1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تفسیر احمدی ۔ یونی کوڈ

'یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تفسیر احمدی ۔ یونی کوڈ


    اطلاع
    اس تفسیر میں رکوع کے اوپر جو ہندسہ دیا ہوا ہے وہ سورۃ کے حساب سے اور نیچے کا پارہ کے حساب سے ہے اور جہاں رکوع کے اوّل (پ) اور بعد (ع بار) ہے اس سے پارہ اور رکوع مراد ہے۔
    اور (ت) سے تفسیر جس کے نیچے ہندسے لگے ہوئے ہیں ۔ اس سے نمبر مضامین مراد ہیں۔
    (میر فضل احمد)
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
    اوضح القران
    سورہ فاتحہ
    تمہید۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے کہ سورہ فاتحہ داخل قران نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کلام الٰہی ہو یا تو ترمین اس کے فرق آتا ہو بلکہ یہ سورۃ قرآن شریف کا اصل متن ہے اور باقی حصہ الم سے والناس تک اس کی شرح ہے۔ چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اینتنک سبعا من الموثانی والقران العظیم اور قرآن فیض رحمانی کا نزول ہے۔ جیسا کہ الرحمن علم القران وننزل من القران ماھو شفا ورحمۃ یہ سورہ شریف ایک دعا ہے جامع جس کا مقابلہ کوئی دعا نہیں کر سکتی۔
    ت۔ بسم اللہ کی ب متعلق بہ فعل اقرء ہے بہ معنی استعانت۔ چنانچہ واللہ المستعان اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیف سے مدد لے سکتے ہیں اور ایاک نستعین پس با کو استعانت کے لئے تجویز کرنا ناجائز یا خلاف ادب نہیں ت اللہ حقیقی معبود جس کے ہر آن ہم محتاج ہیں تمام کامل خوبیوں سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ یہ اسم اعظم ہمیشہ سے اسماء حسنی کا موصو ف ہی رہے گا۔ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سات صفات اک بیان کیا ہے۔ (۱) اسم اعظم اللہ (۲) الرحمن (۳) رحیم (جو بسم اللہ میں ہے) (۴) رب العالمین (۵) رحمن (۶) رحیم (یہ مکرر نہیں بہ اعتبار اپنے خواص و معانی ومحل کے) (۷) مالک یوم الدین ۔ ت ۔ رحمن محض فضل سے دینے والا بلامبادلہ اعلیٰ سے اعلیٰ بخشنے والا جیسے کہ اس نے آسمان اور زمین وغیرہ کی چیزیں ہمارے لئے بنائیں۔ آیہ شریف ان فی خلق السموت والارض ت رحیم۔ اسی فرمانبرداریوں پر عمدہ سے عمدہ نتائج دینے والا ۔ مثلاً ایمان سے راضی ہوتا ہے۔ اعمال صالحہ سے آرام بخشتا ہے۔ سعی و کوشش کے عمدہ پھل دیتا ہے۔ ت رب کے معنی پانے والا ۔ بتدریج ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جانیوالا۔ ت ال کے معنی سب عالم کے معنی جہاں عالمن کے معنی بہت جہان۔ ت۔ مالک یوم الدین یوم کے معنی وقت دین کے معنی جزا اور سزا طریقہ و قیامت دنیا میں بھی جزا و سزا ہوتی رہتی ہے۔ قبر میں بھی ہو گی پھر حسر میں پھر صراط پر ۔ پھر جنت اور غار میں اور ان سب مقامون اوروقتوں کا اللہ ہی مالک ہے اور اس کی جزا اور سزا سمجھ داروں کے لئے کھلے طور پر روز روشن کی طرح یہان بھی ہوئی ہے۔ مسئلہ جزا و سزا رحم پر مبنی ہے اور تکمیل نفس مقصود ہے۔ ت ۔ ایاک نعبد وایاک نستعین ۔ چونکہ کلام تین قسم کا ہوتا ہے پہلا عرضی نویس اگر قانون کا ناواقف لکھ دے تو نامقبول واقف لکھے تو مقبول ہو۔ دوسرا اور خواسف گزار خود ہی لکھ دے۔ تیسرے حاکم خود لکھوا دے۔ قرآن مجید یتنون قسم کے کلام موجود ہیں پس ایاک نعبد وایاک نستعین وہ عرضی ہے جو حاکم نے خود لکھ دی۔ ت۔ اھدنا ہدایت کے معنی قرآں شریف میں چار قسم کے آتے ہیں۔ پہلے فطری قویٰ کے موافق عملدرآمد کرنا چاہے۔ اعطی کل شی خلقہ ثم ھدی دوسرا نیک اعمال کے بعد اور نیکی کی توفیق بخشنا جیسے والذین اھتدو از ادھم ھدی تیسرے اپنی رضامندی کی راہوں کی طرف بلانا۔ مثلاً انا علینا للھدی چوتھے کسی کامیابی کی منزل پر پہنچنا۔ جیسے بہشتو کا قول الحمد للہ الذی ھدانا لھذا وما کنا لنھتدے لوکان ان ھدانا للہ اور ضلالت اس کے بالمقابل ہے ۔ ت۔ انعمت علیھم قرآں کریم میں بہ کثرت اسی جماعت کا ذکر اور مقصوفد بالذات بھی یہی جماعت ہے انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین بالشھد وغیرہ وغیرہ انبیاء صدیقن ۔ شہداء ۔ صالحین کی کارروائی اور اعمال میں فرق کی مثال انبیاء مثل کل کے صدیقین مانند کتگہ دار کے شہدا۔ حضوری میں کام کرنے والے صالحین بہ آہستگی کام کرنے والے۔ کام کی صلاحیت رکھنے والے ۔ ت۔ المغضوب کے دو نشان ہیں پہلے علم بلاعمل ۔ دوسرے بغضو حسد بے جا یا اولیاء و انبیاء یہ اصطلاح حدیث میں یہودی کہلاتے ہیں۔ کسی فرقہ کے ہوں ۔ ت۔ ضالین کے بھی دو نشان ہیں پہلے الہیات کا علم نہیں مالھم بہ من علم ولا لاباء ھم سورہ کہف ۔ دوسرے بے جا محبت بزرگوں سے جیسے المسیح ابن اللہ ضالین میں شد و مد ہے اس لئے ان کا زمانہ لمبا ہو گا اور بہ اصطلاح حدیث نصاریٰ کہلاتے ہیں ۔ تمام قرآن شریف میں الٰہی تین قوموں کا ذکفر ہے یہ تین جماعتیں دنیا میں از آدم ناقیام قیامت و آخر دم تک ہمیشہ رہتی ہیں۔ پہلے انعمت علیھم ۔ دوسرے مغضوب تیسرے ضالین۔ ان کی شرح حالات تمام قرآن مجید میں آتی رہے گی جو خلاصۃ اس دعا واعظم میں مذکور ہیں۔ ت۔ آمین۔ یہ کلمہ داخل قرآن نہیں۔ مگر بعد سورہ فاتحہ اس کا پڑھنا سنت ہے۔
    الجزاء
    سورۃ البقرۃ
    ت ۔ اعوذ باللہ ۔ قرآن مجید اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے اوّل اعوذ باللہ پڑہنا چاہئے چنانچہ ارشاد الہٰی اذا قراء ت القرآن فاستعذ باللہ ہے ۔ ت۔ الم یعنی انا اللہ اعلم۔ حضرت علی و ابن عباس وابی ابن کعب و حضرت اوبن مسعود رضی اللہ عنہم نے یہی معنی کئے ہیں۔ اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود ومہدی معود نے بھی مجھے یقین ہے کہ انہوں نے ابن عباس وابن مسعود کی تقلید سے یہ معنی نہیں کئے۔ بلکہ اپنے ذَق و تحقیق سے بیان کئے۔ معنی یہ ہیں۔ میں اللہ بہت جاننے والا ۔ آقا کا پہلا حرف لے لیا۔ اللہ کا درمانی اور اعلم کا آخری مجموعی حیثیت سے لوگوں نے طبع آزمائیاں کی ہیں دوسرے معانی بھی اپنے ذوق کے مطابق بیان کئے ہیں۔ چنانچہ ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس سورہ میں آدم بنی اسرائیل اور ابراہیم کا قصہ آئے گا۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام صاحب الوحی والا الہام نے مذکورعہ بالا معنی یعنی انا اللہ اعلم پر زور دینے کے لئے یہ معنی لئے ہیں کہ ہر ایک شئے کے لئے علل اربعہ ہوا کرتے ہیں۔ یعنی (۱) علت غائی ۔ (۲) علت صوری ۔ (۳) علت مادی ۔ (۴) علت فاعلی اس کے لئے دھی للمتقین علت غائی ہے اور لاریب فیہ علت صوری ہے اور ذالک الکتاب علت مادی ہے اور انا اللہ اعلم علت فاعلی ہے۔ ف۔ قبل نزول قرآن بھی زبان عربی میں مقطعات کا ثبوت پایا جاتاہے۔ چنانچہ سان العرب جلد (۱) میں یہ دو شعر موجود ہیں
    نادیتھم ان انجموالا ت
    قالوا جمیعا کلھم الا ف
    قلت لھا خفی فقالت ق
    اوزان طبیہ میں اہل طب مکد بجائے من کل واحد کے اور محدثین نے فارثنا وہا اور زمانہ حال میں اہل یورپ نے مقطعات کا استعمال حد سے زیادہ کیا ہے۔ ت۔ اکتب کتاب مصدر ہے اس کے معنی ہیں لکھنا ۔ جمعکرنا۔ یہاں مفعول کے معنی دیتا ہے ۔ (کتاب بمعنی مکتوب) جیسے لباس بہ معنی ملبوس ہے ۔ ت۔ ریب تھمت قلق رنج۔ ہلاکت شک و تردد۔ ت۔ پرہیزگاروں کی تشریح اور معنی پارہ (۲) رکوع (۵) میں لفظ لیس البر ان تولوا سے ھم المتقون تک بیان ہوئے ہیں بہ غور ملاحظہ ہوں۔ ت۔ الغیب سے مراد قبل رویتہ العذاب یا الگ یا تنہائی میں رہ کر یا بے دیکھے ۔ ت۔ یقیمون اقامت کسی کسی شئے کو پورا پورا ادا کر دینا ۔ ت۔ الصلوۃ سے مراد مطلق دعا یا نماز اسلام ۔ ت۔ مما رزقنھم ینفقون ہمارے دئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں ۔ یعنی بخل کی عادت نہیں اور مما رزقنھم میں ہر شئے جو انسان کو خدا نے عطا کی ہے اس کو برمحل خرچ کرنا مراد ہے نہ صرف اک مال ہی ۔ ت۔ ما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالاخرۃ ھم یوقنون ان جملوں میں آریہ و برہموں قوم کا رد ہے۔ قوم برہمو تو کہتی ہے سابق اور حال میں الہام ہوا ہی نہیں۔ اور قوم آریہ کہتی ہے سابق اور حال میں الہام ہوا تھا پھر الہام بند ہو گیا۔ اسی طرح فیض سید المرسلین کے منکر فیض پانے والے اولیاء مقدسین کے الہام اور وحی مابعد رسول کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فیض بعد سید المرسلین کے قطعاً بند ہو گیا حالانکہ دینی و دنیوی کل قوی علی حالہ ؓغالب و شایق بہ رعائی خود ہیں تو کس طرح محبوب کی باتوں سے دل سیری اور عدم ضرورۃ ہو۔ ہاں اتنا ہم بھی مانتے ہیں کہ اب براسہ سید المرسلین خاتم النبیین سرتاج اولین والاخرین کے در مبارک کے بغیر کوئی اس مقام میں جانہیں سکتا آپ کی اتباع میں سب کچھ مل سکتا ہے یہ نہیں کہ حضور کے کمال نے بھی مشتاقوں کو ترستا چھوڑا۔ الھم صل علی سیدنا ومولنا محمد فی کل وقت وحین وصلی علی جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی ملائکۃ المقربین وعلی عبادک الصالحین وعلی اھل طاعتائے اجمعین وارحمنا معہم برحمتک یاارحم الرحمین
    اولین کے فیض تو سب رک گئے
    ایک ہے وریا یہی جو ہے سدا
    اس لئے ارشاد ہوا وبالاخرۃ ھم یوقنونا ور وہ پچھلی آنے والی پر بھی یقین رکھتے ہیں جو فیض محمدی سیمالا مال ہیں۔ سلسلہ کلام نزول وحی میں ہے مطلب یہہ ہوا کہ وہ پہلی وحیوں اور الہاموں پر بھی کامل متبعین وخدامون پر آئیاور تاققیام قیامت آتی رہے گی۔ اس پر بھی یقین رکھتے ہیں اور وہ غیر مقلدیا وہابی یا برہموو آریہ نہیں ہیں۔۔ ت۔ اولئک ھم المفلحون متقی کی ابتدا تین باتوں سے شروع ہوتی ہے (۱،) ایمان بالغیب رکھنا ۔ (۲) نماز و عبادت میں دعا کا قایل و عامل ہونا (۳) کچھ نہ کچھ خدا کی راہ میں دینا۔ دوسرا مرتبہ متقی کی ترقی کا ہے۔ اب اور گزشتہ و بعد کی وحی اور الہام پر ایمان لانا اور مظفر و منصور ہونا۔ یہ پہلی جماعت منعم علیہ کا حال ہے۔ ت۔ سواء علیھم (ترجمہ) انذار و عدم انذار کو تیرے برابر سمجھا وہ کبھی ننگے نہیں۔ مغضوب کے (۳) نشان ہیں (۱) کلمہ راستی کا انکار۔ چشم حق میں نہ رکھنا۔ اور قلوب لاہیہ اور شتی رکھنا۔ اور فتوی الہی ان مغضوبوں کی نسبت ختم اللہ عل قلوبھم ہے جو رد جبریہ ہے۔ یہ دوسری جماعت مغضوب یا یہود کا حال ہے۔ ت۔ ومن الناس ضالین کے لئے دو رکوع ہیں یہ ان کے شدومد کی وجہ سے ہے منافق کی پہچان با مسلمان اللہ اللہ بابرہمن رام رام ۔ اور صلح کل کا مدعی ہوتا ہے یا دل سے قائل ہوتا ہے عملاً نہیں کیونکہ مختلف صحبتوں میں بیٹھنا پڑتا ہے اور وہ اپنے کو مصلح اور ہوشیار اور دوسروں کو سفیحہ اور کم عقل سمجھتا ہے اور یہ تیسری جماعت ہے جو بہ اصطلاح حدیث نصاریٰ کہلاتی ہے ۔ ت۔ لا یشعرون شعور رکھتے ہیں اس فہم کو جو حواس ظاہری سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی واسطے موٹی موٹی باتیں نہ سمجھنے والے کو بے شعور کہتے ہیں۔ یا بال برابر کی عقل نہ رکھنے والا یشعر سے مشتق ہے ۔ ت۔ فما زنجت تجارتھم ضالین بڑے تاجر ہوں گے مگر دینی ہدایت جو اعلیٰ درجہ کی نفع رساں اور پائدار ہے نہ لیں گے جیسے کہ مذاہب عالم والے …… آتے ہیں کہ اس نفع سے بالکل بے بہرہ اور بے … ہیں سوائے متقی اہل اسلام کے قبل من عبادی الشکور کا رنگ کہتے ہیں اللھم مصلح امۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ت۔ کمثل الذی اتقوا قد نارا۔ منافقوں کی دو قسمیںہیں ایک اعتقادی دوسرے عملی مثال میں کفار منافق کو تشبیہہ دی گئی ہے۔ خشکی یعنی نار سے یہ اعتقادی ہیں۔ اور دوسری یعنی او کصیب میں تشبیہہ دی گئی ہے منافق مسمان کو پانی سے یہ عملی منافق ہیں جو تمام رسم و رواجوں میں شریک رہتے ہیں ۔ ت۔ یجعلون اصابعھم مشکلات کے وقت کانوں پر ہاتھ دہرتے ہیں۔ بجلی کی آواز سے ڈرنا بے کار ہے کیونکہ پہلے واقعہ ہو چکتا ہے ۔ بعد آواز آتی ہے۔
    ۔ ت۔ اعبدوا عبادہ۔ طاعت۔ تذلل۔ فرمانبرداری وہ اعتقاد اور باتیں اور کام جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہیاور وہ اسی کے حکم کے مطابق ہوں ۔ ت۔ الارض ارض مشتق ہے اریضہ سے وہ سیاہ چھوٹا کیڑ اجو پانی پر دوڑتا پھرتا ہے اور اسی طرح والارض مھاوا وغرہ سے گردش زمین معلوم ہوتی ہے۔ محض جہوانا۔ گہوارہ بھی اس کے معنی ہیں ۔ ت۔ جنت عمدہ باغ (۱) تعلیم نبوی (۲) مدینہ طیبہ (۳) فتوحات (۴) عراق عرب و عجم و مصر و شام (۵) قبر (۶) محشر (۷) آخرت کے باغ بہشت ۔ ت۔ بعوضۃ بمعنی بعض مطلب بہہ کر اصل جنت کے بعض حصہ کا بیان یا تبعیض یا تفصیل یا مدینہ طیبہ یا فتوحات شام وغیرہ اگر اللہ تعالیٰ اجمالاً بیان کرے تو بھی ایمان وار دن کو موجب ایمان ہیاور تفصیلا ہو۔ جب بھی موجب انشراح صدر ہے۔ مچھر کی مثال قرآن شریف میں کہیں نہیںآئی ہے۔ باب اعتصام بالسنۃ میں ہمارے حضور سید المرسلین خاتم النبیین صاحب معراج نے فروش سے تشبیہہ دی ہے اور اپنے کو ان کا ناجی بتایاہے ۔ بعضٍ مفسروں نے کہا یہان بعوضہ سے پتنگوں کی طرف اشارہ ہے واللہ اعلم بالصواب ۔ ت۔ سمع سموات سات آسمان یا سات تارے یا سات قسم کے تارے ہیں اور دوسرے اعتبارات یعنی علم جغرافیہ اور ھیت اور فلاحت اور روحانی اور عالم مثال اور عالم آخرت اورجنت و دوزخ کے اعتبار سے بھی سات سات آسمان ثابت ہیں۔ اسی طرح زمینیں بھی ۔ ت۔ واذ قال ربک اب ہرسہ گروہ کا ذکرتمثیل رنگ میں ہوتا ہے ۔ سورہ الحمد میں حسن و احسان کا بیان تھا۔ حسن تام الحمد للہ رب العالمین میں بیان کیا گیا اور الرحمن الرحیم ملک یوم الدین میں احسان کامل کا ذکر تھا جس سے روح انسانی متاثر ہو کر ہمہ نیستی کے ساتھ اس جمیل و محسن حقیقی کے سامنے ایاک نعبد وایاک نستعین کہہ کر گر پڑی۔ اور اس سے اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم کی راہ منعم علیہ جماعت نے طلب کی تو خدا نے بعد اس رہ نمائی کے اس آیہ شریفہ میں ایک منعم علیہ کا ذکر فرمایا جو آدم ہے اور اس کے ساتھ اپنے فضل اور وحی و الہام اور اس کی اتباع اور اس کے دائمی کامیابی کا بیان فرمایا اور اس کے مقابل اس کا مخالف جو مغضوب ہے۔ ابلیس بتایا اور بھولے بھالے راست باز معترضین اور سائلین کو فرشتوں سے تشبیہہ دی جو ایک قسم کی ضلالت رکھتے تھے یہ اس قسم کی ضلالت ہے جیسا کہ سورہ والضحی میں ووجدک ضالا فھدی عاشقانہ مراہی اور دینداری کا جوش۔ یہاں اور تمام قرآن مجید میں جب کبھی کسی مامور یا خلیفہ کا ذکر ہو گا تو وہاں مراد ہمارے حضور سید المرسلین شفیع المذنبین خاتم النبیین غالباً ہوں گے اور آٌ کے مخالف ابلیس۔ ابوجہل۔ صاحب جہل مرکب اور سائلین و معترضین ضالین مراد ہوں گے کیا خوب کہا حرت معنوی نے اپنی مثنوی ہیں
    خوش ترآن باشد کہ سر دلبران
    گفتہ آید در حدیث دیگران
    ت۔ انی اعلم کا ثبوت وعلم ادم الا اسماء سے دیا یعنی ہمارے تعلیم یافتہ ہی ہمارے مرضی جانتے ہیں۔ دوسرا نہیں جانتا ۔ ت۔ انبونی سمیات کو پیش کیا۔ صوفیون نے اسماء الہی لئے اور فلاسفروں نے ہر چیز کا رب النوع لیا ہے ۔ ت۔ یابنی اسرائیل رکوع (۵) میں یہ دوسرا تمثیلی بیان ہے یعنی بنی اسرائیل منعم علیھم تھے خلاف مرضی کرنے سے مغضوب ہو گئے اور دائمی کامیابی کے وارث نہ ہوئے اللہ ہر دین دار کو ان سے بچائے ۔ ت۔ اوفوا بعھدی اللہ کا عہد پورا کرو فمن تبع ھدی اور جو اللہ کا عہد پورا کرے گا تو اوف بعھدکم تو اللہ اس کا عہد پورا کرے گا یعنی لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون کے مقام پر اسے پہنچا دے گا جو انبیاء اور اولیاء کا درجہ ہے الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون ۔ ت۔ واقیموالصلوۃ نماز کے اک یہ بھی معنی ہیں کہ انسان جو اقرار اللہ کے سامنے کرتا ہے اپنی حرکت و سکون سے اور ان اقراروں پر قایم رہے جیسے ایاک نعبد وایاک نستعین ایک اقرار ہے۔ ت۔ وارکعو مع الراکعین یعن جو رجوع بہ حق ہو رہے ہیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ان کے ساتھ تم بھی جہک جائو اور ساتھ ہو جائو ۔ ت۔ افلا تعقلون عقل کے معنی روکنے کے ہیں عقل اسی قوت کا نام ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے آپ کو بدیو اور خطرات سے بچاتا ہے یہ لفظ عقال سے نکلا ہے جسکے معنی وہ رسیاں ہیں جس سے اونٹ کا گھٹنا باندھا جاتا ہے ۔ ت۔ بالصبر مصیبت کے وقت اپنےآپ کو اطاعت پر جمائے رکھنا اور بدی سے یا معصیت سے روکے رکھنا۔ ت۔ یظنون انھم جس ظن کے بعد ان اس کا ترجمہ یقین کا ہو گا ۔ ت۔ لا تجزی جب مدینہ منورہ کے بنی اسرائیل کو کافر وں نے بھکایا تو جلا وطن ہو …… کافر بہکانے والے ان کی کوئی مدد نہ کر سکے ۔ ت۔ من بعد موتکم موت مرنے کے قیرب پہنچ جانے کی حالت کو بھی کہتے ہیں اور نیند کو نبی کریم ﷺ کی دعا میں ہے جب بیدار ہوئے فرمایا الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا۔ والیہ البعث وانشور ۔ دوسرا۔ لقنوا موتاکم بیاسین یعنی اپنے مرنے والوں کو یسین سمجھائو یہ ظاہر ہے کہ جو مر چکا ہو وہ سمجھنے سے قاصر ہے ایسا حکم تکلیف مالایطاق ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ نیند اور قریب المرگ حالت کو بھی موت کہتے ہیں لغت میں موت کے معنی دس بارہ سے زیادہ لکھے ہیں۔ چنانچہ قوت نامیہ کے گم ہونے پر یحی الارض بعد موتھا جھوٹااول من مات ابلیس مصائب باتیہ الموت من کل مکان عدم کون پر جیسے کنتم امواتا فاحیاکم کفر و جہالت اذا داعاکم لما یحیکم وغیرہ وغیرہ اور بہ معنی جنگ فتمنوالموت ان کنتم صدقین ۔ ت۔ اضرب بعضاک الحجر اس کے دو معنی ہیں عصا پتھر پر مار دوسرے معنی پہاڑ پر اپنی جماعت کو لے جا۔ پھر پانی اک چشمہ کھل گیا۔ یا مل گیا اور اللہنے صاحب کشف کو بتا دیا کہ یہاں پانی کا سوتا یا حوض ہیں ۔ ت۔ یقتلون الن بیین یقتلون کے ستاھ قتلا نہیں ہے جسسے وقوع فعل قتل ثابت نہیں۔ قتل اللہ فلانا اے دفع شرہ (ترجمہ) فلانے کو اللہ نے قتل کیا یعنی اس کی شر کو دفع کر دیا (۲) اقتلوا لاخر اے فابطلوا دعوۃ دوسری خلافت یا مدعی سلطنت کو قتل کر دو یعنی اس دوسرے کی دعوت کو باطل کر دو اور اس دوسرے کو ایسا کر دو کہ وہ مر گیا۔ (نھایہ) (۳) قتلت فلانا اے ذللتر (ترجمہ) میں نے فلانے کو قتل رک دیا یعنی ذلیل کر دیا۔ مطلق سختی کے معنی بھی آئے ہیں۔ ایک صحابی نے نبی کریم ﷺ کے حضور بار بار ایک شخص کی سفارش کی کہ یہ مومن آدمی ہے اس کو کچھ دو فرمایا اقتلا یا سعد علاوہ برین قرات متواترہ سے یہ بھی قراء ت ہے کہ یقتلون کے ق کے بعد الف بڑہایا جائے یعنی یقاتلون پڑہیں ہر کوئی اشکال نہیں ۔ ت۔ قردۃ خاسئین اس سے مراد نہیں کہ ان کی تبدیلی نوع ہو گئی تھی بلکہ تبدیلی روحانیت اور ان کی ذلت کی طرف اشارہ ہے کہ جیسے ذلیل بندر دوسرے کے نچانے سے ناچتا ہے ویسے ہی یہ یہودی محرم عزت جسمانیہ اور روحانیہ سے کئے گئے اس کا مفصل بیان مائدہ رکوع (۸) میں اور پارہ (۹) رکوع (۱۱) میں موجود ہے ۔ ت۔ تذبحو البقرۃ گائے کی پرستش ہو رہی تھی فرعون وغیرہ گائے کی پوجا کر رہیتھے اس لئے ایک خاص گائے کے ذبحکا حکمہوا۔ بطور اعلائے کلمۃ اللہ کے کیونکہ قومیں اگر ان کی منظورہ اور معبودہ چیزوں کو خلاف مرضی ان کے چھیڑا نہ جائے تو وہ کبھی بیدار نہیں ہوتیں اور نہ مقابلہ و تحقیق کرتی ہیں اور امور رسمیہ اور معتقدہ میں سے ہے کہ بعض چیزیں رسوم مذہبیہ میں بہت ہی سخت اور اہم سمجھی جاتی ہیں۔ حالانکہ دوسرے گناہ اس سے بدتر بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر مسلمان سے کہا جائے کہ تو قاتل ہے تو وہ اتنا برا نہیں مانے گا جتنا کہ اس سے کہا جائے کہ تو سور کہانے والا ہے علیٰ ہذا ہندو کو اگر کہا جائے کہ تو چور ہے تو اتنا برا نہیں منائے گا جتنا کہ اس کو کہا جائے کہ تو گائے ور ہے۔ یہ اسرار الہیہ ہیں۔ ماموروں پر کہو لے جاتے ہیں اور وہ حسب مصلحت الہی ان باتوں سے کسی کو چھیڑ دیتے ہیں اور پھر الہق اور الباطل کا جنگ شروع ہو جاتا ہے اور والعاقبۃ للمتقین نتیجہ ہوتا ہے فرعون کا تاج بھی گاو مکہی تھا شاید اس کا یہ مطلب ہو گا کہ میں گائے کو سر پر بٹھاتا ہوں اور تاج سریقین رکھتا ہوں ۔ ت۔ واذ قتلتم نفسا ایک یہودی نے ایک مسلم عورت کو مار دیا۔ وہ قریب الموت حالت میں بتا گئی کہ اس کا قاتل کون تھا بس حکم ہوا اس کو مار دو (شرح قدیم ) جو مشہور ہے کہ گائے کا ٹکرا مارنے سے مقتول زندہ ہو کر قاتل کا پتہ بتا گیا تھا اس کے ماننے سے ہمیں کوئی ہرج نہیں مگر تاریخ وئی شہادت نہیں ملتی۔ ہمارے معظم دوست فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قتل عیسیٰ علیہ السلام ہے جس کی برات اللہ ظاہر فرما دی ہمارے مرشد خضرت محمود احمد فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کعب بن اشرف ہے جو شریر فسادی یہودی تھا (شرح جدید)
    ت۔ اضربوہ ببعضھا یعنی ایک قاتلک ہے وہی قتل کیا جائے گا یا معلوم نہیں کئے بار جرم کر چکا ہے اب کے پکڑا گیا (۲) یعنی قصاص لویا اگر حرص بے جا ہو تو قناعت اختیار کرو ۔ منصبب ٹھہر کے تو حلم اور نرمی سے مقابلہ کرو ۔ ت۔ وان من الحجارۃ الخ مومن کی تین حالتیں ہونیچاہئیں پھلی حالت یہ ہے کہ اس سے عام فوائد ظاہر ہوں دوسرے حالت یہ ہے کہ کچھ تو سچے اور تیسری حالت یہ ہے کہ صرف ڈر ہی ڈر اللہ ۔ ت۔ یکتبون الکتب بایدیھم ان سے مراد قوم نصاری ہے جنہوں نے انجیل کو (۲۷) سو زبانوں میں ترجمہ کر ڈالا ع ۔ ت۔ مصدق لما معھم (۱)ان کی سچی باتوں کو سا قرار دینا (۲) ا ان کی پیشگوئیوں کا مصداق بیان کرنا (۳) یا ان کے دعوے پر دلائل قائم کرنا ۔ ت۔ فتموالموت جنگ یا میرے مرنے کی دعا کرو ۔ ولقد کنتم ممنون الموت اس آیت میں موت کے معنی جنگ کے بھی اے ہیں
    ت۔ لویعمر الف منہ (۱) ہزار سال کی بڑی عمر (۲) ایک یاجوج ماجوج کی پیش گوئی ہے کہ ہزار سال کے بعد ہو گی بعض کہتے تھے کہ اتنا جئین تو پھر مان لیں گے ارشاد ہوا یہ بات عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ ۔ ت۔ قل من کان عدوا الجبر جبرئل کا ذخر دانیال ب ۸ آیت ۱۲ تا ۱۶ میں ہے یعنی جبرئیل یا قدسی اہل کتاب کا مقبول ہے اس سے عداوت رکھنا خدا سے عداوت ہے ۔ ت۔ وما کفر سلیمن کل عیسائی اور بعض یہود سلیمان علیہ السلام کو کافر نعوذ باللہ سمجھتے تھے وجہ یہ تھی کہ علوم حقہ سے بے خبری اور گندے علوم کا زور اور بڑے بڑے دلچسپ نظارے جمع ہو گئے تھے۔ بابلی سلطنت جس میں کثیر التعداد آدمی بستے تھے۔ اور وہ ایسی علوم و فنون میں منھمک تھے جنہوں نے قلوب کو واھیہ اور لاہبہ بنا دیا تھا ۔ یعنی ناول وناٹک اور تماشے اور شعبدات وغیرہ ان میں کثرت سے پھیل گئے تھے اور رات دن وہ اسی میں لگے رہتے تھے اور متقی اور پرہیزگار دن کے سن کر اور دشمن تھے ۔ ت۔ السحر دل فریب باتیں قصے اور وہ امور جو خدا سے دور کر دیں فرمسنون کے لاج کا نام جادوگر اب تک مشہور ہے ۔ ت۔ وما انزل علی الملکین ببابل کہ یہ صورت مائے وصولہ ملثیت موافق ترجمہ متن ہاروت ماروت فرشتوں کے نام جن کے ذریعہ یہودیوں نے علم حاصل کر کے دشمنوں پر فتح پائی تھی اب ارشاد ہوا بمقابلہ سید المرسلین یہ خفیہ کمیٹی بحکم الہی کامیاب نہیں ہو سکتی ھاروت وماروت بنی اسرائیل جب مصر کی طرف گئے تو پہلے پہل ان کو یوسف علیہ السام کی وجہ سے آرام ملا پھر جب شرارت پر کمر باندھی تو فراعنہ کی نظر میں بہت ذلیل ہوئے مگر خدا نے رحم کیا اور موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کو نجات ملی یہاں تک کہ وہ فاتح ہو گئے اور اپنے کو نحن انباء اللہ واحیاء ہ سمجھنے لگے (وجودی بن گئے) جب ان کی حالت تبدیلی ہو گئی عجزو انکسار جاتا رہا حرام کاری اور شرک اور زنا اور ظلم و تعدی غرض بہت بدذاتیاں پھیل گئیں تو ایک زبردست قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلط کیا۔ فاذا جاء وعد اولھما الخ ۷۰ برس ذلت کی بلا میں مبتلا رہے جب بابل میں دکھوں کا زمانہ بہت لمبا ہو گیا اور لوگ دنیا سے بیزار ہو کر صلحاء بن گئے حتی کہ دانیال اور عزار حزقیل ارمیا و نحمیاہ جیسے بزرگ برگزیدہ بندگان خدا پیدا ہوئے اور انہوں نے جناب الٰہی میں خشوع خضوع سے دعائیں کیں انکو الہام ہوا کہ وہ نسل جس نے گناہ کیا تھا وہ تو ہلاک ہو چکی اب ہم تمہاری خبر گیری کرتے ہیں جو اصل کے قائم مقام ہو تمہاری حیات و بقا اگلی بچھلی قوم کی حیات و بقا ہے ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے کام دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جس میں انسان کو مطلق دخل نہ ہو۔ مثلاً سردی میں آفتاب ہم سے دور چلا جاتا ہے اور گرمی میں قریب آجاتا ہے۔ آگ میں حرارت پانی میں برویت وغیرہ۔ دوسرے وہ کام جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی معرفت ان کو شرف دینے کے لئے کراتا ہے۔ نانچہ دانیال وغیرہ برگزیدہ بندوں کو اللہ نے سمجھایا کہ یہ زبردست بادشاہ اب ہلاک ہونے والا ہے (نجت نصر) پس تم مید و فارس کے بادشاہوں سے تعلق پیدا کرو کیونکہ یہ سفاک قوم و سلطنت تباہ ہو جائے گی۔ اللہ نے دو فرشتے ہاروت و ماروت اس کام کے لئے نازل فرمائے ھرت زمین کے صافکرنے کو کہتے ہیںاور مرت زمین کو بالکل چٹیل میدان بنا دیناگویا یہ امران فرشتوں کے فرض میں داخل تھا کہ ظالموں کو تباہ کر دیں اور بنی اسرائیل کو ان کے ملک میں بسائین ۔ پس ہاروت ماروت نبیوں کی معرفت ایسی باتیں لوگوں کو سکھاتے تھے جو کامیابی کا ذریعہ تھیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کرتے تھے کہان تجاویز کو بالکل مخفی رکھو یہاں تک کہ اپنی بیویوں کو بھی نہ بتائو۔ وجہ یہ کہعورتیں کمزور ہوتی ہیں اغلب ہے کہ وہ کسی دوسرے سے کہہ دیں اسی طرف اشارہ ہے ما یفرق بہ بین المروزوجہ یعنی وہ ایسا واقعہ یا راز تھا جو میان بیوی کے اندر افتراق کرتاتھا ۔ الحاصل جب یہ منصوبہ پختہ ہو گیا اور مید و فارس کے ذریعہ بابل تباہ ہو گیا بنی اسرائیل کو خدا نے بچایا نئی زندگی دی اور دشمنوں کو جس قدر ضرر پہنچایا گیا تو چونکہ وہ اللہ کے اذن سے تھا اسی واسطے نحمیاہ وغیرہ کامیاب ہوئے۔ قصہ کا تعلق ہمارے حضور سید المرسلین بہترین از اولین وآخرین ﷺ سے یہ ہے کہ جب آپ مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو مکہ والوں کو بڑا غیظ و غضب پیدا ہوا۔ پس انہوں نے یہودیوں سے دوستی گانٹھی یہودی خاندانی پرانا نسخہ استعمال کرانے لگے کہ آئو کسی سلطنت سے مل کر اس سلطان السلاطین محمد احمد ﷺ کی سلطنت کا استیصال کجر دیں۔ اسی لئے ایرانیوں سے توسل پیدا کیا۔ ایرانیوں کے گورنر بعض عرب کے مضافات میں بھی تھے انہوں نے انے بعض آدمی رسول اللہ ﷺ کو گرفتار کرنے کے لئے بھجوائے مگر کچھ کامیابی نہ ہوئی۔ وجہ یہ ہوئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے یہودیو سابق میں تو تم اس وجہ سے اس تدبیر میں کامیاب ہوئے کہ ہمارے حکم کے ماتحت کام کر رہے تھے۔ اب چونکہ تم یہ نسخہ صاحب معراج اصفیاء کے سرتاج ہمارے رسول کے مقابلہ میں استعمال کرتے ہو اس لئے ہرگز کامیاب نہ ہو گے چنانچہ چند آدمی شاہ فارس کی طرف سے ہمارے حضور ﷺ کو گرفتار کرنے آئے ۔ سردار دو جہاں ؐ نے ان کو فرمایا تمہاری درخواست کا میں کل جواب دوں گا ۔ صبح دوسرے دن ارشاد فرمایا کہ جس نے تمہیںمیری طرف بھیجا ہے اس کے بیٹے نے اسے قتل کر دیا وہ یہ بات سن کر بہت گھبرائے اور حیران ہوئے اور خائب و خاسر واپس پھرے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب یہ یہودی ایسی باتیں سیکھتے ہیں جو ان کو مضر ہیں ہرگز مفید نہیں اور اس کرتوت کا آخرت میں کوئی صلہ نہیں یعنی یہ کارروائی خدا کی مرضی کے تحت نہیں قابل اجر نہیں۔ ہاروت ماروت نے جو سکھایا تھا وہ اس میں نبیوں کے حکموں کی اطاعت تھی اللہ کی مرضی کے موافق کارروائی تھی اس لئے کامیابی ہوئی تھی لیکن اب چونکہ اس میں نبی کی نافرمانی میں وہ کام کیا جاتا ہے اس لئے کچھ کام نہ دے گا اچھا ہوتا کہ وہ ایسی بری شئے کے بدلے میں اپنی جانوں کو نہ بیچتے۔ بلکہ اب تو ان کو یہ مناسب ہے کہ نبی پر ایمان لائیں متقی بن جائیں ۔ اللہ کے یہاں بہت اجر پائیں اور بصورت نفیو عطف یعنی ماکفر سلیمان وما انزل علی الملکین یعنی ایک پارٹی ہاروتی ماروتی نام والی اور دوسری اندر جاں اور نقش سلیمان والی جو اپنے کو فیض یافتہ سلیمان کہتی تھی اور پہلی اپنے کو فرشتوں کی شاگرد عطاء الرحمن خدا داد فیض والی پارٹی بتلاتی تھی اور اپنے کو سلیمان کی طرف منسوب نہیں کرتی تھی یہ دونوں پارٹیوں کا اللہ نے انکار فرمایا جیسا کہ حضرت سلیمان کے کفر کا یعنی نہ سلیمان کافر تھا نہ دو پارٹیوں پر جو سلیمان کے زمانہ میں مدعی بنی ہوئی تھیں۔ خدا نے کچھ اتارا۔ واللہ اعلم بالصواب ـ
    ۔ ت۔ وما ھم بضارین بہ کی تشریح الم تری الی الذ نعوا عن النحویٰ تا کامل ۴ آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اور وہاں کبھی باذن اللہ کا لفظ موجود ہے ملاحظہ ہو۔ مقام مذکور لفظ بخوی کے تحت ۔ت۔لا یتقولوا راعنا راعنا کے معنی ہیں تو ہماری رعایت کر ہم تیری رعایت کریں چونکہ باب مفاعلہ ہے مشارکت کو چاہتاہے۔ یہہ خطاب اس لئے ہو سکتا ہے جو اپنے مساوی ہو چونکہ یہود منکر تھے اس واسطے وہ آنحضرت ﷺ کو اپنے مساوی سمجھ کر یہ لفظ بولتے تھے انکا مقصد یہ تھا کہ مسلمان ہی یہی لفظ بولیں اور عظمت نبویہ ان کے دلوں سے مٹ جائے پھر یہ یہی ایسی ہی جرات سے سوال اور بے ادبی کے مرتکب ہوں جیسے یہود نے موسیٰ کے روبرو کیا اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کو منع فرمایا اور اسی کے ہم رنگ یہ آیت ہے جو سورہ حجرات میں ہے یا یھا الذین امنوا لا ترفعوا صواتکم فوق صوت النبی ولا تحمر والہ بالقول کجھ بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون ـ اور دوسری یہ آیت جو سورہ نور میں ہے لا تجعدا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا ۔ت۔ما سخ من اید نسخ تعبیر کر دینا جیسے یہود و نصاری کی حالت کو باطل کر دیا ان کے کرد فرکے حالات جاتے رہے اور ان کی کتاب عملاً منسوخ ہو گئی یعنی قرآن کی جامعیت کے سامنے جس کی تعریف ہے فیھا کتب فیہ حاجت دہی۔ دوسرے نسخ کے معنی جھوٹ بانوں اور کلام اور منصوبوں کو مٹا دینا جیسا کہ فینسخ اللہ ما یلقی الشیطن فے امنیتہ یہ اصل نسخ ہے جو قرآن شریف میں ایک ہی جگہ آیا ہے آنحضرت ﷺ اور چار دن خلفاء رضوان اللہ علیھم اجمعین سے نسخ قرآنی ثابت نہیں مفسرو ں کا مطلب نسخ سے مجمل مفصل یا عام خاص ہوتا ہے یعنی مفسرین کے ناسخ او رمنسوخ کہنے کا مطلب یہ ہیکہ ایک آیت محمل کی دوسری آیت مفصل نے تفسیر کی تو وہ اول کو منسوخ اور ثانی کو اسخ کہیں گے … سے مراد شریعت یہود و نصاری ہے جو قرآن سے منسوخ کی گئی قرآن کی آیات مراد نہیں اور اگر قرآن کی آیات مراد ہوںتو منسوخ آیت مٹ گئی اور …… موجود فی القرآن بین وفتین نہیں۔ تفصیلاً اسخ و منسوخ کا بیان یہ ہے کہلوگ کہتے ہیں کہ قرآن کیرم میں ایک حصہ آیات کا وہ ہے جو کہ منسوخ ہے ایسی آیات کی تعداد (۵۰۰) سے لے کر چار تک لوگوں نے پہنچائی ہے پھر ان کی تعبین میںاختلاف ہے ایک آیت کو بعض منسوخ قرار دیتے اور دوسرے اسی کو ناسخ قرار دیتے ہیں ہم نے ان تمام منسوخ آیات میں غور کر کے دیکھاہے ان کے منسوخ کرنے کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی معلوم نہیں ہوئی کہ … نسخ کو ایک آیت کے ایک معنی خیال میں آئے جو انہوں نے دوسری آیت کے مخالف پائے۔ تطبیق دے نہیں سکے پھر ایک کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار دیا تا کہ اس تدبیر سے قرآن کو لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا کے عیب سے منزہ ٹھہرائیں اللہ تعالیٰ ان کی نیک نیت کو ان کو بدلہ نیک دے ان منسوخ آیات کے متعلق کوئی روایت عن النبی ﷺ نہیں پائی جاتی کہ آپ نے کسی آیت ک منسوخ قرار دیا ہو۔ خلفاء اربعہ سے بھی یہ بات ثابت نہیں کہ کوئی آیت منسوخ موجود فی القرآن ہو جیسا کہ مذکور ہوا۔ طریق ان آیات کے متعلق جن کو منسوخ قرار دیا گیا یہ ہے کہ ان کی تطبیق کی کوشش کی جائے جیسا کہ مفسرین عفام کا داب ہے چنانچہ یہ کام حضرت فخرالدین رازی رحمٰۃ اللہ علیہ نے کیا یعنی تقریباً سب آیات کی تطبیق کر دی جن آیات سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہیہ آیات منسوخہ قرآن میں ہیں۔ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آیت سے یہاں مراد قرآن ہی کی عبارت و آیات ہیں بلکہ لفظ آیت قرآن کریم میں وسیع ہے کہیں تو نبیوں کو اور ان کے شواہد علی النبوۃ کو لفظ آیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانہ اس آیت میں جو کہ نسخ میں آیۃ ہے یہود کی شریعت کا نسخ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کا ماقبل اور مابعد یہود کے حالات کے ساتھ متعلق ہے ۔ اگر آیت کے معنی آیات قرآن ہی لئے جاویں تو واذا بدلنا آیۃ مکان آیۃ آلایہ جو اس بات کی دلیل ہے کہ منسوخ تلاوتاً وحکماے مرتفع ہے اور اس کی جگہ ناسخ نے لے لی ہے تو پھر ناسخ و منسوخ کا قضیہ ہی کیا رہا۔ اگر آیت کے وسیع معنی لے لیں جو بمعنی نشان ہے تو پھر قرآن کے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں رہتی۔ قرآن کی آیات کو منسوخ قرار دینا بڑی جرات کا کام ہے جب تک کہ خود اللہ تعالیٰ یا اس کا رسول کسی آیت کو ناسخ منسوخ نہ فرماویں ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ منسوخ ہے یا ناسخ ۔ بعض نے تو یہاں تک جرات کی ہے کہ آیات احکام تو ایک طرف آیات مشتملہ علی الاخبار کو بھی منسوخ قرار دے دیا اللھم اصلح امۃ محمد ﷺ ۔ت۔فاینما لو لوا الخ اے اصحاب رسول اللہ ﷺ جدہر تم توجہ کرو گے ادھر اللہ مدد فرمائے گا ملک فتح ہو جائے گا وحدۃ الوجودی غلطی پر ہیں ثبوت اصلی نہیں رہ سکتے اور فزاء نظری کو غلطی سے فناء وجودی سمجھ رہے ہیں وھو الباطل یاالشھود والوجود حقا ۔ ت۔عدل رکوع میں پہلے تو شفائۃ پھر عفدل ہے اور یہاں پہلے عدل ہے پھر لفظ شفاعۃہے وجہ یہ کہ آدمی دو قسم کے ہیں ایک تو پہلے شفاعت کی طرف جھکتے ہیں جب کام نہ نکلے تو جرمانہ بھرتے پھرتے ہیں دوسرے اس کے برعکس یعنی معاوضہ سے کام نہ چلے تو شفاعت کراتے ہیں ۔ت۔ واذ ابتلی ابراھیم۔ ابتلی اظہار یوم بتلی السرائر ۔ سیدنا عمر کا ارشاد ہے بلینا بالضراء فصبرنا وبلینا بالسراء فلم نصبر کہ ہم تکلیف میں آزمائے گئے تو ہم نیکی پر جمے رہے اور برائی سے بچتے رہے اور جب آسایش سے آزمائے گئے تو نہ ٹک سکے اور بہت بے قراری ہوئے۔ت۔ وارزق اھلہ من الثمرات ایمان لانے والوں کی قید پچھلے خوف سے حضرت ابراہیم نے لگا دی ہے کیونکہ وہ سن چکے تھے کہ لا ینال عھدی الظلمین مگر یہ قیاس بھی ٹھیک نہیں۔ بیٹھا کیونکہ ارشاد ہوا کہ ومن کفر فامتعہ قلیلا ۔ت۔ ربنا واجعلنا مسلمین لک پندرہویں رکوع میں حضرت ابراہیم نے دعائیں کیں بلدا امناک ایک پھیرے میں اسی رح سات دعائیں کیں بطور یادگار اب بھی (۷) طواف ہیں
    اجز
    ت ۔ تمحید ۔ ہر ایک قوم میں ایک فعل مختص ہوتاہے جس کے مقابل کوئی گناہ گناہ نہیں معلوم ہوتا ہے جیسے معتدروں کے لئے گائے کھانا اور مسلانوں کے لئے سو اسی طرح عرب کعبہ کی تعظیم کے دل دادہ تھے اور تمام گناہ کرتے اس کی تعظیم میں فرق کو گوارا نہیں کرتے حضور سرور کائنات ﷺ نے ایسی ہی بات یہود میں دیکھی تو مکمل پیشگوئی کے لئے تحویل قبلہ کی آرزو کی تا کہ مخلصین کا اجتماع و اتحاد ہو جائے مگر رسم و رواج کے پابند چہ می گوئیاں کر کے تفریق کا راستہ نکالنے لگے اور اس اتحاد و راستی کی روح سے قالب بے جان کی طرح الگ گر پڑے یا صراف بصیر کے سامنے کھوٹے نقد ملانے والے ٹھہر نہیں سکتے اسی طرح تول قبلہ کی مصلحت تھی کیونکہ اہل مذاہب دو قسم کے ہوتے ہی (۱) ایک تو اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے والے (۲) غیر مذہب کی عیب چینی کرنے والے۔ عیب چینی کرنے والے جھوٹے ہیں اور بیت اللہ کا ذکر یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۵۴ باب ۶۰ پیدائش ۱۲ باب آیت ۸ لفظ بیت ایل میں ہے ۔ت۔ ویکون الرسول علیکم شھیدا شھدا نگران اور نمونہ نیک اور بمعنی بادشاہ بھی آیا ہے چنانجہ حارث نے کہا ہے ھو الرب والشھید یوم الغمیساء والبلاء بلاء سبعہ معلقہ (آخری معلقہ) ۔ت۔ انہ الحق من ربھم اور فتح مکہ بھی بطور پیشنگوئی کے برحق ہے۔ اور پیدائش باب۱۲ آیتہ ۸ بیت اہل حضرت ابراہیم کے ذریعہ اس کا ظہور ہونا۔ جسمیں تحویل قبلہ کی طرف اشارہ ے اور جہت سجدہ کر لئے اس کا برحق ہے ۔ت۔ کما یعرفون ابتاء ھم اس پھچانت سے زیادہ اگر آدمی تردد اور غور و فکر کرے تو شبہات کا دروازہ کھلتا ہے اور حسن ظن ماراجاتا ہے۔ تحقیقات کے لئے قرائن قویہ کافی ہیں زیادہ تحقیقات مناسب نہیں۔ ۔ت۔ ولکل وجھۃ ایک توجہ سے مراد پرستش اور دوسرے رد آور دن بہ طرف سے کسی طرف متوجہ ہونا تو یہاں پرستش مراد نہیں فقط توجہ مراد ہے۔ نبی کی طرف کعبہ میں نماز پڑھنے والوں کی خصوصاً حنفیوں کی پشت رہتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی کے پرستار نہیں سواء اللہ کے اور صرف حکم الہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہ کسی جہت میں ہوں یا غیر جہت میں کیونکہ ایک مومن لیٹے لیٹے بھی اللہ کی یاد کرتا ہے دلی اور روحانی طور پر جیسا کہ نماز میں جہت قبلہ کا مستقبل ہوتا ہے جسمانی طور پر حسب حکم انہی جہت کعبہ ا مستقبل ہوتا ہے پس بعض نادانوں کا یہ اعتراض بے جا ہے کہ تم بھی تو کعبہ یا مسجد کی عبادت کرتے ہو ۔ت۔ وما اللہ بغافل عما تعملون اتحاد کا لحاظ رکھا جزئیات کی وجہ سے افتراق کر لیا جزئیات میں تفریق کا قاعدہ موجب افتراق ہے جو صحابہ میں نہ تھا مثلاً مصلون کا اختلاف جو قرون ثلثلہ کے بعد کے جانشینوں میں ہوا۔ اور بیرون کعبہ تمام دنیا میں کہیں نہ بنہ سکا اور نہ چل سکا مگر بہ اعتبار توجہ سب المسجد الحرام کی طرف متوجہ ہوتے ہیں حسب ارشاد الٰہی بان بکم اللہ جمیعا ۔ ف۔ کہا کے متعدد معنی ہیں (۱) اسی واسطے (۲) کیونکہ (۳) جیسا کہ ۔ت۔ یاایھا الذین امنوا ستعینوا سختسے سخت مشکلات سے نکلنے کا علاج اور ہر ایک چھوٹی بڑی طلب برآری کا طریقہ استعانت بالصبر والصلوۃ ہے یعنی نمازیں اور دعا صبر کے معنی جس قدر بدیاں الساعین موجود ہیں ان سے بچنا اور بچنے کی کوشش کرنا اور نیکیاں جو موجود ہوں اور نیرودام کرنا ۔ صلوۃ نماز کے ہر رکن کے بعد دعا کران خواہ حسب مدعا و خود قرآن و حدیث سے دعائیں لے لو خواہ اپنی ہی زبان میں دعائیں مانگ لو ایسون کے ستھ اللہ ہوتا ہے اور یہ منعم علیہ کی صراط مستقیم ہے جو انبیاء اولیاء ہیں کامیابی کا مجرب بے خطا یہی نسخہ ہے کروڑوں نے آزما لیا ہے ۔ت۔ بل احیاع چونکہ مرضیات الٰہی کے تابع ہو کر انہوں نے زندگی جاوے چہل کی عوام غلط ان کو مردہ سمجھتے ہیں۔ شہداء کی زندگی تین طرح ثابت ہے ایک محاورہ عرب کے مطابق کہ وہ ان مقتولوں کو جن کا بدلہ لے لیا جائے زندہ سمجھتے تھے اور جن کا بدلہ نہ لیا جائے انہیں مردہ اور مسلمانوں کے مقتولوں کا بدلہ ضرور لے لیا جائے گا اور جس مقصد کے لئے انہوں نے جانیں دی ہیں وہ مقصد ہو کر رہے گا اس محاورہ کا داخلہ دیکھنا چاہئے حارث شاعر جاصلی کا شعر ہے۔
    ان نبطشتم مابین منحۃ فالصا
    قب ففیھا الا موات والاحیاء
    دوسرا شرعی طور پر کہ جو شہید ہوتا ہے اس کی زندگی کی تمام عبادتیں روز قیامت تک لکھی جاتی ہیں۔ تیسرا یہ کہ عنداللہ وہ اس زندگی سے بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں اور ان کو ہر ایک قسم کی نعمتیں وار یہاں کی خبریں بھی ملتی ہیں جس کا ذکر پارہ (۴) رکوع (۸) میں آتا ہے ۔ت۔ الجوع (۱) روزے (۲) حرام سے بچ کر ہو کے رہنا (۳) کم خوری اور ایثار نقص من الاموال خرچ فی سبیل اللہ مال باطل نہ لینا زکوۃ وچندہ وغیرہ ۔ت۔ راجعون جب ہم خود اس کے یہاں جانیوالے ہیں تو کوئی چیز یا اواد یا احباب وغیرہ کے فوت سے کیا فکر اور جانا سب کو ضروری ہے ۔ت۔ ان الصفا والمروۃ صبر کے نیک نتائج سے ہے کہ بی بی ہاجرہ کے صبر سے مکہ مرجع خلائق بن گیا اور اس کے نمونہ پر حاجیوں کو اپنا نمونہ بنانا پڑتا ہے جو دائمی یادگار ہے ۔ت۔ ان فی خلق السموت آسمان کی بناوٹ میں بڑے بڑے نشانات ہیں۔ اوّل ستاروں کے نور سے راستوں کا پتہ جنگلوں اور سمندروں میں ملتا ہے۔ دوسرا نور چاند کا نور ہے اس چاند کے نور سے نباتات کا بڑھنا دودہ پڑنا۔ رات کو روشنی ۔ تیسرا سورج کا نور جو تمام نور وں کا اصل سے ان تینوں کے بعد ایک نور وجداں انسان میں رکھا گیا ہے پھر نور عقل ہے پھر ملائک کا نور ہے۔ پھر شریعت کا نور ہے پھر اس شریعت سے قرب الٰہی کا نور ہے پھر مکالمہ الھیہ ہے۔ ان نوروں سے انسان ایک اچھی رات حاصل کر ستا ہے ۔ت۔ واختلاف اللیل والنھار زمین و آسمان کے تعلقات سے ایک اور چیز پیدا ہوتی ہے جس کو رات یا دن کہتے ہیں۔ اختلاف لیل و نہار دو قسم کا ہے طول بلد کے لحاظ سے شمال و جنوب میں اختلاف ہوتا ہے اور ان دونوں کے تعلقات سے جب اختلاف ہوتا ہے تو تبادلہ فضول ہوتا ہے ۔ سردی گرمی کی ضرورتیں پڑتی ہیں وغیرہ وغیرہ فوائد ۔ ت۔ والفلک تشتیان یعنی باہم ایک دوسرے ملک سے تبادلہ کے سامان بنائے۔ امام اعظم المخر عالم ابوحنیفہ رحمت اللہ علیہ ورضی اللہ عنہ کے وقت بغداد میں چند دہرئے تھ ایک روز امام صاحب کے پاس آئے انہوں نے متفکر صورت بنائی وہ بولے ہم تو کچھ پوچھنے آئے تھے آپ کو کیا فکر ہے انہوں نے فرمایا دیکھو بغداد میں مختلف مذاق کے لوگ رہتے ہیں اور بندر پر سامان چلا آتا ہے دہریوں نے کہا کہ …خدا کشتیاں موجود ہیں پس امام صاحب نے لاجواب کر لیا کیونکہ نقل دلالت می کر دیبر محاعل و نقش بر نقاش یعنی عرض بالا رادہ کام کر رہا ہے ۔ت۔ اشد حیا للہ حضرت مولنا الاعظم خلیفۃ المسیح رضی اللہ عنہ نے اپنا قصہ بیان کیا کہ عمل جب بتانے والے نے یہی آیت مجھے بتائی تھی جس کا مطلب اللہ نے سمجھایا کہ اللہ ہی کی محبت چاہئے کل خطائف عملیات کا لحاظ رکھیو کہ وہ محبت الٰہی کی طرف کھینچتے ہیںاور وظیفہ خوانوں کو یہ آٓت اپنے متکلم کی طرف پکارتی ہے والذین امنوا اشدحیا للہ یعنی ایک مومن سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت رکھتا ہے اور اگر کسی اور سے کہتا بھی ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے لئے ہو ہر ایک محبت کا مقصود اللہ ہو جو حسن و احسان کا جامع اور لازوال ہے اور دوسری چیزیں سب فنا پذیر ہیں جن کی نسبت عاشقاں الہی کہتے ہیں لا احب الا فلین شیخ یعنی چھیننے والے اور زوال پذیر چیزوں کو پسند نہیں کرتے دوست نہیں رکھتے۔ ۔ت۔ طلاطبیا ہر ایک بدی سے بچنا اور ہر ایک نیکی کا کرنا فرض عین ہے جس کی تفصیل قرآں و حدیث میں موجود ہے اور وہی حلال طیب ہے یعنی جو حکم الٰہی کے تابع ہو اور پھر طیبہ ہو یعنی عمدہ اور پاکیزہ شفا بخش باسی و خراب ہو سے …… ہو۔ ۔ت۔ ولا تبعوا خطوات الشیطن خلاف شروع والے کی چال نہ چلو۔ شیطانی چال کے (۳) اصول ہیں ان میں بہت برا یہ ہے ان تقولو علی اللہ مالا تعلمون کہ چھوٹا خواب یا چھوٹا الہام بنائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال بتائے دوسرے سو یعنی بدی تیسرے فحشا کہلم کہلا بدکاری جس کا اثر دوسروں پر پڑے ۔ت۔ ینعق اس سے پہلے آیت میں کفار کو اللہ تعلایٰ کی نازل کردہ شریعت کی طرف بلایا گیا ہے ۔ جس کے بالمقابل انہوں نے انی آِائی تقلید کو ترجیح دی ہے اس حال میں اگر کفار کو کچھ سمجھ بوجھ ہوی تو وہ اللہ کے مقابلہ میں انسان بلکہ مردہ انسنا کو مقدم نہ کرتے پس وہ مومن جو ان کافروں کو ہدایت کی طرف بلا رہا ہے اور ان کافروں کی جو اس کی بات کو نہیں سمجھتے ایسی تمثیل ہے کہ یہ کافر مثل چارپایوں کے آواز تو سننے پر سمجھتے نہیں اور ان کو پکارنے والا مومن گویا چارپایوں کو کچھ کہہ رہا ہے اس تمثیل سے کفار کی مذمت اور ان کی بے عقلی کا اظہار مقصود ہے۔ امام سیبوبہ نے اپنی الکتاب میں اس آٓت کی بون تفسیر کی ہے۔ ثل الدین آمنوا ومثل الذین کفروا گویا منطوف علیہ محدوف ہے جیسے ربنا ولک الحمد میں ہے ۔ت۔ ایاہ تعبدون خلاصہ اس رکوع کا یہ ہوا کہ حلال طیب کھائو جو اپنا ہو حلال ہو۔ مضر نہ ہو۔ شکر کرو۔ سوزو فحشاء مقتول سے بچو یعنی باپ دادا کی پیروی کا بہانہ اور جو ہمدردی کرتے ہیں وہ خداکی بتائی ہوئی اور کرائی نہ کہو۔ یعنی تقلید بے جا نہ ہو ایسے کبھ نہ بنو کہ گوش حق شنوا اور چشم حق بین گم کر لو ۔ت۔ حرم علیکم المیتتہ اس رکوع کی پہلی آیت میں حلال طیب کہانی کا حکم تھا اس کے بالمقابل فطرۃً سوال پیدا ہوتا تھا کہ حرام کیا ہیں تو یہاں بطور کلیہ بیان فرمایا گیا کہ وہ سب چیزیں جو قوی فطرتی یادیں یا اخلاق کی مہلک ہوں حرام ہیں۔ انسان چار چیزوں سے بنا ہے۔ (۱) جسم (۲) فطری قویٰ (۳) اخلاق (۴) ارواح عقائد فاضلہ روح میں اور اخلاق فاضلہ قویٰ میں اور طبعی طاقتین قوائے فطری میں رہتے ہیں اور صفائی اور موزدیت جسم میں میتہ کے کھانے سے خون فاسد اور اخلاق بد پیدا ہوتے ہیں خون میںایسے زہر ہوتے ہیں جن سے انسان مر جاتا ہے۔ جیسے پیشاب میں اس وقت تک بیس قسم کے زہر ثابت ہوئے ہیں خون کھانے والوں کے اخلاق فاضلہ درست نہیں رہتے ان کے روحانی اور جسمانی قویٰ خراب ہو جاتے ہیں جن جاروں کے اخلاق خطرناک ہیں ان کا کھانا بھی منع فرمایا مثلاً سور بہت ہی گندہ جانور ہے۔ لواطت بھی کرتا ہے ۔ بے حیا اور دیوث بھی ہوتا ہے حملہ آوری کے وقت … اندیش بھی ہے۔ غضب اور شہوت کا مرا ہوا ہے۔ کتا بھی اس کا بھائی ہے چوتھا درجہ اکھل بہ بغیر اللہ کا ہے جس کا خاص اثر روح پر پڑتا ہے۔ اور عقائد فاسدہ اور جہالت پیدا کرتا ہے اس کے بعد استثناء فرمایا ہے مضطرین کیلئے علاج طور عجالۃ الوقت کے ہے کہ باغی اور عادی نہ ہوں چار کا حصر غذائے عادیہ کے لئے ہے جو متمدن بلاویں ہو۔ دوسری چیزیں جو رام ہیں وہ قاعدہ کے رنگ میں ہیں جو تحت میں ہون گی خبیث غیر طیب مضر مسکر اور مفتر کے اعلیٰ طاغم یطعمہ کی قید سے چار کے حصر کا جواب دیا ہے ۔ت۔ وجوھکم کوئی مشرقی علوم سیکھتے ہیں کوئی مغربی مگر جاوید کامیابی مومن باللہ ہی کو ہے ۔ کمال پر شیخی کا موقعہ نہیں اور اس رکوع میں سترہ حکم ہیں جس پر عمل کرنے سے انسان کامیاب و بامراد ہو جاتا ہے ۔ت۔ فی الرقاب قرض کی اوائی بھی اس میں شریک ہے اور غلامون کا آزاد کرنا ۔ خصوصاً حکمی و تحریری طور پر اسلام کا فخر ہے اور مولفہ القلوب اور محصلین زکوۃ کی تنخواہ جن کا ذکر پارہ (۱۰) میں ہے وہ بھی اس میں داخل ہیں ۔ت۔ الوصیۃ جس کا ذکر یوصیکم اللہ میں ہے۔ یا انتظام خانہ داری کی وصیت یا محروم الارث و کافر ہوں تو ان کے لئے وصیت کر دیں ۔ت۔ بلد لہ بعد ما سمعہ عورتوں کے لئے حق شرعی کی ضرورت رعایت کی جائے بدلہ نہ جائے نہیں تو عذاب مھین ہو گا عورتوں کے لئے ان آیتوں کا لحاظ رکھو۔ (۱) ولا تمسکو ھن ضرار (۲) وما شروھن بالمعروف (۳) ولا تضارو ھن (۴) وان کوھمتوھن ولھن مثل الذی علیھن ۔ت۔ جنفانا واجب طرف داری کرنا ۔ ت۔ کتب علیکم الصیام یہ عام روزے ہیں جو فضائل عامہ سے ہیں یعنی نفلی اور مسنون جو نیت کے بعد فرض ہو جاتے ہیں ۔ اختیاری ہیں۔ دہائی میں ایک یاد دشنبہ و جمعہ گویا سال میں چار ماہ کے روزے ہیں تندرستوں پر۔ سوائے بیماروں وغیرہ کے ۔ت۔ یطیقونہ جو اچھی طرح رکھ سکے ہرج نہ ہو ۔ ہدیث میں ہے ایکم یطیق ذلک ۔ت۔ ندیۃ طعام صفقۃ الفطر کی اشارہ ہے یا روزہ رکھ کر اپنا کھانا غریب کو کھلا دے نفلی روز دن مین یا شیخ فانی اور معذور عام روزوں میں اپنا کھانا کھاوے روزہ کا ثواب مل جائے گا ۔ت۔ شھر رمضان یہ خاص روزے ہیں جو فضائل عامہ کے بعد فضائل خاصہ سے ہیں اور فرض قطعی ہیں سوائے بیمار وغیرہ کے۔ ماہ رمضان میں قرآن اترایا قرآن میں روزہ کا حکم آیا۔ حضور کو غار حرا میں بہ ماہ رمضان سورہ اقراء ۔ عنایت ہوئی۔ قرآن کا اطلاق جزو کل دونوں پر آتا ہے یہاں جزا مراد ہے (ت ۱۰۰) دعوۃ الداع ۔ الداع خاص دعا کرنے والے …… سورہ انعام یعنی جو مانگو وہی ملنا مقصود نہیں بلکہ اللہ کو جو پسند ہو اورمشروط ہے فرماں برداری الٰہی اور تقویٰ پر مگر رحمانیت کا تقاضا فیض عام کا ہے ۔ع۔ آن لطف کر دیا کہ دشمن حذر گرفت چونکہ کاملیں کے نزدیک فضل اخرۃ چاہئے اس لئے دشمن سے اس مصرع میں شیطانی مراد ہے (ت ۱۰۱) وانتم لباس لھن یعنی دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ عورتیں ساتھ رہنا چاہئے جیسا لباس جسم کے ساھ رہتا ہے یعنی بغیر عورت کے نر ہے اور ان کے حقوق کی رعایت رہے ایسا نہ ہو کہ لحاف کشمیر میں ہو اور موسم پنجاب میں بسر کیا جائے۔ (ت ۱۰۲) فلا تقربوھا یہ کسی بیوف کے کہنے کا جواب ہے کہ روزہ میں پانچ منٹ ادہر کیا اور پانچ منٹ ادھر کیا۔ یا ذرا سے فرق سے کیا ہوتا ہے یعنی خلاف حکم الہی ہرگز نہ کرنا۔ (ت ۱۰۳) یسئلونک عن الاھلۃ رمضان کے متعلق انہوں نے جب فضائل سنے تو انہیں شَق ہوا کہ اور مہینوں کے متعلق ہم احکام معلوم کریں (ت ۱۰۴) الذین یقاتلونکم مخالفون سے لڑو امام کے ساتھ ہو کر ارشاد نبوی ہے الا مام حبۃ بقاتل من ورائہ یعنی امام ایک سپر ہے اس کے پیچھے ہو کر لڑا جاتا ہے اور جنگ شرعی ہمیشح دفاعی ہوتا اور اصلاحی ہوتا ہے نہ ملک گیری اور غلبہ (ت ۱۰۵) لاتکون فتنۃ مذہبی آزادی ہو جائے ابطال و اعدام مذاہب مراد نہیں۔ بلہ امن قائم کرنا۔ جبری اسلام نہیں۔ جہاسد اس وقت تک ہے کہ مومن فتنہ اور فساد سے کفار کے آزاد ہو جائیں اور امن عام حاصل کر لیں۔ اور رسوم دینیہ میں مغلوب و مجبور نہ ہوں (ت ۱۰۶) وانفقوا فی سبیل اللہ اس سے مراد بخل سے روکنا اور فی سبیل اللہ جہاد کرنے سے ستی نہ کرنا ۔ کیونکہ اگر ان دونوں کاموں کا ترک ہو گا تو قومی زندگی جاتی رہے گی۔ دینی کاموں جہاد سیفی و قلمی میں اعانت مال کی سخت ضرورت ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ میں ترقی دینی و دنیوی اور نجات اخروی اور فتنہ و فساد ب ولائوں سے محفوظی مجرب و ثابت ہے (ت ۱۰۷) صیام او صدقۃ او نسک صیام سے مراد تین دن کے روزے صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا تائسک ایک بزیا گو سفند کا فدیہ ہے (ت ۱۰۸) وتزودوا صاحب استطاعت پر حج فرص ہے کیونکہ صاحب رسوال او رگناہ یعنی چوری وغیرہ سے بچ جاتاہے زاد کا فائدہ سوال سے بچنا ہو گا تو مانگ کر حج کو جانا ناجائز ہے (ت ۱۰۹) ان تبتغوا فضلا تجارت کو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہے تو وہ ہمارے زمانہ کے کم عقل فقراء صوفیوں کی تنبیہ کے لئے ہے قابل تحقیر نہیں۔ بلکہ فضل رب سے (ت ۱۱۰) لم افیضو من حیث افاض الناس یہ دو غلط رسموں کا ازالہ ہے (۱) عرفات سے آگے بڑھو اکٹھے مل کر (۲) مزولفہ سے سویرے کوچ کرو۔ دیر نہ کرو (ت ۱۱۱) فی الدنیا حسنۃ حسنات الدنیا صحت ۔ علم نافع و عمل صالح ۔ عبادت۔ توفیق ۔ نیک رزق طیبہ بہ قدر ضرورت اولاد نیک بی بی یا دوست نیک ۔ ہمسایہ نیک ۔ عمدہ مکان۔ سواری اچیھ۔ خاتمہ بالخیر اور آخرتے کے لئے جو اللہ کا اور اس کے رسول سید المرسلین اور سلف صالحین کا پسندیدہ ہو وہ ملے آمین (ت ۱۱۲) ان یایھم اللہ فی ظلل من الغمام بدر کے متعلق پیش گوئی ہے واذ یغشیکم النعاس کی طرف اشارہ ہے ۔ سورہ انفال رکوع ۱،۲ ملاحظہ ہو۔ اللہ کی تشریف فرمائی سے حمایت و مدد ربی مراد ہے (ت ۱۱۳) ایۃ بینۃ بینہ الھیہ دو قسم کے ہیں ایک وہ جس میں انسان کا دخل نہیں جیسے قویٰ انسانی وغٓرہ دوسرے جس پر انسان کو قدرت ہے یادی گئی ہے۔ جیسے دونو ں کی مثال سطح زبان ہے جبر کی مثال یوں ہے خلاف مدوقہ کچھ نہیں بتا سکتی اور اختیار واقعی چیز کے اظہار میں ہے یہ اختیاری ہے اور وہ مجبوری اسی زبان سے اچھے کو برا کہہ لو یا زبان کو روک لو نتیجہ یہ ہو گا کہ کوئی مجبور کہے تو کہو نہیں کوئی مختار کہے تو کہو نہیں۔ حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے لاجبر والا قدر ولکن ام مبین امرین نہ مجبور بندہ نہ مختار ہے میانہ روی یان سراوا ہے (ت ۱۱۴) شدید العقاب عقاب عقب سے مشتق ہے جو گناہ کے عقب میں آتا ہے (ت ۱۱۵) دین للذین کفرو ایہان زین کا فاعل شیطان ہے کیونکہ آتا ہے اذوین لھم الشیطن اعمالھم اور ایک جگہ کفار کو فاعل ڈالا ہے من المشرکین قتل اولادھم ایمان کا … اللہ تعالیٰ ہے چنانچہ حبب الیکم الایمان وزینہ (ت ۱۱۶) کان الناس امۃ واحدۃ اس کی تفسیر سورہ یونس میں ہے کان حرف ہے ۔ یہ مطلب نہین کہ سب کافر یا سب ذہن بلکہ ایک جماعت ہے جیسے نتے الگ گھوڑے الگ۔ مطلب یہ کہ بعض آدمی بے غیرت بن کر اچھے برے میں شریک ہو جاتے ہیں اور برے کو بھی برا نہ کہتے نہ اس سے بجتے ہیں۔ (ت ۱۱۷) بغیا بیلنھم دیکھو ۔مسلیمہ کے مرید کا قول اکذب بنی بما امارا حب الی من الصدقہ قریش (ت ۱۱۸) وھو کرۃ لکبر برا نہیں بلکہ سختیا ور مشقت کا ترجمہ ہے جیسے حملتہ امہ کوھا (ت ۱۱۹) عن الشھر الحرام یعنی رجب ذی قعدہ ۔ ذالحج ۔ محرم میں (ت ۱۲۰) عن الحمر والمیسر ربط یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عہم نے پوچھا کہ جنگ میں شراب اور جوئے کا رواج چلا آرہا ہے ہمیں کیا حکم ہے پھر پوچھتے بین ماذا یلطقون اور خرچ جنگ کہاں سے لائیں کیونکہ جوئے سے … ہوتا تھا (ت ۱۲۱) یسئلونک عن الیتمی چونکہ جہاد سیفی کا نتیجہ یتامی بھی ہے اس لئے اس کا سوال بھی ہوا۔ (ت ۱۲۲) یسئلونک عن المحیض یعنی حیض کی حالت میں عورت سے صحبت کریں یا نہ کریں۔ یا ان کے ساتھ رفث اور لیٹنا ایک بستر میں ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا وغیرہ سوائے جماع کے سنت رسول سے سب جائز معلوم ہوتا ہے (ت ۱۲۳) یحب المتطھرین معلوم ہوا الواطت سخت منع ہے لواطت سے جو بچتے ہیں ان کے لئے پ ۱۹ سورہ نمل رکوع ۴ میں انھم اناس یتطھرون آیا ہے جو ان کی فصیلت پر دال ہے (ت ۱۲۴) لا یواخذکم اللہ فی ایمانکم قسم لغو کی صورتیں ہیں (۱) بلا قبصہ بطور عادت (۲) تحقیقی مگر غلط (۳) قسم کھا کر بہ سہو مرتکب فعل ہو (۴) غضب کی حالت میں کھائے۔ (۵) حلال چیز کو بہ ذریعہ قسم اپنے پر حرام کو (ت ۱۲۵) فان طلقھا حلالہ جائز نہیں دوسرا خاوند خوکشی سے طلاق دے تو جائز ہے۔ (ت ۱۲۶) واذا طلققم الدنیا طلاق بھی ضمن جہاد کا مسئلہ ہے کیونکہ عرب میں قریبی رشتہ دار باہم تھے جس کا اثر جہاد پر پڑتا تھا (ت ۱۲۷) والوالدت بعض مطلقہ بچہ والی ہوتی ہیں اس لئے یہ حکم ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے بچہ کو دودھ پلانے کا حق حاصل ہے (ت ۱۲۷) اربعۃ اشھر وعشرا یہ عدت اس عورت کی ہے جو حاملہ نہ ہو اور جو حاملہ ہو اس کی عدت وضع حمل ہے جس کا ذکر پارہ ۲۸ رکوع ۱۷ میں ہے (ت ۱۲۹) بالمعرف حقا علی المحسنین یعنی نکاح کے بعد عورت سے صحبت نہیں کی نہ مہر ٹھہرایا اور طلاق دے دی تو اپنی حیثیت کے موافق کچھ سلوک کر دے۔ (ت ۱۳۰) والصلوۃ والسطی ہر ایک نماز وسطی ہے۔ خیر الامور اوسطہا چونکہ ہر کام میں اوسط اچھا ہوتا ہے تو نمازوں میں بھی اس سے غفلت نہ ہو اور اس قاعدہ کی رعایت رہے کاروبار کی افراتفری میں وسطی یعنی نماز کی ضرور حفاظت کرنا بعض نے کہا نماز ظہر اور بعض نے عصر بتلائی ہے اور نماز کی اہیت کی وجہ سے اس کو سباق اور سیاق کے وسطہ میں رکھا ہے (ت ۱۳۱) متاعا الی الحول ایک سال تک خود نہ نکالے گروہ (۱۰) دن ۴ ماہ بعد اپنی مرصی سے کوف نکل سکتی ہے۔ اور اس وصیت کی یہ غرض ہے کہ وہ عدۃ بھی گزار لیویں اور عدۃ گزرنے کے بعد معاً شوہر تو نہیں ملتا اس واسطے باقی مہینے ان کو شوہر کی جستجو کے لئے موقع دیا جائے (ت ۱۳۲) الم ترا الی الذٓن دیکھو پارہ ۶ رکوع ۲ فانھا محرمۃ وہ نافرمان مر گئے دوسرے پیدا ہوئے۔ یہ موسی علیہ السلام کی بددعاء سے خراب و خستہ ہوئے ظلم و قتل فرعو سے بھاگے تھے نافرمانی کی سزا ملی۔ پھر بقیہ اولاد صالح نے اترقی حاصل کی۔ (ت ۱۳۳) ثم احیاھم ھم کی ضمیر سے اصیل ہی نہیں بلکہ مثیل بھی مراد ہوتے ہیں اور مختلف صیغوں میں۔ چنانچہ متکلم کی مثال ماقتلنا ھھنا مخاطب کی واذ قلتم یموسی اس غائب کی مثال لافیقص من … (ت ۱۳۴) واللہ بعبض ویبسط اللہ تمہارے دئے ہوئے کو لے کربڑہاتا ہے اور جب تم اس کے حضور جائو گے تو دیا ہوا پائو گے حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے صدقہ کو لیتا ہے۔ اور اسے ایسا بڑہاتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے (ت ۱۳۵) من بعد موسی یعنی موسی کا قصہ پہلے تھا یہ موسیٰ علی نبینا وعلیہ والصلوۃ والسلام کے بعد کی قوم ہے جو حضرت سموئیل کا زمانہ تھا۔ سموئل باب ۹ کتاب اوّل (ت ۱۳۶) ابعث لنا ملکا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد امام کے ماتحت ہوتا ہے بدوں حکم امام کے جہاد نہیں کرنا چاہئے (ت ۱۳۷) طالوت نام نہیں صفت ہے کیونکہ عربی میں طویل القامۃ کو کہتے ہیں اس قوم نے بادشاہت طلب کیا مگر جب طالوت تجویز ہوا تو انہوں نے انکار کر دیا اور اعتراض تو ہر مامور پر آدم سے ایندم تک ہوتاہی رہتا ہے۔ وہ کیوں ہوا فلاں کیوں نہ ہوا۔ (ت ۱۳۸) فی العلم الجسم اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے خلیفہ میں بہ ضروری نہیں کہ بہت سا اس کے پاس مال ہو چونکہ وہ قوم کا مدبر ہواہے اس لئے اس میں علم کی ضرورت ہے اور ایسے جسم کی جس کے ساتھ لاکر فرض کو نباہ سکے جسم سے مراد یہ نہیں کہ وہ فیل تن ہو۔ (ت ۱۳۹) النابوت القلب نوی ۔ شرح مسلم البخاری قرآن شریف میں ہے فانزل السکینۃ فی قلوب المومنین آیا ہے خلافت کا نشانہ یہ ہے کہ خلیفہ پر لوگوں کو اطمینان ہو جائے اور تسلی ہو جائے اور قوم کی افراتفری اور بے قراری اس سے مٹ جائے۔ (ت ۱۴۰) فلما فصل شہر یا مقام حکم سے جدا ہوا (ت ۱۴۱) بنھر آسایش و آرام کے معنی بھی ہیں جیسے ان المتقین فی جنت ونھر یا ایک ندی پر تمہاری اندرونی حالت کا اظہار کرنا چاہتا ہے (ت ۱۴۲) فانہ منی اور حدیث لیسوامنی سے انت منی وانا منہ کے معنی بھی حل ہو جاتے ہیں (ت ۱۴۳) باذن اللہ پرقف ہے یعنی پچھلا قصہ ختم ہو گیا کسی دوسرے موقعہ پر حضرت دائود نے بھی ایک جالوت کو قتل کیا تھا۔
    الجزع
    (ت ۱۴۴) فضلنا ہم نے فضیلت دی بہ اعتبار تعلقات روحانی و خدمات دینی کے فضیلت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ مگر تفریق فی النبوۃ جائز نہیں چھوٹا نبی ہو یا بڑا۔ جیسا کہ ارشاد ہے لانفرق بین احد من رسلہ تفریق اور تفصیل علیحدہ علیحدہ امر ہیں۔ نبوت اور رسالت ایک عہدہ کا نام ہے مثلاً بہ حیثیت ملازمت سرکاری ایک چپراسی سے لے کر صدر الہام اور مدارالہام تک ملازم کہلا سکتے ہیں۔ اور ہر ایک کو بہ اختیار ملازمت ملازم سرکار کہہ سکتے ہیں۔ مگر بہ اعتبار درجوں اور فضائل کے الگ الگ ہیں کیونکہ تلک الرسل فضلنا بعضہم علی بعض وجود سے اسی طرح انبیاء و رسل بہ اعتبار عہدہ نبوت و رسالت کے بلاتفریق خدا کے نبی و رسول مانے جائیں اور بہ اعتبار فضیلت کے الگ الگ (ت ۱۴۵) من کل اللہ بعض سے اللہ نے بات کی فقیر کا خیال ہے کہ کلام سے مراد وہ کلام ہے جو مشتمل ہر شریعت جدیدہ ہو ورنہ کوئی ایسا رسول نہیں جس سے خدا نے کلام نہ کیا ہو ہاں بعض سے کلام اس لئے ہوا کہ وہ دنیا میں نئی شریعت جاری کریں اور بعض سے اس لئے ہے کہ ان کے درجات کی ترقی ہو ان کی عزت دنیا میں ظاہر ہو۔ نبیوں کی تین قسمیں ہیں ایک شریعت لانے والے اور ایک شریعت کے موئد اور تیسرا اور ایک نبی ہے جو امتی نبی کہلاتا ہے اور وہ آنحضرت ﷺ کا کامل بروز ہے۔ جس کو اکثر علماء اس آیت کا مصداق بتلاتے ہیں لیظھرہ علی الدین کلہ سورہ صف رکوع اوّل اور آخرین منہم لما لیحقوب ہم ……رکوع اوّل ۔ اس میں حضور کی بعثت ثانی کا ذکر ہے (ت ۱۴۶) عیسیٰ ابن مریم ۔ یہ سورہ مدنی ہے یہود کے خلاف فضیلت مسیح علیہ السلام ا اظہار برموقع ہے اور نصاریٰ کے لئے ہمارے مقابلہ میں موجب فخر نہیں ۔ (ت ۱۴۷) البینت ـ واضح بیان اخلاقی وعظ (ت ۱۴۸) روح القدس کلام پاک آنحضرت ﷺ جبرئیل علیہ السلام (ت ۱۴۹) ولو شاء اللہ اور اگر اللہ چاہتا تو جبر کا رد ہے۔ انسان کے ایسے قویٰ بنائے ہیں کہ وہ بعض کام اپنی قدرت سے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے بر نہیں کیا جب نیکی پر مجبور نہیں کیا تو بدی کا کیا ذکر ہے (ت ۱۵۰) لا بیع فیہ ولا خلہ ولا شفاعۃ نہ دہان خریدو فروخت ہو گی اور نہ دوستی اور نہ سفارش یہ تینوں عام نہیں بلکہ دوسری آیات سے مخصوص کئے گئے ہیں لابیع سے اللہ تعالیٰ کی وہ بیع جو مومنوں سے جان اور مال خریدا اور اس کے بدلے میں جنت دیتا ہے ۔ وہ مستثنیٰ ہے جیسے فاستبشرو ببعکم اور لا شفاعۃ سے شفاعت نبی کریم ﷺ اور آپ کی اتباع میں دیگر صلحاء کی شفاعت مستثنیٰ ہے جیسے لا یملکون من الذین یدعون من دونہ شفاعۃ الا من شھد بالحق وھم یعلمون سورہ زخرف اسی طرح لا خلۃ مومنین مقین کی دوستی مستثنیٰ ہے جیسے الا خلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوا لا المتقین لا جدال ولا فسوق میں تنوین نہیں اور وہ نفی جنس ہے اور لابیع میں مشبہ بہ لیس ہے اور تنوین موجود ہے۔ پس دونوں کے الگ الگ محل ہیں۔ (ت ۱۵۱) فکرسیہ علمہ۔ بخاری ۔ کتاب التفسیر (ت ۱۵۲) لا اکراہ فی الدین دین میں زبردستی نہیں دین میں جبر نہیں ولو شاع ربک لا من من فی الارض کلہم جمیعا افانت تکوہ الناس حتی یکونو امومنین (ت ۱۵۳) الوشد واقعی بات کو پالینا حق معلوم کر لینا (ت ۱۵۴) انفصام ایک دانت سے دبائیں اور نشان پر جائے اس سے بڑھ کر قصم اس سے بڑھ کر قضم مطلب یہ کہ اس میں تو فصم بھی نہیں (ت ۱۵۵) یحرجھم من الظلمت انہیں اندھیروں سے نکالتا جائے گا بشرطیکہ طالب قاصد ہو نور کی طرف۔ اقسام ظلمات والدین کی ظلمت یعنی ان کے اعتقادات و اعمال و اخُلاق خلاف شریعت ۔ استاد۔ مربی و مرشد بدوریاکار ہوں پھردوست بدرسم و بدعت و عادت بے جا محبت و بغض بے جا شہوت و حرص بے جا بخل و عجزو کسل ظلم و ستم خلاف سنت و……قرآنی عمل کرنا تمام ظلمت بعضہا فوق بعض ہیں (ت ۱۵۶) یحی ویمیت آباد وویران کرنا ہے۔ حقیقی معنی نہیں۔ موت کے دس سے کچھ اوپر معنی ہیں جو سب کے سب مجازی ہیں (ت ۱۵۷) انا احی واصیت میں بھی آباد ویران کرتا ہوں انسان کو چاہئے کہ متکلم و مخاطب و قرین وموقعہ و محل کا لحاظ رکھ کر بات کرے مثلاً ٹکٹ کا لفظ موقع بموقع مختلف المعنی ہے اگر الفاظ کا مفہوم حسب غرض متکلم لیا جاوے تو ہرگز وقت پیش نہ آئے۔ دیکھو یہاں ابراہیم جیسا جلیل القدر موحد کہہ رہا ہے کہ ربی الذی یحی ویمیت نادان امیر مجازی معنی سمجھ رہا ہے اس لئے مباحث دانا نے مباحثہ کا رخ بدل دیا اور کہا میرا رب مشرق سے آفتاب چڑھاتا ہے تو مغرب سے چڑہا فبھت الذی کفر یعنی کافر میموت ہو گیا۔
    امام رازی کا ایک لطیفہ :۔
    وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہہ دیتا کہ ہمیں تو مشرق سے نکالتے ہیں تو جنوب یا شمال سے پہلے نکال دے تو ھر ہم مغرب سے نکالیں گے تو آگے بات چلتی مگر اللہ نے یوں فرمایا کہ واللہ لا یھدی القوم الظلمین صادق آتا (ت ۱۵۸) فان اللہ یاتی بالشمس اللہ آفتاب کو نکالتا ہے مشرق سے وہ سورج کا پرستار تھا خوب دلیل کی کہ ایک تو آفتاب سے سب چیزوں کا وجود مانتے ہو پھر اپنی طرف منسوب کرتے ہو ۔ (ت ۱۵۹) ملاحظہ ہو … حرقیل باب ۳ توریت اسی طرح ایک خواب امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا جو انہوں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کے اعضاء مبارک منتشر ہیں اور تعبیر اس کی تفقہ فی الدین تھی جو ان سے دنیا میں پھیلی ۔(ت ۱۶۰) علی قریۃ سے مراد بیت المقدس ہے ۔ (ت ۱۶۱) فاماتہ اللہ اللہ نے مارا اور وہ مر گیا ۔(ت ۱۶۲) مائۃ عام مفعول فیہ یہ ظرف ہے اس صدی میں مر گیا جب وہ قربہ ویران تھا ۔ (ت ۱۶۳) ثم بعثہ والمبعث بعد الموت حق عالم برزخ بھی مراد ہے ۔ (ت ۱۶۴) لبنت مائۃ عام سو برس کے بعد آبادی کی پیشن گوئی تھی ۔ (ت ۱۶۵) لم تیسنہ تازہ بتازہ اور جس پر برس نہیں گزرا ۔ (ت ۱۶۶) ولنجعلک ایہ تجھے نشان بنائیں گے مردہ بھی یہ اعتبار پیشن گوئی کے نشان ہو سکتا ہے فرعون کو بھ کہا لمن خلفک آیہ (ت ۱۶۷) تحی الموتی تو مردے کو کیسا زندہ کرتا ہے مردے یعنی شہداء وغیرہ ایمان تو ہے۔ عرفان میں ترقی چاہتا ہوں۔ (ت ۱۶۸) فصرھن ہلالے ان کو بخاری نے اس کے معنی امل ھن مائل کرلے ان کو اپنی طرف جیسے پرندے ہلا لئے جاتے ہیں کئے ہیں اور فصرھن کے دوسرے معنی صورت پہچان رکھ ایک معنی ہیں کچل ڈال قیمہ کر ڈال اور ان کو پراگندہ کر ڈال بعض کہتے ہیں کہ ابراہیم نے نہیں کیا کیونکہ عظمت الٰہی کا جلال تھا۔ مجاہد نے کہا کیا ہے میرا ایمان ہے کہ ایکف تحی الموتی کا جواب یعنی جہاں مردے زندہ ہوتے ہیں تو نظر کشفی سے وہاں دکھا دیا۔ (ت ۱۶۹) واللہ عزیز حکیم اللہ غالب حکمۃ والا ہے قضہ ہائے مذکورہ ضمن جہاد ہیں ویران اور تباہی اور قوت اقرباء موجب حزن نہ ہو کیونکہ اللہ غالب حکمت والا ہے (ت ۱۷۰) ینفقون اموالھم جو اپنے مال خرچ کرتے ہیں انجیل متی باب ۴۲ آٓت میں لکھا ہے کہ سائل جو سوال کرے دو یہ تعلیم کا حد سے بڑہا ہوا طریقہ ہے یہاں کا خرچ بھی جہاد کے سلسلہ میں ہے ۔ (ت ۱۷۱) ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتیہیں چندے اور اعلاء کلمہ اللہ کے لئے ۔ (ت ۱۷۲) قول معروف پہلی بات کہہ دینا۔ پہلی بات کہہ دے اور استغفار کرے۔ حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی نے فرمایا کہ سائل کے دو حال ہیں سچا مسکین یا زبردستی کا یعنی حریص اب معطی کے ھ دو حال ہیں مخلص بے ورم یاریا کارنجیل دونوں ذلت کی حالت رکھنے والے ہیں ۔ (ت ۱۷۳) تبثیتا من انفسھم اپنی نیت ثابت رکھ کر یعنی کسی کے کہنے سننے یا فوری جوش سے نہ ہو۔ دل کی خوشی اور ثبات اعتقاد سے ۔ (ت ۱۷۴) صعفین ثنیہ کثرت کے لئے ہے یعنی بہت پھل دار ۔ (ت ۱۷۵) غنی بے پرواہ ہے یعنی تمہاری خیرات کا محتاج نہیں حمید بڑا تعریف کیا گیا ہے یعنی اسے طیبات پسند تمہاری گندی سڑی خیرات کی چیزیں ناپسند ہیں۔ (ت ۱۷۶) الشیطن بدچلن دنیا دار انجیل اور مسرف بھی اس میں شریک ہیں ۔ (ت ۱۷۷) لا یستطیعون الخ چل پھر نہیں سکتے ۔ یعنی جو غریب لوگ رسول اللہ کی خدمت میں عژلم دین حاصل کرنے کو حاضر رہتے ہیں کسی سے مانگتے نہیں نہ کسی کی چیز پر نظر ڈالتے ہیں۔ (ت ۱۷۸) تعرفھم بسیھم شرفاء کو قرائن پریشانی سے پہچاننا چاہئے۔ نہ سوا سے۔ (ت ۱۷۹) الذین یاکلون الربوا جو لوگ سود کھاتے ہیں پہلے صدقہ کا ذکر کیا جس کی حقیقت یہ ہے کہ بلامبادلہ اپنا مال دوسرے کی ملک میں کردیں اس کے بعد حرمت زبا کا بیان کیا جس کی حقیقت یہ ہے کہ اپنا مال دوسرے کے سپرد اس شرط پر کریں کہ وہ مال مع شے زائد واپس ملے صدقہ اور ربا حقیقت میں ضدین ہیں تو صدقہ کے قبول کر لینے سے سود کے ترک پر انسان مسقد ہو اتا ہے۔ یہ ترتیب ہے اور سود کا ذکر اس لئے ہوا کہ وہ جہاد و بڑا مضر ہے ایک آسامی ایسی ہوتی ہے کہ ہو قتل ہو جائے تو روپیہ ضائع ہونے کا ڈر ہے یا مقروض قرض کے در سے کہیں غازی کو شہید نہ کر دے کہ رقم بچ۔ علاوہ ازیں سود خوار بخیل ہوتے ہیں ۔ ہر وقت روپیہ کے حساب اور اس پر سود لگانے کے سوچ میں رہتے ہیں یہاں تک کہ بعض راستے میں چلتے ہوئے بھی مدہوشوں کی طرح وہی شغل رکھتے ہیں یعنی گنتی اور حساب جمع کی فکر میں منھمک رہتے ہیں۔ (ت ۱۸۰) یحق اللہ الربوا اللہ سود کو گھٹاتا ہے نبیوں کے یہاں اسی لئے دیوالہ نکلتا ہے انگریز سود دیتے ہیں لیتے نہیں۔ سود کے عقلی نقصان یہ ہیں کہ سود خوار سست ہوتے ہیں۔ اخلاق بد رکھتے ہیں حکومت نہیں کر سکتے سردست بہت سی رقم دیتے ہیں عجز و کسل میں مبتلا ہوتے ہیں اور قرض گیرندہ کے قتل یا خود کے قتل کا بھی ڈر ہے اس لئے جہاد کے ضمن میں آیا ہے اکثر ریاستیں امرا کی سود خواری سے ڈوبیں۔ (ت ۱۸۱) کاتب بالعدل لکھے والا انصاف سے یعنی وہ تحریر کرنے والا جس کی تحریر عدالت میں بھی کام آسکے۔ (ت ۱۸۲) وان تفعلوا یعنی نقصان دو گے اور خلاف حکم الٰہی کرو گے۔ جو مذکور ہو چکے تو گناہ کی بات ہے ۔ (ت ۱۸۳) فرھن مقبوضہ قبضہ گرو کا ہو جانا چاہئے یعنی کوئی چیز گروی رکھ دو یا رکھ لو تو جائز ہے ۔ (ت ۱۸۴) للہ ما فی السموات وما فی والارض ـ اللہ ہی کا ہے جو … ساتوں اور رزمین میں ہے طلب یہ کہ تمام عرب اور اکثر حصہ دنیا پر قبضہ ہو جائے گا اور محاسبہ بھ ہو گا اور تکلیف مال ایطاق نہیں دی جائے گی۔ دعائیں کثرت سے کرتے رہنا یہ مضمون بھی ضمن جہاد ہے۔ (ت ۱۸۵) فیغفر لمن یشاء بخشے گا جسے چاہے۔ اس سے مفلحین مراد ہیں ویعذب من یشاء سے کفروا سواء علیھم الجزو (۱) رکوع (۱) مراد ہیں۔ (ت ۱۸۶) غفرانک تیری بخشش چاہتے ہیں مصائب اور تکالیف میں کثرت استغفار ہونا چاہئے اور ہمیشہ عسر و یسر میں اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن واعوذبک من العجز والکیل واعوذبک من الجین والنجل واعوذبک من غلبۃ الدین وقھر الرجال پڑھنا چاہئے۔ عجز کے معنی سامان بہم نہ پہنچانا۔ کسل کے معنی ہیں سامان سے کام نہ لینا۔ (ت ۱۸۷) ربنا ولا تحمل علینا اے ہمارے رب ہم سے نہ اٹھوا ا تنا۔ ایسے ایسے عذاب جن سے تمام قوم ہلاک ہو جائے ۔ (ت ۱۸۸) اصرا کے معنی وہ کام جس کے بعد انسان سستی اور غفلت میں مبتلا ہو جائے جس کا ٹھیک ترجمہ ہے سہل انکاری اور کام میں الجھن ڈالنا اور نقص عہد غیر پابندی وغیرہ ہیں ۔ (ت ۱۸۹) مولنا مولی اللہ کے لئے ہو تو ۔ رب مالک ناصر ۔ (ت ۱۹۰) فانصرنا میں اشارہ ہے کہ تمام مضامین جہاد کے متعلق تھے ۔
    سورۂ آل عمران
    (ت ۱۹۱) تمہید ۔ اس سورۃ میں کلام اللہ کو سمجھنے کے قواعد۔ یہودیوں عیسائیوں سے مناظرہ اور جہاد کے احکام ہیں ۔ (ت ۱۹۲) الم یہ کلمہ چھ سورتوں کے اوّل میں آیا ہے۔ اے مثیل موسیٰ ۔ چونکہ ہمارے سردار دو جہاں قرآن مجید میں مثیل موسیف مانے گئے ہیں اس لئے اکثر قرآن موسیٰ کے حالات سے بہرا پڑا ہے۔ کیونکہ مثیل کے حالات اصل کی شرح کرتے ہیں ۔ (ت ۱۹۳) الحی وہ ہمیشہ زندہ ہے عیسائیوں کے مقابلہ میں فرمایا کہ عیسی علیہ السلام مر چکے وہی ایک حی ہے اور توحید کا مضمون دینے کے لئے مضمون آیۃ الکرسی کا حصہ اس میں دے دیا ۔ (ت ۱۹۴) ھدی لوگوں کی ہدایت کے لئے انجیل بھی ہمارے نبی کی بشارت دیلی تھی یہاں ھدی کے یہی معنی ہیں ۔ (ت ۱۹۵) الفرقان یعنی یہ کتاب جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی ۔ (ت ۱۹۶) بورکم فی الارحام وہی ہے جو تمہاری صورت بناتا ہے ماں کے پیٹوں میں ۔ یعنیاللہ باریک باریک کام سخت اندھیرے میں کرتا ہے جو کام کہ لوگ اجالے میں بھی نہیں کر سکتے دیکھو مختلف صورتیں اور سب سے بڑھ کر آیات کہ داست برآب صورتگری … نطفہ صورتے چوں چری ۔ (ت ۱۹۷) ایت محکمت وہ ہیں جن میں اللہ تعالیف کے احکام ہیں جیسے شریک نوکر و قیامت کو مانو وغیرہ مضموط آیتیں محکم جن میں حکم ہوتے ہیں کھلے کھلے محکمت جو مدلل ہو چکے ہیں وہ کل کتابیں اصل اور جڑ ہیں جو مختصراً سورہ فاتحہ میں بیان ہوئے ہیں ۔ (ت ۱۹۸) واخر متشبھت اور کچھ اور آیتیں بھی ہیں جو کئی طرف لگتی ہیں ۔ شبہہ ڈالتی ہیں ۔ مصفا طور پر سمجھ میں نہیں آتیں۔ احکام وکلام کا وہ حصہ جو آدمی کی سمجھ میں اچھی طرح آجائے محکمات میں سے ہے جس کو جملہ مفید کہتے ہیں کچھ حصہ متشابہ ہوتا ہے جس میں شبہ پڑتا ہے اس دوسرے حصہ کو اوّل کے تابع کر لے اور معنی ایسے کرے جو محکمات کے خلاف نہ ہوں مثلاً ووجدک صاالا متشابہ ہو تو ماضل صاحبکم سے حل کر لے کہ وہان مراد عاشقانہ اور دیندارانہ ضلالت سے نہ گمراہی اور بدکاری حصول فہم قرآن کا ایک طریق ہے (۲) دعا کرے (۳) آخرت سے ڈرے ۔ بدکام نہ کرے۔ متقی بنے کہ حصول فہم قرآن کا بڑا ذریعہ ہے ۔ (ت ۱۹۹) تاویلہ تاویل کے معنی مطلب کی حقیقت یا حقیقت حال اور تاویل کے بہہ معنی لینا کہ بات کو اپنے مطلب پر گھڑ لیں غلط ہے اس کو تسویل کہتے ہیں اور یہ برا ہے اس کی حقیقت حال کو اللہ ہی جانتا ہے ۔ (ت ۲۰۰) قولون امنا بہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس کو ماتا۔ مومن کے چھ کام (۱) دعا (۲) مبرمن المعصیۃ والصبر علی الطاعۃ (۳) راستبازی (۴) عبادۃ اللہ (۵) کچھ اللہ کی راہ مین خیرات (۶) استغفار ۔ (ت ۲۰۲) لن تغنی کچھ فائدہ نہ دے گا بدر کی لڑائی کے بعد جو کافروں نے لڑنے کے واسے روپیہ اور لشکر جمع کیا ہے۔ وہ ہرگز نہ بچائے گا ۔ ان کو کچھ بھی اللہ کے عذاب سے ۔ (ت ۲۰۳) وقود النار آگ کا ایندہن یا ناراللحریبی مراد ہے ۔ (ت ۲۰۴) ذین للناس پسند آگئی اور مرغوب کر دی گئی ہے لوگوں کو یہ دنیا اور لوازم دنیا کا خلاصہ ہے جو موجب تفاخر اور زینت اور تکبر ہے سب سے پیچھے جو گناہ انسان کے دل سے ہٹتا ہے وہ تکبر اور شیخی ہے محققین صوفیاء کا اس پر اتفاق ہے ۔ (ت ۲۰۵) شھد اللہ اللہ گواہی دیتا ہے ۔ اللہ کی گواہی چار قسم کی ہوتی ہے۔ ایک تائیدات دوسری فطرت ۔ تیسرے عقل ۔ چوتھے وحی ۔ (ت ۲۰۶) ثم تولی فریق منھم پہرانمیں کا ایک فریق منہ پھیر لیتا ہے گو نصیحت اہل کتاب کو ہو رہی ہے مگر ہمارے زمانہ کے مسلمانوں کی حالت بہت کمزور ہے کیونکہ باہم محبت اور اتفاق نہیں حقوق زنا شوی اچھے ادا نہیں کئے جاتے خود غرضی و حرص و تکبر بڑھ گیا ہے۔ دین کی پابندی و تقویٰ کم ہو گیا ہے ۔ (ت ۲۰۷) ما کانوا یفترون جو بنا لیا کرتے تھے تراشیدہ دور جھوٹے قصے بے سود کرامتیں جس کا ادعا جاہل صوفی اور ان کے معتقد کرتے ہیں اور بزرگوں سے بے جا عداوتیں جو فرقہ وہابیہ اور نیا چرد بدعتی وغیرہ وغیرہ سب مراد ہیں ۔ (ت ۲۰۸) قل اللھم کہہ دو اللہ اعمال نیک کی توفیق دعائوں سے ملتی ہے اس لئے بکثرت دعائیں اور استغفار اور درود اور لاحول اور سورہ الحمد کی مزادلت معنی پر نظر رکھ کر کرنا چاہئے ۔ (ت ۲۰۹) تولج النھار فی اللیل داخل کرتا ہے رات کو ان میں یعنی بر دن کو اچھا کرتا ہے ۔ (ت ۱۱۰) وتولج النھار فی اللیلاور داخل کرتا ہے ان کو رات میں یعنی جن کے گہر جگمگا رہے تھے مارے خوشی کے ۔ وہاں اندھیرا چھاگیا۔ یعنی منکروں کے گھروں میں اور جہاں اندھیرا پڑا تھا وہاں اجالا ہو گیا۔ اس سے صحابہ اور ان کے مخالفوں کی حالت مراد ہے ۔ (ت ۲۱۱) تخرج الحی من المیت زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے ۔ یعنی بے قوتوں کو قوت دار کر دے ۔ (ت ۲۱۲) وتخرج المیت من الحی اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے یعنی قوت داروں کو بے قوت کر دے ۔ (ت ۲۱۳) ویحذرکم اللہ نفسہ اور ڈراتا ہے تم کو اللہ اپنی ذات سے۔ یعنی کسی کے کہنے سننے سے نہیں خود ہی اللہ اپنے ارادہ اور خواہش سے ڈراتا ہے ۔ (ت ۲۱۴) یحببکم اللہ اللہ تم کو اپنا محبوب بنا لے گا۔ اس آیت سے نبی کریم ﷺ کی عظمت و شان کیسی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ کی اتباع طالب کو مطلوب اور محب کو محبوب بنا دیتی ہے ۔ (ت ۲۱۵) ان اللہ اصطفی ادم بے سک اللہ نے پسند فرما لیا ہے آدم کو اور یہاں سے اللہ تعالیف نے مسیح اور ان کی ماں کی بریت الزامات یہود و خیالات نصاریٰ سے شروع کی ہے پہلے یہ کہ ان کو خاندانی ایسی حیثیت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ خاندان آل عمران سے ہیں۔ اچھا کاندان بھی رزایل سے حاجب ہوتا ہے دوم یہ کہ میرم کی ماں نے جب وہ ابھی پیدا بھی نہ ہوئی تو اس کے لئے دعائیں شروع کیں۔ دعا تمام مذاہب کا متفقہ اصل ہے ۔ تیسرا زکریا نبی جو کہ عمر رسیدہ تھا اس کا سپرنٹنڈنٹ (منتظم) بنایا گیا ۔ چوتھا بچپن سے ہی مریم ایسی مسنہ تھی کہ خدا کو ہر وقت اپنے سامنے جانتی تھی اور اییس معرفت رکھتی تھی کہ وسائط ک کچھ سمجھتی نہ تھی۔ اس کی معرفت دیکھ کر ہی زکریا کو … طیبہ کا شوق پیدا ہوا ۔ (ت ۲۱۶) اذ قالت امرات عمران عمرانیوں کی ایک عورت نے کہا خاوند بی بی مراد نہیں ۔ (ت ۲۱۷) ولیس الذکر کا لانثی اللہ تعالیٰ نے اگر پیش گوئی کے رنگ میں فرمایا تو یہ معنی ہون گے کہ اس لڑکی کے تو جیسا لڑکا نہ ہو گا ۔ (ت ۲۱۸) وانی اعیدھا بک اور مین اس لڑکی کو تیری پناہ میں دیتی ہوں۔کیا اچھا پاک طریق ہے سب دینداروں کو چاہئے کہ جماع سے پہلے ماں باپ اور حمل سے پہلے ماں یہ دعا پڑہا کرے ۔ (ت ۲۱۹) قالت ھو من عنداللہ کہنے لگی یہ اللہ کے پاس سے ہے ۔ مقامات متبرکہ میں مختلف چیزیں نذر میں پیش ہوتی ہیں جو اب میں محبت الٰہی کی دل دادہ نے کیا خوب کہا کہ ھو من عنداللہ غیر موسمی میوے عجائب پرست مفسرین اور کلام واعظین سے ہے ۔ (ت ۲۲۰) ھنالک دعا زکریا وہیں زکریا نے دعا مانگی یعنی محل اجابت دیکھ کر زکریا نے دعا کی ہے کیونکہ یہ لوگ کشش الٰہیاور محل کو خوب پہچاننے والے ہوتے ہیں۔ اس لئے دعا استجابت دعا کے محل احادیث ادعیہ میں بکثرت مذکور ہیں اور وہ ایک بیماری کے مختلف نسخوں کی طرح جو ذرا سے اختلاف سے مفید ثابت ہوتے ہیں مختلف ہیں ۔ (ت ۲۲۱) ان اللہ یبشرک بیشک اللہ تجھے بشارت دیتا ہے یہ حضرت زکریا علیہ السلام پر الہام ہے کسی نے کہا کہ وہ اولاد سے ناامید تھے یہ بالکل غلط ہے کیونکہ تیسومن روح اللہ نبی تو کیا خاص ایماندار بھی رحمت اللہ س کبھی نامید نہیں ہوتے ۔ (ت ۲۲۲) مصدقا اللہ کی کلام سے ایک کا مصداق ہو گا ۔ (ت ۲۲۳) بکلمۃ من اللہ یعنی اس پر وحی آئے گی صاحب الہام ہو گا ۔ (ت ۲۲۳) بکلمۃ من اللہ یعنی اس پر وحی آئے گی صاحبالہام ہو گا ۔ (ت ۲۲۴) واذکر ربک کثیرا (اولاد ہونے کا نسخہ) مرد اور عورت دونوں بغیر تکلم تین شبانہ روز ذکر الہی میں کثرت استغفار لاحول درود شریف و الحمد بہ پابندی نماز تہجد بغیر امتحان الٰہی ۔ (ت ۲۲۵) وصطفک یہ یہود کے طعن کا جواب ہے ۔ (ت ۲۲۶) واسجدی یہودیوں کی جماعت کی نماز میں رکوع بھی ہوتا ہے۔ سجدہ الگ کرتے تھے ۔ اس لئے سجدہ کا پہلے حکم آیا ہے ۔ (ت ۲۲۷) انباء الغٓب یہ ایک پیش گوئی ہے جیسے زکریا کو بعد دعا کامیابی ہوئی۔ اسی طرح جماعت صحابہ اہل مکہ کو کہا کہ تم بھی کامیاب ہو جائو گے۔ اور یہ ملک آباد و قایم رہے گا اور یہاں ایک ہونہار بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ جو عروس مکہ کے لئے موجب فخر ہو گا دیکھو یسعیاہ باب ۵۴ ۔ (ت ۲۲۸) ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ فرشتے کہتے ہیں ہم تجھے اللہ کے کلام سے ایک بشارت سناتے ہیں خود نہیں کہتے ہیں ۔ (ت ۲۲۹) وکھلا یہ حضرت مریم کے لئے پیش گوئی ہے تیرا بچہ گونگا نہ ہو گا۔ بچپنے میں نہ مرے گا۔ عمر رسیدہ ہو گا۔ (ت ۲۳۰) یقول لہ کن فیکون یہ امورات کونیہ میں سے ہے ہمیشہ کن فیکون والی آیتیں امور کونیہ پر ہی آیا کرتی ہیںاور حیات بعد وفات پر دال ہوتی ہیں۔ جیسے ان مثل عیسی عند اللہ کی آٓت میں خلقہ آٹا ہے اور خلقہ کے بعد کن فیکون ۔ جس سے معلوم ہوا کہ تخلیق ہو چکی اور اس کے بعد اپنے وقت پر موت کن فیکون کے حکم کے موافق ہوئی ۔ (ت ۲۳۱) خلق تجویز کرتا ہوں۔ بناتا ہوں جیسے تخلفون انکا اور خلق لکم ما فے الارض الجز نمبر ۱ ۔ ۳ وغیرہ بھی آئے ہیں ۔ (ت ۲۳۲) واحی الموتی احیاء تین قسم کا ہوتا ہے (۱) ساحران موسیٰ اور دوسرے ساحروں کا (۲) اللہ پاک کا (۳) انبیاء علیہم السلام کا ۔ یہاں تیسرا مراد جیسا کہ اذا دعاکم لما یحییکم وغیرہ جوشان نبوتکے موافق ہو ۔ (ت ۲۳۳) وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون نبی بتاتا ہے کہ کیا کھانا چاہئے اور کیا نہ کھانا چاہئے۔ تورات کے احکا یاد دلائے حرام و حلال کے مسائل وغیرہ نہ دعویٰ غیب والی ۔ (ت ۲۳۴) ولاحل لکم اے بنی اسرائیل بعض باتیں جو تم میں حرام سمجھی جاتی ہیں میں اس کے حلت و جواز کی تجویز اللہ کے حکم سے بتائوں ۔ (ت ۲۳۵) متوفیک حمیتک ابن عباس بخاری کتاب التفسیر ۔ تفسیر سورہ مائدہ جب لفظ توفی باب تفعل سے ہو اور اللہ تعالیٰ اس کا فاصل ہو انسان اس کا مفعول ہو تو سو قبض روح کے اس کے کوئی اور معنی نہیں۔ قرآں و احادیث و اثار و اشعار کسی میں اس کے خلاف نہیں پایا جاتا۔ عاوہ بریںاللہ تعالیٰ نے اپنے اس فعل توفی کے متعلق قرآں کریم میں یہ خود فرمایا ہے کہ یہ فعل یعنی قبض روح …عندالتوم ہوتا ہے یا عندالموت ہوتا ہے۔ اس کے سوا کوئی توفی نہیں ۔ دیکھو پارہ ۱۴ رکوع ۲ ۔ اللہ یتوفی الانفس یہ آیت یہودیوں آریوں دہریوں سب پر حجت ہے کیونکہ اس میں وہ زبردست پیس گوئی ہے جس کا ظہور سالہا سال سے اظہر من الشمس ہو رہا ہے اور وہ یہہ ہے کہ مسیح کے متبع اس کے منکروں پر قیامت تک غالب رہیں گے اس سے حضرت مسیح علیہ السلام کی سچائی بعد دید نبیوں کا وجود ہستی باری سب ثابت ہیں ۔ کسی نے کہا کہ صیغہ متوفی آیندہ پر دلالت کرتا ہے جو کبھی ہو گا؟ جو اب دیا گیا آئندہ ہونے والی بات بعد الوقوع آئندہ نہیں رہتی کسی نے کہا کہ تقدیم و تاخیر ہے۔ جو اب دیا گیا بلا ضرورت صحیحہ خلاف منشاء الہی نص قرآنی کو الٹ پلٹ کرنا یحرفون الکلم عن مواضعہ کے مورد بننا ہے اپنے دل سے جب تک کہ مبحوث عنہ کیبعینہ نظیر دوسری آیت میں نہ ہو قاعدہ بتانا یا بے قاعدہ قاعدہ جاری کرنا داب تقویٰ کے خلاف ہے ہمارے سردار دو جہان نے کسی سوال کے جواب میں فرمایا کہ وہیں سے شروع کرو جہاں سے اللہ نے شروع فرمایا ان الصفا والمروۃ الخ ۔ (ت ۲۳۶) وراقعک خاک بہ دہان دشمنان تو تو ملعون نہیں مقبول الٰہی ہو گا جیسا ارشاد ہے الی مرجعکم اس میں رفع کے ساتھ مقبولیت و بلندی درجات رکھی ہے۔ نہ صرف آسمان پر چلے جانا جو موسیٰ علیہ السلام کو یہی حاصل نہ ہوا کیونکہ یہودیوں کو جواب دیا جا رہا ہے (ت ۲۳۷) ان مثل عیسی ۔ عیسیٰ اللہکا بیٹا نہیں نہ اللہ ہے اس سے مسلمانوں اور عیسائیوں ا فیصلہ ہوجاتا ہے ابن آدم تو وہ مانتے ہیں الوہیت کا وہ ثبوت دیں ۔ (ت ۲۳۸) کمثل ادم نبوت میں اور بے باپ ہونے میں آدمی سے بڑھ کر عیسیٰ میں کوئی بات نہیں ۔ (ت ۲۳۹) کن فیکون خلق تو ہو چکا پس یہ کن موت کے بعد ہو گا اس سے بھی وفات مسیح ثابت ہے ۔ (ت ۲۴۰) الحق من ربک یعنی یہ مثال آدم اور عیسیٰ کے برابر ہونے اور مخلوق الٰہی ہونے میں سچ ہے ۔ (ت ۲۴۱) ثم فلبحھل یہاں تک یہود و نصاریٰ کے غلط خیالات کی تردید بہ دلائل قطعیہ کر دی ہے۔ اگر اب بھی نہ مانیں یتو سوائے اس کے کیا علاج ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا اور مباہلہ سے کام لیا جائے اور گڑ گڑا کر حق کے فیصلہ کی دعا کریں ۔ (ت ۲۴۲) لھو العزیز الرحیم یعنی میں غالب ہو جائون گا اور یہ پکی بات ہے ۔ (ت ۲۴۳) فان تولو یعنی میرے مقابلہ میں اگر دعا نہ کریں گے تو وہ عنداللہ مفسد سمجھے جائیں گے ۔ (ت ۲۴۴) سواء بیننا وبینکم ان الدین عند اللہ الاسلام فبھد اھم اقتدہ ان الفاظوں سے اسلام اپنی قدامت ثابت کرتا ہے اور حق بھی ہے کہ ابتدائی درجے قرب اور توحید کے ہی ہوتے ہیں اور پچھلے لوگ مقربان الہی کی زیادہ تعظیم و توقیر کر کے شرک کی آفت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ورنہ راہ حق سواء بیننا وبینکم ہے اہل کتاب نصاریٰ میں چونہ غْلطی کبھی تھی کہ انہوں نے توحید میں تثلیث کو داخل کر دیا تھا اور اس واسطے ان کو اسی پر تنبیہہ کی ہے اس سے یہ مقصد نہیں کہ ایمان بالرسالت کی طرف یا عام عقائد اور عمال اسلام کی طرف ان کو دعوت نہ دی جائے یا بغیر اس کے ان کی نجات ہے کیونکہ قل کا مخاطب حضور ﷺ نے جس طرح اس حکم کی تعمیل کی ہے کسی مسلم کو اس سے ادھر ادھر ٹھنا ضلال بعید ہے اور آپ کا طریق اس آیت کے ساتھ اھل کتاب کو دعوت کرنے کا آ کے مراسلات سے ظاہر ہے جن کا عنوان بدین الفاظ ہوتا تھا۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان ہے رحم والا
    من محمد عبداللہ ورسولہ الی ھرقل عظیم الروم سلام محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے ہر قل روم کے رئیس کو معلوم ہو جو علی من اتبع الھدی اما بعد فانی ادعوک بدعایۃ الاسلام سیدہے رستے پر چلے اس کو سلام اس کے بعد میں تجھ کو اسلام کے کلمے کی طرف بلاتا ہوں اسلم تسلیم یوتک اللہ اجرک مرتین فان تویت فان علی … مسلمان ہوجا تو تو بچا رہے گا اللہ تجھ کو دہرا ثواب دے گا پھر اگر تو یہ بات نہ مانے تو تیری رعایا کا گناہ اثم الیریسین ویاھل الکتاب تعابہ الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم
    کتاب والو اس بات پر آجائو جو ہم میں تم میں یکسا ہے کہ اللہ کے سوا لا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیاء ولا ینخد بعضنا بعضا ……… اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم میں ……… ن دون اللہ فان تولوا فقولوا شھدوا بانا مسلمون پھر اگر وہ نہ مانیں تو تم ان سے کہہ دو گواہ رہنا ہم تو تابعدار ہیں۔ بخاری شریف پارہ اوّل جلد اول باب (۱) کیف کان بد الوحی ـ وھکذائی اکتاب التفسیر زیر تفسیر آیت ہذا پارہ ۱۸ ۔ (ت ۲۴۵) واللہ ولی المومنین۔ اس کی دوستی کی علامت یہ ہے کہ یحزجھم من الظلمت الی النور ۔ (ت ۲۴۶) وقالت طائفۃ من اھل الکتب طباع مختلف ہوتے ہیں شریف اور نجیب اور بد بدترین مخلوق یہ اس قسم کے ہوتے ہیں جو رات دن اسی فکر میں علطان پیچان رہتے ہیں کہ کسی اعلیٰ درجہ کی بات کو کسی ڈہب سے بگار دیں یا کسی برے کارخانہ و سلطنت کو کسی ڈہب سے صدمہ پہنچا دیں۔ (ت ۲۴۷) امنوا دنیا سازی کے طور پر شرارت سے ۔ (ت ۲۴۸) لعلھم یرجعون یعنی زمانہ سازی سے ہم انکو بنا لیں شاید وہ مذہب چھور کر ہماری طرف واپس چلے آویں ۔ (ت ۲۴۹) ولا تومنوا الا الخ (ترجمہ) اور (کہتے ہیں) کہ کسی کا اعتبار نہ کرنا تم مگر اسی کا جو چلے تمہارے دین کی چال تم کہہ دو (کسی کی چال کچھ کام کی نہیں ہاں) ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے (اور یہ یہی کہتے ہیں کہ نہ مانو یہ بات ) کہ کسی کو دیا جاوے جیسا تم کو دیاگیا ہے دین یا وہ تم سے جھگڑ سکیں تمہارے رب کے سامنے تم جواب دو بے شک فضل تو اللہ ہی کیہاتھ میں ہے ۔ وہ فضل کر دیتا ہے جس پر چاہتا ہے ۔ (یعنی اب محمد مصطفی ﷺ پر فضل ہو رہا ہے) ۔ (ت ۲۵۰) ان بوتی احد مثل ما اوتیتم ہدایت یہ ہے کہ دیا جائے جیسے موسیٰ دیا گیا تھا بلکہ اس سے زیادہ یہ کہ غالب آجائے ۔ (ت ۲۵۱) او یجادوکم او یہ معنی بلکہ ۔ (ت ۲۵۲) یختص برحمتہ یعنی اب محمدی پر سب کمالات ختم ہو چکے ۔ (ت ۲۵۳) واللہ ذوالفضل العظیم محمد پر سب نبیوں سے بڑھ کر فضل کرے گا ۔ (ت ۲۵۴) وان منھم لفریقا (تفسیر بالرائے سے کیا مراد ہے) یہود میں یہ عادت تھی کہ توریت کو اس کے حقیقی مطلب کے خلاف لوگوں کے بہکانے کے لئے اینی راے کی تابع کرتے اور ایسی کوشش کرتے کہ اس مدعائے باطل کو الفاظ کتاب سے ثابت کر دیں جیسا علمائے حال مسیح کی یات کے اثبات میں ایسی کوشش کرتے ہیں۔ تفسیر بیان کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایسی تفسیر بیان کی جائے جو کہ قرآں کی کسی آیت کے خلاف نہ ہو نہ کسی حدیث صحیح کے خلاف ہو نہ قواعد عربیہ اور لغت کے خلاف ہو جو اس کے خلاف پر جرات کرے گا اس نے تفسیر بالرائے کی گویا تقول علی اللہ کیا۔ ایسے لوگ ایک مطلب پہلے اپنے دل میں بنا لیتے پھر اس کو قرآن کی کسی آیت سے ثابت کرنا چاہتے پھر قرآن کو موڑ توڑ کر اس مطلب میں ڈہال لاتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے دل میں یہ خیال کرلے کہ مسلمان بنانے کے لئے صرف اللہ کو منوادینا کافی ہے۔ اور کسی عقیدہ کی اسلام میں داخل کرنے کے لئے ضرورت نہیں اور اس خیال باطل کو وہ یوں ثابت کرے قل اللہ ثم ذرھم فی خوصھم یلعبوک کہ اللہ کہہ کر یعنی اللہ منوا کر ان کو چھوڑ دے۔ حالانکہ قل الہ جواب ہے من انزل الکتب الذی جاء موسی کے سوال کا قرآن کے … کو بالائے طاق رکھا اور اپنا مدعا آیت کے ایک حصہ کو کاٹ کر ثابت کیا ہے۔ یہ تفسیر الرائے کی مثال ہے۔ نیاز مند نے حضرت مسیح موعود علیہ الف الف تحبۃ وسلام سے اس حدیث کے معنی پوچھے ہیں فبسر القران براہ فاضات فقد خطا حضور نے فرمایا کہ جو بات خدا اور رسول کے منشاء کے خلاف ہو گی وہ تفسیر بالرائے ہے چنانچہ یہ شعر تفسیر ماالرائے کا مجسم نمونہ ہے
    لاتقربو الصلوۃ زکیھم بخاطر است
    داز امر یاد ماند کلوا واشربوا امر
    شاعر کا مطلب یہ ہیکہ قرآن میں انسان کے لئے دو طرح کی باتیں ہیں اور امرو نواہی پس نواہی میں سے تو میں نے لاتضربو الصلوۃ والی آیت لے لی ہے اور اوامر میں سے کلواشربوا گویا ایک قسم کی تضحیک کلام الہی کی کی گئی ہے نعوذ باللہ اور اسی قسم کی بات تفسیر بالرائے ہوتی ہے ۔ (ت ۲۵۵) یقولون علی اللہ الکذب یعنی اللہ نے کسی کا مال کھا جانے کا زبردستی حکم نہیں دیا ۔ (ت ۲۵۶) داخل تم علی ذالکم اصری یعنی اللہکو گواہ کیا اور اللہ کی قسم کھائی ۔ (ت ۲۵۷) لعنۃ اللہ اللہ کی *** سے مراد تعلق الہی منقطع ہو جانا اور دربدری اور ذلت ہونا والملئکۃ فرشتوں کی *** سے مراد نیکی کی توفیق ……… یہ چھن جاتی ہیتحریک نیک نہیں ہوتی والناس اوین داروں کی نطر مین حقیر ہو جاتا ہے ۔ (ت ۲۵۸) لن تقبل توبتھم یعنی انہیں توفیق ہی نہ ملے گی توبہ کی
    الجزء
    (ت ۲۵۹) مام تحبون ہر ایک مرغوب چیز اور مال بھی مراد ہے انہ لحب الخیر لشدید آتا ہے تکالیف و صدمات کے بعد خیرات نقوص سے صہ کمرکھتی ہے کیونکہ غرض اور شرط اس میں پائی جاتی ہے ۔ (ت ۲۶) فان اللہ بہ علیم یعنی اللہ کی راہ میں دیا ہوا ضائع نہیں ہو گا ۔ (ت ۲۶۱) کل الطعام مسلمان جو چیزیں کھاتے ہیں کل الطعام اور کل طعام میں فرق ہے کل الطعام کے معنی جو کھانا حلال ہے وہ سب حلال ہے حکم الٰہی کے موافق اور بیماریوں وغیرہ سے جو ممنوع ہو جاتا ہے وہ عام حلت کو دور نہیں کر سکتا۔ اور کل طعام سے مراد ہر ایک وہ کھانا جو دھیڑ مار چوہڑا کوئی کھاتاہو جس میں اسلام کی قید نہیں ۔ (ت ۲۶۲) اسرائیل اللہ کا پہلوان سپانی یعقوب علیہ السلام کا نام ہے ۔ (ت ۲۶۳) فاتوا بالتوریۃ تورات میں بتائو کہ مسلمان حرام سور وغیرہ خلاف شرع کھاتے ہیں ۔ (ت ۲۶۴) حنیفا صراط مستقیم پر چلنے والا طریق وسط اختیار کرنے والا ۔ افراط و تفریط سے بچنے والا ۔ (ت ۲۶۵) فیہ ایت بینت تین نشانوں کا تو یہیں زکر ہے (۱) ایک مقام ابراہیم (۲) من دخلہ کان امنا (۳) للہ علی الناس حج البیت ۔ (ت ۲۶۶) مقام ابراھیم یہود نصاری کے لئے عبرت کا مقام ہے کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں مبارک مقامات سے محروم ہیں ۔ (ت ۲۶۷) تبغونھا عوجا چاہتے ہو اس راہ اسلام کے لئے کجی (نہ عیب گیری کے لئے) ہاٹیڑ ہے رہ کر راستی کوچاہتے ہو جو ناممکن ہے ۔ (ت ۲۶۸) وان تطیعوا فریقا من الدین او توالکت پادریوں کے علاوہ فلسفی بھی بوجہ لکھے پڑہے ہونے کے اہل کتاب کے سخت می شامل داخل ہیں ۔ (ت ۲۶۹) ومن یعتصم باللہ یعنی جو اپنے آپ کو بدی سے بچائے اور برائی سے ہٹالے اللہ کے ساتھ ہو کر (یعنی حسب مرضی الٰہی عمل کر کے) تو وہ کامیاب ہوا ۔ (ت ۲۷۰) بحبل اللہ یعنی مسلمان ہو ک رقرآنی احکام پر چل کر نجات پائو اور قرآن شریف اور اسلام پر خوب خوب عمل کرو کوئی جزئی اس کا چھٹنے نہ پائے۔ سکولون میں رسہ کا کھیل تو تم نے دیکھا ہی ہو گا دو فریق مخالف چھتوں میں کھینچے ہیں تم اللہ کی چھت کا رسہ کھینچنا ۔ (ت ۲۷۱) وکنتم علی شفا حضرۃ الخ صنداہ رحسد اور بغض وقتل و جنگ وغیرہ کی آگ میں۔ کفر۔ شرک۔ شرابخواری ۔ قمار بیاج خوری۔ کاسد۔ بتاغ اور باہمی جنگ و جدال کی آگ جس کا نتیجہ جہنم ہے اور عربی زبان میں نار الحرب بھی ایک آگ تھی ۔ (ت ۲۷۲) المفلحون یعنی سبلفین اور امروہی کرنے والیمتقی اور پرہیزگار ہوں ۔ (ت ۲۷۳) کالذن تفرقوا آہ ۔ کیا مسلمانوں میں وحدۃ ہے۔ کیا مسلمانوں میں دینی اور دنیوی کاموں میں اجتماع ہے۔ کیا ان میں وحدۃ عملیہ وحدۃ سلطنت تجارۃ میں وحدۃ تعلیم میں کوئی وحدۃ ہے کیا ان کے دینی اور دنییو سلسلہ تعلیم میں وحدۃ ہے کیا مسلمان ایک امام کے ماتحت ایک لیفہ کے ماتحت یک دل ہیں۔ کیا بغداد اور اسپین کی تباہی وحدۃ سے ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فتسوا خطاما ذکر دابہ فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضاء یہ سب کچھ قرآن و سنت کے چھوڑنے کا نتیجہ ہے۔ چاہے تمہارے ریفارمر کچھ ہی کہیں قال الرسول یا رب ان قومی اتخذو ھذا القران مھجورا جزو نمبر ۱۹ میں آیا ہے ۔ (ت ۲۷۴) والی اللہ ترجع الامور یعنی اہل حق کو غلبہ ہو گا اور آخری فیصلہ دہی کرے گا اور انجام کار اللہ کا رسول اور اسی کی اتباع مظفر اور منصور ہوں گے ۔ (ت ۲۷۵) الا بحبل من اللہ کیا معنی یہود خود مخار بادشاہ اور معزز سلاطین سے کبھی نہ ہوں گے ہاں اگر مسلمان ہو گئے حبل اللہ رسن الہی اسلام کے متمسک ہو گئے یا کسی اور رنگ میں رنگین ہو کر کسی دوسرے کے ماتحت ہو گئے تو صاحب سلطنت ہو سکتے ہیں یہ ایما ہے اور تنبیہہ اہل اسلامکو کہ تم ایسے نہ ہو جانا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ (ت ۲۷۶) المسکنۃ یعنی اب حکومت کے لئے ہرگز ہاتھ پائوں نہ ہلا سکیں گے۔ ذلیل رعایا ہو کر رہیں گے ۔ (ت ۲۷۷) یومنون باللہ والیوم الاخر اس سے یہ نہسمجھنا چاہئے کہ اللہ اور آخرت کا ایمان کافی ہے ملائکہ رسل کتب کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کا ماننا یہ ہے کہ وقت کے رسول کا حکم مانے جیسا پارہ (۶) رکوع (۱) سے ظاہر ہے۔ اور آخرت کا ماننا کتاب کے ماننے کو لازم ہے۔ کتاب اور رسل کے ماننے سے فرشتوں کا ماننا لازم آتا ہے۔ پس یہ وہم غلط ہے کہ اسلام کے باہر بھی نجات ہے ۔ (ت واذ غدوت حضرت نبی کریم ﷺ کو مخاطب فرمایا ہے احد کی جنگ کا بیان ہے ۔ (ت ۲۷۸) لا تاکلوا لربوا سود ضمن ہے حصول تقویٰ اور جہاد کا اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم للتقوی کیونکہ حصول تقویٰ یا تائید تقویف اور شرکت جہاد فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ اور تصفیہ و تزکیہ قلب کے لئے ترک سود ضروری ہے ربوا کے معنی نقد پر میعاد معیتہ کا لحاظ رکھ کر زیادہ لینا لا تاکلوا لربوا یہ آیت پہلے نازل ہوئی بقرہ کی آیت واحل اللہ البیع وحرم الربوار سے جیسے تحریم قمر کی آیت یا ایھا الذین امنواانما الخمر والمیسر والا نصاب والانلام آیت لاتقربوا الصلوۃ والتم سکاری کے بعد اتری ہے ۔ (ت ۲۷۹) اعدت للکافرین امام ابوحنیفہ جو عظیم الشان امام اور اعرف القرآن اور اتق الناس ہیں وہ گناہ اور سود خوری کا خیال کر کے بعض مرتکب کبیرہ مسلمانون کی نسبت خیال فرماتے ہوئے اس مقام پر فرماتے ہیں ہذا اخوف آیۃ عندی فی القرآن کہ مسلمان ہوں اور بے ایمانوں کے گھر یعنی جہنم میں داخل ہوں ۔ (ت ۲۸۰) مغفراۃ یہاں مغفرت کے معنی ہیں اطیعواللہ واطیعوالرسل واولی الامر منکم جو قرآن میں پہلے اچکا ہے اور استغفار اور توبہ کی کثرت مراد ہے ۔ (ت ۲۸۱) فاحشۃ کھلم کھلا بدی جس کو لوگ بید سمجھتے ہوں ۔ (ت ۲۸۲) نقد مس القوم قرح سے مراد جو کچھ بدر میں ہوا کہ کفار کے آدمی مارے گئے اور پکڑے گئے اور ان یمسسکم ترح سے مراد وہ تکلیف ہے جو مسلمانوں کو احد کے دن پہنچی ۔ (ت ۲۸۳) وتلک الا یام یہ مصائب کے دن کبھی مسلمانوں پر آتے اور کبھی کفار پر آتے۔ مسلمانوں پر آنے سے تین قائدے ہیں (۱) مسلمانون کا امتحان (۲) مسلمانوں سے منافقین کو الگ کرنا جو مطلبی یار ہیں (۳) اور ممکن سے بعض کو شہادت کا مرتبہ دینا کیونکہ قربانی کے بغیر ترقی نہیں جو قوم اپنی جان لڑانے سے دریغ کرتی ہے وہ بڑھ نہنسکتی اور کفار پر مصائب لانے کا مقصد صرف انکو ہلاک کرنا اور مومنوں کو فتح مند کرنا ۔ (ت ۲۸۴) خبت من قبلہ الرسل ـ الرسل میں الف لام استغراقی ہے۔ یعنی تمام افراد رسول مر چکے خلت بمعنی فوت کیونکہ لسان العرب میں لکھا ہے قال ابن الا غرابی خلا فلان اذا مات اور حماسہ اذا سید منا خلا قام سید قدول کما قال الکرام فعول تمام شروح میں لکھا ہے خلا کجے معنی اس شعر میں مات کے ہیں من قبلہ یہ رسل سے حال ہے اور خلت کی طرف نہیں جیسا اعراب ابوالبقاء میں لکھا ہے اس آیت سے حضرت مسیح و جملہ رسل کی وفات ثابت ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ سے پہلے رسل میں آنحضرت ﷺ سے اقرب ہے یعنی حضرت مسیح وہی فوت شدہ ہوں تو پھر اس آیت کا اعتبار بلا استثناء اٹھ جاتا ہے اور قرآن میں استثناء کہیں نہیں جس سے حضرت مسیح مستثنیٰ سمجھے جائیں ۔ (ت ۲۸۵) ثواب الدنیا نوتہ منھا یعنی دنیا میں کوشش کرنے والا اکثر دنیا میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔ (ت ۲۸۶) وما استکانوا ـ استکانوا کون سے مشق ہے اور سکون سے اسے مشتق قرار دینا غلطی ہے۔ اس کے معنی بے دست دیا ہونا۔ فروتنی کرنی ۔ موجودہ حالت سیخلاف اور حالت کو چاہنا ۔ (ت ۲۸۷) اذ فشلتم کوہ احد کے درہ سے تعلق ہے جہاں حضور نے دستہ فوج تیر انداز زیر کمان عبداللہ بن جبیر کھڑا کر کے ارشاد فرمایا تھا کہ ہمیں شکست ہو یا فتح تم ہٹنا مت۔ احد مدینہ سے شمال کی طرف قریباً (۳) میل ہے ۔ (ت ۲۸۸) تناذعتم کا مطلب یہ ہے کہ بعد فتح افسر نے کہا ٹھہرو۔ دوسروں نے کہا اب ضرورت نہیں۔ شوال ۳ ہجری کا واقعہ ہے ۔ (ت ۲۸۹) اذ تصعدون جب کفار بھاگے اور پہاڑ کی اوٹ میں آئے اور مسلمان ان کے پیچھے جا رہے تھے چڑہائی کئے ہوئے یہاں تک عبداللہ بن جبیر کے ہمراہیوں سے غائب ہوئے انہوں نے درہ چھوڑا نبی کریم ﷺ نے ان چڑہائی کرنے والوں کو اپنی طرف بلایا تا کفار کو تھکاتے ہنکاتے درہ تک نہ پہنچا دیں مگر چونکہ یہ دشمن کے پیچھے تابڑ توڑ جا رہے تھے کچھ سنتے نہ تھے انہوں نے کفار کو درہ تک پہنچا ہی دیا کفار نے درہ خالی دیکھ کر اس پر قبضہ کیا اور پہاڑ پر چڑھ گئے ۔ پتھروں اور تیروں کی بارش برسائی جس سے بہت سے مسلمان شہید اور زخمی ہوئے اور سید المرسلین کو بھی زخم آئے یہ مصییبت اس نافرمانی کا کفارہ ہوا جب عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے درہ چھوڑا اور چڑھائی کرنے والے رسول کی آواز کے شنوا نہ ہوئے۔ ماقتلنھا ھھنا ماقتلنا دیکھنے کے قبال ہے کیونکہ مقتول تو بول ہی نہیں سکتے ضمیرین غائب کی ہوںیا متکلم کی یا حاضر کی اکثر میثل پر ہی دلالت کرتی ہیں اصل پر ہی ان کا حصر نہیں ۔ متکلم کی تو مثال ہو چکی حاضر کی دیکھو۔ واذ قلتم یا موسی وانتم تنظرون وغیرہ ۔ (ت ۲۹۰) ولیتبلی اللہ یعنی اللہ آزما کر انعام دے ۔ (ت ۲۹۱) ان یغل وہ لوگ جو عبداللہ ابن جبیر کے ماتحت درہ کیانسداد پر مامور تھے وہ اس خیال سے اپنا مقام چھوڑ بھاگے کہ کہیں ہمارا حصہ غنائم سے مفقود ہی نہ ہو جائے ان کوتنبیہہ کی ہے کہ غنائم کا مہتمم نبی ﷺ ہیں۔ وہ کسی کا حق دبا سکتے ہیں یا رکھ سکتے ہیں ہرگز نہیں ۔ (ت ۲۹۲) ھم درجت یعنی انبیاء اور مامور جو ترقی اور عمل کے لئے میسٹرھین ہیں قرب الہی حاصل کرنے کے لئے یا انبیاء بڑے درجہ والے ذی عزت ہیں ۔ (ت ۲۹۳) لقد من اللہ اس آیت سے یہ بات ظاہر ہے کہ کسی قوم میں خدا تعالیف کا نبی و رسول پہنچنا یہ اس کا برا احسان جس احسان کو خدا تعالیف جتا رہا ہے اس میں نبی کا کام بھی بتایا گیا ہے یہی کام ان کے خلفاء کا بھی فرض ہے اس کی تفصیل دیھو کتاب منصب خلافت تقریر حضرت خلیفۃ المسیح ثانی مسیح موعود علیہ السلام شرح جدید ۸۱ ء ۔ (ت ۲۹۴) ویعلمھم الکتب والحکمۃ پارہ اول نبی کریم ﷺ اور خلفاء اربۃ و صحابہ دائمہ عظام نے کیوں تفسیر نہیں لکھی۔ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو معلم الکعف قرار دیا گیا ہے اب سوال ہوتا ہے کہ جب آپ اللہ تعالیف کی طر سے رسول ہیں اور خوصیت سے آپ کو معلم الکتب قرار دیا گیا ہے تو آپ کو ایک تفسیر لکھنی چاہئے تھی جو آپ کے علوماور تعلیمات کا خزانہ ہوتیاور اولین و آخرین کے لئے تبصرہ ہوتی اگر یہ کہا جائے کہ باوجود ایسی ضرورت کے آپ نے اس کام کو اس لئے نہ کیا کہ وحی متلو وغیر متلو مخلوط نہ ہو جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ متن اور شرح کو الگ الگ بتا سکتے تھے اگر یہ کہا جائے کہ آپ کو اتنی فرصت نہ تھی اصل مدعا تعلیم تھا وہ آپ نے صحابہ ؓ کو دی تو پھر صہابہ ؓ میں سے بھی خلفاء اربعہ اور فقہا ء عظام وغیرہ حصرت مقدس تفسیر لکھ دیتے اگر ان میں سے کسی کو فرصت نہ تھی تو تابعین میں سے یا تبع تابعین آئمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین وغیرہ سے کوئی اس کام کو سر انجام دیتا۔ اس تفسیر نویسی کے ترک کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نیوقم پر تین طرح کا احسان کیا۔ اول قرآن کریم انے علوم پر مشتمل ہے کہ اس کے تمام حقائق مکنونہ کا اظہار دفاتر عظمہ کا مستدعی ہے اگر وہ سب کچھ لکھ جاتے تو اتنے بڑے دفاتر کی حفاظت بہت مشکل ہوتی اور اکثر عقوں ان حقائق کے ادراک سے قاصر رہتے۔ دوسرے احسان یہ ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے تو تدبر فی القرآن اٹھ جاتا قوم کی عقلین قرآن میں بودی ہو جاتیں تیسرا اگر وہ ایسا کرتے تو قرآن کریم تو قیامت تک کی ضروریات کے لئے ہے جس سے ہر زمانہ کے لئے استخراج مسائل اجتھاد سے ہوا ہے جو کہ محتدین کے لئے موجب ثواب ہے یہ مجاہدہ جو اجر عظیم کا باعث ہے اس سے لوگ محروم ہو جاتے ۔ اصل میں تفسیر انہوں نے اس لئے نہ لکھی کہ وہ فیصان الٰہی کو اپنے اندر اور اپنے زمانہ میں محصور نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ جانتے تھے کہ اس امت یں مجددین اولیا ائمہ پیدا ہوں گے جو اسلام کے لئے بطور زمانہ جہاد کے ہوں گے۔ ان کے وقت میں قرآن کا باغ تنے پھل اور پھول دکھلائے گا جیساکہ ارشاد ہے شجرۃ طیبہ اصلحا ثابت وفرعھا فی السماء توتی اکلھا کل حین باذن ربھا الخ سے ثابت ہے جزاہم اللہ احسن الجزاء ۔ (ت ۲۹۵) ان کانوا جو ان کہ اس کے بعد افعال ناسخہ میں سے کوئی ہو اور اس کی خبر لام مفتوح ہو وہ ان ان سے مخفف ہوتا ہے اور اس کے معنی تاکید کے ہوتے ہیں اگر کے نہیں ہوتے ۔ (ت ۲۹۶) ھو من عند انفسکم یوم حنین واحد میں صحابہ کی غلطی سے اور دم معصومیت سے تکلیف پہنچی ۔ (ت ۲۹۷) فباذن اللہ بہ حکم سرکار نافرمانی کے بدلہ اور سزا میں لوگوں نے تقدیر کے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے وہ کہا کرتے ہیں ہر ایک نیکی اور بدی خدا سے منسوب ہے اصل یہ ہے کہ جو جیسا کرے گا ویسا پائے گا۔ نہ کہ ظلم و تعدی یا جبر ہو جو آگ کھاتا ہے وہ انگارے ہگے گا۔ کماتدین تد ان کا قاعدہ جاری ہے ۔ (ت ۲۹۸) بل احیاء اس کی تفصیل سورہ بقر رکوع (۱۹) میں کی گئی ہے ۔ (ت ۲۹۹) یستبشرون ایک رنگ میں پیش گوئی کا اظہار بھی ہے یعنی ہماری آئندہ نسلیں بادشاہ اور بڑے بڑے درجہ والے ہوں گے ۔ (ت ۳۰۰) الذین اسجابوا للہ جب احد کی لڑائی ختم ہوئی کفار مکہ فتح کی خوشیاں مناتے ہوئے حمراء الاسد میں پہنچے جو کہ ایک موقع ہے مدینہ سے دس میل کے فاصلہ پر وہاں کے لوگوں کے حال دریافت کرنے پر ابوسفیان نیجوان کا سردار تھا یہ کہا کہ ہم فتح کر کے آئے ہیں وہاں کے لوگوں نے ان کے فاتح ہونے سے انکار کیا اور یہ کہا لا محمد اقتلتم ولا العذار اردفتم کفار کو یہ بات گراں گزری کیونہ ان کے پاس کوئی فتح کا ثبوت نہ تھا وہ یہ سمجھیکہ یہ دس میل پر لوگ قبول نہیں کرتے اہل مکہ کو کیسے منوائیں گے ان کا ارادہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنے اک ہوا صحابہ باوجود مصیبت قتل و زخم پھر لڑنے کے لئے تیار ہو گئے اس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے (ت ۳۰۱) فانقلبوا ابوسفیان نے احد سے واپس کے وقت مسلمانوں سے یوں کہا یہ ہم نے بدر کا بدلہ لیا مگر خاص میدان بدر میں آئندہ ان ہی دنوں میں پھر لڑائی ہو گی۔ جب وہ دن آئے تو کفار نے مسلمانوں کو ڈرانے کے لئے مدینہ میں آدمی بھیجا مگر مسلمان نہ ڈرے لڑنے کے لئے چلے گئے کفار بلا لڑائی کے ان کو دیکھ کر الٹے پائوں بھاگے اپنا سامان بھی پھینک گئے جو مسلمانوں نے اٹھایا اور مسلمانوں کا فرعب لوگوں پر بیٹھا۔ اور انہوں نے تجارتیں کیں ۔ (ت ۳۰۲) انما نملی لھم خدا تعالیف تو مہلت دیتا ہے لیکن وہ اپنی مہلت سے فائدہ نہیں اٹھاتے وہ اور بدی میں ترقی کرتے ہیں ۔ (ت ۳۰۳) لیزداد وااثما لام عاقبت و نتیجہ کا ہے لام تعلیل نہیں جیسے فالتفطہ آل فرعون لیکون لھم عدوا اوحزنا سورہ قصص رکوع (۱) اور قول شاعر لد اللموت وابنوا للیخراب ۔ (ت ۳۰۴) لقد سمع اللہ مومن صاف دل ہوتے ہین ان یں کوئی کج لپیٹ نہیں ہوتا ان کے دشمن اور منافق کچھ نکتہ ینیاور مخالفت کرتے ہیں اور بے محل باتیں پیش کرتے ہیں ند دن اور دینی خدمات میں اعتراض اور ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں ۔ (ت ۳۰۵) لا یغرنک مشرکین و یہود و نصاریٰ تمام عرب اور ایران اور روم میں مسلانوں کے برخلاف ایجیٹیشن (بغاوت) پھیلا رہے تھے تا کہ اہل اسلامکا نام و نشان مٹا دیں چنانچہ غزوہ احزاب اور غزوہ موتہ وتبوک اسی باعث سے ہوا اور شاہ ایران سے سرور دو عالم کی گرفتاری کے لئے آدمی پہنچے ہر طرف کفار کا زور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک زبردست پیش گوئی کا اظہار فرمایا کہ یہ تو چند روزہ فائدہ اٹھا رہے ہیں یہ باغات و انہار مسلمانوں کیہی ہو جاویں گے آج تک وہ ممالک مسلمانوں کے روحانی یا جسمانی فرنزدوں کے قبضہ میں ہیں اور یہ ایک عظیم الشان نشان ہے عقلمندوں کے لئے ۔ (ت ۳۰۶) اصبرو ۔ برداشت کرو ان تکلیفوں کو جو اللہ کی راہ میں تم کو پیش آئیں ۔ (ت ۳۰۷) ورابطوا ۔ ایک نماز کے بعددوسری کی تیاری کرو اور دشمن کی سرحد پر گھوڑے باندہے رہو۔
    سورۃ النساء
    (ت ۳۰۸) نفس واحدۃ سے مراد حضرت آدم یا یہ کہہر ایک انسان ایک ہی باپ کا نطفہ ہوتا ہے کبھی کوئی دو باپوں کا نہیں ہوا۔ یا حضرت حوا اور ہر ایک کی بی بی اس کی جنس یعنی انسانوں سے پید اکی گئی ہے یہ نہیں کہ اس کا پیٹ پھاڑ کر پیدا کی گئی ہے جیسے کہ سورہ روم کے تیسرے رکوع میں فرمایا ہے ومن ایاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا االآیہ اور نفس واحدہ سے فخر نساب کا بطلان ہے اور تکبر جو سب سے بدترین گناہ اور شیطان کا اعلیٰ درجہ کا بانا ہے منع فرمایا ہے وخلق منھا زوجھا سے عورتوں کو بھی منع کیا ۔ (ت ۳۰۹) حوبا کبیرا گناہ کی مختلف قسمیں ہیں ۔ تقویٰ کے خلاف کرنا۔ نوکری برابر نہ کرنا ۔ دھوکا دینا۔ حرفون میں فریب کرنا ۔ (ت ۳۱۰) اوما ملکت ایمانکم سیمراد اس جگہ وہ لونڈی نہیں جو ناکح کے قبضہ می ہو بلکہ اس جگہ مراد وہ لونڈی ہے جو کسی غیر کے قبضہ میں و اور یہ اس سے نکاح کرے کیونکہ اپنی لونڈی سے جب تک وہ لونڈی ہے نکاح نہیں ہوتا۔ اسے آزاد کرنا ہے اعتقھا فتزوحھا نبی کریم ﷺ نے صفیہ کو آزاد کیا ھر اس سے نکاح کیا ۔ (ت ۳۱۱) لا توتو انسفہا کے ماتحت کورٹ آف واڈس داخل ہے ۔ (ت ۳۱۲) اوبتلوا تجربہ کرتے رہو آزماتے رہو ۔ (ت ۳۱۳) رشدا ہوشیاری معاملہ فہمی ۔ (ت ۳۱۴) بدارا ہو کا کر کے لالچ کر کے ۔ (ت ۳۱۵) فلیاکل بالمعروف اپنی محنت کے معاوضہ میں تنخواہ لے لے یا اپنی ضرورت سخت کے لئے لے لے یا بطور قرضہ لے لے جس کو پھر ادا کرے تو یہ مال یتیم سے اکل المعروف ہے ۔ (ت ۳۱۶) لا تدرون اقوام کا تقسیم ترکہ کے متعلق سخت اختلاف تھا اہل مغرب ولد کبیر کو وارث قرار دیتے اور اہل چین صرف لڑکیوں کو وارث بتاتے لڑکوں کو کچھ نہیں۔ یہ اختلاف شاہد کہ انسانی عقل کسی صحیح نتیجہ پر تقسیم وراثت پر نہیں پہنچی ۔ (ت ۳۱۷) علیما حکیما یہاں تک اصول اور فرع کا حصہ بیان فرمایا ۔ (ت ۳۱۸) ولد جتنی دفعہ لفظ ولد اس رکوع مین آیا ہے وہ اولاد نرینہ اور غیر نرینہ دونوں کو شامل ہے ۔ (ت ۳۱۹) لہ اخ او اخت ان سے مراد وہ ہیں جو صرف ماں کی طرف سے بھائی ہوں نہ باپ کی طرف سے اس پر تین قرینہ ہیں اول جو اعلیٰ قسم کے وارث ہیں ان کو اس رکوع میں مقدم کیا گیا ہے وہ ورثا نسبی ہی اس سے دوسرے نمبر پر درخائے کسبی کا بیان ہے جن سے انسان خود تعلق کرتا ہے بہ وساطت زوجیت۔ تیسرا اس کے بھائیوں اور سوتیلے بھائیوں کا ورثا سورہ نساء کے آخر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت میں برادری صرف بھائیوں کے متعلق ہے چوتھا وصیت وارث کے لئے نہیں ہونی چاہئے اور تہائی سے زیادہ جائز نہیں۔ چوتھے تک وصیت کو رکھنا بہتر ہے ۔ (ت ۳۲۰) لہ عذاب مھین مسلمان کی ذلت کا ایک یہ بھی باعث ہے کہ تقسیم وراثت میںاحتیاط سے کام نہیں لیتے ۔ (ت ۳۲۱) والتی یاتین بھا حشۃ سورہ نساء میں حد زنا بیان فرمائی ایسی عورتوں ے لئے پردہ کا بڑھا دینا کہ غیروں سے ان کا خلا ملا نہ ہو یا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو … نور پر عمل کرنے کی توفیق بخسے تا کہ وہ گناہ سے بچیں ۔
    الجزع
    (ت ۳۲۲) المحصنت محصنت کا لفظ اس رکوع میں تین دفعہ آیا ہے اول بہ معنی وہ عورتیں جو کسی کے نکاہ میں ہوں دوم وہ عورتیں جو اصیل ہوں لونڈیاں نہ ہوں۔سوم وہ عورتیں جو نکاح میں رہنا چاہیں۔ (ت ۳۲۳) الا ماملکت ایمانکم اس سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جو جنگ میں پکڑی آئیں اور ان کیخاوند حالت کفر میں موجود ہوں ان کا تعلق نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور وہ عورتیں بھی مراد ہیں جن کو مہر دے چکے ۔ (ت ۳۲۴) کتب اللہ علیکم اللہ کا تحریری حکم ہے کہ مذکورہ عوارت سے نکاح نہ کریں اور یہ عورتیں بھی حرام ہیں ۱۰) پھوپی اور بھتیجی اور (۲) خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں(۳) لعان والی مرد پر کبھی حلال نہیں ہو سکتی۔ جب تک کہ واقعی ثبوت نہ ہو جائے (۴) حرہ پر کنیز (۵) باوجود طاقت حرہ کے کنیز سے نکاح کرنا (۶) غیر کی معتدہ سے ۔ (ت ۳۲۵) واحل لکم ماورا مذکورہ عورات کے سب حلال ہیں ۔ (ت ۳۲۶) تبتغوا ایجاب قبول ہو ۔ (ت ۳۲۷) اموال مہر ہو ۔ (ت ۳۲۸) محصنین نکاح کی ہوں متعہ کی داشتہ و خواص درنڈی و بے نکاحی نہ ہوں ۔ (ت ۳۲۹) فیما تراضیتم یعنی مہر کی مقدار میاں بیوی گھٹا بڑھا لیں تو مضائقہ نہیں ۔ (ت ۳۳۰) طولا قدرۃ طاقت ۔ (ت ۳۳۱) بعضکم من بعض آقا بیوی اور لونڈی سب آدم ہیکی اولاد ہیں۔ اللہ کو ایمان وصلاحیت پسند ہے ۔ (ت ۳۳۲) ولا متخذات اخدان بدچلن خانگیوں کی طرح چھپی باری کرنے والیاں نہ ہوں۔ نکاح میں گواہ ہوں ۔ (ت ۳۳۳) فعلیھن نصف الخ کیونکہ کنیزوں کو نصف سزا دی جائے بہ نسبت … ہوں گے ۔ (ت ۳۳۴) العنت تکلیف و محنت ۔ (ت ۳۳۵) وان تصبروا کیونکہ مالک کی اولاد لونڈی ۔ غلام کہلائے گی ۔ (ت ۳۳۶) سنن چلن۔ طریقہ ۔ (ت ۳۳۷) الذین یتبعون الشھوات ۔ بدکار۔ لچے ۔ خواہش جماع رکھنے والے ۲) طمع (۳) غضب (۴) ……… (۵) حرص ۔ خلاف وضع فطری ۔ (ت ۳۳۸) یخفف عنکم وسعت و آسانی کی گئی ۔ (ت ۳۳۹) ضعیفا یعنی وہ سخت بوجھوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ (ت ۳۴۰) عن تراض منکم تراض دھوکہ سے نہیں ہوتی اور کچھ جائز نفع مل جائے تو کچھ ہرج نہیں ۔ (ت ۳۴۱) ولا تقتلوا انفسکم اکل مال حرام سے مراد ہے احق مال کھانا ہی قتل نفس ہے۔ اور آپس میں نہ لڑو یہی مراد ہے انفسکم سے اہل ملت جنس انسانی نہ مارو۔نہ مال کھا جائو غیر کا کیونکہ دھوکیاور ظلم سے دوسرے کا مال کھانا اپنے اپ کو ہلاک کرنا ہے ۔ ہر قسم کی خیانت ۔ چوری ۔ رشوت۔ جھوٹے اشتہار۔ ناقص مال پورے واموں پر بیچنا۔ رہ زنی ۔ قمار بازی جھوٹے نیلام وغیرہ لا تقتلوا انفسکم میں داخل ہیں ۔ (ت ۳۴۲) علی اللہبسیرا کیونکہ وہ عذاب دے گا۔ جامع جمیع صفات کمال ہے محض رحیم ہی نہیں ۔ (ت ۳۴۳) نحنبوا کبائر ہر نافرمانی کا ابتداء صغیرہ اور انتہاء کبیرہ ہو گا ۔ (ت ۳۴۴) نکفر عنکم ابتداء کارروائی انتہائی سے بچ جائے تو معاف ہو جائے گی یعنی کبیرہ خشبۃ اللہ سے چھوڑ دیں تو صغیرہ جو مبادی ہیں معاف ہو جاتے ہیں ۔ (ت ۳۴۵) ولا تستمنوا ایسی آرزوئیں جن کا نتیجہ کچھ نہ ہو نہ کرو ۔ (ت ۳۴۶) وللنساء نصیب دین دنیا کے امور میں سے عورتوں کو بھی حصہ ہے ۔ (ت ۳۴۷) بکل شی علیما کس کو بڑائی دینا چاہئے اور کس کو کم درجہ پر رکھنا چاہئے سب اللہ ہی جانتا ہے ۔ (ت ۳۴۸) موالی وارث حقدار ۔ (ت ۳۴۹) قوامون مودب۔ معلم ۔ منتظم۔ گھر اور مال اور بی ہوں اور عزت و آبرو کے ۔ (ت ۳۵۰) فنثت فرما بردار حکم ماننے والیاں ۔ (ت ۳۵۱) نشور ۔ بدمزاجی ۔ (ت ۳۵۲) فی المضاجع بسترے سے جدا کرنا نہ گھر سے نکال دینا جیسے بعض جھلاء کرتے ہیں ۔ (ت ۳۵۳) واضروا ھن بہت نرمی سے مارے ۔ (ت ۳۵۴) واعبدو اللہ عبودیت چار قسم کی ہے (۱) الوفاء بالعھود (۲) والرضاء بالموجود (۳) الحفظ …… (۴) والصبر علی مفقود ۔ واعبدو اللہ ولا تشرکو بہ شیئا الآیہ اس آیت میں حقوق اللہ اور حقوقالعباد کا بلکہ حقوق ماسوی الانسان کا سب کا بیان ہیکیونکہانسان ان سات حالتوں سے باہر نہیں نکل سکتا اسی طرح وہ حیوان بھی جو انسان کے ساتھ رہتا ہے ۔ (ت ۳۵۵) والجار الجنب جارالجنب میں مذہب کی قید نہیں ۔ (ت ۳۵۶) والصاحب بالجنب کلاس فیلو ہم پیشہ ۔ رفیق سفر۔ ایک کارخانہ والے یا محکمہ والے۔ خاص کمپنیوں اور کمیٹیوں کے لوگ وغیرہ سب مراد ہیں ۔ (ت ۳۵۷) مختال خود پسند ۔ (ت ۳۵۸) فخورا بڑا شیخی باز۔ یعنی اپنی بڑائی اور بزرگی کینشہ میں مغرور ہو کر ظلم اور سختی نہکرے بلکہ اللہ کے علو اور کبریائی کو یاد کرے اور دیکھے کہ وہ کیسا حلیم و غفور الرحیم ہے ۔ (ت ۳۵۹) ویامرون الناس بالبخل بخل کی اک قسم … ہے جو دوسرے کے دینے کو بھی ناپسند کرتا ہے اور وہ ذلت میں گرفتار رہتا ہے ۔ (ت ۳۶۰) مھینا ذٍیل و رسوا کرنے والا عذاب ۔ (ت ۳۶۱) من یکن جس اہو ۔ (ت ۳۶۲) قرینا پاس بیٹھنے والا یار و رفیق ۔ (ت ۳۶۳) مثقال ذرۃ ذرہ عربی زبان میں لال چیونٹی کو کہتے ہیں اور مثقال اس کے سر کو ہی ۔ (ت ۳۶۴) بشھیدا رسول گواہ ۔ (ت ۳۶۵) تسوی بھم الارض یعنی ان کا نام و نسان نہ رہے ۔ (ت ۳۶۶) لاتقربوا لصلوۃ یعنی مسجدکو نہ جائو نماز نہ پڑھو ۔ (ت ۳۶۷) وانتم سکاری شراب۔ افیون۔ بھنگ۔ دہتورہ۔ وغیرہ کا نشہ اور خواہ مرض یا غلبہ نیند یا حاجت غسل ہوتو جب تک غسل نہ کر لو مسجد میں نہ جائو یہاں لکوۃ سے مراد مسجد ہے مظروف سے ظرف مراد ہے قرینہ عابری سبیل ہے سفر کی حالت میں تیمم سے بجائے غسل کے نماز ہو سکتی ہے جیسے آگے آتا ہے ۔ (ت ۳۶۸) ولا جنبا جنابت کیحالت میں بھی مسجد نہ جائو نماز نہ پڑھو ۔ لا جنبا کا عطف لا تقربوا پر معلوم ہوتا ہے ۔ (ت ۳۶۹) حتی تغتسلوا مسجد میں جائو نماز پڑھو ۔ (ت ۳۷۰) قیموا صعیدا طیبا یعنی تیمم کر لو ۔ (ت ۳۷۱) یحرفون الکلم لفظوں کے معنی بگاڑ دیتیہیں بے محل کر دیتے ہیں۔ تفسیر بالرائے کرتے ہیں۔ (ت ۳۷۲) راعنا بجاے انظرنا کے دیکھو حاشیہ رکوع نمبر ۱۳ سورہ بقرہ ۔ (ت ۳۷۳) وطعنا فی الدین ذوالوجوہ لفظ کی اصلاح کی گئی ہے تقیہ کرتے وقت شیعہ اس کا لحاظ ضرور رکھیں ۔ (ت ۳۷۴) فنردھا علی ادبارھا یعنی ایسی مار پرے کہ تم دم دبا کر الٹے بھاگو یا برے ہوں تو غریب بنا دیں گے ۔ (ت ۳۷۵) السبت عید و ہفتہ کا دن … ارشاد خدا وندی نہ سن کر ایسے ذلیل ہوئے کہ قوموں کے ہاتھ میں بندر بن گئے قومیں جیسا چاہتی ہیں نچاتی ہیں ۔ (ت ۳۷۶) فتیلا تا کہ برابر۔ ذرہ بھی دو انگلیوں کو ملا کر ملیں اس سے جو میل نکلے اسے بھی قتیل کہتے ہیں ۔ (ت ۳۷۷) بالجبت بت بے گھڑا ہوا۔ دھوکہ دینا ۔ (ت ۳۷۸) والطاغوت ۔ شیطان۔ سرکش حد سے بڑا ہوا ۔ (ت ۳۷۹) نقیرا ۔ ذرہ ۔ کھجور کی گٹھلی پرجو نقطہ ہوتا ہے ۔ (ت ۳۸۰) ظلا ظلیلا ۔ گھری چھائوں لمبے سائے ۔ (ت ۳۸۱) ان تودوا لا مانات الی اھلھا مثلاً اللہ کی مخلوق اس کے سپرد کرو جو اس کے اہل ہوں کمیٹیوں کے ممبروں کاانتخاب سمجھ کر کرو ۔ (ت ۳۸۲) تحکموا بالعدل بعض حکام شریعت کے خلاف حکم دیتے ہیں تو حکم ہوا ۔ (ت ۳۸۳) اولی الامر منکم حاکم وقت نوع انسانی بلا قید مذہب و ملت۔ یا امام و پیشوائے۔ مذہبی جیسا رسل منکم کو دیکھو کہ یہاں مراد من الناس ہے یعنی نبی میں سے کوئی حاکم ہو اس کی اطاعت کرو۔ اور اپنی قوم کا ہو تو وہ افضل ہے ۔ (ت ۳۸۴) واحسن تاویلا تاویل حقیقۃ الحال انجام کار بات کا مطلب یا کام کی بات ۔ (ت ۳۸۵) یزعمون زعم کرتے ہیں دعوی کرتے ہیں ۔ (ت ۳۸۶) طاغوت سے مراد کعب ابن اشرف یہودی ۔ منافق ہے جو مشرکوں کو مومنوں سے الھدیٰ بتاتا تھا ۔ (ت ۳۸۷) یصدون رکتے ہیں اڑتے ہیں ۔ (ت ۳۸۸) صدور بہت رکنا۔ قوا بلیغا … چھبتی اور اثر کرتی بات ۔ (ت ۳۸۹) فیظاع البتہ ان کا حکم مانیں ۔ (ت ۳۹۰) واستغفرلھم الرسول یہ آیت خاص شفاعت کی ہے ۔ (ت ۳۹۱) لایومنون جو رسول خدا ﷺ کے فرمان کے موافق نہیں چلا وہ مومن نہیں ۔ (ت ۳۹۲) حرجا تکلیف۔ رنج ۔ غصہ ۔ تردد ۔ (ت ۳۹۳) ویسلموا تسلیما اور مان لیں عاشقانہ رنگ میں ۔ (ت ۳۹۴) ما فعلوہ الا قلیلا منھم یعنی اللہ کے ہکم پر جان دیتے ۔ گھر بار چھوڑتے دوستوں کو رشہ داروں کو مار ڈالتے ۔ (ت ۳۹۵) اشد تثبیتا دین و ایمان کی بڑی مضبوطی تھی ۔ (ت ۳۹۶) اذا اس وقت ۔ (ت ۳۹۷) حسن اولئک رفیقا ان رفیقوں سے بھی کوئی بہتر ہو سکتا ہے ۔ (ت ۳۹۸) وکفی باللہ علیما کفٰی۔ کافی ہے ۔ (ت ۳۹۹) خزوا حذرکم ہتھیار لو ۔ چوکس ہوشیار رہو اور اسراف و بخل سے بچو۔ کلام بے جا اور سکوت بے جا اور ہر ایک عمل بد سے بچو خلاصہ یہ کہ لا تسرافوا واحذر وامن الاسراف ۔ (ت ۴۰۰) فانفرو اثبات ثبات الگ الگ جماعت جماعت ثابت قدم ومضبوط رہ کر نیکیوں کو کرو اور اس کو نبھائو فانفروا نکلو جائو ۔ (ت ۴۰۱) لینطن اور دیر لگاتا ہے اور سستی کرتا ہے یعنی کار خیر کے لئے نکلنے میں اور نماز اور جہاد اور نیک کاموں کے کرنے میں ۔ (ت ۴۰۲) شھیدا ……… ۔ (ت ۴۰۳) یشرون بیچتے ہیں ۔ (ت ۴۰۴) حومالھم …… ………… اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی اور نصاریٰ کا رد ہے کہ اسلام تلوار کے زد پھیلایا گیا ہے۔ ۔ (ت ۴۰۵) یقولون یعنی دعائیں مانگتے ہیں ربنا اخرجنا ۔ (ت ۴۰۶) الظالم اھلھا اہل اسلام پر جہاد فرض ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے ۔ (ت ۴۰۷) فی سبیل الطاغوت شریروں مفسدوں کی حمایت میں ۔ (ت ۴۰۸) کیدا الشیطان جنگ شیطان ۔ (ب ۴۰۹) قیل لھم جن کو کہا گیا تھا یا جہاد کی ممانعت کی تھی ۔ (ب ۴۱۰) لولا اخرتنا کیوں نہ چھوڑا ہم کو ۔ (ت ۴۱۱) قلئل لتہ حیض و چیز کم مایہ ۔ (ت ۴۱۲) کل من عند اللہ سے صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ خیر و شر کے دو الگ الگ خدا نہیں ۔ (ت ۴۱۳) فمن اللہ پہلی آیت میں اور دوسری آیت میں کوئی تناقص و اختلاف نہیں کیونکہ پہلی آیت کا مقصد یہ ہے کہ وہ نیکی کو اللہ کی طرف اور دکھ کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کریتے تھے جو ان کو پہنچتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ یوں فرمایا کہ ہر ایک حالت دکھ ہو یا سکھ اس کا پہنچنا اور اس کا اجر دربار الہی سے ہوتا ہے اور عموماً سکھ کا باعث تو فضل الفہی ہے اور دکھ کا باعث انسانی کرتوت یہی دوسری آیت کا مقصد ہے ۔ (ت ۴۱۴) شھیدا یعنی تجھ میں کمالات نبوت سب موجود ہیں ۔ (ت ۴۱۵) حفیظا نگہبان۔ پہرے والا (مطلب یہ) کہ تو نے ان کی کیون نہ حفاظت کی ۔ (ت ۴۱۶) وکفی باللہ وکیلا یعنی منافقوں کے منصوبے اور غلط بیانات تجھے کچھ ضرر نہیں دیں گے ۔ (ت ۴۱۷) اختلافا کثیرا اختلاف تو وعدہ وعہد میں ہوتا ہے مگر کثیر نہیں اختلاف نہ پائے جانے کے مواقع (۱) جب رسول کریم ﷺ مکہ میں تھے محکومی کی حالت تھی باہر تشریف لے گئے حاکم بنے مگر طرز و رنگ ادا وہی ہے ۔ یعنی (۲۳) برس کی ترقی کے بعد بھی کلام ابتدائی کلام کی حالت سے نہ بدلا کیونکہ قرآنی سلسلہ جو رسول کریم ﷺ کا کارنامہ ہے ایک ہی سلسلہ میں ہے (۲) جب اکھڑ جاہلوں سے مقابلہ تھا تو یہی وہی رنگ رہا پھر جب علمائے یہودو مجوس وغیرہ اقوام سے مباحثہ ہوا تو بھی وہی رنگ رہا قرآنی مباحثہ میں کہیں انکسار اور عاجزی کے الفاظ نہیں جوانسانی کمزوری اور جہالت پر دلالت کرتے ہیں (۳) جو اقوال جھٹلا کے سمانے جن کی نظر قانون قدرت پر نہ تھی پیش فرمائے وہی حکمائے روشن خیال کے سامنے پیش کئے (۴) طبعیات و سائنس کی بہت ترقی ہوئی مگر نہ بدلا تو کلام الہی یعی واقعہ ثابت شدہ نے قرآی کسی حصہ کا ابطال نہیں کیا (۵) رسول کریم نے جو احباب کی ترقی اور دشمنوں کے زوال کی پیشگوئیاں فرمائی تھیں وہ پوری ہو گئیںا ور وہتی ہینا ور ہوں گی (۶) جھوٹے اور سجے دونوں منجانب اللہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر استقلال اقوال اور اختلاف اقوال اور انجام محمود نا محمود ہو کر ان کا حق والا اور ناحق والا ہونا ثابت کرتا ہے (۷) کامیابی اور قبولیت عامہ بھی حاصل ہوتی ہے (۸) مذاہب اور سلاطین اور ملکوں اور قوموں کے اختلاف سے قرآن نہیں بدلا۔ (۹) ناسخ منسوخ ثابت نہیں ہوا جس سے تجربہ اور علم اور سمجھ کا نقصان ثابت ہوا اور معلوم ہو کہ انسانی کلام ہے (۱۰) جو اسباب کامیابی اور عروج کے بتائے ہیں اس پر عمل درآمد سے وہ مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں اور جو تنزل کے بتاے ہیں ان سے تنزل قرآن کے سچے متبع اور پورے عامل ہمیشہ ترقی کرتے گئے اور جب سے اس عزیز کتاب کو عملاً مسلمانوں نے چھوڑ دیا ہے ذلیل ہو گئے اور معیۃۃ ضنکاب نتیجہ ملا ۔ (ت ۴۱۸) یستنبطونہ تحقیقات کرنے والے ہیںاس کی وہ تحقیقات کر لیتے ۔ (ت ۴۱۹) ولولا فضل اللہ یعنی رسول نہ پہنچا جاتا ۔ (ت ۴۲۰) ورحمتہ یعنی قرآن مجید ندیا جاتا ۔ (ت ۴۲۱) وحرض المومنین تحریص تھوڑی سی ترغیب اور تحریض بہت ترغیب ۔ یہ ایک بڑی پیشگوئی تھی جو چالیس سال میں پوری ہو گئی یعنی سرکش عرب اور وہاں کے یہود کا نام و نشان نہ رہا ۔ (ت ۴۲۲) لہ نصیب منھا شفیع کو کرنے کی وبدی کا حصہ ملے گا ۔ (ت ۴۲۳) مقیتا قوۃ رکھنے والا ۔ (ت ۴۲۴) فمالکم تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں (۱) جن سے اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوتا ہے (۲) ان کی باتوں کو سمجھنے والے (۳) عام بے عقل لوگ ۔ مومن کو نہیںچاہئے کہ وہ بے سمجھی سے رائے زنی کرتا پھرے اللہ اور رسول کے منشاء کے ماتحت رہتا چاہئے ۔ (ت ۴۲۵) فئتین عادۃ اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی مامور من اللہ آتا ہے تو ایک جماعت اس کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے جو کچے پکوں کا مجموعہ ہوتا ہے پھر امتیاز کے لئے مصائب آتے ہیں (۲) ان مصائب میں ماموروں اور مخلصوں کی حفاظت کی جاتی ہے جو ایک نشان ہوتا ہے (۳) بدوں قربانی کے فضل بھی نہیں ہوتا دیکھو موسیٰ علیہ السلام کو کہ یذبحون ابناء کم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد کثرت سے ہونے والی تھی اس لئے قربانیاں ہوئیں اور مکہ شریف کی کنجی والے بہت کم ہیں کیونکہ ان کے خاندان میں قربانیا نہیں ہوئیں ۔ (ت ۴۲۶) بما کسبوا منافق کسطرح بنتا ہے ۔ اسباب نفاق یہ ہیں (۱) اللہ جل شانہ کے ساتھ وعدہ کر کے خلاف ورزی (۲) شکر نعمت کی عدم بجا آوری (۳) عدم خلوص (۴) عدم اطاعت قرآن (۵) دنیا کو دین پر مقدم سمجھنا ۔ (ت ۴۲۷) من اضل اللہ یعنی اس کے بد اعمالیوں اور بے ایمانیون کی وجہسے جسکو اللہ نے گمراہ کیا ۔ (ت ۴۲۸) من یضلل اللہ … نے جس پرضلالت کا حکم دیا فتویٰ لگایا ۔ (ت ۴۲۹) یھاجروا فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑا دیں جب تک وہ تم سے ملیں اور صلح اور امن کی طرف مائل ہو جائیں ۔ (ت ۴۳۰) یصلون مل رہے ہیں ۔ (ت ۴۳۱) اویقا تلوا قومھم یعنی دونوں سے الگ رہنا چاہتے ہیں ان کو بھی نہ پکڑو نہ مارو ۔ (ت ۴۳۲) آخرین منافقوں کی دوسری قسم جو فریقین کو خوش رکھنا چاہتے ہیں ۔ (ت ۴۳۳) الفتنۃ تمیز وآزمائش اور سونے کو موس میں ڈال کر پکانا ۔ (ت ۴۳۴) قتل مومنا تین گناہ کئے (۱) حکم الٰہی کے خلاف ورزی (۲) اس کے منافع سے محرومی (۳) اس کو بھی منافع سے محروم کیا ۔ (ت ۴۳۵) دیۃ حودیت مخففہ ہے یعنی بیس اونسیاں دودھ والی بچے والی اور بیس ح,ل داروں بیس ایک ایک برس کے بچے بیس چار برس کے بچے اور بیس پانچ برس کے بچے اور مذہب حنفی میں خون بہا مسلمان کے لئے بھی دو ہزار سات سو چالیس روپیہ دینا لازم ہے ایک بار نہ ہو سکے تو تین سال میں ادا کرے اور دیت مفلظہ جو شبہ ملازمین دی جاتی ہے یہ ہے یعنی سو اونٹ یا ہزار اشرفیاں ا مارا تھار ورم سو اونٹ میں ستے تیس قریب بہ جوانی چالیس گابن اونٹنیاں ۔ احادیث سے پانچ قسم کے قتل معلوم ہوتے ہیں ایک عمد۔ جس کا قاتل مارا جانے کا اور جہنم میں جانے کا مستحق اور مقبول کی میراث سے محروم ہے۔ دوسرے قتل خطا جس کا قاتل ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور دیت مخففہ دے۔ تیسرے قتل شبہ بالعمد جس کی سزادیت مغلظ ہے اور میراث سے محرومی چوتھ ۔ قائم مقام قتل خطا جس کی سزا مثل خطاء قتل کے ہے پانچویں قتل بالسبب اس کی سزا دیت ہے نہ کفارہ نہ حرفان اور صرف امام شافعی کے نزدیک کفارہ اور حرمان ہے ۔ (ت ۴۳۶) فجزاہ جھتم چونکہ قرآن شریف میں لایغفران یشرک بہ موجود ہے تو آسان طریق ہے کہ شریعت اسلام پر غور کریں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلام وہ راہ ہے جس سے اسبا جنت و موافع جنت یا اسباب دوزخ و موانع دوزخ معلوم ہو جاتے ہیں۔ جب اسباب و موانع جمع ہوں وزن کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد ہے ولوزن یومئذ الحق کیونکہ برائیاں نیکیوں کے ساتھ ہیں توتولی اور غلبہ کا اعتبار ہو گا اور محض نیکی والے بغیر حساب جنت میں جاویں گے اور محض برائیوں والے بے پوچھے جہنم میں جانے والے ہیں ۔ (ت ۴۳۷) فتبینوا تحقیق کر لیا کرو رستہ کے مشکلات لوگوں ے اخلاق اطوار اچھی واقفیت حاصل کر لیا کرو بہت سوچ بچار کر کام کیا کرو۔ سفر آخرت کا زیادہ خیال رکھو حضرات سے بچنے کی کوشش کرو ۔ (ت ۴۳۸) کذالک الکتم یعنی تحقیق کچھ بھی کر بیٹھتے اور دنیا کا فائدہ منظور رکھتے ہو ۔ (ت ۴۳۹) لقاعدون …… اولی الضرر بیمار۔ اندھ ۔ لنگڑے وغیرہ ۔ (ت ۴۴۰) الم تکن ارض اللہ واسعۃ بعض مقام اور چیریں اور آدمی اور موقع ایسے ہوتے ہیں جو غفلت میں ڈالتے خدا کے قرب سے انسان کو ہٹاتے اور بعض اس کے بالمقابل نیکیوں اور تقرب الہ کی طرف بڑہاتے ہیں اس لئے بدیل اور ہجرت کی ضرورت ہے ۔ (ت ۴۴۱) فتھاجرو فیھا جس ملک میں دینی کام خراب ہوتے ہیں وہاں سے چلیجانا لازم ہے ۔ (ت ۴۴۲) مراغما کثیرا دشمن ذلیل ہو جائیں گے تمہیں دین دنیا کے فائدے ہوں گے دشمن کی ناک کٹ جائے گی اور وہ شرمندہ ہو گا ۔ (ت ۴۴۳) مھاجرا الی اللہ ہجرت کرنے والا اللہتعالیف کے اسماء غفور اور رحیم کے سایہ میں آجاتا ہے اور اس کو خبر آئے نیک دنیا اللہ پر ضروری ہو جاتا ہے ۔ (ت ۴۴۴) ان تقصروا من الصلوۃ قصر صلوۃ کا مسئلہ جہاد کا ضمن ہے اور عام طور پر ہر ایک سفر کا نبی بخار کے چند لوگوں نے عرض کیا کہ حضور اکثر ہم کو تجارت و سفر وغیرہ کرنے کا اتفاق ہوتا ہے تو کیوں کر نماز پڑھیں اسی وقت قصر کا حکم اذا ضربتم سے من الصلوۃ تک نازل ہوا۔ اس کے ایک سال بعد صلوۃ خوف کا حکم نازل ہوا (مظہر العجائب لباب النقول) محققین نے کمی کی مختلف صورتیں بتائی ہیں (۱) رکوع و سجود کی جگہ صرف اشارہ دینا ۔ نماز میں ہتھیار چلاتے رہنا اور چلنا۔ خون آلودہ کپڑوں سے نماز پڑھ لینا۔ عن طائوس و عبداللہ بن عباس (۲) چار رکعت والی نماز کو دو رکعت پڑھنا باتفاق جمہود صحابہ و تابعین (۳) بجائے دو رکعت کے خوف کی جگہ میں ایک ہی رکعت پڑھنا , مذہب جابر ابن عبداللہ معہ ایک جماعت یہ قصر خوف ہے اور عام سفروں میں جن میں خوف نہ ہو چار رکعت کی بجائے دو رکعت پڑہیں ۔ جمہور ائمہ مجھتدین کے نزدیک درست ہے ۔ سنت و نفل کچھ نہیں اور یہ یہی بیان ہوا ہے کہ قصر کے تین طور ہیں (۱) چار رکعت کی دو رکعت (۲) ظہر و عصر مغرب عشا کی جمع (۳) قرارت کم کر دے ۔ (ت ۴۴۵) ان خفتم یہاں تک صلوۃ المسافر کا بیان تھا اس کے بعد سے رکوع تک صلوۃ الخوف کا ذکر ہے ۔ (ت ۴۴۶) ولیا خذوا خذرھم کوئی آڑ کی جگہ دیکھیں یا خود زرہ بکتر پہے ہوئے چوکس ہوشیار رہیں ۔ (ت ۴۴۷) فاذکرو اللہ سنن مسنونہ بعد فرائض اور اذکار جو احادیث میں آٖے ہیں یا عام ذکر اللہ پندو وعظ قا اللہ وقال الرسول کا بیان بھی اس میں ضرور شریک ہے ۔ (ت ۴۴۸) کتبا موقوتا یعنی نماز پابندی اوقات کے ساتھ فرض کی گئی ہے (ت ۴۴۹) للخائنین خصیما یہ ان تدابیر کی طرف اشارہ ہے جو طعمہ بن اسیرق منافق زرہ چو ر رات کے وقت اپنے بھائیوں اور دوستوں کو جمع کر کے اپنی بریت کے واسطے تدبیریں کر رہا تھا کہ حلق اٹھا لوں گا تم شہادت ادا کر دینا۔ اس پر خدا نے ناراضی ظاہر فرمائی اس سے ظاہر ہے کہ نبی کو غیب کا علم نہیں ہوتا ۔ (ت ۴۵۰) خصیم بہ معنی جھگڑالو ۔ (ت ۴۵۱) ان یضلوک وہی طمہ اور اس کے اقارب نے جھوٹی قسموں اور شہادتوں سے یہودی پر جھوٹی سزا کا حکم جاری کروا ہی دیا تھا اگر فضل خدا کا اس کے حال س تجھے مطلق نہ کرتا انشاء اللہ آیندہ بھی تجھے کوئی دھوکہ نہ دے سکے گا ۔ (ت ۴۵۲) الحکمۃ سنت و اخلاق اور حدیث ۔ (ت ۴۵۳) من بخواھم منافق آنحضرت ﷺ سے ا]پنا اعتبار لوگوں میں جمانے کے واسطے کان میں باتیں کرتے جو منع کیا گیا ۔ (ت ۴۵۴) ان یشرک شرک کی جڑ کسی کو علیم و خبیر جاننے سے یدا ہوتی ہے ۔ علیم جاننے کی وجہ سے تو پکارے جاتے ہیں اور متصرف و خیر جاننے کی وجہ سے مانگتے ہیں ۔ ریا بھی ایک قسم کا شرک ہے اور اس شرک کے بعد قرآن میں جھوٹ کا بیان آتا ہے فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول انور میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ شرک کو بہت براجانتا ہے اس سے جہالت پیدا ہوتی ہے ۔ سچے اسباب چھوٹ جاتے ہیں اور سچے نتائج نہیں پیدا ہو سکتے اور تفرقہ بھی اسی سے پیدا ہوتا ہے اللہ کی ذات و صفات و افعال میں کسی کو ہمتا سمجھنا ۔ اللہ کی عبادت و تعظیم کی طرح کسی کی عبادت کرنا یہ چوتھی قسم کا شرک دنیا میں بہت پایا جاتا ہے اور اسی کے دور کرنے کے لئے کل انبیاء آئے (نوٹ) ایک شریک فی العادۃ ہوتا ہے ۔ (ت ۴۵۵) اثنا عرب اور ہند کے بت پرست اپنے جھوٹے معبودوں کے نام مونث ہی رکھتے ہیں جیسے کالی بہوانی ۔ نارانی ۔ لچھمی ۔ دلات و عزیٰ و منات وعیرہ دیوبان ۔ (ت ۴۵۶) مریدا سرکش ۔ متکبر ۔ رد کیا گیا ۔ (ت ۴۵۷) نصیبا مفروض ہندوستان کے چڑھاوے نذر و نیاز یا مشرکوں کی اطاعت شیطان کی اطاعت ہے ۔ (ت ۴۵۸) فلیغیون خلق اللہ فطرت الہی یا سنت کے خلاف کریں گے مثلاً راستی اور توحید کو چھوڑ کر کذب و شرک میں پڑجان۔ بچوں کے جینے کی امید پر کان یا ناک چھدوانا بدن گدہوانا ۔ چوئٹیں رکھنا۔ بدن میں پہنانا زینت کے لئے دانتوں کو ریتنا باریک کرنا۔ خواجہ سرابنا نایمنی آفتہ کرنا وغیرہ وغیرہ امور بدعتیہ ۔ (ت ۴۵۹) لا میننھم خواہشات بد بے ہودہ آرزو لچن ۔ (ت ۴۶۰) فلیبتکن عرب میں یہ دستورتھا وہ اپنے بتوں کے نذر نیاز کے واسطے اپنے جانوروں کیکان کاٹ دیتے یا چیر دیتے جو شرک ہے ۔ (ت ۴۶۱) غرورا دھوکہ فریب الٹی سمجھ صد۔ محیصا بھاگنے کی جگہ مخلصی کی راہ ۔ (ت ۴۶۲) وعداللہ حقا صرف ایماندار خالص الاعمال صالح کو جنت ملے گی ۔ یہ اللہ کا سچا اور پکا وعدہ ہے ۔ (ت ۴۶۳) بامایتکم کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ہر ایک قوم اصل دین کو چھوڑ کر نعو اور باطل مسئلوں کے پیچھے پڑ جاتی ہے اور انہی کو موجب نجات قرار دے لیتی ہے۔ مثلاً عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کا کفارہ مان کر بے فکر ہو گئے یہود نے ٹھان لیا کہ ہم انبیاء کی اولاد اور خڈا کے پیارے بیٹے ہیں۔ مسلمانوں نے بلا عمل قرآن ابتاع سیدالانام آنحضرت ﷺ اور صالحین کو ایسا شفیع سمجھا کہ جس کے لئے گناہوں سے بچنے اور اعمال صالحہ کے بجا لانے کی ضرورت ہی نہیں اور عملی حیثیت سے قرآن اور حضرت اور اولیاء سے ایسے غافل ہوئے کہ خبر ہی نہیں کہ ہمیں کیاکرنا چاہئیاور کن کاموں سے بچنا چاہئے ہاں دنیا پرستی اور رسم پرستی میں غرق ہو رہے ہیں۔ بت پرست مورتوں پر بے فکر بیٹھیہیں۔ سکھوں نے گرنت کو سر پر رکھا ہے لیکن اس کی تعلیم سے کچھ کام نہیں۔ علی ہذا ہر ایک فرقہ کا یہی حال ہو رہا ہے ۔ (ت ۴۶۴) لا امانیاھل الکتب مسلمان ہوں یا اہل کتاب کسی کے امانی اور آرزوئیں کام نہیں آتیں جب تک کہ اس کے پانے کے لئے ایمان اور عمل صالح نہ کیا جائے ۔ (ت ۴۶۵) ومن یعمل من الصلحت عمل صالح ۔ اللہ ہی کے لئے ہو جس کو اخلاص کہتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع پر ہو جسکو صواب کہتے ہیں ۔ (ت ۴۶۶) نقیرا ذرہ ۔ کھجور۔ گٹھلی پر خشخاش سے چھوٹا ایک دانہ ہوتا ہے ۔ (ت ۴۶۷) اسلم رکھ یاد قربان کر دیا بالکل بے اختیار بنایا خدا کے اختیار میں رکھ کر ۔ (ت ۴۶۸) وھو محسن یعنی وہ اللہ کو دیکھا ہو یا اللہ اس کو دیھتا ہو ۔ اللہ سے تعلق رکھنے والا صاحب دل ہو ۔ (ت ۴۶۹) نیفا سب مذاہب چھوڑ کر صرف خدا کا طرف را رسید ہی راہ کا چلنے والا حق کی مرضی کا متبع ۔ (ت ۴۷۰) قل اللہ یفتیکم عرب کے لوگ عورتوں کو ترکہ نہیں دیتے تھے اور چھوٹے لڑکوں کو بھی جو نیزہ بازی نہ کر سکیں اور یتیم کڑلیوں پر یہ ظلم تھا جوان کا سرپرست ہوتا وہی ان کا مخار کل ہو جاتا خواہ خد نکاح کر لیتا یا کسی سے نکاح کرا کے آپ مہر لے لیتا بیوائوں پر ان کے خاوند کا وارث کل اختیار رکھتا قرآن نے میراث کاحق بتایا اور ہر ایک کا اناف کیا ۔ ہندوستان میں بھی عورتوں کے حقوق میں نقصان کیا گیا ہے اللہ سب کو توفیق دے اور غضب سے بچائے ۔ (ت ۴۷۱) والصلح خیر حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ابن ابی الثابت کی عورت عمر رسیدہ ہوگئی تھی اور کثیرالاولاد بھی تھی مرد کا دل اس سے پھر گیا اور اس کو طلاق دینا چاہا نیک بخت بیوی نے یہ حال معلوم کر کے خاوند سے کہا کہ میں اپنے بال بچو میں مشغول رہوں گی تمہیں اپنے حقوق معاف کرتی ہوں کبھی کبھی میرے پاس شب باش ہو جانا مجھے طلاق مت دو خاوند نے پسند کر لیا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مرد عورت سے کسی وجہ بے رغبت ہو کر چھوڑنا چاہیاور عورت طلاق لینا نہ چاہے مرد کی مرضی پر مطلع ہو کر راضی ہو جائے اور صلح کر لے تو بہتر ہے گناہ نہیں ۔ (ت ۴۷۳) واحضرت الانفسل لشح اس آیت میں گھروں میں رنجش ہونے کا سبب بتلایا ہے کہ عورت کو کبھی حرص پیدا ہوتی ہے اور مرد بخل کرتا ہے اسی کے صبر پہر میں نزاع واقع ہوتا ہے اسی طرح شرکت تجارت وغیرہ میں باعث نزاع حرص ہے ۔ (ت ۴۷۴) ولن تستطیعوا ان تعدلوا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ نساء کے رکوع اوّل میں جو یہ فرمایا ہے کہ اگر بے انصافی کا خوف ہو تو ایک ہی کرو اس سے مراد بھی انصاف ہے کہ ظاہر میں دونوں کو حسب استحقاق برابر رکھو کیونکہ انسان کا قلب اور عورت کی طرف میلان جن باتوں پر ہوتا ہے یہ دونوں انسان کے قبضہ میں نہیں علاوہ بریں مرد کے قویٰ کے لئے محرک کی ضرورت ہے ۔ (ت ۴۷۵) کالمعلقہ یعنی ایسا نہ کرنا کہ وہ نہ دوسرے کو کر سکتی ہے اور نہ تم کچھ اس کی خبر گیری کرتے ہو ۔ (ت ۴۷۶) وان یتفرقا یعنی عورت طلاق لے لے یا مرد دے دے ۔ (ت ۴۷۷) للہ ما فی السموات وما فی الارض یعنی کوئی کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتا سب اللہ ہی کے قبضہ میں ہے اور انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ مقدر سے تعلق رکھنا چاہتا ہے اس لئے ارشاد ہوا کہ ہم بڑے مقتدر اور باھیبت ہیں ۔ (ت ۴۷۸) حمیدا وہ تعریف کیا گیا ۔ یعنی منکر اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ وہ حمید ہے ۔ (ت ۴۷۹) ان یشا یذھبکم یہ قاعدہ ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کہ جناب الٰہی کی مرضی سے آج ایک قوم عروج و ترقی پر ہے توکل دوسری ہاں عروج و زوال اعمال کی برائی اور بھلائی کے موافق ہوتا رہتا ہے کامیاب قوم متقی ایماندار صالح ہوتی ہے اور ناکام جاہل فاسق فاجر متکبر معزور جیسا کہ ارشاد ہے کہ واذ تاذن ربکم لا زیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید و سجزی الشاکرین وغیرہ آیات کثیرہ اگر مستقل ہو کر تقویٰ اختیار کرو گے تو دنا اور دین دونوں تم کو عنایت ہو گا ورنہ دوسرے متقی اور لایق کارگذار تمہاری جگہ لے لیں گے ۔ (ت ۴۸۰) سمیعا مانگنے والوں کی سننے والا ہر ایک امر کا شنوا (ت ۴۸۱) بصیرا کام کرنے والوں کو دیکھنے والا اور ہر ایک امر کا بینا ۔ (ت ۴۸۲) اولی فیھما اللہ ہر اک کا خیر خواہ ہے جب وہ سچے ہوں امیر کی خاطر نہ کرو فقیرپر ترس نہ کھائو اللہ کی طرفداری کرو ۔ (ت ۴۸۳) والکتب یعنی قرآن مجید ۔ (ت ۴۸۴) وملئکتہ فرشتوں کا انکار نیک تحریکوں پر عمل نہ کرنے سے ثابت ہو گا ۔ (ت ۴۸۵) فلا تقعدوا معھم ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آات کا انکار کریں اور تحقیر کریںان کی مجلس میں نہیں بیٹھنا کیونکہ اس سے دل میں ضعف اور ایمان میں کمزوری اور بے غیرتی پیدا ہوتی ہے ۔ (ت ۴۸۶) یتریصون انتظار کرتے یں راہ تکتے ہیں ۔ (ت ۴۸۷) الہ نستحوذ علیکم یعنی کافروں کو غالب کامیاب دیکھتے ہیں تو منافق کہتے ہیں کہ ہم تو پر قابو پا سکتے تھے مگر ہم نے تمہاری مدد کیاور مسلمانوں کو تم سے روک رکھا ۔ (ت ۴۸۸) ان المنفقین نفاق کا ٹھیک ترجمہ پالیتی منافق (۱) امانت میں خیانت کرنے واا (۲) بے وفا (۳) جھوٹا (۴) لڑائی میں گالی بکنے والا (۵) ظاہر کچھ باطن کچھ (۶) کمزور دل والا (۷) اللہ کی یاد و عبادت کم کرتا ہے دکھاوا کرتا ہے ۔ (ت ۴۸۹) کسالیٰ یعنی بے دلی سے اکسائے ہوئے ۔ (ت ۴۹۰) ولا یذکرون اللہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز بہت سنوار سنوار کر ادا کرنا چاہئے اور دعائیں نماز کے ادر بہت کرنا چاہئے ۔ (ت ۴۹۱) مذبذبین یعنی نہ بالکل پورے نمازی نہ بالکل تارک نماز ہیں۔ ڈانوا دول دل کچھ ادھر کچھ ادھر ۔ (ت ۴۹۲) لا الی ھولاء یعنی پکے رازی (ت ۴۹۳) ولا الی ھولاء یعنی بے نمازی ۔ (ت ۴۹۴) ومن یضل اللہ یعنی فی علم اللہ جو توفیق کے قابل ثابت نہیں اسے تو راہ راست نہیں دکھلا سکتا ۔ (ت ۴۹۵) لا تتخذو الکافرین اولیاء یعنی دینی کاموں میں ان سے دوستی نہ رکھو اور خلاف حق ان سے معاملہ کبھی نہکرو۔ خاص کر جنگ کے دنوں میں۔
    الجزء
    (ت ۴۹۶) لایحب اللہ اس آیت شریف کے مضمون کا تعلق منافقین سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو فضیحت و رسوا ہونے سے ڈرایا ہے یا مومنون کو قول سوء سے یعنی عام طور پر عیوب ظاہر کرنے سے جس سے ضعیف الایمان و منافق لوگ نہ ہوکر کھاتے ہیں یعنی ان کے عیب افشار ہونے سے غضب میں آکر حق سے معتصر ہو جاتے ہیں اور عام خلقت کے اخلاق پر بھی عموماً بدی کا افشار برا اثر کرتا ہے تو جس نے بدی ظاہر یا چھپی کی پھر پکی توبہ کر لی تو مومن کو نہیں چاہئے کہ اس کی بدی کا حال پھر کبھی ذکر کرے۔ ظالم کے ظلم کا اظہار بھی حاکم کے نزدیک ایک قسم کا الجھر باالسوع سے مراد غیبت بھی ہے جو منع ہے ۔ (ت ۴۹۷) الجھر بالسوع سے مراد غیبت بھی ہے جو منع ہے ۔ (ت ۴۹۸) ان الذین یکفرون اس آیت میں چار قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیف نے ایک ہی قسم میں داخل کیا ہے اوّل جو اللہ اور اس کے رسول دونوں کا انکار کرتے ہیں جیسے دہریہ (۲) جو اللہ کو مانتے اور رسولوں کا انکار کرتے (۳) جو سب رسولوں کو نہیں مانتے بلکہ بعض کو مانتے اور بعض کو نہیں مانتے جیسے آریہ ۔ پارسی۔ بدہ ۔ یہود۔ نصاریٰ اور غیر احمدی اور ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ چکڑالوی اس کو غور سے دیکھیں ۔ (ت ۴۹۹) نومن ببعض سوائے مذحب حقہ کے سب مذاہب باطلہ کا ابطال ہے ۔ (ت ۵۰۰) عذابا مھینا یہاں سے ذکر ہے یہود کا قرآن میں اکثر ان کا اور منافقوں کا ذکر اکٹھا ہی فرمایا کہ اللہ کا ماننا یہی ہے کہ زمانہ کے پیغمبر کا حکم مانے اس بغیر اللہ کا ماننا غٍط ہے موضح القران شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی ۔ (ت ۵۰۱) اولئک سوف یہ جماعت لمھیمن اور آئمہ مجتھدین اور کامل مومنین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی ہے جن سے ان کے اجروں کے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے (ت ۵۰۲) کتبا من السماء خیالی بات جو کوئی دل میں جما لیتا ہے خلاف واقعہ نکلنے پر ابتلا میں پڑ جاتا ہے۔ اس لئے فہم میں احتیاط کرو۔ دیکھو کتاب جملۃ واحدہ چاہتے ہیں اور یہاں نماً بحماً آئی ہے ۔ (ت ۵۰۳) ارنا اللہ جھرۃ یعنی یا تو ہم خود خا کو کہلا ہوا دیکھ لیں یا ایسی نازک بات تکبر سے کہی جس سے حاکم اعلیٰ کی تخفیف مقصود ہے جیسے کوئی کسی پولیس کے جوان سے کہے کہ کود کو توال صاحب آٖیں تو دیکھیں گے یا ہم رسول ہوں گے تو مان لیں گے ۔ (ت ۵۰۴) بل طبع اللہ علیھا اس سے ظاہر ہے کہ کفر پہلے ہوتا ہے اور اس کی سزا میں مہر ہوتی ہے۔ گناہ۔ غفلت۔ سستی۔ بدصحبت۔ انبیاء اور اولیاء کے وجود و عدم وجود کو مساوی سمجھنا اور محض انکار کرنا لوگوں پر بہتان لگانا وغیرہ افعال شیعہ سے طبع ران ۔ رین۔ غان ۔ غین۔ ختم۔ صم۔ بکم۔ عمی۔ قلوب لا یفقھون۔ افغال۔ موتی وغیرہ امور پیدا ہو جاتے ہیں یعنی جو سیاہی دل پر چھا جاتی ہے اسے ران دریں رکھتے ہیں ۔ بل ران ۔ علی قلوبھم بدصحبت سے جو میل قلب پر آتا ہے اس کا حدیث میں ذکر ہے انہ لبعان علی قلبی فاستغفراللہ سعبن مرۃ عناد سے ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصار ھم غشاوہ انکار محض میں طبع اللہ بکفرھم صم بکم عمی فھم لا یرجعون اور علی قلوب اقفالھا اور ایک مرتبہ ہے جہاں انسان مر جاتا ہے اور اس کو پندونصیحت کچھ مفید نہیں ہوتی جیسا کہ انک لا تسمع الموتی ۔ (ت ۵۰۶) انا قتلنا قاتلھم انی یوفکون اور قتل الاسنسان ما اکفرہ اے لعن کذفی القاموس ۔ (ت ۵۰۷) رسول اللہ بطور استھزاء کے کہا ہے کیونکہ استثناء توریت میں مصلوب ومقتول نبی ملعون سمجھا جاتا تھا وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم نہ کسی طرح قتل کیا اسا کو اور نہ سولی سے مارا اس کو لیکن قتل صلیبی کا اشتباہ ہوا ان کو ۔ صلیب کا واقعہ (۳۳) سال کا ہے اور وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے (۸۷) سال کے بعد ہے ۔ چنانچہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر (۱۲۰) کی ہوئی کنزالعمال جلد ۶ صفحہ ۱۲۰ ۔ (ت ۵۰۹) وما صلبوہ ۔ استثناء ۲۱ آیت ۲۳ جو پھانسی دیا جاتا ہے وہ خدا کا ملعون ہے لہذا عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے نہیں مارے گئے زندہ اتارے گئے ۔ (ت ۵۱۰) ولکن شبہ لھم سبہ بالصلوب بنایا گیا ان کے لئے اور ان کو شِہ پڑا انہوں نے سمجھا کہ مسیح مر گیا حالانکہ وہ مرا نہ تھا دیکھو انجیل ……۔ (ت ۵۱۱) ان الذی اختلفوا فیہ ۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ قتلنا خدا فرماتا ہے کہ نہیں مگر مصلوب کے رنگ میں تھا ۔ (ت ۵۱۲) وبل رفعہ اللہ الیہ بلند مرتبہ بنایا اس کو اپنے جناب میں اور رفعہ اللہ اکرم اللہ (مفردات راغب) میں مذکور ہے علاوہ بریں رفع خالف کا اپنی مخلوق کوہے۔ نہ رفع باپ کا بیٹے کو جس کا رفع خدا نے کیا اس کو مارا مسیح خدا کا بندہ تھا نہ بیٹا ۔ (ت ۵۱۳) عزیزا حکیما یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب سے زندہ بچا لیا اس وقت ان کی عمر (۳۳) کی تھی ۔ پھر (۸۷) برس زندہ رکھا پھر وہ اپنی طبعی موت سے کشمیر میں مرے۔ محذخان یار میں مدفون ہیں۔ کما ثبت فی محلہ ۔ (ت ۵۱۴) وان من یہ پیش گوئی ہے اہل کتا کی نسبت جو معتقد کفارہ یا مصلوب و ملعون ہونے کے قائل ہیں ۔ (ت ۵۱۵) اھل الکتب اس سے وہ اہل کتاب مستثنیٰ ہیں جو موحد اور واقف راز حالات صلیبی حضرت عیسیٰ وعلی بیننا علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور جو مقتول بالصلیب ہونے کے قائل نہیں ۔ (ت ۵۱۶) لیومن بہ (۱) مسلمان کے لئے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماننا کفی نہیں صیح معنی یہ ہیں کوئی اہل کتاب یہودی ہو یا عیسائی ہو حضرت عیسیٰ کے قتل پر ہی ایمان لاتا رہے گا اپنے مرنے سے پہلے اور بعد مرنے کے حقیقت کھلے گی کہ وہ بالکل غلطی پر تھا کیونکہ وہ مقتول و مصلوب ہو کر مرے نہیں تھے۔ بہ کی ضمیر مسیح کی طرف نہیں جا سکتی اوّل اس لئے کہ یہاں تمام قوم کا حصر ہے جس سے ایک فرد بھی باہر نہیں رہ سکتا۔ حالانکہ واقع اس کے خلاف ہے کروڑوں یہودی مرے اور مریں گے لیکن ان میں مسیح کو کوئی نہیں مانتا۔ دوم سیاق و سباق کے خلاف ہے کیونکہ ابتدائے زکوع سے لے کر انتہائے رکوع تک یہودیوں کی عیب شماری کی ہے۔ مسیح کو ماننا تو نیکی ہے ۔ یہ اختلاف کلام اللہ میں جائز نہیں اور یہود میں سے نیک لوگوں کو آخری آیت میں استثناء بیان فرمایا ہے صحیح معنی اس کے یہ ہیں کہ یہ ضمیر ظن کی طرف یا قول کی طرف جو پہلی آیت میں مذکور ہیں جاتی ہے اور قبل موتہ کی ضمیر ہر ایک اہل کتاب کی طرف نہ حضرت مسیح کی طرف کما فی البیضادی ۔ (ت ۵۱۷) حرمنا کی تشریح سورہ انعام علی الذین ھادو احرمنا میں مذکور ہے ۔ (ت ۵۱۸) والمقمین منصوبہ ہے اور موفون و مومنون مرفوع ہیں اس کے تین جواب لطیف ہیں (۱) جب واو مع کے ساتھ آئے تو ایک مفعول منصوب ہونا چاہئے اور باقی ضرور نہیں۔ (۲) علم معای اور بیان والے کہتے ہیں کہ نماز پر ردر دینا مقصود ہے اس واسطے اس کلمہ کو صورت علیحدہ میں بیان فرمایا جیسے خطیب و لیکچرار کہیں سرخی سے کہیں سرخی سے کہیں آواز کو اونچا نیچا کر کے یا خاص صورت بنا کر ادا کرتے ہیں (۳) تخصیص کا موقع ہو تو خص کا فعل محذوف ہوتا ہے ۔ (ت ۵۱۹) زبورا اس کے لغوی معنی کتاب کے ہیں حضرت دائود علیہ اسلام کو جو کتاب ملی تھی اس کا نام زبور ہے موجودہ توریت شریف میں بھی یہ کتاب لگی ہوئی ہے مگر بعض حصہ زبور کے متعلق علمائے یہود و نصاریٰ کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ کس کی تصنیف ہے ۔ (ت ۵۲۰) ما فی السموت والارض یعنی وہ اسے کامیاب کر دے گا اور اس کے ماننے والے پیدا ہو جائیں گے اور تمہاری مخالفت ناچیز ہو گی ۔ (ت ۵۲۱) یا اھل الکتب خاص نصاریف سے کہا جاتا ہے اور دوسرے اہل کتاب سے بھی ۔ (ت ۵۲۲) وکلمتہ یہاں کلمہ سے مراد الفاظ ہیں جو ان اللہ یبشرک میں ہیں ۔ قرآں اور حدیث اور صحابہ کے محاورہ میں کلمہ لفظ مفرد کو نہیں کہتے بلکہ بمعنی کلام آتا ہے۔ جیسے تمت کلمۃ ربک صدقا وعدالا وغیرہ کلمتہ اور روح منہ ایک ہی چیز ہیں یعنی حضرت مریم پر ایک وحی ہوئی تھی کہ ایک لڑکا ایسا ایسا تم کو ہو گا عیسائی کہتے ہیں عیسیف ابن مریم خدا کی روح تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا تجھے یہاں روح کے معنی خاص وحی و کلام کے ہیں جو مریم کی طرف کی گئی تھی ۔ جس کے ثبوت کے لئے سورہ نحل رکوع اول حم ۔ مومن رکوع دوم شوریٰ رکوع پنجم ملاحظہ ہو۔ (ت ۵۲۳) وکفی باللہ وکیلا یعنی اس کو مددگار اور اولاد کی حاجت نہیں ۔ (ت ۵۲۴) یستنکف ناک چڑھانا عاروننگ رکھنا وعیب سمجھنا جن کو جاہل مشرکوں نے معبود ٹھہرایا ان میں سے اکثروں پر بڑے بڑے مصائب آئے تا کہ ان کی بشریت عوام کو معلوم ہو جائے چنانچہ حضرت حسین علیہ السلام ۔ عیسیٰ علیہ السلام اور راجہ رامچندر جی مہاراج وغیرہ ۔ (ت ۵۲۵) برھان مند۔ دلیل ۔ حجت۔ یا رسول اللہ ﷺ جو قول کا ثبوت عمل سے دیتے ہیں یا قرآں مجید جو دعرے کے ساتھ دلائل بھی رکھتا ہے مگر افسوس صد افسوس اب تو قرآن دو کاموں کے لئے اکثر رہ گیا ہے (۱) سرحدیوں کے نزدیک دعا سے جہاد کے لء (۲) کچہریوں میں جھوٹی قسم کے لئے (۳) عام طور پر مردوں یا اپنے کو بلا عمل ثواب بخشنے کے لئے حافظوں میں روپیہ کمانے یا تکبر کے لئے مشایخوں میں وظیفہ کے لئے ایک عامل نے مجھے بھی بتایا تھا کہ من تیق اللہ پڑہا کرو میں نکتہ معرفت کوب سمجھ گیا اور اسے کہا تو عامل نہیں نہ تجھے معلوم یہ رٹنے کے لئے نہیں عمل کے لئے رہے اور مجرب ہے ۔ (ت ۵۲۶) نورا مبینا سے مراد محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں یہ رسول اللہ ﷺ کا اسم پاک مبارک ہے ۔ (ت ۵۲۷) یستفتونک یعنی حضرت مسیح مر گئے ان کا بیٹا رہا نہ باپ تو ان کی نبوت کا وارث کون ہو گا ۔ تو بھائی وارث ہوں گے جو نبی اسمعیل ہیں اور ظاہر عام مسئلہ کا بیان ہے جس کا باطن مذکورہ بیان بھی ہے ۔ اور کلالہ جس کا باپ بیٹا نہ ہو جو اصل وارث ہوتے ہیں یعنی جو اصول و فروع نہ رکھتا ہو۔
    سورۃ المائدہ
    (ت ۵۲۸) تمہید ۔ بقر و عمران میں جہاد کا ذکر تھا پہلے میں یہود بہت مخاطب ہیں اور دوسرے میں نصاری پھر نسارو مائدہ میں خانہ داری کا اور گھر بیٹھنے بیٹھے کاموں کا ذکر ہے گھر میں یہی تو بڑے بڑے کام کرنا پڑتے ہیں۔ ان دونوں میں تمدن و معاشرت کا بہت ذکر ہے حالت آرام میں مباحثانہ بھی چھڑ جاتے ہیں اس لئے نساء میں یہود کے ساتھ اور مائدہ میں نصاریٰ کے ساتھ مباحثہ کا طریقہ سکھایا ہے احمدیوں کو بھی دونوں سے کام ہے اس لئے ہوسیار رہیں۔ کیونکہ ان کی معلم کتاب اس کے سوا کوئی نہیں (ت ۵۲۹) اوفوا بالعقود معاھدات ۔ حدود ۔اور اوامر دنواھی ۔ (ت ۵۳۰) بھیمۃ الانعام یعنی بہائم از قسم انعام ۔ انعام مشتق ہے۔ نعومہ سے جس کے معنے نرمی کے ہیں تو وہ نرم مزاج پرندے ہیں جو دانت اور نیچے پھاڑنے والے نہیں رکھتے جیسے گائے و بیل بکری اونٹ ہرن چکارہ خرگوش وغیرہ (۲) جو خود شکاری گوشت خوار ہیں۔ جیسے شیر و بلی کتا وغیرہ پھر وہ جانور جو لڑتے ہیں اور مردار کھاتے ہیں اس لئے ان کا گوشت مضر و مہلک ہے اور اگر کسی کو ہضم ہو جائے تو غضب و خونخواری کی عادت پیدا ہو جانے کا احمال ہے ۔ پرندوں میں بھی یہی قیاس ہے ۔ (ت ۵۳۱) وانکم حرم یہ احرام حج کا ہو یا عمرے کا بالا نیت حج و عمرے کا بلا شکار گوشت کھانا جائز ہے ۔ (ت ۵۳۲) شائر اللہ شعائر جمع ہے شعور کی یعنی وہ شعور جس سے اللہ تعالیٰ سمجھ میں آجائے وہ تعظیم والی چیزیں جیسے قرآن مجید۔ حدیث۔ بیت اللہ قربانی کی اونٹنیاں ہیں یا انبیاء اور امام اور مجدد وغیرہ مقدس حضرات ۔ (ت ۵۳۳) الشھر الحرام ۔ محرم۔ رجب۔ ذی قعدہ۔ذی الحجہ ۔ (ت ۵۳۴) ولا الھدی ہدیہ وہ نذر نیاز ہے جو اللہ ہی کے واسطے کو پین بھیجی جائے۔ اس کے مقابل میں وما اھل بہ لغیر اللہ ہے ۔ (ت ۵۳۵) القلائد یہ قلاوہ کی جمع ہے۔ اس سے مراد وہ ہدیہ ہے جن کے گلے میں پٹہ ڈالدیں یا جس میں نشان کر دیں ۔ (ت ۵۳۶) حرمت علیکم حلال جانوروں کا گوشت مفصلہ ذیل حالتوں مین حرام ہے جس کے بیان کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے بھیمہ الانعام کے ساتھ فرمایا تھا ۔ (ت ۵۳۷) المیتۃ جس کو مردار کہتے ہیں بے ذبح کئے کسی مرض یا صدمہ سے مراد ہو ۔ (ت ۵۳۸) والدم خون بہہ سکتا یا بہایا گیا ہو ۔ مگر وہ تھوڑا لہو جو رگوں میں یا گوشت پر لگا رہ جائے معاف ہے حدیث میں دو مردار اور دو خون جائز بتائے گئے ہیں۔ مچھلی اور ٹڈی اور دو خون یعنی جگر و طحال ۔ اور مشک ۔ (ت ۵۳۹) وما اھل بہ لغیر اللہ وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر پکارا کیا مراد پہلے سے کسی غیر اللہ کے نام پر نام رد کیا گیا ہو مثلاً شیخ سدو۔ سید اصاحب کا بکرا۔ اور اجالے شاہ اور شاہ مدار کا مرغا ۔ سید احمد کبیر زماعی کی گائے اور کالی بہوانی کا ساند یا زبح کے وقت غیر اللہ کا نام بھی لے لیا ہو۔ یہ حرمت رسومات شرک و بدعت وجہالت کی وجہ سے ہے ۔ (ت ۵۴۰) والنخنقۃ مثلاً رسی کے پھندے سے یا ڈالی میں پھنس کر یا ہاتھ سے گلا گھونٹا ہوا۔ خلاصہ یہ کہ جس موت سے خون اندر ہی اندر بند رہ جائے وہ حرام ہے ۔ (ت ۵۴۱) والموقوذۃ کند الہ کی ضرب سے مارا گیا ہو جیسے لاٹھی اور پتھر وغٓرہ سے اگردہار ۔ دارا آلہ سے مارا اور بسم اللہ پڑھ لی اور زخم سے خون بہا تو حلال ہے اسی طرح شکاری جانور کا بسم اللہ کہہ کر چھوڑنا ذبح میں شریک ہے ۔ (ت ۵۴۲) والمتردیۃ یعنی جو اونچیگر کر مرا ہو جیسے درخت یا مکان یا کنویں یا پہاڑ وغیرہ سے یہ خود مردہ میں شریک ہے ۔ (ت ۵۴۳) والنطیحۃ یہ کندالہ کی ضرب کی مثل ہے اور ذبح نہ ہونے سے خود مردہ مین شمار ہے ۔ (ت ۵۴۴) وما اکل السبع اور ذبح اور سحر کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ اور یہی حال منحنقہ اور ………… کا ہے کہوہ ذبح کا سخر کئے جائیں تو حلال ہیں ورنہ حرام ۔ (ت ۵۴۵) علی النصب لے گھڑے ہوئے پتھر ہیں۔ جو پوجا کے لئے مشرک جڑا کر لیتے ہیں۔ ایسی پوجائوں کی جگہ زبح کئے ہوئے جانور حرام ہیں کیونکہ شرک کی تحقیر مقصود ہے ۔ (ت ۵۴۶) وبا لازکام یہ ایک خاص قرعہ اندازی کی مثال ہے۔ عرب کا دستور تھا کہ وہ بتروں سے قرعہ اندازی اس طرح کرتے تھے کہ کسی تیر پر تین حصے اور کسی پر چار اور کسی پر خالی اور اس کو ایک تھیلی میں بند کر کے حصہ وار سے نکلواتے پھر جو نکلتا اسے وی حصہ دیتے۔ بعض زیادہ حصہ جاتے اور بعض بالکل محروم رہ جاتے۔ اس جوئے سے منع کیا ہاں برابر کی قرعہ اندازی جائز ہے۔ تین تیر تھے ۔ پہلے پر لکھا تھا حکم لی بری دوسرے پر منع لی ربی تیسرے پر کچھ نہیں لیس لک شی چٹھی ڈال کر پان سے پھینک کر یعنی لاٹری وغیرہ بھ حرام ہے ۔ (ت ۵۴۷) الیوم یلئس یعنی حجۃ الوداع جمعہ ے دن ناامید ہو گئے تمہارے دین سے کافر ۔ (ت ۵۴۸) غیر تجانف لا ثم باغی اور عادی نہ ہو گناہ کا ۔ (ت ۵۴۹) رحیم یعنی حالت مخمہ والا مذکورہ حرام یزوں میں سے بقدر سدر مق کھا لے تو اللہ اس کو بد نتیجہ سے اس کے بچائے گا ۔ (ت ۵۵۰) مکلبین تعبموس کمانے والے جانور ہلائے ہوئے جانور جیسے ۔ کتا۔ چیتا۔ باز۔ شکرہ وغیرہ ۔ ان میں یہ شرط ہے کہ کئی کئی طرح ہلائے گئے ہون مالک کے لئے وہ شکار کو پکڑ رکھین۔ مکلب وہ شخص ہے جو شکاری جانور کو شکار کرنا سکھلائے ہلاوے۔ چونکہ کتا اس تعلیم کو زیادہ قبول کرتا ہے اس لئے اس عمل کا نام تکلیب رکھا گیا ہے ۔ (ت ۵۵۱) الیوم اجل لکم الطیت تمام خوشگوار مفید و پاکیزہ چیزیں جو جسم اور قویٰ فطری اور اخلاق اور عقائد پر برا اثر نہ ڈالیں اور فساد پیدا نہ کریں وہ تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں ۔ (ت ۵۵۲) وطعامکم حل لھمیعنی اہل کتاب کو بھی وہی چیزیں حلال ہیں جو مسلمانوں میں جائز ہیں اور جو اسلام میں ناجائز ہیں۔ جیسے سور مردار وغیرہ۔ وہ اہل کتاب کے ہاتھ سے یہی جائز نہیں ۔ (ت ۵۵۳) والمحصنت اس آیۃ سے نکاح متعہ جو عرب میں رنڈی بازی کے بجائے تائج تھا حرام ہے کیونکہ متعہ میں یہ آیت نہیں ہوتی کہ وہ محصنت کی طرح پاک دامن ……… بلکہ محض شہوت رانی اور مستی نکالنے کے لئے ہوتی ہے ۔ اس لئے ترکہ میں متعہ والی عورت کا حق اسلام نے مقرر نہیں کیا اور نہ اس کی اولاد کا ۔ جیسے رنڈی بازی حرام ویسے ہی متعہ بھی۔ کیونکہ دونوں سے بھی چند گھنٹے یا چند دن کے لئے اجرت دے کر مستی نکالنا مقصود ہے۔ تو یہ عورتیں محصنہ نہیں مسافحین ہیں۔اس کو صاف تر خداوند تعالیٰ نے سورہ مومنون رکوع اوّل میں بیان فرمایا ہے یعنی اپنی منکوحہ اور شرعی لوندی کے سوا کسی عورت کے قریب جانا جائز نہیں ۔ (ت ۵۵۴) من الذین اوتو الکتاب اور حضرت علی کے ارشاد کے موافق مجوسیوں اور آریوں کی بھی خواتین اہل کتاب میں …… شاید یہی وجہ ہو کہ جلال الدین اکبر بادشاہ نے جودہ بائی۔ وغیرہ سے نکاح کیا ۔ (ت ۵۵۵) یایھا الذین امنوا لذات جسمانی کا بیان ہو چکا ثو اب اخروی معلل کے طرف توجہ فرمائی ۔ (ت ۵۵۶) فاعنسلوا وجوھکم چونکہ خلقت انسانی دو چیزوں سے ہے ایک تو خلقکم من ماء دافق دوسرے خلقنکم من تراب اس لئے غسل یا تیمم کا حکم ہوا (ت ۵۵۷) ارجنکم دہلے ہوئے پائوں مین شرعی موزہ ہو تو مسح کیا کرو ورنہ وضو ۔ (ت ۵۵۸) الی الکعبین اس کا تعلق اغسلوا سے ہے نہ امسحوا سے کیونکہ اگر امسحوا سے ہوتا تواس پر زیر ہوتی۔ اس کو پیچھے اس لئے لایا گیا تا کہ وضو کی ترتیب بتلائی جائے قرینہ اس پر یہ ہے کہ مسح کے حکم میں اللہ تعالیٰ نے حد بندی نہیں کی مطلق فرما دیا کہ سروں کا مسح کرو۔ یہ نہ کہا کہ چوتھائی سر کا یا آدھے سر کا یا سارے سر کا گدی تک یا گردن تک مگر پائوں کے متعلق د بندی کی ہے ٹخنوں تک جیسا کہ ہاتھوں کے دھونے میں کہنیوں تک محدود کیا ہے ۔ (ت ۵۵۸) نعمت اللہ علیکم قرآن کریم کی نعمت کو جو عملی نتائج سے ملے گی ۔ (ت ۵۵۹) ومیثاقہ یعنی قرآن شریف پر عمل کرنے کا پورا پورا وعدہ ۔ (ت ۵۶۰) واثقکم بہ مضبوط کیا تم کو ساتھ اس کے ۔ (ت ۵۶۱) اذ ھم قوم مشرکین عرباور یہود آنحضرت ﷺ کے قتل کر ڈالنے کے بڑے سخت منصوبے کرتے رہے بڑی تیاریوں کیساتھ مدینہ پر حملے کئے مگر خداوند تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ کو خاص امداد دے کر ان سے بچاتا رہا۔ پانچویں سال ہجرت کے آنحضرت ﷺ معہ صحابہ ؓ کرام عفان کے مقام پر ظہر کی نماز میں مصفف تھے دشمنوں نے منصوبہ کیا کہ عصر کی نماز میں سب مسلمانوں کو مار ڈالو مگر اللہ نے آپ کو مطلع فرما دیا اور اس موقعہ سے بچا لیا اور اسی طرح اور بہت سے مواقع میں خداوند تعالیف نے آپ کو اور آٌ کے صحابہ کو دشمنوں سے بچایا ۔ (ت ۵۶۲) اثنی عشر نقیبا ہمارے رسول اللہ ﷺ نے بھی بارہ سردار مقرر کئے (نقیب) امام کہوج کرنے والے ۔ (ت ۵۶۳) وقال اللہ الی معکم الخ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنیمعیت سے متصرف اور تائید کے اسباب بیان فرمائے ہیں نماز جس کی حقیقت دربار الٰہی میں حاضر نہ ہونا خادمانہ حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کرنا ۔ (ت ۵۶۴) واتیلتم الذکوۃ زکوۃ شفقت علی خلق اللہ اور اللہ کے تمام رسولوں کو ماننا علی الخصوص جو پیغمبر زمانہ ہو نہ صرف ماننا بلکہ ان کے ساتھ اپنے آٌ کو ان کے مقصد میں شریک کرنا اور ان کی پوری پوری مدد کرنا۔ علاوہ زکوۃ کے صاحب زکوۃ وغیرہ سب پر یہ لازم ہے کہ ان کے لئے ان کے مقاصد میں مدد دینے کے لئے وقتاً فوقتاً بہت بہت چندہ دیں ۔ (ت ۵۶۵) وامنتم برسلی یہاں حضرت موسیٰ اور حضرت سید المرسلین علیما السلام نے اپنے خلفاء کو ماننے اور عزت کرنے اور مالی مدد کرنے کی تاکید کی رسول کے لفظ سے یاد فرمایا ہے اور سورہ نور کی آیت استخلاف مصرح اس کی ہے ۔ (ت ۵۶۶) فیما نقضھم میثاقھم عہد توڑنے سے عہد لینے والے کی طرف سے لاپروائی پیدا ہوتی ہے۔ دل میں اس کی عظمت اور خون باقی نہیں رہتا پھر اس سے تعلق چھٹ جاتا اور دل کو اسی کی طرف سے انحراف اور بے توجہی پیدا ہو جاتی ہے ۔ ایسا انسان ان اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ جن سے مذہب بچا سکتا ہیاپنی رائے کو مذہب پر مقدم کرنے لگ جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ مذہب کو پھیہ پیار کر اپنے ماتحت کرے ۔ (ت ۵۶۷) ونسوا خطا مما ذکروابہ یہود انصاریٰ دونوں نے اپنی شریعت و بھلا دیا اور ترک کر دیا تب ہی تو تورات میں اس کے مختلف نسخوں کے لہظ سے اختلاف عیم ہے اور مسیح کی انجیل دنیا سے مفقود ہے اس سے قرآن کریم ضرورت ثابت ہے ۔ (ت ۵۶۸) فاغراینا بینھم العداوۃ اور بغض جس کو اللہ تعالیف نے ان کے اندر بھڑکایا ہے اس کا ظہور ہم اپنے زمانہ میں ان قوموں کی تباہی کا ایسا دیھک رہے ہیں کہ جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں اور ان کی کاریگری اور دنیوی ترقی کا نتیجہ خدا نے ان کو ایسا بتایا ہے کہ الامان الامان لاکھوں لاکھ تباہ ہوئے اور تباہ ہو رہے ہیں یہ قرآن کریم کی صداقت کی ایک زبردست دلیل ہے جو پیش گوئی نبی کریم ﷺ کے زمانے میں کی گئی وہ آج پوری ہوئی فالحمد للہ علی ذلک ۔ (ت ۵۶۹) وسوف بینھم اللہ یہ پیشگوئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے لئے بھی ۔ (ت ۵۷۰) وکتب مبین یعنی قرآن شریف جس کا بیان خوب واضح ہے ۔ (ت ۵۷۱) قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم نصاریٰ کے مختلف فرقہ ہائے ضالہ کے لحاظ سے قرآن کریم میں ان کے مختلف عقائد بیان کئے گئے ہیں بعض تو مسیح کی الوہیت کے قائل ہیں اور بعض تین الہ کے قائل ہیں۔ باپ بیٹا روح القدس بعض مریم کو الوہیت دیتے ہیں سب کی تردید مسیح اور اس کی ماں کی موت سے ہو جاتی ہے اور اس بات سے کہ وہ کدا کی مخلوق ہیں اور اس سے کہ خدا نا کی مثل ہی بنا سکتا ہے بے باپ ہونے کے لحاظ سے اور لوگ بھی بے باپ ہوئے جیسے چنگیز خاں مسیح کے بعد ہوا اور مرتبہ کے لحا سے مسیح موعود کا ارسال کرنا ۔ (ت ۵۷۳) وقالت الیھود والنصاری یہود مدار نجات اپنی قومیت اور اس بات کو کہ وہ نبیوں کی اولاد ہیں قرار دیتے ہیں اور نصاریٰ مسیح کی صلیب کو اپنا خدا سے تعلق اور باعث قرار دیتے ہیں ان کی تردید صرف اسی قول سے ہو جاتی ہے کہ اگر یہ دونوں باتیں باعث نجات ہیں اور تمہارے گناہ بالکل بخشے گئے ہیں تو پھر ازس دنیا میں تم کو دوسرے انسانوں کی طرح کیوں رکھا گیا ہے جیسا اور لوگوں کو زنا سے آتشک ہو جاتی ہے تمہیں بھی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ (ت ۵۷۳) بشیر و نذیر مسیح اور موسیٰ کا مثیل ۔ (ت ۵۷۴) یقوم اذکر وانعمۃ اللہ علیکم نعمت سے مراد سلطنت اور نبوت ہے اس لئے کہ جسمانی حفاظت حفاظت جان و مال اور عزت سے ہوتی ہے اور روحانی حفاظت حفاظت ایمان اور عمال صالح اور اخلاق فاضلہ سے ہوتی ہے ۔ جسمانی کا باعث سلطنت ہوتی ہے اور روحانی کے لئے نبوت ہوتی ہے ۔ (ت ۵۷۵) اذ جعل فیکم انبیاء تعجب ہیکہ آج کل کے مسلمان پر کہ وہ اس زمانہ میں کسی بشیر و نذیر کی ضرورت نہیں مانتے حالانکہ اہل کتاب کی تقریباً چھ سو سالہ …… کو ان کے لئے یہ کہہ دینے کو جائز قرار دیتی ہے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا اور یہ مسلمان تیرہ سو سال بعد بھی اس نذیر کو نہیں مانتے جس کی سچائی اللہ تعایٰ نے زور آور حملوں سے ظاہر کی ہے۔ اور مسیح موعود نبی اللہ ہو گا ۔ اور وہ معہ اپنے کمالات کے ظاہر ہو گا جیسا کہ ۔ (ت ۵۷۶) کتب اللہ لکم یہ پیش گوئی اور وعدہ ہے بیت مقدس کے فتح کا ۔ (ت ۵۷۷) واذا لن ندخلھا قوم کی خلاف ورزی سے ظہور پیش گوئی میں تاخیر اس قدر ہو جاتی ہے کہ امام بھی ظہور پیشگوئی نہیں دیکھ سکتا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ قبل فتح بیت المقدس راہی ملک بقا ہوئے قوم کی سستی نے غضب ڈہایا ۔ (ت ۵۷۸) قال رجلن صدیق بوشع وکالب علیہما سلام لے کہ ۔ (ت ۵۷۹) اربعین سنۃ یتیھون فی الارض (توریت سفر عدد باب ۱۴) ۔ (ت ۵۸۰) اذ قربا قربانا (توریت سفر پیدائش ) باب ۴ ۔ (ت ۵۸۱) قتل الناس جمیعا یعنی جس نے حضور اکرم ﷺ کو مار ڈالا اس نے گویا سب دنیا کو مار ڈالا۔ یا ناحق کشت و خون کے انسداد کے واسطے شریعت نے قصاص مقرر کر دیا ۔ (ت ۵۸۲) یجاریون اللہ ورسولہ یعنی جو لوگ رسول کے قتل پر تلواریں اٹھائے پھرتے ہیں یا ڈاکو اور چور وغیرہ مفسد مراد ہیں ۔ (ت ۵۸۳) ان یقتلوا قبل گرفتاری کے تائب ہو جائیں تو وہ حقوق عباد ادا کر لیں اخرۃ کے گناہ معاف ہو جائیں گے کیونکہ کوئی جرم ہو اس کے لئے قرآن میں تین صورتیں بیان فرمائی ہیں ایک تو الا الذین تابوا (۲) فمن تاب (۳) حیثیت جرم کے مطابق قتل سولی قطع بد جلاوطنی و قید وغیرہ درمیانی مدارج اس کے بہت سے ہیں ۔ (ت ۵۸۳) وابتعوا الیہ الوسیلۃ وسیلہ کے معنی ذریعہ سبب اور حاجت یعنی اللہ تعالیٰ سے ہی حاجت مانگو۔ وسیلے چار قسم کے ہوتے ہیں (۱) کافر بننے بنانے کے جو وسائل کذبیہ شرکیہ رسمیہ ہیں ۲۰) بے وقوف بننے بنانے کے جو اسباب جھلیہ اور دہمیہ ہیں (۳) عقلمند بننے بنانے کے جو علم ریاضی اور اخلاق اور وانائون اور تجربہ کاروں کی صحبت ہے (۴) مومن بننے بنانے کے ایمان اور اعمال صالہہ جو قربت اور رحمت الٰہی کا ذریعہ ہیں قرآنی اذکار اور انبیاء علیہم السلام اور بزرگان دین کے حالات کا پڑھنا صالحین و صادقین کی صحبت ان کے اقوال کا سننا اور متابعت کرنا مومن کو چاہئے کہ جب کوئی وسیلہ تلاش کرے تو ان چاروں باتوں کو سونح لے کیونکہ بدوں وسیلے کے تو کام چلتا نہیں ۔ ہاں ایسے وسیلے اختیار نہ کرے جو کافر فاسق بے وقوف بنائے ہاں عاقل ایمان دار بننے کے وسیلوں کو لے اور الوسیلۃ الحاجۃ قال ابن عباس مستشھدا بقولہ کلالرجال لہ الیک وسیلۃ ۔ (ت ۵۸۴) وجاھدوا فی سبیلہ کیونکہ اللہ کی راہ سوائے قرآن مجید اور اتباع سنت کے اور کوئی نہیں ۔ (ت ۵۸۵) قالوا امنا منافق ۔ مرتد اور دوغلوں نے اوپری دل سے کہا کہ ہم نے مانا ۔ (ت ۵۸۶) سمعون للکذب اس کے تین معنی ہیں (۱) ایک جھوٹ سن لیتے ہیں (۲) جھوٹی بات کا یقین کر لیتے ہیں (۳) جھوٹ بولنے کے لئے سننے آٹے ہیں ۔ (ت ۵۸۷) یتولون من بعد ذلک حق نہیں سنتے۔ حق نہیں بولتے۔ عمل نہیں کرتے ۔ (ت ۵۸۸) ھدی ونور یعنی قرآنی احکام رسول اللہ ﷺ کا بیان ہے اور حضور کی پیش گوئیاں اور توحید کا بیان ۔ (ت ۵۸۹) یحکم بھا اس سے ظاہر ہے کہ ایک قسم نبیوں کی وہ بھی ہے کہ جو شریعت جدید نہیں لاتے بلکہ اپنے سے پہلی شریعت پر حکم کرتے ہیں ۔ (ت ۵۹۰) بما استحفظوا اہل کتاب کے معززین کو کتاب اللہ کی حفاظت کرنے والا بنایا گیا انہوں نے اس کی حفاظ نہ کی قرآن کریم کی حفاظت کا کام اللہ تعالیٰ نے خود لیا ۔ (ت ۵۹۱) فھو کفارۃ لہ (دیکھو سفر استثناء باب ۱۹ اور سفر خروج باب ۲۲ باب کفارات ) ۔ (ت ۵۹۲) مصدقا لما بین یدیہ ایک نبی جو دوسرے نبی کی تصدیق کرتا ہے تو دونوں کی تعلیمات میں پورا پورا اتطابق لینا باطل ہے۔ تصدیق سے مراد ہے کہ موافقین و مخالفن کے بارے میں پیشگوئیاں ہوں ان کا ظہور ان کے وجود سے ہو جائے دوسرے پہلے نبی کی جو ہدایتیںہوں اور دعاوی کی صورت میں ہوں اور دوسری دلائل کی صورت میں تیسرے یہ کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کرنا چوتھے دین قیم کی ابدی صداقتوں میں توافق و مطابق کا ظاہر کرنا ۔ (ت ۵۹۳) واتینہ الا نجیل یعنی بشارت جس میں قرآن اور رسول کا بیان ہے ۔ (ت ۵۹۴) ولیحکم اھل الانجیل یعنی خصوصاً نصاریٰ اور عموماً دیگر اہل بشارت کیونکہ انجیل کے معنی بشارت ہیں۔ اور قرآن ہی اس کی تصدیق کرتا ہے ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد ۔ (ت ۵۹۵) ومن لم یحکم نصاریٰ کا یہ خیال اور اعتراض باطل ہے کہ قرآن مجید نیتوریت و انجیل کو منسوخ کر دیا اور حال یہ ہے کہ تمام قرآن میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ بلکہ یہ ذکر ہے کہ قرآنکتب سابقہ کا مصدق ہے ہاں قرآن میں القاء شیطانی کی لغت تنسیخ آئی ہے جیسے بائیسوی سورۃ کی ترپن آیت ہاں قرآن شریف میں اکمال اور اتمام کا لفظ آتا ہے جس سے نسخ وغیرہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ موقع اور وقت اور قابلیت کی شرط پائی جاتی ہیاور یہ بھی بیان ہے کہ فیھا کتب قیمہ اس حیثیت سے اپنے گھر کی جامع کتاب کو چھوڑ کر دوسری مختص المقام الوقت کتاب کو ڈھونڈتے پھریں ضرورت نہیں بلکہ سید المرسلین نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر ایک پرچہ توریت کو پڑھتے ہوئے دیکھ کر اظہار خوشی فرمایا حالانکہ حضور علیہ السلام اور تمام مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ مقدقا لما معکم بات صرف اتنی ہے کہ جامعیت کتاب ہذا کے سبب سے شرایع اولیٰ کی ضرورت نہ رہی۔ اس کو بعض لوگوں نے کہہ دیا بلکہ ماننسخ من ایۃ کی شرح کی تفسیر میں بیان ہی آچکا ہے کہ شرائع سابقہ اس شریعت محمدیہ سے منسوخ میں ایک فارسی کا شاعر کہتا ہے کہ
    نہ ازلات و عزیٰ بر آورد گرد
    کہ توریت و انجیل منسوخ کرد
    یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے بت پرستی ی موقوف نہیں کی بلکہ ایسی جامع ہدایت کتاب پیش فرمائی کہ اس کے سامنے کتب سابقہ و ہدایت مافیہ کی ضرورت نہ رہی۔ یہ نہیں کہ اچھی باتیں اب اچھی نہ ریں۔اچھی ہمیشہ اچھی ہیں۔ عرب میں ایک مثل ہے کل الصید فی جوف الفرا مثنوی شریف میں کیا خوب کہا ہے ۔
    چونکہ صد آمد نودہم نزوماست۔ ہذا ہوالحق
    (ت ۵۹۶) فاولئک ھم الفاسقون تین آیتوں میں مختلف الفاظ کافر وں۔ ظالموں فاسقوں استعمال کئے گئے ہیں کیونکہ پہلا عقائد کے خلاف ورزی پر بولا گیا۔ دوسرا حقوق العباد کے ادا نہ کرنے پر ۔ تیسرا عہد کی خلاف ورزی پر ۔ (ت ۵۹۷) ومھیمنا یعنی توریت وانجیل کے اصل احکام کو قرآن شریف نے بہ کمال خوبی یکجائی طور پر خاص خداوند کے الفاظ مبارک میں جمع کر دیا ہے اور اس کے مشتبہ اور منحرف اور مفقودہ حالات کو ہمیشح کے لئے دور کر کے صحیح واقعات کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔ اب ان کتب مبدل و محرف کی مسلمانوں کو ضرورت نہ رہی بلکہ اہل کتاب کو چاہئے کہ وہ آگے قدم بڑہا کر اس نور و ہدایت کو حاصل کریں۔ پیسے و روپے والے اشرقی والے کے پاس دوڑیں ۔ (ت ۵۹۸) شرعۃ ومناجا منہاج وہ راہ جو عقل اور سوچ اور وجدان کی ہے جب وہ شریعت کی تحت میں ہو تو شارع عام کہلاتی ہے ۔ (ت ۵۹۹) اولیاء ۔ خصوصاً جنگ کے دنوں میں کسی مخالف مذہب والے کو دلی دوست قرار نہ دے ۔ (ت ۶۰۰) لا یھدی القوم الظالمین ظالم جس راہ پر چل رہے ہیں وہ اللہ کی بتائی ہوئی نہیں ۔ (ت ۶۰۱) یسارعون فیھم یعنی یہود اور نصاریٰ کی دوستی میں دوڑتے ہیں ۔ (ت ۶۰۲) یحبھم شیعوں سے پوچھو رسول اللہ ﷺ کی کونسی قوم مرتد ہوئی اور ان سے کون لڑا اور محبوب الٰہی بنا۔ مرتدوں سے ایا ابوبکر لڑے ا کوئی اور ۔ رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں ان کی زندگی کے سوا بعد وفات ہی پہلو میں کس نے جگہ پائی کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اللہ ان کو دوست رکھتا ہے اور وہ اللہ کو دوست رکھتے ہیں اور رسول اللہ کے چشم و گوش ہیں ۔ (ت ۶۰۳) اتخذو دینکم ھزوا انگریزی خوان علی العموم وحدۃ الوجود والے فقرا اکثر تکیہ نشین اور دائرہ والے فقیروں نے علی الخصوص دین کو ٹھٹھا بنا دیا ہے۔ ایک دنیا کے بڑے رکن نے کہا کہ بہشت کے ایک پھوس کا ٹکڑا ہی بس ہے حضرت مولانا الاعظم مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ نے کہہ کر مستعار مقام میں تو بڑٓ بڑی کوٹھیاں مدرسے بنواتے ہو۔ یعنی سچی سرائے میں حد درجہ کی کوششیں اور مقام دائمیکے لئے کچھ بھی نہیں۔ یہ بڑی بے حیائی اور نفاق و بداعتقادی کی بات ہے ۔ (ت ۶۰۴) لولا ینھا لریانبون یہ ہکم صلح کل کے مذہب کا رد ہے ۔ کیونکہ سب کو اچھا سمجھنا جائز ……… کو حکم کرنے کی ضرورت نہ تھی اور نہ شریعت کی پابندی کی ۔ (ت ۶۰۵) ………… چندے اور خیرات کے معاملہ میں یہود نے کہا یداللہ مغلولۃ مگر دینی خرچوں کے لئے جو چندے لئے جاتے ہیں اس پر اعتراض کرنا کفر ہے اور خدا سے سوء ادبی ہے۔ اکثر تنگی کے وقت بے ایمان لوگ اس قسم کے الفاظ بول اٹھتے ہیں کہ کیا خدا کے خزانے میں کمی آگئی ایسے کلمات زبان پر لانے سے آدمی *** الٰہی کا وارث ہوجاتا ہے ۔ (ت ۶۰۶) بل یداہ جلالی ۔ جمالی۔ فضل و عدل کے ہاتھ ۔ (ت ۶۰۷) والقنا بینھم العداوۃ ایسیضدی ہیں کہ قیامت تک حق کو نہ پائیں گے یہ ایک پیشگوئی بھی ہے ۔ (ت ۶۰۸) اطفاھا اللہ ب غزواۃ محمدیہ کو دیکھنا چاہئے کہ یہودیوں نے کس کس طرح آگ سلگائی اور خداوند کریم نے کس طرہ بجھائی ۔ (ت ۶۰۹) لا کلومن فوقھم روحانی اور جسمانی دونوں قسم کی غذائیں بنوت اور سلطنت مراد ہے ۔ (ت ۶۱۰) لا یھدی القوم الکافرین حق یوش جس راستہ پر چل رہے ہیں وہ اللہ کابتایا ہوا نہیں ۔ (ت ۶۱۱) حتی تقیموا لتوراتہ والانجیل اس کے صحیح حکموں پر عمل کرو ۔ (ت ۶۱۲) طغیانا وکفرا احکام منزلہ مخالفوں کے کفران اور طغیان کا باعث ہوں گے ۔ (ت ۶۱۳) وفریقا یقتلون یایس تکدیب اور مخالفت کی گویا بزعم خود اسے قتل ہی کر دیا ۔ (ت ۶۱۴) فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وہ جنت میں نہ جائے گا ۔ (ت ۶۱۵) قد خلت من قبلہ سب کا اتفاق ہے کہ یہاں خلت کے معنی موت کے ہیں معلوم نہیں کہ یہ لفظ ہمارے سید المرسلین ﷺکے اسم مبارک کے ساتھ آتا ہے تو آپ سے پہلے کے بعض رسول زندہ مانے جاتے ہیںا ور مشہور قصہ گو احادیث و قرآن مجید کے خلاف ہے مگر بجائے قطعیۃ الالالہ کے مانا جاتا ہے کہ خفل والیاں اور حضرت عیسیٰ علی بینا وعلیہ الصلوۃ والسلا زندہ ہیں جو ختم المرسلین ہم رفت دیگر کس کجا ماند۔ بجزوات مقدس قادر قیوم صمدانی۔ اور کیا کوب کہا حسان بن ثابت نے ………لناظری فعمی علیک الباصر ـ من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت حاذر (ترجمہ) تو میری آنکھ کی پتلی تھا تیرے مرنے سے اب وہ اندہی ہو گئی۔ اب تیرے بعد (موسیٰ مرے یا عیسیٰ کوئی مرے مجھے تو تیرا ہی ڈر تھا ۔ (ت ۶۱۶) وامد صدیقۃ یہودی جھوٹے ہیں جو اس پر تہمت لگاتے ہیں ۔ (ت ۶۱۷) کانا یاکلن الطعام وہ دونوں کھایا کرتے تھے نصاریٰ کا رد ہے اللہ کھانا نہیں کھایا کرتا ۔ (ت ۶۱۸) السمیع سمیع ہی ضار و نافع ہو سکتا ہے ۔ (ت ۶۱۹) یاھل الکتب اے پڑہے لکھے لوگو ۔ (ت ۶۲۰) وانھم لا سیستکبوت یعنی بعض نصاریٰ اچھے ہوتے ہیں جن کی صفت پارہ ہفتم کے اولّ میں بیان ہو گی۔
    الجزء 7
    (ت ۶۲۱) عرفوا من الحق چنانچہ نجاشی اور اس کے متبعین نے آنحضرت ﷺ کے حالات سنے تو ان کے دل گداز ہو گئے اور رونے لگے چونکہ نصاریف میں رحم اور عفو کی بڑی تعلیم ہے اس لئے نصاریٰ میں ہر زمانہ میں نرم دل راستی پسند لوگ پائے جاتے ہیں ۔ نجاشی افریقہ ملک جبش کا بادشاہ تھا مکہ میں جب ایماندار بہت ستائے گئے تو تراسی مسلمان آنحضرت ؐ کی اجازت سے افریقہ حبش چلے گئے مہاجرین میں حضرت عثمان بن عفان بھی تھے اور (۸۳) میں تیرہ عورتیں تھیں باقی مرد۔ جعفر طیار نے سورہ مریم سنائی تھی جس پر نجاشی زار زار رویا اب تو نام کے نصاریٰ ایسے ملتے ہیں جن میں یہودیت کی صفت ہے کیونکہ اصل دونوں بنی اسرائیل ہی ہیں صفات عملی کی وجہ سے ممتاز نام ہوتا ہے ۔ (ت ۶۲۲) المحسنین جو اللہ کو دیکھ رہے ہیں ۔ یا اللہ ان کو دیکھ رہا ہے ۔ (ت ۶۲۳) لا تحرموا تحریم دو قسم کی ہے فعلی اور قولی افعال بدکا نتیجہ ترک طیبات چھوڑنا پڑتا ہے یہ تحریم فعلیی ہے اور تحریم قولی یہ ہے کہ حلال طیب چیز کے نہ کھانے کی قسم کھا لیویں اس حکم میں رحبانیت جو تجرد کا رد ہے یعنی حلال باتون کو حرام قرار دے کر جنگلوں میں نکل جانا خوشیوں سے قطع تعلق کرنا وغیرہ کدا کے جائز بتائے ہوئے چیزوں کو مکروہ خیال کرنا شعار اسلام سے خارج ہے ۔ (ت ۶۲۴) اطعام عشرہ مسکین کفارہ میں چار قسم کے لوگوں کے حسب حال بدلہ بتایا گیا ہے ایک تو دس مسکینوں کو کھانا کھلانا دوسرے یا دس کو کپڑا پہنانا تیسرے ایک غلام آزاد کرنا۔ چوتھے میسر نہ ہو تو تین روز کے روزے ہی رکھ لے ۔ (ت ۶۲۵) تطعمون اھلیکم یعنی معمولی کھانا جو روز تمہارے یہاں پکتا ہے کفارہ قسم (۱) کو کھانا کھلانا یا (۲) یسر گیہوں یا چار سیر جو فی کس دینا ۔ (ت ۶۲۶) واحفظوا ایمانکم یعنی قسمیں ہی نہ کھایا کرو۔ با قسمو کا بدلہ دیا کرو ۔ (ت ۶۲۷) الاانصاب والارکام ازلام پان سے اور قرعے گنڈے اور سات تیر تھے ایک جھنت کیپاس رہتے ایک پرھان لکھا ہوا ایک پرنہیں۔ تیسرے پر تم میں سے جوٹھے پر تم میں سے نہیں۔ پانچویں پر عقل چھٹے پر قل ۔ ساتویں پر لسق جس کو قرآن نے منع فرمایا کیونکہ غیب دانی اس میں بھی پائی جاتی ہے ۔ (ت ۶۲۸) انا یرید الشیطن اوپر کی آیتوں میں تفریط کو منع فرمایا تھا اب اس میں افراط کو منع فرمایا ہے ۔ (ت ۶۲۹) فی الخمر والمیسر حکیم الامۃ مولانا الاعظم خلیفۃ المسیح حصرت مولوی نورالدین صاحب فرماتے ہیں کہ طالب علمی کے زمانہ میں حرمت شراب کی طبی ادلیل یہ ملی کی شراب سے کل قویف جوش میں آجاتے ہیں اور دنیا میں سب کے استعمال کا موقع نہیں ہے لہذا دنیا میں اس کی حدمت ہی مناسب ہے۔ نیاز مند نے قرآن مجید میں کہیں بھی خمر کی علت نہیں پڑہی اور نہ کسی مقام میں اس کا جواز دیکھا ہاں شربت الگ چیز ہے اور محبت عشق کی خسمر الگ ہے۔ جس کی تعریف ہے لافیھا غول ولاھم عنھا ینزفون یعنی وہ اعلیٰ درجہ کے پینے کے شربت ہوں گے جو ماخا مرالعقل کے خلاف ہیں اور وہ خمر نہیں جس کا ذکر یسلونک عن الخمر والمیسر میں ہے۔ بلکہ شرابا طہورا وغیرہ ہیں اور جزی (۲۶) رکوع (۶) میں جو انھار من خمر لذۃ للشاربین ہے تو وہاں خمر سے ماخام الغول واشراف والصدع بل ھو لذۃ للشاربین مر وبین ہے ۔ (ت ۶۳۰) واحسنوا تین فقرے۔ پہلا گناہ کے بعد اختیار شریعت ہے۔ دوسرے اختیار استقامت۔ وادامت طریقہ ہے۔ تیسرے اختیار حقیقت ہے ۔ بلا غرض بطور اخلاق فاضلہ جس کو حدیث میں احسنا کہتے ہیں ۔ (ت ۶۳۱) من یخافہ با الغیب یعنی حالت احرام اور حرم میں شکار منع کیا گیا ہے ۔ مقاتل ابن جیان سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے چال چرند و پرند صحابہ کے ڈیروں میں گھس آئے تھے اس لئے دلی تقویٰ کا ارشاد ہوا تنہائی میں بھی اطاعت الفہی کا دھیان رہے ۔ (ت ۶۳۲) لا تقتلوا الصید وانتم حرم امن عام کی غرض سے بحالت احرام شکار منع کیا گیا ہے۔ اس میں موذی جانور سانپ بچھو دیوانہ کتا اور چیل کوا شامل نہیں اور دریائی شکار بھی مستقیٰ ہے ۔ (ت ۶۳۳) وانتم حرم یا احرام میں داخل ہوں ۔ (ت ۶۳۴) قتدا منکم متعمدا شکار دو قسم کے ہیں ہاتھ سے پکڑا تو ذبح کرنا چاہئے۔ ہتھیار سے مارا بسم اللہ کہہ کرتو ذبح کی ضرورت نہیں۔ مگر حالت احرام میں دونوں منع ہیں۔ موذی جانور کو مارنا دوست ہے ۔ (ت ۶۳۵) ذوا عدل امات دار عقل والے ۔ (ت ۶۳۶) یحکم بہ تین قسم کی سزائوں میں سے ایک سزا برداشت کریں۔ یعنی دو منصف جو کہہ دیں کہ یہ جانور اتنی قیمت کا تھا اتنا دے دیں ا کھانا کھلائیں یا روزے رکھیں جس نے احرام میں شکار کیاہو ۔ (ت ۶۳۷) قیما للناس ایک تو امن کی وجہسے دوسرے ذبح کی وجہ سے یہ تو ظاہری نظار ہیں دوسرے باطنی کے بڑے بڑً انقلاب دنیا کی سلطنتوں اور معابد میں آئے سلیمانی ہیکل اور بیت المقدس اور بیت حمزا وغیرہ تباہ اور ویران ہوئے عراق میں آذر کا آتش کدہ یورپ میں … کا معید نہ رہا ۔ مصر میں بیت الشمس نہ رہا۔ ایران کے کل آتش کدے ٹھنڈے ہو گئے۔ ہندوستان کا سومنات وغیرہ غارت ہوا۔ یونان کا ٹپرا مون غارت ہوا۔ مگر ایک کعبہ کہ جب سے بنا ہے اسی شان اور عزت سے چلا آرہا ہے۔ کیونکہ اس کا وجود اللہ کے عالم الغیب ہونے کی بڑی دلیل ہے کہ باوجود تبدیلی قوانین و سلاطین کے یہ معزز و بکرم ہو گا ۔ (ت ۶۳۸) لا تسئلوا شریعت میں غیر ضروری سوالات کرنا منع ہے چنانچہ کوئی پوچھتا تھا کہ میرا باپ کون تھا۔ کسی نے کہا کہ کیا حج ایک بار واجب ہے یا ہر بار گویا رسول اللہ ﷺ کو غیب دان سمجھ کر لوگ دنیاوی معاملات میں سوال کرنے لگتے تھے جس سے منع کر دیا گیا ۔ (ت ۶۳۹) عفا اللہ عنھا جن کے لئے تم کو حکم نہیں دیا گا وہ کام معاف ہے ۔ (ت ۶۴۰) ماجعل اللہ من بحیرۃ عمر بن حی خزاعی نے جو آنحضرت ﷺ سے تن سو برس پہلے مکہ کا بادشاہ تھا اس نے ابراہیمی مذہب میں بہت سے اولٹ پلٹ کر دئے تھے ۔ مثلاً بحیرہ جس اونٹنی کے پانچ سلسلے ہو چکیں اس کا کان چیر کر چھوڑتے تھے ۔ بوجہ لادنا۔ سواری کرنا۔ بال کترنا۔ چھوڑ دیتے ۔ پانجواں سلسلہ ہوتا اور نر ہوتا تو زبح کر کے مرد اور عورت کھا لیتے۔ اور مادہ ہوتی تو کان چیر کر چھوڑ دیتے اور اس کے منافع مردوں کو حلال ہوتے اور مرجاتی تو مرد اور عورت دونوں کھا لیتے سائبۃ وہ اونٹنی جو کسی بیمار کی صحت کے لئے یا کسی مسافر کے سلامت واپس آنے کی نیت سے چھوڑتے وصیلۃ وہ بکری جس کے سات پشت ہو چکی ہوں ساتویں پشت میں اگر مادہ جنے تو ملا لیتے نہ ہو تو ذبح کر کے کھا لیتے۔ دونوں ہوتے تو زندہ رکھتے تھے کہ بہن نے بچا دیا ہے حام وہ نر اونٹ جس کا پوتا سواری کے قابل ہو جاتا اور دادا چھوڑ دیا جاتا یا دس پشت والا ہوتا تو چھوڑتے مرا تو مردہ اونٹ کو مرد اور عورت کھا لیتے (ایضاً) روایت دیگر ) بحیرہ جس کا دودہ بتون کے لئے وقف کیا جائے سائبہ سانڈ۔ وصیلہ جو بکری نر کے ستاھ مل کر پیدا ہو اور حام جس کے نسل سے دس اونٹ بن چکے ہیں۔ ۔ (ت ۶۴۱) علیکم انفسکم اس کو مسند احمد حنبل کی حدیث حل کرتی ہے اذا رایت شا (حرص) مطاعا وھوی متبعا واعجاب کل ذی رای رایہ فعلیکم انفسکم لا یضرکم من ضل ازا ھتدینم (ترجمہ) جب تو دیکھے کہ حرص کی مانی جاتی اور خواہش کی پیروی اورہر ایک اپنے خیال پسند کرتے ہیں ایسے وقت میں اپنی ہی جان کی اصلاح کی فکر کرو۔ کسی کا گمراہ ہونا تضرر نہ دے گا (۲) مسلم کی شرح بغوی میں ہے تم اپنی فکر کر لو۔ یعنی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتے رہو ھر کسی کا بگڑنا تمہیں نقصان نہیں دے گا ۔ (ت ۶۴۲) اذا ھتدیتم کسی کے لئے پچھتانا غم کھانا بے سود مقدم خود کی اصلاح ہے جو امر بالمعروف کے لئے جزواعظم ہے جس کے لئے یہ آیت غیرت دلانے والی ہے ۔ اتا مرون الناس بالبر وتنسون انفسکم (ت ۶۴۳) استحقا اثما یعنی جھوٹی قسم کھانا یہاں اثما کے یہی معنی ہیں ۔ (ت ۶۴۴) لکم الناس فی المھد وکھلا بچپن اور جوانی میں لوگوں سے فصی و بلیغ کلام کرتا تھا۔ کیونکہ قوت بیانیہ یہی ایک عظیم الشان نعمت الٰہی ہے جس کے لئے موسیٰ علیہ السلام بھی دعا فرماتے ہیں کہ واحلل عصدۃ من لسانی اور حضور سرور کائنات ﷺ کے لئے خود ارشاد ہوتا ہے علمہ البیان پ ۲۷ سورہ رحمن فھد کے لفظی معنی تو گہوارہ کے ہیں مگر یہاں صغر سنی مراد ہے۔ اور کھل سے مراد بلوغ جیسا کہ بخاری شریف میں ہے اللھل الحلیم کتاب التفسیر سورہ آل عمران ۔ (ت ۶۴۵) تخلق خلق بمعنی تجویز ہے اور عام محاورہ عرب بھی ہے کہ فلان نحلق ویفری ۔ (ت ۶۴۶) من الطین طین سے یہاں مراد مادہ انسانی و خاکساری بھی ہے ۔ جیسا کہ شیطان کا قول ہے کہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین ۔ (ت ۶۴۷) کھبئۃ الطیر طیر سے سالک بلند پرداز مراد ہے جیسے جعفر طیار ۔ (ت ۶۴۸) وتبری الا کمہ والا برص چونکہ توریت میں ابرص وغیرہ ناپاک سمجھے جاتے تھے تو عیسیٰ علیہ السام ایسے عیب سے ان کو بری فرماتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ روحانی اندہوں اور جذامیوں کو بھی پاک و صاف کرتے تھے ۔ (ت ۶۴۹) واذا تخرج الموتی باذنی یعنی بد سے نیک غافل سے خدا پرست بنانا قرآن شریف میں ہے استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم سورہ (۸) آیت ۲۴ فلخینیہ حیوۃ طیبۃ سورہ (۱۲) آیت (۲۳) اومن کان میتاتا حییتہ سورہ (۶) آیت (۲۳) وغیرہ آیات اسی طرح انجیل و تورات میں ہے (دیکھو لوقاباب ۱؍ ۲۷ آیت) اور رومیوں کا خط باب ۶ آیت (۱۰) یوحنا باب ۸،۶۔ آیت ۵۲ و ۱۴۷ اور تورات کتاب احبار باب ۱۸ آیت ۲۵ ۔ (ت ۶۵۰) مائدۃ من السماء نزول مائدہ کے متعلق مجائد نے کہاکہ عذاب کے خوف سے پھر کسی نے طلب نہیں کیا۔ ہے کم حوصلہ کھانا مانگا۔ میرا خیال ہے اور تجربہ بھی شاہد ہے کہ دعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کی ہے جو مستجابہ ہوئی جس کی برکت سے دیکھتے ہو جو تم دیکھتے ہو ۔ (ت ۶۵۱) اتقوا اللہ ـ واتقواللہ فی اقتراح الایات کذا فی الجلالین اللہ کا امتحان نہ کرو اقتراحی معجزے یعنی فرمایشی نہ مانگو ۔ (ت ۶۵۲) واخرنا یہ دعا دریاے طبرس کے پاس کی تھی خدا نے پانچ رومیوں اور دو مچھلیوں سے پانچ ہزار آدمیوں کو شکم سیر کر دی اتھا دیکھو (یوحنا باب ۶) اور چونکہ آرنا کا لفظ بھی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو فراخ روزی عطا فرمائی ہے ۔ (ت ۶۵۳) لا اعدیہ احدا ناشکری و تکبر شیخی کا نتیجہ سخت عذاب ہو گا یہ ایک پیشگوئی ہے جو یورپ کو اپنے وقت پر تماشا دکھائے گی کیونکہ واخرنا پادری و نصاریٰ مذکورہ بیان کے مصداق ہیں ۔ (ت ۶۵۴) واذ قال اللہ میں دائود اصلہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبارت سابقہ کے وقت ارشاد ہوا۔ قصہ مائدہ سورۃ کا خاتمہ اس رکوع پر یہ مضمون بتاتا ہے کہ روح القدس والے آتے ہیں ان کی زندگی بچپن سے اخیر تک طیبہ ہوتی ہے وہ گویا بہ ہدایت ہوتے ہیں اور علم و حکمۃ و اسرار کتب الہیہ مبشرات اللہ سے سیکھے ہوئیہوتے ہیں۔ ان کی سخت مخالفت ہوتی ہے۔ ان کی صحبت مردہ زندگی کو حیات بخش ہوتی ہے وہ بینات لاتے ہیں جو سحر مبین کہلاتے ہیں اور آسمانی دسترخوان بچھاتے ہیں جس سے قوم کچھ فادہ اٹھاتی ہے پھر مشرک ہو جاتی ہے بزرگوں کی پوجا شروع کر دیتی ہے جس کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔ وہ صادق ہوتے ہیں اللہ کی خوشنودی کا سرٹیفیکیٹ ان کو حاصل ہوتا ہے جس کا نتیجہ دائمی بہشت و کامل کام پاتی ہے ۔ (ت ۶۵۵) فلما توفیتنی اس میں مسیح نے اپنے مرنیکا خود اقرار کیا ہے جب اللہ تعالیف نے ان سے یہ پوچھا کہ کیا تم نے لوگوں کو بتا دیا تھ اکہ مجھے معبود بنائو۔ اس آیت سے مسیح کی وفات اس لئے بھی ثابت ہے کہ وہ اپنے مرنے کا اقرار کرتے اور اس لئے بھی کہ ان کی قوم کا بگاڑ ان کے مرنے کے بعد ہوا اور اس لئے کہ مسیح کو قوم سے جدا کرنے والی موت بھی ہوئی اور اس لئے کہ دونوں کلاموں کے درمیان حرف (ف) ہے جس سے ان کا مرجانا ان کی قوم سے علیحدہ ہونے کے ساتھ بالکل متصل ہے اور یہ کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں کیا جیسا کہ بخاری کتاب التفسیر سورہ مائدہ میں لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ و اصہابہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرے صحابہ سے بعض کو دور ہٹایا جائے گا تو میں کہوں گا انہیں نہ ہٹائو ۔ یہ میرے صحابہ ہیں فرشتے کہیں گے کہ یہ آپ کے بعد مرتد ہوئے آپ کو خبر نہیں تو میں ایسا ہی کہوں گا جیسے مسیح نے کہا کہ میں ان کا نگران تھا جب تک ان میں تھا پس جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان کا نگران تھا۔
    سورۃ الانعام
    (ت ۶۵۶) تمہید۔ سورہ انعام میں پندرہ سے بھی زیادہ رسالت پر دلائل ہیں ہمارے حضور کی تعلیم اس میں خصوصیت سے درج ہے ۔ (ت ۶۵۷) الظلمت سے رات جہالت ۔ کفر و گمراہی ۔ گنا ۔ بے جا خواہشات ۔ سیطان ۔ نفس امارہ۔ دوزخ بھی مراد ہے ۔ (ت ۶۵۸) النور سے دن ۔ علم و معرفت ۔ ایمان و ہدایت تقویف اطاعت انبیاء و اولیاء ۔ نفس لوامہ مطمنہ ۔ بہشت درضاء الہی یہ ثنویہ فرقہ ایرانی کا رد ہے جس کا مذہب ہے کہ یزدان اور اھرمن دو خدا ہیں ۔ (ت ۶۵۹) خلقکم من طین جمع کے لفظ کی طرف دیکھو اور آدمیوں کی خلقت اور حضرت آدم کی خلقت پر نظر کرو مطلب یہ کہ آدمی کے اخلاط کس سے بنتے ہیں ۔ (ت ۶۶۰) واجل مسمی عندہ موت سے بعثت تک کا زمانہ اجل مسمیٰ کہلاتا ہے ۔ وہ اللہ ہی کو معلوم ہے ۔ (ت ۶۶۱) ماتاتیھم من ایۃ نبوت کی بحث شروع ہے نبیوں اور ولیون کے ساھ نسان ہوتے ہیں ۔ پہلے لوگ ان سے اعراض کرتے ہیں استھزاء کرتے ہیں اور جب حد سے بڑھ جاتے ہیں تو عذاب آتا ہے ۔ (ت ۶۶۲) فقد کذبوا بالحق یعنی تکذیب میں ایسا زور لگایا گویا وہ حق کا فیصلہ کر چکے ۔ جہالت کا خاصہ ہے کہ وہ ناپسندیدہ چیز کو جب پسند کر لے تو پھر حق کی مطلق بھی رعایت نہیں کر سکتا اور اس کو ناحق ہی الحق معلوم ہوتا ہے ۔ (ت ۶۶۳) ولو انزلنا ملکا تعجب ہے کہ سب نبیوں سے اس بات کا مطالبہ ہوا فرشتے اتارے جائیں مگر اللہ تعالیٰ کے حضور سے یہیجواب ملا کہ جس طرح تم چاہتے و اسی طرح اگر فرشتہ کا نزول ہو تو پھر فیصلہ ہو جائے۔ مسیح موعود کے ساتھ بھی فرشتوں کا آنا ضروری ہے۔ لیکن نہ اس طرح جس طرح لوگ کہتے ہیں ۔ (ت ۶۶۴) کتب علی نفسہ الرحمۃ یعنی نبیوں اور کتابوں کا بچنا اور عاصی کی دعا قبول فرمانا جس سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی رحمت و مہربانی نہیں اللہ تعالیف نے اپنے وجود باوجوف پر یہ طالب عاصی اور موافق حدیث جس کا ترجمہ ہے ۔
    صدبار اگر تو بہ شکستی باز آ۔باز آ باز …… ہستی باز آ۔گر کافر وگبروبت پرستی باز آ۔ایں درگہہ مادرگہہ نامیدی نیست ۔ صدبار اگر تو بہ شکستی باز آ۔ لازم کر لیا ہے ۔ (ت ۶۶۵) اتینھم الکتب اگلی کتب میں پیشگوئی ہمارے حضور سید المرسلین کی ہے چنانچہ (اعمال ۲۳ آیت ۲۱) وعیرہ مقامات ۔ (ت ۶۶۶) کما یعرفون ابناء ھم بیٹے کو بیٹا سمجھنا۔ علامات پر خط و خال پر عورت کی گواہی پر قرائن پر مبنی ہوتا ہے ۔ اسی طرح نبیوں کی بھی شناخت کی جاتی ہے ۔ (ت ۶۶۷) ومن اظلم جس وقت کوئی سخص دعوے نبوت ورسالت کر کے کھڑا ہوتا ہے اس وقت اگر وہ جھوٹا ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی گنہ گار و ظالم نہیں اور کافر نہین اور اگر وہ سچا ہے تو پھر اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اس کو جھٹلاتا ہے ہر ایک مدعی کے وقت میں گویا ظالم ہونا یا مدعی کا یا اس کے مکذب کا ضروری ہو جاتا ہے ۔ تعبین اس امر کی کہ فی الہقیقت ظالم کون ہے اس بات سے ہوتی ہے کہ ظالم انے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا نبی کریم ﷺ جب مدعی ہوئے بے کس و بے بس تھے لیکن آپ کے دشمن ہر طرح آسودہ تھے ایک شخص کر ہرا دینا مٹا دینا کچھ مشکل نہ تھا مگر وہی ناکام ہوئے آپ کامیابی کا تاج پہن کر دنیا سے رخصت ہوئے یہ سچے اور جھوٹے کی شناخت کا معیار ہے۔ اسی پر مسیح موعود کی صداقت کو پرکھو ۔ (ت ۶۶۸) لا یکذبونک کیونکہ تو تو ان میں چالیس برس رہا اور کسی نے تجھے سوائے امین و محمد کے نہیں پکارا ان جب سے ہمارا کلام تجھ پر اترا اور ہمارے کہنے سے تو نے نبو کا دعویف کیا تو تو جھوٹا کھلایا تو گویا ہماری تکذیب ہوئی اس سے رسول اللہ ﷺ کی پاک زندگی اک حال معلوم ہوتا ہے اور یہ معیار ہے کہ جس شخص کی زندگی دعوے سے پہلے جھوٹ اور گناہ سے مبرا ہو اس کی تکذیب جائز نہیں اور یہ پہلا نشان نبوت ہے ۔ (ت ۶۷۰) اوسلما فی السماء نبی کری ﷺ کے آسمان پر جانے ا ذریعہ تو خدا سیڑہی تجویز کرے تعجب ہے کہ مسیح کے اتارنے میں خیالی سیڑہی مانتے ہیں مگر چڑہانے کے لئے کسی سیڑھی کا بیان نہیں کیا ۔ (ت ۶۷۱) فتایتھم بایہ تو کیوں تکلیف اٹھاتا ہے یہ ماننے والے نہیں اور نہ تو کوئی ایسی دلیل پیش کر سکتا ہے جس سے نہ ماننے والے مان لیں ۔ (ت ۶۷۲) لجمعھم علی الھدیٰ تو اب زبرفدستی کسی کو منوانا یا نصیحت کو کوئی سخص نہ سنے تو برا ماننا فضول بات ہے یعنی جس کا جی چاہے خدا کو مانے اور جس کا جی اہے نہ مانے خدا کسی پر نیکی یا بدی کرانے میں جبر نہیں فرماتا۔ ہر ایک کو عقل و سمجھ دے دی ہے جو جیسا کرے گا وہ ویسا پائے گا من عمل صالحا فلنفسہ ومن اسماء فعلیھا ۔ (ت ۶۷۳) فلا تکونن من الجاھلین یعنی زمین میں سرنگ لگانا یا آسمان پر چڑھ جانا خیالات واہیہ ہیں جو جاہلوں کے ہوا کرتے ہین اور تیرا سلم اور ہادی تو حلیم خدا ہے اس لئے تو جاہلوں میں سے نہ ہو گا معراج ہمارے حضور کا ایک معجزہ ہے جو عین بیداری میں جسم کے ساتھ واقع ہوا۔ اور وہ ایک کشف تام اور علم اوّلین و آخرین کا ظہور تھا یعنی جناب نے اولین واسخرین کی سیر طے زمانی اور مکانی فرما لی اور ان واقعات کو دیکھ لیا جن کا ظہور اخیر سے اخیر وقت بلکہ قیامت کے بعد ہو گا وقوعاً ملاحظہ فرما لیا ۔ (ت ۶۷۴) ثم الیہ یرجعون یعنی دل لگا کر سننے والے مانتے ہیں اور مردے کافر تو اللہ ہی کے سامنے جا کر مانیں گے اور فتح مکہ کی تمثیلی بشارت بھی ہے کہ بعد فتح مکہ کے وہ کلام کو سن بھی لیں گے ۔ (ت ۶۷۵) امم مثالکم یعنی بع آدمی طائوس کی طرح لباس کا دل دادہ بعض سور کی طرح شہوت کا غلام بعض کتے کیطرح پیٹ کا بندہ وغیرہ وغیرہ مومن کو چاہئے کہ ملکی صفات کی طرف بڑہے بے ہمت سے اپنے آپ کو بچائے۔ امم گروہ جس طرح تم ہمارے نبی کے لئے زہری جانور بنے ہو اسی طرہ حقیقی جانور اور پرندے تمہارے دشمن ہیں ۔ عنقریب تمہاری لاشیں کہا جائیں گے ۔ (ت ۶۷۷) ما فرظنا فی الکتب یعنی اس کتاب میں سب چیزوں کا بیان کر دیا ہے ۔ اصول حقہ ہدایات تامہ علوم اوّلین وآخرین کے خلاصے اصول فطرت کے ارشادات ۔ (ت ۶۷۸) قل ارائیتکم ارئیتک میں کاف خطاب کا ہے یہ مثنیٰ بھی آتا ہے مجموع بھی آتا ہے جیسے آراء یتکما اور اریئتکم اور مونث کے لئے ارئیتن اور ان سب صورتوں میں (ت) مفتوح ہے ارائت کا لفظ عربی محاورہ میں دو معنی پر آتا ہے ایک آنکھ سے دیکھنا دوسرے اخبرنی کی جگہ یعنی مجھ کو بتلا ۔ (ت ۶۷۹) ولقد ارسلنا یہاں ارسلنا کے ساتھ رسلنا محذوف ہے اور من قبلک کے بعد فکذبوا ۔ (ت ۶۸۰) بالباساء قسم قسم کے قحط تنگی سختی فقیری ۔ (ت ۶۸۱) والضراء قسم قسم کی بیماریاں لڑائی جھگڑے ۔ (ت ۶۸۲) لعلھم یتصرعون یہ بھی رسول کی شناخت کا ایک معیار ہے اس کے وقت میں قحط اور بیماریاں ہوتی ہیں تا لوگوں کو دنیا کی بے ثباتی اور اس کی تکالیف سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع پیدا ہو۔ جیسے ہم یہ قحط و بیماریاں مسیح موعود کے عہد میں دیکھ رہے ہیں۔ انبیاء کے آںے کے بعد سختی اور تکلیفدیں ہوتی ہیں تا کہ رجوع بہ حق نصیب ہو۔ عذاب تضرع سے ٹل جاتے ہیں۔ بشرطیکہ اس میں شائبہ شرک نہ ہو۔ اللہ ہی کے حضور ہو ۔ (ت ۶۸۳) فتحنا علیھم الخ یعنی بدکردار نئیں اچھی معلوم ہونے لگتی ہیں اور عمر و اولاد میں زیادتی ہو جاتی ہے اور حرام کا مال بہت سا جمع ہو جاتا ہے ۔ اس کو پہلا وہ دھوکہ غفلت میں ڈالنا کہتے ہیں اگر گنہ پر سزا نہ ملے بلکہ فراغت پر فراغت ہو تو قہر الہی کی علامت ہے حتی الامکان کثرت سے استغفار و عبادت میں لگا رہے۔ اور مامور و مساکین کی خدمت کرے ۔ (ت ۶۸۴) فقطع دابر الخ چنانچہ حی بن اخطب بوراضع عبداللہ ابن ابی ابوجھل کعب بن …… عامر راہب سب کے سب مارے گئے ۔ (ت ۶۸۵)عنہ یخزانہ من اللہ مشرکین کے ملک میں پیدا ہونے والاکس صفائی سے خلاف حالات ملک اعلان کر رہا ہے ۔ یعنی سردست میرے نزدیک موجود نہیں ہاں یہ غیب کی پیشگوئیاں ہیں اور میں ایک سچا رسول ہوں مجھے جو وحی ہوتی ہے وہ میں تمہیں سنا دیتا ہوں ان پیشگوئیوں کا ظہور یوں ہوا کہ قیصر و کسریٰ کے زانے کی کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ آگئیں گویا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ روحانی طور پر رسول اللہ ﷺ ا دست مبارک تھا پیشگوئیاں عطائے علم عیب کا پورا ثبوت دے چکیں اور کمال اطاعت نے فرشتہ ہونا ثابت کر دیا کہ لا یعصون اللہ ماامرھم معراج شریف میں آپ تمام فرشتوں سے بالا تر مقام طے کر گئے اکثر عوام بزرگوں کو حاجت روا اور نعوذ باللہ بجائے خدا کے سمجھتے ہینا ور ان کے پیچھے تقویف کے لئے نہیں روحانی ترقی کے لئے نہیں بلکہ اغراض …… کے لئے پرے رہتے ہیں اس لئے حضور نے ان کے خیالات کا رد فرمایا اور کہہ دیا میں بندہ رحمن ہوں۔ جو وہاں پسند ہو گا وہی میں کروں گا اور میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ (ت ۶۸۶) الذین یخافون میں جو ایماندار غریب بے کس جیسے بلال بن مسعود مقدار عمار وغیرہ رضی اللہ عنہم ہی ہیں۔ جن کو خشیۃ اللہ اور اللہ کے عذاب کا ڈر اور نافرمانی کا خوف ہو انہیں انذار القرآن سے فائدہ پہنچتا ہے اور اللہ جل شانہ کے فضل و رہمت ہی سے خاکسار …… کی پرورش ہو سکتی ہے ۔ (ت ۶۸۷) ما علیک من حسابھم یہ ایک محاورہ ہے جیسا کہ اردو میں کہتے ہیں کہ ہمارا ان کا کیا لین دین ہے یعنی کچھ تعلقات نہیں اس طرحاس آیت شریف میں بھی بے تعلقی کا ذکر ان لفوں میں کیا گیا ہے ۔ (ت ۶۸۸) فتکون من الظلمین قریش کے متکبر مراجب آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک میں آتے تو خدا پرست غرباء کو آپ کے پاس بیٹھا دیکھ کر بیٹھنا عار سمجھتے ایک وقت ان میں سے چار آوہنوں نے درخواست کی کہ جب ہم آیا کریں تو یہ غربا نہ رہا کریں آپ نے رضا دی پھر جناب الٰہی کے حکم سے اس قاعدہ کو توڑ دیا ۔ (ت ۶۸۹) انی ذھبت نبی کریم ﷺ کے وقت بہت ہی بت پرستی ہو رہی تھی مکہ میں ـ۳۶۰) بت پج رہیتھے عیسائی حضرت مریم کے پجاری تھے ان کے بت کو گوٹے کناری کے کپڑے پہنائے جاتے تھے بدعنی اور بت پرست کی عقل ماری اتی ہے وہ نہیں سمجھتا کہ یہ سب چیزیں میری خادم بنائی گئی ہیں اور میں مخدوم ہو کر یہ کام کیا کر رہا ہوں اور عاقل ہو کر جہالت کیسی ۔ (ت ۶۹۰) وعندہ مفاتح الغیب مفاتح اور چیز ہے اور مفاتیح اور چیز ہے اوٍّ کے معنی خزانے اور دوسرے کے معنی کنجیاں قارون کے بیان میں بھی مفاتح آیا ہے ما فی البر والحجر یعنی دنیا داروں اور اللہ والوں کا حال بھی اللہ ہی خوب جانتا ہے ۔ (ت ۶۹۱) فی کتب مبین یعنی صحیفہ فطرت جوارباب تہقیق کی نظروں کے سامنے ہے جس کا ہر ایک ذرہ معرفت کا کہلا ہوا دفتر ہے خواہ دن میں فکر کرو خواہ رات میں فوٹو گراف نے ثابت کر دیا کہ آوازیں بھی محفوظ رہ سکتی ہیں اور فوٹو گرافت نے ثابت کر دیا کہ کسی شئے کا عکس بھی زائل نہیں ہوتا۔ کیمیا نے ثابت کر دیا کہ کوئی ذرہ عالم کا ضائع نہیں ہوتا اور …… الٰہی نے اس قاعدہکو بھی بجائے خود نہ رہنے دیا۔ طبیعات نے ثابت کر دیا کہ مقناطیسی طاقتیں اور بجلی کی سب زمین میں اور دوسرے اشیاء میں جمع رہتی ہیں کبھی زائل نہیں ہوتیں۔ غرض عالم کی کھلی ہوئی کتاب میں سب موجود ہے جس کو صحیفہ قدرت کھویا صحیفہ عالم یا کتاب مبین یا کھلی کتاب کہو مگر اللہ تعالیٰ کا علم ان سب پر حاوی اور غالب ہے ۔ (ت ۶۹۲) وھو القاھر جیسے تم غالب ہو دوسروں پر خدا تم پر غالب ہے ۔ (ت ۶۹۳) من فوقکم شمال کی طرف سے یا امرا کی طرف سے فوق کے تین معنی (۱) حاکم ظالم مسلط ہو جائے (۲) بیرونی دشمن حملہ کریں۔ (۳) تیز ہوائیں چلیں جو مکانات گرا دیں اور ہم دب جائیں اور ژالہ باری ۔ سنگ باری ۔ بجلی ۔ سخت بارش بھی مراد ہے ۔ (ت ۶۹۴) اومن تحت ارجلکم یا تمہارے غلاموں کی طرف سے اور اس لفظ کے تین معنی ہیں (۱) زلزلوں سے زمین پھٹ جائے (۲) خسف ہو جائے (۳) نوکروں غلاموں کے ہاھ سے مارا جائے ۔ (ت ۶۹۵) یذیق بعضکم باس بعض یہ نبوت کے ثبوت میں کئی پیش گوئیاں ہیں جنکاوقوع ہو چکا ۔ (ت ۶۹۶) لست علیکم بوکیل وکیل نہیں ہوں کہ پیشگوئیوں کو جھٹ تمہارے سامنے پیش کردوں وہ تو خدا کے اختیار میں ہیں ۔ جب ان کا وقت آئے گا ظاہر فرمائے گا ۔ (ت ۶۹۷) ان تبسل نفس بما کسبت اس کے معنی صحابہ اور تابعین نے (۵) بیان کئے ہیں (۱) سونپا جائے تسلیم (۲) تجسس بند کیا جائے (۳) ترمن رہن پڑ جاے (۴) تجزیٰ ۔ سزا دیا جائے (۵) تحرم ۔ محروم کیا جائے ۔ (ت ۶۹۸) شفیع یعنی نہ سے نجات دینے والا ۔ برائی سے بچانے والا عذاب سے روکنے والا ۔ (ت ۶۹۹) استھوتد الشیطین متھوت مشتق ہے ھوی فی الارض سے جس کے معنی ہیں بلندی سے گڑھے میں گرنا شیطانوں بدمعاش لچے اللہ سے دور ہلاک ہونے والی روحیں ۔ ڈاکو وغیرہ ۔ (ت ۷۰۰) عالم الغیب والشھادۃ جو بود نہ ہو وہ غیب ہے اور جو بود ہو وہ الشہادۃ ہے الغیب والشہادہ کے یہ بھی ایک معنی ہیں ۔ (ت ۷۰۱) ابراھیم حضرت ابراہیم حضرت عیسیٰ سے قریباً دو ہزار برس پہلے عراق میں بہ مقام اہواز یا بابل پیدا ہوئے بڑے ہوئے تو وطن سے ہجرت کر کے پہلے حران میں آئے پھر معہ اپنے بھتیجے لوط کے کنعان میں آئے اور شہر نابلس سے گزر ر بیت المقدس میں خیمہ لگایا پھر عرب و مصر میں بھی گئے ان کے بیٹے اسمٰعیل کی اولاد عرب میں آباد ہوئی دوسرے بیٹے اسحق سے بنی اسرائیل ہوئے جو شام میں رہے یہیں حضرت ابراہیم کی قرب مبارک ہے ۔ ان کے والد کا نام تارخ اور چچا کا نام آور ہے کیونکہ والد کے لئے انہوں نے دعائیں مانگی ہیں جیسے سورہ ابراہیم رکوع ۱۷ پارہ (۱۲) میں ربنا اغفرلی لو لدی آیا ہے مگر لفظ اب کے ساتھ دعا کرنے سے ملع کئے گئے ہیں جیسے رکوع ۳) پارہ (۱۱) میں وما کان استغفار ابراہیم لابیہ آیا ہے۔ نمبر دو بادشاہ جو ضحاک نازی کا صوبہ تھا پہلے بزرگوں یا نبیوں کیپیشگوئیوں کی بنا پر حضرت ابراہیم سے ہر ساں تھا اس لئے وہ لڑکوں کو قتل کر ڈالتا حاملہ عورتوں کی خبر رکھتا یہی وجہ تھی کہ ان کے والدین نے ان کو ایک غار میں چھپا رکھا اور سن تمیز تک وہیں رہیاور ان کا ستاروں کو ھذا ربی ھذا ربی کہنا تحقیر کے لئے ہے اور ان کے چھپ جانے کو حجت پکڑنا ان کی تحقیر کی دلیل ہے اور آخر میں صاف لفظوں میں اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ میں ایسے مشرکانہ باتوں سے پاک صاف ہوں خود قرآن فرماتا ہے وتلک حجتنا اتینا ھا ابراھیم آیت اول یہاں ہذا تحقیر ہی کے لئے ہے جیسا ھذا الذی بعث اللہ رسول میں ھذا ہے اور اس لفظ کے پڑھنے کے لئے ایک تحقیری لہجہ کی ضرورت ہے ۔ (ت ۷۰۳) لیکون من الموقنین یقین کی کوئی حد نہیں بڑھتا ہی جاتا ہے مگر عقائد وغیرہ چند امور ہیں ۔ (ت ۷۰۴) الا ان یشاء ربی کبھی اپنی طرف سے مباحثہ وغیرہ کی ابتدا نہ کرو علم پر مغرور نہ ہو سخت مجوبر کئے ائو تو پہلے دعائیں کرو۔ اے میرے رب میرا علم میری قدرت میری عقل میری سمجھ ناقص ہے تو ہی اپنے فضل سے میرا معین و ناصر ۔ وہادی چمچ ہو۔ اور دعائے رب اشرح لی صدری الخ سوہ طہ بھی پڑھ لے اور بہت عجزو انکساری کے ساتھ شریک مباحثہ ہو شیخی اور تکبر کو لات مار کے ۔ (ت ۷۰۵) وسع ربی کل شی علما اس آیت کو وسع کرسیہ السموت سے ملانا چاہئے جس سے معلوم ہوتاہے کہ کرسی سے مراد علم الٰہی ہے اور یہی بخاری شریف اور کتب لغت قاموس و صراح سے ظاہر ہے ۔ (ت ۷۰۶) وتلک حجتنا مطلب یہ کہ حضرت ابراہیم کی خصوصیت نہیں۔ ہماری حجت ابراہیم کو بھی دی تھی ۔ (ت ۷۰۷) وما قدروا اللہ حق قدرہ تجربہ سے دیکھ لو کہ اللہ کے قانون کی کس قدر نافرمانی کی جا رہی ہے ار کوئی قوم بھی الا ماشاء اللہ اللہ کی قدر پوری نہیں کرتی سب اپنی واہشوں کے پیچھے لگے ہیں اس کی ایک مثال بیان فرمائی ما انزل اللہ علی بشر برہمو سماج کا یہی مذہب ہے جس کے جواب میں قل من انزل کتاب الخ فرمایا ۔ (ت ۷۰۸) تجعلونہ قراطیس قراطیس کاغذات ۔ دفاتر۔ طوماربڑا معمولی وردی کاغذ بنا رکھا ہے ۔ (ت ۷۰۹) نخفون کثیرا یعنی مطلب کی دکھاتے ہو عیر مطلب کی چھپاتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتاب کے تمام احکام ماننا وہ اپنے مطلب کے موافق ہوں یا نہ ہوں اس سے تعارض کا راستہ ہٹ جاتا ہے مطلب حق کا مدنظر رکھنا چاہئے۔ ۔ (ت ۷۱۰) وعلمتم مالم تعلموا قرآن میں ہر ایک قسم کی آسانی رکھ دی ورنہ ہم کو اگر کود ذات سے تحقیقات کرنی پڑتی تو بڑے مشکلات ہوتے اور تحصیل علوم کرنا پڑتا سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ولقد یسرنا القران للذکر قرآن کریم حصول صداقت کیلئے کس قدر آسان ہے ۔ (ت ۷۱۱) تشد رام القری یہ عظیم السان پیشگوئی ہے ۔ جب آنحضرت ﷺ مشرکین عرب اور یہود سے مایوس ہوئے تو اللہ نے بشارت دی کہ تجھ پر ایسے لوگایمان لائیں گیجوکبھی ان کار ہی نہ کریں گے ۔ عرب ۔ روم ۔ ایران۔ افغانستان ۔ بلوچستان۔ ہندوستان۔ چین۔ تبت۔ ترکستان۔ روس وغیرہ ملکوں میں ہزاروں قومیں مسلمان ہو گئیں ام القریٰ یعنی بستیون کی ماں کیونکہ روحانی مشیر تمام بستیوں نے اسی کے بافیض چھاتیوں سے پیا ہے اور تورات میں اس کا نام ناف زمین بھی ہے کیونکہ شکمی بچہ ناف ہی کے ذریعہ سے پرورش پاتا ہے حزقیل کے ۳۸ باب میں ناف زمین کا تفصیلی ذکر ہے ۔ (ت ۷۱۲) یومنون بہ وہ مانتے ہیں رسول و قرآن کو یہ آیت ان کو پڑھنا چاہئے جو صرف اللہ اور یوم آخرۃ کو مانتے ہیں کہ یہ ان پر محبت قوی ہے اور …… میں یریدون ان یفرق وا ـ لانہ کی آیت یہی ملا کر پڑہیں اور یعبد اللہ علی خوف پر عمل نہ کریں ومن قال سانزل یہ مسلمہ کذاب و اسور غسی یا کاتب وحی عبداللہ بن سعد نے کہا ۔ (ت ۷۱۳) یخرج الحی من المیت یعنی کافروں میں سے مومن اور مومنوں سے منافق گندوں سے پاک اور برعکس پیدا فرماتا ہے اس میں ہمیں دو سبق دئے ہیں نمونتہً آدم علیہ السلام و نوح علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کے بیٹے کہ اگر بزرگ سست ہوں تو پروا نہیں خود چست ہونا چاہئے۔ ہم چست ہون تو گھمنڈ اور شیخی نہ کریں۔ کیونکہ ہماری اولاد معلوم نہیں کیسی ہو پھر فائق الخب والنوی سے صلاحیت خویش اور اولاد کے لئے دعائیںمانگا کر۔ ایمانداروں کی مثالیں رچا دیں (۱) حب (۲) فویٰ (۳) حی (۴) اصباح ۔ (ت ۷۱۴) جعل لکم النجوم انبیاء اور اولیا ہی پیدا کئے جس سے جسمانی اور روحانی فوائد حاصل ہوئے ۔ (ت ۷۱۵) مستقر قرار گاہ قبر سیلے کر بہشت تک ومستودع جا سے امانت ماں کے پیٹ سے لے کر قبر تک یعنی عارضی جگہ بہ طور امانت ۔ (ت ۷۱۶) واجعلو اللہ شرکاء الجن عرب کے بعض فرقے ملائکہ اور جنات کو پوجتے اور بعض ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے زردشتیوں نے یزدان اور ہر من بنا رکھے تھے یزدان کی فوج ملائکہ اور اھر من کی شیاطین کو سمجھتے تھے یہود عزیز کو خدا کا بیٹا اور عیسائی مسیح کو بعض مریم کو خدا کی بیوی اور اس کی مورت کو گوٹہ کناری چڑہا کر اس کی پوجا کرتے ۔ (ت ۷۱۷) سبحنہ و تعالیٰ عما یصفون یہ اسماء الٰہی سے غفلت کی شکایت ہے انسان کو اگر معلوم ہو جائے کہ اپنی اصل حقیقت کیا ہے اور رب للعالمین کے ساتھ میرے کیا تعلقات ہیں تو اس میں غفلت اور بدمستی کے آثار بالکل نہ رہیں کاش وہ اسمائے الہی میں غور کرے اور اس کے فوائد و فیوض سے مالا مال ہو اور جس طرح اپنی خواہشات اور دنیوی مقاصد کے لئے سکت محنتیں اٹھاتے اور تکلیفیں گوارا کرتے ہیں اسی طرح روحانی رزق و منافع کے لئے مختین اٹھائی اور اس کی تلاش کریں اسماء الہی جو قرآن شے ثابت ہیں و پانچ قسم کے ہیں (۱) وہ اسماء جو انسان کی فطرتی ضروریات اور خواہشات کی متکفل ہیں (۲) وہ اسماء جو پیدائش اور نظام عالم سے متعلق ہیں ۳۰) وہ جو حکومت انسانی سے متعلق ہیں (۴) وہ جو اصلاح نفس اور رفع انسانی کے متکفل ہیں (۵) وہ جو انبیاء اولیاء سے تعلق رکھتے ہیں ۔ (ت ۷۱۸) بدیع بلا نمونہ وبلا مادہ بنانے وال ا۔ فرقہ شنویہ کا رد ہے جن کو فارسی و مجوسی کہتے ہیں اور آریہ کا ونصاری وغیرہ کا بھ کیونکہ وہ بھی رحم بلا مبادلہ کے قائل نہیں اور بدیع کے لئے اس کی ضرورت ہے ۔ (ت ۷۱۹) وخلق کل شی بلا استثناء چیز ابن و نیت تو کوئی نہیں سب مخلوق الٰہی ہیں اور نہ کسی دوسرے کی چڑ گئیں وغیرہ مخلوقات ہیں ۔ سب خدا ہی کی ہیں ۔ (ت ۷۲۰) وھو بکل شی علیم یعنی اللہ کے علم میں ابن و نیت وغٓرہ اور خالق کوئی نہیں ۔ (ت ۷۲۱) وھو علی کل شی وکیل یعنی کسی سے ڈرو مت کیونکہ ہمایر ہی ہاتھ میں سب کچھ ہے ۔ (ت ۷۲۲) لا تدرکہ الا بصار ابن اللہ کی تردید والوہیت عیسویت کی رو میں دلیل دی ہے ۔ اور مسیح کو تو آنکھیں خوب دیکھ سکتی ہیں ۔ (ت ۷۲۳) الخبیر یعنی تم اپنی آنکھوں کو بتائے پر مت چلو خدا کے بتائے پر چلو۔ کیونکہ آںکھیں غلطی کرتی ہیں اور خدا کی راہ راست میں غلطی نہیں ۔ (ت ۷۲۴) وما انا علیکم بحفیظ یعنی تم اندھاپن کرو تو میں زبردستی آںکھیں دے دوں یہ عادت و انصاف نہیں کسی خاص طریقہ کی پیروی کا حکم نہیں ۔ (ت ۷۲۵) اتبع ما اوحی الیک یہ عام حکم نہیں ۔ (ت ۷۲۶) لا الہ الا ھو یہ تمام وحیوں کا خلاصہ ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی سچا معبود نہیں ۔ (ت ۷۲۷) ولو شاء اللہ ما اشرکوا یعنی اعمال شرکیہ کی وجہ سے خدا نے ان کو مشرک بنا رکھا ہے جو ان کی دلی خواہش اور وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ نہیں اس لئے کہ مشرک بنیاور فرمایشی نشانہ نہیں بتائے جائیں گے کیونکہ جبر نہیں ۔ (ت ۷۲۸) وما انت علیھم بوکیل جو ان کو ان کے جمے ہوئے شرک وغیرہ برائیوں پر سے ہٹا دے ۔ (ت ۷۲۹) ولا تسبوالذین یعنی ہر ایک جماعت کو اخلاقی تعلیم دی جاتی ہے کہ حق دین کی تبلیغ کرو مگر کسی کے بزرگ کو گالی نہ دو ۔ (ت ۷۳۰) کذلک زینا یعنی ہر ایک کو بہ خوبی سمجھا دئے ہیں جو جو کام کرنے کے ہیں اور جو ان کے نتیجے ہون گے ۔ (ت ۷۳۱) فینھم بما کانوا یعملون یعنی خدا کے پاس جا ک روہ اپنی جزا آپ پالیں گے اور غلطیوں کا اقرار کر لیں گے ۔ (ت ۷۳۲) قل انما الایت عنداللہ منکران معجزات کا جواب ہے یعنی میرے رب کے پاس بہت معجزات ہیں۔ میں کیون نہ دکھائوں گا اور نشانات عطاء الٰہی ہوتے ہیں فرمایشی نہیں ہوئے ۔
    الجزء 8
    (ت ۷۳۳) یجھلون نادان آدمی الٹی تجویزیں سوچتا ہے جو غیر مفید ہوتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ راہ ہدایت اور اسباب ہدایت سے محروم ہو جاتا تحریک قلبی نزول ملائکہ ہے مگر وہ عمل کہاں کرتا ہے ۔ خواب میں بزرگوں سے ہدایت ہوتی مگر نہیں مانتا لوگ سزایاب ہوتے دیکھتا ہے پیش گوئیاں پوری ہوتی ہیں مگر نہیں مانتا پھر انبیاء کا انکار ہو جاتا ہے پھر انسا الجن کھلے چھپے مقابلہ کرنے والے بھی ہوتے ہیں ۔ (ت ۷۳۴) الکتب مفصلا کیتاب اس لئے اتاری کہ اس کو پڑھو عمل کرو غور کرو جس میں نیکی و بدی کی الگ الگ تفصیل ہے ۔ (ت ۷۳۵) وان قطع مامور کے مقابلہ میں جمہور اور عام اقوال قابل سماعت نہیں ۔ (ت ۷۳۶) ان یتبعون الا الطن جس ان کے بعد الا آتا ہے اس کے معنی لا کیہوتے ہیں ۔ (ت ۷۳۷) وان ھم الایخرصون اٹکل بازی سے بدی و نیکی کی تشریح جو کرتے ہیں وہ محض علط ہوتی ہے ۔ (ت ۷۳۸) وقد فصل لکم قرآن مجید مفصل ہے مجمل کہنے والے غور کریں ۔ (ت ۷۳۹) وذر واظاہر الا ثم ظاہری گناہ مثلاً چوری ۔ بدی۔ جھوٹ ۔ لڑائی جھگڑا وعیرہ نفس امارہ کا فعل و قول وبالھینہ بانی گناہ ۔ کینہ ۔ بغض ۔ حسد۔ تکبر۔ حرص ۔ نفاق۔ نفس لوامہ کے افعال اقوال اور کسی آدمی وغیرہ کو بادشاہ کی مثال دینا خدا کے ساتھ غلط ہے ہاں سیڑہی کی دے سکتے تھے مگر اللہ تو اقرب سے اقرب ہے پھر دل سے ایسی باتیں بنانا کیا معنی ۔ (ت ۷۴۰) اومن کان میتا جب تک خدا کی عظمت و جبروت کو نہیں پہنچتا مردہ ہی ہوتا ہے جب اس کو ادراک کر لیتا ہے تو اس کو روشنی عقل و سجھ و راستی اور علم و کلام الٰہی کا فہم و الھام و جذب دیا جاتا ہے اب ترقی و تمیز کے لئے ہر روز محاسبہ نفس ضروری ہے۔ سردار دو جہاں فرماتے ہیں من استوا بوماہ فھو معبلون مخلصین کی ایک …… یہ بھی بتلاتی ہے کہ امرا ان سے منقر اور الگ رہتے ہیں کسی نے پوچھا کیشب۔ دیانند و سرسید و حضرت غلام احمد میں کیا فرق ہے جو اب دیا گیا کہ اکابر مرزا صاحب سے تعلق نہیں رکھتے خلاصہ یہ کہ مامور من اللہ کے ساتھ پہلے امر اشامل نہیں ہوتے ۔ (ت ۷۴۱) مثل ما اوتی رسل اللہ مشترک نشان سب رسولوں میں اخیر فتح یابی ہے اور الہام وبرکات وغیرہ ۔ (ت ۷۴۲) الرجس کفر۔ پلیدی۔*** ۔ جہالت ۔ بدکاری۔ ضد و ہ دہرمی ۔ (ت ۷۴۳) علی الذٓن لا یومنون اضلال لایومنون والوں کو ہوتا ہے ۔ (ت ۷۴۴) لقوم یذکرون یعنی یتذکرون امری احکام الٰہی کے ماننے کا فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں قبر میں پل صراط میں جنت میں غرض سب جگہ سلامتی کا گھر ملتا ہے اخیر اس کا والی ہو جاتاہے پھر مومن بتدریج ظلمت سے بہ آسانی نکل جاتا ہے ظلمت اقسام کی ہیں (۱) ظلمت جہل (۲) ظلمت رسم (۳) ظلمت حب و بغض (۴) ظلمت افلاس تنگ دستی ۔ دولت ۔ (۵) ظلمت مجلس (۶) ظلمت شرک ۔ جیسے نصاری کی حالت ہے (۷) ظلمت ریا وبداخلاقی و کم اخلاصی وغیرہ ۔ (ت ۷۴۵) ربنا استمتع امرا نے روپے دئے ہمارے کام چلانے ہم ان کے کام کئے ۔ (ت ۷۴۶) قال النار ستوانکم جہنمی ہو گئے لڑائی میں مارے جائو گے ۔ (ت ۷۴۷) وکذلک نولی جب حاکم بنو تو استغفار بہت کرو کیونکہ ظالموں پر حاکم ظالم ہوتا ہے ۔ (ت ۷۴۸) یقصون علیکم ایتی انسان میں دو قسم کے قویٰ ہیں ایک جن پر مقدرہ ہے دوسرے جن پر اختیار نہیں احکا الٰہی ہمیشح پہلے سے متعلق ہوتے ہیں دوسرے ہرگز نہیں۔ دوسرے کی مثال جسے نصاریٰ کہتے ہیں تین بھی اور ایک کا ایک مشرک کہتے ہیں۔ بت میں منتر پڑہنے کے بعد خداجاتا ہے دوسری قسم کی باتوں کی اصلاح کے لئے انبیاء مبعوث فرمائے گئے ہیں امیر کبھی جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام اور غریب بھی جیسے حضرت یحیٰ علیہ السلام برہمو سلسلہ کے لوگ رسالت کے … ہیں اور ملائکہ کے بھی ۔ (ت ۷۴۹) وغیرتھم الحیواۃ الدنیا بچہ پیدا ہوتے ہی کھانا مانگتا ہے اس کے بع غضب پھر حرص و حب بہ قوۃ بہمی کے کرشمے ہیں پھر قوث شہوی جس کایہ نتیجہ ہر روز تو جوانوں میں ہم دیکھتے ہیں غرض یہ قویٰ مذکورہ پہلے ڈیرا لگا لیتے ہیں اور تعلیم انبیاء اور عقل و فہم کا متین لشکر بعد میں آتا ہے جس کے لئے بڑا خوض و قامل درکار ہے اس لئے بغیر اتمام حجت و دلائل نبوت کے عذاب الٰہی نہیں آتے ۔ (ت ۷۵۰) واھلھا غفلون یعنی بغیر رسولوں کو بھیجے عذاب نہیں آتا رسول آئے بعد عذاب آتا ہے۔ (ت ۷۵۱) لارت اس میں لام حالیہ ہے ۔ (ت ۷۵۲) ھذا لشرکائنا یعنی جن کو ہم نے اللہ کے برابر سمجھ رکھا ہے دلائل مسئلہ تقدیر جس کی تمہید ث رکوژ اوّل سے رکوع ششم تک بیان کئے گئے ہیں غور سے پڑہنے چاہئیں۔ اور متشابہات کو محکمات کے تحت میں کر لیا جائے ۔ (ت ۷۵۳) زین لکثیر من المشرکین یہان تک مذہب کا رد ہے جن کے ہاں قتل اولاد اور آدمیوں کا گوشت کھانا جائز ہے اور کوئی گناہ گناہ نہیں ۔ (ت ۷۵۴) الا من تشاع یعنی کھانے والے خاص خاص ہیں یہ ایجاد خاص ہیجس میں (تقدیر اور شرک کا اظہار ہے ) ۔ (ت ۷۵۵) اخبرتت ظھورھا یعنی ان پر چڑھنا منع ٹھیرالیا ہے ۔ (ت ۷۵۶) افتراء علیہ یعنی خدا نے اپنے نام پر اس کا ذبح منع کر دیا ہے ۔ (ت ۷۵۷) ولا تتبعوا خطوت الشیطن یعنی بد رسمون کی چال نہ چلو ۔ (ت ۷۵۸) لا یھدی القوم الظلمین رسوم و بدعات یہ نہ عقلی و طبی نہ شرعی ہوتے ہیں محض جہالت و افتراء ہوتے ہیں ۔ (ت ۷۵۹) ذلک جزینھم ببغیھم وقتی وبیماری ضرورت کی وجہ سے … وغیرہ حرام کر دی گئی تھیں اصل حرمت نہیں تھی ۔ (ت ۷۶۰) سیقول الذین جبر بہ کے رد میں اس آیت میں بہت سے دلائل بیان کئے ہیں اوٍّ جبر سے تم تک پکڑنے الے حرام اور گناہ پر تمسک پکڑتے ہیں کسی نیکی کو جبر کے ماتحت پیش نہیں کرتے جیسا کہ مشرکین نے شرکاور ناجائز تحریم پر جبر کو پیش کیا (۲) اگر جبر صحیح ہو تو تمام انبیاء کی تکذٓب ہو جاتی ہے کیونکہ وہ ذی استطاعت تکلیفین کی طرف دعو الی الخیر کے لئے مبعوث ہوتے ہیں (۳) اگر جبر صحیح ہوتا تو جن لوگوں نے جبر سے تمسک کرتے ہوئے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور ان پر تباہی اور عذاب آیا اگر یہ حق ہوتا تو رسولوں پر عذاب آتا نہ ان پر ۔ ابھی اس دعوے کے ثبوت کے لئے کسی علم کی ضرورت ہے چاہے وہ کسی کتاب الٰہی سے پیش کیا جائے یا راحت عقل اس کی شہادت دے مگر یہ دونوں باتیں نہیں (۵) جبر پر اس خیال میں گمان اور اٹکل بازی سے کام لیتا ہے (۶) اللہ تعالیٰ نے جو الزام جبر یہ لوگوں کے ذمہ لگایا وہ خوب مضبوط ہو کر کے لگ گیا (۷) تعجب ہے اس پر میں تمسک بہ جبر کرتے ہیں حالانکہ وہ خدا جو قدوس ہے اگر جبر ہی کرتا تو ہدایت پر کرتا ۔ (ت ۷۶۱) ھل عندکم من علم فلتحزجوہ لنا یعنی کسی الٰہی کتاب کی سند پیش کرو۔اور شایع کرو ۔ (ت ۷۶۲) یععلون برابر سمجھتے ہیں جھوٹے معبودوں کو ۔ (ت ۷۶۳) ماحرم ربکم اجازت دی ہوئی چیزوں میں سے ایک تو یہ کہ الا تشرکوا بہ شٓئا ترکت نہ ات میں ہو نہ صفات میں ۔ (ت ۷۶۴) من املاق یعنی تنگ دستی کے خوف سے یہ نہ کہیں کہ کہاں سے کھلائیں گے جو اب وہ کیا نہیں دیتے ہیں ہم خود تم کو اور ان کو بھی روزی ۔ تضیع اولاد چار طرح پر ہے (۱) عورتیں مانعۃ الحمل دوائیں کھاتی ہیں (۲) حمل گروانا (۳) عزل وجماع بلف وجلق وغیرہ (۴) اولاد کی پرورش میں بداحتیاطی اور آوارہ چھوڑ دینا اور بدصحبتوں سے نہ بچانا ۔ (ت ۷۶۵) ولا تقربوا الفواحش جماع تقویٰ و طہارت اور دعا کے ساتھ ہو ورنہ محققین سے ثابت ہے کہ ان باپ کے سال بھر کے خیالات اولاد میں سرایت کرتے ہیں جن مردوں نے عورتون کو یا عورتوں نے مردوں کو تنگ کر رکھا ہے ان کی اولاد اکثر مجنوں تنگ دل بداخلاق رذیلہ صفات والی ہوتی ہے ۔ (ت ۷۶۶) بعلکم تعقلون پہلا درجہ عقلی رنگ ا ہے ۔ (ت ۷۶۷) واوقو الکیل والکمیزان والقسط ناپ تول لین دین برابر رکھو غلطی نہ کرو بعض کا یہ خیال ہے کہ پوری امانداری سے کام نہیں چلتا کچھ کم و بیشی ہو جاتا ہے جواب ارشاد ہوتا ہے ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کے اندازہ سے ۔ (ت ۷۶۸) وبعھد اللہ اوفوا یعنی شریت الہی کی پابندی کرو ۔ (ت ۷۶۹) لعلکم تذکرون دوسرا درجہ طبی و تجربہ کے رنگ کا ہے ۔ (ت ۷۷۰) ولا تتبعوا لسبل لنھدینھم سبلنا سے اختلاف نہیں کیونکہ قد تبین الرشد من العی کا ایمان آگیا ہے ۔ (ت ۷۷۱) ذلکم وصکم بہ سیدہی راہ پر چلنے سے کیا فائدہ ہو گا اور اس کی وصیت کیوں کی جاتی ہے جو اب ارشاد ہوا کہ تم دکھوں سے بچو متقی بنو ۔ (ت ۷۷۲) لعلکم تتقون تیسرا درجہ سرعی و اخلاقی رنگ کا ہے جو جامع ہے سب کا ۔ (ت ۷۷۳) ثم اتینا موسی الکتب ثم کبھی ترتیب اور ترقی کے لئے ہوتا ہیا ور کبھی ثم بمعنی دائوالعطف ہوتا ہے جیسے یہاں ہے یعی پھر … اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ۔ (ت ۷۷۴) علی الذی احسن اس بات کے بدلہ میں کہ وہ محسن بنایا نیک کام کیا ۔ (ت ۷۷۵) انما انزل الکتب الکتب سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ توریت شریف ہے ۔ (ت ۷۷۶) عن درامتھم لغفلین پڑھنے سے جماعت اہل کتاب کے ہم غافل ہیں یعنی ایسا نہ ہو کہ تم کہو بیٹھو کہ کتاب تو نازل کیگئی ان دو مخالفوں پر جو ہم سے پہلے تھے یہود نصاریٰ اور ہم ان کے پڑہنے سے بے خبر ہیں اس لئے کہ دنیا کی کل قومیں دوسروں کی زبانیں سیکھا کرتی تھیں اور اس کی کتاب و مذہب کو اختیار کرتی تھیں۔ چنانچہ مغزلی قومیں عبرانیون کی اور مشرقی ایرانیوں کی ہم عب ہی ایسی قوم ہیں کہ کسی کی زبان ہم نہیں سیکھتے اس لئے ہمارے لئے کتاب آئے۔ چنانہ آئی جو انہیں کی زبان میں ہے۔ اب اس کتاب کا ماننا سب ہی کو لازم ہو گیا دوسری قوموں کوتو اس لئے کہ وہ غیروں سے سیکھنے کے عادی ہو رہے تھے اور عربوں کو ان کی زبان ہونے کے سبب سے اس لئے تمام دنیا پر اتمام حجت ہو چکی اور یہی ختم نبوت کا ایک سر ہے ۔ (ت ۷۷۷) صدت منہ پھیرا ۔ (ت ۷۷۸) لم تکن نہ لایا ہو گا ۔ (ت ۷۷۹) انا منتظرون یہ جنگ بدر کے متعلق پیس گوئی بھی ہے ۔ (ت ۷۸۰) ان الذین فرقوا دینھم راہ ہق و منشاء الٰہی کو ترک کر دینا اس آیت میں قرآن کریم اور نبی کریم کی ضرورت کو ثابت کیا ہے کہ پہلی تمام قوموں نے اپنے دین کے ٹکڑے کئیاور خود بھی کئی قومیں بن گئیں۔ ہر ایک قوم کے پاس بے شک کچھ سچائی بھی ہو لیکن اپنے خیالات بھی بہت ملے ہوئے ہیں اس لئے ان سے نہ تو خالص سچائی ملتی اور نہ حقائق کا مجموعہ ملتا۔ پس حق کا طالب یا تو ہر ایک قوم میں داخل ہو اور اس سے سچائی کو حاصل کرے اور یہ ناممکن ہے یا وہ سب قوموں سے الگ ہو جائے اور سرچشمہ حقیقی سے وہ اس مشکل کو حل کرائے یہی اسن اور ممکن ہے ۔چنانچہ قرآن کیرم نے تمام حقائق کو جمع کیا ۔ خاتم الکتب ہوا اور نبی کیرم نے تمام نمونوں کو جمع کیا آپ خاتم النبیین ہوئے۔ اس لئے اپ کو سب قوموں سے علیحدگی کرنی پڑی اور آپ کی امت بھی علیحدہ ہوئی ۔ (ت ۷۸۱) فی شی کچھ ہی کسی طرح بھی ہرگز نہیں ۔ (ت ۷۸۲) فلہ عشرا مثالھا اس پر سوال ہے کہ ہم نیکی کی اجر کی مثل کو نہیں جانتے تو اسکی دس مثلوں کو کیسے سمجھیں پھر اللہ تعالیٰ نے جو نیکی کا اجر مقرر فرمایا ہے وہ تھوڑا ہو یا بہت یا کم ہو یا زیادہ اپنے ہی علم کے لحاظ سے اس کو مقرر فرمایا الجواب یہ قاعدہ اہل اسلام کے لئے پہلی قوموں کے اجور کے مقابلہ میں قرار دیا گیا ہے کہ ان کو جو ترقی ملتی تھی اسی کام پر اس امت میں بڑھ کر ترقی ملے گی جیسے کہ مسلمانوں کی سلطنت اور علم اور صلاحیت اور کثرت اولیاء یہ نبی …… کے مقابلہ میں بے شک عشرا مثالھا ہے ۔ (ت ۷۸۳) قل اننی ھدانی ربی یہ اس ضرورت کا پورا کرنا ہے جو طالب حق کو پہلی …… کا اختلاف دیھ کر پیش ہوئی کہ سب تفرقہ مٹا کر اصل الاصول راس رئیس کی طرف متوجہ کیا جیسا کہ اس وقت امت کا افتراق ایک مصلح کامحتاج ہوا اس نے فیج اعوج کا زمانہ حذف کر کر اصل دین نبی کیر اور صحابہ کاپیش کیا اور اخرین کو اولین میں داخل کیا ۔ (ت ۷۸۵) دینا قیما دیں طریقہ حقہ اور مضبوط راہ ہے ۔ (ت ۷۸۶) واذا اول المسلمین یعنی میں اوّل نمبرکا پہلا فرمان بردار فدائی ہوں۔
    سورۃ الاعراف
    (ت ۷۸۷) اس سورۃ میں نظائر کے ذریعہ دلائل نبوت دئے ہیں اور اس سورۃ شریف کا نام المص ہے کیونکہ قوم کو ننگے طواف کرنیسے روکنے کی تمہید ہے اور کس خوش اسلوبی سے نصیحت فرمائی گئی ہے اس سے ناصحین کو طرز نصیحت سیکھنا چاہئے ۔ (ت ۷۸۸) الٓمٓص میں اللہ ہوں بڑا جاننے والا صادق۔ افضل ۔ امور ۔ (ت ۷۸۹) انزل بھیجی گئی اتاری گئی ۔ (ت ۷۹۰) حرج اے حرج فی التبلیغ قدیم یا جدید رسم کو اٹھانا اور موقوف کر دیا وہ بھی مکہ کے جیسے مقام میں جہاں رسم کے طور پر سب پابندی ہو رہی ہے خصوصاً بے دست و پائی کے حال میں کیسی بے چینی کا موجب نہ ہو گا ۔ (ت ۷۹۱) لتنذر بہ یعنی پیشگوئیاں کرے۔ دنیا آخرت کے عذاب سے ڈرائے ۔ (ت ۷۹۲) قائلون قیلولہ کرتے تھے ۔ (ت ۷۹۳) دعوٰلھم دعا ان کی ۔ (ت ۷۹۴) فلنسئلن ہم ضرور پوچھیں گے ۔ (ت ۷۹۵) ارسل الیھم دامتوں سے ۔ (ت ۷۹۶) مرسلین پیغمبروں سے کہ تم نے ان لوگوں کو کیا کہا ۔ (ت ۷۹۷) فلنقص ضرور ہم بنا دیں گے اور ظاہر کر دیں گے ۔ (ت ۷۹۸) والوزن یومئذ الحق نیکیاں اور بدیاں اس دن تو لی جائیں گی ۔ (ت ۷۹۹) خلقنکم اندازہ کیا ہم نے ۔ (ت ۸۰۰) اسجدوا لادم سخت اطاعت کرنا۔ تعظیم کرنا۔ آداب بجا لانا۔ سجدہ ۔ سربر خط فرمان نہادن فرمانبرداری کرنا ۔ (ت ۸۰۱) قال انا خیرمنہ آگ خاک کیمقابلہ میں مغالطہ (بہتری کیا ہے) میں لڑائیاں کرنے والا جنگ جو یہ طینی خاکسار آدمی ہے میں ناری آدمی ہوں ہمیشح جنگ جو قومیں متین ۔ حلیم آدمی کی دشمن ہوتی ہیں اور اس کو حقیر و برا سمجھتی ہیں۔ خدا نے نصیحت کے طور پر شرعی حکم فرمایا کہ اس حالت سے اترجا ۔ (ت ۸۰۲) طین سیاہ کیچر سے ۔ (ت ۸۰۳) فاقبط منھا ـ منھا کی ضمیر حالت ناری کی طرف پھرتی ہے یہ نصیحت شرعی ہے ارشاد تکوین نہیں ہے۔ ابلیس کا مکالمہ جناب الٰہی سے نہیں ہوا۔ کیونکہ مکالمہ کے لئے کلم اللہ تکلیما ہونا چاہئے ۔ قال سے صرف اظہار مطلب بجائے خود ہے ا کسی نامور کے ذریعہ س ۔ (ت ۸۰۴) انظرنی مجھے مہلت د ے شریر نے مہلت بھی لی تو فساد کے لئے ۔ (ت ۸۰۵) الی یوم مبعثون یعنیدنیا میں انسان مبعوث ہوں اور ہم بھی دیکیھں کہ طبنی نرم مزاج کہاں تک کامیاب ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ ایک آدم ہیں اور ابوجہل بالمقابل ایک ابلیس ہے ہاں خلیق لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں جنگجو نہیں ۔ (ت ۸۰۶) فیما اغویتنی اغویتنی کی نسبت اللہ پاک کی طرف لگائی شیطانی قول و فعل ہے باوجود یکہ خود کہہ رہا ہے صراط المستقیم کیونکہ وہ جھوٹا ہے ۔ (ت ۸۰۷) بین ایدیھم قرآن اور نبی اور مامورین و عذاب و پیشگوئیاں وراہ راست سب بھلا دوں گا ۔ (ت ۸۰۸) ومن خلفھم دنی اواحباب وبال بچے وغیرہ پسند کرا دوں گا ۔ (ت ۸۰۹) وعن ایمانھم نیکی والوں کو اور معجب متکبر بنا دوں گا ۔ (ت ۸۱۰) شمائلھم بداعمال و اقوال پسند کرا دوں گا ۔ اوپر کا نام نہیں لیا کیونکہ وہان اس کا غلبہ نہیں دعا کا مقام خالی رہا۔ حصرت امام محی الدین ابن عربی بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اوپر کا نامنہیں لیا تا کہ توبہ و استغفار کا دروازہ کھلا رہے ۔ (ت ۸۱۱) مدحورا رحمت سے دور تنف دل آس توڑا ہوا ۔ (ت ۸۱۲) اسکن انت وزوجک الجنۃ تبریز اس جنت کا باب ہے ۔ ابن ماجہ ۔ دوسری جگہ قزدین لکھا ہے پھر یہ کہا ہے کہ جہاں سے جیون و سیحون بہتی ہے وہاں جنت ہے ۔ (ت ۸۱۳) ھذا الشجر یہ انگور اور شراب کا درخت تھا یا جھگڑیسے منع کیا تھا یا کسی خاندان و نسب سے ۔ (ت ۸۱۴) ماوری عنھا امن سواتھما کمزوری بشریت و حیا بشری تقاضے ۔ (ت ۸۱۵) تکونا ملکین یعنی کھائو گے تو فرشتے ہو جائو گے اور نہ کھائو گے تو تمہارا بڑا نقصان ہوگا ۔ (ت ۸۱۶) بدت لھما سواتھما سخت حیا طاری ہو گئی بہت ہی شرمائے۔ ہر ایک امتحان اور سخت مصیبت کے کاموں میں آدمی اپنے آٌ کو کمال سرم سے ننگا پانے لگتا ہے اور تمام اعضا اس کے ڈھیلے ہو جاتے ہیں ۔ (ت ۸۱۷) من ورق الجنۃ ـ جنۃ باغ ۔ مقام رضاء آرام گاہ تسلی کی جگہ ۔ (ت ۸۱۹) ومنھا تخرجون یعنی آدمی ہو کرزمین کے سوا کہیں نہیں رہ سکتا ۔ (ت ۸۲۰) ریشا زیب و زینت ۔ (ت ۸۲۱) لباس التقویٰ التعظیم الامر اللہ والشفقۃ علی خلق اللہ ۔ (ت ۸۲۲) لایومنون بے ایمان (ت ۸۲۳) واقیموا وجوھکم عند کل مسجد یعنی نماز میں کعبہ کی طرف منہ کر لیا کرو ۔ (ت ۸۲۴) خذو اینتکم بنو عامر عرب میں ایک قوم تھی جو زن و مرد بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کرتی تھی ان کا اس قابل شرم بات سے روکنا مقصود ہے ۔ (ت ۸۲۵) ولا تسرفوا یہاں زیادتی سے مراد اوامر میں اپنی طرف سے افراط کرتا ہے اور ھبانیت کا رو سے ۔ (ت ۸۲۶) امابایتنکم اتاجب کبھی ۔ (ت ۸۲۷) نصیب حصہ ۔ عذاب ۔ سزا ۔ (ت ۸۲۸) من الکتب یعنی عذاب موعود جس کا کتاب میں ذکر ہو ۔ (ت ۸۲۹) این ما کہاں ہیں وہ جن کو ۔ (ت ۸۳۰) لکل ضعف ہر ایک کے لئے بڑھ بڑھ کر اگلوں نے گمراہ کیا پچھلوں نے اول والوں کا حال سنکر عبرت نہیں کر دی اگلوں کو اس لئے کہ وہ بد تھے اور بدی سکھا گئے پچھلوں کو اس لئے کہ بدوں کی راہ نہ چھوڑے اور خود بدی کرتے رہے اور نمونہ بنے ۔ (ت ۸۳۱) لا تفتح لھم ابواب السماء یعنی وہ مرفوع الی اللہ اور مقبول جناب الٰہی نہ ہوں گے ۔ (ت ۸۳۲) الجمل کے معنی موٹے رسے کے بھی آئے ہیں ۔ (ت ۸۳۳) غواش سرپوش ۔ (ت ۸۳۴) غل کھوٹ ۔ جوش ۔ بدی ۔ حسار ۔ کینہ ۔ (ت ۸۳۵) قالو الحمد للہ یہ کامیابی کے وقت کہیں گے ۔ (ت ۸۳۶) نودوا بہشتیوںکو پکارا جائے گا (۱) یہاں ایک سوال ہے کہ نجات فضل سے ہے یا عمل سے یا صرف ایمان سے الجواب پہلے ایمان ہوپھر عمل پھر فضل اس کے مجموعہ پر نجات موقوف ہے چنانچہ قرآن شریف میں قد افلح المومنون تایرثون الفردوس اور الحمد للہ الذی احلنا دارالمقامۃ من فضلہ آیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عمل سے مومن جنت میں داخل ہوں گے ۔ وہ کہیں گے فضل سے اللہ عالیٰ ان کے اعمال کی قدر کرے گا اور مومنین کی حقیقت پر نظر ہو گی کہ جو کچھ ہوا اس کی طاقت اور توفیق سے ہوا۔ یا یوں کہو کہ اعمال فضل کے حازب میں یا فضل سے عمل کی توفیق ملی ۔ (ت ۸۳۷) وعلی ا عراف عرف فرغ کی کلغی۔ اب بام منڈیر ۔ بلندی چھت۔ نظارہ بلند سیر گاہ عام جہاں سے سبکچھ دکھتا ہو۔ معتزلہ کہتے ہیں المنزلۃ بین المنزلتین جتنی اس کے قائل نہیں صوفیوں نے سے خوب قتل کیا ہے اعراف میں اعلیٰ درجہ کیلوگ ہوں گے صوفیوں ا مذہب ہے ۔ اعراف ۔ جمع ہے عرف کی جس کے معنی ہیں بلند مقام تماشگاہوں میں امرا بلند مقام پر بیٹھ کر تماشہ دیکھتے ہیں ۔ عرفان اور عارف اسی سے نکلے ہیں اعراف والے وہ اعلیٰ درجہ کے عارف ہیں و بہشتیوں اور دوزخیوں دونوں کا نظارہ دیکھیں گے جیسا کہ بیان ہے کہ رجال یعرفون کلا بعد ابراھیم ۔ (ت ۸۳۸) لم یدخلوھا وہ اعراف والے ابھی داخل نہیں ہوئے ۔ (ت ۸۳۹) یاتی تاویلہ وقوع ۔ ظہور ہو گا اس اک اصلی حقیقت معلوم ہو گی ۔ (ت ۸۴۰) ما کانوا یفترون ایسون ا شفعا ٹھہراتے تھے جو من عنداللہ ۔ (ت ۸۴۱) سنۃ ایام چھ وقت اوقات ارض کے ساتھ ایام آیا ہے یعنی پہہ فقوں میں زمین بنتی ہے فصلیں پکتی ہیں وغیرہ ۔ (ت ۸۴۲) ثم استوی علی العرش بے عیب محنت پر برابر حکومت کر رہا ہے ۔ (ت ۸۴۳) یطلیہ ڈھونڈ لیتا ہے پیچھے لگا آتا ہے حثیثا جلدی سے ۔ (ت ۸۴۴) الا الہ الخلق والامر خلق اور امر۔ جو اشیاء مادوں سے بنتی ہیں ان کی پیدائش کو خلق کہتے ہیں اور جو بلا مادہ محض حکم الٰہی سے پیدا ہوتی ہیں ان کو روحانی کہتے ہیں اور دونوں میں کوئی شریک نہیں پہلا ندریجی ہوتا ہے اور دوسرا بلاوقف کامل ہوتا ہے جیسا کہ لا الہ الخلق والا مرارشاد ہوتا ہے۔ (ت ۸۴۵) اادعوا زمانہ بڑٓ جہالت کا ہے کوئی خدا کا منکر ہے اورکوئی اس کے تصرف کے قائل نہیں بعض دعا کے قائل نہیں بعض دعا کے قائل مگر اسباب پرستی میں مشغول پس صادق کو چاہئے کہ کامل امید کامل یقین کامل مجاہدہ سے دعا میں لگا رہے تا کہ گھا ٹوپ اندھیرے دور وں اور لفط رب کا بہت استعمال کرے لیٹے بیٹھے ہوئے ہر حال میں دعائیں کرتے رہے ۔ (ت ۸۴۶) تضرعا دعائیں مانگو عذاب سے ڈرتے رہو نہ دلیر بنو نہ ناامید ہو ۔ (ت ۸۴۷) لایحب المعتدین چلا چلا کر دعائیں نہ کرو ۔ قرآن و حدیث کے خلاف نہ کرو۔ طالب محال نہ ہو رشتہ داروں کے خلاف نہ ہو (ت ۸۴۸) یرسل الرائج یہ طروت الہام پر ایک دلیل ہے کہ سماوی پانی کے بغیر جسمانی حالت میں خرابی آجاتی ہے اور روحانیت میں کیوں الہام کے بغیر خرابی نہ آئے اور جیسا اسماوی بارش سے زمین کے مختلف حالات ہوتے ہیں کہیں مفید پودہ کہیں مفر کہیں کچھ بھی نہیں ویسا ہی نزول وحی کے بعد ہوتا ہے۔ اکثر طبائع میں انقلاب آجاتا ہے شریف شرافت میں اور شریر شرارت میں بڑھ جاتے ہیں ۔ (ت ۸۴۹) اقلت اٹھاتی ہیں والبلد الطیب یعنی عمدہ زمین والی تکدام خراب کوڑا کرکٹ اور وقت سے پہلے دینے والی ۔ (ت ۸۵۰) انا لنرک فی ضلل مبین کا جواب کس نرمی سے دیاہے لیس بی ضلالۃ اخلاق نبوت حسن عمل کے لئے نمونہ ہیں جوش نفس مطلق نہیں ۔ (ت ۸۵۱) اوعجبتم کیا تم نے تعجب کیا ۔ (ت ۸۵۲) الذین کذبوا میں تخصیص ہے یعنی ان ہی کو ڈبایا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے ۔ (ت ۸۵۳) عاد نوح علیہ السلام کی چوتھی پشت کا بیٹا ہے (ت ۸۵۴) اعبدو اللہ انبیاء مرضی حق کی تعلیم لاتے ہیں اور لوگ جو اپنی من مانی پوجا اور عبادت کرتے ہیں وہ روک دیتے ہیں اور ایمان کی تعلیم کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ ہر حرکت دادا خیال و ارادہ انسان کا الٰہی مرضی کے تابع ہو اور وہ حیوان سے انسان اور انسان سے باخدا انسان بنے ۔ (ت ۸۵۵) الملاء اشراف اور وہ معزز لوگ جن کا قول پبلک کے دل پر گہرا اثر کرے ۔ علمائی فقرا اور مشائخ حکماء یہ سب اپنے اغراض کے سبب سے امرا کے ماتحت ہوتے ہیں ۔ نعوذ باللہ ۔ امرا کا گروہ اپنی شیخی اور تکبر کے سبب سے انبیاء کا مخالف ہوتا ہے ۔ (ت ۸۵۶) فی الخلق بصطہ قوا ن قوی ہیکل قدآور ۔ (ت ۸۵۷) فی اسماء سمیتموھا اسم ایک لفظ ہوتا ہے جس سے مقصود مسمیٰ ہوتا ہے ۔ وہ معبود جن کو مشرکین نے بناء کہا ہے جب ان کا کون و فساد میں کوئی تعلق و اثر نہیں تو پھر ان کے جتنے نام ہیں ہو صرف الفاظ ہی الفاظ ہیں جن کے ماتت کوئی حقیقت نہیں ۔ (ت ۸۵۸) دابر جڑیں اور دابر کے معنی قوم کے مدبرین بھی ہیں ۔ (ت ۸۵۹) ناقۃ اللہ اپنی اونٹنی کو کہا ہے ہر مقرب نبی و ولی بھی ناقۃ اللہ ہے ۔ (ت ۸۶۰) بواکم تکلیف کے بعد جگہ دی تم کو ۔ (ت ۸۶۱) سھولھا نرم زمین گرمیوں کے لئے ۔ (ت ۸۶۲) وتختون اور کریدتے ہو تم جاڑیوں کے لئے ۔ آج کل بھی امرا پہاڑوں پر جا کر رہتے ہیں گھر بناتے ہیں ۔ (ت ۸۶۳) عتوا سرکشی کی اڑ گیا ۔ (ت ۸۶۴) الرجفۃ زلزلہ ۔ (ت ۸۶۵) جثمین اوندہے منہ گرے ہوئے مرعی زمین کہود کر سینہ رکھتی ہے اسے جثم کہتے ہیں ۔ (ت ۸۶۶) یتطھرون بڑے متقی صاف شہرے پاک دامن ہیں۔ یہ طنراً کہا ہے ۔ (ت ۸۶۷) ولا تجنسو الناس اشیاء ھم نہ گھٹائو نہ ہلکی کرو دکھوٹی کرو لوگوں کی چیزیں ۔ (ت ۸۶۸) تبغونھا عوجا دین میں کوئی نہ کوئی شبہ و اعتراض ڈھونڈھتے رہتے ہیں …… رہ کر دین کی راستی چاہتے ہیں
    الجزء 9
    (ت ۸۶۹) قد افترینا البتہ ایسی حالت میں تو ہم نے بہتان بلندہا اللہ پر۔ یعنی جبراً اگر تم بے اعتقادی ایمان لائیں تو افترا علی اللہ ہے اور صریح بہتان ہے اللہپر یعنی گویا جھوٹی بات مان لیں گے ۔ (ت ۸۷۰) الا ان یشاء اللہ انبیاء کا طرز دیکھو ہر چیز و محل پر انشاء اللہ کہتے ہیں ۔ حضرت جناب مسیح موعود کو ایک مولوی نے لکھا کہ منکر ہو جائو ں گا تو پھر کبھی نہیں مانوں گا ۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ شعیب کے الفاظ پر بھی غَر نہیں کیا وہ اس موقعہ پر بھی انشاء اللہ کہتے ہیں ۔ (ت ۸۷۱) قال الملاء اپنے لوگوں کو انہوں نے کہا کہ اگر شعیب کی چال چلو گے تو تم برباد ہو جائو گے ۔ (ت ۸۸۲) لم یغنوا فیھا فناطول مقام ………… آتا ہے جیسے غنی القوم اس کا…………… (ت ۸۷۳) …… غم و فکر و پچھتانا ۔ (ت ۸۷۴) اخذنا اھلھا بالباساع والضراء (۱) یعنی ماموروں کے ساتھ بیماری قحط وغیرہ امور آتے ہیں (۲) باساء ضراو ۔ رنج تنگ دستی بیماری قحط وغیرہ ۔ جھگڑے (۳) بیمارئیں اور قحط وغیرہ کیوں آتے ہیں علی الخصوص ماموروں کے ساتھ (۱) اس لئے کہ دنیا کی بے ثباتی کو مدنظر رکھیں (۲) مامور من اللہ مدہی ہو کر بھی بچ جائے (۳) لوگوں کو بخوبی معلوم ہو جائے کہ انسانی تدبیریں مصائب میں کام نہیں ہیں تو عبرت پکڑیں اور رجوع الی اللہ کریں۔ چنانچہ ہمایر زمانہ میں مسیح آخرالزمان کی شناخت کے لئے سخت قحط اور طاعون اور زلزلے اور قتل جنگ ملک ہندوستان میں پھیلا اور ان گنت موتیں ہوئیں اور ہو رہی ہیں ۔ (ت ۸۷۵) مکان بمعنی جائے ۔ (ت ۸۷۶) السیئۃ الحسنۃ ہر ایک دکھ اور بری بات سیئۃ کہلاتی ہے اور ہر ایک اچھی بات اور مرغوب عقل حسنہ ۔ (ت ۸۷۶) عفوا آزاد ہو گئے ۔ گناہ اور بدی اگر راست آجائے تو بہت برا ہے ۔ آسودگی کے ساتھ تکبر ۔ ظلم ۔ تحقیر وغیرہ گناہ آجاتے ہیں ۔ (ت ۸۷۷) واتقوا یعنی مجرموں کو ہلاک ہوتے دیکھ کر گناہ سے بچتے ۔ (ت ۸۷۸) ابرکت من السماء یعنی انہیں الہام ہوتے اور وہ ملک میں نہ دیتے ۔ (ت ۸۷۹) اوامن کہتے ہیں خدا غفور الرحیم ہے ۔ اور نہیں سمجھتے کہ وہ شدید العقاب بھی ہے ۔ (ت ۸۸۰) ضحی مکہ معظمہ دوپہر دن چڑھے فتح ہوا تھا احزاب والے غزوہ ندق میں رات کو بھاگے تھے اس کی طرف اشارہ ہے ۔ (ت ۸۸۱) مکہ اللہ زاریوں اور پادریوں کا مکر جو اردو سے لیا گیا ہے تدبیر و کار سازی الہی ۔ (ت ۸۸۲) فما کانوا لیومنوا ایمان نہیں لائے ۔ (ت ۸۸۳) بما کذبوا منق بل تکذیب محرومی کے اسبابوں میں سے ہے ۔ علی الخصوص جو پہلی بار انکار کر بیٹھے ۔ (ت ۸۸۴) فظلموابھا ان کی تکذٓب کی اور ان میں سبہات اور احتمالات پیدا کئے اور ۔ (ت ۸۸۵) یا فرعون فرعون فردہسے مشتق ہے جس ک معنی شہنشاہ اعظم کے ہیں معرب ہو کر فرعون ہو گیا ہے ۔ جس کے سے تکبر کے ہیں موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے فرعون کا نام امنوا فیس تھا جو چودہ سو بانوے برس پہلے مسیح علیہ السلام سے مجرا حمر قلزم میں معہا پنی فوج کے غرق ہوا اور حسب پیشگوئی قرآن مجید پارہ (۱۱) رکوع (۱۴) اس کا جسم عجائب خانہ مین مصر کے رکھا ہے ۔ (ت ۸۸۶) حقیق سزا وار ہوں میں ایسا ہی ہون ۔ (ت ۸۸۷) ذنرغ یدہ یدبیضا کے معجزہ میں یہ ارشاد تھا کہ موسیٰ کے پاس حجج نیرہ ہیں اور اس کے ہاتھ سے کفر کی ظلمت دور ہونے والی ہے جن الفاظوں میں قرآن مجید کا بیان آتا ہے اس پر ہمیں ایمان ہی نہیں لکہ بتائید الٰہی عرفان حاصل ہے مگر خصیم کے لئے کلوخ انداز پاداش سنگ است ۔ علمی مذاق جو اس کو پسند ہوتا ہے بیان کیا جاتا ہے علی ہذا جن آیتوں میں تطبیق بہ ظاہر نہ معلوم ہو وہاں تاویل موافقہ یا عام و خواص حسب موقع بیان ہونا چاہئے تا کہ لوکان من عند غیرہ اللہ لوجد وافیہ اختلاکثیرا کا قاعدہ درحقیقت جیسا کہ ہے ثابت رہے اور ہماری کم علمی اور بے بضاعتی سے خلاف ثابت نہ ہو ۔ (ت ۸۸۸) لسحر علیم دلربا باتیں کرنے والا قوم سے قطع تعلق کرنے والا باتیں بتانے والا ۔ (ت ۸۸۹) یریدن ان یخرجکم من ارضکم یہ لوگ ہمیشہ انبیاء پر ایسا اتہام لگاتے ہیں جس سے عام ملک کو بھڑکا دیں خصوصاً پولیٹکل مجرم بنانا چاہتے ہیں یہی حال مسیح سے ہوا یہی مسیح موعود سے ۔ (ت ۸۹۰) فی المدائن شہروں میں جمع مدینہ ہے ۔ (ت ۸۹۱) ان لنا لاجرا یہ کفر کی حالت میں ہے امان ے بعد کیسی جرات ہوئی سبحان اللہ ۔ (ت ۸۹۲) اما ان تلقی کیا تو ڈالے گا یہ ادب تھا جس سے وہ کامیاب اور عارف بن گئے
    ادب تاجیست از لطف الٰہی
    بنہ برسر برد ہرچاکہ خواہی
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں الطریقۃ کلھا ادب ۔ (ت ۸۹۳) قال القو پہلا وار دشمن کا ہوا۔ تحریر میں بھی پہلا پرچہ دشمن کا ہو ۔ کیونکہ شرع میں جنگ دفاعی ہے نہ ابتدائی ۔ (ت ۸۹۴) وجاء والسحر عظیم حضرت امام ابوحنیفہ علیہ الصلوث والسلام نے فرمایا کہ سحر کے معنی بے حقیقت چیز کے ہیں اور اس کی سند اور دلیل افکون میں ہے ۔ (ت ۸۹۵) تلقف نکلنے لگا ۔ (ت ۸۹۶) صغیر ذلیل و نامراد وانقی۔ جذب الٰہی سے ڈر گئے ۔ (ت ۸۹۷) لتحرجوا منھا اھلھا موسیٰ علیہ السلام کی جماعت پر وہی الزام لگایا جو موسیٰ پر لگایا ۔ (ت ۸۹۸) فسوف تعلمون تم کو معلوم ہو جائے گا کہ میں تم کو کیا سزا دوں گا ۔ (ت ۸۹۹) لا صلبنکم تصلیب کے معنی ہڈی توڑنا اور یہاں تک صلیب پر لٹکائے رکھنا کہ …… کی چکنائی ٹپک ٹپک کر گرے ۔ (ت ۹۰۰) منقلبون ہم نے تو ہمارے کی طرف پھرنے والے ہیں تیری دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں (ت ۹۰۱) وما قیقم منا بدلہ نہیں لیتا تو ہم سے ۔ (ت ۹۰۲) ویذرک والھتک معبود کو چھڑنا مشرکوں کی پکی بیوقوگی اور شفاھت ہے بدترین شرک نفس پرست پھر فلاسفروں کی ہاں میں ہاں ملانے والے ہیں ۔ دوسرا الزام جو انبیاء اور ان کی جماعت پر لگایا جاتا ہے وہ مذہب کے بگاڑنے کا کیونکہ ملک میں دو قسم کے لوگ رہتے ہیں ایک مذہبی اور ایک پولیٹیکل الزام لگاتے ہی سارا ملک ان کے برخلاف بھڑک اٹھتا ہے خصوصاً بڑے ڑے آدمیوں کو جو کہ مذہبی طور پر بھی کوئی حیثیت رکھتے ہیں ان کو زیادہ تر مذہبی الزام سے بھڑکاتی ہیں ۔ (ت ۹۰۳) والعاقبۃ للمتقین کامیابی کی پیشگوئی ہے یعنی یہی لوگ غالب اور وارث ہوں گے ۔ (ت ۹۰۴) عسیٰ امید ہے قریب ہے معلوم ہوتا ہے ۔ (ت ۹۰۵) فینظر کیف تعملون کیسا عمل کرو گے یہ مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو ضمناً بشارت دی جا رہی ہے کہ تم اچھے کام کرو گے اور کامیاب ہو جائو گے ۔ اور کیف تعملون میں بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ تم س کی رعایا ہو اور اس کے مظالم کے شاکی ہو اب ہم تم کو برسر حکومت کریں گے اور دیکھیں گے کہ تم اپنی رعایا کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ۔ (ت ۹۰۶) بالسنین نقص کمی پیداوار وقحط سالی و جنگ و فساد ۔ (ت ۹۰۷) الحسنۃ ارزاتی اور قاصہ اور عام خوبیاں ۔ (ت ۹۰۸) سیئۃ قحط و بلا ہائے دیگر ۔ (ت ۹۰۹) یپطیروا بدشگون وقال بدطئرھم عنداللہ جب نبی کے آںیسے دنیا میں قحط اور بیماریاں آتی ہیں منکرین انے آپ کو بے عیب اور مستحق عذاب نہیں سمجھتے اور ہر ایک تکلیف کا باعث انبیاء اور ان کی جماعت کو سمجھتے ہیں تو وہ عذاب اور بدبلائوں میں پھنس جاتے ہیں ۔ (ت ۹۱۰) الطوفان طغیانی۔ وبا۔ طاعون۔ فساد خون۔ جنگ ۔ عظیم۔ آتش زدگی بارش وغیرہ ۔ (ت ۹۱۱) والدم یا لجراحم کا طوفان جس سے سرخ پانی تمام ملک میں پھیل گیا ۔ جو سرخ کیڑوں کی وجہ سے سرخ ہوتا ہے یا پانیوں میں وہ کیڑے پیدا ہو جائیں گے ج سے بحراحمر سرخ ہے جن سے مصر والے سخت متنضر تھے مرص نکسیر ۔ (ت ۹۱۲) الرجز عذاب و طوفان ۔ (ت ۹۱۳) بما عھد عندک عہد شفاعت عہد رسالت۔ عہد استجابت دعا۔ مامور مستجا الدعوات ہوتا ہے ۔ (ت ۹۱۴) کشفنا یعنی ہفتے تک عذاب رہا اور مہینے تک آرام ۔ (ت ۹۱۵) الیم بجز قلزم ۔ (ت ۹۱۶) مشارق الارض یعنی ملک شام جس میں شہر کنعان بھی ہے اور جس کا نام ارض مقدس اورفلسطین اور یہودیہ ہے ۔ (ت ۹۱۷) ومغاریھا اختلاف مطالع کی وجہ سے جمع کے لفظ اختیار فرمائے ہیں کیونکہ دنیا میں کسی شہر میں رات اور اسی گھنٹوں میں کسی شہر میں دن اور اختلاف ارض و بلد کی حیثیت سے بھی اختلاف رہتے ہیں ۔ (ت ۹۱۸) کلمت وعدہ پیشگوئی الحسنی بخوبی پوری ہوئی ۔ (ت ۹۱۹) وما کالوا یعرثون سنڈوے جہاڑ ……… بلند چھتیں بناتے تھے ۔ (ت ۹۲۰) وجاوزنا یعنی جب مصرسے بنی اسرائیل نکلے تو انہوں نے موسیٰ سے فرمائش کی کہ اجعل لنا الھا کما لھم الھہ ہمارے لئے بھی ان کے جیسے ٹھاکر بنا دے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے …… بت پرستی کی دلیل پیش فرمائی کہ قال غیر اللہ الغیکم الھا وھو فضلکم علی العلمین یعنی یا اللہ کے سوا کوئی اور ٹھاکر تجویز کردوں اس نے تم کو سب سے اچھا بنایا تم مخدوم بن کر خادم کے خادم کیوں بنتے ہو ۔ (ت ۹۲۱) اصنام لھم گاو مکہی بت تھے ۔ (ت ۹۲۲) وھو فصلکم بت تو تمہارے خادم ہیں۔ تم ان کے خادم کیوں بنتے ہو ۔ (ت ۹۲۳) تلثین لیلۃ اس سے ظاہر ہے کہ الٰہی کاموں میں مدۃ معینہ سے بڑہایا بھی جاتا ہے جیسے پہلے تیس مقررکین چھپے انہیں ۔ دس بڑھا دیں ۔ (ت ۹۲۴) اربعین لیلۃ ایک چلہ رسول اللہ ﷺ نے بھی بتلایاہے اس کو خلوہ کہتے ہیں۔ عشا کے بعد سونے تک باتیں نہ کریں ذکر اللہ میں رہیں ۔ (ت ۹۲۴) ھرون اخلفی ہارون باوجود دینی ہونے کے وہ موسیٰ کے احکام کا تابع ہے اور ان کا خیفہ ہے اگرچہ نبوت اس کی مستقلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے براہ راست ہے اور یہ کہ کوئی نئی شریعت نہیں لایا یہ موسوی شریعت کا تابع ہے تو نبی متبع بھی ہوتا ہے اگرچہ مستقل ہو ۔ (ت ۹۲۵) رب ادنی چونکہ لا تدرکہ الابصار کا ارشاد ہے اس لئے حضرت موسیٰ نے لفظ ارنی کے ساتھ درخواست کی یعنی تو مجھے اپنا جلوہ دکھا تو میں دیکھ سکتا ہوں جعلہ دکا صوفیاء کہتے ہیں کہ تجلی الٰہی ہوئی نہی تو دکا دکا کیوں ہوا۔ مہندی میں دہکم دہکا اسی کا بگڑا ہوا ہے یعنی پتھر سے پتھر ٹکرا گیا علماء کہتے ہیں موسیٰ برداشت نہ کر سکے اس لئے لن ترانی محبت سے کہا گیا اور استقرار مکانی پر مشروط کیا گیا جو عالم ہجودی اور مقام فنا کا متقاضی ہے لن ترالی ابھی نہیں دیکھ سکتا ۔ صوفی کہتے ہیں خود خواہش نہ کرو خدا کی خواہش کی پیروی کرو ۔ یہ ظاہر موسیٰ علیہ السلام کی دو درخواستیں منظور ہوئیں ایک وہ کہ استطعما اھلھا قابو ………………… وجہ یہ ہوئی کہ صفت رحمانیت اور ربوبیت سے جو فیض ہو رہا ہے اس سلسلہ میں اور کچھ مانگنا بعض وقت ناپسند ہوتا ہے چنانچہ اس کے آگے دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ فخذما اتیتک وکن من الشکرین ایسا ہی حضرت ابراہیم کو اور نوح کو ان مواقع پر اسی طرح کا جواب ملا تھا۔ لن ترانی کے ارشاد سے دیدار کا انکار نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے معراج شریف میں اللہ جل جلالہ کو دیکھا۔ امت کو کہا تم قیامت میں اپنے رب کو چودھویں رات کے چاند کی طرح دیکھو گے اور بہت سے اولیاء اللہ نے شرف دیدار حاصل کیا۔ ابن کثیر کا قول ہے کہ دیدار کا مسئلہ صحابہ میں متفق علیہ تھا۔ اور تابعین اور المہ مجھدین میں بھی اسی پر اتفاق ہی رہا اور کتب سابقہ سے بھی دیدار کا حق ہونا ثابت ہے ۔ (ت ۹۲۶) وخر موسیٰ صعقا غشی ہوئی تا کہ دنیوی اسباب منقطع ہو جاویں اور یہاں کے حواس گم اور فنائیت کی حالت میں دیدار نصیب ہو۔ جیسا کہ دیدار کا قاعدہ ہے وانا اول المومنین یعنی دیدار کی طلب تیرے انکار سے نہ تھی بلکہ اشتیاق کے زیادتی کی وجہ سے تھی ۔ (ت ۹۲۷) فی الالواح احکام عشرہ الواح موسوی یہ ہیں (۱) ماں باپ کی عزت کرنا (۲) خون نہ کرنا (۳) زنا نہ کرنا (۴) چوری نہ کرنا (۵) ہمسایہ پر تہمت نہ لگانا (۶) ہمسایہ کی عورت کو نہ چاہنا (۷) ہمسیاہ کے گھر کا لالچ نہ کرنا (۸) ہمسایہ کی زمین اورلونڈی اور غلام اور بال بچے اور مال گائے بیل کا لالچ نہ کرنا (۹) سب کی حفاظت کرا (۱۰) زمین و آسمان میں تیرے لئے ایک ہی خدا ہے اس کے سوائے کوئے نہیں تیری عمر و دولت میں ترقی ہو گی ۔ (ت ۹۲۸) دار الفسقین یعنی تم ان کے مالک ہو جائو گے اور وہ تباہ ہو جائیں گے یہ پیشگوئی ہے ۔ (ت ۹۲۹) الذٓن یتکبرون تکبر کے سبب سے آدمی نشانوں سے محروم ہو جاتا ہے تکبر کے معنی حق کو نہ ماننا جس سے ہق اللہ ضائع ہوت اہے اور راست بازوں کو حقارت سے دیکھنا جس سے حق العباد ضائع ہوتا ہے (ت ۹۳۰) وان برواکل آیۃ جو لوگ کہتے ہیں کہ کوئی معجزہ ہو تو ہم مانیں انہیں جاننا چاہئے کہ ایک گروہ ایسا ہوتا ہے کہ کل نشان دیکھ کر ہی نہیں مانتا تو معجزہ کی اڑہ بے جا ہے ماننے والا حق دیکھ کر مان لیتا ہے اور نہیں ماننے والا انذرتھم ام لم تنذرھم من داخل رہتا ہے کبھی نہیں مانتا ۔ (ت ۹۳۱) قوم موسیٰ من بعد من حلیہم موجودہ تورات میں غلطی سے بھڑے کا بنانا حصرت ہارون کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے جو محض علط ہے اور ہارون علیہ السلام کی دشمنی پر دال ہے ۔ (ت ۹۳۲) انہ لا یکلھم برھمو۔ نیجر۔ فلسفی۔ عام علماء ۔ ظاہر وغیرہ غور کریں کہ لایکلمھم سے معبودان غیر کی تردید کی گئی ہے یعنی وہ خدا کیسا معبود ہو سکتا ہے جو بذریعہ وحی والہام وارسال رسل کلام نہیں کرتا ولا یھدیھم سہلا القائے شیطانی و گمراہوں اور شعبدہ بازوں کی باتوں کا رد ہے۔ اور فیما بین کا امتیاز بتایا ہے ۔ (ت ۹۳۳) سقط فی ایدیھم محاورہ ہے ندامت ہوئی شرمندہ ہوئے سرجھکا لئے۔ یا سقط ۔ جب ظاہر کی گئی ان کے سامنے برائی ۔ (ت ۹۳۴) مع القوم الظلمین یہ موجودہ تورات کی غلطی کا رد ہے ۔ اس میں لکھا ہے کہ ہارون نے سونے کا بچھڑا بنایا تھا ۔ (ت ۹۳۵) قال رب اغفرلی انبیاء ہمیشہ دعا کیا کرتے ہیں اس لئے کامیاب رہتے ہیں اور تمام انبیاء اور اولیاء کا ہتھیار صرف دعا ہی ہے کیا خوب کہا ہے خواجہ حافظ نے
    حافظ وظیفہ تو دعا گفتن سنت وبس
    اس زمانہ ے لوگوں کی طرح غافل نہیں کثرت سے دعائیں کرنی چاہئے ۔ (ت ۹۳۶) وکذلک نجزی المفترین مفتری کی سزا ذلت بہ معنی تھوڑے ہو جائیں گے مقطوع انسل ہوں گے ۔ چنانچہ قحط اور ویا اور جنت سے تمام بنی اسرائیل ہلاک ہوئے اور چالیس برس تک جنگل جنگل … پھرتے رہے یہاں تک کہ ان کی نئی نسل کنعان تک پہنچی اور جن کی عمر بیس سے زاید تھی وہ سب ہلاک ہوئے ۔ (ت ۹۳۷) اخذتھم الرجفۃ یہاں رجعہ اور زلزلے سے وہی صاعقہ مراد ہے جس کا ذکر ب ۱ آیت (۵۵) میں ہے یعنی آتش فشاں پہاڑ تھا حکم الٰہی سے زلزلہ آیا جو حصول توجہ الی اللہ اور رقت قلبی کے لئے تھا جس سے موسیٰ کے ہم راہی افسر ڈر سے اور بے ادبی کے کلمات منہ سے نکالے کہ ہم بلکہ ہماری اولاد خدا کی آواز کبھی سننا نہیں جاہتے جس بے ادبی کا نتیجہ ہوا کہ موسیٰ کے جیسا آدمی پھر نہیں پیدا ہوا اور اعلیٰ رسالت کی تبدیلی خاندان اسمٰعیل میں نہ ہو گی ۔ (ت ۹۳۸) عذابی کسی مامور کی دعائے عذابکا اس کے مخالفین کے حق میں مقبول ہو جانا اس کے بڑے مقرب آلہ ہونے کی علامت ہے کیونکہ اسی آیت میں عذاب کی تحقیق کے ساتھ ہی بلفظ یہی ارشاد ہوتے ہیں ورحمتی وسعت کل شی تو اس رحمت عامہ سے عذاب خاص کی طرف جناب الٰہی کا توجہ فرمانا مامورکی وجاہت پر دلالت کرتا ہے ۔ (ت ۹۳۹) مکتوباً وہ پیشگوئیاں جو کتب سابقہ میں ہیں پیدائش ۲۱ باب آیت ۱۳ پیدائش اور باب استفثار باب ۱۸ و ۳۳ یسع ۴۲ ، ۵۴،۶۰ یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۵ مکاشفات باب ۱۹ آیت ۱۶ تسبیحات سلیمان باب ۵ آیت ۱۵،۱۶ ۔ (ت ۹۴۰) والا غلل ناحق رسم و رواج کے پہندے اور یہ اسرائیلی شریعت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے مشائخ اور …… نے بنا لی تھی اور جو انسان کو آزادی سے محروم کرنے والی اور فرقہ بندی بلا مرضیالٰہی کرنی تھی ۔ چنانچہ دیکھو اخبار خروج وعدد (ت ۹۴۱) والتبعوا النور یعنی قرآن مجید کی اور سنت نبوی کی پیروی کرو ۔ (ت ۹۴۲) اثتی عشرک حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تھے ان میں سے ہر ایک کی اولاد علیحدہ علیحدہ سبط یا فرقہ یا خاندان ٹھہرا۔ اسباطا سبط پوتے یا نواسے ۔ (ت ۹۴۳) القریۃ یعنی اریجا میں یہ حضرت موسیٰ کے وفات کے بعد کا قصہ ہے جب ان کے خلیفہ یوشع بن نون یرون ندی کو عبور کر کے اریحا میں پہنچے قریہ شام میں بیت المقدس سے بیس میل کے فاصلہ پر آباد تھا ۔ (ت ۹۴۴) رجزا من السماء عذاب آسمانی بلانے آسمانی کتاب یشوع کیباب ۷۷ میں دیکھو کہ عی کے لوگوں نے بنی اسرائیل کو شکست دے کر بہتوں و قتل کر ڈالا ۔ (ت ۹۴۵) یعدون زیادتی کرتے تھے خدا سے بڑہتے تھے نافرمانی کرتے تھے ۔ (ت ۹۴۶) السبت حضرت حکیم الامۃ خلیفۃ المسیح مولنا مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئیکثرت دولت کی دعا نہیں کی کیونکہ اکثر دولت مندی فسق و فجور کا سبب ہو جاتی ہے اسی طرح ہمارے حضور سید المرسلین خاتم النبیین نے بھی انی اولاد کے لئے بہ قدر ضرورت کی دعا کی ہے ﷺ شرعاً یعنی جب موسم اور بارش اچھیہوں تو مچھلیاں بہت ہوتیں ہیں یوم لا سبتون سبت کے تین معنی ہیں (۱) ہفتہ جو یہود کی عبادت کے واسطے مخصوص تھا اس دن کو وہ مچھلی کی شکار میں گزارتے تھیجیسے ہمارے زمانہ کے نوجوان بے فکرے جمعہ و اتوار کو شکار بجری وبری میں مصروف رہتے ہیں ان کی آزمائش کے لئے یہ حکم دیا گیا ممانعت کے بعد انہوں نے دریا کے قریب حوض کھود کے تالئین بنائیں جس سے مچھلیاں حوض میں آجاتیں اتوار کو جا کر پکڑ لیتے اس استھزاء اور مکر سے ان پر *** پڑی۔ ہمارے فقہاء بھی حیلہ شرعی جائز بتاتے ہیں وہ اس آیت سے عبرت پکڑیں مگر بعض مواقع میں جن میں حقوق اللہ یا حقوا لعباد کی رعایت ہو وہ مستثنیٰ ہیں (۲) راہت ۔ معنی یہ ہوئے کہ کسی قوم یا آدمی کو آرام و آسائش کے سامان اللہ جل شانہ عطا فرمائے تو وہ اس کی قدر کرے ورنہ قہر الٰہی اس پر ناول ہو گا ۔ (۳) سبت کے معنی آنحضرت ﷺ ہیں کیونکہ پولوس آپ کو سبتی نبی قرار دیتا ہے تو آپ کی گرامی قدر کی قدر کرنا سب پر ضروری ہے ورنہ ذلت مصیبت ہو گی (مجھے اس کا حوالہ نہیں ملا ہے) ہمارے حضرت مولونا نورالدین صاحب نے بیان فرمایا ہے ۔ (ت ۹۴۷) بنلوھم ابتلا تین قسم کے ہوتے ہیں (۱) امام کے لئے اذا بتلیٰ ابراھیم بہ عام بلونھم بالحسنات والسیئات بدکاروں کے لئے بنلوھم بما کانوا یفسقون اس کا ذکر پارہ (۱۰) و (۱۲) میں بھی آیا ہے دیکھو نمبر تفسری ۱۰۴۹ ۔ (ت ۹۴۸) انجینا مانعین اور ناصحین عذاب سے بچے معلوم ہوتا ہے کہ ساکتیں بھی مبتلائے عذاب ہو جاتے ہیں اور حدیث میں ساکت کو شیطان الاخرس فرمایا ہے ۔ (ت ۹۴۹) قردۃ خفیف العقل چھچھورے بندر اور بندر کی خاصیت والے ۔ (ت ۹۵۰) تاذن جنا دیا۔ خبردار کر دیا علیھم یعنی یہود پر مسلط کرے گا لسرایع العقاب یہ یہود کی تباہی کی پیشگوئی ہے لغفور رحیم یعنی یہود میں سے جو حق کی طرف رجوع کر جائیں گے ان کے قصور معاف کئے جائیں گے وہ نیک بدلہ پائیں گے ۔ (ت ۹۵۱) وقطعنھم یہ قردہ کی تفسیر ہے جو پارہ اوّل میں می بھی آچکا ہے خاسئین فاعلین کے وزن پر خاص آدمیون ہی کے لئے آیا ہیجمع ی ۔ ن ے ساتھ علمی رنگ ہے کہ یہ جمع غیر ذوی العقول کی نہیں آتی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب انسان ہی تھے نہ جانور بندر میں یہ مسئلہ اور یہی صاف تر ہے کہ جعل منھم القردۃ والخنازیر وعبد الپطاغوت الخ ۔ یعنی بعض ان یں سے نیک ہو گئے اور بعض خفیف العقل بندر اور بعض سور۔ حریص و بے جا نا عاقبت اندیش رہے۔ بعض ھاکر دن کے بندے اور ہم ان کو سکھ دکھ دیتے رہے کہ وہ اپنی بدکاریوں سے رجوع کریں ۔ (ت ۹۵۲) وان یاتھم عرض مال اور دولت حرام یہاں بدی اور حریص بے جا جمع حاصل کی ہوئی دولت مراد ہے دوسری جگہ عام دولت و قیمت ۔ (ت ۹۵۳) یمسکون بالکتب یعنی مضمون کتاب پر عمل کرتے ہیں ۔ (ت ۹۵۴) نتقنا کھڑا کیا بلند کیا ۔ پہاڑ اس طرح کھڑا تھا گویا جھتری ہے ۔ بعض پہار اسی قسم کے ہوتے ہیں گویا ایک بڑی جھتری کھڑی کر دی گئی ہے ۔ (ت ۹۵۵) من ظھورھم ظہور کا لفظ فصاحت کلام کے لئے ہے ۔ ہدیث میں بھی یہ محاورہ ہے عام محاورہ عرب بھی ہے ۔ مثلاً کان ینشد عن ظھر قلبہ اور حدیث کنت بین اظھرنا اور بین اظھرھم اے وسطہم (قاموس) تو من ظھورھم کے معنی منھم کے ہوئے واشھد ھم گواہ قرار دیا علی انفسہ ہر آدمی عقل آئے بعد معلوم کر لیتا ہے کہ میرا ایک رب ہے ۔ امکان و بشریت کی کمزوری ہر نفس کی شہادت ہے کہ وہ مخلوق ہے البعیرۃ تدل علی البعیر واثر لقدم علی السفر اور فطرتی طور پر بنی آدم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے آپ تو رب نہیں ہیں پھر وجدانی طورپر خدا کی آوا سنتے ہیں کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں بلی شھدنا جی ہاں ہم گواہ ہیںکہ آپ ہمارے رب ہیں اور یہ تقاضائے فطرتی ہم نے اس واسطے رکھا کہ ایس انہ ہو کہ کہہ وہ انجام کے وقت کہ ہم و اس سے بالکل بخیر تھے ۔ (ت ۹۵۶) نبا الذٓ ابن عباس اور مسعود اور مجاہد کہتے ہیں کہ بلعم بن مامور کی طرف اشارہ ہے جسکا تذکرہ کتاب عدد باب ۲۲ و ۲۳ میں ہے ۔ فانسخ باہر ہو گا احکام سے فاتبعہ تابع کیا اس کو کمثل الکل کتے میں یہ بدعادتیں ہوتی ہیں ۔ حریص بڑا ہوتا ہے ۔ ہم جنس کی ہمدردی اس میں نہیں ہوتی۔ کھانے کیسوائے سیکام کا نہیں۔ مادہ کی مقعد کو بہت سنگھتا ہے ۔اچھے کپڑوںوالوں کو نہیں بھونکتا۔ پیاس پر صبر نہیں کر ستا بے سبب ہانپتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی سخت آگ اس کے اندر لگی ہوئی ہے ۔ غریباور میلے کپرے والے آدمیوں پر بھونکتا ہے ۔ اپنی جنس کا دشمن ہوتا ہے جب قریب ہو تو الہام نہیںہوتا شکاری اور کہبت کا رکھوالا کتا اس سے مستثنیف ہے دیوانہ کتے کا کاٹا ہوا شخص پانی سے نفرت کرتا ہے اور اچھا کم ہوتا ہے اس شخص کی مثال کتے کی ہے اس لئے کہ کتے کو جو زبان نکالنے کی عادت ہے بہ سبب شدت حرص یا پیاس اگر اس کو ماریں یا جھڑکیں تا کہ وہ اپنی زبان کو نہ نکالے مگر وہ اپنی اس عادت سے باز نہیں آتا یہ مارنا اور جھڑکنا اس کے لئے مفید نہیں ہوتاویسے ہی وہ انسان جو نفس امارہ کا پیرو ہے اس کو نشان دکھلائے جاتے ہیں جو کہ اس پر بطور حملہ اور ضرب کے ہیں ۔ مگر وہ نشان کو دیکھتا ہوا اور بینات کا مشاہدہ کرتا ہوا پھر بھی باز نہیں آتا تو وہ کتا ہی ہے ان تحمل لادے یا حملہ کرے قلوب لا یفقھون بھا خدا کے دئے ہوئے اعضاء سے کام نہیں لیتے تو وہ ضائع ہو جاتے ہیں ولھم امین جمع کا لفظ فرمایا تا عینک وغیرہ سب آجائیں الغفلون سست و آرام طلب صرف بازولغم میں بسر کرنے والے بے فکر ۔ (ت ۹۵۷) املی لھم مہلت ہی دیتا ہوں اس بے خبری میں وہ یا تو تنبیہہ حاصل کریں یا اپنی خواہش پوری کر کے پورے سرکش ہو جائیں ۔ (ت ۹۵۸) الساعۃ یہ پیشگوئی بھی ہے عرب پر قیامت آنے کی یعنی ایک زمانہ آتا ہے کہ عرب زیرو زبر ہو جائے گا اور کل مخالفین ہلاک ہو جائیں گے ۔ (ت ۹۵۹) ثقلت یعنی بہت بڑا واقعہ ہے جس سے آسمان اور زمین کانپتے ہیں اور کافر سرسری سمجھ کر پوچھتے ہیں ۔ (ت ۹۶۰) حفی وہ شخص ہے جو سوال کے سب پہلوئون کو پوچھ لے اور یہ مامور ولھم کا کام نہیں کیونکہ وہ صاحب ادب ہوتا ہے ۔ (ت ۹۶۱) ھوالذی یہاں سے مضمون سابق کا اعادہ خصاصۃ کیا گیا ہے ۔ (ت ۹۶۲) مالحا جیتا جاگتا کامل القوی نیک ۔صحیح سالم ۔پورا ۔بچہ ۔ (ت ۹۶۳) جعلا لہ شرکاء یعنی مشرکانہ خیالات سے عبدالشمس اور عبدالعزیٰ اور عبد مناف اور عبد قصی اور عبدالحارث اور عیدمنات تھے جیسے مدتوں سے ہند کے جاہل مسلمان سلار بخش۔ مداربخس۔ پیر بخش۔ نام رکھتے ہیں لطیفہ اگر کوئی ذی علم متطی ایسا نام بطور دعا یا تفا دل کے کہہ دے تو معنی یہ ہوں گے پیر بخش یعنی خداوندتعالیٰ ایسا بچہ دے جو مسلمانوں کا سردار ہو وغیرہ وغیرہ ۔ اس آیت شریف کا تعلق آدم و حوا سے نہیں ہے ۔ جیسے بعض غلط فہموں نے کہا بلکہ عام مسرکین عرب کی طرف اشارہ ہے جو ایک عامیانہ خیال ہے ۔ (ت ۹۶۴) مالا یخلقاس سے مسیح کا خقل طیور ہونا صاف باطل ہو گیا ۔ (ت ۹۶۵) ولی یہ آیت شریف رسول اللہ ﷺ کی عصمت کی دلیل ہے اور کامل صالحین کے لئے بھی ۔ (ت ۹۶۶) ینظرون الیک یعنی مورتیں اور بت ایسے مجسمہ بنے ہیںکہ ان کی آنکھیں ایسی معلوم ہوتی ہیں کہ گویا وہ آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہی اور مشرک قوت بصارت نہیں رکھتی نہ سمجھ نہ ادراک ۔ (ت ۹۶۷) لا یبصرون دل سے نہیں دیکھتے ۔ (ت ۹۶۸) طئف وسواس یعنی جب کوئی خطرہ شیطانی ان کو ہوا ۔ (ت ۹۶۹) لولا اجتبعتا کیوں نہیں بنالاتا تو دل سے کیوں کر پہنچ کر نہیں لایا ۔ (ت ۹۷۰) لعلکم ترحمون یہاں مخاطب مسلمان نہیں کافر ہیں ۔ الحمد خلف امام کا مسئلہ یہاں نہیں جو استدلالاً پیش کیا جاتا ہے ۔ (ت ۹۷۱) فی نفسک یعنی جو ذکر خدا زبان سے کرتے ہو اسکو دل سے سمجھو اور تضرع اور خوف کے ساتھ حضوری اور یاد داشت سے ادا کرو یہ نہیں کہ زبان بولتی جاتی ہے اور تمہیں کچھ خبر ہی نہیں جیسا کوئی صوفی کہتا ہے کہ (چشم پیرا توہین پر دل بیدار نہیں ) ایسے غافلانہ ذکروں سے حضوری قلب ضائع ہو جاتی ہے جو ایک کامل کی موت سے پکا ذکر تو وہ ہے جس سے دل گناہ سے پاک ہو خواہش گناہ اس سے چھٹ جائے یہ نہیں کہ زبان ور ذکر دل و فکر خانہ ۔ خیفۃ دوسری جگہ آتا ہے ولا تجھ بصلوتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذالک سبیلا ـ
    سورۃ الانفال
    (ت ۹۷۲) اس سورت میں جنگ بدر کا ذکر ہے جنگ بدر کا سبب نبی کریم ﷺ مکہ سے بہ سبب ان مجبوریون کے جو کفار سے پیش آئیں نکلے اور مکہ سے دو سو ڈھائی سو میل پر آڈیرا لگایا۔ لیکن مکہ کے دشمنوں نے دشمنی میں اور ترقی کی اگرچہ وہتجارتوں کے لئے مختلف ممالک میں جایا کرتے تھے جن میں سے ایک شام بھی تھا لیکن ان دنوں میں انہوں نے شام کا سفر زیادہ کر دیا۔ مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے رہنے کیباعث انہون نے یہ شروع کیا کہ بہانہ تو شام جانے کا لیکن مقصد نبی کریم کی مخالفت میں لوگوں کو اکسانے کا وہ کبھی مدینہ کی ,شرق سے گزرتے اور کبھی مغرب سے گزرتے اور کبھی مدینہ کے اندر سے بھی گزر جاتے وہاں کے یہود اورباقی مشرک قوموں کو جو مدینہ کے نواح میں رہتی تھیں ان کو آپ کے مقابلہ کے لئے اکساتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کئی دفعہ آپ کے صحابہ میں سے اکے دکے کو قتل کر دیا اور کئی دفعہ آپ کی کھیتوں اور مویشیوں پر چھاے مارے جب آپ نے دیکھا کہ یہ دو سو میل پر بھی چلے آئے سے دشمنی سے باز نہیں آتے اور آگے سے بھی دشمنی کو طرناک کر دیا ہے تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت ہوئی کہ آپ ان کے انسداد کی فکر کریں آپ کو اجمالاً بتلایا گیا کہ دشمنون کے دو گروہ ہیں جن میں سے ایک پر ضرور غلبہ حاصل ہو گا آپ کے صہابہ کو یہی خیال تھا کہ ابوسفیان کا قافلہ جو اصل بانی مبانی نساد کا تھا اس سے کہیں مقابلہ ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو مقام بدر میں ایسی جگہ جمع کیا کہ جہاں تمام صنادید قریش ابوسفیان کے قافلہ کی حمایت کے لئے اور اسلام کے مقابلہ کے لئے پہنچے ہوئے تھے ۔ (ت ۹۷۳) الانفال ال عنیمت کی تین قسمیں ہیں انفال جو نفسل سے مشتق ہے یعنی امید سے زیادہ مال ملتا کہیں سے ہو دوسرے نے چوبدوں جنگ کے ملجائے۔ تیسرا غنیمت۔ غنیمت کے لغوی معنی حصول مال اور اصطلاحی جو جنگ کے بعد ملے ۔ انفال عام ہے ۔ بدر میں کفار ایک ہزار اور مسلمان تین سو تیرہ تھے جنگ تھوڑی سی ہو کر غنیمت بہت ہاتھ آئی اس لئے اس کی تقسیم کی نستب سوال ہوا۔ یعنی زیادہ مال ملے تو کیا کریں ارشاد ہوا کہ اللہ و رسول کے کم کے مطابق تقسیم ہو گی ۔ غنیمت کی تقسیم اس طرح پر کہ ایک حصہ رکھ لیں باقی سوار کے دو حصے پیدل کا ایک حصہ۔ پانچواں حصہ جو رکھا ہے اللہ اور رسول کے قرابتوں ۔ یتیموں ۔ مسکینوں مسافروں کا ہو گا ۔ فی غربا اور مساکین اور عام مسلمان کا حق ہے ۔ باع فدک فی تھا غنیمت نہ تھا دیکھو ۲۸ سورہ حشر آیت (۷) کما اخرجک یعنی انفال کو ہم نے لوگون کے قواعد پر نہیں کہا۔ کیونکہ یہتیرا خاص حصہ تیرے… کا فضل تھا ۔ تجھ پر ۔ اذتستغیثون ربکم یہ اصحاب بدر سے متعلق ہے جو ۳۱۳ آدمی تھے اور (۷۰) اونٹ اور (۲) گھوڑے (۶) زرہ (۸) تلواریں رکھتے اور کفار کے سوار (۹۵۰) تھے علامات فتح چار چیزیں بتائی ہیں (۱) فاستجاب لکم (۲) انی صمدکم (۳) تعطمئن قلوبکم (۴) اذیغشیکم الناس ۔ چونکہ مقابل والے پانی پر قبضہ کر چکیتھے اس واسطے پانی مانگ رہے تھے ۔ لہذا خدا نے تمہاری دعا قبول کر لی لکوھون کراہت سے مراد سخت مشکل کام ہیں نہ کہ قابل نفرت یساقون الی الموت یہ نہ دل منافقوں کی حالت ہے نہ کہ مخلص صحابہ کی ۔ وھم ینظرون تیرا نکلنا خدا کے حکم کے موفق تھا نہ آدمیوں کی خواہس پرکیونکہ لوگ تو مکروہ یعنی مشکل سمجھتے تھے ادی الطائفتین اس سے یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیف کی وحی سے کبھی نہایت اجمالی علم دیا جاتا ہے دوسرے یہ بھی طاہر ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ حضرت کو اور بھی وحی ہوتی تھی ۔ (ت ۹۷۴) اذ یغشیکم النعاس سپاہی کو لڑائی میں اونگنی آنے لگے تو فتح کی علامت ہے ۔ (ت ۹۷۵) فوق الاعناق میں گردنیں شامل ہیں جیسے فوق الاثنین میں دو ۔ (ت ۹۷۶) شدید العقاب گناہ کے نتیجہ میں چونکہ …… اس لئے اس کا نام عقاب رکھا ہے جو عقب میں آتا ہے ۔ (ت ۹۷۷) ……… ایک مفسر نے تحریر فرمایا ہے کہ تھیار چلایا۔ تیر چلایا۔ مشہور ہے کہ کنکریاں پھینکیں رمی الجمرات کیا ۔ ولکن اللہ رمی کیونکہ فتح و شکست خدا ہی کا فعل ہے اور اس کے ہاتھ میں ۔ (ت ۹۷۸) سمیع جو تم مانگتے تھے وہ ہم نے سن لی ۔ (ت ۹۷۹) ان تستفتحوا مشرکین مکہ بھی ہمیشہ دعائیں کیا کرتے تھے کہ ای اللہ جو دین حق ہے اس کو فتح دے چنانچہ ابوجہل نے بھی کعبہ کا پردہ پکڑ کے ایسی ہی دعا کی تھی اور فتح نمایان اور پیشگوئیوں کا ظہور بار بار دیکھ کر بھی یہی کہتے تھے کہ متی ھذا الفتح ان کنتم صدقین ۔ (ت ۹۸۰) ان اللہ مع المومنین فتح دینے اور کامیاب کرنے میں مومنوں کے ساتھ ہے ۔ (ت ۹۸۱) لما یحیکم اس آیت شریف سے ظاہر ہے کہ آنحضرت سرورکائنات ﷺ حضرت مسیح سے بڑھ کر عام طور پر مردوں کو زندہ کیاکرتے تھے یعنی کافروں کو ۔ (ت ۹۸۲) ان اللہ یحول پس اگر انسان نیکی کے ارادہ کے ساتھ نیکی کرے تو وہ اس قانون الٰہی کے تحت میں آجاتا ہے جیسا کہ ایک بااختیار حاکم اپنے اختیارات سے کام نہلے تو بادشاہ اس کے آڑے آجاتا ہے یعنی اس کے اختیار چھن لئے جاتے ہیں۔ س آدمی کو نیکی کا موقع ملے تو اس کی ناقدری نہ کرے کیونکہ ایسا موقع نہیں ملے گا ۔ (ت ۹۸۳) واتقوا فتنۃ جو لوگ غافل و بیکام و بدعمل ہوں ان سے دور رہا کرو ورنہ مصیبت میں مبتلا ہو جائو گے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہ چھوڑو ۔ (ت ۹۸۴) انما اموالکم واولادکم فتنہ یعنی خدا کے مقابل میں مال واولاد وغیرہ کی رعایت نہ کرنا صرف اللہ ہی کی رعایت کرنا ۔ (ت ۹۸۵) یجعل لکم فوقانا دشمنوںکو ہلاک کر دے گا ہر ایک اختلافی بات میں فیصلہ کر دے گا ۔ یعنی ممیر کامیابی ۔ (ت ۹۸۶) واذ یمکریک یعنی دارالندوہ میں ایک روز عتبہ و شیبہ اور ابوجہل اور ابوسفیان ۔ طعمہ۔ نصر ۔ امیہ ۔ زمعہ ۔ ابوالبزی۔ حکم بن حزام وغیرہ جمع ہوئے اور مسورہ کیا یا تو محمد کو قید کر دو یا مکہ سے نکال دو ابوجہل نے یہ رائے دی کہ قریش کے تمام قبیلوں کا ایک نوجوان تلوار لے کر ایک ہی دفعہ جا پڑیں اور محمد کو ماریں اس رائے کو سب نے پسند کیا اور ات کو آنحضرت کا گھر گھیر لیا اور آپ کو اللہ نے خبر کر دی پھر آٌ نیابوبکر کے ساتھ مکہ سے ہجرت کی اور ان کی سب تدبیریں الٹی ہو گئیں اور خدا کی تدبیر نیک ہوئی اور یہی مکر الٰہی کے معنی ہیں ۔ (ت ۹۸۷) اوائتنا بعذاب الیم یعنی ہم تجھ سے ناراض ہیں ضرور عزاب لاکر دکھا یہ کافروں نے کہا ۔ (ت ۹۸۸) ان اولیئوہ اس میں بشارت ہے کہکعبہ کے متولی اہل حق ہی رہیں گے چنانچہ اس دقت تک اہل سنت و جماعت بھی اس کے متولی ہیں ۔ (ت ۹۸۹) ان الذین کفروا بے شک جو کافر ہیں (بدر کے بعد مال جمع کریں گے جنگ احد کی تباہی کے لئے مگر فائدہ ان کو کچھ نہ ہو گا مال ضائعاور انجام کار مغلوبیت ہو گی ۔ یہ پیشگوئی ہے ۔ (ت ۹۹۰) ثم تکون علیھم حسرۃ الخ یہ غزوہ خندق کے متعلق پیشگوئی ہے جو پوری ہو چکی ۔ (ت ۹۹۱) یغفرلھم ترک شرارت مانع عذاب ہے (ت ۹۹۲) فقد مضت سنۃ الاولین بعض پھر بھی نہیں بچیں گے عذاب سے جن کی شرارت کا اللہ علیم ہے ۔ (ت ۹۹۳) کلہ الہ یعنی ہر شخص اپنے معتقدات بالاعلان بیان کر سکے اور مذہبی رکاوٹ نہ ہو مذہب حق غالب ہو۔ یعنی اپنے فرض مذہبی کو نجومی ادا کر سکے۔ بصیر یعنی ان پر زیادتی نہ ہو گی نظر مہربانی الٰہی ان پر ہے۔ ان کی حفاظت کی جاوے گی ۔
    الجزء 10
    (ت ۹۹۴) غنمتم من شی کل مال غنیمت کے پانچ حصہ کریں اور پانچویں حصہ کے چہار حصہ کریں جو اللہ اور رسول اور قرابتیوں یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حصہ ہے رہے چار حصے اس کو اس طرح تقسیم کریں۔ سوار کے دو۔ پیدل کا ایک ۔ جائداد وغیر منقولہ مستثنیٰ ہے اس کا امام کو اختیار ہے آنحضرت کے بعد آپ کا حصہ اسلامی ضرورتوں میں رہا جب کہ اللہ کا القربیٰ سے مراد رسول اللہ ﷺ یا خلیفہ یا امام وقت کے قریبی رشتہ دار ہیں اور اللہ و الرسول میں اشاعت قرآن و حدیث شامل ہے ۔ (ت ۹۹۵) یوم التقی الجمعن یعنی بدر کے دن جس میں مسلمانوں کو عظیم الشان کامیابی ہوئی ملائکہ کا نزھول دست پاک سرور کائنات کی ……… کے نتائج نے ایک شناخت و تمیز اس دن قائم کی ۱۷ رمضان شریف روز جمعہ یوم الفرقان تھا ۔ (ت ۹۹۶) ان اللہ لسمیع علیم اللہ نے مظلوموں کی دعا سن لی اور وہ تمہاری کامیابی کو بخوبی جانتا تھا۔ یعنی بدر کی لڑائی محض اللہ کی مدد سے ہوئی یہ لڑائی قصاً م کرتے تو ایسا موقعہ نہیں ملتا بے شک غالب نے مغلوب پر حجت ملزمہ قائم کر دی ۔ (ت ۹۹۷) منامک منام آنکھ میں ہی آیا کرتی ہے اور رویاء کو بھی کہتے ہیں تمہاری آںکھوں میں تھوڑے دکھے کچھ ٹیلے پر تھے کچھ نیچے ۔ (ت ۹۹۸) لفشلتم فشل کا بگڑا ہوا لفظ اردو میں پھل ہے اور اس پانی کو بھی کہتے ہیں جو رفث میں نکل جاتا ہے ۔ (ت ۹۹۹) منامک اے فی عینک وبصرک ونومک بعض چیزیں بڑہا گھٹا کر دکھلائی جاتی ہیں اس میں مصلحت الٰہی ہوتی ہے ۔ (ت ۱۰۰۰) واذکروا ذکر کے معنی دعا یا ومحبوب تذکرہ بہ نیت عادت کچھ پڑہنا اگر …… مقابلہ اور مباحثہ ہو تو پہلے بہت عاجزی سے دعائیں کرو کہ کامیاب ہو گے ابوھریرہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے خیال کے نزدیک ہوں جہاں وہ یاد کرتا ہے میں وہیں موجود ہو جاتا ہوں اگر وہ جی میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس سے بھی بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت آٹا ہے تو میں اس کی طرف گز بھر آٹا ہوں اور اگر وہ گز بھر آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کے لبان کے برابر آتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں ترمذی ۲۲ ۔ (ت ۱۰۰۱) وتذھب ریحکم اتفاق نہ رکھو گے تو جرات ۔ حکومت۔ اقبال۔ نصرت ۔ قوت جنگ ۔ فتح مندی ۔ نفاذ غلبہ جاتا رہے گا ۔ (ت ۱۰۰۲) بطرا ورئاء الناس جنگ بدر کے واسطے اہل قریش ابوجہل وغیرہ بڑً گھمنڈ سے اکڑتے ہوئے نکلے اور نیت میں لوگوں کو اپنی بڑائی دکھانا تھا اور ان کو یہ خیال بھی تھا کہ مسلمانوں کو ہمارے مقابلہ کی تاب ہے اور نہ فی الواقع مسلمانوں کو تاب تھی کفار تمام چیدہ چیدہ آدمیوں کا لشکر بنا کر بطور سیر و تماسا کے نکلے خیال ہی تھا کہ کوئی جنگ نہیں ہو گی بلکہ یوں ہی ملک پر رعب بٹھائیں گے چنانچہ وہ پیسے کھاتے ہوئے ناچ کراتے ہوئے آئے جیسا کہ فرعون بنی اسرائیل کے پیچھے پڑا مگر موسیٰ کا فرعون تو دریا میں غرق ہوا ہمارے آقائے نامدار کا فرعون معہ اپنے لشکر کے خسکی ہی میں غرق و تباہ ہوا ۔
    ببیں تفادت راہ از کجاست تابہ کجا
    (ت ۱۰۰۳) اذزین لھم الشیطن اعمالھم بدیوں پر اسے جرات ہوتی ہے جو مومن باللہ نہ ہو یا یوم الاخرۃ کو نہ مانتا ہو یار مستحق کرامت گنہگار انند کا معتقد ہو بغیر اخلاص اور توبہ کے یا بدصحبت میں رہا کرے ۔ (ت ۱۰۰۴) دینھم یعنی کثرت اسباب دنیوی اور رسول آبائی نے منافقوں دنیاداروں کو خود پسند بنا دیا کہ وہ مسلمانوں کو ایسا سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ مسلمان متوکل علی اللہ ہیں ۔ ومن یتوکل علی اللہ (۱) دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جن کی نظر صرف دنیا ہی کے اسباب پر پڑتی ہے۔ دوسری وہ جو ظاہری اسباب کو بھی اللہ ہی کے دست قدرت میں جانتے ہیں یعنی مسلمان دھوکہ خوردہ نہیں متوکل ہیں ان کی نظر خدا پر ہے کسی رسم و رواج کو خدا کے مقابل پسند نہیں کرتے ۔ (ت ۱۰۰۵) قوی اپنے کسی قانون کی خلاف ورزی کوجائز نہیں رکھتا ۔ (ت ۱۰۰۶) وھم لا یتقون یہاں یتقون کے معنی عہد کے ہیں اور لایتقون کے معنی عہد شکنی جیسے یہود ار بار عہد شکنیاں کرتے رہے ۔ (ت ۱۰۰۷) واعدوالھم اب بھی مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دشمنوں کے لئے حسب موقع تیار رہیں اور مدافع کریں مقابلہ کے لئے چار چیزوں کیضرورت ہے (۱) دل مطمئنہ (۲) دشمن کے حالات سے پوری واقفیت (۳) قول موجہ اور دلائل مضبوط (۴) خدا پر بھروسہ اور اس سے مدداور دعا چاہئے جس میں یہ بات نہ ہو مجاہدین کو مدد دے اور انفاق فی سبیل اللہ کرے ۔ (ت ۱۰۰۸) وتوکل علی اللہ اس میں حقیقت توکل کی بیان فرمائی ہے یعنی جس قدر جائز کوششیں ہیں نیکی کے ساتھ کی جائیں اور نیک تدابیر عمل میں لائی جائیں اور اگر ظاہراً ناکامی اور مایوسی کے آثار دکھیں یا دنیا کے لوگ مخالفت کریں تو خدا ہی پر بھروسہ رکھو یعنی کاہلی اور غفلت اور بے تابیری اور بے عقلی اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے رہنے کا نام توکل نہیں ہے جیسا کہ مدفہم اور سست و کاہل بے کاری کی حمایت میں کہا کرتے ہیں کہ ہماراتو خدا ہی پر بھروسہ ہے اور ہماری تقدیر می یہی لکھا ہے کہ اپنی سستی اور کاہلی کا الزام خدا ہی پر لگایا کریں اور اس گستاخی اور کفر …… سے کچھ خوف نہ کریں اور لیس بظلام للعبد کی کچھ پرواہ نہ کریں ۔ (ت ۱۰۰۹) یخدعوک مالی امداد سے ہاتھ اٹھانے کو ہی خدع کہتے ہیں ۔ (ت ۱۰۱۰) حسبک اللہ یعنی ظاہری مخالفت و ناکامی سے جو نہ درے اور نیک اعمال توکل بخدا کرتا جائے تو اس کے لئے ارشاد ہے ومن بتوکل علی اللہ فھو اور حسبک اللہ وغیرہ آیات توکل ۔ (ت ۱۰۱۱) الف بینھم اس سے معلوم ہوا کہ جس قدرصحابہ ہیں وہ باہم کمال محبت رکھتے ہیں … جھوٹے ہیں جو صحابہ کوباہم دشمن بتاتے ہیں کیونکہ ومن اصدق من اللہ قبلاع ۔ (ت ۱۰۱۲) حرض ـ حث ادنیٰ درجہ کی ترغیب ہے پھر حض اس سے بھی بڑھ کر حرض سب سے بڑھ حرض ۔ (ت ۱۰۱۳) خفف اللہ یہ آیت منسوخ نہیں کیونکہ پہلی آیت اسلام کی ترقی کی حالت پر دلالت کرتی ہے اوردوسری ابتدائے اسلام کی حالت کی مظہر ہے ۔ پہلے میں جو ان ہے وہ استقبال کے لئے ہے آیت منسوخ نہیں دوسری میں الا ن ہے اب اس وقت توتخفیف کر دی ۔ آئندہ ایسا وقت آئے گا جیسا کہ غزوہ موتہ وتبوک و عامہ دیر موک و شام و مصر میں ہوا کہ مومنوں کی تعداد دس فیصدی بھی مشکل تھی یرموک میں ساٹھ ہزار کا ساٹھ آدمیوں نے مقابلہ کیا۔ ہاں بدر اور احد جو ابتدائی جنگیں تھیں ان میں کافروں سے نصف یا ۳؍۱ کا مقابلہ رہا ۔ (ت ۱۰۱۴) واللہ مع الصبرین صوفیوں میں ایک بحث ہے کہ تفویض علی ہے یا توکیل بعض کہتے ہیں کہتفویض اعلیف ہے کیونکہ اس میں سب کچھ سپرد کر دیا جاتا ہے ۔ (ت ۱۰۱۵) حتی یحثن فی الارض جب تک دنیا میں کوئی اس سے مقابلہ نہ کرے اور جنگ نہ چھڑے اور اگر بغیر جنگ کیایسا کا جاوے تو سمجھا جاوے گا کہ تردیدون عرض الدنیا کیا تم دنیاکے مطالب ہو؟ نہیں تم اللہ والے ہو ۔ (ت ۱۰۱۶) نلولا کتب من اللہ سبق ایک گروہ کو صحابہ میں سے آنحضرت نے ساحل پر بھیجا اور یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے ۔انہوں نے اہل مکہ کا ایک قافلہ جاتا ہوا دیکھا یہان پر ٹوٹ پڑے۔ منشاء یہ تھا کہ مال لے لیوین اور یہ قیدی جرمانہ لے کر چھوڑے جائیں۔نبی اکرم ﷺ نے اس بات کو ناپسند کیا ۔ان کو چھوڑ دیا مال واپس کر دیا مقتول کی دیت دے دی ۔ شیروں کو شار کے جھٹ جانے ا غم ہوا اس پر خدا تعالیٰ کیطرف سے یہ …… آیا کہ بغیر کسی قوم سے جنگ ہو اور کشت و خون کے بعد باقی فوج کو پکڑا جائے یوں ہی راہ چلتوں کوپکڑنا جائز نہیں اگر یہ حکم پہلا نہ ہو چکتا کہ ماکان اللہ لیعذوبھم وانت فیھم تو اس گروہ کو سزا ہوتی ۔ (ت ۱۰۱۷) اخذتم عذاب عظیم اسیر بغیر جنگ عظیم کے بغیر فیصلہ بین کے شرارت و غلبہ سے بنا لینا کسی طرح جائز نہیں موجب عذاب ہے ۔ (ت ۱۰۱۸) حللا طیبا یعنی فدیہ لینا یا قتل کرنا دونوں خدا کی طرف سے تمہیں جائز ہو چکے تھے اس لئے اس خاص فدیہ لینے پر تم پر کچھ مواخذہ نہیں اگر ایسا نہہوتا اور لالچ سے یہ فعل ہوتاتو ضرور عذاب آتا ۔ وہ قیدی مسلمان ہوئیاور امور عام سلطنت کے متولی ہوئے ۔ (ت ۱۰۱۹) من ولا یتھم من شی یعنی جب تک بر عادتیں نہ چھوڑیں بیہودہ رسومات اور خیالات کی اصلاح نہ کریں یا دین کے واسطے وطن ترک نہ کریں تو ایسوں کی رفاقت ایمان دار نہ کریں ۔ (ت ۱۰۲۰) وان استنصروکم دینی بات میں مدد چاہیں اور مسئلہ پوچھیںتو بتا دو ۔
    سورۃ التوبہ
    (ت ۱۰۲۱) تمہید ۔ سورہ توبہ میں اعلان جنگ ہے یہ کوئی علیحدہ سورۃ نہیں بلکہ یقیہ سورہ انفال کا ہے ۔ آٹھویں سال ہجرت کیجب مکہ فتح ہوا تو بہت سی قومیں مسلمان ہو گئیں۔ اور نویں سال ہجرت میں جب آنحضرت ؐ سام کی طرف غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے تو قوموں نے حاسدانہ رنگ اختیار کر کے مخالفانہ افواہیں اڑائیں اور عہدتوڑ دیا اور موقع پا کر مسلمانوں کو ایذا رسانی کیتجویزیں کرنے لگے اسی سال حضرت نے حاجیوں کا قافلہ سالار ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیا اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ناقہ پر سوار کر کے بھیجا کہ وہاں مجمع عام میں یہ آیتیں لوگوں کو سناویں یعنی سورہ توبہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے احکام حج تعلیم کئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہ نے یوم النحر جمرۃ العقبیٰ کے پس کھڑے ہو کرلوگوں کو یہ سورۃ سنائی چونکہ یہ حصہ الگ سنایاگیا تھا اس لئے علیحدہ ہی رہا ۔ اور کہہ دیا کہ آندہ سے کوئی مشرک مکہ میں نہ آئے اور نہ ننگا طواف کرے جنت میں اہل ایمان کے سوائے کوئی نہ ائے گا بہت اقرار پورے کئے گئے ۔ لوگوں نے کہا اے علی ؓ تم اپنے بھائی سے کہہ دینا کہ ہم نے خود ہی عہد توڑ دئے ہیں اب تلوار ہے یا تیر۔ غرض چار مہینے کے مہلت ہے یہی چار مہینے مہلت والے ہیں جس میں جہاد کی ممانعت فرمائی گئی ہے یعنی مخالفوں کے لئے رجب۔ ذی قعدہ ۔ ذالحجہ ۔ محرم ۔ (ت ۱۰۲۲) فخزی الکافرین جنگ دفاعی ہے اکیس برس تک صدہات عظیم اٹھانے کے بعد خدا کی طرف سے جہاد کا حکم ہوا اور وہ بھی عذاب کے رنگ میں یہ کفار کے نقص عہد کا نتیجہ تھا۔ جو بہت ہی برا فعل ہے چونکہ جب تک کفار کی طرف سے ابتدا نہ ہو تب تک اسلام جہاد کا حکم نہیں دیتا ۔ حضور سرور کائنات نے ارشاد فرمایا اترکوا لترک ماترکوکم اور قاتلوا فی سبیل اللہ الذی یقاتلونکم وغیرہ آیات بھی ۔ (ت ۱۰۲۳) ما ……قیدخانہ و قتل مراد نہیں ہے اس کو امن کی جگہ یعنی اسکے گھر پہنچا دے قتل و قید نہ کرے ۔ (ت ۱۰۲۴) فسقون ۔فاسق ینقضون عھد اللہ کی صفت والا ہوتا ہے پارہ (۱) رکوع (۲) ۔ (ت ۱۰۲۵) الا ولاذمۃ ـ ال کے معنیاللہ قسم کھانا ۔ قرابت ۔ عام مادری یا پدری ۔ سسرالی رشتہ دار۔ معاہدہ ۔ ذمہ ۔ قسم ۔ عہد ۔ (ت ۱۰۲۶) ینتھون اس لئے نہیں کہ سب کے سب مسلمان ہو جائیں بلکہ بدی چھوڑیں اور شرارت نہ کریں بلا روک عام آزادی ہے ۔ جاہل ایمان دار شریفوں کو نہ ستائیں ۔ (ت ۱۰۲۷) جاھدوا منکم ۔ آدمیوں کی کثرت کی ضرورت نہیں بلکہ محنت کس مستقل عاقبت اندیش ۔ راست باز بلند ہمتوں کی ضرورت ہے ۔ (ت ۱۰۲۸) شاھدین علی انفسھم بالکفر (اگر حفظ مراتب نہ کتی زندیقی) رذائل کو دور کرنا فضائل کو بتدریج و ترتیب حاصل کرنا اور رضائے الٰہی اور رسولوں کاماننا اور ان کے کہنے کے موافق چلنا حسن سلوک سے ورنہ شاھدین علی انفسھم بالکفر کا مصداق بننا ہے ۔ برائیوں سے ہٹ کر پوری نیکیاں لیں ورنہ حسنات کی بھی تفسیع ہے ۔ (ت ۱۰۲۹) سقایۃ الحاج ۔ مشرکین عرب ۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کیا کرتے اور حاجیوں کو پانی پلایا کرتے تھے اور اسی کو اپنا دین اور موجب نجات سمجھتیتھے اور اسی طرح بعض مسلمان جو مہاجر نہتھے ان کاموں کو موجب فخر سمجھتے تھے آجکل بھی مسجدیں بنانا اور عاشور خانے (امام باڑے) اور سماع خانے اور عرسوں کی مجلسوں میں شریک ہونا اور تعزیہ داری وغیرہ وغیرہ رسوم دین کا جزو اعظم سمجھا جاتا ہے اور توحید و اتقا جو اصل اعظم دین ہے متروک ہے ۔ (ت ۱۰۳۰) حنین ایک وادی ہے ہواز قوم کی یعنی جنگل ہے طائف اور مکہ کے درمیان ۔ ہزار مسلمان تھے کل چار آدمی آنحضرت ؐ کے پاس رہ گئے تھے ۔ (ت ۱۰۳۱) اذا عجبتکم ہجرت کے آٹھویں سال جب مکہ فتح ہو چکا تو آنحضرت ﷺ بارہ ہزار مسلمانوں کے ساتھ جن میں دو ہزار نو مسلم تھے حنین کے طرف چلے جو مکہ اور طائف کے فما بین ہے ۔ حنین می ہوازن اور ثقیف دو جنگجو قبیلے تھے انہوں نے چار دستے فوج جمع کر کے حضرت کے راستے میں پہاڑیوں کے تنگ گھاٹیوں میں تیر اندازوںکو بٹھا دیا۔ نو مسلم تیروں کی تاب نہ لا سکیاور بھاگ گئے اور کئے مہاجر و انصار بھی حضرت کے ساتھ صرف عباس ؓ اور ابوسفیان بن حارث اور کئی آدمی ٹھہرے رہے ۔ حضرت نے یک مشت خاک اٹھا کر مخالفوں کی طرف پھینکی کہ وہ سب کے سب آنکھیں ملتے رہ گئے اور حضرت عباس نے انصار و مہاجر کو پکارا ملائکہ آسمان سے ابلق گھوڑوں پر دکھے اور مسلمانوں کو فتح ہوئی اوائل میں کثرت تعداد کے تکبر کی وجہ سے ان کے قدم پھسلے آخر خدا نے بتا دیا کہ ہم ایک مشت خاک سے فتح دے سکتے ہیں یعنی فتح ہمارے فضل پر موقوف ہے نہ تمہاری کثرت فوج پر اس لئے ایک امام فرماتے ہیں کہ اللھم انی اعوذبک من الھہ والحزن واعوذبک من العجز والکس ہر ایماندار کو ہر وقت وخصوصاً نماز میں بھی معنی کا لحاظ رکھ کے پڑہتے رہنا واجب ہے ۔ (ت ۱۰۳۲) ثم یتوب اللہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی کمزوری اور وہ گناہ اللہ نے معاف کر دیا ۔ (ت ۱۰۳۳) وان خفتم علیۃ چونکہ اہل مکہ کا اکثر گذارہ بتوں کے جڑہاوے پر تھا۔ ادھر یہ مسلمان ہوئے ادھر مشرکوں کومکہ سے روک دیا تھا تو ان کو اپنے گزارہ کا فکر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کوتسلی دی کہ یہ بیت بجائے اس کے کہ اس میں کچھ مشرکین آتے تھے اب تمام دنیا سے کل موعدین اعضاء کو جمع کر کے لے آئے گا اور یہ کل دنیا کا مرکز بنے گا اور ہر ایک ملک کا رزق یہاں لایا جائے گا اس کی عزت بڑھ جائے گی اور اس کی تجارت وسیع ہو گی دنیا کے بادشاہ اس کے خدام ہوں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اگر آمدنی کی کمی کا ڈر ہے تو اللہ بہت کچھ دے دے گا اعلیٰ درجہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ کیونکہ دین قہ من حیث لا یحتسب ارشاد ہے ۔ (ت ۱۰۳۴) قاتلوا الذین لا یومنون باللہ اس آیت سے بھی یہ نہیں ثابت ہوتا کہ جہادلوگوں کو بہ جبر مسلمان بنانے کے لئے ہے بلکہ اس سے مقصد یہ ہے کہ پہلے دشمن آنحضرت ؐ کے اہل مکہ اور اس کے معاونین مشرکین میں سیتھے جب ان کا فیصلہ ہو چکا ……… اور اس کے مددگار معلوب اور مفتوح ہو چکیتو اب دوسرے دشمن جو اہل کتاب سے ہیںان کا مقابلہ ہونا چائے ان کو بھی اگر وہ جزیہ دے دیں تو چھوڑ دیں گے ۔ (ت ۱۰۳۵) من الذی اوتوالکتب مشرکین کے بعد اہل کتاب سے تخاطب ہے جنہوں نے من گھڑت باتوں کی پیروی کی ہے دین حق اہل حق سے نہیں لیا ۔ (ت ۱۰۳۶) الجزیَۃ جزیہ کے معنی ہیں …… جو بدلہ میں دیا جاے چونکہ وہ قوم جو برسر حکومت ہوتی ہے وہ اپنی رعایا کے مال اور جان اور عزت اور عصمت اور عقل اور دین اور نسبت کی محافظ ہوتی ہے اس لئے اس کے بدلہ میں پولیس اور افواج یعنی سول ملٹری دونوں کے اخراجات کے لئے ان پر ٹیکس لگایا جاتا ہے ۔ کافر دولت مند سے (۴) دنیا متوسط سے (۲) اور فقیر سے ایک ۔ (ت ۱۰۳۷) الیھود وہ یہود کی قوم مھرہ میں ہی جو عزیز کو امن اللہ کہتی تھی چوتھی صدی ہجری تک رہی پھر برباد ہو گئی (قسطلانی) یہاں الیھود کا لفظ ہے بنی اسرائیل کا نہیںجو بہودہ بن یعقوب کی اواد ہیں دنیاکے مذہب کیکتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی بزرگ کو خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے کوئی مذہب یہودیوں کسی خوبی کینہیں چل سکتا ہے پہلے متبع بڑے مخلص ہوتے ہیں کیونکہ وہ دنیاوی بڑی بڑی تکلیفیں اٹھاتے ہیں خوبی نہ تو وہ کیوں تکلیف اٹھائیں دوسرا وقت مذہب کی کامیابی کا آتا ہے اور بادشاہی آجاتی ہے۔ اس وقت دنیا داربدمعاش اگر شریک ہو جاتے ہیں انہیں کے ساتھ قصہ کہانیوں رسوم و بدعادات وغیرہ امور آتے ہیںانہیں کے ساتھ قصہ کہانیاں رسوم وبدعادات وغیرہ امور آتے ہیں اور ترقی کا زمانہ اندھا دھن ہو جاتا ہے اور اندر ہی اندر کچھ اعتراض اور شبہ پیدا ہو جاتے ہیں پھر تیسرا زمانہ آجاتا ہے جس میں سلطنت چھن جاتی ہے ۔ دشمنوں کو قوت ملتی ہے وہ اعتراض کرتے ہیں اس وقت بیودہ روایات کو جھوا کھلنا پڑتا ہے پھر احادیث پر جرح کی جاتی ہییہاں تک اصلی کتاب جو سچی ہو وہ رہ جائے۔ مسلمانوں پر یہ وقت چھٹی صدی میں آچکا ہے ۔ (ت ۱۰۳۸) ابن اللہ اور اس کیمقابل میں دوسری جگہ قرآن میں یہود کا قول نحن ابناء اللہ واحباء ہ آیا ہے جس میں علمی مذاق کے موافق دائو تفسیری پیکر ابن اور ابناء کیتفسیر معلوم ہوتی ہے یعی صرف پیارے اور مقرب اور محب الہ ابناء ابن کا ترجمہ ہے ۔ (ت ۱۰۳۹) قول الذین کفروا کنعان اور یونان کی قومیں اپنے دیوتائوں کو خدا مانتے تھے اور اپنے بزرگوں کو خدا کا خزانہ کہتے تھے۔ (ت ۱۰۴۰) من قبل عام کتب یہاں تک کہ مہا بھارت کے پڑہنے سے ہندوئوں کے خیالات معلوم ہوں گے اور ہندوئوں کی تاریخ بھی پڑھو ۔ (ت ۱۰۴۱) احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ عدی بن حاتم جب مسلمان ہونے کے لئے حضور علیہ السلام کے دربار میں پہنچے انہوں نے سوال کیا کہ مسیح ابن مریم کو تو ہم نے معبود بنایا لیکن قرآن نے ہمارے ذمہ احبار اور رہبان کو بھی لگایا ہے یہ کس طرح پر ہے ۔ حضور علیہ السام نے فرمایا کہ تم اپنے علماء کیقول کو محبت قطعیہ جانتے ہو تمہارے ہاں حرمت اور حلت کا فیصلہ تمہارے علماء کا قول ہے۔ اصل شریعت کو تم نہیں دیکھتے اصلکتاب سے مطابقت کی ضرورت کو نہیں سمجھتے تمہارے علماء اور مشائخ ہی تمہارے شارع ہیں یہ حدیث متفق علیہ ہے جیسا کہ نصاریٰ کے ہاں رومن کیتھولک پوپ جوان کا مشائخ ہوتا ہے اس کے قول کو حجت مانتے ہیں اور پروٹسٹنٹ اپنے کلیسیاء کے قانون پر جو کہ بشپ لوگ بناتے ہیں چلتے ہیں۔ اور پرستش کے اصول ۔ تصرف۔ علم۔ اور امبذ بیمم ہیں ۔ مشرک اور عوام جاہل ہر فرقہ کے ماسوا اللہ کو پہلے علیم سمجھتے ہیں پھر متصرف سمجھے ہیں امید وبیم پیدا کرتے ہیں جس کا تعلق رب سے ہے انسان مخلوق ہے یہ تعلقات وہمی طور پر جس کی کچھ اصل نہیں پیدا کر لیتے ہیں اسی کا نام شرک ہے اتخذو والی ایک عبرتناک تمثیلی پیشگوئی بھی ہے جس ا ظہور مسلمانوں کے لئے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ علماء اور مشائخ و فقہاء مفسرین و محدثین کے اوقال کو قرآنی آیات کے مقابل پر زیادہ فیصلہ کنندہ اور مبین مانتے ہیں۔ یعنی اپنے بزرگوں کے اقوال کو خدا کے ارشاد کے سامنے اس طرہ پیش کرتے ہیں جیسے کوئی حاکم و مقتدر کی بات کمزور کے مقابلہ میں نعوذ باللہ منھا وہ اقدرواللہ حق قدرہ کی شکایت سے بھی نہیں ڈرتے ۔ (ت ۱۰۴۲) یریدون ان یطفوا عہد نبوی میں دین کا مقابلہ حروف سے نہیں ہوتا تھا بلکہ سیوف سے ہوتا تھا حالانکہ ان کو نسانی مقابلہ کی طرف بلایا جاتا تھا ۔ وہ سنانی محاربہ کی طرف دوڑتے تھے زبانی باتوں سے دین پر حملہ کرنا شبہات کے ابراد سے اور دلائل کے انکار سے علی الخصوص نصاریٰ کی طرف سے یہ تیرہویں صدی میں پیش آیا کیونکہ اسلام میں حکومتکا زمانہتو خود ہی ٹوٹ گیا غیروں کے مقابلہ کے لئے سوائے دین کیکچھ نظر نہ آیا انہوں نے دین پر شبہات وار کئے ۔ (ت ۱۰۴۳) ولوکرہ الکفرون یعنی محمد رسول اللہ کوضرور غالب کروں گا اور اس کے سچے متبع ماموروں کو یہ حضور ﷺ کے دوبارہ تشریف فرمائی کی پیشگوئی ہے جس کا بیان قاضی بیضادی نے اپنی تفسیر میں کیا ہے اور متعلق بہ مسیح موعود و مہدی مسعود ہے ۔ چنانچہ آیت ذیل میں اس کا بیان فرمایا لیظھرہ علی الدین کلہ ۔ (ت ۱۰۴۴) یایھالذین امنوا ان کثیرا الخ یعنی اہل کتاب کے ایماندار اور ان کے مثل ہماریزمانے کے بزرگوار دنیا دار واللہ سے ڈروا ور مخالفت حق نہ کرو۔ اس میں بجائییایھا الذین ھادو کے امنوا کہا کیونکہ اس وقت کے علماء اور مشائخ نے مسیح موعود کی مخالفت اور نصاریٰ کی تائید کرنی تھی اس واسطے مسلمانوں سے خطاب فرمایا کہ یہ ہشیار و بیدار رہیں یہود و نصاریف کی طرح دھوکہ میں نہ آئیں تیرہسو سال ہو گیا ان کے پادریوں اور راہبوں نے ان کونبی کریم ﷺ کو قبول نہیں کرنے دیا کہ تمہیں بھیحق سے نہ روک دیں ۔ (ت ۱۰۴۵) اموال الناس اس میں جھوٹے وکلاء اورگنڈے فلیۃ کرنیوالے اور مساجد کے ناپرہیزگار ملا اور مشائخ دنیا دار خدا اور رسول کے کلام سے غافل نفس پرست دغا باز وغیرہ وغیرہ سب شریک ہیں ۔ (ت ۱۰۴۶) یکنزون الذھب الفضۃ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انسان جو کچھ ضروری خرچ کے بعد تیرے پاس بچے اس کو جمع رکھنا تیرے حق میں بہتر نہیں خیرات کا دینا بہتر ہے اور اہل و عیال کے ضروری خرچ کے وافق جمع رکھنے میں تجھ پر کچھ الزام نہیں شکوۃ صفحہ (۱۵۶) اور ایمان والوں میں دو چیزیں جمع نہیں ہوتیں حرص و بدخلقی رواہ الترمذی یحمی اعلیطا فی نارجھنم بتایا جائے گا اور گرم کیا جائے گا جہنم کی آگ میں (سونا پھر تارہے پھر پیٹھ پھر دیتا ہے ۔ (ت ۱۰۴۷) اربعۃ حرم یعنی رجب ۔ ذیقعدہ ۔ ذالحجہ ۔ محرم ۔ مشرکین عرب کو اگر لڑائی پیش آتی تھی تو ان تعظیم کے مہینوں کانام بدل دیتے اور لڑائی چھیڑ دیتے محرم کو صفر بنا لیتے اس کا نام نسی کا مہینہ تھا ۔ تعظیم کے مہینوں میں لڑائی منع تھی شمسی و قمری مہینوں کا حساب الگ ہے بشرطیکہ امور مبینہ میں رخل نہ دیا جائے ۔ (ت ۱۰۴۸) النسی دنیوی معاملات کا اندازہ عموماً شمسی حساب پر کا جاتا ہے اور دینی کا قمری پر۔ عرب شمسی حساب پورا کرنے کے لئے تاجرانہ حیثیت سے ایک مہینہ زیادہ کر دیا کرتے تھے جس کو نسی کہتے تھے۔ گویا لوند کا مہینہ تھا اس وجہ سے ادب کے مہینہ اپنے موقعہ پر نہیں رہتے تھے اس لئے قرآن مجید نے قمری مہینہ پر زور دیا اورکہا کہ ذلک الدین القیم حضرت نوح کے تین بیٹے تھے ۔ سام ۔ حام۔ یانث۔ ان کی اولاد بہت چلی وتھا بیٹا ایام ہے وہ طوفان میں غرق ہوا۔ یوم اور می کے لفظ میں اس کا ذکر ہے ۔ قاموس میں ہے کہکنعان کو لوح کا بیٹا کہتے یں وہ غلط ہے یہ ان کا پوتا ہے حام کی اولاد افریقہ میں ہے وہ جاہل ہیں ۔ حسام کی اولاد عرب ہیں۔ یانث کی اولاد یورپین ہیں۔ یانث سورج کا نام ہے ۔ سام چند کا نام ہے یہ سورج ہنسی اور حینا۔ رینسی بھی کہلاتے ہیں , سام کی اولاد قمری حساب لیتی ہے یانث کی شمسی مسلمانوں کا حساب بھی چاند سے ہے ۔ چاند اور سورج کے حساب میں باہم اختلاف ہے چاند کا سال (۳۵۵) دن کا ہے ۔ اور سورج ا سال (۳۶۵) دن کا ۔ (۳۶) سال میں ایک سال کا فرق پڑ جاتا ہے اس واسطے جس کی عمر (۵۰) سال کی ہو گی وہ گرمیوں سردیوں کا رمضان دیکھ لیگا جو عرب رحلۃ الشتاء والصیف کی حالت رکھتے ہیں اور ان کا تعلق غیر قوموں سے تھا وہ سورج کا حساب رکھتے تھے اور دوسرے عرب چاند کا اب سال میں دس دن کا فرق پڑنے لگا۔ پہلے عربوں نے سورج کا حساب رکھا تا کہ برسات اور موسموں کا حال ٹھیک معلوم رہے بعض ایسا کرتے کہ محرم کو (۴۱) دن بنا لیتے پھر صفر شروع کرتے سود کھانے والے ہندو ہی چاند سے حساب رکھتے ہیں اور دوسرے امور میں سورج سے جس کو سدی بدی کہتے ہیں نوروزمین حساب کو ملا لیتے ہیں ہلالی میں تنخواہ لینے والوں اور عبادت کرنے والوں کو فائدہ ہے ۔ (ت ۱۰۴۹) اذا قیل لیکم امتحان کے طور پر حکم ہے اور امتحان تین قسم کا ہوتا ہے (۱) ذلیل کرنے کے لئے جیسے کذلک بنلوھم بما کانو یفسقون (۲) اظہار کمالات کے لئے اذا بتلیٰ ابراھیم ربہ بکلمت (۳) پہلی غلطیوں کو چھڑوانے کے لئے جیسے بلوانا ھم بالحسنات والسیئات یہاں تیسری قسم امتحان کی مراد ہے۔ جس میں تحریص و ترغیب کی گئی ہے ۔ (ت ۱۰۵۰) اثاقلتم اس میں جنگ تبوک کی طرف اشارہ ہے جو ہجرت کے نویں سال واقع ہوئی اس کو غزوۃ العسراء جیش العسرہ اور غزوہ فافجہ ہی کہتے ہیں ۔ (ت ۱۰۵۱) یسبدل معلوم ہوتا ہے اسلام تو ہمیشہ رہے گا مگر نصاریٰ وغیرہ مسلمان ہو کر اس کے مالک نہ ہو جائیں اور ہم مفلس بے دین نہ رہ جائیں۔ اور ہمارے گھروں سے اسلام ہی نہ نکل جائے جیسے دنیا نکل گئی ہے ۔ اللھم نعوذبک من الحور بعد الکور ۔ (ت ۱۰۵۲) ان اللہ معنا آنحضرت ؐ کے غیر معمولی توکل و استقلال کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ عرب کی اتنی بڑی سخت عداوت اور آپ کی …… اور اس پر مخروں نہ رہنا کیونکہ قرآنی آیت سے تو کیا حدیث سے بھی ثابت نہیں کہ آپ دنیوی انکار سے کبھی محزون رہتے ہیں اس آیت سے اعلیٰ درجہ کی معیت حضور کی ثابت ہے ۔ (ت ۱۰۵۳) عفا اللہ عنک خدا تیرا بھلا کرے کمزوری دور کرے لم اذنت لھم کیوں اجازت دے دی ان کو معلوم تو کر لیتا سچے جھوٹے کو پھر اجازت دیتا یہ حضور کی بشریت کا ذکر ہے عالم الغیب تھے طبیعت بہت نرم واقع ہوئی ہے انما یستا ذنک الذین لایومنون ـ اذن دو قسم کا قرآن میں مذکور ہے اور ہر ایک اپنے محل پر بجائے ایک تو پارہ (۱۸) سورہ نور ان الذین یستاذونک الخ یہ ایمانداروں کا ہے دوسرے اس مقام پر بے ایمان اور منافق اور جھوٹے عذر پیش کرنے والوں کا بیان ہے ۔ (ت ۱۰۵۴) وھم کرھون یہ سستی ایمان اور ضعف ایمان کی علامت ہے کیونکہ اعمال سے ایمان کی قوت و ضعف معلوم ہوتا ہے ۔ (ت ۱۰۵۵) الصدقت آنحضرت نے بنو ہاشم پر مال صنہ و زکوۃ لینا حرام فرما دیا گو وہ کتنے ہی غریب ہوں تا کہ پوپوں اور برہمنوں کی طرح موسیٰ کی قوم لادی کی مانند مفت خور نہ ہو جائیں اور لوگ ان کی پوجا نہ کرنے لگیں اور خود غرضی دین کے خلوص کو نہ کھو دے۔ احکام الصدقات (۱) زکوۃ یہ سوائے ان لوگوں کے کسی کے لئے جائز نہیں انما الصدقت للفقراء والمسکین والعملین علیھا وللمولفۃ قلوبھم وفی الرقاب والغار مین وفی سبیل اللہ وابن السبیل فریضۃ من اللہ واللہ علیہم حکیم (ترجمہ) زکوۃ جو حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور اس کام پر جانے والون کا اور جن کا دل پر جانا ہے اور گردن چھڑانے اور جا تاوان بھریں اور اللہ کی راہ میں اور راہ کے مسافر کو ٹھہرا دیا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ سب جانتا ہے حکمت والا (ترجمہ ساب عبدالقادر صاحب) (۲) صدقہ ہی مثل زکوۃ کے سادات کے لئے لینے یا کھانے سے روکا گیا ہے عن ابی ملئیکۃ ان خالدین سعید بن العاص بحث الی عائشۃ بقرۃ فقالت انا ال محمد الا ناکل الصدقہ (ش) کنزالعمال جلد ۳ صفحہ ۳۱۹ حدیث نمبر ۵۲۸۷ حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں ایک گائے حصہ بھیجا گیا آپ نے فرمایا ہ ال محمد ہیں ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے (۳) ہاں سادات کے لئے ان کا ذاتی صدقہ کھانا جائز ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے عن طاؤس قال اخبرنی حجری المدری انسانی صدقۃ النبی ﷺ یاکل منھا اھلھا بالمعروف غیر المنکو (ش) مندہ صحیح۔ طائوس سے روایت ہے کہ حجر المدری نے مجھے خبر دی کہ آنحضرت ﷺ کے صدقہ سے آپ کے گھر والے کھاتے تھے بلا کراہت (۴) کسی کے پاس صدقہ آیا ہو اور وہ کسی کے ہاں بھیج دے خواہ سادات خواہ غیر کے وہ تحفہ ہو گا یعنی بھیجنے والے کے لئے صدقہاور جس کے لئے اس نے بھیجا ہے وہ تحفہ ہو جاتا ہے ۔ (ت ۱۰۵۶) للفقراء ـ فقراء کے اقسام ہیں ۔ المسکین ۔ مساکین کے اقسام ہیں ـ العملین علیھا ۔ زکوۃ اور چندون کا مال جمع کرنے والے۔ فی سبیل اللہ یعنی مجاہدین کی خدمت گزاری میں جو شمشیہ یا قلم وغیرہ سے کام کرتے ہوں ۔ وابن السبیل ۔ مسافر ان ہی کو صدقات کا دینا حصر ہے ۔ ۔ (ت ۱۰۵۷) نخوض ونلعب میں شعار فساق اور ھزلیات اور تلازمات یارانہ وغیرہ ہی داخل ہیں۔ چنانچہ کوئی کہتے ہیں۔ دل ازمھر محمد ریش دارم۔ رقابت باضائے خویش دارم اور عرفی کا قول ۔ تقدیر بیک ناقہ نشانید درمجمل سمائے حدوث تو ولیلائے قدم را وغیرہ ۔ ۔ (ت ۱۰۵۸) یامرون بالمنکر منافق الٹی چال چلتے ہیں مومنوں کو ان کا مون سے بچنے کے لئے سنایا گیا ۔ اسی طرح مغضوب کے حالات سنا کر تمام قرآن مجید میں محفوظ رہنے کے لئے تاکید کی گئی ہے اور مقصود تلاوت اور حفظ قرآن سے یہی ہے کہ منافق اور مغضوب کے حالات سے عملاً ضرور ضرور بچیں ۔ ۔ (ت ۱۰۵۹) فنسیھم نسیان بہ معنی فراموشی اور اس کے معنی لعت میں ترک بھی ہیں کیونکہ نسیان شمان و صفات الٰہی کے خلاف ہے ۔ (ت ۱۰۶۰) جاھد الکفار منافقوں کے سات خوب کوشش کر تا کہ مخلص اور منافق اور دغا باز اور بے ریا الگ ہو جائیں اور واغلظ علیھم کی ضمیر منافق اور کفار دونوں کی طرف پھرتی ہے۔ کیونکہ اشداء علی الکفار بھی آتا ہے ۔ (ت ۱۰۶۱) ماؤلھم جھنم
    جہنم کمزو وماد قرآن خبر
    ہمیں حرص دنیاست جان پدر
    یہ عقائد باطلہ کے جلانے کی بھی اصلاح کامل کا کارخانہ بدترین فصرالناس کی اخیر اصلاح کا موقعہ ہے۔ اوائل میں انسان کی بذریعہ توبہ ۔ استغفار ۔ صدقہ ۔ دوسرے سے دعا کرا۔ تقویٰ اور عبادات۔ خدمت مخلوق ۔ اعمال صالحہ۔ مصائبات کے بہت کچھ اصلاح ہو جاتی ہے۔ پھر قبر کے مشکلات صالحین کا جنازہ پڑہنا ۔ روزے اور کھانا اور قرآن وغیرہ نیکیوں کا اجر بھی میرے نزدیک مردہ کو فائدہ دیتا ہے۔ اور اس کی اصلاح کے لئے مفید پڑتا ہے اور انسان کو بہشتی بنا دیتا ہے ۔ (ت ۱۰۶۲) یحلفون باللہ یہ بھی منافقوں کی علامت ہے کہ قسمیں بہت کھاتے ہیں وھموا بما لم ینالوا۔ یعنیایسی چال چلے جس میں ناکامیابی حاصل ہوئی۔ اس آیت شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ منافق اپنی تدبیروں میں اکثر ناکامیاب ہوتے ہیں۔ منافقوں کی قرآن مجید و حدیث شریف میں بہت سی عادات وحالات کا ذکر ہے ایک اس میں سے یہ بھی ہے کہ ھموا بما لم ینالوا اس میں شیعون کا بھی رد ہے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام خلافت اولیٰ کی خواہش کی ہوتی تو وہ کامیاب ہو جاتے ۔ (ت ۱۰۶۳) عذابا الیما فی الدنیا یہہ پیشگوئیاں ہیں اور دنا کے عذاب و پیشگوئیوں کا ظہور آخرت کے عذاب اور پیشگوئیوں کے ظہور کی مثبت ہیں صحابہ تو کامیاب رہے۔ شیعوں سے پوچھو وہ منافق کیسے تھے ۔ (ت ۱۰۶۴) من عھد اللہ بہت معاہدے اور منتقیں نہ کرنا چاہئے بلکہ جو نیکی ہو سکے وہ فوراً کر دینا چاہئے۔ کیونکہ کہیں نقص عہد نہ ہو جائے۔ جو موجب نفاق ہے۔ وھم معرضون خدا سے عہد کر کے بد عہدی کرنا۔ اس کی منت پوری نہ کرنا جھوٹ بولنا موجب نفاق ہے ہر گناہ کی اصل خدائی بتائی ہے ۔ (ت ۱۰۶۵) سخر اللہ منھم جوکوئی غرور یادعویٰ کرتا ہے کسی پر ہنستا ہے تو وہ اسی میں مبتلا ہو کر مرے گا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے من ضحک ستحک ۔ (ت ۱۰۶۶) سبعین مرۃ ہمارے حضور شفیع ہیں۔ ہماری طرف سے بہت بہت استغفار کرتے ہیں یہ آیت ہی شفاعت کے دلائل میں سے ہے۔ (ت ۱۰۶۷) لن تخرجوا کم عقل آدمی گناہ کر کے یہ کہتا ہے کہ (یا رب تو کریمی و رسول تو کریم) سچ تو ہے ہمارے حضور رحمۃ للعلمین ہیں اور اللہ ہی رحمن اور رحیم ہے مگر دیکھو منافق گناہگاروں کے حق میں قطعی فیصلہ ہو گیا ہے ۔ لن تخرجوا معی ابد اور استغفرلھم لن یغفراللہ ھم اوپر آچکا ہیمعلوم ہوتا ہے کہ ایمان بین الخوف والرجاء ہے بڑی بڑی خطائیں کر کے معافی مانگنے کو پیشہ قرار دینا بہت ہی برا ہے۔ ہر وقت استغفار اور توبہ میں لگے رہنا چاہئے اور خطائوں کو چھوڑ دینا چاہئے ۔ (ت ۱۰۶۸) ولا تعجبک یعنی بدعہدوں اور سرکشوں کو اس قدر مال واولاد کی کثرت کیوں ہویت ہے جب کہ وہ ہر امر میں رب العالمین کو ناراض کرتے ہیں؟ جو اب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ ان کی آزمائش کا موجب نہیں ہے۔ بلکہ موجب تکلیف دنیا اور آخرت ہے۔ کیونکہ مہلت و تنبیہہ اور شکر گزاری اور اطاعت کے درجے عفلت میں طے ہو جاتے ہیں اور موقعہ نہیں رہتا۔ دکھیا اور غریب آدمی دنیا سے بیزار ہو کر بھی رجوع بہ حق کر لیتا ہے مگر مال و دولت میں پھنسے ہوئے اس س مرتے دم تک بہت کم باز آتے ہیں اللھم اصلح امتہ محمد ﷺ
    الجزء 11
    (ت ۱۰۶۹) صلوث قلعی آیت شفاعت کی ہے ۔ (ت ۱۰۷۰) والسبقون یعنی غیر مقلدوں کیکتابوں میں ار بار دیکھا ہے کہ قول صحابہ اور تابعی محبت نہیں وہ اسی آیت کو بار بار پڑہیں اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میں ان سے راضی اور وہ مجھ سے راضی تو پھر ان کا فتویٰ کیوں نہ مقبول ہو ذالک رجع بعید سابقین اور اولین مہاجرین اور انصار مثلاً حضرت ابوبکر و عمر و عثمان وعلی رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور تابعین میں حضرت امام اعظم وغیرہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے جو لوگ بغض و عداوت رکھتے ہیں اور ان کو بد کہنا عبادت سمجھتے ہیں وہ اس آیت سے عبرت پکڑیں کیونکہ یہ سب لوگ جنتی ہیں جن سے اللہ خوش ہے ۔ (ت ۱۰۷۱) مان یتوب یعنی ان سے گنہہ چھڑا دے نیک بنا دے۔ انسان سے غلطی ہو جائے تو نیکی کرتا ہے اور نہ تھکے تو امید ہے کہ اس پر اللہ ا فضل ہو جائے کیونکہ وہ تو رب و رحیم ہے جیسے ابو لبابہ اور دوسرے صحابہ جو سستی سے جنگ بتوک میں شریک نہ ہو سکے تھے پھر اس سستی پر سخت نادم ہوئے اور مسجد نبوی کے ستونوں پر اپنے آپ کو باندھ دیا۔ اور کئی روز تک بندہے ہوئے روتے رہے پھر حسب الحکم آن حضرت نے ان کو کھولا اور انہوں نے گناہوں کے کفارہ میں صدقات دئے اور نیکیوں پر جمے رہنے کا نتیجہ پایا ۔ (ت ۱۰۷۲) سکن ھم یہ آیت بھی شفاعت کی قطعی آیت ہے ۔ (ت ۱۰۷۳) مسجد اضرارا ابو عامر نامی تورات و انجیل سے واقف پیشوا بننے کی ہوش رکھتا تھا اس کا بیٹا خطلہ مسلمان ہو کا تھا غزوہ ہوازن کے بعد یہ مایوس ہو کر شام کی طرف نکل گیا حق اور خلاف اسلام منصوبے باندھتا رہا منافقین مدینہ کو کہلا بھیجا کہ تم سامان جنگ تیار رکھو میں قیصر روم کا ایک لشکر لے کر محمد ﷺ پر ایک حملہ کروں گا منافقین نے ایک مسجد اس غرض سے بنائی کہ مسلمانوں میں تفریق کر دیں اور کچھ اپنی طرف شریک کر لیں جب آنحضرت ؐ جنگ تبوک کے لئے تیار تھے اس وقت یہ مسجد تیار ہو چکی تھی۔ منافقین نے آنحضرت ؐ سے درخواست کی کہ آپ ہماری مسجد میں تشریف لے چلیں آپ نے عذر فرمایا کہ میں برسر سفر ہوں واپس آکر چلوں گا۔ واپسی کے بعد پھر وہی درخواست کی تب اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس کے حالات بیان فرمائے۔ آنحضرت ؐ نے مالک بن و حشم اور معان بن عدی اور عامر بن سکن وغیرہ کو اس مسجد کے گرا دینے کا حکم دیا چنانچہ انہوں نے اس کو چلا دیا اب بھی مسجد ضرار کی جگہ ……… ہے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نیکی کا کام بھ اگر ضد و خلاف تقویٰ کیا جائے تو وہ ناجائز ہے ۔ (ت ۱۰۷۴) لمن جارب اللہ اس میں پیشگوئی ہے جو ایسا کرے گا وہ سزا پائے گا ۔ (ت ۱۰۷۵) انفسھم نفس کے دو معنی جان اور اس روح کا ترجمہ عام ہے روح کے معنی خاص جان نہیں کیونکہ ارشاد ہے قل الروح من امر ربی امر رب وحی الہام فرشتہ جبرئیل آنحضرت ﷺ واقعات عظیمہ اور یہ لفظ قرآن شریف میں تقریباً بارہ جگہ آیا ہے اور اکثر مختلف المعنی ہے ۔ (ت ۱۰۷۶) حقا دیکھو سفر استثنا ۲۸ باب تا ۱۴ درس اور ۳۲ باب درس (۱) دیکھو انجیل متی ۵ باب آیت بارہ ۔ (ت ۱۰۷۷) الحفظون لحدود اللہ یہ غلط ہے کہ مستحق کرامت گنہگار انند ۔ ہاں بعد توبہ مقبول اصل حدود اللہ کی حفاظت ایمان دار کا دستورالعمل و اسوہ حسنہ ہوتا ہے ۔ (ت ۱۰۷۸) ان یستغفروا یہ سوچنے کی بات ہے کہ کوئی کسی کے ماں باپ کو دہیڑ یا چمار یا مہتر کہدے تو وہ آگ بگولا ہو جائے اور مرنے اور مارنے پر تیار ہو تو ماسوائے اللہ کو ربنا اللہ کہنے والے مومنوں کو کیسے آگ لگاتے ہیں اور ان کے قلوب رقیقہ کا کیا حال ہوتا ہو گا اگر وہ شریعت سے مودب نہ ہوتے اور اخلاق الھیہ کا پرتو نہ رکھتے تو ایسے لوگوں کا نام و نشان نہ رہنے دیتے۔ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے الشرک لظلم عظیم ۔ (ت ۱۰۷۹) لابیہ اب کا لفظ عام ہے یعنی چچا اور تایا کو بھی کہتے ہیں اور یہاں چچا ہی مراد ہے جس سے دعا ابراہیم نے کرنے کا وعدہ فرمایا تھا دیکھو اور جب معلوم ہوا کہ وہ عدد اللہ ہے تو پھر اس سے حضرت ابرایم بزار ہو گئے چچا کو اب کہنے کا محاورہ دیکھو پارہ (۱) رکوع (۱) اور ۱۶ رکوع (۶) اور والد کا لفظ جو خاص ہے ان کے لئے حضرت ابراہیم نے دعا کی ہے اور اس کے ساتھ کوئی تنبیہہ و ممانعت نہیں دیکھو پارہ ۱۳ رکوع ۱۸ ۔ ابراہیم کے والد کا نام تارخ تھا جیسا کہ تورات اور زرقانی شرح مواہب میں مذکور ہے یہ آذر اس شہر کا بڑا آدمی تھا ۔ (ت ۱۰۸۰) لیضل جبر و تقدیر کے مسئلے پر ہر قوم میں بہت سی بحثیں ہوئی ہیں اور ہوتی ہیں اگر قرآن تدبر کے ساتھ لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا تو کبھی غلطی نہ کھاتے۔ کیونکہ یہواضح کر دیا گیا ہے کہ قرآنی احکام انسان کے ان قویٰ کے لئے ہیں جن پر اسکو اختیار ہے اس بناء پر اعتقاد تثلیث اور کفارہ اور بدعات اور رسوم واھیہ جو طبی یا شرعی طور پر مفید نہہوں۔ غلط اور برے اور قابل اعتقاد و عمل عقلاء نہیں ۔ (ت ۱۰۸۱) فی ساعۃ العسرۃ اس سے بعیش عسرہ مراد ہے جس میں بیس ہزار صحابی تھے ۔ (ت ۱۰۸۲) وعلی الثلثہ کعب بن مالک شاعر مرازہ بن ربیعہ اور بلال بن امیہ انصاری بخاری نے کعب سے روایت کی ہے کہ میں بدر کے سوا کسی موقعہ پر آنحضرت سے پیچھے نہیں رہا اور جنگ تبوک میں بسبب سستی کے کہ آج چلتا ہوں کل چلتا ہوں پیچھے رہ گیا ۔ (ت ۱۰۸۳) کونو مع الصدقین رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ انسان اپنی دولت ہے تو تم خیال رکھا کرو کہکس طرح تمہارا لوگوں سے میل جول ہے۔ یعنی تم چوروں کے پاس ہو یا امینوں کے اگر چوروں کے پاس ہو تو وہ بے محل خرچ کریں گے اور اگر امینوں کے پاس ہو تو وہ تمہاری عزت و آبرو کی حفاظت کریں گے ۔ (ت ۱۰۸۴) یصلونکم من الکفار اعداء عدوک نفسک التی میں جنبک نفس کشی اور رسم کشی اور ترک بدعات خلاف شرع و عقل و حکمت و صحبت بد یہ پہلے جہاد ہو کیونکہ یہ بہت قریب سے اس کے بعد کونو مع الصادقین پر عمل کیا جائے ۔ (ت ۱۰۸۵) ولاھم یذکرون آدمی پر کوئی مصیبت آئے تو وہ جھٹ توبہ کر لے اور اطاعت الٰہی میں لگ جائے اور خدا کی نصیحت یاد رکھے اور غافلوں میں نہ ہو ۔ (ت ۱۰۸۶) العرش العظیم عرش اللہ کی وہ صفت ہے جس سے سارے امور کا انتظام متعلق ہے اور اس کو آسمان اور زمین کے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں نہ کوئی مخلوق چیز ہے ۔
    سورہ یونس
    (ت ۱۰۸۷) تمہید ۔ یہ سورہ مکی ہے ایک پہچانت جس سے مکی اور مدنی سورتوں میں جلد تمیز ہو جائے یہ ہے کہ مکیسورتوں میں دلائل نبوت و دلائل ہستی باری تعالیٰ و مسئلہ جزا و سزا و تقدیر وغیرہ بڑی شدو مد سے بیان ہوتے ہیں اور مدنی میں نرمی سے ۔ (ت ۱۰۸۸) الر یاانا اللہ اری میں اللہدیکھتا ہوں تمہارے تعلقات جو نبی کریم سے ہیں اور ان کے معاملات جو تمہارے ساتھ ہیں ۔ (ت ۱۰۸۹) عجباً لوگوں کو ہیشہ تعجب ہوا کرتاہے کہ وحی کیسی ہوتی ہے ہم ہی جیسا ایک آدمی کہتا ہیکہ مجھے وحی ہوئی اس وحی میں دو باتیں ہوتی ہیں دشمنوں کی ذلتکا اور اپنی اور اپنے دوستوں کی عزت اور فتوحات اور کامیابیوں کا بار بار بیان ہوتاہے اور ہور واقعات کے بعد وہی کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے کہ جھوٹا کامیاب نہیں ہوتا اور راستباز کامیاب ہو جاتا ہے۔ تعجب کی کیا باتہے تمام عہدہ دار اور مفید کاموں پر لوگوں ہی سے منتخب کئے اتے ہیں جیسے بادشاہ و وزیر اور عالم و طبیب عوام سے ممتاز ہوتے ہیں اسی طرح ایک انسان پر وحی نازل ہو تو کیا تعجب ہے ۔ شعر
    وان تفق الا نام فانت منھم
    فان المسلک بعض دمرالغزاں
    ۔ (ت ۱۰۹۰) صدق عرب میں ہر بدی کا نام کذب ہے اور عمدہ بات کا نام صدق ہے ۔ (ت ۱۰۹۱) لسحرمبین یہ نبوت کی دلیل ہے کہ دشمن تک اقرار کرا ہٹے۔ (کہ تیری باتیں توہین دلربا پر ملک و قوم سے قطع تعلق کرانے والی ہیں) کیونکہان کی اصطلاح میں فوق العادۃ امر کو سحر کہتے ہیں ۔ (ت ۱۰۹۲) ستۃ ایام ۔ ہر ایک شئے کا کمال چہہ مرتبوں کے بعد ہوتا ے مثلا (۶) ماہ میں کھتیاں پیدا ہو کر پک جاتی ہیں ۔ آوہا سال ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ امور ۔ (ت ۱۰۹۳) شفیع یہ اور ایک دلیل ہے نبوت کی یعنی شفیع اور حمایتی سوائے رسول کے کوئی نہیں ہوتا اور رسول بغیر اللہ کے حکم کے کوئی نہیں بن سکتا ۔ (ت ۱۰۹۴) حمیم کیونکہ حق پوشی جوش غضب کا موجب ہو گئی ہے تو پانی میں بھی لذت اور بردیت نہ رہی ۔ (ت ۱۰۹۵) الشمس اس میں ظاہری نظارہ بتا کر باطنی روحانی امور کی طرف اشارہ اور استدلال فرمایا ہے کہ نہانے والا کیسا مبدء الانور والقیوض ہو گا ۔ (ت ۱۰۹۶) الحساب مسلمانوں کو چاہئے کہ ریاضی اور حساب پر توجہ کریں ان کا خداوند جلد حساب لینے والا ہے آخرت کا حساب تو جیسا کچھ دشوار ہے معلوم مگر یہاں دنیا میں بھی شرمندہ و ذلیل نہ ہونا پڑے اور ادنیٰ ادنیٰ حساب میں نقصان اٹھا کر ڈوبتے نہ پھریں ۔ (ت ۱۰۹۷) لایرجون معنی امید نہیں رکھتے اور خوف نہیں رکھتے ۔ (ت ۱۰۹۸) غفلون غفلت کے دس برے نتیجے ہیں (۱) پہلے جو شخص تذکرہ قرآنی اور آیات الٰہی سے منہ پھیرتا ہے وہ مجرم الٰہی ہے دوسرے غفلت کے باعث انسان اعمال کے نتائج سے عبرت حاصل نہیں کر سکتا اور ظالم ہو جاتا ہے۔ تیسرے غفلت سے انسان حیوان لایعقل بن جاتا ہے اور اصلاح قریب ناممکن ہو جاتی ہے چوتھے غفلت سے بدعہمی بے ایمانی دنیا پرستی اور استغنا عن اللہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ پانچویں غفلت میں انسان کا دل غیر مستقل رہتا ہے اور انجام بخیر نہیں ہوتا۔ چھٹے غفلت سے واہیات قصے نامعلوم طور پر انسان کو بیدیں بنا دیتے ہیں ساتویں غفلت سے لوگ آخرت کو بھلا دیتے ہیں اور عذاب کے مستحق ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گناہ کر دیتے ہیں ۔ آٹھویں غفلت سے بھولے ہوئے لوگ اٹکل بازی کی باتیں کر کے *** الٰہی کے نیچے آجاتے ہیں۔ نویں غفلت سے نصیحت و یاد دہانی غیر موثر ہوتی ہے اور خدا ترسوں پر موثر اور یہی سعید اور شقی کی پہچانت ہے۔ دسویں غفلت سے جب فساد قلبی و بدکاری انتہا درجہ کو پہنچ جاتی ہے تو بدبخت لوگ سرکشی اور مکالفت سعیدوں سے کرنے لگتے ہیں اور شیطانی جامہ پہن لیتے ہیں ۔ (ت ۱۰۹۹) الحمد للہ یعنی سب حمد اللہ ہی کی ہے جو آہستہ آہستہ سب جہانوں کو گہال کی طرف پہنچانے والا ہے۔ اور حسب مراتب مقاصد و مطالب پر فائز کرنے والا ہے ۔ (ت ۱۱۰۰) یعجل اللہ بیوقوف انسان بدی کی دعائیں ایسی تیزی اور دل چسپی سے مانگتا ہے علی الخصوص عورتیں جیسے کوئی بڑی بھلیاور خیر کے لئے عاجزی اور گڑ گڑا کے دعائیں کر رہا ہے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ یاد دلا کے فرماتا ہے کہ اگر ہم ان کی بددعائیں جلدی منظور فرما لیتے جو بھلائی کے طرح مانگی گئیں ہیں تو تباہ اور ستیاناس ہو جاتے اور تمام کام درہم و برہم ہو جائیں جیسے ابوجہل وغیرہ نے دعا مانگی امطر علینا حجارۃ الخ عورتیں اور جاہل ماں باپ اپنے بچوں اور جانوروں اور تجارتوں اور …… وغیرہ کو بھی بہت کوستے ہیں وہ ضرور ضرور بچیں کیونکہ بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ دعا خطا نہیں کرتی ہو کے رہتی ہے۔ مطلب یہ ہوا جس طرح ہم نیک دعائیں جلدی قبول کرتے ہیں اسی طرح سزائیں بھی جلد دیتے تو یہ کبھی کے مر جاتے ۔ (ت ۱۱۰۱) بالبینت یہ عذاب کے لئے اتمام حجت ہے کیونکہ وما کنا مغدبین حتی نبعث رسولا آتا ہے گو رسول کے آئے بعد بہت ڈرنا چاہئے ۔(ت ۱۱۰۲) کیف تعملون سب کو فکر میں ڈالنے والی آیت ہے اس سے سامع و قاری متبہ رہیں غافل نہ ہوں ۔(ت ۱۱۰۳) یہ بد مذاقوں کا مذاق ہے قرآن کی جگہ مثنوی اور گانا سننے وغیرہ کی خواہش ہونا کسی نیک انسان نے ایسا کیا ہو تو وہ بیمار سمجھا جائے اور اس کی بات کی تاویل کی جائینہ کہ قرآن و حدیث سے مقابلہ ۔(ت ۱۱۰۴) لبثت فیکم عمرا یعنی دعویٰ نبوت سے پہلے چالیس سال تمہارے ملک میں رہاہوں۔ تو کیا کبھی تم نے سوچا ہے کہ میں نے دغا بازی یا فریب یا کوئی بناوٹ کبھی کی اس آیت شریف سے رسول اللہ کی پاک زندگی کا ثبوت اعلیف درجہ ا ملتا ہے اور ان دو آیتوں میں نبی کی شناخت کرنے کے لئے دو یاتین فرماتا ہے اوّل یہ کہ اس کی وہ عمر جو دعویٰ سے پہلے ہے نہایت پاک و صاف گذری ہو ۔ کیونکہ جو مخلوق پر کذب کو ترک کرتا ہے ۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک دم خالق پر افترا کرے دوسری بات دعویٰ کے بعد وہ کامیاب ہوتا اور اس کا دشمن ناکام ہوتا ۔(ت ۱۱۰۵) امۃ واحدۃ جب دینی غیرت کم ہو جاتی ہے اور لوگ کہنے لگتے ہیں کہ عیسیٰ بدیں خود موسیٰ بدیں خود اور اختلاف سخت بطور نقار قلوب میں ثابت ہو جاتا ہے اور ایک کو ایک نیک بات نہیں کہتا اور ایسے موقعہ پر سکوت کو کلام سے بہتر سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر ایک کو اپنی قبر میں جو اب دنیا ہے کسی نے ہم کو کیا کام اور یہ زمانہ انبیاء اور مامور اور مجدد کے مبعوث ہونے کا ہوتا ہے جیسا کہ ایک جگہ ارشاد ہے فبعث اللہ النبیین الخ مبشرین ومنذرین بقرہ رکوع ۔(ت ۱۱۰۶) کلمۃ دیکھو پارہ (۹) رکوع (۱۸) آیت (۶) ۔(ت ۱۱۰۷) لغفلین انبیاء اور اولیاء اور بت وغیرہ کو لوگ اپنے ہی خیال سے پوجتے ہیں جس میں نہ ان کی مرضی ہے نہان کو خبر ہے اور اس کا خدا گواہ ہے ۔(ت ۱۱۰۸) یخرج الحی انڈوں سے چوزے اور مرعی سے انڈے گندوں سے نیک اور نیکوں سے گندے پیدا فرماتا ہے ۔(ت ۱۱۰۹) یدبرالامر خدا کی صفات یاد دلانے سے ایمان بڑھتا ہے اور احسان یاد دلانے سے محبت اس لئے دونوں سلسلے قرآن میں چلتے ہیں ۔(ت ۱۱۱۰) فمالکمکے بعد قف ہے مطلب یہ ہے کہ خوب سوچ لو ۔(ت ۱۱۱۱) بسورۃ فصاحت میں بلاغت میں پیشگوئیون میں قصص سابق میں جو امع الکم ہونے می مثل نیا نیکی کوشش سے باز رکھتے ہیں؍۔ دل پھیر دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ سب امور میں بے مثل ہے ۔(ت ۱۱۱۲) کذبوا اگر حق بات پر تکذیب ہونے لگے تو اس سے نجات کے لئیے مجزب نسخہ یہ ہے (۱) خیرات و صدقہ و استغفار و لاحول و درود شریف و سورہ الحمد بالا ستقلال معنی کا لحاظ رکھ کر پڑہا کرے۔ (۲) پھر …… میکائیل و اسرافیل و عزرائیل کے لفط کے ساتھ دعا مانگے جو کہ محکمہ دینیات و علوم حقہ کا آفیسر وخدمت میں جبرئیل ہے ۔ دنیاوی عام کا آفیسر میکائیل ہے اور اموات اور زوال کا عزرائیل اور جہات اور کارگزاری کا آفیسر اسرافیل ہے۔ پھر عاجزی سے … کے اندر ہر رکن میں …… کان مسنونہ کے دعائیں بالدوام مانگا کرے اور یہ اسم اعظم پڑہے۔ ربنا کل شی ء خادمک ربنا فاحفظلنا وانصرنا وارحمنا ۔(ت ۱۱۱۳) ھذا لوعد یعنی تیری فتح کب ہو گی ۔ مکہ والوں نے سمجھا کہ پیشگوئی کر کے ہم کو ڈراتا ہے تو پوچھا کہ وہ وعدہ کب پورا ہو گا تیری فتح کب ہو گی ۔ (ت ۱۱۱۴) انہ الحق یہ تکرار اخلاف ظائع کی وجہ سے ہے کہ ہاں ضرور ضرور ایسا ہی ہو گا اور تاکید کی ہے ۔(ت ۱۱۱۵) اسروا اسرالغت اضداد میں سے ہے جس کے معنی اظہار اور اخفا کے ہیں ۔ (ت ۱۱۱۶) لما اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف میں لما استقبال کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔(ت ۱۱۱۷) یجمعون صدہزار افسوس ایسی عزیز کتاب بے سمجھے چھوڑ دی گئی اور اکثر نابینائوں اور نادانوں نے بے سمجھی سے حفظ کر لی اور روحانی اور باطنی فائدہ جس سے مراد عملی حصہ ہے بڑی بے قدری سے چھوڑا گیا اشکواس وحزلی الی اللہ ۔(ت ۱۱۱۸) یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے س میں آنحضرت ؐ کی حفاظت کے سواء ان کے ازواج کو بھی محفوظ کر لیا ہے یعنی حفاظت اور نصرت ان کے ازواج کو بھی محفوظ کر لیا ہے یعنی حفاظت اور نصرت ان کے شامل حال بھی رہے گی چونکہ انسان کے ننگ و ناموس بی بیان ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا وعدہ بھی آپ کے ساتھ فرما لیا کیونکہ مفرد صیغے آرہے تھے پھر ساتھ ہی تعلمون اور علیکم ضمائر جمع آگئیں اور آپ کا طرز عمل بھی تھا کہ ازواج کو ساتھ رکھا کرتے تھے اور صدیق بھی جو کامل رنگ سے مخدوم کے رنگین ہو گئے تھے محفوظ رہے ۔(ت ۱۱۱۹) الا ان اولیاء اللہ لاخوف علیھم ولاھم یحزنون جب یہ قاعدہ ہے کہ اولیاء اللہبے خوف اور بے حزن ہوتے ہیں تو تو بھی اولیاء اللہ سے ہے ۔ پھر فطرتی سوال ہے کہ ولی کون؟ ارشاد ہوتا ہے الذین امنوا وکانوا یتقون یعنی جو مومن باللہ ہو اور اللہ کے متقی مومن کی تعریف پارہ (۱۸) قد افلح المومنون تا ختم رکوع دیکھو۔ اور لاخوف یہ جملہ اسمیہ ہے استرار اور دوم پایا جاتا ہے تو اس کے افراد اور مصداق ہمیشہ ہو سکتے ہیں فلیسعمل العاملون ۔ (ت ۱۱۲۰) اتخذاللہ ولدا خدا کی شان ان باتوں سے بالکل بری اور پاک ہے کہ اس کے واسے کوئی بیٹا تجویز کیا جاوے نصارا کی یہ کیسی مہمل دلیل ہے کہ جب نبیوں سے کام نہ چلا تو خود مریم کے پیٹ سے خدا پیدا ہوا یعنی وہ انسانی شکل میں آکر دنیا کو پاک کرے اور وہ پھر بھی کامیاب نہ ہوا نعوذ باللہ …… عیسائیوں کے عقیدہ کے موافق بیٹے میں رحیم ہے عدالک نہیں اور خدا میں عدالت ہے اور رحم نہیں قابل صد افسوس ۔ (ت ۱۱۲۱) متاع فی الدنیا یہ نصاریٰ کے لئے پیشگوئی ہے کہ وہ دنیا میں تو دولتمند ہو جائیں گے مگر دین سے بے بہرہ رہیں گے کہ مسیح کو خدا اور خدا کا فرزند مانتے رہیں گے ۔ (ت ۱۱۲۲) واقل علیھم قرآن شریف میں بعض قصے ایک ایک اور دو اور تین اور چار اور پانچ اور چھ اور سات سات مرتبہ آئے ہیںاور بعض بکثرت جس کو خدا کی ہستی کے ساتھ تعلق ہے وہ سب سے زیادہ آیا ہے کیونکہ اسلام توحید سکھانے کو آیا اسی طرح نبوت کے بحث میں بہت دلائل ہیں خاص کر حضرت موسیٰ کا قصہ بار بار بیان ہوتا ہے کیونکہ رسول کیرم ﷺ کو ان کا مثیل قرار دیا ہے ان کے سوا وہ قصے ہیں جن کی پیشگوئی عظیم الشان ہے ۔ (ت ۱۱۲۳) لایفلح الساحرون جادوگروں کی پہچان اوران کا انجام اس آیت شریف میں بیان ہوا ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہوتے ذلیل رہتے ہیں ۔ (ت ۱۱۲۴) فتنۃ یعنی ہم کو ظالموں کا تختہ مشق نہ بنانا کہ وہ ہم پر ظلم کئے جائیں ۔ (ت ۱۱۲۵) بیوتکم قبلہ اس کے پانچ معنی ہیں ایک مقابلہ گھر بنائو دوسرے امن کا گھر بنائو۔ تیسرے حضرت موسیٰ کا الہام ہے کہ گھروں میں قربانی کرو خون کا چھاپہ لگائو باآئیگی تو تمہارے گھر بچ رہیں گے چوتھے ذکر کیجگہ بنائو۔ نماز گھروں میں پڑھو باہر اجتماع نہ کرو۔ اللہ کو مانا ہے تو تم اسی پر بھروسہ کرو جب خدائی فرمانبردار ہو ۔ (ت ۱۱۲۶) لایعلمون یعنی وقت معین ہے چالیس سال کا جلدی نہ کرنا اور تاخیر کی مصلحت سے بے خبر نہ ہو جانا ۔ (ت ۱۱۲۷) ببدنک یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ زمانہ حال میں فرعوانہ کی نعش دستیاب ہوئی جو مصر کے عجائب خانہ می رکھی ہوئی ہے دیکھو کتاب اکتشاف عالم ۔ ننجیک ۔ ننجی بخوی سے مشتق ہے جس کے معنی اونچی جگہ کے ہیں ۔ (ت ۱۱۲۸) جاء ھم العلم ـ اللھم لا تجعلنا منھم ولا تجعلنا من الخافلین المتخالفین بعد ما اعطانا ـ العم آمین ثم آمین ۔ (ت ۱۱۲۹) فان کنت فی شک اس میں مخاطب نبی کریم ﷺ اور مومن آپ ا متبع نہیں کیونکہ آپ کے لئے یہ آیت وارد ہے قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہعلی بصیرہ انا ومن اتبعنی (سورہ یوسف رکوع آخر) مراد اس سے خطاب منکر یا متردد کو ہے مما انزلنا الیک سے نبی کریم کی تعیین نہیں ہوتی کیونکہ ابتعوا ما انزل الیکم من ربکم الایہ میں خطاب کو عام کردیا ہے اور عقلاً بھی جائز نہیں کہ نبی کریم ﷺ کو کوئی شک ہو ۔ (ت ۱۱۳۰) قلولا یہاں لولا ترعیب کے لئے ہے۔ ایسا کیوںنہیں کیایعنی ایسا کرے تو اچھا تھا ۔ (ت ۱۱۳۱) الا قوم یونس یونس کی قوم کے لئے عذاب مقرر اور معین ہو جکا تھا مگر جب آثار عذاب ظاہر ہوئے تو وہ ایمان لائے اور تائب ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ٹال دیا اس امر کا ثبوت کہ عذاب ان پر مقرر ہو چکا تھا اس سے پہلی آیتیں ہیں ان الذین حقت علیھم کلمۃ ربک لایومنون ولوجاء تھم کل آیہ حتی یرو العذاب الالیم کہ جن لوگوں پر عذاب کا حکم لگ چکا ہے جب تک دردناک عذاب نہ دیکھیں۔ حالانکہ ان کو مناسب تھا کہ وہ ایمان لا کر اپنے آپ کو بچاتے۔ مگر یوش کی قوم ایسی ہوئی کہ وہ ایمان لائے اور ان کا عذاب ہم نے ٹلایا اس سے ظاہر ہے تبدیل حالت سے پیشگوئیاں ٹل جاتی ہیں کیونکہ وہ کینہ ور نہیں بلکہ رحیم و کریم ہے ۔ (ت ۱۱۳۲) ولوشاء ربک آمریت سے ظاہر ہے کہ ایمان بالجبر نہیں ہوتا ۔ (ت ۱۱۳۳) بباذن اللہ یعنی جس نفس کو خدا کی طرف تعلق ہوتا ہے اس کو توفیق اور ایمان عطا ہوتا ہے ۔ (ت ۱۱۳۴) لایعقلون جہالت اور نادانی بے ایمانی کا موجب ہے ۔
    سورہ الھود
    (ت ۱۱۳۵) الٓر ـ یا انا اللہ اری ۔ (ت ۱۱۳۶) ینثون یعنی ظاہر کرتے ہیں اورباطن میں کچھ ہے ۔ (ت ۱۱۳۷) ثیابھم جب وہ مکاریاور دغابازی اور دھوکہ دہی کا لباس پہنتے ہیں یعنی جھوٹ کو حق کے لباس میں ظاہر کرتے ہیں اور حق کو ……… اور عقائد باطلہ کو دل میں جگہ دیتے ہیں عجیب طرح سے بھگت بنے پھرتے ہیں تا کہ دغا کو سچ بتائیں ۔
    الجزء 12
    (ت ۱۱۳۸) علی اللہ رزقھا ـ صحابہ ؓ کو ہجرت کا حکم ہو رہا ہے وہ پوچھ رہے ہیں حضور وہاں گھر ہو گا نہ سامان تو اللہ تسکین دیتا ہے کہ خدا ہی سب کچھ دے گا ۔ (ت ۱۱۳۹) مستقرھا مستقر دینا میں تو جہاں وہ رہے اور آخرت میں بہشت یا دوزخ ۔ (ت ۱۱۴۰) مستودعھا قبر یا رحم یا دنیا یا حشر یا کہیں عاری ٹھہرنے کی جگہ ۔ (ت ۱۱۴۱) الماء یعنی جب تمام زمین اور آسمان کے اجرام شال گیس کی طرح تھے اس پر بھی اللہ کی حکومت تھی یا نطفہ انسان و حیوانات پر اور عارفوں کے پاس الماء سے وہ پانی مراد ہے جو تذکرہ الٰہیو حشیت الٰہی سے آنکھوں سے جاری ہو۔ اور صوفی کہتے ہیں کہ وہ لقا کا پانی ہے اور یہ سیدہی بات ہے کہ اس سے مراد وہی پانی لیں جو پانی ہے یعنی پانیوں پر بھی اسی کی حکومت ہے ونکہ پہلی آیت میں فرمایا کہ چونکہ خلق اور حکومت ہماری ہے اسی واسطے ہمارے ہی ذمہ چاہئے دوسری آیت پہلی آیت کے لئے دلیل ہے ۔ (ت ۱۱۴۲) سحر بمعنی باطل ۔ دل ربا۔ فریب ۔ متیصرف علی القلوب۔ اور خفیہ سازش دقیق تدبیر۔ موثر ۔ (ت ۱۱۴۳) ولئن اخرنا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعید مدت معینہ سے موخر بھی کر دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ کافروں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ اسے کیوں روکا جا رہا ہے ۔ (ت ۱۱۴۴) یوس ناامید و شرعاً ناامیدی کفر ہے کیونکہ لا تیسوا من روح اللہ حکم رب موجود ہے اور صابر کا میاب ہو جاتا ہے کیونکہ ان اللہ مع الصابرین ہے ۔ (ت ۱۱۴۵) نعماء بخاری شریف و دیگر کتب حدیث میں آتا ہے کہ ایک جذامی کے سامنے ایک فرشتہ نے متمثل ہو کر پوچھا کہ کیاچاہتے ہو کہا کہ رنگ اچھا صحت جسمانی حاصل ہو جائے۔ چنانچہ ویسا ہی ہو گیا پھر فرشتے نے پوچھاکہ اور کیا چاہتا ہے کہا کہ مال مویشی اون بکری وغیرہ وہ بھی مل گیا۔ پھر اسی فرشتہ نے فقیر محتاج کی صورت میں آکر سواری کے لئے گھوڑا مانگا تو اس نے اسے جھڑک دیا۔ اور کہا کہ اگر ایسا ہی دینے لگیں تو پھر ہمارے یہاں باقی کیا رہے ۔ تھوڑی سکھ پر بدبخت انسان اپنی پہلی حالت بھول بیٹھتا ہے اور متکبر ہو جاتا ہے ۔ (ت ۱۱۴۶) فلعلک تارک کیونکہ مخالف کہتے تھے کہ تدھن فیدھنون یعنی تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کرے تو کیا تو کفار کی بات کو ترجیح دے گا اور ہماری وحی کو چھوڑ دے گا ایسی تو امید نہیں ۔ (ت ۱۱۴۷) کتر یعنی یہ رسول مال دار بڑا آدمی کیوں نہ ہوا۔ قریباً ہر نبی سے خزائن اور فرشتوں کا ہی مطالبہ کیا جا رہا ہے مسیح موعود سے بھی علماء زمان کا یہی مطالبہ رہا کہ خزائن ہمیں دلائو اور فرشتے دکھلائو مگر ان سب باتوں کا جواب انما انت نذیر سے دیا گیا ہے کہ فرشتے آجائیں تو تم اور تمہارے مال برباد و تبا ہو جائیں خدا کیپاس چل کر سب کچھ دیکھ لیتا اوجاء معہ ملک مگر ان نکتہ چینیوں کی وجہ سے نہ تو تو حکم وحی ہی چھوڑ سکتا ہے نہ دل تنگ ہی ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ تو ڈرا فے منادی ہے خدا سب کر دے گا اور یہ دیکھ لیں گے ۔ (ت ۱۱۴۸) الحیوۃ الدنیا یہی نصاریٰ کی ترقی کا راز ہے یا رسہ تقدم الاتکلیز ہے جو کسی عربی مطبع میں چھپی ہے ۔ (ت ۱۱۴۹) شاھد منہ اس میں نبی کریم ﷺ کی سچائی کا بیان ہے کہ آپ کی سچائی زماہ ماضی ۔ حال ۔ مستقبل میں ثابت ہے ماضی میں تو موسیٰ کی کتاب امام ہے یعنی اس نے نبی کریم ﷺ کے ہونے کی پیشگوئی کی اور اس کے بعد باقی انبیاء بنی اسرائیل نے اس کی اقتدار میں پیشگوئی کا اظہار کیا۔ بنی اسرائیل کے گھرانے میں اگرچہ مختلف نبیوں نے آنحضرت ؐ کی پیشگوئیوں کو بیان کیا لیکن موسیٰ کی کتاب میں سب سے پہلے ذکر ہوا اسی لئے اس کا نام امام رکھا گیا اور رحمت اس لئے کہ رحمۃ للعلمین کی بشارت ہے۔ حال میں آپ کی سچائی کا ثبوت قرآن کریم اور وہ آیات ہیں جن کا ظہور آپ کے ہاتھ پر ہوا اور وہ تائیدات ہیں جو آپ کے شامل حال ہوئیں جن کا نام بینہ رکھا گیا یعنی سابقہ پیشگوئیوں کے مطابق آپ کا ظہور ہوا۔ مستقبل میں ایک شاھد ہو گا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیا جائے گا اور وہ دنیا میں آپ کی سچائی کا ثبوت ہو گا ۔ اور وہ مسیح موعود ہے جو دنیا میں اسی لئے مبعوث کیا گیا کہآنحضرت ﷺ کی نبوت اور فیضان کا گواہ ہے۔ شاہد سے مراد ایک اللہ کا فرستادہ ہے جیسے کہ زمانہ ماضی میں آپ کی گواہی دینے والا موسیٰ کو بھی شاہد کہا گیا ۔ چنانچہ فرمایا وشھد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ سورۃ الاحقاف رکوع اوّل گویا تمام انبیاء آپ ہی کی سچائی کا ثبوت دینے کے لئے دنیا میں پیدا ہوئے (ب) اور پڑھہا تھا اس کے ساتھ ایک گواہ اللہ کی طرف سے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت اور گواہ موجود ہو اس کی نبوت کا تو ایسا شخص مثل کافر کے طالب جاہ دنیا ہو سکتا ہے پھر ہرگز نہیں ۔ (ت ۱۱۵۰) ومن اظلم یعنی مفتری ہوں تو بہت جلد ہلاک ہو جائوں گا ۔ کیونکہ ولو تقول علینا بعض الا قاویل الخ سورہ حاقہ رکوع (۵) آیت میں مفتری کی سزا قتل ارشاد ہوتی ہے اور توریت میں قتل و صلیب کی ۔ (ت ۱۱۵۱) لا جرم کے اصلی معنی یہ ہیں کہ وہ حق نہیں ہے بلکہ یہ حق ہے ۔ (ت ۱۱۵۲) اراذلنا یعنی ادنیٰ لوگ کم سمجھ تیرے مرید ہیں یا یہ ہماری کھلی رائیہے۔ شکوۃ کی باب فضل الفقراء میں آیا ہے کہ حضرت نے فرمایا مجھ کو ڈھونڈو غریب غربا میں اور جان رکھو کہ غریب غربا ہی کی برکت سے تم کو روزی و فتح حاصل ہوتی ہے ۔ (ت ۱۱۵۳) من فقل
    اولیاء راہچو خود پند اشتند
    ہم سری با انبیاء برداشتند
    یہ متکبروں اور جاہل خود پسندوں کی ہمیشہ سے رائے ہے کہ وہ مقدسین کو جھوٹا سمجھ کر اپنے کو اسی کی صورت میں پیش کرتے ہیں ۔ (ت ۱۱۵۴) خزائن اللہ مجھے مشہور دست غیب کا دعویٰ نہیں ۔ (ت ۱۱۵۵) بمعجزین یعنی عذاب سے بھاگ کر اللہ کو تھکا نہیں سکتے یا دلائل میں ۔ (ت ۱۱۵۶) یغویکم نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب تمہارا رب تمہاری بدکاری اور ناپرہیزگاری و ظلم شرارت و نافہمی کی سزا میں توفیق نیک نہ دے وان اللہ لیس بظلام للعبید ـ لا یرضی العبادہ الکفر وغیرہ کے ہوتے ہوئے خذلان پسند کرے۔ یعنی خفگی کی وجہ سے ختم اللہ علی قلوبھم الخ اور وما یضل بہ الا الفسقین گمراہی کی حالت میں رہنے دے اور عدم التفات وتوجہ لطف ہٹالے خصاہ یہ کہہر ایک کے اعمال کے تقاضے کے موافق اللہ تعالیٰ کا عمل درآمد اس کے ستاھ ہوتا ہے چنانچہ ارشاد ہے ان اللہ لا یغیرما بقوم حتی بغیر واما بانفسھم الخ پولوس نے بھی تقدیر کے مسئلہ میں غلطی کھائی ہے جو کہتا ہے کاریگر کاریگر کو کیا کہہ سکتی ہے حالانکہ برتن وغیرہ میں کسی قسم کی عقل و اختیار نہیں اور انسان میں یہ بات ہے ۔ (ت ۱۱۵۷) التوبہ طلوع فجر یا روئے زمین یا بہتے چشمے یا زور کی سیلاب اور وہ بھی جس میں روٹیاں پکتی ہیں ۔ (ت ۱۱۵۸) ارکبوا فیھا توریت میں ہے کہ اس کشتی کی لمبائی تین سو ہاتھ اور چوڑائی پچاس ہاتھ اور اس کے تین درجے تھے اور اس میں روشن دان اور دروازے اور کھڑکیاں اور کوٹھوئیں تھیں اور اس کے اندر اور باہر رال لگائی کئی تھی خشکی میں اس کو دیکھ کر کافر ہنستے تھے ۔ (ت ۱۱۵۹) نوح ابنہ صاحب ناموس نے لغت یوم میں اس کا نام یام بتایا ہے۔ مگر قرآن سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ وہنوح کا حقیقی بیٹا نہ تھا جیسا کہ نوح کا قول ہے کہ ان ابنی من اھل اور اللہ تعالیٰ اس کی بداعمالی کی وجہ سے اس کو نوح کی اہل ہی خارج فرماتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا اندلیس من اھلک انہ عمل غیر صالح ۔ (ت ۱۱۶۰) الجودی توریت سفر پیدائش باب ۷ درس ۴ ساتویں مہینے کی سترہویں تاریخ کو ارامات کیپہاڑوں پر کشتی ٹک گئی جودی کے معنی ہیں جودو رحمت کی جگہ ۔ مسٹر میتھوبائبل کے صفحہ ۶۰،۶۱ میں کہتے ہیں کہ اڑاڑات تک آرینہ کا صوبہ ہے مگر یہ معلوم نہیں کہاس ملک کیکون سے پہاڑ پر کشتی ٹھہری تھی سکندر کے وقت میں بروس نے یہ قرار دیا تھا کہ جبل جودی جو کردستان کے پہاڑوں کا آرینہ کے دکن کی طرف ہے وہی پہاڑ ہے اور کشتی کے ٹکڑے بھی اس پہاڑ پر موجود (خیال کرتے تھے اور ایک خانقاہ کشتی بھی بنا تھا جو ۷۷۶ میں تجلی سے نیست ہوا۔ اڑارات اصل میں ارائت کا بگڑا ہوا ہے۔ یہ پہاڑ دجلہ اور فرات کے درمیان ہے ۔ (ت ۱۱۶۱) وعدک الحق یعنی وہ کیوں ذوب رہا ہے جبکہ میرے گھر والوں کی حفاظت کا وعدہ ہے جس کا جواب ارشاد ہوا انہ عمل غیر صالح معلوم ہوتا ہے بداعمالی کی وجہ سے سلسلہ حقہ سے منقطع ہو جاتا ہے اگرچہ لوط کی جورد ہو یا نوح کا بیٹا یا ابراہیم کا تایا۔ یا ہمارے حضور کا چچا وغیرہ کوئی بھی ہو ۔ (ت ۱۱۶۲) اعوذبک یعنی بے علمی سے اعتراض کے رنگ میں کبھی نہ پوچھوں گا اور اس کام میں مدد کا خواستگار ہوں۔ چاہئے تو یوں تھا کہ کہتے اب میں ایسا نہیں کروں گا مگر نکتہ عرفان کے رنگ میں اپنی کمزوری کا اظہار کر کے استقامت کی دعا کیترک فعل کے ساتھ (یعنی آپ ہی ایسی توفیق دین کہ میں ایسی دعا نہ کروں جس کا مجھے علم نہ ہو) دعویٰ نہیں کیا کیونکہ پہلا قول دعویٰ کیرنگ میں ہوتا تھا اور اس کا بنا بنا بشریٰ طاقت سے بلا مدد الٰہی خارج ہے ۔ (ت ۱۱۶۳) احبط بسلام منا تعوذ اور دعا اور ادب کا نتیجہ اور صلہ ملا برکات اور دوسرے انعامات الگ ہیں جنگ شرقی مناظرہ میں بھی مقابل والے کو پہلے کہنے دے اور دعا ء و استفطار میں لگا رہے۔ (ت ۱۱۶۴) اعبدواللہ یہ ضروری اصل اصول ہے ہر ایک کام خدا کے ماتحت اور رسول کریم کی سنت کے مطابق ہو اور کوئی نفسانی اغراض شامل نہ ہوں۔ تو خالص اللہ ہی کی عبادت ہو گی ۔ (ت ۱۱۶۵) الہ قول وفعل و نیت میں اللہ ہی محبوب ہو۔ تو سچا معبود ہے ورنہ الحہ ہوئی ہو گا۔ ۔ (ت ۱۱۶۶) صراط مستقیم یعنی میں صراط المستقیم پر ہوں جو میرے رب کا راستہ ہے اور سب کی چوٹی اس کے ہاتھ میں ہے پھر کسی کی مجال ہے کہکوئی مجھے نقصان پہنچا سکے۔ غرض جو اسی کی را پر چلے گا وہ اسے پائے گا اور اس کی حمایت میں آئے گا۔ (ت ۱۱۶۷) ثمود یہ یمن اور عدن سے لے کر حضرت موت تک چلی گئی تھی اور عرب ے سامنے مقیم تھی مخالف آتے جاتے ان کو دیکھتے تھے ۔ (ت ۱۱۶۸) من الارض یعنی ہر ایک آدمی مٹی اور پانی سے بنتا ہے ہماری خوراک یا نباتلتی ہے یا حیوانی اور حیوانات کی غذا بھی نباتات ہی ہے اور نباتات مٹی اور پانی سے پیدا ہوتے ہیں اور ہماری غذا میں یہہ ساری چیزیں صاف اور زہروں سے پاک ہو کر شریک ہیں تو اس طرح پر سب کا خلاصہ مٹی ہوتا ہے اور اس مٹی میں ہزاروں کپڑے ہوتے ہیں اور وہ بھی صاف ہو ہوکر ایک یا دو یا تین غایت چہار تک جنیں بنتی ہیں اور عورتوں کو تو امیں یوں ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ (ت ۱۱۶۹) فاستغفروہ یعنی جو غلطئین قابل الوقوع میں یا واقع ہو چکی ہیں یا آئندہ ہوں ان سے حفاظت طلب کرو ۔ (ت ۱۱۷۰) توبوا فرماں برداری میں دو چیزیں ہوتی ہیں اوّل فعل دوسرے شرک فعل استغفار تو ترک فعل ہے اور توبہ فعل ہے مثلاً زنا چھوڑنا استغفار ہے اور عفت اختیار کرنا توبہ ہے ۔ الفاظ کوئی چیز نہیں جو صرف منہ سے کہے جائیں کیونکہ جب توبہ اور استغفار پورے معنوں میں ادا ہوتے ہیں تو زبان کیا ہر رگ تن سے مغز الفاظ جاری ہو جاتا ہے ۔ (ت ۱۱۷۱) مجیب یعنی دعا کی قبولیت استغفار اور توبہ کا نتیجہ ے۔ اور قرب الٰہی کا سبب کیونکہ ان کے خیال میں یا تو وہ خود پسند نظر آتے ہیں یا کچھ ان کی یا ان کے بزرگوں کی کچی اور رسمی باتیں بگڑتی ہیں۔ دعویٰ سے پہلے وہ سات ہوتے ہیں تو وہ ان کو اپنے میں ملا ہوا جانتے ہیں بلکہ اپنے سے بہتر کیونکہ وہ نیک اعمال ہوتے ہیں ۔ (ت ۱۱۷۲) مرجوا انبیاء دعویٰ سے پہلے ہر ایک کے مقبول فاطر ہوتے ہیں جب وہ دعویٰ کرتے ہیں تو پھر لوگ مخالفت کرتے ہیں ۔ (ت ۱۱۷۳) سلما وسلام میں فرق ہے اوّل میں کوئی فعل یا وقت مقدر ہے اور ثانی میں دوام۔ اور ابراہیم کا جواب بہتر ہے حسب حکم خدا جیسا کہ ہونا چاہئے حیواباحسن منھات ۔ (ت ۱۱۷۴) حنبذ اصلی معنی بساند اور بدبو دور کیا ہوا ۔ بہنا ہوا تلا ہوا ۔ (ت ۱۱۷۵) خیفۃ چونکہ فرشتے عذاب لے کر آئے تھے وخوف الٰہی کا پرتو ابراہیم پر جو مصفیٰ قلب رکھتا تھا پڑا ۔ (ت ۱۱۷۶) شیخا اس وقت حضرت ابراہیم کی عمر ننانوے سال تھی ۔ (ت ۱۱۷۷) علیکم گو لفظ کم ضمیر جمع حاضر مذکر کی ہے۔ مگر تخاطب عورت س ہے ۔ ٍمناً مرد شامل ہوں یا نہ ہوں حضرات سیعہ اس پر نظر رکھیں۔ (ت ۱۱۷۸) یجادلنا مجادلہ حضرت ابراہیم کا اپنے لئے نہ تھا بلکہ غیروں کے لئے کیونکہ وہ اواہ تھا یعنی نرم دل برخلاف اس کے نوح نے اپنیبیٹے کے لئے دعا کی تھی جس میں وہ منع کئے گئے تھے ۔ (ت ۱۱۷۹) یومر یحصیب کیونکہ ان بستیوں میں طوائف الملوکی تھی اور ایسی جگہ اجنبیوں کو جاسوس سمجھتے تھے قوم نے فرشتوں کو ایسا ہی سمجھا ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ نبیوں کو کسی پولیٹیکل مقدمہ میں پھنسائیں۔ ار اس قانون کا کہ اجنبی یہاں نہ آئیں وہ اعلان کر چکے تھے جو کہ چودہواں سورہ حجر کی اس آیت سے ظاہر ہے قالو اولم ننھک عن العلمین ۔ (ت ۱۱۸۰) بناتی یعنی تمہاری بی بیان ۔ توریت شریف میں لکھا ہوا ہے کہ پانچ بیٹیان لوط کی اسی گائوں میں بیاہی گئیں تھیں اور وہ بستی والوں کی بی بیاں تھیں ان کو شرم دلائی گئی ہے کہ میں تو تم میں کاہوں۔ میں تمہارے مخالف جاسوسوں کو کیسے اپنے گھر میں جگہ دوں گا یا لوط نے کہا تحقیقات کی مدت تک انہی لڑکیون کو میں حاضر خدا منی میں دینا چاہتا ہوںقوم نے انکار کیا اور کہا کہ ان لوگوں کو نکال دو یا ہمارے حوالہ کرو ۔ (ت ۱۱۸۱) اطھرلکم حاضر ضامنی کے واسطے یہ بہت ہی مناسب ہیں ۔ (ت ۱۱۸۲) رزقا حسنا اپنا نمونہ پیش کیا ہے کہ باوجود مانپ تول میں کمی نہ کرنے کے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے رزق کافی اور عزت کی روزی دی ہے جو تمہارے لئے قابل غور ہے ۔ (ت ۱۱۸۳) انیب یعنی عہدہ نبوت اصلاح خلقاور توکل عی اللہ رجوع بہ خدا کا نام ہے انابت اور میں اسے حاصل کیا ہوا ہوں ۔ (ت ۱۱۸۴) ودود بڑا محبت کرنے والا یہ عیسائیوں کے لفظ سے بڑھ کر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ خدا محبت ہے کیونکہ اس سے حقیقت صفت ہونے کی نہیں کھلتی ۔ (ت ۱۱۸۵) مانفقہ انبیاء جو دین لاتے ہیں وہ سہل ہوتا ہے اور قریب الفھم اور سہل الحصول ۔ عوام کی من گھڑت رسوم عجیب اور پیچیدہ اور تکلیف دہ ہوتی ہیں جو لوگوں کو بجائے نفع اور سہولت کے اور مشکلات میں ڈال دیتی ہیں ۔ (ت ۱۱۸۶) شھر باللہ یعنی جہلا قومی رسولوم اور انسانی دبائو کو خدا سے بھی بڑھ کر سمجھتیہیں حالانکہ خدا سب پر محیط ہے نادانی سے کس طرح وہ پس پشت ڈال جاتا ہے ۔ (ت ۱۱۸۷) امرفرعون نبیوں کے ہکم کے مقابلہ میں کسی بادشاہ کے حکم کی پرواہ نہ کرنی چاہئے ورنہ سخت تباہی ہو گی ہرفن میں جو اس فن کا ماہر ہو اس کی بات مانی جائے انگریزی علوم کے مسئلہ انگریزی خوانوں سے شعر شاعروں سے وغیرہ وغیرہ اسی طرح رسالت ہیں رسولوں ہیکی بات ماننے کے قابل ہے نہ کہ متکبر دولت مندوں اور بادشاہوں کی جیسا کہ قوم فرعون اس بات میں فرعون کا کھنا سنکر برے گھاٹ ہمیشہ کے لئے داخل ہو گئی ۔ (ت ۱۱۸۸) الورد ورد کے معنی لکڑٓ کا بڑا پیالہ اور گھاٹ پر اترنا اور وفد کے بھی ہیں ۔ (ت ۱۱۸۹) انباع القری یعنی ان بستیوں کے رسولوں کے حالات کی خبریں ہیں جن میں بعض تو اب تک بھی ہیں جیسے مصر اور بعض جڑ پیڑ سے اکھڑ گئیں جیسے لوط کی بستیاں جن کا نام سڈ وم وغیرہ تھا جو پانچ بستیاں نہیں صوفیوں نے لکھا ہے کہ انسان کا جسم بھی ایک بستی ہے ۔ (ت ۱۱۹۰) تتبیت تباہی ہلاکت جیسا کہ سورہ تبت یدامین بھی آیا ہے ۔ (ت ۱۱۹۱) شقوا لفی النار جو اپنے مطالب و مقاصد میں ناکام و نامراد ہو تو عربی میں شقی کہلاتا ہے ۔ یعنی ناکام اور میرا …… الگ پڑا ہوا اور یہ شق سے مشتق ہے ۔ (ت ۱۱۹۲) لسموات والارض یہاں آسمان و زمین سے مراد وہ آسمان و زمین ہیں جو عالم آخرت یا جنت و دوزخ میں ہوں گے جیسا کہ ارشاد ہے یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات وبذرو اللہ الواحد القھار سورہ ابراہیم رکوع ۱۸ ۔ (ت ۱۱۹۳) الا ماشاء ربک اس کے معنی وسیع کرنے میں بہتوں نے بحث و کوشش کی ہے مگر میرے نزدیک اس سے اظہار عظمت و جبروت الٰہی مراد ہے کہ ہر ایک کام مشیت و رضائے الہی کے ماتحت ہوتا ہے ۔ نہ بلا مرضی ۔ (ت ۱۱۹۴) غیر مجدود اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عذاب و دوزخی کبھی چھوڑے جائیں گے ۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی آتا ہے کہ جہنم پر بھی ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی نہ رہے گا اور ہوا اس کی کھڑکیوں کو کھڑ کھڑا رہی ہو گی ۔ مگر بہشت والے بہشت میں سدا رہیں گے اور ان کی عطا ان سے کبھی چھینی نہ جائے گی ۔ (ت ۱۱۹۵) تک اصل میں تکن تھا فصی اعرب کثرت استعمال میں نون کو حذف کر دیتے ہیں ۔ (ت ۱۱۹۶) کلمۃ سے مراد وہ آیت ہے جو پارہ (۹) رکوع (۱۸) میں ہے۔ یعنی اگر تو ان میں موجود نہ ہوتا تو عذاب ضرور آتا۔ تیرا وجود باعث تاخیر عذاب ہے جیسا کہ ارشاد ہوا کہ وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم ۔ (ت ۱۱۹۷) ومن تاب معک یہ حدیث جس میں آتا ہے کہ مجھے سورہ ہود نے بوڑہا کر دیا اس کا باعث بھی آیت معلوم ہوتی ہے کہ آپ کو مع آپ کے ساتھیوں کے استقامت کا حکم ہ ساتھیوں کا معاملہ بہت مشکل ہے ۔ (ت ۱۱۹۸) ظلموا یعنی خلاف شرع لوگوں کی طرف مت جھکو نہیں تو عذاب آئے گا۔ (ت ۱۱۹۹) فی النھار دو طرف ………… فجر و اشراق اترتے وقت ظہر ۔ عصر ۔ زلفا۔ ساعات رات میں مغرب و عشا و تہجد ۔ (ت ۱۲۰۰) بقیۃ وہ لوگ جن میں نیکی کا اثر باقی ہو ۔ (ت ۱۲۰۱) لیھلک اللہ بظلم سے معلوم ہوتاہے کہ خدا کییہاں جری کاروائی نہیں ۔ (ت ۱۲۰۲) تمت کلمۃ سے وہ کلمہ بمعنی جملہ مراد ہے جو ولقد ذرانا لجھنم کثیر ہے ۔ (ت ۱۲۰۳) اجمعین اس سے معلو ہوتا ہے کہ اختلاف باقی رے گا کیونکہ اوپر ارشاد ہو چکا ہے کہ لایذالون مختلفین ـ
    سورہ یوسف
    (ت ۱۲۰۴) الٓر کے معنی انا اللہ اریٰ کے بھی ہیں تمام انبیاء کا بیان آنحضرت ﷺ کے نمونہ کا بیان ہے جیسا کہ لکھا گیا ہے
    خوش ترآں باشد کہ سر دلبراں
    گفتہ آید در حدیث دیگراں
    عرب والوں کو سنایا جاتا ہے کہ تم میرے ایسے ہو جیسے یوسف کے لئے ان کے بھائی تھے پھر سمجھ لو جو ہوا سو ہوا ۔ (ت ۱۲۰۵) مبین اس لئے کہا کہ شرائع بیان کئے برکات ظاہر کیں اللہ کی مرضی دکھائی اللہ کے اسماء حسنی کا ثبوت دیا ہق کو باطل سے جدا کیا ۔ (ت ۱۲۰۶) الغافلین اس سورۃ میں نبی کیرم کا حال یوسف علیہ السلام کے ضمن میں تمثیلی طرز پر حسب حالات جملہ انبیاء بیان ہوا ہے ۔ (ت ۱۲۰۷) سٰجدین سجدہ کر رہے ہیں یا میرے سبب سے اللہ کو سجدہ ر رہے ہیں ۔ خواب سرسری نظر سے عموماً تین قسم کے معلوم ہوتے ہیں ۱۰) ایک اضعاث واحلام یہ دنیا میں مخوروں کے خواب ہیں ان کی بھی تعبیر ہوتی ہے ۔ (۲) واقعات آئیندہ خواب کے رنگ مین نظر آتے ہیں یہ قطعی تعبیر طلب ہوتے ہین اور جب تک ظہور واقعہ نہ ہو صاف نہیںمعلوم ہوتے (۳) تیسری قسم کے خواب اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں وہ یہ کہ صاف صاف واقعی طورپر ہوتے ہیںاور کسی قدر استعارہ کے طور پر ہوتے ہیں بعض وقت خواب دیکھنے والے کے زبان سے کوئی عمدہ فقرہ یا شعر یا مصرعہ جاری ہو جاتا ہیاور کبھی آیت قرآنی یا حدیث یا کسی بزرگ کا قول یہ ہی الہام کہلاتا ہے نبی کیرم ؐ کی بھی چاند سورج کے حساب والوں نے فرماں برداری کی عرب کی گیارہ قومیں مطبع ہوئیں (۱) نبی عدی (۲) نبی مخروم (۳) نبی تمیم (۴ بنو اسدرہ (۵) بنو امیہ (۶) بنو سلیم (۷) بنی حمصفوان (۸) بنی نوفل (۹) بنو عبداللہ کنجی بردار (۱۰) بنی ہاشم (۱۱) بنو نظیر۔ (ت ۱۲۰۸) للانسان عام لے کر خاص مراد ہے ۔ (ت ۱۲۰۹) عصبۃ ہم … دار جماعت ہیں مکے والوں نے بھی کہا کہ لولا نزل ھذا القران علی قربتین عظیم یعنی امرا اور قوت داروں پر کیوں نہیں اترا ۔ (ت ۱۲۱۰) اقتلوا یوسف کو بھی مار ڈالو۔ مکہ والوں کے حال میں ہی آیا ہے واذ یمکربک الذین کفروا الخ یعنی سردار دو جہان کو قتل کرو ۔ (ت ۱۲۱۱) حفظون انشاء اللہ نہیں کہتے جس سے یعقوب علیہ السلام بھی سمجھ گئے ہیں اور کہتے بھی ہیں گر بدگمانی نہیں کرتے۔ انبیاء کے اخلاق کس خوبی کے ہوتے ہیں ۔ (ت ۱۲۱۲) المستعان یوسف کا رویا مجھے یاد ہے وہ ضائع نہیں ہو گا ۔ (ت ۱۲۱۳) علیھم بما تعملون کہ بنی اسرائیل بنی اسمٰعیل کے علام ہو جائیں گے یہ ہاجرہ کے قصہ کا جواب ہے جس کا بکنا ہی ثابت نہیں ۔ (ت ۱۲۱۴) واللہ غالب علی امرہ اس آیت شریف میں جھوٹی تقدیر کے مارے ہوئوں کاجواب اور علاج ہے۔ یعنی اللہ تو اپنے حکم پر غاب ہے مجبور نہیں کہ میں نے ایسا کہہ دیا اب کیا کروں اگرچہ کبھی وہ اپنے کہنے کے خلاف نہیں کرتا فسبحن اللہ عما یصفون ۔ (ت ۱۲۱۵) لا یفلح الظلمون مکہ والوں کو بتلایا جاتا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میںناکام ہوں گے اور وہ ودوالو تدھن فیدھنون کی کوشش بے کار کررہے ہیں کبھی سست نہیں پڑ سکتے چکتی چپڑی منافقانہ کارروائی نہیں کرتے ۔ (ت ۱۲۱۶) قد شغفھا بے شک یوسف محبت سے اس کے دل میں گھس گیا ہے سما گیا ہے دل چیر کر یوسف کی محبت گھس گئی ہے۔ اسی شغف کا مفرس بگڑا ہوا شگان ہے ۔ (ت ۱۲۱۷) بمکرھن اور صحابہ نے اس کی تفسیر میں کہا مکرھن تولھن یعنی مکر کے معنی قول کے لئے ہیں یعنی قول الزور ۔ (ت ۱۲۱۸) متکاء مسندین۔ تکیہ ۔ گدیلے ۔ فروش عالیہ ۔ (ت ۱۲۱۹) السجن احب الی ہمارے نبی کریم ﷺ نے ایسی دعا سے منع فرمایا ہے اور رحمت اور مغفرت کی دعا کے لئے تاکید کی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ جناب الٰہی سیحضرت یوسف کی دعا کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے فاستاب لہ یعنی میں نے اس کی بات مان لی لیکن یوسف کا کیا عجیب تقویٰ ہے کہ خدا کے لئے ہر ایک تکلف کے اٹھانے پر تیار ہو گیا ۔ (ت ۱۲۲۰) فاستجاب لہ بڑی غلطی کی بات ہے کہ عورتیں یا مرد بچوں کو کوستے ہیں اور اپنے لئے بددعائیں کر بیٹھتے ہیں ۔ جناب الٰہی کے یہاں اوقات ہیں معلوم نہیں کہ کب مقبول ہو جائے۔ اس لئے بددعائیں نہ کرو خبر کی دعائیں مانگا کرو ۔ (ت ۱۲۲۱) انی ارانی وہ لوگ کیسے بدقسمت ہیں جو رویا کو بے حقیقت سمجھتے ہیں مجرم قیدیوں کی بھی تو رویا صحیح ہو رہی ہے رویا کا علم ثبوت کا ایک جزء ہے۔ کتبا تعجب ہے کہ لوگ اس کی قدر نہیں کرتے ۔ (ت ۱۲۲۲) عند ربک رب کے معنی بادشاہ ہے یہی سبب ہے کہ فرعون رب کھلاتا تھا بلکہ اب تک مصر کے بادشاہ خدیو کہلاتے ہیں جس کے معنی ہیں چھوٹا خدا اور ہماری فارسی اردو نشائوں می امرا کو خداند نعمت لکھا جاتا ہے ۔ (ت ۱۲۲۳) بضع سنین تین برس سے نو برس تک وسط سات برس تک ۔ (ت ۱۲۲۴) بقرا گائے بیل کو کہتے ہیں ۔ (ت ۱۲۲۵) سمان اسم جنس ہے۔ خواب کاعجیب طرز ہے کہ کثرت کو قلت کے رنگ میں بری چیز کو چھوٹا بنا کر بتایا جاتا ہے جب اچھا سماں ہوتا ہے تو ایک گائے موٹی ہوتی ہے نہ ایک بالی سبز ہوتی ہے بلکہ عموماً سب گائیں موٹی اور بالیں سبز ہو جاتی ہیں اسی طرح قحط میں ایک گائے اور ایک بھٹا خشک نہیں ہوتا بلکہ عموماً سب ہوتے ہیں علم کے لئے مشتے نمونہ از خردارے یا دیگ کا ایک دانہ کافی ہوتا ہے اسی طرح نبی کیرم ﷺ کا دجال کو شخص واحد دیکھنا یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ایک ہی ہو بلکہ اس جماعت میں سے ایک فرد دکھلا دیا ۔ (ت ۱۲۲۶) الذی نجا یعنی فرعون کا ساقی یوسف کی تعبیر کے تین روز بعد جب فرعون نے جشن سالگرہ کیا تھا اپنے عہدہ پر مقرر کیا تھا اور خانساماں پھانسی دیا گیا تھا تو ساقی کو یاد آیا ۔ (ت ۱۲۲۷) یعلمون تمہارے کمال اور نبوت کا حال پہچانیں ۔ (ت ۱۲۲۸) سبع شد ادحمل النظیر والقیض علی النقیض خشک کو سات کہا کیونکہ اوپر سات …… مذکور ہو چکی ہیں یہی حملالنظیر اور نقابل اور نقیض علی النقیض ہے ۔ (ت ۱۲۲۹) عامر وہ سال جس میں ارش بہت ہو جب بارشیں بہت ہوتی ہیں تو بچے علی الخصوص گرم ملک او رگرم موسم کے بہت تیرتے ہیں ۔ جس کو عربی میں عوم کہتے ہیں یہ لفظ اسی سے مشتق ہے ۔ (ت ۱۲۳۰) یعصرون یعنی قحط سالی دور ہو گی سما اچھا ہو گا ۔ یہ تعبیر ساقی نے بادساہ کو سنائی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر وفاسق کے ہی بعض خواب صحیح نکلتے ہیں اور یہ امیر لوگوں پر حجت قائم کرنے کے لئے ہے تا کہ …… رویا وحی الہام کے منکر نہ ہو جائیں ۔ کشف و الہام گویا خواب کی دوسری منزل ہے جس میں غنودگی اور ربودگی ہوتی ہے بے اختیار ایک وقت میں صاف و شفاف طور پر ایک صحیح واقعہ یا کوئی امیر غیبی بتایا جاتا ہے اور باسو تکنیت دشان جلالی ہوتاہے اور دل میں فولاد کی … کی طرح جم جاتا ہے اور اطمینان قلبی اس سے ہو جاتا ہے ۔ بعض لوگ صحابی کیقول سے ثابت کرتے ہیں کہ وحی ختم ہو چکی مگر لم یبق من النبوۃ الا المبشرت سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعی احکام کا نزول اور شریعت جدیدہ بند ہو گئی بشارات باقی ہیں۔ اورحضرت عمر والی بات مان کے جیس ہے جوبچوں میں سے ایک سچے پر خوش ہو کر کہے میرا کوئی بیٹا ہے تو احمد ہے اور عیسیٰ علیہ السلام ا نبی اللہ ہونا اور وحی کا ان پر آنا اہل سنت کے مذہب میں ثابت و محقق ہے۔ جس پر حدیث مشکوۃ نزول عیسیٰ دلالت کر رہی ہے ۔ (ت ۱۲۳۱) ارجع اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے کمال صبر کا حال اور تقویٰ کا کمال اور توکل علی اللہ اور استغنا عن ماسویٰ اللہ کا بیان ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسی تہمتوں سے برات حاصل کرنا چاہئے ۔
    الجزء 13
    (ت ۱۲۳۲) وما ابری نفسی ممکن ہے کہ یہ عزیز کی عورت کا قول ہو کیونکہ یوسف تو ابھی آئے نہیں جیسا کہ آگے آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے کہا اس کو میرے اس لائو ۔ بعض فضلانے کہا یہ بقیہ ہییوسف کے قول ارجع الی ربک کا اوریوسف کے آںے کی کچھ ضرورت نہیں کیونکہ خطاب بادشاہ سے نہیں ۔ (ت ۱۲۳۳) قال اجعلنی علی خزائن الارض بادشاہ کی صحبت پسند نہیں کی الگ رہنا بھی منظور نہیں (ہدایت و تبلیغ عام کا موقع پانے کے لئے درکواست کرتے ہیں ) یعنی یوسف علیہ السلام نے وہ عہدہ اختیار کیا جس سے ادنیٰ سے اعلیٰ تک دست گرہی رہے اور اپنا حفیظ وحلیم ہونا بھی ……… کذلک مکنا لیوسف ا بتداء میں حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ بتایا گیا کہ تجھے برگزیدہ کریں گے اور تم پر نعمت پوری کریں گے ظاہری سامانوں کا یہ حال کہ بھائیوں کو معین وبازو سمجھا جاتاہے ان بازوئوں نے یوسف کو قع چاہ میں پھینکا پھر جنہوں نے حضرت یوسف کو وہاں سے نکالا انہوں نے اس سے بدنز کنوئیں میں ڈالا کیونکہ غلام بنا دیا جو کہ مرتبہ انسانیسے انسان کی حریت کو مقام اہلی جانوروں تک پہنچا دیا پھر خریداروں نے یہاں تک یوسف سے کیا کہ اس کو حسب دوام میں دال دیا جہاں یوسف کا کوئی غمگسار اور یار اپیل کرانے والا بھی نہ ھا۔ یوسف نے ایک تدبیر کی کہ ساقی شاہ کو قابو کیا لیکن نسیان نے اس کو بھی کہنا بھلا دیا غر ہر ایک طرف سے یوسف کو مصائب نے آگھیرا اور تکالیف کا آماج گاہ بنایا پھر وہ خدا جو غالب علی امرہ ہے۔ اس نے یوسف کو اس قنرعمیق سے نکال کر سر براوج بلندی پر جگہ دی بندی خانہ میں رکھنے واے اور علام بنانے والے کنوئیں میں دالنے والے سب اس کے دست نہ گر ہوئے۔ (ت ۱۲۳۵) متفرنہ اس میں کئی احتمال تھے کوئی جاسوسو نہ سمجھیںیا سب کو ایک سمجھ کجے ایک ہی غلہ دین ڈاکہ والے کے یار نہ سمجھے جائیں وغیرہ وغیرہ انبیاء اور نظر نہ لگے یا یہ کہ دس مختلف بازاروں سے گزرتے ہوئے یوسف کا پتہ لیتے جائیں یا یہ کہ یوسف کے مصر میں ہونیکا یعقوب کو یقین تھا بن یامین کو علیحدہ ملانا چاہتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔ (ت ۱۲۳۶) ان الحکم الا اللہ یعنی وہ چاہے گا سو کرے گا میری دور اندیشیوں سے کیا ہوتا ہے تفریض الٰہی پر عمل ۔ (ت ۱۲۳۷) ما شھدنا کے سو مطلب (۱) عزیز سے ہم نے وہی کہا جو ہماری شریعت میں تھا (۲) سچی آنکھوں دیکھی بات آپ سے عرض کی ہے اس (۳) جہد کرتے وقت ہمیں کیا معلوم تھا کہ واقعہ پیش آئے گا ۔ (ت ۱۲۳۸) القریہ اہل قریہ مہر سب نہیں جیسے اکلت الدجاجہ ۔ (ت ۱۲۳۹) سولت لکم خود بتا کر پھنسے (۲) بامید غلہ نزول مصبۃ ہوا (۳) تمہاری غلط فہمی ہے کہ اس کو چور سمجھا ۔ (ت ۱۲۴۰) خی اللہ حالات انبیا اور عوام الناس میں فرق بصیبۃ پڑے تو توکل اور امید رحمت الٰہی زیادہ ہوتی ہے۔ برخلاف عوام کے کہ اس میں گھبراہٹ بڑھتی ہے اور صبر جاتا رہتا ہے ۔ (ت ۱۲۴۱) ان یاتینی یہ الفاظ چاہتے ہیں کہ کنعان میں سب جمع ہوں حالانکہ مصر میں ملاقات ہونا مراد ہے ۔ (ت ۱۲۴۲) لا تنریب الخ چونکہ تمام سورہ یوسف آنحضرت ﷺ کے لئے ایک تمثیلی پیشگوئی ہے اس لئے اکثر واقعات اس کے آپ کے حال سے مشابہ ہیں چنانچہ دارالندوہ میں آپ کے قتل کی …… ہو رہی تھیں اور آپ وہاں مثل یوسف کے تھے ۔ یوسف کے گیارہ بھائی تھے ویسے ہی آپ کے مقابل عرب کی گیارہ قومیں تھیں (۱) بنی عدی (۲)
    بنی مخزوم (۳) بلوتمیم (۴) بنو اسد (۵) بنو امیہ (۶) بنو سہیم (۷) بنو حمہ (۸) بنو نوفل (۹) بنو عبدالدار (۱۰) بنو ہاشم ۔ چونکہ یوسف کے گیارہ بھائیون میں سے میں یا مین تو حمایتی ہیں اور ردین سفارشی باقی رہے نو بھائی ۔ پس اسی طرح تمثیلی طور پر آنحضرت کے مقابل تسعہ رہط یضدون فی الارض میں ظاہر فرمایا ہے وہ نو اشخاص آنحضرت کے سخت مخالف تھے یعنی ابوجہل۔ ابو لہب۔ عقبہ۔ شیہ۔ ابی بن خلف۔ ربیعہ ۔ ولید۔ زمہ ۔ امیہ ۔ بھائیوں نے یوسف کو کہیں چھوڑ دیا تھا آپ کو بھی قوم کے سبب طارمین رہنا پڑا۔ آنحضرت کو مثل یوسف کے وطن سے الگ ہو کرامارت ملی۔ مکے والے مثل یوسف کے ایام قحط میں آنحضرت کے محتاج ہوئے۔ فتح مکہ پر مثل یوسف کے آپ نے فرمایا کہ لاتثریب علیکم الیوم اس تمثیلی پیشٗوئی پر خدا نے خود ارشاد فرمائے ہیں جیسا کہ فی قصصھم غیرہ لا ولیٰ لالباب اور من ابناء الغیب وغیرہ آیات یوسف کی نسبت فیکیدو لک کیدا اور آنحضرت کی نسبت یکیدون کیدا آیا ہے یوسف کی نسبت اقتلوا اور آنحضرت کی نسبت او یقتلوک اور یخرجوک آیا ہے یعقوب نے فرمایا ادخلوا لمصر انشاء اللہ امنین اور آنحضرت نے دخول مکہ کے وقت فرمایا انساء اللہ امین ۔ (ت ۱۲۴۳) اواتونی چنانچہ یعقوب علیہ السلام انے بیٹوں پوتوں اور بیویوں کے ساتھ جن کی تعداد ستر بیان کی گئی ہے فرعون کی پہنچی ہوئی سواریوں پر بیٹھ کر روانہ ہوئے۔ سجدہ سنت بھی ہے کہ کسی شہر میں داخل ہوں تو دوگانہ شکر ادا کیا جائے ۔ (ت ۱۲۴۴) تفذون تقیذ ملامت کرنا ۔ احمق بنانا۔ خطاکار و گنہگار بنانا ۔ (ت ۱۲۴۵) احسن بی یعنی قید سے نکالنا محض اللہ ہی کا فضل تھا اور فضل سے نکلتے ہی عزیز مصریں گیا ۔ (ت ۱۲۴۶) توفنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توفی اور موت کے ایک ہی معنی ہیں ۔ (ت ۱۲۴۷) بالصلحین اہل مکہ کو یوسف کے رنگ میں رسول اللہ اپنی پیشگوئی بتلاتے ہیں ۔ (ت ۱۲۴۸) یمکرون یعنی مکہ والے جو یوسف کے بھائیوں کی طرح ہیں نبی کریم کی مخالفت کی تدبیریں کر رہے تھے مکر کے معنی تدبیر ہیں ۔ (ت ۱۲۴۹) عبرۃ درحقیقت اس میں بہت سی نصیحتیں اور پیشگوئیاں ہیں عبرت پکڑنے والوں کے لئے مثلاً علم خواب صحیح ہے (۲) دشمنوں سے بعض خواب چھیلنا (۳) حسد آگ ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے (۴) جھوٹ بولنے سے استبار جاتا رہتا ہے اور کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں آخر ندامت ہوتی ہے (۵) مستلا نبیوں کو علم غب نہیں ہوتا (۶) وتسوزو مطر باتہ دعا قبول ہو جاتی ہے (۷) نامحرم کو گھر میں آنے دینے سے ضرور خرابی ہوتی ہے (۸) متنا بنانا نا پسند امر ہے (۹) نیکیوں کو اللہ بدیوں سے بچاتا ہے (۱۰) مخلص و محسن کو اللہ تہمتوں سے بری کر دیتا ہے ۔ یغفراللہ ماتقدم الخ (۱۱) متقی اور صادق پر حملہ پر حملہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ مخالف سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اس کو پیس ڈالا پھر وہ قدرۃ اللہ سے غالب و منصور ہو جاتا ہے (۱۲) فیضر سان سکھ میں رہتا ہے اس کی سان بلند ہوتی ہے (۱۳) خود عمل کرو دوسروں کو ہمیشح نصیحت کرتے رہو یہ سب سے بڑی خیرات ہے (۱۴) کافر کا خواب بھی سچا ہوتا ہے (۱۵) خواب کی تعمیر کامل بناتے ہیں (۱۶) زبانی جمع خرچ کچھ چیز نہیں عمل ہونا چاہئے (۱۷) حق کی ہمیشہ فتح ہے (۱۸) کافر کی نوری کرنا جائز ہے (۱) بھئای بندوں کے ساتھ یوسفی اخلاق برتائو کرو (۲۰) بھائیون کے برے اخلاق مت سیکھو (۲۱) قصروں کا اقرار کرو اللہ کے حضور میں جھک جائو (۲۲) صبر کا اجر ضرور ملتا ہے گانوں والوں کو بڑا سے بڑا عہدہ اور حکومت مل ستی ہے (۲۳) اللہ کی باتیں ہو کر رہتی ہیں اور بھائی حالات سے ڈانواں ڈول نہ بنو (۲۴) اللہ کے فضل سے سب کام بنتے ہیں (۲۵) حضرت یوسف کے طرز عمل سے ان کی اعلیٰ قابلیت کا اظہار اللہ اعلم حیث ………… رہا ہے (۲۶) غیر معمولی عفت کا ثبوت (۲۷) ہافظ کی قوۃ بھائیوں کو دیکھتے ہی پہچان لیا (۲۸) قوۃ بیانی سے حاکم پر اثر ڈال دیا (۲۹) باوجود قدرۃ کے عفو (۳۰) کہنے کا اکرام (۳۱) اپنے پر من عنداللہ وثوق (۳۲) بچپن ہی میں …… دماغ کس اعلیف درجہ کا خواب دیکھا (۳۳) ہم راہیوں پر شفقت یا …………… زمانے ہیں (۳۴) نرمی و گرمی انا خیرالمثذلین اور فلاکیل لکم (۳۵) حسن تدبیر قحط سالی کا انتظام (۳۶) حالت غضب میں درگزر غصہ پی جانا (۳۷) باوجود حصول دنیا اللہ سے سچا تعلق حرص کو عالب نہ ہونے دیا وصال الٰہی کے طالب رہے دعا کو نہ چھوڑا ۔ قرآن مجید پڑہنے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ انسان س باتوں کو اپنے پرواردکر لے کیونکہ یہ عالم صغیر سے سب نمونے اس میں موجود ہیں عارف اکمل نے بتایا ہے انسان کا دل یوسف ہے اور روح باپ نفس و بدن بھائی وہ دونوں ہیں صلح کو ناپسن دکرتے ہیں اور یوسف کو گمراہی کے گڑہے میں ڈال ہی دیتے ہیں اللہ کی توفیق اور باپ کی دعائیں شامل حال ہو جائے تو مصریون کا وہ عزیز بن جاتا ہے اور بھائیوں کو پہچان کر ان کے افلاس کا انتظام کرتا ہے پھر جب اس دل سے قلب سلیم مل جاتا ہے تو نفس مطئمنہ حاصل ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نفس مطئمنہ مان اور روح لطیف باپ اور قلب شہید یوسف عرش شاہی قرب الٰہی تک پہنچے تو سب قیٰ یعی بھائی قیقی سجدہ میں گرے یعنی فرمانبردار الٰہی ہوں گے ان کا ماسوا اللہ جو بھائیوں کو نیکی کے قحط سالی میں خراب کرتا ہے جب وہ تھوڑے پونجی ارادت کی یوسف دل کے پاس لاتے ہیں تو صالحانہ طریقت کا انبار پاتے ہیں روح کی آںکھوں کا نور تقویف ہے جب دل اس کی نگرانی نہ کرے تو وہ جاتا رہتا ہے جو وصال فنا فی اللہ کا مقام ہے جہاں بقابا اللہ حاصل ہوتی ہے جس کے حصول کے لئے دعا انت ولی فی الدنیا والا قرۃ توفنی مسلما والحقتی الصالحین اللھم اجعلنا مسھم کی ضرورت ہے ۔
    سورۃ الرعد
    (ت ۱۲۵۰) الہین اللہ ہوں جس نے حسب الواح موسیٰ رسول موعود پر یہ کتاب اتاری ۔ (ت ۱۲۵۱) لا یومنون بہت سے آدمی تو مانتے ہی نہیں جسم میں اعلیٰ دو یزیں ہوتی ہیں دماٹ و دل علاء اور بادشاہ دماغ ہیں ۔ صحبت دماغ کے لئے کل اسباب مہیا کئے جاتے ہیں مگر خدا کی خوشنودی کے لئینہیں فقراو مشائخ دل ہیں دل خوش کرنے کے لئے بہت سے اسباب بنائے جاتے ہیں مگر مولا کو خوش کرنے کے نہیں تو گویا دل و دماغ دونوں نے قرآن کو دستورالعمل نہیں بنایا ۔ (ت ۱۲۵۲) بغیرہ عمد یعنی آفتاب اور زمین کی کشش اور قوت دفع واتصال سے جو ظاہری کہوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتے اور نظر سے پوشیدہ ہیں۔ آسمان کی چھتیں قائم ہیں ۔ (ت ۱۲۵۳) علی العرش صاحب حکومت و اختیار مدبر امام قاہر غالب ۔ (ت ۱۲۵۴) بما واحد باران کہ بطانت طبعش خلاف نیست درباغ لالہ روید و دشورہ بوم خس۔ اسی طرح نیک سب یکساں ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم میں بھی فطرتیں و خواہشات انسانی مختلف ہوتی ہیں وہ اپنی فطرت کی رنگ رکھائی ہیں ۔ (ت ۱۲۵۵) لفضل یہ تفاضائے فطرت اور قانون نیچر کا رد فرمایا یعنی ایک مختاربالارادہ ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ (ت ۱۲۵۶) الا خلل یہہ ایک پیشگوئی تھی جو بدر میں بظاہر پوری ہوئی اور ایک رسومات توہمات کے طوق بھی ہوتے یں جو کور باطنوں کے گلے میں پڑے وئے ہوتے ہیں۔ جیسے آیت ہے ویضع عنھم اھرھم والا غلل النبی کانت علیھم ۔ (ت ۱۲۵۷) قبل الحسنہ یعنی ہم پر عذاب نہیں آتا تیرے ہمیںنقصان کیوں نہیں پہنچاتے۔ اس قسم کے الفاظ اور خیالات جھلا اور عوام میں اکثر ہوتے ہیں کیونکہ وہ کوئی علم و حکمت نہیں رکھتے چنانہ ارشاد ہے ومنھم امیون لا یعلمون الکتب الا امانی الخ میرے نزدیک یہ امانی ہی شرک ہے جس کے دفع کے لئے انبیاء نے زور لگایا ۔ (ت ۱۲۵۸) کل انثی سبب پیٹ کے بچوں کے لئے پیشگوئی ہے کہ وہ مسلمان ہوں گے ۔ (ت ۱۲۵۹) یحفظون یہ مامور اور مومن کے لئے حفاظت کی پیشگوئی ہے کہ اللہ اس کا ہمیشہ محافظ اور نگہبان رہتا ہیاور وہ اکثر کامیاب رہتا ہے ۔ (ت ۱۲۶۰) اسحاب الثقال اس سے بعض عارفوں نے باریک مضامین قرآن بھی لئے ہیں جو انسان کو علمی و عملی قوتوں سے بشرط عرفان و قابلیت سیراب کر دیتے ہیں اور وہ حامل و حامل قرآن مجید کے بھی مراد ہیں جو اس کو پھلائیں گے اور اشاعت کریں گے ۔ (ت ۱۲۶۱) الرعد نفس کو توڑنے والے جو سخت احکام آتے ہیں تو وہ موجب حمد و ثناء الٰہی ہوتے ہیں جس سے اصلاح ہوتی ہے اور نیک بخت لوگ بھی اللہ کی حمد و ثناء میں مشغول رہتے ہیں تا کہ ترقی مدارج ہو ۔ (ت ۱۲۶۲) المبالغہ پہلے سے اختیار خیزیں کسی کی کیا مدد کریں گی یا پانی سے مراد شریعت آسمانی ہے جس کا صرف منہ سے بلا عمل اقرار اس مضمون کا حسب حال ہے ۔ (ت ۱۲۶۳) خالق اس سے صاف ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو تخلق من الطینکے الفاظ آئے ہیں اس سے اس قسم کی خلقت مراد نہیں۔ بلکہ حد نبوت تک محدود ہے ورنہ چرند و پرند کا پیدا کرنا مشابہ خالقیت ہے جس سے اس آیت شریف میں انکار کیا گیا ہے اور خلقوا لخلقہ سے اس کارد فرمایا گیا ہے کیونکہ اہل سنت و جماعت کے اعتقاد کے مطابق سوائے خدا کے کوئی خالق نہیں اور اس نے فرمایا بھی ھل من خالق غیر اللہ اور ہو خالق کل شی ۔ (ت ۱۲۶۴) زبدار ابیا جھاگ سے وہ شبہات و اعتراضات بھی مراد ہیں جو لوگ حق کو چھپانے کے لئے کیا کرتے ہیں اور احتمل کا لفظ ان کے احتمالات کی دلیل ہے جیسے موسیٰ کے عصایر فرعون کی طرف سے احتمال سحر کا بیان کیا گیا ۔ (ت ۱۲۶۵) جفاء یعنی جھوٹے معترضوں کے ارادات کا رت لے جاتے ہیں اور خدا کا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے ۔ (ت ۱۲۶۶) یصلون ما امر اللہ نبی کریم و ازاج مطہرات و اہل بیت کے بعد صحابہ و تابعین اور تبع تابعین مفسرین و محدثین فقہا اور صوفیا اور محققین صلحاء و اتقیاء کے ساتھ کامل تعلق ہونا جاہئے نہ مثل متعصب اہل حدیث و شیعہ اور چکڑالوی وغیرہ کے اپنے من مانی بات پر خوش ہوں ۔ (ت ۱۲۶۷) جنت عدن جنت عدن کی یا مدت ہائے دراز سے پیرواں مذہب کے لئے باعث حسرت ہو رہی ہے اور اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو دل ہی دل میں کچھ کہتے ہیں کہ انہوں نے شیطان کا کہا مان کر دانے کے لالچ سے اپنی عزیز اولاد کو ہمیشہ کے لئے ورثہ پدری سے محروم کر دیا اور باوا حضرت تو فوت ہو گئے مگر وہ ان کا اور ہمارا پرانا دشمن شیطان جس نے انہیں ورغلایا تھا اب تک زندہ ہے بہت س تو اس کے مل جانے کی فکر میں ہیں کہ خوب خبر لیں اور بہت سے اس کے پھندے میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ غلام بے دام بنے ہوئے ہیں جس پر شیطان بھی ہنستا ہو گا ایسے ہی موقعہ پر کسی نے کہا ہے کہ لڑکا بغل میں ڈھنڈورا شہر میں کسی نے خواب میں شیطان کو دیکھ کر اس کی داڑھی پکڑ کر انتقاماً ایک تان کر طمانچہ مارا تھا اور ایک مارنا ہی چاہا تھ اکہ اس کی آنکھ کھل گئی اور معلوم ہوا کہاپنا ہی منہ اور داڑھی تھی اور طمانچہ بھی برکل خود ہے اور مار کے صدمے سے آںکھ کھل گئی ہے معلوم یہ ہوا بہت بڑا سیطان تو اس کا نفس ہی ہے اعدا عدووک نفسک الہی میں جنبک کیوں ابلیس کا تسلط کسی انسنا پر نہیں ہوتا سوائے اس شخص کے جو ابلیس کو اپنے نفس پر قابو دے دے اور اس کا کہنا ماننے لگے تو باعث فساد و بائی فساد نفس امارہ ٹھہرا اور وہی قابل ملامت ہے اب بھی انسان یعنی لالچی اور حرصی جنت اور آرام گاہ سے صرف دانہ کی خاطر نکالا جاتا ہے احقم انسان خیال کرتا ہے کہ روزی حلال و حرام کا خیال کر کے اور سچ اور جھوٹ کا تمیز رکھ کر الگ الگ کمائوں گا اور راست بازی اور تقویٰ اختیار کروں گا تو فاقوں مر جائوں گا اور اس کا نفس اسے ناصح امین بن کر دھوکہ دیتا ہے کہ زیست کا مدار اسی دانہ اور روزی پر ہے جس طرح میسر ہو جائے آخر اس جنت عدن سے جس کا نام اطمینان نفس اور آرام گاہ نفس مطئمنہ اور ایمان و یقین اور رضائے الٰہی ہے ہمیشہ کے لئے نکالا جاتا ہے اور ایسا ننگا مفلس قلاش اور عیب دار ہوتا ہے کہ ہر ایک شریف آدمی اس کو دیکھ کر شرم و حیا کے مارے منہ پھیر لیتا ہے اور خیال بد سے باز نہیں آتا اور آنکھیں بند کر لیتا ہے اور انے باپ پر یعنی حضرت آدم علیہ السلام پر ہو گا کھانے کا الزام لگاتا ہے جو جائے ادب ہے حالانکہ خود ایک دانہ کے لئے شیطان کے دام میں گرفتار ہے الا ما شاء اللہ اور جنت عدن کی فکر میں ہمیشہ رہتا ہے بعد تحقیقات کامل کے اس نتیجہ پرپہنچتا ہے کہ شہر بابل کے قیرب جنت عدن تھی حالانکہ عراق ایک علاقہ محدود ہے اگر حضرت آدم اور ان کی اولاد سب وہاں رہ پڑتی تب بھی وہاں جگہ نہ رہتی اور عراق کا ملک تو اب بھی موجود ہے اور وہاں کے رہنے والے بھی جو مذہبی تحقیق کے موافق عدن کی جنت کے رہنے والے ہیں حضرت آدم کی جنت کے لئے رو رہے ہیں نادان انسان اتنا نہیں جانتا کہ عدن کے معنی تو ہمیش رہنے کے ہیں اور وہ انعامات جوہمیشہ رہیں پس وہ جنت عدن جس کا زکر قرآن مجید میںہے کبھی دنیا میں نہ تھی اور اب بھی موجود ہے نہ تھی کا تو یہ مطلب کہ کیس جگہ کا نام نہ تھا اور ہے کا مطلب یہ ہے کہ متقی انبیاء اولیاء نیک لوگ ہمیشہ جنتوں میں رہتے ہیں جو ان سے کبھی نہیں چھینی جائے گی رہے آخرت کے جنت و انعامات اس کے لئے حضور سرورکائنات ﷺ فرماتے ہیں کہ مالا عین رات ولا اذن سمعت ورنہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کان نے سنیں مبارکی ہو اس کے لئے جو قرآن مجید کی بتائی ہوئی جنت کی تلاش کرے۔ توریت کے بتائے ہوئے جنتیوںکا خیال چھوڑے جنت بھی ایک رضائے الٰہی کا نام ہے ۔ (ت ۱۲۶۸) فنعم عقبی الدار یہاں تک ایماندار عاقلوں کا ذکر ہوا۔ اب منافقوں اور فاسقوں کا ذکر ہوتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کا اقرار توڑتے ہیں اس کو مضبوط کئے بعد اور ان سے جدائی اختیار کرتے ہیں جن سے ملنا اللہ پسند فرماتا ہے اور ملک میں شرارت پھیلاتے ہیں یہ ہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے دربدر کر دیا اور ان کے لئے برا گھر ہے ۔ (ت ۱۲۶۹) یکفرون بالرحمن جیسے مشرکین عرب کو وحدانیت سے چڑہتی ویسے ہی رحمان کے اسم شریف سے ۔ اور وہ مثل عیسائیوں آریوں کے رحم بلا مبادلہ کے قائل نہ تھے جو اس اسم شریف کا تقاضا ہے ۔ (ت ۱۲۷۰) الجبال چنانچہ ایسا ہوا ہے کہ فارس اور شام اور روم کی کوہسار سلطنتیں اس کلام مجید کے مقابلہ میں اڑا دی گئیں اور بڑً بڑے قطعات زمین کو …… ہوا یہ قرآں پھیل گیا اور ہزاروں روحانی مردے اس سے زندہ ہو گئے اور لاکھوں بے زبان اس کی بدولت بڑے مقرر اور متکلم بن گئے اور علم کلام پیدا ہو گیا مگر وائے بدنصیبی کو پھر بھی اکثر لوگ کافر ہی رہ گئے حالانکہ فلسفہ اس کے مسائل کو مان چکا ہے ۔ (ت ۱۲۷۱) کلھم بہ الموتی یہ پیشگوئی ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ بڑے بڑے لوگ مارے جائیں گے قرآن کی پیشگوئی کے موافق اور زمین پھٹ جائے گی اور مردے کافر خیات عرفانی الہی حاصل کریں گے ۔ (ت ۱۲۷۲) یائسکے معنی یتبین چنانچہ اقول لھم بالشعب اذیاسر دننی ـ الم تیا سوا انا ابن فارس زھدم (ترجمہ) مجھے شعب میں قید کرنے لگے تو میں نے کہا کہ تم کو علم نہیں اس بات کا کہ میں کون ہوں ۔ (ت ۱۲۷۳) ازواجا و ذریۃ وہ تارک الدنیا اور سادنہ ہو اور ناڑ بند وغیرہ نہ تھے جب تک صاحب خانہ نہ ہو گھر بار والا نہ ہو اخلاق کاملہ کا نمونہ اور کمالات انسانیہ کا جامع نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ راستبازوں کی جماعت بال بچہ والی ہوتی ہے ۔ (ت ۱۲۷۴) باذن اللہ یعنی کوئی رسول خود کسی فرمائشی معجزہ کا جواب نہیں دے سکتا۔ مگر اللہ چاہے تو اکثر انسانوں کی عادت ہے کسی مقدس کا اعتقاد اگر ان کے دنیوی اغراض میں مفید پڑا مثلا مرید ہوئے تو ترقی دینا یا کوئی اور مطالب دلی برآئے تو خوش ہوتے ہیں اور بڑا مقدس مانتے ہیں ورنہ سوء اعتقادی سے کہتے ہیں کہ کچھ نہیں چنانچہ ارشاد ہے فان اصابہ خیر اطمان بہ وان اصابتہ فتنۃ لی نقلب علی وجھد خسرالدنیا والاخرہ الخ ۔ (ت ۱۲۷۵) ام الکتب ایک قوم کو بااقبال بناتا ہے اور ایک کو تباہ اور یہ اللہ کا منشاء اور فعل ہے اور اس کے پاس اصل کتاب یعنی تعزیرات کی کتاب ہے اسی کے ضمن میں یہ جو بعض دنیا کی عمر سات ہزار بتلاتے ہی یا دو ارب یا اس سے بھی بڑھ کر بتاتے ہیں خدا کی ابدیت اور اقتدار کے سامنے یہ کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی اس لئے قرآن شریف میں کوئی میعاد مقرر نہیں کی گئی ۔ ہم تو ان قائلین کے ساتھ ہیں جو دعا کرتے ہیں اللھم ان کنت من الاشقیاء فامح اسمی من الاشقیاء واکتبنی فی السعدا کیونکہ ارشاد ہے واللہ غالب علی امرہ اللہ اپنے کام پر بھی غالب ہے پھر کیا فر ہے ۔ (ت ۱۲۷۶) بعض الذی فعدھم الخ وعدہ وعیددو علیحدہ علیحدہ باتیں ہیں وعید کا خلاف ہوتا ہے اور اس کا کرنیوالا کاذب نہی سمجھا جاتا بلکہ رحیم و کریم مانا جاتا ہے۔ عرب کہتا ہے انی اذا اوعدتہ او وعدتہ فمنجر وعدی ومخلف ایعادی یعنی ہم وعدہ کرتے ہیں اور وعید کرتے ہیں تو خلاف کر دیتے ہیں انذار کی پیشگوئیاں بعض وقت ٹل جاتی ہیںرہا وعدہ وہ اکثر لاف نہیں ہوتا۔ ہاں مصلحتاً یا بہ ترقی یا اعلیٰ کمال حاصل ہونے یا کرانے کے لئے کبھ صورت بدل جاتی ہے یا تنزل یا تبدل اور دیری میں اس کی ترقی ہوتی ہے مثلاً ہم ایک طالب علم سے کہیں تم کامیان ہو تو ایک روپیہ دیں گے اور کامیابی کے بعد اسے دس دین یا بجائے دس کے آٖندہ کی تعلیم کا کل خرچ اپنے ذُہ لے لیں یا کیس دوست سے وعہد کریں کہ ہم تم سے فلاں وقت ملیں گے یا فلاں طبیب بڑا ہی تجربہ کار ہے پھر کسی سخت مجبوری یا مصلحت سے وقت مقررہ پر نہ مل سکیں یا مذکورہ طبیب کے علاج میں شفا نہ پائیں وغیرہ امور واقعہ اس کے شاہد ہیں اور یہاں لاف وعدہ کوئی امر بھی نہیں سمجھا جاتا ۔ بعض الذی نعدھم کے معنی اس تشریح کے سمجھ میں آجائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ علینا الحساب یعنی پیشگوئی تیرے سامنے ظاہر ہو جیسے واقعہ بدر۔ اطراف کے معنی حاکم محکوم امرا غربا اغنیاء فقرا وغیرہ ۔ (ت ۱۲۷۷) یصدون رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو بچھڑے بھوکے کسی ریوڑ میں چھوڑ دئے جائیں اور ان سے اتنا نقصان نہیں پہنچے گا جتنا مال اور متصب کے حرص سے دین کو پہنچتا ہے مشکوۃ صفحہ ۴۲۳ اسی طرح فرمایا ہے کہ دنیا کی محبت یدن کو نقصان پہنچاتی ہے اور دین کی دنیاکو تو تم باقی رہنے والی چیز کو اختیار کرو مشکوۃ صفحہ ۴۳۳ ۔ (ت ۱۲۷۸) فردو ایدیھم کی چار صورتیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ انگلیاں منہ میں پکڑتے ہیں دوسرے ہاتھ کاٹتے ہیں تیسرے نبیوں کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہیں چوتھے انہیں کے ہاتھوں سے ان کا منہ بند کرتے ہیں ۔ (ت ۱۲۷۹) افی اللہ شک ماننے والوں کے چار گروہ ہیں (۱) صاحبان الہام وحی جن کو اعلیٰ درجہ کا یقین حاصل ہونے کے سبب سے وہ کسی منکر سے کہتے ہیں کہ افی اللہ شک (۲) ان کے متبع (۳) حکماء و عقلا جو کارخانہ عالم کو دیکھ کر اللہکو مانتے ہیں (۴) عوام جو آبا و اجداد کی پیروی کرتے ہیں ۔ (ت ۱۲۸۰) بسلطن مبین منکروں کا یہ ہمیشہ قاعدہ ہے وہ رسولوں کو بھی کہا کرتے ہیں کہ تم میں کمال کیا ہے تمہارے لئے دلیل کیا ہے تم کو کیا فوقیت ہے ہم تم کو ملک سے نکال دیں گے ۔ یا قتل کر دیں گے ۔ ہاں تم ہمارے مذہب میں واپس جائو تو اچھا ہے چونکہ نبیوں کی تعلیم کے دو حصہ ہوتے ہیں عقائد حقہ ۔ واعمال صالحہ جو مسرک تعامل سے واضح ہوتا ہے ۔علمی تدبیرات میں مجتہدین کا ظہور ہوتا ہے اور ان کے ساتھ سلطان مبین رہتیہے اور رسوم الف کے خلاف میں منکرین کا پھر وہ مخالفت کرتے ہیں اور زلیل ہوتے ہیں ۔ (ت ۱۲۸۱) ولتھلکن راستبازوں کا سچا میعار یہ ہے کہ مقابلہ کے وقت ان کا دشمن ہلاک ہو جاتاہے اور راستباز یا ان کی جماعت ان کی جگہ پر قائم ہو جاتی ہے ۔ (ت ۱۲۸۲) ورائہ یہ لفظ کہیں پیچھے کے معنی میں ہی آتا ہے جیسے وراظہورھم اور کہیں آگے جیسے یہاں ۔ (ت ۱۲۸۳) الموت یہاں موت کے معنی مصیبت کے ہیں ۔دلی جسمانی۔ مالی ۔ اور اولادی ۔ دوست وغیرہ کی یعنی دکھ کے ایسے اسباب پیدا ہوں گے کہ انمیں سے ایک بھی دنیا می ہو تو وہ مر جائے لیکن وہاں نہیں مرے گا ۔ (ت ۱۲۸۴) کل حین باذن ربھا یہ ایک تمثیلی پیشگئوی ہے کہ اسلام سدا رہے گا اور عقاید باطلہ برباد ذوائل ہوتے رہیں گے اور قرآنی حقائق و معارف ہر موقعہ پرکھلیں گے اور مترددین کو کامیاب کریں گے۔ (ت ۱۲۸۵) بامرہ کی ضمیر اللہ کی طرف پھرتی ہے اسی طرح حضرت سلمان علیہ السلام قصہ میں ضمر آتی ہے ۔ وہاں بھی ضمیر کو اللہ ہی کی طرف پھیرنا چاہئے کیونکہ اللہ ہی نے ان کی ہو ابنار کہی تھی اور وہی عزت و آبرو کا ان کے محافظ تھا ۔ (ت ۱۲۸۶) سالتموہ یعنی حقیقی حاجتوں کے اسباب بڑے سہل اور سستے رکھے ہیں اور جس قدر حاجت کے دور ہموتے جاتے ہیں اسی قدر گرانی ہوتی ہے ۔ جیسے آب و ہوا روشنی وغیرہ چیزیں مدار زندگی بہت سستی ہیںاور جواہرات الماس وغیرہ بہت گراں ہیں کیونکہ ضروریات سے نہیں بلکہ تکلفات اور زینتوں سے ہیں ۔ (ت ۱۲۸۷) ابراھیم ابراہیم علیہالسلام عظیم الشان انسان جس کے فخر کے لئے یہ کافی ہے کہ سردار دو جہان سیدالمرسلین کو ان سے تشبیہ دے کر فرمایا ہے کہ ان اولی الناس یابراھیم للذین اتبعوہ وھذالنبی الخ اور کما صلیت علی ابراہیم وغیرہ ادعیہ تمام اہل کتاب اور اہل اسلام کا مانا ہوا مقدس نبی ہے جو ابوالملۃ کہلاتا ہے ۔ (ت ۱۲۸۸) البلد مقام غیر ذی زرع حصرت کو البلد نظر آرہا ہے جو اس کے لئے آئندہ پیشگوئی کا رنگ رکھتا ہے ۔ (ت ۱۲۸۹) لوالدی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آذرا ابراہیم علیہ السلام کے باپ نہ تھے بلکہ تایا تھے جس کے لئے وہ منع کی گئی تھی کیونکہ یہاں والد کے لئے جو دعا کی ہے اس کے ساتھ کوئی ممانعت نہیں کی گئی والد کا لفظ خاص ہے اور اب کا لفظ عام ہے جو چچا اور تایا پر بھی بولا جاتا ہے اور یہ اخیر عمر کی دعا ہے جو بعدالمنع ہوئی ہے ۔ (ت ۱۲۹۰) الا مثال یعنی شجر طبیب اور شجر خبیث کی جو اس پارہ کے رکوع (۱۶) میں آچکا ہے اور پندو نصیحت کے لئے خیرالواعظ الموت ہے جو سیدنا عمر کی مہر مبارک میں بھی کھدوا ہوا تھا
    مجلس وعظ رفتنت ہوس است
    مرگ ہمسایہ واعظے توبس است
    جناب گو تم بدہ نے بھی خوب کہا جبکہ ان کے پاس ایک عورت نے آکر عرض کی میرا بچہ بھی مر گیا ہے آپ بڑے مہاتما ہیں کر پاکر کے اسے زندہ کر دو چونکہ مرض لاعلاج تھا کہا کہ بہتر مگر رائی کے چند دانے ایسے گھر سے لا دے جہاں کوئی مرا نہ ہو ۔ آخر عورت نے پھر پھر کر مردہ کے دفنانے کی اجازت حاصل کی اور مرید ہو گئی راستی کا راستہ اختیار کر لیا مرگ انبوہ جشنے دارد کے رنگ میں فرمایا تا کہ وہ تسکین پا جائے سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ (ت ۱۲۹۱) دوانتقام نصاریٰ بڑے ہمدرد و رحیم کہلاتے ہیں ان سے پوچھا کہ عیسیٰ کا کفارہ یہود کے لئے بھی مفید ہے یا نہیں تو وہ گھبرا اھے اسی طرح شیعہ جو حضرت حسین کو کفارہ مانتے ہیں مگر انتقام کے درپے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ قومیں غور کریں کہ انتقام کا مسئلہ بھی برحق ہے ۔ (ت ۱۲۹۲) تبدل الارض یہ مطلب بھی ہے کہ زمین کفر کی بدل کر اسلام کی زمین ہو جائے گی اور آسمان بجائے غضب نازل کرنے کے رحمت نازل کرے گا۔ یعنی عالم آخرت میں وہاں کے مناسب حال اور ہی زمین و آسمان ہوں گے ۔ یہاں کے زمین وآسمان نہ ہوں گے جیسا کہ ارشاد ہے یوم لظوی السماء کطی السجل الکتب الخ اور دنیا میں متقی غالب ہو جائیں گے کافروں کی املاک و زمین پر ۔ (ت ۱۲۹۳) فی الارصفاد یعنی جس سے وروں اور گدہوں وغیرہ کو باندھتے ہیں پیشگوئیوں کا ظہور اخروی امور کے ثبوت کے لئے ضروری و قطعی ہے ۔
    الجزء 14
    (ت ۱۲۹۴) ذرھم اسلام جبری نہیں کہ زبردستی منوایا جائے عذاب اور جہاد کا حکم تفض امن اور مثقیوں کے ان کے دینی کام سے رکنے کے سبب آتا ہے۔ تبدیل و اختلاف مذہاب سے نہیں … جاتے ۔ (ت ۱۲۹۵) کتاب معلوم یعنی لکل امتہ ابن فی علم اللہ یادما کنا معذبین حتی نبعث رسولا یعنی رسول کی تبلیغ کے بعد بھی سرکش بدکار رہیں تو عذاب آتا ہے ۔ (ت ۱۲۹۶) انک المجنون اس کا جواب سورہ نون کی پہلی سطر میں یوں دیا ہے کہ تمام تحریرات کو خلاصہ در خلاصہ اور بحث در بحث کر کے دیکھا جائے تو جب بھی سی تحریری دلیل سے تو مجنون ثابت نہ ہو سکے گا بلکہ انک لعلی خلق عظیم اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ مجنون کو کوئی مزدوری نہیں ملتی لیکن نبی کریم ﷺ کے کام کی مزدوری کی کوئی انتہا نہیں اور مجنون کے اخلاق درست نہیں رہتے آپ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ ہیں۔ سورہ نون قلم میں تفصیل دیکھو ۔ (ت ۱۲۹۷) لحفظون یہ ایک اٹل پیشگوئی ہے جس کا ثبوت ہر زمانہ اور ہر ملک میں ہوتا رہا اور ہوتا رہے گا گو چھپائی اور لکھائی میں اکثر غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ مگرحفاظ علمائے عامل قرآن کی حفاظت کا کامل ذریعہ خداوند تعالیٰ نے ابن اسلام میں ایسا جاری کر رکھا ہے جس سے چھپائی اور لکھائی کی غلطی فوراً دور ہو سکتی ہے ۔ (ت ۱۲۹۸) شھاب مبین یعنی کوئی خبیث …… آسمانی الہام حاصل نہیں کر سکتا یا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا مگر یوں ہی چوری سے اور پھر اس کے پیچھے شہاب مبین یعنی دلائل واضحہ حقہ اس کی چوری کو ثابت کر دیتے ہیں ۔ قبل از وقت واقعات معلوم ہونے کے نئے انسان کو تڑپ لگی ہوئی ہے جس کے لئے عجیب عجیب تجویزیں کیں (۱) شانہ بین کی کتابیں (۲) خط تقدیر جسکے لئے چار مقامات بتائے ہیں ہاتھ ۔ پیشانی ۔ پائوں کھوپری بعض نے تل بعض نے رمل بعض کان پان سے جانوروں سے شگون علم سرودہ جسے عربی میں علم النفس ناک ساس اعضا کے اختلاج سے اس سے بڑھ کر علم نجوم جس کے ۲ حصہ پر جفران سب سے بڑھ کر کہانت جس کا کچھ حصہ یورپ میں اور امریکہ میں آجکل بھی پایا جاتا ہے اور اس پر …… کہلاتا ہے اور انسان کی روحوں سے مکالمہ کرانے کا مدعی ہے۔ ہمایر ملک میں حاضرات والے اور ہمزاد والے خبیث فرقہ جو بالکل نجس رہتا ہے غیب بینی میں کوشش کرنے والوں پر تعجب آتا ہے ورنہ تمام جہان پیشگوئی کا عادی ہے ایک دوست دوست کو لکھتاہے کہ اتنے بجے میں آئوں گا (۲) کاشتکار اناج بوتا ہے ۔ (۳) ملازم کام کرتے ہیں (۴) تاجر کی کارروائی (۵) اشتہارات کا جاری کرنا۔ وغیرہ وغیرہ ان کا معیار صداقت کثرت و قلت پر ہے اس کاہن نجومی وغیرہ کا جھوٹ کثرت سے ثابت ہوتا ہے اور نبیوں و راستبازوں مین صدق کثرت سے پایا جاتا ہے وہی کلام الٰہی کا حال ہے یعنی قول وفعل برابر ہے ناسمجھی سے کبھی بے موقعہ بات سمجھ لی جاتی ہے اصل من برموقعہ ہوتی ہے ۔ (ت ۱۲۹۹) مددنھا زمین بڑہتی رہتی ہے اور جزائر پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی شمالی حصہ پانی میںدبا ہوا تھا اب وہاں آبادی ہے ۔ (ت ۱۳۰۰) مسنون یہ مشتق ہے سنت الوجہ سیکسی چیز کو کسی کے مناسب بنا دیا ۔ (ت ۱۳۰۱) اوالجن بقول ابن عباس رضوان جنون کے باپ کا نام ہے بعض لوگ ابلیس سے مرادلیتے ہیں اور تمام شریر نافرماں لوگ دوزخ میں جائیں گے جو ان کی ماں ہے فامہ ھاویہ یعنی جتنے شریر شیطان ہیں وہ سب آگ کے فرزند ہیں ۔ (ت ۱۳۰۲) قال بذریعہ نبی یا فرشتوں کے بطور حکم شرعی نہ بطور حکم کونی کے ارادہ ۔ مشیت۔ فضا ۔ امر ۔ کن ۔ حکم ۔ خلق ۔ جعل وغیرہ یہ سب امور کون سے ہیں دوسری قسم کے امر شرعی ہیں جس میں تخلف مخلوق کر سکتی ہے اور قسم اول میں نہیں ۔ (ت ۱۳۰۳) یبعثون یعنی ہر ایک امور کے وقت میں نمایاں بدکاریاں دکھائوں گا ۔ (ت ۱۳۰۴) لارنین ان کو بنائوں گا حرص کی دہت لگائوں گا ۔ (ت ۱۳۰۵) علی مستقیم یعنی بندون کو کہے رکھتا ہوں کہ وہ اس راستہ سے میرے پاس آئیں تیرے کہنے پر نہ چلیں۔ یہ بندوں کیحال پر حق کی مہربانی اور فضل و رحمانیت ہے ۔ (ت ۱۳۰۶) المخلصین ـ ان کیدالشیطان کان ضعیفا یہی آیا ہے کسی بدکار یا نیکوکار پر شیطان نے جبر نہیں کیا ہم نے بڑے بڑے بدکاروں سے پوچھا ہے کہ کیا تم کو کوئی جبر کر کے لے گیا ہے تو کہا نہیں بلکہ ہم خود ہی گئے ماں کوئی اس کو اپنے پر مسلط کر لے اور راصتی ہو جائیتو خوب ناچ نچواتا ہے ۔ (ت ۱۳۰۷) لھا سبعۃ الواب انسانی سات دروازے جس میں شیطان کو نہ آنے دینا چاہئے۔ آنکھ۔ کان۔ ناک ۔ پیشاب کی جگہ پائخانہ کی جگہ ۔ زبان ۔ خیال ۔ یعنی حصہ اندرون ۔ (ت ۱۳۰۸) لوط قو م لوط کی بستیاں بحر مردار کیکنارہ پرتھیں جو بدکاری کی وجہ سیتباہ ہو گئیں جن کے نام سڈوم صعر غرگمائو تھے ۔ (ت ۱۳۰۹) وامصوا چنانچہ حضرت لوط برصغیر کو چلے گئے۔ (ت ۱۳۱۰) بناتی صعر غرقریب ہی ایک پہاڑ تھا وہاں ۔ طواف الملوک کے زمانہ میں امرا کے حملوں کے خوف سے یہ خیال پیدا ہوا کہ کسی قوم کے جاسوس لوط نے گھر میں چھپائے ہیں اس لئے ان کی تباہی کے درپے ہوئے اس خیال کے دفعیہ کے لئے لوط علیہ السلام نے اپنی بیٹیوں کو بطور ضمانت کے پیش کیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ جاسوس ثابت ہوں تو میرے لوگوں کو سزا دی جائے اور طالب الزام تھے اس لئے خوش تھے ۔ (ت ۱۳۱۱) الا یکۃ اب کہ درختوں کے بن مدین کے شہر کے اطراف درختوں کے بہت جھند ہیں اس لئے یہ لوگ ایکہ والے کہلاتے ہیں یہی شعیب علیہ السلام کی قوم ہے ۔ (ت ۱۳۱۲) سبعا یعنی الحمد شریف جو نماز میں دوہرا دوہرا پڑہی جاتی جاتی ہیں جس میں سات آیتیں ہیں یا اوائل کی سات سورتیں ۔ (ت ۱۳۱۳) مقتسمین یعنی قرآن کی خاص خاص آیتوں کو ے لیا اور خلاف نفس جو ہمارے ارشاد تھے ان کو کیوں ترک کر دیا مقتسمین کے کئی معنی ہیں ۱۰) یومنون ببعض ویکفرون ببعض (۲) تقاسموا باللہانبیاء اور اولیاء کے قتل کے منصوبے رسول اللہ ﷺ کے بعض دشمن جو راستہ روکنے کو مختلف رستو میں بیٹھے لوگوں کو بھکانے سورتوں کو بانٹ لیتے کہ میں بقرہ لوں گا تو …… وہ عنکبوت لے گا وغیرہ وعیرہ ٹھٹھے کرنے والے یہود وغیرہ جن پر عذاب اتر چکا اور وہ مغضوب ہو گئے اور اب آیت شریف تمثیلی طور پر ان مسلمانوں کی نسبت پیشگوئی ہے۔ جو قرآن کو ضداور عناء کی راہ سے بوٹی بوٹی یعنی آیۃ آیۃ بمطلب خود ہا لے کر تفرقہ اندازی کریں گے اور واعتصمواس بحبل اللہ کے خلاف ورزی ہو گی چنانچہ بعض بعض اخاقی حصوں کو پسند کرنے والے تقدیر و تدبر سے جھگڑا کرنے والے تشبیہ و تنزیہ کی بحث کرنے والے اور ……… و منسوخ بتانے والے عرش و فرش وغیرہ وغیرہ کا جھگڑا کرنے والے افتومنون ببعض الکتب تکفرین ببعض کے پورے مصداق ہیں ۔
    سورہ نحل
    (ت ۱۳۱۴) تمہید اس سورہ شریف میں بہت سی پیشگوئیاں ہیںتوحید و نبوت و ختم نبوت پر بحث ہے۔
    تمہید دلائل ضرورت نبوت تقریراں دلائل کی یہ ہے کہ صرف عقل استخراج مسائل شریف کے لئے کفایت نہیں کرتی بلکہ اس کے لئے سماوی وحی کی ضرورت ہیگو سچی اور صحیح باتیں دنیا کے مختلف اشخاص یا احم میں موجود ہیں ان تمام کے اجتماع کے لئے وحی کی ضرورت ہے جیسے کہ پانی جو کہ لوگوں کے دست مال سے یا زمینی آلائشوں سے انسانی تربیت کے لئے مضر ہو جاتا تو اس کو لطیف بنا کر پھر اتارا جاتا ہے تا کہ وہ لوگوں کے لئے مفید ہو اور بارش کے بغیر ندئیلن اور گوئیں اور تالاب خشک ہو جاتے یا زہریلے ہو جاتے اسی طرح وحی تمام سچائیوں کو منتخب کر کر انبیاء کے ذریعہ سے مخلوقات تک پہنچاتی ہے اسی طرح گھانس اور پھونس نین دودہ موجود ہے اس کے الگ کرنے کے لئے جانوروں کے پیٹ کی مشین ہے۔ اسی طرح پھولوں میں شہد موجود ہے لیکن اس کے الگ کرنے کے لئے شہید کی مکھی کا پیٹ ہے ۔ (ت ۱۳۱۵) تسرحون واپسی کے وقت چونکہ وہ چر کر آتے ہیں تو زیادہ خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اور چکتے اور خوش حال رہتے ہیں جو قدرت الٰہی اور واحد قہار کی صفت کا نظارہ ہے ۔ (ت ۱۳۱۶) مالا تعلمون دلیل ہشتم جیسے ریل و بائیسکل و موٹر و غبارے ہوئی جہاز وغیرہ وغیرہ پیدا شدہ و پیدا شدنی چیزیں ۔ (ت ۱۳۱۷) لھداکم دلیل نہم یعنی اگر ہمارے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے تو تم سب را پا جاتے اور ہم سی پر جبر نہیںکرتے ۔ (ت ۱۳۱۸) مائح سماوی پانی کے بغیر جسمانی قیام بھی نہیں ہو سکتا پھر روحانی وحی کے نزول کیبغیر کس طرح روحانیت محفوظ رہ سکتی ہے ۔ (ت ۱۳۱۹) تمیدلکم مید چکر کھانا۔ دوسرے میدہ مائدہ سے بنا ہوا یعنی ان سے برف پگھل کر بھتی ہے اور چشمے جاری ہو جاتے ہیں اور سامان غذا جاری ہوتے ہیں تیسرے میدہ کے معنی ٹھہرنے کے ہیں چوتھے میدہ کیمعنی جو کھاتے ہیں ۔ (ت ۱۳۲۰) بالنجم ذات پاک رسول اکرم ﷺ س مراد ہے ۔ جب آدمی جسمانی راستوں کے لئے ستاروں کو راہ نما بناتے ہیں تو روحانی راستوں کے لئے کیا کسی راہ نما کی ضرورت نہیں ہے بے شک النجم کی ہے اور النجم سے مراد عموماً عربی زبان میں ثریا تارہ مراد لیتے ہیں یوں معنی کسی اعتبار سے قطب بھی ہو سکتا ہے وبالنجم ہم ھتدون یعنی ہدایت روحانی سے مبسل انبیاء کو حاصل کر لو اس النجم کو نہ چھوڑو ۔ (ت ۱۳۲۱) لا یخلقون شیئا الخ تو عیسیٰ علیہ السلام کی خلق طیر کس طرح ثابت ہو۔ خالق اور غیر خالق کو شریک فی العبادۃ باتصرف کیونکر با سکتے ہیں ۔ (ت ۱۳۲۲) ایان یبعثون پھر حضرت مسیح جو یورپ وامریکہ اور اکثر اہل ایشیا کے بزعم مشرکین معبود مانے گئے ہیں وہ زندہ کیونکر مانے جا سکتے ہیں ۔ (ت ۱۳۲۳) الہ واحد جن کو جاہل مشرکوں نے معبود طہرایا ان میں سے اکثر دن پر بڑے بڑے مصائب آئے تا کہ ان کی بشریت عوام کو معلوم ہو جائے۔ چنانچہ حضرت حسین علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام اور امچندر جی مہاراج وغیرہ ۔ (ت ۱۳۲۴) ومن اوز الذین الخ کا مقابلہ لا نذر وازرۃ سے بعض سائلین نے کہا تھا جس کا جواب یہ ہے کہگناہ و ثواب کرے کوئی اور ملے کسی کو ایسا اندھیر نہیں ہو گا ہاں ہدایت گمراہی کا ثواب و عذاب فاعلین کو ملے گا کیونکہ لا یضیع اجر المحسنین ارشاد ہے ۔ (ت ۱۳۲۵) السقف یعنی وہ تدابیر و آنحضرت کے قید باقتل یا جلاوطن کرنے کے لئے کی گئیں تھیں اس پر یہ پیسگوئی فرمائی جاتی ہے کہ وہ تمام کارروائیاں خاک میں ملادی گئیں اور ان کا استیصال کر دیا کیونکہ کوئی سچا نبی دشمنوں کے ہاتھ سے ہلاک نہیں ہوتا ۔ (ت ۱۳۲۶) فی ھذہ الدنیا یہ صحابہ کرام کیلئے پیسگوئی بھی ہے جن کی دنیوی کامیابی آخرت کی کامیابی کا قطعی ثبوت ہے ۔ (ت ۱۳۲۷) من قبلھم یعنی سب نافرمانوں نے بلا اجازت خدا کے بے جا کام کیا ہے۔ یعنی ظلم کیا ہے انے نفسوں پر شبہی مضمون بہ تفصیل مذکور ہے وہاں ملاحظہ ہو۔ یہ مضمون رد جبر میں ہے ۔ (ت ۱۳۲۸) کن مردوں کو جلانا کچھ بڑی بات نہیں۔ مصرع۔ قوم سے زندہ ہے پتلا خاک کا ۔ (ت ۱۳۲۹) حسنۃ یہ صحابہ کے حق میں پیشگوئی ہے جو پوری ہو چکی جو کہ دلیل ہے اسات قیامت کی ۔ (ت ۱۳۳۰) داخرون ڈہلتے سایہ کی مثال انبیاء اور اشقیا کے نوبت دودرے سے بھی ہے ۔ (ت ۱۳۳۱) الھین اثنین یہ آتش پرست یعنی ثنویہ فرقہ کے مذہبکا رد ہے جو یزدان اور اھرمن کے قائل ہیں یعنی خالت خیر اور خالق شر وغیرہ ۔ (ت ۱۳۳۳) لطیفہ فایاہ فارھبون ـف ـ ایای ـ ف کے معنی ڈرو مجھے پھر کہتا ہوں مجھ سے ہی پھر مجھے ہی ڈرو ۔ (ت ۱۳۳۴) یقترون یعنی زبردستی بغیر اجازت الٰہی نذر اور بہیٹ مخلوق کے تم نے ناجائز طور پر ٹھیرا لیں حالانکہ یہ سب کام اللہ ہی کے لئے کرنا تھا یا اس کیحکم سے کیا وب کہا حضرت سعدی نے کہ
    نہ بے حکم شرع آب خوردن خطاست
    اگر خون بہ فتویٰ بریری رواست
    (ت ۱۳۳۵) للہ البنات نصاریٰ خدا کو با مخلوق کا بیٹا عرب خدا کو باپ اپنے کو بیٹیاں برہمو خدا کو ماں کہتے ہیں سبحانہ وتعالیٰ عما یشرکون ۔ (ت ۱۳۳۶) فی التراب آنحضرت جب لڑکیوں کو قتل سے بانے کا وعظ فرما رہے تھے تو ایک شخص چلا اٹھا کہ مجھے ایک سین لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کے حسن نے قتل سے روکا مگر اس کی جوانی نے مجھے غیرت سے مجبور کیا میں نے اس کی والدہ کو عمدہ پوشاک اور زیور سے آراستہ کرنے کا حکم دیا پھر میں اسے جنگل میں لے گیا جہاں پہلے سے کنواں تیار کر لیا تھا لڑکی میرا ارادہ معلوم کر کے بہت بلبلائی اور چلائی کہ اے میرے باپ میں تیری وہی پیاری بیٹی ہوں جس کو تو نے شقف سے پالا وگو میرا دل پگھلا مگر غیرت نے مجبور کیا اور میں نے اسے کنوئیں میں دھکیل دیا ایک اور شخص نے کہا کہ میں نے آٹھ لڑکیاں قتل کی ہیں یہ رحمۃ اللعالمین نے عرب پر حم فرمایا کہ بے رحمی کو رحم سے بدل دیا اور قتل موقوف اللھم صلی علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد بارک وسلم ۔ (ت ۱۳۳۷) مثل السوء مثلاً کمثلالحمار بحمل اسفارا اور کمثل الکلب اور جعل منہم القردۃ والخنازیر الخ اور کالانعام بلہم اضل ۔ (ت ۱۳۳۸) مفرطون یعنی بدکاریوں کے سبب سے آٗ کی طرف دوڑ رہے ہیں یا اہل نار کے میر قافلہ ہیں یا خدا ہر جھوٹ بولنے میں زیادتی کرنے واے ہیں ۔ جھوٹ خواب بنانے والے اور پیشگوئیاں کرنے والے وغیرہ ہیں ۔ (ت ۱۳۳۹) ماء دلائل کی تمہید یہ ہے کہ صرف عقل اور قوائے بشری استخراج مسائل شرعی کے لئے کفایت نہیں کرتے جیسا کہ ہم نے اوپر سورہ نحل رکوع (۱۴) میں ذکر کر دیا ہے لہذا بار بار دلائل توحید و نبوت ارشاد فرکرکم عقلون کو قوت اور ضالین کو ہدایت و عاسقین کو بطالی اور جمالی تجلیات سے مانوس اور مائل فرمایا گیا ہے چنانچہ نبوت کو پانی سے مثال دی ہے یعنی دنیا میں بیج تو موجود ہوتے ہیں یعنی نیک و بد باتیں پہلے سے جانتے ہیں۔ مگر جب تک بارش نہ ہو نشوونما نہیں پاتے خلاصہ یہ کہ تازہ الہامات اور وحی کی ضرورت ہے مگر یہ سننے والوں کے لئے ہی ہے یہ نبوت کی پہلی دلیل ہے ۔ (ت ۱۳۴۰) لعبرۃ اس میں اشارہ کیا ہے کہ رسول کیوں آتے ہیں کتابیں کیوں آتی یں اور حق بطلان کیجھنڈ وہلڑ میں سیکس طرح لطیف طور پر بے آمیزش ظاہر ہوتا ہے اور جسمانیت میں سے روحانیت کی طرف غور اور تامل ا موقعہ کس طرح دیا جاتا ہے اور حق وناحق کی تمیز رنگ اور بو اور مزہ سے کس طرح صاف صاف حکمت الھیہ کی مدد سے ظاہر ہوتی ہے۔ (ت ۱۳۴۱) لبنا یہ نبوت کی دوسری دلیل ہے یعنی جس طرح دودھ خالص گھانس پھوس کے اجزا میں سے قدرت الٰہی سے خالص ہوتا ہے اسی رح نیک و بد عقلی و لقلی ولیلوں میں سے کلام الٰہی صاف ہو کر الہام الٰہی کے پیٹ میں دودھ کا رنگ لیتا ہے ۔ (ت ۱۳۴۲) واوحی وحی کے اقسام بہت ہیں جس میںسے چند یہ ہیں زمین کو وحی ہوتی ہے بان ربک اوحی لھا اور آسمانکو ہی جیسے واوحی فی کل سماء امرھا یہ نبیوں کے درجہ سے نیچیکی وحین ہیں ۔ (ت ۱۳۴۳) تمرات مختلف الوانہ عربی میں شہد کے نام چار سو ملتے ہیں جو اس کی کثرت پر دلالت کرتے ہیں اور اس کے رنگ بھی کئی ہوتے ہیں ۔ (ت ۱۳۴۴) یتفکرون شریعت کاملہ کے نزول کے بعد اس کی محاقطت کس طرح ہوتی جو عمر کے ہر ایک حصہ میں مفید ہو جب رسول آتیہیں قوم کو راستبازی سکھلاتے ہیں اور ایک ہدایت نامہ مکمل دے جاتے ہیں اور ایک جماعت نیکوں ک تیار ہو جاتی ہے پھر کمال کے سبب سے وہ متمول بھی ہوتی ہے اور ان کی اولاد میں تکبر اور بڑائی اور خ……… پیدا ہوتی ہے اور نبی کی راستبازی کی تعلیم بھولی جاتی ہے بلکہ بدمعاشی کے لئے نبی کی تعلیم کو غلط طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی اصل ان کو معلوم نہیں ہوتی اور نبی وغیر نبی کی تعلیمات خوب مختلط ہو جاتی ہیں تو مثل برسات کے الہام شروع ہو جاتا ہے جو اولیاء اللہ وماموروں کا حق ہوتاہے اس سے دودھ کو الگ کیا جاتا ہے اور فضلات کو الگ ملہمین کی ذات پاک دودھ کو اس طرح الگ کر دیتی ہے کہ عقلی تجربہ والے تحقیقات کے بعد بھی سچی صداقت کو نہیں پہنچتے ایک سوال یہ ہے کہ جب مسائل سمجھ لئے تو پھر الہام کی یا حاجت رہی۔ جو اب یہ ہے کہ اگر بچہ کو دودھ ایک وقت دے کر چھوڑ دیا جائے تو وہ ہلاک ہو جائے جیسا ہر وقت کھانے پینے کی ضرورت ہے ویسے ہی تعلیم الٰہی کی بھی ہر وقت ضرورت ہے۔ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ جب وہ بچہ جوانی کو پہنچ گیا تو اب دودھ کی کیا حاجت رہی۔ تو جواب یہہ ہے کہ نتائج اور پہلوں کی حاجت ہے جیسا کہ تنجیل والے عتاب مین اشارۃ ہے پھر بڑہاپے میں شہد کی ضرورت اکثر بیماریوں میں ہوتی ہے یہ الہام کیتین مثالیں ہوئیں اور شریعت حقہ کا بیان انزل من السماء میںہو چکا ہے ۔ (ت ۱۳۴۵) پرادی رزقھم اس آیۃ کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول کو خدا نے اعلیٰ درجہ کی نبوت دی ہے وہ دوسروں کو مستقلاً نہیں دے سکتے جیسے کسی کو اعلیٰ درجہ کی چیز ملی تو وہ اپنے ماتحتوں کو پوری پوری دے کر اپنے برابر نہیں کر سکتا اور مفلس و قلاش نہیں بنتا ۔ (ت ۱۳۴۶) بنین وھذۃ یعنی دنیوی ہر کام بتدریج ہوتا ہے دیکھو نکاح ہوتے ہی بچے اور بچوں کے بچہ نہیں ہو جاتے اور پاکیزہ روزی میں بھی دھیان کرو اسی طرح اس نبی کی ہی کامیابی بتدریج ہو گی ۔ (ت ۱۳۴۷) ھم یکفرون یعنی نبی اور اعلیٰ درجہ کانبی ہوتا تو جھٹ کامیاب ہو جاتا ہے ایسی داہیات باتوں کیماننے سے نعمت اللہ کا انکار کر دیا یعنی نبوت کا ۔ (ت ۱۳۴۸) لا یستبطبعون یعنی جھوٹے معبود نہ آسمان سے پانی برساتے نہ زمین سے غلہ نہ ان کے اسبابوں پر قدرت رکھتے ہیں پھر کیسے معبود ہو سکتے ہیں ۔ (ت ۱۳۴۹) فلا تضربوا یعنی خدا کو تم خود کسی درجہ کا قرار نہ دو کیونکہ تم نادان جاہل ہو س کی صفات سے جیسے اکثر نادان کہا کرتے ہیں کہ خدا کی مثال بادشاہ کی جیسی ہے اور انبیاء اولیا وزرا اور امرا کی طرح میں جن کی وساطت کے بغیر کچھ کام نہیں چل سکتا اور عیسائی تو کہتیہیں کہ خود خدا انسان کی شکل میں آگیا جب نبیوںسے کام نہ چلا نعوذ باللہ ۔ (ت ۱۳۵۰) ھل یستوین یعنی بت جو بت پرستوں کے اختیار میں ہیں یا مردے جو زندوں کے اختیار میں ہیں یا بت پرست جو اپنے گروئوں کے اختیار میں ہیں دوسرے بھی اور اس کے ساتھ والے جس کو ہم نے اپنی ذات سے اختیار دیا ہے دونوں کہاں برابر ہو سکتے ہیں کیا اچھی مثال دی ہے ۔ (ت ۱۳۵۱) کل ابکم یعنی دوسروں کو راہ راست پر لا سکتا ہے نہ اپنی صاف صاف کہہ سکتا ہے ۔ (ت ۱۳۵۲) لا یقدر علی شی یعنی اخلاقی اور روحانی ترقی نہیں کر سکتا اور نہ اصلاح عادات ۔ (ت ۱۳۵۳) جلود الانعام یعنی چمڑے کے ڈھیرے خیمے ۔ بسترے لباس اور ادنیٰ ادنیٰ چیزیں وغیرہ اصوافھا صوف اون جس سے مثال دو شالے باریک چیزیں بنتی ہیں وبر اونٹ کے موٹے بال جس سے نمدے ۔ لوئی وغیرہ وبنتے ہیں ۔ اشعار وہ بال جس سے کمل اور رسیاں اور زنجیریں اور ڈورئیں وعیرہ مختلف چیزیں بنتی ہیں ۔ (ت ۱۳۵۵) ظلا یعنی مکانات اور درخت اور چھترئیں وغیرہ ۔ (ت ۱۳۵۶) شھیدا جب مامور آئے تو اسی قوم کا ہو گا ۔ (ت ۱۳۵۷) یستعتبون اور وہ دروازہ کی چوکھٹ کے نزدیک بھی آنے نہ پائیں گے یہ عتبہ سے مشتق ہے ۔ یعنی توفیق نیک چھن جائے گی رجوع …… نہ کر سکیں گے ۔ (ت ۱۳۵۸) یامر اس آیت میں تین حکم فرمائے ہیں عدل خدا کے ساتھ اور مخلوق کے ساتھ دوسرے احسان جو بڑھ کر نیکی کرتا ہے تیسرے ایتاذی القربیٰ وہ احسان سے بھی بڑھ کر نیکی کرتا ہے ار یہ ہر ایک دو دو قسم پر ہے۔ بدئین بھی تین قسم کی ہیں ذاتی بدی جیسے نفاق و تکبر وغیرہ اس کو فحشاء فرمایا ہے دوسرے وہ بدی جو متجاذر ہو۔ اس کو منکر کہا ہے ۔ تیسرے بغاوت جو بڑی خطرناک بدی ہے فحشاء خلاف تہذیب اخلاق ذاتی برائیاں منکر لاف تدبیر منازل قومی برائیاں والبغی خلاف سیاست بدن حاکم سے سرکشی ریاست کی خلاف ورزی ۔ (ت ۱۳۵۹) واوفوا یعنی رسول اللہ سے صلح ہونے والی تھی توڑنے والیتھے جس پر تاکید اور پیشگوئی فرمائی گئی تھی ۔ (ت ۱۳۶۰) من امۃ زمانہ جاہلیت کا دستور تھا کہ قوم آپس میں قسمیں کھاتی پھر دوسری قوم کو زبردست دیکھتی تو قسمیں توڑ کر ان سے جا ملتی ایسے ہی سب ریاکار دنیا پرستوں کا حال ہے کہ وہ ہوا کودیکھتے ہیں اور خوشامد کا رخ پلٹتے رہتے ہیں یہ کام مومنوں کی شان کے بہت بعید ہے اور قرآن شریف نے اس سے منع فرمایا ہے۔ یعنی قسموں کا بہانہ کرکے یا توڑ کر ادھر سے ادھر نہ مل جائو کفار کے جاہ و مال کا اعتبار نہ کرو پختہ ایمان کو دیوانی بڑھیا کے تاگے کے جیسا نہ توڑ ڈالو۔ (ت ۱۳۶۱) ولو شاء اللہ ارشاد الٰہی ہے کہ اگر جبر مقصود ہوتا تو سب مسلمان ہو جاتے۔ مگر ہم نے جبر نہیں کیا۔ ضلالت کی راہ جس نے اختیار کی تو اسے گمراہ ٹھہرایا اورہدایت کی راہیں جسنے اکتیار کیں اسے ہادیاور مہدی بنا دیتا ہے ۔ (ت ۱۳۶۲) صددتم حج عمرہ سے کفار مکہ نے آنحضرت کو روک کر بڑی شکست و ذلت اٹھائی ۔ (ت ۱۳۶۳) فاستعذ باللہ ـ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ لیا کرو یہاں ف کو تعقیب کے لئے نہیں نہ اذا اکلت فقل بسم اللہ میں اور نہ الی الصلوۃ فاغسالی میں ہے ۔ (ت ۱۳۶۴) مشرکون یہ فرقہ …… اور پارسیوں کا رد ہے جو اھرمن کو مانتے ہیں اور ضمناً تمام شیطانی چال چلنے والوں کا رد ہے ۔ (ت ۱۳۶۵) روح القدس چونکہ آنحضرت کی تمام باتیں روح القدس سے تھیں اس لئے انجیل مقدس میں آپکا اسم مبارک روح الحق ہے یوحنا ۔ (ت ۱۳۶۶) یعلمہ بشر یعنی رسول اللہکو دوسرا شخص جو ذی علم ہے سکھایا کرتا ہے ۔ پادریوں نے لکھا ہے کہ بلعام یاسر یسار جسیر وغیرہ کے اقوال سے قرآن بنایا گیا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تو غلام تھے اور تم ان کے آقا ہو تم کسی قرآنی خوبی کا معارضہ نہیں کر سکتے ہو اصل اصول مذہب نصاریٰ تثلیث و کفارہ وغیرہ کیخود تردید قرآن مجید میں مدلل فرمائی گئی ہے تو گویا نصاریٰ کے مقدسوں نے اپنی تردید آپ ہی کی ہے اب اس زمانہ میں تو اعلیٰ سازمان موجود ہیں۔ سلطنت بھی زوروں پر ہے اور انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اب بھی کچھ کرو کھائو جیسا مدلل بیان قرآن مجید میں ہے وہ تورات میں ہے نہ دوسری کتب میں تو یہ نہ مفتر ہے نہ مستنبط ہے نہ مولف ہے بلکہ تزیل من عزیز الرحیم ہے ۔ (ت ۱۳۶۷) لسان کلام اور زبان پارہ گوشت متلفظ مذکر و مونث ۔ (ت ۱۳۶۸) من اکرہ بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر بخوبی قائم ہو ۔ جہاں کہ بلال جناب یاسر سمیہ وغٓرہ کو بہت بہت جسمانی تکالیف دی گئیں یہاں تک کہ ابوجہل نے سمیہ کے شرگماہ میں نیزہ داخل کر کے مار ڈالا پھر اس کے خاوند یاسر کو قتل کر دیا بعض کو دھوپ میں لٹا کر گرم پتھر ان پر رکھے گئے مگر کسی نے بھی دلی ایمان کے خلاف زبان سے اقرار نہ کیا صرف عمار بن یاسر نے شدت تکلیف سے خلاف ایمان قلبی اقرار کر یا جس کا ذکر آنحضرت کے حضور ہوا کہ وہ پھر گیا آپ نے فرمایا نہیں نہیں اس کا دل تو ایمان سے بھرا ہوا ہے عمار روتے ہوئے آنحضرت کے قدم مبارک کے پاس آئے چنانچہ آنحضرت نے اپنے دست مبارک سے ان کے انسو پونچھے اور فرمایا عمار غم نہ کھا اس آیت شریف سے تقیہ کا صاف رد اور ابطال ثابت ہوا جو بعض بزدل شیراں خدا کی نسبت ریاکاری اور کینہ پن کو منسوب کرتے اور اس کا نام تقیہ رکھتے ہیں ۔ (ت ۱۳۶۹) لا یھدی ضدی منکرین چونکہ اقسمو باللہ جھد ایمانھم کی حالت رکھتے ہیں اور ان الذین کفروا سواء علیھم وغیرہ کے سچے مصداق ہیں اس لئے لایھدیھم اللہ کا فتویٰ ان پر لگا ہے کیونکہ کافر حبل اللہ اس نے پر چل رہے ہیں وہ اللہ کا بتایا ہوا نہیں ۔ (ت ۱۳۷۰) طبع اللہ دل میں بد خیالات کا جم جانا مہر الٰہی ہے اورکانوں سے حق باتوں کونہ ستا اور آنکھوں سے راستی کو نہ دیکھنا یہ عفلت کیپردے ہیں قلوب کو سخت کر دیتے ہیں گناہوں کا علاج ایک تو موت کی یاد ہے دوسرے استغفار کی کثرت تیسرے سخاوت وخدمت گزاری وصالحین ۔ (ت ۱۳۷۱) یوم یہ وقت عام انسان پر علی الخصوص کاملوں ر کئی وقت آچکے ہیں اور ایک دن فیصلہ کن آنے والا ہے جو رب العرش العظیم کے سامنے ہو گا بدی اور نیکی بمنزلہ تخم ہے جو اپنے وقت پر پھل لائے گی ۔ (ت ۱۳۷۲) اذا قھا اللہ الخ ۔ یعنی مکہ میں سات سال کا قحط پڑا یہاں تک کہ مرے ہوئے کئے اور ہڈئیں ھانے لگے اور آسمان کی طرف دیکھتے تھے تو دھواں سا معلوم ہوتا تھا آخر قریش نے حضرت کے پاس بچوں اور عورتوں کو بحالت گریہ وزاری پیش کر کے رحم دلایا پھر آپ کی دعا سے یہ بلا دور ہو گئی ۔ (ت ۱۳۷۳) امۃ پیشوا ۔ حنیف ۔ صراط مستقیم پر چلنے والا ۔معلم الخیر والا مام والجماعت اور قائم مقام جماعت ۔ (ت ۱۳۷۴) شاکر شاکرین کے لئے ارشاد ہے لئن شکرتم لا زیدنکمکسی نے خوب کہا ہے
    سرنوشت مازدست خودنوشت
    خوشنویس ست اونخواہد بدنوشت
    (ت ۱۳۷۵) السبت کتب سابقہ میں سبت کا دن حضرت ابراہیم پر مقرر نہیں ہوا بلکہ یہود پر ہوا جنہوں نے خلاف ورزی کی اصل میں یوم الجمعہ تھا۔ یہود و نصاریٰ نے ہفتہ واتوار قرار دیا پھر کل شی یرجع الی اصلہ ہمارے حضور نے پھر اسے جمعۃ ٹھہرایا الحمد للہ علی ذلک ۔ (ت ۱۳۷۶) واصبر سے عملی طور پر کفار کو ڈرایا تھا ۔ سورہ نحل میں عملی رنگ میں کفار کی شرارتوں کا ذکر کیا۔ اب آپ کی ہجرت کا واقعہ آتا ہے۔ آئندہ سورت میں تمام ترقیات اسلام کا ذکر فرمائے گا پس ماصبرک والا باللہ فرما کر بتاتا ہے کہ تمہارا صبر کمزوری سے نہہو بلکہ اللہہی کے لئے ہو اور صبربھی اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہو سکتا ہے ۔
    الجزء 15
    سورہ بنی اسرائیل
    (ت ۱۳۷۷) اسرٰی اس آیت پر بڑے بڑے مباحثے ہوئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ معراج کے متعلق ہے بعض نے کہا اس میں معراج کا لفظ ہی نہیں ہاں الی المسجد الاقصیٰ ہے تو یہ سرائے بیت المقدس تک ہے سب سے زیادہ لطیف بات یہ ہے کہ یہ راتوں رات لے جانا ہجرت کے متعلق ہے اور نشانا جن کا بیان اا ترینک میں ہے یعنی میں اور جن کا وعدہ کتاب ملاکی باب ۳ کی پیشگوئی ہے کہ اچانک ہیکل میں پھنچے گا وہ معراج کے طرف دلالت کرتے ہیں جو رات کے وقت ہوئی اور صحہین میں کئی حدیثیں قتادہ انس اور ابن شھاب وغٓرہ سے معراج کے بارہ میں آٖی ہوئی ہیں اور اس کے اشارات سورہ النجم میں بخوبی پائیجاتے ہیں اور ام ہانی کے گھر میں سونا جو حضرت علی کی ہمشیر اور ابوطالب کی بیٹی ہیںاور رات کے وقت گھر کی چھت پھاڑ کر جبرئیل کا آنا پھر اسی حدیث میں دودھ کی تعبیر فطرت بتانایعنی دین اسلام اور حضرت عائشہ کی حدیث صریح شاہد ہے کہ معراج ایک رویا تھا اور صحیح بخاری میں فاستفیظ کا لفظ موجود ہے اور بار بار نمازوں کی کمی کے لئے موسیٰ علیہ السلام کے کہنیسے جناب باری میں جانا حالت بیداری میں خلاف منشاء نبوت ہے کیونکہ بیداری کی حالت میں اگر یہ واقعہ ہوتا تو اس کے لئے دن کا وقت زیادہ موزوں تھا ہاں انبیاء علیہ السلام کی رویا قطعی اور یقینی ہے اور وہ بڑی بڑی پیشگوئیوں پر بنی ہوتی ہیں جس سے دینی اور دنیوی ترقیوں کے بڑے بڑے نظارے قبل از وقت دکھائے جاتے ہیں جیسے یوسف علیہ السلام نے چاند اور سورج اور ستاروں کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا پس رویا اور پیشگوئیوں کی تعبیرات کتب تعبیر میں دیکھنا چاہئے۔ میرا ایمان ہے کہ معراج عین بیداری میں معجزانہ رنگ سے آنحضرت کو جسم مبارک کیساتھ ہوئی ہیاور وہ حالت اور مقامات دنیا اور آسمان اور دوزخ و جنت کے جو ابھی طاہر و پیدا بھی نہ ہوئے تھے سب آپ کو دکھائے گئے یعنی طی الزمان وطی المکان اور طی العلم ضروری اک حصول آپ کی ذات اقدس کو ہوا باوجود یہ کہ آپ اپنے بستر سے مثل نور بصر کے مرکزی حالت سے … نہ ہوئے اور سب واقعات واقعی اور حقیقی طور پر طے فرما لئے اور بعد معراج کے رویا ہونے پر ایک یہ بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رویا فرمایا ہے جیسے وماجعلنا الرء یا التی ادینک الا فتنت للناس اللھم صل علی محمد وال محمد واصحابہ خلفاء ……۔ (ت ۱۳۷۸) مرتین چنانچہ احبار ۲۶ یسعیا اہ باب ۱۹ آیت میں اس کا بیان ہے کہ بھلی شرارت کے وقت تو بخت نصر نے بیت المقدس کو تاراج کیا اور یہود تباہ ہوئے دوسری دفعہ حضرت مسیح کی تکفیر و تکذیب کے سبب طیطس شھزادہ روم کے ہاتھ سے غارت ہوئے اور اس نے بیت المقدس کو جہلا کر گرا دیا اور بت خانہ بنا دیا تو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ اللعالمین کو بھیجا جو …… ہے اس کو بھی نہ مانا پھر آیت ان عدتم عدنا کے موافق یہودی قتل و جلا وطن کئے گئے ۔ (ت ۱۳۷۹) جاسوا اور جوسیان کے معنے کسی ملک میں چلنا پھرنا مسلمانوں کوبھی کامل اتقا کے زماہ میں یہ غلبہ مل چکا ہے بہت بڑی سلطنت کے وہ مانند سلیمان ودائود و عمالیق کے دنیا کے مالک تھے پھر جب ان کے تقویٰ میں فرق آیا تو پھر کمی ہو گئی ۔ (ت ۱۳۸۰) یرحمکم رحم کی امید دلائی بشرطیکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ایمان لائو اگر ایمان نہ لائو گے اور شرارت کرو گے تو دنیا مین ذلیل ہو گے اور آخرت میں جہنمی ۔ (ت ۱۳۸۱) بالشہر بری دعائیں مانگنا اور کوسنا اپنے آپ کو نہایت مکروہ فعل ہے آدمی خیرکی دعائیں کیا کرے جو نیک نتیجہ دین ۔ (ت ۱۳۸۲) ایتین یعنی کفر و اسلام کے پہچاننے کیلئے اگر کوئی عاقل ہو تو سمجھ کے کہ جب کفر کی رات دعور ہو گی تو اسلام کا دن چڑہے گا اور عدواتسنین سے انبیاء کے زمانہ اور حساب سے وہ نتائہ جو کفر و اسلام کیمقابلہ سے ہوتے رہے یہی مراد ہیں ۔ (ت ۱۳۸۳) نبعث مسند امام احمد حنبل اور ابن جریر میں بھی بعض ہدیثیں ایسی ملتیہیں جن سے عوام ناواقف ہیں بھرے اور وہ جنہون نے انبیاء و رسل کے زمانوں کو نہیں پایا یا بچے یا بوڑھے جناب الٰہی میں عرض کریں گے کہ ہم نے کوئی خبر نہ تھی وہاں یہی اللہ تعالیٰ اتمام حجت کے لئے ان میں رسول بھیج دے گا بغیر رسول کے عذاب نہیں ہوتا ۔ (ت ۱۳۸۴) کفٰی بخوی نکتہ کفی بریک میں بسا کیوں لگایا گیا جو اب دیا گیا کہ جب مدح یا ذم کا موقعہ آتا ہے تو ایک جملہ کے دو جملے بنا لیتے ہیں جیسے اکتف بریک تو کفایت کر اپنے رب سے کفیٰ ربک قام یا خیک مدح کے مقام میں بولیں گے ۔ (ت ۱۳۸۵) لا تجعل طرز بیان قرآنی یاد رکھنا چاہئے کہ کہیں عام لوگ مراد ہوتے ہیں اور الفاظ مخصوص اور مخاطب رسول اللہ ہوتے ہیںجیسا کہ اس آیت شریف میں ہے ۔ (ت ۱۳۸۶) عندک مشکوۃ باب البر والفلاح میں ابوانامہ سے روایت ہے کہ آنحضرت سے ماں باپ کے حقوق پوچھے گئے تو فرمایا کہ وہ تیرے جنت دوزخ ہیں اور ابوہریرہ سے مرفوعی روایت ہے کہ ہر گناہ کے لئے ایک قاعدہ مقرر ہے کہ چاہے بخش دے مگر ماں باپ کی نافرمانی کے لئے نہیں اس کا نتیجہ بہت جلد ظاہر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ دنیا ہی میں ظاہر ہو جاتا ہے ۔ (ت ۱۳۸۷) فی نفوسکم یعنی سادت سمجھ کر خدمت کرتے ہو یا بوجھ سمجھ کر بے دلی سے تباہ رہے ہو ۔ (ت ۱۳۸۸) للاولین یعنی اگر نیک نیتی سے مان باپ کچھ کہہ بیٹھے جس سے ناراض ہوں پھر توبہ کر لی اور انہیں خوس کر لیا تو اللہ غفور ہے یا یہ کوشش کرتا ہے لیکن وہ خوش نہیں ہوئے مثلاً کوئی مذہبی معاملہ ان کی رضا میں روک ہے تو اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے دعا سے انسان ماں باپ کی خدمت ان کی زندگی میں اور ان کی زندگی کے بعد ہر وقت کر سکتا ہے ۔ (ت ۱۳۸۹) ان المبادین الخ شٓطان کو یہ حالت پیش آئی کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا اس و ایسا حکم دیا گیا جس سے اس کا تکبر ٹوٹ جائے یعنی آدم کی فرمانبرداری اس نے اس کو ذلت سمجھا اور نتیجہ میں جس باتسے بچتا تھا وہی ہوئی کہ وہ ذلیل اور یلعون کرایا گیا اور وہ اس نعمت کا بھی ناشکرا ہوا جو اس کو پہلے سے حاصل تھی اس طرح سے جو بے جا خرچ کرتے ہیں ہو اس کو ترک کرنا اپنی ذلت سمجھتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مال خرچ ہو جانے سے خود ذلیل ہو جاتے ہیں آخر ان کا دل کڑھتا اور … کی پھلی نعمت کے بھی ناشکریہو جاتے اور خدا کو کوسنے لگ جاتے ہیں شیطان کا بھائی بننا ہے ۔ (ت ۱۳۹۰) قولا میسورا یعنی سائل سے کہے بھائی میں خود محتاج ہوں خدا دے گا تو میں ضرور تمہاری خدمت کردوں گا یا ایسے کوئی اسی تدبیر بتا دے جس سے اس کو یسر حاصل ہو جائے ۔ (ت ۱۳۹۱) مغلولۃ قاعدہ ہے کہ سچے وغیرہ جو چز دنیا نہیں چاہتے ہیں اس کو مٹھی میں پکڑ کر گلے سے چپکا لیتے ہیں جو شدت بخل کی علامت ہے ۔ (ت ۱۳۹۲) محسورا اس آیت میں سخت بخل اور نہایت زیادہ خرچ کرنے کو منع کیا گیا ہے اور اس پر وہ بد نتیجوں کا مرتب ہونا یہ بطور وجہ نہی کے بیان فرمایا ہے اوّل ملوم جب انسان بخل کرتا ہے تو کل دنیا اس کو ملامت کرتی ہے ۔ دوسرا محسورا جب انسان سب کچھ دے بیٹھتا ہے تو پھر اس کی ضروریات کے لئے کچھ رہتا نہیں چاروں طرف سے اسے ضرورتیں پیش آتیں یہ کسی کو ہٹا نہیں سکتا انہیں میں گھرا رہتا ہے ۔ (ت ۱۳۹۳) یسبطا لرزق جن کو خدا نے کشادہ روزی دی ہے ان پر حسد نہیں کرنا چاہئے بلکہ ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ کھنا چاہئے اور جیسے کسی عمدہ پھول کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح خداداد نعمت والے کو دیکھ کر خوش ہونا چاہئے ویقدر جن کو تنگ روزی دی ہے ان کو حقارت سے نہیں دیکھتا بلکہ کثرت سے استغفار پڑھنا اور گناہوں سے بچنا ۔ (ت ۱۳۹۴) لا تقتلوا چونکہ لڑکیاں کما نہیں سکت تھیں اور بلوغ تک ان کا بار اٹھانا پڑا ے اور تنگدستی کی حالت میں کفوالے نکاح نہیں کرتے غیر کفومیں دنیابڑی عار کی بات سمجھی جاتی تھی یہ وجود تھے قتل اولاد کیجس کے لئے قطعا ممانعت کر دی گئی اور قریب بھی زنا کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اس میں بھی تضیع اولاد ہے قتل اولاد فضول خرچیوں اور بے جا تکبر اور اپنے آٌ کو رزاق سمجھنے س پیدا ہوتا ہے جن باتوںسے پہلے روکا گیا یہ آج کل لوگ کثرت اولاد کے مخالف ہوتے ہیں کیونکہ وہ ان کی پوری تعلیم نہیں کر سکتے یا ان کی جائیدادیں کم ہوتی ہی جو کثرت اولاد میں بٹ کر کچھ نہیں رہتا۔ اس لئے حمل روکنے کی دوائیں اسقاط کی دوائیں اپنی بیویوں کو کھلاتے ہیں یا عزل ولف اور استمنا بالید وغیرہ عمل قاطع النسل کرتے ہیں ۔ (ت ۱۳۹۵) لا تقف نامعلوم بات کے کہنے سے روکا لیکن اس کی خلاف ورزی پر سوال عمر وبصر اور فواد سے ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لسان تو ترجمان ہے اس کو ذاتی طور پر علم حاصل کرنے حواس نہیں دئے گئے یہ جو بیان کرے گی وہ دوسرے حواس سے لے کر بیان کرے گی اور اگر وہ جھوٹ ہو گا تو دوسرے حواس اس کے خلاف گواہی دیں گے تو انسان اپنے آپ سے ہی ملزم ہو گا ۔ (ت ۱۳۹۶) چونکہ مشرکین معبودان باطلہ کو خدا تعالیٰ کے حضور میں کھینچے اور اس کے قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اور ان کو اپنا سفارشی سمجھتے ہیں جیسا کہ سورہ زمر رکوع (۱) میں اور سورہ یوسف رکوع (۲) پارہ (۱۱) میں فرمایا مشرکین کا قول نقل کرتے ہوئے مانعباھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی ـ ویقولون ھولاء ثضعاء نا عنداللہ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر مشرکوں کا خیال صحیح ہوتا تو مدتوں سے یہ ہمارے حضور میں رستہ پا لیتے کیونکہ جب کسی بادشاہ کے وزراء اور درباریوں کو راضی کر لیا جائے پھر اس دربار میں پھنچنے سے کوئی روک نہیں ہوتی لیکن ان مشرکوں میں سے تو آج تک کسی کو دربار میں رسائی نہ ہوئی اور نہ پروانہ خوشنودی کسی کو ملا اور اگر ان کا خیال سچا ہوتا تو ہمارا رسول تو ایک اکیلا ہے اور یہ سبان معبودوں کا جن کو تم درباری سمجھتے ہو دشمن ہے پھر وہ بھیاس کے جواب میں اس کے دشمن ہوں گے پس اس کی تو کسی قسم کی رسائی اس دربار میں نہیں ہونی چاہئے پھر تم رعایا اور تمہارے معبودوں وزراء سب اس کے دشمن ہوئے تو چاہئے کہ یہ ہر ایک ناکامی کا شکار ہو۔ لیکن یہ اکیلا تمہارے خیال میں جس کا خدا کے حضور میں کوئی قرب نہیں ہو سکتا وہ کامیاب ہو رہا ہے اور تم ناکام ہو رہے ہو اس کی کامیابی باوجود تمہارے خیال کردہ ذرائع کی مخالفت کے اور تمہاری ناکامی اور تم میں سے کسی کے دربار میں رسائی کا نہ ہونا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ عقیدہ شرک درست نہیں اور آنحضرت واقعی نبی اور رسول ہیں ۔ (ت ۱۳۹۷) مسحورا چونکہ آنحضرت مسحور نہیں ہوئے اس لئے یہاں یقول الظلمون ارشاد ہوا ہے اور جو قصہ مشہور ہے کہ ایک یہودی نے آپ …… کیا تھا اس آیت سے اس قصہ پررو پڑتی ہے ۔ (ت ۱۳۹۸) ھی احسن پر ایک صرفی لطیفہ ۔ کسی نے سوال کیا کہ احسن کے ساتھ ھی کی ضمیر کیسی جواب دیا گیا افعل و تفضیل پر اگر آل نہ آئے تو ضمیر مذکر مونث دونوں کے لئے یکساں آتی ہے ۔ (ت ۱۳۹۹) اولئک الذین پہلی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ مشرکین کے معبود ان کو کسی قسم کا نقصان یا نفع نہیں پہنچا سکتے دوسری اور تیسری آیت میں اس امر کا ثبوت دیا ہے کہتم لوگ جن کو پکارتے ہو اپنے رب کے حضور مقرب بننے کے لئے اور اس کی رحمت لینے اور عذاب سے بچنے کے لئے تم یہ بتلائو کہ تم میں سے آج تک کسی کو قرب ملا بھی ے اگر یہ ثابت ہو گیا تو اس کے بعد کے دونوں مقصد یہی یعنی رحمت لینا اور عذاب سے بچنا پورے ہو جائیں گے لیکن تم اس کا کچھ ثبوت نہیں دے سکتے کہ تم کو کچھ قرب ملا اور یہ امر کہ تم اس کے عذاب سے محفوظ نہیں رہو گے یہ ہم بتاتے ہیں کہ تم بستیوں اسی دنیا میں شرک کے باعث ہم سزا دیں گے پھر دیکھیں گے کہ کون بچاتا ہے ۔ (ت ۱۴۰۰) مھلکوھا یہ پیشگوئی ہے جو مسیح موعود کے زمانے میں پوری ہو رہی ہے طاعون اور جنگوں اور سیلابوں وغیرہ من الآفات کے ساتھ ہے ۔ (ت ۱۴۰۱) وما متغیا یعنی یہاں لفظ منع ہے امتناح نہیں دوسرا الف لام استغراق ا ہے یا عہد کا اگر استغراق کا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ ہم کو کسی نے کل آیات کے بھیجنے سے نہی روکا اور اگر عہد ہی لیں تو یہ ہوئے کہ بعض آیات کے نتیجہسے نہیں روکا تیسرا الاحا طفہ ہے جیسا کہ اس آیت میں لایخاف لدی المرسلون خلاصہ یہ کہ کوئی چیز ارسال معجزات سے انع نہیںہے الا ولون جن معجزات کا انکار کر دیا ہے وہ ہمیشہ عذاب و قہر کے موجب ہوتے ہیں چونکہ آنحضرت رحمۃ اللعالمین ہیں اس لئے اس قسم کے معجزات سے اعراض فرماتے رہے بعض متعصلین نے اس آیت سے آنحضرت کے معجزات ہی کا انکار کر دیا یا نعوذ باللہ منہا اور دو دلیلیں پیش کیں کہ قرآن میں معجزہ اور خرق عادت کا لفظ کہیں نہیں دوسرے اسی آیت سے معجزات کا انکار کیا ہے حالانکہ یہاں الا بمعنی وائو عاطف ہے جیسا کہ حاشیہ میں مذکور ہوا اور معجزہ اور خرق عادت کے لفظ … ہیں کیونکہ کوئی واقعہ نہیں کہ جو خلاف عادت الٰہی ہو پس انبیاء ہمیشہ نشانات دکھتے رہے اور وہ عادت الٰہی کے موافق ہے معجزہ کا لفظ یعنی عاجز کرنے والا یہ بھی ٹھیک نہیں کیونکہ ایک ہے قابل اپنے مقابل کو کسی طرح سے عاجز کر سکتا ہے ہاں نشان وآیت انبیاء اولیا سے مخصوص ہے اس لئے معجزہ اور فرق عادت الفاظ قرآن و احادیث اور اعلیٰ درجہ کے کتب اسلام میں نہیں بلکہ آیت وبرہان و فرقان کے الفاظ آتے ہیں دیکھو نبی ﷺ ان غلط الفاظ کے استعمال سے محفوظ رہے جس میں بڑے بڑے علماء و فضلا بھنس گئے خلاصہ یہ کہ ارسال آیات سے ہم کسی طرح رک نہیں سکتے جو کوئی تصدیق کرے یا تکذٓب یہاں بعض فلسفی خیال کے لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے چنانچہ سید احمد خان صاحب بھی کہ وہ ظہور معجزات کے بقول عام قائل نہیں مگر ثمود کے لئے اونٹنی اور موسیٰ کا عصا وغیرہ معجزات و آیات قرآنی خیال مذکورہ کے مکذب ہیں ہاں وما منعنا کے لفظ سے کوئی یہ بھی نہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ نشانات کے اظہار سے رک گیا ہے کیونکہ لفظ تو یہ ہیں کہ ہمیں پہلوں کی تکذٓب کے سوا کسی چیز نے نہیں ورکا ان لفظوں سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ رک بھی جائے جیسے یخادعون اللہ یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ہو کہ کھائے بھی اور اسی کی مثل اس سورۃ کے رکوع (۱۱) میں ایک آیت ہے کہ وما منعا الناس ان یومنوا اذا جاء ھم الھدی الا ان قالوا ابعث اللہ بشرا رسولا کہ نہیں روکا لوگوں کو ایمان انے سے مگر اس قول نے کہ بشر رسول کواللہ نے مبعوث کیا یعنی یہ قول روکنے کا باعث نہیں ہو سکتا چنانچہ پھر لوگ ایمان لائے جیسے ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا (پ ۳۰ سورہ نصر) سے ثابت ہے پس اس لحاظ سے آیت کا یہ مقصد ہو گا کہ ہم کو ارسال آیات سے اگر کوئی مانع ہے تو وہ پہلوں کی تکدیب ہے لیکن یہ کچھ معنے نہیں ہم نشان بھیجتے ہیں رہیں گے جیسا وما نرسل بالایت لا تخویفا پار سے ظاہر ہے دوسرا پہلو اس آیت کا یہ ہے کہ لوگ درخواست کرتے تھے کہ آپ وہی نشان لائیں جن نشانوں کو پہلے نبی لاچکے جیسے ناقہ صالح اور عصا اور یدبیضا وغیرہ اورسورہ انبیاء کے ہلے رکوع سے ثابت ہے فلیاثا کما ارسل الاولون ما امنت قبلہم من قریۃ اھلکنا انہم یومنون (پ ۱۷ ر ۱) ان کو جواب دیا گیا کہ ان آیات کے پہنچنے سے کچھ فائدہ نہیں کیونکہ وہ آیات جب ہم نیبھیجے تھے تو ان پر بھی لوگ ایمان نہیں لائے تھے بلکہ ان کی تکذٓب کی تعمان نشانات کے آنے سے بھیایمان نہ لائو گے پس جیسے وہ ہلاک ہوئے تم بھی ہلاک ہو گئے یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ آیات سے قطعی انکار ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا بالآیات مبعوث ہونا قرآن کریم سے ثابت ہے کما قالی اللہ تعالیٰ قل انی علی بینہ من بری اولم تاتہم بینۃ ما فی الصحف الاولی ۔ (ت ۱۴۰۲) الشجرۃ الملعونۃ معراج کے منکروں نے جہاں اس سچی صداقت پر ہنسی اڑائی وہاں یہ بھی ہنسی اڑائی کہ فرمائش پر تو آسمان پر نہ گئے اور از خود زمین و آسمان جنت دوزخ کی سب سیر کر آٖے۔ جہنم کی دھکتی آگ میں سبز درخت دیکھ آئے یہ عجیب بات ہے ۔ (ت ۱۴۰۳) لا خنکت اختناک بالکل لے لینا۔ دھی منہ میں رسی ڈال کر نیچے کے جبڑے کو باندھ ر لے چلنا لگام دینا ۔ (ت ۱۴۰۴) نجیلک ورجلک سوار و پیدل سے مراد شریر ہلاک کنندہ کافر منافق یہی ہیں ۔ (ت ۱۴۰۵) وشارکھم یعنی فضول و حرام طریقوں پر خرچ کروا چوری غضب رشوت میں لگا کسب حلال سے پھرا اولاد وغیرہ کے لئے قبروں اور دیویوں کی منتیں منوا تعویذ و فلیتے بے جا نذر ونیاز کر اکسب علم اور اخلاق حسنہ سے محروم رکھ وغیرہ نحوستیں و شقاوتیں ۔ (ت ۱۴۰۶) یوم ندعوا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک امت و جماعت اس کے امام کے نام سے پکاری جائے گی ۔ امام دو قسم کے ہوتے ہیں ,طلع یا مطاع۔ مجتہدین دین مطیع ملہمین رہے ہیں۔ مطاع صاحب وحی و الہام ہوتے ہیں ۔ (ت ۱۴۰۷) من کان فی ھذہ اعمٰی جو لوگ الفاظ کو ہمیشہ ان کے ظاہر پر منحمول کرتے ہیں ان کو اس آیت میں غور کرنا چاہئے کہ اعمیٰ سے ہر جگہ ظاہری اعمیف مراد نہیں ہوتا۔ اسی طرح قرآنی الفا الگ الگ محامل رکھتے ہیں لفظی بحث اچھی نہیں اور نہ ہر جگہ مفید ہے ۔ (ت ۱۴۰۸) غیرہ یعنی کافر کہتے ہیں کہ قرآن کی نصیحتیں تو اچھی ہیں لیکن ہر جگہ رو شرک اور خلاف رسوم کا بیان برا ہے اسے بدلا ئوتو ہم سب ایمان لائیں۔ (ت ۱۴۰۹) ترکن صحبت بد سے ضرور ضرور پچنا چاہئے کیونکہ حدیث میں آیا ہے الصحیۃ موثرہ ولوکان ساعۃ۔ (ت ۱۴۱۰) ضعف بڑھ بڑھ کر یہی امام بخاری نے اس کا ترجمہ کیا ہے ۔ (ت ۱۴۱۱) خلفک الا قلیلا یہ فتح مکہ کی پیشگوئی ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مشرکین کچھ بعد ہجرت کچھ قحط میں اور کچھ لڑائیوں میں فنا ہو گئے ۔ (ت ۱۴۱۲) اقم الصلوۃ اہل اللہ کی خاص نمازیں آٹھ اور عام نمازیں حسب ذیل بارہ ہوتی ہیں ۔ آٹھ تو یہ (۱) نعجر (۲) اشراق (۳) چاشت (۴) ظہر (۵) عصر (۶) مغرب (۷) عشا ۸) تہجد و بقیہ یہ جس ر بعض لوگ مواظبت کرتے ہیں (۱) تحتیہ الوضو ۲) تحتیہ المسجد (۳) اوابین بعد مغرب (۴) صلوۃ التسبیح قبل سنت ظہر - یہ سب خلوص اور بے ریائی اور طمانیت اور وقار اور آہستگی دعائوں سے معمور یعنی ہر رکن میں دعائیں کرتے ہوئے ادا کی جائیں تو بہتر ہے ورنہ شعر
    زبان و زد کرو دل در فکر خانہ
    چہ حاصل زین نماز پنجگانہ
    (ت ۱۴۱۳) قران الفجر یعنی صبح کی نماز پڑھو جس میں قرآن بھت پڑھا جاتا ہے اور فجر کی نماز یں طوال مفصل پڑہنا سنت ہے ۔ (ت ۱۴۱۴) فتھجد ہجود کے معنے سونا اھلاطر قتنا والرفاق ہجود میری پیاری کیوں نہیں آتی ساتھی تو سب سو گئے ہیں تہجد کے معنے نیند کو ہٹا کر کھڑا ہونا محنت کرنا اللہ کے لئے اس میںاکثر اہل دل کو پانچ روپیہ کے پولیس والے نے مدد دی ہے اس طرح کہ وہ اپنی ڈیوگی رات ک ادا کرتا پھرتا ہے اور اعلیف درجہ کے آرام و آسائش اور پلنگوں پر سونے والے اپنی ڈیوٹی سے غافل پڑے ہیں۔ عبرت۔ عبرت۔ عبرت اور نماز تہجد ملا کر نمازیں چھ ہو گئیں تین دن کی تین رات کی آخر نماز یعنی تہجد میں فضیلت زیادہ ہے جیسا کہ حدیث تقرب بالنوافل سے معلوم ہوتا ہے ۔ (ت ۱۴۱۵) مقاما محمودا اسی پارہ کے دوسرے رکوع کا حاشیہ دیکھو طرز بیان قرآن کے متعلق کہ لفظ خاص اور مراد عام یہاں بھی شروع رکوع سے وہی رنگ ہے تو تہجد رسول اللہ ﷺ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ عام ہے اور رات دن کی نمازوں کی ترتیب بھی بہت ہی مسلسل اور قریب قریب ہے دن کے اوّل حصہ میں فجر کی نماز اور رات کے اوّل حصہ میں مغرب دن کے وسطی حصہ میں ظہر اور اسی کے قریب قریب رات کے حصہ مین عشا اور دن کے اخیر حصہ عصر کی نماز اور رات کے اخیر حصہ میں تہجد کی نماز۔ پھر عصر کے بعد مغرب کی تین رکعتوں کا فرض ہونا اور ادھر تہجد کے بعد وتر کی تین رکعت ہونا عجیب مناسبت ہے واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔ (ت ۱۴۱۶) سلطنا نصیرا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ بڑی غیرت سے مدینہپاک میں داخل ہوئے اور آپ نے بڑی قوت و شوکت سے مکے کو فتح کر لیا ۔ (ت ۱۴۱۷) زھوقا صححین میں سے کہ جب فتح مکہ کے کچھ دن بعد آپ داخل ہوئے تو وہاں تین سو ساٹھ بت رکھے تھے جس کی طرف آٌ لکڑی سے یہ آیت پڑھ کر اشارہ کرتے تھے وہ اوندھے منہ گر پڑتا تھا ۔ (ت ۱۴۱۸) خسارا اس لئے قرآن کریم کیپڑھنیسے پہلے اعوذ باللہ من السیطان الرجیم کا حکم دیا گیا تا خسارہ سے محفوظ رہیں اور شفا اور رحمت حاصل کریں ۔ (ت ۱۴۱۹) ساکلتہ نیت خلقت جبلت فطرت بخاری ۔ (ت ۱۴۲۰) یسئلونک عن الروح کہتے ہیں کہ یہ سوال بیت المدراس کیق یرب یہود نے کیا تھا کسی نے کہا کہ یہ سورہ مکی ہے تو کھلا بھیجا تھا میرے خیال میں عام ہے۔ سائل نے پوچھا جیسے فاعل نے کیا قرآن شریف سے روح کی تشریح ذیل میں معلوم ہو گیا س ہمارے زمانہ میں روح کچھ مشتبہ سا لفظ ہو گیا ہے بعض نے کہا خون کو کہتے ہیں بعض نے کہا اجزاء بخاریہ ہیں جو غلط سے پیدا ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ابن قیم اور حضرت غزالی نے بھی اس پر مسبوط رسالے لکھے ہیں ۔ فی الحقیقت تو روح کلام الفہی کو ہی کہتے ہیں اور نبی کو جو اس کا پہچاننے والا ہوتا ہے پھر جبرئیل کو جو اس کا حامل اور مخزن ہوتا ہے۔ کلام الٰہی کی مثال یعنی روح بمعنی کلام الحٰی جو آیا ہے جیسا پارہ (۲۵) رکوع (۶) میں ہے وکذلک اوحینا الیک وردحا عن امر فلالخ اور بالروح من امر رمین اور یلق الروح من امرہ میں وحی اور کلام الٰہی کو روح اس لئے کہا کہ انسان مردہ کو نئی ہیات اس سے حاصل ہوتی ہے اور یہی محاورہ کتب سابقہ کا ہے چنانچہ سموئیل باب ۲۰ آیت ۲۱ اور امثال باب ۱ آیت ۳۲ میں روح کے کئی اور معنی قرآن مجید اور توریت و انجیل میں ہیں ایک کلام الفہی دوسرے معنی جبرئیل جیسے نزل بہ الروح یاایھا روحنا یا روح القدس من ربک تیسرے معنی انبیاء جیسے القھا الی مریم وروح منہ چوتھے بمعنے حیات جسمانی یا روح حیوانی جیسے نفخت فیہ من روحی اور اس کے تحت میں روہ طبعی اور نفسانی پہلے کا تعلق دل سے اور دوسری کا جگر سے اور تیسری کا دماغ سے پانچویں جیسا کہ توریت میں ہے پانی ہوا روح ہے۔ پیدائش باب ۱ آیت (۲) اور نیک و بد جذبات ثر قیل نحمیاہ باب ۱۶ آٓت (۱۴) چھٹے بمعنی ایمانی حیات یا روحانی جیسے لما یحیکم باحیوۃ طیبۃ وغیرہ ۔ (ت ) کان علیک کبیرا میں نے تیری شریعت منسوخ نہیں منقطع نہیں ہمیشہ ہمیشح دائمی و مستقلہے اور تو اشرف المخلوقات و افضل الموجودات ہے
    ع (بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر)
    (ت ۱۴۲۱) مثلہ مثل میں مختلف بیان ہیں اصل یہ ہے کہ جس کو جس بات میں زعم ہو وہ پیش کر لے ۔ (ت ۱۴۲۲) یہاں نو چیزیں مانگی ہیں لوگوں نے سمجھا کہ وہ کچھ نہ دی گئیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بتدریج وہ سب عنایت فرما دی اور صحابہ اور متقی بھی اس سے متمتع جیسے آخرت میں ہوں گے دنیا میں بھی ہوئے ۔ (ت ۱۴۲۳) قل یہ باتیں میرے اختیار میں نہیں کیونکہ میں خدا نہیں فرشتہ نہین آدمی ہوں یا یہ پیشگوئیاں اگلی کتاب یعنی توریت میں موجود تھیں کہ ویران ملک میں اس کی برکت سے نہریں بہیں گی بسیعا نبی باب ۴۱ آیت ۵۴ وباب ۱۲ آیت ۳ و ۴۱ آیت (۱۸) مکہ و مدینہ میں نہریں جاری اور باغ ہوں گے یسبعا باب ۵ آیت (۱) استثناء باب ۳۳ امثال باب ۲۱ بسیعا باب ۲۸ چنانچہ باغ فدک و عدن دینی نضیر وغیرہ آنحضرت کے ہوئے اور اس کے مخالفوں پر آسمان ٹوٹ پڑیں گے یعنی بلائیں آئیں گی۔ حبقوق باب ۶۳ و ۷ و ۱۰ آیت چنانچہ جنگ اخراب و بدر میں اس کے نظارے دکھ گئے اور وہ آسمان پرجائے گا کتاب اترے گی لوگ اسے پڑہیں گے یوحنا باب ۱۹ آیت ۱۱ و ۱۶ چنانچہ معراج اور نزول قرآن سے یہ بات پوری ہو گئی وغیرہ سوالات س کا جواب دیا گیا کہ ہل کنت الاثبل رسولا یعنی میں رسول نہیں بلکہ بشر رسول ہوں تو جس طرح رسولوں کی پیشگوئیاں بتدریج ظاہر ہوتی رہی ہیں ویسی میری بھی ہوں گی کیونکہ بکلی اجل کتاب الخ اور لکل بناء مستقر الخ وما کان لنبی ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ کا ارشاد ہے ۔ (ت ۱۴۲۴) فی الارض ملائکۃ یمشون معلوم ہوتا ہیکہ فرشتے زمین پر اصلی طور پر چلتے پھرتے نہیں بلکہ تمثیلی حالت ہے۔ (ت ۱۴۲۵) ومن یھد اللہ یہ رو سے برہمو سماج اور دھریوں کا ہے ہمو تمام انبیاء کو مفتری اور دروغ مصلحت آمیز کا پیرو سمجھتے ہیں نعوذ باللہ منہا ۔ (ت ۱۴۲۶) مثلہم کفار کہتے ہیں کہ عظام اور رفاۃ یعنی ہمارے مرد واجزا پھر کس طرح ہمارے جیسے بن جائیں گے اور ہم کیونکر حالت موجودہ کی طرح زندہ ہو جائیں گے تو جواب بالاستدلال اولیٰ ارشاد ہوا کہ آسمان اور زمین کو جن کے سامنے تمہاری ہستی ہیچ ہے جس قادر حکیم نے علم محض سے بنا دیا تو وہ عظام و رفاۃ کو تمہایر مثل یعنی خود تمہارے روبارہ آخرت میں پیدا کرنے پر کیوں کر قادر نہیں اور جو آریہ اس آیت شریف اور نیز بعض اور آیات کو اثبات تناسخ میں پیش کرتے ہیں وہ سراسر غلط ہے کیونکہ قرآن کریم میں جہاں خلق جدید کا ذکر آتا ہے وہ بعث آخرت کے متعلق ہوتا ہے نہ دنیا میں پھر آنے سے کیونکہ دنیا میں پھر نہ آنے کا حکم انہم لا یرجون میں ہو چکا ہے ۔ (ت ۱۴۲۷) تسع ایت پارہ (۹) رکوع ۳،۴،۵ میں مذکور ہیں یعنی بدبیضا و قلق بحر خون ضفادع قمل جراد عصا طوفان غرق الیم ۔ (ت ۱۴۲۸) وبالحق نزل یعنی قرآن کو ہم نے حق و حکمت کے ساتھ بھیجا ہے اور فی الحقیقت اس میں سب سچی باتیں ہیں اور کسی کا اس میں تصرف و تغلب نہیں ۔ (ت ۱۴۲۹) قل اوعواللہ اوادعوا الرحمن رسول مقبول نے مکہ میں نماز پڑہی تو دعا می یا اللہ یا رحمن کہہ کر مناجات کی مشرکوں نے اعتراض کیا ہمیں تو خدائوں سے روکتے ہیں آپ دو خدائوں کو پکارتے ہیں تو جواب ارشاد ہوتا ہے ۔ (ت ۱۴۳۰) الا مماء الحسنی اللہ کے اسماء شریف جس قدر افعال و صفات ہیں اسی قدر ہیں مگر وہ نام جو آنحضرت نے اپنے کلام مبارک میں جمع فرمادئے وہ ننانوے ہیں جیسا کہ ترمذی شریف میں ہے ۔ (ت ۱۴۳۱) ولا تجھر یعنی تکلیف دینے والی قرات اونچی اچھی نہیں اور نہ شائق مقتدیوں سے پوشیدہ کی جائے یا بع نازین میانہ آواز سے اور بعض آہستہ آہستہ جیسے صبح اور مغرب و عشا بالجہر اور ظہر و عصر باسر
    سورہ کھف
    (ت ۱۴۳۲) تمہید ـ سورہ بنی اسرائیل میں اکثر مخاطبت یہ یہود ہوئی اس سورۃ میں زیادہ تر نصاریف پھر مجوس پھر یوہد سے ہے اس سورہ میں امت کو ڈرایا ہے نصاریٰ کے فتنہ سے جو آخر زمانہ میں ہونے والا تھا چنانچہ ابردائود اور مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص سورہ کہف کی پہلی دس آیتیں (بقول بعض) اور پچھلی دس آیتیں یاد کر لیجو وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا ۔ کنزالعمال جلد ۷ صفحہ ۱۴۳ ان آٓتوں کے مطالعہ سے بصیر متقی کو معلوم ہو جائے گا کہ دجال کون ہیں اور اس کے افعال کیاہیں ۔ عربی نعمت میں دجال کے معنی گروہ عظیم ۔ کمپنی تجارت۔ مکار۔ ملمع ساز بہت لشروں والا ہے یہ ایک ایسی قوم ہے جو عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتی ہے اور بڑے بڑے حیرت ناک کام زمین پر کرتی ہے یا کرے گی یہ بات پادریوں پر صادق آتی ہے جو غلط باتوں کو بہت سنوار سنوار کر پیش کرتے ہیں کہف کا قصہ رسول اللہ ﷺ کے اقعہ ہجرت پر بھی مشتمل ہے کھانا بھی پوشیدہ آتا تھا اس کا اعلان بھی نہیں ہوا ۔ (ت ۱۴۳۳) من علم ان کو سائنس دانی کا بڑا دعویٰ ہے مگر مذہبی علم و تقویٰ اور روحانی کمالات سے بالک بے بہرہ و جاہل مطلق ہیں اور ان کے آباء بھی ایک جاہل بت پرست قوم تھے ۔ (ت ۱۴۳۴) کذبا آپ خود الھیات سے جاہل باپ دادا بھی جاہل بات کہیں تو جھوٹی دغا کی اس سے بڑھ کر قوم دجال کون سی ہو گی ۔ (ت ۱۴۳۵) فلعلک بعد رسول اللہ ﷺ کے اس آیت شریف میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی تسلی دی جاتیہے اور زیادہ فکر سے روکا جاتا ہے ۔ (ت ۱۴۳۶) زینۃ دیکھو یورپ کے دستکاری نے وہ درجہ حاصل کر لیا ہے کہ ہر ایک ولاییت چیز پسند کی جاتی ہے ۔ (ت ۱۴۳۷) احسن دنیوی زیب و زینت میں کون بڑا کاری گر ہے ظاہر کیا جائے گا ۔ (ت ۱۴۳۸) و
     

اس صفحے کو مشتہر کریں