1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تفسیر کبیر ۔ تفسیر القرآن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا محمود احمد رض ۔جلد 9 یونی کوڈ

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تفسیر کبیر ۔ تفسیر القرآن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا محمود احمد رض ۔جلد 9 یونی کوڈ

    سورۃ الانشراح
    بسم اللہ الرحمن الرحیم: میں اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا اور با ر بار رحم کرنے والا ہے
    الم نشرح لک صدرک: کیا ہم نے تیرے لئے تیرے سینے کو کھول نہیں دیا۔
    یہ سورۃ مکی ہے بلا خلاف (فتح البیان)۔ وہیری ؔکے نزدیک اس کے نزول کا وقت مضمون کی مشارکت کی وجہ سے پہلی سورۃ کے زمانہ کا ہی معلوم ہوتا ہے۔ یعنی پہلے یا دوسرے سال کی معلوم ہوتی ہے۔ مغربی مصنفین کا اس امر کو تسلیم کرنا اسلام کی ایک بہت بڑی فتح ہے کیونکہ اس سورۃ میں ایسی زبردست پیشگوئیاں ہیں کہ انہیں تسلیم کرلینے کے بعد اسلام کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا ورنہ اس سورۃ کو مدنی کہہ کر ان پیشگوئیوں پر پردہ ڈالا جاسکتا تھا۔ میرے نزدیک یہ سورہ تیسرے سال یا اس کے قریب کی ہے۔
    اس کی ترتیب کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اس کا تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں رسول کریم ﷺ کے انجام کے اچھا ہونے کا ذکر تھا جیسا کہ فرمایاتھا وللاخرۃخیر لک من الاولی۔ یہ آیت اس سورۃ کے مضمون کا گویا خلاصہ تھی کیونکہ اس میں پہلے دلائل کا ایک نتیجہ نکال کر لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ اب سورۃ الانشراح میںاس دعویٰ کے متعلق کہ رسول کریم ﷺ کا انجام اچھا ہوگا مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور پچھلی سورۃ کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ انجام کے اچھا ہونے کی کچھ علامتیں ہوتی ہیں اگر وہ علامتیں کسی شخص میں موجود ہوں تو وقت سے پہلے لوگ قیاس کرسکتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی مدد اس شخص کو حاصل ہو یعنی انجام تو جب ہوگا سو ہوگا محمد رسول اللہ ﷺ کے اچھے انجام کو بعض علامتوں کے ساتھ پہچانا بھی جاسکتا ہے۔ چنانچہ چار اہم علامتیں اللہ تعالیٰ اس جگہ بیان کرتا ہے۔
    اول یہ کہ انسان کو خو داپنے دعووں پر شرح صدر ہو۔ دوم جس مقصد کو لے کر وہ کھڑا ہو اس کو پورا کرنے کے ذرائع اس کو میسر آجائیں اور تیسرے یہ کہ لوگوں کی توجہ اس کی طرف پھر جائے۔ چوتھے یہ کہ یہ سامان الٰہی تقدیر کے ماتحت پیدا ہوں۔ جب یہ چار چیزیں کسی شخص کو حاصل ہوجائیں تو ابتداء ہی سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ وہ شخص غالب آجائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ ﷺ یہ چاروں باتیں تجھے حاصل ہیں اس صور ت میں تیرے مخالفین کو سمجھ لینا چاہئے کہ تیرے انجام کی بہتری کے متعلق کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔
    حل لغات: نشرح: شرح سے مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے اور لم نفی کیلئے آیا ہے۔ اور شرح (یشرح شرحا) اللحم کے معنے ہوتے ہیں قطعہ طوالا۔ گوشت کو لمبی طرز پر کاٹا یا اس میںشگاف دیا اور شرح الخامض کے معنے ہوتے ہیں کشفہ کسی پیچیدہ بات کو واضح کردیا یعنی معمہ کو حل کردیا۔ فسرہ وبینہ اس کی تفسیر کی اور اس کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور شرح الشی ء کے معنے ہوتے ہیں فتحہ اس کو کھول دیا۔ اسی طرح وسعہ اسے پھیلادیا اور شرح الکلام کے معنے ہوتے ہیں فھمہ اس کو سمجھادیا۔ اور شرح صدرہ بالشیء و للشیء کے معنے ہتے ہیں سرہ بہ و طیب بہ نفسہ اسے اس کے ذریعہ سے خوش کردیا (اقرب)۔
    مفردات راغب میں لکھا ہے اصل الشرح بسط اللحم و نحوہ یعنی شرح کے اصل معنے تو گوشت یا ایسی ہی کسی چیز کو چیر کر کھول دینے کے ہوتے ہیں و منہ شرح الصدر اور اسی سے شرح الصدر کا محاورہ نکلا ہے۔ جس کے معنے بسطہ بنو الھی و سکینۃ من جھۃ اللہ وروح منہ کے ہیں یعنی الٰہی نور اور خداتعالیٰ کی طرف سے آنیو الی تسکین اور اطمینا ن اور اس کی طرف سے آنے والے کلام یا ملائکہ کے ذریعے سے سینہ کو کھول دینا۔ ظاہر ہے کہ یہ معنے تفسیری ہیں ورنہ شرح صدر کا فعل صرف خداتعالیٰ کیلئے نہیں بولاجاتا بلکہ عربی محاورہ کے مطابق بعض دفعہ اپنے ہم کلام کی باتیں سن کرآدمی کہتا ہے کہ اب میرا شرح صدر ہوگیا اور اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ یہ بات میری سمجھ میں اچھی طرح آگئی ہے۔ ہاں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کے حق میں شرح صدرہ کے الفاظ استعمال ہوں گے تو اس کے وقت بوجہ محل استعمال کے نہ کہ وضع لغت کے وہ معنے ہوں گے جوکہ علامہ راغب نے اس جگہ کئے ہیں۔
    تاج العروس عربی لغت کی سب سے بڑی کتاب میں لکھا ہے شرح کمنع: کشف شرح منع کے وزن پر ہے اور اس کے معنے ہیں کہ کھول دیا۔ کہتے ہیں شرح فلان امراۃ: او ضحہ۔ فلاں شخص نے اپنا معاملہ خوب کھول کر رکھ دیا۔ شرح مسالۃ مشکلۃـ: بینھا اور جب کہیں کہ اس نے ایک مشکل مسئلہ کی شرح کی تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس نے اسے کھول کر بیان کردیا اور حل کردیا۔ پھر لکھا ہے و ھو مجاز۔ یہ استعمال اس کا مجازاً ہے اس کے آگے اس لفظ کے اصل معنے جو وضع لغت کے مطابق ہیں یہ لکھے ہیں شرح اللحم عن العضو قطع قطعا یعنی شرح کے معنے ہیں گوشت کو عضو سے کاٹ کر الگ کردیا۔ و قیل قطع اللحم علی العظم قطعا۔ ہڈی پر چھری مار مار کر گوشت کو الگ کردیا۔ یعنی جس طرح پسندے بناتے ہیں کہ گوشت ہڈی سے چمٹا ہی رہتا ہے مگر پھول کی پنکھڑیوں کی طرح یا مخمل کے پھندنوں کی طرح اوپر سے اس کے ٹکڑے ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔ گویا اس لفظ کے یہ بھی معنے ہیں کہ کاٹ کر الگ کردیا اور یہ بھی کہ ایک جہت سے گوشت آپس میں الگ ہوجائے اور ایک جہت سے ہڈی سے چمٹا رہے۔ پھر لکھا ہے شرح الشی ء کے ایک معنے فتح کے بھی ہیں اور اس کے معنے ہیں بیان کیا۔ کھولا (درحقیقت یہ معنے اوپر کے دو معنوں میں سے آخری معنوں میں سے مجازاً نکالے گئے ہیں یعنی ایک مجوف چیز کو ایک طرف سے کھول کر اس کے اندر جھانکنے یا اس کے اندر کوئی چیز ڈالنے کیلئے راستہ بنادیا) پھر لکھا ہے (امام لغت) ابن الا عرابی کے نزدیک شرح کے معنے بیان اور فہم اور فتح اور حفظ کے ہیں۔ یعنی واضح کرنا۔ سمجھانا۔ کھولنا اور محفوظ کرنا ۔ پھر لکھا ہے شرح کے معنے ازالہ بکارت کے بھی ہوتے ہیں۔ پھر لکھا ہے مجازی طور پر شرح الشی ء کے معنے وسعہ کے بھی ہوتے ہیں یعنی اسے پھیلادیا اور وسیع کردیا اور شرح صدر اسی قبیل سے ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ قبول حق یا قبول خیر کیلئے سینہ کو وسیع کردیا (یعنی دل میں حق کے قبول کرنے کیلئے انشراح پیدا ہوگیا اور حق کی طرف اس کی رغبت ہوگئی۔ جہاں سے بھی حق ملے اور جس قدر بھی ملے وہ اسے قبول کرنے کو تیار ہوتا ہے)۔ اسی طرح کہتے ہیں شرح الی الدنیا وہ دنیا کی طرف مائل ہوا (تاج العروس)۔
    اور صدور کے معنے ہوتے ہیں اعلی مقدم کل شی ء یعنی ہر چیز کے اگلے حصہ کی جو چوٹی ہو اسے صدر کہتے ہیں۔ اور یوں حیوان یا انسان کے متعلق جب یہ لفظ بولا جائے توا س کے معنے ہوتے ہیں مادون العنق الی فضاء الجوف۔ یعنی گردن سے لے کر پیٹ کے خلاء تک جسم کا جو حصہ ہوتا ہے اس کو صدر کہتے ہیں یعنی سینہ۔ اسی طرح ہر چیز کے ابتدائی حصہ کو بھی صدر کہتے ہیں۔ چنانچہ جب صدرالنھار یا صر الشتاء یا صدر الصیف کہتے ہیں تو اس کے معنے دن کے ابتدائی حصہ یا سردی یا گرمی کے ابتدائی ایام کے ہوتے ہیں (اقرب) گویا ایک لحاظ سے یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ ہر چیز کی چوٹی کو بھی صدر کہتے ہیں اور ہر چیز کے ابتدائی حصہ کو بھی صدر کہتے ہیں جو بالعموم حقیقت کے لحاظ سے ادنیٰ ہوتا ہے جیسے صبح دوپہر سے کم روشن ہوتی ہے ۔ موسموں کے لحاظ سے جب سردی یا گرمی کا موسم شروع ہو یا بہار یا خزاں کے ایام آئیں تو وقت کے لحاظ سے موسم کا جو ابتدائی حصہ ہوتاہے اسے بھی صدر کہتے ہیں۔ لیکن محاورہ میں صدر اس کو کہتے ہیں جو قوم کے نزدیک عزت کے قابل ہو یا اعلیٰ رتبے پر رکھے جانے کامستحق ہو۔ ہماری زبان میں بھی یہ لفظ اعزاز کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ کہتے ہیں فلاں کوصدر مقام پر بٹھایا گیا۔ یا فلاں کو صدر مجلس تجویز کیا گیا ہے۔ یا لیڈری کا مقام اس کیلئے تجویز کیا گیا ہے۔ اسی طرح صدر سردارقوم کو بھی کہتے ہیں اور صدر دل کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ سینہ میں ہوتا ہے او رصدر کسی چیز کے حصہ کو بھی کہتے ہیں۔ عرب کا محاورہ ہے اخذت صدرا منہ۔ میں نے اس میں سے ایک حصہ لے لیا (اقرب) جہاں تک انشراح صدر کا تعلق سینہ سے ہے قطع نظر اس سے کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہر ملک اور ہرقوم میں یہ دستور پایاجاتا ہے کہ ان میں سے جب کسی شخص کو اطمینان حاصل ہوجاتا ہے یا کسی حقیقت پر اس کا دل تسلی پاجاتا ہے تو ایسے موقع پر ہمیشہ اظہار اطمینان کیلئے وہ شرح صدر کا لفظ استعمال کرتاہے۔ اردوں میں بھی کہتے ہیںکہ فلاں بات کیلئے میرا سینہ کھل گیا۔ یہ بات الگ ہے کہ کوئی ڈاکٹر کہہ دے کہ سینہ کا کسی بات کے سمجھنے سے کیا تعلق ہے سینہ تو ہڈیوں کے ایک ڈھانچے کا نام ہے جس میں دل ہے، پھیپھڑا ہے، معدہ ہے، جگر ہے، گلے کی نالی ہے اور یہ وہ چیزیں ہیں جن کا کسی بات کے سمجھنے سے کوئی تعلق نہیں۔ بے شک طبی طور پر اسی کا نام صدر ہوگا مگر زبان کے لحاظ سے سینہ کھل جانے کے معنے ہوتے ہیں کسی بات پر اطمینان ہوگیا اور سینہ کھل جانے کے معنے ہوتے ہیں کسی بات پر اطمینان ہوگیا اور سینہ تنگ ہوجانے کے معنے ہوتے ہیں کسی بات پر اطمینان پیدا نہ ہوا یا غم کے سامان پید اہوگئے۔ یہ سوال کہ ایسا کیوں کہا جاتا ہے اس کی ذمہ داری زبان بنانیو الوں پر ہے مذہب پر نہیں۔ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنی حماقت کی وجہ سے زبان کی بحث مذہب میں بھی شروع کردیتے ہیں اور اس طرح خود بھی ٹھوکر کھاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کیلئے بھی ٹھوکر کا موجب بنتے ہیں۔ مثلاً ہماری زبان میں عام طور پر یہ فقرہ استعمال ہوتا ہے کہ میرے دل میں فلاں بات آئی۔ اس جگہ کوئی عقلمند انسان یہ سوال پیدا نہ کرے گا کہ بات دل میں آتی ہے یا دماغ میں کیونکہ لغت نے اس فقرہ کے مفہوم کے ادا کرنے کیلئے یہی الفاظ وضع کئے ہیں اس لئے ہم ان کے استعمال پر مجبور ہیں۔ لغت یہی کہتی ہے کہ جب کوئی شخص کہے کہ میرے دل میں فلاں بات آئی توا س کے یہ معنے ہوتے ہیں اسے ایک نیا خیال سوجھا اورجب بھی کسی شخص کو کوئی نئی بات سوجھتی ہے تو وہ یہی فقرہ استعمال کرتا ہے خواہ وہ جاہل ہو یا فلاسفی کا پروفیسر یا علم تشریح الابدان کا ماہر۔ رہا یہ سوال کہ وہ بات دل میں آتی ہے یا سرمیں آتی ہے یا پائوں میں آتی ہے زبان کے لحاظ سے ہمیں اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر بعض لوگ غلطی سے اس قسم کی بحث شروع کردیتے ہیں کہ تم کہتے ہو دل میں بات آئی۔ دل میں بات کس طرح آسکتی ہے یا تم کہتے ہو سینہ کھل گیا سینہ کس طرح کھل سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ تو سوال کیا جاسکتا ہے کہ جو معنے کئے جاتے ہیں وہ عربی لغت کے لحاظ سے چسپاں ہوتے ہیں یا نہیں مگر طور پر یہ سوال نہیںکیا جاسکتا کہ جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان کا استعمال علم ڈاکٹری کے لحاظ سے درست ہے یانہیں کیونکہ اس کی ذمہ واری قرآن مجید پر نہیں بلکہ عربی زبان بنانے والوں پر ہے۔ اگر زبان میں کوئی فقرہ کسی خاص مفہوم کو اد ا کرنے کیلئے ایجاد کرلیا گیا ہے تو ہم پابندہیں کہ وہی فقرہ بولیں خواہ حقیقت سے وہ تعلق رکھتا ہو یانہ۔ عام یوروپین ہی نہیں ایک اناٹومی کا پروفیسر اور ایک سائیکالوجی کا پروفیسر بھی جب کسی تکلیف دہ امر کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ IT ACHES MY HEART یہ بات میرے دل کو تکلیف دیتی ہے حالانکہ احساس تکلیف دماغ کے حصہ امتیاز میں ہوتا ہے نہ کہ دل کے گوشت میں۔ اسی طرح جب وہ کسی تکلیف کااظہار کرتاہے تو کہتا ہے MY HEART SANK میرا دل ڈوبنے لگا۔ کیا اس پروفیسر کومعلوم نہیںہوتا کہ دل دریا یا سمندر میں نہیں پڑا ہواکہ ڈوبنے لگا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ سینہ میں کوئی کنواں کھدا ہوا نہیں کوئی ندی نالہ جاری نہیں۔ کوئی سمندر پھیلا ہوا نہیں۔ مگر وہ ایسا کہنے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے بزرگوں نے اس خیال کو ادا کرنے کیلئے جو اس نے بیان کرنا چاہے یہی الفاظ مقرر کر چھوڑے ہیں ۔ بلکہ وہ تو یہاں تک کہہ گزرتا ہے MY HEART SANT IN MY BOOTSمیرا دل ڈوب کر جوتیوں تک چلا گیا۔ اسی طرح ہر اناٹومی کا اور سائیکالوجی کا پروفیسر جب یہ کہنا چاہتا ہے کہ میںنے یہ بات محسوس کی۔ تو وہ کہتا ہے I FEEL IN MY HEART۔ میں نے اپنے دل میں فلاں امر محسوس کیا۔ حالانکہ طبی طور پر اور علم النفس کے مطابق وہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ محبت کا دل سے تعلق نہیں بلکہ دماغ سے تعلق ہوتا ہے۔ مگر جب بھی الفاظ استعمال کرے گا یہی کرے گا کہ میں نے اپنے میں محبت یا فلاں بات محسوس کی۔ اسی طرح ان علوم کے پروفیسر بھی اپنی منگیتروں یا بیویوں کو جب وہ جدا ہوں یہی لکھیں گے کہ YOU ALWAYS LIVE IN MY HEART تم ہر وقت میرے دل میں رہتی ہو یہ کبھی نہیں لکھے گا کہ YOU ALWAYS LIVE IN MY HEAD۔ بلکہ اگر وہ لکھ دے تو شاید منگنی ہی ٹوٹ جائے اور منگیتر اسے پاگل سمجھنے لگ جائے۔ پس جب ہر شخص روزانہ اپنی زبان میں اس قسم کے الفاظ استعمال کرتا ہے اور اس پر اعتراض نہیں ہوتا اورنہیں ہوسکتا تو یہ کیا حماقت کی بات ہے کہ مذہبی کتب پر زبانوں کے محاوروں کی وضع کی وجہ سے لوگ اعتراض شروع کردیتے ہیں۔ جنہوںنے وہ محاورے بنائے ہیں جاکر ان سے سوال کریں۔ مذہبی کتاب تومجبور ہے کہ ان محاوروں کی اتباع کرے ورنہ اس کے مخاطبین اس کی بات ہی نہ سمجھیں گے اور وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے گی۔
    دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ مثلاً ایک عرب قلب کا لفظ ان معنوں میں استعمال کرتاہے یا نہیں جن معنوں میں تشریح الابدان کے ماہرین دماغ کالفظ استعمال کرتے ہیں۔ اگر کرتا ہے تو محض قلب کے لفظ کے استعمال پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کریم کو دماغ کا لفظ بولنا چاہئے تھا قلب کا لفظ اس نے کیوں بولا۔ یا مثلاً یہ تو سوال ہوسکتا ہے کہ سینہ کا کھل جانا یا اس کا تنگ ہوجانا عربی زبان میں محاورہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر ہوتا ہے تو قرآن کریم کیلئے صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری تھا کہ وہ ان محاورات کو استعمال کرتا کیونکہ اگر وہ ان محاورات کو استعمال نہ کرتا تو لوگ سمجھتے کیا خاک؟ آج علمی زمانہ ہے۔ سائنس کی ترقی اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے ۔ ماہرین تشریح الابدان بال کی کھال اتارچکے ہیں۔ مگر آج بھی لوگ یہی کہتے ہیں کہ میرے دل میں تمہاری محبت ہے۔ اگر کوئی شاعر ان الفاظ کی بجائے یہ کہہ دے کہ میرے دماغ میں تمہاری محبت ہے تو سب لوگ قہقہہ لگا کر ہنس پڑیں گے کہ پاگل ہوگیا ہے۔ حالانکہ واقعہ یہی ہوتا ہے۔ مگر چونکہ زبان نے اس غرض کیلئے دل کا لفظ وضع کیا ہوا ہے اس لئے جب وہ محاورہ زبان کے خلاف دماغ کا لفظ استعمال کرے گا سب لو گ ہنس پڑیں گے کہ بڑا احمق انسان ہے حالانکہ طبی طور پر وہ درست کہہ رہا ہوگا۔ پس ہمیں اس سے کوئی تعلق نہیں کہ تشریح الابدان کے ماہرین کیا کہتے ہیں۔ ہم زبان کو دیکھیں گے کہ اس میں کیا الفاظ رائج ہیں۔ جو کچھ زبان میں الفاظ رائج ہوں گے انہی کا استعمال فصاحت ہوگا۔ اگر اس کے خلاف کوئی اور الفاظ استعمال کئے جائیں گے تو وہ معیار فصاحت سے بالکل گر جائیں گے۔
    تفسیر:الم نشرح لک صدرک میں گو الفاظ استفہامی یعنی سوالیہ استعمال کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ کیا ہم نے تیرے سینہ کو نہیں کھولا؟ مگر مفہوم یہ ہے کہ تو جانتا ہے کہ ہم نے تیرے سینہ کو کھول دیا ہے ایسے سوال کو عربی لغت والے انکار ابطالی کہتے ہیں۔ ایک عرب کا قول ہے کہ الستم خر من رکب الم طایا (اقرب)کیا تم سواریوں پر چڑھنے والوں میں سے سب سے اچھے نہیں ہو؟ یعنی اچھی ہو۔ درحقیقت یہ وہی حسابی اصول ہے کہ دو منفیاں ایک مثبت بنادیتی ہیں۔ جب استفہام انکاری کے بعد نفی کا لفظ آجائے گا تو وہ مثبت کے معنے دینے لگ جائے گا کیونکہ منفی کی نفی مثبت کا مفہوم دیتی ہے۔ مثلاً اگر طنزاً کہیں کیا تو عالم ہے؟ تو اس کے معنے ہوں گے کہ تو عالم نہیں ہے لیکن اگر یوں کہیں کہ کیا تو عالم نہیںہے؟ تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تو عالم ہے مگر باوجود عالم ہونے کے فلاں حرکت کرتاہے یا یہ کہ تو عالم ہے باوجود اس کے جاہل لوگ تجھ پر اعتراض کرتے ہیں۔ اسی طرح الم نشرح لک صدرک کے یہ معنے نہیں کہ تجھ سے ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا تیراسینہ کھولا گیا ہے یا نہیں؟ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تو بھی جانتا ہے کہ تیرا سینہ ہم نے کھول دیا ہے اور تیرے دشمن بھی جانتے ہیں کہ تیرا سینہ ہم نے کھول دیا ہے۔ اس جگہ یہ سوال ہوسکتا ہے کہ کیوں نہ سیدھے سادھے الفاظ میں یہ کہہ دیا ہے کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ کہا جاتا کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے تو اس سے صرف ایک خبر کا مفہوم نکلتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اطلاع دیتا ہے کہ ہم نے سینہ کو کھول دیا لیکن یہ مفہوم نہ نکلتا کہ اس شرح صدر کا کوئی ظاہر نتیجہ بھی نکلا ہے یا نہیں اور رسول کریم ﷺ کو بھی اس شرح صدر کا کوئی احساس ہوا ہے یا نہیں اور کفا رنے بھی اس کا کوئی ثبوت دیکھا ہے یا نہیں اور یہ مضمون ظاہر ہے کہ بہت ہی نامکمل ہوتا۔ لیکن الم نشرح لک صدرک کہہ کر اس امر پر زور دے دیا کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے اور یہ امر تو بھی جانتا ہے اور تیرے دشمن بھی جانتے ہیں یعنی ایک چھپی ہوئی بات نہیں ایک ظاہر اور کھلا نشان ہے جس انکار کوئی نہیں کرسکتا۔ غرض ایسا فقرہ استعمال کرکے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ حقیقت دوسروں پر مخفی نہیں شرح صدر کی اہمیت کو ایسا واضح کردیا ہے کہ اور کوئی مختصر الفاظ اس مضمون کو بیان نہ کرسکتے تھے۔
    یہ مضمون اس رنگ میں بھی اچھی طرح سمجھا جاسکتاہے کہ ہم فرض کریں ایک شخص ہمارے پاس آئے اور ہمیں خبر پہنچائے کہ میں نے آپ کے گھر میں گوشت پہنچادیا ہے اب جہاں تک اس خبر کا تعلق ہے ہمیں صرف اتنا ہی پتہ لگ سکتاہے کہ زید کہتا ہے اس نے ہمارے گھر میں گوشت پہنچادیا ہے۔ اب واقعہ میں گوشت پہنچا ہے یا نہیں پہنچا اس کا اس فقرہ سے علم نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں زید کبھی نہیں کہے گا کہ کیا میں نے گوشت تمہارے گھر میں نہیں پہنچادیا۔ بلکہ وہ صرف اتنا کہے گا کہ میں نے تمہارے گھر میں گوشت پہنچادیا ہے۔ لیکن اگر شخص مخاطب گھر جائے اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ گوشت پہنچ گیا ہے تو اس کے بعد زید اسے بے شک کہہ سکے گا کہ کیا میں نے تمہارے گھر میں گوشت نہیں پہنچایا۔ مطلب یہ ہوگا کہ میں نے تمہارے گھر میں گوشت پہنچادیا ہے اور تمہیں خود بھی اس بات کا علم ہے کہ گوشت پہنچ گیا ہے۔ پس کیا ا یسا نہیں کیا کے فقرہ سے یہ زائد معنی پیدا ہو جاتے ہیں کہ یہ بات ایسی پختہ ہے کہ مخاطب بھی اس بات کی تصدیق کرے گا اور کہے گا کہ ہاں یہ بات واقعہ میں درست ہے میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ یہ واقعہ ہوگیا ہے پس الم نشرح لک صدرک اپنے اندر تصدیق مخاطب کا مضمون بھی رکھتا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ مخاطب اس علم میں ہمارا شریک ہے وہ اس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتا ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الم نشرح لک صدرک اے محمدﷺ کیا ہم نے تیرا سینہ اس طرح نہیں کھولا کہ تو خود بھی اس بات کی گواہی دیگا اور تجھے علم ہے کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے یہ جملہ کہ یہ بات ظاہر ہے اور اس کا انکار نہیں ہو سکتا کہ تیرا سینہ کھل چکا ہے ۔ ہے تو یہ ایک معمولی جملہ مگر اس کے اندر وسیع مطالب پائے جاتے ہیں ۔ شرح کے معنی حل لغات میں بتائے جا چکے ہیں کہ (۱) کھولنے (۲) پھیلانے (۳) سمجھانے (۴) محفوظ کر دینے (۵) اچھی طرح بیان کر نے کے ہیں ان معنوں کی رو سے آیت کے ایک تو یہ معنی ہوں گے کہ کیا ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا ۔ یعنی اس بات کو تو بھی جانتا ہے اور دوسری دنیا بھی جانتی ہے کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے ۔سینہ کھولنے کے معنی جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے مادئہ قبولیت کے پیدا ہو جانے کے ہیں اور چونکہ یہ محاورہ اچھے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اس لئے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اچھی باتوں کی قبولیت کے لئے دل آما دہ رہتا ہے یا کسی خاص معا ملہ کے متعلق دل تسکین پا لیتا ہے اسے اس بات پر یقین کامل ہو جاتا ہے تو اسے شرح صدر کہتے ہیں۔ جب یقین ایسے کمال کو پہنچ جائے کہ اس میں معجزانہ رنگ پیدا ہو جائے ۔ تو اسے خدا تعالی کی طرف سے شرح صدر کہتے ہیں ۔ اور جب ایسے امور کے متعلق یقین ہو جو غیبی ہوں اور جن پر یقین پیدا ہونا الٰہی تصرف کے نتیجہ میں ہو سکتا ہو تو اسے بھی خدا تعالی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور انکار ابطالی کا استعمال جو درحقیقت اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بتاتاہے کہ وہ امر پوشیدہ نہیں بلکہ اس کی حقیقت ظاہر و باہر ہو چکی ہے۔ ان معنوں کی رو سے اس آیت کہ یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالی نے محمدرسول اللہﷺ کو صداقتوں اور نیکیوں کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کے لئے بہت بشاشت قلب عطا فرمائی تھی ۔ اور وہ امور سماویہ جو امور غیبیہ پر مشتمل تھے ان پر بڑا زبردست یقیں بخشا تھا ۔ اور یہ دونوں امر بار بار اس طرح ظاہر ہو چکے تھے کہ اپ کے مخالفوں کو بھی ان کے انکار کی جرئات نہیں ہو سکتی تھی ۔ اور اگر یہ تینوں باتیں کسی شخص میں پائی جائیں تو اوّل تو یہ اس کی سچائی کا ثبوت ہوتی ہیں ۔ دوسرے یہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہیں کہ وہ شخص ضرور کوئی نیک تغیر دنیا میں پیدا کر کے چھوڑے گا۔
    نیک کاموں کی تعریف تو اکثر لوگ کرتے ہیںلیکن کتنے لوگ ہیں جو ہر عسر اوریسر کی حالت میں نیکی پر قائم رہتے ہیں؟ ایسے لوگ تو کم ملتے ہیں جو یہ کہیں کہ سچ بولنا ضروری نہیں۔ لیکن ایسے لوگ بھی بہت کم ہیں جو سو فیصد سچ بولیں۔ دنیا کے اکثر لوگ امانت کی تعریف کرتے ہیں لیکن کتنے لوگ ہیں جن کو ان کی ساری قوم بلا شک و شبہ امین قرار دیتی ہو؟ آخر ایک امر کو اچھا سمجھ کر اور اچھا قرار دے کر کیوں عمل کے وقت کمزوری دکھائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے کہ اس صداقت پر اس شخص کو پورا یقین نہیں ہوتا۔ محمد رسول اللہ ﷺ اپنے زمانہ میں پہلے شخص تھے جنہوں نے جن صداقتوں کو مانا ان پر عمل کیا۔ آپ نے صرف کہا ہی نہیں کہ سچ اچھا ہے بلکہ آپ نے سچ بولا بھی۔ اور آپ نے صرف کہا ہی نہیں کہ امانت اچھی بات ہے بلکہ آپ نے امین بن کر دکھایا بھی۔ حتیٰ کہ مکہ کے لوگ جو خالص مادی دماغ رکھتے تھے اور اخلاق کی قدر بہت کم جانتے تھے پکار اٹھے کہ یہ امین و صدوق شخص ہے۔ یہ گواہی معمولی گواہی نہیں سچ بولنا الگ امر ہے اور اری قوم سے راستباز کا خطاب لے لینا اور امر ہے۔ امانت پر ثابت قدم رہنا اور ہے اور امین کا خطاب ساریق قوم سے لے لینا اور بات ہے۔ ہر شخص کے قوم میں دشمن بھی ہوتے ہیں اور دوست بھی۔ نام ایک شخص اسی وقت پیدا کرتا ہے جب اس کاکمال اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ دشمن بھی اس کے انکار کی جرأت نہیں پاتا۔ رسول کریم ﷺ کا یہ مرتبہ پانا اس امر کا شاہد تھا کہ آپ کا سینہ نیکیوں کیلئے کھل گیا تھا اور جس کا سینہ نیکیوں کیلئے کھل گیا ہو اسے جھوٹ یا فریب کا الزام لگانا کتنا ظلم ہے اور ایسے آدمی سے اس کے دشمن ملک والوں کو کب تک دور رکھ سکتے ہیں۔
    دوسرے معنے سینہ کھلنے کے یقین کامل کے کئے گئے ہیں۔ رسول کریم ﷺ کو اپنی صداقت پر جو یقین تھا وہ مخفی امر نہیں۔ جب مکہ کے لوگوں نے حضرت ابوطالب آپ کے چچا کو ڈرایا کہ اگر محمد (رسول اللہ ﷺ)بتوں کے خلاف کہنے سے باز نہ آئیں گے تو وہ ان کے اور ان کے حامیوں کو مٹادینے کا فیصلہ کرلیں گے اور اگر وہ صرف بتوں کو برا کہنے سے باز آجائیں تو وہ اپنی قوم کی لیڈری، بادشاہت، اس کا مال، اس کی خوبصورت لڑکیاں جو کچھ بھی مانگیں قوم اسے حاضر کرنے کیلئے تیار ہوگی۔ تو رسول کریم ﷺ نے کس شان سے جواب دیا کہ اے میرے چچا! آپ مجھے چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ بیشک مل جائیں میں تو اس صداقت کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔ اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چند کو میرے بائیں لاکھڑا کردیں تب بھی خدائے واحد کی توحید کے اقرار سے نہیں رکوں گا۔ اور اس سچ کے اظہار سے باز نہیںآئوں گا۔ یہ اعلان کیا بغیر ایک ایسے یقین کے ہوسکتا ہے جو پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ہو۔ اسی طرح جب غار ثور میں گھر گئے ، کفار نے آپ کا محاصرہ کریا اور بعض نے اندر گھس کر آپ کا پتہ لینا چاہا اور حضرت ابوبکرؓ کو اس بات کی فکر ہوئی کہ کہیں دشمن آپ کو پکڑ نہ لے تو آپ نے فرمایا لاتحزن ان اللہ معنا غم مت کر یہ لوگ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ جس وقت صرف دو غیر مسلح آدمی مسلح قوم کے نرغہ میں گھرے ہوئے ہوں اس وقت اپنے صاف بچ کر نکل جانے اور کامیاب ہونے کا اعلان اس شخص کے سوا جو خداتعالیٰ کی تائیدات کا عینی مشاہدہ کرچکا ہو کون کرسکتا ہے اور یہ وہ امور ہیں جو صرف مسلمان ہی نہیں بیان کرتے تھے بلکہ کفار مکہ بھی ان امور کی تصدیق کرتے تھے۔ امین و صدوق کا خطاب انہوں نے خود آپ کو دیا تھا۔ غار ثور کا واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا، ابوطالب کے ساتھ آپ کی گفتگو ان کے اپنے آدمیوں کے سامنے ہوئی تھی اور ایسے ہی اور واقعات جن سے رسول کریم ﷺ کی نیکی اور آپ کے یقین اور آپ کے ایمان کا ثبوت ملتا تھا۔ روز اول سے ان لوگوں کے مشاہدہ میں آتے رہے تھے اور وہ ان کا مشاہدہ کرتے رہے تھے۔ پس الم نشرح لک صدرک کہہ کر قرآن کریم کا مکہ والوں پر حجت کرنا بالکل درست اور مطابق حقیقت تھا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو نیکی میںجو مقام حاصل تھا۔ خداتعالیٰ پر جو یقین تھا۔ خداتعالیٰ کے نشانات پر جو ایمان تھا وہ اس بات کایقینا ضامن تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ پاگل نہ تھے۔ آپ غیر ذمہ دار شخص نہ تھے۔ آپ ارادہ کرکے اس سے ہٹنے والے نہ تھے۔ آپ کسی وقتی خیال کے مطابق کام نہیں کررہے تھے بلکہ کوئی زبردست نشان آپ نے دیکھا تھا جس نے آپ کے ایمان کو پہاڑوں سے زیادہ مضبوط کردیا تھا۔ ایسے شخص کے جتنے میں کسی کو کیا شبہ ہوسکتا تھا؟ یہ سوال تھا جس کا جواب آپ کے مخالفوں کے ذمہ تھا اور یقینا اس سوال کا جواب دینے سے وہ گھبراتے بھی تھے اور کتراتے بھی تھے۔
    یاد رکھنا چاہئے کہ انسانی کامیابی کا پہلا مدار خود اس کے یقین پر ہوتا ہے۔ کوئی انسان دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اسے اپنے دعویٰ پر یقین نہ ہو۔ بلکہ اگر روحانیت کو جانے دیں اور مادیات کو لے لیں تب بھی کوئی انسان کسی کام کیلئے سنجیدگی سے کوشش نہیں کرسکتا جب تک اسے اپنے نفس پر یقین نہ ہو۔ جب کسی کو یقین حاصل ہوجائے تو چاہے وہ جھوٹا ہی کیوں نہ ہو وہ اسکے پورا کرنے کیلئے سرتوڑ کوشش کرتا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ جب کسی امر کے متعلق عارضی یقین انسان کے دل میں پیدا ہوجائے تو وہ کوشش شروع کردیتا ہے اور بعض دفعہ تو عارضی یقین ہی نہیں عارضی شک بھی اگر انسان کے دل میں پیدا ہوجائے تو وہ کوشش شروع کردیتا ہے۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ عرب میں ایک نیم پاگل لڑکا تھا۔ لڑکے اسے چھیڑتے اور تنگ کرتے رہتے ۔ جب وہ بہت ہی اکتاجاتا اور دیکھا کہ یہ تو میرا پیچھا نہیں چھوڑتے تو چونکہ وہ اپنے ہم عمروں کی فطرت کو خوب سمجھتا تھا جھوٹے طور پر کہہ دیتا کہ فلاں شخص کے ہاں آج دعوت ہے تم مجھے بے شک چھیڑتے رہو۔ کھانا تو تمہارا ہی خراب ہوگا۔ اہل عرب میں مہمان نوازی کا مادہ بہت زیادہ پایا جاتا تھا اور ان میں دستور تھا کہ عام طور پر بڑے بڑے رئوسا اونٹوں کو ذبح کرکے عام لوگوں کودعوت دے دیتے کہ آئو اور کھانا کھائو۔ ان دعوتو کا وہ طریق نہ تھا جو ہمارے ہاں ہے کہ مخصوص لوگوں کو دعوت کے لئے نامزد کیا جاتا ہے بلکہ ان کی دعوتوں میں شمولیت کے متعلق کسی قسم کی شرط نہیں ہوتی تھی جو شخص بھی چاہتا شریک ہوجاتا۔ جب کسی ایسی دعوت کی وہ ان لڑکوں کو خبر دے دیتا تو یہ سنتے ہی لڑکے اسے چھوڑ کر اس رئیس کے مکان کی طرف دوڑ پڑتے ۔ جب وہ اکیلا رہ جاتا تو اس کے دل میں شبہ پیدا ہوتا کہ شاید واقعہ میں اس کے ہاں دعوت ہو اگر ایسا ہی ہوا تو یہ بڑی بری بات ہوگی کہ میں نے لڑکوں سے مار بھی کھائی اور دعوت سے بھی محروم رہا۔ چنانچہ اس خیال کے آنے پر دس پندرہ منٹ کے بعد وہ خود بھی اس مکان کی طرف دوڑپڑتا۔ راستہ میں لڑکے مایوس ہوکر واپس آرہے ہوتے تھے۔ وہ اسے پکڑ لیتے اور خوب پیٹتے کہ تو نے ہمیں بڑا دھوکا دیا ہے۔ یونہی جھوٹ موٹ کہہ دی اکہ فلاں رئیس کے ہاں دعوت ہے حالانکہ وہاں کوئی دعوت نہ تھی۔ اس پر پھر اسے شرارت سوجھتی اور کہتا کہ اس کا نام تومیں نے یونہی لے دیا تھا اصل بات یہ ہے کہ فلاںرئیس کے ہاں دعوت ہے۔ اس دفعہ لڑکوں کو پھر یقین آجاتا اور وہ دوسرے رئیس کے مکان کی طرف دوڑ پڑتے۔ جب لڑکے چلے جاتے تو بعد میں پھر اس کے دل میں خیال آتا کہ اگر اس کے ہاں واقعہ میں دعوت ہوئی تو میرے ساتھی تو دعوت کھاجائیں گے اور میں محروم رہ جائوں گا۔ چنانچہ اس خیال کے ماتحت وہ بھی اس رئیس کے مکان کی طرف دوڑ پڑتا۔ اتنے میں لڑکے غصہ سے بھرے ہوئے واپس آرہے ہوتے تھے وہ اسے پکڑ لیتے اور پیٹنا شروع کردیتے۔ چنانچہ اسی واقعہ کی وجہ سے عربوں میں شدت ِ حرص کو بیان کرنے کیلئے ا س لڑکے کے نام پر مثال بیان کی جانے لگی۔
    اب دیکھو وہ لڑکا جھوٹ بولتا تھا مگر جھوٹ بتا کر بھی اس کے دل میں خیال پیدا ہوجاتا تھا کہ شاید یہ بات ٹھیک ہی ہو ارو وہ خود بھی اسی طرف دوڑ پڑتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر کوشش یقین کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ آگے جیسا جیسا یقین ہو انسانی کوشش اور جدوجہد بھی مختلف رنگ اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ تھوڑا یقین ہو تو اسکے مطابق کوشش ہوگی اور زیادہ یقین ہو تو اس کے مطابق کوشش ہوگی۔
    قرآن کریم نے یقین کے مختلف مدارج بیان کئے ہیں یوں تو اس کے ہزاروں مدارج ہیں مگر موٹے موٹے تین مدرج ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں میں جو خاص اصولی مضامین ہیں ان میں سے ایک یہ بھی مضمون ہے جو مراتب یقین کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پہلے صوفیاء کی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں۔ پہلے صوفیا ء کی کتابوں میں بھی بے شک اس کا ذکر ملتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مضمون میں جو جدتیں پیداکی ہیں وہ ان لوگوں کی تشریحات میں نہیں ہیں۔ بعض لوگ اس حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اعتراض کردیا کرتے ہیں کہ یہ باتیں تو امام غزالی کی کتابوں میں بھی پائی جاتی ہیں یا فلاں فلاں مضامین انہوں نے بھی بیان کئے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر اقبال نے کہہ دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس قسم کے مضامین صوفیاء کی کتابوں سے چرائے تھے۔ حالانکہ اگر غوروفکر سے کام لیا جائے تو دونوں کے تقابل سے معلوم ہوسکتا ہے کہ انہوںنے مضمون میں وہ باریکیاں پیدا نہیں کیں جو ایک ماہر فن پیدا کیا کرتا ہے۔ اور نہ مضمون کی نوک پلک انہوں نے نکالی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جن جس مضمون کو بھی لیا ہے ایک ماہر فن کے طور پر اس کی باریکیوں اور اس کے خدوخال پر پوری تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور کوئی پہلو بھی تشنۂ تحقیق رہنے نہیں دیا اور یہی ماہر کا کام ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے نمایاں کام کرکے دکھادیتا ہے۔ مثلاً تصویر کھینچنا بظاہر ایک عام بات ہے ہر شخص تصویر کھینچ سکتاہے میں بھی اگر پنسل لے کر کوئی تصویر بنانا چاہوں تو اچھی یا بری جیسی بھی بن سکے کچھ نہ کچھ شکل بنادوں گا۔ مگر میری بنائی ہوئی تصویر اور ایک ماہر فن کی بنائی ہوئی تصویر میں کیا فرق ہوگا؟ یہی ہوگا کہ ماہر فن اس کی نوکیں پلکیں خوب درست کرے گا اور میں صرف بے ڈھنگی سی لکیریں کھینچ دینے پر اکتفا کروں گا۔ پس کسی مضمون کا خالی بیان کردینا اور بات ہوتی ہے اور اس کی نوک پلک درست کرکے اسے بیان کرنا اور بات ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے گو بعض جگہ وہی مضامین لئے ہیں جو پرانے صوفیاء بیان کرتے چلے آئے تھے مگر آپ کے بیان کردہ مضامین اور پہلے صوفیاء کے بیان کردہ مضامین میں وہی فرق ہے جو ایک اناڑی اور ایک ماہر مصور کی بنائی ہوئی تصاویر میں ہوت اہے۔ انہوں نے تصویر اس طرح کھینچی جیسے ڈرائنگ کا ایک طالب علم کھینچتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تصویر اس طرح کھینچی ہے جیسے ایک ماہر فن تصویر کھینچ کر اپنے کمالات کا دنیا کے سامنے ثبوت پیش کرتا ہے اور پھر ہر بات پر قرآن کریم سے شواہد پیش کرکے بتایا کہ اس مضمون کا بتانے والا قرآن کریم ہے۔
    علم الیقین کے بعد عین الیقین ہوتا ہے کہ انسان ایک بات خود دیکھتا ہے لیکن اسے طور پر کہ شبہ کی گنجائش نہ ہو جیسے دور سے دھواں دیکھ کر آگ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد کا درجہ حق الیقین کا ہے جیسے کوئی شخص آگ میں انگلی ڈال کر اس کے جلانے والے اثرات کو خود دیکھ لیتا ہے۔
    ان تین مدارج میں سے سب سے مکمل درجہ حق الیقین کا ہے جس کے اندر شک و شبہ کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا ارو یہی مقام رسولوں کو حاصل ہوتا ہے اور رسول کریم ﷺ کو بوجہ سید الانبیاء ہونے کے سب سے زیادہ حاصل تھا۔ اسی درجہ یقین کی وجہ سے جب بھی کوئی رسول آیا اللہ تعالیٰ نے اسے پہلے یہی کہا کہ تو خود اپنے دعوے پر ایمان لا اور پھر اسے لوگوں کے سامنے پیش کر۔ گویا الٰہی سنت جو سلسلہ انبیاء پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ پہلے خود نبی کے دل میں یقین پیدا کیا جاتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے متعلق جو قرآن کریم میں انا او ل المسلمین (الانعام:۲۰) کے الفاظ آتے ہیںان کا مفہوم بھی یہی ہے ہمارا پہلا کام تیرے دل میںیقین پیدا کرنا ہے۔ اگر تیرے دل میں دُبدہ اور شک رہے گا تو تُو اس کام کیلئے وہ کوشش نہیں کرسکے گا جس کوشش کے بغیر یہ کام اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ میں نے دیکھا ہے بعض لو غلطی سے انا اول المومنین (الاعراف: ۱۷) یا انا اول المسلمین کہنے کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور وہ اعتراض کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ اپنے دعوے پر آپ ایمان لانے کے کیا معنے ہوئے۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اس یقین کے بغیر کوئی شخص دوسروں کوشکوک و شبہات سے نجات نہیں دلاسکتا۔ وہی شخص دوسروں کے دل میں یقین پیدا کرسکتا ہے جس کے دل میں خود یقین موجود ہو اور وہی شخص دوسروں کو روحانی لحاظ سے منور کرسکتا ہے جس کے دل میں خود نورایمان موجود ہو۔ اور انشراح صدر سے مراد یہ آخری قسم کا یقین ہی ہوتا ہے جو حق الیقین کہلاتا ہے اور اسی یقین کے پیدا کرنے کیلئے انبیاء کو انا اول المومنین کہنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ درحقیقت بڑے کام بغیر اول المومنین ہونے کے ہو ہی نہیں سکتے۔ جو شخص اپنے کام کے متعلق یقین ہی نہیں رکھتا ایسا ٰیقین جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے منزدہ ہو وہ دوسروں کو کیا ہدایت دے سکتا ہے۔ پس انا اول المومنین کہنا کوئی معمولی فقرہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑی دلیل ہے جس کا انبیا ء اور خداتعالیٰ کے مقربین کی زبان سے اظہار ہوتا ہے ۔ یہی ایمان ہے جو دوسروں کے شکوک کو مٹاتا اور ان کو بھی یقین کی بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے۔
    پھر یہ بھی سوچو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو دعا کرتے ہیں کہ رب اشرح لی صدری (طہـ: ع۲) اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ خدایامجھے وہ یقین حاصل ہوجائے جس کے بعد میں یہ سمجھوں کہ اگریہ کام نہ ہوا تومیرا قصورہے لیکن اس کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے یہ چیز تجھے دے دی ہے اور نہ صرف تجھے دے دی ہے بلکہ تو بھی جانتا ہے ک ہم یہ چیز تجھے دے چکے ہیں۔ یعنی ایسے رنگ میں یہ چیز تجھے دی ہے کہ تجھ پر بھی حقیقت پوری طرح منکشف ہوچکی ہے۔ کیونکہ ان کا ابطالی اسی وقت استعمال ہوتا ہے جب مخاطب اس امر سے پوری طرح واقف ہوتا ہے۔ ورنہ بعض کمالات انسان میں موجود ہوتے ہیں مگر وہ ان سے واقف نہیں ہوتا۔ یہ صاف بات ہے کہ واراء الادراک امور یقین کامل بغیر تجلی کے نہیں ہوسکتا۔
    اگر کوئی مادی چیز ہو اور وہ کسی انسان کو مل جائے مثلاً روٹی مل جائے یا روپیہ مل جائے تو اس پر یقین لانے کیلئے کسی تجلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انسان جانتا ہے کہ فلاں چیز مجھے مل گئی ہے لیکن یہاں جس چیز کے ملنے کا ذکر کیا جارہا ہے وہ مادی نہیں بلکہ روحانی ہے اور روحانی چیز پریقین اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی متواتر تجلیات انسان کو حق الیقین کے مقام پر لاکر کھڑا نہ کردیں۔ درحقیقت یقین کے مختلف مدارج ہوتے ہیں۔ کبھی یقین کسی مادی چیز کے متعلق ہوتاہے اور کبھی روحانی چیز کے متعلق کبھی غیرمعمولی طور پرمضبو ط انسان کو حاصل ہوتا ہے اور کبھی یقین تو ہوتا ہے مگر ذرا سی بات پر انسان شکوک و شبہات میں مبتلا ہوجاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے مجھے یقین ہے مگر یہ نہیں سمجھتا کہ اس کا یقین غیر متزلزل یقین نہیں۔
    قصہ مشہور ہے کہ ایک لڑکی جس کا نام میستی تھا وہ ایک دفعہ شدید بیماری ہوئی اور اس کی بیماری روزبروز تشویشناک صورت اختیار کرتی چلی گئی۔ اس کی والدہ روزانہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتی تھی کہ الٰہی اگر ملک الموت نے روح قبض ہی کرنی ہے تو میری روح قبض کرلے میری لڑکی کو کچھ نہ کہے۔ اتفاقاً ایک رات اس کی گائے کھلی رہ گئی۔ اس نے صحن میں ادھر ادھر پھر کر برتنوں میں منہ ڈالنا شروع کردیا۔ اسی دوران میں اسے ایک گھڑا نظر آیا جس میں چھان پڑا ہوا تھا اس نے گھڑے میں منہ ڈال دیا اورجب اس نے دو چار لقمے لینے کے بعد اپنے سر کوباہر نکالنا چاہا تو وہ باہر نہ نکال سکی اس کا سر گھڑے میں پھنس کر رہ گیا۔ اس پر وہ گھبراکر صحن میں اِدھر اُدھر دوڑنے لگی۔ لڑکی کی ماں نے شور سنا تو وہ بھی جاگ اٹھی مگر سمجھ نہ سکی کہ یہ چیزکیا ہے۔ اس نے خیال کیا کہ ہو نہ ہو یہ ملک الموت ہے جو میری روح قبض کرنے کیلئے آیا ہے کیونکہ میں روزانہ یہ دعا کیا کرتی ہوں کہ یا اللہ میں مرجائوں اور میستی بچ جائے۔ جب اس خیال کے نتیجہ میں اسے اپنی موت بالکل سامنے نظر آئی تو وہ بے اختیار کہنے لگی ؎
    ملک الموت من نہ میستی ام
    گر ترا میستی اس اندر کار
    من یکے پیر زال محنتی ام
    اینک اورا ببر مرا بگذار
    ملک الموت میں میستی نہیں میں تو ایک بڑھیا مزدور عورت ہوں میستی تو وہ اندر لیٹی ہوئی ے تو نے اگر جان نکالنی ہے تو اس کی نکال لے۔
    اب دیکھو وہ اپنے دل میں روزانہ یہ سمجھتی تھی کہ میں میستی کیلئے جان دے سکتی ہوں مگر وہ یقین ا س حد تک نہیں تھا کہ موت کے سامنے آنے پر بھی قائم رہتا۔ جب اسے اپنی موت سامنے نظر آئی وہ اپنے تمام دعاوی محبت کو بھول گئی اور لڑکی کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگی کہ میستی تو وہ ہے اس کی جان نکال لے۔ تو بسااوقات انسان سمجھتا ہے کہ مجھے یقین حاصل ہے مگر دراصل سے غیرمتزلزل یقین حاصل نہیں ہوتا اور جس چیز کو وہ یقین قرار دے رہا ہوتا ہے وہ اس کے نفس کا دھوکا ہوتا ہے محمد رسول اللہ ﷺ کے بیشک یقین حاصل تھامگر آپ کو کس طرح پتہ لگ سکتا تھا کہ میرا یقین اب کسی بڑی سے بڑی مشکل کے آنے پر بھی بدل نہیں سکتا۔ اسی وقت آپ کو اس حقیقت کا علم ہوسکتا تھا۔ جب امر غیب کو امر ظاہر بنادیا جاتا اور اللہ تعالیٰ کی متواتر تجلیات آپ کو اس مقام پر کھڑا کردیتیں جس کے بعد کسی تزلزل یا کسی جنبش قدم کا امکان بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ پس چونکہ وراء الادراک امورپر یقین کامل تجلی کے بغیر نہیں ہوسکتااس لئے یہ آیت قطعی طور پر اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی متواتر تجلیات آپ پر ہوچکی تھیں اور آپ ایسے یقینی شواہد حاصل کرچکے تھے کہ جن کی بنا پر آپ سمجھتے تھے کہ جس طرح میں نے سورج کو دیکھا ہے، میں نے چاند کو دیکھا ہے، میں نے زمین اورآسمان کو دیکھا ہے اسی طرح میں نے اپنے رب کی متواتر تجلیات کو مشاہدہ کیاہے جس کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ میرے دل سے اس یقین کونکالاجاسکے۔ پس اس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس وقت تک آپ پر متواتر تجلیات ہوچکی تھیں ورنہ خداتعالیٰ یہ کس طرح کہہ سکتا تھا کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے اور اے محمد رسول اللہ ﷺ خود تو بھی جانتا ہے کہ تیرا شرح صدر ہوچکا ہے۔ پس یہ آیت صرف اس مضمون کی حامل نہیں کہ رسول کریم ﷺ کا شرح صد ر ہوا بلکہ ایک زائد بات اس میں یہ بھی پائی جاتی ہے کہ آپ پر امر نبوت تجلیات الٰہیہ کے ذریعہ اتنا واضح ہوچکا تھا کہ آپ یہ کہنے کیلئے بھی تیار تھے کہ بے شک میں مانتا ہوں کہ مشکلات آئیں گی مگر میں مٹ نہیں سکتا۔ مشکلات میرے پائے ثبات کو جنبش میں نہیں لاسکتیں۔ چنانچہ آنے والے واقعات نے اس بات کو ثابت کردیا کہ آپ میں اس قسم کا یقین تھا اور الٰہی تجلیات نے آپ کو ایسے مقام پر کھڑ اکردیا تھا کہ کوئی چیز آپ کو ہلا نہ سکی۔ چنانچہ میں اس ثبوت میں سات مثالیں پیش کرتا ہوں۔
    (۱) پہلی مثال ابوطالب کا واقعہ ہے۔ مکہ کے بڑے بڑے رئوسا ان کے پاس آئے اور انہوں نے کہا ہم اس غرض کیلئے آئے ہیں کہ آپ اپنے بھتیجے کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچادیں کہ اگر وہ دولت کا خواہش مند ہے تو ہم اس کو اتنی دولت دینے کیلئے تیار ہیں کہ وہ ہم سب میں سے زیادہ امیر ہوجائے۔ اگر وہ حسین بیوی کا شائق ہے تو ہم عرب کی سب سے زیادہ حسین لڑکی کے ساتھ اس کی شادی کرنے کیلئے تیار ہیں اور اگر وہ حکومت اور ریاست کا شوق رکھتا ہے تو ہم اسے اپنابادشاہ ماننے کیلئے تیار ہیں۔ غرض اس کی ہر خواہش اورمطالبہ ماننے کیلئے ہم تیار ہیں۔ وہ صرف اتنی بات مان لے کہ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دے۔ اب اگرمحمد رسول اللہ ﷺ کے یقین میں ذرا بھی تذبذب ہوتا یا لالچ کا کوئی ایک محرک بھی آپ کے قلب میں پایا جاتا تو آپ اس پیغام پر خوش ہوتے اورکہتے چلو اچھا ہوا مقصد حاصل ہوگیا۔ مجھ دولت چاہئے تھے سو اس ذریعہ سے دولت آرہی ہے۔ مجھے بیوی چاہئے تھے سو اس ذریعہ سے حسین ترین لڑکی مل رہی ہے۔ مجھ قوم کی سرداری چاہئے تھے سو وہ بھی حاصل ہورہ ہے۔ اگر میں بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دو تو اس میں میرا کیا حرج ہے۔ مگر آپ یہ جواب نہیں دیتے کہ بہت اچھا میں تمہارے مطالبہ کومان لیتا ہوں تم مجھے دولت دے دو۔ مجھے ریاست دے دو۔ مجھے حسین ترین لڑکی دے دو میں بتوں کو برا بھلا کہنا ترک کردیتاہوں۔ بلکہ آپ اپنے چچا کو یہ جواب دیتے ہیں کہ اے میرے چچا! اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر کھڑا کردے تب بھی میں اپنے عقائد پر قائم رہوں گا اور ایک شوشہ بھر بھی ادھر ادھر نہیں ہوں گا۔ دیکھو یہ الم نشرح لک صدرک کی صداقت کاکتنا بڑا ثبوت ہے کہ آپ کو بڑے سے بڑا لالچ دیا گیا مگر آپ نے پرِپشہ کے برابر بھی ان چیزوں کو کوئی وقعت نہ دی اور فرمایا کہ مجھے جس کام کیلئے خدانے کھڑا کیا ہے وہ میں مرتے دم تک کرتا چلا جائوں گا اور میں اس سے نہیں ہوں گا خواہ مکہ والے سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر کھڑا کردیں۔
    (۲) ہجرت کے وقت گھر سے نکلنے کا واقعہ بھی الم نشرح لک صدرک کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ رسول کریم ﷺ کو یہ علم ہوچکا تھا کہ باہر کفار کھڑے ہیں۔ آپ کو یہ علم ہوچکا تھا کہ وہ قتل کے ارادہ سے آئے ہیں مگر چونکہ خداتعالیٰ نے کہا تھا کہ یہ کفار خواہ تیر ی ہلاکت کے کتنے بڑے منصوبے کریں وہ تجھے قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ اس لئے رسول کریم ﷺ کے دل میں ذرا بھی گھبراہٹ پیدا نہ ہوئی۔ آپ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور بڑی دلیری سے کفار کے گھیرے میں سے نکل گئے ۔ اگر کوئی شخص ہوتا تو اس کے اوسان خطا ہوجاتے، اس کے قدم لڑکھڑا جاتے اور وہ سخت پریشان ہوتا کہ اب میں کیا کروں۔ مگر رسول کریم ﷺ نہایت جرأت کے ساتھ دشمن کی قطار کے سامنے سے گزر گئے۔ میں نے حضرت خلیفہ اوّلؓ سے سناہے کہ آپ فرماتے تھے ایک روایت میں ہے کہ ان میں سے ایک شخص نے بعد میں بتایا کہ میں نے رات کو آپ کے مکان میں سے ایک شخص کو نکلتے تو دیکھا تھامگر میں نے خیال کیاکہ یہ کوئی اور شخص ہوگا ۔ چنانچہ میں نے اسے دیکھ کر اپنامنہ پرے کرلیاتا ایسانہ ہو کہ محمد (ﷺ) کو جاکر یہ بتادے کہ باہر قتل کے ارادہ سے کئی لوگ کھڑے ہیں (مجھے خود اب تک کسی کتاب میں یہ حوالہ نہیں ملا)۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ آپ بغیر کسی گھبراہٹ کے نہایت جرأت کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے تھے۔ آپ کے قدم نہایت مضبوطی سے پڑ رہے تھے۔ آپ کے چہرہ پر بشاشت اور اطمینان کے آثار تھے اوردشمن یہ خیال بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اتنی جرأت کے ساتھ گھر سے نکلنے والا وجود محمد رسول اللہ ﷺکا ہوسکتا ہے۔ کوئی اور ہوتا تو دشمن کو دیکھتے ہی چکرا کر گر پڑتا مگر محمد رسول اللہ ﷺ نے ان کی ذرا بھی پروا نہ کی کیونکہ آپ کے دل میں یہ یقین کامل تھا کہ کفار مجھے ہلاک نہیں کرسکتے۔ خداتعالیٰ کی حفاظت میرے ساتھ ہے اور وہ اپنے وعدہ کو بہرحال پورا کرے گا۔ پس ہجرت عن الدار کا واقعہ الم نشرح لک صدرک کی صداقت کا ایک اہم ثبوت ہے۔
    (۳) تیسرا واقعہ غار ثور کا ہے۔ دشمن سر پر آ پہنچا ہے ۔ ابوبکرؓ گھبرارہے ہیں مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں لاتحزن ان اللہ معنا گھبرانے کی کونسی بات ہے اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کی معیت کے ہوتے ہوئے یہ لوگ کیا کرسکتے ہیں۔ چنانچہ وہ آتے ہیں اور خائب و خاسر چلے جاتے ہیں یہ کمال یقین ہی تھا کہ دشمن سر پر کھڑا ہے اس کی آوازیں کانوں میں پہنچ رہی ہیں مگر آپ فرمارہے ہیں لاتحزن ان اللہ معنا۔
    (۴) چوتھا واقعہ احد کا ہے۔ اس جنگ میں ایک غلطی کی وجہ سے اکثر صحابہؓ میدانِ جنگ سے بھاگ گئے تھے۔ دشمن تین ہزار کی تعداد میںتھا وہ حملہ کرتے ہوئے آگے بڑھا مگر باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ کے ارد گرد بہت کم صحابہ تھے آپ دشمن کے ریلے کے باوجود اپنی جگہ سے نہیں ہلے اور ایک تو ایسا آیا کہ آپ بالکل اکیلے رہ گئے اور یہی وہ وقت تھا جب آپ کے دندانِ مبارک شہید ہوئے اور خود بھی زخمی ہوکر ایک گڑھے میں جاگرے۔ ایسے موقع پر طبعی طور پر انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ میں کسی پتھر کے پیچھے چھپ جائوںتاکہ دشمن کے حملہ سے محفوظ رہوں۔ مگر آپ کھڑے رہے اور کھڑے رہے اور کھڑے رہے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ میں نے لوگوں کے ہاتھ سے مرنا تو ہے ہی نہیں ۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ مجھے ہلاک کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ خداتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ واللہ یعصمک من الناس (مائدہ: ۱۰ع۱۴) خداتعالیٰ میری حفاظت کرے گا اور وہ مجھے قتل سے محفوظ رکھے گا۔ یہ وعدہ بہرحال پور ا ہوگا اور دشمن اپنے ارادوں میں ناکامی کا منہ دیکھے گا۔ پس احد کا واقعہ بھی الم نشرح لک صدرک کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔
    (۵) پانچواں واقعہ غزئہ غطفان کا ہے۔ ایک شخص نے ارادہ کیا کہ وہ آپ کو قتل کئے بغیر گھر واپس نہ جائے گا۔ وہ چھپتا چھپتا اسلامی لشکر کے پیچھے چلا آیا تا کہ موقع ملنے پر آپ پر حملہ کرے مگر اسے کوئی موقعہ نہ ملا۔ یہاں تک کہ صحابہؓ مدینہ کے قریب جاپہنچے۔ وہ چونکہ مسلمانوں کا اپنا علاقہ تھا صحابہؓ نے احتیاط کا پہلو پوری طرح ملحوظ نہ رکھا۔ ایک دن دوپہر کے وقت صحابہ دور دور پھیل گئے اور مختلف درختوں کے نیچے چادریں تان کر سوگئے۔ اس نے یہ موقع غنیمت سمجھا آگے بڑھا اور جس درخت کے نیچے رسول کریم ﷺسورہے تھے وہاں پہنچ کر اس نے درخت سے رسول کریم ﷺ کی تلوار اتار لی اورپھر رسول کریم ﷺ کو جگا کر کہا بتائو اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچاسکتا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے بغیر کسی تذبذب کے لیٹے لیٹے نہایت اطمینان او ریقین کے ساتھ فرمایا اللہ۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات ہے تم خود کسی دشمن کے سامنے اللہ کہہ کر دیکھو اس پر کوئی بھی اثر نہیں ہوگا۔ مگر رسول کریم ﷺ نے جس وثوق اور ایمان اور یقین کے ساتھاللہ کہا وہ ایسا زبردست تھا کہ دشمن نے صرف آپ کی زبان سے اللہ کا لفظ نہیں سنا بلکہ اس نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کا ہاتھ کانپ گیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔ رسول کریم ﷺ نے فوراً تلوار کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فرمایا اب بتائو تم کو کون میرے ہاتھ سے بچاسکتا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ ہی رحم کریں تو کریں۔ رسولکریم ﷺ نے فرمایا افسوس تم نے سن کر بھی سبق حاصل نہ کیا۔تم کہہ سکتے تھے کہ اللہ مجھے بچاسکتا ہے مگر تم نے میری زبان سے یہ بات سننے کے باوجود اللہ کا لفظ استعمال نہ کیا۔
    اس طرح رسول کریم ﷺ نے اپنے عمل سے اس پر حجت تمام کردی اور بتادیا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ میں نے بناوٹ کے ساتھ اللہ کہا تھا۔ اگر میں بناوٹ کے ساتھ کہتا تو تم بھی ایسا کہہ سکتے تھے بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ قریب ترین عرصہ میں تمہارے سامنے میں نے اللہ تعالیٰ پر اپنے اعتمادکا اظہارکیا تھا اور تم نے دیکھ لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت فرمائی اور تمہارے حملہ سے اس نے مجھے محفوظ رکھا۔ مگر تم پھر بھی اللہ کا لفظ اپنی زبان پر نہ لاسکے۔ جو ثبو ت ہے اس بات کا کہ گھبراہٹ کے موقع پر تصنع اوربناوٹ سے اللہ کا لفظ زبان پر نہیں آسکتا۔ یہ آتا ہے تو اسی حالت میں جب انسان کے رگ و ریشہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت جاگزیں ہوچکی ہو اور وہ سورج سے بھی زیادہ یقینی دلائل سے اس یقین پر قائم ہوچکا ہو کہ میرا رب مجھے نہیں چھوڑ سکتا۔پس یہ واقعہ بھی اس شرح صدر کا ایک بین ثبوت ہے جو رسول کریم ﷺ کو حاصل تھا۔
    (۶) چھٹا واقعہ غزوئہ خندق کا کہے۔ دشمن آیا اور اس مدینہ کا چاروں طرف سے احاطہ کرلیا۔ قرآن کریم نے اس محاصرہ کا سورئہ احزاب میں نہایت ہی اعلیٰ نقشہ کھینچا ہے۔ جب دشمن سمجھتا تھا کہ میں نے مسلمانوں کو مارلیا۔ اس وقت مومن بندے کہہ رہے تھے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوگئیں۔ ھذا ماوعدنا اللہ و رسولہ و صدق اللہ و رسولہ ومازادھم الا ایمانا و تسلیما (احزاب ۳ع) بجائے گھبرانے کے وہ خوش خوش پھرتے تھے کہ خدا نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوگیا۔ یہ بھی ثبوت ہے اس شرح صدر کا جو رسول کریم ﷺ کو حاصل تھا۔ کیونکہ اگر آپ کو شرح صدر نہ ہوتا تو آپ کے ماننے والوں کے دلوں میں یہ غیر معمولی یقین خدائی دعووں پر کس طرح پید اہوجاتا کہ دشمن چاروں طرف سے محاصرہ کئے ہوئے ہے اور وہ خوش ہورہے ہیں کہ خداتعالیٰ کی باتیں پوری ہوگئیں۔
    (۷) ساتواں واقعہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے قریب مسیلمہ کذاب اپنے قبیلہ کے سرکردہ لوگوں کو لے کر آپ کے پاس آیا۔ اس کی پشت پر اس کی قوم کا ایک لاکھ سپاہی تھا۔ سرداران قوم نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ کو مان چکے ہین اور آپ کی بیعت بھی کرچکے ہیں مگر اب ہماری قوم کا ایک فرد کہتا ہے تم مجھے مانو۔ ہم اسے آپ کے پاس لے آئے ہیں تاکہ آپس میں کوئی سمجھوتہ ہوجائے اور یہ فتنہ بڑھنے نہ پائے۔ رسول کریم ﷺ کو خبر مل چکی تھی کہ آپ کی وفات قریب ہے۔ ادھر عرب میںسے سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ تعدادرکھنے والا قبیلہ آپ کے پاس وفد لایااو رکہا کہ مسیلمہ کو بھی الہام ہوتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ مجھے مان لو۔ ہم اسے آپ کے پاس اس لئے لائے ہیں تاکہ آپ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ہوجائے۔ رسول کریم ﷺ نے مسیلمہ سے فرمایا کہ بتائو تم کیاچاہتے ہو؟ اس نے کہا پہلے آپ بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں یہی چاہتاہوں کہ مجھے رسول ماناجائے اور میری اطاعت اختیار کی جائے۔ مسیلمہ نے کہا ہم آپ کو بے شک رسول مانتے ہیں مگر ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ آپ اپنی وفات کے بعد جب کہ آپ کو اس معاملہ سے کوئی دلچسپی نہیں رہے گی (کیونکہ آپ کی نرینہ اولاد نہ تھی) مجھے اپنا خلیفہ مقرر کردیں۔ اس نے اپنی طرف سے سمجھوتہ کیلئے نہایت ہی نرم شرط آپ کے سامنے پیش کی۔ ایک لاکھ سپاہی اس کی پشت پر تھا اور اس نے صرف یہ مطالبہ کیا کہ مجھے وفات کے بعد خلیفہ بنادیا جائے۔ مگر رسول کریم ﷺ نے اس کا جواب یوں دیا کہ ایک تنکا اٹھایا اور فرمایاکہ خلاف تو الگ رہی یہ تنکا بھی تمہیں نہ دیاجائے گا۔ اورمیرے معاملہ میں وہی ہوگا جو خداتعالیٰ چاہے گا یعنی وہی شخص خلافت کے مقام پر کھڑ اہوگا جس کو خداتعالیٰ خود کھڑا کرنا چاہے گا۔ تم ان معاملات میںدخل دینے والے کون ہو۔ مسیلمہ غصے اور ناراضگی کی حالت میں واپس چلا گیا اور اپنی قوم سمیت اسلام سے مرتد ہوگیا۔ جب رسول کریم ﷺ وفات پاگئے تو وہ ایک لاکھ سپاہی اپنے ساتھ لے کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا اور اس نے ایسا شدید حملہ کیا جس کی پہلے کسی حملہ میں مثال نہیں ملتی۔ صحابہؓ اس جنگ میں اس طرح مارے گئے جس طرح چنے بھونے جاتے ہیں اور وہ شکست کھاکر واپس لوٹ گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس شکست کا اتنا صدمہ ہوا کہ آپ نے سرداران لشکر کو حکم دے دیا کہ ان میں سے کوئی شخص آئندہ مدینہ میں میرے سامنے نہ آئے۔ یہ سزا جو ان سرداران لشکر کو دی گئی بتاتی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس شکست کا کیسا صدمہ ہوا تھا۔ مگر باوجود اس کے خطرہ حقیقی تھا اور مسیلمہ اور اس کی قوم کا ارتداد بہت سی مشکلات کا موجب بن سکتا تھا رسول کریم ﷺ نے اس کی ذرا بھی پروا نہ کی۔ ایک تنکا اٹھا کر کہا کہ تم خلافت مانگتے ہو تمہیں تو یہ تنکا بھی نہیں دیا جاسکتا۔ یہ خداتعالی کی امانت ہے اور اسی شخص کے پاس جائے گی جو اس امانت کا بہترین اہل ہو۔ غرض رسول کریم ﷺ کی زندگی شروع سے لے کر آخر تک الم نشرح لک صدرک کی صداقت کا ایک بین اور واضح ثبوت ہے۔ ہر مقام پر آپ نے اس غیر متزلزل یقین کا ثبوت دیا جو آپ کو خداتعالیٰ کی ذات پر تھا اور یہی یقین تھا جو مسیلمہ کذاب والے واقعہ میں کام کررہا تھا۔ آپ نے سمجھا جب خداتعالیٰ کہہ رہا ہے کہ ابوبکر خلیفہ بنے گا تو مسیلمہ اس کے مقابلے میں کیا حقیقت رکھتا ہے۔ آپ نے اس مطالبہ کو ردّ کردیا اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کی کہ اس کے نتیجہ میں کیا کیا مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ میںنے جو مثالیں دی ہیں ان میں سے بعض اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کی ہیں۔ لیکن میرا منشاء اس جگہ یہ بتانا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی ساری زندگی اس آیت کی صداقت کا ثبوت بہم پہنچاتی ہے۔ شروع سے لے کر آخر تک آپ کی زندگی سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ اسلام اور اس کی تعلیم کیلئے کھول دیا تھا اوروہ آخر تک کھلا رہا۔
    دوسرے معنے شرح کے محفوظ رکھنے کے ہوتے ہیں۔ ان معنوں کی رو سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ کیا ہم نے تیرے سینہ کو تیرے لئے محفوظ نہیں کردیا۔ سینہ یا دماغ جو چاہو کہہ لو (اس کے متعلق بحث اوپر گزرچکی ہے) انسانی تجارب کا ایک ذخیرہ ہوتا ہے۔ ہر کام جو انسان کرتا ہے وہ اس کے دماغ میں محفوظ ہوجاتا ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ان المومن اذا اذنب ذنبا کان نکتۃ سودا فی قلبہ فان تاب و نزع واستغفر صقل قلبہ فان زاد زادت حتی یخلف قلبہ۔ یعنی جب انسان کوئی کام کرتا ہے اگر نیک کام ہو تو اس پر ایک نکتہ لگ جاتا ہے یعنی علاوہ اس نیک کام کا شرعی نتیجہ نکلنے کے اس کا ایک طبعی نتیجہ بھی نکلتا ہے اور وہ اس طرح کہ اس شخص کے دل پر ایک نورانی نشان ڈال دیاجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ نیکیوں پر آئندہ زیادہ قادر ہوجاتا ہے اور جو کوئی بدی کرتا ہے اسے علاوہ شرعی سزاملنے کے ایک طبعی نتیجہ اس شکل میں ملتا ہے کہ اس کے دل پر ایک سیاہ داغ ڈال دیا جاتا ہے اور آئندہ اس کیلئے بدی کا ارتکاب آسان ہوجاتا ہے۔ اسی طرح یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر میں یا دل سارا سفید ہوجاتا ہے یا سارا سیاہ۔ اس نکتہ کی طرف بھی اس آیت میں اشارہ کیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تیرے فائدہ کیلئے (لک کا لام فائدہ کے معنے دیتا ہے) تیرا سینہ کھول دیا ہے یعنی روحانی امور جو تیرے لئے نفع بخش ہوتے ہیں ان کے قبول کرنے کیلئے ہم نے تیرا سینہ محفوظ کردیا ہے یعنی اس کے خلاف بدی کی کوئی تحریک تیرے سینہ میں داخل نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ تیرا سینہ نیکی کیلئے محفوظ رہنا چاہئے۔ اس آیت کی تشریح خود رسول کریم ﷺ نے اس طرح فرمائی ہے ان اللہ اعانی علیہ فاسلم فلا یامر فی الا بخیر (مسلم جلد ثانی کتاب صفۃ المنافقین باب تحریش الشیطان و بعثہ سوایاہ) کہ میرا شیطان مسلمان ہوگیا ہے اور میرے دل میں صرف نیک تحریکات ہی ڈالتا ہے۔ اس حدیث کے یہی معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے سینہ کو آپ کے فائدہ والی چیز کیلئے محفوظ کردیا تھا۔ ہر وہ چیز جو آپ کیلئے مضر ہواس میں داخل نہیں ہوسکتی تھی اور اگر کوئی بری بات آپ کے کان میں پڑے تو وہ نیک پہلو اختیار کرلیتی تھی۔ جس طرح کہتے ہیں کہ ہر کہ درکانِ نمک رفت نمک شد۔ یہ کتنا بڑا مقام ہے جو رسول کریم ﷺ کو حاصل تھا۔ آپ کے دل میں جو خیال آتا نیک ہی آتا۔ اگر بدی آپ کے سامنے آتی تو وہ بھی نیک شکل اختیار کرلیتی۔ طائف کے لوگوں نے جب آپ پر پتھر مارے ۔ کتے آپ کے پیچھے ڈال دئے تو اس شرارت نے غم وغصہ آپ کے دل میں پیدا نہیں کیا بلکہ آپ نے خداتعالیٰ سے یہ دعا کرنی شروع کردی کہ رب ان قومی لا یعلمون میرے اللہ ان پر اس بیہودگی پر ناراض نہ ہونا ان کو معلوم نہیں کہ میں آپ کی طرف سے پیغامبر ہوں۔ کیا ہی نیکی کا یہ نمونہ ہے جو آپ نے دکھایا۔کیا ایسے موقعہ پر کوئی بھی اپنے جذبا ت کو دباکر رکھ سکتا ہے؟ منہ سے عفو کہنا الگ امر ہے مگر پتھرائو ہورہاہے، کتے پیچھے ڈالے جارہے ہیں اور ساتھ کے ساتھ آپ ان لوگوں کیلئے دعا کرتے جاتے ہیں۔ یہ وہ نمونہ ہے جس کی مثال صرف خدا رسیدہ لوگوں میں ہی مل سکتی ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو یہ مقام سب سے بلند حاصل تھا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ الم نشرح لک صدرک سے اشارہ فرماتاہے اور فرماتا ہے کہ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے تیرے سینہ کو ہر شر سے محفوظ کردیا ہے۔ صرف نیکیاں ہی اس میں جاسکتی ہیں ۔ کیا یہ اس امر کا ثبوت نہیں کہ اب دنیا کی اصلاح تیرے ہی ذریعہ سے ہوگی۔ اور جس طرح شیطان کو تیرے سینہ میں دراندازی سے روکا گیا ہے اسی طرح تیرے ذریعہ سے وہ دوسروں کے سینوں میں دراندازی سے روکا جائے گا۔ یہ دلیل کس قدر شاندار ااور واضح ہے۔ بینا ہی نابینائوں کی راہنمائی کرسکتا ہے۔ ایک نابینا کس طرح راہنمائی کرسکتا ہے۔ پس کامل راہنمائی دنیا کی ایسا ہی انسان کرسکتا ہے جس کا سینہ خداتعالیٰ نے شیطان کے اثر سے محفوظ کردیا ہو اور جس کا سینہ شیطانی اثرات سے محفوظ ہو۔ اس کی بات کا انکار نیکی کامیلان رکھنے والے کیلئے مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ مقناطیس سے لوہا الگ نہیں رہ سکتا اور کندہم جنس باہم جنس پرواز۔
    تیسرے معنے شرح کے سمجھانے کے ہیں۔ ان معنوں کی رو سے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے تیرے دل میں حقائق اشیاء اتار دئے اور خود تیرا استاد بن کر تجھ کو سمجھایا۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو سمجھانے اور حقیقت بتانے والا خود خدا تعالیٰ تھا۔ اس مضمون کی حقیقت سے ظاہر ہی ہے جس کا خداتعالیٰ استاد ہو وہی روحانی دنیا میں استاد ہوسکتاہے جب رسول کریم ﷺ دنیا میں ظاہر ہوئے ہیں اس وقت لوگ حقیقت روحانیہ سے بالکل نابلد ہوچکے تھے اور دنیا محتاج تھی کہ پھر نئے سرے سے اللہ تعالیٰ کسی کا استاد بن کر اسے دنیا کیلئے استاد بنائے۔ اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے اورفرمایاگیا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تیرے دل کو خود حقائق روحانیہ سے آگاہ نہیں کیا۔ یعنی ایسا کیا ہے اور جب خداتعالیٰ نے تیرے دل پر نازل ہوکر اسے حقائق اشیاء سے آگاہ کیا ہے تو پھر تیرے سوا اور کون ہے جو گمراہوں کو ہدایت دے سکتا ہے اور تو ناکام کس طرح رہ سکتا ہے کیونکہ شاگرد کی ناکامی استاد کی ناکامی ہوتی ہے۔ تو ناکام رہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ خداتعالیٰ نے جو تجھے سکھا کر دنیا کی اصلاح کیلئے بھیجا تھا وہ ناکام رہا اور یہ ہو نہیں سکتا۔ پس تو ضرور کامیاب ہوکر رہے گا۔
    الم نشرح لک صدرک کے ایک اورمعنے بھی ہیں جو رسول کریم ﷺ کی عظمت اور آپ کی بلندیٔ درجات کا ایک کھلا ثبوت ہیں اور وہ معنے یہ ہیں کہ دنیا میں دو قسم کے علوم ہوتے ہیں۔ ایک علم خارجی اور ایک علم اندرونی ہوتا ہے۔ تکمیل علم کا انحصار انہیں دو ملکوں پر ہوتا ہے اور یہ علم النفس کا ایک بہت بڑا نکتہ ہے جس سے بہت سے لوگ ناواقف ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ علم خارجی ہی اصل علم ہے۔ حالانکہ علم خارجی بہت محدود علم ہوتا ہے اور وہ مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ علم اندرونی بھی شامل نہ ہو۔ مثلاً میں اس وقت درس دے رہا ہوں اب اگر کوئی شخص ایسا ہو جسے اللہ تعالیٰ نے ملکہ ادراک بخشا ہو اور علم قرآن کا چشمہ اس کے سینہ میں پھوڑا ہو تو وہ میرے اس درس کو سن کر نہ صرف دوسروں تک یہ تمام باتیں پہنچادے گا بلکہ وہ انہی باتوں کے کئے ایسے جدید پہلو بھی بیان کرسے گا جو قلت وقت کی وجہ سے بیان نہیں کئے جاسکتے۔ اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا شخص ایسا بھی ہوسکتا ہے جو درس کو سن کر صرف اتنی قابلیت رکھتا ہو کہ اس درس کو من و عن بیان کردے اس میں یہ قابلیت نہیں ہوگی کہ وہ جدید پہلو اپنی ذہنی قابلیت سے نکال کر بیان کرسکے۔ پھر کوئی ایسا ہوگا جو پورا درس بیان کرنے کی بھی قابلیت نہیں رکھے گا۔ وہ جو کچھ بیان کرے گا اصل درس کا ۴؍۳ حصہ ہوگا اور کوئی ایسا ہوگا جو صرف آدھی باتیں بیان کرسکے گا اور کوئی ایسا ہوگا کہ اس سے پوچھو کہ درس میں کیا بیان ہوا تھا تو کہہ دے گا قرآن کی کچھ تفسیر بیان کی گئی تھی مگر یاد نہیں رہی صرف اتنا یاد ہے کہ کہ اچھا دلچسپ تھا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ عورتوں میں کچھ مدت تک سلسلہ تقاریر جاری رکھا۔ ایک دن آپ کو خیال آیا کہ عورتوں کا امتحان لینا چاہئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ ہماری باتوں کو سمجھتی ہیں یا نہیں۔ ایک عورت جو بڑی مخلصہ تھیں اور نابھہ کی رہنے والی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان سے دریافت فرمایاکہ کیا تم ہماری تقریری سنتی رہی ہو۔ اس نے کہا جی ہاںروزانہ تقریر سنتی رہی ہوں میںیہاں آئی ہی اس غرض کیلئے ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اچھا بتائو میں کیا بیان کرتا رہا ہوں۔ اس نے جواب دیا بس اللہ اور رسول کی باتیں تھیں اور کیا تھا۔ یہ جواب جو اس عورت نے دیا اس کی وجہ یہی تھی کہ اندرونی علم اس کے اندر نہیں تھا۔ اس نے صرف خارجی علم پر انحصار رکھا اور سمجھا کہ میں بہت کچھ سمجھ رہی ہوں حالانکہ وہ کچھ بھی سمجھ نہیں رہی تھی۔ تو اندرونی علم کے بغیر کبھی کوئی شخص کسی بات کو صحیح طور پر دوسروں تک نہیں پہنچاسکتا۔ جب بھی کوئی بات بیان کی جاتی ہے ہمیشہ اس کے کچھ پہلو چھوڑنے پڑتے ہیں۔ اگر سارے پہلو بیان کئے جائیں تو چند باتوں میں ہی عمر گزر جائے اور علوم کا بہت سا حصہ نامکمل رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کبھی کسی شخص نے یہ بیان کامل نہیں کیا جو کچھ بیان کیاجاتا ہے ایک بیج کے طور پر ہوتا ہے جس سے ہر شخص اپنی اپنی استعداد اور اپنی قابلیت کے مطابق فائدہ اٹھاتا ہے۔ اسی طرح خداتعالیٰ کا کلام جب آسمان سے نازل ہوتا ہے کسی کیلئے وہ کلام اتنا ہی مفہوم رکھتا ہے جتنے اس کے الفاظ ہوتے ہیں۔ کسی کو آدھے الفاط کی حقیقت معلوم ہوتی ہے،کسی کو چوتھے حصہ کی حقیقت معلوم ہوتی ہے اور کسی شخص کیلئے وہ کلام ایسی حیثیت رکھتاہے جیسے درخت کا بیج یا گٹھلی ہوتی ہے کہ اس میں سے شاخ در شاخ علوم نکلتے چلے آتے ہیں اور نئی سے نئی باتیں اس پر منکشف ہوتی جاتی ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے تیرا سینہ وسیع نہیں کردیا۔ یعنی اس چیز کیلئے تیرا سینہ بمنزلہ زرخیز زمین ہوگیا تھا۔ قرآن تو ایک گٹھلی تھی مگر تیرے سینہ میں وہ ایک درخت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اگر سینہ بھی گٹھلی کے برابرا ہوتا تو قرآن کے صرف الفاظ ہی الفاظ تیرے پاس رہ جاتے۔ مگر چونکہ خدا نے تجھ کو ایک بہت بڑے کام کیلئے مقرر کیا تھا اور تجھے اس غرض کیلئے دنیا میں بھیجا گیا تھا کہ تو قرآن کی تفسیر کرے، اس کے احکام کی تشریح و توضیح کرے اور اسکے معارف و حقائق کو دنیا کے سامنے پیش کرے۔ اس لئے تیرے سینہ میں اس کے متعلق گنجائش ہونی چاہئے تھی تاکہ یہ علم جو ہم نے تجھے بخشا ہے روز بروز بڑھتا رہے۔ نئی نئی باتیں اس میں سے نکلتی رہیں اور نئے نئے نکات لوگوں کے سامنے آتے رہیں۔ پس فرماتا ہے الم نشرح لک صدرک اے محمد ﷺ کیا تو اس بات کا گواہ نہیں کہ ہم نے تیرے اندر یہ مادہ پیدا کیا ہے کہ جب تجھ پر ایک آیت نازل ہوتی ہے تو اس کے تمام مالہ اور ماعلیہ تیرے سامنے آجاتے ہیں جو حکم بھی نازل ہوتا ہے اس کی باریکیاں اور وسعتیں سب تیرے ذہن میں مستحضر ہوجاتی ہیں اور تو فوراً سمجھ جاتا ہے کہ کن مواقع پر یہ حکم چسپاں ہوتا ہے اور کن مواقع پر چسپاں نہیں ہوتا۔
    غرض رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے علم خارجی کے علاوہ علم اندرونی بھی بخشا تھا اور الم نشرح لک صدرک کے معنے یہی ہیں کہ کیا علاوہ قرآن شریف کے ہم نے تجھے علم اندرونی نہیں بخشا اور تیرے سینہ کو کھول نہیں دیا؟ میں بتاچکا ہوںکہ علم خارجی سب شاگردوں کو ایک قسم کا ملتا ہے مگر اندرونی علم ہرطالب علم کا الگ الگ ہوتا ہے اور اپنی الگ الگ استعدادوں کے مطابق وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسلام کی وسیع تعلیم کیلئے اس قدر وسیع سینہ کی ضرورت تھی جو ہر قسم کے علم کو سمجھ سکے، سمجھاسکے اور دنیا میں پھیلاسکے ۔ رسول کریم ﷺ کو جو علم ملا چونکہ وہ جامع و مانع تھا اس کیلئے بہرحال ایسے سینہ کی ضرورت تھی جو ہر علم کو اخذ کرلے اور اسے پھیلا کر کہیں کا کہیں لے جائے۔ ایک شخص ایسا ہوتا ہے جسے اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنے الفاظ ہوتے ہیں مگر ایک شخص ایسا ہوتا ہے جو تھوڑے سے الفاظ سے بہت بڑا علم حاصل کرلیتاہے اور بات کو پھیلا کرکہیں کا کہیں لے جاتا ہے۔ اسی کو تفقہ کہتے ہیں جو ایک نہایت قیمتی چیز ہے۔ بعض لوگ اسلامی تعلیمات پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلاں حکم تو قرآن میں نہیں ہے رسول کریم ﷺ نے کہاں سے نکال لیا۔ وہ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ رسول کریم ﷺ میں تفقہ کا مادہ تھا مگر تم میں تفقہ کا مادہ نہی۔ تمہیں وہ علوم کس طرح حاصل ہوں گے جو قرآن سے رسول کریم ﷺ کو حاصل ہوگئے۔ بے شک جہاں تک حقیقت کا سوال ہے چکڑالویوں سے بالکل متفق ہوں مگر جہاں تک تشریح کا سوال ہے میں ان کو پاگل سمجھتا ہوں۔یہ تو صحیح ہے کہ قرآن سے باہر کوئی چیز نہیں مگر یہ بکواس ہے کہ عبداللہ چکڑالوی اورمحمد رسول اللہ ﷺ دونوں ایک جیسا قرآن سمجھتے تھے۔ ہم اپنے اوپر قیاس کرکے اس بات کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہزاروں ہزار قرآنی نکات اور باریکیاں ہیں جو اور لوگوں پر نہیں کھلیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر کھول دیں۔ اگر ہم پر قرآن کریم کے ایسے ہزاروںاسرار کھل سکتے ہیں جو کروڑوں کروڑ لوگوں کی نگاہوں سے مخفی ہے تو کیا رسول کریم ﷺ پر ہم سے کروڑوں درجے زیادہ قرآن کریم کے معارف نہیں کھل سکتے تھے؟ پھر ہم یہ کیوں فرض کرلیں کہ رسول کریم ﷺ نے جو فلاں حکم دیا تھا وہ قرآن میں موجود نہیں۔ یہ آیت اس امر پر شاہد ہے کہ قرآن کریم کی گٹھلی کیلئے محمد رسول اللہ ﷺ کا سینہ بمنزلہ اعلیٰ زمین کے تھا اس میں وہ گٹھی لگ کر فوراً اپنے آپ کو پھیلانے اور بلند کرنے لگ گئی تھی اور جو چیز لوگوں کیلئے گٹھلی تھی آپ کے سینہ میں وہ ایک وسیع اور بلند درخت تھی۔ غرض رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالی نے جو دماغ عطا فرمایا تھا وہ بہرحال ہم سے اعلیٰ تھا اس لئے جس رنگ میں آپ قرآن کو سمجھ سکتے تھے اس رنگ میں دنیا کا اور کوئی شخص اس کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔ دیکھو اس مادی دنیا میں بھی بیج ہمیشہ زمین کی قابلیت کے مطابق اگتاہے ۔ کھجور ہمارے علاقہ میں نہیں ہوتی لیکن عرب میں ہوتی ہے کیونکہ کھجور کیلئے عرب کی زمین زیادہ مناسب ہے۔ اسی طرح خربوزہ ہے۔ یہ بھی ہر جگہ اچھا نہیں ہوتا بلکہ بعض جگہ اچھا ہوتا ہے اور بعض جگہ ناقص۔ پنجاب میں چمیاری کا خربوزہ بہت اعلیٰ ہوتا ہے لیکن دوسرے مقاما ت کا خربوزہ ایسا اچھا نہیںہوتا۔ جس طرح مادی پھلوں کے عمدہ یا ناقص ہونے کا دارومدار مختلف زمینوں پر ہوتا ہے اچھی زمین میں بیج ڈالاجائے تو اچھا پھل دیتا ہے اور ناقص زمین میں بیج ڈالاجائے تو ناقص پھل دیتا ہے اورپھر بعض زمینیں ایسی ہوتی ہیں جو بعض پھلوں کو اگانے کی مخصوص طور پر اپنے اندر قابلیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح قرآن کیلئے سب سے بہترین زمین جو الٰہی ہاتھوں سے تیار کی گئی وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا سینہ تھا۔ قرآن کا جو درخت وہاں پیدا ہوسکتا تھا وہ اور کہاں پیدا ہوسکتا تھا۔ اسمی کوئی شبہ نہیں کہ اور بھی بعض اچھے درخت ہوئے ہیں مگر بہرحال وہ سب کے سب رسول کریم ﷺ کے اظلال ہوں گے۔ کامل تابع ہو یا ادنیٰ سے ادنیٰ تابع، دونوں اپنی اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق قرآن کریم کا پھل دنیا کے سامنے رکھیں گے۔ کامل تابع جس پھل کو لوگوں کے سامنے رکھے گا وہ اور قسم کا ہوگا اور ادنیٰ تابع جس پھل کو لوگوں کے سامنے رکھے گا وہ اور قسم کا ہوگا۔ جیسے لنگڑے آم کی گٹھلی جہاں بھی بودو کچھ نہ کچھ اگ آئے گا مگر اس کی خوبی زمین کی قابلیت کے مطابق ہوگی۔ اعلیٰ زمین ہوگی تو اعلیٰ درجے کا لنگڑا آم ہوگا اور ادنیٰ زمین ہوگی تو ادنیٰ درجے کا لنگڑا آم ہوگا۔ بہرحال اعلیٰ درجہ کی پیداوار اعلیٰ درجہ کی زمین کی متقاضی ہوتی ہے۔ امریکن کپاس لائل پورمیں ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں نہیں ہوتی۔ ایجپشن کاٹن مصر میں بہت اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے لیکن ہندوستان میں اگر یہ کپاس بوئی جائے تو اس میں سفیدی کم آتی ہے۔ سٹیپل STAPLE بہت تھوڑا ہوتا ہے اور بونے والا کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ سفیدی کم ہو تو اعلیٰ درجے کا کپڑا تیار نہیں ہوسکتا اور اگر مضبوطی کم ہو تب بھی لوگ اس کپاس کونہیں خریدتے کیونکہ اس روئی سے تیار کردہ کپڑا بہت جلد پھٹ جاتا ہے۔ غرض مختلف قسم کی اشیاء کیلئے مختلف قسم کی زمینیں ضروری ہوتی ہیں۔ جس طرح آموں کیلئے ملیح آبادمشہور ہے اور سنگتروں کیلئے ناگپور یا جس طرح زعفران دنیا میں صرف چند محدود علاقوں میں پیدا ہوتا ہے اسی طرح اگر قرآن پیدا ہوتا ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ میں اور یہی وہ حقیقت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ الم نشرح لک صدرک۔
    شرح کے معنے پھاڑنے اور ہل چلانے کے بھی ہوتے ہیں۔ ان معنوں کے رو سے آیت کایہ مطلب ہوگا کہ اے محمد رسول اللہ ﷺ کیا ہم نے تیرے سینہ میں قرآن لگانے کیلئے ہل چلائے ہیں یا نہیں؟ جس طرح مادی اشیاء کیلئے مناسب حال زمین کو تلاش کیاجاتا ہے اسی طرح ہم اپنے قرآن کیلئے اسی زمین میں ہل چلاسکتے تھے جو قرآن کے مناسب حال ہو۔ سو ہمیں وہ مناسب حال زمین تیرا سینہ دکھائی دیا اور ہم نے اس میں ہل چلا دیا اب دنیا دیکھے گی اس میں سے کیسے شاندار پھل پیدا ہوتے ہیں۔ جب خداتعالیٰ جیسا بیج بونے والا ہو، خدا تعالی جیسا ہل چلانے والا ہو اور محمد ﷺ کے سینہ جیسی زمین ہو تو اس کھیتی کی برتری کا کون انکار کر سکتا ہے۔ الّلھم صلے علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم انک حمید مجید۔
    غرض الم نشرح لک صدرک کے ایک معنے یہ ہیں کہ قرآن کریم کے نزول کے علاوہ رسول کریمﷺ کو اللہ تعالے کی طرف سے ایسا علم لدنی بخشا گیا تھا کہ اس کے ذریعہ آپ ہر علم کو فوراََ قبول کر کے اس کی وسعتوں کے انتہاء تک پہنچ جاتے تھے اوراس سے استنباط اور تفقہ کر کے مسلمانوں کو علم دین سکھاتے۔یہ وسعت بھی عجیب قسم کی ہے جو کتاب آپ کو ملی وہ ایسی عظیم الشان ہے کہ کوئی فن اور کوئی علم نہیں جو اس میں نہ پایا جاتا ہو۔ اس میں اقتصادیات کے اصول بھی ہیں، اس میں تمدن کے اصول بھی ہیں، اس میں سیاست کے اصول بھی ہیں، اس میں علم العائلہ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، اس میں میراث کے مسائل بھی بیان کئے گئے ہیں، اس میں علم الاخلاق کی باریکیاں بھی بیان کی گئی ہیں، اس میں علم العبادات کو بھی نمایاںطور پر پیش کیا گیا ہے، اس میں علم المعاملات کو بھی پوری تفصیل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا گیا ہے۔ غرض علم کی کوئی شاخ انسانی ذہن میں ایسی نہیں آسکتی جو مذہب سے براہ راست تعلق رکھتی ہو اور اس میں تفصیلی احکامموجود نہ ہوں اورجو شاخ براہ راست تعلق نہ رکھتی ہو اس کے متعلق اجمالی علم اس کتاب میں موجود نہ ہو۔ ایسی کتاب کے متعلق رسول کریم ﷺ کے سینہ کا کھول دیا جانا خود ایک غیرمعمولی بات ہے۔ اول تو جو کتاب آپ کو ملی وہ غیر معمولی ہے اور وہ تمام علوم کی جامع ہے یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ کوئی شخص ہوشیار اور سمجھدار تھا۔ اقتصادی مسائل سے گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ اس نے علم الاقتصاد کی کوئی کتاب پڑھی اور اس کے سینہ میں اس علم کے چشمے پھوٹ پڑے۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص سیاسی معلومات کا شوق رکھتا اور بوجہ اس کے کہ سیاست سے اس کی طبعی مناسبت تھی جب اس نے کسی سیاسی کتاب کو پڑھا تو اس کے سینہ میںوسعت پید اہوگئی اور سیاست کے متعلق نئے سے نئے مضامین اس کے ذہن میں آنے شروع ہوگئے۔ یہ بھی قیاس میں آسکتا ہے کہ کوئی شخص قضاء سے دلچسپی رکھتا تھا قضائی امور اس کے سامنے پیش آگئے اور چونکہ اس کی نفسی مشابہت قضاء کے ساتھ تھی قضائی معاملات میں اس کا دماغ تیز ہوگیا اور وہ کہیں سے کہیں جاپہنچا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم سمجھ لیں کہ کوئی شخص فوجی طبیعت رکھنے والا تھا اس نے ملٹری کے قواعد و ضوابط کے متعلق کوئی کتاب پڑھی یا دشمنوں کے ساتھ تعلقات کا وسیع مطالعہ کیا تو اس کے دل میں اور بھی کئی قسم کی نئی باتیں پیدا ہوگئیں۔یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کوئی شخص علم العائلہ کا واقف تھا جب اس نے کوئی ایسی کتاب پڑھی جس میں خاندانوں کے متعلق قوانین بیان کئے گئے تھے جس میں باپ اور بیٹے ، خسر اور داماد، میاں اور بیوی، دوست اوردوست کے متعلق ہدایات دی گئی تھیں اور پھر خود بھی اس نے ان تعلقات پر غور کیا تو چونکہ اس علم سے اسے ذاتی مناسبت تھی اس کے متعلق نئے سے نئے علوم اس کے دماغ میں آنے لگ گئے۔غرض ہم یہ تمام باتیں اپنے قیاس میں لاسکتے ہیں۔ مگر یہاں دو غیر قیاسی اور بالکل غیرمعمولی باتیں بیان کی گئی ہیں۔
    اوّل رسول کریم ﷺ پر وہ کتاب نازل ہوئی جس میں ہر علم پربحث کی گئی تھی اور پھر جو بحث کی گئی وہ ایسی تھی کہ اپنی ذات میں ہر لحاظ سے کامل تھی اور اس میں کسی نئے پہلو کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ پس پہلی بات یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کو وہ کتاب ملی جو جامع ہے تمام علوم کی۔ یہ نہیں کہ وہ سیاست کے متعلق کتاب ہے یا انٹرنیشنل لاء کے متعلق کتاب ہے یا اخلاق کے متعلق کتاب ہے یا علم النفس کے متعلق کتاب ہے بلکہ ہر فن کے متعلق ہم اس میں تعلیم پاتے ہیں۔ اس میں عبادت پر بھی بحث کی گئی ہے، اس میں اقتصادیات پر بھی بحث کی گئی ہے، اس میں استاد اور شاگرد ، باپ اور بیٹا، نوکر اورمالک کے حقوق پر بھی بحثیں ہیں، اس میں حکومتوںکے تعلقات اور لڑائی اور صلح وغیرہ پر بھی بحث ہے۔ غرض ایک غیرمعمولی کتاب ہے جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی۔ مگر اس کے مقابلہ میں ایک اور ذمہ داری بھی رسول کریم ﷺ پر ڈالی گئی کہ اس غیرمعمولی کتاب کی تمام جزئیات آپ کے سینہ میں آکر درخت بن جائیں۔ گویا قرآن ایک گٹھلی تھی جس سے رسول کریم ﷺ کے سینہ میں ایک بہت بڑا درخت پیدا ہونا تھا۔ یہ اور بھی غیرمعمولی بات ہے اور یہی بات ہے جو الم نشرح لک صدرک میں بیان کی گئی ہے۔ جس چیز کیلئے آپ کا شرح صدر ہوا وہ یہاں محذوف ہے جو سوائے قرآن کے اور کچھ نہیں۔ گویا اصل آیت یوں ہے الم نشرح لک صدرک للقران۔ اے محمدرسول ا للہ ﷺ کیا ہم نے تیرا سینہ قرآن کیلئے نہیں کھول دیا؟ اگر خالی اس حد تک انسان چلتا ہے جس حد تک دلالۃ النص کے طور پر مضامین بیان کرنے پڑتے ہیں تب بھی یہ غیرمعمولی بات ہے مگر رول کریم ﷺ نہ صرف لالۃ النص کے طور پر قرآن کریم سے مختلف قسم کے علوم اخذ کرکے بیان فرماتے ہیں بلکہ اشارۃ النص میں جو مضامین بیان ہوئے ہیں ان کو بھی بیان فرماتے ہیں اور پھر ان کی ایسی ایسی باریکیاں بیان فرماتے ہیں جہاں عام انسانی عقول نہیں پہنچ سکتیں۔ یہ ایک ایسی غیرمعمولی چیز ہے جو سوائے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور اس کی خاص برکت کے انسان حاصل نہیں کرسکتا۔ ہم دیکھتے ہیں بعض لوگوں نے صرف علم قرأت پر بحث کی ہے اور وہ بڑے بڑے عالم کہلاتے ہیں۔ بعض صرف قرآن کریم کی لغت پر بحث کرتے ہیں اوروہ بڑے بڑے عالم کہلاتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جنہوں نے صرف قرآن کریم کی قضاء پر بحث کی ہے اور وہ بڑے بڑے عالم کہلائے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جنہوں نے صرف قرآن کی اقتصادیات پر بحث کی ہے اور وہ بڑے بڑے عالم کہلائے ہیں۔ مگر رسول کریم ﷺ نہ صرف یہ تمام جزئیات لیتے ہیں بلکہ ان کو پھیلاتے ہیں اور ان کی ایسی تشریحات اور تفصیلات بیان کرتے ہیں جو پہلے کسی انسان نے بیان نہیں کیں۔
    الم نشرح لک صدرک میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کی طرف حدیثوں میں اس رنگ میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا سینہ چاک کیا گیا۔ رسول کریم ﷺ کے رضاعی رشتہ داروں کی طرف سے روایت آتی ہے کہ بچپن میں جب آپ کو حلیمہ دائی پرورش کیلئے لے گئی تو ایک دن جبکہ آپ باہر کھیل رہے تھے آپ کا ایک رضاعی بھائی گھبراہٹ کی حالت میں دوڑا ہوا اپنی والدہ اور والد کے پاس آیا اور اس نے کہا الحقا اخی محمد فما تلحقانہ الا میتاقلت وما قضیتہ قال بینا نحن قیام اذااتاہ رجل فاختطفہ من وسطنا و علا بہ ذروۃ الجبل و نحن ننظر الیہ حتی شق صدرہ الی عانتہ ولا ادری ما فعل بہ (سیرۃ حلیبہ جز اول) ہمارے بھائی پر کسی نے حملہ کرکے اسے ماردیا ہے۔ حلیمہ دوڑتی ہوئی باہر گئی تو اس نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺ اٹھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ حلیمہ نے آپ سے دریافت کیا کہ بتائو کیا ہوا تھا؟ رسول کریم ﷺ نے جواب دیا کہ تین آدمی آئے تھے انہوں نے میرا سینہ چیرا اور میرے دل کو دھو کر اندر رکھ دیا اور پھر چلے گئے۔ روایتو ں میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ کے سینہ پر اس کا ایک نشان بھی تھا۔ بعض دوسری روایتوں میں جو واقعہ معراج کے ساتھ تعلق رکھتی ہیںان میں بھی ذکر آتا ہے کہ ایک فرشتہ آیا اس نے آپ کے سینہ کو چیر کر دل نکالا آلائش صاف کی اور پھر دوبارہ اسے آپ کے سینہ میں رکھ دیا (روض الانف جز اول)۔ مسلمان اس کوجسمانی معجزہ کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں جس رنگ میں مسلمان اس واقعہ کو پیش کرتے ہیں اگر وہ زیادہ غور سے دیکھتے تو یہ آپ کی شان کو بڑھنے والا معجزہ بن جاتا ہے۔ اول تو یہ سوال ہے کہ دل پر کونسی مادی آلائشیں ہوتی ہیں جنہیں صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو لوگ جنوں اور بھوتوں کے قائل ہیں وہ بھی اتنی معقولیت سے کام لیتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ فلاں جن نے فلاں کا دیکھتے ہی کلیجہ کھالیا۔ وہ جنات کی ماہیت کے لحاظ سے سمجھتے ہیں کہ انہیں چیرنے پھاڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی یونہی دیکھتے اور دوسرے کاکلیجہ نکال کر چبا جاتے ہیں۔ اگر جنات کے متعلق بعض نہایت ضعیف العقیدہ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جن پیٹ چیرنے کے محتاج نہیں ہوتے تو فرشتوں کے متعلق یہ کیوں سمجھ لیا گیا ہے کہ وہ چیرنے پھاڑنے کے محتاج ہیں۔ اگر دل بنانے کیلئے فرشتے کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔ اگر پھیپھڑا بنانے کیلئے وہ کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔ اگر تلی بنانے کیلئے وہ کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔ اگر دماغ بنانے کیلئے وہ کسی کا سر پھاڑنے کے محتاج نہیں تو وہ دل کو صاف کرنے کیلئے کسی کا سینہ چاک کرنے کے کیوں محتاج ہوگئے؟ جس طر ح وہ پیٹ چیرے بغیر انسان کے اندر گھس گئے تھے اور انہوں نے دل اور دماغ اورمعدہ اور جگر وغیرہ بنادیا اسی طرح وہ سینہ کو چیرے بغیر رسول کریم ﷺ کا دل بھی صاف کرسکتے تھے۔ پھر سوال یہ ہے کہ آیا فرشتوں کو چھریوں کی ضرورت ہوتی ہے ؟ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں، پہاڑوں ، دریائوں اور دوسری سب چیزوں کے بنانے میں خداتعالیٰ کے ملائکہ بھی ایک علت کے طور پر کام کرتے ہیں مگر جب وہ پہاڑ اور دریا وغیرہ بناتے ہیں تو نہ انہیں ہتھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ آری کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کدالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھرکیا وجہ ہے کہ اور جگہ تو انہیں کسی ہتھیار کی ضرورت نہیں پڑتی مگر رسول کریم ﷺ کے دل کی صفائی کیلے جب ان کو آنا پڑا تو وہ چھری بھی اپنے ساتھ لے آئے جس سے انہوں نے رسول کریم ﷺ کا سینہ چاک کیا۔ پس یہ روایت عقل کے بالکل خلاف ہے۔ کروڑوں کروڑ کام دنیا میں فرشتے کرتے ہیں مگر کبھی اس رنگ میں انہوں نے اپنے فرائض کو سرانجام نہیں دیا۔ پس اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عملی طور پر ایسا ہوا تب بھی اس کیلئے پیٹ کو چاک کرنے کی ضرورت تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ اور نہ چھریوں کی حاجت تسلیم کی جاسکتی ہے۔ فرشتے اگر کسی کے دل کی صفائی کیلئے پیٹ کو چاک کریں تو وہ وزیر آباد یا بھیرہ کی بنی ہوئی چھریوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ درحقیقت اس غلطی کی بناء یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف خیال کرلیاگیاہے کہ فرشتے ان مادی اشیاء کے محتاج ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات ایسی ہے جس کو دوسرے مقامات پر خود مسلمان ہی تسلیم نہیں کرتے۔ حدیثوں میں صاف طور پر ذکر آتا ہے کہ جب جنین رحم مادر میں ہوتا ہے تو فرشتہ ماں کے پیٹ میں جاتا ہے اور اس میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے۔ مگر کیا کسی نے دیکھا کہ کبھی عورت کا پیٹ فرشتوں نے چاک کیا ہو وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ بیشک سب کام فرشتے کرتے ہیں مگر وہ پیٹ چاک کرنے کے محتاج نہیں ہوتے۔ جب وہ وہاں چھریوں کی ضرورت تسلیم نہیں کرتے تو اس واقعہ کو کیوں ظاہری شکل دی جاتی ہے اور کیوں رسول کریم ﷺ کا سینہ ظاہری طور پر چاک کیے جانے پر زور دیا جاتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ فرشتوں نے آپ کا سینہ چاک کیا اورہم یہ بھی مانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے دل کی صفائی کی مگر ہم ساتھ یہ بھی مانتے ہیں کہ انہوں نے اسی طرح آپ کا سینہ چاک کیا اور اسی طرح آپ کا دل نکال کر دھویا۔ جس طرح وہ جگر بناتے ہیں، تلی بناتے ہیں، دل اور پھیپھڑا بناتے ہیں۔ جس طرح وہ انسان کا دل اور جگر بناتے ہیں اسی طرح یہاں بھی انہوں نے رسول کریم ﷺ کا دل نکالا۔ اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ بات ایسی ہی ہے جسے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ ایک کشف دیکھا تھا اور کشفی نظارہ بعض دفعہ دوسرے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ساری غلطی مسلمانوں کو ا س وجہ سے لگی ہے کہ حلیمہ کے بیٹے نے بھی یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ ظاہری واقعہ نہیں تھا تو حلیمہ کے بیٹے نے کس طرح دیکھ لیا؟ حالانکہ اگر صحابہؓ جبرائیل کو دیکھ سکتے ہیں تو حلیمہ کا بیٹا رسول کریم ﷺ کے اس کشفی واقعہ کو کیوں نہیں دیکھ سکتا۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آی اور اس نے آپ سے مختلف سوالات کئے جن کے آپ نے جوابات دیے۔ جب وہ چلا گیا تو رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے پوچھا جانتے ہو یہ کون تھا؟ صحابہ نے کہا یارسول اللہ ہمیں تو معلوم نہیں۔ خدا اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ رسول کریم ﷺنے فرمایا یہ جبرائیل تھا جو تمہیں علم سکھانے کیلئے آیا۔ اب دیکھو جبرائیل رسول کریم ﷺ کے پاس آیا مگر صحابہ نے بھی دیکھ لیا۔ پس کئی ایسے کشفی نظارے ہوتے ہیں جن میں ساتھ کے لوگ بھی شریک ہوجاتے ہیں مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ مادی واقعہ ہوتا ہے۔ پھر معلوم نہیں وہ صرف چھری کومادی کیوں قرار دیتے ہیں۔ فرشتے کو بھی کیوں مادی نہیں سمجھ لیتے۔ مگر وہ فرشتے کو تو روحانی قرار دیتے ہیں ۔ اگر آدھی روحانی چیز تھی تو آدھی مادی کیوں ہوگئی؟
    وہ کہتے ہیں اس واقعہ کے مادی ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے سینہ پر اس کا نشان تھا۔ ہم کہتے ہیں کہ نشان تھا تب بھی یہ اس واقعہ کے مادی ہونے کا ثبوت نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خدائے تعالیٰ نے ایک نشان دکھایا جس کے نتیجہ میں آپ کے کپڑوں پرسرخ روشنائی کے بعض نشانات آگئے مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ ظاہری واقعہ تھا۔ تھا تو یہ کشفی واقعہ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کشف کی صداقت کیلئے ظاہر میں روشنائی پیدا کردی یہ بتانے کیلئے کہ میں قادر مطلق خدا تمہیں یہ نظارہ دکھارہا ہوں۔ پس گو یہ واقعہ مادی نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر میں اس کانشان پیدا کردیا۔ اس طرح اگر رسول کریم ﷺ کے سینہ پر نشان تھا تو اس کے معنے نہیں کہ یہ ظاہری واقعہ تھا۔ یہ ظاہر میں انسانی قلب پر کوئی میل ہوتی ہے جسے دھونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ غرض یہ غلط ہے کہ یہ ایک ظاہری واقعہ تھا جو رسول کریم ﷺ کے ساتھ گزرا۔ یہ ظاہری واقعہ نہیں بلکہ ایک کشف تھا جو رسول کریم ﷺ کو دکھایاگیا ہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کی عظمت کے اظہار کیلئے اور آپ کے رضاعی خاندان کے دل میں آپ کی محبت پید اکرنے کیلئے ایسا تصرف کیا کہ حلیمہ کے بیٹے نے بھی اس واقعہ کو دیکھ لیا۔ اور اس کی گواہی سے سب پر یہ اثرا ہوا کہ یہ غیرمعمولی واقعہ بتارہا ہے کہ یہ لڑکا ایک دن بہت بڑی عظمت اور شان حاصل کرے گا۔ پھر یہ بتانے کیلئے کہ یہ کشف واقعہ میں ہم نے دکھایاتھا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینہ پر بھی نشان پیدا کردیا۔ تاکہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے اس نشان کے گواہ رہیں۔ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کرتے پر سرخ روشنائی کے قطرات اللہ تعالیٰ نے اس لئے ڈالے تاکہ اور لوگ بھی اس نشان کے گواہ رہیں۔ گو معتبر روایتوں میں یہ ذکر نہیں آتا کہ رسول کریم ﷺ کے سینہ پر نشان تھا۔ مگر ہمیں اس کو تسلیم کرنے سے انکار کی خاص ضرورت نہیں۔ اگر روشنائی کے نشان اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کپڑوں پر پیدا کرسکتا ہے تو اس کشف کی تصدیق کیلئے اگر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے سینہ پر کوئی نشان پید اکردیا ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ۔ پس جس حد تک اس واقعہ کو کشفی ماننے کا تعلق ہے ہمیں اس کی صحت سے ہرگز انکارنہیں لیکن جس حد تک اس واقعہ کو مادی قرار دینے کا سوال ہے ہمارے نزدیک یہ بات عقل کے خلاف ہے ورنہ جیسا کہ احادیث میں آتا ہے ماننا پڑے گا کہ جب کوئی شخص برا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نشان پڑ جاتا ہے اور جب اچھا کام کرتا ہے تو اس کا دل اعلیٰ حالت میں رہتا ہے۔ حالانکہ یہ بات واقعات کے خلاف ہے۔ نعشوں کو چیرنے پھاڑنے اور مختلف امراض کے نتیجے میں انسانی جسم میں جو تغیرات واقع ہوتے ہیں ان کو دیکھنے بھالنے کا کام اس زمانے میں بہت ترقی پر ہے۔ لاکھوں نعشیں اب تک چیری جاچکی ہیں اور تشریح الابدان کے ماہرین نے ان تمام تغیرات کا پوری طرح جائزہ لے لیا ہے جو امراض کے نتیجے میں انسانی جسم میں واقع ہوتے ہیں۔ اگر اس نظریہ کو درست تسلیم کرلیا جائے کہ برے کام کے نتیجے میں قلب پر مادی شکل میں سیاہی چھا جاتی ہے اور اچھے کام کرنے کے نتیجہ میں قلب پر مادی شکل میں نور آجاتا ہے تو کئی مسلمانوں کو کافر اور کئی کافروں کو مسلمان قرار دینا پڑے گا۔ وہ مسلمان جو دم گھٹ کر مر جاتے ہیں ان کے دل یقینا کالے ہوں گے اور وہ ہندو او رسکھ جن کے تنفس پر بیماری کا اثر نہیں ہوتا ان کے دل یقینا اچھی حالت میں ہوں گے۔ ایسی حالت میں ہمیں روزانہ کافروں کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر قرار دیناپڑے گا اور یہ حقیقت کے خلاف ہے۔
    درحقیقت رسول کریم ﷺنے جو کچھ دیکھا وہ ایک کشف تھا۔ کشفی حالت میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کا سینہ چاک کرکے آپ کا دل نکالا اور اسے دھو دھا کر پھر اندر رکھ دیا۔ بیشک ظاہر میں اس واقعہ کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا مگر خواب یا کشف کی حالت میں اس قسم کے واقعہ کو تسلیم کرنا ہرگز بعید از قیاس نہیں۔ خواب میں ایک چھوڑ دس دل بھی سینوں میں سے نکال کر دھوئے جاسکتے ہیں اور اس میں کسی تعجب کی بات نہیں سمجھی جاتی کیونکہ خواب ہمیشہ تعبیر طلب ہوتا ہے۔ ہم خواب میں زید کے دس سر دیکھ سکتے ہیں حالانکہ ظاہری لحاظ سے کسی کے دس سر نہیں ہوسکتے۔ خواب چونکہ تعبیر طلب ہوتاہے اس لیے اگر ہم کسی کے دس سر دیکھیں تو اس کے حالات کے مطابق اس کی دو تعبیریں ہوں گی۔ یاتو اس کی یہ تعبیر ہوگی کہ اس کے اندر استقلال نہیں پایا جاتا اور یا پھر یہ تعبیر ہوگی کہ اس کی عقل وسیع ہے۔ اگر اس کے حالات اس کی اخلاقی جرأت کا ثبوت ہو تو دس سر دیکھنے کی اچھی تعبیر ہوگی۔ اور اگر اس کے حالات اس کے خلاف ہوں تو دس سر دیکھنے کی بری تعبیر ہوگی۔ بری تعبیر تو یہ ہوگی کہ اس کے اندر استقلال کا مادہ نہیں پایا جاتا ۔ ایک سر ایک دفعہ بات کرتا ہے تو دوسرا سر دوسری دفعہ بات کرتاہے۔ ایک دفعہ وہ ایک رائے قائم کرتا ہے اور دوسری دفعہ دوسری رائے قائم کرتاہے۔ اور اچھی تعبیر یہ ہوگی کہ وہ بڑا عقلمندہے۔ لوگ ایک سر سے کام لیتے ہیں اور وہ دس سروں سے کام لیتا ہے۔ پس کسی کے دس سر دیکھنا یا تو اس کے تدبر اور اعلیٰ درجے کے دماغ کا ثبوت ہوگا اور یا پھر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ دس دفعہ اپنی رائے بدل لیتا ہے اور اس کے اندر استقلال کا مادہ نہیں۔ پس ایک ہی خواب کی اچھی تعبیر ہی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ اور یہ تعبیر دیکھنے والے کے حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر رئویا یا کشف کی حالت میں کوئی شخص اپنے دس دل دیکھے تو یہ بھی ہوسکتا ہے جس طرح وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کا دل سینے میں سے نکالا گیا اور اسے فرشتے نے دھوکر پھر اس کی اصل جگہ پر رکھ دیا۔
    غرض عا م مسلمانوں کو تمام دھوکا کشف کی حقیقت کونہ سمجھنے کی وجہ سے لگا ہے ورنہ کشفی حالت میں دل پر سیاہی بھی دیکھی جاسکتی ہے اور کشفی حالت میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ دل میں نور بھر دیا گیا ہے۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ اگر جھوٹی خواب ہو توگو انسان بہت کچھ دیکھتا ہے مگر اسے ملتا کچھ نہیں لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خواب دکھایا جائے تو فوراً انسان کو اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام بھی مل جاتا ہے۔ مثلاً اگر خداتعالیٰ کسی کو دکھائے کہ اس کا سر بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ بہت بڑا ہوگیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسے بہت بڑا علم مل جائے گا اور اس کی عقل بہت وسیع ہوجائے گی۔ اب اگر یہ خدائی خواب ہے تو چند دنوں بعد ہی اسے نظر آئے گا کہ اس کے علم اور اس کی ذہانت میں ترقی ہورہی ہے۔ لیکن اگر نفسانی خواب ہے تو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ بعض لوگوں کے کان میں سوتے ہوئے چیونٹی گھس جاتی ہے تو وہ خواب میں دیکھتے ہیں کہ توپیں چل رہی ہیں ، لڑائیاں ہورہی ہیں، ڈھول بج رہے ہیں اور دنیا میں ایک شور برپا ہے یا بعض دفعہ کان میں میل پھنسی ہوئی ہوتی ہے ایسی حالت میں جب ہوا کان کی میل سے ٹکراتی ہے تو سویا ہوا انسان دیکھتا ہے کہ بجلیاں چمک رہی ہیں، بادل کڑک رہے ہیں، اولے برس رہے ہیں اور دنیا پر بڑی تباہی آئی ہوئی ہے۔ حالانکہ ہوتا یہ ہے کہ میل کا ایک ذرہ اس کے کان میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح سوتے سوتے کسی کو بھڑ کاٹ جائے اور وہ گہری نیند سورہا ہو تو وہ خواب میں دیکھتا ہے کہ میرا سر بڑا ہوگیا ہے۔ اب اس کی یہ تعبیر نہیں ہوگی کہ وہ بڑا عقلمند ہوجائے گا بلکہ اس خواب کا صرف اتنا مطلب ہوگا کہ سوتے ہوئے اسے بھڑ نے کاٹ لیا تھا جس کا اس کے اندرونی شعور نے اسے اس رنگ میں ایک نظارہ دکھایا۔
    قادیان میں ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ مرزا صاحب کو بھی بے شک الہام ہوتا ہے کہ تجھے ہم نے بڑا درجہ دیا ہے مگر مجھے خداتعالیٰ روزانہ کہتا ہے کہ تو موسیٰ ہے، تو عیسیٰ ہے، تو محمد ہے۔ لوگوں نے اسے بہت کچھ سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔ آخر کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں اس کا ذکر کردیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اسے ہمارے پاس لائو یا آپ نے فرمایا اس سے سوال کرو(مجھے اس وقت اچھی طرح یاد نہیں) کہ جب خدا تم سے کہتا ہے کہ تم عیسیٰ ہو تو کیا عیسیٰ کی طرح تمہیں خلق طیر کا نشان بھی ملتا ہے یا تمہارے ہاتھ سے بھی اسی طرح مردے زندہ ہوتے ہیں جس طرح عیسیٰ کے ہاتھ سے زندہ ہوتے تھے یا جب خدا تمہیں موسیٰ کہتا ہے تو کیا موسیٰ کی طرح یدبیضا کا نشان بھی تمہیں عطا کرتا ہے یا جب محمد کہتا ہے تو کیا محمد رسول اللہ ﷺ کا وہ مقام جو دنا فتدلی فکان قوسین او ادنی میں بیان کیا گیا ہے وہ بھی تمہیں ملتا ہے۔یا تمہیں وہی فصاحت اور وہی بلاغت عطا کی جاتی ہے جو رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی؟ وہ کہنے لگا ملتا تو کچھ نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تو پھر وہ خدا نہیں بلکہ شیطان ہے جو تمہیں روزانہ عیسیٰ اورموسیٰ اور محمد کہتاہے۔ اگر خدا تمہیں یہ مقام عطا کرتا تو تمہیں اس مقام سے تعلق رکھنے والے انعامات بھی دیتا۔ اسی طرح ایک دوسرا شخص بھی دیکھ سکتا ہے کہ اس کا سینہ چیرا گیا اور دل دھو کر دوبارہ اس کے اصل مقام پر رکھ دیا گیا۔ مگر فرق یہ ہوگا کہ اس کا سینہ بھی پھر تنگ ہی رہے گا ۔ مگر جس کا خدا دل دھو کر اس کے سینہ میں رکھ دے گا اس کا سینہ پہلے سے ہزاروں گنا زیادہ وسیع ہوجائے گا۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ کے متعلق آپ کے رضاعی بھائی نے جو شہادت دی اگر وہ بات جھوٹی ہوتی تو سوال پید اہوتا ہے کہ آپ کا شرح صدر ہو کس طرح گیا؟ پھر تو چاہئے تھا آپ کا شرح صدر نہ ہوتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ادھر آپ کا سینہ چاک کرکے دل دھویا گیا اور ادھر دنیا نے دیکھ لیا کہ ہر علم وفن کے متعلق رسول کریم ﷺ نے تعلیمات دیں جن کی نظیر اور کسی شخص میں نہیں ملتی۔ علم کا کوئی شعبہ ایسانہیں جس میں قرآنی خیالات لے کر آپ نے ری فلیکٹرکے طور پر دنیا میںنہایت اعلیٰ درجہ اور بے عیب تعلیمیں پیش نہ کی ہوں۔ جب ہم ان واقعات کو دیکھتے ہیںتو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آپ کا سینہ چیرنے والا فرشتہ ہی تھا ورنہ خالی دل دھو دھا کر سینہ کے اندر رکھ دینے میں کیا کمال ہوسکتا تھا۔ بات تو وہی رہی پہلے بھی دل میں خون آتا تھا اور اس کے بعد بھی دل میں خون نے ہی آنا تھا۔ جو چیز اس واقعہ کو عظمت دیتی ہے وہ اس کا جسمانی نہیں بلکہ روحانی پہلو ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا الم نشرح لک صدرک ۔ کیا بچپن میں ہی ہم نے یہ نظارہ تجھے نہیں دکھادیا تھا اور ہم نے بچپن میں ہی تجھ سے یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ ہم ایک دن تجھ میں بڑے بڑے کمالات پیدا کردیں ـ؟ یہ تعبیر ہے جو اس کشفی واقعہ کی تھی اور جس نے بعد میں آپ کی صداقت کو آفتابِ نیم روز کی طرح ظاہرکردیا ورنہ ہم یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ نعوذ باللہ آپ کے دل پر سیاہی تھی جسے فرشتوں نے دھودیا۔ آپ کا دل پہلے بھی پاک تھا اس کو دھونے کے معنے یہ تھے کہ ہم نے نئے قابلیتیں اور علوم کی نئی وسعتیں تیرے اندر پیدا کردی ہیں۔ یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ کے دل پر نعوذ باللہ کوئی گند لگا ہوا تھا جسے انہوں نے دھودیا۔
    ایک معنے اس آیت کے یہ بھی ہیں کہ ہم نے تیرے اندر قوت برداشت پیدا کردی ہے۔ چنانچہ شرح صدر کے الفاظ اسی طرف اشارہ کرتے ہیںکہ کسی چیز پر آپ کو تنگی نفس پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ جو بات آتی آپ اس کو برداشت کرلیتے اور کہتے
    ہر چہ از دوست مے رسید نیکو است
    آپ جانتے تھے کہ میرے ساتھ جو معاملہ ہے وہ خاص قانون کے ماتحت ہے میں خداتعالیٰ کے کامل تصرف کے ماتحت ہوں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوگا خواہ وہ بظاہر برا ہو میرے لئے انجام کار اچھا ہوگا۔ اسی وجہ سے آپ مصائب اور مشکلات میں گھبراتے نہیں تھے۔ پس اس آیت کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ تیرے اندر قوت برداشت کمال درجہ کی پید اہوچکی ہے۔ چنانچہ دیکھ لو رسول کریم ﷺ پر کئی قسم کے مشکلات آئے، کئی قسم کے مصائب سے آپ کو دوچار ہونا پڑا مگر آپ پر کبھی گھبراہٹ طاری نہیں ہوئی۔ جیسے آپ کو یقین تھا کہ یہ سب کچھ میرے حق میں ہے خدامیرا دوست ہے دشمن نہیں۔ وہ مجھے کامیاب کرے گا اورمیرے دشمنوں کو ناکامی کے گھڑے میں گرائے گا۔ لوگ آپ کو گالیاں دیتے، آپ کو برا بھلاکہتے، آپ کے خلاف بڑے بڑے منصوبے کرتے مگر آپ ان کی ذرا بھی پروا نہ کرتے اور کبھی آپ کی زبان سے ان کے حق میں کوئی برا کلمہ نہیں نکلا۔ لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر راہ چلتے ہوئے کوئی شخص ان کے سامنے آجائے اور انہیں معمولی سی ٹکر لگ جائے تو وہ غیظ و غضب سے بھر جاتے ہیں اورکہتے ہیں تم دیکھتے ہیں تمہاری آنکھیں پھوٹی ہوئی ہیں! مگر رسول کریم ﷺ کو ہم دیکھتے ہیں مکہ فتح ہوچکا ہے، آپ کے غلبہ اور آپ کی شان اور آپ کی عظمت کا سارا عرب قائل ہوچکا ہے کہ اس حالت میں ایک اعرابی آتا ہے او رسختی سے کہتا ہے ۔سارے لوگ اپنا اپنا حصہ لے گئے ہیںمجھے بھی مال غنیمت میں سے حصہ دو۔ صحابہ نے اسے پکڑ کر ہٹایا کہ یہ کیا بیہودگی ہے جو تم کررہے ہو مگر رسول کریم ﷺ نے صرف اتنا فرمایا اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں تمہیں ضرور دیتا مگر میرے پاس جو مال تھا وہ میں دے چکا ہوں اب میرے پاس کچھ باقی نہیں رہا۔ یہ قوتِ برداشت جو آپ کے اندر نظر آتی ہے یہ ایک ایسی بے مثال چیز ہے جس کا نمونہ ہمیں اور کہیں نظر نہیں آتا۔ آپ بیشک نصیحت بھی کرتے، لوگوں کو ا ن کی برائیوں سے منع بھی فرماتے اور ناراضگی کے موقع پر ناراضکی کا بھی اظہار فرماتے مگر طبیعت آپ کے قابو سے کبھی باہر نہیں ہوتی تھی۔ پس الم نشرح لک صدرک کے ایک معنے یہ ہیں کہ کیا ہم نے تیرے سینہ کو وسیع نہیں کردیا کہ تجھے گالیاں ملتی ہیں مگر تو ان کی پرواہ نہیں کرتا۔ دکھ دئے جاتے ہیں مگر تو ان کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتا۔ تیرے اندر اس قدر قوتِ برداشت پیدا کردی گئی ہے کہ دشمنوں کے لئے مقابلہ اور ان کے متواتر مظالم پر بھی تیرے پائے استقلال میں کوئی جنبش پیدا نہیں ہوتی۔
    ووضعنا عنک وزرک O الذی انقض ظھرک O اور (ایسا کرکے) ہم نے تیرے (اس) بوجھ کو تجھ پر سے اتار دیا جس نے تیری کمر توڑ رکھی تھی۔
    حل لغات: الوزر: الثقل: یعنی وزر کے معنے بوجھ کے ہیں (اقرب)۔
    تفسیر: کامیابی کیلئے دوسری ضروری چیز انسان کو کام کرنے کے ذرائع کامیسر آجاناہے۔ دل کا حوصلہ اور قوتِ برداشت کا پایا جانا بھی کامیابی کے حصول کیلئے نہایت ضروری ہوتا ہے مگر وہ پہلی چیز ہے ۔ دوسری چیز جس کا انسانی کامیابی کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے یہ ہے کہ انسان کو کام کرنے کے ذرائع مہیا ہوجائیں۔ اس معاملہ میں بھی رسول کریم ﷺ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایک بہت بڑی فضیلت حاصل ہے۔ جس طرح پہلی آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا رب اشرح لی صدری کے مقابل میں رسول کریم ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا الم نشرح لک صدرک۔ اسی طرح ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک میں ماضی کے الفاظ استعمال کرکے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آپ کی ایک فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ واجعل لی وزیرا من اھلی (طٰہٰ: ۲ع۱۱) اے میرے رب میرے اہل میں سے کوئی میرا بوجھ بٹانے والا پید اکرے۔ گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا شخص ماننگے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی جو ان کا بوجھ بٹانے والا ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ سے فرماتا ہے کہ ہم نے بغیر تیرے مانگنے کے تجھے ایسے ساتھی عطا کردیئے ہیں جو تیرے بوجھ کو صرف بٹانے والے نہیں بلکہ سارا بوجھ اپنے آپ اٹھانے والے ہیں ۔ انہوں نے تیرے اوپر سے وہ سب کا سب بوجھ اٹھالیا ہے جس نے تیری کمر کو توڑ دیا تھا۔
    حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ پر اتنا بڑا بوجھ تھا جس کو کوئی اکیلا شخص اٹھانے کے قابل نہیں تھا۔ آپ کے سپرد یہ کام تھا کہ آپ ساری دنیا کی اصلاح کریں۔ ساری دنیا کو اسلام میں داخل کریں۔ ساری دنیا کی بدیوں اور عیوب کا قلع قمع کریں۔ آپ دیکھتے تھے کہ میں اکیلا ہوں نہ میں ہر شخص کے پاس پہنچ سکتا ہوں اور نہ ہر شخص کو منوانے کی طاقت رکھتا ہوں۔ ایک ایک آدمی کو اسلام میں داخل کرنے کیلئے بظاہر کئی کئی سال چاہئے تھے کیونکہ ان کے عقائد اور اسلام کی پیش کردہ تعلیم میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ وہ کئی کئی بتوں کو مانتے تھے اور قرآن کہتا تھا کہ بت اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتے وہ جھوٹ اور فریب اور دغا اور خیانت اور ڈاکہ اور قتل اور اسی قسم کے دوسرے افعال کو جائز سمجھتے تھے اور اسلام ان سب کوناجائز اور حرام قرر دیتا تھا۔ وہ عبادت سے کوسوں دور بھاگتے تھے اور اسلام انسان کو ہر وقت آستانہ الٰہی پر جھکے رہنے کی تعلیم دیتا تھا۔ غرض تعلیم میں اختلاف تھا، عبادت میں اختلاف تھا، رسم و رواج میں اختلاف تھا، مطمح نظر میں اختلاف تھا۔ پھر مکہ والے الہام کے قائل نہیں تھے مگر قرآن نزول الہام کا قائل تھا۔ اسی طرح وہ خداتعالیٰ کی خاص قدرتوں کے قائل نہیں تھے مگر قرآن نزول الہام کا قائل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے نشانات سے اپنی ذات کا ثبوت دیا کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات پر دن رات فخر کیا کرتے تھے ہم آزاد ہیں کسی کے ماتحت نہیں۔ مگر قرآن کی تعلیم یہ تھی کہ سب ایک ہاتھ پر جمع ہوجائو اور منظم ہوکر اپنی اور دوسری اقوام کی اصلاح کرو۔ غرض اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، چلنا پھرنا ہر اک امر کو اسلام ایک نظام کے ماتحت لاتاتھا اور اس طرح کوئی حصہ ایسا نہ تھا جس میں غیرمسلم عربوں اور قرآنی تعلیم کے درمیان اتحاد ہوسکتا۔ قرآن کریم ان کے خیالات میں بھی دخل دیتاتھا، ان کے اخلاق میں بھی دخل دیتا تھا، ان کے عقائد میں بھی دخل دیتا تھا، ان کی سیاسیات میں بھی دخل دیتا تھا۔ان کی اقتصادیات میں بھی دخل اندازی دیتا تھا۔ غرض کوئی معاملہ ایسانہ تھا جس میں اسلام دخل اندازی نہ کرتا ہو۔ اتنی لمبی اور تفصیلی باتیں منوانے کیلئے رسول کریم ﷺ کو کتنی بڑی مشکلات پیش آسکتی تھیں مگر یہ الٰہی فعل ہی تھا کہ رسول کریم ﷺ اپنی بیوی کو اطلاع دیتے ہیں کہ مجھ پر یوں وحی ہوئی ہے۔ توبیوی یہ نہیں کہتی کے یہ کیا پاکھنڈ بنانے لگے ہو بلکہ وہ کہتی ہے کلا واللہ ما یخزیک اللہ ابدا انک تصل الرحم وتحمل الکل و تکسب المعدوم و تقری الضیف و تعین علی نوائب الحق۔ آپ گھبرائیں نہیں آپ نے جو کچھ دیکھا ٹھیک دیکھا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہ کرسکتا تھا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ نادار کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ گم شدہ نیکیوں کو قائم کرتے ہیں۔ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی مدد کرتے ہیں۔ پھر بیوی آپ کو اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے جاتی ہے جو اسرائیلی علوم کے عالم تھے۔ تو وہ سنتے ہی فرماتے ہیں کہ ویسی ہی وحی ہے جیسے موسیٰ پر نازل ہوئی تھی اور ویسے ہی احکام اور فرامین اس وحی میں پائے جاتے ہیں جیسے موسیٰ کی وحی میں پائے جاتے تھے۔ گھر میں ایک چچیرابھائی جو جوانی کی عمر کو پہنچنے والا ہے اور نوجوانوں میں تبلیغ کا اچھا ذریعہ بن سکتا ہے جب وہ اپنے بھائی اور بھاوج کو نہایت سنجیدگی سے ایک اہم تغیر کی نسبت باتیں کرتے ہوئے سنتا ہے تو بڑی متانت سے آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ میں بھی یقین رکھتا ہوں کہ آپ سچے ہیں اور ضرور خداتعالیٰ نے آپ سے یہ باتیں کی ہیں اور آپ کو دنیا کی اصلاح کیلئے مامور کیا ہے۔ ایک آزاد کردہ غلام جو آپ کے اخلاق کا شکار ہوکر ماں باپ کو چھوڑ کر آپ کے دروازہ پر بیٹھ گیا تھا۔ جب ان آہستہ آہستہ ہونے والی باتوں کو سنتا ہے اور اپنے آقا کے چہرہ پر فکر و اندیشہ کے آثار دیکھتا ہے تو آگے بڑھ کر آقا کے دامن کو تھام لیتا ہے اور کہتا ہے میرے آقا وہی ہوگا جو آپ نے دیکھا ۔ آپ جیسے انسان سے قدرت دھوکا بازی نہیں کرسکتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ آپ کے ہاتھوں دنیا کی اصلاح ہو۔ مجھے بھی اپنے ساتھ رہنے اور خدمت کرنے کی اجازت دیجئے۔ ایک ہی گہرا دوست جو گویا ایک ہی صدف میں پلنے والا دوسرا موتی تھا جب سنتا ہے کہ اس کے دوست نے بے پر کی اڑانی شروع کردی ہے اور شاید اس کے دماغ میں خلل آگیا ہے تو بھاگا ہوا جاتا ہے اور دروازہ کھلوا کر پوچھتا ہے کہ کیا جو کچھ سنتا ہوں سچ ہے؟ جب آپ اس کے سامنے تشریح کرنے لگتے ہیں تو کہتا ہے خدا کی قسم دلیلیں نہ دیجئے صرف یہ بتائیے کہ کیا یہ باتیں سچ ہیں اور آپ کی تصدیق کرنے پر کہتا ہے میرے سچے دوست میں آپ کی رسالت پر ایمان لایا۔ آپ تو غضب ہی کرنے لگے تھے کہ دلیلیں دے کر میرے ایمان کو مشتبہ کرنے لگے تھے۔ میرے دوست جس نے تیرے چہرہ کو دیکھا وہ کب تیری بات میں شبہ کرسکتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مخالفت ہونی ہی چاہئے تھے کیونکہ بقو ورقہ بن نوفل کہ لم یات رجل قط بمثل ما جئت بہ الا عودی یعنی جو شخص بھی ایسا پیغام لایا لوگوں کی مخالفت سے نہیں بچا۔ مگر خداتعالیٰ کی تدبیر دیکھو کہ اس مخالفت کاطوفان آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کس طرح آپ کے ساتھی پید اکردیئے۔ ساکنینِ مکہ میں سے ایک ہی اسرائیلیات کا عالم ورقہ پہلے حملہ میں ہی آگے آگے گھٹنے ٹیک گیا۔ رفیقہ حیات خدیجہؓ نے وحی سنتے ہی آپ کی بلائیں لیں۔ نوعمر بھائی علیؓ جو ہر وقت آپ کے عائلی اخلاق کو دیکھتا تھا اپنی خدمت پیش کرنے لگا۔ وہ آزاد غلام زید جس نے آپ کے لین دین اور غرباء سے سلوک کا گہرا اور لمبا مطالبہ کیا تھا آپ کی صداقت کی قسمیں کھانے لگا۔ بچپن کا دوست، مکہ کا محسن، شرافت کا پتلا ابوبکرؓ صرف اتنا سن کر کہ آپ نے وحی کا دعویٰ کیا ہے اپنے گلے میںغلامی کا پٹہ ڈال کر دروازہ پر آ بیٹھا۔ اس عقیدت و اخلاص کے بے نظیر مظاہرہ نے آپ کے دل میں کس قدر خوشی نہ پیدا کردی ہوگی۔ مکہ والوں کی ہائو ہو، ان کے طعنہ سن کر آپ کس طرح مسکرادیتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے یہ تمہارا فتویٰ ہے جو مجھے نہیں جانتے۔ اب ذرا اس فتویٰ کو بھی تو سنو جو مجھے جاننے والوں ے دیا ہے۔ کس طرح جانیں دے کر وہ میرے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔ موسیٰ نے دعا مانگ کر ایک وزیر بوجھ اٹھانے کیلئے مانگا تھا مگر محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے پانچ وزیر بن مانگے ہی دے دئے اور ایسے وزیر جنہوں نے آپ کا بوجھ بٹانے میں کمال کر دکھایا۔ ورقہ بے شک جلدی فوت ہوگئے مگر ایک نہ مٹنے والی شہادت آپ کی صداقت پر دے گئے۔ حضرت خدیجہؓ نے بارہ سال تک اس کے بعد عوت ہوکر وہ کام کرکے دکھایا کہ بہادر سے بہادر مرد کی بھی آنکھیں نیچی ہوتی ہیں۔ زیدؓ نے بیس سال تک اس کے بعد قربانی کا بے مثال نمونہ دکھایا اور آخر تلواروں کی دھاروں کے سامنے اپنا خون بہا کر ثابت کردیاکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے وزیر کیسے ہونے چاہئیں۔ ابوبکرؓ اور علیؓ تو آپ کی وفات کے بعد بھی رہے اور خلیفہ بن کر وزارت کا ایک نئے رنگ میں ثبوت بھی دے گئے۔
    شیعہ اصحاب ذرا اس آیت پر غور کریں تو خلافت کے جھگڑے کافیصلہ ہوجاتا ہے۔ اسی مفہوم کی آیت حضرت موسیٰؑ کے بارہ میںآتی ہے وہ دعاکرتے ہیں واجعل لی وزیرا من اھلی اور اس کے معنے اختلافی نہیں مسلمہ ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام دشمنوں کی مخالفت کے خیال سے فوراً ہی ایک مومن کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کا بوجھ اٹھائے۔ آنحضرت ﷺ کی نسبت اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک۔ اس خبر کے مطابق وہ کون لوگ تھے جو آپ پر سنتے ہی ایمان لائے۔ یقینا یہی پانچ جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔پس یہ پانچوں آپ کے وزیر تھے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تین آپ کی زندگی میں فوت ہوگئے کیونکہ حضرت ہارون بھی تو حضرت موسیٰؑ کی زندگی میں فوت ہوگئے تھے۔ مگر فوت ہونے والوں کو نکال بھی دو تو بھی فوراً ایمان لانے والوں میں سے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ دونو ں ہی ہیں اور دونوں ہی اس آیت کے ماتحت آپ کا بوجھ بٹانے والے ہیں ان میں سے کسی ایک کو برا کہنا قرآن کریم کی تکذیب اور تضحیک ہے۔
    ہم کئی مدعیوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ادھر دعویٰ کرتے ہیں ادھر ان کے اپنے رشتہ دار انہیں پاگل کہنا شروع کردیتے ہیں۔ بیوی کہتی ہے تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے، بیٹا کہتا ہے تو پاگل ہوگیا ہے، دوست کہتے ہیں تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ وہ تلاش کرتے ہیں کہ کوئی ان کو ساتھی ملے مگر نہیں ملتا۔ بیشک بعض کو ان کے رشتہ داروں نے مانا بھی ہے مگر شروع میں اکثر ایسا ہی نظارہ نظر آتا ہے کہ ان کو ساتھی نہیں ملتے اور اگر ملتے بھی ہیں تو فاتر العقل۔ مگر یہاں پہلے دن ہی یہ پانچوں شخص رسول کریم ﷺ کی روحانیت کا شکار ہوگئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ دعا کی تھی کہ واجعل لی وزیرا من اھلی۔ تو خداتعالیٰ نے ان کی اس دعا کو فوراً قبول نہیں کیا بلکہ فرمایا تم سفر کرتے چلے جائو جب مصرمیں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ہارون مل جائے گا مگر رسول کریم ﷺنہ دعا کرتے ہیں، نہ سفر کرتے ہیں، نہ محنت اورمشقت برداشت کرتے ہیں اور پہلے دن ہی آپ کو پانچ وزیر مل جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقی پنجتن ہیں جن سے اسلام کا آغاز ہوا۔ بے شک جسمانی اولاد کے لحاظ سے پنجتن اور ہیں مگر روحانی لحاظ سے خداتعالیٰ نے پہلے ہی دن آپ کو پنجتن دے دیئے تھے جن میں سے ہر شخص آپ کا جاں نثار اور فدائی تھا۔ پس فرماتا ہے ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظھرک۔ ہم نے تیرا بوجھ اتار دیا اور تیری مدد کیلئے وہ لوگ کھڑے کردیئے جنہوں نے تیرے بوجھ کے نیچے اپنے کندھے دے دئے اور کیا یارسول اللہ ﷺ ہم اس بوجھ کو اٹھانے کیلئے تیار ہیں۔
    پھر قریب زمانہ میں طلحہؓ اور زبیرؓ اور عمرؓ اور حمزہؓاور عثمان بن مظعونؓ اس قسم کے ساتھی آپ کو مل گئے۔ جن میں سے ہر شخص آپ کا فدائی تھا، ہر شخص آپ کے پسینہ کی جگہ اپنا خون بہانے کیلئے تیار تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تیرہ سال تک مصائب بھی آئے، مشکلات بھی آئیں ۔ تکالیف بھی آپ کو برداشت کرنی پڑیں ۔ مگر آپ کو اطمینان تھا کہ ان مکہ والوں میں سے عقل والے، سمجھ والے، رتبہ والے، تقویٰ والے، طہارت والے مجھے مان چکے ہیں اور اب مسلمان ایک طاقت سمجھے جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص رسول کریم ﷺ کے متعلق کہتا کہ وہ پاگل ہے تو اس کے دوسرے ساتھی ہی اسے کہتے کہ اگر وہ پاگل ہے تو فلاں شخص جو بڑا سمجھدار اور عقلمندہے اسے کیوں مانتا ہے؟ یہ ایک ایسا جواب تھا جس کے مقابلہ میں کوئی شخص بولنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔ یورپین مصنف رسول کریم ﷺ کے خلاف اپنا تمام زور بیان صرف کردیتے ہیں اور بسا اوقات آپ پر گند اچھالنے سے بھی دریغ نہیں کرتے مگر جہاں ابوبکرؓ کا نام آتا ہے وہ کہتے ہیں ابوبکرؓ بڑا بے نفس تھا۔ اس پر بعض دوسرے یورپین مصنف لکھتے ہیں کہ جس شخص کو ابوبکر نے مان لیا وہ جھوٹا کس طرح ہوگیا۔ اگر وہ بے نفس تھاتو اس نے ایسے لالچی کوماناں کیوں؟ اور اگر وہ واقع میں بے نفس تھا تو پھر تسلیم کرناپڑے گا کہ اس کا آقا بھی بے نفس تھا۔ یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے جس کو ردّ کرنا آسان نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق بھی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ آپ کو جاہل کہتے ہیں مگر خداتعالیٰ نے اس اعتراض کو ردّ کرنے کیلئے ایسے سامان کردیئے کہ حضرت خلیفہ اوّلؓ شروع میں ہی آپ پر ایمان لے آئے۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی دعویٰ سے پہلے آپ کی تعریف کرنے والے تھے۔ پھر جب آپ نے دنیا میں اپنی ماموریت کا اعلان کیاتو تعلیمیافتہ لوگوں کی ایک جماعت اللہ تعالیٰ نے ایسی کھڑی کردی جو فوراً اآپ پرایمان لے آئی ۔ یہ تعلیم یافتہ لوگ علماء میں سے بھی تھے، امراء میں سے بھی تھے اور انگریزی دان طبقہ میں سے بھی تھے۔
    رعب اور دبدبہ تین ہی چیزوں سے ہوتا۔ یا تو ایمان سے ہوتا ہے یا علم سے ہوتا ہے اور یا روپیہ سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تینوں چیزیں آپ کی جماعت میں پیدا کردیں۔ ایسے لوگ بھی آپ کو دے دئے جو اپنے اندر صلاحیت اور نور ایمان رکھتے اور چوٹی کے علماء سمجھتے جاتے تھے ۔ ایسے لوگ بھی آپ کو دیدئے جو انگریزی دان تھے اور اس طرح نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ پر اچھا اثر ڈال سکتے تھے۔ جب لوگ کہتے کہ مرزا صاحب جاہل ہیں تو ان کے اپنے آدمی ان کے مقابلہ میں کھڑے ہوجاتے اور کہتے اگر وہ جاہل ہے تو کالج کے سٹوڈنٹ اس کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہیں۔ پھر جب لوگ کہتے کہ مرزا صاحب کو دین سے واقفیت نہیں و ان کے اپنے بعض آدمی کہتے کہ اگر انہیں دین کی واقفیت نہیں تو علماء ان کے پیچھے کیوں بھاگے چلے جاتے ہیں۔ پھر جب لوگ کہتے کہ مرزا صاحب دنیا پرست ہیں تو ان کے اپنے بعض آدمی کہتے کہ اگر وہ دنیا پرست ہے تو ان کے اپنے بعض آدمی کہتے ہیں کہ اگر وہ دنیا پرست ہے تو کیا وجہ ہے کہ امراء اور دنیا کی عیاشیوں میں مبتلا انسان اپنی دولت کو قربان کرکے اس کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں؟ غرض ہر طبقہ کے لوگ علماء میں سے بھی، امراء میں سے بھی اور انگریزی دانوں میں سے بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا فرمائے اور اس لئے عطا فرمائے تا اس اعتراض کا ازالہ ہو کہ آپ جاہل ہیں یا آپ دنیا دار ہیں یا علم دین سے واقفیت نہیں رکھتے۔ یہی حال ہم رسول کریم ﷺ کا دیکھتے ہیں کہ ہر طبقہ کے لوگ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمادیئے۔ عثمانؓ، طلحہؓ، اور زبیرؓ مکہ کے چﷺچوٹی کے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اگر کوئی کہتا کہ ادنیٰ ادنیٰ لوگ اس کے ساتھ ہیں اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے اس کو قبول نہیں کیا تو عثمانؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ اس کا جواب دینے کیلئے موجود تھے۔ اور اگر کوئی کہتا کہ چند امراء کو اپنے اردگرد اکٹھا کرلیا گیا ہے۔ غرباء جن کی دنیامیں اکثریت ہے انہوں نے اس مذہب کو قبول نہیں کیا تو زیدؓاور بلالؓ وغیر اس اعتراض دینے کیلئے موجود تھے۔ اور اگر بعض لوگ کہتے کہ یہ نوجوانوں کا کھیل ہے تو لوگ ان کو یہ جواب دے سکتے تھے کہ ابوبکرؓ تو نوجوان اور ناتجربہ کار نہیں۔ انہوں نے کس بنا پر محمد رسول اللہ ﷺ کو قبول کرلیا ہے؟ غرض وہ کسی رنگ میں دلیل پیدا کرنے کی کوشش کرتے رسول کریم ﷺ کے ساتھیوں میں سے ہر شخص ان دلائل کو ردّ کرنے کیلئے ایک زندہ ثبوت کے طور پر کھڑا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل تھا جو رسول کریم ﷺ کے شامل حال تھا۔ اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظھرک۔ اے محمد رسول اللہ ﷺ! کیا دنیا کو نظر نہیں آتا کہ کہ جن سامانوں سے دنیا جیتا کرتی ہے وہ سارے سامان ہم نے تیرے لئے مہیا کردیئے ہیں۔ اگر دنیا قربانی کرنے والے نوجوانوں سے جیتا کرتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں۔ اگر دنیا تجربہ کار بڈھوں کی عقل سے ہارا کرتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں۔ اگر دنیا مالدار اور بارسوخ خاندانوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے شکست کھاتی ہے تو وہ تیرے پاس موجود ہیں۔ اور اگر عوام الناس کی قربانی اور فدائیت کے وجہ سے دنیا جیتا کرتی ہے تو یہ سارے غلام تیرے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں۔ پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ تو ہار جائے اوریہ مکہ والے تیرے مقابلہ میںجیت جائے۔ پس ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظھرک۔ کے معنے یہ ہیں کہ وہ بوجھ جس نے تیری کمر کو توڑ دیا تھا وہ ہم نے خود اٹھالیا ہے، تو نے اس کام کی طرف نگاہ کی اور حیران ہوکر کہا کہ میں یہ کام کیونکر کروں گا۔ خدا نے ایک دن میں ہی تجھے پانچ وزیر دے دیئے۔ ابوبکرؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کیلئے کھڑ اکردیا۔ خدیجہؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کیلئے کھڑا کردیا۔ علیؓ کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کیلئے کھڑا کردیا۔ ورقہ بن نوفل کا ستون اس نے اسلام کی چھت قائم کرنے کیلئے کھڑا کردیا ا اس طرح وہ بوجھ جو تجھ اکیلے پر تھا وہ ان سب لوگوں نے اٹھالیا۔
    اس آیت کے ایک یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے تجھے ایسی تعلیم دی ہے جو آپ ہی آپ لوگوں کو موہ لیتی ہے۔ بعض تعلیمیں ایسی ہوتی ہیںجو بظاہر اچھی ہوتی ہیں مگر ایسی فلسفیانہ باتوں پر مشتمل ہوتی ہیں کہ ان کا سمجھنا لوگوں کیلئے بڑا مشکل ہوتا ہے۔ وہی تعلیم ملک میںفوری طور پر مقبولیت حاصل کرسکتی ہے جو سمجھنے میں آسان ہو اور جس میں ہر فطرت کو ملحوظ رکھاگیاہو۔ پس ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک میں ایک یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ تجھے اپنی تعلیم کا پھیلانا بڑا مشکل نظر آتا تھا مگر ہم نے اسے اس قدر دلکش اور اس قدر جاذبیت رکھنے والی بنایا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ تیری طرف کھچے چلے آتے ہیں۔ عرب لوگ عورتوں کو ان کے حقوق نہیں دیتے تھے۔ مگر قرآن کریم نے ان کے حقوق کو محفوظ کردیا۔ عرب لوگ غلاموںکے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کیا کرتے تھے مگر اسلام نے ان کو ایسی سطح پر لاکر کھڑا کردیاکہ جس کے بعد دنیا میں کوئی غلامی نہیں رہتی۔ عرب لوگ ورثہ کی تقسیم کے وقت جنبہ داری سے کام لینے کے عادی تھے اور وہ اپنے رعب کی وجہ سے لوگوں کے حقوق کو غصب کرلیا کرتے تھے مگر اسلام نے اس نقص کا بھی ازالہ کردیا اور تمام ورثاء کے حقوق شریعت میں مقرر کردیئے۔ اب یہ لازمی بات ہے کہ جو شخص بھی ایسی اچھی تعلیم کو سنے گا اس کادل پکاراٹھے گا کہ یہ تعلیم درست ہے۔ پس فرماتا ہے کہ اگر تیری تعلیم فلسفیانہ اور پیچیدہ ہوتی تو لوگوں کا تجھے قبول کرنامشکل ہوا۔ مگر ہم نے جو تعلیم تجھے دی ہے وہ فطرت کے عین مطابق ہے۔ جو بھی پاکیزہ فطرت رکھنے والا انسان اس تعلیم کو سنتا ہے فوراً کہہ اٹھتا ہے آمنا و صدقنا۔ میں ایمان لایا اور میں اس کی صداقت کو قبول کرتا ہوں۔
    مجھے ایک لطیفہ ہمیشہ یاد آیا کرتا ہے۔ لدھیانہ کے ایک دوست میاں نظام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بہت تعلق رکھا کرتے تھے اورمولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے بھی وہ دوست تھے۔ جب انہوں نے مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کی زبان سے سنا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں تو انہوں نے خیال کیا کہ مرزا صاحب تو بڑے نیک آدمی ہیں معلوم ہوتا ہے لوگ ان پر غلط الزام لگاتے ہیں یا ان کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے ورنہ وہ قرآن کے خلاف ایسا دعوی دنیا کے سامنے کیوں پیش کرتے ۔چنانچہ انہوں نے طے کیا کہ میں خود قادیان جائوں گا اور مرزا صاحب کو سمجھائوں گا کہ وہ اس قسم کا دعوی ترک کر دیں اور امید ظاہر کی کہ مرزا صاحب میری بات ضرور مان جائیں گے ۔ کیونکہ وہ قرآن کے خلاف کوئی بات اپنی زبان سے نہیں نکال سکتے۔ اس فیصلے کے بعد وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں حضرت مسیح َموعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہاں یہ درست ہے ۔ وہ بولے میں نے تو سمجھا تھا کہ لوگ یونہی غلط باتیں مشہور کر رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ یہ درست ہے۔اچھا بتائیے جب قرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو آپ خلافِ قرآن ایسا دعویٰ کیوںکر رہے ہیں ؟حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میاں نظام الدین صاحب! میں تو قرآن کی ہر بات مانتا ہوں اگر قرآن سے حیاتِ مسیح ثابِت ہو جائے تو میں آج ہی اپنی بات چھوڑنے کیلئے تیار ہوں۔وہ کہنے لگے بس یہی میں کہتا تھا کہ مِرزا صاحب قرآن کے خلاف نہیں جا سکتے ضرور اُنہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اگر اُن پر یہ حقیقت روشن کر دی جائے کہ حضرت عیسیٰ ؑ زندہ ہیں تو وہ اپنی بات بِالکل چھوڑ دیں گے اچھا اب اس بات پر مضبوط رہئے اگر میں سو آیات ایسی لے آیا جن سے حیاتِ مسیحؑ ثابت ہوتی ہو تو کیا آپ اپنا دعویٰ چھوڑ دیں گے؟حضرت مسیح موعودعلیہ ا لسلام نے فرمایا سو آیات کا ذکر ہے ہم تو قرآن کا ایک ایک لفظ مانتے ہیں اگر آپ ایک آیت بھی لے آئیں تو میں اپنا دعویٰ چھوڑنے کیلئے تیار ہوں۔ یس پر وہ کہنے لگے اچھا اگر سو آیات نہ ہوئیں اور صرف چالیس پچاس آیتیں ہوئیں تب بھی آپ اپنا دعویٰ چھوڑ دیں گے؟حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے فرمایا میں تو کہہ چکا ہوں کہ آپ ایک آیت ہی لے آئیں پچاس آیات کے لانے کی کیا ضرورت ہے۔ کہنے لگے اچھا دس آیات تو میں ضرور لے آئوں گا ۔ یہ کہہ کر وہ قادیان سے چلے اور سیدھے لاہور پہنچے ۔ لاہور میں ان دنوں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جموں سے چھٹی پر آئے ہوئے تھے اور مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ کیلئے شرائط کا تصفیہ کر رہے تھے ۔ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کو فخر کی بہت عادت تھی انہوں نے اشتہار شائع کیاہوا تھا کہ مرزاصاحب تو میرے مقابلہ میں نہیں نکلتے اب نورالدین آیا ہوا ہے میں دیکھوں گا کہ وہ میرے پنجہ سے کس طرح نکلتا ہے۔ بہت دنوں تک شرائط کا تصفیہ ہوتا رہا مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ حضرت خلیفہ اول ؓ فرماتے تھے کہ ہمارے تمام جھگڑوں کیلئے قرآن کریم حکم ہے۔ ہمیں اس سے فیصلہ کرنا چاہئے۔ مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کہتے تھے کہ حدیثیں بھی ضرور شامل کرنی چاہئیں۔ آخر کئی دن کی بحث کے بعد حضرت خلیفہ اولؓ نے مان لیا کہ اچھا قرآن کے علاوہ بخاری کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔ جب حضرت خلیفہ اولؓ نے یہ آخری جواب دیا تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی چینیاں والی مسجد میں بیٹھے بڑے زور سے لاف زنی کررہے تھے کہ نورالدین نے یوں کہا اور میں نے اس کی دلیل کو یوں توڑا۔ اس نے اِس طرح کیا اور میں نے اسے اس طرح رگیدا۔ اور آخر میں نے منوالیا کہ قرآن کے علاوہ اس موضوع کیلئے بخاری بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ ابھی وہ یہ باتیں کرہی رہے تھے کہ میاں نظام الدین صاحب جا پہنچے اور کہنے لگے چھوڑیں بھی اب آپ یہ کیا باتیں کررہے ہیں۔ مجھے دس آیتیں ایسی لکھ دیں جن میں حیاتِ مسیح کا ذکر آتا ہو۔ میں قادیان گیا تھا اور مرزا صاحب سے منوا کر آیا ہوں کہ اگر میں دس آیتیں ایسی لے آیا تو وہ اپنے دعوے سے دست بردار ہوجائیں ہوئیں گے۔ اس لئے ان جھگڑوں کو رہنے دیجئے اور جلدی سے مجھے دس آیتیں ایسی لکھ دیجئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر قرآن سے حیات مسیح ثابت ہوگئی تو پھر آپ کو شاہی مسجد لاہور میں اپنے عقیدہ سے توبہ کرنی پڑے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہاں مجھے یہ شرط منظور ہے۔ میاں نظام الدین صاحب اس پر بڑے خوش تھے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب سے بھی انہوں نے کہا آپ یہ کیا بحث مباحثہ لیے بیٹھے ہیں۔ مجھے دس آیتیں لکھ دیجئے میں ابھی مرزا صاحب کو لاہور لا کر شاہی مسجد میں ان سے توبہ کرادوں گا۔ مولوی محمد حسین صاحب جو اسی وقت اپنے ساتھیوں میں فخر کررہے تھے کہ میں نے نورالدین کویوں پکڑا اور اسے یوں رگیدا، انہوں نے جب یہ بات سنی تو ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور انہوں نے کہا احمق تجھے کس نے کہا تھا کہ بیچ میں دخل دیتا۔ میں دو مہینے بحث کر کر کے اس مضمون کو حدیث کی طرف لایا تھا تو پھر قرآن کی طرف لے گیا۔ وہ آدمی نیک تھے جونہی یہ الفاظ ان کے کان میں پڑے ان پر سناٹا چھاگیا۔ تھوڑی دیر وہ خاموش رہے جیسے انسان کسی نئے صدمہ کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے اور پھر ایک آپ کھینچ کر کہنے لگے مولوی صاحب اگر یہی بات ہے تو پھر جدھر قرآن ہے ادھر ہی ہم ہیں۔ یہ کہہ کر وہ وہاں سے واپس آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہوگئے۔ تو دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بات چونکہ فطرت کے مطابق تھی میاں نظام الدین صاحب اس کا مقابلہ نہ کرسکے۔ یہی قرآنی تعلیم کا حال ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کو جو بھی حکم دیا ہے اس میں ہر قسم کی فطرت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص کہے کہ قرآن کا فلاں حکم ناقابل عمل ہے یا فطرت انسانی کے خلاف اس میں تعلیم دی گئی ۔ ہر حکم اپنی ذات میں کامل ہے اور ہر حکم ایسا ہے جس پر آسانی کے ساتھ عمل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن باقی مذاہب میں یہ خوبی نہیں پائی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف اوقات میں اپنے لئے حکومتوں سے کئی قسم کے قوانین نافذ کرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان خامیوں کا ازالہ ہوسکے جو ان کے مذہب میں پائی جاتی ہیں۔ ہندو بھی آج کل اسی رَو میں بہہ رہے ہیںاور وہ اپنے لئے ایسا لاء تیار کرنا چاہتے ہیں جو موجودہ زمانے کے حالات کے مطابق ہو۔ لیکن دراصل وہ جو کچھ کررہے ہیں قرآن کی نقل ہے اور اگر کسی جگہ وہ اس تعلیم سے انحراف کریں گے تو لازماً ٹھوکر کھائیں گے۔ اور اس کے غلط نتائج انہیں جلد ہی نظر آنے لگ جائیں گے۔ غرض فرماتا ہے ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک۔ اے محمد رسول اللہ ﷺ کیا ہم نے تجھے یہ سامان نہیں بخشا کہ ایک طرف تجھے ہم نے ایسے ساتھی دیئے جنہوں نے تیرا بوجھ اٹھالیا اور دوسری طرف ہم نے تجھے ایسی تعلیم دی جو خود بخود فطرت کے اندر نفوذ کرتی چلی جاتی ہے کوئی روک اس کی اشاعت میں حائل نہیں ہوتی۔
    رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جب کفار مکہ کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو حضرت ابوبکرؓ نے ارادہ کرلیا کہ میں بھی مکہ کو چھوڑ کر کہیں باہر چلا جائوں۔ ایک دن آپ اسی ارادہ سے باہر جارہے تھے کہ راستہ میں آپ کو مکہ کا ایک رئیس ملا اور اس نے دریافت کیا کہ آپ کہا جارہے ہیں؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ میں یہاں سے ہجرت کرکے کہیں باہر جارہا ہوں۔ اس نے کہا ہجرت؟ وہ شہر نہ اجڑ جائے جس میں سے تم سا انسان نکل جائے۔ میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں ۔ آئندہ تمہیں کوئی شخص دکھ نہ دے گا۔ حضرت ابوبکرؓ واپس آگئے اور اس رئیس نے اعلان کردیا کہ ابوبکرؓ میری پناہ میں ہیں۔ مکہ والے پناہ کا بڑا لحاظ کیا کرتے تھے۔ چنانچہ اس اعلان کے بعد ایسا ہی ہوا کہ مکہ والوں نے حضرت ابوبکرؓ کو دکھ دینا ترک کردیا اور آپ آزادانہ رنگ میں مکہ کے گلی کوچوں میں پھرتے۔ حضرت ابوبکرؓ کی طبیعت حضرت ابراہیمؑ کی طبیعت سے ملتی تھی اور سوز و گداز کا مادہ آپ میں بہت زیادہ تھا۔ جب صبح کے وقت آپ اٹھتے تو قرآن کریم کی تلاوت نہایت سوز اور رقت کے ساتھ کرتے اور آپ کی آنکھوں سے آنسوبہتے جاتے تھے۔ مکہ کی عورتیں اور بچے جب اس نظارہ کو دیکھتے وہ اکٹھے ہوجاتے اور نہایت توجہ کے ساتھ کان لگا کر سنتے کہ ابوبکرؓ کیا پڑھ رہے ہیں۔ جب ایک طرف ابوبکرؓ کی رقت اور گریہ زاری کو دیکھتے اور دوسری طرف قرآن کریم کی نہایت اعلیٰ درجہ کی تعلیم ان کے کانوں میں پڑتی تو وہ بے اختیار ہوکر کہنے لگ جاتے کہ واہ واہ یہ کیسی اچھی باتیں ہیں۔ یہ اثر روز بروز بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مکہ والوں کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ اگر ابوبکرؓ اسی طرح قرآن پڑھتے رہے تو ہماری عورتیں اور بچے سب مسلمان ہوجائیں گے۔ چنانچہ وہ اکٹھے ہوکر اس رئیس کے پاس گئے جس نے ابوبکرؓ کو اپنی پناہ میں لیا تھا۔ اور کہا کہ اپنی پناہ واپس لے لو ورنہ ہمارا دین بگڑ جائے گا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح قرآن کریم لوگوں کے دلوں میں دھنستا جاتا تھا۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کا واقعہ ہے وہ نکلے تو اس ارادہ سے تھے کہ رسول کریم ﷺ کو قتل کریں مگر جب انہیں اپنی بہن سے قرآن سننے کا موقع ملا اور چند آیتیں ہی کان میں پڑیں تو ان کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگ گئے اور اسی حالت میں کہ تلوار ان کے ہاتھ میں تھی رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عمر کس ارادے سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ میں تو غلام بننے کیلئے حاضر ہوا ہوں۔ قرآن کریم کی اسی معجزانہ تعلیم کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے جس میں رسول کریم ﷺ کے دل پر سے اس بوجھ کو کہ میں لوگوں کو منوائوں گا کس طرح بالکل ہلکا کردیا تھا۔
    ورفعنا لک ذکرک O اور تیرے ذکر کو ہم نے بلند کردیا۔
    تفسیر: تیسری چیز جو ترقی کیلئے ضروری ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کی توجہ اس طرف منعطف ہوجائے ۔ دراصل دشمن کی توجہ کو کھینچنا سب سے اہم بات ہوتی ہے اور صرف وہی چیز لوگوں کی دشمنی کو کھینچی ہے جو اپنے اندر غلبہ کے آثار رکھتی ہے۔ نادان سمجھتے ہیں کہ مخالفت بری چیز ہے حالانکہ یہ سب سے اچھی چیز ہے۔ طبائع میں جوش اسی چیز کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جس کے متعلق لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اس کا مقابلہ نہ کیا تو ہمیں نقصان پہنچائے گی اور ہمارے عقائد اور خیالات کا باطل ہونا ثابت کردے گی۔ جب تک یہ احساس لوگوں کے اندر پید انہ ہو اس وقت تک ان کی طرف سے کبھی شدید مخالفت نہیں ہوتی۔ جب انبیاء علیہ السلام دعویٰ کرتے ہیں تو سارے ملک میں ان کے خلاف جوش پیدا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں یہ تعلیم جو ان کی طرف سے پیش کی جارہی ہے ایسی ہے کہ ایک دن ضرور غالب آجائے گی۔ یہی حال سچے دنیوی علوم کا ہوتا ہے کہ جب کوئی نئی تحقیق لوگوں کے سامنے پیش کی جائے تو لوگ اس کی ضرور مخالفت کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے دلوں میں یہ ڈر پیداہوجاتا ہے کہ اگر ہم نے مخالفت نہ کی تو ہمارا نظریہ اس کے مقابلہ میں باطل ہوجائے گا۔ گلیلیو نے جب پرانے علم ہیئت کے خلاف دنیا میں یہ اعلان کیا کہ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے تو پادریوں نے اس کے خلاف فتوے دے دیئے یہاں تک کہ پوپ نے بھی کہا کہ یہ شخص جان سے ماردینے کے قابل ہے۔ کیونکہ بائبل کی تعلیم کے صریح خلاف ایک نیا نظریہ لوگوں کے سامنے پیش کررہا ہے۔ آخر اسے اتنا دکھ دیا گیا کہ گلیلیو کو اعلان کرنا پڑا کہ معلوم ہوتا ہے میرے اوپر شیطان سوار تھا جس نے مجھے اس غلط راہ پر ڈال دیا۔ بائبل تو لکھا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے مگر مجھ بیوقوف کو یہ دکھائی دیا زمین سورج کے گر دچکر لگاتی ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ نظر تو مجھے اسی طرح آتا ہے کہ زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے مگر چونکہ بائبل کہتی ہے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ میرا دماغ خراب ہوگیا ہے اورشیطان میرے سر پر سوار ہے۔ پادری اس اعلان پر خوش ہوگئے اور انہوں نے سمجھا کہ گلیلیو نے توبہ کرلی۔ حالانکہ یہ اعلان خود بتارہا تھا کہ اس نے توبہ نہیں کی محض پادریوں کو خوش کرنے کیلئے اس نے ایسے الفاظ میں اعلان کردیا جس سے وہ دھوکہ کھاگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ گلیلیو نے اپنے نظریہ کو ترک کردیاہے۔ غرض مادی دنیا ہو یا روحانی اس میں جب بھی کوئی ایسی بات نکلتی ہے جس کے خلاف لوگوں کے عقائد ہوتے ہیں تو لوگ اس کی مخالفت شروع کردیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ بات دنیا میںپھیل گئی تو ہم جس تعلیم کو پیش کرتے ہیں وہ دنیا میں کبھی قائم نہیں رہ سکتی۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعد میں صداقت کو بہرحال تسلیم کرلیا جاتا ہے۔ مگر ابتداء میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگ مخالفت کرتے ہیں اور ہر قسم کی تدابیر سے سچائی کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ورفعنا لک ذکرک ہم نے تیرا ذکر بلند کردیا۔ یہاں ذکر کا بلند ہونا ماننے کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ دنیا میں ہر جگہ تیرا ذکر ہور ہا ہے چاہے اچھے رنگ میں ہو یا برے رنگ میں۔ تعریف کے رنگ میں ہو یا مذمت کے رنگ میں۔ بہرحال ہر مجلس اورہر محفل اور ہر گھر اور ہر خاندان میں تیرا نام بلند ہورہا ہے۔ اور ایک شور ہے جو تیری وجہ سے برپا ہے۔ کوئی کہتا محمد ﷺ یہ کیا بات کرتے ہیں کہ خدا ایک ہے اور بت کوئی چیز نہیں۔ ہم تو باپ دادا سے ان بتوں کو مانتے چلے آئے ہیں۔ اس کے کہنے کی وجہ سے بتوں کی پرستش کو کس طرح ترک کردیں۔ کوئی کہتا محمد ﷺ کوئی غلط بات تو نہیں کہہ رہا تم بے شک اپنے بتوں کو جوتیاں ما رکر دیکھ لو وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ پھر کوئی اور بول اٹھتا اور کہتا کہ یہ فتنہ بڑھتا جارہا ہے آئو ہم لوگوں سے یہ کہنا شروع کردیں کہ محمد (ﷺ) پاگل ہوگیا ہے۔ اس پر ایک چوتھا شخص کہہ اٹھتا کچھ ہوش کی دوا کرو کیا وہ پاگل ہے؟ اگر پاگل ہوتا تو ایسے ایسے سمجھدار اشخاص اس کی طرف کیوں کھچے چلے جاتے۔ اس پر ایک پانچواں شخص کہتا پاگل تو نہیں مگر شاعر ضرور ہے مگر پھر انہی میں سے کوئی بول اٹھتا اس کی کتاب تو دیکھو کیا وہ شعروں میں ہے اگر نہیں تو تم اسے شاعر کس طرح کہہ سکتے ہو۔ کوئی اور کہتا اصل میں وہ نہ پاگل ہے نہ شاعر ۔ بلکہ درحقیقت کاہن ہے اور کاہنوں کی طرح غیب کی بعض خبریں دے دیتا ہے۔ اس پر پھر بعض لوگ انہی میں سے کھڑے ہوجاتے اور کہتے وہ کاہن کس طرح ہے وہ تو کاہنوں کو جھوٹا کہتا ہے۔ غرض رسول کریم ﷺ کی مخالفت کا ایک سلسلہ تھا جو ہر مجلس اور ہر خاندان میںجاری تھا۔ جہاں بھی دیکھو یہی ذکر ہوتا تھا کہ محمد (ﷺ) نے بہت بڑا فتنہ پید اکردیا ہے۔ اس فتنہ کے سدباب کیلئے اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ مخالفت کا یہ جوش و خروش اور رسول کریم ﷺ کی تذلیل کی یہ کوششیں ثبوت تھیں اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعلیم میں ایسی کشش رکھی تھی کہ دنیا سمجھتی تھی اس کا ہمارے ساتھ ٹکرائو ہماری تباہی اور بربادی کا موجب بننے والاہے۔ یہی تیسری چیز ہے جو کامیابی کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ لوگ شور مچاتے ہیں ، مخالفت کیلئے پورے جوش سے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ہر قسم کی تدابیر سے اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ ایسا کرتے ہیں سعادت مند طبائع تحقیق کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ اور آخر اس مخالفت کے نتیجہ میں وہ ایمان لے آتی ہیں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دوست جو بہت بڑے شاعر تھے لغت کی انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کی دو تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں ریاست رامپور ان کو اس کام کیلئے وظیفہ دیا کرتی تھی، قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ آپ کو ہمارے سلسلہ کی طرف کیسے توجہ پیدا ہوئی؟ انہوں نے بڑی سادگی سے جواب دیا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ذریعہ سے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کس طرح؟ انہوں نے عرض کیا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا رسالہ ’’اشاعۃ السنۃ‘‘۔ ہمارے ہاں آیا کرتا تھا میں یہ تو جانتا ہی تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بہت بڑی شہرت رکھنے والے اور سارے ہندوستان میں مشہور ہیں مگر ان کے رسالہ کو دیکھ کر بار بار میرے دل میں خیال آتا کہ اگر ان کے دل میں اسلام کا واقعی درد تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ مدرسے جاری کرتے، قرآن اور حدیث کے درس کا انتظام کرتے، لوگوں کو اسلامی احکام پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلاتے۔ مگر انہیں یہ کیا ہوگیا ہے کہ سارے کام چھوڑ کر بس ایک بات کی طرف ہی متوجہ ہوگئے ہیں اوردن رات احمدیت کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔ اس میں ضرور کوئی بات ہے۔ چنانچہ مجھے ان کی مخالفت سے تحقیق کا خیال پیدا ہوا اور میں نے کسی شخص سے اپنے اس شوق کا اظہار کیا۔ اس نے مجھے ’’درثمین‘‘ پڑھنے کیلئے دی۔ میں نے اس میں رسول کریم ﷺ کی تعریف میں جب آپ کا کلام دیکھا تو میں نے کہا لو پہلا جھوٹ تو یہیں نکل آیا کہ کہا جاتا تھا کہ مرزا صاحب رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں۔ حالانکہ جو عشق رسول کریم ﷺ کا آپ کے دل میں پایا جاتا ہے اس کی موجودہ زمانے میں نظیر ہی نہیں ملتی۔ اس کے بعدمیں نے مزید تحقیق کی اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ احمدیت سچی ہے۔ اسی طرح ہر سال مجھے دس بیس خطوط ضرور ایسے آجاتے ہیں جن میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ جب ہم نے احمدیت کی مخالفت میں کتابیں پڑھیں تو ہمارے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہم جماعت احمدیہ کی کتابیں بھی پڑھ کر دیکھیں۔ چنانچہ ہم نے آپ کی کتب کا مطالعہ کیا اور ہمیں معلوم ہوا کہ سچے عقائد وہی ہیں جو آپ کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔ لوگوں کی طرف سے مخالفت میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ بالکل جھوٹ ہے اس لئے ہم آپ کی بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔ اسی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ہمارا تجھ پر کتنا بڑا احسان ہے کہ آج ہر مجلس میں تیرا ذکر ہورہا ہے۔ سیاستدان کہتے ہیں اب کیا ہوگا محمد (ﷺ)نے دعویٰ کردیا ہے۔ عالم کہتے ہیں اب کیا ہوگا محمد (ﷺ) نے دعویٰ کردیا ہے۔ تاجر کہتے ہیں اب کیا ہوگا محمد (ﷺ) نے دعویٰ کردیا ہے۔ کاہن کہتے ہیں اب کیا ہوگا محمد (ﷺ) نے دعویٰ کردیا ہے۔ غرض ہر سننے والا کہتا ہے کہ اب کچھ ہونے والا ہے۔ اب دنیا میں کوئی نہ کوئی انقلاب پیدا ہونے والا ہے۔ پس ورفعنا لک ذکرک کے ایک معنے یہ ہیں کہ ہم نے تیرے ذکر کر اس قدر بلند کردیا ہے کہ ہر مجلس اور ہر نادیہ میں تیرا ذکر ہونے لگا ہے۔ لوگوں کی طبائع میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا ہے اور وہ اس بات پر مجبور ہوگئے ہیں کہ تیری طرف توجہ کریں۔ اس کا نتیجہ تیرے حق میں لازماً اچھا ہوگا کیونکہ لوگ جب غور کریں گے تو ان پر تیری صداقت واضح ہوجائے گی۔ اس کی ایک موٹی مثال دیکھ لو ورقہ بن نوفل رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے مکہ میں مسیحیت کا پرچار کرتے رہتے تھے۔ مگر مکہ والوں میں کوئی شور نہ تھا۔ وہ ان کی باتوں کو سنتے اور ہنس کر چلے جاتے۔ مگر رسول کریم ﷺ نے جب توحید کی آواز بلند کی ، عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مخالفت کی ایک لہر دوڑ گئی اور ہر شخص آپ کو کچلنے کیلئے کھڑ اہوگیا۔ اسی طرح زید بن عمرو جو حضرت عمرؓ کے چچا زاد بھائی تھے وہ بھی رسول کریم ﷺ کے دعویٔ نبوت سے قبل توحید کی تبلیغ کیا کرتے تھے۔ مگر کبھی ان کی مخالفت نہیں ہوئی۔ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے ان کو کھانے کی دعوت دی انہوں نے کہا میں مشرکوں کا کھانا نہیں کھاتا۔ آپ نے فرمایا میں نے تو کبھی شرک نہیں کیا۔ اس زید جیسے کٹر مؤحد کی لوگوں نے کبھی مخالفت نہیں کی مگر رسول کریم ﷺ نے جب بتوں کے خلاف آواز بلند کی تو سارا عرب آپ کا مخالف ہوگیا کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا کہ زید کی زبان سے تو ہمارے بت نہیں ٹوٹے تھے مگر یہ وہ زبان ہے جو ہمارے بتوں کو توڑ کر رکھ دے گی۔ بس ورفعنا لک ذکرک کے ایک معنے یہ ہیں کہ ہم نے تمام لوگوں کی توجہ تیری طرف پھیر دی ہے۔ ہر شخص سمجھتاہے کہ یہ دنیا میں کچھ نہ کچھ کرکے رہے گا۔ اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس آیت کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ ہم نے تیری قبولیت دنیا میں پھیلادی ہے۔ درحقیقت کامیابی کے ساتھ اس امر کا بھی تعلق ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے دنیا میں قبولیت کے آثار پیدا کردیئے جائیں۔ حدیثوں میں آتا ہے جب خداتعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنی محبت کیلئے منتخب فرماتا ہے تو اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو چن لیا ہے تم بھی اسی سے محبت کرو اور لوگوں کے دلوں میں اس کی قبولیت پیدا کرو۔ چنانچہ آہستہ آہستہ تمام دنیا میں اس کی قبولیت پید اہوجاتی ہے۔ یہ معنی بھی اس آیت کے ہیں فرماتا ہے کہ گو یہ لوگ تیری مخالفت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی تیری بڑائی اور عظمت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جب وفات ہوئی تو کئی غیراحمدیوں اور ہندوئوں نے مضامین لکھے جن میں انہوںنے آپ کی بڑائی اور عظمت کا ذکر کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گو وہ ظاہر میں آپ کی مخالفت کرتے تھے مگر ان کے دل آپ کی عظمت کے قائل تھے۔ یہ قبولیت اور عظمت کسی مفتری انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پس فرماتا ہے دنیا میں مخالفتیں کرنے والے مخالفتیں کرتے ہیں مگر ان کی مخالفت کا پہلو یکطرفہ ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی مخالفت کے ساتھ اس کی عظمت کے بھی قائل ہیں مگر یہاں یہ حالت ہے کہ یہ لوگ تیرے دشمن بھی ہیں اور تیری طاقت اور عظمت کے بھی قائل ہیں۔ کہتے ہیں کہ تو بڑا جھوٹا ہے مگر ساتھ ہی کہتا ہے کہ تو بڑا امین ہے۔ سننے والاسنتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ یہ کیا متضاد باتیں کہہ رہے ہیں۔ ایک کہتا ہے وہ شاعر تو ہے مگر شعر نہیں کہتا یا کاہن تو ہے مگر کاہنوں کا دشمن ہے۔ گویا جہاں وہ الزام لگاتے ہیں وہاں ساتھ ہی ایک رنگ میں عظمت اور نیکی کا بھی اقرار کرجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس آیت کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر پھیلنا شروع ہوجائے گا۔ چنانچہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت جلد آپ کا ذکر سارے عرب میں پھیل گیا تھا۔ اور لوگ ایمان بھی لانے لگے تھے۔ چنانچہ ابوذر غفاریؓ غفار میں ، بعض لوگ یمن میں، بعض مدینہ میں مکی زندگی میں ہی ایمان لے آئے اور اس طرح آپ کا سلسلہ مختلف ممالک میں پھیل گیا۔
    فان مع العسر یسرا O ان مع العسر یسرا O پس (یاد رکھوکہ) اس تنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی (مقدر) ہے(ہاں) یقینا اس تنگی کے ساتھ ایک (اور بھی) بڑی کامیابی (مقدر) ہے۔
    تفسیر: عربی قواعد کی رو سے تنوین ہمیشہ بڑائی اور عظمت کے اظہار کیلئے آتی ہے۔ پس اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ یقینا اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔ ہاں ہاں اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔ گویا اصل مقصد تنگی کا ذکر کرنا نہیں بلکہ اصل مقصد یسر کی بڑائی اور اس کی اہمیت پر زور دینا ہے۔ لیکن بعض نحوی کہتے ہیں کہ آیت میں یسراً کا نکرہ کا استعمال اور پھر اس کا تکرار بتارہا ہے کہ یہاں ایک نہیں بلکہ دو یسر مرا د ہیں۔ بے شک عسر ایک ہی ہے مگر یسر دو ہیں۔ ان کے نزدیک اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ یقینا اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔ یقینا اس تنگی کے ساتھ ایک بہت بڑی آسانی ہے۔ کویا نکرہ کا تکرار اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یسر دو ہیں اور یسر کی تنوین بتاتی ہے کہ ہر یسر بہت بڑی شان کا ہے۔ ان دوسرے معنوں کی احادیث سے بھی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ ایک دفعہ ہنستے ہوئے اپنے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے دیکھاہے کہ عسر یسر کے پیچھے دوڑا چلا جارہا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا ایک عسر دو یسر پر غالب نہیں آسکتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشفاً رسول کریم ﷺ کو اس آیت کا یہی مفہوم سمجھایا گیا ہے کہ یسر دو ہیں اور عسر ایک ہے ۔
    اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ دو یسر کون سے ہیں جن کا اس آیت میں ذکر آتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو پورے طور پر اسی وقت سکون حاصل ہوتا ہے جب ذہنی اور خارجی طور پر دونوں لحاظ سے اسے اطمینان کے سامان میسر ہوں۔ اگر کوئی شخص ایسا ہو جس کی باتوں کی لوگ تردید کرتے ہوںتو گو وہ اسے مارپیٹ نہیں رہے ہوتے اور خارجی طور پر اسے کوئی دکھ نہیں ہوتا مگر ذہنی طور پر اس کے اندر ایک خلش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اور وہ اطمینان جس کا انسان متلاشی ہوتا ہے اسے پورے طور پر میسر نہیں ہوتا۔ ہم ایسے شخص کو دیکھ کر یہی کہیں گے کہ گو اسے خارجی طور پر یسر میسر ہے مگر ذہنی طور پر عسر میں مبتلا ہے۔ لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جن کی تردید نہیں کرتے لیکن موقع ملے تو مارپیٹ لیتے ہیں۔ قصہ مشہور ہے کہ ایک جاٹ کے کھیت کے پاس ایک دفعہ کسی شخص نے آکر ڈیرہ لگالیا اور اس نے لوگوں سے کہنا شروع کردیا کہ میں خدا ہوں۔ کئی مشٹنڈے اس نے اکٹھے کرلئے جو اردگرد کے گائوں سے بھی مانگ لاتے اور جو شخص وہاں آتا اسے کہتے کہ یہی خدا ہے ان کو سجدہ کرو۔ وہ زمیندار روزانہ یہ نظارہ دیکھتا مگر کچھ کر نہ سکتا۔ چونکہ وہ اکیلا تھا اور اس شخص کے ارد گرد ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔ ایک دن اتفاقاً سب لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور وہ جو اپنے آپ کو خدا کہتا تھا اکیلا رہ گیا۔ زمیندار نے اس موقع کو غنیمت سمجھا وہ ہل چھوڑ کر فوراً اس کے پاس گیا اور دو زانو بیٹھ کر کہنے لگا میں حضور سے یہ دریافت کرنے آیا ہوں کہ کیا حضور ہی خدا ہیں؟ اس نے کہا ہاں میں ہی خدا ہو۔ یہ سنتے ہی اس نے کود کر اس کی گردن پکڑ لی اور زور سے اسے ایک گھونسہ مار کر کہا اچھا میرے باپ کی تم نے ہی جان نکالی تھی۔ پھر ایک اور گھونسہ مار کر کہا اچھا میری ماں کی تونے ہی جان نکالی تھی۔ پھر ایک اور گھونسہ مار کرکہا اچھا تونے ہی میری بہن کی جان نکالی تھی۔ اس طرح ایک ایک کرکے وہ اپنے مردہ رشتہ داروں کے نام لیتا گیا اور گھونسے پر گھونسہ مارتا چلا گیا۔ ابھی پانچ دس گھونسے ہی لگے تھے کہ وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑ اہوگیا اور کہنے لگا مجھے معاف کرو میں خدا نہیں ہوں۔ تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ دلیلیں نہیں دیتے ڈنڈے لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسے شخص کو خارجی لحاظ سے عسر ہوتا ہے مگر ذہنی لحاظ سے عسر نہیںہوتا۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو خارجی لحاظ سے تو اطمینان حاصل ہوتا ہے مگر اس کے ذہن میں سکون نہیں ہوتا۔ وہ ایک تعلیم کو مان رہا ہوتا ہے مگر بار بار اس کے دل میں یہ خیال بھی اٹھتا ہے کہ نامعلوم یہ تعلیم سچی بھی ہے یا نہیں۔ کامل اطمینان اور کامل سکون وہی شخص حاصل کرسکتا ہے جسے خارجی لحاظ سے بھی اطمینان ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ہمارے رسول! بیشک آج دنیا تیرے ساتھیوں کو سخت سے سخت تکالیف پہنچارہی ہے مگر ہم عنقریب ان کو دونوں قسم کے اطمینان دینے والے ہیں۔ پہلا اطمینان جو ان کو میسر آئے گا وہ ذہنی ہوگا۔ یعنی تیری جماعت کا ہر فرد ذہنی لحاظ سے اس بات پر مطمئن ہوگا کہ اس نے سچائی کو قبول کیا ہے، راستی کو اختیار کیا ہے، نجات کے طریق کو پسند کیا ہے۔ یہ خلش اور دبدہ اس کے اندر نہیں ہوگاکہ نہ معلوم جس راہ پر میں چل رہا ہوں وہ خدا تک انسان کو پہنچاتا ہے یا نہیں پہنچاتا۔ اس کے بعد خارجی لحاظ سے بھی ہم ان کے اطمینان کے سامان پیدا کردیں گے یعنی دشمن کی تکالیف کا سلسلہ جاتا رہے گا۔ ان کو کامیابی حاصل ہوجائے گی اور وہ تنگی جو آج محسوس کی جارہی ہے بالکل دور ہوجائے گی گویا وہ دو یسر ہیں جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ ذہن اور خارجی اطمینان کے سامان ہیں۔ یعنی ہم قوم کو باایمان بنانے کیلئے اس کے تمام شکوک و شبہات کو مٹا کر اسے یقین کی ایک مضبوط چٹان پر کھڑا کردیں گے اور خارجی لحاظ سے ان تمام مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کردیں گے جو دشمن کی طرف سے انہیں پیش آرہی ہیں اور وہ غالب اور بادشاہ ہوجائیں گے جس کی وجہ سے کوئی انہیں جسمانی عذاب نہ دے سکے گا۔
    دوسرے معنے دنیوی اور اخروی انعامات کے ہیں۔یعنی تمہیں دنیا کے بھی انعامات ملیں گے اور آخرت کے انعامات بھی تمہیں عطا کئے جائیں گے۔ اگر کوئی کہے کہ اخروی انعامات کے ملنے کا کیا ثبوت ہے تو اسکا جواب یہ ہے کہ رئویا وکشوف اور الہامات جن سے اللہ تعالیٰ کے مومن بندے اس دنیا میں اپنی استعداد کے مطابق حصہ لیتے ہیں ۔وہ اس بات کا ثبوت ہوتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اخروی نعماء کے متعلق جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ بالکل درست ہے ۔
    اس آیت کے یہ بھی معنی ہیںکہ جب کبھی اسلام پر تنگی اور مصیبت کا زمانہ آئے گا اللہ تعالیٰ اس کے بعد ترقی کا ایک نیا دور پیدا کر دیا کرے گا ۔گویا اسلام کے ایک دفعہ قائم ہو جانے اور اس کے ہلاکت سے بچ جانے کے بعد ہر موقع پر اس کی ترقی کے نئے سے نئے سامان پیدا ہوتے رہیں گے۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ اسلام ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو جائے اور کفر کو غلبہ حاصل ہو جائے۔ گویا حفاظت اسلام کا وعدہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بشارت دی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید ہمیشہ اس مذہب کے ساتھ ہوگی اور وہ ہمیشہ تنزل کے بعد اس کی ترقی کے سامان پیدا کرتا رہیگا۔ دو کے لفظ کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں بعثت محمدی اور بعثت احمدی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اس زمانے میں کفر نے خاص جوش ماراہے مگر ہم اس کفر کو توڑنے کے لئے محمدرسول ﷺ کی دو روحانی بعثتیں کریں گے تا اس کا زور با لکل ٹوٹ جائے۔
    فاذا فرغت فا نصبo پس جب (بھی) تو فارغ ہو تو ( دوسرے مقصد کے حصول کے لئے ) پھر کوشش میں لگ جا
    حل لغات: فرغت، فرغ سے واحد مخاطب مذکر کا صیغہ ہے اور فرغ کے کئی معنی ہوتے ہیں ۔جب فرغ من العمل کہیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں خلا ذرعہ وہ کسی کام سے فارغ ہو گیا اور جب فرغ لہ والیہ تو معنی ہوتے ہیں قصد۔ اس نے کسی چیز کا ارادہ کیا ۔نیز کہتے ہیں فرغ فلان فروغا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ مات فلاں شخص مر گیا۔ اور جب برتن کیلئے فرغ کا لفظ بولیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں خلا ۔ خالی ہو گیا ۔ نیز فرغ کے معنی کسی کام کو پورا کر دینے کے بھی ہوتے ہیں ۔ چنانچہ کہتے ہیں فرغ فلان من الشئی اتمہ کہ فلاں نے کام کو ختم کر د یا ( اقرب)
    فانصب نصب ینصب سے امر کا صیغہ ہے اور نصب الرجل نصبا کے معنی ہوتے ہیں اعیا وہ تھک گیا ۔اور نصب فی الامر کے معنی ہوتے ہیں جدواجتھد اس نے محنت اور کوشش کی ( اقرب) یہاں فانصب کے معنی محنت اور جدوجہد کرنے کے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاذا فرغت فانصب ۔ جب تو فارغ ہو جائے تو پھر جدوجہد میں مشغول ہو جا۔
    تفسیر: یہاں ایک عجیب بات بیا ن کی گـئی ہے بضا ہر فراغت کے معنی ہو تے ہیں کہ مشکل ہو گئی اور کام ختم ہو گیا مگر اللہ تعا لی فر ما تا ہے جب توفا رغ ہو جاے تو پھر محنت میں مشغو ل ہو جا پس سوال پیدا ہو تا ہے کہ جب فارغ ہونے کے بعدبھی محنت میں مشغول رہنا ہے تو پھر فراغت کیسی ہوئی ؟درحقیقت اس میںاسلام کی ترقی کے متعلق پیشگو ئی کی گئی ہے اور بتا یا گیا ہے کہ کتنا بلند مقصد ہے جو ہم نے اپنے رسول کے سامنے رکھا ہے ۔بعض دفعہ دنیا میںیکدم کوئی تغیر پیدا ہو جا تا ہے اگر وہ دیر پا نہیں ہو تا بلکہ جلد ہی رو بہ زوال ہو جاتا ہے لیکن بعض تغیرات ایسے ہو تے ہیںجوگو تدریجـــاً پیدا ہوتے ہیں مگر ایک لمبے عرصہ تک دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دیتے ہیں اللہ تعا لی رسوللہﷺ کو فرماتا ہے کہ تیری ترقی گو تدریجی ہو گی مگر تیری کو ششو ںکے نتائج مستقل اور دیر پا ہو نگے ۔پہلے ایک مشکل تمہارے سامنے آئے گی اور جب تم اس کو دور کر لو گے اور اپنے پہلے مقام سے اونچے ہو جا ئو گے تو پھر دوسری مشکل پیش آجائے گی اس وقت تمہارا فرض ہوگا کہ اس دوسری مشکل کو دور کرو اور اپنے مقام سے اور اونچے ہو جا ئو جب وہ مشکل بھی حل ہو گئی تو ایک تیسری مہم کو سر کرو اور اپنے مقام سے اور اونچے ہو جاو گو یا ایک دور ہے جو چلتا چلا جائے گا اور غیر متناہی تر قیات ہیں جو تمہا رے سا منے آتی چلی جائینگی کوئی وقت اور کوئی لمحہ تمہاری زند گی میں ایسا نہیں آ سکتا جب تم یہ خیال کر لو کہ میں اپنا کام ختم کر چکا یا میںنے جس بلندی پر پہنچنا تھا پہنچ گیا وہ شخص جو صرف پا نچ ہزارفٹ کی بلندی پر چڑہنا چاہے جب پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ جاے گا اور بیٹھ جا ئے گا اور کہے گا کہ میں جس مقام پر پہنچنا چاہتا تھا پہنچ گیا مگر جس شخص کا یہ مقصد ہو کہ وہ سا ری چڑھا ئیوں پر چڑھتا چلا جائے وہ کسی مقا م پر نہیں رکے گا بلکہ ایک چو ٹی کے بعددوسری چوٹی اور دوسری چوٹی کے بعد تیسری چوتی پر وہ چڑ ھتا چلا جائے گا ۔چونکہ رسول کریم ﷺکے سپرد اللہ تعا ٰلیٰ کی طرف سے جو علمی اور عملی کام کیا گیا تھا اسکی کوئی انتہا نہیں تھی اس لئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں آپ کو مخاطب کر کے فر ماتا ہے ۔اے محمد رسوا للہ ہم نے تیرے لیئے کوئی محدود مقصود مقر ر نہیں کیا بلکہ غیر معمولی تر قیات کادروازہ تیرے لیے کھولا گیا ہے ۔جب تو کسی ایک مہم کو سر کر لے تو سمجھ لے کہ ابھی اس سے او پر کی مہم کو تو نے سر کر نا ہے۔ اور جب دوسری مہم سر ہو جاے تو تُوسمجھ لے کہ تیسری مہم تیرے سا منے کھڑی ہے ۔اور تیرا فرض ہے کہ تُواس کو بھی سر کرے ۔غرض توُنے بلندیوں کی طرف اپنے پورے زور کے سا تھ بڑھتے چلے جانا ہے ۔ اور کسی ایک مقام پر بھی اپنے قدم کو نہیں روکنا ۔گو یا فا ذا فرغت فا نصب میں رسول کریم ﷺ کے غیر متناہی سفرکی طرف کی اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ اپنے کام میں بڑھتے چلے جائینگے اور کوئی وقت ایسا نہیں آئے گا جب یہ کہا جا سکے محمدرسول اللہﷺ اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے اور اب وہ اپنے کام سے فارغ ہو گئے ہیں۔اگر وہ ایک کام سے فا رغ ہو جا ئیں گے تو دوسرا کام شروع کر دیںگے۔ہم جب بچے تھے اس وقت ایک کھیل کھیلا کر تے تھے جو اسی مفہو م کو ادا کرتی ہے۔ایک لڑکا بیٹھ جا تا تھا اور باقی سب لڑ کے اس کے سر پر اوپر نیچے اپنی مٹھیاںبند کر کے رکھتے چلے جاتے اور پھر ایک لڑکا کہتا بھنڈا بھنڈا ریا کتنا کُ بھار
    وہ جواب میں کہتا
    اک مکی چک لے دوجی تیا ر
    یعنی ایک مٹھی سر پر سے ہٹا لو تو دوسری مٹھی اس کی جگہ لینے کو تیار ہے۔اسی طرح فرماتا ہے تمہارے لئے غیر معمولی ترقیات مقدر ہیں جب تم ایک مشکل کو حل کر لو گے تو خدا تعالیٰ دوسری مشکل تمہارے سامنے کھڑی کر دے گا تا کہ تم اس کو حل کر کے زیادہ ترقی کرو اور زیادہ قرب اور محبت کے مقامات طے کرو۔ گویا کوئی مقام ایسا نہیں آ سکتا جسے تم اپنی ترقی کی آخری منزل قرار دے سکو۔ ہر مقام پر پہنچ کر ایک نیا دروازہ تمہارے لئے کھول دیا جائے گا اور اس طرح غیر متناہی ترقیات کا سلسلہ تمہارے لئے قائم کیا جائے گا ۔ بے شک ہم نے تجھ سے وعدہ کیا ہے کہ ہم تجھے کامیاب کریں گے اور تیری ہر مشکل کو دور کریں گے مگر فتح اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد یہ نہ سمجھنا کہ میرا کام ختم ہو گیا ہے بلکہ ہر فتح کے بعد نئی مشکلات سامنے آجائیں گی کیونکہ روحانی ترقی کے اسرار میں سے یہ بات ہے کہ نئی سے نئی مشکلات پیدا ہوتی جائیں اور انہیں سر کیا جائے۔ پس تم یہ خیال نہ کرنا کہ شیطانی حملہ صرف ایک رنگ کا ہوگا اور اسکا ایک رنگ میں مقابلہ کرنا ہی اس کو شکست دینے کے لئے کافی ہو گا بلکہ شیطان کے حملے مختلف انواع کے ہوں گے۔ اس کے حملے علمی بھی ہوںگے ، اس کے حملے عملی بھی ہوں گے اس کے حملے فکری بھی ہوں گے اس کے حملے سیاسی بھی ہوںگے اس کے حملے اقتصادی بھی ہونگے اور یہ تمام حملے اس کی طرف سے یکے بعد دیگرے ہوتے چلے جائیں گے ۔ تمھارا کام یہ ہو گا کہ ایک دشمن کو مارا اور آگے بڑھے، دوسرے دشمن کو مارا اور آگے بڑھے، تیسرے دشمن کو مارا اور آگے بڑھے۔ اس طرح ایک ایک کر کے دشمن کو ہٹاتے چلے گئے اور خدا تعالیٰ کے قرب کی بلندیوں میں اپنی پوری تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتے گئے۔
    و الیٰ ربک فارغب اور تو اپنے رب کی طرف متوجہ ہو۔
    تفسیر: فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ ﷺجب تم اس طرح چوٹیوں پر چڑھتے چلے آئو گے تو دیکھو گے کہ ہم آگے بیٹھے ہیں ہم بلندیوں پر رہتے ہیں اور وہی ہمارے پاس آسکتا ہے جو غیر محدود جدوجہد سے کام لینے والا ہو۔ اس لئے ہماری ملاقات کے راستہ میں کسی مقام پر ٹھہرنا نہیں بلکہ بڑھتے چلے آنا ۔ عیسوی مقام آجائے تو ٹھہرنا نہیں بلکہ اوپر چڑھنا۔ موسوی مقام آ گائے تو ٹھہرنا نہیں بلکہ اوپر چڑھنا پہلے آسمان پر پہنچو تو وہاں ٹھہرنا نہیں بلکہ اپنی کمر باندھ لو اور دوسرے آسمان پر پہنچو دوسرا آسمان آئے تو تیسرے آسمان پر پہنچنے کی کوشش کرو ۔ چوتھا آسمان آئے تو پانچویں آسمان پر پہنچنے کی کوشش کرو ۔ پانچواں آسمان آئے تو چھٹے آسمان پر پہنچنے کی کوشش کرو چھٹا آسمان آئے تو ساتویں آسمان پر پہنچنے کی کوشش کرو۔ ساتواں آسمان آئے تو اس بھی اوپر پہنچنے کی کوشش کرو۔ اوپر ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں تم اپنے رب کی طرف آئو اور اپنا انعام پا لو۔
    سورۃ التین مکیۃ
    و ھی ثما نی آیات دون البسملتہ و فیھا رکوع واحد
    جمہور کے نزدیک یہ سورۃ مکی ہے۔ قرطبی نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ مدنی ہے ۔ قتادہ کا بھی قول نقل کیا گیا ہے کہ یہ مدنی ہے۔ مگر اس کے مقابل میں ابن ا لفریس، نحاس، ابن مردویہ اور بہیقی نے ابن عباسؓ سے ہی روایت کی ہے کہ انزلت سورۃ التین بمکۃ یعنی سورۃ تین مکہ میں نازل ہوئی تھی ۔ یہ دوسری روایت قرطبی کی روایت کو رد کرتی ہے۔ اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن عباس ؓکی طرف سے بھی یہی روایت ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے ۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے بھی اس قسم کی روایت نقل کی یہ۔ گویا ابن عباسؓ کے علاوہ عبداللہ بن زبیرؓ بھی اس سورۃ کو مکی قرار دیتے ہیں ۔بقیہ علماء نے بھی باوجود اس روایت کے جو قرطبی نے نقل کی ہے اسے مکی ہی قرار دیا ہے۔
    بخاری۔ مسلم۔ابو دائود اور ابن ماجہ وغیرہ میں اور اسی طرح بعض اور کتب میں بھی براء بن عازب سے روایت نقل کی گئی ہے کہ کان النبیﷺ فی سفر فصلی العشاء فقرء فی احدی الرکعتین بالتین والزیتون فما سمعت احدا احسن صوتا و لا قرء ۃ منہ یعنی ایک دفعہ رسول کریم ﷺ سفر میں جا رہے تھے کہ آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور اس کی پہلی دو رکعتوں میں سے ایک میں آپ نے سورۃ تین پڑھی۔ میں نے کسی شخص کو اس سے زیادہ خوب صورت آواز اور اچھی قرأت کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھتے نہیں سنا جیسے رسول کریم ﷺ کو میں نے پڑھتے سنا ۔ ایک دوسرے روایت جو انہی کی ہے اس ماں بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے مگر ابن الخطیب میں براء بن عازب کی جو روایت آتی ہے اس میں عشاء کی بجائے مغرب کا لفظ ہے۔
    نولڈکے جرمن مستشرق اسے سورۃ البروج کے ساتھ کی نازل شدہ بتاتا ہے۔ یعنی ہے بھی ابتدائی زمانہ کی مکی سورۃ ہے ۔ ویری بھی اس کی تائید کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ اس کا سٹائل مکی ہے۔ میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ یہ اس کی زبردستی ہے۔ وہ عربی بھی اچھی طرح نہیں جانتا سٹائل کو کہاں پہچان سکتا ہے۔ اسی طرح وہ کہتا ہے کہ اس سورۃ میں ھاذاالبلدا لامینکہ جو الفاظ آتے ہیں وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ سورۃ مکی ہے۔ کیوں کہ اس میں ھذا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ شہر مکہ جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے ۔ ویری کی یہ دلیل وزنی ضرور ہے مگر قطعی نہیں ۔ ہم اتنے حصہ میں اس سے متفق ہیں کہ یہ مکی ہے۔ مگر اس نے اپنے بغض کی وجہ سے یہ بھی لکھاہے کہ بعض مسلمان مصنف ان حدیثوںکی اندھا دھندتقلید میں جوقرآن کریم کو واضح کرنے کیلئے بنائی گئی ہیں اسے مدنی قرار دیتے ہیںنہایت ناپسندیدہ فعل ہے۔یہ فقرہ اس کے بغض پر دلالت کرتا ہے۔ کیوں کہ جمہور مسلمان تو اسے مکی قرار دیتے ہیں اور ہمارا اپنا فائدہ بھی اگر مسلمان فائدہ اٹھانے کے لئے حدیثیں بناتے ہیں تو اسے مکی قرار دینے میں ہی ہے۔ پس جبکہ جمہور بھی اسے مکی قرار دیتے ہیں مسلمان مصنفوں پر اس قدر رکیک الزام اور خصوصا احادیث پر نہایت قابل شرم امر ہے۔
    میں بتا چکا ہوں کہ روایتیں اسے مکی قرار دیرہی ہیں صرف قرطبی نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں اسے مدنی قرار دیا ہے مگر ممکن ہے کہ وہاں کتابت کی غلطی کی وجہ سے مکی کی بجائے مدنی لکھا گیا ہواور اگر وہ کتابت کی غلطی نہیں تب بھی قرطبی اصل راوی نہیں بلکہ وہ دوسروں کی روایتوں کو نقل کرنے والا ہے۔اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اصل راوی سب اس بات پر متفق ہیں کہ ہے سورۃ مدنی نہیں بلکہ مکی ہے۔ لیکن ویریکا اسے سٹائل کی وجہ سے مکی قرار دینا محض دھینگا مشتی ہے۔ اگر پادری ویری کے سامنے ہی قرآن کریم کھول کر رکھ دیا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ اگر تم سٹائل کو پہچاننے کا ملکہ اپنے اندر رکھتے ہو تو بتائو اس میں سے مکی آیات کونسی ہیں اور مدنی آیات کونسی تو وہ بیسیوں غلطیاں کر جائیں گے یہاں چونکہ تمام روایتیں اس سورۃ کو مکی قرار دے رہی تھیں انہوں نے سمجھا کہ میں اس کے مکی ہونے کا ثبوت اس سورۃ کے سٹائل کو قرار دے کر ایک جدت پیدا کر دوںحالانکہ سٹائل کو پہچاننا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا انسان جورات اور دن غور کرتا رہا ہو اورجس نے باریک طور پر تدبر اور دماغی کاوش سے کام لیاہواس کے لئے بھی سٹائل کو الگ طور پر پہچاننا مشکل ہوتا ہے اور باقی لوگوں کے لئے تو اسقدر مشکل مرحلہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ لاکھوں میں سے کسی ایک کے لئے یہ بات ممکن ہوتو ہوباقی کسی کے لئے سٹائل کو پہچاننا ممکن نہیں ہے۔ یہی بات دیکھ لو سب مسلمان قرآن جانتے ہیں اور اسے پڑھتے ہیں مگر پھر کئی مقرر مسلمان بعض ضعیف حدیثیں پیش کر کے کہہ دیتے ہیںکہ قرآن کریم میں ایسا لکھا ہے حالانکہ وہ ویری سے زیادہ قرآن جانتے ہیں ۔
    مو لوی محمد احسن صا حب امروہی میں یہ مرض تھا کہ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام جب بھی کوئی بات کرتے وہ در میا ن میں جلدی جلدی بو لنا شروع کر د یتے تھے اور واہ واہ سبحان اللہ کہنے لگ جاتے مثلاً حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام جب کسی گفتگو میں فر ما تے کہ قر آ ن کریم نے فلا ں بات نہایت لطیف طور پر بیان کی ہے تو وہ کہنا شروع کر دیتے تھے کہ سبحا ن اللہ بڑی لطیف بات ہے کس کی طاقت ہے کہ ایسی بات کہہ سکے ۔ایک دفعہ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام سیر کے لیے جا رہے تھے میں بھی ساتھ تھا کہ حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے فرمایا مجھے آج ایک الہام ہوا ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام اور بندے کے کلام میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے ۔جب حضرت مسیح مو عودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے یہ بات بیان فرمائی تو مولوی محمداحسن صاحب نے جھٹ ہاتھ مارنے شروع کردیے اور کہا حضور فرق ـ!خدا کے کلام اور بندہ کے کلام میں زمین اور آسمان کا فرق ہے حضور خدا کا کلام خدا کا کلام اور بندے کا کلام بندے کا کلام ،بھلا ممکن ہے بندہ اپنے کلام میںخدا کا مقا بلہ کر سکے؟یہ تو بالکل ناممکن ہے۔ جب وہ ذرا خاموش ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر یہ بات شروع کی اور فرمایا دیکھو حریری عربی ادب کے لحا ظ سے کمال کو پہنچا ہوا تھا مگر الہام الٰہی میں جو باریکیاں ہوتی ہیں وہ اس کے کلام میں کہاں؟مولوی محمد احسن صاحب نے پھر کہنا شروع کردیا حضور حریری! بھلا حریری میں رکھا ہی کیا ہے؟ اس کی کیا طاقت کے کہ وہ خدا کے کلام کا مقابلہ کرسکے۔ خدا کا کلام جس شان اور عظمت کاحامل ہوتا ہے بھلا حریری کی طاقت ہے کہ اس جیسا کلام کہہ سکے۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مثلاً یہ فقرہ ہے ابھی وہ فقرہ مولوی محمد احسن صاحب نے سنا ہی تھا کہ انہوں نے جھٹ کہنا شروع کردیا ۔ حضور یہ بھی کوئی فقرہ ہے۔ یہ بھی کوئی عربی ہے۔ حریری کیا جانتا ہے کہ عربی کیا ہوتی ہے؟ حالانکہ وہ الہام تھا حریری کا فقرہ نہیں تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مولوی صاحب! سنئے تو سہی یہ حریری کا فقرہ نہیں یہ تو وہ الہام ہے جو مجھ پر خداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اب دیکھو مولوی محمد احسن صاحب مولوی آدمی تھے۔ دن رات عربی کتابیں پڑھنے میں مشغول رہتے تھے اور اگر سٹائل کو پہچاننا ایسا ہی آسان کام ہوتا تو وہ فوراً پہچان لیتے کہ یہ انسانی کلام ہے یا خدائی کلام مگر پھر بھی وہ غلطی کرگئے اور انہوں نے الہام کو انسانی کلام سمجھ لیا۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موانست اور مشابہت کی وجہ سے انسان بعض دفعہ اندازہ کرلیتا ہے کہ یہ مکی سورۃ ہے یا مدنی سورۃ ہے مگر یہ اندازہ دلیل نہیں بن جاتا۔ مثلاً جہاں تک عربی الفاظ کا تعلق ہے جس طرح وہ الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں اسی طرح اور عربی کتب میں بھی استعمال ہوئے ہیں ۔ قرآن میں بھی رزق کا لفظ آتا ہے اور دوسری عربی کتب میں بھی رزق کا لفظ آتا ہے۔ قرآن میں بھی جہاد کا لفظ آتا ہے اور دوسری عربی کتب میں بھی جہاد کا لفظ آتا ہے۔ قرآن میں بھی غدا کا لفظ آتا ہے اور دوسری عربی کتب میں بھی غدا کا لفظ آتا ہے مگر اس کے باوجودجس شان اور عظمت کے حامل قرآن کریم کے الفاظ ہیں اس شان اور عظمت کے پاسنگ بھی وہ الفاظ نہیں جو دوسری کتب میں پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ محض الفاظ کا اشتراک کوئی چیز نہیں بلکہ اصل چیز جو الہام الٰہی کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے وہ ان الفاظ کا ایک ایسے ہار میں پرویا جانا ہے جس کی دنیا میں اور کہیں نظیر نہیں ملتی۔ مگر پھر بھی قطعیت کے ساتھ صرف اجتہاد سے کوئی دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ قرآنی اور غیرقرآنی عبادت کو بغیر قرآن کے حفظ کرنے یا کالحفظ کرنے کے قطعاً الگ الگ پہنچان سکتا ہے۔ پس ویری کا محض سٹائل کی بنا ء پر اس سورۃ کومکی قرار دینا اس کی خوش فہمی ہے۔ اگر ان کے سامنے ہی قرآن کریم کی آیات الگ الگ رکھ دی جائیں اور ان سے پوچھا جائے کہ بتائو ان میں سے مکی کون سی ہیں اور مدنی کون سی تو وہ سینکڑوں غلطیوں کا ارتکاب کرجائیں گے ۔ وہ اگر سٹائل کو پہچانتے ہیں تو صرف اس نقطہ نگاہ سے کہ اگر لمبی آیت ہوئی تو اس کے متعلق کہہ دیا کہ مدنی ہے اور اگر چھوٹی آیت ہوئی تو کہہ دیا یہ مکی ہے۔ حالانکہ یہ امتیاز تو ایک بچہ بھی کرسکتا ہے۔ پس ویری کا مسلمان مصنفوں اور حدیثوں پر یہ حملہ نہایت ناواجب ہے اور اس بغض اور کینہ کا ثبوت ہے جو اس کے دل میں اسلام کے متعلق پایا جاتا ہے۔ کیونکہ خود مسلمان راوی بھی اس کو مکی قرار دیتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان راویوں کے کہنے کی وجہ سے ہی انہوں نے اس سورۃ کو مکی قرار دیا ہے ورنہ اگر وہ نہ بتاتے تو یہ خود کچھ بھی نہ کہہ سکتے کہ یہ سورۃ مکی ہے یا مدنی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم: میں اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں)
    والتین والزیتونO و طور سینین O وھذ البلد الامینO (مجھے) قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور سینین کے پہاڑ کی اور اس امن والے شہر کی۔
    ترتیب: اس سورۃ کا سورۃ الانشراح سے یہ تعلق ہے کہ سورئہ انشراح میں بتایا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا انجام اچھا ہوگا کیونکہ نیک انجام کیلئے جن امور کی ضرورت ہوتی ہے وہ آپ کوحاصل ہیں۔اب اس سورۃ میںیہ بتایا گیا ہے کہ پہلی اقوام کی شہادت اس امر کی تائید میں موجود ہے۔ دنیا میں جب کوئی عقلی دلیل دیتاہے تو انسان کی پوری تسلی نہیں ہوتی وہ چاہتا ہے کہ مجھے کوئی نقلی دلیل بھی دی جائے تاکہ میں سمجھ سکوں کہ واقعہ میں اس کے مطابق کام ہوسکتاہے یا نہیں۔ سورۃ الانشراح میں عقلی دلیل دی گئی تھی اب اس سورۃ میںنقلی دلیل دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایسے ہی حالات میں اللہ تعالیٰ نے بعض قوموں کو بھی ترقی دی ہے اس سے تم نتیجہ نکال سکتے ہو کہ جس طرح آدمؑ اور نوحؑ اور موسیٰؑ کے وقت میں ہوا کہ باوجود مخالف حالات کے محض روحانی سامانوں سے ان کو فتح حاصل ہوئی اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس کے بعد اقرا باسم ربک الذی خلق میں بھی اسی مضمون کو جاری رکھا گیا ہے۔
    تفسیر: فرماتا ہے قسم ہے ہم کو یاہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں انجیر کو بھی۔ زیتون کو بھی۔ طور سینا کو بھی اور اس بلد الامین کو بھی۔ فتح البیان میں لکھا ہے قال اکثر المفسرین التین ھوالتین الذی یاکلہ الناس والزیتون ھوالذی یعصرون منہ الزیت الذی ہو ادام غالب البلدان و دھنھم و یدخل فی کثیر من الادویۃ یعنی اکثر مفسرین کے نزدیک تین سے مراد وہی تین ہے جو لوگ کھاتے ہیں یعنی اس سورۃ میں جو والتین کا لفظ استعمال کیا گیاہے اس سے مراد وہی عام انجیر ہے جسے لوگ کھایا کرتے ہیں اور زیتون سے مراد بھی وہی زیتون ہے جسے لوگ کھاتے ہیں۔ جو اکثر ملکوں میں بطور سالن اور چکنائی کے استعمال ہوتاہے اور بہت سی دوائوں میں بھی پڑتا ہے ۔ گویا یہاں اس سورۃ میں جو والتین والزیتون فرمایا گیا ہے اس میں کوئی بات استعارۃً یا تمثیلاً بیان نہیں کی گئی بلکہ اس سے وہی انجیر مراد ہے جو کھانے کے کام آتی ہے اور وہی زیتون مراد ہے جس کا تیل لوگ اچاروں میں ڈالتے یا سالن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں اچار میں تیل یا سرکہ ڈالتے ہیں مگر مغربی ممالک میںعموماً زیتون کا تیل استعمال کیاجاتا ہے۔ و قال الضحاک المسجد الاقصٰی اور ضحاک کہتے ہیں کہ تین اور زیتون سے مراد مسجد اقصیٰ ہے۔ و قال ابن زید بیت المقدس اور ابن زید کہتے ہیں کہ اس سے مراد بیت المقدس کی مسجد ہے۔ و قال قتادۃ الجبل الذی علیہ بیت المقدس اور قتادہ کہتے ہیں اس سے مراد وہ پہاڑ ہے جس پر بیت المقدس بنایا گیا ہے وقال عکرمۃ و کعب الاحبار بیت المقدس اور عکرمہ اور کعب الاحبار کہتے ہیں کہ اس سے مراد بیت المقدس ہے۔ و عن ابن عباس قال بلاد فلسطین اور ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ اس سے مراد فلسطین کا علاقہ ہے۔ و قال ایضا بیت المقدس اسی طرح ان سے یہ بھی روایت ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس ہے۔ فتح البیان کے مصنف ان معانی کو درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں: لیت شعری ما الحامل لھؤلاء الائمۃ عن العدول عن المعنی الحقیقی فی اللغۃ العربیۃ والعدول الی ھذا التفسیرات البعیدۃ عن المعنی المبینۃ علی خیالات لا ترجع الی عقل و نقل و اعجب من ھذا اختیار ابن ضریر للاخر منھا مع طول باعہ فی علم الروایۃ والدرایۃ۔ یعنی مجھے بڑی حیرت آتی ہے اور میری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ یہ جو بڑے بڑے آئمہ ہیں ان کو کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ لغت عرب میں تین اور زیتون کے جو حقیقی معنی ہیں ان کو چھوڑ کر انہوںنے اور اَور معنے کرنے شروع کردیئے ہیں اور بعید از قیاس تفسیریں کرنی شروع کردیں جو ایسے خیالات پر مبنی ہیں جن کی نہ عقل تصدیق کرتی ہے نہ نقل تائید کرتی ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ مجھے سب سے زیادہ تعجب ابن جریر پر آتا ہے (ابن جریر بہت بڑے مفسر اور محدث ہیں اور ان کی عقلی رائے بھی نہایت اعلیٰ پایہ کی ہوتی ہے) کہ وہ بھی آخری معنوں کی تصدیق کرتے ہیں کہ تین اور زیتون سے یا تو بیت المقدس مراد ہے یا پھر فلسطین کا علاقہ حالانکہ درایت اور روایت میں ان کو بڑا دخل حاصل ہے یعنی باوجود اس قدر علم و فضل کے انجیر اور زیتون کے سیدھے سادے معنے کرنے کی بجائے وہ ادھر اُدھر کی دور از قیاس باتوں میں چلے گئے ہیں۔
    پھر صاحب فتح البیان لکھتے ہیں قال الفراء سمعت رجلا یقول التین جبال حلوان الی ھمدان والزیتون جبال الشام۔ یعنی فراء کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے سنا وہ یہ کہہ رہا تھا کہ تین سے مراد حلوان کے پہاڑ ہیں جن کا ہمدان تک سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور زیتون سے مراد شام کے پہاڑ ہیں۔ فراء جیسے آدمی کا یہ مضمون بیان کرنا ایک ایسی بات ہے جس پر واقعہ میں ہنسی آتی ہے۔ چنانچہ فتح البیان والوں نے یہاں ایک ایسا مزیدار فقرہ لکھا ہے جسے پڑھتے وقت مجھے ہنسی آگئی تھی وہ لکھتے ہیں ھل انت سمعت ھذ الرجل فکان ماذا فلیس بمثل ھذا تثبت اللغۃ ولا ھو نقل عن الشارع کہتے ہیں میاں اگر تم نے کسی آدمی سے ایسا سن بھی لیا تھا تو پھر ہوا کیا۔ کسی نے گپ ہانک دی تو تم اس کو لے اڑے۔ یہ بھی کوئی دانائی اور عقلمندی ہے۔ مان لیا کہ تم نے ایک آدمی سے یہ بات سنی تھی مگر کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ اس نے جو کچھ کہا تھا وہ قرآن کریم کی تفسیر ہوگئی۔ یہ ایک ایسا بے ساختہ فقرہ صاحب فتح البیان کے قلم سے نکلا ہے جس کی داد دینی پڑتی ہے۔ واقعہ میں یہ حیرت کی ابت ہے کہ فراء جیسے آدمی نے اس قسم کی بات نقل کردی ۔ وہ روایت یہ کرتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے سنا تھا کہ تین اور زیتون سے یہ مراد ہے۔ حالانکہ وہ کوئی بچہ بھی ہوسکتا ہے۔ پاگل بھی ہوسکتا ہے لغت سے ناواقف بھی ہوسکتا ہے۔ ایک غیرمعروف الحال شخص کی ایک بیہودی بات پر قرآن کریم کی تفسیر کی بنیاد رکھنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ یا تو وہ کہتے کہ میں لغت کو جانتا ہوں اس لئے میرے نزدیک اس کے یہ معنے ہیں یا فلاں ادیب سے میں نے ایسا سنا ہے یا فلاں قبیلہ میں اس کے یہ معنے کئے جاتے تھے مگر وہ کہتے یہ ہیں کہ میں نے ایک شخص سے سنا وہ کہہ رہا تھا کہ زیتون سے یہ مراد ہے اور زیتون سے وہ مراد ہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے غالب اور ذوق کہیں کہ ہم نے ایک گائوں کے جاہل اور اجڈ لڑکے کو فلاں شعرکے یہ معنے کرنے سنا۔ غرض فتح البیان والوں کا یہ فقرہ بڑا لطیف ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اوّل تو مجھے یقین نہیں آتا کہ تم نے ایسا سنا ہو۔ لیکن اگر سن بھی لیا تھا تو اس پر قرآن کریم کی تفسیر کی بنیاد رکھنا کس طرح درست تھا۔ فتح البیان والے اگر اس اصول پر قائم رہتے تو بہت اچھا ہوتا مگر وہ خود بھی ایسی بہت سی باتیں کہہ گئے ہیں۔
    قال محمد بن کعب الزیتون مسجد ایلیا۔ محمد بن کعب کہتے ہیں کہ زیتون سے مراد مسجد ایلیا ہے۔ و قیل انہ علی حذف مضاف ای منابت التین والزیتون بعض نے کہا ہے کہ یہاں حذف مضاف ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم تین اور زیتون اگانے والی جگہوں کوپیش کرتے ہیں۔ قال النحاس لا دلیل علی ھذا من ظاہر التنزیل ولا من قول من لا یجوز خلافہ نحاس کہتے ہیں کہ اس توجیہہ کے متعلق قرآن کریم کی کوئی تصدیقی دلیل نہیں ملتی اور نہ کسی ایسے آدمی کا قول ملتا ہے جس کی بات کو ردّ کرنے کی جرأت نہ ہوسکے۔ قال الرازی اما الزیتون فھو فاکھۃ من وجہ و دواء من وجہ و یستصبح بہ۔ رازی کہتے ہیں کہ زیتون سے مراد وہی شے ہے جو ایک لحاظ سے میوہ ہے کہ لوگ اسے کھاتے ہیں اور ایک لحاظ سے دوا بھی ہے اور اس سے دیئے بھی جلائے جاتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں ومن رأی ورق الزیتون فی المنام استمسک بالعروۃ الوثقی اگر کوئی شخص خواب میں زیتون کے ورق دیکھ لے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس نے ایک مضبوط اور نہ ٹوٹنے والا کڑا اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔
    اب ہم تفسیر ابن کثیر کو دیکھتے ہیں ۔ اس میں لکھا ہے کہ قال القرطبی ھو مسجد اصحاب الکہف قرطبی کا بیان ہے کہ اس سے اصحاب کہف کی مسجد مرادہے۔ و ردی العوفی عن ابن عباس مسجد نوح الذی علی الجودی عوفی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس سے وہ مسجد نوح مراد ہے جو جودی پہاڑ پر ہے جہاں طوفان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ٹھہری تھی۔ و قال بعض الائمۃ ھذہ محال ثلاثۃ بعث اللہ فی کل واحد منھا نبیا مرسلا من اولی العزم اصحاب ا شرائع الکبار بعض آئمہ کہتے ہیںکہ یہ تین اہم مقامات جن میں سے ہر مقام میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم اور صاحب شریعت ابنیاء کو بھیجا تھا۔ فلاول محلہ التین والزیتون و ھی بیت المقدس التی بعث اللہ فیھا عیسی ابن مریم علیہ السلام پہلے نبی کے اترنے کا محل تین اور زیتون کا مقام ہے اور اس سے مراد وہ بیت المقدس ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح ابن مریمؑ کو نازل کیا تھا۔ گویا ان کے نزدیک تین اور زیتون دونوں سے مراد بیت المقدس ہے گو بعض آئمہ نے صرف تین کے متعلق یہ کہا تھا کہ اس سے مراد بیت المقدس مرا دہے کیونکہ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھیجے گئے تھے۔ والثانی طور سینین اور دوسرا مقام طور سینین ہے۔ وھو طور سیناء الذی کلم اللہ علیہ موسی بن عمران اوراس سے مراد وہ طور ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ بن عمران سے باتیں کی تھیں۔ والثالث مکۃ اور بلدالامین جس کا تیسرے مقام پر ذکر آتا ہے اس سے مراد مکہ ہے۔ وھذا البلد الامین الذی من دخل کان امنا اور یہی وہی بلد الامین ہے جس میں داخل ہوکر انسان کو امن حاصل ہوجا تا ہے۔ وھوالذی ارسل فیہ محمد ﷺ اور یہی وہ جگہ ہے جس میں رسول کریم ﷺ مبعوث ہوئے۔
    اس کے بعد ابن کثیر والے لکھتے ہیں کہ وقالوا وفی اخرۃ التوراۃ ذکرھذہ الاماکن ثلاثۃ یعنی بعض مفسرین نے جو یہ معنے کئے ہیں کہ تین اور زیتون سے مراد تین اور زیتون کے پیدا ہونے کی جگہ ہے خصوصاً جہاں تین اور زیتون سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہ مقام ہے جہاں آپ نازل ہوئے۔ طورِ سینین سے مراد وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اور بلد الامین سے مراد وہ مکہ ہے جہاں رسول کریم ﷺ مبعوث ہوئے ان تینوں مقامات کا تورات کے آخر میں ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے جاء اللہ من طور سیناء واشرق من ساعیر و استعدن من جبال فاران یعنی ’’خداوند سینا سے آیا شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا‘‘ (استثناء باب ۳۳ آیت ۲) یہ ایک مشہور حوالہ ہے جو رسول کریم ﷺ کی بعثت کے متعلق بائبل میں پایا جاتا ہے اور میرے نزدیک یہ پہلا حوالہ ہے جو مفسرین نے صحیح طور پر پیش کیا ہے اور اس میں رسول کریم ﷺ کے متعلق پیشگوئی بھی پائی جاتی ہے ورنہ مفسرین بائبل کے جو حوالہ جات دیتے ہیں وہ اکثر غلط ہوتے ہیں یا تو وہ حوالے بائبل میں ملتے ہی نہیں اور اگر ملتے ہیں تو اس رنگ میں نہیں ہوتے جس رنگ میں مفسرین ان کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ پہلا حوالہ ہے جو انہوں نے صحیح طور پر پیش کیا ہے۔ چنانچہ وجاء اللہ من طور سیناء کے ساتھ انہوں نے بطور تشریح لکھا ہے یعنی الذی کلم اللہ علیہ موسی اور اشرق من ساعیر کے ساتھ لکھا ہے یعنی جبل بیت المقدس الذی بعث اللہ من عیسی اور واستعلن من جبال فاران کے ساتھ لکھا ہے۔ یعنی جبال مکۃ التی ارسل اللہ منھا محمد ﷺ۔ پھر اس کے بعد وہ ایک نوٹ میں لکھتے ہیں فذکرھم مخبرا عنھم علی الترتیب الوجودی بحسب ترتیبھم فی الزمان یعنی اس پیشگوئی میں جو بائبل میں بیان کی گئی ہے ان تینوں انبیاء کا جو ذکر کیا گیا ہے وہ اسی ترتیب سے ذکر ہے جس ترتیب کے ساتھ یہ تینوں انبیاء یکے بعد دیگرے آئے۔ پہلے طور سیناء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ہے پھر اشرق من ساعیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ہے پھر استعلن من جبال فاران میں رسول کریم ﷺ کا ذکر کیا ہے کیونکہ اسی ترتیب سے یہ انبیاء آئے تھے۔ پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے ، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے اور آخر میں رسول کریم ﷺ آگئے گویا جس ترتیب سے ان انبیاء نے ظاہر ہونا تھا اسی ترتیب سے اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کا بائبل میں ذکر کیا ہے۔ ولھذا اقسم بالاشرف ثم الاشرف منہ ثم بالاشرف منھما یہاں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عبارت رہ گئی ہے یا ترتیب زمانی چونکہ پہلے بیان ہوچکی تھی اس لئے انہوں نے خیال کرلیا کہ لوگ خودبخود اس بات کو سمجھ جائیں گے کہ قرآن کریم نے بائبل کی ترتیب کے خلاف پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اور پھر رسول کریم ﷺ کا جو ذکر کیا ہے تو درجہ کی ترتیب کے لحاط سے کیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں قرآن کریم نے زمان ترتیب کو نہیں لیا بلکہ درجہ کی ترتیب کو لیا ہے اور اس لئے پہلے تین اور زیتون کا ذکر کیا ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں کیونکہ وہ باقی دو انبیاء سے درجہ میں چھوٹے ہیں۔ اس کے بعد طورِ سینین میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ وہ درجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑے ہیں۔ آخر میں وھذ البلد الامین کہہ کر رسول کریم ﷺ کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ آپ عیسیٰؑ اور موسیٰؑ دونوں سے افضل ہیں۔ یہ توجیہہ ابن کثیر والوں کی نہایت معقول اور درست ہے میں نے دیکھا ہے کہ اکثر مقامات پر ان کی عقل خوب چلتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بائبل نے تو ان کی ترتیب وجودی کومدنظر رکھا تھا مگر قرآن کریم نے ان کی ترتیب مقامی کو مدنظر رکھا ہے۔ وہاں یہ ذکر تھا کہ پہلے کون ہوگا۔ پھر کون ہوگا اور پھر اس کے بعد کون ہوگا۔ لیکن یہاں یہ ذکر ہے کہ ان تینوں میں سے چھوٹا درجہ کس کا ہے اور پھر اس سے بڑا درجہ کس کا ہے اور پھر ان دونوں سے بڑا درجہ کس کا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو میں نے اور کسی تفسیر میں نہیں دیکھی۔ باقی تفاسیر کی تو یہ حالت ہے کہ جہاں حضرت مسیحؑ کا ذکر آجاتا ہے وہ بوجہ ان روایتوں کے جو ابوہریرہؓ کی مہربانی سے احادیث میں آگئی ہیں ڈرجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ ہم حضرت مسیحؑ سے کسی اور نبی کو افضل قرار دے کر آپ کی ہتک کے مرتکب ہوجائیں مگر ابن کثیر نے جو نہایت اعلیٰ پائے کے مفسر ہیں قطعی اور حتمی طور پر حضرت مسیح ناصری کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کم درجہ رکھنے والا قرار دیا ہے۔
    مولوی محمد علی صاحب اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔انجیر کا ذکر دوسری جگہ قرآن کریم میں نہیں ہے مگر زیتون کا سورہ نور میں ذکر ہے جہاں نور محمدی کو زیتون سے مشابہت دی ہے دوسری طرف بائیبل میںانجیر کو سلسلہ موسویہ سے مشا بہت دی ہے چنانچہ یرمیاہ باب۲۴میںلکھا ہیــ ــدو ٹوکریاںانجیروں کی خداوندکی ہیکل کے سامنے دھری تھیںایک ٹوکری میں اچھے سے اچھے انجیر تھے اور دوسری ٹوکری میںبرے سے برے انجیر اورپھر آگے چل کر اچھے انجیروں کو بنی اسرائیل کا اچھے لوگ قرار دیاہے اور برے انجیروں کو برے لوگ اور حضرت عیسی علیہ اسلام کا مشہور انجیر کے درخت پر *** کر نے کے واقعہ میںبھی در حقیقت اسی طرف اشارہ ہے دیکھو باب متی ۲۱ اور جب صبح کوشہر میں جا نے لگا اسے بھوک لگی تب انجیر کا ایک درخت راہ کے کنارے دیکھ کر اس پاس گیا اور جب پتوں کے سوا اس میں کچھ نہ پایا تو کہا اب تجھ میں کبھی پھل نہ لگے وہیںانجیر کا درخت سوکھ گیا پھر لکھتے ہیںبے موسم پھل نہ لگنے پر درخت پرکیا خفگی ہو سکتی تھی اصل میںیہ ایک تمثیل تھی انجیر کا درخت سلسلہ بنی اسرائیل کا قائم مقام تھا جسے لفظ پرست انجیل نویسوںنے واقعہ کارنگ دے دیا۔مگر یہ بات بھی ویری کی طرح کہی گئی ہے واقعہ یہ ہے کہ انجیل کے ما ننے والے بھی اس واقعہ کوظاہری نہیںمانتے بلکہ وہ اس کو ایک تمثیلی واقعہ قرار دیتے ہیںچنانچہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح مو عود علیہ اسلام نے جب اس واقعہ سے حضرت مسیح ناصری کے اخلاق کے متعلق استدلال کیا اور لکھا کہ کیا یہی حضرت مسیح کے اخلاق تھے کہ ایک انجیر کہ ایک انجیر کے درخت پر محض اس وجہ سے آپ نے *** کر دی کہ اس پر پھل نہیں تھا ۔حالانکہ اس میں درخت کا کوئی قصور نہ تھا تو عیسائیوں نے اس کے جواب میں یہ لکھا کہ ہم اس کو ظاہری واقعہ تسلیم نہیں کرتے۔ خود انجیل سے ثابت یہ کہ وہ پھلوں کا موسم نہیں تھا اس لئے یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ حضرت مسیحؑ ایک انجیر کے درخت کی طرف اس کے پھل کی امید میں ایسے موسم میں جاتے جس میں پھل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ درحقیقت انجیر کے درخت سے یہودی لوگ مراد ہیں۔ حضرت مسیح ؑ نے چاہا کہ یہودی قوم ان پر ایمان لا کر زندہ ہو جائے اور وہ بھی روحانی پھل پیدا کرنے لگے مگر یہودی قوم نے آپ کو ماننے سے انکار کر دیااس پر حضرت مسیح ؑ نے *** کی جس کا مفہوم یہ تھا کہ آئندہ یہ قوم خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے ہمیشہ محروم رہے گی مولوی محمد علی صاحب نے سمجھا ہو گا کہ میں ایک بہت بڑا نکتہ نکال کر پیش کر رہا ہوں حالانکہ عیسائی بھی یہی معنی کرتے ہیں کہ اس واقعہ میں یہودیوں کی تباہی کی طرف اشارہ تھا۔اور مراد یہ تھی کہ انجیر کے درخت پر اب پتے ہی باقی رہ گئے ہیں پھل نہیں ۔ یعنی میں صرف ظاہرہی ظاہر رہ گیا ہے۔ پھل اور روحانیت ان میں نہیں رہی اس لئے آئندہ یہ درخت سوکھ جائے گا۔ یعنی کوئی نبی ان میں نہیں آئے گا ۔ پس انجیر سلسلہ اسرائیل کا قائم مقام ہے اور زیتون سلسلہ محمدیہ کا اور انجیر اور زیتون الگ مثال نہیں ہیں بلکہ طور اور بلدالامین ہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں پہلے ان کے ذریعہ سے مخفی اشارہ موسوی اور محمدی سلسلہ کی طرف کیا گیا پھر طور و بلد الامین کہ کر اس اشارہ کو واضع کر دیا گیا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ لکھتے ہیں ( خلاصہ میرے الفاظ میں ہے) کہ ان کی قسم اس لئے کھائی یعنی تین اور زیتون کی کے علاوہ غذا کے دواکے طور پر بھی یہ استعمال ہوتی ہیں۔ کبھی طبیب تین تجویز کرتا ہے کبھی زیتون۔ مطلب یہ کہ ایک زمانہ میں خداتعالیٰ نے طور سینین کا نسخہ استعمال کیااور اس زمانہ میں بلدالامین کا نسخہ اس نے تجویز کر دیا ۔ گویا وہی لف و نشر کی مثال ہے ۔ تین سے مراد بنی اسرائیل اور زیتون سے مراد بلدالامین سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں گویا وہ مضمون جو مولوی محمد علی صاحب نے بیان کیا ہے۔در حقیقت حضرت خلیفہ اولؓ کا بیان کردہ ہے۔ اسی طرح دو ٹوکریوں کی مثال جو مولوی محمد علی صاحب نے پیش کی ہے یہ بھی حضرت خلیفہ اول ؓ کی زبان سے میں نے خود سنی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ آپ کے درس کے چھپے ہوئے نوٹوں میں یہ بات نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ مفتی محمد صادق صاحب اور قاضی اکمل صاحب نے یہ نوٹ لکھے ہیں ۔ اور وہ مضمون کا بہت سا حصہ چھوڑ کر صرف مختصر نوٹ لینے پر اکتفا کیا کرتے تھے لیکن پھر بھی ان نوٹوں میں یہ بات موجود یہ کہ تین اور زیتون ان دو چیزوں کو قسمیہ بطور شہادت کے اس لئے بیان کیا کہ علاوہ غذا کے جسمانی امراض کے لئے بھی بطور دوا کی یہ دونوں چیزیں استعمال کی جاتی ہیں کبھی طبیب تین تجویز کرتا ہے تو کبھی تبدیل نسخہ کے لئے زیتون مفید سمجھتا ہے ۔ گویاحضرت خلیفہ اول ؓ کے مضمون میں ایک زائد بات یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں جس طرح طبیب کبھی تین کو چھوڑ کر زیتون استعمال کراتا ہے اسی طرح خدا نے اگر تین والے نسخے کو بدل کر زیتون والا نسخہ استعمال کرانا شروع کر دیا تو اس میں اعتراض کی کونسی بات ہے۔ خدا حکیم ہے اور وہ ہمیشہ مرض کے مطابق آسمان سے علاج نازل کیا کرتا ہے۔ جب تین کے نسخہ کی ضرورت تھی اس نے تین نازل کر دی اور جب زیتون کے نسخہ کی ضرورت تھی اس نے زیتون نازل کر دیا۔ اس تبدیلی سے خدا تعالیٰ پر کوئی اعتراض عائد نہیں ہوتا ۔ بلکہ اس کی حکمات پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے بندوں کے فائدہ اور مخلوق کی نفع رسانی کے لئے کرتا ہے۔ یہ مضمون جو نہایت ہی لطیف تھا مولوی محمد علی صاحب نے چھوڑ دیا کیونکہ مضمون ظاہر کر رہا تھا کہ اس نکتہ کو بیان کرنے والا کوئی طبیب ہے۔ انہوں نے وہ حصہ تو لے لیا جس کے بیان کرنے سے حضرت خلیفہ اول ؓ کی طرف اشارہ نہیں ہوتا تھا ۔ مگر وہ حصہ ترک کر دیا جس کو بیان کرنے سے آپ کی طرف اشارہ ہو جاتا تھا۔بے شک مولوی محمد علی صاحب نے یہ مضمون بیان کر کے لوگوں سے واہ وا لے لی ہو گی اور وہ ہزاروں غیر احمدی جو ان کی تفسیر میں اس نکتہ کو پڑھتے ہوں گے خیال کرتے ہوں گے کہ مولوی محمد علی صاحب نے نہایت عجیب بات نکالی ہے مگر افسوس ہے کہ جس شخص نے قرآن کریم کا یہ لطیف نکتہ نکال کر پیش کیا تھا اس کا ذکر انہوں نے چھوڑ دیا اور اس کی محنت کو اپنی طرف منسوب کر لیا پھر جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے وہ بھی مکمل مضمون نہیں بلکہ جیساکہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں وہ حضرت خلیفہ اول ؓ کے مضمون کے اس حصہ کو چھوڑ گئے ہیں کہ جس طرح طبیب حالات کی تبدیلی پر نسخہ تبدیل کر دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے تین کی بجائے زیتون کا نسخہ لوگوں کو استعمال کرانا شروع کر دیا۔ یہ نکتہ نہایت ہی شاندار ہے کیونکہ رسول کریمﷺپر ایک نئی شریعت کے نزول سے لازمی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ آخر وجہ کیا ہے کے اللہ تعا لیٰ نے موسوی شریعت کو کالعدم قرار دے دیا اوراس کی جگہ محمدی شریعت کو نازل کر دیا ۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا طبیب جب کسی مریض کے لیے نسخہ تجویز کر تا ہے تو ہمیشہ ایک ہی نسخہ رکھتا ہے؟ تم جانتے ہو کہ حلات کے بدلنے پر ہر سمجھدار طبیب نسخہ میں تبدیلی کر دیا کرتا ہے کبھی وہ تین استعمال کراتا ہے اور کبھی زیتون ۔کبھی ایک دوا استعمال کراتا ہے اور کبھی دوسری ۔جب روزانہ دنیا میں یہ نظارہ نظرآتا ہے اور تم جانتے ہو کہ کامل طبیب کی علامت یہی ہوتی ہے کہ وہ حالات کے مطابق نسخہ بدل دے تو تمہیں اللہ تعا لیٰ کے اس فعل سے کیوں تکلیف ہوئی اور کیوں تمہارے دل میں یہ اعتراض پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ اس نے موسوی شریعت کی بجاے محمدی شریعت کیوں نازل کر دی ہے ؟ غرض مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ اولؓ کے معنی اول تو ادھورے نقل کئے ہیں اور پھر آپ کا حوالہ دینے سے وہ کترا گئے ہیں حالانکہ دیانتداری کا تقاضا یہ تھا کہ جس شخص نے یہ معنی نکالے تھے اسکا ذکر بھی کیا جاتا۔میں نے حضرت خلیفہ اول ؓسے یہ بھی سنا ہوا ہے کہ تین اور زیتون مسیح کے لیے۔ طور موسی کے لیے اور بلدالامین رسول کریم ﷺ کے لیے ہے گویا ابن کثیر والے مضمون کو بھی آپ پیش کیا کرتے تھے ۔
    سابق مفسرین کے بیان کر دہ معنوں سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ علماء کو شروع سے ہی یہ خیال تھا کہ تین و زیتون مثالی رنگ میں استعمال ہوے ہیں اور اسکی طرف انکی طبائع کا شدت سے رحجان پایا جاتا ہے ۔بے شک بعض نے تین اور زیتون سے ظاہری تین اورظاہری زیتون ہی مراد لیا ہے مگر اکثر نے ان الفاظ کو استعارہ قرار دے کر نئے معانی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے چنانچہ کسی نے اس سے بیت لمقدس مراد لیا ہے ۔کسی نے بلاد فلسطین ۔کسی نے مسجد اقصیٰ اور مسجد نوح۔گو یہ طریق جیسا کہ اوپر بیان ہو چکاہے زبردستی کا ہے اور تاویل بعیدہ کا ایک وسیع دروازہ کھول دیتا ہے مگر جہاں تک ان لوگوں کے معنوں کا تعلق ہے جو اس جگہ حذف مضاف کہتے ہیں ان پر غیر معقولیت کا الزام نہیں لگایا جا سکتااس میں کوئی بعید بات نہیں کیونکہ یہ عربی کا عام قاعدہ ہے کہ کبھی حذف مضاف کرکے صرف مضاف الیہ کو بیان کر دیا جاتا تو اسی رنگ میں اگر یہاں بھی تین اور زیتون کا استعمال ہو گیا ہو تو اس میں حرج کی کونسی بات ہے۔ قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا وسئل القریۃ التی کنا فیھا والعیر التی اقبلنا فیھا و انا لصادقون (یوسف۱۰ع۴) تو ہمارے متعلق گائوں سے پوچھ لے یا تو ہمارے متعلق گدھوں سے پوچھ لے حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ نہ گائوں بولا کرتا ہے اور نہ گدھے کسی سے گفتگو کیا کرتے ہیں ۔ دونوں باتیں ناممکن ہیں اور دونوں کو عقلی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا مگر قرآن کریم نے قریہ اور عیر سے ہی سوال کرنے کو کہا ہے ۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ گو یہاں قریہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر مراد اہل القریۃ سے ہے یعنی بستی والے اور گو صرف عیر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر مراد یہ ہے کہ گدھوں کے مالکوں سے پوچھ لو ۔اسی طرح قرآن کریم میں اور بھی بہت سی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ قرآن کریم کثرت سے اس محاورہ کو استعمال فرماتا ہے۔ ہاں ایسے مواقع پر قرائن قویہ موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر قرائن قویہ کے بغیرایسے معنی کئے جائیں تو بے شک معقول اور غیر معقول کے درمیان کی دیوار ٹوٹ جاتی ہے۔ چنانچہ و سئل القریۃ التی کنا فیھا والعیر التی اقبلنا فیھا میں یہ ایک نہایت کھلا قرینہ ہے کہ بستی کلام نہیں کیا کرتی یا گدھے بولا نہیں کرتے اور جب یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں تو ان سے سوال کرنے کے بجز اس کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ بستی سے تعلق رکھنے والے جو لوگ ہیں ان سے دریافت کیا جائے یا گدھوں کے جو مالک ہیں ان سے اصل حقیقت معلوم کی جائے اسی طرح اگر بعض لوگوں نے والتین والزیتون کے یہ معنی لئے ہیں کہ اس دے مراد وہ علاقے ہیں جہاں تین اور زیتون دونوں کثرت سے ہوتی ہیں ۔ تو اس میںعجیب بات کونسی ہو گئی۔ قرآن کریم نے اپنے کلام میں لازماً عربی محاورات اور عربی طریق گفتگو کو مد نظر رکھے گا ۔ جب عربی زبان میں یہ قاعدہ عام ہے کہ کبھی حذف مضاف کر کے صرف مضاف الیہ بیان کر دیتے ہیں ۔تو کوئی وجہ نہیں کہ قرآن کریم اس محاورہ کو استعمال نہ فرمائے ۔باقی رہا یہ سوال کہ اس جگہ قرینہ قویہ کونسا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ قرینہ اگلے دو الفاظ ہیں یعنی طور اور بلدالامین ۔ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ طور ایک مقام ہے جو ایک نبی کی وجہ سے معزز ہوا اور مکہ بھی ایک مقام ہے جو ایک نبی کی وجہ سے معزز ہوا۔ پس جبکہ تین اور زیتون کے معطوف دو مقام ہیں جو ایک ایک نبی کی وجہ سے معزز ہوئے تو عقل ضرور اس امر کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ تین و زیتون میں بھی کسی مقام کا نام ہو گا۔ یا کسی نہ کسی نبی سے تعلق رکھنے والی چیز ہو گی جس کی وجہ سے اسے طور اور مکہ کی طرح خدا تعالیٰ کی قدرت اور شوکت کے ثبوت میں پیش کیا جا سکے۔ اسی طرح ابن کثیر والوں نے جو اس سوال کا جواب دیا ہے کہ ترتیب قرآنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلے کیوں بیان کیا گیا ہے وہ ایک نہایت لطیف جواب ہے اور ان کی نگاہ کی باریکی کی قدر کرنی پڑتی ہے۔ مولوی محمد علی صاحب نے جو معنی کئے ہیں ان کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ وہ درحقیقت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے معنی نہایت لطیف ہیں کہ ایک قوم کو تین سے مشابہت دی گئی ہے اور دوسری کو زیتون سے ۔اور بتایا گیا ہے کہ ایک وقت ہم نے تین کا نسخہ تجویز کیا تھا اور دوسرے وقت میں زیتون کا کیونکہ ہم کامل طبیب ہیں اور جیسی جیسی بیماری ہوتی ہے ویسا ہی اس کا علاج کرتے ہیں۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ اس سے زیادہ اس جگہ یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ تین مزے میں تو اچھی ہوتی ہے مگر وہ جلدی سڑ جاتی ہے اس کے مقابل میں زیتون علاوہ اس کے کہ پھل کا کام دیتا ہے اس کا روغن کثرت کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے اور اچار میں بھی ڈالاجاتا ہے جو اس کو دیر تک قائم رکھتا ہے۔ گویا تین تو اپنی ذات میں بھی قائم نہیں رہ سکتی اور زیتون کے ساتھ دوسری چیزیں بھی قائم رکھی جاتی ہیں اور ان دو مثالوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ موسوی تعلیم انجیر کی طرح سڑ جانے والی تھی۔اب ہم تمہیں وہ تعلیم دیں گے جو نہ صرف سڑنے اور خراب ہونے سے محفوظ رہے گی بلکہ انسانی ذہنوں میں ایک ایسا نور پیدا کر دے گی کہ اس کے ذریعہ سے نئے سے نئے معارف اور نئے سے نئے علوم انہیں اس کتاب سے حاصل ہوتے رہیں گے۔ جیسے سورۃ نور میں زیتون کے تیل کی تعریف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یکاد زیتھا یضیء ولو لم تمسسہ نار (نور۵ع۱۱)۔ یہ تیل ایسا اعلیٰ درجہ کا ہے کہ خواہ آگ اس کے قریب نہ لائی جائے تب بھی وہ خودبخود بھڑک اٹھتا ہے۔ ایسی اعلیٰ درجہ کی چیز کے ساتھ الٰہی کلام کو مشابہہ قرار دینے کے معنی یہی ہیں کہ وہ کلام جو اب دنیا میں نازل کیا جائے گا نئے سے نئے علوم اور معارف کو دنیا میں قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہو گا۔ اور جہالت اور معصیت کی تاریکیوں کو دور کر دے گا۔ ان دونوں معنوں میں جو اوپر بیان کئے جا چکے ہیں ترتیب طبعی پائی جاتی ہے۔ ایک میں درجہ کے لحاظ سے اور ایک میں زمانہ کے لحاظ سے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ۔ ان مثالوں سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہایت معتدل التقویٰ بنایا ہے ۔کیونکہ جب بھی خدا تعالیٰ کے نبی ائے آخر دنیا ان کو مان گئی۔ اور وہ پہلے معنی جو مفسرین نے بائبل کی اس پیش گوئی کو مد نظر رکھتے ہوئے کئے ہیں کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا ( استثناء باب ۳۳ آیت ۲) اور یہ سمجھ لو کہ یہی پیش گوئی اس جگہ بیان کی گئی ہے۔تو اس لحاظ سے لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم کے یہ معنی ہوں گے کہ ان میں سے جس نبی کو بھی دیکھ لو تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ آخر وہی فتح یاب ہوا۔ بیشک دنیا نے ان کی مخالفت کی۔ ان کو مٹانے کے لئے اس نے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کیں مگر آخر ان کی تعلیم کو ماننے پر مجبور ہو گئی۔ اس یہ نتیجہ نکل آیا کہ ہم نے انسان کو نہایت اعلیٰ درجہ کی تقویم میں پیدا کیا ہے۔ موسیٰ ؑ آئے تو ہم نے انہیں فتح دی۔ عیسی ؑ آئے تو ہم نے انہیں فتح دی۔ اب تم محمدرسول اللہ ﷺ کو نہیں مانتے مگر ایک دن تمہیں اس کی تعلیم کے سامنے سر جھکانا پڑے گا اور اس طرح ثابت ہو جائے گا کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے۔
    غرض حضرت خلیفہ اولؓ کے معنے بھی بڑے لطیف ہیں اور پرانے مفسرین کے بعض معنے بھی بہت اچھے ہیں مگر میں نے اس سورۃ پر مزید غور کیا کہ کیا ایسے لطیف اور واضح معنوں کے ہوتے ہوئے پھر کوئی اور معنے بھی ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ جب میں نے غور کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان آیات کا ایک نیا علم بخشا۔ اس کے لحاظ سے یہاں نہ دو زمانوں کا ذکر ہے نہ تین کا بلکہ چار زمانوں کی خبر دی گئی ہے اور اس طرح ایک نہایت ہی لطیف مضمون بیان کیا گیا ہے جو لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم کے ساتھ گہرے طور پر تعلق رکھتا ہے۔ بیشک اگر ہم موسیٰؑ کی مثال لے لیں یا عیسیٰؑ کی مثال لے لیں یا رسول کریم ﷺ کی مثال لے لیں تب بھی یہ آیت اپنے معانی کے لحاظ سے پوری طرح چسپاں ہوجاتی ہے مگر اس صورت میں انسان کو احسنِ تقویم میں پیدا کرنے کی مثال زمانہ کے صرف ایک جزو کے ساتھ تعلق رکھے گی۔ کامل مثال تب ثابت ہوتی ہے جب ساری دنیا پر مجموعی لحاظ سے نظر ڈالنے کے بعد یہ نتیجہ پیدا ہوا کہ انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیاگیا ہے۔ اگر ساری دنیا پر مجموعی نظر ڈالنے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچیں کہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم تو اس صورت میں یقینا یہ پہلے سے زیادہ زبردست دلیل بن جائے گی اور قرآن کریم کے حسن اور اس کی شان کو دوبالا کردے گی۔
    غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اس سورۃ سے پہلے کی چند سورتوں میں ہجرت کا ذکر چلا آتا ہے۔ چنانچہ پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ تمہیں ہجرت کرنی پڑے گی پھر یہ بتایا گیا ہے کہ ہجرت کس طرح ہوگی اور پھر یہ بتای اگیا ہے کہ ہجرت کے بعد تمہیں کس طرح غلبہ حاصل ہوگا۔ کفا کیونکر مغلوب ہوں گے اور اسلام کو کس طرح شوکت اور عظمت حاصل ہوگی۔ یہ مضمون سورئہ فجر سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد کی ہر سورۃ میں اشارۃً یا وضاحتاً کسی نہ کسی رنگ میں ہجرت کا ذکر چلا آتاہے۔ ہجرت کا پہلا اثر انسان کی طبیعت پر یہ ہوتا ہے کہ ہار گئے، بھاگ گئے ، شکست کھاگئے ۔ جب بھی ہجرت کا ذکر کیا جائے گا دشمن تالیاں پیٹنے لگ جائے گا کہ لو اب بھاگنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آج تو ہم یہاں سے جارہے ہیں مگر کچھ عرصہ کے بعد پھر فتح حاصل کرکے واپس آئیں گے تب بھی دشمن حقارت کی ہنسی ہنستا ہے اور کہتا ہے فتح کو تو میں نہیں مانتا مگر اتنا تو تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ اس وقت تم میرے مقابلہ سے بھاگ رہے ہو۔
    غرض ہجرت پر شیطان کو ایک خوشی حاصل ہوتی ہے۔کیونکہ بظاہر شیطان جیت جاتا ہے اور نبی ہارجاتا ہے گویا شیطان کی فتح کی ایک ظاہری علامت قائم ہوجاتی ہے اور کمزور دل لوگ ڈر جاتے ہیں کہ کیا اس کے نتیجہ میں اب یہ سلسلہ جو خداتعالیٰ کی طرف سے ہونے کا مدعی ہے تباہ تو نہ ہوجائے گا۔ اس کا بانی تو کہتا تھا کہ ہم جیت جائیں گے اور دشمن ہارجائے گا۔ مگر ہوا یہ کہ خود ہی دشمن سے ڈر کر بھاگ رہا ہے۔ پس چونکہ ہجرت پر شیطان کو ایک ظاہری فتح حاصل ہوتی ہے اور کمزور ایمان والوں کے قدم ڈگمگاجاتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں ہجرت کی چار مثالیں بیان فرمائی ہیں اور بتایا ہے کہ اس سے پہلے شیطان نے تین دفعہ بظاہر خداتعالیٰ کے نبیوں کو شکست دی تھی اور ان کو دق کرکے ان کے وطن سے نکال دیا تھا مگر آخر نتیجہ کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی پردہ پوشی فرمائی اور ان کی شکست کو فتح میں بدل دیا۔ اب بھی ایسا ہی ہوگا ۔ تم ہمارے رسول کو اس قدر تکالیف پہنچائو گے آخر وہ مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائے گا اور تم خوش ہو گے کہ تم نے اسے شکست دے دی اور اسے اپنے شہرمیں سے نکال دیا ۔ مگر یا درکھو آخر تم کو ہی ذلیل ہونا پڑے گا۔ چنانچہ ہم تمہارے سامنے تین مثالیں پیش کرتے ہیں۔ تینوں دفعہ شیطان نے منہ کی کھائی اور ان انبیاء کا اپنے وطن سے نکلنا ہی دشمن کی تباہی کا موجب بن گیا۔
    پہلی مثال آدمؑ کی ہے ۔ آدم کو بظاہر شیطان سے شکست ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک درخت کے پاس جانے سے انہیں منع کیا تھا جس کے پاس وہ شیطان کے بہکانے کے نتیجہ میں چلے گئے اور انہیں کئی قسم کی تکالیف میں مبتلا ہوناپڑا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فقلنا یاادم ان ھذا عدولک ولزوجک فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری و انک لا تظمؤ ا فیھا ولا تضحی فوسوس الیہ الشیطان قال یادم ھل ادلک علی شجرۃ الخلد و ملک لا یبلی فاکلا منھا فبدت لھما سواتھما وطفقا یخصفان علیھما من ورق الجنۃ و عصی ادم ربہ فغوی ثم اجتباہ ربہ فتاب علیہ و ھدی (طٰہٰ ۷ع۱۶) یعنی ہم نے آدم کو جنت میں رکھا تو شیطان ان کا مدمقابل بن کر کھڑا ہوگیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آدم سے فرمایا۔ اے آدم یہ تیرا دشمن ہے اور تیری بیوی یا تیرے ساتھیوں کا بھی دشمن ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکال دے اور تم تکلیف میں پڑ جائو۔ تیرے لئے خدا کا فیصلہ یہی ہے کہ تو اس جنت میں نہ بھوکا رہے نہ ننگا، نہ پیاسا رہے اور نہ گرمی کی تکلیف تجھے ستائے۔ جب خدا نے یہ کہا تو شیطان کو اور غصہ چڑھا کہ اچھا میرے مقابلہ میں اب اس کے غلبہ اور کامیابی کی خبریں دی جارہی ہیں۔ چنانچہ شیطان نے اپنا بھیس بدلا اور اس نے آدم کے پاس آکر کہا۔ کیا میں آپ کو ایک ایسے درخت کا پتہ دوں جس کا پھل کھانے سے آپ کو دائمی حیات حاصل ہوسکتی ہے اور ایسی حکومت کا آپ کو پدہ دوں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی۔ جب اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں اس نے کیں تو دھوکہ کھاجانے کی وجہ سے آدم اور اسکی جماعت نے یا آدم اور اس کی بیوی نے اس درخت کا پھل کھالیا اور چونکہ آدم کا یہ فعل خدائی منشاء کے خلاف تھا اس لئے یکدم اس فعل کے برے نتائج ظاہر ہونا شروع ہوگئے اور آدم کی آنکھیں کھل گئیں کہ اس نے خدائی منشاء کی خلاف ورزی کرکے سخت غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ اس نے سمجھا تھا کہ یہ کامیابی حاصل کرنے کا طریق ہے مگر ہوا یہ کہ دشمن کی بات مان کر اس کی مشکلات اور بھی بڑھ گئیں اور وہ فتوحات جو اسے پہلے حاصل ہورہی تھیں ان میں یکدم روک پیدا ہوگئی۔
    شیطان نے آدم کو ورغلانے کا یہی ڈھنگ نکالا تھاکہ آپس کے تعلقات سے بہت فائدہ ہوگا۔ رشتہ داری کے تعلقات بڑھ جائیں گے۔ دوستانہ تعلقات بڑھ جائیں گے ۔ محبت اور پیار کے تعلقات بڑھ جائیں گے اور اس طرح بہت جلد ترقی حاصل ہوجائے گی۔ پھر اس نے کہا آخر خدا کا بھی تو یہی منشاء ہے کہ تمہیں ترقی حاصل ہو اگر ایک دوسرے سے مل کر اور آپس کی مغائرت کو دور کرکے یہ ترقی حاصل ہوجائے تو خدا کو کب ناپسند ہوگی۔ اس کو تو بہرحال یہ بات اچھی لگے گی۔ آدم اس کے دھوکہ میں آگئے اور انہوں نے دشمن سے صلح کرلی۔ صلح کرنے کی دیر تھی کہ یکدم ان کی فتوحات رک گئیں، کامیابیاں جاتی رہیں اور اس باہمی میل جو کے بدنتائج ظاہر ہونے شروع ہوگئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فبدت لھما سواتھما کہ درخت کا پھل کھانے سے ان کا ننگ ظاہر ہونا شروع ہوگیا اور اس فعل کے برے نتائج ان پر روشن ہوگئے۔ جب آدم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہیں معلوم ہوا کہ شیطان کی طرف صلح اور محبت کاہاتھ بڑھا کر انہوںنے خطرناک غلطی کی ہے تو اس غلطی کے ازالہ کیلئے طفقا یخصفان علیھما من ورق الجنۃ انہوں نے جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا۔ وعصی ادم ربہ فغوی اور آدم نے خدا کے حکم کی نافرمانیکی تھی جس سے وہ تکلیف میں مبتلا ہوا۔ ثم اجتباہ ربہ مگر پھر خدا نے اسے بزرگی دے گی اور اس نے ورق الجنۃ سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا اور خداتعالیٰ نے اسے وہ راستہ دکھادیا جو اسے اور اس کی جماعت کو کامیابی کی منزل کی طرف لے جانے والا تھا۔ اب دیکھو یہاں شیطان نے آدم کو دھوکا دے کر بظاہر اسے شکست دے دی تھی مگر آدم نے فوراً ورق الجنۃ سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا اس کی شکست فتح سے بدل گئی اور آخر آدم ہی کامیاب رہا۔ ورق کے معنے زینت کے بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ لغت میں لکھا ہے الورق: جمال الدینا و بھجتھا کہ دنیا کی خوبصورتی اور اس کے حسن کو ورق کہتے ہیں۔ اسی طرح ورق کے معنے نسل کے بھی ہیں۔ چنانچہ عربی زبان کا محاورہ ہے انت طیب الورق اور اس محاورہ سے مراد یہ ہوتی ہے کہ تو طیب النسل ہے ان دونوں محاوروں کے لحاظ سے فطفقا یخصفان علیھما من ورق الجنۃ کے معنے یہ ہوئے کہ آدم نے جنت کی زینت اور جمال سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا اور جنت کاجمال اس کے مومنین ساکنین ہوتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے معنوں کی رو سے اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ آدم نے پاکیزہ نسل کے ذریعہ سے شیطانی فریب کا ازالہ کرنا شروع کیا اور وہ کامیاب ہوگیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ورق الجنۃ کا تعلق انجیر سے کیا ہوا۔ ہر ایک درخت کے پتے ورق الجنۃ کہلاسکتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول ہم علم تعبیرالرئویا کو دیکھتے ہیں تو اس میں لکھاہے کہ التین فی المنان یفسر بالصلحاء و خیارالناس یعنی جب کوئی شخص رئویا یا کشف کی حالت میں انجیر کا درخت دیکھے تو اس ے معنے صالح اور نیک لوگوں کے ہوتے ہیں۔ یہی ورق الجنۃ کے معنے تھے کیونکہ ورق پاکیزہ نسل کو کہتے ہیں اور ورق الجنۃ کے معنے تھے جنت کی پاکیزہ نسل اور جنتی نسل صلحاء اور مومن لوگ ہی ہوتے ہیں۔ پس ورق الجنۃ کا ترجمہ تعبیر الرئویا کے مطابق انجیر کے پتے ہوا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا آدم کے واقعہ کے ساتھ خصوصیت سے انجیر کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ اس غرض کیلئے جب ہم بائبل کو دیکھتے ہیں تو اس میں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں:
    ’’اور سانپ میدان کے سب جانوروں سے جنہیں خداوند خدا نے بنایا تھا ہوشیا رتھا۔ اس نے عورت سے کہا کیا یہ سچ ہے کہ خدا نے کہا کہ باغ کے ہر درخت سے کھانا عورت نے سانپ سے کہا باغ کے درختوں کا پھل ہم تو کھاتے ہیں مگر اس درخت کے پھل کو جو باغ کے بیچوں بیچ ہے خدا نے کہا کہ تم اس سے نہ کھانا اور نہ اسے چھونا ایسا نہ ہو کہ مرجائو۔ تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن اسے کھائو گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے ہوگے اور عورت نے جوں دیکھا کہ وہ درخت کھانے میں اچھا اور دیکھنے میں خوشنما اور عقل بخشنے میں خوب ہے، تو اس کے پھل میں سے لیا اور اپنے خصم کو بھی دیا اور اس نے کھایا۔ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں معلوم ہوا کہ ہم ننگے ہیں اور انہوںنے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لنگیاں بنائیں‘‘ (پیدائش باب ۳ آیت ۱ تا ۷)
    یعنی جب شیطان نے آدم کو جنت میں سے نکالنے کا سامان کیا تو آدم نے ورق الجنۃ کو اپنے ساتھ لپٹالیا اور اس طرح وہ ننگ جو ظاہر ہوگیا تھا اس کو ڈھانک لیا۔ یہ بتایا جاچکا ہے کہ ورق الجنۃ تعبیرالرئویا کے مطابق انجیر کے پتوں کو کہتے ہیں اور جیسا کہ انجیر کے معنے صلحاء اور پاک طینت لوگوں کے ہیں۔ اسی طرح ورق الجنۃ کے معنے بھی جنتی نسل کے ہیں اور جنتی نسل وہی ہوتی ہے جو صلحاء اور پاک لوگوں پر مشتمل ہو۔ بہرحال قرآن کریم اوربائبل دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ شیطان جب آدم کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوا تو آدم نے انجیر کے پتوں کو اپنے گرد لپٹالیا۔ یعنی جب شیطان نے ان کو دھوکا دیا اور صلح کے نام پر آدم کو اپنے ساتھ ملا کر خدائی سکیم کو ناکام کرنا چاہا تو آدم کو یکدم اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے مومنوں کی جماعت کو اپنے ساتھ ملا کر شیطانی تدابیر کو ناکام کردیا۔ شیطان نے تو چاہا تھ اکہ اس ریعہ سے وہ آدم کو شکست دیدے مگر بجائے اس کے کہ آدم کا یہ فعل ان کیلئے کسی نقصان یا خرابی کا موجب ہوتا ان کے اندر ایک نئی بیداری پیدا ہوگئی اور وہ ترقی کے میدان میں اور بھی آگے نکل گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فتاب علیہ و ھدی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف رجوع برحمت فرمایا اور انہیں پہلے سے بھی زیادہ ترقی دے دی۔ جیسے احرار نے ۱۹۳۴؁ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک بہت بڑا فتنہ اٹھایا اور اس لئے اٹھایا کہ وہ جماعت احمدیہ کو کچل کر رکھ دیں مگر یہی فتنہ ایسی بیداری اور حرکت پیدا کرنے کا موجب بن گیا کہ ہماری جماعت پہلے سے کئی گنا ترقی کرگئی۔ اسی طرح شیطان نے آدم اور اس کی جماعت کی تباہی کیلئے جو تدبیر اختیار کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی خرابیاں اتنی جلدی آدم پر ظاہر کردیں کہ ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوںنے یکدم ورق الجنۃ کو سمیٹ لیا اور دشمن کے سامنے اعلان کردیاکہ ہمارا تمہارے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تم صلح اور آشتی کے نام پر ہمیں ساتھ نہیں ملاسکتے ہمارا راستہ خدا نے مقرر کیا ہے اور تمہارا راستہ اور ہے ۔ یہ نہیں ہوسکتا ہے ہماری جماعت مداہنت سے کام لے اور تمہاری ہاں میں ہاں ملاتی چلی جائے۔ چنانچہ اس واقعہ کے بعد خدا نے ہمیشہ کیلئے یہ قانون مقررکردیا کہ مومنوں کی جماعت کفار سے علیحدہ رہے گی جب تک شیطان نے یہ فعل نہیں کیا تھا اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف اتنی ہدایت تھی کہ شیطان کے دھوکہ میں نہ آنا مگر آدم کے اس واقعہ نے ہمیشہ کیلئے یہ رسم قائم کردی کہ انبیاء کی جماعتوں کو شیطانی لوگوں سے الگ رہنا چاہئے۔ بعض احکام ایسے ہوتے ہیں جوبظاہر نئے دکھائی دیتے ہیں مگر درحقیقت وہ نئے نہیں ہوتے۔ مثلاً ہماری جماعت کے افراد کو یہ حکم ہے کہ وہ غیروںکے پیچھے نمازیں نہ پڑھیں، ان کو رشتے نہ دیں، ان کے جنازے نہ پڑھیں۔ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے سخت احکام جماعت کو کیوں دیئے جاتے ہیں مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ احکام نئے نہیں بلکہ وہی ہیں جن کا آدم کے وقت سے آغاز ہوچکا ہے۔ جب تک شیطان نے آدم کو دھوکا نہیں دیا تھا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ احکام نازل نہیں ہوئے ۔ مگر جب شیطان ایک دفعہ آدم کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوگیا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کیلئے یہ قانون مقرر کردیا کہ الٰہی جماعتوں کو اپنے مخالفوں سے علیحدہ رہنا چاہئے۔یہی وجہ ہے کہ ہر نبی جو دنیا میں آیا اس نے اپنی جماعت کودوسروں سے علیحدہ رکھا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی نبی آیا ہو اور اس نے اپنی جماعت کو یہ اجازت دے دی ہو کہ وہ غیروں سے مل جل کر رہے۔ غرض شیطان نے آدم کو جنت سے نکالنے کا سامان کیا اور آدم کو جنت سے ہجرت کرنی پڑی مگر اس کے بعد خدا نے جو اسے تین نصیب کی وہ اسے اس قدر کامیاب کرنے والی ثابت ہوئی کہ آج دنیا میں ابلیس کو ماننے والا تو کوئی نظر نہیں آسکتا مگر آدم کو ماننے والے ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔
    اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آدم کا ننگ انجیر کے پتوں سے ڈھانکا گیا تھا جو درحقیت تمثیلی زبان میںایک الہام تھا جسے یہود نے سمجھا نہیں اور فی الواقعہ ننگا ہونے اور انجیر کے پتوں سے ڈھانکناسمجھ لیا۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک درخت سے یعنی اس سانپ سے اور اسکے ساتھیوں سے تعلق رکھنے سے منع فرمایا جو جنات میں سے تھا (سانپ زیر زمین رہتاہے اور یہ شخص بھی ، کیو مین CAVEMAN یعنی زیر زمین رہنے والا) اس نے آکر دھوکا دیا کہ ہمارا پھل کھانے سے یعنی ہمارے ساتھ تعلقات پیدا کرنے سے فائدہ ہی ہے اور خداتعالیٰ کا بھی تو اصل منشاء تم کو فائدہ پہنچانا ہے اب ہم جو صلح کرکے ملتے ہیں تو وہ مقصد بدرجۂ اتم پورا ہوجائے گا۔ آدم اس کے فریب میں آگئے۔ ان لوگوں سے تعلقات پیدا کئے اور نقصان اٹھایا۔تب اللہ تعالیٰ سے ہدایت پاکر آپ نے انجیر کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانکنا شروع کردیا یعنی مومنوں کو اپنے گرد جمع کرنے لگے اور کفار سے قطع تعلق کرلیا۔ اسی طرح جنت سے نکلنے کی جو تکلیف پہنچی تھی یعنی آپ کو جو ہجرت کرنی پڑی تھی اس کا ازالہ ہوگیا ۔ بظاہر شیطان کی فتح ہوئی مگر دراصل آدم کی ہوئی۔ کیونکہ اس کو قومی تنظیم کا خاص خیال پیدا ہوگیا اور بجائے گرنے کے ثم اجتباہ ربہ فتاب علیہ ھدی کے سامان پیدا ہوگئے۔ پس فرمایا کہ ایک تو تین کے واقعہ کو لو کہ شیطان نے آدم کو دھوکا دیا۔ اور اسکے نتیجہ میں آدم کو ہجرت کرنی پڑی اور جس ارضی جنت میں وہ رہتے تھے اسے چھوڑنا پڑا مگر اسی ہجرت کے نتیجہ میں ایک مومنوں کی جماعت آدم کے گرد جمع ہوگئی اور ان کی مدد سے آدم نے شیطان کی تدبیر کو پاش پاش کرکے رکھ دیا۔ اے مکہ والو اب تم بھی محمد رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی کرنے والے ہو مگر یاد رکھو اب بھی وہی ہوگا جو آدم کے وقت میں ہوا تھا۔ تین محمد رسول اللہ ﷺ کے نقص کو ڈھانپ لے گی اور ہجرت ہی کے نتیجہ میں ایک صلحاء کی جماعت آپ کے گرد جمع ہوجائے گی۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو یہ کہا تھا کہ رب اشرح لی صدری مگر رسول کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے خوف فرمایا کہ الم نشرح لک صدرک ۔ اسی طرح آدم کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ آدم نے تین کے پتوں کو اپنے گرد جمع کرنا شروع کیا اور اس طرح اپنے ننگ کو ڈھانکا مگر رسول کریم ﷺ کے وقت تین کے پتے خودبخود آپ کی طرف بڑھے اور جنگ بدر کے وقت انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ہم موسیٰ کے ان ساتھیوں کی طرح نہیں جنہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اذھب انت و ربک فقاتلا انا ھھنا قاعدون تو اور تیرا رب دونوں جائو اور دشمن سے لڑتے پھر۔ بلکہ یارسول اللہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔ یہ کتنا بڑا فرق ہے جو آدم اول اور رسول کریم ﷺ کے ساتھیوں میں پایا جاتا ہے۔ آدم کو تو خود اپنی جدوجہد سے تین کے پتے اپنے اردگرد لپٹانے پڑے مگر رسول کریم ﷺ کا درجہ چونکہ آدم سے بہت بلند تھا اس لئے آپ سے تین کے پتے خود بخود چمٹنے لگے۔ پس فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ ہجرت کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ ﷺ شکست کھاجائیں گے اور تم فتح حاصل کرلو گے۔ پہلے بھی ایسا کئی بار ہوچکا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو شکست دینی چاہی مگر ہمیشہ منہ کی کھائی ۔چنانچہ آدم کی مثال تمہارے سامنے ہے۔ شیطان نے اسے جنت سے نکالا اور وہ چلا گیا مگر آخر کیا ہوا۔ وہی ہجرت اس کی کامیابی کا ذریعہ بن گئی۔ اور اس نے تین کے پتے اپنے اردگرد لپٹا کر دشمن کو اس کی تدابیر میں ناکام کردیا۔ اسی طرح اب بھی تم سجھو گے کہ ہم کامیاب ہوگئے ہم نے محمد ﷺ کو مکہ سے نکال دیا۔ مگر آخریہی ہجرت تمہاری تباہی اور محمد رسول اللہ ﷺ کی کامیابی کا ذریعہ ہوگی اور اس طرح ثابت ہوجائے گا کہ خدا نے انسان کو چھوڑنے کیلئے نہیں بنایا بلکہ ترقی کرنے کیلئے بنایا ہے۔
    اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والزیتون دوسری مثال ہم زیتون کی دیتے ہیں۔ زیتون کی مثال نوحؑ کا واقعہ ہے۔ نوحؑ کو اس کی قوم نے سخت تنگ کیا اور آخر ایک عذاب عظیم آیا جس کی وجہ سے نوحؑ کی قوم تباہ ہوئی اور نوح کو اپنا وطن چھوڑناپڑا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قد امن فلا تبتئس بما کانوا یفعلون - واصنع الفلک باعیننا ووحینا ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون - ویصنع الفلک کلما مر علہ ملا من قومہ سخروا منہ قال ان تخسرو منا فانا نسخر منکم کما تسخرون- فسوس تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ ویحل علیہ عذاب مقیم- حتی اذا جاء امرنا و فارالتنور قلنااحمل فیھا من کل زوجین اثنین و اھلک الا من سبق علیہ القول ومن امن معہ الا قلیل- و قال ارکبوا فیھا بسم اللہ مجرھا و مرسھا انی ربی لغفوررحیم- وھی تجری بھم فی موج کالجبال و نادی نوح ن ابنہ و کان فی معزل یابنی ارکب معنا ولا تکن مع الکافرین- قال ساوی الی جبل یعصمنی من الماء قال لا عاصم الیوم من امراللہ الامن رحم و حال بینھما الموج فکان من المغرقین- و قیل یاارض ابلعی ماء ک و یسماء اقلعی و غیض الماء و قضی الامر واستوت علی جودی و قیل بعدا للقوم الظالمین (ھود: ۴ع۴)یعنی نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے جو پہلے ایمان لاچکے ہیں ان کے سوا اور کوئی لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ پس تو ان کے فعل پر غمگین مت ہو ار اس بات کا کچھ خیال نہ کر کہ وہ تجھ پر کیوں ایمان نہیں لاتے۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے حکم اور وحی سے ایک کشتی بنا اور ظالموں کے بار میں مجھ سے خطاب کرنا چھوڑ دے کیونکہ ان کے متعلق الٰہی فیصلہ ہے کہ وہ غرق کئے جائیں گے۔ نوح نے ہمارے اس حکم کے مطابق کشتی بنانی شروع کردی۔ لوگ وہاں سے گزرتے تو ہنسی اور مذاق کرتے کہ دیکھو خشکی میں کشتی چلانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ حضرت نوحؑ ان کو جواب میں کہتے کہ تم بیشک ہنسی کرلو ایک دن آئے گاجب اللہ تعالیٰ تم کو تباہ کردے گا اور تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کرنے والا اور قائم رہنے والا عذاب نازل ہوتا ہے یہاں تک کہ ہمارا حکم نازل ہوگیا اور تنور جوش میں آگیا۔ ہم نے نوحؑ سے کہا کہ ہرقسم کے جوڑے اپنی اس کشتی میں رکھ لے اسی طرح اپنے اہل کو بھی بٹھالے سوائے ان کے جن کے متعلق عذاب کی خبر دی جاچکی ہے اور مومن بندو ںکو بھی سوار کرلے۔ اور اس پر ایمان نہیں لائے تھے مگر تھوڑے لوگ۔ اس نے سب سے کہا کہ اس کشتی میں بیٹھ جائو ۔ اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھہرنا بھی۔ میرا رب یقینا بخشنے والا اورمہربان ہے۔ جب طوفان آیا اور پہاڑوں جیسی لہروں میں کشتی چلنے لگی اس وقت نوح نے اپنے بیٹے سے جو علیحدہ تھا کہا کہ اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجائو اور کافروں سے مت ملو۔
    دیکھو یہاں سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت نوحؑ اس وقت ہجرت کرکے اپنے وطن کو چھوڑ رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی تحریک کی کہ ہمارے ساتھ آجائو اور اپنے وطن کو چھوڑ دو ۔ مگر اس نے جواب دیا کہ مجھے اپنا وطن چھوڑنے کی ضرورت نہیں آپ بیشک چلے جائیں میں کسی پہاڑ پر چڑھ جائوں گا۔ یعنی تو اگر وطن چھوڑنا چاہتا ہے تو بیشک چھوڑ دے میں اپنا وطن چھوڑنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوں۔حضرت نوح نے کہا آج خدا کے عذاب سے وہی بچ سکتا ہے جس پر وہ خود رحم کرے اور کوئی شخص اپنی تدبیر کے زور سے اس ہلاکت سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔اتنے میں ایک لہر اٹھی اور ان کا لڑکا غرق ہو گیا ۔پھر خدا نے کہا ۔اے زمین تو اپنا پانی پی لے اور اے آسمان تو اپنا پانی روک لے چنانچہ پانی تھم گیا اور نوح کی کشتی جودی مقام پر ٹھر گئی اس وقت کہا گیا بعداللقوم الظالمین یعنی ظالموںکی قوم دور ہو گئی۔یا اب تمہارے اور ان کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہو گیا ہے اب دیکھو یہ بھی ایک ہجرت تھی جو نوح نے کی ۔اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے ۔مگر ان کے بیٹے نے ان کا ساتھ نہ دیا بلکہ ان کی تحریک پرجب اس نے کہا کہ میںپہاڑ پر چڑھ جائوں گا تو اس کے معنی بھی یہی تھے کہ نوح کی قوم سمجھتی تھی کہ ہم تباہ نہیں ہوں گے ۔یہ چلا جا ئے گااور ہم پہاڑوں پر امن سے رہیں گے اور شکر کریں گے کہ ہمارے سر سے یہ بلا ٹلی ۔مگر ہوا یہ کہ نوح بچ گیااور وہ قوم جو حضرت نوح کی ہجرت میںاپنی کامیابی سمجھتی تھی تباہ ہو گئی۔
    اللہ تعالیٰ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زیتون کا ذکرکرتا ہے اور فرماتا ہے آدم کا واقعہ توتم نے سن لیا۔ اب تم نوح کے واقعہ پر غور کرو۔یہاںبھی نوح کو دشمنوں کی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا مگر اس ہجرت کے نتیجہ میںبھی کفار ہی تباہ ہوئے اورنوح اور ان کی قوم کوزیتون کی شاخ ملی یعنی خداتعالیٰ کی طرف سے صلح کا پیغام اور ایک ایسی جماعت جو عروۃالوثقیٰ کو پکڑ نے والی تھی یعنی ایمان میں مضبوط اور قربانی میںکامل ۔چنانچہ پیدائش باب ۸میں نوح کے واقعہ کے ساتھ زیتون کا بھی ذکر ہے ۔بائبل میں لکھا ہے :
    ’’پھر خدا نے نوح کو اور سب جانداروںاور سب مو یشیوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میںتھے یاد کیا اور خدا نے زمین پر ایک ہوا چلائی اور پانی ٹھر گیااورگہرائو کے سوتے اور آسمان کی کھڑکیاںبند ہو ئیں۔اور آسمان سے مینہ تھم گیا اور پانی زمین سے رفتہ رفتہ گھسٹتا جاتا تھا اور ڈیڑھ سو دن کے بعد کم ہوا اور ساتویں مہینہ کی سترھویں تاریخ کو اراراط کے پہاڑوں پر کشتی ٹک گئی اور پانی دسویں مہینہ تک گھسٹتا جاتا تھا اور دسویں مہینہ کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آئیں اور چالیس دن کے بعد یوں ہوا کہ نوح نے کشتی کی کھڑکی جو اس نے بنائی تھی کھول دی اور اس نے ایک کوے کو اڑا دیا سو وہ نکلا اور جب تک کہ زمین پر سے پانی سوکھ نہ گیا آیا جایا کرتا تھا ۔پھر اس نے ایک کبوتری اپنے پاس سے اڑا دی کہ دیکھے کہ زمین پر پانی گھٹا یا نہیں۔پر کبوتری نے پنجہ ٹیکنے کی جگہ نہ پائی اور اسکے پاس کشتی میں پھر آئی کیونکہ تمام روئے زمین پر پانی تھا ۔تب اس نے ہاتھ بڑھا کے اسے لے لیا اور اپنے پاس کشتی میں رکھا پھر اس نے اور سات روز صبر کیا تب اس کبوتری کو اس کشتی سا اڑا دیا اور وہ کبوتریشام کے وقت اس کے پاس پھر آئی اوردیکھو زیتون کی ایک تازہ پتی اس کے منہ میں تھی تب نوح نے معلوم کیا کہ اب پانی زمین پر کم ہوا اور وہ اور بھی سات دن ٹھہرا بعد اس کے پھر اس کبوتری کو اڑا دیا وہ اس کی پاس کبھی نہ آئی ‘‘۔
    غرض نوح کو جس چیز نے بشارت دی تھی کہ تیری ہجرت کامیاب ہو گئی ہے تو جیت گیا اور تیرے دشمن ہمیشہ کیلیے مغلوب ہو گئے ہیںوہ زیتون کی پتی تھی اور آدم کو جس چیز نے یہ بتایا کہ تو کامیاب ہو گیا ہے وہ انجیر کے پتے تھے اللہ تعالیٰ انہی دو واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتا ہے واتین والزیتون کہ ہم تمہیں بتا تے ہیں کہ آدم ہمارا پہلا نبی تھا جس کو شیطانی پنجے سے نکلنے اور ہجرت کرنے پر مجبور کیا مگر وہ ہجرت آدم کونقصان پہنچانے کا موجب نہیں ہوئی ۔وہ ہجرت مومنوں کو ناکام کرنے کا موجب نہیں ہوئی بے شک آدم نے ہجرت کی مگر آخر آدم ہی جیتا اور شیطان ناکام ہوا ۔اسی طرح اے مکہ والو!آج تم محمدﷺکو اپنے شہر میں سے نکالنا چاہتے ہو ۔مگر تمہں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تم اپنے افعال میں اس شیطان کے مثیل ہو جس نے آدم کو جنت مین سے نکالا تھا تو ہمارا یہ رسول آدم ہے جسے ہم نے ایک نئی روحانی مخلوق پیدا کرنے کے لیے دنیا میںبھیجا ہے تم اسے آدم کی طرح ہجرت کرنے پر مجبور کرو گے ۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدم کی طرح اسے بھی تین کے پتے مل جایںگے یعنی صلحا اور پاک طینت لوگوں کی ایک جماعت اسے عطا کی جائے گی جو اس کی قدرو منزلت سمجھتے ہوئے ہر قسم کی قربانیاںاس کے لئے کرے گی ۔اور اگر تم نوح کے دشمنوںکی طرح ہو تب بھی تمھیں معلوم ہونا چاہئے کہ بے شک نوح نے ہجرت کی مگر خدا نے اس کے دشمنوں کو غرق کر دیا اور اسے زیتون کے پتے کے ذریعہ نجات کی بشارت دی اسی طرح بے شک تم محمدﷺکو اپنے شہر سے نکال دو تم نوح کے دشمنوں کی طرح غرق کیے جاو گے اور محمدﷺ کی کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھرے گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے زیتون کی شاخ عطا کی جائے گی۔ مدینہ کیا تھا ؟وہ جودی تھی جہاں محمدﷺکی کشتی ٹھہری اور مدینہ کے انصار کیا تھے ؟وہ زیتون کے پتے تھے جو محمدﷺ کو عطا کیے گئے چنانچہ تعطیرالانام میں لکھا ہے من رای ورقاالزیتون فی ا لمنام فقد ستمسک بالعروۃالوثقی اگر کوئی شخص خواب میں زیتون کے پتے دیکھے تو اس کی تعبیر یہ ہو گی کہ اس نے ایک نہ ٹوٹنے والا کڑا مضبوطی سے پکڑلیا ہے پس زیتون کا عطا کیا جانایہ معنی رکھتا تھا کہ خدا تعالی کی طرف سے آپ کو ایک ایسی جماعت دی جا ے گی جو عروۃالوثقی کو پکڑنے والی ہو گی وہ ایمان میں مظبوط ہو گی ہو قربانی میں کامل ہو گی وہ اطاعت میںحد کمال تک پہنچی ہوئی ہو گی اور کسی قسم کی تکلیف اس کے پائے ثبات میںجنبش پیدانہ کرے گی۔ درحقیقت عروہ وثقی کو مضبوطی سے پکڑلیناایمان باللہ کا ایک طبعی نتیجہ ہوتا ہے وہ شخص جس کے دل میں سچے طور پر ایمان پایا جاتاہے وہ الٰہی تعلیم کو ایسی مضبوطی کیساتھ پکڑکر بیٹھ جاتا ہے کہ بڑے سے بڑے طوفان اورزلا لزل بھی اس کو ادھر ادھر نہیں کر سکتے ۔ وہ میدان کا بہادر اور جرات واستقلال کا پیکر ہوتاہے اور خداتعالیٰ کی راہ میںہر قسم کی موت کو اختیار کرنا لذیذ ترین نعمت سمجھتا ہے ۔
    پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تین کا واقعہ بھی تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں اور زیتون کا واقعہ بھی تمہیں یاد دلاتے ہیںدونوں جگہ ہجرت ہوئی مگر دونوں جگہ شیطان کو نا کامی ہوئی آدم نے ہجرت کی مگر آخرآدم ہی دشمن پر کا میاب ہوا۔نوح کے بعد وہ ملک جس میں آپ رہتے تھے پھر بسا نہیں بلکہ تباہ ہو گیا ۔ اس طرح محمدﷺکی ہجرت کے بعد تم تباہ کر دیئے جائو گے تمہارے لیے شیطان کی طرح ہر طرف *** ا ور پھٹکار ہو گی اور محمدﷺ کے لیے تین کے پتے ہو نگے جو اسے عطا کیے جائیں گے ۔تم نوح کے دشمنوں کی طرح غرق کیے جائو گے اور محمد ﷺ کے لیے مدینہ کے لوگ اپنے ہاتھوں میںزیتون کی پتیاں لیے آگے بڑھیںگے اور کہیں گے یا رسول اللہ ہمارے ہاں تشریف لایئے ہم آپ کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے اور آپ کے پسینہ کی جگہ اپنا خون بہانے کے لیے تیار ہیں۔
    غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا وہ زیتون کی ٹہنی تمھیں یاد ہے جو نوح کو ہجرت کے بعد ملی تھی ؟ کچھ خبر بھی ہے ؟وہی محمدﷺ کے لیے تیار ہو رہی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہوگاکہ لقدخلقناالانسان فی احسن تقویم جب ہم نے انسان کی فطرت کو نیک بنایا ہے تو وہ دیر تک نیکی سے محروم نہیں رہ سکتا ۔
    زیتون کے بعد طور سینیین کی قسم کھائی گئی ہے یعنی اسے بھی شہادت کے طورپر پیش کیا گیا ہے ۔سینین کیا چیزہے؟اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ سینین ایک علاقہ ہے جودشت سینا کہلاتا ہے اس سے مسلمانوں کو بھی دلچسپی ہے ۔کیونکہ قرآن کریم میں ذکر آتاہے اور یورپین مصنفین کو بھی دلچسپی ہے کیونکہ بائبل میں اس کا ذکر آتا ہے لیکن یہ سوال کہ سینا اور طور سینا کہاں ہے؟اس میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔بعض مورخین کے نزدیک دشت سینا مصر کے شمال مشرق حصہ میں ہے ان لوگوں کا خیال ہے کہ موسیٰ کے سمندر پار ہونے کا واقعہ جو بیان کیا جاتا ہے وہ درست نہیں۔سمندر مصروفلسطین کے درمیان خاکنائے کے جنوب کی طرف ہے اور اس طرف حضرت موسی آئے ہی نہیں بلکہ آپ شمال کی طرف نکل گئے تھے بعض کا یہ خیال ہے کہ فلسطین سے ورے اور مصر اور فلسطین کے درمیان جو خاکنائے ہے جس میںسے اب آبنائے سویز بن گئی ہے اس میں خلیج عقبہ کے اوپر جو حصہ ہے وہ دشت سینا کہلاتا ہے گویا وہ دشت سینا کو خلیج عقبہ سے کچھ اوپر قرار دیتے ہیں لیکن بعض کے نزدیک دشت سینا کا علاقہ فلسطین کی طرف جھکا ہوا ہے بعض نے سینا اور طور کا کلی طور پر انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ محض ایک روایت ہے جس کے اندر کوئی حقیقت نہیںپائی جاتی۔ بہرحال قرآن کریم نے طور کا لفظ استعمال کیا ہے اور طور معنے پہاڑ کے بھی ہوتے ہیں ۔پس طور سینین کے یہ معنی ہیں کہ سینا کا ایک پہاڑ۔ قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے طور کو اس پہاڑ کا نام قرار نہیں دیا بلکہ طور بمعنے پہاڑ استعمال کیا ہے ۔ یورپین مورخ بھی اسی طرف گئے ہیں کہ طور کسی پہاڑ کا نام نہیں۔سورہ طور میں والطور وکتاب مسطور کہہ کرطور پرالف لام لایا گیا ہے لیکن اس آیت میںاللہ تعالیٰ نے الف لام چھوڑ دیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ سورئہ طور میں جو الف لام لایا گیا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہاں طور کی کسی اور چیز کی طرف اضافت کرکے اس کی تعین نہیں کی گئی تھی اس لئے الطور کہہ کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ ہماری مراد موسیٰ والے طور یا سینا والے طور سے ہے جس کو تم جانتے ہی لو لیکن یہاں چونکہ سینین کی طرف طور کی اضافت موجود ہے اس لئے الف لام کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ طور ایک نکرہ ہے جو اضافت سے ہی خاص معنے پاتا ہے بغیر اضافت کے اس کے کوئی خاص معنے نہیں سمجھتے جاسکتے۔ جیسے پہاڑ کا لفظ اگر ہم اپنی گفتگو مین استعمال کریں تو اس کے معنے ہمالیہ پہاڑ کے نہیں ہوسکتے لیکن اگر ہم اپنی گفتگو میں استعمال کریں تو اس کے معنے ہمالیہ پہاڑ کے نہیں ہوسکتے لیکن اگر ہم کہیں ہمالیہ کا پہاڑ تو اس کے معنے ہوں گے کہ وہ پہاڑ جسے ہمالیہ کہتے ہیں یا اگر ہم کہتے ہیں کشمیر کا پہاڑ یا ہزارہ کا پہاڑ یا افغانستان کا پہاڑ یا درہ خیبر کا پہاڑ تو اس کے بھی مخصوص معنے ہوں گے۔ پس طور سینین کے یہ معنے ہوئے کہ سینا کا وہ پہاڑ جس پر موسیٰ علیہ السلام کا کوئی خاص واقعہ ہوا تھا۔ والطور و کتاب مسطور میں انہی معنوں کو لاف لام کی زیادتی سے ظاہر کیا گیاہے۔
    بعض مفسرین نے جو یہ سمجھا ہے کہ طور کسی پہاڑ کا نام ہے یہ درست نہیں۔ طور کے معنے محض ایک پہاڑ کے ہیں اور انہیں معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے البتہ عرفِ عام میں بوجہ ایک خاص مناسبت کے اس نے مخصوص معنے پیدا کرلئے ہیں جیسے بعض دفعہ ایک چیز تو عام ہوتی ہے لیکن کسی خاص چیز کی طرف منسوب ہوتے ہوتے آخر اس کا ایک نام بن جاتی ہے ۔ مثلاً کتاب ایک عام لفظ ہے جو ہر کتاب کے متعلق استعمال ہوتا ہے لیکن ’’الکتاب‘‘ ایک مخصوص لفظ ہے جو بائبل کے متعلق استعمال ہوتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ الکتاب کے معنے بائبل کے ہیں بلکہ بائبل کی طرف یہ لفظ منسوب ہوتے ہوتے اتنا عرصہ گزرچکا ہے اور اس قدر زبان زدِ خلائق ہوچکا ہے کہ اب الکتاب کا لفظ جب بھی استعمال ہوگا یہی سمجھا جائے گا کہ اس سے بائبل مراد ہے۔ یا مثلاً انجیل کے لفظی معنے بشارات کے ہیں اور شروع میں انہی معنوں میں انجیل کا لفظ استعمال ہوا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ بشارات جو آپ نے اپنی قوم کو دیں مگر اب انجیل کا لفظ بولو تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ زید کی بشارتیں یا بکر کی بشارتیں بلکہ ہر شخص کے ذہن میں فوراً یہ بات آجائے گی کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کتاب ہے۔ حالانکہ لفظی معنے اس کے صرف بشارات کے ہیں۔ اسی طرح طورِ سینین کے معنے ہیں سینا کا ایک پہاڑ مگر چونکہ سینا کے پہاڑ کا ذکر لوگوں کے زبان پر آتا ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اس لئے رفتہ رفتہ طور سے مخصوص طور پر وہی پہاڑ سمجھانے لگا جس پر یہ واقعہ ہوا تھا۔ حالانکہ معنوں کے لحاظ سے طور ہر پہاڑ کو کہا جاسکتا ہے۔ سینا کے متعلق میں بتاچکا ہوں کہ اس کی تعیین میں مورخین کو بہت کچھ اختلاف ہے ۔ بعض تو سینا نام کا کوئی علاقہ تسلیم ہی نہیں کرتے مگر بض اس علاقہ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان لوگوں میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے۔ بعض کسی اور جگہ کو سینا قرار دیتے ہیں اور بعض کسی جگہ کو۔ میرے خیال میں اس اختلاف کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کو یہ شوق ہوتا ہے کہ ہم کوئی جدید چیز پیدا کریں اور اس شوق کی وجہ سے وہ واقعات اور حقائق کو نظر انداز کرکے محض اپنی کسی تھیوری اور قیاس پر بنیاد رکھ کر ایک نئی بات لوگوں کے سامنے پیش کردیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس طرح ہم بھی موجد قرار پاجائیں گے۔ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ جب سنتے ہیں کہ فلاں نے یہ چیز ایجاد کی ہے اور فلاں نے وہ چیز ایجاد کی ہے تو ان کے دلوں میں بھی شوق پیدا ہوتا ہے کہ ہم بھی کوئی نئی چیز ایجاد کریں۔ اس پر بعض خیالات ان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ فوراً اخبارات میں اعلان کرادیتے ہیں کہ ہم نے اس قسم کی چیز ایجاد کرلی ہے مگر جب زیادہ کرید کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایجاد کوئی نہیں صرف ایک نئی تھیوری انہوں نے پیدا کی ہے۔ اسی طرح بعض مؤرخوں نے سمجھا کہ اگر ہم یہ کہہ دیں گے کہ حضرت موسیٰؑ شمال کی طرف گئے تھے اورسینا بھی شمال میں ہی تھاتو تاریخ میں ہم بھی موجد سمجھے جائیں گے۔ چنانچہ وہ معمولی معمولی شبہات کی بناء پر دوسروں کی باتوں کو ردّ کردیتے ہیںاور ایک نئی تھیوری اور نیا خیال پیدا کرکے خوش ہوجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آئندہ جب بھی اس واقعہ کی تحقیق کی جائے گی لوگ کہیں گے کہ ایک تھیوری فلاں شخص کی بھی تھی اس پر بھی غور کرلیا جائے۔ ایسے لوگوں کو تاریخ کی صحت مدنظر نہیں ہوتی بلکہ اپنی ذات کی شہرت ان کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ حقائق پر غور کریں ان کو ہر وقت یہی شوق رہتا ہے کہ کسی طرح ہمارا نام نکل جائے۔ ایسے ہی لوگ بعض دفعہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ موسیٰ کوئی تھا ہی نہیں۔ عیسیٰ کوئی شخص نہیں تھا۔ بعض کہہ دیتے ہیں کہ سینا کوئی علاقہ نہیں تھا۔ اسی طرح زرتشت ؑ کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ یہی حال کرشنؑ اور رامچندرؑ کا ہے کہ ان کے وجود کا بعض لوگوں کی طرف سے انکار کیا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس میں بھی اسلام کا معجزہ ہے کہ اگر کسی شخص کے وجود کا انکار نہیں ہوا تو وہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ورنہ بعض عیسائی ایسے ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ محض ایک تمثیلی ذکر ہے۔ اسی طرح پروفیسر فرائیڈ جو خود یہودی ہے اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وجود کا انکار کیا ہے۔ بعض ہندو ایسے ہیں جو یورپین مشککین کی اتباع میں کرشنؑ اور رامچندرؑ کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور بعض پارسی ہیں جو زرتشتؑ کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور اس کو محض ایک تمثیلی وجود قرار دیتے ہیں لیکن اگر کسی عظیم الشان نبی کا انکار نہیں کیا گیا تو وہ رسول کریم ﷺ ہی کی ذات ہے۔ میرے نزدیک اس میں بھی ایک بہت بڑی الٰہی حکمت کام کررہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے دنیا کو بتایا ہے کہ اگر کوئی قابل اعتناء ذات ہے تو وہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے باقی سب انبیاء کا اگر تم انکار بھی کرو تو اس میں کوئی ہرج نہیں۔
    غرض طور کے وجود کا بھی بعض لوگوں نے انکار کیا ہے اور سینا کے وجود کا بھی بعض لوگوں نے انکار کیا ہے لیکن جو لوگ طور کو مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ سینا کے نیچے جنوب میں خلیج عقبہ کے اوپر تیس چالیس میل لمبا ایک پہاڑ ہے جس کو طور کہتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں کہ اس پہاڑ کا نام طور تھا۔ طور کے معنے پہاڑ کے ہیں اور طور کے لفظ سے اس پہاڑ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس پر حضرت موسیٰ سے کلام ہوا اور اس واقعہ کو چونکہ ہزاروں لوگوں نے بار بار بیان کیا آہستہ آہستہ طور کالفظ ہی بجائے پہاڑ کے ایک خاص پہاڑ کا علم یعنی مخصوص نام سمجھا جانے لگا۔ بہرحال خلیج عقبہ کے اوپر ایک پہاڑی ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور تاریخوں سے ثابت ہے کہ یہودی ہمیشہ اس پہاڑ کی زیارت کیلئے جایا کرتے تھے۔ میرے نزدیک قرآن کریم اور بائبل سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس کے لحاظ سے خلیج عقبہ کے اوپر والا علاقہ ہی سینا کا ہے اور اسی علاقہ میں وہ پہاڑ ہے جسے عرف عام میں طور کہا جاتا ہے۔
    مجھے تعجب آتا ہے کہ جب قرآن کریم اور بائبل دونوں سے اس علاقہ کا وجود ہونا ثابت ہے اور تاریخ بھی بتاتی ہے کہ یہودی ہمیشہ اس پہاڑ کی زیارت کیلئے جایا کرتے تھے تو پھر کسی مؤرخ کا کیا حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ طور کوئی پہاڑ ہی نہیں تھا یا سینا کوئی علاقہ ہی نہیں تھا۔
    اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سینین کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے جبکہ سورئہ مومنون میں وشجرۃ تخرج من طر سیناء تنبت بالدھن و صبح للاکلین (۱ع) کہہ کر اس کا نام سینا بتایا ہے نہ کہ سینین۔ اس کا جواب بعض لوگوں نے یہ دیا ہے کہ سینا اور سینین دونوں علم ہیں لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ سینا کی بجائے سینین کا لفظ وقف کی وجہ سے بدل دیا گیا ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے سورئہ صافات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سلام علی الیاسین (۴ع۸) حالانہ وہاں صرف ایک الیاس مرادہیں آخر میں یا اور ن کا اضافہ قافیہ بندی کیلئے کیا گیا ہے ۔ مگر ہمارے نزدیک یہ بات درست نہیں کہ سلام علی الیاسین میں صرف وقف کیلئے یا اور ن کا اضافہ کیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ ہماری جماعت کا اعتقاد ہے کہ الیاس کی بجائے الیاسین کا لفظ اللہ تعالیٰ نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ یہاں ایک سے زیادہ الیاس مراد ہیں۔ ایک تو وہ الیاس ہیں جو اسرائیلی انبیاء کے وسط میں گزرچکے ہیں۔ دوسرے الیاس یوحنا ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے معاً پہلے آئے اور تیسرے الیاس حضرت سید احمد بریلوی صاحب ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے آئے۔ چونکہ نزول قرآن سے پہلے دو الیاس دنیا میں آچکے تھے اور ایک الیاس نے ابھی آنا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے سلام علی الیاس کی بجائے سلام علی الیاسین کہہ کر ان سب کی طرف اشارہ کردیا۔ اسی طرح ممکن سینا کے متعلق لوگوں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے سینین میں اس کی طرف اشارہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مختلف قوموں میں مختلف علاقوں کو سینا کہتے ہوں۔ مثلاًعرب لوگ پنجاب اور اس کے اردگرد کے علاقہ کا نام ہند رکھ دیتے ہیں۔ چنانچہ عربی کتابوں میں بعض جگہ لکھا ہوتا ہے کہ ہند اور بنگال میں فلاں بات پائی جاتی ہے حالانکہ ان دنوں بنگال ہندوستان کا حصہ ہے مگر وہ چونکہ صرف پنجاب اور اس کے اردگرد کے علاقہ کا نام ہند رکھ دیتے ہیں اس لئے بنگال کو وہ علیحدہ شمار کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ افغانستان صرف قندھار تک کے علاقہ کو کہتے ہیں ۔ بعض افغانستان کی حدود پشاور تک سمجھتے ہیں اور بعض دریائے سندھ تک کے علاقہ کو افغانستان قرار دیتے ہیں اس لحاظ سے طور سینین کے الفاظ میں اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس علاقہ میں سینا کے نام سے کئی دشت مشہور ہیں مگر وہ پہاڑ جس پر موسیٰؑ سے کلام ہوا ایک ہی ہے ہم ان سینائوں کے طور کی اشارہ کرتے ہیں۔
    میں بتاچکا ہوں کہ والتین والزیتون میں آدمؑ اور نوحؑ کی ہجرتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ ان ہجرتوں سے دشمن کو ایک جھوٹی خوشی حاصل ہوئی اور اس نے سمجھا کہ میں کامیاب ہوگیا ہوں پھر بھی خدا نے اپنے نبیوں کو کامیاب کیا اور دشمن کو ان کے مقابلہ میں ذلیل اور رسوا ہونا پڑا۔ اسی طرح اب مکہ والوں کا یہ خیال کرنا صریح نادانی ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکال کر کامیاب ہوجائیں گے جس طرح سابق انبیاء کے دشمنوں کایہ خیال کہ ہم جیت جائیں گے اور نبی ہار جائے گا باطل ثابت ہوا تھا اسی طرح اب بھی مکہ والوں کا خیال باطل ثابت ہوگااور اللہ تعالیٰ ان کی جھوٹی خوشی کو ایک دن ہمیشہ ذلت اور رسوائی میں بدل دے گا ۔ اب اسی مضمون کی وضاحت کیلئے اللہ تعالیٰ موسیٰؑ کی ہجرت کا واقعہ بطور مثال پیش کرتا ہے۔
    قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ طور کا واقعہ ہجرت کے بعد ہوا ہے چنانچہ قرآن کریم کے ابتداء میں ہی جہاں بنی اسرائیل کا ذکر کیا گیا ہے وہاں آتا ہے واذ فرقنا بکم البحر فانجینکم و اغرقنا من ال فرعون و انتم تنظرون۔ و اذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ ثم اتخذتم العجل من بعدہ و انتم ظالمون (البقرہ: ۶ع) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے بنی اسرائیل یا دکر وجب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا تھا ہم نے تمہیں نجات دی اور آل فرعون کو ہم نے غرق کردیا اور تم دیکھ رہے تھے۔ پھر اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ سے ہم نے چالیس راتوں کا وعد کیا (جب آپ سینا کے پہاڑ پر تشریف لے گئے تھے) اور تم نے بچھڑے کو مبعود بنا کر شرک کا ارتکاب شروع کردیااور خداتعالیٰ کی نگاہ میں ظالم بن گئے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت پہلے ہوئی اور طور کا واقعہ بعدمیں ہوا ہے۔ پہلے آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر کو چھوڑا پھر خداتعالیٰ آپ کو طور پر لے گیا۔ جہاں اس نے وہ کلام آپ پر نازل کیا جس میں یہودی قوم کو دس ایسے احکامات دیئے گئے تھے جو تمام تورات کا مغز سمجھتے جاتے ہیں۔ بائبل سے بھی یہی پتہ لگتا ہے کہ طور کا واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مصر سے نکل آنے کے بعد ہوا۔ چنانچہ خروج میں پہلے ہجرت کا ذکر کیا گیا ہے پھر دشت سینا میں بنی اسرائیل کے پہنچنے کا ذکر آتا ہے اور پھر آخر میں طور کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ ترتیب ظاہر کررہی ہے کہ ہجرت پہلے ہوئی اور واقعہ طور بعد میں ہوا ہے۔ ہجرت کا ذکر خروج باب ۱۴ میں آتا ہے ۔ دشت سینا میں پہنچنے کا ذکر خروج باب ۱۶ میں آتا ہے اور واقعہ طور کا ذکر خروج باب ۱۹ میں آتا ہے۔ خروج باب ۱۴ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا خلاصہ پرانی بائبل میں اس طرح درج ہے:-
    ’’اس بیان میں کہ خدا بنی اسرائیل کو ان کی راہ بتاتا فرعون اس کا پیچھا کرتا۔ بنی اسرائیل کڑکڑاتے۔ موسیٰ ان کو دلاسا دیتا۔ خدا موسیٰ کو سکھلاتا۔ بدلی کا ستون لشکر کی پشت پرجا ٹھہرتا۔ بنی اسرائیل دریائے قلزم کے بیچ سے ہوکے جاتے اسی میں اہل مصر غرق ہوتے‘‘۔
    یہ تو ہجرت کا واقعہ ہوا۔ اس کے بعد خروج باب ۱۶ کا خلاصہ یوں لکھا ہے:-
    ’’اس بیان میں کہ بنی اسرائیل سین میں جاپہنچتے۔ خوراک نہ ہونے کے باعث سب کڑکڑاتے۔ خدا آسمان سے روٹی بھیجنے کا وعدہ کرتا۔ ان کیلئے بٹیریں بھیجی جاتیں۔ من بھی بھیجا جاتا۔ ہر ایک کو من جمع کرنے کا حکم ہوتا۔ سبت کے دن نہ مل سکے گا۔ من کا اُدمر بھر قرنوں کو دکھانے کیلئے حفاظت سے رکھتے‘‘۔
    اس کے بعد خروج باب ۱۹ کا خلاصہ ان الفاظ میں درج ہے
    ’’اس بیان میں کہ بنی اسرائیل سینا کے بیابان میں آتے ان کیلئے خدا کا پیغام پہاڑ پر سے موسیٰ کی معرفت آتا۔ وے لوگ اس کا جواب دیتے۔ تیسرے دن کیلئے تیار ہوجاتے ۔ پہاڑ کا چھونا منع ہوتا۔ پہاڑ کے اوپر یہوداہ ہیبت ناک وضع سے ظاہر ہوتا‘‘۔
    غرض بائبل اور قرآن دونوں اس امر پر متفق ہیں کہ ہجرت کا واقعہ پہلے ہوا ہے اور طور کا واقعہ بعد میں۔
    غرض اللہ تعالیٰ آدمؑ اور نوحؑ کی مثالیں پیش کرنے کے بعد فرماتا ہے ہم تیسری مثال تمہارے سامنے موسیٰؑ کی پیش کرتے ہیں۔ موسیٰؑ کو دشمن کے مظالم کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑی تھی اور وہ اپنی قوم کو ساتھ لے کر مصر سے باہر نکل آیا تھا۔ موسیٰ کے دشمنوں نے سمجھا ہوگا کہ چلو چھٹی ہوئی ۔ ہمیں اس کے فتنہ سے نجات ملی مگر خدا نے اس ہجرت کو دشمنوں کی تباہی اور بنی اسرائیل کی ترقی کا موجب بنا دیا۔ اگر یہ لوگ مصر میں ہی رہتے تو خواہ فرعون کے مظالم سے آزاد ہوجاتے مگر پھر بھی وہ محکوم ہی رہتے۔ لیکن طورِسینین کے واقعہ کے بعداللہ تعالیٰ نے ایسی برکات نازل کیں کہ نہ صرف بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے ہمیشہ کیلئے آزاد ہوگئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ بادشاہت کا وعدہ دے کر یہودی قوم کی حکومت کی بنیاد رکھ دی جو ایک ہزار سال تک نہایت مضبوطی سے قائم رہی۔
    یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ مضمون بیان کررہا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو تمہاری تدبیروں سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تین اور زیتون اور طورِ سینین کے واقعات تمہارے سامنے ہیں۔ آدمؑ کو شیطان نے دھوکا دیا تو تین نے اس کا ننگ ڈھانک لیا۔ نوحؑ کے زمانہ میں طوفان آیا تو زیتون کی شاخ سے اس کو خوشخبری ملی۔ مصر سے موسیٰؑ کو بھاگنا پڑا تو طورِ سینین پر اس کو پناہ مل گئی۔ چونکہ یہاں غلبہ اور ترقی کا مضمون ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دشمن کی تکالیف والے حصہ کو بیان نہیں کیا۔ ورنہ دراصل والتین کے معنے ہیں شیطان کا آدمؑ کو دھوکا دینا اور تین سے اس کا کامیاب ہونا۔ والزیتون کے معنے ہیں نوح کیلئے عرصہ حیات کا تنگ کیا جانا۔ طوفان آنا اور پھر زیتون سے نوح کو اپنی کامیابی کی بشارت ملنا۔ طور سینین کے معنے ہیں مصرسے موسیٰؑ کا بھاگنا اور طور سینین پر اس کو اپنی کامیابیوں کی بشارت ملنا۔ اور ھذا البلد الامین کے معے ہیں مکہ سے محمد رسول اللہ ﷺ کا بھاگنا اور پھر آپ کا فاتح اور حکمران ہونے کی حیثیت سے مکہ میں واپس آنا۔ مگر تکالیف اور ہجرت وغیرہ کا ذکر چونکہ مضمون سے خود بخود نکل آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر محض اشارۃً کیا ہے۔ اصل ذکر غلبہ اور کامیابی کا کیا ہے تاکہ دشمن اپنی عارضی کامیابی پر خوش نہ ہو اور وہ یہ خیال نہ کرے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے انبیا ء کو شکست دیدی ہے۔
    غرض طورِ سینین میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ موسیٰ کو جب مصر سے نکالا گیا تو فرعون تو سمند ر کہ تہہ میں ڈوبا مگر موسیٰؑ کو ہم نے پہاڑ پر تجلی دکھائی۔ گویا ایک نیچے کی طرف چلا گیا اور دوسرا اوپر کی طرف نکل گیا۔ تجلی دونوں نے ہی دیکھی مگر ایک نے سمندر کی تہہ میں دیکھی اور دوسرے نے طورِ سینین پر تجلی دیکھی۔ اے مکہ والو! تمہارے ساتھ بھی یہی ہونے والا ہے۔ بظاہر موسیٰؑ فرعون اور اس کی قوم کے مظالم سے تنگ آکر مصر سے بھاگ گئے تھے وہ اپنے گھروں سے نکل گئے تھے انہوں نے اپنے مکانوں اور اپنی جائیدادوں کو چھوڑ دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے اپنی قوم کے غلبہ کا وعدہ مل گیا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کیلئے بھی طور سینا تیار ہورہا ہے۔ یہ طور سینا مدینہ تھا جو رسول کریم ﷺ کو عطا کیا گیا۔ فرماتا ہے کہ تم خود سمجھ لو کہ تمہارے لیے کیا مقدر ہے؟ محمد رسول اللہ ﷺ کو نکال کر دیکھ لو میں فرعون کی طرح تم کو غرق کردوں گا اور محمد رسو ل اللہ ﷺ کو طورِ سینا پر بلند جگہ دوں گا اور ثابت کردوں گا کہ انسانی فطرت پاک ہے۔ پاک فطرت لوگ اس کی طرف دوڑیں گے اور اس بات کے شاہد ہوں گے جس طرح موسیٰ کے وقت میں ہوئے کہ خداتعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے۔
    اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وھذا البلد الامین کہ ہم اس بلد الامین کو بھی شہادت کے طو رپر پیش کرتے ہیں۔ امین کے معنے یا تو امن کے ہوتے ہیںاور یا مامون کے ہوتے ہیں یعنی یا تو س کے معنے ہیں کہ وہ بلد جو دنیا کو امن دیتا ہے اور یا پھر اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ بلد جس کو خدا نے مامون کردیا ہے۔ میرے نزدیک بلدالامین کے دونوں معنے ہوسکتے ہیں یہ بھی کہ وہ شہر جو امن دینے والا ہے اور یہ بھی کہ وہ شہر جسے امن دیا گیا ہے۔ امین کا لفظ جو اس آیت میں استعمال کیا گیا ہے اس سے صاف پتہ لگتاہے کہ جس وقت یہ سورۃ نازل ہوئی ہے اس وقت کے مکہ کی حالت کا اس میں ذکر نہیں کیونکہ اس وقت تو جو کچھ کیفیت بھی اس کا ذکر اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں کرچکا ہے انت حل بھذ االبلد تجھے اس بلد میں حلال سمجھا جارہا ہے اور کوئی تکلیف نہیں جو تجھے نہ پہنچائی جاتی ہو اور کوئی ظلم نہیں جو تجھ پر نہ توڑا جاتا ہو۔ ہرقسم کے تیروں کا نشانہ انہوں نے تجھ کو بنایا ہوا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک جائز فعل کا ارتکاب کررہے ہیں۔ جس شہر میں محمد ﷺ جیسے امن پسند انسان پر ظلم کیا جاتا تھا وہ بلدالامین کس طرح کہلاسکتا تھا۔ پس بلدالامین سے درحقیقت مکہ کی وہ حالت مراد ہے جو فتح مکہ کے بعد پیدا ہوئی جب ہر قسم کے مظالم کا سلسلہ جاتا رہا تھااور مسلمانوںکو کفار پر غلبہ اور اقتدار حاصل ہوگیا تھا۔ ورنہ فتح مکہ سے پہلے وہ بلدالامین کہا تھا۔ نہ اس میں روحانی لحاظ سے امن تھا نہ جسمانی لحاظ سے۔ دینی امن لو تو مکہ وہ شہر تھا جہاں لوگوں کے ایمانوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا تھا اورانہیں خدائے واحد کی پرستش کی بجائے بتوں کی پرستش کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور اگر جسمانی لحاظ سے دیکھو تو مکہ والوں کی طرف خطرناک سے خطرناک ظلم ایک ایسی قوم پر ہورہا تھا جو انصاف پسند اور مخلوق کی خیرخواہ تھی جو اس مقصد کو لے کر کھڑی ہوئی تھی کہ دنیا میں امن قائم ہونا چاہئے، ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کرنا چاہئے اور الٰہی فرائض کو پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک مقصد بھی ایسا ہے جس پر مکہ والوں کو غصہ آنا چاہئے تھا اور جس کی بنا پر انہیں اپنی ترکش کا ہر تیر مسلمانوں کے سینہ کی طرف پھینکنا چاہئے تھا مگر ہوا یہی کہ مسلمانوں کو دکھ دیا گیا، ان کو ستایاگیا، ان کو مارا گیا، ان کے ننگ وناموس پر حملہ کیا گیا اور انہیں شدید سے شدید عذاب میں ایک لمبے عرصہ تک مبتلا کیا گیا۔ پھر یہی نہیں بلکہ ان کے محبوب آقا پر جس کی غلامی وہ اپنے لئے فخر کا موجب سمجھتے تھے اور جس کے اشارہ پر وہ اپنی ہر چیز قربان کرنے کیلئے تیار رہتے تھے متواتر اور مسلسل مظالم کئے گئے حالانکہ قوم کا آپ کے متعلق یہ فتویٰ تھا کہ آپ صدق اور امین ہیں۔ گویا مکہ میں کافر کو امن حاصل تھا، ایک بت پرست کو امن حاصل تھا، ایک جھوٹے اور دغا باز کو امن حاصل تھا، ایک ظالم اور غاصب کو امن حاصل تھا لیکن اگر کسی شخص کو مکہ میں امن حاصل نہیں تھا تو صرف اس کو جو قوم میں صدوق اور امین مشہور تھا۔ غرض روحانی طو رپر دیکھ لو یا جسمانی طور پر مکہ کو اس وقت کی حالت کے لحاظ سے قطعی طور پر بلد الامین نہیں کہا جاسکتا تھا۔ روحانی طور پر یہ کیفیت تھی کہ مکہ میں لوگوں کے ایمانوں کو لوٹا جاتا تھا۔ کبھی کہاجاتا لات پر چڑھاوا چڑھائو۔ کبھی کہا جاتا عزیٰ پر چڑھاوا چڑھائو۔ کبھی منات اور ھبل اور دوسرے بتوں کی پرستش پر مجبور کیا جاتا۔ یہ بت پرستی مکہ میں اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ بیت اللہ جو خدائے واحد کی عبادت کیلئے بنایا گیا تھا خود اس میں تین سو ساٹھ بت رکھے گئے تھے اور ہر روز ایک نئے بت کے سامنے اپنے سر جھکاتے جاتے تھے۔ پس بلد الامین میں مکہ کی اس حالت کا ذکر نہیں جو اس سورۃ کے نازل ہونے کے وقت بھی بلکہ ان الفاظ میں اس آخری ترقی کا ذکر ہے جو رسول کریم ﷺ کو ہجرت کے بعد حاصل ہونے والی تھی۔ تین بھی ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے جب آدمؑ شیطان پر کامیاب ہوئے۔ زیتون بھی ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے جب نوحؑ طوفان سے بچے۔ طور سینین بھی ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے جب موسیٰؑ کو آئندہ ترقیات کی خوشخبری ملی۔ اسی طرح بلدالامین بھی ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے جس کی ابتدائی مکی زندگی میں پیشگوئی کردی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ گو آج مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں مگر ایک دن آنے والا ہے جب مکہ تمہارے لئے اور سب دنیا کیلئے بلدالامین ہوگا۔ ہر قسم کے مظالم کا سلسلہ مٹ جائے گا اور محمد رسول اللہ ﷺ اور آ پ کے ساتھیوں کو امن حاصل ہوجائے گا۔ گویا ہجرت بجائے مضر ہونے کے اسلام اور مسلمانوں کی رقی کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ تم سمجھو گے کہ ہم نے اسلام کو تباہ کردیا مگر خداتعالیٰ محمدرسول اللہ ﷺ کو پھر اس شہر میں واپس لائے گا۔ آپ کو فتح اور کامرانی عطا کرے گا ، آپ کے ہاتھ سے مکہ کے ایک ایک بت کو تڑوائے گا، شرک کا قلع قمع کردیا جائے گا اور خدائے وحد کا نام مکہ کی گلی کوچوں میں گونجنا شروع ہوجائے گا اور اس طرح روحانی امن قائم ہوجائے گا اس کے علاوہ اس وقت تم میں یہ طاقت نہ رہے گی کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کی طرف نظربد سے دیکھ سکو یا غریبوں پر ظلم کرسکو اور اس طرح جسمانی طور پر مکہ بلدالامین ہوجائے گا اور اگر امین کے معنے مامون کے لو تو اس آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ گو مکہ ہمیشہ سے محفوظ چلا آتا ہے مگر ایک موقع ایسا آنے والا ہے جب اس کو قسراً فتح کیا جائے گا۔ جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ان اللہ حرم مکۃ ولم یحل لاحد قبلی ولا لاحد بعدی و انما حلت لی ساعۃ (بخاری کتاب البیوع باب ما قیل فی الصواع) کہ مکہ بلدالحرام ہے اور قیامت تک حرام ہی رہے گا کسی شخص کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ پر حملہ کرے یا اس کی حرکت کو کسی اور رنگ میں توڑنے کی کوشش کرے۔ صرف مجھے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ میں قسراً مکہ کو فتح کروں مگر میرے لئے بھی یہ اجازت صرف چند گھڑیوں کیلئے تھی ہمیشہ کیلئے نہیں تھی۔
    یہ ایک طبعی بات ہے کہ لمبے عرصہ میں عارضی طور پر اگر کوئی واقعہ ہوجائے تو انسان اس کو نظرانداز کردیا کرتاہے۔ وہ شخص جو دس پندرہ سال تک تندرست رہے اگر ایک دن اسے بخار ہوجائے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ بیمار آدمی ہے کیونکہ یہ بیماری ایک لمبے عرصہ میں صرف تھوڑی سی دیر کیلئے اس پر آئی تھی۔ اسی طرح بلدالامین میں اس طرح بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ بیشک مکہ پر ایک ایسا حملہ مقدر ہے جو اس کی حلت کو توڑ دے اور بیشک ایک دن محمد رسول اللہ ﷺ اس قسراً فتح کریں گے مگر اس سے یہ نہ سمجھنا کہ مکہ بلدالامین نہیں۔ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے امن دیا گیا ہے۔ اس کی حرمت کو خداتعالیٰ نے اپنے حکم سے قائم کیا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا اس میں قسراً داخلہ ایک وقتی چیز ہوگا جس کی اللہ تعالیٰ بعض پیشگوئیوں کو پورا کرنے کیلئے اجازت دے گا ورنہ مکہ بلدالامین تھا بلدالامین ہے اور بلدالامین رہے گا۔ کوئی شخص اس کی حرمت کو توڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے جب مکہ فتح کرلیا تو اس کے بعد آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ یہ حملہ صرف میرے لئے مقدر تھا۔ آج کے بعد کسی انسان کیلئے جائز نہیں کہ وہ مکہ کی حرمت کو توڑنے کی جرأت کرے۔
    پس چونکہ ایک زمانہ بھی ایسا آنا تھا جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکہ کی حرمت کو توڑا جانا مقدر تھا اور خود خدا نے یہ کہنا تھا کہ تمہارے لئے مکہ پر حملہ کرنا جائز ہے اس لیے جب تک وہ موقع آکر گزر نہ جاتا مکہ کامل طور پر بلدالامین نہیں کہلا سکتا تھا بیشک وہ پہلے بھی بلدالامین تھا اور بعد میںبھی وہ بلدالامین رہا مگر چونکہ درمیان میں ایک وقفہ ایسا آنا تھا جس مین اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت مکہ کو قسراًفتح کیا جانا مقدر تھا اس لیے کامل طور پرمکہ اگر بلدالامین کہلا سکتا تھا تو فتح مکہ کے بعد ہی نہ کہ اس سے پہلے ۔چنانچہ جب رسول کریم ﷺ نے مکہ فتح کر لیا تو اسکے بعد آپ نے ہمیشہ کے لیے مکہ کی حرمت کو قائم فرما دیا بہرحال جب تک مکہ فتح نہیں ہوا تھا وہ کلی طور پر بلدالامین نہیں کہلا سکتا تھا کیونکہ ایک سانحہ موجود تھا جس میں اس کی حرمت کو ظاہری نگاہوں میں توڑا جانا تھا کلی طور پر اگر وہ بلدالامین قرار پایا توفتح مکہ کے بعد۔غرض یہ تینوں واقعات فتح مکہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اگر ایمان کے لحاظ سے مکہ کے امن کو لو توفتح مکہ کے بعد اس میں سے شرک نکلا اور اگر جسمانی لحاظ سے مکہ کے امن کو لو تو فتح مکہ کے بعد کفار کے جورو ستم کا سلسلہ بند ہوا اور اگر مکہ کا مامون ہونا لو تب بھی فتح مکہ کے بعد اسے امن حاصل ہوا جب تک مکہ آنحضرتﷺکے ہاتھ پر فتح نہیں ہوا وہ کامل طور پر بلدلاامین نہیں کہلا سکتا تھا کیونکہ ایک سانحہ ابھی آنے والا تھا جس میں مکہ کی حرمت کو اللہ تعالیی کے حکم کے ماتحت محمدﷺنے توڑنااور اپنے لشکر سمیت اس کو فتح کرنا تھا غرض مکہ کا بلدلاامین ہونا خواہ روحانی اور جسمانی لحاظ سے امن ہونے کی صورت مین لوگ خواہ مکہ کے مامون ہونے کی صورت میں لو ہر طرح مکہ اگر بلدلاامین بنا ہے تو فتح مکہ کے بعد۔اس سے پہلے نہ دینی لحاظ سے اس میں امن تھا نہ جسمانی لحاظ سے اس میں امن تھا اور نہ وہ خود کامل طور پر مامون سمجھا جا سکتا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم یہ چاروں واقعات تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں ان میں سے تین واقعات تو ہو چکے ہیں اور چوتھا ابھی ہونے والا ہے۔تم گزشتہ تین واقعات سے قیاس کر سکتے ہو کہ یہ چوتھا واقع بھی ہونے والاہے۔اوریہ شہر جو آج محمدرسولﷺ اور ان کے ساتھیوں کے لئے آگ ہے ہجرت کے بعد بلدلاامین ہونے والا اوردنیا کو اس بات کی چوتھی شہادت مہیا کرکے دینے والا ہے کہ
    لقد خلقناالانسان فی احسن تقویم یقینا ہم نے انسان کو موزوں سے موزوں حالت میں پیدا کیا ہے
    حل لغات: اتقویم:التعدیل (اقرب) تقویم کے معنی تعدیل کے ہیںیعنی کسی چیز کو صحیح القویٰ بنانا اور ہر قسم کی کجی اور خرابی سے اس کو محفو ظ ر کھنا۔پس احسن تقویم کے معنی ہوئے اعلیٰ سے اعلیٰ اورنقص سے پاک اور بے عیب بنانا ۔یہ الفاظ انسان کے لئے بطور حال استعمال ہوے ہیں۔یعنی حال کونہ فی احسن تقویم یعنی انسان کو ایسا بنایا ہے ۔کہ تعدیل و اصلاح کرنے میں بینظیر ہے۔یہاںمفسرین کو دقت پیش آئی ہے کہ اعتدال اور تقویم پیدا کرنے والا تو خدا تعالیٰ ہے انسان ایسا کس طرح ہو سکتا ہے ؟اس کا جواب بعض لوگوں نے یہ دیا ہے کہ یہاں تقویم سے مراد قوام ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن قویٰ کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ لیکن بعض کہتے ہیں کہ یہاں حذف مضاف ہے اور تقدیر یہ ہے کہ فی احسن قوام التقویم یعنی تقوی کے نتیجہ میں جو قوام پید اہوتا ہے اس کا احسن انسان کو حاصل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق انسان ہے۔ اور اسے دوسروں سے زیادہ قوام حاصل ہے۔ اس لحاط سے لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدائش کی صفت کا بہترین نمونہ انسان کو بنایا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس آیت میں فی زائدہ ہے۔ اور احسن تقویم اللہ تعالیٰ کیلئے حال ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی احسن تقویم سے پیدا کیا ہے۔ گویا ان کے نزدیک لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے انسان کو نہایت اعلیٰ درجہ کی تقویم کے ساتھ پیدا کیا ہے یعنی خدا نے اپنی تعدیل کی صفت کامل طور پر انسان کی پیدائش میں ظاہر کی ہیں۔ اس کے بھی یہی معنے بن جاتے ہیں کہ خدا نے انسان کو اعلیٰ درجہ کی اعتدالی طاقتوں کے ساتھ بنایا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایک زائد معنے یوں بھی نکل آتے ہیں کہ انسان باقی تمام مخلوق سے افضل ہے۔ جب خدا نے انسان کو احسن تقویم میں بنایا ہے اور اس نے اپنی صفت تقویم کامل طور پر انسانی پیدائش میں ہی ظاہر کی ہے تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نکل آیا کہ دوسری کوئی مخلوق انسان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو صوفیاء میں زیر بحث چلا آیا ہے۔ اور انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ انسان افضل ہیں یاملائکہ۔ اس کا جواب بعض لوگوں نے تو یہ دیا ہے کہ ملائکہ افضل ہیں کیونکہ ان سے کسی قسم کی بدی سرزد نہیں ہوتی لیکن بعض نے کہا ہے کہ انسان بحیثیت انسان یا بحیثیت جماعت ملائکہ سے افضل ہے ۔ اس لئے کہ خدا نے اس کو ایسی طاقتیں دے کر بھیجا ہے کہ اگر وہ ان کا صحیح طور پر استعمال کرے تو ملائکہ سے بڑھ جاتا ہے۔ میرے نزدیک لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انسان ملائکہ سے افضل ہے۔ اس لئے کہ اگر اس کے یہ معنے ہوں کہ خدا نے اپنی تقویم کی صفت کو اعلیٰ سے اعلیٰ طور پر انسان پر ظاہر کیا ہے تب بھی اس کے یہی معنے ہیں کہ خدا نے انسان کو تمام مخلوق میں سے اعلیٰ مقام پر پیدا کیا ہے۔ اور اگر اس کا دوسرا مفہوم لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہتر سے بہتر طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کے اندر کمال درجہ کا اعتدال رکھا ہے تب بھی اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انسان ملائکہ سے افضل ہے۔ کیونکہ انسان ہی وہ مخلوق ہے جس کے اندر کمال درجہ کا اعتدال پیدا کیاگیا ہے۔ اور اسے بہتر سے بہتر طاقتوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ بہرحال اس آیت سے یہ استدلال ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بحیثیت فرد نہیں بلکہ بحیثیت انسان دوسری تمام مخلوق پر اپنی بالقوہ طاقتوں کے ذریعہ فضیلت بخشی ہے خواہ وہ ملائکہ ہی کیوں نہ ہو۔ اگر ہم عقلی طور پر غور کریں تب بھی ہم اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ملائکہ انسان سے افضل نہیں ہوسکتے اس لئے کہ ملائکہ کے اندر جو نیکیاں پائی جاتی ہیں وہ جبری ہیں اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے دنیا میں اونچے اونچے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں۔ بیشک وہ اونچے ہیں لیکن اس اونچائی میں پہاڑوں کی کوئی خوبی نہیں۔ ہمالیہ پہاڑ یہ فخر نہیں کرسکتا کہ میں کتنا اونچا نکل گیا ہوں کیونکہ اس کی اونچائی اور بلندی جبری ہے۔ خدا نے اسے اونچا بنایا اور وہ بن گیا۔ اس میں اس کے کسی ذاتی کمال یا خوبی کا دخل نہیں ہے لیکن اگر کوئی انسان اپنی کوشش اور محنت اور ورزش سے اپنے جسم کو فربہ بنالیتا ہے تو یہ یقینا اس کی خوبی سمجھی جائے گی۔ چونکہ انسان کے اندر نیکی کی قوت بھی رکھی گئی ہے اور بدی کی بھی اور وہ دونوں طرف جاسکتا ہے یعنی نیکی میں حصہ لے کر اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کرسکتا ہے اور بدی کا ارتکاب کرکے خداتعالیٰ کو ناراض بھی کرسکتا ہے۔ اس لئے وہ شخص جو نیکی کرتا ہے خواہ بظاہر معمولی درجہ کا مومن ہو وہ عام ملائکہ پر ضرور فضیلت رکھے گا۔ کیونکہ ملائکہ کا کمال ذاتی نہیں بلکہ انہیں یہ کمال اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنا بنایا مل گیا ہے۔ اس ضمن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ انسان کا فرد کامل ملائکہ کے فرد کامل سے بڑا ہے یا نہیں؟ مگر میرے نزدیک اس سوال کا جواب اسی آیت سے نکل آتا ہے جب خدا نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے اورملائکہ سے اسے زیادہ قوتیں عطا فرمائیں ہیں تو لازماً انسان کا فرد کامل ملائکہ کے فرد کامل سے افضل ہوگا چنانچہ رسول کریم ﷺ نہ صرف باقی انسانوں سے بلکہ تمام ملائکہ سے بھی افضل تھے۔ بیشک ایک عام مومن جو گناہوں اور غلطیوں کا ارتکاب کرتا ہے اس سے ملک افضل ہوتا ہے کیونکہ وہ اسے بالقوہ طاقتوں کے لحاظ سے فضیلت دی گئی تھی مگر ان قوتوں کے بالفعل ظہور میں وہ بہت پیچھے رہ گیا۔ لیکن جو شخص اپنی بالقوہ طاقتوں کا نہایت اعلیٰ طریق پر اظہار کرتا ہے اس کی ملائکہ پر فضیلت سے کسی صورت میں بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ جو طاقتیں اسے ملائکہ سے زیادہ دی گئیں تھیں وہ عملی طور پر بھی اس کی طرف سے ظہو رمیں آگئیں۔ اس لحاظ سے رسول کریم ﷺاور دوسرے انبیاء یقینا ملائکہ کے فرد کامل سے افضل ہیں ۔ گو مسلمانوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ افضل نہیں ہیں۔ مگرمیرے نزدیک بغیر اس توجیہہ کے فی کو زائد قرار دیا جائے یہ جملہ اپنی اصل شکل میں بھی درست ہے۔ اور احسن تقویم انسان کی طرف بھی منسوب ہوسکتا ہے۔ مفسرین کو شبہ یہ پڑا ہے کہ چونکہ خدا معتدل ہے اس لئے انسان کو معتدل نہیں کہا جاسکتا۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کیلئے رئوف کی صفت بھی آتی ہے، رحیم کی صفت بھی آتی ہے، رزاق کی صفت بھی آتی ہے، خلق کی صفت بھی آتی ہے، بصیر کی صفت بھی آتی ہے، سمیع کی صفت بھی آتی ہے۔ اگر یہ تمام صفات انسان میں پائی جاسکتی ہیں تو احسن تقویم کی صفت اس میں کیوں نہیں پائی جاسکتی؟ جس طرح انسان رئوف اور رحیم اور رزاق اور خالق اور بصیر اور سمیع ہوسکتا ہے وہ احسن تقویم بھی ہوسکتا ہے مگر بہرحال اسی حد تک یہ صفات اس میں پائی جائیں گی جس حد تک انسان ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرسکتا ہے۔ یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ ان صفات میں انسان خداتعالیٰ کے مقابل میں کھڑا ہوسکتا ہے کیونکہ ہر شخص کا کام اس کی طاقتوں کے مطابق ہوتا ہے۔ یہاں انسان کا خدا کے ساتھ مقابلہ نہیں بلکہ مخلوق کا مخلوق کے ساتھ مقابلہ ہے اور مضمون یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سے انسان ہی ایک ایسا وجود ہے جو احسن تقویم کا نظارہ دکھاسکتا ہے۔ ملائکہ اس کی مخلوق ہیں مگر وہ اس صفت میں انسان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اسی طرح اور جس قدر مخلوق پائی جاتی ہیں اس میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو احسن تقویم ہونے کے لحاظ سے انسان کا مقابلہ کرسکے۔ مثلاً وہی کام جو رسول کریم ﷺ کے سپرد کیا گیا جبریل نہیں کرسکتا تھا یا وہ کام جو اور انبیاء کے سپرد ہوا خداتعالیٰ کے دوسرے ملائکہ سرانجام نہیں دے سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے خداتعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کیلئے موسیٰؑ کو بھیجا ، عیسیٰؑ کو بھیجا، دائودؑ اور سلیمانؑ اور ابراہیمؑ کو بھیجا ، رسول کریم ﷺ کو بھیجا مگر ملائکہ کو نہیں بھیجا کیونکہ انسان میں خدا نے احسن تقویم کی صفت رکھی تھی جو ملائکہ میں نہیں رکھی یعنی تربیت اور تعلیم اور اصلاح کا کام جو انسان کرسکتا ہے وہ ملائکہ یا خداتعالیٰ کی کوئی اور مخلوق نہیں کرسکتی اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں سے انسان بحیثیت جماعت افضل ہے اور انسان کامل ملائکہ کے فرد کامل سے افضل ہے۔
    غرض میرے نزدیک اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے انسان کو اس حالت میں پیدا کیا ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ تقویم کرتا ہے یعنی دوسرے انسانوں اور دوسری مادی اشیاء کی تعلیم و تربیت اور تقدیر اور تصویر اور تخلیق نہایت اعلیٰ درجہ کی کرتا ہے گویا خدا نے انسان کو نہایت اعلیٰ درجہ کا روحانی اور جسمانی معلم بنایا ہے۔ نہایت اعلیٰ درجہ کا روحانی اور جسمانی خالق بنایا ہے۔ نہایت اعلیٰ درجہ کا روحانی اور جسمانی مربی بنایا ہے۔ نہایت اعلیٰ درجہ کا روحانی اور جسمانی صناع بنایا ہے اور یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن میں دوسری مخلوق پر اسے بہت بڑی فضیلت حاصل ہے۔ یہ معنے ایسے ہیں جن سے قطعاً کوئی شرک لازم نہیں آتا۔ جب یہ ایک حقیقت ہے جسے سب تسلیم کرتے ہیں کہ انسان بصیر بھی ہے، سمیع بھی ہے، رئوف بھی ہے، رحیم بھی ہے تو احسن تقویم کی صفت بھی اس میں ہوسکتی ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ ہم نے احسن تقویم کی صفت بھی انسان کوبخشی ہے اور اسے روحانی اور جسمانی خالق بنایا ہے کہ اس کی تربیت سے کامل انسان پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں وہ صنعت و حرفت کے بڑے بڑے کمالات دکھاتا ہے۔ چنانچہ چار دور اس کے مصد ق ہیں۔ اگر تم ان چاروں دوروں کو دیکھو تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے تربیت اور تعلیم اور تعدیل کی بہت بڑی قوت بخشی ہے۔ آدم آئے اور انہوں نے وہ اصلاح کی کہ سینکڑوں سال تک چلتی چلی گئی۔ نوحؑ آئے اور وہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی پاکباز جماعت قائم کرکے دنیا پر اپنی اصلاح کے انمٹ نقوش قائم کرگئے۔ موسیٰؑ آئے انہوں نے تعدیل القویٰ کیا اور ایسی اعلیٰ درجہ کی جماعت قائم کی کہ خدا کا جلال اور اس کا جمال اس جماعت کے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوگیا۔ اب محمد رسول اللہ ﷺ آئے ہیں ان کے ذریعہ بھی انسان کی یہ صفت ایک دن ظاہر ہوگی اور اس طرح دنیا پر ثابت ہوجائے گا کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم کی قوت دے کر بھیجا ہے۔ آدم احسن تقویم کا ثبوت ہے، نوحؑ احسن تقویم کا ثبوت ہے، موسیٰؑ احسن تقویم کا ثبوت ہے اسی طرح محمد ﷺ احسن تقویم کا ثبوت ہیں۔ تم دیکھو گے کہ ان کی تعلیم اور تربیت کے نتیجہ میں انسان کیسی کیسی قوتیں ظاہر کرتا ہے۔
    یہ چار دو دور جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے درحقیقت انسانی تکمیل کے چار دور ہیں۔ آدم دور تمدن کا بانی ہے۔ نوح دور شریعت کا مؤسس (HERO) ہے۔ موسیٰ دور تفسیر کی بنیاد رکھنے والے ہیں اور محمد ﷺ دور تکمیل کے بانی ہیں۔ انسانیت کی تشکیل آدم نے کی ۔ شریعت کی بنیاد نوح نے رکھی لیکن شریعت کی تفاسیر موسیٰ نے بیان کیں اس کے بعد محمد ﷺ شریعت کی تکمیل کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے گئے۔ آپ آئے اور آپ نے انسانیت اور تمدن کو بھی مکمل کیا۔ آپ نے شریعت کو بھی مکمل کیا اور آپ نے تفصیل شریعت کو بھی تکمیل تک پہنچایا۔ گویا وہ تینوںدور جو نامکمل تھے ان کو محمد ﷺ نے اپنے کمال تک پہنچادیا۔ آپ نے دور تمدن کو نقائص سے پاک کرکے ایک کامل اور بے عیب تمدن دنیا کے سامنے رکھا۔ آپ نے دور شریعت کو ہر قسم کے نقائص سے پاک کرکے ایک کامل اور بے عیب شریعت کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اور آپ نے دور تفصیل کو ہر قسم کے نقائص سے منزہ کرکے ایک ایسا کامل اور بے عیب مجموعہ قانون دنیا کو دیا جس میں ضرورت کی ہر شے موجود تھی اور بے ضرورت کوئی چیز نہ تھی۔ وہ کامل اور بے عیب تھی۔ اپنی ہمہ گیری کے لحاظ سے اور کامل اور بے عیب تھی۔ اپنی گہرائی کے لحاظ سے گویا وہ شریعت آپ نے دنیا کے سامنے پیش کی جو اپنی وسعت کے لحاظ سے بھی کامل تھی اور اپنی عمق کے لحاظ سے بھی کامل تھی۔ نوحؑ نے بیشک دنیا کے سامنے سب سے پہلے شریعت پیش کی مگر اس میں وسعت نہیں تھی صرف عمق تھا اور وہ بھی چند موٹے موٹے مسائل کے متعلق۔ اس کے بعد موسیٰ نے جو شریعت پیش کی اس میں وسعت تو بھی مگر تمام امور میں عمق نہیں تھا لیکن محمد رسول اللہ ﷺ نے شریعت کی گہرائیوں کو بھی مکمل کیا اور اس کی وسعت کو بھی مکمل کیا۔ کوئی اخلاقی گہرائی نہیں تھی جس پر آپ پر نازل شدہ کتاب میں روشنی نہ ڈالی گئی ہو اور کوئی اخلاقی وسعت نہیں تھی جو آپ کی لائی ہوئی کتاب میں بیان نہ ہوئی ہو۔ موسیٰ سے شریعت کی کئی گہرائیاں رہ گئیں تھیں۔ نوح سے شریعت کی کئی وسعتیں رہ گئیں تھیں اور آدم سے تمدن کی کئی اہم باتیں رہ گئی تھیں۔ محمد رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو مکمل کیا اور اس طرح ثابت ہوگیا کہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ہم نے انسان کو اعلیٰ درجہ کی تقویم کے ساتھ پید اکیا ہے۔ ہر دور میں بنی نوع انسان کی ایک تکمیل کی اور یہ عمارت بڑھتے بڑھتے کہیں کی کہیں جانکلی۔
    تفسیر: اوپر بتایا جاچکا ہے کہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم کے کئی معنے ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے انسان کو بہترین وجود بنایا ہے۔ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے انسان کو بہترین طاقتیں دے کر پیدا کیا ہے اور یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ انسان کو ہم نے بڑا صناع بنایا ہے۔ اس کے اندر تقویم کی طاقت رکھی ہے اور وہ اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی اور جسمانی پیدائش کرسکتاہے۔ یہ دعویٰ جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس کے متعلق مختلف مذاہب میں چھ بڑے بڑے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان چھ اختلافات میں سے ایک عقیدہ تو وہ ہے جو اسلام پیش کرتاہے اور پانچ عقائد وہ ہیں جو اور مذاہب دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ذیل میں ان تمام عقائد کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
    پہلا عقیدہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انسان برائی کا میلان لے کر دنیا میں پیدا ہوا ہے۔ ہاں سدھارنے سے وہ سدھر بھی جاتا ہے۔ گویا انسان کا فطرتی میلان برائی کی طرف ہے۔ اور پیدائش کے دن سے ہی ایک کمزوری اس کے اندر رکھ دی گئی ہے گو اصلاح کیلئے بھی اسے طاقتیں دی گئی ہیں۔ بالفاظ دیگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان لچک دار تو ضرور ہے مگر اس کی بنیاد گند پر ہے۔ جیسے وہ درخت جو دلدل میں اگتا ہے لچکدار تو ہوتا اور اگر ہم اسے کھینچ کر خشکی کی طرف لائیں تولاسکتے ہیں لیکن بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کی جڑیں ایک گندی زمین میں ہیں۔
    دوسرادعویٰ یہ کیاجاتا ہے کہ انسان بھلائی کو لے کر پیدا ہوا تھا۔ مگر پہلے انسان سے ہی بدی کا ارتکاب ہوگیا۔ اور اس نے بدی کا ارتکاب کرلیا اور چونکہ انسان ایسی طرز پر دنیا میں آیا ہے کہ وہ ماں باپ سے ضرور ورثہ کا اثر لیتا ہے اس لئے بوجہ اس کے کہ پہلے ماں باپ یعنی آدم اور حوا نے گناہ کیا تھا اب ان کی اولاد باوجود اپنی فطرت میں نیکی رکھنے کے گناہ کرنے پر مجبور ہے۔ بیشک ان کی فطرت انہیں نیکی کی طرف مائل کرتی ہے مگر چونکہ باپ نے انہیں ورثہ میں گناہ دیا ہے اس لئے گناہ کی طرف میلان ان کی فطرت میں چلتا چلا جاتا ہے کیونکہ یہ ورثہ کا اثر ہے جو ان کے اندر آگیا ہے۔ وہ کہتے ہیں انسان میں دو قسم کی طاقتیں ہوتی ہیں ایک ذاتی اور ایک اکتسابی۔ ذاتی قوت انسان کے اندر بیشک نیکی کی ہے مگر چونکہ گناہ اسے ورثہ میں مل گیا ہے اس لئے ورثہ کے گناہ نے اس کی فطرتی نیکی میں آمیزش کردی ہے جس سے وہ بلا کسی اور امداد کے آزاد نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ جب خدا نے دیکھا کہ انسان کسی صورت میں بھی اس گناہ سے بچ نہیں سکتا تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم اگر لوگوں کی خاطر قربانی کرو اور بے گناہ ہوکر لوگوں کے گناہوں کے بدلے قربان ہوجائو تو دنیا اس مصیبت سے نجات حاصل کرسکتی ہے۔ بیٹے نے اس تجویز کو مان لیا اور خد انے اس سے کہا کہ اب تم انسان کی صورت میں دنیا میں جائو۔ لوگوں کو یہ مقدرت حاصل ہوگی کہ وہ تمہیں ماریں پیٹیں، سزائیں دیں اور بالآخر پھانسی پر لٹکادیں۔ بیشک انسان بن کر لوگوں کے ہاتھوں سے تم یہ سب دکھ برداشت کرو گے مگر چونکہ بے گناہ ہونے حالت میں تم کو یہ دکھ ملے گا اس لئے خداتعالیٰ اس کے بدلہ میں ساری دنیا کے گناہ بخش دے گا۔ پس دوسرا خیال یہ ہے کہ انسان کی اصل فطرت تو نیک ہے مگر چونکہ پہلے انسان سے ہی گناہ ہوگیا اس لئے فطرت کی نیکی کے باوجود ورثہ میں انسان کے اندر گناہ کا مادہ آگیا۔ اس گناہ کے وہ کفارہ مسیح پر ایمان لائے پر نجات حاصل نہیں کرسکتا۔
    تیسر انظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انسان کسی خاص ملکہ کو لے کر پیدا نہیں ہوا۔ یہ کہنا کہ اس کی فطرت میں نیکی ہے یا یہ کہنا کہ اس کی فطرت میں بدی ہے یہ دونوں خیال غلط ہیں۔ انسان بعض تقاضے لے کر دنیا میں آتا ہے جو نہ نیک ہوتے ہیں نہ بد۔ مثلاً شجاعت، طہور، محبت، سخاوت، رفق اور غضب وغیرہ کئی قسم کے مادے ہیں جو انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی تعلیم و تربیت سے متاثر ہوتا اور اس کے مطابق بن جاتا ہے۔ گویا ہر انسان حالات سے مجبور ہے۔ یعنی یوں تو اس کی فطرت آزاد ہے مگر ماحول میں وہ آزاد نہیں رہتا۔ جس قسم کا ماحول اسے میسر آتا ہے اسی قسم کا رنگ اس پر چڑھ جاتا ہے۔ مثلاً اگر اس کے ماں باپ ہندو ہیں تو وہ ہندو بن جائے گا۔ یا اپنے محلہ کے لڑکوں سے کھیلتا ہے تو جس قسم کے اخلاق ان کے ہوتے ہیں اسی قسم کے اخلاق ان میں پیدا ہوجاتے ہیں۔ بہرحال حالات اسے مجبو رکرکے نیکی یا بدی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر حالات اچھے ہوں تو اچھا بن جاتا ہے اور اگر برے ہوں تو وہ برا بن جاتا ہے۔ گویا اس کی زندگی کا تمام دارومدار اس کے ماحول پرہے اور وہ نیک یا بد حالات کی مجبوری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ اس کے اندر نیکی یا بدی کا کوئی مادہ پایا جاتا ہے بلکہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کا ماحول اسے مجبور کرکے کبھی نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور کبھی بدی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ فرائیڈ کی تھیوری ہے جو آج کل کے فلسفیوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے۔
    چوتھا خیال لوگوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ انسان مجبور پید اکیاگیا ہے۔ گویا وہ مجبور ہے قانون الٰہی سے۔ یہ آجکل کے بگڑے ہوئے صوفیوں کا خیال ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان وہی کچھ کرتا ہے جو اس کی تقدیر میں لکھا ہوتا ہے اور اگر انہیں کسی اصلاح کی طرف توجہ بھی دلائی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ جب ہماری تقدیر میں گناہ لکھا ہے تو ہم اس کے خلاف کیا کرسکتے ہیں۔
    پانچواں خیال لوگوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے نتائج بھگتنے کیلئے اس دنیا میں آتا ہے اور اس کی زندگی سابق کرم کا نتیجہ ہوتی ہے۔
    چھٹا خیال جس کا اسلام مؤید ہے وہ یہ ہے کہ انسان بھلائی کے میلان کو لے کر پید اہوا ہے ہاں بگاڑنے سے وہ بگڑ بھی جاتا ہے۔
    پہلا عقیدہ کہ انسان برائی کے میلان کو لے کر پیدا ہوا ہے ہاں سدھارنے سے وہ سدھر بھی سکتا ہے ۔ بدھوں، چینیوں اور وام مارگیوں وغیرہ کا ہے۔ دوسرا عقیدہ کہ انسان بھلائی کو لے کر پیدا ہوا ہے مگر بوجہ اس کے کہ آدم نے گناہ کیا اب ورثہ کا گناہ اس کے اندر آگیا ہے اور وہ اس سے بلا کسی اور امداد کے آزاد نہیں ہوسکتا ، عیسائیوں کا ہے۔ تیسرا عقیدہ کہ انسان کسی خاص ملکہ کو لے کر پیدا نہیں ہوا وہ اپنی تعلیم و تربیت سے متاثر ہوتا ہے اور اس کے مطابق ہوجاتا ہے گویا وہ مجبور ہے حالات سے، زمانہ حال کے فلسفی فرائیڈ کا ہے۔ چوتھا عقیدہ کہ انسان مجبور پیدا کیا گیا ہے گویا وہ مجبور ہے قانون الٰہی سے۔ یہ آخری زمانہ کے صوفیاء اور بعض عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ پانچواں عقیدہ کہ انسان اپنی پیدائش کے نتائج بھگتنے کیلئے اس دنیا میں آتا ہے اور اس کی زندگی سابق کرم کا نتیجہ ہوتی ہے یہ ہندوئوں کا عقیدہ ہے۔ چھٹا عقیدہ کہ انسان دنیا میں بھلائی کے میلان کو لے کر پیدا ہو اہے اور اس کیلئے بے انتہاء ترقی کے راستے کھلے ہیں۔ ہاں بگاڑنے سے وہ بگڑ بھی جاتا ہے۔ یہ اسلام کا عقیدہ ہے۔
    یہ چھ فلسفی نظریے ہیں ان میں سے چار جو فلسفیانہ کہلاتے ہیں جبر کی تائید میں ہیں۔ ایک کفارہ کا عقیدہ ہے کہ وہ جبر کی وجہ اپنے دادا (یعنی آدم) کے عمل کو کہتا ہے اور سب دنیا کے لوگوں کو فطرتاً برا قرار دیتا ہے۔ دوسرا تناسخ کا عقیدہ ہے کہ وہ جبر کی وجہ اپنی سابقہ جونوں کے عمل کو قرار دیتا ہے ۔ اور گو اس عقیدہ کے ماتحت بعض کو اچھا اور بعض کو برا کہا جاتا ہے مگر بہرحال تناسخ جونوں کے چکر کو برائی کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ یعنی جو اچھا ہے تناسخ ماننے والوں کے نزدیک ابھی وہ پورا اچھا نہیں تبھی وہ مختلف جونوں میں جاتا ہے گویا برائی ہر انسان میں ہے صرف فرق یہ ہے کہ کسی میں کم ہے کسی میں زیادہ۔ جو بظاہر اچھا نظر آتا ہے اس میں بھی درحقیقت برائی پائی جاتی ہے اور اسی لئے مختلف جونوں کے چکر میں اسے جانا پڑتا ہے۔ تیسرا مسلمانوں کا غلط العام عقیدہ ہے کہ وہ جبر کی وجہ خداتعالیٰ کے فعل کو کہتاہے یعنی کچھ انسان اچھے بنائے گئے ہیں اور کچھ برے۔ جن کو اچھا بنایا گیا ہے ان کو اچھی فطرت دے دی گئی ہے اور جن کوبرا بنایا گیا ہے ان کو بری فطرت دے دی گئی ہے۔ چوتھا فلاسفۂ جدیدہ کا عقیدہ ہے کہ وہ انسان کو آزاد نہیں کہتے گو وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ کے یا انسان کے اپنے یا اس کے کسی دادا کے فعل کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ ورثہ طبعی یا ماحول کے نتیجہ میں وہ مجبور ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ جن کے اندر ورثہ طبعی کے طور پر بعض طاقتیں آجاتی ہیں یا جو اچھے کام کرنے والوں کے ماحول میں رہتے ہیں وہ اچھے کام کرنے لگ جاتے ہیں اور کچھ لوگ جن کے اندر ورثہ طبعی کے طور پر بعض کمزوریاں آجاتی ہیں وہ برے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس میں ان کا اپنا کوئی اختیا رنہیں ہوتا۔ ماحول ان کی فطرت کو بدل دیتا ہے۔
    یہ عقیدہ کہ انسان بری فطرت لے کر دنیا میں آیا ہے اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب کا عقیدہ ہے۔ چنانچہ وہ عقائد جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان میں سے قریباً ہر عقیدہ میں یہ بات پائی جاتی ہے اور عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گناہ اصل ہے جس کو مٹانا ہمارا فرض ہے۔ عوام الناس تو اس بات کے اس طرح قائل ہیں کہ وہ کہتے ہیں غلطی کرنابشر کاکام ہے۔ بدھوں کے نزدیک ہر انسان بری فطرت لے کر آیا ہے باقی عقائد بھی ایسے ہیں کہ اگر ان میں انسان کی کوئی خوبی تسلیم بھی کی جاتی ہے تو برے معنوں میں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ انسان حالات سے مجبورہوتا ہے اگر اس کیلئے اچھا ماحول میسر آجائے تو وہ اچھا ہوجاتا ہے اور اگر برا ماحول میسر آجائے تو وہ برا ہوجاتا ہے۔ اس عقیدہ میں گو انسان کی نیکی کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے لیکن ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کوئی نیکی نہیں ۔ اگر کوئی شخص جبراً نیکی کرتا ہے تو اس کی نیکی حقیقی نیکی نہیں کہلاسکتی۔ حقیقی نیکی وہی ہوتی ہے جس میں جبر اور اکراہ کا کوئی پہلو نہ ہو۔ بہرحال قریباً سب مذاہب سوائے اسلام کے اس بات کے قائل ہیں کہ انسان بری فطرت لے کر آیا ہے مگر یہ سب عقائد باطل اور ناقابل قبول ہیں۔ پہلا عقیدہ کہ سب انسان بری فطرت لے کر پید اہوئے ہیں ایک تو عوام الناس میں پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بندہ بشر ہے اور اس با ت پر مجبور ہے کہ غلطی کرے۔ مگر جب ہم بچہ کی فطرت پر نگاہ دوڑاتے ہیں توہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات غلط ہے۔ بری فطرت آخر برے اعمال سے ہی پہچانی جاسکتی ہے۔ لیکن ہم جب بچوں کو دیکھتے ہیںتو ان میں یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ جھوٹ خود نہیں بولتے بلکہ دوسروں کو جھوٹ بولتے دیکھ کر اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح کسی بچے میں ذاتی طور پر چوری کا مادہ یا خیانت کا مادہ یا اسی قسم کی اور برائیوں کا مادہ نہیں پایا جاتا۔ بعض باتیں جو بچہ کرتا ہے اور جن کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ بری ہیں وہ بری باتیں نہیں ہوتیں۔ اس لئے کہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا علم سے تعلق ہوتا ہے۔ مثلاً کسی کا مال نہیںاُٹھانا چاہئے یہ ایک خوبی ہے جو ہر شخص میں ہونی چاہئے اور اگر کسی شخص میں یہ بات نہ پائی جائے تو ہم یقینا اس کو برا کہیں گے لیکن کبھی نہ کبھی اس کے ساتھ ہی اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہم اسی کو برا کہیں گے جو دوسرے کی ملک کا مفہوم سمجھتاہو۔ اور جانتا ہو کہ مال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک انسان کا اپنا مال ہوتا ہے اور ایک دوسرے کا مال ہوتا ہے۔ جو چیز کسی دوسرے کی ملکیت میں وہ اٹھانی نہیں چاہئے ۔ جب تک یہ مفہوم کوئی شخص پوری طرح نہ سمجھتا ہو ہم اسے مجرم قرار دے کر اس کے فعل کو برا نہیں کہہ سکتے۔ اس نکتہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بچہ بیشک بعض دفعہ دوسروں کی چیز اٹھا لیتا ہے مگر ہم اس سے اس کی فطرت کی برائی کا استدلال نہیں کرسکتے۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ دیکھو اگر بچہ کی فطرت میں نیکی تھی تو اس نے دوسرے کا مال کیوں اٹھایا؟ اس لئے کہ اسے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ملکیت کا کیا مفہوم ہے یا یہ کہ دوسرے کا کونسا مال ہوتا ہے؟ نہ وہ ملکیت کے معنی جانتا ہے۔ نہ دوسرے کے مال کی حقیقت کو جانتا ہے۔ یہ چیزیں ایسی ہیں جو اس کے دائرہ عمل سے باہر ہوتی ہیں اور جو چیزیں بچہ کے دائرہ عمل سے باہر ہوں ان کو برایا بھلا نہیں کہا جاسکتا۔
    فلسفیانہ طور پر یہ عقیدہ کہ انسان برائی کے میلان کو لیے کر پید اہوا ہے بدھوں کا ہے۔ ان کے نزدیک انسان کی فطرت بری ہے اور جب بر ی ہے تو انسان کے اندر جو خواہش بھی پیدا ہوتی ہے وہ بری ہے۔ اس لئے ان کا عقیدہ ہے کہ نجات کامل کو حاصل کرنے کیلئے خواہش کو مارنا چاہئے۔ جب تک ہم اپنی خواہشات کو مارتے نہیں اس وقت تک کامل نجات حاصل نہیں کرسکتے۔ مگر یہ بات عقلاً باطل ہے اس لئے کہ خواہشات کس چیز کا نام ہے؟ خواہشات نام ہے کھانے پینے کا، شادی کرنے کا، ایک دوسرے سے ملنے جلنے اور تعلقات قائم کرنے کا، روزی کمانے کا ، علم پڑھنے کا، عبادت وغیرہ کرنے کا۔ یہ خواہشات ہیں جو انسان کے اندر پائی جاتی ہیں۔ لیکن جب ہم بدھ مذہب کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ شادی سے صرف بھکشو کو روکتا ہے۔حالانکہ نجات تو وہ سب دنیا کو دینا چاہتا ہے۔ اب اگر نجات خواہش مٹانے کا نام ہے تو جو بدھ مذہب والا ارادہ کرے گا کہ میں نکاح کروں اس کی نجات کس طرح ہوگی؟ آخر یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جس طرح ناک انسان کو بغیر کسی ارادہ کے مل گیا ہے، جس طرح کان انسان کو بغیر کسی ارادہ کے مل گئے ہیں، جس طرح زبان انسان کو بغیر ارادہ کے مل گئی ہے اسی طرح بیوی بھی بغیر کسی ارادہ کے مل جائے۔ نہ ماں باپ کو علم ہو کہ فلاح ہماری بہو بننے والی ہے، نہ خاوند کو علم ہو کہ فلاں میری بیوی بننے والی ہے اور بغیر ارادہ اور خواہش کے ہی ماں باپ کو بہو اور خاوند کو بیوی مل جائے۔ لازماً انسان کو بیوی کیلئے خواہش کرنی پڑے گی اور جب وہ خواہش کرے گا تو بدھ مذہب کے رو سے وہ نجات سے محروم ہوجائے گا کیونکہ اس کے نزدیک خواہشات کو مارنا ہے انسانی نجات کا ذریعہ ہے۔ اگر یہ کہا جاتا کہ کوئی مرد اور عورت شادی نہ کرے تب تو یہ بات ایک حد تک تسلیم بھی کی جاسکتی تھی مگر بدھ مذہب شادی سے صرف بھکشو کو روکتا ہے، ہر شخص کو نہیں روکتا۔ حالانکہ وہ دوسروں کیلئے بھی نجات کو جائز قرار دیتا ہے۔ اگر نجات کا حصول ان کیلئے جائز قرار نہ دیتا تو بھکشو ئوں کے سوا وہ اوروں کو اپنے مذہب میں داخل کیوں کرتا؟ اس کا بھکشوئوں کے سوا اور لوگوں کو بھی اپنے مذہب میں داخل کرنا صاف طور پر بتارہا ہے کہ بدھ مذہب ہر شخص کی نجات کا قائل ہے۔ اور جب بھکشوئوں کے سوا جب وہ دوسروں کو شادی کی اجازت دیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بدھ مذہب کے رو سے شادی کا ارادہ انسان کو نجات سے محروم نہیں کرتا۔ اب اس عقیدہ کے ماتحت کہ خواہش انسان کو نجات سے محروم کردیتی ہے ہمیں دیکھنا چاہئے کہ شادی کے معاملہ میں بدھ مذہب کیا تعلیم دے سکتا ہے کہ کیا یہ کہے گا کہ شادی نہ کرو؟ یہ تو وہ کرتا نہیں۔ کیونکہ بھکشوئوں کے سوا اور کسی کو وہ شادی سے نہیں روکتا پھر خواہش کو کس طرح مارا جائے گا۔ انسان خواہش کر تا ہے کہ شادی کرے اس سے بدھ مذہب نے نہیں روکا۔اب کیا ہم یہ سمجھیںکہ شادی کے بارہ میں محض شادی کی خواہش کو تو وہ خواہش قرار نہیں دیتا لیکن اور کسی خواہش کی اجازت نہیں دیتا ۔اگر یہ بات ہو تو سوال پیدا ہوتاہے کہ شادی کے ساتھ محض شادی کی خواہش کا ہی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اور بھی کئی قسم کی خواہشات شادی سے وابستہ ہوتی ہیںان کا بدھ مذہب نے کیا علاج کیا ہے ۔مثلاًانسان چاہتا ہے کہ نیک عورت سے شادی کرے۔ کیا بدھ مذہب یہ کہے گا کہ ایسی خواہش مت کرو۔کیا اس خواہش کو مارا جائے گا ؟اور اسے حکم دیا جاے گا کہ بد اور شریر عورت سے شادی کرو؟انسان خوبصورت عورت چاہتا ہے کیا اسے کہا جائے گا کہ خوبصورت عورت کی خواہش نہ کرو بد صورت عورت سے شادی کرو؟انسان تعلیم یافتہ عورت چاہتا ہے بدھ مذہب کہتا ہے کہ تم اپنی خواہشات کو مٹا دو۔ا ب سوال پید ہو تاہے کہ بدھ مذہب اسے یہ کہے گا کہ جاہل عورت سے نکاح کرو؟انسان شاہتا ہے کہ بچے جننے والی عورت مجھے حاصل ہو ۔کیا بدھ مذہب کے ماتحت اسے یہ تعلیم دی جائے گی کہ بچے جننے والی عورت سے شادی نہ کرو بلکہ بانجھ سے کرو؟انسان چاہتا ہے کہ اس کے بچے پڑہیں لکھیں۔کیا بدھ مذہب اسے کہے گا کہ چو نکہ خواہش بری چیز ہے اس لئے تم یہ خواہش نہ کرو کہ تمہارے بچے پڑھیں لکھیں بلکہ انہیں جاہل رہنے دو؟ا انسان چاہتا ہے کہ اس کے ہاں نیک اولاد ہو کیا اسے کہا جائے گا کہ بد اولاد ہو؟انسان چاہتا ہے کہ اسے کوئی اچھا کام مل جائے اچھی ملازمت میسر آجائے یا اچھی تجارت شروع کر دے بدھ مذہب اسے کیا کہے گا؟کیا یہ کہے گا کہ اچھی تجارت کی خواہش نہ کرو بلکہ گھاٹے والی تجارت کی خواہش کرو یا اچھی ملازمت تلاش نہ کرو بلکہ بری ملازمت تلاش کرو؟یا اچھی فصل کی خواہش نہ کرو بلکہ تباہ ہونے والی فصل چاہو؟انسان صحت چاہتا ہے۔بدھ مذہب کہتا ہے خواہش بری چیز ہے اسی حالت میں جب انسان کہے گا کہ مجھے صحت کی خواہش ہے تو بدھ مذہب کہے گا صحت کی خواہش کر کے تم گناہ گار بن گئے ہو تمہیں چاہئے کہ بیماری کی خواہش کرو۔انسان اپنے ہمسایہ سے صلح چاہتا ہے اپنے ملک میں امن چاہتا ہے کیا بدھ مذہب کی طرف سے کہا جائے گا اپنے ہمسایہ سے ہمیشہ لڑائی رکھو ؟اور ملک میں فساد برپا کرتے رہو؟انسان اچھی حکومت کا تقاضا کرتا ہے ۔کیا اسے کہا جائے گا کہ بری حکومت چاہو ؟انسان چاہتا ہے اسے خدا کی رضا حاصل ہوجب مذہب خواہش کو براقرار دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کو ہمیشہ ہی خواہش رکھنی چاہئے کہ خدا مجھ سے ناراض رہے ۔ایک بدھ مذہب والا چاہتا ہے کہ اس کا مذہب پھیل جائے مگر جونہی اس کے دل میںیہ خواہش پیداہوگی وہ نجات سے محروم ہو جائے گا ۔جب ایک شخص بھکشو بننے کے لئے آتا ہے تو آخراسی لئے کہ وہ چاہتا ہے مجھے نجات مل جائے حا لانکہ بھکشو بنتے ہی اس کی نجات ماری جاتی ہے کیونکہ اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ میں اور لوگوں کو بھی اس مذہب میں داخل کروںبلکہ اس سے بڑھ کر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو بھکشو بنانے کا ارادہ کر کے خود بدھ کی نجات بھی ماری گئی کیونکہ اس کے دل میں یہ خواہش پید ا ہو گئی تھی کہ میں لوگوں کو بھکشو بنائوں پھر اگر بدھ مذہب کے لوگ اپنے ملک کی آذادی چاہتے ہیں تو اس تعلیم کے ماتحت انہیں کیا کہا جائے گا؟کیا یہ کہا جائے گا کہ آذادی کی خواہش نہ کرو ۔اگر تمہارے ملک پر کوئی قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اسے بیشک کرنے دو۔ ورنہ نجات سے محروم ہو جائو گے۔ اگر بدھ مذہب والے کہیں کہ یہ تو جائز اور اچھی خواہشات ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ تم بھی اس امر کو تسلیم کرتے ہو کہ خواہشات اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اچھی خواہشات کے پیچھے چلیں اور بری خواہشات کو جامئہ عمل پہنانے کی کوشش نہ کرے ۔ پس تمہارا یہ کہنا کہ چونکہ انسان میں خواہشات پائی جاتی ہیں اسلئے وہ پیدائشی طور پر برا ہے بالکل غلط ہے ۔ تم نے خود تسلیم کر لیا کہ خواہشات اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی ۔ بری خواہشات کو مٹانا اور اچھی خواہشات کو قائم کر نا ہمارا فرض ہے اور یہی وہ نقطئہ نگاہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔ پس ہمارا اور تمہارا اتحاد ہو گیا۔
    ایک بدھ مذہب والا ہماری اس تنقید پر یہ کہہ سکتا ہے کہ تم ہمارے مذہب کو غلط طور پر پیش کرتے ہو ۔ جب تم کہتے ہو کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ آزادی کی خواہش نہ کی جائے بلکہ غلامی کی خواہش کی جائے۔ صحت کی خواہش نہ کی جائے بلکہ بیماری کی خواہش کی جائے۔ خوبصورت بیوی کی خواہش نہ کی جائے بلکہ بد صورت بیوی کی خواہش کی جائے۔علم کی خواہش نہ کی جائے بلکہ جہالت کی خواہش کی جائے تو تم بالمقابل کی خواہشات ہماری طرف منسوب کر دیتے ہو۔ حالانکہ ہمارا نظریہ تو یہ ہے کہ خواہشات ہر حالت میں بری ہیںخواہ وہ اچھی چیزوںکی ہوں یا بری چیزوں کی ہوں ہم خواہشات کو مٹانا چاہتے ہیںیہ نہیںکہتے کہ اچھی خواہش نہ کرو بری خواہش کرو بلکہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ نہ اچھی خواہش کی جائے نہ بری کیونکہ اسی میں انسان کی نجات ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اچھا ہم مان لیتے ہیں کہ تمہارا یہی مقصد ہے تم یہی کہتے ہو کہ نہ یہ چاہو نہ وہ چاہو مگرسوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں انسان کام کسطرح کرے گا؟ باپ اس سے شادی کے متعلق پوچھے گا تو وہ کہے گا نہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں نہ کنوارہ رہنا چاہتا ہوں۔ ایک شادی شدہ بدھ اپنے گھر میں جاتا ہے بیوی اس سے کہتی ہے کہ کھانا تیار ہے آئو اور کھالو۔ وہ جواب دے گا نہ میں کھانا کھانا چاہتا ہوں نہ بھوکا رہنا چاہتا ہوں۔ غرض یہ عقیدہ اگر درست تسلیم کر لیا جائے تو بدھوں کو قدم قدم پر نہایت سخت مشکلات پیش آسکتی ہیں فرض کرو کسی مجلس میں بدھ مذہب کا کوئی پیرو آجائے تو وہ حیران ہوگا کہ میں اس مجلس بیٹھوں یا چلا جائوں اگر وہ بیٹھے گا تو یہ بھی خواہش کا نتیجہ ہوگا اور اگر چلا جائے گا تو یہ بھی خواہش کا نتیجہ ہوگا۔ غرض ایک بدھ ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے کہ اس کے لئے اٹھک بیٹھک کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔
    حکومت کے بارہ میںاس سے سوال کیا جائے گا کہ کیسی حکومت چاہتے ہو تو وہ جواب دیگا کہ نہ میں اچھی حکومت چاہتا ہوں نہ بری حکومت چاہتا ہوں۔ اگر سوال کیا جائے گا کہ میاں منظم حکومت چاہتے ہو یا انارکی؟تو وہ کہے گا کہ نہ میں منظم حکومت چاہتا ہوں نہ انارکی۔ووٹ کے متعلق حاضرہوگا اور اس سے پوچھا جائے گاکہ اس ممبر کو ووٹ دینا چاہتے ہویااسکو؟تو وہ کہے گا کہ نہ میں اس کو ووٹ دینا چاہتاہوںاور نہ اس کو۔ پولنگ افسر کہے گا تو پھر جائو تم آئے کس لئے تھے وہ کہے گا نہ میں جانا چاہتا ہوںنہ کھڑا رہنا چاہتا ہوں۔
    غرض یہ عقیدہ ایسا غلط اور بے بنیاد ہے کہ اسکی جسقدر بھی تشریح کی جائے سوائے ہنسی اور مذاق کے اسکا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا ۔اگر کہا جائے کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ انسان نیک خواہش کرے تو معلوم ہوا کہ نیکی کا مادہ اس میں موجود ہے اور یہی ہم کہتے ہیںکہ انسان میں نیک خواہشات بھی پائی جاتی ہیں اور بری بھی ۔ جب کوی شخص اپنے فطرتی تقاضوںکو عقل اور مصلحت کے ماتحت استعمال کرتا ہے تو وہ نیک کہلاتا ہے اور جب فطرتی تقاضوں کو عقل اور مصلحت کے خلاف استعمال کرتا ہے تو برا کہلاتا ہے اسی صورت میں صیح طریق یہ ہوتا ہے کہ فطرت کو ابھارا جائے اور طبی تقاضوں کے غلط استعمال سے انسان کو بچایا جائے نہ یہ کہ انسانی فطرت کو ہی گندہ اور ناپاک قرار دیدیا جائے۔ بہرحال اگر بدھوں کی طرف سے کہا جائے کہ ہمارا مدعا یہ ہے کہ انسان نیک خواہش کرے تو معلوم ہوا کہ نیکی کا مادہ اس میں موجود ہے اور اسکی خواہش اسے کرنی چاہئے اور جب خواہش کرنی ثابت ہوئی تو پھر ہم سوال کریں گے کہ وہ کون سی بات فطرت میں ہے جسے برا کہا جا سکتا ہے۔ فطرت میں تو جس قدر تقاضے پائے جاتے ہیں سب کے سب اچھے ہیں صرف ان کا غلط استعمال انسان کو برا بنا دیتا ہے مثلاً فطرت یہ کہتی ہے کہ کھانا کھائو وہ یہ نہیں کہتی کہ زید کا کھانا اٹھا کر کھا جائو اگر تم زید کا کھانا اٹھا کر کھا جاتے ہو تو یہ تمہارا اپنا قصور ہے فطرت نے تمیں یہ نہیں کہا تھا کہ تم زید کا کھانا کھائو۔ اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ کھانا کھائو ۔دوسرے کی روٹی اٹھا کر کھا جانے کا خیال تمہارے دل میں اس وقت آتا ہے جب تم کہتے ہو کہ روٹی میرے پاس موجود نہیںاور بھوک لگی ہوئی ہے اس وقت تم فطرت کے اس تقاضے کا غلط استعمال کرکے کسی اور شخص کا کھا نا چرا کر کھا جاتے ہو۔ورنہ فطرت نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ کھانا کھائو۔یہ نہیں کہا تھا کہ زید یا بکر کا کھانا کھا جائو۔ یا مثلاً جب شادی کی خواہش انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے تو فطرت اسے اتنا ہی کہتی ہے کہ شادی کر لو ۔ یہ نہیں کہتی کہ کسی دوسرے کی بیوی کو اڑا لو۔ یا مثلاًفطرت یہ تو کہتی ہے کہ مال خرچ کرو مگر یہ نہیں کہتی کہبے موقع اور بے محل اپنا مال خرچ کرتے چلے جائو۔ یہ بگاڑجو بعد مین پیدا ہوتے ہیں انسانی ماحول اور اسکے مختلف حالات کا نتیجہ ہو تا ہے ۔ورنہ فطرت ان امور کی طرف رہنمائی نہیں کرتی۔ اسی طرح شجاعت کا مادہ ہے جو فطرت میں پایا جاتا ہے۔ بسا اوقات انسان اپنی جان یا اپنے مال کی قربانی کر کے دوسروں کو بڑے بڑے نقصانات سے بچا لیتا ہے لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ظلم پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اب ظلم کوئی الگ خاصہ نہیں بلکہ شجاعت کے فطری مادے کا غلط استعمال ہے ۔خدا نے یہ مادہ انسامن میں اس لئے رکھا تھا کہ وہ دوسروں کے لئے قربانی کرے مگر بعض دفعہ یہ اس تقاضے کا غلط استعمال کر کے دوسروں کے حقوق کو غصب کر لیتا ہے۔یا مثلاً ترقی کا جذبہ ہر انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے۔ مگر جب اس جذبہ کوبرے طور پر استعمال کیا جائے تو اس سے حسد پیدا ہوتا ہے یعنی انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ صرف میں ہی آگے بڑھوں اور کوئی نہ بڑھے۔ بہرحال جب فطرت میں کوئی ایسی بات نہیں رکھی گئی جسے برا کہا جا سکتا ہو۔ صرف فطری جذبات اور تقاضوں کا غلط استعمال برا ہوتاہے تو سوال صرف اتنا رہ جائے گا کہ کیا خدا تعالیٰ نے شجاعت، سخاوت اور نحبت وغیرہ اچھے کاموں کے لئے پیدا کی ہے یا برے کاموں کے لئے۔ اگر کہو کہ برے کاموں کے لئے تو برا کام ہی نیکی ہوا کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی اس میں ہے ۔ورنہ خدا تعالیٰ پر اعتراض آے گا کہ اس نے ان قوتوں کو پیدا تو اس لئے کیا تھا کہ برے کام کئے جائیں مگر جب برے کام کئے جاتے ہیں تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ اور کہو کہ اچھے استعمال کے لئے خدا تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے تو فطرت نیک ہوئی بد کس طرح ہوئی؟ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اس سے ہر گز انکار نہیں کہ وہ حالات جن میں سے انسان گزرتا ہے اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ تبھی ان حالا ت کی وجہ سے جو نیکی کی طرف چلا جاتا ہے اور کبھی بدی کی طرف جھک جاتا ہے لیکن بہرحال فطرت جن چیزوں کا تقاضا کرتی ہے وہ بری نہیں ہے۔
    اس حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے وام مارگی پیدا ہوئے ہیں انہوں نے اس نظریہ کا ایک اور پہلو لیا ہے۔ وام مارگ کے معنی ہیں خواہش کا مذہب اور بدھ مذہب کے معنی ہیں خواہش مارنے کا مذہب۔ بدھ مذہب تو اس بات پر زور دیتا ہے کہ چونکہ خواہشات بری چیز ہیں اس لئے ان کو مٹانا انسان کا اولین فرض ہے۔ جب تک وہ اپنی خواہشات کو کلی طور پر فنا نہیں کر دیتا اس وقت تک نجات اسے حاصل نہیں ہوسکتی۔ لیکن وام مارگی یہ کہتے ہیں کہ انسانی پیدائش کی غرض اس وقت پوری ہوتی ہے جب وہ اپنی خواہشات کا جائزہ لیتے ہوئے ہر خواہش کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرے۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ فطرت چونکہ خدا کی پیدا کردہ ہے اس لئے انسان کے دل میں جو خواہش بھی پیدا ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہوتی ہے مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ بے شک فطرت کو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے مگر فطرت کا ظہور تو اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔ بچہ کی شکل خدا تعالیٰ نے کامل بنائی ہے لیکن کیا وہ ماں کے پیٹ میں رہائش کے وقت بیماریوں اور چوٹوں سے بری شکل اختیار نہیں کر سکتا؟ اسی طرح انسانی فطرت کو حالات بد بھی بنا دیتے ہیں ۔اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو خواہش بھی انسان کے دل میں پیدا ہو وہ ضرور اچھی ہوتی ہے اگر حالات نے اسے برا بنا دیا ہو گا تو لازماًاس کے دل میں بری خواہشات پیدا ہوں گی جن پر عمل اس کے جسم اور روح دونوں کے لئے مہلک ہو گا۔ بہرحال وام مارگی یہ کہتے ہیں کہ اگر انسان کی فطرت نیک ہے تو اس کی ہر خواہش نیک ہے اور اگر فطرت بری ہے تو پھر جن امور کو تم برا کہتے ہو وہی نیکی کا معیار ہیں ۔ چنانچہ اسی بناء پر یہ لوگ پیشاب، پاخانہ، مردہ کا گوشت اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کو بھی جائز سمجھتے اور گندگی اور غلاظت کو صفائی وغیرہ پر ترجیح دیتے ہیں۔ وام مارگیوں نے بھی وہ چیز جو ماحول سے پیدا ہوتی ہے اس کا نام فطرت رکھ دیا ہے حالانکہ اس کا نام فطرت نہیں ۔ ہم صرف ان تقاضائے بشری کے متعلق جو غیر معین ہوں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں نیکی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے یہ نہیں کہتے کہ مخصوص حالات کے ماتحت جو خواہشات انسانی قلب میں پیدا ہوتی ہیں وہ بھی نیک ہوتی ہیں ۔ جو تقاضے مخصوص حالات کے ماتحت انسانی قلب میں پیدا ہوں ہم اس کا نام فطرت نہیں رکھتے اور نہ قرآن نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ضرور نیک ہوں گے مگر افسوس کہ وہ اس ٹھوکر میں مبتلا ہو گئے کہ اگر فطرت نیک ہے تو پھر جن چیزوں کو تم برا کہتے ہو وہ بری نہیں بلکہ اچھی ہیں اور اگر فطرت بری ہے تو جن امور کو تم برا کہتے ہو وہی نیکی کا معیار ہیں مگر خود انسانی فطرت ان امور کا انکار کرتی ہے چنانچہ یہ لوگ بھی اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور ظاہر ہونے سے ڈرتے ہیں جس سے ہمارے قیاس کی تصدیق ہوتی ہے۔
    دوسرا عقیدہ یہ تھا کہ انسان بھلائی کو لے کر پیدا ہوا مگر آدم اول نے گناہ کیا اس لئے سب انسان گناہ پر مجبور ہیں ۔اگر یہ لوگ دہریہ ہوتے تو ہم ان سے اور رنگ میں گفتگو کرتے لیکن یہ لوگ ایک مذہب کو ماننے والے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ خود ان کا اپنا مذہب اس عقیدہ کو رد کرتا ہے۔ پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عقیدہ درست ہے کہ آدم اول نے گناہ کیاجس کے نتیجہ میں اب ورثہ کا گناہ انسان کے اندر آ گیا ہے اور وہ اس سے بلا کسی اور امداد کے آزاد نہیں ہو سکتا۔ تو حضرت عیسیٰ ؑ سے پہلے کی تمام مخلوق نجات سے محروم ہونی چاہیے۔ کیونکہ کفارہ تو مسیح ؑ نے پیش کیا ہے۔ مسیح ؑ کے کفارہ پر ایمان لانے والے تو نجات پا سکتے ہیں مگر پہلے لوگوں کی نجات اس عقیدہ کی رو سے قطعی طور پر نا ممکن ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا فطرت کی اس اصلاح یعنی کفارہ مسیح سے پہلے سب لوگ گنہگار اور غیر ناجی تھے؟ اس سوال کا جواب خود بائبل دیتی ہے کہ وہ آدم کو *** قرار نہیں دیتی بلکہ شیطان سے دھوکہ کھانے کے بعد بھی خدا اس پر راضی رہتا ہے۔ چنانچہ بائبل میں لکھا ہے کہ جب آدم نے گناہ کیا اور اس کے نتیجہ میں وہ ننگا ہو گیا خداوند خدا نے آدم اور اس کی جوروکے واسطے چمڑے کے کرتے بناکے ان کو پہنائیــ ـ"(پیدائش باب ۳ آیت۲۱) اگر آدم سے خدا ناراض ہو چکا تھا اور اسے اپنی روحانی اولاد سے خارج کر چکا تھا۔تو چاہیے تھا کہ اس واقعہ کے بعد آدم پر ناراضگی کا اظہار ہوتا۔ نہ یہ کہ اسے اور اس کی بیوی کو چمڑے کے کپڑے بنوا کر دیتا اور ان کے ننگ کو ڈھانکتا ۔ اللہ تعالیٰ کا آدم اور اس کی بیوی کو اس واقعہ کے بعد چمڑے کے کپڑے بنوا کر دینا بتا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ اس واقعہ کے بعد بھی آدم سے راضی رہا۔ پھر لکھا ہے ۔ فرشتوں سے خدا نے کہا" دیکھو کہ انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا" ( پیدائش باب ۳ آیت ۲۲) یعنی نیکی اور بدی کی پہچان میں آدم خدا اور اسکے فرشتوں جیسا ہو گیا ہے جو شخص نیکی اور بدی کی پہچان میں خدا اور اس کے فرشتوں جیسا ہو جائے وہ *** کس طرح ہو سکتا ہے یہ توایک اعلیٰ درجے کا مقام ہے جو آدم کو حاصل ہوا۔
    آدم کے بعدحنوک آئے جو حضرت نوح کے پردادا تھے ان کے بارے میں لکھا ہے " حنوک کی ساری عمر تین سو پینسٹھ ۶۵ برس کی ہوئی اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا اور غائب ہو گیا اس لئے کہ خدا نے اسے لے لیا" (پیدائش باب ۵ آیت۲۴) اس آیت کا خلاصہ بائبل میں ایسے درج کیا گیا ہے: ۔ "حنوک کی دینداری اور اس کے جیتے جی خدا کے حضور چلے جانے کی خبر" یہ حوالہ ظاہر کر رہا ہے کہ حنوک اللہ تعالیٰ کا اسقدر پیارا تھا کہ خدا نے اسے اور لوگوں کی طرح موت جسمانی نہیں دی بلکہ جیتے جی اسے آسمان پر اٹھا لے گیا۔ حالانکہ عیسائی عقیدہ کی رو سے آدم کو گناہ کی جو سزادی گئی تھی اس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ وہ دنیا میں ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا ۔ بلکہ ایک دن موت کا شکار ہو جائے گا۔ چنانچہ پیدائش باب ۳ آیت ۱۹ میں اس سزا کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ۔"تو خاک ہے اور پھر خاک میں جائے گا" گویا عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ آدم کے گناہ کے نتیجہ میں انسان کو موت کی سزا دی گئی ہے اسی طرح اسے زمین پر رہنے پر مجبور کیا گیا ہے ۔اگر آدم گناہ نہ کرتا تو انسان ہمیشہ کے لئے زندہ رہتا اور زمین پر رہنے پر مجبور نہ ہوتا۔ مگر اوپر کے حوالہ میں بتایا گیا ہے کہ حنوک کو خدا نے موت نہیں دی بلکہ اسے زندہ ہونے کی حالت میں آسمان پر اٹھا لیا۔ اگر اس حوالہ میں صرف حنوک کی دینداری کا ذکر ہوتا ۔ یہ بات بیان نہ کی جاتی کہ خدا نے اسے موت سے بچایااور جیتے جی آسمان پر اٹھا لیا تب بھی یہ اس بات کا ثبوت ہوتا کہ مسیح کی آمد یا اس کے کفارہ پر ایمان لانے کے بغیر بھی لوگ نیک ہو سکتے ہیں ۔ مگر اس حوالہ سے یہ زائد بات بھی نکلتی ہے کہ حنوک موت سے بچ گیا اور آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا۔ حالانکہ موت اور زمین پر رہنا ایک سزا تھا آدم کے گناہ کی۔ پس جسے موت نہیں آئی اور آسمان پر چلا گیا اس کے متعلق بہرحال یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس نے ورثہ کے گناہ سے کوئی حصہ نہیں پایا ۔اگر پایا ہوتا تو عیسائی عقیدہ کی رو سے وہ ضرور مرتا۔ مگر چونکہ وہ زندہ رہااور جیتے جی آسمان پر اٹھا لیا گیااس لئے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اس نے ورثہ کے گناہ سے حصہ نہیں لیا۔ پھر ساتھ ہی لکھا ہے۔ " حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا " خدا کے ساتھ ساتھ چلنے کے یہ معنی ہیں کہ اس کی زندگی صرف خدا کے کام مصروف تھی کسی اور طرف اس کی توجہ نہیں تھی ۔ اور جس شخص کی زندگی صرف خدا کے کام میں صرف ہو رہی ہواور دن اور رات اسے یہی فکر ہو کہ میں ان فرائض کو بجا لائوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر عائد کئے گئے ہیں وہ اس رنگ میں اپنی معاش کا سامان نہیں کر سکتا جس رنگ میں دوسرے لوگ جدوجہد کرتے اور اپنی روزی کا فکر کرتے ہیں ۔ بالفاظ دیگرخدا کے ساتھ ساتھ چلنے کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اسے رزق بلا محنت ملتا تھا ۔ گویا وہ دوسری سزا بھی اسے نہیں ملی جو آدم کے گناہ کی وجہ سے مقرر ہوئی تھی اور جس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں پایا جاتا ہے کہ" تو اپنے منہ کے پسینہ کی روٹی کھائے گا جب تک کہ زمین میں پھر نہ جاوے کہ تو اس سے نکالا گیا ہے کہ تو خاک ہے اور پھر خاک میں جائے گا " ( پیدائش باب ۳ آیت ۱۹) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آدم کو دو سزائیں دے گئی تھیں ایک یہ کہ وہ ہمیشہ اپنے ماتھے کے پسینہ سے روٹی کھائے گا اور دوسرے یہ کہ وہ اس دنیا میں ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا بلکہ ایک دن آئے گا جب اسے موت کا تلخ گھونٹ پینا پڑے گا ۔ مگر حنوک کو نہ موت کا تلخ گھونٹ پینا پڑا اور نہ ماتھے کے پسینہ سے اپنے لئے روزی کا سامان مہیا کرنا پڑاوہ جیتے جی بغیر مرنے کے آسمان میں غائب ہو گیا اور پھر وہ ہمیشہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ گویا اسے رزق بلا محنت ملتا رہا۔ اس سے ظاہر ہے کہ عیسائی مذہب کی رو سے حنوک ورثہ کے گناہ اور اس کے اثرات سے قطعی طور پر محفوظ تھا۔ اگر ورثہ کا گناہ حنوک میں بھی آتا تو ضروری تھا کہ وہ مر کر زمین میں دفن ہوتا اور ضروری تھا کہ وہ ماتھے کے پسینہ سے اپنے لئے روٹی مہیا کرتا۔مگر اس کا نہ مرنا اور نہ ماتھے کے پسینہ سے روٹی کھانا بتا رہا ہے کہ حنوک عیسائی مذہب کی رو سے بالکل پاک تھا۔
    اس کے بعد نوح ؑآئے ان کی نسبت لکھا ہے کہ لمک نے اپنے بیتے کا نام نوح ؑ رکھااور کہا کہ " یہ ہمارے ہاتھوں کی محنت اور مشقت سے جو زمین کے سبب سے ہیں جس پر خدا نے *** کی ہے ہمیں آرام دے گا۔ " ( پیدائش باب ۵ آیت ۲۹) یعنی آدم کے گناہ کی وجہ سے زمین پر جو *** ڈالی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ انسان ہمیشہ محنت اور مشقت سے اپنی روزی کمائے گاوہ *** نوح ؑ کی وجہ سے دور ہو جائے گی۔
    یہ امر بتایا جا چکا ہے کہ آدم کے گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو سزائیں ملی تھیں ۔ایک یہ کہ انسان محنت مشقت سے روزی کمائے گااور دوسری یہ کہ وہ ایک دن مر کر زمین میں دفن ہو گا۔ لمک نے اپنے بیٹے کا نام نوح ؑرکھااور اس لئے رکھا کہ ’’یہ ہمارے ہاتھوں کی محنت اورمشقت سے جو زمین کے سبب سے ہیں جس پر خدا نے *** کی ہے ہمیں آرام دے گا‘‘۔ گویا انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوح ؑکی وجہ سے وہ محنت اور مشقت سے آزاد ہو جائیں گے اور انہیں آرام میسر آجائے گا۔ جسکے معنی یہ ہیں کہ نوح ؑنے اس *** کو آکردور کر دیا۔ اگر کہا جائے کی انہوں نے یونہی بلاوجہ ایک امید ظاہر کر دی تھی تو سوال یہ ہے کہ بائبل نے اس کو نقل کیوں کیا ؟بائبل کا اسے نقل کرنا بتا رہا ہے کہ انہوں نے خدا کے حکم کے ماتحت یہ امیدظاہر کی تھی اور یہ توقع وہ تھی جسے نوح ؑنے اپنی زندگی میں پورا کرنا تھا اور اس طرح انہوں نے اس *** کو دور کر دینا تھا جو آدم کے گناہ کی وجہ سے زمین پر مسلط تھی۔ پھر نوح ؑکے بارے میں لکھا ہے:- ’’نوح ؑ اپنے قرنوں میں صادق اور کامل تھا اور نوح ؑ خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا ‘‘ (پیدائش باب ۶آیت ۹) جو شخص صادق اور کامل تھا وہ گناہگار کس طرح ہو گیا؟پھر نوح ؑ وہ شخص تھا جو خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھاجس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کام کرتا تھا ۔اب بتائو جو شخص صادق بھی ہو اور کامل بھی اور پھر خدا کی مرضی کے خلاف کبھی کوئی فعل بھی نہ کرتا ہواسے گناہگار کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے؟ پھر نوح ؑ سے خدا تعالیٰ نے کہا۔ ’’ میں تجھ سے اپنا عہد قائم کروں گا‘‘ (پیدائش باب ۶ آیت ۱۸) جس شخص کو خدا اپنے عہدے کے لئے منتخب فرمائے اسے غیر نجات یافتہ کس طرح کہا جا سکتا ہے؟
    پھر لکھا ہے کہ نوح ؑ نے خدا کے لئے ایک مذبح بنایااور اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔جب نوح ؑ نے عبادت کی تو ’’خداوند نے خوشنودی کی بو سونگھی اور خداوند نے اپنے دل میں کہاکہ انسان کے لئے میں زمین کو پھر کبھی *** نہ کروں گا‘‘ (پیدائش باب ۸ آیت۲۱ ) گویا نوح ؑ کی عبادت خدا کو اسقدر پسند آئی کہ اس نے کہا۔ میں زمین پر پھر کبھی *** نہیں کروں گا۔ اب سوال یہ ہے کہ جب پہلی *** نوح ؑ نے دور کر دی تھی توآئندہ کونسی نئی *** پیدا ہوئی تھی جس سے فطرت انسانی مسخ ہو گئی اور جو مسیح نے آکر دور کی؟
    پھر ان کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے ان کے متعلق بائبل میں لکھا ہے کہ خدا نے ان کو فرمایا:۔ ’’ میں تجھے ایک بڑی قوم بنائوں گااور تجھ کو مبارک اور تیرا نام بڑا کروں گا۔ اور تو ایک برکت ہو گااور ان کو جو تجھے برکت دیتے ہیں برکت دوں گااور اس کو جو تجھ پر *** کرتا ہے *** کروں گااور دنیا کے سب گھرانے تجھ سے برکت پاوینگے۔‘‘ ( پیدائش باب۱۲ آیت ۲، ۳ )اب دیکھو اس میں کتنی باتیں بیان کی گئیں ہیں ۔ پہلی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ میں تجھ کو مبارک کروں گا ۔ یہ صاف بات ہے کہ خدا کا مبارک کیا ہوا انسان *** نہیں ہو سکتا۔ دوسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ تو ایک برکت ہو گا یعنی تو مجسم برکت ہو گا۔ اور تیسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ نہ صرف تو مبارک ہو گااور تیری وجہ سے دنیا برکت پائے گی بلکہ جو تجھے برکت دینگے میں ان کو بھی برکت دوں گا۔ یہی وہ فقرہ ہے جس کے جواب میں رسول کریم ﷺ نے اپنی امت کو یہ دعا سکھائی کہ اللھم بارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم انک حمید مجید۔ یعنی اے خدا ! تو نے جو ابراہیم ؑ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تجھے برکت دوں گااور تجھے برکت دینے والوں کو بھی برکت دوں گاہم تیرے اس وعدہ کے مطابق ابراہیم ؑ کو برکت دے رہے ہیںتو ہمارے گھروں کو بھی اپنی برکتوں سے بھر دے اور اپنے فضلوں سے ہمیں حصہ دے۔گویا ابراہیم ؑ کو برکت دینے والے *** نہیں ہو سکتے اور ابراہیم ؑ پر *** کرنے والے کبھی اللہ تعالیٰ کی برکت سے حصہ نہیں لے سکتے۔عیسائی کہتے ہیں کہ آدمؑ کے گناہ کی وجہ سے خدا نے دنیا پر *** کی اور یہاں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ ابراہیم ؑ اور اس سے تعلق رکھنے والے کبھی *** نہیں ہو سکتے ہاں ابراہیم کو *** کرنے والے ضرور *** ہیں۔پس وہ عقیدہ جو آج کل عیسائیوںمیںپایا جاتا ہے اس حوالہ کی موجودگی میںبلکل غلط ثابت ہوتا ہے۔
    پھر ابراہیم کے زما نہ میں ایک اور شخص تھے جن کا نام ملک مصدق سالیم تھا۔ ان کے متعلق خود انجیل میں لکھا ہے کہ وہ پہلے اپنے نام کے معنوں کے موافق راسی کا بادشاہ ہے اور پھر شاہ سالیم یعنی سلامتی کا بادشاہ عبرانیوں (باب۷آیت۲) مطلب یہ کہ جیسا اس کا نام تھا ویسے ہی اس کے اوصا ف اس کے اندر پائے جاتے تھے۔اس کا نام بھی ملک مصدق تھا اورواقعہ میں بھی راستی کا بادشاہ تھا اور پھر جس طرح وہ ظاہر میںشاہ سا لیم تھا اسی طرح معنوی لحاظ سے بھی وہ سلامتی کا بادشاہ تھا۔ آگے لکھا ہے یہ بے باپ بے ماںبے نسب نامہ جس کے نہ دنوںکا شروع نپ زندگی کا آخر مگر خدا کے بیٹے کے مشابہ ٹھہر کے ہمیشہ کاہن رہتا ہے (عبرانیوںباب۷آیت۳) گویا ملک صدق سالیم جو راستی اور سلامتی کا بادشاہ تھا وہ بے باپ بھی تھا اور بے ماں بھی۔نہ اسکی زندگی کا آغاز تھا اور نہ اسکا کوئی انتہاء اور وہ خدا کے بیٹے کے مشابہ تھا
    ایسا شخص تو یقینا سب سزائوں سے بچا ہوا تھا ۔یہاںکوئی عیسائی کہ سکتا ہے کہ ملک صدق سالیم نے اس لیے نجات پائی تھی کہ وہ بے باپ اور بے ماںتھا ورثہ کا گناہ اسے حاصل نہ ہوا تھا مگر سوال یہ ہے کہ اگر بے باپ اور بے ماںمصلحین پہلے دنیا کو مل چکے تھے تو پھر مسیح کی کیا ضرورت تھی ۔تمہارا مسیح کی معصومیت اوع اس کی قربانی پر زور دینا اسی لئے ہے کہ تم سمجھتے ہو دنیا کے لیے اسا مصلح چاہیئے تھا جو بے گناہ ہو اور چونکہ آدم سے لیکر مسیح تک کوئی بے گناہ مصلح نہیں آیا بلکہ ہر شخص جو پیدا ہوا وہ ورثہ کا گناہ لے کر آیا اس لیے ضروری تھا کہ خدا کا بیٹا جو بے گناہ تھا آتا اور لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا مگر عبرانیوں کا وہ فقرہ جسے اوپر درج کیا گیا ہے بتا رہا ہے کہ مسیح سے پہلے ملک صدق سالیم آیا اوروہ ایسا شخص تھا جو قطعی طور پر بے گناہ تھا نہ اس کی ماں تھی نہ باپ اور اس طرح ورثہ کے گناہ کا اس میںکوئی حصہ نہ تھا ۔ اسی طرح اسحاق ۔یعقوب۔یوسف ۔موسیٰ۔ دائود سب نیکی اور پاک بازی کا اقرار بایئبل میں موجود ہے۔اب سوال یہ ہے کہ مسیح سے پہلے اگر اتنے لوگ کفارئہ مسیح پر ایمان لائے بغیر نجات پا گئے ہیں تو آئندہ کیوں نجات نہیں پا سکتے جس ذریعہ سے پہلوں نے نجات پائی ہے اسی ذریعہ سے بعد کے لوگ نجات پا سکتے ہیں مسیح کی قربانی یا اس کے کفارئہ کی کیا ضرورت ہے؟ بہر حال پہلے لوگوں کا نجات پا جانا ثبوت ہے اس بات کا فطرت انسانی کو کوئی گناہ ورثہ میں نہیں پہنچا اگر پہنچا ہو تا تو یہ لوگ خدا تعالیٰ کے محبوب اور اس کے مقرب نہ بن سکتے !
    دوسرا سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا مسیح کی آمد نے کوئی ایسا تغیر پیدا کیا ہے جس سے ہم یہ سمجھ سکیں کہ انسان فطرت کے گناہ سے بچ گیا ہے؟ ظاہر ہے کہ مسیح کے بعد گناہ نے ترقی کی ہے شرک نے ترقی کی،ظلم نے ترقی کی ،جھوٹ فریب اور دغا بازی نے ترقی کی اور تو اور عیسا ئی لوگ ایک دوسرے کے ظلموں کے شاکی ہو رہے ہیں پس سوال یہ ہے کہ اگر مسیح کے کفارہ سے واقعہ میں ورثہ کا گناہ معاف ہو گیا تھا تو مسیح کے آنے کے بعد گناہ میں ذیادتی کیوں ہوئی؟عیسائی اس سوال کا فلسفیا نہ جواب دیتے ہیں جو ہماری جماعت کے دوستوں کو مد نظر رکھنا چاہئے وہ کہتے ہیں ہما را یہ دعویٰ نہیں کہ محض مسیح علیہ اسلام پر ایمان لانے کی وجہ سے گناہ جاتا رہتا ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کے اندر جو نیک بننے کی خواہش پائی جاتی ہے اگر کفارئہ مسیح پر ایمان لانے کے بعد یہ خواہش انسان کے دل میں پیدا ہو تو وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔وہ کہتے ہیں اگر تم ہمیں کروڑوں عیسائی بھی گناہ گار دکھا دو تو اس میں کوئی ہرج کی بات نہیں تم بھی تو یہ نہیں کہتے کہ محمد ﷺپر ایمان لانے کے بعد ہر شخص کے اندر نیکی پیدا ہو جاتی ہے۔بلکہ تم یہ کہتے ہو کہ انسان کے اندر اس ایمان کی وجہ سے ایک مقدرت پیدا کر دی جاتی ہے جس سے کا م لے کر وہ اگر نیک بننا چاہے تو بن سکتا ہے ۔ اسی طرح ہم یہ کہتے ہیں مسیح کے کفارئہ سے پہلے کوئی شخص نجات نہیں پا سکتا تھا کیونکہ اس میں ورثہ کے گناہ کا اثر تھا جو اسے ترقی سے روک رہا تھا ۔لیکن مسیح کے کفارئہ پر ایمان لانے کے بعد اسکی نجات کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔ہم امکان نجات کے مدعی ہیں اسبات کے مدعی نہیں کہ ہر شخص جو کفارئہ مسیح پر ایمان لائے گا وہ خواہ اپنی نیک قوتوں کو اس استعمال نہ کرے تب بھی نجات پا جائے گا ۔جس طرح آدم نے گناہ کیا تھا اسی طرح اب بھی لوگ گناہ کر سکتے ہیں ۔ہاں اگر وہ اس سے بچنا چاہیں تو بچ بھی سکتے ہیں۔کیونکہ پچھلا بوجھ اتر گیا ہے اور آئندہ کے لیے ایمان نے ان کے اندر نیکی کی مقدرت پیدا کر دی ہے ۔یہ جواب ہے جو عیسائی لوگ دیا کرتے ہیں۔ اس کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے ۔کہ بایئبل اس بات پر گواہ ہے کہ مسیح کی آمد سے پہلے بھی کئی لوگ گناہ سے بچا کرتے تھے ۔جب پہلے لوگ گناہ سے بچا کرتے تھے تو اب بغیر کفارئہ مسیح پر ایما ن لانے کے وہ گناہوں سے کیوں بچ نہیں سکتے اور جب کہ پہلے لوگ بغیر اس کفارئہ کہ نجات پا گئے اور خدا کے ساتھ ساتھ چلنے والے بنے بلکہ بقول بایئبل بعض موت سے بھی بچے رہے جیسا کہ ایلیا ہ کے متعلق بھی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بگولے میں آسمان پر چلا گیا (۲سلاطین باب۲آیت۱۲) تو پھر ورثہ کا گناہ کہاں گیا اور جب بعد کے لوگ بھی گناہ میں مبتلا رہے تو پھر کفارئہ کا فائدہ کیا ہوا ؟ اسکا جواب عیسائی لوگ یہ دیتے ہیں کہ مسیح کی آمد سے پہلے جو لوگ گناہوں سے بچتے تھے وہ اس لیے بچتے تھے کہ مسیح کے کفارئہ پر ایمان لے آئے تھے ۔خدا تعالیٰ سے انکو خبر مل جاتی تھی کہ آئندہ زمانہ میںخدا کا ایک بیٹا آئے گا لوگ اسے صلیب پر لٹکائیں گے اور وہ دنیا کے گناہوں کے بدلے اپنے آپ کو قربان کر دے گا ۔وہ یہ خبر سنتے اور کہتے امنا وصدقنا چنانچہ جب ابراہیم نے کہا کہ میں آنے والے مسیح پر ایمان لاتا ہوںتو وہ گناہ سے بچ گیا ۔اس پر وہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی بعض پیش گوئیاں بھی بیان کرتے ہیںجو ان کے نزدیک حضرت مسیح پر چسپاں ہوتی ہیں۔اسکا جواب یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اول تو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی پیش گوئیاںخود زیر بحث ہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے مان لینے سے یہ کیونکر معلوم ہو گیا کہ نوح اورحنوک بھی یہ جانتے تھے کہ آئندہ زمانہ میں خدا کا ایک بیٹا ظاہر ہونے والا ہے؟ یا تو بائیبل میں یہ مسئلہ ان الفاظ میں بیان ہو تا کہ آنے والے خدا کے بیٹے پر ہر نبی ایمان لایا تھا پھر چاہے یہ ذکر نہ ہوتا کہ حنوک مسیح پر ایمان لایا تھا یا نہیںیا نوح مسیح پر ایمان لایا تھا یا نہیں ہم کہتے ہیں کہ جب بیئبل نے کہ دیا ہے کہ ہر نبی خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا رہا ہے تو یہ سوال پیدا ہی نہیں ہو تا کہ نام بنام ہر نبی کے متعلق یہ ثابت کیا جائے کہ وہ خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا تھا۔مگر بائیبل نے ایک طرف تو ایسا کوئی اصل پیش نہیں کیا اور دوسری طرف اس نے حنوک کا واقعہ تو بیان کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا ۔مگر اس امر کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ حنوک خدا کے بیٹے پر بھی ایمان لایا تھا ۔اسی طرح آدم کے متعلق یہ تو ذکر ہے کہ وہ خدا کا مقبول رہا مگر بائیبل میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ آدم کو خدا نے یہ اطلاع دی تھی کہ میرا بیٹا دنیا میں آنے والا ہے۔جو لوگوں کے گناہوں کے بدلے پھانسی پائے گا تم اس پر ایمان لے آئو۔اسی طرح یسعیاہ اور حزقیل وغیرہ انبیاء ہیں جن کی پاک بازی کا تو بائیبل میں ذکر آتا ہے مگر مسیح کے کفارئہ پر ایمان لانیکا ان کے متعلق کہیں ذکر نہیں ؟ بلکہ اور تو اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے متعلق بھی بائیبل میں یہ کہیں نہیں بیان کیا گیا کہوہ کفارئہ مسیح پر ایمان لائے تھے ۔اگر انکی کوئی پیش گوئی نکل بھی آئے تو اس سے صرف اتنا ثابت ہو گا کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے یہ خبر دی تھی کہ میرے بعد مسیح آئے گا ۔یہ کہیں سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ انہون نے یہ کہا ہو کہ مسیح لوگوں کو گناہوں کی سزاسے بچانے کے لئے اپنے آپ کو قربان کرے گا اور میں اس کفارئہ پر ایمان لاتا ہوں۔پس بفرض محال اگر حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی کوئی پیشگوئی ثابت بھی ہو جائے تو اس سے صرف اتنا پتہ لگے گا کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے آمد مسیح کی خبر دی تھی اس سے انکی نجات کس طرح ہو گئی ؟اور وہ گناہ سے بچ کس طرح گئے؟کفارئہ کا مسئلہ جو عیسائیوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے اسکی بنیاد اس امر پر نہیں کہ خدا کے بیٹے پر ایمان لایا جائے بلکہ اسکی بنیاد اس امر پر ہے کہ خدا کے بیٹے کے مصلوب ہونے اور اس کے کفارئہ ہونے پر ایمان لایا جائے مگر کفارئہ مسیح پر حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے ایمان لانے کا بائیبل سے کہیں ثبوت نہیں ملتا
    پھر اگر حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی پیش گوئیوں کو لو تو وہ بھی حضرت مسیح پر چسپاںنہیں ہوتیں۔مجھ سے ایک دفعہ ایک پادری کی گفتگو ہوئی میں نے اس سے کہا۔پہلے لوگ کس طرح نجات پا گئے تھے؟کہنے لگا وہ مسیح پر ایمان لاتے تھے۔میں نے کہا کیا ابراہیم بھی ایمان لائے تھے ؟اس نے کہا ہاں!حضرت ابراہیم علیہ اسلام سے اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ تیری نسل اپنے دشمنوں کے دروازہ پر قابض ہو گی اور تیری نسل سے زمین کی ساری قومیںبرکت پائیں گی (پیدائشباب۲۲آیت۱۷،۱۸) یہ پیش گوئی حضرت مسیح کے متعلق تھی اور انہی کے ذریعہ پوری ہوئی ہے اس لیئے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح پر ایمان لے آئے تھے ۔میں نے کہا اس پیش گوئی میں یہ ذکر ہے کہ آنے والا ابراہیم کی نسل میں سے ہو گا اور تم جانتے ہو کہ اولاد ہمیشہ مرد کے نطفے سے ہو تی ہے اس لئے وہی شخص اس پیش گوئی کا مصداق سمجھا جا سکتا ہے جو مرد کے نطفہ سے ہو ۔اس وقت دنیا میں دو مدعی کھڑے ہیںاور دونوں اس امر کے دعویدار ہیں کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی پیش گوئی کا مصداق ہیں ایک محمدﷺ ہیں جن کا باپ تھا۔اور ایک مسیح ہیں جنکا کوئی باپ نہیں تھا ۔اب تم خود ہی سمجھ سکتے ہو کہ بائیبل کی یہ پیش گوئی ان دونوں میں سے کس پر چسپاںہوگی آیا اس پر چسپاں ہوگی جس کا کوئی باپ ہی نہیںتھا یا اس پر چسپاں ہوگی جس کا باپ تھا اور جو واقعہ میںابراہیم کی نسل میں سے تھا۔بائیبل بتا رہی ہے کہ آنیوالا ابراہیم کی نسل میں سے ہو گا یعنی وہ مرد کے نطفہ سے پیدا ہو گا جو شخص مرد کے نطفہ سے ہی نہیں وہ ابراہیم کی اولاد میں سے کس طرح سے ہو گیا ؟
    عیسائیوں کو یہاں سخت مشکل پیش آئی ہے ۔وہ ایک طرف یہ بھی چاہتے تھے کہ اس پیش گوئی کو حضرت مسیح پر چسپاں کریں۔اوع دوسری طرف یہ بھی دیکھتے تھے کہ حضرت مسیح کا کوئی باپ ہیں تھا جس کی بنا پر وہ انہیں ابراہیمی نسل میں سے قرار دیں۔ آخر اسکا حل انہوں نے یہ نکالا کہ انجیل میں لکھ دیا یوسف نجار مسیح کا باپ تھا اور پہر اس کا نسب نامہ انہوں نے دائود سے ملا دیا حلانکہ وہ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح کنواری کے بطن سے پیدا ہوا۔بہر حال اول توحضرت ابراہیم علیہ اسلام کی اس پیش گوئی میں کفارئہمسیح کا کوئی ذکر نہیں نہ اس امر کا کوئی ذکر ہے کہ وہ اس کفارئہ پر ایمان لائے تھے صرف ابراہیم کی اولاد کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ میں اسے برکت دوں گا ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس پیش گوئی کو جب ہم کسی شخص پر چپساں کریں گے تو اس شخص پر کریں گے جس کا کوئی باپ ہی نہیں یا اس شخص پر چسپاں کریں گے جس کا باپ موجودہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ یہودی عقیدہ کے ماتحت ماں کی طرف سے نسل نہیں چلتی بلکہ باپ کی طرف سے نسل چلتی ہے اس لیے جس شخص کا باپ موجود ہے وہ ہی اس پیش گوئی کا مصداق ہو سکتا ہے نہ وہ جس کا کوئی باپ ہی نہیں اور جو ابراہیمی نسل میں سے سمجھاہی نہیں جا سکتا۔
    تیسرا اعتراضات لوگو ں پر یہ ہے کہ مسیح کس طرح پاک ہوا؟وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ مسیح چونکہ بے باپ پیدا ہوا اس لئے وہ گناہ سے پاک تھا ۔اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بے باپ کے پیدا ہو نے سے انسان گناہ سے نجات پا جاتا ہے تو ملک صدق سالیم بھی تو بے باپ پیدا ہوا تھا بلکہ اس کی تو ماں بھی نہ تھی اس کے متعلق کیوں نہیں کہا جاتا کہ وہ گناہ سے پاک تھا ؟پھر سوال یہ ہے کہ اگر بے باپ پیدا ہونے سے انسان نجات پاتا ہے تو آدم نے گناہ کس طرح کیا جبکہ آدم کا بھی نہ باپ تھا نہ ماں۔بن باپ پیدائشاگر انسان کو پاکیزہ بناتی ہے تو آدم بھی بے گناہ ہونا چاہئے تھا پھر یہ ورثہ کا گناہ کہاں سے آگیا؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر جسم میں سے نکلنے کی وجہ سیانسان گناہ گار بن جاتا ہے تو جیسے باپ کے اندر سے اسے گناہ پہنچتا ہے ویسے ہی اسے ماں سے گناہ پہنچ سکتا ہے ؟اور بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ اصل میں حوا سے ظاہر ہوا تھا ۔چنانچہ پیدائش باب۳کا بائیبل چھاپنے والوں نے ان الفاظ میں خلاصہ درج کیا ہے اس بیان میں کہ سانپ حوا کو فریب دیتا انسان گناہ سے شکستہ حال ہو جاتا ۔خدا مرد و عورت دونوں کواپنے حضور میں بلاتا ۔سانپ پر *** بھیجی جاتی ۔عورت کو خاص نسل کا وعدہ۔انسان کی سزاکا احوال ۔انکی پہلی پوشاک۔اندونوں کا باغ عدن سے نکل جانا۔
    پھر خود اس یوں لکھا ہے اور سانپ میدان کے سب جانوروں سے جنہیں خداوند خدا نے بنایا تھا ہوشیارتھا۔اور اس نے عورت سے کہا کیا یہ سچ ہے کہ خدا نے کہا کہ باغ کے درخت سے نہ کھا نا ۔عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھا تے ہیں مگر اس درخت کے پھل کو جو باغ کے بیچوں بیچ ہے خداوند نے کہا تم اس سے نہ کھا نا اور نہ اسے چھونا ایسا نہ ہو کہ مر جائو۔تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہر گز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن اس سے کھائو گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اوع تم خدا کی مانند نیک وبد جاننے والے ہو ئو گے اور عورت نے جوں دیکھا کہ وہ درخت کھانے میں اچھا اور خوشنما اور عقل بخشنے میںخوب ہے تو اس کے پھل میں سے لیا اور کھایااور اپنے خصم کو بھی دیا اور اس نے کھایا (پیدائش باب۳آیت۱ تا۶) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ شیطان نے پہلے حوا کو ورغلایا اور حوا کے کہنے سے آدم بھی اس غلطی میںشریک ہو گیا چنانچہ جب خدا نے آدم سے کہاکہ کیا تو نے اس درخت سے کھایا جس کی بابت میں نے تجھ کو حکم کیا تھا کہ اس سے نہ کھانا تو آدم نے جواب دیا حضور اس میں میرا کیا قصورہے آپ نے جو عورت مجھے دی تھی اور جس کے متعلق کہا تھا کہ یہ تیری ساتھی ہو گیاس نے جب مجھے درخت کا پھل دیا تو میں نے سمجھا کہ یہ خدا کا عطا کیا ہوا ساتھی ہے اسکی دی ہوئی چیز کو میں رد نہ کروں ایسا نہ ہو کہ میں گنہگار بن جائوںچنانچہ میں نے پھل لیا اور کھا لیا ۔بائیبل میں لکھا ہے آدم نے کہا کہ اس عورت نے جسے تو نے میری ساتھی کر دیا مجھے اس درخت سے دیا اور میں نے کھا یا تب خدا وند خدا نے عورت سے کہا کہ تو نے یہ کیا کیا۔ عورت بولی کہ سانپ نے مجھے بہکایاتو میں نے کھایا(پیدائش باب ۳آیت۱۱تا۱۳)ان حوالاجات سے صاف پتہ لگتا ہے کہ شیطان پہلے حوا کے پاس گیا اور اسے ورغلایا۔اس کے بعد حوا نے آدم کو ورغلایا۔گویا ذیادہ گنہگارآدم نہیں بلکہ حوا تھی۔اور اس کی تحریک پر آدم بھی اس گناہ میںملوث ہوا۔اس پادری سے گفتگو کے دوران میں جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے میں نے اس سے پوچھا کہ بتائو شیطان نے پہلے آدم کو ورغلایاتھا یا حواکو؟کہنے لگا حوا کو ۔میں نے کہا حوا کو ورغلانے سے شیطان کی کیا غرض تھی؟اس نے پہلے ہی آدم کو کیوں نہ ورغلایا۔وہ آدم کو چھوڑ کر حوا کے پاس کیوں گیا تھا ؟پادری نے کہا اس لیے کہ حوا جلدی قابو میں آسکتی تھی۔میں نے کہے تو پھر معلوم ہوا کہ حوا میں گناہ کا مادہ زیادہ تھا اسی وجہ سے وہ پہلے آدم کے پاس نہیںگیا کیونکہ اس نے سمجھا کہ آدم میرے دھوکا میںجلدی نہیں آسکتاوہ حوا کے پاس گیا اور کامیاب ہو گیا ۔اسکے بعد میں نے کہااب بتائو مسیح حوا کا بیٹا تھا یا آدم کا ؟کہنے لگا اس سوال سے آ پ کا کیا مطلب ہے ؟میں نے کہا کچھ مطلب ہو۔تم یہ بتائو کہ مسیح آدم کا بیٹا تھا یا حوا کا ؟کہنے لگا مریم کا بیٹا تھا۔میں نے کہااگر گرم پانی میں سرد پانی ملا دیا جائے تو اسکی گرمی بڑھ جائے گی یا کم ہو گی؟کچھ گرم پانی کی گرمی کم ہو گی اور کچھ سرد پانی کی سردی کم ہو جائے گی۔میں نے کہا تو اب مسئلہ صاف ہو گیا ۔اگر مسیح بن باپ نہ ہو تاتو اسے باپ کی طرف سے اس روحانی طاقت میں سے حصہ ملتاجو آدم میں تھی اور ماں کی طرف سے اسے اس کمزوری میں سے حصہ ملتا جو حوا میں تھی ۔آدم کی طاقت اور حوا کی کمزوری مل کر ورثہ کے گناہ کا اثر کچھ نہ کچھ کم کر دیتی مگر مسیح بن باپ تھا جس کے معنے یہ ہیںکہ اس نے آدم کی طاقت سے حصہ نہیں لیا صرف حوا کی کمزوری سے حصہ لیا ہے اب بتائو وہ مسیح جو خالص حوا کی نسل میں سے تھا جس کے متعلق تم تسلیم کرتے ہوکہ وہ آدم کی نسبت زیادہ گنہگارتھی وہ گناہوںسے پاک کس طرح ہو گیا وہ تو اور لوگوں کی نسبت ذیا دہ گنہگار ہوا کیونکہ اس نے خالص حوا کا اثر ورثہ میں لیا ہے؟ کہنے لگا یہ کوئی اصول نہیںکیا مٹی میں سے سونا نہیں نکلتا ؟اگر مٹی میں سے سونا نکل سکتا ہے تو بات حل ہو گئی جس طرح مٹی میں سے سونا نکل سکتا ہے اسی طرح آدم کے بیٹے نیک بھی ہو سکتے ہیں۔کہنے لگا نہیں نہیں سونا تو سونے میں سے نکلتا ہے میں نے کہا تو پھر مسیح ایک عورت کے بطن سے پیدا ہو کر پاک کس طرح ہو گیا ؟سونا تو سونے میں سے ہی نکلتا ہے مٹی میں سے نہیں نکلتا ۔اور اگر سونا مٹی میں سے بھی نہیں نکلتا اور سونے میں سے بھی نہیں نکلتا تو وہ نکلتا کس چیز میں سے ہے ؟غرض اگر یہ درست ہے کہ مٹی میں سے سونا نکل سکتا ہے تو گنہگار آدم کی اولاد بھی نیک ہو سکتی ہے اور اگر مٹی میں سے سونا نہیں نکلتا بلکہ سونے میں سے سونا نکلتا ہے تو مسیح ؑایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر پاک نہیں ہو سکتا۔ پس اندونوں میں سے کوئی صورت لے لو عیسائی مذہب قائم نہیں رہ سکتا۔
    تیسرے ہم خود مسیح ؑکو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو نیک کہتے ہیں یا نہیں۔ جب اس نکتہ نگاہ سے ہم انجیل کا مطالعہ کرتے ہیںاس میں یہ الفاظ نظر آتے ہیں ’’ اور دیکھو ایک نے آ کر اس سے کہا۔اے نیک استاد میں کونسا نیک کام کروںکہ ہمیشہ کی زندگی پائوں؟ اس نے اس سے کہا تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے۔ نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔ پر اگر تو زندگی میں داخل ہونا چاہے تو حکموں پر عمل کر۔‘‘(متی باب ۱۹ آیت ۱۶، ۱۷)گویا مسیح ؑخود کہتے ہیں کہ میں نیک نہیں۔اب بتائو جس نے دنیا کو نیکی دینی تھی جب وہ اپنی نیکی کا آپ منکر ہے تو ہم یہ کس طرح تسلیم کر لیں کہ وہ بے گناہ تھااور دنیا کو گناہوں سے پاک کرنے آیا تھا ۔یہ تو وہی مثال بن جاتی یہ کہ مدعی سست اور گواہ چست۔
    چوتھا اعتراض یہ ہے کہ اگر واقعہ میں مسیح ؑنیک تھا اور اگر واقعہ میں اس کے کفارہ کے ذریعہ دنیا گناہ سے بچ گئی تھی اور اس میں یہ قابلیت پیدا ہو گئی تھی کہ وہ نیکی کو اختیار کرے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گاکہ پیدائش عالم کا آخری نقطہ تھا۔ کیونکہ انسانی پیدائش کی غرض اس کے آنے سے پوری ہو گئی لیکن جب ہم بائبل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ؑپیدائش عالم کا آخری نقطہ نہیں تھا۔ بلکہ اگر مسیح ؑخدا کا بیٹا تھاتو اس کی اپنی پیش گوئی کے مطابق خود خدا بھی دنیا میں آنے والا تھا چنانچہ مرقس باب ۱۲ میں وہ اس پیشگوئی کو تمثیلی رنگ میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔ ’’ ایک شخص نے انگور کا باغ لگایااور اس کے چاروں طرف گھیرا اور کولھوکی جگہ کھودی اور ایک برج بنایا اور اسے باغبانوں کے سپرد کر کے پردیس چلا گیا۔ پھر موسم میں اس نے ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تا کہ وہ باغبانوں سے انگور کے باغ کے پھل میں سے کچھ لے۔انہوں نے اسے پکڑ کے مارااور خالی ہاتھ بھیجا۔ اس نے دوبارہ ایک اور نوکر کو اس کے پاس بھیجا ۔انہوں نے اس پر پتھر پھینک کے اس کا سر پھوڑا اور بے حرمت کرکے پھر بھیجا۔پھر اس نے ایک اور کو بھیجاانہوں نے اسے قتل کیاپھر اور بہتیروں کو۔ان میں سے بعضوں کو پیٹا اور بعضوں کو مار ڈالا۔ اب اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو اس کو پیارا تھا۔ آخر کو اس نے اسے بھی ان پاس یہ کہ کے بھیجا کہ وے میرے بیٹے سے دبیں گے۔ لیکن ان باغبانوں نے آپس میں کہا یہ وارث ہے آئو ہم اسے مار ڈالیں تو میراث ہماری ہو جائے گی اور انہوں نے اسے پکڑ کر قتل کیااور انگور کے باغ کے باہر پھینک دیا۔ پس باغ کا مالک کیا کہے گا ؟ وہ آوے گا اور ان باغبانوں کو ہلاک کر کے انگور کا باغ اوروں کو دے گا۔‘‘ (مرقس باب۱۲۔آیت ۱تا ۹) اس تمثیل میں باغ سے مراد وہ سلسلئہ ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی اصلاح کے لئے قائم کیا۔ باغ بنانیوالا موسی ؑ تھا جو الہیٰ جلال کے اظہار کے لئے آیا۔اور باغبانوں سے مراد بنی اسرائیل تھے جن کے سپرد اس باغ کی حفاظت کا کام کیا گیا۔ نوکر جو میوہ کا حصہ لینے کے لئے باغ کے مالک کی طرف سے یکے بعد دیگرے بھیجے گئے اللہ تعالیٰ کے وہ انبیاء تھے جو موسی ؑ کے بعد پے در پے آتے رہے مگر لوگوں کا سلوک ان کے ساتھ یہ رہا کہ انہوں نے کسی نبی کو مارا، کسی کو دکھ دیا اور کسی کو بے عزت کیا۔ آخر خدا نے اپنا بیٹا بھیجا جس سے مراد حضرت مسیح ؑخود تھے ۔ جو موسی ؑ کے بعد آنیوالے نبیوں میں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے مقرب اور محبوب تھے مگر لوگوں نے ان کی بھی پرواہ نہ کی اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا۔حضرت مسیح ؑفرماتے ہیں ۔تم جانتے ہو اب کیا ہو گا۔ باغ کا مالک آئے گا اور ان باغبانوں کوہلاک کر کے انگور کا باغ اوروں کو دے گا۔ یعنی اب وہ نبی دنیا میں ظاہر ہو گاجس کا آنا خود خدا کا آنا ہو گا۔جس کا ظہور خدا تعالیٰ کا ظہور ہو گا۔اور وہ گذشتہ سنت کے خلاف بنی اسرائیل میں سے نہیں ہو گابلکہ ان کے بھائیوں بنی اسمٰعیل میں سے ہو گا۔
    یہ تمثیل واضح کر رہی ہے کہ حضرت مسیح ؑپیدائش عالم کاآخری نقطہ نہیں تھے اگر آخری نقطہ ہوتے تو وہ اپنے بعد ایک ایسے نبی کی بعثت کی خبر نہ دیتے جس کا آنا خود خدا کا آنا تھا۔یہ بات ظاہر ہے کہ بیٹا باپ نہیں ہو سکتا۔ پس اس تمثیل میں جس کو باپ کہا گیا ہے وہ یقینا بیٹے کے علاوہ کوئی اور شخص ہی سکتا ہے اور جب مسیح ؑکے علاوہ ہدایت عالم کے لئے کسی اور شخص کا آنا خود مسیح ؑکی اپنی پیشگوئی کے ماتحت ثابت ہو گیااور ساتھ ہی یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ مسیح ؑکے متعلق یہ خیال درست نہیں کہ وہ پیدائش عالم کا آخری نقطہ تھا۔اگر مسیح ؑسے نیکی قائم ہو چکی تھی تو پھر مسیح ؑکے سوا کسی اور کے آنے کی کوئی غرض ہی نہیں ہو سکتی مگر جیسا کہ انجیل کے مذکورہ بالا حوالہ سے ظاہر ہے مسیح ؑاگر خدا کا بیٹا تھا تو خود خدا بھی آنے والا تھا۔ اسی طرح حضرت مسیح ؑایک اور مقام پر کہتے ہیں:۔ ’’ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کو برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہیں بتا دے گی۔ اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔وہ میری بزرگی کرے گی اس لئے کہ وہ میری چیزوں سے پاوے گی اور تمہیں دکھاوے گی۔‘‘ (یوحنا باب۱۶ آیت ۱۲،۱۳) یہاں حضرت مسیح ؑاقرار کرتے ہیں کہ میرے بعد ایک اور شخص آئے گا جو روح حق کہلائے گا اور وہ ایسی تعلیمیں دے گاجو میں نے بھی نہیں دیں۔ یعنی مجھ سے بڑھ کر سچائی کی راہیں دنیا پر روشن کرے گااور میری تعلیم سے زیادہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔اور پھر ایک مزید بات یہ ہو گی کہ اس کو ایسی کتاب ملے گی جس میں اس کے اپنے الفاظ نہیں ہوں گے جو خدا نے کہے ہونگے۔ ’’ وہ اپنی نہ کہے گی جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی ۔‘‘ ان الفاظ کا مفہوم یہی ہے کہ اس کو جو کتاب ملے گی اس کی یہ ممتاز خوبی ہو گی کہ شروع سے لے کر آخر تک وہ اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل ہو گی۔ کوئی بات اس میں ایسی نہیں ہو گی جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ یہ انسان کا کلام ہے خدا کا کلام نہیں۔ گویا اول حضرت مسیح ؑاپنے بعد ایک آنے والے کی خبر دیتے ہیں ۔دوم حضرت مسیح ؑیہ بھی خبر دیتے ہیں کہ وہ آنے والا اپنے ساتھ ایک کتاب بھی لائے گا ۔ سوم اس کتاب کی یہ خوبی بتاتے ہیں کہ اس میں انسانی کلام نہیں ہو گا بلکہ ابتداء سے انتہا تک اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف خدائی کلام پر مشتمل ہو گا ۔ اس پیشگوئی کے مطابق رسول کریم ﷺ دنیا میں مبعوث ہوئے اور آپ نے وہ شریعت لوگوں کے سامنے پیش کی جو اپنی شان اور عظمت کے لحاظ سے تمام الہامی کتب میں یگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ بائبل کو دیکھا جائے تو جہاں اس میں خدائی کلام نظر آتا ہے وہاں بہت سی انسانی باتیں بھی اس میں دکھائی دیتی ہیں ۔ اگر ایک طرف اس میں ان پیشگوئیوں کا ذکر پایا جاتا ہے جو موسی ؑنے کیں تو دوسری طرف ہم اس میں یہ بھی لکھا پاتے ہیں کہ ’’ خداوند کا بندہ موسی ؑ خداوندکے حکم کے موافق مو آب کی سر زمین میں مر گیااور اس نے اسے مو آب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا۔پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا۔‘‘( استثناء باب ۳۴ آیت ۵ ) اب بتائو کیا یہ خدا کا کلام ہے جو موسی ؑ پر نازل ہوا کہ موسی ؑ مر گیااور فلاں جگہ گاڑا گیا مگر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ الفاظ بعد میں لوگوں نے بڑھا دئیے تھے۔ جب موسیٰ ؑمر چکے تھے اور ان کی موت پراسقدر عرصہ گزر چکا تھا کہ ان کی قبر کا بھی لوگوں کو علم نہیں رہا تھا کہ وہ کس جگہ تھی۔ اسی طرح متی۔ مرقس اور لوقا وغیرہ میں جہاں خدا کی باتیں ہیں وہاں بندوں کی باتیں بھی ہمیں ان میں صاف طور پر نظر آتی ہیں ۔خود لوقا کہتا ہے ’’ چونکہ بہتوں نے کمر باندھی کہ ان کاموں کا جو فی الواقعہ ہمارے درمیان انجام ہوئے بیان کریں۔ جس طرح سے انہوں نے جو شروع سے خود دیکھنے والے اور کلام کی خدمت کرنے والے تھے ہم سے روایت کی میں نے بھی مناسب جانا کہ سب کو سرے سے صحیح طور پر دریافت کر کے تیرے لئے اے بزرگ تھیوفلس بہ ترتیب لکھوں تا کہ تو ان باتوں کی حقیقت کو جن کی تو نے تعلیم پائی جانے۔‘‘ (لوقا باب ۱ آیت ۱ تا ۴ ) گویا موجودہ اناجیل کیا ہیں؟ وہ کتب ہیں جو حضرت مسیح ؑکی وفات کے بعد مختلف لوگوں نے مرتب کیں اور انہوں نے مختلف روایات کو ایک ترتیب سے ان میں جمع کر دیا ۔اس لئے ان کتب میں جہاں ہمیں وہ کلام نظر آتا ہے جو خدا کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے وہاں ایسا کلام بھی ان میں پایا جاتا ہے اور اسی کی کثرت ہے جو بندوں نے اپنی طرف سے شامل کر دیا ہے۔
    غرض دنیا میں کوئی ایسی الہامی کتاب نہیں جو شروع سے آخر تک صرف وہی باتیں بیان کرتی ہوجو خدا نے کہی ہوں ۔ تورات لے لو۔ انجیل لے لو ۔ ژند اور اوستالے لو۔ وید لے لو ہر کتاب انسانی دست برد کا شکار نظر آئے گی ۔ ہر کتاب میں خدائی الہامات کے ساتھ ساتھ بندون کی اپنی تشریحات کو بھی شامل دیکھو گے۔مگر قرآن وہ کتاب ہے جو ابتداء سے انتہا تک ہر قسم کے انسانی الفاظ سے منزہ ہے۔ ابتداء سے انتہا تک اس کا ایک ایک لفظ ایک ایک حرف اور ایک ایک شعشہ ایسا ہے جو خدا نے محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ۔پس قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جس پر حضرت مسیح ؑکے یہ الفاظ صادق آتے ہیں ’’ کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی۔ ‘‘ پھر اس کے ساتھ ہی حضرت مسیح ؑنے یہ خبر بھی دی تھی کہ وہ کتاب ’’تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی ‘‘یعنی اس کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا بلکہ قیامت تک چلتا چلا جائے گا ۔کوئی زمانہ ایسا نہیں آئے گا جس میں لوگ اس کتاب کی ضرورت سے مستغنی ہو جائیں۔ اور پھر یہ کہ ’’ وہ میری بزرگی کرے گی ‘‘ یعنی لوگ مجھے جھوٹا اور *** قرار دیں گے وہ میری بزرگی کا اظہار کرے گی۔یہودی کہیں گے کہ میں صلیب پر مر کر *** ہو گیا ۔ عیسائی کہیں گے کہ میں صلیب پر لٹک کر لوگوں کے گناہوں کے بدلے دوزخ میں چلا گیا۔ مگر وہ کہے گا ما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم ( النساء ع۲۲،۲) یہ بات غلط ہے کہ لوگوں نے اس کو قتل کر دیا تھا یا صلیب پر لٹکا کر اسے *** ثابت کر دیا تھا ۔ وہ قتل سے بھی محفوظ رہا تھا اور صلیب سے بھی محفوظ رہا تھا ۔ بے شک دوست دشمن نے اسے *** ثابت کرنا چاہامگر خدا نے اسے عزت دی اور دشمن کو اس کے ارادوں میں ناکام کر دیا۔
    آخر میں حضرت مسیح ؑفرماتے ہیں:۔ یہ اس لئے ہو گاکہ ’’ وہ میری چیزوں سے پاوے گی اور تمہیں دکھا دے گی ۔‘‘ میری چیزوں سے پانے کا مفہوم یہ نہیں کہ وہ مسیح ؑکا متبع ہو گا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اسے وہ تعلیم ملے گی جس میں تمام انبیاء کی تعلیمیں شامل ہونگی۔ نوح ؑکی تعلیم بھی اس میں موجود ہو گی۔ ابراہیم ؑکی تعلیم بھی اس میں موجود ہو گی۔ موسیٰ ؑ کی تعلیم بھی اس میں موجود ہو گی اور میری یعنی عیسیٰ ؑ کی تعلیم بھی اس میں موجود ہو گی اور اس طرح اس کی تعلیم جامع ہو گی تمام سابق انبیاء کی تعلیمات کی۔ اور پھر وہ کتاب ایسی ہو گی جو ’’ تمہیں دکھا دے گی ‘‘ یعنی اس میں صرف زبانی باتیں نہیں ہونگی بلکہ عملی طور پر وہ تمام سچائیوں کو روشن کر کے دنیا پر ان کو واضح کر دے گی۔ یہ پیشگوئیاں صاف طور پر بتاتی ہیں کہ حضرت مسیح ؑکے بعد ایک ایسے وجود نے ابھی آنا تھا جو مسیح ؑسے زیادہ کامل ہوتا ۔ پھر مقدر یہ تھا کہ وہ ایک ایسی جامع اور بے مثل کتاب اپنے ساتھ لاتا جس میں تمام سچائیاں جمع ہوتیں۔ جس میں شروع سے لے کر آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہوتا اور پھر عملی طور پر وہ کتاب تمام سچائیوں کو روشن کرنے والی ہوتی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح ؑنے واقعہ میں ساری دنیاکے گناہ اٹھا لئے تھے اگر دنیا کی نجات کے لئے ان پر ایمان لانا کافی تھااور اگر انسانی نجات کا آخری نقطہ وہی تھے تو ساری سچائیاں انہیں بتانی چاہیں تھیں مگر وہ تو کہتے ہیں کہ میں سب سچائیاں نہیں بتا سکتا ان کو میرے بعد آ نے والا بتائے گا۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح ؑناصری کے نزدیک ان کا اپنا وجود پیدائش عالم کا آخری نقطہ نہیں تھا بلکہ بعد میں آنے والا ایک اور وجود اس شرف اور عظمت کا مستحق تھا۔
    پانچویں اگر حضرت مسیح ؑکفارہ ہوئے ہیں تو ان کا کفارہ ہونا اسی صورت میں تسلیم کیا جا سکتا ہے جب وہ خوشی اور انتہائی بشاشت کے ساتھ کفارہ ہوئے ہوں ۔ جس شخص کو جبراً صلیب پر لٹکا دیا جائے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنی خوشی سے لوگوں کے لئے قربان ہوا ہے۔ اگر حضرت مسیح ؑواقعہ میں کفارہ ہونے کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے تو چاہیے تھا کہ وہ دوڑ کر صلیب پر چڑھتے اور خوش ہوتے کہ جس غرض کے لئے میں آیا تھا وہ آج پوری ہو رہی ہے۔مگر بائیبل میں لکھا ہے جب انہیں پتہ لگا کہ صبح مجھے صلیب پر لٹکایا جا نے والا ہے تو انہوں نے ساری رات دعائیں کرتے ہوئے گذاردی اور اپنے حواریوں سے بھی بار بار کہا کہ جاگو اور دعا مانگو تاکہ امتحان میں نہ پڑو حضرت مسیح ایک پہاڑی پر دعائیں کر رہے تھے اور ان کے حواری نیچے تھے وہ گھبراہٹ کی حالت میں بار بار نیچے آتے اور دیکھتے کہ حواری دعائیں کر رہے ہیں یا نہیں۔ مگر جب بھی آتے ،دیکھتے کہ وہ سو رہے ہیں حضرت مسیح پھر ان کو جگاتے اور چلے جاتے ۔پھر نیچے آتے اور دیکھتے کہ حواریوں کی کیا حالت ہے مگر پھر ان کو سوتا پاتے ۔آخر حضرت مسیح ان پر ناراض ہوئیاور کہا کہ کیا تم میرے ساتھ ایک گھنٹہ نہیں جاگ سکے مگر شاگردوں پرپھر بھی کوئی اثر نہ ہوا ۔اس دوران حضرت مسیح نے جس بیقراری اور اضطراب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضوردعائیں کیںان کا ذکر انجیل میں اس طرح آتا ہے
    ’’پھر یسوع ان کے ساتھ گتسمنی نامی ایک مقام میں آیا اور شاگردوں سے کہا یہاں بیٹھو جب تک میں وہاں جا کر دعا مانگوں۔تب اس نے پطرس اور زبدی کے دو بیٹے ساتھ لیے اور غمگین اور نہایت دلگیر ہونے لگا ۔تب اس نے ان سے کہا میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے تم یہاں ٹھہرو اورمیرے ساتھ جاگتے رہو اور کچھ آگے بڑھ کے منہ کے بل گرا اور دعا مانگتے ہوئے کہا کہ اے میرے باپ!اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذر جائے تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ تیری خواہش کے مطابق ہو۔تب شاگردوں کے پاس آیا اور انہیںپا کر پطرس سے کہا۔کیا تم میرے ساتھ ایک گھنٹہ نہیں جاگ سکے ۔جاگو اور دعا مانگو تاکہ امتحان میں نہ پڑو ۔روح مستعد پر جسم سست ہے پھر اس نے دوبارہ جا کر دعا مانگی اور کہا اے میرے باپ!اگر میرے پینے کے بغیر یہ پیالہ مجھ سے نہیں گذر سکتا تو تیری مرضی ہو۔اس نے آکر پھر انہیں سوتے پایا ۔کیونکہ انکی آنکھیں نیند سے بھاری تھیںاور انہیں چھوڑ کر پھر گیا اور وہی بات کہہ کر تیسری بار دعا مانگی ۔تب اپنے شاگردوں کے پاس آکران سے کہا ۔اب سوتے رہو اور آرام کرو۔دیکھو وہ گھڑی آ پہنچی کہ ابن آدم گنہگاروں کے ہاتھ حوالے کیا جاتا ہے ۔‘‘(متی باب۲۶آیت۳۶تا۴۵)
    اگر واقعہ میںحضرت مسیح ؑاس لئے آئے تھے کہ وہ لوگوں کے گناہ اٹھائیں اور انکی خاطر اپنی جان قربان کر دیںتو کیا یہ ہو سکتا تھا کہ وہ صلیب کے وقت گڑگڑا گڑگڑا کر یہ دعا مانگتے کہ ’’اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذرجائے‘‘۔(متی باب ۲۶آیت۳۹)پھر تو چاہئے تھا کہ وہ روزانہ یہ دعا مانگتے کہ اے خدا یہ پیالہ مجھے جلد پلا تاکہ بنی نوع انسان کے گناہوں کا کفارہ ہو۔مگر بجائے اس کے کہ وہ یہ دعا کرتے کہ الہی موت کا پیالہ مجھے جلد پلاتا کہ میں لوگوں کے گناہ اٹھا کران کی نجات کا باعث بنوں وہ ساری رات گڑگڑا گڑگڑا کر یہ دعا کرتے رہے کہ الہیٰ مجھے صلیب سے بچااور نہ صرف آپ یہ دعا کرتے رہے بلکہ حواریوں کو بھی بار بار دعا کرنے کی تاکید کرتے رہے اور بار بار آکر دیکھتے رہے وہ سو رہے ہیں یا اٹھ کر دعائیں کر رہے ہیں اور جب انہوں نے دیکھا کہ حواری سستی سے کام لے رہے ہیں ۔اور دعا کی طرف انکی توجہ نہیں تو انہوں نے ان کو ڈانٹا اور کہاکیا تم سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا کہ ایک گھنٹہ جاگ سکواور خدا سے دعائیں کرو۔ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ حضرت مسیح ؑکے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی کفارہ کا وہ مسئلہ نہ تھا جو آجکل عیسائیوں نے ایجاد کیا ہوا ہے اور نہ کفارہ کے لئے وہ دنیا میں تشریف لائے تھے ورنہ صلیب کی رات نہ آپ خود یہ دعا کرتے اور نہ اپنے حواریوں سے کہتے کہ دعا کرو کہ یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔
    پھر ہم کہتے ہیں کہ کفارہ کی بنیاد اس امر پر ہے کہ حضرت مسیح ؑنے صلیب پر جان دی۔مگر جب اناجیل پر غور کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بات بالکل غلط ہیکہ حضرت مسیح ؑصلیب پر لٹک کر فوت ہوئے۔ چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انجیل میں لکھا ہے کہ ’’ تب بعض فقیہوں اور فریسیوں نے جواب میں کہا کہ اے استاد ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں ‘‘ یعنی حضرت مسیح ؑنے اپنی صداقت کے متعلق جب مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کئے تھے تو ان کو سننے کے بعد فقیہوں اور فریسیوں نے کہا یہ تو زبانی باتیں ہوئیں آپ ہمیں کوئی ایسا نشان دکھائیں جس سے آپ کی صداقت کے ہم بھی قائل ہو جائیں۔ اس پر ’’ اس نے انہیں جواب دیا اور کہا کہ اس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں پر یونس ؑ نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان انہیں دکھایا نہ جائے گا۔ کیونکہ جیسا یونس ؑ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا’’ ( متی باب ۱۲ آیت ۳۸ تا ۴۱) ان الفاظ میں حضرت مسیح ؑعلیہ السلام نے واقعہ صلیب کی خبر دی ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس میں ہمارا اور عیسائیوں کا اتفاق ہے۔عیسائی بھی یہی کہتے ہیں کہ مسیح ؑکی یہ پیش گوئی واقعئہ صلیب پر چسپاں ہوتی ہے اور ہم بھی کہتے ہیں کہ اس پیشگوئی کا اطلاق صلیب کے واقعات پر ہوتا ہے۔فریقین کے اس اتحاد کے بعد جب ہم نفس پیشگوئی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اس میں بعض عظیم الشان خبریں معلوم ہوتی ہیں ۔ اول حضرت مسیح ؑفرماتے ہیں کہ یونس ؑ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان نہ دکھایا جائے گا۔دوم وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جیسا یونس ؑ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔ان الفاظ میں خاص طور پر یونس ؑ نبی کی مماثلت پر زور دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جیسا یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔ گویا تین دن کی مشابہت پر زور نہیں بلکہ اصل زور یونس نبی کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے اور ابن آدم کے زمین میں رہنے پر ہے۔ یعنی جس رنگ میں یونس ؑنبی تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا اسی رنگ میں ابن آدم بھی تین رات دن زمین کے اندر رہے گا ۔ جیسا اور ویسا کے الفاظ جواس پیش گوئی میں استعمال کئے گئے ہیں بالصراحت بتلاتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑاپنی صداقت کی ایک قطعی اور حتمی دلیل یہ بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح یونس ؑنبی مچھلی کے پیٹ میں گیا اور تین رات دن اسی میں رہا اسی طرح ابن آدم کے ساتھ بھی ایک واقعہ پیش آئے گا اور اسے بھی اسی طرح تین رات دن زمین کے پیٹ میں رہنا پڑے گا ۔
    اب ہم دیکھتے ہیں کہ یونس ؑنبی کا کیا واقعہ ہے؟بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یونہ نبی کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ نینوہ والوں کے پاس جائیں اور انہیں خدا تعالیٰ کے عذاب کی خبر دیں۔( بائبل میں آپ کا نام یونہ ہے لیکن انجیل میں آپ کا نام یونس آتا ہے۔)وہ لوگوں کی مخالفت سے ڈر کر بھاگے اور کسی اور علاقہ میں جانے کے لئے جہاز پر سوار ہو گئے۔ جہاز پر طوفان آیا ۔ لوگوں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کے غضب سے یہ عذاب نازل ہوا ہے۔ اس پر انہوں نے قرعہ ڈالا کہ کس کے سبب سے یہ عذاب آیا ہے اور نام یونہ کا نکلا۔انہوں نے یونہ سے پوچھا کہ قرعہ میں تمہارا نام نکلا ہے بتائو کیا بات ہے؟انہوں نے سارا حال سنایا کہ مجھے اس اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھامگر میں نے سمجھا کہ اگر لوگوں کو میں نے عذاب کی خبر دی تو وہ میری مخالفت کریں گے اس لئے میں وہاں سے بھاگا اور جہاز میں آکر سوار ہو گیا ۔انہوں نے کہا اب آپ ہی بتائیں کہ اس مصیبت کا ہم کیا علاج کریں۔ یونہ نے کہا کہ تم مجھے سمندر میں پھینک دو۔ یہ عذاب ٹل جائے گا۔ پہلے تو وہ لوگ اس پر آمادہ نہ ہوئے اور انہوں نے پورا زور لگایا کہ کسی طرح جہاز کو سلامتی کے ساتھ نکال کر لے جائیں مگر جب وہ اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوئے اور طوفان بھی کسی طرح تھمنے میں نہ آیا تو انہوں نے یہ دعا کرتے ہوئے کہ الہیٰ اس شخص کا سمندر میں پھینکنا ہمارے لئے کسی عذاب کا موجب نہ ہو۔ یونہ کو اٹھایا اور سمندر میں پھینک دیا۔
    اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد بائبل میں لکھا ہے ’’ پر خداوند نے ایک بڑی مچھلی مقرر کر رکھی تھی کہ یونہ کو نگل جائے اور یونہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔‘‘ (یونہ باب ۱۱ آیت۱۷) اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یونہ نبی مچھلی کے پیٹ میں کس طرح رہا؟ اس کے متعلق یونہ باب ۲ میں لکھا ہے کہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گیا ’’ تب یونہ نے مچھلی کے پیٹ میں خداوند اپنے خدا سے دعا مانگی اور کہا کہ میں نے اپنی مصیبت میں خداوند کو پکارا اور اس نے میری سنی۔‘‘(یونہ باب۲آیت۲) اس دعا سے جو مچھلی کے پیٹ میں یونہ نے کی ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ زندہ ہونے کی حالت میں مچھلی کے پیٹ میں گئے اور پھر اس کے پیٹ میں بھی زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیںکرتے رہے۔چنانچہ یانہ باب ۲ میں ایک لمبی دعا درج ہے جو مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے مانگی اور جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ الہیٰ مجھ پر اب تک کئی مصیبتیں آئی ہیں جن سے تو نے مجھے بچایا۔ اب اس مصیبت سے بھی مجھے بچااور نجات بخش ۔آخر خدا نے ان کی دعا کو سنا ۔’’اور خداوند نے مچھلی سے کہااور اس نے یونہ کو خشکی پر اگل دیا۔(یونہ باب۲آیت۱۰) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ یونہ نبی کا معجزہ یہ تھا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تین دن رات زندہ رہا نہ یہ کہ مرنے کے بعد جی اٹھا۔ یعنی بائبل اس امر کوپیش نہیں کرتی کہ دیکھو یونہ خدا کا سچا نبی تھا کیونکہ وہ مر کر زندہ ہو گیا بلکہ بائبل یونہ نبی کا معجزہ یہ پیش کرتی ہے کہ وہ زندہ ہونے کی حالت میں مچھلی کے پیٹ میں گیا اور پھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی اس کے پیٹ میں رہا۔حالانکہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گیا ہے ہو سکتا تھا کہ مچھلی اسے چبانے کی کوشش کرتی اور وہ مر جاتے۔ اگر مچھلی اسوقت یونہ کو چبا لیتی تو وہ زندہ کس طرح رہتا ؟ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ بغیر چبانے کے وہ آپ کو نگل گئی۔ پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ گو وہ زندہ اس کے پیٹ میں چلے جاتے مگر اندر جا کر ہلاک ہو جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں بھی ان کے لئے ہوا کا ایسا ذخیرہ رکھا کہ باوجود تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے وہ زندہ رہے اور پھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی مچھلی کے پیٹ سے باہر آگئے۔ حالانکہ مچھلی کے اگلتے وقت بھی خطرہ ہو سکتا تھا کہاس کے گلے کے دبائو سے آپ مر جاتے مگر خدا تعالیٰ نے ہر مرحلہ پر آپ کی حفاظت کی اور جب مچھلی نے آپ کو اگلا اس وقت بھی خدا نے آپ کی حفاظت کی نہ نگلتے وقت اس نے آپ کو چبایا نہ اگلتے وقت اس نے آپ کو چبایا ۔ نہ پیٹ میں رہتے وقت ہوا کا ذخیرہ کم ہوا ۔ پس یونہ نبی کا معجزہ کیا ہے؟ اس کا یہ معجزہ نہیں کہ وہ مر کر زندہ ہو گیا بلکہ اس کا معجزہ یہ ہے کہ مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے جو خطرناک حادثہ ہو سکتا تھا اس سے بچے رہے پھر پیٹ میں جا کر یہ خطرہ ہو سکتا تھا کہ آپکو ہوا نہ پہنچتی اوردم گھٹ جانے کی وجہ سے آپ ہلاک ہو جاتے مگر اللہ تعالیٰ نے وہاں بھی ایسا سامان کیا کہ آپ بچے رہے ۔اس کے بعد جب مچھلی نے آپ کو اگلا اس وقت بھی یہ خطرہ ہو سکتا تھا کہ آپ ہلاک ہو جاتے۔ اگلتے وقت بھی خدا تعالیٰ نے آپکو اس حادثہ سے بچا لیا۔پس مر کر زندہ ہونا یونہ نبی کا معجزہ نہیں بلکہ ان تین مقامات پر یونہ نبی کا زندہ رہنا اس کی صداقت کا عظیم الشان نشان تھا ۔ پس مسیح ؑاگر یہی معجزہ اپنی قوم کو دکھانا چاہتا تھا تواس کے معنی یہ تھے کہ وہ یونہ کی طرح زندہ ہی قبر میں جائے گا ۔زندہ ہی وہاں رہے گا اور زندہ ہی قبر سے نکلے گا ۔بہرحال اس کی صداقت اس بات سے وابستہ تھی کہ وہ ان تین مقامات پر موت سے محفوظ رہتا اور یہی وہ نشان تھا جس کے دکھائے جانے کا آپ نے یہود کے سامنے اعلان کیا اور بتایا کہ جس چیز کے ذریعہ میں قبر میں جائوںگا وہ ہمیشہ موت کا موجب ہوتی ہے مگر میرے لئے وہ موت کا موجب نہیں ہو گی۔ پھر قبر میں رکھا جانا موت کا موجب ہوتا ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ مجھے قبر میں رکھا جائے گا پھر بھی میں نہیں مروں گا ۔ بلکہ جس طرح یوناہ مچھلی کے پیٹ میں تین رات دن رہنے کے باوجود بچ گیا اسی طرح میں بھی قبر میں تین رات دن رہنے کے باوجود زندہ رہوں گا۔ پھر تیسرا نشان یہ ہو گا کہ میں اس قبر میں سے زندہ نکل آئوں گا۔حالانکہ کسی سرکاری مجرم کا جسے پھانسی کا حکم دیا جاچکا ہو زندہ نکل کر بھاگ جانا اس کیلئے بہت بڑے خطرات کا موجب ہوسکتا ہے۔ اور گورنمنٹ اسے پھر گرفتار کرکے سزا دے سکتی ہے۔ مگر آپ فرماتے ہیں جس طرح یوناہ نبی کو مچھلی نے زندہ اگلا اسی طرح میں بھی قبر میں سے زندہ نکل آئوں گا۔ یوناہ نبی کے متعلق بھی یہ خطرہ تھا کہ اگلتے وقت مچھلی اسے ہلاک کردے مگر خداتعالیٰ نے اسے محفوظ رکھا اور وہ سلامتی کے ساتھ اس کے پیٹ میں سے نکل آیا۔ اسی طرح میرے متعلق بظاہر یہ خطرہ ہوگا کہ گورنمنٹ مجھے گرفتار کرلے مگر یوناہ نبی کی طرح خدا میرے لئے ایسے سامان پیدا کردے گا کہ میں بغیر کسی خطرہ کے زندہ نکل آئوں گا اور کوئی شخص مجھے پکڑ کر مار نہیں سکے گا۔ یہ امر ظاہر ہے کہ مسیح کے قبر میں جانے کا راستہ اس کا صلیب پر کھینچا جانا تھا۔ اگر مسیحؑ کی یہ پیشگوئی صحیح تھی تو اس کے معنے صرف یہ تھے کہ مسیحؑ یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ صلیب جو موت کا ذریعہ ہے اس پر لٹک کر بھی میں زندہ بچ رہوں گا۔ اور جس طرح مچھلی نے یوناہ کو چبا کر مارا نہیں بلکہ اسے زندہ پیٹ میں اتار دیا اسی طرح صلیب مجھے مارے گی نہیں بلکہ زندہ ہی مجھے قبر میں بھجوادے گی۔ دوسرا ذریعہ موت کا قبر ہوتی ہے۔ اس کے متعلق مسیحؑ یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ جس طرح یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا میں زمین کے پیٹ میں زندہ رہوں گا۔ اور پھر تیسری پیشگوئی مسیح یہ کرتاہے کہ جس طرح یوناہ نبی مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکلا اور خدا نے آخری مرتبہ بھی اسے موت سے محفوظ رکھا۔ اسی طرح میرے ساتھ واقعہ ہوگا میں بھی زمین کے پیٹ میں سے زندہ نکلوں گا اور کوئی شخص مجھے گرفتار کرکے ہلاک نہیں کرسکتا۔
    چونکہ یہ مضمون مسیح کی وفات کا نہیں میں تفصیل میں نہیں جاتا مگر اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ مسیحی روایات کے مطابق مسیح ؑ کو صرف دو تین گھنٹے صلیب پر لٹکایا گیا تھا۔ چنانچہ انجیل سے ثابت ہے کہ چھ پہر سے نو پہر تک ان کو صلیب پر رکھا گیا اور یہ صرف تین گھنٹے بنتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ اندازہ بھی پورے طور پر صحیح نہیں کہلاسکتا۔ اس لئے کہ آپ کو صلیب پر لٹکانے کے بعد بڑے زور سے آندھی آگئی تھی اور چاروں طرف تاریکی ہی تاریکی چھا گئی تھی اس وجہ سے ہوسکتا ہے کہ آندھی اور تاریکی کی وجہ سے حضرت مسیحؑ کو صلیب پر سے اتار نے کا وقت لوگوں سے پوشیدہ رہا ہو۔ اور انہوں نے قیاس سے کام لے کر وقت کی تعین نو پہر تک کردی ہو۔ لیکن بہرحال ادھر اس کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے تب بھی یہ صرف تین گھنٹے بنتے ہیں۔ حالانکہ صلیب پر تین دن سے ساتھ دن تک لٹکانے سے بھی لوگ نہیں مرتے تھے۔
    ہمارے ملک میں عام طور پر لوگ صلیب کے یہ معنے سمجھتے ہیں کہ سینہ کی ہڈیوں اور ہاتھوں اور پائوں کی ہڈیوں میں میخیں گاڑ دی جاتی تھیں اور انسان فوری طور پر ہلاک ہوجاتا تھا۔ لیکن یہ حقیقت کے خلاف ہے۔ صلیب جس پر انسان کو لٹکایا جاتا تھا اس شکل کی ہوا کرتی تھی۔
    ‏V
    جس کسی شخص کو صلیب پر لٹکانا ہوتا تھا تو اسے کھڑ اکرکے اس کے بازوئوں کو دائیں بائیں دو ڈنڈوں کے ساتھ باندھ دیتے تھے اور پھر اس کے بازئووں کے نرم عضلات میں کیل گاڑ دیتے تھے۔ اسی طرح ٹانگوں کی ہڈیوں میں نہیں بلکہ ان کے گوشت میں میخیں گاڑ دیتے تھے۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹانگوں، ہاتھوں اور سینہ کی ہڈیوں میں کیل گاڑے جاتے تھے اور چونکہ ہڈیوں میں کیل گاڑنا واقعہ میں ایسا خطرناک امر ہے کہ انسان اس کے بعد زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے وہ خیال کرتے ہیں کہ جو شخص صلیب پر لٹکایا جاتا ہوگا وہ جلدی ہی ہلاک ہوجاتا ہوگا۔ مگر یہ درست نہیں۔ جسم کی ہڈیوں میں نہیں بلکہ بازوئوں کے نرم عضلات میں کیل گاڑے جاتے تھے۔ اسی طرح ٹانگوں کی ہڈیوں کے نیچے جو گوشت ہوتا ہے اس میں کیل گاڑے جاتے تھے۔ بیشک یہ ایک تکلیف دہ چیز تھی مگر فوری طور پر موت کا موجب نہیں ہوسکتی تھی۔ بلکہ جو لوگ قوی اور مضبوط ہوتے تھے وہ بعض دفعہ سات سات دن تک بھی نہیں مرتے تھے اور جو لوگ مرتے تھے ان میں سے اکثر فاقہ کی وجہ سے مرا کرتے تھے یا اس وجہ سے کہ زخموں میں کیڑے پڑ جاتے اور ان کا زہر ہلاکت کا موجب بن جاتا تھا۔ وہ ڈاکو یا باغی وغیرہ جو ساتویں دن تک بھی زندہ رہتے تھے ان کے متعلق دستور یہ تھا یہ ہتھوڑے مار مار کر ان کی ہڈیاں توڑی جاتی تھیں۔ اور اس طرح ان کو ہلاک کیا جاتا تھا۔ دراصل صلیب کے معنی بھی یہی ہیں کہ ہڈی توڑ کر گودا باہر نکال دینا۔ اور یہ نام اس لئے رکھا گیا تھا کہ اکثر لوگ صلیب پر مرتے نہیں تھے بلکہ بعد میں ان کی ہڈیاں توڑ کر گودا نکالاجاتا تھا۔ یہ لفظ خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ صلیب پر جلدی موت واقع ہوجاتی تھی۔
    پھر مسیح کی صلیب کے وقت اور بھی کئی غیرمعمولی واقعات ہوئے۔ اوّل جب مسیحؑ پر مقدمہ ہوا تو پیلاطوس جس کے پاس فیصلہ کیلئے یہ مقدمہ تھا اس کی بیوی نے ایک منذر رئویا دیکھا جس کی بنا ء پر اس نے پیلاطوس کو کہلا بھیجا کہ ’’تو اس راستباز سے کچھ کام نہ رکھ کیونکہ میں نے آج خواب میں اس کے سبب بہت دکھ اٹھا یا ہے‘‘ (متی باب ۲۷ آیت ۱۹)۔ پیلا طوس نے حضرت مسیحؑ کو چھوڑنے کی بہت کوشش کی مگر یہودیوں نے اصرار کیا کہ ہم اسے ضرور سزا دلوائیں گے اور چونکہ حضرت مسیحؑ پر باغی ہونے کا الزام تھا۔ یہودیوں نے اسے دھمکی دی کہ اگر تم نے اسے چھوڑ دیا تو ہم تم پر یہ الزام لگائیں گے کہ تم نے ایک باغی کا ساتھ دیا ہے۔ جب اسے سخت مجبور کیا گیا تو اس نے ’’پانی لے کر بھیڑ کے آگے اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا میں اس راستباز کے خون سے پاک ہوں۔ تم جانو۔ تب سب لوگوں نے جواب میں کہا اس کا خون ہم پر اور ہماری اولاد پر ہو‘‘ (متی باب ۲۷ آیت ۲۴۔۲۵)۔
    دوسرے پیلاطوس نے مسیحؑ کو ایسے وقت میں پھانسی کا حکم دیا جبکہ دوسرے دن سبت تھا۔ میں بتا چکا ہو کہ جس شخص کو صلیب پر لٹکایا جاتا تھا وہ جلدی نہیں مرتا تھا بلکہ تین سے سات دن تک زندہ رہتا تھا۔ اور بعض لوگ سات دن کے بعد بھی زندہ رہتے تھے۔ ایسے لوگوں کی ہڈیاں توڑ کر ان کو ہلاک کیا جاتا تھا۔ بہرحال ایک دو دن تک صلیب پر لٹکنے کی وجہ سے کوئی شخص مرتا نہیں تھا۔ بیشک زخموں کی وجہ سے انہیں تکلیف ہوتی ہے تھی مگر یہ تکلیف ان کی موت کا موجب نہ بنتی تھی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ چوروں اور ڈاکوئوں سے بعض دفعہ مقابلہ ہوتا ہے تو کئی لوگوں کے سر پھٹ جاتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ پانچ پانچ سات سات دن تک زیر علاج رہتے ہیں اور پھر ان میں سے بھی کئی بچ جاتے ہیں۔ بہرحال اس قسم کے زخم فوری ہلاکت کا موجب نہیں ہوتے۔ حضرت مسیحؑ اسی صورت میں صلیب پر فوت ہوسکتے تھے جب انہیں سات دن تک صلیب پر لٹکا رہنے دیا جاتا اور پھر ان کی ہڈیاں بھی توڑی جاتیں۔ مگر پیلاطوس چونکہ مسیح کے ساتھ تھا اس لئے اس نے مسیحؑ کی صلیب کیلئے ایسا وقت مقرر کیا جبکہ دوسرے دن سبت تھا۔ اور یہود کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر سبت کے دن کوئی شخص پھانسی پر لٹکا رہے تو ساری قوم *** ہوجاتی ہے۔ بہرحال جب پیلاطوس سے اصرار کیا گیا کہ مسیحؑ کو ضروری پھانسی دی جائے ۔ تو اس نے حکم دے دیا کہ اس کو ابھی پھانسی پر لٹکادیا جائے۔ وہ جمعہ کا دن تھا اور ظہر کے قریب کا وقت تھا۔ بلکہ ظہر کا وقت بھی ڈھل چکا تھا جب حضرت مسیحؑ کو صلیب پر لٹکایا گیا۔ عصر کے قریب تیز آندھی آگئی ۔ وہ اتنی تیز تھی کہ اس نے تمام جو ّ کو اندھیرا کر دیا۔ اس وقت بعض نے کہا اگر اسی حالت میں شام ہو گئی اور ہمیں وقت کا علم نہ ہو سکا تو چونکہ شام سے سبت کا آغاز ہو جائے گا اس لئے ساری قوم *** ہو جائے گی۔ بہتر یہ ہے کہ انہیں جلدی صلیب سے اتار لیا جائے ا یسا نہ ہو کہ شام کا وقت ہو جائے یسوع صلیب پر لٹکا رہے اور ساری قوم پر *** پڑ جائے ۔
    اس موقعہ پر یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ یہودیوں نے کیوں یہ اعتراض نہ کیا کہ مسیحؑ کو جمعہ کے دن صلیب پر نہ لٹکایا جائے بلکہ کسی اور دن اسے صلیب دیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو یہود کا پہلو کمزور تھا اگر وہ کہتے کہ جمعہ کے دن مسیحؑ کوصلیب نہ دی جائے تو چونکہ مسیحؑ پر بغاوت کا الزام تھا پیلاطوس ان کو کہہ سکتا تھا کہ اگر اس دوران میں یہ شخص بھاگ گیا یا اس کوماننے والے اس کو چھڑا کر لے گئے تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا۔ اب یہ ایک ایسی بات تھی جس کا یہود کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا۔ دوسرے چونکہ قاعدہ تھا کہ اگر کوئی شخص صلیب پر نہ مرتا تو اس کی ہڈیاں توڑ کر اس کو ماردیا جاتا تھا۔ اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ صلیب پر زندہ رہا تب بھی اس کی ہڈیاں توڑی جائیں گی۔ ہمیں اس وقت یہ سوال نہیں اٹھانا چاہئے کہ جمعہ کو اسے صلیب پر نہ لٹکایا جائے کیونکہ ہم نے اس پر الزام یہ لگایا ہے کہ حکومت کا باغی ہے۔ اگر ہم نے سزا کے التوا کے متعلق کوئی سوال اٹھایا تو پیلاطوس کہے گا کہ حکومت کے باغی کو تو فوراً مارنا چاہئے۔ تم یہ سوال کیوں اٹھاتے ہو کہ اسے ابھی زندہ رہنے دیا جائے اور ایک دو دن گزرنے کے بعد اسے صلیب پر لٹکایا جائے۔ بہرحال یہود نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ حضرت مسیحؑ کو جمعہ کے دن پچھلے پہر صلیب پر لٹکادیا گیا۔ مگر چونکہ پیلاطوس دل سے مسیحؑ کا خیرخواہ تھا اور اپنی بیوی کے خواب کی وجہ سے تو ڈر بھی چکا تھا اس لئے اس نے مسیحؑ کو صلیب دیتے وقت فوج کا ایک ایسا دستہ مقرر کیا جس کا افسر خود مسیحؑ کا مرید تھا۔ اسی طرح پہرے داروں اور پولیس کے حاضر الوقت سپاہیوں میں سے بھی بعض حضرت مسیحؑ کے مرید تھے۔ چنانچہ اس کا ظاہری ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ جب حضرت مسیحؑ درد کی شدت کی وجہ سے چلائے تو پہرے داروں میں سے ایک نے جلدی سے اسفنج کا ایک ٹکڑا لیا اور اسے شراب اور مر سے بھگو کر حضرت مسیحؑ کو چوسنے کیلئے دیا۔ پادری لوگ دانستہ یا ناواقفیت سے جب واقعہ صلیب کے متعلق تقریر کرتے ہیں تو جس طرح شیعہ لوگ واقعات کربلا کو زیادہ سے زیادہ دردناک رنگ میں پیش کرتے ہیں اور معمولی باتوں کو بھی بڑھاچڑھا کر بیان کردیتے ہی اسی طرح وہ بھی بعض دفعہ تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں دیکھو خدا کے بیٹے سے کس قدر دشمنی کی گئی کہ جب وہ سخت تکلیف میں مبتلا تھا اور شدت درد کی وجہ سے کراہ رہا تھا تو اس وقت کم بخت ظالموں نے شراب اور مر میں اسفنج بھگو کر اس کے منہ میں ڈالا اور اس طرح آخری وقت میں اسے اور زیادہ تکلیف اور دکھ میں ڈالا۔ حالانکہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ صلیب پر لٹکائے جانے والوں میں سے جب کسی کی رعایت منظور ہوتی اور اس کی تکلیف کو کم کرنا مناسب سمجھا جاتا تو اسے شراب اور مر کا مرکب پلایا جاتا تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ اناجیل میں شراب اور مر کا ذکر نہیں آتا بلکہ اتنا ذکر آتا ہے کہ جب حضرت مسیحؑ شدت درد کی وجہ سے چلائے تو ’’ایک نے دوڑ کر اسفنج کو سرکہ میں بھگو کر اور ایک نرکٹ کا ٹکڑا رکھ کے اسے چسایا‘‘ (مرقس باب ۱۵ آیت ۲۶)۔ مگر سرکہ میں بھگو کہ اسفنج منہ میں دینا اس زمانہ کے دستوروں میں کہیں ثابت نہیں۔ پھر وجہ کیا ہے کہ وہاں سے سرکہ اور اسفنج رکھا تھا ۔ کیا لوگ بلا وجہ سرکہ اور اسفنج ساتھ رکھا کرتے ہیں؟ کیا کسی مجلس میں سرکہ اور اسفنج طلب کیا جائے تو فوراً مل جائے گا؟ پس یہ روایت دیدہ و دانستہ یا حقیقت سے ناواقفی کی وجہ سے بیان کی گئی ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ اس زمانہ کے خیال کے مطابق کہ زخموں کی تکلیف دور کرنے کیلئے مر اور شراب دینی چاہئے حضرت مسیح کے مریدوں نے اس جگہ شراب اور مر رکھے ہوئے تھے۔ جب وہ شدت درد سے چلائے تو انہوں نے دوڑ کر اسفنج اس میں بھگو کر چسادیا (دیکھو جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد ۴ زیر لفظ صلیب)۔ اس حوالہ کے اصل الفاظ یہ ہیں:
    The details given in the New Testament accounts (Mat. XXVII) of the crucifixion of Jesus agree on the whole with the procedure in vogue under Roman Law. Two modification are worthy of note:
    (1) In order to make him insensible to pain a drink (Mat. XXVII) was given him. This was in accordance with the humane Jewish provision (Maimonides, "Vad, Sanb XIII, Sanb 43A)
    (2) The Beverage was a mixture of Myrrh and wine, "given so that the delinquent might lose clean, consciousness through the ensuing intoxication".
    یعنی انجیل میں یسوع کے صلیب پر لٹکائے جانے کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے وہ عام طور پر اس رومن قانون کے مطابق معلوم ہوتی ہے جو ان دنوں رائج تھا۔ صرف دو فرق ایسے ہیں جو خاص طور پر توجہ کے قابل ہیں۔ پہلا فرق یہ ہے کہ یسوع مسیح کو درد کی طرف سے بے حس کرنے کیلئے ایک دوائی دی گئی جس کا پلایا جانا یہودیوں کے ایک ہمدردانہ قانون کے مطابق تھا۔ یہ دوا جو پلائی جاتی تھی مر اور شراب کا ایک مرکب ہوتی تھی اور اس لئے دی جاتی تھی تاکہ سزا پانے والے مجرم میں احساس درد باقی نہ رہے۔ اور نشہ کی وجہ سے اسے تکلیف محسوس نہ ہو۔ پس گو انجیل میں یہ لکھا ہے کہ اسفنج کو سرکہ میں بھگو کر حضرت مسیحؑ کو چوسنے کیلئے دیا گیا مگر دراصل یہ سرکہ نہیں تھا۔ بلکہ ایک دوا تھی جو شراب اور مر کو ملا کر تیار کی جاتی تھی اور یہ مرکب خاص اور اہم لوگوں کو زخموں کی تکلیف کم کرنے کیلئے دیا جاتا تھا۔ حضرت مسیحؑ کو بھی پہرہ دار نے یہ مرکب دیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہرہ دار جو کہ اس موقع پر پیلاطوس کی طرف سے مقرر کئے گئے تھے حضرت مسیحؑ کے مرید تھے۔ اور وہ چاہتے تھے کہ حضرت مسیحؑ کی تکلیف کو جس قدر ہوسکے کم کیا جائے۔ اسی طرح پیلاطوس کا حضرت مسیح کو جمعہ کے دن کے آخری حصہ میں صلیب پر لٹکانا اس بات کا ایک بین ثبوت ہے کہ پیلاطوس دل سے چاہتا تھا کہ حضرت مسیحؑ صلیب سے بچ جائیں۔ اس لئے اس نے سبت کے قریب کے دن کے آخری حصہ میں آپ کو صلیب دینے کا حکم دیا۔ تاکہ قلیل سے قلیل عرصہ آپ صلیب پر رہیں اور اس طرح آپ ہلاکت سے محفوظ رہیں۔ چنانچہ جیوش انسائیکلوپیڈیا نے بھی اس بات کو لیا ہے کہ یہ بالکل غیرمعمولی اور خلاف قاعدہ فعل تھا جس کا پیلاطوس نے ارتکاب کیا۔ لکھا ہے:-
    "The greatest difficulty from the point of view of the Jewish Panel procedure is presented by the day and time of the execultion. According to the Gospel, Jesus died on Friday the eve of Sabbath. Yet on the day in view of the approach of the Sabbath (or holiday), execution lasting until late in the afternoon were almost impossible. (Sifre, II-221: Sanb. 35B: Mekitte Wayakhel).
    یعنی سب سے بڑی مشکل جو یہودی قانونِ تعزیر کے سلسلہ میں ہمارے سامنے پیش آتی ہے وہ اس وقت اور دن کی تعیین سے تعلق رکھتی ہے۔ جس میں یسوع مسیحؑ کو صلیب پر لٹکایا گیا۔ انجیل کے رو سے یسوع جمعہ کے دن سبت کی شام کو مرا۔ حالانکہ یہودی قانون کے مطابق اس دن کوئی شخص صلیب پر لٹکایا نہیں جاسکتا تھا۔ کیونکہ سبت کے قرب کی وجہ سے بعد دوپہر مجرموں کو کافی دیر تک صلیب پر لٹکائے رکھنا قریباً ناممکن تھا۔
    گویا جیوش انسائیکلوپیڈیا والا نا صرف جمعہ کے دن حضرت مسیحؑ کو صلیب پر لٹکانا ایک عجیب بات سمجھتا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ صلیب پر اس دن زیادہ دیر تک کوئی شخص لٹکایا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ اس بناء پر ہمارا حق ہے کہ اگر انجیل یہ کہتی ہے کہ حضرت مسیح کو تین گھنٹے صلیب پر لٹکایا گیا تو ہم یہ کہیں گے آپ کو صرف ڈیڑھ دو گھنٹے لٹکایا گیا تھا۔ کیونکہ سبت کے قرب کی وجہ سے زیادہ دیر تک کسی شخص کو صلیب پر لٹکایا نہیں جاسکتا تھا۔ بہرحال اگر دو یا تین گھنٹے آپ کو لٹکایا گیا تب بھی اس سے آپ کی موت واقع نہیں ہوسکتی تھی۔ کیونکہ صلیب پر بعض دفعہ سات سات دن تک بھی لوگ زندہ رہتے تھے۔ اور وہ اس وقت تک نہیں مرتے تھے جب تک ہتھوڑے مار مار کر ان کی ہڈیوں کا گودا نہ نکالا جاتا۔
    دوسرا ثبوت اس امر کا کہ پیلاطوس نے حضرت مسیحؑ کو بچانے کیلئے صلیب کے وقت بعض ایسے افسروں کی وہاں ڈیوٹیاں مقرر کردی تھیں جو حضرت مسیحؑ پر ایمان لاچکے تھے۔ یہ ہے کہ انجیل میں لکھا ہے جب حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکایا گیا تو ’’وے جو ادھر سے جاتے تھے سر ہلاتے تھے اور یہ کہہ کر اسے ملامت کرتے تھے کہ واہ تو جو ہیکل کو ڈھاتا اور تین دن میں بناتا تھا اپنے تئیں بچا اور صلیب پر سے اتر آ۔ اسی طرح سردار کاہنوں نے بھی آپس میں فقیہوں کے ساتھ ٹھٹھے کرتے ہوئے کہا اس نے اوروں کو بچایا اپنے تئیں بچانہیں سکتا۔ بنی اسرائیل کا بادشاہ مسیحؑ اب صلیب پر سے اتر آوے تاکہ ہم دیکھیں اور ایمان لاویں‘‘۔ (مرقس باب ۱۵۔ آیت ۲۹ تا ۳۲) ۔ غرض بقول انجیل اس وقت لوگ آپ پر مذاق کررہے تھے۔ اسی دوران میں حضرت مسیحؑ شدت درد کی وجہ سے چلائے اور بقول بائبل انہوں نے ’’دم توڑ دیا‘‘۔ اس وقت کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے انجیل میں لکھا ہے کہ ’’اس صوبہ دار نے جو اس کے سامنے کھڑا تھا اسے یوں چلاتے اور دم چھوڑتے دیکھ کر کہا کہ یہ شخص سچ مچ خدا کا بیٹا تھا‘‘ (مرقس باب ۱۵۔ آیت ۳۹)۔ ا ب بتائو کیا یہ الفاظ کوئی ایسا شخص کہہ سکتا تھا جو حضرت مسیحؑ کا مخالف ہوتا۔ اگر وہ آپ کو فقیہوں اور فریسیوں کی طرح جھوٹا سمجھتا تو اسے کہنا چاہئے تھا کہ دیکھو آج ثابت ہوگیا ہے کہ یہ شخص خدا کا بیٹا نہیں تھا۔ ہم نے اسے صلیب پر لٹکایا اور اس کی جان لے لی۔ مگر وہ یہ نہیں کہتا ، وہ آپ پر ہنسی نہیں کرتا، وہ آپ کے دعویٰ کی تکذیب نہیں کرتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ ’’یہ شخص سچ مچ خدا کا بیٹا تھا‘‘۔ یہ اس امر کا واضح اور کھلا ثبوت ہے کہ صلیب کے وقت پیلاطوس نے ارادۃً ایسے افسر اور سپاہی مقرر کئے تھے جو حضرت مسیح پر ایمان لاچکے تھے۔ تاکہ آپ کی تکلیف کو وہ زیادہ سے زیادہ کم کرسکیں۔ اور صلیب سے اتارنے کے بعد آپ کی حفاظت اور علاج میں وہ حصہ لے سکیں۔ بہرحال مسیحؑ بوجہ نازک بدن ہونے کے بیہوش ہوگئے۔ اتنے میں آندھی آئی اور مسیحؑ کو اتار لیا گیا تاکہ کہیں سبت نہ آجائے۔ جب آپ کو اور ان چوروں کو بھی اتار لیا گیا جن کو آپ کے ساتھ ہی صلیب پر لٹکایا گیا تھا تو قاعدے کے مطابق ساتھ کے چوروں کی ہڈیاں توڑ دی گئیں مگر افسر پولیس چونکہ حضرت مسیحؑ کا مرید تھا جیسا کہ مرقس باب ۱۵۔ آیت ۳۹ اور متی باب ۲۷ ۔ آیت ۵۴ سے ظاہر ہے۔ اس نے یہ چالاکی کی کہ حضرت مسیحؑ کے متعلق کہہ دیا یہ تو مرگیا ہے اس کی ہڈیاں توڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ انجیل میں صاف لکھا ہے کہ ’’سپاہیوں میں سے ایک نے بھالے سے اس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اس سے لہو اور پانی نکلا‘‘ (یوحنا باب ۱۹۔ آیت۳۴)۔ لہو اور پانی کا نکلنا بتارہا ہے کہ آپ زندہ تھے۔ اگر فوت ہوچکے ہوتے تو آپ کا خون جم جانا چاہئے تھا۔ لہو اور پانی نکلنے کے الفاظ بتارہے ہیں کہ درحقیقت ان کے جسم میں سے بہتا ہوا خون نکلا۔ مگر حضرت مسیحؑ چونکہ اس وقت بیہوش تھے ۔ اس سپاہی نے لوگوں کو دھوکہ میں مبتلا رکھنے کیلئے کہہ دیا کہ آپ فوت ہوچکے ہیں۔
    اس کے فوراً بعد یوسف آرمیتا جو حضرت مسیحؑ کے مرید تھے پیلاطوس کے پاس گئے اور اس سے اجازت لی کہ لاش میرے حوالے کی جائے چنانچہ پیلا طوس نے حکم دے دیا کہ لاش یوسف آرمیتہ کو دے دی جائے (متی باب۲۷آیت۵۸)لاش پر قبضہ کرنے کے بعد یوسف آرمیتہ نے ایک کھلی کوٹھڑی جیسی قبر میں ان کو بند رکھا جو زمین میں کھودی ہوئی نہ تھی بلکہ کوٹھڑی کی طرح چٹان میں کھدی ہوئی تھیاس میں ان کے جسم کو رکھ کر اس کے سامنے پتھر رکھ دیا گیا جس کے معنے یہ ہیں کہ ہوا کا راستہ کھلا رکھا گیا ۔ چنانچہ لکھا ہے :’’ یوسف نے لاش لے کر سوتی چادر میںلپیٹی اور اپنی نئی قبر میںجو چٹان میں کھودی تھی رکھی اور ایک بھاری پتھر قبر کے منہ پر ڈھلکا کے چلا گیا‘‘ متی باب ۲۷آیت۵۹،۶۰) جیوش انسائیکلو پیڈیا نے بھی اس سوال کو خاص طور پر اٹھایا ہے ۔ چنا نچہ ا س میں لکھاہے:
    Bodies of delinquents were not buried in private graves (snab:vi:5) while that of Jesus was buried in a sepulchro belonging to Joseph of Arimathea.(Jewish Encyclopaedia vol.4, p.373) Bodies of delinquents were not buried in private graves (snab:vi:5) while that of Jesus was buried in a sepulchro belonging to Joseph of Arimathea.(Jewish Encyclopaedia vol.4,p.373)
    یعنی مجرموں کی لاشیں خاص قبروں میں نہیں دفنائی جاتی تھیںلیکن یسوع مسیح ؑ کے ساتھ یہ امتیازی سلوک روا رکھا گیاکہ اس کی لاش یوسف آرمیتا کی مملوکہ ایک کوٹھڑی میں رکھی گئی۔یہود کو اس پر شبہ ہوا اور انہوں نے پیلا طوس سے شکایت کی کہ تیسرے دن تک قبر کی نگرانی کی جائے چنانچہ لکھا ہے ’’ دوسرے روز جو تیاری کے دن کے بعد ہے سردار کاہنوں اور فریسیوںنے مل کر پیلا طوس کے پاس جمع ہو کے کہا کہ اے خداوند ہمیں یاد ہے کہ وہ دغاباز اپنے جیتے جی کہتا تھا کہ میں تین دن کے بعد جی اٹھوں گا ۔ اس لئے حکم کر کہ تیسرے دن تک قبر کی نگہبانی کریں‘‘(متی باب ۔۲آیت۶۲،۶۳) اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح ؑکی یہ پیش گوئی کہ یہود کو وہی نشان دکھایا جائے گا جو یونس نبی کے ذریعہ ظاہر ہوا لوگوںمیںخوب مشہور ہوچکی تھی اور حواری اس پیش گوئی کے مطابق ہر ایک سے یہ کہتے پھرتے تھے کہ جس طرح یونس تین رات دن کے بعد مچھلی کے پیٹ میں سے زندہ نکل آیا اسی طرح مسیح ؑ بھی تین رات اور دن کے بعد زندہ ہو جائے گا ۔اس پیشگوئی کے بنا پر یہود سمجھتے تھے کہ تین دن اور رات گذرنے کے بعد حواریوں نے کہ دینا ہے کہ دیکھو مسیح ؑ زندہ ہو گیا۔ا لئے بہتر یہی ہے کہ پیلا طوس کو ابھی سے کہ دیا جائے کہ جس کوٹھڑی میں مسیح ؑ کی لاش کو رکھا گیا ہے اس پر تین دن تک پہراہ لگا دیا جائے تا کہ مسیح ؑ کی یہ بات پوری نہ ہو سکے کہ میںیونس نبی کی طرح تین رات اور دن گذرنے کے بعد زندہ نکل آئونگا ۔مگر پیلا طوس چونکہ اندر سے مسیح ؑ کے ساتھ تھا۔ اس نے انکار کردیا اور کہا کہ میں سرکاری پہرے دار مقرر نہیں کر سکتا’’تمہارے پاس پہرے والے ہین جا کے مقدور بھر نگہبانی کرو‘‘(متی باب۲۷آیت۶۵)یعنی تم خود پہرہ دیتے رہو میں سرکاری طور پر اس بارہ میں کوئی انتظام نہیں کر سکتا ۔پیلا طوس کی اس انکار کی غرض یہ تھی کہ اگر حکومت کی طرف سے وہاں پہرے دار مقررکئے گئے تو اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام وہاں سے نکل نہیں سکیں گے اور اگر پہرے داروں کا مقابلہ کر کے نکلے تو چونکہ وہ حکومت کی طرف سے مقررہونگے ان کا مقابلہ حکومت کا مقابلہ سمجھا جائے گا اور انہیں اور ذیادہ مشکلات پیش آجائیں گی ۔لیکن اگر عام لوگ پہرہ پر ہوئے تو ان کا مقابلہ کرنے میںکوئی حرج نہیں ہو گا ۔مسیح ؑ کے حواری ان سے لڑیں گے اور مسیح کو نکال کر لے جائیں گے ۔اس حکمت کے ماتحت اس نے سرکاری پہرہ لگانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میںپولیس مقرر نہیں کر سکتا ۔اگر تم اسکی نگرانی کرنا ضروری سمجھتے ہو تو خود پہرہ لگا لو ۔جب اتوار کی صبح کو پو پھٹتے وقت کچھ عورتیں وہاں گئیں تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں مسیح ؑنہیں ہیںاور ایک فرشتہ چٹان پر بیٹھا ہوا ہے ۔ چنانچہ لکھا ہے ’’سبت کے بعد جب ہفتہ کے پہلے دن پو پھٹنے لگی مریم مگد لینی اور دوسری مریم قبر کو دیکھنے آئیںاور دیکھو کہ ایک بڑا بھونچال آیا تھا کیونکہ خداوند کا فرشتہ آسمان سے اتر کے آیا اور اس پتھر کو قبر سے ڈھلکا کے اس پر بیٹھ گیا ۔ اس کا چہرہ بجلی کا سا اور اس کی پوشاک سفید برف کی سی تھی ۔‘‘(متی باب۲۸آیت۱تا۳) میں سمجھتا ہوں فرشتہ کوئی نہ تھا یہ حضرت مسیح تھے جو باہر نکل کر چٹان پر بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے کفن پہنا ہوا تھا ۔بہرحال انجیل کے بیان کے مطابق فرشتہ نے ان عورتوں سے کہا کہ مسیح ؑ جسے تم دیکھنے آئی ہو وہ یہاں نہیں ہے بلکہ اپنے حواریوں کے پاس جلیل کو گیا ہے تم جائو اور دوسرے حواریوں کو بھی اس امر کی اطلاع دے دو چنانچہ انجیل میںلکھا ہے ’’فرشتے نے مخاطب ہو کر ان عورتوں سے کہا تم مت ڈرو میں جانتا ہوںکہ تم مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا ڈھونڈتی ہو ۔وہ یہاں نہیں ہے کیونکہ جیسا اس نے کہا تھا وہ جی اٹھاہے آئو یہ جگہ جہاں خداوند پڑا تھا دیکھو اور جلد جاکے اس کے شاگردوں سے کہو کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور دیکھو وہ تمہارے آگے جلیل کو جاتا ہے وہاں تم اس کو دیکھو گے دیکھو میں نے تمہیں جتا دیا ‘‘(متی باب۲۸آیت۵تا۸)یہ بھی لکھا ہے کہ یہود میں یہ مشہور تھا کہ پہرہ داروں کو رشوت دے کر یہ مشہور کیا گیا کہ وہ زندہ ہو کر چلاگیاہے ( متی باب ۲۸آیت۱۱تا۵) اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پہرہداروں نے یہی خبر دی تھی کہ مسیح ؑ کے شاگرد زبردستی مسیح ؑکو کوٹھڑی میں سے نکال کر لے گئے ہیں مگر چونکہ یہود حضرت مسیح ؑ کو *** ثابت کرنا چاہتے تھے انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ پہرہ دار ٹھیک نہیں کہتے انکو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ مسیح ؑ زندہ ہو کر چلا گیا ہے ۔
    پھر لکھا ہے مسیح ؑ حواریوں پر ظاہر ہوا انہیں کہا کہ ’’میرے ہاتھ پائوں کو دیکھو کہ میں ہی ہوںاور مجھے چھوئو۔اور دیکھو کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیںجیسا مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کے انہیںاپنے ہاتھ اور پائوںدکھائے‘‘(لوقاباب۲۴آیت۳۹،۴۰) اسی طرح لکھا ہے ’’جب وے مارے خوشی کے اعتبار نہ کرتے اور متعجب تھے اس نے ان سے کہا کہ یہاںتمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے تب انہوں نے بھونی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا اور شہد کا ایک چھتہ اس کو دیا اس نے لے کے ان کے سامنے کھایا ‘‘(لوقاباب ۲۴آیت۴۱تا۴۳)یوحنا میں لکھا ہے کہ تھوما حواری نے جب یہ بات سنی کہ حضرت مسیح ؑصلیب سے بچ گئے ہیںتو اسے یقین نہ آیا اور اس نے کہا ’’جب تک میں اس کے ہاتھوں میں کیلوںکے نشان نہ دیکھو ںاور کیلوں کے نشانوں میںاپنی انگلی نہ ڈالوں اور اپنے ہاتھ کو اس کے پہلو میں بھی نہ ڈالوں ہر گز یقین نہ کروںگا‘‘(باب۲۰آیت۲۵)حضرت مسیح ؑنے یہ بات سنی تو انہوں نے تھوما کو کہا ۔اپنی انگلی پاس لا اور میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ پاس لا اور اسے میرے پہلو میں ڈال اور بے ایمان مت ہو بلکہ ایمان لا ‘‘(یوحناباب۲۰آیت ۲۷)
    ان دلائل سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح ؑکے متعلق یہ خیال کہ وہ صلیب پر لٹک کر مر گئے تھے با لکل باطل اور بے بنیاد ہے ۔بیشک حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکا یا گیا تھا ۔مگر خدا نے ان کو بچالیااور اس طرح وہ نشان ظاہر ہوا جس کا انہوں نے قبل از وقت اعلان کر دیا تھا کہ جس طرح یونہ نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ گیا ۔زندہ رہا اور زندہ ہی باہر نکلا۔اسی طرح میں بھی صلیب پر سے زندہ اتروں گا ۔زندگی کی حالت میں قبر میں جائوں گا اور پھر زندہ ہونے کی حالت میںہی قبر سے باہر نکلوں گا ۔
    پھر کفارئہ کے خلاف ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ جب صلیب سے بچ گئے تو اس کے بعد وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ کہیں دوبارہ دشمن ان کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے ۔ حلانکہ اگر وہ سچ مچ خدا کے بیٹے تھے یا حواریوں پر حضرت مسیح ؑکی روح ظاہر ہوئی تھی تو روح کو چھپنے کی کوئی ضرورت نہ تھی وہ ہر ایک کے سامنے آتی اور کہتی کہ ا گر تم میں طاقت ہے تو مجھے اب مار کر دکھائو ۔مگر انجیل اس بات پر گواہ ہے کہ واقع صلیب کے بعد وہ دشمن سے چھپتے پھرے۔ پس حضتے مسیح کے متعلق عیسائیوں کا یہ خیال کہ وہ بنی نوع انسان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہو گئے تھے شروع سے لے کر آخر تک باطل ہے۔
    انسانی پیدائش کے متعلق تیسرا خیال دنیا میں یہ پایا جاتا ہے کہ انسان کسی خاص ملکہ کو لے کر پیدا نہیں ہوا۔وہ اپنی تعلیم و تربیت سے متاثر ہوتا اور اس کے مطابق ہو جاتا ہے گویا وہ حالات سے مجبور ہے۔ یہ فرائیڈاور دوسرے یورپین فلسفیوں کا خیال ہے ان کے نزدیک پیدائشی لحاظ سے انسان جانوروں کی سی حالت رکھتا ہے۔نہ اس میں نیکی کا ملکہ ہوتا ہے اور نہ بدی کا ملکہ ہوتا ہے ہاں جب وہ پیداہوجاتا ہے تو اپنے گردوپیش کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اگر وہ حالات نیک ہوں تو نیک ہو جاتا ہے اور اگر بد ہوں تو بد ہو جاتا ہے۔ بہرحال حالات سے مجبور ہو کر اس میں نیکی اور بدی کی مختلف کیفیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں اگر تو اس کا یہ مفہوم ہے کہ ہر بچہ اپنی ذات میں بغیر کسی گناہ کے اثر کے پیدا ہوتا ہے لیکن بعد میں حالات اس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ ان کے نتیجہ میں گندہ اور خراب ہو جاتا ہے تو اسلام کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کل مولود یولد علی فطرۃ الاسلام حتی یعرب عنہ لسانہ فابواہ یھو دا نہ او ینصر انہ اویمجسانہ (الطبرانی فی الجامع الکبیر بحوالہ الصغیر) ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعدماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔پس اگر فرائیڈ اور دوسرے یورپین فلسفیوں کی تھیوری یہ ہے کہ ہر بچہ فطرت صحیحہ لے کر دنیا میں آتا ہے لیکن اس کے بعد وہ حالات سے مجبور ہو کر بعض دفعہ گندہ اور ناپاک ہو جاتا ہے۔ تو اس نتیجہ کے ہم بھی قائل ہیں اور یہ عین قرآن اور حدیث کے مطابق عقیدہ ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا اس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اگر اصلاح نہیں ہو سکتی تو احسن تقویم بیکار ہو گئی لیکن اگر اصلاح ہو سکتی ہے تو پھر خواہ خراب حالات کے اثر سے انسان بگڑ جائے اس کی پیدائش کے متعلق یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس میں نیکی کا کوئی ملکہ ودیعت نہیں کیا گیا۔ اس نقطئہ نگاہ کے ماتحت جب ہم اس تھیوری پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فرائیڈ اور دوسرے یورپین فلسفی خود تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ چنانچہ سائیکو اینلسس( تجزیہ شہوات) ان کا ایک خاص مسئلہ ہے جس کے ماتحت یہ ان لوگوں کا علاج کرنے کے بھی دعوے دار ہیں جو مختلف قسم کے گندے خیالات میں مبتلا ہوتے ہیں۔
    درحقیقت فرائیڈ کا نظریہ یہ ہے کہ انسانی فطرت کی خرابی اس وقت سے شروع نہیں ہوتی جب وہ کسی فعل کا ارتکاب کرتا ہے بلکہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اسی وقت سے اس کی فطرت کے اندر بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور اس کی مختلف حرکات اور سکنات اس کے دل میں غلط یا صحیح جذبات پیدا کرتی چلی جاتی ہیں۔ مثلاً شہوت کا مادہ جو انسان میں پایا جاتا ہے اس کے متعلق فرائیڈ کا نظریہ یہ ہے کہ اس وقت سے پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جب بچہ ماں کے پستانوں سے دودھ چوستا ہے۔ وہ کہتا ہے ماں کا دودھ چوسنے اور جسم کی باہمی رگڑ سے اسے خاص قسم کا حظ محسوس ہوتا ہے اور شہوانی مادہ اس میں پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرے پیشاب پاخانہ کرنے کے بعد جب عضاء کی صفائی کی جاتی تو ہاتھوں کی رگڑ سے اس کے قلب میں شہوانی خیالات کا احساس بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ پس یہ صحیح نہیں کہ پندرھویں یا سولھویں سال میں بچہ کے اندر شہوانی مادہ پیدا ہوتا ہے بلکہ بقول اس کے بچہ کی پیدائش کے ساتھ ہی یہ احساس مختلف حرکات و سکنات کے نتیجہ میں اس کے قلب میں پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے جو جوانی کے قریب زیادہ مکمل صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس نتیجہ میں بھی ہم فرائیڈ کی تائید کرتے ہیں کیونکہ اسلام بھی یہی نظریہ پیش کرتا ہے کہ بدی اور نیکی کا احساس بچپن میں ہی پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ نے ہدائت دی ہے کہ جب بچہ پیدا ہو اسی وقت اس کے کان میں اذان دو کیونکہ اس کی تعلیم اور تربیت کا زمانہ پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔ پس اگر فرائیڈ کی اتنی ہی تھیوری ہو تو ہم کہیں گے میاں فرئیڈ اس تھیوری کے تم موجد نہیں بلکہ محمد رسول ﷺ موجد ہیں۔ لیکن ان نتائج کو صحیح تسلیم کرنے کے باوجود ہمارا سوال اس تھیوری کے ما ننے والوں سے یہ ہے کہ خواہ تمام خرابیاں بچپن سے ہی انسانی قلب میں پیدا ہو جاتی ہون سوال یہ ہے کہ جب کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا نہیں؟ یا فطرت کا وہ بگاڑ جو ماحول کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے کسی اور طریق سے دور ہو سکتا ہے یا نہیں اگر دور ہو سکتا ہے تو یہ خیال بالکل باطل ہو گیا کہ فطرت نیکی لے کر پیدا نہیں ہوئی۔ با لخصوص سائیکو انیلسس ( تجزیہ شہوات) کے زریع اس تھیوری کے ماننے والوں نے جو طریق علاج تجویز کیا ہے وہ خود اپنی ذات میں اس عقیدہ کو باطل ثابت کرنے کے لئے بہت کافی ہے۔یہ تھیوری جس کا فرائیڈ کو موجد قرار دیا جاتا ہے اس رنگ میں بیان کی جاتی ہے کہ بچے کو پہلا عشق اپنی ماں سے ہوتا ہے لیکن بڑے ہو کر گردوپیش کے حالات کی وجہ سے یا مذہبی لوگوں کی باتیں سن سن کر اس کا یہ خیال دب جاتا ہے اور اس کی بجائے بیوی کی محبت اس کے سامنے آجاتی ہے لیکن بعض لوگوں کے اندر یہ جذبہ اتنی طاقت پکڑ جاتا ہے کہ بعد میں کوئی اور محبت ان کے جذبئہ محبت پر غالب نہیں آسکتی ۔ادھر وہ مذہبی لوگوں سے باتیں سنتے ہیں تو انہیں یہ کہتا ہوئے پاتے ہیں کہ ماں بیوی نہیں بن سکتی اور ادھر وہ محبت جو دودھ چوستے وقت بچہ کے دل میں اپنی ماں کے متعلق پیدا ہو جاتی ہے اسے ماں کے ساتھ محبت کرنے پر مجبور کر رہی ہوتی ہے۔ ان متضاد خیالات کا اس کی طبیعت مقابلہ نہیں کر سکتی اور وہ کئی قسم کی دماغی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔بیشک بعض دفعہ وہ خود بھی نہیں جانتا کہ اس کی بیماری کی کیا وجہ ہے۔ لیکن سائیکو اینلسس (تجزیہ شہوات) کے ذریعہ اگر اس کا علاج کیا جائے تو اس کی مخفی مرض کا پتہ چل جاتا ہے اور اس کی بیماری کو آسانی کے ساتھ دور کیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلہ پر زیادہ تفصیل کے ساتھ غور کرتے ہوئے انہوں نے سو کے قریب ایسی باتیں جمع کی ہیں جو ان کے نزدیک بچے پر اثر ڈال کر اسے مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار بنا دیتی ہیں۔ جب کوئی مریض اس طریق علاج کے ماہر کے پاس آتا ہے تو وہ اسے لٹا کر اور اس کے جسم کو ڈھیلا کر کے اس کی نبض پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور ایک ایک کر کے مختلف باتیںاس کے سامنے بیان کرتا چلا جاتا ہے کبھی ماں کی محبت کا ذکر کرتا ہے کبھی باپ کی محبت کا ذکر کرتا ہے۔ کبھی ماں کی محبت کا ذکر کرتا ہے اور کبھی اس امر کا ذکر کرتا ہے اور نبض پر ہاتھ رکھ کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ کس بات پر اس کی نبض میںغیر معمولی حرکت پیدا ہ ہوتی ہے ۔یہ صاف بات ہے کہ جب کسی ایسی بات کا ذکر کیا جاتا ہے جس سے انسان کو خاص طور پر دلچسپی ہوتی ہے تو اس کے دل کی حرکت تیز ہو جاتی ہے اور نبض بھی زیادہ جلدی جلدی حرکت کرنے لگتی ہے اس طرح ڈاکٹر معلوم کر لیتا ہے کہ مریض کی بیماری کا اصل باعث کیا ہے اور وہ کیوں بیمار چلا آرہا ہے ۔اس کے بعد اگر وہ خیال جائزہو تو وہ اسے مشورہ دیتے ہیںکہ وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کریاور اگر ناجائز ہو تو اس خواہش کی قباحت پر اس کے سامنے متواتر لیکچر دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دل ودماغ سے وہ خواہش بل لکل نکل جاتی ہے اور چونکہ بیماری کا اصل سبب دور ہو جاتا ہے اس کی بیماری جاتی رہتی ہے اور وہ تند رست ہو جاتا ہے ۔اس طریق علاج کے ماتحت کئی قسم کے تجارب کئے گئے ہیں اور قطعی طورپر ایسے ایسے کئی کیس پیش کئے جاتے ہیں جو اور کسی ذریعہ سے اچھے نہ ہوئے لیکن سائیکوانیلسس(تجزیہ شہوات) کے ماتحت جب ان کا علاج کیا گیا اور ان کی مخفی خواہشات کا علم حاصل کر کے ان کو پورا کرنے یا ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ بالکل اچھے ہو گئے۔ گزشتہ جنگ عظیم کے بعد ہزاروں لوگ ایسے تھے جو گولہ باری کے صدمات کے نتیجہ میں پاگل ہو گئے تھے۔ ان میں سے بعض تو اور علاجوں سے اچھے ہو گئے مگر بعض ایسے تھے جو کسی علاج سے بھی اچھے نہ ہوئے۔ آخر گورنمنٹ کو خیال پیدا ہوا کہ ان مریضوں کا سائیکو انیلسس (تجزیہ شہوات) کیوں نہ علاج کرایا جائے۔ چنانچہ اس طرح ان کی تشخیص کروائی گئی تو کئی بیماریوں کی نسبت معلوم ہوا کہ بظاہر وہ گولہ باری کے صدمہ کے نتیجہ میں پاگل ہوئے تھے۔ لیکن ان کی بیماری کی وجہ بعض جذباتِ شدیدہ کا پورا نہ ہونا تھا۔ جب ان کی بیماری کی اصل وجہ کا پتہ چل گیا تو اس کے مطابق علاج کرنے پر وہ بالکل اچھے ہو گئے حالانکہ اس سے بیشتر ان کے علاج کے لئیہر قسم کی دوائیں استعمال کی جا چکی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ یورپ میں ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو اس طریق علاج سے درست ہوئے۔
    ہمارا جواب یہ ہے کہ بیشک یورپ میں ایسے ہزاروں لوگ ہوں مگر ہمارے ملک میں تو اس قسم کا کوئی مریض نظر نہیں آتا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی بیماری نہیں بلکہ ایک مقامی بیماری ہے جو یورپ میں پیدا ہو چکی ہے۔ اگر انسانی بیماری ہوتی تو ہندوستان میں بھی ہوتی۔ مصر میں بھی ہوتی۔ شام میں بھی ہوتی۔ فلسطین میں بھی ہوتی۔ چین اور جاپان میں بھی ہوتی مگر ہمیں دنیا کے اور کسی ملک میں یہ بیماری نظر نہیں آتی اگر آتی ہے تو صرف یورپمیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہیکہ یہ یورپ کا مخصوص مرض ہے۔ تمام بنی نوع انسان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یورپ میں عام طور پر چونکہ گند اور خرابی میں لوگ مبتلا رہتے ہیں اور ایسے لوگوں کے خیالات بھی ناپاک ہوتے ہیںاس لئے وہ اس قسم کے ا مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔اور خواہشات کے پورا ہو جانے پر وہ اچھے ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں عام طور پر خیالات میں پاکیزگی پائی جاتی ہے اور وہ گند یہاں نہیں جو یورپ میں نظر آتا ہے اس لئے یہاں کسی کو سائیکو انیلسس کے ذریعہ اپنا علاج کرانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ پس اگر یورپین فلسفیوں کی یہ تھیوری درست ہے تب بھی ہم انہیں کہیں گے کہ یہ تمہاری مقامی بیماری ہے بنی نوع انسان کی بیماری نہیں۔ لیکن بفرض محال اگر اسے بنی نوع انسان کی مرض سمجھ لیا جائے۔ تب بھی ہم کہتے ہیں کہ تم نے یہ تو تسلیم کر لیا کہ خرابی کی اصلاح ہو سکتی ہے۔ جب تم نے یہ تسلیم کر لیا تو قرآن کی اس آیت کی صداقت ثابت ہو گئی کہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم یعنی ہماری سنت یہ ہے کہ ہم انسانی روح کے بیمار ہونے پر اس کو اچھا کرنے کے سامان مہیا کیا کرتے ہیں اور یہی فطرت انسانی کے پاک ہونے کے معنے ہیں کہ خدا نے اس کی ہدایت اور اصلاح کے سامان پیدا کئے ہوئے ہیں۔ اگر انسان ان سے فائدہ اٹھا لے تو وہ پاکیزگی کا جامہ پہن لیتا ہے اور اگر فائدہ نہ اٹھائے تو حیوانوں سے بھی بد تر ہو جاتا ہے۔ بہرحال اسلام یہ کہتا ہے کہ فطرت انسانی کو مستقل طور پر خراب قرار دینا اور اس کے لئے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ دائمی طور پر مسدود قرار دینا قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد امر ہے۔ خدا نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ خواہ اس میں کتنی ہی خرابیاں پیدا ہو جائیں۔ کتنی کمزوریاں اس میں رونما ہوجائیں پھر بھی اس کے دل کو صیقل کیا جا سکتا ہے۔اس کی خرابیون کو دور کیا جا سکتا ہے اور اسے خدا تعالیٰ کے آستانہ پر پہنچایا جا سکتا ہے۔ آخر اسلام یہ تو نہیں کہتا کہ فطرتِ انسانی کے نیک ہونے کے یہ معنی ہیں کہ انسان ہمیشہ نیک رہتا ہے۔ اسلام خود حالات کی خرابی کی وجہ سے فطرت کا مسخ ہو جانا تسلیم کرتا ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اصلاح کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی شخص اپنی حالت کو بدلنا چاہے ۔ برائیوں کو ترک کرنا چاہے۔ نیکیوں کو حاصل کرنا چاہے وہ ایسا کر سکتا ہے کیانکہ خدا نے اس کی فطرت نیکی کی استعدادیں رکھی ہوئی ہیں۔ اگر وہ ان سے کام نہیں لیتا تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ لیکن اگر وہ کام لے گا تو فطرت کی نیکی بہرحال ظاہر ہو کر رہے گی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کوشش کے باوجوداسے ہدایت حاصل نہ ہو یا قرب الہیٰ کے مقام سے وہ دور رہے۔
    غرض اسلام ماحول کے اثرات کو تسلیم کرتا ہے۔ اسلام یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ بچپن سے ہی نیک اور بد اثرات بچہ پر شروع ہو جاتے ہیں۔مگر ساتھ ہی اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ ہر شخص کی اصلاح ممکن ہے۔ فرائیڈ نے جس تھیوری کو پیش کیا ہے اس کے ماننے والے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کی اصلاح ہو سکتی ہے اور جب وہ اس نکتہ کو تسلیم کرتے ہیں تو صاف ظاہر ہو گیا کہ فطرت میں خدا نے نیکی کا ملکہ رکھا ہوا ہے اگر نیکی کا ملکہ اس میں نہ ہوتا تو اس کی اصلاح کس طرح ہوتی؟ اسی طرح ہمارا مشاہدہ ہے کہ اکثر لوگ وعظ کا اثر قبول کرتے ہیں اور بڑی بڑی برائیوں کو چھوڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اگر انسان میں نیکی کا ملکہ نہ ہوتا تو وعظ سے اس پر کیوں اثر ہوتا اور کیوں وہ اپنی برائیوں کو ترک کر کے نیکیوں کے حصول میں مشغول ہو جاتا؟ یہی حال دعا کا ہے کہ اس کے ذریعہ دنیا میں بڑے بڑے انقلاب پیدا ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو خدا کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتے جو ہر قسم کی برائیوں میں لذت محسوس کرتے ہیں جو اپنی زندگی کا مقصدمحض دنیوی لذائذ سے لطف اندوز ہونا قرار دیتے ہیں وہ انبیاء پر ایمان لانے اور ان کی دعائوں اور قوتِ قدسیہ کی برکات سے ایسے بدل جاتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر حیرت آتی ہے۔ یہ دونوں راستے جو روحانی اور جسمانی جدوجہد پر مشتمل ہیں دنیا میں ہمیشہ سے کھلے ہیں اور کھلے رہیں گے اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا نے انسانی فطرت کو پاکیزہ بنایاہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ جن کو نیکی میں ترقی کرنے کا کوئی موقعہ نہ ملا ان کا کیا حال ہو گا؟ تو یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر کسی فطرت کو خارجی اثرات سے پنپنے کا موقعہ نہیں ملے گا تو اسے پھر موقعہ دیا جائے گا ۔ بہرحال اس سے فطرت کی خرابی نہیں بلکہ حالات کی خرابی ثابت ہوتی ہے اور یہ آیت اسی خیال کو پیش کرتی ہے کہ انسان کی پیدائش احسن تقویم میں ہے یہ نہیں کہتی کہ وہ بد حالات کے ماتحت بھی بد نہیں ہوتا۔
    غرض یہ آیات بتاتی ہیںکہ آدم کا آنا ۔نوح ؑ کا آنا ۔موسیٰ کا آنااور انکا اپنی اصلاحی کوششوں میں کامیاب ہوجانااور دنیا کا ایک نئے رنگ میں بدل جاناثبوت ہے اس بات کا کہ خد تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم میں پید اکیا ہے یعنی انسانی پیدائش ایسے اصول پر ہوئی ہے کہ وہ اعتدال کے اعلیٰ مقام پر پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اوپر کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے ۔آدم ۔نوح ؑ۔موسیٰؑ اور ان کے متبع اس امر کا ثبوت ہیں اور محمدﷺآئندہ اس بات کا ثبوت بننے والے ہیںکہ لقد خلقناالا نسان فی احسن تقویم۔
    چوتھا عقیدہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انسان کو مجبوراًپیدا کیا گیا ہے ۔ گویا وہ قانونِ الٰہی کی وجہ سے برے افعال کرنے پر مجبور ہے اس میں انسان کا کوئی قصور نہیں ۔اسلام اس عقیدہ کو کلی طور پر رد کرتا ہے اور چونکہ اس کو مذہبی لوگ پیش کرتے ہیں ۔خصوصاً مسلمانوں کی طرف یہ عقیدہ منسوب ہے اس لیے قرآن کریم سے ہی اس کا رد پیش کیا جاتا ہے۔
    اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وھوالذی جعل الیل و النھار خلفۃ تمن اراد ان یذکر او اراد شکوراً(الفرقان ۶ع،۴) یعنی وہ خداتعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنیوالا بنایاہے۔مگر اس سے وہ ہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اس بات کا ارادہ کر لیں کہ وہ نصیحت حاصل کریں گییا ان کے اندر شکر گذاری کا مادہ پایا جاتا ہو۔اس آیت میں یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ایک تو وہ جن کی نیکی کا پہلو اتنا کمزور ہوتا ہے کہ وہ شیطانی راہوں ہر چلتے چلے جاتے ہیںاور اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انتباہ کیا جائے اورانہیں برے افعال سے بچنے کی نصیحت کی جائے۔دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جو گو اس روشنی اور نور سے محروم ہوتے ہیںجو مذہب کی اتباع میںانسان کو حا صل ہوتا ہے مگر ان کے اندر جذبہ شکر گذاری پایا جاتا ہے وہ خداتعالیٰ کی نعماء اور اسکی عطا کردہ قوتوں کا غلط استعمال نہیں کرتے بلکہ ان سے خود بھی فائد ہ ا ٹھاتے اوردوسروں کو بھی فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گویا ایک وہ لوگ ہوتے ہیںجو نیکی اور اخلاق سے حصہ رکھتے ہیں۔فرماتا ہے ہم نے دنیا میںلیل ونہار کا جو چکر رکھا ہوا ہے یعنی کبھی خدا کے نبی اور رسول دنیا کی اصلاح کے لیے آتے ہیں اور کبھی تاریکی اور ظلمت کا دور دورہ ہوتا ہے تم جانتے اس روحانی رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں کیا حکمت ہے؟ ہم کیوں رات کے بعد دن لاتے ہیں پھر کیوں تاریکی کے بعد آفتاب ہدائیت کا طلوع کرتے ہیں۔ ہماری غرض اس سے یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں جو لوگ بد اور گنہگار ہوں اور جو ہدائیت اور وعظ و تذکیر کے محتاج ہوں ان کو اس سلسلہ رسالت کے نتیجہ میں نیک بنایا جائیاور جو لوگ فطری نیکی کے مقام پر کھڑے ہیں انہیں خدا کا کلام اور الہام اس سے بھی اعلیٰ مقام یعنی شکر کی طرف لے جائے ۔غرض قرآن اس بات کو پیش کرتا ہے کہ ہر شخص کی اصلاح ہو سکتی ہے اگر اس نے انسان کو خرابی کے لئے ہی پیدا کیا ہوتا تو لیل و نہار کا یہ چکر جو تمہیں دنیا میں نظر آتا ہے نہ ہوتا۔اس کی بڑی اہم غرض یہی ہے کہ بدوںکو نیکی کی طرف لایا جائے اور نیکوں کو اعلیٰ درجہ کے روحانی مقام کی طرف کھینچا جائے۔ اسی طرح فرماتا ہے :وھم یصطرخون فیھا ربنا اخرجنا نعمل صالحاً الذی کنا نعمل اولم نعمرکم ما یتذکر فیہ من تذکر و جاء کم النذیر فذوقو ا فما للظالمین من نصیر(فاطر۴ع۱۶) یعنی قیامت کے دن جب دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالا جائیگا تو وہ چیختے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کہیں گے کہ اے خدا ہمیں اس جہنم میں سے نکال نعمل صالحاً غیرالذی کنا نعمل ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیںکہ ہم اب اپنے سابق اعمال کے خلاف نہائیت اعلیٰ درجہ کے کام کریں گے اور نیکی اور تقویٰ میں پوری طرح حصہ لیں گے ۔پہلے ہم چوری کیا کرتے تھے مگر اب ہم چوری نہیں کریں گے۔پہلے ہم ڈاکہ ڈالا کرتے تھے مگر اب ہم ڈاکہ نہیں ڈالیں گے ۔ پہلے ہم جھوٹ بولا کرتے تھے مگر اب ہم جھوٹ نہیں بولیں گے ۔ پہلے ہم نبیوں کا مقابلہ کیا کرتے تھے مگر اب ہم ان کا مقابلہ نہیں کریں گے۔اگر یہ صحیح ہوتا کہ انسان پیدائشی طور پر گندہ اور ناپاک ہے تو اللہ تعالیٰ کو جواب یہ دینا چاہیے تھا کہ کمبختو تم یہ کیا کہہ رہے ہو کہ ہم آئندہ نیک اعمال بجا لائیں گے میں نے تو تمہیںپیدا ہی اس لیے کیا تھا کہ تم چوری کرتے تم ڈاکہ ڈالتے تم جھوٹ اور فریب سے کام لیتے۔تم نبیوں کا مقابلہ کرتے یا یہ جواب دینا چاہئے تھا کہ تم نیکی کر ہی کس طرح سکتے ہو میں نے تو تمہاری فطرت میں خرابی رکھ دی ہے اور تم اس بات پر مجبور ہو کہ گناہوں اور بدیوںکا ارتکاب کرو مگر اللہ تعالیٰ یہ جواب نہیں دیتا بلکہ جواب یہ دیتا ہے کہ اولم نعمر کم ما یتذکرفیہ من تذکر کیا ہم نے تم کو اتنی مہلت نہیںدی تھی کہ جس میں انسان اگر نصیحت حاصل کرنا چاہتا تو آسانی سے نصیحت حاصل کر سکتا تھا ۔ہم نے تمہیںمہلت بھی دی تھی تمہیں کافی عمربھی عطا کی گئی مگر تم نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی عادات کی اصلاح کی طرف تم نے کوئی توجہ نہ کی ۔ اب تمہارا یہ کہنا کیا حقیقت رکھتا ہے کہ اگر ہمیںدنیا میں واپس لوٹا دیا جائے تو ہمیشہ نیک عمل کریں گے ۔ تمہیں ہماری طرف سے ایک بہت بڑا موقعہ دیا جا چکا ہے مگر تم نے اس کو ضائع کر دیا۔
    اب دیکھو یہاں اللہ تعالیٰ جرم کو ان کی طرف منسوب کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم کو اتنی عمر دی گئی تھی کہ اگر تم نصیحت حاصل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے مگر تم نے نصیحت حاصل نہ کی۔ حالانکہ اگر یہ درست ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانی فطرت میں خرابی رکھی گئی ہے اور وہ قانونِ الٰہی کی وجہ سے برے افعال کرنے پر مجبور ہے تو یہ جواب بالکل غلط تھا۔ خدا تعالیٰ کو تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ میاں تم تو نیک ہو ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ میں نے تمہیں پیدا ہی اس غرض سے کیا تھا کہ تمہیں دوزخ میں ڈالا جائے۔ دوسرا عذر یہ ہو سکتا تھا کہ ہم تو نصیحت حاصل کر لیتے چونکہ خدا نے ہماری ہدایت کا کوئی سامان نہ کیا اس لئے ہم نیکی سے محروم رہے! اللہ تعالیٰ اس عذر کو بھی توڑتا ہے اور فرماتا ہے و جاء کم النذیر تم یہ عذر بھی نہیں کر سکتے کہ ہم نے تمہاری ہدایت کا کوئی سامان نہیں کیا کیونکہ ہماری طرف سے متواترتمہارے پاس نذیر آئے وہ تمہیں خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی اور اس کی ناراضگی کے برے نتائج سے ڈراتے رہے مگر تم نے پھر بھی کوئی توجہ نہ کی۔ یہ دونوں جواب جبر کے عقیدہ کو بیخ و بن سے اکھیڑ کر پھینک دیتے ہیں اور ثابت ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو مجبور پیدا نہیں کیاورنہ جب کفار نے کہا تھا کہ ہمیں واپس کیا جائے ہم اعلیٰ درجہ کے اعمال بجا لانے کا وعدہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کہتا تم کس طرح نیک اعمال کر سکتے ہومیں نے توتم کو مجبور پیدا کیا تھا اور خود تمہاری فطرت میں ایسا بگاڑ رکھ دیا تھا کہ تم نیک اعمال پر مقدرت ہی نہیں رکھ سکتے تھے مگر وہ یہ جواب نہیں دیتا بلکہ جواب دیتا ہے تو یہ کہ میں نے تمہیں اتنی عمر دی تھی کہ جس میںاگر تم فائدہ اٹھانا چاہتے اور نصیحت حاصل کر کے اپنے اعمال میں اصلاح کرنا چاہتے تو آسانی سے کرسکتے تھے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ تم مجبور نہیں تھے بلکہ تمہارا اختیار تھا کہ تم جو رنگ چاہو اپنے اوپر چڑھالو اور تمہیں اس کا موقعہ بھی دے دیا گیا تھا۔
    دوسرا سوال یہ ہو سکتا تھا کہ ہم نصیحت تو حاصل کر لیتے مگر ذرائع بھی تو مہیا ہوتے۔ ہم اپنی عقلوں کی کوتاہی اور باپ دادا کی جہالت کی وجہ سے اگر ہدایت کو اختیار نہیں کر سکے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ اللہ تعالیٰ اس عذر کو بھی رد کرتا ہے اور فرماتا ہے تم یہ بات بھی ہمارے سامنے پیش نہیں کر سکتے کیونکہ ہم نے تمہارے پاس نذیر بھجوا دئے تھے اور اس طرح ہدایت اور ضلالت کی راہیں تم پر پوری طرح واضح کردی تھیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فذوقو فما للظالمین من نصیر تم ہمارے عذاب کو چکھو اور اس بات کو اچھی طرح کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔ تیسرا جواب ہے جو جبر کے عقیدہ کو رد کر رہا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے جبری طور پر لوگوں کو برے افعال کے لئے پیدا کیا ہے تو ظالم نعوذباللہ خدا قرار پاتا ہے وہ شخص ظالم نہیں کہلا سکتا جس سے جبری طور پر کوئی کام لیا جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں لوگوں کو ظالم قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ ہم ظالم نہیں تھے بلکہ ظالم تم تھے کہ ہدایت کے سامانوں اور مواقع کے حصول کے باوجود تم نے خدا کی طرف توجہ نہ کی اور نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑے رہے۔
    یہ آیات اس امر کا قطعی ثبوت ہیں کہ بعض مسلمانوں کا یہ خیال کہ انسان مجبور پیدا کیا گیا ہے بالکل غلط ہے۔انسان کو خدا نے اختیار دیا ہے کہ وہ اگر چاہے تو نیک بن جائے اور اگر چاہے تے شیطان کے پیچھے چل پڑے۔
    پانچواں خیال انسانی فطرت کے متعلق یہ پایا جاتا ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنے کرموں کا پھل بھگتنے کے لئے پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ بعض کرم برے ہوتے ہیں اس لئے ان کے کرنے والے بد اخلاق اور غریب کمزور اور برے بنائے گئے ہیں مگر جو لوگ اچھے اور تندرست اور امیر ہیں وہ بھی درحقیقت بدی سے پوری طرح آزاد نہیں ہیں کیونکہ ان کا ایک دوسری جون میں آنا بتاتا ہے کہ گناہ کے اثر سے وہ پوری طرح آزاد نہیں ورنہ وہ جونوں کے چکر سے آزاد کر دئے جاتے۔
    یہ خیال جسے تناسخ کہتے ہیں اس پر پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ اس خیال کی بنیاد ظن اور تخمین پر ہے۔ تناسخ کے ماننے والے کہتے ہیں دنیا میں ایک شخص اندھا کیوں پیدا ہوتا ہے۔ لنگڑا لولا کیوں پیدا ہوتا ہے۔ غریب اور نادار کیوں پیدا ہوتا ہے؟ یا ایک بچہ پیدا ہوتے ہی مر کیوں جاتا ہے؟ اور کیوں دنیا میں ہمیں یہ اختلاف نظر آتا ہے کہ ایک شخص امیر ہے تو دوسرا غریب ایک شخص صحیح سلامت ہے تو دوسرا لنگڑا لولا۔ ایک شخص عقلمند ہے تو دوسرا بیوقوف ۔ایک شخص طاقتور ہے تو دوسرا کمزور۔ یہ اعترض اٹھا کر تناسخ کے معتقد کہتے ہیں کہ چونکہ خدا کی طرف یہ ظلم منسوب نہیں ہو سکتا اس لئے معلوم ہوا کہ پچھلے جنموں کے کرم کی سزا بھگتنے کے لئے انسان اس دنیا میں آتا ہے چونکہ گزشتہ جنم میں بعض نے اچھے اعمال کئے تھے اور بعض نے برے اس لئے اس جہان میں بعض لوگ دکھوں میں مبتلا نظر آتے ہیں اور بعض لوگ عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر تناسخ کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ سوال کہ دنیا میں بعض لوگ اندھے کیوں پیدا ہوتے ہیں بعض لولے لنگڑے کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ بعض غریب اور مفلس اور نادار کیوں پیدا ہوتے ہیں؟اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں۔ فرض کرو ایک شخص خدا کے انصاف کا قائل نہیں وہ اس اعتراض کا یہ جواب دے سکتا ہے کہ اس اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ خدا ظالم ہے۔ایک دوسرا شخص یہ جواب دے سکتا ہے کہ کسی کا اندھا یا لولا لنگڑا ہونا قانون شریعت سے تعلق نہیں رکھتابلکہ قانون نیچر سے تعلق رکھتا ہے ۔ایک شخص ٹھوکر کھا کر نیچے گر جاتا ہے تو اس وقت یہ نہیں کہا جا ئے گا کہ اسے اپنے کسی سابق کرم کی سزا ملی ہے بلکہ نتیجہ یہ ہو گا کسی طبعی کی خلاف ورزی کرنے کا ۔اسی طرح اگر کوئی شخص اندھا پیدا ہوتا ہے یا لنگڑا پیدا ہوتا ہے یا بیمار پیدا ہوتا ہے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اسے اپنے کسی سابق بد عملی کی سزا مل رہی ہے بلکہ درحقیقت یہ کسی طبعی قانون کے وہ اثرات ہونگے جو مختلف حالات کے نتیجہ میں اس کے جسم پر ظاہر ہوئے ۔بہر حال جس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہوں۔ان میں سے کسی ایک جواب کو بلا وجہ ترجیح دے دینا عقل کے با لکل خلاف ہے کوئی وجہ ہونی چاہئے جس کی بنا پر اس جواب کو ترجیح دی جاسکتی ہو ۔ مگر ایسی کوئی وجہ آج تک قائلین تناسخ کی طرف سے پیش نہیں کی جا سکی۔
    دوسرے ہم قا ئلین تناسخ سے کہتے ہیں کہ تم جس سوال کو تناسخ کی تائید میں پیش کرتے ہو ہم اسی سوال کو تناسخ کی تردید میں پیش کر دیتے ہیں ۔اصل سوال یہ تھا کہ دنیا میں اختلاف کیوں ہے ؟تم نے اس کا جواب دیا کہ انسان کے سابق کرموں کا یہ نتیجہ ہے ۔ہم کہتے ہیںاگر اس دنیا کی زندگی کسی سابق جنم کے اعمال کا نتیجہ ہے اور انسان اپنے کرموں کی سزا بھگتنے اس دنیا میں آیا ہے تو یہ کیا بات ہے کہ ایک بچہ پیدا ہوتے ہی مر جاتا ہے اسے کونسی سزا ملی جس کے لئے اسے دنیا میں بھیجا گیا تھا؟اگر ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد بڑا ہو کر تکلیفیں اٹھائے مصیبتیں جھیلے مختلف قسم کے دکھ برداشت کرے تب تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیکھ لو اسے اپنے پچھلے اعمال کی سزامل رہی ہے لیکن ہم تو داکھتے ہیں دنیا میں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ادھر بچہ پیدا ہوتا ہے اور ادھر مر جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوتا کہ اسقاط ہو جاتا ہے اگر انسان اپنے کرموں کی سزا کے لئے پیدا ہوتا ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ بچہ جو پیدا پوتے ہی مر جاتا ہے یا وقت پورا ہونے سے پہلے جو ماں کے پیٹ سے گر جاتا ہے اس کونسی سزا ملی؟اس نے تو دنیا میں آکر کوئی تکلیف ہی نہیں اٹھائی ۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گورنمنٹ کسی کو قید خانہ میں بھیجے مگر قید خانہ کی ڈیوڑھی سے ہی اسے گھسیٹ کر واپس لے آئے ۔ایسا فعل یقینا عقل کے خلاف ہوگا ۔پس جہاں اس قسم کے حوادثات تناسخ کے خیال کی تائید میں پیش کئے جا سکتے ہیںوہاں یہ حوادث تناسخ کے خلاف بھی پیش کئے جا سکتے ہیں۔
    تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ کا عقیدہ درست ہے تو کیوں انسان کے موجودہ اعمال اس پر اثر انداز ہوتے ہیں ؟اگر دنیا میں ہو سزا بھگتنے کے لئے آیا ہے تو یقینا دنیا سے اسے کسی طرح چھٹکارا نہیں ہونا چاہئے ۔ فرض کرو ایک شخص کو اس کے سابق جنم کے برے اعمال کی سزا ملی ہے کہ ہو ۳۵ سال تک شدائد ومصائب میں مبتلا رہے تو اس کے بعد ضروری ہے کہ ۳۵ سال تک وہ اس سزا کو برداشت کرے ۔مگر ہم دیکھتے ہیں دنیا میںبعض دفعہ جب ایک شخص تکالیف برداشت کرنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پاتاتو وہ زہر کھا کر اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے حلانکہ اگر تناسخ درست تھا اور وہ ایک معین عرصہ کی قید بھگتنے کے لئے دنیا میں آیا تھا تو زہر کا اس پرکوئی اثر نہیں ہونا چاہئے تھا خواہ وہ لاکھ دفعہ زہر کھا تا اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوتا کیونکہ خدا نے اسے ایک معین سزا کے لئے دنیا میں بھیجا تھا ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں زہر کھا کر وہ اپنی تکلیف کا فوراً خاتمہ کر لیتا ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے گلے میں پتھر باندھ کر دریا میں غرق ہونا چاہے تو اس عقیدہ کے مطابق اسے غرق نہیں ہونا چاہئے کیونکہ خدانے اسے چالیس یا پچاس سال تک سزا بھگتنے کے لیے اس دنیا میں بھیجا ہے مگر ہمیں یہی نظرآتا ہے کہ جب کوئی شخص خود کشی کا ارادہ سے دریا میں غرق ہونا چاہے تو تناسخ کا عقیدہ اسے غرق ہونے سے نہیں بچاتا وہ خواہ چالیس سال کی قید لے کر دنیا میں آیا ہو زہر کھا کر یا دریا میں غرق ہو کر کئی سال پہلے اس عذاب سے نجات حاصل کر لیتا ہے اسی طرح وہ شخص جو ایک غریب گھرمیں پیدا ہوا ہے اگر اسے اپنے سابق اعمال کی سزا میں ایک غریب شخص کے گھر پیداکیا گیا ہے تو پھر اسے کبھی امیر نہیں ہونا چاہئے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کئی غریب دنیا میں ترقی کرتے کروڑ پتی بن جاتے ہیں ۔پنجاب ہندوستان اور ولائیت میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں جنہوں نے نہائیت غربت کی حالت سے ترقی کرتے کرتے اعلیٰ درجہ کی امارت حاصل کر لی ۔ وہ ادنیٰ حالت سے اٹھے اور ترقی کے اعلیٰ معیار پر جا پہنچے۔ پس اگر پچھلے جنم کے اعمال کی سزا بھگتنے کے لئے انسان اس دنیا میں آیا ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ زہر سے کیوں مرتا ہے ؟وہ تو ایک خاص مدت کی قید کیلئے آیا تھا۔ محنت سے کیوں مالدار ہو جاتا ہے وہ تو سزا کے طور پر ایک غریب شخص کے گھر میں پیدا کیا گیا تھا؟پھر تو چاہئے تھا کہ کوئی عمل اس کی حالت کو تبدیل نہ کر سکتا ۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ایک شخص کو قیدی بنا کر بھجے اور وہ اس دنیا میں آکر بادشاہ بن جائے ۔دنیوی حکومتوں کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی تو خدائی گورنمنٹ کے احکام کو بدلنے کی کوئی شخص کس طرح طاقت رکھتا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ خدا تو ایک شخص کو سزا کے طور پر بیمار کرے اور وہ علاج سے اچھا ہو جائے ۔ اگر یہ تسلیم کیا جائے گا کہ خدا نے سزا کے طور پر کسی شخص کو بیمار بنایا ہے تو بہر حال یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ وہ علاج سے اچھا نہیں ہو سکتا ۔ مگر دنیا کے نظارے جو ہمیں روزانہ دکھائی دیتے ہیں اس حقیقت کو باطل ثابت کر رہے ہیں ۔ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور علاج سے اچھے ہو جاتے ہیں ۔ غریب ہوتے ہیں اور محنت سے امیر ہوجاتے ہیں ۔زہر کھا تے ہیں اور اس کے اثر سے مر جاتے ہیں حلانکہ اگر ہم گذشتہ جنم کو مانیں تو پھر تسلیم کرنا پڑ تا ہے کہ نہ بیماریوں کا علاج ہو سکتا ہے نہ کوئی غریب سے امیر ہو سکتا ہے نہ زہر سے ہلاک ہو سکتا ہے اور نہ دنیا کا کوئی اور عمل اس پر اثر کر سکتا ہے ۔ سابق جنم کا کرم ماننے کے نتیجہ میں صرف ایک ہی زندگی آزاد رہ سکتی ہے اور وہ انسان کی سب سے پہلی زندگی ہے ۔ باقی ساری زندگیاں اس سزا کے ماتحت جبری طور پر لانی پڑیں گی جو پہلے جنم کے اعمال کے نتیجہ میں ملتی ہیں ۔
    چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ درست ہے تو وبائوں سے لوگ یا جانور کیوںمرتے ہیں؟آخر یہ کیا ہوتا ہے کہ یکدم ایک وبا پھیلتی ہے اور اس سے لاکھوں انسان اور جانور ہلاک ہو جاتے ہیں وہ کونسا جرم ہے جس کے نیتیجہ میں سب کو اکٹھی سزا ملتی ہے۔ سزا تو الگ الگ وقت کی ہوتی ہے مگر وبائوں کے نتیجہ میں ایک ہی وقت میں ملکوں کا صفایا ہوجاتا ہے ۔اسی طرح اگر تناسخ درست ہے تو جنگوں اور زلزلوں سے کیوں لاکھوں کا صفایا ہو جاتا ہے اور یہ آزادی کس خوشی کی تقریب پر دی جاتی ہے ؟دنیا میں تو کہا جاتا ہے آج بادشاہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اس خوشی میں سو(۱۰۰) قیدی چھوڑے جاتے ہیں ۔آج شاہی خاندان میں فلاں کی شادی ہوئی ہے اس خوشی کی تقریب میں اتنے لوگوں کو رہا کیا جاتا ہے ۔کیا اسی قسم کی تقاریب اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ہوتی ہیں ؟کہ وہ بھی ایک وبا بھیج دیتا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں انسان مر کر دنیا کی تکالیف سے نجات حاصل کر لیتے ہیں ۔زلزلہ بھیج دیتا ہے اور اس سے لاکھوں انسان ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح کبھی طاعون ۔ کبھی ہیضہ ۔ کبھیانفلوئنزہ اور کبھی ملیریا بھیج دیتا ہے ۔ گویا یہ وبائیں کیا ہیں انسپکٹرجنرل آف پرزنرز ہیں جو قیدیوں کو رہائی کی خوشخبری دیتی ہیں ۔ بہرحال اگر تناسخ درست ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آزادی کس خوشی کیتقریب پر دی جاتی ہے ْ اور کیوں دنیا میں وبائوں سے کبھی کم آدمی ہلاک ہوتے ہیں اور کبھی ذیادہ آدمی ہلاک ہوتے ہیں؟ کیا اس کے یہ معنی سمجھے جائیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہیں کبھی خوشی کی کوئی معمولی تقریب پیدا ہوتی ہے اور کبھی بڑی۔معمولی تقریب میں صرف چند قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا جاتا ہے مگر جب خوشی کی کوئی بہت بڑی تقریب پیدا ہو جائے تو زلزلہ بھیج دیا جاتا ہے یا طاعون نازل کر دی جاتی ہے یا ہیضہ اور ملیریا پیدا کر دیا جاتا ہے اور اس خوشی میں لاکھوں انسانوں کو رہا کر دیا جاتا ہے آخر جس طرح انہوں نے دنیا کے اختلاف کو دیکھ کر ایک توجیہہ پیدا کر لی تھی اسی طرح ہمارا حق ہے کہ ہم ان سے یہ پوچھیں کہ طاعون اور ہیضہ اور زلزلہ اور لڑائیوں وغیرہ سے یکدم لاکھوں کا صفایا کس بنا پر ہوتا ہے ؟ اور کونسی خوشی کی تقریب پر ارواح کی آزادی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سء حکم دیا جاتا ہے ؟
    پانچواں سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ درست ہے تو ہندو لوگ وبائوں اور زلزلوں سے بچنے کی تدابیر کیوں کرتے ہیں اور کیوں طاعون اور ہیضہ کے ٹیکے کراتے ہیں ؟کیونکہ انکے نزدیک تو یہ جون ایک سزاہے پس طاعان اور ہیضہ تو معافی کا پیغام ہے اس سے بچنے کے تو کوئی معنی ہی نہیں ۔ کیا کوئی قیدی آزادی کے پروانے سے بچنے کی کوشش کیا کرتا ہے؟ ااگر تناسخ ماننے والوں کے پاس کوئی شخص آئے اور ان سے سوال کرے کہ طاعون کا یا ہیضہ کا ٹیکہ مجھے کروانا چاہئے یا نہیں تو وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں ؟ کیا یہ کہتے ہیں کہ تم ٹیکہ مت کروائو۔ یہ زندگی تو قید خانہ ہے ۔ یہ وبائیں پرمیشور کی طرف سے آزادی کا پر وانہ ہیں ان کے آنے پر تو تم کو خوش ہونا چاہئے ۔یا وہ یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ بیشک ٹیکہ کرائو یہ ایک کامیاب علاج ہے اس سے تم اپنی زندگی کو بچالو گے ۔
    غرض ہندوئوں کا یہ عمل کہ وہ وبائوں اور زلزلوں سے بچنے کے لئے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کرتے ہیں اس امر کا ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک یہ زندگی ایک قید خانہ نہیںجس سے آزاد ہونے کی کوشش ہونی چاہئے بلکہ یہ نیکی کمانے کا ذریعہ ہے جسے لمبا کرنا نیک کام ہے۔
    چھٹا سوال یہ ہے کہ برسات میں بعض دفعہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر کروڑوں کیڑے مکوڑے کیوں پیدا ہو جاتے ہیں اور اس وقت کونسے گناہ خاص طور پر زائد ہو جاتے ہیں ؟ میں سمجھتا ہوں ایک ایک گائوں اور ایک ایک شہر میں برسات کے موسم میں اربوں ارب کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں پس سوال یہ ہے کہ یہ اربوں ارب کیڑا کس کے جرم کے نتیجہ میں ایک گھنٹہ بھر میں پیدا کر دیا جاتا ہے اور پھر یہ سزا کیا ہوئی کہ ابھی ان کی زندگی پر ایک گھنٹہ بھی نہیں گذرتا کہ ان میں سے بہت سے کیڑے مر جاتے ہیں گویا اربوں ارب ارواح کو قید میں ڈالا جاتا ہے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ہی ان سب کو آزاد کر دیا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ ان کیڑوں کا آناً فاناً کروڑوں بلکہ اربوں کی تعداد میں پیدا ہوجانا کس گناہ کا نتیجہ ہوتا ہے ؟ جو خاص طور پر موسم برسات میں زیادہ ہو جاتاہے اور پھر ان کی تھوڑی دیر کے بعد ہی رہائی کس خوشی کی تقریب میں ہوتی ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی شادی کی تقریب ہوتی ہے ؟ کہ اربوں ارب ارواح کو یکدم قید خانہ سے رہا کر دیا جاتا ہے ۔
    ساتواں سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ کو درست مانا جائے تو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ تمام کارخانہ عالم نعوذباللہ گناہ پر چل رہا ہے کیونکہ تناسخ کے قائلین کہتے ہیں کہ دنیا میں جانوروں کی پیدائش گناہ کی وجہ سے ہے ۔ کسی گناہ کی وجہ سے انسان بھینس کی جون میں جاتا ہے کسی گناہ کی وجہ سے انسان گائے کی جون میں جاتا ہے کسی گناہ کی وجہ سے گھوڑے کی جون میں جاتا ہے کسی گناہ کی وجہ سے انسان گدھے کی جون میں جاتاہے ۔ اسی طرح سبزیاں اور ترکاریاںوغیرہ نظر آتی ہیں چونکہ ان میں بھی جیو ہے اس لئے سبزیوں اور ترکاریوں کی جون میں بھی انسان کسی گناہ کی وجہ سے جاتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ گناہ کہ پیدائش ہے تو معلوم ہوا کہ دنیا کا کارخانہ محض گناہوں کے سہارے قائم ہے اگر گناہ کا وجود مٹ جائے تو وہ گائے بھینسیں جن کا انسان دودھ پیتا ہے وہ گھوڑے جن پر انسان سواری کرتا ہے وہ سبزیاں اور ترکاریاں جن کو انسان کھانے کے کام میں لاتا ہے سب کی سب معدوم ہو جائیں اور کارخانہ عالم بالکل با طل ہو جائے پھر یہ چیزیں ایسی نہیں جن کو صرف بد لوگ استعمال کرتے ہوں بلکہ نیک لوگ بھی جانوروں کے بغیر گذارہ نہیں کرسکتے وہ بھی اس بات پر مجبور ہیں کہ دودھ پئیں ۔ گھوڑوں کی سواری کریں فصل کے لئے ہل چلائیں اور اس طرح گائیوں اور بھینسوں اور گھوڑون اور بیلوں کی احتیاج کو تسلیم کریں گویا اس عقیدہ کے ماتحت نیک لوگ بھی اس دنیا میں گناہ کے بغیر گذر اوقات نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ارواح جو مختلف جونوں کی شکل میں اس دنیا میں آئی ہوئی ہیں عقیدہ تناسخ کے ماتحت انہیں سے دنیا چل رہی ہے ۔
    اس ضمن میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو انسان پہلی دفعہ پیدا ہوئے تھے وہ کیا کھاتے تھے اور پینے کے لئے کیا چیز استعمال کرتے تھے ۔ یہ امر ظاہر ہے کہ علم نباتات کے متعلق موجودہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ گیہوں اور سبزیاںوغیرہ اپنے اندر حس رکھتی ہیں جس کے دوسرے معنے ہیں کہ قائلین تناسخ کے نزدیک ان میں بھی جیو ہے اور جب تمام جیو والی اشیاء کی پیدائش قائلین تناسخ کے نزدیک گناہوں کی وجہ سے ہے تو طبعی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے انسان کیا کھاتے تھے؟بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سوال تو یہ ہے کہ پانی کو پانی اور ہوا کو ہوا خداتعالیٰ نے کیون بنایاہے؟ یہ فرق کرنا اس کے لئے کس طرح جائز ہو گیا ہے پس پانی بھی درحقیقت کسی سزا میں پانی بنا ہے اور ہوا بھی کسی سزا میں ہوا بنی ہے اور اگر یہ امر درست ہے تو سوال یہ ہے کہ جب پہلی دفعہ انسان پیدا ہوا تھا اور ابھی کرموں کے نتائج ظاہر نہیں ہوئے تھے اس وقت انسان کیا پیتے تھے اور کس چیز کی مدد سے سانس لیتے تھے ؟یہ بھی ایک سوا ل ہے کہ جس کا قائلین تناسخ کے پاس کوئی جواب نہیں ۔
    آٹھواں سوال یہ ہے کہ اگر گائیںبھینسیں گناہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں تو علم الحیوانات کے ماہرین کی تجاویز جانوروں کی ترقی کی نسبت کیوں استعمال ہوتی ہیں ؟کیا گائیں بھینسیں اگر اس محکمہ کی نگرانی میں رہیں تو لوگ اس قسم کے گناہ زیادہ کرنے لگ جاتے ہیں جن سے یہ جانور زیادہ پیدا ہوں؟
    تھوڑا ہی عرصہ ہوا گورنمنٹ نے اعلان کیا تھا کہ گذشتہ چھبیس(۲۶)سال میں ہندوستان کی گائیں بھینسیںآدھی رہ گئی ہیں ان کی تعداد بڑھانے کے لئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جانور پالنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ اس کمی کا ازالہ ہو۔اس اعلان پر ہندوئوں کو چاہئے تھا کہ گورنمنٹ کو نو ٹس دے دیتے کہ جانور بڑھانے کا یہ طریق بالکل غلط ہے ۔ گائیں بھینسیںفلاں فلاں گناہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں ۔اگر گورنمنٹ ان کی تعداد کو بڑ ھانا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ ملک میں ان گناہوں کو رائج کر دے گائیں بھینسیں خود بخود زیادہ ہو جائیں گی ۔مگر نہ ہندوئوں نے گورنمنٹ کو اس وقت کوئی ایسا نوٹس دیا اور نہ آئندہ دینے کے لئے کبھی تیار ہوسکتے ہیں ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ علم حیوانات کی تجاویز پر اگر عمل کیا جائے تو جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جب محض بعض مادی تدابیر پر عمل کرنے کے نتیجہ میں انکی تعداد بڑ ھ سکتی ہے تو یہ ثبوت ہے کہ وہ کسی گناہ کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوتے۔
    نواں سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ درست ہے تو حکومتیں شکار کی حفاظت کی تدابیر کیوں کرتی ہیں ؟انہیںتو چاہئے تھا کہ بجائے اس کے کہ شکار کی حفاظت کے ذرائع اختیار کرتیں لوگوں کو خاص خاص گناہوں کا حکم دے دیتیں۔ مثلاً کہا جاتا کہ لوگوں کو چائیے کہ وہ آج کل فلاں فلاں گناہ کریں کیونکہ تیتر کم ہو گئے ہیں کیونکہ تناسخ کے ماتحت بعض خاص قسم کے گناہ ہی ان کی پیدائش کا باعث بن سکتے ہیں ۔ کسی اور ذریعہ سے ان میں زیادتی نہیں ہو سکتی۔
    دسواں سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ درست ہے تو اول تو قتل ہو یہ نہیں سکتا ۔ جس شخص کے متعلق خدا نے یہ کہا ہے کہ اسے چالیس سال تک دنیا میں رکھا جائے کوئی شخص اسے تیس یا پینتالیس سال کی عمر میں ہلاک کس طرح کر سکتا ہے؟بیشک وہ اپنی طرف سے اس کی گردن پر تلوار کا وار کر ے پھر بھی جب خدا نے اسے چالیس سال کے لئے دنیا میں بھیجا ہے وہ اس سے قبل دنیا کے قید خانہ سے رہا نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی شخص دوسرے کو قتل کرنے میں کامیاب ہو جاتاہے تو اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ اس نے خداتعالیٰ کے منشااور اس کے حکم کے ماتحت دوارے کو قید سے آزاد کیا ہے ۔اس صورت میں اسے قتل کی سزا دینا بالکل غیر معقول بات ہے اسے تو پھولوں کے ہارپہنانے چاہئیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کر دیا ۔ جیسے جلادجب کسی کو پھانسی دیتا ہے تو وہ زیر الزام نہیں آتا کیونکہ وہ افسر کے حکم کے مطابق پھانسی دیتا ہے اپنی مرضی سے نہیں دیتا۔اسی طرح جس کو خدا نے قید کیا ہے اول تو اسے آزاد کرنے کی کسی میں طاقت نہیں ہو سکتی اور اگر کسی نے آزاد کر دیا ہے تو یقینااس نے خداتعالیٰ کے منشاء سے ہی کیا ہے ایسی صورت میں اسے سزا کیوں ملے پھر تو قاتل کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالنے چاہئیں کہ اس نے ایک شخص کو قید خانہ سے الہیٰ مشیئت کے ماتحت رہا کر دیا ۔غرض یہ عقیدہ بھی بدھوں کے عقیدہ کی طرح عقل کے با لکل خلاف ہے ۔اصل حقیقت وہی ہے جو قرآن کریم نے بتائی ہے کہ انسان کو معتدل القویٰ پیدا کیا گیا ہے اس میں کوئی خاصیت ایسی نہیں جسے خالص طور پر برا کہا جا سکے اوع کوئی طاقت ایسی نہیں جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ وہ خالص طور پر نیکی کے لئے ہی استعمال ہو سکتی ہے ۔ معتدل القویٰ ہونے کے معنے درحقیقت یہی ہیں کہ بعض حالات میں وہ بدی کی طرف چلا جاتاہے اور بعض حالات میں نیکی کی طرف چلا جاتا ہے ۔ ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ جب انسان بدی کی طرف چلا جاتا ہے تو انسان کو احسن تقویم میں پیدا کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟اس کا جواب یہ ہے کہ اسی غرض کے لئے تو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء بھیجتا اور لوگوں کی ہدائیت کے لئے شریعت کا نزول کرتا ہے ۔ جیسے آدم ؑاور نوحؑ اور موسیٰؑ اور محمدﷺ سب اسی لئے آ ئے کہ گرے ہوئے لوگوں کو اٹھا کر آستانہ الوہیئت پر پہنچا دیں بیشک بنی نوع انسان اپنی قوتوں کا غلط استعمال کر کے بعض دفعہ خدا تعالیٰ سے دور جا پڑ تے ہیں اور وہ ہوا وہوس کی اتباع کر کے شیطان کے غلام بن جاتے ہیں مگر انبیاء انکی تربیت کر کے پھر ان کو خدا تک پہنچاتے ہیں ۔ پھر انکی استعدادوں کو ابھار کر انہیں صفات الٰہیہ کا مظہر بنا دیتے ہیں ۔
    ثم رددنہ اسفل سا فلین O پھر ہم نے اس کو ادنیٰ درجوں سے (بھی) بد درجہ کی طرف لوٹادیا
    تفسیر: رددناہ میں ضمیر خداتعالیٰ کی طرف پھرتی ہے اور یہ اس امر کے ا ظہار کے لئے کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ بدکار کو بطور سزا اس مقام سے گرا دیتا ہے یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ اس سے بدی کروا تا ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ آدم کو جنت میں سے ہم نے نکالا ۔اور یہ بھی فرمایا ہے کہ آدم کو جنت میں سے شیطان نے نکالا۔ چنانچہ فرماتا ہے یابنی آدم لا یفتننکم الیشطان کما اخرج ابویکم من الجنہ (اعراف ۲ع۹) یہ ظاہر ہے کہ آدم ؑ کو جنت میں سے شیطان کانکالنا اور آدم ؑ کو جنت اللہ تعالیٰ کا نکالنا ایک معنوں میں نہیں آسکتا۔ بہر حال تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا نکالنا اور رنگ رکھتا ہے اور شیطان کا نکالنا اوررنگ رکھتا ہے اور ان دونوں میں کوئی نہ کوئی فرق پایا جاتا ہے ۔وہ فرق یہی ہے کہ شیطان چونکہ اس غلطی کا باعث بنا تھا جس کے نتیجہ میں آدمؑ کو جنت میں سے نکالا تھا ۔لیکن چونکہ نتیجہ خدا نے پیدا کیا تھا اس لئے دوسرے مقام پر یہ کہ دیا گیا کہ آدمؑ کو خداتعالیٰ نے جنت میں سے نکالا تھا ۔ گویا شیطان کا نکالنا بلحاظ فعل بد کے ہے اور اللہ تعالیٰ کا نکالنا بلحاظ اس سزا کے ہے جو اس فعل کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئی اسی طرح رددنا ہ اسفل سا فلین کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو بگاڑتا ہے۔ بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جب انسان بگڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سزا کے طور پر اسفل سا فلین میں بھیج دیتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیںفرمایا کہ ثم رددنا ہ سارقا یا ثم رددناہ قاتلا یا ثم رددناہ مذنباً بلکہ فر مایا ہے ثم رددناہ اسفل سافلین پھر ہم اس کو ادنیٰ ترین جگہ کی طرف لے جاتے ہیں وہ ایک جرم کرتا ہے ہم اس کو سزا دیتے ہیں وہ پھر جرم کرتا ہے ہم اسے پھر سزا دیتے ہیں اور اس طرح اسے ذلیل اور ادنیٰ حالت کی طرف لے جاتے ہیں ۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں اسفل سافلین ہ ضمیر کا حال واقع ہوا ہو یعنی ذوالحال فاعل نہ ہو بلکہ مفعول ذوا لحال ہو۔ اس صورت میں آیت کے یہ معنی ہو نگے کہ پھر انسان کو ہم نے اپنے دروازہ سے لوٹایااس حال میں کہ وہ اسفل سافلین تھا۔ ان معنوں کے لحاظ سے وہ اعتراض واقع نہیں ہو سکتا جو پہلے معنوںپر عائدہوتا ہے اور ثم رددناہ اسفل سافلین کا یہ مفہوم ہوگا کہ ہم انسان کو اس کے مقام سے ہٹا دیتے ہیں ایسے حال میں کہ وہ اسفل سافلین ہوتا ہے ۔ یعنی جب وہ گنہگار ہو کر ہماری نظروں سے گر جاتا ہے تو ہم اسے اپنے دربار سے واپس کردیتے ہیں۔
    اس آیت کے ایک معنی فردی لحاظ سے ہیں اور ایک معنی اجتماعی لحاظ سے۔ اجتماعی لحاظ سے اس کے یہ معنے ہیں کہ ہدایت پہلے ہے اور ضلالت بعدمیں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم O ثم رددناہ اسفل سافلینO پہلے ہم انسان کیلئے اس کی ہدایت کے سامان مہیا کرتے ہیں بعدمیں بگڑ کر وہ ضلالت اور گمراہی کی راہیں اختیار کرلیتا ہے۔ یہی اسلام اور ارتقائیوں کا مابہ الاختلاف ہے ۔ ارتقائی لوگ ضلالت کو پہلے بتا کر پھر ارتقائی طور پر مذہب کو پیش کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ جب انسان نے عقل کامل حاصل کی تو اللہ تعالیٰ نے آدم کو بھجوایا۔ پھر بگڑے تو نوحؑ کو بھجوایا۔ پھر بگڑے تو موسیٰؑ کو، اب پھر بگڑے تو محمد رسول اللہ ﷺ کو۔ گویا ابتداء میں احسن تقویم کانمونہ ہوتا ہے۔ اور بگاڑ ہمیشہ بعد میں آتا ہے۔ پس جن معنوں میں ارتقاء کو فلسفی پیش کرتے ہیں وہ غلط ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ پہلے مظاہرہ تین پھر زیتون پھر طور اور پھر بلد الامین ہوا۔ اور اس طرح ہر مظاہرہ نیکی کا پہلے سے بڑا تھا۔ یہ ارتقاء درست ہے مگر یہ کہ پہلے ضلالت بھی پھر ترقی کرکے ہدیات آئی ، یہ غلط اور سراسر غلط ہے۔
    یورپین فلسفی مسئلہ ارتقاء کو اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا خیال قوموں میں آہستہ آہستہ پیدا ہو اہے۔ سب سے پہلے مختلف اقوام میں ان اشیاء کی پرستش شروع ہوئی ہے جن سے انسان سے خائف ہوا۔ جس طرح ایک بچہ ڈر کر لجاجت اور گریہ زاری شروع کردیتا ہے اسی طرح جب انسان بعض چیزوں سے مرعوب ہوا تو اس نے ان کی پرستش شروع کردی۔ اس نے دیکھا کہ آسمان سے بجلی گری ہے اور اس سے چند آدمی ہلاک ہوگئے ہیں ۔ وہ ڈرا اور اس نے سمجھا کہ یہ ڈرنے کی چیز ہے اور اس کی عبادت شروع کردی۔ پھر اس نے سانپ کو دیکھا کہ اس کے ڈسنے سے فلاں شخص مرگیا ہے تو اسے خیال پیدا ہوا کہ یہ ڈرنے کی چیز ہے۔ اور اس کی عبادت شروع کردی۔ پھر اس نے دریا میں کسی کو ڈوبتے دیکھا تو خیال کرلیا کہ یہ ڈرنے کی چیزہے اور اس کی عبادت شروع کردی۔ پھر پہاڑ کی کھڈ میں کسی کو گر کر ہلاک ہوتے دیکھا تو خیال کرنا شروع کردیا کہ پہاڑ بھی ڈرنے کی چیز ہے اور اس کی عبادت شروع کردی۔ غرض جس جس چیز سے ڈرا اس کے آگے ہاتھ جوڑنے لگا مگر پھر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا انسان نے ادنیٰ چیزوں سے نظر اٹھا کر بالا ہستیوں کو پوجنا شروع کردیا۔ پھر کچھ اور عرصہ کے بعد یہ بالا ہستیاں غیرمادی قرار پاگئیں اور آخر ایک واحد ہستی جو سب پر فائق تھی تجویز ہوئی۔ پس ان کے نزدیک ارتقاء اس رنگ میں ہوا ہے کہ مادیات سے نظر اٹھاتے ہوئے انسان آخر ایک غیرمرئی خدا کی پرستش میںمصروف ہوگیا۔ لیکن قرآن کریم کہتا ہے یہ غلط ہے کہ پہلے ضلالت تھی اور ہدایت بعد میں آئی۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ نیکی پہلے تھی اور بدی بعدمیں آئی۔ پہلے آدمؑ آئے اور انہوں نے تمدن کی بنیاد رکھی پھر خرابی پیدا ہوئی تو نوحؑ آئے، پھر خرابی پیدا ہوئی تو موسیٰؑ آئے ، پھر خرابی پیدا ہوئی تو محمد رسول اللہ ﷺ آئے۔ غرض نیکی کا دور پہلے ہے اور بدی کا بعد میں۔ یہی فلسفی ارتقاء اور قرآنی ارتقاء میں فرق ہے۔ قرآن کریم کے نزدیک دور حسنات پہلے ہے اور دور سیئات بعد میں۔ لیکن فلسفی اصول کے ماتحت دور سیئات پہلے اور دور حسنات بعد میں۔
    فرد کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کو ہم نے ہدایت دی اور اعلیٰ درجہ کی طاقتیں نیکی میں ترقی کرنے کیلئے بخشیں۔ لیکن جب اس نے ان کا غلط استعمال کیا تو وہ اسفل سافلین میں گر گیا۔ یعنی انسان کی دونوں حالتیں دوسری مخلوق سے بڑی ہیں۔ جب نیکی کی طرف آتا ہے تو سب مخلوق سے بڑھ جاتا ہے اور جب بدی کی طرف گرتا ہے تو ساری مخلوق سے گرجاتا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اضداد کا مالک بنایا ہے۔ نیکی میں حصہ لیتا ہے تو ساری مخلوق سے بڑھ جاتا ہے اور بدی میں حصہ لیتا ہے تو کتوں اور سوروں سے بھی گرجاتا ہے۔ یایوں کہو کہ وہ ترقی کرتاہے تو فرشتوں سے بھی بڑھ جاتا ہے اور گرتا ہے تو شیطانوں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔ گویا لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم میں بالقویٰ قوی کا ذکر ہے اور ثم رددناہ اور الاالذین امنوا میں بالظہور قویٰ کا ذکر ہے۔ یعنی بالقویٰ تو سب کو اچھے قویٰ ملے ہیں مگر جب ان کا ظہور ہوتا ہے تو دو طرح ہوتا ہے۔ یا تو انسان مومن بن جاتا ہے اور یا کافر بن جاتا ہے۔ مومن بن کر اوپر کو نکل جاتا ہے اور کافر بن کر نیچے کی طرف گر جاتا ہے۔
    الاالذین امنوا و عملوا الصلحت فلھم اجر غیر ممنون O باستثناء ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے مناسب حال عمل کئے سو ان کیلئے ایک نہ ختم ہونے والا (نیک) بدلہ ہوگا۔
    تفسیر: اس آیت میں اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کا استثناء کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لاتے اور اعمال صالحہ کی بجاآوری میں ہمیشہ مشغول رہتے ہیں ان کو ہم اسفل سافلین میں نہیں لوٹاتے۔ کیونکہ وہ فطرت کو صحیح راستہ پر چلاتے اور اپنی قوتوں کا جائز اور برمحل استعمال کرتے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم کے ذکر میں ثم رددناہ اسفل سافلین کو پہلے کیوں رکھاہے۔ اور الاالذین امنوا و عملوا الصلحت کا ذکر پیچھے کیوں کیا ہے؟ اور اس تقدیم و تاخیر میں کی حکمت ہے۔ ا س کا جواب یہ ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ چونکہ طبعی اور فطری قویٰ کے صحیح استعمال کا نام ہے اور جو شخص احکام الٰہیہ پر ایمان لاتا ہے اور پھر ان کے مطابق اعمال صالحہ بھی بجالاتا ہے وہ درحقیقت اس راستہ پر چلتا چلا جاتا ہے جو فطرت کا راستہ ہے اور اس کے نتیجہ میں اسے مذہب جیسی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ اور وہ ایمان اور اعمال کی برکات سے متمتع ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا الا کہہ کر علیحدہ ذکر فرماتا ۔ اور اس طرح اسفل سافلین میں جانے والوں اور فطری استعدادوں سے صحیح طور پر کام لینے والوں میں ایک مابہ الامتیاز قائم ہوجاتا۔ رہا یہ سوال کہ اسفل سافلین میں گرنے والوں کا پہلے کیوں ذکر کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ لوگ اپنی پیدائش کے مقصد کو فراموش کرنے والے تھے اس لئے ضروری تھا کہ جب یہ ذکر کیا گیا تھا کہ ہم نے انسان کو معتدل قویٰ پیدا کیا ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور بھلائی کی قوتیں رکھ دی ہیں وہاں ساتھ ہی اس شبہ کا ازالہ بھی کردیاجاتا کہ اگر ایسا ہے تو بعض لوگ بدکیوں ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کا جواب یہ دیا ہے کہ گو ہم نے انسان کو اسی مقصد کیلئے پیدا کیا ہے مگر پھر بھی بعض لوگ چونکہ اپنی فطرت کو مسخ کردیتے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیں وہ مقام رفعت سے گر کر ذلت اور ادبار کے گڑھے میں جا پڑتے ہیں اور انسانیت کیلئے ان کا وجود ننگ و عار کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ ان کا اپنا قصور ہوتا ہے خداتعالیٰ اس کا ذمہ دار نہیں۔ اس کے بعد الا الذین امنوا و عملوا الصلحت فلھم اجر غیر ممنون کہہ کر ایمان لانے والوں اور عمل صالحہ کی بجاآوری میں مشغول رہنے والوں کا استثنیٰ کردیا اور بتادیا کہ جو لوگ احسن تقویم پر قائم رہتے اور اس رستہ پر چلتے چلے جاتے ہیں جو فطرت صحیحہ کا ہے اللہ تعالیٰ ان کو دولت ایمان سے مشرف کردیتاہے۔ اور انہیں اس بات کی بھی توفیق عطا فرمادیتا ہے کہ وہ اعمال صالحہ بجالائیں۔ گویا ایمان اور عمل صالحہ کا راستہ فطرت صحیحہ کی لائن کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ جو لوگ فطرت کو بگاڑ لیتے ہیں اور اپنے قویٰ استعدادیہ سے صحیح رنگ میں کام نہیں لیتے وہ تو اسفل سافلین میں جاگرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو فطری اور طبعی راستہ پر چلتے چلے جاتے ہیں اپنی قوتوں کو برمحل استعمال کرتے ہیں اور فطرت کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں کرتے ان کو ایمان بھی عطا کیا جاتا ہے اور ان میں اعمال صالحہ بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ اسفل سافلین میں نہیں لوٹائے جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو غیرممنون یعنی جزائے غیر مقطوع حاصل ہوتی ہے۔ اور اس طرح صحیح علم اور اس کے صحیح استعمال کی وجہ سے وہ ہمیشہ کیلئے اعلیٰ انعامات کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ امنوا میں صحیح علم کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ علم جو مناسب حال ہو اور عملوا الصلحت میں اس علم کے صحیح استعمال یعنی صحیح عمل کی طرف اشارہ ہے اور یہی دو چیزیں ہیں جو روحانی ترقی میں کام آیا کرتی ہیں۔
    فما یکذبک بعد بالدین O پس اس (حقیقت کے کھل جانے) کے بعد کونسی چیز تجھ کو جزا و سزا کے معاملے میں جھٹلاتی ہے۔
    حل لغات: کذبہ کے معنے ہوتے ہیں نسبہ الی الکذب اس کی طرف کذب کا ارتکاب منسوب کیا۔ قال لہ انت کاذب یعنی اس کی نسبت کہا کہ تو جھوٹا ہے وجعلہ کاذبا یا اس کو کاذب قرار دیا (اقرب)۔ الدین کے معنے ہیں الجزاء والمکافاۃ جزا سزا ۔ الطاعۃ اطاعت۔ الحساب حساب۔ القہر والغلبۃ والاستعلاء غلبہ۔ السلطان والملک والحکم بادشاہت۔ التدبیر تدبیر۔ الاسم لجمیع مایعبد بہ اللہ مختلف مذاہب کا عبادت کا طریق۔ الورع پاکیزگی۔ المعصیۃ گناہ۔ الاکراہ جبر۔ الملۃ مذہب۔ العادۃ عادت۔ القضاء قضاء۔ الحال حال۔ الشان شان (اقرب)۔
    تفسیر: کشاف کے نزدیک فما یکذبک بعد بالدین سے مراد یہ ہے کہ کونسی چیز تجھے ان دلائل کے بعد اس بات پر ابھارتی ہے کہ جزا سزا کا انکار کرکے تو کاذب ہوجائے۔ گویا ان کے نزدیک یکذب کا خطاب کفار سے ہے اور اس کے معنے جھٹلانے کے نہیں بلکہ اپنے آپ کو جھوٹا اور کاذب بنانے کے ہیں۔ عام طور پر ان معنوں کو قبول کیا گیا ہے۔ مگر یہ درست معلوم نہیں ہوتے۔ یہاں خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے اور قاضی اور فراء کا یہی قول ہے اور مراد یہ ہے کہ جزا سزا کے متعلق اب تیری کون تکذیب کرسکتا ہے۔
    یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ ماً ااپنے معروف معنوں کے سوا کبھی من کے معنے بھی دیتا ہے یہاں مصدری معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ یا تو اپنے معروف معنوں میں یعنی غیرذوی الا رواح کے لئے استعمال ہوا ہے یا من کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اگر یہاں ما کا استعمال غیر ذی روح کے لئے سمجھا جائے تو فما یکذبک کے معنے ہونگے وہ کونسی چیز ہے جو تجھے جھٹلاتی ہے اور اگر ما کو من کے معنوں میں سمجھا جائے تو فما یکذبک بعد با لدین کے معنے ہونگے وہ کونسا شخص ہے جو تجھے جھٹلاتا ہے اس دلیل کے بعد اور بالدین کے معنے ہو نگے دین یا جزا سزا کے متعلق (با کے معنے اس صورت میں نی کے کئے جائیں گے )یا دین کے ذریعہ سے یعنی یہ تین مثالیں جو اوپر پیش کی جا چکی ہیں کہ آدمؑ آئے شیطان نے ان کا مقابلہ کیا اور اس نے سمجھا کہ میں آدم کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائوں گا مگر شیطان نے ہی شکست کھائی اور آدم کامیاب وبامراد ہوا۔پھر نوح آئے دشمن نے ان کا مقا بلہ کیا ان کو ناکام کرنے کے لئے اس نے پورا زور لگایا اور سمجھا کہ میں نوح کو شکست دینے میں کا میاب ہو جائوں گا مگر آخر نوح ہی کامیاب ہوئے اور ان کا دشمن ناکامی کی حالت میں تباہ ہو گیا۔اس کے بعد موسیٰ آئے ان کے مقابل میں بھی دشمن اپنے لشکر سمیت اٹھا اور اس نے موسیٰ کو ناکام کرنے کے لئے پورا زور لگایا مگر آخر موسیٰ ہی کا میاب ہوئے اور دشمن نا کام ہوا ۔ ان تین مثالوں کے بعد تیرے دشمن کس دلیل کی بنا پر تجھے جھٹلاسکتے ہیں اور کونسی بات ہے جووہ تیرے خلاف پیش کر سکتے ہیں ۔وہ کہیں گے کہ تو کمزور اور نا تواں ہے تو ہمارے مقا بلہ میں کا میاب نہیں ہو سکتا مگر کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آدم بھی کمزور تھا ۔ نوح بھی کمزور تھا ۔موسیٰ بھی کمزور تھا ۔ اور ان کے متعلق بھی یہی سمجھا جاتا تھا کہ وہ کا میاب نہیں ہونگے پھر اگر وہ اپنی کمزوری کے با وجود کا میاب ہو گئے تو تو کمزور ہونے کے باوجود ان پر کیوں غالب نہیں آسکتا ۔ وہ کہیں گے تو نہتہ ہے اس لئے ہمارے مقابلہ میں تو جیت نہیں سکتا ۔ مگر وہ اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ آدم بھی نہتا تھا ۔نوح بھی نہتا تھا ۔موسیٰ بھی نہتہ تھا ۔پس وہ اگر نہتے ہو کر دنیا پر غالب آگئے تو تو نہتہ ہو کر کیوں دنیا پر غالب نہیں آسکتا ؟ غرض فرماتا ہے فما یکذبک بعد با لدین اے محمدﷺ ان مثالوں کے بعد یہ لوگ تیرے انعام پانے اور اپنے ہلاک ہونے میں دین حقہ کہ بنا پر کس طرح شک کر سکتے ہیں۔ان مثالوں کے بعد کونسی دلیل ہے جو ان کو شبہ میں مبتلا رکھ سکتی ہے یا کون سا انسان ہے جو دین کی بنا پر تیری تکذیب کرسکتا ہے ۔ گذشتہ انبیاء کے واقعات تیری صداقت کو روز روشن کی طرح واضح کر رہے ہیںاور ہر شخص جو تعصب سے خالی ہو کر ان پر غور کرے وہ یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوگا کہ فطرت صحیحہ آخر بنی نوع انسان کی مدد کے لئے ابھر آ تی ہے اور بنی نوع انسان دیر تک صداقت کا انکار نہیں کر سکتے ۔ پس جس فطرت کے ہتھیار سے سابق انبیاء اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے اسی طرح تو بھی اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا ۔ دنیا بیشک مخالفت کرے وہ جس قدر منصوبے سوچنا چاہتی ہے سوچ لے ۔ آخر وہی ہو گا جو ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے کہ فطرت صحیحہ خدا کے رسول کی مدد کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور وہ غالب آگیا ۔اور اس کے دشمن ذلت اور ناکامی کی موت مرے۔
    دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ان پہلی تین مثالوں کی موجودگی میں خدا تعالی کی طرف سے آنے والے دین یعنی الہامی دین کا یہ لوگ کس طرح انکار کر سکتے ہیں۔ ان معنوں کے رو سے یہاں دین کے معنے جزا سزا کے نہیں ہونگے بلکہ دین کے معنے شریعت کے ہونگے اور آیت کا یہ مفہوم ہوگا کی ان دلائل کے بعد دین کے معاملہ میں کون شخص تیرا انکار کر سکتا ہے جب وہ مانتے ہیں کہ آدم کو بھی الہام ہوا ۔نوح کو بھی الہام ہوا ۔موسیٰ کو بھی الہام ہوا اور یہ لوگ خدا تعالی کی طرف سے لوگوں کے لئے دین لائے تو اب کس طرح کہتے ہیں کہ خدا تعالی کی طرف سے الہام نہیں ہو سکتا یا اس کی طرف سے کوئی نیا دین لوگوں کی ہدائیت کے لئے نازل نہیں ہو سکتا ۔
    تیسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ ان دلائل کے بعد آیا کوئی بھی مذہبی دلیل تیرے خلا ف پیش کی جا سکتی ہے یقینا اگر وہ غور کریں تو انہیں تیری تکذیب کے لئے کسی مذہبی دلیل کا سہارا نہیں مل سکتا کیونکہ آدم ۔نوح اورابراہیم کی سنت تجھ میں پہلے موجود ہے جس معیار پر ان نبیوں کو پرکھا گیا اگر انہی دلائل پر تجھے پرکھا جائے تو تیری صداقت یقینا ثابت ہو گی ۔ تکذیب کا موجب وہی دلیل ہو سکتی ہے جس کی زد ان کے مسلمہ نبیوں پر نہ پڑتی ہو اور یہ ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے ۔ ان کے عقلی ڈھکونسلے تیرے ہی خلاف نہیں پڑتے بلکہ سب سابقہ انبیاء کے خلاف بھی پڑتے ہیں۔
    چوتھے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ کیا اس کے بعد کوئی شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ میں تدبیر کرکے تجھے جھوٹا ثابت کر دوں گا ۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ دین کے ایک معنے تدبیر کے بھی ہیں ۔پس آیت کا یہ مطلب ہوا کہ کیا اتنے بڑے نشانوں کے بود جو ہم نے تیری صداقت میں ظاہر کئے ہیں کوئی شخص یہ خیال بھی کر سکتا ہے کہ تو ہار جائے گا اور دشمن جیت جائے گا ۔
    آدم آیا تو دشمن نے اس کے خلاف کتنی تدابیر کی تھیں نوح آیا تو اس کو ناکام بنانے کیلئے دشمن نے کیسی کیسی تدابیر اختیار کی تھیں۔ موسی آیا تو اس کی شکست کیلئے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے کیسی کیسی کوششوں سے کام لیا تھا ۔ پھر اگر پہلے انبیاء کے دشمن نا کا م ہوگئے اور ان کی تدابیر کسی کام نہ آئیںتو یہ لوگ کس طرح خیال کر سکتے ہیں کہ ہم محمدﷺکے مقا بلہ میں اپنی تدابیر سے غالب آجائیں گے ۔
    پانچویں معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ تقوی قائم رکھتے ہوئے کون شخص تیری مخالفت کریگا ۔ کیونکہ دین کے ایک معنے یہ ورع یعنی تقوی اور روحانیت کے بھی ہیں اور مطلب یہ ہے کہ خدا تعالی کی خشیت اور اسکی سزا کا خوف اپنے دل میں رکھتے ہوئے اور تقوی اور روحانیت کی راہوں پر چلتے ہوئے کوئی شخص تیری مخالفت نہیں کر سکتا ۔ صرف وہی گندے اور ناپاک طبع دشمن تیری مخالفت میں کھڑے ہو سکتے ہیں جن کے اندر تقوی کا ایک شائبہ بھی نہ ہو اور جو نیکی اور روحانیت کے مقام سے ایسے ہی دور ہوں جیسے مشرق سے مغرب دور ہوتا ہے ۔
    چھٹے معنے یہ ہیں کہ اب اسکے بعد کون اکراہ کے ساتھ تیری تکذیب کریگا یعنی سابق دشمنوں کا انجام دیکھ کر پھر کون بد نیت ہوگا جو جبر کے ہتھیار سے تیرا مقابلہ کرنا چاہے اور یہ خیال کرے کہ میں مار پیٹ کر سیدھا کر لوں گا پہلے نبیوں کو بھی مارنے پیٹنے کی دھمکیاں دی گئیں تھیں مگر کیا ان کے دشمن کامیاب ہو گئے دشمن کا اکراہ اس کے کسی کام نہ آیا اور اس کا جبر خدا تعالی کے دین کی اشاعت کو روک نہ سکا ۔ ان مثالوں کے بعد اب ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال کس طرح آسکتاہے کہ ہم نے اگر جبرو تشدد سے کام لیا تو ہم کامیاب ہو جائیں گے اللہ تعالی کا دین بہرحال پھیل کر رہے گا ۔اسلام دنیا پر غالب آئے گا اور کسی قسم کی روک اس کی ترقی میں حائل نہیں ہو سکے گی۔
    الیس اللہ باحکم الحکمینO کیا (اب بھی کوئی خیال کر سکتا ہے کہ )اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں
    تفسیر: فرماتا ہے کیا ان سارے دلائل اور نصیحتوں کو سن کر بھی ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اللہ تعالی سے بہتر فیصلہ کرنیوالا اور کوئی نہیں ہے ۔ جس بات کا وہ فیصلہ کر دے اس کو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی روک نہیں سکتی ۔اس نے فیصلہ کیا کہ آدم کامیاب ہو سو وہ کامیاب ہو گیا ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ نوح کو اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل ہو سو اسے غلبہ حاصل ہو گیا اس نے فیصلہ کیا کی موسی کو ترقی حاصل ہو سو اسے ترقی حاصل ہو گئی اب اس نے فیصلہ کیا ہے کہ محمد ﷺ کو ترقی دے سو اسے ترقی حا صل ہو جائے گی ۔اور مکہ والوں کی ہوائی باتیں اللہ تعالی کے فیصلہ کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکیں گی اور دنیا دیکھ لے گی کہ آخری فیصلہ اللہ تعالی کے ہی ہاتھ میں ہے ۔






    سورۃ العلق مکیۃ و ھی تسعہ عشرۃآیۃ دون البسملۃ و فیھا رکوع واحد
    سورۃ العلق۔ یہ سورۃ مکی ہے اوراس کی بسم اللہ کے سوا انیس آیتیں ہیں اور ایک رکوع ہے
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    (میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں)
    یہ سورۃ بلا خلاف مکی ہے امام احمد اپنی مسند میں عن عروہ عن عائشہؓ سے یہ روایت نقل کرتے ہیںکہ قالت اول ما بدی بہ رسول اللہ ﷺ من الوحی الرؤیا الصادقۃ فی النوم فکان لا یری رؤیا الا جاء ت مثل فلق الصبح ثم حبب الیہ الخلاء فکان یاتی الحراء و فیتحنث فیہ و ھوا لتبعد اللیالی ذوات العدد و یتزود لذالک ثم یرجع الی خدیجۃ فیتزود لمثلھا حتی جاء ہ الوحی و ھو فی غار حراء فجاء ہ الملک فیہ فقال اقرء قال رسول اللہ ﷺ فقلت ما انا بقاری ء قال فاخذنی فغطنی حتی بلغ منی الجھد ثم ارسلنی فقال اقرأ فقلت ما انا بقاری ء فغطنی الثالثۃ حتی بلغ منی الجہد ثم ارسلنی فقال اقرأ باسم ربک الذی خلق حتی بلغ مالم یعلم قال فرجع بھا ترجف بوادرہ حتی دخل علی خدیجۃ فقال زملونی۔ زملونی۔ فزملوہ حتی ذھب عنہ الروع فقال یا خدیجۃ مالی واخبرھا الخبر و قال قد خشیت علی نفسی فقالت لہ کلا أبشرفواللہ لا یخزیک اللہ ابدا انک لتصل الرحم و تصدق الحدیث و تحمل الکل و تقری الضیف و تعین علی نوائب الحق ثم انطلقت لہ الخدیجۃ حتی اتت بہ ورقۃ بن نوفل بن اسد بن عبد العزی بن قصی و ھوا بن عم خدیجۃ اخی ابیھا و کان امرء تنصرفی الجاہلیۃ و کان یکتب الکتاب العربی و کتب بالعبرانیۃ من الانجیل ماشاء اللہ ا یکتب و کان شیخا کبیرا قد عمی فقالت خدیجۃ ای ابن عم اسمع من ابن اخیک فقال ورقۃ ابن اخی ما تری فاخبرہ رسول اللہ ﷺ بما رأ ی فقال ورقۃ ھذا الناموس الذی انزل علی عیسی لیتنی فیہ جذعا لیتنی اکون حیا حین یخرجک قومک فقال رسول اللہ ﷺ او مخرجی ھم فقال ورقۃ نعم لم یات رجل قط بماجئت بہ الا عودی و ان یدرکنی یومک انصرک نصرا مؤزرا ثم لم ینشب ورقۃ ان توفی و فترالحی فترۃ حتے حزن رسول اللہ ﷺ فیما بلغنا حزنا غدا منہ مرارا کی یتردے من رء وس شواھق الجبال فکلما اوفی بذروۃ جبل لکی یلقی نفسہ منہ تبدی لہ جبریل فقال یا محمد انک رسول اللہ حقا فیسکن بذالک جاشہ و تقربہ نفسہ فیرجع فاذ طالت علیہ فترۃ الوحی غدا لمثل ذالک فاذا اوفی بذروۃ الجبل تبدی لہ جبریل فقال لہ مثل ذالک و ھذا الحدیث مخرج فی الصحیحین من حدیث الزھری۔ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ پر ابتداء میں جو وحی نازل ہوئی وہ رئویا ء صادقہ کی صورت میں نازل ہوئی تھی۔ آپ جو بھی خوا ب دیکھتے وہ ایسے واضح رنگ میں پوری ہوجاتی جیسے فجر کا طلوع ہوتا ہے اس کے بعد رسول کریم ﷺ کے دل میں یہ رغبت پیدا ہوئی کہ آپ خلوت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ بعض دوسری حدیثوں میں آتا ہے کہ ان دنوں رسول کریم ﷺکو خلوت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے زیادہ اور کوئی چیز پیاری نہیں تھی۔ چنانچہ آپ غارِ حراء میں جاتے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے۔ عبادت کا یہ طریق تھا کہ آپ کئی کئی راتیں غارِ حرا میں بسر کردیتے اور دن رات اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی عبادت میں مشغول رہتے۔ جتنا عرصہ آپ نے عبادت کا ارادہ کیا ہوتا اتنے عرصہ کیلئے آپ حرا ء مین ہی اپنا زاد لے جاتے اورجب وہ ختم ہوجاتا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے وہ اتنا ہی اور زاد تیار کرکے دے دیتیں اور آپ پھر اس کو ساتھ لے کر عبادت کیلئے غارِ حراء میں چلے جاتے۔ ایک دن آپ اسی طرح غارِ حراء میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کررہے تھے کہ آپ پر وحی الٰہی کا آغاز ہوگیا۔ ایک فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا اقرا یعنی پڑھ! رسول کریم ﷺ نے فرمایا ما انا بقاری ء میں تو پڑھنانہیں جانتا۔ قال فاخذنی فغطنی ۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں جب میں ے یہ جواب دیا تو اس نے مجھے پکڑا اور بھینچنا شروع کردیا۔ غطی کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کو پانی میں ڈبودینا۔ لیکن محاورہ میں غطی بھینچنے کو کہتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں اس نے مجھے بھینچا اور اتنا بھینچا کہ حتی بلغ منی الجھد میری مقابلہ کی طاقت ختم ہوگئی۔ یعنی میں نے سمجھا کہ اگر اس نے اب مجھے زیادہ بھینچا تو میں مرجائوں گا۔ اس کے بعد اس نے مجھے چھوڑ دیا ور پھر کہا پڑھ! میں نے کہا میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔ اس نے پھر مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری مقابلہ کی طاقت ختم ہوگئی۔ اس پر اس نے پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا اقرا۔ پڑھ! میں نے کہا میں توپڑھنا نہیں جانتا۔ اس نے تیسری دفعہ پھر مجھ بھینچا یہاں تک کہ میری مقابلہ کی طاقت ختم ہوگئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور (اس سورۃ کی یہ آیات پڑھنے کو) کہا اقرأ باسم ربک الذی خلقO خلق الانسان من علق O اقرا و ربک الاکرم الذی علم بالقلم O علم الانسان مالم یعلم ۔
    اس کے بعد روای کے اپنے الفاظ میں حدیث آتی ہے کہ رسول کریم ﷺ اس واقعہ کے بعد فوراً اپنے گھر واپس آئے اور آپ کی حالت یہ تھی کہ اس وقت آپ کے کندھے خوف سے کانپ رہے تھے۔ رسول کریم ﷺ جب اپنے گھر پہنچے تو آپ نے حضرت خدیجہؓ سے فرمایا زملونی۔ زملونی مجھے کپڑا اوڑھادو۔ مجھے کپڑا اوڑھادو۔ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو کپڑوں سے ڈھانک دیا یہاں تک کہ آپ کا خوف دور ہوگیا۔ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدیجہ! مجھے کیا ہوگیا ہے؟ پھر آپ نے ساری بات سنائی اور فرمایا کہ مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پید اہوگیا ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے کہا ایسا خیال مت کیجئے بلکہ آپ خوش ہوجائیے۔ مجھے اللہ ہی کی قسم وہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا کیونکہ آپ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں، ہر سچی بات کی آپ تصدیق کرتے ہیں، خداتعالیٰ کی کسی بات کا انکار نہیں کرتے،جو لوگ اپنا بوجھ نہیں اٹھاسکتے ان کے بوجھ آپ خود اٹھاتے ہیں، ہر آنے جانے والے کی مہمان نوازی کرتے ہیںاور جو لوگ ایسی مصائب میں مبتلاہوںکہ اس میں ان کی شرارت کا دخل نہ ہو بلکہ حوادثِ زمانہ کی وجہ سے انہیں تکلیف پہنچی ہو آپ ان کا بوجھ بڑھاتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہؓ نے رسول کریم ﷺ کو اپنے ساتھ لیا اور آپ کوورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو حضرت خدیجہؓ کے ابن عم یعنی چچا زاد بھائی تھے۔ یہ ورقہ بن نوفل ان لوگوں سے میں سے جو زمانۂ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے۔ وہ تورات کو عربی زبان میں لکھوایا کرتے تھے (یا اندھا ہوجانے سے پہلے لکھا کرتے تھے) اور جتنی خداتعالیٰ توفیق دیتا عبرانی زبان سے انجیل بھی لکھوایا کرتے تھے (یعنی اس کا عربی میں ترجمہ کرنے کی کوشش کرتے تھے) و کان شیخا کبیرا قد عمی اور وہ ایک بوڑھے آدمی تھے جو بڑھاپے میں آکر نابیناہوگئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے ان سے مختصرا سب حال کہا اور کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے بھائی کے بیٹے کے منہ سے سب بات سن لو۔ ورقہ نے کہا اے میرے بھائی کے بیٹے تو نے کیا دیکھا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے جو کچھ دیکھاتھا وہ تفصیلاً بتایا۔ ورقہ نے تمام باتیں سن کر کہا یہ تو وہی ناموس ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ کاش! میںاس وقت جوان ہوتا۔ کاش! میں اس وقت زندہ ہوتا جب تیری قوم تجھے نکال دے گی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا او مخرجی ھم کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ ورقہ نے کہا ہاں ہاں تیری قوم تجھے نکال دے گی کیونکہ آج تک کوئی شخص اس تعلیم کو لے کر نہیں آیا جس تعلیم کو تو لے کر کھڑا ہوا ہے۔ مگر اس کی قوم نے اس سے ضرور دشمنی کی ہے۔ اگر مجھے بھی وہ دیکھنا نصیب ہوا جب تو اپنی قوم کے سامنے اس تعلیم کا اعلان کرے گا اور قوم تیری شدید مخالفت کرے گی یہاں تک کہ وہ تجھے اس شہر میں سے نکال دے گی تو میں کمر باندھ کر تیری مدد کروں گا۔ مگر اس واقعہ کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد ورقہ بن نوفل فوت ہوگئے اور وحی میں وقفہ پڑھ گیا۔ ہمیں لوگوں کی طرف سے خبریں پہنچیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ فترۃ وحی سے رسول کریم ﷺ کو بہت ہی غم ہوا۔ کئی دفعہ آپ باہر جاتے اور ارادہ کرتے کہ کسی اونچے پہاڑ کی چوٹی سے اپنے آپ کو نیچے گرا دیں مگر جب کبھی آپ پہاڑ کی کسی چوٹی پر اس ارادہ کے ساتھ جاتے کہ اپنے آپ کو نیچے پھینک دیں تو جبریل آتے اور کہتے اے محمد ﷺ آپ تو اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ اس سے آپ کا جوش تھم جاتا، آپ کا نفس ٹھنڈا ہوجاتا اور آپ واپس لوٹ آتے۔ مگر جب فترۃ وحی کا زمانہ لمبا ہوگیا تو ایک دفعہ پھر آپ اسی ارادہ سے نکلے اور پہاڑ کی چوٹی پر گئے مگر وہاں آپ کو پھر جبریل نظر آئے اور انہوں نے پھر اسی قسم کی بات سنی۔
    یہ روایت ابتداء وحی کے متعلق مسند احمد بن حنبل میں آتی ہے۔ امام بخاری نے بھی اس حدیث کو اپنی کتاب کے ابتدائی باب یعنی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ میں درج کیا ہے۔ اسی طرح بخاری جلد ۴ باب التعبیر میں بھی یہ حدیث آتی ہے مگر مسند احمد بن حنبل اور بخاری کی اس روایت میں کسی قدر فرق پایا جاتا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ اس حدیث میں آتا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول کریم ﷺ سے کہا تصدق الحدیث مگر بخاری باب کیف کان بدء الوحی میں جو حدیث درج ہے اس میں تکسب المعدوم کے الفاظ آتے ہیں۔ یعنی وہ خوبیاں جو دنیا سے معدوم ہوچکی ہیں وہ آپ کمارہے ہیں مطلب یہ کہ وہ اخلاقِ فاضلہ جن پر دنیا عمل نہیں کرتی ان پر آپ کا عمل پایا جاتا ہے۔
    دوسرے بخاری کی ابتدائی حدیث میں ورقہ بن نوفل کے متعلق یہ ذکر نہیں آتا کہ کان یکتب الکتاب العربی وہ تورات کو عربی زبان میںلکھوایا کرتے تھے (اصل الفاظ یکتب کے ہیںجس کے معنے لکھنے کے ہیں لیکن چونکہ وہ اندھے ہوگئے تھے اس لئے اس کے معنے یہاں لکھوانے کے ہیں۔ ان معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوجاتا ہے یا پھر اس کے یہ معنی ہیںکہ اندھا ہونے سے پہلے ایسا کیا کرتے تھے)۔
    تیسرے اس حدیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کئی دفعہ پہاڑ سے اپنے آپ کو نیچے گرادینے کا اردہ کیا لیکن بخاری کی وہ حدیث جو باب باب کیف کان بدء الوحی میں آتی ہے۔ اس میں اس واقعہ کا ذکر نہیں آتا لیکن بخاری جلد ۴ باب علم التعبیر میں جو حدیث آتی ہے اس میں تصدق الحدیث کے بھی الفاظ ہیں۔ کان یکت الکتاب العربی کے بھی الفاظ ہیں اور اس واقعہ کا بھی ذکرآتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کئی دفعہ پہاڑ کی چوتی سے اپنے آپ کو گرادینے کا ارادہ کیا۔
    چوتھے اس حدیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ ورقہ بن نوفل نے کہا یہ وہی ناموس ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا۔ لیکن بخاری میں یہ ذکر آتا ہے کہ اس نے کہا ھذ الناموس الذی انزل علی موسٰی یہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔
    بہرحال اس معمولی فرق کے باوجود نفسِ مضمون دونوں حدیثوں کا ایک ہی ہے۔ چنانچہ اسی حدیث کی بناء پر شراح اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ پہلی وحی ہے جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی۔
    ابن کثیر کہتے ہیں کہ فاول شی ء نزل من القران ھذہ الایات الکریمات المبارکات و ھن اول رحمۃ رحم اللہ بھا العباد و اول نعمۃ انعم اللہ بھا علیھم ۔ یعنی یہ قرآن کریم کی پہلی بزرگ اور مبارک آیات ہیں جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئیں۔ یہ پہلی رحمت ہیں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا اور پہلی نعمت ہیں جس کے ذریعہ اس نے اپنے فضل سے انہیں سرفراز فرمایا۔
    اس جگہ ضمنی طور پر میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی بعض آیات میں بعض انبیاء کی جو خوبیاں بیان کی گئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرلیتے ہیں کہ وہ خوبیاں ان میں ساری دنیا کے مقابلہ میں ممتاز طور پر پائی جاتی تھیں حالانکہ یہ درست نہیں ہوتا۔ زبان کا یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کسی کی خاص طور پر کوئی خوبی بیان کی جاتی ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ اسے ساری دنیا کے مقابلہ میں اس خوبی کے لحاظ سے فضیلت حاصل ہے مراد محض اس زمانہ یا اس کی قوم یا خاندان کے لوگ ہوتے ہیں۔ مثلاً اسی جگہ پر ابن کثیر یہ نہیں کہتے کہ ھن اول رحمۃ رحم اللہ بھا علی امۃ المحمدیۃ یہ وہ پہلی رحمت ہے جو امت محمدیہ پر نازل ہوئی بلکہ کہتے ہیں ھن اول رحمۃ رحم اللہ بھا العباد۔ یہ آیات وہ پہلی رحمت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم و کرم کی بارش کا آغاز فرمایا۔ پھر وہ کہتے ہیں و اول نعمۃ انعم اللہ بھا علیھم۔ یہ پہلی نعمت ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے آئی اور جس کے ذریعہ اس نے اپنے بندوں پر بہت بڑا انعام نازل فرمایا۔ حالانکہ عیسیٰؑ کا کلام اس سے پہلے اتر چکا تھا۔ موسیٰؑ کی کتاب اس سے پہلے آچکی تھی، ابراہیمؑ کے صحف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوچکے تھے۔ درحقیقت یہ ایک محاورہ ہے جو عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ سننے والا پاگل نہں۔ جب ہم کہیں گے کہ فلاں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے تو لازماً وہ اسے ایک زمانہ کے لوگوں تک محدود رکھے گا۔ یہ نہیں سمجھے گا کہ شروع سے لے کر قیامت تک کے لوگوں پر اسے فضیلت حاصل ہوگئی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں بعض انبیاء کی جو خوبیان بیان کی گئی ہیں وہ بھی اسی طرح اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے ہیں نہ کہ ساری دنیا کے لحاظ سے۔ جس طرح اس جگہ ابن کثیر نے قرآن کریم کی ان آیات کو پہلی رحمت اور پہلی نعمت قرار دیا ہے حالانکہ عیسٰیؑ اور موسیٰؑ اور ابراہیمؑ اور نوحؑ سب اللہ تعالیٰ کا کلام لاچکے تھے۔ بہرحال چونکہ رسول کریم ﷺ کی امت پر پہلی رحمت تھی جو اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئی اس لئے انہوں نے اپنے زمانہ کے لحاظ سے اسے پہلی رحمت قرار دیا۔
    ابن عباسؓ کہتے ہیں ھی اول ما نزل من القران (فتح البیان)۔ یہ قرآن میںسے پہلا حصہ ہے جو نازل ہوا۔ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں ھذہٖ اول سورۃ انزلت علی محمد ﷺ (فتح البیان) یہ پہلی سورۃ ہے جو رسول کریم ﷺ پر نازل کی گئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی روایت ہے یا پھر لکھا ہے و قد ذھب الجمھور ان ھذہ السورۃ اول ما نزل من القران ثم بعدہ ن والقلم ثم المزمل ثم المدثر (فتح البیان) کہ جمہور کا مذہب یہی ہے کہ یہ پہلی سورۃ ہے جو قرآن کریم میں سے نازل ہوئی ۔ اس کے بعد نون والقلم نازل ہوئی پھر مزمل نازل ہوئی اور پھر مدثر نازل ہوئی۔
    اسی سلسلہ میں بخاری میں کیف کان بد ء الوحی کے باب کے تحت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں ایک دفعہ گھر سے باہر جارہا تھا کہ میں نے آسمان پر اسی فرشتہ کو دیکھا جو غارِ حرا میں آیا تھا کہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔ اس سے میں بہت مرعوب ہوا۔ میں گھر آیا اور کہا زملونی زملونی۔ فانزل اللہ تعالی یاایھا المدثر قم فانذر فاھر فحمی الوحی و تتابع یعنی جب میں گھر آیا اور مجھ پر کپڑا اوڑھادیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے سورئہ مدثر کی یہ آیات نازل کیں کہ یاایھا المدثر قم فانذر و ربک فکبر و ثیابک فطھر والرجز فاھجر۔ اس کے بعد وحی جلد جلد نازل ہونی شروع ہوگئی۔ ان دنوں اقوال میں بظاہر کچھ اختلاف نظر آتا ہے یعنی خازن نے دوسری روایت کو نقل کرکے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اقرا کے بعد سورئہ نون والقلم نازل ہوئی۔ پھر سورئہ مزمل نازل ہوئی اور پھر سورئہ مدثر نازل ہوئی۔ اور بخاری کی روایت سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اقرا کے بعد مدثر نازل ہوئی۔ لیکن یہ اختلاف حقیقی نہیں درحقیقت ایک امر کے نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ اختلاف پیدا ہوا ہے۔ لوگ عام طور پر خیال کرتے ہیں کہ اقرا باسم ربک الذی خلق کے بعد فترۃ وحی ہوئی ہے حالانکہ جو حدیث بخاری میںبیان ہوئی ہے اس سے یہ پتہ نہیں لگتا ۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم ﷺ پر وحی نازل ہوئی ہے اس کے کچھ عرصہ بعد ورقہ بن نوفل فوت ہوئے اور پھر فترۃ کا زمانہ آگیا۔ درمیانی عرصہ کا اس حدیث میں ذکر نہیں کیا گیا۔ فترۃ وحی چونکہ ایک اہم مسئلہ تھا اس لئے اس کا ذکر کردیا گیا مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اقرا کے بعد فترۃ ہوئی بلکہ اقرا کے بعد کچھ اور کلام نازل ہوا تھا اور اس کے بعد فترۃ ہوئی ہے اور یہی بات قرین قیاس بھی ہے ۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ اقرا باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرا و ربک الاکرم الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ تو اس میں تو کوئی حکم بیان نہیں ہوا پھر کیا حکم دیا تھا جس کے متعلق اقرا کہا گیا تھا۔ اقرا کا لفظ صاف بتاتا ہے کہ کوئی باتیں رسول کریم ﷺنے لوگوں سے کہنی ہیں۔ وہ کہنے والی باتیںبہرحال اقرا کے بعد نازل ہونی چاہئے تھیں۔چنانچہ اقرا کے بعد نون والقلم نازل ہوئی اور اس کے بعد سورۃ مزمل نازل ہوئی اور پھر فترۃ کا زمانہ آگیا۔ پس میرے نزدیک اصل واقعہ یہ ہے کہ اقرا کی ابتدائی آیات اور اسی طرح نون والقلم اور سورۃ المزمل کی کچھ آیات پہلے نازل ہوئیں پھر فترۃ وحی ہوئی اور اس کے ختم ہونے پر سورۃ المدثر نازل ہوئی۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ما انا بقاری اس کا یہ مفہوم نہیں تھا کہ میں کتاب نہیں پڑھ سکتا کیونکہ کتاب تو اس جگہ کوئی پیش ہی نہیں تھی۔ ایک حدیث میں بیشک آتا ہے کہ جبریل کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا۔ مگر اس حدیث میں یہ ذکر نہیں آتا کہ جبریل نے وہ کپڑا دکھا کر رسول کریم ﷺ سے یہ کہا ہو کہ اس پر جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھو کیونکہ اس حدیث میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں کیا پڑھوں۔ اگر اس نے کپڑا دکھا کر کچھ پڑھنا ہوتا تو آپ یہ نہ کہہ سکتے کہ میں کیا پڑھوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ماانا بقاری ئٍ کے الفاظ رسول کریم ﷺ نے انکسار کے طور پر استعمال فرمائے تھے آپ ڈرتے تھے کہ میں عہدئہ نبوت کی اہم ذمہ داریوں کو پوری خوش اسلوبی سے ادا بھی کرسکوں گا یا نہیں۔ یہی حال ہر نبی کا ہوتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصاحت رکھتا ہے اسے بھی میرے ساتھ بھجوادیئے ایسا نہ ہو کہ میں اپنی ما فی الضمیرکو وہاں عمدگی سے بیان نہ کرسکوں اور اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرجائوں ۔ یہ تو قرآن کریم کا بیان ہے تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون کا نام نہیں لیا بلکہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کا کام ان کے سپردکیا گیا تو انہوں نے کہا
    ’’اے میرے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں ۔ جس کو چاہے تو اس کے وسیلہ سے بھیج‘‘۔ (خروج باب ۴ آیت ۱۳)
    یعنی میں اس خدمت کا اہل نہیں کسی اور شخص کو اس عہدہ پر کھڑا کردے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی یہ کام سپرد کردیا۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام جب چالیس دن کیلئے پہاڑ پر گئے تو بعد میں حضرت ہارونؑ بنی اسرائیل کو سنبھال نہ سکے۔ باوجود ان کے منع کرنے کے وہ شرک میں مبتلا ہوگئے اور بچھڑے کی پرستش کرنے لگ گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتادیا کہ دیکھ لو انتخاب وہی صحیح تھا جو ہم نے کیا۔ تم نے اپنے لئے ہارون کا انتخاب کیا تھا مگر ہارون قوم کی نگرانی نہ کرسکا۔
    بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبوت کا کام کسی عظیم الشان انسان کے سپرد کیا جاتا ہے تو طبعی طور پر وہ گھبراتا اور ہچکچاہٹ کا اظہار کرتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں میں اپنے فرائض کی بجاآوری میں کسی کوتاہی کا مرتکب نہ ہوجائوں۔ رسول کریم ﷺ کی طبیعت میں حجاب بھی تھا، انکسار بھی تھا، اپنے اہم فرائض کو دیکھتے ہوئے خوف بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے استغناء کا بھی آپ کو احساس تھا اور ادب کی وجہ سے آپ یہ کہنا بھی مناسب نہ سمجھتے تھے کہ میری جگہ کسی اور جگہ کو مقرر کردے میں اس کام کے قابل نہیں۔ ان وجوہ کی بنا ء پر جیسے تجاہل عارفانہ کے طور پر کوئی بات کہہ دی جاتی ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ حالانکہ اس وقت آپ کو پڑھنے کیلئے نہیں کہا گیا تھا۔ درحقیقت یہ ادب کا طریق تھا جو رسول کریم ﷺ نے اپنے جذبات کے اظہار کیلئے اختیار فرمایا۔ آپ نے سمجھا کہ براہ راست انکار کرنا تو اللہ تعالیٰ کی حکم کی نافرمانی ہوگی اور اگر میں نے کہا کہ میں اس کام کے قابل نہیں تو یہ بھی ادب کے خلاف ہوگا اس لئے میں کوئی اور رنگ اختیار کروں۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے یہ رنگ اختیار کیا کہ آپ نے فرمایا ماانا بقاری ئٍ میں تو پڑھے لکھے آدمیوں میں سے نہیں ہوں۔ میں نے کیا کام کرنا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ خود فرشتہ نے بھی آخر میں ظاہر کردیا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ پڑھو بلکہ مطلب یہ تھا کہ جو کچھ میں کہتا جائوں اسے ساتھ ساتھ دہراتے جائو۔ قرا کے دونوں معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو دہرانا یا لکھے ہوئے کو پڑھنا۔ پس جب فرشتے نے کہا اقرا تو درحقیقت اس کے یہ معنے نہ تھے کہ لکھے ہوئے کو پڑھو۔ کیونکہ لکھا ہو اپڑھنا اس وقت مدنظر ہی نہیں تھا۔ فرشتے کامقصد صرف یہ تھا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے زبانی دہراتے جائو چنانچہ جب رسول کریم ﷺ نے ان الفاظ کو دہرادیا تو چونکہ اس کا مقصد حاصل ہوگیا اس لئے وہ واپس چلا گیا۔
    ابتداء وحی ایک نہایت اہم مسئلہ ہے جیسا کہ ابن کثیر نے نے کہا ہے کہ یہ پہلی رحمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا اور پہلی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے فضل سے انہیں حصہ عطا فرمایا۔ پس اس سورۃ کی ابتدائی آیات اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتی ہیںکہ یہ قرآن کریم کیلئے بمنزلہ بیج اور گٹھلی کے ہیں اور ان آیات کے نزول کے بعد باقی قرآن نازل ہوا ہے۔ یوں تو سارا قرآن ہی اہمیت رکھتا ہے مگر جذباتی طور پر اقرا باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق ۔ ایسی اہمیت رکھنے والی آیات ہیں کہ جب انسان ان کو پڑھتا ہے اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور وہ کہتا ہے یہ وہ آیات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے قرآن سے روشناس کرایا۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے دوست آپس میں ملتے ہیں تو وہ ایک دوسرے سے بعدض دفعہ خاص طورپر اس امر کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کی دوستی کا آغاز کس طرح ہوا یا میاں بیوی آپس میں مذاکرہ کرتے ہیں تو وہ بھی بعض دفعہ بڑے شوق سے یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہمارا نکاح کس طرح ہوا۔ اگر معمولی دنیوی واقعات ایسی اہمیت رکھتے ہیں کہ انسان ان کا ذکر کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وہ آخری کلام جس کے ذریعہ دنیا قیامت تک ہدایت پاتی رہے گی، جس کے ذریعہ انسانی پیدائش کا مقصد پورا ہوا، جس کے ذریعہ خالق اور مخلوق کا تعلق آپس میں قائم کیا گیا، اسکی بنیاد جن آیات پر ہے ان کی اہمیت اور عظمت سے کون شخص انکار کرسکتاہے۔ جس طرح میاں بیوی شوق سے باہم ذکر کرتے ہیں کہ ہمارا نکاح کس طر ح ہوا یا دوست شوق سے یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہماری دوستی کا آغاز کس طرح ہوا اسی طرح اقرا باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق وہ الفاظ ہیں جن کو پڑھتے ہی انسان کا دل فرطِ محبت سے اُچھلنے لگتا ہے، اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوجاتی ہے، اُس کے خوابیدہ جذبات میں ایک حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کہتا ہے یہ وہ آیات ہیں جن کے ذریعہ مجھے اپنے رب کا وصال حاصل ہوا۔ جن کے ذریعہ انسان اور خدا کا باہمی رشتہ جوڑا گیا اور دوستی کا وہ آخری مرحلہ قائم کیا گیا جو خدا اور بندے کے درمیان ہونا چاہئے۔ پس ابتداء وحی ایک نہایت ہی اہمیت رکھنے اور جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والی چیز ہے۔ اسی وجہ سے دشمنوں کی بھی اس پر خاص طور پر نظر پڑی ہے اور انہوں نے ان آیات اور ابتداء وحی سے تعلق رکھنے والے واقعات سے قسم قسم کے استدلال کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ اور آپ کی وحی کی تنقیص کرنے کی کوشش کی ہے۔ کوئی کہتا ہے وحی ایک ڈھکونسلا ہے، کوئی کہتا ہے وحی ایک بیاری کا حملہ تھی۔ چنانچہ آپ کا زملونی زملونی کہنا اس پر شاہد ہے۔ کئی کہتے ہیں یہ بیماری اور جھوٹ دونوں کا اجتماع تھا۔ پھر واقعہ پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔ آپ کے گھبرانے پر بھی اعتراض ہے کہ آپ کو وحی پر شک تھا یا یہ اعتراض ہے کہ اپنی قالبیت پر شک تھا یا یہ کہ آپ نے خداتعالی کا حکم ماننے سے پہلو تہی کی۔ یہ بھی اعتراض ہے کہ اس وحی کی نوعیت کیا تھی۔ آیایہ مادی نظارہ یا خواب تھی جو رسول کریم ﷺ کو نظر آئی۔ غرض مختلف دشمنوں نے اپنے اپنے رنگ میں استدلال کیا ہے۔ غیر مسلم مصنفین کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات اُٹھائیں جس سے قرآن کریم پر حملہ ہوسکے۔ چنانچہ بعض نے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ وحی ایک نظارہ تھا جو رسول کریم ﷺ نے دیکھا اور چونکہ انسانی دماغ اس قسم کا نظارہ دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا اس لئے یہ غیرمعمولی او رمافوق الطبیعات نظارہ درحقیقت علامت تھی اس بات کی کہ نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ کے دماغ میںخشکی پیدا ہوکر جنون رونما ہوگیا تھا۔ لیکن بعض دوسرے مخالفین کا دماغ اس طرف گیا ہے کہ ممکن ہے کچھ لوگ جنون کی تھیوری کو تسلیم نہ کریں اور وہ اس بات کو مان لیںکہ سچ مچ اس قسم کا واقعہ ہوسکتا ہے اور اگر انہوں نے مان لیا تو فرشتے دیکھنے یا اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے میں وہ رسول کریم ﷺ کو بنی اسرائیل کے نبیوں سے مشابہ قرار دیںگے اور یہ بڑی تکلیف دہ بات ہوگی۔ پس انہوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہ کوئی نظارہ نہیں تھا جو رسول کریم ﷺ نے دیکھا بلکہ ایک خواب تھی جو آپ کو آئی اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بات ہماری روایات میں بھی بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ ابن ہشام لکھتے ہیں حتی اذا کانت اللیۃ التی اکرمہ اللہ تعالی فیھا برسالتہ و رحم العباد بھا جاء ہ جبریل علیہ السلام بامراللہ تعالی یعنی جب وہ رات آگئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت سے مفتخر فرمایا اور اپنے بندوں پر رحم کیاتو جبریل اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر رسول کریم ﷺ کے پاس آئے۔ آگے لکھا ہے قال رسول اللہ ﷺ فجاء فی جبریل و انا نائم بنمط من دیباج فیہ کتاب فقال اقرا۔ قال قلت ما اقرا۔ یعنی رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں میرے پاس جبریل آیا وانا نائم اور اس وقت میں سورہا تھا ایک ریشمی کپڑا ان کے پاس تھا جس میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا پڑھو! میںنے کہا مجھے تو پڑھنا نہیں آتا۔ قال فغطنی بہ حتی ظننت انہ الموت انہوں نے مجھے خوب بھینچا یہاں تک کہ میں نے سمجھا میں مرنے لگا ہوں۔ ثم ارسلنی فقال اقرا قالت قلت ما اقرا ۔ پھر انہوں نے مجھ چھوڑ دیا اور کہا پڑھو! میںنے کہا میں تو پڑھنا نہیںجانتا۔ فغطنی بہ حتی ظننت انہ الموت انہوں نے پھر مجھ ڈھانپ لیا یہاں تک کہ میں نے سمجھا میں اب مرنے لگا ہوں۔ ثم ارسلنی فقال اقرا قلت ماذا اقرا۔ پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو! میں نے کہا میں کیا پڑھوں؟ مااقول ذالک الا افتداء منہ ان یعود لی بمثل ما صنع بی۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں میں نے یہ فقرہ کہ میں کیا پڑھوں اس لئے کہا تھا تا اس ذریعہ سے میں اس صدمہ سے بچ جائوں جو ان کے بھینچنے سے مجھے پہنچنا تھا۔ اس پر انہوں نے کہا اقرا باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرا و ربک الاکرم الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ قال فقراتھا۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اس پر میں نے یہ فقرے دہرائے ثم انتھی فانصرف عنی وھببت من نومی۔ پھر انہوں نے بس کردیا اور مجھ سے لوٹ کر چلے گئے اور میں اپنی نیند سے بیدار ہوگیا۔ فکانم کتب فی قلبی کتابا۔ اس وقت مجھے یوں معلوم ہوا کہ میرے دل پر یہ تمام الفاظ نقش کردیے گئے ہیں۔
    اس حوالہ میںصاف طور پر نیند کا لفظ آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم اس روایت پر بنیاد رکھتے ہوئے نتیجہ نکالتے ہیں کہ درحقیقت یہ ایک خواب تھی جو رسول کریم ﷺ نے دیکھی۔ اس تاویل سے ان کا منشاء یہ ہے کہ بائبل کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے انسان کو بالمشافہ نظر آتے ہیں اور وہ اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اگر ہم یہ ثابت کردیں گے کہ رسول کریم ﷺ کو فرشتہ نظر نہیں آیا بلکہ ایک خواب تھی جو آپ نے دیکھی تو بائبل کے نبیوں سے آپ کی مشابہت ثابت نہیں ہوسکے گی۔ گو بخاری اور مسند احمد بن حنبل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جو حدیث آتی ہے اس میں صاف طور پر یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی آنکھوں کے سامنے جبریل کو دیکھا۔ مگر چونکہ یہ حدیث ان کے منشاء کے خلاف ہے اس لئے وہ بخاری یا مسند احمد بن حنبل کی حدیث کی بجائے ابن ہشام کی اس روایت پر اپنے دعویٰ کی بنیاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو کوئی فرشتہ اپنی آنکھوں سے نظر نہیں آیا صرف ایک خواب تھی جو حراء میںآپ کو آئی۔ اگر اس خواب کو درست تسلیم کرلیا جائے تب بھی انبیاء بنی اسرائیل سے آپ کی مشابہت ثابت نہیں ہوسکتی کیونکہ ان کو خداتعالیٰ کے فرشتے سامنے نظر آتے تھے اور رسول کریم ﷺ نے جو کچھ دیکھا وہ ایک خواب تھی۔
    جن لوگوں نے اس بات پر زور دینا چاہا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے دماغ میں نعوذ باللہ کوئی نقص واقعہ ہوگیا تھا انہوںنے ابن ہشام کی روایت کو نظر انداز کرکے بخاری اور مسند احمد بن حنبل کی وہ حدیث لے لی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرشتہ کو دیکھا۔ وہ کہتے ہیں چونکہ انسانی دماغ اس قسم کا نظارہ نہیں دیکھ سکتا اس لئے یہ نظارہ علامت تھی اس بات کی کہ آپ کا دماغ نعوذ باللہ خراب ہوگیا تھا۔
    میرے نزدیک یورپین مصنّفین کی نیت خواہ کچھ ہو اس بارہ میں اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نظارہ کشف کی حقیقت کو سمجھتے ہی نہیں۔ وہ اس قدر مذہب سے دو رجاپڑے ہیں کہ کشفی نظارے ان کو بہت ہی کم نظر آتے ہیں بلکہ خوابیںبھی ان کو بہت کم آتی ہیں۔ گو خدائی سنت یہ ہے کہ ہر قسم کے طبقہ کو خوابیں دکھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی یورپین لوگوں میں سے بعض ایسے ہیںجن کو ساری عمر میں بھی کبھی کوئی خواب نہیں آئی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن کو کام کرتے ہیں اور رات کوناچتے ہیں پھر شراب پی کر یا نیند کی دوائیں کھاکر سوجاتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں ایسی خوابیں نہیں آتیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ وہ کنچنیوں کو بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ شراب کا نشہ ان کے دماغ کو بالکل معطل کردیتا ہے۔ پس میرے نزدیک اس بارہ میں اختلاف نظارئہ کشف کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوا ہے اور مغربی لوگ اس علم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے دھوکا کھاجاتے ہیں۔
    بات یہ ہے کہ جب کشف کی حالت انسان پر طاری ہوتی ہے تو جیسا کہ صاحب تجربہ لوگ جانتے ہیں اس وقت انسان اپنے آپ پر ایک ربودیت کی حالت محسوس کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اس دنیا سے کھینچ کر کسی اور دنیا میں لے جایا گیا ہے۔ اسے اپنے اردگرد کی سب چیزیں نظر آتی ہے، مکان کی دیواریں نظر آتی ہیں، گھر کا سامان نظر آتا ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ محسوس کرتا ہے کہ کوئی اور حالت اس پر طاری ہوگئی ہے جو اسے اس دنیا سے الگ لے گئی ہے۔ اسی طرح اس حالت کے جاتے وقت بھی انسان یوں معلوم کرتاہے کہ وہ گویا ایک غیرمعمولی حالت سے پھر حواس میں آگیا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہوتی ہے جیسے ریڈیو کو ایک میٹر سے دوسرے میٹر پر تبدیل کردیا جاتا ہے۔ پہلے وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے اس دنیا سے کھینچ کر کسی اور دنیا میں لے جایا گیا ہے اور جب وہ حالت جاتی ہے تو وہ یکدم محسوس کرتا ہے کہ اسے کسی اور دنیا سے اس دنیا میں واپس لوٹادیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان کو یہ معلوم ہی نہ ہوسکے کہ اس نے جو کچھ دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا اس کے نفس کا خیال ہے۔ پس بوجہ اس کے کہ وہ حالت کامل نیند کی نہیں ہوتی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میں نے جاگتے ہوئے ایسا دیکھا اور بوجہ اس کے کہ جاگنے کی حالت پر ایک خاص تصرف کیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیند طاری ہوئی اور اس میں یہ یہ دیکھا۔ اور میں نے خود اس کاتجربہ کیا ہے اس لئے مجھے اس میں کوئی اچنبھے کی بات نظر نہیں آتی۔
    پس یہ مادی نظارہ نہیں تھاجو رسول کریم ﷺ نے دیکھا۔ مگر بوجہ اس کے کہ آپ کے حواس ظاہری کام کررہے تھے ۔ ہم اسے یقظہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ درحقیقت کشف ایک مابین النوم والیقظہ کیفیت کا نام ہے چونکہ وہ حالت کامل نیند کی نہیںہوتی اس لئے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ جاگتے ہوئے فلاں نظارہ دیکھا گیا اور چونکہ جاگنے کی حالت پر خاص تصرف کیا جاتا ہے اس لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیند کی حالت میں ہم نے ایسا نظارہ دیکھا۔ پس رسول کریم ﷺ نے بھی کسی موقع پر یہ فرمادیا کہ میںنے جاگتے ہوئے ایسا نظارہ دیکھا تھا اور کسی موقع پر آپ نے یہ فرمادیا ہوگا کہ میں نے نیند کی حالت میں ایسا نظارہ دیکھا۔ جو لوگ صاحب کشوف ہیں وہ ہمیشہ ایسے الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں میں یہ نظارہ دیکھ کر جاگ پڑ اور مرا دیہ ہوتی ہے کہ ربودگی کی کیفیت سے عام حالت میں آگیا اور کبھی کہتے ہیں میںنے جاگتے ہوئے فلاں نظارہ دیکھا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میرے حواس ظاہری بھی اس وقت کام کررہے تھے۔ پس یہ دونوں باتیں آپس میں کوئی اختلاف نہیںرکھتیں۔ محض کشف کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یورپین مصنفین کو غلطی لگی ہے۔
    مسند احمد بن حنبل اور بخاری کی حدیث کو یوں بھی حل کیا جاسکتا ہے کہ بعض دفعہ خواب کالفظ نہیںبولا جاتا جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں قرآن کریم حضرت یوسف علیہ السلام کی رئویا کی نسبت فرماتا ہے کہ یوسف نے اپنے باپ سے کہا انی رایت احد عشر کوکبا و الشمس و القمر رایت ھم لی سٰجدین ( یوسف ۱ ع ) کہ میںنے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں یہاں خواب کا کوئی لفظ نہیں صرف اتنا ذکر ہے کہ میں نے دیکھا۔ مگر اگلی آیت میں ہی حضرت یعقوب علیہ اسلام یہ بات سن کر فرماتے ہیں یا بنی لا تقصص رویاک علی اخوتک ( یوسف ۱ ع۱۱) اے میرے بیٹے تو اس رویا کے اپنے بھا ئیوں کے سامنے بیان نہ کیجیئو۔ اب دیکھو ایک آیت میں اسے ظاہری نظارہ قرار دیا گیا ہے اور دوسری میں اسے رویا قرار دیا گیا ہے پس یہ ایک طریق بیان ہے جو عربی زبان میں رائج ہے اس سے کسی اختلاف کا ثبوت نہیں نکل سکتا۔
    اصل بات یہ ہے کہ مختلف زبانوں میں الگ الگ محاورات رائج ہوتے ہے۔ عربی زبان میں ایسے نظاروں کے لئے رویا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کے معنے دیکھنے کے ہیں۔ گو محاورہ میں ایسے نظارہ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو نیند کی حالت میں دیکھا جائے۔ لیکن فارسی میں اس کے لئے خواب کا لفظ تجویز کیا ہے جس کے معنے نیند کے ہیں ۔ یہ بھی ایک فرق ہے جو عربی زبان کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے قرآن کریم میں ہر جگہ رویا کا لفظ ہی خواب کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ در حقیقت وہی حالت اصل بیداری کی ہوتی ہے جس میں انسان خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو گو ظاہری طور پر اس پر نیند یا ربودگی کی کیفیت طاری ہو۔ لیکن ایرانی لوگ چونکہ ماہر نہیں تھے انہوں نے خواب کا لفظ ایجاد کر لیاحا لانکہ خواب کے معنے محض نیند کے ہیں پس رسول کریم ﷺ نے اگر کسی جگہ یہ فرمایاہے کہ میں نیند سے بیدار ہو گیا اور دوسری جگہ آپ نے صرف اتنا فرمایا ہے کہ میں نے ایسا نظارہ دیکھا تو اس میں اختلاف کی کوئی بات نہیں ۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے حضرت یوسف علیہ اسلام نے جب یہ ذکر کیا کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اورچاندسجدہ کرتے دیکھا ہے تو اس میں خواب کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا مگر حضرت یعقوب علیہ اسلام نے اسی نظارہ کے متعلق رویا ء کا لفظ استعما ل کر دیا جو محاورہ میں نیند کی حالت میں دیکھے ہوئے نظارہ کے متعلق بولا جاتا ہے ۔چنانچہ حضرت عائشہؓ نے بھی ان معنوں میں رویا کا لفظ استعمال کیا ہے آپ فرماتی ہیں اول ما بدی بہ رسو ل اللہ ﷺ من ا لو حی ا لرویا الصادقۃ فی ا لنو م فکان لا یری رویا الاجاء ت مثل فلق الصبح یعنی رسول کریم ﷺپر وحی الہیٰ کا آغاز رویاء صالحہ سے ہوا۔ یہاں رویا کا لفظ صرف انہی نظاروںکے لئے استعمال کیا گیا ہے جو انسان سوتے ہوئے دیکھتا ہے پس یورپین مصنفین کی طرف سے جو اختلاف پیش کیا جاتا ہے وہ در حقیقت اختلاف نہیں بلکہ محاورہ زبان کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے ۔اگر یہ رویا ء ہی تھی جو رسول کریم ﷺ نے دیکھی تو بہر حال جیسا کہ ہمیں یقین اور وثوق ہے یہ رویا ء اس قسم کی نہیں تھی جس میں انسان پر کامل نیند طاری ہوتی ہے چنانچہ حضرت عائشہ ؓبھی فرق کرتی ہیں ۔آپ ایک طرف تو یہ فرماتی ہیں کہ اول ما بدی بہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم من الوحی الرویا الصادقۃ فی ا لنوم۔رسول کریم ﷺ پر وحی کی ابتدارئویا صادقہ سے ہوئی جو آپ سوتے ہوئے دیکھتے مگر اس دوسری وحی کے متعلق جس میں جبریل رسول کریم ﷺ کے پاس آئے ۔ آپ فرماتی ہیں فجاء ہ الملک رسول کریم ﷺ کے پاس فرشتہ آیا۔ اس سے معلوم ہوتا کہ دونوں نظاروں میں حضرت عائشہؓ فرق کر رہی ہیں جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ غار حراء میں آپ کو جو نظارہ دکھایا گیا وہ گہری نیند والا نہ تھا بلکہ کشفی نیند والا تھا ۔ اول ابن ہشام والی روایت کے معنے گہری نیند کے نہیں بلکہ کشفی نیند کے ہیں اور آپ کے ان الفاظ کا کہ پھر میں جاگ اٹھا صرف اتنا مفہوم ہے کہ پھر میری کشفی حالت جاتی رہی ۔ پس ابن ہشام کی روائت اور بخاری و مسنداحمد بن حنبل کی حدیث میںکوئی اختلاف نہیں بلکہ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
    دوسرا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریمﷺکو اپنی رئویا پر شک تھا ۔ اس سوال کی بنیاد اس امر پر رکھی جاتی ہے کہ
    الف۔رسول کریم ﷺ گھبرائے ہوئے حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے۔
    باء۔ آپ نے حضرت خدیجہ ؓسے فرمایا قد خشیت علی نفسی مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے ۔
    ج۔فترۃوحی پرآپ نے اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہا جیسا کہ بخاری اور مسند احمد بن حنبل دونوں میں اس واقعہ کا ذکر آتا ہے ۔
    اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گھبرانا اور خشیت علی نفسی کہنا تو اس وجہ سے تھا کہ ہر انسان کامل کے اندر یہ احساس ہوتا ہے کہ میں اپنے فرض کو ادا کر سکوں گا یا نہیں ۔ جو شخص چھچھورا ہوتا ہے یا ادنی طبقہ سے تعلق سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے اس کے سپرد جب کوئی کام کیا جاتا ہے تو بغیر اس کے کہ وہ عواقب پر نگاہ دوڑائے اوراپنے کام کی اہمیت کو سمجھے کہہ دیتا ہے کہ اس کام کی کیا حقیقت ہے میں اسے فورا کر لوں گا ۔لیکن عقلمند انسان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اس کے دل میں فورا گھبراہٹ پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے کہ نہ معلوم میں اپنے فرض کو ادا کر سکوں گا یا نہیں ۔ قابل اور نا قابل میں یہی فرق ہوتا ہے کہ قابل کو فورا اپنے کام کا فکر پڑ جاتا ہے مگر ناقابل کو کوئی احساس نہیں ہوتا ۔ وہ سمجھتا ہے کہ کام با لکل آسان ہے۔میں سمجھتا ہوں موجودہ جنگ میں ہی جو کام جنرل الیگزنڈریا جنرل منٹگمری یا لارڈمونٹ بیٹن کے سپرد کیا گیا ہے اگر یہی کام کسی ہندوستانی صوبیدار کے سپرد کیا جاتا اور اس سے پوچھا جاتا کہ کیا تم فوجوں کی کمان کر سکوگے ؟ تو بغیر سوچے سمجھے وہ فورا جواب دے دیتا کہ میں اس کام کو اچھی طرح سر انجام دے سکوں گا ۔ مگر یہ وہ لوگ تھے جن کے سپرد جب کام ہوا تو ذمہ داری کا احساس رکھنے کی وجہ سے ان کے دلوںمیں خوف پیدا ہوا کہ نہ معلوم ہم اپنے فرائض کو کماحقہ ادا کر سکیں گے یا نہیں ۔پس کسی کام کے سپرد ہونے پر دل میں گھبراہٹ پیدا ہونا علم کامل کی علامت ہوتی ہے نہ اس بات کی علامت کہ وہ کام کی اہلیت نہیں رکھتا رسول کریم ﷺ کا بھی نزول وحی پر گھبرانا اور آپ کا حضرت خدیجہؓسے اپنی گھبراہٹ اور اضطراب کا اظہار کرنا درحقیقت یہی معنے رکھتا ہے کہ آپ اپنے کام کی اہمیت کو سمجھتے تھے جب اللہ تعالی نے دنیا کی اصلاح کا کام آپ کے سپرد کیا تو فوراآپ کو فکر شروع ہو گیا کی اتنا بڑا کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے نہ معلوم میں اسکو الہیٰ منشاء کے مطابق سر انجام دے سکوںگا یا نہیں ۔آپ کے سپرد جو کام کیا گیا اور جس کا پہلی وحی میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کردیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ اقرا باسم ربک ا لذی خلق۔ خلق ا الا نسان من علق۔ اقرا وربک ا لا کرام ۔ا لذی علم با لقلم ۔ علم ا الانسان ما لم یعلم ۔ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ سے فرمایا آج جن لوگوں کے ہاتھوں میں قلمیںہیںجو بڑے بڑے علوم کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جن کو اپنے تجربہ اور اپنی علمی نگاہ کی وسعت پر ناز ہے ۔ تو ان کو وہ علم سکھا جو ان کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی نہیں۔ اور ان علوم اور معارف سے انہیں بہرہ ور فرما جو آج دنیا کی کسی کتاب میں بھی نہیں ملتے ۔ یہ سیدھی بات ہے کہ جب ایک امی کو یہ کہا جائے گا کہ دنیا نے کتا بیں لکھیںمگر بیکار ثابت ہوئیں اور وہ دنیا کی ہدایت کا موجب نہ بن سکیں۔ اب اے شخص ہم تیرے سپرد یہ کام کرتے ہیں کہ جو علوم آج تک بڑی بڑی کتایں لوگوں کو سکھا نہیں سکیں وہ علوم تو ہمارے حکم سے لوگوں کو سکھا۔ تو لازماً اس اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوجائے گی کہ اتنا بڑا کام میں کس طرح کرسکوں گا۔ بیشک ایک پاگل کو جب یہ کہا جائے گا تو وہ خوش ہوجائے گا اور کہے گا کہ یہ کونسا بڑا کام ہے مگر عقلمند کادل خوف سے بھر جائے گا اور وہ کہے گا اتنا بڑا کام میں کس طرح کرسکوں گا۔ پس رسول کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ قد خشیت علی نفسی آپ کے علم کامل پر ایک زبردست گواہ ہے۔ وہ لوگ جو اس واقعہ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ کے دماغ میں نقص واقع ہوگیا تھا انہیں غور کرنا چاہئے کہ کیا پاگل بھی کبھی گھبراتا ہے؟ اسے تو اگر کہا جائے کہ کیا تم ساری دنیا فتح کرسکتے ہو تو وہ فوراً کہہ دے گا یہ کونسی مشکل بات ہے۔ مگر وہ جسے اپنی ذمہ واری کا احساس ہوتا ہے، جو کام کی اہمیت کو سمجھتا ہے، جو فرائض کی بجاآوری کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار رہتا ہے وہ کام کے سپرد ہونے پر لرز جاتا ہے۔ اس کا جسم کانپ اٹھتا ہے اور اس کے دل میں بار بار یہ خیال آنا شروع ہوجاتا ہے کہ ایسا نہ ہو میں اپنی کسی غفلت کی وجہ سے ناکام ہوجائوں اورجو کام میرے سپرد کیا گیا ہے اس کو سرانجام دینے سے قاصر رہوں۔
    تاریخ اسلام میں اس کی ایک موٹی مثال موجود ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ اپنے خلافت کے آٹھ سالہ عرصہ میں دنیا کی کایا پلٹ دیتے ہیں ، روم اور ایران کو شکست دے دیتے ہیں، عرب کی سرحدوں پر اسلامی فوجیں بھجوا کر اسے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کردیتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کیلئے وہ کام کرتے ہیں جو قیامت تک ایک زندہ یادگار کی حیثیت سے قائم رہنے والا ہے۔ مگر جب آپ روم کو شکست دے دیتے ہیں، جب ایران کو شکست دے دیتے ہیں، جب یہ دو زبردست ایمپائر اسلامی فوجوں کے متواتر حملوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہیں، جب عمرؓ کا نام ساری دنیا میں گونجنے لگتا ہے، جب دشمن سے دشمن بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ عمرؓ نے بہت بڑا کام کیا۔ اس وقت خود عمرؓ کی کیا حالت تھی۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ جب آپ وفات پانے لگے تو اس وقت آپ کی زبان پر بار بار یہ الفاظ آتے تھے کہ رب لا علی ولا لی اے میرے رب! میں سخت کمزاور ور خطار کار ہوں ۔ میں نہیں جانتا مجھ سے اپنے کام کے دوران میں کیا کیا غلطیاں سرزد ہوچکی ہیں۔ الٰہی میں اپنی غلطیوں پر نادم ہوں۔ میں اپنی خطائوں پر شرمندہ ہوں اور میں اپنے آپ کو کسی انعام کا مستحق نہیں سمجھتا۔ صرف اتنی التجا کرتا ہوں کہ تو اپنے عذاب سے مجھے محفوظ رکھ۔
    غور کرو اور سوچو کہ ان الفاظ سے حضرت عمر کی کتنی بلند شان ظاہر ہوتی ہے۔ آپ کے سپرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کام کیا گیا اور آپ نے اس کو ایسی عمدگی سے سرانجام دیا کہ یورپ کے شدید سے شدید دشمن بھی اس کام کی اہمیت کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکے۔ مگر چونکہ آپ کے دل پر خدا کا خوف طاری تھا آپ نے سمجھا کہ بے شک میں نے کام کیا ہے مگر ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ کام چاہتا ہو اور میں جس کام کو اپنی خوب سمجھتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں خوبی نہ ہو۔ اس لئے باوجود اتنا بڑا کام کرنے کے وفات کے وقت آپ تڑپتے تھے اور بار بار آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوتے تھے کہ رب لا علی ولا لی ۔ خدایا میں تجھ سے کسی انعام کا طالب نہیں صرف اتنی درخواست کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنی سزا سے محفوظ رکھ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے کوئی کام نہیں کیا۔ مجھے خدمت کا حق جس رنگ میں ادا کرنا چاہئے تھا اس رنگ میں ادا نہیں کیا۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ پر نزول وحی کے بعد جو گھبراہٹ طاری ہوئی اس کی وجہ درحقیقت یہی تھی کہ آپ کیدل میں خوف پیدا ہوا کہ میرے سپرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عظیم الشان کام کیا گیا ہے نہ معلوم میں اس کو ادا کرسکتا ہوں یا نہیں۔پس رسول کریم ﷺ کا یہ فعل وحی الٰہی پر شک کی وجہ سے نہ تھا بلکہ خداتعالیٰ کی شان کے انسانی دماغوں سے بالاتر ہونے پر یقین کامل کے نتیجہ میں تھا اور آپ کو یہ فکر لگ گیا تھا کہ میں اس کام کیلئے خواہ کتنی بھی قربانی کروں نہ معلوم اللہ تعالیٰ کے ارادوں کے مطابق میں بلند ہوسکوں گا یا نہیں اور اللہ تعالیٰ کی بلند شان سے خوف کرنا جرم نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے اور خداتعالیٰ کے علو مرتبت کو مدنظر رکھتے ہوئے برا نہیں بلکہ اس کی بے نظیر خشیت الٰہی کا ایک بین ثبوت ہے جو رسول کریم ﷺ کے قلب مطہر میں پائی جاتی تھی۔
    باقی رہا یہ کہ آپ نے خودکشی کا ارادہ کیا سو اول تو دوسری احادیث سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی لیکن اگر اسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو صاف پتہ لگتا ہے کہ آپ نے جو فعل کیا وہ وحی الٰہی کے رکنے کے بعد کیا۔ اگر آپ کے دل میں یہ خیال ہوتا کہ نعوذ باللہ مجھ پر شیطان نے اپنا کلام نازل کیا ہے یا کلام الٰہی کے بارہ میں آپ کو کوئی شبہ ہوتا تو چاہئے تھا کہ اس وحی کے نزول کے وقت آپ خودکشی کا ارادہ فرماتے۔ مگر حدیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ آپ نے فترت کے بعد خود کشی کا ارادہ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو گھبراہٹ یہ تھی کہ کیا میرے کسی فعل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوکر مجھ سے بولنا چھوڑ بیٹھا ہے۔ اتنا عرصہ گزر گیا اور مجھ پر اس کا کلام نازل نہیں ہوا۔ اگر وحی کے متعلق آپ کو شبہ ہوتا تو چاہئے تھا کہ جب کچھ عرصے کیلئے وحی کا نزول رک گیا تھا آپ خوش ہوتے اور کہتے الحمدللہ میں ایک بلا سے بچ گیا۔ مگر تمام حدیثیں متفقہ طور پر یہ واقعہ بیان کرتی ہیں کہ وحی کے رک جانے پر رسول کریم ﷺ کو گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو وحی یا الہامات کی صداقت میں شبہ نہیں تھا۔ آپ کو صرف یہ خوف تھا کہ میرے کسی فعل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہوگیا ہو۔ پس یہ واقعہ بھی وحی الٰہی کے متعلق آپ کے کسی شبہ کو ظاہر نہیں کرتا۔
    میں اس جگہ یہ بھی ذکر کردینا چاہتا ہوں کہ گو اس واقعہ کی میں نے ایک توجیہ کی ہے اور اس اعتراض کو رد کیا ہے جو یورپین مصنفین کی طرف سے رسول کریم ﷺ پر کیا جاتا ہے۔ مگر میرے نزدیک چونکہ صحیح احادیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کئی دفعہ پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرانا چاہا اس لئے ہم اس واقعہ سے کلیۃً انکار نہیں کرسکتے۔ مگر اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو اس واقعہ کے سمجھنے میں سخت غلطی لگی ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ ایک ظاہری واقعہ ہے جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نعوذ باللہ خودکشی کے ارادہ سے پہاڑ پر چڑھ جاتے اور اپنے آپ کو نیچے گرانا چاہتے مگر معاً جبریل آپ کو آواز دیتا کہ آپ ایسا نہ کریں۔ آپ واقعہ میں خدا کے رسول ہیں۔ اس پر رسول کریم ﷺ رک جاتے اور اپنے گھر واپس آجاتے۔ لوگ اس واقعہ کو ظاہر پر محمول کرتے ہیں اور اس طرح ٹھوکر کھاتے اور دوسروں کیلئے بھی ٹھوکر کا موجب بنتے ہیں حالانکہ یہ ظاہری واقعہ نہیں بلکہ کشفی واقعہ ہے۔ کشف میں رسول کریم ﷺ یہ دیکھتے تھے کہ میں پہاڑوں پر پھر رہا ہوں اور اپنے آپ کو گرانا چاہتا ہوں مگر فرشتہ مجھے آواز دیتا ہے کہ ایسا مت کریں آپ واقعہ میں خداتعالیٰ کے رسول ہیں۔
    اصل بات یہ ہے کہ چونکہ رسول کریم ﷺ کے دل میں بار بار یہ خیالات اُٹھتے تھے کہ میں اتنا بڑا کام کس طرح کرسکوں گا ایسا نہ ہو کہ میں خداتعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن جائوں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ان خیالات کو کشفی صورت میں اس رنگ میں ظاہر کیا کہ آپ پہاڑکی چوٹیوں سے اپنے آپ کو نیچے گرانا چاہتے ہیں مگر فرشتہ آواز دیتا ہے یا محمد انک رسول اللہ حقا اے محمد ﷺ آپ تو اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ آپ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کیلئے کھڑا کیا ہے۔ پس میرے نزدیک یہ کوئی ظاہری واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک کشف ہے جس میں رسول کریم ﷺ کے خیالات کی ترجمانی کی گئی ہے ۔ درحقیقت رئویا میں اگر کوئی شخص دیکھے کہ وہ پہاڑ سے اپنے آپ کو نیچے گرارہا ہے تو اگر وہ دیکھے کہ وہ پہاڑ سے گر گیا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ کوئی بری بات ظاہر ہوگی اور وہ تباہ ہوجائے گا لیکن اگر وہ رئویا میں پہاڑ سے گرا تو ہے مگر مرا نہیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس سے کوئی بڑی بھاری غلطی ہوگی یا کوئی بڑا بھاری کام کرے گا جس کے نتیجہ میں اسے صدمہ پہنچے گا مگر اس کے باوجود وہ ہلاک نہیں ہوا اور اگر کوئی شخص دیکھے کہ وہ پہاڑ سے گرنے لگا تھا مگر فرشتہ نے اسے کہا کہ گھبراتے کیوں ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ کوئی بڑا کام کرنے والا ہے جس میں بظاہر تباہی ہوگی مگر وہ تباہ نہیں ہوگا بلکہ کامیاب و بامراد ہوگا۔
    اگر ہم اس واقعہ کو ظاہری قرار دیں تب بھی یہ اس خشیت الٰہی کا ثبوت ہے جو رسول کریم ﷺ کے دل میں پائی جاتی تھی کیونکہ آپ نے ایسا فعل نزول وحی پر نہیں کیا بلکہ وحی کے رکنے پر کیا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ گھبراہٹ تھی کہ کیا میرے کسی فعل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ناراض ہوکر مجھ سے بولنا تو ترک نہیں کردیا ۔ لیکن میرے نزدیک یہ ظاہری واقعہ نہیں جس کا ایک ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ ہر دفعہ فرشتہ ظاہر ہوجاتا اور وہ آپ کو آپ کی کامیابی کی بشارت دیتا۔ فرشتہ کا خود آنا اپنی ذات میں اس بات کی ایک دلیل ہے کہ ہم اسے ظاہری واقعہ قرار نہیں دے سکتے۔ دوسری دلیل اس کی یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس واقعہ کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔
    اب رہا وحی کا سوال ۔دشمن کہتاہے کہ آپ کا اس وقت زملونی۔ زملونی کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک بیماری کا حملہ تھا۔ ہسٹیریا کا دورہ آپ کو ہوا اور آپ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جلدی مجھ پر کپڑا ڈال دو۔ مگر یہ سوال بھی وحی الٰہی سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ اصحاب وحی جانتے ہیں وحی الٰہی کے نزول کے وقت اس قدر خشیت کا نزول ہوتا ہے کہ جوڑ جوڑ ہل جاتا ہے۔ کیونکہ یہ مقام قرب ہے۔ دربار کی شمولیت کا حال تو درباری ہی جانتا ہے دوسرے کو کیا خبر ہوسکتی ہے۔ پس یہ حالت اس قرب کی وجہ سے تھی جو اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کو حاصل تھا۔ مگر اس حقیقت کو وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جو روحانیت کے اس کوچہ سے قطعی طور پر ناآشنا ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے ویسے ہی دور ہیں جیسے مشرق سے مغرب دور ہوتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو جنون ہوتا ہے کیا ان کا حال صرف کپڑا وڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کیا یہ بھی کوئی طبی مسئلہ ہے کہ جو شخص کپڑا اوڑھ لے وہ پاگل ہوتا ہے؟ یا کیا ڈاکٹر یہ پوچھا کرتا ہے کہ فلاں نظارہ کے وقت تم کپڑا وڑھتے ہو یا نہیں؟ پس زملونی زملونی کے الفاظ سے مخالفین اسلام کا یہ استدلال کہ رسول کریم ﷺ کے دماغ میںنعوذ باللہ نقص واقع ہوگیا تھا بالکل احمقانہ استدلال ہے۔ بیشک اس وقت آپ پر گھبراہٹ طاری ہوئی مگر گھبراہٹ کا طاری ہونا ہرگز آپ کے اندر روحانی دماغی یا جسمانی نقص کے پائے جانے کا ثبوت نہیں۔ بلکہ اس خشیت الٰہی ک اثبوت ہے جو آپ کے دل میں پائی جاتی تھی۔ ہم نے تو دیکھا ہے معمولی دنیوی واقعات پر بعض لوگ دوسروں سے اس قدر مرعوب ہوتے ہیں کہ ان کا پسینہ بہنے لگ جاتا ہے ۔ افسر کسی غلطی پر تنبیہ کرے یا کسی معاملہ کے متعلق ان سے باز پرس کی جائے تو ان پر رعب طاری ہوتا ہے کہ ہاتھ پائوں کانپنے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ تو پسینہ جاری ہوجاتا ہے۔ جب معمولی افسروں کے رعب کی وجہ سے انسان کی یہ حالت ہوجاتی ہے تو سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال اوراس کی جبروت کا آپ پر کس قدر اثر ہوسکتا تھا۔ پس آپ نے اگر زملونی زملونی کہا تو اس کی وجہ درحقیقت یہی تھی کہ آپ پر الٰہی کلام کارعب طاری ہوگیا۔ آپ نے چاہا کہ تھوڑی دیر کیلئے آپ لیٹ جائیں تاکہ آپ کے قویٰ کو سکون حاصل ہوجائے۔ وہ ولگ جو اس کو جنون کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ کیا کپڑااوڑھنا جنون کی علامت ہوتی ہے؟ ہم نے تو کبھی نہیں سنا کہ کوئی ڈاکٹر کسی ایسے مریض کے پاس گیا ہو جس میں جنون کے آثار پائے جاتے ہوں تو اس نے مریض کے لواحقین سے یہ سوال کیا ہو کہ کیا یہ مریض کبھی کپڑا بھی اوڑھتا ہے یا نہیں؟ اگر کپڑااوڑھتا ہے تو ضرور پاگل ہے اور اگر کپڑا نہیں اوڑھتا تو پاگل نہں۔ ایسا سوال آج تک کبھی کسی ڈاکٹر نے نہیں کیا۔ پس پس محض کپڑا اوڑھنے سے مخالفین اسلام کا یہ نتیجہ نکالنا کہ رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ جنون ہوگیا تھاخود ان کے مجنون ہونے کی علامت ہے ۔ دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا رسول کریم ﷺ کی باقی حالتیں بھی مجونانہ تھی یا نہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ غیرمعمولی قابلیت والے شخص کی حالت دوسروں سے الگ ہوتی ہے۔ ایک شخص جو غیرمعمولی طور پر حساب کی قابلیت رکھتا ہے وہ ان دوسرے لوگوں سے جو معمولی حساب جانتے ہیں بالکل ممتاز طور پر نظر آتا ہے۔ ایک شخص جو غیرمعمولی طور پر تاریخ کی واقفیت رکھتا ہے وہ ان دوسرے لوگوں سے جو معمولی طور پر تاریخ جانتے ہیں بالکل علیحدہ نظر آتا ہے۔ ایک شخص جو غیرمعمولی طور پر طب کی واقفیت رکھتا ہے وہ ان دوسرے لوگوں سے جو معمولی طب جانتے ہیں اپنے فن میں ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ بعض دفعہ مرض معمولی معلوم ہوتا ہے عام ڈاکٹر اس کا عام علاج کرتاہے مگر ماہر فن ڈاکٹر اس مرض کی شدت کو سمجھ کر فوراً اس کا دوسرا علاج بتاتا ہے یا عام ڈاکٹر مرض کو شدید بتاتا ہے۔ مگر ماہر فن اس کے معمولی مرض ہونے کو فوراً بھانپ جاتا ہے۔ یہی حال سائنس کے مسائل کا ہے۔ ایک شخص معمولی مسائل جانتا ہے مگر دوسرا شخص سائنس کی بڑی بڑی باریکیوں تک پہنچ جاتا ہے اور دنیا میںکئی اہم ایجادات کا موجب بن جاتا ہے۔ غرض الگ الگ قابلیتیں ہیں جو الگ الگ لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔ کسی شخص کی قابلیت بہت معمولی ہوتی ہے اور کسی شخص کی قابلیت بالکل غیرمعمولی ہوتی ہے اور وہ دوسروں سے اپنے کام میں بالکل علیحدہ نظر آتا ہے۔ مگر بہرحال کسی شخص میں غیرمعمولی قابلیت کا پایا جانا یہ معنے ہیں رکھتا کہ اسے جنون ہوگیا ہے۔ اسی طرح غیرمعمولی صحت والے کی حالت بھی دوسروں سے بالکل الگ ہوتی ہے۔ پس محض غیرمعمولی قابلیت کے نتیجہ میں کسی کی الگ حالت ہونے پر اس پر مجنون ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا اور جو ایسا کرتا ہے وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا کی تمام ترقی مجنونوں سے وابستہ ہے، کیا ایسا شخص خود پاگل نہیں؟
    سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسا ن میں عقل کس لئے رکھی ہے۔ اگر عقل کی غرض کوئی اعلیٰ کام کرنا ہے تو پھر اعلیٰ کام کرنا تو عقل کی علامت ہوا نہ کہ جنون کی علامت؟ اگر کسی شخص کی حالت دوسروں سے خیر ہے تو دیکھا یہ جائے گا کہ اس شخص کے حالات بنی نوع انسان کی ترقی کا موجب ہیں یا تنزل کا۔ اگر اس کا اپنی قابلیت میں غیر معمولی ہونا بنی نوع انسان کی ترقی کا موجب ہو تو ماننا پڑے گا کہ اس کے حالات کا تغیرعقل کی زیادتی کی وجہ سے ہے اور اگر اس کے حالات بنی نوع انسان کی تباہی اور خرابی کا موجب نظر آئیں تو ماننا پڑے گا کہ اس کا تغیر جنون کی وجہ سے ہے۔ بہرحال کسی کے حالات کا تغیر یا کسی میں غیر معمولی قابلیت کا پایا جانا اس کے جنون کی علامت نہیں ہو سکتا ۔
    پھر یہ بھی دیکھو کہ دشمن نے تو آج یہ اعتراض کیا ہے کہ نزول وحی کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے دماغ میں نعوذباللہ نقص واقعہ ہو گیا تھا مگر قرآن کریم نے اپنی ابتدائی آیات میں ہی اس سوال کا جواب پوری تفصیل کے ساتھ دے دیا تھا اور دنیا کو بتا دیا تھا کہ اس کا یہ اعتراض سراسر حماقت پر مبنی ہے چنانچہ سورئہ نون والقلم میں اس اعتراض کا جواب موجود ہے ۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ مفسرین اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ سورئہ علق کی ابتدائی آیات کے نزول کے معٔٔا بعد سورئہ نون والقلم کی آیات رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئیں اور یہ آیات اس مضمون کی حامل ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے متعلق لوگوں کا یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ ان کے دماغ میں کوئی نقص واقعہ ہو گیا ہے۔ یہ قرآن کریم کا ایک ایسا اعجاز ہے کہ جس پر غیر مسلم اگر دیانتداری سے غور کریں تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ کلام کسی انسانی دماغ کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے۔ دیکھو ابھی دنیا نے یہ اعتراض نہیں کیا تھا کہ نزول وحی کے واقعات رسول کریم ﷺ کے جنون کی علامت ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے عرش سے دیکھ لیا کہ ایک دن آنیوالا ہے جب دشمن نزول وحی کی کیفیت کو نہ سمجھتے ہوئے یہ اعتراض کرے گا کہ رسول کریم ﷺ نعوذباللہ مجنون تھے۔ چنانچہ دوسری ہی وحی جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ازالہ کیا اور فرمایا نٍٍ والقلم وما یسطرون ۔ ما انت بنعمۃ ربک بمجنون ( سورئہ علق ۱ع۳) ہم قسم کھا کر پیش کرتے ہیں دوات اور قلم کو اور ان تمام تحریروں کو جو قلم اور دوات سے لکھی گئی ہیں کہ اگر دنیا کی تمام تحریروں کو جمع کیا جائے تو ان سے نتیجہ یہ نکلے گا کہ ما انت بنعمۃ ربک بمجنون تو اپنے رب کی نعمت سے پاگل نہیں ہے۔ یہ دوسری سورۃ ہے جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی اور جس کے ابتداء میں ہی اس اعتراض کا اللہ تعالیٰ نے جواب دے دیا جو پہلی وحی سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا تھا اور وہ جواب یہ ہے کہ قلم اور دوات نے جس قدر علوم لکھے ہیں وہ سب اس امر کے شاہد ہیں کہ تو مجنون نہیں۔ یعنی اگر علوم عالموں کے لکھے ہوئے ہیں تو تُو ان سے بڑھ کر علم بیان کرتا ہے۔ اگر وہ ادنیٰ علوم سے عالم کہلاتے ہیں تو تو اعلیٰ علم سے مجنون کیو ں کہلانے لگا۔ بہرحال ان سے بڑا عالم کہلائے گا اور تیرا ان سے اختلاف علم کی زیادتی کی وجہ سے کہلائے گا نہ کہ علم کی کی وجہ سے۔
    تیرے مجنون نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر روحانی ترقیات یا دین سے تعلق رکھنے والے علوم پائے جاتے ہیں ان سب کے مقابلہ میں تو دنیا کو وہ کچھ سکھائے گا جو اس نے پہلے نہیں سیکھا۔ اور یہ ثبوت ہوگا اس بات کا کہ تو پاگل نہیں۔ تیرے دماغ میں کوئی نقص نہیں۔ اور اگر تجھے پاگل قرار دیا جاسکتا ہے تو پھر ان سب لوگوں کو پاگل قرار دینا پڑے گا جنہوں نے دنیا میں علوم کو پھیلایا اور بنی نوع انسان پر علمی اور روحانی رنگ میں احسان عظیم کیا۔ لیکن اگر وہ ان کو پاگل قرار نہیں دیتے تو تجھے کس منہ سے پاگل کہہ سکتے ہیں۔ کیاوہ نہیں دیکھتے کہ دنیا میں جب کوئی شخص کسی علم پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو لوگ اسے پاگل قرار نہیں دیتے بلکہ کہتے ہیںوہ بڑا فاضل ہے۔ بڑا عالم اور سمجھدار ہے۔ اس نے علم کی باریکیوں پر بڑی عمدگی سے روشنی ڈالی ہے مگر تو وہ ہے جو ہر علم کے ایسے نکات کو بیان کرتا ہے جن کی طرف اس علم کے بڑے بڑے ماہرین کی بھی آج تک نظر نہیں گئی پھر اگر وہ ایک علم پر معمولی روشنی ڈال کرعالم سمجھے جاسکتے ہیں تو تو تمام روحانی، اخلاقی، اقتصادی، قضائی، سیاسی، عائلی علوم کے متعلق ان کے ماہرین سے زیادہ روشنی ڈال کر مجنون کیونکر سمجھا جائے گا۔ آخر مجنون کہنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے ۔ اگر تو کام وہ کررہا ہے جو بڑے بڑے عالموں نے بھی نہیں کیا تو مجنون کس طرح کہا جاسکتا ہے۔ اور لوگوں کی کیسی حماقت ہے کہ وہ اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ عقل اور جنون میں اور علم اور جہالت میں بعد المشرقین ہے۔ جب دنیا میں تو علوم کے وہ خزانے تقسیم کررہا ہے جو بڑے بڑے عالموں کے واہمہ میں بھی کبھی نہیں آئے تو بہرحال اسے یہی کہنا پڑے گا کہ تو بڑا عالم ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ تومجنون ہے یا تیرے دماغ میں فتور واقع ہوگیا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ن والقلم وما یسطرون ما انت بنعمۃ ربک بمجنون اے لوگو! آج تک قلم اور دوات سے جو کچھ لکھا گیا ہے اسے ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور اس کے مجنون نہ ہونے کے ثبوت کے طور پر تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ جب دنیا میں علم الاخلاق پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔ جب علم العقائد پر کوئی کتاب لکھتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔ جب علم السیاست میں کوئی شخص نئی راہ پیدا کرتا ہے تو تم کہتے وہ بڑا عالم ہے۔ جب علم الاقتصاد میں کوئی شخص نیا مسئلہ نکالتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔ جب علم العائلہ پر کوئی شخص نئے رنگ میں روشنی ڈالتا ہے تو تم کہتے ہو وہ بڑا عالم ہے۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ وہ شخص ہیں کہ آج تک جس علم میں بھی کوئی کتاب لکھی گئی ہے وہ ان کے علم کے مقابل میں بالکل ہیچ ہے۔ قلمیں ان کے مقابلہ میں ٹوٹ چکی ہیں۔ عالم ان کے مقابلہ میں گنگ ہوچکے ہیں۔ معارف ایک سمندر ہے جو انہوں نے دنیا میں بہادیا ہے اور علوم کا ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جو انہوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ ایسی صورت میں اگر تم تعصب سے کام نہ لو تو باآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غیرمعمولی قابلیت ان کے غیرمعمولی علم اور آسمانی تائید اور ہدایت کے نتیجہ میں ہے نہ کہ نعوذ باللہ غیر معمولی جہالت کے نتیجہ میں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاگل اور غیر معمولی عقلمند اور بڑے عالم اور بڑے جاہل میں یہ اشتراک ہوتا ہے کہ یہ بھی اپنے اندر غیرمعمولی طاقت رکھتا ہے۔ اور وہ بھی اپنے اندر غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ فرق ہوتا ہے کہ ایک شخص نیچے کی طرف غیرمعمولی طور پر گرتا ہے اور دوسرا شخص اوپر کی طرف غیر معمولی طور پر جاتا ہے۔ غیرمعمولی علم رکھنے والا وہ باتیں بتاتا ہے جو بڑے بڑے عالموں کو بھی نہیں سوجھتی اور غیر معمولی ذہانت رکھنے والا وہ باتیں بتاتا ہے جو بڑے بڑے بیوقوفوں اور جاہلوں سے بھی صادر نہیں ہوتیں۔ بہرحال محض کسی غیرمعمولی قابلیت کی وجہ سے دوسروں سے الگ ہونا اس کے جنون کی علامت نہیں ہوتا۔ بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس کے حالات کا تغیر بنی نوع انسان کے فائدہ کا موجب ہوا ہے یا نقصان کا موجب ہوا ہے۔ اگر فائدہ کا موجب ہو تو کوئی شخص اس تغیر کو جنون کا نتیجہ قرار نہیں دے سکتا۔
    یہ کتنی سچی اور پختہ دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کی گئی اور پیش بھی ایسے موقع پر کی گئی جب ابھی وحی کے نزول کا ابتداء ہی ہوا تھا۔ میں تو سمجھتا ہوں یہ بھی قرآن کریم کا ایک زبردست معجزہ ہے کہ اس نے ابتداء وحی میں بھی اس اعتراض کا جواب دے دیا جو دشمنان اسلام نے رسول کریم ﷺ کی وحی کے متعلق کرنا تھا۔ اور ایسے حالت میں دے دیا جبکہ خود مکہ والوں کے سامنے بھی ابھی آپ نے اپنا دعویٰ پیش نہیں کیا تھا۔ سب لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سورۃ المدثر کی ابتدائی آیا ت کے نزول کے بعد مکہ والوں کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے۔ مگر ن والقلم کی ابتدائی آیات وہ ہیں جو اقرا باسم ربک الذی خلق کے معاً بعد نازل ہوئیں گویا ابھی رسول کریم ﷺ کی طرف سے اپنی نبوت کا اعلان بھی نہیں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت یہ خبر دے دی کہ رسول کریم ﷺ پر مجنون ہونے کا اعتراض کیا جائے گا۔ اور اگر پہلی وحی کے بعد کسی نے یہ اعتراض کیا بھی تھا تب بھی قرآن کریم نے پہلی وحی کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ دشمنوں کے اس اعتراض کا جواب دے دیا کہ رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ جنون ہوگیا ہے۔ اور جواب بھی ایسا زبردست دیا کہ جس کا انکار نہیں ہوسکتا۔
    آج کل کے سائیکالوجسٹ کہتے ہیں کہ غیرمعمولی قابلیت جنون کی علامت ہوتی ہے۔ میں اس کا جواب اوپر دے چکا ہوں لیکن اگر اس جواب سے کسی کی تسلی نہ ہو تو میں کہتا ہوں کہ اگر غیرمعمولی قابلیت جنون سے حاصل ہوتی ہے تو پھر ہم بھی خواہش کرتے ہیںکہ خدا کرے ہم بھی ایسے پاگل بن جائیں کیونکہ جب دنیا کی ترقی غیرمعمولی قابلیت سے وابستہ ہے اور غیرمعمولی قابلیت جنون کی علامت ہے تو پھر دنیا کی ترقی عقلمندوں سے نہیں بلکہ پاگلوں سے وابستہ ہے۔ اور وہی لوگ اس قابل ہیں کہ ان کا نمونہ بننے کی کوشش کی جائے۔
    میور اس موقع پر اعتراض کیا ہے کہ جب اس صورت میں اقرا کہا گیا ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محادثہ بالنفس والی سورتیں اس سے پہلے نازل ہوچکی تھیں۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کو یہ کہا گیا کہ اقرا یعنی پڑھ تو ضروری ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ اس سے پہلے کچھ سورتیں نازل ہوچکی تھیں۔ جن کے متعلق رسول کریم ﷺ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ انہیں لوگوں کو پڑھ کر سنادیں۔ وہ محادثہ بالنفس والی سورتیں سورۃ اللیل اور سورۃ الضحیٰ کو قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ قوم کے حالات پر غور کرتے کرتے جب ان سورتوں میں آپ نے اپنی قوم کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا تو اس کے بعد آپ کو یہ خیال ہوا کہ یہ سورتیں درحقیقت الہامی ہیں اور میرا فرض ہے کہ میں یہ سورتیں لوگوں کو پڑھ کر سنائوں۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک تاریخی سوال ہے اس کا قیاس سے تعلق نہیں۔ تاریخی امور میں ہمیشہ تاریخ کا حوالہ چاہئے نہ کہ قیاس کا۔ اگر تاریخ سورۃ اللیل اور سورۃ الضحیٰ کو بعد کی نازل شدہ قرار دیتی ہیں تو قیاس کا اس میں کیا دخل ہے۔ بیشک کچھ لوگ اقرا کے بعد سورہ ن والقلم پھر مزمل اور پھر مدثر کا نزول بتاتے ہیں اور کچھ لوگ اقرا کے بعد سورہ مدثر کی ابتدائی آیا ت کا نازل ہونا بتاتے ہیں۔ مگر وہ سورتیں جن کو سر میور محادثہ بالنفس والی سورتیں قرار دیتے ہیں ان کانزول کسی ایک شخص میں بھی اقرا سے پہلے قرار نہیں دیا۔
    دوسرے خود ان سورتوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ ان کو پہلے کی قرار دیا جائے۔ کیا وہ خیالات جو ان سورتوں میں مذکور ہیں بعد میں ظاہر نہیں کئے جاسکتے تھے؟
    حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کے خلاف قیاس اسی مقام پر پیش کیا جاسکتا ہے جہاں تاریخی واقعہ ناممکن نظر آئے۔ مگر جہاں تاریخی واقعہ چسپاں ہوسکتا ہو وہاں قیاس سے کام لینا محض ایک زبردستی ہے اور اس زبردستی کی علم اجازت نہیں دیتا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گو سرمیو ر کہتے ہیں کہ یہ سورۃ بعد کی ہے اور محادثہ بالنفس والی سورتیں پہلے کی ہیںاور بعض نے گو محادثہ بالنفس والی (بقول سرمیور) سورتوں کو مخصوص نہیں کیا صرف اتنا کہا ہے کہ یہ سورت بعد کی معلوم ہوتی ہیں کیونکہ ا س میں اقرا کہا گیا ہے۔ جسے معمول ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بعض سورتیں نازل ہوچکی تھیں۔ لیکن نولڈکے وغیرہ نے تسلیم کیا ہے کہ یہ سورۃ سب سے پہلے نازل ہوئی۔ وہ کہتے ہیں جب تاریخ سے ثابت ہے کہ سب سے پہلے اس سورۃ کی آیات رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی تھیں تو ہم تاریخ کے مقابلہ میں قیاس سے کس طرح کام لے سکتے ہیں۔
    میں اس موقع پر یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ مستشرقین یورپ کو زیادہ تر دھوکا اس بات سے لگا ہے کہ بعض جگہ کفار کی مخالفت کی جو خبریں آجاتی ہیں ان سے وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ الہام واقعہ کے بعد ہونا چاہئے اس لئے جس زمانہ میں مخالفت نہیں تھی اس زمانہ میں کسی سورۃ کے اس حصہ کا نزول تسلیم نہیں کیا جاسکتا جس میں مخالفت کی خبر دی گئی ہو۔ گویا ان کے نزدیک جن سورتوں میں مخالفت کا ذکر ہو وہ ہمیشہ مخالفت کے بعد کی ہوتی ہیں۔ اس خیال پر بنیاد رکھتے ہوئے وہ بعض دفعہ مکی سورتوں کو مدنی قرار دے دیتے ہیں یا ابتداء میں نازل ہونے والی آیات کو بعد کے زمانہ میں نازل ہونے والی آیات قرا ر دے دیتے ہیں۔ جب اسلام اور مسلمانوں کی پرزور مخالفت شروع ہوگئی تھی مگر اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وجود نے اس خیال کا بطلان خوب اچھی طرح ظاہر کردیا ہے۔ جب قرآن کریم نازل ہورہا تھا اس وقت تو نہ صحابہ کے دل میں یہ خیال آسکتا تھا اور نہ کسی اور مسلمان کے دل میں کہ کل دشمن قرآن کریم کے متعلق کیا کیا اعتراض کرے گا۔ اکثر اعتراضات موجودہ زمانہ میں ہوئے ہیں جن کے ہم جواب دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض باتیں ایسی ہیں جو صحابہؓ کے زمانہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ مثلاً سورتوں کے نزول کی ترتیب معلوم کرنے میں اس وقت کوئی دقت پیش نہیں آسکتی تھی۔ صحابہؓ زندہ موجود تھے اور اگر کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تو اس سے کہا جاسکتا تھا کہ زید سے پوچھ لو۔ بکر سے دریافت کرلو۔ عمرو اور خالد سے اپنی تسلی کرالو۔ مگر جب جواب دینے والے فوت ہوگئے تو اس وقت قدرتی طور پر بعض لوگوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونا شروع ہوا کہ فلاں سورۃ کب اتری تھی یا فلاں سورۃ کا فلاں حصہ کب نازل ہوا تھا؟ اس وقت دشمن نے اس قسم کے خیالات سے فائدہ اٹھانا شروع کردیا۔ کہ جہاں کسی پیشگوئی کا ذکر آتا وہ کہہ دیتا کہ یہ حصہ تو وقوعہ کے بعد کا ہے ۔ حالانکہ وہ حصہ وقوعہ سے مدتوں پہلے نازل ہوچکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور پیشگوئی ان میں یہ خبریں موجود ہوتی تھیں کہ کفار مکہ میں سے کوئی فرعون کا مثیل ہوگا۔ کوئی ہامان کا قائمقام ہوگا اورنبی کریم ؐکی مثال یوسفؑ کی سی ہوگی۔ اس طرح یوسفؑ کو اس کے اپنے بھائیوں نے نکال دیا تھا اسی طرح آپ کے بھائی آپ کو اپنے شہر میں سے نکال دیں گے۔ غرض کئی قسم کی پیشگوئیاں تھیں جو اللہ تعالیٰ کے اس کلام میں موجود تھیں جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا اور جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوگئیں۔ مگر چونکہ صحابہ کا زمانہ گزرچکا تھا اور وہ لوگ فوت ہوچکے تھے جن کے سامنے قرآن کریم کا نزول ہوا۔ اس لئے دشمن نے اس رنگ میں فائدہ اٹھانا شروع کردیا کہ جہاں کہیں امر بطور پیشگوئی ملتا وہ جھٹ کہہ دیتا یہ حصہ وقوعہ کے بعد کا ہے۔ جب واقعات اس رنگ میں ظاہر ہوچکے تھے۔ یہی طریق یورپین مصنفین نے اختیار کیا ہے۔ وہ قرآن کریم کی ہر پیشگوئی کو واقعہ کے بعد نازل شدہ بتاتے ہیں۔ اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ دیکھو لوگ کہتے ہیں یہ آیت مکی ہے حالانکہ اس میں فلاں واقعہ کی خبر ہے جو مدینہ میں ہوا اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ آیت مکی نہیں مدنی ہے۔ اس سے ان کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے جو کہا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے کئی پیشگوئیاں کیں اور وہ وقت پر پوری ہوئیں یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ آپ نے کوئی پیشگوئی نہیں کی بلکہ واقعہ کے بعد آپ نے اس رنگ کی آیات دھار کر قرآن کریم میں شامل کردی تھیں۔
    اس اعتراض کا جواب صحابہؓ تو دے نہیں سکتے کیونکہ وہ فوت ہوچکے ہیں اور صحابہ کے زمانہ میں یہ سوال نہیں اٹھا کہ وہ اس پر کوئی روشنی ڈال جاتے۔ مگر چونکہ اس اعتراض کا جواب ضروری تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بعثت سے جہاں اسلام کے اور بہت سے مسائل کو حل کیا وہاں اس ترتیب کے سال کو بھی اللہ تعالیٰ نے بالکل حل کردیاہے۔
    جب قرآن کریم نازل ہوا ہے اس وقت ساتھ ہی ساتھ اس رنگ میں کتابت نہیں ہوتی تھی کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ فلاں آیت کس سال میں نازل ہوئی اور فلاں آیت کس سال میں۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے زمانہ میں پیدا کیا جب کتابت کا زور تھا، پریس جاری تھے اور ہر چیز شائع ہوکر فوراً لوگوں کی نظروں کے سامنے آجاتی تھی اور یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ چونکہ الہام میں فلاں واقعہ کا ذکر ہے جو اتنے سال بعد پورا ہوا اس لئے یہ الہام اس واقعہ کے بعد کا ہے پہلے کا نہیں۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجود اس اعتراض کے باطل ہونے پر ایک زبردست گواہ ہے۔ چنانچہ میں اس کے ثبوت میں ’’براہین احمدیہ‘‘ کے بعد الہامات پیش کرتاہوں۔
    براہین احمدیہ انگریزی مطبع میں چھپی ہے ۱۸۸۰؁ء میں اس کی پہلی جلد شائع ہوئی تھی اور ۱۸۸۴؁ء میں چوتھی جلد چھپنے کے بعد اس کتاب کی دو جلدیں قانون کے مطابق گورنمنٹ کو بھجوادی گئی تھیں بلکہ لنڈن میوزیم میں بھی اس کی کاپیاں محفوظ ہیں۔ اس لئے دشمن یہ نہیں کہہ سکتا کہ براہین احمدیہ میں جو باتیں لکھی گئی ہیں وہ ۱۸۸۴؁ء کے بعد کی ہیں۔
    جب یہ کتاب شائع ہوئی ہے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیشک لوگوں میں معروف تھے مگر صرف بطور مباحث کے ہزار دور ہزار آدمی آپ کو جانتے تھے۔ مگر اس لئے کہ آپ عیسائیوں یا ہندوئوں وغیرہ کے ان مضامین کا جواب دیتے رہتے تھے جو وہ اسلام کے خلاف لکھتے تھے یا ایسے لوگ جانتے تھے جو آپ کے تقویٰ کے قائل تھے اور آپ سے محبت اور اخلاص رکھتے تھے۔ مثلاً لالہ بھیم سین صاحب سیالکوٹ کے ایک وکیل تھے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس قدر تعلق رکھتے تھے کہ جب آپ پر کرم دین والا مقدمہ ہوا تو اس وقت ان کے بیٹے لالہ کنور سیم صاحب ایم ۔اے جو لاء کالج لاہور کے پرنسپل بھی رہے ہیں اور بعد میں جموں ہائی کورٹ کے جج بن گئے تھے ولایت سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرکے آئے تھے۔ لالہ بھیم سین صاحب کو جب کرم دین والے مقدمہ کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو لکھا تمہاری پڑھائی کا کوئی فائدہ ہونا چاہئے مرزا صاحب بڑے مہاتما ہیں ان پر اس وقت ایک مقدمہ دائر ہے تم جائو اور اس مقدمہ کی مفت پیروی کرو تاکہ مرزا صاحب کی برکت سے تمہاری زندگی سنور جائے۔ اب دیکھو ایک شخص ہندو ہے وہ یہ جانتا ہے کہ آپ ہندئووں سے ہمیشہ مباحثات کرتے رہتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ آپ سے محبت رکھتا ہے، آپ سے عقیدہ اور اخلاص رکھتا ہے اور اپنے بیٹے کو آپ کے مقدمہ کی مفت پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو مرزا صاحب کی برکت سے تمہاری زندگی سنور جائے گی۔ اسی طرح گو عیسائیوں سے آپ مباحثے کرتے رہتے تھے مگر ان میں بھی ہم یہ رنگ دیکھتے ہیں کہ باوجود بحث مباحثہ کے وہ آپ سے محبت اور اخلاص رکھتے۔ اس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے کہ جن دنوں آپ سیالکوٹ میں ملازم تھے ایک بہت بڑے انگریز پادری سے جس کا نام پادری بٹلر تھا آپ اکثر مباحثات کیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ پادری کچہری میں آیا اور چونکہ اس زمانہ میںپادریوں کا خاص طور پر احترام کیاجاتا تھا ڈپٹی کمشنر نے سمجھا کہ پادری صاحب مجھ سے ملنے کیلئے آئے ہیں چنانچہ وہ اٹھا، بڑے احترام سے اس کے ساتھ مصافحہ کیا اور پھر کہا فرمائیے میرے لائق کون سی خدمت ہے۔ پادری صاحب نے کہا میں آپ سے ملنے نہیں آیامیں تو مرزا صاحب سے ملنے آیا ہوں۔ میں اب ولایت جارہاہوں اورچونکہ میرے ساتھ ان کے اکثر مباحثات ہوتے رہے ہیں میرے دل میں ان کی بڑی عقیدت ہے۔ میں نے چاہا کہ ولایت جانے سے پہلے ان سے آخری ملاقات کرلوں۔ چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جہاں تشریف رکھتے تھے پادری وہیں چلا گیا، فرش پر بیٹھ گیا اور دیر تک آپ سے باتیں کرتا رہا۔ اب دیکھو ایک انگریز پادری جس سے ملنے میں ڈپٹی کمشنر تک اپنی عزت کرتا تھا ہندوستان سے رخصت ہونے سے پہلے آپ سے رخصت ہونے سے پہلے کچہری گیا جبکہ آپ ایک معمولی کلرکی کا کام کرتے تھے اور جبکہ آپ کی عمر اس پادری کے پوتوں سے زیادہ نہ ہوگی۔
    پھر مولوی حسین صاحب بٹالوی مسلمانوں کے چوٹی کے علماء میں سے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ لکھی تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس پر ریویو لکھا:-
    ’’ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبرنہیں۔ لعل اللہ یحدث بعد ذالک امرا۔ اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی، جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے‘‘۔
    لوگ جب کسی کتاب کے متعلق تعریفی ریویو لکھتے ہیں تو کہتے ہیں اس سال کی یہ عظیم الشان کتاب ہے۔ اور وہ کتاب بڑی بھاری سمجھی جاتی ہے۔ اگر کہہ دیا جائے کہ دس سال میں ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تو اس کی شہرت اور بھی بڑھ جاتی ہے اور اگر کہا جائے کہ ایک صدی کے اندر اندر ایسی عظیم الشان کتاب اور کوئی نہیں لکھی گئی تو یہ اس کتاب کی انتہائی تعریف سمجھی جاتی ہے۔ مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ لکھتے ہیں کہ اس کتاب کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔ گویا ایک صدی کا سوال نہیں دو صدیوں کا سوال نہیں، تیرہ سو سال میں مسلمانوں کی طرف سے اسلام کے فضائل کے متعلق ایسی شاندار کتاب اور کوئی نہیں لکھی گئی۔
    غرض مسلمان کیا اور ہندو کیا اور عیسائی کیا سب براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعریف کرتے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد ہندوئوں میں مخالفت کا کچھ چرچا شروع ہوگیا تھا مگر اس سے پہلے ہندوئوں میں بھی آپ کی کوئی مخالفت نہیں تھی بلکہ ان میں سے کئی آپ سے بہت اخلاص رکھتے تھے جیسے لالہ بھیم سین صاحب۔ اسی طرح اور بہت سے ہندو تھے جو آپ سے خط وکتابت رکھتے تھے اور آپ کی نیکی اور تقویٰ کو تسلیم کرتے تھے۔ اس زمانہ میں یہ احتمال ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص آپ کی مخالفت کرے گا کیونکہ سب کے سب لوگ خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں آپ کے مداح تھے اور جس طرح رسول کریم ﷺ کو دعویٔ نبوت سے پہلے لوگ امین اور صدیق کہا کرتے تھے اسی طرح لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی راستبازی کے قائل تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ غرض مسلمانوں، ہندوئوں اور عیسائیوں تینوں میں سے جو لوگ آپ کے واقف تھے وہ آپ کا ادب اور احترام کرتے تھے اور جو لوگ واقف نہیں تھے وہ نہ دوستی کا اظہار کرتے تھے نہ دشمنی کا۔ ایسی حالت میں براہین احمدیہ شائع ہوئی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے زمانہ میں جب نہ آپ کی مخالفت کا سوال تھانہ موافقت کا۔ نہ آپ پر ایمان لانے والے دنیا میں موجود تھے اور نہ مخالفت کرنے والے۔ براہین احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے کیا الہامات شائع ہوئے اور وہ کس قسم کے اخبار غیبیہ پر مشتمل تھے۔ اس غرض کیلئے جب ہم براہین احمدیہ کا سرسری مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس میں ایک الہام یہ نظر آتا ہے کہ قل للمومنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فروجھم ذالک ازکی لھم (براہین احمدیہ صـ ۵۰۵) ۔ یعنی تو اپنے مومنوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ پاکیزگی کے لحاظ سے ان کیلئے بہت بہتر ہوگا۔ اگر یہ کتاب چھپی ہوئی نہ ہوتی یا اس پر اشاعت کی تاریخ درج نہ ہوتی اور یہ سوال اٹھتا کہ یہ الہام کب کا ہے تو پادری وہیری کا کوئی بھائی کہتا کہ یہ الہام ۱۹۰۱؁ء کا معلوم ہوتا ہے جب ایک جماعت آپ پر ایمان لاچکی تھی۔ حالانکہ یہ ۱۸۸۴؁ء کی کتاب ہے اور گورنمنٹ کے پاس بھی اس کی کاپی موجود ہے۔ پھر اس زمانہ میں جب دنیا میں آپ کی نہ کوئی مخالف تھی اور نہ مخالفت کاکوئی امکان تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن کریم کی یہ آیت بہ تغیر قلیل الہامہوئی کہ لم یکن الذین منفکین حتی تاتیھم البینۃ و کان کیدھم عظیما (صـ ۵۰۶) یعنی اے شخص لوگ تیری مخالفت کریں گے اور اس مخالفت میں اہل کتاب اور مشرکین دونوں شریک ہوں گے یعنی یہودی بھی تیری مخالفت کریں گے، عیسائی بھی تیری مخالفت کریں گے، مسلمان بھی تیری مخالفت کریں گے، ہندو بھی تیری مخالفت کریں گے اور وہ اس مخالفت سے کبھی باز نہیں آئیں گے جب تک کہ ہماری طرف سے نشان پر نشان ظاہر نہ ہوں۔ ان نشانوں کے ظاہر ہونے کے بعد ان کو معلوم ہوگا کہ تو ہماری طرف سے کھڑا کیا گیا ہے۔ وکان کیدھم عظیما اور جن مکروں اور فریبوں سے وہ تجھے مغلو ب کرنا چاہیں گے وہ بڑے عظیم الشان ہوں گے مگر ہم ان کے تمام منصوبوں کو باطل کردیں گے اورتجھے غلبہ اور کامیابی عطا کریں گے۔
    اس الہام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیسی زبردست مخالفت کی خبر دی گئی ہے حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ کہ اس وقت ہندو آپ کی عزت کرتے تھے، عیسائی آپ کی عزت کرتے تھے، مسلمان آپ کی عزت کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت فرمادیا کہ یہودی اور عیسائی اور مسلمان اور ہندو اور سکھ سب کے سب تیری مخالفت کریں گے اور تیرے خلاف بڑے بڑے منصوبے کریں گے۔ وہ چاہیں گے کہ تجھے مٹادیں، تیرے نام کو دنیا سے ناپید کردیںمگر ہم تیری تائید میں اپنے عظیم الشان نشان دکھائیں گے اور آخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ تو غالب آجائے گا اور تیرے مخالف مغلوب ہوجائیں گے ۔ حالانکہ یہود اور دوسرے غیر ملکی مذاہب کے لوگوں کو آپ کے متعلق کوئی علم ہی نہ تھا۔ پھر فرمایا وذا قیل لھم لا تفسدو فی الارض قالوا انما نحن مصلحون الا انھم ھم المفسدون۔ قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق و من شر غاسق اذا وقب (براہین احمدیہ صـ ۵۰۶،۵۰۷) یہ مدنی آیات ہیں اور منافقوں کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔ اور منافق اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک طرف جماعت کے غلبہ کے آثار ہوں اور دوسری طرف دشمن بھی ابھی طاقتور ہو۔ اس حالت کے نتیجہ میں جو پیدائش ہوتی ہے اس کا منافق نام ہوتا ہے۔ جس طرح ہر زمین کی پیداوار الگ الگ ہوتی ہے اسی طرح دینی منافقت کی پیداوار اس موسم ہوتی ہیں جب دین دنیا کے ایک حصہ پر غالب آجاتا ہے مگر کفر ابھی پوری طرح مغلوب نہیں ہوتا۔ انہیں کفر کا بھی ڈر ہوتا ہے اور دین کا بھی ڈرتاہوتا ہے ……… اور چونکہ اس وقت دو کشتیاں تیار ہوجاتی ہیں منافق چاہتا ہے کہ دونوں کشتیوں میں سوار ہوکر سفر کرتا چلا جائے نہ وہ پوری طرح دین کی طرف آتا ہے اور نہ وہ پوری طرح کفر کی طرف جاتا ہے۔ یہ بھی جرأت نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں سے مقابلہ کرے کیونکہ ڈرتا ہے کہ وہ جیت نہ جائیں اور یہ بھی جرأت نہیں کرسکتا کہ کفار کا مقابلہ کرے کیونکہ ان کے متعلق بھی اسے خوف ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو وہ جیت جائیں۔ پس فرماتا ہے ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب تیری جماعت ترقی کرتے کرتے کفار کے مقابلہ میں ایک ترازو پر آجائے گی جیسے اس وقت قادیان کی حالت ہے۔ اس وقت تیری جماعت میں منافقوں کا ایک گروہ پیدا ہوجائے گا جو ادھر تجھ سے تعلق رکھے گا اور ادھر کفار سے تعلق رکھے گا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میںنفاق کی کوئی صورت ہی نہیں تھی۔ قادیان میں وہی شخص آتا تھا جو لوگوں سے ماریں کھانے کیلئے تیار ہوتا تھا مگر اب چونکہ جماعت ترقی کرکے دشمن کے مقابلہ میں ترازو کے تول کی مانند کھڑی ہوگئی ہے اس لئے منافقین کا بھی ایک عنصر پیدا ہوگیا ہے۔ چنانچہ ۱۹۳۴؁ء میں جب احرار نے شورش برپا کی اور گورنمنٹ کے بعض افسروں نے بھی ان کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی تو اس وقت ہماری جماعت میں سے بعض منافق احرار سے جاکر ملتے تھے اور ہمیں ان کی نگرانی کرنی پڑتی تھی۔ اور ابھی تو یہ پیشگوئی صرف قادیان میں ہی پوری ہوئی ہے جب بیرونی مقامات پر بھی جماعت نے ترقی کی اور کفر کے مقابلہ میں اس نے طاقت پکڑنی شروع کردی تو اس وقت وہاں بھی ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے۔ پھر اور ترقی ہوگی تو بیرونی ممالک میں اس پیشگوئی کا ظہور شروع ہوجائے گا۔ کبھی یورپ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی، کبھی امریکہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی، کبھی چین اور جاپان میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی اور کبھی مصر اور شام اور فلسطین وغیرہ میں یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔ غرض ۱۸۸۴؁ء میں جب نہ لوگوں کی مخالفت کا کوئی خیال تھانہ یہ خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ کسی دن دنیامیں ایک بہت بڑی جماعت قائم ہوجائے گی۔ وہ جماعت ترقی کرے گی اور جب وہ کفار کے مقابل میں ایک ترازو کے تول پر آجائے گی تو اس وقت بعض منافق پیدا ہوجائیں گے۔ حالانکہ یہ باتیں اس وقت کسی کے وہم اور گمان میں بھی نہیں آسکتی تھیں۔
    پھر فرماتا ہے تلطف بالناس و ترحم علیھم انت فیھم بمنزلۃ موسی واصبر علی ما یقولون (براہین احمدیہ ۔ ص ۵۰۷) تو لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ اور تو ان پر رحم کر۔ تو ان میں ایسا ہی ہے جیسے موسیٰؑ اپنی قوم میں تھا اور جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کر۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جو حالات موسیٰ کے ساتھ پیش آئے تھے وہی تیرے ساتھ پیش آنے والے ہیں۔ تیری مخالفت میں بھی لوگوں کی طرف سے بہت کچھ کہا جائے گا تیر فرض ہے کہ تو صبر سے کام لے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر الہامات واقعہ کے بعد بنالئے جاتے ہیں تو براہین احمدیہ میں یہ بات کس طرح چھپ گئی۔
    پھر الہام ہے احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون (ص ۵۹۰) کیا تیرے ماننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض اتنی بات پر چھوڑ دیئے جایں گے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور وہ آزمائش میں نہیں ڈالے جائیں گے اگر وہ ایسا خیال کرتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہے۔ ان پر بڑے بڑے مظالم کئے جائیں گے، بڑے بڑے مصائب ان کو برداشت کرنے پڑیں گے اور جب وہ ان امتحانات میں پورے اتریں گے تب انہیں خداتعالیٰ کے حضور مومن سمجھاجائے گا۔
    یہ تمام الہامات جن کو اوپر پیش کیا گیا ہے ان میں سے کوئی ایک الہام بھی ایسا نہیں جو ۱۸۸۴؁ء کے واقعات پر چسپاں ہوسکتا ہو بلکہ یہ تمام الہامات وہ ہیں جن میں آئندہ رونما ہونیو الے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اسی طرح اور بھی کئی الہامات ہیں جو آئندہ واقعات پر مشتمل ہیں۔ مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۹۰۳؁ء میں رئویا دیکھا کہ ’’زار روس کا سونٹا میرے ہاتھ میں ہے‘‘ (تذکرہ ص ۴۳۰)۔ اب اگر یورپین مستشرقین کی یہ بات صحیح ہے کہ الہامات ہمیشہ واقعات کے بعد گھڑلئے جاتے ہیں تو اس الہام کی بنا کن واقعات پر ہے؟ ۱۹۰۳؁ء میں کون سے ایسے حالات تھے جن کی بناء پریہ کہا جاسکتا تھا کہ روس کی حکومت ہمارے قبضہ میں آجائے گی۔ اس وقت تو ظاہری حالات کی بناء پر یہ کہنا بھی مشکل تھا کہ گورداسپور کے ضلع میں ہمیں غلبہ حاصل ہوجائے گا کجا یہ کہ روس کی حکومت ملنے کا دعویٰ کیا جاتا اور یہ وہ پیشگوئی ہے کہ اب تک بھی اس کا خفیف سے خفیف اثر نہیں ظاہر ہوا لیکن جب یہ پوری ہوگی دشمن ہزاروں بہانے یہ ثابت کرنے کیلئے بنائے گا کہ یہ بعد میں بنائی گئی ہے۔
    غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ ان تمام اعتراضات کا جواب ہے جو مستشرقین یورپ قرآن کریم کے متعلق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ آیات جس میں پیشگوئیوں کا ذکر پایا جاتا ہے اس زمانہ کی ہیں جب وہ واقعات دنیامیں ظاہر ہوچکے تھے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر تمہارا یہ دعویٰ صحیح ہے تو تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ثابت کرو کہ آپ نے جو پیشگوئیاں کیں ہیں وہ واقعات کے ظہور کے بعد کی ہیں اور اگر تم یہ ثابت نہیں کرسکتے تو تمہیں غور کرنا چاہئے کہ اگر ایک شخص جو اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ کا غلام کہتا ہے اللہ تعالیٰ سے الہام پاکر قبل از وقت غیب کی خبروں سے دنیا کو اطلاع دے سکتا ہے تو اس کا آقا کیوں ایسی خبریں نہیں دے سکتا تھا؟ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں دنیا کی تمام مخالفتوں اور منصوبوں اور شرارتوں کا ایسی حالت میں ذکر کردیا گیا ہے جب سب دنیا آپ کی تائیدمیں تھی تو قرآن کریم میں کیوں ایسے مضامین قبل از وقت نہیں آسکتے تھے؟ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود سے ان تمام حملوں کا ایسا جواب دے دیا ہے کہ اب دشمن کو منہ کھولنے کی جرأت ہی نہیں ہوسکتی۔
    اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کی بدء وحی اور پہلے انبیاء کی بدء وحی میں کیا فرق ہے۔ مستشرقین یورپ نے رسول کریم ﷺ کی ابتدائی وحی پر تو اعتراض کردیا مگر انہوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ جن انبیاء کو وہ خود تسلیم کرتے ہیں ان کی کیفیت وحی الٰہی کے نزول کے وقت کیا ہوئی۔ بنی اسرائیل میں سب سے بڑے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوئے ہیں ان کے متعلق بائبل میں لکھا ہے کہ وہ اپنے خسر یترو کے گلہ کی نگہبانی کررہے تھے کہ انہوں نے حورب پہاڑ پر ایک درخت آگ میں روشن دیکھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام حیران ہوئے کہ یہ عجیب بات ہے کہ درخت کے اردگرد آگ ہے اور وہ جلتا بھی نہیں۔ چنانچہ وہ اس نظارہ کو دیکھنے کیلئے آگے بڑھے تب:
    ’’خدا نے اسی بوٹے کے اندر سے پکارا اور کہا کہ اے موسیٰ اے موسیٰ! وہ بولا میں یہاں ہوں۔ تب اس نے کہا یہاں نزدیک مت آ اپنے پائوں سے جوتا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے۔ پھر اس نے کہا میں تیرے باپ کا خدا ہوں اور ابراہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔ موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر ڈالنے سے ڈرتا تھا‘‘ (خروج باب۳ آیت ۴ تا ۷)
    اب دیکھو رسول کریم ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بدء وحی میں کتنا بڑا فرق ہے۔ رسول کریم ﷺ کے متعلق اللہ تعالٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب انہوں نے خداتعالی کو دیکھا تو دنا فتدلی (النجم: ۱ع۵)۔ محمد رسول اللہ ﷺ خداتعالیٰ کی طرف دوڑے اور خداتعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف دوڑا اور یہی عشق کامل کی علامت ہوتی ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے ؎
    بعد مدت کے گلے ملتے ہوئے آتی ہے شرم
    اب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے
    محبت صادق میں یہی ہوتا کہ کچھ وہ بڑھتا ہے اور کچھ یہ بڑھتا ہے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق فرماتا ہے کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی روئیت ہوئی تو آپ اللہ تعالیٰ کی طرف دﷺدوڑے اور اللہ تعالیٰ آپ کی طرف دوڑا۔ مگر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا واقعہ ہوا۔ جب انہوںنے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تو خدا تعالیٰ نے ان سے کہا ’’یہاں نزدیک مت آ‘‘۔ یہ الفاظ بتارہے ہیں کہ موسیٰ کی تجلی اور محمد رسول اللہ ﷺ کی تجلی میں کتنا بڑا فرق تھا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ وہ میری طرف بڑھے اورمیں ان کی طرف بڑھا تاکہ ہم دونوں آپس میں جلد ی مل جائیں مگر موسیٰ علیہ السلام کو کہا گیا ’’یہاں نزدیک مت آ‘‘ اور پھر ساتھ ہی یہ حکم دیا گیا کہ ’’اپنے پائوں سے جوتا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے‘‘۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ کو جوتا اتارنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے راجائوں سے کوئی بڑا آدمی ملنے کیلئے جاتا ہے تو اسے دروازہ میں ہی جوتا اتاردینے کا حکم دیا جاتا ہے۔ چونکہ موسیٰؑ کا مقام وہ نہیں تھا جو محمد رسول اللہ ﷺ کا تھا اس لئے محمد رسول اللہ ﷺ سے یہ نہیں کہا گیا کہ تو اپنا جوتا اتار۔ مگر موسیٰ علیہ السلام کو جیسے معمولی زمیندار کو ڈانٹ کر جوتا اتارنے کا حکم دیا جاتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے حکم دیا گیا کہ ’’اپنے پائوں سے جوتا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے‘‘۔
    پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس وقت جو کچھ کہا گیا وہ یہ ہے کہ ’’میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اضحق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں‘‘۔ اس میں کونسا معرفت کانکتہ بیان ہے یا کونسا کمال ہے جو اس کلام میں پایا جاتا ہے؟ ایک موٹی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے مگر محمد رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ کہا گیا اس کے متعلق آگے چل کر بتایا جائے گا کہ وہ کلام اپنے اندر کس قدر خوبیاں رکھتا ہے۔
    پھر وہیری اور اس کے ساتھی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو وہ ڈر گئے اور ان کے کندھے کانپنے لگ گئے۔ مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہاں صاف لکھا ہے کہ ’’موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر ڈالنے سے ڈرتا تھا‘‘۔ اگر رسول کریم ﷺ پر آپ کے ڈرنے کی وجہ سے اعتراض کیا جاسکتا ہے تو موسیٰ علیہ السلام پر بھی یہ اعتراض وارد ہوتا ہے بلکہ موسیٰ علیہ السلام پر جو اعتراض وارد ہوتا ہے وہ زیادہ سخت ہے کیونکہ ان کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے ڈر کر اپنا منہ چھپالیا۔ لیکن رسول کریم ﷺ کے متعلق صرف اتنا لکھا ہے کہ آپ کے کندھے کانپنے لگ گئے اور یہ امر ظاہر ہے کہ بڑا آدمی اگر کسی بات سے گھبراتا ہے تو اس کے کندھے کانپنے لگ جاتے ہیں لیکن بچے جب کسی بات سے ڈرتے ہیں تو اپنا منہ چھپالیتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی بڑا آدمی ڈرے تو وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لے۔ لیکن بچوں کو تم روزانہ دیکھو گے کہ جب وہ ڈرتے ہیں فوراً اپنا منہ چھپالیتے ہیں۔ یہی بچوں والی حرکت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کی کہ خداتعالیٰ کو دیکھا تو ڈر کر اپنا منہ چھپالیا۔ یا کبوتروں والی حرکت کی جو بلی سے ڈر کر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ چونکہ روحانی لحاظ سے ایک جوان اور مضبوط آدمی کی حیثیت رکھتے تھ اس لئے آپ نے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں صرف گھبراہٹ سے آپ کے کندھے ہلنے شروع ہوگئے۔ پس جو اعتراض مستشرقین یورپ کی طرف سے رسول کریم ﷺ پر کیا جاتا ہے وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وارد ہوتا ہے اور وارد بھی زیادہ بھیانک اور خطرناک شکل میں ہوتا ہے۔ پھر لکھا ہے:-
    ’’موسیٰ نے خدا کو کہا میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جائوں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکالوں‘‘ (خروج باب۴ آیت۱۱)
    عیسائی اعتراض کرتے ہیںکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی وحی پر شک کیا اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کیا حال تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو فرعون کی طرف جانے کا حکم دیتا ہے مگر بجائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریں اس کی نصرت اور تائید پر بھروسہ رکھیں اور سمجھیں کہ جب اللہ تعالیٰ مجھے اس کام کیلئے بھیج رہا ہے تو وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گا اس قدر شک کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ میری حیثیت ہی کیا ہے کہ میں فرعون کے پاس جائوں ۔ میں ایک غریب آدمی ہوں اور فرعون بڑا بادشاہ ہے۔ میں تو اس کے پاس نہیں جاسکتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حکم کا اس قدر انکار کرنے کے باوجود مسیحی پادریوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے مقرب ہی رہتے ہیں۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ اگر صرف اتنا فرماتے ہیں کہ قد خشیت علی نفسی ۔ مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہوگیا ہے تو عیسائی یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو وحی الٰہی پر یقین نہیں تھا۔
    پھر لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ جا اور اپنی قوم کو مصر سے نکال کر اس پہاڑ پر عبادت کرنے کیلئے لا۔ مگر موسیٰ نے اس کا بھی انکار کیا ۔ چنانچہ لکھا ہے :
    ’’ تب موسیٰ نے جواب دیا اور کہا کہ دیکھ وے مجھ پر ایمان نہ لائیں گے نہ میری بات سنیں گے وہ کہیں گے کہ خداوند تجھے دکھائی نہیں دیا‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱)
    محمد رسول اللہ ﷺ کا واقعہ جو بالکل عقل کے مطابق ہے اس کے متعلق تو عیسائی اعترا ض کرتے ہیں کہ آپ نے وحی الٰہی کے متعلق شک کا اظہار کیا ۔ مگر موسیٰ علیہ السلام کے متعلق نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کس طرح اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ اپنی قوم کو یہاں عبادت کرنے کیلئے لا۔ بجائے اس ک ے کہ وہ اس حکم کی فوری طور پر تعمیل کرتے اللہ تعالیٰ سے یہ کہنے لگ گئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائیں گے نہ میری بات سنیں گے وہ کہیں گے کہ خداوند تجھے دکھائی نہیں دیا۔ اس لیے میں ان کے پاس کس طرح جاسکتا ہوں۔’’تب خدا نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ۔ وہ بولا عصا ۔ پھر اس نے کہا اسے زمین پر پھینک دے۔ اس نے زمین پر پھینک دیا اور وہ سانپ بن گیا ار موسیٰ اس کے آگے سے بھاگا‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۲،۳)۔
    کیسی عجیب بات ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سانپ کو دیکھا تو ڈر کر بھاگنے لگ گئے حالانکہ سانپ کو ہر شخص مار سکتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ کوئی سمجھدار طاقتور انسان سانپ دیکھے تو ڈر کر بھاگنا شروع کردے وہ فوراً لاٹھی اٹھاتا اور اسے مارڈالتا ہے۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سانپ کو دیکھا تو ڈر کر بھاگنا شروع کردیا۔ عیسائی اس واقعہ کو پڑھتے ہیں مگر باوجود ان کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ بھاگتے نہیں وحی الٰہی کے نازل ہونے پر صرف اتنا فرماتے ہیں کہ نہ معلوم میں اس ذمہ داری کو ادا کرسکوں گا یا نہیں۔ تو عیسائی کہتے ہیں کہ آپ نے وحی الٰہی کے متعلق شک اور تردّد کا اظہار کردیا ۔ پھر لکھا ہے ’’تب موسیٰ نے خداوند سے کہا اے میرے خداوند میں فصاحت نہیں رکھتا نہ تو آگے سے اور نہ جب سے کہ تو نے اپنے بندے سے کلام کیا اورمیری زبان اور باتوں میں لکنت ہے‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۰) ۔ دیکھو کتنا بڑا نشان تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کا عصا سانپ بن گیا اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے سانپ کو پکڑا تو وہ پھر عصا بن گیا۔ اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام ابھی اڑے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں میری زبان میں فصاحت نہیں۔ نہ پہلے فصاحت تھی اور نہ اب تجھے دیکھنے کے بعد میری زبان میں کوئی فرق پیدا ہوا ہے۔ یعنی پہلے تو میں بیشک ایک معمولی آدمی تھا مگر میں دیکھتا ہوں کہ تیرے جلال کو دیکھنے کے بعد بھی میری زبان ویسی کی ویسی ہے جس طرح پہلے میری زبان میں لکنت تھی اسی طرح اب ہے جس طرح پہلے غیرفصیح تھا اسی طرح اب غیر فصیح ہوں۔
    ’’تب خدا نے اسے کہا کہ آدمی کو زبان کس نے دی اور کون گونگا یا بہرا یا بینا یا اندھا کرتا ہے کیا میں نہیں کرتا جو خداوند ہوں پس اب تو جا اور میں تیری بات کے ساتھ ہوں اور تجھ کو سکھائوں گا جو کچھ تو کہے گا‘‘ ۔(خروج باب۴ آیت ۱۱،۱۲)
    اس حکم اور نصیحت کو سن کر بھی موسیٰ علیہ السلام کے طریق میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی۔ چنانچہ آگے لکھا ہے ’’تب اس نے کہا کہ اے میرے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں جس کو چاہے تو اس کے وسیلہ سے بھیج‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۳)۔ یعنی میں جانے کیلئے تیار نہیں۔ میری جگہ کسی اور کو بھیج دیجئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداتعالیٰ کے حکم کا بار بار انکار کیا پھر بھی مسیحی علماء کے نزدیک ان کے عظیم الشان نبی ہونے میں کوئی شک پیدانہیں ہوا۔ مگر رسول کریم ﷺ کے صرف اتنا کہنے پر کہ نہ معلوم میں اس ذمہ داری کو ادا کرسکوں گا یا نہیں، انہیں رسول کریم ﷺ کے ایمان میں یا عقل میں شبہ نظر آنے لگا۔ حالانکہ موسیٰ کا واقعہ ان کی الہامی کتاب میں مذکور ہے اور رسول کریم ﷺ کا فقرہ قرآن کریم میں نہیں بلکہ صرف حدیث میں بیان ہے جو کلام اللہ کے برابر شہادت نہیں ہوسکتا۔
    تورات میں آگے چل کر لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے بار بار خداتعالی کا حکم ماننے سے انکار کیا ’’تب خداوند کا غصہ موسیٰ پر بھڑکا‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۴)۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھ کر کہ وہ انکار پر اصرار ہی کئے جاتے ہیں انہیں ڈانٹا ۔ پھر لکھا ہے ’’کیا نہیںہے لاویوں میں سے ہارون تیرا بھائی ۔ میں جانتا ہوں وہ فصیح ہے اور دیکھ کہ وہ بھی تیری ملاقات کو آتا ہے اور تجھے دیکھ کے دل میں خوش ہوگا اور تو اسے کہے گا اور اسے باتیں بتائے گا اور میں تیری اور اس کی بات کے ساتھ ہوں گا اور تم جو کچھ کرو گے تم کو بتائوں گا‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۴، ۱۵)۔ غرض رسول کریم ﷺ کی بدء وحی پر عیسائیوں کی طرف سے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں وہ تمام کے تمام اعتراضات اس وحی پر بھی واقعہ ہوتے ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پرنازل ہوئی۔ ہم تو عیسائیوں کے اعتراضات کو درست تسلیم نہیں کرتے اور ان کے جوابات بھی اوپر درج کئے جاچکے ہیں لیکن پھر بھی الزامی رنگ میں ہم عیسائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ اعتراض ہے کہ وحی کے متعلق آپ نے تردّد کا اظہار فرمایا تو یہ اعتراض بدرجۂ اتم حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وارد ہوتا ہے اور وار بھی ایسی صورت میں ہوتا ہے کہ اس کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی۔
    اس کے بعد ہم حضرت مسیح علیہ السلام کی بدء وحی کے واقعات کو دیکھتے ہیں۔ متی باب ۳ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام یوحنا کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ مجھے بپتسمہ دو پہلے تو انہوں نے انکار کیا مگر آخر مان لیا اور حضرت مسیحؑ نے یوحنا سے بپتسمہ پایا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کے متعلق انجیل کہتی ہے:۔
    ’’ اور یسوع بپتسمہ پا کے وہیں پانی سے نکل کے اوپر آیا اور دیکھو کہ اس کے لئے آسمان کھل گیا اور اس نے خدا کی روح کو کبوتر کی مانند اترتے دیکھا۔ اور دیکھو کی آسمان سے ایک آواز یہ کہتی آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں ‘‘(متی باب ۳ آیت۱۶، ۷۱)۔ اس نظارہ کو رسول کریم ﷺ کی بدء وحی کے سامنے رکھواور پھر سوچو کہ کیا ان دونوںواقعات میں کوئی بھی نسبت ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف اللہ تعالی نے اپنا پیغام فرشتہ کے ذریعہ بھیجا اور مسیحؑ پر کبوتر کی شکل میں روح القدس نازل ہوا۔ کبوتر سے انہوں نے کیا ڈرنا تھاکبوتر سے انہوں نے کیا ڈرنا تھا کبوتر تو وہ جانور ہے جس کی ہڈیاں بھی انسان چبا جاتا ہے۔ یہی عیسوی اور محمدؐی تجلی کا فرق ہے جس کی بناء پر اللہ تعالی نے قرآنی تعلیم کو شرک سے محفوظ رکھا لیکن عیسائیت پر شیطان غالب آگیاکیانکہ عیسائی مذہب کے پیشوا پر روح القدس ایک نہایت ہی کمزور شکل میں نازل ہواتھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ۔
    ’’ ہمارے نبی ﷺ پر روح القدس کی جو تجلی ہوئی تھی وہ ہر ایک تجلی سے بڑھ کر ہے۔ روح القدس کبھی کسی نبی پر کبوترکی شکل پر ظاہر ہوا اور کبھی کسی نبی یا اوتار پر گائے کی شکل پر ظاہر ہوا اور انسان کی شکل کا وقت نہ آیا جب تک کہ انسان کامل یعنی ہمارا نبی ﷺ مبعوث نہ ہوا۔ جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہو گئے تو روح القدس بھی آپ پر بوجہ آپ کے کامل انسان ہونے کے انسان کی شکل پر ہی ظاہر ہوا اور چونکہ روح القدس کی قوی تجلی تھی جس نے زمیں سے لے کر آسمان کا افق بھر دیا اس لئے قرآنی تعلیم شرک سے محفوظ رہی ۔ لیکن چونکہ عیسائی مذہب کے پیشواپر روح القدس نہایت کمزور شکل میں ظاہر ہوا یعنی کبوتر کی شکل پر۔ اس لئے ناپاک روح یعنی شیطان اس مذہب پر فتح یاب ہوگیا‘‘ (کشتی نوحؑ )۔ اس جگہ یہ نکتہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ جن کو انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے وہ اس کے رسول کہلاتے ہیں اور رسول دنیا میں دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا کام صرف خط دے دینا ہوتا ہے اس سے زیادہ ان کا کچھ کام نہیں ہوتا۔ اور ایک وہ جن کا کام ان احکام کو نافذ کرنا بھی ہوتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ ا لسلام پر تجلی کا الٰہی کا کبوتر کی صورت میں نازل ہونا بتاتا ہے کہ مسیحؑ کی حثییت صرف اس پیغامبر کی تھی جو پیغام سنا دیتا ہے اور اس کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن رسول کریم ﷺ پر تجلی الٰہی کا نزول ایک مرد کامل کی شکل میں ظاہر ہواجس سے اس طرف اشارہ تھا کہ آپ صرف پیغامبر نہ ہوں گے بلکہ ایک کامل نمونہ بھی اپنے مخاطبین کے لئے ہوں گے۔
    انجیل میں یہ بھی بتایا گیا ہے :
    ’’ تب یسوع روح کے وسیلے بیابان میں لایا گیا تا کہ شیطان اسے آزمائے اور جب چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھ چکا آخر کو بھوکا ہوا تب آزمائش کرنے والے نے اس پاس آکے کہااگر تو خدا کا بیٹا ہے تو کہہ یہ پتھر روٹی بن جائیں اس نے جواب میں کہا لکھا ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ ہر اک بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے جیتا ہے۔ تب شیطان اسے مقدس شہر میں اپنے ساتھ لے گیااور ہیکل کے کنگورے پر کھڑا کر کے اس سے کہا کہ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تواپنے تئیں نیچے گرا دے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تیرے لئے اپنے فرشتوں کو فرمائے گا اور وے تجھے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے ایسا نہ ہو کہ تیرے پائوں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔ یسوع نے اس سے کہا یہ بھی لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو مت آزما۔ پھر شیطان اسے ایک بڑے اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی ساری بادشاہتیں اور ان کی شان وشوکت اسے دکھائیں اور اس سے کہا اگر تو گر کے مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دوں گا۔ تب یسوع نے اسے کہا اے شیطان دور ہوکیونکہ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کراور اس اکیلے کی بندگی کر۔‘‘ (متی باب ۴ آیت۱تا۱۰ )۔ دیکھو عیسائیوں کو تو رسول کریم ﷺ پر یہ اعتراض تھا کہ آپ نے وحی الٰہی کے متعلق شبہ کا اظہار کیا مگر یہاں لکھا ہے کہ شیطان حضرت مسیحؑ کو اپنے ساتھ لئے پھرا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ واقعہ میں ایسا ہواہے ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ پر کامل یقین تھا تو انجیل کے بیان کے مطابق وہ شیطان کے پیچھے پیچھے کیوں بھاگے پھرتے تھے اور کیا وجہ ہے کہ جس طرف شیطان ان کی انگلی پکڑ کر لے جاتااس طرف وہ نہایت اطمینان کے ساتھ چلنا شروع کر دیتے؟ بیت المقدس میں لے جاتا ہے تو وہاں چلے جاتے ہیں۔ ہیکل کے کنگورے پر کھڑا کرتا ہے تو وہاں کھڑے ہو جاتے ہیں گویا جس طرح کوئی بے بس ہوتا ہے۔ شیطان کی ہر بات مانتے چلے جاتے ہیں۔ بہرحال عیسائیوں کودو باتوں میں سے ایک بات ضرور تسلیم کرنی پڑے گی۔ یا تو ان کو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ ایک ظاہری واقعہ ہے اور یا ان کو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ ظاہری واقعہ نہیں بلکہ خواب ہے۔ اگر اسے ظاہری واقعہ تسلیم کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیطان حضرت مسیحؑ کے پاس آیا کیوں؟ کیا وہ خدا تعالی کے بیٹے کو دھوکا دے سکتا تھا؟ اگر نہیں تو اس کا ظاہری صورت میں حضرت مسیحؑ کے پاس آنا بالکل بے معنی بات تھی جس کی کوئی بھی توجیہہ نہیں ہوسکتی۔ ہاں اگر اس واقعہ کوحضرت مسیحؑ کی خواب قرار دے دیا جائے تو ایسا ہو سکتا ہے مگر اس صورت میں بھی یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے دل میں یہ خیالات آنے شروع ہوگئے تھے کہ کیا مجھے شیطان کی طرف سے تو الہام نہیں ہوا۔ حضرت مسیحؑ کا رئویا کی حالت میں شیطان کے پیچھے چلنا اور اسے نہ دھتکارنا ان کے قلب کی اس حالت پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اس کے شیطان ہونے پر یقین نہ رکھتے تھے اور اس وقت تک شیطانی اور رحمانی رئویا میں فرق نہیں کرسکتے تھے۔
    غرض انجیل کی آیات سے یہ امر ظاہر ہے کہ یسوع کو ایک کبوتری کے نظارہ میں پہلا جلوہ ہوا جبکہ رسول کریم ﷺ کو ایک کامل القویٰ انسان کی شکل میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آگ کی صورت میں۔ پھر موسی ؑ کا شک اور خوف بھی ثابت ہے اور مسیحؑ کا بھی۔ کیونکہ شیطان کا ملنا اور مسیحؑ کا اس کے پیچھے جانا تردد اور شک پرہی دلالت کرتا ہیاور بتاتا ہے کہ ان کے دل میں اس وقت تک الٰہی کلام پر وہ یقین اور وثوق پیدا نہیں ہوا تھا جو بعد میں جا کر پیدا ہوا۔
    پھر سوال یہ ہے کہ جب کبوتر کی شکل میں روح القدس نازل ہوا تو اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ انجیل میں صرف اتنا لکھا ہے ’’آسمان سے ایک آواز یہ کہتی آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں ‘‘۔ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کونسا نیا علم بخشا گیا ہے یا کونسا معرفت کا نیا نکتہ تھا جو آپ پر نازل کیا گیا۔ محض کسی آواز کا آجانا تو کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ آواز تو ایک باعمل کو بھی آجاتی ہے یا جب موسی ؑکو اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ ’’میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اسحاق کا خدااور یعقوب کا خدا ہوں‘‘۔ تو موسیٰ کو اس سے کیا لطف آیا ہوگا یا کونسا عرفان ان کو حاصل ہوا ہوگا۔ کیا اس کلام کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کہہ سکتے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی بات بتائی گئی ہے جو پہلے میرے علم میں نہیں تھی یا عرفان کا ایک نیا باب میرے لئے کھول دیا گیا ہے یقینا وہ ایسی کوئی بات نہیں کہہ سکے تھے۔ اسی طرح حضرت مسیحؑ پر اگر ایک کبوتری کی شکل میں روح القدس نازل ہوگیا اور آسمان سے یہ آواز آگئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے تو کیا ہوگیا۔ یہ محض ایک بیان ہے اس سے زیادہ ان الفاظ کی کوئی حقیقت نہیں۔ نہ ان میںعرفان کی کوئی بات ہے نہ علم و حکمت کا کوئی نکتہ ہے۔ نہ تعلق باللہ کا کوئی راز ان میں منکشف کیا گیا ہے اورنہ کوئی اور ایسی بات بیان کی گئی ہے جو علم اور معرفت کی زیادتی کے ساتھ تعلق رکھتی ہو۔ پھر یہ بھی قابل غور بات ہے کہ حضرت مسیحؑ نے کبوتر کی شکل میں روح القدس کے نازل ہونے کا جو نظارہ دیکھا اس کے متعلق یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ کوئی حقیقی نظارہ نہیں تھا بلکہ دماغ کی خرابی کا ایک کرشمہ تھا کیونکہ جن لوگوں کو وہم ہوجاتا ہے وہ بعض دفعہ معمولی معمولی باتوں سے ایسے نتائج اخذ کرلیتے ہیں جو کسی اور انسان کے واہمہ میں بھی نہیں آتے۔ مولوی یار محمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے ان کے دماغ میں نقص تھا۔ بعض دفعہ باتیں کرتے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ہاتھ کو حرکت دیتے تو مولوی یار محمد صاحب جھٹ کود کر آگے آجاتے اور سمجھتے کہ یہ اشارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میرے لئے کیا تھا۔ اسی طرح جن میں وہم کا مرض پید اہوجاتا ہے وہ بعض دفعہ پرندوں کی پرواز سے فال لینا شروع کردیتے ہیں۔ دائیں طرف سے کوئی پرندہ گزرجائے تو سمجھتے ہیں کہ ہمیں کام میں کامیابی ہوجائے گی اور اگر بائیں طرف سے گزرجائے تو سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں نحوست کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی رنگ میں جو ہوسکتا ہے کہ جب یوحنا سے بپتسمہ پانے کے بعد حضرت مسیحؑ پانی سے باہر آئے ہوں تو کوئی کبوتر اڑ کر ان کے پاس آبیٹھا ہو اور انہوں نے سمجھ لیا ہو کہ یہ آسمان سے میرے پاس آیا ہے۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بدء وحی کا واقعہ بے شک ایک حقیقی نظارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ آپ سے ہمکلام ہوا۔ مگر اس کلام میں کوئی ایسی بات نہیں جس میں علم و عرفان کا کوئی خاص راز منکشف کیا گیا ہو یاکوئی ایسی بات بتائی گئی ہو جو دنیا کیلئے ایک نرالے پیغام کی حیثیت رکھتی ہو۔ صرف موسیٰ ؑ کو کہا گیا کہ تو فرعون کے پاس جا اور بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نکال ۔ یہ محض ایک دنیوی بات ہے زیادہ سے زیادہ اسے سیاسی لحاظ سے اہمیت دی جاسکتی ہے مگر مذہبی اور روحانی نقطۂ نگاہ سے اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو دنیاکیلئے جدید پیغام ہو یا اس پر کوئی نئی حقیقت روشن کرنے والا ہو۔ بہرحال رسول کریم ﷺ اور سابق انبیاء کی بد ء وحی کے واقعات کا جب آپس میں مقابلہ کیا جائے تو اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ رسول کریم ﷺ کی وحی باتی تمام انبیاء کی وحیوں میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس قسم کی محبت اور پیار کا سلوک آپ سے کیا ہے اس قسم کی محبت اور پیار کا سلوک اس نے اور کسی نبی سے نہیں کیا۔
    ترتیب: یہ سورۃ بھی پہلی سورۃ کے مضمون کے مطابق ہے۔ یعنی والتین والزیتون میں جو مضمون تھا اسی کو ایک نئے پیرایہ میں اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے۔
    والتین والزیتون میں اللہ تعالیٰ نے وحی کا ایک تسلسل بیان کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ تسلسل ابتدائے عالم سے جاری ہے۔ پہلے آدم کے ذریعہ اس کا ظہور ہوا، پھر نوحؑ کے ذریعہ اس کا ظہور ہوا، پھر موسیٰ کے ذریعہ اس کا ظہور ہوا۔ اب قرآن کریم کے ذریعہ اس کا ظہورہورہا ہے۔ یہی مضمون اس جگہ بیان کیا گیا ہے کہ اقرا باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق یعنی انسانی پیدائش کو تم دیکھ لو جس طرح ایک فرد علقہ سے مضغہ بنتا ہے اور مضغہ کے بعد درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے آخر جاندار بن کر رحم مادر سے باہر آتا ہے۔ اسی طرح جماعتی طور پر انسان کی ترقی ہوئی ہے۔ پہلے روحانی لحاظ سے انسان علقہ کی طرح تھا پھر ترقی کرکے مضغہ بنا پھر اس نے اور ترقی کی، پھر اور ترقی کی یہاں تک کہ وہ انسان کامل کے مقام تک آپہنچا اور یہ پیدائش محمد رسول اللہ ﷺ کی صورت میں ہوئی۔ پس خلق الانسان من علق میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے جو والتین والزیتون میں بیان کیا گیاتھا اور بتایا گیا ہے کہ ابتدائے عالم سے ایک سکیم ہمارے مدنظر تھی اور ہم چاہتے تھے کہ روحانی لحاظ سے انسان کو درجہ بدرجہ ترقی دیتے دیتے آخر دنیا میں ایک انسان کامل پیدا کریں۔ جب یہ سکیم ابتدائے عالم سے ہمارے مدنظر تھی تو ضروری تھا کہ انسان کو اس کا مقصود حاصل ہوتا۔ ورنہ خلق انسانی عبث ٹھہرتی اور اللہ تعالیٰ زیر الزام آتا ہے کہ جس سکیم کے ماتحت بنی نوع انسان کی پیدائش کی گئی تھی وہ نعوذ باللہ کامیاب نہ ہوئی۔ پس یہ سورۃ گزشتہ سورۃ کے مضمون کے تسلسل میں ہے اور اسی مضمون کو ایک نئے انداز میں اس جگہ بیان کیاگیا ہے۔
    اس جگہ شاید کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ جب سورئہ علق ابتدائی سورۃ ہے تو سورئہ تین سے اس کا تعلق ثابت کرنا کیا معنے؟تین بعد میں نازل ہوئی اور علق پہلے۔ سو اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی دو ترتیبیں ہیں۔ ایک نزول کے لحاظ سے ۔ سو اس لحاظ سے تین بعد میں اور علق پہلے۔ لیکن اس کی جو ترتیب زمانوں کو مدنظر رکھ کر ہے اسی کے مطابق قرآن کریم میں سورتیں رکھی گئی ہیں اور اسی کے لحاظ سے بعض بعد میںنازل ہونے والی سورتیں پہلے آگئی ہیں اور پہلے نازل ہونے والی بعد میں آگئی ہیں۔
    اب میں قرآنی آیات کی تشریح کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام ملا وہ اپنے اندر کس قدر علوم رکھتا تھا اور کتنے عظیم الشان معارف تھے جو اس میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے۔
    اقرا باسم ربک الذی خلقO اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے (سب اشیاء کو) پید اکیا۔
    تفسیر: اقرا وہ پہلا لفظ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا اور جس میں اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی بعض عظیم الشان پیشگوئیوں کا اعلان کردیا گیا۔ اقرا کے اصل معنے گو کسی لکھی ہوئی چیز کے پڑھنے کے ہیں مگر اس کے ایک معنی اعلان کرنے کے بھی ہیں اور یہ دونوں معنے ایسے ہیں جو اس مقام پر نہایت عمدگی کے ساتھ چسپاں ہوتے ہیں۔ اگر اقرا کے معنے اعلان کرنے کے لئے جائیں تو اقرا باسم ربک الذی خلق کے یہ معنے ہوں گے کہ تو اس کتاب کا علان اپنے اس رب کے نام کے ساتھ کر جس نے تجھے پیدا کیا۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہی کہ قرآن کریم وہ کتا ب ہے جس میں پہلے دن ہی یہ خبر دی گئی ہے کہ یہ کلام محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کیلئے نہیں بلکہ دنیا کی ساری قوموں اور قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کیلئے ہے۔
    دیکھو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر پہلے دن جو الہام ہوا وہ صرف اس قدر تھا کہ ’’میں تجھے فرعون کے پس بھیجتا ہوں میرے لوگوں کو جو بنی اسرائیل میں مصر سے نکال‘‘ (خروج باب ۳ آیت ۱۰)۔ حالانکہ انبیاء کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ قلوب کی صفائی کریں شیطان کی غلامی سے لوگوں کو چھڑائیں اور تقویٰ اور پاکیزگی کی راہیں ان پر روشن کریں مگر وہاں ایسا کوئی پیغام نہیں دیا گیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو پیغام ملا اس میں بھی اس بنیادی چیز کا کوئی ذکر نہیں صرف اتنا بیان کیا جاتا ہے کہ ایک کبوتری اتری اور آسمان سے یہ آواز آئی کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے۔ لیکن رسول کریم ﷺ پر پہلا فقرہ یہی نازل ہوتا ہے کہ اقرا باسم ربک الذی خلق۔ اے محمد ﷺ تو دنیا کے سامنے اعلان کر اور اسے بتا کہ اسے اس کا خالق رب اپنی طرف بلاتا ہے اس طرح پہلے لفظ کے ذریعہ ہی اس حقیقت کو روشن کردیا گیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا پیغام ساری دنیا کیلئے ہے۔ اسود اور احمر اس پیغام کے مخاطب ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کا فرض ہے کہ وہ تمام لوگوں تک اس پیغام کو پہنچائیں اور وہ لوگ جو آستانۂ الٰہی سے بھٹک چکے ہیں ان کو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واپس لائیں۔
    اقرا کے دوسرے معنے کسی لکھی ہوئی چیز کو پڑھنے کے ہوتے ہیں۔ ان معنوں کے لحاظ سے اقرا باسم ربک الذی خلق میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو لکھی جائے گی اور پھر یہ لکھی ہوئی کتاب بار بار پڑھی جائے گی۔ چنانچہ اگر واقعات پر غور کیا جائے تو معلو م ہوتا ہے کہ قرآن دنیا میں وہ پہلی کتاب ہے جو ابتدائے نزول کے ساتھ ہی لکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں اور جس قدر الہامی کتابیں پائی جاتی ہیں ان میں سے کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہیں جو نازل ہونے کے وقت ہی لکھ لی گئی ہو۔ صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے کہ اسے لکھا جائے گا اور اس طرح شروع سے ہی اس کی حفاظت کا سامان کیا جائے گا اور وہ پیشگوئی حرف بہ حرف پوری بھی ہوگئی۔ چنانچہ نولڈکے ، وہیری اور میور تک نے تسلیم کیا ہے کہ سوائے قرآن کریم کے اور کوئی کتاب ایسی نہیں جو ابتدائے ایام میں لکھی گئی ہو۔ انجیلیں بے شک آج دنیا میں موجود ہیں مگر کوئی عیسائی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کتابیں حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں لکھی گئی ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ متی، مرقس، لوقا اور یوحنا نے حضرت مسیحؑ کی وفات کے ایک لمبے عرصے بعد ان باتوں کو جمع کیا۔ چنانچہ ’’لوقا‘‘ خود اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے:-
    ’’چونکہ بہتوں نے کمر باندھی کہ ان کاموں کا جو فی الواقع ہمارے درمیان انجام ہوئے بیان کریں جس طرح سے انہوں نے جو شروع سے خود دیکھنے والے اور کلام کی خدمت کرنے والے تھے ہم سے روایت کی۔ میں نے بھی مناسب جانا کہ سب کو سرے سے صحیح طور پر دریافت کرکے تیرے لئے اے بزرگ تھیو فلس بترتیب لکھوں تاکہ تو ان باتوں کی حقیقت کو جن کی تونے تعلیم پائی جانے‘‘۔ (لوقا باب ۱ آیت ۱ تا ۴)
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اناجیل حواریوں نے نہیں بلکہ ان سے ملنے والوں اور شاید ملنے والوں کے ملنے والوں نے لکھی۔ غرض دنیا میں سوائے قرآن کریم کے اور کوئی کتاب ایسی نہیں جو شروع سے ہی لکھوائی گئی ہو اور جس کو بار بار پڑھنا لوگوں کا فرض قرار دیا گیا ہو۔پس اقرا میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ یہ کتاب دنیا میں لکھی جائے گی اور لوگوں سے کہا جائے گا کہ اسے پڑھواور بار بار پڑھو۔
    پھر فرمایا باسم ربک اپنے رب کے نام کے ساتھ پڑھ۔ یہاں ربک کا لفظ استعما ل کرکے اللہ تعالیٰ نے ایک نئے مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے۔ درحقیقت رب ایک ایسی ذات ہے جس کو مشرک بھی مانتے تھے اور یہودی اور عیسائی بھی اس کے متعلق اپنے ایمان کا اظہار کرتے تھے مگر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے تھے۔ مثلاً مشرکین یہ تو کہا کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لاتے ہیں مگر وہ اس کے ساتھ ہی لات اور عزیٰ کی بھی پرستش کرتے تھے۔ یا عیسائی یہ تو کہتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا وجود تسلیم کرتے ہیں مگر ساتھ ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خداتعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ یہی حال یہود کاتھا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر تو ایمان رکھتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی اعتقاد تھا کہ یہود کے سوا اللہ تعالیٰ اور کسی پر الہام نازل نہیں کرسکتا۔ رسول کریم ﷺ کی فطرت ان تمام امور کا نہایت سختی سے انکار کرتی تھی۔ وہ یہودیت کے نظریہ کو بھی تسلیم نہ کرتی تھی۔ عیسائیت کے فلسفہ کو بھی رد کرتی تھی اور مشرکین مکہ کے خیالات کو بھی ناقابل قبول قرار دیتی تھی۔ آپ غار حرا کی تاریکیوں میں جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کو سوز و گداز کے ساتھ پکارتے تو یہ تمام خیالات ایک ایک کرکے آپ کے سامنے آتے۔ آپ دیکھتے کہ یہود گو اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں مگر یہ کیسا گھنائونا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس نے اپنی محبت یہود کے ساتھ وابستہ کردی ہے۔ دنیا کا اور کوئی انسان اس کے کلام اور الہام کا مورد نہیں ہوسکتا۔ آپ عیسائیت کی تعلیم پر غور کرتے اور سوچتے کہ بے شک عیسائیت بھی اللہ تعالیٰ کی ہستی کو تسلیم کرتی ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دے کر مقام الوہیت کی خطرناک توہین کررہی ہے۔ آپ مشرکین مکہ کے عقائد پر نگاہ دوڑاتے تو آپ کی فطرت صحیحہ ان کے عقائد کو بھی باطل قرار دیتی اور کہتی کہ ایک خدا کو چھوڑ کر لات اور منات اور عزیٰ کی پرستش کسی صورت میں بھی درست نہیں ہوسکتی۔ غرض آپ یہودیوں کے عقیدہ کا بھی انکار کرتے تھے۔ یہودیت آپ کے سامنے پیش ہوئی تو آپ کی فطرت کہتی کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اس خدا کو مان لوں جو یہود کے سوا اور کسی کو اپنا پیارا بنانے کیلئے تیار نہیں۔ عیسائیت آپ کے سامنے پیش ہوتی تو آپ کی فطرت اس کا انکار کرتی اور کہتی وہ مذہب کس طرح سچا تسلیم کیا جاسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو بیٹے کا محتاج قرار دیتا ہے۔ مشرکین مکہ کے خیالات آپ کے سامنے پیش ہوتے تو آپ کی فطرت ان کو ناقابل تسلیم قرار دے دیتی اور کہتی کہ لات اور منات اور عزیٰ کو قابل پرستش نہیں سمجھا جاسکتا۔ غرض آپ کسی شرک کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ آپ چاروں طرف سے ایسے لوگوں میں گھرے ہونے کے باوجود جو مشرکانہ خیالات میں ملوث تھے اپنی فطرت صحیحہ کی بناء پر اس خدا کو مانتے تھے جو ایک ہے جو قادر اور قیوم ہے۔ جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔ جو نہ کسی کا بیٹا ہے نہ کوئی اس کا بیٹا۔ جو خالق الکل ہے۔ جو دکھ اٹھانے اور صلیب پر چڑھنے سے پاک ہے اور جو اپنے کلام کیلئے کسی خاص گروہ کو مخصوص نہیں کرتا بلکہ دنیا کے ہر ایسے فرد کو اپنے قرب میں جگہ عطا کرتا ہے جو اس کی محبت کا متلاشی ہوتا ہے۔ پس فرمایا اقرا باسم ربک الذی خلق ۔ جا اور دنیا میں اپنے رب کے نام کا اعلان کر یعنی کفار کے ارباب نہیں بلکہ تیرا رب یعنی تو نے جس رب کو سمجھا ہے وہی سچا رب ہے اور اسی کے نام سے برکات ملتی ہیں۔ تو دنیا میں اس کا بار بار اعلان کر اور لوگوں کو اس رب کی طرف بلا جس کو تو تسلیم کرتا ہے ۔ اسی طرح پہلے الہام میں ہی اللہ تعالیٰ نے شرک کا ردّ کردیا اور بتادیا کہ گو اور لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا عقیدہ ہر قسم کے مشرکانہ خیالات سے منزہ ہو صرف وہ خدا جس کی حقیقت کو تو نے سمجھا ہے جس پر غار حرا کی دن رات کی عبادت میں تجھے یقین حاصل ہوا ہے وہی دنیا کا حقیقی رب ہے اور ہم تجھے اس بات کا حکم دیتے ہی کہ تو دنیا کے سامنے ’’اپنے ربّ‘‘ کا اعلان کر اور لوگوں کو بتا کہ جس طرح میں نے اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو سمجھا ہے مجھے میرے رب نے بتایا ہے کہ وہی درست ہے باقی تمام اعتقادات باطل اور الوہیت کی شان سے بہت بعید ہیں۔ غرض ربک میں رسول کریم ﷺ کے اعتقاد کی درستی کے متعلق الٰہی تصدیق کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسیحی جو یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے بالکل غلط ہے۔ تونے جو کچھ اللہ تعالیٰ کے متعلق سمجھا ہے وہ ٹھیک ہے ۔ اسی طرح مشرکین مکہ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ لات اور منات اور عزیٰ بھی اپنے اندر خدائی طاقتیں رکھتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ صحیح عقیدہ وہی ہے جو تو نے سمجھا ہے۔ یا مثلاً یہود جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف یہود سے کلام کرتا ہے اور کسی سے نہیں ، یہ بالکل غلط ہے۔ تو جو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بولتا ہے یہ بالکل صحیح اور درست عقیدہ ہے۔ پس تو جا اور دنیا میں اپنے رب کا اعلان کر گویا تو غار حرا میں غور و فکر کرنے کے بعد جس نتیجہ پر پہنچا ہے ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور تجھے ہدایت دیتے ہیں کہ اب تو لوگوں میں کھڑا ہو اور انہیں اپنے رب کی طرف بلا۔ غرض اقرا باسم ربک الذی خلق میں ایک طرف تو شرک کا ردّکردیاگیا ہے اور دوسری طرف رسول کریم ﷺ کے عقائد کی درستی کا اعلان کردیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ صحیح عقائد اور صحیح خیالات وہی ہیں جو اے محمد رسول اللہ ﷺ تو ہمارے متعلق رکھتا ہے ۔ لوگوں کے خیالات درست نہیں ہیں۔
    بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ووجدک ضالا فھدی میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نعوذباللہ پہلے گمراہ تھے بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت دی۔ ان معنوں کا غلط ہونا تو آیت مذکورہ کی تفسیر میں بتایا جاچکا ہے لیکن اس کی ایک تردید آیت اقرا سے بھی نکلتی ہے۔ اگر رسول کریم ﷺ گمراہ ہوتے تو خداتعالیٰ کو پہلی وحی میں یہ کہنا چاہئے تھا کہ جو کچھ تو میرے متعلق سمجھ رہا تھا وہ غلط ہے اب میں تجھے بتاتا ہوں کہ صحیح عقیدہ کونسا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے کسی خیال کی تردید نہیں فرمائی۔ آپ کے کسی عقیدہ کو باطل قرار نہیں دیا بلکہ فرمایا تویہ فرمایا کہ جو کچھ تو نے ہمارے متعلق سمجھا ہے درست ہے اور جو کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں وہ غلط ہے ۔ پس اس آیت کے نے بھی بتادیا کہ ووجدک ضالا کے وہ معنے بالکل غلط ہیں جو دشمنانِ اسلام کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔ پس یہاں ربک کا لفظ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے دونوں باتیں بیان کردیں۔ شرک کا بھی ردّ کردیا اور یہ بھی بتادیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا عقیدہ جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نزول الہام کے متعلق تھا وہی درست تھا۔ تبھی فرمایا کہ اقرا باسم ربک۔ جا اور ’’اپنے ربّ‘‘ کے نام کا دنیا میں اعلان کر۔
    بعض لوگوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ اس جگہ اقرا اسم ربک الذی کہنا چاہئے تھا اقرا باسم ربک کیوں کہا گیا ہے۔ اس کا جواب نحوی یہ دیتے ہیں کہ باء یہاں زائدہ ہے یعنی تاکید کی باء ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عربی زبان میں باء بعض دفعہ زائد بھی آجاتی ہے اور اگر ہم اس کو زائدہ قرار دیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ جب کسی فقرہ میں باء زائد آجاتی ہے تو اس کے معنوں میں زیادہ زور پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے اقرا باسم ربک کے یہ معنے ہوں گے کہ تو اپنے رب کا نام خوب اچھی طرح لے اور خوب اچھی طرح دنیا میں اس کا اعلان کر۔ مگر میرے نزدیک یہاں باء زائدہ نہیں بلکہ استعانت کے طور پر استعمال ہوئی ہے یعنی تو اپنے رب کے نام کی مدد کے ساتھ جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے ایسا کر۔
    پولیس جب کسی کی خانہ تلاشی کیلئے آتی ہے تو کہتی ہے کہ حاکم کے نام پر دروازہ کھولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ حاکم وقت نے ہم کو اتھارٹی AUTHORITY دی ہے جس کے ماتحت ہم یہ کام کررہے ہیں۔ اگر تم ہمارے اس کام میں روک بنو گے تو حکومت کے مجرم قرار پائو گے۔ چنانچہ پولیس اگر کسی چوری کی تفتیش کے سلسلہ میں کسی کے مکان کی تلاشی لینا چاہے اور مالک مکان انکار کردے تو اس پر مقدمہ دائر ہوجاتا ہے کہ اس نے سرکاری افسروں کے کام میں رکاوٹ ڈالی اور حاکم وقت کی اتھارٹی کے باوجود اپنے گھر کا دروازہ کھولنے سے انکار کردیا۔ جس طرح دنیا کی پولیس حاکم وقت کی طرف سے اختیارات حاصل کرکے کسی کے مکان پر جاتی ہے اسی طرح فرماتا ہے اقرا باسم ربک۔ تو اپنے رب کے نام کے ساتھ دنیا میں کھڑا ہو اور ان سے کہہ کہ مجھے ان باتوں کے پہنچانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اگر تم انکار کرو گے تو تم میرا انکار نہیں کرو گے بلکہ اس خدا کا انکار کرو گے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس کے نام کے ساتھ تمہارے سامنے میں اپنی رسالت کا اعلان کررہا ہوں۔ گویا ربک کا لفظ استعمال کرکے جہاں رسول کریم ﷺ کے عقائد کی صحت کا اعلان کیا گیا وہا باسم ربک میں رسول کریم ﷺ کی رسالت کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ رسول یہی کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی ہدایت کیلئے کھڑا کیا گیا ہے اور میں اسی کے نام کے ساتھ اپنے دعاوی تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں۔
    غرض پہلی وحی میں ہی باسم ربک کہہ کر ایک طرف تو رسول کریم ﷺ کے عقائد کی درستی کا اعلان کردیا اور دوسری طرف رسول کریم ﷺ کی رسالت کا بھی اعلان کردیا اور بتادیا کہ یہ جو کچھ کہتا ہے اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ ہماری طرف کہتا ہے۔ اس تشریح کو ملحوظ رکھتے ہوئے اقرا باسم ربک الذی خلق کے یہ معنے ہوں گے کہ تو اپنے اس رب کے نام کا جس کو صرف تو ہی اس زمانہ میں صحیح طور پر سمجھتا ہے دنیا میں اعلان کر اور لوگوں کو بتا کہ باقی تمام تشریحات رب کی اس کے مقابل میں باطل ہیں۔ اسی طرح تو دنیا میں اس تعلیم کا اعلان کر جو ہم تجھ پر نازل کررہے ہیں کیونکہ یہ تعلیم صرف تیرے لئے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کیلئے ہے۔ یہ تعلیم لکھی جائے گی، پڑھی جائے گی اور بار بار پڑھی جائے گی۔ پس تو ایک فرد کی حیثیت سے اس کو نہ پڑھ بلکہ اس حیثیت سے پڑھ کہ خدا نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں یہ تعلیم ساری دنیا کے سامنے پیش کروں۔ ہم تیرے ساتھ ہیں اور ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تو ہمارا سچا رسول ہے۔ گویا اقرا باسم ربک الذی خلق میں وہ تمام مفہوم آگیا ہے جو اشھد ان لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ میں بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اقرا باسم ربک تو دوسرے الفاظ میں اس کلمۂ شہادت کا اعلان کردیا گیا کہ اشھد ان لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ یعنی میں اس خدائے واحد کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں جس کا علم مجھے حاصل ہے اور جو صحیح اور سچا علم ہے۔ میں اس کے نام پر تمہیں اس کی وحدانیت پر ایمان لانے کا پیغام دیتا ہوں۔ اگر تم میری اس بات کو نہیں مانو گے تو اللہ تعالیٰ کے حضور مجرم اور گنہگار قرار پائو گے کیونکہ میں اس کا رسول ہوں اور میں اس کے نام پر کھڑا ہوا ہوں۔ مجھے کہا گیا ہے کہ میں اس تعلیم کو چھپا کر نہ رکھوں بلکہ دنیا میں پھیلائوں اور ہر فرد کے کان تک اللہ تعالیٰ کی اس آواز کو پہنچائوں۔ غرض پہلے دن ہی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کلمہ شہادت کو پوشیدہ رکھ دیا تھا اور بتادیا تھا کہ تو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ہے دنیا میں یہ اعلان کر کہ تو خدا تعالیٰ کا رسول ہے۔ تیرا نظریۂ ربوبیت الٰہی ہی سچا نظریہ ہے اور اس کلام کو دنیا تک پہچانا تیرا فرض ہے۔
    یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقرا باسم ربک کے بعد الذی خلقکے الفاظ کا اضافہ اللہ تعالیٰ نے کیوں کیا ہے؟ اگر خالی اتنا ہی کہا جاتا کہ اقرا باسم ربک تب بھی رب کے مفہوم میں خلق کے معنے آجاتے کیونکہ عربی زبان میں رب کے معنے اس ذات کے ہیں جو انسان کو پیدا کرکے اسے ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ پس چونکہ یہ مفہوم رب کے لفظ نے اد اکردیا تھا ا س لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ الذی خلقکے الفاظ کا اضافہ اپنے اندر کیا حکمت رکھتاہے؟
    اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ربوبیت کے معنے انسان کو پید اکرکے اسے ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جانے کے ہیں مگر یہ بھی ہر زبان میں قاعدہ ہے کہ کبھی الفاظ اپنے پورے معنوں میں استعمال نہیں ہوتے بلکہ جزوی معنوں میں بھی استعمال ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ باوجود ان معنوں کے عرب دوسروں کو بھی ربّ کہہ دیا کرتے تھے۔ مثلاً عربی زبان میں سردار کو بھی رب کہہ دیتے ہیں اس لئے کہ جزوی طور پر وہ قوم کی ربوبیت کرتا ہے یا مثلاً ربی کا لفظ عبرانی زبان میںعالم دین کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ماں باپ اور استاد وغیرہ بھی ایک قسم کے رب ہوتے ہیں کیونکہ وہ انسان کی جسمانی یا علمی تربیت کا موجب بنتے ہیں۔ پس اگر صرف اتنا ہی کہا جاتا کہ اقرا باسم ربک تو انسانی ذہن اس طرف جاسکتا تھا کہ ممکن ہے ربّ کا لفظ یہاں جزوی معنوں میں استعمال ہوا ہو اور اگر اس طرف ذہن نہ جاتا تو بہرحال ایک شبہ سا رہتا کہ نہ معلوم ربّ کا لفظ یہاں جزوی معنوں میں استعما ل ہوا ہے یا اصل معنوں میں۔ کیونکہ ماں باپ بھی ربّ ہوتے ہیں۔ استاد بھی ربّ ہوتا ہے، بادشاہ بھی ربّ ہوتا ہے، پھر پیر بھی ایک قسم کا ربّ ہوتا ہے اور عربی زبان میں ان سب کیلئے ربّ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ پس چونکہ یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ نہ معلوم یہاں ربّ کا لفظ جزوی معنوں میں استعمال ہوا ہے یا اپنے وسیع معنوں میں۔ اس لئے خلق کا لفظ بڑھا کر بتادیا کہ ہم ربوبیت کو اس کے وسیع معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو اس رب کا نام لے کر جس نے خلق کے مقام سے مخلوق کو اٹھا کر ترقی دینی شروع کی۔
    ربّ کے معنے پید اکرکے آہستہ آہستہ ترقی تک پہنچانے والے کے ہوتے ہیں۔ لیکن جزوی معنوں میں جب ربّ کا لفظ بولا جاتا ہے تو طبیعت میں ایک خلجان سا رہتا ہے کہ اس میں ربوبیت کی کس سٹیج کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ ابتدائی سٹیج کی طرف یا درمیانی یا آخری سٹیج کی طرف۔ مثلاً جب ایک یہودی کسی عالم دین کو ربی کہے گا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جس دن سے مجھے دین کی سمجھ آئی ہے اس دن سے یہ شخص مجھے دین کی باتیں بتانے والا اور میری روحانی رنگ میں پرورش کرنے والا ہے۔ اگر دایہ کو کوئی ربۃ کہہ دے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس وقت سے ربوبیت کرنے والی جبکہ میں پیدا ہوچکا تھا اور اس وقت تک اس کی ربوبیت رہی جب تک میں چلنے پھرنے لگا۔ پس چونکہ ربوبیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے یہاں الذی خلقکا اضافہ کیا گیا۔ باپ کی ربوبیت اغزیہ کے وقت سے ہوتی ہے، باپ گوشت اور سربزی ترکاری استعمال کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کا جسم ایک چیز تیار کرتا ہے جسے نطفہ کہتے ہیں۔ پس باپ کی ربوبیت غذا کے زمانہ سے شروع ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ماں کی ربوبیت نطفہ کے وقت سے شروع ہوتی ہے اور وہ بچے کو اپنے پیٹ میں پالنا شروع کردیتی ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اسے دودھ پلاتی ہے اور اگر کسی بیماری کی وجہ سے وہ دودھ نہیں پلاسکتی یا اس کا دودھ نہیں ہوتا تو دایہ کی ربوبیت شروع ہوجاتی ہے۔ پھر ہوش سنبھالنے کے بعد استاد کی ربوبیت کا وقت آجاتا ہے اور جب کچھ اور بڑا ہوتا ہے تو کوئی بڑا عالم اس کی تربیت شروع کردیتا ہے۔ اس کے بعد جوعان ہونے پر پیر کی ربوبیت کا وقت آجاتا ہے۔ پھر بادشاہ انسان کی ربوبیت کرتا ہے۔ غرض ربویت کی مختلف سٹیجز ہیں۔ کوئی چھوٹی سٹیج ہے اور کوئی بڑی مگر بہرحال ان میں سے کسی ایک سٹیج کیلئے بھی ربّ کا لفظ بول لیا جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں الذی خلقکا اضافہ کیا اور فرمایا کہ ہماری مراد اس سے وہ رب نہیں جن کی ربوبیت غذا کے وقت سے شروع ہوتی ہے، وہ رب بھی مراد نہیں جن کی ربوبیت نطفہ کے وقت سے شروع ہوتی ہے، وہ رب بھی مراد نہیں جن کی ربوبیت پیدائش کے وقت سے شروع ہوتی ہے، وہ رب بھی مراد نہیں جن کی ربوبیت بولنے کے وقت سے شروع ہوتی ہے ، وہ رب بھی مراد نہیں جن کی ربوبیت بالغ اور جوان ہونے کے وقت سے شروع ہوتی ہے بلکہ وہ رب مراد ہے جس کی ربوبیت خلق کے وقت سے شروع ہوتی ہے یعنی جب سے کہ مخلوق کا وجود ظاہر ہوا ۔ بے شک مختلف لوگوں کیلئے مختلف نسبتوں کی بناء پر ربّ کا لفظ استعمال کرلیا جاتا ہے مگر ہم تجھے کہتے ہیں تو اس ربّ کے نام سے شروع کر جس کی ربوبیت خلق کے وقت سے شروع ہوجاتی ہے کہ جہاں سے وہ تیرا ساتھ دے رہا ہے۔ کوئی تیرا عزیز اور ساتھی وہاں سے تیرا ساتھ نہیں دے رہا۔ اس کی ربوبیت کے مقابلہ میں باقی تمام ربوبیتیں باطل اور ہیچ ہیں اور کسی کو اس کی ربوبیت میں شریک ہونے کا دعویٰ نہیں ہوسکتا (ہاں مسلمان مولویوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ امر منسوب کردیا ہے کہ وہ پرندے پیدا کیا کرتے تھے اور اس طرح انہوں نے اپنی کج فہمی سے اللہ تعالیٰ کی صفات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شریک بنادیا ہے)۔
    اس آیت میں ایک اور عجیب بات بھی نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے صرف ربّ کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا بلکہ ربک کا لفظ استعمال کیا تھا مگر آگے خلقک کہنے کی بجائے صرف خلق کہہ دیا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ ربک میں ک ضمیر کے بڑھانے سے چونکہ شرک کی تردید اور اس عقیدہ کی تائید ہوتی تھی جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے متعلق رسول کریم ﷺ رکھتے تھے۔ اس لئے وہاں تو ک کی ضمیر کو بڑھادیا لیکن اگر یہاں خلق کی بجائے خلقک کہہ دیا جاتا تو ایک وسیع مضمون محدود ہوکر رہ جاتا۔ الذی خلقک کے معنے صرف اتنے ہوتے کہ وہ خدا جس نے تجھ کو پیدا کیا مگر الذی خلقکے یہ معنے بن گئے کہ وہ خدا جس نے تجھ کو بھی پیدا کیا اور باقی تمام مخلوق کو بھی پیدا کیا ہے ۔ گویا الذی خلقکے معنے یہ ہیں کہ الذی خلقک و خلق اباء ک وجدک واباء جدک اس طرح یہ سلسلہ چلتے چلتے حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچ جاتا اور ان سے اوپر عناصر اور پھر اجزائے عناصر تک چلا جاتا ہے۔ پس الذی خلق کو بغیر کسی قید کے مطلق بیان کرکے اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کی غیر محدود وسعت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ تو اس خدا کو پیش کر جس نے خالق اور مخلوق کا رشتہ آپس میں جوڑ ا اور جس کی صفت خلق کا آغاز تجھ سے نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ سے دنیا اس کی صفت خلق کا نظارہ دیکھتی چلی آئی ہے۔ دیکھو یہ قرآن کریم کا کتنا کمال ہے کہ ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت کو مقید کرکے اس کے معنوں میں وسعت پیدا کردی ہے اور دوسری صفت کو مطلق رکھ کر اس کے معنوں میں وسعت پید اکردی ہے۔ ایسی بالغ نظری انسانی کلام میں کہاں ہوتی ہے۔
    اقرا باسم ربک الذی خلقمیں علاوہ اور مضامین کے رسول کریم ﷺ کی رسالت کاملہ کی طرف بھی اشارہ پایاجاتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ تو اس رب کے نام کے ساتھ اس تعلیم کا دنیا میں اعلان کر جس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے تو دوسرے الفاظ میں اس کا مفہوم یہ نکلا کہ پیدائش عالم کے زمانہ سے اللہ تعالیٰ نے تیرے اس کام کی بنیاد رکھی تھی۔ اس لئے وہ خدا جس نے اس مقصد عظیم کے لئے ساری دنیا کو پیدا کیا تھا اس کی مدد اور تائید و نصرت کے ساتھ تو دنیا میں اپنی نبوت کا اعلان کر۔ کیونکہ پیدائش عالم کی غرض صرف تیرے وجود کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا۔ پس جس طرح باسم ربک میں رسول کریم ﷺ کی رسالت کا اظہار کیا گیا تھا اسی طرح الذی خلقمیں رسول کریم ﷺ کی رسالت کاملہ کا اظہار کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جس دن سے مخلوق پیدا ہوئی ہے اس دن سے صرف تو ہمارا مقصو دتھا اور جب سے ہم نے پہلا انسان دنیا میں پیدا کیا ہے۔ اسی دن سے وہ کلام ہمارے مدنظر تھا جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے۔ اب جبکہ تو جو دنیا کا حقیقی مقصود ہے پید اہوچکا ہے ہم تجھے کہتے ہیں کہ تو دنیا کے پاس جا اور اسے کہہ کہ مجھ پر جو کلام نازل ہوا ہے وہ اتنی بڑی عظمت اور شان رکھتا ہے کہ جب سے اس دنیا کا پہلا ذرّہ بنا ہے اسی وقت سے یہ کلام اللہ تعالیٰ کے مدنظر تھا۔ اگر آج کا پیغام ہوتا تب بھی تم اسے ٹھکرا کر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے تھے لیکن یہ تو وہ پیغام ہے جس کے لئے اس نے دنیا کی بنیاد رکھی اور یہی وہ پیغام ہے جو پیدائش عالم کا موجب ہوا۔ اتنے بڑے پیغام کو ٹھکر اکر تم خداتعالیٰ کے عذاب سے کہاں بچ سکتے ہو۔ پس فرمایا تو اس کلام کو میرا نام لے کر پیش کر یعنی بحیثیت رسول ہونے کے اسے دنیا کے سامنے رکھ۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے نہیں بلکہ سرکاری حیثیت سے تو ہماری طرف سے جا اور لوگوں سے کہہ کہ جس خدا نے شروع سے لے کر اب تک تمام مخلوق پیدا کی ہے اس نے مجھے بھیجا ہے یعنی پیدائش عالم کی جو غرض تھی وہ آج میرے ذریعہ سے پوری ہوئی ہے۔ اس لئے اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو دنیا کی پیدائش کو لغو قرار دیتے ہو۔ اسی امر کی طرف اس حدیث قدسی میں اشارہ ہے کہ لولاک لما خلقت الافلاک اے محمد ﷺ اگر تو نہ ہوتا تو میں زمین اور آسمان کو بھی پیدا نہ کرتا۔ الذی خلق میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیاہے کہ تو اس خدا کا نام لے کر دنیا میں اپنی نبوت کا اعلان کر جس نے پیدائش عالم کے زمانہ سے تیرے اس کام کی بنیاد رکھی تھی۔ گویا وہ مضمون جو حدیث قدسی میں آتا ہے درحقیت نہایت لطیف پیرایہ میں قرآن کریم میں بھی بیان کیا جاچکا ہے اور وہ حدیث اس آیت کی تشریح ہے۔
    دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ اقرا باسم ربک الذی خلق۔ تو اس خدا کا نام لے کرپڑھ جس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے یعنی اس کی اس صفت کو جو پیدائش عالم کا موجب ہے اپنی مدد کیلئے بلا اور اس سے کہہ کہ یارب الذی خلقت الخلق۔ اے میرے رب اگر تو نے مخلوق کو اس کمال کیلئے پیدا کیا ہے جس کے ظہور کا مجھ سے واسطہ ہے تو پھر اس مقصد کو پورا کر جس کیلئے تو نے مجھے دنیا میں کھڑا کیا ہے۔ گویا علاوہ پبلک میںاپنی رسالت کاملہ کا اعلان کرنے کے اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو یہ بھی ہدایت دیتا ہے کہ جب تو ہم سے اپنی ترقی کیلئے دعا مانگنے لگے توہمیشہ اس طرح مانگ کہ اے خدا جس نے تمام مخلوق کو اس دن کیلئے پید اکیا تھا میں تجھے تیری اس صفت خلق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جب اس دن کیلئے تونے ساری دنیا کو پیدا کیا تھا اور اس قدر دیر سے تیرا یہ ارادہ تھا جو اب پورا ہونے لگا ہے تو اب اس وقت میری خاص مدد فرما اور میرے اعلانِ نبوت میں برکت ڈال۔ غرض اِدھر پبلک میں یہ اعلان کر کہ جس مقصد کیلئے مجھے بھیجا گیا ہے وہ معمولی نہیں بلکہ جس دن سے دنیا پیدا ہوئی ہے اسی دن سے یہ مقصد اللہ تعالیٰ کے مدنظر تھا۔ اُدھر خدا سے یہ دعا مانگ کہ جس مقصد کیلئے تو نے مجھے کھڑا کیا ہے اس میں مجھے کامیابی عطا فرما کیونکہ اگر مجھے اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی تو سلسلۂ مخلوق کا مقصد حقیقی باطل ہوجائے گا۔ اس لئے میں تجھے اسی صفت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو مخلوق کی پیدائش کا باعث ہوئی کہ تو مجھے کامیاب کر۔ مجھے ناکامی سے بچا۔ کیونکہ میری ناکامی میں تمام مخلوق کی ناکامی ہے۔ اس طرح ایک طرف اللہ تعالیٰ نے اس پیغام کی عظمت کو ظاہر کردیا جو رسول کریم ﷺ کے ذریعہ نازل ہوا تھا اور دوسری طرف دعا کی قبولیت کا ایک لطیف طریق اس نے آپ کو سکھادیا۔
    میں اوپر مضمون میں یہ بیان کرچکا ہوں کہ الذی خلق میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان کو ایک مقصد عظیم کیلئے پیدا کیا گیا تھا مگر وہ مقصد اب تک پورا نہیں ہوا تھا اب اس مقصد کو تیرے ذریعہ سے پورا کیا جارہا ہے۔ اس کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص جو کسی مذہب کا قائل ہے وہ تسلیم کرتا ہے کہ پیدائش انسانی کسی خاص مقصد کیلئے ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبث پیدا نہیں کیا۔ بہرحال کوئی نہ کوئی مقصد تھا جس کے ماتحت انسانی پیدائش عمل میں آئی۔ پس جہاں تک مقصد کا سوال ہے مذہبیات سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ اس سے متفق ہیں۔ لیکن یہ کہ وہ مقصد کس رنگ میں پوا ہوا اس کے متعلق دنیا میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مقصد ابتدائے عالم میں ہی پورا ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے جو وحی نازل کی وہ تمام ضروریات کیلئے کافی تھی۔ یہ عقیدہ آریہ ہندوئوں کا ہے۔ یہ لوگ ویدوں کو اپنی الہامی کتاب کہتے ہیں۔ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ کامل تعلیم ابتدائے زمانہ میں ہی نازل ہوجانی چاہئے۔ اس کے مقابل میں بعض اور لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ب شک انسان کو اس کا مقصد حاصل ہوا مگر وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مقصد انبیاء کے ذریعہ بتدریج انسان کو حاصل ہوا ہے۔ جیسے یہودی کہ وہ کہتے ہیں پہلے آدمؑ آئے پھر نوحؑ آئے پھر ابراہیمؑ آئے پھر اسحاقؑ آئے پھر اسماعیلؑ آئے پھر یعقوب ؑ آئے پھر یوسفؑ آئے پھر موسیٰ ؑ آئے اور پھر اور انبیاء آئے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وحی الٰہی کا سلسلہ ملاکی نبی تک پہنچا اور اس کے بعد وحی الٰہی کا سلسلہ بند ہوگیا۔ یہود کے اس عقیدہ پر اگر غور کیا جائے تو کسی چیز کا جو انتہائی نقطہ ہوتا ہے وہ نہ موسیٰؑ میں نظر آتا ہے نہ ملاکی نبی ہیں۔ کیونکہ موسیٰ نے خود اپنے کسی مقام کو آخری مقام قرار نہیں دیتے جیسا کہ آگے بتایا جائے گا اور ملاکی کو تو یہود بھی موسیٰؑ سے بڑا قرار نہیں دیتے۔ پھر سوال یہ ہے کہ پیدائش انسانی کا جو آخری نقطہ تھا وہ کہاں گیا۔ کیا اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ اس مقصد کو بھول گیا جس کے ماتحت اس نے بنی نوع انسان کو پید اکیاتھا۔
    عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدائش انسانی کا آخری نقطہ ہیں لیکن یہ بات بھی دو طرح بالبداہت باطل ہے۔ اول تو اس طرح کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ انسان کے بیٹے نہیں تھے بلکہ خداتعالیٰ کے بیٹے تھے۔ جب وہ آدم کے بیٹے ہی نہیں تھے تو پیدائش انسانی کا آخری نقطہ کس طرح ہوگئے؟ یہاں سوال تو آدم کے بیٹوں کے متعلق ہے کہ ان میں سے کون پیدائش انسانی کا اصل مقصود ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بیٹے کا تو یہاں کوئی سوال ہی نہیں۔ پس جبکہ یہاں نسل آدمؑ کی پیدائش کا سوال ہے تو ہمیں بہرحال آدمؑ کی نسل میں سے ہی کسی ایسے شخص کا پتہ لگانا پڑے گا جو پیدائش انسانی کا مقصود ہو۔
    دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی چیز کا انتہائی نقطہ اس کے آخری سرے کا نام ہوتا ہے مثلاً ایک لکیر کھینچی گئی ہو تو اس لکیر کا جو آخری سرا ہوگا وہ اس کا آخری نقطہ قرار دیا جائے گا۔ لیکن جب ہم مسیحؑ کے متعلق غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ آخری نقطہ کسی صورت میں بھی قرار نہیں دئے جاسکتے کیونکہ وہ اس خط کا آخری سرا ثابت نہیں ہوتے جو آدم سے شروع ہوا تھا۔ آدمؑ نے شریعت کی بنیاد رکھی تھی۔ نوحؑ نے اس میں اضافہ کیا۔ ابراہیمؑ آئے تو انہوں نے اور زیادتی کی، موسیٰؑ آئے تو انہوں نے اور زیادہ شریعت کو مکمل طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ غرض شریعت کا ایک دور ہے جو آدمؑ سے شروع ہوا اور اس میں زمانہ کے ارتقاء کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پس پیدائش انسانی کا آخری نقطہ وہی ہوسکتا ہے جو پہلی شریعت پر زیادتی کرے۔ وہ کس طرح ہوسکتا ہے جو شریعت کو *** قرار دے کر اس سے دور بھاگ جائے۔ مثلاً لکڑی کا آخری سرا لکڑی کا ہی ہوگا اگر کوئی کہے کہ لکڑی کا آخری سرا پانی یا ہوا ہے تو یہ بالکل بے جوڑ بات ہوگی۔ سونے کا آخری سرا سونے کا ہوگا۔ چاندی کا آخری سرا چاندی کا ہوگا۔ لوہے کا آخری سرا لوہے کا ہوگا۔ اگر کوئی کہے کہ سونے یا چاندی یا لوہے کا آخری سرا لکڑی کا ہے تو سب لوگ ہنسنے لگ جائیں گے کہ کیسی بیوقوفی کی بات کررہا ہے۔ اسی طرح جب آدم سے شریعت کا ایک تسلسل چل رہ تھا آدم سے بہتر شریعت نوحؑ نے پیش کی، نوحؑ سے بہتر شریعت موسیٰؑ نے پیش کی تو بہرحال آخری نقطہ وہ ہوگا جو موسیٰؑ سے بھی بہتر شریعت پیش کرے۔ وہ نہیں ہوسکتا جو شریعت کو *** قرار دے۔ پس عیسائیوں کا یہ دعویٰ بھی بالکل باطل ہے کہ پیدائش انسانی کا آخری نقطہ حضرت مسیحؑ ہیں۔
    ہندو جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ابتدائے عالم میں ہی کامل شریعت نازل ہوگئی تھی ان ک اس دعویٰ کو قرآن کریم نے عقلی دلائل سے اسی سورۃ میں ردّ کردیا ہے۔ چنانچہ فرماتاہے خلق الانسان من علق۔ اپنی پیدائش کی طرف تم دیکھو کہ وہ کس طرح ہوئی ہے۔ کیا پہلے دن ہی تم عاقل بالغ اور سمجھدار بن جاتے ہو یا آہستہ آہستہ اور بتدریج ترقی کرتے کرتے اپنے انتہائی مقام تک پہنچتے ہو؟ اگر فردکی پیدائش میں ترتیب اور تدریج جو مدنظر کھا جاتا ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے دن ہی ایک کامل انسان پیدا ہوجائے تو روحانی امور میں تم تدریج کا کیوں انکار کرتے ہو؟ جس طرح جسمانیات میں تدریج کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح روحانیات میں بھی ارتقاء کئی تدریجی منازل کو طے کرنے کے بعد ہوتاہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ارتقائی منازل کو طے کئے بغیر پہلے دن ہی کوئی چیز کامل بن جائے۔ ارتقاء کا یہ قانون نہ صرف پیدائش انسانی میں نظر آتا ہے بلکہ خداتعالیٰ کی ہر پیدا کردہ چیز میں ہے۔ یہاں تک کہ مادیت میں بھی ارتقاء کا قانون جاری ہے۔ سورج اور چاند بھی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ جیسا کہ علم ہیئت نے ثابت کیا ہے کہ پہلے یہ دخانی ذرات کی شکل میں تھے پھر ان میں دوری حرکت پیدا ہوئی پھر یہ ذرات ایک دوسرے سے ملنے شروع ہوئے پھر انہوں نے ایک ٹھوس وجود کی شکل اختیار کی۔ اس کے بعد پھر ایک لمبا دور اِن پر گزرا یہاں تک کہ لاکھوںسال کے بعد انہوں نے سورج یاچاند کی شکل اختیار کی۔ یہی حال لوہے اور چاندی کا ہے کہ وہ بھی ایک لمبے ارتقاء کے بعد ظاہر ہوئے۔ کوئلہ کتنی معمولی چیز ہے مگر یہ بھی ایک دن میں نہیں بنا بلکہ ہزاروں سال کے بعد بنا ہے۔ اسی طرح ہیرا لاکھوں سال کے تغیرات کے بعد پید اہوتا ہے۔ گویا پہلے درختوں سے جو مدتوں تک زمین میں دبے رہتے ہیں کوئلہ تیار ہوتا اور پھر کوئلہ سے ہیرا بنتا ہے۔
    غرض کوئی چیز لے لو ارتقائی تغیرات مین سے گزرے بغیر وہ عالم وجودمیں نہیں آئی۔ جب اللہ تعالیٰ کا جسمانیات میں تمہیںیہ قانون نظر آتا ہے تو تم الہام کے متعلق یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ پیدائش عالم کے ساتھ ہی کامل الہام نازل ہوگیا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ظاہری پیدائش میں ارتقاء کا قانون جاری ہے اسی طرح وحی اور الہام بھی اس قانون سے وابستہ ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اور چیزوں میں تو ارتقاء ہو اور الہام میں ارتقاء نہ ہو۔ پس خلق الانسان من علق نے ہندوئوں کے اس خیال کو ردّ کردیا کہ شریعت پہلے دن ہی مکمل طور پر نازل ہوگئی تھی فرماتا ہے کہ تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے انسان نے بہرحال ترقی کرتے کرتے کامل شریعت کے مقام تک پہنچنا تھا یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ پہلے دن ہی اسے کامل شریعت عطا کردی جاتی۔
    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب عیسائیوں کی تھیوری بھی باطل ہے، یہودیوں کا خیال بھی غلط ہے اور ہندوئوں کا نظریہ بھی ناقابل قبول ہے تو پیدائش انسانی کا مقصد کس رنگ میں پورا ہوا؟ تم کہتے ہو کہ یہودیوں کا خیال اس لئے صحیح نہیں کہ وہ ملاکی نبی پر وحی الٰہی کے سلسلہ کو بند قرار دے رہے ہیں جو ایک معمولی حیثیت کے نبی تھے۔ حالانکہ آخری نقطہ وہ ہونا چاہئے جو موسیٰؑ سے بڑھ کر ہوتا۔ عیسائیوں کا خیال اس لئے صحیح نہیں کہ وہ شریعت سے بھاگ رہے ہیں اور ہندوئوں کا خیال اس لئے صحیح نہیں کہ وہ ابتدائے عالم میں ہی کامل شریعت کا نزول تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ابتدائی نہیں بلکہ آخری نقطہ ہونا چاہئے۔ جب یہ تمام خیالات باطل ہیں توپھر تم خود ہی بتائو کہ پیدائش انسانی کا مقصد کس نبی کے ذریعہ پورا ہوا؟
    اس سوال کا جواب دینے سے پیشتر یہ بتادینا ضروری ہے کہ گو آج تک اللہ تعالیٰ کے ہزاروں انبیاء دنیامیں آچکے ہیں مگر بہت سے نبی ایسے گزرے ہیں جن کے ناموں کا بھی ہمیںعلم نہیں کجا یہ کہ ہم کہہ سکیںکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا کیا کلام نازل ہوا تھا۔ مثلاً ہندو گو ابتدائے عالم میں ویدوں کا نزول تسلیم کرتے ہیں مگر یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ وید کن رشیوں پر نازل ہوئے تھے۔ جب اتنی معمولی بات کا بھی انہیں علم نہیں تو ان کے متعلق یہ بحث کس طرح کی جاسکتی ہے کہ وہ پیدائش انسانی کا مقصود تھا یا نہیں۔ زرتشتی بیشک حضرت زرتشتؑ کو اللہ تعالیٰ کا نبی مانتے ہیں مگر ان کی کتاب میں صاف طور پر آئندہ آنے والے ایک نبی کی پیشگوئی پائی جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زرتشتؑ پیدائش انسانی کا آخری نقطہ نہیں تھے ورنہ وہ اپنے بعد کسی اور صاحب شریعت نبی کی خبرنہ دیتے۔ ہندوئوں اور زرتشتیوں کے انبیاء کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کہ ان میں سے حضرت زرتشت نے خود اپنے آپ کو آخری نقطہ قرار نہیں دیااور ویدوں کے متعلق ہندوئوں میں اختلاف ہے کہ وہ کن رشیوں پر نازل ہوئے تھے۔ ہم بنی اسرائیل کے متعلق غور کرتے ہیں کہ آیا پیدائش انسانی کا وہ مقصو دتھے یا نہیں۔ انبیاء بنی اسرائیل میں سے وہ نبی جن کی تعلیم سب سے زیادہ واضح ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ کسی قدر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم بھی موجود ہے جو بائبل نے پیش کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام مخلوق کے نقطۂ مرکزی تھے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:-
    ’’تیری نسل اپنے دشمنوں کے دروازہ پر قابض ہوگی اور تیری نسل سے زمین کی ساری قومیں برکت پاویں گی‘‘۔
    (پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۷،۱۸)
    یعنی تیرے ذریعہ سے نہیں بلکہ تیری نسل کے ذریعہ سے زمین کی ساری قومیں برکت پائیں گی۔ تو محدود زمانے کیلئے اور محدود لوگوں کی ہدایت کیلئے نبی بنایا گیا ہے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ زمین کی ساری قومیںبرکت پائیں۔ ہمارا یہ مدعا تیرے ذریعہ سے پورا نہیں ہوگا بلکہ تیری نسل کے ذریعہ سے پورا ہوگا۔ اس سال کو جانے دو کہ وہ کونسی نسل ہے جس کے ذریعہ یہ وعدہ پورا ہوا۔ بہرحال ان الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدائش عالم کا آخری نقطہ نہیں تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ تو نہیں بلکہ تیری نسل کے ذریعہ سے میں ایسا سامان کروں گا کہ زمین کی ساری قومیں برکت پائیں گی۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ آخری نقطہ نے عالمگیر مذہب کا بانی ہونا تھا کیونکہ اس کے متعلق مقدر یہ تھا کہ زمین کی ساری قومیں اسی سے برکت حاصل کریں اور زمین کی ساری قومیں اسی سے برکت حاصل کرسکتی تھیں جو عالمگیر مذہب کا بانی ہوتا۔ پس ابراہیمؑ پیدائش انسانی کے ارتقاء کا آخری نقطہ نہیں تھے۔ ان کی اپنی پیشگوئی یہ ہے کہ میری نسل میں سے ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جس کے ذریعہ دنیا کی ساری قوموں کو دعوت دی جائے گی ، دنیا کی ساری قوموں کو برکت دی جائے گی اور دنیا کی ساری قوموں کو ہدایت اور قرب کی راہیں بتائی جائیں گی۔ بالفاظ دیگر یہ پیشگوئی ایک عالمگیر مذہب کے بارہ میں تھی اور وہ شخص جس کی دنیا کی ساری قوموں نے برکت حاصل کرنی تھی وہی انبیاء کا منتہائے نظر تھا مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ تک یہ مقصد حاصل نہیں ہوا تھا۔
    اگرکہاجائے کہ یہ پیشگوئی موسیٰ کے ذریعہ پوری ہوچکی ہے تو یہ بالکل غلط ہے کیونکہ یہودی مذہب مختص القوم تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خداتعالیٰ نے صرف یہود کی اصلاح کیلئے بھیجا تھا۔ حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو کچھ کہا گیا تھا وہ یہ تھا کہ تیری نسل سے ساری قومیں برکت پائیں گی۔موسیٰ سے صرف بنی اسرائیل نے برکت حاصل کی تھی لیکن ابراہیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ میں تیری نسل کو بڑھائوں گا اور بڑھاتا چلا جائوں گا یہاں تک کہ ارتقاء کی منازل طے کرتے کرتے ایک دن آئے گا کہ ساری دنیا کو دعوت حقہ دی جائے گی اور ساری دنیا کو خدائی آواز پہنچائی جائے گی ۔ پس موسوی مذہب نے چونکہ ساری دنیا کو دعوت نہیں دی بلکہ موسیٰ کا یہ پیغام مخصوص تھا بنی اسرائیل سے۔ اس لئے یہودی مذہب کو اس پیشگوئی کا مصداق قرار نہیں دیا جاسکتا۔
    دوم حضرت موسیٰؑ خود ایک اور نبی کی خبر دیتے ہیں جو ان کے بعد آنے والا تھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے الہام کے ذریعہ یہ خبر دی ہے کہ :-
    ’’میں ان کیلئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرمائوں گاوہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔ لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میںنے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے‘‘۔ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ تا ۲۰)
    اس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ پیشگوئی فرمارہے ہیں کہ میرے بعد ایک اور نبی آنے والا ہے جو اپنے ساتھ نئی شریعت لائے گا۔ کیونکہ الفاظ یہ ہیں ’’میں ان کیلئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا‘‘۔ ’’تجھ سا نبی‘‘ کے معنے یہی ہیں کہ جس طرح تو صاحب شریعت ہے اسی طرح وہ صاحب شریعت ہوگا۔ اگر صرف اتنے الفاظ ہوتے کہ میں ان کے بھائیوںمیں سے ایک نبی برپا کروں گا تو اس کے معنے یہ ہوسکتے تھے کہ جس طرح بنی اسرائیل میں اور کئی غیر شرعی نبی آئے اسی طرح ایک غیرشرعی نبی کی آپ نے اس جگہ خاص طورپر خبردی ہے مگر ’’تجھ سا‘‘ کے الفاظ بتارہے ہیں کہ یہاں وہ دوسرے نبی مراد نہیں ہوسکتے جو بنی اسرائیل میں آئے کیونکہ وہ موسی جیسے نہیں تھے۔ موسیٰ صاحب شریعت نبی تھے اور وہ صاحب شریعت نبی نہیں تھے۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو پیشگوئی فرمائی ہے اس کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ وہ نبی موسیٰ کی طرح صاحب شریعت ہوگا اور اللہ تعالیٰ اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالے گا۔ گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ایک اور صاحب شریعت نبی ابھی دنیا میں آنے والا تھا۔ پس موسیٰ ارتقائِ روحانی کا آخری نقطہ نہیں ہوسکتے۔ پھر کہتے ہں:-
    ’’خداوند سینا سے آیا اورشعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کیلئے تھی‘‘۔ (استثناء باب ۳۳ آیت ۲)
    اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تین جلوہ گریوں کا ذکر فرماتے ہیں۔
    ’’خداوند سینا سے آیا‘‘ اس سے مراد موسوی ظہور ہے۔ ’’شعیر سے ان پر طلوع ہوا‘‘ اس سے مراد عیسوی ظہور ہے۔ ان دونوں ظہور وں کے بعد ایک تیسرے ظہور کی بھی اس پیشگوئی میں خبر دی گئی ہے وہ ظہور فاران سے ظاہر ہوگا اور آتشی شریعت اس کے ساتھ ہی ہوگی۔ اس پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰؑ اور عیسیٰ ؑ دورِ نبوت کے آخری نقطے نہ تھے بلکہ سینا اور شعیر کے ظہوروں کے بعد ایک اور ظہور ہونے والا تھا جو اپنے ساتھ شریعت بھی رکے گا۔ فاران سے جلوہ گر ہونے والے محمد رسول اللہ ﷺ ہیں کیونکہ فاران ان پہاڑیوں کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہیں۔ بائبل سے بھی اس کا ثبوت اس رنگ میں ملتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے بائبل میں لکھا ہے ’’وہ فاران کے بیابان میں رہا‘‘ (پیدائش باب ۲۱ آیت ۲۱) اور اہل مکہ بھی وہ قوم ہیں جو اپنے آپ کو نسل ابراہیم سے قرار دیتے ہیں۔ پس فاران کی چوٹیوں سے ظاہر ہونیو الا وجود محمد ﷺ ہیں اور آپ کے ذریعہ ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہوئی۔
    پھراس پیشگوئی میں یہ ذکر ہے کہ وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئے گا۔ یہ پیشگوئی بھی ایسی ہے جو سوائے رسول کریم ﷺ کے اور کسی پر چسپاں نہیں ہوتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو صرف بارہ حواری ملے تھے جن میں سے ایک نے تیس روپوں کے بدلے آپ کو دشمن کے حوالے کردیا اور باقی صلیب کے وقت ادھر اُدھر بھاگ گئے۔ دنیا میں صرف ایک ہی انسان ہے جس کے متعلق تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ جب فتح مکہ کے لئے آئے تو اس وقت آپ لشکر کی تعداد دس ہزار ہی تھی اور آپ انہی پہاڑیوں سے چڑھ کر آئے تھے جو فاران کی پہاڑیاں ہیں اور جن کے متعلق بائبل میں پیشگوئی پائی جاتی تھی۔ بہرحال اس سے اتنا پتہ لگا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو آخری نقطہ قرار نہیں دیا۔ پھر اس پیشگوئی میں صاف لکھا ہے کہ ایک آتشی شریعت اس کے ہاتھ میں ہوگی جس کے معنے یہ بھی ہیں کہ ایک اور شریعت آنے والی ہے۔ اور جب آخری شریعت ابھی باقی تھی تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بعد کی شریعت پہلی شریعت سے بہتر ہوگی۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے آپ کو ارتقائے روحانی کا آخری نقطہ قرار نہیں دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جو انبیاء آئے ان میں ایک اہم نبی حضرت دائود علیہ السلام ہیں جن کو بہت بڑی عظمت دی جاتی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آیا انہوں نے اس مقصد کو پورا کیا۔ اس کا جواب بھی ہمیں نفی میں ملتا ہے کیونکہ وہ خود کہتے ہیں :-
    ’’اس کا منہ شیرینی ہے ہاں وہ سراپا عشق انگیز ہے۔ اے یروشلم کی بیٹیو! یہ میرا پیارا یہ میرا جانی ہے‘‘ (غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۶)
    اردو بائبل میں تو ’’سراپا عشق انگیز‘‘ کے الفاظ آتے ہیں مگر عبرانی بائبل میں یہاں لفظ ’’محمدیم‘‘ لکھا ہوا ہے یعنی محمدؐ۔ کئی مترجموں نے رسول کریم ﷺ کے نام پر پردہ ڈالنے کیلئے اس کا ترجمہ ’’عشق انگیز‘‘ کردیا۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص کہے محمدؐ نے یوں کہا تو اس کا ذکر ان الفاظ میں کردیا جائے کہ ایک صاحب تعریف آدمی نے یوں کہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ نام پر پردہ ڈالنے اور دوسرے کو دھوکا دینے والی بات ہے۔ اسی طرح عیسائیوں نے بھی بائبل کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے ’’محمدیم‘‘کا ترجمہ ’’عشق انگیز‘‘ کردیا حالانکہ عبرانی بائبلیں دنیا میں اب تک موجود ہیں اور ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ وہاں ’’محمدیم‘‘ لکھا ہوا ہے یعنی وہ محمد ہے۔ (اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد کے بعد یم کے حروف بھی ہیں جو جمع کیلئے آئے ہیں مگر ساری عبارت سے ظاہر ہے کہ یہاں ایک شخص کاذکر ہے۔ پس جمع کا صیغہ ادب اور احترام کے اظہار کیلئے استعمال کیا گیا ہے نہ کہ یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ کسی جماعت کی خبر دی جارہی ہے)۔ پھر اس کی علامت حضرت دائودؑ نے یہ بھی بتائی ہے کہ ’’دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے‘‘ (غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۰)۔ یہ وہی علامت ہے جس کا موسیٰ کی پیشگوئی میں ذکر آتا ہے اور جو فتح مکہ کے وقت پوری ہوئی۔
    غرض حضرت دائود علیہ السلام کے زمانہ تک ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ تمام انبیاء یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ ایک اور نبی آنے والا ہے جو کامل شریعت اپنے ساتھ لائے گا اور جو تمام نبیوں کا محبوب اور پیارا ہوگا۔
    حضرت دائود علیہ السلام کے بعد جو انبیاء آئے ان میں سے ایک بڑے نبی حضرت یسعیاہ ہیں۔ بائبل سے معلوم ہوتاہ ے کہ یسعیاہ نبی کو بہت بڑی اہمیت حاصل تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یسعیاہ نبی پیدائش انسانی کا آخری نقطہ تھے؟ اور کیا ان کے آنے سے وہ مقصد پورا ہوگیا جو اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔ کیونکہ وہ خود فرماتے ہیںـ:-
    ’’ایک اور نام جو بیٹوں اور بیٹیوں کے نام سے بہترہے بخشوں گا۔ میں ہر ایک کو ابدی نام دوں جو مٹایا نہ جائے گا اور بیگانے کی اولاد جنہوں نے اپنے تئیں خداوند سے پیوستہ کیا ہے کہ اس کی بندگی کریں اور خداوند کے نام کو عزیز رکھیں اور اس کے بندے ہوویں۔ وہ سب جو سبت کو حفظ کرکے اسے ناپاک نہ کریں اور میرے عہد کو لئے رہیں میں ان کو بھی اس مقدس پہاڑ پر لائوں گا اور اپنی عبادت گاہ میں انہیں شادمان کروں گا‘‘۔ (یسعیاہ باب ۵۶ آیت ۵ تا ۷)
    یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کرتے ہوئے آئندہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الٰہی قوم کو ایک نیا نام دیا جائے گا ار وہ اتنا پیارا ہوگا کہ لوگ اسے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے بھی زیادہ پسند کریں گے۔ یہ توپسند کرلیں گے کہ ان کا بیٹا مر جائے یا ان کی بیٹی مر جائے مگر وہ اس نام کو چھوڑنا پسند نہیں کریں گے۔ یہ اسلام کا نام ہے جو مسلمانوں کو عطا کیا گیا اور جس کے متعلق یسعیاہ نبی یہ خبر دے رہے ہیں کہ وہ نام اتنا پیارا ہوگا کہ لوگ اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کو چھوڑنا اور ان کا اپنی آنکھوں کے سامنے مارا جانا گوارا کرلیں گے مگر یہ برداشت نہیں کریں گے کہ اسلام چھوٹ جائے اور یہ پیارا نام ان کے ساتھ نہ رہے۔
    پھر یہ کہ وہ مذہب ایسا ہوگا کہ جس میں غیر قومیں بھی شامل ہو گی اور ’’اپنے تئیںخداوند سے پیوستہ‘‘ کریں گی۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی بتائی گئی تھی کہ زمین کی ساری قومیں تیری نسل سے برکت پائیں گی۔ یسعیاہ نبی بھی یہی کہتے ہیں کہ غیرقومیں اس مذہب میں داخل ہوں گی اور خداتعالیٰ سے محبت کا تعلق پیدا کرکے اس کا قرب حاصل کریں گی۔
    پھر فرمایا کہ وہ لوگ سبت کی بے حرمتی نہ کریں گے۔ اسی طرح فرمایا ’’میں ان کو بھی اس مقدس پہاڑ پر لائوں گا اور اپنی عبادت گاہ میں انہیں شامان کروں گا‘‘۔ یعنی وہ لوگ اس ملک پر آکر قابض ہوجائیں گے۔
    یسعیاہ نبی کی اس پیشگوئی پر اگر غور کیا جائے تو اس میں پانچ باتیں نظر آتی ہیں۔
    اوّل: ان کو ایک نیا نام ملے گا۔
    دوم: وہ نام ابدی ہوگا جو کبھی مٹایا نہیں جائے گا۔
    سوم: غیر اقوام کے لوگ بھی ان کے مذہب میں شامل ہوں گے۔
    چہارم: وہ سبت کی حفاظت کریں گے۔
    پنجم: ان کو بھی بنی اسرائیل کے علاقہ میں لاکر قابض کردیا جائے گا۔
    یہ پانچ چیزیں جس مذہب میں پائی جائیں گی وہی اس پیشگوئی کا مصداق قرار دیا جائے گا۔ یسعیاہ کے بعد بنی اسرائیل میں سب سے بڑے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام گزرے ہیں مگر سوائے فلسطین پر قابض ہونے کے اور کوئی بات بھی ان کے ذریعہ پوری نہیں ہوئی۔ مثلاً یسعیاہ نبی کو یہ بتایا گیا تھا کہ میں ان کو ایک نیا نام بخشوں گا جو بیٹوں اور بیٹیوں کے نام سے بہتر ہوگا۔ یہ نام صرف مسلمانوں کو ملا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ھو سمکم المسلمین من قبل و فی ھذا (الحج۱۰ع۱۷) کہ پرانے زمانہ سے تمہارا نام مسلم رکھا گیا ہے لیکن عیسائیوں کا کوئی نام ہی نہیں وہ کبھی نصاریٰ کہلاتے ہیں اور کبھی مسیحی اور کبھی عیسائی یعنی عیسیٰ کی طرف نسبت پانے والے۔ انگریز اپنے آپ کو کرسچنز کہتے ہیں مگر یہ بھی کوئی نام نہیں بلکہ اس کے معنے صرف مسیحؑ کی طرف منسوب ہونے والوں کے ہیں۔ غرض عیسائیوں کا کوئی نام ہی نہیں۔ پہلے زمانہ میں وہ کچھ کہلاتے تھے پھر کچھ اور کہلانے لگ گئے اور اسی طرح ان کے نام میں تبدیلی ہوتی چلی گئی۔ وہ قوم جس کا ایک نام رکھا گیا ہے اور جس کا نام کسی انسان نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ صرف مسلمان ہیں اور اسی کے نام کے متعلق یسعیاہ نبی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ ـ:-
    ’’ایک نام جو بیٹوں اور بیٹیوں کے نام سے بہتر ہے بخشوں گا‘‘۔
    اگر عیسائی اپنے آپ کو اس پیشگوئی کامصداق قرار دیتے ہیں تو کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا عیسائی نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکھا گیا ہے۔ اگر وہ ایسا دعویٰ کریں تو یہ بالکل بے بنیاد ہوگا کیونکہ بائبل سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام عیسائی رکھا ہے۔
    پھر یہ خبر دی گئی تھی کہ ان کو ابدی نام دیا جائے گا جو کبھی مٹایا نہیں جائے گا۔ یعنی زمانہ کے تغیرات اور ملکوں اور علاقوں کے اختلاف کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ان کا نام رکھا جائے گا وہ ہمیشہ قائم رہے گا اس میں کبھی کوئی تبدیلی عمل میں نہیں آئے گی۔ یہ پیشگوئی کا یہ حصہ بھی ایسا ہے جو عیسائیوں پر چسپاں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اول تو ان کا کوئی نام ہی نہیں اور پھر جو کچھ وہ اپنے آپ کو کہتے ہیں اس میں بھی تبدیلی ہوتی چلی آئی ہے۔
    تیسری خبر یہ دی گئی تھی کہ بیگانے کی اولاد اس مذہب میں داخل ہوگی۔ لیکن حضرت مسیح اپنے حواریوں سے کہتے ہیں کہ تمہیں غیرقوموں کو تبلیغ کرنے اور انہیں اپنے مذہب میں داخل کرنے کی اجازت ہی نہیں۔
    چوتھی خبر یہ دی گئی تھی کہ وہ سبت کی حفاظت کریں گے لیکن عیسائی وہ ہیں جنہوں نے سبت کی حفاظت کرنے کی بجائے روم کے بادشاہوں کو خوش کرنے کیلئے ہفتہ کو اتوار سے بدل دیا اور اس طرح سبت کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔ یہ چار شرطیں جس قوم میں پائی جائیں گی اسی کا فلسطین پر قبضہ اس بات کی علامت سمجھا جاسکتا ہے کہ یسعیاہ کی پیشگوئی اس کے ذریعہ پوری ہوئی ورنہ محض فلسطین پر قبضہ کوئی چیز نہیں اس پر قبضہ تو رومیوں نے بھی کرلیا تھا۔
    یہ چار شرطیں اگر کسی قوم میں پائی جاتی ہیں تو وہ صرف مسلمان ہیں۔ چنانچہ
    اول: مسلمانوںکاخوداللہ تعالیٰ نے نام رکھا وہ فر ماتا ہے ھوسمکم المسلمین من قبل و فی ھذا(الحج۱۰ع۱۷) تمہارا مسلم نام اللہ تعالی نے آپ رکھا ہے۔
    دوم: یہ نام ایسا ہے جو ابدی ہے کوئی شخص اس کو بدلنے کی طاقت نہیںرکھتا ۔ ایک مسلمان ہر وقت مسلمان ہی کہلائے گا۔ خواہ وہ دنیا کے کسی خطے میں رہتا ہو۔
    سوم: بیگانے کی اولاد یعنی غیر اقوام کا داخلہ صرف اسلام میں جائز ہے اور یہی وہ مذہب ہے جس نے اپنی دعوت کو کسی ایک قوم سے مخصوص نہیں کیا بلکہ دنیا کی ہر قوم تک خدائے کا پیغام پہنچایاہے
    چہارم: سبت کے محافظ بھی مسلمان ہی ہیں کیونکہ انہوں نے جمعہ کے احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھا ہے اور کبھی اس کو بدلنے کا خیال تک بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوا۔
    پنجم: فلسطین پر بھی مسلمان قابض ہوئے یہاں تک کہ تیرہ سو سال ان کے قبضہ پر گذر گئے اور اب تک وہ فلسطین پر قابض ہیں ۔بہرحال یسعیاہ نبی کی اس پیشگوئی نے بتا دیا کہ دنیا کے روحانی ارتقاء کا آخری نقطہ یسعیاہ نہیں تھے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دنیا کی پیدائش کا مقصود ان کے ذریعہ پورا ہوا کیونکہ وہ خود اپنے بعد ایک اور عظیم الشان نبی کی بعثت کی خبر دے چکے ہیں ۔
    پھرر حضرت مسیحؑ آئے۔ کیا پیدائش انسانی کا وہ مقصود تھے؟اس کا جواب یہ ہے کہ ہر گز نہیں ۔کیونکہ
    اوّل: مسیحی مذہب نسل ابراہیم سے نہ تھا بلکہ عسائی تو الگ رہے خود مسیحؑ ہی نسل ابرا ہیم سے نہ تھے کیونکہ وہ عیسائیوں کے اعتقاد کے مطابق خدا تعالی کے بیٹے تھے۔جب وہ اللہ تعالی کے بیٹے تھے تو ابراہیم کی نسل مین سے کس طرح ہو گئے۔ اللہ تعالی نے تو حضرت ابراہیم سے یہ کہا تھا کہ ’’تیری نسل سے زمین کی ساری قومیں برکت پاویں گی‘‘ پس اگر کسی شخص کے ذریعہ پیش گوئی پوری ہو سکتی ہے تو وہ وہی ہو سکتا ہے جو ابرا ہیم کی نسل میں سے ہو نہ وہ جو اپنے آپ کو خدا تعالی کا بیٹا کہتا ہو۔اگر عیسائی کہ دیںکہ حضرت مسیحؑ سے زمین کی ساری قوموں نے برکت حاصل کر لی ہے تب بھی ہم کہیں گے کہ یہ پیشگوئی ابھی پوری ہونی باقی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس میں خبر یہ دی ہے کہ پیدائش انسانی کا آخری نقطہ ابراہیم کی نسل میں سے ہوگا اور اس کا نشان یہ ہوگاکہ وہ ایک عالمگیر مذہب کا بانی ہوگا اور دنیا کی ساری قوموں کو دعوت حقہ دے گا۔پس مسیحؑ نے اگر ساری قوموں کو دعوت دے بھی دی ہے تب بھی ابراہیمی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی کیونکہ ابراہیمی پیشگوئی کا تعلق اس شخص سے ہے جو ابراہیم کی نسل سے ہو۔ لیکن اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ گو حضرت مسیحؑ کا کوئی باپ نہیں تھا مگر تھے وہ ابراہیم ہی کی نسل سے۔تب بھی ہم کہتے ہیں کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ کیونکہ مسیحی مذہب عالمگیر نہیں۔چنانچہ حضرت مسیحؑ خود اپنی نسبت فرماتے ہیں۔
    ’’ابن آدم آیا ہے کہ کھوئے ہوئوں کو ڈھونڈ کر بچائے‘‘۔ (متی ۱۸۔۱۱)
    یعنی مسیحؑ کی آمد کی غرض صرف اتنی تھی کہ بنی اسرائیل جو بخت نصر کے زمانہ میں منتشر ہو کر افغانستان اور کشمیر وغیرہ علا قوں میں پھیل گئے تھے ان کو اکٹھا کریں۔پس ان کا پیغام کسی اور کے لئے نہیں تھا ۔ دوسرے تورات ضود مسیحیوں کے نزدیک یہود کے لئے ہے اور عیسائی اس بات پر متفق ہیں کہ تورات غیر قوموں کے لئے نہیں تھی صرف یہود کے لئے تھی ۔ دوسری طرف انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے نزدیک تورات منسوخ نہیں تھی چنانچہ آپ فرماتے ہیں :۔
    ’’ یہ خیال مت کرو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے کو آیا۔ میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہر گز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو ‘‘۔ (متی باب۵ آیت۱۷،۱۸)
    اس جگہ حضرت مسیحؑ صاف طور پر فرماتے ہیں کہ میں تورات کو منسوخ کرنے کے لئے نہیں آیا ۔ جب وہ منسوخ کرنے کے لیے نہیں آئے تو معلوم ہوا کہ زمانہ مسیحؑ میں تورات قائم رہی تھی اور جب وہ قائم رہی جیسا کہ عیسائی بھی مانتے ہیں تو چونکہ تورات ساری دنیا کے لئے نہیں تھی بلکہ صرف یہود کے لیے تھی اس لیے معلوم ہوا کہ حضرت مسیحؑ پیدائش انسانی کا آخری نقطہ نہیں تھے۔
    پھرحضرت مسیحؑ نے جب اپنے بارہ حواریوں کو تبلیغ کے لیے بھیجا تو انہیں یہ ہدایت دی کہ
    ’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ پہلے اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جائو اور چلتے ہوئے منادی کرو اور کہو کہ آسمان کہ بادشاہت نزدیک آگئی‘‘۔ (متی باب۱۰آیت۶،۷)
    ان الفاظ میں حضرت مسیح نے نہ صرف غیر قوموں کو تبلیغ کرنے کی ممانعت کی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔ سامری وہ لوگ تھے جو بنی اسرائیل سے مخلوط تھے اور آدھے بنی اسرائیل کہلاتے تھے مگر حضرت مسیحؑ ان کو بھی تبلیغ کرناجائز نہیں سمجھتے تھے کجا یہ کہ غیر قوموں کو اپنے مذہب میں داخل کرنا آپ جائز سمجھتے۔ پس وہ پیشگوئی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمائی تھی مسیحی مذہب کے ذریعہ بھی پوری نہیں ہوئی۔ وہاں یہ خبر تھی کہ ابراہیمی نسل سے ساری قومیں برکت پائیں گی اور مسیحی مذہب کے بانی نے اپنے بارہ حواریوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ غیرقوموں کو تبلیغ نہ کریں اور صرف یہود کو تبلیغ کریں۔ پس مسیحی مذہب کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ سب قوموں کو برکت دینے کیلئے آیا تھا۔
    مذکورہ بالا حوالہ میں ’’پہلے‘‘ کے لفظ سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔ بعض عیسائی کہہ دیا کرتے ہیں کہ پہلے بنی اسرائیل کو تبلیغ کرنے کا حکم تھا۔ یہ حکم نہیں تھا کہ بنی اسرائیل کے علاوہ اور کسی قوم کو تبلیغ ہی نہ کی جائے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ اول تو یہ واضح ہے کہ جب تک سب بنی اسرائیل ایمان نہ لائیں دوسروں کو تبلیغ کرنا منع ہے اور چونکہ یہودی ابھی تک موجود ہیں اس لئے عیسائیوں کو غیرقوموں میں تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔ دوسرے خود حضرت مسیح نے اپنے اس حکم کی تشریح کردی ہے۔ آپ فرماتے ہیں
    ’’میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ تم بنی اسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر چکو گے جب تک کہ ابن آدم نہ آئے‘‘۔
    (متی باب ۱۰ آیت ۲۳)
    ان الفاظ میں حضر ت مسیحؑ کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک میں دوبارہ نہ واپس نہ آجائوں تم بنی اسرائیل کو تبلیغ کو ختم نہیں کرسکو گے۔ گویا مسیح کے دوبارہ آنے تک ان کی قوم کیلئے صرف بنی اسرائیل میں تبلیغ مقدر ہے کسی اور قوم کو تبلیغ کرنا ان کیلئے جائز نہیں۔ ہاں بعثت ثانیہ میں سب دنیا کو تبلیغ ہوگی۔ پس اس جگہ ’’پہلے‘‘ کے وہی معنے لئے جائیں گے جو حضرت مسیح کے دوسرے کلام سے ثابت ہے اور وہ معنے یہی ہیں کہ مسیح کی بعثت ثانیہ سے پہلے عیسائیوں کو یہود کے علاوہ اور کسی کو تبلیغ کی اجازت نہیں۔ حضرت مسیح صاف طور پر فرماتے ہیں کہ جب تک میں دوبارہ نہ آجائوں تم یہود کو تبلیغ سے فارغ نہیں کرسکو گے جس کے معنے یہ ہیں کہ میرے دوبارہ آنے تک تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم اپنی تبلیغ صرف یہود تک محدود رکھو۔ جب میں دوبارہ آجائوں گا تو پھر تمہیں اس بات کی اجازت ہوگی کہ تم ساری دنیا کو تبلیغ کرو۔پھرمسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:-
    ’’میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی پاس نہیں بھیجا گیا‘‘۔ (متی باب ۱۵ آیت ۲۴)
    اس میں اور زیادہ وضاحت سے انہوں نے قوموں کی نسبت سے اپنے حلقہ کی تعیین کردی اور بتادیا کہ میرا تعلق بنی اسرائیل کے علاوہ اورکسی قوم سے نہیں۔ جب حضرت مسیح کی بعثت صرف اسرائیلی قبائل کے لئے مخصوص تھی تو وہ حضرت ابراہیمؑ کی پیشگوئی کے مصداق ثابت نہ ہوئے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کویہ کہا گیا تھا کہ تیری نسل کے ذریعہ زمین کی ساری قومیں برکت پائیں گی اور حضرت مسیح کہتے ہیں کہ میں ساری دنیا کو برکت دینے کیلئے نہیں۔ بلکہ صرف بنی اسرائیل کو برکت دینے کیلئے آیا ہوں۔
    دوم: وہ شریعت نہیں لائے۔ حالانکہ تمام پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا شریعت لائے گا ۔ پس چونکہ وہ شریعت نہیں لائے اس لئے انہیں دنیا کا مقصود قرار نہیں دیا جاسکتا۔
    سوم: وہ خود اقرار کرتے ہیںکہ ’’وہ نبی‘‘ ان کی پہلی بعثت کے بعد اور دوسری بعثت سے پہلے آئے گا۔ چنانچہ لکھا ہے:
    ’’ضروری ہے کہ آسمان اسے لئے رہے (یعنی مسیح کو) اس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے نبیوں کی زبانی شروع سے کیااپنی حالت پر آویں۔ کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہاکہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوںسے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اٹھاوے گا جو کچھ وہ تمہیں کہے اس کی سب سنو۔ اور ایسا ہو گا کہ ہر نفس جو اس نبی کی نہ سنے وہ قوم میں سے نیست کیا جائے گا۔ بلکہ سب نبیوں نے سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی ہے‘‘۔
    (اعمال باب ۳ آیت ۲۱ تا ۲۵)
    ان الفاظ میں حواری حضرت مسیح سے خبر پاکر بتاتے ہیں کہ مسیح کے دوبارہ آنے سے پہلے ضروری ہے کہ وہ نبی آجائے جس کی تمام انبیاء خبر دیتے چلے آئے ہیں۔ وہ صاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ پیشگوئیوں میں ایک شریعت لانے والے نبی کے متعلق جو خبر دی گئی تھی مسیح کی دوبارہ بعثت اس کے بعد ہوگی جس کے معنے یہ ہیں کہ مسیح اس پیشگوئی کا مصداق نہیں بلکہ آنے والا نبی جو اپنے ساتھ شریعت رکھتا ہوگا جو مسیحؑ کی بعثت اول اور بعثت ثانیہ کے درمیان آئے گا وہ اس کا مصداق ہوگا۔ اس موقعہ پر عیسائی کہہ سکتے ہیں کہ تمہارا محمد رسول اللہ ﷺ کو پیدائش عالم کا نقطہ مرکزی قرار دینا غلط ہے۔ نقطہ مرکزی بہرحال مسیح ہے جس نے صاحب شریعت نبی کے بعد آنا ہے۔ مگر یہ سوال بھی حل ہوچکا ہے کیونکہ مسیح ثانی نے مبعوث ہونا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوچکا ہے اور اس نے صاف اور کھلے لفظوں میں اعلان کردیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا غلام ہوں اور میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے آپ سے ہی حاصل کیا ہے۔ پس یہ سوال جاتا رہا کہ نقطہ مرکزی ابھی باقی ہے۔ کیونکہ جسے سب سے آخر میں نقطہ مرکزی قرار دیا جاسکتا تھا اس نے خود آکر کہہ دیا ہے کہ میں نقطہ مرکزی نہیں بلکہ نقطہ مرکزی وہ ہے جو مجھ سے پہلے آچکا ہے۔ بہرحال اعمال باب ۳ کی تصریحات سے جو حضرت مسیح کی پیشگوئیوں پر مبنی ہیں کہ امر ظاہر ہوتا ہے کہ مقصود جہاں حضرت مسیح کی بعثت اول کے بعد اور بعثت ثانیہ سے پہلے آنا تھا اور وہ ہمارے پیارے سردار محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ﷺ جس غرض کیلئے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تھا اسے یاد کرتے ہوئے کھڑا ہو اور تبلیغ کر کہ تو اس غرض کو پورا کرنے والا ہے۔
    اقرا باسم ربک ۔ تو پڑھ یعنی دنیا کے سامنے میرا نام لے کر اعلان کر کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ بات کہتا ہوں مگر ساتھ ہی کہہ کہ اس رب سے مسیحیوں کا رب مراد نہیں جو بیٹے کا محتاج ہے، یہودیوں کا رب مراد نہیں جو ایک قوم سے وابستہ ہے، مشرکوں کا رب مراد نہیں جو کسی چیز کو پیدا کرنے سے قاصر ہے بلکہ الذی خلق تو اس خدا کانام لے کر اعلان کر جس نے مخلوق کو ایک خاص مقصد کیلئے پیدا کیاتھا مگر ابھی تک وہ مقصد پورا نہیں ہوا تھا اب تیرے ذریعہ وہ مقصد پورا ہوا ہے۔
    خلق الانسان من علق O (اور جس نے) انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔
    حل لغات: علق کے معنے خون کے ہوتے ہیں خصوصاً اس خون کے جو گاڑھا اور جما ہوا ہو۔ اسی طرح ہر وہ چیز جو لٹکی ہوئی ہو اسے بھی علق کہتے ہیں اور علق اس مٹی کو بھی کہتے ہیں جو بعض دفعہ کام کرنے کے بعد ہاتھ کے ساتھ لگی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح علق دشمنی اور محبت کو بھی کہتے ہیں (اقرب)۔ کیونکہ یہ چیزیں بھی دل میں جم جاتی ہیں۔ نفرت پیدا ہوجائے تو وہ بھی دیر تک رہتی ہے اور محبت پیدا ہوجائے تو وہ بھی عرصہ تک قائم رہتی ہے۔ علق علقۃ کی جمع بھی ہوسکتا ہے اور علقۃ کے معنے ہیں القطعۃ من العلق للدم۔ خون کا لوتھڑا (اقرب)۔ اگر علق کو جمع قرار دی اجائے تو اس کے جمع لانے میں یہ حکمت ہوگی کہ الانسان سے مراد بھی جنس انسانی ہے کوئی ایک فرد مراد نہیں۔ یعنی خلق الانسان من علق کے یہ معنے نہیں کہ ہم نے ایک انسان کو علقہ سے پیدا کیا ہے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے ہر انسان کو ایک ایک علقہ سے پیدا کیا ہے۔
    تفسیر: یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ خلق من فلان عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ امر فلاں شخص کی طبیعت میں داخل ہے۔ قرآن کریم نے بعض اور مقامات پر اس محاورہ کو استعمال کیا ہے۔ مثلاً ایک مقام پر فرماتا ہے اللہ الذی خلقکم من ضعف (الروم: ع) اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ضعف سے پید اکیا ہے۔ اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ ضعف کوئی مادہ ہے جس سے انسان پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسانی فطرت میں ضعف پایا جاتا ہے۔ یا مثلاً اآتا ہے خلق الانسان من عجل (الانبیاء: ع۳) انسان عجلت سے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ جلد بازی کوئی مادہ ہے جس سے انسان کوبنایاگیا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی کا مادہ بھی ہے۔ اسی طرح یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خلق الانسان من علق۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے علق سے پیدا کیا ہے یعنی انسان کو فطرتاً اللہ تعالیٰ نے ایسابنایا ہے کہ اس میں علق پایا جاتا ہے۔ علق کے ایک معنے جیسا کہ حل لغات میں بتایا جاچکا ہے محبت کے بھی ہوتے ہیں اور دشمنی اور عداوت کے بھی ہوتے ہیں۔ پس خلق الانسان من علق کے معنے یہ ہوئے کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جذبات کا ایک طوفان پیدا کیا ہے اس کے اندر محبت بھی پیدا کی اور اس کے اندر نفرت بھی پیدا کی ہے۔ انہی دو فطری مادوں کو پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم انسانی فطرت کو دیکھ لو تم پر یہ حقیقت روشن ہوگی کہ ہم نے جذباتِ محبت اور جذباتِ نفرت دونوں اس میں پیدا کئے ہیں اور جب ہم نے اس میں جذبات محبت پیدا کئے ہیں اور جذبات نفرت بھی تو ضروری تھا کہ یہ جذبات ایک دن اپنی تکمیل کو پہنچتے۔ یہ امر ظاہر ہے کہ انسان جذبات کے ادھورے ظہور پر قانع نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے اندر جو جذبات پائے جاتے ہیں ان کا مکمل ظہور ہو۔ وہ فطرت کی پیاس بجھانے اور اپنے جذبات کی سیری کیلئے ایک تکمیل کی احتیاج محسوس کرتا ہے اور اس بات کیلئے بیتاب رہتا ہے کہ اس کا ہر فطری جذبہ اپنی کامل صورت میں رونما ہو اور صانع فطرت نے جس غرض کیلئے انسان کو مختلف جذبات میں ڈھالا ہے وہ غرض اسے حاصل ہو۔ انسان کی اس طبعی اور فطری خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے غور کرو جب اللہ تعالیٰ نے پیدائش انسانی کے ساتھ ہی اس کی فطرت میں جذبۂ محبت بھی رکھ دیا تھا اور جذبۂ نفرت بھی تو جب تک ان دونوں جذبات کی تکمیل نہ ہوجاتی ، جب تک ایسا انسان دنیا میں پیدا نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ سے اتنی محبت کرتا کہ اس سے بڑھ کر اور کسی سے محبت نہ کرتا اور شیطان سے اتنی نفرت کرتا کہ اس سے بڑھ کر اور کسی سے نفرت نہ کرتا اس وقت تک یہ کس طرح کہا جاسکتا تھا کہ انسان ارتقاء کو پہنچ گیا ہے۔ تم اگر یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی دنیا اپنے ارتقائی نقطہ کو حاصل کرچکی تھی تو یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ابھی تک نہ تعلیم ایسی آئی تھی جو خداتعالیٰ سے کامل محبت اور شیطان سے کامل نفرت کا سبق دیتی اور نہ کوئی انسان ایسا مبعوث ہوا تھا جس نے ان جذبات کو اپنے کمال تک پہنچادیا ہو اور جس نے خداتعالیٰ سے ایسی محبت کی ہو جو اپنی ذات میں بے مثال ہو۔ اس لئے تم نہیں کہہ سکتے کہ دنیا کا مقصود پورا ہوچکا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس خدا نے انسان کو ان دو طاقتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، جس نے کامل درجہ کی محبت اور کامل درجہ کی نفرت کا مادہ اس کی فطرت میں ودیعت کیا ہے اے محمد رسول اللہ اس کا نام لے کر پڑھ یعنی دنیا میں اعلان کر کہ آج میرے ذریعہ خداتعالیٰ سے کامل محبت اور شیطان سے کامل نفرت کا ظہور ہونے والا ہے۔
    دوسرے معنے اس کے یہ ہوسکتے ہیں کہ انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا گیا ہے یعنی ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر بڑھایاگیا ہے۔ جس طرح انسانی فرد کو ہم نے اس رنگ میں بنایا ہے کہ وہ ادنیٰ حالت سے ترقی کرکے کمال تک پہنچتاہے اسی طرح ہم نے تمام مخلوق کو بنایا ہے اور وہ اپنے کمال کے ظہور کیلئے ایک تدریج کی محتاج ہوتی ہے۔ تم جانتے ہو اگر کسی عورت کے پیٹ میں بچہ ہو اور اس کا پانچویں چھٹے مہینے اسقاط ہوجائے تو تم ایسی عورت کو بچہ والی عورت نہیں کہتے۔ بچے والی عورت تم اسی کو کہو گے جس کا بچہ پورے دنوں کے بعد پیدا ہو۔ اسی طرح اگر مخلوق تدریجی رنگ میں ترقی کرتے کرتے اپنے ارتقاء کے آخری نقطہ تک نہ پہنچتی تو یہ ایسا ہی ہوتا جیسے کسی بچے کا پانچویں یا چھٹے ماہ اسقاط ہوجاتا ہے۔ اگر موسیٰؑ پر دنیا ختم ہوجاتی تو کہا جاتا کہ وہ مخلوق جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی چاہی تھی اس کا اسقاط ہوگیا۔ اگر عیسیٰؑ پر دنیا ختم ہوجاتی تو کہا جاتا کہ وہ مخلوق جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی چاہی تھی اس کا اسقاط ہوگیا۔ اگر پیدائش عالم کے نتیجہ میں ایک کامل وجود پیدا نہ ہوتا اور اس سے پہلے ہی یہ سب دنیا فنا ہوجاتی تو کہا جاتا کہ وہ مخلوق جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنی چاہی تھی اس کا اسقاط ہوگیا۔ جیسے حمل کے پانچویں یا چھٹے مہینہ میں بعض دفعہ بچہ گر جاتا ہے اور عورت کو کوئی شخص صاحب اولاد نہیں کہتا۔ یہی حال دنیا کا ہوتا اگر نویں مہینہ کا کامل وجود اس دنیا میں پیدا نہ ہوتا تو بنی نوع انسان کی پیدائش بالکل اکارت چلی جاتی۔ دنیا بانجھ تو کہلاسکتی تھی مگر یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ جس مقصد کیلئے اس دنیا کو پیدا کیا گیا تھا وہ حاصل ہوگیا ہے۔ بیشک اس سے پہلے عیسیٰؑ بھی آئے اور موسیٰؑ بھی آئے اور ابراہیمؑ بھی آئے اور نوحؑ بھی آئے مگر موسیٰ اور عیسیٰ اور ابراہیم اور نوح کی مثال پانچویں یا چھٹے ماہ کے بچہ کی سی ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی مثال اس نویں ماہ کے بچہ کی سی ہے جو تندرستی کی حالت میں پیدا ہوا۔ تم پانچویں ماہ کے بچہ کو بچہ نہیں کہتے کیونکہ وہ کامل نہیں ہوتا۔ تم چھٹے ماہ کے بچہ کو بچہ نہیں کہتے کیونکہ وہ کامل نہیں ہوتا تم صرف نویں ماہ کے بچہ کو بچہ کہتے ہو کیونکہ وہ کامل ہوتا ہے۔ اسی طرح موسیٰ اور عیسیٰ کے ساتھ تمہاری تکمیل نہیں ہوسکتی ۔ تمہاری تکمیل وابستہ ہے محمدرسول اللہ ﷺ کی ذات سے۔ ان کے بغیر دنیا اپنے مقصود کو حاصل نہیں کرسکتی۔
    غرض یہاں دونوں معنے ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی خلق الانسان من علق سے مراد خون کا لوتھڑا ہے ارو اآیت کے یہ معنے ہیں کہ انسان کو ادنیٰ حالت سے ترقی دی ہے۔
    دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے محبت اور نفرت کے جذبات دے کر پیدا کیا ہے۔ جب تک محبت اور نفرت کے جذبات اس میںکامل طور پر ظاہر نہ ہوجائیں اس وقت تک پیدائش انسانی کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ پس ایسی شریعت کا آنا ضروری تھا جو ایک طرف خداتعالیٰ سے کامل محبت کی تعلیم دیتی اور دوسری طرف شیطان سے کامل نفرت کی تعلیم دیتی یا ایسا انسان ظاہر ہوتا جو ایک طرف اللہ تعالیٰ سے کامل اتصال رکھتا اور دوسری طرف شیطان سے کامل بُعد اس کی طبیعت میں پایا جاتا۔
    ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ دونوں دعوے قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی (النجم: ع۱) یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کا خداتعالیٰ سے محبت کا تعلق اس قدر بڑھا کہ آپ خداتعالیٰ کی طرف تیزی سے بڑھے اور خداتعالیٰ آپ کی طرف تیزی سے بڑھا۔ یہ اس کامل اتصال کا ثبوت ہے جو رسول کریم ﷺ کو خداتعالیٰ سے تھا۔ دوسری طرف آپ کو شیطان سے اس قدر بُعد تھا کہ آپ فرماتے ہیںولکنہ اعاننی علیہ فاسلم (مسلم) کہ میرے شیطان کو مسلمان بنادیا گیا ہے یعنی اگر شیطان بھی میرے پاس آئے تو وہ مسلمان ہوجاتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ مجھے کوئی بری تحریک کرے میرا رنگ اس پر چڑھ جاتا ہے اور مجھے برائی میں ملوث کرنے کی بجائے خود نیکی سے حصہ لینے لگ جاتا ہے۔ یہ اس انتہاء درجہ کی محبت کا ثبوت ہے جو رسول کریمﷺ کے دل میں اللہ تعالیٰ کے متعلق پائی جاتی تھی کہ اآپ کے پاس جو جو چیز آتی وہ اپنی خاصیت کو بدل کر اسی رنگ میں رنگین ہوجاتی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا۔ جیسے کہتے ہیں
    ہر کہ در کانِ نمک رفت نمک باشد
    غرض رسول کریم ﷺ کے دل میں خداتعالیٰ کی اتنی شدید محبت تھی اور شیطان کی اتنی شدید نفرت آپ کے قلب میں پائی جاتی تھی کہ آپ فرماتے ہیں کہ اگر شیطان بھی میرے پاس آئے تو مجھ پر شیطان کا رنگ نہیں چڑھے گا بلکہ میرا رنگ اس پر چڑھ جائے گا۔ یہ کمال درجہ کی نفرت ہے کہ شیطان کا آپ سے ٹکرائو ہوتا ہے تو شیطان آپ پر غالب نہیں آسکتا بلکہ آپ شیطان پر غالب آجاتے ہیں اور نہ صرف اس رنگ میں غالب آتے ہیں کہ اس کے برے اثر کو قبول نہیں کرتے بلکہ خود اس پر اپنا رنگ چڑھا کر اسے مسلمان بنادیتے ہیں۔
    دنیا کی تاریخ پر غور کرکے دیکھ لو صرف ایک ہی وجود ایسا نظر آئے گا جس نے یہ دعویٰ کیاہے کہ میں خداتعالیٰ سے ایسا کامل تعلق رکھتاہوں کہ مجھ میں اور اس میں کوئی دوئی نہیں رہی اور شیطان سے مجھے اتنی کامل نفرت ہے کہ وہ کسی رنگ میں بھی مجھ پر غالب نہیں آسکتا۔ اگر وہ میر پاس آئے تومیں ہی اس پر غالب آئوں گا یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ مجھے مغلوب کرکے یا مجھے برائیوں میں ملوث کرسکے۔ پس تعلق کا کمال دنیا میں صرف محمد رسول اللہ ﷺ نے دکھایا ہے اور تعلق پیدا کرنے والی تعلیم کا کمال قرآن کریم نے پیش کیا ہے کہ اس کے لفظ لفظ اور حرف حرف سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا عشق پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہورہا ہے۔ دشمن سے دشمن عیسائیوںکی کتابیںجب ہم پڑھتے ہیں تو وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی محبت پر جتنا زور قرآن کریم نے دیا ہے اتنا زور دنیا کی اور کسی کتاب میں نظر نہیں آتا۔ کوئی صفحہ اُٹھا کر دیکھ لو اس میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کا ذکر آئے گا اور بات بات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ کیا جائے گا اور یہ کیفیت کسی ایک سورۃ یا ایک پارہ سے مخصوص نہیں۔ بسم اللہ سے لے کر والناس تک قرآن کریم پڑھ جائو اس کا کوئی صفحہ ایسا نہیں آئے گاجس میں بار بار اللہ تعالیٰ کا نام نہ آتا ہو ار بار بار اللہ تعالیٰ کی محبت پر زور نہ دیا گیا۔ باقی کتابوں کی یہ حالت ہے کہ ان میں سے کہیں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں شخص پہاڑ پر گیا اور لوگوں نے اسے بھونی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا اور شہد کا چھتہ کھانے کو دیا۔ کہیں لکھا ہوتا ہے کہ بعض لوگوں پر جن بھوت سوار تھے وہ حضرت مسیح ؑ کے پاس آئے انہوں نے ان جنات کو نکال کر سوروں کے غول میں ڈال دیا اور وہ سور سب کے سب پانی میں ڈوب کر مر گئے۔ غرض ایسی ایسی باتیں لکھی ہوئی ہی کہ پڑھ کر ہنستی آتی ہے مگر قرآن کریم کا کوئی صفحہ ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ کے نام سے خالی ہو۔ تورات کے صفحوں کے صفحے، بقیہ بائبل کے صفحوں کے صفحے اور انجیل کے صفحوں کے صفحے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی ہیں۔ لیکن قرآن وہ کتاب ہے جس کا کوئی ایک صفحہ بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی نہیں۔
    خلق الانسان من علق کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ الگ مضمون بھی ہوسکتا ہے اور پہلے خلق یعنی الذی خلق کا یہ بدل بھی ہوسکتا ہے۔ اگر اس خلق کو پہلے خلق کا بدل سمجھا جائے تو اس صورت میں اس کے وہی معنے ہوں گے جو اوپر بیان کئے جاچکے ہیں یعنی خلق سے عام پیدائش مراد نہیں بلکہ انسان کی پیدائش مراد ہے۔ لیکن اگر اس کو علیحدہ مضمون قرار دیا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ تو پیدا کرنے والے رب کے نام سے پڑھ خصوصاًاس رب کے نام سے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تمام پیدائش ہی انسان کی پیدائش کے تابع ہے۔ گویا انسانی پیدائش ہی اصل مقصود تھی۔ پھر اس پیدائش میں سے پیدائش محمدی ہی مقصود تھی۔ پس اے محمد رسول اللہ تو اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ مقصد یاد دلا کر کام شروع کر۔
    اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداتعالیٰ خود ہی اس کام کو شروع کرنے والا ہے اور اس نے پیدائش عالم کے وقت سے ایک مقصد اپنے سامنے رکھا تھا اور وہ مقصد محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات تھی توپھر باسم ربک الذی خلق کہنے کا کیا فائدہ تھا۔ کیا خداتعالیٰ کو اپنا مقصد نعوذ باللہ بھول گیا تھا کہ اس ذریعہ سے اسے یاد دلانا ضروری سمجھاگیا؟ اس کا ایک جواب تومیں پہلے دے چکا ہوں کہ اقرا باسم ربک میںاس امر کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ تو رسول ہونے کی حیثیت سے اس کام کو شروع کرہماری تائید تیرے ساتھ ہوگی اور ہماری نصرت تیرے شامل حال ہوگی۔ پس باوجود اس حقیقت کے کہ رسول کریم ﷺ تمام جہان کا مقصود تھے اور پیدائش عالم کے روحانی ارتقاء کا آخری نقطہ صرف آپ کی ذات تھی پھر بھی ان الفاط کی زیادتی بلا وجہ نہیں کی گئی بلکہ ان میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ باسم ربک الذی خلق کہہ کر رسول کریم ﷺ کی رسالت کا اعلان کیاگیاہے اور آپ کو کہا گیا ہے کہ تو ہمارے نام کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام سنا۔ جو لوگ تجھ پر ایمان لائیں گے انہیں میری رضا حاصل ہوگی اور جو انکار کریں گے وہ میرے عذاب کا نشانہ بنیں گے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک اور جواب بھی ہے اور وہ یہ کہ دعا کے بھی کئی طریق ہوتے ہیں ۔ خداتعالیٰ کی اسی صفت سے دعا مانگنی جو مقصد کے ساتھ متعلق ہو زیادہ بابرکت ہوتی ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ دعا کا صحیح طریق یہ ہے کہ جس صفت سے دعا کا تعلق ہو اس کا نام لے کر دعا کی جائے ۔ اگر کسی شخص کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور وہ یہ دعا کرے کہ اے خالق مجھے بچہ دے تو یہ دعا کا ایک صحیح طریق ہوگا۔ لیکن اگر وہ یہ دعا کرے کہ اے جبار مجھے بچہ دے یا اے قہار مجھے بچہ دے یا اے ممیت مجھے اولاد عطا کر ۔ تو گو ممکن ہے اللہ تعالیٰ پھر بھی اس کے تضرع کو دیکھ کر اسے اولاد عطا کردے۔ مگر ہر سننے والا شخص یہی کہے گا کہ یہ بڑی ردّی قسم کی دعا ہے۔ وہ دعا تو یہ مانگ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاںاولاد پیدا کرے اور وہ اپنی مدد کیلئے اس صفت کو پکار رہا ہے جس کا تعلق پیدا کرنے سے نہیں بلکہ مارنے کے ساتھ یا قہر اور غضب کے ساتھ ہے یا مثلاً ایک شخص اگر اس رنگ میں دعا کرتاہے کہ اے ممیت خدا میرے دشمن نے مجھے سخت تنگ کررکھاہے تو میرے دشمن کو ہلاک کر اور مجھے اس کے شر سے محفوظ رکھ تو یہ بالکل صحیح دعا ہوگی۔ لیکن اگر وہ اس طرح دعاکرے کہ محی خدا۔ اے خالق خدا میرے دشمن کو ہلاک کر تو یہ کیسی بیوقوفی والی بات ہوگی۔ پس اگر اس صفت کو ملحوظ رکھ کر دعا کی جائے جو دعا کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو تو انسان کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے۔ اسی حکمت کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے یہاں باسم ربک الذی خلق کا اضافہ کیااور فرمایا جب تو دعا مانگنے لگے تو اس رنگ میں دعا مانگ کہ اے خدا جس نے پیدائش عالم سے میری بعثت کو اپنی دنیا کا مقصد قرار دیا ہواہے میں تجھ سے اسی ارادہ کا واسطہ دے کر التجاء کرتا ہوں کہ تو مجھے کامیاب کر۔ اگر تو اس رنگ میں دعا مانگے گا تو تیری دعا بہت جلد قبول ہوگی اور تو قلیل سے قلیل عرصہ میں اپنے مقاصد کو حاصل کرلے گا۔
    دوسری حکمت یہ ہے کہ جب متعلقہ صفت کوملحوظ رکھ کر دعا مانگی جائے تو خود انسان کی امید بڑھ جاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرا کام ضرور ہوجائے گا۔ مثلاً جب یہ دعاکی جائے کہ اے خدا تو نے کہا تھا کہ میں ساری دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کروں گا اور تونے اسی مقصد کیلئے ساری دنیا کو پیدا کیا تھا اب میں تجھ کو تیری اسی صفت کا واسطہ دے کر جو تمام پیدائش عالم کا موجب ہوئی التجا اور دعا کرتا ہوں کہ دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کردے اور اس مقصد کو پورا کر جو پیدائش عالم کا موجب تھا۔ تو ایک طرف اللہ تعالیٰ کا فضل زیادہ زور کے ساتھ نازل ہونا شروع ہوجائے گا اور دوسری طرف خود دعا مانگنے والے کی اپنی امید بڑھ جائے گی اور اس کے سامنے یہ امر رہے گا کہ میری کامیابی میں کوئی شبہ نہیں۔ جس کام کیلئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ ضرور ہوجائے گا کیونکہ وہ مقصود ہے اللہ تعالیٰ کا۔ بلکہ اگر مجھ سے کوئی کمزوری بھی ہوئی تب بھی ہوجائے گا۔ پس دوسرا فائدہ دعا کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے سامنے رکھنے کا یہ ہوتا ہے کہ خود انسان کے اندر امید پیدا ہوجاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرا کام اب ضرور ہوجائے گا۔
    تیسری حکمت اس طریق میں یہ تھی اس سلسلہ پر نظر کر کے جو ایک لمبے عرصہ سے چلا آرہا تھا آپ کا ایمان بھی اور جوش عمل بھی ترقی کرتا جائے گا۔ جب آپ یہ کہیں گے کہ اے خدا جس نے آدم ؑ کو دنیا کی ترقی کیلئے بھیجا پھر اسے اور ترقی دینے کیلئے نوح بھیجا پھر اور ترقی دینے کیلئے موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ کو بھیجا اور پھر ترقی دینے کیلئے مجھے بھیجا تو اسلام کو فتح دے تو آپ کے دل میں اسلام کے غلبہ اور اس کی کامیابی کے متعلق جو یقین پیدا ہوگا ظاہر ہے۔ اس طرح ہر وقت آپ کے سامنے یہ امر رکھا گیا کہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو باطل کردے اور اس غرض کو پورا نہ کرے جس کی بنیاداس نے آدم کے وقت سے رکھ دی تھی۔ غرض ایک طرف اس ذریعہ سے آپ کے دل میں یقین کامل پیدا کیا گیا۔ دوسری طرف ایمان اور جوش عمل میں ترقی بخشی گئی اور تیسری طرف خدائی فضل کو خود اس کے مقصد کا واسطہ دیکر جوش دلایا گیا۔پس باسم ربک الذی خلق کا اضافہ بے فائدہ نہیں بلکہ اپنے اندر بہت بڑے فوائد اور حکمتیں رکھتا ہے۔
    اقرا و ربک اکرمoالذی علم بالقلم o
    (پھر ہم کہتے ہیں ) پڑھ در آنحا لیکہ تیرا رب (اتنا) بڑا کریم (ہونا ظاہر کر رہا ) ہے۔جس نے قلم کے ساتھ سکھا یا (ہے اور آئندہ بھی سکھائیگا)۔
    حل لغات: اکرم اسم تفصیل کا صیغہ ہے اور کریم کے معنے سخی کے بھی ہوتے ہیں اور اس شخص کو بھی کہتے ہیں جس سے زیادہ نفع پہنچے۔ اسی طرح ہر چیز میں سے جو زیادہ اچھی ہو اسے بھی کریم کہتے ہیں۔ (اقرب) گویا ہر چیز کے آخری نقطہ کو عربی زبان میں کریم کہا جاتا ہے ۔ جب کریم کے معنے احسن کے ہوئے تواکرم کے یہ معنے ہیں کہ تیرا رب وہ ہے جو اچھی سے اچھی چیزوں سے بھی احسن ہے۔
    تفسیر: ربک الاکرم کہہ کراس طر ف تو جہ دلائی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کے اکرم ہونے کا حق دنیا نے تلف کر رکھا ہے۔ اللہ تعالی اکرم ہے مگر دنیا میں اس کے اکرم ہونے کا حق ادنیٰ معبودوں کو دے دیا گیا ہے ۔کوئی بتوں کو پوجتا ہے ۔کوئی عیسیٰ کی پرستش کرتا ہے اور کوئی کسی اور کے آگے اپنے سر کو جھکا رہا ہے ۔تو اٹھ اور خدا تعالی کا حق اسے واپس دلا۔ دنیا نے اللہ تعالیٰ کی شان کو نہیں پہچانا۔ اس نے خدائی کا حق کچھ بتوں کو دے دیا ہے اور کچھ انسانوں کو ۔ اب تیرا کام یہ ہے کہ تو دنیا پر خدا تعالی کے اکرم ہونے کی شان کو ظاہر کرتا آستانہ الوہیئت سے بھولی بھٹکی مخلوق پھر اس کی طرف واپس آئے اور پھر اس کے اکرم ہونے کی شان دنیا میںتسلیم ہونے لگے۔
    دوسرے اس میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ تو اپنے آپ کو کمزورنہ سمجھ جس خدا نے تجھے کھڑا کیا ہے وہ اکرم ہے۔ وہ احسنوں کا بھی احسن ہے تجھے اپنی تعلیم کے متعلق یہ یقین رکھنا چاہیئے کہ اس وقت خدا تعالی کے اکرم ہونے کا جلوہ ظاہر ہونیوالاہے۔بے شک موسیٰؑ کے وقت بھی خدا تعالی کا جلوہ ظاہر ہوا مگر وہ جلوہ اس کے اکرم ہونے کا نہیں تھا ۔اسی طرح دائود ؑ اور سلیمان ؑ اور عیسیٰ ؑ وغیرہ کے زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کا جلوہ ظاہر ہوا مگروہ جلوہ خدا تعالی کے اکرم ہونے کا نہیں تھا ۔ اب تیرے ذریعہ اللہ تعالی اپنے اکرم ہونے کا جلوہ ظاہر کرنے والا ہے اور اس کی صفات کا ایسا ظہور ہوگا جس کی مثال دنیا میں اس سے پہلے نہیں مل سکتی۔ اس لئے تیرے لیے مایوسی اور گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔
    تفسیر: اس سے یہ مراد نہیں کہ خدا تعالی نے قلم سے بندہ کو سکھایا ہے کیونکہ یہ خلاف واقعہ ہے۔کب قلم لے کر اللہ تعالی نے اپنے کسی بندے کو الف اور با ء سکھلائی ہے جب ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تو یہ معنے کیسے ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالی نے قلم سے بندے کو سکھایا ۔ اسی طرح اس سے یہ مراد بھی نہیں ہو سکتی کہ بندہ جو کچھ قلم سے سکھاتا ہے وہ سب خدا تعالی کا سکھایا ہوا ہوتا ہے کیونکہ بندے دوسروں کو جھوٹ بھی سکھاتے ہیں۔اور دغا اور فریب بھی سکھا تے ہیں۔اخلاق اور روحانیت سے گری ہوئی باتیں بھی سکھاتے ہیں۔گندے اور ناپاک اشعار بھی سکھاتے ہیںالف لیلیٰ کے قصے بھی سکھاتے ہیں ۔ہزاروں افراد دنیا میں ایسے پائے جاتے ہیںجو لغویات لکھتے ہیں اور لغویات شائع کرتے ہیں۔ پھر قلم سے کام لینے والے وہ لوگ بھی دنیا میں موجود ہیںجو اللہ تعالی کے منکر ہیں۔وہ لوگ بھی موجود ہیں جو اخلاق کی کوئی قیمت نہیں سمجھتے۔وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مذہب کے خلاف ہیں۔غرض ہر سچی تعلیم کا منکر دنیا میں موجود ہے ۔اس لیئے علم بالقلم سے یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ بندہ جو کچھ قلم سے سکھاتا ہے وہ سب خدا تعالی کا سکھایاہوا ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہزاروں افتراء ہوتے ہیں۔
    علم با لقلم میںگوما ضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے مگر مراد مستقبل ہے۔ یہ عربی زبان کا قا عدہ ہے کہ کبھی ماضی کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے اور مراد استقبال ہوتا ہے قرآن کریم میں یہ محاورہ کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح الہامات میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔درحقیقت ماضی کو استقبال کے معنوںمیں اس لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ ما ضی سب سے ذیادہ قطعی اور یقینی ہوتی ہے ۔جب انسان کوئی کام کر رہا ہو تو ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس کام کو پوری طرح کر بھی سکے گا یا نہیں۔مثلاًزید پڑھ رہا ہو تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ اسی طرح پڑھتا چلا جائے گا یا مر جائے گا ۔لیکن جب ہم کہیں زید پڑھ چکا ہے تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔کیونکہ یہ واقعہ ماضی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے الہامات میں جب قطعی اور یقینی طور پر کسی بات کو بیان کرنا ہو تو وہ ماضی کاصیغہ استعمال کرتا ہے جس کے معنے ہوتے ہیں کہ تم اس بات کو ایسا سمجھو کہ گویا ہو چکی ہے اور اس کا وقوع با لکل قطعی اور یقینی ہے ایسا ہی قطعی اور یقینی جیسے ماضی ہوتی ہے ۔اس طرح گو اس جگہ ماضی کا صیضہ استعمال کیا گیا ہے مگر الذی علم با لقلم کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کے علوم کو قطعی اور یقینی اور غیر متبدل طور پر قلم کے ذریعہ سکھائے گا یعنی یہ قرآن لکھا جائے گا ۔ لکھ کر قائم کیا جائے گا اور اسکی تائید میں لوگوں کی قلمیں چلا کریں گی۔ اب دیکھ لو قرآن کریم کی یہ پیش گوئی کیسے بین طریقے پر پوری ہوئی ہے ۔ دنیا میں صرف یہی ایک کتاب ہے جو قلم سے محفوظ کی گئی ہے اس کے علاوہ اور کوئی کتاب قلم سے محفوظ نہیں ہوئی۔ موسیٰ ؑ کی کتاب اس وقت نہیں لکھی گئی جب وہ موسیٰ ؑ پر نازل ہوئی تھی۔ ابراہیم ؑ کے صحف اس وقت نہیں لکھے گئے جب وہ ابراہیم ؑ پر نازل ہوئے تھے۔ وید اس وقت نہیں لکھے گئے جب وہ رشیوں پر نازل ہوئے تھے ۔ ژند اور اوستا اس وقت نہیں لکھی گیئں جب وہ زرتشت پر نازل ہوئی تھیں انجیل اس وقت نہیں لکھی گئی تھی جب حضرت مسیح ؑ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تازہ بتازہ الہامات ہوتے تھے ۔ غرض دنیا میں کوئی ایک الہامی کتاب بھی ایسی نہیں جو ابتداء میں لکھی گئی ہو۔ صرف قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو شروع سے لکھی گئی ہے ۔ اور آج تک انہی الفاظ میں محفوظ ہے جن الفاظ میں یہ کتاب رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی تھی۔ اور یہ بات ایسی پختہ اور یقینی ہے کہ دشمنان اسلام تک یہ لکھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ دنیا میں اگر کوئی کتاب ایسی ہے جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ وہ شروع سے لیکر اب تک ایک حرف اور ایک زبر اور زیر کے تغیر کے بغیر اسی رنگ میں محفوظ ہے جس رنگ میں وہ دنیا کے سامنے پیش ہوئی تو وہ صرف قرآن کریم ہے۔ میور ، نولڈکے اور سپرنگر جو مشہور یورپین مستشرقین ہیں اور جنہوں نے اسلام کی مخالفت میں اپنی تمام عمر بسر کی ہے انہوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی فرق نہیں پڑا ۔یہ شروع سے لیکر اب تک ہر قسم کے تغیر اور انسانی دستبرد سے محفوظ چلا آ رہا ہے ۔
    پھر علم با لقلم کے ایک یہ معنی بھی ہیں کہ قرآن کریم کے ذریعہ آئندہ سارے علوم دنیا میں پھیلیں گے ۔ چنانچہ آج جس قدر علوم نظر آتے ہیں یہ سب قرآن کریم کے طفیل معرض وجود میں آئے ہیں ۔
    قرآن کریم عربوں میں نازل ہوا اور عرب با لکل جاہل تھے ۔انہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ تاریخ کس علم کا نام ہے یا صرف نحو کون سے علوم ہیں یا فقہ اور اصول فقہ کس چیز کانام ہے۔مگر جب قرآن کریم پر ایمان لانے کی سعادت ان کو حاصل ہو گئی تو قرآن کریم کی وجہ سے انہیں ان تمام علوم کی طرف متوجہ ہونا پڑا ۔ مثلاًجب انہوں نے قرآن کریم میں پڑھا کہ پہلے زمانو ںمیںفلاں فلاں انبیاء آئے ہیں اور ان کے ساتھ یہ یہ واقعات پیش آئے تھے تو قرآن کریم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے انہیں گذشتہ واقعات کی چھان بین کرنی پڑی اور اس طر ح علم تاریخ کی ایجاد عمل میں آئی ۔ پھر بے شک قرآن کریم عربی زبان میں تھا اور اہل عرب کے لئے اس کا سمجھنا یا اسکی صحیح تلاوت کرنا کوئی مشکل امر نہیں تھا۔مگرجب اسلام نے عرب کی سرزمین سے باہر قدم رکھا تو غیراقوام کے میل جول کی وجہ سے عربوں میں بھی اعراب کی غلطیاں شروع ہو گئیں جس پر انہیں اس زبان کے قواعد جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس طرح علم صرف اور نحو کی ایجاد ہو گئی۔مورخین لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو ا لاسود اپنے گھر گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی بیٹی قرآن کریم کی آیت ان اللہ بریء من المشرکین و رسولہ‘ کو ان اللہ بریء من ا لمشرکین و رسولہٖ پڑھ رہی ہے ۔ آیت کے معنے تو یہ ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں ہی مشرکوں سے بیزار ہیں مگر رسولہ‘ کی بجائے رسولہٖ پڑھنے سے آیت کے یہ معنے بن جاتے ہیں کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے اور اپنے رسول سے بھی گویا پیش کی جگہ زیر پڑھنے سے آیت کے کچھ کے کچھ معنے ہو گئے۔ وہ گھبرائے ہوئے حضرت علیؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا ہمارے ملک میں اب بہت سے عجمی لوگ آگئے ہیں اور ہماری بیٹیاں بھی ان سے بیاہی گئی ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہماری زبان خراب ہو گئی ہے ۔میں ابھی اپنے گھر گیا تھا تو میں نے اپنی بیٹی کو ان اللہ بریء من المشرکین ورسولہ‘ کی بجائے ان اللہ بریء من المشرکین ورسولہٖ پڑھتے سنا ۔اگر اسی طرح غلطیاں شروع ہوگئیںتو طوفان برپا ہو جائے گا ۔ اس کے انسداد کے لئے ہمیں عربی زبان کے متعلق قواعد مدون کرنے چاہیں تاکہ لوگ اس قسم کی غلطیوں کے مرتکب نہ ہوں۔ حضرت علیؓاس وقت گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں باہر تشریف لے جا رہے تھے آپ نے فرمایا ٹھیک ہے ۔ چنانچہ اسی وقت آپ نے بعض قواعدبتلائے اور پھر فرمایا انح نحوہ‘ و نحوہ‘ اس بنیاد پر اور بھی قواعد بنا لو چنانچہ اس بنا پر اس کو علم نحو کہا جاتا ہے۔پس قرآن کریم کی صحت کے لئے علم صرف و نحو ایجاد ہوئے۔پھر قران کریم کے معنی کے لئے لغت لکھی گئی ۔کیونکہ عربوں کو خیال آیا کہ جب عجمی لوگ اسلام میں داخل ہوئے تو وہ قرآن کریم کے معنی کس طرح سمجھیںگے پس لغت بھی قرآن کریم کی خدمت کے لئے لکھی گئی ۔اس کے بعد قرآن کریم کی تشریح کے لئے علم فقہ اور اصول فقہ کی ایجاد عمل میں آئی۔اسی طرح علم معنی اور علم بیان محض قرآن کریم کے طفیل ایجاد ہوئے۔پھر قرآن کریم کے محاورات اور اس کے استعارات کی حقیقت واضح کرنے کے لئے بلاغت کی بنیاد پڑی کیونکہ اس کے بغیر قرآنی محاورات کی حقیقت سمجھ نہیں آسکتی۔
    اس فن کے متعلق لغت کی کتب میں ایک لطیفہ بیان ہوا ہے لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی شخص نے مجلس میں اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم میں بعض ایسی باتیں آتی ہیں جو عقل کے با لکل خلاف ہیں۔مثلاً لکھا ہے یرید ان ینقض (کہف۱۰ع۱) کہ دیوار یہ ارادہ کر رہی تھی کہ گر جائے بھلا دیوار بھی کبھی گرنے کا ارادہ کیا کرتی ہے یہ کیسی جاہلوں والی بات ہے جو قرآن کریم نے کہی ہے ایک اور عالم شخص وہاں موجود تھے مگر انہیں اس اعتراض کا جواب نہ آیا وہ حیران تھے کہ میں کیا کہوں تھوڑی دیر کے بعد ہی اس شخص نے اپنے نوکر کو جو کسی اچھے قبیلے میں سے تھا بلایا اور اسے کہا میرا فلاں دوست بیمار ہے جائو اور اس کا حال دریافت کر کے آئو۔وہ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد ہی آکر کہنے لگا حضور کیا عرض کروں یریدان یموت وہ تو مرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔ یہ سنتے یہ اس پر گھڑوں پانی پھر گیا کہ میں جو کچھ اعتراض کر رہا تھا اس کا جواب مجھے اپنے نوکر کے ذریعہ مل گیا۔اس کا اعتراض یہ تھا کہ دیوار بھی کبھی ارادہ کیا کرتی ہے؟ اس کا جواب اللہ تعالی نے اس کو اس رنگ میں دیا کہ اس کے اپنے نوکر نے اسے آکر کہہ دیا یرید ان یموت وہ مرنے کا ارادہ کررہا ہے حالا نکہ کوئی شخص مرنے کا ارادہ نہیں کیا کرتا۔دراصل یہ ایک استعارہ تھا اور اس کے معنے یہ تھے کہ وہ مرنے پر تیار ہے ۔اسی طرح یرید ان ینقض کے معنے یہ ہیں کہ وہ دیوار گرنے پر تیار تھی نہ یہ کہ دیوار کوئی جاندار چیز ہے جو گرنے کا ارادہ کیا کرتی ہے ۔غرض یہ علوم جو دنیا میں یکے بعددیگرے دنیا میں ظاہر ہوئے محض قرآن کریم کے طفیل اور اس کی تائید کے لئے اللہ تعالی نے ظاہر فرما ئے ہیں ۔اگر یہ علوم پیدا نہ ہوتے تو قرآن کریم کی حقیقت اور اسکی اعلیٰ درجہ کی شان لوگ پوری طرح سمجھنے سے قا صر رہتے ۔ یہی حال علم اقتصادیات کا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے قرآنی اقتصادیات کی توضیح کے لئے دنیا میں قائم کیا غرض صرف کیا اور نحو کیا اور تاریخ کیا اور ادب کیا اور کلام کیا اور فقہ کیا سب علوم قرآن کریم کی خدمت کے لئے نکلے ورنہ عرب تو محض جاہل تھے ۔ انہیں ان علوم کی طرف توجہ ہی کس طرح پیدا ہو سکتی تھی ۔ ان کو توجہ محض اس وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے قرآن کو مانا اور پھر قرآن کریم سے دنیا کو روشناس کرانے کے لئے انہیں ان علوم کی ایجاد یا ان کے پھیلانے کی طرف متوجہ ہونا پڑا ۔ اب رہی باقی دنیا سو اس نے بھی قرآن کریم سے ہی ان تمام علوم کو سیکھا ہے کیونکہ یہ علوم وہ ہیں جو عربوں نے ایجاد کئے یا زندہ کئے اور پھر عربوں سے باقی دنیا نے لئے ۔ یورپ نے ایک عرصہ دراز تک مسلمانوں کے اس احسان کو چھپانے کی کوشش کی ہے مگر اب خود یورپ میں ایسے لوگ پیدا ہورہے ہیں جو اپنی کتابوں میں بڑے زور سے لکھتے ہیں کہ یہ کیسی بے شرمی اور بے حیائی ہے کہ علم تو مسلمانوں سے سیکھا جائے مگر اپنی کتابوں میں ان کا ذکر تک نہ کیا جائے اور اس رنگ میں اپنے آپ کو پیش کیا جائے کہ گویا ان علوم کے موجد ہم ہیں ۔ وہ کہتے ہیں یہ احسان فراموشی کی بد ترین مثال ہے کہ جنہوں نے ہم کو علم سکھایا ہے ہم ان کا ذکر تک نہیں کرتے اور اپنی طرف تمام علوم کو منسوب کرتے چلے جاتے ہیں ۔ میرے پاس اس قسم کی کئی کتابیں ہیں اور میں نے دیکھا ہے ان کتابوں کے مصنف اتنی شدت سے بحث کرتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے اپنی قوم کے اس فعل کے خلاف ان کے قلوب غیض و غضب سے بھرے پڑے ہیں ۔جب ایک طرف وہ مسلمانوں کے احسانات کو دیکھتے ہیں اور دوسری طرف وہ اپنی قوم کی ڈھٹائی کو دیکھتے ہیں کہ ایک ایک چیز مسلمانوں سے حاصل کرنے کے بعد وہ مسلمانوں کا نام تک نہیں لیتی تو ان کے دلوں میں آگ لگ جاتی ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیںکہ سخت نمک ّ*** ہے کہ مسلمانوں کی ایک ایک چیز کو اپنا لیا جائے مگر ان کے علم و فضل اور احسان کا اشارۃبھی ذکر نہ کیا جائے ۔
    تھوڑاہی عرصہ ہوا ہے میں نے ایک کتاب پڑھی جس میں موسیقی پر بحث کی گئی تھی۔ موسیقی کا آغاز بھی مسلمانوں سے ہی ہوا۔ کیونکہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ترتیل کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے کا حکم دیا تھا اسی سے ان کو موسیقی کی طرف توجہ ہوئی جس نے رفتہ رفتہ ایک بہت بڑے علم کی صورت اختیار کر لی۔یورپ دعویٰ کرتا ہے کہ موجودہ موسیقی کا علم اس نے ایجاد کیا ہے مگر جس کتاب کا میں ذکر کر رہا ہوں اس کے مصنف نے بڑے زور سے یہ بات پیش کی ہے کہ یورپ کا یہ ادّعا محض دھوکہ اور فریب ہے۔موسیقی کا علم یورپ نے مسلمانوں سے سیکھا ہے اور پھر وہ اس کا ثبوت دیتے ہوئے کہتا ہے کہ برٹش میوزیم میں فلاں نمبر پر فلاں کتاب موجود ہے اس میں فلاں پادری کے نام ایک خط درج ہے جو کسی عیسائی نے اسے لکھا اور اس خط کا مضمون یہ ہے کہ میں سپین گیا تھا وہاں مسلمانوں کی موسیقی کا کمال دیکھ کر حیران رہ گیا۔ مسلمانوں کی موسیقی نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے اور ان کے مقابلہ میں ہماری موسیقی بہت ادنیٰ معلوم ہوتی ہے۔اگر آپ اجازت دیں اور یہ امر دین نصرانیت کے خلاف نہ ہو تو میں میں چاہتا ہوں کہ ان کی موسیقی کا ترجمہ یورپین لوگوں کیلئے کردوں تاکہ ہمارے گرجائوں میں بھی یہ اعلیٰ درجہ کی موسیقی رائج ہوجائے اور عیسائیت زیادہ محبوب ہوجائے۔ وہ کہتا ہے اس خط کا پادری صاحب نے جو جواب دیا وہ بھی آج تک برٹش میوزیم میں محفوظ ہے۔ پادری صاحب نے جواب یہ دیا کہ کوئی حرج نہیں آپ سپین کی موسیقی کابیشک ترجمہ کریں مگر دیکھنا مسلمانوں کا نام نہ لینا۔ اگر تم نے نیچے حوالہ دے دیا اور یہ ذکر کردیا کہ یہ موسیقی مسلمانوںسے لی گئی ہے تو ان کی عظمت قائم ہوجائے گی۔ اس لئے نقل تو بیشک کرو مگر مسلمانوں کا نام نہ لو تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ تم یہ علم اپنی طرف سے بیان کررہے ہو۔
    غرض یورپ نے چاہا کہ یہ بات پوشیدہ رہے کہ اس نے مسلمانوں سے تمام علوم حاصل کئے ہیں مگر یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکی۔ آج خود عیسائیوں میں ایسے لوگ پیدا ہوچکے ہیں جو بڑے زور سے اپنی قوم کی اس احسان فراموشی کا کتابوں میں اعلان کرتے ہیں۔ اسی طرح فن تعمیر، قالین بافی اور عمارتوں پر رنگدار بیل بوٹے بنانے یہ تمام علوم وہ ہیں جو یورپ نے مسلمانوں سے سیکھے۔ چنانچہ اس کا ایک ثبوت میں خود ولایت میں دیکھ کر آیا ہوں۔ برائٹن میں ایک پرانا شاہی قلعہ ہے اس کی دیواروں پر بیل بوٹے بنانے کیلئے عیسائیوں کو سارے یورپ میں کوئی آدمی نہ ملا۔ آخر انہوں نے مسلمان ماہرین کو بلایا اور وہ وہاں بیل بوٹوں کی بجائے جگہ جگہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھ کر آگئے۔یہی ان کا عمارت کو سجانا تھا اور یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ اس فن کی ایجاد کا سہرا مسلمانوں کے سر پر ہے۔
    غرض یورپ کے پاس کوئی ایک چیز بھی نہیں تھی اس نے جو کچھ سیکھا سپین کے مسلمانوں سے سیکھا اور سپین نے جو کچھ سیکھا شام سے سیکھا اور شام والوں نے جو کچھ سیکھا قرآن سے سیکھا۔ پس دنیا کے تمام علوم قرآن سے ہی ظاہر ہوئے ہیں اور اب قیامت تک جس قدر قلمیں چلیں گی قرآن کریم کی خدمت اور اس کے بیان کردہ علوم کی ترویج کیلئے ہی چلیں گی۔ آج یورپ میں جتنی کتابیں نکل رہی ہیں وہ سب کی سب علم بالقلم کی تصدیق کررہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی س پیشگوئی کو سچا ثابت کررہی ہیں کہ قلم کے ذریعہ قرآن کریم کو پھیلایا جائے گا۔ عرب ہر قسم کے علوم سے نابلد تھے لیکن قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد وہ تمام دنیا کے استاد بن گئے اور فلسفہ جس پر یورپ کو آج بہت بڑا ناز ہے اس کے بھی وہی موجد قرار پائے ۔ بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلسفہ یورپ کی ایجاد ہے لیکن ایک یورپین فلاسفر نے اس کو بالکل غلط قرار دیا ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ فلسفہ ہم نے شروع سے لے کر آخر تک اشعری سے لیا ہے۔ اگر ہمارے فلسفہ میں کسی کو کوئی اچھی بات نظر آتی ہے تو اس تعریف کے مستحق ہم نہیں بلکہ اشعری اس تعریف کا مستحق ہے۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ علوم میں ہمیشہ ترقی ہوتی رہتی ہے اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کوشش کرتی ہے کہ اس کا علمی مقام پہلے سے بلند ہوجائے لیکن اس کے باوجود بیج اپنی ذات میں جو قیمت رکھتاہے اس سے کوئی شخص انکار ہیں کرسکتا۔ درخت کا پھیلائو خواہ کس قدر بڑھ جائے بیج کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ اسی طرح علوم خواہ کس قدر ترقی کرجائیں سہرا مسلمانوں کے سر ہی رہے گا اور مسلمانو ں کا سر قرآن کریم کے آگے جھکا رہے گا کیونکہ یہی وہ کتاب ہے جس نے اعلان کیا کہ علم بالقلم۔ اب دنیا کو قلم کے ذریعہ علم سکھانے کا وقت آگیا ہے۔
    پس حقیقت یہی ہے کہ دنیا کو تمام علوم قرآن کریم نے ہی سکھائے ہیں ۔ اگر قرآن نہ آیا ہوتا تو دنیا ایک ظلمت کدہ ہوتی ، جہالت اور بربریت کا نظارہ پیش کررہی ہوتی۔ یہ قرآن کا احسان ہے کہ اس نے دنیا کو تاریکی سے نکالا اور علم کے میدان میں لا کھڑا کردیا۔
    علم الانسان مالم یعلمO
    اس نے انسان کو (وہ کچھ) سکھایا ہے جو وہ (پہلے) نہیں جانتا تھا۔
    تفسیر: پیدائش انسانی کے متعلق اوپر کی آیات میں جو مضمون بیان کیاگیاہے اس کی مزید وضاحت اور تائید اس آیت سے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ انسان کو وہ باتیں سکھائیں گے جو اس سے پہلے اس کے علم میں نہیں تھیں۔ چنانچہ قرآن ایسے علوم سے بھرا پڑا ہے جو اسلام سے قبل نہ فلسفہ کی مدد سے حل ہوسکتے تھے اور نہ عیسائیت اور یہودیت نے ان کو حل کیا تھا۔مثلاًتوحید کے متعلق اسلام نے جو تعلیم پیش کی ہے وہ ایسی شاندار ہے کہ آج تک دنیا کا کوئی مذہب توحید کے متعلق ایسی جامع اور مکمل تعلیم پیش نہیں کرسکا۔ اسی طرح نبوت کے متعلق قرآن کریم نے اس تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے کہ جس کی نظیر دنیا کا کوئی اورمذہب پیش نہیں کرسکتا۔ باوجود اس بات کے کہ قرآن اس قوم میں نازل ہوا تھا جس میں ایک لمبے عرصہ سے کوئی نبی نہیں آیا تھا اور باوجود اس بات کے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم بھی اس قوم میں محفوظ نہیں تھی اور وہ قطعی طور پر نبوت اور اس کی تفصیلات سے ناواقف تھے پھر بھی نبوت کے متعلق اسلام نے جس قدر سیر کن بحث کی ہے اس کی مثال نہ عیسائیت پیش کرسکتی ہے اور نہ یہودیت پیش کرسکتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس قوم میں مبعوث ہوئے تھے جس میں آپ سے قبل درجنوں نہیں سینکڑوں انبیاء آچکے تھے اور نبوت کے متعلق اپنے اپنے رنگ میں روشنی ڈال چکے تھے۔ پھر بھی عیسائی آج انجیل سے یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ نبی کی کیا تعریف ہوتی ہے۔
    جن دنوں غیرمبائعین سے ہمارا مقابلہ زوروں پر تھا میں نے بڑے بڑے بشپوں ، سکھ گیانیوں ، پنڈتوں اور یہودیوں کے فقیہوں سے خط لکھ کر دریافت کیاکہ آپ کے مذہب میں نبی کی کیا تعریف ہے؟ اس کا جواب بعض نے تو دیا ہی نہیں اور بعض نے صاف طور پر اعتراف کیا کہ ہمارا مذہب اس بارہ میں بالکل خاموش ہے۔ چنانچہ ایک بڑے بشپ کی طرف سے بھی یہی جواب آیا کہ مضمون کے متعلق ہماری کتب میں کوئی تفصیل نظرنہیں آتی۔ مگر اسلام نے ان امور پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ نبی کی کیا تعریف ہے۔ نبی کب آتے ہیں۔لوگ نبیوں سے کیسا سلوک کرتے ہیں۔ نبیوں کی صداقت کے کیا معیار ہیں یہ اور اسی قسم کے تمام مسائل اسلام میں پوری وضاحت کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پس فرماتا ہے علم الانسان مالم یعلم۔ اللہ تعالیٰ تمام علوم کی تکمیل قرآن کریم کے ذریعہ کرے گا۔ بیشک توحید کا عقیدہ دنیا میں موجود ہے مگر ابھی اس کی تکمیل نہیں ہوئی۔ اسی طرح بیشک ملائکہ کو لوگ مانتے ہیں، کتب پر ایمان رکھتے ہیں، رسولوں کو تسلیم کرتے ہیں مگر ملائکہ، کتب الٰہیہ اور ایمان بالرسل کی حقیقت سے پوری طرح واقف نہیں۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ خدا کے ایک ہونے کا کیا مفہوم ہے تو وہ اس کا جواب دینے سے قاصر رہیں گے۔ لیکن قرآن دنیا کو بتلائے گا کہ توحید کا کیا مفہوم ہے اور کون کون سی باتیں انسان کو شرک میں مبتلا کرنے والی ہیں یا مثلاً اگر کوئی شخص سوال کرے کہ ملائکہ کیا چیز ہیں، وہ کیوں پیدا کئے گئے ہیں، کیا کیا کام ان کے ذمہ ہیں، اگر ملائکہ نہ ہوتے تو کیا نقص واقعہ ہوتا؟ تو ان سوالات کا تمام بائبل سے جواب نظر نہیں آئے گا۔ بائبل یہ تو بتادے گی کہ خداتعالیٰ نے فرشتے پید اکئے ہیں اور وہ انبیاء کی طرف اس کا کلام لاتے ہیں مگر ملائکہ کی حقیقت یا ان پر ایمان لانے کے فوائد بیان نہیں کرے گی۔ لیکن قرآن صرف یہی نہیں بتائے گا ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں بلکہ یہ بھی بتائے گا کہ اس نے ملائکہ کو کیوں پیدا کیا۔ ملائکہ کے کیا کام ہیں۔ انسان ملائکہ سے اپنا تعلق کس طرح بڑھاسکتا ہے۔ کن امور کے نتیجہ میںملائکہ سے انسانی تعلق کم ہوجاتا ہے۔ یا مثلاً اگر کوئی شخص سوال کرے کہ مرنے کے بعد کیا کیفیت ہوتی ہے تو اسلام کے سوا اور کوئی مذہب اس پر تفصیل کے ساتھ روشنی نہیں ڈال سکے گا۔ نہ یہودیت مرنے کے بعد کے حالات بتاتی ہے نہ عیسائیت مرنے کے بعد کے حالات بتاتی ہے اور نہ کوئی اور مذہب مرنے کے بعد کے حالات بتاتا ہے۔ صرف اسلام دنیا میں ایک ایسا مذہب ہے جو اس پر ایسی سیرکن بحث کرتا ہے کہ انسانی قلب مطمئن ہوجاتا ہے اور اس کی روح اپنے اندر سکینت محسوس کرتی ہے۔ اسی طرح اگر یہ سوال ہو کہ اخلاق فاضلہ کیا چیز ہیں۔ کس بناء پر بعض اخلاق کو اچھا کہا جاتا ہے اور بعض کو برا۔ اخلاق کی تعریف کیا ہے۔ اخلاق اور روحانیت میں مابہ الامتیاز کیا ہے؟ تو اس کو ان تمام امور کا جواب صرف قرآن سے ہی مل سکتا ہے اور کتب کی ورق گردانی یا اور مذاہب کی کاسہ لیسی انسانی قلب کو مطمئن نہیں کرسکتی۔ اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان نہایت ہی مختصر مگر جامع الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ علم الانسان مالم یعلم یعنی قرآن اور اسلام کے ذریعہ دنیا کو وہ علوم سکھائے جائیں گے جو اس سے پہلے اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں آئے۔ چنانچہ اس کا عملی ثبوت موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے جلسہ اعظم مذاہب لاہور کے ذریعہ ظاہر کردیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں منعقد ہوا تھا۔ اس جلسہ کے منتظمین کی طرف سے پانچ اہم سوالات پیش کئے گئے تھے اور مختلف مذاہب کے نمائندگان کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے رو سے ان سوالات کا جواب دیں۔ اس جلسہ کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو مضمون لکھا اور جو ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے نام سے چھپاہوا موجود ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان تمام سوالات کا قرآن کریم سے جواب دیا اور ایسی سیر کن بحث کی ہے کہ جب وہ مضمون جلسہ میں پڑھا گیا تو متفقہ طورپر لوگوں نے اس مضمون کو باقی تمام مضامین سے بالا قرار دیا اور اخبارات نے اعتراف کیاکہ اس جلسہ میں سب سے بالا مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا مضمون رہا ہے جس کے دوسرے معنے یہ تھے کہ سب سے بالا قرآن کا مضمون رہا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ لکھا تھا قرآنی آیات کے حوالہ اور ان کی روشنی میں لکھا تھا۔ اپنی طرف سے کوئی بات پیش نہیں کی تھی۔ یہ عملی ثبوت اس بات تھا کہ دنیا قرآنی علوم کا مقابلہ کرنے سے بالکل عاجز ہے۔ باوجود اس بات کے کہ یہ قید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے مضمون کیلئے خود ہی بڑھالی تھی کہ میں جو کچھ بیان کروں گا قرآن کریم کی روشنی میں بیان کروں گا۔ اور باوجود اس کے کہ دوسرے لوگ آزاد تھے اور وہ اختیار رکھتے تھے کہ عقلی دلائل اپنی تائید میں پیش کردیں یا فلسفہ کے رو سے اپنے مذہب کو غالب ثابت کردیں پھر بھی وہ اس مقابلہ میں ناکام رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک زائد قید اپنے اوپر لگا کر قرآن کریم میں سے وہ علوم نکال کر رکھ دیئے جن کا عشر عشیر بھی اور کسی مذہب کے نمائندہ نے بیان نہ کیا۔
    کلا ان الانسان لیطغی O
    (ان شبہات کے مطابق) نہیں۔ انسان یقینا حد سے گذررہاہے۔
    تفسیر: تفسیر کبیر جلد ششم جز چہارم نصف اول میں یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ عربی زبان میں کلا اس غرض کیلئے استعمال ہوتا ہے کہ کوئی مضمون جو پہلے گزرچکاہے یا کوئی مفہوم جوپہلے مضمون سے پیدا ہوتا ہے اس کو تسلیم کرنے سے جو شخص انکار کرتا ہے اس کی تردید کی جائے اور اسے بتایا جائے کہ تمہارا خیال درست نہیں۔ گویا کلا کے معنے ہیں اے مخاطب ’’یوں نہیں۔ یوں نہیں‘‘۔ پس کلا کیا ہے درحقیت ’’نہیں نہیں‘‘ کا ایک مترادف لفظ ہے جو عربی زبان میں استعمال ہوتاہے اور اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ تم سمجھتے ہو وہ درست نہیں بات دراصل کچھ اور ہے۔
    اب سوال پیدا ہوتاہے کہ پہلے مضمون میں وہ کونسی بات تھی جس پر دشمن اعتراض کرسکتا تھا اور جس کی یہاں نفی کی گئی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ علم الانسان مالم یعلم۔ اللہ تعالیٰ انسان کو وہ کچھ سکھائے گا جسے وہ اب تک نہیں جانتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے الہام کے ذریعہ دنیا کی راہنمائی فرمائے گا اور خود اپنے پاس سے وہ تعلیم نازل کرے گا جو اسے روحانیت کے بلند ترین مقامات پر پہنچانے والی ہو۔ اس پر اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے کسی الہام کی ضرورت نہیں۔ انسان خود اپنی عقل سے کام لے کر ترقی کرسکتا ہے۔ چنانچہ یہ سوال ایسا ہی ہے جو موجودہ زمانہ میں تعلیم یافتہ طبقہ کی طرف سے خاص طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کا سامان کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ خدا کو ہمارے معاملات میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم خود اپنی عقل اور فہم سے کام لے سکتے اور اپنی ترقی کیلئے اعلیٰ سے اعلیٰ تدابیر اختیار کرسکتے ہیں۔ یہی اعتراض ہے جو علم الانسان مالم یعلم کے نتیجہ میں پیدا ہوتا تھا اورانسان کہہ سکتا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔ کلا نے اس خیال کی تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ قطعی طور پر غلط بات ہے کہ انسان اپنی ہدایت اور بچائو کا سامان اپنے لئے خود بخود تجویز کرسکتاہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نازل نہ ہو تو دنیا کبھی ترقی کی طرف ایک قدم بھی بڑھا نہیں سکتی۔ اس کی ترقی وابستہ ہے اللہ تعالیٰ کے الہام اور اس کے کلام سے۔ اس کی ہدایت کے بغیر نہ انسان نے پہلے کبھی روحانی اصلاح کی اور نہ آئندہ کرسکتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس خیال کی بنیاد پر روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ خیال انسان کے دل میں کیوں پیدا ہوتا ہے فرماتا ہے ان الانسان لیطغی یہ خیال ہمیں اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں ہم اپنی ہدایت کا سامان خودبخود کرلیں گے۔ یہ بغاوت اور سرکشی کا خیال ہے۔ طغی کے معنے جاوزا لقدر والحد کے ہوتے ہیں یعنی فلا ں شخص حد سے گزرگیا۔ پس ان الانسان لیطغی کے یہ معنے ہوئے کہ یقینا انسان حد سے باہر نکل جانے والا ہے۔ ہم نے بیشک انسان کو قوتیں دی ہیں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اپنی ہدایت کا آپ سامان کر سکتا ہے الٰہی مدد کا محتاج نہیں۔
    پہلی سورتوں میں اللہ تعالیٰ یہ مضمون بیان کرچکا ہے کہ اس نے انسان کو بہت بڑی طاقتیں دے کر بھیجا ہے چنانچہ ایک جگہ فرمایا ہے لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اور بھی کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ ہم نے انسان میں بڑی بڑی طاقتیں اور قوتیں رکھی ہیںاور انہی قوتوں کی بناء پر یہ استدلال کیا گیا ہے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایسی اعلیٰ درجہ کی قوتیں دینے کے بعد ہم انسان کو چھوڑ دیں اور اسے تاریکیوں اور ضلالت کے گڑھوں میں گرنے دیں۔ جب ہم نے انسان کو معتدل القویٰ بنایا ہے اور اسے اعلیٰ درجہ کی روحانی طاقتیں دے کر بھیجا ہے تو ضروری ہے کہ ہم اعلیٰ درجہ کی منزل مقصود بھی اس کے سامنے رکھیں اور اسے اکیلا نہ چھوڑیں۔ یہ مضمون ہے جو پہلی سورتوں میں بیان ہوچکا ہے مگر یہاں یہ فرماتا ہے کہ انسان ہماری مدد کے بغیر کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ بظاہر ان دونوں باتوں میں اختلاف نظر آتا ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا تھا کہ انسان میں بڑی بڑی طاقتیں رکھی گئی ہیں اور یہاں آکر کہہ دیا کہ بغیر ہماری مدد کے بنی نوع انسان ہدایت پا ہی نہیں سکتے۔ پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کیا ہے کہ خود ہی پہلے ایک بات کہی اور خود ہی بعد میں آکر اس کی تردید کردی۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ ان الانسان لیطغی میں دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ بیشک ہم نے انسان میں بڑی طاقتیں رکھی ہیں مگر طاقت رکھنے کے یہ معنے نہیں کہ وہ اپنے دائرہ عمل سے بھی باہر نکل سکتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو انسان بڑی طاقت رکھتا ہے لیکن اگر بدپرہیزی کرتا ہے تو بیمار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح انسان میں اللہ تعالیٰ نے برداشت کی بڑی طاقت رکھی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ اپنے دائرہ سے باہر نہیں جاسکتا۔ چنانچہ اگر کوئی شخص سترہ اٹھارہ ہزار فٹ کی بلندی پر چڑھ جائے تو ہوا کے دبائو کی کمی کی وجہ سے اس میں جنون کا سا رنگ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ دوست کو دشمن سمجھنے لگ جاتا ہے۔ بعض لوگوں کے متعلق ثابت ہے کہ ان میں تیس تیس چالیس چالیس سال سے دوستیاں چلی آتی تھیں اور بڑے بڑے نازک حالات میں بھی ان کی دوستیاں نہ ٹوٹیں مگر جب وہ ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنے کیلئے گئے تو وہ ایسی حالت میں واپس آئے جب ایک دوسرے کے شدید دشمن تھے۔ چنانچہ وہ مختلف وفود جو ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے جاتے رہے ہیں ان کے متعلق یہ امر ثابت ہے کہ ان میں سے کثیر طبقہ ایسا تھا جو دوست بن کر گیا اور دشمن بن کر واپس آیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سترہ اٹھارہ ہزار فٹ سے اوپر جاکر انسان کی دماغی کیفیت متزلزل ہوجاتی ہے اور بعض لوگوں کی ایسی حالت ہوجاتی ہے کہ وہ آپس میں نرمی اور محبت سے نہیں رہ سکتے بلکہ بات بات پر لڑائی کرنے لگتے ہیں۔
    انگلستان میں ایک دفعہ ایک پائلٹ کے ساتھ ایسا ہی واقعہ ہوا۔ جب وہ سترہ ہزار فٹ کی بلندی سے اوپر گیاتو یکدم اس نے دیکھا کہ اس کے ساتھی نے زور سے اس کی گردن پکڑلی ہے اور وہ اس کے گلے کو دبا کر اسے ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ اس نے چونکہ ہمالیہ پہاڑ کے واقعات اکثر سنے ہوئے تھے اور وہ جانتا تھا کہ اوپر پہنچ کر ہوا کے ہلکاہونے کی وجہ سے انسان اپنے دماغی توازن کو قائم نہیں رکھ سکتا اس لئے وہ جھٹ اپنے جہاز کونیچے کی طرف لے آیا۔ جب وہ سات آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر آپہنچا تو اس کا دوست ہوش میں آگیا اور اپنے کئے پر ندامت کا اظہار کرنے لگا۔
    غرض ہر چیز کا ایک دائرہ عمل ہوتاہے جس سے وہ باہر نہیں جاسکتی۔ یہی حال انسان کا ہے بیشک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے خاص طور پر علیٰ درجہ کی طاقتیں دے کر بھیجا گیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اپنی لائن کے علاوہ دوسری لائن میں بھی قابلیت کے جوہر دکھاسکتا ہے۔ گھوڑا ساٹھ ساٹھ بلکہ سو سو میل تک بعض دفعہ ایک سانس میں دوڑ سکتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ عقلی کاموں میں بھی انسان کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ بیشک دوڑنے کے کام میں ایک گھوڑا بہتر سے بہتر تیز رفتار انان سے بھی زیادہ تیز دوڑے گا مگر جہاں عقل کا سوال آئے گا وہاں ایک گھوڑا ادنیٰ سے ادنیٰ اور بیوقوف سے بیوقوف انسان جتنا کام بھی نہیں کرسکے گا۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو درست ہے کہ ہم نے انسان کو طاقتیں دی ہیں مگر اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ اپنی حد سے آگے نکل سکتا ہے۔ جوکام اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے وہاں تک اس کی رسائی نہیں ہوسکتی۔ وہ کام اگر کرے گا تو اللہ تعالیٰ ہی کرے گا انسان اپنی عقل سے اسے سرانجام نہیں دے سکتا۔ پس کلا ان الانسان لیطغی میں یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ وسوسہ جو بعض قلوب میں پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ کوئی تعلیم بھیجنے کی کیا ضرورت ہے ہم اپنے لئے آپ ہی ایک مذہب بنالیں گے یہ بالکل جھوٹ ہے۔ ایسے خیالات اسی شخص کے دل میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنی حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کام بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کرسکتاہے۔ بندے کا کام نہیں کہ وہ اس میں دخل دے سکے۔ بے شک اس نے تمہیں طاقتیں دی ہیں مگر وہ غیرمحدود نہیں بلکہ ایک حد کے اندر ہیں۔ اسی طرح بیشک اس نے تمہیں عقل دی ہے مگر وہ بھی تمہاری ذاتی طاقتوں تک محدود ہے۔ تم میں یہ طاقت نہیں کہ اپنے لئے خودبخود کوئی مذ ہب بنالو یا اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے وسائل اپنی عقل سے تجویز کرسکو۔
    ان راہ ا ستغنی O
    اس طرح کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتا ہے۔
    حل لغات: ان راہ ا ستغنیٰ جملہ مفعول لہٗ واقعہ ہوا ہے یعنی طغیٰ اس وجہ سے ہے کہ انسان اپنے نفس کو مستغنی سمجھتا ہے رای کے معنے دیکھنے کے ہیں اور سمجھنے اور پانے کے بھی ۔اس جگہ رای روئیت قلبی کے معنوں میں استعمال ہواہے کیونکہ وہ ضمیریں اس کی طرف جاتی ہیں اور روئیت قلبی کے ہمیشہ دو مفعول ہوا کرتے ہیں۔
    تفسیر: اللہ تعالی اس آیت میں یہ بتاتاہے کہ ہم انسان کو حد سے گذرنے والا کیوں کہتے ہیں اور کیوں وہ ہمارے مقابلہ میں سرکشی اختیار کرتا ہے ۔ فرماتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتا ہے ۔ علم با لقلم اور علم ا لانسان ما لم یعلم کا جو فاعل ہے یعنی خدا جس نے انسان کو قلم سے سکھایا اور جو انسان کو وہ کچھ سکھانے والا ہے جو وہ نہیں جانتا اس کی مدد سے وہ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتاہے اور خیال کرتا ہے کہ میں اپنے اخلاق کو درست کر لونگا ،اپنے عقائد کوبھی درست کر لوںگا ، اپنی روحانیت کو بھی درست کر لونگا ، اپنے تمدن اور اپنی سیا ست کو بھی درست کر لونگا ، اپنی عائلی زندگی کو بھی درست کر لونگا ، اپنے اقتصادی معاملات کو بھی درست کر لونگا ،اللہ تعالی کو میرے کاموں میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے دیکھا ہے کالجوں کے لڑکوں سے جب بھی مذہبی معاملات پر گفتگو کی جائے تھوڑی دیر کے بعد ہی ان کی زبان سے اس قسم کے فقرے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ اول تو ہم مانتے ہی نہیں کہ دنیا کا کوئی خدا ہے اور اگر ہے تو اسے انسانی کاموں میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے یہ ہمارا اختیار ہے کہ ہم اپنے لئے جو طریق پسند کریںاسے اختیار کر لیں پس فرمایا ان راہ استغنی۔ طغیان اور سرکشی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کومستغنی سمجھتا ہے۔چونکہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالی کی مدد سے بے نیاز قرار دے دیتا ہے اس لئے وہ اس روحانی کوچہ میں داخل نہیں ہو سکتا جس کا دروازہ اللہ تعا لی کی راہنمائی کے بغیر کوئی انسان اپنی ذاتی کوشش سے نہیں کھول سکتا ۔
    ان الی ربک الر جعیO
    تیرے رب ہی کی طرف یقینا لو ٹ کر جانا ہے
    تفسیر: یہاں مفسرین نے بالعموم ربک کے متعلق لکھا ہے کہ اس کی ضمیر انسان کی طرف پھیری گئی ہے مگر میرے نزدیک یہاں ربک سے وہی مراد ہے جس کا اقرا با سم ربک ا لذی خلق میں ذکر آتا ہے اور جسے محمد رسول اللہﷺ نے پیش کیا ۔ فرماتا ہے یہ انسان اپنے آپکو مستغنی کس طرح سمجھ سکتا ہے جبکہ واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے آخر تیرے رب کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے جب انہوں نے اللہ تعالی کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے تو پھر وہی بتا سکتا ہے کہ وہاں کن اعمال کی ضرورت ہے ، یہ لوگ اپنی عقل سے وہاں کے حالات کس طرح معلوم کر سکتے ہیں؟ آخر یہ ایک موٹی بات ہے کہ اگر ایک شخص انگلستان جانا چاہتا ہے تو اسی شخص سے وہاں کے حالات دریافت کرے گا جو انگلینڈ سے واپس آچکا ہوگا۔وہ اس کے پاس جائے گا اورکہے گا کہ میں انگلینڈ جانا چاہتا ہوںمگر مجھے علم نہیں کہ وہاں کی آب و ہوا کیسی ہے وہاں مجھے کیسے کپڑوں کی ضرورت ہے ، کتنا روپیہ مجھے ساتھ لے جانا چاہیے کیا کیا باتیں مجھے سفر میں ملحوظ رکھنی چاہئیں۔آپ چونکہ انگلینڈ میں رہ چکے ہیں اور وہاں کے حالات سے آپ کو ذاتی طور پر واقفیت ہے اس لئے آپ مجھے بتائیںکہ وہاں کی آب و ہوا کے لحاظ سے مجھے کیسے کپڑوں کی ضرورت ہے۔آیا سرد کپڑے میں اپنے ساتھ لے جائوں یا گرم۔اور اگر گرم لے جائوں تو وہ کس قدر گرم ہونے چاہئیں۔ کیونکہ محض ٹھنڈک یا سردی کے ذکر سے یہ پتہ نہیں لگ سکتاکہ وہاں کس قسم کی سردی پڑتی ہے ۔ خفیف سردی پڑتی ہے یا شدید۔میں ۱۹۲۴ء میں جب انگلستان سے واپس آیا ہوں اس وقت نومبر کا مہینہ تھا اور نومبر کے دنوں میں یہاں معمولی سردی ہوتی ہے مگر انگلستان میں جس قدر سردی پڑتی ہے اس کی شدت کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ایک دن اکتوبر کے مہینہ میں رات کے گیارہ بجے میں بند موٹر میں سفر کر رہا تھا اور میری حالت یہ تھی کی میں نے گرم بنیان پہنی ہوئی تھی اس پر گرم کر تہ تھا اس پر گرم صدری تھی اس کے اوپر گرم کوٹ تھا پھر اس کے اوپر اوورکوٹ تھا اور اوور کوٹ بھی ہندوستان کا نہیںبلکہ وہ انگلستان کے لئے بنوایا گیا تھا ۔اور جو ہندوستانی اوور کوٹ سے دوگنا تگنا موٹا ہوتا ہے مگر اتنے گرم کپڑوں کے باوجود اور پھر بند موٹر میں سفر کرنے کے باوجود مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے مجھ پر کوئی کپڑا نہیں یہ تو انگلستان کی سردی کا حال ہے ۔ اس کے بعد آر کٹک میں چلے جائوتو وہاں انگلستان ے بھی زیادہ ٹھنڈ ہوگی ۔اس کے مقابل میں امریکہ کے بعض ایسے حصے ہیں جہاں منٹ منٹ کے بعد موسم بدلتا رہتا ہے ۔ ابھی گرمی ہوتی ہے اور ابھی تھوڑی دیر کے بعد ہی سردی شروع ہوجاتی ہے ۔ سردی ہوتی ہے تو معاً گرمی شروع ہو جاتی ہے وہاں یہی حالت رہتی ہے کہ جرسی پہنی اور اتاردی۔غرض دنیا میں یہ طریق ہے کہ جب کوئی انگلستان جاناچاہے گا تو وہ پہلے واقف حال لوگوں سے پوچھے گا کہ مجھے وہاں کیسے کپڑوں کی ضرورت ہے یا امریکہ جانا چاہیگا تو وہان سے آنے والے لوگوں سے پوچھے گا کہ مجھے امریکہ میں کن کن چیزوں کی ضرورت ہوگی۔ مثلاً ہندوستا نیوں کو عام طور پر مرچیں کھانے کی عادت ہوتی ہے۔اب اگر کوئی ایسا شخص امریکہ جانا چاہے گا جسے مرچیں کھانے کی عادت ہوگی تو وہ یہ ضرور دریافت کرے گا کہ مجھے وہاں مرچیں مل سکتی ہیںیا نہیں۔اور جب نفی میں جواب ملے گا اور اسے مرچیں کھانے کا زیادہ شوق ہوگا تو وہ اپنے ساتھ مرچیں لے جائے گا تاکہ وہاں اسے تکلیف نہ ہو۔ مثلاً عرب میں کوئی ہندوستانی جسے پان کا شوق ہو جانا چاہے گا تو وہ پہلے واقف حال لوگوں سے پتہ لگائے گا کہ وہاں پان ملتا ہے یا نہیں۔ تاکہ اسے حالات کا صحیح علم ہوجائے اور وہ ان کے مطابق اپنی تیاری کو مکمل کرے غرض یہ ایک طبعی بات ہے کہ جب انسان نے کہیں جانا ہوتا ہے وہ پہلے واقف لوگوں سے مشورہ لیتا اور اس جگہ کے حالات معلوم کرتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ واقف لوگوں سے نہ پوچھے اور اپنے عقلی ڈھکونسلوں پر تیاری کی بنیاد رکھ دے۔ اسی نکتہ کو اللہ تعالی اس جگہ بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے ان الی ربک ا لر جعی ان لوگوں کی عقل ماری ہوئی ہے انہوں نے جانا خدا کے پاس ہے لیکن کہتے یہ ہیں کہ ہمیں اس بات کی کوئی ضرورت نہیںکہ اللہ تعالی ہمیں اپنے قرب کے راستے بتلائے۔ان نادانوں سے کوئی کہے کہ تم معمولی معمولی سفر اختیار کرتے ہو تو پہلے تمام حالات دریافت کرنے کی کوشش کیا کرتے ہو ۔تم پوچھتے ہو کہ جہاں میں جانا چاہتا ہوںوہاں گرمی ہے یا سردی ۔کپڑے اپنے ساتھ کیسے لے جائوں۔کون کون سی ضروریات کا خیال رکھوں۔بوٹ اپنے ساتھ لے جائوں تو وہ کیسے ہوں۔ بعض ملکوں میں اس کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں کہ معمولی بوٹ اگر انسان نے پہنا ہوا ہو تو شام تک وہ تھیلا بن کر رہ جاتا ہے ۔اسی طرح بعض ملک ایسے ہیں جن میں اتنا مچھر ہوتا ہے کہ انسان بغیر مچھر دانی کیایک رات بھی نہیں گذار سکتا۔غرض مختلف ملکوں کے مختلف حا لا ت ہوتے ہیںاور انسان کو اس وقت تک اطمینان نہیں ہوتا جب تک وہ ان تمام حالات کو دریافت نہ کرلے۔غرض اس محدود دنیا میں جو صرف پچیس ہزار میل میں پھیلی ہوئی ہے ایسے زمانہ میںجبکہ ریل اور تار اور ڈاک کے وسائل موجود ہیںایک ملک سے دوسرے ملک جانے میں کئی قسم کی دقتیںحائل ہو جاتی ہیں۔اسی لئے واقف حاللوگوں سے حالات دریافت کرتا ہے اور اگر کوئی واقف نہیں ملتا تو کسی کمپنی کو لکھتا ہے کہ میں فلاں ملک میں جانا چاہتا ہوںمہر بانی فرما کر مجھے بتایا جائے کہ میں کہاں کا ٹکٹ لوں،کتنا روپیہ اپنے پاس رکھوںاور کیا کیا چیزیں ساتھ لے جائوں۔ہندوستان میں کسی سفر کے لئے گھر سے نکلواوربستر ساتھ نہ ہو تو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ہوٹلوں میں اول تو بستر ہی نہیں ملتا اور اگر ملے گا تو ایسا گندہ اور غلیظ اور ناپاک اور بدبودار کہ کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے ۔لیکن اسی خیال کے ماتحت ا گر کوئی انگلستان جاتے ہوئے بستر اپنے ساتھ لے جائے تو ہر مرد عورت اور بچہ اسے دیکھ کر ہنسنے لگ جائے گا کہ یہ کیسا انسان ہے سفر میں اپنے ساتھ بستر لئے پھرتا ہے ۔انگلستان میں یہ دستور ہے کہ انسان جس جگہ ٹھہرے وہاں سونے کے لئے اسے مالک مکان کی طرف سے بستر دیا جاتا ہے ۔ہر ہوٹل میں روزانہ بستر تبدیل کئے جاتے ہیں اور چادر پر ایک معمولی داغ بھی رہنے نہیں دیا جاتا ۔ وہاں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہوٹل کا بستر اگر استعمال کیا گیا تو وہ گندہ ہوگا کیونکہ ہر اچھے ہوٹل میں ایسا انتظام ہوتا ہے کہ روزانہ اوپر نیچے کی چادریں بدلی جاتی ہیں ۔ یہ نہیں ہوگا کہ ایک مریض کا کمبل دوسرے کو دے دیا جائے اور دوسرے کی میلی کچیلی چادر تیسرے کے نیچے بچھادی جائے وہاںروزانہ دھوبی سے دھلی دھلائی چادریں آتی ہیںاور بستروں پر بچھادی جاتی ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوتاکہ ایک کا کپڑا دوسرے کو دے دیں۔یہی رواج ہزارہ میں بھی ہے وہاں غریب سی غریب آدمی بھی دس پندرہ بستر ضرور رکھ لیتا ہے تاکہ مہمانوں کو تکلیف نہ ہو اگر وہاں کوئی شخص بستر اپنے ساتھ لائے تو میزبان سخت برا مناتا ہے کہ تم نے مجھ پر بے اعتباری کی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہزارہ کے لوگ ہمارے سالانہ جلسہ پر آتے ہیں تو اپنے بستر ساتھ نہیں لاتے وہ سمجھتے ہیں بستر ساتھ لے جانا بڑی کمینگی ہے مگر یہاں آکر انہیں سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے کیونکہ یہاں یہ رواج ہے کہ ہر شخص بستر اپنے ساتھ رکھتا ہے اسی طرح ہزارہ میں رواج ہے کہ لوگ روپیہ اپنے ساتھ نہیں رکھتے جس کسی کے ہاں ٹھہرتے ہیںاس کا فرض ہوتا ہے کہ کرایہ ادا کرے ۔ چنانچہ چلتے ہوئے بڑے اطمینان سے کہتے ہیں کہ اب کرایہ لائو ہم واپس جانا چاہتے ہیں ۔اب دیکھو ہزارہ کوئی ذیادہ دور نہیں۔چند گھنٹوں کے سفر کے بعدانسان وہاں پہنچ جاتا ہے مگر عادات اور رسم ورواج میں کس قدر فرق ہے کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے اگر ان حالات کو معلوم کئے بغیر کوئی شخص دوسرے مقام پر چلا جائے تو یہ لازمی بات ہے اسے سخت دقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
    پس اللہ تعالی فرماتا ہے کیا ان لوگوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں آتی کہ مذ ہب اور دین کا اصل تعلق موت کے بعد زندگی سے ہے اور یہ زندی وہ ہے جس کے حالات سے یہ لوگ بے خبر ہیں ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس زندگی کو دیکھ کر آیا ہوں اس لئے مجھے کسی اور کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔جب ان لوگوں کو اس زندگی کے حالات کا جو مرنے کے بعد حاصل ہونے والی ہے کچھ بھی علم نہیں اور انہوں نے لوٹ کر آخر اللہ تعالی کی طرف ہی جانا ہے تو اگر اللہ تعالی ان کو اس زندگی میں کام آنے والی باتیں نہیں بتائے گا تو ان کو پتہ کس طرح لگے گا کہ وہاں کونسے اخلاق کام آسکتے ہیں ۔کون سے اعمال ان کی اخروی حیات کو سنوار سکتے ہیں، کونسے عقائد اختیار کر کے وہ اللہ تعالی کے محبوب بن سکتے ہیں ۔ یہ باتیں تو اللہ تعالی ہی بتا سکتا ہے خود اپنی عقل سے یہ لوگوہاں کے حالات معلوم نہیں کر سکتے اس لئے ان کی سرکشی اور اپنے آپ کو ہدائیت کے متعلق خدا تعالی کی مدد سے مستغنی سمجھناحماقت کی بات ہے بغیر الٰہی امداد کے اس بارہ میں نہ انسان نے پہلے کامیابی حاصل کی ہے اور نہ اب کر سکتا ہے ۔
    ارء یت ا لذی ینھیO عبدا اذاصلیO
    (اے مخاطب ) تو (مجھے)اس (شخص)کی (حالت کی) خبر دے جو روکتا ہے ۔ایک ( عبادت گذار ) بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے
    تفسیر: اس آیت کی تفسیر میں اللہ تعالیٰ ایک مثال کے ذریعہ کفار کو ملزم کرتا ہے ۔ فرماتاہے مجھے اس شخص کا حال تو بتائو یعنی ذرا اس شخص کی معقولیت تو مجھ پر ظاہر کرو۔ ارء یت کے لفظی معنی ہوتے ہیں ’’کیا دیکھا تونے‘‘۔ لیکن محاورہ میں اس کے معنے ہوتے ہیں اخبرنی مجھے بتائو تو سہی۔ چونکہ یہاں رسول کریم ﷺ مخاطب ہیں اس لئے ار ء یت کے معنے ہوں گے اے محمد رسول اللہ ﷺ مجھے بتا تو سہی۔ دراصل یہ زجر کا ایک طریق ہے کہ بات تو ہم دوسرے کی کرتے ہیں۔ لیکن ہم اس کو مخاطب کرنا نہیں چاہتے۔ وہ سنے گا تو آپ ہی دل میں شرمندہ ہوگا کہ میں کیسی لغو حرکت کررہا ہوں۔ہم اس کی بجائے تجھے مخاطب کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے محمد رسول اللہ ﷺ ذرا اس شخص کا حال تو بتائو ینھی جو روکتا ہے مگر کس کو؟ کسی جھگڑالو کو نہیں، کسی لڑاکے کو نہیں، کسی فریبی کو نہیں، کسی ڈاکو کو نہیں۔ بلکہ عبدا ہمارے ایک مسکین اور عاجز بندے کو اور روکتا کس بات پر ہے۔ اس پر نہیں کہ اس نے فلاں قانون کو پورا نہ کیا یا فلاں سیاسی مسئلہ میں اس نے ہم سے اختلاف رکھا بلکہ اذا صلی۔ وہ خداتعالیٰ کی عبادت کیلئے کھڑا ہوتا ہے ار یہ دوڑ کر اس کا گلا پکڑلیتا ہے۔ کیا دنیا کا کوئی بھی معقول انسان اس امر کو جائز اور درست قرار دے سکتا ہے؟ کوئی سیاسی اختلاف نہیں ، کوئی اقتصادی اختلاف نہیں، کوئی تمدنی اختلاف نہیں، کوئی حاکم و محکوم کا اختلاف نہیں۔ ایک شخص اپنے گھر میں خداتعالیٰ کی عبادت کیلئے کھڑا ہوتا ہے اور دوسرا شخص اسے پکڑ کر عبادت کیلئے روکنا شروع کردیتا ہے۔ کیا اس میں کوئی بھی معقولیت پائی جاتی ہے۔ کیا یہ بھی کوئی انسانیت ہے کہ خداتعالیٰ کا ایک بندہ خداتعالیٰ کے سامنے عبادت کررہا ہے اور ابوجہل اپنے گھر میں بیٹھے یونہی اچھل کود رہا ہے نہ لینا نہ دینا۔ نہ تعلق نہ واسطہ اور وہ یونہی سیخ پا ہورہا ہے۔ یہ نہیں کہ نماز پڑھتے وقت کوئی ابوجہل کا گھوڑا کھول کر لے جاتا ہے یا اس کا اسباب اٹھا کر لے جاتا ہے جس کی بناء پر اسے غصہ پیدا ہوتا ہے۔ ایک شخص کھڑے ہوکر نماز پڑھتا ہے اور ابوجہل صفت شور مچانا شروع کردیتا ہے کہ ماردیا، ماردیا۔ کیا اتنی غیرمعقول حرکتیں کرنے والا انسان بھی یہ سمجھتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔
    چونکہ پہلی آیات میں اس امر کا ذکر تھا کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں دینی معاملات میں الٰہی راہنمائی کی ضرورت نہیں وہ اپنی عقل سے پنے لئے خود بخود ایک راہ تجویز کرسکتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ملزم کرنے کیلئے یہ مثال پیش کی ہے اور فرمایا ہے کہ تم جو دن رات یہ رٹ لگارہے ہو کہ ہمیں دینی معاملات میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔ تم اپنے حالات پر غور کرو اور دیکھو کہ تمہارا یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے۔ تم اگر کسی اور کی طرف نہیں دیکھ سکتے تو ابوجہل یا دوسرے لیڈروں کو ہی دیکھ لو۔ وہ قوم کے سردار ہیں، دنیوی معاملات میں لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں، فوجوں کی کمان کرتے ہیں اور لوگوں پر ان کی دانائی کا سکہ بیٹھا ہوا ہے مگر دین کے معاملہ میں ان کی عقل اس قدرماری ہوئی ہے کہ ایک بندہ اکیلا اپنے گھر میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو وہ اچھلنے کودنے لگ جاتے ہیں۔ جن لوگوں کی نابینائی اس قدر بڑھ چکی ہو اور جو دینی معاملات میں اس قدر حماقت اور جہالت کے کاموں پر اتر آئے ہوں ان کے متعلق یہ تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ وہ اس روحانی میدان میں اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر ایک قدم بھی اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔
    ارء یت ان کان علی الھدی O
    (اے مخاطب) تو (مجھے) بتا تو سہی کہ اگر وہ (نماز پڑھنے والا بندہ) ہدایت پر ہو؟
    تفسیر: اس موقعہ پر ابوجہل صفت والوں کی طرف سے کہا جاسکتا تھا کہ تم جو اعتراض کرتے ہو کہ ہم نے عبادت میں کیوں دخل دیا یہ درست نہیں۔ بیشک اس میں ہمارا کوئی نقصان تھا۔ ہماری قوم کا کوئی نقصان نہیں تھا۔ حکومت اور نظام کا کوئی نقصان نہیں تھا۔ مگر چونکہ اس میں عبادت کرنے والے کا اپنا نقصان اور ہم نے دیکھا کہ وہ ایک برا کام کررہا ہے ہم نے ہمدردی اور محبت کے پیش نظر اسے روک دیا تاکہ اس کام کے برے نتائج سے وہ محفوظ رہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ارء یت ان کان علی الھدی۔ مجھے بتائو تو سہی اگر ہمارا وہ بندہ ہدایت پر ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہدایت پر ہے۔ یہ بھی گفتگو کا ایک طریق ہوتا ہے کہ الفاظ شک کے استعمال کئے جاتے ہیں مگر مراد الٹ ہوتی ہے۔ ہر زبان کا یہ طریقہ ہے مثلاً اردو میں بھی بولتے ہیں شاید میں نے اسی طرح کرنا ہو اور مراد ہوتی ہے اسی طرح کرنا ہے۔ اسی طرح فرماتا ہے ان کان علی الھدی یعنی ان کان محمد او ان کان العبد المصلی علی الھدی۔ مگر محمد ﷺ یا ہمارا وہ بندہ جو ہماری عبادت کررہا ہے سچا ہوا توپھر اس کو روکنے والے کا کیا حال ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے فعل کے جواز میں یہ کہہ رہے ہو کہ ہم اسے عبادت سے اس لئے روک رہے ہیں کہ یہ کہیں دوزخ میں نہ جاپڑے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی ناراضگی کا مورد نہ بن جائے۔ حالانکہ جب یہ معاملہ اگلے جہان سے تعلق رکھتا ہے اور اگلا جہان وہ ہے جو نہ تم نے دیکھا اور نہ تمہارے باپ دادا نے۔ تو تمہیں کیونکر پتہ لگا کہ اس فعل کا نتیجہ ضرور خراب نکلے گا۔ اگر ذاتی طور پر تم سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سچائی پر قائم نہیں تب بھی تمہیں عبادت سے روکنے کا کوئی حق نہیں تھا کیونکہ تم کسی یقین کی بناء پر ایسا نہیں کہہ رہے۔ تم زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہو کہ شاید یہ حق پر نہ ہو۔ اس لئے ہم اسے روکنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اس کے مقابلہ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حق پر ہو اور تم اسے روک کر ظالم بن رہے ہو۔ بہرحال جب یہ معاملہ اگلے جہان سے تعلق رکھتا ہے جس کے متعلق تمہارا علم کسی قطعی بنیاد پر قائم نہیں بلکہ ایک ڈھکونسلہ ہے۔ تم خیال کرتے ہو کہ شاید یہ جھوٹا ہو ۔ شاید یہ برا کام کررہا ہو۔ تو محض ایک ظن کی بنا پر تمہیں اس کو روکنے کا حق کہاں سے پیدا ہوگیا۔ جبکہ ہوسکتا ہے کہ یہ ہدایت پر ہو اور تم جو اسے روک رہے ہو گمراہی اور ضلالت میں پڑے ہوئے ہو۔
    دوسرے کو انسان اسی وقت کسی کام سے روک سکتاہے جب اس کے علم کی بنیاد یقین پر ہو۔مثلاً اگر کوئی بچہ کنوئیں میں گر نے لگے اور ماں باپ پاس نہ ہوں تو ہر شخص حق رکھتا ہے کہ اسے روکنے کیونکہ اس کا نتیجہ یقینا ہلاکت ہے۔ لیکن اگر ایک شخص تجارت کرنے لگے ، زید کا خیال ہو کہ مجھے نفع ہوگا اور بکر کا خیال ہو کہ نفع نہیں ہوگا تو ایسی صورت میں اگر بکر زید سے لڑ پڑے اور اسے تجارت سے روک دے تو ہر شخص بکر کر ملزم قرار دے گا اور اگر مجسٹریٹ کے پاس مقدمہ جائے گا تو وہ یقینا بکر کو سزا دے گا اورکہے گا کہ یہ کونسی بدیہی بات تھی جس کی بناء پر تم نے دوسرے کو تجارت کرنے سے روک دیا۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی شخص زہر کی پڑیا کھانے لگے تو ہم اسے روک دیں کیونکہ یہ بدیہی بات ہے کہ زہر کا نتیجہ ہلاکت ہے۔ لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم کسی کو کھانے سے اس لئے روک دیں کہ ممکن ہے کہ اس کے نتیجہ میں تمہیں ہیضہ یا پیچش شروع ہوجائے۔ بہرحال جہاں قطعی اور یقینی نقصان ہو وہاں ہر دوست اور ہمسایہ حق رکھتا ہے کہ دوسرے کو نقصان سے بچانے کی کرشش کرے۔ مگر جس امر کے متعلق یقین نہ ہو اس معاملہ میں کسی دوسرے کا دخل دینا اول درجہ کی حماقت ہوتی ہے۔چونکہ یہاںعبادت کا معاملہ ے جس کے متعلق کفار کسی یقین پر قائم نہیں تھے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری یہ دلیل قطعی طور پر غلط ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو نقصان سے بچانے کیلئے عبادت سے روک رہے ہیں۔ تم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو کہ شاید یہ ہدایت پر نہ ہو۔ شاید یہ گمراہی میں مبتلا ہو حالانکہ اس کے مقابلہ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہدایت پر ہو اور تم گمراہی میں مبتلا ہو۔ جب معاملہ ایسا ہے جس میں تمہیں صرف شبہ ہی شبہ ہے اور دوسری طرح ایک جوان اور بالغ انسان اپنی مرضی سے ایک قدم اٹھار ہا ہے تو تم اس کو روکنے والے کون ہو۔ دنیا میں یہی طریق رائج ہے کہ جب کوئی بالغ، جوان اور سمجھدار انسان کوئی ایسا کام شروع کرتا ہے جس کے دونوں پہلو ہوسکتے ہوں مفید بھی اور مضر بھی۔ تو وہ نقصان بھی اٹھاسکتا ہے اور فائدہ بھی اٹھاسکتا ہے۔ ایک شخص تجارت کرتا ہے تو وہ نقصان بھی اٹھاسکتاہے اور فائدہ بھی اٹھاسکتا ہے مگر کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ سفر یا تجارت سے کسی کو اس لئے روک دے کہ میرا خیال ہے کہ تمہیں نقصان ہوگا۔ یا چونکہ میں سمجھتا ہوں کہ تمہارا بمبئی جانا مفید نہیں اس لئے میں تمہیں گھر سے نکلنے نہیں دیتا۔ ہر شخص ایسے انسان کو پاگل قرار دے گا او رکہے گا کہ تمہیں کیا پتہ کہ اس سفر یا تجارت کا نتیجہ اچھا ہے یا برا۔ تم زیادہ سے زیادہ ایک قیاس کررہے ہو حالانکہ اس کے مقابلہ میں یہ بھی قیاس ہوسکتا ہے کہ اسے فائدہ ہو۔ اس لئے تمہارا روکنا جنون کی علامت ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ اس جگہ بیان کرتا ہے کہ محمد رول اللہ ﷺ جوان، عاقل اور سمجھدار انسان ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہی انسان کا فائدہ ہے۔ اگر وہ عبادت کرتے ہیں تو تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم انہیں عبادت سے روکو۔ ہم مانتے ہیں کہ تم عبادت کی اہمیت تسلیم نہیں کرتے۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کی بنیاد محض شک پر ہے۔ اس لئے خواہ تم عبادت کو اچھا نہیں سمجھتے تب بھی عقلی طور پر تمہیں ہرگز یہ حق حاصل نہیں تھا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ کو عبادت سے روکتے اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے عمل کا صحیح نتیجہ مشکوک ہے تو تمہارے اس فعل بد کا اچھا نتیجہ کیونکر نکلے گا۔
    او امر بالتقوی O
    یا تقویٰ کا حکم دیتا ہو (تو پھر اس روکنے والا کا کیا بنے گا)
    تفسیر: یہاں ایک زائد بات بیان کرکے پہلے استدلال کو مضبوط کردیا گیا ہے ان کان علی الھدی تک تو شبہ کے انداز میں یہ بات کی تھی کہ تمہارا محمد رسول اللہ ﷺ کو عبادت سے روکنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر تمہیں محمدرسول اللہ ﷺ کی صداقت میں شبہ ہے تو تم خود بھی کسی یقین پر قائم نہیں۔ جب تمہارا دعوی بھی شک والا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے دعویٰ کے متعلق بھی تم شک کررہے ہو تو محض شک کی بناء پر تمہارا محمد رسول اللہ ﷺ کو عبادت سے روکنا کسی صورت میں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اب ایک اور بات بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے ہدایت تو دل سے تعلق رکھنے والی چیز ہے۔ تم کہہ سکتے ہو کہ ہم نہیں جانتے کہ محمد ﷺ ہدایت پر ہیںیا نہیں ۔ لیکن کیا تم اس کے تقویٰ کو نہیں دیکھتے۔ تقویٰ تو عمل سے تعلق رکھنے والی چیز ہے۔ جس کے متعلق یہ عذر نہیں کیا جاسکتا کہ ہم نہیں جانتے فلاں شخص میں تقویٰ پایا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر دل کی بات کو پہچاننا تمہارے لئے مشکل تھا اور تم محمد رسول اللہ ﷺ کا ہدایت یافتہ ہونا پہچان نہیں سکتے تھے تو کیا تم محمد رسول اللہ ﷺ کے عمل کو بھی دیکھنے سے قاصر ہو اور کیا تم اس کو دیکھ کر یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ تم غلطی پر ہو یا محمد رسول اللہ ﷺ غلطی پر ہیں۔ تم یہ تو کہہ سکتے ہوکہ محمد رسول اللہ ﷺ چونکہ بتوں کی بجائے اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتے ہو جو ہمارے نزدیک غلطی ہے اس لئے ہم انہیں اس غلطی سے بچانے کیلئے عبادت سے روکتے ہیں۔ لیکن کیا تم اس تعلیم کی طرف نہیں دیکھتے جو یہ اپنی زبان سے بیان کررہا ہے اور اس عمل کو نہیں دیکھتے جو یہ اپنے جوارح سے ظاہر کررہاہے اور کیا اس کی تعلیم اور اپنی تعلیم اور اس کے عمل اور اپنے عمل کو دیکھنے کے بعد تم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کون ہدایت پر ہے؟تمہاری حالت یہ ہے کہ تم ٹھگی کرتے ہو، فریب کرتے ہو، جھوٹ بولتے ہو، قسم قسم کی بداخلاقیوں میں ملوث ہو اورمحمد رسول اللہ ﷺ وہ ہیں جو خداتعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، سچائی سے کام لیتے ہیں، غرباء کی مدد کرتے ہیں، ظلم سے روکتے ہیں، نیک باتوں کا حکم دیتے ہیں، اکرام ضیف کی عادت رکھتے ہیں، امانت اور دیانت میں نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھاتے ہیں اور دوسروں کو اپنی باتوں کی تعلیم دیتے ہیں۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تم جو دن رات ٹھگی میں مشغول رہتے ہو، جو جھوٹ اور فریب کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔ تم تو سچے ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ جو تقویٰ کے پیکر ہیں اور دوسروں کو بھی تقویٰ کی راہوں پر چلنے کا حکم دیتے ہو وہ جھوٹے ہوں۔ غرض یہ ایک زائد دلیل اللہ تعالیٰ نے پیش کی ہی اور اس طرح پہلی دلیل کو مضبوط کردیا ہے۔ فرماتا ہے کہ اگر تم یہ کہو کہ ہمیں چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت میں شبہ ہے اس لئے ہم اسے عبادت سے روک رہے ہیں تب بھی تمہارا کوئی حق نہیں کہ ایسا کرو۔ کیونکہ اگر تمہیں یہ شبہ ہے کہ شاید محمد رسول اللہ ﷺ سچا نہ ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سچا ہو اور تم اس کو جھٹلانے میں ناراستی سے کام لے رہے ہو۔ لیکن اگر یہ زائد بات بھی اس میں پائی جاتی ہے کہ وہ نیک اعمال اور تقویٰ و عبادت کی باتوں کا دوسروں کو حکم دیتا ہے اور تم بداعمالی میں مستغرق رہتے ہو تو یہ ایک پختہ دلیل اس امر کی ہے کہ تم صداقت سے بہت دور جارہے ہو۔
    سورۃ العلق چونکہ بالکل ابتدائی سورۃ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں نتائج کو بیان نہیں کیا۔ بلکہ ہر جگہ ان کو چھوڑتا چلا گیا ہے کیونکہ ابھی مکہ والوں کی طرف سے رسول کریم ﷺ کی کھلی مخالفت شروع نہیں ہوئی تھی۔ چونکہ ابتدائی ایام تھے اور کفار کو خوامخواہ بھڑکانا مقصود نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے صرف ارء یت ار ء یت کہہ کر اشاروں اشاروں میں ہی حقیقت حال کو بیان کردیا ہے یعنی صرف اتنا ہی کہا ہے کہ مجھ اس شخص کا حال تو بتائو۔ لیکن آگے اس شخص کا نام نہیں لیا۔
    ار ء یت ان کذب و تولی O الم یعلم بان اللہ یری O
    پھر (یہ بھی) بتا کہ اگر یہ روکنے والا جھٹلاتا ہے اور (سچائی سے) منہ پھیر لیتا ہے تو کیا وہ (یہ) نہیں جانتا کہ اللہ سب کچھ دیکھتا ہے۔
    تفسیر: جس طرح ار ء یت ان کان علی الھد او امر بالتقوی میں گو روئے سخن کفار کی طرف تھا مگر مخاطب رسول کریم ﷺ کو کیا گیا تھا۔ اس طرح اس جگہ گو خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے مگر مراد کفار پر اتمام حجت کرنا ہے۔ فرماتاہے اے محمد ﷺ یہ تو بتائو جس طرح کفارکو ہماری عبادت کرنے والے بندے کے متعلق یہ احتمال تھا کہ وہ غلط عبادت نہ کررہا ہو کیونکہ وہ اپنی قوم اور اپنے رشتہ داروں کے خلاف بتوں کی پرستش ترک کرکے اللہ تعالیٰ کے آگے سربسجود ہورہا ہے۔ اسی طرح یہ بھی تو احتمال ہوسکتا ہے کہ یہ عبادت سے روکنے والا شخص ہی سچائی کو جھٹلانے والا اور ہدایت سے منہ موڑنے والا ہو اور جس کو عبادت سے روکا جاتا ہو وہ ہدایت پر ہو اور یہ اس کی تکذیب کررہا ہو۔ وہ امر بالتقویٰ کررہا ہو اور یہ تولی اختیار کررہاہو۔ وہ کہہ رہا ہو کہ سچائی اختیار کرو۔ نیکی اور تقدس کا جامہ پہنو اور یہ اس سے پیٹھ پھیر رہا ہو۔ جب یہ بھی احتمال ہے کہ تو الم یعلم بان اللہ یری کیا اس قسم کے افعال کرنے والے کو یہ خیال نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور وہ میرے اعمال کے مطابق نتیجہ نکالنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں نہایت لطیف بات کہی ہے فرماتا ہے وہ ہمارے بندے کو عبادت سے روکتا ہے اور پھر کہتا ہے میں کیوں نہ روکوں یہ میرا دوست تھا، میرا ہم وطن تھا اور میرا حق تھا کہ میں سے غلط راستہ پر چلنے سے روکوں۔ حالانکہ ہوسکتا تھا کہ وہ خود غلطی کررہا ہو۔ اگر احتمال اور شبہ پر قائم ہوتے ہوئے اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ہمارے بندے کو روک دے تو کیا اسے یہ خیال نہیں آتا کہ آسمان پر ایک خدا اس نظارہ کو دیکھ رہ اہے۔ اگر میں اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ میں دوسرے کو روک رہا ہوں تو زمین و آسمان کا طاقتور بادشاہ جو میرے اس ظلم کو دیکھ رہاہے وہ بھی طاقت رکھتا ہے کہ مجھے اس ظلم کی سزا دے۔ اگر ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی عبادت میں دخل دیں اور کہیں ہم نے اس لئے دخل دیا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں یہ غلطی کررہا ہے تو اگر اس کے مقابلہ میں تم غلطی کررہے ہو تو یقینا اس اصول کے مطابق خداتعالیٰ کو بھی حق حاصل ہوگا کہ تمہیں پکڑے۔ آج تم ہمارے بندے کو عبادت سے روک رہے ہو اور کہتے ہو کہ ہم سمجھتے ہیں یہ غلطی کررہا ہے اگر تم ایک فرضی قیاس سے کام لینے کے بعد ہمارے کو روکنے کا حق رکھتے ہو تو پھر یاد رکھو اگر تمہاری تکذیب اور تولی پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں پکڑ لیا تو شکوہ نہ کرنا۔ اگر تمہیں جہالت اور قیاس سے دوسرے کے معاملات میں دخل دینے کا حق حاصل ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ کو علم اور حقیقت حال سے واقف ہونے کے نتیجہ میں تمہارے معاملات میں دخل دینے کا بدرجۂ اولیٰ حق حاصل ہے۔ پھر یہ شکوہ نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عذاب میں مبتلا کردیا۔ پس الم یعلم بان اللہ یری میں کفار کے انجام کی طرف اشارہ ہے اوربتایا گیا ہے کہ ایک دن یہ لوگ خدائی گرفت میں آنے والے ہیں۔
    کلا لئن لم ینتہ لنسفعا بالناصیۃ O ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ O
    یوں نہیں (ہوگا جیسے وہ چاہتا ہے بلکہ) اگر وہ (ان کاموں سے ) باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے ایک جھوٹی پیشانی (اور )خطاکار پیشانی (کے)۔
    حل لغات: نفع: سفع سے جمع متکلم کا صیغہ ہے اور سفع کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کو پکڑ کر سختی سے گھسیٹنا اور ناصیۃ سر کے اگلے حصہ یا سر کے اگلے بالوں کو کہا جاتا ہے (اقرب)۔
    تفسیر: فرماتا ہے کلا ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیںتم جو یہ خیال کرتے ہو کہ ہمارے اس بندے کو کمزور اور ناتوان سمجھ کر اور بے یارومددگار خیال کرکے عبادت سے روک دو گے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ تمہارے سارے خیالات باطل ثابت ہوں گے اور تمہاری اپنی طاقت اور قوت کے متعلق گھمنڈ سب جاتا رہے گا۔ چنانچہ آج ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ وہ جو ملک کا بادشاہ کہلاتا ہے جو لیڈر اور سردار قوم کہلاتا ہے اگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئے گا تو ہم اسے سختی سے گھسیٹ کر اس کا انتقام لیں گے۔ سفع کے معنے عربی زبان میں کسی چیز کو پکڑکر زور سے گھسیٹتے لئے جانے کے ہوتے ہیں۔ کفار میں بھی یہ عادت تھی کہ جب مسلمان غلام نماز کیلئے جاتے یا اپنے کسی اور کام کیلئے باہر نکلتے تو وہ انہیں کبھی ٹانگوں سے پکڑ کر اور کبھی سر کے بالوں پکڑ کر نہایت سختی کے ساتھ گھسیٹنا شروع کردیتے اور کہتے کہ تم بتوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیوں کرتے ہو۔
    ایک غلام صحابی نے جو لمبے عرصہ تک کفارکے مظالم کا تختۂ مشق بنے رہے تھے ایک دفعہ اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں اپنی قمیص اتاری تو لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی پیٹھ کاچمڑا ایسا ہے جیسے بھینسے کا چمڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے خیال کیا کہ غالباً یہ کوئی مرض ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس صحابی سے پوچھا کہ آپ کو یہ کیا بیماری ہے کہ آپ کی پیٹھ کا چمڑا بالکل ایسا ہے جیسے جانور کا چمڑا ہوتا ہے۔ وہ صحابی ہنس پڑے اور کہا تم کیا جانو یہ کیا چیز ہے۔ یہ بیماری نہیں بلکہ ان مظالم کا نشان ہے جو کفار مکہ کی طرف سے ہم پر ڈھائے جاتے تھے۔ پھر انہوں نے سنایا کہ جب ہم نے اسلام قبول کیا تو چونکہ ہم غلام تھے اور مالک کو اس ملک کے قانون کے مطابق ہم پر ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے۔ جب وہ دیکھتے کہ ہم شرک نہیں کرتے تو بعض دفعہ وہ ہمارے پائوں میں رسیاں باندھ کر ہمیں گلیوں میں گھسیٹنا شروع کردیتے اور بعض دفعہ رسیاں باندھنے کی بجائے سر کے بالوں کو پکڑ کر گھسیٹنے لگ جاتے۔ گلیوں میںپتھر پڑے ہوئے ہوتے تھے مگر وہ اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور ہمیں بے دردی کے ساتھ ان پتھروں پر گھسیٹتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہمارے چمڑے چھل جاتے۔ اور چونکہ یہ مظالم ان کی طرف سے متواتر ہوئے اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے چمڑے اپنی شکل کھوبیٹھے اور اس شکل میں آگئے جس شکل میں آج تم دیکھ رہے ہو۔ انہی واقعات کی طرف جو مکہ میںپیش آنے والے تھے اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اشارہ کردیا اور بتادیا کہ ابھی تو یہ لوگ صرف عبادت سے روک رہے ہیں پھر وہ بھی وقت آنے والا ہے جب محمدرسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے مکہ کی گلیوں میں گھسیٹے جائیں گے اور ان کی کمریں چھیلی جائیں گی اور چونکہ مسلمانو ں کے ساتھ یہ واقعات پیش آنے والے ہیں اور کفار مکہ اپنی طاقت ک بل بوتے پر ان کو قسم قسم کے مصائب میں مبتلاکرنے والے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں کہ تم آج اس شخص کو جو ان میں خاص اثر رکھتا ہے اور جو اپنی طاقت اور قوت کا دعویدار ہے یہ سنادو کہ اگر ان کو گھسیٹنا آتا ہے تو ہم کو بھی گھسیٹنا آتا ہے ہم ان کے سر کے بالوں سے نہایئت سختی کے ساتھ گھسیٹیں گے ۔اگر یہ اس ناصیہ کو گھسیٹا کرتے تھے جو خدا تعالی کے سامنے سجدہ کرتی تھی تو ہم اس ناصیہ کو کیوں نہیں گھسیٹیں گے جو جھوٹی اور خطا کار ہے اگر خدائے واحدکے آگے عبادت کرنے والی ناصیہ گھسیٹی جا سکتی ہے تو وہ ناصیہ جو بتوںکے آگے جھکتی ہے وہ گھسیٹے جانے کی کیوں مستحق نہیں۔
    ہم دیکھتے ہیںکہ اللہ تعالی نے ابو جہل سے ایساہی سلوک کیا۔ چنانچہ بدر کی جنگ جب ختم ہوئی اور دشمن مارا گیا تو اللہ تعالیٰ کے اسی حکم کے مطابق کہ لنسفعا بالناصیۃ ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ ابوجہل کو سر کے بالوں سے گھسیٹ کر اس گڑھے میں گرایا گیا جو اس کیلئے قبر کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔ کہنے والا کہے گا یہ وحشت تھی کہ مردہ کو بالوں سے گھسیٹا گیا مگر یہ وحشت نہیں تھی بلکہ بدلہ تھا ان مظالم ا جو مسلمانوں پر ڈھائے جاتے تھے اوربدلہ بھی نہایت معمولی۔ کیونکہ اس نے تو زندہ کو گھسیٹا تھا جب انہیں تکلیف ہوتی تھی۔ مگر ابوجہل کو مردہ ہونے کی حالت میں گھسیٹا گیا جبکہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہوسکتی تھی۔
    میں نے ایک دفعہ رئویا میں دیکھا کہ ایک انگریز جرنیل میرے پاس آیا ہے اور وہ مجھ سے کہتا ہے کہ آپ کا کیا فتویٰ ہے ایا قتل کے بدلہ میں قتل ہی ہے یا قاتل کو کوئی اور سزا بھی دی جاسکتی ہے؟ پھر اس نے کہا ہمارے بعض آدمیوں کو جب سرحد پر مارا جاتا ہے تو ان کی لاشوں کو چونہ میں ڈال کر جلادیا جاتا ہے یا ان کو مختلف قسم کے عذاب دے دے کر مارا جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں قاتل کو صرف قتل کی سزا ہی دی جائے گی یا تعذیب کی سزا بھی اسے ملے گی؟ میں نے اسے جواب میں کہا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ی اصول بیان فرمایا ہے کہ جزؤا سیئۃ سیئۃ مثلھا (الشوریٰ: ع۴) یعنی بدی کی سزا برے فعل کے مطابق دی جانی چاہئے۔ پس میرا فتویٰ بھی یہی ہے کہ قتل کے بعدلہ میں قتل اور تعذیب کے بدلہ میں تعذیب۔ گو عام حالات میں قتل کے بدلہ میں قتل ہی کیا جائے گا لیکن اگر کسی وقت مصلحت کے ماتحت لوگوں کو تعذیب اور شرارت سے روکنے کیلئے یہ فیصلہ کردیا جائے کہ قتل کے بدلہ میں قتل ہوگا اور تعذیب کے بدلہ میں تعذیب تو یہ بالکل جائز ہوگا۔
    بیشک وہ لوگ جنہوں نے اس زمانہ کے حالات پر کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کیا کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ بڑی سختی کی گئی کہ ایک مردہ کو بالوں سے گھسیٹ کر گڑھے میں پھینکا گیا۔ مگر انہیں بھول جاتا ہے کہ یہاںتو کسی مردہ کو صرف ایک دفعہ گھسیٹا گیا ہے اور وہ لوگ سالہا سال زندوں کو پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے اور ابھی ان کے زخم تازہ ہی ہوتے تھے کہ دوسرے دن پھر ان کو پتھروں پر گھسیٹنا شروع کردیا جاتا۔ اور پھر وہ صرف پتھروں پر گھسیٹنے ہی نہیں تھے بلکہ بسا اوقات ان کے سینہ پر بڑے بڑے وزنی پتھر رکھ دیتے، ان پر کھڑے ہوکر خود ناچنا کودنا شروع کردیتے اور کہتے کہو کہ ہم لات اور عزی کو اپنا معبود مانتے ہیں۔ یہی وہ چیز تھی جس کی بناء پر ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے بلالؓ کی خاص طور پر تعریف کی اور لوگوں سے فرمایا کہ بلال جب اذان دیتا ہے اور اشھد ان لاالہ الا اللہ کی بجائے اسھد ان لاالہ الا اللہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ بلال کے اس س پر خاص طور پر خوش ہوتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ مدینہ میں آئے اوربلالؓ نے اذان دی تو چونکہ مدینہ کے لوگ بلالؓ سے ناواقف تھے جب انہوںنے اشھد ان لاالہ الا اللہ کی بجائے اسھد ان لاالہ الا اللہ کہا تو لوگ ہنسنے لگ گئے۔ بلالؓ حبشی تھے اور اس وجہ سے وہ تلفظ صحیح طور پرادا نہیں کرسکتے تھے۔ جب رسول کریم ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے مجلس میں فرمایا لوگ بلال کے سین پر ہنستے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر اس سین کو سن کر خوش ہوتا ہے۔ اس کی وجہ دراصل یہی ہے کہ مکہ میں بلال کے سینہ پر جب بڑے بڑے پتھر رکھ کر کہا جاتا کہ کہو لات اور مناۃ اور عزیٰ سچے معبود ہیں تو بلال خاموش نہ رہتے بلکہ پتھروں کے نیچے سخت تکلیف کی حالت میں بھی یہی کہتے کہ اسھد ان لاالہ الا اللہ۔ چونکہ اس وقت وہ سین کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھا کرتے تھے اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب بلال اسھد ان لاالہ الاللہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ عرش پر خوش ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے بلال سے وہ سین سنا ہوا تھا جو پتھروں کے نیچے اور مکہ کی گلیوں گھیسٹتے ہوئے اس کی زبان سے نکلا کرتا تھا۔ پس خالی بلالؓ کی اذان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہوتا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کو بلالؓ کا وہ واقعہ یاد تھا جب اسے پتھروں کے نیچے کچلا جاتا مگر وہ پھر بھی یہی کہتا کہ اسھد ان لاالہ الااللہ ۔ پس رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں تو آج کا سین نظر آتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو وہ سین یاد ہے جو پتھروں کے نیچے بلالؓ کی زبان سے نکلا کرتا تھا۔ اس لئے بلالؓ جب اذان دیتا اور اسھد ان لاالہ الااللہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس آواز کو سن کر عرش پر خوش ہوجاتا ہے۔
    ان حالات کو اگرمدنظر رکھا جائے تو پھر کوئی شخص یہ کہنے کہ جرأت نہیں کرسکتا کہ ابوجہل کے سر کے بالوں سے گھسیٹ کر گڑھے میں ڈالنا ظلم تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ مؤرخ جو رسول کریم ﷺ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے نعوذ باللہ وحشت سے کام لیا وہ کبھی حقیقت حال پر غور نہیں کرتے۔ اگر وہ مسلمانوں کی جگہ اپنے باپ یا اپنی بیوی یا اپنے بچہ کو رکھیں اور عالم تصورمیں ان مظالم کا نقشہ اپنے ذہنوں میں لائیں جو مسلمانوں پر ڈھائے جاتے تھے تو اس کے بعد یقینا وہ رسول کریم ﷺ کے کسی فعل کو ظلم قرار نہ دیں بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ رسول کریم ﷺ نے ان کے ساتھ نہایت ہی نرم سلوک کیاہے۔ موجودہ جنگ یورپ کو ہی دیکھ لو کیا کیا مظالم ہیں جو ایک دوسرے پر ڈھائے گئے ہیں اور کس طرح دشمن سے انتقام لینے کیلئے بربریت کے نظارے پیش کئے گئے ہیں۔ حالانکہ اس زمانہ کے لوگ اپنے آپ کو تہذیب و تمدن کے اعلیٰ مقام پر پہنچے ہوئے تصور کرتے ہیں۔ مگر مسلمانوں نے تو کوئی ظلم بھی نہیں کیا۔ صرف بدرکے موقعہ پر چند ایسے مردوں کو گھسیٹ کر گڑھے میں ڈال دیا جو مسلمانوں کو سالہاسال تک تپتی ریت اور سخت پتھروں پر گھسیٹتے اور گھسٹواتے رہے تھے۔ پس فرمایا جس طرح یہ لوگ ہمارے بندوں کو ان کے بال پکڑ پکڑ کر گھسیٹتے ہیں اسی طرح ہم بھی ان کے بالوں سے ان کو گھسیٹیں گے۔ مگر یہ خیال نہ کرنا کہ ہم ظلماً ایسا کریں گے۔ کیونکہ لنسفعا بالناصیۃ ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ ایسی ناصیہ گھسیٹی جائے گی جو کاذبۃ جھوٹی تھی خاطئۃ خطاکار تھی اور مجرم کو سزا دینا ظلم نہیں کہ تم یہ کہہ سکو کہ انہیں کیوں گھسیٹا جائے۔ گھسیٹا اس لئے جائے گا کہ وہ مجرم اور خطاکار ہیں اور دنیا کا کوئی قانون مجرم کو سزا دینا ظلم قرار نہیں دیتا۔
    فلیدع نادیہ O
    پس (کافر کو) چاہئے کہ وہ اپنی مجلس کو بلائے۔
    حل لغات:۔النادی عربی زبان میں اس مجلس کو کہتے ہیں جس میں دن کے وقت لوگ بیٹھ کر مختلف امور کے متعلق باہم مشورہ کرتے ہیں (اقرب)جسطرح مائدہ اس دستر خوان کو کہا جاتا ہے جس پر کھانا چنا ہوا ہو۔اسی طرح ا لنادی مجلس کو کہا جاتا ہے مگر اس مجلس کو جس میں آدمی بیٹھے ہوئے ہوں خالی کمرہ کو نہیں کہتے۔(اقرب)
    تفسیر:۔کفار مکہ آپس میں کہا کرتے تھے آج بڑا مشورہ ہوا ۔ آج محمد ﷺاور ان کے ساتھیوں کے با ئیکاٹ کا فیصلہ کر دیا گیا ہے آج ان کو مارنے پیٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔آج ان کے قتل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔فرماتاہے لوگ جس مجلس کے حوالے دیا کریں گے اور کہیں گے کہ آج یہ فیصلہ ہوا۔کل وہ فیصلہ ہوا۔ ہم اسی مجلس کے متعلق اس دن کفار سے کہیں گے اب کیوں کسی کو اپنی مدد کے لئے نہیں بلاتے ۔جائو اور اپنے ساتھیوں کو بلائو جن کے ساتھ مل کر تم مسلمانوں کے خلاف دن رات منصوبے کیا کرتے تھے اور دیکھو کہ اس موقع پر وہ تمھارے کام آتے ہیں یا نہیںتم نے مسلمانوں کے خلاف تو منصوبے کر لئے اب تم ہماری گرفت میں آچکے ہو ۔اگر تم میں طاقت ہے تو اب اپنے مشیروں کو بلائو اور ان سے کہو کہ تمہاری مدد کریں۔
    سندع الز با نیۃO
    حل لغات:۔الزبا نیۃ: زبن سے ہے اور زبن (یز بن ز بنا) کے معنے ہوتے ہیں دفعہ اس کو دور کر دیا ۔ صدمہ اس سے ٹکرایا (اقرب)اسی طرح لکھا ہے الزابانیۃ عندا لعرب الشر ط یعنی ز بانیۃکے معنی عربی زبان میں پولیس کے ہوتے ہیں(اقرب)
    تفسیر:۔فرماتاہے وہ بھی اپنے ساتھیوں کو بلاتے اور مسلمانوں کے خلاف مجالس منعقد کیا کرتے تھے اس کے مقابل میں ہم بھی اپنی پولیس کو بلانے والے ہیں ۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ زبا نیہ سے مراد دوزخ کے فرشتے ہیں مگر میرے نزدیک یہ دوزخ کے نہیں بلکہ جنت کے فرشتے ہیں اور اس سے مراد صحابہؓ ہیںجنہوں نے بدر کی جنگ میں کفار کو ان کے بالوںسے پکڑ کر گھسیٹا اور انہیں ان کے کیفر کردار تک پہنچایا انہی صحابہؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یہ مظلوم ،کمزور اور بے بس مسلمان جنہیں تم نے اپنے مظالم کا تختہ مشق بنایا ہوا ہے ہماری پولیس کے سپاہی ہیں ۔ پولیس والا کبھی اکیلا پکڑا جاتا ہے اور چوروں اور ڈاکوئوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو وہ اسے خوب مارتے پیٹتے ہیں مگر جب گارد آتی ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کی اس میں طاقت نہیں رہتی۔اسی طر ح تم آج ایک ایک دو دو مسلمانوں کو پکڑتے ہواور ان کو مصائب وآلام میں مبتلا رکھتے ہو اور خیال کرتے ہوکہ ہمارا ان لوگوں نے کیا بگاڑ لینا ہے ۔ ہم طاقتور ہیں یہ کمزور۔ ہم جتھے والے اور یہ انگلیوں پر گنے جانے والے چند افراد ۔ لیکن تم اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ یہ کمزور اور اکیلے نظر آنے والے ہماری پولیس کے آدمی ہیں ۔ جب تمہارے مظا لم کا انتقام لینے کے لئے ہماری گارد آئی تو اس وقت دنیا دیکھے گی کہ تمہاراکیسا عبرتناک انجام ہوتا ہے۔ جب ہماری گارد آئی تواس وقت تم میں سے کسی ایک میں بھی یہ طاقت نہیں ہوگی کہ اپنی انگلی تک مقابلہ میں اٹھاسکے۔ چنانچہ دیکھ لو مکہ کے کتنے بڑے بڑے سردار تھے مگر مسلمانوں کی شوکت کے زمانہ میں اللہ تعالی نے ان کو کیسا ذلیل کردیا۔
    حضرت عمرؓ اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک دفعہ مکہ میں آئے تو وہی غلام جن کو سر کے بالوں سے پکڑ پکڑ کر لوگ گھسیٹا کرتے تھے ایک ایک کر کے حضرت عمرؓ کی ملاقات کے لئے آنے شروع ہوئے۔ وہ عید کا دن تھا اور ان غلاموں کے آنے سے پہلے مکہ کے بڑے بڑے رئوساء کے بیٹے آپکو سلام کرنے کے لئے حاضر ہو چکے تھے ۔ ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ بلال ؓآئے۔وہی بلالؓ جو غلام رہ چکے تھے جن کو لوگ مارا پیٹا کرتے تھے جن کو کھردرے اور نوکیلے پتھروں پر ننگے جسم سے گھسیٹا کرتے تھے ، جن کے سینہ پر بڑے بڑے وزنی پتھر رکھ کر کہا کرتے تھے کہ کہو میں لات و عزی کی پرستش کروں گا مگر وہ یہی کہتے کہ اشھد ان لا الہ ا لا اللہ۔حضرت عمرؓ نے جب بلال کو دیکھا تو ان رئوساء سے فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جائو اور بلالؓ کو بیٹھنے کی جگہ دو ۔ ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ ایک اور غلام صحابی آگئے ۔ حضرت عمرؓ نے پھر ان رئوساء سے فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جائو اور ان کو بیٹھنے دو۔تھوڑی دیر گذری تو ایک غلام صحابی آگئے۔ حضرت عمرؓ نے حسب معمول ان رئوساء سے پھر فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جائواوران کو بیٹھنے کی جگہ دو ۔ اتفاق کی بات ہے چونکہ ان کو اللہ تعالی نے ذلیل کرنا تھا اس لئے یکے بعد دیگرے آٹھ دس غلام آگئے اور ہر دفعہ حضرت عمرؓ ان روئوساء سے یہی کہتے چلے گئے کہ پیچھے ہٹ جائواور ان کو بیٹھنے کی جگہ دو۔ ان دنوں بڑے بڑے ہال نہیں بنائے جاتے تھے بلکہ معمولی کوٹھڑیاں ہوتی تھیںجن میں زیادہ آدمی نہیں بیٹھ سکتے تھے ۔ جب تمام غلام صحابہ ؓ کمرے میں بھر گئے تو مجبوراً ان رئوساء کو جوتیوں والی جگہ میں بیٹھنا پڑا۔یہ ذلت ان کے لئے نا قابل برداشت ہو گئی وہ اسی وقت اٹھے اور باہر آکر ایک دوسرے سے کہنے لگے دیکھا آج ہمیں کیسا ذلیل کیا گیا ہے یہ غلام جو ہماری خدمتیں کیاکرتے تھے ان کو تو اوپر بٹھایا گیا ہے مگر ہمیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا یہاں تک کہ ہٹتے ہٹتے ہم جوتیوں والی جگہ پر جا پہنچے اور سب لوگوں کی نگاہ میں ذلیل اور رسوا ہوئے۔ ایک شخص جو ان میںسے ذیادہ سمجھدار تھا جب اس نے یہ باتیں سنی تو کہا یہ تو ٹھیک ہے کہ ہماری رسوائی ہوئی لیکن سوا ل یہ ہے کہ آخرایسا کس کی کرتوتوں سے ہوا؟ ہمارے باپ بھائی جب محمد رسولﷺ اور ان کے ساتھیوں کو مارا پیٹا کرتے تھے اس وقت یہ غلام آپ پر اپنی جانیں فدا کیا کرتے تھے ۔ آج چونکہ محمد رسولﷺ کی حکومت ہے اس لئے تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ ان کو ماننے والے کن لوگوں کو عزت دیں گے آیا تم کو جو مارا کرتے تھے یا ان غلا موں کو جو اپنی جانیں اسلام کے لئے قربان کیا کرتے تھے۔ اگر انہی کر عزت ملنی چاہیے تو پھر تمہیں آج کے سلوک پر شکوہ کیوں پیدا ہوا؟ تمہارے اپنے باپ دادا کے اعمال کا یہ نتیجہ ہے کہ تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں ہو رہا جو غلاموں کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور کہنے لگے ہم حقیقت تو سمجھ گئے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس رسوائی کا کوئی علاج نہیں؟ بے شک ہمارے باپ دادا سے بڑا قصور ہوا مگر آخر اس قصور کا کوئی علاج بھی ہوناچاہیے جس سے یہ ذلت کا داغ ہماری پیشانی پر سے دھل سکے ۔اس پر سب نے فیصلہ کیا کہ ہماری سمجھ میں تو کوئی بات نہیںآتی۔ چلو حضرت عمرؓ سے ہی پوچھیں کہ اس رسوائی کا کیا علاج ہے؟ جب وہ دوبارہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اس قت تک مجلس برخاست ہوچکی تھی اور صحابہؓ سب جاچکے تھے۔ انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ آج ہمیں اس مجلس میں آکر جو دکھ پہنچا ہے اس کے متعلق ہم آپ سے مشورہ کرنے آئے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا دیکھو برا نہ منانا۔ یہ لوگ رسول کریم ﷺ کے صحابہ تھے اور رسول کریم ﷺ کی مجلس میں ہمیشہ آگے بیٹھا کرتے تھے اس لئے میں بھی مجبور تھا کہ انہیں آگے بٹھاتا۔ بیشک تمہیں میرے اس فعل سے تکلیف ہوئی ہوگی مگر میں مجبور تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی اس مجبوری کو سمجھتے ہیں ہم صرف یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس ذلت کا کوئی علاج ہے؟ اور کیا کوئی پانی ایسا ہے جس سے یہ داغ دھویا جاسکے؟ حضرت عمرؓ جو ان نوجوانوں کے باپ دادا کی شان و شوکت اور ان کے رعب اور دبدبہ کو دیکھ چکے تھے جب انہوں نے یہ بات سنی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈباآئے کہ یہ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے کہاں سے کہاں آگرے ہیں اور آپ پر رقت اس قدر غالب آئی کہ آپ ان کی بات کا جواب تک نہ دے سکے صرف ہاتھ اٹھا کر شام کی طرف جہاں ان دنوں قیصر کی فوجوں سے لڑائی ہورہی تھی اشارہ کردیا۔ مطلب یہ تھا کہ اب ذلت کا یہ داغ اسی طرح دھل سکتاہے کہ اس لڑائی میں شامل ہوکر اپنی جان دے دو۔ چنانچہ وہ اسی وقت باہر نکلے اپنے اونٹوں پر سوار ہوئے اور شام کی طرف روانہ ہوگئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں سے ایک شخص بھی زندہ واپس نہیں آیا۔ اس طرح انہوں نے اپنے خون کے ساتھ اس ذلت کے داغ کو مٹایا جو ان کی پیشانی پر اپنے باپ دادا کے افعال کی وجہ سے لگ گیا تھا۔ پس فرماتاہے کہ وہ بے شک اپنی مجلس کے آدمیوں کو بلایں ہم بھی اپنی پولیس کے آدمیوں کو بلائیں گے اور ان سے چوروں اور ڈاکوئوں والا سلوک کریں گے۔
    کلا لا تطعہ واسجد واقترب O
    یوں نہیں (ہوگا جس طرح دشمن چاہتا ہے) (ا ے نبی اور اس کے متبع) تو اس (کافر) کی اطاعت نہ کر اور اپنے رب کے حضور میں (ضرور) سجدہ کر اور اس سجدہ کے نتیجہ میں اپنے رب کے قریب تر ہوجا۔
    تفسیر: کلا لا تطعہ ۔ یعنی خبردار جس طرح تو خیال کرتا ہے اس طرح نہیں ہوگا۔ اے محمد رسول اللہ ﷺ کوماننے والے تو دشمن کی بات نہ مانیو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے کبھی نہ رکیو بلکہ واسجد یہ لوگ تجھے جتنا زیادہ روکیں تو اتنے ہی زیادہ زور کے ساتھ ہمارے حضور سجد میں گرجا۔ نتیجہ کیا ہوگا تو سجدہ میں جائے گا تو یہ تجھے ماریں گے مگر اس کے نتیجہ میں تو خداتعالیٰ کے اور بھی زیادہ قریب ہوجائے گا۔
    ایک سجدہ وہ ہوتا ہے جو امن کی حالت میں کیا جاتا ہے اور ایک سجدہ وہ ہوتا ہے جو لڑائی اور بدامنی کی حالت میں کیاجاتا ہے۔ وہ سجدہ جو ایسی حالت میں کیا جائے جب انسان کو عبادت سے روکا جاتا ہو اور اسے اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہونے کی وجہ سے قسم قسم کے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہو وہ سجدہ انسان کو آناً فاناً کہیں کاکہیں پہنچادیتا ہے۔ ایک سجدہ وہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے گھر میں اطمینان سے بیٹھا ہوتا ہے، اٹھتا ہے وضو کرتا ہے اور مصلے پر کھڑا ہوکر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گرجاتاہے۔ لیکن ایک سجدہ وہ ہوتا ہے جب محض سجدہ کی وجہ سے انسان کومارا پیٹا جاتا ہے یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حضور جو قدر و قیمت رکھتا ہے وہ سجدہ نہیں رکھتا جو امن کی حالت میں کیا جاتا ہے۔
    آج سے سوسال پہلے بھی اسلام کی تبلیغ کرنے والے مسلمان دنیا میں موجود تھے۔ آج سے سو سال پہلے بھی اسلام کیلئے روپیہ خرچ کرنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے۔ آج سے سو سال پہلے بھی اسلام کے ہمدرد دنیا میں موجود تھے مگر ان کی تو تعریف کی جاتی تھی اور ہماری مذمت کی جاتی ہے۔ ان کے متعلق تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ لوگ اسلام کے بڑے ہمدرد ہیں۔ مگر ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہم اسلام کے بہت بڑے دشمن ہیں حالانکہ ہمارا جرم کیا ہے؟ ہماری جمااعت کے لوگ وہ ہیں جو اشاعت اسلام کیلئے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر روپیہ بھجواتے ہیں۔ خدائے واحد کا نام بلند کرنے کیلئے آٹھ آٹھ دس دس سال تک ممالک غیر میں اپنے بیوی بچوں سے جدا رہتے ہیں۔ جہاں بھی اسلام ااور کفر کا ٹکرائو ہو وہاں ایک بہادر پہلوان کی طرح پہنچ کر کفر کے مقابلہ میں اپنا سینہ تان کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح نمازیں بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، حج بھی کرتے ہیں، زکوٰۃ بھی دیتے ہیں، قرآن بھی پڑھتے ہیں، کلمۂ طیبہ پر بھی ایمان لاتے ہیں اور اسلام کے ہر حکم پر بدل و جان عمل کرنا جزو ایمان سمجھتے ہیں۔ مگر ہمیں تو گالیاں دی جاتی ہیں اور پہلے لوگوں کی تعریفیں کی جاتی ہیں حالانکہ ان کا کام ہمارے کام کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔
    غرض جس قسم کی قربانی پر پہلے تعریفیں ہوتی تھیں اسی قسم کی قربانی پر آج ہمیں ماریں پڑتی ہیں۔ اسی طرح محمد رسول اللہ و اور آپ کے ساتھیوں کے سجدے اور بعدمیں آنے والے مسلمانوں کے سجدے میں فرق ہے۔ بعد میں سجدہ کرنے والے وہ تھے جن کی چاروں طرف سے تعریفیں ہوتی تھیں اور کہا جاتا کہ دیکھو فلاں شخص کتنا بزرگ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کتنے سوز و گداز کے ساتھ عبادت کرتا ہے۔ مگر رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اس سجدہ کی کیا قیمت تھی۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوسکتا ہے جس کا تاریخ میں ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺسجدہ میں پڑے ہوئے تھے کہ کفار مکہ اونٹ کی ایک بڑ