1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

حضرات انبیاء علیہم السلام پر غیراحمدی علماء کے بہتانات

'انبیاء پر غیر احمدیوں کے بہتانات' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 14, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    حضرات انبیاء علیہم السلام پر غیراحمدی علماء کے بہتانات

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تو یہ لوگ دشمن ہیں اس لیے اگر ان کے متعلق قابل شرم باتیں کیں تو معذور ہیں مگر ان انبیاء ؑ کی نسبت بھی جن کو یہ خود مانتے ہیں یہ لوگ شرارت سے باز نہیں آتے۔ یہاں تک کہ تمام نبیوں کے سردار آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم جن کی اُمت ہونے کا دعویٰ کرتے اور جن کا کلمہ پڑھتے ہیں ان پر بھی الزامات لگاتے وقت انہیں شرم نہیں آتی۔

    ۱۔ حضرت ابراہیم ؑ کے تین جھوٹ:۔

    اس کا ذکر کذبات میں آچکا ہے ’’لَمْ یَکْذِبْ اِبْرَاھِیْمُ فِیْ شَیْءٍ قَطُّ اِلَّا فِیْ ثَلَاثٍ۔‘‘ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ

    (ترمذی جلد۲ صفحہ ۱۴۶ مجتبائی۔ نیز مطبع احمدی ترمذی جلد۲ صفحہ ۱۶۳ و بخاری جلد۲ صفحہ ۱۴۶ مطبوعہ مجتبائی)

    یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے صرف تین جھوٹ بولے۔

    ۲۔ حضرت آدم علیہ السلام:۔

    حضرت آدم علیہ السلام نے شرک کیا۔

    (تفسیر محمدی زیر آیت الاعراف:۱۹۱۔ جلالین و معالم التنزیل زیرآیت الاعراف:۱۹۰)

    ’’جب حوا علیہا السلام حاملہ ہوئیں تو ابلیس ایک نامعلوم صورت پر حوا علیہا السلام کے سامنے ظاہر ہوا اور بولا کہ تیرے پیٹ میں کیا چیز ہے۔ ……حوا علیہا السلام بولیں کہ مجھے نہیں معلوم۔ ابلیس نے کہا کہ شاید منہ یا کان یا نتھنے سے نکلے یا تیرا پیٹ پھاڑ کر نکالیں۔ حضرت حوا علیہا السلام ڈریں اور یہ ماجرا حضرت آدم علیہ السلام سے بیان کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام بھی خوفناک ہوئے۔ پھر ابلیس دوسری صورت پر ان کے سامنے ظاہر ہوااور ان کے رنج کا سبب پوچھا۔ ان دونوں نے حال بیان کیا۔ ابلیس بولا کہ رنج نہ کرو۔ میں اسم اعظم جانتا ہوں اور مستجاب الدعوات ہوں۔ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اس حمل کو تمہارے مثل خوبصورت اور درست خلقت کرے اور آسانی کے ساتھ یہ تیرے پیٹ سے نکلے۔ بشرطیکہ اس کا نام عبدالحارث رکھو۔ اور ابلیس کا نام ملائکہ میں حارث تھا۔ حوا علیہا السلام نے اس کا یہ فریب مان لیا۔…… پھر جب عطا کیا خدا نے ان دونوں کو…… فرزند صالح جسم اور تندرست…… اور حوا نے واسطے خدا کے…… ایک شرکت والا اور نام میں شریک کیا عبادت میں نہیں۔ یعنی عبداﷲ کے بدلے عبدالحارث نام رکھا۔‘‘

    (تفسیر قادری موسومہ بہ تفسیر حسینی زیرآیت الاعراف:۱۹۰ مترجم اردو)

    ۳۔حضرت یوسف علیہ السلام:۔

    ’’وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ قَصَدَتْ مُخَالِطَتَہٗ وَ ھَمَّ بِھَا قَصَدَ مُخَالِطَتَھَا لِمَیْلِ الطَّبْعِ وَالشَّھْوَۃِ الْغَیْرِ الْاِخْتِیَارِیِّ۔‘‘(جامع البیان زیرآیت یوسف:۲۴ و جلالین مع کمالین زیرآیت سورۃ یوسف)

    کہ اس عورت (زلیخا) نے حضرت یوسف ؑسے زنا کا ارادہ کیا۔ اور حضرت یوسف ؑ نے بھی نعوذ باﷲ اس کے ساتھ میلان طبع اور شہوت غیراختیاری کے باعث زنا کا ارادہ کیا۔

    ۴۔حضرت داؤد علیہ السلام:۔

    ’’لِتَنْبِیْہِ دَاوٗدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ عَلٰی مَا وَقَعَ مِنْہُ وَکَانَ لَہٗ تِسْعٌ وَ تِسْعُوْنَ اِمْرَءَ ۃً وَ طَلَبَ اِمْرَءَ ۃَ شَخْصٍ لَیْسَ لَہٗ غَیْرُھَا تَزَوَّجَھَا وَ دَخَلَ بِھَا۔‘‘

    (جلالین مع کمالین زیرآیت ……الخ :۳۴)

    کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو تنبیہ کی اس وجہ سے کہ حضرت داؤد ؑ کی ۹۹ بیویاں تھیں۔ انہوں نے ایک اور شخص (جس کے پاس صرف ایک ہی بیوی تھی) سے اس کی بیوی لے کر خود نکاح کرلیا۔

    ۵۔حضرت سلیمان علیہ السلام:۔

    ’’وَذَالِکَ لِتَزَوَّجِہٖ بِاِمْرَأَۃٍ ھَوَاھَا (اَحَبَّھَا)‘‘

    (جلالین زیرآیت ……الخ :۳۴)

    کہ خدا سلیمان ؑ سے نارا ض ہوا کیونکہ انہوں نے ایک عورت کو اپنی بیوی بنالیا جس سے آپ کو عشق ہوگیا تھا۔(نیز دیکھو تفسیر معالم التنزیل زیرآیت ……الخ :۳۴ ۔ تفسیر محمدی زیرآیت ……الخ :۳۴ و جامع البیان زیرآیت ……الخ :۳۴)

    ۶۔حضرت ادریس علیہ السلام:۔

    جھوٹ بول کر جنت میں داخل ہوگئے مگر پھر واپس نہ نکلے۔

    (معالم التنزیل ۔ و تفسیر محمدی ۔ زیر آیت مریم:۵۸)

    ۷۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم:۔

    ا ۔’’زَیْنَبَ وَ ذٰلِکَ اَنَّہٗ رَأَھَا بَعْدَ مَا اَنْکَحَھَا بِزَیْدٍ فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِہٖ وَ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ مُقَلِّبُ الْقُلُوْبِ وَ سَمِعَتْ زَیْنَبُ بِتَسْبِیْحِہٖ وَ ذَکَرَتْ لِزَیْدٍ فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِہٖ کَرَاھَۃُ صُحْبَتِھَا وَ اَتَی النَّبِیَّ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَ قَالَ اُرِیْدُ اَنْ اُفَارِقَ صَاحِبَتِیْ قَالَ مَا رَأَیْتَ مِنْھَا قَالَ وَاللّٰہِ مَا رَأَیْتُ مِنْھَا اِلَّا خَیْرًا وَلٰکِنَّھَا لِشَرْفِھَا۔‘‘

    (تفسیر بیضاوی تفسیر سورۃ الاحزاب:۳۸ )

    کہ یہ آیت () زینب ؓ کے متعلق ہے اور وہ اس طرح سے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلعم نے ز ینب کو دیکھا۔ اس کے بعد کہ آپ نے ز ینب کا نکاح زید سے کر دیا ہوا تھا۔ پس آپ کے دل میں (نعوذ باﷲ) ز ینب کا عشق ہو گیا اور آپ نے فرمایا ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ مُقَلِّبُ الْقُلُوْبِ‘‘ کہ پاک ہے وہ اﷲ جو دلوں کو پھیر دیتا ہے۔ ز ینب نے آپ کی یہ تسبیح سن لی اور زید سے ذکر کر دیا۔ پس زید کے دل میں ز ینب کے ساتھ صحبت کے متعلق کراہت پیدا ہوگئی اور وہ آنحضرت صلعم کے پاس آیا۔ اور آکر کہا کہ میں اپنی بیوی سے علیحدہ ہوناچا ہتا ہوں۔ آنحضرت ؐ نے پوچھا۔ کیا تجھ کو اس میں کوئی عیب نظر آتا ہے۔ زید نے کہا۔ بخدا نہیں۔ اس میں مجھے کوئی گناہ نظر نہیں آیا یہ تو محض حضرت ز ینب کے شرف اور عظمت کی وجہ سے ہے۔ آنحضرت ؐ نے یہ سن کر فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ۔

    ب۔ ’’قَالَ مَقَاتِلُ اَنَّہٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَتٰی زَیْدًا یَوْمًا فَطَلَبَہٗ فَاَبْصَرَ زَیْنَبَ نَائِمَۃً وَکَانَتْ بَیْضَاءَ جَمِیْلَۃً جَسِیْمَۃً مِنْ اَتَمِّ نِسَآءِ قُرَیْشٍ‘‘ (کمالین برحاشیہ جلالین زیر آیت امسک علیک زوجک الاحزاب:۳۸) کہ مقاتل نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلعم ایک دن زید کے گھر گئے اور وہاں پر ز ینب کو سوئے ہوئے دیکھا اور وہ گوری حسین اور جسیم تھی قریش کی تمام حسین ترین عورتوں میں سے۔

    ج۔ آنحضرت صلعمکو (نعوذ باﷲ) شیطانی الہام ہوا۔ قَدْ قَرَءَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سُوْرَۃِ النَّجْمِ بِمَجْلِسٍ مِّنْ قُرَیْشٍ بَعْدَ بِاِلْقَاءِ الشَّیْطَانِ عَلٰی لِسَانِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غَیْرِ عِلْمِہٖ بِہٖ ’’تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنَّ شِفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی‘‘ فَفَرِحُوْا بِذَالِکَ۔

    (جلالین مجتبائی صفحہ ۲۸۲ مطبوعہ ۱۳۰۶ھ تفسیر زیر آیت سورۃ النجم:۲۰)

    کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے مشرکین قریش کی ایک مجلس میں سورۃ النجم کی آیات کے آگے القا ئے شیطانی سے لاعلمی میں یہ پڑھ دیا کہ تِلْکَ الْغُرَانِیْقَ الْعُلٰی کہ یہ تینوں بت بڑی عظمت اور شان والے ہیں اور قیامت کو بھی ان کی شفاعت کی امید رکھنی چاہیے۔ بتوں کی یہ تعریف سن کر مشرک بہت خوش ہوئے۔ اس کے آگے لکھا ہے کہ بعد میں جبرائیل آئے اور انہوں نے آنحضرت صلعم کو بتایا کہ یہ الہام الٰہی نہیں بلکہ شیطانی القاء تھا۔ اس روایت کی سند کے متعلق مندرجہ ذیل حوالہ کافی ہے

    ’’نَبَّہَ عَلٰی ثُبُوْتِ اَصْلِھَا شَیْخُ الْاِسْلَامِ اَبُوْ حَاتِمِ الْحَافِظُ الْکَبِیْرُ ابْنُ حَافِظِ الشَّھِیْرِ (والطبری) مُحَمَّدُ بْنُ جَرِیْرٍ (وَابْنُ الْمُنْذِرِ۔ وَمِنْ طُرُقٍ عَنْ شُعْبَۃَ) عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ جَعْفِرِ ابْنِ اَیَاسٍ عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ …… قَالَ قَرَءَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَکَّۃَ وَالنَّجْمِ فَلَمَّا بَلَغَ الخ‘‘

    (زرقانی شرح مواہب اللدنیہ جلد ۱ صفحہ ۳۴۰ مطبوعہ ازہریہ پریس مصر ۱۳۲۵ھ مصنفہ محمد بن عبدا لباقی الزرقانی)

    نیز تفسیر حسینی مترجم اردو زیر آیت (سورۃ الحج:۵۳) میں لکھا ہے۔

    ’’ہمارے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم جب تلاوت کرتے تھے تو اس شیطان نے جسے ’’ابیض‘‘ کہتے ہیں آپ کی آواز بنا کر یہ کلمات پڑھ دیئے۔ تِلْکَ الْعَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی۔‘‘

    د:۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر جادو چل گیا:۔

    ’’سُحِرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی کَانَ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ اَنَّہٗ کَانَ یَفْعَلُ الشَّیْءَ وَمَا فَعَلَہٗ۔ (بخاری کتاب الطب باب السحر)

    کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم مسحور ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو خیال ہوتا تھا کہ میں نے فلاں کام کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے وہ کام کیا نہیں ہوتا تھا۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں