنے بھائی کے پاس لے چلتی ہوں اور اس سے کچھ روپیہ مانگ کر لاتی ہوں مگر شرط یہ ہے کہ تم ان برے کاموں سے توبہ کرو اور اقرار کرو کہ آئندہ شراب اور جوئے کے قریب نہیں جاؤ گے۔ اس نے اقرار کیا اَور وہ اسے اپنے بھائی کے پاس لے گئی۔ بھائی نے اپنی بہن کو دیکھ کر اس کا بڑا احترام کیا اور اس کے آنے کی خوشی میں چالیس دن تک لوگوں کو دعوتیں دیتا رہا۔ اس کے بعد اس نے اپنی قوم کےر ؤساء کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ تم انصاف کے ساتھ میرے تمام مال میں سے آدھا مجھے دے دو اور آدھا میری بہن کو دے دو حالانکہ اس کی بہن اپنا حصہ لے چکی تھی انہوں نے ایسا ہی کیا اوراس کی بہن آدھا مال لے کر واپس آ گئی۔ سال ڈیڑھ سال تو خاوند نے جوئے اور شراب کی طرف توجہ نہ کی مگر اس کے بعد پھر وہ ہر وقت شراب میں مست رہنے لگا اورجؤا بھی اس نے شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ پھر تمام مال تباہ و برباد ہو گیا۔ جب پھر اسے فاقے آنے شروع ہوئے تو چاٹ تو اسے پڑ ہی چکی تھی اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ چلو تمہارے بھائی کے پاس چلیں تم اس سے پھر مدد طلب کرو۔ وہ کہنے لگی مجھے تو شرم آتی ہے مگر خیر تم جو کہتے ہو تو مَیں چلتی ہوں اور مَیں امید کرتی ہوں کہ میرا بھائی مجھ سے حسن سلوک ہی کرے گا۔ چنانچہ وہ پھر اپنے بھائی کے پاس گئی۔ اس کے بھائی نے پہلے سے بھی زیادہ اعزاز کےساتھ اس کا استقبال کیا اور پہلے سے زیادہ اس خوشی میں لوگوں کو چالیس دن تک دعوتیں دیں اَور ذرا بھی نہ جتایا کہ ایک دفعہ جو مَیں تمہیں مدد دے چکا ہوں اب اَور مدد کس طرح دوں۔ چالیس دن کے بعد اس نے پھر رؤساء سے کہا کہ میرا جتنا مال ہے وہ انصاف کے ساتھ آدھا آدھا مجھ میں اور میری بہن میں تقسیم کر دیا جائے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور خنساء پھر یہ مال لے کر واپس آ گئی ۔ کچھ عرصہ کے بعد پھر اس کے خاوند نے شراب اور جوئے میں مال کو ضائع کر دیا اور وہ پھر اپنے خاوند کے کہنے پر اسے ساتھ لے کر تیسری دفعہ مدد کے لئے اپنے بھائی کے پاس آئی۔ اس کے بھائی نے اَور بھی زیادہ عزت کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور چالیس دن تک لوگوں کو دعوتیں دیتا رہا اور پھر رؤساء سے کہا کہ میرا جتنا مال ہے وہ مجھ میں اور میری بہن میں نصف نصف تقسیم کر دیا جائے۔ اس کی بیوی کو یہ دیکھ کر سخت غصہ آیا اور اس نے کہا تجھے اپنی اولاد کا ذرا خیال نہیں تُو ایک شرابی اور جواری کے لئے اپنی تمام جائداد کو لٹا رہا ہے تجھے اپنا اور اپنی اولاد کا بھی تو خیال رکھنا چاہئے۔ جب بیوی نے اس سے لڑنا شروع کیا تو وہ کہنے لگا تیرا کیا ہے مَیں اگر مر گیا تو تُو اَور خاوند کر لے گی مجھ پر روئے گی تو میری بہن ہی روئے گی اس لئے مَیں اس کی امداد سے رُک نہیں سکتا چنانچہ اس نے پھر اپنی تمام جائداد کا نصف اپنی بہن کو دے دیا اور اسے نہایت عزت کے ساتھ رخصت کیا۔ اس کے تھوڑے عرصہ کے بعد اس کا خاوند مر گیا اس وقت وہ نوجوان تھی اور اس کے تین بچے تھے مگر اس نے خاوند کے مرنے کے بعد بڑی محنت کے ساتھ ان کو پالا اَور چونکہ اسے اپنے بھائی کا یہ فقرہ بھی پہنچ گیا تھا کہ مجھ پر اگر روئے گی تو میری بہن ہی روئے گی۔ اس لئے جب اس کا بھائی مرا تو اس نے ا س دن سے اپنے بھائی کے مرثیے کہنے شروع کر دئیے ۔ یہ مرثیے اتنے دردناک ہیں کہ آج تک عربی زبان میں تمام مرثیوں کے سرتاج سمجھے جاتے ہیں اوران کی زبان ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے کہ آج بھی عربی علم ادب کے شائقین ان مرثیوں کو پڑھتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
    خنساء کے ان مرثیوں کا اتنا اثر تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا انسان جو قسم قسم کے کاموں میں مشغول رہتا تھا ان مرثیوں کو سن کر بعض دفعہ محوِ حیرت ہو جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ کے ایک بھائی جن کا نام غالباً زید تھا وہ ایک جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان سے بڑی محبت تھی اور ہمیشہ اپنے بھائی کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دن خنساء ان کے پاس کسی کام کے لئے آئی تو فرمانے لگے خنساء مجھے اپنا کلام سناؤ۔ چنانچہ خنساء نے بعض مرثیے انہیں پڑھ کر سنائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مرثیے سن کر فرمایا۔ میرے دل میں کئی دفعہ حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش مجھے بھی شعر کہنا آتا اور مَیں بھی اپنے بھائی کے ایسے ہی مرثیے کہتا۔ خنساء اس وقت مسلمان ہو چکی تھی اور ایمان اس کے دل میں مضبوطی سے گڑ چکا تھا اس نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگی، عمرؓ آپ نے یہ کیا کہا اگر میرا بھائی اس طرح مارا جاتا جس طرح آپ کا بھائی مارا گیا ہے تو خدا کی قسم مَیں تو کبھی اس کا مرثیہ نہ کہتی۔ مَیں تو اس لئے مرثیے کہتی ہوں کہ میرا بھائی کفر کی حالت میں مرا اور اس نے میرے ساتھ بڑے بڑے احسان کئے تھے۔ مجھے افسوس آتا ہے کہ اس نے اپنی دنیا میری خاطر برباد کی اور دین اسے نصیب نہ ہؤا ورنہ میرا بھائی اگر آپ کے بھائی کی طرح کسی اسلامی جنگ میں شہید ہو کر مرتا تو مَیں تو کبھی اس کا مرثیہ نہ کہتی۔ تو اس عورت کے گھر میں بھی اس رات مجلس لگی ہوئی تھی اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو بلایا اور کہا اے میرے بیٹو! تمہیں پتہ ہے کہ تمہارے باپ کا کیا حال تھا۔ انہوں نے کہا اماں ہمیں سب کچھ معلوم ہے۔ اس نے کہا تم کو پتہ ہے کہ تمہارے باپ کے مرنے کے بعد مَیں نے تمہارے خاندان کی عزت کو قائم رکھا اور ہر قسم کی تکلیفیں اپنے نفس پر برداشت کیں مگر میری عزت پر یا تمہارے خاندان کی عزت پر کوئی حرف نہیں آیا۔ انہوں نے کہا ہم یہ سب باتیں جانتے ہیں۔ اس نے کہا تم جانتے ہو کہ مَیں نے تمہاری تربیت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ تمہیں ہر قسم کا آرام پہنچانے کی مَیں نے کوشش کی اور تمہاری خاطر مَیں نے کئی قسم کی تکالیف میں اپنے آپ کو ڈالا۔ کیا یہ باتیں صحیح ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا اماں آپ جو کچھ کہتی ہو بالکل درست ہے۔ پھر خنساء نے کہا ۔ اے میرے بچو! آج صبح اسلامی لشکر ایک ایسی لڑائی کے لئے جانے والا ہے جس کے نتیجہ میں ایک بہت بڑا نقصان یا بہت بڑا فائدہ اسلام کو پہنچنے والا ہے۔ مَیں تمہیں اپنے ان اعمال کا واسطہ دے کر جو مَیں نے تمہاری تربیت کے لئے کئے اور ان تکالیف کو یاد دلا کر جو مَیں نے تمہاری خاطر برداشت کیں تم سے یہ اقرار لینا چاہتی ہوں کہ تم اس جنگ میں یا مارے جاؤ گے یا فتح پا کر واپس لوٹو گے ورنہ (عرب کے محاورہ کے مطابق اس نے کہا) مَیں نے جو تم پر احسان کیا ہے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری نیک تربیت کی ہے قیامت کے دن نہیں بخشوں گی۔ ان بچوں نے ماں سے وعدہ کیا کہ ماں ایسا ہی ہو گا یا ہم سب مارے جائیں گے یا فتح پا کر واپس لوٹیں گے۔4 تو دیکھو وہ بھی ایک عورت تھی اور بیوہ عورت تھی جس نے یہ نمونہ دکھایا اس کے تین بچے تھے مگر اس نے تینوں بچوں سے یہ اقرار لے کر میدان جنگ میں بھجوا دیا کہ یا وہ مر جائیں گے یا فتح پا کر لوٹیں گے۔ اس نے اپنی ساری عمر دکھ میں کاٹی تھی اور طبعی طور پر وہ سمجھتی تھی کہ اب اس کے بیٹے کمائیں گے اور وہ آرام سے اپنی زندگی کے آخری دن گزار سکے گی مگر ایسے موقع پر جبکہ وہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں سے گزر رہی تھی اس نے اپنے تینوں بچوں کو قربان کرنے کے لئے جس جرأت اور دلیری کے ساتھ پیش کر دیا۔ کیا وہ عورت نہیں تھی یا کیا اس کے سینہ میں ماؤں والا دل نہیں تھا۔ اگر ماؤں والا دل اس کے سینے میں نہ ہوتا تو وہ اپنے بچوں کی پرورش اتنی تکالیف میں کس طرح کرتی۔ یہ سب کچھ تھا مگر پھر بھی اس نے بچوں کو قربان کرنے کے لئے پیش کر دیا، اس کے دل کی اس وقت جو کچھ کیفیت تھی اس کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ ادھر اس نے اپنے بچوں کو لڑائی کے میدان میں بھیجاادھر اکیلی جنگل میں نکل گئی اور بے اختیار سجدے میں گر کر اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اے میرے اللہ! مَیں نے اپنے تینوں بچے جو میری ساری عمر کی پونجی تھے۔ تیرے دین کے لئے قربان ہونے کو بھیج دئیے ہیں۔ اب ان کا کوئی رکھوالا نہیں اور وہ تینوں اس اقرار کے ساتھ گئے ہیں کہ ہم مر جائیں گے یا فتح پا کر واپس لوٹیں گے۔ اے خدا تجھ سے مَیں التجا کرتی ہوں کہ تُو ان کا رکھوالا ہو اور ان کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہؤا کہ شام تک لشکر اسلام کو فتح بھی نصیب ہو گئی اور اس کے بچے بھی زندہ میدان جنگ سے واپس آ گئے ۔ تو دیکھو وہ ایک عورت تھی مگر اس کے دل میں یقین اور ایمان تھا اوروہ جانتی تھی کہ اگر میرے بچے ذلت سے زندہ رہے تو یہ میرے لئے بھی ذلت کا موجب ہو گا اور ان کے لئے بھی ذلت کا موجب ہو گا لیکن اگر یہ عزت کےساتھ مر گئے تو یہ مریں گے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جائیں گے اور اگر عزت اور کامیابی اور فتح کے ساتھ واپس آ گئے تب بھی وہ تعریف کے قابل سمجھے جائیں گے۔
    غرض یہ قربانی کی روح ہی تھی جس نے مسلمانو ں کو دلیر اور بہادر بنا دیا اور جس کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر پر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر خدا تعالیٰ نے جنگ میں ہمارے لئے موت مقدر کی ہوئی ہے تو ہم عزت کی موت مریں گے اور اگر فتح مقدر کی ہوئی ہے تو ہم عزت کےساتھ فتح پا کر واپس لوٹیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ اِلَّا مَا شَاءَ اللہُ ہر میدان میں ان کا نقصان بہت کم ہوتا تھا اور دشمن کا نقصان بہت زیادہ ہوتا تھا۔ وہ چونکہ خدا تعالیٰ کی تقدیر پر خوش ہو گئے تھے اس لئے آسمان سے فرشتے ان کی مدد کے لئے نازل کئے جاتے تھے سوائے ان لوگوں کے جن کے لئے شہادت کی موت مقدر ہو چکی تھی اور وہ اس بات میں اتنے بے پرواہ ہو چکے تھے کہ انہیں اپنے عزیز سے عزیز رشتہ دار پر بھی خدا تعالیٰ کی خاطر تلوار چلانےسے کوئی چیز روک نہیں سکتی تھی۔ مجھے ہمیشہ ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اس بات کا لطف آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ باتوں باتوں میں بدر کی جنگ کا ذکر آ گیا۔ ان کے بڑے لڑکے پہلے کفار کے دین پر تھے اور بدر کی جنگ میں وہ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ بعد میں وہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ ابا جان فلاں موقع پر آپ فلاں پتھر کے پاس سے گزرے تھے۔ مَیں اس وقت پتھر کے پیچھے چھپ کر بیٹھا ہؤا تھا۔ مَیں تلوار لے کر حملہ کرنے کے لئے نکلا تو مَیں نے دیکھا کہ آپ جا رہے ہیں۔ مَیں نے اس وقت اپنی تلوار کو میان میں کر لیا اور مَیں نے اپنے دل میں کہا مَیں اپنے باپ پر کس طرح حملہ کروں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ بیٹا تمہاری قسمت میں ایمان مقدر تھا اس لئے مَیں نے تجھے اس وقت نہیں دیکھا ورنہ مَیں تجھے وہیں مار ڈالتا۔5 تو وہ لوگ اپنی موت یا اپنے رشتہ داروں کی موت کی کوئی حقیقت ہی نہیں سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہاں تقدیر کا سوال ہے اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ ایک انقلاب عظیم کے ذریعہ ظاہر ہو چکا ہے اور اس کا منشاء ہے کہ اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالو۔ پھر خدا جسے چاہے گا بچا لے گا چنانچہ انہوں نے خدائی تقدیر کوسمجھتے ہوئے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال دیا اور انہوں نے اس بات کی کوئی پرواہ نہ کی کہ ان کی جان جاتی ہے یا ان کے عزیزوں اور رشتہ داروں کی جانیں جاتی ہیں۔
    یہ موقع بھی ایک عظیم الشان انقلاب کا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کی پیشگوئیاں بتاتی ہیں کہ زمین اس کی قہری تجلیات سے ہلا دی جائے گی، عذاب پر عذاب آئے گا اور انقلاب پر انقلاب واقع ہو گا یہاں تک کہ انسانی قلوب میں دنیا کی محبت سرد ہو جائے گی اور اس کی جگہ خدا کی محبت لے لے گی۔ آج تم اپنے چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھو۔ کتنے لوگ ہیں جن کےد لوں میں خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔ کتنے ہیں جو اس پر سچا ایمان رکھتے ہیں، کتنے ہیں جو ہر وقت اس کی طرف متوجہ رہتے ہیں، نمازیں پڑھنا، چلّہ کشیاں کرنا (اور چلّہ کشیوں سے میری مراد پیروں والی چلّہ کشیاں نہیں بلکہ اعتکاف میں بیٹھنا اور مساجد میں ذکر الٰہی کرنا ہے) اسی طرح روزے رکھنا اور صدقہ و خیرات کرنا تو بہت دور کی بات ہے آج جب لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ سینما میں نہ جایا کریں تو انہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ان کی ماں کی موت کی خبر ان کو دی گئی ہے۔ قسم قسم کی عیاشیاں اور قسم قسم کے تعیّش کے سامان ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں اور لوگ ان کو چھوڑنا ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے جان دے دینا بلکہ مَیں نے خود کئی لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہمیں مر جانا منظور ہے مگر ہم سینما نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ بات ہمارے لئے بالکل ناقابل برداشت ہے اور ہم اس کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتے۔ اتنے تعیّش کے سامانوں کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کرنا اور اسی کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جانا ، کیا یہ کوئی معمولی بات ہے۔ جب تک دنیا خدا تعالیٰ کے عذابوں سے ہلا نہیں دی جائے گی اس وقت تک قلوب میں یہ تغیر پیدا نہیں ہو سکتااور خدا آج کل اسی غرض کے لئے زمین کو ہلا رہا اور باربار لوگوں کو جھنجوڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ہمیں بھی بیدار کر رہا ہے تاکہ ہم بھی قربانی کی روح اپنے اندر پیدا کریں اور بزدلی کو ترک کر کے جرأت اور بہادری سے کام لیں۔ پس ہم پر یہ خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ اس انقلاب کے ذریعہ ہماری جماعت کے اندر قربانی کی روح پیدا کر رہا ہے۔ ہر احمدی جو اس انقلاب سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ کو اس جنگ کے لئےتیار کرتا ہے جو روحانی طور پر دوسرے مذاہب سے احمدیت کو پیش آنے والی ہے۔
    تم مت سمجھو کہ احمدیت کی فتح اسی طرح ہو گی کہ ایک احمدی یہاں سے ہؤا اور ایک وہاں سے۔ یہ تو ویسی ہی جنگ ہے جیسے بڑی جنگ سے پہلے ہراول دستوں سے چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہو جایا کرتی ہیں، ان معمولی ہراول دستوں کی جنگوں کو بڑی جنگ سمجھنا غلطی ہے۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب احمدیت کو دوسرے تمام مذاہب کے مقابلہ میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑے گا۔ تب دنیا کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا اور تب دنیا کو معلوم ہو گا کہ کونسا مذہب اس کی نجات کے لئے ضروری ہے۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ یہ تلوار کی جنگ ہو گی مگر مَیں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ مضبوط دلوں کی جنگ ہو گی اور دلوں کی مضبوطی اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک انسان خطرات میں اپنے آپ کو ڈالنے کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔ پس ہر جگہ جہاں کوئی شخص ڈوب رہا ہو وہاں ایک احمدی کو سب سے پہلے کُودنا چاہئے اس لئے بھی کہ وہ مسلمان یا سکھ یا عیسائی یا ہندو اس کا ایک بھائی ہے جس کو بچانا اس کا فرض ہے اور اس لئے بھی کہ اس کے اندر جرأت اور بہادری پیدا ہو۔ ہر جگہ جہاں آگ لگ گئی ہو وہاں ایک احمدی کو اس آگ کے بجھانے کے لئے سب سے پہلے پہنچنا چاہئے۔ اس لئے بھی کہ جس کے گھر کو آگ لگی ہے وہ خواہ مسلمان ہے یا ہندو ہے یا سکھ ہے یا عیسائی ہے، بہرحال اس کا ایک بھائی ہے اور اس لئے بھی کہ اس کے نفس کو آگ میں کودنے کی مشق ہو اور جرأت اور دلیری اس کے اندر پیدا ہو۔ اسی طرح ہر جنگ جو وطن کی حفاظت کے لئے لڑی جائے اس میں ایک احمدی کو سب سے پہلے شامل ہونا چاہئے اس لئے بھی کہ وطن کا حق ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے جان دی جائے اور اس لئے بھی کہ اس کے اندر جرأت اوربہادری پیدا ہو اورجب شیطان کی جنگ خدا تعالیٰ کی فوج کے ساتھ ہو تو اس وقت وہ اس جنگ میں خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان کو قربان کرنے والا ہو۔ جو شخص آج اپنے آپ کو اس رنگ میں تیار نہیں کرتا، جو شخص آج اپنے نفس کی اس طرح تربیت نہیں کرتا، جو شخص آج اپنے اندر یہ جرأت اوردلیری پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کل اس پر کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ وہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جائے گا اور اس کی زبان کےد عوے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔
    مَیں امید کرتا ہوں کہ جماعت کا اکثر حصہ ایسا ہی ہو گا۔ چنانچہ پچھلے خطبہ کے بعد ہی جب مَیں اپنے گھر گیا تو مجھے نہایت ہی تعجب ہؤا ویسا ہی تعجب جیسے عبد الرحمان بن عوفؓ کو اس وقت ہؤا تھا جب ان کے پہلو میں ایک انصاری لڑکے نے کہنی مار کر کہا تھا کہ چچا وہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم ﷺ کو دکھ دیا کرتا تھا میرا جی چاہتا ہے کہ آج اس کو مار ڈالوں۔ 6مجھے بھی اس روز ویسا ہی تعجب ہؤا۔ مَیں خطبہ کے بعد گھر میں گیا تو ایک لڑکی جو نئی بیاہی ہوئی ہے اور جس کا ابھی رخصتانہ بھی نہیں ہؤا اور جو شہر کی رہنے والی ہے۔ زمینداروں میں سے نہیں جنہیں لڑائی کی عادت ہوتی ہے بلکہ ایک ایسے خاندان میں سے ہے جس میں شاید صدیوں میں بھی کوئی سپاہی نہ ہؤا ہو ۔ پھر وہ ایک ایسے شہر کی رہنے والی ہے جو تعیّش اور آرام کے سامانوں کے لحاظ سے ہندوستان میں مشہور ہے، ایسے شہر کی، اس قسم کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی لڑکی جس کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے اور جس کا رخصتانہ بھی نہیں ہؤا۔ میرے پاس آئی اور کہنے گی مَیں نے اپنے ابا کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں۔ مَیں حیران ہؤا کہ اس کے ابا تو بوڑھے ہیں اس نے اپنے باپ کو یہ کیا لکھا کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں چنانچہ مَیں نے اس سے کہا ۔ بی بی مَیں تمہاری بات کو نہیں سمجھا ، تمہارے باپ تو بوڑھے ہیں وہ فوج میں کس طرح بھرتی ہو سکتے ہیں؟ پھر اس نے شرمائی ہوئی آواز سے کہا مَیں نے اپنے ابا کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دے دیں۔ مَیں نے سمجھا کہ شاید اس نے یہ لکھا ہے کہ مجھے فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ مَیں نے پھر کہا کہ لڑکیاں تو فوج میں بھرتی نہیں ہوتیں۔ اس نے کہا آپ تو میری بات سمجھے ہی نہیں۔ مَیں نے اپنے ابّا کو لکھا ہے کہ انہیں اجازت دے دیں کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں۔ تب مجھے سمجھ آئی کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔ درحقیقت ہماری ہندوستانی عورت شرم کی وجہ سے اپنے خاوند کا نام نہیں لیا کرتی۔ اس نے بھی اپنے خاوند کا نام تو نہ لیا صرف یہ کہا کہ مَیں نے اپنے ابا کو لکھا ہے کہ وہ انہیں فوج میں بھرتی کرا دیں۔ مطلب یہ تھا کہ مَیں نے اپنے خاوند کے متعلق انہیں لکھا ہے کہ وہ انہیں بھرتی کرا دیں مگر چونکہ ہماری عورتیں شرم کے مارے اپنے خاوند کا نام نہیں لیتیں اس لئے اس کی بات سن کر پہلے تو مَیں سمجھا کہ شاید اس نے اپنے ابّا کو لکھا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں پھر جب مَیں نے کہا کہ وہ تو بوڑھے ہیں تو اس نے ایسا جواب دیا جس سے مَیں یہ سمجھا کہ شاید اس نے اپنے متعلق یہ لکھا ہے کہ مجھے فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دے دیں اورجب اس کے متعلق بھی مَیں نے کہا کہ عورتیں تو فوج میں بھرتی نہیں ہوتیں تب اس نے جو جواب دیا اس سے مَیں یہ سمجھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مَیں جس کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے، جس کا ابھی رخصتانہ بھی نہیں ہؤا، چاہتی ہوں کہ سلسلہ کی روایات کو قائم رکھنے کے لئے اپنے خاوند کو فوج میں بھجوا دوں اور اس کے متعلق مَیں نے اپنے ابا کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ انہیں فوج میں بھرتی کرا دیں۔ تب مَیں نے سمجھا کہ اگر ایک کمزور دل عورت اس قسم کی بہادری دکھا سکتی ہے اور وہ اپنے سہاگ کے آنے سے پہلے ہی اس کو لٹانے کے خطرہ میں ڈال سکتی ہے تو مجھے امید رکھنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے دوسرے افراد بھی ایسی ہی جرأت اور بہادری دکھائیں گے۔ پھر مجھے ان دوستوں نے جو بھرتی کے لئے باہر دورہ پر گئے ہوئے تھے سنایا کہ ایک عورت جس کا ایک ہی بچہ تھا وہ اسے لائی اورکہنے لگی۔ میرے اس بچہ کو احمدیہ کمپنی میں بھرتی کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے اسے کہا مائی تیرا ایک ہی بچہ ہے تُو اس کو بھرتی نہ کرا۔ جن کے دو دو ، تین تین بچے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنا ایک ایک بچہ بھرتی کرا دیں مگر اس نے اصرار کیا اور کہا کہ مَیں اسے ضرور بھجوانا چاہتی ہوں اورکہا کہ جب احمدیت کے فائدہ اور اس کی ترقی کے لئے خلیفة المسیح یہ تحریک کر رہے ہیں تو مَیں اس ثواب میں شامل ہونے سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ اسی طرح انہوں نے سنایا کہ ایک شخص کے دو لڑکے تھے۔ وہ ان دونوں لڑکوں کو بھرتی کرانے کے لئے لے آیا۔ ہم نے اسے کہا کہ ایک کو بھرتی کرا دو اور ایک کو رہنے دو مگر اس نے اصرار کیا کہ مَیں اس ثواب میں دونوں کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔
    تو دیکھو ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے قربانی کے یہ نمونے پیش کئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں یہ گروہ ایک خاصی تعداد میں ہے۔ ضلع گورداسپور سے ہی ایک ہزار کے قریب احمدی فوج میں جا چکے ہیں اور یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ جنگی ملکوں میں سے بھی گورداسپور کی جماعت کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنے لوگ فوج میں بھرتی نہیں ہوتے مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت نے ضلع گورداسپور سے ہی ایک ہزار احمدی فوج میں بھجوا دئے ہیں جو بہت بڑی خوشی کا موجب ہے لیکن اس کے مقابلہ میں مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ضلع سیالکوٹ کے دو گاؤں ایسے ہیں جہاں کے نوجوان تو فوج میں بھرتی ہونے کے لئے تیار ہو گئے مگر وہاں کے بوڑھوں، عہدیداروں اور عورتوں نے رو پیٹ کر انہیں بھرتی ہونے سے روک دیا اور کہا کہ ہم تمہیں نہیں جانے دیں گے۔ سیالکوٹ کو خدا تعالیٰ نے یہ شرف عطا کیا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة وا لسلام کی ابتدائی قیامگاہوں میں سے ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام فرمایا کرتے تھے کہ سیالکوٹ ہمیں دوسرے وطن کی طرح پیارا ہے۔ 7 پس سیالکوٹ کو یہ ایک اعزاز حاصل ہے مگر اس اعزاز کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو وہی جرأت اور بہادری اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے جس جرأت اور بہادری کو پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام تشریف لائے تھے۔ آپ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میرا راستہ خدا تعالیٰ نے پھولوں کی سیج پر نہیں بنایا بلکہ کانٹوں اور تلواروں پر بنایا ہے۔
    ’’اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو مجھ سے الگ ہو جائے۔ مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پُرخار بادیہ درپیش ہیں جن کو مَیں نے طے کرنا ہے۔ پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اٹھاتے ہیں۔‘‘8
    اس اعلان کے بعد جب کوئی شخص اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس اقرار کے ساتھ داخل ہوتا ہے کہ مَیں نے کانٹوں پر چلنا ہے پھولوں کی سیج پر نہیں چلنا اور یا پھر نَعُوْذُ بِاللہ اسے یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام نے ان الفاظ کے ذریعہ لوگوں کو دھوکا دیا ہے جیسے بعض دفعہ جب کوئی شخص خاص طور پر اچھا کھانا کھانا چاہتا ہو تو دوسروں سے کہہ دیتا ہے کہ میرے گھر میں تو دال دلیا پکا ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ سن کر چلے جائیں تو بعد میں وہ اکیلا اس کھانے کو کھا جائے۔ ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ ایک عورت سخت بخیل تھی وہ اپنے لئے تو خوب گھی ڈال کرکھچڑی پکا لیتی مگر بچوں کے آگے روکھی سوکھی روٹی رکھ دیتی۔ بچے کہتے کہ ماں تُو بھی ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو جا تو وہ کہہ دیتی ماں پئے چُلّھے وِچ تُسیں تے کھاؤ۔ یعنی ماں چولہے میں پڑے ، روٹی تو صرف تمہارے لئے ہے تم کھاؤ اور مجھے بھوکا ہی رہنے دو۔ وہ سمجھتے کہ ماں ہماری خاطر روکھی سوکھی روٹی بھی نہیں کھاتی اورجو کچھ ملتا ہے ہمیں کھلا دیتی ہے۔ اس طرح وہ ماں کے بہت ممنون رہتے مگر ایک دن ایک چالاک لڑکا کہنے لگا مَیں یہ بات مان نہیں سکتا کہ ہماری ماں روزانہ فاقے کیا کرتی ہے۔ ایک دن فاقہ ہو سکتا ہے، دو دن فاقہ ہو سکتا ہے، تین دن فاقہ ہو سکتا ہے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہماری ماں کبھی کھانا ہی نہ کھائے۔ آخر اسے خیال آیا کہ ہماری اماں جو روز کہتی ہے کہ ماں پئے چُلّہے وِچ۔ تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ چولہے میں کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس نے چولہے کی راکھ جو ہٹائی تو نیچے سے ایک قلفی9 نکلی۔ اس کا ڈھکنا اس نے کھول کر دیکھا تو اس میں کھچڑی رکھی ہوئی تھی اور اس میں خوب گھی پڑا ہؤا تھا۔ چنانچہ سب بچوں نے مل کر وہ کھچڑی کھا لی جب کھانے کا وقت آیا اور ان کی والدہ نے ان کے سامنے اپنی عادت کے مطابق روکھی سوکھی روٹی رکھ دی تو بچے کہنے لگے ماں آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھائیں۔ وہ کہنے لگی پُت ماں پئے چُلّہِے وِچ ۔ وہ کہنے لگے ماںچُلّہِے ولہے دے بھروسے تے نہ رہیں۔ آج چُلّہِے وچ پُت پئے گئے ہن۔ یعنی چولہے کے بھروسے پر نہ بیٹھی رہنا وہ چولہے والی چیز آج ہم کھا گئے ہیں۔ اگر اسی کے بھروسہ پر بیٹھی رہو گی تو یہ روکھی سوکھی روٹی بھی نہیں ملے گی۔
    پس یا تو نَعُوْذُ بِاللہِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا تھا کہ میرے راستہ میں بڑے بڑے ہولناک جنگل اور پُرخار بادیہ درپیش ہیں جن لوگوں کے نازک پَیر ہیں اور ان کانٹوں کو وہ برداشت نہیں کرسکتے وہ مجھ سے الگ ہو جائیں۔ اس وقت آپ کا یہ مطلب تھا کہ میرے ان الفاظ کو سن کر دوسرے لوگ الگ ہو جائیں گے اورمَیں اکیلا تمام نعمتوں کو لے لوں گا اور یا پھر ماننا پڑے گا کہ لوگوں نے خود دھوکا کھایا۔ انہیں بتا دیا گیا تھا کہ اس سلسلہ میں داخل ہو کر انہیں پھولوں کی سیج پر نہیں بلکہ کانٹوں پر چلنا پڑے گا مگر انہوں نے اس سلسلہ میں داخل ہو کر اپنا راستہ پھولوں کی سیج پر تلاش کرنا چاہا۔
    پس دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہےیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نَعُوْذُ بِاللہِ دھوکا دینے والا سمجھا جائے گا یا خود تمہیں اپنے آپ کو دھوکا خوردہ تسلیم کرنا پڑے گا۔ ان دو قصبات میں سے جو سیالکوٹ کے ضلع کے ہیں ایک قصبہ تو ایسا ہے کہ باوجود اس کے کہ وہاں دیر سے احمدیت داخل ہے چند عہدیداروں کی وجہ سے وہ قصبہ لڑائی اور فساد کا گڑھ بنا ہؤا ہے۔ مجھے ہمیشہ خیال آیا کرتا ہے کہ اگر پیغامیت کبھی سیالکوٹ میں داخل ہوئی تو وہ اس گاؤں کے ذریعہ داخل ہو گی اور وہاں کے لوگ ہی اپنے ایمان کی کمزوری کی وجہ سے اس فتنہ کی آگ کو ہوا دینے والے ہوں گے۔ مَیں اس گاؤں کے احمدی نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ وہ فوراً وہاں کے عہدیداروں کو ہٹا دیں اور خود ان کی جگہ کام کرنے لگ جائیں ورنہ ان کے ساتھ ہی کفر کی دیواروں کے نیچے وہ بھی دب کر ہلاک ہو جائیں گے۔ انہیں دین کے معاملہ میں اپنے باپ، اپنی ماں، اپنے چچا ، اپنے بھائی اور اپنے کسی عزیز سے عزیز رشتہ دار کی بھی پرواہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ خدا تعالیٰ کی آواز کو ان تمام رشتے داروں پر مقدم سمجھنا چاہئے۔ ہر وہ باپ جو تم میں اور تمہارے خدا میں حائل ہوتا ہے اسے ہٹا دو،ہر وہ ماں جو تم میں اور تمہارے خدا میں حائل ہوتی ہے اسے ہٹا دو، ہر وہ چچا جو تم میں اَور تمہارے خدا میں حائل ہوتا ہے اسے ہٹا دو، ہر وہ بھائی جو تم میں اور تمہارے خدا میں حائل ہوتا ہے اسے ہٹا دو، ہر وہ رشتہ دار جو تم میں اور تمہارے خدا میں حائل ہوتا ہے اسے ہٹا دو کیونکہ وہ باپ کی شکل میں ایک شیطان ہے جو تمہارے سامنے کھڑا ہے ، ماں کی شکل میں ایک شیطان ہے جو تمہارے سامنے کھڑی ہے، چچا کی شکل میں ایک شیطان ہے جو تمہارے سامنے کھڑا ہے، بھائی کی شکل میں ایک شیطان ہے جو تمہارے سامنے کھڑا ہے،تمہارے رشتہ دار کی شکل میں ایک شیطان ہے جو تمہارے سامنے کھڑا ہے۔ جو لوگ اس جرأت سے کام نہیں لے سکتے ان کا یہ دعویٰ کہ وہ مومن ہیں بالکل جھوٹا ہے۔ پس ہٹا دو ان عہدیداروں کو اور خود آگے بڑھ کر ان کی جگہ کام کرنا شروع کر دو اور یاد رکھو کہ اگر آج تمہارے دل میں کچھ ایمان موجود ہے او رتم نے اس سے کام نہ لیا تو یہ بوڑھے تمہیں ایک دن بے ایمان کر کے رہیں گے۔پس وہاں کے نوجوان ان کو عہدوں سے ہٹا دیں اور احمدیت کے اس جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں لے کر بلند کرنا شروع کر دیں جس جھنڈے کو ان کے باپ دادا اور دوسرے رشتے دار اپنی بزدلی اور ایمان کی کمزوری کی وجہ سے گرانا چاہتے ہیں۔ خصوصاً میں خدام الاحمدیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس قسم کی باتوں کی پرواہ نہ کریں اور خواہ انہیں کتنی ہی بے دردی کرنی پڑے اور کتنے ہی عزیز ترین وجودوں کو ہٹادینا پڑے ، انہیں ہٹا کر ان کی جگہ لے لیں اور احمدیت کے نام، اور اس کے کام کو قائم کرنا شرع کر دیں اور وہ فساد اور لڑائیاں جو ان کے باپ دادوں نے شروع کی ہوئی ہیں ان کو مٹا دیں۔ اگر شاگرد کو اپنے استاد کے خلاف قدم اٹھانا پڑتا ہے تو وہ استاد کے خلاف قدم اٹھائے ، اگر بیٹے کو اپنے باپ کے خلاف قدم اٹھانا پڑتا ہے تو وہ اپنے باپ کے خلاف قدم اٹھائے اور دین کے معاملہ میں کسی رشتہ داری ، کسی عزت اور کسی وجاہت کی پرواہ نہ کرے۔ یہ چیز خدام الاحمدیہ کے فرائض میں شامل ہے اور انہیں اس فرض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے۔ مَیں نے نوجوانوں کو اسی لئے منظم کیا ہے کہ اگر بوڑھے کسی وقت صداقت اور ہدایت کے خلاف قدم اٹھائیں تو نوجوان آگے بڑھیں اور ان بوڑھوں کو ہٹا کر ان کی جگہ کام کرنا شروع کر دیں اور مَیں نے انصار اللہ کے ذریعہ سے بوڑھوں کو اس لئے منظم کیا ہے کہ اگر کسی وقت نوجوان مغربی اثر سے متأثر ہونے لگ جائیں تو مائیں اپنے کلیجوں سے اور باپ اپنی گودیوں سے ایسے بچوں کو اتار کر پھینک دیں اور خود دین کا جھنڈا بلند کرنے لگ جائیں۔
    یہ دو منکر نکیر ہیں جو مَیں نے خدا تعالیٰ کے فضل پر امید رکھتے ہوئے جماعت کی حفاظت کے لئے بنائے ہیں اورمیری غرض ان سے یہ ہے کہ اگر کبھی بڑے آدمی فتنہ اور فساد میں ملوث ہو جائیں تو نوجوان آگے بڑھیں اور دین کا کام کرنا شروع کر دیں اوراگر کبھی نوجوان مغربیت کی رَو میں بہنے لگ جائیں تو بڑے لوگ آگے آئیں اور اپنے بیٹوں کو الگ کر دیں کیونکہ کوئی مومن باپ دین کے معاملہ میں اپنے بیٹوں کی پرواہ نہیں کر سکتا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے کہ انہوں نے یہ دونوں نظارے دکھائے۔ انہوں نے ایک طرف اپنے چچا کو جو ان کے باپ کی جگہ پر تھے خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دیا اور دوسری طرف اپنے بیٹے کو خدا تعالیٰ کے حکم پر قربان کرنے کے لئے پیش کر دیا۔ یہی حقیقی مومن کی شناخت کا طریق ہوتا ہے کہ اگر دین کے رستہ میں اس کا باپ کھڑا ہو تو وہ اسے ہٹا دیتا ہے اور اگر بیٹا کھڑا ہو تو وہ اسے ہٹا دیتا ہے۔ مَیں نے بغیر ان قصبات کا نام لئے اصولی رنگ میں ایک نصیحت کر دی ہے اور مَیں امید کرتا ہوں کہ سیالکوٹ کے لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا اشارہ کس کس گاؤں کی طرف ہے۔ یہ دو گاؤں ایسے ہیں جن میں کثرت سے احمدی ہیں اور سینکڑوں نوجوان ان میں پائے جاتے ہیں مگر باوجود احمدیوں کی اس کثرت کے ان میں شدید قسم کی بزدلی پیدا ہو گئی ہے جو ان کی احمدیت سے بے تعلقی کا ثبوت ہے۔ پس مَیں وہاں کے نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے کارکنوں کو نوٹس دے دیں کہ وہ اپنی حرکات سے باز آ جائیں اور اگر وہ اس نوٹس کے بعد بھی باز نہ آئیں تو ان کی جگہ خود سنبھال لیں اور یاد رکھیں کہ ان لوگوں کے ہٹنے سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ ان کا ایمان مضبوط ہو گا اور ان کا دین بھی سُدھر جائے گا اور ان کی دنیا بھی سُدھر جائے گی۔‘‘ (الفضل 24 جولائی 1942ء)
    1: يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ (آل عمران: 126)
    2: اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ (النساء: 79)
    3: بخاری کتاب اللقطة باب ضالة الابل و باب ضالة الغنم
    4: اسد الغابة جزء خامس صفحہ 443 مطبوعہ لندن 1377ھ
    5: مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 475۔ مطبوعہ بیروت 1978ء
    6: بخاری کتاب المغازی باب فَضْل مَنْ شَھِدَ بَدْرًا
    7: لیکچر سیالکوٹ۔ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 243
    8:انوار الاسلام روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 23-24
    9:قلفی: قفلی سے بگڑا ہوا لفظ یعنی سالن بند کرنے کا برتن


    23
    جماعت احمدیہ کا ہر فرد استقلال کے ساتھ زیادہ سے زیادہ قربانی کرتا جائے
    (فرمودہ 24 جولائی 1942ء )

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’یہ زمانہ جیسا کہ مَیں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے اوربہت سے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں نہایت ہی ابتلا ء اور ٹھوکر کا زمانہ ہے۔ لاکھوں آدمی بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کروڑوں آدمی ہر روز مصائب اور مشکلات کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انسانی زندگی جتنی ارزاں ان ایام میں ہوئی ہے شاید کبھی بھی اتنی ارزاں نہیں ہوئی اور ابھی تک خونریزی کا جوش لوگوں کے دماغ سے نہیں اترا بلکہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ جہاں ہمیں ان باتوں کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع اور دعا کی خواہش ہونی چاہئے وہاں اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ لڑائی ہمارے لئے ایک اَور رنگ میں بھی بہت بڑا سبق ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ ابتلاؤں اور لڑائیوں میں شہادت وغیرہ کی وجہ سے گھبرا جاتے ہیں اور کمزوری دکھانے لگتے ہیں مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو مصائب اور مشکلات ان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں ویسے ہی مصائب اور مشکلات کفار کو بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں اور جو قربانیاں ان کو دینی پڑتی ہیں ویسی قربانیاں کفار کو بھی دینی پڑتی ہیں۔ پھر فرمایا کہ ایک فرق ہے تم میں اور ان میں۔ اور وہ یہ کہ ان کی قربانیوں کے بدلہ میں کوئی ایسے انعام مقدر نہیں، موعود نہیں کہ جن کی خاطر ان کو قربانیاں کرنی پڑیں۔ لیکن تمہارے لئے تمہارے رب کی طرف سے ایسے انعامات کا وعدہ ہے کہ جن کا اندازہ بھی عقل انسانی نہیں لگا سکتی اور جن کی مثال کسی دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔ انسان ان کو جان ہی نہیں سکتا۔ فرمایا اگر کفّار بغیر کسی امید اور مقصد کے اور بغیر کسی انعام کے وعدہ کے یہ مصائب اور مشکلات برداشت کرتے اور قربانیاں کرتے ہیں تو تم کو جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے انعامات کے وعدے ہیں ان قربانیوں کے کرنے میں کیا ہچکچاہٹ ہو سکتی ہے۔
    ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی جنگوں میں ایک طرف ابو جہل اپنے گھر سے نکلا اور یہ جانتے ہوئے نکلا کہ لڑائی میں انسان مارا بھی جاتا ہے ، یہ جانتے ہوئے نکلا کہ لڑائی میں انسان ایسا زخمی بھی ہو سکتا ہے کہ ساری عمر اس کی چارپائی پر پڑے پڑے ہی کٹ جائے، یہ جانتے ہوئے نکلا کہ لڑائی میں انسان شدید زخمی ہو کر ناقابلِ برداشت درد میں مبتلا ہو سکتا ہے اوریہ جانتے ہوئے نکلا کہ لڑائی میں انسان قیدی بھی بن سکتا ہے اور باوجودیکہ وہ اپنی قوم کا سردار ہو اسے معمولی لوگوں کی غلامی بھی کرنی پڑتی ہے۔ پھر یہ جانتے ہوئے گھر سے نکلا کہ لڑائی میں انسان شکست بھی کھا جاتا ہے اور اسے اپنی قوم میں جو عزت اور سرداری حاصل ہے اسے کھو بیٹھتا ہے۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے ابو جہل گھر سے لڑائی کے لئے نکلا۔ ان صورتوں کے ساتھ ایک فتح کی صورت میں اسے کیا امید ہو سکتی تھی؟ سوائے اس کے کہ سرداری ذرا اور پکی ہو جائے اور کچھ عرصہ کے لئے دل خوش ہو جائے کہ مَیں نے اپنے دشمنوں کو مار دیا یا ان کو شکست دے دی ۔ مگر ان باقی صورتوں میں جو مَیں نے بیان کی ہیں اس کے لئے کیا امید ہو سکتی تھی۔ اگر وہ مر جاتا تو اسے کس بدلہ کی امید ہو سکتی تھی، ساری عمر کے لئے نکما ہو جانے کی صورت میں اسے کس انعام کی امید ہو سکتی تھی، غلام ہو جانے کی صورت میں اسے کس خوشی کی توقع ہو سکتی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت ابو بکرؓ بھی مدینہ سے لڑائی کے لئے نکلے کہ انسان لڑائی میں مارا بھی جاتا ہے، یہ جانتے ہوئے نکلے کہ انسان لڑائی میں ایسا زخمی بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے ناکارہ ہو جائے، یہ جانتے ہوئے نکلے کہ لڑائی میں انسان شدید زخمی بھی ہو سکتا ہے اور اس طرح مدتوں کے لئے وہ تکلیف کا شکار ہو سکتا ہے، یہ جانتے ہوئے نکلے کہ لڑائی میں انسان غلام بھی بن جاتا ہےاور اس طرح اسے دوسروں کی خدمت کرنی پڑتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے نکلے کہ لڑائی میں شکست بھی ہو سکتی ہے اور انسان اپنی قوم میں زیادہ عزت حاصل کرنے کی بجائے رسوا ہو جاتا ہے اور ذلیل ہو جاتا ہے لیکن ان سب باتوں کے باوجود ابوجہل اور حضرت ابو بکرؓ کے لڑائی میں جانے میں فرق تھا۔ جہاں ابو جہل یہ سمجھتا تھا کہ اگر مَیں لڑائی میں مارا گیا تو حیات کا خاتمہ ہو جائے گا اور میرے جسم کے ساتھ ہی میری روح بھی فنا ہو جائے گی۔ وہاں حضرت ابو بکرؓ جانتے تھے کہ اگر مَیں لڑائی میں مارا گیا تو خدا تعالیٰ کی رحمت فرشتوں کے ساتھ استقبال کے لئے آئے گی اور میری روح اس فانی جسم اور کمزور زندگی کو چھوڑ کر ایسی زندگی حاصل کرے گی جس کی وسعتوں کا کوئی اندازہ نہیں اور انعامات کی کوئی حدبندی نہیں۔ جہاں ابو جہل جانتا تھا کہ اگر لڑائی میں مارا گیا تو بیوی، بچوں، بہنوں، بھائیوں اور رشتہ داروں سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو جاؤں گا۔ وہاں حضرت ابو بکرؓ جانتے تھے کہ اگر مَیں مارا گیا تو اپنے باپ دادا حضرت ابراہیم ؑ، حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کے پاس جاؤں گا۔ جہاں ابو جہل کو جدائی نظر آتی تھی وہاں حضرت ابو بکرؓ کو وصال سامنے دکھائی دیتا تھا۔ جہاں ابو جہل کے سامنے اگر یہ بات تھی کہ مَیں ایسا زخمی ہو سکتا ہوں کہ چارپائی پر ہی پڑے پڑے جان دینی پڑے، زندگی کا سکھ باقی نہ رہے اور ہمیشہ کے لئے بے کار ہو جاؤں۔ وہاں حضرت ابو بکرؓ بھی گو یہ سمجھتے تھے کہ ہو سکتا ہے لڑائی میں ایسا زخمی ہو جاؤں کہ چارپائی پر ہی پڑے پرے جان دینی پڑے مگر وہ یہ بھی جانتے تھے کہ مَیں جسم کے بیکار ہونے سے بےکار نہیں ہو سکتا بلکہ میرا ایسے خدا سے واسطہ ہےجس کا جسم کے اعمال سے تعلق نہیں بلکہ قلب سے ہے۔ اس خدا کے ساتھ جس کے حکم کے ماتحت رسول کریم ﷺ نے ایک جنگ کے موقع پر اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس جنگ میں جو تکالیف تمہیں اٹھانی پڑ رہی ہیں ان پر فخر نہ کرو اور یہ نہ سمجھو کہ تم نے کوئی بڑا کام کیا ہے۔ مدینہ میں بھی ایسے لوگ ہیں کہ جنہیں وہی ثواب پہنچتا ہے جو تمہیں پہنچتا ہے۔ تم تکلیف کی کوئی وادی ایسی نہیں گزرتے کہ جوثواب تمہیں ملتا ہے انہیں نہ ملتا ہو اور کوئی مشکل ایسی نہیں کہ جس کا ثواب تمہیں پہنچتا ہو اور انہیں نہ پہنچتا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللہ! اس کا کیا مطلب ہے؟ تکالیف تو ہم اٹھاتے ہیں اور ثواب ان کو بھی مل جاتا ہے حالانکہ وہ گھروں میں بیٹھے ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو ہر تکلیف دین کی راہ میں اٹھانے کی خواہش رکھتے ہیں مگر معذوری کی وجہ سے مجبور ہیں۔ ان کی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہوئے مر جانے کی خواہش ایسی ہی زبردست ہے جیسی تمہاری مگر وہ اندھے، لُولے یا لنگڑے ہیں اس وجہ سے جنگ میں شریک نہیں ہو سکتے۔ وہ امنگ جو تمہارے دلوں میں پیدا ہوتی ہے ان کے دلوں میں بھی پیدا ہوتی ہے مگر وہ معذوری کی وجہ سے تمہارے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے۔ اس لئے جو ثواب تمہیں جسمانی تکالیف اٹھانے کی وجہ سے ملتا ہے وہ ان کو روحانی تکلیف کی وجہ سے مل جاتا ہے۔ 1 مگر ابو جہل کو ناکارہ ہو جانے کی صورت میں ایسی کوئی امید کہاں ہو سکتی تھی۔ حضرت ابو بکرؓ جانتے تھے کہ اگر لڑائی میں ایسے زخمی ہو گئے کہ تمام عمر چارپائی پر ہی پڑے رہیں تو بھی ان کے لئے روحانی اور قلبی کیفیات کا ذریعہ ایک ایسا ذریعہ ہے کہ جس سے وہ زندگی کو زیادہ سے زیادہ کارآمد اور مفید بنا لیں گے۔ اگر ابو جہل یہ سمجھتا تھا کہ لڑائی میں شکست بھی ہو سکتی ہے تو ابو بکرؓ بھی یہ خیال کر سکتےتھے مگر فرق دونوں میں یہ ہے کہ ابو جہل سمجھتا تھا کہ مجھے بھی شکست ہو سکتی ہے لیکن ابو بکرؓ کامل مومن تھے اور اس لئے وہ کبھی یہ مان ہی نہ سکتے تھے کہ مجھے بھی شکست ہو سکتی ہے۔ مومن جانتا ہے کہ میرے لے دو ہی صورتیں ہیں یعنی یا یہ کہ مر کر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کروں اور یا پھر فتح حاصل کروں۔ حضرت ابو بکرؓ لڑائی میں شکست کے تو قائل تھے مگر مومن کی شکست کے نہیں ہاں وہ مومن کی شہادت کے قائل تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مومن کبھی میدان سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ وہ یا تو فتح کے قائل تھے اور یا شہادت کے اور ایسے لوگ اگر مارے بھی جائیں تو جس طرح ان کی زندگیاں دوسرے لوگوں کے قلوب میں امنگوں کو تیز کرنے کا موجب ہوتی ہیں اور دوسروں کے لئے شمع راہ ہوتی ہیں اسی طرح وہ مر کر بھی انہی باتوں کا سامان کر دیتے ہیں۔ صحابہؓ کو اتفاقی حوادث کے سوا کبھی شکست نہیں ہوئی۔ بے شک احد میں انہیں پیچھے ہٹنا پڑا مگر شکست نہیں ہوئی بلکہ پیچھے ہٹ کر بھی وہ میدان جنگ کے اردگرد ہی منڈلاتے رہے۔ دنیا میں ان کے سوا اَور کون سی قوم پیش کی جا سکتی ہے جسے بظاہر شکست ہو جائے اور پھر بھی وہ میدان سے نہ ہٹے۔ حنین میں بھی انہیں ایک اتفاقی حادثہ پیش آیا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ تقدیر کے طور پر کچھ عرصہ کے لئے ان کے قدم اکھڑ گئے مگر چند منٹ کے بعد ہی وہ پھر سنبھل گئے اورواپس میدان میں آ پہنچے اس کے سوا کوئی اَور مثال نہیں کہ مسلمان میدان سے ہٹے ہوں۔ قرآن کریم میں ہے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مومن وہی ہے جو میدانِ جنگ سے نہیں ہٹتا سوائے حملہ کرنے کی غرض سے یا بڑے لشکر سے ملنے کے لئے، شکست کھا کر وہ پیچھے نہیں ہٹتا۔2 اور شکست کھانے والا مومن ہوتا ہی نہیں۔ حملہ کرنے کے لئے ہٹنا تو جنگ ہی کا حصہ ہے۔ ایک شخص دیکھتا ہے کہ اس جگہ کھڑے ہو کر میرا لڑنا اتنا مفید نہیں ہو سکتا جتنا فلاں جگہ پہنچ کر لڑنا مفید ہو سکتا ہے وہاں جا کر مَیں دشمن کو کمزور کر سکتا ہوں پس اس غرض سے وہ اگر پیچھے ہٹتا ہے تو یہ جائز ہے۔ اسی طرح بڑے لشکر سے ملنے کے لئے ہٹنا بھی جائز ہے اور وہ اس طرح کہ اصل لشکر سے آگے ہراول دستے ہوتے ہیں پہلے زمانوں میں بھی ہوتے تھے اور آجکل بھی۔ ان کے لئے یہ حکم نہیں ہوتا کہ وہ دشمن سے لڑیں بلکہ ان کی ڈیوٹی صرف یہ ہوتی ہے کہ دشمن کی کمزوریاں معلوم کریں اور اصل فوج کو بتائیں وہ بیس تیس پچاس یا سَو دو سَو آدمی ہوتے ہیں جو اس بات کا اندازہ کرتے ہیں کہ کس جگہ سے دشمن پر حملہ کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔ وہ یہ پتہ لے کر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فلاں جگہ دشمن کی پیدل فوج زیادہ ہے، فلاں جگہ سوار زیادہ ہیں، فلاں جگہ ٹینک اور فلاں جگہ توپیں زیادہ ہیں اورکمانڈر انچیف ان سب اطلاعات کو ملا کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کیا وہاں حملہ کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے جہاں پیدل فوج زیادہ ہے یا وہاں مفید ہو سکتا ہے جہاں سوار ہیں۔ وہاں مفید ہو سکتا ہے جہاں توپیں ہیں یا وہاں مفید ہو سکتا ہے جہاں ٹینک ہیں۔ ہراول دستہ کی فراہم کردہ اطلاعات سے وہ پہلے ایک نقشۂ جنگ تیار کرے گا اور پھر اس کے ماتحت حملہ کرے گا اس لئے ہراول دستوں کا پیچھے ہٹنا شکست نہیں کہلا سکتا بلکہ ضروری ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سوائے ان دو صورتوں کے اور کوئی صورت مومن کے لئے میدان سے پیچھے ہٹنے کی نہیں اورجو ہٹتا ہے وہ مومن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نقشہ کھینچا ہے ہر زمانے کے کافروں اور مومنوں کے لئے ۔ وہ مومنوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ جنگ میں کافر بھی مرتے ہیں اور تم بھی مرتے ہو، وہ بھی بھوکے رہتے ہیں اورتم بھی رہتے ہو، وہ بھی قیدی بنتے ہیں اور تم بھی ہو سکتے ہو، جو مصائب اور مشکلات تم اٹھاتے ہووہی وہ بھی اٹھاتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو دونوں میں کوئی فرق نہیں مگر فرق ہے بھی اور وہ یہ کہ تمہارے لئے تمہارے خدا نے ایسے وعدے کر رکھے ہیں کہ جن کی موجودگی میں تم خدا تعالیٰ کے رستہ میں موت کو انعام سمجھتے ہو اور سزا یا تکلیف نہیں سمجھتے مگر کافروں کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا وعدہ نہیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک صحابی لڑائی میں شہید ہو گئے۔ آپ نے ان کے لڑکے کو دیکھا کہ چہرہ پر غم کے آثار تھے۔ آپؐ نے ان کو بلایا اور فرمایا تمہیں اپنے باپ کی شہادت کا غم ہے۔ تم کو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ شہادت کے بعد تمہارے باپ سے اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک کیا تو یہ سب غم فوراً ہلکا ہو جائے۔ تمہارے باپ کی روح کو اللہ تعالیٰ نے سامنے بلایا اور فرمایا کہ مَیں تم سے اتنا خوش ہوں کہ تم مجھ سے جو کچھ مانگو مَیں دوں گا۔ تمہارے باپ نے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ مَیں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ تُو مجھے پھر زندہ کرے اورمَیں پھر اسلام کے لئے لڑ کر مارا جاؤں اور تُو پھر مجھے زندہ کرے اور مَیں پھر مارا جاؤں اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہے تُو مجھے بار بار زندہ کرتا جائے اور مَیں ہر بار اسلام کے لئے لڑتا ہؤا مارا جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر مَیں اپنی جان کی قسم کھا کر یہ سنت نہ قائم کر چکا ہوتا کہ مُردوں کو اس دنیا میں واپس نہیں کروں گا تو مَیں تمہیں ضرور زندہ کر دیتا مگر میرا وعدہ ہے کہ مُردے اس دنیا میں واپس نہ جا سکیں گے۔ 3 اس حدیث کو ہماری جماعت اس بات کی دلیل کے طور پر ہمیشہ استعمال کرتی ہے کہ حقیقی مُردےاس دنیا میں واپس نہیں آ سکتے مگر اس سے ایک اَور سبق یہ ملتا ہے کہ مومن خدا تعالیٰ کے لئے جو تکالیف اٹھاتے ہیں وہ ان پر گراں نہیں گزرتیں بلکہ وہ ان کو بار بار اٹھانا چاہتے ہیں۔ پس ہمیں اس لڑائی سے یہ سبق بھی حاصل کرنا چاہئے کہ لڑنے والی قوموں کے افراد چھوٹی چھوٹی خواہشات کے لئے یہ تکالیف برداشت کرتے ہیں۔ ستمبر 1939ء کے شروع میں یہ لڑائی شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد ستمبر 1940ء آیا۔ پھر ستمبر 1941ء اور اب ستمبر 1942ء سر پر کھڑا ہے۔ تین سال ہونے کو آئے ہیں اور جو لوگ اس میں حصہ لے رہے ہیں وہ متواتر تین سال سے دن رات تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ توپوں کے گولوں اور بموں سے ان کے کانوں کے پَردے پھٹ رہے ہوں گے، ان کو زمین پر سونا پڑتا ہے، بوجھ اٹھانے پڑتے ہیں، راتوں کوجاگنا پڑتا ہے، بھوکا رہنا پڑتا ہے، اپنی جانوں کو ہر قسم کے خطرات میں ڈالنا پڑتا ہے مگر وہ برابر ان تکالیف میں چلے جاتے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ مومنوں کی قربانیاں ان لوگوں کے مقابل پر کتنی وسیع ہونی چاہئیں۔ اگر کافر دنیوی اغراض کے لئے چار پانچ یا سات سال تک مسلسل اپنے آپ کو خطرات میں ڈال سکتے ہیں تو مومن مسلسل ستّر سال تک بھی اپنے آپ کو خطرات میں ڈالتے جائیں تو کم ہے۔
    ہماری جماعت کے لئے یہ سوال اَور بھی اہم ہے۔ ہندوستانی استقلال کے ساتھ مسلسل کام نہیں کر سکتے۔ بعض ڈاکٹر اسے ملیریا کا نتیجہ بتاتے ہیں کہ اس کے اثر کی وجہ سے انسان جلدی تھک جاتا ہے۔ یہاں ایک ہی میدانِ جنگ میں لڑائی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ مگر یورپ کی لڑائیاں کتنی لمبی چلتی جاتی ہیں۔ سالہا سال تک ایک لڑائی جاری رہتی ہے اور کسی کو یہ خیال تک نہیں آتا اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ اب چھ ماہ گزر گئے ہیں، اب سال گزر گیا ہے کہ ہمارے رشتہ دار میدان جنگ میں ہیں۔ وہاں کھانے کی تکلیف ان کو برداشت کرنی پڑ رہی ہے، کپڑے کافی نہیں مل سکتے، سفر میں متواتر رہنا پڑتا ہے اب لڑائی ختم ہونی چاہئے۔ مگر ہمارے ملک کا طریق یہ ہے کہ چھ ماہ یا سال کے بعد لوگ گھبرا کر سست ہو جاتے ہیں۔ مَیں نے خود اپنی جماعت میں دیکھا ہے۔ بڑی قربانی کرنے والی جماعت ہے مگر بہت کم عہدہ دار ہیں جو چھ سات یا آٹھ دس سال تک متواتر محنت سےکام کرتے چلے جائیں۔ ایک سیکرٹری بڑا اچھا کام کرتا ہے مگر چار پانچ سال کے بعد ہی وہ تھکا ہؤا معلوم ہونے لگتا ہے یہی امارت اور صدارت کا حال ہے۔ ایک شخص امیر یا پریذیڈنٹ مقرر ہو کر بڑا ا چھا کام کرتا ہے مگر 5،7 سال کے بعد غفلت اور سُستی شروع ہو جاتی ہے۔ نہ معلوم یہ عادت کا نتیجہ ہے یا جیسا کہ بعض ڈاکٹروں کی رائے ہے ملیریا کا اثر ہے۔
    بہرحال ہمارے ملک میں استقلال کےساتھ لمبے عرصہ تک قربانی کی عادت نہیں مگر ہماری جماعت کو سوچنا چاہئے کہ جن قوموں سے اس کا مقابلہ ہے ان میں یہ خوبی موجود ہے اور جب تک ہماری جماعت اس کمزوری کو دور نہ کرے کسی صورت میں وہ فتح اور غلبہ حاصل نہیں کر سکتی۔ وہ دنیا پر کبھی غالب نہیں آ سکتی جب تک کہ اس عادت کو درست نہ کرے اور جب تک ہر فرد ایسا نہ ہو کہ استقلال کے ساتھ قربانی کرتا چلا جائے اور ہر روز وہ پہلے روز سے زیادہ قربانی کے لئے اپنے آپ کو تیار پائے۔
    خوب یاد رکھو کہ ہم نے ایسے دشمن کو زیر کرنا ہے جو استقلال کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہے اور ہم اسے اسی صورت میں مغلوب کر سکتے ہیں کہ جب دلوں میں ایسا ایمان پیدا ہو جائے کہ یہ قربانیاں جو وہ کر رہا ہے ہمیں بہت ہی کم اور حقیر نظر آئیں ۔ اگر ایک جرمن کو موت ایک پر کے برابر ہلکی نظر آتی ہو تو ہمیں اس پر کے ریشہ سے بھی ہلکی نظر آئے۔ اگر یہ تکالیف ایک جرمن کو ایک پر کے برابر ہلکی نظر آ رہی ہوں تو ہمارے دل کا احساس ان کو پر کے ریشہ سے بھی ہلکا بتا رہا ہو۔ یہ ضروری چیز یں ہیں۔ جب تک یہ ہم میں پیدا نہ ہوں ہم دنیا پر غالب نہیں آ سکتے۔ کچھ روز کام کر کے تھکان محسوس کرنے کے معنے یہ ہیں کہ کچھ عرصہ شیطان کا مقابلہ کر کے اس کے لئے دروازے کھول دیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا پچھلا کِیا کرایا بھی رائیگاں چلا جائے۔ اس کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص دو گھنٹہ تک تو چوروں کا مقابلہ کرے مگر پھر مکان کا دروازہ کھول دے۔ اس کے لئے تو یہی بہتر تھا کہ پہلے ہی کھول دیتا تا خوامخواہ مار نہ کھاتا اور زخمی نہ ہوتا۔ جو قوم کچھ عرصہ کے بعد تھک کر ہتھیار ڈال دیتی ہے وہ بے وقوف ہے۔ اس کے لئے توپہلے ہی مرحلہ پر ہتھیار ڈال دینا مناسب تھا۔ ہتھیار اٹھانے کا حق اسے ہی ہے جو آخر دم تک مقابلہ کرے اور ان کے لئے تیار ہو ۔
    مسلمانوں میں آج تک جتنی بھی تحریکات شروع ہوئیں وہ اسی طرح ختم ہو گئیں۔ جب خلافت کی تحریک شروع ہوئی تو اتنا جوش تھا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا سارا ہندوستان ملک سے باہر چلا جائے گا اور اس میں شبہ نہیں کہ بعض لوگوں نے بڑی بڑی قربانیاں بھی کیں۔ اچھے اچھے عہدوں والوں نے نوکریاں چھوڑ دیں اور ہجرت کر کے چلے گئے۔ انہوں نے اپنی بڑی بڑی قیمتی جائدادیں اونے پونے کر کے بیچ ڈالیں اور یہاں سے چلے گئے مگر پانچ چھ ماہ کے بعد ہی یہ سار اجوش مٹ گیا اور آج ان مہاجرین کو کوئی جانتا بھی نہیں۔ جو لوگ باہر گئے ان میں سے کچھ تو دھکّے کھا کر واپس آ گئے ،کچھ مر گئے اور کچھ ایسے ہیں جو ابھی تک اردگرد کے ملکوں میں پھر رہے ہیں اور اب کہیں بھی وہ جوشِ ہجرت نظر نہیں آتا۔ اس کے بعد حال میں مسجد شہید گنج کی تحریک شروع ہوئی اور مسلمانوں میں ایسا جوش تھا کہ معلوم ہوتا تھا مسلمان پنجاب کے چپہ چپہ پر شہید گنج بنا دیں گے اور یہ نظر آتا تھا کہ پہلے تو شہید گنج نام اس وجہ سے تھا کہ بقول سکھوں کے یہاں بعض سکھوں نے جانیں دے دی تھیں مگر اب مسلمان اسے شہید گنج بنائیں گے اور لاکھوں مسلمانوں کا خون اس کی دیواروں پر چھینٹے دے گا مگر آج دیکھ لو نہ وہ تحریک ہے اور نہ کسی کو وہ یاد ہے۔ سکھ آج بھی اسی طرح اس پر قابض ہیں اور وہ لوگ جو سارے پنجاب میں شور مچا رہے تھے ان کا نام و نشان بھی کہیں نظر نہیں آتا ۔ اگر مسلمان کسی ایک تحریک کے متعلق بھی استقلال سے کام لیتے تو آج ہندوستان میں ان کی حالت بہت بہتر ہوتی ۔ اگر خلافت کی تحریک کچھ عرصہ کے بعد دب نہ جاتی مگر بڑھتی ہی چلی جاتی تو مسلمانوں کے حق میں نتیجہ مفید نکلتا اور جو لوگ باہر گئے تھے و ہ واپس آ کر یہاں عزت کی زندگی بسر کرتے۔ اسی طرح شہید گنج کی تحریک خواہ غلط تھی یا ٹھیک۔ اگر مسلمان قربانیاں کرتے جاتے تو آج کسی کو ان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ ہوتی۔
    یاد رکھو کہ قربانی دل دہلا دینے والاشور نہیں بلکہ استقلال کے ساتھ قربانیاں پیش کرتے جانا اصل چیز ہے۔ یورپ کے لوگ اس بات کو جانتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اس لئے انہیں عزت اور عروج حاصل ہے۔ صدیاں گزر جاتی ہیں مگر ان کے استقلال میں فرق نہیں آتا۔ افراد کے ساتھ ان کے مقاصد کا تعلق نہیں بلکہ قوم کے ساتھ مقاصد کا تعلق ہوتا ہے۔ صلیبی جنگوں کو دیکھو یورپ کی قومیں پاگلوں کی طرح شام پر حملے کرتی رہیں اور ستّر سال تک لڑتی رہیں مگر کامیاب نہ ہو سکیں۔ اس کے بعد مسلمانوں نے تو یہ سمجھ لیا کہ انہوں نے دشمن کو شکست دے دی اور گھروں میں غافل ہو کر سو گئے لیکن اہل یورپ کے دلوں میں سات سَو سال تک بھی وہ چنگاری سلگتی رہی اور آخر اس صدی میں انگریزوں نے وہاں قبضہ کر ہی لیا۔ وہی میدان جس میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے فرانس کے بادشاہ فلپ اور انگلستان کے بادشاہ رچرڈ کو شکستیں دی تھیں اس پر آج ان کا قبضہ ہے بلکہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی قبر پر بھی انہی لوگوں کا قبضہ ہے۔ اگر وہی چنگاری مسلمانوں کے دل میں بھی سلگتی رہتی اوروہ ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھتے کہ ان کے ملک پر قبضہ کرنا اہل یورپ کا منشا ء ہے اورہر مسلمان کے دل میں یہ عزم ہوتا کہ یہ قبضہ نہیں ہونے دینا تو یہ کبھی نہ ہو سکتا اور مسلمانوں کو یہ ذلت پر ذلت نہ اٹھانی پڑتی۔ مگر افسوس کہ مسلمان ایک لڑائی کے بعد غافل ہو گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ہم نے دشمن کو شکست دے دی ہے حالانکہ دشمن نے دوسرے طریق پر حملہ شروع کر دیا تھا۔ دشمن نے سوچا کہ مسلمان کیوں فتح پاتے ہیں اور ہمیں کیوں شکست پر شکست ہوتی ہے؟ اوروہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مسلمانوں کے پاس تجارت ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی تجارت کی طرف متوجہ ہوں گے۔ انہوں نے سوچا کہ مسلمانوں کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاں یونیورسٹیاں ہیں اوروہ علم پڑھتے ہیں چنانچہ انہوں نے خود بھی یونیورسٹیاں قائم کیں اور نئی نئی ایجادوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ مسلمان اس واسطے ہم پر غالب آ جاتے ہیں کہ ان کے پاس سمندری بیڑا ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی اب اپنا بیڑا بنائیں گے نتیجہ یہ ہؤا کہ مسلمانوں کے بیڑے چھوٹے ہوتے گئے اور ان کے بڑھتے گئے۔ مسلمانوں کی تجارت گرتی گئی اوران کی بڑھتی گئی۔ مسلمانوں کی یونیورسٹیاں بند ہوتی گئیں اور ان کی ترقی کرتی گئیں۔ وہ لوگ مسلمانوں کے ملک میں آئے اور جس طرح مَیں نے بتایا ہے کہ ہراول دستے دشمن کی فوج کی کمزوریوں سے اپنی فوج کو اطلاع دیتے ہیں۔ یہی کام انہوں نے کیا، یہاں سے وہ خبریں لے کر جاتے اور اپنے لوگوں کو مسلمانوں کی طاقت کے مرکزوں سے آگاہ کرتے۔ اس طرح انہوں نے اپنے لئے طاقت کے سامان پیدا کر لئے اور مسلمانوں نے وہ سامان کھو دئیے۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ مسلمان غلام ہو گئے اور وہ غلام قومیں بادشاہ بن گئیں۔ اگر مسلمان بھی سات سَو سال تک جنگ کو جاری رکھ سکتے تو آج دشمن شام پر قابض نہ ہوتا بلکہ آج فرانس اور جرمنی میں بھی اسلامی پرچم لہرا رہے ہوتے۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس طاقت اور قوت تھی اور اگر وہ دھاوا بولتے تو بآسانی ان ملکوں کو فتح کر سکتے تھے مگر افسوس کہ مسلمانوں ں نے ایک ہی لڑائی پر جنگ کا خاتمہ سمجھ لیا۔
    یورپ کی لڑائیاں جو بہت چھوٹے چھوٹے اصولوں کے لئے ہوتی ہیں، لمبے عرصہ تک چلی جاتی ہیں۔ انگلینڈ اور جرمنی کی لڑائی چھوٹے چھوٹے اصولوں کے لئے ہی ہے۔ مگر ایک کے بعد دوسری جنگ اب ہو رہی ہے۔ آج انگلستان کے لوگ گالیاں دیتے ہیں ان لوگوں کو جنہوں نے پہلی جنگ کو آخری سمجھ لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ آج ہمیں جس قدر مشکلات پیش آ رہی ہیں وہ سب انہی ناواقف اور جاہل لوگوں کی وجہ سے ہیں جنہو ں نے پہلی جنگ کو ہی آخری سمجھ لیا۔ یہی حال مسلمانوں کا تھا۔ انہوں نے بھی پہلی لڑائی کو آخری سمجھ لیا اور اس بات پر فخر کرنے لگے کہ ہم نے ستّر سال تک دشمن کا مقابلہ کیا ہے حالانکہ وہ ستّر سال تو ابتدا تھی اور اس سات سَو سال کی جنگ کا دسواں حصہ تھا۔
    پس مَیں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس جنگ سے سبق حاصل کرے اور فائدہ اٹھائے۔ اس کا ہر پہلو بُرا ہے مگر بُرا بھی ہمارے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ پہلی لڑائی کے 25 سال بعد ہی جرمنی نے پھر لڑائی شروع کر دی اور یہ بہت بری بات ہے مگر اس سے ہمیں یہ سبق حاصل ہو سکتا ہے کہ دشمن کی شکست پر تسلی نہیں پانی چاہئے کیونکہ کچھ عرصہ کے بعد وہ پھر بھی سر اٹھا سکتا ہے۔ پھر لڑنے والی قوموں کے افراد قربانیاں کر رہے اور تکالیف اٹھا رہے ہیں۔ ہمیں بھی اس سے یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ ہم بھی دین کے لئے قربانیاں کریں جرمن مائیں اپنے بچوں کو قربان کر رہی ہیں، جرمن تاجر اپنی تجارتوں کو تباہ کر رہے ہیں اور عوام طرح طرح کی تکالیف اٹھا رہے ہیں اور ہم اگر ان سے زیادہ قربانیاں کریں تبھی خدا تعالیٰ کی فوج میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر ان کے برابر ہی کریں تو ہم میں اور ان میں کیا فرق ہؤا؟اور اگر ان سے کم کریں تو نہایت ہی شرمناک بات ہو گی۔ پس ہمیں ان سے بہت زیادہ قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔
    مَیں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ جماعت میں ایسے ہیں جو کسی تحریک پر کہہ دیتے ہیں کہ ہمیشہ چندے ہی مانگے جاتے ہیں۔ کیا ان کا مطلب یہ ہے کہ دس یا پندرہ سال تک چندہ دینے کے بعد پھر ان سے نہ مانگا جائے؟ وہ اس کو بڑی قربانی سمجھتے ہیں کہ چند سال تک چندہ دے دیا مگر ہم کہتے ہیں کہ دس یا پندرہ سال تو کیا اگر تم اس اصول پرقائم رہو تو پندرہ سَو سال تک بھی چندے دینے پڑیں گے۔ پندرہ سال کےبعد چندوں کا سلسلہ ختم سمجھنے کے یہ معنے ہیں کہ ایسا شخص زندگی کے پندرہ سال ہی سمجھتا ہے حالانکہ اگر احمدیت دس ہزار سال تک رہنی ہے تو ہر ایک دن قربانی کا مطالبہ ہوتا رہے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة وا لسلام کسی صوفی کا یہ مقولہ سنایا کرتے تھے کہ جو دم غافل سو دم کافر۔ غفلت تو انسان کو کفر کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔ پس یہ خیال کرنا کہ فلاں قربانی کے بعد اَور قربانی نہ کرنی پڑے گی بالکل غلط ہے ۔ کیا معلوم کہ اگلا مطالبہ اس سے بھی سخت ہو۔ اگر آج روپیہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو کل ممکن ہے جائداد کا کرنا پڑے اور پرسوں ممکن ہے اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان کی قربانی دینی پڑے۔ جو شخص مومن کہلاتا ہے وہ یہ خیال بھی کیسے کر سکتا ہے کہ کوئی دن ایسا آئے گا کہ قربانی کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ احمق ہے۔ کیا نماز، زکوٰة، صدقہ اور دوسرے احکام کا دروازہ کبھی بند ہوتا ہے جو قربانی کا بند ہوجائے۔ خدا تعالیٰ کے احکام میں سے کسی حکم کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ کیا کبھی اللہ تعالیٰ نے کسی کو حکم دیا ہے کہ تم نے دس سال تک سچ بولا ، اب دو چار سال جھوٹ بول سکتے ہو؟ پندرہ سال تک تم نے لوگوں کے اموال کی حفاظت کی اب تمہیں اجازت ہے کہ کچھ عرصہ ڈاکے مار لو اورلوگوں کے اموال لوٹ لو؟ پس کوئی شخص یہ خیال بھی کیسے کر سکتا ہے کہ قربانیاں دس پندرہ سال تک ہیں اس کے بعد یہ بند ہو جائیں گی۔ یاد رکھو کہ قربانیاں ہمیشہ رہیں گی۔ ہاں ان کی شکلیں بدلتی رہیں گی۔ جس دن قوم کے افراد کی کثرت قربانی کی روح سے محروم ہو جائے گی وہ دن اس قوم کی موت کا دن ہو گا۔ اور جو شخص اس دن کا منتظر ہے جس دن قربانیوں کا سلسلہ بند ہو جائے وہ گویا اس دن کا منتطر ہے جس دن احمدیت مر جائے۔ پہلی قومیں اسی طرح مری ہیں اور ہماری موت بھی اگر ہوئی تو اسی وجہ سے ہو گی۔ قربانیاں قوموں کا سانس ہوتی ہیں جس طرح سانس جب تک چلتا ہے تب تک انسان زندہ رہتا ہے اسی طرح جب تک کسی قوم میں قربانیوں کی روح زندہ رہتی ہے تب تک وہ قوم بھی زندہ رہتی ہے۔
    پس لڑائی سے سبق حاصل کرو اور ایسے خیالات کو ہرگز پاس نہ آنے دو کہ کسی وقت قربانیوں کا مطالبہ ختم ہو جائے گا بلکہ ہمیشہ یہ خیال رکھو کہ کل آج سے زیادہ قربانی کرنی پڑے گی۔ اسی لئےمَیں نے تحریک جدید میں یہ بات رکھی تھی کہ چاہے کوئی شخص ایک پیسہ ہی بڑھائے گزشتہ سال سے زیادہ ضرور دے تا اس کے ہر سال کی قربانی گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہو۔ پس یہ کبھی خیال نہ کرو کہ یہ قربانیاں بوجھ ہیں جو تم کو کچل دیں گی بلکہ یاد رکھو کہ یہ قوم کی زندگی کا سانس ہیں اس لئے ان کو جاری رہنے دو تا قوم کی زندگی باقی رہے۔ جو شخص قربانیوں کا سلسلہ بند کرنا چاہتا ہے وہ گویا احمدیت کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے۔ جس دن قربانیوں کا سلسلہ بند ہؤا اُسی دن احمدیت کا خاتمہ سمجھو۔ اللہ تعالیٰ ہم کو او رہماری نسلوں کو اس دن سے بچائے۔‘‘ (الفضل 31 جولائی 1942ء)
    1: ابن ماجہ کتاب الجِھَاد باب مَنْ حَبَسَہُ الْعُذْرُ مِنَ الْجِھَادِ
    2:وَ مَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ (الانفال:17)
    3: اسد الغابة جلد 3 صفحہ 233 مطبوعہ ریاض 1286ھ



    24
    احمدی نوجوانوں کو نصیحت
    (فرمودہ31 جولائی 1942ء)

    تشہد، تعوّذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
    ’’مَیں بیماری اور کمزوری کی وجہ سے آج زیادہ بول نہیں سکتا۔ صرف اختصاراً جماعت کے دوستوں کو عام طور پر اور نوجوانوں کو خصوصیت کے ساتھ اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ پر ایمان لانے والوں کے دو نام رکھے گئے ہیں، ایک مومن اور ایک مسلم۔ مسلم نام قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے اس امت کا رکھا گیا ہے اورمومن بھی ایک تاریخی نام ہے جو ہر اس جماعت کے ساتھ ت