1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

حضر ت مسیحؑ ناصری امت محمدیہ کا موعو د نہیں ہو سکتے

'وفات مسیح ناصری علیہ السلام' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    حضر ت مسیحؑ ناصری امت محمدیہ کا موعو د نہیں ہو سکتے

    حدیث نزول میں سے جس لفظ سے غلطی لگتی ہے وہ ’’ابن مریم‘‘ ہے۔ ابن مریمؔ سے کیا مراد ہے ؟ سو اس کی تشریح، صداقت حضرت مسیح موعود ؑ پر اعتراضات کے جواب میں ’’ابن مریم بننے کی حقیقت‘‘ کے ذیل میں کی گئی ہے۔ (صفحہ ۲۴۰)وہاں سے دیکھا جائے۔ علاوہ ازیں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام امت محمدیہ کے موعود بوجوہ ذیل نہیں ہو سکتے۔

    اول:۔ قرآن و حدیث سے مسیحؑ کی وفات با لصراحت ثابت ہو چکی ہے اور وفات یافتہ ہستیوں کے متعلق فرمان الٰہی ہے (الزمر:۴۳)کہ جس پر ایک دفعہ موت وارد ہو جائے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا۔

    دوم:۔ اگر مسیح ناصری امت محمدیہ یا ساری دنیا کے لئے رسول ہو کر آئیں تو پھر قرآن مجید میں سے(اٰل عمران:۵۰)کے الفاظ کاٹ دینے چاہئیں۔کیا ایسی صورت میں قرآن مجید کی نعوذ باﷲ اصلاح کرو گے ۔

    پس جس صور ت میں قرآن مجید قیامت تک واجب العمل ہے تو پھر حضرت مسیحؑ ناصری امت محمدیہ یا غیر اسرائیلی دنیا کی طرف نہیں آسکتے۔

    سوم:۔امت محمدیہ کو ارشاد ہوتاہے۔(اٰل عمران:۱۱۱) کہ تم سب امتوں سے بہتر ہو۔ اب اگر امت محمدیہ میں سے کوئی عیسیٰ بن مریم نہ بنے تو یہ فرمان بے معنی بن جاتا ہے نیز آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی روحانیت کو بھی ناقص ٹھہرانا پڑے گا۔ کیونکہ آپ کی قدوسیت ایک مسیح بھی نہ بنا سکی، بلکہ جب امت اصلاح کی محتاج ہوئی تو بنی اسرائیل کے ایک نبی کے زیر بارِ احسان ہونا پڑا(نعوذباﷲ منہ)

    چہارم:۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے آنے والے مسیحؔ اور مسیحؔ ناصری کا جو حلیہ بیان فرمایا ہے۔ وہ بالکل متضاد اور متبائن ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ آنے والا مسیح اور ہے مسیح ناصری اور ہے چنانچہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

    فَاَمَّا عِیْسٰی فَاَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِیْضُ الصَّدْرِ (بخاری جلد ۲ کتاب بدء الخلق با ب واذکر فی الکتاب مریم )کہ مسیح ناصری سرخ رنگ، گھنگریالے بالوں اور چوڑے سینہ والا تھا۔

    پھر آنے والے موعود کے متعلق فرمایا فَاِذَا رَجُلٌ اٰدَمُ کَاَحْسَنِ مَا یُرٰی مِنْ اُدَمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُہٗ بَیْنَ مَنْکَبَیْہِ رَجُلُ الشَّعْرِ (بخاری کتاب بد ء الخلق باب واذکر فی الکتاب مریم) کہ اس کا رنگ گندمی ہو گا۔ اور خوبصورت ہوگا۔ اس کے سر کے بال پیٹھ پر پڑتے ہوں گے۔ درمیانہ قد کا آدمی ہو گا۔

    پس معلوم ہوا کہ علیحدہ علیحدہ دو مسیح ہیں۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں