1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تردید دلائل تقِیَّہ

'مذہب شیعہ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جولائی 13, 2017۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تردید دلائل تقِیَّہ

    تقِیَّہ کی تعریف از کتب شیعہ

    ’’جو مومن بہ اطمینان قلب موافق شرع رہ کر بخوف دشمن دین فقط ظاہر میں موافقت کرے دشمن دین کی تو دیندار ،ممدوح و متقی ہے‘‘۔ (قول فیصل مصنفہ مرزا رضا علی صفحہ ۳)

    قولہ:۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے تقیہ کیا جبکہ صلح حدیبیہ میں رسول اﷲ اور بسم اﷲ کا لفظ کاٹ دیا۔

    [بخاری کتاب الصلح باب کیف یکتب ھٰذا ما صالح فلان بن فلان]

    [مسلم کتاب الصلح باب کیف یکتب ھٰذا ما صالح فلان بن فلان]

    اقول:۔یہ تقیہ نہیں بلکہ درحقیقت ایسا ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ بوجہ معاہدہ فریقین دونوں فریقوں کا لحاظ ہونا تھا اس واسطے آپ ؐ نے کفار کا لحاظ کرتے ہوئے بسم اللّٰہ کی بجائے بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ (احمد بن حنبل مصری جلد ۱ مسند علی بن ابی طالبؓ) لکھوایا۔ اور آپ نے یہ انکار نہیں کیا کہ میں رسول اﷲ نہیں ہوں، بلکہ اقرار کیا ہے اور فرمایا تھا کہ’’اَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلُ اللّٰہ ِ‘‘۔ (بخاری کتاب الصلح)

    قولہ:۔الخ (النحل:۱۰۷) کہ کافر کے غلبہ کے وقت تقیّہ جائز ہے۔

    اقول:۔جواب نمبر۱:کفر دو قسم کا ہے ۔ (۱) عقائد (۲) اعمال۔

    عقا ئد۔انسان کے دل کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان میں اکراہ ممکن نہیں کیونکہ کسی کے عقائد کو کوئی دوسرا شخص جبراً نہیں بدل سکتا کیونکہ جبر اور اکراہ کے معنی تو یہ ہیں کہ’’قوت فیصلہ ‘‘کو معطل کردیا جائے۔عقائد میں اکراہ اس لئے ممکن نہیں کہ ان کے بدلنے یا نہ بدلنے میں بہر حال قوت فیصلہ کا دخل ہوتا ہے۔مثلاً زید اﷲ تعالیٰ کی ہستی کا قائل ہے۔ بکر اُس کو کہتا ہے کہ اگر تم خدا کا انکار نہ کرو گے تو میں تمہیں قتل کردوں گا ۔اب زید کو دوچیزوں کے درمیان فیصلہ کرنا ہے ۔یا تو خدا کی ہستی پر ایمان کو مقدم کرے یا اپنی زندگی کو۔اگر وہ اپنی زندگی کو مقدم کرکے خداکی ہستی کا انکار کر دیتا ہے تو وہ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ میں نہیں آتا کیونکہ یہ انکار اس کی ’’قوت فیصلہ‘‘کے استعمال کے نتیجہ میں ظاہر ہوا ہے۔

    کفر کی دوسری قسم اعمال کے متعلق ہے اور اس میں’’جبراوراکراہ‘‘کئی صورتوں میں ممکن ہے۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ کسی شخص سے جبراً بعض ایسے اعمال سرزد کرائے جائیں جن میں اس کی قوت فیصلہ کا ایک ذرہ بھی دخل نہ ہو۔مثلاً اگر زید و بکر اور عمر پکڑ کر خالد کو جبراً شراب پلانا چاہیں یا اور کسی ناجائز فعل کا ارتکاب کرانا چاہیں تو گو خالد اس سے بچنے کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہو پھر بھی ممکن ہے کہ اسے لٹا کر جبراً شراب اس کے منہ میں ڈال دی جائے۔اب اس طریق پرشراب پینے میں خالد کے ارادہ اور اس کی قوت فیصلہ کا ذرہ بھی دخل نہیں۔ یوں تو شراب پینا یا زنا کرنا ایمان کے خلاف ہیں مگر مندرجہ بالا طریق پر ان کا ارتکاب کرایا جانا یقینا اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ کے تحت آتا ہے کیونکہ وہ باوجود اپنے کامل طور پر مصمّم اور غیر متزلزل ارادہ کے اس سے بچ نہ سکا ،لیکن کسی شخص کی زبان کو کوئی دوسرا شخص زبردستی پکڑ کو چلا نہیں سکتا کہ وہ اپنے عقائد کے خلاف کہے مگر اعمال کا صدور جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے بعض اوقات جبراً کرایا جا سکتا ہے۔پس آیت مندرجہ بالا میں لفظ ایمان کفر کے بالمقابل ہے ،اور کفر کے معنی زبانی انکار کے نہیں بلکہ اعمال کے رنگ میں بھی نافرمانی کے ہیں۔جیسا کہ لغت میں ہے :۔

    ’’اَکْفَرَ لَزِمَ الْکُفْرَ وَ الْعِصْیَانَ بَعْدَ الطَّاعَۃِ وَالْاِیْمَانِ‘‘ (المنجد صفحہ ۴۹۷زیر لفظ کفر) اس نے کفر کیا ۔یعنی کفر اور عصیان سے وابستہ ہوا فرمانبرداری اور ایمان کے بعد۔گویا لفظ کفر میں ہر قسم کا عصیان داخل ہے۔

    ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں کہ ’’عقائد‘‘کے متعلق ’’اکراہ‘‘کیا ہی نہیں جاسکتا جو عقائد کے تبدیل کرانے کے لئے کسی شخص پر کیا جائے کیونکہ ایسی حالت میں دو مشکل راہوں میں سے ایک کو دوسری پر مقدّم کرنے کا فیصلہ خود اس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جس پر جبر کیا جائے ۔اور یہ ظاہر ہے کہ ’’ایمان ‘‘کے مقابلہ میں ’’جان‘‘کی کوئی قیمت نہیں ۔پس جو شخص ’’جان ‘‘کے خوف سے ’’ایمان‘‘کو چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے یعنی بجائے دین کو دنیاپر مقدّم کرنے کے دنیا کو دین پر مقدّم کرتا ہے۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے یہ فیصلہ ’’اکراہ‘‘ کے ماتحت کیا ہے کیونکہ اکراہ تو اس صورت میں ہوتا جب وہ یہ کہہ سکتاکہ یہ جو کچھ ہوا میرے ’’فیصلہ‘‘ سے نہیں ہوا۔ہاں بعض ’’اعمال‘‘ایسے رنگ میں دوسرے شخص سے جبراً سرزد کرائے جا سکتے ہیں جن میں اس کے اپنے فیصلہ کا دخل نہ ہو۔جیسا کہ اوپر مثال دی گئی ہے۔پس شیعوں کاتقیّہ اس آیت سے ہرگز نہیں نکل سکتا کیونکہ وہ اعمال کے متعلق اس رنگ میں استثناء نہیں مانتے جس رنگ میں اوپر بیان ہوا بلکہ وہ عقائد کو کسی کے خوف سے چھپانے اور اس کے خلاف کہنے کا نام ’’تقیّہ‘‘کہتے ہیں۔

    جواب نمبر۲:۔اگر عقائد کو اس طریق پر چھپانے کی اجازت مل جائے تو کسی نبی کی جماعت بھی ترقی نہ کر سکتی ۔ اگر اس رنگ میں تقیّہ جائز ہوتا تو حضرت علی،حضر ت ابوبکر، حضرت بلال وغیرھم رضوان اﷲ علیہم اجمعین صحابہ کرام جن کومحض اسلام لانے کی و جہ سے سخت تکالیف اور مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ضرور اس سے فائدہ اٹھاتے اور اگر وہ ایسا کرتے تو پھر مسلمان کون ہوتا؟پس ان بزرگوں کا انتہائی مصیبتیں اٹھا کر بھی انکار نہ کرنا صاف طور پر ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک ’’عقائد ‘‘کے متعلق ’’اکراہ‘‘ممکن نہ تھا اور یہ کہ ڈر کر عقائد کو تبدیل کرنا اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ کی استثناء میں نہیں آتا۔

    جواب نمبر ۳:۔تقیّہ کے متعلق ایک نہایت ضروری سوال ہے اور وہ یہ کہ

    ’’تقیّہ کرنا اچھا ہے یا بُرا‘‘

    اگر کہو برا تو (ا) یہ عقائد شیعہ کے خلاف (۲) حضرت علیؓ نے کیوں کیا (بقول شما) اگر کہو ’’اچھا‘‘تو حضرت امام حسینؓ نے یزید کے بالمقابل کیوں نہ کیا؟
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    جواب نمبر۴:۔اﷲ تعالیٰ نے جو ’’اکراہ‘‘اور جبر کے نتیجہ میں استثناء بیان فرمائی ہے جس کی تفصیل جواب نمبر ۱ میں بیان ہو چکی ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے اس کو بھی مستحسن قرار نہیں دیا بلکہ اسے بھی ایک قسم کا گناہ ہی قرار دیا ہے جیسا کہ اس کے آگے ہی فرمایاہے۔ (النحل :۱۱۱) کہ پھر اس اکراہ کے بعد تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔پس معلوم ہوا کہ جو بعض اعمال اور افعال کے متعلق ’’جبر‘‘اور ’’اکراہ‘‘کے بارے میں استثناء ہوا ہے اﷲ تعالیٰ نے اس کو بخشش کے ماتحت رکھا ہے پس صاف

    طور پر ثابت ہے کہ یہ اکراہ اور جبر کی حالت اعلیٰ درجہ کے مومنوں کے متعلق نہیں بلکہ عوام کے کمزور ایمان والوں کے متعلق ہے اس کی و جہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے انبیاء اور خواص مقربین کی ملائکہ کے ذریعہ حفاظت کرتا ہے اس لئے کفار کو ان پر اس رنگ میں تصرف حاصل ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ جبراًازراہ ’’اکراہ‘‘اعمال خلاف شریعت کا ارتکاب کرا سکیں ۔

    پس حضرت علیؓ جیسے عظیم الشان انسان کے متعلق یہ کہنا کہ انہوں نے اپنے مخالفین سے ڈر کر بیعت کر لی اور اپنے عقائد کے خلاف عقائد حاضر کئے اور نعوذ باﷲ جھوٹے ،خائن اور غاصب خلفاء پر ایمان لے آئے،انتہائی طور پر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی ہتک ہے۔

    جواب نمر۵:۔اگر فی الواقعہ حضرت علیؓ نے تقیہ کیا تھا (بقول شما) تو بعد میں ان کو بطور احتجاج ہجرت کر کے خلفاء ثلاثہ کے خلاف جہاد کرنا چاہئے تھا کہ جنہوں نے آپ کو اپنی بیعت پر مجبور کیا تھالیکن آپ نے ایسا نہیں کیا ۔ثابت ہوا کہ حضرت علیؓ نے کبھی تقیہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ اس کے قائل تھے۔ (خادمؔ)

    قولہ:۔ (المومن:۲۹) کہ آل فرعون میں سے ایک شخص حزقیل نامی نے تقیّہ کیا ۔فرعون سے تو وہ ممدوح خداوند ہوگیا۔حالانکہ یہ تقیّہ توحید خدا میں تھا اور شیعہ کا تقیّہ ولایت اور خلافت علیؓمیں تھا۔تو اس سے بڑھ کر ممدوح خدا ہیں ۔

    اقول:۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون نے قتل کی دھمکی دی ‘حزقیل بول اٹھا۔ (المومن: ۲۹) تو اس وقت کیا حضرت موسیٰؑ نے تقیّہ کیا ؟نہیں ہرگز نہیں ۔اس وقت بھی حضرت موسیٰ ؑ کو قتل کا خطرہ تھا اور اس وقت بھی انہوں نے تقیّہ نہ کیااور اگر تقیّہ کوئی اچھی بات ہوتی تو حضرت موسیٰ ؑ بھی اس کو اختیار کرتے۔اب رہا حزقیل تو اس نے زیادہ سے زیادہ کتم ایمان کیا نہ کہ تقیّہ۔

    کتم ایمان اور تقیّہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔دوسرے یہ کہ (المومن:۲۹)

    کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ آدمی اُس دن سے پہلے ایمان کو چھپاتا تھا اور اُس دن آکر اس نے اپنے ایمان کا اظہار کیا۔تو اس نے اظہار ایمان کیا نہ کہ تقیّہ اور یہ بھی اس کے معنی ہو سکتے ہیں کہ ایمان کی چنگاری ابھی تک مخفی تھی لیکن اسی وقت دربار میں حضرت موسیٰؑ کی تقریر و معجزات کے اثر کے ماتحت اس کے سینے میں ایمان کی چنگاری سلگ اُٹھی اور جس وقت فرعون نے حضرت موسیٰؑ کو قتل کی دھمکی دی تو وہ فوراً بول اٹھا کہ یہ ظلم ہے گویا اس نے اظہار ایمان کر دیا۔

    قولہ:۔جس طرح اﷲ تعالیٰ اور حضرت ابراہیم نے اصنام باطلہ کو الٰہ برحق تعبیر کیا اور فرمایا ۔ (الصّٰفّٰت:۹۲) اور ایسا کرنے میں الٰہ حق میں کوئی فرق نہ آیا ۔اسی طرح اگر امام حق نے مصلحتاً و شریعتاًخلیفہ باطل کو خلیفہ یا امام کہا۔تو نہ قائل کو کوئی ضرر ہے اور نہ خلیفہ باطل کو کوئی شرف حاصل ہوا۔

    (قول فیصل مصنفہ مرزا رضا علی صفحہ ۱۲)

    اقول:۔میں ھِمْ سے مراد وہ کافر ہیں جو ان کو معبود سمجھتے تھے۔تو یہ قیاس مع الفارق ہے کہ میں تو مشرک ان کو معبود مانتے تھے۔اب اگر حضرت علیؓ حضرت ابوبکرؓ کو امیر المومنین کہتے تھے تو آپ حضرت ابوبکرؓ کو حق مانتے تھے۔تو اس میں کوئی تقیّہ نہیں۔ اگر کہو کہ آپ ان معنوں میں انہیں امیر المومنین کہتے تھے کہ آپ ان لوگوں کے خلیفہ تھے جو ان کی خلافت پر ایمان رکھتے تھے،تو اس صورت میں بھی آپ تقیّہ نہ کرتے تھے کیونکہ ان کو خلیفہ برحق نہیں مانتے تھے۔اور خلیفہ برحق نہ ماننے کی صورت میں تقیّہ نہ رہا۔

    ۱۔اگر حضرت علیؓ کا خلافتِ حضرت ابوبکر ؓ سے لے کر حضرت عثمانؓ تک جوکہ ۲۵ سال کا عرصہ ہے کافر خلفاء کی بیعت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا اور ان کو سچا خلیفہ ماننا بسبب تقیّہ کے ہو سکتا ہے تو اگر کوئی خارجی یہ کہے کہ حضرت علیؓ کا ۲۳برس تک رسول مقبول ﷺکو ماننا بھی تقیّہ کے سبب سے ہے تو جو جواب ان کا شیعہ دیں گے وہی جواب ہمارا بھی ہوگا۔پس تقیّہ ماننے کی صورت میں دلیل اسلام حضرت علیؓ کی اُڑ جائے گی۔

    ۲۔یہ طبعی قاعدہ ہے کہ ظاہر کا اثر باطن پر اور باطن کااثر ظاہر پر پڑتا ہے۔اگر کسی شخص کے دل میں کسی کا بغض ہولیکن ظاہر میں اس سے محبت کرے اور تعظیم سے پیش آئے تو آہستہ آہستہ وہ بغض دور ہو جائے گا۔یہی حال ایمان کا ہے اگر اس کے مطابق نیک عمل نہ کیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ دل سے مفقود ہوجاتا ہے۔پس تقیّہ اس لئے ناجائز ہوا کہ اس پر عمل کرنے کی صورت میں ایمان کے جاتے رہنے کا اندیشہ ہے۔

    ۳۔عقلاً کفر اور ایمان کے بارے میں چار گروہ ہوسکتے ہیں:۔

    الف۔ دل میں اور ظاہر میں دونوں میں ایمان ہو۔

    ب۔ دل میں کفر اور ظاہر میں بھی کفر۔

    ج۔ دل میں کفر اور ظاہر میں ایمان۔

    د۔ دل میں ایمان مگر ظاہر میں کفر۔

    قرآن شریف نے پہلے تینوں گروہوں کا ذکر کیا ہے مگر چوتھا گروہ کہ دل میں ایمان مگر ظاہر میں کفرہوکا ذکر نہیں کیا۔اس لئے کہ یہ گروہ ہو نہیں سکتا۔کیونکہ ایمان ایسی چیز نہیں ہے جو دل میں چھپ سکے سوائے اس کے کہ وقتی طور پر ہو اور وہ بھی کمزور ایمان والا کرے گا اور وہ مجرم ہو گا۔کَمَا قَالَ اللّٰہُُ تَعالٰی۔ (النحل :۱۱۱)

    ۴۔منافق اور کافر میں بلحاظ کفر کے کوئی فرق نہیں ہے مگر باوجود اس کے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (النساء:۱۴۶) کہ منافقوں کو سب سے زیادہ سزا ملے گی۔اس کی و جہ صرف یہی ہے کہ ان لوگوں نے دِلی عقیدہ کو چھپایا۔پس جب کفر کے چھپانے پر سزا بڑھ جاتی ہے تو ایمان کے چھپانے پر بدرجہ اولیٰ بڑھ جانی چاہئے۔

    ۵۔حضرت علیؓ نے مکہ کی زندگی میں دل میں اسلام رکھا اور ظاہر میں بھی اسلام رکھا ۔اگر تقیّہ جائز ہوتا تو ظاہر میں بت پرستی کرتے کیونکہ وہاں زیادہ خطرہ تھا۔

    ۶۔حضرت علیؓ کو جب مکہ میں کافروں کی طرف سے تکلیف پہنچی تو انہوں نے اپنے ایمان کو بچانے کے لئے وہاں سے ہجرت کرلی۔اگر مدینہ میں بھی کسی وقت ان کو اپنے ایمان کے بچانے کی ضرورت پڑتی تو وہ ضرور وہاں سے ہجرت کرتے مگر انہوں نے وفات حضرت عثمانؓ تک وہاں سے ہجرت نہ کی۔اس لئے معلوم ہوا کہ ان کو وہاں ایمان بچانے کی ضرورت نہ پڑی۔اگر کہو کہ انہوں نے کوفہ میں ہجرت کی تھی تو وہ اپنی خلافت کے زمانہ میں کی تھی جب کہ ڈر نہیں رہا تھا۔

    ۷۔جبر کی صورت میں ایمان چھپانا جائز ہے یا فرض؟اگر کہوکہ جائز ہے تو پھر وہ افضل ہے یا اس کا غیر افضل ہے؟اور اگر فرض ہے تو اس کی عدم تعمیل یقیناً گناہ کا موجب ہوگی اور پھر اگر فرض ہے تو پھر حضرت امام حسینؓ نے یزید کی بیعت کیوں نہ کی؟

    پس معلوم ہوا کہ تقیّہ فرض نہیں ۔اور اگر جائز ہے تو وہ اَولیٰ ہے یا اس کا غیر اَولیٰ ہے۔ قرآن مجید تو (النحل :۱۱۱) کہہ کر جبر کی و جہ سے تقیّہ کرنے والوں کو گناہگار قرار دیتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ تقیّہ کا غیر اولیٰ ہے اور امام کو یہی سزاوار ہے ۔کہ وہ اَولیٰ پر عامل ہو۔

    ۸۔حضرت عمار بن یاسر ؓ کو اگر تقیّہ کی مثال میں پیش کیا جاسکتا ہے تو ان کے ماں باپ کو شیعہ کیا سمجھتے ہیں۔یقیناً ان کو نیک اور شہید جانتے ہیں ۔پس ایک بات جو کسی کی غلطی ہو اس کو ائمہ کے حق میں تجویز کرنے سے یہ بہتر ہے کہ ائمہ کے حق میں اولیٰ بات تجویز کرے۔

    ۹۔جس طرح اسلام میں کمزوروں کی رعایت کے لئے ڈر کے مارے ایمان چھپانے کو کفر قرار نہیں دیا ہے اسی طرح کامل مومنوں اور نبیوں کے لئے شجاعت اور بے خوفی کو لازم قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا۔ (المائدۃ:۵۵) (الاحزاب:۴۰) (الانبیاء:۲۹) (النمل:۱۱) پس عجیب بات یہ ہے کہ جو بات کمزوروں کے لئے جائز ہے وہ حضرت علیؓ میں پائی جائے اور جو بات کامل مومنوں کے لئے لازم تھی وہ آپ میں مفقود ہو؟

    ۱۰۔ (النور:۵۶)

    آیت استخلاف جس میں صرف خلفاء کا ذکر ہے ا س میں اﷲ تعالیٰ نے خلفاء کی ایک پہچان بتائی ہے کہ (النور:۵۶) یعنی ایام خلافت میں خوف کے معاملے بھی پیش آئیں گے مگر وہ دور ہوجائیں گے (النور:۵۶) کہ ان کا دین پوشیدہ نہیں ہوگااور فرمایا (النور:۵۶) یعنی میری عبادت میں کسی کو شریک نہیں کریں گے۔پس اس آیت میں خلفاء کی تین علامتیں بیان فرمائی ہیں:۔

    الف۔ ان سے خوف کا دور ہونا۔

    ب۔ ان کا اپنے دین کو ظاہر کرنا۔

    ج۔ عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا۔

    اگر ہم حضرت علیؓ کو تقیہ باز سمجھیں اور ان کو پہلا خلیفہ سمجھیں تو ان تینوں میں سے کوئی علامت بھی حضرت علیؓ میں پوری نہیں ہوتی اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ میں یہ تینوں پوری ہوئی ہیں۔ اگر تقیّہ نہ ہو تو پھر تینوں باتیں حضرت علیؓ میں پوری ہوئی ہیں۔

    نوٹ:۔اﷲ تعالیٰ فرماتاہے۔ (النحل:۱۰۷) اس سے یہ بات ثابت ہے کہ مکرہ کو وہ سزا نہیں ملے گی جو کفر بعد الایمان اور کافر بالشرح صدر کو ملے گی ۔یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ مکرہ کلمہ کفر کہے تو جائز ہے اور گناہ نہیں۔آیت تو کہہ رہی ہے کہ گناہ ہے تبھی تو اس کا تدارک فرمایا کہ ……الخ (النحل :۱۱۱) اگر یہ گناہ ہی نہ ہوتا تو تدارک بتانے کی ضرورت تھی۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں