1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 12

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    خطبات محمود ۔ خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رض ۔ جلد 12


    خطبات جمعہ
    ۱۹۲۹؁ء
    ۱
    نئے سال کے ساتھ نئی تبدیلی کی ضرورت
    (فرمودہ ۱۱۔ جنوری ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    گو آج وقت اس قدر ہو چکا ہے کہ خطبہ کا وقت نہیں رہا لیکن کچھ نہ کچھ خطبہ کے طور پر اپنی زبان میں بیان کرنا بھی چونکہ ضروری ہے اس لئے میں ان چند الفاظ پر اپنے خطبہ کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایک نیا سال عطاء فرمایا ہے۔ یہ تو معلوم نہیں کہ یہ سال پورا کا پورا ہم میں سے کس کس کو ملے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک احسان ہے کہ اس نے ہم کو ایک نیا سال عطا فرمایا۔ پس ہمارا فرض ہے کہ اس تحفہ اور عظیم الشان تحفہ کے لئے جس کی قیمت دنیا کے تمام خزانوں سے بھی زیادہ ہے خداتعالیٰ کا شکریہ ادا کریں۔
    سال ایک پورا سال کوئی معمولی چیز نہیں‘ بارہ مہینوں کا سال‘ پھر باون ہفتوں کا سال‘ جن میں سے ہر ہفتہ میں سات سات دن اور ہر دن میںچوبیس گھنٹے ہوتے ہیں اور جن میں سے ہر گھنٹہ میں ساٹھ منٹ اور ہر منٹ میں ساٹھ سیکنڈ ہوتے ہیں اور سیکنڈوں کی بھی آگے تقسیم ہو سکتی ہے ان میں سے صرف ایک سیکنڈ ایسا قیمتی ہے کہ تمام دنیا کے بادشاہ اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اسے پیدا نہیں کر سکتے اور دنیا کی تمام دولتیں اور مال ومتاع اس کا لاکھواں حصہ بھی نہیں خرید سکتیں۔ پس اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس کی قیمت کتنی بڑی ہو گی۔
    ایک عظیم الشان بادشاہ بعض تدابیر میں منہمک ہے اور اس کی سکیم پر اس کے ملک بلکہ تمام دنیا کی بہتری کا انحصار ہے لیکن اچانک اسے موت آ جاتی ہے۔ اُس وقت اسے خواہش ہوتی ہے کہ کاش مجھے ایک یا دو منٹ کی اچانک اور مہلت مل سکے اور میں اپنی سکیم دوسروں کو بتاسکوں لیکن اُس وقت وہ اربوں روپیہ اپنی دولت و حکومت بلکہ تمام دنیا کی حکومتیں دے کر بھی ایک منٹ حاصل نہیں کر سکتا۔ پس ہمیں خدا تعالیٰ کا بہت بہت شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں ایک بیش قیمت اور عظیم الشان سال دیا ہے۔ کیوں دیا ہے؟ اس لئے کہ ہمیں یاد دلائے کہ ہمیں بھی تھوڑے دنوں کے بعد نئے انسان بننے کی ضرورت ہے۔ اگر وقت بغیر سالوں‘ ہفتوں‘ دنوں‘ گھنٹوں‘ منٹوں اور سیکنڈوں کے ایک غیر متبدّل اور غیر متغیر حالت میں گذرتا چلا جاتا تو اس کے یہ معنے ہوتے کہ ہمارے لئے بھی کوئی تغیر نہیں اور نہ ہی ہمیں اپنے اندر کسی تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن ہمیشہ بدلنے والے سالوں‘ ہفتوں‘ دنوں‘ گھنٹوں‘ منٹوں اور سیکنڈوں سے ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمیںبھی ان کے مطابق بدلتے اور متغیر ہوتے چلے جانا چاہئے۔
    صرف ایک ہستی ہے جس کے لئے کوئی وقت نہیں‘ زمانہ نہیں اس لئے اسے تبدیلی کی بھی ضرورت نہیں اور وہ صرف خدا کی ہستی ہے۔ جس پر یہ زمانہ گذرتا ہے وہ تغیرات کا محتاج ہے اور جس پر وقت اثر انداز نہیں ہوتا وہ تغیرات کا بھی محتاج نہیں۔
    پس نیا سال ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں نئی جُون اور نئی تبدیلی کی ضرورت ہے نئی ہمت ‘نئی کوشش اور نئے جوش و استقلال کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم زمانہ کے تغیرات کے ساتھ نہ بدلیں ہم کسی ترقی کی امید نہیں رکھ سکتے۔ جو قومیں ہر نئے تغیر کے ساتھ نئے ارادے‘ نئی اُمنگیں‘ نئی خواہشیں اور نئی آرزوئیں لے کر نہیں اُٹھتیں وہ تباہ ہو جاتی ہیں‘ برباد ہو جاتی ہیں اور مٹ جاتی ہیں اور وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو زمانہ کے تغیرات کے ساتھ برابر بڑھتی چلی جاتی ہیں۔
    میں نے نئے سال کے لئے ایک تفصیلی پروگرام جلسہ سالانہ کے موقع پر بیان کیا تھا۔ اب تو وقت نہیں آئندہ جمعہ سے انشاء اللہ تعالیٰ میں اس کے ایک نہ ایک حصہ کو بیان کرنا شروع کروں گا اور فی الحال اِس مختصر خطبہ کے ذریعہ جماعت کو تیاری کی طرف بلاتا ہوں کہ ہمیں ایک تغیر کی ضرورت ہے کیونکہ خداتعالیٰ نے ہمیں ایک نیا سال دیا ہے۔
    (الفضل ۱۸۔جنوری ۱۹۲۹ئ)

    ۲
    میں نے غیر مبائعین کے متعلق کوئی سخت کلمہ نہیںکہا
    (فرمودہ۱۸۔ جنوری ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    میں نے اگست ۱۹۲۸ء میں جو خطبہ جمعہ پڑھا تھا اور جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے اس میں اس اختلاف کے متعلق جو ہم میں اور غیر مبائعین کے گروہ میں پایا جاتا ہے ایک طریق فیصلہ بتایا تھا میں نے بیان کیا تھا کہ یہ جو اختلاف ہے کہ آپس کے سمجھوتہ اور عہدوپیمان کو کس فریق نے توڑا ہے۔ کون اس کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے اور کون قطعی طور پر یا دوسرے کی نسبت زیادہ اس کا خیال رکھتا رہاہے۔ اس کے فیصلہ کا ایک طریق یہ ہو سکتا ہے کہ وہی تین آدمی جنہوں نے اختلاف کے موقع پر اتّحادو اتّفاق کی تحریک کی تھی ان کے ہی سپرد اس معاملہ کو کر دیا جائے اور وہ اس طرح کہ ان میں سے ایک صاحب چونکہ اب میری بیعت کر چکے ہیں اس لئے ایک اور ہماری طرف سے شامل کر کے دو شخص ہمارے اور دو ان کی طرف سے ہو جائیں۔ اس کے لئے جو چار آدمی میں نے تجویز کئے تھے وہ مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری اور سید عبدالجبار صاحب سابق بادشاہ سوات جنہوں نے آپس کے اختلاف کو ایک حد تک مٹانے کی بہت کوشش کی اُن کی طرف سے اور خان دلاور خان صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب ہماری طرف سے تھے۔ جس وقت معاہدہ کی تحریک ہوئی خان صاحب دلاور خان صاحب ان میں شامل تھے لیکن اس عرصہ میں وہ بیعت میں شامل ہو گئے اس لئے وہ اور میاں بشیر احمد صاحب ہماری طرف سے ہوں اور مولوی غلام حسن خان صاحب اور سید عبدالجبار صاحب اُن کی طرف سے ہوں۔ یہ چاروں جو فیصلہ کر دیں اسے دونوں فریق منظور کر لیں اور ساتھ ہی میں نے اپنی طرف سے اس کی منظوری کا بھی اعلان کر دیا تھا۔ لیکن چونکہ مجھے خطرہ تھا کہ شاید مولوی محمد علی صاحب اس خیال سے کہ اگر اپنے ہی آدمیوں نے ہمارے خلاف فیصلہ کر دیا تو اس کا اثر بہت بُرا ہو گا اس تجویز کو منظور نہ کریں اس لئے میں نے دوسری تجویز یہ پیش کی تھی کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کو یہ بورڈ منظور نہ ہو تو دوسرے لوگوں میں سے دو اصحاب لے لئے جائیں اور مثال کے طور پر میں نے سر عبدالقادر صاحب اور ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے نام پیش کئے تھے۔ میرے اس خطبہ کے جواب میں باوجود دوبارہ ایک خطبہ میں یاد دہانی کرانے کے بھی مولوی محمد علی صاحب نے کچھ نہیں کہا لیکن ایک اور غیر احمدی صاحب جو ہمارے صوبہ میں خاص امتیاز رکھتے ہیں ان کے ذریعہ سے ایک اور تحریک ہو گئی اور وہ اس طرح کہ مولوی محمد علی صاحب نے ان سے بیان کیا تھا کہ میرے خلاف جو پروپیگنڈا ہوا ہے اس میں انہوں نے کوئی حصہ نہیں لیا۔ اس پر میں نے مولوی صاحب کا ایک مضمون انہیں بھجوایا اور انہیں لکھا کہ وہ مولوی صاحب سے دریافت کریں کہ آیا ان کے اس مضمون کو معقول کہا جا سکتا ہے؟ جب انہوں نے مولوی صاحب کو اس کے متعلق ذکر کرنے کے لئے بُلوایا تو مولوی صاحب نے انہیں یہ جواب دیا کہ میں اُس وقت تک اس کا کوئی جواب نہیں دوں گا جب تک آپ پورا پورا فیصلہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوں اور کوئی اور شخص بھی اِس کام میں آپ کے ساتھ نہ ہو۔ انہوں نے مولوی صاحب کے اس جواب سے مجھے اطلاع دی اور ساتھ ہی لکھا کہ میرے لئے یہ کام مناسب نہ ہو گا اور نیم سرکاری حیثیت رکھنے کے سبب سے میں اسے سرانجام نہ دے سکوں گا۔ لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد خود ہی انہوں نے یہ تحریک کی کہ بجائے انتظار کرنے کے اور دو آدمیوں کو مقرر کرنے کے بہتر ہو گا کہ ایک ہی دیانتدار شخص کو مقرر کر دیا جائے جو وقت دے سکے اور اپنی طرف سے انہوں نے آغا محمد صفد ر صاحب سیالکوٹی کا نام پیش کیا جو اِن دنوں لاہور میونسپلٹی میں کام کرتے ہیں اور خلافتیوں کے مشہور لیڈر رہ چکے ہیں اور لکھا کہ اگر دونوں فریق اس معاملہ کو ان پر چھوڑ دیں تو کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ وہ ایک دیانت دار آدمی ہیں۔ آغا محمد صفدر صاحب بوجہ خلافتی لیڈر ہونے کے سخت عدمِ تعاونی رہے ہیں اور اِس سلسلہ میں انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں بھی کیں‘ قید بھی ہوئے اور کئی ایک دیگر مصائب برداشت کئے۔ اور چونکہ ہم نے شدت سے اس تحریک کی مخالفت کی تھی اور پورے زور کے ساتھ اس پالیسی کے خلاف آواز اُٹھائی تھی بلکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ بحیثیت جماعت اس تحریک کی مخالفت کرنے والی ہندوستان بھر میں صرف ہماری ہی جماعت تھی اس لئے قدرتی طور پر یہ خیال میرے دل میں آ سکتا تھا کہ ممکن ہے آغا صاحب کو ہم سے عِناد ہو اس لئے وہ اس کام کے لئے مناسب نہیں۔ لیکن جب ان کا نام میرے سامنے پیش کیا گیا اور مجھے بتایا گیا کہ وہ دیانت دار آدمی ہیں تو میں نے کہا یہ کوئی دینی معاملہ تو ہے نہیں دینی معاملہ تو ہم تمام دنیا کے سامنے بھی فیصلہ کے لئے پیش کرنے کو تیار نہیں جیسے وفات ِمسیح‘صداقت مسیح موعود یا خلافت کے مسائل ہیں۔ یہاں تو معمولی بات ہے کہ کس نے معاہدہ کی پابندی کی اور کس نے اسے توڑا ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسی باتوںکا مذہبی عقائد یا نظام سلسلہ پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے لین دین کے جھگڑے عام طور پر ثالثوں کے ذریعہ طے پاتے ہیں اور چونکہ آغا صاحب کے متعلق ان کے بعض دوستوں نے مجھے بتایا کہ وہ دیانتدار آدمی ہیں اس لئے میں نے کہا کہ اس معمولی معاملہ میں ہم انہیں فیصلہ کرنے کے لئے ثالث مقرر کر سکتے ہیں اور میں نے اس شخص سے جو میرے پاس یہ پیغام لایا تھا کہہ دیا کہ مجھے یہ منظور ہے۔ چنانچہ اب لاہور جانے پر مجھے معلوم ہوا کہ اِن صاحب نے دوسرے فریق سے بھی اس بارہ میں گفتگو کر لی ہے اور اس نے بھی آغا صاحب کے تقرر پر اظہارِ رضامندی کیا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کے متعلق دوبارہ جماعت کو آگاہ کر دوں۔ ممکن ہے کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ ایک مذہبی معاملہ میں ثالث کا کیا تعلق؟ میں بھی کہتا ہوں بے شک یہ صحیح ہے۔ مذہبی مسئلہ میں تو خواہ وہ رفع یدین یا اس سے بھی معمولی ہو ہم تمام دنیا کے عقلمندوں کو بھی ثالث مقرر نہیں کر سکتے۔ مذہبی مسائل خدا تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور وہی ان کا فیصلہ کر سکتا ہے یا اس کے دیئے ہوئے اختیارات سے اس کے رسول فیصلہ کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ آپس کے جھگڑے اور باہمی تنازعات سے تعلق رکھتا ہے اور ایسا معاملہ ہے جسے عدالت میں بھی لے جایا جا سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسے معاملات میں اگر کوئی شخص آپس کے فیصلہ کو نہ مانے تو عدالت کا فیصلہ تو اسے ضرور ہی ماننا پڑتا ہے اس لئے اسے بذریعہ ثالث طے کرانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایسے امور میں جن کا تعلق دین سے نہ تھا ثالث مقرر کرنے کا اعلان کیا اسی طرح یہ معاملہ بھی دنیوی امور سے ہی تعلق رکھتا ہے کہ معاہدہ کے بعد ہماری طرف سے زیادتی ہوئی یا ان کی طرف سے۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی اعلان کیا تھا اگر ثالث یہ فیصلہ کر دے کہ میری طرف سے زیادتی ہوئی نہ کہ مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے تو میں شرح صدر سے معافی مانگنے کے لئے تیار ہوں۔ کیونکہ اپنی غلطی کا اعتراف بہت بڑی نیکی کا کام ہے اور اسی طرح میں اپنی جماعت کا بھی ذمہ دار ہوں۔ عَلٰی ھٰذَا الْقیاس مولوی محمد علی صاحب کو بھی اس کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ اگر ان کے خلاف فیصلہ ہو تو معافی مانگیں۔ میں تو خلیفہ ہوں اور ان کی پوزیشن صرف ایک پریذیڈنٹ کی ہے۔ اگر میں خلیفہ ہو کر اپنے خلاف فیصلہ کو خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو ماننے کے لئے تیار ہوں کیونکہ یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں تو انہیں بھی اسے تسلیم کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور اگر ثالث فیصلہ کرے کہ انہوں نے زیادتی کی ہے تو اپنی غلطی کا اعتراف کر کے عَلَی الْاِعْلَان معافی مانگنی چاہئے۔
    میرا خیال ہے کہ اگر ایک دفعہ اس طرح صحیح فیصلہ ہو جائے میرا یہ مطلب نہیں کہ ثالث بددیانتی کرے گا بلکہ صرف یہ مقصد ہے کہ اُس سے بھی غلطی کا امکان ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ اگر صحیح فیصلہ ہو جائے تو یہ بات آئندہ اتّحاد کے لئے بہت مفید ہو گی اور کوئی تعجب نہیں کہ آئندہ مذہبی اتّحاد کی بھی کوئی صورت پیدا ہو جائے کیونکہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے سے انسان کے لئے راستی اور صداقت کو تسلیم کر لینا آسان تر ہو جاتا ہے۔ اِس فیصلہ کے لئے میں نے جو شرائط پیش کی تھیں وہ یہ تھیں کہ جس تاریخ سے معاہدہ کا اعلان ہوا اُس سے لیکر اِس تاریخ تک کہ میں نے یہ دیکھ کر کہ فریق ثانی نے معاہدہ کا کوئی احترام نہیں کیا اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا اِس عرصہ کے تمام حالات کا مطالعہ کر کے ثالث کو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس عرصہ میں شائع شدہ تحریروں یا تقریروں میں میری طرف سے زیادتی ہوئی یا مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے۔ اگر وہ یہ فیصلہ کرے کہ زیادتی میری طرف سے ہوئی تو میں اپنی غلطی کا اعتراف کروں گا اور ان لوگوں کو جو تکلیف پہنچی اِس کے لئے ان سے معافی مانگوں گا۔ اسی طرح اگر مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے زیادتی ثابت ہو تووہ معافی مانگیں اسی طرح اخبارات کے متعلق فیصلہ ہو کہ کس نے زیادتی کی اگر ثابت ہو جائے کہ الفضل نے اس معاہدہ کو توڑا تو الفضل معافی کا اعلان کرے اور اگر یہ ثابت ہو کہ پیغامِ صلح نے اس کی خلاف ورزی کی تو وہ معافی مانگے اور اگر کسی فرد کی طرف سے معاہدہ کا توڑنا ثابت ہو تو اس سے معافی کا اعلان کرایا جائے۔ درحقیقت کسی انسان کا دل دُکھانا ایک بہت بڑا جُرم ہے اور رسول کریم ﷺ نے بھی ایسے معاملہ میں معافی مانگنے سے پرہیز نہیں کیا۔ جب آپ فوت ہونے لگے تو صحابہؓ سے فرمایا اگر کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو اسے چاہئے کہ یہیں بدلہ لے لے ۱؎ غور کرویہ کتنی بڑی قربانی ہے۔ آپ خاتم النّبیّٖن تھے اور آپ کی وہ شان تھی کہ صحابہؓ آپ کے ایک ایک لفظ کو خدا تعالیٰ کے تصّرف کے ماتحت سمجھتے تھے۔ پس اگر رسول کریم ﷺ ایسا انسان اِس علُوِّشان کے باوجود اس امر کے لئے تیار ہوتا ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم لوگ اس کے لئے تیار نہ ہوں۔
    میں نے بارہا اپنے نفس کے ہر گوشہ میںتلاش کیا اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جب سے میں خلافت پر متمکن ہوا جانتے بوجھتے نہ پبلک میں اور نہ پرائیوٹ مجالس میں‘ نہ تحریر میں اور نہ تقریر میں‘ مَیںنے ان لوگوں کے متعلق کبھی کوئی سخت کلمہ نہیں کہا بلکہ دوسروں نے بھی اگر کبھی سختی کی تو ان کو روکا ہے۔ پس میں خدا تعالیٰ کے سامنے تو بَری ہوں۔ وہ میرے اندرونہ اور باطن کو خوب جانتا ہے اور اُسی کو شاہد رکھ کر میں یہ کہہ رہاہوں کہ میں نے دل میں نہ ظاہرمیں‘پبلک میں نہ پرائیوٹ مجلس میں کسی کے متعلق کبھی کوئی بُری بات نہیں کہی بلکہ میں تو اِن لوگوں کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔ پس اگر خدا تعالیٰ کے سامنے اس یقینی براء ت کے باوجود میں اس فیصلہ پر بھی جس کے غلط ہونے کا امکان ہو سکتا ہے معافی مانگنے کے لئے تیار ہوں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ مولوی محمد علی صاحب کو اِس میں کوئی کلام ہو۔
    چلتے ہوئے کسی کو ہماری ٹھوکر لگ جاتی ہے اور ہم اس وقت کیا آسانی سے کہہ دیتے ہیں معاف کیجئے۔ پس جب چلتے چلتے ہم ذرا سی ٹھوکر پر معافی مانگ لیتے ہیں۔ تو جب معافی مانگنے سے سینکڑوں لوگوں میں اختلاف مٹ سکتا ہو اس کے لئے ہم کیوں تیار نہ ہوں۔ میں نے رسول کریم ﷺ کی مثال دی ہے اور اپنی وفات کے موقع پر آپؐ نے فرمایا اگر کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو بتا دے اور بدلہ لے لے۔ اس پر ایک صحابی نے کہا۔ یارسول اللہ! مجھے آپ سے ایک تکلیف پہنچی ہوئی ہے اور میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ ایک جنگ کے موقع پر آپ لشکر کی صف بند کر رہے تھے اور کسی ضرورت سے آپ کو صف چِیرکر نکلنا پڑا اور آپ کی کُہنی مجھے لگی۔ وہ لوگ جنہیں رسول کریم ﷺ سے عشق تھا اور جن کے عشق کی ایک ادنیٰ مثال یہ ہے کہ ایک صحابی جنگِ اُحد میں بہت سخت زخمی ہوئے ان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور ہڈیاں چُور چُور ہو گئیں ان کا ایک رشتہ دار بہت تلاش کے بعد اُن تک پہنچا اس وقت ان کی زندگی کے صرف چند منٹ باقی تھے۔ رشتہ دار نے چاہا کہ ان کی زندگی کو بچانے کے لئے کچھ مدد کرے لیکن انہوں نے کہا کہ اب مدد کا موقع نہیں میرے پاس آؤ جب وہ پاس گیا تو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔ میں تمہارے ہاتھ کو رسول کریم ﷺ کا ہاتھ فرض کرتا ہوں اور اس سے مصافحہ کرتا ہوں تم رسول کریم ﷺ کو میرا سلام پہنچا دینا اور میں تم سے عہد لیتا ہوںکہ میرے تمام رشتہ داروں سے کہہ دینا میں مر رہا ہوں مگر دنیا کی سب سے قیمتی چیز یعنی محمد رسول اللہ کو تم میں چھوڑے جاتا ہوں۔ تمہیں خواہ کتنی ہی قربانیاں کرنی پڑیں کسی حالت میں بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑنا اور ہر طرح آپ کی حفاظت کرنا۔ ۲؎ ظاہر ہے کہ جب ایسے لوگوں نے اس صحابی کے منہ سے بدلہ لینے کے الفاظ سُنے ہونگے تو انہیں کس قدر جوش آیا ہو گا۔ اُن کی تلواریں میانوں سے تڑپ تڑپ کر باہر آ رہی ہونگی اور وہ چاہتے ہوں گے کہ اس کی بوٹی بوٹی اُڑا دیں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا لو تم بھی مجھے کُہنی مار لو۔ اُس صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ! اُس وقت جب آپ کی کُہنی مجھے لگی میرا جسم ننگا تھا۔ اِس پر آپ نے اپنا کُرتا اٹھا کر اپنا جسم ننگا کر دیا۔ وہ صحابی جُھکا اور نہایت ادب سے اُس مقام پر بوسہ دیا اور کہا یارسول اللہ! میں چاہتا تھا کہ اِس موقع سے فائدہ اٹھاؤں اور حضور کے مطہّر جسم کو بوسہ دے کر برکت حاصل کروں ۳؎ لیکن یہ بات تو اس کے دل میں تھی رسول کریم ﷺ کو تو اس کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ تو یہی سمجھتے تھے کہ یہ مجھے کُہنی مارنا چاہتا ہے اور آپ نے اسی لئے اپنا جسم بھی ننگا کر دیا۔
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کسی ایسی بات کو قیامت پر اٹھا رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ اور میں سمجھتا ہوں اگر ہمارے مخالفوں میں ایسا اخلاص بلکہ اس کا ہزارواں حصہ بھی موجود ہوتا تو یہ جھگڑا کبھی پیدا ہی نہ ہوتا اور اب بھی اگر وہ اس فیصلہ پر آمادہ ہو جائیں تو نیک نتیجہ کی امید ہو سکتی ہے۔ میں دوبارہ اعلان کرتا ہوں کہ مجھے یہ طریق فیصلہ منظور ہے۔ ہماری طرف سے چوہدری ظفراللہ خان صاحب وکیل ہونگے جو ہماری طرف سے سب باتیں پیش کریں گے۔ طریق فیصلہ یہی ہو گا کہ پہلے اس معاہدہ کے معنی کئے جائیں گے اور دیکھا جائے گا کہ مسائل پر بحث کس رنگ میں کرنی جائز تھی۔ یوں تو پہلے بھی مسائل پر ہی بحث ہوتی تھی۔ سوال یہ تھا کہ دوسرے کو ذلیل اور لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکانے کی کوشش نہ کی جائے اور یہ دیکھا جائے گا کہ اس طرح کیا گیا یا نہیں۔ مسائل میں شرعی دلائل سے کام لیا گیا یا لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔ اور اس عرصہ میں جو بحث کی گئی وہ بھڑکانے کا پہلو رکھتی ہے یا نہیں۔ یہ اصل ہے جس کے ماتحت مسائل کی بحث دیکھی جائے گی۔ پہلے بحث کا یہی رنگ تھا جس کے لئے معاہدہ کیا گیا ورنہ ماں بہن کی گالیاں تو وہ پہلے بھی نہیں دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ میں اور مولوی محمد علی صاحب میںسے کس نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔ دونوں جماعتوں میں سے کونسی جماعت نے اس کے مفہوم کے خلاف عملدرآمد کیا اور اخبارات میں سے کس نے اسے پسِ پُشت ڈالا۔ ان باتوں کا جو بھی فیصلہ ثالث کرے وہ خواہ غلط ہو یا صحیح دونوں فریق اسے تسلیم کریں اور جس کی زیادتی ثابت ہو وہ دوسرے سے معافی مانگے۔
    دوسرا فریق بھی اپنی طرف سے کسی کو وکیل مقرر کر سکتا ہے۔ چونکہ جمگھٹے میں بسا اوقات ایسی باتیں ہو جاتی ہیں جن سے فساد کے اور بھی بڑھ جانے کا امکان ہوتا ہے اس لئے میرے خیال میں یہ طریق بہت بہتر ہے کہ ایک ایک وکیل ہی دونوں طرف سے پیش ہو۔ اس کے بعد ثالث کے دل میں جوخدا تعالیٰ ڈالے وہ فیصلہ کر دے۔ اس موضوع پر دوبارہ خطبہ بیان کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ اس بات کو واضح کر دوں کہ یہ معاملہ کس قسم کا ہے تاکہ کوئی شخص غلطی سے اسے کوئی دینی مسئلہ نہ سمجھ لے نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دینی مسئلہ کے متعلق ثالث کے تقرر کو کبھی پسند کیا اور نہ ہی یہ کوئی دینی مسئلہ ہے جس کا فیصلہ ثالث کا کیا ہوا میں منظور کر رہا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن امور کے فیصلہ کے لئے ثالث مقرر کرنے کا اعلان کیا وہ تمام دنیوی علوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ پس نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر کوئی اعتراض وارد ہو سکتا ہے اور نہ ہی میرا یہ فعل قابلِ اعتراض ہو سکتا ہے۔ اور میرا یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایسا کرنا ہرگز ہرگز اس بات کے لئے بطور حُجتّ پیش نہیں کیا جا سکتا کہ دینی مسائل کا فیصلہ بھی ثالث کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے۔ پھر اس لئے بھی کہ اگر ہماری جماعت میں سے کسی کے خلاف فیصلہ ہو تو وہ معافی مانگنے کے لئے تیار رہے۔ بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر ثالث فیصلہ نہ بھی کرے تو بھی اگر کسی نے زیادتی کی ہو تو اسے معافی مانگ لینی چاہئے۔ مجھے تو اگر ذرہ بھی شُبہ ہوتا تو میں ایسے ہی انشراحِ صدر سے معافی مانگ لیتا جس طرح سے کہ حج یا نمازادا کی جاتی ہے اور اسے اپنی ہتک ہرگز نہ سمجھتا بلکہ خدا تعالیٰ کی عبادت یقین کرتا۔
    اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں اور دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ان فِتن کو جو سلسلہ کی ترقی کے راستہ میں روک ہیں دور کر دے اور دلوں سے کدورتوں کو نکال کر ایسے مصفّٰی آئینہ کی طرح کر دے جس پر ذرّہ بھی گردوغبار نہیں ہوتا۔ اگر احمدیت کو قبول کر کے بھی ہم نے کینہ کپٹ ۴؎ اور بُغض و عِناد ہی حاصل کیا تو یقینا یہ ایک مہنگا سودا ہے جس سے نہ خدا ہی راضی ہوا اور نہ دنیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی ذلّت سے بچائے آمین۔
    (الفضل ۱۲۔فروری ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ صفحہ ۲۷۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء
    ۲؎ اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد۲ صفحہ ۲۷۷ مطبوعہ بیروت ۱۳۷۷ھ
    ۳؎ سیرت ابن ہشام عربی جلد۲ صفحہ ۲۷۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء
    ۴؎ کینہ کپٹ: بُغض و عِناد








    ۳
    ہر ملک کی رعایا کو اپنے حکمران کی اطاعت کرنی چاہئے
    (فرمودہ۲۵۔جنوری ۱۹۲۹ئ)
    الحمد للّٰہ نحمدہٗ ونستعینہ ونستغفرہ و نؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذباللّٰہ من شرورِانفسنا ومن سیات اعمالنا و من یھدی اللّٰہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    جس قدر اجتماع دنیا میں ہوتے ہیں ان سب میں بعض پہلو فتنے کے بھی ہوتے ہیں اور عقلمند انسان وہی ہوتا ہے جو ایسے پہلوؤں سے اپنے آپ کو بچائے رکھے۔ اگر انسان جنگل میں جا رہے جہاں نہ کوئی اس کا ساتھی ہو اور نہ دوست‘ نہ کسی سے وہ بات کرے اور نہ اس سے کوئی بات کرے نہ وہ کسی سے کچھ مانگے نہ اُس سے کوئی کچھ مانگے نہ اُس سے کوئی معاملہ کرے نہ وہ کسی سے معاملہ کرے تو ایسی زندگی میں کوئی دقّتیں پیش نہ آئیں گی لیکن ایسی زندگی کوئی خوشنما زندگی نہیں ہوگی بلکہ بُزدلی کی زندگی ہو گی۔ جب تک کہ انسان ایسی تنہائی کی زندگی کو اس لئے اختیار نہ کرے کہ طاقت حاصل کر کے ملک یا قوم کی خدمت میں لگ جائے جیسے رسول کریم ﷺ نے کیا۔ وہ خلوت بُزدلی کی وجہ سے نہ تھی دنیا کی تکلیفوں اور دقتوں سے ڈر کے باعث نہ تھی بلکہ ایسی تھی جیسے کوئی شخص ہتھیار لینے کے لئے گھر جاتا ہے۔ وہ اس لئے میدان سے نہیںہٹتا کہ ڈرتا ہے بلکہ اس لئے ہٹتا ہے کہ زیادہ بہتر صورت میں ملک یا قوم کی خدمت کر سکے۔ پس اجتماع کے نتائج میںفسادات ضرور پیداہوتے ہیں لیکن ایسے موقعوں پر انسان کا اپنی عقل کو قائم رکھنا ہی دانائی ہے۔ اس مسئلہ کو رسول کریم ﷺ نے نہایت عمدگی سے اور خوبصورت پیرایہ میں ادا کیا ہے جب آپ نے نکاح کے موقع پر جو دو انسانوں اور پھر دو خاندانوں میں بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے یہ کلمات پڑھنے کا ارشاد فرمایا جو میں نے خطبہ سے پہلے پڑھے ہیں۔ لیکن ان کو نکاح کے موقع پر پڑھنے کے یہ معنے نہیں کہ ان کا نکاح ہی سے تعلق ہے۔ بلکہ خطبہ جمعہ میں بھی پڑھنے کا حکم ہے کیونکہ یہ بھی ایک اجتماع ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر اجتماع کے ساتھ یہ کلمات تعلق رکھتے ہیں اِن میں اُن فتنوں سے بچنے کا گُر بتایا گیا ہے جو اجتماع کے موقع پیدا ہوتے ہیں۔
    اصل بات یہ ہے کہ جب کسی انسان کے نفس کی شرارتیں اس کے سامنے آ جاتی ہیں اور وہ انہیں تکمیل تک پہنچانے کے درپے ہو جاتا ہے تو وہ اسے چھوٹی سے چھوٹی بات کو بڑی اور بڑی سے بڑی کو چھوٹی کر کے دکھاتی ہیں اور اتّحادو اتّفاق کی بنی ہوئی صورت کو بگاڑ کے رکھ دیتی ہیں یا بننے والی صورت کو بننے سے پہلے ہی توڑ دیتی ہیں۔
    پس ہمیں ہمیشہ ایسے معاملات میں جہاں ایک سے زیادہ امور کا تعلق ہو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ شرورِ نفس کا تعلق نہ ہو اور اس کے مَالَہٗ وَ مَا عَلَیْہِ کے متعلق پورا پورا غور کر کے مخالف و موافق حالات کو مدنظر رکھ کر رائے قائم کرنی چاہئے اور تعصّب کی بناء پر کوئی کام نہ کرنا چاہئے۔
    باوجود اس رائے کے اظہار کے جو میں نے ایک گذشتہ خطبہ میں ظاہر کی تھی کہ میں نے جماعت کے لئے سالانہ جلسہ کے موقع پر جو پروگرام تجویز کیا تھا اس پر جمعہ کے خطبوں میں تفصیلاً بیان کروں گا میں آج مجبور ہؤا ہوں کہ ایک اور بات کی نسبت اپنی جماعت یا دوسرے اُن لوگوں کو جو میری بات سننا چاہتے ہوں‘ خواہ مخالفت کی نیت سے یا موافقت کے خیال سے‘ اپنی رائے سنا دوں اور وہ افغانستان کے موجودہ تغیرات ہیں۔ پچھلے دنوں جب میں لاہور گیا تو ہر مجلس میں یہی مسئلہ زیر بحث تھا حتیّٰ کہ ہماری جماعت کے لوگوں کے احساسات میں بھی اس سے ایک تغیر معلوم ہوتا تھا۔ بعض بڑوں نے بھی اور طالب علموں نے بھی اس بارے میں مجھ سے دریافت کیا کہ ہماری جماعت کا کیا رویہ ہو۔ یہاں آ کر بھی میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیاہو رہا ہے‘ کیا ہونا چاہئے اور کیا کرنا چاہئے۔ میں نے لاہور میں بھی اس کا یہی جواب دیا تھا اور میں سمجھتا ہوں یہی حقیقی جواب ہے کہ انسان کو اسی امر کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ کچھ کر سکے۔ جہاں وہ کچھ کر نہ سکے وہاںتوجہ کرنا یا نہ کرنا ایک ہی بات ہے وہاںصرف احساسات کا سوال ہو سکتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ فرض کرو کسی شخص کو تار ملے کہ اس کا کوئی عزیز امریکہ کے ساحل پر سمندر میں ڈوب رہا ہے اب ظاہر ہے کہ وہ اس معاملہ میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ ایسے موقع پر اس کا یہ سوال کہ مجھے کیا کرنا چاہئے بیوقوفی کا سوال ہو گا کیونکہ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ تو ایسی صورت میں سوال احساسات کا ہوتا ہے کہ کیا احساسات ہونے چاہئیں؟ لیکن افغانستان کے واقعات کے متعلق یہ پوچھنا کہ ہمارے احساسات کیا ہونے چاہئیں؟یہ بھی ایک فضول سوال ہے کیونکہ ہر ایک شخص کا اپنا خیال اور اپنی حِس ہوتی ہے جسے وہ دوسرے کو نہیں دے سکتا۔ یہ بے شک صحیح ہے کہ خیالات کے ماتحت آہستہ آہستہ احساسات تبدیل ہو جاتے ہیں مگر براہِ راست ہم اپنی حس کسی دوسرے کو نہیں دے سکتے۔ اس لحاظ سے یہ سوال کہ ہمیں کسی قسم کے احساسات پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے قابلِ غور سوال رہ جاتا ہے۔
    میرے نزدیک ہندوستان کے مسلمانوں کی بہت ساری طاقت اس وجہ سے ضائع ہو رہی ہے کہ وہ ایسے معاملات میں پڑ جاتے ہیں جن میں کچھ کر نہیں سکتے اور جو ان کے دائرہ عمل سے باہر ہوتے ہیں۔ تُرک یورپ کی جنگ میں شریک ہوئے تو انہوں نے شور مچایا کہ اسلام کی بنیاد خلافت پر ہے اگر یورپین اقوام نے خلافت کو نقصان پہنچایا تو ہم ان کی دھجیاں اُڑا دیں گے اور انہیں تباہ وبرباد کر کے رکھ دیں گے۔ لیکن ان ہی تُرکوں نے جن کی حمایت میں یہ آوازیں بلند کی جاتی تھیں جب خود ہی تُرکی خلافت کو مٹا دیا تو وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئے اور کسی کی بھی دھجیاں نہ اُڑا سکے۔ ان کی دھمکیوں کا نتیجہ کیا نکلا۔ سوائے اس کے کچھ بھی نہ نکلا کہ یورپ نے کہا کہ مسلمان کہتے تھے اسلام کی بنیاد خلافت پر ہے جب خلافت مٹ گئی تو اسلام بھی مٹ گیا۔
    میرے نزدیک مسلمانوں نے اپنے احساسات کو اس قدر ہلکا اور اتنا ارزاں کر دیا ہے کہ اب ان کی کچھ بھی قیمت نہیں رہی اور ان کی حیثیت جرمنی کے پرانے مارک کی سی ہو گئی ہے جو روپیہ کا اربوں ارب آتا تھا وہ اس وقت احساسات کا جوش ظاہر کرتے ہیںجب نتیجہ کچھ نہیں ہوتا اور ایسے رنگ میں انہیں پیش کرتے ہیں گویا وہ مارکٹ ایبل (MARKETABLE)یا منڈی میں رکھے جانے کے قابل کوئی چیز ہے لیکن آخر کار وہ ردّی ثابت ہوتی ہے۔ اگر وہ صرف جذبات کا اظہار کر دیا کریں اور کہہ دیا کریں کہ یہ بات ہمیں بُری لگتی ہے ہم اسے پسند نہیںکرتے اور یہ ارادہ رکھیں کہ جب بھی خدا تعالیٰ طاقت دیگا اسے بدل دیں گے تو ہر سمجھدار ان کے اس جذبہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گا اور کہے گا یہ قوم حالات کو سمجھتی ہے اور پختہ ارادہ رکھتی ہے۔ بے دست و پائی کی حالت میں گالیوں پر نہیں اُتر آتی اور فضول و بے فائدہ باتیں کہہ کر اپنا جوش نہیں ضائع کر دیتی بلکہ صرف جذبات کے اظہار پراکتفا کرتی ہے۔ پھر یہ سمجھ کر کہ جو قوم سالوں نہیں بلکہ صدیوں تک اپنے جذبات کو دبائے رکھ سکتی ہے وہ مُردہ نہیں بلکہ اس میں زندگی کی روح باقی ہے اور وہ کسی نہ کسی دن ضرور کچھ کر کے رہے گی ان حالات میں دنیا مسلمانوں سے خوف کھائے اور ان کا رُعب ہو۔ لیکن ایک شخص جو روز دھمکیاں دیتا ہے کہ میں یہ کر دوں گا اور وہ کر دوں گا لیکن جب کرنے کا وقت آتا ہے تو خاموش ہو کر گھر میں جا گُھستا ہے اس کیا رُعب ہو سکتا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ اب مسلمانوں کی آواز کی کوئی قدر نہیں اور ہندوؤں کی آواز کی قدر ہے۔ اگرچہ صدیوں کی غلامی کی وجہ سے وہ بھی کماحقّہٗ اپنے جذبات کو دبا نہیں سکتے لیکن مسلمانوں سے زیادہ دبا لیتے ہیں اس لئے ان کا رُعب قائم ہے۔ جب تک ہندوستان کے مسلمانوںنے یورپ کو یہ دھمکی نہیں دی تھی کہ اسلام کی بناء خلافت ٹرکی پر ہے اگر اس خلافت کو مٹایا گیا تو ہم یورپ کو مٹا دیں گے‘ ان کی آواز میں کچھ نہ کچھ زور تھا اور ان کا رُعب تھا لیکن جس دن ان کی اِس دھمکی کے نتائج صفر نکلے تو یورپ نے سمجھ لیا یہ سب بچوں کا کھیل ہے۔
    میرے نزدیک افغانستان کے معاملات کے متعلق مسلمانوں کو صرف ایک بات پر زور دینا چاہئے اور وہ یہ کہ کوئی غیر ملکی حکومت اس کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے اور واضح طور پر بتا دینا چاہئے کہ ہم ایسی مداخلت کو ناپسند کرتے ہیں اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کر دینا چاہئے اس کے سوا کسی دھمکی کی ضرورت نہیں۔ جب کچھ کرنے کا موقع آئے گا اور کچھ کر کے دکھانے کی طاقت پیدا ہو جائے گی اُس وقت دیکھا جائے گا۔ فرض کرو مسلمانوں میں لڑنے اور مقابلہ کرنے کی طاقت پیدا ہو گئی ہے اُس وقت اگر چاہئیں تو بے شک لٹر پڑیں۔ لیکن قبل از وقت کہہ دینا کہ ہم یوں کریں گے مگر موقع پر چُپ کر کے بیٹھ رہنا ایک فضول امر ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کہیں تو موقع آنے پر ان کے ہاتھ شَل نہیں ہو جائیں گے کہ دشمن کو پکڑ نہ سکیں۔ اگر وہ کسی بات کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان میں طاقت پیدا ہو گئی ہے خواہ اظہار کریں نہ کریں وقت پر دشمن کو پکڑ سکیں گے۔ لیکن اگر ہم جانتے ہیں کہ ہم دشمن کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور پھر کہتے ہیں اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے تو دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو ہماری بات مانی جائے گی یا نہیں مانی جائے گی۔ اگر نہ مانی گئی اور ہم نے کچھ کیا بھی نہ تو اس کا نتیجہ سوائے اس کے کیا ہو گا کہ دنیا محسوس کرے گی یہ قوم فضول شور مچانے والی ہے کر کچھ بھی نہیں سکتی اور پھر کبھی ہماری بات کی پرواہ نہ کی جائے گی۔
    افغانستان کے حالات کے متعلق بعض لوگ یہی شور مچاتے رہے کہ وہاں کوئی بات ایسی نہیں کی جا رہی جو اسلام کے خلاف ہو اور یہی باتیں پہلے ترکوں کے متعلق کہی جاتی تھیں کہ یہ سب یورپین پروپیگنڈا ہے لیکن اب علی برادران میں سے مولوی محمد علی صاحب نے بھی ان باتوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے ایک ملّاں نے مجھے بتایا کہ یہاں ہمارے لئے قرآن پڑھنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اب ان کی نسبت تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ گورنمنٹ کی طرف سے باتیں پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ساری عمر یا تو قید میں گزاری ہے یا گورنمنٹ کی مخالفت میں۔ جب پہلے پہل یہ خبریں شائع ہوئیں تو میں خاموش رہا اور سمجھا کہ شاید جھوٹ ہی ہوں لیکن جب ہمارے آدمی وہاں گئے اور انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ واقعی تُرک اسلام کے خلاف چل رہے ہیں تو مجھے یقین آیا۔ وہ اگرچہ اجتہادی رنگ میں ہی ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام خدا اور رسول پر ایمان لانے کا نام ہے باقی باتوں کو وہ رسوم سمجھتے ہیں اور ان میں تغیّرو تبدّل جائز قرار دیتے ہیں اس لئے یہ تو ہم نہیں کہتے کہ تُرکوں کو اسلام سے تعلق نہیں رہا اور وہ اسلام سے متنفّر ہو چکے ہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ اسلام کے ایسے معنی کر رہے ہیں کہ ان کے رائج ہونے کی صورت میں اسلام کے لئے سخت خطرہ ہے۔ جیسے عیسائیوں کی مثال ہے آج سے اٹھارہ سَو سال پہلے جس طرح عیسائی اپنے مذہب کے لئے قربانیاں کرتے تھے ویسی ہی قربانیاں کرنے والے آج بھی موجود ہیں مگر موجودہ عیسائیوں کا مذہب وہ نہیں جو اٹھارہ سَو سال قبل کے عیسائیوں کا تھا۔ پس یہ مطلب نہیں کہ تُرک اسلام سے متنفّر ہو چکے ہیں یا یہ کہ اسلام کی عزت ان کے دلوں میں نہیں ہے یا وہ اسلام کے لئے آج جان دینے کے لئے تیار نہیں۔ میرے خیال میں تُرک آج بھی اس اسلام کے لئے جسے وہ اسلام سمجھتے ہیں اُسی طرح جانیں فدا کرنے کے لئے تیار ہیں جس طرح ان کے آباء و اجداد اس اسلام کے لئے جانیں قربان کرتے تھے جسے وہ اسلام سمجھتے تھے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ تُرک اسلام میں جو تغیرات کر رہے ہیں ان کا اثر اسلام پر کیا پڑے گا۔ اگر صرف خدا اور رسول پر ایمان کو اسلام سمجھا جائے اور باقی سب باتیں رسوم قرار دیدی جائیں تو نماز‘ حج اور روزہ وغیرہ میں تغیر کیوں نہ کیا جائے۔ آج اگر ان احکام میںتھوڑا بہت تغیر تسلیم کر لیا جائے تو آج سے سَو سال کے بعد جو اُن کی نسلیں ہوں گی وہ کہہ سکتی ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد نے بہت تھوڑا تغیر کیا تھا دراصل اس سے بہت زیادہ تغیر کی ضرورت ہے۔ اسی اصل کے ماتحت ان کی یہ بات بھی درست تسلیم کرنی پڑے گی۔فرض کرو آج سے سو سال کے بعد ایک قوم اٹھے اور کہے کہ رمضان کے روزے فضول ہیں یا یہ کہ روزہ میں ہلکی غذا کھا لینی جائز ہے یا کوئی یہ کہہ دے کہ جب رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اصل روزہ نواہی اور فواحش سے احتراز کا نام ہے ۱؎ تو اسی اصل کے ماتحت ان کا یہ خیال کیونکر غلط کہا جا سکتا ہے اور اگر یہ باتیں صحیح مان لی جائیں تو اس طرح اسلام کا کیا باقی رہ جاتا ہے۔ کیا یہ وہی اسلام ہو گا جسے رسول کریم ﷺ نے دُنیا میں پیش کیا تھا۔ پس یہ سوال نہیں کہ وہ اسلام سے متنفّر ہو گئے ہیں بلکہ یہ ہے کہ اسلام سے نسبت رکھتے ہوئے وہ ایسے طریقے اختیار کر رہے ہیں جن سے اسلام کی بربادی کا امکان ہے۔
    یہی حال افغانستان کا ہے یہ غلط ہے کہ وہاں ایسی اصلاحات نہیں ہوئیں جو اسلام پر بُرا اثر ڈالتی ہیں۔ ہم اپنے علم کی بناء پر جانتے ہیں کہ وہاں ایسی اصلاحات کا نفاد ہوا اور یہ یورپ کا شائع کردہ پروپیگنڈا نہیں بلکہ حقیقت ہے۔
    پس حالات کے لحاظ سے وہاں یقینا ایسی باتیں ہوئیں جنہیں مسلمانوں کا ایک طبقہ جن میں ہم بھی شامل ہیں ناجائز سمجھتا ہے۔ وہاں ایسا جبر ہوا جو جائز نہیں۔ یقینا وہاں پردہ اُٹھایا گیا اور ایسے رنگ میں اُٹھایا گیا جسے سب مسلمان ناجائز سمجھتے ہیں۔ پردہ سے بعض لوگ چہرہ کو نکال دیتے ہیں اور ہم بھی خاص ضرورت کے وقت اسے جائز سمجھتے ہیں مگر ایسے لوگ بھی جو چہرہ کو پردہ سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں افغانستان کے پردہ اُٹھا دینے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔ ملکہ ثریا کی ایسی تصویریں شائع ہوئیں جن میں ان کی باہیں بھی ننگی تھیں اور ایسا ٹی گاؤن پہنا ہوا تھا جو انگریز عورتیں پہنتی ہیں۔ تو وہاں پردہ کو ایسی صورت میں مٹایا گیا جسے مسلمانوں کا وہ طبقہ بھی جو پردہ کی بہت کم تعریف کرتا ہے ناجائز سمجھتا ہے۔ اسی طرح اور بھی ایسے امور وہاں اختیار کئے گئے جن کو اسلام میں دست اندازی سمجھا گیا۔ یا یہ سمجھا گیا کہ ان کا نتیجہ اسلام میں دست اندازی ہو گی۔ جیسے جمعہ کی بجائے اتوار کی چُھٹی کرنا حالانکہ مسلمانوں کو جمعہ کی عظمت سے آگاہ کرنے کے لئے قرآن کریم نے سبت پر بہت زور دیا ہے اس سے قرآن کا مقصد یہودیوں کو ہوشیار کرنا نہ تھا بلکہ یہ مطلب تھا کہ تا مسلمان بھی یہودیوں والی غلطی نہ کر بیٹھیں۔ یہ حالات اس قابل تھے کہ ان پر اعتراض کیا جاتا مگر ہم خاموش رہے زیادہ سے زیادہ ایک خطبہ میں مَیں نے بیان کیا کہ ہم ا ن باتوں کو خلافِ اسلام سمجھتے ہیں اور ان سے متفق نہیں ہیں اس سے زیادہ ہم نے ان باتوں میں حصہ نہ لیا اور نہ اس سے زیادہ حصہ لینا جائز سمجھتے تھے۔ پس ان باتوں کے متعلق یہ کہنا کہ یہ یورپین پروپیگنڈا ہے غلط بات ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ امان اللہ خاں یورپ گئے وہاں ان کی بہت عزت ہوئی‘ ان کابڑا ادب و احترام کیا گیا اس لئے کہ وہ ایک بڑھنے والی طاقت کے حکمران تھے مگر وہ اس اعزاز کا شکار ہو گئے۔ وہ گئے تو دوسروں کو شکار کرنے کے لئے تھے اور یورپین حکمرانوں نے سمجھا بھی یہی کہ کہ ہم شکارہو رہے ہیں اور انہیں کابل کے بادشاہ کاشکار ہونے کی ضرورت بھی تھی لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ امان اللہ خاں خود شکار ہو گئے اور یہ سخت غلطی ہوئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ باوجوداس کے جو کچھ ہوا وہ درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رکھنا چاہئے ہمارا یہ مسلک ہے کہ ہر ملک کی رعایا کو ہر حالت میں اپنے حکمران کی اطاعت کرنی اور اس کا وفادار رہناچاہئے اگر وہ مذہب میں دخل دیتا اور دست اندازی کرتا ہے تو انہیں صرف اعلان کے ذریعہ ان باتوں سے اپنی براء ت کر دینی چاہئے لیکن اگر وہ ان احکام پر عمل کرنے کیلئے مجبور کرے اور کہے اسی طرح کرو جس طرح میں کہتا ہوں تو انہیں چاہئے کہ خاموشی کے ساتھ ملک چھوڑ کر باہر چلے جائیں اور بغاوت بالکل نہ کریں۔ ہمارا یہ عقیدہ ہر حکومت کے متعلق ہے ہم یہ انگریزوں کے متعلق ہی نہیں کہتے بلکہ ہر حکومت کے لئے کہتے ہیں۔ کابل کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں وہاں جن لوگوں نے ہمارے اس عقیدہ کے خلاف کیا انہوں نے ہمارے نزدیک بہت بُرا کیا۔ گو افغانستان کی حکومت نے جو کچھ کیا تھا بُرا کیا تھا یہ غلطی تھی کہ اصلاحات کو ضرورت سے زیادہ حد تک پہنچا دیا۔ کابل میں اصلاحات کی بے شک ضرورت ہے اور ہم اسے بہت مبارک سمجھتے اگر اصلاحات کو اسلامی حدود کے اندر رکھا جاتا۔ ہم اسے ایک رحمت کہتے لیکن وہاں ایسی اصلاحات کی گئیں جو حقیقت سے تعلق نہیں رکھتیں اور اسلام کی حقیقت سے دور لے جانے والی کوئی اصلاح مفید نہیں ہو سکتی۔ ہم ان لوگوں میں سے نہیں جو افغانستان کی شرع کے خلاف اصلاحات کو بھی درست سمجھیں ہم ان باتوں کو شرعاً درست نہیں سمجھتے اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ یہ غلطی ہوئی مگر باوجود اس کے جنہوں نے بغاوت کی ان کے فعل کو بھی درست نہیں سمجھتے۔ ہمارے نزدیک بغاوت کرنے والوں نے غلطی کی مگر میں سمجھتا ہوں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہہ ہے کوئی کہے ایک طرف تو بغاوت کو ناجائز کہا جاتا ہے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی طرف سے تنبیہہ قرار دیا جاتا ہے یہ دونوں باتیں کس طرح درست ہو سکتی ہیں۔ میں کہتا ہوں دونوں باتیں درست ہیں۔ جو انسان حقیقی اصلاح کے لئے کھڑا ہوتا ہے خدا تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے اور بادشاہ چونکہ خدا کے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اس لئے وہ اس کا محافظ ہوتاہے۔ اگر امان اللہ خاں حد سے نہ بڑھ جاتے تو بالکل ممکن تھا کہ جب ان کے خلاف بغاوت ہوئی خدا تعالیٰ کاتائیدی ہاتھ اُٹھتا اور اُنہیں بچا لیتا لیکن جب خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ وہ بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں اور جبر سے کام لیتے ہیں تو خدا نے تائید نہ کی۔ پس باوجود اس کے کہ میں بغاوت کو ناجائز قرار دیتا ہوں یہ سمجھتا ہوں کہ اس میں خدا کا ہاتھ کام کر رہا ہے اور اگر آج بھی وہ اصلاح کر لیں اور عہد کریں کہ مذہبی امور میں جبر نہیںکریں گے نہ مذہبی معاملات میں دست اندازی کریں گے تو کوئی تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں پھر حکومت دیدے کیونکہ دنیا میں ایسا ہوتا آیا ہے کہ کئی لوگوں نے ایک دفعہ حکومت کھو کر دوبارہ حاصل کر لی۔ بابر کے ساتھ کئی دفعہ ایسا ہوا‘ ہمایوں کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آیا اور امیر تیمور سے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا پس امان اللہ خاں کی ایک دفعہ کی شکست کوئی بڑی چیز نہیں اگر وہ توبہ کر لیں تو خدا تعالیٰ پھر انہیں حکومت کرنے کا موقع دے سکتا ہے اور ان کی شکست فتح سے تبدیل ہو سکتی ہے یا اگر خدا تعالیٰ کی تقدیر افغانستان میں اسلام کے بعض احکام کو مٹوانا ہی چاہتی ہو تو ممکن ہے بغیر توبہ کے ہی دوبارہ موقع دیدے اِس وقت تک جو کچھ ہو چکا ہے یہ ایسی بات نہیں جس میں تغیر نہ ہو سکے۔ سب کچھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
    بہرحال بغاوت کے متعلق ہمارا خیال ہے کہ ناجائز ہے سوائے اس کے کہ لوگ ملک سے نکلنا چاہتے ہوں مگر حکومت انہیں وہاں رہنے اور شرعی احکام کے خلاف عمل پیرا ہونے پر مجبور کرے۔ مثلاً اگر کوئی بادشاہ اپنی رعایا کو ایسے موقع پر تلواریں اُٹھانے کا حکم دے جو شرعاً ناجائز ہو اور رعایا انکار کر دے لیکن بادشاہ مجبور کرے تو اس صورت میں رعایا کا فرض ہے کہ ملک سے نکل جائے ہاں اگر وہ ملک سے نکلنے بھی نہ دے تو پھر مقابلہ جائز ہے۔ ہمیں معلوم نہیں افغانستان میں ایسی صورت پیش آئی یا نہیں‘ اگر پیش آئی تو مقابلہ کرنے والے باغی نہیں بلکہ وہ معذور ہیں لیکن اگر پیش نہ آئی اور جہاں تک حالات سے ظاہر ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ پیش نہیں آئی تو وہ باغی اور خدا تعالیٰ کے گناہ گار ہیں۔ بہرحال ہم دونوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں ہم امان اللہ خاں کو بھی غلطی پر سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے ایسے امور میں دخل دیا جن میں دخل دینے کا انہیں حق نہ تھا اور باغیوں کو بھی کہ انہوں نے حکومت کے خلاف تلوار اُٹھائی‘ ملک میں بدامنی پھیلائی ہاں اگر وہ نکل جانے کا مطالبہ کرتے اور انہیں جانے نہ دیا جاتا تو حق بجانب ہوتے۔ لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان کی بغاوت قطعاً ناجائز‘ نہایت ہی خطرناک اور امن عامہ کو برباد کرنے والی ہے۔
    اب رہا یہ امر کہ آئندہ کیا ہو اس کے متعلق ہمارا یہی اصل ہے کہ جس معاملہ میں ہم دخل نہیں دے سکتے اس کے متعلق کچھ کہنا فضول ہے بھلا غور تو کرو۔ ہمارے ریزولیوشنز اور اظہارِ ناراضی کے جلسے بچہ سقّہ اور شنواریوں کی بغاوت پر کیا اثر ڈال سکتے ہیں۔ بے شک اس امر کا اظہار کر دو کہ بچہ سقّہ اور باغیوں نے غلطی کی اور دنیا کو بتا دو کہ ہم ان کی حرکات کو ناپسند کرتے ہیں اور ہمارے یہ خیالات ہیں مگر یہ پوزیشن صرف احمدیوں کی ہے۔ یہ حق ہمیں ہی حاصل ہے کہ بچہ سقّہ کو گناہ گار قرار دیں۔ جو لوگ ٹرکی اور ایران میں بغاوتوں کے وقت باغیوں کے ساتھ رہے ہیں ان کا کوئی حق نہیں کہ بچہ سقّہ کو بُرا کہیں کیونکہ جس طرح بچہ سقہ نے امان اللہ خاں کے خلاف بغاوت کی ہے اسی طرح مصطفی کمال پاشا نے شاہِ تُرکی کے خلاف بغاوت کی تھی اور اسی طرح رضا خاں نے شاہِ ایران سے کی تھی۔ جو لوگ ان کی تائیداور حمایت کرتے رہے ہیں وہ بچہ سقّہ کے خلاف کس طرح آواز اُٹھاسکتے ہیں۔ پس اگر مصطفی کمال اور رضا خاں بغاوت کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیڈر بن سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ بچہ سقّہ کو مسلمان لیڈر نہ سمجھیں لیکن ہم نے مصطفی کمال پاشا کی بغاوت کو بھی بغاوت قرار دیا‘ رضا خاں کی بغاوت کو بھی بغاوت قرار دیااور اب بچہ سقّہ کی بغاوت کو بھی بغاوت ہی کہتے ہیں ہم ان تینوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں غلطی کی۔ اپنے اپنے زمانہ سے میری یہ مراد ہے کہ بعض اوقات بغاوت کرنے والا ہی بادشاہ ہو جاتا ہے اور اس وقت اُس کی اطاعت ضروری ہوتی ہے جب بغاوت کرنے والا ملک پر پوری طرح قابض اور مسلّط ہو جائے تو پھر اُس کی اطاعت کرنی چاہئے۔ اُس وقت اس کی اطاعت اسی طرح فرض ہو جاتی ہے جیسے پہلے بادشاہ کی۔ مثلاً اگر بچہ سقّہ افغانستان پر اسی طرح قابض ہو جائے جیسے مصطفی کمال پاشا ٹرکی پر قابض ہو گئے تھے یا رضا شاہ ایران پر‘ تو پھر اس کے خلاف اُٹھنے کو بھی ہم بغاوت ہی قرار دیں گے۔ یہی حال ہندوستان کا ہے۔ اگر کوئی قوم انگریزوں کے خلاف جنگ کرے گی تو اس جنگ کو ہم بغاوت قرار دیں گے لیکن اگر انگریز ہتھیار ڈال دیں اور اطاعت قبول کر لیں تو پھر جو قوم حکمران ہو گی اس کی اطاعت ضروری سمجھیں گے۔ غرض اصل یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم شریعت اسلامی کے مطابق عمل کر کے اپنے آپ کو بغاوت سے بَری نہیں کر لیتی اُس وقت تک حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی وجہ سے باغی ہے اور اُس وقت تک باغی ہے جب تک حکومت اس کے ہاتھ میں نہیں آ جاتی۔ جس کی دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو یہ کہ بادشاہ اپنے حق سے دست بردار ہو جائے اور اطاعت قبول کر لے۔ یا پھر اس ملک کو چھوڑ کر چلا جائے۔ ورنہ یوں تو سب نے ہی بغاوت کر کے حکومتیں حاصل کی ہوتی ہیں۔ پہلے پہل تُرکوں نے بھی بغاوت سے ہی حکومت حاصل کی تھی۔ بنو اُمیہ نے بھی بغاوت سے ہی حکومت لی تھی۔ غرض جب تک بغاوت جاری رہے اُس وقت تک اس کی حمایت یا اطاعت ناجائز ہوتی ہے لیکن جب حکومت قائم ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ اُس کی اطاعت کرو تا فساد دور ہو اور امن قائم ہو۔ پس اس اصل کے ماتحت ہمارے نزدیک بچہ سقّہ ہو یا کوئی اور‘ بغاوت کرنے میں غلطی پر ہے۔ لیکن اگر وہ یہ ثابت کر دے کہ وہ ملک چھوڑ کر نکل جانا چاہتے تھے مگر انہیں نہ جانے پر مجبور کیا گیا تو ایسی حالت میں ان کا مقابلہ کے لئے کھڑا ہونا جائز ہو گا۔ لیکن چونکہ ہمارے پاس اس قسم کے حالات نہیں پہنچے کہ انہوں نے ایسا کیا اس لئے ہم انہیں باغی سمجھتے ہیں اور ہمارے نزدیک وہ غلطی پر ہیں۔ غرض آئندہ کے متعلق ہمارا مسلک یہی ہے کہ ہمیں کسی خاص شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے جو بھی حکومت کسی ملک میں قائم ہو اُس کی اطاعت فرض اور اس سے بغاوت گناہ ہے ہم نے عام فائدہ اسلام کا دیکھنا ہے۔ میرے نزدیک سیاسی لحاظ سے اسلام کو (حقیقی اسلام کو نہیں کیونکہ وہ تو خود اپنی ذات سے قائم ہے اور اسے اپنے قیام کے لئے کسی ایسے سہارے کی ضرورت نہیں) ہاں سیاسی لحاظ سے اسلام کو ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسلامی ممالک میں زبردست آزاد اور مضبوط حکومتیں ہوں یہی وجہ تھی کہ باوجود اس کے کہ شریف حسین کے زمانہ میں ہم اس کی حکومت کو جائز سمجھتے اور اس کے خلاف بغاوت کو ناجائز قرار دیتے تھے لیکن جب سلطان ابن سعود نے پوری طرح وہاں اپنا تسلّط جما لیا اور اس کی حکومت قائم ہو گئی تو اب ہم اسی کو جائز سمجھتے اور اس کے خلافت بغاوت کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ اب اگر شریف بھی اس پر حملہ کرے گا تو ہمیں بُرا لگے گا۔ اسی لئے ہم بچہ سقّہ کو بھی بُرا سمجھتے ہیں کہ اُس نے ایک آزاد اسلامی حکومت کو ضُعف پہنچایا۔ جب تک وہ خود وہاں حکومت قائم نہ کر لے ہم اسے بُرا ہی کہیں گے اب وہاں خواہ کوئی بادشاہ ہو جائے۔ امان اللہ خاں ہو یا عنایت اللہ خاں‘ نادر خاں ہو یا علی احمد جان یا بچہ سقّہ جو بھی وہاں ایسی حکومت قائم کر لے گا جو سارے افغانستان پر حاوی ہو گی‘ بالکل آزاد ہو گی‘ کسی دوسری سلطنت کے ماتحت نہ ہو گی‘ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشش کرے گی اس کے ہم ایسے ہی خیر خواہ ہوں گے جیسے اُن اسلامی حکومتوں کے ہیں جو اپنے ممالک میں مسلمانوں کی ترقی کی کوشش کر رہی ہیں۔ پس ہمارے آئندہ کے متعلق احساسات یہ ہیں کہ وہاں ایسی حکومت قائم ہو جو بالکل آزاد ہو۔ وہ نہ انگریزوں کے ماتحت ہو نہ روسیوں کے نہ کسی اور کے۔ ہم اسے بھی پسند نہیں کرتے کہ افغانستان ایک دفعہ کامل آزادی حاصل کرنے کے بعد تھوڑا بہت ہی انگریزوں کے ماتحت ہو۔ ہم اُسے اس طرح دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ آزاد ہو۔ مضبوط ہو‘ ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو اور نہ کسی کے ماتحت یا زیر اثر ہو۔ اگر وہاں ایسی حکومت قائم ہو جائے تو حکمران خواہ کوئی ہو ایسی حکومت اسلام کے لئے مفید ہو گی۔ اس کے لئے ہماری طرف سے جو ایڈریس گورنر صاحب پنجاب کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے اس میں بھی ہم نے اس مسئلہ کو اُٹھایا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم اسے سخت ناپسند کرتے ہیں کہ افغانستان کے معاملات میں کسی قسم کا دخل دیا جائے اور ہم امید رکھتے ہیں گورنمنٹ اس بات کی احتیاط کرے گی کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں ہرگز مداخلت نہ کی جائے اور جیسے وہ پہلے آزاد تھا ویسے ہی اب بھی رہے۔ میرے نزدیک مسلمانوں کو صرف اس بات کی ضرورت ہے اور مسلمانوں کی تمام جماعتوں اور انجمنوں کو بِالاتفاق پورے زور کے ساتھ یہ اعلان کر دینا چاہئے کہ ہم اسے سخت ناپسند کرتے ہیں کہ افغانستان کے فسادات کے نتیجہ میں کوئی غیر قوم خواہ وہ انگریز ہی ہوں اس مُلک پر کسی قسم کا تصرّف کرے۔ افغانستان اسی طرح آزاد ہونا چاہئے جیسے پہلے تھا۔ چاہے کوئی بادشاہ ہو امان اللہ خاں ہو یا عنایت اللہ خاں‘ نادر خاں یا علی احمدجان یا بچہ سقّہ یا کوئی اور بچہ ہو بہرحال افغانستان آزاد رہے تا کہ تمام مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو جو پہلے ہی بہت کمزور ہے مزید نقصان نہ پہنچے۔ یہ بات ہے جس کی اِس وقت مسلمانوں کو ضرورت ہے ڈراوے اور دھمکیاں دینا یا یہ کہنا کہ ہم یوں کر دیں گے فضول ہے اور اس سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔ بِالاتفاق سُنّی‘ شیعہ‘ احمدی‘ وہابی وغیرہ سب کو ملکر یہ آواز بلند کرنی چاہئے اور اعلان کر دینا چاہئے کہ ہمیں یہ خطرہ ہے کہ کوئی غیر قوم کابل کو اپنے اقتدار کے نیچے لانے کی کوشش کریگی ہم اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور بُرا سمجھیں گے۔ باقی یہ کہ ہم کیا کریں گے ہم نے کیا کرنا ہے جب خدا تعالیٰ تغیرات پیدا کر دیگا تو جو کچھ کر سکتے ہونگے کر لیں گے۔ ابھی سے دھمکیاں دینا کچھ کام نہیں دے سکتا اور حقائق کا انکار کہ یہ سب کچھ یورپ کا پروپیگنڈہ ہے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا سوائے اس کے کہ ہم دل میں شرمندہ ہوں کہ ہم نے جھوٹ بولا ۔ جب پہلے پہل بغاوت کی خبریں آئیں تو کہا گیا کچھ بھی نہیں ‘ باغیوں کی کچھ ہستی ہی نہیں وہ چند لُٹیرے ہیں۔ نتیجہ کیا ہوا یہ کہ ایک بادشاہ حکومت سے دستبردار ہو کر دارالحکومت سے چلا گیادوسرا بھائی اس کی جگہ بادشاہ ہوا مگر وہ بھی جانے پر مجبور ہوا اور بچہ سقّہ قابض ہو گیا۔ معلوم نہیں وہ سقّہ کا بچہ ہے یا جیسا کہ کہا جاتا ہے کسی بڑے فوجی افسر کا لڑکا ہے اس نے کسی موقع پر مَشک اُٹھائی تھی اس وجہ سے امیر حبیب اللہ خاں پیار سے اس کو بچہ سقّہ کہا کرتے تھے۔ پس حقائق کو چُھپانے اور دھمکیاں دینے سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ دنیا ہم کو جھوٹا سمجھے کہ یہ کہتے تھے ہم یہ کریں گے‘ وہ کریں گے‘ مگر کِیا کرایا کچھ بھی نہیں اور ہم دلوں میں محسوس کریں کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا۔ یہ یقینی بات ہے کہ خدا نخواستہ اگر کوئی غیر ملکی حکومت دخل دے بھی دے خواہ وہ انگریز ہی ہوں تو خواہ ہم اسے کتنا ہی ناپسندکریں لیکن یہ بالکل غلط ہے کہ ہندوستان کے مسلمان کچھ کر سکیں گے۔ انہوں نے نہ کبھی پہلے کچھ کیا نہ اب کریں گے۔ جب خدا تعالیٰ کسی قوم کے ہاتھوں سے تلوار چھین لیتا ہے تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ اب صبر کرو جب تلوار دیں گے اُس وقت جو مناسب ہو کر لینا۔اور تلوار دینے کے سامان خدا تعالیٰ خود پیدا کر دیا کرتا ہے مگر وہ سامان ابھی نظر نہیں آتے جب خدا تعالیٰ کی طرف سے سامان پیدا ہوتے ہیں تو اُس وقت تلوار کا استعمال جائز ہوتا ہے جیسے رسول کریم ﷺ کے وقت ہوا ۔کفار نے مسلمانوں کو ہجرت سے جبراً روکا۔ اُس وقت مسلمانوں کے لئے تلوار اٹھانا جائز تھا‘ خواہ وہ مکہ میں رہ کر ہی اُٹھاتے۔
    پس میرے نزدیک اِس وقت مسلمانوں کو ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان بِالاتفاق یہ اعلان کر دیں کہ ہم غیر ملکی دست اندازی کو ناپسند کرتے ہیں اور ہمارے احساسات کا اگر کچھ خیال رکھا جا سکتا ہے تو کسی کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے نہ انگریزوں کو دخل دینا چاہئے نہ روسیوں کو اور نہ کسی اور کو اور اس کے بعد ہمارا یہ فرض ہے کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ اے خدا! اسلام کے لئے جو بہتر ہے وہی ہو۔ ہمیں کیا پتہ ہے کہ اِس ملک کے لئے کونسا بادشاہ مفید ہو گا۔ یہ غیب کی بات ہے اسے اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے بلکہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے اور یہ دعا کرنی چاہئے کہ اِس ملک کے لئے جو مفید اور بہتر ہو اسے کھڑا کرے۔ ہاں جب تک اصل حکومت قائم نہ ہو جائے اس وقت تک قائم شدہ حکومت کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو ہم باغی ہی کہیں گے جیسے امیر معاویہ جب تک حضرت علیؓ سے لڑتے رہے باغی تھے لیکن جب اُن کی حکومت قائم ہو گئی اور انہوں نے ملک کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تو رضی اللہ عنہ کے مصداق بن گئے۔ خدا تعالیٰ نے انہیں ایک آزاد ملک عطا کر دیا اور انہیں خدمت کے ایسے موقعے مل گئے کہ خدا تعالیٰ نے بغاوت کا الزام اُن سے دھو دیا۔ آج ہم انہیں رضی اللہ عنہ کہتے ہیں لیکن اگر کوئی یہ سوال کرے کہ معاویہ حضرت علیؓ کے مقابلہ میں کون تھے۔ تو آج بھی ہم یہی کہیں گے کہ باغی۔ مگر جب یہ سوال نہ ہو گا تو ہم انہیں حضرت امیرمعاویہ ؓ کہیں گے پس جب تک افغانستان میںکوئی حکومت قائم نہ ہو جو امان اللہ کے مقابلہ میں کھڑا ہو گا باغی کہلائے گا۔ ہمارے پاس اگر فوجیں ہوتیں تو ہم طاقت کے ذریعہ فیصلہ کرتے کہ امان اللہ خاں اچھا ہے یا کوئی اور۔ لیکن جب یہ نہیں تو ہمارے لئے صحیح راستہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں جو مفید ہو اسے کھڑا کرے اِس سے زیادہ کچھ کرنے کی طاقت ہندوستانی مسلمانوں میں نہیں۔
    یہ راہ ہے جس پر چل کر میں سمجھتا ہوں مسلمان دوسری اقوام پر اپنا رُعب اور ان کے دلوں میں اپنا ادب و احترام پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی کمزور شخص کھڑا ہو جاتا ہے اور زبردست سے کہتا ہے میں تم سے مقابلہ کی طاقت تو نہیں رکھتا لیکن چونکہ میں تمہاری اِس حرکت کو ناپسند کرتا ہوں تم جو چاہو کر لو میں جان دینے کے لئے تیار ہوں تو اُس کی عزت کی جائے گی اور مخالف اس کے مقابلہ کے اِس جذبہ سے مرعوب ہو گا۔ لیکن اگر کسی کو دوسرے نے زمین پر گرایا ہوا ہو اور اُس کی چھاتی پر بیٹھا ہوا اسے مارتا جاتا ہو مگر وہ نیچے سے یہ کہتا چلا جائے کہ میں ابھی تمہاری گردن توڑ دوں گا تو اس کی بات کو کوئی پسند نہ کرے گا۔ دشمن یا تو شہادت پانے والے کی ہمت سے مرعوب ہوتا ہے یا غلبہ سے‘ کمزوری کے ساتھ زور کا دعویٰ کرنا کچھ اثر نہیں رکھتا۔ پس اپنے احساسات کو ضائع مت کرو اور انہیں دوسروں کے سامنے ذلیل نہ کرو۔
    میں نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں موجودہ حالت میں یہی ٹھیک راہِ عمل ہے کہ مسلمان صرف اپنی رائے کا اظہار کر دیں اور پھر خدا کے سامنے جھک جائیں اور کہیں اے خدا! وہی ہو جو تیری مرضی۔ (الفضل یکم فروری ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ بخاری کتاب الصوم باب من لم یدع قول الزورِ والعمل بہ

    ۴
    مذہب کے مقابلہ میں سیاسی امور کچھ حقیقت نہیں رکھتے
    (فرمودہ یکم فروری ۱۹۲۹ء بمقام پھیرو چیچی)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    گو خطبہ کی غرض تو یہی ہوا کرتی ہے کہ جس مجلس کے سامنے خطبہ پڑھا جائے ان لوگوں کی ضرورتوںکے مطابق یا ان کی اصلاح کے لئے پڑھا جائے۔ رسول کریم ﷺ حسبِ موقع اور مناسبِ حال امور کے متعلق خطبہ پڑھاکرتے تھے۔ اگر جنگ کرنے کی ضرورت پیش آتی تو جنگ پر مشتمل امور پر خطبہ پڑھتے۔ اگر صلح کا موقع ہوتا تو صلح سے تعلق رکھنے والی باتوں کے متعلق خطبہ پڑھتے۔ اگر لوگوں کی اصلاح کی ضرورت ہوتی تو اصلاح پر مشتمل امور پر خطبہ ارشاد فرماتے۔ اگر کوئی اخلاقی سوال اہمیت رکھتا تو اسی کے متعلق خطبہ پڑھتے۔ غرض جس طرح کی ضرورت پیش آتی اسی کے متعلق خطبہ ہوتا۔ پھر خطبہ سننے والوں کے مذاق‘ ان کی ضرورتوں اور ان کے علم کے مطابق ہوا کرتا تھا۔
    ان حالات کے ماتحت آج مجھے خطبہ جمعہ کا مضمون سادہ ہی رکھنا چاہئے تھا کیونکہ آج میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں اور دیہاتی آبادی میں خطبہ پڑھنے لگا ہوں لیکن سلسلہ اور جماعت کی ضرورتیں چونکہ بحیثیت مجموعی اس قدر وزن رکھتی ہیں کہ کسی خاص جگہ کی ضرورتوں کو ان پر مقدم نہیں کیا جا سکتا اور چونکہ جماعت کے امام کے خطبہ کا تعلق صرف انہی لوگوں سے نہیں ہوتاجن کے سامنے کھڑا ہو کر وہ خطبہ پڑھتا ہے بلکہ اس کا خطبہ اخباروں کے ذریعہ ساری جماعت تک پہنچتا ہے اور چونکہ امام کا فرض ہے کہ ساری جماعت کی ضرورتوں کو مدنظر رکھے اس لئے اور اس لئے بھی کہ ہماری جماعت کے لوگ سیاسی‘ ملکی‘ دینی‘ مذہبی باتیں سن سن کر اتنے واقف ہو گئے ہیں کہ ان میں سے اَن پڑھ بھی ایسی باتوںکو اس آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسرے پڑھے لکھے بھی نہیں سمجھ سکتے۔ آج میں ایک ایسے امر کے متعلق خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں جو ساری جماعت سے بحیثیت مجموعی تعلق رکھتا ہے صرف یہاں کے لوگوں کی ضرورتوں کے ساتھ خصوصیت سے اسے تعلق نہیں۔
    میں نے پچھلے کئی سال سے مسلمانوں کے اندر اختلافات‘ فسادات‘تفرقے اور جھگڑے دیکھ کر کوشش شروع کی ہوئی تھی اور کی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں اتفاق ہو جائے وہ ایک دوسرے کے متعلق ایسے طریق اختیار نہ کریں جو خواہ مخواہ لڑائی مول لینے کے مصداق ہوں اس کے لئے میں نے متواتر مسلمانوں کو سمجھایا کہ باوجود عقائد کا اختلاف رکھنے کے ان کی آپس میں صلح ہو سکتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں ایک گھر میں کئی مذاق کے لوگ رہتے ہیں کھانے پینے میں ہی دیکھا جاتا ہے اگر ایک چنے کی دال نہیں کھاتا تو دوسرا مسور کی دال نہیں کھاتا اور تیسرا ماش کی دال نہیں کھاتا مگر وہ ایک گھر میں گذارہ کرتے ہی ہیں۔ جس دن مسور کی دال پکے اس دن مسور کی دال نہ کھانے والا خاموش ہو جاتا ہے اور کسی اور چیز سے کھانا کھا لیتا ہے۔ جس دن چنے کی پکے اس دن چنے کی دال نہ کھانے والا چپ ہو جاتا ہے اس وجہ سے لڑائی جھگڑا شروع نہیں کر دیا جاتا کہ چنے کی دال کیوں پکی ہے۔ تو سب لوگ جانتے ہیں کہ مذاق مختلف ہوتے ہیں جب یہ حالت ہے تو یہ بھی ہو گا کہ کئی باتیں کئی لوگوں کے مذاق کے خلاف ہونگی۔ اگر کوئی یہ کہے جو میں کہوں وہی دوسرے کہیں اور جو اس کے خلاف کہے اس پر طعن و تشنیع کیا جائے‘ اس کی تحقیرو تذلیل کی جائے تو ہر ایک گھر کاامن بالکل برباد ہو جائے۔ کھانے کے متعلق تو مذاق الگ الگ ہوتے ہی ہیں شکلیں بھی سب کی مختلف ہوتی ہیں۔بیٹے کی باپ سے شکل نہیں ملتی اور بیٹی کی ماں سے نہیں ملتی اربوں ارب انسان دنیا میں آباد ہیں مگر کوئی دو انسان ہُوبہو ایک شکل کے نہیں مل سکتے ضرور کچھ نہ کچھ ان میں فرق ہو گا۔ پس ہر قسم کے اختلاف موجود ہیںان کے ہوتے ہوئے ہی صلح و اتحاد رکھنا درحقیقت اصل اخلاق ہیں اسی طرح امن قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں کی حالت اس درجہ گر گئی ہے کہ باوجود یہ دیکھتے ہوئے کہ دوسری قومیں انہیں تباہ کر رہی ہیں اور روزبروز مسلمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں انہیں کچھ خیال نہیں۔ ترقی کی کوئی شاخ بھی ایسی نہیں جس میں مسلمانوں کو عزت حاصل ہو۔ آج سے بیس پچیّس سال پہلے زمیندارہ مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا اب وہ بھی نہیں رہا وہ بھی غیر قوموں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔تجارت ‘صنعت‘ حرفت‘ ساہوکارہ‘ بینکنگ سب دوسروں کے قبضہ میں ہیں دنیا کے کسی شعبہ میں آج مسلمان معزز نظر نہیں آتے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے جوش کو دبا نہیں سکتے وہ کبھی خیال نہیں کرتے کہ مل کر کام کرنے کے لئے کم از کم یہ طریق اختیار کریں کہ ایک دوسرے سے بِلا وجہ چھیڑ چھاڑ نہ کریں‘ خواہ مخواہ تحقیروتذلیل نہ کریں۔ مذہبی عقائد کسی حالت میں چھوڑے نہیں جا سکتے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک شیعہ سُنّیوں کو خوش کرنے کے لئے کہے حضرت ابوبکرؓ خلافت کے حق دار تھے اور حضرت علیؓ کا حق نہ تھا کیونکہ یہ کہنے سے اس کا مذہب ہی باقی نہیں رہتا۔ لیکن اگر کوئی شیعہ سُنّیوں کو چھیڑنے اور تنگ کرنے کے لئے یہ کہے کہ ابوبکر غاصب تھا اس میں سوائے بُرائی کے کچھ نہ تھا تو پھر صلح نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح شیعہ اگر کسی سُنّی سے یہ امید رکھیں کہ وہ کہے خلافت کا حق حضرت ابوبکرؓ کا نہ تھا بلکہ حضرت علیؓ کا تھا تو وہ غلطی کریں گے۔ اس قسم کی امید رکھنا جس میں کسی کو اپنے مذہبی عقائد ترک کرنے پڑیں غلطی ہے اور اس طرح کبھی اتحاد نہیں ہو سکتا لیکن مذہبی اختلاف رکھنا اور بات ہے اور مذہبی اختلاف کی وجہ سے دوسروں کو چھیڑنا‘ ان کی تحقیرو تذلیل کرنا اور بات ہے۔ ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص کو اپنے محلہ کی ایک عورت سے پُرخاش تھی جس کی ایک آنکھ ماری ہوئی تھی۔ وہ شخص جب اس عورت کے پاس سے گذرتا تو کہتا بھابھی کانییں سلام۔ اس سے اس کی غرض یہ نہ ہوتی تھی کہ سلام کہے۔ بلکہ یہ ہوتی تھی کہ اسے کانی کہے لیکن چونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے صرف کانی کہا تو سارے محلہ کے لوگ اس کے پیچھے پڑ جائیں گے اور اسے *** ملامت کریں گے اس لئے سلام ساتھ لگا لیتا تا کہ اگر کوئی کچھ کہے تو وہ یہ کہہ سکے کہ میں نے تو سلام کہا ہے۔ کچھ دنوں تک تو وہ عورت اس کی بات سنتی رہی آخر لڑنے پر آمادہ ہو گئی اس کا شور سن کر محلہ کے لوگ جمع ہو گئے اور پوچھا کیا بات ہے؟ اس شخص نے کہا میں نے اسے سلام کہا ہے اور یہ مجھے گالیاں دینے لگ گئی ہے۔ جب عورت سے پوچھا گیا تو اس نے کہا یہ سلام نہیں کہتا بلکہ مجھے کانی کہہ کر چھیڑتا ہے۔
    پس جب کوئی بات کہنے میں طعن و تشنیع کا پہلو مدنظر ہو اور دوسرے کی تحقیر اور تذلیل کی جائے تو پھر تعلقات درست نہیں رہ سکتے۔ اختلاف ہوا ہی کرتا ہے اور عقائد کا اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عقیدہ کے اختلاف کی وجہ سے دوسروں کی تحقیر کی جائے۔ ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں عقائد کا اختلاف ہے اگر ہم ان کے متعلق یہ امید رکھیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ نہ مانیں تب ہم ان کے ساتھ مل کر متحدہ سیاسی امور میں کام کر سکتے ہیں تو یہ ہماری غلطی ہو گی اسی طرح اگر وہ ہم سے یہ امید رکھیں کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانیں اور پھر وہ ہم سے ملیں تو یہ غلط ہو گا۔ لیکن اگر غیر احمدی ہماری نسبت یہ کہیں کہ یہ لوگ ٹھگ اور فریبی ہیں مذہب کو انہوں نے دینا کمانے کی آڑ بنایا ہوا ہے تو پھر یہ اختلافِ عقائد تک بات محدود نہ رہے گا بلکہ گالیاں ہونگی یا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہیں کہ انہوں نے فریب اور دھوکا کیا تو یہ ایسی بات نہیں جو برداشت کی جا سکے۔ سیاسی فوائد خواہ کتنے ہی بڑے ہوں آخر محدود ہوتے ہیں۔ سیاسی اتحاد کا یہی نتیجہ ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو کچھ نوکریاں پہلے کی نسبت زیادہ مل جائیں ان کے سیاسی حقوق محفوظ ہو جائیں مگر کوئی غیرت مند انسان مذہب کو قربان کر کے یہ باتیں حاصل کرنے کے لئے تیار نہ ہو گا۔ غرض طعن و تشنیع اور تحقیروتذلیل کرنے کے ساتھ یہ امید رکھنا کہ اتحاد ہو جائے ایک ایسی امید ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی اور نہ مذہب کو عزیز رکھنے والا کوئی انسان ایسی صلح میں شریک ہو سکتا ہے۔
    اِس وقت میں جو خطبہ پڑھ رہا ہوں اس کے پڑھنے کی وجہ کَل سے پیدا ہوئی تھی اوّل تو میرا خیال تھاکہ میں قادیان جا کر خطبہ پڑھوں کیونکہ وہی سلسلہ کا مرکز ہے۔ لیکن رات کو سخت سردی کی وجہ سے کمر میں درد ہو گیا اس لئے میں قادیان نہ جا سکا۔ پھر ارادہ کیا اگلے جمعہ قادیان جا کر پڑھوں گا مگر اس قدر تعویق مناسب نہ سمجھی اور یہاں ہی پڑھنے کا ارادہ کر لیا۔
    اس خطبہ کا محرک ایک عنوان ہے جو ایک ایسے اخبار میں جو اپنے آپ کو صُلحِ کُل کہتا اور مسلمانوں کو اتحاد کی ضرورت کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے اور اس بات پر بڑا زور دیتا ہے کہ تمام فرقوں کے مسلمان اپنے آپ کو صرف مسلمان کہیں تا کہ متحد ہو سکیں اور وہ انقلاب اخبار ہے۔ اس میں افغانستان کے متعلق ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ کابل میں بغاوت ہو گئی ہے ایک شخص جسے سقّہ کا بچہ کہا جاتا ہے بعض کہتے ہیں وہ سقّہ کا بچہ نہیں بلکہ جرنیل کا لڑکا ہے ایک لڑائی کے موقع پر جب پانی ختم ہو گیا تو اس افسر نے خود مشک اٹھائی اور پانی لایا تھا۔ اس پر امیر حبیب اللہ خاں اسے پیار کے طور پر بچہ سقّہ کہا کرتا تھا اس وجہ سے اس خاندان کا نام ہی بچہ سقّہ ہو گیا وہ کوئی ہو بہرحال اس نے بغاوت کی اور اس میں کامیاب ہو گیا کابل کو اس نے فتح کر لیا۔ بغاوت کے لحاظ سے ہم اس کے فعل کو اچھا نہیں سمجھتے کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ قائم شدہ حکومت کی بغاوت جائز نہیں سوائے اس صورت کے کہ کسی وجہ سے رعایا اس کے ملک کو چھوڑ کر جانا چاہے مگر وہ جانے نہ دے۔ پس ہم بغاوت کو بُرا سمجھتے ہیں اور اس فعل کو ہرگز جائز نہیں سمجھتے اس حد تک تو ہمارا بھی دوسروں سے اتفاق ہے۔ اس شخص کے متعلق خبر شائع ہوئی کہ اس نے اپنا نام حبیب اللہ رکھا لیا اور اپنا ایک نشان بنایا ہے جس پر لکھا ہے ’’امیر حبیب اللہ رسولِ خدا۔ ۱۳۴۷ھ‘‘۔ میں جہاں تک سمجھتا ہوں یہ خبر غلط ہے اور محض اس لئے گھڑی گئی ہے کہ اس شخص کے خلاف جو ش پھیلایا جائے اس لئے کہ جب امان اللہ خاں کے خلاف اس نے سوال ہی یہ اٹھایا کہ اس نے اسلام کو مٹا دیا ہے اور اس طرح اس نے بغاوت پر لوگوں کو آمادہ کیا تھا تو وہ خوب جانتا تھا کہ افغانوں میں کوئی اس قسم کی بات کرنا جس سے بادشاہ بھی مٹ جاتا ہے آسان کام نہیں۔ آخر وہ سقّہ کا بچہ تھا یا زیادہ سے زیادہ جرنیل کا بیٹا اسے تو یہ بات خوب اچھی طرح معلوم ہونی چاہئے تھی کہ جب لوگ امان اللہ جیسے بادشاہ کے خلاف اس لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ اس نے بعض باتیں اسلام کے خلاف کہیں اور اسے چھوڑ کر اس کے ساتھ مل گئے تو اس کے اس قسم کے دعویٰ کو کب برداشت کریں گے جس بات کی وجہ سے اسے ساری طاقت اور کامیابی حاصل ہوئی اسی کو اپنے خلاف کس طرح اٹھا سکتا تھا۔ وہ جانتا تھا اور خوب جانتا تھا کہ جب افغان عورتوں کا پردہ اٹھانے‘ لڑکیوں کو تعلیم دلانے‘ انگریزی لباس پہننے کے لئے مجبور کرنے پر اتنے برا فروختہ ہو سکتے ہیں تو نبوت کا دعویٰ سن کر وہ کس قدر اشتعال پذیر ہونگے۔جب افغانستان کا ہر سپاہی اس لئے اس کے ساتھ ہوا تھا کہ وہ اسلام کی حمایت میں کھڑا ہوا ہے تو پھر وہ سمجھ سکتا تھا کہ رسالت کا دعویٰ کر کے کہاں تک کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
    پس میں تو سمجھتا ہوں یہ خبر ہی غلط ہے لیکن اگر صحیح بھی ہو تو بچہ سقّہ سے جماعت احمدیہ کا کیا تعلق۔ مگر اخبارانقلاب میں اس کے متعلق یہ خبر شائع کرتے ہوئے جو عنوان رکھا گیا ہے وہ یہ ہے ’’قادیانی سنت کی پیروی‘‘۔ ۱؎
    اس کا قادیان اور قادیانی سنت سے تعلق ہی کیا ہے؟ اگر رسول کریم ﷺ کی بات سے ملتی جُلتی کسی بات کے متعلق اس طرح ہندو لکھتے تو کیا باوجود اس کے کہ ہندو رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ کا رسول نہیں مانتے مسلمان ان کے فعل کو جائز خیال کرتے؟ قطعاً نہیں یقینا ہم بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے رسول کریم ﷺ کی ہتک سمجھتے کیونکہ ہندو اس طرح رسول کریم ﷺ کے متعلق طنز کرتے اور ہم سب سے زیادہ اس کو محسوس کرتے کیونکہ ہم ہی سب سے زیادہ اور سچے رسول کریم ﷺ کے عاشق ہیں۔ پس کوئی بات خواہ وہ صحیح ہو جیسا کہ یہ صحیح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اسے طنز کے طور پر پیش کرنا یقینا دل آزاری ہے اگر ’’انقلاب‘‘ میں روزانہ دو تین صفحے بلکہ سارا ہی اخبار اس قسم کے مضامین سے بھرا ہوا ہو کہ مرزا صاحب نے نبوت کاجو دعویٰ کیا ہے وہ صحیح نہیں اور دلائل کے ساتھ اس پر بحث کی جائے تو ہم بُرا نہیں منائیں گے کیونکہ یہ غیر احمدیوں کا حق ہے کہ جس بات کو وہ درست نہیں سمجھتے اس کی تردید کریں۔ لیکن بطور طعن اور تشنیع اور بطور تحقیر اور تذلیل ایک فقرہ بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ اور اگر تعلیم یافتہ طبقہ کا پرچہ اور اس کے تعلیم یافتہ ایڈیٹر ہمارے مذہبی جذبات اور احساسات کا خیال نہیں کر سکتے اور یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک مذہبی جماعت سے بِلا وجہ تمسخر اور استہزاء کرنا بُری بات ہے تو ان کا مسلمانوں کو اتحاد اور اتفاق کی تعلیم دینا اور اس کے متعلق مضامین شائع کرنا ایک فضول بات ہے۔ ہم نے مسلمانوں کے اتحاد کے لئے قربانی کی ہے اور ہر رنگ میں اس کے لئے امداد دی ہے۔ مسلمانوں کے کونسلوں وغیرہ کے انتخاب میں ہم نے اپنے دوستوں کے تعلقات کی کوئی پرواہ نہ کی اور ان کو چھوڑ کر دوسروں کی امداد کی جبکہ یہ سمجھا کہ ان کا منتخب ہونا مسلمانوں کے فوائد کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ ہم نے اپنے عزیزوں کو ان کے لئے چھوڑا اُن سے جھگڑے کئے محض اس لئے کہ مسلمانوں کو کونسل میں زیادہ طاقت حاصل ہو اور منتخب ہونے والے اچھا کام کریں گے۔ پھر ہم نے ہر اس موقع پر جہاں رسول کریم ﷺ کی ہتک کی گئی دوسروں سے آگے بڑھ کر کام کیا یہ ہمارا کسی پر احسان نہیں تھا بلکہ ایسا کرنا ہمارا فرض تھا مگر ہم نے اپنا فرض ہی ادا نہیں کیا بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بیدار کیا اور ان کی جگہ کام کیا۔
    ملکانوں کے ارتداد کے وقت ہم نے ان کو بچانے کے لئے کام کیا۔ مرتد ہونے والے احمدی نہ تھے بلکہ حنفی تھے اُس وقت ہم کہہ سکتے تھے حنفی مذہب ایسا خراب ہو چکا ہے کہ اس کے ماننے والے ہزاروں مرتد ہو رہے ہیں مگر ہم نے ایسا نہ کیا بلکہ سب سے پہلے ملکانوں کے پاس گئے اور وہاں جا کر آریوں کو ایسی شکست دی کہ خود آریوں نے اس کا اعتراف کیا۔ اسی طرح بنگال میں جب مسلمان مرتد ہونے لگے تو ہم وہاں پہنچے اور ان کو مرتد ہونے سے بچایا۔ غرض ہم نے ہروہ کام کیا جس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچ سکتا تھا مگر اس کے مقابلہ میں مَیں دیکھتا ہوں کہ تعلیم یافتہ اور اتحاد کے حامی کہلانے والے لوگ بھی جب کوئی موقع آتا ہے تو ہمارے خلاف بُغض کا اظہار کرتے ہیں۔ شاید انہوں نے قوم کی خاطر قربانی کرنے کے یہ معنے سمجھے ہوئے ہیں کہ ہم ان کے لئے قربانی کرتے جائیں مگر خود وہ کچھ نہ کریں۔ قربانی کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے ہو مگر ایسی قربانی دُنیوی امور کے متعلق ہی ہو سکتی ہے دین کے معاملہ میں نہیں۔ دین نہ ہم خود چھوڑنے کے لئے تیار ہیں نہ کسی سے چھُڑاتیہیں نہ ہم کسی کے مذہب کے متعلق طعن و تشنیع کرتے ہیں اور نہ اپنے عقائد اور اپنے مقتدا اور پیشوا کے متعلق برداشت کر سکتے ہیں۔ میں اس خطبہ کے ذریعہ اعلان کرنا چاہتا ہوں ایڈیٹر صاحب الفضل جو یہاں آئے ہوئے ہیں وہ اس خطبہ کو لکھ کر اخبار میں شائع کر دیں گے کہ مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ صلح و اتحاد ہو تو ہم سے شرافت اور تہذیب کے ساتھ سلوک کریں لیکن اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یا احمدیت کے متعلق طعن و تشنیع سے کام لیں گے تو ہرگز صلح نہ ہو گی۔ نہ ہم کونسلوں کی کوئی حقیقت سمجھتے ہیں نہ ملازمتوں کو کچھ وقعت دیتے ہیں‘ نہ تجارت کی کچھ قدر سمجھتے ہیں ہمارے نزدیک خدا اور رسول سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ ہمارے مقتدا نے جس طرح آریوں‘ ہندؤں اور عیسائیوں کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر وہ ہمارے رسول کو گالیاں دیں گے اور بدزبانی کریں گے تو ہم جنگل کے درندوں اور شور زمین کے سانپوں سے صلح کر لیں گے مگر ان سے نہ کریں گے اِسی طرح میں غیر احمدیوں سے کہتا ہوں اگر وہ ہمارے مقتدا کے متعلق طعن و تشنیع سے کام لیں گے اور غیر شریفانہ رویہ نہ چھوڑیں گے تو ہم سانپوں اور درندوں سے صلح کرلیں گے مگر ان سے نہیں کریں گے۔ اگر ہماری تمام قربانیوں اور تمام خدمات کا یہی نتیجہ نکلنا ہے کہ وہ لوگ جو اتحاد کے دعویدار ہیں اور جو اتحاد کی تلقین کرتے رہتے ہیں وہ بھی ہمارے مقتدا پر ہنسی اور تمسخر کریں اور وہ اتنا بھی محسوس نہیں کر سکتے کہ ان کی ایسی باتوں کا ہم پر کیا اثر پڑ سکتا ہے تو ہماری ان کے ساتھ قطعاً صلح نہیں ہو سکتی۔
    میں پوچھتا ہوں کیا اس خبر کو اُس وقت تک صحیح نہ سمجھا جاتا جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر طعن نہ کیا جاتا کوئی سمجھدار انسان یہ نہ سمجھے گا کہ جب تک ہم پر طعن نہ کیا جاتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ نہ کیا جاتا اس خبر کا مطلب نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کرنا تو الگ رہا آپ کا خیال آئے بغیر بھی اس خبر کو شائع کیا جا سکتا تھا اور پڑھنے والے اس کا مطلب سمجھ سکتے تھے۔ مگر ایسی صورت میں جبکہ نہ تو اس خبر کے درست ہونے کی کسی نے تصدیق کی نہ کسی کو صحیح طور پر یہ معلوم ہوا کہ بچہ سقّہ نے کیا دعویٰ کیا ہے خواہ مخواہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر طعن کرنا محض ہماری دل آزادی کے لئے ہے۔ میں سمجھتا ہوں جس طرح مسلمان بادشاہ نائب رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کیا کرتے تھے اسی طرح اس نے بھی کیا ہو گا مگر کسی غیر ملکی نے جس کو اس بات کا پتہ نہ ہو گا یہ لکھ دیا کہ ا س نے رسول اللہ کا دعویٰ کیا ہے چنانچہ دوسرے اخبار سیاست نے یہ الفاظ شائع کئے ہیں ’’امیر حبیب اللہ خادم رسول اللہ‘‘۔ ۲؎
    اسی طرح اس نے دعویٰ کیا ہو گا مگر اخبار والوں کو تو یہ معلوم ہی نہیں کہ اس نے کیا دعویٰ کیا۔ نائب رسول ہونے کا یا رسول اللہ کا؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اَن پڑھ ہے اگر یہ درست ہے تو شائد اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ رسول اللہ کیا ہوتا ہے۔ کئی جاہل لوگ جب مجھ سے ملتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں اَلسَّلاَمُ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ۔ میں انہیں سمجھاتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ میں نبی نہیں میں تو نبی کا نائب ہوں۔ تو ممکن ہے جہالت کی وجہ سے اسے پتہ ہی نہ ہو کہ رسول اللہ کیا ہوتا ہے۔ ایسی بے خبری اور جہالت کی حالت میں جو بات کہی گئی ہو اسے شائع کرتے ہوئے ایک ایسی جماعت کا دل دُکھانا جو مسلمانوں کے مفاد کے لئے ہر قربانی کر رہی ہے اور اس کے مقتدا کی ہتک کرنا کہاں تک مناسب ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کوئی اس بات کو سمجھنے کے بعد امید رکھے کہ ہم ایسے لوگوں سے صلح رکھیں گے اور ان کے لئے قربانی کریں گے۔ ہم نے اپنی قربانی‘ اپنے رویہ‘ اپنے طریق‘ اپنے چال چلن اور اپنی خدمات سے ثابت کر دیا ہے کہ ہم مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں۔ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم تھوڑے ہوتے ہوئے زیادہ کام کر سکتے ہیں اور کِیا ہے۔ ہم نے بتا دیا ہے کہ مخالفینِ اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم سب سے زیادہ بہادر‘ سب سے زیادہ دلیر اور جری ہیں۔ ہم نے غیروں سے کامیاب مقابلہ کیا مگر باوجود اس کے کہ ہم مسلمانوں سے دُنیوی اور سیاسی معاملات میں اور مشترکہ مقاصد میں اتحاد کی سچی خواہش رکھتے ہیں کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے مقتدا اور پیشوا اور اس کے سلسلہ کا تحقیر اور تذلیل کے طور پر ذکر کیا جائے اور پھر ہم صلح کر لیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ اخبارسیاست میں کئی لمبے لمبے مضامین انہیں دنوں ہمارے خلاف نکلے مگر میں نے ان پر بُرا نہ منایا۔ میں نے جب ان مضامین کو پڑھا تو کہا جس طرح میرا حق ہے کہ اپنے عقائد کی اشاعت کروں اسی طرح ’’سیاست‘‘ کا بھی حق ہے کہ جس بات کو وہ درست نہیں سمجھتا اس کی تردید کرے۔ ’’سیاست‘‘ نے بے شک اعتراض کئے لیکن تمسخر اور استہزاء نہیں کیا‘ تحقیر اور تذلیل نہیں کی۔ اس لئے میں نے بُرا نہیں منایا۔ اس کے مقابلہ میں ’’انقلاب‘‘ میں ایسے مضامین تو نہیں نکلے مگر اس کا یہ ایک فقرہ ان مضامین کی نسبت بہت بدتر نکلا کیونکہ ان مضامین میں اپنے عقائد اور خیالات کی تشریح کی گئی تھی لیکن اس فقرہ میں تحقیر اور تذلیل کی گئی ہے۔ ’’سیاست‘‘ نے دلائل کے ساتھ بحث کی خواہ اس کے دلائل ہمارے خیال میں غلط ہی ہیں لیکن ’’انقلاب‘‘ کے فقرہ میں ہمارے عقیدہ اور ہمارے پیشوا کی تحقیر کی گئی ۔
    ان حالات میں مَیں ایک دفعہ بِالوضاحت اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اتحاد چاہتے ہیں تو انہیں اقرار کرنا چاہئے کہ وہ ہمارے بزرگوں اور ہمارے عقائد کی تحقیر اور تذلیل نہ کریں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے خلاف کچھ نہ لکھیں۔ لکھیں اور بڑی خوشی سے لکھیں‘ لمبے لمبے مضامین لکھیں وہ اس بات پر بحث کریں کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔ یہ لکھیں کہ آپ کی تعلیم قرآن کے خلاف ہے اور جو چاہیں لکھیں لیکن تضحیک اور تحقیر نہ کریں مسائل پر شریفانہ طور پر بحث کریں۔ اگر کوئی اس طرح کرے تو خواہ سارے کا سارا اخبار ہمارے خلاف مضامین سے بھر دے ہم اس پر بُرا نہ منائیں گے لیکن اگر یہ طریق اختیار نہیں کیا جائے گا تو پھر خواہ کوئی ہو کسی فرقہ اور کسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو‘ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ ‘ تحقیر اور تمسخر کے ساتھ سلسلہ احمدیہ اور بانی سلسلہ احمدیہ کا ذکر کرے گا تو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہ ہو گا اور جب تک اس سے تعلق رکھنے والی قوم اسے مجبور نہ کرے گی کہ وہ معافی مانگے اور آئندہ کے لئے ایسا نہ کرے اُس وقت تک اس قوم سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہ ہو گا۔ اس صورت میں ہم ان غیر قوموں سے صلح کریں گے جو ہمارے ساتھ شرافت کا برتاؤ کریں گی اور ہمارے مذہبی جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں گی۔ مگر یاد رہے جو قوم اس طرح ہمیں دھکا دے گی وہ خود اس بات کی ذمہ دار ہو گی۔ اگر اس کی قومی مصیبتوں میں ہم اس کی مدد نہ کریں پھر اس کا ہم سے امید رکھنا ہی غلطی ہو گی اس حالت میں ہم اپنے سارے معاملات بالکل جُدا کر لیں گے اور آزادانہ طور پر ترقی کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور جو جماعت دوسروں کے لئے قربانی کر سکتی ہے وہ اپنے لئے بہت بڑی قربانی کر سکتی ہے اور میں خوب جانتا ہوں ہم آزادانہ طور پر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت ترقی کر سکتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے ہم پر بوجھ ہی پڑتا ہے فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔ میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ واقعہ میں مسلمانوں میں اتحاد کے خواہاں ہیں اور تفرقہ کو بُرا سمجھتے اور نقصان رساں یقین کرتے ہیں میرے اس اعلان کے بعد اپنے رویہ سے ہمیں اس بات کا موقع نہ دیں گے کہ ہم ان کے متعلق کہیں انہوں نے ہمارے عقائد یا ہمارے بزرگوں کی تحقیر کی۔
    میں ذاتی طور پر ’’انقلاب‘‘ کے ایڈیٹر صاحب سے کوئی زیادہ واقف نہیں ہوں وہ تین چار بار مجھ سے ملے ہیں میں نے انہیں تعلیم یافتہ اور مسلمانوں کے لئے دردمند دل رکھنے والا پایا۔ شائد یہ فقرہ ان کا لکھا ہوا نہ ہو بلکہ کسی اور نے لکھ دیا ہو۔ اب بھی ان کے متعلق میرا یہی خیال ہے کہ وہ درد مند دل رکھتے اور مسلمانوں کی خدمت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر باوجود اس کے میں یہ اعلان کئے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ یہ بے غیرتی ہو گی اگر ہم اپنے عقائد اور اپنے پیشوا کی تحقیر اور تذلیل کو برداشت کریں اس کے لئے ہم کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہیں۔ اگر میرا یہ ظنّ صحیح ہے کہ ’’انقلاب‘‘ میں وہ فقرہ ایڈیٹر صاحب کا لکھا ہوا نہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس بات کو شائع کر دیں گے میں ان سے ہرگز یہ امید نہیں رکھتا کہ وہ احمدیت کے خلاف نہ لکھیں وہ لکھیں اور خوشی سے لکھیں لیکن مضمون کے رنگ میں اور کسی بات کی تحقیق کے لئے نہ کہ تحقیر اور تذلیل کریں اور اگر وہ فقرہ انہوں نے ہی لکھا ہے مگر بغیر تحقیر اور تذلیل کے خیال کے لکھا گیا ہے تو پھر بھی میں بُرا نہیں مناتا مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ آئندہ احتیاط سے کام لیں۔ لیکن اگر انہوں نے جان بوجھ کر یہ لکھا ہے اور تضحیک کے لئے لکھا ہے اور دوسرے لوگوں کا بھی یہی رویہ ہوا تو پھر ہم ان سے کسی بات میں اتحاد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہماری غیرت قطعاً یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ ہم اس انسان کی تحقیر دیکھیں جسے ہم خدا تعالیٰ کا مأمور اور مرسل یقین کرتے ہیں اور پھر تحقیر کرنے والوں سے مل کر کوئی کام کریں۔
    (الفضل ۸فروری ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ انقلاب ۳۱جنوری ۱۹۲۹ء
    ۲؎ اخبار سیاست ۳۱جنوری ۱۹۲۹ء

    ۵
    ہر احمدی دعوت الیٰ اللہ کا عہد کرے
    (فرمودہ ۸۔فروری ۱۹۲۹ء بمقام پھیرو چیچی)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    بہت سی غلطیاں انسان کو صحیح صورت حال کے نہ سمجھنے کی وجہ سے لگ جاتی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک مثال مشہور ہے کہ جب بلی کبوتر پر حملہ کرنے لگتی ہے تو کبوتر آنکھیں بند کر لیتاہے اور سمجھتا ہے جب مجھے بلی نظر نہیں آتی تو میں بلی کو کہاں نظر آتا ہوں گا اور وہ فرض کر لیتا ہے کہ اب بلی اس پر حملہ نہ کرے گی مگر اس کے اس فعل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بلی اس پر حملہ کرتی ہے اور اسے کھا جاتی ہے۔ اگر وہ اپنی آنکھیں بند نہ کرتا اور پیش آمدہ حالت کے متعلق غلط اندازہ نہ لگاتا تو پکڑا نہ جاتا کیونکہ وہ پرندہ ہے اور اُڑ کر بلی سے بچ سکتا ہے۔ تو غلط اندازے بسااوقات انسان کو کامیابی سے محروم کر دیتے ہیں۔ کامیابی ہمیشہ صحیح اندازہ لگانے اور اس کے مطابق علم کرنے کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ بیسیوں دفعہ انسان کامیابی کے سِرے پر پہنچ کر اس لئے رہ جاتا ہے کہ اس نے حالات کا غلط اندازہ لگایا ہوتا ہے۔ بسااوقات کامیابی اس کے ہاتھ کی پہنچ میں ہوتی ہے مگر وہ خیال کر لیتا ہے کہ کامیابی بہت دور ہے اس لئے ہمت ہار بیٹھتا ہے۔ اسی طرح بسااوقات ہلاکت اس کے قریب آرہی ہوتی ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ میں محفوظ ہوں اس لئے ہلاکت سے پیچھے نہیں ہٹتا اور تباہ ہو جاتا ہے۔ تو انسان کو کامیابی کے لئے نہ صرف صحیح کوشش کی ضرورت ہے بلکہ ان احوال کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے جن میں سے گذر رہا ہوتا ہے۔
    ہر عقلمندانسان کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جن باتوں پر وہ حالات کا اندازہ لگاتا ہے وہ اس کے اپنے دل کی کیفیتیں ہیں یا دوسرے لوگوں کے دلوں کی۔ مثلاً ایک شخص جس کے دل کو خدا تعالیٰ نے ہر قسم کی بُرائی سے محفوظ رکھا ہو اگر کہے چونکہ میں چوری نہیں کرتا اس لئے کوئی بھی چوری نہیں کرتا اور اپنے دروازے کھلے چھوڑ کر سو جائے تو اس کا مال محفوظ نہ رہے گا یا ایک ایسا شخص جو کسی کا دل دُکھانا بھی گناہ سمجھتا ہو اور جس کے نزدیک کسی کی جان لینا سوائے اس صورت کے کہ اسلام کا حکم ہو یا حکومت کا حکم ہو کسی انسان کا فعل ہی نہ ہو وہ اپنے آپ کو دشمنوں کے حوالے کر دے اور سمجھے کہ یہ کہاں میری جان لے سکتے ہیں تو اس کی جان خطرہ میں ہو گی۔ یا مثلاً ایک ایسا آدمی جس میں دیانت داری کامادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو جس کے پاس لوگ لاکھوں روپے کی امانتیں رکھیں اور وہ ان کی حفاظت کو اپنا مقدس فرض سمجھتا ہو اگر وہ یہ خیال کرے کہ ساری دنیا ہی ایسی ہے اور لوگوں کو اپنا مال یوں ہی دیدے کوئی تحریر وغیرہ نہ کرائے تو اس کا مال محفوظ نہ ہو گا۔ یا مثلاً ایک ایسا شخص جس کے ہاتھ‘ آنکھ اور زبان سے لوگوں کی عزت و آبرو محفوظ رہتی ہو اگر وہ یہ خیال کرے کہ اس کی عزت پر بھی کوئی حملہ نہیں کر سکتا تو اس کی عزت خطرہ میں ہو گی۔
    غرض کبھی اس لئے دھوکا لگ جاتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے جب میں ایسا نہیں کرتا تو کوئی مجھ سے کیوں ایسا کرنے لگا۔ اس طرح اس کی عزت‘ اس کا مال‘ اس کی حکومت‘ اس کا دبدبہ‘ اس کا رُعب‘ اس کی جان اور جو چیز اسے پیاری اور عزیز ہوتی ہے وہ خطرہ میں ہوتی ہے۔
    بسا اوقات مومن بھی ایسا دھوکا کھا جاتا ہے چونکہ مومن ساری دنیا کا خیر خواہ ہوتا ہے اس لئے اپنے دل کی حالت پر ساری دنیا کی حالت کو قیاس کر لیتا ہے وہ سمجھتا ہے جس طرح میں سب کا خیر خواہ ہوں دوسرے لوگ بھی میرے خیر خواہ ہونگے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات اسے سخت نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔
    میں اپنی جماعت کے دوستوں کو آج کے خطبہ میں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں ہماری جماعت ساری دنیا کی خیر خواہ ہے جب ہم مسلمان کہلانے والوں کی خیر خواہی کرتے ہیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہم دوسرے لوگوں کے خیر خواہ نہیں۔ چونکہ مسلمانوں سے ہمارا زیادہ قریب کا تعلق ہے ملکی اور نیم مذہبی فوائد ان کے اور ہمارے متحد و مشترک ہیں‘ مذہبی امورمیںسے بھی بہت سے امور میں ہم اور وہ متحد ہیں صرف چند امور میں اختلاف ہے اس لئے ہم ان کے ساتھ ایک حد تک مل کر کام کرتے ہیں اور متحدہ امور میں قطعی طور پر مل کر کام کرتے ہیں کیونکہ ان باتوں میں ان کا فائدہ ہمارا فائدہ ہوتا ہے اور ان کا نقصان ہمارا نقصان‘ اس وجہ سے ان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہمارے لئے ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم ہندوؤں کے دشمن ہیں یا عیسائیوں کے دشمن ہیں۔ ہم ہندوؤں‘ سکھوں‘ یہودیوں‘ عیسائیوں حتیٰ کہ دہریوں کے بھی خیر خواہ اور ہمدرد ہیں کیونکہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ سب کا خیر خواہ ہو۔ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ ہم نہ صرف دہریہ کے بلکہ بدترین چور‘ ڈاکو اور بد کردار کے بھی خیر خواہ ہیں کہ سب ربّ العٰلمین کے بندے ہیں اور وہ اسی طرح چوروں اور ڈاکوؤں کا ربّ ہے جس طرح دوسرے لوگوں کا۔ غرض ہم خدا تعالیٰ کے تمام بندوں کے خیر خواہ اور ہمدرد ہیں لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ چونکہ ہم ساری دنیا کے خیر خواہ ہیں اس لئے دنیا بھی ہماری خیر خواہ ہے غلطی ہو گی۔ اسی طرح یہ سمجھ لینابھی غلطی ہو گی کہ جس طرح ہم دوسروں کی ترقی کے لئے کوشش کرتے ہیں وہ بھی ہماری ترقی کے رستہ میں روک نہ ہونگے کیونکہ ہم ان کے خیر خواہ ہیں اور اپنے عمل سے خیر خواہی ثابت کرتے ہیں مگر وہ ایسا نہیں کرتے ہم دنیا کو اور نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دنیا ہمیں اور نگاہ سے دیکھتی ہے۔
    ہم تو دنیا کو اِس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ دنیا کی تمام چیزیں ساری کی ساری انبیاء کی مملوک ہوتی ہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے نائب ہوتے ہیں چونکہ سب چیزیں خدا تعالیٰ کی ہیں اس لئے وہ خدا تعالیٰ کے نائبوں کی بھی ہیں۔ اگر ان کا کوئی حصہ انبیاء سے بغاوت کرتا ہے تب بھی وہ یہی سمجھتے ہیں کہ آخر ہماری ہی ہیں ہمارے ہی پاس آئیں گی ان کو مٹانا نہیں چاہئے۔ جیسے ایک عقلمند بادشاہ بغاوت کو دبانے کے لئے یہ کوشش کریگا کہ کم سے کم خونریزی ہو تاکہ اس کی رعایا تباہ نہ ہو۔ اسی طرح وہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ دنیا کا وارث کر دیتا ہے سوائے اس نقصان کے جس کا پُہنچانا ضروری ہوتا ہے اور جو لوگوں کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے نقصان نہیں پُہنچاتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں یہ ہماری ہی مِلک ہیں آخر ہمارے ہی پاس آئیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ جب طاعون رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے مطابق ہندوستان میں ظاہر ہوئی اور لوگ کثرت سے مرنے لگے تو اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دل بہت کُڑھتا تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیت الدعا کے قریب ہی رہا کرتے تھے فرماتے ہیں ایک دن مجھے اس طرح کراہنے کی آواز آئی جس طرح دردِزِہ والی عورت کراہتی ہے۔ چونکہ وہ بالکل قریب سے آرہی تھی میں نے معلوم کرنا چاہا کہ کیسی آواز ہے آخر معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دعا کر رہے ہیں اور یہ آپ کی آواز ہے آپ اُس وقت کہہ رہے تھے۔ الٰہی! اگر دنیا اِسی طرح ہلاک ہو گئی تو تیری عبادت کون کرے گا۔
    دیکھو طاعون آپ کے نشان کے طور پر ظاہر ہوئی تھی اور آپ کے دشمنوں کی ہلاکت کے لئے نمودار ہوئی تھی۔ مگر جب لوگ مرنے لگے تو پھر آپ کو فکر ہوئی کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کون کرے گا اور ایمان کون لائے گا۔ اِس درد اور تکلیف کی وجہ یہی تھی کہ سب آپ کو ورثہ میں دیئے گئے تھے۔ ان کا مرنا آپ کی جماعت میں کمی واقعہ ہونا تھا تو تمام دنیا انبیاء کی ملکیت ہوتی ہے اور پھر ان کے نائبوں کی۔ سچے نائب وہی ہوتے ہیں جو ساری دنیا کے خیر خواہ ہوں نہ کہ کسی خاص قوم کے۔ اور سچے خیر خواہ دنیا کے وہی ہوتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ہم سب ایک دن بھائی بھائی بن جائیں گے۔ کیا ہوا اگر اب کوئی مخالفت کرتا ہے۔
    دوسرے لوگ اِس نقطہ ٔ نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ اس طرح دیکھتے ہیںجس طرح بکری شیر کو دیکھتی ہے۔ یا یوں سمجھ لو کہ کسی نے چیتا یا شیر پالا ہوا ہو اور وہ چُھوٹ جائے مالک تو اسے اس طرح پکڑنے کی کوشش کریگا کہ وہ مرے نہیں بلکہ کام آ سکے مگر چیتا اپنے مالک پر اس طرح حملہ کرے گا کہ اسے پھاڑ ڈالے تا کہ آزاد ہو جائے۔ یہی حال انبیاء کی جماعت اور دوسرے لوگوں کا ہوتا ہے۔ انبیاء کی جماعت کا پورا زور اس بات پر صرف ہوتا ہے کہ لوگ بچ جائیں تباہ نہ ہوں تا کہ ہمارے بھائی بن جائیں مگر دوسروں کا پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ انبیاء کے ماننے والے ہلاک ہو جائیں تا کہ وہ ان کے قبضہ میں نہ چلے جائیں۔
    جب یہ صورت حال ہے تو ہمارا فرض ہے کہ یہ بھی دیکھیں کہ لوگ ہمارے متعلق کیا ارادے رکھتے ہیں اور ہمارے خلاف کیا کیا کوششیں کر رہے ہیں۔ بے شک ایسے بھی لوگ ہیں جن میں شرافت اور دیانت داری پائی جاتی ہے اور جو انسانیت کا سلوک کرتے ہیں لیکن بہت سے ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ جماعت ہماری دشمن ہے اور کَل ہماری جگہ پر قبضہ کر لے گی۔ اس وجہ سے وہ ہر رنگ میں اور پورے زور کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں اور اس طرح حق کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ زور لگاتے رہے ہیں۔ دیکھو شرک کتنی کھلی اور واضح بُرائی ہے لیکن جب موحّد دنیا میں کھڑے ہوئے تو مشرک لوگ اسی طرح ان کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے جس طرح سچائی پر قائم ہونے والا سچائی کی حمایت میں کھڑا ہوتا ہے۔ رسول کریم ﷺ شرک کے خلاف کھڑے ہوئے مکہ والوں نے اسی طرح زور سے آپ کی مخالفت کی جس طرح سچ کے حامی کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اس قسم کا جوش کسی عقیدہ کے لحاظ سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ اس عقیدہ کے سچے ہونے کی وجہ سے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک عقیدہ بالکل غلط ہو مگر اس کے ماننے والوں کو اس کے لئے ایسا ہی خوش ہو جیسا کہ ایک سچا عقیدہ رکھنے والوںکو اپنے عقیدہ کے متعلق ہو سکتا ہے۔اس وجہ سے تمام کی تمام قومیں اور فرقے ہماری نسبت یہی خیال کرتے ہیں کہ چونکہ یہ روزبروز پھیلتے جاتے ہیں اس لئے ہماری جگہ پر قابض ہو جائیں گے اس بات سے بحیثیت فرقہ ان کے دلوں میں ہمارے متعلق خیر خواہی اور خیر اندیشی نہیں ہے۔ ہاں ان کے افراد ایسے ہو سکتے ہیں اور ہیں جو ہمارے خیر خواہ ہوں۔ حنفیوں میں افراد کے طور پر ایسے لوگ مل جائیں گے جو خیر خواہ ہونگے وہابیوں میں سے ایسے لوگ مل جائیں گے‘ غیر مسلموں‘ عیسائیوں‘ ہندوؤں میں سے مل جائیں گے مگر آج کل کی حنفیّت ہماری خیر خواہ ہو یہ ناممکن ہے۔ گویا بحیثیت افراد خیر خواہ مل جائیں گے مگر بحیثیت قوم خیرخواہ نہ ملیں گے۔ پس چند افراد کااچھاہونا یہ مطلب نہیں رکھتا کہ بحیثیت قوم خیر خواہ ہیں۔ پھر خصوصیت کے ساتھ محمدی سلسلہ میں یہ بات نمایاں ہے بلکہ اس کے متعلق پیشگوئی موجود ہے۔ یوں بھی ہمیشہ دنیا سچائی کی دشمن چلی آئی ہے مگر اس کے متعلق تو پیشگوئی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ کو بتایا۔
    ’’اس کا ہاتھ سب کے اور سب کے ہاتھ اس کے برخلاف ہونگے ۔ اور وہ اپنے بھائیوں کے سامنے بودوباش کرے گا‘‘۔ ۱؎
    اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ کا سلسلہ جب کبھی ظاہر ہو گا ساری دنیا اس کی مخالفت کرے گی۔ چنانچہ حضرت اسحاقؑ کی قوم نے جو نسلی دشمنی حضرت اسماعیل ؑ کی اولادسے کی وہ کسی سے نہ کی۔ تو ریت پڑھ کر دیکھ لو یہودیوں کی کتابوں کو پڑھو سوائے گالیوں کے کوئی کلمۂ خیر حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی اولاد کے متعلق نہ ہو گا۔ پھر رسول کریم ﷺ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہوئے آپ کے متعلق بھی یہی ہوا تمام دُنیا نے آپ کی مخالفت کی‘ یہودیوں نے آپ کی مخالفت کی اور عیسائیوں نے آپ کے خلاف سارا زور لگایا۔ یہودی عیسائیوں کے دشمن ہیں اور عیسائی یہودیوںکے لیکن رسول کریم ﷺ کی دشمنی میں دونوں اکٹھے ہو گئے۔ مشرک عیسائیوں کے دشمن ہیں اور عیسائی مشرکوںکے‘ یہودی مشرکوں کے دشمن ہیں اور مشرک یہودیوں کے لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں یہودی‘ عیسائی اور مشرک سب اکٹھے ہو گئے اس لئے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق پیشگوئی تھی کہ وہ تلواروں کی چھاؤں کے تلے پلے گا اور ساری دنیا اس کی مخالفت کرے گی۔ رسول کریم ﷺ ساری دنیا کی خیر خواہی کا جو جذبہ لے کر کھڑے ہوئے تھے اس کی کوئی پرواہ نہ کی گئی اور ساری دنیا آپ کی مخالف ہو گئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بظاہر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے نہ تھے اس لئے شائد کسی کو خیال ہوتا کہ دنیا آپ سے وہ سلوک نہ کرے گی جو حضرت اسماعیل ؑ اور آپ کی اولاد سے کیا۔ اور ممکن تھا اس خیال سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں سُستی پڑ جاتی اور وہ ہوشیاری اور چُستی کام میں نہ لاتی جو ترقی کرنے کے لئے ضروری ہے۔ لیکن چونکہ اب نبوت ہے ہی وہی جو رسول کریم ا کے ذریعہ حاصل ہو اور کوئی نبوت باقی نہیں اب بغیر رسول کریم ا کی روحانی اولاد کے کوئی رسول اور نبی نہیں اس لئے ضروری ہے کہ اولاد کو باپ کی باتیں ملیں۔ پس اب اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام رسول کریم ﷺ کی جسمانی نسل میں سے نہیں تو بھی آپ سے وہی سلوک دنیا کی طرف سے ہونا ضروری تھا جو آپ سے کیا گیا۔لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کو الہام بھی کیا اور فرمایا۔ یخرج ھمہ وغمہ دوحۃ اسمعیل فاخفھا حتّٰی تخرج ۲؎ ا س سے ظاہرہے کہ آپ کو حضرت اسماعیل ؑ سے نسبت دی گئی ہے۔
    پس ضروری ہے کہ آپ کے متعلق بھی یہی حالت رونما ہو کہ سب دنیا کے ہاتھ آپ کے خلاف اُٹھیں۔
    ہماری جماعت کو یہ خیال کر کے کہ وہ ساری دنیا کی خیر خواہ ہے خصوصاً مسلمانوں کی یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ دنیا بھی اس کی خیر خواہ ہے۔ کبوتر کے آنکھیں بند کر لینے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ بلی نے بھی آنکھیں بند کر لی ہیں ہم دیکھتے ہیں باوجود اس محبت اور خیر خواہی کے جو ہم دوسروں سے رکھتے ہیں وہ لوگ بھی جن کو سنجیدہ اور متین سمجھا جاتا ہے جب کبھی موقع آتا ہے مخالفت سے باز نہیں آتے۔ جب کبھی مخالفینِ اسلام سے مقابلہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو کہتے ہیں کہ احمدی ان لوگوں کا مقابلہ کریں۔ مگر جب وہ وقت گذر جاتا ہے تو ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ احمدیوں کا نام تک نہ لیں۔ جب علاقہ ملکانا میں آریوں نے شورش برپا کی تو سارے ملک میں شور پڑ گیا کہ احمدی ان کے مقابلہ کے لئے اٹھیں لیکن جب ہمارے آدمیوں نے جا کر آریوں کو شکست دی تو پھر احمدیوں کا نام لینا بھی ان لوگوں کے نزدیک گناہ ہو گیا۔ اُس وقت یہی کہنے لگے کہ فلاں جمعیت نے یہ کام کیا اور فلاں نے یہ۔ حالانکہ اگر آریوں کی گواہی لیں تو وہ بھی یہی کہیں گے کہ جتنا کام کیا احمدیوں نے کیا اور کسی نے نہیں کیا اور احمدی ہی ان کے راستہ میں نہ ہٹنے والی روک ثابت ہوئے۔ تو ہماری مخالفت ہر موقع پر کی جاتی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ کہا گیا تھا اُس کا ہاتھ سب کے اور سب کے ہاتھ اُس کے خلاف اٹھیں گے۔
    غرض دوسرے لوگ ضرورت کے وقت ہم سے فائدہ اٹھا لیں گے مگر اپنے ہاتھ ہمارے خلاف ہی اٹھائے رکھیں گے۔ بے شک سارے کے سارے لوگ ایسے نہیں ایسے افراد بھی ہیں جو ہمارا ساتھ دیتے ہیں مگر قومی طور پر ہماری مخالفت ہی کی جاتی ہے۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت کرشنؑ نبی ہیں اور کئی ہندو ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا نبی ماننے کیلئے تیار ہیں مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ متحدہ طور پر یہ مانتے ہیں بلکہ یہ ہیں کہ وہ اپنی قوم سے الگ ہو کر مانتے ہیں مگر ہم حضرت کرشنؑ کو متحدہ طور پر نبی مانتے ہیں۔ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں مگر کوئی ایک احمدی بھی ایسا نہ ہو گا جو حضرت کرشن ؑ کو گالی دے اور اگر کوئی دے گا تو ساری جماعت اس کے خلاف ہو گی۔ لیکن اگر کوئی ہندو رسول کریم ﷺ کو نبی مانتا ہے تو اپنی قوم سے علیحدہ ہو کر مانتا ہے قوم اس کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں بلکہ وہ گالیاں دینے والوں کا ساتھ دیتی ہے۔ پس اگر کوئی کہے کہ ہماری جماعت کی فلاں ایڈیٹریا فلاں ماسٹر یا فلاں پروفیسربڑی تعریف کرتا ہے تو یہ من حیث القوم تعریف نہ ہو گی بلکہ من حیث الافراد تعریف کرنے والے ہونگے ۔
    تو ہماری جماعت کے لوگوں کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ہماری کامیابی کا سارا دارومدار خدا کے فضل اور ہماری اپنی کوششوں پر ہے۔ جب تک یہ بات ہماری آنکھوں کے سامنے نہ ہو گی کہ اگر ترقی ہوئی تو محض اپنی کوشش اور سعی سے ہو گی اُس وقت تک کبھی ترقی حاصل نہ ہو گی۔ جب ہمیں یہ بھروسہ ہو گا کہ ہمارا دایاں اور ہمارا بایاں دوسری قومیں سنبھالیں گی تو یہ ہماری شکست کا وقت ہو گا۔ ہمارا دایاں‘ ہمارا بایاں‘ ہمارا اگلا‘ ہمارا پچھلا اور ہمارا وسط ہمیں خود سنبھالنا ہو گا تب ترقی حاصل ہو گی اسی لئے میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اپنی جماعت کو دنیا میں پھیلاؤ اور بڑھاؤ۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی اسی بات کو اِس وقت میں تفصیل سے بیان کر رہا ہوں کہ ہر احمدی اقرار کرے کہ وہ سال میں کم از کم ایک احمدی بنائے گا اس طرح ایک سال کے اندر اندر جماعت کادُگنا ہو جانا معمولی بات ہے اس طرح تھوڑے سے عرصہ کے چکر میں ہماری تعداد کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے۔کہتے ہیں جس شخص نے شطرنج کا کھیل ایجاد کیا جس میں ۶۴ خانے ہوتے ہیں وہ اسے بادشاہ کے پاس لے گیا۔ بادشاہ کو یہ کھیل بہت پسند آیا اور اس نے اسے کہا جو چاہو انعام مانگ لو۔ اس نے پہلے تو کہا کہ میں تحفے کے طور پر لایا ہوں کوئی انعام نہیں لینا چاہتا لیکن جب بادشاہ نے زور دیا تو اس نے کہا اگر آپ مجھے کچھ دینا ہی چاہتے ہیں تو ایک خانہ میں ایک کوڑی اور دوسرے میں دو‘ اِسی طرح دوگنی رکھ کر دے دی جائیں۔ بادشاہ نے یہ سن کر کہا میں نے تو تمہیں بڑا عقلمند سمجھا تھا مگر یہ بات تو تم نے پاگلوں والی کی ہے۔ اس نے کہا جب آپ نے کہا ہے میں جو چاہوں مانگوں تو اب اس بات کو پورا کیجئے۔ بادشاہ نے کہا میں تو تمہیں نصف بادشاہت تک دینے کے لئے تیار تھا مگر تم نے مانگا ہی کچھ نہیں اب جو چاہتے ہو وہی لے لو۔ بادشاہ نے خزانچی کو بلا کر کہا کہ جس طریق سے یہ کہتا ہے کوڑیوں کا حساب کر کے جتنے روپے بنتے ہیں اسے دے دو۔ تھوڑی دیر کے بعد خزانچی بادشاہ کے پاس آ کر کہنے لگا اِس حساب سے خزانہ تو سارا خالی ہو گیا ہے لیکن خانے ابھی باقی ہیں کیونکہ ہر خانہ میں دوگنی رقم کرنے سے اربوں ارب روپیہ دینا پڑا۔ اِس پر اُس شخص نے بتایا میں حساب کا کمال بتانا چاہتا تھا اس لئے یہ مطالبہ کیاتھا۔ تو دُوگنا ہونے سے اتنی جلدی ترقی ہو سکتی ہے کہ دنیا دنگ رہ جائے۔ مثلاً اگر اس تحریک پر ایک سَو آدمی ہی ایسے نکل آئیں جو عہد کریں کہ ہر سال ہم اپنی تعداد کو دُوگنا کر لیا کریں گے تو سَو سال کے اندر اندر ساری دُنیا کو احمدی بنا سکتے ہیں۔ ایک سَو آدمی ایک سال کے بعد دو سَو ہو جائیں گے‘ دو سال کے بعد چارسَو‘ تین سال کے بعد آٹھ سَو‘ چوتھے سال کے بعد سولہ سَو ‘ پانچویں سال کے بعد بتیس سَو ‘ چھٹے سال کے بعد چونسٹھ سَو‘ ساتویں سال کے بعد بارہ ہزار آٹھ سَو‘ آٹھویں سال کے بعد پچیّس ہزار چھ سَو‘ نویں سال کے بعد اِکاون ہزار دو سَو‘ دسویں سال کے بعد ایک لاکھ دو ہزار چار سَو‘ گیارھویں سال کے بعد دو لاکھ چار ہزار آٹھ سَو‘ بارھویں سال کے بعد چار لاکھ نو ہزار چھ سَو‘ اسی طرح سَو سال کے بعد دنیا کی ساری آبادی کو احمدی بنا لیا جائے۔ پس اگر کوئی قوم اپنا فرض مقرر کر لے کہ ہر سال وہ اپنی تعداد کو دُگنا کر لیا کرے گی تو ساری جماعت تو الگ رہی اگر اس کا ایک محدود حصہ بلکہ اس کے سَو (۱۰۰) افراد بھی اس عزم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو چالیس سال کے اندراندر دنیا کو احمدی بنا سکتے ہیں۔ لیکن اگر ساری جماعت یہ اقرار کرے اور پھر اس میں سے آدھا یا چوتھاحصہ یا پانچواں حصہ یا دسواں حصہ یا سینکڑواں حصہ یا ہزارواں حصہ بھی کامیاب ہو جائے تو بھی چند ہی سالوں کے اندر اندر ایسا تغیر پیدا ہو سکتا ہے کہ ہم اسلام کی اشاعت کا جو مقصد لے کر کھڑے ہوئے ہیں وہ پورا ہو سکتا ہے اور دس بارہ سال کے اندر ہی عظیم الشان تغیر پیدا ہو سکتا ہے۔ پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر احمدی اقرار کرے کہ وہ سال میں دوگنا ہونے کی کوشش کرے گا اِسی لئے میں نے تجویز کی تھی کہ ایسے لوگ کھڑے ہوں جو یہ اقرار کریں اور اپنے نام لکھا دیں جس طرح چندہ دینے کے لئے نام لکھاتے ہیں کہ ہم اتنا اتنا چندہ دیں گے اِسی طرح تبلیغ کے متعلق اقرار کریں کہ کم از کم ایک آدمی کو سال میں احمدی بنائیں گے اور جو زیادہ بنا سکیں وہ زیادہ کے لئے اقرار کریں۔ مگر شرط یہ ہے کہ اپنے پایہ اور اپنے طبقہ کے لوگوں کو احمدی بنائیں۔ زمیندار زمینداروں کو احمدی بنائیں‘ وکیل وکیلوں کو‘ ڈاکٹر ڈاکٹروں کو ‘ انجینئر انجینئروں کو‘ پلیڈر پلیڈروں کو‘ اسی طرح چند سالوں میں ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کیا جا سکتا ہے کہ طوفانِ نوح بھی اس کے سامنے مات ہو جائے۔
    میں اُس اعلان کے مطابق جو ایک سابقہ خطبہ میں کر چکا ہوں کہ سالانہ جلسہ پر جو باتیں بیان کی گئی تھیں‘ ان کو مختلف خطبوں میں تفصیلاً بیان کروں گا یہ خطبہ پڑھ کر مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ عہد جتنے لوگ کر سکیں کریں اور اپنے نام لکھا دیں کہ وہ اپنی حیثیت کا کم از کم ایک آدمی سال میں احمدی بنائیں گے۔ اگر ایک ہزار بھی ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں تو کئی ہزار خود سال میں داخل ہو جاتے ہیں اور اس طرح ایک خاصی تعداد کا اضافہ ہو سکتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ اپنے اپنے طبقہ میں سے احمدی بنائیں۔ اس طرح کئی ایک وکلائ‘ ڈاکٹر‘ بیرسٹر‘ مجسٹریٹ اور دوسرے تعلیم یافتہ لوگوں کا اضافہ ہو جائیگا اور ایسے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ طبقہ کے لوگ بہت سے لوگوں کے لئے بطور چابی ہوتے ہیں ان کے داخل ہونے سے بہت سے لوگ خود بخود داخل ہو جاتے ہیں اس طرح بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ پس یہ تجویز بہت گہرا اور وسیع اثر رکھنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے دوست جلد اس طرف توجہ کریں۔ جلسہ کے موقع پر جو اعلان کیا گیا تھا اس پر پچیّس تیس کے قریب دوستوں کے نام لکھائے ہیں مگر یہ بہت قلیل تعداد ہے۔ تمام جماعت کے امراء اور سیکرٹریوں کو چاہئے کہ خاص جلسے کر کے یہ تحریک کریں اور جو اصحاب نام لکھائیں ان کی اطلاع دیں۔ مگر اس بات کا خیال رہے کہ اگر کوئی تاجر ہے تو تاجر کو احمدی بنائے۔ اگر کوئی اعلیٰ عہدہ پر ہے تو اسی درجہ کے آدمی کو بنانے کی کوشش کرے یہ نہیں کہ وہ کسی چپڑاسی سے بیعت کا خط لکھا دے۔ اپنی حیثیت کے لحاظ سے اسی حیثیت کے آدمی کو تبلیغ کرنی چاہئے۔ ایمان کے لحاظ سے تو تمام انسان برابر ہیں کوئی چھوٹا بڑا نہیں مگر سیاسی لحاظ سے جو شخص کسی قسم کا اثر رکھتا ہے اس کے احمدی ہونے سے بہت بڑا فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ اس کا دوسروں پر اثر ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ اس کے حلقہ اثر میں احمدیت پھیل سکتی ہے۔ پس ہر شخص اپنے طبقہ کو لے اور اس میں سے احمدی بنائے تا کہ جماعت کی ترقی ہر طبقہ میں یکساں طور پر ہو۔ زمیندار زمینداروں کو احمدی بنائیں افسر افسروں کو احمدی بنائیں‘ مزدور مزدوروں کو احمدی بنائیں عالم عالموں کو احمدی بنائیں‘ اگر اس سال ایک ہزار آدمی کم از کم ایک ہزار لوگوں کو ہی احمدیت میں داخل کر لیں تو بہت جلد ترقی ہو سکتی ہے چونکہ انہیں تبلیغ کرنے کی مشق ہو جائیگی اس لئے اگر پہلے سال ایک آدمی کو احمدی بنائیں گے تو اگلے سال دو تین کو بنا سکیں گے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تبلیغ کا شوق تو رکھتے ہیں مگر اس کا ڈھنگ نہیں جانتے۔ جب وہ اقرار کریں گے کہ کم از کم ایک آدمی کو احمدی بنائیں گے اور پھر اس کے لئے کوشش کریں گے اور ایک آدمی کو احمدی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو پھر اوروں کو تبلیغ کرنا ان کے لئے آسان ہو جائے گا۔ پس میں جماعت کے دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ خواہ وہ عالم ہوں یا معمولی پڑھے لکھے ‘ پیشہ ور ہوں یا زمیندار‘ تاجر ہوں یا ملازم ہر طبقہ کے لوگ اپنے آپ کو پیش کریں اور اقرار کریں کہ اپنے طبقہ میں سے کم از کم ایک شخص کو احمدی بنانے کی کوشش کریں گے اور پھر جلد سے جلد اس عہد کو پورا کریں۔ ریزروفنڈ کے متعلق دیکھا گیا ہے کہ جنہوں نے جلدی اپنے وعدہ کا ایفاء کیا وہ تو کامیاب ہو گئے مگر جنہوں نے یہ خیال کیا کہ سال کے ختم ہونے تک پورا کر لیں گے وہ رہ گئے۔ اِس عہد کو پورا کرنے کے لئے بھی جو دوست جلدی کریں گے وہی کامیاب ہو سکیں گے ورنہ جو یہ کہیں گے کہ کَل پورا کر لیں گے ان کا کل کبھی نہیں آئے گا اور انہیں شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ پس کوئی دوست اِس عہد کے ایفاء کو کَل پر نہ ڈالیں بلکہ آج کا کام آج ہی کریں۔ جو اصحاب اس نیت اور اس ارادہ سے کھڑے ہوں گے وہ خدا کے فضل سے ضرور کامیاب ہونگے۔ ریزروفنڈ کا چندہ جمع کرنے میں وہی لوگ ناکام رہے جنہوں نے سمجھا نومبر یا دسمبر میں کر لیں گے۔ یا یہ خیال کیا کہ سال کی آخری ششماہی میں کر لیں گے لیکن جنہوں نے جلد سے جلد پورا کرنے کی کوشش کی انہوں نے انہی علاقوں میں جہاں کے دوسرے لوگ ناکام رہے کامیابی حاصل کی۔ جنہوں نے اس کام کوپیچھے ڈالا ان کی زبانوں میں اثر نہ رہا اور وہ اپنا عہد پورا نہ کر سکے۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ جو اس کے لئے وعدے کرے اسے جلد پورا کرے اسے کیا پتہ ہے کہ کل پورا کر سکے گا یا نہیں۔
    میں امید رکھتا ہوں کہ تمام احمدی جماعتیں جن تک میری یہ آواز اخبار کے ذریعہ پہنچ جائے گی جلسے کر کے ایسے اصحاب کی فہرستیں جلدی بھیج دیں گی اور عہد کرنے والوں کے صرف نام نہ لکھے جائیں بلکہ ان سے دستخط بھی لئے جائیں جو اَن پڑھ ہوں ان کے انگوٹھے لگوا کر جلدی فہرستیں پیش کر دی جائیں۔ نئے سال میں سے ایک مہینہ گذر گیا ہے اور دوسرا شروع ہے۔ ایک مہینہ سالانہ جلسہ کا ہے باقی نو دس مہینے رہ گئے ہیں اس لئے جلد سے جلد یہ کام شروع ہو جانا چاہئے تا کہ ہم چند سالوں میں جماعت کی وہ ترقی دیکھ لیں جو پچھلے سالوں کی ترقی کو مات کر دے۔
    (الفضل ۱۵۔فروری ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ پیدائش باب ۱۶ آیت۱۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور ۱۹۲۲ء
    ۲؎ تذکرہ صفحہ ۵۹۵۔ ایڈیشن چہارم

    ۶
    خدا تعالیٰ کی ذات سب خوبیوں کی جامع
    اور تمام عیوب سے منزہ ہے
    (فرمودہ۱۵۔فروری ۱۹۲۹ء بمقام پھیرو چیچی)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    قرآن شریف کی ابتداء اللہ تعالیٰ نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے رکھی ہے یعنی شروع میں ہی بندے سے یہ اقرار کر ایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری خوبیوں اور تعریفوں کا جامع ہے اس کے تمام احکام حکمت کے ماتحت ہوتے ہیں اور وہ جو کچھ اپنے بند ے سے کرانا چاہتا ہے یا جس بات کے کرنے کا اپنے بندے کو حکم دیتا ہے وہ ضرور کسی نہ کسی خوبی پر مشتمل ہوتی ہے۔ جو امور اس کی طرف سے صادر ہوتے ہیں سب خیروبرکت کا موجب ہوتے ہیں۔ بعض لوگ نادانی سے ان ابتلاؤں اور تکلیفوں کو جو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں کبھی بیماریوں کی صورت میں‘ کبھی مالی نقصان ‘ کبھی جانی نقصان کی صورت میں‘ کبھی غربت کی صورت میں‘ کبھی ناکامی کی صورت میں‘ کبھی مقصد و مدّعا کے حاصل نہ ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں خدا تعالیٰ کی حمد کے خلاف سمجھ لیتے ہیں اور خیال کر لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصیبتیں اور بلائیں بھی ہیں اور لاکھوں انسان ایسے ہیں جو یہ کہہ دیا کرتے ہیں جب ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں تو دُنیامیں چوری اور ڈاکہ زنی کون کراتا ہے‘ لڑائی جھگڑے کس کے ذریعہ ہوتے ہیں؟ بجلیاں کیوں گرتی ہیں؟ طوفان‘ آندھیاں‘ اولے‘ برف‘ بارشوں کی کثرت‘ خشکی یعنی پانی نہ برسنے کی تکلیف‘ یہ تمام تکالیف کہاں سے آتی ہیں؟ اگر یہ ساری اللہ تعالیٰ کی ہی پیدا کردہ ہیں تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ کچھ بُری باتیں بھی خدا کے لئے ہیں سب تعریفیں ہی نہیں۔ یہ عقیدہ ہمارے ملک کے لوگوں میں اس قدر گھر کر چکا ہے کہ وہ اچھی بات تو کم ہی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن بُری باتیں ساری اس کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ اگر کسی کا کوئی عزیز مر جائے تو وہ کہتا ہے خدا کی کرنی۔ اگر کسی کو مالی نقصان پہنچ جائے تو کہتا ہے کہ خدا کی مرضی۔ اگر کوئی اپنے مقصد میں ناکام رہے تو کہتا ہے خدا کی مرضی یہی تھی۔ لیکن اگر کوئی اچھی چیز اسے مل جائے تو خدا کا نام نہیں لیتا۔ کسی کو اولاد مل جائے یا اپنی یا اپنے کسی بچے کی شادی اچھی جگہ ہو جائے تو کہتا ہے ہم نے خوب سوچا تھا۔ اگر کسی کا بیمار اچھا ہو جائے تو کہے گا فلاں ڈاکٹر یا طبیب نے کیا ہی اچھا نسخہ دیا یا فلاں بڑھیا یا بڈھے نے نہایت عمدہ دوائی بنائی۔ یا یہ کہ ہمیں خود ہی کیا اچھی ترکیب سوجھ گئی کہ مریض شفایاب ہو گیا۔ غرض کہ جتنی غلطیاں ہیں وہ تو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور جتنی اچھی باتیں ہیں وہ اپنی طرف۔ شفایابی‘ کامیابی‘ ترقی یہ تو اپنے اپنے بڑوں‘ استادوں‘ دوستوں‘ حکیموں‘ ڈاکٹروں اور وکیلوں کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور جملہ بلائیں اور مصیبتیں خدا کی طرف۔ حالانکہ اگر اس غلط عقیدہ کو تسلیم بھی کر لیا جائے جو مسلمانوں میں رائج ہے کہ نیکی بدی سب خدا تعالیٰ ہی کراتا ہے تب بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھلا بُرا سب اس کی طرف منسوب ہونا چاہئے شفا اور بیماری بھی‘ مقدمہ کا ہارنا بھی اور جیتنا بھی‘ مقصد میں ناکامی بھی اور کامیابی بھی سب کچھ خدا تعالیٰ سے ہی منسوب ہونا چاہئے۔ مگر حالت یہ ہے کہ مقدمہ کا ہارنا تو خدا کی مرضی پر سمجھا جاتا ہے لیکن جیتنا وکیلوں اور دوستوں کی کوشش کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر تقدیر کا مسئلہ اس طرح بھی مان لیا جائے جس طرح آج مسلمانوں میں رائج ہے تب بھی عیب و صواب دونوں خدا تعالیٰ سے منسوب ہونے چاہئیں۔ لیکن نہیں۔ لوگ عیب خدا سے منسوب کرتے ہیں اور صواب اپنی طرف۔ حالانکہ قرآن کریم بتاتا ہے کہ ساری تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور تعریف ہمیشہ خوبی کے باعث ہوا کرتی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخص کسی کے بچے کو تھپڑ مارے اور وہ اس کی تعریف کرے کہ کیا اچھا تھپڑ مارا ہے۔ یا کسی کے بچہ کا گلا گھونٹ دے اور وہ کہے سُبْحَانَ اللّٰہِ کیا اچھا گلا گھونٹا ہے۔ تو تعریف ہمیشہ اچھی بات کی ہوتی ہے۔ پس جب یہ کہا گیا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ تو اس کے صاف معنی ہیںکہ کوئی عیب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں دنیا میں موت بھی ہے اور حیات بھی‘ آرام بھی ہے اور تکلیف بھی‘ جب عیب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ قرآن کریم کے شروع میں ہی بتایا گیا ہے کہ ساری خوبیاں ہی خوبیاں اللہ کے لئے ہیں تو پھر سوال ہوتا ہے کہ بُرائی کہاں سے آتی ہے؟ بعض پرانے مذاہب والوں نے اس سوال کا حل یوں کیا ہے کہ بدی کا پیدا کرنے والا اور خدا ہے۔ یعنی ایک اور خدا کا وجود مانا ہے اس کا نام انہوں نے الگ رکھ دیا ہے اور اصل خدا کا الگ۔ گویا دو خدا تجویز کئے ہیں اہرمن اوریزدان۔ ان کے نزدیک یزدان جلاتا اور پیدا کرتا ہے اور اہرمن مارتا ہے۔ گویا خدا اور شیطان کو بالمقابل لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ پہلے ایران میں یہی مذہب رائج تھا۔ہندوؤں نے اس سوال کو تناسخ کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کہتے ہیں موجودہ مصائب پچھلے جنم کی سزا ہوتی ہے اور سزا عیب نہیں ہوا کرتی۔ یہ مسئلہ بھی اتنا گھر کر چکا ہے کہ میں نے خود کئی مسلمانوں کو یہ کہتے سنا ہے یہ تکلیف پچھلے جنم کا نتیجہ ہے یعنی ہندوؤں سے سن کر وہ بھی یہ محاورہ استعمال کرنے لگ گئے ہیں اور کہتے ہیں خبر نہیں کونسی جون کی یہ سزا ہمیں مل رہی ہے۔ لیکن اسلام بتاتا ہے خدا ایک ہے اور مسئلہ تناسخ صحیح نہیں۔ اسلام کی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز نیکی کے لئے پیدا کی ہے اور پھر بندہ کو استعمال کے لئے دیدی ہے۔ آگے اگر وہ اس کا اچھا استعمال کرے تو وہ اچھی ہو جائے گی اگر وہ بُرا کرے گا توبُری۔ جیسے چاقو ہے۔ چاقو بنانے والے نے کسی کے قتل کرنے کے لئے نہیں بنایا۔ لیکن اگر کوئی احمق چاقو سے کسی کی جان لے لے تو اس میں چاقو بنانے والے کا کوئی قصور نہ ہو گا کیونکہ اس نے تو اسے اچھے کام کے لئے بنایا تھا مثلاً اگر دنیا میں لوہا نہ ہوتا تو تالے چابیاں نہ بن سکتے۔ ہل‘ کلہاڑی‘ کسّی نہ بن سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے تو لوہا اسی لئے پیدا کیا ہے کہ اس سے ریل‘ انجن‘ مشینیں‘ تالے اور دوسری ضروریات کی اشیاء بنائی جائیں لیکن کئی نادان لوہے سے دوسرے کا سر پھوڑ دیتے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا عیب نہیں جس نے لوہا پیدا کیا بلکہ سر پھوڑنے والے کی اپنی شرارت ہے۔ اسی طرح انسان بیمار کس طرح ہوتا ہے بیماری سردی یا گرمی لگ جانے‘ دھوپ لگنے‘ غذا کی خرابی یا جسم کے نامناسب استعمال سے پیدا ہوتی ہے جیسے اگر کوئی بہت سخت چیز دانتوں سے توڑے تو یقینا اس کے دانتوں میں تکلیف ہو گی۔ اگر کوئی حلق کا زیادہ استعمال کرے تو وہ خراب ہو جائے گا۔ اگر کوئی معدے کا زیادہ استعمال کرے تو وہ کمزور ہو جائے گا۔ یا اگر کوئی ایسی چیزیں کھائے جن سے جگر خراب ہوتا ہے تو اس کے جگر میں نقص پیدا ہو جائے گا۔ غرض خرابی انسان کی اپنی بے احتیاطی سے پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً سنکھیا ہے یہ پرانے بخاروں کا بہترین علاج ہے۔ لیکن اگر کوئی سنکھیا اصل مقدار سے زیادہ کھا کر یا جس طرح اسے تیار کر کے کھانا چاہئے اس طرح تیار کئے بغیر کھا کر مر جائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہو گا کیونکہ اس نے اس کا غلط استعمال کیا۔ غرضیکہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیںجس سے فائدہ نہ اُٹھایا جا سکے۔ سانپ اور بچھو دنیا میں کئی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ سانپ کے زہر سے کوہڑ کا بہت کامیاب علاج کیا جاتا ہے اور بھی کئی پُرانی اور مزمّن بیماریوں کو ان کے زہروں سے فائدہ ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی سانپ اور بچھو کو پیدا کرنے کی یہ بھی ایک غرض ہے کہ ان کے زہروں سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ لیکن اگر کوئی انسان سانپ کے بِل میں ہاتھ ڈال دے یا ایسی جگہ رہے جہاں سانپ رہتے ہیں مگر احتیاط نہ کرے اور اسے سانپ ڈس لے تو یہ اس کا اپنا قصور ہو گا۔ اسی طرح کُتّا ہے خدا نے اسے اس لئے پیدا کیا کہ اس سے حفاظت کا کام لیا جائے یا شکار میں مدد لی جائے۔ لیکن اگر کوئی کُتّے کے ساتھ کھیلنے کا عادی ہو اور کُتّا دیوانہ ہو کر اسے کاٹ لے تو اس میں بھی اس کا ہی قصور ہو گا۔ اسی طرح اگر سردی یا گرمی نہ ہو تو کئی فصلیں نہ پک سکیں۔ انسان کی کئی عادتیں اور خصلتیں درست نہ ہو سکیں۔ گرم ممالک کے باشندوں کی خصلتیں اور ہوتی ہیں اور سرد ملک کے رہنے والوں کی اور۔ اگر کوئی اپنی بے احتیاطی سے ان سے تکلیف اُٹھاتا ہے تو اس کی غلطی ہے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے تو ہر چیز اچھی ہی پیدا کی ہے لیکن بندہ اس کا خراب استعمال کر کے نقصان اٹھاتا ہے۔ اس خرابی کی حد یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خدا کو بھی لوگوں نے بگاڑ لیا ہے اس کی طرف ایسی ایسی باتیں منسوب کی جاتی ہیںکہ حیرانی ہوتی ہے جب خود خدا تعالیٰ کو جو خالق تھا لوگوں نے اپنے لئے بگاڑ لیا۔ اور اس کی ذات میں عیب نکالنے لگ گئے تو اور چیزوں کا اگر وہ غلط استعمال کریں تو کونسی اچنبھے کی بات ہے۔
    بعض لوگ مل کر چوری کرتے یا ڈاکہ ڈالتے ہیں اور پھر ایک دوسرے سے کہتے ہیں۔ خدا کی قسم کھاؤ کسی کو بتائیں گے نہیں۔ اب دیکھو اللہ تعالیٰ کی ذات تو نیکی کے لئے تھی لیکن اس کے نام کے غلط استعمال سے چور اور ڈاکو بھی مدد حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی طرح اس کے فرشتوں اور نبیوں کا بھی غلط استعمال کرتے ہیں۔ دنیا میں کئی جھوٹے اور فریبی ہیں جو اپنے آپ کو ابنیاء کا جانشین کہہ کر دنیا کو لوٹ رہے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی ایک رشتہ دار تھی جو ایک پِیر کی مرید تھیں۔ ایک دفعہ وہ آپ کے ہاں آئیں تو آپ نے دریافت کیا پِیر صاحب کی بیعت سے تمہیں کیا فائدہ پہنچا۔ کوئی دین کی خدمت کی توفیق ملی یا انہوں نے تمہارے اخلاق کی اصلاح کی۔ انہوں نے کہافائدہ تو کچھ نہیں ہوا۔ آپ نے فرمایا اب جاؤ تو پِیر صاحب سے پوچھنا کہ ان کی بیعت کا کیا فائدہ ہے؟ وہ جب پِیر صاحب کے پاس گئیں اور یہ سوال کیا تو پِیر صاحب نے کہا معلوم ہوتا ہے تم نورالدین کے پاس قادیان گئی ہو اور اس نے یہ سوال سکھایا ہے۔ انہوں نے کہا خواہ کسی نے سکھایا آپ بتائیں کہ آپ کی بیعت کا فائدہ کیا ہے پِیر صاحب نے کہا فائدہ یہ ہے کہ ہم نے تمہارے سارے گناہ اُٹھا لئے ہیں اب قیامت کے دن خدا تمہیں نہیں پوچھ سکتا کہ تم نے فلاں نیک کام کیوں نہ کیا یا فلاں گناہ کیوں کیا؟ تم بے شک نماز روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ چھوڑ دو جب قیامت کو خدا پوچھے تو صاف کہہ دینا سب گناہوں کا ذمہ پیِر صاحب نے لے لیا ہے پھر تم دگڑ دگڑ کرتی بہشت میں چلی جاؤ گی۔ انہوں نے کہا پھر آپ کا کیا حال ہو گا؟ پِیر صاحب نے کہا ہم سے خدا کچھ پوچھے تو سہی ہم کہیں گے امام حسین کی قربانی کیا تھوڑی ہے کہ ہمیں یہ کہہ کر دِق کیا جاتا ہے۔ یہ کیوں نہ کیا اور وہ کیوں کیا۔
    یہ پِیر صاحب کا نبی کی اولاد ہونے کا ناجائز استعمال ہے یا نہیں۔ رسول کریم ﷺ تو لوگوں میں خشیت پیدا کرنے کے لئے آئے تھے۔ لیکن ان کا بھی غلط استعمال کر لیا گیا کہ کہہ دیا ان کی اولاد ساری دنیا کے گناہ اُٹھا سکتی ہے۔ اب دنیا خواہ کتنے گناہ کرے پِیر صاحب اس کے ذمہ دار ہیں۔ تو یہ نبی کا غلط استعمال ہے۔ اسی طرح قیامت کا بھی غلط استعمال کیا جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں کام نہ کرو گے (جو دراصل ناجائز ہوتا ہے) تو قیامت کو پوچھے جاؤ گے۔ قیامت کے مؤاخذہ سے ڈر کر انسان ایک ناجائز فعل کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ غرضیکہ بہتر سے بہتر چیز کا بھی دنیا میں غلط استعمال کر لیا جاتا ہے لیکن اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ اس چیز کا وجود ہی غیر مفید ہے۔ جیسے اگر کوئی شخص کسی کو جو تا تحفہ کے طور پردے اور وہ اسے سر پر رکھ کر چل پڑے تو یہ اس کا اپنا قصور ہو گا یہ جوتا کا غلط استعمال ہو گا۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیزیں عطا ہوئی ہیں وہ سب اچھی ہیں نقص ان کے غلط استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔ دیکھو عبادت کیسی اچھی چیز ہے لیکن قرآن کریم میں آتا ہے فَوَیْلُ لِّلْمُصَلِّیْنَ o الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَا تِھِمْ سَاہُوْنَo الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَاؤُوْنَ وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ o ۱؎ نماز فرض تو ہوئی برکت کے لئے اور انسان کو خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل کرانے کی غرض سے لیکن جو نماز خدا کے لئے نہ پڑھی جائے بلکہ اس لئے پڑھی جائے کہ لوگ نمازی کہیں تو وہ خدا تعالیٰ سے اور بھی دور پھینک دیتی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے بعض نمازیں انسان کو شیطان سے مشابہ کر دیتی ہیں۔ جیسے اس وقت کی نماز جب سورج نکل رہا ہو یا سورج ڈوب رہا ہو یا سر پر ہو۔ ۲؎ تو یہ کیسی اچھی چیز ہے لیکن اس کے بے موقع پڑھنے والے کو بھی رسول کریم ﷺ نے شیطان کہا ہے۔ اسی طرح روزہ بھی کیسی اچھی عبادت ہے لیکن رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے عید کے دن روزہ رکھنے والا شیطان ہے ۳؎ اور بعض بزرگوں نے لکھا ہے جو مسافر روزہ رکھے وہ گنہگار ہے۔ بعض نے لکھا ہے اگر رکھ لے تو وہ نفلی روزہ ہو گا فرض اس کو پھر رکھنا پڑے گا۔ مثلاً ایک شخص دس دن سفر پر رہا اور روزے بھی رکھتا رہا تو اس کے یہ روزے نفلی ہوں گے فرضی اسے پھر رکھنے پڑیں گے۔ لیکن بعض نے لکھا ہے اگر سفر پر ہوتے ہوئے روزہ رکھے گا تو گنہگار ہو گا۔ اب دیکھو ایسے بزرگوں کی رائے کے مطابق روزہ بھی انسان کو قابلِ گرفت اور گنہگار بنا دیتا ہے۔
    اسی طرح حج ہے۔ یہ بعض شرائط کے لحاظ سے جائز ہے اور بعض کے لحاظ سے ناجائز۔ مثلاً اگر جہاد ہو رہا ہے اور کوئی شخص کہے میں حج کو جاتا ہوں تو وہ گنہگار ہو گا۔ جب اسلام خطرہ میں ہو تو حج کیسا؟ اس وقت یہی فرض ہے کہ جہاد کیا جائے۔ غرض ہر عبادت کے لئے موقع ہوتا ہے اور عبادت کا غلط استعمال بھی ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا۔ میں اپنے میں اتنی طاقت پاتا ہوں کہ ہر روز روزہ رکھ سکوں۔ آپ نے فرمایا تمہیں معلوم ہے ایسا کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کیا سزا رکھی ہے۔ ایسا کرنے والا دوزخ کے سب سے نچلے درجہ میں ہو گا۔ ۴؎ ظاہراً تو معلوم ہوتا ہے کہ جب ایک ماہ کے روزے رکھنا اس قدر قُربِ الٰہی کا موجب ہے تو ساری عمر کے روزے کتنے عظیم اجر کا موجب ہونگے۔ مگر نہیں۔ یہ بجائے قُربِ الٰہی کے خدا سے دور پھینک دیتے ہیں۔ پس کسی چیز کے صحیح استعمال سے ہی فائدہ ہو سکتا ہے او ر بہتر سے بہتر چیز کا غلط استعمال بھی بجائے فائدہ کے نقصان رساں ہوتا ہے۔ اب دیکھو بانس کی لکڑی ہے اگر خدا تعالیٰ بانس پیدا نہ کرتا تو میں سمجھتا ہوں کم از کم علاقہ بیٹ (دریا کے قریب کا علاقہ) کے رہنے والوں کا گذارہ سخت مشکل ہوتا۔ لیکن اگر ایک شخص بانس کا لٹھ مار کر دوسرے کا سر پھوڑ دے اور کوئی کہہ دے دیکھو خدا نے یہ کیسی مُضِرّ چیز پیدا کر دی ہے جس سے سر پھوڑا جا سکتا ہے تو یہ اس کی حماقت ہو گی۔ بانس کے غلط استعمال سے اگر ایک کا سر پھوٹا ہے تو ہزاروں انسان ایسے بھی ہیں جو اس سے مکان بنا کر اپنے سرچھپاتے ہیں۔ اس طرح فائدہ تو اس سے بہت زیادہ اٹھایا جاتا ہے لیکن نقصان بہت ہی کم ہے اور خدا تعالیٰ نے تو فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے اگر کوئی شریر اس سے نقصان پہنچاتا ہے تو یہ امر خدا تعالیٰ کی حمد کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔ پس اَلْحَمْدُلِلّٰہِ میں مؤمن کو یہ بتایا گیا ہے کہ کسی چیز کو ایسا نہ سمجھ کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ دنیا میں گندی سے گندی چیز پاخانہ سمجھا جاتا ہے لیکن کسی زمیندار سے پوچھو یہ بھی کتنے فائدہ کی چیز ہے۔ چند سال کسی کھیت میں ڈال کر دیکھو اس میں کتنی اعلیٰ درجہ کی فصل ہوتی ہے۔ غرض اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہہ کر خدا نے بتایا کہ کسی چیز کو بے فائدہ نہ سمجھواور کسی چیز سے گندہ کام مت لو۔ مؤمن کو چاہئے ہر چیز کا اچھا استعمال کرے اور ایسا نہ کرے کہ ایک اچھی خاصی مفید چیز کو اپنے لئے وبالِ جان بنا لے۔ دیکھو رسّہ ہے اس سے کتنے فائدے لئے جاتے ہیں‘ مال مویشی باندھے جاتے ہیں‘ گاڑیاں کھینچی جاتی ہیں‘ بوجھ اُٹھائے جاتے ہیں لیکن اس سے گلے میں پھندا ڈال کر لوگ خود کشی بھی کر لیتے ہیں۔ اب اگر کوئی یہ کہے خدا نے یہ کیوں پیدا کیا جس سے میرے فلاں عزیز نے پھانسی لے لی تو وہ احمق ہے۔ اسے بے شک نقصان پہنچا ہے لیکن اس نقصان کا باعث رسّہ نہیں ہے بلکہ رسّہ کا غلط استعمال ہے۔ پس مومن کو ہر چیز سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ اگر کسی چیز کے فوائد سے ہم آگاہ نہیں تو پھر بھی ہم اس چیز کو بے فائدہ نہیں کہہ سکتے۔ یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کے فوائد کا ابھی دنیا کو علم نہیں ہوا ہمارے ملک میں جن چیزوں کو ردّی سمجھ کر پھینک دیا جاتا تھا ان سے بھی یورپین لوگ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ گھاس وغیرہ اور بانس سے نہایت قیمتی کاغذ بنائے جاتے ہیں اور ان سے کروڑوں روپیہ کا فائدہ وہ لوگ اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح ہڈیاں ہیں۔ ہمارے ملک میں انہیں بے کار سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے لیکن انگریز ہڈیوں سے بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ اس سے نہایت عمدہ کھاد بنائی جاتی ہے۔ پھر یہ کھانڈ صاف کرنے کے کام آتی ہیں۔ ہندوستان میں انہیں ردّی سمجھ کر پھینک دیا جاتا تھا۔ پس ردّی سے ردّی چیز میں بھی خدا تعالیٰ نے بے شمار فوائد رکھے ہیں۔ مومن کو کبھی یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ دنیا میں کوئی چیز بے سود اور خدا تعالیٰ کی حمد کے خلاف ہے۔ اس کے تمام کام حکمت کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے خدا تعالیٰ نے میرا بھائی مار دیا جو اچھا نہ ہوا تو اسے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اگر آدم سے لے کر آج تک جتنے لوگ پیدا ہوئے تمام زندہ رہتے تو آج دینا کی کیا حالت ہوتی۔ میں سمجھتا ہوں سانس لینے کے لئے بھی دنیا میں جگہ نہ ہوتی۔ پھر لوگ کہتے خدا نے یہ کیا کیا کہ اتنی مدت سے لوگ دنیا میں موجود ہیں انہیں مارتا نہیں۔ غرض خدا تعالیٰ کی طرف کبھی کوئی عیب نہیں منسوب کرنا چاہئے بلکہ اس کی حکمتوں سے سبق حاصل کر کے ہر چیز سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔
    (الفضل ۲۲۔فروری ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ الماعون: ۵ تا ۸
    ۲؎ مسلم کتاب فضائل القران باب الاوقات التی نھی عن الصلوٰۃ فیھا
    ۳؎ بخاری کتاب الصوم باب صومۃ یوم الفطر
    ۴؎ مسند احمد بن حنبل جلد۴ صفحہ ۴۱۴








    ۷
    رمضان المبارک کے فوائد
    (فرمودہ یکم مارچ ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    یا ایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقونo ۱؎
    اور فرمایا۔
    رمضان کے فوائد اور اس کے اندر جو حکمتیں ہیں وہ اکثر بیان ہوتی رہتی ہیں اور ہماری جماعت کے لوگ ان سے ناواقف نہیں اس لئے بعض سالوں میں مَیں اس مضمون کو نہیں چھیڑا کرتا اور اس سال تو رمضان کے ابتدائی خطبے پڑھنے کا مجھے موقع ہی نہیں ملا۔ مگر چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں ہر سال بہت سے نئے لوگ داخل ہوتے ہیں اور اخبارات کے پرانے فائلوں کا پڑھنا اور ان میں درج شدہ مضامین پر آگاہی حاصل کرنا چونکہ ناممکن ہوتا ہے اس لئے ہمیشہ اس بات کی ضرورت رہتی ہے کہ ایسے امور بیان ہوتے رہیں جو رمضان کی خصوصیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ دو تین دن ہوئے مجھے ایک دوست کا خط ملا اس نے افسوس کا اظہار کیا کہ رمضان کے شروع میں الفضل آنے پر مجھے امید تھی کہ رمضان المبارک کے فوائد پر اس میں خطبہ ہو گا اور ہمارے دفتر میں بہت سے تعلیم یافتہ لوگ اس کے متعلق دریافت کرتے تھے لیکن افسوس کہ ایسا خطبہ نہیں تھا اس لئے مجبوراً بذریعہ خط یہ سوال پوچھتا ہوں۔
    میں سمجھتا ہوں یہ خیال کہ چونکہ پہلے کئی دفعہ یہ امور بیان ہو چکے ہیں اس لئے بار باران کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں غلط ہے۔ یوں بھی عام طور پر لوگ بھول جایا کرتے ہیں اور توجہ دلانے کے محتاج ہوتے ہیں۔ لیکن جو جماعت تبلیغ کا کام کرتی ہے اور جس کی تعداد نہ صرف نَوزائیدہ بچوں سے بلکہ نَووارد لوگوں سے بھی جو مختلف جماعتوں اور مذاہب سے آتے ہیں بڑھتی رہتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اہم اور ضروری امور بار باربیان ہوتے رہیں تا اس کے نَووارد لوگوں کی واقفیت میں کمی نہ رہ جائے۔
    میری طبیعت کے لحاظ سے اس وقت رمضان پر تفصیلی طور پر بیان کرنا مشکل ہے۔ کیا بلحاظ اس کے کہ میں عرق النساء کے باعث بیمار ہوں اور اسی وجہ سے باوجود قادیان میں موجود ہونے کے گذشتہ جمعہ میں نہیں آ سکا تھا اور کیا بلحاظ اس کے کہ میں بوجہ بیماری روزہ دار نہیں اور روزہ نہ رکھتے ہوئے روزہ کے فوائد اور اس کی حکمتیں بیان کرنا طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ لیکن چونکہ جماعت کے فوائد شخصی میلانوں پر مقدم ہوتے ہیں اس لئے باوجود کراہت کے میں نے ضروری سمجھا کہ کچھ بیان کر دوں۔
    اس دوست نے تین سوال کئے تھے جن میں سے پہلا یہ تھا کہ روزہ کی غرض کیا ہے اور اس کے کیا فوائد ہیں؟ اس کا جواب مختصر اور چھوٹا تو یہی ہے کہ قرآن کریم نے خود یہ سوال پیدا کیا ہے۔ صاف لفظوں میں نہیں بلکہ صرف اشارہ کیا ہے۔ فرمایا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذَیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ یعنی مسلمانوں پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے اور پہلی جماعتوں پر فرض کئے گئے تھے۔یہاں قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے اور قرآن نے اس سوال کو خود پیدا کیا ہے کہ صرف کسی قوم میں کسی رواج کا پایا جانا یا پہلوں میں کسی دستور کا ہونا اس امر کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ آئندہ نسلیں بھی ضرور اس کا لحاظ رکھیں۔ بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو پہلے لوگوں میں موجود تھیں لیکن دراصل وہ غلط ہیں اور بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو آج لوگوں میں پائی جاتی ہیں حالانکہ وہ غلط ہیں۔ پس محض اس وجہ سے کہ پہلی قومیں کوئی بات کرتی رہی ہیں یہ نتیجہ نکالنا کہ آئندہ بھی وہ کی جائے صحیح نہیں۔ قرآن کریم نے اس اعتراض کے وزن کو قبول کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلی امتوں میں روزہ کا وجود اس کی فضیلت کی کوئی دلیل ہے بلکہ اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ تم پر یہ کوئی زاہد بوجھ نہیں بلکہ پہلوں پر بھی یہ بوجھ ڈالا گیا تھا۔ پس یہ روزوں کی فضیلت کی کوئی دلیل نہیں فضیلت کی دلیل آگے بیان فرمائی ہے کہ لعلکم تتقون۔ پہلوں کا حوالہ تو صرف اس لئے دیا کہ تا مسلمان اسے کوئی بوجھ محسوس نہ کریں اور یہ نہ کہدیں یہ چٹّی ہم پر ڈال دی گئی ہے۔اور آگے اس امر کا جواب کہ ہمیں روزے کیوں رکھنے چاہئیں یہ ہے لعلکم تتقون تا تمہیں تقویٰ حاصل ہو۔پس اس آیت کے آخری جملہ میں وہ وجہ بیان کی ہے جس سے روزوں کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ تا تمہیں اتقاء نصیب ہو۔ اتقاء کے کیا معنی ہیں یہ لفظ وقایہ سے ہے جس کے معنی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ یا وہ چیز جس سے انسان دوسرے کے حملہ سے محفوظ رہ سکے اسے وقایہ کہاجاتا ہے پس لعلکم تتقونکے یہ معنے ہوئے کہ تاتم ہر شر اور فضیلت کے فُقدان سے محفوظ رہو۔ ضُعف دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انسان کو کوئی شر پہنچ جائے اور دوسرے یہ کہ کوئی نیکی اس کے ہاتھ سے جاتی رہے۔ جیسے کوئی کسی کو مار بیٹھے تو یہ بھی ایک شر ہے۔ اوردوسرا یہ بھی شر ہے کہ کسی کے ماں باپ اس سے ناراض ہوں۔ اگر کسی کے والدین ناراض ہو کر اس کے گھر سے نکل جائیں تو بظاہر اس کا کوئی نقصان نظر نہیں آتا بلکہ ان کے کھانے کا خرچ بچ سکتا ہے۔ لیکن ماں باپ کی رضا مندی ایک خیر ہے‘ برکت ہے‘ فلاح ہے اور جب وہ ناراض ہو جائیں تو انسان اس خیر سے محروم ہو جاتا ہے۔ یعنی ایک یہ کہ کوئی کسی کے سر پر لٹھ مارنے لگا ہے وہ اس سے بچ جائے تو وہ شر سے محفوظ رہا اور دوسرے یہ کہ کوئی خیر ہاتھ سے جاتی رہے اور اتقاء ان دونوں باتوں پر دلالت کرتا ہے اور متقی وہ ہے جسے ہر قسم کی خیر مل جائے اور وہ ہر قسم کی ذلّت اور شر سے محفوظ رہ سکے اس سے آگے پھر شرکا دائرہ بھی ہر کام کے لحاظ سے محدود ہے مثلاً اگر کوئی شخص گاڑی میں سفر کر رہا ہے تو اس کا شر سے محفوظ رہنا یہی ہے کہ وہ گِر نہ جائے یا اسے کوئی حادثہ پیش نہ آئے اور بحفاظت منزلِ مقصود پر پہنچ جائے۔ سواری کے متعلق جب یہ لفظ بولا جائے تو اس سے ایسے ہی شر مراد ہو سکتے ہیں جن کا تعلق سوار سے ہے اسی طرح روز ے کے تعلق میں بھی ایسے ہی خیر اور شر مراد ہو سکتے ہیں جن کا تعلق روزے سے ہو اور روزہ ایک دینی مسئلہ ہے یا بلحاظ صحتِ انسانی دُنیوی امور سے بھی معمولی تعلق رکھتا ہے۔ پس لعلکم تتقون کے معنی ہوئے تا تم دینی شرور سے محفوظ رہو‘ دینی خیروبرکت تمہارے ہاتھ سے نہ جاتی رہے یا تمہاری صحت کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ بہت سے روزے امراض سے نجات دلانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔ آج کل کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بڑھاپا یا کمزوری آتے ہی اس وجہ سے ہیں کہ انسان کے جسم میں زائد مواد جمع ہو جاتے ہیں اور ان سے بیماری یا موت پیدا ہوتی ہے۔ بعض نادان تو اس خیال میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ کہتے ہیں جس دن ہم زائد مواد کو فنا کرنے میں کامیاب ہو گئے اُس دن موت دنیا سے اُٹھ جائے گی۔ اگرچہ یہ خیال غلط ہے تاہم اس میں شک نہیں کہ تھکان اور کمزوری وغیرہ جسم میں زائد مواد جمع ہونے سے ہی پیدا ہوتی ہے اور روزہ اس کے لئے بہت مفید ہے۔ شریعت نے بیمار اور مسافر کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے اور تندرست کے لئے ضروری ہے اور میں نے دیکھا ہے صحت کی حالت میں جب روزے رکھے جائیں تو دورانِ رمضان میں بے شک کچھ کوفت محسوس ہوتی ہے مگر رمضان کے بعد جسم میں ایک نئی قوت اور تروتازگی کا احساس ہونے لگتا ہے یہ فائدہ تو صحتِ جسمانی کے لحاظ سے ہے مگر اس کے بہت سے باطنی فوائد بھی ہیں۔ اور ایک قومی فائدہ یہ ہے کہ قوم میں غریب امیر ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں غرباء بیچارے سارا سال تنگی سے گذارہ کرتے ہیں اور انہیں کئی فاقے آتے ہیں مگر وہ ان کے لئے کسی ثواب کا موجب نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے ذریعہ انہیں توجہ دلائی ہے کہ وہ ان فاقوں سے بھی ثواب حاصل کر سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے لئے فاقوں کا اتنا بڑا ثواب ہے کہ حدیث میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ساری نیکیوں کے فوائد اور ثواب الگ الگ ہیں اور روزہ کا ثواب میری ذات ہے ۲؎ تو اِس میں غرباء کو کیا ہی عجیب نکتہ بتلایا کہ ان تنگیوں پر بھی اگر وہ بے صبرے اور ناشکرے نہ ہوں اور حرفِ شکایت زبان پر نہ لائیں (جیسے بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمیں خدا نے کیا دیا ہے کہ نمازیں پڑھیں اور روزے رکھیں جنہیں بہت سا رزق دیا ہے وہ روزے رکھتے اور نمازیں پڑھتے پھریں) اور سمجھ لیں کہ خدا نے ان کی ترقی کے بھی سامان بہم پہنچائے ہیں اور ساتھ ہی اپنی حالت کی اصلاح کے لئے کوشش بھی کرتے رہیں تو یہی فاقے ان کے لئے نیکیاں بن جائیں اور ان کا بدلہ خود خدا بن جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے روزوں کو غرباء کے لئے تسلّی کا موجب بنایا ہے تا وہ مایوس نہ ہوں اور یہ نہ کہیں کہ ہماری فقروفاقہ کی زندگی کس کام کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزہ میں انہیں یہ گُر بتایا ہے کہ اگر اسی فقروفاقہ کی زندگی کو وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق چلائیں تو یہی انہیں خدا تعالیٰ سے ملا سکتی ہے۔ دنیا میں اس قدر لوگ امیر نہیں جتنے غریب ہیں اور تمام دینی سلسوں کی ابتداء غرباء سے ہوئی اور انتہاء بھی غرباء پر ہی ہوئی۔ تقریباً تمام انبیاء بھی غرباء سے تعلق رکھتے تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی بڑے آدمی نہ تھے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی غریب تھے‘ رسول کریم ﷺ بھی غریب تھے اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بھی کوئی امیر نہ تھے۔ آپ کی جائیداد کی قیمت قادیان کے ترقی کرنے یا آپ کے الہامات کے باعث بڑھ گئی ورنہ اس کی قیمت خود آپ نے دس ہزار روپیہ لگائی ہے اور اتنی مالیت کی جائیداد سے کونسی بڑی آمد ہو سکتی ہے۔ پھر حضرت ابراہیم اور حضرت نوح علیھماالسلام بھی بڑے آدمی نہ تھے۔اگرچہ انبیاء کو اللہ تعالیٰ بعد میں بڑا بنا دیتا ہے اور تقریباً سب کو بعد میں بادشاہت دے دی لیکن یہ سب کچھ بعد میں فضلوں کے طور پر ہوا ابتداء میں تمام سلسوں کے بانی غریب ہی ہوئے ہیں امراء اور بادشاہ نہیں ہوئے۔ درمیانی طبقہ کے لوگوں میں سے بھی بعض دفعہ ہو جاتے ہیں لیکن بادشاہ صرف چند ایک ہی ہوئے ہیں جیسے حضرت سلیمان یا داؤد علیھم السلام مگر یہ بھی ایسے نہیں ہیں کہ کسی سلسلہ کے بانی یا خاتم ہوں۔ پھر دنیا کی اسّی فیصدی آبادی غریب ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی دلجوئی رمضان کے ذریعہ کی اور بتایا کہ یہ مت سمجھو کہ فاقہ کش کو خدا تعالیٰ نہیں مل سکتا اگر ایسا ہوتا تو رمضان کے نتیجہ میں کیوں ملتا۔ کیا عمدہ نسخہ ہے ان اسّی فیصدی لوگوں کے لئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری عمر یونہی گئی۔ انہیں بتایا تم اپنے فاقوں کو اگر خدا تعالیٰ کے لئے کر دو تو اس سے بڑے بڑے فیوض حاصل کر سکتے ہو۔ باقی بیس فی صدی آبادی میں سے بھی کچھ تو ایسے ہی ہوتے ہیں جو ذرا اچھی حیثیت رکھتے ہیں بڑے امراء صرف دو تین فیصدی ہی ہوتے ہیں۔ مگر میں نے ان لوگوں کو بھی امراء میں شامل کر لیا ہے جو گاؤں اور دیہاتوں میں بڑے سمجھے جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بھی ملا کر امراء کی تعداد بیس فیصدی ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو بھی روزہ کا یہی فائدہ بتایا لعلکم تتقون۔ ان کے لئے یہ تقویٰ کے حصول کا کس طرح ذریعہ ہو سکتا ہے؟ اس کی صورت یہ ہے کہ جب ایک انسان جس کے پاس کھانے پینے کے تمام سامان موجود ہیں۔ مگر باوجود ان کے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے آپ کو فاقہ میں ڈالتا ہے اور خدا کو خوش کرنے کے لئے کچھ نہیں کھاتا اور جو حلال چیزیں خدا نے اسے دی ہیں انہیں بھی استعمال نہیں کرتا۔ اس کے گھر میں گھی‘ گوشت‘ چاول وغیرہ کھانے کی تمام ضروریات مہیا ہیں مگر وہ نہیں کھاتا اور خدا کے لئے انہیں ترک کر دیتا ہے اس کے لئے اس میں سبق ہے کہ جب میں اپنی چیزوں کو بھی خدا کے لئے چھوڑتا ہوں تو خلاف حکمِ الٰہی ان چیزوں کی جو میری نہیں کیوں خواہش کروں اور یہ کہ میں نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق بسر کرنی ہے۔
    دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذمہ غرباء کی خبر گیری رکھی ہے مگر عام حالت میں انہیں اس کا احساس نہیں ہوتا انہیں پتہ نہیں لگ سکتا کہ بھوکے انسان کو کس قدر تکلیف ہوتی ہے۔ روزے کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں بھوک پیاس سے واقف کراتا ہے اور انہیں محسوس کراتا ہے کہ فاقہ کرنے والے کس تکلیف میں ہوتے ہیں تا وہ غرباء کی خبر گیری کی طرف متوجہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ رسو ل کریم ﷺ رمضان میں بہت زیادہ خیرات کیا کرتے تھے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کے دنوں میں رسول کریم ﷺ تیز چلنے والی آندھی کی طرح صدقہ کیا کرتے تھے۔ ۳؎ اس طرح امراء کے لئے بھی روزہ حصول تقویٰ کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے دلوں میں غرباء کی خبر گیری کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح روزے قوم میں قربانی کی عادت پیدا کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔ دین کی خدمت کے لئے جہاد کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے جبکہ گھروں سے باہر نکلنا پڑتا ہے اور جہاد میں کھانے پینے کی تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غرباء کو تو ایسی تکالیف کی برداشت کی عادت ہو سکتی ہے مگر امراء کو اس کا عادی ہونے کا موقع نہیں مل سکتا۔ پس روزوں کے ذریعہ ان کو بھی بھوک اور پیاس کی برداشت کی مشق کرائی جاتی ہے۔ جیسے گورنمنٹ نے ایک ٹریٹوریل فوج بنا رکھی ہے جسے ہر سال میں ایک ماہ کے لئے بُلا کر قواعد پریڈ سکھائے جاتے ہیں تا ضرورت کے وقت وہ بآسانی فوجی آدمی بن سکیں۔ اسی طرح رمضان کے روزے بھی مسلمانوں کے لئے ٹریٹوریل کی مشق کے دن ہوتے ہیں اور دنیا کے تمام مسلمانوں سے ایک ہی وقت میں مشقّت کی برداشت کی مشق کرائی جاتی ہے‘ خواہ کوئی شہنشاہ ہو یا غریب تا جس دن خدا کی طرف سے آواز آئے کہ اے مسلمانو! آؤ اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو۔ تو وہ سب اکٹھے اُٹھ کھڑے ہوں۔ روزے میںانسان کو کھانے کی کمی‘ نیندکی کمی‘ اور رشتہ داروں سے تعلقات کی کمی کی عادت کرائی جاتی ہے۔ کیونکہ روزہ میں بیوی سے بھی علیحدہ رہنا پڑتا ہے اور یہی وہ چیزیں ہیں جن سے جہاد میں سابقہ پڑتا ہے۔ پس روزہ کے ذریعہ مسلمانوں کو مشق کرائی جاتی ہے تا جب ضرورت پیش آوے وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کر سکیں جس طرح کہ ٹریٹوریل کی مشق ہوتی ہے۔ وہاں تو جو بھرتی ہو اُسے ہی مشق کرائی جاتی ہے لیکن یہاں جو بھی مسلمان ہے اسے یہ مشق ضرور کرنی پڑتی ہے اس کے اندر اور بھی بہت سی خوبیاں اور فوائد ہیں لیکن میں چونکہ زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا اور اتنا کھڑا ہونے سے ہی مجھے تکلیف ہو گئی ہے اس لئے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اِن کے دو سوال اور بھی ہیں جن کے جوابات میں مختصراً دے دیتا ہوں۔ ایک تو یہ ہے کہ روزے رمضان میں ہی کیوں رکھوائے جاتے ہیں سارے سال پر ان کو کیوں نہ پھیلا دیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک تواتر اور تسلسل نہ ہو صحیح مشق نہیں ہو سکتی۔ ہر مہینہ میں اگر ایک دو دن کا روزہ رکھ دیا جاتا تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ۔ ایک وقت کے کھانے میں تو سیر وغیرہ کے باعث بھی دیر ہو جاتی ہے یا بعض اوقات اور مصروفیات کے باعث نہیں کھایا جا سکتا۔ مگر کیا اس سے بھوک پیاس کی برداشت کی عادت ہو جاتی ہے؟ حکومت بھی ٹریٹوریل والوں سے ایک مہینہ متواتر مشق کراتی ہے یہ نہیں کہ ہر مہینہ میں ایک دن ان کی مشق کے لئے رکھ دے۔ تو جو کام کبھی کبھی کیا جائے اس سے مشق نہیں ہو سکتی۔ مشق کے لئے پیوستہ کام نہایت ضروری ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پورے ایک ماہ کے روزے مقرر فرمائے۔ اس سوال کے اور بھی کئی جوابات ہیں مگر اِس وقت میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ ایک تو یہ فوائد ہیں جو روزے سے حاصل ہوتے ہیں لیکن اصل غرض اتقاء ہے جس کی مختلف بیسیوں صورتیں ہیں۔ ڈاکٹر ذیابیطس کے مریضوں کو چالیس دن متواتر فاقہ کراتے ہیں یہ نہیں کہ ہر مہینہ میں چار پانچ فاقے کرا دیں کیونکہ ایسا کرنے سے کوئی فائدہ مریض کو نہیں پہنچ سکتا۔
    تیسرا سوال یہ ہے کہ تراویح کیوں پڑھی جاتی ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ تراویح جو ہمارے ملک میں رائج ہیں یہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں نہیں پڑھی جاتی تھیں۔ حضرت عمرؓ نے ان کو جاری کیا ۴؎ چونکہ تمام دن روزے سے ہونے کے باعث لوگ افطاری کے بعد کوفت دور کرنے کے لئے دیر تک باتیں کرتے رہتے تھے اور پھر تہجد کے لئے نہیں اُٹھ سکتے تھے اس لئے حضرت عمرؓ نے حافظ اور قاری مقرر کر دیئے جو نمازِ عشاء کے بعد مسلمان کو قرآن سنایا کریں۔ باقی اصل چیز تہجد ہے لیکن اس کا رمضان کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں۔ یہ فرض تو نہیں لیکن جسے خدا تعالیٰ توفیق دے اسے ضرور ادا کرنی چاہئے اور جو برداشت کر سکے اور ہر روز ہی تہجد کے لئے اُٹھنا چاہئے۔ اگر کوئی نہ اُٹھ سکے تو اسے تہجد کے وقت یونہی ذکرِ الٰہی کرنا چاہئے۔ بہرحال تہجد رمضان کے ساتھ مخصوص نہیں ہاں قرآن کریم کا زیادہ پڑھنا مسنون ہے۔ رسول کریم ﷺ قرآن کریم کا رمضان میں دَور کیا کرتے تھے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی آپ کو دَور کرانے کیلئے آیا کرتے تھے ۵؎ اس کے اندر حکمت یہ ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے کھانا پینا ترک کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے کو تیار ہے۔ مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے حرام موت مرنے سے روکا ہے اس لئے وہ افطار کرتا ہے اسی لئے روزہ کا بدلہ خدا تعالیٰ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ موت کے بعد ہی ملتا ہے۔ آگے زندگی کی دو صورتیں ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ خود زندہ رہنا اور دوسرے اپنے بعد نسل چھوڑ جانا۔ اور روزہ میں انسان پر موت کی یہ دونوں صورتیں وارد ہوتی ہیں۔ یعنی وہ کھانا پینا ترک کر کے اپنی موت پر آمادگی کا اظہار کرتا ہے اور بیوی سے تعلقات قطع کر کے اس بات پر آمادگی کا اظہار کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے لئے اپنی نسل کو بھی برباد کر دینے کے لئے تیار ہے اور روزہ میں موت کی ان دونوں اقسام کے نمونے وہ پیش کرتا ہے اور اس طرح خداکی ملاقات کا مستحق ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لقاء کا بہترین ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا کلام نازل ہو۔ قرآن کریم اگرچہ رسول کریم ﷺ پر نازل ہو چکا ہے لیکن جب انسان اس کی تلاوت کرتا ہے تو اس پر بھی ایک نیم وحی کی حالت ہوتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ اس کے لئے ہی نازل ہو رہا ہے۔ پس رمضان شریف میں تلاوتِ قرآن کریم مسنون ہے۔ باقی تراویح تو حضرت عمرؓ نے مقرر کی ہیں۔ آپ نے قاری مقرر کر دیئے کہ قرآن سنایا کریں تا نماز کی نماز‘ تلاوت کی تلاوت اور عبادت کی عبادت ہو جائے۔ یہ کوئی شرعی چیز نہیں شرعی چیز تہجد ہے مگر وہ بھی ضروری نہیں۔ لیکن ایسا احمق بھی کون ہو گا جو نیند چھوڑ کر اُٹھے بھی اسے موقع بھی ملے لیکن وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور یونہی بیٹھا باتیں کرتا یا حُقّہ پیتا رہے۔
    پس تراویح کی یہی حقیقت ہے کہ چونکہ تلاوتِ قرآن کریم رمضان سے خاص تعلق رکھتی ہے اس لئے حضرت عمرؓ نے ایسا انتظام کر دیا کہ ایک شخص قرآن کریم سُنا دیا کرے تا مسلمانوں میں قرآن سے زیادہ وابستگی پیدا ہو اور روزہ کا جو فائدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا لقاء حاصل ہو وہ اس طرح حاصل ہو سکے۔ (الفضل ۸۔مارچ ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ البقرہ: ۱۸۴
    ۲؎ بخاری کتاب الصوم باب ھل یقول انی صائم اذاشتم
    ۳؎ بخاری کتاب الصوم باب اجودما کان النبی یکون فی رمضان
    ۴؎ بخاری کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان
    ۵؎ بخاری کتاب الصوم باب اجودمَا کان النبی یکون فی رمضان

    ۸
    رمضان کے آخری ایام میں خاص طور پر دعائیں کی جائیں
    (فرمودہ ۸۔مارچ ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    آج رمضان کا آخری جمعہ ہے اور چونکہ رمضان کے مہینہ کو خدا تعالیٰ نے مبارک بنایا ہے اور جمعہ کے دن کو بھی چونکہ برکت عطا فرمائی ہے حتٰی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی آتی ہے جس وقت بندہ جو کچھ اپنے خدا سے مانگے پا لیتا ہے ۱؎ اس لئے رمضان کے آخری عشرہ میں اس دن کو مسلمان خاص طور پر مکرّم قرار دیتے ہیں اور اسے اس حد تک عزت دیتے ہیں جسے دیکھتے ہوئے گورنمنٹ نے بھی آج کے دن دفتروں میں چُھٹی منظور کر لی ہے۔
    جس رنگ میں مسلمان اس دن کو دیکھتے ہیں وہ تو ایک نہایت ہی مکروہ صورت ہے۔ وہ مسلمان جن پر جمعہ پر جمعہ گذرتا چلا جاتا ہے اور انہیں خدا تعالیٰ کا نام لینے کی توفیق نہیں ملتی‘ وہ مسلمان جن کی آنکھوں کے سامنے ہر روز نماز کے وقت گذرتے چلے جاتے ہیں مگر ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی یاد کبھی نہیں گُدگُداتی‘ وہ مسلمان جن کے کانوں میں گونجتی ہوئی اذان کی آواز گزر جاتی ہے مگر ان کے دلوں کی محبت کی تاریں ذرا بھی اس آواز کے مقابلہ میں پھڑکتی نہیں وہ اس دن تمام کام کاج چھوڑ کر اور خوب زینت و آرائش کر کے مسجدوں میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر آج نماز پڑھ لی تو ساری عمر کی نمازیں ادا ہو جائیں گی وہ آج قضا عمری پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں آج کی نماز نہ صرف سال بھر بلکہ عمر بھر کیلئے کافی ہے۔
    یہ ایسا ہی پست ہمت اور کمینہ خیال ہے جیسا کہ چِینیوں کا یہ خیال کہ وہ کاغذ کے پُرزوں پر خدا تعالیٰ کے مختلف صفات کے نام لکھ کر انہیں رہٹ کے ساتھ باندھ دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں جب تک رہٹ چلتا رہتا ہے ہماری طرف سے عبادت ہوتی رہتی ہے۔ جیسے چِینیوں کا یہ خیال گرا ہوا اور ادنیٰ ہے ایسے ہی مسلمانوں کا یہ خیال ہے۔ لیکن باوجود اس کے کہ مسلمان ایسے ذلیل طور پر اس دن کا استعمال کرتے ہیں اس کی عظمت و شان اور اس کے وقار میں کمی نہیں اس لئے کہ یہ رمضان کا آخری جمعہ ہے اور وہ آخری دن ہے جس دن کے اندر رمضان کے علاوہ بھی ایک ساعت ایسی آتی ہے جب خدا تعالیٰ خصوصیت سے دعائیں سنتا ہے۔ پھر یہ اُس مہینہ کا آخری جمعہ ہے جس کے تیس دن ہی بابرکت اور دعاؤں کی قبولیت کے دن ہوتے ہیں۔ یہ اس مہینہ کا آخری جمعہ ہے جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص برکات اور فضل نازل ہوتے ہیں جس میں عبادت کرنے کا بدلہ خود خدا تعالیٰ کی اپنی ذات ہوتی ہے۔ یہ اُس مہینہ کا آخری جمعہ ہے جس میں سُستاور غافل لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ کی عبادت کی توفیق مل جاتی ہے لیکن باہیں ہمہ یہ پچھلی نمازوں کا قائمقام کسی صورت میں بھی نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ اس میں شک نہیں یہ خدا تعالیٰ کے قُرب کا موجب ہو سکتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرہ کو رسول کریم ﷺ نے خاص طور پر مبارک فرمایا ہے اور فرمایا ہے اس میں ایک ایسی رات آتی ہے جس میں خدا تعالیٰ کے خاص فضل نازل ہوتے ہیں۔ ۲؎ اگرچہ اس کے پہلے آنے والے دن بھی اپنے اندر ایسی ساعتیں رکھتے ہیں کہ اگر انسان ان سے فائدہ اُٹھانا چاہئے تو خدا تعالیٰ کے حضور گر کر اپنی ذلتوں اور نکبتوں کو دور کر کے اس کا مقرّب بن سکتا ہے لیکن یہ دن اور اس کے بعد آنے والے دن رات خاص طور پر مبارک ہیں۔
    پس میںجماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان دنوں سے خاص طور پر فائدہ اٹھایا جائے۔ اور خاص طور پر دعائیں کی جائیں۔ جو نہ صرف اپنی ذات کے لئے ہی ہوں بلکہ سلسلہ کی عظمت اور اسلام کی ترقی کے لئے بھی ہوں۔
    یاد رکھنا چاہئے شریف انسان ہمیشہ اپنے عہد کا پابند ہوتا ہے بلکہ عہد کی پابندی ایسی شرافت ہے کہ گناہگاروں میں بھی اسے شرافت سمجھا جاتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے میں نے ایک چور سے پوچھا چوری کا کیا طریق ہے؟ اس نے بتایا‘ عمدگی سے چوری کرنے کیلئے پانچ آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک وہ جو اندر جائے‘ دوسرا جو باہر دیکھتا رہے‘ تیسرا جسے مال سپرد کیا جائے‘ چوتھا وہ جس کے پاس مال رکھا جائے اور پانچواں سُنار جو زیوارات کو توڑ کر سونا بنائے۔ آپ نے اس سے پوچھا جب اتنے ہاتھوں سے ہو کر مال گزرتا ہے تو اگر کوئی اس میں سے کھا جائے پھر کیا کِیا جاتا ہے۔ گو وہ شخص چور تھا لیکن فوراً اس کے چہرہ پر غیرت کے آثار ظاہر ہو گئے اور اس نے کہا ایسے بددیانت آدمی کو ہم سیدھا نہ کردیں۔ تو بددیانتی چوری میں بھی شریفانہ نگاہ سے نہیں دیکھی جاتی اور بدعہدی بھی بددیانتی ہے۔
    ہماری جماعت کے دوستوں نے بھی ایک عہد کیا ہوا ہے اور عہد بھی کسی انسان سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے اور وہ یہ کہ ہم تمام دنیا میں اسلام اور اس کی تعلیم کو پھیلائیں گے۔ یہ عہد کوئی معمولی عہد نہیں ہر کام کی حیثیت کے مطابق ہی اس کے لئے تیاری کی جاتی ہے۔ معمولی کام کے لئے تیاری بھی معمولی اور بڑے کام کے لئے تیاری بھی بڑی ہوتی ہے۔ اگر کسی معمولی چوری کی خبر آئے تو تھانہ سے معمولی کانسٹیبل کو بھیج دیا جاتا ہے لیکن اگر ذرا بڑا واقعہ ہو تو سارجنٹ آتا ہے اس سے بڑا ہو تو تھانیدار جاتا ہے اگر ڈاکہ پڑے تو انسپکٹر جاتا ہے۔ قتل کی واردات ہو جائے تو سپرنٹنڈنٹ بھی پہنچ جاتا ہے کسی بڑے بلوہ کی اطلاع پر انسپکٹر جنرل خود آتا ہے بغاوت کا خوف ہو تو فوج بھیجی جاتی ہے اور ملکوں کی لڑائیوں میں کئی فوجیں جمع کر کے بھیجی جاتی ہیں۔ گویا ہر کام کی حیثیت کے مطابق ہی اس کے لئے تیاری کی جاتی ہے۔ اگر خطرہ اہم ہو تو اس کے انسداد کیلئے تیاری بھی اہم ہو گی۔
    جس کام کو ہم نے اپنے ذمّہ لیا ہے اگر اس کے خطرات کو مدنظر رکھ کر ایک منٹ بھی سوچا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے لئے کس قدر عظیم الشان تیاری کی ضرورت ہے۔ ہماری اپنی کمزوری اور بے بضاعتی تو اس حد تک ہے کہ مخالفین علی الاعلان پبلک میں ہمیں گالیاں دیتے ہیں اور اخباروں میں ہمارے خلاف لکھتے ہیں لیکن نہ ہم انہیں روک سکتے ہیں اور نہ ہی گورنمنٹ کچھ کرتی ہے۔ بلکہ پچھلے گورنر نے تو میرے منہ پر کہا تھا ہم چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے احساسات کا کہاں تک خیال رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کب ایسا ہوا کہ کسی مذہبی پیشوا کی ہتک کی گئی جس پر گورنمنٹ کو توجہ دلائی گئی مگر اس نے کوئی نوٹس نہ لیا کہ آپ کو ورتمان کے متعلق اشتہار شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں نے کہا ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مخالفین نے گالیاں دیں اس پر حکومت کو توجہ دلائی گئی مگر اس نے کوئی نوٹس نہ لیا اس کے جواب میں انہوں نے کہا چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے احساسات کا ہم کہاں تک خیال رکھ سکتے ہیں جس کے معنے یہ ہوئے کہ جس کے پاس طاقت نہیں اس کے قلبی احساسات کا بھی کوئی احترام نہیں کیا جا سکتا۔
    ممکن ہے دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوں اور ممکن کیا ایسے لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ دل دُکھانا خواہ کمزور کا خواہ طاقتور کا بُرا ہے۔ لیکن آج ایک کثیر طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جس کے نزدیک دل کا دُکھنا حیثیت پر منحصر ہے۔ طاقتور کا دل دُکھانا ان کے نزدیک ناجائز اور کمزور کا دکھانا جائز ہے۔ پولیس اکثر لوگوں پر ڈنڈے برساتی ہے لیکن کوئی پوچھتا نہیں کہ کیوں ایسا کرتی ہے۔ لیکن لالہ لاجپت رائے کو ایک ڈنڈا لگ گیا تو اسمبلی میں اس کے متعلق سوالات کئے جاتے ہیں اور تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے حکومت ہر روز بِیسیوںآدمیوں سے مچلکے لیتی ہے لیکن جب گاندھی جی سے لیا گیا تو ایک شور مچ گیا۔ اگر جُرم اپنی ذات میں بُرا ہے تو خواہ کوئی کرے سب سے یکساں سلوک ہونا چاہئے۔ اگر ایک جُرم کے ارتکاب پر حکومت ایک کمزور سے تو مچلکہ لے لے لیکن جب گاندھی جی وہی جُرم کریں تو انہیں چھوڑ دے تو اس کے یہ معنی ہونگے کہ جُرم اپنی ذات میں بُرا نہیں بلکہ اس کا بُرایا اچھا ہونا ارتکاب کرنے والے کی حیثیت پر منحصر ہے۔ تو دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو طاقتور کا دل دُکھانا تو بُرا سمجھتے ہیں لیکن کمزور کا دل دُکھانے میں انہیں کوئی مضائقہ نہیں ہوتا۔
    ہماری جماعت چونکہ تھوڑی ہے اس لئے اس کا دل دُکھانے کی بھی مُطلقاً کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔ گورنمنٹ بھی اس کے متعلق کوئی توجہ نہیں کرتی اور ہم خود بھی روک نہیں سکتے۔ پس جہاں ہم اس قدر کمزور اور بے بضاعت ہیں۔ اور ہمارے لئے سامانوں کی اس قدر کمی اور فُقدان ہے کہ اپنے حقوق بھی نہیں لے سکتے وہاں ہمارے سامنے اتنا بڑا کام ہے کہ تمام دنیا کو فتح کرنا ہے نہ صرف دنیا کو بلکہ اہلِ دنیا کے دلوں کو فتح کرنا اور رسول کریم ﷺ اور قرآن کریم کی عزت ان کے دلوں میں قائم کرنا ہے۔ ہمارے سامانوں کے مقابلہ میں یہ کام کس قدر اہم اور عظیم الشان ہے۔ ہمارے ملک میں مشہور ہے اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے کاموں کے لئے بہت سی طاقت اور بڑی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جو کام ہمارے سپرد ہے وہ خدا تعالیٰ کا ہی ہے لیکن خدا تعالیٰ بھی اُسی وقت مدد کرتا ہے جب انسان اس کام کی اہمیت کو دیکھ کر اسے کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ بے شک نشانات دکھاتا ہے لیکن پہلے بندے کی استقامت کا نشان دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم غافل بیٹھے رہو اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے نشان اور معجزے دکھاتا رہے۔ کیا ہم میں سے اکثر لوگوں کی یہی حالت نہیں جیسے کہا جاتا ہے ایک سپاہی راستہ سے گذر رہا تھا کچھ فاصلہ پر دو آدمی لیٹے تھے ایک نے اُسے آواز دی‘ بھائی جانے والے ذرا بات سن جانا۔ اس نے سمجھا شاید کوئی اہم معاملہ ہو اِس وجہ سے چلا گیا۔ جب پاس پہنچا تو اس شخص نے کہا میری چھاتی پر بیر پڑا ہے ذرا اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دینا۔ اس پر سپاہی کو بہت غصہ آیا اس نے کہا کم بخت تیرے ہاتھ موجود ہیں تُو خود بیر اُٹھا کر منہ میں ڈال سکتا تھا خواہ مخواہ مجھے راستہ پر جاتے ہوئے کیوں روکا۔ دوسرا پاس والا شخص بولا یہ کمبخت تو ہے ہی بڑا سُست۔ اس کا بیر منہ میں نہ ڈال سکنا تو معمولی بات ہے یہ تو ایسا سُست ہے کہ ساری رات کُتّا میرا منہ چاٹتا رہا مگر یہ ہُش تک نہ کر سکا۔
    کیا ایسی ہی مثالیں ہمارے اندر موجود نہیں ہیں ہم اتنے بڑے اور عظیم الشان کام کے لئے کھڑے ہوئے ہیں مگر ابھی تک ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جنہیں ابتدائی مسائل بھی بار بار بتانے کی ضرورت رہتی ہے۔ میری روزانہ ڈاک ایسے خطوط سے بھری ہوتی ہے کہ ہماری جماعت کو بیدار کرنے کے لئے مبلغّ کی ضرورت ہے فلاں مبلغّ کو بھیجا جائے۔ میں کہتا ہوں خدا کے بندو! تم تو دنیا کو جگانے کے لئے پیدا کئے گئے ہو تمہیں بیدار کرنے کے لئے مبلغّوں کی ضرورت ہے تو تم دنیا کو کس طرح بیدار کرو گے۔
    کہا جاتا ہے ایک ایسی قوم جو بہت نرم دل واقعہ ہوئی ہے اور خونریزی نہیں دیکھ سکتی گورنمنٹ نے لاعلمی سے اس کے افراد کو فوج میں بھرتی کر لیا۔ ایک موقع پر جرنیل نے ان کے افسر کو بلا کر کہا تمہیں جنگ پر جانا ہو گا۔ اس نے کہا میں اپنی پلٹن سے مشورہ کر کے بتاؤں گا۔ جرنیل نے کہا مشورہ کا کیا مطلب؟ تم نوکر کس بات کے تھے تمہیں جانا ہو گا۔ اس نے کہا پھر بھی مجھے پوچھ لینے دیں اور آخر مشورہ کر کے اس نے جرنیل کو اطلاع دی۔ پٹھان لوگ بہت سخت ہوتے ہیں ہم ان سے لڑائی کرنے کے لئے جانے کو تو تیار ہیں لیکن ہمارے ساتھ پہرہ دار بھیج دیئے جائیں۔ یہی حالت ان لوگوں کی ہے جو اپنی بیداری کے لئے مبلغّ بلاتے ہیں تم تو وہ لوگ ہو جنہوں نے سوتوں کو جگانا اور مُردوں میں روح پھونکنا تھا۔ تم میں سے تو ہرشخص بیدار ہونا چاہئے تھا۔ تمہارے دل کے اندر ایک آگ ہونی چاہئے اور تمہارے جسم میں ایک ایسی روح ہونی چاہئے جو ہر وقت تلملاتی اور مضطرب رہے اور اُس وقت تک چَین نہ لے جب تک دنیا کے سوتوں کو جگا نہ لے۔ اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو آؤ اِن دنوں میں دعا ہی کروکہ خدا تمہیں توفیق دے تا تم ایسا کر سکو۔ آمین۔
    (الفضل ۱۲۔مارچ ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ بخاری کتاب الجمعۃ باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ
    ۲؎ بخاری کتاب الصوم باب فضل لیلۃ القدر









    ۹
    کتب و اخبارات ِسلسلہ کی اشاعت
    (فرمودہ ۲۲۔مارچ ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    جس طرح ہر انسان اپنے اندر کچھ خصوصیتیں رکھتا ہے اور اس کا مزاج دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتا ہے جس طرح ہر خاندان کے لوگ اپنے اندر کچھ خصوصیتیں رکھتے ہیں اور ان کا مزاج دوسرے خاندانوں سے مختلف ہوتا ہے جس طرح ہر قوم اپنے اندر کچھ خصوصیتیںرکھتی ہے اور اس کامزاج دوسری اقوام سے مختلف ہوتا ہے۔ جس طرح ہر ملک کے لوگ اپنے اندر کچھ خصوصیتیں رکھتے ہیں اور ان کے اندر کچھ ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو دوسرے ممالک کے رہنے والوں میں نہیں ہوتیں‘ جس طرح ہر مذہب کے لوگ اپنے اندر کچھ ایسی خصوصیتیں رکھتے ہیں جو دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں نہیں ہوتیں اسی طرح زمانے بھی ایک دوسرے سے مختلف طور پر چلتے ہیں۔ ایک زمانہ کے لوگوں میں بعض ایسی خصوصیتیں موجود ہوتی ہیں جو اس کے بعد آنے والے زمانے کے لوگوں میں نہیں ہوتیں اور بعد کے زمانہ کے لوگوں میں کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو ان کے پہلوں اور پچھلوں میںنہیں ہوتیں۔ اسی طرح ہر زمانہ جو متغیر ہوتا ہے اس کے ساتھ ایسی خصوصیتیں ہوتی ہیں جو دوسرے زمانہ کے لوگوں میں نہیں ہوتیں۔ ان امتیازات کی وجہ سے اور بھی کئی ایک اختلاف پائے جاتے ہیں مثلاً صرف جسمانی طور پر ہی دیکھا جائے تو مختلف انسانوں کے علاجوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ایک ہی مرض کے کئی مریضوں کو ان کے حالات کے لحاظ سے مختلف دوائی دیتا ہے۔ بسا اوقات بہتر سے بہتر اور منتخب سے منتخب دوائی ایک مریض پر اثر نہیں کرتی حالانکہ اسی بیماری کے اور بیسیوں مریض اس سے نفع حاصل کرتے ہیں اس کی بجائے ایک معمولی سا نسخہ اسے فائدہ دے دیتا ہے۔ تو انسانوں کے مزاج کے اختلاف کی وجہ سے طبیب دوائیں بھی مختلف دیتے ہیں اور جو طبیب اس امر کا خیال نہ رکھے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اور اس کے زیر علاج مریض کبھی شفایاب نہیں ہو سکتے۔ ہماری پرانی طب میں تو مزاجوں کو نہایت ہی اہم چیز قرار دیا گیا ہے اور انگریزی طب میں بھی اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ بعض اشیاء بعض لوگوں کے مزاج کے باعث مُضّرِہوتی ہیں وہ خاص مرض کیلئے مفید ہوتی ہیں لیکن خاص آدمی کیلئے مُضِرّ ہوسکتی ہیں۔
    یہی حال قوموں کا ہے بعض اقوام میں بعض امراض ہوتی ہیں جو دوسری قوموں میں نہیں پائی جاتیں یا کم ہوتی ہیں۔ مثلاً سرطان یہودیوں میں بہت کم ہوتا ہے حالانکہ یور پ کی دوسری اقوام میں بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح بعض بیماریاں آب و ہوا سے تعلق رکھتی ہیں جیسے کوڑھ زیادہ تر گرم ملکوں میں ہوتا ہے۔ غرض جس طرح انسانوں میں اختلاف‘ خاندانوں میں اختلاف‘ قوموں میں اختلاف اور ملکوں میں اختلاف ہوتا ہے اسی طرح زمانوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ بعض خاص امراض ایک وقت میں بہت پھیلتے ہیں مگر دوسرے زمانہ میں نہیں ہوتے۔ پرانی طب میں بعض بیماریوں کا ذکر آتا ہے جو اِس زمانہ میں نہیں ہیں۔ بعض نادان طبیب اور ڈاکٹر ان کے متعلق پڑھ کر کہتے ہیں لکھنے والے نے یہ غلط باتیں لکھ دیں حالانکہ انہوں نے بیسیوں اور سینکڑوں مریضوں کو دیکھ کر تجربہ کی بناء پر لکھی ہوتی ہیں۔ یقینا ان کے زمانہ میں ایسی بیماریاں تھیں جو اَب نہیں ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اَب ہیں مگر پہلے نہیںتھیں۔ جیسے انفلوئنزا یہ پہلے نہیں تھا یا اگر تھا تو ایسی شدید وبا کی صورت میں کبھی ظاہر نہیں ہوا تھا جیسے اَب ہوا۔ اور بھی بعض بیماریاں ہیں۔ افریقہ کے ملک میں ایک بیماری ہوتی ہے جو پہلے دوسرے ممالک میں نہیں ہوتی تھی لیکن جب دوسرے ممالک کے لوگ افریقہ گئے تو وہاں سے لے آئے اور اب یہ دوسرے ممالک میں پھیلنا شروع ہو گئی ہے۔ تو مختلف زمانوں کے ساتھ مختلف بیماریوں کا تعلق ہوتا ہے۔ اسی طرح میرا تو خیال ہے کہ زمانوں کے ساتھ علاجوں کا بھی تعلق ہے۔ میں بعض اوقات پڑھتا ہوں کہ فلاں چیز اکسیر ہے لیکن اس زمانے کے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ کوئی اکسیر نہیں پہلوں نے غلطی کی جو اسے اکسیربتایا لیکن میں سمجھتا ہوں پہلوں نے صحیح لکھا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ مختلف دوائیاں بھی مختلف زمانوں میں مختلف اثر دکھاتی ہیں۔ جیسے یہ صحیح ہے کہ بعض بیماریاں جو پہلے نہیں تھیں وہ اب پیدا ہو گئی ہیں اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ آب و ہوا کے ایک لمبے عرصہ کے اثر کے ماتحت یا جسمِ انسانی میں بعض مخفی ترقیات کی وجہ سے بعض دوائیوں میں وہ اثر بھی نہیں رہا جو پہلے تھا۔
    جس طرح یہ سلسلہ ظاہر میں نظر آتا ہے اسی طرح باطن میں بھی ہے۔ جس طرح ظاہری امراض کے علاج میں تغیر ہوتا رہتا ہے اسی طرح باطنی امراض کے لئے بھی ہر زمانہ کیلئے علیحدہ علاج ہیں۔ تمام انبیاء کی غرض تو ایک ہی ہوتی ہے یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ تک اس کے بندوں کو پہنچائیں اور اس کے مقرّب بنائیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوتے ہیں تو اور ہی رنگ میں اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہیں۔ باتیں تو وہی بیان کرتے ہیں جو رسول کریم ﷺ نے بیان کیں لیکن وہ اپنے زمانہ کی زبان میں بولتے ہیں۔ وہ فطرت کے میلانوں کو اپیل کرتے ہیں۔ وہ اپنی قوم کے باریک قومی جذبات کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف نہیں کھینچتے بلکہ کہتے ہیں وہ خدا وند خدا جو بجلیوں سے ظاہر ہوتا ہے گویا اسے مادی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ وہ اسے بجلیوں‘ آندھیوں اور طوفانوں میں دکھاتے ہیں لیکن حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمانؑ کے زمانہ میں انہی باتوں کو اور طرز میں پیش کیا جاتا ہے۔ وہ بھی لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں لیکن حضرت موسیٰ ؑکی زبان میں نہیں کیونکہ ان لوگوں کے لئے اور زبان کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کا زمانہ آتا ہے۔ تو بات ہی بدل جاتی ہے جہاں خدا تعالیٰ کو بجلیوں اور آندھیوں میں دکھایا جاتا تھا وہاں اب اسے محبت کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے اور بتایا جاتاہے وہ ہمیں پیار کرتا ہے‘ ہماری مصیبتوں پر کُڑھتا ہے۔ گویا حضرت عیسیٰ ؑاسے بجلیوں میں نہیں بلکہ ماں کے پستانوں اور اس کی شفقت آمیز تھپکیوں میں ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں بھی بات تو وہی ہے کہ خدا کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے لیکن زبان بدل گئی چیز میں کوئی فرق نہیں آیا۔ لیکن اس کے لئے جو ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں ان میں فرق آ گیا۔ ان سب کے بعد رسول کریم ﷺ ظاہر ہوتے ہیں۔ اس وقت انسانی دماغ کمالات کی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے‘ وہ مختلف زمانوں میں سے گذرتے ہوئے رُشد حاصل کر لیتا ہے‘ جوانی کو پہنچ جاتا ہے‘ بچپن کی کیفیات پیچھے چھوڑ آتا ہے‘ وہ اپنے اندر امتیاز کی طاقت پیدا کر لیتا ہے‘ اس کے پرکھنے کی طاقت مضبوط ہو جاتی ہے اس وقت طرزِ کلام بالکل بدل جاتا ہے۔ اگرچہ اب بھی اسے باپ اور اس کی محبت کی طرح دکھایا تو جاتا ہے لیکن باپ کی صورت میں نہیں بلکہ باپ کی محبت بتا کر اسے پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت داؤدؑ کی شاعری اب بھی استعمال کی جاتی ہے حضرت سلمانؑ کی دانائی اور حضرت موسیٰ ؑکی تلوار سے اب بھی کام لیا جاتا ہے حضرت عیسیٰ ؑکی شفقت اب بھی استعمال کی جاتی ہے حضرت نوحؑ کی پیشگوئیوں والی کڑک اب بھی موجود ہے حضرت ابراہیم ؑ کے حلم کی شان اب بھی نمایاں ہے لیکن یہ سب چیزیں اپنے اپنے مقام پر ہیں اور ان سب میں سے گذار کر انسان کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو تعلیم حضرت نوحؑ نے دی وہی حضرت ابراہیم ؑ نے پیش کی۔ حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ نے بھی اسے ہی پیش کیا۔ وہی حضرت موسیٰ ؑ ‘حضرت عیسیٰ ؑ اور رسول کریم ﷺ دنیا میں لائے لیکن ہر ایک نے اپنے اپنے زمانہ کی زبان کو استعمال کیا۔ فطرت ِانسانی کے پیدا کرنے والے خدا نے ہر زمانہ میں ترقی پانے اور نشوونما حاصل کرنے والی فطرتِ انسانی کو پڑھا اور اس کے دماغ کوٹٹولا اور جو حِس اس کے دل کی باریک تاروں کو ہلانے والی تھی اس کو لیا اور اسی آلہ سے اس کے دل میں حرکت پیدا کی۔ جس طرح ایک اچھا گویّا پیانو(PIANO) بجاتے وقت وہی آلہ استعمال نہیں کرتا جس سے سارنگی بجاتا ہے۔ سارنگی وہ تار سے بجاتا ہے اور پیانوں انگلیوں سے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے جو قانونِ قدرت کے گیت دنیا میں پیدا کرتا ہے جو اپنی پیدا کی ہوئی نیچر کی سُریلی آوازیں نکالتا ہے اسی آلہ سے جو اپنے اپنے زمانہ میں دلوں کے باجے بہتر سے بہتر صورت میں بجانے کی قابلیت رکھتا تھا کام لیا۔ پس ہماری جماعت کو جو تبلیغی جماعت ہے جو دنیا کے اندر روح‘ زندگی‘ نہ مٹنے والی طاقت اور نہ دبنے والا جوش اور نہ پست ہونے والے ارادے پیدا کرنے کے لئے مبعوث کی گئی ہے محسوس کرنا چاہئے کہ یہ زمانہ کس قسم کا ہے۔ جب تک وہ اس زمانہ کے مطابق اور مناسبِ حال ذرائع استعمال نہیں کرتی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بُلانا تو اس نے خدا کی طرف ہی ہے لیکن کامیابی اس زمانہ کے مطابق ذرائع استعمال کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ یاد رکھو تم جال میں پانی نہیں ٹھہرا سکتے‘ تم لوہے کی چادروں میں سے سیال چیزوں کو نہیں چھان سکتے‘ تم آگ کے ذریعہ ٹھنڈک پیدا نہیں کر سکتے خدا تعالیٰ نے جو قانون بنایا ہے اسی کے مطابق کام ہو گا اور جو انسان ان ذرائع کو استعمال نہیں کرتا جو کسی کام کے لئے خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں وہ کامیاب بھی نہیں ہو سکتا۔ بہت سے نادان ہیں جن کی نادانیوں کا شکار بعض عقلمند بھی ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں فلاں رسول کے زمانہ میں یوں ہوتا تھا‘ فلاں نبی کی جماعت یوں کرتی تھی‘ تم نبی کی جماعت ہو کر یوں کیوں کرتے ہو۔ بے شک تمام انبیاء ؑ کی جماعتوں کا مقصد ایک ہی ہے لیکن اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے اس کے حصول کے ذرائع میں تغیر ہوتا رہا ہے۔ اگر آج ہو بہو وہی ذرائع استعمال کئے جائیں جو پہلے کئے جاتے تھے تو یقینا ناکامی ہو گی۔
    خدا تعالیٰ نے ہی حضرت بدھ سے کہا اپنے مریدوں سے کہو گلے میں جھولی ڈال لو اور جاؤ دنیا میں بھیک مانگو۔ تمہارے لئے وہی رزق طیب ہے جو بھیک مانگ کر مہیا کیا جائے اپنے پاس کوئی پیسہ نہ رکھو۔ پھر حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی اسی خدا نے پیدا کیا لیکن انہیں حکم دیا جا کر مریدوں سے کہو کھاؤ‘ پیو لیکن کَل کے لئے خزانہ جمع نہ کرو۔ کسی سے مانگو نہیں اپنے گھر سے کھاؤ لیکن خدا سے ہر روز کی روٹی روز مانگو۔ پھر محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اسی خدا نے مبعوث کیا لیکن یہ نہیں کہا کہ بھیک مانگ بلکہ فرمایا بھیک مانگنا ٹھیک نہیں بھیک مت مانگ۔ حضرت بدھؑ کو خدا نے کہا بھیک مانگ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کو اسی خدا نے کہا مت مانگ اس لئے کہ بدھؑ کے زمانہ میں دنیا کے ارتقاء اور ترقی کے لئے بھیک مانگنا ہی ضروری تھا اور محمد رسول اللہؐ کے زمانہ میں دنیا کے ارتقاء اور ترقی کیلئے بھیک چُھڑانا ہی ضروری تھا۔ نادان کہتا ہے ایک خدا کی طرف سے دو متضاد تعلیمیں کس طرح ہو سکتی ہیں لیکن وہ ایک ڈاکٹر کے دو نسخے دیکھ کر سبق حاصل نہیںکرتا۔ ایک وقت ڈاکٹر مریض کو دیکھ کر کہتا ہے اسے فاقہ کرایا جائے۔ لیکن دوسرے وقت آتا ہے تو کہتا ہے تم نے اسے بھوکا مار دیا اسے یخنی دینی چاہئے یہ دینا چاہئے وہ دینا چاہئے۔ اگر کوئی کہے یہ اچھا ڈاکٹر ہے پرسوں کہتا تھا کھانے کو کچھ مت دو اور آج کہتا ہے اسے کھانے کو کیوں نہیں دیتے تو وہ نادان ہے کیونکہ مریض کی صحت کے لئے پرسوں فاقہ ہی ضروری تھا اور آج اس کے لئے کھانا مفید ہے یہی حال قوموں کے علاج کا ہے۔
    انہی حالات میں مَیں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے۔ رسول کریم ﷺ کا زمانہ اور تھا حضرت عیسیٰ ؑحضرت موسیٰ ؑ‘ حضرت سلیمانؑ‘ حضرت داؤدؑ اور حضرت نوحؑ کے زمانے اور تھے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ قیامت تک امتِ محمدیہ پر ابھی اور کتنے زمانے آئیںگے۔ بے شک قرآن کریم وہی رہے گا‘ احکامِ سنت تبدیل نہیں ہونگے‘ حدیث نہیں بدلے گی لیکن قرآن و حدیث کے پھیلانے کے ذرائع بدلتے جائیں گے۔ ایک زمانہ میں قرآن کریم کی تعلیم کا صرف پیش کرنا ہی کافی تھا اور یہ بتانا ہی اس کی برتری کی دلیل تھی کہ اس میں توحید کی تعلیم ہے‘ یہ اخلاقی حالت کو درست کرتا ہے لیکن آج اتنا کہنے سے کچھ اثر نہیں ہوتا۔ آج سوال ہوتا ہے فلسفہ نے جو شُبہات ہمارے اندر پیدا کر دیئے ہیں‘ سائنس نے جو شکوک ہمارے دلوں میں ڈال دیئے ہیں ان کو قرآن حل کرتا ہے یا نہیں ؟ آج زمانہ کے اندر غلامی اور آزادی‘ گورے اور کالے‘ سرمایہ دار اور مزدور کی جو تمیزیں پیدا ہو گئی ہیں کیا قرآن میں ان کا علاج موجود ہے؟ اگر نہیں تو قطع نظر اس کے کہ یہ سوال غلط ہیں یا صحیح۔ اسے ماننے کو کوئی تیار نہ ہو گا۔
    پس اگر ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے تو اس کے احساسات کو تسلی دینی ہو گی۔ میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ اس زمانہ کے حالات مختلف ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا جب فتح کے لئے اور ہتھیار استعمال ہوتے تھے لیکن آج اذا الصحف نشرت ۱؎ کے ماتحت پروپیگنڈا ہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ یہ نشرِ صُحف کا زمانہ ہے اور جب تک ہم یہ طریق اختیار نہ کریں گے ترقی نہیں کر سکتے۔ ایک زمانہ میں لوگ اس قدر مصروف نہیں تھے اور فارغ بیٹھ کر باتیں کر سکتے تھے وہ زبانی تبلیغ کا زمانہ تھا لیکن ایک یہ زمانہ ہے جب کام زیادہ ہے اور لوگ ملنے سے گھبراتے ہیں دن کے وقت انہیں تبلیغ کرنی مشکل ہے۔ لیکن اگر ایک چھوٹا سا ٹریکٹ یا اخبار کی کاپی ہو تو اسے ایک مصروف و مشغول انسان بھی بستر پر لیٹے ہوئے نیند کے انتظار میں مطالعہ کر سکتا ہے اور وہ کام جو ہم نہیں کر سکتے وہ ایک اخبار یا ٹریکٹ نہایت آسانی سے سرانجام دے سکتا ہے۔ رات کے گیارہ بجے جب کوئی ہمیں اپنے مکان کے اندر نہیں گُھسنے دیگا ایک ٹریکٹ یا اخبار کو خود تلاش کر کے لائے گا تا نیند کے انتظار کا وقت اچھی طرح گذر جائے۔ بسااوقات نیند اس پر غالب آ جائے گی اور وہ اس تحریک کو ختم نہ کر سکے گا لیکن وہ اونگھ کی گھڑیاں اس تحریر کو اس کے دماغ پر مکرّر۔ سہ مکرّر مختلف رنگوں میں نقش کر رہی ہونگی اور صبح کو وہ ایک خاص اثر لے اٹھے گا۔
    میں نے خصوصیت کے ساتھ اس سال کے پروگرام میں نشرواشاعت کا کام بھی رکھا ہے اور سالانہ جلسہ پر اپنی جماعت کو اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔ اس خطبہ کے ذریعہ پھر اس کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ یہ زمانہ نشرواشاعت کا ہے۔ جس ذریعہ سے ہم آج اسلام کی مدد کرسکتے ہیں وہ یہی ہے کہ صُحف و کُتب کی اشاعت پر خاص زور دیں۔ اگر ہر جماعت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کی ایجنسیاں قائم ہو جائیں تو یقینا بہت فائدہ ہو سکتا ہے لیکن ابھی تک اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔
    میں خیال کرتا ہوں مرکز نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔ مرکز کی طرف سے جو کتابیں شائع ہوتی ہیں یا تو ان کے چھاپنے میں بدانتظامی کے سبب ان کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور یا ویسے ہی قیمت زیادہ رکھ دی جاتی ہے اور اس وجہ سے لوگ کثرت سے ان کی اشاعت نہیں کر سکتے۔ میں اُن دو تین رسالوں کو مستثنیٰ کرتا ہوں جو پچھلے دنوں شائع ہوئے یعنی نہرو رپورٹ پر میرا تبصرہ اور میری ۱۷۔جون کے جلسہ کی تقریر۔ یہ واقعی اتنے سستے تھے کہ میرے نزدیک اتنا سستا شائع کرنا بھی خطرناک ہے۔اس طرح حقیقتاً کوئی نفع نہیں ہو سکتا اگرسَو روپیہ پر سات یا آٹھ روپیہ نفع ہوا تو اشتہارات اور نوکروں کے اخراجات کو جو اِن پر کام کرتے ہیں مدنظر رکھتے ہوئے اتنا نفع نقصان سے ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔ پس ان رسالوں کو تو میں مستثنیٰ کرتا ہوں اگرچہ ان میں بھی دوسری سمت کو اختیار کر لیا گیا۔ مگر عام طور پر ہماری کتابیں گراں ہوتی ہیں اور اس وجہ سے لوگ ان کی اشاعت نہیں کر سکتے۔ اس کے لئے ایک طرف تو میں نظارت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ کتابوں کی قیمتوں پر نظرثانی کرے اور قیمتیں ایسی حد پر لے آئے کہ ان انجمنوں کو جو ایجنسیاں لیں کافی معاوضہ بھی دیا جا سکے اور نقصان بھی نہ ہو اور دوسری طرف احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی اس بارے میں فرض شناسی کا ثبوت دیں اس کے علاوہ اخباروں کی اشاعت ہے۔ جس طرح خاص دائرہ میں کتابیں بہت اثر کرتی ہیں اسی طرح ایک دائرہ میں اخبارات بھی بہت اثر کرتے ہیں۔ ہمارے کئی ایک اخبار ہیں الفضل‘ سن رائز‘ ریویو انگریزی‘ اردو‘ مصباح‘ احمدیہ گزٹ‘ یہ تو صدرانجمن کے اخبار ہیں۔ ان کے علاوہ فاروق اور نور بھی ہیں۔ پھر بنگال اور سیلون سے بھی ہمارے اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ ممکن ہے اور جماعتیں بھی شائع کرتی ہوں۔ بعض جماعتیں ٹریکٹ شائع کرتی ہیں ان کی اشاعت کی طرف بھی میں توجہ دلاتا ہوں۔ پچھلے دنوں الفضل اور سن رائز کی تعدادِ اشاعت بڑھ گئی تھی لیکن اب اس میں کمی واقعہ ہو گئی ہے۔ دوستوں کو چاہئے کہ اپنے اپنے ہاں ایسے ایجنٹ مقرر کریں جو سلسلہ کی کتب اور اخبارات فروخت کریں اور خود بھی فائدہ اُٹھائیں۔ تھوڑے ہی عرصہ میں ہمت کر کے الفضل اور سن رائز کی اشاعت کم از کم تین ہزار تک پہنچا دیں۔ ان اخبارات سے سلسلہ کی تبلیغ میں بھی مدد ملتی ہے اور جماعت کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ بعض اوقات کوئی غیر احمدی مجھ سے فتویٰ پوچھتے ہیں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ انہیں مجھ سے پوچھنے کا کس طرح خیال آیا۔ بعد میں خط و کتابت سے معلوم ہوتا ہے اور وہ لکھتے ہیں ہم الفضل یا سن رائز پڑھا کرتے تھے اس سے ہم نے سمجھا کہ ہر معاملہ میں صحیح جواب قادیان سے ہی مل سکتا ہے اس لئے آپ سے پوچھتے ہیں۔ تو یہ چیز جو ہم دنیا کے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی حقیقی اسلام وہ اخباروں کے ذریعہ سے پیدا ہو سکتا ہے۔ الفضل تو خیر ہے ہی اشاعت و تبلیغ کا اخبار لیکن ان نوجوانوں کے لئے جو عیسائی فتنہ سے متأثر ہو کر اسلام سے بدظن ہوتے جاتے ہیں سن رائز جاری کیا گیا ہے۔ اس میں بے شک ہوتے تو عام اسلامی مسائل ہی ہیں لیکن انہیں احمدیت اور حضرت مسیح موعودؑ کے پیش کئے ہوئے پہلو سے ہی بیان کیا جاتا ہے اور اس پہلو کی خوبی کو دیکھ کر آہستہ آہستہ پڑھنے والوں کے دلوں میں یہ خیال جاگزیں ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا میں آ کر بہت بڑا کام کیا ہے یہ بھی اگرچہ بِالواسطہ نہیں لیکن بِلاواسطہ ہمارے مقصد کی اشاعت میں بہت مُمِدّ ہے۔
    اور اگر یہ نہ بھی ہو تو بہرحال مسلمانوں کو فتنہ سے بچانا ہمارا فرض ہے پس ان دونوں اخبارات کی اشاعت کے لئے اگر دوست کمرِ ہمت باندھ لیں تو بہت ہی مفید نتائج نکل سکتے ہیں۔ چونکہ لوگ عام طور پر خطبات بھول جاتے ہیں اس لئے میں جماعتوں اور ناظروں کو توجہ دلاتا ہوں۔ جماعتیں اپنے ہر ایک فرد کو اس کی طرف توجہ دلائیں اور ناظر جماعتوں کے پیچھے پڑ کر ان سے دریافت کریں کہ وہ کس قدر امداد دینے کے لئے تیا رہیں۔ ہر جماعت کچھ نہ کچھ پرچے ایجنسی کے ذریعہ فروخت کرنے کا بندوبست کرے۔ کوئی سَو‘ کوئی پچاس‘ کوئی بیس‘ کوئی دس‘ کوئی تین‘ کوئی دو اسی طرح ہر جماعت یہ اطلاع دے کہ وہ اتنے نئے خریدار دے گی۔
    اخبار والوں کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی خریداروں کے لئے سہولتیں بہم پہنچائیں وہ حساب لگانے لگ جاتے ہیں مثلاً یہ کہ دس روپے ہماری لاگت ہے ایجنسی کے ذریعہ وصول ہوتے ہیں سات باقی تین ہؤا گھاٹا اس لئے ایجنسی نہیں دے سکتے۔ وہ اتنا نہیں سوچتے اگر اخبار کی اشاعت زیادہ ہو جائے گی تو اسی نسبت سے اس میں اشتہار دینے کے لئے بھی زیادہ لوگ تیار ہونگے اگر آج ایک شخص اشتہار دیتا ہے اور اسے دس درخواستیں آتی ہیں تو کَل کو جب خریدار زیادہ ہو جائیں اور اسے پچیّس درخواستیں آئیں تو وہ کہے گا مجھے تو ہمیشہ اس پرچہ میں اشتہار دینا چاہئے۔ کاروباری معاملات میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ہر جہت سے فائدہ ہوتا ہے یا نہیں دیکھنا یہ چاہئے کہ مجموعی طور پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اگر کسی ایجنسی سے منافع نہ بھی لیا جائے تو بھی نقصان نہیں ہو گا کیونکہ اشاعت بڑھنے سے عملہ میں تو کوئی زیادتی نہیںکرنی پڑے گی اور عملہ کا خرچ تو بہرحال جو تھوڑی تعداد پر پڑتا ہے وہی زیادہ پر پڑے گا لیکن اگر ایجنسی کو رعایت دے دی جائے تو اخبار کی اشاعت زیادہ ہو جائے گی۔ زیادہ لوگ اسے پڑھیں گے اور اشتہار بھی زیادہ آئیں گے پھر اور بھی کئی منافع کی صورتیں ہو سکتی ہیں مثلاً تین ہزار شائع ہونے والے اخبار کے لئے جب کاغذ خریدا جائے گا تو وہ پندرہ سَو کے لئے خریدنے سے سستا ملے گا کیونکہ دکاندار بڑے گاہک کو ہمیشہ سستا سودا دیتا ہے۔ چاول اگر ایک روپے کے دو یا پونے دو سیر ملتے ہیں تو منڈی سے پندرہ سولہ روپے من مل جائیں گے اور پچاس ساٹھ من خریدنے ہوں تو اس سے بھی سستے مل جائیں گے۔ پھر اگر جہاز خرید لیا جائے تو بہت ہی سستے پڑیں گے۔
    تو صرف یہی نہیں کہ اشاعت زیادہ ہونے کی وجہ سے اشتہار ہی زیادہ آئیں گے بلکہ خرچ بھی کئی پہلوؤں سے کم ہو جائے گا اور کئی صورتیں بچت کی پیدا ہو جائیں گی۔ پس اخبار والوں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی سہولتیں بہم پہنچانے کی کوشش کریں۔
    ایک صیغہ بھی قائم کیا گیا ہے تا کہ دوستوں میں تحریک کر کے کتب اور اخبارات کی توسیع و اشاعت میں مدد دے اور میاں مصباح الدین صاحب کو جو ولائت میں بھی رہے ہیں اس کام پر مقرر کیا گیا ہے۔ میں امید کرتا ہوں وہ اپنے کام کو صحیح طریق پر چلائیں گے اور ایسا طُولِ اَمل اور اتنی بڑی سکیمیں شروع کریں گے کہ اصل کام پر پردہ ہی پڑا رہے اور میں دوستوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ان کی مدد کریں۔
    اللہ تعالیٰ اس تعلیم کو پھیلانے میں جس کے پھیلانے کا فرض اس نے ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا ہے اور اپنی مخفی حکمتوںکے ماتحت ڈالا ہے مدد دے۔ ہم جانتے ہیںکہ جب اس نے یہ فرض ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا ہے تو اسے پورا کرنے میں وہ مخفی ذرائع سے ہماری مدد بھی کر رہا ہے اور اگر وہ مخفی ذرائع آج ہمیں نظر نہیں آتے تو کل ضرورنظر آئیں گے۔
    (الفضل ۲۹۔مارچ ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ التکویر: ۱۱

    ۱۰
    جو چیز دین کے راستہ میں روک ہو اُسے دور کر دو
    (فرمودہ ۲۹۔مارچ ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    انسان اپنی کوششوں اور سَعیوں میں مختلف حیثیتیں رکھتا ہے۔ کوئی آدمی تو دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کوشش اور سعی ایک محدود دائرہ میں ہوتی ہے اور کوئی انسان ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کوشش اور سعی اپنے مقصود کے مطابق ہوتی ہے۔ بعض لوگ خواہ کتنا ہی ضروری کام کیوں نہ ہو چلتے وقت اس امر کا لحاظ ضرور رکھیں گے کہ پتلون کی سلوٹ خراب نہ ہو یا ان کے کوٹ میں کوئی بدصورت شِکن نہ پڑ جائے۔ وہ تیز بھی چلیں گے لیکن اپنی وضع اور دستور کا پاس ہر وقت ان کی کوششوں کو محدود کرتا رہے گا۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ملیں گے جو خواہ وضع قطع کے نہایت پابند اور فیشن کے دلدادہ ہوں۔ لیکن جس وقت ان کے سامنے کوئی مقصد ہو گا اس کے حصول کے لئے وہ فیشن اور پابندیٔ وضع کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ اگر مقصد کے حاصل کرنے کے لئے دوڑنا پڑے تو وہ دوڑنے لگ جائیں گے‘ اگر زمین پر بیٹھنے کا موقع آئے تو بیٹھ جائیں گے‘ اگر گردوغبار میں چلنے کی ضرورت ہو تو بِلا تکلّف چل پڑیں گے۔ اصل چیز جو اِن کے سامنے ہوتی ہے وہ ان کا مقصود اور مدعا ہوتا ہے اور اس کے لئے وہ درمیانی چیزوں کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار اور آمادہ رہتے ہیں۔ تاریخ انگلستان کا ایک واقعہ ہے جس سے اس مضمون کی حقیقت پر بہت کچھ روشنی پڑ سکتی ہے۔ ملکہ الزبتھ انگلستان کی ایک نہایت مشہور ملکہ گزری ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ انگلستان کی موجودہ عظمت اور طاقت کی بنیاد اس کے زمانہ میں ہی پڑی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ انگلستان کی طاقت کی ابتداء بھی ایک عورت سے ہوئی اور انتہاء بھی عورت پر ہوئی۔ یہ طاقت اور عظمت ملکہ الزبتھ کے زمانہ سے شروع ہوئی اور ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے خبر دیدی۔
    سلطنت برطانیہ تاہشت سال
    بعد ازاں ایامِ ضعف و اختلال ۱؎
    اور یہ آٹھ سال جا کر ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر پورے ہو گئے۔ ملکہ الزبتھ ایک دفعہ کسی کام کے لئے اپنے محل سے باہر نکلی اس کا قاعدہ تھا کہ اپنے ساتھ ہمیشہ بہت سے خوش وضع نوجوان رکھا کرتی تھی وہ اپنے دربار میں زرق برق اور بھڑکیلے لباس والے خوش وضع نوجوانوں کو دیکھنا پسند کرتی تھی اور جس کا لباس اعلیٰ اور قیمتی نہ ہو اُسے اپنے دربار میں نہیں آنے دیتی تھی اس لئے ہمیشہ اس کے اردگرد خوش وضع نوجوانوں کا ایک جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ راستہ میں جاتے ہوئے ایک جگہ کچھ کیچڑ آ گیا اگرچہ وہ بہت تھوڑی سی جگہ تھی جہاں کیچڑ تھا لیکن امیر البحر ریلے ۲؎ جو ایک مشہور امیرالبحر گذرا ہے اور جو اُن خوش پوش نوجوانوں میں سے ایک تھا اس نے اپنا درباری کوٹ جو نہایت بیش قیمت تھا فوراً اُتارا اور اس کیچڑ کی جگہ پر ڈال دیا وہ کوٹ چونکہ بیش قیمت تھا اور چونکہ ملکہ کو یہ بات بالکل اچنبھا معلوم ہوئی اس لئے اس نے حیران ہو کر پوچھا۔ ریلے یہ کیا ؟ ریلے نے جواب دیا ریلے کے کوٹ کا خراب ہونا اس سے بہتر ہے کہ ملکہ کا پیر خراب ہو۔ ملکہ کو یہ بات بہت پسند آئی اور اُس نے ریلے کو بہت عروج پر پہنچا دیا اگرچہ انجام کار اسی کے ہاتھ سے وہ تباہ بھی ہو گیا۔ یہ مثال ہے جس سے سبق حاصل ہوتا ہے۔ ریلے تھا تو وضع کا پابند لیکن جب ایک بات اس کے سامنے پیش آئی تو اس نے اپنے فیشن اور پابندی ٔوضع کو اس پر قربان کر دیا۔ پس اگر ایک شخص ایک ملکہ کی خوشنودی کے لئے وضع قطع کو چھوڑ سکتا ہے فیشن ‘کی دلدادگی کو قربان کر سکتا ہے تو سوچنا چاہئے کہ دین کی ترقی کے لئے‘ اسلام کی اشاعت کے لئے‘ مذہب کے ثبات کے لئے اور اپنے پیدا کرنے والے کی رضا کے لئے کیا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ایک مسلمان کو یہ مقصد اتنا بھی پیارا نہیں ہونا چاہئے جتنا ریلے کو الزبتھ کی خوشنودی تھی۔
    یاد رکھو مقاصد کا اعلیٰ اور عمدہ ہونا کافی نہیں ہوتا جب تک قربانی اور فدائیت بھی اس کے مطابق نہ کی جائے۔ دنیا کی کوئی چیز جسے خدا نے حرام نہیں کیا ناجائز نہیں۔ اعلیٰ لباس پہننا‘ اعلیٰ قسم کے کھانے کھانا‘ سجے ہوئے اور عمدہ مکانوں میں رہنا‘ ان میں سے کوئی چیز بھی ناجائز نہیں لیکن ان چیزوں کا اسلام کی ترقی کے راستہ میں روک ہو جانا ناجائز ہے۔ شریعت یہ نہیں کہتی کہ بدصورت عورت تلاش کر کے اس سے شادی کرو لیکن یہ ضرور کہتی ہے کہ عورت تمہاری عبادت کے راستہ میں روک نہ ہو جائے۔ اسی لئے جہاں شریعت نے عورتوں کا ذکر کیا ہے وہیں نماز کا ذکر کر دیا ہے اور فرمایا ہے ایسا نہ ہو تم نماز سے غافل ہو جاؤ۔ اسی طرح لباس ہے یہ ہرگز منع نہیں کہ عمدہ لباس پہنو لیکن اس سے ضرور روکا ہے کہ اوقات کو اس طرح خرچ کیا جائے کہ دینی کام سے انسان غافل ہو جائے۔ اسی طرح اعلیٰ کھانا کھانے سے نہیں روکا لیکن انہیں دین کے رستہ میں حائل ہونے دینا ناجائز بتایا ہے۔
    پس ہمیں اپنے تمام کاموں میں اس بات کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ جو چیز دین کے رستہ میں روک ہو اُسے دور کر دیا جائے۔ مسلمانوں میں یہ احساس نہیں۔ ابھی اپنی جماعت کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ نئی ہے اور اسے ایسے مواقع نہیں ملے کہ اس قسم کی قربانی کا ثبوت پیش کر سکے لیکن عام مسلمانوں میں یہ مرض بہت ہے۔ بڑے بڑے آدمی نمازوں میں بہت سُست ہوتے ہیں۔ نواب اور رؤسا کے لئے باجماعت نماز تو شاید ایسی ہو جیسے ایک عام مسلمان کے لئے سؤر کھانا۔ بلکہ یہاں تک کہ شعائرِ اسلام کی بھی انہیں پرواہ نہیں۔ وہ اسلام کے لئے معمولی قربانی بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارے ایک احمدی دوست کو بطور ڈیپوٹیشن کے ایک مسلمان نواب کے دربار میں جانا پڑا۔ انہوں نے وہاں جا کر السلام علیکمکہا۔ نواب صاحب بہت بگڑے اور کہا یہ اتنا بدتہذیب انسان ہے کہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ شرفاء کی مجلس میں سلام کس طرح کہنا چاہئے جب وہ بہت ناراض ہوئے تو انہوں نے آخر جواب دیا کہ میں نے تو صرف وہی بات کہی ہے جو آپ کے دربار سے ایک بہت بڑے دربار یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے دربار میں کہی جاتی تھی۔ تو مسلمان رؤسا السلام علیکم کے بھی روادار نہیں اور اسے خلاف تہذیب سمجھتے ہیں۔ جب تک جُھک کر آداب عرض نہ کہا جائے یا اور دوسرے سلام جن کا اسلام سے تعلق نہیں نہ کئے جائیں ان کے نزدیک تہذیب اور شائستگی قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ مؤمن کی تہذیب اور شائستگی اس کا مذہب ہے جو اس کے خلاف ہے اس کی اسے پرواہ نہیں۔ کون سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے بڑھ کر بھی تہذیب و شائستگی کے قواعد کوئی بیان کر سکتا ہے۔ تہذیب وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی نظروں میں تہذیب ہے جو اس کی نظر میں نہیں وہ کوئی تہذیب نہیں۔ باقی سب رسم و رواج ہیں۔ کوئی قوم کسی رواج پر قائم ہے اور کوئی کسی پر۔ ہم دیکھتے ہیں مختلف قوموں میں آداب مختلف ہوتے ہیں بعض سجدہ کرتے ہیں بعض جُھک کر گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہیں چنانچہ سلام کی بجائے دوسرے کے گھٹنوں پر ہاتھ لگانا اب بھی مسلمان زمینداروں میں پایا جاتا ہے۔ مصر والے جھُک کر اپنے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے تھے یعنی جو شریعت نے رکوع کی صورت میں خدا تعالیٰ کے لئے مقرر کیا ہے۔
    پس مسلمانوں کو ہمیشہ اصل مقصد پیش نظر رکھنا چاہئے یعنی یہ کہ دین کی اشاعت اور اسلام کا قیام ہو۔ باقی اسلام نہ اچھے کپڑے پہننے سے روکتا ہے نہ اچھے کھانوں سے منع کرتا ہے‘ نہ عمدہ مکانوں میں رہائش سے روکتا ہے صرف یہ کہتا ہے کہ یہ چیزیں اشاعتِ دین کے رستہ میں روک نہ ہوں اور اس صورت میں ادنیٰ سے ادنیٰ چیز کو بھی ناپسند کرتا ہے۔ ایک صحابی کے متعلق لکھا ہے کہ جنگ ِاُحد میں جب یہ مشہور ہوا کہ رسول کریم ﷺ شہید ہو گئے تو وہ کئی دن سے فاقہ سے تھے اتفاقاً کچھ کھجوریں انہیں مل گئیں جو وہ کھا رہے تھے کہ اتنے میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ رسول کریم ﷺ شہید ہو گئے انہوں نے جونہی یہ خبر سنی کہا یہ بھی کوئی اچھی بات ہے کہ رسول کریم ﷺ شہید ہو گئے اور میں کھجوریں کھاؤں۔ چنانچہ انہوں نے فوراً کھجوریں پھینک دیں اور جنگ میں جا کر شہید ہو گئے ۳؎ اُس وقت وہ صحابی کھجوریں کھانے کے لئے کھا رہے تھے میوہ کے طور پر نہیں۔ اور روٹی کے طور پر کھجوریں کھانا بہت مشکل ہے کسی کو دس دن روٹی کی جگہ کھجوریں کھانے کے لئے دے کر دیکھو اس کی کیا حالت ہوتی ہے لیکن جب ایسی حالت میں کھجوریں کھانا بھی انہوں نے دین کے کام میں روک ہوتے دیکھا تو اسے بھی گناہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ تو وہ کام جو دین کے رستہ میں روک ہو وہ خواہ کتنا اعلیٰ اور عمدہ کیوں نہ ہو بُرا ہے اور جو دین کے رستہ میں روک نہیں اس میں خواہ کتنا بھی آرام و آسائش کیوں نہ ہو وہ بُرا نہیں۔ پس جو اصل چیز ہے وہ یہی ہے کہ کوئی بھی چیز دین کے رستہ میں روک نہ بنے۔
    ابھی مؤذّن نے اذان دی اور اسی سے میرے دل میں یہ تحریک ہوئی ہے۔ اس نے کیسے عمدہ طور پر رسول کریم ﷺ کا پیغام پہنچایا کہ دوڑ کر نماز کی طرف آؤ۔ اب دوڑنا عام طور پر وقار کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ جو باوضع لوگ ہیں وہ نہایت آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہیں اب آہستہ چلنا شریعت ناپسند تو نہیں کرتی لیکن جب دین اور عبادت کا معاملہ ہو اس وقت کوتاہی سے بھی منع کرتی ہے۔ دین کے معاملہ میں جلدی کرنے کا حکم دیااور پھر نتیجہ بھی بتا دیا کہ اگر نماز کی طرف جلدی آؤ گے تو فلاح بھی جلدی پاؤ گے اور کامیابی بھی جلدی حاصل کرو گے۔
    رسول کریم ﷺ ایک دفعہ خطبہ بیان فرما رہے تھے کہ تین شخص آئے ایک نے دیکھا کہ جگہ تو نہیں لیکن رسول کریم ﷺ کے قُرب کی محبت سے مجبور ہو کر وہ کودتا پھاندتا آگے آ بیٹھا۔ دوسرے شخص نے حیا کی اور جہاں اسے جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا۔ تیسرے نے دل میں کہا یہاں تو کوئی آواز پہنچتی ہے اور کوئی نہیں پہنچتی یہاں بیٹھے رہنے سے کیا فائدہ؟ چنانچہ وہ واپس چلا گیا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے تین آدمیوں کی حالت کی خبر دی ہے ایک آیا اور جگہ تلاش کر کے آگے آ پہنچا۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا اس کے اخلاص کی برکت میں مَیں اسے اپنے قُرب میں جگہ دوں گا۔ ایک اور آیا اس نے کہا آگے تو جگہ نہیں لیکن پیچھے ہٹنا بھی ٹھیک نہیں اور وہ وہیں بیٹھ گیا۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا میں نے بھی اس کے گناہوں کی حیا کی۔ تیسرا آیا اور لوٹ گیا۔ خدا نے فرمایا جس طرح وہ اس مجلس سے لوٹ گیا میں نے اس سے منہ پھیر لیا ۴؎ بظاہر یہ معمولی بات ہے لیکن چونکہ یہ افعال قلب سے پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات دل کی حالت پر ہی ہوا کرتے ہیں اس لئے جزاء اور نتیجہ کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں کیونکہ اصل دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ دین کے معاملہ میں کس نے سستی کی اور کون آگے بڑھا۔
    پس مؤمن کے لئے ضروری ہے کہ دیکھ لے اس کے پیش نظر جو مقصد ہے اس کے لئے اس نے کس حد تک قربانی کی ہے اور اگر وہ جس حد تک کہ ضرورت ہے قربانی کر دے تو پھر وہ خدا تعالیٰ کی نصرت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ پھر یہ سوال نہیں رہتا کہ کتنی قربانی کی ہے پھر خواہ وہ قربانی پیسہ کا لاکھواں حصہ ہی کیوں نہ ہو جب وہ اس کی اہمیت یا ضرورت کے مطابق پہنچ جائے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ قربانی ہمیشہ یا تو طاقت کے مطابق ہوتی ہے یا ضرورت کے مطابق یہ ضروری نہیںکہ ہر کام میں طاقت کے مطابق ہی قربانی کی جائے بعض دفعہ اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی کہ شریعت قرار دیتی ہے۔ مثلاً شریعت نے حکم دیا ہے کہ اسلامی حکومت ہو تو سب کو کھانا دینا حکومت کا فرض ہے یہ نہیں کہ سب مالداروں سے روپیہ لے کر سب پر تقسیم کر دیا جائے۔ اس حد تک مہیا کرنے کے لئے جتنا ضرورت ہو لے لیا جائے گا اس سے زیادہ نہیں تو یہ قربانی ضرورت کے مطابق ہو گی۔ پس قربانیاں یا تو ضرورت کے مطابق ہوتی ہیں یا طاقت کے مطابق۔ بعض اوقات یہ سوال ہوتا ہے کہ جس قدر تم میں ہمت ہے قربانی کر دو۔ یا پھر ضرورت کے مطابق مثلاً ایک شخص کو جو مسافر ہے دس روپیہ کی ضرورت ہے اگر کچھ آدمی آنہ ڈیڑھ آنہ دے دیں تو رقم پوری ہو جائے گی۔یا پھر وہ جسے شریعت نے ضروری کیا ہے جیسے حکومت کے لئے فرض ہے کہ تمام رعایا کے کھانے پینے کا سامان کرے پس جو انسان یا تواس حد تک قربانی کر دے کہ جس حد تک کرنا ضروری ہو اور یا پھر اگر ایسا موقع اور ایسا معاملہ ہو کہ شریعت کہتی ہے جتنی بھی قربانی تم کر سکو کر دو تو اپنی طاقت کے مطابق کر دے تو وہ اپنے مقصد کو پا لیتا ہے۔ خواہ ایسی قربانی کرنے میں آسائش و آرام بھی حاصل ہو۔ پس قربانیوں میں ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ بیشک اپنے آرام کا سامان بھی ہو لیکن دین کے معاملہ میں کوشش کو اس حد تک پہنچا دیا جائے جس حد تک ضرورت ہے فلاح اور کامیابی دین کے لئے جلدی کرنے کے نتیجہ میں ہی مل سکتی ہے۔
    چونکہ اس موقع پر بہت سے دوست آئے ہیں اس لئے اس خطبہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مَیں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ مؤمن کا اصل کام باتیں بنانا نہیں ہوتا بلکہ اصل کام‘ کام کرنا ہوتا ہے۔ جو دوست نمائندہ ہو کر یا شمولیت کے لئے آئے ہیں انہیں نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس امر پر غور کرنا چاہئے کہ کن ذرائع سے دین کو تقویت حاصل ہو سکتی ہے۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہم تندہی کے ساتھ اس کام کو شروع کر دیں توچونکہ یہ کام اللہ کا ہی ہے اس لئے یقینا کامیابی ہو گی۔ یہ تو اس کا احسان ہے کہ ہم سے وہ یہ کام لیتا ہے ورنہ کون مان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا یا کسی اور کا محتاج ہے یہ تمام چاندی‘ سونا‘ زمینیں اور طاقتیں کس نے پیدا کی ہیں؟ اگر وہ چاہتا تو کیا وہ خود ہی دین کا کام کرنے والوں میں انہیں نہیں بانٹ سکتا تھا اس کے خزانہ میںکوئی کمی نہیں۔ اس نے انسان پیدا کئے مگر بچے پیدا کر کے ماں باپ کے حوالے کر دیئے کہ ان پر خرچ کرو اور ایسی تربیت کرو کہ خدا تعالیٰ کے کام آ سکیں۔ اسی طرح جو بھی چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں وہ انسان کے ہاتھ میں دے دی ہیں تا اس کے ایمان کی آزمائش کرے۔ پس اس موقع پر کہ یہ دراصل ہماری آزمائش کا موقع ہے۔ پارلیمنٹوں میں لوگ جا کرخوش ہوتے ہیں کہ ہماری عزت افزائی ہوئی لیکن ہمارے لئے خوشی نہیں بلکہ ڈرنے کا مقام ہے۔ دوسرے لوگ پارلیمنٹ کی ممبری پر پُھولے نہیں سماتے کہ ہماری عرت افزائی ہو گی لیکن ہم چونکہ خدا تعالیٰ کے حضورجوابدہ ہونگے اس لئے ہمارے لئے سخت خطرہ کا مقام ہے۔ ہماری مثال تو ایسی ہے جیسے کہتے ہیں کسی بزرگ کو کسی بادشاہ نے قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس بنا دیا۔ دوست احباب جمع ہو کر ان کے مکان پر مبارکباد کے لئے گئے لیکن انہوں نے جا کر دیکھا کہ وہ بے تابی کے ساتھ رو رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ہم تو سمجھتے تھے کہ آپ کے گھر بہت خوشیاں ہو رہی ہوں گی لیکن آپ رو رہے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ خوشی کا موقع نہیں بلکہ خطرناک ابتلاء ہے۔ میں بیٹھا ہونگا دو شخص فیصلہ کے لئے میرے پاس آئیں گے۔ ایک کہے گا یہ میرا حق ہے اور دوسرا کہے گا میرا ہے اور ان دونوں کو پتہ ہو گا کہ کس کا ہے لیکن میں جس کے سپرد اس کا فیصلہ ہو گا نہیں جانتا ہوں گا۔ وہ دونوں گویا سوجا کھے ہونگے اور میں جس نے فیصلہ کرنا ہے اندھا ہوں گا۔ میں نہ معلوم کتنے حق داروں کے حق چھین کر دوسروں کو دے دوں گا‘ کتنے مظلوموں کو ظالم قرار دیکر سزا دیدوں گا اور کتنے ظالموں کو چھوڑ دوں گا۔ پس بتاؤ یہ میرے لئے رونے کا مقام ہے یا خوشیاں منانے کا۔
    پس ہمارا یہ اجتماع بھی بہت نازک اجتماع ہے اور ہم پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اس لئے دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنے کی توفیق دے جو اس کی رضا کے مطابق ہے۔
    اس خطبہ کا آخری حصہ دراصل مجلس مشاورت میں بیان کرنا چاہئے تھا لیکن چونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جمعہ میں ایک ایسی ساعت ہے جب دعا قبول ہو جاتی ہے ۵؎ اس لئے میں نے جمعہ میں ہی اسے بیان کرنا مناسب سمجھا تا شاید ہماری دعائیں اس گھڑی کو پا لیں اور قبول ہو جائیں۔ (الفضل ۵۔اپریل ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ تذکرہ صفحہ ۷۶۶۔ ایڈیشن چہارم
    ‏SIR WALTER RALEIGH : انگریز مدّبر اور ادیب۔ نام کا صحیح تلفظ رالی ہے ملکہ الزبتھ اوّل کا مقرب تھا۔ امریکہ میں نو آبادیوں کیلئے مُہمات کا آغاز کیا۔ انگلستان کو آلو اور تمباکو سے متعارف کروایا۔ ۱۵۹۵ء میں دریائے اوری نوکو (وینزویلا جنوبی امریکہ) کے منبع کی طرف مہم لے کر گیا۔ جمیز اوّل کی تخت نشینی اس کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ نہایت ناکافی شہادت کی بناء پر غداری کے الزام میں سزا دیکر لندن کے قلعہ ٹاور میں قید کر دیا گیا۔ ۱۶۱۶ء میں رہا کیا گیا اور دریائے اوری نوکو کی طرف دوسرا سفر اختیار کیا۔ واپسی پر غداری کے پہلے الزام میں سزائے موت دے دی گئی۔ اس کی تصانیف میں نظمیں نیز سیاسی اور فلسفیانہ تحریریں شامل ہیں۔
    (اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد اوّل صفحہ ۷۰۰ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ئ)
    ۳؎ بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ اُحد
    ۴؎ بخاری کتاب العلم باب من قعد حیث ینتھی المجلس ومن رای
    فرجۃفی الحلقۃ فلیس فیھا
    ۵؎ بخاری کتاب الجمعۃ باب الساعۃ فی یوم الجمعۃ









    ۱۱
    مجلس مشاورت کے بعد کیا کرنا چاہئے
    (فرمودہ ۵۔اپریل ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    چند دن ہوئے ہماری جماعت کے مجلس شوریٰ کے اجلاس ہوئے اور تمام جماعتوں کے نمائندوں نے جماعت کی اہم ضروریات پر غور کیا اور ان کے متعلق مشورہ دیا تھا چونکہ اُس وقت زیرِ مشورہ امور کی اہمیت اور کثرت کی وجہ سے کام وقت مقررہ کے اندر نہ ختم ہو سکا تھا۔ اس لئے میں نے دعا پر ہی اس مجلس کو ختم کر دیا تھا اور تقریر نہ کر سکا تھا۔ مگر آج میں چاہتا ہوں کہ خطبہ جمعہ کے ذریعہ قادیان کی جماعت کو بھی اور باہر کی جماعتوں کو بھی اس فرض کی طرف توجہ دلاؤں جو مجلس شوریٰ کے مشوروں کے نتیجہ میں ان پر عائد ہوتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ کام کرنے والی مگر سب سے زیادہ کم ذمہ داری کا احساس رکھنے والی انسان کی زبان ہوتی ہے۔ زبان درحقیقت تعلقاتِ باہمی میں سب سے زیادہ حصہ لیتی ہے لیکن اسے ذمہ داری کا احساس بہت کم ہوتا ہے اور دل اور زبان کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ارادہ کی قوت کو رکھ کر اپنے بندوں کا بہت بڑا امتحان لیا ہے اگر انسان کے افکار اس کی زبان پر تسلّط رکھتے تو شاید دنیا کے بہت سے فسادات دور ہو جاتے لیکن اس کے ساتھ ہی انسان اُن اعلیٰ کمالات تک بھی نہ پہنچ سکتا جن تک خدا تعالیٰ اسے پہنچانا چاہتا ہے مگر خدا تعالیٰ نے انسان کے دل اور زبان کے درمیان قوتِ ارادہ کو حائل کر دیا۔ انسان کا فکر کچھ اور کہتا ہے لیکن انسان زبان کے ذریعہ ظاہر کچھ اور کرتا ہے اس کے دل میں اور خیالات ہوتے ہیں اور زبان کچھ اور کہہ رہی ہوتی ہے۔ اس وجہ سے زبان کے فیصلوں کا چنداں اعتبار نہیں ہوتا جب تک کہ انسان کے دل میں ان کے متعلق عزم نہ ہو۔ جب تک انسان قلب میں پختہ ارادہ نہ کر چکا ہو اُس وقت تک اس کے زبانی فیصلے کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ ہم مجلسِ مشاورت میں جمع ہوئے‘ بڑے بڑے اہم معاملات پر غور کیا گیا‘ ان کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا گیا آخر ہم کسی نہ کسی نتیجہ پر پہنچے لیکن اس طرح نتائج پر دنیا ہمیشہ پہنچا ہی کرتی ہے دنیا کی کونسی قوم ہے جو اپنے مستقبل کے متعلق کسی نہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتی۔ مگر کیا ہر قوم دنیا میں کامیاب بھی ہو جایا کرتی ہے؟ اپنے مستقبل کے متعلق ہر قوم فیصلہ کرتی ہے مگر کامیاب وہی ہوتی ہے جو صحیح فیصلہ کرتی ہے اور پھر اس پر عمل بھی کرتی ہے۔ بڑے بڑے فیصلوں کا طومار چھوٹی سے چھوٹی جدوجہد کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور زبانی تقریریں عمل کی خفیف سی حرکت کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتیں۔ پس میں اپنے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جن امور پر انہوں نے مجلس مشاورت میں غور کیا اور آئندہ کے لئے اپنا جو پروگرام مقرر کیا جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل کرنے کے لئے جدوجہد کریں۔
    ہماری حالت دُنیا کی قومیں کی حالت سے نرالی ہے اور جس قدر انبیاؑء آئے ان کی قوموں کی حالت دنیا سے نرالی ہی تھی۔ پھر جو جماعتیں انبیاء سے تعلق رکھتی تھیں ان سے معاملہ بھی نرالہ ہی کیا گیا۔ دنیا کے تمام ملکوں کو دیکھ لو ان کا ایک حد تک آپس میں اتحاد پایا جاتا ہے۔ انہیں ایک دوسرے سے بُغض اور کینہ ہوتا ہے لیکن باوجود اس کے حکومتوں کے جتھے ہوتے ہیں۔ جاپان کی اگر چین اور امریکہ سے سخت عداوت ہے تو انگریزوں سے صلح ہے اسی طرح ایک دوسرے کے مقابلہ میں حکومتوں کا جتھہ ہوتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے دشمن کا عِناد روکنے اور اس کے ضرر سے بچنے کے لئے۔ تو مختلف سلطنتوں کے جتھے قائم ہیں۔ بعض کے قلبی تحریکات کا نتیجہ ہیں اور بعض نے تحریری معاہدے کئے ہوئے ہیں۔ ہندوستان اگر آزادی کی جدوجہد کر رہا ہے تو فرانس کو‘ روس کو‘ افغانستان کو‘ ایران کو اس سے ہمدردی ہے اگر مصر آزادی کے لئے جدوجہد کر رہا ہے تو ایران کو‘ ہندوستان کو اور افغانستان کو اس سے ہمدردی ہے۔ غرض تمام ممالک کا کوئی نہ کوئی ہمدرد موجود ہے۔ مگر انبیاؑء کی جماعتیں جس کام کے لئے کھڑی ہوتی ہیں اس میں وہ اکیلی ہوتی ہیں اور باقی ساری دنیا ان کی دشمن ہوتی ہے۔ باقی سب ان کے بیری ہوتے ہیں اور سب ہی ان کی جان کے خواہاں ہوتے ہیں۔جس طرح خدا تعالیٰ اکیلا ہے اور وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ ہے اسی طرح اس کی کھڑی کی ہوئی جماعتیں بھی اکیلی ہوتی ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ انہیں لوگوں کے سہارے ترقی دے۔ وہ دنیا کی ہر طاقت کو ان کے مقابلہ میں کھڑا کرتا ہے ہر طرف سے ان کے لئے فتنے پیدا کرتا ہے اور ساری دنیا کو ان کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی طرف اپنے ایک شعر میں اشارہ فرمایا ہے جس سے کئی لوگوں نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا ہے آپ نے فرمایا۔
    ؎ کربلا ئیست سیرہرآنم صد حسین است درگریبانم
    مطلب یہ کہ حضرت امام حسینؑ کے مقابلہ میں تو ایک ہی یزید کھڑا ہوا تھا مگر میرے مقابلہ میں ساری دنیا کھڑی ہے۔ حضرت امام حسینؑ یزید کے زہر کے ازالہ کے لئے کھڑے ہوئے اور صداقت کی تائید کرتے ہوئے مارے گئے اس طرح کربلا کا دردناک واقعہ ختم ہو گیا۔ آپ فرماتے ہیں میں تو ہر منٹ کربلا میں سے گذرتا ہوں جو گھڑی مجھ پر آتی ہے اپنے ساتھ نئے فتنے لے کر آتی ہے اور جو ساعت آتی ہے نئی مخالفت لے کر آتی ہے۔ ’’صد حسین است درگریبانم‘‘ کیا میری گریبان میں سَو حسین بیٹھا ہے کہ ایک کو مار کر جب مخالفین کی تسلی نہیں ہوتی تو ایک نیا حملہ کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خصوصیت نہ تھی۔ ہر مأمور اور نبی جو دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ اس کا یہی حال ہوتا ہے کہ۔ ؎
    کربلا ئیُست سیرہرآنم صد حسین است درگریبانم
    اور پھر یہی انبیاء کی جماعتوں کا شروع شروع میں حال ہوتا ہے۔
    پس ہماری جماعت کے دوستوں کو اس امر پر یقین رکھنا چاہئے کہ ہم نہ صرف کمزور ہیں‘ ہماری جماعت نہ صرف تعداد میں بہت قلیل ہے‘ مال کے لحاظ سے بہت غریب ہے‘ بلکہ ساری دنیا ہماری مخالف ہے۔ بہت سے لوگ غلطی سے خیال کر لیتے ہیں کہ جب ہم لوگوں کے خیر خواہ ہیں تو لوگ ہمارے بدخواہ کیونکر ہو سکتے ہیں۔ میں ایسے غلطی خوردہ لوگوں سے کہوں گا وہ محمد ﷺ سے زیادہ لوگوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے مگر دنیا ان کی بھی دشمن تھی۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ خدا سے زیادہ لوگوں کے خیر خواہ نبی بھی نہیں ہوتے مگر لوگ خدا کے بھی خلاف ہوتے ہیں۔ غرض تمہاری خیر خواہی کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا بھی تم سے اپنی دشمنی چھوڑ دے۔ تم ایک طرف دنیا کی مخالفت کو مدنظر رکھو اور دوسری طرف اپنے کام کی اہمیت کو دیکھو پھر کامیابی کے لئے حقیقی جدوجہد کرو۔ مگر میں دیکھتا ہوں بہت ہیں جو اِس مجلس مشاورت میں آتے ہیں‘ اہم امور کے متعلق مشور دیتے ہیں‘ ان کی زبانیں قینچی کی طرح چلتی ہیں‘ ان کے الفاظ بارش کے قطروں کی طرح برستے ہیں لیکن ان کی تقریریں ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترتیں۔ وہ خود بھی اُس وقت لطف اُٹھا رہے ہوتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں اس پر یقین رکھتے ہیں مگر گھر جا کر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ سارا سال اِن پر غفلت کی موت طاری رہتی ہے پھر جب مجلس مشاورت کا وقت آتا ہے تو ان کے دل میں ولولہ پیدا ہوتا ہے ان کا خون جوش مارنے لگتا ہے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ مجلس کے نمائندے منتخب کئے جائیں وہ نمائندے منتخب ہو کر مجلس میں آ بیٹھتے ہیں۔ پھر جو باتیں کرتے ہیں ان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری زندگی اور سارا جوش ان کے جسموں میں بھرا ہوا ہے مگر پھر جب مجلس سے جاتے ہیں تو ایسی موت جو حواس کو باطل کر دیتی ہے ان پر طاری ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ نہ اپنی ذات کے لئے کار آمد اور مفید ہو سکتے ہیں نہ اپنی جماعت کے لئے‘ نہ اپنے دین کے لئے اور نہ اپنے ملک کے لئے۔ کارآمد اور مفید انسان وہی ہوتا ہے کہ جو بات کہتا ہے اسے پورا کر کے دکھا دیتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ کام وہی انسان کر سکتا ہے جو اپنے مقصد اور مدعا کو حاصل کرنے کے لئے رات کی تاریکیوںمیں بے چین رہتا ہے اور دن کی مجلسوں میں بیتاب ہوتا ہے۔ جس شخص پر یہ حالت طاری نہیں ہوتی‘ جو اپنے وعدے‘ اپنے اقرار‘ اپنے فیصلہ اور اپنے مشورہ پر اِس رنگ میں توجہ نہیں کرتا وہ ایک ایسا بوجھ ہے جو دوسروں کو بھی نیچے دبائے رکھتا ہے نہ کہ ایسا ہاتھ ہے جو قوم کی مدد کرتا ہے۔
    پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ اپنی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے‘ اپنے نفوس اور اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے‘ اپنی انسانیت اور شرافت کی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے ان امور کو پورا کرنے کی کوشش کریں جن کے متعلق مجلس مشاورت میں ان سے مشورہ لیا گیا اور اس مقصدِوحید کے لئے زیادہ کوشش کریں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے انہیں کھڑا کیا ہے۔ جن باتوں کے متعلق مشورہ لیا گیا ہے وہ ایسے ہی امور ہیں جو اس مقصد کے حصول کے لئے بطور اسباب اور ذرائع کے ہیں اور بغیر اسباب اور ذرائع کے کسی کام میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔ دیکھو بجٹ میں بڑی بڑی رقوم درج کر دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ رقوم اپنی اصل شکل نہ اختیار کر لیں۔ پھر وہ بھی فائدہ نہیں دے سکتیں جب تک انہیں اس محل پر خرچ نہ کیا جائے جس سے کامیابی وابستہ ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ ایسے ہیں کہ ان میں سے اکیلے اکیلے کے پاس ہماری ساری جماعت سے بڑھ کر دولت ہے مگر وہ کچھ نہیں کرتے۔ آج مر جاتے ہیں تو دوسرے دن کوئی ان کا نام لینے والا بھی نہیں ہوتا۔ پس خالی بجٹ کام نہیں آ سکتا نہ روپیہ جمع کر لینا کوئی فائدہ دے سکتا ہے بلکہ صحیح طور پر اس روپیہ کو خرچ کرنا‘ اپنے ارادوں کو اپنی زبان کے اقراروں سے ملا دینا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا تعالیٰ کے آگے گرنا اور اس سے مدد چاہنا کامیاب بنا سکتا ہے۔
    پس چاہئے کہ ہماری جماعت کے لوگ پورے اخلاص اور جوش کے ساتھ اس بجٹ کو پورا کرنے کی کوشش کریں جسے ان کے نمائندوں نے مجلس مشاورت میں تسلیم کیا ہے اور دوسرے امور کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جن کے متعلق مشورہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہماری مدد کرے۔ ہماری غلطیوں کی پردہ پوشی کرے اور ہم پر اپنے فضل نازل کرے۔ آمین
    (الفضل ۱۲۔ اپریل ۱۹۲۹ئ)






    ۱۲
    اسمبلی میں بم اور راجپال کا قتل
    (فرمودہ ۱۲۔اپریل ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے راستہ میں جو روکیں ہوتی ہیں ان کے متعلق ایک گُر بتایا ہے اور وہ گُر یہ ہے کہ ناکام رہنے والے لوگوں کی ناکامی کا سبب یحبون العاجلۃ ویذرون ورائھم یوما ثقیلا ۱؎ ہوتا ہے۔ وہ نہایت ہی محدود نگاہ سے معاملات کو دیکھتے ہیں۔
    قریب ترین نتائج ان کے نزدیک محبوب ہوتے ہیں اور حقیقی اور اصلی‘ غیر متبدّل اور دائمی اثرات و نتائج ان کے پیش نظر نہیں ہوتے۔ دنیا میں جس قدر لڑائیاں‘ فسادات اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اگر ان کے اسباب پر غور کیا جائے تو ننانوے فیصدی ایسے نکلیں گے جن کا سبب فریقین میں سے کسی نہ کسی کا یا دونوں کا بغیر کافی غورو فکر کے جلدی سے کسی نتیجہ پر پہنچ جانا اور ایک عاجل نتیجہ پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہو گا۔ اگر انسان اپنے جوشوں کو دبائے رکھے اور اگر وہ یہ دیکھے کہ میرے اعمال کا نتیجہ کیا نکلے گا تو بہت سی لڑائیاں دور ہو جائیں‘ بہت سے جھگڑے بند ہو جائیں اور بہت سے فسادات مٹ جائیں۔ میں دیکھا ہوں ہندوستان میں اس وقت متواتر کئی سال سے فساد شروع ہے۔ قوموں میں اختلاف ہے‘ مذاہب میں تفرقہ ہے‘ حکومت اور رعایا میں کشمکش جاری ہے ان سب کی وجہ یحبون العاجلۃ ویذرون ورائھم یوما ثقیلا ہی ہے۔ عاجل نتیجہ کو لوگ پسند کر رہے ہیں اور ایک بھاری آنے والے دن کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
    ابھی پچھلے دنوں دو نہایت ہی خطرناک واقعات ہوئے ہیں۔ ایک لاہور میںکہ ایک ہندو کتب فروش قتل ہو گیا ہے اور دوسرا دہلی میں کہ اسمبلی کے اجلاس میں بم پھینکے گئے ہیں۔ ان سب فسادات کی تہہ میں وہی عاجل چیز نظر آتی ہے۔ ایک حادثہ تو اس کشمکش کی حقیقت کو ظاہرکرتا ہے کہ جو رعایا اور حکومت کے درمیان ہے اور دوسرا اُس ن۔نِفاق و شِقاق کا پتہ دیتا ہے جو مختلف مذاہب میں پایا جاتا ہے لیکن اس سیاسی واقعہ اور اس مذہبی جنون کی تہہ میں چیز وہی ایک ہی کام کر رہی ہے کہ عاجلہ کی محبت انسان کو اس کے ماحول سے بالکل غافل کر دیتی ہے۔ یہ سیاسی فسادات جو اِس وقت ہو رہے ہیں یہ کیوں ہوتے ہیں؟ اس کی وجہ گورنمنٹ اور رعایا دونوں کی طرف سے پیدا ہوتی ہے ۔ رعایا کا ایک حصہ اس کی ساری ذمہ داری حکومت پر عائد کرتا ہے اور حکومت اس کے لئے رعایا کو ذمہ وار ٹھہراتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں لیکن ہر وہ شخص جو انصاف سے کام لے گا اور تعصب سے خالی ہو کر اس پر غور کر ے گا اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہو گا کہ اس میں دونوں قصوروار ہیں غلطیاں دونوں طرف سے ہو رہی ہیں۔ ایک طرف حُکّامِ گورنمنٹ ابھی تک اسی پرانے اثر کے ماتحت ہیں جب کہ ہندوستان میں ہندوستانیوں کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی تھی۔ وہ ابھی اسی خیال میں ہیں کہ ہمیں خدائی قدرت حاصل ہے۔ جس چیز کو ہم درست سمجھیں نہ صرف یہ کہ اُسے درست سمجھا جائے بلکہ واقعہ میں وہ درست ہی ہے اور جسے ہم غلط سمجھیں نہ صرف یہ کہ اُسے غلط سمجھا جائے بلکہ فی الواقعہ وہ غلط ہی ہے۔ حالانکہ وہ بھی اسی طرح جلد بازی سے کام لیتے ہیں جس طرح رعایا کے بعض افراد لیتے ہیںاور وہ بھی ملک کے فوائد سے اسی طرح آنکھ بند کر لیتے ہیں جس طرح رعایا میں سے بعض لوگ کرتے ہیں۔ بسا اوقات ان کا لہجہ ایسا ہتک آمیز ہوتا ہے کہ ایک آزاد خیال انسان کے دل میں اس کی قومی عزت کا جوش اُبال مارتا ہے اور وہ فوراً مقابلہ کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ انگلستان چاہتا ہے کہ ہندوستان اس کے قبضہ میں رہے اور میرا اپنا خیال یہی ہے کہ اگر انگلستان اور ہندوستان کا اتحاد رہے تو اس میں ہندوستان کا بھی فائدہ ہے لیکن اگر انگریز یہ سچی خواہش رکھتے ہیں کہ یہ اتحاد قائم رہے تو لازماً انہیں اپنی رَوش کو بدلنا پڑے گا۔ ہندوستانیوں میں اِس وقت ایک رَو پیدا ہو رہی ہے اور ہندوستانی برابری کے مدعی ہیں اور وہ قوم کے اعزاز اور وقار کو محسوس کرنے لگ گئے ہیں وہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہم بھیڑبکریاں نہیں کہ ریوڑ کی طرح جدھر چاہے ہانک دیا جائے ہم بچے نہیں کہ ہماری نگرانی کی جائے۔ وہ اپنے ملک میں ملکی علوم‘ ملکی تہذیب ملکی تمدن کو جاری کرنا چاہتے ہیں۔ پس ان حالات میں اگر انگلستان ہندوستان پر حکومت کرنا چاہتا ہے تو اس کے افسروں کو اپنے رویہ میں تبدیلی کرنی پڑے گی۔ کوئی ملک خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو جب اس میں آزادی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے تو وہ یقینا آزادی حاصل کر کے رہتا ہے۔ دنیا کی تاریخ میںکوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا ملک جس کی آبادی خواہ چند ہزار ہی ہو ہمیشہ کیلئے کسی کا غلام رہا ہو پھر یہ ہندوستان تینتیس کروڑ انسان کہاں ہمیشہ کے لئے غلامی میں رہ سکتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ انگلستان اور ہندوستان کے متحد رہنے سے کس کا فائدہ زیادہ ہو گا وہ مدّبرین جو اپنی سیاست دانی پر نازاں ہیں‘ جو اپنی تدبیر کی بلند پروازی کے مدعی ہیں تاریخ عالَم میں سے کوئی ایک مثال ہی ایسی پیش کریں کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا ملک بھی ہمیشہ کے لئے غلام رہا ہو۔ بے شک کمزور قومیں طاقتور کی ماتحتی میں آ جاتی ہیں‘ غلامی اختیار کر لیتی ہیں اور دَب جاتی ہیں لیکن ایک محدود عرصہ کے لئے۔ ہمیشہ کے لئے کوئی قوم غلامی میں نہیں رہ سکتی۔ پس اگر انگلستان اور ہندوستان کا تعاون قائم رہتا ہے تو لازمی طور پر حکومت کے افسروں کو اپنا رویہ بدلنا پڑے گا اور بھائیوں کی طرح حکومت کرنی ہو گی۔ وہ افسر جو اپنا رُعب جماتے ہیں‘ جو PRESTIGE قائم رکھنا چاہتے ہیں وہ وہی ہیں جو یحبون العاجلۃ کے مصداق ہیں۔وہ ایک دن ایسا دن لے آئیں گے کہ نہ ان کا رُعب باقی رہے گا اور نہ حکومت۔ کیونکہ تنگ آ کر قومیںبغاوت کر دیتی ہیں اور اس کی ذمہ داری ایک حد تک ان افسروں پر بھی عائد ہوتی ہے جن کی رَوش سے یہ پیدا ہوتی ہے۔
    دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن میں ملک کی آزادی کا جوش ہے۔ میں اس کی بہت قدر کرتا ہوں اور آزادی و حُریت کا جوش جو میرے اندر ہے میں سمجھتا ہوں اگر احمدیت اسے اپنے رنگ میں نہ ڈھال دیتی تو میں بھی ملک کی آزادی کے لئے کام کرنے والے انہیں لوگوں میں ہوتا لیکن خدا کے دین نے ہمیں بتا دیا کہ عاجلہ کو مدنظر نہیں رکھنا چاہئے۔ میں ان لوگوں کی کوششوں کو پسند کرتا ہوں مگر بعض دفعہ وہ ایسا رنگ اختیار کر لیتی ہیں کہ انگریزوں کو نقصان پہنچانے کے خیال سے وہ اپنی قوم کے اخلاق اور اس روح کو جو حکومت کے لئے ضروری ہوتی ہے تباہ کر دیتی ہیں۔ ایسے لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ گورنمنٹ کی خوشامد کرنے والا بے شک غدار ہو سکتا ہے لیکن اس کی غداری اس کے اپنے نفس کے لئے ہوتی ہے۔ جو شخص کسی عہدہ یا دنیاوی مطلب کے حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ کی خوشامد کرتا ہے وہ بے شک غدار ہے لیکن جو شخص ملک کے اخلاق کو برباد کرتا اور بگاڑتا ہے وہ اس سے بہت بڑھ کر غدار ہے۔ پہلے شخص کی غداری کا اثر اس کی اپنی ذات پر ہوتا ہے لیکن دوسرے کی غداری تمام قوم کے لئے تباہی کا موجب ہوتی ہے۔ میں حیران ہوں کہ بعض دفعہ اچھے خاصے تعلیم یافتہ اور سمجھدار انسان بجائے اس کے کہ جرائم اور خونریزیوں کی پوری قوت اور سختی سے مذمت کریں ایسے فقرے کہہ جاتے ہیں کہ گورنمنٹ نے ہی ایسی سختی کے لئے لوگوں کو مجبور کیا ہے۔ انگریزوں سے عداوت سہی لیکن کون عقل مند ہے جو انگریزوں کی عداوت کی وجہ سے اپنی قوم کے اخلاق کو تباہ کرنا پسند کرے گا۔ اگر ملک کے اندر فتنہ و فساد پیدا کرنا‘ بدامنی پھیلانا‘ خونریزی کرنا جائز ہے اگر ایسے منصوبے کرنا جو دوسروں کی عزت وآبرو کو نقصان پہنچانے کا موجب ہیں جائز ہیں‘ اگر خطرناک سازشیں کرنا جائز ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم ہمیشہ کے لئے اپنی قوم کو حکومت کے ناقابل بنا رہے ہیں۔ چوری‘ ڈاکہ‘ قتل و غارت‘ خونریزی کرنے والے خواہ وہ POLITICAL MOTIVE سے ہی کیوں نہ کی جائے کبھی اس قابل نہیں ہو سکتے کہ حکومت کے مقام پر کھڑے ہو سکیں۔
    پس یہ دونوں عُجلت پسند ہیں حُکّامِ حکومت بعض اوقات ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی رعایا کو دینا پسند نہیں کرتے لیکن وہی چیز ایک سال کے بعد خود کہہ دیتے ہیں کہ لے لو حالانکہ اُس وقت اس کے دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اُس وقت لوگ کہتے ہیں ہم نے ڈرا کر یہ چیز لی ہے۔ اگر پہلے ہی دے دی جاتی تو لوگ سمجھتے محبت سے دی ہے لیکن بعد میں وہ سمجھتے ہیں ڈرا کر لی ہے۔ میں نہیں سمجھتامیری یہ آواز حکومت تک پہنچ سکے گی یا نہیں اور اگر پہنچ سکی تو حکومت پر اس کا کیا اثر ہو گا مگر پھر بھی میں کہو ں گا حُکّام ایسا طریق اختیار نہ کریں جس سے جذبات کو ٹھیس لگے اور جس سے کمزور دماغ کا آدمی آپے سے باہر ہو جائے۔ مضبوط دماغ کا آدمی تو کبھی ایسا نہیں کرتا اور ہماری یہی خواہش ہے کہ ہمارے تمام اہلِ وطن اپنے جوشوں کو دبا کر رکھیں لیکن ہر انسان ایسا کر نہیں سکتا اس لئے حُکّام کو چاہئے کہ وہ ایسی باتوں سے احتراز کریں جو کمزور دماغ کے لوگوں میں ہیجان پیدا کر کے فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے کا موجب ہوں۔
    اسی طرح میں سمجھتا ہوں قومی رہنماؤں کا بھی فرض ہے کہ جھوٹ‘ فریب‘ دغا بازی‘ مکّاری‘ چوری‘ ڈاکہ‘ قتل و غارت اور خونریزی وغیرہ جرائم کی خواہ وہ حصولِ آزادی کے لئے ہی کئے جائیں پورے زور کے ساتھ مذمت کریں۔ یہ کافی نہیں کہ جلسوں میں ریزولیوشنز پاس کر دیں لیکن پرائیویٹ مجالس میں ان کی تعریف کریں۔ میں سمجھتا ہوں ہندوستان کے لیڈروں کا کثیر حصہ ایسا ہی ہے جو ایسے افعال کی پبلک میں تو مذمت لیکن پرائیوٹ مجالس میں تعریف کرتا ہے اس لئے ملک میں ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی ہے جسے نہ کسی کی عزت کا خیال ہے اور نہ ہی کسی کی آبرو کی پرواہ ہے۔ وہ یہی سمجھتی ہے کہ دنیا میں فتنہ پیدا کرنا‘ بدامنی پھیلانا اور فساد و خونریزی کرنا بہت اچھے افعال ہیں۔ایسے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم میں اتنی قابلیت اور اہلیت تو ہے نہیں کہ گورنمنٹ میں عزت یا رُتبہ حاصل کر سکیں اس لئے وہ ایسے افعال کا ارتکاب کر کے پبلک میں عزت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ بھی نفسانیت سے ہی کام لے رہے ہوتے ہیں۔ کوئی عمدہ خیال یا اچھا جذبہ ان کے مدنظر نہیں ہوتا۔
    دوسرا لاہور میں راجپال کے قتل کا واقعہ ہے یہ وہی شخص ہے جس نے ایک نہایت ہی دلآزار اور گندی کتاب شائع کی اور ماتحت عدالتوں سے سزایاب ہونے کے بعد عدالت عالیہ کے ایک جج نے یہ کہہ کر اسے بری کر دیا تھا کہ موجودہ قانون اس کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کرتا۔ اس کے قتل کے شبہ میں ایک مسلمان پکڑا بھی گیا ہے اور اس پر مقدمہ چل رہا ہے۔ گورنمنٹ کا بھی یہی قانون ہے اور عقل بھی یہی کہتی ہے کہ جب تک کسی کا جُرم ثابت نہ ہو اسے قاتل کہنا گناہ ہے۔ بہرحال قتل ہوا ہے اور قتل کرنے والا کوئی ضرور ہے اس سے انکار نہیں ہو سکتا پہلے بھی دو دفعہ اس پر حملہ ہوا تھا اور یہ واقعہ اپنی قسم کا پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے کئی بار مسلمانوں پر ہندوؤں نے حملے کئے اور قتل و خونریزی تک نوبت پہنچائی۔ پچھلے ہی دنوں لاہور میں نہتے مسلمانوں پر جبکہ وہ نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے ہندوؤں نے حملہ کر دیا جس سے غالباً چار پانچ آدمی مارے گئے اور کئی مجروح ہوئے۔ اسی طرح کئی مقامات پر مسلمانوں پر ہندوؤں نے حملے کئے۔ ملتان‘ کٹارپور‘ آرہ‘ بہار‘ بنگال‘ مالا بار‘ دہلی ضلع گڑ گانواں‘ ضلع انبالہ کے واقعات بتا رہے ہیں کہ ہمارے ملک کے لوگ مذہب کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ رسولوں کے دنیا میں آنے اور سچے مذہب کی غرض اگر کوئی ہو سکتی ہے تو یہی کہ انسان کو جُرم کے ارتکاب سے پہلے روکا جائے۔ گورنمنٹ کا قانون مُجرم کو ارتکابِ جُرم کے بعد پکڑ کر سزا دیتا ہے لیکن مذہب کا کام یہ ہے کہ ارتکاب سے پہلے روکے اور جو مذہب ارتکابِ جُرم سے روک نہیں سکتا اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ روحانی اور دُنیاوی قانون میں یہی فرق ہے کہ روحانی شریعت جُرم کے پیدا ہونے سے پہلے روکتی ہے لیکن دنیاوی قانون جُرم کے پیدا ہونے کے بعد مُجرم کو سزا دے کر اس کے متعدّی ہونے کو روکتا ہے۔ دونوں کے علیحدہ علیحدہ کام ہیں۔ اگر جسمانی قانون بعد میں سزا نہیں دیتا تو وہ بھی ناقص ہے اور اگر روحانی شریعت جرائم کو قلوب سے نکالنے کی کوشش نہیں کرتی تو وہ بھی بے فائدہ ہے۔ مذہب کی غرض انسان کے دل میں خشیت اللہ پیدا کرنا ہے جو مذہب اس غرض کو پورا نہیں کرتا وہ مذہب کہلانے کا ہرگز مستحق نہیں ہے۔ جو مذہب کبر‘ غرور‘ نخوت‘ تذلیل‘ تحقیر‘ توہین سے نہیں روکتا وہ دراصل مذہب نہیں بلکہ ایک بیماری ہے جسے جس قدر جلد دنیا سے مٹایا جا سکے بہتر ہو گا۔ مذہب وہی کہلا سکتا ہے جو کبروغرور‘ نخوت‘ تذلیل‘ تحقیر‘ توہین اور فتنہ و فساد کی تمام راہوں کو بند کرتا ہے۔
    میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے جو آج کل رونما ہو رہے ہیں کوئی مذہبی یا سیاسی لیڈر یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا مذہب اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور اس کے گرنے کا کوئی خدشہ نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے جن قوموں میں دوسروں کی عزت و آبرو کی حفاظت کی طرف توجہ نہیں ہوتی ایسی قومیں اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کے فیصلہ پر دستخط کرتی ہیں اور جو شخص اپنی قوم کے ایسے افراد کی پیٹھ ٹھونکتا ہے‘ ان کے لئے بہانے اور عُذر تلاش کرتا ہے وہ اپنی قوم کا بدترین دشمن ہے۔ نارواافعال پر جتنا بھی اظہارِ مذمت کیا جائے اُتنا ہی قومی خدمت ہے۔ جو مائیں محبت سے اپنی اولاد کے جرائم کو چھپاتی ہیں وہ مائیں خیر خواہ نہیں بلکہ اولاد کی دشمن ہوتی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک مشہور قصہ ہے کہ کسی عادی مُجرم کو جب پھانسی پر لٹکایا جانے لگا تو اس نے ماں سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس پر اس خیال سے کہ بجائے کسی عمدہ کھانے سے یا کسی اور بات کے اُس نے آخری وقت میں اپنی ماں سے ملنے کی خواہش کی اُن افسروں نے جووہاں متعیّن تھے خاص اثر محسوس کیا اور اُس کی ماں کو بلایا گیا۔ جب وہ آئی تو اس نے کہا ذرا میرے قریب کر دومیں کان میں ایک بات کہنی چاہتا ہوں۔ جب قریب کیا گیا تو اُس نے اپنی ماں کا کَلاَّ کاٹ لیا۔ لوگوں نے کہا کم بخت! تواِس وقت میں بھی ایسے فعل سے باز نہ آیا جبکہ پھانسی پر لٹکنے لگا۔ اس نے کہا۔ میں پھانسی پر لٹکتا ہی اس کی وجہ سے ہوں بچپن میں جب میں چوری کیا کرتا تو یہ ماں میری پیٹھ ٹھونکا کرتی تھی۔ اگر یہ ایسا نہ کرتی تو عادی چور ہو کر آج میں اس نتیجہ کو نہ پہنچتا۔ اسی طرح مجرموں کی خواہ انہوں نے ہتکِ انبیاء کا جُرم کیا ہو خواہ قتل کا جو لیڈر پیٹھ ٹھونکتے ہیں وہ خود مجرم ہیں۔ قاتل‘ ڈاکو اور وہ خبیث الفطرت اور گندے لوگ جو انبیاء کو گالیاں دیتے ہیں ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کی تعریف کی جائے۔ ان کی قوم اگر اپنے اندر دینداری‘ تقویٰ اور اخلاق رکھنے کی مدعی ہے تو اس کا فرض ہے کہ ایسے افعال کی پورے زور کے ساتھ مذمت کرے۔ اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں خواہ انبیاء کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہارِ براء ت کرے۔ انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی سے نہیں ہو سکتی۔ وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگے پڑیں‘ جس کے بچانے کے لئے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے سخت نادانی ہے۔ کیا محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت اتنی ہی ہے کہ ایک شخص کے خون سے اس کی ہتک دھوئی جا سکے؟ بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک کی سزا قتل ہے۔ میں کہتا ہوں تاریخ سے کوئی ایک مثال ہی ایسی پیش کی جائے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں کسی ایک انسان کو بھی محض آپ کو بُرا کہنے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو اور اُس قتل میں کسی پولیٹیکل جُرم کا دخل نہ ہو۔ کوئی ثابت کرے کہ محض اس جُرم میں کسی کو قتل کیا گیا۔ ہاں اگر کسی کے متعلق یہ شُبہ ہوا کہ وہ غیر قوموں کو مسلمانوں پر چڑھا لائے گا اور سازشیں کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا تو یہ اور بات ہے۔ صرف توہینِ رسول کے جُرم میں کبھی کوئی ایک شخص بھی قتل نہیں کیا گیا۔ اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو عبداللہ بن ابی بن سلول کو کیوں زندہ چھوڑ دیا جاتا حالانکہ اس نے عَلَی الْاِعْلَان کہا تھا کہ لیخرجن الا عزمنھا الاذل ۲؎ کہ میں جو سب سے زیادہ معزز ہوں (نعوذ باللّٰہ) سب سے زیادہ ذلیل یعنی رسول کریم ﷺکو نکال دوں گا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس ایسی باتوں کی اطلاع بھی پہنچ جاتی تھی۔ پھر صحابہ نے یہ بھی کہا کہ اس کے ساتھیوں میں سے بعض کو قتل کر دیا جائے لیکن رسول کریم ﷺنے فرمایا۔ نہیں لوگ کیا کہیں گے کہ محمد نے اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیا ۳؎ اگر قتل جائز ہوتا تو وہ منافق جو آخری وقت تک مسلمانوں میں موجود رہے کس طرح زندہ رہ سکتے تھے۔ قرآن کریم میں صاف طور پر بیان ہے کہ منافق لوگ ہتک و تضحیک کرتے اور ٹھٹول بازی سے کام لیتے تھے۔ پس جب یہ ثابت ہے کہ ہتک کی جاتی تھی اور قرآن کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سی باتوں کا رسول کریم ﷺ کو علم بھی دیا جاتا تھا اور یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کو ایسے لوگوں کے نام بھی معلوم تھے۔ چنانچہ صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کے نام حذیفہ بن الیمان کو بھی بتائے ۴؎ حتیٰ کہ صحابہ ؓ کا طریق تھاکہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد جس شخص کا جنازہ پڑھنے سے حذیفہؓ انکار کرتے وہ بھی انکار کر دیتے‘ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حذیفہؓ کو رسول کریم ﷺ نے منافقین کے نام بتا دیئے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف یہ کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ہی منافق موجود تھے بلکہ یہ بھی کہ آپ کی وفات کے بعد بھی تھے لیکن رسول کریم ﷺ کی ساری زندگی میں ان میں سے ایک شخص بھی قتل نہیں کیا گیا سوائے ان کے جن پر کوئی پولیٹیکل جُرم ثابت ہو چکا ہو‘ خالص تضحیک کرنے والا ایک شخص بھی قتل نہیں ہوا بلکہ صحابہؓ کے زمانہ میں بھی کوئی نہیں ہوا۔ اگر ایسے لوگوں کو قتل کر دینے کا حکم ہوتا تو حذیفہؓ کو چاہئے تھا تمام مسلمانوں کو بتا دیتے کہ فلاں فلاں لوگ منافق ہیں‘ انہیں فوراً قتل کر دو کیونکہ اپنی قوم کا ہتک کرنے والا دوسروں سے بہت زیادہ مجرم ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک یہودی نے حضرت عمرؓ کے سامنے کہا میں قسم کھاتا ہوں موسیٰ ؑ کی جسے خدا نے سارے انسانوں پر فضیلت دی ہے۔ حضرت عمرؓ نے اسے مارا۔ جب رسول کریم ﷺ کو خبر پہنچی تو آپ نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ کیوں مارا؟ ایسا نہیں چاہئے تھا۔ ۵؎ یہ نہیں کہا کہ تلوار کیوں نہ چلائی۔ غرض قتل پر آمادہ ہو جانے کا طریق غلط ہے اور اس سے قوموں کے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں۔
    پس میں مسلمانوں سے بھی اور ہندوؤں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ عاجل باتوں کی طرف نہ جائیں۔ مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ چاند پر تُھوکنے سے اپنے ہی منہ پر آ کر تُھوک پڑتا ہے۔ مخالف خواہ کتنی ہی کوشش کریں محمدرسول اللہ ﷺ کے نور کو گردوغبار سے نہیں چُھپا سکتے۔ اس نور کی شعاعیں دور دور پھیل رہی ہیں۔ تم یہ مت خیال کرو کہ کسی کے چھپانے سے یہ چُھپ سکے گا۔ ایک دنیا اسلام کی معتقد ہو رہی ہے۔ پادریوں کی بڑی بڑی سوسائٹیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہمیں سب سے زیادہ خطرہ اسلام سے ہے کیونکہ اسلام کی سوشل تعلیم کی خوبیوں کے مقابلہ میں اور کوئی مذہب نہیں ٹھہر سکتا ہے۔ اسلام کا تمدن یورپ کو کھائے چلا جا رہا ہے اور بڑے بڑے متعصّب اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اسلام کو گالی دینے سے اسلام کی ہتک ہو گی وہ اگر عیسائی ہے تو عیسائی مذہب کادشمن ہے اگر سکھ ہے توسکھ مذہب کا دشمن ہے اور اگر ہندو ہے تو ہندو دھرم کا دشمن۔ ہتک تو دراصل گالی دینے والے کی ہوتی ہے جسے گالی دی جائے اس کی کیا ہتک ہو گی۔ ہتک تو اخلاق کی بناء پر ہوتی ہے اگر کوئی شخص مجھے گالیاں دیتا ہے تو وہ اپنی بداخلاقی کا اظہار کرتا ہے اور اس طرح خود اپنی ہتک کرتا ہے۔ میں گالیاں سنتا ہوں اور برداشت کرتا ہوں تو اپنے بلند اخلاق کا اظہا رکرتا ہوں جو میری عزت ہے۔ وہ مذہبی لیڈر جنہوں نے قوموں کی ترقی کے لئے کام کیا خواہ کسی بڑے طبقہ میں یا ایک بہت ہی محدود طبقہ میں کیا ہو وہ قابلِ عزت ہیں اور انسانی فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی عزت کی جائے۔ جو قوم ایسا نہ کرنے والوں کی مدد کرتی ہے وہ خود اپنی تباہی کا سامان پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو اُن کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔
    میرے نزدیک تو اگر یہی شخص قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑاخیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جائے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے تمہیں چاہئے کہ خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے بتا دیا جائے تم سے غلطی ہوئی۔ ہم تمہارے جُرم کو کم تو نہیں کر سکتے لیکن بوجہ اس کے کہ تم ہمارے بھائی ہو تمہیں مشورہ دیتے ہیں کہ توبہ کرو‘ گریہ وزاری کرو اور خدا کے حضور گڑ گڑاؤ۔ یہ احساس ہے جو اگر اس کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ خدا کی سزا سے بچ سکتا ہے اور اصل سزا وہی ہے۔
    ہندو مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے بزرگوں کی خوبیوں پر نظر رکھیں اور یہی طریق قیامِ امن کا موجب ہو سکتا ہے اسی لئے میں نے ایسے جلسوں کی بنیاد رکھی تھی کہ تار رسول کریم ﷺ کی خوبیاں دنیا کے سامنے پیش کی جا سکیں۔ اور اگر دوسری قومیں بھی اپنے مذہبی پیشواؤں کے متعلق ایسا انتظام کریں تو بشرطیکہ کوئی پولیٹیکل فائدہ ان کے مدنظر نہ ہو ہم ان میں بھی ضرور شامل ہونگے۔ ہمارا یہ سمجھ لینا کہ فلاں شخص خادمِ مُلک و ملّت تھا ہماری ہتک نہیں بلکہ یہ معنی رکھتا ہے کہ ہماری آنکھیں درست ہیں۔ یہی طریق ہے جس سے مختلف اقوام میں صلح ہو سکتی ہے کہ جس کسی نے کوئی خدمت کی ہے اس کا اعزاز کیا جائے اسی لئے میں نے ان جلسوں کی تحریک کی تھی۔ اور میں پھر کہتا ہوں کہ اگر ہندو اور سکھ بھی ایسا انتظام کریں اور وہ کسی سیاسی غرض سے نہ ہو تو ہم اس میں بھی ضرور حصہ لیں گے۔ ہم جسے نیک کام سمجھتے ہیں اس میں حصہ لینے کے لئے بخوشی تیار ہیں۔ میں امید کرتا ہوں مذہب سے دلچسپی رکھنے اور خدا کے دین کو دنیا میں قائم کرنے والے خواہ وہ ہندوہوں یا سکھ یا ہماری طرح مسلمان سب مل کر کوشش کریں گے کہ ان فسادات کو دور کیا جائے اور فتنہ کو مٹایا جائے جن بزرگوں کا ادب و احترام ضروری ہے ان کا مناسب احترام کیا جائے اور جو باتیں قوموں کے اخلاق بگاڑنے کا موجب ہوں ان کی پورے زور سے مذمّت کی جائے۔ گورنمنٹ کو بھی نصیحت کرتا ہوں گو معلوم نہیں وہ اسے قبول کرے گی یا نہیں یا اس پر کیا اثر ہو گا مگر میں اپنا فرض ادا کرتا ہؤا کہتا ہوں گورنمنٹ بھی عاجلہ کو چھوڑ دے۔ اسی طرح لیڈروں سے بھی یہی کہتا ہوں کہ وہ بھی عاجلہ کو چھوڑ دیں۔ قوموں کے معاملات دنوں میں طے نہیں ہوا کرتے۔ جو لوگ اس خیال سے کہ حکومت جلد مل جائے ملک میں بغاوت کراتے ہیں وہ دیانت اور نیکی کی جڑ کو کاٹنے والے ہیں اور تینتیس کروڑ انسانوں کے قاتل ہیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی عزت کریں تو صحیح راستہ اختیار کریں فریب سے عزت نہیں کرائی جا سکتی۔ دنیا آخر صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتی ہے اور ملامت کے قابل کی ملامت اور عزت کے مستحق کی عزت کرتی ہے۔
    (الفضل ۱۹۔اپریل ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ الدھر: ۲۸ ۲؎ المنٰفقون: ۹
    ۳؎ بخاری کتاب التفسیر باب قوْلہ یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ…۔
    ۴؎ اُسْدُ الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد ۱ صفحہ ۳۹۰‘ ۳۹۱ مطبوعہ بیروت ۱۳۸۴ھ
    ۵؎ بخاری کتاب بدء الخلق باب وفاۃ موسٰی ذکرہ بعد

    ۱۳
    بجٹ پورا کرنے‘ ۲جون کے جلسوں کو کامیاب بنانے اور
    الفضل کے خاتم النّبیّٖن نمبر کی توسیعِ اشاعت کیلئے پوری کوشش کی جائے
    (فرمودہ ۲۶۔اپریل ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    آج میرا منشا ایک اور مضمون کے متعلق بیان کرنے کا تھا لیکن بعض دوستوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ مالی سال چونکہ ختم ہونے والا ہے اس لئے میں بجٹ پورا کرنے کے متعلق جماعت کو ہدایت کر دوں۔ ان دوستوں نے یہ بھی خواہش کی ہے کہ بجائے اس کے کہ مالی سال اپریل کے آخر میں ختم کر دیا جائے اسے مئی کے کچھ دنوں تک جاری رکھا جائے۔ باوجود اس کے کہ ایسی خواہش کرنے والوں میں سے بعض مجلس شوریٰ کے ممبر ہیں شاید انہیں یاد نہیں رہا کہ تجربہ کار اور واقف کار اصحاب کے مشورہ کی بناء پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ مالی سال اُسی دن ختم ہو جانا چاہئے جس دن اسے دراصل ہونا ہے۔ اگلے سال کے کچھ دن اس میں داخل کرنا اصولی طور پر ناقص ہے اور اس سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے۔ پس جس امر کے متعلق ان لوگوں کے مشورہ کے بعد جو محکمہ مال اور بنکوں کا تجربہ رکھتے ہیں اور گورنمنٹ کے مختلف مالی صیغوں میں کام کرتے ہیں فیصلہ ہو چکا ہے اُس کو محض اس لئے کہ لوگوں کے دلوں میں بجٹ کے پورا کرنے کی مزید خواہش پیدا ہو اور وہ زیادہ کوشش کریں میں ردّ نہیں کر سکتا۔ بجٹ کا سال ۳۰۔اپریل کو پورا ہو گا اور یکم مئی سے جو رقوم آئیں گی وہ نئے سال میں محسوب ہونگی۔ لیکن میں اس کے سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر ہمارے دوست بقائے اپریل میں ادا نہیں کر سکے اور مئی کے کچھ دن لینے ان کے لئے ضروری ہیں تو سال ختم کرنے سے کونسی روک ان کے راستہ میں حائل ہو جائے گی کہ مئی کے ابتدائی ایام میں وہ اپنے بقائے پورے نہ کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے یکم مئی سے ۳۰۔اپریل تک کابل نہیں پیش ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہی کام کرتے ہیں کسی پر زبردستی نہیں کر سکتے۔ جو شخص دین کے کام میں حصہ لیتا ہے وہ اسی خیال سے لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے اور وفات کے بعد وہ ایسے راستہ پر چل سکے جو اسے خدا تعالیٰ کے قریب کر دے۔ یہ خواہش اور تڑپ ہے جو دین کے لئے قربانی پر مجبور کر سکتی ہے اسے نکال دو تو نہ ہمارے پاس کوئی حکومت ہے نہ طاقت اور نہ رُعب جس سے ہم کسی سے کچھ لے سکیں۔ گورنمنٹ توپوں‘ بندوقوں‘ فوجوں‘ قوانین اور جیل خانوں کے ذریعہ ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن ہمارے پاس دباؤ کے یہ سامان نہیں مگر کوئی شخص ہماری آواز کو سنتا ہے اور سلسلہ کی خدمت کی طرف توجہ کرتا ہے تو وہ درحقیقت اسی حالت میں سنتا ہے کہ جب اس کے اپنے دل سے بھی ایسی ہی آواز اُٹھ رہی ہوتی ہے۔ اگر اس کے اپنے دل سے ایسی آواز نہیں اُٹھتی تو ہمارا کہنا اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتا۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ ہم دنیا میں کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور مؤمن کا تو کوئی بھی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ لیکن بعض کمزور ایمان والوں کا دنیا میں ایک گروہ ایسا بھی ہوتا ہے جو طاقت کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے اس کے نزدیک دنیا کا تمام کارخانہ اسی شخص کے گرد چکر لگاتا ہے جو کسی کا کچھ کر سکے یعنی بگاڑ سکے۔ پس ایسے لوگوں پر جو طاقت اور قوت کو ہی مانتے ہیں ہماری آواز کچھ اثر نہیں رکھتی۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ ہم کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے لیکن جو لوگ خدا تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں اور جن کے سارے کام اسی کو راضی کرنے کے لئے ہوتے ہیں ان کیلئے نہ اپریل کچھ ہستی رکھتا ہے نہ مئی۔ ان کے لئے سب کچھ خدا ہی ہے اور وہ اسی کی پرواہ کرتے ہیں۔ جذبات سے تعلق رکھنے والے یعنی SENTIMENTAL لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنا ایک حد تک بے شک ضروری ہوتا ہے۔ دس دن اور زیادہ کر دیئے جائیں تو ممکن ہے ایسے لوگ اور زیادہ کوشش کریں اور ایسا کرنا مالی لحاظ سے بے شک فائدہ مند ہو سکتا ہے لیکن اخلاقی لحاظ سے اس سے نقصان ہو گا کیونکہ اس سے ایک اپنا ہی بنایا ہوا قانون توڑنا پڑے گا اور جس قوم میں قانون کا احترام نہ رہے وہ کامیاب نہیں ہو سکتی اس لئے قانون تو توڑا نہیں جا سکتا لیکن مخلص کے لئے رستہ کھلاہے جس نے خدا کے لئے دینا ہے اس کے لئے اپریل اور مئی مساوی ہیں۔
    اگر کوئی شخص یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شائع ہو جائے جنہوں نے بجٹ وقت پر پورا کر دیا ہے یا اخبار میں اس کا نام شائع ہو جائے اور اس خیال سے کسی مزید مُہلت کا خواہاں ہے تو میں کہوں گا اس نے بہت گھاٹے والا سودا کیا کیونکہ اس نے لوگوں کی خوشی کو خدا کی رضا پر مقدم کیا۔ لیکن اگر کوئی شخص ایسی مجبوریوں کی وجہ سے جو اس کے تصرف سے باہر ہیں مقررہ وقت میں بجٹ پورا نہیں کر سکا تو بعد میں جس قدر جلد ممکن ہو کر سکتا ہے۔ پس میں سمجھتا ہوں اگر میعاد نہ بھی بڑھائی جائے تو بھی مخلص ضرور بجٹ کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہر بجٹ جماعتوں کے مشورہ سے پاس ہوتا ہے اور سب جماعتوں کے نمائندے مل کر اسے پاس کرتے ہیں اگر کوئی جماعت اپنا نمائندہ مجلس مشاورت میں نہیں بھیجتی تو یہ اس کا اپنا قصور ہے ہماری طرف سے تو متواتر اور با ر بار اعلان کئے جاتے ہیں اور یاد دہانیاں کرائی جاتی ہیں کہ نمائندے آئیں اور معاملات پر غور کریں۔ پھر جو موجود ہوتے ہیں ان سب کے غوروفکر کے بعد بجٹ تیار ہوتا ہے اور جماعت کے نمائندوں کی کثرتِ رائے اسے پاس کرتی ہے۔ اگرچہ ایسا ہو سکتا ہے کہ جماعت کے نمائندوں کی کثرتِ رائے ایک فیصلہ کرے اور میں اسے ردّ کر دوں لیکن آج تک ایسا ہوا نہیں اور میں نے نمائندوں کا پاس کردہ بجٹ کبھی نامنظور نہیں کیا اور ہمیشہ اسی سے اتفاق کیا ہے جس پر کثرت متفق ہو گئی تا لوگوں میں بشاشتِ ایمان پیدا ہو اور خدمتِ دین کا شوق تازہ رہے اور وہ کسی قسم کا جبر محسوس نہ کریں۔ تو وہ بجٹ جسے جماعت کے نمائندے تسلیم کرتے ہیں وہ جماعت اور خدا تعالیٰ کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے جسے ہر جماعت تسلیم کرتی ہے کہ پورا کرے گی۔ ہمارے سب کام خدا تعالیٰ کے لئے ہیں اس لئے خواہ پچاس سال بھی گذر جائیں وہ معاہدہ بدستور قائم رہے گا۔ اگر کوئی جماعت اس معاہدہ یعنی بجٹ کو اس سال پوری طرح ادا نہیں کر سکتی تو بقیہ اسے اگلے سال ادا کرنا چاہئے اگر ہم کسی شخص کو دس دن کے بعد کوئی چیز دینے کا وعدہ کریں لیکن کسی وجہ سے دس دن تک نہ دے سکیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہونگے کہ اب اس کا دینا ہم پر واجب نہیں رہا۔ ہم نے جو وعدہ کیا ہے وہ بہرحال قائم ہے اور اس کا پورا کرنا واجب ہے خواہ اس پر پچاس سال بھی کیوں نہ گذر جائیں۔ پس بجٹ بھی وعدہ ہے جس کا پورا کرنا ہر جماعت کے لئے ضروری ہے۔ اگر وہ اس سال ادا نہیں ہوتا تو اس کے کھاتے میں ضرور درج رہے گا خواہ کتنی مدت گذر جائے اس کے ذمہ وہ واجب الاداء ہی ہو گا۔
    پس جو لوگ خدا تعالیٰ سے معاملہ صاف رکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے تو نہ اپریل کی قید ہے نہ مئی کی بلکہ انہوں نے خواہ کتنی مدت بھی کیوں نہ گذر جائے آخر اسے ادا کرنا ہے اور اس کے لئے وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں کیونکہ ان کے ذمہ یہ ایک فرض ہے۔
    فرض بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو جیسے زکوٰۃ ہے یا ہماری جماعت کے لئے وصیت ہے۔ اس میں حد بندی ہے کہ کم از کم دسواں حصہ ادا کیا جائے یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی مقرر ہیں۔ اور کچھ فرض وہ ہوتے ہیں جو انسان اپنے پر خود مقرر کر لیتا ہے اور پھر وہ بھی ایسے ہی ضروری ہو جاتے ہیں جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فرائض۔ فقہاء نے اس پر بحث کی ہے کہ نفل ضروری نہیں لیکن اگر کوئی شخص ارادہ کر لے تو وہ بھی اس کے لئے فرض ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص نذر مان لے تو پھر اس کا ادا کرنا اس کے لئے فرض ہی ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہر وہ چیز جو نفل ہے جب اپنے اوپر واجب کر لی جائے تو وہ بھی فرائض و واجبات میں شامل ہو جاتی ہے اور اس کا پورا کرنا ایسا ہی ضروری ہو جاتا ہے جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فرائض کا۔ سو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ۳۰۔اپریل کے بعد بھی بقیہ رقوم کی ادائیگی اسی طرح ضروری رہے گی۔ اس وعدہ کی بناء پر جو جماعت کرتی ہے اخراجات تو ہو جاتے ہیں لیکن اگر وہ پورے نہ ہو سکیں تو اس کا اثر اگلے سالوں پر پڑتا ہے اور اس صور ت میں مالی حالت اُس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک بقائے ادا نہ ہوں۔ پس گو یہ میری آواز جماعتوں کو اُس وقت پہنچے گی جب اپریل میں وعدے پورے کرنے کا کوئی وقت نہیں ہو گا۔ لیکن میں نے بتا دیا ہے کہ خدا کے ساتھ جو وعدہ کیا جائے اس میں اپریل یا مئی کا کوئی ذکر نہیں ہوتا بلکہ وہ زندگی سے لے کر موت تک کا وعدہ ہوتا ہے۔ جس نے اسے اس سال پورا نہیں کیا اس نے اگر سستی کی ہے تو اسے چاہئے کہ اگلے سال کے ساتھ ملا کر ادا کرنے کے علاوہ استغفار بھی کرے۔ اگلے سال کے لئے بھی نمائندے جو وعدہ کر گئے ہیں اسے بھی پورا کریں اور پچھلا بھی ادا کریں کیونکہ وہ عہد ہے اور عہد مسئول ہے یہ نہیں کہ وہ مرضی سے اپنے ذمہ لیا تھا اور جب چاہا چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے متعلق سوا ل کرے گا اور توڑنے والے سے مؤاخذہ ہو گا۔ پس بہرحال پچھلا بقایا پورا کرنا ضروری ہے۔ سال بے شک ختم ہے لیکن اس کے ساتھ معاہدہ ختم نہیں ہو جاتا کیونکہ یہ سال اور مہینے ہمارے ساتھ تعلق رکھتے ہیں خدا تعالیٰ کا زمانہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ پس جن دوستوں نے کسی عارضی مجبوری کی وجہ سے جیسے پچھلے سال قحط تھا بجٹ پورا نہیں کیا تو اگر خدا تعالیٰ نے ان کی روکوں کو دور کر دیا ہے تو انہیں چاہئے کہ اگلے سال کا بجٹ بھی پورا کریں اور بقایا بھی ادا کریں لیکن جن کی روکیں ابھی چلی جا رہی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور معذور ہیں تاہم انہیں چاہئے کہ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ سُست نہیں‘ اپنی معذوریاں اپنے بھائیوں کے پیش کر دیں۔ اور اگر کوئی مستقل مصیبت میں ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک معذور ہے۔ لیکن اسے بھی چاہئے کہ اپنے بھائیوں پر یہ ثابت کر دے کہ وہ سُستی سے ایسا نہیں کرتا بلکہ وہ فی الواقعہ تکلیف میں ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں اگر اس میں خواہش ہے کہ خدا تعالیٰ توفیق دے تو میں بھی خدمتِ دین کے لئے قربانی کروں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ ایسا ہی ہے جیسے باقاعدہ ادا کرنے والے۔ میں اپنے دوستوں سے خواہ وہ قادیان کے ہوں یا باہر کے اگرچہ درخواست تو قادیان والوں نے ہی کی تھی نصیحت کرتا ہوں کہ ۳۰۔اپریل کے ختم ہونے کے بعد بھی وہ بقائے صاف کرنے کی طرف خاص دھیان دیں۔ ہمارا سال بے شک ختم ہو جائے گا لیکن خدا کا سال ختم نہیں ہو گا خدا تعالیٰ کے سال اور ہیں خدا تعالیٰ کا سال انسان کی پیدائش سے موت تک ہے۔ امید ہے کہ دوست مالی ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس کرتے ہیں بقائے جلد صاف کریں گے۔ چندہ دیتے ہوئے ہمیں صرف مالی پہلو کو ہی مدنظر نہیں رکھنا چاہئے اور یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم چندہ دے رہے ہیں کیونکہ جو چندہ دیا جاتا ہے وہ صرف چندہ نہیں بلکہ اسلام کی ہر قسم کی خدمت ہے۔ وہی سونا یا چاندی یا کاغذ جو ہم دیتے ہیں وہ دراصل تبلیغ‘ تربیت اور تعلیم ہوتی ہے۔ وہ اس کام کو جو حضرت مسیح موعودؑ اور جماعت احمدیہ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈالا گیا ہے پورا کرنے کا نشان اور علامت ہیں ۔ لہٰذا ہمیں چاندی یا سونے کو چاندی یا سونے کی شکل میں نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ان روحانی معارف کی صورت میں دیکھنا چاہئے جو اس کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نادانوں نے اعتراض کئے اور اب بھی اخباروں میں ایسے اعتراضات ہوتے رہتے ہیں کہ آپ وصیت کے ذریعہ روپیہ وصول کرتے ہیں لیکن انہوں نے سمجھا نہیں کہ یہ روپیہ دراصل روپیہ نہیں بلکہ دین کی اشاعت ہے۔ وہ دراصل متمثّل ہے اور تمثیلی رنگ میں خدمتِ قرآن جو خدا تعالیٰ کا کلام اور اخلاق ہے کیونکہ اس سے ان امور کی اشاعت ہوتی ہے اور جس حد تک کوئی اس میں حصہ لے سکے اُسی حد تک وہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ یہ ایک بات ہے جو آج کے خطبہ کے ذریعہ میں دوستوں کو کہنا چاہتا ہوں۔
    دوسری بات یہ ہے کہ کہ ۲ جون ۱۹۲۹ء کے جلسے قریب آ رہے ہیں۔ اس کے متعلق اخباروں میں جو اعلان وغیرہ ہوئے ہیں ان پر قریب ایک ہزار جلسوں کے انعقاد کی درخواستیں آئی ہیں میںامید کرتا ہوں کہ احباب قّلتِ وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے تعداد بڑھانے کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کریں گے۔ اس سال میں نے قریباً چار ہزار جلسوں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے لیکن اگر اتنے نہ ہو سکیں تو اس سے زیادہ سے زیادہ قریب تعداد میں کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ پچھلے سال ایک ہزار کے قریب جلسوں کا اعلان کیا گیا تھا اور وعدے صرف چار پانچ سَو کے درمیان آئے تھے۔ لیکن جو رپورٹیں آئیں ان سے معلوم ہواکہ آٹھ نو سَو کے قریب جلسے ہوئے ہیں۔ بعض مقامات سے رپورٹیں نہیں بھی آئیں اس لئے خیال کیا جا سکتا ہے کہ ہزار کے قریب جلسے ضرور ہو گئے ہوں گے۔ اس سال ہزار کے وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ ہے کہ دو ہزار جلسے انشاء اللہ ہو جائیں گے۔ لیکن جو چیز حساب میں آ جائے اس پر جتنی تسلّی ہو سکتی ہے اتنی اس پر نہیں ہو سکتی جو صرف اندازہ میں ہو اس لئے میں احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان جلسوں کو کامیاب اور پُررونق بنانے کے لئے پوری پوری جدوجہد کریں۔ پچھلے سال بھی میں نے توجہ دلائی تھی کہ مختلف لوگوں پر یہ ثابت کیا جائے کہ یہ جلسے ملک میں بلکہ دنیا میں امن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ دنیا میں تمام لڑائیاں مذہبی اختلاف کی بناء پر ہیں۔ عیسائیت آج اگرچہ سیاست کے پیچھے چل رہی معلوم ہوتی ہے لیکن وہ بھی مذہبی اختلاف کے اثرات سے بچی ہوئی نہیں۔ عیسائی آپس میں اختلاف کے باوجود مل بیٹھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ وہ نہیں مل سکتے اور اسلام سے انہیں دشمنی بدستور ہے۔ یہ خیال غلط ہے کہ یورپ میں تعصّب نہیں۔ ان میں تعصّب ہے اور ضرور ہے لیکن بات صرف یہ ہے کہ اب یورپ مہذّب ہو گیا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہمارے ملک میں بعض امراض کے لئے چریتا پلایا جاتا ہے جو بہت کڑوی دوائی ہے لیکن یورپ والے چریتا نہیں پلاتے بلکہ اس کا ایسنس(ESSENCE) ۱؎ دیتے ہیں۔ یا جیسے کونین پر چینی چڑھا کر دیدی جاتی ہے۔ وہ کونین تو ہوتی ہے لیکن SUGAR COATED ہوتی ہے۔ اس کی اصلیت کو بناوٹ سے چُھپا دیا جاتا ہے یہی حال آج یورپ کا ہے۔ ان میں تعصّب ہے اور اس میں وہ افریقہ کے جنگلیوں یا افغانستان کے پٹھانوں سے کسی طرح بھی کم نہیں بلکہ ممکن ہے اپنے بڑھے ہوئے جذبات کے باعث پہلے سے بھی زیادہ تعصّب ان میں پیدا ہو گیا ہو لیکن وہ چونکہ تعلیم میں بھی بڑھ گئے ہیں اس لئے وہ اسے عام طور پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کونین پر میٹھا چڑھا دیا جائے۔ لوگ سمجھتے ہیں یہ میٹھا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ کونین ہوتی ہے اس تمام تعصّب کی جڑ مذہبی اختلاف ہے۔ پادریوں نے کتابیں لکھ کر یورپ کو اسلام سے ایسا بدظن کر رکھا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کو (نعوذ باللّٰہ) ایک نہایت بھیانک ہستی سمجھتے ہیں۔ عیسائی مذہب سے صاف طور پر ثابت ہے کہ عورت کی روح نہیں لیکن پادری کئی سَو سال انہیں یہی بتاتے چلے آ رہے ہیں کہ اسلام کے نزدیک عورت میں روح نہیں ہوتی حالانکہ قرآن میں صاف طور پر موجود ہے کہ عورت بھی ایسی ہی ثواب کی مستحق ہے جیسا مرد۔ سینکڑوں عیسائی اب بھی ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ مسلمان محمد (ﷺ) کا بُت بنا کر اس کی پرستش کرتے ہیں اور جب اسلامی عبادت کا سوال ہو گا فوراً اُن کے ذہن میں یہی عبادت آ جائے گی بلکہ میں نے بڑے بڑے مصنّفوں کی کتابوں میں یہی بات لکھی دیکھی ہے اور اسی تعصّب کی وجہ سے عیسائی مسلمانوں سے الگ ہیں اور ان سے نہیں ملتے۔ اسی طرح اور قوموں میں بھی سخت اختلاف ہے۔ ہندو‘ پار سیوں اور چینیوں کو گندے اور نجس سمجھتے ہیں اور وہ ہندوؤں کو۔ غرضیکہ ہر قوم دوسری سے متنفّر اور بدظن ہے۔
    ان حالات میں ایسے جلسے جن کا مقصد یہ ہو کہ مختلف بانیانِ مذاہب کی خوبیاں لوگوں کو معلوم ہوں اتحاد و اتفاق کا موجب ہونگے اور اگر یہ تحریک دنیا میں کامیاب ہو جائے تو امن قائم ہو جائے اور تعصّب دور ہو جائے۔ ہم چونکہ رسول کریم ﷺ کو مانتے ہیں اس لئے ہمارا یہی کام ہے کہ آپ کی شان کے اظہار کے لئے جلسوں کا انتظام کریں لیکن اگر ہندو حضرت کرشن‘ رام اور بدھ کی لائف دنیا کے آگے پیش کرنے کے لئے جلسوں کا انتظام کریں تو ہمیں ان میں شمولیت سے انکار نہیں۔ اور میں سمجھتا ہوں اگر مختلف مقامات پر ایسے جلسے منعقد ہوتے رہیں تو دنیا میں بہت جلد امن قائم ہو جائے۔ لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ یہ جلسے محض رسول کریم ﷺ کے لئے ہی نہیں‘ ہم چونکہ انہیں مانتے ہیں اس لئے انہیں ہی پیش کرتے ہیں۔ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اپنے اپنے بزرگوں کے لئے ایسا انتظام کریں ہم بھی ان میں ضرور شامل ہونگے۔ بشرطیکہ ان کا مقصد بھی یہی ہو جو ہم نے رکھا ہے اور کوئی سیاسی غرض ان کے مدنظر نہ ہو۔ ان کے بزرگوں کے متعلق بھی بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔ مثلاً اگر گاؤں کے کسی جاہل مسلمان سے پوچھو کہ کرشن اور رام کون تھے تو وہ یہی کہے گا کہ ہندو تھے اور ہندو ہونے کے باعث انہیں کافر خیال کرتا ہو گا لیکن وہ ان قربانیوں سے قطعاً ناواقف ہو گا جو انہوں نے بنی نوع انسان کی خاطر کیں۔ ان کی خدماتِ ملکی کا اسے کوئی علم نہیں اور وہ اس عشق کی آگ سے بالکل بے خبر ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے ان کے اندر موجود تھی۔ پس اگر وہ بھی ایسے جلسوں کا انتظام کر کے رام‘ کرشن‘ بدھ‘ زرتشت‘ کنفیوشس کی لائف تاریخی طور پر دنیا کے سامنے پیش کریں کتھا کے طور پر نہیں بلکہ تاریخی واقعات سے ان کی خوبیاں لوگوں کے سامنے رکھیں تو بہت فائدہ ہو سکتاہے۔
    اس موقع پر اخبار الفضل کا خاتم النّبّیٖن نمبر بھی شائع ہوتا ہے۔ افسوس ہے کہ دوستوں نے اس کی توسیعِ اشاعت کے لئے پوری توجہ نہیں کی۔ میرا خیال تھا کہ اس سال یہ پرچہ کم از کم پندرہ ہزار شائع کیا جائے لیکن اخبار والے گذشتہ سال کے تجربہ کی بناء پر اس قدر شائع کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے اس لئے ان کا ارادہ دس ہزار شائع کرنے کا ہے۔ اب چونکہ وقت بہت کم ہے اور چھپائی شروع ہونے والی ہے اگر آرڈر زیادہ نہ آئے تو ممکن ہے اس سے بھی کم چَھپے اور پھر دوستوں کو محروم رہنا پڑے کیونکہ دوسرا ایڈیش شائع نہیں ہو گا۔ اس لئے میں تمام جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوںمیں اس کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں شائع کرنے کی کوشش کریں تا اگر زیادہ نہیں تو کم از کم دس ہزار ہی شائع ہو سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش تھی کہ ریویو دس ہزار چھپے۔ کیا ہماری جماعت میں اتنی بھی غیرت نہیں کہ اس خواہش کوسال کے ایک پرچہ کے متعلق ہی پورا کر سکے اور میں سمجھتا ہوں اگر ہم حضرت مسیح موعودؑ کی خواہش کو اس ایک پرچہ کے متعلق ہی پورا کر دیں تو ممکن ہے خدا تعالیٰ ہماری اس قربانی کو دیکھ کر ہمیں سب کی اشاعت ہی دس ہزار کرنے کی توفیق عطا کردے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کے خیال سے اس پرچہ کی اشاعت کم از کم دس ہزار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
    تعجب ہے کہ بڑی بڑی جماعتوں نے اس طرف توجہ نہیں کی مثلاً لاہور میں ہزار دو ہزار پرچہ کا لگ جانا کوئی بڑی بات نہیں اگر سَووالنٹیئر بھی ایسے ہو جائیں جن میں سے ہر ایک تہیہ کر لے کہ میں ۲۰ پرچے فروخت کروں گا تو بھی دو ہزار پرچے بِک سکتے ہیں۔ اسی طرح کلکتہ‘ مدراس‘ لکھنؤ‘ دہلی اور دوسرے ایسے شہروں میں جہاں آبادی ایک لاکھ سے زائد ہو اگر کوشش کی جائے تو بہت کامیابی ہو سکتی ہے۔ ان مقامات پر ہماری جماعتیں اگرچہ کم ہیں لیکن احبابِ جماعت اپنے دوسرے مسلم یا غیر مسلم دوستوں سے مدد لے سکتے ہیں۔ پس اگر کوشش کی جائے تو دس ہزار پرچہ ان بڑے بڑے شہروں میں ہی فروخت ہو سکتا ہے۔ اس طرح اگر ہر جماعت اس کے لئے کوشش کرنا اپنے لئے فرض کر لے تو تیس ہزار پرچہ کا نکل جانا بھی بڑی بات نہیں لیکن اس کے لئے دلی کوشش کی ضرورت ہے۔ ’’توراشنان موراشنان‘‘ والی بات نہ ہونی چاہئے۔ کہتے ہیں کوئی برہمن نہانے کے لئے گیا سردی بہت شدت کی تھی اور ٹھنڈے پانی میں نہانے کی اُسے جرأت نہ ہوتی تھی۔ راستہ میں اسے ایک دوسرا برہمن ملا جس سے اس نے پوچھا کہ تم نے ایسی سردی میں کس طرح اشنان کیا؟ اس کے جواب میں اس نے کہا میں تو کپڑے اُتار کر پانی میں داخل ہونے لگا تھا لیکن سردی سے ڈر گیا اور ’’توراشنان موراشنان‘‘ کہہ کر ایک کنکر پانی میں پھینک دیا۔ اس پر دوسرے برہمن نے کہا اچھا تو پھر ’’توراشنان سو موراشنان‘‘۔ پس اگر یہ ’’توراشنان موراشنان‘‘ والا معاملہ نہ ہو اور دوست یہ بات نہ کریں کہ اگر ایک نے کہدیا کہ اچھا میں کوشش کروں گا تو باقی سارا کام اس کے سپرد کر کے چپ چاپ بیٹھ جائیںبلکہ ہر ایک جماعت کا ہر فرد اس کے لئے کوشش کرے جہاں سَو افراد کی جماعت ہو وہاں ہزار اور جہاں دو سَو ہو وہاں دو ہزار اور ہر جگہ جماعت کی تعداد کے لحاظ سے سَو‘ پچاس‘ دس‘ پانچ‘ جتنے ممکن ہوں پرچے فروخت کرنے کی کوشش کی جائے تو بہت بڑی تعداد میں اس کی اشاعت ہو سکتی ہے۔ لاہور میں ہماری جماعت کے تین چار سَو افراد ہیں اور عورتیں بچے ملا کر پانچ سَو سے بھی زیادہ تعداد ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ میں پانچ چھ سَو اور عورتوںبچوں سمیت اس سے بہت زیادہ ہے‘ یہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق پرچے فروخت کرنے کا ذمہ لیں اور اسی طرح ہر شہر اپنی حیثیت کے مطابق اس میں کوشش کرے تو اس پرچہ کا بہت بڑی تعداد میں نکل جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ ضرورت صرف ارادہ اور نظام کی ہے۔
    میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں تمام کاموں کو خواہ مالی ہوں یا نشرو اشاعت یا اور کسی قسم کے کماحقہ‘ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین (الفضل۳۔ مئی ۱۹۲۹ئ)
    ‏۱؎ ESSENCE : عطر۔ جوہر۔ عرق
    ۱۴
    روحانی سزا سب سے سخت سزا ہے
    (فرمودہ ۱۷۔مئی ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    آج میں ایک ایسے مضمون کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ایک مقدمہ کے دوران میں میرے سامنے آیا۔کچھ عرصہ ہوا قادیان کے بعض لوگوں نے ایک جھگڑے کی بناء پر جو دو تین آدمیوں میں ہوا محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا ترک کر دیا۔ میں نے متوا تر توجہ دلائی ہے کہ کسی آدمی سے لڑائی ہو جانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔ مسجد میں نماز ادا کرنا خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ فرض ہے۔ اگر ایک مسجد میں کسی نماز پڑھنے والے یا امام سے بھی لڑائی ہو جائے تو بھی کسی صورت میں جائز نہیں کہ مسجد کی نماز ترک کر دی جائے۔ ہمارے بعض عزیز اور رشتہ دار ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے ملاقات کرنے میں بعض اوقات دقّتیں ہوتی ہیں لیکن باوجود ان دِقتوںکے ہم ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ پھر کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ رشتہ دار کی ملاقات کے لئے تو ہر قسم کی تکالیف برداشت کر لی جائیں لیکن اپنے آقا اور پیدا کرنے والے کی ملاقات کے لئے ذرا ذرا سی باتوں کو روک بنا لیا جائے۔ مسجد کیا ہے؟ خداتعالیٰ کا گھر ہے اور اس میں نماز ادا کرنا خدا تعالیٰ کی ملاقات کے مترادف ہے۔ یہ کوئی شاعرانہ لطیفہ نہیں بلکہ خود رسول کریم ﷺ نے نماز کو خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ذریعہ قرار دیا ہے ۱؎ پس جو شخص کسی انسان سے لڑ کر خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق قطع کرے اس سے زیادہ اپنی جان کا دشمن اور کون ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کسی نے کہا ہے۔
    نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
    نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
    بندوں سے تو اس کی لڑائی ہو گئی تھی لیکن اس نے خدا سے بھی لڑائی کر لی۔
    مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ یہاں انجمن تشحیذالاذہان کا جلسہ تھا اس میں کسی مضمون کے لئے حضرت خلیفہ اوّل نے انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ اس جلسہ میں مختلف لوگوں نے مضمون پڑھے۔ حضرت خلیفہ اوّل نے جو اُس وقت خلیفہ نہیں تھے ایک شخص کو انعام دیدیا۔ اب جیسا کہ قاعدہ ہے کہ ایسے موقع پر لوگ مختلف قسم کی رائے زنی کرتے ہیں۔ کسی مجلس میں یہ بھی کہا گیا کہ انعام دینے کے متعلق مولوی صاحب نے فیصلہ صحیح نہیں کیا جسے انعام دیا گیا وہ اس کا اہل نہیں تھا۔ کسی شخص نے یہ باتیں میری طرف منسوب کر کے حضرت مولوی صاحب کے سامنے بیان کیں جس سے قدرتی طور پر انہیں تکلیف ہوئی۔ مجھے یاد نہیںرہا آپ نے زبانی یا تحریراً مجھ سے دریافت فرمایاکہ سنا ہے آپ کو میرے فیصلہ پر اعتراض ہے بتاؤ کیا فیصلہ ہونا چاہئے تھا؟ میں نے اعتراض کیا ہی نہیں تھا لیکن چونکہ میری طرف کسی نے منسوب کر دیا تھا اور حضرت مولوی صاحب نے فرمایا تھا مجھے یہ اعتراض بہت بُرا لگا ہے اور میری ناراضگی کا موجب ہوا ہے۔ اُدھر آپ درسوں میں ہمیشہ فرمایا کرتے تھے جس شخص پر میں ناراض ہو جاؤں وہ مجھ سے علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔ میں نے دل میں کہا یہ موقع میں اپنے متعلق نہیں آنے دوں گا اس لئے باوجودیکہ میں نے بوجہ بخار سے بیمار ہونے کے کئی ماہ سے پڑھنا ترک کر رکھا تھا۔ کتاب لیکر پڑھنے کے لئے آپ کے پاس چلا گیا آپ سمجھ گئے۔ بعد میں مَیں نے بتایا مجھ پر یہ محض افتراء تھا میں نے کوئی اعتراض نہ کیا تھا۔ اگر کوئی اور ہوتا اور وہ ایسے موقع پر کہتا کہ میں اب پڑھوں گا ہی نہیں تو وہ اپنا نقصان آپ کر لیتا۔ اسی طرح جو شخص مسجد میں نماز ادا کرنا اس لئے ترک کرتا ہے کہ امام سے اس کی لڑائی ہے تو وہ اپنا نقصان آپ کرتا ہے۔ امام کو اس سے کیا کہ کون اس کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اور کون نہیں پڑھتا۔ پس مسجد میں نماز نہ پڑھنا اپنی جان سے دشمنی ہے۔ خیر ان لوگوں نے معافی مانگ لی ہے اور میں نے انہیں معاف بھی کر دیا ہے لیکن ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے ان میں سے ایک شخص نے کہا اگر ہم پر ناراضگی ہے تو ہمارا کوئی کیا کر لے گا۔ یہ ایک عام فقرہ ہے جو ایسے مواقع پر سوچے سمجھے بغیر بول دیا جاتا ہے اور یہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ اس کی اہمیت لوگوں کی نظروں سے گر چکی ہے۔ اس کا استعمال اس کثرت سے ہونے لگا ہے کہ نہ تو کہنے والا اسے کوئی چیلنج سمجھتا ہے اور نہ سننے والا بلکہ یہ محض اظہارِ ناراضگی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے لیکن دراصل اس کے اندر بہت بڑی بات ہے اور دینی معاملات میں تو اس کا استعمال بہت ہی اہمیت رکھتا ہے جسے اس کی عمومیت کے باوجود نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا کہ کوئی ہمارا کیا بگاڑ لے گا اس کے یہی معنی وہ لیتا ہے کہ کوئی ہمیں قید نہیں کر سکتا ‘ہماری جائداد ضبط نہیں کر سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ قید کرنا یا ملک بدر کر دینا یا قتل کر دینا ہی سزائیں نہیں بلکہ اس سے سخت سزائیں بھی ہیں۔ میں آج ایک سزا کا ذکر کرتا ہوں جو بظاہر ایک انعام معلوم ہو گا لیکن دراصل بہت بڑی سزا تھی جسے دی گئی وہ موت تک دُکھ پاتا رہا۔ وہ سزا یہ تھی کہ ایک شخص ۲؎ نے رسول کریم ﷺسے آ کر کہا دعا کریں ہمیں بہت سے مال و اموال ملیں تا خُوب صدقے کر سکیں۔ رسول کریم ﷺ نے دعا کی اور وہ شخص بہت مالدار ہو گیا۔ جب ایک شخص ا س سے زکوٰۃ لینے کے لئے گیا جو اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ فرض ہے تو اس نے کہا تمہیں کیا پتہ ہے ہم لوگوں کو کتنے تفکرات اور اخراجات ہیں اُٹھتے بیٹھتے چندہ چندہ ہی کرتے ہو۔ اس نے رسول کریم ﷺ سے اس کا ذکر کر دیا آپؐ نے فرمایا آئندہ اس سے زکوٰۃ کبھی نہ لی جائے۔ اب اگر وہ شخص اِسی دل و دماغ کا ہوتا جو اس شخص کا تھا جس نے کہا ہمارا کیا بگاڑ لے گا تو ممکن ہے وہ یہی سمجھتا چلو چُھٹی ہوئی لیکن اس کے اندر چونکہ نیکی اور تقوٰی کا مادہ باقی تھا کچھ دنوں کے بعد اُس نے محسوس کیا کہ اُس نے غلطی کی ہے۔ اِس پر اُس نے جا کر کہا مجھے کوئی اور سزا دے دی جائے لیکن زکوٰۃ مجھ سے لی جایا کرے۔ لیکن اُس کی یہ درخواست قبول نہ ہوئی۔ وہ بار بار آتا اور یہی درخواست کرتا مگر رسول کریم ﷺ انکار فرماتے اور وہ روتا ہوا گھر لَوٹ جاتا۔ جب رسول کریم ﷺ انتقال فرما گئے اور حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے تو جہاں اور مسلمانوں کو صدمہ ہوا اُسے بھی ہوا۔ لیکن اُسے ایک روشنی کی جھلک بھی نظر آئی کہ شاید اب میرے لئے توبہ کا دروازہ کُھل جائے۔ اُس نے بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کا بڑا گلّہ ساتھ لیا اور حضر ت ابوبکرؓ کو کہلا بھیجا کہ فلاں شخص زکوٰۃ لے کر آیا ہے۔ آپ نے فرمایا جس کی زکوٰۃ خدا کے رسول نے ردّ کر دی مَیں اُس کی زکوٰۃ کس طرح قبول کر سکتا ہوں۔ پھر وہ گلّہ اپنے گھر لے جا رہا تھا اور ساتھ روتا بھی جاتا تھا کہ میری توبہ اب بھی قبول نہ ہوئی۔ پھر جب حضرت عمرؓ کا وقت آیا تو اس نے پھر مال جمع کیا اور حضرت عمرؓ کے دروازہ پر حاضر ہو کر کہلا بھیجا کہ فلاں شخص زکوٰۃ لے کر آیا ہے آپ نے جواب دیا جس زکوٰۃ کو خدا کے رسول اور اس کے خلیفہ نے قبول نہیں کیا اسے عمر کیسے لے سکتا ہے۔ پھر وہ مال لے کر گھر چلا گیا اور رنج سے روتا گیا۔ ۳؎ لیکن اس کا کوئی فائدہ اُسے نہ ہوا تو یہ بھی ایک سزا تھی۔ جسمانی طور پر تو اِسے انعام سمجھا جائے گا لیکن روحانی سلسلہ میں سخت سزا ہے۔گورنمنٹ اگر کسی کو ٹیکس معاف کر دے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے کہ انعام مل گیا۔ مگر جس کے دل میں ایمان ہو اُسے اگر خدمتِ دین یا قربانی سے روک دیا جائے تو یہ بہت بڑی سزا ہے۔ یہی شخص چاہتا تھا کہ اُس سے مال لے لیا جائے اور کوئی اور سزا دیدی جائے لیکن خدا کے رسول نے اسے منظور نہ کیا اور وہ شخص عمر بھر اضطراب میں مبتلاء رہا۔
    قرآن کریم میں ایک اور سزا کا بھی ذکر ہے۔ کچھ لوگ رسول کریم ﷺ کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہوئے ان کو یہ سزا دی گئی کہ آئندہ انہیں کسی جنگ میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔۴؎ اب دنیاوی نقطہ نگاہ سے تو یہ بہت اچھی بات تھی۔ کون شخص جان دینا پسند کرتا ہے لیکن ان کیلئے یہ بہت سخت سزا تھی۔ شریعت دین کی راہ میں جان دینے کو انعام قرار دیتی ہے جس سے وہ محروم کر دیئے گئے تھے اور اس طرح وہ ایک عظیم الشان انعام سے محروم ہو گئے۔جہاں دین اور خدا کا تعلق ہو وہاں قربانی سزا نہیں بلکہ انعام ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے لئے بیٹے کو ذبح کرنا سزا نہ تھی بلکہ ایک عظیم الشان انعام تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا جس طرح آسمان کے ستارے نہیں گِنے جا سکتے اسی طرح تیری اولاد بھی نہیں گنِی جا سکے گی۔ تو دینی سلسلوں میں مارپیٹ کوئی سزا نہیں یہ تو محض دوسروں کو تنبیہہ ہوتی ہے۔ جن کے اندر ایمان ہو ان کے لئے یہ سزا کافی ہے کہ جاؤ تمہیں آئندہ قربانی کا موقع نہیں دیں گے۔ ایک صحابی ایک جنگ میں شامل نہ ہوئے رسول کریم ﷺ نے انہیں یہ سزا دی کہ کوئی شخص ان سے بات نہ کرے اب بظاہر یہ سزا نہیں۔ دنیا میں اور بہت بڑے بڑے لوگ موجود تھے جو اُن کی عزت کے لئے تیار تھے۔ غسّان کے بادشاہ نے انہیں خط لکھا تم ہمارے پاس آ جاؤ ہم تمہاری بہت عزت کریں گے۔ وہ صحابی بیان کرتے ہیں میں نے دل میں کہا یہ شیطان کا حملہ ہے۔ میں نے سفیر کو اپنے ساتھ لیا اور بادشاہ کاخط ایک جلتے ہوئے تنور میں ڈال کر کہا اس کا یہ جواب ہے۔ آخر خدا تعالیٰ کے حضور ان کی گریہ وزاری سُنی گئی اور رسول کریم ﷺ نے ان کی معافی کا اعلان کرا دیا۔ وہ بڑے مالدار آدمی تھے اور اسی لئے وہ جنگ میں شامل نہ ہو سکے تھے کیونکہ انہوں نے خیال کیا کہ سامان کی کمی نہیں پیچھے چل کر بھی شامل ہو سکوں گا۔ جب ان کو معافی کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنا سارا مال خدا کے رستہ میں دے دیا حتّٰی کہ جو شخص یہ خوشخبری ان تک لایا اسے قرض لے کر انعام دیا ۵؎ کیونکہ اب وہ اپنے آپ کو اپنے مال کا مالک نہ سمجھتے تھے بلکہ خدا کی راہ میں دے چکے تھے۔ تو سزا نقطۂ نگاہ کے لحاظ سے ہوا کرتی ہے۔ ہمارے پاس کوئی سیاست نہیں کہ کسی کو دنیاوی سزا دے سکیں لیکن جس کے اندر ایمان ہے وہ دنیاوی سزا کوکیا سمجھتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں پر سخت مظالم کئے جاتے اور انہیں سخت دنیاوی سزائیں دی جاتی تھیں۔ عورتوں کی شرم گاہوں میں نیزے مار کر انہیں ہلاک کر دیا جاتا تھا ایک پیر ایک اونٹ سے اور دوسرا دوسرے سے باندھ کر اُنہیں چِیر دیا جاتا تھا‘ تپتی ریت پرلِٹا کر اُن کے سینوں پر پتھر رکھ دیئے جاتے تھے‘ ذرا غور کرو یہ کس قدر سنگین سزائیں تھیں۔ آج کل ہمارے سروں پر اگر سائبان نہ ہو تو ہم نماز نہیں ادا کر سکتے لیکن انہیں مکہ جیسی گرم جگہ میں ننگا کر کے تپتی ریت پر لِٹا کر اوپر پتھر رکھ دیئے جاتے تھے ان کے پاؤں میں رسّے باندھ کر انہیں گھسیٹا جاتا تھا وہ ان سزاؤں کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے لیکن رسول کریم ﷺ یا صحابہ کا نہ بولنا ان کے لئے اس قدر بڑی سزا تھی کہ قرآن کریم میں ان کی حالت اس طرح بیان کی گئی ہے۔ ضاقت علیھم الارض بما رحبت ۶؎ زمین باوجود فراخ ہونے کے ان کے لئے تنگ ہو گئی۔ بادشاہ انہیں تختوں پر اپنے ساتھ بٹھانے کو تیار تھے لیکن وہ اسے انعام نہیں سمجھتے تھے بلکہ سزا جانتے تھے تو سزا نقطہ نگاہ کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ مؤمن کبھی نہیں کہتا کہ ہمارا کیا بگاڑ لیا جائے گا۔ سزا دینے کی جو طاقت ہمیں ہے وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تھی پھر یہ فقرہ کوئی ان کے متعلق بھی کہہ سکتا تھا۔ رسول کریم ﷺ کو مدینہ میں بے شک اختیارات حاصل ہو گئے تھے لیکن مکہ میں دُنیوی اختیارات کے لحاظ سے آپ کی پوزیشن وہی تھی جو حضرت مسیح موعود کی یا ہماری ہے۔ پھر آپ کے متعلق بھی کوئی کہہ سکتا تھا ہمارا کیا بگاڑ لیا جائے گا۔ لیکن نہیں۔ صحابہ سمجھتے تھے یہ جو کچھ بگاڑیں گے وہ کوئی اور نہیں بگاڑے گا۔ جس سے محبت ہو اُس کی ناراضگی بہت بڑی سزا ہے۔ قرآن کریم میں ہے اگر تمہیں اپنے وطن‘ مال‘ عزیز واقارب خدا سے زیادہ پیارے ہیں تو سمجھ لو تم میں ایمان نہیں۔ تو جہاں محبت ہو وہاں ناراضگی یا قربانی سے روک دینا ہی بڑی سزا ہوتی ہے۔ یہ کہہ دینا کہ جو سلسلہ سے نکل جاتے ہیں یا مخالف ہو جاتے ہیں ان کا کیا بگاڑ لیا جاتا ہے جہالت کی بات ہے۔ خدا تعالیٰ کی سزائیں ظاہری نہیں ہوتیں۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کیا سزا دی گئی حالانکہ اُس وقت حکومت تھی‘ سلطنت تھی‘ دبدبہ تھا مگر خدا کی مصلحت یہی تھی کہ اسے ظاہر ی سزا سے بچایا جائے اگر آج بھی کسی کو وہ روحانی کا ن حاصل ہوں جو خدا تعالیٰ کے مقرب لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں تو وہ آج بھی عبداللہ بن ابی کی یہ آواز سن سکتا ہے کہ کاش رسول کریم ﷺ مجھے سزا دے لیتے تا میں دوسری زندگی کی سزا سے بچ سکتا۔ کوئی کہہ سکتا ہے وہ دنیا میں سزا سے بچ گیا تھا۔ مگر نہیں۔ حقیقی انعام اور سزا تو اگلے جہان میں ہوتی ہے یہاں کا کیا ہے۔ دنیاوی انعاموں کا اگر سوال ہو تو رسول کریم ﷺ کو کیا مل گیا۔ آخری عمر میں آپ عرب کے بادشاہ ہو گئے تھے لیکن یہ کونسا بڑا انعام تھا۔ آج دنیا میں خدا کے منکر اس سے بہت بڑی حکومتوں کے مالک ہیں۔ اصل انعام خدا کے قُرب اور اُس کی نصرت کا نام ہے اور وہی متمثل ہو کر اگلے جہاں میں ملتا ہے اگر اسے مدنظر نہ رکھا جائے تو کچھ بھی نہیں۔ رسول کریم ﷺکو جو خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل ہوا اس کے مقابلہ میں دنیا کی تمام بادشاہتیں ہیچ ہیں۔ اگر اس کا ہزارواں حصہ بھی کسی عارف کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ ساری دنیا کی بادشاہت کو اس کے لئے لات مار دینے پر تیار ہو جائے گا اور اسے جوتی کی نوک سے ٹھکرا دے گا۔ مگر یہ امر بینائی سے تعلق رکھتا ہے جسے بصیرت ہی حاصل نہیں وہ اسے کیا سمجھ سکتا ہے۔ یہ مستری جو میری مخالفت کرتے ہیں انہیں بھی سزا مل رہی ہے اور وہ جھوٹ کی سزا ہے۔ ان کے اخبار کا کوئی پرچہ اُٹھا کر دیکھو۔ جھوٹ اور افتراء سے بھرا ہوا ہوگا ظاہر میں تو بیشک انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا بلکہ ان کی انجمنیں بن گئیں انہوں نے اخبار بھی نکال لیا ان کی مشینیں بھی زیادہ بِکنے لگ گئیں جو شخص جھوٹ کو بُرا نہیں سمجھتا وہ بیشک ان باتوں کو انعام سمجھے گا۔ لیکن جس کے نزدیک سچائی کوئی چیز ہے وہ جانتا ہے یہ ایک نہایت ہی سنگین سزا ہے جو اُن کے حصہ میں آئی ہے ۔حق کی مخالفت سے انسان کے اندر سے صداقت مٹ جاتی ہے‘ سچائی جاتی رہتی ہے‘ تقوٰی برباد ہو جاتا ہے ایسا انسان خدا تعالیٰ کے قُرب سے محروم ہو جاتا ہے اور اسے اطمینانِ قلب حاصل نہیں ہو سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے ۔ اِس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے عزت کو ہمارے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ یعنی یا تو ہماری جماعت کے لوگ عزت پاتے ہیں اور یا پھر ہماری مخالفت کرنے والے۔ آج دیکھ لو بعض وہ مولوی جنہیں کوئی جانتا تک نہ تھا آج بڑے بڑے علماء میں شُمار ہوتے ہیں محض اِس وجہ سے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت جی بھر کر کی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب اگر آپ کی مخالفت نہ کرتے تو اتنی شُہرت نہ حاصل کر سکتے۔ اب اگر کوئی کہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت کر کے انہیں حقیقی عزت ملی تو وہ نادان ہے۔ انہیں جو عزت ملی ہے اسے وہ خود بھی اچھی طرح محسوس کرتے ہیں۔ چاہے وہ زبان سے اقرار کریں یا نہ کریں۔ جب وہ اس انسان کی دن دُگنی اور رات چَوگنی ترقی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں جس کے متعلق وہ کہتے تھے کہ ہم اسے مٹا ڈالیں گے اور برباد کر دیں گے تو کس قدر سوزش ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہوگی۔ پھر میرے مخالفوں کو ہی دیکھ لو خواہ لاہور والے ہوں یا قادیان والے۔ مجھ پر انہوں نے خطرناک سے خطرناک افترا کئے ‘بے حد جھوٹ باندھے مگر کیا میرے ہاتھ پر بیعت کرنیوالوں کی تعداد کم ہو گئی یا زیادہ؟ اس مخالفت کے باوجود میری ترقی کیا ان کے لئے سزا نہیں؟ خصوصاً پچھلے سال سے جب کہ مخالفت پورے زور کے ساتھ شروع کی گئی ۔ اِس سال میں اِس قدر تعلیم یافتہ اور معززین نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے کہ ان کی تعداد پچھلے چار سال کی تعداد سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ تعداد تو شائد اتنی ہی ہو جتنی گذشتہ سالوں میں رہی لیکن قابلیت اور رُتبہ کے لحاظ سے اِس سال کی تعداد زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھ میں کوئی عیب مطلقاً ہے نہیں لیکن یہ لوگ جتنا میرے خلاف زور لگاتے ہیں خدا تعالیٰ مجھے اتنی ہی زیادہ ترقی دیتا ہے۔ ان کی غرض تو اس تمام فتنہ خیزی سے یہ ہے کہ لوگ مجھے چھوڑ دیں لیکن کیا یہ تعجب نہیں کہ اگر ان کی کوشش سے کوئی ایک نکلا ہے تو اس سے بہت زیادہ بہتر‘ سَو(۱۰۰)کو خدا تعالیٰ نے جماعت میں داخل کر دیا ہے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ترقی کے ذرائع ہی اصل عزت کی چیز ہیں۔ ایک دفعہ ایک فتنہ پیدا کرنے والی بات کے متعلق مجھے بہت افسوس ہوا۔ اس پر میں نے کہا کہ آج میں چار پائی پر نہیں سوئوں گا بلکہ زمین پر ہی رات گذاروں گا۔ رات کو خواب میں مَیںنے رحمتِ الٰہی کو عورت کی صورت میں متمثل شُدہ دیکھا جو ماں کی سی محبت کے ساتھ پتلی سی چھڑی سے مجھے مار کر کہہ رہی تھی اُٹھ چار پائی پر سو۔ مجھے اس قدر سرور ہوا کہ میں لیٹے لیٹے ہی کُود کر چارپائی پر چلا گیا اور میں نے محسوس کیا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تنبیہہ ہے کہ ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ دنیا کی سزائیں تو بسا اوقات لذت و سرور پیدا کرتی ہیں۔ میں تو کہتا ہوں اگر خدا تعالیٰ نے بُری دعا مانگنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو مومن دعائیں مانگتے کہ خدایا! ہمارے مخالف اور زیادہ کر کہ تیرے رستہ میں ہم اور بھی زیادہ تکالیف اٹھائیں۔ دنیا کی مخالفت کیا ہے؟ اصل چیز تو خدا تعالیٰ کی رضا ہے غرض جسے یہ حاصل ہو جائے سمجھو کہ کامیاب ہو گیا اور جس سے خدا ناراض ہوجائے اس سے بڑھ کر ناکام کوئی نہیں۔
    پس یہ خیال غلط ہے کہ ہمارا کوئی کیا بگاڑ لے گا۔ روحانی سلسلوں میں تلوار نہیں ہوتی‘ جبر نہیں ہوتا‘ مگر سزا ضرور ملتی ہے۔ وہ جو میری مخالفت پر کھڑے ہوئے ہیں اگر آج نہیں تو کل دنیا ان کا انجام دیکھ لے گی۔
    میں نے بہت دفعہ بیان کیا ہے کہ قادیان میں بھی سست لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔ میرے پچھلے خطبات نکال کر دیکھ لو میں نے صاف طور پر ان کا ذکر کیا ہے اور اب بھی میں کہتا ہوں کہ ایسے لوگ یا تو بالکل علیحدہ ہو جائیں گے یا ان کے ایمان درست ہو جائیں گے تب خدا تعالیٰ کی قدرت خاص طور پر ظاہر ہوگی۔ یہ عارضی باتیںہیں جو جلد مٹ جائیں گی اور گالیاں دینے والوں کو کوئی یاد بھی نہیں کرے گا۔ لیکن اس لحاظ سے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خلیفہ ہوں اور مجھ سے خدا تعالیٰ نے اسلام کی خدمت لی ہے میرا نام اُس وقت بھی دنیا میں روشن ہوگا جب یہ لوگ مٹ چکے ہوں گے۔ جس طرح آج بعض لوگ حیران ہیں کہ انہیں سزا کیوں نہیں ملتی؟ اگلے لوگ اس بات پر حیران ہوں گے کہ یہ بھی کوئی وجود رکھتے تھے اور ان کی بھی کوئی ہستی تھی کہ ایسے ذلیل لوگوں کی طرف توجہ کی جاتی تھی کیونکہ خدا تعالیٰ انہیں ایسا ذلیل کرے گا اور ان کی ذلّت کو ایسی بھیانک بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرے گا کہ لوگ حیران رہ جائیں گے۔ کیا عبداللہ بن ابی بن سلول کا کوئی وجود ہے ؟ صرف قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی کوئی ہستی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمﷺ کی صداقت کا نشان ظاہر کرنے کیلئے اس کے نام کو قائم رکھا ہے ورنہ اس کی اپنی ہستی کوئی نہیں۔ اسی طرح یہ ہیں انہیں بھی خدا تعالیٰ ایسا ذلیل و رسوا کریگا کہ ان کی اولادیں ان کی طرف منسوب ہونا بھی پسند نہیں کریں گی۔ یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔میں خود کہتا ہوں مگر تعلّی سے نہیں کہ محض خدا کے فضل نے مجھے اس درجہ پر قائم کیا ہے۔ مجھے اِس کی کبھی خواہش نہیں ہوئی اور اب بھی میںاپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتا لیکن خدا تعالیٰ کے کاموں میں کسی کو دخل نہیں۔
    (الفضل ۷۔ جون ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ بخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ باب المصلی یناجی ربہ
    ۲؎ ثعلب بن حاطب (مرتب)
    ۳؎ بخاری کتاب الانبیاء حدیث البرص واعمٰی واقرع
    ۴؎ التوبۃ: ۸۳
    ۵؎ بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالک
    ۶؎ التوبۃ: ۱۸۸


    ۱۵
    خدا تعالیٰ کے سامنے جھک جائو اور اسی سے مدد مانگو
    (فرمودہ ۱۴۔ جون ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    انسان پر دنیا میںمختلف حالتیں آتی ہیں۔ کبھی تو ایسی حالت آیا کرتی ہے کہ وہ اپنی ساری ضرورتیں خود پوری کر لیتا ہے اُس وقت اس کی توجہ اپنی طاقت اور قوت کی طرف جاتی ہے اور وہ اپنی کوشش پر گھمنڈ کرتا ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا اور اپنی مدد کے لئے اپنے عزیزوں‘ دوستوں اور رشتہ داروں کا محتاج ہوتا ہے اُس وقت اس کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ رشتہ داری اچھی چیز ہے۔ پھر ایک وقت اُس کے اہل و عیال اور متعلقین بھی اس کے کام نہیں آ سکتے اور اس کے ملنے والے اور دوست احباب اسکی مدد کرتے ہیں ایسے وقت میں اسکی نظر اپنے دوستوں پر پڑتی ہے اور وہ سمجھتا ہے دوست احباب بھی دنیا میں بہت مفید ہوتے ہیں جو آڑے وقت کام آتے ہیں۔ پھر کبھی ایسا زمانہ اُس پر آتا ہے کہ دوست بھی اس کا ساتھ نہیں دے سکتے ایسے اوقات میں وہ بعض دفعہ بعض نظاموں کی طرف توجہ کرتا ہے اور وہ سلسلہ یا جماعت جس سے وہ تعلق رکھتا ہے اس کی مدد کرتی ہے۔ اس طرح جب کئی دفعہ اس کا کام بن جاتا ہے تو اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ نظام سے تعلق اچھی بات ہے اور سلسلہ یا جماعت سے اس کی وابستگی بڑھ جاتی ہے۔ پھر کوئی وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اس کے اہل و عیال‘ رشتہ دار‘ دوست احباب کوئی بھی اس کی مدد نہیں کر سکتے بلکہ نظام بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اُس وقت حکومت جس کے ساتھ وہ تعلق رکھتا ہے اس کی مدد کرتی ہے تب وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ حکومت بھی اچھی چیز ہے۔ پھر کوئی وقت ایسا بھی آتا ہے کہ حکومت بھی انسان کا ساتھ نہیں دے سکتی ایسے وقت میں عام انسانی ہمدردی اس کے کام آتی ہے۔ انسانی ہمدردی کی لہر ایک ملک یا کئی ممالک یا دنیا میں پیدا ہوتی ہے اور اس کی تائید میں انسانی ہمدردی کی ایک ایسی رَو پیدا ہوتی ہے کہ وہ کامیاب ہو جاتا ہے تب اس کی نظر تمام دنیا پر پڑتی ہے اور وہ سوچتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسانوں میں کیسا عجیب رشتہ قائم کیا ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کے اہل و عیال‘ دوست احباب‘ قوم یا نظام‘ حکومت اور انسانی ہمدردی کی مدد سے بھی اسے کامیابی ناممکن نظر آتی ہے۔ ایسی صورت میں کامیاب ہونے پر وہ سمجھتا ہے میری کامیابی میں کچھ حصہ غیبی امداد کا بھی ہے اور جس حد تک اسے غیبی امداد کا یقین ہوتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ یہ کام خدا تعالیٰ نے کر دیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کام اس نے خود کیا یا رشتہ داروں‘ دوستوں نے کیا‘ نظام نے کیا‘ قوم یا حکومت نے کیا یا عام انسانی ہمدردی نے کیا‘ وہ بھی سب خدا تعالیٰ نے ہی کیا تھا۔ لیکن ان میں چونکہ ظاہر ذرائع موجود تھے خدا تعالیٰ کی طرف اس کی نظر نہیں اُٹھی تھی لیکن جب اسے کچھ غیبی امداد کا خیال ہوا اُس وقت اسے خدا تعالیٰ کا خیال آیا۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ کچھ بھی اس کے کام نہیں آ سکتا اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات رہ جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے سوا اُسے اور کچھ نظر نہیں آتا ایسے وقت بے اختیار ہو کر اس کے منہ سے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ نکلتا ہے۔ جب اسے کامیابی کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تو اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اُس کے منہ سے نکلتا ہے۔ دراصل اس میں اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے کہ ہر حکومت‘ ہر قوم‘ ہر انسان پر ایسا زمانہ آتا ہے جب تمام انسانی تدابیر اس کے لئے باطل ہو جاتی ہیں۔ قرآن میں بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے وقت مشرک اور دہریہ بھی بے اختیار ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس کی مثال دی ہے کہ جب طوفان بپا ہوتا ہے تو مشرک بھی کہہ اُٹھتے ہیں کہ اِس وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔ وہ وقت دراصل اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہنے کا ہوتا ہے۔ اُس وقت انسان کا قلب اور احساسات پورے طور پر یقین رکھتے ہیں کہ اِس وقت خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔ زلزلہ عظیمہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق آیا اُس وقت لاہور میڈیکل کالج کا ایک طالب علم جو روزانہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق بحث مباحثہ بلکہ مخول کیا کرتا تھا جس وقت اُس نے محسوس کیا کہ اب چھت گر کے ہی رہے گی اور یقین ہو گیا کہ اب کوئی طاقت بچا نہیں سکتی تو بے اختیار اس کے منہ سے رام رام نکلنے لگا۔ اگلے دن اُس کے دوستوں نے جب پوچھا کہ تمہیں اُس وقت کیا ہو گیا تھا اور تم نے کیوں رام رام پکارا جو کہ ہندئووں میں خدا کے لئے ہی بولا جاتا ہے تو اُس نے کہا معلوم نہیں اُس وقت کچھ عقل ہی ماری گئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت اُس نے عقل سے کام لیا جب بچانے والے دنیوی اسباب اس کی نظر سے پوشیدہ ہو گئے تو اُس ذاتِ خداوندی کے سوا کوئی مدد گار سوجھائی نہ دیا۔ دراصل جب تک ایسے انسان کو دوسرے ذرائع نظر آتے رہیں وہ اُدھر متوجہ رہتا ہے لیکن جب کوئی اور نظر نہ آئے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جب تک دوسرے اسباب نظر آتے رہیں اُن کی خوشامدیں اور بُرائیاں کرنے میں مصروف رہتا ہے لیکن جب سب طرف سے مایوسی ہو جائے تو خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ پکار اُٹھتا ہے۔ میں نے جنگِ عظیم کا ایک واقعہ پہلے بھی کئی بار سنایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں دہریہ بھی خدا تعالیٰ پر ایمان لے آتے ہیں۔ ۱۹۱۸ء میں جب جرمنی نے اپنی ساری طاقت جمع کر کے اتحادی افواج پر حملہ کر دیا تو انگریزی فوج پر ایک وقت ایسا آیا کہ کوئی صورت اس کے بچائو کی نہ رہی۔ سات میل لمبی لائن تہہ و بالا ہو گئی کچھ حصہ فوج کا ایک طرف سمٹ گیا اور کچھ حصہ دوسری طرف اور درمیان میں اتنا خلا پیدا ہو گیا کہ جرمنی افواج وہاں سے گذر کر پیچھے سے حملہ کر کے تمام فوج کو تباہ کر سکتی تھیں۔ اُس وقت جرنیل نے کمانڈر انچیف کو اطلاع دی کہ یہ حالت ہے اور میرے پاس سپاہی اتنے نہیں کہ اس صف کو درست کیا جا سکے۔ یہ ایسی حالت تھی کہ وہ سمجھتے تھے آج ہماری تمام فوج تباہ ہو جائے گی اور انگلستان اور فرانس کا نام و نشان دنیا سے مٹ جائے گا۔ انگریز کمانڈر انچیف نے اُس وقت وزارت کو تار دی کہ یہ وقت انتہائی بے بسی کا ہے ہماری صف ٹوٹ چکی ہے اور ہر لمحہ تباہی کا خطرہ لاحق ہے۔ جب یہ تار پہنچا تو وزیر اعظم دیگر وزراء کے ساتھ مل کر کوئی مشورہ کر رہا تھا۔ اُس وقت فوج نہ تو موجود ہی تھی اور اگر موجود بھی ہوتی تو بروقت امدادکے لئے نہیں پہنچ سکتی تھی۔ بیشک یورپ کا مذہب عیسائیت ہے لیکن اگر اس کی چھان بین کی جائے تو وہ بھی اندر سے بالکل کھوکھلا ہے اور اہل یورپ درحقیقت مادہ پرست اور دہریہ ہیں۔ لیکن اُس وقت وہ مادہ پرست یورپ جس کی نگاہ کبھی خداتعالیٰ کی طرف نہیں اُٹھتی اُس کی ایک زبردست مادہ پرست حکومت کا سب سے بڑا سردار جو اپنی طاقت و قوت اور شان و شوکت کے گھمنڈ میں مست رہتا تھا اس نے بھی محسوس کیا کہ اس وقت کوئی ظاہری مدد نہیں جو ہمیں اس مصیبت سے نجات دلا سکے۔اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور کہا آئو خدا سے دعا کریں کہ وہ ہماری مدد کرے۔ چنانچہ وہ سارے گھٹنوں کے بل جھک گئے اور خدا تعالیٰ سے دعا کی۔ کیا تعجب ہے کہ اُن کی دعا ہی کے نتیجہ میں وہ تباہی سے بچ گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وہ ہر ایک کی دعا سنتا ہے خواہ وہ دہریہ ہو یا مشرک۔ ہاں جب وہ انبیاء یا ان کی جماعت کے مقابلہ میں ہوتے ہیں اُس وقت بے شک اُن کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ لیکن اُس وقت یہ حالت نہیں تھی وہاں دو مشرک آپس میں لڑ تے تھے۔ تعجب نہیں اگر ان کی دعا قبول ہو گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کر دیئے کہ جرمن سپاہیوں کو خبر نہ ہو سکی کہ ان کے سامنے فوج کی صف ٹوٹ چکی ہے۔ اگر انہیں اس کا علم ہو جاتا تو آج دنیا کا نقشہ ہی بدلا ہوا ہوتا اور جرمنی بجائے اتحادیوں کو تاوان ادا کرنے کے آج اُن سے تاوان لے رہا ہوتا۔ اُس وقت کمانڈر اِنچیف نے اپنے سٹاف کے ایک افسر کو بلایا جو ابھی زندہ ہے اور خاص اِسی وجہ سے بہت مشہور ہو چکا ہے۔ اُسے کہا اِس وقت یہ حالت ہے اور سوائے تمہارے مجھے کوئی ایسا افسر نظر نہیں آتا جو اس کا انتظام کر سکے۔ پس تم جائو اور مجھ سے دوسرا سوال مت کرو ایسے موقع پر وہ کہہ سکتا تھا کہ عجیب مصیبت ہے فوج تو دی نہیں جاتی مگر کہا جاتا ہے کہ دشمن کا مقابلہ کرو۔ مگر وہ افسر بھی سمجھ گیا کہ اِس وقت فوج کا مہیا کرنا ناممکن ہے اس لئے فوراً چلا گیا۔ اُس افسر نے موٹر لی اور سیدھا اُس مقام پر پہنچا جہاں لاکھوں آدمی لڑ رہے تھے وہاں ہزاروں آدمی اُن کی خدمت کیلئے بھی ہوتے ہیں مثلاً درزی‘ دھوبی‘ موچی‘ مہتر وغیرہ۔ اس نے جاتے ہی ایسے لوگوں کو جمع کیا اور کہا تمہارے دلوں میں بھی خواہش ہوگی کہ ہمیں ملک کے لئے لڑنے کا موقع کبھی نہیں دیا گیا۔ پس آج تمہارے لئے موقع ہے ہماری صف ٹوٹ چکی ہے ملک کی نگاہ اِس وقت تم پر پڑ رہی ہے تم آگے بڑھو اور صف بندی کردو۔ اس پر جو کچھ کسی کے ہاتھ آیا لیکر چل پڑے اور جا کر صف بندی کر دی اور یہ نظر آنے لگا کہ صف کھڑی ہے۔ اسی طرح چوبیس گھنٹہ تک مقابلہ کیا گیا یہاں تک کہ دوسرے علاقوں سے فوج سمیٹ کر وہاں جمع کر دی گئی۔
    یہ مادہ پرستوں کا نظارہ ہے۔ اُس وقت انہیں اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ ۱؎کہنے کے سِوا چارہ نظر نہ آیا۔ پس جب خدا کے سِوا کوئی مدد کرنے والا نظر نہیں آتا اُس وقت دہریہ بھی خدا کا قائل ہو جاتا ہے اور کہتا ہے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ۔
    میں اپنی جماعت سے پوچھتا ہوںاگر ایسی حالت میں دہریہ بھی خدا کو پکارتا ہے تو وہ جماعت جو خدا تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کیلئے کھڑی ہوئی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ ہماری ساری قوت‘ ساری طاقت اور سہارا خدا ہی کے سامنے جھک جانے میں ہے اسے کیا کرنا چاہئے۔ ہماری جماعت کمزور ہے اور دشمن قوی‘ ہمارے پاس اس کے مقابلہ کے لئے نہ آدمی ہیں نہ طاقت اور نہ ہی کوئی اور ذریعہ اِس واسطے ہمارا ایک ہی کام ہونا چاہئے کہ خدا کے سامنے جھک جائیں اور کہیں اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ وقت کی نزاکت اور شیطانی حملہ کی شدت کا پوری طرح احساس کرے اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے کیلئے اس کے سامنے جھک جائے کیونکہ اس کی مدد کے بغیر ہم میں دشمن کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے جس وقت اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے تو پھر وہ کامیاب ہو جاتا ہے کیونکہ خدا کا ہاتھ تو وسیع اور اُس کی طاقتیں بہت بے پایاں ہیں۔ جس طرح اُس کی ذات محدود نہیں اسی طرح صفات کے لحاظ سے بھی وہ بے پایاں ہے۔ اسی سے دعا کرنی چاہئے کہ جو مشکلات ہمیں درپیش ہیں خواہ وہ مالی لحاظ سے ہوں یا عزت کے لحاظ سے یا کسی اور قسم کی سب میں وہ ہماری مدد کرے اُس کے سوا ہم کسی اور سے مدد کی امید نہیں رکھ سکتے۔ پس اُس کے سامنے گِر جانا چاہئے تا اگر ہمارے قصوروں نے اس کی نصرت کو پیچھے ڈال دیا ہو تو اپنے فضل و کرم سے غضب اور ضلالت کی حالت سے نکال کر ہمیں اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۲؎ کے گروہ میں داخل کر دے۔ پس میں دوستوں سے دوبارہ کہتا ہوں کہ وہ دعائوں پر بہت زور دیں اور اللہ تعالیٰ سے نصرت مانگیں۔ کیونکہ بغیر اس کے ہمارے لئے ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔
    (الفضل ۲۱۔ جون ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ الفاتحۃ: ۵ ۲؎ الفاتحۃ: ۷



    ۱۶
    ایمان کی مضبوطی کے ساتھ اعمال کی خوبصورتی ضروری ہے
    (فرمودہ ۲۱۔ جون ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر۔ کشمیر)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    دنیامیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے ایک ایسی ذمہ داری عائد کی ہے جو اپنے اندر بہت سی نوعیتیں رکھتی ہے اور جس کی بہت بڑی طاقت ہے۔ جس طرح ایک درخت کی پہلے جڑھ ہوتی ہے پھر شاخیں اور اس میں شبہ نہیں کہ جب تک جڑھ مضبوط نہ ہو اُس وقت تک درخت پوری غذا لے کر بڑھ نہیں سکتا اور جب تک بڑھے نہیں اُس وقت تک شاخیں اور پتے بھی نہیں نکال سکتا۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ خوبصورتی اور نفع شاخوں میں ہی ہے ایک نہایت خوبصورت درخت کی شاخیں کاٹ ڈالو تو کوئی بھی اسے دیکھ کر خوش نہ ہوگا۔ یوں تو عام چیزیں اچھی ہی ہوتی ہیں لیکن بعض وہ ہوتی ہیں جو اپنی طرف نظر کو کھینچتی ہیں۔ ایک خوبصورت‘ سرسبز گھنے پتوں والا درخت انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے لیکن اگر اس کی ٹہنیاں کاٹ ڈالیں تو وہی بدصورت ہو جائے گا اور کسی کو بھی اپنی طرف نہ کھینچے گا۔
    دین میں جڑھ ایمان ہے جب کسی انسان کو ایک خدا کا جو کہ تمام صفات سے متّصف ہے پتہ لگ جاتا ہے تو وہ ہر قسم کے شرک سے پاک ہو جاتا ہے اور توحید کا مقام حاصل کر لیتاہے۔ اس توحید کی تعلیم زمانہ کے نبی کے ساتھ تعلق پیدا ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔
    مگر باوجود ایمان کی تجلی کے انسان میں خوبصورتی نہیں آتی جب تک اعمال صالحہ کی سبز ٹہنیاں اور پتے اسے نہ لگیں اور جب تک ان پتوں اور شاخوں کے ذریعہ خوبصورتی نہ پیدا ہو اس وقت تک لوگ اُس کی طرف رجوع بھی نہیں کرتے۔ جڑھ خواہ کیسی ہی مضبوط کیوں نہ ہو مگر شاخوں کے بغیر ایک درخت درخت نہ کہلائے گا۔ برخلاف اس کے ایک چھوٹا سا درخت جس کی ایک جڑھ ہو اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق شاخیں بھی رکھتا ہو تو لوگ اُسے درخت کہیں گے اور گذرنے والے اُس کی طرف مسرت کی نظر بھی ڈالیں گے۔ اسی طرح وہ شخص جو ایمان کے لحاظ سے پختہ ہو خوبصورتی اُسی وقت اُسے حاصل ہو گی جبکہ اعمالِ صالحہ اور اخلاقِ حسنہ کی شاخیں اور پتے اُسے لگیں گے۔ اعمالِ صالحہ اور اخلاقِ حسنہ صرف رحم کا نام نہیں کہ ایک شخص ہر وقت رحم سے کام لیتا ہے تو اُسے صالح کہا جائے نہ ہی اعمالِ صالحہ صرف ذکر اللہ کا نام ہے۔ اس کی مثال ایسے درخت کی ہوتی ہے جو صرف ایک دو شاخیں رکھتا ہو۔ ایسے درخت کو لوگ کبھی خوبصورت نہ کہیں گے اور نہ اس کے سایہ کے نیچے آ کر بیٹھنے کی کوشش کریں گے۔ اس ملک کا نہایت سایہ دار درخت چنار ہے۔ اب اگر اس درخت کی تمام شاخیں کاٹ دی جائیں تو کون اس کی طرف رجوع کرے گا اور کون اس کے سایہ کے نیچے بیٹھنے کی خواہش رکھے گا۔ اس کے مقابل پر گلاب کے ایک چھوٹے سے پودہ کو لیں لوگ اس کی خوبصورتی سے فائدہ اُٹھائیں گے۔
    پس گو ایمان اور یقین نہایت ضروری اور پہلی چیز ہے لیکن جب تک کوئی شخص اعمال کی گو ناگوں باتیں حاصل نہیں کرتا تب تک لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے اور نفع پہنچانے کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے باوجودیکہ بعض لوگ اپنے ایمان میں کامل ہوتے ہیں مگر اعمال سے خالی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ٹھوکر کا موجب ہو جاتے ہیں۔ ایسا شخص جو کہ اعمال کی کمزوری کی وجہ سے نافع الناس نہ ہو اور کسی کے کام نہ آنے والا ہو جس جگہ بھی رہتا ہو اس کے محلہ کے لوگ بجائے اس کے کہ اُس کی طرف رجوع کریں اُسے نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ وجہ یہ کہ اُس کے ایمان کی جڑھ کے ساتھ اعمال کی شاخیں نہ ہونگی۔ پس خالی جڑھ کی طرف توجہ کرنا کافی نہیںہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاخیں بغیر جڑھ کے نہ پیدا ہو سکتی ہیں نہ قائم رہ سکتی ہیں لیکن اعمال کا ہونا ضروری ہے۔
    اعمال کے نقص کی وجہ سے انسان بجائے نفع رساں ہونے کے مضرّت رساں ہو جاتا ہے۔ مثلاً کسی کوچغلی کی عادت ہوتی ہے جس سے وہ لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے باوجودیکہ اس کے اندر ایمان کی خوبی موجود ہوتی ہے۔ یا مثلاً بعض کو دوسروں کی تحقیر کرنے کی عادت ہوتی ہے خواہ ایسا شخص رحم اور احسان بھی کرے مگر ایسے طریق سے کرے کہ احسان کے ساتھ دوسرے شخص کی تحقیر بھی ہو جائے مثلاً ایسا شخص جب کسی فقیر کو کبھی دیگا تو پیسہ وغیرہ تحقیر کے ساتھ پھینک کر دے گا تو بسااوقات ایک شخص احسان کرتے ہوئے ساتھ ہی دوسرے کی تحقیر بھی کر دیتا ہے مگر کوئی خوددار شخص عزت برباد کرنا نہیں چاہتا۔
    پس صحیح طریق یہ ہے کہ انسان ایمان کے ساتھ اعمالِ صالحہ اور اخلاقِ حسنہ حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جس قدر کسی کی طاقت ہو اس قدر کرے۔ اس سے وہ اپنی حالت میں ایک پورا درخت ہو جائے گا جو کم وبیش دوسروں کے لئے فائدہ کا موجب ہو گا۔ اس کے اندر حُسنِ سلوک کی عادت ہو‘ احسان کرنے کا مادہ ہو‘ لوگوں کی مدد کرنے اور بھلائی کرنے کی عادت ہو الغرض تمام قسم کی نیکیاں کم و بیش اس کے اندر ہوں اور عیوب کو اپنے اندر سے دور کر دے پھر جو کمیاں رہ جائیں گی ان کی لوگ پرواہ نہیں کرتے۔ لیکن ہر قسم کی نیکیاں انسان کے اندر ضرور ہونی چاہئیں تب ہی اس کے اندر سرسبزدرخت والی خوبصورتی پیدا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی مضبوطی کے ساتھ اعمال کی خوبصورتی عطا فرما کر ایک سرسبز خوبصورت اور نفع رساں درخت بنائے۔ آمین
    (الفضل ۹۔جولائی ۱۹۲۹ئ)






    ۱۷
    خدا کے احسانوں میں سے ایک بہت بڑا احسان
    نبی کی بعثت ہے
    (فرمودہ ۲۸۔ جون ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر۔ کشمیر)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    اللہ تعالیٰ کا کوئی کام بے وجہ اور بے سبب نہیں ہوا کرتا ۔ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی جو وہ کرتا ہے یا چھوٹی سی چھوٹی بات بھی جو وہ کہتا ہے حکمت سے بھری ہوتی ہے۔ خالق و مخلوق میں یہی فرق ہے کہ جو کام مخلوق بِالا رادہ کرتی ہے ان میں سے کئی کام فضول ہوتے ہیں اور کئی کام عادتوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ دنیا میں غور کر کے دیکھ لو کوئی آدمی ایسا نہ ہو گا جسے کوئی نہ کوئی عادت نہ ہو۔ کسی کو ہاتھ ہلانے کی عادت ہوتی ہے‘ کسی کو اُنگلیاں چٹخانے کی عادت ہوتی ہے ‘کسی کو بعض مقامات کے کُھجلانے کی عادت ہوتی ہے غرض کوئی ایساانسان نہیں نکلے گا جسے کوئی نہ کوئی عادت نہ ہو۔ وہ اپنی عادت کے ماتحت کام کرتا چلا جائے گا اور ان کاموں کی حکمت بیان نہ کر سکے گا بلکہ دریافت کرنے پر متردّدہو کر خیال کرے گا کہ مجھے یہ عادت ہے بھی یا نہیں۔
    مگر اللہ تعالیٰ کے ہر فعل میں حکمت ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں قانونِ قدرت کے ماتحت پیدا شُدہ چیزوں میں سے کوئی حکمت سے خالی نہیں خواہ چھوٹی سے چھوٹی کیوں نہ ہو انسان کو چاہئے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے۔ کوئی زمانہ تھا کہ درختوں کے صرف پھلوں کو مفید سمجھا جاتا تھا کہ ان سے بھوک دور ہوتی ہے باقی چھال‘ پتے‘ لکڑی وغیرہ کسی کام کی نہیں خیال کی جاتی تھی پھر زمانہ آیا لکڑی کو بھی مفید اشیاء میں سمجھا جانے لگا۔ پھرآہستہ آہستہ بیج کا مفید ہونا معلوم ہو گیا اور چھال اور پتوں کے کارآمد ہونے کے متعلق بھی یقین پیدا ہو گیا غرضیکہ کوئی حصہ بھی غیر مفید نہ سمجھا گیا۔ پتے جن کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ کسی کام کے نہیں ہوتے کچھ عرصہ کے بعد معلوم ہو گیا کہ یہ مختلف کیمیاوی اجزاء رکھتے ہیں جن کے ذریعہ انسانی قویٰ کو طاقت حاصل ہوتی ہے۔ کمزور زمینوں میں کھاد کی صورت میں ڈالے جانے سے طاقت بخشتے ہیں۔ غرض آہستہ آہستہ دنیا نے ترقی کی اور وہ چیزیں جو فضول نظر آتی تھیں وہ مفید نظر آنے لگیں۔ انسانی فُضلات کو ہی لے لیں کانوں کا فضلہ‘ ناک کا فضلہ‘ منہ کا فضلہ ‘ پاخانہ‘ پیشاب وغیرہ بدترین فضلے سمجھے جاتے ہیں اور انسان پوری کوشش کرتا ہے کہ ان سے بچے۔ مگر طب اور زراعت نے بتایا کہ ان میں بہت سے فوائد ہیں۔ کان کی میل آنکھ کے علاج کے لئے بڑی مفید ثابت ہوئی ہے‘ پیشاب زخموں کو اچھا کرنے میں مفید پایا گیا کہ جبکہ ابھی علمِ جراحی نے ترقی نہ کی تھی اور ANTISEPTIC طریقے معلوم نہ ہوئے تھے ایک صوفی نے تو یہاں تک لکھ دیا تھا کہ انسان کے لئے اس کے اندر مکمل علاج موجود ہے۔ اب اور بھی سائنس ترقی کر رہی ہے۔ پچھلے زمانے میں جو چیزیں صرف کھاد کا کام دیتی تھیں اب ان کے اور بھی فوائد ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔
    غرض ہم پہاڑوں کی چوٹیوں پر قیام کریں یا سمندر کی تہہ میں چلے جائیں کسی جگہ نظر کریں خدا کی پیدا کردہ ہر چیز میں فوائد نظر آئیں گے۔ اب تک جس قدر تجربہ ہو چکا ہے اس سے یہی ثابت ہوا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز محض ضرر رساں نہیں بلکہ جنہیں محض ضرر رساں خیال کیا جاتا ہے ان میں بھی فوائد ہیں۔ سانپ کو بہت ضرر رساں سمجھا گیا ہے مگر بہت سی لاعلاج بیماریوں کا اس کے زہر سے علاج کیا جاتا ہے اور لوگ ان بیماریوں سے شفا حاصل کرتے ہیں۔ سنکھیا زہرِ قاتل ہے لیکن اس سے بھی بہت بڑی دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے۔ جہاں اس سے ہزاروں جانوں کا نقصان ہوتا ہے وہاں لاکھوں انسان اس سے شفا پاتے ہیں۔ یہی سنکھیا پرانے بخاروں کو توڑنے میں اکسیر ثابت ہوا ہے۔ جو لوگ بخار میں مبتلاء ہو کر دوائی کرتے کرتے تھک جاتے ہیں انہیں سنکھیا کی ایک خواک سے فائدہ ہو جاتا ہے پس ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء میں کوئی بھی فوائد سے خالی نہیں۔
    یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے تمہید ہے اس امر کی جو میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں۔ خداتعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کی خوبیاں بیان کرنا اِس وقت میرا مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ جب ہم اُن چیزوں میں بھی جنہیں مُضِرّ خیال کیا جاتا ہے فوائد دیکھتے ہیں تو جو چیزیں ہمارے لئے فائدہ رساں ہیں ان کی کیسی قدر کرنی چاہئے اور ان کا ہمارے لئے مہیا کیا جانا خداتعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے۔ خدا تعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک انبیاء کا وجود ہے مگر بہت سے لوگوں کو ٹھوکر لگی ہے وہ خیال کرتے ہیں شریعت کا لانا ہر نبی کیلئے ضروری ہے۔ نادان نہیں جانتے کہ دنیا میں خدا نبی کس غرض کیلئے بھیجتا ہے۔ نبی کی بعثت کی غرض لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا ہوتا ہے۔ وہ خدائی تعلیم پر چل کر لوگوں کو بتاتا ہے کہ خدا تم سے یہ چاہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب جو اِن کے بے وارث اور یتیم ہونے کی حالت میں کیا گیا آخر اس کا کیا سبب تھا؟ پھر حضرت موسٰی ؑحضرت عیسٰی ؑ وغیرھم من الانبیاء کا انتخاب جو کیا گیا۔تو کیوں؟ کیوں نہ کسی بڑے آدمی کا انتخاب کیا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہ سوال بھی ہوا۔ ایک شخص جو شرک کے خلاف وعظ کیا کرتا تھا اس نے کہا اگر خدا نبوت کیلئے منتخب کرتا تو مجھے کرتا اس لئے میں نہیں مانتا۔ تو یہ سوال ہوتا ہے کہ کیوں خدا ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے کسی بڑے آدمی کا انتخاب کیوں نہیں کرتا۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے جو لوگوں کیلئے نمونہ ہو۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی انبیاء نمونہ تھے۔ خدا تعالیٰ جو تعلیم دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجتا ہے اس کے ساتھ ہی ایسے شخص کو بھی بھیجتا ہے جو اس تعلیم کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کا عملی نمونہ تھے۔ حضرت عیسٰی ؑانجیل کے حضرت موسیٰؑ تورات کے۔ جب قرآن کریم اُترا تو ساتھ ہی مجسم قرآن یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا۔ حضرت عائشہؓ سے کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق دریافت کیا کہ کیسے تھے تو انہوں نے فرمایا۔ کان خلقہ القران ۱؎ آپ کا خُلق قرآن تھا جو کچھ اس میں ہے اس کا عملی نمونہ آپ تھے۔ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح بیان کرنے کی بجائے کہہ دیا قرآن پڑھ لو جو کچھ اس میں ہے وہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پایا جاتا تھا۔
    غرض انبیاء کا وجود دنیا میں نمونہ ہوتا ہے۔ جس طرح نمونہ سے ٹھوکر نہیں لگ سکتی اسی طرح انبیاء کے وجود کے ساتھ بھی ٹھوکر نہیں لگ سکتی۔ انبیاء لوگوں کو زندہ کرنے آتے ہیں ان سے پہلے لوگ مُردہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مُردوں کو زندہ کیا۔ ایمانداروںکو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ یایھا الذین امنوا استجیبوا للّٰہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم ۲؎ کہ اے لوگو! اللہ اور رسول کی بات مانو وہ تمہیں زندہ کرنے کیلئے بلاتا ہے۔
    ہمارے زمانہ میں بھی ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ میں بھی دنیا کو زندہ کرنے آیا ہوں۔ خدا کے کلام کو سمجھانا‘ معارف و حقائق بتانا‘ لوگوں کو روحانی طور پر زندہ کرنا‘ نمونہ بننا یہ وہ کام ہیںجو خدا کے برگزیدہ دنیا میں مبعوث ہو کر کرتے ہیں۔ ان کے ذریعہ جو زندگی حاصل ہوتی ہے اس سے قطعاً یہ مراد نہیں کہ نبی جسمانی مُردوں کو زندہ کرتا ہے بلکہ عملی زندگی اور اخلاقی زندگی ہے۔
    انبیاء کی جماعتوں میں اور دوسرے لوگوں میں کھانے پینے پہننے ظاہری زندگی میں فرق نہیں ہوتا بلکہ یہی فرق ہوتا ہے کہ ان کی عملی‘ اخلاقی حالت نہایت اعلیٰ ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کیلئے نمونہ ہوتے ہیں اگر نبی کی جماعت میں کسی داخل ہونے والے کے اندر یہ بات پیدا نہ ہو تو وہ سمجھے اس کے اندر وہ غرض و غایت جس کے لئے نبی مبعوث ہوتے ہیں پیدا نہیں ہوئی اور جب تک کسی قوم میں یہ باتیں پیدا نہ ہوں وہ ترقی نہیں کر سکتی۔
    ہمیشہ مأمور خدا سے یہ وعدہ لے کر آتے ہیں کہ جو قوم ان کے ساتھ شامل ہوگی اسے وہ کامیابی تک پہنچا ویں گے اور باقی لوگ ذلیل ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ شامل ہونے والے ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ یقین رکھتے ہیں ان کی قربانیاں ضائع نہیں ہونگی جیسے زمیندار زیادہ سے زیادہ غلہ بوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مجھے اس کا فائدہ ہوگا اسی طرح مؤمن بھی قربانی کرنے سے ڈرتا نہیں۔ وہ جانتا ہے اگر آج اس کا فائدہ ظاہر بین لوگوں کو نظر نہیں آتا تو جلد ہی وہ اس زمانہ کو پالیں گے جس میں اس کے فوائد مشاہدہ کر لیں گے۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں لوگ زمین خرید کر آئندہ نسلوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اسی طرح مؤمن کی قربانی بھی آئندہ نسلوں کیلئے مفید ثابت ہوتی ہے۔ میں نے ایران کے بادشاہ کا قصہ کئی دفعہ سنایا ہے وہ اپنے وزیر کے ساتھ ایک کسان کے پاس سے گزرا جو ایک ایسا درخت لگا رہا تھا جس کے پھل کو وہ خود نہیں کھا سکتا تھا بلکہ اس کی نسل فائدہ حاصل کر سکتی تھی۔ بادشاہ نے کہا۔ میاں کسان! تم کو اس کے لگانے سے کیا فائدہ؟ اس نے جواب دیا بادشاہ سلامت! پہلوں نے یہ پیڑ لگائے تو ہم نے پھل کھائے اب ہم لگائیں گے تو ہمارے بعد آنے والے کھائیں گے۔ بادشاہ کا دستور تھا جب وہ کسی بات پر خوش ہوتا تو زِہ کہا کرتا۔ جس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ ہم اس شخص کی بات پر بڑے خوش ہوئے ہیںاسے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی دی جائے۔ چنانچہ بادشاہ کو کسان کی بات پسند آئی اور اس نے زِہ کہا۔ اس پر وزیر نے ایک تھیلی کسان کے حوالے کی۔ تھیلی لے کر میاں کسان بولے بادشاہ سلامت! دیکھا اس درخت نے تو لگاتے لگاتے پھل دے دیا۔ یہ بات بادشاہ کو پھر اچھی لگی اور اس نے زِہ کہا وزیر نے ایک اور تھیلی کسان کے حوالے کر دی۔ پھر تھیلی لے کر کسان نے کہا بادشاہ سلامت! اور لوگ جو درخت لگاتے ہیں وہ سال میں صرف ایک دفعہ پھل دیتے ہیں مگر میرے درخت نے تو لگاتے لگاتے دو دفعہ پھل دیدیا۔ بادشاہ کو اس بات نے اور بھی خوش کیا اور اس نے پھر زِہ کہا اور وزیر نے تیسری تھیلی کسان کے حوالے کر دی۔ آخر بادشاہ نے حکم دیا کہ یہاں سے چلو ورنہ یہ بوڑھا تو ہمیں لوٹ لے گا۔ ۳؎
    پس بعض قربانیاں ایسی کرنی پڑتی ہیں جن کا نفع فوری طور پر نظر نہیں آتا مگر ان کے پس پردہ بہت عظیم الشان فوائد ہوتے ہیں۔ انبیاء کے حقیقی متبعین بھی قربانیاں کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور باقی لوگ ذلیل و خوار۔ حضرت عیسیٰؑ کے حواریوں کو دیکھو ان پر کیا کیا ظلم و ستم کئے گئے۔ پہلی اور دوسری صدی میں ان پر سخت مظالم ڈھائے گئے وہ مصائب کا تختہ مشق بنائے گئے مگر انہوں نے صبر سے مظالم کو برداشت کیا اور قربانی پر قربانی کرتے گئے حتیّٰ کہ تیسری صدی میں جا کر انہیں آزادی حاصل ہوئی جب کہ روما کا بادشاہ عیسائی ہو گیا۔ میں نے وہ غاریں دیکھی ہیں جو روما کی غاریں کہلاتی ہیں۔ وہ خدا کی جماعت ان غاروں میں چھُپ کر گذارہ کرتی تھی تا کہ مخالفین کے مظالم سے بچے۔ وہ غاریں اتنی وسیع ہیں کہ اگر ان کو پھیلایا جائے تو دو سَو میل سے کم لمبائی نہ ہوگی۔
    ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم بلحاظ ایمان کے پتھر کی چٹان کی طرح ثابت ہوں کچے ایمان تو پہلے بھی موجود تھے مأموروں کا کام نئی زندگی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ انبیاء کی جماعتوں کے ہر فرد کو سمجھنا چاہئے کہ میرے ہی ذریعہ دنیا کی نجات ہوگی میں نے ہی سب کام کرنا ہے‘ میں انجن ہوں باقی سب گاڑیاں ہیں جب تک یہ احساس نہ ہو اُس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔ سچا موحّد انسان اس صورت میں بن سکتا ہے کہ وہ سمجھے دنیا میں وہ اکیلا ہی کام کرے گا۔ سورۃ فاتحہ میں اِیَّاکَ نَعْبُدُ ۴؎ جو آیا ہے اس میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے۔ ہر شخص کہتا ہے اِیَّاکَ نَعْبُدُ گویا وہ اپنے آپ کو آگے کھڑا کرتا ہے اور باقیوں کو اپنے ساتھ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی قسم کے چالیس مومنوں کی خواہش رکھتے تھے کہ اگر ہماری جماعت میں پیدا ہو جائیں توپھر تمام دنیا کا فتح کرنا آسان ہو جاتا ہے اور یہ ایمان بجز خدا کے برگزیدہ کے اور کوئی پیدا نہیں کر سکتا جنہیں خداتعالیٰ خود انتخاب کر کے دنیا میں مبعوث فرماتا ہے۔ یہ لوگ آگ کا حکم رکھتے ہیں جو خس و خاشاک کو جلا دیتی ہے جب ان کا ظہور دنیا میں ہوتا ہے تو ان کے ذریعہ ضلالت و گمراہی کے سب پردے چاک ہو جاتے ہیں اور ان کا متبع ایک کامل ایمان حاصل کر کے خدا کی طرف جھکتا ہے۔ اگر ایسا ایمان نصیب ہو تو یہی کامیابی کی راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم ایسا ایمان حاصل کریں۔ آمین
    الفضل ۲۳۔ جولائی ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ مسند احمد بن حنبل جلد ۶ صفحہ۹۱
    ۲؎ الانفال: ۲۵
    ۳؎ مجانی الادب فی حدائق العرب جُز ۲ صفحہ۱۶۴
    ۴؎ الفاتحہ: ۵






    ۱۸
    اپنی مدد آپ کرو
    (فرمودہ ۵۔ جولائی ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر۔ کشمیر)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    قرآن مجید میں ہماری تمام ترقیوں اور کامیابیوں کے گُر بتائے گئے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے نہایت اختصار کے ساتھ اور اجمالی رنگ میں تمام حاجتوں کے حل کرنے کے گُر بتا دیئے ہیں اور ایسی دعا سکھائی ہے جس سے مشکلات دور ہو سکتی ہیں۔
    بہت سے لوگ دنیا میں تعاون کے غلط مفہوم کی وجہ سے دھوکا کھاتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ انسان کو ایک دوسرے کی مدد کے لئے پیدا کیا گیا ہے جانوروں کی طرح نہیں۔ انسان آپس میں تقسیمِ عمل کرتے ہیں جانوروں میں یہ نہیں ہوگا۔ مثلاً ایک شیر اپنی ضرورتیں خود پوری کرے گا اور وہ اپنے کھانے کے شکار کے لئے دوسرے شیر کا محتاج نہ ہو گا۔ مگر انسان کوئی بھی ایسا نہیں جس کی ضروریات مختلف لوگوں سے متعلق نہ ہوں۔ انسان تعاون سے ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔ اگر ایک انسان جنگل میں چلا جائے اور وہاں اپنا گذارہ جڑی بوٹیوں اور پتوں کے کھانے سے کرے تو کوئی اسے باہوش اور عقلمند نہیں کہے گا بلکہ وہ پاگل کہلائے گا۔ جو خاصیتیں ایک شیر میں کمال کہلاتی ہیں وہ انسان کو ناقص ثابت کرتی ہیں یعنی شیر جس طرح زندگی بسر کرتا ہے اگر اسی طرح انسان بھی کرنے لگے تو وہ ناقص سمجھا جائے گا۔ انسان میں شہریت اور مدنیت کا مادہ پایا جاتا ہے لیکن اسی مدنیت کا غلط اور بے جا استعمال اس کے اندر غلطی پیدا کر دیتا ہے مثلاً عمدہ خوراک زیادہ استعمال کرنا‘ زیادہ آرام کرنا‘ زیادہ سونا‘ زیادہ پینا یہ سب کام اندازہ سے زیادہ کرنے سے انسان بیمار ہو جائے گا اور اس طرح اس کے لئے مدنیت مُضرّ ہو جاتی ہے۔ یہ امر صحیح ہے کہ انسان تعاون کا محتاج ہوتا ہے لیکن صحیح تعاون کے معنی ہیں اپنی ذمہ داری ادا کر دینا اور دوسرے کو اس کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلانا۔ ایسا شخص جو اپنی ذمہ داری کو خود ادا نہ کرے بلکہ دوسروں کی طرف دیکھے یعنی ایسا مدنی الطبع انسان جو اپنے کاموں کا انحصار دوسروں پر رکھے مشرک ہوتا ہے کیونکہ جو شخص اپنا کام خود نہیں کرتا بلکہ دوسروں پر چھوڑ دیتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ وہ خدا کی دی ہوئی طاقتوں سے کام نہیں لیتا۔ ایسا انسان دینی لحاظ سے مشرک کہلائے گا اور دنیوی لحاظ سے اپاہج اور ذلیل۔ ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک سپاہی اونٹ پر سوار گذر رہا تھا کہ کچھ فاصلہ پر سڑک کے کنارے دو آدمی لیٹے پڑے تھے انہوں نے جب دیکھا کہ سڑک پر سے کوئی آدمی گذر رہا ہے تو آواز دے کر اسے اپنے پاس بلایا۔ جب سپاہی ان کے پاس گیا تو ایک نے کہا بھائی میری چھاتی پر ایک بیر پڑا ہے اُٹھا کر میرے منہ میں ڈال دینا۔ یہ سن کر سپاہی حیران ہو گیا کہ یہ کونسی بڑی بات تھی جس کے لئے مجھے بلایا گیا اور میرے کام کا حرج کیا۔ اس پر اُسے غصہ آیا اس نے کہا یہ سُست اور بے وقوف انسان ہے کہ چھاتی پر سے بیر اُٹھا کر بھی منہ میں نہیں ڈال سکتا۔ اس نے جو پاس ہی لیٹا تھا سپاہی کو مخاطب کر کے کہا بھائی! ایسے بے وقوف پر ناراض نہ ہو یہ تو ایسا نکمّا اور سُست ہے کہ ساری رات کُتّا میرا منہ چاٹتا رہا ہے مگر اس نے ہُش تک نہیں کی کہ وہ ہٹ جاتا۔ سپاہی یہ سن کر اور بھی حیران ہوا اور انکی سستی کا خیال کر کے ہنسنے لگا۔
    یہ مثال ان لوگوں کے متعلق بنائی گئی ہے جو دوسروں پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں کہ اپنا معمولی سے معمولی کام بھی خود نہیں کرتے ورنہ ایسا واقعہ حقیقت میں نہ ہوا ہو گا۔ ایسی حالت کا پیدا ہو جانا قومی تنزّل کی علامت ہے۔ سورۃ فاتحہ میں اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ۱؎ میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں سکھائی ہیں اور یہ تینوں باتیں انسانی کمال اور ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ اوّل مدنیت یعنی تعاون‘ تعاون کا مطلب یہ ہے کہ انسان لوگوں کے فائدہ کے کام کرے اور اس نیت سے نہ کرے کہ لوگ اس کا کریں گے بلکہ دوسروں کے احساسات اور ترقی کا اس کو خیال ہو۔ دوسرے محنت کرنے والا خود عمل کرے اور عمل کے بعد نتائج کی طرف نگاہ ڈالے۔ تیسرے۔ دوسرے انسان پر توکّل نہ کرے۔ غرض خود عمل کرنا‘ دوسروں پر توکّل نہ کرنا‘ دوسروں کی بھلائی کے لئے کوشش کرنا اور دوسروں کی مدد پربھی بھروسہ نہ کرنا‘ عمل کر کے اپنی ترقی کی راہیں نکالنا‘ جو اللہ تعالیٰ کے فیض ہوں انہیں اس طرح مانگنا کہ وہ اپنے لئے ہی نہ ہوں بلکہ ساری دنیا کے لئے ہوں‘ ملک پر بھی ہوں‘ قوم پر بھی ہوں‘ محلہ والوں پر بھی ہوں اپنے خاندان کے افراد پر بھی ہوں‘بیوی بچوں غرضیکہ ساری دنیا پر ہوں نَسْتَعِیْن میں جو استعانت طلب کی گئی ہے وہ مخفی رکھی ہے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا اور دعا کرنا خود ایک کام ہے یعنی پورے طور پر عابد ہونا۔ یہ عام طور پر مشہور ہے ’’بندگی بیچارگی‘‘ عمل سے مدد مانگنا اصل مدد مانگنے کا طریق ہے۔ کوئی کسی کو مارے پیٹے اور پھرساتھ ہی اسے کہے کہ مجھے کچھ دو۔ پھر لوگوں پر نگاہ نہ ہونے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قانون بنایا ہے اس کے نیک نتائج پیدا کرے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو آ کر لحاف اوڑھایا ہو یا کھانا منہ میں ڈالے بلکہ اس کا قانون مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی امداد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے پیدا کردہ قانون کے ماتحت جو کام ہوتے ہیں ان کے اندر جو باریک در باریک مشکلات ہوتی ہیں ان سے بچانا۔ پس استعانت کے معنی ہیں نیک نتائج کا نکلنا اور کمزوریوں کا دور ہونا۔ پس ایّاکَ نَسْتَعِیْن کا یہ مطلب ہے کہ ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے بھائیوں کے لئے بھی۔ عبودیت سے کام کرتے ہیں تیرے سوا کسی سے مدد نہیں مانگتے۔ مدد لینا بُری بات نہیں ہے لیکن دوسرے انسان کو مدد دینے کے لئے کہنا بُری بات ہے۔ اگر تم کوئی کام کرنے لگے ہو۔ اور تمہارے محلے کا آدمی آ کر تمہاری مدد کرنے لگے تو یہ بُری بات نہیں ۔ بُری بات یہ ہے کہ تم کام کرنے سے پہلے دوسرے کی امداد کی انتظار کرو۔ محلہ والے کا خود آنا تو اچھی بات ہے لیکن یہ امید رکھنی کہ وہ آئے تو کام کیا جائے تو یہ بے غیرتی ہے پس یہ تینوں باتیں جو انسانی ترقی کے لئے ضروری ہیں ایک جملے میں آ گئیں۔
    مسلمانوں کے تنزّل کا سارا باعث یہی ہے کہ انہوں نے ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ پنجاب‘ یوپی‘ سی پی اور یہاں کشمیر کا ہی یہ حال نہیں تمام مسلمانوں کا یہی حال ہے۔ ہر جگہ کے مسلمانوں کو یہ انتظار ہے کہ کوئی اور آئے اور ان کی مدد کرے۔ حالانکہ ہر روز جو انسان نماز پڑھتا ہے۔ کم از کم چالیس بار روزانہ دن میں سورۃ فاتحہ پڑھتا ہے اور با ربار یہ اقرار کرتا ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ اکثر لوگ کرتے اس کے خلاف ہیں۔
    آج کل جہاں دیکھو اور جس ملک میں جاؤ ہٹّے کٹّے مشٹنڈے مسلمان سوال کرتے نظر آئیں گے حالانکہ اسلام میں سوال کرنا منع ہے۔ ایک بار نبی کریم ﷺ کے پاس ایک سوالی آیا۔ حضور نے اسے کچھ دیدیا۔ پھر آیا تب بھی کچھ دیدیا اور پاس بٹھا کر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کو سوال کرنا پسند نہیں ۲؎ اور اسے دعائیں سکھلائیں اس کے بعد اس نے سوال کرنا چھوڑدیا اور محنت کر کے کھانے لگا۔صحابہ میں اس قدر غیرت تھی کہ ایک دفعہ جبکہ گھمسان کی جنگ ہو رہی تھی ایک صحابی کا جو گھوڑے پر سوار تھا کوڑا گر پڑا۔ دوسرے صحابی جو پاس تھے کوڑا اُٹھا کر دینے لگے تو سوار صحابی نے انہیں خدا کی قسم دیکر کہا ایسا نہ کرنا حضرت نبی کریم ﷺ نے سوال کرنے سے سخت منع فرمایا ہے۔ اگرچہ میں نے زبان سے سوال نہیں کیا تاہم خود کوڑا نہ اٹھانا سوال ہی کی شکل ہے۔ میں خود اُٹھاؤں گا ۳؎ اسی طرح حضرت عمرؓ کے وقت آپ نے ایک شخص کو سوال کرتے دیکھا۔ اور اس کی جھولی چھین لی اور اسے چھاتی پر مُکّا مارا اور فرمایا سوال کیوں کرتا ہے جا کر محنت کرو۔ ۴؎
    آج کل مفلس لوگ تو الگ رہے سب کے سب کسی نہ کسی رنگ میں سوالی ہیں۔ غریب بیچارے تو کچھ پاس نہ ہونے کی وجہ سے سوال کرتے ہیں لیکن امراء جن کے پاس سب کچھ ہوتا ہے حُکّام کے دروازوں کے سامنے بیٹھے خطاب مانگتے ہیں گویا مانگنے کی دونوں کو عادت ہے جیسے روٹی کا ٹکڑا مانگنا ہے ویسا ہی خطاب مانگنا ہے۔
    مسلمان خود محنت نہیں کرتے دوسرو ں پر بھروسہ رکھتے ہیں اور یہی مسلمانوں کی تباہی کی بڑی وجہ ہے۔ وہ اپنے دلوں میں ایک غلط عقیدہ جمائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ کہ عیسیٰ آسمان سے آئے گا اور انہیں ساری دنیا کی دولت‘ مال ‘اسباب خود گھر بیٹھے بٹھائے دے دے گا یہ ان کی بے ہمتی اور بے غیرتی کی وجہ سے ہے۔ اب صحابہ کرامؓ کے زمانہ سے نسبتاً دولت بھی زیادہ ہے۔ تعلیم بھی زیادہ ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے اسباب بھی زیادہ ہیں مگر وہی سُست الوجود والی بات ہے کہ سپاہی اونٹ پر سے اُترے اور چھاتی پر سے بیر اُٹھا کر منہ میں ڈالے یہ خود کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جب بلقان کی جنگ شروع تھی اور میں حج پر گیا تو ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ میں اُس سے تلوار لیکر دیکھنے لگا تو اس نے کہا بچنا لگ نہ جائے۔ وہ سمجھتا تھا کہ میں نے تلوار کبھی دیکھی نہیں۔ میان سے نکال کر میں نے اسے پوچھا اسے کہاں استعمال کیا کرتے ہو؟ کہنے لگا جب دشمن کا حملہ ہو۔ میں نے کہا دشمن نے تو حملہ کیا ہوا ہے پھر تمہیں کس وقت کی انتظار ہے۔ کہنے لگا ہمیں لڑنے کی کیا ضرورت ہے عیسیٰ جب آسمان سے آئے گا تو لڑائی کرے گا اور سب ملک فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آ جائیں گے اکثر مسلمانوں کا یہی خیال ہے۔
    آج اس بھروسہ کی وجہ سے مسلمانوں کا حال دیکھو کیا ہو گیا۔ ایک وقت تھا جب مسلمان ساری دنیا کے بادشاہ تھے۔ آج انگریزوں کی طاقت بڑی سمجھی جاتی ہے حالانکہ یہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ۔ اُس وقت دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک مسلمانوں کی حکومت تھی۔ بعد میں جب پھر دو حکومتیں ہو گئیں تو ایک کا صدر مقام بغداد تھا اور دوسری کا سپین ۔ مگر آج مسلمانوں نے چونکہ خود کام کرنا چھوڑ دیا ہے اس لئے قوتِ عملیہ جاتی رہی اور وہ ہر لحاظ سے گر گئے۔ ایک دفعہ میں لاہور میں مشن کالج کے پاس سے گزرا۔ اُس وقت میاں محمد شریف صاحب ای۔اے۔سی اور چوہدری فتح محمد صاحب سیال جو آج کل صیغہ دعوت و تبلیغ کے ناظر ہیں میرے ساتھ تھے ایک طالب علم جو انگریزی طرز کا لباس پہنے ہوئے تھا مشن کالج سے نکلا دروازے کے سامنے ذرا سی دیر ٹھہرا اور مشن کالج کی عمارت کو دیکھ کر سرہلا کر بولا ۔ مسیح آئے گا تو سب کچھ ہمارے ہی قبضہ میں آ جائے گا۔
    یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے حضرت نبی کریم ﷺ کی ہتک کی اور کہا حضرت عیسیٰ ؑ آسمانوں پر زندہ موجود ہیں مگر رسول کریم ﷺ زمین میں مدفون ہیں اس کے نتیجہ میں خداتعالیٰ نے بھی کہا تم نے میرے رسول کی ہتک کی اور اسے نیچے رکھا تم بھی نیچے رہو گے اور عیسیٰ ؑکو جس کو تم نے اوپر چڑھایا اس کی قوم یعنی عیسائی تمہارے اوپر رہیں گے۔ ہندو جب حُکّام کو ملنے جاتے ہیں تو وہاں جا کر دوسرے کے لئے سفارش کرتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں کے لئے یہ کرو مگر مسلمان جب جائیں گے اپنے لئے ہی مانگیں گے۔ اس وجہ سے حُکّام کے دلوں میں انکی بے قدرتی ہو جاتی ہے ہر مسلمان سب کچھ اپنے لئے مخصوص کر لینا چاہتا ہے۔ مگر ہندو چونکہ قوم کی ہمدردی اپنے دل میں رکھتا ہے اور دوسروں کے مفاد کے لئے کوشش کرتا ہے اس لئے حاکم پر اچھا اثر پڑتاہے اور اسکی طرف زیادہ متوجہ ہو کر اس کا کام کرتا ہے۔ مسلمان کی حتی الوسع یہ کوشش ہو گی کہ دوسرا مسلمان ذلیل ہو مگر ہندو دوسرے ہندو کی ترقی اور بہتری کا خواہاں ہو گا۔
    عیسائی قوموں کو دیکھیں۔ ان کے مشنری اپنے ملکوں سے کس قدر دور دراز فاصلہ پر چلے جاتے اور ہسپتال کھولتے ہیں۔ غریبوں اور بیماروں کی خبر گیری کرتے ہیں۔ ہندوؤں نے بھی عام لوگوں کی خدمت کی کئی سوسائٹیاں بنائی ہوئی ہیں۔ ہر جگہ اور ہر سٹیشن پر سیواسمتی والے مسافروں کو پانی پلاتے ہیں۔ مسلمان بھی بے غیرتی سے ان سے مانگ کر پانی پی لیتے ہیں مگر یہ نہیں محسوس کرتے کہ انہیں بھی ایسی خدمت کے کام اپنے ذمہ لینے چاہئیں۔ جو باتیں مسلمانوں نے چھوڑ دی ہیں جب تک وہ دوبارہ ان میں پائی نہ جائیں۔ کبھی اور کسی حال میں ترقی نہیں کر سکتے۔ محنت کی عادت ڈالیں‘ دوسروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں خدمت خلق کو اپنا فرض سمجھیں تب وہ ترقی کر سکتے ہیں۔ کون کہہ سکتا تھا کہ عیسائی اس قدر ترقی کریں گے مگر جب عیسائیوں نے وہ اصول اختیار کر لئے جن کے ذریعے مسلمانوں نے اس قدر ترقی کی تھی تب وہ دنیا کی بڑی اور طاقتور قوموں میں شمار ہونے لگے۔ سپین میں مسلمانوں کی حکومت کا مرکز تھا وہاں دیکھئے مسلمانوں کا نام و نشان نہیں رہا۔ مگر اسلام کی اچھی باتیں آج تک ان عیسائی عورتوں میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاًپردہ۔ سپین کی عیسائی عورتیں پردہ کرتی ہیں مگر مسلمان جنہوں نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا تھا ان کا نام و نشان نہیں رہا۔ اسلام چونکہ اچھی چیز تھی اِس وقت تک اس ملک میں اسلام کی خوبیوںکا نقش موجود ہے۔ گو مسلمان اپنی غفلت کی وجہ سے مٹا دیئے گئے۔
    یہاں کشمیر میں بھی یہی مرض پایا جاتا ہے اس لئے میں نے اپنے خطبے اس طرز کے بیان کرنے شروع کئے ہیں کہ مسلمانوں میں عمل نہ کرنے کی وجہ سے جو پستی ہے اس میں تبدیلی پیدا ہو۔ کیونکہ جب تک مسلمان اپنی مدد آپ نہ کریں گے‘ محنت نہ کریں گے‘ دیانتداری سے کام نہ کریں گے‘ اپنے آپ کو مفید نہ بنائیں گے‘ مصیبت زدوں کی امداد نہ کریں گے تب تک ترقی نہ ہو گی۔ اگر مسلمان یہاں ایک عام لوگوں کی خدمت کرنے والی سوسائٹی بنا لیں‘ مصیبت زدوں کی امداد کریں‘ ہندو مسلمان کی تمیز چھوڑ دیں تو سب چھوٹے بڑے‘ ہندو سکھ‘ عیسائی ایسا کام کرنے والوں کو عزت کی نظر دیکھنے لگیں گے۔
    یہاں کشمیر کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے جب میں ۱۹۲۱ء میں یہاں آیا تو اسلام آبا د میں ایک گبہ ماپ دیکر بنوانے کا آرڈر دیا جب وہ تیار کر کے لایا تو اصل ناپ سے جو اسے بتایا گیا تھا کچھ کم تھا۔ ہم نے کہا کہ تمہارا تو وعدہ تھا اور قیمت کے ساتھ یہ معاہدہ تھا کہ اتنی رقم تب دی جائے گی جبکہ اس ناپ کا گبہ بنا کر لاؤ گے۔ اس کے جواب میں اس نے کہا جی میں مسلمان ہوں۔ گویا اس کے نزدیک مسلمان کے لئے بددیانتی اور وعدہ خلافی کوئی بُری بات نہیں۔
    مسلمانوں کو چاہئے خدا تعالیٰ کی امداد کے طالب ہوں۔ دوسروں پر توکّل نہ کریں بلکہ خود عمل کریں اور خدا تعالیٰ کے ماننے والوں میں سے ہوں۔
    (الفضل ۱۹۔جولائی ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ الفاتحۃ: ۵
    ۲؎ سنن نسائی کتاب الزکوٰۃ باب الیدالعلیا
    ۳؎ ابن ماجہ کتاب الزکوٰۃ باب کراھیۃ المسئلۃ
    ۴؎ تاریخ عمر بن الخطاب (عربی) صفحہ ۱۷۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۱ء


    ۱۹
    خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرو
    (فرمودہ ۱۲۔ جولائی ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر۔ کشمیر)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث ہو کر ظاہری لحاظ سے انسان پہلے سے زیادہ مشکلات میں مبتلاء ہو جاتا ہے اور اس نکتہ کے نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ حق سے محروم رہ جاتے ہیں اور منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔ عام طور پر لوگ دعائیں کرتے ہیں تو اس رنگ میں کہ خدایا! ہمارے سب نقصوں کو دور کر دے اور ہمارے اندر خوبیاں پیدا کر دے اور قدرتی طور پر یہی بات کہنی بھی چاہئے کیونکہ جب تک بیماری دور نہ ہو صحت نہیں ہو سکتی۔ پس جب لوگ دعا کرتے ہیں تو پہلے عیب کے مٹ جانے کی اور پھر خوبی کے پیدا ہونے کی کرتے ہیں۔
    لیکن سورۃ فاتحہ ہم اس کے خلاف بات پاتے ہیں۔ بظاہر پہلے کمالات کے حصول کی دعا ہے اور پھر یہ دعا ہے کہ ہم مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ یا ضَّالِّیْنَ نہ ہو جائیں۔ حالانکہ عام قاعدہ کی رو سے یہ چاہئے تھا کہ دعا اس طرح ہوتی کہ ہم مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ اور ضَّالِّیْنَ ہونے سے بچیں اور منعم علیہ گروہ میں داخل ہوں کیونکہ انعام بعد میں ہو سکتا ہے پہلے نقائص کا دور ہونا ضروری ہے۔
    یوں بھی جب ہم دنیا کی باقی چیزوں پر غور کرتے ہیں تو یہی پاتے ہیں۔ انسان ہی کو لو پہلے بچہ ہوتا ہے پھر جوان ہو جاتا ہے پہلے کمزور حالت ہوتی ہے پھر طاقت آ جاتی ہے۔ مگر سورۃ فاتحہ میں اس عام قاعدہ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ ایسا کیوں کیا گیا؟ خدا تعالیٰ کا کلام تو اس کے فعل کے مطابق ہونا چاہئے سو جاننا چاہئے- کہ درحقیقت اس جگہ وہ ترتیب ہی مدنظر نہیں جو خیال کی گئی ہے۔ وہ کمزوریاں جن کے دور ہونے کے بعد ترقی ہوتی ہے ان کے لئے سورۃ فاتحہ میں دعا موجود ہے- اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ۱؎ میں استعانت کا جو ذکر ہے وہ انہی کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ اسی طرح رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ میں اور اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۲؎ اورمٰلِکِ یَوْمِ الدِّیِنِ ۳؎ میں مخفی طور پر کمزوریوں کے دور ہونے کی دعا موجود ہے۔ پس جب عابد اِن صفاتِ الٰہیہ کا ذکر کر کے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے اور ساتھ ہی کہتا ہے مولیٰ! تیری مدد اور نصرت کے بغیر مَیں ہرگز مقام عبودیت کو نہیں پہنچ سکتا تو اُس وقت گویا وہ ایسے مقام کو پہنچ گیا جس میں اس کے عیوب و نقائص دور ہو گئے۔ اور پھر اگلے مقام کے حصول کے لئے دعا کرتا ہے اور کہتا ہے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ- صِرَاط الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔ ۴؎ یعنی اے خدا ! اب مجھے اپنے منعم علیھم بندوں میں شامل فرما لے۔
    دنیا میں دو قسم کے غلام ہوتے ہیں۔ ایک کفش بردار جو ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہتے ہیں اور ترقی نہیں کرتے۔ دوم وہ جو مصاحبت کا رنگ اختیار کر کے ترقی کرتے ہیں۔ جیسے بادشاہ کے وزیر اور دربان دونوں غلام ہوتے ہیں۔ مگر ایک کی حیثیت بجز کفش بردار کے کچھ نہیں ہوتی۔ وہ اسی حالت میں رہتا ہے۔ اور دوسرا اُس مقام کو پہنچ جاتا ہے کہ بادشاہ اس کے پوچھے اور صلاح لئے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔
    تو اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَکی دعا میں یہ بتایا ہے کہ اے ہمارے آقا! ہماری کمزوریوں کو دور فرما کر ہمیں ایسے مقام تک پہنچا دے کہ ہم تیرے مقرب بن جائیں۔ اور تُو ہماری مرضی کو اپنی رضا کے مطابق بنا دے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں سالک اپنے آقا کی مرضی کے ماتحت چلتا ہے اور آقا سالک کی مرضی کا لحاظ رکھتا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ غَیْرِ المَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ کی دعاکی غرض کچھ اور ہے نہ کہ وہ جو بظاہر خیال کی جاتی ہے۔
    منعم علیھم گروہ میں داخل ہونے کی دعا کے بعد عابد کہتا ہے غَیْرِ المَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ یعنی اے آقا!مجھے مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ اور الضَّالِّیْنَ ہونے سے بچانا۔ انسانی حالت بھی بعینہٖ یہی ہے پہلے بچہ ہونے کی حالت میں کمزور ہوتا ہے پھر جوان ہو کر مضبوط ہو جاتا ہے اس مضبوطی اور ترقی کے بعد پھر وہ زمانہ آتا ہے کہ بوڑھا ہو کرکمزور ہو جاتا ہے حتیٰ کہ ہوش و حواس قائم نہیں رہتے۔ ایسے بڑھاپے سے بچنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے دعا سکھلائیہے کہ اے اللہ! ایسا بڑھاپا نہ آئے جس میںنکمّا ہو جاؤں اور عقل ماری جائے۔ ۵؎
    انسان کو جسمانی کمزوری دو طرح سے لاحق ہوتی ہے۔ اوّل طاقتوں کے غلط استعمال سے دوسرا بڑھاپے کی وجہ سے ۔ ایسا ہی منعم علیہ انسان بھی دو طرح سے روحانی نقصان اٹھاتا ہے (۱)مَغْضُوْبِ عَلَیْہ بن کر یعنی جن چیزوں پر اُسے حق نہیں اُن پر قبضہ جمانا شروع کر تا ہے اور اس طرح نقصان اٹھاتا ہے۔ جیسے ایک غلام خلافِ مرضی اپنے مالک کی کچھ لے لے۔ مالک ایک چیز دے اور وہ دو لے لے۔ (۲) ضال بن کر یعنی منعمِ حقیقی تو چیز عطا کر دیتا ہے مگر منعم علیہ اسے بھول جاتا ہے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔
    سورۃ فاتحہ میں جو دعا سکھلائی گئی اس کے ذریعہ دونوں قسم کے نقصانوں سے انسان بچ سکتا ہے اور یہی دو نقصان یا بالفاظِ دیگر گمراہیاں ہیں جو دنیا میں آتی ہیں۔ انبیاء کے ماننے والوں میں سے مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ لوگ اس طرح پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ خیال کر لیتے ہیں ہمارے لئے کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان کے بعد یہ خیال کر لیا کہ اب نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یا ضالّین پیدا ہو جاتے ہیں یعنی انہیں خدا کی طرف سے نعمت ملتی ہے مگر اس طرف توجہ نہیں کرتے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم ہے کہ شریعت جو نعمت ہے اسے *** قرار دے دیا گیا۔
    یہود باوجود مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ ہونے کے اپنے خیالات کے سخت پابند ہوتے ہیں۔ ایک مسلمان تو امور ِدین میں کوتاہی کر لے گا مگر یہودی نہیں کرے گا۔ ولائت جانے والے اکثر مسلمان جَھٹکا کی دُکان سے گوشت لے کر استعمال کر لیں گے مگر یہودی جو وہاں رہتے ہیں وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے لیکن باوجود اس کے چونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے نبیوں کو ماننے کی ضرورت نہ سمجھی اس لئے مغضوب بن گئے۔غرضیکہ دونوں قسم کی ناشکریاں کی جاتی ہیں۔ ایک اس طرح کہ کوئی چیز ملے اور اس سے زیادہ طلب کی جائے۔ دوسرے یہ کہ کوئی چیز ملے اور اس کی طرف توجہ نہ کی جائے پس سورۃ فاتحہ میں غَیْرِ المَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ کی دعا اِن ہی ناشکریوں سے محفوظ رہنے کے لئے سکھائی گئی ہے۔
    اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ نعمت جو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے اسے لے کر ترقی کرنے کی کوشش کرے۔ زیادہ لینے کے لئے اسے چھوڑنہ دے بلکہ اس کی قدر کرے لاپرواہی سے اسے نظر انداز کر کے بھول نہ جائے۔ مسلمانوں کے تنزل کے اسباب پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے یہی دو قسم کے اسباب ہیں کسی موقع پر تو یہ مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ بن کر ذلیل ہو گئے ہیں اور کہیں ضالّ ہو کر قعرِ مذلّت میں گر گئے۔ مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ کی مثال خوارج ہیں جو انہیں حق نہیں دیا گیا تھا وہ انہوں نے لینا چاہا۔ ولایت ان کو نہیں دی گئی تھی مگر وہ اسے اپنے قبضہ میں سمجھتے تھے۔ اور ضالّین ہونے کی مثال سُنّی لوگ ہیں خلافت کو مانا مگر مشورہ جو اس کے لئے ضروری تھا وہ چھوڑ دیا۔ اس طرح جو نعمت خدا کی طرف سے انہیں ملی تھی اسے ترک کر دیا۔ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے زمانہ میں یہ دونوں باتیں قائم تھیں خلیفہ نسلاً بعدنسلٍ نہیں ہوتا تھا بلکہ انتخاب سے مقرر ہوتا تھا جو اہل الرائے اصحاب سے مشورہ لیتا اور بِلاوجہ کسی مشورہ کو ردّ نہ کرتا تھا مسلمانوں کی رائے کا لحاظ رکھتا تھا بشرطیکہ وہ رائے امورِ دین کے خلاف نہ پڑتی ہو۔ غرض گمراہی کی دوہی حالتیں ہوتی ہیں۔ (۱) کبھی تو ملتا ہے مگر زیادہ طلب کیا جاتا ہے۔ (۲) کبھی خدا دیتا ہے اور بندوں کی طرف سے لینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ آج کل مسلمانوں میں عورتوں کے حقوق ادا نہیں کئے جاتے اس لحاظ سے مرد مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ اور عورتیں ضالّین ہیں۔ مرد اس لئے کہ جو حقوق خدا نے عورتوں کے رکھے ہیں وہ ادا نہیں کرتے اور عورتیں اس لئے کہ وہ اپنے حقوق بُھلا بیٹھی ہیں ان کا مطالبہ نہیں کرتیں۔ آنحضرت ﷺ کے وقت حقوق کا بہت خیال رکھا جاتا تھا ایک دفعہ حضور نے دودھ پیا۔ دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکرؓ -چونکہ شریعت نے دائیں طرف والے کا حق مقدم رکھاہے اس لئے آپ نے اُس لڑکے سے فرمایا حق توتمہارا ہے اگر تم پسند کرو تو ابوبکرؓ کو دیدوں۔ لڑکے نے عرض کی اگر میرا حق ہے تو میں حضور کا تبرک نہیں چھوڑنا چاہتا۔ رسول کریم ﷺ مسکرائے اور دودھ کا پیالہ اُسے پکڑا دیا ۶؎ لڑکے نے دودھ کے لئے یہ نہیں کہا تھا بلکہ تبرک کے لئے کہا تھا۔ غرض اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جو ملتی ہو اُس سے فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور جو نہ ملی ہو اُسے ناجائز طریق سے لینے کی کوشش کی جائے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بڑے بھی ناراض ہو جائیں گے اور چھوٹے بھی۔ بڑے اس لئے کہ چھوٹے حق سے زیادہ طلب کرتے ہیں اور چھوٹے اس لئے کہ بڑے ان کے حقوق ادا نہیں کرتے اس لئے درمیانی راہ اختیار کرنی چاہئے اور وہ یہی ہے کہ نہ حق سے زیادہ طلب کیا جائے اور نہ غیر کے حق کو روکا جائے۔ بالخصوص قومی حقوق کو تو ہرگز روکنا نہیں چاہئے۔ اس سے یہ میرا نہیں کہ فردی حقوق کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ یہ میراد ہے کہ قومی حقوق کے ادا نہ کرنے سے بہت بڑا نقصان ہوتا ہے نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ آج مسلمانوں میں یہ دونوں قسم کے حقوق ادا نہیں کئے جاتے نہ قومی حقوق ادا ہوتے ہیں نہ فردی۔ تمام قسم کے جرائم مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں مگر پھر بھی وہ خیال کرتے ہیں کہ تمام عزتیں ان کا حق ہے اس لئے مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ ہیں۔
    دوم۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ جب ان کی حالت خراب ہو جائے گی اسلام کو چھوڑ دیں گے تو ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو ان کی اصلاح کرے گا اور ان کی حالت کو سنوارے گا مگر ان لوگوں نے اس نعمت کا بھی انکار کر دیا ۔
    اگر مسلمان اپنے حقوق کو سمجھتے‘ اپنے مقام کو سمجھتے تو مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ نہ بنتے مگر نہ انہوں نے اپنے حقوق کو سمجھا اور نہ مقام کو جس کی وجہ سے گر گئے اور پھر جو خدا کی طرف سے علاج آیا اسے بھی قبول نہ کیا۔ اگر اس علاج ہی کو قبول کر لیتے تو بھی غضب کی حالت سے نکل کر منعم علیھم میں داخل ہو جاتے۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مُسلموں اور غیر مُسلموں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ خدا کی دی ہوئی ہدایتوں پر عمل کریں اور منعم علیہ گروہ میں داخل ہوں اور مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ اور ضالّین ہونے سے بچائے جائیں۔ آمین۔ (الفضل ۱۶۔اگست ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ الفاتحۃ: ۵ ۲؎ الفاتحۃ: ۳ ۳؎ الفاتحۃ: ۴
    ۴؎ الفاتحۃ:۶‘۷
    ۵؎ بخاری کتاب الدعوات الاستعاذۃ من ارذل العمرومن فتنۃ الدنیا ومن
    فتنۃ النار
    ۶؎ بخاری کتاب الاشربۃ باب ھل یستاذن الرجل من عن یمینہ فی الشرب
    لیعطی الاکبر

    ۲۰
    سورۃ فاتحہ کے حقائق و معارف
    (فرمودہ ۱۹۔ جولائی ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر۔ کشمیر)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    سورۃ فاتحہ گو ایک نہایت ہی مختصر سورۃ ہے جو صرف سات آیتوں پر مشتمل ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عام مطالب بیان کئے گئے ہیں اور خاص مضامین کو نظر انداز کر دیا گیا ہے لیکن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے سمجھ عطا فرمائی ہے‘ جنہیں معارف کے پہچاننے کی طاقت بخشی ہے اور جنہیں باریکیوں کو دیکھنے کی نظر دی ہے وہ جانتے ہیں کہ ان سادہ اور سات آیتوں میں عام و خاص سب مضامین درج کر دیئے گئے ہیں اسی واسطے قرآن کریم کو سورۃ فاتحہ کے مقابلہ میں قرآنِ عظیم قرار دیا ہے۔ اس طرح سورۃ فاتحہ قرآن صغیر ٹھہری اور قرآن کے سارے مطالب کی حامل ہوئی۔ جیسے انسان عموماً پانچ‘ ساڑھے پانچ‘ چھ فٹ لمبا ہوتا ہے مگر جب کیمرے کے ذریعہ تصویر لی جاتی ہے تو چھوٹی سی تصویر میں سب کچھ آ جاتا ہے حتیٰ کہ مسامات تک تصویر میں آ جاتے ہیں مگر یہ آتشی شیشہ کے اور بغیر غور سے دیکھنے کے نظر نہیں آتے۔ اسی طرح جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے باریک حقائق و معارف دیکھنے کی طاقت دی ہے وہ سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن کے معارف دیکھ سکتے ہیں۔
    ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ اس لئے کہ سارے قرآن کو انسان جلدی نہیں پڑھ سکتا جلد سے جلد ایک دن میں ختم کیا جا سکتا ہے لیکن اس طرح مطالب کی طرف توجہ نہیں کی جا سکتی اسی لئے احادیث میں ایک دن میں قرآن کریم ختم کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ کم از کم تین دن میں یا سات دن میں پڑھنا پسندیدہ ہے ۱؎ پس گو ایک شخص ایک ہی دن میں سارے قرآن کو ختم کر سکتا تھا مگر اس سے منع فرما کر یہ کر دیا ہے کہ سورۃ فاتحہ میں قرآن کریم کے سب مضامین اجمالاً بیان کر دیئے تا کہ جو شخص قرآن کو پڑھ کر اس کے مضامین سے آگاہی حاصل کرنا چاہے وہ سورۃ فاتحہ کو پڑھ کر مجملاً اس کے مضامین سے واقف ہو جائے اور اس طرح اس کیخواہش پوری ہو جائے۔
    بچپن کا ایک خواب مجھے اب تک یاد ہے۔ اس میں مَیں نے ایک ٹن کی آواز سنی جیسے کٹورے پر کوئی چیز مارنے سے آواز نکلتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی وحی کی آواز کو صرف جرس (گھنٹی کی آواز) کے ساتھ تشبیہہ دی ہے یعنی جب وحی ہونے لگتی تو پہلے گھنٹی کی آواز معلوم دیتی پھر اس میں سے کلام پیدا ہونا شروع ہو جاتا۔ میں نے دیکھا وہ ٹن کی آواز پھیلنے لگی حتیٰ کہ مجسّم ہو کر ایک میدان بن گیا تب اس میں ایک چیز نظرآنے لگی پھر آہستہ آہستہ اس کے اعضاء کان‘ آنکھ وغیرہ بن گئے اور وہ تصویر سی ہو گئی۔ پھر میں نے سمجھا یہ فرشتہ ہے اور اس میں حرکت پیدا ہو گئی۔ اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کیا میں تمہیں سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں؟ میں نے کہا سورۃ فاتحہ کی تفسیریں تو بہت لکھی گئی ہیں۔ اس نے جواب میں کہا جس قدر مفسّروں نے تفسیریں لکھی ہیں وہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْم ۲؎ تک رہے ہیں آگے نہیں بڑھے۔ اگرچہ مفسّرین نے اگلے حصے کی بھی تفسیریں لکھی ہیں بلکہ سارے قرآن کی تفسیریں لکھی ہیں مگر اُس وقت میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ واقعی مفسرین نے اس آیت سے آگے تفسیریں نہیں لکھیں تب اس فرشتہ نے مجھے سورۃ فاتحہ کی کئی تفسیریں سکھائیں۔ صبح ہونے تک ان میں سے صرف ایک تفسیر مجھے یاد رہی مگر وہ بھی بعد میں بھول گئی۔ یہ خواب میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو سنایا تو آپ نے پیار سے فرمایا میاں! فرشتہ کی بتائی ہوئی ایک تفسیر تو یاد رکھتے۔ اس کے بعد جب کبھی میں نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی نئے سے نئے مضامین سُوجھے۔ خواب میں جو یہ دکھایا گیا تھا کہ پہلے مفسرین صرف اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمتک پُہنچیہیں آگے نہیں اس پر جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اگلے حصے کی تفسیر بیان کرنا خدا ہی کا فعل ہے کیونکہ انعام‘ غضب‘ ضلالت کی حقیقی کیفیات خدا تعالیٰ ہی بیان کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان مقامات پر پُہنچیہوئے سالک کا درجہ دوسرے کو معلوم نہیں ہوتا۔ سید عبدالقادر صاحب جیلانی ؒ فرماتے ہیں کوئی وقت ایسا بھی آتا ہے کہ سالک کے تعلقات خدا تعالیٰ سے ایسے ہوتے ہیں کہ استاد نہیں جانتا شاگرد کا کیا مرتبہ ہے اور شاگرد نہیں جانتا استاد کا کیا مرتبہ ہے۔
    بچپن میں ہی مَیں امرتسر گیا۔ وہاں خالصہ کالج کے طلباء سے جو بہت مضبوط تھے اور ہمیشہ کھیل میں جیتتے تھے ہمارے سکول کے لڑکے کھیلنے گئے اس میچ کی تقریب پر مَیں گیا۔ جب مقابلہ ہوا تو ہمارے اسکول کے لڑکے جیت گئے۔ وہ ہماری جماعت کے ابتدائی ایام تھے اور ان دنوں احمدیوں کے خلاف خوب کُفر کے فتوے لگائے جاتے تھے۔ مگر اس میچ میں ہمارے لڑکوں کی جیت پر مسلمان کفر کے فتوے بھول گئے اور اس خوشی میں ہمیں ٹی پارٹی دی اور اس موقع پر مجھ سے درخواست کی کہ کچھ بیان کروں۔ میں نے سورۃ فاتحہ پڑھی مگر کوئی بات ذہن میں نہ تھی اس لئے پسینہ پسینہ ہو گیا۔ میں نے خیال کیا اپنے ساتھیوں کو میں اپنی رؤیا کئی بار سنا چکا ہوں آج اگر میں نے انہیں نئی تفسیر نہ سنائی تو یہ کیا کہیں گے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تفسیرسجھائی وہ تیرہ سَو سال میں کسی کو نہیں سُوجھی۔ گو شریعتِ اسلامیہ اب دنیا کے قیام تک بدل نہیں سکتی کسی نبی اور ولی کی طاقت نہیں کہ قرآن کریم کی ایک زیر کی جگہ زبر کر دے تا ہم قرآن کریم چونکہ ہر زمانے کے لئے ہے اس لئے اس کے حقائق و معارف ہمیشہ خدا تعالیٰ کے بندوں پر کُھلتے رہیں گے اور جب تک دنیا قائم ہے یہ سلسلہ ختم نہیں ہو گا۔
    وہ تفسیر جو مجھے اُس وقت سُجھائی گئی اور جسے میں نے اُس وقت بیان کیا یہ تھی کہ سورۃ فاتحہ میں غَیْرِالمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ ۳؎ کی دعا سکھائی گئی ہے یعنی یہ کہ ہم یہودی یا عیسائی نہ بن جائیں اِس دعا کا مقصد ومدعا کیا ہے۔ سورۃ فاتحہ دو دفعہ ناز ل ہوئی ہے۔ پہلی دفعہ مکہ میں اور دوسری دفعہ مدینہ میں۔ مکہ میں مشرکین رہتے تھے ابوجہل‘ عتبہ‘ شیبہ وغیرہ اور انہی سے مقابلہ ہوا۔ یہود و نصارٰی نہ مکہ میں تھے اور نہ ان سے مقابلہ ہوا۔ مدینہ میں جا کر یہود سے مقابلہ رہا۔ نصاریٰ سے صرف دو سال قبل وفات آنحضرت ﷺ مقابلہ ہوا۔ ایسی صورت میں کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وہ سورۃ جو مکہ میں نازل ہوئی اس میں یہ دعا تو سکھلائی کہ ہم یہودی یا نصاریٰ نہ بن جائیں جن کا وہاں نام و نشان بھی نہ پایا جاتا تھا اور یہ دعا نہ سکھلائی کہ ہم مشرک نہ ہو جائیں۔ وہ لوگ جو ہر وقت مسلمانوں کے سامنے شرک کے گند میں متلطخ رہتے تھے ہر وقت ان کے درپے آزار رہتے‘ طرح طرح کے مظالم اُن پر ڈھاتے‘ دکھ پر دکھ پہنچاتے قیاس تو چاہتا ہے اُس وقت یہ دعا سکھائی جاتی کہ ہم مشرک نہ ہو جائیں مگر جو دعا سکھائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم یہود یا نصارٰی نہ ہو جائیں۔
    اس میں خدا تعالیٰ کی کیا حکمت تھی؟ اللہ تعالیٰ نے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ابتدائی ایام میں اپنے رسول کی معرفت پیشگوئی فرما دی تھی کہ مشرکوں کے بُت خانے بالکل مٹ جائیں گے اور ان کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ یہ بات اُس وقت ظاہر فرمائی جب کہ مشرکوں کا بہت زور تھا ان کے بُت خانے بُتوں سے بھرے پڑے تھے اور بظاہر کوئی صورت نہ تھی جس سے سمجھا جائے کہ یہ دنیا سے مٹ جائیں گے مگر خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت یہ مُنادی کرا دی۔ یہی وجہ تھی کہ سورۃ فاتحہ میں مشرک نہ بننے کی دعا سکھلائی گئی کیونکہ شرک کا وجود تو خطہ عرب سے مٹ جانا تھا۔ ہاں یہ دعا سکھلائی کہ ہم یہود و نصارٰی نہ ہو جائیں کیونکہ ان قوموں نے دنیا میں ترقی کرنی تھی اور بُہتوں نے ان کی وجہ سے گمراہی میں پڑنا تھا۔ یہود کو ہلاک کرنے کیلئے کوششیں بھی کی گئیں مگر یہ قوم پھر بھی موجود ہے اور اتنی مالدار ہے کہ تمام حکومتیں اس کی مقروض رہتی ہیں‘ انگریز بھی اس کے مقروض ہیں۔ روس بھی اس کا مقروض ہے اور باوجود اس کے تمام اس کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب کبھی اس کا ذکر آئے گا تو حقارت کا اظہار کیا جائے گا اور جب اس کی وجہ پوچھی جائے تو کہیں گے یہودیوں نے ہمارے ملک کو مقروض بنا رکھا ہے اور نصارٰی کی ترقی تو سب پر ظاہر ہی ہے۔
    غرض یہ سورۃ فاتحہ بظاہر مختصر سورۃ ہے مگر اس میں مسلمانوں پرا تمامِ حجت کر دی گئی ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس کے مضامین سے ناواقف رہا کیونکہ نماز ہر مسلمان پر فرض ہے اور نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری قرار دیا گیا ہے بلکہ نہ پڑھنے والے کے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس کی نماز پورے طور پر نہیں ہوتی اور اس کا یاد کرنا ایسا آسان ہے کہ ایک معمولی سے معمولی سمجھ کا انسان بھی آسانی سے اسے حفظ کر سکتا ہے۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بظاہر سورۃ فاتحہ میں خاص مضامین معلوم نہیں ہوتے مگر مخفی طور پر یہ سورۃ قرآن کریم کے سب مضامین پر مشتمل ہے بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ اس چھوٹی سی سورۃ میں سب مذاہبِ باطلہ کا ردّ موجود ہے۔ چار صفاتِ الٰہیہ کا جو اس میں ذکر ہے انہیں سے غیر مذاہب کی تردید ہوتی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ تمام سلوک کے رستوں کا ذکر اس میں کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ پہلا درجہ کونسا ہے اور دوسرا کونسا۔ ایک اور تعلیم جو اس میں مذکور ہے وہ یہ ہے کہ صرف نام رکھ لینے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ عمل بھی ساتھ نہ ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بھی یہی کہتی تھی کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کے متبع ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم بھی اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتی تھی مگر صرف نام ہی نام تھا عمل نہیں تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک تو مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ میں داخل ہوئی اور دوسری ضالّین میں۔ مسلمانوں کی بھی آج کل یہی حالت ہے کہ وہ صرف نام کے مسلمان ہیں عمل کچھ نہیں ہے۔ احمدیت میں داخل ہونے والوں کو معلوم ہونا چاہئے صرف احمدی کہلانا ہی کافی نہیں جب تک عمل ساتھ نہ ہو۔ صرف نام رکھ لینے کی ایسی ہی مثال ہے کہ نام کو تو ایک شخص عبدالرحمن کہلاتا ہے مگر عملی حالت میں نہایت گندہ ہے اور ساری عمر بد کرداریوں میں گذار دیتا ہے یہ شخص حقیقت میں عبدالرحمن نہیں بلکہ اگر اسے عبدالشیطان کہا جائے تو بجاہوگا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ضلع شاہ پور کی ایک عورت کا واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ اس نے اپنے لڑکے کا نام خان بہادر رکھا اور کسی کے دریافت کرنے پر کہا ہمارے رشتہ دار اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے خان بہادر کا خطاب پاتے ہیں میں غریب عورت تھی اتنی تعلیم دلوانے کی مجھ میں طاقت نہ تھی اس لئے میں نے اپنے لڑکے کا نام خان بہادر رکھ دیا۔ اگر دوسرے خطاب یافتہ ہو کر خان بہادر کہلائیں گے تو اس کا نام ہی خان بہادر ہوگا لوگ اسے بھی خان بہادر کہہ کر پکاریں گے۔
    پس جب تک انسان کے اندر قوتِ عملیہ پیدا نہ ہو اُس وقت تک صرف مسلمان کہلانے سے فائدہ نہیں ہو سکتا۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں آنحضرت ﷺ ہماری شفاعت کریں گے مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر ایسے ہی بے عمل لوگوں کی شفاعت ہوگی تو کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملک اور اپنے رشتہ داروں کے دشمن ہیں کہ ابوجہل‘ عتبہ‘ شیبہ وغیرہ کی شفاعت نہ کریں گے۔ اگر لفظی طور پر کہنا کافی ہو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لوگ قسم کھا کر آپؐ کو کہتے تھے کہ تُو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے مگر اللہ تعالیٰ انہیں منافق قرار دیتا ہے اور منافقین کے متعلق فرماتا ہے۔ ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ۴؎ کہ منافق آگ کے نچلے طبقے میں ڈالے جائیں گے جو عذاب کے لحاظ سے بہت سخت ہوگا۔ تو لفظی طور پرکہنے سے تو وہ بھی مستحقِ شفاعت بنتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ رحیم و کریم انسان تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لعلک باخع نفسک الایکونوا مومنین ۵؎ اس صورت میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابوطالب‘ ابوجہل وغیرہ سب کی شفاعت کریں گے مسلمان کہلانے والوں کیلئے ہی آپ کی شفاعت خاص نہ ہوگی۔
    اصل بات یہ ہے کہ شفاعت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے مگر انہی لوگوں کی جو اس کے مستحق ہونگے نہ کہ بے عمل لوگوں کی جو ساری عمر شفاعت کے بھروسے پر گند میں آلودہ رہتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے آنحضرتﷺ سے کہا آپ تو جنت میںاپنے عملوں کی وجہ سے جائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں مَیں بھی خدا کے فضل سے ہی جنت میں جائوں گا۔ ۶؎ اور یہ سچی بات ہے کیونکہ اگر ہم نماز پڑھتے ہیں تو خدا کی دی ہوئی طاقتوں سے‘ اگر ہم صدقہ و خیرات کرتے ہیں تو خدا کے دیئے ہوئے مال سے۔ غرض ہمارا جو کچھ ہے وہ خدا کا دیا ہوا ہے پھر ہمارے عملوں کی کیا حقیقت ہے جو کچھ ہے خدا ہی کا ہے۔ اگر بندہ باوجود اس کے خدا پر احسان جتائے کہ میں نے یہ عمل کیا وہ کیا تو اس کا احسان ایسا ہی ہوگا جیسے اس مہمان کا احسان میزبان پر تھا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایک شخص کے پاس جا کر مہمان ٹھہرا۔ میزبان نے ہر طرح سے اس کی تواضع کی اچھے اچھے کھانے کھلائے اور ہر قسم کے آرام کے سامان مہیا کئے۔ جب مہمان صاحب رخصت ہونے لگے تو میزبان معذرت کرنے لگا کہ میں آپ کی اچھی طرح خدمت نہیں کر سکا اس لئے مجھے معاف فرمائیے۔ اس پر مہمان صاحب بولے یہ تمہاری معذرت معذرت نہیں بلکہ تم مجھ پر اپنا احسان جتاتے ہو مگر تمہارا مجھ پر کوئی احسان نہیں۔ میں نے تم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ میزبان بہت شریف آدمی تھا اس نے کہا بھائی میں تو پہلے ہی بوجہ اچھی طرح خدمت بجا نہ لا سکنے کے شرمندہ ہوں اگر آپ مجھے اس احسان سے آگاہ فرمائیں گے تو میں اوربھی آپ کا ممنون ہوں گا۔ اس پر مہمان نے کہا کیا یہ کم احسان ہے کہ تمہارے اس کمرے میں جس میں مجھے ٹھہرایا گیا تھا ہزاروں روپیہ کا سامان پڑا ہے جب تم میرے لئے کوئی چیز لانے کیلئے اندر چلے جاتے تھے اس وقت اگر میں سامان کو آگ لگا کر چلا جاتا تو تم میرا کیا بگاڑ سکتے تھے۔
    غرض کہ انسان ہر قسم کی قربانی کر کے بھی خدا تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں جتا سکتا۔ جان سے بڑھ کر تو کوئی چیز نہیں لیکن اگر یہ بھی خدا تعالیٰ کے رستہ میں قربان کر دی جائے تو بھی خدا تعالیٰ کا حق ادا نہیں ہوسکتا کسی نے کیا ہی سچ کہا ہے:
    جان دی‘ دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
    اصل بات یہ ہے اللہ تعالیٰ ہی کا احسان ہوتا ہے کہ انسان اس کی راہ میں کچھ کر سکتا ہے ورنہ انسان کی تو یہ حالت ہے کہ جو کچھ اسے کرنا چاہئے وہ بھی نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو دیکھو وہ مسلمان بننے کیلئے کرتے کراتے تو کچھ نہیں مگر مسلمان کے مسلمان ہیں۔ مسلمانی میں مجال ہے وہ ذرّہ فرق آ جائے۔ اس صورت میں اگر کوئی احسان جتائے تو اس سے بڑھ کے بے وقوفی کیا ہوگی۔ اگر ہم جو کچھ کر سکتے ہیں وہ سب کچھ کریں تب بھی احسان جتانے کے قابل نہیں پھر نہ کرنے کی صورت میں کس طرح احسان جتا سکتے ہیں۔
    اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ صِرَاط الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ میںمسلمانوں کو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ کہو۔ اے خدا! ہمیں صرف نام کے مسلمان نہ بنا بلکہ کام کے مسلمان بنا جن پر تیرے انعام و اکرام ہوتے ہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات پر میں نے عہد کیا تھا۔ یا اللہ! اگر ساری دنیا بھی تیرے مسیح موعود سے منہ موڑ لے تو بھی میں نہ منہ موڑوں گا اور ضرور مسیح موعود کی لائی ہوئی تعلیم کی اشاعت کروں گا۔ جب ہم ایک انسان سے ایسا اقرار کر سکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں ایسا اقرار نہیں کر سکتے۔ کہ یا اللہ! اگر تمام دنیا بھی تجھے چھوڑ دے مگر ہم تجھے کبھی نہ چھوڑیں گے۔
    الغرض نام کے مسلمان ہونا کچھ مفید نہیں۔ کوئی زمانہ تھا یہود اور نصارٰی بوجہ تعلق باللہ معزز تھے‘ خدا کے پیارے سمجھے جاتے تھے‘ نبی بھی فخر کیا کرتے تھے مگر آج وہی الفاظ گالی بنے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ کام کے نہیں صرف نام کے رہ گئے ہیں۔
    پس اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ میں یہ سکھایا گیا ہے کہ اے خدا! ہمیں کام کے مسلمان بنا ہم نام کے مسلمان نہ ہوں کیونکہ نام کی کچھ حقیقت نہیں اصل چیز کام ہے۔ اے اللہ! تُو طالبینِ ہدایت میں کام کرنے کی قوت پیدا کر دے۔ وہ بندوں سے محبت کریں اور بنی نوع کی ہمدردی ان کے دلوں میں راسخ ہو جائے۔ آمین۔ (الفضل ۳۔ اگست ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ کتاب التجدید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح للحسین ابن
    المبارک الزبیدی جلد ۲ صفحہ۱۱۸ مطبوعہ مصر ۱۳۲۳ھ
    ۲؎ الفاتحۃ: ۶ ۳؎ الفاتحۃ: ۷ ۴؎ النسائ: ۱۴۶
    ۵؎ الشعرائ: ۵
    ۶؎ بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومۃ علی العمل


    ۲۱
    مناظرِ قدرت سے صداقتِ اسلام
    (فرمودہ ۲۔اگست ۱۹۲۹ء بمقام آڑو ۔ کشمیر)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    قرآن کریم میں کئی ایسے مضامین آئے ہیں جن کو پہلے زمانہ کے لوگوں نے نہ سمجھا اور ان کے کچھ کے کچھ معنے کئے اس لئے ان پر اعتراض کئے گئے لیکن جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا نئے نئے علوم نکلتے گئے‘ نئی نئی تحقیقاتیں ہوتی گئیں‘ لوگوں کو قرآن کریم کے ان مضامین کا صحیح علم ہوتا گیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ ان میں اسلام کی صداقت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح احادیث میں کئی باتیں ایسی آئی ہیں جن پر پہلے اعتراض کئے گئے مگر علوم کی ترقی ہونے پر ماننے لگے کہ وہ بالکل صحیح اور درست ہیں۔ مثلاً یہی پہاڑ ہیں جن میں سے آج ہم گذرے ان کے متعلق قرآن کریم میں کئی باتیں بیان کی گئی ہیں جنہیں پہلے لوگوں نے نہ سمجھا اور اپنے علم کی کمی کی وجہ سے حیران رہ گئے کہ ان کا کیا مطلب ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں پہاڑوں کے قیام کی ایک غرض یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ والجبال اوتادا ۱؎ جس کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ پہاڑ دنیا کو ہلاکت سے بچانے والے ہیں اس طرح کہ ان کے باعث زلزلوں کی تباہی سے انسان محفوظ کئے گئے لیکن لوگوں نے اس کے معنی نہ سمجھے اور جو دشمن تھے انہوں نے یہ اعتراض کیا کہ قرآن نے پہاڑوں کو میخ قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح کِیلے کے ساتھ گھوڑا بندھا ہوتا ہے اسی طرح زمین پہاڑوںکے ساتھ بندھی ہوئی ہے حالانکہ اس کا مفہوم وہی ہے جو آج علم طبقات الارض سے ثابت ہو گیا ہے کہ پہاڑ زمین کیلئے بطور میخ ہیں جو اسے زلزلوں کی تباہی سے روکتے ہیں وہ زائد گرمی جو زمین کے اندر تھی اور جو ہر چیز کو جھُلس دینے والی تھی اس کے پھُوٹ کر زمین سے نکلنے کی وجہ سے پہاڑ بنے اور اس طرح زمین کو سکون حاصل ہوا اور مخلوق کی رہائش کے قابل بن سکی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا کہ پہاڑوں کے ذریعہ ساری دنیا کو ہلاکت میں ڈالنے والے زلزلے دور ہوئے اور قابلِ رہائش سکون پیدا ہوا۔ اب یہ بات علم طبقات الارض سے اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے۔ پہلے بطور اعتراض کہا جاتا تھا کہ قرآن کی رو سے زمین اس طرح پہاڑوں کے کھونٹوں سے باندھ دی گئی ہے جس طرح گھوڑے کو باندھا جاتا ہے مگر اب دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ واقعی پہاڑوں کے ساتھ کھونٹوں کی طرح ہی زمین بندھی ہوئی ہے۔
    دوسری بات اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ مخلوق کے زندہ رہنے کا سامان پہاڑوں کے ذریعہ قائم ہے یعنی رزق پہاڑوں کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ اس بات کو پہلے لوگ نہ سمجھے تھے کہ کس طرح رزق کا تعلق پہاڑوں سے ہے۔ اب جب کہ ایریگیشن (IRRIGATION) کے سامان نکل آئے ہیں اور پہاڑوں کے متعلق تحقیقات کی گئی ہے تو معلوم ہو گیا ہے کہ پہاڑوں میں جو برف پڑی ہوتی ہے وہ پگھلتی ہے اور اس طرح ندی نالے بن کر میدانوں کو سیراب کرتے ہیں اور کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اس طرح پہاڑ لوگوں کے رزق کا باعث ہیں۔
    جب تک ہندوستان میں نہریں نہ تھیں بڑے بڑے خطرناک قحط پڑتے تھے اور ہزاروں لوگ ہلاک ہو جاتے تھے لیکن جب سے نہریں بن گئی ہیں ایسا نہیں ہوتا۔ مگر دریائوں کے بغیر نہریں نہیں بن سکتیں اور دریا بغیر پہاڑوں کے نہیں ہو سکتے اور پہاڑوں سے بغیر برف کے دریا نہیں نکل سکتے کیونکہ پہاڑوں کے اندر سے اتنا پانی نہیں نکلتا کہ دریا بن جائے بلکہ ان پر برف پڑی رہتی ہے۔ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں کی فضاء چونکہ سرد ہوتی ہے اس لئے وہاں برف جلدی پڑ جاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ پگھلتی رہتی ہے اور اس پانی سے دریا بن کر میدانی علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔ جن سے نہریں نکال کر ملک کو سیراب کیا جاتا ہے۔ اگر ضرورت کے لحاظ سے پانی بارش سے ہی اُترتا تو دنیا تباہ ہو جاتی۔ بارشوں کے ایام میں اتنا پانی برستا کہ تباہ کن سیلاب آ جاتا اور گرمی کے موسم میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ ملتا۔ مگر پہاڑوں کے ذریعہ پانی محفوظ رکھا جاتا ہے کیونکہ اِن پر برف پڑتی ہے جو جمع رہتی ہے اور پھر پگھلتی رہتی ہے اس طرح پانی ملتا ہے اور دنیا کے قیام کا باعث بنتا ہے۔ مگرایک وقت تھا جب لوگ اس بات پر ہنستے تھے کہ پہاڑوں کے ذریعہ رزق کس طرح حاصل ہوتا ہے۔
    اسی طرح کئی باتیں حدیثوں میںپائی جاتی ہے جن پر پہلے اعتراض کئے جاتے تھے مگر اب ان کی صداقت ثابت ہو چکی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل اپنا یا اپنے کسی دوست کا ذکر سناتے کہ انہیں گاڑی میں ایک شخص ملا جس نے مولویوں سے سخت نفرت کا اظہار کیا۔ اس کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے سنایا کہ مجھے ایک مولوی نے تباہ کر دیا تھا۔ اس نے اپنے وعظ میں بیان کیا۔ حدیث میں آتا ہے چاند میں ایک پہاڑ ہے جس سے دریائے نیل نکلتا ہے میں نے چونکہ علم جغرافیہ پڑھا ہوا تھا اس لئے میں یہ سن کر حیران رہ گیا اور میں نے خیال کر لیا جس مذہب میں ایسی دُور اَز علم و عقل باتیں پائی جاتی ہیں وہ ماننے کے قابل نہیں ہے اور میں اسلام چھوڑ کر عیسائی ہو گیا۔ پھر مجھے ایک پادری کے ذریعہ معلوم ہوا کہ عیسائی مشنریوں کی کوشش سے دریائے نیل کا منبع معلوم ہو گیا ہے اور وہ ایک پہاڑ ہے جس کا نام جبل القمر ہے۔ اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی اور مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو اسلام کی صداقت کا ایک ثبوت تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سَو سال پہلے وہ بات بیان فرما دی تھی جو عیسائیوں نے اب دریافت کی ہے اس کے بعد میں نے عہد کر لیا کہ کبھی کسی مولوی کی بات نہ سنوں گا۔
    غرض ہر چیز جو انسان دیکھتا ہے خواہ پہاڑ ہو یا دریا یا کچھ اور اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اسلام کی صداقت کا ثبوت نکال سکتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو اندھے ہوں اور جنہیں روحانی روشنی حاصل نہ ہو۔ لیکن ہماری جماعت کے لئے خدا تعالیٰ نے بہت سے نشان پیدا کر دیئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں کھول دیا ہے کہ کس طرح قرآن کریم کے علوم کی صداقت سائنس سے ثابت ہو سکتی ہے۔ آپ نے فرمایا سائنس قرآن کریم کے خلاف چل ہی نہیں سکتی کیونکہ قرآن خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سائنس خدا تعالیٰ کا فعل اور اس کے قول کے خلاف اس کا کوئی فعل نہیں ہو سکتا۔
    ان اصول کے ذریعہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیش فرمائے ہیں قرآن اور حدیث کے مطالب حل کرنا ایک کھلی بات ہو گئی ہے اور ہمارے دوستوں کیلئے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث پر تدبّر کریں۔ خصوصاً نوجوانوں کو بہت زیادہ توجہ کرنی چاہئے کیونکہ ہر ایک قوم نوجوانوں کی کوششوں سے ترقی کرتی ہے۔ جس قوم کے لوگ پچھلوں کے جمع کئے ہوئے خزانے کھانے بیٹھتے ہیں اور خود ترقی نہیں کرتے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں نے بڑے بڑے علوم ایجاد کئے لیکن بعد میں آنے والوں نے سمجھا اب کوئی علم نہیں نکالا جا سکتا اور انہوں نے ترقی کرنی چھوڑ دی اس وجہ سے تباہ ہو گئے۔ اسی طرح فتوحات کے متعلق ہوا جب تک آگے بڑھتے گئے کامیاب ہوتے گئے لیکن جب ٹھہر گئے تو تباہ ہو گئے۔ غرض جب بھی کسی قوم کے نوجوان اور اگلی نسل یہ سمجھ لیتی ہے کہ جو کچھ کرنا تھا بڑوں نے کر لیا اب ہم کچھ نہیں کر سکتے وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ آگے بڑھنے والی قوم کی ہر نسل کا فرض ہے کہ ہر پہلو سے ترقی کرے اور علوم ایجاد کرے تا کہ قوم کا قدم ایک جگہ ٹھہرا نہ رہے اور تباہی و بربادی کا سامنا نہ ہو۔
    خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق دے۔ بڑوں کو بھی کہ وہ علوم میں ترقی کریں اور نوجوانوں کو بھی کہ خدا تعالیٰ کی کتاب اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام پر غور اور تدبّر کریں تا کہ اپنے لئے‘ جماعت کیلئے اور ساری دنیا کیلئے ترقی کا باعث بنیں۔ آمین
    (الفضل ۱۳۔ اگست ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ النبأ: ۸







    ۲۲
    مومن کیلئے سب سے اہم چیز دل کی پاکیزگی ہے
    (فرمودہ ۹۔اگست ۱۹۲۹ء بمقام پہلگام ۔ کشمیر)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    ہمیں تجربہ سے اور انسان کی بناوٹ اور خلق سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے مؤثر چیز اس کا دل ہے۔ ظاہری اعمال اور افعال جو ہیں وہ بے شک دوسرے انسانوںکی نگاہ میں بہت بڑی حقیقت اور اثر رکھتے ہیں‘ دوسروں کیلئے نیک نمونہ اور نیک تحریک پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں مگر انسان کے اپنے نزدیک اعمال کا وہ درجہ نہیں جو دل کی پاکیزگی اور طہارت کا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو انسان دل کی پاکیزگی میں ترقی کرتا ہے اس کے نزدیک ظاہری عبادت اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنا دل کی پاکیزگی رکھتی ہے لیکن اگر وہ ظاہری عبادت نہیں کرے گا تو اس کے بیوی بچوں کو اور دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہو سکے گا کہ اس کا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق ہے اور نہ اس کے نمونہ سے وہ کوئی فائدہ اُٹھا سکیں گے کیونکہ دوسروں کو کسی کا دل نظر نہیں آتا بلکہ وہ ظاہری اعمال دیکھ سکتے ہیں اور جب کوئی کسی کے ظاہری اعمال دیکھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے اور اس کی نقل کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہ بات انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے کہ جسے وہ اچھا سمجھتا ہے اس کے افعال اور اعمال کی نقل کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ محکوم قومیں حاکم قوم کی نقلیں کرنے لگ جاتی ہیں۔ اب ہندوستان کے حاکم انگریز ہیں۔ ہندوستانی لباس میں‘ کھانے میں‘ گفتگو میں‘ ان کی نقل کرتے ہیں اور جو مال و دولت رکھتے ہیں وہ ان ہی کی طرح مکانات بنواتے ہیں۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ انگریز حاکم ہیں اور محکوم ان کو اپنے سے اعلیٰ سمجھ کر ان کی نقل کرتے ہیں۔ اسی طرح جب گھر کا بڑا آدمی یا استاد یا معلّم یا واعظ یا پِیر ظاہری طور پر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو اس سے تعلق رکھنے والے اس کی نقل کرتے ہیں۔ اسی طرح ظاہری عبادت یہ اثر رکھتی ہے کہ نیکی دوسروں تک پھیلتی ہے اور دوسروں کو بھی دل کی پاکیزگی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ دل کی پاکیزگی انسان کے اپنے ساتھ تعلق رکھتی ہے دوسروں سے اس کا تعلق نہیں ہوتا اس لئے انسان کے اپنے لحاظ سے اور اس کی پیدائش کی غرض کے لحاظ سے ظاہری عبادت کا اتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا دل کی پاکیزگی سے ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل کرنے والی‘ خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے والی اور انسان کی پیدائش کی غرض پوری کرنے والی چیز دل کی اصلاح اور دل کی پاکیزگی ہے اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں جس میں حضرت ابوبکرؓ بیٹھے تھے۔ فرمایا۔ اسے جو فضیلت حاصل ہے وہ ظاہری عبادتوں کے لحاظ سے نہیں بلکہ اُس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ ۱؎ پس ہو سکتا ہے ایک شخص ظاہری عبادت میں بہت بڑھا ہوا ہو مگر دل کی پاکیزگی اسے حاصل نہ ہو اور ہو سکتا ہے ایک شخص جس کا تعلق خداتعالیٰ سے بہت زیادہ ہو وہ ظاہری عبادت میں دوسرے سے کم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے کچھ فرائض مقرر کئے ہیں اور کچھ نوافل۔ فرائض کی غرض یہ ہے کہ وہ شخص جو خداتعالیٰ کا قُرب پاچکا ہو وہ بھی ان کی پابندی کرے تا کہ دوسرے لوگ اس کی نقل کریں اور ظاہری عبادت کے ذریعہ باطنی پاکیزگی کی طرف آئیں۔ پس خدا تعالیٰ کے مُقرب اور پاک بندوں کیلئے تو ظاہری عبادت اس لئے ہوتی ہے کہ ان کے اندر کی کیفیت اس طرح باہر آئے اور لوگ اُس کی نقل کریں۔ لیکن دوسروں کیلئے ظاہری عبادت اس لئے ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ دل کی پاکیزگی حاصل کر سکیں اور ان کے دل پاک ہو جائیں۔ گویا ظاہری عبادت دونوں کے لئے مقرر ہے لیکن دونوں کی غرض علیحدہ علیحدہ ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے نیک اور پاک بندے ہیں ان کے لئے ظاہری عبادت اس لئے مقرر نہیں کہ ان کے دل پاک ہوں یہ درجہ تو انہیں حاصل ہو چکا ہوتا ہے بلکہ اس لئے مقرر ہوتی ہے کہ لوگ انہیں دیکھیں اور ان کی نقل کر کے اپنے دل پاک کریں۔ گویا ان کی عبادت عملی وعظ ہوتا ہے دوسروں کیلئے تا کہ وہ نقل کرتے کرتے اپنے اندر حقیقت پیدا کر لیں اور ظاہری عبادت کے ذریعہ ان میں حقیقت پیداہو جائے جیسے رونی صورت بنانے سے رقّت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح ظاہری عبادت کرنے سے اندرونی پاکیزگی حاصل ہونے لگتی ہے۔ غرض ظاہری عبادت بھی ضروری ہے لیکن اصل چیز دل کی پاکیزگی ہے۔ جب یہ حاصل ہو جائے تو خواہ ایسے انسان کو ظاہری عبادت کا اتنا موقع نہ ملے جتنا کسی دوسرے کو ملتا ہے تا ہم وہ بدی کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ بُرے اثرات سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے اور تقویٰ و طہارت میں ترقی کر سکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جہاں دوسرے ظلمت اور تاریکی میں بھٹک رہے ہوتے ہیں وہاں خدا تعالیٰ اسے روشنی دکھاتا ہے۔ پس مومن کو قلب کی صفائی اور پاکیزگی حاصل ہو جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صرف زبان سے کہتا ہے اللہ تعالیٰ سے مجھے محبت ہے اللہ تعالیٰ مجھے اچھا لگتا ہے۔ یہ تو الفاظ ہیں اور ہر شخص الفاظ اپنے منہ سے نکال سکتا ہے بلکہ مؤمن کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں گداز ہوتا ہے اس میں رقّت اور نرمی پیدا ہو جاتی ہے اس میں ایک تڑپ اور جوش پایا جاتا ہے۔ جب ایسی حالت پیدا ہو جائے۔ خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کے قرب کی خواہش عشق کے درجہ تک پہنچ چکی ہو‘ اس کا خیال آتے ہی نرمی اور محبت کے جذبات موجزن ہو جائیں تب دل کی پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔ یہی انسان کا اصل مقصود ہے اور اسی کے ذریعہ خدا تعالیٰ کو پاسکتا ہے۔ پس ہر اس شخص کو جو مومن کہلاتا ہو اس درجہ کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے یعنی دل کی پاکیزگی پیدا کرنی چاہئے ورنہ ظاہری اعمال کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔ جو انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جائے اس کے ذاتی لحاظ سے ظاہری عبادت کوئی اہمیت نہیں رکھتی یہ اسوہ اور نمونہ کے طور پر ہوتی ہے اور ضمنی چیز بن جاتی ہے۔ مگر باوجود اس کے انبیاء اور دوسرے پاک لوگ ظاہری عبادت سے بالا نہیں ہو جاتے کیونکہ خدا تعالیٰ کے احکام میں ماننے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ آقا کا ہر حکم بڑا ہوتا ہے اور بندہ کا فرض ہے کہ سب احکام بجا لائے۔ پس ظاہری عبادت کوئی ولی اور نبی نہیں چھوڑ سکتا لیکن نسبتی طور پر باطنی کیفیت کا درجہ جوں جوں بڑھتا جاتا ہے ظاہری اعمال کا گھٹتا جاتا ہے اور جوں جوں کوئی شخص خدا تعالیٰ سے دور ہوتا جاتا ہے اس کے دل کی پاکیزگی کم ہوتی جاتی ہے اور اس کے لئے ظاہری اعمال کا درجہ بڑھتا جاتا ہے۔ اگر یہ اندازہ لگایا جائے کہ ایک شخص نے اپنے جسم کو کتنا عرصہ عبادت میں لگایا اور دل کو کتنا تو معلوم ہوگا کہ پاک لوگوں کی ظاہری عبادت کم ہو گی مگر ان کا دل زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ رہا ہوگا۔ مثلاً اگر دس منٹ عبادت کی گئی تو عام مسلمان کا دل ایک منٹ خدا تعالیٰ کی طرف لگا ہوگا لیکن خدا تعالیٰ کا مقرب انسان دس منٹ ہی خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار رہا ہوگا۔ غرض روح کی گدازش کے مقابلہ میں جسم کی عبادت کچھ حقیقت نہیں رکھتی اور پاک لوگوں کا دل خدا تعالیٰ کی محبت اور اُلفت میں اس قدر گداز ہوتا ہے کہ گویا اس کے مقابلہ میں جسم نے کچھ کیا ہی نہیں ہوتا۔ یہی وہ درجہ ہے جس کے لئے ہر ایک مؤمن کو کوشش کرنی چاہئے اسی کے لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ انسان کے جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو گیا اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو گیا۔ الاوھی القلب ۲؎ سنو! وہ دل ہے۔ پس اصل چیز انسان کے دل کی پاکیزگی ہے دل کی خرابی سے سب کچھ خراب ہو جاتا ہے اور سب چیزیں بے قیمت ہو جاتی ہیں۔ (الفضل ۲۳۔ اگست ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ نزھۃ المجالس مصنّفہ عبدالرحمٰن الصفوری جلد ۲ صفحہ۱۵۳
    ۲؎ بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبرأ لدینہٖ


    ۲۳
    بہائیت کی حقیقت
    (فرمودہ ۱۶۔ اگست۱۹۲۹ء بمقام سرینگر۔ کشمیر)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    خطبہ جمعہ کی غرض ان امور کے متعلق ہدایات دینا ہوتی ہے جو ان ایام میں یا اس مقام میں جہاں خطبہ پڑھا جائے توجہ کے قابل سمجھے جائیں۔ بعض باتیں بعض ایام میں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں تو بعض دوسری باتیں دوسرے ایام میں قابلِ توجہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح بعض امور ایک خاص مقام میں اہمیت رکھتے ہیں تو بعض اور دوسرے مقامات میں ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ یہاں آنے پر مجھے ایک معاملہ جس کو پنجاب میں اِن دنوں ہم کچھ بھی اہمیت نہیں دیتے معلوم ہوا اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ یہاں یہ ہے کہ اس امر کی حقیقت سے لوگ یہاں واقف نہیں اور وہ بابیت یا بہائیت کا فتنہ ہے۔ یہاں چونکہ علم کم ہے باہر کے لوگوں سے میل جول کم ہوتا ہے یہاں کوئی ایسی لائبریری نہیں جس سے علم حاصل کرنے میں مدد مل سکے اس لئے اس مذہب کی کتابوں اور اس کی باتوں سے لوگ ناواقف ہیں ا س سے بھی زیادہ اس معاملہ میں اس بات کو دخل ہے کہ بابی یا بہائی اپنی اصل کتابوں کو چُھپاتے ہیں اور جہاں تک ہو سکتا ہے دوسروں کو نہیں دکھاتے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ چند آسان اور عام باتیں لوگوں کے سامنے اپنے مذہب کے اصول کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے مذہب کا پہلا کام یہ ہے کہ اپنے عقائد اور اصول لوگوں کے سامنے پیش کرے اور ان کی اشاعت کرے۔ قرآن کریم کا نام ہی خدا تعالیٰ نے قرآن رکھا ہے یعنی پڑھی جانے والی کتاب۔ دوسری جگہ آتا ہے فی رق منشور ۱؎ یہ ایسی کتاب ہے جو پھیلا دی جائے گی۔ پھر قرآن کا نام فاتحہ رکھا یعنی یہ کھلی کتاب ہے جو چاہے اسے دیکھے اور پڑھے۔ غرض خدا تعالیٰ کی طرف سے جو تعلیم ہو اُسے چھپایا نہیں جاتا۔
    بعض واقعات اور بعض باتیں خاص مصلحتوں کے ماتحت پوشیدہ رکھی جا سکتی ہیں مگر تعلیم نہیں چُھپائی جاتی۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کے متعلق خیالات اچھے نہ ہوں مگر اس کے سامنے اس لئے نہ ظاہر کئے جائیں کہ اس کا دل دُکھے گا یہ ناجائز نہیں۔ لیکن یہ کہ دنیا کو گمراہ سمجھا جائے اور اپنا مذہب سچا اور گمراہی سے بچانے والا بتایا جائے لیکن اسے پیش نہ کیا جائے یہ ناجائز ہے کیونکہ اس تعلیم کو جس کے متعلق یہ دعویٰ ہو کہ خدا کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لئے آئی ہے چُھپانے کے معنے لوگوں کو ان کی غلطیوں پر آگاہ نہ کرنا ہے۔ اپنے مذہب کی تعلیم کو بہائیوں کے چُھپانے کی یہ وجہ ہے کہ تفصیلات میں جانے سے ایسے اعتراضات پڑتے ہیں جن کے ان کے پاس کوئی جواب نہیں اس لئے وہ زبانی تو بڑھ بڑھ کر باتیں بنائیں گے لیکن تفصیلی تعلیم نہ پیش کریں گے۔ وہ یہ تو کہیں گے کہ سب کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے‘ سب کو متحد ہو جانا چاہئے‘ عورتوں کو حقوق دینے چاہئیں‘ سچ بولنا چاہئے۔ اس قسم کی عام باتیں جب کوئی سنتا ہے تو سمجھتا ہے کیا اچھی تعلیم ہے حالانکہ یہ ایسی باتیں ہیں جو سب مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔ کوئی مذہب ایسا نہ ملے گا جس میں یہ کہا گیا ہو کہ جھوٹ بولنا چاہئے‘ لوگوں سے بدسلوکی کرنی چاہئے‘ عورتوں پر ظلم کرنا چاہئے۔ یہ باتیں تو ایسی ہیں جنہیں سب مذاہب نے بُرا قرار دیا ہے۔ اگر کوئی مذہب اتنا ہی کہتا ہے تو اس سے اس کی تعلیم کی خوبی نہیں ثابت ہو سکتی۔ خوبی اور عمدگی تفصیلات سے معلوم ہو سکتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ ان باتوں کو عمل میں لانے کا کیا طریق اور کیا صورت بتائی جاتی ہے۔ پس اعتراضات تفصیلات پر پڑتے ہیں اور یہ بہائی پیش نہیں کرتے۔ یہ تو کوئی مذہب نہ کہے گا کہ فریب اور دھوکا کرنا چاہئے مگر جب تفصیل میں جائیں تو کئی باتیں اس مذہب میں ایسی پائی جائیں گی جو فریب اور دھوکا ہونگی۔ پس تفصیل کے بغیر کسی مذہب کی اصلیت اور حقیقت معلوم نہیں ہو سکتی۔ مثلاً کسی عیسائی سے پوچھو کہ تمہارے مذہب میں ظلم کرنا جائز ہے تو وہ کہے گا قطعاً نہیں ہمارے مذہب میں بڑی سختی کے ساتھ اس سے روکا گیا ہے۔ یہ جواب سن کر اگر کوئی شخص کہنے لگے یہ غلط کہا جاتا ہے کہ عیسائیت میں ظلم کی تعلیم ہے عیسائی تو اس کا انکار کرتے اور اس کی بجائے اپنے مذہب میں انصاف کی تعلیم بتاتے ہیں تو یہ غلط ہو گا کیونکہ جب اس مذہب کی تفصیل میں جائیں گے تو معلوم ہو گا کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خداوند خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو جو بالکل بے گناہ تھا لوگوں کے گناہوں کے بدلے قربان کر دیا۔ یہ بات تفصیل کے ساتھ دیکھنے سے معلوم ہو گی یوں نہ ہو گی۔ اسی طرح اگر کسی عیسائی سے پوچھو کہ یسوع مسیح کے حواری کیسے تھے؟ تو وہ کہے گا بڑے نیک‘ بڑے اعلیٰ پایہ کے اور یسوع مسیح کے بڑے جان نثار تھے۔ یہ سن کر اگر کہاجائے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کے حواریوں نے ان سے دھوکا کیا اور مصیبت کے وقت غداری کی‘ غلط کہتے ہیں۔ تو یہ کہنے والے کی غلطی ہو گی کیونکہ جب تفصیل میں جائیں گے تو معلوم ہو گا کہ ایک بڑے مقرب حواری پطرس نے ایک رات میں مرغ کے اذان دینے سے پہلے پہلے تین دفعہ حضرت مسیح کا انکار کیا اور بہت سخت الفاظ استعمال کئے۔ اسی طرح اگر پوچھو انجیل سے پتہ لگتا ہے کہ یسوع مسیح اور ان کے حواریوں نے کسی کا مال ناجائز طور پر کھایا؟ تو عیسائی کہیں گے توبہ توبہ یہ بالکل غلط ہے۔ لیکن جب انجیل پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ یسوع مسیح اور ان کے حواری ایک کھیت میں سے گذرے جس میں سے دانے کھاتے گئے۔ ہم چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں اس لئے ایسی باتوں کو غلط سمجھتے ہیں مگر انجیل یہ کہتی ہے خواہ عیسائی زبانی طور پر نہ مانیں۔
    اسی طرح اگر کسی عیسائی سے پوچھو کہ یسوع مسیح گالیاں دیا کرتے تھے؟ تو وہ قطعاً انکار کرے گا۔ مگر جب انجیل کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا انہوں نے اپنے مخالفوں کو حرامکار اور بدکار وغیرہ کہا ہے۔ تو کسی بات کی حقیقت کا پتہ تفصیل سے لگتا ہے زبانی خلاصہ جو سنایا جائے اس سے اصلیت معلوم نہیں ہو سکتی۔ بہائیوں کے متعلق بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ وہ زبانی بتائیں گے عورتوں سے اچھا سلوک کرنا چاہئے‘ لوگوں سے محبت اور پیار سے پیش آنا چاہئے‘ ان کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا چاہئے اس قسم کی باتیں سننے والا کہے گا کیا اچھی اور کتنی اعلیٰ تعلیم ہے۔ لیکن جب ان کی کتابیں پڑھو گے تو معلوم ہو گا باب سے ایک شخص نے کوئی مسئلہ پوچھا تو اس نے اسے سونٹا مارا۔ یہ بات کسی مخالف کی لکھی ہوئی نہیں ان کے اپنے مرید کی لکھی ہوئی ہے اور اسے بطور تعریف اس نے پیش کیا ہے کہ ایک دفعہ باب کو ایسا جلال آیا کہ انہوں نے سونٹا دے مارا۔ اسی طرح وہ یوں تو نہیں کہتے کہ محرمات سے نکاح جائز ہے لیکن جب اس کے متعلق ان کے تفصیلی احکام دیکھو گے تو معلوم ہو گا کہ سوائے ماں کے اور کسی کو محرمات میں سے قرار نہیں دیا گیا۔ غرض تفاصیل سے حقیقت کا علم ہو سکتا ہے مگر بہائی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی ان کے مذہب کی تفصیلات سے آگاہ نہ ہو سکے۔ اور وہ اپنی کتب جن پر اس مذہب کی بنیادہے چُھپائے رکھتے ہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنی مذہبی کتب کو ان کی طرح چھپائے۔ عیسائی انجیل کو بڑی کثرت کے ساتھ پھیلاتے ہیں۔ ہندو ویدوں کے پڑھنے سے غیر ہندوؤں کو منع کرتے ہیں مگر انہوں نے ویدوں کو چھپایا ہوا نہیں اور آریہ تو کھلے طور پر ان کے پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر بہائی اپنی مذہبی کتب کو چُھپاتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی کتابوں کا مہیا ہونا مشکل ہے اور یہاں تو اور بھی مشکل ہے کیونکہ علم بہت کم ہے۔ کوئی ایسی لائبریری نہیں۔ ہمیں بھی ان لوگوں کی کتب مہیا کرنے میں دقّتیں پیش آئی تھیں۔ جب۱۹۲۴ء میں قادیان میں یہ فتنہ پیدا ہوا اور ایک شخص نے جو مخفی طور پر بہائی تھا اوروں کے عقائد بگاڑنے چاہے تو اس وقت ہم نے بہائیوں کو بڑی بڑی رقمیں پیش کیں مگر انہوں نے کتابیں نہ دیں۔ آخر ہم نے ہندوستان سے باہر کے علاقوں سے تلاش کرائیں اور اب ان کی قریباً ساری کتابیں جمع کر لی ہیں۔ ایک کتاب جسے مخفی رکھنے کی خاص کوشش کرتے ہیں اور جو باب کی کتاب ’’البیان‘‘ فارسی ہے اس میں بہائیوں کے خلاف بہت کچھ مسالا ہے۔ جب میں ولایت گیا تو بہائیوں کی حالت دیکھنے کے لئے بہجہ بھی گیا وہاں سے وہ کتاب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مل گئی۔
    مجھے معلوم ہوا ہے یہاں ایک شخص کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقابلہ میں بہاء اللہ کو پیش کیا جاتا اور بتایا جاتا ہے کہ ان کے ماننے والے بہت ترقی کر رہے اور بڑی طاقت حاصل کر رہے ہیں اور بہت تھوڑے عرصہ میں احمدیت کے مقابلہ میں وہ کامیاب ہو جائیں گے حتیّٰ کہ کہا گیا ہے بہائی احمدیوں سے مباہلہ کے لئے تیار ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ قادیانیت بہائیت کے مقابلہ میں تباہ ہو جائے گی حالانکہ احمدیت کے مقابلہ میں بہائیت کی حقیقت نہایت آسانی کے ساتھ معلوم کی جا سکتی ہے۔ ایک موٹی سی بات ہے اور وہ یہ کہ بہائیت قریباً پچاس ساٹھ سال سے شام میں قائم ہے جہاں ان کا مرکز ہے وہاں میں ہو آیا ہوں۔ بہائی عکّہکو جو شام میں واقع ہے اپنا مرکز قرار دیتے ہیں مگر دراصل ان کا یہ مرکز نہیں یہ صرف بائیبل کی چند پیشگوئیاں اس مقام کے متعلق بتانے کے لئے مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ دراصل ایک مقام بہجہ ہے جہاں یہ رہتے ہیں عکّہ میں نہیں رہتے۔ بہجہ میں ان کے گھر موجود ہیں وہیں ان کی رہائش ہے۔ اس کی تصدیق وہاں کی گورنمنٹ کے ذریعہ کرائی جا سکتی ہے۔ عکّہ میں چند آدمی ان کے ہم خیال ہیں اور حیفا جہاں شوقی آفندی بہاء اللہ کا نواسہ رہتا ہے وہاں کے متعلق ان کا اپنا بیان تھا کہ یہاں چالیس پچاس آدمی ان کے ہم خیال ہیں اور دوسرے لوگوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا زیادہ سے زیادہ پندرہ سولہ ہونگے۔ یہ ان کی پچاس سالہ کامیابی کا نتیجہ ہے لیکن اس کے مقابلہ میں قادیان میں اڑھائی ہزار کے قریب ایسے لوگ ہیں جو اپنے وطنوں کو چھوڑ کر وہاں آبسے ہیں اور اگر حیفا ہی کو لے لیا جائے تو وہاں ہمارا مبلّغ رہتا ہے جس نے ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اسّی کے قریب لوگوں کو احمدیت میں داخل کیا ہے۔ ادھر بہائیوں کی یہ حالت ہے کہ پچاس سال میں پندرہ سولہ سے زیادہ ان کی تعداد نہیں۔
    لیکن اپنی تعداد کو بڑھا کر دکھانے کے متعلق ان کا طریق یہ ہے کہ براؤن جو نیم بہائی تھا۔ مگر بعد میں بہائیت سے بیزار ہو گیا اس نے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ خیراللہ امریکہ میں پچپن لاکھ بہائی بیان کرتا ہے اور اس قسم کا اعلان تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ شکاگو میں تیس ہزار بہائی ہیں۔ میں نے جب مولوی محمد الدین صاحب کو وہاں مبلغ بنا کر بھیجا تو انہیں لکھا وہاں سے معلوم کر کے بتائیں کہ بہائیوں کی کتنی تعداد ہے۔ ان کا جواب آیا میں ان کی تلاش میں ہوں جب پتہ ملااطلاع دوں گا آخر دو تین ماہ کے بعد ان کی چِٹھی آئی جس میں انہوں نے لکھا بڑی تلاش اور تجسّس سے ایک آدمی ملا ہے اور وہ بھی متردّد سا ہے۔
    یورپ کے سفر میں مَیں نے ایک تصویر دیکھی۔ یہاں بھی جو احمدیت پر بہائیت کو ترجیح دینے والے ہیں ممکن ہے ان کے پاس ہو‘ وہ شکاگو کے مشرق الاذکار‘ کی تصویر ہے۔ مشرق الاذکار‘ یہ اپنی عبادت گاہ کو کہتے ہیں یہ تصویر اتنی عالیشان ہے کہ بڑی بڑی عمارتیں بھی اس کے مقابلہ میں حقیر دکھائی دیتی ہیں اس تصویر سے یہ اثر ڈالا جاتا ہے کہ گویا ان کے ہم خیالوں کی شکاگو میں اتنی کثرت ہوگئی ہے کہ ایسی عالیشان عمارت جس میں باغ اور فوارے نظر آتے ہیں انہوںنے بنائی ہے۔ سکاٹ لینڈ کا ایک لکھ پتی جہاز میں ملا اس کا نوجوان لڑکا بھی ساتھ تھا اس نے کہا کیا ہندوستان کے بہائی دولتمند اور مالدار نہیں ہیں؟ میں نے کہا وہاں تو شاذونادر کوئی بہائی ہو گا۔ اس نے کہا ہم نے تو سنا ہے وہاں لاکھوں بہائی ہیں میں نے کہا ہمیں یہ بتایا جاتا ہے امریکہ میں لاکھوں بہائی ہیں۔ کہنے لگا امریکہ میں تو نہیں ہمیں بتایا جاتا ہے ہندوستان میں لاکھوں ہیں۔ اس طرح معلوم ہوا بہائی دوسروں پر اپنا رُعب ڈالنے کے لئے امریکہ میں تو یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں لاکھوں بہائی ہیں اور ہندوستان میںکہتے ہیں امریکہ میں لاکھوں ہیں۔ اس نوجوان نے بتایا بہائیوں نے ہمارے محلہ میں اپنی عبادت گاہ کی بنیاد کھو دی تھی مگر ابھی تک بنی نہیں۔ کیا ہندوستان میں مالدار بہائی نہیں کہ روپیہ بھیج کر اسے بنائیں۔ میں نے کہا ہم نے تو اس عبادت گاہ کی بڑی شاندار تصویر دیکھی ہے کیا وہ بنی نہیں؟ اس نے کہا نہیں۔
    غرض ان لوگوں کا یہ طریق ہے کہ بات کچھ نہیں ہوتی مگر یہ اسے بڑھا کر کچھ کا کچھ دکھاتے ہیں۔
    ایران میں بھی ہم نے ان کی تعداد معلوم کرائی۔ جہاں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ لکھو کھہا ہیں۔ مگر وہاں دو اڑھائی ہزار سے زیادہ معلوم نہیںہوئے۔ دراصل اس فرقہ کی بنیاد قرامطیہ فرقہ کی طرح کی ہے کہ یونہی باتیں اُڑاتے رہتے ہیں۔ چنانچہ جب قادیان میں ان کی شرارت کا پتہ لگا اور میںنے ان کے متعلق کارروائی کرنی چاہی تو حکیم ابو طاہر صاحب جو کلکتہ کے روساء میں سے ہیں اور اچھا اثر رکھنے والے ہیں اور وہاں کی جماعت احمدیہ کے امیر ہیں۔ ان سے محفوظ الحق علمی کے تعلقات تھے۔ یہ وہ شخص تھا جو چند سال سے ہی احمدی کہلاتا تھا اس کی ایک کتاب دیکھی گئی جس میں اس نے ۱۹۲۲ء سے احمدیت کے خلاف اور بہائیت کی تائید میںنوٹ لکھے ہوئے تھے۔ یہ جب احمدی ہوا اُسی وقت میرے پاس چِٹھیآئی تھی کہ اس سے ہوشیار رہنا چاہئے لیکن میں نے سمجھا چونکہ یہ احمدی ہوا ہے۔ کسی نے دشمنی سے اس کے متعلق لکھاہے مگر بعد میں معلوم ہوا اس کی غرض احمدی ہو نا نہ تھی بلکہ احمدی کہلا کر بہائیت کی تبلیغ کرنا تھی۔ حکیم ابوطاہر صاحب سے وہ بہائیت کے متعلق بھی باتیں کیا کرتا اور ساتھ ہی کہتا کسی سے ان باتوں کا ذکر نہ کیا جائے یہاں کے لوگ ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتے۔ جب یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ محفوظ الحق بہائی ہے اور میں نے اس کے متعلق اعلان کرنا چاہا تو حکیم ابوطاہر صاحب کا میرے پاس پیغام آیا جو انہوں نے بہت گھبراہٹ کی حالت میں بھیجا کہ اگر علمی کی علیحدگی کا اعلان کیا گیا تو جماعت کا ایک بہت بڑا آدمی بھی فوراً علیحدہ ہو جائے گا۔ میں نے جب اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا وہ حافظ روشن علی صاحب ہیں۔ دین کے معاملہ میں تو کسی کی پرواہ نہیں کی جا سکتی۔ میں نے کہا اگر حافظ صاحب بھی جانا چاہیں تو جائیں۔ مگر یہ بات ہی بالکل غلط نکلی۔ دراصل وہ یونہی کہتے رہے کہ حافظ صاحب ان کے ہم خیال ہیں تا کہ دوسروں پر اثر ڈالیں اور پھر تو انہوں نے یہاں تک کہا کہ قادیان میں کئی سَو بہائی ہیں اور یہ بھی کہا کہ میرا ایک قریبی رشتہ دار بھی ان کا ہم خیال ہے۔ اس طرح انہوں نے یہ بتانا چاہا کہ نعوذ باللّٰہ ان کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور بہت سے لوگ ان کے خیالات کو سچا سمجھنے لگ گئے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ تھا۔
    غرض ان لوگوں کی یہ عادت ہے اور اس طرح یہ اپنا اثر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی کہہ دے کہ ممکن ہے یہ باتیں غلط ہوں اس لئے میں تحریری ثبوت دیتا ہوں۔ ’’مقالہ سیاح‘‘ بہائیوں کی ایک کتاب ہے۔ وہ اس طرح لکھی گئی ہے کہ گویا ایک اجنبی نے لکھی ہے۔ وہ لکھتا ہے میں نے بہائیوں کے حالات دیکھے۔ فلاں واقعہ یوں ہوا اور فلاں واقعہ میرا چشم دید ہے۔ بعض واقعات اس نے پرانے بھی لکھے ہیں لیکن بعض کو اپنا چشم دید بتاتا ہے۔ ایک ناواقف شخص اس کتاب کو پڑھ کر سمجھتا ہے کہ ایک غیر جانبدار لکھ رہا ہے یہ باتیں سچی ہی ہونگی ورنہ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ جھوٹی باتیں بیان کرے۔ مگر وہ کتاب خود بہاء اللہ کے بیٹے عبدالبہاء کی لکھی ہوئی ہے۔ براؤن نے اسے شائع کیا اور بعد میں بتا دیا کہ عبدالبہاء نے لکھ کر دی تھی کہ اسے شائع کر دیا جائے جب اس شخص کی یہ حالت ہو جو بہاء اللہ کا جانشین ہوا اور جسے یہ لوگ مسیح کہتے ہیں کہ خود ایک کتاب لکھتا ہے اور ظاہر یہ کرتا ہے کہ کسی اجنبی نے لکھی اور بعض واقعات جنہیں وہ اپنا چشم دید بتاتا ہے ایسے ہیں جو اس کی پیدائش سے بھی پہلے کے ہیں تو دوسروں کی کیا حالت ہو گی۔ ان کی ایک اور کتاب ہے جس کا لکھنے والا اپنے آپ کو عیسائی یورپین اور فرانسیسی بتاتا ہے اور کہتا ہے مجھے مسلمان اور بہائی بنانے کی کوشش کی گئی مگر مجھے کسی سے کوئی تعلق نہیں میں ایک غیر جانبدار کے طور پر لکھ رہا ہوں مگر بعد میں اعلان کیا گیا کہ وہ کتاب فلاں بہائی نے لکھی ہے۔ وہ ایک پارسی مانک جی کا سیکرٹری تھا جو ایرانی اور بہائی تھا۔
    غرض بنیاد ہی اس قوم کی محض غلط بیانی پر ہے۔ یہ لوگ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں جن میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور بعض یورپین لوگوں نے تو لکھا ہے کہ بعض کتابیں جو بہائیت کی تردید میں مسلمانوں کی طرف سے بتائی جاتی ہیں وہ مسلمانوں نے نہیں لکھیں بلکہ خود بہائیوں نے ہی لکھی ہیں۔ اس کے متعلق میں مثال سے سمجھاتا ہوں۔ مثلاً ایک کتاب پر لکھا ہو حفظ الرحمن مسلمان نے لکھی مگر اس کے اندر یوں لکھا ہو کہ اعتراض کیا جاتا ہے اسلام کی رو سے عورتوں میں روح نہیں مانی جاتی اور اس کا جواب یہ دیا جائے اس میں حرج ہی کیا ہے۔ اس طرح اسلام کی طرف سے لوگوں کو متنفّر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ جب پڑھنے والا دیکھتا ہے کہ اسلام کی طرف سے جواب دینے والا ایک مسلمان اس قسم کی باتیں اسلام میں مانتا ہے تو معلوم ہوا اسلام میں ضرور ایسی باتیں پائی جاتی ہیں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اسلام قطعاً یہ نہیں کہتا کہ عورتوں میں روح نہیں بلکہ اسلام مردوں اور عورتوں میں ایک جیسی روح قرار دیتا ہے۔ غرض اسلام کی طرف سے ایسے جواب دیئے جاتے ہیں جو بالکل جھوٹے اور غلط ہوتے ہیں اور اس طرح لکھایا جاتا ہے کہ اسلام بہائیت کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ اس قسم کی بعض کتابیں عیسائیوں نے بھی شائع کی ہیں لیکن بہائیوں نے تو حد کر دی ہے۔ یہ طریق ہے ان لوگوں کا اور اس کے تحریری ثبوت موجود ہیں۔ اب تک بھی یہ لوگ اسی طرح کرتے ہیں۔ ایک شخص مہر محمد کو جو قادیان میں رہتا تھا اِسی وجہ سے دھوکا لگا اُس نے میرے سامنے تو نہیں لیکن دوسروں نے بتایا ’’مقالہ سیاح‘‘ کی عبارت پڑھ کر سنائی اور کہنے لگا دیکھو ایک غیر جانبدار کیا لکھتا ہے حالانکہ وہ ایک بہائی کی لکھی ہوئی ہے۔یہ ایسی بات ہے جیسے میں خود ایک کتاب لکھوں مگر اس کے اوپر یہ لکھ دیا جائے کہ مسٹر مارٹن نے لکھی ہے اور اس میں اپنی اور اپنی جماعت کی تعریف ہو۔ اس کتاب کا پڑھنے والا یہی سمجھے گا کہ ایک غیر متعلق اور غیر جانب دار تعریف کر رہا ہے لیکن دراصل وہ اپنی تعریف اپنی ہی زبانی ہو گی۔ یہ ہے ان لوگوں کی اخلاقی اور مذہبی حالت۔
    باقی رہا مذہب کا مقابلہ بعض لوگ کہتے ہیں بہائیوں کو بہت کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ کامیابی مال و دولت کو جمع کر لینے یا بہت سے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لینے کا نام نہیں۔ رسول کریم ﷺ کو ۱۳ سال میں اتنے ماننے والے نہ ملے تھے جتنے مسیلمہ کذّاب کو دو ماہ میں مل گئے تھے۔ ۱۳ سال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی تعداد کا اندازہ اسّی سے اڑھائی سَو تک کیا جاتا ہے ۔ مگر مسیلمہ کے ساتھ دو تین ماہ میں ایک لاکھ کے قریب لوگ ہو گئے تھے۔ تو یہ کامیابی نہیں ہوتی بلکہ کامیابی یہ ہوتی ہے کہ جس مقصد کو لے کر کوئی کھڑا ہو وہ پورا ہو جائے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے مسلمانوں پر یہ احسان کیا کہ انہیں مال و دولت دی۔ اب اگر کوئی کہے یہ کیا احسان ہے ڈاکو اور لُٹیرے بھی تو مال حاصل کر لیتے ہیںان میں فرق کیا ہے؟ یہ کہ مسلمانوں کو جو کامیابی حاصل ہوئی وہ ان کے دین کے ساتھ ہوئی۔ وہ جس مقصد کے لئے کھڑے ہوئے تھے وہ ان کو حاصل ہوا اور ساتھ ہی اور بھی انعام حاصل ہوئے اگر مسلمانوں کو صرف مال و دولت ملتی‘ سلطنت و حکومت حاصل ہوتی‘ مگر دین نہ حاصل ہو تا تو یہ قطعاً ان کی کامیابی نہ سمجھی جاتی۔ ہاں اگر رسول کریم ﷺ یہ فرماتے کہ میں دولت جمع کرنے یا سلطنت قائم کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور یہ ہو جاتا تو اسے کامیابی سمجھا جاتا مگر آپؐ نے جو کچھ کہا وہ یہ تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے تعلیم لایا ہوں اسے میں دنیا میں پھیلاؤں گا یہ تعلیم جب پھیل گئی تو معلوم ہوا آپؐ کو کامیابی حاصل ہو گئی اور آپؐ کامیاب ہو گئے۔
    اسی اصل کو مدنظر رکھ کر ہم بہائیوں کو دیکھتے ہیں۔ بہاء اللہ کا منشاء یہ تھا کہ شریعت کی نئی کتاب اور نئی تعلیم دینا میں پھیلائیں۔ اسلام کو اور قرآن کو (نعوذ باللّٰہ) مٹا دیں اور اس کی جگہ بہائیت کو قائم کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے نئی تعلیم پیش بھی کی۔ بارہ کی بجائے انیس مہینے رکھے‘ دنوں کے نام الگ مقرر کئے‘ نمازیں تین کر دیں‘ عبادت کا طریق بدل دیا‘ آیات نئی بنا لیں‘ زنا کی سزا ۹ مثقال سونا رکھی۔ یہ اور بات ہے کہ اس قسم کی باتیں غیر معقول ہوں اگر کوئی غریب زنا کا مرتکب ہو تو اس کے لئے اتنا سونا دے دینا مشکل ہے اور اگر کوئی امیر مرتکب ہو تو وہ گویا اتنا سونا دے کر اس کا بار بار ارتکاب کرتا رہے۔ اِس وقت مَیں اِس تعلیم کی خوبی یا عدم خوبی کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا بلکہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کئی قسم کے نئے احکام پیش کئے گئے ہیں۔ یہ احکام اگر دنیا میں چل جاتے‘ ان پر عمل کرنے والی کوئی جماعت ہوتی اور دنیا میں انہیں مقبولیت حاصل ہو رہی ہوتی تو سمجھا جاتا کہ بہائی کامیاب ہو رہے ہیں۔ مگر اور تو اور بہاء اللہ کے بیٹے نے بھی کبھی ان احکام پر عمل نہ کیا۔ عبدالبہاء آخری عمر تک مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھتا رہا اور قرآن کا درس دیتا رہا حالانکہ وہ بہاء اللہ کا جانشین تھا۔ جب اس کا جانشین بھی اس کے احکام پر عمل نہ کر سکا تو کسی اور نے کیا کرنا تھا۔ یہاں تک یہ لوگ دھوکا دیتے ہیں کہ ایک شامی جو ہمارے مدرسہ میں پڑھاتے ہیں اب تک نہیں مانتے کہ عبدالبہاء مسلمان نہ تھے۔ ان کے باپ سے ان کا دوستانہ تھا ان کے پاس آتے جاتے تھے اور ہر طرح اپنے آپ کو مسلمان اور اسلامی عقائد کا پابند ظاہر کرتے تھے۔ پس جس تعلیم کا چرچا ہی نہیں خود اس کے پھیلانے والوں نے اسے مانا ہی نہیں اسے پیش کرنے والے کو کیا کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ جتھہ بنا لینا کوئی کامیابی نہیں۔ مگر میں تو کہتا ہوں یہ بھی غلط ہے کہ ان کا کوئی بڑا بھاری جتھہ ہے۔ باب کو دعویٰ کئے اسّی سال سے زاہد ہو گئے ہیں اس عرصہ میں ان کی جو جماعت قائم ہوئی اس کا مقابلہ جماعتِ احمدیہ کی چالیس سال میں پیدا شُدہ تعداد سے کر لیا جائے۔
    باقی ان لوگوں کی قربانیاں پیش کی جاتی ہیں مگر ان کا پتہ مقابلہ سے لگ سکتا ہے ان میں سات آدمیوں کی قربانی بہت مشہور ہے۔ مگر بات یہ ہوئی کہ اَڑتیس آدمی پکڑے گئے تھے جن میں سے اکتیس تائب ہو کر چھوٹ گئے اور صرف سات باقی رہے۔ مگر ہماری جماعت کے پانچ آدمی پکڑے گئے جن میں سے ایک نے بھی صداقت کا انکار نہ کیا اور خوشی سے جان دے دی۔ ان کے نام یہ ہیں۔ عبدالرحمن صاحب‘ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ‘ نعمت اللہ خاں صاحب‘ نور علی صاحب‘ عبدالحکیم صاحب۔ یہ پانچوں علیحدہ علیحدہ موقعوںپر گرفتار ہوئے مگر ہر ایک نے اپنے عقائد کو صاف صاف بیان کر دیا۔ انہیں عقائد کا تھوڑا بہت انکار کرنے پر بھی چھوڑ دینے کے لئے کہا گیا مگر انہوں نے قطعاً گوارا نہ کیا کہ بال بھر بھی اپنے عقائد سے علیحدہ ہوں اس کی بجائے یہ پسند کیا کہ کال کوٹھڑیوں میں انہیں بند کیا جائے‘ بھوکا پیاسا رکھا جائے‘ بہت وزنی آہنی زنجیریں پہنائی جائیں‘ ناک میں نکیل ڈال کر بازاروں میں گھسیٹا جائے اور پتھر مار مار کر شہید کر دیا جائے۔ آخر مرتے وقت بھی یہی دعا ان کی زبان پر تھی خدا تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے۔
    بہائی ان لوگوں کو تو پیش کرتے ہیں جو ان میں سے مارے گئے مگر یہ کبھی نہیں بتاتے کہ انہوں نے کتنے بے گناہوں کے خون بہائے۔ بہت سے ایسے واقعات موجود ہیں جن میں بہائیوں نے دوسروں کو قتل کیا۔ یہ لوگ اپنے آپ کو مظلوم کہتے کہتے نہیں تھکتے مگر یہ نہیں بتاتے کہ خود انہوں نے کتنے مظالم کئے۔ اس کے مقابلہ میں احمدی جماعت کا کوئی ظلم ثابت نہیں کیا جا سکتا حالانکہ ہماری جماعت کے لوگوں نے مخالفین سے بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھائیں۔ کبھی کسی لڑائی میں کسی احمدی کے ہاتھ سے کسی کو چوٹ لگ گئی ہو تو یہ اور بات ہے ورنہ احمدیوں نے کسی پر حملہ نہیں کیا احمدیت کا چہرہ اس داغ سے بالکل صاف ہے۔ پس کسی صورت میں بھی بہائیت احمدیت پر غالب نہیں آ سکتی۔ رہا یہ کہ کوئی بہائیت کی حمائت میں مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ اوّل تو اس کے بغیر ہی ثابت ہے کہ کسے خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہے۔ لیکن اگر کوئی مباہلہ کرنا چاہے اور اس کی ایسی پوزیشن ہو جو مذہبی لحاظ سے کچھ اثر رکھتی ہو تو اس سے ایک دفعہ نہیں بلکہ ہزار دفعہ ہم مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔ اس میں ہمارے لئے کوئی ڈر کی بات نہیں اور ہم قبل از وقت کہہ سکتے ہیں کہ جو بھی احمدیت کے مقابلہ میں کھڑا ہو گا تباہ وبرباد ہو جائے گا۔
    کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب کا مقابلہ بہاء اللہ سے کیا جائے۔ مگر یہ بالکل غلط طریق ہے کیونکہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت کا تھا لیکن بہاء اللہ نبوت کا منکر تھا پھر مقابلہ کے کیا معنی۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے چنبیلی کے پتے کا کیکر کے پتہ سے مقابلہ کیا جائے۔ یا کہے محمدﷺ کا مقابلہ ایڈیسن سے کیا جائے۔ ایسے شخص کو کہا جائے گا نادان! ایڈیسن ایک موجدّ تھااور رسول کریم ﷺ نبی تھے پھر موجد اور نبی کا مقابلہ کیونکر کیا جا سکتا ہے۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے پاس گیا اور جا کر کہاکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مأمور ہوں مجھ پر ایمان لائیں۔ بادشاہ نے پوچھا۔ اپنی صداقت کا کوئی ثبوت دیں۔ وزیر پاس بیٹھا تھا اس نے کہا میںاسے قابو کرتا ہوں یہ کہہ کر وہ ایک خاص قسم کا تالا لے آیا جو آسانی سے نہ کھل سکتا تھا اور اس کے سامنے رکھ کر کہنے لگا اسے کھول دو تو ہم تمہیں سچا سمجھ لیں گے۔ اس نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور کہنے لگا میں اسے بے وقوف سمجھوں یا آپ کو جنہوں نے ایسے شخص کو وزیر بنا رکھا ہے۔ میں نے اعلیٰ درجہ کا لوہار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ مأمور ہونے کا کیا ہے اور مأمور کی صداقت کا پتہ تالا کھولنے سے نہیں لگایا جا سکتا۔ پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وہ دعویٰ ہی نہیں جو بہاء اللہ کا ہے تو پھر ان کا مقابلہ کس بات میں کیا جا سکتا ہے۔ بہاء اللہ تو یہ کہتا ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آ سکتا نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہے اور قرآن منسوخ ہو گیا ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی اتباع اور رسول کریم ؐ کی تابعداری میں اب بھی نبی آ سکتا ہے ہاں کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو قرآن کو منسوخ کرے اور شریعتِ اسلامیہ کو بدل دے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بہاء اللہ کا کیا مقابلہ کیا جا سکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ نبوت کا بالکل خاتمہ ہو گیا اور رسول کریم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت منسوخ ہو گئی اور میں نئی شریعت لایا ہوں۔ پس وہ تو چیز ہی اور ہے جس کا بہاء اللہ کو دعویٰ ہے اور ہم تو نبوت سے اوپر خدائی کو ہی سمجھتے ہیں۔ نبوت کو بند کرنے کے بعد اس سے اوپر جس بات کا دعویٰ ہو وہ خدائی کا دعویٰ ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں بہاء اللہ کا دعویٰ خدائی کا دعویٰ نہ تھا مگر یہ غلط ہے ان کی بیعت فارم جو چھپی ہوئی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں چھپ چکی ہے اور آج تک کسی بہائی نے اس کا انکار نہیں کیا اس میں لکھا ہے۔
    ’’اے غصنِ اعظم (بہاء اللہ کے بیٹے عبدالبہائ) مَیں عاجزی سے اقرار کرتا ہوں۔ خدائے قادرِ مطلق کے ایک ہونے کا جو میرا پیدا کرنے والا ہے میں ایمان لاتا ہوں کہ وہ انسانی شکل میں ظاہر ہوا۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس نے اپنا ایک کنبہ قائم کیا۔ اور پھر یقین رکھتا ہوں اس کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے پر۔ اور ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ اس نے اپنی بادشاہت تُجھ کو دے دی ہے اے غصنِ اعظم! جو اس کا نہایت ہی سب سے پیارا بیٹا اور راز ہے۔‘‘
    اس کے متعلق کہا جاتا ہے جس طرح قرآن میں آیا ہے ۔ مارمیت اذرمیت ولکن اللّٰہ رمی ۲؎ اسی طرح کے وہ فقرات ہیں جو بہاء اللہ نے بیان کئے یا ان کے متعلق کہے گئے مگر ان میں اور اس میں بہت بڑا فرق ہے۔ یہ تو کہہ سکتے ہیں بادشاہ کے قائمقام جو کام کرتے ہیں وہ بادشاہ کا ہی کام ہوتا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں جو کام کرتا ہے وہ بادشاہ کا ہی کام کرتا ہے ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ قائمقام بن کر کام کرنا اور بات ہے اور خود بخود کسی کام کے کرنے کا دعویٰ کرنا اور بات ہے۔ کہا جاتا ہے مجازی طور پر بہاء اللہ نے اپنے آپ کو خدا قرار دیا ہے مگر مجاز کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ایک بے وقوف کو مجازاً گدھا کہا جا سکتا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اُس کی دُم بھی ہے چار ٹانگیں بھی ہیں تو اسے کون مجاز کہہ سکتا ہے یہ تو سچ مچ کے گدھے کی علامات ہیں۔ پس مجاز کے لئے کوئی دلیل اور قرینہ ہونا چاہئے۔ ورنہ اگر کوئی شخص دودھ لائے اور کہے میری اس سے مراد ڈبل روٹی ہے تو کون اس کی اس بات کو مجاز تسلیم کرے گا۔ پس جب صاف لکھا ہے کہ خدا دنیا میں انسانی شکل میں آیا اس نے کنبہ قائم کیا اور وہ اپنے بیٹے عبدالبہاء کو اپنی بادشاہت دے کر چلا گیا تو اسے کون مجاز کہہ سکتا ہے۔ اسی قسم کے اور بھی بہت سے فقرے پائے جاتے ہیں چنانچہ لکھا ہے ایک دفعہ دو شخصوں کا جھگڑا بہاء اللہ کے سامنے پیش ہوا۔ ایک کہتا تھا بہاء اللہ خدا ہے ان کے سوا کوئی خدا نہیں۔ دوسرا کہتا تھا کہ ظل اللہ ہیں۔ بہاء اللہ نے کہا تم دونوں ٹھیک کہتے ہو۔ ایک امریکن بہائی ایم۔ایچ فِلپس نے اپنی کتاب سوانح و تعلیماتِ عبدالبہاء کے صفحہ ۱۳۵ میں لکھا ہے مجھے عبدالبہاء اور اس کی بہن نے بتایا کہ ظل اللہ کے معنے ہیں خدائی کے مرتبہ پر پہنچا ہوا انسان۔ اس سے ظاہرہے کہ بہاء اللہ اپنے آپ کو خدا بشکلِ انسان قرار دیتا ہے۔
    پھر جتنی کتابیں بہاء اللہ کی ہیں ان پر لکھا ہوتا ہے ’’وحی کی بہاء اللہ نے‘‘ کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں انسانوں کی طرف وحی کرتا ہوں بلکہ یہ خدا ہی کہہ سکتا ہے کیونکہ وہی وحی کرتا ہے۔ مگر ان کی کتابوں پر لکھا ہوتا ہے۔ ’’وحی کی بہاء اللہ نے‘‘ میرے پاس یہاں انکی ایک کتاب کا انگریزی ترجمہ موجود ہے جو دیکھنا چاہے دیکھ سکتا ہے اس پر یہی لکھا ہے۔ یہ بہائیوں نے ہی شائع کی ہے اصل کتابیں مرکز میں موجود ہیں۔
    کہا جاتا ہے بہاء اللہ تو خود خدا سے دعائیں مانگتا ہے پھر وہ خدائی کا دعویٰ کیونکر کر سکتا تھا؟ مگر یہ دھوکا ہے عیسائی یسوع مسیح کو خدا مانتے ہیں یا نہیں۔ پھر ان کی کتابوں میں لکھا ہے یا نہیں کہ یسوع مسیح خدا سے دعائیں مانگتے تھے۔ بات یہ ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کے لحاظ سے جس قسم کا خدا سمجھتے ہیں ویسا بہاء اللہ کو مانتے ہیں۔ ہمارے عقیدہ کے لحاظ سے خداتعالیٰ کی جو صفات ہیں ویسا نہیں مانتے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مجسّم ہو کر دنیا میں نہیں آ سکتا۔ کھانا‘ پینا‘ سونا‘ بیمار ہونا‘ تکلیف اٹھانا خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں خدا انسان کی شکل اختیار کر کے دنیا میں آ سکتاہے وہ کھا پی سکتا ہے‘ قید ہو سکتا ہے‘ تکالیف اُٹھا سکتا ہے ان کے نزدیک یہ باتیں خدا کی شان کے خلاف نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں یہ جسمانی حالت ہوتی ہے جو الوہیت کے منافی نہیں ہے۔ غرض ان کے نزدیک خدا مجسم ہو کر دنیا میں آ سکتا ہے اور جب مجسم ہو سکتا ہے تو کھا پی بھی سکتا ہے‘ تکالیف بھی اٹھا سکتا ہے۔ پس ان کے اس عقیدہ کے لحاظ سے بہاء اللہ کے دعویٰ کو پرکھا جائے گا۔ ان کا عیسائیوں جیسا عقیدہ ہے کہ کھانے پینے‘ سونے جاگنے اور دکھ اٹھانے والا خدا مانتے ہیں۔ وہ ان باتوں کے باوجود خدا سمجھتے ہیں چنانچہ بہاء اللہ کی قبر پر سجدہ کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض لوگ قبروں پر سجدہ کرتے ہیں۔ کیونکہ قبروں پر سجدہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اسلام سے ناواقف اور جاہل ہیں۔ یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ رسول کریم ﷺ کی قبر پر حضرت ابوبکرؓ یا حضرت عمرؓ یا اور صحابہؓ نے کبھی سجدہ کیا مگر بہاء اللہ کی قبر پر عبدالبہاء سجدہ کرتے تھے‘ چڑھاوے چڑھاتے تھے اور اب بھی ایسا ہی کرتے ہیں چنانچہ عبدالبہاء کی کتابوں میں یہ باتیں موجود ہیں۔ یہ باتیں اگر بہت عرصہ کے بعد ان میں پائی جاتیں تو کہا جا سکتا کہ لوگوں نے غلطی سے اختیار کر لیں مگر وہ تو بہاء اللہ کے مرنے کے معاً بعد ان کے مرتکب ہونے لگ گئے اور کسی نے اس سے نہ روکا۔
    غرض بہت سے واقعات سے ثابت ہے کہ یہ لوگ عیسائیت کے رنگ کا بہاء اللہ کو خدا مانتے ہیں مگر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے کہتے ہیں ایسا نہیں مانتے جیسا مسلمان مانتے ہیں۔ ایسا خدا وہ بہاء اللہ کو مان ہی کس طرح سکتے ہیں ماقدروا اللّٰہ حق قدرہ ۳؎ کے مصداق بن کر خدا تعالیٰ کی اصل شان نہیں سمجھتے۔ اسی لئے انہیں بہاء اللہ کو خدا بنانے کا دھوکا لگا ہے ورنہ اگر وہ خدا تعالیٰ کی صحیح شان سمجھ سکتے تو کبھی بہاء اللہ کو خدا تسلیم نہ کرتے۔ چونکہ یہ لوگ اسلام کی بتائی ہوئی تعریف کے خلاف خدا تجویز کرتے ہیں اس لئے اس کے بیوی بچے بھی قرا ر دیتے ہیں۔ اس کے لئے کھانا پینا بھی ضروری سمجھتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں خیال کرتے۔
    پس یہ دھوکا ہے جو بہائیوں کی طرف سے دیا جاتا ہے کہ بہاء اللہ خدائی کا دعویدار نہیں تھا۔ بے شک اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے اس جیسا خدا ہونے کا بہاء اللہ نے دعویٰ نہیں کیا مگر عیسائیت والا خدا ہونے کا دعویٰ ضرور کیا ہے۔ جو باتیں بہائی بہاء اللہ کے خدائی کا دعویدار نہ ہونے کے متعلق پیش کرتے ہیں وہی یسوع مسیح کے متعلق دکھائی جا سکتی ہیں۔ وہی ان ہندوؤں میں دکھائی جا سکتی ہیں جو حضرت کرشن کو خدا قرار دیتے ہیں مگر باوجود اس کے عیسائی حضرت مسیح کو اور ہندو حضرت کرشن کو خدا قرار دیتے ہیں۔
    غرض یہ محض ان لوگوں کا دھوکا ہے جو ناواقف لوگوں کو دیتے ہیں۔ ان کی کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں ان سے یہ باتیں ثابت کی جا سکتی ہیں باقی اپنی کامیابی اور تعداد کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں اس میں ننانوے فیصدی جھوٹ ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اگر کسی ملک میں دس لاکھ بہائی بتائیں تو وہاں دس بھی مشکل سے ہوں گے۔ امریکہ میں کہتے ہیں پچپن لاکھ بہائی ہیں اور اب تو ان کے اندازہ کے لحاظ سے ڈیڑھ کروڑ ہو گئے ہوں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ پندرہ ہزار بھی نہیں مل سکتے۔ صرف اخباروں کے خریدار ہو جانے کے یہ معنی نہیں کہ وہ لوگ بہائی بھی ہوتے ہیں۔ ہمارے اخباروں کے بھی کئی ہندو‘ سکھ اور غیر احمدی خریدار ہیں۔ پھر ان کے ہاں چندہ مقرر ہے گو اتنا نہیں جتنا ہماری جماعت کا ہے اور باوجودیکہ بہاء اللہ نے سب مال بیٹوں کیلئے رکھا ہے مگر ان کی حالت دیکھی ہے بہت کمزور ہے۔ ان کا ایک بھی مدرسہ نہیں ان کے اپنے بچے سرکاری مدرسہ میں پڑھنے کے لئے جا رہے تھے۔ چونکہ لوگ ان کے حالات سے واقفیت نہیں رکھتے اس لئے وہ باتیں بناتے رہتے ہیں حالانکہ اس قسم کی باتیں بالکل دیانت داری کے خلاف ہیں۔ انکی بہت ساری کتابیں ہمارے پاس ہیں اور کتاب اقدس کا خلاصہ تو یہاں بھی میرے پاس ہے جس کا اصل سے مقابلہ کر لیا گیا ہے۔
    پس احمدیت اور بہائیت کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ ہم ان کو یہاں بھی شکست دے سکتے ہیں اور وہاں ان کے ملک میں بھی اور خدا تعالیٰ نے چاہا تو تھوڑے دنوں میں ایران میں بھی ان کو شکست ہو گی جو ان کا مولد ہے۔ تفصیلات میں پڑنے کا یہ موقع نہیں اس لئے جو کچھ ان کی کتابوں میں درج ہے اس میں سے اس وقت بہت کم بتایا جا سکا ہے۔ مفصّل اصل کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بہاء اللہ نے اپنی کتاب اقتدار صفحہ ۱۳۰ میں لکھا ہے۔ ونفسی عندی علم ماکان ومایکون۴؎ مجھے اپنی دات کی قسم ہے کہ مجھے گذشتہ اور آئندہ سب کا علم ہے۔ لیکن ایک دوسری جگہ خود ہی لکھتے ہیں۔ فلاں شخص نے ہمارے خلاف کتاب لکھی ہے لیکن وہ کتاب چونکہ ملی نہیں اس لئے ہم اس کا جواب نہیں دے سکے حالانکہ جب انہیں آئندہ کا بھی علم تھا تو چاہئے تھا کتاب لکھی جانے سے بھی پہلے اس کے متعلق انہیں پورا پورا علم ہو جاتا کُجا یہ کہ کتاب کے شائع ہو جانے پر بھی نہ ہوا۔ باقی ان کے اخلاق کی حالت یہ ہے کہ خود بہاء اللہ اور ان کا خلیفہ جو عبدالبہاء بتایا جاتا ہے وہ صبحِ ازل کو سخت گالیاں دیتے رہے ہیں اور اس کا نام ہی شیطان رکھ دیا تھا حالانکہ صبحِ ازل وہ ہے جسے باب نے اپنا خلیفہ بنایا تھا۔ بہاء اللہ صبحِ ازل کے سیکرٹری تھے۔ وہ صبحِ ازل کا نام نہیں لیتے بلکہ شیطان کہتے ہیں یہ اگر گالی نہیں تو نہ معلوم اگر گالیوں پر اُتر آتے تو کیا کرتے۔ ہمارے بہت بڑے دشمنوں میں سے ایک مولوی ثناء اللہ صاحب ہیں مگر ہم عام طور پر انہیں مولوی ثناء اللہ صاحب ہی کہتے ہیں۔ لیکن وہ صبحِ ازل کو جو باب کا خلیفہ اور خود ان کا مقرر کیا ہوا تھا شیطان کے نام سے پکارتے ہیں اور کہتے ہیں انہیں اس لئے خلیفہ مقرر کیا گیا تھا تا کہ دشمنوں کو دھوکا لگے او وہ بہاء اللہ کو نہ پکڑ سکیں ورنہ باب کے اصل قائمقام بہاء اللہ ہی تھے۔ خواہ کچھ ہو بہرحال صبحِ ازل باب کا قائمقام تھا مگر اس کا نام شیطانِ لعین کے سوا نہیں لیا جاتا۔ غرض ان کے متعلق اس قسم کی باتیں تحقیق سے معلوم ہو سکتی ہیں۔ یہاں بھی ہمارے پاس ان کا کچھ لٹریچر ہے۔ مؤمن کا کام ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے سے قبل تحقیق کرے اور پھر نتیجہ پر پہنچے سُنی سنائی باتوں پر یقین کر لینا دیانت داری کے خلاف ہے۔
    باقی رہا مباہلہ۔ سو اگر کسی میں جرأت ہے تو اتنا ہی شائع کر دے کہ مرزا صاحب کی فلاں فلاں پیشگوئیاں جھوٹی نکلی ہیں اگر میں یہ جھوٹ کہوں تو مجھ پر خدا کی *** ہو اتنا ہی کافی ہے اسی سے فیصلہ ہو جائے گا۔
    ہمارے نزدیک تو سب ہی اللہ کے بندے ہیں اس لئے ہم یہی دعا کرتے ہیں خدا تعالیٰ سب کو ہدایت دے اور ان لوگوں کو بھی ہدایت دے جو اس دیدہ دلیری سے اعتراض کرتے ہیں کہ وہ مغضوب بنا دیتی اور تباہ کر دیتی ہے۔ (الفضل ۳۔ ستمبر ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ الطور: ۴ ۲؎ الانفال: ۱۸ ۳؎ الحج: ۷۵
    ۴؎ اقتدارِ بہاء مصنفہ بہاء اللہ صفحہ ۱۳۰ مطبوعہ ۱۳ رجب ۱۳۱۰ھ









    ۲۴
    جو کام شروع ہو چکا ہے اسے مردانہ وار انجام کو پہنچاؤ
    (فرمودہ ۴۔ اکتوبر ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    جو واقعات دنیا میں انسان کے اپنے ارادہ یا بغیر ارادہ کے ظاہر ہوتے ہیں وہ سب کے سب اپنے اندر ایک اخفاء کا پہلو رکھتے ہیں ہم انکے اختتام تک پہنچنے سے پہلے یا ان کا انجام ظاہر ہونے سے قبل یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ ہمارے لئے خیر کا موجب ہوں گے یا شر کا۔ بسااوقات ایک چیز ہماری خواہشات اور امنگوں کو برانگیختہکر دیتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ چیز ہمیں نہ ملی تو نہ معلوم کتنا بڑا نقصان ہو گا لیکن جب وہ ملتی ہے تو بجائے اس کے کہ ہمارے لئے راحت‘ چین یا سُکھ کا موجب ہو وہ دکھ اور تکلیف کا موجب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بسااوقات ایک چیز جو ملی ہوتی ہے جب کھوئی جاتی ہے تو خیال ہوتا ہے نہ معلوم اس کے کھوئے جانے سے ہمیں کیا کیا نقصان برداشت کرنے پڑیں گے لیکن اس کے کھوئے جانے کے اندر ایسی ایسی برکتیں اور رحمتیں ہوتی ہیں جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔ پس جب تک کوئی چیز اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتی وثوق یا یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے لئے وہ نقصان کا موجب ہو گی یا فائدہ کا۔
    میری عدم موجودگی میں یہاں ایک مذبح خانہ کھلا تھا جو میری عدم موجودگی میں ہی گِرا بھی دیا گیا۔ میری عدم موجودگی میں ہی یہاں برطانوی حکومت کے زیر حفاظت گائے ذبح کرنے کا کام شروع بھی ہوا اور میری عدم موجودگی میں ہی بند بھی ہو گیا۔ گائے کے ذبح کرنے کے سوال کے متعلق ہماری جماعت کے دوست اور دوسرے لوگ بھی قادیان میں بھی اور باہر بھی اس امر کے خواہش مند تھے کہ کسی طرح ذبح کرنے کی اجازت ہو جائے۔ مگر جیسا کہ دوست جانتے ہیں میں ہمیشہ اس میں روک ڈالتا رہا اور روک ڈالنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم لوگ ایک خاص کام کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمام دنیا سے علیحدہ کر کے تبلیغِ اسلام کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔ میں ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہو اس سے ہم اپنے کام سے دور ہو جائیں اور ہماری توجہ بعض دوسرے امور کی طرف جو خواہ کتنے بھی ضروری کیوں نہ ہوں مگر ہمارے اصل مقصد پر مقدم نہیں ہو سکتے نہ پھر جائے اور اس کے علاوہ یہ وجہ بھی تھی کہ قدرتی طور پر میری طبیعت اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ دوسرے کا لحاظ کرنے پر بسا اوقات میں مجبور ہو جاتا ہوں۔ پس مجھے پسند نہیں تھا کہ ہماری جو ہمسایہ اقوام ہیں ان کے احساسات کا لحاظ جس حد تک ہم کر سکتے ہیں نہ کریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جو غیبوں کاجاننے والا ہے اور جو اُن باتوں کو دیکھتا ہے جن تک ہماری نگاہیں نہیں پہنچ سکتیں وہ کچھ اور چاہتا تھا اور اُس کی حکمت کے ماتحت ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں کی یہ خواہش بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ میں نے سمجھا اب اِس میں روک ڈالنا مناسب نہیں اور میں نے اجازت دیدی کہ درخواست دیدی جائے۔ میں سمجھتا ہوں وہ دوست جو اِس کے اجراء کے لئے مُصِرّتھے ان کے ذہن میں یہ حالات نہیں تھے وگرنہ وہ بھی میرے مؤیّد ہوتے اور کہتے اور صبر کر لیا جائے۔ یوں بھی انسان گوشت کھانے سے رک جاتا ہے۔ بیمار ہو جاتا ہے اس لئے گوشت نہیں کھا سکتا یا زیادہ شادیاں کرنی پڑیں یا اولاد زیادہ ہو تو اخراجات بڑھ جاتے ہیں یہ سب حالتیں انسان کو برداشت کرنی ہی پڑتی ہیں۔ پس اگر ان کے ذہن میں یہ باتیں ہوتیں تو ممکن ہے وہ بھی یہی نقطۂ نگاہ اختیار کر لیتے اور خیال کر لیتے گوشت نہ ملا تو نہ سہی یا یہ کہہ دیتے چلو تین آنہ سیر نہ سہی آٹھ آنہ سیر ہی کھا لیں گے۔ سیر نہ کھائیں گے آدھ سیر پر ہی گذارہ کر لیں گے۔ لیکن چونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ غیب میں کیا مقدر ہے اور انہیں یہی امید تھی کہ ادھر مذبح کُھلا اُدھر گوشت کی کثرت ہو جائے گی اس لئے وہ میرے انکار کو واجب دباؤ خیال کرنے لگے حتیّٰ کہ بعض گھبرا کر آئینِ حکومت کے خلاف کارروائیاں کرنے لگے جس کی وجہ سے انہیں سزا دینی پڑتی تھی۔ اور بعض کی چہ میگوئیاں اور اعتراضات جو مجھ تک پہنچتے تھے بتاتے تھے کہ وہ اسے اہم اور ضروری چیز سمجھتے ہیں۔ غرض اس کشمکش میں وہ دن آ گیا کہ میں نے سمجھا غیب کو کھولنا میرے اختیار میں نہیں۔ چونکہ لوگوں کا مطالبہ درست اور جائز ہے مجھے چاہئے غیب کو غیب دان پر چھوڑ دوں اور اجازت دیدوں آخر درخواست دی گئی اجازت مل گئی مذبح کھل گیا۔ مجھے تو ذاتی طور پر اس کی حاجت نہ تھی اور نہ ہی میں گائے کا گوشت کھانے کا عادی ہوں۔ مجھے تو یہ ہضم بھی نہیں ہوتا بلکہ سوائے ایک دو صورتوں کے جو مجھے مرغوب ہیں گائے کے گوشت سے بعض صورتوں میں مجھے گھِن آتی ہے مگر میری مخالفت اس لئے نہ تھی بلکہ اس لئے تھی کہ سلسلہ اور اسلام کا مفاد میرے خیال میں یہی چاہتا تھا۔ مگر گائے کے گوشت کی مسلمانوں کو کچھ ایسی چاٹ ہے کہ اس کی یاد میں وہ تلملا رہے تھے اور میرے متعلق حیران تھے کہ اسے یہ خواہش کیوں نہیں۔ آخر انکی خواہش پوری ہوئی اور دوستوں نے خوب کھایا بھی لیکن پھر خدا تعالیٰ کی مشیّت نے اسے بند کر دیا جس پر ملک میں ایک اصولی سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا کسی قوم کا یہ حق ہے کہ دوسری قوم کو اس کی جائز اور درست باتوں سے بالجبر روک دے۔
    میں چونکہ دو لحاظ سے نہیں چاہتا تھا کہ یہاں مذبح کھلے۔ ایک تو اس لئے کہ اگر نقصان اٹھا کر بھی ہمیں ہمسائیوں کے احساسات کا لحاظ رکھنا پڑے تو کوئی حرج نہیں اور دوسرے اس لئے کہ اس سے ہماری توجہ تبلیغ سے ہٹ کر دوسرے امور میں لگ جائے گی۔ اگرچہ اس میں شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے کی قابلیتیں بھی بخشی ہیں مگر جوش پیدا کرنے والے کاموں کے متعلق خدشتہ ہوتا ہے کہ دوسرے کاموں سے توجہ پھیر نہ دیں۔ جیسے عدمِ تعاون کے دنوں میں کئی نوجوان تعلیم ترک کر کے اب بے کار پھر رہے ہیں اگرچہ ان میں یہ مادہ تھا کہ وہ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ ہی ملکی مفاد کی بھی نگرانی کرتے لیکن جوش کی رَو میں انہوں نے تعلیم کو چھوڑ دیا اور عام طور پر ایسے مواقع پر کمزور طبائع جوش کی رَو میں بہہ جاتی ہیں اس لئے ڈر تھا کہ نقصان نہ ہو۔ یا سلسلہ کا کام کرنے والوں پر نوجوانوں کے جوش کو دبانے اور پیدا شُدہ مشکلات کا حل کرنے کی وجہ سے کام کا زیادہ بوجھ نہ پڑ جائے۔ خیر مذبح بنا اور پھر گرا بھی دیا گیا اور اس کے گرنے کے ساتھ ہی حکومت کا رویہ بھی بدلنا شروع ہوا۔ میں نے پہلے ہی لکھا تھا کہ جس وقت سے ملک میں حکومت خود اختیاری کا سوال پیدا ہوا ہے حکومت ہمیشہ زبردست کا ساتھ دینے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ کوئی خواہ کتنا بھی دیانتدار ہو اگر اس میں دینداری اور روحانیت نہیں تو وہ قومی مفاد کے مقابلے میں دیانتداری کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتا۔ جس کے اخلاق کسبی ہوں وہ جہاں بھی قومی سوال پیدا ہو گا انہیں خیرباد کہہ دیگا۔ اسی لئے میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ جوں جوں ہندوستان میں حکومت خود اختیاری کا سوال زور پکڑتا جائے گا انگریز زبردست کی طرف جھکتے جائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں زبردست کی حمایت کے بغیر ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔
    آئر لینڈ میں دیکھ لو کیا ہوا۔ جن لوگوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر حکومت کا ساتھ دیا حکومت نے جب دیکھا کہ ملک میں مخالفت بڑھ گئی ہے تو اس نے ان جانبازوں کا ساتھ چھوڑ دیا اور ایسے ایسے قوانین پاس کر دیئے جنہیں ان بہادروں نے اپنی حق تلفی سمجھا۔ وہ لوگ ان کے ہم مذہب‘ ہم قوم اور وفادار تھے لیکن ان تعلقات کے ہوتے ہوئے جب زبردست کے مقابلہ میں ان کی پرواہ نہ کی گئی تو صرف وفاداروں کا جو نہ ان کے ہم مذہب ہیں نہ ہم قوم‘ ساتھ چھوڑ دینا کونسی اچنبھے کی بات ہے۔ ہندوستان سے علیحدہ ہو کر برطانیہ کچھ بھی نہیں رہتا وہ محض ایک چھوٹی سی ریاست رہ جاتا ہے۔ اس کی تمام شان و شوکت اس کی نَو آبادیات سے ہی ہے اور ظاہر ہے کہ چند آدمیوں کی خاطر خواہ وہ اس کے کتنے ہی حامی ہوں اپنی قومی شوکت قربان نہیں کر سکتا۔ یہ نقطہ نگاہ میں نے ہمیشہ مسلمانوں کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ سَوَراج کے مطالبہ سے پہلے اس بات کو مدنظر رکھ لو اور اپنے حقوق کا انتظام کرو۔ میرے نزدیک ضروری ہے کہ مسلمان آئندہ نتائج پر غور کر کے کوئی صحیح راہ تلاش کریں۔ میں سَوَراج کا مخالف نہیں بلکہ زبردست مؤیّد ہوں لیکن جو سَوَراج اسلام اور مسلمانوں کا نشان ہندوستان سے مٹانے والا ہو اُسے ہم کسی صورت میں منظور نہیں کر سکتے۔ بہرحال موجودہ حالات میں جب حکومت نے دیکھا کہ سکھوں نے بہت جوش کا اظہار کیا ہے تو وہ دبنے لگی اور لگی آنے بہانے بنانے۔ وہی ذمہ وار حاکم جسے ہندوستانیوں کے مطالبات کے جواب میں ہمیشہ پیش کیا جاتا ہے او رکہا جاتا ہے ہمارے Man of the Spot کی یہ رائے ہے اسے ہم کس طرح غلط سمجھ سکتے ہیں۔ اس کی رائے بھی غلط قرار پا گئی ہے اور کہا جانے لگا ڈپٹی کمشنر نے بڑی غلطی کی اور حکومت کے منشاء کو صحیح نہیں سمجھا۔ بہرحال ان آثار نے ہماری جماعت پر واضح کر دیا ہے کہ یہ معاملہ سیدھے ہاتھوں طے نہیں ہو گا۔ لیکن جو لوگ سب سے زیادہ جوش دکھاتے تھے اگر اس معاملہ نے طُول کھینچا تو وہی پیچھے ہٹیں گے اور جو سمجھتے تھے اس کے بغیر زندگی نہیں بسر ہو سکتی تھوڑے ہی دنوں میں وہ کہنے لگ جائیں گے یہ فضول بات ہے اس کے لئے اتنے لمبے جھگڑے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ لیکن وہی جو اس وقت بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے تھے وہی ہوں گے جو مستقل رہیں گے اور کہیں گے یہ بوٹیوں کا سوال نہیں بلکہ حقوقِ ملّی اور قومی وقار کا سوال ہے اور سب سے زیادہ مَیں جس نے گوشت نہیں کھانا تھا‘ انشاء اللّٰہ العزیز اس پر قائم رہوں گا اور اگر خدا تعالیٰ نے زندگی دی تو اس مسئلہ کو طے کرا کے چھوڑوں گا۔
    اس موقع کے مطابق میں ایک بات سنانا چاہتا ہوں ایک زمانہ میں امریکہ میں انگلستان کی نَو آبادیاں تھیں۔ انگلستان میں چونکہ اُس وقت مذہبی اختلاف تھا اور مذہب کے نام پر سخت مظالم ہوتے تھے اس لئے وہابی مزاج انگریز امریکہ چلے جاتے تھے اور اس طرح امریکہ میں ان کی بارہ نَوآبادیات قائم ہو گئیں۔ یہ لوگ وہاں جا کر بستے اور ا س طرح مظالم سے پناہ لیتے تھے لیکن ان پر حکومت برطانیہ کی ہی تھی۔ کچھ مدت بعد ان لوگوں میں خیال پیدا ہو ا کیا وجہ ہے ہم ان لوگوں کی حکومت میں رہیں۔ ان میں بیداری پیدا ہوئی اور انہوں نے برطانیہ سے بعض قوانین نرم یا تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا لیکن برطانیہ نے حکومت کے گھمنڈ میں کہا ہم امریکہ کا کوئی مطالبہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں حتیّٰ کہ معمولی معمولی باتوں پر انہیں تنگ کرنے کے لئے گراں قدر ٹیکس لگا دیئے۔ چائے پر ایسی پابندیاں عائد کر دیں کہ اہلِ امریکہ نے کہا ہم چائے کا استعمال ہی ترک کر دیتے ہیں۔ جب یہ حالت ہوئی تو ایک بوڑھے آدمی نے جس کا نام پٹ ۱؎ (PITT) تھا اور جو اس وقت برطانیہ کاوزیراعظم تھا پارلیمنٹ میں تقریر کی اور کہا دیکھو جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو وہ پوری طرح ہمارے اختیار میں ہوتے ہیں۔ ان کا پاخانہ کرنا‘ کھانا پینا‘ پہننا سب کچھ ہماری مرضی پر ہوتا ہے۔ پہلے ان کی زبان نہیں ہوتی پھر وہ ذرا بڑے ہوتے ہیں اور کچھ کچھ باتیں کرنے لگتے ہیں اور ہمیں انکی بعض باتیں ماننی پڑتی ہیں اور بعض رد کر دیتے ہیں آخر جب وہ جوان ہوتے ہیں تو ہم یہ نہیں کہتے کہ آؤ ان کو دودھ پلائیں یا ان کے پوتڑے باندھیں بلکہ انہیں آزادی دے دیتے ہیں کہ اپنے حسبِ منشاء کام کریں ایسی صورت میں ہی وہ ہمارے وفادار رہ سکتے ہیں لیکن اگر جوانی میں بھی ان سے بچپن والا ہی سلوک کریں تو یقینا رنجش پیدا ہو گی۔ امریکہ کبھی بچہ تھا لیکن اب بالغ ہو چکا ہے سیاسیات سے واقف ہو چکا ہے اب ہمیں چاہئے اس سے جوان بیٹے والا سلوک کریں۔ لیکن لوگوں نے کہا پِٹ بُزدل ہے۔ اس کی بات ماننے کے قابل نہیں امریکہ میں قانون ہمارا ہی چلے گا اور ہم ان لوگوں کو کوئی حق نہ دیں گے اس پر بڈھا پٹ دل شکستہ ہو گر گھر جا بیٹھا۔ آخر امریکہ میں بغاوت ہوئی اور ایسی شاندار بغاوت ہوئی کہ اس کی مثال بہت ہی کم ملتی ہے۔ امریکہ کے کمزور اور ناتربیت یافتہ لوگوں نے وہ وہ کارہائے نمایاں کئے کہ تاریخ میں پڑھ کر دل وجد کرتا ہے۔ ان کے پاس کوئی سامان نہ تھا‘ ان کا کوئی نظام نہ تھا لیکن عورتیں بچے بوڑھے سب کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا ہم اپنے ملک کو آزاد کرا کے چھوڑیں گے۔ انگریزوں نے فوج پر فوج بھیجی‘ بیڑے پر بیڑے اُتارے لیکن انکی چھوٹی چھوٹی کشتیوں اور ناتربیت یافتہ آدمیوں نے ان کی باقاعدہ تربیت یافتہ فوجوں اور بیڑوں کے دانت کھٹے کر دیئے۔ اس پر وہی لوگ جو یہ کہتے تھے کہ امریکہ کو کچھ نہیں دینا چاہئے کہنے لگے چھوڑو اس معاملہ کو ‘ اتنا نقصان برداشت کرنے کی کیا ضرورت ہے امریکہ والے جو کہتے ہیں مان لیا جائے۔ بوڑھا پٹ اُس وقت بہت ضعیف ہو چکا تھا وہ دو چار آدمیوں کے سہارے چل کر پھر پارلیمنٹ میں آیا اور اس نے کہا میں نے پہلے تمہیں ایک مشورہ دیا تھا جو تم نے نہ مانا اس کا انجام دیکھ لیا۔ اب پھر میں کہتا ہوں کہ جو تلوار اٹھ چکی ہے اسے نہ رکھنا جب تک کامیابی حاصل نہ ہو جائے وگرنہ تمہارے وقار کو سخت صدمہ پہنچے گا لیکن لوگوں نے کہا یہ سٹھیا گیا ہے اور اس کی کسی نے نہ مانی اور صلح کر لی۔ پٹ تو اس صدمہ سے جان بر نہ ہو سکا لیکن آج انگلستان کے اعزاز کا مقابلہ کرنے والی اور اس کی شوکت کو چیلنج کرنے والی وہی نَو آبادیات ہیں جن کو United States of America کہتے ہیں اور آج اگر کسی قوم کے مقابلہ میں انگلستان کی کنّی دبتی ہے تو وہ امریکہ ہی ہے۔ یہ واقعہ ہمارے لئے بہت بڑا سبق اپنے اندر رکھتا ہے میں نے بھی پہلے اپنی جماعت کے دوستوں سے کہا تھا کہ جہاں پہلے گائے کا گوشت نہ فروخت ہونے کی وجہ سے نقصان اُٹھاتے رہے ہو چند سال اور اُٹھا لو جب تک اللہ تعالیٰ اس تمام علاقہ کو مسلمان کر دے لیکن اُس وقت کا انتظار نہ کیا گیا۔ اب جبکہ اس کام کو شروع کر دیا گیا ہے تو اسے اس طرح نبھاؤ کہ ایک طرف تو تبلیغ میں جو ہمارا اصل کام ہے کوئی کمی واقع نہ ہوتاہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم نہ ہو جائیں اور دوسری طرف اس کام سے بھی پیچھے نہ ہٹو جب تک اس میں کامیاب نہ ہو جاؤ۔ ورنہ یاد رکھو ابتدائی ایام میں ہی تمہارے وقار کو وہ صدمہ پہنچے گا کہ پھر سنبھلنا مشکل ہو جائے گا اور تمہاری وہی حالت ہو جائے گی جو کسی شاعر نے بیان کی ہے
    ؎ پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے
    حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بِن کھِلے مُرجھا گئے
    تم ابھی غنچہ ہو لیکن کام پھولوں والا کیا ہے ایسا نہ ہو کہ بِن کھلے ہی مرجھا جاؤ۔ بہتر ہوتا اگر کُلیۃً اسی کام میں مصروف رہتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے مخصوص کیا گیا ہے لیکن جب تم نے دوسرے کام میں بھی ہاتھ ڈالا ہے تو تم پر دو ذمہ واریاں عائد ہو گئی ہیں اور دونوں کو نبھانا تمہارا فرض ہے۔ یاد رکھو اگر تبلیغ میں کوتاہی کی تو نہ دین میں تمہارا ٹھکانا ہو گا اور نہ دنیا میں۔ ہمارا کام گائے کھانا نہیں بلکہ قرآن کریم اور اسلام کی اشاعت ہے اگر اس سے غفلت کی تو دونوں جہان میں نقصان اُٹھاؤ گے۔ ہر ایک کام پر تبلیغ کو مقدم کرو اور پھر جو زائد ذمہ داری اپنے اوپر ڈالی ہے اسے نبھاؤ۔
    جس طرح بعض بظاہر خیر نظر آنے والی باتیں تکلیف کا موجب ہو جاتی ہیں اسی طرح بعض تکلیف دہ نظر آنے والی باتیں راحت و آرام کا موجب بھی ہو جاتی ہیں۔ قرآن کریم نے عسی ان تحبواشیا وھو شرالکم کے ساتھ عسی ان تکر ھوا شیا وھو خیرلکم ۲؎ بھی فرمایا ہے۔ یہ ایک زائد بوجھ جو آپ لوگوں نے خود اُٹھایا ہے بہت سی طبائع پر بارِ گراں ہو گا لیکن یہ اب اصولی سوال بن گیا ہے اور سارے ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے اس لئے ممکن ہے زیادہ وقت لے۔ لیکن تھوڑے ہی دنوں میں کمزور طبع والے بہانے بنانے لگیں گے اس لئے میں ان سے کہتا ہوں کہ قرآن کریم نے بتایا ہے بعض بُری نظر آنے والی چیزیں بھی خیر کا موجب ہو جایا کرتی ہیں۔ پس اگر اسے بُرا بھی سمجھو تو یاد رکھو اس سے بھی ایسے اسباب پیدا ہو سکتے ہیں جو اسلام و احمدیت کے استحکام کا موجب ہوں۔ لیکن یہ یاد رکھو بُزدل نہ دنیا میں پسندیدہ ہے نہ دین میں۔ مؤمن کو بہادر ہونا چاہئے وہ کبھی بُزدل نہیں ہوتا اور کسی سے ڈرا نہیں کرتا اپنے اندر اور اپنی اولادوں کے دلوں میں دلیری پیدا کرو۔ اپنے بچوں کے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر دو کہ ایک مسلمان ہزاروں غیر مسلموں پر بھاری ہوتا ہے اور اسلام اور ایمان کی جرأت کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔
    حضرت عمرؓ کے زمانہ میں عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک جنگ ہو رہی تھی جس میں بقول اسلامی مؤرخین عیسائی فوج کی تعداد دس لاکھ تھی لیکن عیسائی صرف چار لاکھ بتاتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں اسلامی لشکر صرف ساٹھ ہزار تھا۔ گویا ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں چھ چھ سات سات دوسرے لوگ تھے اور دس لاکھ کا اندازہ صحیح ہوتو گویا ایک مسلمان کے مقابلہ میں تیس تیس عیسائی تھے۔ لڑائی نے طُول کھینچا تو حضرت ابو عبیدہؓ نے صحابہ کو مشورہ کے لئے طلب کیا اور پوچھا اب کیا کرنا چاہئے؟ ایک صحابی (حضرت خالد بن ولیدؓ) نے کہا آپ نے ہی ان عیسائیوں کو سرچڑھا رکھا ہے اور وہ سمجھنے لگے ہیں ہمارے مقابلہ کے لئے ساٹھ ہزار مسلمانوں کی ضرورت ہے حالانکہ صرف ساٹھ آدمیوں سے ان کا مقابلہ کرنا چاہئے آپ مجھے ساٹھ آدمی دیں میں ان پر حملہ کرتا ہوں۔ اصل میں تو میں تیس ہی چاہتا تھا لیکن مسلمانوں کی جا ن پر رحم کر کے میں نے ساٹھ کہے ہیں۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے اس میں تأمّل کیا لیکن آخر کار دوسروں کے مشورہ سے ساٹھ آدمی تیار ہو گئے۔ انہوں نے تدبیر یہ کی کہ لشکر کے درمیان میں کمانڈر کھڑا تھا جس پر کہ جنگ کا انحصار تھا کیونکہ اُس زمانہ میں جنگ کا یہی دستور تھا۔ جب کمانڈر مارا جاتا تو فوج بھاگ جاتی تھی۔ اب تو چونکہ نظام بہت وسیع ہو گیا ہے اس لئے کمانڈر کے مارے جانے کا لڑنے والوں کو علم بھی نہیں ہوتا لیکن اس زمانہ میں ایسا نہ تھا اس لئے انہوں نے قلبِ لشکر پر حملہ کر دیا اور اُس وقت تک دم نہ لیا جب تک کہ ماہان پر جو کمانڈر تھا حملہ نہ کر دیا۔ ا س کے اردگرد کے جرنیل مارے گئے اور وہ خود بھاگ گیا جس پر فوج بھی بھاگ گئی۔ اگرچہ بعد میں اور صحابہ نے بھی حملہ کر دیا لیکن ابتداء انہیں لوگوں نے کی اور اگرچہ ان میں سے اکثر شہید ہو گئے لیکن جو کام وہ کرنا چاہتے تھے کر گئے۔ سو مومن کبھی بُزدل نہیں ہوتا۔
    ایک دفعہ شام سے اطلاع آئی کہ خطرناک جنگ ہو رہی ہے اور اسلامی فوج کو کمک کی ضرورت ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے معدی کربؓ کو جو ایک صحابی تھے اور بڑے زبردست پہلوان تھے بھیجا اور لکھا کہ معدی کربؓ کو جو ایک ہزار کفار کے لئے کافی ہے تمہاری مدد کے لئے بھیجتا ہوں۔ اگر آج کوئی ایسا کرے تو شاید اسے پاگل خیال کیا جائے۔ پس یاد رکھو یقین اور ایمان کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ دنیا میں تعداد سے اتنا کام نہیں نکلتا جتنا جرأتِ ایمانی سے۔ مؤمن جس وقت خدا پر یقین رکھتے ہوئے مستانہ وار نکلتا ہے تو لوگوں کی آنکھیں خود بخود اس کے آگے جُھکتی چلی جاتی ہیں۔ جنگِ حنین میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے اور مقابل پر چار ہزار تِیر انداز تھے۔ لیکن آپ
    انا النبی لا کذب
    و انا ابن عبدالمطّلب
    کہتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ ۳؎ اُس وقت کیا چیز تھی جو کفار کو اس بات سے روکے ہوئے تھی کہ بڑھ کر آپ کے گرد حلقہ کر کے گرفتار کر لیتے۔ کیوں اُن کی تلواریں میانوں سے نہیں نکلتی تھیں؟ وہ رسول کریم ﷺ کا یہی یقین اور وثوق تھا کہ خدا میرا مددگار ہے اور وہ مجھے نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔ جس طرح ایک اژدہا کے سامنے پرندہ مسحور ہو جاتا ہے اور کچھ نہیں کر سکتا اسی طرح وہ لوگ بھی مسحور تھے۔ پس اپنے اندر ایمان پیدا کرو‘ اسلام پیدا کرو اور یقین پیدا کرو پھر مَیں ضامن ہوں کہ دنیا کی کوئی قوم تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ جب تک کسی کے اندر ایمان نہ ہو اُسی وقت تک وہ بُزدل ہوتا ہے لیکن جس کے ساتھ خدا ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔
    میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم میں سچا ایمان اور اخلاص بھر دے۔ ہمارے دلوں میں وہ نور ہو جو خاص اسی سے آتا ہے یہی نور ہمارے آگے ہو‘ ہمارے پیچھے ہو‘ ہمارے دائیں ہو‘ ہمارے بائیں ہو‘ ہمارے نیچے ہو‘ ہمارے اوپر ہو۔ غرضیکہ سر سے پاؤں تک ہم اسی نور میں آ جائیں اور نور بن جائیں- امین یا رب العٰلمین
    (الفضل ۱۱۔اکتوبر ۱۹۲۹ئ)
    ‏۱؎ PITT دو ہوئے ہیں اور دونوں ہی برطانیہ کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔
    ‏(i) WILLIAM PITT THE ELDER (۱۷۰۸ئ۔۱۷۷۸ئ)
    ۱۷۳۵ء میں پارلیمنٹ کا ممبر منتخب ہوا۔ ۱۷۶۶ء میں جار ج سوم نے اسے ’’ارل آف چیتھم‘‘ کا خطاب دیکر وزیراعظم بنا دیا۔
    (پاپولر۔ تاریخ انگلستان صفحہ ۲۱۵ تا ۲۱۷ مطبوعہ لاہور ۱۹۴۰ئ)
    ‏(ii) PITT WILLIAM THE YOUNGER (۱۷۵۹ئ۔۱۸۰۶ئ)
    ولیم پٹ کا دوسرا بیٹا جو ۱۷۸۳ء سے لیکر ۱۸۰۱ء تک برطانیہ کا وزیراعظم رہا۔ 24 سال کی عمر تھی کہ وزیراعظم بنا دیا گیا۔ یہ برطانوی تاریخ کا مشہور وزیراعظم تھا۔
    (دی انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا جلد ۱۴صفحہ ۴۷۵تا ۴۸۱)
    ۲؎ البقرۃ: ۲۱۷
    ۳؎ بخاری کتاب المغازی باب قول اللّٰہ تعالی و یوم حنین اذ اعجبتکم …الخ

    ۲۵
    اپنی خداداد استعدادوں سے دوسروں کو مستفید کرو
    (فرمودہ ۱۱۔اکتوبر۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    انسانی فطرت کے مطالعہ سے یہ بات کُلّی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ انسانوں کی استعدادیں مختلف ہوتی ہیں۔ کسی کے اندر زیادہ قابلیت ہوتی ہے اور کسی کے اندر کم۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو چونکہ مکلّف بنایا ہے اور اگر وہ اس کی طرف سے آنیوالی آواز کو نہیں سنتا تو وہ مؤاخذہ کے نیچے ہے اس لئے ایک قلیل معیار ایسا رکھا گیا ہے جس سے اُتر کر کوئی انسانی دماغ نہیں ہوتا سوائے اس صورت کے کہ وہ بگڑ جائے اور انسان پاگل ہو جائے۔
    دنیا میں جس قدر چیزیں ہم دیکھتے ہیں تمام کے اندر اختلاف پایا جاتا ہے۔ مدارج کے لحاظ سے ہر چیز کی ایک قلیل سے قلیل اور ایک بڑی سے بڑی حد بندی ہوتی ہے اور یہ حالت ہم ہر چیز میں دیکھتے ہیں۔ انسان کے قدکو ہی لے لو ایک چھوٹے سے چھوٹا قد ہو گا جس سے چھوٹا اور نہ ہو گا اور ایک بڑے سے بڑا ہو گا جس سے بڑا اور نہ ہو گا لیکن دونوں کے درمیان مختلف قد ہیں اور اگر زیادہ باریکی سے ناپنے کا کوئی آلہ ہوتا تو شاید معلوم ہو جاتا کہ دنیا میں دو انسانوں کا بھی ایک جتنا قدنہیں۔ یہی حال بینائی کا ہے ایک کم سے کم اور ایک زیادہ سے زیادہ بینائی ہو گی پھر درمیان میں لاکھوں اقسام کی بینائیاں ہونگی۔ پھر یہی حال شنوائی کا ہے یہی حال موٹاپے اور دُبلے پن کا ہے۔ ایک زیادہ سے زیادہ موٹا ہو گا جس سے زیادہ موٹا نہ ہو گا اور ایک کم سے کم دُبلا ہوگا جس سے کم دُبلا کوئی نہ ہو گا درمیانی درجہ میں ہزاروں دُبلے اور موٹے ملیں گے۔ انسان کے اعضاء کا بھی یہی حال ہے پھر اور جو چیزیں دنیا میں ہیں ان کا بھی یہی حال ہے۔ ہر میوہ کے قد میں فرق ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے سے چھوٹاآم ہو گا جس سے زیادہ چھوٹا نہ ہو گا اور ایک بڑے سے بڑا ہو گا جس سے بڑا نہ ہوگا۔ غرض اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کیلئے حد بندی کر دی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی اتنی ہو گی اور بڑی سے بڑی اتنی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی عقلوں میں بھی حد بندی کر دی ہے۔ ایک چھوٹی سے چھوٹی عقل ہو گی جو ہر ایک انسان میں پائی جائے گی۔ چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہر انسان ایمان حاصل کر سکے اس لئے اگر وہ ایمان کو چھوٹی سے چھوٹی عقل کا معیار نہ قرار دیتا تو پھر سب مکلّف نہ ہوتے صرف وہی ہوتے جو اس عقل سے اوپر ہوتے۔ کیونکہ جس شخص کی سمجھ میں ہی کوئی بات نہ آئے اس پر اس کے متعلق الزام عائد نہیں ہو سکتا اس لئے ایمانی ادنیٰ سے ادنیٰ عقل کا معیار ہے اور درمیان میں عقل کے مختلف مدارج ہیں جن کے لحاظ سے کوئی بڑا عقلمند ہے اور کوئی چھوٹا۔ اور عقل کے ان مدارج کے لحاظ سے انسانوں کے کاموں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ کوئی بڑا آدمی ہوتا ہے اور کوئی اوسط درجہ کا اور کوئی معمولی۔ اور مختلف انسانوں میں اس اختلاف میں انکی عقل کا ہی دخل ہوتا ہے جو فطرت نے انہیں دی ہے۔ میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ انسانی عقل میں تفاوت کیوں ہے جس سے ایک بڑا آدمی بن جاتا ہے اور دوسرا بالکل معمولی رہتا ہے اور اسکا ہونا ظلم ہے یا نہیں۔ یہ ایک الگ مضمون ہے۔ اِس وقت میں جو کچھ بتانا چاہتا ہوں یہ تفاوت ہوتا ہے اور اس کی بناء پر ہر ایک سے ایک ہی جیسی امید نہیں کی جا سکتی۔ ہم یہ امید تو سب سے کر سکتے ہیں کہ ایمان لے آئیں لیکن یہ نہیں کر سکتے کہ سب ایک سے مؤمن ہو جائیں۔ قرآن کریم میں یہ مطالبہ تو ہے کہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے مگر یہ نہیں کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ جیسے مؤمن کیوں نہیں بنتے۔ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! کتنی نمازیں فرض ہیں۔ آپ نے فرمایا پانچ۔ اس نے کہا صرف پانچ۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر اسی طرح اس نے روزہ اور زکوٰۃ کے متعلق دریافت کیا اور آپ کا جواب سن کر کہا۔ بس میں اس سے زیادہ نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا اگر تُو اتنا کرے تو تُو جنتی ہے ۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نے سب سے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ جیسے ایمان کا مطالبہ نہیں کیا۔ تحریص تو اس کے لئے دلائی گئی ہے لیکن حکم نہیں دیا گیا کیونکہ یہ سب مدارج قابلیتوں کے ماتحت حاصل ہو سکتے ہیں اور چونکہ انسان کی قابلیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے قلیل ترین عقل کے معیار کے مطابق جو سب میں ہوتی ہے مطالبہ کیا گیا ہے ایمان کے اعلیٰ مدارج کا نہیں صرف اس کی تحریص ہے حکم نہیں‘ جو اسے حاصل کر سکے کرے۔ غرض یہ تفاوت ہمیں ہر جگہ نظر آتا ہے اور ساتھ ہی ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ کمزورلوگ ہمیشہ اپنے لئے سہارے کی تلاش کرتے ہیں اس تفاوت کی بناء پر کئی ایک میں تو ایسی قابلیت ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھ جائیں لیکن کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اوپر اٹھنے کے لئے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے بعض طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو کتاب کو خود بخود مطالعہ کر کے اسے یاد کر لیتے ہیںلیکن بعض ایسے ہوتے ہیں جو خود تو نہیں پڑھ سکتے لیکن استاد کی مدد سے پڑھ کر یاد کر لیتے ہیں۔ پھر بعض ایسے ہوتے ہیں جو صرف پڑھانے سے نہیں بلکہ یاد کرانے سے یاد کرسکتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ خود انہیں استاد کس قدر یاد کرائے پھر بھی پوری طرح یاد نہیں کر سکتے۔ وہ ایک حد تک تو علم حاصل کر سکتے ہیں‘ معمولی بول چال سیکھ سکتے ہیں لیکن اس سے آگے ترقی نہیں کر سکتے۔ مثلاً افریقہ کی ایک قوم ہے اسے غیر ملکی علوم یاد بھی کرا دیئے جائیں تو قلیل عرصہ میں وہ پھر بھول جاتے ہیں۔ صرف چند الفاظ یاد رکھ سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں کیونکہ ان کے دماغ کے Cells ہی ایسے ہوتے ہیں کہ زیادہ کی گنجائش ان میں نہیں ہوتی۔ پس ان مختلف المدارج لوگوں کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ بعض ایسے استاد ہوں جو اپنے ذمہ فرض کر لیں کہ کمزوروں کو اُٹھائیں‘ اُبھاریں اور انہیں منزلِ مقصود کے قریب لانے میں ان کی مدد کریں۔ قرآن کریم نے ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ۲؎ میں اسی غرض کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کام کے لئے سب کو مقرر کیا جاتا ہے بلکہ یہ بتایا ہے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے اور انہیں نفع پہنچائے۔ لیکن نفع رسانی میں ہر ایک‘ ایک جیسا نہیں ہو سکتا بعض صرف اتنا ہی تیرنا جانتے ہیںکہ اپنی جان بچا سکیں اور بعض اپنی جان بچانے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ پھر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کو بچا سکتے ہیں ان کا فرض ہے کہ دوسروں کو بچائیں۔ پھر بعض اوقات کشتی ایسی جگہ ڈوبتی ہے کہ ساحل وہاں سے دور ہوتا ہے بعض لوگ تیرنا جانتے ہیں لیکن اتنا دم ان میں نہیں ہوتا کہ منزل پر پہنچ جائیں۔ پس دوسروں کا جو تیر سکتے ہیں فرض ہے کہ انہیں بھی منزل پر پہنچائیں اور وہی جماعت کامیاب ہو سکتی ہے اور منزل پر پہنچ سکتی ہے جس کے صاحبِ استعداد لوگ کمزور بھائیوں کو فائدہ پہنچائیں اور اس طرح جماعت کے معیار کو بلند کرتے جائیں۔
    مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں یہ احساس ابھی تک پیدا نہیں ہوا۔ اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جیسے وعظ ہم سنتے ہیں قرآن مجید اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہم پڑھتے ہیں اسی طرح دوسرے بھی سنتے اور پڑھتے ہیں۔ اس بناء پر وہ اپنے کمزور بھائیوں کے متعلق یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ جنہوں نے قرآن کریم‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلیفہ کی بات نہیں مانی وہ ہماری کب سنیں گے حالانکہ وہ ماننے کے لئے تو تیار ہوتے ہیں لیکن ان میں اتنی قابلیت نہیں ہوتی کہ بغیر سہارے کے کھڑے رہ سکیں وہ دوسروں کی یاددہانی کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان کا روحانی حافظہ اتنا تیز نہیں ہوتا کہ خود بخود سب باتیں یاد رکھ سکیں اس لئے ضروری ہے کہ ہماری جماعت کے وہ دوست جو اپنی استعدادوں میں بڑھے ہوئے ہوں اپنے اپنے ہمسایہ کو‘ محلہ والوں اور گاؤں والوں کو یاددہانی کر کے فرضِ منصبی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
    ایک چھوٹی سی مثال تین چار دن ہی کی سناتا ہوں۔ عشاء کی نماز کے لئے ایک دن جب میں آیا تو دیکھا بہت تھوڑے لوگ ہیں صرف دو صفیں تھیں۔ میں نے صرف اتنا کہا کہ دوست اپنے ہمسایوں کو بھی ساتھ لانے کی کوشش کیاکریں۔ میں نے دیکھا دوسرے دن سے ہی تعداد بڑھنی شروع ہو گئی۔ بعد میں آنے والے یہ تو پہلے بھی جانتے تھے کہ نماز ضروری ہے اور باجماعت پڑھنی چاہئے۔ لیکن ان میں اتنی استعداد نہیں تھی کہ اس بات کو یاد رکھ سکیں جب دوسروں نے انہیں یاد دلایا تو وہ بھی آ گئے۔ میں پہلے بھی اس مسئلہ پر کئی روز سے غور کر رہا تھا اور اس مثال سے مجھے اور بھی یقین ہو گیا کہ ذرا سی مدد سے سُست لوگ غفلت ترک کر سکتے ہیں۔
    قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے فرمایا لئن شکرتم لازید نکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید ۳؎ یعنی اگر تم نعمائے الٰہی کی قدر نہ کرو گے تو سزا پاؤ گے۔ پس اگر اسے یاد کر کے ہر جگہ ایسے آدمی تیار ہو جائیں جو دوسروں کو ان کے فرائض یاد دلاتے رہیں تو بہت جلد ہماری جماعت ترقی کر سکتی ہے۔
    یہ غلط ہے کہ ایک چیز سے ہر شخص یکساں فائدہ اٹھاتا ہے۔ دیکھو سب لوگ سورج اور ہوا سے ایک سے مستفید ہوتے ہیں پھر کیوںان میں سے کوئی کالا ہوتا ہے کوئی گورا‘ کوئی موٹا ہوتاہے اور کوئی دُبلا۔ بات یہ ہے ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ بعض سنتے تو ہیں مگر ان کے اندر قوتِ جذب بہت کم ہوتی ہے جیسے ایک ہی جیسا پانی سپنج‘ فلالین‘ روئی اور ململ میں ڈالو تو ان سب کی قوت جذب میں فرق نظر آئے گاحالانکہ پانی سب میں برابر ڈالا گیا ہو گا۔ اسی طرح ایک ہی وعظ میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں وہ ایک سا فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ایک کے کان میں آواز کم پڑتی ہے دوسرے کے کان میں زیادہ اس لئے بھی کہ بعض کی شنوائی کی قوت کم ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ بعض کو توجہ کی عادت بہت کم ہوتی ہے۔ وہ مجلس میں بیٹھے تو ہوتے ہیں مگر ان کی توجہ دوسری جانب ہوتی ہے ابھی اپنے ارد گرد نظر ڈال کر دیکھ لو بعض تو غور سے خطبہ سن رہے ہوں گے بعض اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہوں گے بعض اونگھ رہے ہوں گے پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سب نے ایک سا سنا۔ سب کے سننے میں فرق ہے اور اسی لئے ہر ایک کے استفادہ میں بھی فرق ہو گا۔ بعض زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض کم کیونکہ توجہ میں فرق ہوتا ہے۔ پھر آگے قابلیت میں بھی فرق ہوتا ہے ایک ہی پیغام دس آدمیوں کو دو اور پھر ان سے سنو تو ضرور فرق ہو گا۔ پس اوّل تو سننے والے بھی کم ہوتے ہیں پھر سننے والوں میں سے سمجھنے والے اور بھی کم ہوتے ہیں۔
    سوجن کو اللہ تعالیٰ نے یہ استعداد دی ہے کہ وہ سنیں‘ سمجھیں اور پھر اس پر عمل کریں انہیں چاہئے دوسروں کا بھی خیال رکھیں۔ جب اکٹھے دریا میں کُودنے لگیں تو ضرور اپنے ساتھیوں کا جو تیرنانہ جانتے ہوں خیال رکھا جاتا ہے۔ پھر کیوں ایسا نہیں کیا جاتا کہ جو کمزور روحانی امور میں سُستی دکھاتے ہوں اور دینی کاموں میں حصہ کم لینے والے یا نہ لینے والے ہوں انہیں بھی توجہ دلائی جائے۔ اسلام ہر ایک مؤمن کے لئے یہ ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کرے اور یہ ایسی مؤاخات اور مساوات ہے کہ اسلام کے سِوا کہیں نظر نہیں آتی۔ سب میں ایسا رابطہ اور رشتہ پیدا کر دیا ہے جو سب رشتوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ ایک شخص نماز کے لئے آتا ہے اور خیال کرتا ہے ہمسایہ سو نہ گیا ہو اس لئے وہ گھر سے نکل کر سیدھا مسجد کی طرف جانے کی بجائے پہلے ہمسایہ کو آواز دے لیتا ہے اور اس کی آواز سے ہمسایہ نماز میں شریک ہو جاتا ہے تو اس کو بھی ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا خود پڑھنے والے کو۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے الدال علی الخیر کفاعلہ ۴؎ خیر کی طرف لے جانے والا ثواب کا ویسا ہی مستحق ہوتا ہے جیسا کہ نیکی کا کام کرنے والا۔ تو صرف آواز دے دینے سے دو نمازوں کا ثواب مل گیا اور اگر تین یا چار کو آواز دے کر ساتھ لے لیا تو ایک تو مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب آگے ہی بہت زیادہ ہے پھر وہ تین یا چار گُنا ہو جائے گا۔
    اسی طرح ایک شخص چندہ دینے لگتا ہے اسے خیال آتا ہے آج میرے ہمسایہ کے پاس روپیہ ہے ممکن ہے کل کو خرچ کر دے اس لئے وہ اسے بھی تحریک کر دیتا ہے اور وہ چندہ ادا کر دیتا ہے اب اسے بھی اس کے چندہ دینے کا ثواب اور اسی طرح تحریک کر کے وہ جتنے لوگوں سے چندہ وصول کرائے گا اتنا ہی اُسے زیادہ ثواب ملے گا۔ ایسی معمولی باتوں سے بھی انسان بہت ترقی کر سکتا ہے اگر ذرا سا خیال رکھ لیا جائے اور اپنے ہمسایوں اور ملنے والوں میں نیکی کرنے کی تحریک کی جائے تو اس سے عظیم الشان فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف تو دین کے کام میں بہتری ہو سکتی ہے اور دوسری طرف ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔
    پس جن کو اللہ تعالیٰ استعداد دے وہ ضرور اس طرف توجہ کریں اور اس بات کا خیال رکھیں۔ اس استعداد کا نشان یہ ہے کہ اسے خود اس کام کے کرنے کی توفیق مل جائے۔ اگر کسی کو صبح کی نماز میں شامل ہونے کی توفیق مل جائے تو یہ علامت ہے اس بات کی کہ اس میں استعداد ہے کہ دوسروں کو بھی اس نماز میں شریک ہونے کی تحریک کر سکے۔ پس اسے چاہئے ہمسایوں کو بھی آواز دے کر جگا لے۔ اسی طرح عشاء کی نماز میں آنے کی جسے توفیق ملتی ہے وہ سمجھ لے کہ اس میں اوروں کو نماز کی تحریک کرنے کی استعداد ہے پس وہ ہمسایوں کو بھی آواز دے دے ممکن ہے ان میں سے کوئی سو گیا ہو۔ اسی طرح اور بھی بہت سے کام ہیں جن میں استعدادوں کا پتہ لگ سکتا ہے۔ باقی رہیں باریک استعدادیں سو ان کا انسان کو خود ہی علم ہو جاتا ہے اسے روحانی علوم حاصل ہوتے ہیں اور روحانی کھڑکی جب کُھلتی ہے تو وہ خود ہی اپنا پتہ بتا دیتی ہے۔
    پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نہ صرف خود دین کے کام کرنے میں چُست ہوں بلکہ دوسروں کو بھی چُست کرنے کی کوشش کریں۔ جتنے لوگ بھی کسی کے ذریعہ سنبھل جائیں اُتنوں کا ہی ثواب اسے حاصل ہو گا۔ اور اگر کوئی کسی غیر کو نہیں صرف اپنے بیوی بچوں کو ہی دین میں چُست کر دے تو اس کا بھی اسے ثواب ملے گا۔
    میں نہیں سمجھتا کوئی بھی جماعت ایسی ہو جس میں ایک شخص بھی ایسا نہ مل سکے جو یہ فرض انجام دے سکے اور اگر ایک ایک شخص بھی ہر جماعت میں ایسا کھڑا ہو جائے تو اپنی جماعت میں وہ بہت چُستی پیدا کر سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ جماعت کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری کا ہی یہ فرض قرار دیا جائے جن میں خدا تعالیٰ نے یہ استعدادیں و دیعت کی ہوں وہ سب کے سب اسے سرانجام دیں۔ میں نے دیکھا ہے مستعد آدمی جہاں جاتے ہیں وہاں کی جماعت میں ایک نئی زندگی پیدا کر دیتے ہیں مگر عام طور پر اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ یہی خیال کر لیا جاتا ہے کہ سب وعظ سنتے اور اخباریں پڑھتے ہیں پھر کسی کو سمجھانے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں پڑھنے یا سننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا انہیں جگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جہاں تک خدا تعالیٰ نے کسی میں استعداد رکھی ہواُس سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ یہی مساوات ہے جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔ مساوات یہ نہیں کہ قوم کا روپیہ اکٹھا کر کے سب میں برابر تقسیم کر دیا جائے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو استعداد اور خوبی ایک میں ہو دوسروں کو اس سے فائدہ پہنچایا جائے۔
    پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ اس ثواب کمانے کے ذریعہ کی طرف متوجہ ہوں تو جماعت کے اندر ایسا تغیر پیدا ہو سکتا ہے کہ دنیا دیکھ کر دنگ رہ جائے جن کو اللہ تعالیٰ کسی نیکی یا قربانی کے کرنے کی توفیق دے انہیں چاہئے اسے کرتے وقت دوسروں کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کیا کریں اور اس طرح جماعت کو ایک لیول پر لانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی اور مجھے بھی اس کی توفیق دے۔ امین یا رب العٰلمین
    (الفضل ۱۸۔اکتوبر ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ بخاری کتاب الایمان باب الزکوٰۃ من الاسلام وقولہ تعالیٰ وما امروا
    اِلاَّ… الخ
    ۲؎ ال عمران: ۱۰۵ ۳؎ ابراھیم: ۸
    ۴؎ کنز العمال جلد۶روایت ۱۶۰۵۲ صفحہ ۳۵۹ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۹ء



    ۲۶
    جلسہ سالانہ اور عام مالی ضروریات
    (فرمودہ ۱۵۔نومبر۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    گو میرا ارادہ تو یہ تھا کہ میں ایک اور مضمون کے متعلق آج کے خطبہ میں بیان کروں گا لیکن پرسوں مجھے اچانک معلوم ہوا کہ اس سال ابھی تک جلسہ سالانہ کے متعلق کوئی تحریک نہیں ہوئی اور کارکنوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ چونکہ شروع سال میں ایک دفعہ جماعت کو تحریک کی جا چکی ہے اس لئے وہی کافی ہے۔ اگر کسی ہستی کی ایک دفعہ کی ہوئی تحریک کافی ہو سکتی ہے تو میں سمجھتا ہوں کسی کو بھی اس سے انکار نہیں ہو سکے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہی ہو سکتی ہے لیکن تجربہ ہمیں بتاتا ہے‘ انبیاء کی بعثت ہمیں بتاتی ہے اور خود اللہ تعالیٰ کا بیان ہمیں بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تحریک بھی ایک ہی دفعہ کامیاب نہیں ہو جاتی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تحریک کمزور ہوتی ہے یا معقول نہیں ہوتی یا لوگوں کے دل اس کی قبولیت کے لئے تیار نہیں ہوتے یا وہ انسانوں کی سمجھ یا ان کی لیاقتوں سے بالا ہوتی ہے یا اس میں لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کی طاقت کم ہوتی ہے کیونکہ اگر کوئی تحریک صحیح معنوں میں معقول ہو سکتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کی تحریک ہے ۔ اگر کوئی تحریک دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والی ہو سکتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کی تحریک ہے اور اگر کوئی ایسی تحریک ہو سکتی ہے جس پر عمل کرنا طبائع پر بوجھل نہ ہو اور اگر کوئی ایسی تحریک ہو سکتی ہے جو انسان کو اس کی ادنیٰ حالت سے اوپر اٹھا سکے تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کی تحریک ہے لیکن باوجود اس کے خدا تعالیٰ کی تحریک بھی ایک ہی دفعہ کامیاب نہیں ہو جاتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ایسے رنگ میں پیدا ہوا ہے کہ ہزار ہا چیزیں اسے اپنی طرف کھینچنے کے لئے موجود ہیں۔ اسے پانچ حواس دیئے گئے ہیں جن سے دنیا ہر وقت اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے اور اس پر کوئی وقت ایسا نہیں آتا جبکہ کوئی چیز اسے چُھو کر اپنی طرف متوجہ نہ کر ہی ہو۔ یا کوئی خوشبو یا بدبو اس کے دماغ میں سے گذر کر اسے اپنی طرف نہ کھینچ رہی ہو حتیٰ کہ جس وقت انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ کچھ محسوس نہیں کر رہا اُس وقت بھی وہ محسوس کر رہا ہوتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جس وقت انسان کو یہ خیال ہو کہ وہ کچھ محسوس نہیں کر رہا اُس وقت وہ سب سے زیادہ محسوس کر رہاہوتا ہے کیونکہ احساسات کی کثرت حِس کو کمزور کر دیتی ہے اور جب احساسات کی کثرت ہو تو دماغ میں ایک قسم کی پراگندگی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے قّلتِ احساس کے وقت ہی انسان ٹھیک طور پر کسی بات کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔ پس ہر وقت انسان کو مختلف چیزیں اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ کبھی اس کی آنکھوں کے ذریعہ سے‘ کبھی ناک کے ذریعہ اور کبھی کانوں کے ذریعہ سے ‘ کبھی گرمی سردی محسوس کرنے والے اعصاب کے ذریعہ سے اور کبھی سختی نرمی محسوس کرنے والے اعصاب کے ذریعہ سے۔ غرضیکہ بہت سے ذرائع ہیں جو انسان کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں اور ان کی وجہ سے انسان کی نظر محتاج ہے کہ اسے حقیقی مدنظر پر کوئی اور توجہ دلائے۔ اس کے کان محتاج ہیں کہ وہی سُر اُسے سنائی جائے جس کا سننا اس کا اصل مقصود ہے‘ اس کی زبان محتاج ہے کہ وہی مزا اُسے چکھایا جائے جس کا چکھنا اس کے لئے مفید ہے اور اس کی ناک محتاج ہے کہ اسے وہی خوشبو سونگھائی جائے جس کا سونگھنا اس کے لئے موجبِ برکت ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ اور انبیاء کی تحریکوں میں تکرار بہت ہوتا ہے بلکہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر یہ اعتراض نہ کیا گیا ہو کہ اس کی باتوں میں تکرار بہت ہے اور ا سلئے اس کے کلام میں بے لُطفی پیدا ہو جاتی ہے۔ اِس وقت چھ سات آسمانی صحائف دنیا میں موجود ہیں اور ایک مأمور ابھی ہم میں گذرا ہے اس کی کتابیں دیکھی جائیں تو ان سب میں تکرار پایا جاتا ہے۔ وید پر اعتراض کیا گیا ہے کہ اس میں وہی شلوک بار بار آتے ہیں۔ گو اس کے ماننے والے وید کو نظر انداز کر کے قرآن کریم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں تکرار بہت ہے حالانکہ قرآن کریم میں صرف مطالب کی تکرار ہے اور ویدوں میں لفظوں کی تکرار ہے۔ تو تمام الہامی کتابوں میں تکرار ہے اور تمام انبیاء پر تکرار کا الزام لگایا گیا۔ اِس زمانہ کے موعود پر بھی یہ اعتراض کیا گیا کہ اس کی تقریر پِھیکی ہوتی ہے کیونکہ اس میں تکرار بہت ہوتا ہے۔ پھر انبیاء کے قائم مقاموں پر بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مجھ پر بھی اعتراض ہوتا ہے لیکن مجھے بُرا معلوم نہیں ہوتا بلکہ خوشی ہوتی ہے کہ چلو ہم بھی لہو لگا کے شہیدوں میں شامل ہو گئے۔
    ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ کے کلام میں تکرار بہت ہوتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے اس کا نہایت ہی لطیف جواب دیا۔ فرمایا اگر ایک دفعہ کہنے سے لوگ ہماری بات مان جائیں تو ہم پھر اس کا تکرار نہ کریں لیکن چونکہ وہ مانتے نہیں اس لئے ہمیں بھی وہ بات دُہرانی پڑتی ہے۔ درحقیقت تکرار انسان کو بیدار کرنے کے لئے جو ضروری سامان ہیں ان میں سے ایک سامان ہے اور تکرار کو ترک کرنا اور اسے غیر ضروری قرار دینا فطرتِ انسانی اور اُس وسیع تجربہ کو جو آدم سے لے کر اِس وقت تک کا ہے جُھٹلانا ہے۔ بلکہ خود فطرتِ انسانی کے پیدا کرنے والے کے علم سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
    میرے نزدیک یہ سخت غلطی ہوئی ہے اور اسے غفلتِ مجرمانہ کہنا چاہئے کہ جلسہ سالانہ کے متعلق ابھی تحریک نہیں کی گئی۔ جلسہ سالانہ ایسے امور میں سے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سلسلہ کی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے ارشاد فرمائے ہیں اور آپ نے اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے القاء اور الہام کی بناء پر قائم کیا ہے۔ جیسا کہ کئی ایک الہامات سے ظاہر ہے مثلاً آپ کو الہاماً حجراسود کہا گیا ہے ۱؎ پھر بیت اللّٰہ ۲؎ قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ جب کسی انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے حجراسود یا بیت اللّٰہ کہا جائے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ پتھر ہو گیا‘ بلکہ یہ ہوتے ہیں کہ جو باتیں ان سے وابستہ ہیں وہی اس کے ساتھ ہونگی۔ جس طرح ہر سال چاروں طرف سے لوگ حجراسود اور بیت اللّٰہ کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس کے پاس اور اس کے مقرر کردہ مقام میں آئیں گے اور جو لوگ ہر سال جلسہ کے لئے یہاں آتے ہیں وہ ان الہامات کو پورا کرنے والے ہیں۔ اصل میں بیت اللّٰہ وہی ہے جسے خدا تعالیٰ نے ازل سے بیت اللہ قرار دیا ہے اور حجراسود بھی وہی ہے جو بیت اللّٰہ میں ہے لیکن یہ صرف مشابہت کی وجہ سے حضور علیہ السلام کے نام رکھے گئے۔ جیسے مسیح ناصری تو وہی ہے جو ناصرہ میں پیدا ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام بھی مشابہت کی وجہ سے مسیح رکھا گیا۔ نادان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اعتراض کرتے ہیںکہ آپ حج کے قائل نہ تھے اور بیت اللّٰہ کی آپ توقیر نہیں کرتے تھے حالانکہ سوچنا چاہئے کہ جو شخص اپنے آپ کو بیت اللّٰہ کہتا ہے۔ وہ بیت اللّٰہ کی بہت بڑی عزت اور تکریم دل میں رکھتا ہے نہ یہ کہ اس کے دل میں بیت اللّٰہ کی عظمت نہیں ہے۔ اسی طرح نادانوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اعتراض کیا کہ آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں دی ہیں۔ لیکن اتنا نہیں سوچتے جو شخص اپنے آپ کو مسیح کہتا ہے وہ مسیح کو گالیاں کیسے دے سکتا ہے۔ پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک طرف یہ فرماتے ہیں کہ میں دنیا پر نیکی اور تقدیس کا نمونہ ہوں اور دوسری طرف اپنے آپ کو حجراسود‘ بیت اللّٰہ یا مسیح کہتے ہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ان سے اپنے آپ کو تشبیہہ دے کر اپنی برکات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً جب کوئی کہے کہ میں رُستم ہوں تو اس کے یہی معنی ہوں گے کہ وہ رُستم کی بہادری کا قائل ہے۔ یا کوئی اپنے آپ کو حاتم طائی بتائے تو اس کا یہی مطلب ہو گا کہ وہ حاتم طائی کی سخاوت کا معترف ہے۔ تو نادانوں اور حقیقت نہ سمجھنے والوں نے اعتراض کیا حالانکہ سمجھ لینا چاہئے تھا کہ آپ کے دل میں ان چیزوں کی بہت عزت ہے وگرنہ اپنے آپ کو ان سے کبھی تشبیہہ نہ دیتے۔
    غرض سالانہ جلسہ خدا تعالیٰ کا نشان ہے اور خدا کی طرف سے ہمارے سلسلہ کی ترقی کے سامانوں میں سے ایک سامان ہے۔ جس کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ جو غیر احمدی دوست جلسہ پر آتے ہیں ان میں سے اکثر بیعت کر کے ہی واپس جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جلسہ سے کچھ ایسی برکات وابستہ ہیں کہ جو لوگ اسے دیکھتے ہیں وہ متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پس ایسی مفید تحریک کے متعلق ایسی غلطی اور غفلت نہایت ہی افسوس کا موجب ہے اس لئے میں نے اپنے ارادہ کو بدل کر چاہا کہ اس تحریک کا ثواب میں خود ہی حاصل کروں۔
    جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ قحط سالی‘ طُغیانی اور دیگر آسمانی بلاؤں کے باعث جماعت کی مالی حالت کمزور ہے اور اِس وقت قریباً باون ہزار کے بِل واجب الاداء ہیں۔ تین تین ماہ کی تنخواہیں بعض کارکنوں کو ابھی تک نہیں ملیں۔ مجھے ان محکموں پر سخت افسوس ہے جنہوں نے جماعت کو اس حالت سے آگاہ نہیں کیا۔ انہیں چاہئے تھا اخباروں میں اس کے متعلق تحریک کرتے اور اگر وہ کوشش کرتے تو مجھے یقین ہے کہ جماعت میں ایسے مخلصین موجود ہیں جو ضرور آگے آتے اور اس حالت کو بدلنے کی کوشش کرتے۔ لیکن سُستی کارکنوں کی ہے جنہوں نے اس طرف جماعت کو متوجہ نہیں کیا۔ شاید وہ دشمنوں کے اس پروپیگنڈا سے ڈر گئے کہ احمدی چندے دیتے دیتے تھک گئے ہیں حالانکہ مؤمن دشمنوں کی باتوں سے ڈرا نہیں کرتا۔ ’’آں را کہ حساب پاک است از محاسبہ چہ باک‘‘۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ بعض ایسے حالات کی وجہ سے جو ہماریے قبضۂ اقتدار سے باہر ہیں ہمیں مالی مشکالات کا سامنا ہوا ہے لیکن یہ مشکلات سب کے لئے ہیں حتیّٰ کہ حکومت پر بھی اس کا اثر ہوا ہے اور اسے بھی لگانِ اراضی معاف کرنا پڑا ہے۔ پس ایسے نازک وقت میں ہمارے کاروبار کا چلتے جانا ہمارے ایمان کی علامت ہے نہ کہ تھکنے کی اور اگر تھک بھی گئے ہوں تو دشمن کے خوف سے ہمیں اس کے علاج کا طریقہ نہیں چھوڑ دینا چاہئے۔ پس ہمیں مخالفوں کے اعتراضات سے قطعاً نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ یہ خدا کا کام ہے اور اعتراضات خدا تعالیٰ کے کام کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
    ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک شخص نے کہا کہ میں آپ کا بہت مداح ہوں لیکن ایک بہت بڑی غلطی آپ سے ہوئی۔ آپ جانتے ہیں علماء کسی کی بات نہیں مانا کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں اگر مان لی تو ہمارے لئے موجبِ ہتک ہو گی۔ لوگ کہیں گے یہ بات فلاں کو سُوجھی انہیں نہ سُوجھی اس لئے ان سے منوانے کا یہ طریقہ ہے کہ ان کے منہ سے ہی بات نکلوائی جائے۔ جب آپ کو وفاتِ مسیح کا مسئلہ معلوم ہوا تھا تو آپ کو چاہئے تھا چِیدہ چِیدہ علماء کی دعوت کرتے اور ایک میٹنگ کر کے یہ بات ان کے سامنے پیش کرتے کہ عیسائیوں کو حیاتِ مسیح کے عقیدہ سے بہت مدد ملتی ہے اور وہ اعتراض کر کے اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہارا نبی فوت ہو گیا اور ہمارے مذہب کا بانی آسمان پر ہے اس لئے وہ افضل بلکہ خود خدا ہے اس کا کیا جواب دیا جائے؟ اُس وقت علماء یہی کہتے آپ ہی فرمائیے اس کا کیا جواب ہے۔ آپ کہتے کہ رائے تو دراصل آپ لوگوں کی ہی صائب ہو سکتی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ فلاں آیت سے حضرت مسیح کی وفات ثابت ہو سکتی ہے۔ علماء فوراً کہہ دیتے کہ یہ بات ٹھیک ہے بسم اللّٰہ کر کے اعلان کیجئے ہم تائید کے لئے تیار ہیں۔ پھر اسی طرح یہ مسئلہ پیش ہو جاتا کہ حدیثوں میں مسیح کی دوبارہ آمد کا ذکر ہے مگر جب مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے تو اس کا کیا مطلب سمجھا جائے گا۔ اس پر کوئی عالم آپ کے متعلق کہہ دیتا آپ ہی مسیح ہیں اور تمام علماء نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دینی تھی۔
    یہ تجویز سن کر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا اگر میرا دعویٰ انسانی چال سے ہوتا تو میں بے شک ایسا ہی کرتا مگر یہ خدا کے حکم سے تھا۔ خدا نے جس طرح سمجھایا اسی طرح میں نے کیا۔ تو چالیں اور فریب انسانی چالوں کے مقابل میں ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کی جماعتیں ان سے ہرگز نہیں ڈر سکتیں یہ ہمارا کام نہیں خود خدا تعالیٰ کا کام ہے۔
    کارکنوں کا فرض ہے کہ حالات اور واقعاتِ پیش آمدہ سے جماعت کو آگاہ کیا کریں اور میرا تجربہ ہے تین چار بار تو میری خلافت کے زمانہ میں ہی ایسے مواقع پیش آئے کہ جب بھی حالات کو کھول کر جماعت کے سامنے رکھا گیا تو اس نے کبھی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔ دراصل ہماری جماعت میں جو اخلاص اور دین سے محبت پائی جاتی ہے اس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ عبدالحکیم مرتد نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا کہ جماعت میں سوائے مولوی نورالدین صاحب کے اور کوئی آدمی اعلیٰ پایہ کا نظر نہیں آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے لکھا مجھے تو اس جماعت میں لاکھوں صحابہ کے نمونہ نظر آتے ہیں یہ تمہاری آنکھوں کی بینائی کا قصور ہے کہ تم نہیں دیکھ سکتے۔ دراصل یہ دعویٰ جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبدالحکیم کے مقابلہ پر کیا۔ اس کا ثبوت ایسے ہی مواقع پر ملا کرتا ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ جب بھی معاملہ کھول کر جماعت کے سامنے رکھا گیا اور قربانی کا مطالبہ کیا گیا خواہ وہ قربانی مالی ہو یا جانی یا کسی اور طرز کی جماعت ہمیشہ آگے ہی بڑھی ہے اور کبھی پیچھے نہیں ہٹی۔ یہ میرا یا کسی اور شخص کی ذات کا اثر نہیں بلکہ خود خدا کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ ہے کہ میں الہام کے ذریعہ لوگوں کے دل تیری طرف متوجہ کروں گا ۳؎ اب جبکہ سلسلہ کی مالی حالت کمزور تھی تو زیادہ ضرورت تھی اس امر کی کہ جلسہ کی تحریک زیادہ زور سے کی جاتی اور میرا یقین ہے جماعت ضرور اس پر لبیک کہتی اور اگر نہ بھی کہتی تو چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے وہ خود سامان پیدا کر دیتا۔
    کئی دفعہ بعض دوستوں نے مجھے کہا کہ فلاں محکمہ اُڑا دو۔ میں نے انہیں یہی جواب دیا کہ اگر ساری جماعت فیصلہ کر کے کہہ دے کہ اُڑا دو تو میں جماعت کے مشورہ کے احترام کے طور پر اُڑادوں گا لیکن خود میرا دل نہیں چاہتا کہ جو قدم آگے اُٹھ چکا ہو اُسے پیچھے ہٹایا جائے۔ اور جب کوئی قدم پیچھے ہٹایا جائے تو وہ پیچھے ہی ہٹتا جاتا ہے آگے بڑھانے کا بہت کم ہی موقع ملتا ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل کے زمانہ میں ایک دفعہ اسی طرح قحط کی وجہ سے مالی کمزوری تھی منتظمین نے فیصلہ کیا کہ جلسہ تین دن کی بجائے دو دن کیا جائے۔ حضرت خلیفہ اول کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے مجھے لکھا اگرچہ میرا اس انتظام سے تعلق نہ تھا لیکن آپ کا طریق تھا کہ جب دیکھتے جس شخص سے کوئی معاملہ تعلق رکھتا ہے وہ براہِ راست ملامت کا متحمل نہیں ہو سکتا تو کسی اور کو مخاطب کر کے سنا دیتے۔
    آپ نے مجھے لکھا لاتخش عن ذی العرش اقلالا یعنی عرش کے مالک سے یہ امید نہ رکھو کہ وہ رزق میں کمی کر دے گا۔ میں نے اس پر ایک نوٹ لکھ کر انجمن میں بھجوا دیا کہ ہمیں اپنا پورا زور لگا دینا چاہئے خدا تعالیٰ خود برکت ڈالے گا اور میں نے خود چند ایک دوستوں کو ساتھ لے کر یہاں قادیان سے چندہ کیا باہر بھی تحریک کی گئی اور تمام اخراجات پورے ہو گئے۔ تو اللہ تعالیٰ خود سامان پیدا کر دیتا ہے ہمیں ڈرنا نہیں چاہئے اور قربانی کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے کیونکہ ایمان کی آزمائش کا یہی معیار ہمارے پاس ہے۔ ہمارے ہاتھ میں تلوار تو ہے نہیں یہی معیار ہے جس سے اخلاص کا پتہ لگ سکتا ہے اور اگر جماعت میں بعض کمزور بھی ہوں تو بھی ایسے مواقع ان کی بھی ترقی کا موجب ہو جاتے ہیں۔ پس میں قادیان کی جماعت کو جو اِس وقت میری پہلی مخاطب ہے اور باہر کی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلسہ کے انتظام کی طرف پوری توجہ کریں۔
    پچھلے سال قادیان کی جماعت کا چندہ جلسہ سالانہ نسبتاً کم تھا اور کارکنوں کا دوسرے لوگوں سے بہت کم تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میں اُن ایام میں بیمار تھا اور کوئی تحریک نہ کر سکا تھا۔ بعض دشمن اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کارکنوں سے زبردستی چندہ لیا جاتا ہے۔ گذشتہ سال کارکنوں کا چندہ میں کم حصہ لینا اس اعتراض کا جواب ہے مگر پھر بھی انہیں یاد رکھنا چاہئے۔ یہ کوئی خوبی نہیں کہ دشمن کا منہ توڑنے کے لئے انسان خدا کے سامنے رو سیاہ ہو جائے اس کا جواب تو ہو گیا لیکن کارکنوں کے لئے یہ تعریف کا موجب نہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس سال اس غفلت کا بھی ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگرچہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان میں سے بعض کو تین تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں لیکن دفتر والوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے ایسا انتظام کیا ہے کہ یہ چندہ سارے سال پر پھیلا دیا جائے۔ اگرچہ یوں بھی بوجھ ہو گا پہلے ہی یہاں کے کارکنوں کی تنخواہیں قلیل ہیں اور اس قدر قلیل ہیں کہ اگر کوئی کارکن چلا جائے تو اس کا قائم مقام نہیں ملتا۔ پھر یہاں آدمی بھی قابل ترین رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ یہاں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً یہاں کے ہائی سکول‘ مدرسہ احمدیہ‘ جامعہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر صاحبان پر جو ذمہ داری ہے وہ باہر کے ہیڈ ماسٹروں پر نہیں ہو سکتی ان حالات میں بہت لائق آدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر بعض ایسے آدمی جب دیکھتے ہیں کہ تنخواہ اس قدر قلیل ہے کہ وہ گذارہ نہیں کر سکتے تو کئی چلے جاتے ہیں اور کئی چلے جانے کی تجویزیں کرتے ہیں۔ غرض یہاں کارکن دوسری جگہوں سے زیادہ قابل رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے ہیڈ ماسٹر کا مقابلہ بٹالہ یا ہوشیار پور یا کسی اور جگہ کے ہیڈ ماسٹر سے کرنا صحیح نہیں کیونکہ وہاں صرف اسی جگہ کے طالب علم ہوتے ہیں اور یہاں سارے ہندوستان سے آتے ہیں بلکہ ہندوستان سے باہر کے بھی آتے ہیں۔ اور ہم یہاں کے ہیڈ ماسٹروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی تعلیم و تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ دیں۔ یہ تو ہو سکتا ہے کسی آدمی کے متعلق ہمارے اندازہ میں غلطی ہو جائے اور وہ اس کام کا اپنے آپ کو اہل نہ ثابت کر سکے لیکن ہمیں امید یہی ہوتی ہے کہ آدمی ہمارے معیار کے مطابق ہو اور پھر اسے تنخواہ بھی اسی معیار کے مطابق ملنی چاہئے اور انہی ذمہ داریوں کے لحاظ سے اس کی تنخواہ ہونی چاہئے جو اس پر عائد کی جاتی ہیں۔ دیکھو اگر کوئی شخص تین لاکھ سپاہیوں کا کمانڈر بنایا جائے تو چاہے اس کے تقرر میں غلطی ہو لیکن اس کی تنخواہ ضرور اسی معیار کے مطابق مقرر کی جائے گی۔ بعض دفعہ کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں کارکن تو اس قابل نہیں کہ اسے اس قدر تنخواہ دی جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسے ہم نے جس کام کا اہل سمجھ کر مقرر کیا اس کے لحاظ سے کیا تنخواہ ہونی چاہئے؟ جو ذمہ داریاں اس پر رکھی جاتی ہیں ان کا لحاظ ہونا چاہئے۔ مگر یہاں بہت سے لوگ اپنی لیاقت اور اُمنگوں کے لحاظ سے خصوصاً وہ نوجوان جنہوں نے زندگیاں وقف کر رکھی ہیں بہت قلیل گذارے لے رہے ہیں۔ اس پر تین تین ماہ تک تنخواہ کا نہ ملنا اور بھی موجبِ تکلیف ہے ا سلئے نہ صرف جلسہ سالانہ کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کی جائے بلکہ جماعت کو چاہئے کوشش کر کے اس بوجھ کو بھی جو اِس وقت پڑا ہوا ہے دُور کر دے۔ اور کارکنوں کو چاہئے کہ اس کے لئے خاص کوشش کریں اور اگر وہ کوشش کریں تو یہ کوئی مشکل بات نہیں کیونکہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ ملک کے ایک حصہ میں قحط ہے مگر ایسے بھی حِصص ہیں جہاں اس کا اثر نہیں اس لئے اگر کوشش کی جائے تو وہاں سے کمی پوری ہو سکتی ہے۔ میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں ترقی کے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور ہمارے ایمانوں میں اس قدر قوت و طاقت دے کہ ہم اپنی ذات میں ہی انذار اور تبشیر کے حامل ہو سکیں اور نیکی کے کام کرنے کی خود بخود ہم میں تحریک ہو سکے۔ آمین۔ (الفضل ۲۲۔نومبر ۱۹۲۹ئ)
    ۱‘۲؎ تذکرہ صفحہ ۳۶۔ایڈیشن چہارم
    ۳؎ تذکرہ صفحہ ۵۰۔ایڈیشن چہارم

    ۲۷
    دیوانہ وار دعوت الیٰ اللہ میں لگ جاؤ
    (فرمودہ ۲۲۔نومبر۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو متواتر اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ احمدیت کی تبلیغ کی طرف توجہ کریں اور اپنے اپنے علاقوں اور حلقہ اثر میں سلسلہ کی اشاعت کریں لیکن افسوس کہ ابھی تک جماعت نے اس طرف اس حد تک توجہ نہیں کی جس حد تک کہ ضروری ہے۔ وہ کام کہ جسے کروڑوں آدمی نہیں کر سکتے‘ وہ کام جسے کرنے سے حکومتیں قاصر رہا کرتی ہیں‘ وہ کام جس کو کرنے کے لئے روپیہ کی طاقت عاجز آ جایا کرتی ہے اس کام کو کوئی کمزور اور قلیل جماعت آرام سے بیٹھ کر کبھی نہیں کر سکتی۔
    دنیا کے اندر مختلف رنگ کی بڑائیاں ہوتی ہیں بعض بڑائیاں تو ایسی ہوتی ہیں جن کا دعویٰ کرنے والوں کا مقابلہ لوگ نہیں کرتے۔ وہ اس بڑائی کے دعویدار کو یا تو چشم پوشی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا اُس کا دعویٰ قبول کر لیتے ہیں۔ مگر ایسے دعویداروں کے متعلق بھی ہم دیکھتے ہیںکہ نہایت ہی قلیل عرصہ میں ان کا ماننا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ پھر بعض لوگ نیشنل لیڈر ہوتے ہیں ان کی قوم ان کو تسلیم کر لیتی ہے کیونکہ اُن کے اغراض و مقاصد متحد ہوتے ہیں اور اتحادِ اغراض کی وجہ سے اُس قوم کے تمام افراد ایک ہاتھ پر جمع ہو جاتے ہیں مگر ا س کے لئے بھی وقت چاہئے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا معاملہ بالکل جُدا ہے۔ ان کے متعلق دنیا کے اغراض و مقاصد متحد نہیں کیونکہ وہ کسی ایک ملک یا قوم کے لئے نہیں ہیں۔ اگر وہ کسی خاص ملک کے لئے ہوتے تو شاید اس ملک کی سیاسی تحریکات ان کی مؤیّد ہوتیں اور لوگ انہیں مان لیتے لیکن وہ اتنے وسیع عالَم کے لئے ہیں جس میں ہر قوم دوسری سے لڑ رہی ہے۔ پھر جو شخص ساری دنیا کی طرف آتا ہے وہ کسی خاص قوم کا نیشنل لیڈر بھی نہیں بن سکتا کیونکہ وہ اگر ایک قوم کا لیڈر ہو جائے تو دوسری علیحدہ رہ جاتی ہے اس لئے جو شخص ساری دنیا کی طرف مبعوث ہو وہ کبھی ایسا مقصد پیشِ نظر نہیں رکھ سکتا جو کسی خاص ملک کے لئے ہو اس لئے اس کا دعویٰ کسی خاص ملک کو اپیل نہیں کر سکتا۔ جس طرح ایک زمانہ میں گاندھی جی نے اعلان کیا تھا کہ میں اتنے عرصے تک ہندوستان کو سَوَراج دلادوں گا۔ ایسی بات ایسے ہی منہ سے نکل سکتی ہے جو اپنے آپ کو ہندوستان سے وابستہ سمجھے لیکن اگر اس کی وابستگی سارے عالَم سے ہو تو وہ کبھی صرف ہندوستان کو سَوَراج دلانے کا اعلان نہیں کر سکتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے اگر میں نے ہندوستان کو سَوَراج دلانے کا اعلان کیا تو دوسرا ملک ناراض ہو جائے گا اور وہ کوئی ایسا دعویٰ نہیں کر سکے گا جس سے وہ نیشنل لیڈر بن سکے۔ اس لئے اس کے مقاصد ایسے بھی نہیں ہو سکتے جو کسی خاص قوم کے لئے دلچسپی کا موجب ہو سکیں اور اس طرح قومیت کا رنگ اختیار کر سکیں۔ اور یہ مسلّمہ امر ہے کہ جوش دلانے والی تحریکات صرف وہی ہوتی ہیں جن میں قومیت کا رنگ ہو۔ مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ آؤ ہم مل کر ساری دنیا کے لوگوں کو بھائی بھائی بنا دیں تو وہ کبھی لوگوں کے اندر اس تحریک سے جوش پیدا نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ آئو فلاں ملک کو ہم آزاد کرائیں تو فوراً تمام ملک میں جوش پیدا ہو جائے گا۔ سو جوش پیدا کرنے کے لئے قومی لیڈر ہونا ضروری ہے اور یہ چیز جو دنیوی لحاظ سے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو میسّر نہیں۔ پھر کبھی ایسی بھی تعلیمات ہوتی ہیں جن کی لوگ مخالفت نہیں کرنا چاہتے اس لئے اگر کوئی ان کے ذریعہ بڑا بننا چاہے تو لوگ کہتے ہیں بن جائے۔ لیکن جب نبی آتے ہیں تو وہ ایسی تعلیم پیش کرتے ہیں جو سب کی مخالفت کو بھڑکا دے۔ وہ نہیں کہتے کہ تم میں یہ بات اچھی ہے فلاں میں وہ بات اچھی ہے آؤ ہم سب اچھی باتوں کو اکٹھا کر کے آپس میں مل جائیں۔ بلکہ وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں تم میں یہ عیب ہے فلاں میں یہ عیب ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم سب کی غلطیوں کی اصلاح کروں اس لئے ان کی ابتدائی تعلیم ہمیشہ دنیا کے اندر جھگڑے کی آگ کو زیادہ بھڑکا دیا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نبی پر یہ اعتراض ہوتا آیا ہے کہ اُس نے آ کر فساد ڈلوا دیا کیونکہ وہ بغیر کسی کی رُورعایت یا لحاظ کے صاف الفاظ میں یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ فلاں قوم میں یہ غلطی ہے فلاں تعلیم میں یہ نقص ہے فلاں میں یہ عیب ہے اور سچی تعلیم وہی ہے جو ہم پیش کرتے ہیں اس لئے تمام اقوام ان کی مخالف ہو جاتی ہیں۔
    پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تعلقات دنیا سے دوستانہ نہیں بلکہ مخالفانہ ہیں۔ اگرچہ نتیجہ تو انجام کار یہی نکلے گا کہ آپ کے ہاتھ پر جمع ہونے کے بغیر دنیا میں صلح نہیں ہو سکے گی کیونکہ تفرقہ کی وجہ یہی ہے کہ سب میں کوئی قدر مشترک نہیں اور آپ کو خدا تعالیٰ نے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ آپ سب کے لئے ایک ہاتھ پر جمع ہونے کا موجب ہو سکیں اور آپ کا وجود اس میں شبہ نہیں کہ دنیا سے فساد کے تمام دروازے مسدو د کر دے گا لیکن جب تک دنیا اس معرفت کو جاننے کے لئے تیار نہیں ہوتی آپ کو فسادی ہی کہے گی۔ پس نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قومی لیڈر نہیں بلکہ کسی بھی قوم سے آپ کے تعلقات ایسے نہیں کہ وہ آپ کی مؤیّد ہو سکے۔ آپ نے ہر قوم کے عیب اور ہر تعلیم کے نقص ظاہر کئے ہیں۔ ایسی صورت میں غور کرنا چاہئے کہ ہماری ذمہ داری کس قدر بڑھ جاتی ہے۔ جب ساری دنیا سے تعلیم کی وجہ سے لڑائی جھگڑا ہے اور جب کوئی قوم بھی آپ کو اپنا نیشنل لیڈرنہیں سمجھتی تو پھر سوچنا چاہئے کہ دنیا کو منوانا اور آپ کی طرف لانا کتنا مشکل ہے۔ ایک طرف تو مذہبی مخالفت ہے اور دوسری طرف کسی قوم سے قومی وابستگی نہیں۔ پس اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب ایسے لوگوں کا جنکی کوئی مخالفت نہیں ہوتی منوانا دقّت طلب ہوتا ہے تو آپ کا منوانا کس قدر مشکل ہو گا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہل جانا آسان ہے‘ دریاؤں کا اپنی جگہ کو چھوڑ دینا مشکل نہیں لیکن قلوب کا بدل دینا بہت مشکل ہے‘ سوائے ایک دیوانگی کے‘ سوائے ایک جنون کے جماعت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ ہر شخص کو یہ دیوانگی ہو‘ یہ جنون ہو‘ یہ تڑپ ہو کہ جس طرح ہو سکے دنیا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حلقہ بگوش بنانا اور تمام لوگوں کو جماعت احمدیہ میں داخل کرناہے۔ جب تک یہ نہ ہو گا یہ کام بھی نہیں ہو گا۔ اپنے اندر یہ جنون پیدا کرو‘ یہ تڑپ پیدا کرو پھر دیکھو خدا کے فضلوں کے دروازے کس طرح کُھلتے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ اگرچہ یہ کام نہایت ہی مشکل ہے لیکن خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید اسے حاصل ہے اس لئے آسان بھی بہت ہے۔ اگر سامان اور تدبیر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس سے زیادہ مشکل کام اور دنیا میں نہ ہو گا۔ پچھلے دنوں اتحادیوں اور جرمن وغیرہ میں جو لڑائی ہوئی اسے بہت زیادہ خطرناک سمجھا گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کے مقابلہ میں جو ہمیں درپیش ہے اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے دو بچے آپس میں لڑ رہے ہوں۔ اس کا فتح کرنا آسان تھا اور دنیاوی سامانوں کے لحاظ سے یہ بہت مشکل ہے لیکن تقدیر کا فیصلہ ہے کہ یہ ہو کر رہے گا اور اللہ تعالیٰ کی مشیّت یہی ہے کہ یہ ہو کر رہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا:
    ’’میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔‘‘ ۱؎
    پھر فرمایا:
    ’’دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا‘‘ ۲ ؎
    ’ ’خدا اسے قبول کرے گا‘‘ کے یہ معنے نہیں کہ آئندہ زمانہ میں قبول کرے گا بلکہ یہ ہیں کہ اسے قبول کرائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی قبولیت کے دو طریق ہوتے ہیں۔ ایک ابتداء میں جب ظاہری سامان نہیں ہوتے بحیثیت رحمان اور ایک انتہا پر بحیثیت مٰلک یوم الدین۔ جبکہ وہ آخری فیصلہ کرتا ہے پس اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ اسے تسلیم شُدہ راہنما کے طور پر قبول کرے گا ایک دفعہ وہ اُس وقت قبول کرتا ہے جب کہتا ہے اُٹھ کھڑا ہو اور دنیا کی اصلاح کر۔ اور ایک دفعہ اُس وقت جب کہتا ہے اب میں نے تجھے ان لوگوںپر شاہد بنا دیا اور سب دنیا تیرے جھنڈے تلے آ جائے گی۔ پس ایک دفعہ تو اس نے اُس وقت قبول کیا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا اور دوسری دفعہ قبول کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اُس کی کوششوں کو بار آور کرے گا اور دنیا کو منوا دے گا۔ اور یہ تقدیر خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہو چکی ہے کہ دنیا نے آپ کو ماننا اور ضرور ماننا ہے۔ پس جب ہم ایسے کام کے لئے کھڑے ہوئے ہیں تو اس سے زیادہ سہل بھی کوئی نہیں۔ غرض یہ کام اگر ایک جہت سے سب سے زیادہ مشکل ہے تو ایک جہت سے سب سے زیادہ آسان بھی ہے۔ مگر خدا تعالیٰ نے جو تقدیریں مقرر کر رکھی ہیں وہ بھی دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ ہیں جو تدبیر سے وابستہ ہیں۔ گو خدا تعالیٰ انسانی تدبیر سے بہت بڑھ چڑھ کر نتائج مترتب کرتا ہے لیکن وہ ہوتے تدبیر کی مناسبت سے ہی ہیں اور ایک وہ جن میں وہ تدبیر سے روکتا ہے۔
    انبیاء کی جماعتوں کی ترقی کو اُس نے تدبیر سے وابستہ رکھا ہے اگرچہ نتائج تدبیر کے لحاظ سے بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن بہرحال جتنی تدبیر ہو اُسی نسبت سے زیادہ ترقی نمایاں ہوتی ہے گویا جہاں یہ کام سہل تھا وہاں اسے ایک اور مشکل سے ملا دیا۔
    پس اس کے لئے ہمارے ہر فرد کے اندر جنون ہو کہ لوگوں تک خدا کا کلام پہنچانا ہے تا ان میں تازگی پیدا ہو اور بیداری رہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایسا کرنے کی وجہ سے لوگ تمہیں غیرمہذّب اور ناشائستہ کہیں گے کہ جہاں بیٹھتے ہیں ایک ہی بات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں لیکن خدا کے کام کے لئے اگر غیر مہذّب اور پاگل بھی کہلانا پڑے تو یہ بہت سستا سودا ہے اور درحقیقت جب تک ہم پاگل مجنون نہیں کہلاتے اس کام کو پوری طرح کر بھی نہیں سکتے۔ لوگوں کا ہمیں جاہل‘ نادان‘ پاگل‘ بیوقوف کہنا علامت ہو گی اس امر کی کہ خدا تعالیٰ کا سپرد کیا ہوا کام ہم صحیح طور پر چلا رہے ہیں۔ لیکن اگر دنیا ہمیں عقلمند اور مہذّب کہے گی تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم کام ٹھیک طور پر نہیں کر رہے۔
    پس میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جس قدر ہو سکے اشاعت سلسلہ میں کوشش کریں۔ غفلت کا یہ نتیجہ ہو گا کہ آئندہ نسلیں بھی کمزور ہو جائیں گی۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ ماں باپ میں جوش نہیں تو وہ سمجھ لیتے ہیں یہ کوئی ایسا فعل نہیں جس کے لئے خاص کوشش کی ضرورت ہو۔ لیکن جب وہ ماں باپ کی طرف سے مجنونانہ کوشش دیکھیں گے تو ان میں بھی اخلاص پیدا ہو گا۔
    میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ہمارے اندر سلسلہ کی اشاعت کا سچا جوش پیدا کر دے اور ایسا اخلاص عطا کرے جس کے نتیجہ میں ہم میں سے ہر ایک فرد سلسلہ کو اس طرح ترقی کرتا دیکھ لے کہ اسے یقین ہو جائے یہ سلسلہ دنیا میں ضرور پھیل کر ہی رہے گا۔ آمین
    خطبہ ختم کرنے سے پہلے میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے ایک فعل کے متعلق خاص طور پر اظہارِ خوشنودی کرنا چاہتا ہوں۔ گذشتہ جمعہ مَیں نے جلسہ سالانہ کے لئے چندہ کی تحریک کی تھی۔ مدرسہ احمدیہ میں عام طور پر غریب بچے ہی تعلیم پاتے ہیں لیکن انہوں نے بہت جوش سے چندہ میں حصہ لیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب نے ابھی مجھے بتایا ہے کہ ان کے چندہ کی رقم سَو روپیہ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جس میں سے پچاس نقد جمع ہو چکے ہیں جو انہوں نے مجھے دے بھی دیئے ہیں۔ اس چندہ میں بعض طلباء نے اپنا جیب خرچ دے دیا اور بعض نے ایسا کیا ہے کہ پانچ طلباء نے مل کر یہ انتظام کر لیا کہ ہم پانچوں چار کے کھانے پر گذارہ کر لیا کریں گے اور پانچویں حاضری کا خرچ چندہ میں دیدیں گے تا والدین پر بھی خرچ کا بار زیادہ نہ پڑے۔ یہ ایک نہایت ہی دل خوشکن اور راحت و آرام پہنچانے والی بات ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان بچوں کو ایسا اخلاص عطا کرے کہ وہ روحانی اُفق پر ستاروں کی طرح چمکیں اور ہمارے قلوب کی ٹھنڈک کا موجب ہوں۔ آمین۔
    (الفضل ۲۹۔نومبر۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ تذکرہ صفحہ ۳۱۲۔ایڈیشن چہارم
    ۲؎ تذکرہ صفحہ ۱۰۴۔ ایڈیشن چہارم

    ۲۸
    سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلّل کرو
    (فرمودہ ۲۹۔نومبر۱۹۲۹ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر اختلاف پیدا کیا ہے کہ درحقیقت کوئی دو چیزیں بھی آپس میں نہیں ملتیں۔
    ہر ایک چیز دوسری سے مختلف ہے حتیٰ کہ خاوند اور بیوی‘ باپ اور بیٹا‘ ماں اور بیٹی کا بھی آپس میں اختلاف ہے اور ایسے ایسے اختلاف نظر آتے ہیں کہ جنہیں کسی حد بندی میں لانا بالکل ناممکن ہے۔ کیا بلحاظ میلاناتِ طبع‘ کیا بلحاظ جذبات‘ کیا بلحاظ قابلیتوں کے‘ کیا بلحاظ طاقتوں کے اور کیا بلحاظ عقل کے بہت بڑا فرق آپس میں پایا جاتا ہے۔ پس اس اختلاف کے باوجود یہ امید رکھنی کہ کسی کو کسی بات میں اختلاف نہ ہو عقل کے خلاف ہے اور ناممکن ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انسانی طبائع مختلف بنائی ہیں تو یہ امید کیونکر کی جا سکتی ہے کہ سب ایک ہی رنگ میں رنگین ہو جائیں سب ایک ہی مقصد کے پیچھے ایک ہی طرح چل پڑیں اور خیالات اور اعمال کے لحاظ سے باکل ایک ہو جائیں۔ یہ بالکل ناممکن ہے مگر بعض چیزوں میں خدا تعالیٰ نے اتحاد بھی رکھا ہے جس اتحاد کی وجہ سے ہم مختلف چیزوں کو علیحدہ علیحدہ کر لیتے ہیں۔ مثلاً گھوڑے کا بھی منہ‘ناک‘ کان‘آنکھیں ہوتی ہیں اور انسان کا بھی منہ‘ناک‘کان‘ آنکھیں ہو تی ہیں مگر باوجود اس کے کہ انسانوں کے ناک اور کانوں وغیرہ میں ایک دوسرے سے اختلاف ہوتا ہے اور کوئی دو انسانوں کے ناک کان آپس میں نہیں ملتے‘ حتیّٰ کہ توام پیدا ہونے والے بچوں کے جو ظاہری طور پر بالکل ایک سے ہوتے ہیں خوردبین کے ذریعہ ان میں بھی اختلاف نظر آتا ہے۔ لیکن باوجود اس کے کہ تمام انسانوں کی شکلوں میں اختلاف ہوتا ہے ہم دیکھتے ہی کہہ دیتے ہیں یہ انسان ہے اور یہ گھوڑا ہے۔ کیونکہ انسان اور گھوڑے اپنی اپنی نوع کے ساتھ خاص اشکال میں متحد ہوتے ہیں تو اختلاف کے باوجود اتحاد بھی ہم کو نظر آتاہے۔ جس طرح ظاہری شکلوں میں اختلاف ہوتاہے اور اتحاد بھی اسی طرح اخلاق میں اختلاف بھی ہوتا ہے اور اتحاد بھی۔ مثلاً بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو انسان نہیں کر سکتا اور ان کا کرنا اس کے لئے ناممکن ہوتا ہے۔ اسے لاکھ سمجھائیں کہ فلاں کام کر لو لیکن اسے ماننے کے باوجود اس کے لئے کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ ایک کمزور آدمی جس میں دس سیر بوجھ اٹھانے کی طاقت ہے ایک من نہیں اٹھا سکے گا۔ لیکن بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا کرنا انسان کے لئے ناممکن نہیں ہوتا۔ مثلاً نماز پڑھنا ہے یہ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان کھڑا ہو کر نماز ادا نہ کر سکے لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ نماز پڑھ ہی نہ سکے کیونکہ نماز ادا کرنے کے لئے بہت سی سہولتیں ہیں جو کھڑا ہو کر ادا نہیں کر سکتا بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے اور جو بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکے وہ لیٹ کر پڑھ سکتا ہے۔ پھر لیٹنے کی بھی کوئی خاص شکل قائم کرنا ضروری نہیں جس طرح ہو سکے ادا کر سکتا ہے اس لئے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ نماز پڑھ ہی نہیں سکتا اور کوئی عقلمند یہ بات تسلیم نہیں کر سکتا کہ کسی کے لئے نماز پڑھنا ناممکن ہے۔ پس جس طرح بعض کاموں کا کرنا واقعی ناممکن ہوتا ہے اسی طرح بعض کے متعلق یہ کہنا کہ میں نہیں کر سکتا ناممکن ہے۔ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ دس سیر بوجھ اُٹھانے کی طاقت رکھنے والا ایک من بوجھ اُٹھا لے اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں نماز پڑھ ہی نہیں سکتا سوائے پاگل یا بے ہوش کے‘ باقی سب لوگ نمازپڑھنے کی کسی نہ کسی صورت پر عمل کر سکتے ہیں۔ تو انسان کے اندر بعض باتوں میں اتحاد ہوتا ہے اور بعض میں اختلاف‘ اور بعض باتیں جن میں اتحاد ہے اور جن کے کرنے پر انسان قادر ہے ان میں شریعت امید رکھتی ہے کہ انسان کو اگر اپنے نفس پر جبر کر کے انہیں کرنا پڑے تو بھی کرے۔ اگر واقعی کوئی شخص جھوٹ کو بُرا سمجھتا ہے مگر بعض اوقات عادت کے ماتحت جھوٹ بول لیتا ہے اور بعد میں احساس پر اظہارِ ندامت کرتا ہے یا بعض کی طبائع میں خشونت ہوتی ہے اور کسی وقت وہ خفگی اور سختی کا اظہار کر دیتے ہیں لیکن بعد میں انہیں اپنی سختی پر افسوس ضرور ہوتا ہے اور وہ اس سے جو نقصان ہوا اُس کا ازالہ کرنے کی فکر کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور ان کی توبہ قبول بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن جو شخص جھوٹ بولے یا بے جا تشدد اور سختی کرے اور پھر اس پر ندامت نہ محسوس کرے اس سے جو نقصان ہو اس کے ازالہ کی بھی کوشش نہ کرے اور پھر یہ بھی کہے کہ میں نے جو راستہ اختیار کیا وہ صحیح ہے اور اس کے بغیر گذارہ ہی نہیں ہو سکتا تو وہ سمجھ لے کہ وہ صحیح راستہ پر نہیں ہے۔
    اگر کوئی شخص کسی خاص جوش یا غصہ کے ماتحت ایک فعل کر دے لیکن بعد میں ہوش آ جانے پر اپنے اس فعل پر نادم ہو اور اس کے ازالہ کی کوشش کرے تو ایسا شخص خدا کی مغفرت کا امیدوار ہو سکتا ہے۔ لیکن جو شخص ہوش آ جانے پر بھی ندامت اور افسوس نہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی عُذر پیش نہیں کر سکتا۔
    میں نے بہت دفعہ سمجھایا ہے کہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو انسانیت کا معیار بننا چاہئے۔ بے شک ہمار ے اندر بھی جذبات ہیں‘ ہمیں بھی غصہ آ سکتا ہے لیکن ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت انہیں صَرف کریں۔ اور اگر کبھی کوئی شخص ان سے مغلوب بھی ہو جائے تو اسے چاہئے کہ جلد از جلد ہوش میں آ کر اس پر اظہارِ ندامت و افسوس کرے لیکن افسوس ہے کہ بعض لوگ بعض اوقات جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتے اور پھر بعض فخر کرتے اور کہتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا وہ درست ہے اور ایسا ہی کرنا ضروری تھا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہو سکتا۔ اگر ان کی یہ بات صحیح مان لی جائے تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ وہ مذہب جھوٹا ہے جسے وہ مانتے ہیں۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ وہ کہہ دیں کہ مذہب کا فلاں حکم ایسا ہے کہ جس پر ہم سے عمل نہیں ہو سکا لیکن یہ کہنا کہ اس پر عمل ہو ہی نہیں سکتا اور اسے توڑنے کے بغیر گذارہ ہی نہیں ان کے مذہب کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔
    ایک مسلمان تاجر اگر سود لیتا ہے لیکن وہ تسلیم کرتا ہے کہ غلطی کر رہا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ مذہب کو جھوٹا نہیں قرار دیتا بلکہ اپنے آپ کو جھوٹا سمجھتا ہے۔ لیکن اگر وہ یہ کہے کہ سود ضروری ہے اس کے بغیر گذارہ ہو ہی نہیں سکتا تو اس کے معنی یہی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرتا ہے اور اسلام کو جھوٹا قرار دیتا ہے جس نے سود لینے اور دینے سے منع کیا ہے۔ گویا ایک ہی چیز دو مختلف نقطہ ہائے نگاہ کی وجہ سے بدل جاتی ہے۔ ایک کے لحاظ سے انسان ایمان سے خارج ہو جاتا ہے اور دوسرے نقطۂ خیال کے لحاظ سے اس کے لئے توبہ کا دروازہ کُھلا رہتا ہے۔
    پس دوستوں کو چاہئے کہ سب معاملات میں اول تو اسلام کے مطابق عمل کریں اور اسے اپنے لئے نہایت ضروری سمجھیں۔ لیکن اگر کسی وقت کوئی ناروا حرکت کر بیٹھے تو اسے چاہئے کہ جذبات سے تعلق رکھنے والے معاملات میں جلدی پشیمان ہو اور دل میں محسوس کرے کہ اس نے بہت بُرا کیا ہے اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کے لئے توبہ کا دروازہ کُھلا رہتا ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے متواتر فرمایا ہے کہ جذبات کو اپنے قابو میں رکھنا چاہئے پھر بھی میں دیکھتا ہوں بعض لوگ جو دوسروں کو تو آپ کی باتیں سناتے ہیں اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی تلقین کرتے ہیں خود اس بات کو بھلا دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلّل اختیار کرو۔ بلکہ بعض تو جھوٹے ہو کر سچے اور ظالم ہو کر اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں پھر کس طرح سمجھا جائے کہ ان میں ایمان کا ذرہ بھی باقی ہے کیونکہ اگر ایمان ہوتا تو ہوش میں آنے پر وہ اس ظلم کا ازالہ کرتے جو اُن سے سر زد ہوا اور اگر ایسا نہ کر سکتے تھے تو کم ازکم اپنے اندر ندامت ہی محسوس کرتے۔ لیکن اگر وہ ظلم کے ارتکاب سے بچ نہیں سکتے اور اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتے پھر جوش کے وقت کے گذر جانے پر ازالہ کی کوشش نہیں کرتے اور نہ ندامت محسوس کرتے ہیں بلکہ اگر سارے حالات گذر جاتے ہیں اور ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کا ایمان دکھاوے کا ہے۔ وہ بلبلہ کی طرح ہے جس کے اوپر پانی اور اندر صرف ہوا ہے کیونکہ اگر اندر بھی پانی ہوتا تو وہ پانی کی سی کیفیت اختیار کرتا۔
    میں دوستوں سے پوچھتا ہوں وہ سوچیںکتنی دفعہ ان پر ظلم ہوتا ہے جسے وہ برداشت کرتے ہیں۔ برداشت اسے نہیں کہتے کہ کسی طاقتور نے گردن پکڑی ہو اور اپنے اندر اس کے مقابلہ کی طاقت نہ ہوتو کہہ دیا جائے کہ ہم برادشت کر رہے ہیں۔ بلکہ برداشت یہ ہے کہ انسان سزا دے سکے اور پھر نہ دے۔ سوائے اس کے کہ شریعت یا انتظام نے تعزیر کا کام اس کے سپرد کیا ہو۔ جیسے ماں‘ باپ‘ استاد‘ والی‘ قاضی یا حاکم ہوتے ہیں۔ ان حالات میں اخلاقاً ان کا حق ہے کہ ایک دائرہ کے اندر تعزیر سے کام لیں۔ لیکن اس سے باہر جہاں قضاء یا ولایت یا تنظیم کا کوئی تعلق نہیں مثلاً اپنے معاملات میں اگر کوئی دست درازی کرتا ہے اور ظلم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ شریعت کا احترام نہیں کرتا۔ پس میں پھر ایک دفعہ دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگ اس شخص کے متبع ہیں جس کا نام مسیح ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بعض دفعہ ایک چھوٹی چیز کو بڑی اور بڑی کو چھوٹی سے تشبیہہ دے دی جاتی ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی مشابہت ہی نہ ہو اور یونہی تشبیہہ دے دی جائے۔ دیکھو ایک انسان جس کے نہ تو دُم ہی ہوتی ہے اور نہ ویسا مونہہ اور سر ہوتا ہے جیسا کہ شیر کا ہوتا ہے لیکن بہادری کی وجہ سے اسے شیر کہہ دیاجاتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان نہ ننگا پھرتا ہے نہ گھاس کھاتا ہے نہ اس کے لمبے لمبے کان ہوتے ہیں لیکن اسے گدھا کہہ دیتے ہیں اور یہ اُسی وقت کہتے ہیں جب اس سے بے وقوفی سرزد ہو۔ تو مجاز اور استعارہ کا استعمال کسی مشابہت کی وجہ سے ہی ہوتا ہے جب تک ایسا نہ ہو اس کا استعمال نہیں ہو سکتا۔ پس سوچنا چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو مسیح کہا گیا تو کیوں کہا گیا؟ وہ کونسی چیز ہے جو حضرت مسیح کو دوسرے انبیاء سے ممتاز کرتی ہے وہ وہی چیز ہو سکتی ہے جو اگرچہ دوسرے انبیاء میں پائی جائے مگر اس میں زیادہ نمایاں حیثیت میں نظر آتی ہو اور مسیح کے لئے جو چیز خاص ہے وہی مسیح موعود علیہ السلام کے لئے وجہ تشبیہہ ہو سکتی ہے۔ یوں تو سارے انبیاء ہی راستباز تھے اور حضرت مسیح بھی راستباز تھے مگر راستبازی کی وجہ سے کسی اور کو مسیح نہیں کہا جا سکتا۔ اس طرح سارے ہی انبیاء ملہم بھی تھے مگر الہام کی وجہ سے کسی کو موسیٰ نہیں کہا جا سکتا۔ جب کسی کو موسیٰ کہا جائے گا تو اس کے یہی معنے ہونگے کہ اس میں وہ خوبی ہے جو حضرت موسیٰ کو دوسرے انبیاء سے خاص طور پر ممتاز کرتی ہے۔ اسی طرح جب کسی کو محمد(ﷺ) کہا جائے گا تو اس کے معنی ہوں گے کہ اس میں وہ خاص وصف نمایاں ہے جو اگرچہ دیگر انبیاء میں بھی ہے لیکن محمد ﷺمیں ممتاز طور پر نظر آتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی خصوصیت وہ نرمی کی تعلیم ہے جو آپ نے پیش کی اور بائبل سے تو یہاں تک ظاہر ہے کہ حضرت مسیح فرماتے ہیں:
    ’’شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کُرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے۔ اس کے ساتھ دو کوس چلا جا‘‘ ۱؎
    اگرچہ سارے ہی انبیاء نے نرمی کی تعلیم دی ہے لیکن حضرت مسیح نے اپنے زمانہ کے حالات کو دیکھ کر اس بات پر بہت زور دیا ہے۔ یہ ہی خاص بات ہے جو ان میں پائی جاتی ہے اور جب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام مسیح رکھا تو اس کے یہ معنے ہیں کہ آپ کو بھی خاص طور پر نرمی کی تعلیم دینے کا حکم دیا گیا ہے اگرچہ آپ کا نام مسیح رکھنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ عیسائیوں کی ہدایت کے لئے آئے اور اس لحاظ سے بھی مسیح کہلائے۔ مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہندوؤں کی طرف مبعوث ہونے کی وجہ سے آپ کو کرشن کا نام دیا گیا یا تمام اقوام عالم کی طرف بھیجے جانے کی وجہ سے محمدؐ کا نام دیا گیا لیکن مسیح کے نام پر خاص زور ہے تا کہ آپ سختی کو دور کریں۔ اسی لئے آپ نے یہ تعلیم دی۔
    ’’خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے۔ اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو۔ کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔ تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اورسچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلّل کرو تا بخشے جاؤ نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہو سکتا۔‘‘ ۲؎
    اب اگر ہم اس خصوصیت کو مدنظر نہ رکھیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم دنیا کو دھوکا دیتے ہیں جب خود اس تعلیم پر عمل نہیں کرتے تو کسی کو اس طرف بلانے کا ہمیں کیا حق ہے۔ پس میں پھر ایک دفعہ جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس معاملہ میں بہت اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے کہ لوگ سمجھیں ہم نے اپنے جذبات پر پورا پورا قابو پا لیا ہے۔ سوچنا چاہئے کیا سارے ہندو‘ سارے عیسائی‘ سارے سکھ آپس میں لڑتے رہتے ہیں؟ نہیں۔ ان میں بھی اگر بعض لڑنے والے ہیں تو بعض صلح جُو بھی ہیں۔ پس اگر ہمارا بھی یہی حال ہوا کہ ہم میں بھی بعض جھگڑا فساد کرنے والے اور بعض صلح پسند ہوں تو دوسروں سے ہمیں امتیاز کیا ہوا۔ امتیاز تو جب ہی ہو سکتا ہے کہ یا تو ہم میں سے جھگڑے فساد کی عادت بالکل مٹ جائے یا پھر ایسی خفیف رہ جائے کہ کبھی نظر نہ آئے اور اگر کوئی ایسا آدمی ہو جو ایسی حرکت کا ارتکاب کرے تو جماعت محسوس کرے کہ یہ کالی بھیڑ ہے جس نے ہمیں بدنام کیا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اگر کسی بدی کو دیکھو اور طاقت ہو تو اسے ہاتھ سے مٹا دو اگر ہاتھ سے نہ مٹا سکو تو زبان سے روکو‘ اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں بُرا مناؤ ۳؎ کہتے ہیں ایک بزرگ نے ایک شخص کو سارنگی بجاتے دیکھا تو اس کی سارنگی توڑ دی۔ وہ شخص بادشاہ کا درباری تھا اس نے بادشاہ سے شکایت کی۔ بادشاہ نے بزرگ کو بلایا۔ اور ان کے سامنے خود سارنگی بجانے لگا آپ خاموش بیٹھے رہے۔ اس نے پوچھا دیکھا میں کیا کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا ہاں دیکھا آپ سارنگی بجا رہے تھے۔ بادشاہ نے کہا تم نے فلاں شخص کی سارنگی توڑ دی تھی۔ انہوں نے کہا ہاں اس لئے کہ رسول کریم ﷺ کا حکم ہے کہ اگر کسی بدی کو ہاتھ سے مٹانے کی طاقت ہو تو اسے ہاتھ سے مٹا دو۔ اس نے کہا میں بھی تو سارنگی بجا رہا تھا اسے کیوں نہیں توڑا۔ آپ نے فرمایا یہ بھی حکم ہے کہ ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکو اور یہ بھی نہ ہو تو دل میں ہی بُرا مناؤ۔ سو میں نے دل میں بہت بُرا منایا اور یہ ادنیٰ ایمان ہے کہ انسان بدی کو دل میں بُرا سمجھے اور جو ظلم ہوتا دیکھتاہے اور دل میں بھی بُرا نہیں مانتا تو وہ شریعت کا مُجرم ہے اور خود بھی ایسا ہی ظالم ہے جیسا ظلم کرنے والا۔ یہ طریق ہے جو ہماری جماعت کو اختیار کرنا چاہئے۔ عفو‘ نرمی‘ درگذر اور محبت سے کام لینا چاہئے۔ اور اگر کسی کو ظلم کرتا دیکھیں تو محسوس کریں کہ اس نے اس مظلوم پر حملہ نہیں کیا بلکہ ہم سب پر حملہ کیا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کیا ہے کیونکہ جس غرض کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے اس کی اس نے تحقیر کی ہے اسے توڑ دیا ہے۔ پس اگر طاقت ہو تو ہاتھ سے اسے روکیں وگرنہ زبان سے ہی سہی اور اگر یہ بھی نہ ہو تو کم از کم دل میں بُرا منائیں۔ اور جس شخص کے اندر یہ بات بھی پیدا نہ ہو سکے وہ جائے اور خدا کے ہاں روئے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔
    ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے ماننے والے ہیں۔ ہمیں ایسا نمونہ پیش کرنا چاہئے کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والے لوگوں میں بھی اسی طرح لڑائیاں‘ جنگیں اور جھگڑے ہیں جس طرح اوروں میں۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اس برگزیدہ کیلئے بدنامی کا موجب نہ بنائے جو دنیا کی اصلاح کیلئے آیا۔ آمین
    (الفضل ۶۔دسمبر ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ متی باب ۵ آیت ۳۹ تا ۴۱ پاکستان بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء
    ۲؎ کشتی نوح صفحہ ۱۲ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۴
    ۳؎ مسلم کتاب الایمان باب کون النھی عن المنکر من الایمان وان الایمان یزید
    وینقص

    ۲۹
    جلسہ سالانہ پر خود آؤ اور دوستوں کو ساتھ لاؤ
    (فرمودہ ۶۔دسمبر۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    میں نے پچھلے سے پچھلے جمعہ میں اپنی جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ جلسہ سالانہ اب قریب آ گیا ہے اور اس کے لئے ہماری جماعت کے دوستوں کو مالی قربانی کرنی چاہئے اور میں نے خصوصیت کے ساتھ قادیان کے دوستوں کو ان کے اوپر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کی طرف متوجہ کیا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ قادیان کے دوستوں نے جو رقم ان کے ذمہ لگائی گئی تھی مجھے اطلاع ملی ہے کہ پوری کر دی ہے بلکہ اس سے کچھ زیادہ جمع کر دی ہے۔ ان دنوں یہاں کے ملازم اور کارکن اور ان کی وجہ سے یہاں کے تاجر جن دقتوں سے بسراوقات کر رہے ہیں ان کا اندازہ صرف یہاں کے رہنے والے ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر کو تین تین ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں اسی طرح یہاں کے تاجروں کو کئی کئی مہینوں کے بل نہیں ملے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان کی جو رقم سلسلہ کے ذمہ ہے وہ ضائع نہیں ہو گی لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ انسان جس وقت تکلیف میں ہوتا ہے اس کا حوصلہ گِرا ہوا ہوتا ہے اور خصوصاً اس حالت میں کہ اس کی جیب میں کچھ نہ ہو اور اسے کوئی رقم نقد ادا کرنی پڑے۔ یہ اس کے لئے نہایت تکلیف دہ اور آزمائش کا موقع ہوتا ہے لیکن باوجود اس کے مجھے بتایا گیا ہے کہ یہاں کے دوستوں نے پندرہ سَو نقد اور چھو سَو سے کچھ اوپر بصورت وعدہ جو وہ بہت جلد ادا کردیں گے جمع کر دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ بیرونی جماعتوں کے لئے ایک نمونہ ہے۔ گو اس سے بیرونی اصحاب اتنا فائدہ نہیں حاصل کر سکتے جتنا حاصل کرنا چاہئے کیونکہ وہ یہاں کی مالی تنگی کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ بیرونی جماعتوں نے قربانیاں نہیں کیں۔ انہوں نے بھی شاندار نمونے پیش کئے ہیں اور سوائے چند ایک کے جنہوں نے سستی کی ہے باقی سب نے اپنے اپنے حصہ کا بوجھ اٹھایا ہے اور بعض نے تو اس رقم سے جو اُن کے ذمہ لگائی گئی تھی دوگنی اور تگنی رقم ادا کی ہے۔ درحقیقت اب جلسہ سالانہ ایک مستقل صیغہ ہو گیا ہے اور اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد میں جس سُرعت سے ہر سال ترقی ہوتی ہے اس نے اسے ایک مستقل بوجھ بنا دیا ہے جو جماعت کو اُٹھانا پڑتا ہے‘ یہ اُٹھانا پڑے گا اور اُٹھانا چاہئے۔ اگر دنیا میں کوئی ایسا ابتلاء ہے جس کے لئے انسان دعا مانگ سکتا ہے کہ اے خدا! اس میں ترقی دے تو میرے خیال میں وہ اللہ تعالیٰ کے دین کیلئے مالی قربانی کرنے کا ابتلاء ہی ہے۔ ابتلاء سے انسان کے مدارج بڑھتے ہیں مگر شریعت نے اجازت نہیں دی کہ انسان خود اس کے لئے خواہش کرے۔ بیماریاں بھی انسان کے مدارج بڑھاتی ہیں‘ دوسری تکالیف اور مصائب سے گذرنا بھی ایمان کو ترقی دیتا ہے مگر ان کے آنے کے لئے دعا مانگنے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح لڑائیاں اور جھگڑے بھی انسان کو ایمان میں بڑھا جاتے ہیں اور وہ اس آگ میں پڑ کر کُندن کی طرح صاف ہو جاتا ہے مگر یہ جائز نہیں کہ انسان دعا کرے خدایا! دنیا میں فتنہ و فساد ترقی کرے۔ دوسروں کی غداریاں اور بے وفائیاں بھی ازدیادِ ایمان کا موجب ہو جاتی ہیں لیکن ان کے لئے بھی دعا کرنی منع ہے۔ غرضیکہ ابتلائوں کے لئے دعا جائز نہیں مگر بعض ابتلاء ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے انسان دعا کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے۔ اللّٰھم زد فزد اور ایسے ہی ابتلائوں میں سے الٰہی سلسلوں کی خدمت کے لئے قربانیاں کرنا ہے۔ پس یہ ایسے ابتلائوں میں سے ہے جو نہ صرف اخلاص کو بڑھاتے ہیں بلکہ ہم ان کے متعلق دعا کر سکتے ہیں کہ رَبَّ العٰلمین یہ ابتلاء اور بھی بڑھے کیونکہ یہ ایک صورت میں تو ابتلاء ہوتا ہے اور ایک میں طاقت و قوت کا موجب۔ اس میں اور دوسرے ابتلائوں میں فرق ہے وہ انسان سے کچھ لے جاتے ہیں مگر دیتے نہیں لیکن یہ ایسا ہے کہ لیتا ہے تو دیتا بھی ہے کیونکہ اس سے ہر سال سینکڑوں لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور اس سے وہ چیز ملتی ہے جس کے متعلق رسول کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ اے علی! اگر ایک انسان بھی تجھ سے ہدایت پا جائے تو تیرے لئے ان دو پہاڑوں کے درمیان اگر سرخ اونٹ بھر دیئے جائیں تو اس سے بھی بہتر ہے ۱؎ تو ایک انسان کی ہدایت کے مقابلہ میں اموال کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے کُجا یہ کہ سینکڑوں ہدایت یاب ہوں۔ وہ کیا ہی لطیف نظارہ ہوتا ہے جب سینکڑوں لوگ آگے بڑھ بڑھ کر سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور نئی جماعتیں پیدا ہوتی ہیں۔ کیا ۱۹۰۷ء کے جلسہ کی یاد خدا تعالیٰ کی شان کے ظاہر کرنے کا ذریعہ نہیں۔ یہ جلسہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں آخری جلسہ تھا اس میں صرف سات سَو آدمی شامل ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیر کیلئے باہر نکلے تو کئی سَو کا مجمع تھا آپ واپس آ گئے اور فرمایا اب تو ان دنوں کثرتِ ہجوم سے ہم سیر کو نہیں جا سکتے۔ تو ایک وہ وقت تھا جب سات سَو لوگ آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سیر ترک کرنی پڑی کہ لوگ زیادہ ہیں حالانکہ سارے کے سارے تو سیر کے وقت ساتھ نہیں ہو گئے تھے مگر پھر بھی آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا کہ جماعت ترقی کر رہی ہے۔ اور اب کچھ سالوں سے جلسہ پر قریباً سات سَو لوگ نئے بیعت کر کے جاتے ہیں اور یہ تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ پہلے سالوں میں دو اَڑھائی سَو بیعت کرتے تھے پھر تین چار سَو پھر پانچ چھ سَو اور ایک دو سالوں سے سات سَو کے قریب کرتے ہیں۔ اس سات کے ہندسہ کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ ترقی سے خاص وابستگی ہے۔ رسول کریمﷺ نے ایک دفعہ مسلمانوں کی مردم شماری کرائی تو کُل زن و مرد اور بچے سات سو تھے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مردم شماری کیوں کرائی ہے کیا آپ کا خیال ہے کہ ہم تباہ ہو جائیں گے اب تو ہم سات سَو ہو گئے ہیں اب ہمیں کون تباہ کر سکتا ہے۔ ۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری جلسہ میں بھی سات سَو لوگ تھے۔ تو اِس سات کے ہندسہ کو دینیات سے خاص تعلق معلوم ہوتا ہے اور یہ کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
    غرض جلسہ سالانہ بہت سی برکتیں اپنے ساتھ لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت لوگوں کی ہدایت کا موجب ہوتا ہے اس لحاظ سے ہمیشہ ترقی کر رہا ہے اور میں خوش ہوں کہ ہمارے دوستوں نے مالی پہلو کے لحاظ سے اسے کامیاب بنانے کی پوری پوری کوشش کی ہے اور جو سُستی دکھانے والے ہیں وہ بھی امید ہے اسے ترک کر کے پیچھے رہنے والوں کیلئے نمونہ بنیں گے اگر پہلوں کے لئے نہیں بن سکے۔
    اس موقع پر میں خوشی سے یہ اعلان بھی کرتا ہوں کہ مدرسہ احمدیہ نے اس ضمن میںخصوصیت سے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے۔ اس مدرسہ کے طلباء کے حالات‘ ان کی غربت‘ زمانہ تعلیم اور ان کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں انہوں نے ایسا نمونہ پیش کیا ہے جس سے دوسرے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پچاس روپے انہوں نے پہلے دیئے تھے اور ستّر روپے اب دیئے ہیں گویا ان کا چندہ ایک سَو بیس ہو گیا۔
    جلسہ کے لئے مالی پہلو کے علاوہ اور بھی کئی قسم کی قربانیاں ہیں۔ وقت کی قربانی‘ جگہ کی قربانی‘ آرام کی قربانی کی بھی ان دنوں میں ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے مالی پہلو کے بعد میں دوسری قربانیوں کی طرف دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلی چیز جس کی جلسہ کے لئے ضرورت ہوتی ہے وہ کارکن ہیں۔ سلسلہ کے مقررہ کارکن ان تمام کاموں کو قطعاً نہیں کر سکتے جو جلسہ کے دنوں میں جماعت کو کرنے پڑتے ہیں اور جب تک مزید کارکن میسر نہ آئیں جلسہ کا انتظام صحیح طور پر نہیں ہو سکتا۔
    جلسہ کے انتظام میں بہت سے نقائص اِس وجہ سے رہ جاتے ہیں کہ پورے کارکن میسر نہیں آ سکتے۔ اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ ان دنوں میں قادیان کے دوست جس خلوص سے قربانی کرتے ہیں وہ موجبِ صد شکرو امتنان ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے کو دل چاہتا ہے کہ سلسلہ میں ایسی اعلیٰ اخلاص کی روح نظر آتی ہے۔ خدا کرے یہ روح اور ترقی کرے کیونکہ اسی پر دنیا کی کامیابی کا انحصار ہے اسی کا نام تقویٰ ہے اور اسی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام ہوا:
    ہر ایک نیکی کی جڑھ یہ اتقا ہے
    اگر یہ جڑھ رہی سب کچھ رہا ہے
    وہ اخلاص جو انسان کے اندر قربانی کیلئے گدگدی پیدا کرتا ہے اور قربانی کے بعد اس کے اندر افسردگی نہیں بلکہ بشاشت پیدا کرتا ہے اسی کا نام اتقاء ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں تقویٰ کیا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ جب انسان کے اندر خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربانی کی خواہش پیدا ہو اور قربانی کرنے کے بعد اس کے اندر بجائے کسی قسم کی افسردگی یا ملال کے بشاشت اور خوشی ہو اور وہ اسے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا ایک احسان سمجھے کہ خدمت دین کاموقع مل گیا تو وہ یقین کر لے کہ اسے اتقاء کا مقام مل گیا۔ اور اس خواہش میں وہ جتنی ترقی کرے اتنا ہی تقویٰ میں بڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری جماعت میں تقویٰ کی یہ روح پائی جاتی ہے اور اس کے فضل سے امید ہے کہ وہ اسے اور بھی ترقی دے گا اور جن میں نہیں ان میں بھی پیدا کر دے گا۔
    تو یہاں کے دوست نہایت خلوص سے باہر کے مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں مگر پھر بھی ہزاروں کی مہمان نوازی آسان کام نہیں گو آدمیوں کی کمی سے جو نقص پیدا ہوتا ہے اسے اخلاص دور کر دیتا ہے۔ انسان جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے ارادہ میں برکت ڈالتا ہے اور وہ ایسے کام کر جاتا ہے جو دوسروں کو ناممکن نظر آتے ہیں۔ دوستوں کو چاہئے کہ وہ پہلے سے زیادہ اخلاص اور زیادہ تعداد میں اس کام کے لئے خود کو منتظمینِ جلسہ کے سپرد کریں۔ ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں اس لئے ان سے مَیں کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے سُستییا کمزوری سے پچھلے سال اس کام میں حصہ نہیں لیا تو کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ وہ پہلے سے بڑھ کر اب اس میں حصہ لیں۔ ان کی عمروں میں سے ایک سال اور کم ہو گیا ہے اور ان کا وہ وقت اور بھی قریب آ گیا ہے جب انہوں نے خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے اس لئے وہ کیوں نہ پچھلی کوتاہی کا ازالہ کر دیں۔ کیوں نہ اپنے رب سے نیا عہد کریں اور اس سے صلح کرلیں۔ ان کے لئے روحانی ترقی کے دروازے بند نہیں۔ روحانی ترقی کے خدا تعالیٰ نے دو رستے رکھے ہیں ایک دُور سے آتا ہے اور ایک قریب سے۔ قریب کا رستہ خدا تعالیٰ نے اس لئے رکھا ہے کہ تا کوئی شخص کسی وقت بھی مایوس نہ ہو۔ اگر صرف دورکا ہی راستہ ہوتا تو قریب المرگ یا بوڑھے اشخاص اسے طے نہ کر سکتے اس لئے اس نے ایک رستہ قریب کا بھی رکھا ہے اور وہ سوز و گداز کا رستہ ہے اس میں انسان منٹوں میں وہ مسافت طے کر جاتا ہے جو دوسرے سالوں میںکرتے ہیں۔ ایک ساعت میں ایک انسان آتا ہے اور کئی ایک سے آگے نکل جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کے متعلق فرمایا آپ پیچھے آئے لیکن اس اخلاص سے آئے کہ بہتوں سے آگے نکل گئے۔ پس سوز و گداز کا رستہ جلدی طے ہو جاتا ہے اس لئے جنہوںنے پچھلے سال کوتاہی کی اگر اب بھی آگے آ جائیں تو دوسروںکے برابر ہو سکتے ہیں بلکہ اگر چاہیں تو آگے بھی بڑھ سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے ترقی کا دروازہ ان کے لئے بند نہیں کیا اور اگر وہ خود بند کریں گے تو اس کی ذمہ داری انہی پر ہوگی۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے قادیان کے رہنے والوں کی تعداد انتظام کیلئے کافی نہیں ہو سکتی اس لئے باہر کے دوستوں کی مدد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ چند ایک ایسے لوگ ہیں جو اگرچہ رہتے تو باہر ہیں مگر ان کے دل یہاں ہی ہوتے ہیں جنہوں نے ہجرت تو نہیں کی لیکن روحانیت کے لحاظ سے وہ یہیں ہیں۔ وہ اگرچہ شوق سے کام کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد بھی بہت کم ہے اور ان سے بہت زیادہ کی ضرورت ہے۔ اگر اسے اپنا کام سمجھا جائے تو بہت سے لوگ بآسانی مل سکتے ہیں اس لئے میں خصوصت سے ان لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں جو جماعت میں معززسمجھے جاتے ہیں۔ اس زمانہ میں ایک شور پڑا ہوا ہے کہ بڑے لوگ اپنے آپ کو علیحدہ ہی جنس سمجھتے ہیں اور اس میں شبہ بھی نہیں کہ وہ سمجھتے ہیں۔ عام طور پر رواج ہو گیا ہے کہ چھوٹوں اور بڑوں کی دولسٹیں بنی ہوتی ہیں اگرچہ ضرورت کے موقع پر چھوٹے اپنے آپ کو بڑے اور بڑے اپنے آپ کو چھوٹے کہنے لگ جاتے ہیں۔ دو آدمیوں میں جھگڑا ہو اور انکی اخلاقی حالت اچھی نہ ہو تو دونوں یہی کہتے ہیں جی بڑوں کا لحاظ کیا جاتا ہے چھوٹوں کو کون پوچھتا ہے اور اپنے آپ کو چھوٹا اور مدِمقابل کو بڑا ظاہر کرتے ہیں گو حالت یہ ہو کہ کہنے والے کے ہاں اگر ایک دن کا فاقہ ہو تو دوسرے کے ہاں دو دن کا ہو۔ اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑوںکو چھوٹا بھی بنا لیا جاتا ہے مثلاً کسی جگہ اگر ایسا انتظام ہو کہ بڑے لوگوں کو علیحدہ جگہ دی جائے تو کہا جاتا ہے فلاں ہم سے کس حیثیت میں بڑا ہے ہمیں کیوں یہ موقع نہیں دیا گیا تو اس قسم کے اختلافات موجود ہیں لیکن یہ بجائے سست کرنے کے اختلاف ظاہر کر کے ترقی کا موجب ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے خدا تعالیٰ نے دنیا میں مختلف طبائع پیدا کی ہیں تا اختلاف ظاہر کر کے اپنی صنعت کی خوبصورتی ظاہر کرے۔ پس معززین آگے آئیں تا ظاہر ہو کہ وہ سلسلہ کے کام میں اپنے اعزاز کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اس طرح خدمت کرنے سے بڑوں کے دل میں رحم اور چھوٹوں کے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ پس جلسہ کے لئے کارکنوں کی جو ضرورت ہے اس کے لئے میں احبابِ قادیان کو خصوصاً اور باہر کے دوستوں کو عموماً توجہ دلاتا ہوں۔
    دوسری قربانی جگہ کی قربانی ہے۔ ہمارا جلسہ خدا کے فضل سے اس قدر عظیم الشان ہو گیا ہے کہ یہاں کی عمارتیں اب ناکافی ہیں۔ سلسلہ کی عمارات تو کسی طرح بھی کافی نہیں بلکہ دوسرے مکانات بھی تنگ ہیں۔ میں نہیں سمجھتا جلسہ کے دنوں میں احمدیوں کا کوئی ایسا مکان ہو سکتا ہے جس میں کوئی مہمان نہ ہو لیکن بعض قربانیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔ یہاں ایک رواج سا ہو گیا ہے جسے میں بُرا تو نہیں کہتا لیکن اس کی حد بندی ضرری ہو جانی چاہئے۔ لوگ اپنے گھروں میں اپنے عزیزوں کو ٹھہرا لیتے ہیں اور مہمان بھی اس لئے ٹھہراتے ہیں کہ تھوڑے سے آدمی کُھلی جگہ میں آرام سے رہ سکیں۔ اس صورت میں گھر والا قربانی تو ضرور کرتا ہے لیکن سلسلہ کے بوجھ میں اس سے اتنی کمی نہیں ہو سکتی جتنی اس صورت میں ہو سکتی اگر وہی نظام سلسلہ کے ماتحت کی جاتی۔ آخری صورت میں اس سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا اور اسی مکان میں زیادہ آدمی ٹھہرائے جا سکتے تھے۔ میں اس سے قطعاً تو نہیں روکتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ جہاں تک ممکن ہو اس سے بچنا چاہئے اگر ضروری اور لَابُدِّیْ ہو تو پھر اس طرح کر لو وگرنہ مکان منتظمین کے حوالے کر دو۔ یا پھر اس طرح سہی کہ کچھ کمرے اپنے مہمانوں کیلئے رکھ کر باقی منتظمین کے سپرد کر دو کہ جتنے مہمان چاہو ٹھہرا لو۔ یا خود اپنے مہمانوں کو اگر وہ بے تکلف دوست یا قریبی ہیں تو کہہ دو یہ جلسہ کے دن ہیں تکلیف ضرور ہوگی اس لئے ذرا تنگی برداشت کر کے کچھ اور مہمانوں کو بھی یہاں ٹھہرنے دو اور جو یہ کر سکے کہ مکان ہی منتظمین کے سپرد کر دے اور یہ کہہ دے کہ اتنے ہمارے بھی مہمان ہونگے باقی جتنے چاہو اپنے رکھ لو تو یہ سب سے ہی اچھا ہے۔
    پھر ایک قربانی آرام کی قربانی ہے اس کا زیادہ تعلق خدمت کرنے والوں سے ہے لیکن جو شخص خدمت کے لئے کھڑا ہوتا ہے اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ اپنا آرام قربان کرنے کیلئے تیار ہے اس لئے میرے مخاطب وہ نہیں بلکہ باہر سے آنے والے مہمان ہیں۔ انہیں یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ گو قادیان کے رہنے والے اپنا سارا زور بھی لگائیں تو بھی انہیں وہ آرام نہیں مل سکتا جو وہ اپنے گھروں میں پاتے ہیں یا جو فارغ مکان میں یا اُس مکان میں مل سکتا ہے جس میں صرف چار پانچ آدمی ٹھہرے ہوں۔ اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم فلاں کے مکان پر ٹھہرے مگر اس نے شکل تک نہ دکھائی حالانکہ یہ شکایت کا موقع نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ سلسلہ کے کام میں اس قدر مشغول رہا کہ مہمانوںکے پاس نہ جا سکا۔ یہ شکایت کی جگہ نہیں بلکہ فخر کی بات ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں ہمارے فلاں عزیز میں اس قدر للّٰہیت اور والہانہ رنگ ہے کہ ہمارے ٹھہرنے کے باوجود وہ سلسلہ کے کاموں میں دن رات مشغول رہا۔ پس چاہئے کہ وہ اس امر پر خوش ہوں لیکن بعض شکایت کرتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ عام نظام کے ماتحت ٹھہرتے ہیں وہ بھی شکایت کرتے ہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ شکایت بالکل ہونی نہ چاہئے کیونکہ شکایت کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔ شکایت پر صرف وہی تکلیف دہ ہوتی ہے جو رنج کے طور پر ہو۔ ایسی شکایت بعض اوقات ایمان کو ضائع کر دیتی ہے۔ لیکن جو قوم شکایت بالکل کرنا ہی نہیں جانتی وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ ہمارا عیب جس طرح ہمسائے کو نظر آ سکتا ہے ہمیں خود نہیں آ سکتا اس لئے جو نقائص انتظام میں ہوں وہ ظاہر کئے جائیں تا آئندہ اس کے متعلق اصلاح ہو سکے۔ میں اس قسم کی نکتہ چینی کو بُرا نہیں سمجھتا بلکہ اسے ضروری سمجھتا ہوں اور جو شخص ایسی شکایت نہیں کرتا وہ میرے نزدیک قومی خدمت سے آنکھیں بند کرتا ہے اور زیر الزام ہے۔ لیکن ایک شکایت اپنی وجہ سے ہوتی ہے کہ مجھے یہ تکلیف ہوئی۔ ایسی شکایت کرنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ اس ایک کی تکلیف سے سَو یا ہزار کو آرام بھی پہنچا۔ پس ایسی تکلیف بجائے امن کے فتنہ اور بجائے اتحاد کے تفرقہ پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔ ایسی شکایت سے بچنا چاہئے اور یہ خیال کرنا چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لئے آئے ہیں یہ امتحان کا موقع ہے۔ لوگ دنیا بھر کا سفر کر جاتے ہیں لیکن چونکہ وہ دین کے لئے نہیں ہوتا نیز اس وجہ سے کہ وہ اپنے آرام کے سب سامان کر لیتے ہیں اس لئے انہیں کوئی ثواب نہیں ہوتا۔ لیکن یہ سفر دین کے لئے ہوتا ہے اور اس کا بڑا درجہ ہے اس لئے اگر کوئی معمولی تکلیف بھی پہنچے تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔
    چوتھی قربانی اوقات کی قربانی ہے۔ جو لوگ قادیان کے یا باہر کے کام کرتے ہیں وہ تو اپنے اوقات کی قربانی کر ہی دیتے ہیں اس لئے اس میںبھی وہ میرے مخاطب نہیں بلکہ باہرکے دوست ہیں انہیں جہاں تک ہو سکے اپنے اوقات بچا کر یہاں آنا چاہئے۔ یہ جلسہ سلسلہ کی عظمت کا نشان ہے یہ موقع آیت اور معجزہ کا ہوتا ہے اس لئے آیت میں شامل اور معجزہ کا جزو بننا بڑی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔ دوست نہ صرف خود آئیں بلکہ اپنے دوستوںکو بھی ساتھ لائیں۔ میں نے بیسیوں لوگوں کو کہتے سنا ہے ہمارا فلاں عزیز یا دوست بات تک نہ سنتا تھا لیکن جلسہ پر آیا تو یا بیعت کر گیا یا بالکل قریب ہو گیا۔ یہ ایسی برکات کا زمانہ ہوتا ہے کہ سخت دل سے سخت دل بھی متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ یہاں ایک عجیب رنگ دیکھتا ہے اس قدر خرچ ہو رہا ہے‘ تکلیف بہت ہے آرام بالکل نہیں لیکن ایسا حشر کا نظارہ وہ دیکھتا ہے کہ سب لوگ ٹکٹکی لگائے کسی تکلیف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بیٹھے ہیں کہ دین کی کوئی بات کان میں پڑ جائے۔ ہمارے جلسہ میں عشق کی نمائش ہوتی ہے جو دوسرے پر اثر کئے بغیر نہیں رہتی۔ ہمارے ملک کے شاعر لیلیٰ مجنوں یا ہیر رانجھا وغیرہ کے قصے پڑھ کر عاشقانہ رنگ ظاہر کرتے ہیں لیکن یہاں عملاً عاشقانہ رنگ ٹپکتا ہے جو ضروری ہے کہ اثر کر کے رہے۔ یہاں عجیب نظارہ ہوتا ہے لوگ راتوں کو جاگتے ہیں پھر بھی تہجد کے وقت پہلی صفوں میں جگہ لینے اور ذکر الٰہی کرنے کیلئے سب سے پہلے مسجد میں آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نہ سردی کی پرواہ ہے نہ بیماری کی‘ نہ معلوم وہ آرام کس وقت کرتے ہیں اور کس وقت سوتے اور کس وقت جاگتے ہیں۔ غرضیکہ ایسا پُرلطف نظارہ ہوتا ہے جو دنیا کے پردہ پر اور کہیں نظر نہیں آتا۔ ایک جگہ یہ نظر آنا چاہئے تھا مگر افسوس وہاں بھی نہیں۔ میں نے خود حج کے موقع پر دیکھا کہ لبیک اللّٰھم لبیک پکارنے کی بجائے لوگ گندے شعر پڑھ رہے تھے۔ اگر لاکھوںمیں ایک آدمی ایسا ہوتا تو میں اسے قابل تعریف سمجھتا کیونکہ معمولی نقص حُسن کو دوبالا کرتا ہے لیکن نہیں عرفات میں مَیں نے دیکھا ٹولیوں کی ٹولیاں خاص ذکرِ الٰہی کے وقت باتوں میں مصروف تھیں۔ پس جس مقام کو اللہ تعالیٰ نے سب مقاموں سے فضیلت دی جس کا نام بیت اللہ رکھا اور جو اس لحاظ سے سب سے زیادہ خشیتِ الٰہی کا مقام ہونا چاہئے تھا وہاں بھی وہ نمونہ نظر نہیں آتا اور اگر دنیا کے پردہ پر وہ فریفتگی اور وہ عاشقانہ رنگ نظر آتا ہے جو سرد سے سرد دلوں کو بھی آتشِ عشق سے گرما دے تو وہ جلسہ کے ایام میں قادیان میں نظر آتا ہے۔
    پس دوستوں کو چاہئے کہ وقت نکال کر خود آئیں اور تحریک کر کے اپنے دوستوں کو بھی ساتھ لائیں شاید ان کی ہدایت کا دن خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہو اور شاید وہ دشمن کی صف سے نکل کر خدا تعالیٰ کے دوستوں کی صف میں شامل ہو جائیں۔
    نئے سال کا تحفہ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتاہے کہ خدا تعالیٰ کے نُور اور اس کے کلام کا تحفہ ہو اور خدا تعالیٰ کی فوج میں داخل ہونے کا موقع میسر آ جائے۔ پس مبارک ہیں وہ جو اپنے دوستوں کو یہ تحفہ دینے کی نیت سے اپنے ساتھ لاتے ہیں جس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا۔
    (الفضل ۱۳۔ دسمبر ۱۹۲۹ئ)
    ۱؎ مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل علی ابن ابی طالب
    ۲؎ مسلم کتاب الایمان باب جواز الاستسرار بالایمان للخائف


    ۳۰
    اپنی کسی حالت کو انتہائی نہ سمجھو
    (فرمودہ ۱۳ ۔دسمبر ۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنی صفات کا ظہور ان کے مورِد کی استعداد کے مطابق کیا کرتا ہے یعنی جن کے لئے وہ صفات ظاہر ہو رہی ہوں ان کے قویٰ‘ ان کی قابلیت‘ان کی طبیعت اور ان کی فطرت کے مطابق انہیں ظاہر کرتا ہے کیونکہ اُس کا نام رب ہے اور رب اُسے کہتے ہیں جو تدریجی طور پر معاملہ کرتا ہے۔ اگر معاملہ تدریجی نہ ہو اور حکیم کی صفت جو صفت ربوبیت کے ماتحت ہے ظاہر نہ ہو تو دنیا بالکل تباہ و برباد ہو جائے۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ جس قدر صفاتِ الٰہیہ ہیں وہ ساری کی ساری ان چار صفات کے ماتحت اور انہیں کے دائرہ کے اندر ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں اور اسی لئے میں نے خدا کی صفتِ حکیمیت کے متعلق یہ بات بیان کی ہے کہ یہ ربوبیت کی صفت کے ماتحت ہے۔
    بہت دفعہ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے فہمِ قرآن کا خاص ملکہ عطا نہیں فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس بات کو پڑھ کر حیران ہو تے ہیں کہ ساری صفات چار کے ماتحت کیونکر ہو سکتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے۔ ربوبیت تدریج کی طرف اشارہ کرتی ہے اور حکیمیت بھی تدریج پر دلالت کرتی ہے گو یہ ایک پہلو کے متعلق ہے۔ حکمت کیا ہے؟ یہی کہ تقاضائے وقت اور مناسب حالات کے ماتحت بات کی جائے اور تدریج بھی یہی ہے کہ بات مناسبِ موقع ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور وہ اپنے بندوں سے اسی رنگ میں معاملہ کرتا ہے جس کی بندوں کو برداشت کی طاقت یا سمجھنے کی قابلیت ہو اور اتنا ہی سلوک کرتا ہے جسے سنبھالنے کی قوت ان کے اندر موجود ہو۔ اور مقتضائے وقت کے لئے بھی یہ ساری باتیں ضروری ہیں۔ مثلاً یہ کہ سزا اتنی دی جائے جتنی قابلِ برداشت ہو اور وہ غرض پوری ہو جس کے لئے سزا دی جاتی ہے اور اگر انعام دیا جائے تو اس طرز پر دیا جائے کہ جسے انعام مل رہا ہے اسے سنبھال سکے اور تدریجی طور پر دیا جائے تا کہ اس سے فوائد حاصل کر سکے۔ اور پھر معاملہ کرے تو ایسا کہ جو قابلیت کے مطابق ہو ایسا نہ ہو کہ جس سے کیا جائے اُس میں فائدہ اُٹھانے کی قابلیت ہی نہ ہو۔ یہ باتیں ہر حالت کے لئے ضروری ہیں۔ سزا کو لے لو اگر اس میں تدریج نہ ہو تو وہ غرض و غایت ہی مفقود ہو جاتی ہے جو سزا دینے کی ہوتی ہے اور سزا سزا نہیں رہتی۔ مثلاً اگر دنیا میں ایک ہی سزا ہو جو انتہائی ہو تو دنیا کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
    انتہائی سزا فنا ہی ہے اگر یہی ہو اور اس کی درمیانی حالتیں نہ ہوں نزلہ‘ زکام‘ بخار‘ شدید دردیں یا اور اندرونی بیماریاں نہ ہوں اور انسان یکدم مر جائے تو اس سزا کا کوئی فائدہ نہیں نہ تو ایسی سزا کو لوگ سزا سمجھ کر عبرت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی سزا کا وہ خوف ہو سکتا ہے جو اَب ہے۔ بہت سی چیزوں کا ڈراوا ہی انسان کی اصلاح کر دیتا ہے لیکن اگر وہ واقعہ میں آ جائیں تو پھر انسان کچھ نہیں کر سکتا مثلاً موت ہے جب یہ آ جائے تو انسان مر جاتا ہے اور موت اپنی ذات میں کوئی خاص تکلیف یا شدت بھی نہیں رکھتی لیکن موت کا ڈر انسان سے بہت کچھ کرا لیتا ہے۔ پس موت سے اتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا اُس کے خوف سے ہو سکتا ہے۔ انسان پر اگر تھوڑا سا عذاب آئے تو وہ سمجھتا ہے معلوم نہیں آگے کیا ہو اِس لئے وہ اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہے۔ اسی طرح اسے جب ایک معمولی بیماری لگ جائے تو وہ فوراً اس سے اگلی سے ڈرنے لگ جاتا ہے مثلاً اگر نزلہ ہو تو ڈرتا ہے کہیں بخار نہ ہو جائے اور اگر بخار ہو جائے تو انفلوئنزا کے خوف سے کانپنے لگتا ہے اور اگر انفلوئنزا ہو جائے تو نمونیہ سے خوف کھانے لگ جاتاہے اور علاج کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ پس یہ بات انسان کی عادت میں داخل ہے کہ جو تکلیف اسے پہنچے اس سے اگلی کا اس کے دل میں ڈر پیدا ہو جاتا ہے اور اسی ڈر کی وجہ سے وہ پرہیز بھی کرتا ہے اور علاج کی بھی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ موت ہی آ جائے اور صحت اور موت کی درمیانی حالت کوئی نہ ہو تو پھر کوئی انسان پرہیز نہ کرے گا۔وہ سمجھے گا جو ہونا ہے وہ تو ہو چکا اب میں بچ نہیں سکتا پھر پرہیز کس لئے کروں۔ تو خدا تعالیٰ نے عذاب میں بھی تدریج رکھی ہے تا انسان اگلے عذاب کے خوف سے پرہیز کرنا شروع کر دے۔ اسی طرح اگر جہنم ہی سزا ہوتی اس سے کم درجہ کی کوئی سزا نہ ہوتی تو انسان اپنی اصلاح کبھی نہ کر سکتا۔ غرض عذابوں کی مختلف اقسام کی حکمت یہی ہے۔ یہی حال انعامات کا ہے اگر سارے انعام انتہائی درجہ کے ہی ہوتے اور اکٹھے ہی مل جاتے تدریجی انعام نہ ہوتے تو انسان ان سے فائدہ نہ حاصل کر سکتا۔ اگر بچہ پیدا ہوتے ہی عالِم ہوتا تو وہ علم میں تدریجی ترقی اور پیہم کامیابیوں کی مسرتوں سے محروم رہتا۔ یا اگر انسان بوڑھا ہی پیدا ہوتا تو وہ جوانی کی لذتوں اور اُمنگوں سے جو اس کے دل میں موجزن ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ ساری دنیا میرے قبضہ اور تصرف میں ہے ان سے محروم رہ جاتا اور اگر اس کی ہمیشہ جوانی کی ہی حالت رہتی تو بڑھاپے کی عاقلانہ اور حکیمانہ زندگی کی لذتوں سے محروم رہتا۔ پھر کئی نعمتیں ایسی ہیں جن سے بچپن میں اور کئی ایسی ہیں کہ ان سے جوانی میں اور اسی طرح کئی ایسی ہیں کہ ان سے بڑھاپے میں مزا ملتا ہے لیکن اگر ہمیشہ ایک ہی حالت رہتی تو انسان تمام نعمتوں سے محروم رہتا۔ اور اس طرح وہ لذات جو آہستہ آہستہ حاصل ہوتی اور جو کُرید کُرید کر ایک چیز نکالنے میں ملتی ہے اس کا مزا جاتا رہتا۔ گرمی کے دنوں میں بچے عموماً ایسا کرتے ہیں اور جب ہم بچے تھے تو ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے گو اِس وقت ہم انہیں دیکھ کر تعجب کرتے ہیں اسی طرح ہمارے بزرگ ہمیں دیکھ کر متعجب ہوتے ہوں گے۔ بچے خربوزوں کے بیج نکالتے ہیں اور پھر ایک ایک کر کے انہیں کھاتے ہیں لیکن اگر سارے بیج نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں تو ان کا سارا مزا جاتا رہے گا۔ اسی طرح چلغوزے اور اخروٹ ہیں ان کا مزا چھلکوں کے اندر سے آہستہ آہستہ نکال کر کھانے سے ہی ہے۔ روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسے چبانے میں ہی لطف آتا ہے اگر ایک ہی دفعہ روٹی انسان کے حلق سے اُتار دی جائے تو اس کا کوئی مزا اُسے نہ آئے گا۔ اگر اس طرح کیا جائے کہ دو چار پانچ دس بیس جتنی بھی روٹیاں ایک انسان کی غذا ہو انہیں ایک دم اس کے پیٹ میں ڈال دیا جائے تو اسے اس سے کوئی لطف حاصل نہ ہو گا۔ روٹی کا مزا اُسے چبا چبا کر کھانے سے ہی ہے اکٹھی کھانے سے کوئی مزا نہیں مل سکتا۔ تو آہستہ آہستہ نعمتوں کا ملنا بذاتِ خود ایک نعمت ہے۔ روٹی ایک نعمت ہے لیکن اسے بار بار کھانا اور لقمہ تر کر کے کھانا بجائے خود ایک نعمت ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص کو کروڑوں من غلہ یکدم مل جائے تو بے شک اسے بڑی خوشی ہوگی لیکن یہ خوشی اُس زمیندار کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھے گی جسے ہر سال کافی مقدار میں غلہ مل جاتا ہے کیونکہ جو مزا پہلے کو ایک بار ملا زمیندار کو بار بار اور ہر سال ملے گا۔ اسی طرح اگر کسی سے پوچھو کہ تمہارے لئے یہ بہتر ہے کہ تمہیں تمہارے دوست کے پاس دس پندرہ روز کے لئے متواتر دن رات رہنے دیا جائے یا ہر روز دس پندرہ منٹ کے لئے اس سے ملاقات کرائی جائے تو وہ یہی پسند کرے گا کہ اسے روز کچھ وقت کے لئے یہ مزا ملتا رہے بجائے اس کے کہ ایک ہی دفعہ اکٹھا مل جائے اور پھر ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے۔ تو نعمت کا تدریجاً اور بار بار ملنا اپنی ذات میں ایک نعمت ہے۔ طالب علم جب مدرسے میں ایک ایک لفظ پڑھتا اور ایک ایک سبق یاد کرتا ہے تو اس سے جو سرور اسے حاصل ہوتا ہے وہ اکٹھے علم حاصل کرلینے سے نہ ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ روحانی نعمتیں بھی اکٹھی نہیں ملتیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمام روحانی علوم ایک دن میں حاصل نہیں ہو گئے تھے بلکہ یہ نعمت آپ کو شروع بعثت سے لیکر وفات تک برابر ملتی رہی۔ تو خدا تعالیٰ کے فیوض اور عرفان کا لطف بھی تدریجاً اور بار بار ملنے میں ہی آتا ہے۔اگر سارا قرآن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ہی دن نازل ہو جاتا تو باقی زندگی خدا تعالیٰ کے ساتھ ہم کلام ہونے کے شرف سے خالی رہتی۔ پس آپؐ کو چیز تو وہی ملی جو اکٹھی بھی مل سکتی تھی لیکن درجہ بدرجہ ملی جس سے ہر روز ایک نیا لطف حاصل ہوتا تھا۔ اسی طرح قابلیت کی حالت ہے کوئی دانا شخص بچہ کی جھولی میں اتنی چیز نہیں ڈالے گا جسے بچہ سنبھال نہ سکے۔ اگر ایک شخص کو کپڑوں کے سَو یا دو سَو جوڑے اکٹھے ہی بنوا دیئے جائیں تو یہ اس کے لئے ایک مصیبت ہو جائے گی کہ انہیں سنبھالتا رہے اور اس سے اسے کبھی وہ مزا نہیں آئے گا جو ہر سال نئے بنانے میں آ سکتا ہے۔ پھر اکٹھی چیز سے انسان بسا اوقات فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتا۔ اگر کسی کو دس من آٹے کی روٹیاں ایک ہی دن پکا کر دیدی جائیں تو وہ ضائع ہی جائیں گی۔ اسی طرح اگر خدا تعالیٰ سارے سال کی بارش ایک ہی دن اُتار دے تو لوگ تباہ ہو جائیں اور اگر وہ کوئی ایسا قانونِ قدرت بنا دے کہ تباہ نہ بھی ہوں تو بھی اس کا کوئی لطف نہ رہے گا کیونکہ بارش کا نزول بھی اپنے اندر ایک لطف رکھتا ہے جس سے تروتازگی اور نئی روح پیدا ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے جب بوندیں پڑنی شروع ہوں تو بچے خوشی سے اُچھلنے کُودنے اور گیت گانے لگتے ہیں اور خود ہی الفاظ ملا کر شعر بھی بنا لیتے ہیں گویا اچھے خاصے شاعر بن جاتے ہیں۔ غرض بارش کے برسنے کی حالت بھی اپنے اندر ایک خاص لطف رکھتی ہے۔ تو اکٹھی نعمتوں کا ملنا کوئی فائدہ نہیں رکھتا فائدہ تدریج اور تواتر سے ہی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی نعمت اکٹھی مل جائے تو وہ قابلیت کے مطابق نہیں ہو گی۔ بچہ کو اگر فلسفہ کے علوم پڑھانے کی کوشش کی جائے تو اسے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا فائدہ اسی سے ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ راسخ اور جذب ہو۔ اگر ایک شخص کے سر پر ایک ہی دن تیل کی ایک بوتل انڈیل دی جائے یا اسے دو سیر گھی یکدم کھلا دیا جائے تو اسے کچھ فائدہ نہیں ہو گا لیکن ہر روز اس کی طبیعت کے مطابق اسے تھوڑا تھوڑا کھلانے سے مفید ثابت ہو گا۔ میری غرض اس تمہید سے یہ ہے کہ انسان ہر وقت یہ سمجھے کہ اس کی موجودہ حالت انتہائی نہیں بلکہ ایک کڑی ہے لمبی زنجیر کی۔ اگر یہ حالت عذاب کی ہے تو بھی ایک کڑی ہے جس کے بعد دوسری کڑی آئے گی پھر تیسری اور چوتھی حتیٰ کہ اس کے لئے پیچھے ہٹنا مشکل ہو جائے گا۔ اگر گناہ کی حالت ہے تو بھی ایک کڑی ہے۔ اگر علم‘ عرفان یا زندگی ہے تو یہ بھی ایک لمبے سلسلے کی کڑی ہے۔ پس انسان کو کبھی بھی موجودہ حالت کے متعلق مطمئن نہیں ہونا چاہئے خواہ وہ حالت انعام کی ہو یا سزا کی ہر حالت میں ایک تسلسل ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں جب کئی قسم کے عذاب آئے تو بعض نادان کہتے یہ معمولی بات ہے دنیا میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے مگر وہ یہ نہ سوچتے تھے کہ یہ ایک لمبے سلسلہ کی کڑیاں ہیں جس کے بعد اور آئیں گے اور پھر آئیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا جب معمولی عذابوں سے لوگوں نے اصلاح نہ کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م کا انکار کیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے دعویٰ کے وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اب اس سے بہت زیادہ گر چکی ہے۔ کئی حکومتیں اُس وقت آزاد تھیں مگر اب وہ ماتحت ہیں اُس وقت ان کے قدم مضبوط تھے مگر اب کمزور ہیں انہوں نے یہ نہ خیال کیا کہ ہر چیز تدریجاً آتی ہے اور یہ نہ سوچا کہ ابھی عذاب کے کتنے درجے باقی ہیں اور یہ بھی کیا معلوم ہے کہ موجودہ حالت انتہائی ہے اور اس کے بعد اور درجہ نہیں۔ جس طرح خدا تعالیٰ خود غیر محدود ہے اسی طرح اس کی ہر شئے غیر محدود ہے۔ بہت سے نادان کہہ دیا کرتے ہیں ہم نے جتنے دُکھ دیکھے ہیں ان سے زیادہ دکھ دنیا میں اور کیا ہوں گے۔ وہ سمجھتے ہیں دکھوں کے متعلق جتنا علم انکا ہے اتنا ہی خدا تعالیٰ کا بھی ہے۔
    انسان کی یہ بھی ایک غلطی ہے کہ وہ اپنے دکھ کو بڑا اور دوسرے کے دکھ کو چھوٹا سمجھتا ہے حالانکہ وہ جس دکھ میں مبتلاء ہوتا ہے اس کا عادی ہو جانے کی وجہ سے اس کی شدت کم محسوس کرتا ہے اگر دوسرے کا دکھ جو اسے کم معلوم ہوتا ہے اسے دیدیا جائے تو اسے بہت زیادہ تکلیف محسوس ہو۔ ہمارے ملک کے ایک ادیب نے ایک قصہ میں اس کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ حشر کا میدان ہے سب لوگ اکٹھے ہیں اور انہیں اجازت دی گئی ہے کہ اپنے دکھوں میں سے جو چاہوپھینک دو اور اس کے بدلہ میں جو چاہو لے لو۔ کسی کی ٹانگ میں درد تھا تو اس نے سمجھا سر درد والا چل پھر تو سکتا ہے میری طرح بستر پر تو نہیں پڑا رہتا مجھے ٹانگ کی تکلیف کی بجائے سردرد لے لینا چاہئے۔ جس کے سر میں درد تھا اس نے سوچا ٹانگ درد والا آرام سے لیٹ تو سکتا ہے اس کے دماغ کو تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اس لئے مجھے سردرد پھینک کر ٹانگ درد لے لینا چاہئے۔ غرضیکہ ہر ایک نے اپنے دکھ کو اس سے جسے وہ کم سمجھتا تھا بدل لیا۔ مگر پہلے عذابوں کے چونکہ وہ عادی ہو چکے تھے اس لئے بہت کم محسوس کرتے ہیں لیکن نیا عذاب بدلنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک کو تکلیف زیادہ محسوس ہونے لگی اور چیخ و پکار سے ایک کُہرام مچ گیا۔ ڈاکٹروں کا بھی یہی خیال ہے کہ CHRONIC بیماریوں کی تکلیف کم ہوتی ہے اور ACUTE کی بہت زیادہ کیونکہ CHRONIC کے مقابلہ کا جسم عادی ہو چکا ہوتا ہے۔
    اگرانسان یہ خیال کرے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں جس میں مَیں گرفتار ہوں تو بھی اسے اتنا تو سمجھنا چاہئے کہ کم از کم خدا اس کے دکھ کو دوسرے دکھ سے تبدیل تو کر سکتا ہے اور اس تبدیلی سے بھی تکلیف بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے حالانکہ یہ خیال غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس نئے عذاب نہیں۔ ہمیشہ دنیا میں نئے نئے عذاب آتے رہے اور نئی نئی بیماریاں بھی نکلتی رہتی ہیں۔ یہی حال انعامات کا ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اسے جو انعام ملا وہ انتہائی ہے اور اب اس کی حالت میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں۔ ممکن ہے وہ اس سے نیچے ہی گر جائے اس لئے انسان کو کبھی موجودہ حالت پر مطمئن نہیں ہونا چاہئے۔ انعام ہو یا سزا اس کے متعلق یہ خیال کرنا کہ انتہائی ہے نادانی ہے کیونکہ اسے کم یا زیادہ کر دینا بھی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اگر وہ انتہائی بھی ہو تب بھی وہ کم تو ضرور ہو سکتا ہے۔ غرض ہر چیز خدا تعالیٰ سے تدریجاً آتی ہے تا اسے دوسروں کے لئے عبرت کا موجب بنائے۔ لیکن انسان کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دوسرے کے لئے عبرت کا موجب ہونے کی بجائے وہ ان کے لئے تعلیم کا موجب بنے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بندہ کو کسی نہ کسی پہلو سے دوسرے کا استاد بنایا ہے۔ کوئی اپنے عمل سے اس فرض کو ادا کر دیتا ہے اور کوئی دکھ اور مصائب کی وجہ سے اس قابل ہو جاتا ہے کہ دوسرے اس سے عبرت پکڑیں اور سبق حاصل کریں۔ گویا کوئی زبان سے وعظ سنا کر دوسروں کا استاد بن جاتا ہے اور کوئی اپنی خوفناک حالت سے دوسروں کی عبرت کا باعث بنتا ہے۔ اور یہ بات خدا تعالیٰ نے بندہ کے اختیار میں رکھی ہے کہ چاہے اپنی زبان سے استادی کا فرض ادا کرے اور چاہے تو عذاب میں پڑ کر اپنی حالت سے۔ ہوشیار آدمی کا یہ کام ہے کہ زبان سے استاد بننے کی کوشش کرے کیونکہ بہرحال اسے استاد اور شاگرد دونوں ہی بننا تو پڑے گا۔ اگر خود نہیں بنے گا تو اللہ تعالیٰ جبر سے بنائے گا اور اس کی یہ حالت ہو جائے گی کہ دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں گے۔ یہ خدا تعالیٰ کا اٹل قانون ہے۔ پس مومن کو چاہئے کہ ایسا معلّم بننے کی کوشش کرے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہو اور اس کے اپنے لئے بھی سُکھ کا موجب ہو۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم لوگوں کو توفیق دے کہ اس کے انعامات کے مورد ہو کر دنیا کے معلّم بنیں نہ کہ سزا کے مورد ہو کر عبرت کا باعث۔ آمین
    (الفضل ۲۰۔دسمبر۱۹۲۹ئ)







    ۳۱
    ٹھوکر سے بچنے کے لئے ایک لطیف نکتہ
    (فرمودہ ۲۰۔دسمبر۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    انسان کا دل جس سے مراد میری اس کی قوتِ متفکرہ ہے اور جس سے مراد میری وہ باریک تعلق روح کا ہے جو انسانی دل سے روحانی طور پر ثابت ہے۔ چونکہ زبان کے محاورہ میں اسے دل کہا جاتا ہے اس لئے ہم زبان کے محاورہ کے لحاظ سے اسی طرح کلام کرنے پر مجبور ہیں خواہ یہ سائنس کے انکشاف کے خلاف ہی ہو۔ زبان کے محاورات یا اصطلاحات کا تبدیل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے بسااوقات انسان کے خیالات متفرق ومتشتّت ہو جاتے ہیں۔ لوگ ایک خاص لفظ کو ایک خاص مفہوم میں سننے کے عادی ہوتے ہیں اور جب اس کے خلاف بیان کیا جائے تو انہیں دھوکا لگ جاتا ہے۔ پس میں اس بحث میں پڑنے کے بغیر کہ قوتِ متفکّرہ کا تعلق دل سے ہے یا دماغ سے محاورہ زبان کے مطابق چونکہ انسانی فکر کے لئے دل کا لفظ ہی بولا جاتا ہے اس لئے میں بھی یہی لفظ استعمال کروں گا۔ تو انسانی دل یعنی جسم کا وہ حصہ جو مختلف قسم کے امور کے متعلق غور کرتا ہے یا نیکی اور بدی میں شناخت کرتا ہے‘ اچھے بُرے اثرات قبول کرتا ہے یا وہ حصہ جس کے ساتھ اس کی روح کا تعلق ہے اور جس کے ذریعہ وہ اپنے منشاء کو پورا کرایا کرتی ہے اس کے متعلق عام طور پر لوگوں میں یہ احساس پایا جاتاہے کہ وہ ایک ہی قسم کی خاصیت رکھنے والی چیز ہے۔ مثلاً جیسے کونین کا لفظ بولنے سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ ایک مفرد چیز ہے۔ اسی طرح جب دل یا دماغ کا لفظ بولا جاتا ہے تو اسے بھی عام طور پر لوگ ایک مفرد چیز خیال کر لیتے ہیں اور اسی کے مطابق اس کے متعلق اپنے ذہن میں اچھے یا بُرے اندازے کر لیتے ہیں۔ جس طرح کھیتیوں میں سے کسی کھیتی کے بیج کا نام لیتے ہی ایک زمیندار یا باغبان کے دل میں اس کے متعلق تمام باتیں پھر جاتی ہیں اور وہ فوراً سمجھ لیتا ہے کہ یہ بیج فلاں موسم میں بویا جاتا ہے‘ اس طرح اس کی غور پر داخت کی جاتی ہے‘ فلاں موقع پر پانی دیا جاتا ہے۔ ہم جس وقت گیہوں یا خربوزہ کا نام لیتے ہیں تو ایک زمیندار کے ذہن میں فوراً اس کی مختلف حالتیں پھر جاتی ہیں۔ اسی طرح دل کا لفظ سن کر اس کی مختلف کیفیتیں لوگ ذہن میں لے آتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ دل پر فلاں بات کا اثر ہوتا ہے یا دل کے لئے فلاں بات اچھی یا فلاں بات بُری ہے۔ حالانکہ دل کی مثال بیج کی نہیں بلکہ زمین کی ہے اور بیج کا تعلق زمین سے نہیں ہوتا بلکہ موسم سے ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی زمین میں ایک بیج خواہ کسی وقت اور کسی موسم میں بو دیا جائے وہ اُگ آئے گا۔ زمین میں بیج وہی اُگتا ہے جو خاص موسم میں جو اس بیج کے لئے مخصوص ہے بویا جائے۔ زمین سے اس کا تعلق نہیں ہوتا۔ ہاں میدانی یا پہاڑی زمین میں یہ فرق ہوتا ہے کہ میدان میں جو فصلیں سردیوں میں ہوتی ہیں۔ پہاڑی علاقہ میں عام طور پر گرمیوں میں ہوتی ہیں کیونکہ وہاں گرمیوں میں وہی کیفیت ہوتی ہے جو میدان میں سردیوں میں ہوتی ہے اور سردیوں میں چونکہ وہاں برف پڑتی ہے اس لئے کوئی فصل نہیں ہوتی۔ تو سوائے اس کے زمینوں میں اور کوئی ایسا فرق نہیں ہوتا جس کی بناء پر یہ کہا جا سکے کہ فلاں علاقہ یا فلاں گاؤں میں ہر قسم کے بیج بھادوں یا چیت میں ہی اُگ آتے ہیں کیونکہ ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ موسم ہیں۔ کوئی کسی موسم میں اُگتا ہے اور کوئی کسی میں۔ اور ہر ایک کے لئے مخصوص طریقے استعمال کئے جاتے ہیں خاص خاص موقع پر پانی دیا جاتا ہے خاص قسم کا مَیلا ان میں ڈالا جاتا ہے‘ کسی میں انسانی نجاست ڈالنا مفید ہوتی ہے‘ کسی میں جانوروں کا گوبر‘ پھر کسی میں پتیوں وغیرہ کو جلا کر ان کی راکھ اور کسی میں ہڈیوں کا چُورہ ڈالا جاتا ہے اور زمین کے اچھے یا بُرے ہونے کا سوال اس سے بالکل علیحدہ ہے۔ کہ مختلف بیج کن حالتوں میں بوئے جاتے ہیں۔ یہی حال دل کا ہے دل کی مثال بیج کی نہیں بلکہ زمین کی ہے اور اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ سے ہٹ کر غَیْرِ المَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ ۱؎ میں گر جاتے ہیں ان کے قلوب بعض دفعہ ایسی باتوں سے متأثر ہو جاتے ہیںجن سے دوسرا ہرگز نہ ہو سکتا اسی لئے قرآن شریف میں صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ کی دعا مانگنے کے لئے کہا گیا۔ حالانکہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ بابرکات موجود تھی اور آپ سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر قرآن نے یہ کیوں نہ کہا کہ صراطِ محمدؐ کی دعا مانگو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے رنگ میں ایک علیحدہ خاصیت رکھتاہے اور اس کی طبیعت کا ایک خاص میلان ہوتا ہے مگر محمدیت جامع ہے تمام کمالات کی اور جب تک جامعیت حاصل نہ ہو محمدیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس لئے صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ فرمایا صراطِ محمد ﷺ نہ فرمایا۔
    حالانکہ محمدیت میں بھی سب چھوٹے بڑے درجے موجود ہیں۔ شہداء ہیں‘ صلحاء ہیں‘ صدیق ہیں اور انبیاء ہیں۔ پھر انبیاء میں سے بھی بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ اگر یہ تفریق انبیاء میں نہ ہوتی تو اس قدر انبیاء کی ضرورت بھی نہ ہوتی کیونکہ خدا تعالیٰ دنیا میں دو چیزیں ایک سی پیدا نہیں کیا کرتا ہر چیز کی پیدائش ایک ہی ہوتی ہے اور گو جنس میں فرق نہ ہو لیکن افراد میں ضرور فرق ہو گا اگر بعض جگہ ظاہری شکل میں نہیں تو ان میں باطنی فرق ضرور ہو گا غرضیکہ دنیا میں کوئی دو چیزیں ایسی نہیں جن میں ظاہراً اور باطناً کوئی فرق نہ ہو۔ اگر پھلوں کا رنگ ملتا ہے تو خواص میں فرق ہو گا اگر خواص ملتے ہوں تو مزے میں فرق ہو گا اور اگر مزا ایک سا ہو تو تأثیر یکساں نہیں ہو گی۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ کسی بات کو دُہرایا نہیں کرتا جب کوئی چیز پیدا کرتا ہے نئی پیدا کرتا ہے۔ اس کی ذات اس سے بالا ہے کہ اسی چیز کو پھر لائے اس لئے اللہ تعالیٰ نے کبھی کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جو پہلے کے ہُو بہو مطابق ہو۔ نادان لوگ تمثیل کا لفظ پڑھ کر کہہ دیتے ہیں اس میں فلاں بات ویسی نہیں۔ مثلاً قرآن کریم نے رسول کریم ﷺکے متعلق فرمایا کما ارسلنا الی فرعون رسولا ۲؎ تو اعتراض کر دیا یہ عصا کا سانپ کیوں نہیں بنا کر دکھاتا۔ حضرت مسیح ؑ کی مماثلت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مُردے زندہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اِس وقت اِس بحث کو جانے دو کہ اُن کا مُردے زندہ کرنا کن معنوں میں تھا اس سے قطع نظر کر کے بھی ضرور تھا کہ مشابہت کے باوجود اختلاف ہوتا۔ یہ کہنا کہ جو کچھ اُس نے کیا وہی یہ بھی کرے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی صفات پر حملہ ہے اُس کی ذات سے ہر چیز مختلف آتی ہے۔ انبیاء ‘ صلحائ‘ شہداء سب مختلف درجے رکھتے ہیں۔ غرض کوئی دو انسان ایسے نہیں مل سکتے جو ہر رنگ میں ایک سے ہوں۔ ضرور ہے کہ ان میں فرق ہو کیونکہ انسان مختلف قسم کے ہوتے ہیں اور ان کے میلاناتِ طبع ایک دوسرے سے بالکل جُدا گانہ ہوتے ہیں۔ کوئی کسی سے ملتا ہے اور کوئی کسی سے لیکن جیسے آم یا گیہوں میں اختلاف ہونے کے باوجود ان میں بعض باتیں مشترک بھی ہوتی ہیں جیسے کہ خاص موسم میں بوئے جاتے ہیں‘ خاص قسم کا کھاد ڈالا جاتا ہے اور خاص وقت پر پانی دیا جاتا ہے گویا باوجود اختلاف کے بعض باتوں میں اشتراک بھی نظر آتا ہے یہی حال انسانوں کا ہوتا ہے مگر باوجود اس کے میلان کا اختلاف موجود ہے۔ ہر ایک کا رنگ جُدا اور طبیعت علیحدہ ہے اور یہ ہونا بھی چاہئے تھا کیونکہ اگر ایک ہی رنگ ہوتا تو دنیا ہدایت سے محروم رہ جاتی۔ کیونکہ کسی انسان میں محمدی میلان ہے کسی میں موسوی اور کسی میں عیسوی‘ کسی میں ابراہیمی۔ اسی لئے جہاں میلان کا سوال تھا وہاں اللہ تعالیٰ نے صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ فرمایا اور جہاں اتباع کا سوال تھا وہاں یہ فرمایا ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ ۳؎ یعنی تم اس کے نقشِ قدم پر چل کر جس سے تمہارا میلانِ طبع ملتا ہے محمدؐ کے ہم نقش ہو جاؤ۔ جس طرح لوگ ایک اکسیر بناتے ہیں جس میں ہر قسم کی طبائع کو ملحوظ رکھ کر دوائیں ڈالی جاتی ہیں جو دموی‘ صفرائی‘ بلغمی ہر قسم کے مزاج والوں کو فائدہ دیتی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم کی سورۃ فاتحہ بھی ایک اکسیر ہے جس کے اندر سب مزاج والوں کے لئے فائدہ اُٹھانے کی تأثیر رکھی گئی ہے۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ میں یہ سکھایا گیا ہے کہ اے خدا! میرے میلان کے لحاظ سے جو قریب ترین رستہ ہے اسی پر مجھے لے چل اور پھر آگے جس جس سے میلان ملتا جائے اس کے رستے پر چلنے کی توفیق دے۔ جس طرح مفرد سے مرکب اور مرکب در مرکب بنا لئے جاتے ہیں یا جیسے پہلے ایک آدمی کا بدن ٹھنڈا ہوتا ہے اور وہ اسے گرم کرتا ہے تو پھر زیادہ گرم ہو جانے سے اسے دوبارہ ٹھنڈی ہوا کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یا جیسے ایک شخص کو بلغم کا غلبہ ہوتا ہے اور پھر جب بلغم نکال دیا جائے تو کسی اور مرض کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح روحانی مزاجوں کا حال ہوتا ہے ایک شخص عیسوی مزاج رکھتا ہے اس کے لئے اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ کے معنے عیسوی رستہ ہوں گے لیکن جب اس پر چلتے چلتے اس کے اندر دوسری حالت پیدا ہو جائے گی تو پھر اس کے معنے اس کے لئے موسوی رستہ ہو جائیں گے پھر اسی طرح حضرت نوحؑ‘ حضرت ابراہیم ؑ اور آنحضرت ﷺ کے رستہ کے ہو جائیں گے۔ اسی وجہ سے صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ رکھا گیا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا نام نہیں لیا کیونکہ سب لوگ ابتدائی حالت میں اپنے اندر جامعیت نہیں رکھا کرتے۔ ان کے خواص محدود ہوتے ہیں اس لئے وہ جامع انسان کے تمام کمالات جذب نہیں کر سکتے اس لئے کسی خاص رنگ کی طرف اشارہ نہیں کیا بلکہ یہی فرمایا جس سے مشابہت ہو اسی رنگ کی پیروی کر لی جائے۔
    تیسرا مطلب اس سے یہ ہے کہ دل کا لفظ بہت دھوکا دینے والا ہے اور یاد رکھنا چاہئے کہ دل زمین کا نام ہے بیج کا نہیں۔ بیج اس کے لئے مختلف ہوتے ہیں جو اپنے اپنے موسم میں ہی اس کے اندر نشوونما پا سکتے ہیں۔ انسانی قلوب کے موسم دنیوی موسموں کی طرح نہیں ہوتے جن کا اثر ایک وقت میں ہر جگہ ایک ہی قسم کا ہوتا ہے بلکہ ہر قلب کے لئے الگ موسم ہوتا ہے۔ ایک شخص کے دل پر جس وقت بھادوں والی کیفیت طاری ہوتی ہے اُسی وقت دوسرے کے دل پر ساون یا چیت کی کیفیت ہوتی ہے چنانچہ دیکھا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی شخص جس وقت ہنس رہا ہوتا ہے دوسرا رو رہا ہوتا ہے۔
    فرض کر لو دل کے اس موسم کا نام جس میں نیک بات کا اثر اس پر ہوتا ہے ساون رکھ لیا جائے تو یہ کیفیت جس انسان کے قلب کی ہو گی اس پر تو ایک نیک بات فوراً اثر کر جائے گی۔ لیکن ایک دوسرا شخص جو بظاہر نیکی میں پہلے شخص سے بڑھا ہوا ہو لیکن اس کی قلبی کیفیت ساون کی نہیں بلکہ بھادوں کی ہو وہ اس بات کو سن کر کوئی اثر قبول نہیں کرے گا کیونکہ ساون میں بھادوں کی کھیتی نہیں اُگ سکتی۔ تو دل بہت بڑی تنویع رکھتا ہے اور مختلف حالتوں میں اس پر مختلف اثرات ہوتے ہیں۔ دل تو دل مادیات میں بھی اثر قبول کرنے کا مادہ ہوتا ہے۔ ایک موقع پر ایک انگریزی فوج ایک پُل پر سے گذر رہی تھی فوج کے آگے آگے باجہ بجتا جاتا تھا اورجوش انگیز گیت گائے جاتے تھے تا سپاہیوں میں جوش پیدا ہو اُس وقت پُل یک لخت گر گیا اور بہت سے آدمی دریا میں گر کر ہلاک ہو گئے۔ بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مادیات میں بھی خاص قسم کی حرکتیں ہوتی ہیں اور جس وقت باہر کی سُریں ان کی اندرونی حرکتوں سے مشابہ ہو جائیں تو ان میں ایک سرور کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور اسی سرور کی وجہ سے ہی حرکت میں آ کر وہ پُل گر گیا۔ ایسی کیفیات جانوروں میں بھی پائی جاتی ہیں اور مادے میں بھی۔ گو مادہ کی ایسی باریک ہوتی ہیں کہ ان کا سمجھنا آسان نہیں ہوتا اور جانوروں کی نسبتاً آسانی سے سمجھی جا سکتی ہیں۔ سانپ بِین پر ناچنے لگ جاتا ہے لیکن اس کیلئے بھی خاص سُریں ہوتی ہیں جنہیں سپیرے ہی جانتے ہیں۔ نیز وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ فلاں قسم کا سانپ کونسی سُر پر ناچتا ہے۔ کوئی دوسرا اگر بِین بجائے تو اس کا سانپ پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ تو قلب کی جو کیفیت ہوجب اس کے مشابہ چیز اس کے سامنے آئے وہ اسے فوراً قبول کر لیتا ہے۔ اس ایک نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے نیک لوگ بھی نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں اور بڑے بڑے مضبوط ایمان والے بھی چھوٹی سی بات سے ابتلاء میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ اس بات کو مدنظر نہیں رکھتے کہ قلب کی کونسی کیفیتیں کونسے گناہوں میں انسان کو مبتلاء کر دیتی ہیں۔ اگر وہ زمیندار کے بیج کا مطالعہ کرنے کی طرح دل کا مطالعہ کرتے اور یہ دیکھتے کہ زمیندار اُس وقت بیج ڈالتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ یہ اُگ آئے گا۔ اسی طرح قلب کی کیفیات ہوتی ہیں اور اس پر بھی خاص وقت میں خاص بات کا اثر فوراً ہو جاتا ہے تو بہت فائدہ اُٹھا سکتے۔ طبائع کا میلان نیکی اور بدی پر بہت اثر رکھتا ہے۔ ایک وقت انسان پر ایک بڑی سے بڑی بات کا اثر نہیں ہوتا لیکن دوسرے وقت ایک ادنیٰ سی بات سے متأثر ہو جاتا ہے کیونکہ اُس وقت اس کے قلب کی ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ جس میں وہ خاص بیج پڑنا مفید ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اچھا لیکچرار اپنی تائید میں مختلف دلائل دیا کرتا ہے صرف وہی پیش نہیں کرتا جو اُس کے نزدیک سب سے زیادہ مضبوط ہو کیونکہ ہر انسان پر ایک ہی دلیل اثر نہیں کرتی بلکہ مختلف لوگوں کے لئے مختلف دلائل اثر رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فلما توفیتنی ۴؎ والی آیت کو وفاتِ مسیح کی سب سے مضبوط دلیل قرار دیتے تھے اور اس کو اصل اور باقی کو اس کے تابع قرار دیتے تھے لیکن بیسیوں لوگ ایسے ہیں جن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لیکن اگر ان کے سامنے یہ بات پیش کی جائے کہ کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ تو زمین میں مدفون ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر ہوں تو وہ فوراً متأثر ہو جائیں گے۔ ان پر اُس وقت جذباتی رنگ ہوتا ہے اور محبت رسول کا جذبہ غالب آیا ہوا ہوتا ہے اس لئے اُس وقت وہ بیج کا کام دے جاتا ہے۔ لیکن اگر یہی دلیل ایک دوسرے آدمی کے سامنے پیش کی جائے جس کے قلب کی وہ حالت نہ ہو تو وہ فوراً کہہ دے گا میں سمجھ گیا آپ میرے جذبات کو بھڑکا کر دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے سامنے جب فلما توفیتنی والی دلیل پیش کی جائے تو فوراً اُس کی آنکھیں نیچی ہو جائیں گی۔ اس لئے اچھا خطیب وہی ہے جو ایک ہی دلیل پیش نہیں کرتا کیونکہ ضروری نہیں کہ تمام سامعین کی قلبی کیفیات اسے قبول کرنے کیلئے تیار ہوں۔ مختلف لوگوں کیلئے مختلف دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ پلاؤ ایک اچھی غذا ہے لیکن کئی لوگ اس کے کھانے سے بیمار ہو جاتے ہیں۔ خود مجھے چاول کھانے سے بخار ہو جاتا ہے۔ دعوت کے موقع پر مجھے بہت مشکل پیش آتی ہے۔ اگر کوئی چیز نہ کھاؤ تو میزبان خیال کرتا ہے کہ شاید میرے کھانے میں کوئی نقص ہے اور وہ خواہ نخواہ دُکھ اور قلبی اذیت محسوس کرتا ہے۔ اس کے احساسات کا لحاظ رکھتے ہوئے چاول کھانے ہی پڑتے ہیں لیکن اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ اگر دو دعوتیں اکٹھی ہو جائیں تو ضرور اور اگر ایک ہو تو عام طور پر مجھے بخار ہو جاتا ہے۔ تو میں عام طور پر چاول نہیں کھا سکتا۔ اگرچہ کبھی کھا بھی لیتا ہوں لیکن وہ حالت خاص ہوتی ہے جب انسان سمجھتا ہے کہ اگر یہ چیز کھا لی تو ہضم ہو جائے گی۔ اسی طرح اچھی دلیل کے یہ معنے نہیں کہ ہر وقت وہی ایک دلیل سب کی سمجھ میں آ جائے۔ میں نے خاص طور پر اس کا مطالعہ کیا ہے۔ بعض لوگ ایک وقت ایک دلیل سے متأثر ہوتے ہیں دوسرے وقت دوسری اور تیسرے وقت تیسری سے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف حالتیں انسان کی ہوتی ہیں۔ میں نے اس کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ بعض اوقات ایک مخلص آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ جس بات نے مجھ پر اثر کیا ہے ضروری ہے کہ دوسرے پر بھی اثر کرے لیکن وہ نہیں کرتی کیونکہ اُس پر اثر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی قلبی کیفیت اُس سے مشابہ تھی۔ اسی طرح نیکیوں کا حال ہے ایک شخص محض چندہ دینے کی وجہ سے دوسرے کی نیکی کا قائل ہوتا ہے لیکن وہ جب دوسرے سے اس کا ذکر کرتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے چھوڑو جی چندہ کا کیا ہے نماز تو وہ پڑھتا نہیں۔ لیکن ایک دوسرے شخص کے سامنے اگر کہو کہ فلاں آدمی نمازیں بہت پڑھتا ہے تو وہ فوراً کہہ دے گا کہ نماز پڑھنے کا کیا ہے جب چندہ نہیں دیتا تو اسے کس طرح مخلص کہا جا سکتا ہے غرضیکہ کوئی چندہ کی خوبی سے متأثر ہوتا ہے اور کوئی نماز سے۔ مختصر یہ کہ انسانی میلان مختلف اوقات میں مختلف ہوتے ہیں اور اسی لئے ایک وقت کوئی بات ان پر اثر کرتی ہے اور دوسرے وقت کوئی اور۔ یہی وجہ ہے کہ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ فرمایا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا رستہ نہیں کہا اور اسی طرح غَیْرِ المَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِّیْن فرمایا کسی اشدّ ترین دشمن کا نام نہیں۔ حالانکہ آسانی سے شیطان کا نام لیا جا سکتا تھا مگر نہیں۔ انسان دراصل شیطان کی بھی اتباع نہیں کرتا بلکہ اپنے میلان کی پیروی کرتا ہے۔ اسی وجہ سے نیکی میں بڑھنے کیلئے صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ اور بُرائیوں سے بچنے کے لئے غَیْرِالمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِّیْنَ فرمایا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ یا الٰہی! جس نیکی سے میرے قلب میں میلان ہو اُس کی توفیق دے اور جس مغضوبیت سے میرے اندر مشابہت ہو اُس سے مجھے محفوظ رکھیو۔
    دیکھو قرآن شریف نے کیا ہی لطیف اور جامع رنگ اختیار کیا ہے۔ جہاں تو میلان کا سوال نہیں وہاں کہا قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ لیکن جہاں میلان کا تعلق تھا وہاں صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِم کے جامع الفاظ رکھ دیئے ہیںکیونکہ انسان کا میلان اس کی اپنی مرضی سے نہیں ہوتا لیکن عمل اپنی مرضی سے ہو سکتا ہے۔ چونکہ میلان اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس لئے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی استعانت کی اشدّ ضرورت ہے لیکن عمل میں بہت سا دخل انسان کی اپنی مرضی کا ہوتا ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے دل میں جو بُرا خیال پیدا ہو اور وہ اس پر عمل نہ کرے تو یہ نیکی ہو جاتی ہے ۵؎ چونکہ دل کے خیال پر انسان کا دخل نہیں اس لئے اس پر گرفت بھی نہیں جب تک انسان اسے عملی جامہ نہ پہنائے۔ انسان عمل کر سکتا ہے‘ نماز پڑھ سکتا ہے‘ روزے رکھ سکتا ہے‘ حج کر سکتا ہے‘ زکوٰۃ دے سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کے اندر چاروں کے لئے بشاشت بھی پیدا ہو ممکن ہے وہ کرے تو چاروں ہی لیکن بشاشت صرف ایک ہی سے پیدا ہو کیونکہ وہ اپنے آپ کو عمل کے لئے مجبور کر سکتا ہے بشاشت کے لئے نہیں اس میں اُدھر ہی چلے گا جدھر میلان ہو گا۔ اس لئے جہاں میلان کا سوال تھا وہاں قرآن کریم نے جمع کا صیغہ رکھا ہے لیکن جہاں عمل کا تھا وہاں واحد کا۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف مضمون ہے۔ خطبہ کی طاقت نہیں کہ اس کی تفصیلات کا متحمل ہو سکے۔ اس کے لئے ایک مستقل لیکچر کی ضرورت ہے۔ لیکن جو کچھ مختصراً بیان ہوا ہے اس میں کم از کم ہر ایک کے لئے اتنا مسالہ ضرور موجود ہے کہ وہ ہدایت پا سکے اگرچہ اِس کی جُزئیات کو نہ سمجھ سکے۔ سورۃ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے یہ ایک ایسا نکتہ رکھا ہے کہ اسے سمجھ کر انسان بہت سی ٹھوکروں سے بچ سکتا ہے۔ بیسیوں بدظنیاں انسان صرف اس لئے کر لیتا ہے کہ جس وقت کوئی بات اس کے سامنے بیان کی جائے اُس وقت اس کی قلبی کیفیت اس کے قبول کرنے کے لئے تیار ہوتی ہے۔ ایک شخص سے اسے عداوت ہوتی ہے اس کے متعلق اگر کوئی اُسے بُری بات کہے تو وہ فوراً اُسے مان لیتا ہے لیکن اگر اس کے دوست کے متعلق وہی بات بیان کی جائے تو فوراً کہہ دیتا ہے لوگ جھوٹ بولا ہی کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر بیان کرنے والا اس کا دوست ہو تو کہتا ہے اسے کیا ضرورت تھی کہ جھوٹ بولتا لیکن اگر کوئی دوسرا ہو تو کہہ دیتا ہے اجی کیا اعتبار ہے لوگ یونہی باتیں اُڑا دیا کرتے ہیں۔ پھر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہی بات جو اگر براہِ راست کوئی آ کر اس سے بیان کرتا تو وہ اسے ہرگز قبول نہ کرتا لیکن اگر راوی اس کے دوست سے بیان کر ے اور دوست اس سے متأثر ہو کر اس سے بیان کرے تو اسے فوراً درست مان لیتا ہے۔ جس طرح لوہا آگ سے گرم ہوتا اور ہم لوہے سے گرم ہو جاتے ہیں اسی طرح بعض اوقات بالواسطہ بدظنی پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر براہِ راست راوی اس کے پاس آتا تو یہ اُسے ٹھکرا دیتا لیکن چونکہ دوست کا میلان اس سے ملتا تھا اور راوی کا میلان اپنے دوست سے ملتا تھا اس لئے یہ بھی بِالواسطہ بدظنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اگر یہی بات میرے متعلق یا میرے دوست کے متعلق ہوتی تو میں اس کے متعلق کیا خیال کرتا۔ اس پر وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ یہ کیفیت اس کے اندر محض میلان کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے۔ اس وقت دل کی زمین مشابہ تھی۔ اس لئے یہ بدی دل کے اندر پیدا ہو گئی۔ یہی حال نیکی کا ہے جہاد کے وقت بعض لوگ مصلّٰی پر بیٹھے رہتے ہیںکیونکہ ان کا میلان اس طرف ہوتا ہے حالانکہ اس وقت افضل عبادت جہاد ہی ہے۔ ایک موقعِ جہاد پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا آج روزہ داروں سے بے روزہ بڑھ گئے ۶؎ اس کی وجہ یہی تھی کہ روزہ رکھنے والوں نے اپنے میلان کی وجہ سے روزہ رکھنے کو ہی افضل سمجھا جس سے ان کی طاقتوں میں کمی آ گئی لیکن روزہ نہ رکھنے والے تازہ دم ہونے کی وجہ سے ان سے زیادہ شجاعت سے جنگ کر سکے۔ تو نیکی بدی اس معاملہ میں دونوں یکساں ہیں۔ انسان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ میرا میلان قرآن کے مطابق ہے یا نہیں ۔اگر نہیں تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی نیکی نیکی نہیں اور جسے وہ بدی سمجھتا ہے وہ بدی نہیں۔ اصل گُر قرآن کریم نے یہی اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ میں بتایا ہے اور اسی پر ہر میلان پرکھا جا سکتا ہے۔
    میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں باریک در باریک راہوں سے آنے والی ٹھوکروں سے محفوظ رکھے۔ اور ایسی باتوں سے بچائے جو بسا اوقات ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ لیکن ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہیں۔ آمین (الفضل ۳۔جنوری ۱۹۳۰ئ)
    ۱ ؎ الفاتحۃ: ۷ ۲؎ المزّمّل: ۱۶ ۳؎ اٰل عمران: ۳۲
    ۴ ؎ المائدۃ: ۱۱۸
    ۵؎ بخاری کتاب الرقاق باب من ھم بحسنۃ اوبسیّئۃ
    ۶؎ بخاری کتاب الجہاد باب فضل الخدمۃ فی الغزو

    ۳۲
    آپس میں سگے بھائیوں سے بھی زیادہ محبت رکھو
    (فرمودہ ۲۷۔دسمبر۱۹۲۹ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    میں وقت سے دیر کر کے اس لئے آیا ہوں کہ مجھے بٹالہ سے جماعت کے بعض دوستوں نے تار دیا تھا کہ گاڑی لیٹ ہو گئی ہے ہمارا کسی قدر انتظار کیا جائے میں اِس انتظار کے بعد اس فکر میں پڑ گیا کہ اول تو جلسہ کی وجہ سے ہی ضرورت تھی کہ نہایت مختصر خطبہ پڑھا جائے اور اب تو اس انتظار کی وجہ سے اور بھی اختصار ضروری ہو گیا ہے پھر میں خطبہ میں کہوں کیا؟
    جب یہ خیال میرے دل میں آیا تو ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ یہی انتظار ہمارے لئے نصیحت کا موجب ہو سکتا ہے پھر کیوں نہ اسی سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ جمعہ کی نماز ایک الٰہی فرض ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے متعلق حکم ہے کہ جب اذان کہی جائے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لئے گھروں سے نکل کھڑے ہو ۱؎ مگر باوجود اس حکم کے ہم نے بعض ایسے دوستوں کی دلدہی کے لئے جن کا جمعہ میں شامل ہو جانا یقینی نہ تھا اس فرض کی ادائیگی میں تأخیر کی اگرچہ یہ تأخیر اور تعویق خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف نہیں بلکہ مطابق ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے ہر نماز کے لئے دو اوقات ہیں ایک ابتدائی اور ایک انتہائی۔ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور دریافت کیا یا رسول اللہ! نمازوں کے اوقات کیا ہیں آپ نے فرمایا یہاں ٹھہرو اور اس کے سامنے پانچ نمازیں آپ نے ابتدائی اوقات میں ادا کیں اور فرمایا یہ تو ابتدائی اوقات ہیں پھر دوسرے دن پانچ انتہائی اوقات میں ادا کیں اور فرمایا یہ انتہائی ہیں۔ ۲؎ اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی حکمتوں کے ماتحت کہ انسان اپنے اندازوں میں غلطی کر سکتا ہے‘ اس کے راستے میں روکیں ہو سکتی ہیں نماز کے ایسے اوقات مقرر کر دیئے۔ بعض نمازوں کا وقت چار پانچ گھنٹے تک رہتا ہے مثلاً عشاء کی نماز کا وقت مغرب کے ایک گھنٹہ بعد سے شروع ہو کر رات کے بارہ بجے تک رہتا ہے پھر ظہر میں تین گھنٹہ کا وقت ہے یعنی نہایت خفیف سے زوال سے شروع ہو کر قریباً دو سائے ڈھلنے تک رہتا ہے تو ان اوقات میں اجازت ہے کہ نماز ادا کر لی جائے۔ گویا خدا تعالیٰ نے ایک نہایت اہم فرض میں بھی رعایت رکھ دی ہے جس سے مجبوری کی حالت میں فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ جب خدا تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض بھی بندوں کے لحاظ سے آگے پیچھے ہو سکتے ہیں تو بندوں کو خیال کرنا چاہئے کہ وہ اپنے حقوق کی ادائیگی کے لئے کیوں سخت گیر بنیں۔جب اللہ تعالیٰ نے فرض کی ادائیگی میں ڈھیل دی ہے اگرچہ بعض حدیں قائم کی ہیں لیکن درمیان میں کافی وقفہ دیا ہے کہ جس وقت چاہو ادا کر لو۔ سردیوں میں عشاء کی نماز کے لئے قریباً ساڑھے پانچ گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے تو پھر انسان کو سوچنا چاہئے کہ آپس میں معاملات کرتے وقت خیال رکھیں کہ دوسروں کے احساسات کو بِلاوجہ ٹھیس نہ لگے۔ جس طرح نماز جمعہ ایک ظاہری اجتماع ہے اسی طرح انبیاء کی بعثت سے ایک باطنی اجتماع ہوتا ہے بعض اجتماع انسان کی اپنی مرضی سے ہوتے ہیں جیسے شادی ہے یا دوستوں کا انتخاب ہے انسان سوچ لیتا ہے کہ میں کس قسم کی عورت سے شادی کروں یا کس قسم کے لوگوں کو دوستی کے لئے منتخب کروں۔ اسی طرح محلہ داروں کے متعلق انسان سوچ لیتا ہے کہ مجھے کن لوگوں میں رہنا چاہئے لیکن نبی کے ذریعہ اجتماع ایسا اجتماع ہوتا ہے جس میں شمولیت انسان کی مرضی کی بات نہیں یہ اجتماع نہایت ہی نازک ہوتا ہے اس میں بندے کی مرضی کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ خدا کی اپنی مرضی سے ہی یہ قائم ہوتا ہے اس لئے اس میں مختلف طبائع کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے شادی کے معاملہ میں میاں بیوی ایک دوسرے کی طبائع یا ایک دوسرے کے رشتہ داروں کی طبائع کا کچھ نہ کچھ اندازہ کر لیتے ہیں اِسی طرح دوستی پیدا کرتے وقت بھی طبائع کا پوری طرح خیال کر لیا جاتا ہے لیکن انبیاء کی جماعت میں چونکہ رنگا رنگ کے لوگ ہوتے ہیں اس لئے اس میں طبائع کا ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اور جب تک انسان یہ نہ سمجھ لے کہ یہ دوستی اللہ تعالیٰ نے کرائی ہے اسے قائم نہیں رکھ سکتا۔ اس دوستی میں کسی کی مرضی کا دخل نہیں ہوتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبردست خواہش تھی کہ ابوطالب ایمان لے آئیں مگر یہ خواہش پوری نہ ہوئی اور ابوطالب یہ الفاظ کہتے ہوئے ہی مر گئے کہ اگر میں ایمان لے آیا تو لوگ کہیں گے ڈر گیا ہے لیکن اس کے مقابلہ میںابوجہل اشدّ ترین معاند تھا اس کا بیٹا عکرمہ جو ہر لڑائی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سخت مقابلہ کرتا تھا اسلام میں داخل ہوا اور خدمتِ اسلام میں ہی اس نے جان دے دی۔ تو دیکھو ایک طرف تو وہ شخص ہے جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس قدر تعلق تھا کہ آپ نے انتہائی کوشش کی کہ وہ ایمان لے آئے لیکن وہ ایمان نہ لایا اور دوسری طرف ایسا اشدّ ترین دشمن ہے جس کے متعلق جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے رؤیا دیکھا کہ ایک انگور کا خوشہ ہے۔ آپ نے دریافت فرمایا یہ کس کے لئے ہے؟ اور جب بتایا گیا کہ ابوجہل کے لئے ۳؎ تو آپ گھبرا گئے اور فرمایا کیا ابوجہل میرے ساتھ ہو گا؟ یہ رؤیا عکرمہ کے مسلمان ہو جانے سے پورا ہوا۔کیونکہ بعض اوقات رؤیا میں باپ سے مراد بیٹا بھی لیا جاتا ہے پس ایسے مخالف کے بیٹے کا خدمتِ اسلام میں اس طرح جان دینا کہ سر سے پَیر تک تمام جسم زخموں سے چُور تھا اور اِدھر ایسے شخص کا جس نے آپ کی مدد کرنے کے لئے خطرناک مصائب برداشت کئے محروم رہنا بتاتا ہے کہ اس انتخاب میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ پس اپنی مرضی کے خلاف چلتے ہوئے دوستوں کے متعلق زیادہ ضروری ہے کہ احتیاط سے کام لیا جائے تا کہ کسی قسم کا فساد پیدا نہ ہو۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا یہی ہے اور اُس نے ہی ہمیں ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے اس لئے اس کی مرضی کے خلاف چلنے کی کوشش کرنا کبھی بھی موجبِ فلاح نہیں ہو سکتا۔ بہت سے نادان جماعت میں اس لئے فتنہ پیدا کر دیتے ہیں کہ ان کے کسی رشتہ دار سے کسی احمدی کا کوئی جھگڑا ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگرچہ وہ اُن کا بھائی ہے۔ لیکن احمدی کو خدا تعالیٰ نے ان کا بھائی بنایا ہے اور خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے بھائی پر ماں باپ یا رشتہ کے بھائی کو مقدّم کرنا ایسی نامعقول بات ہے جِسے ایک مؤمن ایک منٹ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ پس اپنے معاملات اور سلوک میں ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے فضل نے ہمیں آپس میں بھائی بھائی بنایا ہے اس لئے آپس میں اس قدر محبت رکھنی چاہئے کہ سب کے دل میں اسی طرح جمع ہوں جس طرح ظاہری طور پر تمام جمعہ کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارے قلوب صاف ہوں اور ہمارے دل ان لوگوں کی محبت سے بھرپور ہوں جن کو خدا تعالیٰ نے ہمارا بھائی بنایا ۔ آمین
    (الفضل ۳۔جنوری ۱۹۳۰ئ)
    ۱؎ الجمعۃ: ۱۰
    ۲؎ ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی مواقیت الصلوٰۃ
    ۳؎ اسد الغابۃ فِی مَعرفۃ الصحابۃ جلد ۴ صفحہ ۴ تا ۶ مطبوعہ بیروت ۱۳۷۷ھ





    خطبات جمعہ
    ۱۹۳۰ء





    ۳۳
    نئے سال کیلئے جماعت احمدیہ کا پروگرام
    (فرمودہ ۳۔جنوری ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    آج کے خطبہ میں بعض اور باتیں بیان کرنا چاہتا تھا لیکن ایک تو اس وجہ سے کہ صبح سے میری طبیعت کچھ خراب ہے اور دوسرے اس خیال سے کہ یہ جمعہ نئے سال کا پہلا جمعہ ہے ہمیں اس موقع پر خوشی اور شکر کے جذبات کا ہی اظہار کرنا چاہئے اور ایسے امور کو جو تکلیف دہ ہوں کسی دوسرے وقت کے لئے اُٹھا رکھنا چاہئے میں نے اپنا خیال ترک کر دیا۔ پس میں پہلے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایک اور سال کے ختم کرنے کی توفیق عطاء فرمائی اور اس کے خاتمہ پر جماعت کو نمایاں ترقی بھی عطا کی۔ کیونکہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ہی چھ سَو سے زیادہ احباب نے بیعت کی ہے۔ ذاتی طور پر بھی باوجودیکہ پچھلے سال میری طبیعت خراب رہی۔ اس جلسہ کے بعد مَیں ایسی کوفت محسوس نہیں کرتا جو انسان کو نکمّا کر دیتی اور اس کی قوت کو باطل کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ لئن شکرتم لا زیدنکم ۱؎ یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں اپنی نعمتیں تم پر زیادہ کروں گا۔ اس نے ہمارے عملوں اور کوششوں سے بہت بڑھ کر ہمیں ترقی عطاء کی ہے اور باوجود سخت مشکلات‘ سخت مصائب اور مخالفتوں کے جماعت کا قدم پیچھے نہیں ہٹنے دیا اور باوجودیکہ اس سال لوگوں کو رخصتیں ملنے میںبہت سی دقّتیں پیش آئیں پھر بھی جلسہ پر پچھلے سال سے حاضری قریباً پانصد زیادہ رہی۔ یعنی پچھلے سال مہمانوں کی کُل تعداد خوراک کی پرچیوں کے لحاظ سے سولہ ہزار آٹھ سَو پچاسی تھی لیکن اس سال ۱۷ ہزار تین سَو سولہ۔ پس اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ترقی کرنے کا موقع دیا۔ اسی تسلسل میں مَیں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ احبابِ جماعت کو چاہئے اگلے سال میں خدا تعالیٰ کے شکریہ کے طور پر اپنی دینی کوششوں میں اور بھی وسعت پیدا کریں۔
    میں نے جلسہ کے موقع پر بھی اعلان کیا تھا کہ ہر احمدی اقرار کرے کہ وہ اگلے سال میں کم از کم ایک نیا احمدی اپنے رتبہ اور علم کا بنانے کی کوشش کرے گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کو نظر انداز کر دیا جائے بلکہ ان میں بھی جہاں تک ہو سکے تبلیغ کو جاری رکھا جائے لیکن اپنے رتبہ اور حیثیت کا ایک ایک آدمی جماعت میں داخل کرنے کی کوشش ضرور کی جائے تا امراء اور غرباء دونوں میں تبلیغ کا سلسلہ برابر جاری رہے۔ یہ ایسا عمل ہے کہ اگر جماعت اس میں پوری کوشش سے کام لے تو چند سال میں ہی بہت ترقی کر سکتی ہے۔ اور اس سے وہ حصہ بھی جو کمزور یا میدانِ عمل سے پیچھے ہٹنے والا ہے ابتلاؤں اور مصیبتوں سے بچ سکتا ہے کیونکہ جماعت کی ترقی کے ساتھ مالی حالت بھی اچھی ہوتی چلے جائے گی اور وہ لوگ جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ:۔
    ’’اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو مجھ سے الگ ہو جائے مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پُرخار بادیہ درپیش ہیں جن کو مَیں نے طے کرنا ہے۔ پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اُٹھاتے ہیں۔ جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے۔ نہ مصیبت سے نہ لوگوں کے سبّ و شتم سے‘ نہ آسمانی ابتلاؤں اور آزمائشوں سے‘‘۔ ۲؎
    وہ بھی راستہ کی سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چلنے کے قابل ہو جائیں گے۔ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصبیت اُٹھاتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے لوگ ضرور ہی علیحدہ ہو جائیں یا انہیں علیحدہ کر دیا جائے۔ آپ نے صرف مشکلات سامنے رکھ دی ہیں تا جو ان کی برداشت کی طاقت اپنے اندر نہ پاتے ہوں علیحدہ ہو جائیں۔ لیکن ان کو دیکھتے ہوئے بھی اگر کوئی شخص شامل رہنا چاہتا ہے اور آگے بڑھنے کی آرزو اپنے دل میں رکھتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔ جماعت کے بڑھ جانے سے ایسے لوگوں کے لئے بھی سہولتیں مہیا ہو جائیں گی۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں منافقین کی جو کثرت تھی وہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں نظر نہیں آتی۔ کیا اس کی یہ وجہ ہے کہ ان کے زمانہ میں کوئی ایسی خصوصیت تھی یا ان کے اندر ایسی روحانیت تھی کہ کوئی شخص منافق نہ رہا۔ نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے زمانہ میں بہت سہولتیں مسلمانوں کو حاصل ہو چکی تھیں۔ رسول کریم ﷺ کا زمانہ ابتلاء اور مشکلات کا زمانہ تھا۔ جس کی وجہ سے کمزور لوگ پیچھے ہٹنا چاہتے تھے لیکن انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے شرم وحیاء کا ایک ایسا مادہ رکھا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے سے ہچکچاتا بھی ہے اس لئے ایسے لوگ اپنے پیچھے ہٹنے پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے اور منافقت سے کام لیتے تھے۔ پھر یہ بھی انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اکیلا پیچھے ہٹ کر نکّو بننا نہیں چاہتا اس لئے وہ کوشش کرتا ہے کہ میں اور لوگوں کو بھی ساتھ شامل کر لوں تا جماعت ہو جانے سے ندامت میں کچھ کمی ہو جائے لیکن حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا زمانہ ترقیات اور ترفُّہ کا زمانہ تھا۔ اگرچہ کچھ تکلیفیں بھی تھیں لیکن وہ بات نہ تھی جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تھی اس لئے جو لوگ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں منافق تھے۔ وہ ان کے زمانہ میں مومن ہو گئے۔ کئی لوگ غلطی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے تمام منافق مار دیئے تھے۔ اگر واقعی یہ بات ہوتی تو قرآن‘ احادیث اور تاریخ اس کے متعلق خاموش نہ ہوتیں۔ آخر جو مارے گئے وہ دوسروں کو بھی نظر آتے ہوں گے پھر کیا وجہ ہے کہ کسی نے ان کے مارے جانے کا ذکر نہیں کیا۔ مگر ہمارے پاس اس بات کے غلط ہونے کا ایک یقینی ثبوت بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ حضرت عمرؓ نے رسول کریم ﷺ کی وفات پر فرمایا آپؐ ہرگز فوت نہیں ہوئے اور نہ ہی فوت ہو سکتے ہیں جب تک کہ سارے منافقین اور کافروں کا صفایا نہ ہو جائے ۳؎ پس یہ گواہی بتاتی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی منافقین موجود تھے۔ اس کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ ایک صحابی کی روایت ہے جب کوئیشخص فوت ہوتا تو ہم یہ دیکھتے تھے کہ حذیفہ ؓ اس کے جنازہ میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر حذیفہ شامل ہوتے تو ہم بھی اس کا جنازہ پڑھ لیتے اور اگر وہ شامل نہ ہوتے تو ہم بھی نہ ہوتے۔ کیونکہ حذیفہؓ کو کافروں اور منافقوں کا علم حاصل کرنے کی ایک دھت تھی اور وہ رسول کریم ﷺ سے منافقوں کے نام بھی دریافت کر لیتے تھے۔ ۴؎ ا س سے معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی منافق موجود تھے لیکن ان کی وہ کثرت نظر نہ آتی جو ابتدائی زمانہ میں تھی۔ پس اس سے صاف معلوم ہوا کہ اس ترفُّہ کے زمانہ میں ان منافقین کی حالت میں تغیر پیدا ہو گیا اور سوائے شیعوں کے جو سب صحابہؓ کو ہی منافق کہتے ہیں کوئی اور مسلمان کسی صحابیؓ کو منافق قرار نہیں دیتا۔ اور احادیث کی صداقت کو پرکھنے میں اس کے راویوں کے متعلق ہرگز یہ سوال نہیں ہوتا کہ فلاں صحابی منافق تھے یا مومن بلکہ صحابی ہونا ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ترفُّہ کے ساتھ سُست لوگ بھی اپنی منافقت کو ترک کر کے پورے مومن بن جاتے ہیں۔ اگرچہ بعد کے زمانہ میں پھر منافق پیدا ہو گئے تھے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت صرف ترفُّہ ہی ترفُّہ رہ گیا تھا اور مشکلات بالکل نہ رہی تھیں۔ اور منافق یا تو سخت مشکلات کے زمانہ میں نکلتا ہے یا بالکل امن کے زمانہ میں۔ جب امن اور مشکلات دونوں ہوں اُس وقت منافق نہیںہوا کرتے۔ پس احباب جماعت کو ترقی دینے کی کوشش کریں۔ شاید کہ اللہ کے فضل سے جماعت کی ترقی کے ساتھ وہ لوگ بھی جو مصائب برداشت نہیں کر سکتے درست ہو جائیں اور اس طرح ہمیں دہری ترقی نصیب ہو۔ یعنی بہت سے لوگ باہر سے آ کر شامل ہوں اور بعض اندر سے ہی ٹھیک ہو جائیں۔ اور یاد رکھنا چاہئے کہ اندر سے ترقی کر کے آگے آنے والا بھی کچھ کم قابلِ قدر نہیں ہوتا بلکہ باہر والے سے زیادہ قدر کے لائق ہوتا ہے۔ یہ بات قطعاً غلط ہے کہ منافق کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے متعلق ایک وقت مجھے حق الیقین تھا کہ وہ منافق ہیں۔ لیکن آج ویسا ہی حق الیقین ہے کہ وہ مومن ہیں اور سچے مومن ہیں انہوں نے اپنی اصلاح کرلی۔ پس نئے سال کے لئے میں جماعت کے سامنے پروگرام رکھتا ہوں کہ وہ اس سال میں اپنے رُتبہ کا کم از کم ایک آدمی احمدی جماعت میں داخل کرنے کی کوشش کریں جو اس سے زائد کریں گے وہ زیادہ اجر کے مستحق ہوں گے مگر اس قدر تو ضرور ہونا چاہئے۔ اور چونکہ یہ کام ساری جماعت سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس میں خود کوشش کرنے کے ساتھ دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ کرتے رہنا چاہئے اور دوسروں سے پوچھتے رہنا چاہئے کہ تم نے اس کام کے لئے اپنا نام لکھوایا ہے یا نہیں تا ہر ایک اس کام میں لگ جائے اور ہر ایک خیر کامحرِّک اور آسمانی فرشتوں کا نمائندہ بن سکے اور آئندہ سال میں جماعت نمایاں ترقی کر سکے۔
    میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں نیک ارادوں کی توفیق عطا فرمائے اور پھر انہیں پورا کرنے کی بھی طاقت دے۔ آمین (الفضل ۱۰۔جنوری ۱۹۳۰ئ)
    ۱؎ ابراہیم: ۸
    ۲؎ انواراسلام صفحہ ۲۳‘۲۴ روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲۳‘۲۴
    ۳؎ بخاری کتاب المناقب باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لوکنت
    متخذ اخلیلا
    ۴؎ اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد ۱ صفحہ ۳۹۰‘ ۳۹۱ مطبوعہ بیروت لبنان











    ۳۴
    پوری ہمت اور سرگرمی سے دعوت الیٰ اللہ کرو
    (فرمودہ ۱۰۔جنوری ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    بوجہ بیماری میرا ارادہ تو نہیں تھا کہ جمعہ کے لئے آؤں لیکن اس وجہ سے کہ بعض دوست جمعہ کے لئے باہر سے آتے ہیں اور اس خواہش سے آتے ہیں کہ میرے پیچھے نماز جمعہ ادا کریں اس لئے میںنے آخر مناسب سمجھا کہ خواہ کتنا مختصر خطبہ ہی کیوں نہ ہو یا کتنی مشقّت بھی کیوں نہ اُٹھانی پڑے میں خود ہی جمعہ پڑھاؤں۔
    میں نے پچھلے جمعہ میں یہ بات کہی تھی کہ مَیں ایک ایسے امر کے متعلق خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں جو بعض لوگوںکے لئے ناپسندیدہ ہو گا لیکن میں چونکہ ابھی اپنی صحت کو اس قابل نہیںپاتا کہ کوئی لمبا خطبہ بیان کر سکوں اس لئے آج بھی اُس کی بجائے ایک دوسرے امر کے متعلق بیان کرتاہوں۔
    اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ امسال جلسہ سالانہ کے بعد جماعت میں (قادیان کی جماعت کے متعلق ابھی مَیں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن باہر کی جماعتوں میں) مَیں نیک اور اچھا تغیر دیکھتا ہوں۔ انسان کی باتیں جو وہ کرتا ہے اپنی ذات میں خواہ کتنی اعلیٰ کیوں نہ ہوں ضروری نہیں کہ لوگوں کے قلوب میں تغیر پیدا کر سکیں۔ تقریریں خواہ کتنی لمبی اور دلآویز ہوں‘ ظاہر میں نظر آنے والے معارف خواہ کتنی کثرت سے ہوں ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی معارف ہوں اور لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ حاصل کر سکیں۔ پس کسی تحریک کی کامیابی اس کے خوبصورتی سے بیان کر دینے میں نہیں بلکہ اس کے نتائج سے معلوم ہو سکتی ہے۔ اور گو ابھی جلسہ سالانہ کو گذرے نَو دس دن ہی ہوئے ہیں اور بہت سے احباب کو یہاں سے گئے ابھی ہفتہ بھی نہیں ہوا اور عموماً ان دنوں میں جماعت کے لوگوں میں کام کرنے کی روح تو اگرچہ ہوتی ہے لیکن نتائج کم نکلا کرتے ہیںکیونکہ یہاں سے جا کر گھروں میں ٹکنے کے لئے بھی کچھ وقت چاہئے۔ اس کے بعد وہ اپنے نیک ارادوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ عرصہ تک اس جوش سے کام کرتے ہیں جو یہاں سے تازہ تازہ لے کر جاتے ہیں مگر اپریل کے بعد جا کر پھر جماعت میں سُستی شروع ہو جاتی ہے اور اکتوبر تک گویا ایک نیند طاری رہتی ہے۔ اس کے بعد اس خیال سے کہ جلسہ کے دن قریب ہیں اور وہاں جانا ہے کچھ کام کرنا چاہئے پھر کام شروع کر دیتے ہیں لیکن اِس دفعہ مَیں دیکھتا ہوں ابتداء میں ہی جماعت نے زیادہ ہمت سے کام شروع کیا ہے۔
    جلسہ کے بعد پہلا ہفتہ جو عام طور پر ٹکنے اور آرام لینے کا ہوتا ہے اس میں مختلف جماعتوں نے تبلیغ‘ درس و تدریس اور تنظیم کی طرف توجہ شروع کر دی ہے اور خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت سرگرمی سے کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ان کا یہ جوش کتنے عرصہ تک قائم رہے گا۔ سارا سال یا اپریل تک یا ہمیشہ کے لئے قائم رہتا ہے۔ پھر اس کے نتائج کا بھی اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے۔ مگر بہرحال یہ ایک نیک تغیر نظر آ رہا ہے اور میں جہاں اس امر پر خوشی کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میری باتوں میں اثر پیدا کیا اور وہ لوگوں کے قلوب میں تغیر پیدا کرنے کا موجب ہوئیں وہاں ان جماعتوں کو خصوصیت سے جنہوں نے ان کاموں کی طرف ابھی توجہ نہیں کی متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔
    بعض دوستوں نے نہایت اخلاص سے کام شروع کیا ہے اور جماعتوں میں ایک خاص رنگ کی بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ اور جلسہ کے بعد پندرہ بیس دن کا وقفہ جس میں عام طور پر بیعت کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے کیونکہ جو لوگ احمدیت میں داخل ہونے کو تیار ہوتے ہیں وہ جلسہ پر بیعت کر لیتے ہیں اور باقی تبلیغ کے محتاج ہوتے ہیں۔ مگر اب کے اس وقفہ میں جماعتیں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور مختلف درجہ کے لوگوں میں محنت سے تبلیغ کا کام ہو رہاہے اور اس کے نتائج نکل رہے ہیں۔ لیکن جنہوں نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی خصوصاً قادیان کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی تبلیغی کام شروع کریں۔ قادیان میں مختلف اوقات میں اس قسم کے نظام قائم ہوئے ہیں کہ دوست باہر جائیں اور تبلیغ کریں لیکن وہ ہمیشہ کڑھی کا اُبال ثابت ہوئے ہیں۔ چند دوست اس کام کے لئے نکلتے ہیں لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور جماعت کی ترقی رُک جاتی ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے صداقت دی ہے اور جوشخص صداقت کو لے کر کھڑا ہو وہ یقینا کامیاب ہو کر رہتا ہے مگر افسوس کہ کوشش نہیں کی جاتی۔ خاص ضلع گورداسپور میں سینکڑوں گاؤں ایسے ہیں جن میںکوئی احمدی نہیں۔ جس بستی کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دنیا کے متحد کرنے کے لئے مرکز قرار دیا ہے اور جسے روحانی لحاظ سے ماں بنایا ہے اس کے ہی اردگرد ہم ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام نہیں پہنچا سکے۔ نام پہنچانے کے یہ معنے نہیں کہ وہاں گالیاں دینے والے یا مخالفت کرنے والے نہیں بلکہ یہ ہیں کہ وہاں درود بھیجنے والے پیدا ہو جائیں۔ سینکڑوں گاؤں اس ضلع میں ایسے ہیں جن میں ہماری جماعت نہیں لیکن اگر توجہ کی جائے تو بآسانی جماعتیں قائم ہو سکتی ہیں۔ اگر اس ضلع میں تبلیغ کی جائے تو باہر بھی آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں کیونکہ مرکز کے مضبوط ہونے کے ساتھ جماعت کا اقتدار اور رُعب بھی بڑھ جاتا ہے۔
    پس میں خصوصیت سے قادیان کے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں۔ پچھلے دنوں طالب علموں نے یہ کام شروع کیا تھا لیکن وہ اکتوبر سے لے کر دسمبر تک ہی جا ری رہا۔ میں اب پھر طلباء کو خصوصاً مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے طلباء کو توجہ دلاتا ہوں کہ فارغ اوقات فضول ضائع کرنے کی بجائے آس پاس کے علاقہ میں جا کر تبلیغ کیاکریں۔ اس طرح چلنے پھرنے سے ان کی صحت پر بھی اچھا اثر پڑ جائے گا‘ سلسلہ کا کام بھی ہو گا اور ساتھ ہی انہیں اس کام کی مشق بھی ہوتی جائے گی جس کے لئے وہ تیاری کر رہے ہیں۔ پھر ان کے توجہ کرنے کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو خود شرم آئے گی۔
    مدرسہ ہائی کے طلباء کو بھی میں اس طرف توجہ دلاتا ہوںاور خواہ کوئی بُرا منائے یا ہنسی کرے کہ ان کو براہِ راست مخاطب کیا گیا ہے لیکن میں براہِ راست ہی طلباء کو مخاطب کرتا ہوں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں استاد بڑے سے لیکر چھوٹے تک تمام کے تمام اپنے طلباء میں دینی روح پیدا کرنے کے لئے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے بلکہ بسااوقات روکیں پیدا کرتے ہیں۔ میرے پاس رپورٹ پہنچی ہے کہ اگر کسی طالب علم کو تہجد پڑھنے کی نصیحت کی جائے تو خود استاد ہی اسے منع کرتے ہیں کہ تمہاری تعلیم میں حرج ہو گا۔ یہ بے بیوقوفی کی بات ہے اس کا خیال نہ کرو۔ مجھے نہایت ہی افسوس ہوا جب تعلیم کے ایک ذمہ دار افسر کے متعلق کسی غیر نے نہیں بلکہ اسی کے دوسرے حصہ نے ایک بات بیان کی۔ میری بیوی نے اس سال مدرسہ بنات کا نماز کا امتحان لیا تو معلوم ہوا کہ نویں جماعت کی لڑکیوں میں سے بھی ایک کے سِوا کسی کو پوری نماز نہیں آتی۔ اس پر انہوں نے کہہ دیا میں پھر امتحان لوں گی۔ اُس وقت اگر کسی کو نماز نہ آئی تو اسے اس جماعت میں فیل کر دیا جائے گا۔ ایک ذمہ دار افسر کی لڑکی نے اپنے گھر میں اس بات کا ذکر کیا تو اس کے اپنے گھر کی روایت ہے کہ باپ نے کہا بیٹی ڈرو نہیں کس کی طاقت ہے جو تجھے نماز نہ آنے کی وجہ سے فیل کر سکے۔ جب نماز جیسی ضروری چیز کے متعلق ایک احمدی اور مأمور و مرسل ربّانی کا متبع کہلانے والا اس قدر ننگِ اسلام ہو سکتا ہے کہ اپنی اولاد کی نماز کی ذمہ داری بھی اپنے سر لینے کے لئے تیار نہیں تو مجھے ایسے لوگوں کو مخاطب کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ پس اے ہمارے سکولوں کے طالب علمو! میں تم سے اور براہِ راست تم سے کہتا ہوں کہ تمہارے استاد تمہاری جگہ خدا کے حضور جوابدہ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے تمہاری قبر میں نہیں جانا اور انہیں مَیں ایسا ہی نظر انداز کرتا ہوں کہ گویا وہ تھے ہی نہیں اس لئے تم خود دین کی طرف توجہ کرو‘ خود اپنی اصلاح کرو اور تبلیغ احمدیت میں سرگرمی دکھاؤ۔ میں تعلیم کی ذمہ دار نظارت کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ایسا قانون ہمارے سارے مدارس کے لئے بنا دیا جائے (میں امتحان کے بعد خصوصیت سے اس امر کے متعلق پوچھوں گا) کہ سالانہ نماز کا امتحان ہوا کرے اور اگر کسی طالب علم کو نماز نہ آتی ہو تو اسے اوپر کی جماعت میں نہ چڑھایا جائے۔ اگر اس انتظام کے قائم کرنے میں گورنمنٹ کی طرف سے کوئی روک ہو تو میری طرف سے انہیں اجازت ہے کہ بے شک ان مدارس کو توڑ دیا جائے۔ اس کے جو نتائج ہوں گے‘ جو شورش ہو گی یا فساد پیدا ہو گا ان سب کا مَیں ذمہ دار ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں نے خلافت کسی شخص کی مدد سے حاصل نہیں کی اس لئے میں کسی شخص سے کبھی ڈرا نہیں‘ نہ ڈرتا ہوں اور نہ کبھی ڈروں گا۔ ابھی ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ اس قدر شورش ہو رہی ہے کہ ڈر ہے بغاوت نہ ہو جائے۔ کیا امان اللہ خان کی حالت آپ کو بھول گئی ہے میں نے انہیں کہا اگر امان اللہ خان سے بدتر حالت ہو جائے جب بھی میں نہیں ڈرتا کیونکہ میں جانتا ہوں چونکہ میرے کام اللہ تعالیٰ کے ارداہ کے ماتحت ہیں اس لئے فرشتے میرے مددگار ہیں۔ پس کوئی بھی میری ایسی مخالفت نہیں کر سکتا جس سے مَیں تباہ ہو جاؤں۔ باقی شورش وغیرہ سے تو وہ ہی ڈر سکتا ہے جس کے نزدیک کامیابی کا معیار آدمیوں کی تعداد ہو میں اس کا قائل نہیں ہوں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض انبیاء ایسے گزرے ہیں جن کی وفات پر صرف ایک شخص ان پر ایمان لانے والا تھا۔ پس اگر میرے ساتھ دو آدمی بھی رہ جائیں گے جب بھی میں ان انبیاء سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے والا ہوں گا۔ پس یہ فضول بات ہے کہ کہا جائے اس طرح کیا تو یہ ہو جائے گا۔ میں کسی سے ڈر کر اسلامی شعائر کی بے حرمتی کے لئے ہرگز تیار نہیں ہو سکتا۔ اگر سکول بند ہو گیا تو کیا ہو گا؟ ہمارے پاس کالج نہیں تو کیا ہوا؟ کیا ہم بغیر اس کے مر گئے ہیں؟ جب یہ مدارس اس مقصد کو پورا کرنے والے ثابت نہ ہوں جن کے لئے قائم کئے گئے تھے تو پھر ان کی ضرورت ہی کیا ہے۔ پس میں نظارت کو ذمہ دار قرار دیتا ہوں کہ وہ اس بات کی طرف خاص خیال رکھے۔ اس کی بے رغبتی اور اس سے قبل صدرانجمن کے بے توجہی نے رغبتِ دین کو کم کر دیا ہے حالانکہ اگر دینی پہلو پر زور دیا جاتا تو طلباء کے اندر زندگی کی روح نظر آتی۔ ان میں نماز کی باقاعدگی‘ تہجد‘ وظائف اور ذکرِ الٰہی پر زور دینا چاہئے۔
    اس قدر افسوس کی بات ہے کہ جب مَیں درس دیتا ہوں اُس وقت تو شرم کے مارے لوگ آ جاتے ہیں لیکن جب کوئی دوسرا دے تو استاد طلباء کو روکتے ہیں کہ چلو کھیلو۔ جس سے معلوم ہوا میرے درس میں بھی وہ خدا کے لئے نہیں بلکہ میرے منہ کے لئے آتے ہیں۔ لیکن ایسے عمل کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔
    طلباء کو چاہئے اپنے اندر دین کی روح پیدا کریں۔ میں نے پہلے ایک بار توجہ دلائی تھی تو اس کا بہت اثر ہوا تھا۔ بعض طلباء جو داڑھیاں مُنڈاتے تھے انہوں نے رکھ لیں‘ بعض سگریٹ پیتے تھے انہوں نے چھوڑ دیئے۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے پھر یہ وبائیں پیدا ہو رہی ہیں پس میں پھر انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح آپ کریں۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے ان سے چھوٹی عمر کے طلباء دینی کام کرتے رہے ہیں۔ میں خود جب بارہ تیرہ سال کا تھا تو میں نے انجمن تشحیذالاذہان قائم کی تھی اور سترہ برس کی عمر میں مَیں اس رسالہ کا ایڈیٹر تھا۔ کئی ایسے طالب علم ہیں جو اس سے زیادہ علم رکھتے ہیں جو مجھے اُس وقت تھا خدا تعالیٰ نے انہیں مجھ سے بڑھ کر کام کرنے کی قابلیت دی ہے انہیں اللہ تعالیٰ نے اچھی صحت دی ہے اگر وہ چاہیں تو خوب کام کر سکتے ہیں۔ پھر باہر کی جماعتوں کو بھی جنہوں نے ابھی تک اس طرف توجہ نہیں کی متوجہ کرتا ہوں کہ وہ نہ صرف خود دینی کاموں میں حصہ لیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا کریں‘ اپنے اپنے ہاں ہر ہفتہ جلسے کریں۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں جی ہم کیا کریں ہماری جماعت کے بڑے لوگ شامل نہیں ہوتے لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اصل میں بڑا وہ ہے جو دین کے کام میں تعاون کرتا ہے۔ جو آکر ہمارے ساتھ بیٹھ کر دینی امور کے لئے خدمات ادا کرنے کو تیار نہیں وہ ہرگز بڑا نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ دنیاوی عزت بھی ایک چیز ہے۔ رسول کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا کون سی قوم زیادہ عزت والی ہے؟ تو آپ نے فرمایا جو قومیں پہلے معزز تھیں وہ ایمان لانے کے بعد بھی معزز ہیں ۱؎ تو جو شخص عزت رکھتا ہے اور ساتھ ہی دینی کام میں ہمارے ساتھ شامل ہوتا ہے وہ تو بے شک ہمارے نزدیک بڑا ہونا چاہئے اور اس کا اعزاز اور احترام واجب ہے۔ لیکن جو ایسا نہیں کرتا وہ کوئی معزز نہیں کیونکہ صرف دنیاوی وجاہت کوئی قابلِ عزت چیز نہیں۔ جو لوگ اس خیال سے کام چھوڑ دیتے ہیں کہ بڑے ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوتے ان کے نزدیک گویا روحانی فضیلت کوئی چیز نہیں اور دنیاوی عزت ہی اصل بڑائی ہے۔ ورنہ جو شخص یہ سمجھ لے کہ میں خدا کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور اصل عزت دینی خدمت میں ہے وہ پھر اس بات سے کیونکر گھبرا سکتا ہے کہ کوئی بیرسٹریا ڈپٹی میرے ساتھ شامل نہیں ہوتا۔ اسے خود اپنے آپ کو ان سے بڑا سمجھنا چاہئے۔ ورنہ جب یہ کہا جائے کہ بڑے آدمی ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوتے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ بڑائی دین کے باہر ہے مگر یہ قطعاً غلط بات ہے۔ میں تو ایسے بڑے لوگوں کو مؤلفۃ القلوب کہا کرتا ہوں۔ بعض نادان کہہ دیتے ہیں آپ بڑوں سے خا ص سلوک کرتے ہیں حالانکہ وہ سمجھتے نہیں۔ قرآن کریم نے بھی ان کا خاص حصہ رکھا ہے۔ ۲؎ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی رسول کریم ﷺ نے ابوبکرؓ ‘ عمرؓ ‘ عثمانؓ یا علیؓ کو اتنا مال دیا جتنا مؤلفۃ القلوب کو دیتے تھے۔ پس یہ کہنا کہ فلاں سے زیادہ سلوک کیا جاتا ہے اپنے ایمان سے ٹھٹھا کرنا ہے۔ ہاں اگر مؤلفۃ القلوب بھی ترقی کر کے ایمان کے درجہ پر آ جائیں تو پھر ان سے بھی مساوی سلوک ہو گا۔ ہر ایک کو یہ خیال کرنا چاہئے کہ میں نے خدا کے لئے کام کرنا ہے کسی بڑے آدمی کے لئے نہیں کرنا۔ اگر ایسے مفروضہ بڑے آدمی احمدی نہ ہوتے تو جب بھی ہم نے کام کرنا تھا۔ خدا کی نظر میں سب بڑے ہیں۔ دنیاوی عزت رکھنے والے ہمارے نزدیک اُسی وقت بڑے ہوں گے جب دینی روح بھی ان کے اندر پیدا ہو جائے۔ یہ بڑائی کا معیار مختلف مقامات پر مختلف ہوتا ہے۔ ایک جگہ گرد اور کو بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے اور وہاں کے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ گرد اور صاحب دینی کاموں میں حصہ نہیں لیتے۔ لیکن دوسری جگہ کوئی نائب تحصیلدار ہوتا ہے اور وہ حصہ نہیں لیتا تو اسے بڑا آدمی قرار دے کر شکایت کی جاتی ہے اور شکایت کرنے والا خود گرد اور ہوتا ہے وہاں وہ اپنے آپ کو چھوٹا اور نائب تحصیلدار کو بڑا سمجھتا ہے۔ اسی طرح اگر کہیں کوئی احمدی ڈپٹی ہو جو دینی کاموں میں حصہ نہ لے تو اسے بڑا قرار دے کر اس کی شکایت کی جاتی ہے اس طرح بڑائی کا معیار بدلتا رہتا ہے۔ ایک جگہ جسے بڑا سمجھا جاتا ہے دوسری جگہ وہی اپنے آپ کو چھوٹا قرار دے لیتا ہے۔ دراصل اس قسم کی بڑائی اسلام کے نزدیک کوئی بڑائی نہیں۔ اسلام اُسی کو بڑا قرار دیتا ہے جو دین میں بڑا ثابت ہو۔
    پس دوستوں کو اپنے اپنے مقام پر تبلیغ کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ میں نے جلسہ پر اعلان کیا تھا کہ میں چھوٹے چھوٹے تبلیغی اشتہار شائع کروں گا جو مختصر ہوں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں شائع ہوتے تھے۔ اس سلسلہ کا پہلا اشتہار قریباً مکمل ہو چکا ہے لیکن اس کام کیلئے ہمارے پاس کوئی بجٹ نہیں اس لئے یہ کام اُسی وقت ہو سکتا ہے جب دوست اس کی طرف توجہ کریں۔ میرا اندازہ ہے غالباً پانچ روپے ہزار پر خرچ ہوں گے۔ پس قادیان اور باہر کی جماعتوں کو چاہئے کہ تحریک کر کے اس کی اشاعت کا انتظام کریں۔ میری غرض یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے۔ ان میں سب باتیں علمی نہیں ہونگی بلکہ کچھ علمی دلائل ہوں گے اور کچھ جذبانی رنگ ہو گا جس میں بتایا جائے گا کہ زمانہ کی حالت بتا رہی ہے کہ اِس وقت کسی مصلح کی ضرورت ہے اور اِس کی جماعت میں شامل ہوئے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک لاکھ یا کم سے کم پچاس ہزار شائع ہونا چاہئے اس لئے ہر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنی جگہ پر انتظام کر کے اس کی خریداری کے لئے نظارت دعوت و تبلیغ کے پاس آرڈر بھیج دیں۔
    میں نے ہر رنگ میں اس پہلو پر غور کیا ہے اور آخر اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سلسلہ کی ترقی کے بغیر اسلام کا بچاؤ نہیں۔ پہلے یہ بات ایمان کی بناء پر تھی مگر اب مشاہدہ بھی ہو گیا ہے۔ میں نے خود بھی مل کر اور دوستوں کو ملاقاتوں کے لئے بھیج کر معلوم کیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر قربانی کرنے کی روح مٹ چکی ہے اور ہر کسی کو اپنے نفس کی بڑائی کا ہی خیال ہے اسلامی ہمدردی سے کوئی کام نہیں کر رہا۔ لاکھوں میں شاید کوئی ایسا آدمی مل جائے جس پر اسلام کی محبت کا چھینٹا پڑا ہو۔ مگر احمدی جماعت کا ہر فرد اِلاَّ مَاشَائَ اللّٰہُ کیونکہ ہر جماعت میں کمزور بھی ہوتے ہیں تاہم ہمارے کمزور بھی دین کی خدمت کے لئے دوسروں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ وہ جن کے متعلق ہم شبہ کرتے ہیں کہ شاید منافق ہوں جب غیروں میں جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ایسے اولیا ء اللہ ہم نے کبھی دیکھے نہیں۔ یہی روح ہے جس سے سلسلہ کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے لیکن یہ روح جماعت میں داخل ہو کر ہی پیدا ہو سکتی ہے۔ میں زیادہ بولنا نہیں چاہتا لیکن مدرسہ کے معاملہ نے مجھے جوش دلا دیا اور اب میں تکلیف محسوس کر رہا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس فرض کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اُس نے ہمارے ذمہ لگایا ہے۔ حتیّٰ کہ ہمارے بوڑھے‘ جوان‘ بچے‘ عورت‘ مرد‘ لڑکے‘ لڑکیاں وغیرہ دنیا کے اندر مفیدوجود ثابت ہو سکیں۔ محض ہماری پیدائش دنیا کے لئے مفید نہیں ہو سکتی جب تک ہمارا وجود مفید نہ ہو۔
    (الفضل ۱۷۔ جنوری ۱۹۳۰ئ)
    ۱؎ بخاری کتاب المناقب باب المناقب وقول اللّٰہ تعالیٰ یایھاالناس
    اناخلقنکم من ذکروانثٰی
    ۲؎ التوبۃ: ۶۰






    ۳۵
    نظامِ جماعت کے متعلق ضروری ہدایات
    خلیفہ سے ہر ایک احمدی کا براہِ راست تعلق ہے
    (فرمودہ۱۷ ۔جنوری ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    میں گھر سے تو ایک اور مضمون کے متعلق آج خطبہ پڑھنے کے لئے نکلاتھا لیکن راستہ میں اور جمعہ کیلئے گھر سے نکلنے کے قریب وقت میں مجھے بعض خطوط ایسے طالب علموں کی طرف سے ملے ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں میرا کچھ بیان کرنا ضروری ہے۔ شاید طالب علموں کو خیال ہو کہ انہیں کوئی تکلیف پہنچے۔ اس لئے میں اس بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں تا ایسا نہ ہو کہ ان طالب علموں کے دل میں خیال پیدا ہو کہ ان کے خطوط ان لوگوں کے پاس پہنچ جائیں گے جن کے قریب انہیں رہنا پڑتا ہے یا کسی اور طریق سے ان کا پتہ لگ جائے گا۔ میں انہیں بتا دیتا ہوں کہ ان کے نام ظاہر نہ کئے جائیں گے گو ان شکایتوں کی تحقیقات کی جائے گی جو انہوں نے لکھی ہیں۔
    مجھے ان خطوط کو پڑھ کر نہایت ہی حیرت ہوئی ان طالب علموں کی اخلاقی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے جنہوں نے شکایات لکھی ہیں۔ بظاہر یہی خیال آتا ہے کہ ان کی باتوں کو درست سمجھ لوں لیکن اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ استاد کا کام لڑکوں کو اخلاق اور آداب سکھانا اور ان میں دینداری پیدا کرنا ہے یہی کہوں گا کہ وہ باتیں صحیح نہ ہوں اور اگر خدانخواستہ صحیح ہوں تو جِن کے متعلق وہ ہیں ایسے لوگوں کا محکمہ تعلیم میں ہونا اس محکمہ کی نیک نامی کا موجب نہیں ہو سکتا۔
    سب سے پہلے تو میں ایک اور امر کی طرف قادیان کے لوگوں کو اور باہر کے لوگوں کو‘ طالب علموں کو اور دوسرے لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ یہ ایک ایسا امر ہے جس کے متعلق لوگوں میں عام طور پر غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے اور اِس وجہ سے بعض لوگ حقیقتِ حال مجھ تک نہیں پہنچاتے یا اپنے خیال میں نہیں پہنچا سکتے۔ میں اس بارے میں آج ایک عام ہدایت دینا چاہتا ہوں جس کے یاد رکھنے سے احبا ب آئندہ ایسا طریق اختیار کر سکتے ہیں جو ان کے اپنے لئے بھی مفید ہو اور دوسروں کے لئے بھی فائدہ رساں ہو سکتا ہے۔
    سب سے پہلے اس امر کو یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی ایسی رپورٹ یا ایسا خط جو گمنام ہو اس کی طرف میں توجہ نہیں کیا کرتا خواہ اس کا مضمون کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو ایسے دوست خواہ وہ قادیان کے ہوں‘ خواہ باہر کے ہوں‘ طالب علم ہوں یا دوسرے لوگ ہوں جنہوں نے کوئی امر مجھ تک پہنچانا ہوا نہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ایسی ہر ایک تحریر جس کے نیچے لکھنے والے کا نام نہ ہو اور صحیح نام نہ ہو (مصنوعی اور بناوٹی نام اگر لکھ دیا جائے تو اس کی طرف بھی توجہ نہیں کی جاتی) اس کی طرف قطعاً کسی صورت میں بھی مَیں توجہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ بلکہ اگر کسی امر پر توجہ کر بھی رہا ہوں اور اس کے متعلق گمنا م خط آ جائے تو جان بوجھ کر اسے تعویق میں ڈال دیتا ہوں تا کہ بُزدلی اور منافقت کی سزا اس شخص کو ملے۔
    میرے نزدیک اس سے زیادہ بُزدلی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ بغیر اپنا نام ظاہر کئے کسی امر کی طرف توجہ دلائی جائے۔ پس ایک تو اس امر کو یاد رکھو کہ کوئی تحریر بے نام نہیں ہونی چاہئے۔ بیشک بعض حالات میں بعض انسانوں کو نام ظاہر ہو جانے پر تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے یا بعض لوگوں میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ سامنے ہو کر مقابلہ کر سکیں۔ یا حالات ایسے ہوتے ہیں کہ جس امر کا وہ ذکر کرتے ہیں اس کا ثبوت وہ اپنی شہادت کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتے۔ ایسی حالت میں ایک طریق بتاتا ہوں اس پر عمل کر کے اپنی ذمہ داری سے بھی ایسے اصحاب سبکدوش ہو سکتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی مفید بن سکتے ہیں۔
    مگر قبل اس کے کہ میں وہ طریق بتاؤں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ اس بات کی طرف بھی توجہ نہیں کی جاتی جس کی کوئی ایسی کڑی نہ بتائی جائے جس سے اس امر کی تحقیقات کی جا سکے۔ مثلاً لکھا جاتا ہے لوگ یوں کہتے ہیں یا ایسا ہو رہا ہے۔ ا س سے کیا پتہ لگ سکتا ہے کہ کون سے لوگ یوں کہتے ہیں یا کہاں ایسا ہو رہا ہے۔ چاہئے کہ ایسے لوگوں کا نام لکھا جائے ورنہ اس امر کی طرف بھی توجہ نہیں کی جا سکتی۔ توجہ اُسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ یا تو یہ لکھا جائے کہ فلاں بات میری چشم دید ہے یا میں نے اپنے کانوں سے سُنی ہے یا زید یا بکر یا خالد کو کہتے سنا ہے۔ یا فلاں نے مجھ سے کہا کہ میں نے یہ بات خود دیکھی یا سنی ہے اس طرح ایسی کڑی معلوم ہو جاتی ہے جس سے تحقیقات کی جا سکتی ہے۔
    کئی لوگ ہیں جو اس قسم کے خطوط بھیجتے ہیں کہ لوگ یوں کہتے ہیں یا یوں ہو رہا ہے اور پھر کہتے ہیں ان کے خط پر توجہ نہیں کی گئی حالانکہ جب وہ کسی کا نام ہی نہیں لکھتے تو توجہ کس طرح کی جائے۔ اگر انہوں نے واقعہ میں کسی سے وہ بات سُنی تھی تو سنانے والے کا نام کیوں نہ یاد رکھا یا اگر کسی کووہ بات کرتے دیکھا تھا تو اس کا نام کیوں نہ لکھا۔ پس اس قسم کی رپورٹ کرتے وقت ضروری ہے کہ لکھا جائے فلاں کو یہ بات مَیں نے کرتے دیکھا یا فلاں نے مجھے یہ بات سنائی۔ اگر یہ ڈر ہو کہ اس کا خط کسی اور کے ہاتھ میں نہ جا پڑے تو میں ایسے لوگوں کو تسلی دیتا ہوں کہ کوئی خط میرے پڑھے بغیر اور میرے خود بھیجے بغیر دفتر میں نہیں جاتا۔ اس سارے عرصہ خلافت میں کوئی چار پانچ دفعہ ایسا ہوا ہے کہ شدید بیماری کی حالت میں ڈاک کا کچھ حصہ بغیر پڑھے دفتر میں چلا گیا یا بعض اوقات ایسے خطوط بھیج دیئے جاتے ہیں جن کے متعلق مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں لمبی تبلیغی رپورٹیں ہیں۔ ان کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے خلاصہ سنا دیا جائے۔ ورنہ کوئی خط خواہ اس میں کوئی راز کی بات ہو یا نہ ہو دعا کے متعلق ہو یا کسی اور امر کے متعلق بغیر میری نظر سے گذرے اور بغیر میری مرضی کے دفتر میں نہیں جاتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ بعض دفعہ بعض خطوط میں ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ اگر وہ دفتر میں چلی جائیں تو موجبِ ابتلاء ہو سکتی ہیں۔
    پس اوّل تو میں یہ تسلی دلاتا ہوں کہ کوئی خط کسی اور کے ہاتھ میں نہیں جاتا جب تک کہ میں اس کا جانا مناسب نہ سمجھوں۔ لیکن اس کے علاوہ اس بارے میں ایک اور گُر بھی بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ لکھنے والا یوں لکھ سکتا ہے کہ بعض لوگوں کو میں نے یہ بات کرتے یا یہ بات کہتے سنا ہے لیکن چونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ میرا خط کسی اور کے ہاتھ میں نہ جا پڑے اس لئے اگر آپ نام پوچھیں گے تو بتا دیئے جائیں گے۔ ایسی صورت میں اگر بھُولے سے کوئی خط دفتر میں چلا بھی جائے گو جیسا کہ میں نے بتایا ہے ممکن سے ممکن احتیاط کی جاتی ہے تاہم اگر فرض کر لیا جائے ہزاروں میں سے کوئی ایک مثال ایسی بھی ہو سکتی ہے اور کوئی اطلاع دینے والا اس سے ڈرتا ہے تو وہ یوں لکھے کہ مجھ سے اس بارے میں جو کچھ پوچھا جائے گا میں بتا دوں گا تو اس طرح لکھنے سے اطمینان ہو جائے گا کہ اس نے یونہی گپ نہیں لکھی بلکہ واقعہ لکھا ہے۔
    تیسری بات ایک اور کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص اس قسم کی شکایت کرے کہ اس کا ثبوت اس کے پاس سوائے اپنی ذات کے کوئی نہ ہو۔ مثلاً اس نے کسی کو فتنہ کی بات کرتے سنا یا دیکھا مگر اُس وقت وہ اکیلا ہی تھا اور کوئی گواہ نہ تھا۔ یا یہ کہ اسے معلوم ہو کہ جن کے سامنے وہ بات کہی یا کی گئی وہ گواہی نہ دیں گے تو یوں لکھ سکتا ہے یہ بات فلاں کو میں نے کہتے یا کرتے دیکھا مگر اِس کا گواہ سوائے میرے اور کوئی نہ تھا۔ یا یہ کہ فلاں فلاں کے سامنے فلاں بات ہوئی مگر مجھے پتہ ہے کہ وہ گواہی نہ دیں گے اس لئے میں بطور اطلاع یہ بات لکھتا ہوں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے ایسی باتیں ذاتی نہ ہونی چاہئیں۔ اگر کسی کی اپنی ذات سے کوئی قصور سرزد ہوا ہے تو اس کے متعلق ایسی شکایت کرنا گناہ ہے اور اگر کسی اور کی ذات کے متعلق ہے تو اس کا ذکر بھی گنا ہ ہے۔ ہاں اگر ایسی بات جماعت اور سلسلہ سے تعلق رکھتی ہو تو اس کے متعلق اطلاع دینا گناہ نہیں بلکہ قومی فرض ہے۔ مثلاً اگر کوئی کسی کو قومی مال کو نقصان پہنچاتے دیکھے یا سلسلہ اور جماعت کو بدنام کرتے دیکھے تو ایسے شخص کی رپورٹ دے سکتا ہے بغیر اس کے کہ اپنی ذات کے سوا اس کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو۔ لیکن اگر کوئی کسی ایسی بدی میں مبتلاء ہو جو اس کی ذات سے تعلق رکھتی ہو تو اس کے متعلق خاموش رہنا چاہئے اور اس کے لئے دعا کرنی چاہئے کیونکہ ذاتی معاملات میں خدا تعالیٰ نے ستّاری کو ترجیح دی ہے مگر قومی معاملات میں اطلاع دینے کو ترجیح دی ہے۔ قرآن کریم کو پڑھ کر دیکھ لو جہاں ذاتی بُرائی کے متعلق پردہ پوشی کی تلقین کی گئی ہے وہاں قومی بُرائی کا بیان کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔
    پس یہ فرق بھی سمجھ لینا چاہئے۔ بعض لوگ دوسروں کی ذاتی بُرائیاں پہنچانے لگ جاتے ہیں۔ ان کی طرف نہ صرف توجہ نہیں کی جا سکتی بلکہ ایسی باتیں بیان کرنے والوں کی اصلاح کے لئے میں انہیں ڈانٹ دیتا ہوں کیونکہ عیب چینی اور بدگوئی کو اسلام پسند نہیں کرتا۔ ہاں جو باتیں جماعت اور سلسلہ کے خلاف ہوں ان کا بیان کرنا پسند کرتا ہوں خواہ اس طرح کسی انسان کو نقصان ہی پہنچے۔ ایسے امور کے متعلق جب اطلاع دی جائے تو یوں نہ لکھا جائے کہ لوگ یہ کہتے ہیں بلکہ یوں ہو کہ میں نے فلاں کو یہ بات کہتے یا کرتے دیکھا۔ یا فلاں نے دیکھا اور مجھے سنایا لیکن میرے سوائے اور کوئی اِس بات کا گواہ نہیں۔ یا گواہ ہیں تو سہی لیکن گواہی نہ دیں گے اس لئے میں بطور اطلاع لکھتا ہوں۔ ہم ایسی باتوں پر کوئی گرفت نہ کر سکیں گے مگر ہوشیار ہو جائیں گے اور اس بات کا خیال رکھیں گے۔
    ایک دفعہ ایک عزیز نے مجھے آ کر کہا فلاں شخص فلاں جماعت میں اس قسم کی باتیں کر کے فتنہ پھیلا رہا ہے۔ میں نے اس کی بات سن لی مگر کچھ جواب نہ دیا۔ کچھ دنوں کے بعد پھر اس نے آ کر یہی بات کہی اور اس پر بہت زور دیا۔ میں نے کہا یہ آپ کی رائے ہے اور مجھے اس بات کا علم آپ کے سنانے سے پہلے کا ہے مگر شریعتِ اسلامی ایسی صورت میں اجازت نہیں دیتی کہ میں ہاتھ ڈالوں۔ وہ میرے متعلق اور میرے ہی خلاف سازش تھی۔ مگر میں نے کہا جب شریعت اجازت نہیں دیتی تو خواہ کوئی بات میری ذات کے متعلق ہو یا کسی اور کے متعلق میں کچھ نہیں کر سکتا۔ پھر میں یہ بھی نہیں کر سکتا کہ کسی اور بہانہ سے اسے کوئی سزا دوں کیونکہ یہ دیانت اور تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس پر اس عزیز نے جوش میں آ کر کہا اس کے تو یہ معنی ہوئے کہ فساد بڑھتا جائے اور اسے روکا نہ جائے۔ میں نے کہا جو خدا روکتا ہے کہ ایسی بات کی سزا نہ دو وہ فساد کا بھی ذمہ دار ہے وہی اس کے متعلق انتظام کرے گا۔ پس خدا تعالیٰ نے جہاں حد بندی کر دی ہے وہاں ہمیں دخل دینے کی ضرورت نہیں اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اگر اس وجہ سے کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کہہ دیں گے اس لئے ہوا کہ آپ نے کہا تھا فلاں موقع پر سزا دینی چاہئے اور فلاں موقع پر چشم پوشی کرنی چاہئے۔ اور میں تو سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے جب کوئی ایسا فتنہ پیدا ہونے لگے تو خود اس کی اصلاح کر دیتا ہے۔ خدا تعالیٰ چونکہ بندوں کے متعلق یہی پسند کرتا ہے کہ ان کی اصلاح ہو اور وہ توبہ کریں اس لئے ڈھیل دیتا ہے اور جب خدا تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے اور توبہ کا دروازہ کُھلا رکھتا ہے تو کسی بندے کا کیا حق ہے کہ اسے بند کرے۔ خواہ فتنہ پھیلانے والا میری ذات کے متعلق شرارت کرے یا کسی اور کی ذات کے متعلق۔ پس جب کوئی ذاتی معاملہ ہو گا تو اس کا تصفیہ شہادت پر اسی طریق سے ہو گا جو شریعت نے مقرر کیا ہے اور اگر کوئی قومی معاملہ ہو گا تو اس کا فیصلہ رائے عامہ سے ہو گا اس کے بغیر نہیں۔
    بعض لوگوں کو یہ بھی دھوکا لگا ہے کہ وہ اگر کوئی بات مجھ تک پہنچانا چاہئیں تو اسے نہیں پہنچا سکتے اور اس کے لئے انہیں موقع نہیں دیا جاتا۔ یاد رکھنا چاہئے ہر ایک احمدی ہر ایک بات جو مجھ تک پہنچانا چاہے پہنچا سکتا ہے سوائے اس بات کے کہ جو دفتر ی لحاظ سے اس کی ذات کے متعلق ہو۔ مثلاً اگر کوئی یہ لکھے کہ میری ترقی روک دی گئی ہے یا مجھے فلاں حق نہیں دیا گیا تو اس قسم کی باتوں پر میں اُس وقت تک غور نہ کروں گا جب تک متعلقہ دفتر کے ذریعہ کاغذ نہ آئے۔ لیکن اگر کوئی اِس قسم کی بات ہو (خدانخواستہ) کہ دفتر میں فلاں خیانت کرتا ہے یا قومی کام کو نقصان پہنچاتا ہے تو اِس قسم کی شکایت کو میں سنوں گا کیونکہ قوم کے ہر ایک فرد کا خواہ وہ کلرک ہو یا چپڑاسی فرض ہے کہ قومی حقوق کی حفاظت کرے۔ اسی طر ح اگر کوئی یہ لکھنا چاہے کہ فلاں نظام میں تبدیلی ہونی چاہئے اور انتظام کی صورت یہ ہے تو بھی لکھ سکتا ہے خواہ لکھنے والا کوئی ہو۔ کیونکہ اس کا خلافت سے براہِ راست ویسا ہی تعلق ہے جیسا ناظر اعلیٰ کا‘ یا دوسرے ناظروں کا یا کلرکوں کا‘ یا چپڑاسیوں کا‘ یا جو کوئی بھی سلسلہ کا کام کرتا ہے محض ڈسپلن کے قیام کے لئے یہ رکھا گیا ہے کہ جو بات کسی کارکن کی ذات کے متعلق ہو وہ براہِ راست میرے پاس نہیں آنی چاہئے اس کے لئے ضروری ہے کہ افسر کی رائے بھی ساتھ ہوتا کہ دونوں کی بات اکٹھی میرے سامنے آئے۔ باقی سلسلہ کے نظام کے متعلق تجاویز پیش کرنے یا کسی فتنہ و فساد کے متعلق اطلاع دینے سے کسی نے کسی کو منع نہیں کیا اور نہ کوئی منع کر سکتا ہے۔ جب تک خلافت قائم ہے ہر ایک احمدی کا براہِ راست خلیفہ کے ساتھ تعلق ہے جیسے خدا تعالیٰ سے ہر ایک انسان کا براہ راست تعلق ہے۔ مگر دیکھو بعض معاملات میں اللہ تعالیٰ نے بھی حد بندی کر دی ہے۔ مثلاً انسانوں کے آپس کے معاملات کے متعلق ہر ایک انسان کا خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہے لیکن معاملات میں براہِ راست کوئی حکم جاری نہیں کر سکتا۔ اگر ایک شخص دوسرے کو تھپڑ مارتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا ۱ ؎ مگریہ اجازت نہیں دیتاکہ خود تھپڑ مار لیا جائے بلکہ قاضی کے توسّط سے تھپڑ لگواتا ہے۔ تو خدا تعالیٰ نے بھی بعض امور کے متعلق قیود لگائی ہیں مگر پھر یہ بھی کہتا ہے کہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں حتیٰ کہ رسول بھی واسطہ نہیں۔ خلفاء بھی دنیا میں خدا تعالیٰ کے قائمقام ہوتے ہیں اس لئے ان کے اور ان کے ماننے والوں کے درمیان بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا سوائے محکمانہ امور کے جو کسی کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں۔ مثلاً ترقی یا سزا یا کسی امر میں بے انصافی وغیرہ کے متعلق ہوں ایسے امور متعلقہ افسر کے ذریعہ آنے چاہئیں۔ یا ایسا کام جس پر کوئی شخص مقرر ہے اس کے متعلق اگر کوئی رپورٹ کرتا ہے تو وہ افسر کے ذریعہ آنی چاہئے۔ ہاں اگر اس امر کے متعلق مثلاً صیغہ دعوت و تبلیغ میں کوئی کام خراب ہو رہا ہے یا افسر کا رویہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا نہیں تو اس قسم کی باتیں براہِ راست لکھی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح کوئی کارکن اپنے کام کے متعلق براہِ راست مجھ سے پوچھ سکتا ہے اور اسی طرح پوچھ سکتا ہے جس طرح ناظر پوچھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ میرے مشورہ کو اپنے لئے آڑ نہ بنائے۔ مثلاً اگر ایک ماسٹر میرے پاس آ کر کہے کہ فلاں انتظام جو میرے سپرد ہے وہ میں اس طرح کرنا چاہتا ہوں آپ کا اس کے متعلق کیا مشورہ ہے تو میں اسے مشوردہ دوں گا مگر یہ نہیں کہ اگر ناظر اپنے قواعد کے ماتحت اس پر گرفت کرے تو وہ یہ کہہ کر بَری ہونا چاہے کہ خلیفۃ المسیح نے اس طرح کہا تھا۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ اپنے کاغذات افسر کے ذریعہ میرے پاس بھیجے ورنہ میں اسے جو مشورہ دوں گا وہ ایسا ہی مشورہ ہو گا جیسا وہ اپنے کسی ذاتی کام مثلاً بیاہ شادی کے متعلق مجھ سے مشورہ لیتا ہے۔ پس اگر کوئی افسر یا کارکن ایسے امور کے متعلق مجھ سے مشورہ لینا چاہے جو اس کے اختیار سے تعلق رکھتے ہیں تو میں مشورہ دوں گا مگر اس کا یہ حق نہ ہو گا کہ اگر افسر اس سے جواب طلبی کرے تو وہ کہہ دے کہ خلیفۃ المسیح نے اس طرح کہا تھا۔ اگر افسر اس کے فعل کو ناجائز قرار دے اور خلافِ قاعدہ بتائے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ خلیفۃ المسیح سے میں نے مشورہ لے لیا تھا۔ کیونکہ جو مشورہ میں نے اسے دیا تھا وہ ذاتی مشورہ تھا اور اس کی ذمہ داری اس پر عائد ہو گی۔ پس اس لحاظ سے اگر کوئی کارکن میرے پاس مشورہ کے لئے آئے تو خواہ وہ چپڑاسی ہو یا کلرک یا ناظر میں اسے مشورہ دوں گا مگر اس پر عمل کرنا اس کی اپنی ذمہ داری پر ہو گا۔ مثلاً اگر کوئی طالب علم میرے پاس آئے اور آ کر کہے میری ماں بیمار ہے مجھے اس کے پاس جانا چاہئے یا نہیں تو میں کہوں گا ضرور جانا چاہئے لیکن وہ اپنے افسر سے رخصت لئے بغیر چلا جائے اور جب افسر اس پر سزا دے تو وہ حق بجانب ہو گا کیونکہ اس سے رخصت لینا ضروری تھا۔
    بعض لوگ ان تفصیلات کے نہ سمجھنے کی وجہ سے خیال کر لیتے ہیں کہ میرے اور ان کے درمیان اور لوگ واسطہ ہیں مگر یہ درست نہیں۔
    نظام کی پابندی کے لئے جو قواعد بنائے گئے ہیں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے یہ پابندی مجھ سے مشورہ لے لینے سے دور نہیں ہو جاتی۔ مثلاً کسی سکول کا ہیڈ ماسٹر میرے پاس آ کر کہے میں یہ بات کرنا چاہتا ہوں اور میں کہہ دوں کر لو۔ لیکن کسی قاعدہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے ناظر اس کے متعلق پوچھے اور ہیڈ ماسٹر کہہ دے خلیفۃ المسیح کے مشورہ سے میں نے ایسا کیا تو یہ جائزہ نہ ہو گا۔ میں صرف انہی امور کے متعلق کسی کو مشورہ دے سکتا ہوں جن کا کرنا اس کے اپنے اختیار میں ہو اور پھر ان میں بھی ذمہ داری اسے اپنے اوپر لینی چاہئے نہ کہ مجھ پر رکھنی چاہئے۔ یہی قاعدہ ناظروں کے لئے ہے۔ انہیں حق ہے کہ مجھ سے مشورہ لیں مگر پھر وہ کام اپنی ذمہ داری پر کرنا ہو گا کیونکہ جو رائے میں دیتا ہوں اس کے متعلق ان کی مرضی پر ہوتا ہے کہ عمل کریں یا نہ کریں۔ ہاں جب نظارت کسی امر کے متعلق میرا مشورہ نہیں بلکہ حکم لینا چاہتی ہے تو اس کیلئے وہی پابندی ہے کہ اس کا کاغذ ناظر اعلیٰ کے ذریعہ آئے۔ اُس وقت میں جو حکم دوں اُس کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے لیکن جو مشورہ براہِ راست لیا جائے اس کی ذمہ داری مشورہ لینے والے پر ہی ہوتی ہے۔
    یہ ایسا طریقِ عمل ہے کہ جس کی وجہ سے کوئی دھوکا نہیں لگ سکتا۔ مگر بہت لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں مشورہ لینے یا کوئی بات پیش کرنے کا حق حاصل نہیں۔ حق ہر ایک کو ہے لیکن یہ نہیں کہ ذمہ داری مجھ پر ڈالی جائے بلکہ خود ذمہ دار ہونا چاہئے۔
    یہ ہدایات میں نے اس لئے دی ہیں کہ باہر کی جماعتیں بھی اس قسم کی غلط فہمیوں سے بچ سکتی ہیں جو لاعلمی کی وجہ سے پائی جاتی ہیں اور ان لوگوں کا حجاب بھی دور ہو سکتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ افسروں کی شکایتیں کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اس میں نہ افسر کے لئے کوئی خاص حق ہے نہ ماتحت اس حق سے محروم ہے اور نہ طالب علم اس سے محروم ہے۔ ایک طالب علم اسی طرح کوئی بات مجھ تک پہنچا سکتا ہے جس طرح مدرس اور ایک مدرس اسی طرح مجھ تک پہنچا سکتا ہے جس طرح ہیڈ ماسٹر اور ہیڈ ماسٹر اسی طرح اپنی بات میرے سامنے پیش کر سکتا ہے جس طرح ناظر اور ناظر اسی طرح مجھ سے مشورہ لے سکتا ہے۔ جس طرح ناظر اعلیٰ۔ مگر جو فرق میں نے بتایا ہے اسے ملحوظ رکھنا چاہئے۔ یعنی اگر کوئی خود مشورہ کے لئے آئے تو چونکہ ہر ایک احمدی کے ساتھ میرا ایسا ہی تعلق ہے جیسا کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے سے اور مربی کو اپنے ساتھ تعلق رکھنے والے سے۔ اس لئے جس طرح ماں باپ مشورہ دیتے ہیں اسی طرح میں بھی دوں گا۔ مگر وہ میرا مشورہ بلحاظ نظام اور سلسلہ کے نہ ہو گا بلکہ بلحاظ خلافت کے اس روحانی تعلق کے ہو گا جو ہر ایک احمدی کے ساتھ ہے مگر کوئی اس مشورہ کی آڑ میں قانون شکنی یا افسر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ باوجود میرے ساتھ مشورہ کرنے کے اگر کوئی قانون اسے اس کام کے کرنے کی اجازت نہیں دیتا تو اس کا کرنا اس کے لئے جائز نہ ہو گا۔ جیسے میں نے طالب علم کی مثال دی ہے کہ وہ آ کر مجھے کہے کہ میری ماں بیمار ہے مجھے کیا کرنا چاہئے؟ تو میں مشورہ دوں گا کہ چلے جاؤ۔ مگر اس کا یہ مطلب نہ ہو گا کہ وہ سکول سے چُھٹی لینے سے آزاد ہو گیا چُھٹی اس کیلئے لینی ضروری ہو گی۔ یہی بات دوسروں کیلئے ہے۔
    میں نے ان امور کی اِس لئے وضاحت کر دی ہے کہ میرے پاس شکایت پہنچی تھی کہ بعض لوگوں کو احساس ہے کہ انہیں مجھ تک پہنچنے کی اجازت نہیں۔ یہ غلط ہے۔ خواہ کوئی کتنا چھوٹا ہو یا بڑا ہو‘ عمر کے لحاظ سے خواہ کوئی کتنا چھوٹا یا بڑا ہو‘ تجربہ کے لحاظ سے خواہ کوئی کتنا چھوٹا ہو یا بڑا ہو‘ علم کے لحاظ سے ہر معاملہ میں خواہ وہ بات چھوٹی یا بڑی ہو خلیفۂ وقت سے مشورہ لینے کا ہر ایک احمدی کو حق ہے بشرطیکہ اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے خلیفہ اسے مشورہ لینے کی اجازت دے۔ یعنی جب وہ اپنی مصروفیتوں کو دیکھ کر وقت دے۔ تو کوئی بات کسی کے متعلق ہو بڑی ہو یا چھوٹی خلیفہ کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ وہ آ کر کہہ سکتا ہے کہ ناظر اعلیٰ کی جگہ یہ انتظام ہونا چاہئے۔ چاہے میں اس کی بات مانوں یا نہ مانوں مگر اس کو بات پیش کرنے کا ایسا ہی حق ہے جیسے ناظر اعلیٰ کو۔ ہاں اگر کوئی طالبعلم آ کر ایسی بات پیش کرتا ہے جو اس کے علم اور عقل سے بالا ہے تو میں اس کی بات سنوں گا اور کہوں گا ابھی تم اس میں دخل نہ دو ابھی تمہیں علم اور تجربہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے مگر یہ نہ کہوں گا کہ تم طالبعلم ہو کر اس میں دخل نہ دو۔ اگر ایک طالبعلم اس بات کے سمجھنے کی عقل رکھتا ہے تو اس کا حق ہے کہ دخل دے اسی طرح اور معاملات میں دوسروں کو حق حاصل ہے۔ مَجلسِ شوریٰ جماعت سے تعلق رکھنے والے اہم امور کے متعلق مشورہ دیتی ہے مگر مجلس شوریٰ اس بات کے لئے خدائی پروانہ لے کر نہیں آئی ہر ایک احمدی کو حق ہے کہ مشورہ دے۔ پس نہ تو مَجلسِ شورٰی میرے اور جماعت کے درمیان کوئی روک ہے نہ کوئی نظارت روک ہے۔ کسی ایسے امر کے متعلق جو کسی سے وابستہ ہے سوائے اس کے کہ اس کا ذاتی معاملہ ہو اسے افسر کے توسّط سے بھیجے۔ ہاں یہ بھی قانون مقرر ہے کہ کوئی افسر کسی کاغذ کو روک نہیں سکتا۔ اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ کسی افسر نے کوئی کاغذ روک لیا اور اتنے عرصہ سے جو کہ دفتر ی کاروبار کے لحاظ سے کسی کاغذ کے آگے بھیجنے کے لئے ضروری ہو زیادہ عرصہ کاغذ روکے رکھا تو پھر وہ براہِ راست بھیج سکتا ہے خواہ وہ دفتری کام کے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔
    اس کے بعد میں اُس خاص امر کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں جو طالب علموں کی طرف سے میرے پاس پہنچا۔ میں ان کاغذات کو پڑھ کر ان سے ایسے امور نکال لوں گا کہ ان کی تحقیقات کرنے پر طالب علموں پر کسی قسم کی گرفت نہ ہو سکے۔ مثلاً اگر کسی ایسی بات کے متعلق تحقیقات کرائی جائے کہ فلاں نے ہم سے یہ بات کہی ہے تو اس سے پتہ لگ جائے گا کہ کن سے یہ بات کہی گئی۔ ایسی باتوں کو میں چھوڑ دوں گا اور باقی جو باتیں ہیں انہیں لے لوں گا مگر طلباء کو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر استادوں میں اس قسم کی باتیں پائی جاتی ہیں جن کا انہوں نے ذکر کیا ہے تو بھی ان پر دین کی طرف سے جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ دُور نہیں ہو سکتی۔
    استادوں کے متعلق اس قسم کی باتیں آج نہیں پہلے بھی کہی جاتی تھیں۔ میں بھی طالب علم رہ چکا ہوں اُس وقت کے استادوں کی حالت خاص طور پر اِس وقت کے استادوں سے اچھی نہ تھی۔ دراصل لوگوں کا یہ عام طریق ہے کہ کہتے ہیں پہلے لوگ اچھے تھے اب ویسے نہیں۔ جو لوگ اصل مرض کی تشخیص سے عاجز ہوتے ہیں وہ اپنی ذمہ داری کو ہلکا کرنے کے لئے ایسے بہانے بنا لیتے ہیں۔ اگر اس قسم کی گواہیوں کو لیا جائے کہ کون سے زمانہ کے لوگ اچھے تھے اور کون سے زمانہ کے بُرے تو ہر زمانہ کے لوگ اپنے سے پہلے زمانہ کے لوگوں کو اچھا کہیں گے اور اپنے زمانہ کے لوگوں کو بُرا۔ اور یہ سلسلہ حضرت آدم ؑ کے زمانہ تک چلتا جائے گا بلکہ ان کے متعلق بھی یہ کہنے والے ہوں گے کہ انہیں جنت سے نکال دیا گیا تھا۔ سو یہ غلط طریق ہے۔
    اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں میں کمزوری پیدا ہوتی ہے وہ اس قسم کی باتیں بناتے ہیں۔ یہ بہت باریک مسئلہ ہے اور بہت وسیع ہے اور جب تک خدا تعالیٰ کی ساری صفات نہ سمجھی جائیں یہ سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ غرض طالب علم اگر چاہیں تو بغیر استادوں کی مدد کے کام کر سکتے ہیں۔ ہمارے زمانہ میں بھی ایسے استاد تھے جو ٹھٹھا مخول بھی کرتے تھے نام بھی دھرتے مگر اس وقت کام ہوا۔ جس وقت طلباء یہ کہتے ہیں کہ اب استاد اچھے نہیں پہلے اچھے ہوتے تھے تو مجھے تعجب آتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب دوسرے پر بھروسہ کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ فلاں نے یہ بوجھ اُٹھانا ہے تو پھر اس کے عیب دکھائے جاتے ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ جو باتیں مجھ تک پہنچائی گئی ہیں ان کی اصلاح ہو مگر یہ کہنا کہ استاد چونکہ اچھے نہیں اس لئے کام نہیں ہو سکتا یہ ایسی ہی بات ہے جیسے یہ کہا جائے کہ گورنمنٹ چونکہ ہماری امداد نہیںکرتی اس لئے ہم کام نہیں کر سکتے۔ دیکھو اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ کہتے کہ گورنمنٹ ہماری کچھ مدد نہیں کرتی اس لئے ہم کیا کریں تو کیا دنیا میں وہ تغیر ہو سکتا تھا جو آپ کے ذریعہ ہوا۔ آپ نے جو کچھ کرنا تھا خود کیا اور کسی کی کوئی پرواہ نہ کی۔ پس میں طلباء سے بھی کہوں گا کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور خود دین کے کام کرنے کی کوشش کریں۔
    اُستادوں پر بھروسہ ہی کیوں کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے محتاج کیوں سمجھتے ہیں۔ مثلاً طالب علموں نے لکھا ہے بعض استاد خود ڈاڑھی نہیں رکھتے تو ہم کیا کریں۔ میں کہتا ہوں یہی کریں کہ ڈاڑھی رکھیں جب ڈاڑھی رکھنا ہمارا قومی شعار ہے تو پھر کیوں نہ رکھی جائے۔ اپنا شعار قائم رکھنے سے اپنی قوم کی عزت ہوتی ہے۔ ہماری بھی ایک قومی بنیاد ہے اس کا قائم رکھنا ضروری ہے۔ ہر ایک قوم کے قومی شعار ہوتے ہیں ان کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ ڈاڑھی کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے عیسائی اور مجوسی مُنڈاتے ہیں تم رکھو۔ ۲؎ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ڈاڑھی رکھنے سے عبادت زیادہ قبول ہوتی ہے بلکہ اس کی وجہ قومی امتیاز بتا دی۔ گوڈاکٹر طبی طور پر بھی ڈاڑھی کے فوائد ثابت کرتے ہیں مگر میں کہتا ہوں اگر اور کوئی بھی فائدہ نہ ہو تو جب یہ ہمارا قومی شعار ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے قائم نہ رکھا جائے اور اس کی پابندی نہ کی جائے۔ بعض صوفیاء نے ایک خاص قسم کا لباس مقرر کر دیا ہے ہم نے انصاراللہ کے لئے بیج مقرر کیا ہے اس کی پابندی ضروری ہے۔ تو بعض باتیں محض شعار اور علامت کے طور پر اختیار کر لی جاتی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی شکایت کی گئی ہے کہ استاد خود سر کے اگلے حصہ پر بال رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اوّل نے اس طرح بال رکھنے کو ناپسند کیا ہے مجھے ایسے بالوں سے اس لئے نفرت ہے کہ اس طرح مردوں میں زنانہ نزاکت پیدا ہوتی ہے مگر میں کہتا ہوں یہ اسلامی شعار کے خلاف ہے۔ ڈاڑھی مُنڈانے والوں کے متعلق میں تحقیقات کروں گا کیونکہ یہ بہت اہم معاملہ ہے کہ ہمارے بچوں کی تربیت جن لوگوں کے سپرد ہو وہ اس طرح اسلامی شعار کی تحقیر کریں۔ مگر میں کہتا ہوں اگر کوئی استاد ڈاڑھی مُنڈاتا ہے تو کیا ہوا کیا گورنر اور وائسرائے ڈاڑھی نہیں منڈاتے جو ہمارے حاکم ہیں۔ ہاں ہر شخص کو اپنی چیز بڑی نظر آتی ہے اس لئے طالب علموں کے نزدیک استادوں کا ڈاڑھی منڈانا بہت اہمیت رکھتا ہے مگر ان سے بھی بڑے ڈاڑھی منڈاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مرنے پر جب لوگ رو رہے تھے تو ایک چوہڑے نے پوچھا کیا ہوا ہے کیوں لوگ روتے ہیں؟ کسی نے بتایا مہاراجہ رنجیت سنگھ مر گئے ہیں۔ یہ سن کر اس نے لمبی آہ بھری اور کہنے لگا باپو جیسے مر گئے تو رنجیت سنگھ کا کیا ہے۔ تو گورنر بھی داڑھی مُنڈاتا ہے اس سے بڑا وائسرائے بھی منڈاتا ہے پھر وزیر ہند اور وزیراعظم بھی مُنڈاتے ہیں۔ بادشاہ نے رکھی ہوئی ہے مگر اس کے متعلق بھی بحث ہو رہی ہے کہ آئندہ شہزادہ ویلز جب بادشاہ ہوں توڈاڑھی رکھیںیا نہ رکھیں۔ پس جب سارے کے سارے حکمران ڈاڑھی مُنڈاتے ہیں تو وہ باپو کس شمار قطار میں جسے طالب علم پیش کرتے ہیں۔ یہ ہمارا کام ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی استاد ڈاڑھی مُنڈاتا ہے تو اس کے متعلق نوٹس لیں طالب علموں کے کام سے اس کا تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض استاد سگریٹ پیتے ہیں۔ یہ بات بھی ہمارے لحاظ سے تو اہم ہے مگر طالب علموں کے لحاظ سے نہیں۔ میرے لحاظ سے اس لئے کہ ایسا شخص اس نظام کی جس کی نگرانی میرے سپرد ہے خلاف ورزی کرتا ہے مگر تمہارے نزدیک اس کی حقیقت ایک مرے ہوئے کُتّے جتنی بھی نہیں۔ دیکھو کئی سکولوں کے استاد شراب بھی پیتے ہیںڈاڑھی تو پھر بھی بادشاہ نے رکھی ہوئی ہے مگر شراب بادشاہ بھی پیتا ہے پھر کیا اگر کسی سکول کا کوئی انگریز استاد شراب پیئے تو اس میں پڑھنے والے طلباء کہہ سکتے ہیں کہ ہم کیا کریں جب استاد شراب پیتا ہے۔ ہمارے احمدی طلباء کالجوں میں پڑھتے ہیں اور کالجوں کے کئی پروفیسر شراب پیتے ہیں مگر طالب علم نہیں پیتے۔ ہو سکتا ہے کہ اگر کسی پروفیسر کاکھانا کالج میں ہی لڑکوں کے سامنے آئے تو اس کے ساتھ شراب کی بوتل بھی ہو۔ پس اگر کالجوں میں پڑھنے والے طلباء اپنے استاد کو شراب پیتا دیکھ کر شراب پینے نہیں لگ جاتے تو تم کسی استاد کو ڈاڑھی مُنڈھا دیکھ کر کیوں ڈاڑھی منڈانے لگ جاؤ تمہیں تو ڈاڑھی رکھ کر ایسے استاد کو شرمندہ کرنا چاہئے۔ اسی طرح اگر کوئی استاد سگریٹ پی رہا ہو اور کوئی لڑکا اسے کہے ماسٹر صاحب! یہ کام اچھا نہیں تو کیا ہی اچھی بات ہو۔ اسی طرح اگر استاد تہجد نہیں پڑھتا اور لڑکے تہجد پڑھیں‘ استاد نماز نہیں پڑتا لیکن لڑکے باقاعدہ نماز پڑھیں‘ استاد تبلیغ کے لئے نہیں جاتا مگر لڑکے جائیں‘ استاد قرآن نہیں پڑھتا مگر لڑکے پڑھیں‘ تو استاد خود بخود شرمندہ ہو گا۔
    یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اُستاد سٹڈی (STUDY) کے وقت قرآن نہیں پڑھنے دیتے۔ ایسے وقت تلاوت کرنا تو بہانہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم سٹڈی(STUDY) کے وقت مصلّٰی لیکر بیٹھ جائے اور کہے میں ذکرِ الٰہی کر رہا ہوں تو اُستاد کا فرض ہے کہ اسے روکے۔ ایسے استاد کو میں بے دین نہ کہوں گا بلکہ فرض شناس کہوں گا کیونکہ وہ بے موقع کام سے روکتا ہے اور بے موقع اچھے سے اچھا کام بھی بُرا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ ہاں اگر کوئی استاد سٹڈی کے وقت قرآن کا سبق یاد کرنے کے لئے جتنے وقت کی ضرورت ہو اس سے روکتا ہے تو یہ شکایت معقول ہو سکتی ہے۔
    میں امید کرتا ہوں کہ طالب علم خود دینی کاموں کی طرف توجہ کریں گے۔ صیغہ جات کو بھی ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ حیرانی کی بات ہے کہ مقامی صیغہ موجود ہو مگر وہ مقامی نقائص نہ دیکھ سکے یہ بات میری سمجھ سے باہر ہو گئی ہے۔ یہ تو میں نہیں کہوں گا مگر یہ کہتا ہوں کہ سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ اگر ہمدردانہ طور پر باتیں کرنے کا ذمہ دار لوگ موقع دیتے اور جس طرح میں نے کہا ہے کہ مجھ میں اور جماعت کے لوگوں میں کوئی واسطہ نہیں اسی طرح ناظر اور ہیڈماسٹر اور دوسرے ذمہ دار اصحاب ‘طلباء اور اپنے درمیان واسطہ نہ رکھیں بلکہ براہِ راست انہیں باتیں کرنے دیں تو اس سے بہت سے فوائد ہو سکتے ہیں اور کوئی نقص نہ ہو گا۔ میں طالب علموں کو خصوصیت سے پھر توجہ دلاتا ہوں اور آج کا خطبہ تو انہیں کے لئے ہو گیا ہے اس لئے انہیں زیادہ قدر کرنی چاہئے۔ میرے پچھلے خطبہ کے نتیجہ میں مدرسہ احمدیہ کے طالب علموں نے تبلیغی اشتہار کی اشاعت میںحصہ لیا ہے۔ مقامی جماعت نے اگرچہ ابھی تک اس کے متعلق کچھ نہیں کیا لیکن مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے دو ہزار اشتہار کا اور جامعہ والوں نے تین ہزار اشتہار کا خرچ اپنے ذمہ لیا ہے۔ مدرسہ احمدیہ والے چونکہ پہلے آئے اور جامعہ والے بعد میں اس لئے میں نے مدرسہ احمدیہ والوں کا پہلے نام لیا ہے گو جامعہ کے طلباء تھوڑے ہیں اور انہوں نے زیادہ تعداد میں اشتہار لئے ہیں مگر امید ہے وہ اس ترتیب کی یہ وجہ سمجھ لیں گے کہ الفضل للمتقدم۔ مدرسہ ہائی کے طلباء کے متعلق سنا ہے کہ وہ بھی کوشش کر رہے ہیں اور کہتے ہیں استاد دلچسپی نہیں لیتے انہیں معلوم ہو کہ ہم نے طالب علمی کے زمانہ میں صرف سات لڑکوں نے رسالہ جاری کر دیا تھا۔ تین روپے ماہوار مجھے جیب خرچ ملا کرتا تھا اس میں سے ایک روپیہ میں رسالہ کے لئے چندہ دیا کرتا تھا۔ بے شک اُس زمانہ میں چیزیں سستی ہوتی تھیں مگر پھر بھی ایک طالب علم کے لئے تین روپوں میں سے ایک دے دینا دوسرے طالب علموں کے لئے بھی تحریک کا باعث ہو سکتا ہے۔ ہم نے اوّل سہ ماہی رسالہ جاری کیا۔ ہم آپ ہی اس کے چپڑاسی‘ آپ ہی کلرک اور آپ ہی ایڈیٹر تھے۔ تین ماہ میں اکیس روپیہ چندہ جمع ہو جاتا تھا اور ہم رسالہ شائع کر دیتے۔ تو کام کے لئے جب ارادہ کر لیا جائے تو چل ہی جاتا ہے۔ اُس وقت بے شک مدرّس ہماری حوصلہ افزائی کر دیا کرتے تھے لیکن ایک دفعہ مجھے بہت تلخ تجربہ ہوا وہ صاحب اِس وقت یہاں بیٹھے ہیں انہوں نے ایک موقع پر پڑھنے کے لئے مجھے مضمون لکھ کر دے دیا تھا۔ میں نے علمی کاموں میں ساری عمر اتنی ذلّت محسوس نہ کی جتنی اس موقع پر کی۔ حضرت خلیفہ اوّل بھی اس موقع پر بیٹھے ہوئے تھے جب وہ کسی فقرہ پر ’’واہ میاں واہ‘‘ کہیں تو مجھے یوں معلوم ہو جیسے میرے منہ پر تھپڑ مارا گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے عہد کیا کہ کسی کا لکھا ہوا مضمون نہیں لوں گا پھر جو کچھ خود آتا لکھتا۔ مجھے خوب یاد ہے اس مضمون کے وقت مجھے بہت پسینہ آ گیا تھا۔ مجلس میں پہلی بار پڑھنے کی وجہ سے بھی آیا ہو گا مگر زیادہ تر اس خیال سے کہ کسی کا لکھا ہوا مضمون پڑھ رہا ہوں۔ تو استاد بھی ہمارے کاموں میں حصہ لیتے تھے مگر زیادہ تر ہم خود ہی کرتے تھے۔ چوہدری فتح محمد صاحب‘ عبدالرحیم صاحب مالیر کوٹلی‘ پیر مظہر قیوم صاحب‘ چوہدری ضیاء الدین صاحب‘ یہ تینوں فوت ہو گئے ہیں۔ شیخ تیمور صاحب ایم۔ اے جو آج کل پشاور کالج کے وائس پرنسپل ہیں اب ان کا مبائعین سے تعلق نہیں وہ میرے گہرے دوست اور پیارے تھے اور اب بھی ہیں‘ ایک کوئی اور صاحب تھے۔ ایک سال کے اندر اندر اس کے اتنے خریدار ہو گئے کہ اسے ماہوار کر دیا گیا۔ پس طالب علم چاہیں تو کام کر سکتے ہیں بشرطیکہ دوسروں پر توکّل کرنا چھوڑ دیں اور اپنی ذات پر توکّل کریں۔
    (الفضل ۲۱۔فروری ۱۹۳۰ئ)
    ۱؎ الشوریٰ: ۴۱
    ۲؎ مسلم کتاب الطھارۃ باب خصال الفطرۃ

    ۳۶
    رمضان المبارک کی برکات
    (فرمودہ ۳۱۔جنوری ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    میں کھانسی کی وجہ سے زیادہ بول تو نہیں سکتا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے کل سے رمضان شروع ہونے والا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کے متعلق کچھ بیان کر دوں۔
    میں نے اپنے تجربہ کی بناء پر یہ بات دیکھی ہے کہ رمضان کے بارے میں مسلمانوں میں افراط و تفریط سے کام لیا جاتا ہے۔ کئی تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رمضان کی برکات کے قائل ہی نہیں اور بغیر کسی بیماری‘ بڑھاپے یااور عُذر ِشرعی کے روزہ کے تارک ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو سارا اسلام روزہ میں ہی محدود سمجھتے ہیں اور ہر بیمار‘ کمزور‘ بوڑھے‘ بچے‘ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ روزہ ضرور رکھے خواہ بیماری بڑھ جائے یا صحت کو نقصان پہنچ جائے یہ دونوں افراط و تفریط میں مبتلاء ہیں۔
    اسلام کا منشاء یہ نہیں کہ انسان کو اس راستہ سے ہٹنے دے جو اُس کی کامیابی کا ہے۔ اگر تو شریعت چٹّی ہوتی یا جُرمانہ ہوتا تو پھر بے شک ہر شخص پر خواہ وہ کوئی بوجھ اُٹھا سکتا یا نہ اُٹھا سکتا اسے اُٹھانا ضروری ہوتا۔ جیسے حکومت کی طرف سے جُرمانہ کر دیا جاتا ہے اُس وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جس پر کیا گیا ہے اُس میںادا کرنے کی استطاعت بھی ہے یا نہیں اور جس پر جُرمانہ ہو اُسے خواہ گھر باربیچنا پڑے‘ بھوکا رہنا پڑے‘ غرضیکہ وہ رہے یا مرے جُرمانہ کی رقم ادا کرنااس کے لئے ضروری ہے۔ مگر قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام چٹّی نہیں بلکہ وہ انسان کے اپنے فائدہ کے لئے ہیں اور ان پر عمل کرنے سے خود انسان کو ہی آرام ملتا اور اُس کی ترقی کے رستے کھلتے ہیں۔ جن مذاہب نے شریعت کو چَٹی قرار دیا ہے ان کے ماننے والوں کے لئے ضروری ہے کہ خواہ کچھ ہو اپنے مذہبی احکام کو ضرور پورا کریں۔ لیکن جس مذہب کے احکام کی غرض محض انسانی فائدہ ہو اس میں نفع اور نقصان کا موازنہ ہوتا ہے اور جو صورت زیادہ مفید ہو اسے اختیار کر لیا جاتا ہے۔ اسلام نے بعض شرائط مقرر کر دی ہیں اگر وہ کسی میں پائی جائیں تو وہ ایک حکم پر عمل کرے اور اگر نہ پائی جائیں تو نہ کرے۔ یہ شرائط صرف جسمانی عبادت کے لئے ہی نہیں بلکہ مالی عبادت کے لئے جیسے زکوٰۃ ہے‘ وطنی قربانی اور اتّصال و اتحاد کی کوشش کے لئے جیسے حج ہے سب کے لئے ہیں اور جتنے مسائل اسلام سے تعلق رکھتے ہیں اور جتنے احکام واجب و فرض ہیں ان سب کے لئے یہ شرط ہے کہ جب انسان کو طاقت ہو اُنہیں ضرور ادا کرے۔ لیکن جب اس کی طاقت سے بات بڑھ جائے تو وہ معذور ہے۔ اگر حج انسان کے مالدار ہونے اور امن و صحت سے مشروط ہے اور اسی طرح اگر زکوٰۃ کے لئے یہ شرط ہے کہ ایک خاص مقدار میں کسی کے پاس ایسا مال ہو جو اس کی ضروریات سے ایک سال تک بڑھا رہے اور اگر نماز کے لئے یہ شرط ہے کہ جو کھڑا نہ ہو سکے بیٹھ کر اور جو بیٹھ نہ سکے لیٹ کر ادا کرے تو رمضان کے لئے بھی یہ شرط ہے اگر انسان مریض ہو خواہ وہ مرض لاحق ہو یا ایسی حالت ہو جس میںروزہ رکھنا یقینا مریض بنا دے گا جیسے حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت یا ایسا بوڑھا شخص جس کے قویٰ میں انحطاط شروع ہو چکا ہے یا پھر اتنا چھوٹا بچہ کہ جس کے قویٰ نشوونما پا رہے ہیں تو اسے روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔ اور ایسے شخص کو اگر آسودگی حاصل ہو تو ایک آدمی کا کھا نا کسی کو دے دینا چاہئے اور اگر یہ طاقت نہ ہو تو نہ سہی ایسے شخص کی نیت ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے روزہ کے برابر ہے۔ اگر روک عارضی ہو اور بعد میں وہ دور ہو جائے تو خواہ فدیہ دیا ہو یا نہ دیا ہو روزہ بہرحال رکھنا ہو گا۔ فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہو جاتا بلکہ یہ تو محض اس بات کا بدلہ ہے کہ ان دنوں میں باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر میں اس عبادت کو ادا نہیں کر سکتا یا اس بات کا شکرانہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عبادت کرنے کی توفیق بخشی ہے کیونکہ روزہ رکھ کر بھی فدیہ دینا مسنون ہے اور نہ رکھ کر بھی۔ روزہ رکھ کر جو فدیہ دیتا ہے وہ زیادہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ روزہ رکھنے کی توفیق پانے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور جو روزہ رکھنے سے معذور ہو وہ اپنے اس عُذر کی وجہ سے دیتا ہے۔ آگے یہ عُذر دو قسم کے ہوتے ہیں عارضی اور مستقل۔ ان دونوں حالتوں میں فدیہ دینا چاہئے پھر جب عُذر دور ہو جائے تو روزہ بھی رکھنا چاہئے۔ غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دے دے لیکن سال دو سال تین سال جب بھی صحت اجازت دے اسے پھر روزہ رکھنا ہو گا سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد وہ ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے۔ باقی جو بھی طاقت رکھتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے ایام میں روزے رکھے۔
    روزہ خود انسان کی اپنی نجات کا موجب اور خود اس کے اپنے فائدہ کے لئے ہے۔ یہی نہیں کہ اس سے انسان اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کی وجہ سے اس کے فضلوں کا وراث ہوتا ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کے اندر ایسی قابلیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو اسے خدا تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہیں۔ پھر جسمانی طور پر بھی اس میں فوائد ہیں انسان کو دُنیوی لذائذ سے بچنے کا موقع ملتا ہے گویا یہ ایک قسم کی چلّہ کشی ہوتی ہے۔ انسان عموماً تیس دن چلّہ کشی کرتا ہے اور اپنے آپ کو ایک حد تک لذائذ سے روکتا ہے اس سے اس میں روحانی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے۔ انسان کے لئے حکم ہے کہ وہ اخلاقِ الٰہیہ اپنے اندر پیدا کرے اور روزہ رکھنے سے ایک رنگ میں خدا تعالیٰ سے مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کھانے پینے سے کُلّی طور پر مُنزّہ ہے لیکن انسان چونکہ کُلّی طور پر کھانا پینا ترک نہیں کر سکتا اس لئے روزہ سے اسے اس حد تک اللہ تعالیٰ سے مشابہت پیدا کرنے کا موقع دیا گیا ہے جس حد تک اس کے لئے ممکن ہے۔ گویا ان دنوں میں انسان ایک رنگ میں ملائکہ سے مشابہ ہوتا ہے جو مادی غذاؤں سے پاک ہیں اور ایک رنگ میں خدا تعالیٰ سے جو کھانے پینے سے بُکلّی پاک ہے۔
    یاد رکھنا چاہئے کہ روحانی وجود بھی غذا کے ایسے ہی محتاج ہوتے ہیں جیسے جسمانی کیونکہ اگر وہاں غذا ضروری نہ ہوتی تو جنت میں غذاؤں کا ذکر کیوں آتا جہاں صرف روحیں ہی جائیں گی۔ ملائکہ بھی غذا کھاتے ہیں مگر اور قسم کی۔ غرضیکہ دنیا کا ہر چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور مرکّب سے مرکّب چیز بھی اپنے رنگ کی غذا کی محتاج ہے اور تمام مادی اور روحانی اشیاء کے لئے خوراک ضروی ہے لیکن دونوںکی غذا میں فرق ہے۔ غذا سے بالکل پاک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے باقی چیزیں جنّ‘ فرشتے‘ آسمان‘ زمین‘ زندے‘ مُردے سب غذاؤں کے محتاج ہیں لیکن ہر ایک کی غذا الگ الگ ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو غذا کی محتاج نہیں کیونکہ اسے فنا نہیں۔ ہر فنا ہونے والے کے لئے بدل مَایَتَحَلّل ضروری ہے۔ تو روزہ کے دنوں میں غذا سے ایک حد تک اجتناب اللہ تعالیٰ سے مشابہت پیدا کر دیتا ہے۔ غذا کم ہونے سے انسان کی روحانی بصیرت تیز ہوتی ہے۔ روحانی وجودوں کی غذائیں چونکہ لطیف تر ہوتی ہیں اس لئے وہ رؤیتِ الٰہی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رؤیتِ الٰہی کا کمال مرنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں غذا لطیف ہو گی جس سے روحانی بصیرت بڑھ جاتی ہے۔ ملائکہ کی جسمانی آنکھیں نہیں ہوتیں لیکن ان کی روحانی بینائی انسان کی نسبت بہت تیز ہوتی ہے۔ تو رمضان سے انسان کی روحانی تربیت مکمل ہوتی ہے جس سے اس کی روحانی بصیرت تیز ہو جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے فیوض جذب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جن کو وہ رمضان کے بغیر نہیں کر سکتاتھا۔ رمضان ہی کے متعلق خداتعالیٰ فرماتا ہے اگر میرے بندے سوال کریں خدا کہاں ہے تو تُو کہہ دے میں قریب ہی ہوں۔ ۱؎ یوں تو ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ قریب ہوتا ہے اور پھر جو بندہ اسے پکارتا ہے وہ تو اسے پہلے ہی مانتا ہے پھر یہاں سَأَلَکَ کا کیا مطلب ہوا۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جب میرا بندہ رمضان کے متعلق سوال کرتا ہے کہ روزے سے خدا کی رضاء کس طرح حاصل ہو سکتی ہے تو اِس کا جواب یہ دے کہ روزہ سے انسان خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے جس کی ظاہری صورت یہ ہے کہ روزہ دار کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اجیب دعوۃ الداعین نہیں فرمایا بلکہ صرف الداع فرمایا جس کے معنے ہیں کہ ہر پکارنے والے کی نہیں بلکہ روزہ دار پکارنے والے کی دُعا سنی جاتی ہے۔
    پس رمضان کی ایک برکت تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اور ملائکہ سے مشابہت پیدا ہوتی ہے دوسرے خدا تعالیٰ کی قُربت حاصل ہو جاتی ہے اور تیسرے یہ کہ دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ یہ تو روحانی فوائد ہیں اور جسمانی طور پر یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انسان تکالیف اور شدائد کا عادی ہو جاتا ہے۔ جسمانی ترقیات بھی روحانی ترقیات کی طرح مجاہدات پر مبنی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہذّب حکومتیں جو فوجیں رکھتی ہیں ان کے سپاہیوں سے باقاعدہ پریڈ کراتی رہتی ہیں جس سے ان کے اندر شدت پیدا ہو جاتی ہے۔
    اللہ تعالیٰ سے گہرے تعلقات رکھنے والے لوگوں کی غذائیں ہمیشہ کم ہوتی ہیں یعنی وہ اپنے ہی جیسے سامان‘ حالات‘ صحت اور معدے رکھنے والے انسانوں سے کم خوراک کھاتے ہیں۔ یہ نہیں کہ اگر ایک انسان کا معدہ خراب ہو اور وہ زیادہ نہ کھا سکے تو کہا جائے اس میں روحانیت زیادہ ہے کیونکہ شرط یہ ہے کہ دوسرے سامان بھی ایک ہی جیسے ہوں ایک ہی حالت میں وہ انسان جس میں روحانیت ہو گی دوسرے سے کم کھائے گا۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے مومن ایک انتڑی سے کھاتا ہے تو کافر دس انتڑیوں سے ۲؎ خود رسول کریم ﷺ کے حالات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کی غذا بہت کم تھی۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے آپ بمشکل ایک پُھلکا کھاتے تھے۔ یہ نہیں کہ بھوکے رہ کر ایسا کرتے تھے بلکہ آہستہ آہستہ رغبت سے استغناء پیدا ہوتے ہوتے یہ عادت ہو گئی تھی اور توجہ اور خیالات کی رَو کے اس طرف سے ہٹ جانے سے آہستہ آہستہ کھانا بہت قلیل رہ گیا تھا۔ لیکن جو لوگ روحانیت کے اعلیٰ مقام پر نہیں ہوتے اور جن پر اللہ تعالیٰ کا تصرف غالب نہیں ہوتا ان کو کبھی کبھی اس کی مشق کرائی جاتی ہے جیسے ایک باقاعدہ فوج ہوتی ہے اور ایک ٹیریٹوریل (TERRITORIAL) جسے سال میں صرف ایک مہینہ کی مشق کرائی جاتی ہے ۔ پس رمضان ٹیریٹوریل فوج کی ٹریننگ کی طرح ہے وگرنہ عام طور پر روحانی لوگوں کی غذا کم ہوتی ہے اور وہ اتنا کم کھاتے ہیں کہ نفس موٹانہ ہو جائے اور جسم پر چربی چھا کر روحانیت میں روک نہ پیدا کر سکے۔ لیکن جو لوگ اس مقام پر نہیں ہوتے وہ بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور ان کی اصلاح بھی اس کے ذمہ ہے اس لئے ان کو ٹیریٹوریل (TERRITORIAL) کی طرح رمضان میں مشق کرائی جاتی ہے تا وہ بھی روحانی ترقی کر سکیں۔
    روزہ اگرچہ روحانی مجاہدہ ہے مگر ساتھ ہی جسمانی فوائد بھی رکھتا ہے کیونکہ کئی ایک زہر اس سے انسانی جسم سے خارج ہو جاتے ہیں اور کئی بیماریاں موٹاپے وغیرہ کی دُور ہو جاتی ہیں اور اب تو ڈاکٹروں نے تحقیقات سے معلوم کیا ہے کہ روزہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بہت مفید ہے۔ اور ذیابیطس کے مریضوں کو قریباً چالیس یوم کے روزے رکھوائے جاتے ہیں۔ کئی ایک مریضوں نے خود مجھے بتایا ہے کہ اس طرح ان کا مرض دور ہو گیا حتیٰ کہ زخم بھی جو اس مرض کی آخری حالت میں پیدا ہو جایا کرتے ہیں اچھے ہو گئے۔ ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ میں جسمانی طور پر بھی فوائد ہیں۔ روحانی اور جسمانی دونوں مجاہدات کے علاوہ پھر ایک اور مجاہدہ ہوتا ہے جو روحانی اور جسمانی کے درمیان ہوتا ہے جس کے لئے روزہ تیار کر دیتا ہے اور وہ شدائد کی برداشت اور وقت پڑنے پر محنت کی عادت ہے۔ بعض اوقات قومی یا ملکی کاموں کے لئے ایسی حالت بھی آ جاتی ہے اور یہ دنیاوی بھی ہوتی ہے جیسے ملک یا وطن کی خدمت۔ اور دینی بھی ہوتی ہے جیسے جہاد۔ اور روزہ سے یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اس مجاہدہ کے قابل ہو جاتا ہے۔
    پھر رمضان کے اندر یہ فائدہ بھی رکھا ہے کہ انسان معلوم کر سکے کہ اس کے دوسرے فاقہ زدہ بھائیوں کی حالت کیا ہے اور فاقہ میں انسان پر کیا گزرتی ہے۔ اس سے وہ غرباء کی حالت کا اندازہ کر سکتا ہے۔ اور یہ بات اسلام کی سب عبادتوں میں ہے کہ دوسروں کی حالت کا پتہ لگتا رہے۔
    نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے اور باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ایک غلامی کی حالت ہے جس سے انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ غلاموں کی حالت کیا ہو گی۔ میں حیران ہوتا ہوں جب بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں توجہ نہیں قائم رہ سکتی حالانکہ نماز دس پندرہ منٹ کا کام ہوتا ہے۔ ایسے لوگ غور کریں وہ لوگ جن کو چوبیس گھنٹہ ہی غلامی میں گزارنے ہوتے ہیں اور گھنٹوں گُھٹنے ٹیک کر مؤدّب ایک ہی پوزیشن میں رہنا پڑتا ہے ان کا کیا حال ہوتا ہو گا۔ تو نماز انسان کو لوگوں کی حالت سے آگاہ کر دیتی ہے۔ حج میں اپنا وطن اور گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے جس سے ان لوگوں کی حالت کا پتہ لگتا ہے جو جلاوطن کر دیئے جاتے ہیں۔ صدقہ و خیرات غربت کی حالت کا اندازہ کراتی ہے۔ روزہ سے فاقہ زدہ بھائیوں کا پتہ لگتا ہے۔ اسی طرح جب انسان حج کیلئے جاتا ہے تو اسے ان لوگوں کی حالت کا بھی علم ہوتا ہے جن کے پاس کپڑے نہیں ہوتے۔ انسان کئی کپڑوں کا عادی ہوتا ہے لیکن وہاں صرف ایک ہی چادر باندھنی پڑتی ہے جس میں اِدھر اُدھر سے ٹھنڈی ہوا لگتی اور ان لوگوں کی حالت بتاتی ہے جن کے پاس کپڑے نہیں ہوتے یا کم ہوتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کسی شخص کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ میرا اُن سے تعارف اِس طرح ہوا کہ میں نے حج کے موقع پر انہیں دیکھا۔ ہوا کی وجہ سے باقی لوگوں نے اپنے سر ڈھانپ لئے لیکن انہوں نے اِدھر اُدھر اپنی چیزیں رکھ لیں جس سے میں نے سمجھا کہ ان میں زیادہ احساس ہے۔ اور جس وقت جہاز میں سرد ہوا چلتی ہے تو جسم پر ناکافی کپڑا ہمیشہ ننگے رہنے والوں کی طرف بخوبی متوجہ کر دیتا ہے۔ اس وجہ سے حج امراء کے لئے رکھا گیا ہے تا وہ غریبوں کی حالت سے آگاہ رہ سکیں۔ تو اسلام کی تمام عبادتوں میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی حالت سے آگاہی حاصل ہوتی رہے کیونکہ اس علم سے واسطہ اور رابطہ بڑھتا ہے جس سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ پھر رمضان کا یہ بھی فائدہ ہے کہ جن کو راتوں کو جاگنا پڑتا ہے ان کی حالت کا علم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی مشق ہوتی ہے کہ حلال چیزوں کو خدا کی خاطر ترک کر دیا جائے اور جب حلال چھوڑ سکتا ہے تو پھر حرام کو چھوڑنا آسان ہو جاتا ہے۔ غرض اس سے کئی قسم کے سبق حاصل ہوتے ہیں لیکن فائدہ وہی اُٹھا سکتا ہے جو استعمال کرے۔ جو استعمال نہ کرے اسے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ خالی رمضان میں فائدہ نہیں بلکہ رمضان کی حالت پیدا کرنا فائدہ کا موجب ہے۔ جس طرح کونین کو استعمال کرنے سے ہی بخار کو آرام ہو سکتا ہے جو اسے استعمال نہیں کرتا اس کے اردگرد کے گھروں میں خواہ کتنی استعمال ہوتی ہو اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ پس خدا تعالیٰ جن کو توفیق دے انہیں ضرور روزے رکھنے چاہئیں۔
    ہماری جماعت کے تعلیم یافتہ لوگوں کو چاہئے کہ تعلیم یافتوں کیلئے نمونہ بنیں اور عوام کو عوام کیلئے نمونہ بننا چاہئے۔ پھر عورتیں روزہ کے معاملہ میں بِلاوجہ تنگی پیدا کرتی ہیں اس لئے انہیں یہ نمونہ دکھانا چاہئے کہ جہاں روزہ جائز نہیں وہاں اعتراض سے ڈر کر یا رسم و رواج کی پابندی کی وجہ سے روزہ نہ رکھیں۔ غرضیکہ جو کمی کرنے والے ہیں ان کیلئے روزہ رکھ کر اور جو سختی کرنے والے ہیں ان کیلئے اس حالت میں جس کی شریعت نے تشریح کر دی ہے روزہ چھوڑ کر نمونہ بننا چاہئے۔
    میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح رستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    (الفضل ۷۔ فروری ۱۹۳۰ئ)
    ۱؎ البقرۃ: ۱۸۷
    ۲؎ ترمذی ابواب الاطعمۃ باب ان المومن یا کل فی معیً واحد




    ۳۷
    اسلام کی تعلیمات پر پوری طرح عمل کرو
    (فرمودہ ۷۔فروری ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    میرا منشاء تھا کہ آج ایک ایسے امر کے متعلق جو میرے پہلے خطبہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا تھا بعض باتیں تفصیلاً بیان کرتا لیکن غور کے بعد میں نے مناسب سمجھا کہ اسے رمضان کے دنوں میں ملتوی کر دوں۔ لیکن ایک اور بات ہے جو انہی دنوں میرے کان میں پڑی اور جو اسی قسم کی افواہوںمیں سے ہے جیسی بعض لوگ قادیان میں مشہور کرنے کے عادی ہیں۔ یہاں بعض لوگوں نے یہ طریق اختیار کر رکھا ہے کہ جب میرے متعلق کوئی بات کہنے کی وہ جرأت نہیں کر سکتے تو دوسرے کارکنوں سے منسوب کر کے بیان کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ اُس گرفت اور جذبۂ حقارت سے محفوظ رہتے ہیں جو میرے خلاف غلط بیانیاں سن کر مخلصین ظاہر کرتے ہیں۔ چونکہ یہ رویہ اور طریق محض جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کے لئے اختیار کیا جاتاہے اور چونکہ متواتر ایسی باتیں سن کر جماعت کے اخلاص کی روح کو دھکا لگتا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ ایسی تمام اخبار کو جمع کر کے ان کی تفصیل سے جماعت کو آگاہ کر دیا کروں اور میں سمجھتا ہوں ایک دروغگو کے لئے یہ کافی سزا ہے کہ اس کے متعلق لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔ یہ ڈنڈ یا اور کسی قسم کی دوسری سزا سے بدرجہا بہتر ہے کہ عوام کو پتہ لگ جائے کہ فلاں شخص نے دیدہ دانستہ افتراء کیا اور جھوٹ بولا ہے۔ پچھلے ہفتہ مجھے متعدد اس قسم کے خطوط لوگوں کی طرف سے موصول ہوئے ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد کے سلوک سے تنگ آ کر ماسٹر محمدالدین صاحب ہیڈماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول نے استعفیٰ دیا ہے۔
    میں ان لوگوں کے نام تو ابھی نہیں بتاتا جنہوں نے یہ خبر مشہور کی اور پہلے یہ رعایت ہی رکھتا ہوں لیکن پھر بھی ایسے لوگوں نے جن کے سامنے ایسی دروغ بیانی کی وہ تو کم از کم معلوم کر لیں گے کہ فلاں شخص نے جھوٹ بولا۔
    بے شک ماسٹر محمد الدین صاحب نے استعفیٰ دیا ہے لیکن اس کی وجہ درد صاحب کی بدسلوکی نہیں بلکہ کسی کے سلوک کو بھی اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں فی الحال اس وجہ کے متعلق تو کچھ بیان نہیں کرتا اس کے متعلق میں بعض تحقیقات کر رہا ہوں اور بعض مسائل کے متعلق مجھے اپنے علماء سے مشورہ بھی کرنا ہے اور اس کے بعد اگر ضرورت ہوئی تو میں اس وجہ کو بھی بیان کر دوں گا۔
    میرے پاس چونکہ یہ اطلاع پہنچی اور کسی شخص کے استعفیٰ اور اس کی وجوہات کی خبر چونکہ خود اسے اور اس کے دوستوں کو ہی ہو سکتی ہے اس لئے پہلا احتمال یہ تھا کہ یہ خبر خود ماسٹر صاحب نے مشہور کی ہو۔ چنانچہ میں نے انہیں ایک رقعہ لکھوایا کہ ایسی ایک خبر مشہور ہو رہی ہے جس کے متعلق مجھے یقین ہے کہ جھوٹ ہے آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں اور اس میں آپ کا کیا دخل ہے۔ یہ چِٹھی پرائیوٹ سیکرٹری کے نام سے بھیجی گئی تھی۔ اس کے جواب میں ماسٹر صاحب نے جو خط لکھا اس کے پہلے حصہ کو تو میں ظاہر نہیں کرتا کیونکہ اس سے اصل وجہ پر روشنی پڑتی ہے جو حصہ درد صاحب کے متعلق ہے وہ سنا دیتا ہوں۔ ماسٹر صاحب لکھتے ہیں:۔
    ’’مجھے آپ کا رقعہ ابھی روزہ افطار کرنے کے بعد ملا ہے جس میں آپ نے مجھے حضرت صاحب کی طرف سے لکھا ہے کہ میں لکھوں کہ آیا میں نے درد صاحب کی کسی بدسلوکی کی وجہ سے ہیڈ ماسٹری سے استعفیٰ دیا ہے۔ یہ امر بالکل غلط ہے۔ درد صاحب میرے ساتھ نہایت ہمدردی اور عزت سے پیش آتے رہتے ہیں۔ یہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے وہ کون سے خیر خواہ ہیں کہ جو بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ ہو وہ میری طرف منسوب کریں۔ میں پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر رقعہ لکھنے والوں نے یہ بات لکھی ہے کہ میں نے درد صاحب کی کسی بدسلوکی کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو یہ صریح جھوٹ ہے۔ اللہ گواہ ہے‘‘۔
    اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ خبر انہوں نے تو مشہور نہیں کی اس لئے ظاہر ہے کہ ان کے دوستوں یا دوست نما دشمنوں پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور جن لوگوں نے یہ خبر سنی ہے وہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں سنانے والے جھوٹے اور مفتری ہیں۔ چونکہ یہ خبر عورتوں‘ مردوں اور مدرسہ احمدیہ و ہائی سکول کے طالب علموں سب کے ذریعہ سے مجھے پہنچی ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اسے بغرضِ پروپیگنڈا مشہور کیا گیا ہے اور خاص کوشش و ذرائع سے کام لے کر قادیان کے ہر گوشے میں پہنچایا گیا ہے۔
    مجھے چونکہ سب واقعات معلوم ہیں اس لئے میں ان کی بناء پر شہادت دیتا ہوں کہ یہ جھوٹ ہے ماسٹر صاحب کی تردید کے بعد ہمیں ان کے متعلق بدظنی کا کوئی حق نہیں۔ پس جس شخص نے یہ بات اُڑائی ہے محض نظام سلسلہ میں رخنہ ڈالنے کے لئے ایسا کیا ہے۔ میں اس غلط خبر کو غلط فہی کا نتیجہ نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ اتنی لمبی بات جس میں پورا واقعہ بیان ہو کبھی غلط فہمی سے پیدا نہیں ہو سکتی اس لئے یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ ہاں اگر درد صاحب سے انہیں کوئی اختلاف ہوتا تو پھر بھی ہم کہہ سکتے تھے کہ انہوں نے اختلاف کہا ہوگا جِسے سُننے والے نے بدسلوکی سمجھ لیا اور ہر جگہ آپس میں اختلاف ہوا ہی کرتے ہیں اور اختلاف کی بناء پر بعض اوقات ماتحت استعفیٰ بھی دے دیتے ہیں لیکن اس استعفیٰ میں تو اختلاف کا بھی کوئی تعلق نہیں اس لئے اس کی بنیاد یقینا افتراء پر ہے غلط فہمی اسے ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔
    پس جن لوگوں نے اس بات کو سنا وہ سمجھ لیں کہ ان کو سنانے والے جھوٹے اور مفتری ہیں۔ اس طرح اگرچہ میں نام تو نہیں لیتا لیکن پھر بھی بہت لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ فلاں شخض مفتری اور جھوٹا ہے اور بغیر نام لئے ہی اس کے جھوٹ سے بہت سے لوگ آگاہ ہو سکتے ہیں۔ اصل معاملہ کے متعلق ابھی بعض شرعی مسائل طے کرنے ہیں جس کے بعد اگر ضرورت ہوئی تو میں ظاہر کر دوں گا۔
    اس کے بعد میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم میں سے بعض ایسے ہیں جن کو جھوٹ بولنے اور افتراء کرنے کی عادت ہے اور میں نے بھی پورے طور پر تہیہ کر لیا ہے کہ چاہے وہ کتنا ہی شور مچائیں اور لوگوں کو اُبھاریں قطع نظر اس سے کہ میری جان ‘ رہے یا نہ رہے میں ان کے پول کو ضرور کھول دوں گا۔
    سلسلہ کا قیام بھی سچ کیلئے ہی ہے اور اگر سچائی جو اصل مقصد ہے فوت ہو جائے تو پھر کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں رہتی اس لئے بہرحال جھوٹ اور شرارت کو کھولا جائے گا۔ پہلے میں اتنا لحاظ کرتا ہوں کہ کسی کا نام نہیں لیتا اتنا ہی پردہ فاش کرتا ہوں جس سے وہی لوگ سمجھ سکیں جن میں اس جھوٹ کی اشاعت کی گئی۔ میں دیکھوں گا اگر اس سے اصلاح اور اخلاق میں درستی پیدا ہو گئی اور میں نے سمجھ لیا کہ اور نہیں تو سننے والے ہی اپنا فرض ادا کرنے لگ گئے ہیں یعنی وہ ایسی باتوں کو سن کر آگے ان کی اشاعت نہیں کرتے تو فَبِھَا وگرنہ ہر بات کی کھلی تحقیقات کراؤں گا اور اس کے بعد اعلان کیا کروں گا کہ فلاں شخص نے فلاں غلط بات پھیلائی جو تحقیقات سے غلط ثابت ہوئی ہے۔
    میں مانتا ہوں کہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے اور جس جگہ غلط فہمی کا احتمال ہو سکے وہاں کسی کی طرف جھوٹ منسوب نہیں کیا جا سکتا اور میں ایسے امور نہیں لوں گا جن میں غلطی فہمی کا احتمال ہو سکے اور کوشش یہی کروں گا کہ کسی کی طرف جھوٹ منسوب نہ ہو لیکن دیدہ دانستہ شرارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ کسی شخص کا نام لے کر اس کی طرف کسی بات کو منسوب کر دینا شرعاً ناجائز ہے جب تک پوری طرح اس کی تحقیقات نہ ہو جائے۔ ایک واعظانہ رنگ ہوتا ہے جس میں واعظ اپنی تقریر کے دوران میں کسی کا نام لئے بغیر ایک مثال دے دیتا ہے لیکن اس طرح مثال کے طور پر کوئی بات بیان کر دینا کسی کے لئے بطور حُجت نہیں ہو سکتا۔ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی بعض اوقات کر لیتے تھے۔ لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی تو عادت میں یہ بات تھی وہ ہر ہفتہ کوئی نہ کوئی ایسی مثال ضرور دے دیتے۔ لوگ ان سے لڑتے کہ آپ نے ہم پر یہ الزام لگایا ہے مگر آپ فرماتے میں نے تمہارا نام نہیں لیا۔ تو واعظ اگر کوئی ایسی بات کہہ جائے جس میں کسی کا نام نہ لے اور دانستہ اس کا نام ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرے۔ دانستہ مَیں نے اس لئے کہا کہ میں خود بھی اپنے ایک بیان میں ایسی غلطی کر چکا ہوں اور اگرچہ میں نے کسی کا نام تو نہیں لیا تھا لیکن ایسے الفاظ میرے منہ سے نکل گئے جن سے بعض لوگ پہچان گئے ہوں گے کہ یہ کس کا ذکر ہے۔ واعظانہ رنگ یہ ہے کہ مثال پیش ہو لیکن وہ آدمی بدنام نہ ہو۔ تو جب واعظانہ رنگ ہو اور واعظ کی نیت کسی شخص کی مذمّت نہ ہو بلکہ اس کے کسی فعل کی مذمت ہو تو پھر تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن ایسی مثال کی بناء پر کسی شخص پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا اور نہ اسے کوئی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس لئے امام یا واعظ کبھی ایسے رنگ میں بات کر دیتا ہے کہ یہ پتہ تو کسی کو نہ لگ سکے کہ کس نے یہ قصور کیا لیکن لوگ اس سے سبق حاصل کر سکیں۔ لیکن اگر نام لے لیا جائے یا ایسا اشارہ کر دیا جائے جس سے وہ ظاہر ہو جائے تو یہ ناجائز ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔
    ’’کفٰی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع‘‘ ۱؎ اس لئے کسی کے متعلق یا بعض افراد کے متعلق کوئی خبر بِلا تحقیق مشہور کر دینا جائز نہیں۔ ایسے امور میں احتیاط لازم ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے اسے کذب قرار دیا ہے خواہ ایسا دانستہ نہ بھی کیا جائے۔ بعض لوگ عادتاً ایسا کر لیتے ہیں اس لئے میں انہیں روکتا ہوں کہ ایسا نہ کریں۔ ہمارا فرض ہے کہ جو بُری باتیں عادتاً پیدا ہو جائیں ان میں اصلاح کریں اگر نادانستہ ایسی بات ہو جائے تو بھی دل میں ندامت محسوس کریں جیسے میں اس امر کے متعلق جس کا ذکر اوپر کیا ہے دل میں نادم ہوا۔ یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ دوسروں نے بھی اس سے کچھ سمجھایا نہیں مگر میرے الفاظ میں اتنی گنجائش ضرور تھی کہ بعض لوگ سمجھ سکتے تھے۔ تو اگر نادانستہ یا اتفاقاً بھی ایسی حرکت ہو جائے تو بھی اس کے لئے نادم ہونا چاہئے۔ لیکن اگر کوئی دانستہ ایسا کرے اور ایسے طریق پر کسی بات کو پیش کرے کہ دوسرے معلوم کر لیں تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ شریعت کی گرفت کے نیچے ہے۔ کوئی کہے عادتاً ایسا ہو جانے کو رسول کریم ﷺ نے کہاں منع فرمایا ہے تو اسے معلو م ہونا چاہئے کہ بکل ماسمع کے معنے عادت کے ہی ہیں۔ پس اگر رسول کریم ﷺ کے احکام کی عزت آپ کے دل میں ہے تو جسے رسول کریم ﷺ نے جھوٹ فرمایا ہے اسے آپ بھی جھوٹ سمجھیں۔
    بعض لوگ بہت شور مچایا کرتے ہیں کہ ہماری روحانیت ترقی نہیں کرتی۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ عملاً وہی کچھ نہیں کرتے جو ان کے دل میں ہوتا ہے۔ اسلام کا حکم ہے صبر کرو۔ وہ دل سے تو اسے مانتے ہیں لیکن جب موقع آئے تو صبر نہیں کرتے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کو معلّم بنانا نہیں چاہتے اس لئے وہ جس مقام پر کھڑے ہوتے ہیں اس سے آگے ترقی نہیں کر سکتے بلکہ بعض اوقات گِر جاتے ہیں۔ یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہے بعض لوگ آپ پر ایمان تو لے آئے لیکن انہیں معلّم نہیں بناتے۔ اگر آپ لوگ غور کریں کہ اس مہینے میں ہی آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کون سی نئی بات سیکھی ہے تو بہت سے ایسے نکلیں گے جنہیں معلوم ہو جائے گا کہ کئی سال سے انہوں نے کوئی نئی بات نہیں سیکھی۔ دراصل سچا معلّم وہی ہو سکتا ہے جوہر آن راہبری کرے اور ہر وقت رستہ دکھلائے۔ دنیا میں ہی دیکھ لو جو عزت تمہارے دل میں تمہارے موجودہ اُستاد کی ہے اتنی اس کی نہیں جو کسی گزشتہ زمانہ میں تھا۔ پس حقیقی معلّم وہی کہلا سکتا ہے جو ہر وقت کا اُستاد ہو اس لئے اگر ہم محمد رسول اللہ ﷺ سے ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں تو وہ معلّم ہیں وگرنہ نہیں۔ نہ سیکھنے کے یہ معنے ہوں گے کہ یا تو آپؐ کی تعلیم ختم ہو گئی ہے یا ہم نے آپؐ کو معلّم ماننا چھوڑ دیا ہے۔ یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہے اور اسی طرح خلافت کا حال ہے۔ اگر خلیفہ کے وعظ کو سن کر صرف سبحان اللّٰہ اور واہ واہ ہی کر دیا اور اس پر عمل نہ کیا تو وہ معلّم کیسا ہوا۔ اگر اسے معلّم کہتے ہو تو اس کے وعظ کو شاگرد کی طرح سنو اور اس پر عمل کرو۔ اوّل تو ہر خطیب ہی معلّم ہے مگر وہ شخص جس کے ہاتھ پر دیانتداری سے بیعت کی ہو اس کے خطبہ پر تو ضرور ہی عمل کرنا چاہئے لیکن اگر عمل نہیں تو یہ سب کچھ صرف عادتاً ہی ہے ایمان نہیں اور ایسا شخص معلّم ماننے کا دعویٰ کبھی نہیں کر سکتا اس کی بیعت محض دکھاوا ہے چاہے اس کے دل میں اخلاص ہی ہو مگر اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ دکھاوا ہی ہے۔ پس میں بار بار توجہ دلاتا ہوں کہ اس تعلیم کو دل میں داخل کرو۔
    یہ امید تو بے شک کسی کے متعلق نہیں کی جا سکتی کہ وہ سب کچھ ایک دن میں ہی سیکھ لے۔ مومن‘ صلحائ‘ خلفاء سب کی ترقی تدریجی ہی ہوتی ہے۔ لیکن اگر یہ حالت ہو کہ سالہا سال گزر گئے اور کسی نئی بات پر عمل ہی نہ کیا تو پھر کس منہ سے یہ اقرار کیا جا سکتا ہے کہ ہم خلیفہ کو معلّم مانتے ہیں۔ کوئی طالب علم فخر سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں شخص میرا اُستاد ہے مگر سال بھر میں مَیں نے اس سے ایک لفظ بھی نہیں سیکھا۔ اگر ایک بات ہی سیکھی جائے جب بھی کہا جا سکتا ہے کہ ترقی تدریجی ہوتی ہے لیکن اگر ایک بات بھی نہ ہو تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ہم معلّم مانتے ہیں۔
    رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المومن اخذھا حیث وجدھا ۲؎ یعنی حکمت کی بات مؤمن کی گُمشدہ متاع ہے جہاں ملے چاہئے لے لے۔ اگر کسی نہایت بُرے انسان سے بھی کوئی اچھی بات ملے تو اسے بھی لے لینا چاہئے۔ ہمارے ملک میں ایک بھابڑہ قوم ہے جنہیں جینی کہا جاتا ہے ان میں نفس کشی کو ترقی کا موجب سمجھا جاتا ہے وہ ہر سال ایک نئی چیز کا استعمال ترک کر دیتے ہیں۔ تو یہ مسئلہ کہ ہر سال وہ ایک چیز کو اس یقین کی بناء پر ترک کر دیتے ہیں کہ اس سے روحانی ترقی ہو گی اس سے سبق سیکھ کر اگر ہم بھی ہر سال ایک نئی بات اپنے اندر پیدا کر لیں تو کس قدر فائدہ ہو سکتا ہے اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اس سے میری یہ مراد نہیں کہ پہلے دو نفل پڑھتے تھے تو اب چار کر دیئے بلکہ اخلاقی تبدیلی مراد ہے کیونکہ اصل چیز اخلاق ہی ہے۔
    پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر سننے کے ساتھ عمل کرنے کی عادت پیدا کرو۔ یہ نہیں کہ ہر بات پر یکدم عمل کرنے لگ جاؤ۔ انسان کے اندر کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں اور جب تک وہ اس مقام پر نہ پہنچ جائے جب وہ خدا کی مغفرت کی عام چادر کے نیچے آ جاتا ہے اور اس کے پچھلے اور پہلے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اُسی وقت یکدم ساری خوبیاں اس کے اندر پیدا ہو سکتی ہیں۔ مگر ایسے لوگوں کی ترقی پھر بھی تدریجی ہی ہوتی ہے کیونکہ جس طرح خدا کی ذات غیر محدود ہے اسی طرح انسانی ترقیات بھی غیر محدود ہیں لیکن اس حالت کے بغیر انسان عیوب سے مُبرّا نہیں ہو سکتا۔ بعض لوگوں کو پیدائش سے ہی یہ مقام عطا کر دیا جاتا ہے کیونکہ ان سے خاص کام لیا جانا مقدر ہوتا ہے جیسے رسول کریم ﷺ یا دوسرے بڑے لوگ اور جیسے ہمارے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوئے ہیں مگر ایسے لوگوں کے سوا باقی لوگ ساری اصلاحیں ایک وقت میں اپنے اندر نہیں کر سکتے۔ اور جیسے طالب علم آہستہ آہستہ کتاب یاد کرتا ہے ان کی بھی یہی حالت ہوتی ہے کہ آہستہ آہستہ ہی ساری باتوں پر عمل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ گو ارادہ تو چاہئے کہ سب پر عمل کرنا ہے لیکن اور نہیں تو سال میں ایک ہی سہی۔ پھر اگر خدا توفیق دے تو چھ مہینہ میں‘ تین مہینہ میں ‘ہر مہینہ میں‘ ہر دن میں بلکہ ہر گھنٹہ میں کوئی نہ کوئی بات سیکھی جائے لیکن کم از کم سال میں ایک تو ضرور ہی چاہئے۔
    جو لوگ سب کچھ پڑھ سن کر بھی ایسی عادات ترک نہیں کرتے ان کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے رسول کریم ﷺ نے فرمایا بعض لوگوں کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی تیر انسان کے جسم کو چِیر کر نکل جائے لیکن اس کے ساتھ خون کا ذرہ نہ لگے ۳؎ ایسی حالت خطرہ سے خالی نہیں ہوتی۔ آگے بڑھنے والا تو اگر گرے گا تو آخر کھڑا ہی ہو گا لیکن جو ایک ہی مقام پر کھڑا ہو وہ دھکا لگنے پر ضرور نیچے ہی گرے گا۔ چلنے والے کے لئے تو ایک چانس ہوتا ہے کہ وہ کھڑا ہو کر اپنے نفس کو سنبھال سکے لیکن جو پہلے ہی کھڑا ہے وہ ضرور گرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ گر جاتے ہیں کیونکہ وہ چل نہیں رہے ہوتے۔ پس کم از کم سال میں ہی ایک تغیر اپنے اندر پیدا کرو۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہماری جماعت میں وہ روح پیدا کرے کہ وہ اسلام کی تعلیمات سے فائدہ اٹھا سکے۔ یہ باتیں جو میں نے بیان کی ہیں چِڑنے کی نہیں بلکہ فائدہ کی ہیں۔ یہ ایسی ہیں کہ اگر کسی اشدّ سے اشدّ دشمن کے منہ سے سنی جائیں جب بھی ان پر عمل کیا جائے چہ جائیکہ جس سے بیعت کی ہو اس کے منہ سے سنی جائیں۔ ان میں آپ کا اپنا ہی نفع ہے۔ پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور ایسے رستہ پر چلو کہ خدا کے فضلوں سے محروم نہ رہ جاؤ۔
    (الفضل ۱۸۔ فروری ۱۹۳۰ئ)
    ۱؎ مقدمہ صحیح مسلم باب النھی عن الحدیث بکل ماسمع
    ۲؎ ترمذی۔ ابواب العلم باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ میں اس
    روایت کے الفاظ یہ ہیں ’’الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المومن فحیث وجدھا
    فھواحق بھا‘‘







    ۳۸
    آزادی سے قبل تصفیہ حقوق ضروری ہے
    (فرمودہ ۱۴۔فروری ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    گو رمضان کے لحاظ سے اس مضمون کو چنداں اہمیت حاصل نہیں جس کے متعلق آج میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں لیکن چونکہ ہماری جماعت دوسروں سے مل کر رہتی ہے‘ مل کر کام کرتی ہے‘ دوسروں کے خیالات سنتی ہے۔ اپنے گردوپیش کے حالات سے متاثر ہوتی ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کے متعلق جس قدر جلدی ہو سکے مجھے اپنی رائے کا اظہار کر دینا چاہئے تا وہ احباب جو اس معاملہ میں میری راہنمائی کے منتظر یا محتاج ہیں میرے خیالات سن کر کوئی رائے قائم کر سکیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس سوال کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہدایات کافی موجود ہیں لیکن ہر انسان میں اتنی قوت وطاقت نہیں ہوتی کہ وہ تحقیقات سے کوئی صحیح نتیجہ اخذ کر کے اپنے لئے اسوہ قرار دے سکے یا رستہ تجویز کرے اس لئے میں سمجھتا ہوں ضروری ہے کہ ایسی طبائع کے لئے جو مزید تشریح کی محتاج ہیں یا جو قوتِ استدلال نہیں رکھتیں یا جذبۂ اخلاص کی وجہ سے ہر معاملہ میں خلیفہ کی طرف نگاہ اُٹھاتی ہیں کہ کیا آواز آتی ہے اپنے خیالات کا اظہار کر دوں۔ وہ معاملہ سیاسی سوال ہے جو اِس وقت ہمارے ملک کے سامنے پیش ہے۔ مجھے اس بارہ میں جلدی اظہارِ خیالات کی ضرورت اس وجہ سے بھی پیش آئی ہے کہ بعض دوستوں کی طرف سے سوال ہوا ہے کہ اس معاملہ میں اپنے خیالات ظاہر کر دوں۔
    ہمارے اخبار بیں حضرات اس امر سے واقف ہیں کہ اِس وقت ہندوستان میں زور سے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ اب ہندوستان کو انگریزی اثر سے آزاد کرانا چاہئے۔ یہ خیال ایسا قدرتی خیال ہے کہ کوئی بھی انسان اس سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ حب الوطنی ایسی چیز ہے جس سے کوئی انسان محروم نہیں گو بعض لوگ لالچ اور حرص و ہوا کی وجہ سے اسے دبا لیتے ہیں اور بعض اس کے صحیح معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ میں ایک منٹ کے لئے بھی یہ باور نہیں کر سکتا کہ جو پولیس حکومت کے اقتدار کو مضبوط کرنے یا وہ C.I.D (خفیہ پولیس) جو اس لئے مقرر ہے کہ حکومت کے خلاف خیالات کی اشاعت کرنے والوں کی سرگرمیوں سے ارکانِ حکومت کو مطلع کرتی رہے وہ بھی آزادی کے خیال سے عاری ہو۔ دل میں وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہر قوم کو حق ہے کہ آزادی حاصل کرے لیکن چند پیسوں کے لئے وہ خیالات کو چُھپانے پر مجبور ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہی لوگ جب پنشن پانے کے بعد گھروں میں جاتے ہیں تووہ بھی آزادی کا شور مچانے لگ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں پہلے بھی آزادی کا خیال تھا لیکن ملازمت کی وجہ سے وہ اسے ظاہر نہیں کرتے تھے۔
    غرضیکہ آزادی ایک ایسا جذبہ ہے کہ میں باور ہی نہیں کر سکتا کہ کوئی انسان اس سے خالی ہو۔ فرق صرف ذریعہ حصولِ آزادی اور آزادی کی صورت کا ہے۔ بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کو ایسے رنگ میں آزادی حاصل کرنی چاہئے کہ وہ انگلستان سے وابستہ بھی رہے لیکن اندرونی معاملات میں آزاد ہو بلکہ انگلستان جو بیرونی معاملات طے کرے ان میں بھی ہندوستان کو مساویانہ رائے دینے کا حق ہو جیسے آسٹریلیا اور کینیڈا وغیرہ کو ہے۔بعض لوگ اس کے خلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انگریزوں کا ہندوستان سے کسی قسم کا بھی تعلق نہیں ہونا چاہئے اور ہندوستان جسے مناسب سمجھے بادشاہ یا صدر منتخب کر کے اپنا انتظام کرے جیسے جرمنی یا فرانس کی آزاد حکومتیں ہیں۔ یہ نقطہ نگاہ کانگریس کی طرف سے پیش کیا گیا ہے اور اب اس رَو کو سارے ملک میں چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کانگریس کی طرف سے اس نظریہ کے پیش ہونے سے قبل پنڈت موتی لال نہرو نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر جو بخیالِ خود ملک کے نمائندے بن گئے تھے کیونکہ انہیں کسی نے منتخب نہیں کیا تھا ایک طریقِ حکومت تجویز کیا تھا جس سے مسلمانوں کو عموماً اور جماعت احمدیہ کو خصوصاً شدید اختلاف تھا کیونکہ اس کے ذریعہ حکومت ہندوؤں کے ہاتھ میں دے دینے اور مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ سکھوں کو بھی اس سے شدید مخالفت تھی اور اس کے خلاف نہایت زور و شور سے پروپیگنڈا کیا گیا۔ اب جبکہ کانگریس نے مکمل آزادی کا اعلان کیا ساتھ ہی نہرو رپورٹ کی موقوفی کا بھی اعلان کر دیا اور قرار دے دیا کہ آئندہ جب کوئی حکومت قائم ہو جائے گی تو کوئی ایسا نظامِ حکومت قائم نہیں کیا جائے گا جس سے مسلمان اور دیگر اقلیتیں رضا مند نہ ہوں۔ گو پہلا فرض یہ ہے کہ سب مل کر آزادی حاصل کر لیں‘ آزادی حاصل ہونے تک تمام اختلافات کو دبائے رکھا جائے‘ آزادی حاصل ہونے کے بعد مسلمانوں کے مشورہ اور ان کے مطالبات کو پیش نظر رکھ کر نظامِ حکومت تجویز کیا جائے گا اس پر بعض مسلمان رضا مند ہو گئے ہیں۔
    اس سوال کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔ یہ بات ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہئے کہ آزاد حکومت محبت سے تو مل نہیں سکتی۔ کسی سے یہ کہنا کہ اپنا بوریا باندھو اور یہاں سے اٹھا کر چلے جاؤ ایسی بات ہے جو بغیر لڑائی جھگڑے کے طے نہیں ہو سکتی اور قائم شُدہ حکومت سے جنگ احمدی نقطہ نگاہ سے مذہب کے خلاف ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے ماتحت یہ طریق بہرحال ناجائز اور ناپسندیدہ ہے اور یہ خیال کہ انگریز اپنی مرضی سے چلے جائیں گے انسانی فطرت کی ہنسی اُڑانا ہے۔ بادشاہت تو بڑی چیز ہے کوئی چپّہ بھر زمین بھی بغیر لڑائی کے نہیں چھوڑتا۔ پھر یہ خیال کہ اتنا بڑا ملک جو انگلستان سے بیس پچّیس گُنا بڑا ہے اور جس کی آبادی وہاں سے آٹھ نَو گُنا زیادہ ہے اور جس سے وہ اتنے عظیم الشان فوائد حاصل کر رہے ہیں ہمارے ریزولیوشنوں اور قراردادوں سے ڈر کر انگریز چھوڑ جائیں گے احمقانہ خیال ہے۔ ہندوستان چھوڑنے سے انگلستان کے وقار کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اگر انگریزوں کو ہندوستان بالکل چھوڑنا پڑا تو وہ یقینا جنگ کریں گے جیسا کہ امریکہ سے کی تھی۔ لیکن اگر ہندوستان والے ایسی آزادی پر رضا مند ہو جائیں جس میں انگلستان کا بھی تعلق ہندوستان سے قائم رہے تو اس سے چونکہ انگلستان کا وقار بھی قائم رہے گا اور اسے کوئی زیادہ نقصان بھی برداشت نہیں کرنا پڑے گا اس لئے اسے وہ منظور کر سکتا ہے۔ اِس وقت بھی بعض حکومتیں ایسی ہیں جنہیں انگلستان اس شرط پر آزادی دے چکا ہے کہ تم یہ اقرار کرو کہ ہمارا بادشاہ شاہِ انگلستان ہے جیسے کینیڈا‘ ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا ہیں لیکن کامل آزادی خونریزی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ پھر اگر جنگ ہوئی تو کسے فتح ہو گی اور کسے شکست یہ سوال مذہب سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ سیاسیات سے متعلق ہے۔ مذہب جس بات کا حکم دے اس میں فتح یا شکست کو نہیں دیکھا جاتا اور اگر کوئی امر مذہباً ناجائز ہو تو اس میں خواہ فائدہ یا فتح ہی ہو اسے ہم نہیں کر سکتے مثلاً ایک شخص کا مکان بالکل جنگل میں واقع ہے وہ وہاں موجود نہیں اور بھی کوئی دیکھنے والا نہیں تو اگرچہ ہم نہایت آسانی سے اس کا مال نکال کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر ہم ایسا نہیںکریں گے کیونکہ مذہب نے اس کی اجازت نہیں دی۔ لیکن باقی جہاد کا سوال ہے تو جب اس کا حکم ہو اُس وقت یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ ہمیں فتح ہو گی یا شکست ہر مسلمان کا فرض ہو گا کہ جنگ کے لئے اُٹھ کھڑا ہو خواہ ایک ایک کر کے سب مارے جائیں۔ پس جائز یا ناجائز مذہبی لحاظ سے دیکھا جاتا ہے اور اس میں فتح و شکست یا نفع ونقصان کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔ اور مذہبی لحاظ سے اس سوال کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حل فرما دیا ہے اور اسے ناجائز قرار دیا ہے۔ اب اگر ہماری فتح یقینی ہو جب بھی ہم جنگ نہیں کر سکتے اور اس بات کو کوئی عقلمند نہیں مان سکتا کہ انگریز بغیر لڑائی جھگڑے کے ہندوستان چھوڑ دیں گے۔ اب اس کا سیاسی پہلو باقی رہ جاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کانگریس کی پالیسی سے زیادہ دھوکا اور فریب کی پالیسی اور کوئی نہیں ہو سکتی اور مسلمانوں سے زیادہ کوئی احمق نہ ہو گا اگر انہوں نے اسے تسلیم کر لیا۔ یہ کہنا کہ حقوق کا تصفیہ بعد میں ہو جائے گا نہایت مضحکہ خیزبات ہے۔
    مذہب اگر کسی کام کے کرنے کی اجازت دیتا ہو تو بھی ہمیں عقل سے کام لیکر دیکھنا چاہئے کہ ہمارا فائدہ اس کے کرنے میں ہے یا نہ کرنے میں۔ جیسے بینگن اور کدّو کھانا جائز ہیںلیکن جسے بواسیر ہو اُسے بینگن نہیں کھانا چاہئے۔ تو شریعت نے جس امر میں اجازت دی ہے اس میں ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہمارا فائدہ اس کے کرنے میں ہے یا نہ کرنے میں اور اس امر میں اگر شریعت نے اجازت بھی دی ہو کہ ہم دخل دیں تو بھی میں کہوں گا کہ سیاسی لحاظ سے یہ خود کشی کا معاملہ ہے۔
    میں نے بتایا ہے انگریز بغیر لڑائی اس ملک کو چھوڑنے کے نہیں۔ فرض کرو لڑائی ہوئی اور انگریز ملک کو چھوڑ کر بھی چلے گئے تو کوئی عقلمند یہ نہیں مان سکتا کہ کوئی ملک کسی وقت بھی بغیر حکومت کے رہ سکتا ہے۔ پھر اگر تمام انگریزوں کو قتل کر کے یا سمندر میں غرق کر کے ایک دن میں ختم بھی کر دیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُس دن ہندوستان پر کون قابض ہو گا مسلمان یا ہندو یا مشترکہ طور پر دونوں۔ اگر مشترکہ طور پر تو پھر ان کا اشتراک کس نسبت سے ہو گا۔ اگر کہا جائے کہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو گی تو یہ بالبداہت غلط ہے کیونکہ ہندو مسلمانوں کو کچھ بھی دینے کے لئے تیار نہیں اس لئے فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ جب تک باقاعدہ کوئی حکومت قائم نہ ہو گی نظام مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے گا تا وہ مطمئن رہیں کہ ان کے حقوق پامال نہیں ہوں گے۔ لیکن اگر کہا جائے کہ ہندوؤں کے ہاتھ میں ہو گا تو وہ ہندو جو آج جب کہ انگریزوں سے جنگ کرنے کے لئے انہیں مسلمانوں کی مدد کی ضرورت ہے مسلمانوں کے مطالبات نہیں مانتے تو برسرِ حکومت آ جانے پر وہ کب سُنیں گے۔ پہلے کسی ہندو ریاست سے ہمیں حقوق لیکر بتاؤ پھر ہم مان لیں گے کہ اُس وقت بھی ہندو ہمارے حقوق دے دیں گے۔ اگر کہاجائے مشترک طور پر انتظام کیا جائے گا تو پھر وہی سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اشتراک کس نسبت سے ہو گا اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا کیا انتظام ہو گا۔ بعض مسلمان کہہ دیتے ہیں یہ سوال ابھی مت اُٹھاؤ پہلے انگریزوں کو ملک سے نکال لو اس کے بعد ہندوؤں سے مسلمان زبردستی اپنے حقوق لے لیں گے۔ لیکن یہ خیال انہیں مسلمانوں کا ہے جن کے دلوں میں غداری اور بددیانتی ہے۔ یہ خیال کہ انگریزوں کے بعد ہندوؤں سے لڑ کر ان کو نکال دیا جائے گا اوّل تو بدیانتی ہونے کی وجہ سے مذہباً ناجائز ہے خواہ ہندو ہو یا کوئی اور غیر مسلم اس سے ایسا دھوکا کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ لیکن یوں بھی یہ خیال باطل ہے۔ یہ خیال عام طور پر پنجاب میں پایا جاتا ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے اور زیادہ تر فوجی خدمات سرانجام دیتے ہیں باقی اب تک جہاں کہیں بھی لڑائی ہوئی ہے مسلمان ہی زیادہ مارے گئے ہیں۔ پنجاب میں چونکہ ہندوؤں کی تعداد کم ہے اور جو ہیں وہ بَنْیا لوگ ہیں اس لئے پنجاب کے بعض کوتاہ فہم مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ مسلمان لڑائی میں سارے ہندوستان کے ہندوؤں کو شکست دے سکتے ہیں۔ ذرا اوپر حصار‘ گوڑ گانواں‘ کرنال‘ انبالہ کی طرف چلے جاؤ تمام ہندو‘ جاٹ اور راجپوت آباد ہیں۔ پھر پہاڑوں میں ڈوگرے بستے ہیں اور ان تمام باتوں کو فراموش کر کے کنویں کے مینڈک کی طرح یہ خیال کر لینا کہ ہم ہندؤں کو مار کر نکال دیں گے بیہودہ بات ہے۔ ابھی ڈھاکہ میں فساد ہوا ہے جس میں دو مسلمان مارے گئے اور ہندو کوئی بھی نہیں مرا۔ بہار میں جب ہندو مسلم فساد ہوا تو ہندوؤں نے مسلمانوں کو ہی قتل کیا تھا۔ پھر کٹا ر پور اور آرہ وغیرہ مقامات پر مسلمانوں کو بے دریغ تہہِ تیغ کیا گیا۔ غرض ہندو جہاں بھی بیدار ہیں وہاں مسلمان لڑائی میں ان سے ہرگز نہیں جیت سکتے۔ پھر تعداد‘ تنظیم اور روپیہ میں بھی وہ زیادہ ہیں۔ لاہور میں مَیں نے گلیوں کے اندر انہیں گتکا کھیلتے دیکھا ہے۔ دو تین روز ہوئے میں ایک گاؤں سے واپس آ رہا تھا کہ ایک گاؤں میں رسّہ کشی ہوتے دیکھی۔ چند سال پہلے گاؤں میں یہ تحریک نہ تھی لیکن اب دیہاتوں میں بھی تنظیم کی جا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بَنْیوں کو بھی جنگجو قوم بنا دیا جائے۔ ہندوؤں کی باقی قومیں پہلے ہی جنگجو ہیں۔ ہندوستان میں چھوٹے چھوٹے ہندو راجے مسلمان بادشاہوں کے ساتھ کئی کئی سال تک متواتر جنگ کرتے رہے ہیں اور دراصل مسلمانوں میں جو جنگجو اقوام ہیں وہ بھی ہندوؤں میں سے ہی آئی ہیں۔ جاٹ یا راجپوت عرب سے نہیں آئے یہیں کے باشندے ہیں اور ان کے بہت سے بھائی بند ابھی ہندو ہیں۔ مدراس کے ہندو ہمیشہ فوجوں میں بھرتی کئے جاتے ہیں پھر مرہٹے ہیں غرضیکہ ہندوؤں کی لڑنے والی قومیں بہت ہیں اور تعداد میں مسلمانوں سے بہت زیادہ ہیں۔ پس جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم لڑ کر ہندوؤں کو یہاں سے نکال دیں گے وہ بہت بیوقوف ہیں۔
    ہندوستان میں عربی النسل مسلمان تو چند ہزار ہی ہوں گے۔ جن مسلمان قوموں پر جنگ کے وقت انحصار کیا جا سکتا ہے وہ سب ہندوؤں سے ہی آئی ہیں اور ان کے ہندو بھائی ابھی تک اسی طرح بہادر ہیں جیسے یہ مسلمان۔ اگر مسلمان جاٹ اور راجپوت لڑنے والے ہیں تو ان سے بہت زیادہ تعداد میں ہندو جاٹ اور راجپوت موجود ہیں۔ پس چند ایک بَنْیوںکو دیکھ کر ہندوؤں کو کمزور سمجھ لینا ایک خلافِ عقل بات ہے۔ حالانکہ اسی قسم کی قومیں مسلمانوں میں بھی ہیں مثلاً مُلاّ لوگ ہیں ذرا سی ہشت کرو تو بھاگ جائیں گے۔ تو بُزدل دونوں میں ہیں اور بہادر بھی دونوں میں ہیں۔ لیکن تعداد کے لحاظ سے ہندو مسلمانوں سے تین گُنا زیادہ ہیں اس لئے ایسا خیال نہ صرف یہ کہ بددیانتی اور غداری ہے بلکہ خلافِ عقل اور صریحاً غلط بھی ہے۔ تھوڑے سے مرہٹوں نے شاہانِ مغلیہ کا ناک میں دم کر دیا تھا۔ ایک طرف وہ میسور کو تنگ کر رہے تھے اور دوسری طرف حیدر آباد کو حتیّٰ کہ انہوں نے دہلی میں آ کربادشاہ کو قید کر لیا اور تخت پر قابض ہو گئے۔ آخر یہ وہی مسلمان ہیں نا جن پر تھوڑے سے سکھوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ پس غور کرنا چاہئے کہ کیا اب وہ ہندو موجود نہیں ہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان لڑنے والے نہیںبے شک مسلمان جنگجو ہیں اور بہادر بھی ہیں مگر کہتے ہیں جنگ دو سردارد۔ اوّل تو ہندو ان کے مقابل میں ویسے ہی بہادر ہیں پھر ان کی تعداد زیادہ ہے اور جنگ میں اپنی فتح پر کون یقین کر سکتا ہے۔ پس یہ خیال کہ لڑ کر ہندوؤں کو نکال دیا جائے گا بالکل غلط ہے۔ بلکہ برعکس پچھتّر فیصدی یہ امید ہے کہ ہندو مسلمانوں کو کُچل ڈالیں گے۔ کہا جاتاہے کہ گاندھی جی نے مسلمانوں کی حفاظت کا وعدہ کر لیا ہے مگر جب حکومت آئے گی‘ گاندھی جی کو کون پوچھے گا۔ فیصلہ تو ملک کی عام رائے کے مطابق ہو گا۔ گاندھی جی کے متعلق کب گاؤں گاؤں اور شہر شہر سے رائے لی گئی اور کب وہ ہندوؤں کے لیڈر منتخب ہوئے وہ آپ ہی آپ لیڈر بن گئے ہیں۔ اگر حکومت ملنے پر عوام نے کہہ دیا کہ ہمیں گاندھی جی کا فیصلہ منظور نہیں تو اُس وقت کِیا کیا جائے گا اور یہ جواب صحیح بھی ہے۔ کس نے انہیں اپنی لیڈری کے لئے چُنا ہے؟ ان کے فیصلہ کی پابندی کے لئے اخلاقی طور پر بھی ہندوقوم ذمہ دار نہیں۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی انگریز آ کر ہندوستان سے معاہدہ کر جائے کہ ہندوستان کو آزاد کیا جاتا ہے۔ جنگِ عظیم کے دوران میں حجاز نے انگریزوں سے معاہدہ کیا جس پر ایک انگریزی جرنیل نے دستخط کر دیئے لیکن بعد میں انگریزوں نے کہہ دیا ہم نے کب اُس جرنیل کو معاہدہ کرنے کا اختیار دیا تھا چنانچہ وہ مسترد ہو گیا۔ تو جب ملک آزاد ہو جائے گا اُس وقت اگر ہندو کہہ دیں کہ گاندھی ہے کون؟ ہم نے کب رائے عامہ سے اسے اپنا لیڈر تسلیم کیا۔ وہ ایک کام کرنے والا آدمی تھا جس کی وجہ سے ہم اس کی عزت کرتے تھے۔ وہ ہمارا قائم مقام ہرگز نہیں ہو سکتا تو کیا بنے گا؟ سوائے اس کے کہ مسلمان بیوقوف سمجھے جائیں گے اور تمام دنیا ان پر ہنسے گی کہ پیش بندی کے بغیروہ جنگ میں کود پڑے۔
    پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سالہا سال سے ہندو مسلمان تصفیہ حقوق کے لئے جھگڑ رہے ہیں لیکن آج تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا پھر کون کہہ سکتا ہے کہ آزادی ملتے ہی ایک دم سارے فیصلے ہو جائیں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ اسی طرح دس پندرہ سال اور لگ جائیں اور پھر بھی فیصلہ نہ ہو۔ ایسی صورت میں اتنا عرصہ ملک پر کس کی حکومت ہو گی اگر کہا جائے کہ عارضی طور پر انتظام کر لیا جائے گا تو پھر وہی سوال آئے گا کہ اس میں مسلمانوں کی نگہداشت کا کیا انتظام ہو گا اور پھر اگر فیصلہ کے بعد اسی عارضی حکومت نے حکومت سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا تو پھر کیا ہو گا۔ غرض یہ بات کہ تصفیہ حقوق بعد میں ہو گا سراسر عقل کے خلاف بات ہے۔ تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے کئی سال تک کوئی فیصلہ نہ ہو ۔کیا اتنا عرصہ ہندوستان بغیر کسی حکومت کے رہے گا مگر حکومت کے بغیر کوئی ملک رہ نہیں سکتا۔ کچھ عرصہ کے لئے ہی اگر یہاں کوئی حکومت نہ ہو تو نیپال اور افغانستان جیسی چھوٹی چھوٹی سلطنتیں ہی ملک کو لوٹ کر کھا جائیں۔ انگریز ہندوستان پر اسی لئے قابض ہو گئے تھے کہ ملک میں کوئی بادشاہ نہ تھا۔ مگر اُس وقت تو پھر بھی چھوٹے چھوٹے راجے مہاراجے تھے جنہوں نے کچھ نہ کچھ مقابلہ کیا۔ اب جبکہ کوئی بھی حکمران نہ ہو گا اُس وقت کیا حالت ہو گی۔ یہ جھگڑا دنوں میں نہیں بلکہ سالوں میں طے ہونے والا ہے۔ اس لئے جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو اُس وقت تک کون حکومت کرے گالہٰذا حکومت کی تشکیل پہلے ہو جانا ضروری ہے اور اگر نیت نیک ہو اور مسلمانوں کو کچھ دینے کا ارادہ ہو تو پیچھے ڈالنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بعض لوگ نادانی سے کہہ دیتے ہیں کہ ابھی کچھ ہے ہی نہیں تو دیں کیا؟ لیکن ہم کب کہتے ہیں کہ عملاً کچھ دے دو ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ فیصلہ کر لو کہ ہاتھ میں آنے کے بعد کیا دو گے۔ تصفیہ بہرحال ضروری ہے تا معلوم ہو سکے کہ مسلمانوں کو ایسی پوزیشن حاصل نہیں ہو گی جس سے اسلام ہی ہندوستان سے مٹ جائے۔ یہ سوال خلاف عقل ہے اور جب تک پہلے حقوق طے نہ کر لئے جائیں مسلمانوں کو کبھی مطمئن نہ ہونا چاہئے۔
    نہرورپورٹ کی تنسیخ بھی کانگریس کی طرف سے سخت دھوکا ہے اور جو مسلمان اس سے مطمئن ہو گئے ہیں ان کی عقل پر افسوس ہے۔ پہلے تو ڈومینین سٹیٹس (Dominion Status) کا مطالبہ تھا اور اس صورت میں کچھ نہ کچھ تسلی اس طرح ہو سکتی تھی اگر ہندوؤں نے ہمارے حقوق ہمیں نہ دیئے تو انگریزوں سے مدد لی جا سکتی ہے اور وہ دلا دیں گے لیکن جب انگریزوں کو نکال ہی دیا جائے گا تو پھر مسلمان کا پُرسانِ حال کون ہو گا۔ وہ ہندوؤں کے رحم پر ہوں گے اگر چاہیں تو کچھ دے دیں وگرنہ ان کی مرضی۔ پس میں کہوں گا جو مسلمان کانگریس کی رَو میں بہے چلے جا رہے ہیں وہ اسلامی نقطۂ نگاہ سے خود کشی کر رہے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ ہم فرقہ وارانہ جذبات سے نہیںبلکہ نیشنلٹی کے خیال سے کانگریس کے ساتھ ملے ہیں اور یہ ایک نیشنل سوال ہے تو میں کہوں گا اگر بعد میں جوتے کھا کر ہندو بننا ہے تو پہلے ہی اپنی مرضی سے کیوں نہ بن جاؤ۔ اُس وقت تو بننا مجبوری کے ماتحت سمجھا جائے گا مجبور ہو کر کوئی کام کرنے والے کو کوئی کریڈٹ نہیں ملا کرتا۔ پس اگر قومی سپرٹ کے ماتحت مذہب کو قربان ہی کرنا ہے تو پہلے ہی کر دو۔
    غرض اِس وقت اگر اپنی پوزیشن کو محفوظ نہ کر لیا گیا تو مسلمانوں کی ہندوستان میں وہی حالت ہو گی جو سپین میں ہوئی۔ سپین کے مسلمان ہندوستان کے مسلمانوں سے زیادہ تازہ دم تھے ان کی تعداد بھی عیسائیوں سے کم نہ تھی مگر جب وہ تباہ کر دیئے گئے تو یہاں کے مسلمانوں کی کیا حالت ہو گی۔ پس یہ رَو اسلامی حقوق کے خلاف ہے اور مذہبی نقطہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو جس رنگ میں یہ مل سکتی ہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ناجائز قرار دیا ہے اور سیاسی لحاظ سے بھی یہ سخت نقصان رساں ہے اس لئے بہترین طریق یہ ہے کہ ڈومینین سٹیٹس کے حصول کی کوشش کی جائے اور دنیا کی رَو بھی اسی طرف ہے۔ پہلے ہی کچھ حکومتوں نے مل کر ایک لیگ بنا رکھی ہے جو لیگ آف نیشنز کہلاتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس طریق کے بغیر امن قائم بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر تمام سلطنتیں اپنی اپنی جگہ آزاد ہو کر بھی ایک نقطہ پر جمع ہوں تو ایک دوسرے کے حق کو دبا نہیں سکتیں۔ اور انگریزی حکومت اس لحاظ سے بے نظیر ہے اس میں پہلے ہی کئی ملک ہیں جو آزاد ہو کر پھر بھی مل کر کام کرتے ہیں جیسے کینیڈا‘ ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا یہ اپنی اپنی جگہ آزاد ہیں مگر پھر بھی ایک دوسرے سے مل کر کام کرتے ہیں اور یہ بہترین طریق ہے جس کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں جب بھی امن قائم ہو گا اسی طرح ہو گا کہ سب حکومتیں آزاد ہونے کے باوجود ایک نقطہ پر جمع ہو جائیں تا ایک ملک دوسرے ملک پر ظلم نہ کر سکے اور اس طریق کا ایک چھوٹا سا نمونہ حکومتِ انگریزی میں ہے۔ اگر ہندوستان بھی اس نظام میں شامل ہو جائے تو یہ زیادہ وسیع ہو جائے گا۔
    پس ہندوستان کے لئے یہی ذریعہ بہتر ہے کہ پہلے ہی اس طرف آ جائے بجائے اس کے کہ دھکے اور ٹھوکریں کھا کر آئے۔ تمام دنیا اب اس طرف آ رہی ہے کہ سب اقوام میں اشتراک ہو۔ یہ طریق ہندوستان کے لئے نہ صرف آسان ہے بلکہ اس میں فساد کا بھی خطرہ نہیں اور دنیا کے امن کے لئے بھی یہی مفید ہے کہ ہندوستان آزاد بھی ہو اور انگلستان کے مساوی حیثیت بھی رکھتا ہو مگر اس کے بادشاہ کو اپنا بادشاہ بھی تسلیم کرے۔
    اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر رحم کرے اور انہیں توفیق دے کہ وہ اپنے حقوق کی نگہداشت کریں اور ایسا طریق اختیار نہ کریں کہ مٹ جائیں۔ موجودہ رَو ہندوستان میں سپین کا نقشہ قائم کرنے والی ہے اور اس کے کامیاب ہونے پر مسلمانوں کی وہی حالت ہو گی جو ہندو ریاستوں میں ہے۔ اور اس سے کوئی فائدہ نہ ہو گا سوائے اس کے کہ جو مسلمان مذہب سے دور ہوں وہ ہندو بن جائیں گے اور جو مذہب کے دلدادہ ہوں گے وہ تباہ کر دیئے جائیں گے۔
    (الفضل ۲۵۔ فروری ۱۹۳۰ئ)

    ۳۹
    سورۃ فاتحہ کی ایک آیت کے نکات
    (فرمودہ ۲۱۔فروری ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد‘ و تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    یوں تو سورۃ فاتحہ خطبہ جمعہ سے پہلے برکت اور دعا کے طور پر میں ہمیشہ ہی پڑھتا ہوں لیکن کبھی کبھی اس سے مراد یہ بھی ہوتی ہے کہ خطبہ کا مضمون اس سے تعلق رکھتا ہے اور آج اسی رنگ میں مَیں نے اس کی تلاوت کی ہے۔ آج میں اس کی آیت اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ۱؎ کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ دل تو چاہتا تھا کہ اس کے متعلق زیادہ تفصیل سے بیان کروں مگر جلسہ کے بعد مجھے کھانسی جو شروع ہوئی ہے کہ پھر آرام نہیں ہوا۔ ایک دن اگر رُک جاتی ہے تو دوسرے دن پھر شروع ہو جاتی ہے۔ خصوصاً روزہ کی حالت میں گلے میں خراش زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ رات کو آرام ہو جاتا ہے اور بعض اوقات گو میں سمجھتا ہوں کہ بالکل ہی آرام ہو گیا لیکن دن میں گلے میں شاید خشکی کے باعث پھر IRRITATION پیدا ہو جاتی ہے اس لئے میں تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا مگر امید کرتا ہوں کہ میرے الفاظ میں جو کمی رہ جائے گی احباب کے ذہن اسے خود پورا کر لیں گے۔
    ہم روزانہ دعا کرتے ہیں کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔ اور ایک دفعہ نہیں‘ دو دفعہ نہیں‘ تین دفعہ نہیں‘ روزانہ چالیس پچاس دفعہ یہ دعا کرتے ہیں اور اس دعا میں ہم کئی باتوں کا اقرار کرتے ہیں جو اپنی ذات میں نہایت اہم ہیں مگر تعجب ہے کہ اعمال میں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پہلی چیز جس کا اقرار اس میں کرتے ہیں یہ ہے کہ صراط مستقیم دنیا میں موجود ہے کیونکہ اگر موجود نہ ہو تو مانگ کس طرح سکتے ہیں۔ عقلمند انسان وہی چیز مانگتا ہے جس کا اسے یقین ہو کہ دنیا میں موجود ہے۔ جو چیز میسر ہی نہ آ سکے کوئی ہوش و حواس رکھنے والا انسان اس کے لئے دعا نہیں کیا کرتا۔ تو یہ دعا کر کے ہم گویا اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ واقعی کوئی ایسی راہ موجود ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا سکتی ہے۔ یہ اقرار معمولی نہیں۔ اگر واقعی دل میں یہ خیال راسخ ہو کہ انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے تو زندگی کا نقشہ ہی بالکل بدل جائے۔ جن باتوں کے متعلق انسان کو یقین ہو کہ اسے مل سکتی ہیں ان کے لئے وہ اور ہی رنگ میں جدوجہد کرتا ہے اور وہ باتیں ہر وقت اور تمام کاموں میں اس کے مدنظر رہتی ہیں اور کسی وقت بھی وہ ان کو نہیں بھولتا۔ پس اگر یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ مل سکتا ہے اور اس کے ملنے کے ذرائع کُھلے ہیں تو یہ بھی صاف ہے کہ دنیا کی اور کوئی چیز اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔ جسے خدا مل جائے اسے بھَلا اور کیا چاہئے۔ دنیا کے سارے عذاب اس کے لئے ہیچ ہیں۔ دنیا میں لوگ بادشاہوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جانیںتک دے دیتے ہیں حالانکہ ان کی خوشنودی کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک انسان مارا جائے اور اس کے بعد بادشاہ واہ واہ کہہ بھی دے تو مرنے والے کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مگر باوجود اس کے بادشاہ سے جو تعلق اور محبت لوگوں میں پائی جاتی ہے اس کی وجہ سے لوگ جانیں دے دیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں اگر زندگی میں ہمارا نام بادشاہ تک نہیں پہنچ سکا تو شاید موت کی خبر ہی اسے پہنچ جائے اور وہ خوش ہو جائے۔ اسی خیال کے ماتحت لڑائی میں جاتے ہیں اور گولی یا تلوار سے مر جاتے ہیں آگے ان کا معاملہ خدا سے ہوتا ہے خواہ جہنم میں ڈالے یا جنت میں۔ مگر محض اس لئے کہ ان کا نام بادشاہ تک پہنچ جائے وہ جان دے دیتے ہیں یا پھر یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر بچ رہے تو شاید اس جان نثاری کے عوض میں کبھی بادشاہ تک پہنچ جائیں اور اس امید موہوم کی وجہ سے ہی وہ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں۔ بسااوقات ایسے لوگ مر جاتے ہیں لیکن ایک سپاہی خواہ وہ کتنے ہی اخلاص سے کیوں نہ جان دے بادشاہ سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا کیونکہ بادشاہ کی طاقت میں یہ بات نہیں کہ اگلے جہان میں جا کر اسے مل سکے اور کچھ دے سکے۔
    چونکہ اس آیت سے قبل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اس لئے صاف معلوم ہوتا کہ صراط مستقیم میں خدا تعالیٰ کا راستہ ہی مانگا جا رہا ہے۔ اگر اوپر مکہ مدینہ کا ذکر ہوتا تو یہ راستہ بھی مکہ مدینہ کا ہی سمجھا جاتا یا اگر لندن یا پیرس یا کسی اور ملک کا ذکر ہوتا تو راستہ بھی وہیں کا ہوتا اور اگر تجارت یا زراعت کا ذکر ہوتا تو ہم کہتے راستہ سے مراد اُسی کا راستہ ہے لیکن چونکہ اوپر اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اس لئے لازماً راستہ سے مراد بھی اسی کا راستہ ہے کیونکہ سب سے مقدم یہاں وہی چیز ہے جس کا ذکر پہلے آیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس جب ہم یہ دعا مانگتے ہیں تو گویا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ موجود ہے۔ اب سوچو کہ اس شخص کے مقابلہ میں جو بادشاہ تک پہنچنے کی موہوم امید میں اپنی جان کھو دیتا ہے ہماری کوششیں کتنی بڑی ہونی چاہئیں۔ اگر واقعی دل میں یقین ہے کہ خدا تعالیٰ مل سکتا ہے تو دیکھو تمہارے دل میں اس سے ملنے کے لئے کتنی تڑپ ہے۔ جو شخص منہ سے تو یہ اقرار کرتا ہے لیکن اس کے لئے کوشش نہیں کرتا اور ہمیشہ یہی دعا کرتا رہتا ہے کہ میرے ہاں بچہ ہو جائداد اور ورثہ کے مقدمہ میں مجھے فتح ہو‘ تجارت چل نکلے بارش پڑے تا کھیتی ہو جائے ‘میرا دشمن زیر ہو جائے اور خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے کوئی خواہش اس کے دل میں پیدا نہیں ہوتی تو صاف پتہ لگ گیا کہ یہ اقرار صرف منہ کا اقرار ہے کیونکہ جن کو یقین ہوتا ہے وہ کوشش بھی ضرور کرتے ہیں اور اسے بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ایک ضرب المثل ہے ’’نو نقد نہ تیرہ اُدھار‘‘ یعنی اُدھا رکا چونکہ یقین نہیں ہوتا اس لئے خواہ وہ زیادہ ہی ہو اسے چھوڑ کر تھوڑے نقد کو لینا بہتر ہے۔ پس جس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کی ملاقات کا یقین نہ ہو وہ باوجود خیال ہونے کے دنیا کو مقدم کر دے گا کیونکہ یہ اسے نظر آتی ہے۔ جیسے پنجابی میں کہتے ہیں۔ ’’ایہہ جہان مٹھا۔ اگلا کن ڈِٹھّا‘‘۔ یعنی یہ جہان اور اس کی لذات تو نظر آتی ہیں لیکن اگلے جہان پر شُبہہے اور شُبہپر یقین کو کوئی قربان نہیں کیا کرتا۔ لیکن جو شخص منہ سے کہتا ہے اِھْدِنَا وہ اقرار کرتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ پر پورا یقین ہے اور جسے یہ یقین ہو وہ دنیا کی کسی چیز کو اس پر قربان نہیں کرے گا۔ اسے خواہ آگ میں ڈال دیا جائے خواہ بھوکا اور پیاسا رکھا جائے اس کے جسم کو خواہ کتنی بھی تکلیف پہنچائی جائے لیکن اس کی روح لذت سے بھری ہوئی ہو گی کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کر رہا ہوں۔ اور اگر کسی وقت وہ اس تکلیف کو بوجھل محسوس کرے تو وہ وہی وقت ہو سکتا ہے جب اسے خدا سے ملنے کا شک پیدا ہو گیا ہو گا کیونکہ اگر یقین ہو گا تو وہ کسی تکلیف کی بھی پرواہ نہیں کرے گا اور یہی کہے گا کیا ہؤا اگر مجھے تکالیف پہنچتی ہیں جبکہ میں خداسے ملنے والا ہوں۔
    غرض جب انسان کے دل میں یقین ہو تو اس کا نقطہ نگاہ بالکل بدل جاتا ہے۔ اُس وقت خواہ کتنے مصائب آئیں کچھ پرواہ نہیں ہوتی اور انسان خوشی محسوس کرتا ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ انسان دعا کرے کہ اس پر تکالیف آئیں بلکہ یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ تکالیف برداشت کر کے ہی ملتا ہے تو پھر ہمیں راحت سے ان تکالیف کو برداشت کرنا چاہئے۔ یہ تو ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ زندہ رہے اور بادشاہ تک پہنچے لیکن اگر مرنا ہی پڑے تو مر جاتا ہے۔ طالبِ علموں کو ہائی سکول میں ایک ریڈر پڑھائی جاتی ہے جس میں ایک نظم ہے اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ بادشاہ کی خوشنودی کے لئے لوگ کس طرح تکالیف اُٹھاتے ہیں۔ فرانسیسی فوج ایک قلعہ پر قبضہ کرنے کے لئے کوشش کر رہی تھی اور نپولین کھڑا دیکھ رہا تھا اور سوچتا تھا کہ اگر ہمیں فتح نہ ہوئی تو کس قدر عظیم الشان نقصان ہو گا۔ اتنے میں ایک سپاہی دوڑتا ہوا آیا اور اسے بشارت دی کہ قلعہ فتح ہو گیا لیکن اس نے خیال نہ کیا اور اور سوالات پوچھتا رہا اتنے میں اس نے دیکھا کہ سپاہی کے پہلو سے گولی نکل گئی ہے۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا دیکھو تمہارے گولی لگی ہے اور خون بہہ رہا ہے۔ سپاہی اس جوش میں تھا کہ بادشاہ تک یہ خبر پہنچا دوں اور محض اس نگاہ کے لئے کہ بادشاہ اس گولی کو دیکھ لے جو اس نے اس کے لئے کھائی ہے زخمی ہونے کی حالت میں دوڑا ہوا گیا تھا ورنہ ایسی حالت میں تو اُٹھا بھی نہ جاتا۔ تو انسان اپنی محبوب ہستی کی خوشنودی کے لئے ہر تکلیف کو بخوشی برداشت کر لیتا ہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا ہمیں یقین ہے تو ہر اس تکلیف کو جو اس کے راستہ میں پہنچے بخوشی برداشت کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ دوسری چیز جس کا اقرار اس آیت میں ہے یہ ہے کہ اس راستہ پر چلنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم کہتے اے خدا تیرا بڑا احسان ہے کہ تُو نے ہمیں راستہ بتا دیا اب ہم اس پر چلتے ہیں مگر نہیں ہم یہ نہیں کہتے بلکہ کہتے ہیں کہ تُو نے راستہ دکھا دیا اب اس پر ہمیں لے بھی چل۔ گویا وہی مثل ہوئی کہ’’ لاد دے لدوادے اور لادنے والا ساتھ دے‘‘۔ یعنی چیز بھی دے اور اسے جانور پر بھی رکھ دے اور ساتھ آدمی بھی دے تا اگر رستہ میں ضرورت پیش آئے تو وہ لاد سکے۔ تو اِھْدِنَا میں ہم یہ مانتے ہیں کہ راستہ کا دکھانا اور اس پر چلانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے پہلی بات یعنی راستہ دکھانا انبیاء کا کام اور اس طرح ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ ماننے کے بعد ہمارے دل میں خواہش پیدا ہونی چاہئے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارت مل جائے اور اس کا ہم سے ایسا معاملہ ہو کہ اس کے کلام کے ذریعہ سے ہمیں یقین واثق ہو جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہام کے لئے اصرار کرنا ناپسند فرمایا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ الہام اپنی ذات میں ناپسندیدہ چیز ہے۔ شریعت نے استخارہ کا حکم دیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اے خدا! تُو اس کام میں ہماری راہنمائی کر خواہ اور تعبیری الہام سے ہو خواہ وحی خفی سے ہو اور خواہ کشفی نظارہ ہو تُو ہماری راہنمائی کر۔ پس معلوم ہوا کہ صرف نبوت یا ماموریت کی خواہش ناجائز ہے لیکن یہ خواہش کہ خدا تعالیٰ براہِ راست راہنمائی کرے یہ ناجائز نہیں۔ گویا اگر الہام کے لئے کوئی قید نہ لگائی جائے تو یہ جائز ہے۔
    پس جب ہم یہ دعا کرتے ہیں تو سوچنا چاہئے کتنے ہیں جن کے اندر یہ تڑپ ہوتی ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے براہِ راست اور کسی انسانی واسطہ کے بغیر ہمیں ہدایت حاصل ہو۔ جب اپنے اندر اس بات کی خواہش نہ ہو تو خدا تعالیٰ کیوں یہ نعمت دے گا۔ وہ بادشاہ ہے اور صرف خواہش کرنے کے بعد ہی متوجہ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ انبیاء اور ان کے قائم مقاموں سے بھی اسی وقت فیض حاصل ہو سکتا ہے جب ان سے براہ راست ذاتی تعلق پیدا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تاکید فرمایا کرتے تھے کہ بار بار ملتے رہنا چاہئے اور میں بھی یہ نصیحت کرتا رہتا ہوں۔ اگرچہ دل ڈرتا بھی ہے کیونکہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی بڑی ہو گئی ہے کہ ہر ایک سے ذاتی طور پر واقفیت رکھنا آسان نہیں۔ مگر یہ صحیح ہے کہ جب تک تعلق نہ ہو اور تعلق بھی متعلّم ہونے کا ہو یہ نہیں کہ آئے بیٹھے اور باتیں کیں اور سب کچھ وہیں جھاڑ کر چلے گئے۔ چِکنے گھڑے کی طرح نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ نیت ہو کہ شاگرد کی طرح کچھ حاصل کرنا اور پھر اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔ اور یاد رکھنا چاہئے کہ فائدہ عمل کرنے سے ہی ہو سکتا ہے۔ ساری باتوں پر عمل کرنا تو مشکل ہے لیکن کم از کم نیت یہ ضرور ہونی چاہئے کہ فائدہ اٹھانا ہے۔ تو براہ راست تعلق کے بغیر فیضانِ حقیقی حاصل نہیں ہو سکتا اور اگر یہ تڑپ موجود نہیں تو بتاؤ اس دعا کا فائدہ کیا ہوا۔
    دوسری چیز جو اس میں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ عمل کی طاقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی حاصل ہوتی ہے کیونکہ اھدنا کے معنے دکھانا بھی ہیں اور چلانا بھی۔ گویا ہر عمل کے وقت اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جائے گی۔ اس میں تأنی ضروری ہو گی اور جوش میں کام نہیں کیا جائے گا۔ اور دنیا میں بہت سی خرابیاں اندھا دھند کام کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر انسان کام سے پہلے سوچ لے اور کوشش کرے کہ اللہ تعالیٰ خود پکڑ کر اسے لے چلے تو وہ ضرور آہستگی سے چلے گا۔ رسول کریم ﷺ قدم قدم پر وحی الٰہی کا انتظار کیا کرتے تھے اور گو مؤمن سے بھی یہی امید کی جاتی ہے کہ ہر بات میں خدا تعالیٰ سے ہدایت اور نور حاصل کرے لیکن یہ نہیں تو کم از کم اتنا تو غور کرے کہ یہ کام جو میں کرنے لگا ہوں منشائے الٰہی اور احکامِ رسالت کے مطابق ہے یا نہیں۔ اور جب انسان غور کرنے کا عادی ہو جائے تو میں تجربہ کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح وہ پیش آنے والے نصف سے زیادہ فتنوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ سوچتے نہیں اور غور نہیں کرتے بلکہ جو جی میں آئے کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ان کی اس دعا کا کہ اِھْدِنَا اے خدا! ہمیں خود چلا‘ کچھ مقصد نہیں ہو سکتا۔
    تیسری چیز جو اس آیت سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اِھْدِ کے معنی چلائے چل کے بھی ہوتے ہیں۔ جس کا یہ مطلب ہوا کہ اسے پڑھنے والا اقرار کرتا ہے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے چلانے کے پھر بھی راستہ میں کئی روکیں ہو سکتی ہیں اس لئے ضرورت ہے کہ خدا خود چلاتا جائے وگرنہ شیطان اس کے راستہ میں آ کر روک پیدا کر دیتا ہے کیونکہ اُس وقت خدا بندے میں سے ہو کر آ رہا ہوتا ہے اور شیطان خدا تعالیٰ سے اُس وقت بھاگتا ہے جب وہ اپنے جلال میں ظاہر ہو۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے اگر شکاری شکار کے سامنے ظاہر ہو جائے تو شکار بھاگ جائے گا لیکن اگر وہ کسی بیل یا کسی اور چیز کی اوٹ میں چلے تو شکار نہیں بھاگتا۔ اسی طرح جب خدا بندے میں سے ہو کر اسے چلا رہا ہوتا ہے اُس وقت شیطان راستہ میں کھڑا ہو سکتا ہے لیکن جب خدا تعالیٰ اپنے جلال میں نمایاں ہو کر ظاہر ہوتا ہے اُس وقت نہیں ٹھہر سکتا۔ اس لحاظ سے ضروری ہے جو انسان کوئی نیک کام کر ے وہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد یہ بھی سوچ لے کہ اس میں کوئی غلطی تو پیدا نہیں ہو گئی۔ میں نے بہتر سے بہتر سکیم جاری کر کے دیکھا ہے اگر دو تین سال تک اس پر غور نہ کیا جائے اس کی نگرانی نہ کی جائے تو کئی نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے بعض ہدایات پر عمل نہیں ہو رہا ہوتا بعض ہدایات وقتی ہوتی ہیں ان کی ضرورت باقی نہیں رہتی اس لئے ان کا چھوڑ دینا ضروری ہوتا ہے۔ بعض نقائص جو پہلے ذہن میں نہ تھے بعد میں پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح اگر بار بار نگرانی نہ کی جائے تو نیک کاموں میں بھی کئی نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔ پس یہ دعا کرنی چاہئے کہ خدایا! نگرانی بھی کیجیئو کہ ہم ٹھیک چلتے ہیں یا نہیں۔ اب آپ لوگ سوچیں کبھی اللہ تعالیٰ سے نگرانی کے لئے عرض بھی کی ہے۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ہم نیک کام کر رہے ہیں ہمیں کسی کی کیا پرواہ ہے لیکن یہ بات غلط ہے۔ پرواہ ہونی چاہئے ہر انسان کو دوسرے کی پرواہ ہوتی ہے۔ گویہ علیحدہ بات ہے کہ کسی کی احتیاج اپنے فائدہ کے لئے اور کسی کی دوسروں کے فائدہ کے لئے ہوتی ہے مگر احتیاج ہوتی سب کو ہے۔ انبیاء کو شریعت نافذ کرنے کے لئے اَتباع کی احتیاج ہوتی ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب محتاج ہیں۔
    پس اِھْدِ کہنے والے کو یہ تین باتیں ماننی پڑتی ہیں۔ اس سے آگے جب وہ اِھْدِنَا کہتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ نہ صرف مجھے یہ باتیں عطا کر بلکہ میرے ساتھیوں کو بھی دے۔ لیکن اگر ہم اس ہدایت کو جو پہلے ہی ہمارے پاس ہے اور جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہے اپنے شہر والوں‘ محلہ والوں‘ دوستوں اور رشتہ داروں کو نہیں پہنچاتے اور انہیں اس سے مستفیض نہیں کرتے تو پھر کس منہ سے خدا تعالیٰ سے ان کے لئے اور ہدایت طلب کر سکتے ہیں۔ ایک شخص کے بیوی بچے بھوکے مر رہے ہوں اور وہ بادشاہ یا کسی امیر سے ان کے کھانے کے لئے سوال کرے اور جو کچھ وہ دے اسے لے جا کر طاق میں رکھ چھوڑے اور بچوں کو نہ دے تو اگلے دن اور کیلئے وہ کس طرح سوال کر سکتا ہے اور دینے والا کیوں اسے کچھ دے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت ہمیں دی ہے اگر وہ دوسروں کو ہم نے پہنچا دی ہے تو ہمارا حق ہے کہ اور بھی مانگیں لیکن اگر پہلی ہی نہیں پہنچا سکے تو ہماری یہ دعا کبھی قبول نہیں ہو سکتی۔
    آپ لوگ سوچیں آپ میں سے کتنے ہیں جو اس ہدایت کو دوسروں تک پہنچا رہے ہیں ۔ کم ازکم نصف ایسے ہوں گے جن کو دوسروں کی فکر نہیں اور پھر کئی تو ایسے بھی ہیں جنہیں اپنی بھی فکر نہیں۔ اگر سالہا سال گذر جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ ایک شخص بھی احمدی نہیں ہوتا تو پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ مزید ہدایت دوسروں کے لئے طلب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ اگر ہم پیچھے پڑ جائیں تو کامیابی نہ ہو۔ جس چیز کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکیلے کامیاب ہو گئے اور ایسے وقت میں کامیاب ہوئے جب تمام دنیا جان کی دشمن ہو رہی تھی اور کوئی جماعت بھی ایسی نہ تھی جس کا دوسروں پر کچھ اثر ہو سکے تو آج اگر کوشش کی جائے تو کیوں کامیابی نہ ہو۔ پس یہ ناممکن ہے کہ ہم ہدایت کے لئے اٹھیں اور کامیاب نہ ہوں۔ ممکن ہے بعض لوگ کہہ دیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے بعض انبیاء ایسے گزرے ہیں جن پر صرف ایک ہی ایمان لانے والا تھا لیکن انہیں یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ممکن ہے کہ وہ انبیاء ایک ہی خاندان کی طرف مبعوث کئے گئے ہوں۔ اس خاندان کے دس افراد ہوں جن میں سے ایک ایمان لے آیا ہو۔ یا وہ کسی خاص گاؤں کی طرف ہوں جس کی آبادی صرف ہزار افراد کی ہو اور ان میں سے دس ماننے والے ہوں۔ یہ ضروری نہیں کہ جن انبیاء کو ایک شخص نے مانا وہ کروڑوں کی طرف مبعوث ہوئے ہوں۔ وہ ایک خاندان کی طرف مبعوث ہوئے ہوں گے اور اگر اس میں سے ایک نے بھی مان لیا تو انہوں نے دین قائم کر دیا۔ مؤمن بھی انبیاء کے اَتباع ہوتے ہیں اس لئے انہیں بھی چاہئے پوری کوشش سے دین کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔
    ہدایت جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا منشاء ہوتا ہے کہ وہ پھیلے اس لئے اس پھیلانے والوں کی تائید کے لئے فرشتے کھڑے ہوتے ہیں۔ تبلیغی کام کو ترقی دینے کیلئے میں نے اس سال اشتہارات کا سلسلہ جاری کیا تھا۔ پہلے میری خواہش تھی کہ وہ پچاس ہزار شائع ہوں بعد میں میرا خیال صرف تیس ہزار کا ہی تھا پھر بھی دوستوں نے ساٹھ ہزار منگوائے ہیں۔ لیکن جہاں میرے اندازہ سے دُگنی تعداد میں انہوں نے اشتہار خرید کئے ہیں وہاں یہ ابھی تک نہیں بتایا کہ ان ہدایات پر جو اس کے متعلق دی گئی تھیں کہاں تک عمل کیا ہے اور نہ ابھی تک یہ بتایا ہے کہ ان کو ترتیب سے تقسیم بھی کیا گیا ہے یا نہیں اور نہ ہی اگلے اشتہار کے متعلق مشتہرہ شرائط کو پورا کیا ہے اس لئے اگلے اشتہار کی اشاعت میں تاخیر ہو رہی ہے۔
    بعض لوگوں نے جنوری میں تبلیغ کے لئے بہت کوشش کی اور اس مہینہ بیعت کرنے والوں کی تعداد کافی تھی لیکن فروری میں پھر تعداد کم ہو گئی ممکن ہے یہ رمضان کی وجہ سے ہو۔ لیکن احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ رمضان کے مہینہ میں بہت صدقہ دیا کرتے تھے اور آپ کی مثال تیز آندھی کی طرح ہوتی تھی ۲؎ اور دین کی تبلیغ سے بہتر صدقہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ یوں بھی مشہور ہے کہ بھوکا شیر زیادہ لڑا کرتا ہے اس لحاظ سے بھی رمضان میں تبلیغ زیادہ ہونی چاہئے تھی مگر افسوس ہے دوستوں نے کم توجہ کی۔ یا پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انہوں نے روزے نہیں رکھے کیونکہ اگر رکھتے تو بھوکے شیر کی طرح زیادہ جوش دکھاتے اور تبلیغی حلقہ کو زیادہ وسیع کرتے مگر فروری میں جنوری سے کمی آ گئی ہے۔ اب یہ رمضان کا آخری عشرہ ہے احباب کو کوشش کر کے اس کمی کو پورا کر دینا چاہئے۔ احمدیت کی صداقت اب اس قدر واضح اور نمایاں ہو چکی ہے اور اس کی تائید میں اِس قدر نشانات ظاہر ہو چکے ہیں کہ ممکن نہیں کوئی معقول آدمی اس کا انکار کر سکے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اندھا دُھند پیچھے پڑ جائیں اور اگر ہمارے دوست اس طرح کریں تو چند ماہ میں ہی دنیا کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر آدمی جو احمدیت میں داخل ہوتا ہے وہ بمنزلہ ایک اینٹ کے ہے جو اس فصیل میں لگتی ہے جو اسلام کی حفاظت کیلئے خدا تعالیٰ نے بنائی ہے اور یہ فصیل احمدیت ہے۔ ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اسے زیادہ سے زیادہ اونچا کرنے کی کوشش کرے تا دشمن کُودکر اندر نہ آ سکیں۔
    اس آیت میں بہت سے سبق ہیں جن میں سے میں نے چند ایک بیان کئے ہیں اور چونکہ اس سورۃ کے معانی مجھے بذریعہ الہام بتائے گئے ہیں اس لئے اس پر جتنا بولوں بول سکتا ہوں۔ اب اس کے علاوہ ایک نیا علم مجھے دیا گیا ہے اور وہ ہستی باری تعالیٰ کے متعلق ہے۔ یہ بھی بتا کر اسی طرح بُھلا دیا گیا ہے جس طرح سورۃ فاتحہ کے معارف بتا کر بُھلا دیئے گئے تھے تا جب ضرورت پیش آئے نئے معارف بیان کر سکوں۔ مگر اِس وقت میں نے بعض باتیں بیان کر دی ہیں۔ ان پر غور کرو اور عمل کرو کیونکہ اگر انسان عمل نہ کرے تو دل پرزنگ لگ جاتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر عمل کے نتیجے میں جو وعدے اس نے کئے ہیں وہ ان کے لئے پورے ہوں۔ آمین۔
    (الفضل ۲۸۔فروری ۱۹۳۰ئ)
    ۱؎ الفاتحہ: ۷
    ۲؎ بخاری کتاب الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ
    صلی اللّٰہ علیہ وسلم




    ۴۰
    جمعۃ الوداع کی حقیقت
    (فرمودہ۲۸۔فروری ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد ‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    آج رمضان کا آخری جمعہ ہے اور بہت سے لوگ اس خیال میں مبتلاء ہیں کہ وہ اس جمعہ میں اپنی جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نمازوں کی معافی لے لیں گے۔ وہ اس خیال میں مبتلاء ہیں کہ اگر آج وہ دو رکعت نماز اللہ کے حضور گذار لیں تو گویا اس کے سب فضلوں اور احسانوں کا بدلہ اُتار دیں گے۔ ان کے خیال میں خدا کی خدائی ان کے چار سجدوں پر منحصر ہے۔ اگر وہ یہ سجدے نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نعوذ باللّٰہ الوہیت سے محروم ہو جائے لیکن ان کے اس احسان کے ذریعہ وہ پھر الوہیت کے عرش پر جلوہ فرما ہو جاتا ہے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ بطور احسان کے ہوتے ہیں چٹّی نہیں ہوتے اور حیلے صرف ایسے ہی احکام کے متعلق تلاش کئے جاتے ہیں جو انسان کے لئے بطور سزا یا جُرمانہ ہوں۔ ان کے متعلق انسان خیال کرتا ہے کسی طرح اس وبالِ جان سے بچ جاؤں لیکن دنیا میں کوئی انسان اس بات کے لئے حیلے نہیں تلاش کیا کرتا کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہو‘ اس کی بیماریاں اچھی نہ ہوں‘ وہ علم سے محروم رہے‘اس کے رشتہ دار اور دوست احباب سُکھ اور آرام کی زندگی بسر نہ کریں اور وہ اور اس کی اولاد دنیا میں معزز و مؤقرنہ ہو۔ حیلے ہمیشہ اسی لئے لوگ تلاش کرتے ہیں کہ انہیں دکھ‘ تکالیف اور مصیبتیں پیش نہ آئیں‘ سُکھ اور آرام سے بچنے کے لئے حیلے نہیںتلاش کئے جاتے ۔ پس خدا تعالیٰ کے احکام سے بچنے کے لئے اگر حیلے تلاش کئے جائیں تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ہم اس کے حکموں کو قہر‘ مصیبت اور دکھ سمجھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایات دکھ نہیں بلکہ سُکھ کا موجب ہوتی ہیں۔ اس کی عبادتیں‘ اس کے مقرر کردہ فرائض انسان کے نفع اور بھلائی کے لئے ہوتے ہیں بلکہ جن کی آنکھیں ہیں اور جو مادر ز اد روحانی اندھے نہیں وہ اس کے عذابوں میں بھی سُکھ ہی دیکھتے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک یعنی مولانا رومؒ نے اپنی مشہور مثنوی میں لکھا ہے۔
    ہر بلا کِیں قوم راحق دادہ است
    زیر آں گنج کرم بنہادہ است
    یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مصیبت بھی مؤمنوں اور مخلصوں پر آتی ہے اس کے پیچھے اس کی رحمت کے ہزاروں خزانے مخفی ہوتے ہیں۔ پس جن لوگوں کی آنکھیں ہوتی ہیں وہ عذاب میں بھی خدا تعالیٰ کی رحمت دیکھتے ہیں۔ تکلیف دہ بیماریاں‘ جُدا کر دینے والی موت‘ پریشان کن مقدمات اورحو اس باختہ کر دینے والے صدمات یہ ساری کی ساری چیزیں انہیں رحمت نظر آتی ہیں۔ خالص ایمان کے معنے دوستانہ تعلقات کے ہیں۔ اور جب دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی دوست اپنے دوست کا بُرا نہیںچاہتا تو خالص ایمان رکھتے ہوئے یہ کس طرح خیال ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارا بُرا چاہے۔ خالص ایمان کے نتیجہ میں رحمت اور برکت ہی نازل ہوا کرتی ہے۔ اگر مہربان اور شریف دوست جب کوئی ایسا معاملہ کرے جو بظاہر نقصان رساں ہو توسمجھ لیا جاتا ہے کہ اس میں بھی کوئی ایسی مصلحت ہو گی جس میں ہمارا فائدہ ہو گا۔ تو خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ حقیقتاً ہماری آزار رسانی کے درپے ہے۔ لیکن جب اس کے احکام کو عذاب سے تعبیر کیا جائے تو ظاہر ہے کہ دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے یا تو یہ کہ ہماری دوستی سچی نہیں اور وہ عالم الغیب اور علیم و خبیر خدا جانتا ہے کہ ہم اس سے ٹھگی کر رہے ہیں یا پھر یہ یقین کرنا پڑے گا کہ وہ رحیم و شفیق ہستی دراصل اپنے اندر یہ صفات نہیں رکھتی بلکہ وہ (نعوذ باللّٰہ) ظالم‘ تُندخو‘ اور سخت گیر ہے کہ بِلاوجہ اور بِلا سبب یونہی گرفت کرتی ہے۔ لیکن اگر یہ دونوں باتیں صحیح نہیں اور واقعہ میں صحیح نہیں تو پھر اس کی طرف سے جو کچھ آتا ہے وہ شیرینی ہے صرف ہمارے منہ کا ذائقہ اسے تلخ بنا دیتا ہے۔
    پس احکامِ الٰہی رحمت اور فضل ہوتے ہیں اس لئے ان کو وداع کرنے کی ضرورت نہیںہوتی بلکہ انہیں اپنے اندر قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ سرکاری حَکاّم اگر کسی جگہ جاتے ہیں تو لوگ چٹّی سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں ان کے جانوروں کے لئے گھاس‘ ان کے کھانے کیلئے چیزیں‘ ان کے ملازموں کے لئے رشوت مہیا کرنی پڑتی ہے اس لئے ان کے چلے جانے پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے احکام ظالم حاکم کی طرح نہیں ہوتے بلکہ رحمت ہوتے ہیںاور ان کا جانا ہماری تباہی کی علامت ہوتا ہے۔ نماز کا وقت اس لئے نہیں آتا کہ اسے گھر سے نکال دیا جائے اسی طرح رمضان اس لئے نہیں آتا کہ ہم اسے یونہی گذار دیںبلکہ مؤمن کے لئے ہمیشہ اپنے پاس رکھنے والی چیزیں ہیں جو مؤمن ایک بار بھی سچی نماز خلوص دل سے ادا کر لیتا ہے پھر اس کے دل سے نماز نکل نہیں سکتی۔ وہ نماز ختم کرتے ہوئے سلام کہتا ہے مگر خدا کا حکم سمجھ کر۔ اسی طرح غیر مؤمن سے تو رمضان جاتا ہے مگر مؤمن سے نہیں جا سکتا۔ ہمارے ملک میں ’’روزہ رکھا‘‘ کیا عمدہ محاورہ ہے۔ کیونکہ جو روزہ گذرتا ہے اسے ہم رخصت نہیں کرتے بلکہ رکھ لیتے ہیں اور وہ ہمیں ہمیشہ کیلئے خدا تعالیٰ کے فضلوں کاوارث بنا دیتا ہے۔ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مؤمن سے کوئی خطا ہو جائے تو اس کے اعمال صالحہ اس کے لئے ڈھال اور سِپر بن کر اسے تباہی سے بچا لیتے ہیں۔ پس ہر نیکی کے متعلق یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہ جائے نہیں بلکہ ہمارے اندر قائم رہے کیونکہ جو چیز گذر جاتی ہے وہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتی فائدہ اسی سے اُٹھایا جا سکتا ہے جو باقی رہے۔ قرآن کریم میں بھی والبقیت الصّٰلِحٰتُ ۱؎ کہہ کر بتایا گیا ہے کہ نیک کام قائم رہنے والی چیزیں ہیں۔ پس وہ رمضان جو ہماری صلاحیت میں گذرا ہے وہ باقی ہے۔ وہ دن بے شک گذر گئے لیکن جب تک وہ نیک کام جو اس کا نتیجہ ہیںہمارے اندر قائم ہیں وہ نہیں جائے گا۔
    مؤمن کو چاہئے کہ ہر چیز کو باقیات صالحات بنائے دن گذر جائیں مگر رمضان نہ گذرے۔ رمضان عبادت کا نام ہے اور عبادت نہیں گذرا کرتی وہ دل میں رہتی ہے۔ جو لوگ دنوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں رمضان گذر گیا لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیںکہ رمضان عبادت ہے وہ جانتے ہیں کہ عبادت نہیں گذرا کرتی۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جب بندہ کوئی نیک کام کرتا ہے تو اس کا ایک سفید نشان اس کے دل پر لگ جاتا ہے گویا وہ نیک کام سمٹ کر ایک نقطہ کی شکل میںاس کے دل میں آ جاتا ہے پھر اور نیک کام کرتا ہے تو اور سفید نشان لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اس کا سارا دل سفید ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جوں جوں کوئی بُرے کام کرتا ہے سیاہ نشانات لگتے جاتے ہیں حتیٰ کہ سیاہی اس کے تمام دل کو ڈھانپ لیتی ہے ۲؎ تو نیک اور بد دونوں قسم کے اعمال سمٹ کر انسان کے دل میں جمع ہو جاتے ہیں۔ہاں دن گذر جاتے ہیں۔ جو چیز رمضان کے ذریعہ خداتعالیٰ لایا وہ دن رات نہیں تھے دن رات تو رجب‘ شعبان‘ شوال وغیرہ دوسرے مہینوں میں بھی ہوتے ہیں اس لئے رمضان دن رات نہیں بلکہ عبادت لایا تھا اور عبادت ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسے لیتا ہے اور سمیٹ کر انسان کے دل میں رکھ دیتا ہے جہاں سے دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے نکال نہیں سکتی۔ مؤمن کو خواہ کس قدر تکالیف پہنچائی جائیں اسے ایمان سے محروم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ چیز اس کے دل کے اندر ہوتی ہے۔
    ایک واقعہ ہے کہ ایک صحابی گرفتار ہو گئے۔ کفار نے چاہا کہ انہیں قتل کر دیں وہ صحابی دیکھ رہے تھے کہ انہیں قتل کرنے کو لے جا رہے ہیں ایسی حالت میں کفار نے ان سے کہا کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اس وقت محمد تمہاری جگہ قتل ہونے کے لئے ہمارے قابو میں ہو اور تم اپنے گھر میں آرام کرو۔ یہ بات اس خیال سے کہی گئی تھی کہ وہ صحابی اپنے دل میں یہ محسوس کر کے کہ یہ ساری مصیبت اس پر محمد ﷺ کے ماننے کی وجہ سے آئی ہے دل میں پشیمان ہو کہ اگر ایمان نہ لاتا تو آج اس دکھ اور تکلیف میں مبتلاء نہ ہوتا اور یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ کفا ر نے یہ خیال پیدا کر کے ان کے ایمان کو متزلزل کرنا چاہا لیکن صحابی نے اس کے جواب میں کہا بے وقوفو! میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میں بیوی بچوں میں آرام سے بیٹھا ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے پاؤں میں کانٹا بھی چُبھے۔ ۳؎ یہ کیا چیز تھی جس نے ایسے وقت میں بھی ان کو ثابت قدم رکھا۔ وہ ایمان تھا جو ان کی عبادات اور قربانیوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رکھ دیا تھا اور اس کی وجہ سے کفر کی کوئی بات بھی ان کے دل میں داخل نہ ہو سکتی تھی۔ وہ ان کے ایمان کی محافظ تھی کیونکہ مؤمن کی عبادت کبھی ضائع نہیں جاتی۔
    یہ جمعہ اس لئے نہیں آیا کہ ہم رمضان کو رخصت کر دیں بلکہ اس لئے ہے کہ اگر چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھا کر رمضان کو ہمیشہ کے لئے اپنے دل میں قائم کر لیں۔ جمعہ کو رسول کریم ﷺ نے مسلمانوں کی عیدوں میں سے ایک عید قرار دیا ہے۔ ۴؎ پس اس دن جب کہ دعائیں خصوصیت سے قبول ہوتی ہیں فائدہ اٹھانا چاہئے۔ آج کے دن مؤمن اس لئے خدا تعالیٰ کے حضور نہیں آتا کہ کہے تُو نے جو مصیبت ہم پر رمضان کی صورت میں نازل کی تھی شکر ہے وہ ٹل گئی بلکہ اس لئے آتا ہے کہ اس دن کی مبارک گھڑیوں میں یہ دعا کرے کہ رمضان کے دن تو گذر گئے لیکن اے خدا! تُو رمضان کی حقیقت ہمارے دل کے اندر محفوظ کر دے تا وہ ہم سے کبھی جُدا نہ ہو۔ اس لحاظ سے اگر آج کے جمعہ کی تعریف کریں تو یقینا ہم نے اس کا مبارک طور پر استعمال کیا۔ لیکن اگر رمضان ہم سے چلا جائے تو یقینا ہم سے زیادہ منحوس اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں بیٹا باپ سے‘ ماں بیٹے سے اور بھائی بھائی سے جُدا ہونے پر کبھی خوش نہیں ہوتے۔ خوشی ہمیشہ دشمن کے جُدا ہونے پر ہی ہوا کرتی ہے اور برکت کی دشمن نحوست ہی ہو سکتی ہے اس لئے جو شخص رمضان کے جانے پر خوش ہوتا ہے وہ یقینا منحوس ہے۔ پس آؤ آج خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کریں کہ وہ اس دن کو ہمیشہ کے لئے ہم سے وابستہ کر دے اور ہماری کوئی گھڑی رمضان سے جُد ا نہ ہو۔ رمضان کیا ہے شَھْرُ رمضان الذی انزل فیہ القران۔ ۵؎ وہ مبارک ایام جن میں قرآن کا نزول ہوا رمضان کہلاتے ہیں اور وہ دَور جب قرآن کا نزول بند ہو جائے نہایت منحوس ہو گا ایسے وقت میں تاریکی اور ظلمت کے سوا کیا باقی رہ سکتا ہے۔ یہ مت سمجھو کہ قرآن ایک ہی دفعہ نازل ہو گیا اب نازل نہیں ہوتا۔ قرآن ہمیشہ نازل ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔ اگر نازل نہ ہو تو دنیا تمام کی تمام تاریکی میں مبتلاء ہو جائے۔ اگر ہم اپنے اندر رمضان کی کیفیت پیدا کر لیں تو ہر وقت قرآن کا نزول ہو سکتا ہے جیسے گو اِس وقت محمد ﷺ جسمانی طور پر ہم سے جُدا ہیں لیکن روحانی طور پر آج بھی دنیا ان کے وجود کو کسی نہ کسی طرح محسوس کر رہی ہے۔ آپ اول المؤمنین ہیں اس لئے آپ سے وابستہ ہوئے بغیر کوئی مؤمن نہیں ہو سکتا کیونکہ جب ہمارے اور کسی دوسری چیز کے درمیان کوئی اور وجود ہو تو جب تک اس وجود میں سے ہو کر ہم تک نہ آئے ہم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اوّل المؤمنین کے یہ معنے ہیں کہ ہر مؤمن ظلّی مومنہے جیسے واحد ہستی اللہ تعالیٰ کی ہے اور دنیا کے اندر باقی جو ہستیاں ہیں وہ اس کے اظلال اور انعکاس ہیں۔ اسی طرح اول مؤمن رسول کریم ﷺ ہیں اور جو انسان محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کو محسوس نہیں کرتا وہ ہرگز مؤمن نہیں ہو سکتا۔ غرض قرآن کریم کا نزول ہمیشہ ہوتا ہے اور ہر مؤمن پر ہوتا ہے اگرچہ نزول کے ذرائع مختلف ہیں۔ کسی پر کشوف اور کسی پر سچے خوابوں کے ذریعہ‘ پھر بعض پر وقفہ کے بعد ہوتا ہے اور بعض پر روزانہ۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بارہا سنا آپ فرماتے کہ بعض الہام تو ہم پر روز ہی ہوتے ہیں لیکن وہ چونکہ محض تسکینِ قلب کے لئے ہوتے ہیں اس لئے ان کے بیان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ فرماتے یہ الہام بڑی کثرت سے اور بار بار ہوتا ہے کہ انی مع الرسول اقوم۔ ۶؎ اس کے ساتھ ایک اور جملہ بھی فرمایا کرتے تھے جو اِس وقت مجھے یاد نہیں۔ مگر میری کسی تقریر میںچھپ چکا ہے۔۷؎ توبعض بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ ہی قرآن کانزول ہوتا رہتا ہے یعنی قرآنی برکات کا ان پر نزول ہوتا رہتا ہے۔
    ہماری طرف سے یہ کوشش ہونی چاہئے کہ رمضان کا مہینہ گذر جانے کے بعد بھی اس کی کیفیات ہمارے اندر قائم رہیں یہی ایمان ہے جو ہماری تسلی کا موجب ہو سکتاہے۔ رمضان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس مہینہ میں بندوں کے قریب ہو جاتا ہوں۔ جس طرح کوئی بکری چرواہے سے دُور رہ کر محفوظ نہیںہو سکتی اسی طرح جب تک بندہ کو بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے انی قریب۸؎ کی آواز نہ آئے وہ بھی مامون نہیں ہو سکتا اور یہ آواز زیادہ تر رمضان کی حالت میں ہی آتی ہے اس لئے رمضان کی کیفیت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
    میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے نفوس میں ایسی تبدیلی پیدا کر دے کہ ہم رمضان کی برکات سے ہر وقت فیض یاب ہو سکیں۔ ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کو دور کر کے ہمارے اندر خشیت اور تقویٰ پیدا کر کے ہمیں ایسی مضبوط چٹان پر قائم کر دے جس میں کبھی تزلزل نہ آ سکے۔اللّٰھُمَّ اٰمین۔ (الفضل ۱۴۔ مارچ ۱۹۳۰ئ)
    ۱؎ الکھف: ۴۷
    ۲؎ مسند احمد بن حنبل جلد۵ صفحہ ۳۸۶ مطبوعہ بیروت
    ۳؎ اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد ۲ صفحہ ۲۳۰ (حالات زید بن دثنہ مطبوعہ بیروت)
    ۴؎ الترغیب والترھیب کتاب الصوم باب الترغیب فی صوم الاربعاء والخمیس والجمعۃ…مطبوعہ بیروت ۱۹۹۳ء
    ۵؎ البقرہ: ۱۸۶
    ۶؎ تذکرہ صفحہ ۴۲۱۔ ایڈیشن چہارم
    ۷؎ ’’ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ ‘‘تذکرہ صفحہ ۴۲۱۔ ایڈیشن چہارم
    ۸؎ البقرۃ: ۱۸۷

    ۴۱
    ابتلاء مومن کی ترقی کا موجب ہوتے ہیں
    (فرمودہ ۷۔مارچ ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ انسان کو متواتر جگاتا رہتا ہے کیونکہ انسان ان تعلقات کی وجہ سے جو اس کے جسم اور جسمانیات سے وابستہ ہیں غفلت کی طرف مائل رہتا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اس کا بیشتر حصہ ہمیں مجبوراً ایسے کاموں میں صرف کرنا پڑتا ہے جن کا براہِ راست دین سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک رنگ میں غفلت کا موجب ہوتے ہیں۔ نیند پر ہمارا بس نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے انسان کے لئے ضروری قرار دیا ہے اور ایسا ضروری قرار دیا ہے کہ ہم کُلّی طور پر اس سے مستغنی نہیں ہو سکتے تھوڑا بہت بہرحال ہر ایک کو سونا پڑتا ہے۔ اگر اس سونے کے وقت کو نکال دیا جائے تو ایک معقول حصہ زندگی کا کم ہو جاتا ہے۔ بچے عام طور پر آٹھ گھنٹے سوتے ہیں‘ نوجوانوں کو طبیب اور ڈاکٹر لوگ چھ سات گھنٹے سونے کا مشورہ دیتے ہیں غافل نوجوان عام طور پر نَو دس گھنٹہ سوتے ہیں بلکہ بعض تو گیاہ بارہ گھنٹے بھی سوتے ہیں۔ دنیا میں ہوشیار لوگ کم ہیں اور غافل بہت زیادہ‘ اس لئے اگر اوسط لگائی جائے تو ہر انسانکیلئے نیند روزانہ سات آٹھ گھنٹے سے کم نہ ہو گی اور اس اوسط کے لحاظ سے انسان کی عمر کاتیسرا حصہ گویا نیند میں نکل جاتا ہے۔ اوسط عمر ہمارے ملک میں پینتیس چالیس سال ہے۔ یہ اگر چالیس سال بھی فرض کر لیں اور اس میں تیسرا حصہ نیند کا نکال دیا جائے تو باقی چھبیس سال رہتے ہیں اس میں سے اگر بچپن کا زمانہ نکال دیں اور بچپن کا زمانہ اگر پندرہ برس بھی فرض کر لیں تیسرا حصہ جو پہلے نکل چکا ہے چونکہ اس میں بھی بچپن شامل ہے تو کم از کم دس سال اور کم کرنے پڑیں گے اور اس صورت میں صرف سولہ باقی رہ جائیں گے۔ پھر اگر بیماریوں وغیرہ کے دن نکال دیئے جائیں اور کم از کم ایک سال ہی ان کے لئے رکھا جائے تو باقی ۱۵ سال بچیں گے۔ ان میں سے اگر کھانے پینے‘ نہانے‘ کپڑے بدلنے‘ پاخانہ‘ پیشاب وغیرہ کے اوقات نکال دیں جو میرے نزدیک دو گھنٹہ روزانہ سے کم نہیں ہوتے تو اس حساب سے گویا بارہواں حصہ اور کم ہو گیا جو سَوا سال ہوتا ہے اور اس طرح پونے چودہ سال رہ جاتے ہیں یہ وہ وقت ہے جو جاگنے کا ہے۔ اس میں ہی دنیوی ضرورتیں پورا کرنے کا وقت بھی ہے دوستوں کی ملاقات کا وقت بھی‘ سفر کا بھی‘ زمیندار کو اپنا زمینداری کا کام کرنا ہوتا ہے اور نوکر کو نوکری کا اور اگر یہ کام روزانہ چھ گھنٹے بھی فرض کر لیں تو ۴/ ۱ حصہ اور نکل جاتا ہے۔ بچپن کا پندرہ برس کا زمانہ نکال کر باقی ۲۵ سال کا ۴/ ۱ حصہ سَوا چھ سال ہے۔ اس میں سے گھر کے کام کاج سودا سلف کی خرید و فروخت ‘ بچوں کی نگرانی‘ بیوی بچوں سے ملنا جُلنا‘ ان کے حقوق ادا کرنا وغیرہ کاموں کے اوقات نکال دیں تو سَوا چھ سال میں سے بھی قریباً نصف عرصہ باقی رہ جاتا ہے اور اس طرح گویا قریباً چار سال کا عرصہ ہے جسے انسان خدا تعالیٰ کی عبادت میں خرچ کر سکتا ہے۔ کرتا ہے کا سوال نہیں بلکہ یہ وہ عرصہ ہے جو اگر انسان چاہے تو خرچ کر سکتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے کہ واقعی کتنا خرچ کرتا ہے تو اس کی مقدار بہت قلیل نظر آئے گی۔ جو لوگ نماز وغیرہ کے پابند اور دین کی طرف رغبت رکھنے والے ہوتے ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ دینی کام میں صرف کرتے ہیں یعنی اٹھارہواں حصہ۔ اور اگر بچپن کی عمر کو نکال دیا جائے تو بقیہ عمر کے لحاظ سے اس عرصہ کے دو سَوا دوسال بنتے ہیں گویا دنیا کے نیک لوگ اپنی عمر کا بیسواں حصہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں اور باقی اُنیس حصے اپنی جسمانی ضروریات‘ روزگار‘ سیروسیاحت اور بیوی بچوں کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ سو جہاں ۱۹/ ۱ حصہ غفلت اور صرف ایک حصہ ہوشیاری کا سامان ہو اور وہ بھی صرف نیک لوگوں کے لئے‘ غافل لوگوں کی بیداری کا زمانہ تو ایک دو یوم یا ہفتہ دو ہفتہ سے زیادہ نہیں نکلے گا۔ ہفتوں پر ہفتے اور مہینوں پر مہینے گذرتے جائیں گے اور انہیں خدا تعالیٰ کی طرف کبھی توجہ نہیں ہو گی۔ وہ گذرتے ہوئے کسی لُو لے لنگڑے یا اپاہج کو دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں خدا کی قدرت لیکن اگلے ہی قدم پر خدا تعالیٰ کی قدرت انہیں بھول جاتی ہے۔ ان کے گھر میں بیماری ہو تو کہتے ہیں خدایا رحم کر۔ لیکن تھوڑا ہی عرصہ بعد وہ خدا تعالیٰ کے رحم کو قطعاً فراموش کر دیتے ہیں۔ پس جہاں اِس قدر غفلت کے سامان ہوں وہاں ضروری ہے کہ جگانے کے سامان بھی ہوں یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو باربار جگاتا رہتا ہے۔ کہیں مالی ابتلائ‘ کہیں عزت وآبرو کے ابتلاء ‘ کہیں عزیز و اقارب کی جُدائی کے ابتلاء لاتا ہے۔ قرآن کریم میں فرماتا ہے ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لَعَلَّھُمْ یرجعون۔۱؎
    یعنی دنیا کی چیزیں انسان کو ہر لحظہ اپنی طرف کھینچ رہی ہیں اور وہ ہماری طرف متوجہ نہیں ہوتے اس لئے ہم انہیں چھیڑتے رہتے ہیں تا وہ اس خیال سے کہ کہیں عذاب اکبر میں مبتلاء نہ ہو جائیں وہ ہماری طرف آ جائیں اور زندگی کا اصل مقصد حاصل کر لیں۔ غرض ابتلاء درحقیقت انسان کے ایمان کی پختگی کا موجب ہوتے ہیں لیکن یہی ابتلاء بعض کو خدا تعالیٰ سے اور بھی دُور پھینک دیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ایک دوست کے متعلق جو بعد میں سلسلہ میں بھی داخل ہو گئے اور مخلص تھے فرمایا کرتے میں نے اِس وجہ سے ان کے ساتھ لمبے عرصہ تک بولنا چھوڑ دیا کہ ان کا ایک لڑکا فوت ہو گیا جب جنازہ پر میرے بڑے بھائی صاحب گئے تو وہ دَوڑ کر ان سے چمٹ گئے اور چِلّا کر کہنے لگے مجھ پر خدا تعالیٰ نے بڑا ظلم کیا ہے۔ اسی طرح ایک عورت کے متعلق جس کا لڑکا فوت ہو گیا تھا سنا کہہ رہی تھی خدایا! اگر تیرا لڑکا فوت ہوتا تو تجھے معلوم ہوتا کہ کتنی تکلیف ہوتی ہے‘ یہ اس کی جہالت اور نادانی تھی۔ خدا نے ہی اسے لڑکا دیا تھا اسی نے لے لیا اس کا اس میں کیا تھا مگر اس نے یہ نہ سمجھا اور بیہودہ گوئی کرنے لگی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ بیٹے بیٹیوں سے پاک ہے لیکن پھر بھی جو اُس کے سب سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں وہ ان کو سب سے زیادہ ابتلاء میں ڈالتا ہے تا دنیا یہ نہ کہے کہ اپنے پیاروں کو چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اولاد سے بے شک پاک ہے مگر وہ اپنے پیاروں سے اس قدر محبت کرتا ہے کہ کوئی ماں اپنے بچہ سے نہیں کر سکتی مگر پھر بھی اس نے حضرت آدمؑ‘ حضرت نوحؑ‘ حضرت ابراہیم ؑ‘ حضرت موسیٰؑ‘ حضرت عیسیٰ ؑ اور سب سے آخر محمد مصطفی ﷺ کو ایسے مصائب میں دیکھا کہ دنیا کا کوئی ماں باپ اپنے اکلوتے بیٹے کو تو درکنار اپنے دس بیٹوں میں سے کسی ایک کو بھی ایسی تکالیف میں نہیں دیکھ سکتا مگر پھر بھی اُس نے انہیں اِس حالت میں رہنے دیا اور کہا ابھی ان کو اور پکنے دو۔ اس نے آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلنے کی تکلیف میں دیکھا مگر یہی کہا کہ اسے بھٹی میں پڑ کر صاف ہونے دو۔ اس نے سالہا سال تک حضرت نوحؑ کو دشمنوں کے ہاتھوں اس طرح ذلّت سے مسلا جاتا اور پامال ہوتا دیکھا جس طرح ذلیل سے ذلیل کیڑے کو بھی کوئی نہیں مسلتا مگر خاموش رہا اور کہا اس کو ان مصائب سے گذرنے دو کہ یہ میرا قُرب اور کمال حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈالا گیا مگر اللہ تعالیٰ جو ان سے بہت محبت کرتا تھا خاموش رہا۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ اور بالآخر رسول کریم ﷺ کو بھی تکالیف پیش آئیں۔ آپؐ پر ایسے ایسے مصائب آئے کہ آج کوئی انسان انہیں پڑھ کر اپنے آنسو نہیںروک سکتا لیکن باوجود اس کے کہ آپ سید ولدِ آدم تھے۔ خاتم النّبّیٖن تھے‘ تمام نبیوں کے سردار تھے اور باوجود اس کے کہ آپ اللہ تعالیٰ کو اس قدر پیارے تھے کہ اس نے اپنی محبت کو آپ میں مرکوز کر دیا اور فرما دیا ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ۔ ۲؎ اور اپنی محبت کے تمام دروازے بند کر دیئے سوائے اس کے جو محمد ﷺ میں سے ہو کر آتا تھا مگر آپ کو مصیبت پر مصیبت آئی۔ فاقہ پر فاقے ہوئے‘ آپ نے اپنے محبوبوں اور عزیزوں کو بھوک پیاس سے اپنے سامنے تڑپتے دیکھا۔ تین سال تک محصور رہے‘ جہاں کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا اور درختوں کے پتے کھا کر گذارہ کرتے تھے۔ ایک صحابی کہتے ہیں ہمیں آٹھ آٹھ دن پاخانہ نہیں آتا تھا اور جب آتا تھا توبکری کی مینگنیوں کی طرح کا آتا کیونکہ کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا اور ہم درختوں کے پتے کھاتے تھے ۔ ۳؎ یہ حالت تین سال تک رہی۔ پھر اس کے معاً بعد عزیز ترین وجود آپ سے جُدا ہو گیا یعنی آپ کی محبوب اور غمگسار بیوی فوت ہو گئیں۔ پھر اور تکالیف آئیں اور اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو لمبا کرتا گیا کیونکہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتا تھا کہ اس کا سب سے زیادہ محبوب اس کیلئے سب سے زیادہ تکالیف برداشت کر رہا ہے۔
    غرض خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو جگانے کے لئے مصائب نازل کرتا رہتا ہے۔ مؤمنوں کے لئے ان مصائب کا نام اس نے ابتلاء رکھ دیا ہے اور منکروں کے لئے عذاب۔ مؤمنوں کے لئے صرف عزت کے لئے اور نام رکھ دیا تا ان کے احترام میں فرق نہ آئے اور تا دنیا یہ نہ کہے کہ خدا اور اس کے رسولوں کو ماننے والے بھی عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں وگرنہ چیز ایک ہی ہے۔ جیسے ہم کسی سے کہتے ہیں کھانا ٹھونس لو۔ کسی سے کہتے ہیں کھانا کھا لیجئے اور کسی سے کہتے ہیں تناول فرما لیجئے بات تو ایک ہی ہے لیکن ٹھونس لو کہنا ناراضگی کیلئے‘ کھا لیجئے برابری کیلئے اور تناول فرما لیجئے اعزاز کے لئے ہے وگرنہ بات ایک ہے۔ اسی طرح مؤمن اور کافر دونوں کو مصائب اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے مگر نام دونوں کے لئے الگ الگ رکھ دیئے گئے۔ کافر کی تکالیف کا نام عذاب اور مؤمن کی تکالیف کا ابتلاء رکھ دیا گیا۔ پھر مقصد بھی ایک ہی ہے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ غافل لوگ بیدار ہوں اور جو بیدار ہو چکے ہیں وہ اور ترقی کریں۔ مگر بعض ان عذابوں اور ابتلاؤں سے ترقی کرنے کی بجائے ٹھوکر کھاتے اور اپنی اپنی حالت کے مطابق اور پیچھے جا پڑتے ہیں۔ مؤمن تو فائدہ اٹھاتا ہے لیکن جس کے ایمان میں خلل ہو وہ ٹھوکر کھا جاتا ہے۔
    مولانا رومؒ نے اپنی مثنوی میں ایک روایت لکھی ہے بلحاظ روایت تو اس کی صحت کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن سبق حاصل کرنے کے لئے بہت مفید ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ حضرت لقمان کو بچپن میں کوئی شخص اٹھا کر لے گیا اور کسی تاجر کے پاس فروخت کر دیا آپ اس تاجر کے پاس رہنے لگے۔ آپ کی لیاقت اور ذہانت کو دیکھ کر وہ تاجر آپ سے بے حد محبت کرتا اور آپ کو اپنے بچوں کی طرح رکھتا حتیّٰ کہ آپ کے بغیر کوئی چیزنہ کھاتا اور جب کچھ کھانے لگتا تو ان کو بھی شریک کر لیتا۔ ایک دفعہ اس کے ایک گماشتہ نے کسی دُوردراز علاقہ سے اس کے لئے بے موسم کا خربوزہ بھیجا۔ تاجر نے اس کی ایک قاش کاٹ کر حضرت لقمان کو دی آپ نے اسے نہایت مزے سے کھایا۔ تاجر سمجھا بہت مزیدار ہے اس لئے اس نے ایک اور قاش دی وہ بھی انہوں نے اسی طرح مزے سے کھائی۔ اس پر اس کی طبیعت بھی چاہی کہ ایسا مزیدار خربوزہ خود بھی کھائے اور ایک قاش کاٹ کر اس نے اپنے منہ میں ڈالی مگر اسے معلوم ہوا کہ خربوزہ سخت کڑوا ہے اس پر وہ حضرت لقمان سے ناراض ہوا کہ میں تو تمہارے مزے کی خاطر تمہیں دے رہا تھا اگر کڑوا تھا تو تم نے مجھے بتا کیوں نہ دیا یا اپنے چہرہ سے اس کی کڑواہٹ کا اظہار کیوں نہ کیا۔ حضرت لقمان نے جواب دیا جس ہاتھ سے میں اتنی میٹھی چیزیں کھا چکا ہوں اس سے ایک کڑوی ملنے پر میں اِس قدر احسان فرموش کیوں بنتا کہ منہ بنانے لگتا۔
    مؤمن کا کام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے زجر ہو تو بھی اپنے ایمان کو متزلزل نہ ہونے دے کیونکہ قرآن شریف میں منافق کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ جب تک اسے ہم نعمتیں دیتے جائیں وہ خوش رہتا ہے لیکن جب ہاتھ روک لیں ناراض ہو جاتا ہے۔ ۴؎ مگر مؤمن ابتلاء میں ثابت قدم رہتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ کا ایک عبرت انگریز واقعہ ہے آپؐ جنگ تبوک کیلئے نکلے بعض لوگ پیچھے رہ گئے۔ آپ ان پر ناراض ہوئے اور حکم دیا ان سے کوئی کلام نہ کرے اور کچھ دنوں کے بعد حکم دیا ان کی بیویاں بھی ان سے علیحدہ رہیں۔ خیال کیا جا سکتاہے کہ یہ کتنی بڑی سرزنش تھی۔ ایک صحابی ۵؎ بیان کرتے ہیں میں متواتر رسول کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتا اور آ کر السلام علیکم کہتا اور خیال کرتا آپ بولیں گے تو نہیں مگر شاید منہ میں جواب دیں اس لئے میں آپ کے ہونٹوں کی طرف دیکھتا لیکن جب کوئی حرکت نہ ہوتی تو اُٹھ کر چلا جاتا اور دوبارہ آکر السلام علیکم کہتا اور پھر ہونٹوں کی طرف دیکھتا جب ہونٹوں میں حرکت نہ نظر آتی تو پھر باہر چلا جاتا اور پھر آتا اسی طرح آتا جاتا رہتا۔ ایک دفعہ میں اپنے بھائی کے ساتھ ہو لیا جس سے مجھے اتنی محبت تھی کہ ہمیشہ ہم اکٹھا کھانا کھاتے تھے اس سے میں باتیں کرتا گیا مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے تنگ آ کر کہا کہ تُو تو اچھی طرح جانتا ہے میں منافق نہیں ہوں محض غفلت کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔ اس نے آسمان کی طرف سر اُٹھا کر کہا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتا ہے۔ اس پر میں نے خیال کیا اِس سے زیادہ اور کیا ہو گا کہ اتنا عزیز بھائی بھی میری طرف توجہ نہیں کرتا۔ میں دل برداشتہ ہو کر بازار کی طرف چلا گیا راستے میں مجھے بعض لوگوں نے بتایا کہ ایک اجنبی تمہیں پوچھتا پھرتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ایک شخص نے پوچھا کیا تم کعب بن مالک ہو؟ وہ شخص غسّان کے فرما نروا کا ایلچی تھا جو سرحد پر سلطنت روما کے ماتحت ایک عیسائی ریاست تھی۔ اس نے مجھے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہے تم کتنے معزز آدمی ہو اور قوم میں تمہیں کس قور رسوخ اور تصّرف حاصل ہے مگر خبر ملی ہے کہ محمد نے تم سے ایسا بُرا سلوک کیا ہے جو ذلیل لوگوں سے بھی نہیں کیا جاتا اس کا ہمیں بہت افسوس ہے اگر تم ہمارے پاس آ جاؤ تو ہم تمہارا مناسب اعزاز کریں گے۔ میں نے یہ خط پڑھ کر دل میں کہا یہ شیطان کا آخری حملہ ہے۔ خط لانے والے سے میں نے کہا آؤ اس کا جواب دوں۔ میں اسے ساتھ لے کر چلا آگے ایک تنورجل رہا تھا میں نے خط اس میں پھینک کر کہا اپنے آقا سے جا کر کہہ دو کہ اس کے خط کا یہ جواب ہے۔ یہ کہہ کر میں گھر آ گیا چونکہ کوئی بات تو کرتا نہیں تھا اس لئے میں اب گھر میں ہی رہنے لگا۔ آخر ایک دن صبح کی نماز کا وقت تھا کہ میں نے سنا ایک شخص دُور پہاڑی سے آواز دے رہاہے۔ کعب بن مالک! مبارک ہو خدا اور اس کے رسولؐ نے تمہیں معاف کر دیا۔ کعب بن مالک مالدار آدمی تھے اور جنگ سے بھی وہ اسی لئے رہ گئے تھے کہ انہوں نے سمجھا میرے پاس سواری ہے جب چلوں گا لشکر میں جا کر شامل ہو جاؤں گا مگر وہ اسی خیال میں رہ گئے۔ انہوں نے کہا میں چونکہ مال و دولت کی وجہ سے جہاد سے محروم رہا ہوں اس لئے اپنی ساری جائداد خداتعالیٰ کی راہ میں دیتا ہوں اور ایسی وفاداری سے اس عہد کو نبھایا کہ جس شخص نے سب سے پہلے آپ کو مبارک باد دی اسے بھی اپنے ایک دوست سے قرض لے کر تحفہ دیا۔ اپنے مال سے کچھ نہ دیا۔ ۶؎ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ان کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہو چکا تھا تو مؤمن ابتلاء میں ترقی کرتا ہے لیکن منافق اور بھی گر جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ابتلاء آتے ہیں وہ اس لئے آتے ہیں کہ لعلھم یرجعون۔ ۷؎ جب کافر پر عذاب بھیجنے سے بھی خداتعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کی طرف لوٹے تو مؤمن پر ابتلاء اسے اپنے سے دُور کرنے کے لئے کس طرح ہو سکتا ہے۔ جو شخص دشمن کو بھی اس کے فائدہ کے لئے سزا دیتا ہے وہ دوست کو نقصان کے لئے کس طرح تکلیف دے سکتا ہے لیکن بعض نادان اپنے نفع و نقصان اور مفید و مُضِرّ میں امتیاز نہ کر سکنے کی وجہ سے سخت ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عذاب پہنچتا ہے اس کی غرض یہی ہوتی ہے کہ دلوں کو صاف کرے۔ اگر انسان اس سے سبق حاصل کرے تو وہی اس کے لئے برکت کا موجب ہوجاتا ہے اور اگر دُور جا پڑے تو اللہ غنی ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں۔ اس لئے تم پر بھی جب کوئی مصیبت آئے تو اگر اپنے آپ کو منافق سمجھتے ہو جب بھی یہی خیال کرو کہ اس کی غرض لعلھم یرجعون ہے اور اگر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا دوست سمجھتے ہو تو یہ خیال کرو کہ جب کوئی ذلیل انسان بھی اپنے دوست کو نقصان نہیں پہنچاتا تو خداتعالیٰ اپنے دوست کو کس طرح ضائع کر سکتا ہے پس یقین رکھو کہ وہ ابتلاء بھی تمہارے اعزاز کے لئے ہے تباہی کے لئے نہیں۔
    (الفضل ۱۸۔مارچ ۱۹۳۰ئ)
    ۱؎ السجدۃ: ۲۲ ۲؎ ال عمران: ۳۲
    ۳؎ بخاری کتاب المناقب باب مناقب سعد بن ابی وقاص
    ۴؎ بنی اسرائیل: ۸۴
    ۵‘۶؎ حضرت کعب بن مالک‘ بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالک
    ۷؎ الروم: ۴۲


    ۴۲
    ہر احمدی پوری سرگرمی سے دعوت الیٰ اللہ کرے
    (فرمودہ ۱۴۔مارچ ۱۹۳۰ئ)
    تشہّد‘ تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
    میں آج زیادہ تفصیل کے س