1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تذکرہ۔ الہامات و کشوف و رؤیا حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ۔ یونی کوڈ

'حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تذکرہ۔ الہامات و کشوف و رؤیا حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ ۔ یونی کوڈ

    بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
    تَذْکِرَہ
    یعنی
    وحیِ مقدّس
    و
    رؤیا و کشوف حضرت مسیح موعُودعلیہ الصّلٰوۃ والسّلام
    زمانہ تحصیلِ علم
    (ا1)رَأَیْتُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَّاَنَا غُلَامٌ حَدِیْثُ السِّنِّ کَاَنِّیْ فِیْ بَیْتٍ لَطِیفٍ نَّظِیْفٍ یُذْکَرُ فِیْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ فَقُلْتُ اِیُھَاالنَّاسُ اَمْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمّ ۔ فَاَشَارُوْااِلٰی حُجْرَۃٍ ۔ فَدَخَلْتُ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ ۔ فَبَشَ بِیْ حِیْنَ وَافَیْتُہٗ ۔ وَحَیَّانِیْ بِاَحْسَنِ مَاحَیَّیْتُہٗ ۔ وَمَااَنْسٰی حُسْنَہٗ وَجَمَالَہٗ وَمَلَاحَتَہٗ وَتَحَنُّنَہ م اِلٰی یَوْمِیْ ھٰذَا ۔ شَغَفَنِیْ حُبًّاوَّجَذَبَنِیْ بِوَجْہٍ حَسِیْنٍ ۔ قَالَ مَاھٰذِا بِیَمِنْنِکَ یَااَحْمَدُ ۔ فَنَظَرْتُ فَاِذَا کِتِابٌ بِیَدِی الْیُمْنٰی وَخَطَرَ بِقَلْبِیْ
    1 (ترجمہ از مرتب) اوائل ایامِ جوانی میں ایک رات میں نے (رؤیا میں) دیکھا کہ میں ایک عالی شان مکان میں ہوں ۔ جو نہایت پاک اور صاف ہے اور اس میں آنحضرت ﷺ کا ذکر اور چرچا ہورہا ہے۔ میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ کہاں تشریف فرما ہیں۔ انہوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اُس کے اندر چلا گیا۔ اور جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچا تو حضور ﷺبہت خوش ہوئے اور آپ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔ آپ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپ کی پُر شفقت و پُر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے۔ اور وہ مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔ آپ کی محبت نے مجھے فریفتہ کرلیا۔ اور آپ کے حسین و جمیل چہرہ نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا۔ اس وقت آپ نے مجھے فرمایا ۔ اے احمد! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے ۔ جب میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور وہ مجھے
    اَنَّہٗ مِنْ مُّصَنَّفَاتِیْ ۔ قُلْتُ یَارَسُوْلِ اللّٰہِ کِتَابٌ مِّنْ مُّصَنَّفَاتِیْ ۔ قَالَ مَااسْمُ کِتابِکَ فَنَظَرْتُ اِلَی الْکِتَابِ مَرَّۃً اُخْرٰی وَاَنَا کَالْمُتَحَیِّرِیْن ۔ فَوَجَدْتُّہٗ یُشَابِہُ کِتَابًا کَانَ فِیْ دَارِ کُتُبِیْ وَاسْمُہٗ قُطْبِیٌّ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِسْمُہٗ قُطْبِیٌّ ۔ قَالَ اَرِنِیْ کِتَابَکَ الْقُطْبِیَّ فَلَمَّا اَخَذَہٗ وَمَسَّتْہُ یَدُہٗ فَاِذَاھِیَ ثَمَرَۃٌ لَّطِیْفَۃٌ تَسُرُّالنَّاظِرِیْنَ ۔ فَشَقَّقَھَا کَمَایُشَقَّقُ الثَّمَرُ فَخَرَجَ مِنْھَاعَسَلٌ مُّصَفَّی کَمَآءٍ مُّعِیْنٍ ۔ وَرَاَیْتُ بِلَّۃَ الْعَسَلِ عَلٰی یِدِہِ الْیُمْنٰی مِنَ الْبَنَانِ اِلَی الْمِرْ فَقِ کَانَ الْعَسَلُ یَتَقَاطَرُمِنْھَا ۔ وَکَاَنَّہٗ یُرِیْنِیْ اِیَّاہُ لِیَجْعَلَنِیْ مِنَ الْمُتَعَجِّبِیْنَ ۔ ثُمَّ اُلْقِیَ فی قَلْبِی اَنَّ عِنْدَاُسْکُفَّۃِ الْبِیْتِ مَیِّتٌ قَدَّرَاللّٰہُ اِحْیَاءَ ہٗ بِھٰذِہِ الثَّمَرَۃِ وَقَدَّرَ اَنْ یَّکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُحْیِیْنَ ۔ فَبَیْنَمَااَنَافِیْ ذٰلِکَ الْخیَیْالِ فَاِذَاالْمَیِّتُ جَآءَ نِیْ حَیّاً وَّھُوَیَسْعٰی وَقَامَ وَرَآءَ ظَھْرِیْ وَفِیْہِ ضُعْفٌ کَاَنَّہٗ مِنَ الْجِآئِعِیْنَ ۔ فَنَظَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیَّ مُتَبَسِّمًاوَّ جَعَلَ الثّمَرَۃَ قِطْعَاتٍ وَّاَکَلَ قِطُعَۃً مِّنْھَاوَاٰ تَانِیْ کُلَّ صَابَقِیَ وَالْعَسَلُ یَجْرِیْ مِنّ الْقِطْعَاتِ کُلِّھَاوَقَالَ یَااَحْمَدُ اَعْطِہٖ قِطْعَۃً مِّنْ ھٰذِہٖ لِیَاْکُلَ وَیَتَقَوّٰی فَاَعْطَیْتُہٗ فَاَخَذَیَاکُلُ عَلٰی مَقَامِہٖ کَالْحَرِیْصِیْنَ ۔ ثُمَّ رَاَیْتُ اَنَّ کُرْسِیَّ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسِلَّمَ قَدْرُفِعَ حِتّٰی قَرُبِ مِنَ السَّقْفِ وَرَاَیْتُہٗ فِاِذِاوَجْھُہٗ یَتَلَأ لَاُ ۔ کَاَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ذَرَّتَاعَلَیْہِ
    اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی۔ میں نے عرض کیا۔ حضور ﷺ یہ میری ایک تصنیف ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا۔اس کتاب کا کیا نام ہے۔ تب میں نے حیران ہوکر کتاب کو دوبارہ دیکھا تو اسے اس کتاب کے مشابہ پایا جو میرے کتب خانہ میں تھی اور جس کا نام قطبی ہے۔ میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ اس کا نام قطبی ہے۔ فرمایا اپنی یہ کتاب قطبی مجھے دکھا۔جب حضور ﷺ نے اسے لیا تو حضو ر ﷺ کا مبارک ہاتھ لگتے ہی وہ ایک لطیف پھل بن گیا۔جو دیکھنے والوں کیلئے پسندیدہ تھا۔جب حضور ﷺنے اسے چیرا۔ جیسے پھلوں کو چیرتے ہیں تو اس سے بہتے پانی کی طرح مفّا شہد نکلا۔ اور میں نے شہد کی طراوت آنحضرت ﷺ کے داہنے ہاتھ پر انگلیوں سے کہنیوں تک دیکھی اور شہد حضور ﷺ کے ہاتھ سے ٹپک رہا تھا۔ اور آنحضرت ﷺ گویا مجھے اس لئے وہ دکھا رہے ہیں تا مجھے تعجب میں ڈالیں۔ پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ دروازے کی چوکھٹ کے پاس ایک مردہ پڑا ہے جس کا زندہ ہونا اللہ تعالیٰ نے اس پھل کے ذریعہ مقدر کیا ہوا ہے اور یہی مقدر ہے کہ نبی کریم ﷺ اس کو زندگی عطا کریں۔ میں اسی خیال میں تھا کہ دیکھا کہ اچانک وہ مُردہ زندہ ہوکر دوڑتا ہوا میرے پاس آگیا اور میرے پیچھے کھڑا ہوگیا مگر اس میں کچھ کمزوری سی تھی گویا وہ بھوکا تھا تب نبی کریم ﷺ نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اس پھل کے ٹکڑے کئے اور ایک ٹکڑا ان میں سے حضور ﷺنے خود کھایا اور باقی سب مجھے دے دیئے ان سب ٹکڑوں سے شہد بہہ رہا تھا۔ اور فرمایا۔ اے احمد! اس مُردہ کو ایک ٹکڑا دے دو تا اسے کھا کر قوت پائے۔ میں نے دیا تو اس نے حریصوں کی طرح اسی جگہ ہی اسے کھانا شروع کردیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺکی کرسی اونچی ہوگئی ہے‘ حتیٰ کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے اور میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ ﷺ کا چہرہ مبارک ایسا چمکنے لگا کہ گویا اس پر سورج
    وَکُنْتُ اَنْظُرُ اِلَیْہِ وَعَبَرَالِّیْ جَارِیَۃٌ ذَوْقًاوَّوَ جْدًا ۔ ثُمَّ اسْتَیْقَظْتُ وَاَنَامِنَ الْبَاکِیْنَ۔ فَاَلْقَی اللّٰہُ فِیْ قَلْبِیْ اِنَّ الْمَیِّتَ ھُوَالْاِسْلَامُ ۔ وَسَیُحْیِیْہِ اللّٰہُ عَلٰی یَدِیْ بِفُیُوْضٍ رُوْحَانِیَّۃٍ مِّنْ رُّسُوْلِ اللّٰہِ صِلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَایُدْ رِیْکُمْ لَعَلَّ الْوَقْتَ قَرِیْبٌ فَکُوْنُوْامِنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ وَفِیْ ھٰذِہِ الرُّؤْیِا رَبَّانِی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیِدِہٖ وَکَلَامِہٖ وُاَنْوَارِہٖ وَھَدِیَّۃِ اَثْمَارِہٖ ۔1
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 548، 549)
    (ب) ’’اِس اَحقر نے 1864 ء2یا 1865 عیسوی میں یعنی اسی زمانے کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حِصّہ میں ہنوز تحصیلِ علم میں مشغول تھا، جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ اوراُس وقت اِس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اِس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پُوچھا کہ تُو نے اِس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام مَیں نے قطبی رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اَب اِس اشتہاری کتاب3 کے تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اورمستحکم ہے۔ جس کے کامل استحکام کو پیش کرکے دس10 ہزارروپیہ کا اِشتہار دیاگیا ہے۔
    غرض آنحضرتؐ نے وہ کتاب مجھ سے لے لی۔ اورجب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجنابؐ کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوشرنگ اورخوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدرِ تربُوزتھا۔ آنحضرت ﷺنے جب اُس میوہ کو تقسیم کرنے کیلئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہدنکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مِرفق تک شہد سے
    اور چاند کی شعاعیں پڑرہی ہیں۔ میں آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا اور ذوق اور وجد کی و جہ سے میرے آنسو بہہ رہے تھے۔ پھر میں بیدار ہوگیا۔ اور اس وقت بھی میں کافی رو رہا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مُردہ شخص اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے روحانی فیوض کے ذریعہ سے اسے اب میرے ہاتھ پر زندہ کرے گا۔ اور تمہیں کیا پتہ شاید یہ وقت قریب ہو اس لئے تم اس کے منتظر رہو۔ اور اسرؤیامیں آنحضرت ﷺ نے اپنے دست ِ مبارک سے‘ اپنے پاک کلام سے اپنے انوار سے اور اپنے (باغِ قدس کے) پَھلوں کے ہدیہ سے میری تربیت فرمائی تھی۔
    1 یہ رویاء براہین احمدیہ میں بھی مذکور ہے مگر اس میں اس کے شروع کا اور آخر کا حصہ اس تفصیل سے بیان نہیں ہؤا۔ اِس لئے اسے آئینہ کمالاتِ اسلام میں سے لیکر درج کیا گیا ہے۔ (مرتّب)
    2 یہ تاریخ غالباً سرسری طورپر ایک موٹے اندازہ کی بناء پر لکھی گئ ہے کیونکہ یہ رؤیا حضور کے زمانہ آغازِ جوانی کا ہے جبکہ آپ ہنوز تحصیلِ علم میں مشغول تھے جس کے بعد کچھ عرصہ آپ سیالکوٹ تشریف فرمارہے۔ اورتریاق القلوب صفحہ 57 سے معلوم ہوتا ہے کہ راجہ تیجاسنگھ صاحب کی وفات (جو 1862 میں ہوئی تھی۔ دیکھئے کتاب تذکرہ رؤسائے پنجاب)کا واقعہ انہی ایام کا ہے جب حضور سیالکوٹ میں رہتے تھے۔ پس یہ رؤیا دراصل 1864 سے کئی سال قبل کا ہے۔ واللہ علم بالصّواب۔ (مرتّب)
    3 براہین احمدیہ (مرتّب)
    بھر گیا۔ تب ایک مُردہ کہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا۔ آنحضرتؐ کے معجزہ سے زندہ ہوکر اس عاجز کے پیچھے آکھڑا ہوا۔ اور یہ عاجز آنحضرت ﷺ کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ اور آنحضرتؐ بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبردست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے۔
    پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت ﷺ نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے زندہ ہوا۔ اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی۔ اور اس نے وہیں کھالی۔ پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھاچکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی۔ اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں‘ ایسا ہی آنحضرت ﷺ کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی۔ کہ جو دین ِ اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی۔ تب اسی نور کے مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھُل گئی۔ وَالْحَمْدُلِلہِ عَلیٰ ذٰلِک۔‘‘
    )براہین احمدیہ حصہ سوم۔ صفحہ 248،249۔ حاشیہ در حاشیہ نمبر1(
    نوجوانی کے زمانہ میں
    ’’ وَرَاَیْتُ فِیْ غُلَوَآئِ شَبَابِیْ وَ عِنْدَ دَوَاعِی التَّصَابِیْ کَاَنِّیْ دَخَلْتُ فِیْ مَکَانٍ۔ وَفِیْہِ حَفَدَتِیْ وَخَدَمِیْ۔فَقُلْتُ طَھِّرُوْا فِرَاشِیْ۔ فَاِنَّ وَقْتِیْ قَدْ جَآئَ۔ ثُمَّ اسْتَیْقَظْتُ۔ وَخَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ۔ وَذَھَبَ وَھْلِیْ اِلٰی اَنَّنِیْ مِنَ الْمَائِتِیْنَ۔1‘‘ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 548)
    1861ء (تخمیناً)
    ’’مجھے یاد ہے کہ شاید چونتیس برس کا عرصہ گذرا ہوگا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ شیطان سیاہ رنگ اور بدصورت کھڑا ہے۔ اوّل اس نے میری طرف توجہ کی۔ اور میں نے اس کو منہ پر طمانچہ مار کر کہا کہ دُور ہو اَے شیطان۔ تیرا مجھ میں حصہ نہیں۔ اور پھر وہ ایک دوسرے کی طرف گیا اور اس کو اپنے ساتھ کرلیا۔ اور جس کو اپنے ساتھ کرلیا اس کو میں جانتا تھا۔ اتنے میں آنکھ کھُل گئی۔
    اسی دن یا اس کے بعد اس شخص کو مرگی پڑی۔ جس کو میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ شیطان نے اس کو ساتھ کرلیا تھا اور
    1 (ترجمہ از مرتّب) میں نے ایک دفعہ اوائل ایام جوانی میں اور جب کہ کھیل کود کے اسباب کی طرف طبائع کا میلان ہوتا ہے‘ رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک مکان کے اندر داخل ہوا ہوں جس میں میرے خادم اور نوکر چاکر موجود ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ میرے مکان کو درست اور میرے بستر کو پاک و صاف کرو۔کیونکہ اب میرا وقت آگیا ہے۔اس کے بعدمیری آنکھ کھُل گئی۔ اس وقت مجھ پر اپنی جان کے متعلق خطرہ و اندیشہ کی حالت طاری ہوئی۔اور میرا خیال اس طرف گیا کہ اب میری موت کا وقت آگیا ہے خاکسار مرتب عرض کرتا ہے کہ ’’فان وقتی قد جَآءَ‘‘سے حضور نے اس وقت یہ تعبیر لی تھی کہ میرے مرنے کا وقت آگیا ہے۔مگر جیسا کہ بعد کے حالات سے ظاہر ہوا ‘ اس سے مراد یہ تھی کہ میری بعثت کا وقت آگیا ہے اور اس کی تائید آپ کے دوسرے الہام بخرام کے وقت ِتو نزدیک رسید سے بھی ہوتی ہے۔واللہ اَ علم بالصّواب۔
    صرع کی بیماری میں گرفتار ہوگیا۔ اِس سے مجھے یقین ہوا کہ شیطان کی ہمراہی کی تعبیر مرگی ہے۔‘‘
    (معیار المذاہب حاشیہ صفحہ 18‘ ملحقہ رسالہ نورالقرآن مطبوعہ اپریل 1896 ء)
    1862ء
    ’’ لالہ بھیم سین صاحب کو جو سیالکوٹ میں وکیل ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے خواب کے ذریعہ سے را جہ تیجا سنگھ کی موت کی خبر پاکر ان کو اطلاع دی کہ وہ را جہ تیجا سنگھ جن کو سیالکوٹ کے دیہات جاگیر کے عوض میں تحصیل بٹالہ میں دیہات مع اس کے علاقہ کی حکومت کے ملے تھے۔ فوت ہوگئے ہیں اور انہو ں نے اس خواب کو سن کر بہت تعجب کیا۔ اورجب قریب دو بجے بعد دوپہر کے وقت ہوا تو مسٹر پرنسب صاحب کمشنر امرتسر ناگہانی طور پر سیالکوٹ میں آگئے اور انہوں نے آتے ہی مسٹرمکنیب صاحب ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کو ہدایت کی کہ راجہ تیجا سنگھ کے باغات وغیرہ کی جو ضلع سیالکوٹ میں واقع ہیں بہت جلد ایک فہرست تیار ہونی چاہئے کیونکہ وہ کل بٹا لہ میں فوت ہوگئے۔ تب لالہ بھیم سین نے اس خبر موت پر اطلاع پاکر نہایت تعجب کیا کہ کیونکر قبل از وقت اس کے مرنے کی خبر ہوگئی۔ اور یہ نشان آج سے بیس برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں درج ہے دیکھو صفحہ 256۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ 57، روحانی خزائن جلد نمبر 1حصہ سوم صفحہ 284)
    1865ء (قریباً)
    ’’تیس برس کا عرصہ ہوا کہ مجھے صاف صاف مکاشفات کے ذریعہ سے اُن1کے حالات دریافت ہوئے تھے۔ اگر میں جزماً کہوں تو شاید غلطی ہو۔ مگر میں نے اُسی زمانہ میں ایک دفعہ عالمِ کشف میں اُن سے ملاقات کی۔ یا کوئی ایسی صورتیں تھیں جو ملاقات سے مشابہ تھیں۔ چونکہ زمانہ بہت گذر گیا ہے۔ اس لئے اصل صورت اُس کشف کی میرے ذہن سے فرو ہوگئی ہے۔‘‘
    (ست بچن طبع اوّل صفحہ 29 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 141)
    1865ء (قریباً)
    ’’چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے۔ تا یہ نتیجہ نکالیں کہ جھوٹا تھا تبھی جلدی مر گیا۔ اس لئے پہلے ہی سے اُس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا:۔
    ثَمَانِیْنَ حَوْلاً اَوْ قَرِیْباً مِّنْ ذَالِکَ۔ اَوْتَزِیْدُ عَلَیْہِ سِنِیْناً۔ وَتَرٰی نَسْلاً بَعِیْداً۔
    یعنی تیری عمر اَسّی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دُور کی نسل کو دیکھ لے گا۔ اور یہ الہام قریباً پینتیس برس سے ہوچکا ہے۔‘‘
    (اربعین نمبر 3 صفحہ 29، 30 وضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 19 طبع اوّل، روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ 66)
    1 باوا نانک رحمتہ اللہ علیہ۔ (مرتّب)
    1868ء
    ’’ یک مقدمہ میں کہ اس عاجز کے والد مرحوم کی طرف سے اپنے زمینداری حقوق کے متعلق کسی رعیت پر دائر تھا۔ اس خاکسار پر خواب میں یہ ظاہر کیا گیا کہ اِس مقدمہ میں ڈگری ہوجائے گی۔ چنانچہ اس عاجز نے وہ خواب ایک آریہ1 کوکہ جو قادیان میں موجود ہے بتلا دی۔
    پھر بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ اخیر تاریخ پر صرف مدعا علیہ مع اپنے چند گواہوں کے عدالت میں حاضر ہوا۔ اور اِس طرف سے کوئی مختار وغیرہ حاضر نہ ہوا۔ شام کو مدعا علیہ اور سب گواہوں نے واپس آکر بیان کیا کہ مقدمہ خارج ہوگیا۔
    اس خبر کو سنتے ہی وہ آریہ تکذیب اور استہزاء سے پیش آیا۔ اُس وقت جس قدر قلق اور کرب گذرا ‘ بیان میں نہیں آسکتا۔ کیونکہ قریب قیاس معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ایک گروہِ کثیر کا بیان جن میں بے تعلق آدمی بھی تھے خلاف واقعہ ہو۔ اس سخت حزن اور غم کی حالت میں نہایت شدت سے الہام ہوا۔ کہ جو آ ہنی میخ کی طرح دل کے اندر داخل ہوگیا۔ اور وہ یہ تھا:۔
    ڈگری ہوگئی ہے۔ مسلمان ہے!
    یعنی کیا تو باور نہیں کرتا۔ اور باوجود مسلمان ہونے کے شک کو دخل دیتا ہے؟
    آخر تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ فی الحقیقت ڈگری2 ہی ہوئی تھی۔ اور فریق ثانی نے حکم سننے میں دھوکہ کھایا تھا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم طبع اوّل صفحہ 551، 553 حاشیہ درحاشیہ نمبر4، روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحہ 658، 659)
    1868ء
    ’’ایک مرتبہ جب انہوں3 نے اس ضلع4 میں وکالت کا امتحان دیا۔ تو میں نے ایک خواب کے ذریعہ سے اُن کو بتلایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا مقدر ہے کہ اس ضلع کے کُل اشخاص جنہوں نے وکالت یا مختاری کا امتحان دیا ہے۔ فیل ہوجائیں گے۔ مگر سب میں سے صرف تم ایک ہو کہ وکالت میں پاس ہوجاؤ گے۔ اور یہ خبر میں نے تیس 30کے قریب اور لوگوں کو بھی بتلائی۔
    چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور سیالکوٹ کی تمام جماعت کی جماعت جنہوں نے وکالت یا مختاری کاری کا امتحان دیا تھا فیل کئے گئے
    1 لالہ شرمپت (تریاق القلوب صفحہ 37، روحانی خزائن جلد نمبر15 صفحہ 206) (مرتّب)
    2 حاکم مجوز نے جس کا نام حافظ ہدایت علی تھا صرف مدعا علیہ کے بیان پر کہ ہمیں حسب ِفیصلہ صاحب کمشنر درخت کاٹ لینے کا حق حاصل ہے مقدمہ کو خارج کردیا اور مدعا علیہ کو حکم سنا کر معہ اس کے گواہوں کے رخصت کردیا۔اس پر انہوں نے گاؤں میں آکر مشہور کردیا کہ مقدمہ خارج ہوگیا ہے۔لیکن جب وہ عدالت کے کمرہ سے نکل گئے تو اس وقت مِثل خواں نے جو اتفاقاً باہر گیا ہوا تھا حاکم کو کہا کہ آپ نے اس مقدمہ میں دھوکہ کھایا ہے اور جو فریق ثانی نے نقل روبکار صاحب کمشنر پیش کی ہے وہ حکم تو فنانشل صاحب کے حکم سے منسوخ ہوچکا ہے اور اس نے روبکار دکھلا دی۔تب ہدایت علی کی عقل نے چکر کھایا اور اسی وقت اپنی روبکار پھاڑ دی اور ڈگری کی۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ 143 ، 144)
    3 لالہ بھیمؔ سین صاحب وکیل سیالکوٹ (مرتّب) 4 سیالکوٹ (مرتّب)
    اور صرف لالہ بھیم سین پاس ہوگئے.....اور یہ نشان آج سے بیس برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں درج ہے۔ دیکھو صفحہ 256۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ 57 ، روحانی خزائن جلد نمبر15 صفحہ 256)
    1868ء(قریباً)
    ’’ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے بھائی غلام قادر صاحب سخت بیمار ہیں۔ سو یہ خواب بہت سے آدمیوں کو سنایا گیا۔ چنانچہ اس کے بعد وہ سخت بیمار ہوگئے۔
    تب میں نے ان کیلئے دعا شروع کی۔ تو دوبارہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے ایک بزرگ فوت شدہ اُن کو بلا رہے ہیں۔ اس خواب کی تعبیربھی موت ہوا کرتی ہے چنانچہ ان کی بیماری بہت بڑھ گئی۔ اور وہ ایک مُشتِ استخواں سے رہ گئے۔ اس پر مجھے سخت قلق ہوا۔ اور میں نے ان کی شفا ء کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی.......سو جب میں نے دعا میں مشغول ہوا تو میں نے کچھ دنوں کے بعد خواب میں دیکھا کہ برادرمذکورپورے تندرست کی طرح بغیر سہارے کے مکان میں چل رہے ہیں۔ چنانچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے اُن کو شفاء بخشی اور وہ اس واقعہ کے بعد پندرہ برس تک زندہ رہے۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 217 ، روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحہ 595 )
    1868ء(تخمیناً)
    ’’ایک شخص سہج رام نام امرتسر کی کمشنری میں سر رشتہ دار تھا اور پہلے وہ ضلع سیالکوٹ میں صاحب ڈپٹی کمشنر کا سر رشتہ دار تھا۔ اور وہ مجھ سے ہمیشہ مذہبی بحث کیا کرتا تھا۔ اور دین ِ اسلام سے فطرتاً ایک کینہ رکھتا تھا۔ اور ایسا اتفاق ہوا کہ میرے ایک بڑے بھائی تھے۔ انہوں نے تحصیلداری کا امتحان دیا تھا۔ اور امتحان میں پاس ہوگئے تھے۔ اوروہ ابھی گھر میں قادیان میں تھے۔ اور نوکری کے امیدوار تھے۔ ایک دن میں اپنے چوبارہ میں عصر کے وقت قرآن شریف پڑھ رہا تھا ۔ جب میں نے قرآن شریف کا دوسرا صفحہ اُلٹانا چاہا۔ تو اسی حالت میں میری آنکھ کشفی رنگ پکڑ گئی اور میں نے دیکھا کہ سہج رام سیاہ کپڑے پہنے ہوئے اور عاجزی کرنے والوں کی طرح دانت نکالے ہوئے میرے سامنے آکھڑا ہوا۔ جیسا کہ کوئی کہتا ہے کہ میرے پر رحم کرادو۔ میں نے اُس سے کہا کہ اب رحم کا وقت نہیں۔ اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا۔ کہ اسی وقت یہ شخص فوت ہوگیا ہے اور کچھ خبر نہ تھی۔ بعد اس کے میں نیچے اترا۔ اور میرے بھائی کے پاس چھ سات آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کی نوکری کے بارہ میں باتیں کررہے تھے۔ میں نے کہا کہ اگر پنڈت سہج رام فوت ہوجائے تو وہ عہدہ بھی عمدہ ہے۔ ان سب نے میری بات سن کر قہقہہ مارکر ہنسی کی کہ کیا چنگے بھلے کو مار تے ہو۔ دوسرے یا تیسرے دن خبر آگئی کہ اُسی گھڑی سہج رام ناگہانی موت سے اِس دنیا سے گذر گیا۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ 296 ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 309 )
    1868 ء یا 1869 ء
    (ا) ’’1868 یا 1869 میں بھی ایک عجیب الہام اُردو میں ہوا تھا ..... اور تقریب اِس
    1 میرزا غلام قادر صاحب کی وفات 1883 ء میں ہوئی تھی۔ (کتاب تذکرہ رؤسائے پنجاب) (مرتّب)
    الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے۔ جب نئے نئے مولوی ہوکر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو اُن کے خیالات گراں گذرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کیلئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا۔ چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اس شخص کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو معہ ان کے والد صاحب کے مسجد میں پایا۔
    پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت کی تقریر کو سن کر معلوم کرلیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل ِ اعتراض ہو۔ اس لئے خاص اللہ کیلئے بحث کو ترک کیا گیا۔ رات کو خداوند ِ کریم نے اپنے الہام اور مخا طبت میں اسی ترکِ بحث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ
    تیرا خدا تیر ے اس فعل سے راضی ہوا۔ اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔
    پھر بعد اُس کے عالم ِ کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔
    چونکہ خا لصاً خدا اور اس کے رسول کیلئے انکسار اور تذلل اختیار کیا گیا۔ اس لئے اس محسن ِ مطلق نے نہ چاہا کہ اس کو بغیر اجر کے چھوڑے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔ صفحہ 520 ، 521 حاشیہ در حاشیہ نمبر3 ، روحانی خزائن ، جلد نمبر1 صفحہ621 ، 622 )
    (ب) مجھے اللہ جل شانہ‘ نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا۔ اور مجھے اس نے فرمایا کہ
    ’’میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ1 تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘
    (برکات الدعاء صفحہ 30 طبع اوّل2، روحانی خزائن جلد نمبر6 صفحہ 35)
    (ج) ’’یہ برکت ڈھونڈنے والے بیعت میں داخل ہوں گے۔ اور ان کے بیعت میں داخل ہونے سے گویا سلطنت بھی اس قوم کی ہوگی۔
    پھر مجھے کشفی رنگ میں وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے۔ وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔ اور چھ سات سے کم نہ تھے۔ ‘‘
    (الحکم جلد 6 نمبر 38 مورخہ 24 اکتوبر 1902 ء صفحہ 10 کالم نمبر 2 ، 3)
    1 عالم کشف میں مجھے وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اورکہا گیا کہ یہ ہیں جو اپنی گردنوں پر تیری اطاعت کا جوأ اُٹھائیں گے اورخداانہیں برکت دے گا۔ (تجلیاتِ الٰہیہ حاشیہ صفحہ 21 طبع اوّل)
    2 ( نیز تجلّیاتِ الٰہیہ صفحہ 21 ، روحانی خزائن جلد نمبر21 صفحہ 409 ، 420)
    (د) 1 اِ نِّیْ رَاَ یْتُ فِیْ مُبَشِّرَۃٍ اُرِیْتُھَا جمَاعَۃً مِّنَ الْمُؤْ مِنِیْنَ الْمُخْلِصِیْنَ وَالْمُلُوْکِ الْعَادِ لِیْنَ الصَّالِحِیْنَ۔ بَعْضُھُمْ مِنْ ھٰذَا الْمُلْکِ وَبَعْضُہُمْ مِنَ الْعَرَبِ وَبَعْضُہُمْ مِنْ فَارِسَ۔ وَبَعْضُہُمْ مِّنْ بِلَادِ الشَّامِ۔ وَبَعْضُہُمْ مِّنْ اَرْضِ الرُّوْمِ۔ وَبَعْضُہُمْ مِّنْ بِلَادٍ لَّا اعْرِفُھَا۔ ثُمَّ قِیْلَ لِیْ مِنْ حَضْرَۃِ الْغَیْبِ اِنَّ ھٰٓؤُ لَآءِ یُصَدِّ قُوْ نَکَ وَ یُؤْ مِنُوْنَ بِکَ وَیُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ وَیَدْ عُوْنَ لَکَ۔ وَاُعْطِیْ لَکَ بَرَکَاتٍ حَتّٰی یَتَبَرَّکَ الْمُلُوْکُ بِثِیَا بِکَ وَ اُدْ خِلُھُمْ فِی الْمُخْلِصِیْنَ ھٰذَا رَاَیْتُ فِی الْمَنَامِ وَاُلْھِمْتُ مِنَ اللّٰہِ الْعَلَّامِ۔‘‘
    (لُجّہّ النّور صفحہ 3 ،4 روحانی خزائن جلد نمبر 16 صفحہ 339 ، 340 )
    1870ء
    )ا) ’’عرصہ تخمیناًبارہ برس کا ہوا ہے کہ ایک ہندو 2صاحب کہ جو اَب آریہ سماج قادیان کے ممبر اور صحیح و سلامت موجود ہیں۔ حضرت خاتم الرّسل صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آنجناب کی پیشین گوئیوں سے سخت منکر تھا...... اس ہندو صاحب کا ایک عزیز 3کسی ناگہانی پیچ میں آکر قید ہوگیا۔ اور اُس کے ہمراہ ایک اور ہندو 4بھی قید ہوا۔ اور اُن دونوں کا چیف کورٹ میں اپیل گذرا۔ اُس حیرانی اور سرگردانی کی حالت میں ایک دن اُس آریہ صاحب نے مجھ سے یہ بات کہی کہ غیبی خبر اِسے کہتے ہیں کہ آج کوئی یہ بتلاسکے کہ اس ہمارے مقدمہ کا انجام کیا ہے.........تب میرے دل میں خدا کی طرف سے یہی جوش ڈالا کہ خدا اُس کو اسی مقدمہ میں شرمندہ اور لاجواب کرے۔ اور میں نے دعا کی کہ اے خداوند ِ کریم۔ تیرے نبی کریم کی عزت اور عظمت سے یہ شخص سخت منکر ہے۔ اور تیرے نشانوں اور پیشین گوئیوں سے جو تُونے اپنے رسول پر ظاہر فرمائیں۔ سخت انکاری ہے اور اس مقدمہ کی آخری حقیقت کھلنے سے یہ لاجواب ہوسکتا ہے۔ اور تو ہربات پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی امر تیرے علم محیط سے مخفی نہیں۔
    1 (ترجمہ از مرتب) میں نے ایک مبشر خوا ب میں مخلص مومنوں اور عادل اور نیکوکار بادشاہوں کیایک جماعت دیکھی۔ جن میں سے بعض اسی ملک (ہند ) کے تھے اور بعض عرب کے۔ بعض فارس کے اور بعض شام کے بعض روم کے۔ اور بعض دوسرے بلاد کے تھے۔ جن کو میں نہیں جانتا۔ اس کے بعد مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ لوگ تیری تصدیق کریں گے اور تجھ پر ایمان لائیں گے اور تجھ پر درود بھیجیں گے اورتیرے لئے دعائیں کریں گے۔ اور میں تجھے بہت برکتیں دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اور میں ان کو مخلصوں میں داخل کروں گا۔ یہ وہ خواب ہے جو میں نے دیکھی اور وہ الہام ہے جو خدائے علّام کی طرف سے مجھے ہوا۔
    2 لالہ شرمپت (مرتّب)
    3 لالہ بشمبر داس (مرتّب)
    4 خوشحال چَند نامی (مرتّب)
    تب خدا نے جو اپنے سچے دین ِ اسلام کا حامی ہے۔ اور اپنے رسول کی عزت اور عظمت چاہتا ہے۔ رات کے وقت رؤیا میں کُل حقیقت مجھ پر کھول دی۔ اور ظاہر کیا کہ تقدیرِ الٰہی میں یوں مقدر ہے کہ اس کی مثل چیف کورٹ سے عدالت ِ ماتحت میں پھر واپس آئے گی۔ اور پھر اس عدالت ِ ماتحت میں نصف قید اُس کی تخفیف ہوجائے گی۔ مگر بَری نہیں ہوگا۔ ۔ اور جو اُس کا دوسرا رفیق ہے۔ وہ پوری قید بھُگت کر خلاصی پائے گا۔ اور بَری وہ بھی نہیں ہوگا۔
    پس میں نے اس خواب سے بیدار ہوکر اپنے خداوند ِ کریم کا شکر کیا۔ جس نے مخالف کے سامنے مجھ کو مجبور ہونے نہ دیا۔ اور اسی وقت میں نے یہ رؤیاایک جماعت کثیر کو سنا دیا۔ اور اُس ہندو صاحب کو بھی اُسی دن خبر کردی۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصّہ سوم صفحہ 251 ، 252 حاشیہ در حاشیہ نمبر 1 ، روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 277 ، 279 )
    (ب) ’’ بشمبر داس بقید ایک سال مقید ہوگیا تھا۔ اور اس کے بھائی شرمپت نام نے جو سرگرم آریہ ہے۔ مجھ سے دعا کی التجا کی تھی۔ اور نیز یہ پوچھا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ میں نے دعا کی اور کشفی نظر سے میں نے دیکھا کہ میں اس دفتر میں گیا ہوں جہاں اس کی قید کی مثل تھی۔ میں نے اس مثل کو کھولا۔ اور برس کا لفظ کاٹ کر اس کی جگہ چھ مہینے لکھ دیا۔
    اور پھر الہام الٰہی سے بتلایا۔ کہ مثل چیف کورٹ سے واپس آئیگی۔ اور برس کی جگہ چھ مہینے رہ جائے گی۔ لیکن بَری نہیں ہوگا۔ چنانچہ میں نے یہ تمام کشفی واقعات شرمپت آریہ کو جو اَب تک زندہ موجود ہے۔ نہایت صفائی سے بتلادیئے۔
    اور جب میں نے بتلایا ۔ بعینہٖ وہ باتیں ظہور میں آگئیں۔ تو اُس نے میری طرف لکھا کہ آپ خدا کے نیک بندے ہو۔ اس لئے اس نے آپ پر غیب کی باتیں ظاہر کردیں۔‘‘
    (سراج منیر صفحہ 35 طبع اوّل ، روحانی خزائن جلد نمبر 12 صفحہ 37)
    1870ء (تخمیناً)
    (ا) ’’ اِس رؤیاصادقہ میں کہ ایک کشفِ صریح کی قسم تھی۔ یہ معلوم کرایا گیا تھا۔ کہ ایک کھتری ہندو بشمبر داس نامی جو اَ ب تک قادیان میں بقیدِ حیات موجو دہے۔ مقدمہ فوجداری سے بَری نہیں ہوگا۔ مگر آدھی قید تخفیف ہوجائے گی۔ لیکن اُس کا دُوسرا ہم قید خوشخال نامی کہ وہ بھی اب تک قادیان میں زندہ موجود ہے ساری قید بھگتے گا۔ سو اس جزوِ کشف کی نسبت یہ ابتلا پیش آیا کہ جب چیف کورٹ سے حسب پیشگوئی ایں عاجز مثل مقدمۂ مذکورہ واپس آئی۔ تو متعلقین مقدمہ نے اُس واپسی کو بریت پر حمل کرکے گاؤں میں یہ مشہور کردیا کہ دونوں ملزم جرم سے بَری ہوگئے ہیں۔ مجھ کو یاد ہے کہ رات کے وقت میں یہ خبر مشہور ہوئی۔ اور یہ عاجز مسجد میں عشاء کی نماز پڑھنے کو تیار تھا کہ ایک نے نمازیوں میں سے بیان کیا کہ یہ خبر بازار میں پھیل رہی ہے اور ملزمان گاؤں میں آگئے ہیں۔ سو چونکہ یہ عاجز اعلانیہ لوگوں میں کہہ چکا تھا۔ کہ دونوں مجرم ہرگز جرم سے بَری نہیں ہوں گے۔ اِس لئے جو کچھ غم اور قلق اور کرب اس وقت گذرا سو گذرا۔ تب خدا نے کہ جو اس عاجز بندہ کا ہریک حال میں حامی ہے۔ نماز کےا وّل یا عین نمازمیں بذریعہ الہام یہ بشارت دی
    لَاتَخَفْ1 اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی
    اور پھر فجر کو ظاہر ہوگیا کہ وہ خبر بَری ہونے کی سراسر جُھوٹی تھی اورانجام کار وہی ظہور میں آیا کہ جو اِس عاجز کو خبر دی گئی تھی۔ جس کو شرمپت نامی ایک آریہ اور چنددوسرے لوگوں کے پاس قبل از وقوع بیان کیا گیا تھا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصّہ چہارم صفحہ 550 ، 551 حاشیہ در حاشیہ نمبر 4 روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 657 ، 658 )
    (ب) ’’جب بشمیر داس کی قید کی نسبت چیف کورٹ میں اپیل دائر کیا گیا تو نمازِ عشاء کے وقت جب مَیں اپنی بڑی مسجد میں تھا،علی محمدنام ایک مُلّاں ساکن قادیان نے جو اَب تک زندہ اورہمارے سلسلہ کا مخالف ہے میرے پاس آکر بیان کیا کہ اپیل منظورہوگئی اور بشمبرداس بَری ہوگیا اور کہا کہ بازار میں اس خوشی کا ایک جوش برپا ہے۔ تب اس غم سے میرے پر وہ حالت گذری جس کو خدا جانتا ہے۔ اُس غم سے میں محسوس نہیں کرسکتا تھا کہ میں زندہ ہوں یا مر گیا۔ تب اسی حالت میں نماز شروع کی گئی۔ جب میں سجدہ میں گیا۔ تب مجھے یہ الہام ہوا:۔
    لَاتَحْزَنْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی
    یعنی غم نہ کر تجھ کو ہی غلبہ ہوگا۔
    تب میں نے شرمپت کو اس سے اطلاع دی۔ اور حقیقت یہ کھلی کہ اپیل صرف لیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہ بشمبرداس بَری کیا گیا ہے۔‘‘ (قادیان کے آریہ اور ہم ۔ صفحہ 28 ، 29 طبع اوّل ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحہ 657 ، 658 )
    1871ء( تخمیناً)
    ’’تیس برس سے زیادہ عرصہ ہوا۔ جب میں تپ سے سخت بیمار ہوا۔ اس قدر شدید تپ مجھے چڑھی ہوئی تھی۔ کہ گویا بہت سے انگارے سینے پر رکھے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ اس اثناء میں مجھے الہام ہوا:۔
    وَاَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ 2
    (الحکم جلد 6 نمبر 28 مؤرخہ10 اگست1902 ء صفحہ11 کالم نمبر 2)
    1872ء (تخمیناً)
    فرمایا کہ ’’ شاید کوئی تیس برس کا عرصہ گذرا ہوگا کہ میں نے بھی ایک خواب دیکھا۔ کہ اَب جس مقام پر مدرسہ کی عمارت ہے ‘ وہاں بڑی کثرت سے بجلی چمک رہی ہے۔ بجلی چمکنے کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ وہاں آبادی ہوگی۔‘‘
    (البدؔرجلد 1 نمبر8 مورخہ 19 دسمبر 1902 ء صفحہ 58 کالم نمبر 3)
    1 (ترجمہ از مرتّب) خوف مت کر تُو ہی غالب رہے گا۔
    2 مسجد اقصٰی (مرتب)
    3 (ترجمہ از مرتب) اور جو وجود لوگوں کے لئے نفع رساں ہو وہ زمین پر زیادہ دیر تک قائم رہتا ہے۔
    1872 ء (تخمیناً)
    ’’تخمیناً دس برس کا عرصہ ہوا ہے جو میں نے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا۔ اور مسیح نے اور میں نے ایک جگہ ایک ہی برتن میں کھانا کھایا۔ اور کھانے میں دونوں ایسے بے تکلف اور بامحبت تھے کہ جیسے دو حقیقی بھائی ہوتے ہیں اور جیسے قدیم سے دو رفیق اور دلی دوست ہوتے ہیں اور بعد اُس کے اسی مکان میں جہاں اَب یہ عاجز اس حاشیہ کو لکھا رہا ہے۔ میں اور مسیح اور ایک اور کامل اور مکمل سید آلِ رسول دالان میں خوشدلی سے ایک عرصہ تک کھڑے رہے اور سید صاحب کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ اُس میں بعض افراد خاصۂ اُمّتِ محمدیہ کے نام لکھے ہوئے تھے۔ اور حضرت ِ خداوند تعالیٰ کی طرف سے اُن کی کچھ تعریفیں لکھی ہوئی تھیں۔ چنانچہ سید صاحب نے اس کاغذ کو پڑھنا شروع کیا۔ جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ مسیح کو اُمّت ِ محمدیہ کے اُن مراتب سے اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ جو عنداللہ اِن کیلئے مقرر ہیں۔ اور اُس کاغذ میں عبارت تعریفی تمام ایسی تھی کہ جو خالص خدائے تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ سو جب پڑھتے پڑھتے وہ کاغذ اخیر تک پہنچ گیا۔ اور کچھ تھوڑا ہی باقی رہا۔ تب اِس عاجز کا نام آیا۔ جس میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ عبارت تعریفی عربی زبان میں لکھی ہوئی تھی:۔
    ھُوَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ و تَفْرِیْدِیْ فَکَادَ اَنْ یُّعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔
    یعنی وہ مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور تفرید۔ سو عنقریب لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔
    یہ اخیر فقرہ فَکَادَ اَنْ یُّعْرَفَ بَیْنَ النَّاس اسی وقت بطورِ الہام بھی القا ہوا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 253 ، 254 حاشیہ در حاشیہ نمبر1 طبع اوّل روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 280 281)
    1872 ء (تخمیناً)
    ’’ایک دفعہ میں نے باوا نانک صاحب کو خواب میں دیکھا کہ اُنہوں نے اپنے تئیں مسلمان ظاہر کیا ہے1اور میں نے دیکھا کہ ایک ہندو ان کے چشمہ سے پانی پی رہا ہے۔ پس میں نے اس ہندو کو کہا کہ یہ چشمہ گدلا ہے ہمارے چشمے سے پانی پیو۔ تیس برس کا عرصہ ہوا ہے۔ جبکہ میں نے یہ خواب یعنی باوا نانک صاحب کو مسلمان دیکھا۔ اسی وقت اکثر ہندوؤں کو سنایا گیا تھا۔ اور مجھے یقین تھا کہ اس کی کوئی تصدیق پیدا ہوجائے گی۔ چنانچہ ایک مدت کے بعدوہ پیشگوئی بکمال صفائی پوری ہوگئی۔ اور تین سو برس کے بعد وہ چولہ ہمیں دستیاب ہوگیا کہ جو ایک صریح دلیل
    1 ’’میری خواب میں جو باوا نانک صاحب نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اس سے یہی مراد تھی کہ ایک زمانہ میں ان کا مسلمان ہونا پبلک پر ظاہر ہوجاءے گا چنانچہ اِس امر کے لیے کتاب سَت بچن تصنیف کی گئی تھی اور یہ جو مَیں نے ہندوؤں کو کہا کہ چشمہ گدلا ہے ہمارے چشمہ سے پانی پیؤاس سے یہ مراد تھی کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اہلِ ہنوداورکّھوں پر اِسلام کی حقانیت صاف طور سے کُھل جائے گی اورباوا صاحب کا چشمہ جس کو حال کے سکّھوں نے اپنی کم فہمی سے گدلا بنا رکھا ہے وہ میرے ذریعہ صاف کیا جائے گا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 205 طبع اوّل، روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 583)
    باوا صاحب کے مسلمان ہونے پر ہے۔ یہ چولہ جو ایک قسم کا پیراہن ہے بمقام ڈیرہ نانک 1 باوا نانک صاحب کی اولاد کے پاس بڑی عزت اور حرمت سے بطور تبرک محفوظ ہے۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 203 ، 204 طبع اوّل ۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 581 ، 582)
    (ب) ’’یہ بھی یاد رہے کہ میں نے دو مرتبہ باوا نانک صاحب کو کشفی حالت میں دیکھا ہے اور اُن کو اس بات کا اقراری پایا ہے کہ انہوں نے اُسی نور سے روشنی حاصل کی ہے۔ فضولیاں اور جھوٹ بولنا مُردار خواروں کا کام ہے۔ میں وہی کہتا ہوں کہ جو میں نے دیکھا ہے۔ اسی و جہ سے میں باوا نانک صاحب کو عزت کی نظرسے دیکھتا ہوں۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ اس چشمے سے پانی پیتے تھے۔ جس سے ہم پیتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اُس معرفت سے بات کررہا ہوں کہ جو مجھے عطا کی گئی ہے۔‘‘ (از اشتہار مورخہ 18 اپریل 1897 ء ۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 396 )
    1872 ء (تخمیناً(
    ’’مارٹن کلارک والے مقدمہ سے قریباً پچیس سال پہلے میں ایک دفعہ خواب دیکھ چکا تھا کہ میں ایک عدالت میں کسی حاکم کے سامنے حاضر ہوں اور نماز کا وقت آگیا ہے۔ تو میں نے اُس حاکم سے نماز کے لئے اجازت طلب کی۔ تو اُس نے کشادہ پیشانی سے مجھے اجازت دے دی۔
    چنانچہ اِس کے مطابق اس مقدمہ میں عین دورانِ مقدمہ میں جبکہ میں نے کپتان ڈگلس سے نماز کے لئے اجازت چاہی تو اس نے بڑی خوشی سے مجھے اجازت دے دی۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ 210 ، روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحہ 588)
    1872ء (قریباً)
    ’’میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ بٹالہ کے مکانات میں ایک حویلی ہے۔ اس میں ایک سیاہ کمبل پر میں بیٹھا ہوں اور لباس بھی کمبل کی ہی طرح کا پہنا ہوا ہے۔ گویا کہ دنیا سے الگ ہوا ہوں۔ اتنے میں ایک لمبے قد کا شخص آیا اور مجھے پوچھتا ہے کہ مرزا غلام ؔاحمد مرزا غلام مرتضیٰ کا بیٹا کہاں ہے؟ میں نےکہا کہ میں ہوں۔ کہنے لگا کہ میں نے آپ کی تعریف سنی ہے کہ آپ کو اسرار دینی اور حقائق اور معارف میں بہت دخل ہے۔ یہ تعریف سن کر ملنے آیا ہوں۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا۔ اس پر اُس نے آسمان کی طرف منہ کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اور بہہ کر رخسار پر پڑتے تھے۔ ایک آنکھ اُوپر تھی اور ایک نیچے۔ اور اس کے منہ سے حسرت بھرے یہ الفاظ نکل رہے تھے:۔
    ’’ تہیدستانِ عشرت را ‘‘
    اس کا مطلب میں نے یہ سمجھا۔ کہ یہ مرتبہ انسان کو نہیں ملتا۔ جب تک کہ وہ اپنے اوپر ایک ذبح اور ایک موت وارد نہ کرے۔اس مقام پر عرب 2صاحب نے حضرت کا یہ شعر پڑھا۔ جس میں یہ کلمہ منسلک تھا
    2 ضلع گورداسپور (مرتب) 2 ابوسعید صاحب ( مرتّب)
    کہ مے خواہدنگارِ من تہید ستانِ عشرت را ‘‘ 1
    (البدر جلد 2 نمبر 3 مورخہ 6 فروری 1903 ء صفحہ 19 کالم نمبر 3 والحکم جلد 7 نمبر3 مورخہ 24 جنوری 1903 ء صفحہ 8 کالم نمبر1)
    1873 ء (تخمیناً)
    ’’میں مرزا صاحب (والد صاحب) کے وقت میں زمینداروں کے ساتھ ایک مقدمہ پر امرتسر میں کمشنر کی عدالت میں تھا۔ فیصلہ سے ایک دن پہلے کمشنر زمینداروں کی حمایت رعایت کرتا ہوا اور ان کی شرارتوں کی پروا نہ کرکے عدالت میں کہتا تھا کہ یہ غریب لوگ ہیں۔ تم ان پر ظلم کرتے ہو۔ اس رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ انگریز ایک چھوٹے سے بچہ کی شکل میں میرے پاس کھڑا ہے۔ اور میں اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا ہوں۔
    صبح کو جب ہم عدالت میں گئے۔ تو اُس کی حالت ایسی بدلی ہوئی تھی۔ کہ گویا وہ پہلا انگریز ہی نہ تھا۔ اُس نے زمینداروں کو بہت ہی ڈانٹا۔ اور مقدمہ ہمارے حق میں فیصلہ کیا۔ اور ہمارا سارا خرچہ بھی ان سے دلایا۔‘‘
    (الحکم جلد5 نمبر22مؤرخہ 17 جون 1901ء صفحہ 3)
    1874 ء (قریباً)
    ’’میں نے خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا۔ جو ایک اونچے چبوترے پر بیٹھا ہوا تھا اور اُس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو نہایت چمکیلا تھا2 ، وہ نان اُس نے مجھے دیا اور کہا کہ
    یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کیلئے ہے۔
    یہ اس زمانہ کی خواب ہے۔ جبکہ میں نہ کوئی شہرت اور نہ کوئی دعویٰ رکھتا تھا۔ اور نہ میرے ساتھ درویشوں کی کوئی جماعت تھی۔ مگر اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنادیا ہے۔ اور اپنے وطنوں سے ہجرت کرکے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب سے علیٰحدہ ہوکر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائیگی میں آآباد ہوئے ہیں۔
    اور نان سے میں نے یہ تعبیر کی تھی کہ خدا ہمارا ‘ اور ہماری جماعت کا آپ متکفل ہوگا۔ اور رزق کی پریشانگی ہم کو پراگندہ نہیں کرے گی۔
    چنانچہ سالہائے دراز سے ایسا ہی ظہور میں آرہا ہے۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 206، 207 ۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 585)
    1 (ترجمہ از مرتّب) کیونکر میرا محبوب آرام طلبی کی زندگی سے الگ رہنے والے لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔
    2 اور بہت بڑا تھا گویا چارنان کے مقدار پر تھا۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ 277۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 290)
    1874 ء (قریباً)
    ’’ مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ ایک بڑی لمبی نالی ہے کہ جو کئی کوس تک چلی جاتی ہے ۔ اور اُس نالی پر ہزار ہا بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں۔ اس طرح پر کہ بھیڑوں کا سر نالی کے کنارہ پر ہے۔ اس غرض سے کہ تا ذبح کرنے کے وقت اُن کا خون نالی میں گرے۔ اور باقی حصہ اُن کے وجود کا نالی سے باہر رہے۔ اور نالی شرقاً غرباً واقع ہے۔ بھیڑوں کے سر نالی پر جنوب کی طرف سے رکھے گئے ہیں۔ اور ہر ایک بھیڑ پر ایک قصاب بیٹھا ہے۔ اور اُن تمام قصابوں کے ہاتھ میں ایک ایک چھُری ہے۔ جوہر ایک بھیڑ کی گردن پر رکھی ہوئی ہے۔ اور آسمان کی طرف اُن کی نظر ہے۔ گویا خدا تعالیٰ کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اور میں اس میدان میں شمالی طرف پھر رہا ہوں۔ اور دیکھتا ہوں۔ کہ وہ لوگ جو دراصل فرشتے ہیں۔ بھیڑوں کے ذبح کرنے کیلئے مستعد بیٹھے ہیں۔ محض آسمانی اجازت کی انتظار ہے۔ تب میں ان کے نزدیک گیا اور میں نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی:۔
    قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤُ کُمْ
    یعنی ان کو کہدے کہ میرا خدا تمہاری پروا کیا رکھتا ہے۔ اگر تم اس کی پرستش نہ کرواور اس کے حکموں کو نہ سنو۔
    اور میرا یہ کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے سمجھ لیا۔ کہ ہمیں اجازت ہوگئی۔ گویا میرے منہ کے الفاظ خدا کے لفظ 1 تھے۔ تب فرشتوں نے جو قصابوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ فی الفور اپنی بھیڑوں پر چُھریئیں پھیر دیں۔ اور چھُریوں کے لگنے سے بھیڑوں نے ایک درد ناک( طور پر) تڑپنا شروع کیا۔ تب اُن فرشتوں نے سختی سے ان بھیڑوں کی گردن کی تمام رگیں کاٹ دیں۔ اور کہا کہ تم چیز کیا ہو گوہ کھانے بھیڑیں ہی ہو۔
    میں نے اس کی یہ تعبیر کی۔ کہ ایک سخت وبا ہوگی۔ اور اس سے بہت سے لوگ اپنی شامت اعمال سے مریں گے۔ اور میں نے یہ خواب بہتوں کو سنادی جن میں سے اکثر لوگ اب تک زندہ ہیں اور حلفاً بیان کرسکتے ہیں۔
    پھر ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور پنجاب اور ہندوستان اور خاص کر امرتسر اور لاہور میں اس قدر ہیضہ پھُوٹا کہ لاکھوں جانیں اس سے تلف ہوئیں اور اس قدر موت کا بازار گرم ہوا۔ کہ مُردوں کو گاڑیوں پر لادکر لے جاتے تھے اور مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا مشکل ہوگیا۔‘‘ (تریاق القلوب صفحہ 60 ، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 263 ، 264)
    ’’فطرتاًبعض طبائع کو بعض طبائع سے مناسبت ہوتی ہے۔ اسی طرح میری روح اور سید القادر کی روح کو خمیر فطرت سے باہم ایک مناسبت ہے۔ جس پر کشوفِ2 صحیحہ صریحہ سے مجھ کو اطلاع ملی ہے۔ اِس
    1 حضرت مسیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں:۔
    ’’معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ خلیفہ جو ہوتا ہے وہ آسمان سے ہوتا ہے اس لئے میں نے جو آواز دی تو انہوں نے سمجھا کہ حکم ہوگیا۔ اور جو آواز آسمان سے آنی تھی وہ میں نے کہی۔ ‘‘ (البدر جلد1نمبر 12 مورخہ 16 جنوری 1903 ء صفحہ 90)
    2 اس جگہ ان کشوف کا تفصیلی ذکر نہیں ہے بلکہ ان کی طرف صرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (مرتب)
    بات پر تیس برس کے قریب زمانہ گذر گیا ہےکہ جب ایک رات مجھے خدا نے اطلاع دی کہ اُس نے مجھے اپنے لئے اختیار کرلیا ہے۔ تب یہ عجیب اتفاق ہوا کہ اُسی رات ایک بڑھیا کو خواب آئی۔ جس کی عمر قریباً اَسّی برس کی تھی اور اُس نے صبح مجھ کو آکر کہا کہ میں نے رات سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا ہے۔ اور ساتھ اُن کے ایک اور بزرگ تھے۔ اور دونوں سبز پوش تھے اور رات کے پچھلے حصہ کا وقت تھا۔ دوسرا بزرگ عمر میں اُن سے کچھ چھوٹا تھا۔ پہلے انہوں نے ہماری جامع مسجد میں نماز پڑھی۔ اور پھر مسجد کے باہر صحن میں نکل آئے۔ اور میں اُن کے پاس کھڑی تھی۔ اتنے میں مشرق کی طرف ایک چمکتا ہوا ستارہ نکلا۔ تب اُس ستارہ کو دیکھ کر سید عبدالقادر بہت خوش ہوئے اور ستارہ کی طرف مخاطب ہوکر کہا۔ السَّلام علیکم اور ایسا ہی اُن کے رفیق نے السَّلام علیکم کہا۔ اور وہ ستارہ میں تھا۔ اَلْمُؤْمِنْ یَرٰی وَیُرٰی لَہ‘ ۔‘‘
    (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 65 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 224)
    1875 ء (تخمیناً)
    ’’ اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نمازِ مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غَیبتِ حِس سے جو خفیف سے نشاء سے مشابہ تھی۔ ایک عجیب عالم ظاہر ہوا۔ کہ پہلے یک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی۔ جیسے بسُرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔ پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے یعنی پیغمبرِخدا ﷺ و حضرت علی و حَسَنَین و فاطمہ زَہراء رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے اُن میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہانے نہایت محبت اور شفقت سے مادرِ مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔
    پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی۔ جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے۔ جس کو علی نے تالیف کیا ہے اور اب علی 2 وہ تفسیر تجھ کودیتا ہے۔فالحمد لِلّٰہ علیٰ ذالک۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 503 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3 ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 598 ، 599 نیز دیکھئے تحفہ گولڑویہ صفحہ 31)
    1 کتاب البریّہ کے صفحہ 166 حاشیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشف حضرت مسیح موعود علیہ الصّلٰوۃ والسّلام کے والد ماجد رحمتہ اللہ علیہ کی وفات سےکِسی قدر قبل کا ہے۔ (مرتّب)
    2 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کشف کی بعض تفصیلات جو دوسری جگہ بیان فرمائی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ (مرتب)
    (الف) ’’ رَاَیْتُ اَنَّ عَلِیّاً رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُرِیْنِیْ کِتَاباً وَّ یَقُوْلُ ھٰذَا تَفْسِیْرُ الْقُرْاٰنِ اَنَا اَلَّفْتُہ‘ وَاَمَرَنِیْ رَبِّیْ اَنٰ اَعْطِیَکَ۔ فَبَسَطْتُّ اِلَیْہِ یَدِیْ وَاَخَذْتُہ‘۔ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرٰی وَیَسْمَعُ وَلَا یَتَکَلَّمُ وَکَاَ نَّہ‘ حَزِیْنٌ لِّاَ جَلِ بَعْضِ اَحْزَانِیْ۔ وَرَاَ یْتُہ‘فَاِذَا الْوَجْہُ ھُوَ الْوَجْہُ الَّذِیْ رَاَیْتُ مِنْ
    1876ء (قریباً)
    ’’حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جبکہ ان کازمانہ ٔ وفات بہت نزدیک تھا‘ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا۔ اور اُس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی
    قَبْلُ اَنَارَتِ الْبَیْتُ مِنْ نُّورِہٖ۔ فَسُبْحَانَ اللّٰہِ خَالِقِ النُّوْرِ وَالنُّوْرَانِیِّیْنَ۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 550۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 550)
    (ترجمہ ازمرتب) میں نے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ مجھے ایک کتاب دکھاتے اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن کی تفسیر ہے جس کو میں نے تالیف کیا ہے اور مجھے خدا نے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو دوں۔ تب میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے لے لیا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے اور سن رہے تھے مگر آپ بولتے نہیں تھے۔ گویا آپ میرے بعض غموں کی وجہ سے غمگین تھے۔ اور میں نے جب آپ کو دیکھا تو آپ کا وہی چہرہ تھا جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ آپ کے نور سے گھر روشن ہوگیا۔ پس پاک ہے وہ خدا جو نور اور نورانی وجودوں کا خالق ہے۔
    (ب) ’’فَاَ عْطَانِیْ تَفْسِیْرَ کِتَابِ اللّٰہِ الْعَلَّامِ وَقَالَ ھٰذَا تَفْسِیْرِیْ۔ وَالْاٰنَ اُوْلِیْتَ فَھُنِّیْتَ بِمَا اُوْتِیْتَ فَبَسَطْتُّ یَدِیْ وَاَخَذْتُ التَّفْسِیْرَوَشَکَرْتُ اللّٰہَ الْمُعْطِیَ الْقَدِیْرَ۔ وَوَجَدْتُّہ‘ ذَاخَلْقٍ قَوِیْمٍ وَّخُلْقٍ صَمِیْمٍ وَّمُتَوَاضِعاً مُّنْکَسِرًا وَّمُتَھَلِّلاً مُّنَوَّرًا۔ وَاَقُوْلُ حَلْفًا اَ نَّہ‘ لَاقَانِیْ حِبّاً وَّ اَلْفاً۔ وَاُلْقِیَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّہ‘ یَعْرِفُنِیْ وَعَقِیْدَ تِیْ وَیَعْلَمُ مَا اُخَالِفُ الشِّیْعَۃَ فِیْ مَسْلَکِیْ وَمَشْرَبِیْ وَلٰکِنْ مَا شَمَخَ بِاَنْفِہٖ عَنْفًا وَّ مَانَاٰ بِجَانِبِہٖ اَنْفًا بَلْ وَافَانِیْ وَصَا فَانِیْ کَا لْمُحِبِّیْنَ الْمُخْلِصِیْنَ۔ وَاَظْھَرَ الْمُحَبَّۃَ کَالْمُصَافِیْنَ الصَّادِقِیْنَ۔ وَکَانَ مَعَہُ الْحُسَیْنُ بَلِ الْحَسَنَیْنِ وَسَیِّدُ الرُّسُلِ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔ وَکانَتْ مَعَھُمْ فَتَاۃ’‘ جَمِیْلَۃً صَالِحَۃ’‘ جَلِیْلَۃ’‘ مُّبَارَکَۃ’‘ مُّطَھَّرَۃ’‘ مُّعَظَّمَۃ’‘مُؤَقَّرَۃ’‘ بَاھِرَۃُ النُفُوْرِ ظَاھِرَۃُ النُّوْرِ۔ وَوَجَدْ تُّھَا مُمْتَلَأَ ۃً مِّنَ الْحُزْنِ وَلٰکِنْ کَانَتْ کَاتِمَۃً۔ وَاَلْقِیَ نِیْ رُوْ عِیْ اَنَّھَا الزَّھْرَائُ فَاطِمَۃُ فَجَا ئَ تْنِیْ وَاَنَا مُضْطَجِع’‘ فَقَعَدَتْ وَوَضَعَتْ رَاْسِیْ عَلٰی فَخِذِ ھَاوَتَلَطَّفَتْ۔ وَرَاَیْتُ اَنَّھَا لِبَعْضِ اَخْزَا نِیْ تَحْزُنُ رَتَصْجَرُ وَتَتَحَنَّنُ وَتَقْلَقُ کَاُمَّھَاتٍ عِنْدَ مَصَائِبِ الْبَنِیْنَ۔ فَعُلِّمْتُ اَنِّیْ نَزَلْتُ مِنْھَا بِمَنْزِلَۃِ الْاِبْنِ فِیْ عِلْقِ الدِّیْنِ۔ وَخَطَرَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ حُزْنَھَا اِشَارَۃ’‘ اِلٰی مَاسَآرٰی ظُلْماً مِّنَ الْقَوْمِ وَاَ ھْلِ الْوَطَنَ وَالْمُعَادِیْنَ۔ ثُمَّ جَآئَ نِیْ الْحَسَنَانِ وَکَانَا یُبْدِاٰنِ الْمَحَبَّۃَ کَا لْاِخْوَانِ۔ وَوَافَیَانِیْ کَا لْمُوَاسِیْنَ۔ وَکَانَ ھٰذَاکَشْفاً مِّنْ کُشُوْفِ الْیَقْظَۃِ وَقَدْ مَضَتْ عَلَیْہِ بُرْھَۃ’‘ مِّنْ سِنِیْنَ۔‘‘
    (سِرّالخلافۃ صفحہ 34 ، 35 ۔ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 358 ، 359 )
    (ترجمہ از مرتّب) پس (حضرت علیؓ نے) مجھے کتاب اللہ کی تفسیر دی۔ اور کہا کہ یہ میری تفسیر ہے۔ اور اب آپ اس کے مستحق ہیں۔ آپ کو اس کتاب کا ملنا مبارک ہو۔ پھر میں نے ہاتھ بڑھا کر تفسیر لے لی۔ اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ میں نے آپ کو خوب تنومند اور اعلیٰ اخلاق کا مالک پایا۔ متواضع ‘ منکسرالمزاج چمکتے ہوئے روشن چہرے والا۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ آپ مجھ سے بڑی محبت اور شفقت سے ملے۔ اور میرے
    کی پیشوائی کے لئے رکھنا سُنّتِ خاندانِ نبوت ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت ِ اہل ِ بیت رسالت کو بجا لاؤں۔
    سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا..... اور ِاس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اُس زمانہ میں میرے پر کھلے۔ چنانچہ بعض گذشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس اُمت میں گذر چکے ہیں اُن سے ملاقات ہوئی..... اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش دولستان طور پر نظر آتے تھے۔ جن کا بیان کرنا بالکل طاقت ِ تحریر سے باہر ہے۔ وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے۔ جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا۔ اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔
    میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا۔ اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔ یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا اُن کو نہیں پہچان سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں۔ لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔
    غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے۔ وہ انواع و اقسام کے مکاشفات تھے..... لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے۔ اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا..... یاد رہے کہ میں نے کشف ِ صریح کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے اطلاع پاکر جسمانی سختی کشی کا حصہ آٹھ یا نو ماہ تک لیا اور بھوک اور پیاس کا مزہ چکھا اور پھر اس طریق کو علی الدوام بجالانا چھوڑدیا۔ اور کبھی کبھی اس کو اختیار بھی کیا۔‘‘
    (کتاب البریہّ صفحہ 164 ۔ 167 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 197۔ 200 حاشیہ)
    دل میں ڈالا گیا کہ آپ مجھے پہچانتے ہیںاور آپ کو میرے عقیدہ کا بھی علم ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہیںکہ میرا مسلک اور مشرب شیعوں کے مخالف ہے لیکن آپ اسے بُرا نہیں مناتے بلکہ آپ مجھ سے مخلص محبوں کی طرح ملے۔ اور بڑی محبت کا اظہار کیا۔ آپ کے ساتھ حسنین اور سید الرسل خاتم النبیین بھی تھے اور ان کے ساتھ ایک خوبصورت عورت بھی جو صالحہ ‘ عالی مرتبہ ‘ نیک سیرت اور باوقار تھی جس کے چہرہ سے نور ٹپک رہا تھا اور میں نے اس کو غم سے بھرا ہوا پایا جسے وہ چھپا رہی تھی۔ میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ بی بی فاطمۃ الزاہراء ہیں آپ میرے پاس آئیں۔ میں لیٹا ہوا تھا آپ بیٹھ گئیں اور میرا سر اپنی ران پر رکھا اور شفقت فرمانے لگیں۔ میں نے دیکھا کہ میرے بعض غموں کی و جہ سے آپ غمگین اور پریشان تھیں جیسے مائیں اپنے بیٹوں کے مصائب کے وقت پریشان ہوتی ہیں۔ پھر مجھے بتایا گیا کہ میری حیثیت دینی تعلق کے لحاظ سے بمنزلہ بیٹے کے ہے اور میرے دل میں یہ خیال آیا کہ آپ کے غم میں اس ظلم کی طرف اشارہ ہے جو مجھے قوم اور اہل ِ وطن اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والا ہے۔ پھر حسنین میرے پاس آئے اور دونوں مجھ سے بھائیوں کی طرح محبت کا اظہار کرتے تھے اور شفیق ہمدردوں کی طرح مجھے ملے۔ اور یہ کشف بیداری والے کشوف میں سے تھا جس پر کئی سال گذر چکے ہیں۔
    1876ء
    ’’ایک دفعہ میں نے فرشتوں کو انسانوں کی شکل پر دیکھا۔ یاد نہیں کہ دو تھے ‘ یا تین۔ آپس میں باتیں کرتے تھے۔ اور مجھے کہتے تھے کہ تُو کیوں اس قدر مشقت اُٹھاتا ہے۔ اندیشہ ہے کہ بیمار نہ ہوجائے۔ میں نے سمجھا کہ یہ جو 6ماہ کے روزے رکھے ہیں ان کی طرف اشارہ ہے1۔‘‘
    (البدرجلد1 نمبر 12 مورخہ 16 جنوری 1903 ء صفحہ 90 ۔ الحکم جلد 7 نمبر2 مورخہ 17 جنوری 1903 ء صفحہ 5)
    جون1876ء
    ’’ جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا۔ کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔میں اُس وقت لاہور میں تھا۔ جب مجھے یہ خواب آیا تھا۔ تب میں جلدی سے قادیان میں پہنچا۔ اور اُن کو مرضِ زحیر میں مبتلا پایا۔ لیکن یہ امید ہرگز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہوجائیں گے۔ کیونکہ مرض کی شدت کم ہوگئی تھی۔ اور بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے۔ دوسرے دن شدتِ دوپہر کے وقت ہم سب عزیز اُن کی خدمت میں حاضر تھے۔ کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرا آرام کرلو۔ کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور گرمی سخت پڑتی تھی۔ میں آرام کے لئے ایک چوبارہ میں چلا گیا۔ اور ایک نوکر پیر دبانے لگا۔ کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہوکر مجھے الہام ہوا۔
    وَالسَّمَآئِ وَالطَّا رِقِ 2
    یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضاء و قدر کا مبدء ہے۔ اور قسم ہے اُس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا۔
    اور مجھے سمجھا یا گیا۔ کہ یہ الہام بطور عزا پُرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہوجائے گا۔ ..... اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہوگئے۔3 ‘‘
    (کتاب البریہّ صفحہ159 ۔ 162 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 192۔ 195)
    جون 1876 ء
    ’’جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جل شانہ‘ کی طرف سے یہ الہا م ہوا۔ جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ تو بشریت کی و جہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں۔ پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلا ہمیں پیش آئے گا۔ تب اُسی وقت یہ دوسرا الہام ہؤا:۔
    1 اس مقام پر حضرت اقدس نے اپنا واقعہ مجاہدہ اور ششماہی روزہ کا بیان فرمایا ..... (اور) فرمایا:۔
    ’’ان روزوں کو میں نے مخفی طور پر رکھا۔ بعض دفعہ اظہار میں سلب ِ رحمت کا اندیشہ ہوتا ہے۔‘‘
    (البدر جلد1 نمبر 12 مورخہ 16 جنوری 1903ء صفحہ 90)
    2 دیکھو ذکر ِ حبیب ؑ مؤ لفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 224(مرتّب)
    3 حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کی وفات 3 جون 1876ء کو ہوئی تھی۔ (مرتّب)
    اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَا فٍ عَبْدَہ‘
    یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔ اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا۔ اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں دھنس گیا۔ پس مجھے اُس خدا ئے عز وجل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کرکے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔ میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفّل نہیں ہوگا۔‘‘
    (کتاب البریہّ صفحہ161، 162 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 194، 195 حاشیہ)
    1876 ء
    ’’بعض اوقات خواب یاکشف میں روحانی امور جسمانی شکل پر متشکل ہوکر مثل انسان نظر آتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد صاحب غفراللہ لہ‘ جو ایک معزز رئیس اور اپنی نواح میں عزت کے ساتھ مشہور تھے۔ انتقال کرگئے۔ تو اُن کے فوت ہونے کے بعد دوسرے یا تیسرے روز ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں مَیں نے دیکھی۔ جس کا حُلیہ ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اور اُس نے بیان کیا۔ کہ میرا نام رانی ہے۔ اور مجھے اشارات سے کہا۔ کہ میں اس گھر کی عزت اور وجاہت ہوں اور کہا کہ میں چلنے کو تھی مگر تیرے لئے رہ گئی۔‘‘ 1
    (ازالہ اوہام صفحہ 213 ۔ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 205، 206)
    ’’رؤیا میں عورت سے مراد اقبال اور فتح مندی اور تائید ِ الٰہی ہوتی ہے۔‘‘
    (بدر جلد 2 نمبر 24 مؤرخہ14 جون1906 ء صفحہ2 کالم نمبر 3)
    1876 ء
    ’’ انہیں دنوں میں مَیں نے ایک نہایت خوبصورت مرد دیکھا۔ اور میں نے اسے کہا کہ تم ایک عجیب خوبصورت ہو۔ تب اُس نے اشارہ سے میرے پر ظاہر کیا۔ کہ میں تیرا بخت ِ بیدار ہوں۔
    اور میرے اس سوال کے جواب میں کہ تُو عجیب خوبصورت آدمی اُس نے یہ جواب دیا کہ ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 213، 214 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 206)2
    1877 ء
    ’’ مرز ا اعظم بیگ سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے ہمارے بعض بے دخل شرکاء کی طرف سے ہماری جائیداد کی ملکیت میں حصہ دار بننے کے لئے ہم پر نالش دائر کی۔ اور ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم اپنی فتح یابی کا یقین رکھ کر جواب دہی میں مصروف ہوئے۔ میں نے جب اس بارہ میں دعا کی۔ تو خدائے علیم کی طرف سے مجھے
    1 دیکھئیے الحکم جلد 8 نمبر 22 مورخہ 10 جولائی 1904ء صفحہ 12
    2 البدر جلد 3 نمبر 27 مورخہ 16 جولائی 1904ء صفحہ 4 و الحکم جلد 8 نمبر 22 مورخہ 10 جولائی 1904ء صفحہ 12
    الہام ہوا کہ
    اُجِیْبُ 1 کُلَّ دُعَآئِکَ اِلَّا فِیْ شُرَکَآ ئِک
    پس میں نے سب عزیزوں کو جمع کرکے کھول کر سنادیا کہ خدائے علیم نے مجھے خبر دی ہے کہ تم اس مقدمہ میں ہرگز فتح یاب نہ ہوگے۔ اس لئے اس سے دست بردار ہوجانا چاہئے۔ لیکن انہوں نے ظاہری وجوہات اور اسباب پر نظر کرکے اور اپنی فتح یابی کو متیقن خیال کرکے میری بات کی قدر نہ کی۔ اور مقدمہ کی پیروی شروع کردی۔ اور عدالت ماتحت میں میرے بھائی کو فتح بھی ہوگئی۔ لیکن خدائے عالم الغیب کی وحی کے بر خلاف کس طرح ہوسکتا تھا۔ بالآخر چیف کورٹ میں میرے بھائی کو شکست ہوئی اور اس طرح اس الہام کی صداقت سب پر ظاہر ہوگئی۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 212 ، 213۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 590، 591)
    1877ء
    ’’ میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا۔ مگر شرکاء کے بارہ میں نہیں۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ243، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 254)
    ’’اُردو میں بھی الہام ہوا تھا جو یہی2فقرہ ہے۔ اس الہام میں جس قدر خدا نے اپنے عاجز بندہ کو عزت دی ہے۔ وہ ظاہر ہے۔ ایسا فقرہ مقام محبت میں استعمال ہوتا ہے اورخاص شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ہر ایک کے لئے استعمال نہیں ہوتا ہے۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ 243 روحانی خزائن جلد 22صفحہ254)
    1877ء
    ’’ تخمیناً پندرہ یاسولہ سال کا عرصہ گذرا ہوگا۔ یا شاید اس سے کچھ زیادہ ہو۔کہ اِس عاجز نے اسلام کی تائید میں آریوں کے مقابل پر ایک عیسائی کے مطبع میں جس کا نام رلیا رام تھا اور وہ وکیل بھی تھا۔ اور امرتسر میں رہتا تھا اور اُس کا ایک اخبار بھی نکلتا تھا۔ ایک مضمون بغرض طبع ہونے کے ایک پیکٹ کی صورت میں جس کی دونوں طرفیں کھلی تھیں، بھیجا، اور اُس پیکٹ میں ایک خط بھی رکھ دیا۔ چونکہ خط میں ایسے الفاظ تھے جن میں اسلام کی تائید اور دوسرے مذاہب کے بطلان کی طرف اشارہ تھا۔ اور مضمون کے چھاپ دینے کے لئے تاکید بھی تھی اس لئے وہ عیسائی مخالفت ِ مذہب کی و جہ سے افروختہ ہوا۔ اور اتفاقاً اُس کو دشمنانہ حملہ کے لئے یہ موقع ملا۔ کہ کسی علیٰحدہ خط کا پیکٹ میں رکھنا قانوناً ایک جرم تھا جس کی اس عاجز کو کچھ بھی اطلاع نہ تھی۔ اور ایسے جرم کی سزا میں قوانین ڈاک کے رُو سے پانسو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ
    1 انجامِ آتھم صفحہ 181۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 181 میں یہ الہام یُوں مرقوم ہے یَا اَحْمَدُ اُجِیْبُ کُلَّ دُعَآ ئِکَ اِلَّا فِیْ شُرَکَآئِکَ۔ (مرتّب)
    2 ’’یہی ‘‘ کے لفظ سے مراد اُجِیْبُ کُلَّ دُعَآئِکَ اِلَّا فِیْ شُرَکَآ ئِکَ کا ترجمہ ہےجسے حضورؑنے حقیقۃالوحی کے صفحہ 243، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 254کے متن میں درج فرمایا ہے اوروہیں سے لے کر یہاں درج کیا گیا ہے۔ (مرتّب)
    تک قید1ہے۔ سو اس نے مخبر بن کر افسرانِ ڈاک سے اس عاجز پر مقدمہ دائر کرادیا۔
    اور قبل اس کے جو مجھے اِس مقدمہ کی کچھ اطلاع ہو۔رؤیامیں اللہ تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ رلیا رام وکیل نے ایک سانپ میرے کاٹنے کے لئے مجھ کو بھیجا ہے اور میں نے اُسے مچھلی کی طرح تل کر واپس بھیج دیا ہے۔
    میں جانتا ہوں کہ یہ اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آخر وہ مقدمہ جس طرز سے عدالت میں فیصلہ پایا وہ ایک ایسی نظیر ہے جو وکیلوں کے کام میں آسکتی ہے۔
    غرض میں اِس جرم میں صدر ضلع گورداسپور ہ میں طلب کیا گیا۔ اور جن جن وکلاء سے مقدمہ کے لئے مشورہ لیا گیا۔ اُنہوں نے یہی مشورہ دیا کہ بجز دروغ گوئی کے اور کوئی راہ نہیں اور یہ صلاح دی کہ اِس طرح اظہار دے دو کہ ہم نے پیکٹ میں خط نہیں ڈالا۔ رلیا رام نے خود ڈال دیا ہوگا۔ اور نیز بطور تسلی دہی کےکہا کہ ایسا بیان کرنے سے شہادت پرفیصلہ ہوجائے گا۔ اور دو چار جھوٹے گواہ دے کر بریّت ہوجائے گی۔ ورنہ صورت مقدمہ سخت مشکل ہے۔ اور کوئی طریق ِ رہائی نہیں۔ مگر میں نے اُن سب کو جواب دیا کہ میں کسی حالت میں راستی کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ جو ہو گا سو ہوگا۔تب اُسی دن یا دوسرے دن مجھے ایک انگریز عدالت میں پیش کیا گیا۔ اور میرے مقابل پر ڈاک خانجات کا افسر بحیثیت سرکاری مدعی ہونے کے حاضر ہوا۔ اس وقت حاکم عدالت نے اپنے ہاتھ سے میرا اظہار لکھا اور سب سے پہلے مجھ سے یہی سوال کیا کہ کیا یہ خط تم نے اپنے پیکٹ میں رکھ دیا تھا اور یہ خط اور یہ پیکٹ تمہارا ہے؟ تب میں نے بلا توقف جواب دیا کہ یہ میرا ہی خط اور میرا ہی پیکٹ ہے۔ اور میں نے اِس خط کو پیکٹ کے اندر رکھ کر روانہ کیا تھا۔ مگر میں نے گورنمنٹ کی نقصان رسانی محصول کے لئے بد نیتی سے یہ کام نہیں کیا۔ بلکہ میں نے اِس خط کو اس مضمون سے کچھ علیٰحدہ نہیں سمجھا۔ اور نہ اِس میں کوئی نج کی بات تھی۔ اس بات کو سنتے ہی خدا تعالیٰ نے اِس انگریز کے دل کو میری طرف پھیر دیا۔ اور میرے مقابل پر افسر ڈاک خانجات نے بہت شور مچایا۔ اور لمبی لمبی تقریریں انگریزی میں کیں جن کو میں نہیں سمجھتا تھا۔ مگر اِس قدر میں سمجھتا تھا کہ ہر ایک تقریر کے بعد زبان انگریزی میں وہ حاکم نو۔ نو کرکے اُس کی سب باتوں کو ردّ کردیتا تھا۔ انجام کار جب وہ افسر مدعی اپنے تمام وجوہ پیش کرچکا اور اپنے تمام بخارات نکال چکا۔ تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی۔ اور شاید سطر یا ڈیڑھ سطر لکھ کر مجھ کو کہا۔ اچھا آپ کیلئے رخصت۔ یہ سن کر میں عدالت کے کمرہ سے باہر ہوا۔ اور اپنے محسن ِ حقیقی کا شکر بجالایا۔ جس نے ایک افسر انگریز کے مقابل پر مجھ کو ہی فتح بخشی۔ اور میں خوب جانتا ہوں کہ اس وقت صدق کی برکت سے خدا تعالیٰ نے اُس بلا سے مجھ کو نجات دی۔
    میں نے اُس سے پہلے یہ خواب بھی دیکھی تھی کہ ایک شخص نے میری ٹوپی اتارنے کے لئے ہاتھ مارا۔ میں نے کہا۔ کیا
    1 ڈاکخانہ یا یہ قانون آجکل نہیں ہے لیکن جس زمانہ کا یہ واقعہ ہے اُس زمانہ میں یہ قانون تھا۔ دیکھئیے 1866ء کے ایکٹ نمبر 14 دفعہ 12، 56 اور نیز گورنمنٹ آف انڈیا کے نوٹیفیکیشن نمبر 2424 مورخہ 7دسمبر 1877ء دفعہ 43 (مرتّب)
    کرنے لگا ہے۔ تب اُس نے ٹوپی کو میرے سر پر ہی رہنے دیا اور کہا کہ خیر ہے۔ خیر ہے۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 297، 299۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 297 ، 299)
    1877ء (تخمیناً)
    ’’ایک پرانا الہام کوئی تیس سال کا جو پہلے حضرت نے کئی دفعہ سنایا ہے۔ اور آج پھر سنایا......
    فَا رْ تَذَّا عَلیٰ1 اٰثَا رِ ھِمَا وَوُھِبَ لَہ‘ الْجَنَّۃُ
    اتنے میں طاقت بالا اس کو کھینچ کر لے گئی یہودا اسکریوطی۔‘‘
    (بدر جلد 6نمبر 4 مؤرخہ 24 ؍جنوری 1907ء صفحہ3 و الحکم جلد 11نمبر 3 مؤرخہ 24 ؍جنوری 1907ء صفحہ 1 حاشیہ )
    1877ء (قریباً)
    ’’ سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَ لُّوْنَ الدُّ بُرَ
    یعنی آریہ مذہب کا انجام یہ ہوگا کہ خدا اُن کو شکست دے گا اور آخر وہ آریہ مذہب سے بھاگیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے۔ اور آخر کالعدم ہوجائیں گے۔ یہ الہام مدت دراز کا ہے جس پر قریباً تیس برس کا عرصہ گذرا ہے جس سے اس جگہ کے ایک آریہ یعنی لالہ شرمپت کو اطلاع دی گئی تھی۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ167، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 607)
    1878ء (قریباً)
    ’’عرصہ قریباً پچیس برس کا گذرا ہے کہ مجھے گورداسپور میں ایک رؤیاہوا۔ کہ میں ایک چارپائی پر بیٹھا ہوں۔ اور اسی چار پائی پر بائیں طرف مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم بیٹھے ہیں۔ اتنے میں میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی۔ کہ میں مولوی صاحب موصوف کو چارپائی سے نیچے اتاردوں۔ چنانچہ میں نے ان کی طرف کھسکنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ چارپائی سے اُتر کر زمین پر بیٹھ گئے۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہوگئے جن میں سے ایک کا نام خیرائتی تھا۔ وہ تینوں بھی زمین پر بیٹھ گئے۔ اور مولوی عبداللہ بھی زمین پر تھے۔ اور میں چارپائی پر بیٹھا رہا۔ تب میں نے اُن سب سے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں تم سب آمین کہو۔ تب میں نے یہ دعا کی:۔
    رَبِّ 2 اَذْھِبْ عَنِّی الرِّ جْسَ وَطَھِّرْ نِیْ تَطْھِیْراً
    اس دعا پر تینوں فرشتوں اور مولوی عبداللہ نے آمین کہی۔ اس کے بعد وہ تینوں فرشتے اور مولوی عبداللہ آسمان کی اُڑ گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔
    1- (ترجمہ از مرتب) پھر وہ دونوں پچھلے پاؤں واپس لوٹ گئے اور اس کو جنت عطا کی گئی۔
    2- (ترجمہ از مرتب) اے میرے ربّ مجھ سے ناپاکی کو دُور رکھ اور مجھے بالکل پاک کردے۔
    آنکھ کھلتے ہی مجھے یقین ہوگیا کہ مولوی عبداللہ کی وفات قریب1ہے۔ اور میرے لئے آسمان پر ایک خاص فضل کا ارادہ ہے۔ اور پھر میں ہر وقت محسوس کرتا رہا کہ ایک آسمانی کشش میرے اندر کام کررہی ہے۔ یہان تک کہ وحی الٰہی کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ وہی ایک ہی رات تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے بتمام و کمال میری اصلاح کردی۔ اور مجھ میں ایک ایسی تبدیلی واقع ہوگئی جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادے سے نہیں ہوسکتی تھی2۔
    مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی عبداللہ غزنوی اس نور کی گواہی کے لئے پنجاب کی طرف کھنچا تھا۔ اور اس نے میری نسبت گواہی دی۔ اور اس گواہی کو حافظ محمد یوسف اور ان کے بھائی محمد یعقوب نے بھی بیان کیا۔ مگر پھر دنیا کی محبت اُن پر غالب آگئی۔
    اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا *** کا کام ہے کہ مولوی عبداللہ نے میرے خواب میں میرے دعویٰ کی تصدیق کی۔ اور میں دعا کرتا ہوں کہ اگر یہ قسم جھوٹی ہے تو اے قادر خدا مجھے ان لوگوں کی ہی زندگی میں جو مولوی عبداللہ صاحب کی اولاد یا اُن کے مرید یا شاگرد ہیں۔ سخت عذاب سے مار۔ ورنہ مجھے غالب کر اور ان کو شرمندہ یا ہدایت یافتہ۔ مولوی عبداللہ صاحب کے اپنے منہ کے یہ لفظ تھے کہ آپ کو آسمانی نشانوں اور دوسرے دلائل کی تلوار دی گئی ہے ۔ اور جب میں دنیا پر تھا۔ تو امید کرتا تھا کہ ایسا انسان خدا کی طرف سے دنیا میں بھیجا جائے گا۔ یہ میری خواب ہے۔ اِلْعَنْ مَنْ کَذَبَ وَاَ یِّدْ مَنْ صَدَقَ۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ236، 238 طبع اوّل ۔ روحانی خزائن جلد18 صفحہ 614، 616)
    1878ء (تخمیناً)
    ’’ اور انہی 3دنوں میں شاید اس رات سے اوّل یا اس رات کے بعد میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام
    شیر علی
    ہے۔ اُس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں۔ اور میل اور کدورت ان میں سے پھینک دی۔ اور ہر ایک بیماری اور کوتاہ بینی کا مادہ نکال دیا ہے۔ اور ایک مصفا نور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا۔ مگر بعض مواد کے نیچے دبا ہوا تھا۔ اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح بنادیا ہے۔ اوریہ عمل کرکے پھر وہ شخص غائب ہوگیا۔
    1- مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی وفات بروز منگل 15؍ ربیع الاوّل 1298 ھ مطابق 15؍ فروری 1881ء کو ہوئی۔ دیکھو اشاعۃ السنّۃ نمبر1،4 جلد4(مرتب)
    2- یہ خواب تریاق القلوب صفحہ 94،95، روحانی خزائن جلد15 صفحہ 351، 352میں بھی درج ہے۔(مرتب)
    3- یعنی جب رؤیا مذکورہ بالا دیکھا تھا۔ (مرتّب)
    اور میں اُس کشفی حالت سے بیداری کی طرف منتقل ہوگیا۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ 95 طبع اوّل ۔ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 352)
    1878ء
    ’’ایک دفعہ ایک طالب العلم انگریزی خوان ملنے کو آیا۔ اُس کے رُو برو ہی یہ الہام ہوا:۔
    دِس اِز مائی اَینیمی 1
    یعنی یہ میرا دشمن ہے۔
    اگرچہ معلوم ہوگیا تھا۔ کہ یہ الہام اُسی کی نسبت ہے۔ مگر اُسی سے یہ معنے بھی دریافت کئے گئے۔ اور آخر وہ ایسا ہی آدمی نکلا۔ اور اُس کے باطن میں طرح طرح کے خبث پائے گئے۔ ‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 481حاشیہ در حاشیہ نمبر3 ۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 572، 573)
    1879ء
    ’’تین سال کے قریب عرصہ گذر اہوگا۔ کہ میں نے اسی2 کتاب کے لئے دعا کی۔ کہ لوگ اس کی مدد کی طرف متوجہ ہوں۔ تب..... الہام شدید الکلمات....... ان لفظوں میں ہوا :۔
    بالفعل نہیں
    ........اور پھراُسی کے مطابق....... لوگوں کی طرف سے عدم توجہی رہی۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 225 حاشیہ در حاشیہ نمبر1 روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 572، 573)
    1880ء
    ’’ایک مرتبہ میں سخت بیمار ہوا۔ یہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرےوارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طریقہ پر مجھے تین مرتبہ سورۃ یٰسین سنائی جب تیسری مرتبہ سورۃ یٰسین سنائی گئی۔ تو میں دیکھتا تھا کہ بعض عزیز میرے جو اَب وہ دنیا سے گذر بھی گئے۔ دیواروں کے پیچھے بے اختیار روتے تھے اور مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا اور بار بار د مبدم حاجت ہوکر خون آتا تھا۔ سولہ دن برابر ایسی حالت رہی۔ اور اسی بیماری میں میرے ساتھ ایک اور شخص بیمار ہوا تھا۔ وہ آٹھویں دن راہی ملک ِ بقا ہوگیا۔ حالانکہ اس کے مرض کی شدت ایسی نہ تھی۔ جیسی میری۔ جب بیماری کا سولہواں دن چڑھا تو اُس دن بکلی حالاتِ یاس ظاہر ہوکر تیسری مرتبہ مجھے سورۃ یٰسین سنائی گی۔ اور تمام عزیزوں خے دل میں یہ پختہ یقین تھا کہ آج شام تک یہ قبر میں ہوگا۔ تب ایسا ہوا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھلائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کرکے ایک دعا سکھلائی اور وہ یہ ہے:۔
    سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِ ہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
    1- This is my enemy 2- براہین احمدیہ (مرتّب)
    اور میرے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا۔ کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو۔ ہاتھ ڈال۔ اور یہ کلماتِ طیبہ پڑھ۔ اور اپنے سینہ اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر۔ کہ اس سے تو شفاء پائے گا۔ چنانچہ جلدی سے دریا کا پانی مع ریت منگوایا گیا۔ اور میں نے اُسی طرح عمل کرنا شروع کیا۔ جیسا کہ مجھے تعلیم دی تھی۔ اور اس وقت حالت یہ تھی کہ میرے ایک ایک بال سے آگ نکلتی تھی اور تمام بدن میں درد ناک جلن تھی۔ اور بے اختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت بھی ہو تو بہتر۔ تا اس حالت سے نجات ہو۔ مگر جب وہ عمل شروع کیا۔ تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفع ان کلمات طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے۔ اور بجائے اس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بیماری بکلی مجھے چھوڑ گئی۔ اور میں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سویا۔جب صبح ہوئی تو مجھے یہ الہام ہوا:۔
    وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّ لْنَا عَلٰی عَبْدِ نَا فَاْ تُوْا بِشِفَآئٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ
    یعنی اگر تمہیں اُس نشان میں شک ہو۔ جو شفا دے کر ہم نے دکھلایا۔ تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفاء پیش کرو۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ37، 38 ۔ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 208، 209)
    1880ء (تخمیناً)
    ’’کوئی 25، 26سال کا عرصۃ گذرا ہے۔ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا تھا۔ تو آدھا نام اس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں لکھا ہے۔‘‘
    (الحکم جلد 9 نمبر 23 مؤرخہ 01؍ ستمبر 5091ء صفحہ 3)
    1880ء (تخمیناً)
    (ا) ’’سردار حیات خان (جج1)ایک دفعہ کسی مقدمہ میں معطل ہوگیا تھا۔ میرےبڑے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم نے مجھے کہا کہ ان کے لئے دعا کرو۔ میں نے دعا کی۔ تو مجھے دکھا یا گیا کہ یہ کرسی پر بیٹھا ہوا عدالت کررہا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو معطل ہوگیا ہے۔ کسی نے کہا کہ اُس جہان میں معطل نہیں ہوا۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ بحال ہوجائے گا۔ چنانچہ اس کی اطلاع دی گئی۔ اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ پھر بحال ہوگیا۔‘‘
    (الحکم جلد6 نمبر32 مؤرخہ10؍ ستمبر1902 ء صفحہ 6 کالم نمبر 3)
    1 نواب سردار محمد حیات خان صاحب جج تھے جن پر گورنمنٹ کی طرف سے کئی الزام قائم کئے گئے تھے اورانہیں معطّل کرکے ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔ اس موقع پر مرزا غلام قادر صاحب مرحوم نے ان کے لئے دُعا کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسّلام سے کہا۔ چنانچہ جب حضورؑنے ان کے لئے دُعا کی تو حضورؑ کو اُن کے متعلق بذریعہ کشف یہ بشارت ملی۔ (مرتّب)
    (ب) ’’سردار محمد حیات خاں..............جو گورنمنٹ کے حکم سے ایک عرصہ دراز تک معطل رہے۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ گذرا ہوگا یا شاید اس سے زیادہ کچھ عرصہ گذرگیا ہوگا کہ جب طرح طرح کی مصیبتیں اور مشکلیں اور صعوبتیں اِس معطلی کی حالت میں اُن کو پیش آئیں۔ اور گورنمنٹ کا منشاء بھی کچھ بر خلاف سمجھا جاتا تھا اُنہیں دنوں میں اُن کے بَری ہونے ی خبر ہم کو خواب میں ملی۔ اور خواب میں مَیں نے اُن کو کہا۔ کہ تم کچھ خوف مت کرو خدا ہر یک چیز پر قادر ہے وہ تمہیں نجات دے گا۔ چنانچہ یہ خبر اِنہیں دنوں میں بیسیوں ہندؤں اور آریوں اور مسلمانوں کو سنائی گئی۔ جس نے سنا بعید از قیاس سمجھا اور بعض نے ایک امرِ محال خیال کیا۔ اور میں نے سنا ہے کہ اُنہیں ایام میں محمد حیات خان صاحب کو بھی یہ خبر کسی نے لاہور میں پہنچادی تھی۔ سو الحمدللہ والمنت کہ یہ بشارت بھی جیسی دیکھی تھی ویسی ہی پوری ہوئی۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 252 حاشیہ در حاشیہ نمبر1 ۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 279، 280)
    1880ء
    ’’ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِ ھَا نَتَکَ۔یعنی میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔ یہ ایک نہایت پُر شوکت وحی اور پیشگوئی ہے۔ جس کا ظہور مختلف پیرایوں اور مختلف قوموں میں ہوتا رہا ہے۔ اور جس کسی نے اس سلسلہ کو تذلیل کرنے کی کوشش کی۔ وہ خود ذلیل اور ناکام ہوا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 189 ۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 567)
    1881ء
    ’’ ایک بزرگ... جن کا نامِ نامی عبداللہ غزنوی تھا۔ ایک مرتبہ میں نے اِس بزرگ کو خواب میں اُن کی وفات1کے بعد دیکھا کہ سپاہیوں کی صورت میں بڑی عظمت اور شان کے ساتھ بڑے پہلوانوں کی مانند مسلح ہونے کی حالت میں کھڑے2ہیں تب میں نے کچھ اپنے الہامات کا ذکر کرکے اُن سے پوچھا کہ مجھے ایک خواب آئی ہے۔ اُس کی تعبیر فرمائیے۔ میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ ایک تلوار3میرے ہاتھ ہے جس کا قبضہ میرے پنجہ میں اور نوک آسمان
    1 حضرت مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی وفات بروز منگل 15؍ ربیع الاوّل1298 ھ مطابق 15؍ فروری1881ء کو ہوئی۔ دیکھئے اشاعۃ السنّۃ نمبر جلد 4، نمبر 1، 2۔ (مرتب)
    2 حضور نزول المسیح میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’وہ ایک بازار میں کھڑے ہیں جو ایک بڑے شہر کا بازار ہے اور پھر میں ان کے ساتھ ایک مسجد میں گیا ہوں۔ اور اُن کے ساتھ ایک گروہ کثیر ہے اور سب سپاہیانہ شکل پر نہایت جسیم مضبوط وردیاں کسے ہوئے اور مسلح ہیں۔ اور اُنہیں میں سے ایک مولوی عبداللہ صاحب ہیں کہ جو ایک قوی اور جسیم جوان نظر آتے ہیں۔ وردی کسے ہوئے ہتھیار پہنے ہوئے اور تلوار میان میں لٹک رہی ہے۔ اور میں دل میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ لو گ ایک عظیم الشان حکم کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ باقی سب فرشتے ہیں مگر تیاری ہولناک ہے۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ 238۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 616)
    3 اس تلوار کی تعریف میں حضور کے الفاظ آئینہ کمالات اسلام میں یوں ہیں ولہ برق و لمعا ن یخرج منہ نورکقطراتٍ
    تک پہنچی ہوئی ہے۔ جب میں اُس کو دائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزاروں مخالف اُس سے قتل ہوجاتے ہیں۔ اور جب میں بائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزارہا دشمن اُس سے مارے جاتے ہیں۔
    تب حضرت عبداللہ صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِس میری خواب کو سن کر بہت خوش ہوئے اور بشاشت اور انبساط اور انشراح صدر کے علامات و امارات اُن کے چہرہ میں نمودار ہوگئے اور فرمانے لگے کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ آپ سے بڑے بڑے کام لے گا۔ اور یہ جو دیکھا کہ دائیں طرف تلوار چلا کر مخالفوں کو قتل کیا جاتا ہے اس سے مراد وہ اتمام حجت کاکام ہے کہ جو روحانی طور پر انوار و برکات کے ذریعہ سے انجام پذیر ہوگا۔ اور یہ جو دیکھا کہ بائیں طرف تلوار چلا کرہزار ہا دشمنوں کو مارا جاتا ہے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے ذریعہ سے عقلی طور پر خدا ئے تعالیٰ الزام و اسکاتِ خصم کرے گا۔ اور دنیا پر دونوں طور سے اپنی حجت پوری کردے گا۔ پھر بعد اس کے اُنہوں نے فرمایا کہ جب میں دنیا میں تھا تو میں امیدوار تھا کہ خدائے تعالیٰ ضرور کوئی ایسا آدمی پیدا کرے گا۔ پھر حضرت عبداللہ صاحب مرحوم مجھ کو ایک وسیع مکان کی طرف لے گئے۔ جس میں ایک جماعت راستبازوں اور کامل لوگوں کی بیٹھی ہوئی تھی۔ لیکن سب کے سب مسلح اور سپاہیانہ صورت میں ایسی چُستی کی طرز سے بیٹھے ہوئے معلوم ہوتے تھے کہ گویا کوئی جنگی خدمت بجالانے کے لئے کسی ایسے حکم کے منتظر بیٹھے ہیں۔ جو بہت جلد آنے والا ہے.........یہ رؤیاصالحہ جو درحقیقت ایک کشف کی قسم ہے۔ استعارہ کے طور پر اُنہیں علامات پر دلالت کررہی ہے۔ جو مسیح کی نسبت ہم ابھی بیان کر آئے ہیں۔ یعنی مسیح کا خنزیروں کو قتل کرنا اور علی العموم تمام کفّار کو مارنا اِنہیں معنوں کی رُو سے ہے کہ وہ حجت ِ الٰہی اُن پر پوری کرے گا۔ اور بیّنہ کی تلوار سے ان کو قتل کرے گا۔ واللہ اعلم با لصواب۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ83۔92حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 3، صفحۃ 143، 147 حاشیہ)
    1881ء (قریباً)
    (ا) ’’خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس قدر اس بیت اللہ کو مخالف گرانا چاہیں گے۔ اس میں سے معارف اور آسمانی نشانوں کے خزانے نکلیں گے۔ چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک ایذا کے وقت ضرور ایک خزانہ نکلتا ہے۔ اور اس بارے میں الہام یہ ہے:۔
    متنا زلۃ حیناً بعد حین۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 576۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 576) (ترجمہ از مرتّب) اور وہ نہایت چمکدار ہے۔ اس سے نور اس طرح نکل رہا ہے۔ گویا قطرے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اُتر رہے ہیں۔ اور حضور نزول المسیح میں فرماتے ہیں۔’’اور اس تلوار میں سے ایک نہایت تیز چمک نکلتی ہے جیسا کہ آفتاب کی چمک ہوتی ہے اور میں اسے کبھی اپنے دائیں اور کبھی بائیں طرف چلاتا ہوںاور ہر ایک وار سے ہزار ہا آدمی کٹ جاتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ تلوار اپنی لمبائی کی و جہ سے دنیا کے کناروں تک کام کرتی ہے اور وہ ایک بجلی کی طرح ہے جو ایک دم میں ہزاروں کوس چلی جاتی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ہاتھ تو میرا ہی ہے مگر قوت آسمان سے اور میں ہر ایک دفعہ اپنے دائیں اور بائیں طرف اس تلوار کو چلاتا ہوں اور ایک مخلوق ٹکڑے ٹکڑے ہوکر گرتی جاتی ہے۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ238، 239۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 616، 617)
    ’’یکے پائے من مے بوسید و من مے گفتم کہ حجرِ اسود منم‘‘
    (اربعین نمبر 4 صفحہ 15 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 444۔ 445)
    (ب) ’’ایک پُرانا الہام قریباً پچیس سال کا:۔
    ’’شخصے پائے من بوسید ومن گفتم کہ سنگِ اسود منم‘‘1
    (الحکم جلد10نمبر 37 مؤرخہ 24 ؍اکتوبر1906ء صفحہ 1)
    1881ء (تخمیناً)
    ’’عرصہ تخمیناً اٹھارہ برس کا ہوا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر چند آدمیوں کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اس بات کی خبر دی کہ خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ
    اِنَّا نُبَشِّرُ کَ بِغُلَامٍ حَسِیْنٍ۔
    یعنی ہم تجھے ایک حسین لڑکے کے عطا کرنے کی خوشخبری دیتے ہیں۔
    میں نے یہ الہام ایک شخص حافظ نور احمد امرتسری کو سنایا۔ جو اب تک زندہ ہے اوربباعث میرے دعویٰ مسیحیت کے مخالفوں میں سے ہے اور نیز یہی الہام شیخ حامد علی جو میرے پاس رہتا تھا سنایا۔ اور دو ہندوؤں کو جو آمدورفت رکھتے تھے۔ یعنی شرمپت اور ملاوا مل ساکنانِ قادیان کو بھی سنایا۔ اور لوگوں نے اس الہام سے تعجب کیا۔ کیونکہ میری پہلی بیوی کو عرصہ بیس سال سے اولاد ہونی موقوف ہوچکی تھی۔ اور دوسری کوئی بیوی نہ تھی لیکن حافظ نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب کہ وہ لڑکا دے۔ اس سے قریباً تین برس بعد .....دہلی میں میری شادی ہوئی اور خدا نے وہ لڑکا بھی دیا۔ اور تین اور عطا کئے۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ 34، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 200،201)
    1881 ء(تخمیناً)
    اُشْکُرْ نِعْمَتِیْ رَئَیْتَ خَدِ یْجَتِیْ
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ نمبر4صفحہ 558 ۔روحانی خزائن جلد1صفحہ 666)
    ترجمہ: میرا شکر کر کہ توُ نے میری خدیجہ کو پایا۔
    ’’یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا..... اور خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے۔ جیسا کہ اس جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھااور نیز یہ اس طرف اشارہ تھاکہ وہ بیوی سادات کی قوم میں سے ہوگی۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ146،147 ۔ روحانی خزائن جلد18 صفحہ 524، 525)
    1 (ترجمہ از مرتب) ایک شخص نے میرے پاؤں کو چوما۔ اور میں نے (اُسے) کہا کہ حجرِ اسود میں ہوں۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ’’ قَالَ الۡمُعَبِّرُوۡنَ اَنَّ الۡمُرَادَ مِنَ الۡحَجۡرِ ا لَاسۡوَدِ فِیۡ عِلۡمِ الرُّؤۡ یَا الۡمَرۡءِ الۡعَالِمُ الْفَقِیْہُ الۡحَکِیۡمُ۔‘‘
    (الا ستفتاء عربی صفحہ 41)ترجمہ از مرتب:۔ معبرّین (خوابوں کی تعبیر بیان کرنے والے علماء) نے کہا ہے کہ علم رؤیا میں حجرِ اسود سے مراد عالم‘فقیہ اور حکیم ہوتا ہے۔
    1881 ء(قریباً)
    قریباً اٹھارہ برس سے ایک یہ پیشگوئی ہے :۔
    اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الصِّھْرَ وَ النَّسَبَ 1
    ترجمہ:۔ وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمہارا دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید تھے‘ کیا۔ اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا ۔ جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکّب ہے۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ 64، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ272، 273)
    1881 ء(قریباً)
    ایک مرتبہ مسجد میں بوقتِ عصر یہ الہام ہواکہ
    میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری ایک اور شادی کروں یہ سب سامان میں خود ہی کروں گا۔ اور تمہیں کسی بات کی تکلیف نہیں ہوگی۔
    اس میں یہ ایک فارسی فقرہ بھی ہے۔
    ہر چہ باید نو عروسی راہماں ساماں کنم
    وانچہ مطلوبِ شما باشد عطائے آں کنم2
    اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے۔ چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر اچھے خاندان سے دامادی تعلق بخشا۔ سو قبل از ظہور یہ تمام الہام لالہ شرمپت کو سنا دیا گیا۔ پھر بخوبی اسے معلوم ہے کہ بغیر ظاہری تلاش اور محنت کے محض خداتعالیٰ کی طرف سے تقریب نکل آئی۔ یعنی
    1 ’’ صہر اور نسب اس الہام میں ایک ہی جَعَلَ کے نیچے رکھے گئے ہیں اور ان دونوں کو قریباً ایک ہی درجہ کا امر قابل ِ حمد ٹھہرایا گیا ہے اور یہ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ جس طرح صہر یعنی دامادی کو بنی فاطمہ سے تعلق ہے اسی طرح نسب میں بھی فاطمیت کی آمیزش والدات کی طرف سے ہے اور صہر کو نسب پر مقدم رکھنا اسی فرق کے دکھلانے کے لئے ہے کہ صہر میں خالص فاطمیت اور نسب میں اس کی آمیزش ۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ صفحہ 19 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 117)
    2 حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’میں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی مجھ میں طاقت نہیں۔ تب یہ الہام ہوا کہ ؎
    ہرچہ باید نو عروسی راہماں ساماں کنم
    وانچہ درکارِ شما باشد عطائے آں کنم
    یعنی جو کچھ تمہیں شادی کیلئے درکار ہوگا تمام سامان اس کا میں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتاً فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ 235، 236۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 247)
    نہایت نجیب اور شریف اور عالی نسب ......... بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلقِ قرابت اِس عاجز کو پیدا ہوا۔ اور اس نکاح کے تمام ضروری مصارف تیاری مکان وغیرہ تک ایسی آسانی سے خدا تعالیٰ نے بہم پہنچائے کہ ایک ذرّہ بھی فکر کرنا نہ پڑا اور اب تک اُسی اپنے وعدہ کو پورے کئے چلا جاتا ہے۔‘‘
    (شحنہ حق صفحہ43، 44 روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 383، 384)
    1881ء (قریباً)
    ’’اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس شہر کا نام بھی لیاگیا تھا جودہلی میں ہے اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سنائی گئی تھی.....اور جیسا کہ لکھا گیا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندانِ سیادت میں میری شادی ہوگئی......سو چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا۔ اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا۔ جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔ اس لئے اُس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے۔ دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلاوے۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہربانو تھا۔ اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔ یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔‘‘ (تریاق القلوب صفحہ64،65 ۔ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 273، 275)
    1881ء (قریباً)
    ’’تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گذرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعۃ السنۃ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کی کہ آجکل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اُس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ
    بِکْرٌ وَّ ثَیِّبٌ
    جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے۔ کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بِکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بِکر کے متعلق تھا۔ پورا ہوگیا۔ اور اس وقت بفضلہٖ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار1ہے۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ 34، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 201)
    1 خاکسار کی رائے میں یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت اُمّ المو منین کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے جو بِکر یعنی کنواری آئیں اور ثَیِّب یعنی بیوہ رہ گئیں۔ واللہ اعلم۔ (مرتب)
    1881ء
    (ا) ’’ایک ہندو آریہ .......ایک مدت سے بہ مرضِ دق مبتلا تھا اور رفتہ رفتہ اُس کی مرض انتہا کو پہنچ گئی۔ اور آثار مایوسی کے ظاہر ہوگئے۔ ایک دن وہ میرے پاس آکر اور اپنی زندگی سے ناامید ہوکر بہت بے قراری سے رویا۔ میرا دل اُس کی عاجزانہ حالت پر پگھل گیا۔ اور میں نے حضرتِ احدیت میں اُس کے حق میں دُعا کی۔ چونکہ حضرتِ احدیت میں اُس کی صحت مقدر تھی اِس لئے دُعا کرنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا:۔
    قُلْنَا یَا نَا رُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا
    یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ توُ سرد اور سلامتی ہوجا۔ چنانچہ اُسی وقت اُس ہندو اور نیز کئی اور ہندوؤں کو کہ جو اَب تک اس قصبہ میں موجود ہیں اور اِس جگہ کے باشندہ ہیں اُس الہام سے اطلاع دی گئی۔ اور خدا پرکامل بھروسہ کرکے دعویٰ کیا گیا۔ کہ وہ ہندو ضرور صحت پاجائے گا۔ اور اس بیماری سے ہرگز نہیں مرے گا۔ چنانچہ بعد اِس کے ایک ہفتہ نہیں گذرا ہوگا کہ ہندو مذکور اُس جاں گداز مرض سے بکلّی صحت پاگیا۔ والحمدللہ علیٰ ذالک۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ227، 228 حاشیہ در حاشیہ نمبر1۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 252، 253)
    (ب) ’’ملاوامل کو دق کی بیماری ہوگئی۔ جب وہ خطرہ کی حالت میں پڑگیا۔ تو اُس کے لئے دعا کی گئی۔ الہام ہوا:۔
    قُلْنَا یَا نَا رُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا
    یعنی اے تپ کی آگ ٹھنڈی ہوجا۔
    1881ء
    ’’پھر خواب میں دکھایا گیا کہ میں نے اس کو قبر سے نکال لیا ہے۔ یہ الہام اور خواب دونوں قبل از وقوع اس کو بتلائے گئے۔‘‘ (شحنہ ٔ حق صفحہ 42۔ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 381)
    1881ء
    ’’جب پہلے الہام1کے بعد....... ایک عرصہ گذر گیا۔ اور لوگوں کی عدم توجہی سے طرح طرح دقتیں پیش آئیں۔ اور مشکل حد سے بڑھ گئی۔ تو ایک دن قریب مغرب کے خداوند ِ کریم نے یہ الہام کیا:۔
    ھُزِّ 1 اِلَیْکَ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسَا قِطْ عَلَیْکَ رُطَبًا جَنِیًّا 3
    1 ’’بالفعل نہیں‘‘ صفحہ31، (مرتّب)
    2 یعنی کھجور کے تنا کو ہلا ۔ تیرے پرتازہ بتازہ کھجوریں گریں گی۔ (نزول المسیح صفحہ 161۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 539)
    3 یہ حضرت مریم کو اس وقت وحی ہوئی تھی جب ان کا لڑکا عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوا تھا اور وہ کمزور ہوئی تھیں۔ اور خدا تعالیٰ نے اسی کتا ب براہین احمدیہ میں میرا نام بھی مریم رکھا اور مریم صدیقہ کی طرح مجھے بھی حکم دیا کہ وَکُنْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ الصِّدِّیْقِیْنَ۔ دیکھو صفحہ 242۔ براہین احمدیہ۔ پس یہ میری وحی یعنی ھُزِّ اِلَیْکَاس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہ صدیقیت کا جو حمل تھا۔ اس سے بچہ پیدا ہوا۔ جس کا نام عیسیٰ رکھا گیا اور جب تک وہ کمزور رہا صفاتِ مریمیہ اس کی پرورش کرتی رہیں۔ اور جب وہ اپنی طاقت میں آیا۔ تو اس کو پکارا گیا۔ یَا عِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِنّیٓ ۔دیکھو صفحہ 556 براہین احمدیہ۔ یہ وہی وعدہ تھا جو سورۃ تحریم میں کیا
    سو میں نے سمجھ لیا کہ یہ تحریک اور ترغیب کی طرف اشارہ ہے اور یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ بذریعہ تحریک کے اس حصہ کتاب کے لئے سرمایہ جمع ہوگا...... اِس الہام کے بعد میں نے حسب الارشاد حضرتِ احدیت کسی قدر تحریک کی تو تحریک کرنے کے بعد ...... جس قدر اور جہاں سے خدا نے چاہا اُس حصہ کے لئے جو چھپتا تھا مدد پہنچ گئی۔ فا لحمد لِلّٰہِ علٰی ذالک۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 225، 226حاشیہ در حاشیہ نمبر1، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 250، 251)
    1881ء
    ’’ایک دن صبح کے وقت کچھ تھوڑی غنودگی میں یکدفعہ زبان پر جاری ہو:۔
    عبداللہ خاں ڈیرہ اسمٰعیل خاں
    چنانچہ چند ہندو کہ جو اُس وقت میرے پاس تھے اور ابھی تک اسی جگہ موجود ہیں اُن کو بھی اُس سے اطلاع دی گئی اور اُسی دن شام کو جو اتفاقاً اُنہیں ہندوؤں میں سے ایک شخص1ڈاک خانہ کی طرف گیا۔ تو وہ ایک صاحب عبداللہ2خاں نامی کا ایک خط لایا۔ جس کے ساتھ ہی کسی قدر روپیہ بھی آیا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 226، 227 حاشیہ در حاشیہ نمبر1۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 251، 252)
    1881ء
    ’’ایک دفعہ کشفی طور پر مجھے للع للعہ44 یا للعہ40 روپیہ دکھائے گئے اور پھر یہ الہام ہوا کہ:۔
    ماجھے خاں کا بیٹا اور شمس الدین پٹواری ضلع لاہور بھیجنے والے ہیں
    پھر بعد اس کے کارڈ آیا جس میں لکھا تھا۔ کہ للعہ40 ماجھے خان کے بیٹے کی طرف سے ہیں۔ اورلعہ4 ؍یاے5 ؍ شمس الدین پٹواری کی طرف سے ہیں۔ پھر اسی تشریح سے روپے آئے۔ (نزول المسیح صفحہ 202۔ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 580)
    ’’محرّم 1299ہجری کی پہلی3یا دوسری تاریخ میں ہم کو خواب میں یہ دکھائی دیا کہ کسی صاحب نے مدد کتاب کے لئے پچاس روپیہ روانہ کئے ہیں۔ اُسی رات ایک4آریہ صاحب نے ہمارے لئے خواب دیکھی کہ کسی نے مددِکتاب کے لئے ہزار روپیہ روانہ کیا ہے۔ اور جب انہوں نے خواب بیان کی تو ہم نے اُسی وقت اُن کو اپنی خواب بھی سنا دی اور یہ
    گیا۔ اور ضرور تھا کہ اس وعدہ کے موافق اس امت میں سے کسی کا نام مریم ہوتا۔ اور پھر اس طرح پر ترقی کرکے اُس سے عیسیٰ پیدا ہوتا اور وہ ابن ِ مریم کہلاتا سو وہ میں ہوں وحی ھُزِّیْ اِلَیْکِ مریم کو بھی ہوئی۔ اور مجھے بھی۔ مگر باہم فرق یہ ہے کہ اُس وقت مریم ضعف ِبدنی میں مبتلا تھی۔ اور میں ضعف ِ مالی میں مبتلا تھا۔‘‘ (نزول المسیح 163۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 541)
    1 بشنداس برہمن (مرتّب)
    2 ای ۔ اے۔ سی۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان (مرتّب)
    3 مطابق 23/24 نومبر 1881ء
    4 لالہ شرمپت (مرتّب)
    بھی کہہ دیا کہ تمہاری خواب میں اُنیس حصے جھوٹ مل گیا ہے۔ اور یہ اُسی کی سزا ہے کہ تم ہندو اور دین ِ اسلام سے خارج ہو۔ شاید اُن کو گراں ہی گذرا ہوگا مگر بات سچی تھی۔ جس کی سچائی پانچویں یا چھٹی محرم میں ظہور میں آگئی۔ یعنی پنجم یا ششم محرم الحرام میں مبلغ پچاس روپیہ جن کو جونا گڑھ سے شیخ محمد بہاؤالدین صاحب مدارالمہام ریاست نے کتاب کے لئے بھیجا تھا۔ کئی لوگوں اور ایک آریہ کے رُوبرو پہنچ گئے۔ والحمدللہ علیٰ ذالک۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ255،256 حاشیہ در حاشیہ نمبر 1۔ روحانی خزائن جلد1 صفحہ 284)
    1882ء
    ’’ ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں۔ یعنی ارادہ الٰہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے۔ لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص مُحْيٖ کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی۔ اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ نمبر 3 صفحہ 502۔ روحانی خزائن جلد1 صفحہ 284)
    ’’اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مُحْيٖ کوتلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اِس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اُس نے کہا:۔
    ھٰذَا رَجُلٌ یُّحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ
    یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔
    اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرطِ اعظم اس عہدہ کی محبت ِ رسول ہے۔ سو وہ اِس شخص میں متحقّق ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ نمبر3 صفحہ503۔ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 598)
    1882ء
    ’’وَکُنْتُ1 ذَاتَ لَیْلَۃٍ اَکْتُبُ شَیْئًا۔ فَنِمْتُ بَیْنَ ذَالِکَ فَرَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ وَجْھُہ‘ کَالْبَدْرِالتَّآمِّ فَدَ نَامِنِّیْ کَاَنَّہ‘ یُرِیْدُ اَنْ یُّعَا نِقَنِیْ فَکَانَ مِنَ الْمُعَانِقِیْنَ وَرَاَیْتُ اَنَّ الْاَنْوَارَ قَدْ سَطَعَتْ مِنْ وَّجْھِہٖ وَنَزَ لَتْ عَلَیَّ۔ کُنْتُ اَرَا ھَا کَا لْاَ نْوَارِ الْمَحْسُوْسَۃِ حَتّٰی اَیْقَنْتُ اَنِّیْ اُدٰرِکُمَابِالْحِسِّ لَابِبَصَرِ الرُّ وْحِ وَمَا رَاَیْتُ اَ نَّہُ انْفَصَلَ مِنِّیْ بَعْدَ الْمُعَانَقَۃِ
    1 (ترجمہ از مرتب) اور ایک رات میں کچھ لکھ رہا تھا۔ کہ اسی اثناء میں مجھے نیند آگئی اور میں سو گیا اس وقت میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا آپ کا چہرہ بدرِ تام کی طرح درخشاں تھا۔ آپ میرے قریب ہوئے اور میں نے ایسا محسوس کیا۔ کہ آپ مجھ سے معانقہ کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے مجھ سے معانقہ کیا اور میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ سے نور کی کرنیں نمودار ہوئیں اور میرے اندر داخل ہوگئیں۔ میں ان انوار کو ظاہری روشنی کی طرح پاتا تھا اور یقینی طور پر سمجھتا تھا کہ میں انہیں محض روحانی آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ ظاہری آنکھوں سے بھی دیکھ رہا ہوںاور اس معانقہ کے بعد
    وَمَا رَاَیْتُ اَنَّہ‘ کَانَ ذَاھِبًا کَا لذَّاھِبِیْنَ۔ ثُمَّ بَعْدَ تِلْکَ الْاَیَّامِ فُتِحَتْ عَلَیَّ اَبْوَابُ الْاِلْھَامِ وَخَاطَبَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ
    یَآ اَحْمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ ‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 550۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ 550)
    مارچ 1882ء
    یَآ اَحْمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ ۔ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِن اللّٰہَ رَمٰی۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآ ؤُ ھُمْ۔ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْ ٓ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ 1 قُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَا طِلُ اِنَّ الْبَا طِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔ کُلُّ بَرَکَۃٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ فَتَبَا رَکَ
    (ترجمہ *) 1 اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ جو کچھ تُونے چلایا۔ یہ تُو نے نہیں چلایا۔ بلکہ خدا نے چلایا۔ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا۔ تاکہ تُو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔ اور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے۔ کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں۔اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں کہہ حق آیا۔ اور باطل بھاگ گیا اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔ہر ایک برکت محمد ﷺ کی طرف سے ہے۔ پس بڑا مبارک وہ
    نہ ہی میں نے یہ محسوس کیا کہ آپ مجھ سے الگ ہوئے ہیں اور نہ ہی یہ سمجھا کہ آپ تشریف لے گئے ہیں۔ اس کے بعد مجھ پر الہام الٰہی کے دروازے کھول دیئے گئے۔ اور میرے رب نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔ یَآ اَحْمَدُ بَا رَکَ اللّٰہُ فِیْکَ الخ
    ☆ ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی کتب سے لیا گیا ہے۔ (مرتّب)
    1 ای اول تائب الی اللّٰہ بامراللّٰہ فی ھٰذا الزمان۔ او اول من یؤمن بھذا الامر۔ واللّٰہ اعلم۔
    (براہین احمدیہ صفحہ حصہ سوم صفحہ 239 حاشیہ نمبر1 ۔ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 265)
    (ترجمہ از مرتب) یعنی اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ سے حکم پاکر اس کی طرف سب سے پہلا رجوع کرنے والا یا یہ کہ اس فرمان الٰہی پر سب سے پہلے ایمان لانے والا۔
    (ا) مجھ کو یاد ہے کہ ابتدائے وقت میں جب میں مامور کیا گیا تو مجھے یہ الہام ہوا کہ جو براہین کے صفحہ 238 میں مندرج ہے۔ یا احمد بارک اللّٰہ فیک(تا) وانا اول المؤمنین۔ (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 109 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 109)(ب) ’’ناگہاں عنایت ازلی سے مجھے یہ واقعہ پیش آیا کہ یکدفعہ شام کے قریب ..........مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے کچھ خفیف سی غنودگی ہوکر یہ وحی ہوئی۔‘‘ (نصرۃ الحق صفحہ51۔ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 66) (ج) جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا ‘ اورچودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدّد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہواکہ الرحمٰن علّم القرآن (تا) وانا اوّل المؤ منین۔‘‘ )کتاب البریہّ صفحہ 168حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد13 صفحہ 201) (د) اس الہام کے رُو سے خدا نے مجھے علومِ قرآنی عطا کئے ہیں اور میرا نام اوّل المؤمنین رکھا اور مجھے سمندر کی طرح معارف اور حقائق سے بھردیا ہے اور مجھے بار بار الہام دیا ہے کہ اس زمانہ میں کوئی معرفت الٰہی اور کوئی محبت الٰہی تیری معرفت اور محبت کے برابر نہیں۔‘‘(ضرورۃ الامام صفحہ 13۔ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 502)
    مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہ‘ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ۔ ھُوَالَّذِیْ ٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ‘بِالْھُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہ‘عَلَ الدِّیْنِ کُلِّہٖ1۔ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔ ظَلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِ ھِمْ لَقَدِیْرٌ۔ اِنَّاکَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ۔ یَقُوْلُوْنَ اَ نّٰی لَکَ ھٰذَا۔ اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ۔ وَ اَعَانَہ‘عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ۔ اَفَتَاْ تُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۔ ھَیْھَاتَ لِمَاتُوْعَدُوْنَ۔ مِنْ ھٰذَا الّذِیْ ھُوَ مَھِیْنٌ۔ وَّلَا یَکَا دُیُبِیْنُ۔ جَا ھِلٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ۔ قُلْ ھَا تُوْا بُرْھَا نَکُم اِنْ کُنْتُمْ
    ہے جس نے تعلیم دی۔ اور جس نے تعلیم پائی۔ کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے۔ تو میری گردن پر میرا گناہ ہے۔خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ اپنی ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔ تا اس دین کو ہر قسم کے دین پر غالب کرے۔خدا کی باتوں کو ٹال نہیں سکتا۔ان پر ظلم ہوا۔ اور خدا ان کی مدد کرے گا۔اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔وہ لوگ جو تیرے پر ہنسی کرتے ہیں۔ ان کے لئے ہم کافی ہیں۔اور لوگ کہیں گے کہ یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوگیا۔ یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوگیا۔یہ جو الہام کرکے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ تو انسان کا قول ہےاور دوسروں کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ اے لوگو کیا تم ایک فریب دیدہ و دانستہ میں پھنستے ہو۔جو کچھ تمہیں یہ شخص وعدہ دیتا ہے۔ اس کا ہونا کب ممکن ہے۔پھر ایسے شخص کا وعدہ جو حقیر اور ذلیل ہے۔ یہ تو جاہل ہے یا دیوانہ ہے۔ کہہ اس پر دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو یعنی مقابلہ کرکے دکھلاؤ۔ یہ
    1 ’’اَیْ لَیُظْھِرَدِیْنَ الْاِسْلَامِ بِالْحُجَجِ الْقَاطِعَۃِ وَالْبَرَاھِیْنِ السَّاطِعَۃِ عَلٰی کُلِّ دِیْنٍ مَاسِوَاہُ ۔ اَیْ یَنْصُرُ اللّٰہَ الْمُؤْمِنِیْنَ الْمَظْلُوْمِیْنَ بِاِ شْرَاقِ دِیْنِنِھِمْ وَاِتْمَامِ حُجَّتِھِمْ۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 239 حاشیہ نمبر1۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ265)
    (ترجمہ از مرتّب) یعنی اللہ تعالیٰ دینِ اسلام کو دلائلِ قاطعہ اوربراہینِ ساطعہ کے ساتھ دیگر تمام ادیان پر غالب کرکے اور اس کی حُجّت دوسرے لوگوں پر قائم کرکے مظلوم مومنوں کی نصرت فرمائے گا۔ اِس وحیِ الٰہی کی تفسیر رسالہ اربعین نمبر 2 کے صفحات 10،11 اور 13 پر بیان ہوئی ہے اور اس کے ظہور کی تفصیل تریاق القلوب کے صفحات 47، 54 پر درج ہے۔ (مرتّب)
    2 21 کا ترجمہ سہواً رہ گیا ہے۔ (ترجمہ از مرتّب) اور یہ بولنا بھی نہیں جانتا۔
    صَادِقِیْنَ۔ ھٰذَا مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّکَ۔ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ۔ لِیَکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمُوْمِنِیْنَ۔ اَنْتَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَبِّکَ۔ فَبَشِّرْ وَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْ نِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ اِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ۔ ھَلْ اُنَبِّئْکُمْ عَلٰ مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ 1 مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ 1 مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ مِّنَ السَّمَآءِ۔ رَبِّ لَاتَذَرْنِیْ فَرْدًاوَّاَنْتَ خَیْرُالْوَارِثِیْنَ۔ رَبِّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُالْفَاتِحِیْن۔ وَقُلِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ وَلَا تَقُوْلٓنَّ لِشَیْئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذَالِکَ غَدًا۔ وَیُخَوِّفُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ۔ اِنَّکَ بِاَ عْیُنِنَا۔ سَمَّیْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ۔ یَحْمَدُکَ اللّٰہُ مِنْ
    یہ مرتبہ تیرے رب کی رحمت سے ہے۔ وہ اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے گا۔ تاکہ لوگوں کے لئے نشان ہو۔ تو خدا کی طرف سے کھلی کھلی دلیل کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔پس تو خوشخبری دے۔ا ور خدا کے فضل سے تو دیوانہ نہیں ہے۔کہہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تاخدا بھی تم سے محبت رکھے۔ وہ لوگ جو تیرے پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں۔ ان کے لئے ہم کافی ہیں۔کہہ کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ کن لوگوں پر شیطان اُترا کرتے ہیں۔ ہر ایک کذاب بدکار پر شیطان اُترتے ہیں۔
    اُن کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ اُن کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں۔ اُن کو کہہ کہ میرے پاس خد اکی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرو گے یا نہیں۔میرے ساتھ میرا رب ہے عنقریب وہ میرا راہ کھول دے گا۔ اے میرے رب مجھے دکھلا کہ تُو کیونکر مُردوں کو زندہ کرتا ہے۔ اے میرے رب مغفرت فرما اور آسمان سے رحم کر۔ اے میرے رب مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تُو خیرالوارثین ہے۔ اے میرے رب اُمّتِ محمدیہ کی اصلاح کر۔ اے ہمارے رب ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کردے اور تُو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ ور اُن کو کہہ کہ تم اپنے طور پر اپنی کامیابی کے لئے عمل میں مشغول رہو۔ اور میں بھی عمل میں مشغول ہوں۔پھر دیکھو گے کہ کس کے عمل میں قبولیت پید اہوتی ہے2۔اورتُو کِسی کام کے متعلق یہ بات ہرگز نہ کہہ کہ مَیں کل اسے ضرور کروں گا۔ اللہ کے سوا تجھے اوروں سے ڈراتے ہیں۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نے تیرانام متوکل رکھا ہے۔خدا
    1۔ یہ فقرہ دو مرتبہ فرمایا گیا .... اس میں ایک شہادت سے مراد کسوفِ شمس ہے اور دوسری شہادت سے مراد خسوفِ قمر ہے۔ ‘‘ (اربعین نمبر3 صفحہ 27 ۔ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 415، 416)
    2۔ (ترجمہ از مرتب) اور تُو کسی کام کے متعلق یہ بات ہرگز نہ کہہ کہ میں کل اسے ضرور کروں گا۔
    عَرْشِہٖ۔ نَحْمَدُکَ وَ نُصَلِّی۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطَفِئُوْ انُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ۔ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔ سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ۔ اِذَاجَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَلْفَتْحُ وَانْتَھٰٓی اَمْرُالزَّمَانِ اِلَیْنَآ۔ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ۔ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُئْ یَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا۔ وَقَالُوْآ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔ قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہ‘فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ۔ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِ بًا۔ وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَ لَا النَّصٰارٰی۔ وَخَرَقُوْالَہ‘ بَنِیْن وَبَنَاتٍ م بِغَیْرِ عِلْمٍ۔ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَد’‘۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہ‘کُفُوًا اَحَدٌ۔ وَیَمکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُالْمَاکِرِیْن۔ اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَافَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوْا الْعَزْمِ۔ وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ ۔ وَاِمَّانُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَ فَّیَنَّک ۔ وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ بَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ۔ اِنِّیْ مَعَکَ
    عرش پر سے تیری تعریف کررہا ہے۔ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھادیں مگر خدا اس نور کو نہیں چھوڑے گا۔ جب تک پورا نہ کرلے اگرچہ منکر کراہت کریں۔ ہم عنقریب ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرلے گا۔ تو کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا جیسا کہ تم نے سمجھا1۔میری پہلے کی رؤیاکی حقیقت ہے۔ جسے میرے رب نے پورا کرکے سچا ثابت کردیا۔2اور کہیں گے کہ یہ تو صرف ایک بناوٹ ہے۔کہہ خدا نے یہ کلا م اتارا ہے پھر ان کو لہو ولعب کے خیالات میں چھوڑ دے۔ کہہ اگر میں نے افتراء کیا ہے تو میری گردن پر میرا گناہ ہے۔ اور افتراء کرنے والے سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔ پادری لوگ اور یہودی صفت مسلمان تجھ سے راضی نہیں ہوں گے۔اور خدا کے بیٹے اور بیٹیاں انہوں نے بنا رکھی ہیں ۔1ان کو کہدے کہ خدا وہی ہے جو ایک ہے اور بے نیاز ہے۔ نہ اس کا کوئی بیٹا اور نہ وہ کسی کا بیٹا۔ اور نہ کوئی اس کا ہم کفو۔اور یہ لوگ مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا۔3ایک فتنہ برپا ہوگا پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔اور خدا سے اپنے صدق کا ظہور مانگ۔اور ہم قادر ہیں کہ تیری موت سے پہلے کچھ ان کو اپنا کرشمہ قدرت دکھا دیں جس کا ہم وعدہ کرتے ہیں یا تجھ کو وفات دیویں۔ اور خدا ایسا نہیں ہے کہ جن میں تو ہے 4
    1۔ (ترجمہ از مرتّب) یہ میری پہلے کی رؤیا کی حقیقت ہے جسے میرے ربّ نے پورا کرکے سچا ثابت کردیا۔
    2۔ (بقیہ ترجمہ از مرتّب) 57بغیر کسی ثبوت کے 3۔ (بقیہ ترجمہ از مرتب) 59 اور اللہ تعالیٰ سب سے اچھی تدبیر کرنے والا ہے۔
    حضور رسالہ دافع البلاء میں اس الہام کا ترجمہ یہ فرماتےہیں کہ’’ عیسائی لوگ ایذارسانی کے لئے مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا اور وہ دن آزمائش کے دن ہوں گے اور کہہ کہ خدایا پاک زمین میں مجھے جگہ دے‘‘ (دافع البلاء صفحہ 21۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 241)
    4۔’’ ای ما کان اللّٰہ لیعذّ بھم بعذاب کامل وانت ساکن فیھم۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 241حاشیہ نمبر 1۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 267)
    (ترجمہ از مرتّب) یعنی ان کے اندر تمہاری موجودگی کی حالت میں اللہ تعالیٰ ان پر کامل عذاب ہرگز نہیں بھیجے گا۔
    وَکُنْ مَّعَی اَیْنَمَاکُنْتَ۔ کُنْ مَّعَ 1 اللّٰہِ حَیْثُمَا کُنْتَ۔ اَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ۔ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ وَا فْتِخَارًا لِّلْمُؤْ مِنِیْنَ۔ وَلَا تَیْئَسْ مِن رَّوْحِ اللّٰہِ اَلَآ اِنَّ رَوْحَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ اَلَآ اِنَّ نَصْرَاللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ یَاْ تِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ یَاْ تُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔یَنْصُرُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ۔ یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآءِ۔ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔ اِنَّا فَتَحْنَا لَکً فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ فَتْحُ الْوَلِیِّ فَتْحٌ وَّقَرَّبْنَاہُ نَجِیّاً۔ اَشْجَعُ النَّاسِ۔ وَلَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقاً بِالثُّرَیَّا لَنَا لَہٗ۔ اَنَارَ اللّٰہُ بُرْھَانَہٗ۔ یَآ اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔ اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا۔ یَرْفَعُ اللّٰہُ ذِکْرَکَ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہ‘عَلَیْکَ فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ۔ 2 وَ وَجَدَکَ ضَآ لًّافَھَدٰی۔ وَنَظَرْنَآ اِلَیْکَ وَقُلْنَایَا نَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلیٰٓ اِبْرَاھِیْمَ۔ خَزَا ئِنُ3 رَحْمَۃِ رَبِّکَ۔ یَآ اَیُّھَا الْمُدَّ ثِّرُقُمْ فَاَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔ یَا اَحْمَدُ یَتِمُّ اسْمُکَ
    ان کو عذاب کرے۔میں تیرے ساتھ ہوں سو تو ہر ایک جگہ میرے ساتھ رہ تُو جہاں بھی ہو اللہ تعالیٰ کے ساتھ رہ۔تم لوگ جدھر بھی رُخ کروگے اُدھر ہی اللہ تعالٰ کی توجّہ ہوگی۔ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے نکالے گئے ہو۔تم مومنوں کا فخر ہو اور تم خدا کی رحمت سے نا امید مت ہو۔ خبردار ہو کہ خدا کی رحمت قریب ہے۔وہ مدد ہر ایک دور کی راہ سے تجھے پہنچے گی اور ایسی راہوں سے پہنچے گی کہ وہ راہ لوگوں کے بہت چلنے سے جو تیری طرف آئیں گےگہرے ہوجائیں گے۔ اور اس کثرت سے لوگ تیری طرف آئیں گے کہ جن راہوں پر وہ چلیں گے وہ عمیق ہوجائیں گے۔خدا اپنی طرف سے تیری مدد کرے گا۔تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ہم ایک کھلی کھلی فتح تجھ کو عطا کریں گے۔ولی کی فتح ایک بڑی فتح ہے اور ہم نے اس کو ایک ایسا قرب بخشا کہ ہمراز اپنا بنادیا۔ وہ تمام لوگوں سے زیادہ بہادر ہے۔اور اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو وہیں سے جاکر اس کو لے لیتا۔خدا اس کی حجت روشن کرے گا۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ تُو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔خدا تیرا ذکر بلند کرے گا اور اپنی نعمت دنیا اور آخرت میں تیرے پر پوری کرے گا۔اور ہم نے
    1 (ترجمہ از مرتّب) تُو جہاں بھی ہو اللہ تعالیٰ کے ساتھ رہ۔ تم لوگ جدھر بھی رُخ کروگے اُدھر ہی اللہ تعالٰ کی توجّہ ہوگی۔
    2 (ترجمہ از مرتّب) اور اس نے تجھے طالبِ ہدایت پایا پس اس نے تیری رہنمائی کی۔
    3 (ترجمہ از مرتّب) تیرے رب کی رحمت کے (ہرقسم کے) خزانے (تجھے دیئے جائیں گے) اے کپڑا اوڑھنے والے اُٹھ اور (لوگوں کو آنے والے خطرات سے) ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر۔
    وَلَا یَتِمُّ اسْمِیْ1۔ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔ وَکُنْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ الصِّدِّیْقِیْنَ۔ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔ الصَّلٰوۃُ ھُوَ الْمُرَبِّیْ۔ اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ فَاکْتُبْ وَلْیُطْبَعْ وَلْیُرْسَلْ فِی الْاَرضِ۔ خُذُواالتَّوْحِیْدَاالتَّوْحِیْدَیَآاَبْنَآئَ الْفَارِسِ۔ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ٓااَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَرَبِّھِمْ۔ وَاتْلُ عَلَیْھِمْ مَّآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ۔ وَلَا تُصَعِرْلِخَلْقِ اللّٰہِ وَلَاتَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ۔
    تیری طرف نظر کی۔ اور کہا کہ اے آگ جو فتنہ کی آگ قوم کی طرف سے ہے اس ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی ہوجا۔ ۔اے احمدتیرا نام پورا ہوجائے گا اور میرا نام پورا نہیں ہوگا2۔ اور اپنی محبت تیرے پر ڈال دی۔ وہ خدا حقیقی معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں3۔ توحید کو پکڑو۔ توحید کو پکڑو۔اے فارس کے بیٹو۔اور تُو ان لوگوں کو جو ایمان لائے یہ خوشخبری سنا کہ ان کا قدم خدا کے نزدیک صدق کا قدم ہے۔سو ان کو وہ وحی سنا دے جو تیری طرف سے تیرے رب سے ہوئی۔اور یاد رکھ کہ وہ زمانہ آتاہے کہ لوگ کثرت سے تیری طرف رجوع کریں گے۔ سو تیرے پر واجب ہے کہ تو ان سے بدخلقی نہ کرے۔ اور تجھے لازم ہے کہ ان کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جائے۔ اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنے وطنوں سے ہجرت کرکے
    1۔(الف) ای انت فان فینقطع تحمید ک۔ ولاینتہی محامد اللّٰہ۔ فانھا لاتعد ولا تحصی۔
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ242 بقیہ حاشیہ درحاشیہ نمبر1۔ روحانی خزائن جلدنمبر1 صفحہ 267)
    (ترجمہ از مرتب)یعنی تم چونکہ فانی ہو۔ اس لئے تمہاری تحمید محدود ہے مگر اللہ تعالیٰ کے محامد غیر متناہی ہیں۔ کیونکہ وہ بے شمار اور بے انتہاء ہیں۔
    (ب) وَاِذَا اَنَا رَالنَّاسَ بِنُوْرِ رَبِّہٖ اَوْبَلَّغَ الْاَمْرَبِقَدرِ الْکِفَایَۃِ فَحِیْنَئِذٍیَّتِمُّ اسْمُہ‘وَیَدْعُوْہُ رَبُّہ‘وَیُرْ فَعُ رُوْحُہ‘اِلٰی نُقْطَتِہِ النَّفْسِیَّۃِ۔
    (ترجمہ) اور جب خلقت کو اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن کر چکا یا امر تبلیغ کو بقدر کفایت پورا کردیا پس اس وقت اس کا نام پورا ہوجاتا ہے اور اس کا رب اس کو بُلاتا ہے اور اس کی روح اس کے نقطۂ نفسی کی طرف اُٹھائی جاتی ہے۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ 10روحانی خزائن جلد نمبر16 صفحہ 41)
    2۔ تو دنیا میں ایسے طور پر رہ کہ گویا تو ایک غریب الوطن بلکہ ایک راہرو ہے۔ اور صالح اور راستباز لوگوں میں سے ہو۔ اور نیکی کی تحریک کر۔ اور بُری باتوں سے روک۔ اور محمدؐ اور محمدؐ کی آل پر درود بھیج۔ درود ہی تربیت کا ذریعہ ہے۔ میں تجھے رفعت دے کر اپنا خاص قرب بخشنے والا ہوں۔
    3 (ترجمہ از مرتب) پس تُو لکھ اور اسے چھپوایا جائے اورتمام دُنیا میں بھیجا جائے۔
    اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ وَمَآ اَدْرَاکَ مَآاَصحَابُ الصُّفَّۃِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِن الدَّمْعِ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ۔رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ وَدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔ اَمْلُوْا۔
    (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ238تا242 حاشیہ در حاشیہ نمبر1 روحانی خزائن جلدنمبر1 صفحہ 265 تا 268)
    1882ء
    ’’براہین کے صفحہ 242میں مرقوم ہے...... وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ....... اور اس کے بعد الہام ہوا:۔
    وَوَسِّعُ مَکَا نَکَ
    یعنی اپنے مکان کو وسیع کرلے
    اس پیشگوئی میں صاف فرما دیا کہ وہ دن آتا ہے کہ ملاقات کرنے والوں کا بہت ہجوم ہوجائے گا یہاں تک کہ ہر ایک کا تجھ سے ملنا مشکل ہوجائے گا۔ پس تُو نے اس وقت ملال ظاہر نہ کرنا۔ اورلوگوں کی ملاقات سے تھک نہ جانا۔ سبحان اللہ یہ کس شان کی پیش گوئی ہے اور آج سے 17 برس پہلے اس وقت بتلائی گئی ہے کہ جب میری مجلس میں شاید دو تین آدمی آتے ہوں گے اور وہ بھی کبھی کبھی۔ اس سے کیسا علم غیب خدا کا ثابت ہوتاہے۔‘‘
    (سراج منیر صفحہ63، 64 روحانی خزائن جلد نمبر12 صفحہ 73)
    تیرے حجروں میں آکر آباد ہوں گے۔ وہی ہیں جو خدا کے نزدیک اصحاب الصُفّہ1کہلاتے ہیں اور تُو کیا جانتا ہے کہ وہ کس شان اور کس ایمان کے لوگ ہوں گے جو اصحاب الصفہ کے نام سے موسوم ہیں۔ وہ بہت قوی الایمان ہوں گے۔ تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوں گے۔ وہ تیرے پر درود2بھیجیں گے۔ اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک آواز دینے والے کی آواز سنی۔ جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔ اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے۔ سو ہم ایمان لائے۔ان تمام پیش گوئیوں کو تم لکھ لو کہ وقت پر واقع ہوں گی۔
    1۔ ’’خدا تعالیٰ نے انہی اصحاب الصفہ کو تمام جماعت میں سے پسند کیا ہے اورجو شخص سب کچھ چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ کہ یہ تمنا دل میں نہیں رکھتا۔ اُس کی حالت کی نسبت مجھ کو بڑا اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے۔ اور یہ ایک پیش گوئی عظیم الشان ہے۔ اور ان لوگوں کی عظمت ظاہر کرتی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے علم میں تھے کہ وہ اپنے گھروں اور وطنوں اور املاک کو چھوڑیں گے۔ اور میری ہمسائیگی کے لئے قادیان میں بود و باش کریں گے۔‘‘ (تریاق القلوب صفحہ60 ۔ روحانی خزائن جلد نمبر15 صفحہ 262، 263)
    2 انسانی عادت اور اسلامی فطرت میں داخل ہے کہ مومن کسی ذوق کے وقت اور کسی مشاہدہ کرشمہ قدرت کے وقت درود بھیجتا ہے۔ سو اس یُصَلُّوْنَ عَلَیکَ کے فقرہ میں اشارہ ہے کہ وہ لوگ جو ہر دم پاس رہیں گے وہ کئی قسم کے نشان دیکھتے رہیں گے۔ پس ان نشانوں کی تاثیر سے بسا اوقات ان کے آنسو جاری ہوجائیں گے۔ اور شدت ذوق اور رقت سے بے اختیار دُرود ‘ ان کے منہ سے نکلے گا۔ چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آرہا ہے۔ اور یہ پیش گوئی بار بار ظہور میں آرہی ہے۔‘‘ (اربعین نمبر2 صفحہ 5 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد نمبر17 صفحہ 350)
    1882ء یا اس سے قبل
    ’’ایک مرتبہ اس عاجز نے اپنی نظر کشفی میں سورۂ فاتحہ کو دیکھا کہ ایک ورق پر لکھی ہوئی اس عاجز کے ہاتھ میں ہے اور ایک ایسی ہی خوبصورت اوردلکش شکل میں ہے کہ گویا وہ کاغذ جس پر سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے۔ سُرخ سُرخ اور ملائم گلاب کے پھولوں سے اس قدر لدا ہوا ہے کہ جس کا کچھ انتہا نہیں۔ اور جب یہ عاجز اس سورۃ کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو اس میں سے بہت سے گلاب کے پھول ایک خوش آواز کے ساتھ پرواز کرکے اوپر کی طرف اُڑتے ہیں۔ اور وہ پھول نہایت لطیف اور بڑے بڑے اور سُندر اور تروتازہ اور خوشبودار ہیں۔ جن کے اُوپر چڑھنے کے وقت دل و دماغ نہایت معطر ہوجاتا ہے۔ اور ایک ایسا عالم مستی کا پیدا کرتے ہیں۔ کہ جو اپنی بے مثل لذتوں کی کشش سے دنیا و مافیہا سے نہایت درجہ نفرت دلاتے ہیں۔
    اس مکاشفہ سے معلوم ہوا۔ کہ گلاب کے پھول کو سورۃ فاتحہ کے ساتھ ایک روحانی مناسبت ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ نمبر11صفحہ 332 روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 395، 396 حاشیہ نمبر11)
    1882ء
    ’’کچھ عرصہ گذرا ہے کہ ایک دفعہ سخت ضرورت روپیہ کی پیش آئی۔ جس ضرورت کا ہمارے اس جگہ کے آریہ ہم نشینوں کو بخوبی علم تھا....... اِس لئے بلا اختیار دل میں اس خواہش نے جوش مارا کہ مشکل کشائی کے لئے حضرت ِ احدیت میں دعا کی جائے۔ تا اس دعا کی قبولیت سے ایک تو اپنی مشکل حل ہوجائے۔ اور دوسرے مخالفین کے لئے تائید الٰہی کا نشان پیدا ہو۔ ایسا نشان کہ اس کی سچائی پر وہ لوگ گواہ ہوجائیں۔ سو اُسی دن دعا کی گئی اور خدائے تعالیٰ سے یہ مانگا گیا کہ وہ نشان کے طور پر مالی مدد سے اطلاع بخشے۔ تب یہ الہام ہوا:۔
    دس دن کے بعد میں موج دکھاتا ہوں۔ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ فِیْ شَآئِلٍ مِّقْیَاسٍ۔
    دن وِل یُو گو ٹو امرت سر.1
    یعنی دس دن کے بعد روپیہ آئے گا۔ خدا کی مدد نزدیک ہے اور جیسے جب جننے کے لئے اونٹنی دُم اُٹھاتی ہے۔ تب اس کا بچہ جننا نزدیک ہوتا ہے۔ ایسا ہی مدد الٰہی بھی قریب ہے۔ اور پھر انگریزی فقرہ میں یہ فرمایا کہ دس دن کے بعد جب روپیہ آئے گا تب تم امرت سر بھی جاؤ گے۔
    تو جیسا اس پیش گوئی میں فرمایا تھا ایسا ہی ہندوؤں یعنی آریوں مذکورۂ بالا کے روبرو وقوع میں آیا۔ یعنی حسب منشاء پیش گوئی دس دن تک ایک خر مہرہ نہ آیا۔ اور دس دن کے بعد یعنی گیارھویں روز محمد افضل خان صاحب سپرنٹنڈنٹ بندوبست راولپنڈی نے ایک سو دس روپیہ بھیجے۔ اور بیست روپیہ ایک اور جگہ سے آئے۔ اور پھر برابر روپیہ آنے کا سلسلہ ایسا جاری ہوگیا۔ جس کی امید نہ تھی۔ اور اُسی روز کہ جب دس دن کے گذرنے کے بعد محمد افضل خان صاحب
    1 Then will you go to Amirtsar
    وغیرہ کا روپیہ آیا۔ امرت سر بھی جانا پڑا۔ کیونکہ عدالت ِ خفیفہ امرت سر سے ایک شہادت کے ادا کرنے کے لئے اس عاجز کے نام اُسی روز ایک سمن آگیا۔‘‘
    )براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 468،470حاشیہ در حاشیہ نمبر3 روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحہ 559، 561(
    1882ء
    ’’کچھ عرصہ ہوا.........ایک صاحب نور احمد نامی جو حافظ اور حاجی بھی ہیں۔ بلکہ شاید کچھ عربی دان بھی ہیں اور واعظِ قرآن ہیں اور خاص امرتسر میں رہتے ہیں۔ اتفاقاً اپنی درویشانہ حالت میں سیر کرتے کرتے یہاں بھی آگئے......چونکہ وہ ہمارے ہی یہاں ٹھہرے اور اس عاجز پر اُنہوں نے خود آپ ہی یہ غلط رائے جو الہام کے بارے میں اُن کے دل میں تھی1 مدعیانہ طور پر ظاہر بھی کردی۔ اس لئے دل میں بہت رنج گذرا۔ ہر چند معقول طور پر سمجھایا گیا کچھ اثر مترتب نہ ہوا۔ آخر توجہ الی اللہ تک نوبت پہنچی۔ اور اُن کو قبل از ظہور پیش گوئی بتلایا گیا کہ خداوند کریم کی حضرت میں دعا کی جائے گی کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعا بہ پایہ ٔ اجابت پہنچ کر کوئی ایسی پیش گوئی خداوند ِ کریم ظاہر فرما دے جس کو تم بچشمِ خود دیکھ جاؤ۔
    سو اُس رات اِس مطلب کے لئے قادرِ مطلق کی جناب میں دعا کی گئی۔ علی الصباح بہ نظر کشفی ایک خط دکھلایا گیا۔ جو ایک شخص نے ڈاک میں بھیجا ہے۔ اس خط میں انگریزی زبان میں لکھا ہوا ہے:۔
    آئی ایم کو ٔرلر2
    اور عربی میں یہ لکھا ہوا ہے:۔
    ھٰذَا شَا ھِدٌ نَّزَّاغٌ
    اور یہی الہام حکایتہ عنِ الکاتب القا کیا گیا۔ اور پھر وہ حالت جاتی رہی۔
    چونکہ یہ خاکسار انگریزی زبان سے کچھ واقفیت نہیں رکھتا۔ اس جہت سے پہلےعلی الصباح میاں نور احمد صاحب کو اس کشف اور الہام کی اطلاع دے کر اور اُس آنے والے خط سے مطلع کرکے پھر اُسی وقت ایک انگریزی خوان سے اُس انگریزی فقرہ کے معنے دریافت کئے گئے۔ تو معلوم ہوا۔ کہ اُس کے یہ معنے ہیں کہ میں جھگڑنے والا ہوں۔ سو اُس مختصر فقرہ سے یقینا یہ معلوم ہوگیا۔ کہ کسی جھگڑے کے متعلق کوئی خط آنے والا ہے اور ھٰذَا شَاھِدٌ نَّزَّاعٌ کہ جو کاتب کی طرف سے دوسرا فقرہ لکھا ہوا دیکھا تھا اُس کے یہ معنے کھلے کہ کاتب ِ خط نے کسی مقدمہ کی شہادت کے بارہ میں وہ خط لکھا ہے۔
    اُسی دن حافظ نور احمد صاحب بہ باعث ِ بارش باران امرت سر جانے سے روکے گئے۔ اور درحقیقت ایک سماوی سبب سے اُن کا روکا جانا بھی قبولیت ِ دعا کی ایک جزتھی۔ تا وہ جیسا کہ اُن کے لئے خدائے تعالیٰ سے درخواست کی گئی تھی
    1 کہ الہام انسان کے دماغی خیالات ہی کا نام ہے۔ (مرتّب)
    2 I am quarreler
    پیش گوئی کے ظہور کو بچشمِ خود دیکھ لیں۔ غرض اُس تمام پیش گوئی کا مضمون ان کو سنا دیا گیا۔ شام کو اُن کے روبرو پادری رجب علی صاحب مہتمم و مالک مطبع سفیر ہند کا ایک خط رجسٹری شدہ امرتسر سے آیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ پادری صاحب نے اپنے کاتب پر جو اِسی کتاب کا کاتب ہے عدالت ِ خفیفہ میں نالش کی ہے۔ اور اِس عاجز کو ایک واقعہ کا گواہ ٹھہرایا ہے۔ اور ساتھ اُس کے ایک سرکاری سمن بھی آیا۔ اور اس خط کے آنے کے بعد وہ فقرہ الہامی یعنی ھٰذَا شَاھِدٌ نَّزَّاغٌ جس کے یہ معنے ہیں کہ یہ گواہ تباہی ڈالنے والا ہے۔ ان معنوں پر محمول معلوم ہوا کہ مہتمم مطبع سفیر ہند کے دل میں بہ یقین ِ کامل یہ مرکوز تھا کہ اس عاجز کی شہادت جو ٹھیک ٹھیک اور مطابق واقعہ ہوگی بباعث و ثاقت اور صداقت اور نیز بااعتبار اور قابل ِ قدر ہونے کی و جہ سے سے فریق ثانی پر تباہی ڈالے گی۔ اور اسی نیت سے مہتمم مذکور نے اس عاجز کو ادائے شہادت کے لئے تکلیف بھی دی اور سمن جاری کرایا۔
    اور اتفاق ایسا ہوا کہ جس دن یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور امرت سرجانے کا سفر پیش آیا۔ وہی دن پہلی پیشگوئی کے پورے ہونے کا دن تھا۔ سو وہ پہلی پیش گوئی بھی میاں نور احمد صاحب کے رُوبرو پوری ہوگئی۔ یعنی اُسی دن جو دس دن کے بعد کا دن تھا۔ روپیہ آگیا۔ اور امرت سر بھی جانا پڑا۔ فا لحمدللّٰہ علی ذالک۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 471۔ 474حاشیہ در حاشیہ نمبر3روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 562۔565)
    1882ء
    ’’ایک دفعہ فجر کے وقت الہام ہوا کہ
    آج حاجی ارباب محمد لشکر خاں کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے
    یہ پیش گوئی بھی بدستورِ معمول اُسی وقت چند آریوں کو بتلائی گئی اور یہ قرار پایا کہ اُنہیں میں سے ڈاک کے وقت کوئی ڈاک خانہ میں جاوے۔ چنانچہ ایک آریہ ملاوامَل نامی اُس وقت ڈاک خانہ میں گیا اور یہ خبر لایا کہ ہوتی مردان سے دس عہ روپے آئے ہیں۔اور ایک خط لایا جس میں لکھا تھا کہ یہ دس عہ روپیہ ارباب سرور خاں نے بھیجے ہیں۔ چونکہ ارباب کے لفظ سے اتحادِ قومی مفہوم ہوتا تھا۔ اس لئے اُن آریوں کو کہا گیاکہ ارباب میںدونوں صاحبوں کی شراکت ہونا پیش گوئی کی صداقت کے لئے کافی ہے۔ مگر بعض نے اُن میں سے اس بات کو قبول نہ کیا۔ اور کہا کہ اتحادِ قومی شے دیگر ہے اور قرابت شے دیگر۔ اور اس انکار پر بہت ضد کی۔ ناچار ان کے اصرار پر خط لکھنا پڑا۔ اور وہاں سے یعنی ہوتی مردان سے کئی روز کے بعد ایک دوست منشی الٰہی بخش نامی نے جو اُن دنوں ہوتی مردان میں اکونٹنٹ تھے خط کے جواب میں لکھا کہ ارباب سرور خاں ارباب محمد لشکر خاں کا بیٹا ہے۔ چنانچہ اُس خط کے آنے پر سب مخالفین لاجواب اور عاجز رہ گئے۔ فالحمدللّٰہ علی ذالک۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 474،475 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 565،566)
    30دسمبر 1882ء
    (الف) ’’ایک عجیب کشف سے جو مجھ کو30 ؍دسمبر 1882ء بروز شنبہ یک دفعہ ہوا۔ آپکے1شہر2کی طرف نظر لگی ہوئی تھی اور ایک شخص3نامعلوم الاسم کی ارادت صادقہ خدا نے میرے پر ظاہر کی جو باشندۂ لدھیانہ ہے۔ اس عالمِ کشف میں اس کا تمام پتہ و نشان سکونت بتلادیا۔ جو اَب مجھ کو یاد نہیں رہا۔ صرف اتنا یاد رہا کہ سکونت خاص لدھیانہ اور اُس کے بعد اُس کی صفت میں یہ لکھا ہوا پیش کیا گیا:۔
    سچا ارادتمند 4 اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَافِی السَّمَآءِ
    یعنی اس کی ارادت ایسی قوی اور کامل ہے کہ جس میں نہ کچھ تزلزل ہے نہ نقصان ہے۔
    (از مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 4خط بنام میر عباس علی صاحب)
    (ب) میں نے قریب صبح کے کشف کے عالم میں دیکھا کہ ایک کاغذ میرے سامنے پیش کیا گیا۔ اس پر لکھا ہے۔ کہ
    ’’ایک ارادتمند لدھیانہ میں ہے۔‘‘
    پھر اس کے مکان کا پتہ مجھے بتلایا گیا اور نام بھی بتلایا گیا جو مجھے یاد نہیں۔ اور پھر اس کی ارادت اور قوت ایمانی کی یہ تعریف اسی کاغذ میں لکھی ہوئی دکھائی۔
    ’’ اَصْلُھَا ثَا بِتٌ وَّ فَرْعُھَا فِی السَّمَآئِ‘‘
    1 میر عبّاس علی صاحب لدھیانوی 2 لدھیانہ
    3 ’’لدھیانہ میں ایک صاحب میر عباس علی نام تھے۔ جو بیعت کرنے والوں میں داخل تھے۔ چند سال تک انہوں نے اخلاص میں ایسی ترقی کی کہ ان کی موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک دفعہ الہام ہوا۔اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّ فَرْ عُھَا فِی السّمآءِ۔ اس الہام سے صرف اس قدر مطلب تھا کہ اس زمانہ میں وہ راسخ الاعتقاد تھے۔ سو ایسے ہی انہوں نے اس زمانہ میں آثار ظاہر کئے کہ ان کے لئے بجز میرے ذکر کے اور کوئی ورد نہ تھااور ہر ایک میرے خط کو نہایت درجہ متبرک سمجھ کر اپنے ہاتھ سے اس کی نقل کرتے تھے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے اور اگر ایک خشک ٹکڑا بھی دستر خوان کا ہو تو متبرک سمجھ کر کھاجاتے تھے اور سب سے پہلے لدھیانہ سے وہی قادیان میں آئے تھے ایک مرتبہ مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے دکھایا گیا کہ عباس علی ٹھوکر کھائے گا۔ اور برگشتہ ہوجائے گا۔ وہ میرا خط بھی اُنہوں نے میرے ملفوظات میں درج کرلیا۔ بعد اس کے جب اُن کی ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے مجھ کو کہا۔ کہ مجھ کو اس کشف سے جو میری نسبت ہوا بڑا تعجب ہوا۔ کیونکہ میں تو آپ کے لئے مرنے کو تیار ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ جو کچھ آپ کے لئے مقدر ہے وہ پورا ہوگا۔ بعد اس کے جب وہ زمانہ آیا۔ کہ میں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ تو وہ دعویٰ اُن کو ناگوار گذرا۔ اوّل دل ہی دل میں پیچ تاب کھاتے رہے۔ بعد اس کے مباحثہ کے وقت جو مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب سے لدھیانہ میں میری طرف سے ہوا تھا۔ اور اس تقریب سے چند دن اُن کو مخالفوں کی صحبت بھی میسر آگئی تو نوشتہ ٔ تقدیر ظاہر ہوگیا۔ اور وہ صریح طور پر بگڑ گئے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ 294۔ روحانی خزائن جلد نمبر22 صفحہ 307)
    4 (ترجمہ از مرتّب) اس کی جَڑ زمین میں مُحکم ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہیں۔
    مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون شخص ہے مگر مجھے شک پڑتا ہے کہ شاید خداوند ِ کریم آپ1 ہی میں وہ حالت پیدا کرے یا کسی اور میں۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘
    (مکتوب مسیح موعود علیہ السلام مؤرخہ 18؍ جنوری 1883ء بنام نواب علی محمد خان صاحب جھجرؓ)
    (مندرجہ الفضل جلد2نمبر90مؤرخہ12؍ جنوری 1915ء صفحہ 8کالم نمبر1)
    1883ء
    ’’ آنمخدوم کی تحریرات کے پڑھنے سے بہت کچھ حالِ صداقت و نجابت ِ آنمخدوم ظاہر ہوتا ہے اور ایک مرتبہ بنظرِ کشفی بھی کچھ ظاہر ہوا تھا۔ شاید کسی زمانہ میں خداوند کریم اس سے زیادہ اور کچھ ظاہر کرے۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ17 فروری1883ء مطابق8؍ربیع الاوّل1300ھ۔ مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ6)
    1883ء
    ’’ جس روز آپ2کا خط آیا۔ اسی روز بعض عبارتیں آپ کے خط کی کسی قدر کمی بیشی سے بصورت کشفی ظاہر کی گئیں۔ اور وہ فقرات زیادہ آپ کے دل میں ہوں گے۔ یہ خداوند کریم کی طرف سے ایک رابطہ بخشی ہے۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ3؍مارچ1883ء ۔مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ6)
    1883ء3
    ’’وقت ملاقات ایک گفتگو کے اثناء میں بہ نظر کشفی آپ4کی حالت ایسی معلوم ہوئی۔ کہ کچھ دل میں انقباض5 ہے۔
    اور نیز آپ کے بعض خیالات جو آپ بعض اشخاص کی نسبت رکھتے تھے۔ حضرت احدیت کی نظر میں درست نہیں تو اس پر الہام ہوا:۔
    قُلْ ھَا تُوْا بُرْھَا نَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ 2
    .....اس وقت یہ بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ مگر بہت سی سعی کی گئی کہ خداوند کریم اس کو دور کردے۔ مگر تعجب
    1 مراد نواب علی محمد خان صاحب جھجر۔(مرتب)
    2 میر عباس علی صاحب لدھیانوی۔(مرتب)
    3 کتاب حیات احمد جلد 2نمبر2 صفحہ 66سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اوائل1883ء کا مکاشفہ ہے واللہ اعلم۔(مرتب)
    4 میر عباس علی صاحب لدھیانوی۔(مرتب)
    5 اس کشف کے مطابق میر عباس علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ مسیحیت و مہدویت کے وقت برگشتہ ہوگئے اور اس حالت پر اُن کا انجام ہوا۔ اس مکتوب کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 22؍ستمبر1883ء کے مکتوب میں بھی اُنہیں اس آنے والے ابتلاء سے آگاہ کیا تھاجس کے الفاظ یہ ہیں:۔
    ’’خدا وند کریم آپ کی تائید میں رہے اور مکر وہاتِ زمانہ سے بچاوے۔ اس عاجز سے تعلق اور ارتباط کرنا کسی قدر ابتلاء کو چاہتا ہے سو اس ابتلاء سے آپ بچ نہیں سکتے۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 65)
    6 (ترجمہ از مرتب) کہہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔
    نہیں کہ آئندہ بھی کوئی ایسا انقباض پیش آوے۔ جب انسان ایک نئے گھر میں داخل ہوتا ہے‘ تو اس کے لئے ضرور ہے کہ اس گھر کی وضع قطع میں بعض اُمور اُس کو حسب مرضی اور بعض خلاف مرضی معلوم ہوں اس لئےمناسب ہے کہ آپ اس محبت کو خدا سے بھی چاہیں۔ اور کسی نئے امر کے پیش آنے میں مضطرب نہ ہوں۔ تا یہ محبت کمال کے درجہ تک پہنچ جائے۔ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک حالت رکھتا ہے۔ جو زمانہ کی رسمیات سے بہت ہی دُور پڑی ہوئی ہے اور ابھی تک ہر ایک رفیق کو یہی جواب روح کی طرف سے ہے اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَالَمْ تُحِطْ بِہٖ خُبْرًا۔ 1
    (مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ15 مکتوب بنام میر عباس علی صاحب لدھیانوی)
    1883ء
    ’’ پنڈت شیو نارائن نے جو برہمو سماج کا ایک منتخب معلّم ہے لاہور سے میری طرف ایک خط لکھا کہ میں حصہ سوم2 کا ردّ لکھنا چاہتا ہوں۔ ابھی وہ خط اس جگہ نہیں پہنچا تھا کہ خدا نے بطور مکاشفات مضمون اس خط کا ظاہر کردیا۔ چنانچہ کئی ہندوؤں کو بتلایا گیا اور شام کو ایک ہندو کو ہی جو آریہ ہے ڈاک خانہ بھیجا گیا تا گواہ رہے۔ وہی ہندو اُس خط کو ڈاک خانہ سے لایا۔ پھر میں نے پنڈت شیونارائن کو لکھا کہ جس الہام کا تم ردّ لکھنا چاہتے ہو۔ خدا نے اُسی کے ذریعہ سے تمہارے خط کی اطلاع دی۔ اور اُس کے مضمون سے مطلع کیا۔ اگر تم کو شک ہے تو خود قادیان آکر اُس کی تصدیق کرلو۔ کیونکہ تمہارے ہندو بھائی اس کے گواہ ہیں۔ ردّ لکھنے میں بہت سی تکلیف ہوگی اور اس طرح جلدی فیصلہ ہوجائے گا۔‘‘
    ( از مکتوب3؍مارچ1883ء مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 6، 7)
    اپریل 1883ء
    ’’ ایک دفعہ اپریل1883ء میں صبح کے وقت بیداری ہی میں جہلم سے روپیہ روانہ ہونے کی اطلاع دی گئی۔ اور ......اُس روپیہ کے روانہ ہونے کے بارہ میں جہلم سے کوئی خط نہیں آیا تھا.......اور ابھی پانچ روز نہیں گذرے تھے جو پینتالیس روپیہ کا منی آرڈر جہلم سے آگیا۔ اور جب حساب کیا گیا تو ٹھیک ٹھیک اُسی دن منی آرڈر روانہ ہوا تھا جس دن خداوند عالم الغیب نے اُس کے روانہ ہونے کی خبر دی تھی۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ475، 476 حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلدنمبر1 صفحہ 567، 568)
    1883ء
    ’’ ایک مرتبہ اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ ایک عالی شان حاکم یا بادشاہ کاایک خیمہ لگا ہوا ہے۔ اور لوگوں کے مقدمات فیصل ہورہے ہیں اور ایسا معلوم ہوا کہ بادشاہ کی طرف سے یہ عاجز محافظ د فتر کا عہدہ رکھتا ہے۔ اور جیسے د فتروں میں مثلیں ہوتی ہیں۔ بہت سی مثلیں پڑی ہوئی ہیں اور اس عاجز کے تحت میں ایک شخص نائب محافظ د فتر کی طرح
    1 الکھف : 68-69 2 مراد براہین احمدیہ حصّہ سوم (مرتّب)
    ہے۔ اتنے میں ایک اردلی دوڑتا آیا۔ کہ مسلمانوں کی مثل پیش ہونے کا حکم ہے وہ جلد نکالو۔
    پس یہ رؤیابھی دلالت کررہی ہے کہ عنایات الٰہیہ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کی طرف متوجہ ہیں۔ اور یقین کامل ہے کہ اس قوتِ ایمان اور اخلاص اور توکل کو جو مسلمانوں کو فراموش ہوگئے ہیں۔ پھر خداوند کریم یاد دلائے گا اور بہتوں کو اپنے خاص برکات سے متمتّع کرے گا۔ کہ ہر ایک برکت ظاہری اور باطنی اُسی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
    (مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 19،20)
    1883ء
    ’’ چند روز ہوئے کہ خداوند کریم کی طرف سے ایک اور الہام ہوا تھا.......
    قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْ نِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یُوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ وَقَالُوْٓا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔ قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَجِیْبٌ۔ یَجْتَبِیْ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ۔ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ۔1
    اور یہ آیت کہ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یُوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ بار بار الہام ہوئی۔اور اس قدر متواتر ہوئی کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے۔ اور اس قدر ‘ زور سے ہوئی کہ میخ فولادی کی طرح دل کے اندر داخل ہوگئی اس سے یقینا معلوم ہواکہ خداوند کریم اُن سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا۔ اوران کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا اور اس عاجز کے بعد کوئی مقبول ایسا آنے والا نہیں کہ جو اس طریق کے مخالف قدم مارے۔ اور جو مخالف قدم مارے گا اُس کو خدا تباہ کرے گا اور اُس کے سلسلہ کو پائیداری نہیں ہوگی۔ یہ خدا کی طرف سے وعدہ ہے جو ہرگز تخلّف نہیں کرے گا۔‘‘
    (مکتوب مؤرخہ 12؍ جون1883ء ۔مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ24)
    12جون 1883
    ’’آج قبل تحریر اس خط کے یہ الہام ہوا:۔
    کَذَابَ عَلَیْکُمُ الْخَبِیْثُ۔ کَذَابَ عَلَیْکُمُ الْخِنْزِیْرُ۔ عِنَایَتُ اللّٰہِ حَافِظُکَ۔ اِنِّیْ مَعَکَ اَسْمَعُ وَاَریٰ۔ اَلَیْسَ اللّٰہ بِکَافٍ عَبْدَہ‘۔ فَبَرَّا اَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْد اللّٰہِ
    1 (ترجمہ از مرتب) کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔ میں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔ اور میں تیرے تابعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ لوگ کہیں گے کہ یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔ کہہ وہ خدا عجیب ہے جس کو چاہتا ہے۔ اپنے بندوں میں سے چُن لیتا ہے اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔
    وَجِیْھًا 1
    ان الہامات میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کوئی ناپاک طبع آدمی2اِس عاجز پر کچھ جھوٹ بولے گا یا جھوٹ بولا ہو۔ مگر عنایت الٰہی حافظ ہے۔‘‘
    (مکتوب مؤرخہ 12؍ جون1883ء مکتوباتِ احمدیہ جلد اوّل صفحہ 23)
    1883 یا اس سے قبل
    ’’کئی دفعہ اس عاجز کو نہایت صراحت سے الہام ہوا کہ
    وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔‘‘
    (مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 28)
    1883 یا اس سے قبل
    ’’کچھ عرصہ ہوا ہے کہ خواب میں دیکھا تھا کہ حیدر آباد سے نواب اقبال الدولہ صاحب کی طرف سے خط آیا ہے اور اس میں کسی قدر روپیہ دینے کا وعدہ لکھا ہے.....پھر تھوڑے دنوں کے بعد حیدر آباد سے خط آگیا۔ اور نواب صاحب موصوف نے سو روپیہ بھیجا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 477 حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 568، 569)
    1 (ترجمہ از مرتب) تم پر اس ناپاک نے جھوٹ باندھا ہے۔ تم پر اس خنزیر نے جھوٹ باندھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت تیری نگہبان ہے۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ سو خدا نے ان کے الزاموں سے اس کو بَری ثابت کیا۔ اور وہ خدا کے نزدیک وجیہہ ہے۔
    2 (نوٹ از مرتب) یہ اس مقدمہ کی طرف اشارہ ہے جو مارٹن کلارک نے اگست 1897ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کھڑا کیا تھا۔ چنانچہ حضور اقدس تحریر فرماتے ہیں:۔’’اس مقدمہ کے ذریعہ سے جو خون کے الزام کا مقدمہ تھا۔ وہ الہامی پیش گوئی پوری ہوئی جو براہین احمدیہ میں اس مقدمہ سے 20 برس پہلے درج تھی اور وہ الہام یہ ہے:۔
    فَبَرَّاَ ہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا۔
    یعنی خدا اس شخص کو اس الزام سے جو اس پر لگایا جائے گا بَری کردے گا کیونکہ وہ خدا کے نزدیک وجیہہ ہے۔ سو یہ خدا تعالیٰ کا ایک بھاری نشان ہے کہ باوجود یکہ قوموں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے اتفاق کرلیا تھا مسلمانوں کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب تھے ہندوؤں کی طرف سے لالہ رام بھجدت وکیل تھے اور عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب مع اپنی تمام جماعت آئے اور جنگ احزاب کی طرح ان قوموں نے بالاتفاق میرے پر چڑھائی کی تھی لیکن خدا تعالیٰ نے سب کو ذلیل کیا اور مجھے بَری کیا.........تا وہ بات پُوری ہو جس کی طرف اس الہامی پیش گوئی میں اشارہ تھا کہ بَرَّ اَ ہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ200، 201 روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحہ 578،579)
    1883 یا اس سے قبل
    ’’ایک دفعہ کی حالت یاد آئی ہے کہ انگریزی میں اوّل یہ الہام ہوا:۔
    آئی لَوْ یُو1
    یعنی میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔
    پھر یہ الہام ہوا:۔
    آئی ایم وِد یُو2
    یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں۔
    پھرالہام ہوا:۔
    آئی شیل ہیلپ یُو3
    یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔
    پھر الہام ہوا:۔
    آئی کین وہٹ آئی وِل ڈُو3
    یعنی میں کرسکتا ہوں جو چاہوں گا۔
    پھر اس کے بعد بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا:۔
    وِی کین وَہٹ وِی وِل ڈُو 4
    یعنی ہم کرسکتے ہیں جو چاہیں گے۔
    اور اُس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے۔ جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے اور باجود پُر دہشت ہونے کے پھر اُس میں ایک لذت تھی جس سے رُوح کو معنے معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفی ملتی تھی۔ اور یہ انگریز ی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہا ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ480،481 حاشیہ در حاشیہ نمبر3 روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 571، 572)
    1883ء یا اس سے قبل
    ’’ایک دفعہ صبح کے وقت بہ نظر کشفی چند ورق چھپے ہوئے دکھائے گئے کہ جو ڈاک خانہ
    1. I love you. 2. I am with you.
    3. I shall help you. 4. I can what I will do 5. We can what we will do.
    سے آئے ہیں اور اخیر پر اُن کے لکھا تھا:۔
    آئی ایم بائی عیسٰے 1
    یعنی میں عیسٰے کے ساتھ ہوں
    چنانچہ وہ مضمون کسی انگریزی خوان سے دریافت کرکے دو ہندو آریہ کو بتلایا گیا جس سے یہ سمجھا گیا تھا کہ کوئی شخص عیسائی یا عیسائیوں کی طرز پر دین اسلام کی نسبت کچھ اعتراض چھپواکر بھیجے گا چنانچہ اُسی روز ایک آریہ کو ڈاک آنے کے وقت ڈاک خانہ میں بھیجا گیا تو وہ چند چھپے ہوئے ورق لایا۔ جس میں عیسائیوں کی طرز پر ایک صاحب خام خیال نے اعتراضات لکھے تھے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ481، 482 حاشیہ در حاشیہ نمبر3 روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 573، 575)
    1883ء یا اس سے قبل
    ’’ایک دفعہ کسی امر میں جو دریافت طلب تھا خواب میں ایک درم نُقرہ جو بشکل بادامی تھا اِس عاجز کے ہاتھ میں دیا گیا۔ اُس میں دو سطریں تھیں۔ اوّل سطر میں یہ فقرہ لکھا تھا:۔
    یس آئی ایم ہیپی2
    اور دوسری سطر جو خطِ فارق ڈال کر نیچے لکھی ہوئی تھی وہ اُسی پہلی سطر کا ترجمہ تھا۔ یعنی یہ لکھا تھا کہ
    ہاں میں خوش ہوں‘‘
    )براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 482،483 حاشیہ در حاشیہ نمبر1روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 574،575(
    1883ء یا اس سے قبل
    ’’ایک دفعہ کچھ حزن اور غم کے دن آنے والے تھے کہ ایک کاغذ پر بہ نظر کشفی یہ فقرہ انگریزی میں لکھا ہوا دکھایا گیا:۔
    لائف آف پین 3
    یعنی زندگی دُکھ کی۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ483 حاشیہ در حاشیہ نمبر3 ۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 575)
    1883ء یا اس سے قبل
    ’’ایک دفعہ بعض مخالفوں کے بارہ میں جنہوں نے عنادِ دلی سے خواہ نخواہ قرآن شریف کی توہین کی تھی اور عداوتِ ذاتی سے جس کا کچھ چارہ نہیں، دین ِ متین اسلام پر بے جا اعتراضات اور بیہودہ تعرضات کئے
    1. I am by Isa. 2. Yes, I am happy.
    3. Life of pain.
    تھے۔ دو فقرے انگریزی کے الہام ہوئے:۔
    گاڈ اِز کمنگ بائی ہز آرمی1۔ ہی اِز وِد یُو ٹو کِل اینیمی2
    یعنی خدا تعالیٰ دلائل اور براہین کا لشکر لے کر چلا آتا ہے۔ وہ دشمن کو مغلوب اور ہلاک کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 483، 484حاشیہ در حاشیہ نمبر 3روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 576، 577(
    1883ء
    ’’ بُوْرِکْتُ یَآ اَحْمَدُ وَکَانَ مَا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ حَقّاً فِیْکَ
    اے احمد تو مبارک کیا گیا ہے اور خدا نے جو تجھ میں برکت رکھی ہے۔ وہ حقانی طور پر رکھی ہے۔‘‘
    شَاْنُکَ عَجِیْبٌ وَّ اَجْرُکَ قَرِیْبٌ
    تیری شان عجیب ہے اور تیرا بدلہ نزدیک ہے
    اِنِّیْ رَاضٍ مِّنْکَ۔ اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔ اَلْاَرْضُ وَالسَّمَآئُ مَعَکَ کَمَا ھُوَ مَعِیْ۔
    میں تجھ سے راضی ہوں۔ میں تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں۔ زمین اور آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسے وہ میرے ساتھ ہیں۔
    ھُوّ کا ضمیر واحد بتاویل مافی السمٰوات وا لارض ہے اور ان کلمات کا حاصل مطلب تلطفات اور برکاتِ الٰہیہ ہیں۔ جو حضرت خیرالرسل کی متابعت کی برکت سے ہرایک کامل مومن کے شامل حال ہوجاتی ہیں۔ اور حقیقی طور پر مصداق اِن سب عنایات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور دوسرے سب طفیلی ہیں۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 684تا 884 حاشیہ در حاشیہ نمبر3)
    1883ء
    پھر بعد اس کے فرمایا:۔
    اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ
    تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ میں نے تجھے اپنے لئے اختیار کیا۔
    1- God is coming by his army.
    2 – He is with you to kill enemy.
    نوٹ: انگریزی زبان میں لفظ بائی byبمعنی togather with اورin company withیعنی معیّت اور ساتھ ہونے کے معنوں میں بھی بولا جاتا ہے۔ حوالہ کے لئے دیکھئے
    Dialect Dictionary by Joseph wright P.470
    اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدیْ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفُ بَیْنَ النَّاسِ۔
    تو مجھ سے ایسا ہے جیسا میری توحید اور تفرید1۔ سو وہ وقت آگیا۔ جو تیری مدد کی جائے۔ اور تجھ کو لوگوں میں معروف و مشہور کیا جائے۔
    ھَلْ اَتَی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّ ھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔
    کیا انسان پر یعنی تجھ پر وہ وقت نہیں گذرا کہ تیرا دنیا میں کچھ بھی ذکر و تذکرہ نہ تھا۔ یعنی تجھ کو کوئی نہیں جانتا تھا کہ تو کون ہے اور کیا چیز ہے اور کسی شمار و حساب میں نہ تھا یعنی کچھ بھی نہ تھا۔
    یہ گذشتہ تلطفات و احسا نات کا حوالہ ہے۔ تا محسن حقیقی کے آئندہ فضلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے۔
    سُبْحَانَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی زَادَ مَجْدَکَ۔ یَنْقَطِعُ اٰبَآوئُ کَ وَیُبْدَئُ مِنْکَ۔
    سب پاکیاں خدا کے لئے ہیں۔ جو نہایت برکت والا اور عالی ذات ہے۔ اُس نے تیرے مجد کو زیادہ کیا۔ تیرے آباء کا نام اور ذکر منقطع ہوجائے گا۔ یعنی بطور مستقبل اُن کا نام نہیں رہے گا۔ اور خدا تجھ سے ابتداء شرف اور مجد کرے گا۔
    نُصِرْتَ بِالرُّعْبِ وَاُحْیِیْتُ بِا لصِّدْقِ اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ۔ نُصِرْتَ وَقَالُوْ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
    تو رعب کے ساتھ مدد کیا گیا۔ اور صدق کے ساتھ زندہ کیا گیا اے صدیق۔ تو مدد کیا گیا۔ اور مخالفوں نے کہا کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔ یعنی امدادِ الٰہی اُس حد تک پہنچ جائے گی کہ مخالفوں کے دل ٹوٹ جائیں گے اور اُن کے دلوں پر اِس مستولی ہوجائے گی اور حق آشکارا ہوجائے گا۔
    وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُتْرُکَکَ حَتّٰی یَمِیْزَالْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ
    اور خدا ایسا نہیں ہے جو تجھے چھوڑ دے۔ جب تک وہ خبیث اور طیب میں صریح فرق نہ کرلے۔
    وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ
    اور خدا اپنے امر پر غالب ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
    1۔ ’’فرمایا کہ میرے نزدیک اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ شخص بہ منزلہ توحید کے ہوتا ہے جو کہ ایسے زمانہ میں آوے جبکہ توحید کی حقارت اور بے عزتی ہوتی ہے۔ اور شرک کی عظمت اور قدر کی جاتی ہو اس شخص مامورشدہ کو توحید کی پیاس ایسی لگائی جاتی ہے کہ وہ تمام اپنے اغراض اور مقاصد کو ایک طرف رکھ کر توحید کے کام کرنے میں خود ایک مجسم توحید ہوجاتا ہے اس کے اٹھنے بیٹھنے اور حرکت اور سکون اور ہر ایک قول و فعل اس توحید کی لو اُسے لگی ہوتی ہے۔ دنیا میں لوگوں نے اپنے مقاصد کو بُت بنارکھا ہے مگر جب تک خدا کسی کو یہ سوز و گداز توحیدکے واسطے نہ لگائے تب تک نہیں لگ سکتا جیسے لوگ اولاد اور اپنی دوسری اغراض کے لئے بے قرار ہوتے ہیں حتیٰ کہ بعض خود کشیاں کرلیتے ہیں۔ اسی طرح وہ توحید کے لئے بے قرار ہوتا ہے کہ خدا کی خواہشات اس کی توحید اور عظمت اور جلال غالب آویں۔ اس وقت کہا جاتا ہے کہ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْ حِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْ۔‘‘
    (البدر جلد 2نمبر12 مؤرخہ10؍اپریل1903ء صفحہ91 کالم نمبر2)
    اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔
    جب مدد اور فتح الٰہی آئے گی اور تیرے رب کی بات پوری ہوجائے گی تو کفار اس خطاب کے لائق ٹھہریں گے کہ یہ وہی بات ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔
    اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ۔ اِنِّیْ جَا عِلٌ فِی الْاَرْضِ
    یعنی میں نے اپنی طرف سے خلیفہ کرنے کا ارادہ کیا۔ سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ میں زمین پر کرنے والا ہوں۔یہ اختصاری کلمہ ہے یعنی اس کو قائم کرنے والا ہوں۔ اس جگہ خلیفہ کے لفظ سے ایسا شخص مراد ہے کہ جو ارشاد اور ہدایت کے لئے بین اللہ و بین الخلق واسطہ ہو۔ خلافت ِ ظاہری کہ جو سلطنت اور حکمرانی پر اطلاق پاتی ہے مراد نہیں ہے........بلکہ یہ محض روحانی مراتب اور روحانی نیابت کا ذکر ہے۔ اور آدم کے لفظ سے بھی وہ آدم جو ابوالبشر ہے مراد نہیں۔ بلکہ ایسا شخص مراد ہے جس سے سلسلہ ارشاد اور ہدایت کا قائم ہو کر روحانی پیدائش کی بنیاد ڈالی جائے۔ گویا وہ روحانی زندگی کے رُو سے حق کے طالبوں کا باپ ہے۔ اور یہ ایک عظیم الشان پیش گوئی ہے۔ جس میں روحانی سلسلہ کے قائم ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ اُس سلسلہ کا نام و نشان نہیں۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 489 تا 493حاشیہ در حاشیہ نمبر3 روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 581 تا 586)
    1883ء
    ’’ پھر بعد اِس کے اُس روحانی آدم کا روحانی مرتبہ بیان فرمایا اور کہا:۔
    دَنٰی فَتَدَ لّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی
    جب یہ آیت شریفہ جو قرآن شریف کی آیت ہے۔ الہام ہوئی۔ تو اس کے معنے کی تشخیص اور تعیین میں تأمل تھا۔ اور اسی تأمل میں کچھ خفیف سی خواب آگئی۔ اور اُس خواب میں اس کے معنے حل کئے گئے۔ اس کی تفصیل یہ ہے۔ کہ دنو ّسے مُراد قربِ الٰہی ہے...... اور تَدَلّٰی سے مراد وہ ہبوط اور نزول ہے کہ جب انسان تخلق باخلاق اللہ حاصل کرکے اُس ذاتِ رحمن و رحیم کی طرف شفقتہً علی العباد عالمِ خلق کی طرف رجوع کرے اور چونکہ کمالات د نو ّکے کمالات تدلّی سے لازم و ملزوم ہیں۔ پس تدلّی اُسی قدر ہوگی جس قدر د نو ّہے اور دنّو کی کمالیت اس میں ہے کہ اسماء اور صفاتِ الٰہی کے عکوس کا سالک کے قلب میں ظہور ہو۔ اور محبوب حقیقی بے شائبہ ظلّیت اور بے تواہم حالیّت و محلیّت اپنے تمام صفاتِ کاملہ کے ساتھ اُس میں ظہور فرمائے۔ اور یہی استخلاف کی حقیقت اور روح اللہ کے نفخ کی ماہیّت ہے اور یہی تخلق باخلاق اللہ کی اصل بنیاد ہے۔ اور جب کہ تدلّی کی حقیقت کو تخلق باخلاق اللہ لازم ہوا۔ اور کمالیّت فی التخلق اس بات کو چاہتی ہے کہ شفقت علی العباد اور اُن کے لئے بمقام نصیحت کھڑے ہونا اور ان کا بھلائی کے لئے بدل و جان مصروف ہوجانا اِس حد تک پہنچ جائے۔ جس پر زیادت متصور نہیں اس لئے داصل تام کو مجمع الاضداد ہونا پڑا۔ کہ وہ کامل طور پر روبخدا بھی ہو۔ اور پھر کامل طور پر روبخلق بھی۔ پس وہ اُن دونوں قوسوں الوہیّت اور انسانیت میں ایک وتر کی طرح واقعہ ہے۔ جودونوں سے
    تعلق کامل رکھتا ہے....... پس جاننا چاہئے کہ اس جگہ ایک ہی دل میں ایک حالت اور نیت کے ساتھ دو قسم کا رجوع پایا گیا۔ ایک خدائے تعالیٰ کی طرف جو وجودِ قدیم ہے اور ایک اُس کے بندوں کی طرف جو وجودِ محدث ہے۔ اور دونوں قسم کا وجود یعنی قدیم اور حادث ایک دائرہ کی طرح ہے جس کی طرف اعلیٰ وجوب اور طرف اسفل امکان ہے۔ اب اُس دائرہ کے درمیان میں انسان بوجہ دنو ّاور تدلّی کے دونوں طرف اتصال محکم کرکے یوں مثالی طور پر صورت پیدا کرلیتا ہے۔ جیسے ایک وتر دائرہ کے دو قوسوں میں ہوتا ہے یعنی حق اور خلق میں واسطہ ٹھہر جاتا ہے پہلے اس کو دنو ّ اور قربِ الٰہی کی خلقت خاص عطا کی جاتی ہے۔ اور قرب کے اعلیٰ مقام تک صعود کرتا ہے اور پھر خلقت کی طرف اس کو لایا جاتا ہے۔ پس اس کا وہ صعود اور نزول دو قوس کی صورت میں ظاہر ہوجاتا ہے اور نفس جامع التعلّقین انسان کامل کا اُن دونوں قوسوں میں قابِ قوسَین کی طرح ہوتا ہے۔ اور قاب عرب کے محاورہ میں کمان کے چِلّہ پر اطلاق پاتا ہے۔
    پس آیت کے بطور تحت اللفظ یہ معنے ہوئے کہ نزدیک ہوا یعنی خدا سے۔ پھر اُترا یعنی خلقت پر۔ پس اپنے اس صعود اور نزول کی و جہ سے دو قوسوں کے لئے ایک ہی وتر ہوگیا۔
    اور چونکہ اُس کا روبخلق ہونا چشمہ ٔ صافیہ تخلق باخلاق اللہ سے ہے۔ اس لئے اُس کی توجہ بمخلوق توجہ بخالق کی عین ہے یا یوں سمجھو کہ چونکہ مالک حقیقی اپنی غایت شفقت العباد کی و جہ سے اِس قدر بندوں کی طرف رجوع رکھتا ہے کہ گویا وہ بندوں کے پاس ہی خیمہ زن ہے۔ پس جبکہ سالک سیرالی اللہ کرتا کرتا اپنی کمال سیر کو پہنچ گیا۔ تو جہاں خدا تھا وہیں اُس کو لوٹ کر آنا پڑا۔ پس اِس و جہ سے کمال دُنو ّ یعنی قربِ تام اُس کی تدلّی یعنی ہبوط کا موجب ہوگیا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ493 تا 496 حاشیہ در حاشیہ نمبر3
    روحانی خزائن جلد نمبر1صفحہ 586 تا 590 حاشیہ در حاشیہ نمبر3)
    1883ء
    ’’ یُحْیِ الدِّیْنَ وَیُقِیْمُ الشَّرِیْعَۃَ
    زندہ کرے گا دین کو اور قائم کرے گا شریعت کو
    یَآ اٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ۔ یَامَرْیَمُ اسْکُنْ 1 اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ۔ یَآ اَحْمَدُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ۔ نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُ نِّیْ رُوْحَ الصِّدْقِ
    اے آدم۔ اے مریم۔ اے احمد تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے۔ جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہوجاؤ۔ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔
    1۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان الہامات کی تشریح فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔’’مریم سے مریم اُمّ عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابو البشر مراد ہے اور نہ احمد ؐ سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ والسلام مراد ہیں۔ اور ایساہی ان الہامات کے تمام مقامات
    اس آیت میں بھی روحانی آدم کا و جہ تسمیہ بیان کیا گیا۔ یعنی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بلاتوسط اسباب ہے۔ ایسا ہی روحانی آدم میں بلا توسط ِ اسباب ظاہر یہ نفخ روح ہوتاہے۔
    اور یہ نفخ روح حقیقی طور پر انبیاء علیہم السلام سے خاص ہے۔ اور پھر بطور تبعیت اور وراثت کے بعض افراد خاصہ امت ِ محمدیہ کو یہ نعمت عطا کی جاتی ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 496, 497 حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلد نمبر1، صفحہ 590، 591(
    1883ء
    (الف) فَاَجَآ 1 ءَ ھَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ۔ قَالَتْ یَا لَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا
    (کشتی نوح صفحہ 47، روحانی خزائن جلد نمبر19 صفحہ 51)
    (ب) ’’ میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا اُسی کی نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا:۔
    بقیہ حاشیہ: میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں۔ اُن ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہے بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔ اب جبکہ اس جگہ مریم کے لفظ سے مؤنث مراد نہیں بلکہ مذکر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لئے صیغہ مذکر ہی لایا جائے۔ یعنی یا مریم اسکن کہا جائے..........اور زوج کے لفظ سے رفقاء اور قرباء مراد ہیں زوج مراد نہیں ہے۔ اور لغت میں یہ لفظ دنوں طور پر اطلاق پاتا ہے۔ اور جنت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اُسی جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتح یابی اور سرور اورا ٓرام پر بولا جاتا ہے۔‘‘
    (مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ82 ، 83مکتوب مؤرخہ 12؍فروری 1884ء بنام میر عباس علی شاہ صاحب)
    1 کشتی نوح میں جو 1902ء کی تصنیف ہے حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں:۔’’اس جگہ ایک اور الہام کا بھی ذکر کرتا ہوں اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام اپنے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ صدہا لوگوں کو میں نے سنایا تھا اور میری یادداشت کے الہامات میں موجود ہے اور وہ اس زمانہ کا ہے جبکہ خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا۔ اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فا جاء ھا المخاض الٰی جذع النخلۃ قالت یا لیتنی متّ قبل ھٰذا وکنت نسیًا منسیًّا یعنی پھر مریم کو مراد اِس عاجز سے ہے دروزہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔ یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا جنہوں نے تکفیر و توہین کی۔ اور گالیاں دیں۔ اور ایک طوفان برپا کیا۔ تب مریم نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مر جاتی۔ اور میرا نام و نشان باقی نہ رہتا۔ یہ اس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتداء میں مولویوں کی طرف سے بہ ہیئت مجموعی پڑا۔ اور وہ اس دعویٰ کی برداشت نہ کرسکے۔ اور مجھے ہر ایک حیلہ سے انہوں نے فنا کرنا چاہا۔ تب اُس وقت جو کرب اور قلق ناسمجھوں کا شوروغوغا دیکھ کر میرے دل پر گذرا۔ اس کا اس جگہ خداتعالیٰ نے نقشہ کھینچ دیا ہے۔ ‘‘
    (کشتی نوح صفحہ 47، 48۔ روحانی خزائن جلد نمبر19 صفحہ 51)
    فَاَجَآئَ ہُ الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ۔ قَالَ یَا لَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا
    مخاض سے مراد اس جگہ وہ امور ہیں جن سے خوفناک نتائج پیدا ہوتے ہیں اور جذع النخلۃ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کی اولاد۔ مگر صرف نام کے مسلمان ہیں۔
    بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ درد انگیز دعوت جس کا نتیجہ قوم کا جانی دشمن ہوجانا تھا۔ اس مامور کو قوم کے لوگوں کی طرف لائی۔ جو کھجور کی خشک شاخ یا جڑ کی مانند ہیں۔ تب اُس نے خوف کھا کر کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مر جاتا۔ اور بھولا بسرا ہوجاتا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ53 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر21 صفحہ 68، 69(
    1883ء
    ’’اور اس کے متعلق اور بھی الہام تھے۔ جیسا:۔
    لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا۔ مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَئَ سَوْئٍ وَّمَاکَانَتْ اُمَّکِ بَغِیًّا۔
    ...اور لوگوں نے کہا۔ کہ اے مریم۔ تُو نے یہ کیا مکروہ اور قابل ِ نفرین کام دکھلایا جو راستی سے دُور ہے۔ تیرا باپ1 اور تیری ماں تو ایسے نہ تھے۔‘‘ (کشتی نوح صفحہ 48، روحانی خزائن جلد نمبر19 صفحہ 51)
    1883ء
    پھر بعد2اس کے فرمایا:۔
    نُصِرْتَ وَقَا لُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
    تو مدد دیا گیا اور انہوں نے کہا کہ اب کوئی گریز کی جگہ نہیں۔
    اِنَّ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّ وْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ رَدَّ عَلَیْھِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ شَکَرَ اللّٰہُ سَعْیَہ‘
    جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور خدا تعالیٰ کی راہ کے مزاحم ہوئے اُن کا ایک مرد فارسی الاصل نے ردّ لکھا ہے۔ اُس کی سعی کا خدا شاکر ہے۔
    1۔ اس الہام پر مجھے یاد آیا۔ کہ بٹالہ میں فضل شاہ یا مہر شاہ نام ایک سید تھے جو میرے والد صاحب سے بہت محبت رکھتے تھے اور بہت تعلق تھا۔ جب میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی کسی نے ان کو خبر دی تو وہ بہت روئے اور کہا کہ ان کے والد صاحب بہت اچھے آدمی تھے یعنی یہ شخص کس پر پیدا ہوا۔ ان کا باپ تو نیک مزاج اور افتراء کے کاموں سے دُور اور سیدھا اور صاف دل مسلمان تھا۔ ایسا ہی بہتوں نے کہا کہ تم نے اپنے خاندان کو داغ لگایا کہ ایسا دعویٰ کیا۔‘‘
    (کشتی نوح صفحہ48 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر19 صفحہ 51، 52)
    2۔ یعنی الہام’’نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُ نِّیْ رُوْحَ الصِّدْ قِ ‘‘ براہین احمدیہ حصّہ چہارم صفحہ 496 حاشیہ نمبر3 روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 591 (مرتّب)
    کِتَابُ الْوَلِیِّ 1 ذُو الْفَقَارِ عَلِیٍّ
    ولی کی کتاب علیؓ کی تلوار کی طرح ہے۔ یعنی مخالف کو نیست و نابود کرنے والی ہے۔ اور جیسے علیؓ کی تلوار نے بڑے بڑے خطرناک معرکوں میں نمایاں کاردکھلائے تھے ایسا ہی یہ بھی دکھلائے گی۔
    اور یہ بھی ایک پیش گوئی ہے کہ جو کتاب2کی تاثیراتِ عظیمہ اور برکات عمیمہ پر دلالت کرتی ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 497حاشیہ در حاشیہ نمبر 3، حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلدنمبر1صفحہ 591 ، 592)
    پھر بعد اس کے فرمایا:۔
    وَلَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُرَیَّا لَنَا لَہ‘
    اگر ایمان ثریا سے لٹکتا ہوتا۔ یعنی زمین سے بالکل اُٹھ جاتا۔ تب بھی شخص مقدم الذکر اُس کو پالیتا۔
    یَکَا دُزَیْتُہ‘ یُضِیْٓ ئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ۔
    عنقریب ہے کہ اُس کا تیل خود بخود روشن ہوجائے۔ اگرچہ آگ اُس کو چھو بھی نہ جائے۔
    اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌسَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّ بُرَ۔ وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً
    1۔ (الف) ’’ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گذرگیا۔ کہ جب ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ‘ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دیدے گا۔ اِس طرح پر کہ اُس کا چمکنے والاہاتھ وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی۔ سو وہ ہاتھ ایسا ہوگا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ‘ ہے۔ جو پھر ظاہر ہوگئی ہے۔
    یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہوگا اور اُس کی قلم ذوالفقار کاکام دے گی۔ (نعمت اللہ ولی) یہ پیش گوئی کہ (ید ِبیضاء کہ با اوتابندہ۔ باز باذوالفقار مے بینم۔ مرتب) بعینہٖ اِس عاجز کے اُس الہام کا ترجمہ ہے جو اِس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے۔ اور وہ یہ ہے:۔کتاب الولی ذوالفقار علی۔یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔ یہ اِس عاجز کی طرف اشارہ ہے اِسی بناء پر بارہا اِس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے چنانچہ براہین احمدیہ کے بعض دیگر مقامات میں اِسی کی طرف اشارہ ہے۔‘‘
    (نشانِ آسمانی صفحہ15۔ روحانی خزائن جلد نمبر4 صفحہ 375)
    (ب) ’’یہ مقام دارالحرب ہے پادریوں کے مقابلے میں اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہرگز بیکار نہ بیٹھیں۔ مگر یاد رکھو کہ ہماری حرب ان کے ہم رنگ ہے جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آئے ہیں اُسی طرز کے ہتھیار ہم کو لے کر نکلنا چاہئے۔ اور وہ ہتھیار ہے قلم۔ یہی و جہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا۔‘‘
    ( الحکم جلد ۵ نمبر 22 مؤرخہ 17؍ جون1901ء صفحہ 2)
    2۔ براہین احمدیہ (مرتّب)
    یُّعْرُضُوْا وَیَقُوْلُوْاسِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔ وَاسْتَیْقَنَتْھَا اَنْفُسُھُمْ۔ وَقَالُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔ فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ عَلَیْھِمْ۔ وَلَوْکُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ۔ وَلَوْ اَنَّ قُراٰنًاسُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ۔
    کیا کہتے ہیں کہ ہم ایک قوی جماعت ہیں۔ جواب دینے پر قادر ہیں۔ عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ جائے گی۔ اور پیٹھ پھیر لیں گے۔ اور جب یہ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں توکہتے1 ہیں کہ یہ ایک معمولی اور قدیمی سحر ہے۔ حالانکہ اُن کے دل اُن نشانوں پر یقین کر گئے ہیں۔ اور دلوں میں اُنہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب گریز کی جگہ نہیں اور یہ خدا کی رحمت ہے کہ تو ان پر نرم ہوا۔ اور اگر تو سخت دل ہوتا۔ تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے۔ اور تجھ سے الگ ہوجاتے۔ اگرچہ قرآنی معجزات ایسے دیکھتے جن سے پہاڑ جنبش میں آجاتے۔
    یہ آیات ان بعض لوگوں کے حق میں بطور الہام القاء ہوئیں۔ جن کا ایسا ہی خیال اور حال تھا۔ اور شاید ایسے ہی اور لوگ بھی نکل آویں۔ جو اس قسم کی باتیں کریں۔ اور بدرجہ ٔ یقین کامل پہنچ کر پھر منکر رہیں۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 497 ، 498حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلدنمبر1 صفحہ592 ، 593)
    1883ء
    پھر بعد اس کے فرمایا:۔
    اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قَرِیْبًا مِّنَ الْقَادِیَانِ2 وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاہُ وَ بِا لْحَقِّ نَزَلَ۔ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ‘۔ وَکَانَ3 اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلاً۔
    یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اِس الہام پُر از معارف و حقائق کو قادیان کے قریب اُتارا ہے۔ اور ضرورتِ حقہّ کے ساتھ اتارا ہے۔ اور بضرورتِ حقہ ّ اُترا ہے۔ خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی۔ کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔
    یہ آخری فقرات اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی
    1۔ (ترجمہ از مرتّب) اس سے اِعراض کرتے۔ اور
    2۔ ’’اس الہام پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی کے پہلے لکھا گیا تھا...... اَب ایک نئے الہام سے یہ بات بپایہ ٔ ثبوت پہنچ گئی کہ قادیان کو خدائے تعالیٰ کے نزدیک دمشق سے مشابہت ہے تو اُس پہلے الہام کے معنے بھی اس سے کھل گئے.....اس کی تفسیر یہ ہے کہ اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قَرِیْبًا مِّنْ مِنْ دِمَشْقَ بِطَرَفٍ شَرْقِیٍ عِنْدَالَمَنَارَۃِ الْبَیْضَآءِ ۔
    کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 73, 75 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 138، 139)
    3۔ ازالہ اوہام میں یہ فقرہ یُوں ہے وَکَانَ وَعْدَ اللّٰہِ مَفْعُوْلاً (ازالہ اوہام صفحہ 73)
    حدیث......میں ارشاد فرما چکے ہیں۔ اور خدائے تعالیٰ اپنے کلامِ مقدس میں ارشاد فرما چکا ہے۔ چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں درج ہوچکا ہے اور فرقانی اشارہ اِس آیت میں ہے۔ ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہ‘ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ498 حاشیہ در حاشیہ نمبر3 روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 593)
    1883ء
    ’’جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا۔ اُس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر1میرے قریب بیٹھ کربآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں۔ اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔کہ اِنَّآ اَنْزَلْنَا ہُ قَرِیْباً مِّنَ الْقَادِیَانِ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے تب انہوں نے کہا۔ کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شایدقریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا۔ کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ 76، 77 روحانی خزائن جلد نمبر3صفحہ 140)
    1883ء
    پھر بعد اس2کے جو الہام ہے وہ یہ ہے:
    صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّاٰلِ مُحَمَّدٍ سَیِّدِوُلْدِاٰدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِیِیْنَ
    اور درُود بھیج محمدؐ اورآلِ محمدؐ پر جو سردارہے آدم کے بیٹوں کا اورخاتم الانبیاء ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔
    یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب مراتب اورتفضّلات اورعنایات اُسی کے طفیل سے ہیں اُسی سے محبّت کرنے کا یہ صلہ ہے۔ ...اور ایسا ہی الہام متذکّرہ بالا میں جا آلِ رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے سو اِس میں بھی یہ سِرّ ہے کہ افاضہء انوارِالٰہی میں محبّتِ اہلِ بَیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے اورجو شخص حضرتِ احدیّت کے مقرّبین میں داخل ہوتا ہے وہ اِنہیں طیّبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اورتمام علوم ومعارف میں اُن کا وارث ٹھہرتا ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصّہ چہارم صفحہ 502، 503 حاشیہ درحاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلدنمبر1۔ صفحہ 597، 598)
    1۔ ’’اس میں یہ بھید مخفی ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا۔ کہ اُن کے نام سے اس کشف کی تعبیر کو بہت کچھ تعلق ہے۔ یعنی اُن کے نام میں جو قادر کا لفظ آتا ہے اِس لفظ کو کشفی طور پیش کرکے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قادرِ مطلق کا کام ہے۔ اِس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ اس کے عجائبات قدرت اسی طرف پر ہمیشہ ظہور فرما ہوتے ہیں۔ کہ وہ غریبوں اور حقیروں کو عزت بخشتا ہے اور بڑے بڑے معززوں اور بلند مرتبہ لوگوں کو خاک میں ملادیتا ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 77، 78 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 141 حاشیہ)
    2۔ یعنی الہام ’’وَکَانَ اَمْرَاللٰہِ مَفْعُوْلَّا‘‘ مندرجہ صفحہ59 گذشتہ (مرتّب)
    1883ء
    ’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غُربت اور انکسار اور توکّل اور ایثاراور آیات اور انوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔ اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دوپھل ہیں اور بحدّی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے۔ اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادمِ دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے۔ اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔ اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 499 حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلدنمبر1 صفحہ 593، 594)
    1883ء
    1 وَمِنْ جُمْلَتِھَا اِلْھَامٌ اٰخَرُ خَاطَبَنِیْ رَبِّیْ فِیْہِ وَقَالَ اِنِّیْ خَلَقْتُکَ مِنْ جَوْھَرِ عِیْسٰی وَاِنَّکَ وَعِیْسٰی مِنْ جَوْھَرٍ وَّاحِدٍوَکَشَئ ءٍ وَّاحِدٍ 2
    (حما متہ البشریٰ صفحہ14۔ روحانی خزائن جلد نمبر7 صفحہ 192)
    1883ء
    (الف) ’’اس مقام پر مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اِس عاجز نے اِس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اُس سے معطر ہوگیا۔ اسی رات خواب میں دیکھا کہ آبِ زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اِس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔ اور ایک نے اُن میں سے کہا۔ کہ یہ وہی برکات ہیں جو تُو نے محمد کی طرف بھیجے تھے۔ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 502 حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 598)
    (ب) ’’ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا۔ کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استغراق رہا۔ کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں وہ بجز وسیلہ نبی کریم کے نہیں مل سکتیں۔ جیسا کہ خدا بھی فرماتا ہے۔ وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ۔ تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں مَیں نے دیکھا کہ دو سقّے یعنی ماشکی آئے۔ اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راہ سے میرے گھر میں داخل
    1۔ (نوٹ از مرتب) اس الہام کو یہاں اس لئے درج کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی جگہ حمامتہ البشریٰ میں تحریر فرماتےہیں کہ یہ الہام براہین احمدیہ کی اشاعت سے پہلے کا ہے۔
    2۔ (ترجمہ از مرتب) اور منجملہ ان کے ایک اور الہام بھی درج ہے جس میں مجھے اللہ مخاطب کرکے کہتا ہے کہ میں نے تجھ کو عیسیٰ کے جوہر سے پیدا کیا ہے۔ اور تُو اور عیسیٰ ایک ہی جوہر سے اور ایک ہی شَی کی مانند ہو۔‘‘
    ہوئے اور ان کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں ھٰذَا بِمَا صَلَّیْتَ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔‘‘1
    (حقیقتہ الوحی صفحہ128 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ نمبر 131)
    1883ء
    پھر بعد اس2کے الہام ہوا۔
    اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرْوَاَعْرضْ عَنِ الْجَاھِلِیْنَ۔
    تو سیدھی راہ پر ہے۔ پس جو حکم کیا جاتا ہے۔ اُس کو کھول کر سنا اور جاہلوں سے کنارہ کر۔
    وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْ قَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ۔ وَ قَالُوْٓا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔ اِنَّ ھٰذَا لَمُکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ۔ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ۔
    اور کہیں گے کہ کیوں نہیں اُترا یہ کسی بڑے عالم فاضل پر۔ اور3شہروں میں سے اور کہیں گے کہ یہ مرتبہ تجھ کو کہاں سے ملا۔ یہ تو ایک مکر ہے جو تم نے شہر میں باہم مل کر بنالیا ہے۔ تیری طرف دیکھتے ہیں اور نہیں دیکھتے۔ یعنی تو اُنہیں نظر نہیں آتا۔
    تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطَانُ
    ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے کہ ہم نے تجھ سے پہلے اُمت ِ محمدیہ میں کئی اولیاء کامل بھیجے۔ پر شیطان نے اُن کے توابع کی راہ کو بگاڑ دیا۔ یعنی طرح طرح کی بدعات مخلوط ہوگئیں۔ اور سیدھا قرآنی راہ اُن میں محفوظ نہ رہا۔
    قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا۔ وَمَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہ‘۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہ‘فَعَلَیَّ اِجْرَامٌ شَدِیْدٌ۔
    کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو سو میری پیروی کرو۔ یعنی اتباع رسول مقبول کرو۔ تاخدا بھی تم سے محبت رکھے۔ اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ نئے سرے زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اور جو شخص خدا کے لئے ہوجائے۔ خدا اُس کے لئے ہوجاتا ہے۔ کہہ اگر میں نے یہ افترا کیا ہے۔ تو میرے پر جرم شدید ہے۔
    اِنَّکَ الْیُوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ وَاِنَّ عَلَیْکَ رَحْمَتِیْ فِی الدُّ نْیَاوَالدِّیْنِ۔ وَاِنَّکَ مِنَ الْمَنْصُوْرِیْنَ۔
    آج تو میرے نزدیک بامرتبہ اور امین ہے۔ اور تیرے پر میری رحمت دنیا اور دین میں ہے۔ اور تو مدد دیا گیا ہے۔
    1۔ (ترجمہ ازمرتّب) یہ برکات اس درود کی و جہ سے ہیں جو تونے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیجا تھا۔
    2۔ یعنی الہام صَلّ علٰی محمّد ٍ الخ ۔ (مرتب)
    3۔ نقل مطابق اصل۔ لفظ ’د و ‘ چاہئے تھا۔ (مرتب)
    یَحْمَدُکَ اللّٰہُ وَیَمْشِیْ اِلَیْکَ
    خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔
    اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔
    خبردار ہو خدا کی مدد نزدیک ہے۔
    سُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً
    پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سیر کرایا۔ یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے۔ مقاماتِ معرفت اور یقین تک لَدُنّی طور پر پہنچایا۔
    خَلَقَ اٰ دَمَ فَاَ کْرَمَہ‘
    پیدا کیا آدم کو پس اکرام کیا اُس کا۔
    جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآئِ۔
    جری اللہ نبیوں کے حُلّوں میں۔
    اس فقرہ الہام کے یہ معنے ہیں کہ منصب ارشاد اور ہدایت اور موردِ وحی الٰہی ہونے کا دراصل حُلّۂ انبیاء ہے اور اُن کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے اوریہ حُلّۂ انبیاء اُمّتِ محمدیہ کے بعض افراد کو بغرضِ تکمیل ِناقصین عطا ہوتا ہے اور اُسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عُلَمَآئُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَآئِ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ۔ پس یہ لوگ اگرچہ نبی نہیں۔ پر نبیوں کاکام اُن کے سپرد کیا جاتا ہے۔
    وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ فَاَ نْقَذَکُمْ مِنْھَا۔
    اور تھے تم ایک گڑھے کے کنارے پر۔ سو اُس سے تم کو خلاصی بخشی یعنی خلاصی کا سامان عطا فرمایا۔
    عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَ عَلَیْکُمْ 1 وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکَا فِرِیْنَ حَصِیْرًا۔
    خدا یتعالیٰ کا ارادہ اِس بات کی طرف متوجہ ہے۔ جو تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا۔ تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے۔ اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے........
    تُوْبُوْ وَاَصْلِحُوْ وَاِلَی اللّٰہِ تَوَجَّھُوْا وَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلُوْا وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ
    توبہ کرو اور فسق اور فجور اور کفر اور معصیت سے باز آؤ اور اپنے حال کی اصلاح کرو۔ اور خدا کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ اور اُس پر توکّل کرو۔ اور صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ اس سے مدد چاہو۔ کیونکہ نیکیوں سے بدیاں دُور ہوجاتی ہیں۔
    بُشْرٰی لَکَ یَآ اَحْمَدِیْ۔ اَنْتَ مُرَادِیْ وَمَعِیْ غَرَسْتُ کَرَامَتَکَ بِیَدِیْ۔
    1۔ حضرت اقدس نے اس الہام کو اربعین نمبر2 کے صفحہ 5 پر اور اس کے علاوہ کئی اور مقامات پر بھی بحوالہ براہین احمدیہ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ درج فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عَلَیْ کا لفظ سہو کتابت ہے۔(مرتب)
    خوشخبری ہو تجھے اے میرے احمدؐ۔ تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری کرامت کو اپنے ہاتھ سے لگا یا ہے۔1
    قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذَالِکَ اَزْکٰی لَھُمْ۔
    مومنین کو کہہ کہ اپنی آنکھیں نامحرموں سے بند رکھیں۔ اور اپنی سترگاہوں کو اور کانوں کو نالائق امور سے بچاویں۔ یہی ان کی پاکیزگی کے لئے ضروری اور لازم ہے۔
    یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہریک مومن کے لئے منہیات سے پرہیز کرنا اور اپنے اعضاء کو ناجائز افعال سے محفوظ رکھنا لازم ہے۔ اور یہی طریق اس کی پاکیزگی کا مدار ہے........
    وَاِذْا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔ وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔
    اور جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں۔ تو میں نزدیک ہوں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں۔ اور میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے۔ کہ تاسب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔
    لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ الْبَیِّنَۃُ وَکَانَ کَیْدُھُمْ عَظِیْمًا۔
    اور جو لوگ اہل ِ کتاب اور مشرکوں میں سے کافر ہوگئے ہیں۔ یعنی کفر پر سخت اصرار اختیار کرلیا ہے۔ اور اپنے کفر سے بجز اس کے باز آنے والے نہیں تھے۔ کہ اُن کو کھلی نشانی دکھلائی جاتی۔ اوراُن کا مکر ایک بھارا مکر تھا۔
    یہ اس بات کی طر ف اشارہ ہے کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ نے آیا ت سماوی اور دلائل ِ عقلی سے اِس عاجز کے ہاتھ پر ظاہر کیا ہے۔ وہ اتمامِ حجت کے لئے نہایت ضروری تھا۔ اور اس زمانہ کے سیاہ باطن جن کو جہل اور خبث کے کیڑے نے اندر ہی اندر کھا لیا ہے‘ ایسے نہیں تھے جو بجز آیاتِ صریحہ و براہین قطعیہ اپنے کفر سے باز آجاتے۔ بلکہ وہ اُس مکر میں لگے ہوئے تھے کہ تا کسی طرح باغِ اسلام کو صفحۂ زمین سے نیست و نابود کردیں۔
    اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیَا میں اندھیر پڑ جاتا
    یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے جو دنیا کو ان آیات بیّنات کی نہایت ضرورت تھی۔ اور دنیا کے لوگ جو اپنے کفر
    1 مکتوب مؤرخہ 13ستمبر1883ء بنام میر عباس علی صاحب میں اس الہام کو ذکر کرکے اس کے بعد فارسی زبان کا یہ فقرہ درج کیا گیا ہے جو اس الہام کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے۔’’بشارت باد ترا یا احمد من۔تو مراد مَنی و با مَنی نشاندم درخت بزرگی ترا بدست ِخود۔‘‘اور اس الہام کے ذکر سے پہلے لکھا ہے:۔
    ’’چونکہ یہ عاجز اعلان کا اذن بھی پاتا ہے۔ اس لئے کتاب میں یعنی حصہ چہارم میں درج بھی کیا جائے گا۔‘‘
    (مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ55،56)۔ (مرتب)
    اور خبث کی بیماری سے مجذوم کی طرح گداز ہوگئے ہیں۔ وہ بجز اِس آسمانی دوا کے جو حقیقت میں حق کے طالبوں کے لئے آبِ حیات تھی۔ تندرستی حاصل نہیں کرسکتے تھے۔
    وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۔ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَب۔
    اور جب ان کو کہا جائے کہ تم زمین میں فساد مت کرو۔ اور کفر اور شرک اور بد عقیدگی کو مت پھیلاؤ۔ تو وہ کہتے ہیں۔ کہ ہمارا ہی راستہ ٹھیک ہے۔ اور ہم مفسد نہیں ہیں بلکہ مصلح اور ریفارمر ہیں۔ خبردار رہو۔ یہی لوگ مفسد ہیں۔ جو زمین پر فساد کررہے ہیں۔ کہہ میں شریر مخلوقات کی شرارتوں سے خدا کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اور اندھیری رات سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں۔
    یعنی یہ زمانہ اپنے فسادِ عظیم کے رُو سے اندھیری رات کی مانند ہے۔ سو الٰہی قوتیں اور طاقتیں اِ س زمانہ کی تنویر کے لئے درکار ہیں۔ انسانی طاقتوں سے یہ کام انجام ہونا محال ہے۔
    اِنِّیْ نَاصِرُکَ۔ اِنِّیْ حَافِظُکَ۔ اِنِّیْ جَا عِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔ اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا۔ قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَجِیْبٌ۔ یَجْتَبِیْ مَنْ یُّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ۔ لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ۔ وَتِلْکَ الْاَ یَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ۔
    میں تیری مدد کروں گا۔ میں تیری حفاظت کروں گا۔ میں تجھے لوگوں کے لئے پیش رَو بناؤں گا۔ کیا لوگوں کو تعجب ہوا۔ کہہ خداوند ذوالعجائب ہے۔ ہمیشہ عجیب کام ظہور میں لاتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چُن لیتا ہے۔ وہ اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا۔ کہ ایسا کیوں کیا۔ اور لوگ پوچھے جاتے ہیں۔ اور ہم یہ دن لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔
    یعنی کبھی کسی کی نوبت آتی ہے اور کبھی کسی کی۔ اور عنایاتِ الٰہیہ نوبت بہ نوبت اُمت ِ محمدیہ کے مختلف افراد پر وارد ہوتی رہتی ہیں۔
    وَقَالُوْٓا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔ وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔اِذَا نَصَرَاللّٰہُ الْمُؤْمِنَ جَعَلَ لَہُ الْحَاسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ۔ فَالنَّارُ مَوْعِدُھُمْ۔ قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔
    اور کہیں گے کہ یہ تجھ کو کہاں سے ؟اور یہ تو ایک بناوٹ ہے۔ خدائے تعالیٰ جب مومن کی مدد کرتا ہے۔ تو زمین پر کئی اس کے حاسد بنادیتا ہے۔ سو جو لوگ حسد پر اصرار کریں۔ اور باز نہ آویں۔ تو جہنم اُن کا وعدہ گاہ ہے۔ کہہ یہ سب کاروبار خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر اُن کو چھوڑدے۔ تا اپنے بے جا خوض میں کھیلتے رہیں۔
    تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَتَرَحَّمْ عَلَیْھِمْ۔ اَنْتَ فِیْھِمْ بِمَنْزِلَۃِ مُوْسٰی وَاصْبِرْ عَلٰی مَایَقُوْلُوْنَ۔
    لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ۔ اور اُن پر رحم کر۔ تو اُن میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔ اور اُن کی باتوں پر صبر کر۔
    حضرت موسیٰ بُردباری اور حلم میں بنی اسرائیل کے تمام نبیوں سے سبقت لے گئے تھے۔ اور بنی اسرائیل میں نہ مسیح اور نہ کوئی دوسرا نبی۔ ایسا نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ کے مرتبہ ٔعالیہ تک پہنچ سکے۔ توریت سے ثابت ہے جو حضرتِ موسیٰ رفق اور حلم اور اخلاقِ فاضلہ میں سب اسرائیلی نبیوں سے بہتر اور فائق تر تھے۔ جیسا کہ گنتی باب دو از دہم آیت سوم توریت میں لکھا ہے کہ موسیٰ سارے لوگوں سے جو رُوئے زمین پر تھے۔ زیادہ بُرد بار تھا۔ سو خدا نے توریت میں موسیٰ کی بُردباری کی ایسی تعریف کی۔ جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں میں سے کسی کی تعریف میں یہ کلمات بیان نہیں فرمائے۔ ہاں جو اخلاقِ فاضلہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ وہ حضرت موسیٰ سے ہزار درجہ بڑھ کر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ حضرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام اُن اخلاقِ فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے۔ اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ تو خلق عظیم پر ہے.......اور چونکہ اُمت ِ محمدیہ کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں۔ اس لئے الہام متذکرہ بالا میں اِس عاجز کی تشبیہہ حضرتِ موسیٰ سےدی گئی۔ اور یہ تمام برکات حضرت سید الرسل کے ہیں جو خداوند کریم اس کی عاجز اُمت کو اپنے کمال لطف اور احسان سے ایسے ایسے مخاطباتِ شریفہ سے یاد فرماتا ہے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ503 تا 509 حاشیہ در حاشیہ نمبر3 روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 599 تا 607)
    1883ء
    ’’پھر بعد اِس کے یہ الہامی عبارت ہے۔
    وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآئُ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآئُ وَلٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ۔ وَیُحِبُّوْنَ اَنْ تُدْھِنُوْنَ۔ قُلْ یَآ اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔ قِیْلَ ارْجِعَوْٓا اِلَی اللّٰہِ فَلَا تَرْجِعُوْنَ۔ وَقِیْلَ اسْتَحْوِذُوْا فَلَا تَسْتَحْوِذُوْنَ۔ اَمْ تَسْئَلُھُمْ مِّنْ خَرْجٍ فَھُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ۔ بَلْ اٰتَیْنٰھُمْ بِالْحَقِّ فَھُمْ لِلْحَقِّ کَارِھُوْنَ۔ سُبْحَانَہ‘وَتَعَالٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَاُیُفْتَنُوْنَ۔ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا۔ وَلَا یَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ خَافِیَۃٌ۔ وَلَا یَصْلَحُ شَیْءٌ قَبْلَ اِصْلَا حِہٖ۔ وَمَنْ رُّدَّ مِنْ مَّطْبَعِہٖ فَلَا مَرَدَّ لَہ‘۔
    اور جب ان کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں۔ تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ہی ایمان لاویں۔
    جیسے بیوقوف ایمان لائے ہیں۔ خبردار ہو۔ وہی بیوقوف ہیں۔ مگر جانتے نہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ تم اُن سے مداہنہ کرو۔ کہہ اے کافرو میں اس چیز کی پرستش نہیں کرتا۔ جس کی تم کرتے ہو۔ تم کو کہا گیا کہ خدا کی طرف رجوع کرو۔ سو تم رجوع نہیں کرتے۔ اور تم کو کہا گیا۔ جو تم اپنے نفسوں پر غالب آجاؤ سو تم غالب نہیں آتے۔ کیا تو اِن لوگوں سے کچھ مزدوری مانگتا ہے۔ پس وہ اس تاوان کی و جہ سے حق کو قبول کرنا ایک پہاڑ سمجھتے ہیں۔ بلکہ ان کو مفت حق دیا جاتاہے۔ اور وہ حق سے کراہت کررہے ہیں۔ خداے تعالیٰ ان عیبوں سے پاک و برتر ہے۔ جو وہ لوگ اس کی ذات پر لگاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بے امتحان کئے صرف زبانی ایمان کے دعویٰ سے چُھوٹ جاویں گے۔ چاہتے ہیں جو ایسے کاموں سے تعریف کئے جائیں۔ جن کو انہوں نے کیا نہیں۔ اور خداے تعالیٰ سے کوئی چیز چُھپی ہوئی نہیں۔ اور جب تک وہ کسی شے کی اصلاح نہ کرے اصلاح نہیں ہوسکتی۔ اور جو شخص اس کے مطبع سے ردّ کیا جائے اس کو کوئی واپس نہیں لاسکتا۔
    لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ۔ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ۔ وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْنَ۔ یَآ اِبْرَاھِیْمُ اَغْرِضْ عَنْ ھٰذَا اِنَّہ‘عَبْدٌ1 غَیْرُ صَالِحٍ۔ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌوَمَا اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِمُسَیْطِرٍ۔
    کیا تو اسی غم میں اپنے تئیں ہلاک کردے گا۔ کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔جس چیز کا تجھ کو علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑ۔ اور اُن لوگوں کے بارے میں جو ظالم ہیں میرے ساتھ مخاطبت مت کر۔ وہ غرق کئے جائیں گے۔ اے ابراہیم اس سے کنارہ کر۔ یہ صالح آدمی نہیں۔ تو صرف نصیحت دہندہ ہے۔ اِن پرداروغہ نہیں۔
    یہ چند آیات جو بطورِ الہام القا ہوئی ہیں بعض خاص لوگو ں کے حق میں ہیں۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ509،510 حاشیہ در حاشیہ نمبر3 روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 607، 608)
    1883ء
    ’’پھر آگے اس کے یہ الہام ہے۔
    1 وَاسْتَعِیْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ وَاتَّخِذُوْ2 ا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی۔
    اور صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد چاہو۔ اور ابراہیم کے مقام سے نماز کی جگہ پکڑو۔
    1 براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ88 ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 21 صفحہ 115 سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وحی الٰہی کی دوسری قرأت اِنَّہ‘ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ہے۔ (مرتب)
    2 ’’اِس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجاگیا تم اپنی عبادتوں اورعقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ اورہرایک امر میں اُس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔‘‘
    (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 20، 21۔ روحانی خزائن جلد نمبر17 صفحہ 68)
    اس جگہ مقامِ ابراہیم سے اخلاقِ مرضیہ و معاملہ باللہ مراد ہے۔ یعنی محبت ِ الٰہیہ اور تفویض اور رضا اور وفا۔ یہی حقیقی مقام ابراہیم کا ہے۔ جو امت ِ محمدیہ کو بطور تبعیّت و وراثت عطا ہوتا ہے۔ اور جو شخص قلب ِ ابراہیم پر مخلوق ہے اس کی اتباع بھی اسی میں ہے۔
    یُظِلُّ رَبُّکَ عَلَیْکَ وَیُغِیْثُکَ وَیَرْحَمُکَ۔ وَاِنْ لَّمْ یَعْصِمْکَ النَّاسُ فَیَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدہٖ۔ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ وَاِنْ لَّمْ یَعْصِمْکَ النَّاسُ۔
    خدا تعالیٰ اپنی رحمت کا تجھ پر سایہ کرے گا۔ اور نیز تیرا فریاد رس ہوگا۔ اور تجھ پر رحم کرے گا۔ اور اگر تمام لوگ تیرے بچانے سے دریغ کریں۔ مگر خدا تجھے بچائے گا۔ اور خدا تجھے ضرور اپنی مدد سے بچائے گا۔ اگرچہ تمام لوگ دریغ کریں۔
    یعنی خدا تجھے آپ مدد دے گا۔ اور تیری سعی کے ضائع ہونے سے تجھے محفوظ رکھے گا۔ اور اس کی تائیدیں تیرے شامل حال رہیں گی۔
    وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْ کَفَرَ1۔ اَوْقِدْلِیْ یَاھَامَانُ لَعَلِّیْٓ اَطَّلِعُ اِلیٰٓ اِلٰہِ مُوْسٰی وَاِنِّیْ لَاَظُنُّہ‘مِنَ الْکٰذِبِیْنَ
    یاد کر جب منکر نے بغرض کسی مکر کے اپنے رفیق کو کہا کہ کسی فتنہ یا آزمائش کی آگ بھڑکا۔ تا میں موسیٰ کے خدا پر یعنی اِس شخص کے خدا پر مطلع ہوجاؤں۔ کہ کیونکر وہ اُس کی مدد کرتا ہے۔ اور اُس کے ساتھ ہے یا نہیں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے۔
    یہ کسی واقعہ آیندہ کی طرف اشارہ ہے کہ خوبصورت گذشتہ بیان کیا گیا ہے۔
    تَبَّتْ یَدَٓا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ۔ مَاکَانَ لَہ‘ٓ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْھَآ اِلَّا خَآئِفًا۔ وَمَآ اَصَابَکَ فَمِنَ اللّٰہِ۔
    ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے۔ اور وہ بھی ہلاک ہوا۔ اور اُس کو لائق نہ تھا کہ اِس کام میں بجز خائف اور ترساں ہونے کے یونہی دلیری سے داخل ہوجاتا اور جوتجھ کو پہنچے تو وہ خدا کی طرف سے ہے۔
    1 (ا) یہ لفظ کفّر اور کفَر دونوں قرأتیں ہیں۔ کیونکہ کافر کہنے والا بہر حال منکر بھی ہوگا اور جو شخص اس (بقیہ حاشیہ) دعویٰ سے منکر ہے وہ بہرحال کافر ٹھہرائے گا۔ اور ھامان کا لفظ ہیمان کے لفظ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہیمان اُسے کہتے ہیں جو کسی وادی میں اکیلا سرگرداں پھرے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 64حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد نمبر21 صفحہ 82)
    (ب) ’’یادر ہے کہ اس وحی الٰہی میں دونوں قرأتیں ہیں۔ کَفَرَ بھی اور کَفَّرَ بھی۔ اور اگر کَفَرَ کی قرأت کی رو سے معنے لئے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ پہلے شخص مُستَفْتِیْ میرے پر اعتماد رکھتا ہوگا۔ اور معتقدین میں داخل ہوگا۔ اور پھر بعد میں برگشتہ اور منکر ہوجائے گا۔ اور یہ معنی مولوی محمد حسین بٹالوی پر بہت چسپاں ہیں۔ جنہوں نے براہین احمدیہ کے ریویو میں میری نسبت ایسا اعتقاد ظاہر کیا۔ کہ اپنے ماں باپ بھی میری پر فدا کردیئے۔‘‘ (حقیقتہ الوحی صفحہ 354 حاشیہْ روحانی خزائن جلد نمبر22 صفحہ 368 حاشیہ)
    یہ کسی شخص کے شر کی طرف اشارہ ہے۔ جو بذریعہ تحریر یا بذریعہ کسی اور فعل کے اُس سے ظہور میں آوے1۔ واللہ اعلم بالصواب۔
    اَلْفِتْنَۃ ھٰھُنَا۔ فَاصْبِرْکَمَا صَبَرَ اُو لُوا الْعَزْمِ۔ اَلَآ اِنَّھَا فِتْنَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ لِیُحِبَّ حُبًّا جَمًّا حُبًّا مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْاَکْرَمِ عَطَآئً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ۔
    اس جگہ فتنہ ہے پس صبر کر۔ جیسے اولُو العزم لوگوں نے صبر کیا ہے۔ خبردار ہو۔ یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہے۔ تا وہ ایسی محبت کرے جو کامل محبت ہے۔ اُس خدا کی محبت جو نہایت عزت والا اور نہایت بزرگ ہے وہ بخشش جس کا کبھی انقطاع نہیں۔
    شَاتَانِ تُذْ بَحَانِ وَکُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ۔
    دو بکریاں2 ذبح کی جائیں گی۔ اور زمین پر کوئی ایسا نہیں جو مرنے سے بچ جائے گا۔ یعنی ہریک کیلئے قضاء و قدر درپیش ہے اور موت سے کسی کو خلاصی نہیں ....
    وَلا تَھنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا اَلَیْسَ اللّٰہ بِکَافٍ عَبْدَہ‘ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَھِیْدًا۔
    اور سست مت ہو اور غم مت کرو۔ کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں ہے۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر
    1۔ ’’یہ پیش گوئی قریباً فتویٰ تکفیر سے بارہ برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع ہوچکی ہے یعنی جبکہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب نے یہ فتویٰ تکفیر لکھا۔ اور میاں نذیر حسین صاحب دہلوی کو کہا کہ سب سے پہلے اس پر مہر لگاوے۔ اور میرے کفر کی نسبت فتویٰ دیدے۔ اور تمام مسلمانوں میں میرا کافر ہونا شائع کردے۔ سو اس فتویٰ اور میاں صاحب مذکور کے مہر سے بارہ برس پہلے یہ کتاب تمام پنجاب اور ہندوستان میں شائع ہوچکی تھی اور مولوی محمد حسین جو بارہ برس کے بعد اوّل المکفرّین بنے۔ بانی تکفیر کے وُہی تھے۔ اور اس آگ کو اپنی شہرت کی و جہ سے تمام ملک میں سلگانے والے میاں نذیر حسین صاحب دہلوی تھے۔ اس جگہ سے خدا کا علمِ غیب ثابت ہوتا ہے کہ ابھی اس فتویٰ کا نام ونشان نہ تھا بلکہ مولوی محمد حسین صاحب میری نسبت خادموں کی طرح اپنے تئیں سمجھتے تھے اُس وقت خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی جس کو کچھ بھی عقل اور فہم ہے وہ سوچے اور سمجھے کہ کیا انسانی طاقتوں میں یہ بات داخل ہوسکتی ہے کہ جو طوفان بارہ برس کے بعد آنے والا تھا جس کا پر زور سیلاب مولوی محمد حسین جیسے مدعی اخلاص کو درجہ ضلالت کی طرف کھینچ کر لے گیا اور نذیر حسین جیسے مخلص کو جو کہتا تھا کہ براہین احمدیہ جیسی اسلام میں کوئی کتاب تالیف نہیں ہوئی۔ اس سیلاب نے دبالیا۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ صفحہ 75 روحانی خزائن جلد نمبر17 صفحہ 215، 216)
    2 یہ پیشگوئی حضرت شہزادہ مولا ناسید عبداللطیف صاحب کابلی شہید و مولوی عبدالرحمن صاحب کابلی شہید رضی اللہ عنہ‘ کی شہادت سے پوری ہوئی۔ تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب تذکرۃ الشہادتین۔ (مرتب)
    ہے۔ اور خدا ان لوگوں پر تجھ کو گواہ لائے گا۔
    اَوْ فَی اللّٰہُ اَجْرَکَ۔ وَیَرْضٰی عَنْکَ رَبُّکَ وَیُتِمُّ اسْمَکَ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْ اشَیْئًا وَّھُوَ اشَرٌّ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْاشَیْئًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔
    خدا تیرا بدلہ پورا دے گا۔ اور تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے اسم کو پورا کرے گا۔ اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو۔ اور اصل میں وہ تمہارے لئے بُری ہو۔ اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بُری سمجھو۔ اور اصل میں وہ تمہارے لئے اچھی ہو۔ اور خدا تعالیٰ عواقب ِ امور جانتا ہے۔ تم نہیں جانتے۔
    کُنْتُ کَنْزًا مَّخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ۔ اِنَّ السَّمٰوَات، وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰھُمَا۔ وَ اِنْ یَّتَّخِذُ وْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا۔ اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ۔ قُلْ اِنَّمَا بَشَرٌ1 مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔ وَالْخَیْرُکُلُّہ‘فِی الْقُرْاٰنِ۔ لَا یَمَسُّہ‘ٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ۔ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًامِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔
    میں ایک خزانہ2پوشیدہ تھاسو میں نے چاہا کہ شناخت کیا جاؤں۔ آسمان اور زمین دونوں بند تھے سو ہم نے ان دونوں کو کھول دیا۔ اور تیرے ساتھ ہنسی سے ہی پیش آئیں گے۔ اور ٹھٹھا مار کرکہیں گے۔ کیا یہی ہے جس کو خدا نے اصلاح خلق کے لئے مقرر کیا۔ یعنی جن کا مادّہ ہی خبث ہے۔ اُن سے صلاحیت کی اُمید مت رکھ۔
    اور پھر فرمایا۔ کہہ میں صرف تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں۔ مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے۔ کہ بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی تمہارا معبود نہیں۔ وہی اکیلا معبود ہے جس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا نہیں چاہئے۔ اور تمام خیر اور بھلائی قرآن میں ہے۔ بجز اُسکے اور کسی جگہ سے بھلائی نہیں مل سکتی۔ اور قرآنی حقائق صرف انہیں لوگوں پر کھلتے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ
    1 یہ وحی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اربعین نمبر 2 کے صفحہ8پر بحوالہ براہین احمدیہ یوں نقل فرمائی ہے۔’’قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ۔‘‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ میں بَشَرٌ سے پہلے ’’اَنَا‘‘ کا لفظ سہو کتابت سے رہ گیا ہے۔
    (روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ 354) (مرتب)
    2 پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ فرماتے ہیں:۔’’میں نے ایک روز حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت کنت کَنْزًا الخ ...... کے معانی میں صوفیاء نے اور نیز دیگر علماء نے بہت کچھ زور لگائے۔ آپ فرمائیں کہ اس جملہ مبارک کے کیا معنی ہیں۔ فرمایا۔ آسان معنی اس کے یہی ہیں کہ جب دنیا میں ضلالت اور گمراہی اور کفر وشرک اور بدعات و رسومات مختر عات پھیل جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور اُس تک پہنچنے کی راہیں گُم ہوجاتی ہیں۔ اور دل سخت اور خشیت اللہ سے خالی ہوجاتے ہیں۔ تو ایسے وقت اور ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ
    اپنے ہاتھ سے صاف اور پاک کرتا ہے۔ اور میں ایک1عمر تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں۔ کیا تم کو عقل نہیں....
    قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَالْھُدٰی وَاِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ رَبِّ اغْفِرْوَارْحَمْ مِّنَ السَّمَآئِ۔ رَبِّ اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ اِیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَنِیْ۔ اِیْلِیْ اٰوس۔
    کہہ ہدایت وہی ہے جو خدا کی ہدایت ہے۔ اور میرے ساتھ میرا رب ہے۔ عنقریب وہ میرا راہ کھول دے گا۔ اے میرے خدا آسمان سے رحم اور مغفرت کر۔ میں مغلوب ہوں۔ میری طرف سے مقابلہ کر۔ اے میرے خدا۔ اے میرے خدا۔ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔
    آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اٰوس بباعث سُرعت ِورود مشتبہ رہا ہے اور نہ اس کے کچھ معنے کُھلے۔ واللہ
    (بقیہ حاشیہ) مخفی خزانہ کی طرح ہوجاتا ہے تو اس کے بعد خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ میں پھر دنیا پرظاہر ہوؤں اور دنیا مجھے پہچانے۔ تو خدا تعالیٰ کسی اپنے بندہ کو اپنے بندوں میں سے چُن لیتا ہے اور اُس کو خلعتِ خلافت عطا فرماتا ہے اُس کے ذریعہ سے وہ شناخت کیا جاتا ہے وہ پسندیدہ اور برگزیدہ بندہ خدا تعالیٰ کی محبت ازسرِ نو خالی دلوں میں بھرتا اور اُس کی معرفت کے اسرار لوگوں پر ظاہر کرتا ہے ہر ایک زمانہ میں ابتدائے آفرینش سے یہی سنّت اللہ اور یہی طریقتہ اللہ رہا ہے۔ بالآخر ہمارے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا کہ لوگ معرفت الٰہی کو کھو بیٹھے صفاتِ الٰہی میں کچھ کا کچھ اپنی طرف سے تصرف کیا۔ اسماء اللہ سے غافل ہوگئے اُس کی کتابوں اور صحیفوں کو ترک کر بیٹھے اُس کے ندّ اور شریک بنالئے۔ پس خدا تعالیٰ پوشیدہ خزانہ کی طرح ہوگیا۔ تو خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنی معرفت اور محبت دے کر بھیجا۔ تا کہ دنیا کو راہِ راست پر لگایا جاوے۔ پس اسی واسطے ہم تحریر سے‘ تقریر سے‘ توجہ سے‘ دعا سے‘اپنے چال چلن سے پر ہیبت پیشگوئیوں اور اسرارِ غیب سے جو خدا نے ہمیں عطا کئے۔ اور معارف و حقائق و دقائق قرآنی سے رات دن لگے ہوئے ہیں۔ اور ہم کیا خداتعالیٰ نے ہمارے سب کاروبار اور اعضا اور ہاتھ اور زبان اور ہر ایک حرکت و سکون کو اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے جس طرح اُس کی مرضی ہوتی ہے وہ ہمیں چلاتا ہے اور ہم اُسی طرح چلتے ہیں۔ ہمارا اس میں کچھ اختیار نہیں۔‘‘ (الحکم جلد 6 نمبر23 مؤرخہ4 2؍ جون1902ء صفحہ 11)
    1 ’’قریباً1882ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وحی سے مشرف فرمایا کہ ولَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ اوراس میں عالم الغیب خدا نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ کوئی مخالف کبھی تیری سوانح پر کوئی داغ نہیں لگاسکے گا۔ چنانچہ اس وقت تک جو میری عمر قریباً پینسٹھ سال ہے کوئی شخص دور یا نزدیک رہنے والا ہماری گذشتہ سوانح پر کسی قسم کا داغ ثابت نہیں کرسکتا۔ بلکہ گذشتہ زندگی کی پاکیزگی کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود مخالفین سے بھی دلوائی ہے جیسا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے نہایت پُر زور الفاظ میں اپنے رسالہ اشاعت السنہ میں کئی بار ہماری اور ہمارے خاندان کی تعریف کی ہے۔ اور دعویٰ کیا ہے کہ اس شخص کی نسبت اور اس کے خاندان کی نسبت مجھ سے زیادہ کوئی واقف نہیں۔ اور پھر انصاف کی پابندی سے بقدر اپنی واقفیت کے تعریفیں کی ہیں۔ پس ایک ایسا مخالف جو تکفیر کی بنیاد کا بانی ہے۔ پیشگوئی وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ کا مصدِّق ہے۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ 212۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 590)
    اعلم بالصواب .........
    یَا عَبْدَ الْقَادِرِ اِنِّیْ مَعَکَ اَسْمَعُ وَاَرٰی۔ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَ قُدْرَتِیْ۔ وَنَجَّیْنَا کَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنَّاکَ فُتُوْنًا۔ لَیَا تِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدًی اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغَالِبُوْنَ۔ وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ بَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ۔ وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ بَھَمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔
    اے عبدالقادر میں تیرے ساتھ ہوں۔ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ تیرے لئے میں نے رحمت اور قدرت کو اپنے ہاتھ سے لگایا۔ اور تجھ کو غم سے نجات دی اور تجھکو خالص کیا۔ اور تم کو میری طرف سے مدد آئیگی۔ خبردار ہو لشکر خدا کا ہی غالب ہوتا ہے۔ اور خدا ایسا نہیں جو اُن کو عذاب پہنچادے جب تک تو اُن کے درمیان ہے یا جب وہ استغفار کریں۔
    اَنَا بُدُّکَ اللَّازِمُ۔ اَنَا مُحْیِیْکَ نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُنِّیْ رُوْحَ الصِّدْقِ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحبَّۃً مِّنِّیْ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْاَہ‘ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ۔
    میں تیرا چارہ لازمی ہوں۔ میں تیرا زندہ کرنے والا ہوں۔ میں نے تجھ میں سچائی کی روح پھونکی ہے۔ اور اپنی طرف سے تجھ میں محبت ڈال دی ہے۔ تاکہ میرے روبرو تجھ سے نیکی کی جائے۔ سو تو اس بیج کی طرح ہے جس نے اپنا سبزہ نکالا۔ پھر موٹا ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اپنی ساقوں پر قائم ہوگیا۔
    ان آیات میں خدائے تعالیٰ کی اُن تائیدات اور احسانات کی طرف اشارہ ہے اور نیز اُس عروج اور اقبال اور عزت اور عظمت کی خبر دی گئی ہے کہ جو آہستہ آہستہ اپنے کمال کو پہنچے گی۔
    اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ۔
    ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح عطا فرمائی ہے یعنی عطا فرمائیں گے۔ اور درمیان میں جو بعض مکروہات اور شدائد ہیں۔ وہ اس لئے ہیں تا خدائے تعالیٰ تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرمادے۔
    یعنی اگر خدائے تعالیٰ چاہتا۔ تو قادر تھا کہ جو کام مدِّنظر ہے وہ بغیر پیش آنے کسی نوع کی تکلیف کے اپنے انجام کو پہنچ جاتا اور بآسانی فتح عظیم حاصل ہوجاتی لیکن تکالیف اِس جہت سے ہیں کہ تا وہ تکالیف موجب ترقی مراتب و مغفرت خطا یا ہوں........
    اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہ‘۔ فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّاقَالُوْا وَکَانَ عِنْدَاللّٰہِ وَجِیْھًا۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہ‘۔ فَلَمَّا تجَلّٰی رَبُّہ‘ لِلْجَبَلِ جَعَلَہ‘ دَکًّا۔ وَاللّٰہُ مُوْھِنُ کَیْدِالْکَافِرِیْنَ۔ بَعْدَ الْعُسْرِیُسْرٌ۔ وَلِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہ‘۔ وَلِنَجْعَلَہ‘ٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔ قَوْلُ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ تَمْتَرُوْنَ۔
    کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں۔ پس خدا نے اُس کو اُن الزامات سے بَری کیا۔ جو اُس پر لگائے گئے تھے۔ اور خدا کے نزدیک وہ وجیہہ1 ہے۔کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں۔ پس جبکہ خدا نے پہاڑ پر تجلّی کی تو اُس کو پاش پاش کردیا۔ یعنی مشکلات کے پہاڑ آسان ہوئے۔ اور خدائے تعالیٰ کافروں کے مکر کو سست کردیگا اور اُن کو مغلوب اور ذلیل کرکے دکھلائے گا۔ تنگی کے بعد فراخی ہے۔ اور پہلے بھی خدا کا حکم ہے اور پیچھے بھی خدا کا ہی حکم ہے۔ کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں اور ہم اُس کو لوگوں کے لئے رحمت کا نشان بنائیں گے۔ اور یہ امر پہلے ہی سے قرار پایا ہوا تھا یہ وہ سچی بات ہے جس میں تم شک کرتے ہو۔
    مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ‘ٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ۔ رِجَالٌ لَّا تُلْھِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ۔ مَتَّعَ اللّٰہُ الْمُسْلِمِیْنَ بِبَرَکَاتِھِمْ فَانْظُرُوْٓا اِلٰٓی اٰثَارِ رَحْمَۃِ اللّٰہِ۔ وَاَنْبِئُوْنِیْ مِنْ مِّثْلِ ھٰٓؤُ لَآئِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ وَمَنْ یَّبْتَغْ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا لَّنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ۔
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کار سول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں۔ وہ کفّار پر سخت ہیں۔ یعنی کفّار اُن کے سامنے لاجواب اور عاجز ہیں۔ اور اُن کی حقانیت کی ہیبت کافروں کے دلوں پر مستولی ہے اور وہ لوگ آپس میں رحم کرتے ہیں۔ وہ ایسے مرد ہیں کہ ان کو یادِ الٰہی سے نہ تجارت روک سکتی ہے۔ اور نہ بیع مانع ہوتی ہے۔ یعنی محبت ِ الٰہیہ میں ایسا کمال تام رکھتے ہیں کہ دُنیوی مشغولیاں گو کیسی ہی کثرت سے پیش آویں۔ اُن کے حال میں خلل انداز نہیں ہوسکتیں۔ خداے تعالیٰ اُن کے برکات سے مسلمانوں کو متمتع کرے گا۔ سو اُن کا ظہور رحمت ِ الٰہیہ کے آثار ہیں۔ سو اُن آثار کو دیکھو اور اگر اِن لوگوں کی کوئی نظیر تمہارے پاس ہے یعنی اگر تمہارے ہم مشربوں اور ہم مذہبوں میں سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ اِسی طرح تائیداتِ الٰہیہ سے مؤید ہوں۔ سو تم اگر سچے ہو تو ایسے لوگوں کو پیش کرو۔ اور جو شخص بجز دین ِ اسلام کے کسی اور دین کا خواہاں اور جویاں ہوگا۔ وہ دین ہرگز اُس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور آخرت میں وہ زیاں کاروں میں ہوگا۔
    یَآ اَحْمَدُ فَا ضَتِ الرَّحْمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔ اِنَّآ اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ1 فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔
    1 ’’یہ پیشگوئی اس طرح پر پوری ہوئی کہ کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر کے وقت میں میرے پر خون کا الزام لگایا گیا۔ خدا نے مجھے اُس سے بَری کردیا اور پھر ڈوئی ڈپٹی کمشنر کے وقت میں مجھ پر الزام لگایا گیا اُس سے بھی خدا نے مجھے بَری کردیا اور پھر مجھ پر جاہل ہونے کا الزام لگایا گیا۔ سو مخالف مولویوں کی خود جہالت ثابت ہوئی اور پھر مہرعلی نے مجھ پر سارق ہونے کا الزام لگایا۔ سو اس کا خود سارق ہونا ثابت ہوا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ131 ۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 509)
    2 حضرت اقدس نزول المسیح میں اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں:۔’’ہم تجھے بہت سے ارادتمند عطا کریں گے اور ایک کثیر جماعت تجھے دی جاوے گی۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ 131۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 509)
    وَاَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ۔ اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَا مَعَکَ۔ سِرُّکَ سِرِّیْ وَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِٓیْ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ وَرَفعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ وَجِیْھًافِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔
    اے احمدتیرے لبوں پر رحمت جاری ہوئی ہے ہم نے تجھ کو معارفِ کثیرہ عطا فرمائے ہیں ۔سو اُس کے شکر میں نماز پڑھ اور قربانی دے۔ اور میری یاد کے لئے نماز کو قائم کر۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ ہم نے تیرا وہ بوجھ جس نے تیری کمر توڑ دی اُتار دیا ہے۔ اور تیرے ذِکر کو اونچا کردیا ہے۔ تُو سیدھی راہ پر ہے۔ دنیا اور آخرۃ میں وجیہہ اور مقربین میں سے ہے۔
    حَمَاکَ اللّٰہُ۔ نَصَرَکَ اللّٰہُ۔ رَفَعَ اللّٰہُ حُجَّۃَ الْاِسْلَامِ۔ جَمَالٌ۔ ھُوَالَّذِیْ اَمْشَاکُمْ فِیْ کُلِّ حَالٍ۔ لَا تُحَاطُ اَسْرَارُ الْاَولِیَآئِ۔
    خدا تیر ی حمایت کرے گا۔ خدا تجھ کو مدد دے گا۔ خدا حجت ِاسلام کو بلندکرے گا۔ جمالِ الٰہی ہے جس نے ہر حال میں تمہارا تنقیہ کیا ہے۔ خدائے تعالیٰ کو جو اپنے ولیوں میں اسرار ہے۔ وہ احاطہ سے باہر ہیں۔ کوئی کسی راہ سے اس کی طرف کھینچا جاتا ہے اور کوئی کسی راہ سے.........
    یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خداے تعالیٰ میں دو صفتیں ہیں جو تربیت ِ عباد میں مصروف ہیں۔ ایک صفت رفق اور لطف اور احسان ہے اس کا نام جمال ہے۔ اور دوسری صفت قہر اور سختی ہے اِس کا نام جلال ہے۔ سو عادۃ اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جو لوگ اُس کی درگاہِ عالی میں بلائے جاتے ہیں۔ اُن کی تربیت کبھی جمالی صفت سے اور کبھی جلالی صفت سے ہوتی ہے۔ اور جہاں حضرت احدیّت کے تلطّفاتِ عظیمہ مبذول ہوتے ہیں۔ وہاں ہمیشہ صفت ِ جمالی کے تجلیات کا غلبہ رہتا ہے۔ مگر کبھی کبھی بندگانِ خاص کی صفاتِ جلالیہ سے بھی تادیب اور تربیت منظور ہوتی ہے جیسے انبیاء کرام کے ساتھ بھی خدا ے تعالیٰ کا یہی معاملہ رہا ہے کہ ہمیشہ صفاتِ جمالیہ حضرت احدیت کے اُن کی تربیت میں مصروف رہے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی اُن کی استقامت اور اخلاقِ فاضلہ کے ظاہر کرنے کے لئے جلالی صفتیں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ اور اُن کو شریر لوگوں کے ہاتھ سے انواع اقسام کے دکھ ملتے رہے ہیں۔ تا اُن کے وہ اخلاق فاضلہ جو بغیر تکالیف شاقہ کے پیش آنے کے ظاہر نہیں ہوسکتے۔ وہ سب ظاہر ہوجائیں۔ اور دنیا کے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ کچے نہیں ہیں۔ بلکہ سچے وفادار ہیں۔
    وَقَالُوْٓا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔ اِنْ ھٰذَا اِلَّا سِحرٌ یُّؤْثَرُ۔ لَنْ نُّوْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَھْرَۃً۔ لَا یُصَدِّقُ السَّفِیْہُ اِلَّا سَیْفَۃَ الْھَلَاکِ۔ عَدُوٌّ لِّیْ وَعَدُوٌّ لَّکَ قُلْ اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ۔ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی۔
    اور کہیں گے یہ تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔ یہ تو ایک سحر ہے جو اختیار کیا جاتا ہے۔ ہم ہرگز نہیں مانیں گے۔
    جب تک خدا کو بچشمِ خود دیکھ نہ لیں۔سفیہ بجز ضربہ ٔ ہلاکت کے کسی چیز کو باور نہیں کرتا۔ میرا اور تیرا دشمن ہے۔ کہہ خدا کا امر آیا ہے۔ سو تم جلدی مت کرو۔ جب خدا کی مدد آئے گی تو کہا جائے گا کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں کہیں گے کہ کیوں نہیں۔
    اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ وَلَاتَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا۔ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُمْ رَءُوْفًا رَّحِیْمًا۔ اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ تَمُوْتُ وَاَنَا رَاضٍ مِّنْکَ۔ فَادْخُلُوا الْجَنَّۃَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْ ھَآ اٰمِنِیْنَ سَلَامٌ عَلَیْکٌ جُعِلْتَ مُبَارَکًا سَمِعَ اللّٰہُ اِنَّہ‘سَمِیْعُ الدُّعَآئِ۔ اَنْتَ مُبَارَکٌ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔ اَمْرَاضُ النَّاسِ وَبَرَکَا تُہ‘اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ اُذْکُرْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکَ وَ اِنِّیْ فَضَّلْتُکَ عَلَی الْعَالَمِیْنَ۔ یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۔ مَنَّ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ وَاَحْسَنَ اِلٰٓی اَحْبَابِکُمْ وَعَلَّمَکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْن۔ وَاِنْ تَعُدُّ و انِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا۔
    میں تجھ کو پوری1نعمت دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور جو لوگ تیری متابعت اختیار کریں یعنی حقیقی طور پر اللہ و رسول کے مُتّبعین میں داخل ہوجائیں۔ اُن کو اُن کے مخالفوں پر کہ جو انکاری ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ یعنی وہ لوگ حجت اور دلیل کے رُو سے اپنے مخالفوں پر غالب رہیں گے۔ اور صدق اور راستی کے انوار سا طعہ اُنہیں کے شامل حال رہیں گے۔ اور سُست مت ہو اور غم مت کرو۔ خدا تم پر بہت ہی مہربان ہے۔ خبردار ہو بہ تحقیق جو لو گ مقربان الٰہی ہوتے ہیں اُن پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم کرتے ہیں۔ تُو اس حالت میں مرے گا کہ جب خدا تجھ پر راضی ہوگا۔ پس بہشت میں داخل ہوانشاء اللہ امن کے ساتھ۔ تم پر سلام ہو۔ تم شرک سے پاک ہوگئے۔ سو تم امن کے ساتھ بہشت میں داخل ہو۔ تجھ پر سلام۔ تو مبارک کیا گیا۔ خدانے دعا سن لی۔ وہ دعاؤں کو سنتا ہے۔ تو دنیا اور آخرت میں مبارک ہے.........لوگوں کی بیماریاں اور خدا کی برکتیں۔ یعنی مبارک کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے لوگوں کی روحانی بیماریاں دُور
    1 ’’میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفّی کے معنے ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں۔ جن کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں میں مانتا ہوں کہ وہ میری غلطی ہے الہامی غلطی نہیں۔ میں بشر ہوں اور بشریت کے عوارض مثلاً جیسا کہ سہو اور نسیان اور غلطی یہ تمام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی ہیں گو میں جانتا ہوں کہ کسی غلطی پر مجھے خدا تعالیٰ قائم نہیں رکھتا۔ مگر یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں اپنے اجتہاد میں غلطی نہیں کرسکتا۔ خدا کا الہام غلطی سے پاک ہوتا ہے مگر انسان کا کلام غلطی کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ سہو و نسیان لازمہ بشریّت ہے۔‘‘
    (ایّام الصلح صفحہ41۔ روحانی خزائن جلد نمبر 14 صفحہ 271، 272۔ نیز دیکھو براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ73 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر21 صفحہ 93)
    ہوں گی اور جن کے نفس سعید ہیں۔ وہ میری باتوں کے ذریعہ سے رشد اور ہدایت پاجائیں گے اور ایسا ہی جسمانی بیماریاں اور تکالیف جن میں تقدیر مبرم نہیں1۔
    اور پھر فرمایا کہ تیرا رب بڑا ہی قادر ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدا کی نعمت کو یاد رکھ۔ اور میں نے تجھ کو تیرے وقت کے تمام عالموں پر فضیلت دی۔
    اس جگہ جاننا چاہئے کہ یہ تفضیل طفیلی اور جزوی ہے۔ یعنی جو شخص حضرت ِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل طور پر متابعت کرتا ہے۔ اُس کا مرتبہ خدا کے نزدیک اُس کے تمام ہم عصروں سے بر تر و اعلیٰ ہے۔ پس حقیقی اور کلّی طور پر تمام فضیلتیں حضرت خاتم الانبیاء کو جناب احدیّت کی طرف سے ثابت ہیں۔ اور دوسرے تمام لوگ اُس کی متابعت اور اُس کی محبت کے طفیل سے علیٰ قدر متابعت و محبت مراتب پاتے ہیں۔فما اعظم شان کمالہ اللّٰھم صلّ علیہ واٰلہٖ۔
    اب بعد اس کے بقیہ ترجمہ الہام یہ ہے۔ اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔ وہ تجھ پر راضی اور تو اُس پر راضی۔ پھر میرے بندوں میں داخل ہو۔ اور میری بہشت میں اندر آجا۔ خدا نے تجھ پر احسان کیا۔ اور تیرے دوستوں سے نیکی کی۔ اور تجھ کو علم بخشا جس کو تو خود بخود نہیں جان سکتا تھا۔ اور اگر تو خدا کی نعمتوں کو گننا چاہے تو یہ تیرے لئے غیر ممکن ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ510 تا 521 حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحہ 608تا 623)
    1883ء
    ’’پہلے اس2 سے چند مرتبہ الہامی طور پر خدائے تعالیٰ نے اِس عاجز کی زبان پر یہ دعا جاری کی تھی کہ
    رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُبَارَکًا حَیْثُمَا کُنْتُ
    یعنی اے میرے رب مجھے ایسا مبارک کر۔ کہ ہر جگہ کہ میں بودو باش کروں۔ برکت میرے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے اپنے لطف و احسان سے وہی دعا کہ جو آپ ہی فرمائی تھی۔ قبول فرمائی۔ اور یہ عجیب بندہ نوازی ہے کہ اوّل آپ ہی
    1 حضرت اقدس الہام امراض الناس وبرکاتہ‘ کی تشریح یوں فرماتے ہیں:۔’’یعنی لوگوں میں مرض پھیلے گی اور اس کے ساتھ ہی خدا کی برکتیں نازل ہوں گی اور وہ اس طرح پر کہ وہ بعض کو نشان کے طور پر اس بلا سے محفوظ رکھے گا اور دوسرے یہ کہ یہ بیماریاں جو آئیں گی یہ دینی برکات کا موجب ہوجائیں گی اور بہتیرے لوگ اُن خوفناک دنوں میں دینی برکات سے حصہ لیں گے اور سلسلہ حقہ میں داخل ہوجائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور طاعون کا خوفناک نظارہ دیکھ کر بڑے متعصّب اس سلسلہ میں داخل ہوگئے ہیں۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ20۔ روحانی خزائن جلد نمبر18۔ صفحہ 398)
    2 یعنی الہام جُعِلْتَ مُبَارَکًا مندرجہ صفحہ 75(مرتب)
    الہامی طور پر زبان پر سوال جاری کرنا۔ اور پھر یہ کہنا کہ یہ تیرا سوال منظور کیا گیا ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 520 حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 621)
    1883ء
    ’’پھر ان الہامات کے بعد چند الہام فارسی اور اُردو میں اور ایک انگریزی میں ہوا...........اور وہ یہ ہے:۔
    بخرام کہ 1 وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔پاک محمدؐمطفٰے نبیوں کا سردار۔ خدا تیرے سب کام درست کردیگا۔ اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔ رب الافواج اِس طرف توجہ کرے گا۔ اِس نشان کا مدّعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے مُنہ کی باتیں ہیں2۔ جناب الٰہی کے احسانات کا دروازہ کھُلا ہے۔ اور اُس کی پاک رحمتیں اِس طرف متوجہ ہیں۔ دی ڈیز شَلْ کم وِہْن گاڈ شیل ہَیلْپ یُو۔ گلوری بی ٹو دس لارڈ گَوڈ میکرآف ارتھ اینڈ ہیْون3۔
    وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ خدائے ذوالجلال آفرینندۂ زمین و آسمان۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ521، 522 حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 623)
    1 (ترجمہ از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) ’’اب ظہور کر اور نکل کہ تیرا وقت نزدیک آگیا اور اب وہ وقت آرہا ہے کہ محمدی گڑھے میں سے نکال لئے جاویں گے اور ایک بلند اور مضبوط مینار پر اُن کا قدم پڑیگا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ133، روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 511)
    2 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک سوال پیش ہوا کہ حضور کو جو الہام ہوا ہے ’’قرآن خدا کا کلام ہے اور میرے منہ کی باتیں‘‘ اس الہام الٰہی میں ’’میرے‘‘ کی ضمیر کس کی طرف پھرتی ہے یعنی کس کے منہ کی باتیں۔
    فرمایا:۔ خدا کے منہ کی باتیں۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے منہ کی باتیں۔ اس طرح کے ضمائر کے اختلاف کی مثالیں قرآن شریف میں موجود ہیں۔
    (بدر جلد 6نمبر 28۔ 11 جولائی 1907ء صفحہ 6)
    3 9. The days shall come when God shall help you.
    10. Glory be to This Lord God Maker of earth and heaven.
    1883ء
    ’’ ابھی چند روز کا ذکر ہے کہ یک دفعہ بعض امور میں تین طرح کا غم پیش آگیا تھاجس کے تدارک کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی اور بجز ہرج و نقصان اُٹھانے کے اور کوئی سبیل نمودار نہ تھی۔ اُسی روز شام کے قریب یہ عاجز اپنے معمول کے مطابق جنگل میں سیر کو گیا۔ اور اُس وقت ہمراہ ایک آریہ ملاوا مل نامی تھا۔ جب واپس آیا تو گاؤں کے دروازہ کے نزدیک یہ الہام ہوا۔
    نُنَجِّیْکَ مِنَ الْغَمِّ
    پھر دوبارہ الہام ہوا۔
    نُنَجِّیْکَ مِنَ الْغَمِّ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر ٌ
    یعنی ہم تجھے اس غم سے نجات دیں گے۔ ضرور نجات دیں گے۔ کیا تو نہیں جانتا۔ کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
    چنانچہ اسی قدم پر جہاں الہام ہوا تھا۔ اُس آریہ کو اُس الہام سے اطلاع دی گئی تھی۔ اور پھر خدا نے وہ تینوں طور کا غم دور کردیا۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ553، 554 حاشیہ در حاشیہ نمبر4۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 659، 660)
    1883ء
    1 دوہ آل مین شُڈ بی اینگری بٹ گوڈ از وِدّ یُو۔ 2ہِی شل ہیلپ یُو۔
    3 ورڈس اوف گوڈ کین ناٹ ایکس چینج
    یعنی اگرچہ تمام آدمی ناراض ہوں گے۔ مگر خدا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہاری مدد کریگا۔ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ554 حاشیہ در حاشیہ نمبر4۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ660، 661)
    1883ء
    اَلْخَیْرُکُلَّہ‘فِی الْقُرْاٰنِ کِتَابِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ اِلَیْہِ یُصْعَدُالْکَلِمُ الطَّیِّبُ۔
    یعنی تمام بھلائی قرآن میں ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ وہی اللہ جو رحمان ہے اُسی رحمان کی طرف کلماتِ طیبہ صعود کرتے ہیں۔
    1
    1 Though all men should be angry but God is with you.
    2 He shall help you.
    3 Words of God can not exchange.
    ھُوَالَّذِی یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْ م بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَیَنُشُرُ رَحْمَتَہ‘
    اللہ وہ ذات کریم ہے کہ جو نا امیدی کے پیچھے مینہہ برساتا ہے اور اپنی رحمت کو دنیا میں پھیلاتا ہے یعنی عین ضرورت کے وقت تجدید دین کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
    یَجْتَبِیْ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عَبَادِہٖ
    جس کو چاہتا ہے بندوںمیں سے چُن لیتا ہے۔
    وَکَذَالِکَ مَنَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْٓئَ وَالْفَحَشَآئَ۔ وَلِتَنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُ ھُمْ فَھُمْ غَافِلُوْنَ۔
    اور اسی طرح ہم نے یوسف پر احسان کیا۔ تا ہم اُس سے بدی اور فحش کو روک دیں۔ اور تا تُو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادوں کو کسی نے نہیں ڈرایا سو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
    اس جگہ یوسف کے لفظ سے یہی عاجز مراد ہے کہ جو باعتبار کسی روحانی مناسبت کے اطلاق پایا۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ554، 555 حاشیہ در حاشیہ نمبر4، روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 661، 662)
    1883ء بعد اس کے فرمایا:۔
    قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ مِّنَ السَّمَآئِ۔ رَبُّنَا عَاجٍ۔ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْ نَنِیْٓ اِلَیْہِ۔ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنْ غَمِّیْ۔ اِیْلِیْ اِیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَنِیْ۔کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ۔
    کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم ایمان نہیں لاتے۔ یعنی خداے تعالیٰ کا تائیدات کرنا۔ اور اسرار غیبیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ خبریں بتلانا اور دعاؤں کو قبول کرنا۔ اور مختلف زمانوں میں الہام دینااور معارف اور حقائق الٰہیہ سے اطلاع بخشنا یہ سب خدا کی شہادت ہے۔ جس کو قبول کرنا ایماندار کا فرض ہے۔ پھر بقیہ الہامات ِ بالا کا (ترجمہ1)یہ ہے کہ بہ تحقیق میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے راہ بتلائے گا۔ اے میرے رب میرے گناہ بخش اور آسمان سے رحم کر۔ ہمارا رب عاجی ہے۔ (اس کے معنے ابھی تک معلوم نہیں ہوئے) جن نالائق باتوں کی طرف مجھ کو بُلاتے ہیں۔ اُن سے اے میرے رب مجھے زندان بہتر ہے۔ اے میرے خدا مجھ کو میرے غم سے نجات بخش۔ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تُونے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ تیری بخششوں نے ہم کو گستاخ کردیا۔
    یہ سب اسرار ہیں کہ جو اپنے اپنے اوقات پر چسپاں ہیں۔ جن کا علم حضرت عالم الغیب کو ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 555،556 حاشیہ در حاشیہ نمبر4، روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 662 تا 664)
    1 ’’ترجمہ‘‘ کالفظ اصل میں موجود نہیں۔ یہ مرتّب کی طرف سے ہے۔
    1883ء
    پھر بعد اس کے فرمایا۔
    ھُوَشَعْنَا ۔ نَعْسَا
    یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں۔ اور اِن کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے1۔ ‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 556 حاشیہ در حاشیہ نمبر4۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 664)
    ’’پھربعد اس کے دو فقرے انگریزی ہیں۔ جن کے الفاظ کی صحت بباعث سرعت ِ الہام ابھی تک معلوم نہیں۔ اور وہ یہ ہیں:۔
    آئی لَوْ یُوْ۔ آی شل گِو یُو ءِ لارج پارٹی اَوف اِسلام2
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 556 حاشیہ در حاشیہ نمبر4۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 664)
    (ترجمہ) میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں تجھے ایک بڑا گروہ اسلام کا دوں گا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 80، روحانی خزائن جلدنمبر21 صفحہ 105)
    1883ء
    پھر بعد اس کے یہ الہام ہے:۔
    یَا عِیْسٰٓی اِنِّیْ مَتَوَفِیْکَ 1 وَرَافِعُکَ اِلَیَّ (وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا2 وَجَاعِلُ
    1 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں اس الہام کی تشریح میں تحریرفرمایا ہے۔
    ’’ ھُوَ شعْنا نَعْسَا:۔اے خدا میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے نجات بخش اور مشکلات سے رہائی فرما۔ ہم نے نجات دیدی۔ یہ دونوں فقرے عبرانی زبان میں ہیں۔ اور یہ ایک پیش گوئی ہے جو دعا کی صورت میں کی گئی۔ اور پھر دعا کا قبول ہونا ظاہر کیا گیا۔ اور اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو موجودہ مشکلات ہیں یعنی تنہائی۔ بے کسی۔ ناداری۔ کسی آئندہ زمانہ میں وہ دور کردی جائیں گی۔ چنانچہ پچیس برس کے بعد یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔ اور اس زمانہ میں ان مشکلات کا نام و نشان نہ رہا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 80۔ روحانی خزائن جلد نمبر21 صفحہ 104)
    (نوٹ از مرتب) فقرہ ھُوَ شعْنا متی21/9میں بھی آیا ہے جس کا ترجمہ حاشیہ میں یوں لکھا ہے۔ ’کرم کرکے نجات دے‘ دیکھیئے زبور118/45۔
    نَعْسَاکا ترجمہ عبرانی میں ہے’’قبول ہوئی‘‘ (عربی عبرانی ڈکشنری)
    2 I love you. I Shall give you a large party of Islam.
    3 ’’الہام اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ اس قدر ہوا ہے جس کا خدا ہی شمار جانتا ہے۔ بعض اوقات نصف شب کے بعد فجر تک ہوتا رہا ہے۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ67 مکتوب مؤرخہ20 نومبر1883ء بنام میر عباس علی شاہ صاحب)
    4 ’’یہ فقرہ سہو کاتب سے براہین میں رہ گیا ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ73حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر21 صفحہ 94، 95)
    الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَرْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔
    اے عیسٰی 1میں تجھے کامل اجر بخشوں گا۔یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا یعنی رفع درجات کروں گا۔ یا دنیا سے اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔منکروں کے ہر ایک الزام اور تہمت سے تیرا دامن پاک کردوں گا۔ اور تیرے تابعین کو اِن پر جو منکر ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ یعنی تیرے ہم عقیدوں اور ہم مشریوں کو حجت اور برہان اور برکات کے رو سے دوسرے لوگوں پر قیامت تک فائق رکھوں گا۔ پہلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک گروہ 2ہے۔ اس جگہ عیسیٰ کے نام سے بھی یہی عاجز مراد ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 556، 557 حاشیہ در حاشیہ نمبر4روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 664، 665)
    1883ء
    ’’اور پھر بعد اِس کے اُردو میں الہام فرمایا۔
    میں اپنی چمکار3 دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔دنیا میں ایک نذیر آیا‘ پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اِسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ557حاشیہ در حاشیہ نمبر4 ۔ روحانی خزائن جلدنمبر1 صفحہ 664، 665)
    (ب) ’’ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ اس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔‘‘
    (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 1۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 207)
    (ج) ’’دنیا میں ایک نبی آیا۔ مگر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا۔‘‘ نوٹ:۔’’ ایک قرأت اس الہام میں یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ اور یہی قرأت براہین میں درج ہے۔ اور فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دوسری قرأت درج نہیں کی گئی۔‘‘
    (مکتوب مؤرخہ 7اگست1899ء مندرجہ الحکم جلد3 نمبر 29 مؤرخہ17؍اگست1899ء صفحہ6)
    1 اس کے متعلق دیکھو حاشیہ نمبر1 متعلقہ ترجمہ وحی صفحہ75۔ (مرتب)
    2 یعنی اس سلسلہ میں داخل ہونے والے دو فریق ہوں گے ایک پرانے مسلمان جن کا نام اوّلین رکھا گیا۔ جواب تک تین لاکھ کے قریب اس سلسلہ میں داخل ہوچکے ہیں اور دوسرے نئے مسلمان جو دوسری قوموں میں سے اسلام میں داخل ہوں گے۔ یعنی ہندوؤں اور سکھوں اور یورپ اور امریکہ کے عیسائیوں میں سے۔ اور وہ بھی ایک گروہ اس سلسلہ میں داخل ہوچکا ہے اور ہوتے جاتے ہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 82۔ روحانی خزائن جلد نمبر21 صفحہ 108)
    3 ’’یہ وہی چمکار ہے جو کوہِ طور کی چمکار سے مشابہت رکھتی ہے اور اس سے مراد جلالی معجزات ہیں۔ جیسا کہ کوہِ طور پر بنی اسرائیل کو جلالی معجزات دکھائے گئے تھے۔‘‘ (ضمیمہ چشمہ ٔ معرفت صفحہ27۔ روحانی خزائن جلدنمبر23 صفحہ 398)
    1883ء
    اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا فَاصْبِرْلَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ۔
    اس جگہ ایک فتنہ ہے۔ سو اولوالعزم نبیوں کی طرح صبر کر۔
    فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہ‘ لِلْجَبَلِ جَعَلَہ‘ دَکًّا
    جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلّی کرے گا تو انہیں پاش پاش کردے گا۔
    قُوَّۃُ الرَّحْمٰنِ لِعُبَیْدِ اللّٰہِ الصَّمَدِ۔
    یہ خدا کی قوت ہے کہ جو اپنے بندے کے لئے وہ غنی مطلق ظاہر کرے گا۔
    مَقَامٌ لَّا تَتَرَتَّی الْعَبْدُ فِیْہِ بِسَعْیِ الْاَعْمَالِ۔
    یعنی عبداللہ الصمد ہونا ایک مقام ہے کہ جو بطریق موہبت خاص عطاہوتا ہے۔ کوششوں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔
    یَا دَاو‘دُ عَامِلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا۔ وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَا۔ وَاَمَّا بِنِعْمَۃَ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۔یُو مَسٹ ڈو وہاٹ آی ٹَولْڈ یُو1۔ تم کو وہ کرنا چاہئے جو میں نے فرمایا ہے۔ اُشْکُرْ نِعْمَتِیْ رَاَیْتَ خَدِیْجَتِیْ۔ اِنَّکَ الیَوْمَ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ۔ اَنْتَ مُحَدَّثُ اللّٰہِ۔ فِیْکَ مَادَّۃٌ فَارُوْقِیَّۃٌ۔
    اے داؤد خلق اللہ کے ساتھ رفق اور احسان کے ساتھ معاملہ کر۔ اور سلام کا جواب احسن طور پر دے۔ اور اپنے رب کی نعمت کا لوگوں کے پاس ذِکر کر۔ میری نعمت کا شکر کر کہ تُونے اُس کو قبل از وقت پایا۔ آج تجھے حظِّ عظیم ہے۔ تُو محدّث اللہ ہے۔ تجھ میں مادّئہ فاروقی ہے۔
    سَلَامٌ عَلَیْکَ یَآ اِبْرَاھِیْمُ۔ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ۔ ذُوْعَقْلٍ مَّتِیْنٍ۔ حِبُّ اللّٰہِ خَلِیْلُ اللّٰہِ اَسَدُ اللّٰہِ وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ۔ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّکَ سُھُوْلَۃً فِیْ کُلِّ اَمْرٍ۔ بَیْتُ الْفِکْرِ وَبَیْتُ الذِّکْرِ۔ وَمَنْ دَخَلَہ‘کَانَ اٰمِنًا۔
    تیرے پر سلام ہے اے ابراہیم! تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اور امانت دار اور قوی العقل ہے اور دوست خدا ہے۔ خلیل اللہ ہے۔ اسد اللہ ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود بھیج۔
    یعنی یہ اُسی نبی کریم کی متابعت کا نتیجہ ہے۔
    اور بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ خدا نے تجھ کو ترک نہیں کیا اور نہ وہ تجھ پر ناراضہے کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں
    1 You must do what I told you
    کھولا؟ کیا ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی؟ کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا۔ اور جو شخص بیت الذکر میں باخلاص و قصد تعبّد و صحت نیت و حُسن ایمان داخل ہوگا۔ وہ سوء خاتمہ سے امن میں آجائے گا۔
    بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے کہ جو اُس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے۔
    اور آخری فقرہ مذکورہ بالا اسی مسجد1کی صفت میں بیان فرمایا ہے جس کے حروف سے بنائے مسجد کی تاریخ بھی نکلتی ہے۔ اور وہ یہ ہے۔
    مُبَارِکٌ وَّمُبَارَکٌ وَّکُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَکٍ یُّجْعَلُ فِیْہِ۔
    یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہر ایک امر مبارک اِس میں کیا جائے گا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 557 تا 559حاشیہ در حاشیہ نمبر4۔ روحانی خزائن جلدنمبر1، 665 تا 667)
    1883ء
    ’’پھر بعد اس کے اس عاجز کی نسبت فرمایا۔
    1 (الف) ’’ اس مسجد مبارک کے بارے میں پانچ مرتبہ الہام ہوا۔ منجملہ ان کے ایک نہایت عظیم الشان الہام ہے.............. فِیْہِ بَرَکَاتٌ لِّلنَّاسِ۔ وَمَنْ دَخَلَہ‘کَانَ اٰمِنًا۔‘‘ (مکتوباتِ احمدیہ جلد اوّل صفحہ 55)
    (ب) ’’ایک مرتبہ میں نے اس مسجد کی تاریخ .........الہامی طور پر معلوم کرنی چاہی تو مجھے الہام ہوا۔ مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فیہ۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ اوّل صفحہ 186۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 190)
    (ج) اس الہام میں تین قسم کے نشان ہیں۔ (1) اوّل یہ کہ اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مادّۂ تاریخ بنائے مسجد ہے۔ (2) دوم یہ کہ یہ پیش گوئی بتلارہی ہے کہ ایک بڑے سلسلہ کے کاروبار اسی مسجد میں ہوں گے چنانچہ اب تک اسی مسجد میں بیٹھ کر ہزار ہا آدمی بیعت توبہ کرچکے ہیں ‘ اسی میں بیٹھ کر صد ہا معارف بیان کئے جاتے ہیں اور اسی میں بیٹھ کر کتب ِ جدیدہ کی تالیف کی بنیاد پڑتی ہے اور اسی میں ایک گروہِ کثیر مسلمانوں کا پنج وقت نماز پڑھتا ہے اور وعظ سنتے ہیں اور دلی سوز سے دعائیں کی جاتی ہیں۔ اور بنائے مسجد کے وقت میں ان باتوں میں سے کسی بات کی علامت موجود نہ تھی۔(3) سوم یہ کہ یہ الہام دلالت کررہا ہے کہ آئندہ زمانہ میں کوئی آفت آنے والی ہے اور جو شخص اخلاص کے ساتھ اس میں داخل ہوگا وہ اس آفت سے بچ جائے گا۔ اور براہین احمدیہ کے دوسرے مقامات سے ثابت ہوچکا ہے کہ وہ آفت طاعون ہے سو یہ پیش گوئی بھی اس سے نکلتی ہے کہ جو شخص پُوری ارادت اور اخلاص سے جس کو خدا پسند کر لیوے اس مسجد میں داخل ہوگا وہ طاعون سے بھی بچایا جائے گا۔ یعنی طاعونی موت سے۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 147، 148۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 525، 526)
    رُفِعْتَ وَجُعِلْتَ مُبَارَکًا
    تو اونچا کیا گیا اور مبارک بنایا گیا۔
    وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَا نَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُّھْتَدُوْنَ۔
    یعنی جو لوگ اُن برکات و انوار پر ایمان لائیں گے کہ جو تجھ کو خدائے تعالیٰ نے عطا کئے ہیں۔ اور ایمان اُن کا خالص اور وفاداری سے ہوگا۔ تو ضلالت کی راہوں سے امن میں آجائیں گے اور وہی ہیں جو خدا کے نزدیک ہدایت یافتہ ہیں۔
    یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ۔ قُلِ اللّٰہُ حَافِظُہ‘عِنَایَۃُ اللّٰہِ حَافِظُکَ۔ نَحْنُ نَزَّلْنَاہُ وَاِنَّا لَہ‘ لَحَافِظُوْنَ۔ اَللّٰہُ خَیْرٌحَافِظًا وَّ ھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔ وَیُخَوِّ فُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ۔ اَئِمَّۃُ الْکُفْرِ۔ لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْآعْلٰی۔ یَنْصُرُکَ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ۔ اِنَّ یَوْمِیْ لَفَصْلٌ عَظِیْمٌ۔ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ۔ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہٖ۔ بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ۔ نَصَرْتُکَ مِنْ لَّدُنِّیْ۔ اِنِّیْ مُنَجِّیْکَ مِنَ الْغَمِّ۔ وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا۔ اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَا مَعَکَ۔ خَلَقْتُ لَکَ لَیْلًا وَّنَھَارًا۔ اِعْمَلْ مَاشِئْتَ فَاِنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَکَ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْخَلْقُ۔
    مخالف لوگ ارادہ کریں گے۔ کہ تاخدا کے نور کو بُجھا دیں۔ کہہ خدا اُس نو ُرکا آپ محافظ ہے۔ عنایت الٰہیہ تیری نگہبان ہے۔ ہم نے1 اُتارا ہے اور ہم ہی محافظ ہیں۔ خدا خیرالحافظین ہے۔ اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ اور تجھ کو اور اور چیزوں سے ڈرائیں گے۔ یہی پیشوایانِ کفر ہیں۔ مت خوف کر تجھی کو غلبہ ہے۔ یعنی حجت اور بر ہان اور قبولیت اور برکت کے رُو سے تو ُ ہی غالب ہے۔ خدا کئی میدانوںمیں تیری مدد کرے گا یعنی مناظرات و مجادلات بحث میں تجھ کو غلبہ رہے گا۔
    پھرفرمایا کہ میرا دن حق اور باطل میں فرق بیّن کرے گا۔ خدا لکھ چکا ہے۔ کہ غلبہ مجھ کو اور میرے رسولوں کو ہے۔ کوئی نہیں کہ جو خدا کی باتوں کو ٹال دے۔ یہ خدا کے کام دین کی سچائی کے لئے حجت ہیں۔ میں اپنی طرف سے تجھے مدد دوں گا۔ میں خود تیرا غم دُور کروں گا۔ اور تیرا خدا قادر ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرے لئے میں نے رات اور دن پیدا کیا۔ جو کچھ تو چاہے کر کہ میں نے تجھے بخشا۔ تو مجھ سے وہ منزلت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں۔
    1 سہوِ کاتب سے لفظ ’’اس کو‘‘ ترجمہ سے رہ گیا ہے۔ (مرتّب)
    اس آخری فقرہ کا یہ مطلب نہیں کہ منہیاتِ شرعیہ تجھے حلال ہیں۔ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تیری نظر میں منہیات مکروہ کئے گئےہیں اور اعمالِ صالحہ کی محبت تیری فطرت میں ڈالی گئی ہے۔ گویا جو خدا کی مرضی ہے وہ بندہ کی مرضی بنائی گئی۔ اور سب ایمانیاتِ اِس کی نظر میں بطور فطرتی تقاضا کے محبوب کی گئیں۔ وَذالک فضل اللّٰہ یؤ تیہ من یشآئُ
    وَقَالُوْٓا اِنْ ھُوَ(اِلَّا 1) اِفْکُ نِٰ فْتَریٰ۔ وَمَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِیْٓ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ۔ وَلَقَدْکَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ و فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔ اِجْتَبَیْنَاھُمْ وَاصْطَفَیْنَاھُمْ کَذَالِکَ لِیَکُوْنَ اٰیَۃً لِّلْمَؤْ مِنیْنَ۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنَّ اَصْحَابَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوْ مِنْ اٰیَا تِنَا عَجَبًا۔ قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَجِیْبٌ۔ کُلَّ یُوْمٍ ھُوَفِیْ شَاْنٍ۔ فَفَھَّمْنَاھَا سُلَیْمَانَ۔ وَجَحَدُوْا بِھَا وَاسْتَیْقَنَتْھَآ اَنْفُسُھُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا۔ سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ۔ قُلْ جَآئَ کُمْ نُوْرٌ مِّنَ اللّٰہِ فَلَا تَکْفُرُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ صَافَیْنَاہُ وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ۔ تَفَرَّدْ نَا بِذَالِکَ فَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَا ھِیْمَ مُصَلًّی۔
    اورکہیں گے کہ یہ جھوٹ بنالیا ہے۔ ہم نے اپنے بزرگوں میں یعنی اولیاء سلف میں یہ نہیں سنا۔ حالانکہ بنی آدم یکساں پیدا نہیں کئے گئے۔ بعض کو بعض پر خدا نے بزرگی دی ہے اور اُن کو دوسروں میں سے چُن لیا ہے۔ یہی سچ ہے تا مومنوں کے لئے نشان ہو۔ کیا تم خیال کرتے ہو۔ کہ ہمارے عجیب کام فقط اصحاب کہف تک ہی ختم ہیں۔ نہیں بلکہ خدا تو ہمیشہ صاحب عجائب ہے۔ اور اُس کے عجائبات کبھی منقطع نہیں ہوتے۔ ہر یک دن میں وہ ایک شان میں ہے۔ پس ہم نے وہ نشان سلیمان کو سمجھائے۔ یعنی اس عاجز کو۔ اور لوگوں نے محض ظلم کی راہ سے انکار کیا۔ حالانکہ اُن کے دل یقین کرگئے۔ سو عنقریب ہم اُن کے دلوں میں رُعب ڈال دیں گے۔ کہہ خدا کی طرف سے نور اُترا ہے۔ سو تم اگر مومن ہو تو انکار مت کرو۔ ابراہیم پر سلام۔ ہم نے اُس کو خالص کیا۔ اور غم سے نجات دی۔ ہم نے ہی یہ کام کیا۔ سو تم ابراہیم کے نقش قدم پر چلو۔ یعنی رسول کریم کا طریقہ حقہ کہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مُشتبہ ہوگیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح صرف ظواہر پرست اور بعض مُشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ طریقہ خداوند کریم کے اِس عاجز بندہ سے دریافت کرلیں اور اُس پر چلیں۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 559 تا 562 حاشیہ در حاشیہ نمبر4 روحانی خزائن جلدنمبر1 صفحہ 667تا671)
    1 اس الہام میں اِلَّا کا لفظ سہو کتابت سے رہ گیا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اربعین نمبر2 طبع اوّل صفحہ 7 روحانی خزائن جلد نمبر17صفحہ 353 میں بحوالہ براہین احمدیہ یہی الہام درج فرمایا ہے اور اس میں لفظ اِلَّا موجود ہے۔ (مرتب)
    اگست 1883ء
    (الف) ’’ اُن1کے سفر آخرت کی خبر بھی کہ جو اُن کو تیس اکتوبر1883ء میں پیش آیا۔ تخمیناً تین ماہ پہلے خداوند کریم نے اِس عاجز کو دیدی تھی۔ چنانچہ یہ خبربعض آریہ کو بتلائی بھی گئی تھی۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ 535 حاشیہ نمبر11۔ روحانی خزائن جلد نمبر1 صفحہ 640 حاشیہ نمبر11)
    (ب) ’’پنڈت دیانند کی بابت اس کی موت سے دو مہینے پہلے لالہ شرمپت کو اطلاع دی گئی۔ کہ اب وہ بہت ہی نزدیک مرے گا۔ بلکہ کشفی حالت میں مَیں نے اُس کو مُردہ پایا۔‘‘
    (شحنہ حق صفحہ43۔ روحانی خزائن جلد نمبر2 صفحہ 382)
    (ج) ’’اس ملک پنجاب میں جب دیانند بانی مبانی آریہ مذہب نے اپنے خیالات پھیلائے اورسِفلہ طبع ہندوؤں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیراورایسے ہی دوسرے انبیاء ؑ کی توہین پر چالاک کردیا۔ اور خود بھی قلم پکڑتے ہی اپنی شیطانی کتابوں میں جابجا خدا کے تمام پاک اور برگزیدہ نبیوں کی تحقیر اور توہین شروع کی۔ اور خاص اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں بہت کچھ جھوٹ کی نجاست کو استعمال کیا اور بزرگ پیغمبروں کو گندی گالیاں دیں تب مجھے اس کی نسبت الہام ہوا کہ
    خدا تعالیٰ ایسے موذی کو جلد تر دنیا سے اُٹھالے گا۔‘‘
    (تتمہ حقیقتہ الوحی صفحہ 167۔ روحانی خزائن جلد نمبر22 صفحہ 607)
    28 اگست 1883ء
    ’’شاید پرسوں کے دن یعنی بروز سہ شنبہ مسجد کی طرف نظر کی گئی تو اُسی وقت خداوند کریم کی طرف سے ایک فقرہ الہام ہوا اور وہ یہ ہے۔
    فِیْہِ بَرَکَاتٌ لِلنَّاسِ
    یعنی اس میں لوگوں کیلئے برکتیں ہیں۔‘‘ (از مکتوب مؤرخہ30اگست 1883ء مکتوبات جلد اوّل صفحہ 45)
    6ستمبر 1883ء ’’بتاریخ6 ؍ستمبر1883ء روز پنج شنبہ خداوند کریم نے عین ضرورت کے وقت میں اس عاجز کی تسلی کے لئے اپنے کلامِ مبارک کے ذریعہ یہ بشارت دی کہ
    بِست ویک روپیہ آنے والے ہیں۔
    کیونکہ اس بشارت میں ایک عجیب بات یہ تھی کہ آنے والے روپیہ کی تعداد سے اطلاع دی گئی۔ اور کسی خاص تعداد سے مطلع کرنا ذاتِ غیب دان کا خاصہ ہے کسی اور کاکام نہیں ہے۔ دوسری عجیب بر عجیب یہ بات تھی کہ یہ تعداد غیر معہود طرز پر تھی۔ کیونکہ قیمت مقررہ کتاب سے اس تعداد کا کچھ تعلق نہیں۔ پس انہیں عجائبات کی و جہ سے
    1 پنڈت دیانند صاحب (مرتّب)
    یہ الہام قبل از وقوع بعض آریوں کو بتلایا گیا۔
    10 ستمبر1883ء
    پھر10؍ستمبر 1883ء کو تاکیدی طور پر سہ بارہ الہام ہوا کہ
    بست ویک روپیہ آئے ہیں
    جس الہام سے سمجھا گیا کہ آج اس پیش گوئی کا ظہور ہوجائے گا۔ چنانچہ ابھی الہام پر شاید تین منٹ سے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گذرا ہوگا کہ ایک شخص وزیر سنگھ نامی بیمار دار آیا اور اُس نے آتے ہی ایک روپیہ نذر کیا۔ ہر چند علاج معالجہ اِس عاجز کا پیشہ نہیں اور اگر اتفاقاً کوئی بیمار آجاوے۔ تو اگر اُس کی دوا یاد ہو تو محض ثواب کی غرض سے لِلّٰہ فی اللہ دی جاتی ہے ۔ لیکن وہ روپیہ اس سے لیا گیا۔ کیونکہ فی الفور خیال آیا۔ کہ یہ اُس پیش گوئی کی ایک جُز ہے۔ پھر بعد اس کے ڈاک خانہ میں ایک اپنا معتبر بھیجا گیا اس خیال سے کہ شاید دوسری جُزبذریعہ ڈاک خانہ پوری ہو۔ ڈاک خانہ سے ڈاک منشی نے جو ایک ہندو ہے جواب میں یہ کہا کہ میرے پاس صرف ایک منی آرڈر پانچ روپیہ کا جس کے ساتھ ایک کارڈ بھی نتھی ہے۔ ڈیرہ غازیخاں سے آیا ہے سو ابھی تک میرے پاس روپیہ موجود نہیں۔ جب آئے گا تو دوں گا۔ اس خبر کے سننے سے سخت حیرانی ہوئی۔ اور وہ اضطراب پیش آیا۔ جو بیان نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ یہ عاجز اسی تردّد میں سربزانو تھا اور اِس تصوّر میں تھا کہ پانچ اور ایک مل چھ ہوئے۔ اب اکیس کیونکر ہوں گے‘ یا الٰہی یہ کیا ہوا۔ سو اسی استغراق میں تھا کہ یک دفعہ یہ الہام ہوا:۔
    بست ویک آئے ہیں۔ اِس میں شک نہیں
    اس الہام پر دوپہر نہیں گذرے ہوں گے کہ اسی روز ایک آریہ کہ جو ڈاک منشی کے پہلے بیان کی خبر سن چکا تھا ڈاک خانہ میں گیا اور اس کو ڈاک منشی نے کسی بات کی تقریب سے خبر دی کہ دراصل بست روپے آئے ہیں اور پہلے یونہی منہ سے نکل گیا تھاجو میں نے پانچ روپیہ کہہ دیا۔ چنانچہ وہی آریہ بیس روپیہ معہ ایک کارڈ کے جو منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ کی طرف سے تھالے آیا اور معلوم ہوا کہ وہ کارڈ بھی منی آرڈر کے کاغذ سے نتھی نہ تھا اور نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ روپیہ آیا ہوا تھا اور نیز منشی الٰہی بخش صاحب کی تحریر سے جو بحوالہ ڈاکخانہ کی رسید کے تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ منی آرڈر 6؍ستمبر 1883ء کو یعنی اُسی روز جب الہام ہوا۔ قادیان میں پہنچ گیا تھا۔ پس ڈاک منشی کا سارا املا انشاء غلط نکلا اور حضرتِ عالم الغیب کا سارا بیان صحیح ثابت ہوا۔ پس اس مبارک دن کی یاد داشت کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی لے کر بعض آریوں کو بھی دی گئی۔ فالحمد للّٰہ علی اٰلائہٖ ونعمائہٖ ظاھر ھا و باطنھا۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ522۔524حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلدنمبر1 صفحہ 624۔ 626)
    9اکتوبر1883ء
    ’’آج رات کیا عجیب خواب آئی کہ بعض اشخاص ہیں جن کو اِس عاجز نے شناخت نہیں کیا وہ سبز رنگ کی سیاہی سے مسجد1کے دروازہ کی پیشانی پر کچھ آیات لکھتے ہیں۔ ایسا سمجھا گیا ہے کہ فرشتے ہیں اور سبز رنگ اُن کے پاس ہے۔ جس سے وہ بعض آیات تحریر کرتے ہیں۔ اور خط ِ ریحانی میں جو پیچان اورمسلسل ہوتا ہے لکھتے جاتے ہیں۔ تب اس عاجز نے اُن آیات کو پڑھنا شروع کیا۔ جن میں سے ایک آیت یاد رہی اور وہ یہ ہے:۔
    لَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ
    اور حقیقت میں خدا کے فضل کو کون روک سکتا ہے۔ جس عمارت کو وہ بنانا چاہے اس کو کون مسمار کرے۔ اور جس کو وہ عزت دینا چاہے اس کو کون ذلیل کرے۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ9 اکتوبر1883ء بنام میر عباس علی صاحب لدھیانوی۔ مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 61)
    22اکتوبر1883ء
    ’’آج اِس موقع کے اثناء میں جبکہ یہ عاجز بغرض تصحیح کاپی کو دیکھ رہا تھا۔ بعالمِ کشف چند ورق ہاتھ میں دیئے گئے اور اُن پر لکھا ہوا تھا کہ
    فتح کا نقّارہ بجے
    پھر ایک نے مسکرا کر اُن ورقوں کی دوسری طرف ایک تصویر دکھلائی اور کہا کہ
    دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری
    جب اِس عاجز نے دیکھا تو وہ اِسی عاجز کی تصویر تھی اور سبز پوشاک تھی۔ مگر نہایت رُعب ناک۔ جیسے سپہ سالار مسلح فتحیاب ہوتے ہیں۔ اور تصویر کے یمین و یسار میں۔
    حجتہ اللہ القادر و سُلطان احمد ِ مختار
    لکھا تھا۔ اور یہ سوموار کا روز اُنیسویں ذوالحجہ1300ھ مطابق 22؍اکتوبر83ء اور ششم کا تک سم1940 بکرم ہے۔‘‘
    (براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ515، 516 حاشیہ در حاشیہ نمبر3۔ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 615)
    24اکتوبر1883ء سے قبل
    ’’ایک مرتبہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ
    1 یعنی مسجد مبارک (مرتّب)
    اگر تمام لوگ منہ پھیر لیں تو مَیں زمین کے نیچے سے یا آسمان کے اُوپر سے مدد کرسکتا ہوں۔‘‘
    (از مکتوب 24؍اکتوبر1883ء مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ63)
    29 اکتوبر1883ء سے قبل
    ’’ بارہا اس عاجز کو حضرتِ احدیّت کے مخاطبات میں ایسے کلمات فرمائے گئے ہیں۔ جن کا ماحصل یہ تھا کہ سب دنیا پنجہ ٔ قدرت احدیّت میں مقہور اور مغلوب ہے۔ اور تصرّفاتِ الٰہیہ زمین و آسمان میں کام کررہے ہیں۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ 29 اکتوبر1883ء۔ مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 63)
    29 اکتوبر1883ء سے قبل
    ’’ چند روز کا ذکر ہے کہ یہ الہام ہوا۔
    اِنْ 1 یَّمْسَسْکَ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہ‘اِلَّاھُوَ۔ وَ اِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللَّہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ لَاٰتٍ۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ 29اکتوبر1883ء۔ مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ63)
    19،20 نومبر 1883ء
    ’’رات کو ایک اور عجیب الہام ہوا۔ اور وہ یہ ہے:۔
    قُلْ لِّضَیْفِکَ2 اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ۔ قُلْ لِاّ َخِیْکَ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ
    یہ الہام بھی چند مرتبہ ہوا۔ اس کے معنے ......ہیں......جو تیرا مورد فیض یا بھائی ہے۔ اس کو کہدے
    1 (ترجمہ از مرتب) اگر وہ (خداوند کریم) تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے۔ تو اس کے سوا کوئی بھی اُسے دُور نہیں کرسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں کوئی خیر پہنچانا چاہے۔ تو کوئی اس کے فضل کو رد بھی نہیں کرسکتا۔ کیا تم جانتے نہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔
    (نوٹ از مرتب) مکتوبات احمدیہ 29 اکتوبر1883ء صفحہ63 میں لفظ ان یمسَسْکَ کی بجائے ان تمسسک لکھا ہے جو سہوِ کاتب معلوم ہوتا ہے۔
    2 حیاتِ احمد (مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) جلد 2 نمبر2 صفحہ 72 پر یہ الہام واضح طور پر بالفاظ قُلْ لِضَیْفِکَ الخ درج ہے لیکن مکتوبات جلد اوّل صفحہ 67 میں یہ لفظ ایسا صاف نہیں لکھا بلکہ کچھ ایسا لکھا (لضیفک) ہے کہ لِضَیْفِکَ کی بجائے لِفَیْضِکَ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور ترجمہ کے الفاظ ’’مورد فیض‘‘ اس احتمال کو اور بھی قوت دیتے ہیں۔ گو ضَیْف کے معنے بھی موردِ فیض سمجھے جاسکتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ انہی ایام میں حضور کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی وفات ہوئی تھی۔ ( مرتب)
    کہ میں.........(تجھے) وفات دوں گا۔
    معلوم نہیں کہ یہ شخص کون ہے۔ اس قسم کے تعلقات کے کم وبیش کوئی لوگ ہیں۔ اس عاجز پر اس قسم کے الہامات اور مکاشفات اکثر وارد ہوتے رہتےہیں جن میں اپنی نسبت اور بعض احباب کی نسبت ۔ اُن کے عُسریُسر کی نسبت۔ اُنکے حوادث کی نسبت۔ ان کی عمر کی نسبت ظاہر ہوتا رہتا ہے۔‘‘
    (ازمکتوب مؤرخہ20؍نومبر1883ء مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ67، 68)
    ’’پندرہ 1برس کے بعد جب میرے بھائی2 کی وفات کا وقت نزدیک آیا۔ تو میں امرتسر میں تھا مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ اب قطعی طور پر اُن کی زندگی کا پیالہ پُر ہوچکا اور بہت جلد فوت ہونے والے ہیں۔ میں نے وہ خواب حکیم محمد شرؔیف کو جو امرت سر میں ایک حکیم تھے سنائی۔ اور پھر اپنے بھائی کو خط لکھا کہ آپ امور آخرت کی طرف متوجہ ہوں۔ کیونکہ مجھے دکھلایا گیا ہے کہ آپ کی زندگی کے دن تھوڑے ہیں۔ انہوں نے عام گھر والوں کو اس سے اطلاع دے دی۔ اور پھر چند ہفتہ میں ہی اس جہانِ فانی سے گذر گئے۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ 39۔ روحانی خزائن جلد نمبر15 صفحہ 211، 212)
    1883ء
    ’’اکسٹھواں نشان اپنے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی وفات کی نسبت پیشگوئی ہے جس میں میرے ایک بیٹے کی طرف سے بطور حکایت عن الغیر مجھے یہ الہام ہوا:۔
    اے عَمّی بازیِ ٔ خویش کردی و مرا افسو س بسیار دادی۔3
    یہ پیشگوئی بھی اسی شرمپت آریہ کو قبل از وقت بتلائی گئی تھی۔ اور اس الہام کا مطلب یہ تھا کہ میرے بھائی کی بے وقت اور ناگہانی موت ہوگی جو موجب صدمہ ہوگی..........اور بعد اس کے میرے پر کھولا گیا۔ کہ یہ الہام میرے بھائی کی موت کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ میرا بھائی دو تین دن کے بعد ایک ناگہانی طور پر فوت ہوگیا۔ اور
    1 میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم سخت بیمار ہوگئے تھے۔ اور بالکل ایک مُشتِ استخواں سے رہ گئے تھے۔ حضرت اقدس ؑ نے ان کے لئے دعا کی تو خواب میں دکھایا گیا کہ آپ ایک پورے تندرست انسان کی طرف بغیر کسی سہارے کے مکان میں چل رہے ہیں۔ چنانچہ حضور ؑ نے لکھا ہے۔ کہ برادر مذکور اس خواب کے پندرہ برس بعد تک زندہ رہے۔ مفصل دیکھو رؤیا نمبر10، 12 تذکرہ صفحہ نمبر 8، 9۔ (مرتب)
    2 مراد مرزا غلام قادر صاحب برادر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ (مرتب)
    3 (ترجمہ از مرتب) اے چچا! تو اپنی جان پر کھیل گیا۔ اور مجھے بہت افسوس میں چھوڑ گیا۔
    میرے اُس لڑکے کو اس کی موت کا صدمہ پہنچا۔‘‘ (حقیقتہ الوحی صفحہ 223۔ روحانی خزائن جلد نمبر22 صفحہ 233)
    1883ء
    ’’ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات سے ایک دن پہلے الہام ہوا
    ’’ جنازہ ‘‘
    اور میں نے اس الہام کی بہت لوگوں کو خبر دے دی۔ چنانچہ دوسرے روز بھائی صاحب فوت ہوئے1۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 225۔ روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحہ 603)
    دسمبر 1883ء
    ’’اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں................ اور وہ کلمات یہ ہیں:۔
    پریشن۔ عمر۔ براطوس۔ یا پلا طوس
    یعنے پڑطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمرؔ عربی لفظ ہے۔ اس جگہ برا طوؔس اور پریشن کے معنے دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں؟پھر دو الفاظ اور ہیں۔
    ھُوْ شَعْنَا 2 نَعْسَا
    معلوم نہیں کس زبان کے ہیں۔ اور انگریزی یہ ہیں۔ اوّل عربی فقرہ ہے۔
    یَا دَاو‘ دُ عَامِلْ بالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا
    یُوْمَسْٹ ڈو وَہاٹ آئی ٹولڈ یُوْ 3۔تم کو وہ کرنا چاہئے۔ جو میں نے فرمایا ہے۔
    1 خاکسار مرتب کے عرض کرنے پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت اُمّ المؤمنین سے دریافت کیا۔ کہ مرزا غلام قادر صاحب کی وفات کس سنہ میں ہوئی تھی۔ تو آپ نے فرمایا کہ میری شادی سے (جو1884ء میں ہوئی تھی) ایک سال قبل اُن کی وفات ہوچکی تھی۔ نیز کتاب پنجاب چیفس میں بھی سنہ وفات1883ء ہی لکھا ہے۔
    2 (الف) ’’یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کے معنے ہیں’نجات دے۔‘ فرمایا کہ یا مسیح الخلق عدوانا کا مضمون اس سے ملتا جلتا ہے۔‘‘ (البدر جلد4نمبر16 پرچہ8مئی1903ء صفحہ 122 کالم نمبر 3)
    (ب) ’’چونکہ یہ غیر زبان میں الہام ہے۔ اور الہام الٰہی میں ایک سرعت ہوتی ہے۔ اس لئے ممکن ہے۔ کہ بعض الفاظ کے ادا کرنے میں کچھ فرق ہو۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض جگہ اللہ تعالیٰ انسانی محاورات کا پابند نہیں ہوتا۔ یا کسی اور زمانہ کے متروکہ محاورہ کو اختیار کرتا ہے۔ اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ بعض جگہ انسانی گریمر یعنی صرف و نحو کے ماتحت نہیں چلتا۔ اس کی نظیریں قرآن شریف میں بہت پائی جاتی ہیں مثلاً یہ آیت اِنَّ ھٰذَانِ لَسَا حِرَانِ انسانی نحو کی رُو سے اِنَّ ھٰذَیْنِ چاہئے۔‘‘ ( حقیقتہ الوحی صفحہ 304 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر22 صفحہ 317 حاشیہ)
    3 You must do what I told you.
    یہ اُردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے۔ اور ترجمہ اس کا الہامی نہیں........ فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہوجاتا ہے........ اور وہ الہام یہ ہیں:۔
    دَو 8آل من شُڈ بی اَنگری بٹ گاڈ اِز وِد یُوْ۔ ہِی9 شل ہلپ یُو۔ وارڈس 10آف گاڈ ناٹ *کین ایکس چینج1۔
    ترجمہ:۔ اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے‘ لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔ وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کلام بدل نہیں سکتے۔
    پھر بعد اس کے ایک دو اَور الہام انگریزی ہیں۔ جن میں سے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہے۔
    آئی شل ہلپ یُو2
    مگربعد اس کے یہ ہے:۔
    یُوہَیو ٹو گو امرت سر3
    پھرایک فقرہ ہے جس کے معنے معلوم نہیں اور وہ یہ ہے:۔
    ہِی ہل ٹس ان دی ضلع پشاور4
    (مکتوب12 ؍دسمبر1883ء بنام میر عباس علی شاہ صاحب۔ مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ68،69)
    جنوری 1884ء
    ’’ابتدا میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی۔ اس وقت اس کی کوئی اَور صورت تھی۔ پھر بعد اس کے قدرتِ الٰہیہ کی ناگہانی تجلّی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی۔ یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کررہا تھا کہ ایک دفعہ پردۂ
    1 8. Though all men should be angry but God is with you.
    9. He shall help you
    10. Words of God not can exchange.
    ☆ یہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ یہی الہام صفحہ 78 پر بھی درج ہے جہاں Can not کے الفاظ ہیں۔ (مرتب)
    2 میں تیری مدد کروں گا۔ I shall help you
    3 تمہیں امرتسر جانا ہوگا۔ You have to go Amritsar
    4 وہ ضلع پشاور میں قیام کرتا ہے۔ He halts in the Zilla Peshawar
    Zilla’’ضلع‘‘ کا لفظ انگریزی زبان میں استعمال ہوتا ہے دیکھو Public Servants Inquiries Act sec 8 (دی پبلک سرونٹس انکوائریز ایکٹ دفعہ 8) نیز دی پنجاب کورٹس ایکٹ شائع کردہ شمیر چند 1923ء صفحہ 83 زیر دفعہ نمبر 32، The Punjab Courts Act نیز آکسفورڈ ڈکشنری زیر لفظ’’ضلع۔‘‘ (مرتب)
    غیب سے اِنِّیْ اَنَارَبُّکَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔ سو اَبْ اس کتاب کا متولّی اور مہتمم ظاہراً وباطناً حضرت ربّ العالمین ہے۔‘‘
    (ہم اور ہماری کتاب۔ آخری صفحہ ٔ ٹائٹل براہین احمدیہ حصہ چہارم۔ روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ 673)
    فرمایا یہ میرا ایک پرانا الہام ہے۔
    ’’ 1 اَفَلَایَتَدَبَّرُوْنَ اَمْرَکَ۔ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِغَیْرِ اللّٰہ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔‘‘
    (البدر جلد1 نمبر5 مؤرخہ 28؍نومبر1902ء صفحہ 37)
    جنوری 1884ء
    ’’کچھ دن گذرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک مجمعِ زاہدین اور عابدین ہے۔ اور ہر ایک شخص کھڑا ہو کر اپنے مشرب کا حال بیان کرتا ہے اور مشرب کے بیان کرنے وقت ایک شعر موزون اُس کے منہ سے نکلتا ہے جس کا اخیر لفظ قعود اور سجود اور شہود وغیرہ آتا ہے۔ جیسے یہ مصرع
    تمام شب گذرا نیم در قیام و سجود
    چند زاہدین اور عابدین نے ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھے ہیں۔ پھر اخیر پر اس عاجز نے اپنے مناسب حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے۔ مگر اس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی۔ اور جو شعر اس خواب کی مجلس میں پڑھنا تھا وہ بطور الہام زبان پر جاری ہوگیا اور وہ یہ ہے۔
    طریق ِ زہد و تعبد ندا نم اے زاہد
    خدائے من قدمم راندبررہ داؤد ‘‘2
    (از مکتوب مؤرخہ 7جنوری 1884ء بنام میر عباس علی صاحب مکتوبات جلد اوّل صفحہ 71)
    3جنوری 1884ء
    (الف) ’’آپ کے مبلغ پچاس روپیہ عین ضرورت کے وقت پہنچے۔ بعض آدمیوں کے بیوقوف تقاضا سے بالفعل پچاس روپیہ کی سخت ضرورت تھی۔ دُعاء کے لئے یہ الہام ہوا۔
    بحسن قبولی دعاء بنگر کہ چہ زود دُعاء قبُول میکنم
    1 (ترجمہ از مرتب) کیا یہ لوگ تیرے معاملہ میں غور نہیں کرتے اور اگر یہ معاملہ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں وہ بہت اختلاف پاتے۔ (نوٹ) چونکہ البدر میں لکھا ہوا ہے کہ یہ پُرانا الہام براہین احمدیہ کے زمانہ کا ہے اس لئے اسے براہین کے بعد رکھا جاتا ہے۔(مرتب)
    2 (ترجمہ از مرتب) اے زاہد ! میں تو کوئی زہد و تعبد کا طریق نہیں جانتا۔ میرے خدا نے خود ہی میرے قدم کو داؤد کے راستہ پر ڈال دیا ہے۔
    3جنوری1884ء کو یہ الہام ہوا۔ 6 تاریخ کو آپ کا روپیہ آگیا۔ والحمدللہ علیٰ ذالک۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ7جنوری1884ء بنام میر عباس علی صاحب۔ مکتوبات جلد اوّل صفحہ72)
    (ب) ’’ایک دفعہ ہمیں اتفاقاً پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی۔ اور جیسا کہ اہل فقر اور توکل پر کبھی کبھی ایسی حالت گذرتی ہے۔ اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے۔ تو اس ضرورت کے خیال نے ہم کویہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دُعا کریں۔ پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جاکر اس نہر کے کنارہ پر دُعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے۔ جب ہم دُعا کرچکے تو دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا۔ جس کا ترجمہ یہ ہے:۔
    دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں
    تب ہم خوش ہوکر قادیان کی طرف واپس آئے۔ اور بازار کا رُخ کیا تاکہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں۔ چنانچہ ہمیں ایک خط ملا۔ جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں۔ اور غالباً وہ روپیہ اُسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ234۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 612)
    جنوری 1884ء
    ’’ایک رات خواب میں دیکھا کہ کسی مکان پر جو یاد نہیں رہا، یہ عاجز موجود ہے اور بہت سے نئے نئے آدمی جن کے سابق تعارف نہیں، ملنے کو آئے ہوئے ہیں اور آپ1 بھی ان کے ساتھ موجود ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور مکان ہے۔ اُن لوگوں نے اس عاجز میں کوئی بات دیکھی ہے جو ان کو ناگوار گذری ہے،سو اُن سب کے دل منقطع ہوگئے۔ آپ نے اُس وقت مجھ کو کہاکہ وضع بدل لو۔ میں نے کہا کہ نہیں بدعت ہے۔ سو وہ لوگ بیزار ہوگئےاور ایک دوسرے مکان میں جو ساتھ ہے جاکر بیٹھ گئے۔ تب شاید آپ بھی ساتھ ہیں، میں ان کے پاس گیا تا اپنی امامت سے ان کو نماز پڑھاؤں۔ پھر بھی انہوں نے بیزاری سے کہا کہ ہم نماز پڑھ چکے ہیں۔ تب اس عاجز نے اُن سے علیٰحدہ ہونا اور کنارہ کرنا چاہا اور باہر نکلنے کے لئے قدم اُٹھایا۔ معلوم ہوا کہ ان سب میں سے ایک شخص پیچھے چلا آتا ہے۔ جب نظر اُٹھا کر دیکھا تو آپ ہی ہیں۔ اب اگرچہ خوابوں میں تعینات معتبر نہیں ہوتے اور اگر خدا چاہے تو تقدیرات معلّقہ کو مبدّل بھی کردیتا ہے لیکن اندیشہ گذرتا ہے کہ خدانخواستہ وہ آپ ہی کا شہر نہ ہو۔ لوگوں کے شوق اور ارادت پر آپ خوش نہ ہوں۔ حقیقی شوق اور ارادت کہ جولغزش اور ابتلا کے مقابلہ پر کچھ ٹھہر سکے۔ لاکھوں میں سے کسی ایک کو ہوتا ہے............. بہتر ہے کہ آنمخدوم ابھی اس عاجز کی تکلیف کشی کے لئےزورنہ دیں کہ کئی اندیشوں کا محل ہے۔ یہ عاجز معمولی زاہدوں اور عابدوں کے مشرب پر نہیں اور نہ ان کی رسم اور عادت کے مطابق اوقات رکھتا ہے۔ بلکہ ان کے پیرایہ سے نہایت بیگانہ
    1 میر عباس علی صاحب لدھیانوی۔ (مرتّب)
    اور دُور ہے۔ سیفعل اللّٰہ مایشآ ء ۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ 18؍جنوری1884ء بنام میر عباس علی لود ھیانوی۔ مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 72،73)
    تخمیناً فروری 1884ء
    ’’مجھ کو یاد ہے اور شاید عرصہ تین ماہ یا کچھ کم و بیش ہوا ہے کہ اس عاجز کے فرزند1نے ایک خط لکھ کر مجھ کو بھیجا کہ جو میں نے امتحان تحصیلداری کا دیا ہے۔ اُس کی نسبت دعا کریں کہ پاس ہوجاؤں2۔ اور بہت کچھ انکسار اور تذلّل ظاہر کیا کہ ضرور دعا کریں۔ مجھ کو وہ خط پڑھ کر بجائے رحم کے غصہ آیا۔ کہ اس شخص کو دنیا کے بارے میں کس قدر ہم اور غم ہے۔ چنانچہ اس عاجز نے وہ خط پڑھتے ہی بہ تمام تر نفرت و کراہت چاک کردیا اور دل میں کہا کہ ایک دنیوی غرض اپنے مالک کے سامنے کیا پیش کروں۔ اس خط کے چاک کرتے ہی الہام ہوا کہ
    ’’پاس ہوجاوے گا۔‘‘
    اور وہ عجیب الہام بھی اکثر لوگوں کو بتلایا گیا۔ چنانچہ وہ لڑکا پاس ہوگیا۔ فالحمدللہ۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ11؍مئی 1884ء بنام نواب علی محمد خانصاحب جھجر۔ الحکم جلد3نمبر34 مؤرخہ23؍ستمبر1899ء صفحہ1،2)
    1884ء
    ’’ایک دفعہ نواب علی محمد3خاں مرحوم رئیس لودھیانہ نے میری طرف خط لکھا۔ کہ میرے بعض امور معاش بند ہوگئے ہیں۔ آپ دعا کریں کہ تا وہ کھل جائیں۔ جب مَیں نے دعا کی۔ تو مجھے الہام ہوا کہ
    کُھل جائیں گے
    میں نے بذریعہ خط ان کو اطلاع دے دی۔ پھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کُھل گئے اور اُن کو بشدّت اعتقاد ہوگیا۔‘‘
    (حقیقتہ الوحی صفحہ246۔ روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ 257)
    1 خان بہادر مرزا سلطان احمدصاحب مرحوم مراد ہیں۔ (مرتّب)
    2 الحکم میں ’’پاس ہوجاوے گا‘‘ لکھا ہے جو سہوِ کاتب ہے۔ (مرتّب)
    3 نواب علی محمد خانصاحب مرحوم کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ وہ دراصل جھجر کے رئیس تھے مگر لدھیانہ میں رہائش رکھتے تھے اور آپ حضرت اقدس سے بہت اخلاص رکھتے تھے اور اکثر حضور سے اپنی مشکلات کے حل کروانے کیلئے دعا کروایا کرتے تھے ان کے متعلق جن نشانات کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے ان میں نہ تو کوئی ترتیب مدنظر ہے اور نہ ہی سوائے ایک دو کے کہ جن میں تاریخ درج ہے صحیح طور پر تاریخ کا کوئی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہاں صرف قیاس سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ واقعات1884ء کے قریب قریب کے ہیں۔ (مرتب)
    1884ء
    ’’پھر ایک دفعہ انہوں نے بعض1اپنےپوشیدہ مطالب کے متعلق میری طرف ایک خط روانہ کیا۔ اور جس گھڑی انہوں نے خط ڈاک میں ڈالا۔ اُسی گھڑی مجھے الہام ہوا کہ اس مضمون کا خط اُن کی طرف سے آنے والا ہے۔ تب میں نے بلا توقف اُن کی طرف یہ خط لکھا کہ اس مضمون کا خط آپ روانہ کریں گے۔ دوسرے دن وہ خط آگیا۔ اور جب میرا خط اُن کو ملا تو وہ دریائے حیرت میں ڈوب گئے کہ یہ غیب کی خبر کس طرح مل گئی۔ کیونکہ میرے اس راز کی خبر کسی کو نہ تھی۔ اور ان کا اعتقاد اس قدر بڑھا کہ وہ محبت اور ارادت میں فنا ہوگئے۔ اور انہوں نے ایک چھوٹی سی یادداشت کی کتاب میں وہ دونوں نشان متذکرہ بالا درج کردیئے اور ہمیشہ اُن کو پاس رکھتے تھے۔‘‘ (حقیقتہ الوحی صفحہ 246۔ روحانی خزائن جلد نمبر22 صفحہ 257، 258)
    تخمیناً 1884ء
    ’’ عالمِ کشف میں ان2 کا دوسرا خط مجھ کو ملا۔ جس میں بہت بیقراری ظاہر کی گئی تھی تو میں نے ...........اُن کے لئے دعا کی۔ اور مجھ کو الہام ہواکہ
    کچھ عرصہ کے لئے یہ روک اُٹھادی جاوے گی۔ اور اُن کو اس غم سے نجات دی جائے گی۔
    یہ الہام ان کو اسی خط میں لکھ کر بھیجا گیا تھا جو زیادہ تر تعجب کا موجب ہوا۔ چنانچہ وہ الہام جلد تر پور اہوا اور تھوڑے دنوں کے بعد اُن کی منڈی بہت عمدہ طور پر بارونق ہوگئی اور روک اُٹھ گئی۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ 219۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 597)
    12 فروری1884ء
    ’’شایدپرسوں مکرر الہام ہوا تھا۔
    یَا یَحْیٰ خُذِالْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ۔ خُذْھَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِیْدُھَا سِیْرَ تَھَا الْاُوْلٰی 3
    یہ آخری فقرہ پہلے بھی الہام ہوچکا ہے۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ 15؍فروری1884ء بنام میر عباس علی صاحب۔ مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ74)
    1 علی محمد خاں صاحب نواب جھجر نے لدھیانہ میں ایک غلّہ منڈی بنائی تھی کسی شخص کی شرارت کے سبب اُن کی منڈی بے رونق ہوگئی اور بہت نقصان ہونے لگا۔ تب انہوں نے دعا کے لئے میری طرف رجوع کیا لیکن پیشتر اس کے کہ نواب صاحب کی طرف سے میرے پاس کوئی خط اس خاص امر کے لئے دعا کے بارہ میں آتا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پائی۔ کہ اس مضمون کا خط نواب صاحب کی طرف سے آرہیگا۔ (نزول المسیح صفحہ 218 ۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 596)
    2 نواب علی محمد خاں صاحب آف جھجر۔ (مرتب)
    3 (ترجمہ از مرتب) اے یحییٰ اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لے۔ اسے پکڑلے اور خوف نہ کر۔ ہم اسے اس کی پہلی حالت کی طرف لَوٹا دیں گے۔
    15فروری 1884ء
    آج حضرت خداوند کریم کی طرف سے یہ الہام ہوا۔
    یَا عَبْدَ الرَّافِعِ اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔ اِنِّیْ مُعِزُّکَ لَا مَانِعَ لِمَا اُعْطِیْ۔1
    (از مکتوب مؤرخہ15؍فروری1884ء بنام میر عباس علی صاحب۔ مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 74)
    28 مارچ 1884ء
    اس خط کی تحریر کے بعد یہ شعر کسی بزرگ کا الہام ہوا:۔
    ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
    ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما 2
    (مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنام منشی احمد جان ؒ۔ مؤرخہ 28 مارچ1884ء مطابق 29 جمادی الاوّل
    1301ھ مندرجہ الحکم جلد37 نمبر7 مؤرخہ28 فروری1934ء صفحہ10)
    9 مئی 1884ء
    ’’ حضرت خداوندکریم کی قبولیت کی ایک یہ نشانی ہے کہ بعض اوقات آپ1 کی توجہات کی مجھ کو وہ خبر دیتا رہا ہے اور پرسوں کے دن بھی ایک عجیب بات ہوئی۔ کہ ابھی آں مخدوم کا منی آرڈر نہیں پہنچا تھا۔ اور نہ خط پہنچا تھا۔ کہ ایک منی آرڈر آپ کی طرف سے برنگ زرد مجھکو حالت کشفی میں دکھلایا گیا۔ اور پھر آں مخدوم کے خط سے اس عاجز کو بذریعہ الہام اطلاع دی گئی۔ اور آپ کے مافی الضمیر سےاورخط کے مضمون سے مطلع کیا گیا۔ اس میں بہ پیرایہ الہامی عبارت بطور حکایت آں مخدوم کی طرف سے یہ بھی فقرہ تھا۔ میرے خیال میں یہ آپ کی توجہ کا اثر ہے۔چنانچہ یہ خط کا مضمون اور مافی الضمیر کا منشاء تین ہندوؤں اور بہت سے مسلمانوں کو بھی بتلایا گیا۔ ازاں بعد آں مخدوم کا منی آرڈر اور خط بھی آگیا۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ 11مئی1884ء بنام نواب علی محمد خانصاحب آف جھجر ۔
    مندرجہ الحکم جلد3 نمبر34 مؤرخہ23؍ستمبر1899ء صفحہ1)
    1 (ترجمہ از مرتب) اے رفعت بخشنے والے خدا کے بندے۔ میں تجھے اپنی جناب میں رفعت بخشوں گا۔ میں تجھے عزت اور غلبہ دُوں گا۔ جو کچھ میں دُوں اُسے کوئی بند نہیں کرسکتا۔
    2 (ترجمہ از مرتب) وہ شخص ہرگز نہیں مرتا۔ جس کا دل عشق سے زندہ ہوگیا۔ صفحہ ٔ عالم پر ہمارا دوام ثابت ہے۔
    3 نواب علی محمد خان صاحب آف جھجر مراد ہیں۔ (مرتب)
    مئی 1884ء
    ’’ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ نواب1صاحب کی حالت غم سے خوشی کی طرف مبدّل ہوگئی ہے اور آسودہ حال اور شکر گذار ہیں اور نہایت عمدگی اور صفائی سے یہ خواب آئی اور یہ خواب بہ طور کشف تھی۔ چنانچہ اسی صبح کو نواب صاحب کو اس خواب سے اطلاع دی گئی۔‘‘
    (مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب مؤرخہ 26مئی 1884ء ۔ مندرجہ الحکم جلد 3نمبر13 مؤرخہ 12 اپریل1899ء صفحہ8)
    مئی 1884ء
    ’’پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک صاحب الٰہی بخش نام اکؤنٹنٹ نے کہ جو اس کتاب2کے معاون ہیں۔ کسی اپنی مشکل میں دعا کے لئے درخواست کی اور بطور خدمت پچاس روپیہ بھیجے اور جس روز یہ خواب آئی اس روز سے دو چار دن پہلے ان کی طرف سے دعا کے لئے الحا ح ہوچکا تھا۔ مگر یہ عاجز نواب3صاحب کے لئے مشغول تھا۔ اس لئے ان کے لئے دُعا کرنے کو کسی اور وقت پر موقوف رکھا اور جس روز نواب صاحب کے لئے بشارت دی گئی تھی تو اس دن خیال کیا کہ آج منشی الٰہی بخش کے لئے توجہ سے دعا کریں سو بعد نماز عصر جب وقت ِ صفا پایا اور دعا کا ارادہ کیا گیا تو پھر بھی دل نے یہی چاہا کہ اس دعا میں بھی نواب صاحب کو شامل کرلیا جائے سو اس وقت نواب صاحب اور منشی الٰہی بخش دونوں کے لئے دعا کی گئی۔ بعد دُعا اسی جگہ الہام ہوا۔
    نُنَجِّیْھِمَا مِنَ الْغَمِّ
    یعنی ہم دونوں کو غم سے نجات دیں گے..............پھر چند روز کے بعد نواب صاحب کا خط آگیا کہ سرائے کاکام جاری ہوگیا ہے۔‘‘
    (مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب مؤرخہ 26مئی1884ء
    مندرجہ الحکم جلد3 نمبر13 مؤرخہ 12 اپریل 1899ء صفحہ8 و نمبر41 مؤرخہ 19؍ اپریل 1899ء صفحہ 6)
    نومبر1884ء
    ’’ایک ابتلاء مجھ کو اس شادی4کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا............میری حالت ِ مردمی کالعدم تھی۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی اس لئے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا..........کہ آپ بباعث سخت کمزوری اس لائق نہ تھے.........غرض اس ابتلاء کے وقت میں نے جنابِ الٰہی میں دُعا کی۔ اور مجھے اس نے دفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعے سے دوائیں بتلائیں۔ اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے
    1 نواب علی محمد خان صاحب آف جھجر مراد ہیں۔ (مرتب) 2 براہین احمدیہ (مرتّب)
    3 نواب علی محمد خان صاحب آف جھجر مراد ہیں۔ (مرتب) 4 جو17؍ نومبر1884ء کو دہلی میں ہوئی۔ (مرتب)
    منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوا میں نے طیّار کی۔ اور اس میں خدا نے اس قدرت برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پُر صحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دُنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی۔ اور چار لڑکے مجھے عطا کئے گئے۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ35، 36 ۔ روحانی خزائن جلد نمبر15 صفحہ 203، 204)
    اِنَّ اللّٰہَ بَشَّرَنِیْ فِیْٓ اَبْنَا ئِیْ بَشَارَۃً بَعْدَ بَشَارَۃٍ حَتّٰی بَلَّغَ عَدَدَھُمْ اِلٰی ثَلٰثَۃٍ وَّ اَنْبَاَنِیْ بِھِمْ قَبْلَ وُجُوْ دِھِمْ بِالْاِلْھَامِ۔1
    (انجام آتھم صفحہ 182روحانی خزائن جلد نمبر11 صفحہ 182)
    اِنِّیْ فَضَّلْتُکَ عَلَی الْعَالَمِیْنَ قُلْ اُرْسِلْتُ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔2
    (مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مؤرخہ 30دسمبر1884ء۔ مندرجہ الحکم جلد19 نمبر 3مؤرخہ 21؍جنوری 1915ء صفحہ3)
    اوائل مارچ 1885ء
    ’’مصنّف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدّدِ وقت ہے۔ اور روحانی طور پر اُس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدّت مناسبت و مشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء و رسل کے نمونہ پر محض بہ برکت ِ متابعت حضرت خیر البشر و افضل الرسل صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اُن بہتوں پر اکابر اولیا سے فضلیت دی گئی ہے۔ کہ جو اس سے پہلے گذرچکے ہیں۔ اور اُس کے قدم پر چلنا موجب نجات و سعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بُعد وحرمان ہے۔‘‘
    (اشتہار ضمیمہ سرمہ چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر2 صفحہ 319)
    8 مارچ 1885ء
    ’’عاجز مؤلف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جلّ شانہ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیلی (مسیح) کی طرز پر کمال مسکینی فروتنی و غربت و تذلّل و تواضع سے اصلاح خلق کے لئے کوشش کرے
    1 (ترجمہ از مرتب) اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے بیٹوں کے بارہ میں بشارت کے بعد بشارت دی یہاں تک کہ انکی تعداد تین تک پہنچائی۔ اور مجھے ان کی پیدائش سے پہلے الہام کے ذریعہ ان کی خبر دی۔ (نوٹ از مرتب) اس کے متعلق حضرت امّ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے۔ فرمایا:۔’’ جب میری شادی ہوئی اور میں ایک مہینہ قادیان ٹھیر کر واپس دہلی گئی۔ تو ان ایام میں حضرت مسیح موعود نے مجھے ایک خط لکھا کہ میں نے خواب میں تمہارے تین جوان لڑکے دیکھے ہیں۔‘‘
    (سیرۃ المہدی حصہ اوّل صفحہ 73)
    2 (ترجمہ از مرتب) میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ کہہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔
    ............ اس لئے یہ قرار پایا ہے کہ بالفعل بغرضِ اتمام حجت یہ خط............ مع اشتہار انگریزی1.....شائع کیا جائے۔ اور اُس کی ایک کاپی بخدمت معز ز پادری صاحبان ..............اور بخدمت معزز برہمو صاحبان و آریہ صاحبان و نیچری صاحبان و حضرات مولوی صاحبان.............ارسال کی جاوے۔
    یہ تجویز نہ اپنے فکر و اجتہا دسے قرار پائی ہے۔ بلکہ حضرت مولیٰ کریم کی طرف سے اس کی اجازت ہوئی ہے اور بطور پیشگوئی یہ بشارت ملی ہے کہ اس خط کے مخاطب (جو خط پہنچتے پر رجوع نہ کرینگے) ملزم و لاجواب و مغلوب ہوجائیں گے۔‘‘
    (از چھٹی مطبوعہ مؤرخہ8مارچ1885ء ۔ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ11مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 20)
    6اپریل 1885ء
    ’’ آج اسی وقت میں نے خواب دیکھا ہے کہ کسی ابتلاء میں پڑا ہوں۔ اور میں نے اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا۔اور جو شخص سرکاری طور پر مجھ سے مواخذہ کرتا ہے۔ میں نے اُس کو کہا کیا مجھ کو قید کریں گے یا قتل کریں گے۔ اس نے کچھ ایسا کہا کہ انتظام یہ ہوا ہےکہ گرایا جائے گا۔ مَیں نے کہا کہ میں اپنے خداوند تعالیٰ جلّ شانہ‘ کے تصرّف میں ہوں جہاں مجھ کو بٹھائے گا بیٹھ جاؤں گا اور جہاں مجھ کو کھڑا کرے گا، کھڑا ہوجاؤں گا۔ اور یہ الہام ہوا۔
    یَدْعُوْنَ لَکَ اَبْدَالُ الشَّامِ وَعِبَادُ اللّٰہِ مِنَ الْعَرَبِ
    یعنی تیرے لئے ابدالِ شام کے دُعا کرتے ہیں۔ اور بندے خدا کے عرب میں سے دُعا کرتے ہیں۔
    خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کب اور کیونکر اس 2کا ظہور ہو۔ وَاللّٰہ اَعلم بالصواب۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ6؍ اپریل1885ء ۔ مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ86)
    10 جولائی 1885ء
    ’’ایک مرتبہ مجھے یا دہے کہ میں نے عالمِ کشف میں دیکھا1کہ بعض احکام قضاء و قدر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہوگا۔ اور پھر اُس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند ِ قادرِ مطلق جلّ شانہ‘ کے
    1 یعنی اشتہار ضمیمہ سُرمہ چشم ِ آریہ جو اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہو۔ (مرتب)
    2 آج چالیس سال کے بعد خطہ ٔ شام اور ملک عرب اس الہام کی تصدیقی شہادت بصدائے عام کررہا ہے۔ اور آج وہاں سلسلہ کی کئی جماعتیں قائم ہوگئی ہیں۔ جو حضور اقدس کے کام میں ہاتھ بٹاتیں اور حضور پر درود اور سلام بھیجتی ہیں۔ (مرتب)
    3 اس واقعہ کے متعلق حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو انہوں نے شہادت کے طور پر اخبار الفضل جلد 4 نمبر24مؤرخہ26؍ ستمبر1916ء میں شائع کرائی تھی درج ذیل ہے:۔
    ’’رمضان شریف میں یہ عاجز حاضر خدمت سراپا برکت تھا کہ آخری عشرہ میں 27؍تاریخ کو جمعہ تھا۔ اس جمعہ کی صبح نماز پڑھ کر
    سامنے پیش کیا ہے (اور یاد رکھنا چاہئے کہ مکاشفات اوررؤیاصالحہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفاتِ جمالیہ یا جلالیہ الٰہیہ انسان کی شکل پر متمثل ہوکر صاحب کشف کو نظر آجاتے ہیں۔ اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادرِ مطلق ہے۔ اور یہ امر ارباب کشوف میں شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے۔ جس سے کوئی صاحب ِ کشف انکار نہیں کرسکتا) غرض وہی صفت جمالی جو بعالم کشف قوت ِ متخیّلہ کے آگے ایسی دکھلائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے، اُس ذاتِ بیچون و بیچگون کے آگے وہ کتاب قضاء قدر پیش کی گئی اور اُس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثّل تھا، اپنے قلم کو سُرخی کی دوات میں ڈبو کر اوّل اُس سُرخی کو اِس عاجز کی طرف چھڑکا اور بقیہ سُرخی کا قلم کے
    بقیہ حاشیہ:
    حضرت اقدس حسب معمول حجرہ مذکور (یعنی مسجد مبارک کے ساتھ مشرق والا چھوٹا حجرہ) میں جاکر چارپائی پر لیٹ گئے۔ اور یہ عاجز پاس بیٹھ کر حسب معمول پاؤں مبارک دبانے لگ گیا۔ حتیٰ کہ آفتاب نکل آیا اور حجرہ میں بھی روشنی ہوگئی۔
    حضرت اقدس اس وقت کروٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے۔ اور منہ مبارک پر اپنا ہاتھ کہنی کی جگہ سے رکھا ہوا تھا۔ میرے دل میں اس وقت بڑے سرور اور ذوق سے یہ خیالات موجزن تھے کہ میں کیا خوش نصیب ہوں کیا ہی عمدہ موقعہ اللہ سبحانہ‘ و تعالیٰ نے مجھے دیا ہے کہ مہینوں میں مہینہ مبارک رمضان شریف کا ہے اور تاریخ بھی جو 27 ہے مبارک ہے اور عشرہ بھی مبارک ہے اور دن بھی جمعہ ہے جو نہایت مبارک ہے اور جس شخص کے پاس بیٹھا ہوں وہ بھی نہایت مبارک ہے اللہ اکبر کس قدر برکتیں آج میرے لئے جمع ہیں۔ اگر خدا وند کریم اس وقت کوئی نشان حضرت اقدس کا مجھے دکھا دے تو کیا بعید ہے۔ میں اسی سرور میں تھا۔ اور پاؤں ٹخنہ کے قریب سے دبا رہا تھا کہ یکایک حضرت اقدس کے بدنِ مبارک پر لرزہ سا محسوس ہوا۔ اور اس لرزہ کے ساتھ ہی حضور نے اپنا ہاتھ مبارک منہ پر سے اُٹھا کر میری طرف دیکھا۔ اُس وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ شاید جاری بھی تھے۔ اور پھر اسی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر لیٹے رہے جب میری نظر ٹخنہ پر پڑی تو اُس پر ایک قطرہ سُرخی کا جو پھیلا ہوا نہیں بلکہ بستہ تھا۔ مجھے دکھلائی دیامَیں نے اپنی شہادت کی انگلی کا پھول اُس قطرہ پر رکھا تو وہ پھیل گیا اور سُرخی میری اُنگلی کو بھی لگ گئی۔ اس وقت میں حیران ہوا۔ اور میرے دل میں یہ آیت گذری۔صِبْغَۃَ اللّٰہِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً۔نیز یہ بھی دل میں گذرا کہ اگر یہ اللہ کا رنگ ہے تو اس میں شاید خوشبو بھی ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی انگلی سونگھی مگر خوشبو وغیرہ کچھ نہ تھی۔ پھر میں ٹخنہ کی طرف سے کمر کی طرف دبانے لگا۔ تو حضرت اقدس کے کُرتہ پر بھی چند داغ سُرخی کے گیلے گیلے دیکھے۔ مجھ کو نہایت تعجب ہوا۔ اور میں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اور حجرہ کی ہر جگہ کو خوب اچھی طرح دیکھا۔ مگر مجھے سُرخی کا کوئی نشان حجرہ کے اندر نہ ملا۔ آخر حیران سا ہوکر بیٹھ گیا۔ اور بدستور پاؤں دبانے لگ گیا۔ حضرت صاحب منہ پر ہاتھ رکھے لیٹے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور اُٹھ کر بیٹھ گئے اور پھر مسجد مبارک میں آکر بیٹھ گئے یہ عاجز بدستور پھر کمر وغیرہ دبانے لگ گیا۔
    اس وقت میں نے حضور سے عرض کی کہ حضور یہ سرخی کہاں سے گری۔ پہلے تو ٹال دیا پھر اس عاجز کے اصرار پر وہ سارا واقعہ بیان فرمایا۔ جس کو حضرت اقدس تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج فرماچکے ہیں مگر بیان کرنے سے پہلے اس عاجز کو رویت باری تعالیٰ کا مسئلہ اور کشفی امور کا خارج میں وجود پکڑنا حضرت محی الدین عربی کے واقعات سنا کر خوب اچھی طرح سے
    مونہہ میں رہ گیا۔ اُ س سے اُس کتاب پر دستخط1 کردیئے اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دُور ہوگئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا‘ تو کئی قطرات سُرخی کے تازہ بتازہ کپڑوں پر پڑے۔ چنانچہ ایک صاحب عبداللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اُس وقت اس عاجز کے پاس نزدیک ہوکر بیٹھے ہوئے تھے، دو یا تین قطرہ سُرخی کے اُن کی ٹوپی پر پڑے۔ پس وہ سُرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آگئی۔ اسی طرح اور کئی مکاشفات میں ‘ جن کا لکھنا موجب تطویل ہےمشاہدہ کیا گیا ہے۔‘‘
    (سرمہ چشم آریہ صفحہ 131، 132حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر2 صفحہ 179، 180(
    1885ء
    ’’میں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہوں اور منتظر ہوں کہ میرا مقدمہ بھی ہو اتنے میں جواب ملا۔
    اِصْبِرْ سَنَفْرُ غُ یَا مِرْزَا 1 !
    پھر ایک بار دیکھا کہ کچہری میں گیا ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر عدالت کی کُرسی پر بیٹھا ہے اور ایک
    بقیہ حاشیہ:۔
    ذہن نشین کرادیا تھا کہ اس جہان میں کاملین کو بعض صفاتِ الٰہیہ جمالی یا جلالی متمثل ہوکر دکھلائی دے جاتی ہیں۔ پھر حضرت نے مجھے فرمایا کہ آپ کے کپڑوں پر بھی کوئی قطرہ گرا۔ میں نے اپنے کپڑے اِدھر اُدھر سے دیکھ کر عرض کیاکہ حضرت میرے پر تو کوئی قطرہ نہیں ہے فرمایا اپنی ٹوپی پر (جو سفید ململ کی تھی) دیکھو۔ میں نے ٹوپی اُتار کر دیکھی تو ایک قطرہ اس پر بھی تھا۔ مجھے اس وقت بہت ہی خوشی ہوئی کہ میرے پر بھی ایک قطرہ خدا کی روشنائی کا گرا۔ اس عاجز نے وہ کُرتہ جس پر سُرخی گری تھی تبرکاًحضرت اقدس سے باصرار تمام لے لیا۔ اس عہد پر کہ میں وصیت کر جاؤنگا کہ میرے کفن کے ساتھ دفن کردیا جاوے۔ کیونکہ حضرت اقدس اس و جہ سے اُسے دینے سے انکار کرتے تھے کہ میرے اور آپ کے بعد اس سے شرک پھیلے گا اور لوگ اس کو زیارت گاہ بنا لیں گے اور اس کی پُوجا شروع ہوجائیگی۔ غرض کہ بہت ردّ و قدح کے بعد دیا جو میرے پاس اس وقت تک موجود ہے اور سُرخی کے نشان اس وقت تک بلا کم و کاست بعینہٖ موجود ہیں۔
    یہ ہے سچی عینی شہادت! اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو لعنتہ اللہ علی الکاذبین کی وعید کافی ہے میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اور اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے سراسر سچ ہے۔ اگر جھوٹ بولا ہو تو مجھ پر خدا کی ***! ***!! ***!!! مجھ پر خد اکا غضب! غضب!!غضب!!!
    عاجز عبداللہ سنوری‘‘
    1 چونکہ عین آریہ صاحبوں کے مقابل پر یہ نشان تھا اس لئے میرے خیال میں یہ پنڈت لیکھرام کے مارے جانے کی طرف اشارہ تھا۔ اور طاعون کے وقوع کی طرف بھی اشارہ تھا۔‘‘ (نسیم دعوت صفحہ 62حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 427)
    2 (ترجمہ از مرتب) مرزا! ٹھہرو ہم ابھی فارغ ہوتے ہیں۔
    سر رشتہ دار کے ہاتھ میں ایک مثل ہے جو وہ پیش کررہا ہے۔ حاکم نے مثل دیکھ کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو میں نے غور سے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک خالی کرسی پڑی ہے، مجھے اُس پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر میں بیدار ہوگیا۔‘‘
    (الحکم جلد7 نمبر5 مؤرخہ7 فروری1903ء صفحہ14 و البدر جلد2 نمبر6 مؤرخہ27 فروری 1903ء صفحہ 42 کالم نمبر1)
    5 اگست 1885ء
    ’’مرزا امام الدین و نظام الدین کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے کہ اکتیس ماہ تک اُن پر ایک سخت مصیبت پڑے گی۔ یعنی ان کے اہل و عیال و اولاد میں سے کسی مرد یا کسی عورت کا انتقال ہوجائے گا۔ جس سے اُن کو سخت تکلیف اور تفرقہ پہنچے گا۔ آج ہی کی تاریخ کے حساب جو تئیس ساون سم 1942 مطابق5اگست 1885ء ہے، یہ واقعہ ظہور میں آئے گا۔1 مرقوم5اگست1885ء ۔‘‘
    (اعلان 20مارچ1888ء تبلیغِ رسالت جلد اوّل صفحہ 102)
    1885ء
    (الف) ’’ قریباً چودہ برس کا عرصہ گذرا ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میری اس بیوی1کو چوتھا لڑکا پیدا ہوا ہےاور تین پہلے موجود ہیں۔ اور یہ بھی خواب میں دیکھا تھا کہ اس پسر چہارم کا عقیقہ بروز دو شنبہ یعنی پیر ہوا ہے اور جس وقت یہ خواب دیکھی تھی اس وقت ایک بھی لڑکا نہ تھا یعنی کوئی بھی نہیں تھا۔ اور خواب میں دیکھا تھا اس بیوی سے میرے چار لڑکے ہیں اور چاروں میری نظر کے سامنے موجود ہیں اور چھوٹے لڑکے کا عقیقہ پیر کو ہوا ہے۔
    اب جبکہ یہ لڑکا مبارک احمد پیدا ہوا تو وہ خواب بھول گئے اور عقیقہ اتوار کے دن مقرر ہوا لیکن خدا کی قدرت ہے کہ اس قدر بارش ہوئی کہ اتوار میں عقیقہ کا سامان نہ ہوسکا اور ہر طرف حارج پیش آئے۔ ناچار پیر کے دن عقیقہ قرار پایا پھر ساتھ یاد آیا کہ قریباً چودہ برس گذر گئے کہ خواب میں دیکھا تھا کہ ایک چوتھا لڑکا پیدا ہوگا اور اس کا عقیقہ پیر کے دن ہوگا۔ تب وہ اضطراب ایک خوشی کے ساتھ مبدّل ہوگیا کہ کیونکر خدا تعالیٰ نے اپنی بات کو پورا کیااور ہم سب زور لگار ہے تھے کہ عقیقہ اتوار کے دن ہو مگر کچھ بھی پیش نہ گئی اور عقیقہ پیر کو ہوا۔ یہ پیشگوئی بڑی بھاری تھی کہ اس چودہ برس کے عرصہ میں یہ پیشگوئی کہ چار لڑکے پیدا ہوں گے اور پھر چہارم کا عقیقہ پیر کے دن ہوگا۔ انسان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس مدت تک کہ چار لڑکے پیدا ہوسکیں ‘ زندہ بھی رہیں یہ خدا
    1 چنانچہ عین اکتیسویں مہینہ کے درمیان مرزا نظام الدین کی دختر یعنی مرزا امام الدین کی بھتیجی بعمر سال ایک بہت چھوٹا بچہ چھوڑ کر فوت ہوگئی۔‘‘
    (اعلان مؤرخہ20 مارچ1888ء مندرجہ تبلیغِ رسالت جلد اوّل صفحہ 103۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 144)
    2 حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ (مرتب)
    کے کام ہیں مگر افسوس کہ ہماری قوم دیکھتی ہے پھر آنکھ بند کرلیتی ہے۔‘‘
    (مکتوب مؤرخہ27جون1899ء بنام سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اوّل صفحہ 26،27)
    (ب)’’عرصہ چوداں برس کا ہوا ہے کہ ایک خواب آئی تھی۔ کہ چار لڑکے ہوں گے۔ اور چوتھے لڑکے کا عقیقہ پیر کے دن ہوگا۔‘‘ (از مکتوب بنام ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مؤرخہ26جون1899ء)
    1885ء
    ’’میاں عبداللہ سنوری جو علاقہ پٹیالہ میں پٹواری ہیں، ایک مرتبہ ان کو ایک کام پیش آیا جس کے ہونے کے لئے انہوں نے ہر طرح سے کوشش کی اور بعض وجوہ سے ان کو اس کام کے ہوجانے کی امید بھی ہوگئی تھی۔ پھر انہوں نے دعا کے لئے ہماری طرف التجا کی۔ ہم نے جب دعا کی تو بلاتوقف الہام ہوا۔
    ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘
    تب میں نے ان کو کہدیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہوگا اور وہ الہام سنا دیا اور آخرکار ایسا ظہور میں آیا اور کچھ ایسے موانع پیش آئے کہ وہ کام ہوتا ہوتا رہ گیا۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ 234روحانی خزائن جلد 18صفحہ 612)
    28نومبر1885ء
    ’’28 نومبر1885ء کی رات کو یعنی اُس رات کو جو 28نومبر1885ء کے دن سے پہلے آئی تھی۔ اس قدر شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی۔ اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزار ہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اُس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا میں اُس کو بیان کرسکوں۔ مجھ کو یاد ہے کہ اُس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ
    مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی 1
    سو اُس رمی کو رمیِ شہب سے بہت مناسبت تھی۔
    یہ شہبِ ثاقبہ کا تماشا جو28نومبر1885ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کی عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا۔ لیکن خداوند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اس سے حظ اور لذّت اُٹھانے والا میں ہی تھا۔ میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں۔ اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہوگیا تھا جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی و جہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میری دل میں الہاماً ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے۔
    اور پھر اُس کے بعد یورپ کے لوگوں کو وہ ستارہ دکھائی دیا جو حضرت مسیح کے ظہو رکے وقت میں نکلا تھا۔
    1 ’’جو کچھ تونے چلایا وہ تونے نہیں چلایا۔ بلکہ خدا نے چلایا۔‘‘ (حقیقتہ الوحی صفحہ 70۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 73)
    میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ ستارہ بھی تیری صداقت کے لئے دوسر انشان ہے۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 110 ، 111 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد 5صفحہ110 ، 111)
    نومبر1885ء
    (الف)’’ہم پر خود اپنی نسبت‘ اپنے بعض جدّی اقارب کی نسبت‘ اپنے بعض دوستوں کی نسبت اور بعض اپنے فلاسفر قومی بھائیوں کی نسبت کہ گو یا نجم الہند1ہیں اور ایک دیسی امیر نووارد2پنجابی الاصل کی نسبت بعض متوحش خبریں جو کسی کے ابتلاء اور کسی کی موت و فوت اعِزّہ اور کسی کی خود اپنی موت پر دلالت کرتی ہیں۔ جو انشاء اللہ القدیر بعد تصفیہ لکھی جائیں گی۔ منجانب اللہ منکشف ہوئی ہیں۔‘‘
    (اشتہار 20فروری1886ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 99،100)
    (ب) ’’ دلیپ سنگھ کی نسبت پیش از وقوع اُس3 کو بتلایا گیا۔ کہ مجھے کشفی4طور پر معلوم ہؤاہوا ہےکہ پنجاب کا آنا اُس
    1 (الف)’’وہ پیشگوئی بھی بڑی ہیبت کے ساتھ پوری ہوئی اور ایک دفعہ ناگہانی طور سے ایک شریر انسان کی خیانت سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے نقصان کا آپ کو صدمہ پہنچا......آپ نے اس غم سے تین دن روٹی نہیں کھائی.......ایک مرتبہ غشی بھی ہوگئی۔‘‘ (اشتہار12؍مارچ1897ء مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 341، 342) اس اشتہار میں سر سید احمد خانصاحب مخاطب ہیں۔ (مرتب)
    (ب) ’’اخیر عمر میں سید صاحب کو ایک جوان بیٹے کی موت کا جانکاہ صدمہ پہنچا۔‘‘
    ( نزول المسیح صفحہ 191۔ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 569)
    2 (الف) ’’ ہم نے صد ہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلادیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے۔ جس کے پنجاب میں آنے کی خبر مشہورہورہی ہے لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ ناکام رہے گا۔ بلکہ اس سفر میں اُس کی عزت و آسائش یا جان کا خطرہ ہے..........بالآخر اُس کو مطابق اِسی پیشگوئی کے بہت حرج اور تکلیف اور سُبکی اور خجالت اُٹھانی پڑی۔ اور اپنے مدعا سے محروم رہا۔‘‘
    (اشتہار محکّ اخیار و اشرار ضمیمہ سرمہ چشم آریہ صفحہ 1تا4۔ روحانی خزائن جلد 2صفحہ 318 ۔ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ 90۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 131)
    (ب) ’’دلیپ سنگھ عدن سےواپس 1ہوا۔ اور اس کی عزت و آسائش میں بہت خطرہ پڑا۔ جیسا کہ میں نے صدہا آدمیوں کو خبر دی تھی۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 226۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 604)
    (ج) ’’وہ فقرہ اشتہار20فروری1886ء جس میں لکھا ہے کہ امیر نووارد پنجابی الاصل کی نسبت متوحش خبریں‘ اس سے مراد دلیپ سنگھ ہے۔ ایسا ہی یہ خبر جابجا صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو جو پانچ سو سے کسی قدر زیادہ ہی ہوں گے۔ کئی شہروں میں پیش از وقوع بتلائی گئی تھی۔ اور اشتہارات 20فروری1886ء بھی دُور دُور ملکوں تک تقسیم کئے گئے تھے۔ پھر آخر کار جیسا کہ پیش از وقوع بیان کیا گیا اور لکھا گیا تھا۔ وہ سب باتیں دلیپ سنگھ کی نسبت پوری ہوگئیں۔‘‘ (سرمہ چشم آریہ صفحہ 188۔ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 236)
    3 لالہ شرمپت کو۔ (مرتّب) 4 (نوٹ از مرتب) مولوی جمال الدین صاحب سکنہ سیکھواں ضلع گورداسپور کی روایت
    1 اخبار ریاضؔ ہند امرت سر مطبوعہ3؍مئی1886ء میں صفحہ 314 کالم نمبر1 پر مہارا جہ دلیپ سنگھ صاحب کے عدنؔ میں رہ جانے کی خبر شائع ہوئی۔ (مرتب)
    کے لئے مقدر نہیں۔ یا تو یہ مرے گا اور یا ذلّت اور بے عزتی اُٹھائے گا اور اپنے مطلب سے ناکام رہے گا۔‘‘
    (شحنہ حق صفحہ 43۔ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 382)
    1886ء
    (الف)’’خداوند کریم جلّ شانہ‘ نے اُس شہر کا نام بتادیا ہے کہ جس میں کچھ مدت بطور خلوت رہنا چاہئے۔ اور وہ ہوشیارپور1ہے۔ (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر سوم صفحہ10 مکتوب نمبر20بنام چودھری رستم علی صاحب ؓ)
    (ب) ’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام مشہو رہوچکا ہے۔ بایں الفاظ یا بایں معنی ایک معاملہ کی عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔‘‘ (بدر جلد 6 نمبر 36 مؤرخہ5ستمبر1907ء صفحہ 10)
    جنوری 1886ء
    * اِعْلَمْ اَنَّ زَوْجَۃَ اَحْمَدَ وَاَقَارِ بَھَاکَا نُوْا مِنْ عَشِیْرَتِیْ۔ وَکَا نُوْا لَا یَتَّخِذُوْنَ فِیْ سُبُلِ الدِّیْنِ وَتِیْرَتِیْ۔ بَلْ کَانُوْا یَجْتَرِئُ وْنَ عَلَی السَّیِّئَاتِ۔ وَاَنْوَاعِ الْبِدْعَاتِ۔ وَکَانُوْا فِیْھَا مُفْرِطِیْنَ۔ فَاُلْھِمْتُ مِنَ الرَّحْمَانِ اَنَّہ‘ مُعَذِّبُھُمْ لَوْ لَمْ یَکُوْنُوْا تَائِبِیْنَ۔ وَقَالَ لِیْ رَبِّیْ اِنَّھُمْ اِنْ لَّمْ یَتُوْبُوْا وَلَمْ یَرْجِعُوْا فَنُنَزِّلُ
    ☆ جا ننا چاہئے کہ احمد بیگ کی بیوی اور اس کے دیگر اقارب میرے رشتہ داروں میں سے تھے اور دینی امور کی راہوں میں میرا طریقہ اختیار نہیں کرتے تھے بلکہ وہ ہر قسم کی بدکرداریوں اور گوناگوں بدعتوں کا بڑی دلیری سے ارتکاب کرتے تھے۔ اور اس بات میں حد سے بڑھے ہوئے تھے پس
    بقیہ حاشیہ:---------------------------------------------------------------
    سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشف حضور کو ماہ نومبر1885ء میں ہو اتھا۔ لکھتے ہیں:۔
    ’’یہ خاکسار درماہ نومبر1885ء کہ واسطے ملاقات جناب مرزا صاحب موصوف (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کے گیا۔ اور اسی روز منجانب اللہ بابت مہاراجہ دلیپ سنگھ کے منکشف ہوا تھا وہ میرے پاس اور نیز کئی آدمی جو اس وقت موجود تھے۔ ظاہر کیا۔ کہ یہ لوگ آمدن دلیپ سنگھ صاحب کے (باعث)سرور و خوشی کررہے ہیں۔ یہ ان کو سرور حاصل نہ ہوگا۔ مجھ کو آج خدا کی طرف سے ظاہر ہوا ہے کہ جو وہ آئے گا۔ بہت شدائد و مصائب اُٹھائے گا۔ بلکہ یہاں تک اس وقت مرزا صاحب نے فرمایا۔ کہ اس کی لاش ایک صندوق میں مجھ کو دکھلائی گئی ہے۔‘‘
    (روایات صحابہ صفحہ ج155/4 روایت مولوی جمال الدین صاحب سیکھوانیؓ )
    1 میاں عبداللہ صاحب سنوریؓ کی روایت ہے کہ پہلے حضورؑ کا ارادہ چلّہ کشی کے لئے سوجان پورضلع گورداسپور میں جانے کا تھا مگر بعد میں الہام ہؤا کہ ’’تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔‘‘
    دیکھئے سیرۃ المہدی حصّہ اوّل صفحہ 69 (مرتّب)

    عَلَیْھِمْ رِجْسًا مِّن السَّمٰوَاتِ۔ وَنَجْعَلُ دَارَھُمْ مَمْلُوَّۃً مِّنَ الْاَرَامِلِ وَالثَّیِّبَاتِ۔ وَنَتَوَفّٰہُمْ اَبَا تِرَمَخْذُوْلِیْنَ وَاِنْ تَابُوْ وَاَصْلَحُوْا فَنَتُوْبُ عَلَیْھِمْ بِالرَّحْمَۃِ۔ وَنُغَیِّرُ مَا اَرَدْنَا مِنَ الْعُقُوْبَۃِ۔ فَیَظْفَرُوْنَ بِمَا یَبْتَغُوْنَ فَرِحِیْنَ۔ فَنَصَحْتُ لَھُمْ اِتْمَا مًا لِّلْحُجَّۃِ۔ وَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ذِی الْمَغْفِرَۃِ۔ فَمَا سَمِعُوْا کَلِمَاتِیْ۔ وَزَادُوْا فِیْ مُعَادَا تِیْ۔ فَبَدَالِیْ اَنَ اُشِیْعَ الْاِشْتِھَارَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ۔ لَعَلَّھُمْ یَکُوْنُوْنَ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ۔
    فَاَشَعْتُ الْاِ شْتِھَارَ۔ وَاَنَا فِی ھُشْیَارَ۔ فَنَبَذُوْہُ وَرَآئَ ظُھُوْرِھِمْ غَیْرَ مُبَالِیْنَ۔
    (انجام آتھم صفحہ 211، 213۔ روحانی خزائن جلد 11صفحہ 211۔213)
    1886ء
    (الف) فَلَمَّا 1 لَمْ یَنْتَھُوْا بِھٰذَا الْاِشْتِھَارِ۔ وَلَمْ یَتْرُکُوْا طَرِیْقَ التَّبَارِ۔ فَکَشَفَ اللّٰہُ عَلَیَّ اُمُوْرًا لِتِلْکَ الْفِتْنَۃِ وَاَنَا بَیْنَ النَّوْمِ وَالْیَقْظَۃِ۔ وَکَانَ ھٰذَا الْکَشْفُ تَفْصِیْلَ ذَالِکَ الْاِلْھَامِ فِی الْمَرَّۃِ الثَّانِیَۃِ۔ وَ بَیَانُہ‘ اَنِّیْ کُنْتُ اُرِیْدُ اَنْ اَرْقُدَ۔ فَاِذَا تَمَثَّلَتْ لِیْ اُمُّ زَوْجَۃِ اَحْمَدَ۔ وَرَاَیْتُھَا فِیْ شَانٍ اَحْزَنَنِیْ وَاُرْجِدَ۔ وَھُوَاَنِّیْ
    مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہاماًبتایا گیا۔ کہ اگر انہوں نے توبہ نہ کی۔ تو اللہ تعالیٰ اُن پر عذاب نازل کرے گا اور مجھے میرے پروردگار نے کہا۔ کہ اگر ان لوگوں نے توبہ نہ کی۔ اور اپنی بے راہیوں سے باز نہ آئے تو ہم اُن پر آسمان سے عذاب نازل کریں گے اور ان کے گھروں کو بیواؤں سے بھردیں گے اور اگر انہوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کی۔ تو ہم رحمت کے ساتھ اُن کی طرف رجوع کریں گے اور سزا کے ارادہ کو تبدیل کردیں گے۔ پس جو کچھ وہ چاہتے ہیں۔ بخوشی خاطر دیکھیں گے۔ اور میں نے اُن کو اتمام حجت کے لئے نصیحت کی اور کہا کہ خداوند غفور سے مغفرت چاہو۔ مگر انہوں نے میری کوئی بات نہ سنی اور دشمنی میں اور بھی بڑھ گئے۔ پھر میرے دل میں آیا کہ اس بارہ میں اشتہار شائع کروں تا یہ لوگ ڈریں اور راہ صواب کی طرف رجوع کریں۔ اور خدائے تعالیٰ سے بخشش چاہیں۔
    پس میں نے اشتہار شائع کردیا اور میں اس وقت ہوشیار پور میں تھا۔ مگر انہوں نے اس اشتہار کو بے پرواہی سے پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔
    1 (ترجمہ از مرتب) پھر جب وہ اس اشتہار سے نہ رُکے اور ہلاکت کی راہ کونہ چھوڑا۔ تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس خاندان کے متعلق چند امور ظاہر فرمائے۔ جبکہ میں نیند اور بیداری کے بَین بَین تھا۔ اور یہ کشف دوبارہ اس الہام کی تفصیل تھا جس کا واقعہ یوں ہے کہ میں جب سونے لگا تو احمد بیگ کی خوشدامنہ میرے سامنے متمثّل ہوئی۔ میں نے اُسے جس حال میں دیکھا۔ دیکھتے ہی میں غمگین ہوگیا

    وَجَدْ تُّھَافِیْ فَزَعٍ شَدِیْدٍ عِنْدَالتَّلَاقِیْ۔ وَعَبَرَاتُھَا یَتَحَدَّرْنَ مِنَ الْمَاٰقِیْ۔ فَقُلْتُ اَیَّتُھَا الْمَرْئَ ۃُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَآئَ عَلٰی عَقِبِکِ۔ اَیْ عَلٰی بِنْتِکِ وَبِنْتِ بِنْتِکِ۔ ثُمَّ تَنَزَّلْتُ مِنْ ھٰذَا الْمَقَامِ۔ وَفُھِّمْتُ مِنْ رَّبِّیْ اَنَّہٗ تَفْصِیْلُ الْاِلْھَامِ السَّابِقِ مِنَ اللّٰہِ الْعَلَّامِ۔
    وَاُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ مَعْنَی الْعَقِبِ مِنَ الدَّیَّانِ۔ آنَّ الْمُرَادَھٰھُنَابِنْتُھَا وَ بِنْتُ بِنْتِھَا لَا اَحَدٌ مِّنَ الصِّبْیَانِ۔ وَنُفِثَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّ الْبَلَآئَ بَلَآئَ انِ۔ بَلَآءٌ عَلٰی بِنْتِھَا وَبَلَآءٌ عَلٰی بِنْتِ الْبِنْتِ مِنَ الرَّحْمٰنِ وَ اِنَّھُمَا مُتَشَابِھَانِ مِنَ اللّٰہِ اَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 213، 214۔ روحانی خزائن جلد 11صفحہ 213۔214)
    (ب) ’’جنوری 1886ء میں بمقام ہوشیار پور ایک اور الہام عربی مرزا احمد بیگ1کی نسبت ہوا تھا۔ جس کو ایک مجمع میں جس میں بابو الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ و مولوی برہان الدین صاحب جہلمی بھی موجود تھے، سُناگیا ۔ جس کی عبارت یہ ہے:۔
    1 رَئَیْتُ ھٰذِہِ الْمَرْئَۃَ وَاَثَرُ الْبُکَآئِ عَلٰی وَجْھِھَا فَقُلْتُ اَیَّتُھَا الْمَرْئَ ۃُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَآئَ عَلٰی عَقَبِکِ وَالْمُصِیْبَۃُ نَازِلَۃٌ عَلَیْکِ یَمُوْتُ وَیَبْقٰی مِنْہُ کِلَابٌ مُتَعَدِّدَۃٌ۔‘‘
    (اشتہار پانز 15دہم جولائی1888ء تیتمہ اشتہار دہم جولائی1888ء۔ تبلیغِ رسالت صفحہ 120۔ مجموعہ اشتہارات جلداوّل صفحہ 162)
    اور میرا بدن لرز گیا۔ بوقت ِ ملاقات میں نے اسے سخت گھبراہٹ میں پایا اور دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ تب مَیں نے اُسے کہا ۔ اے عورت! توبہ کر۔ توبہ کر۔ کیونکہ تیری نسل پر مصیبت آنے والی ہے۔ یعنی تیری بیٹی اور نواسی پر۔ پھر مجھ پر سے وہ کشفی حالت جاتی رہی۔ اور مجھے اپنے رب کی طرف سے تفہیم ہوئی۔ کہ یہ خدائے علّام کی طرف سے پہلے الہام کی تفصیل ہے۔ اور عقب کے معنی کے متعلق میرے دل میں خدائے تعالیٰ کی طر سے یہ ڈالا گیا۔ کہ یہاں مراد اس کی بیٹی اور نواسی ہے۔ نہ کوئی اور بچہ۔ اورمیرے دل میں یہ پھونکا گیا۔ کہ بَلا سے مُراد دو مصیبتیں ہیں۔ ایک وہ مصیبت جو اس کی بیٹی پر آنے والی ہے۔ اور دوسری وہ جو اُس کی نواسی پر آئے گی۔ اور یہ دونوں خدائے احکم الحاکمین کی طرف سے باہم مشابہ ہیں۔
    1 یعنی مرازا احمد بیگ ہوشیار پوری جن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چچازاد بہن بیاہی گئی تھیں جن کے بطن سے محمدی بیگم پیدا ہوئیں۔ (مرتب)
    2 (ترجمہ از مرتب) میں نے اس عورت (یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی ساس کو جو محمدی بیگم کی نانی اور مرزا امام الدین وغیرہ کی والدہ تھی)کو ایسے حال میں دیکھا کہ اس کے منہ پر گریہ و بُکا کے آثار تھے تب میں نے اُسے کہا کہ اے عورت! توبہ کر توبہ کر۔ کیونکہ بلا تیری نسل کے سر پر کھڑی ہے اور یہ مصیبت تجھ پر نازل ہونے والی ہے وہ شخص (یعنی مرزا احمد بیگ) مرے گا۔ اور اس کی و جہ سے کئی سگ سیرت لوگ (پیدا ہوکر) پیچھے رہ جائیں گے۔
    20 فروری 1886ء
    ’’خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہریک چیز پر قادر ہے (جلّ شانہ‘ و عزّاسمہ‘) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کرکے فرمایا کہ
    میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تونے مجھ سے مانگا۔ سو میں نے تیری تضرّعات کو سنا۔ اور تیری دُعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لودھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کردیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر! تجھ پر سلام۔ خدا نے یہ کہا۔ تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں۔ موت کے پنجہ سے نجات پاویں۔ اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں۔ اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔ اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے۔ اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے۔ اور خدا اور خدا کے دین اور ا س کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک کھلی نشانی ملے۔ اور مجرموں کی راہ ظاہر ہوجائے۔
    سو تجھے بشارت ہو۔ کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام(لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذرّیّت و نسل ہوگا۔
    خوبصورت پاک1 لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اُس کانام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس رُوح دی گئی ہے۔ اور وہ رِجس سے پاک ہے وہ نوراللہ ہے مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔
    1 یہ عبارت کہ خوبصورت۔ پاک لڑکا تمہارا مہمان......جو آسمان سے آتا ہے یہ تمام عبارت .........چند روزہ زندگی کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ مہمان وہی ہوتا ہے جو چند روزہ رہ کر چلا جاوے اور دیکھتے دیکھتے رخصت ہوجائے اور بعد کا فقرہ مصلح موعود کی طرف اشارہ ہے اور اخیر تک اسی کی تعریف ہے...........بیس فروری1886ء کی پیش گوئی............دو پیشگوئیوں پر مشتمل تھی جو غلطی سے ایک سمجھی گئی۔ اور پھر بعد میں ..........الہام نے اس غلطی کو رفع کردیا۔‘‘
    (مکتوب 4دسمبر 1888ء بنام حضرت خلیفۃ اوّل ؓ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر پنجم صفحہ 43,44)
    اس کے ساتھ فضل1 ہے جو اُس کےآنے کے ساتھ آئے گا ۔2
    وہ صاحب ِ شکوہ اور عظمت اور دَولت ہوگا۔ وہ دُنیا میں آئیگا اور اپنے مسیحی نفس اور رُوح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمتہ اللہ ہے۔ کیونکہ خدا کی رحمت و غیّوری نے اُسے کلمہ ٔتمجید سے بھیجا ہے وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا۔اور دل کا حلیم ۔ اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائیگا۔ اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دو شنبہ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند۔ مَظْھَرُ الْاَوّلِ وَالْاٰخِرِ۔ مَظْھَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَآئِ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآءِ۔ جس کا نزول بہت مبارک اور جلالِ الٰہی کے
    1 بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ ........مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اِس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اُس کے ساتھ فضل ہے کہ جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا۔‘‘
    (سبز اشتہار صفحہ 21 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد 2صفحہ 467، تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ141)
    (نوٹ از مرتب) اس الہامی فقرہ کے مطابق مصلح موعود کی پیدائش سے پہلے 7اگست1887ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ جو چند روزہ زندگی گذار کر نومبر1888ء میں اس دنیا کو چھوڑگیا۔ اور اپنے خدا سے جاملا۔ اور اس پیشگوئی کے اس فقرہ کے مطابق کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ اس کے بعد وہ لڑکا پید اہوا۔ جس کا نام اس پیشگوئی میں فضل رکھا گیا تھا۔ اور جس کا دوسرا نام الہام الٰہی نے محمود ؔ اور تیسرا نام بشیر ثانی بتایا تھا۔ اور جس کا ایک نام فضل عمر ظاہر کیا گیا تھا۔ آپ کی پیدائش12؍جنوری1889ء کو ہوئی۔ اور14؍مارچ 1914ء کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو منصب ِ خلافت سے سرفراز فرمایا۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک۔
    2 رسالہ التبلیغ ملحقہ کتاب آئینہ کمالات اسلام میں مصلح موعود کے متعلق مزید اوصاف کا ذکر ہے۔
    والفضل ینزل بنزولہ وھو نور و مبارک وطیب و من المطھرین۔ یُفشی البرکات و یغذی الخلق من الطیبات و ینصرالدین....... و انہ اٰیۃ من اٰیاتی و علم التائیداتی لیعلم الذین کذبوا انی معک بفضلی المبین......وھو فھیم و ذہین و حسین۔ قد ملئی قلبہ علمًا و باطنہ حلمًا و صدرہ سلمًا۔ واعطی لہ نفس مسیحی و بورک بالروح الامین۔ یوم الاثنین نواھًا لک یا یوم الاثنین یاتی فیک ارواح المبارکین۔‘‘
    (آئینہ کمالات اسلام (التبلیغ) صفحہ 577، 578۔ روحانی خزائن جلد 5صفحہ 577، 578)
    (ترجمہ از مرتب) اور فضل اس کے آنے کے ساتھ آئیگا۔ اور وہ نور ہے اور مبارک اور پاک اور پاکبازوں میں سے ہے برکتیں پھیلائیگا اور مخلوق کو پاکیزہ غذائیں دیگا اور دین کا مددگار ہوگا..........اور وہ میرے نشانوں میں سے ایک نشان اور میری تائیدوں کا علم ہوگا۔ تا وہ لوگ جو جھٹلاتے ہیں جان لیں کہ میں اپنے کھلے فضل سے تیرے ساتھ ہوں........اور وہ فہیم اور ذہین اور حسین ہوگا۔ اس کا دل علم سے اور باطن حلم سے اور سینہ سلامتی سے بھرپور ہوگا۔ اور اسے مسیحی نفس عطا کیا گیا۔ اور روح امین سے برکت دیا گیا ہوگا۔ دو شنبہ! اے مبارک دوشنبہ تجھ میں مبارک روحیں آئیں گی۔
    ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسُوح کیا۔ ہم اس میں اپنی رُوح ڈالیں گے اور اسیروں کی رُستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ اور قومیں 1اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔‘‘
    (اشتہار 20فروری1886ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ 59،60۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 100 تا 102)
    1886ء
    ’’پھر خدائے کریم نے مجھے بشارت دے کر کہا۔ کہ
    تیرا گھربرکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کرونگا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریّت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دُونگا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گےاور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہریک شاخ تیرے جدّی بھائیوں کی کاٹی جائے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہوجائے گی 2۔اگر وہ توبہ نہ
    1 ’’یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں۔ بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جلّ شانہ‘ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہےاور درحقیقت یہ نشان ایک مُردہ کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ اعلیٰ و اولیٰ و اکمل و افضل و اَتم ہے۔ کیونکہ مُردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الٰہی میں دعا کرکے ایک روح واپس منگوایا جاوے۔ .......جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے............مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسا نہٖ و بہ برکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دُعا کو قبول کرکے ایسی بابرکت رُوح بھیجنے کا وعدہ فرمایا۔ جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ سو اگرچہ بظا ہر یہ نشان احیاء موتٰی کے برابر معلوم ہوتا ہے۔ مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ نشان مُردوں کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔ مُردوں کی بھی رُوح ہی دُعا سے واپس آتی ہے۔ اور اس جگہ بھی دُعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے۔ مگر ان رُوحوں اور اس رُوح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے۔‘‘
    (اشتہار22مارچ1886ء روز دو شنبہ۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 114، 115)
    2 ’’جس وقت حضور نے دعویٰ کیا اس وقت آپ کے خاندان میں ستّر کے قریب مرد تھے۔ لیکن اب ان کے سوا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی یا روحانی اولاد ہیں۔ ان ستّر میں سے کسی ایک کی بھی اولاد موجود نہیں۔‘‘
    (حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ الحکم نمبر 19 تا 22 مؤرخہ 21 تا 28 مئی و 7 تا 12جون1943ء صفحہ10)
    کریں گے تو خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے گا۔ یہانتک کہ وہ نابود ہوجائیں گے اُن کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا۔ لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔ خدا تیری برکتیں اِرد گِرد پھیلائے گا اورایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا اور ایک ڈراؤنا گھر برکتوں سے بھر دے گاتیری ذریّت منقطع نہیں ہوگی اور آخری دنوں تک سر سبز رہے گی خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہوجائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔ میں تجھے اُٹھاؤں گا اور اپنی طرف بُلا لُونگا پر تیرا نام صفحہ ٔزمین سے کبھی نہیں اُٹھے گا اور ایسا ہوگا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلّت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے در پَے اور تیرے نابُود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی اور نامردی میں مریں گے۔ لیکن خدا تجھے بکلّی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دیگا۔ میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دُوں گا اور اُن میں کثرت بخشونگا اور وہ مسلمانوں کے اس دو سرے گروہ پر تابروز قیامت غالب رہیں گے۔ جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے خدا اُنہیں نہیں بھُولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علیٰ حسب الاخلاص اپنا اپنا اَجر پائیں گے۔ تُو مجھ سے ایسا ہے جیسے انبیاء بنی اسرائیل (یعنی ظلّی طور پر اُن سے مشابہت رکھتا ہے) تُو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید۔ تُو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا، یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اے منکرو اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندے کی نسبت شک میں ہو۔ اگر تمہیں اُس فضل و احسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندے پر کیاتو اس نشانِ رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو۔ اگر تم سچّے ہواور اگر تم بھی پیش نہ کرسکو اور یاد رکھوکہ ہر گز پیش نہ کرسکو گے تو اُس آگ سے ڈروکہ جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کیلئے تیار ہے۔ فقط۔‘‘
    (از اشتہار20؍فروری1886ء۔ تبلیغِ رسالت جلد اوّل صفحہ60،62۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 102، 103)
    1886ء
    ’’ شایدچار ماہ کا عرصہ ہوا ۔ کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل الظاہر و الباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔ سو اُس کا نام بشیرؔہوگا۔ اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ
    سے ہوگا۔ اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہورہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا۔ اور جناب الٰہی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی وہ صاحب ِ اولاد ہوگی۔ اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا۔ تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیئے گئے۔ تین ان میں سے تو آم کے تھے۔ مگر ایک پھل سبز رنگ کا بہت بڑا تھا۔ وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا۔ اگرچہ ابھی یہ الہامی بات نہیں ہے۔ مگر میرے دل میں یہ پڑا ہے کہ وہ پھل جو اس جہان کے پھلوں میں سے نہیں ہے وہی مبارک لڑکا ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مُراد اولاد ہے۔ اور جبکہ ایک پارسا طبع اہلیہ کی بشارت دی گئی۔ اور ساتھ ہی کشفی طور پر چار پھل دیئے گئے۔ جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ8جون1886ء بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر2 صفحہ5، 6)
    1886ء
    ’’ان دنوں اتفاقاً نئی شادی کے لئے دو شخصوں نے تحریک کی تھی۔ مگر جب ان کی نسبت استخارہ کیا گیا۔ تو ایک عورت کی نسبت جواب ملا۔ کہ اس کی قِسمت میں ذلّت و محتاجگی و بے عزتی ہے اور اس لائق نہیں کہ تمہاری اہلیہ ہو۔ اور دُوسری کی نسبت اشارہ ہوا کہ اس کی شکل اچھی نہیں۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صاحب ِ صورت و صاحب ِ سیرت لڑکا جس کی بشارت دی گئی ہے وہ برعایت مناسبت ظاہری اہلیہ جمیلہ و پارسا طبع سے پیدا ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘
    (از مکتوب مؤرخہ8جون1886ء بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر2 صفحہ6)
    مارچ1886ء
    ’’ اس عاجز کے اشتہار مؤرخہ20فروری1886ء...........میں ایک پیشگوئی دربارہ توَلُّد ایک فرزند صالح ہے۔ جو بصفات مندرجہ اشتہار پیدا ہوگا............ایسا لڑکا بموجب وعدۂ الٰہی نو برس 1 کے عرصہ تک ضرور
    1 (الف) ’’جن صفاتِ خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے کسی لمبی میعاد سے گو نو برس سے بھی دو چند ہوتی۔ اُس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آسکتا۔ بلکہ صریح دلی انصاف ہریک انسان کا شہادت دیتا ہے کہ ایسی عالی درجہ کی خبر جو ایسے نامی اور اخصّ آدمی کے تولّد پر مشتمل ہے انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اور دعا کی قبولیت ہو کر ایسی خبر کا ملنا بے شک یہ بڑا بھاری آسمانی نشان ہے۔ نہ یہ کہ صرف پیشگوئی ہے۔‘‘ (اشتہار8اپریل1886ء تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ75،76۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 116، 117)
    (ب) ’’وہ.......خدا تعالیٰ کے وعدے کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہوگا۔ زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔‘‘
    (سبز اشتہار مؤرخہ یکم دسمبر 1888ء صفحہ 7حاشیہ۔ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ 127۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 116،117)
    (ج) ’’میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق مجھ سے معاملہ کریگا۔ اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا۔ تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہوگا۔ اور اگر مدّتِ مقررہ سے ایک دن بھی باقی
    پیدا ہوگا۔ خواہ جلد ہو‘ خواہ دیر سے۔ بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہوجائے گا۔‘‘
    (اشتہار 22؍مارچ1886؁ ۔ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ72، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 113)
    8 اپریل 1886ء
    (الف) ’’ بعد اشاعت اشتہار مندرجہ1بالا دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی۔ تو آج 8اپریل 1886ء میں اللہ جلّ شانہ‘ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا۔ کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب میں ہونے والا ہے جو ایک مدّتِ حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ اِس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہےیا بالضرور اُس کے قریب حمل میں ہے۔ لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیاکہ جو اَبْ پیدا ہوگایہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نوبرس کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔‘‘
    (اشتہار8اپریل 1886ء۔ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ76۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 117)
    (ب) ’’عربی الہام کے یہ دو فقرہ ہیں:۔
    نَازِلٌ مِّنَ السَّمَآئِ۔ وَنَزَلَ مِنَ السَّمَآئِ۔
    جو نزول یا قریب النزول پر دلالت کرتے ہیں۔‘‘
    (حاشیہ اشتہار8اپریل 1886ء۔ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ76۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 117)
    (ج) پھر بعد میں اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ
    ’’انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔‘‘
    (اشتہار8اپریل 1886ء۔ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ76۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 117)
    1886ء
    ’’ جن 2دنوں لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ اور لوگوں نے غلط فہمی پیدا کرنے کیلئے شور مچایا۔ کہ پیشگوئی غلط نکلی ان
    بقیہ حاشیہ: رہ جائیگا تو خدائے عزّوجلّ اُس دن کو ختم نہیں کریگا۔ جب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کرلے۔‘‘
    (اشتہار تکمیل تبلیغ مؤرخہ 12جنوری1989ء تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ 148حاشیہ۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 191)
    1 اشتہار22 مارچ 1886؁ء۔ (مرتّب)
    2 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر میں 15؍اپریل1886ء میں لڑکی پیدا ہوئی جس کانام عصمتؔ رکھا گیا اس لڑکی کی پیدائش پر مخالفین نے یہ شور مچایا۔ کہ لڑکے کے متعلق جو پیشگوئی تھی وہ غلط نکلی۔ کیونکہ موجودہ حمل سے لڑکی پیداہوئی ہے نہ کہ لڑکا۔ مگر یہ اعتراض بالکل غلط تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کہیں نہیں لکھا تھا کہ موجودہ حمل سے ہی ضرور لڑکا پیدا ہوگا۔ بلکہ الہام 8اپریل 1886ء کی ذیل میں یہ صراحت کی گئی تھی کہ عنقریب ایک لڑکا ہوگا۔ خواہ موجودہ حمل سے ہو یا اس کے قریب آئندہ حمل سے۔ چنانچہ عصمت کی پیدائش کے بعد دوسرے حمل سے بشیر اوّل پیدا ہوگیا۔ (مرتب)
    دنوں میں یہ الہام ہوا تھا:۔
    دشمن کا بھی خوب وار نکلا :: تِسپر بھی وہ وار پار نکلا
    یعنی مخالفوں نے تو یہ شور مچایا ہے کہ پیشگوئی غلط نکلی۔ مگر جلد فہیم لوگ سمجھ 1جائیں گے اور ناواقف شرمندہ ہوں گے۔‘‘
    (الحکم جلد6 نمبر16 صفحہ7 مؤرخہ30؍اپریل1902ء)
    26اپریل 1886ء
    ’’شیخ مہر علی کی نسبت ضرور قادیان میں 26اپریل1886ء میں ایک خطرناک خواب آئی تھی۔ جس کی یہی تعبیر تھی کہ ان پر ایک بڑی بھاری مصیبت نازل ہوگی۔ چنانچہ ان ہی دنوں میں ان کو اطلاع بھی دی گئی تھی۔ خواب یہ تھی کہ اُن کی فرش نشست کو آگ لگ گئی اور ایک بڑا تہلکہ برپا ہوا اور ایک پُرہول شعلہ آگ کا اُٹھا اور کوئی نہیں تھا جو اُس کو بُجھاتا۔ آخر میں مَیں نے بار بار پانی ڈال کر اُس کو بجھادیا2۔پھر آگ نظر نہیں آئی مگر دھواں رہ گیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ کس قدر اُس آگ نے جلادیا۔ مگر ایسا ہی دل میں گذرا کہ کچھ تھوڑا نقصان ہوا۔ یہ خواب تھی۔ یہ
    1 چنانچہ اس بشارت کے مطابق عصمتؔ کی پیدائش کے بعد 7اگست1887ء کو ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔ جس کی پیدائش سے 20فروری1886ء والے الہام کا یہ فقرہ پورا ہوا۔ کہ ’’خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔‘‘ نیز8اپریل کا یہ الہام پورا ہوا۔ کہ ’’ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے۔‘‘ (مرتب)
    2 ’’اسی وقت میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بہ یقین کامل یہ تعبیر ڈالی گئی۔ کہ شیخ صاحب پر اور اُن کی عزت پر سخت مصیبت آئے گی۔ اور میرا پانی ڈالنا یہ ہوگا کہ آخر میری ہی دُعا سے نہ کسی اور و جہ سے وہ بلا دُور ہوجائے گی..........آخر قریباً چھ ماہ گذرنے پر ایسا ہی ہوا۔ اور میں انبالہ چھاؤنی میں تھا کہ ایک شخص محمد بخش نام شیخ صاحب کے فرزند جان محمد کی طرف سے میرے پاس پہنچا اور بیان کیا کہ فلاں مقدمہ میں شیخ صاحب حوالات میں ہوگئے میں نے اُس شخص سے اپنے خط کا حال دریافت کیا جس میں چھ ماہ پہلے اس بلا کی اطلاع دی گئی تھی۔ تو اُس وقت محمد بخش نے اِس خط کے پہنچنے سے لاعلمی ظاہر کی۔ لیکن آخر خود شیخ صاحب نے رہائی کے بعد کئی دفعہ اقرار کیا کہ وہ خط ایک صندوق میں سے مل گیا۔ پھر شیخ صاحب تو حوالات میں ہوچکے تھے لیکن اُن کے بیٹے جان محمد کی طرف سے شاید محمد بخش کے دستخط سے جو ایک شخص ان کے تعلق داروں میں سے ہے کئی خط اِس عاجز کے نام دُعا کے لئے آئے اور اللہ جلّ شانہ‘ جانتا ہے کہ کئی راتیں نہایت مجاہدہ سے دُعائیں گی گئیں۔ اور اوائل میں صورت قضاء قدر کی نہایت پیچیدہ اور مبرم معلوم ہوتی تھی۔ لیکن آخر کار خدا تعالیٰ نے دعا قبول کی اور اُن کے بارے میں رہا ہونے کی بشارت دے دی اور اُس بشارت سے اُن کے بیٹے کو مختصر لفظوں میں اطلاع دی گئی .........
    دعا بہت کی گئی اور آخر فقرہ میں بریّت اور فضل الٰہی کی بشارت دی گئی تھی وہ الفاظ اگرچہ بہت کم تھے مگرقَلَّ وَدَلَّ تھی۔‘‘
    (ضمیمہ آئینہ کمالات اسلام صفحہ 6از اشتہار 25فروری1893ء مع حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 5صفحہ 653،654)
    خط1شیخ صاحب کے حوالات میں ہونے کے بعد اُن کے گھر سے اُن کے بیٹے کو ملا۔ پھر بعد اس کے بھی ایک دو خواب ایسے ہی آئے جن میں اکثر حصہ وحشتناک اور کسی قدر اچھا تھا۔ میں تعبیر کے طور پر کہتا ہوں کہ شاید یہ مطلب ہے کہ درمیان میں سخت تکالیف ہیں اور انجام بخیر ہے مگر ابھی انجام کی حقیقت مجھ پر صفائی سے نہیں کھلی۔ جس کی نسبت دعوے سے بیان کیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘
    (مکتوب بنام چودھری رستم علی صاحب مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ سوم صفحہ 22)
    1886ء
    نواب صدیق حسن خاں2.....نے غیر قوموں کو صرف مہدی کی تلوار سے ڈرایااور آخر پکڑے گئے۔ اور نواب ہونے سے معطّل کئے گئے اور بڑے انکسار سے میری طرف خط لکھا کہ میں اُن کے لئے دُعا کروں تب میں نے اُس کو قابل رحم سمجھ کر اُس کے لئے دُعا کی تو خدا تعالیٰ نے مجھ کو مخاطب کرکے فرمایا:۔
    سرکوبی سے اُس کی عزت بچائی گئی
    ..........آخر کچھ مدّت کے بعد اُن کی نسبت گورنمنٹ کا حکم آگیا کہ صدیق حسن خان کی نسبت نواب کا خطاب قائم رہے۔‘‘
    (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ37۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 470)
    1 یعنی جو خط اس خواب کی اطلاع کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کو لکھا تھا۔ (مرتب)
    2 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ کے بعض شروع کے حصے نواب صدیق حسن خان کو بھیج کر انہیں تحریک کی تھی کہ وہ اس کتاب کی اشاعت میں حصہ لیں جس کے جواب میں نواب صاحب نے لکھا کہ دینی مباحثات کی کتابوں کا خریدنا یا اُن میں کچھ مدد دینا خلافِ منشاء گورنمنٹ انگریزی ہے اِس لئے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی کچھ اُمید نہ رکھیں۔ نواب صاحب کے اس جواب کا ذکر کرکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ حصہ چہارم کے ضمیمہ اشتہار ’’مسلمانوں کی نازک حالت اور انگریزی گورنمنٹ‘‘ میں تحریر فرمایا:۔’’ ہم بھی نواب صاحب کو اُمید گاہ نہیں بناتے بلکہ اُمید گاہ خداوند ِ کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے (خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے۔‘‘)
    جس کے بعد نواب صاحب پر گورنمنٹ انگریزی کسی معاملہ میں ناراض ہوئی اور ان سے نوابی کا خطاب واپس لے لیا۔ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔’’نواب صاحب صدیق حسن خان پر جو ابتلاء پیش آیا۔ وہ بھی میری ایک پیشگوئی کا نتیجہ ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے انہوں نے میری کتاب براہین احمدیہ کو چاک کرکے واپس بھیج دیا تھا میں نے دعا کی تھی کہ ان کی عزت چاک کر دی جائے۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔‘‘
    (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 37 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 22صفحہ 470)
    نواب صاحب کو جب اپنے قصور کا احساس ہوا تو حضرت اقدس کی خدمت میں خط کے ذریعہ دُعا کی درخواست کی۔ (مرتب)
    1886ء
    ’’مرزا امام الدین و نظام الدین اور اس جگہ کے تمام آریہ اور نیز لیکھرام پشاوری اور صدہا دوسرے لوگ خوب جانتے ہیں کہ کئی سال ہوئے کہ ہم نے اسی1کے متعلق مجملاً ایک پیشگوئی کی تھی یعنی یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہونے2والا ہے۔‘‘ (اشتہار 10جولائی1888ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 159،160)
    3اگست1886ء
    ’’ہم پر آج جو تیسری اگست 86 ء ہے منجانب اللہ اُس3 کی نسبت معلوم ہوا ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرےتو اُس کی بے راہیوں کا وبال جلد تر اُسے درپیش ہے اور اگر یہ معمولی رنجوں میں سے کوئی رنج ہو تو اُس کو پیشگوئی کا مصداق مت سمجھو لیکن اگر ایسا رنج پیش آیا جو کسی کے خیال و گمان میں نہیں تھا تو پھر سمجھنا چاہئے کہ یہ مصداق پیشگوئی ہے لیکن اگر وہ باز آنے والا ہے تو پھر بھی انجام بخیر ہوگا یا تنبیہہ کے بعد راحت پیدا ہوجائے گی۔‘‘(سرمہ چشم آریہ صفحہ190،191۔ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 238، 239)
    13 فروری 1887ء
    ’’آج مجھے فجر کے وقت یُوں القا ہوا۔ یعنی بطور الہام
    عبدالباسط
    معلوم نہ تھا کہ یہ کس کی طرف اشارہ ہے۔ آج آپ کے خط میں عبدالباسط دیکھا۔ شاید آپ کی طرف اشارہ ہو4۔ واللہ اعلم ۔‘‘
    (از مکتوب13فروری1887ء بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ۔ مکتوبات جلد پنجم نمبر 2 صفحہ 20)
    اپریل 1887ء
    ’’ چند روز ہوئے میں نے اس قرضہ کے تردُّد میں خواب میں دیکھا تھا کہ میں ایک نشیب گڑھے میں کھڑا ہوں اور اُوپر چڑھنا چاہتا ہوں مگر ہاتھ نہیں پہنچتا۔ اتنے میں ایک بندۂ خدا آیا، اُس نے اوپر سے میری طرف ہاتھ لمبا کیا اور میں اس کے ہاتھ کو پکڑ کر اُوپر چڑھ گیا اور میں نے چڑھتے ہی کہا کہ خدا تجھے اس خدمت کا بدلہ دیوے۔
    آج آپ کا خط پڑھنے کے ساتھ میرے دل میں پختہ طور پر یہ جم گیا کہ وہ ہاتھ پکڑنے والا جس سے رفع تردّد ہوام آپ ہی ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے خواب میں ہاتھ پکڑنے والے کے لئے دُعا کی ایسا ہی برقّتِ قلب خط کے پڑھنے سے آپ کے لئے مُنہ سے دلی دُعا نکل گئی۔ مُسْتَجَابٌ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔‘‘
    (مکتوب 2مئی 1887ء بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ۔ مکتوبات جلد پنجم نمبر2 صفحہ 27)
    1 یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری۔ (مرتب) 2 اس پیشگوئی کے مطابق مرزا احمد بیگ 30ستمبر1892ء کو بمقام ہوشیار پور فوت ہوگیا۔ (مرتب) 3 یعنی مرزا امام الدین ۔ (مرتب)
    4 (نوٹ از عرفانی صاحبؓ) حضرت حکیم الامت نے بارہا فرمایا کہ میرا الہامی نام عبدالباسط ہے۔ (مکتوبات جلد پنجم نمبر2 صفحہ 20)
    1887ء
    ’’ ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی کا ایک دوست انگریزی خواں نجف علی نام (جو کہ کابل میں بھی گیا تھا اور شاید اب بھی وہاں ہے) میرے پاس آیا اور اُس کے ہمراہ محبی مرزا خدا بخش1صاحب بھی تھے۔ ہم تینوں سیر کے لئے باہر گئے تو راستہ میں کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ نجف علی نے میری مخالفت اور نفاق میں کچھ باتیں کی ہیں۔ چنانچہ یہ کشف اُس کو سنایا گیاتو اُس نے اقرار کیا کہ یہ بات صحیح ہے۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 206۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 584)
    1887ء
    ’’ ایک دفعہ ہم ریل گاڑی پر سوار تھے۔ اور لدھیانہ کی طرف جارہے تھے۔ کہ الہام ہوا:۔
    ’’نصف ترا نصف عمالیق را‘‘
    اور اس کے ساتھ یہ تفہیم ہوئی کہ امام بی بی2جو ہمارے جدی شرکاء میں سے ایک عورت تھی مرجائے گی اور اس کی زمین نصف ہمیں اور نصف دیگر شرکاء کو مل جائے گی۔
    یہ الہام ان دوستوں کو جو اُس وقت ہمارے ساتھ تھے سنادیا گیا تھا۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا کہ عورت مذکور مر گئی اور اس کی نصف زمین ہمیں ملی اور نصف بعض دیگر شرکاء کو ملی۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 213،214۔ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 591، 592)
    1887ء (قریباً)
    ’’ایک دفعہ ہمیں موضع کُنجراں ضلع گورداسپور کو جانے کا اتفاق ہوا اور شیخ حامد علی ساکن تھِہ ؔغلام نبی ہمارے ساتھ تھا۔ جب صبح کو ہم نے جانے کا قصد کیا تو الہام ہوا کہ
    اس سفر میں تمہارا اور تمہارے رفیق کا کچھ نقصان ہوگا
    1 پیغام صلح جلد 23نمبر77 صفحہ4 سے مرزا خدابخش صاحب کے اپنے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ اور مولوی نجف علی قادیان آئے۔ تو اُن دنوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی امریکہ کے ایک باشندہ الیگزنڈر رسل وِب کے ساتھ خط و کتابت ہورہی تھی حضور نے سیر میں یہ خواب سنائی۔ اور مولوی نجف علی نے اقرار کیا کہ واقعی مولوی محمد حسین بٹالوی سے اُن کی باتیں سن کر آپ کا سخت مخالف ہوگیا تھا اور میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ آپ کی کوئی بات قبول نہ کرونگا۔ اور شحنہ حق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ 1887ء کا ہے۔ کیونکہ اس میں الیگزنڈ رسل وِب کی خط و کتاب در ج ہے۔ (مرتب)
    2 امام بی بی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی ہمشیرہ تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک چچا زاد بھائی کی، جو مفقود الخبرہوچکا تھا، بیوہ تھی۔ (مرتب)
    چنانچہ راستہ میں شیخ حامد علی کی ایک چادر اور ہمارا ایک رُومال گُم ہوگیا۔ اس وقت حامد علی کے پاس وہی چادر تھی۔ ‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 229،230۔ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 607،608)
    1887ء
    ’’بیجناتھ برہمن ولد بھگت رام کو کشفی طور پر اطلاع دی گئی تھی کہ ایک برس کے عرصہ تک تجھ پر مصیبت نازل ہونے والی ہے اور کوئی خوشی کی تقریب بھی ہوگی۔ چنانچہ اس پیشگوئی پر اس کے دستخط کرائے گئے جو اَب تک موجود ہیں۔ پھر بعد ازاں ایک برس کے عرصہ میں اس کا باپ جوانی کی عمر میں ہی فوت ہوگیا۔ اور اسی دن انکی شادی کی تقریب بھی پیش تھی یعنی کسی کا بیاہ تھا۔‘‘ (شحنہ حق صفحہ44،45۔ روحانی خزائن جلد2صفحہ 384)
    11جولائی 1887ء
    ’’ میں نے آج خواب میں دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے مکان پر موجود ہیں۔ دل میں خیال آیا کہ ان کو کیا کھلائیں، آم تو خراب ہوگئے ہیں۔ تب اور آم غیب سے موجود ہوگئے۔ واللہ اعلم اس کی کیا تعبیر ہے۔‘‘
    (مکتوب 11جولائی1887ء بنام چودھری رستم علی صاحب۔ مکتوبات جلد پنجم نمبر3 صفحہ 42)
    7اگست 1887ء
    اِنَّآ اَرْسَلْنَاہُ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِ یْرًا کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآئِ فِیْہِ ظُلُمَاتٌ وَّرَعْدٌ وَّ بَرْقٌ کُلُّ شَیْئٍ تَحْتَ قَدَمَیْہِ۔
    یعنی ہم نے اس بچہ کو شاہدؔ اور مُبَشّر اور نذیر ہونے کی حالت میں بھیجا ہے۔ اور یہ اُس بڑے مینہ کی مانند ہے جس میں طرح طرح کی تاریکیاں ہوں۔ اور رعد اور برق بھی ہو۔ یہ سب چیزیں اُس کے دونوں قدموں کے نیچے ہیں1۔‘‘
    (سبز اشتہار مؤرخہ یکم دسمبر1888ء صفحہ 16 تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ136۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 178)
    1 الہامی عبارت میں جیسا کہ ظلمت کے بعد رعد اور روشنی کا ذکر ہے یعنی جیسا کہ اس کی عبارت کی ترتیب بیانی سے ظاہر ہوتا ہے۔کہ پسر متوفیٰ کے قدم اُٹھانے کے بعد پہلے ظلمت آئے گی اور پھر رعد اور برق۔ اسی ترتیب کے رو سے اس پیشگوئی کا پورا ہونا شروع ہوا۔ یعنی پہلے بشیر کی موت کی و جہ سے ابتلاء کی ظلمت وارد ہوئی اور پھر اُس کے بعد رعد اور روشنی ظاہر ہونے والی ہے۔ اور جس طرح ظلمت ظہور میں آگئی۔ اسی طرح یقینا جاننا چاہئے کہ کسی دن وہ رعد اور روشنی بھی ظہور میں آجائے گی۔ جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔ جب وہ روشنی آئے گی تو ظلمت کے خیالات کو بالکل سینوں اور دلوں سے مٹا دیگی۔ اور جو جو اعتراضات غافلوں اور مُردہ دلوں کے مُنہ سے نکلے ہیں۔ ان کو نابود اور ناپدید کردیگی .............سو اَے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا۔ حیرانی میں مت پڑو۔ بلکہ خوش ہو۔ اور خوشی سے اُچھلو۔ کہ اس کے بعد اب روشنی آئیگی۔‘‘
    (سبز اشتہار صفحہ 16،17 تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ136،137۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 179، 180)
    1888ء
    (الف) ’’اُس1 لڑکے کی پیدائش کے بعد اس کی طہارت باطنی اور صفائی استعداد کی تعریفیں الہام میں بیان کی گئیں اور پاک ؔ اور نورؔاللہ اور یداللہؔ اور مقدسؔ اور بشیر ؔ اور خداباماست اس کا نام رکھا گیا......... خدا تعالیٰ نے پسر متوفیٰ کے اپنے الہام میں کئی نام رکھے ان میں سے ایک بشیر ؔ اورایک عنمواؔئیل اور ایک خدا باؔماست و رحمت ِؔحق اور ایک یداللہ بجلالٍ وجمالٍ ہے۔‘‘
    (مکتوب مؤرخہ 4دسمبر1888ء بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر صفحہ41،50)
    (ب) ’’خدا تعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا2 جو فوت ہوگیا ہے ذاتی استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے اور دُنیوی جذبات بکلّی اس کی فطرت سے مسلوب۔ اور دین کی چمک اِس میں بھری ہوئی ہے اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدّیقی رُوح اپنے اندر رکھتا ہے اور اُس کا نام بارانِ رحمت اور مبشرؔ اور بشیر ؔ اور یَداؔللہ بجلال وجمال وغیرہ اسماء بھی ہیں۔ سو جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اُس کی صفات ظاہر کی یہ سب اس کی صفائی استعداد کے متعلق ہیں، جن کے لئے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں۔‘‘
    (سبز اشتہار مؤرخہ یکم دسمبر 1888ء صفحہ7،8 و تبلیغِ رسالت جلد اوّل صفحہ127،128۔ مجموعہ اشتہارات جلداوّل صفحہ 169)
    1888ء
    ’’اور اُس3کی تعریف میں ایک یہ الہام ہوا۔ کہ
    جَآئَ کَ النُّوْرُ وَھُوَ اَفْضَلُ مِنْکَ
    یعنی کمالات ِ استعدادیہ میں وہ تجھ سے افضل ہے۔‘‘
    (مکتوب مؤرخہ4دسمبر1888ء ۔ بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر5 صفحہ50)
    5جنوری1888ء
    ’’چند روز کا ذکر ہے کہ پرانے کاغذات کو دیکھتے دیکھتے ایک پرچہ نکل آیا جو میں نے اپنے ہاتھ سے بطور یادداشت کے لکھا تھا۔ اُس میں تحریر تھا کہ یہ پرچہ 5جنوری 1888ء کو لکھا گیا ہے۔ مضمون یہ تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے کسی امر میں مخالفت کرکے کوئی تحریر چھپوائی ہے اور اُس کی سُرخی میری نسبت ’’کمینہ ‘‘ رکھی ہے۔ معلوم نہیں اس کے کیا معنے ہیں اور وہ تحریر پڑھ کر کہا کہ آپ کو میں نے منع کیا تھا پھر آپ نے کیوں ایسا مضمون چھپوایا۔ھٰذَا مَارَاَیْتُ واللّٰہُ اَعْلَمُ بتاوِیْلہٖ۔‘‘
    (مکتوب بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔ مکتوبات جلد چہارم صفحہ 4)
    1 بشیر اوّل جو 7اگست1887ء کو پیدا ہوا۔ اور4؍نومبر 1888ء کو فوت ہوگیا۔ (مرتب)
    2، 3 یعنی بشیر اوّل۔ (مرتب)
    14فروری1888ء
    ’’13،14فروری1888ء کی گذشتہ رات مجھے آپ کی نسبت دو ہولناک خوابیں آئی تھیں جن سے ایک سخت ہم ّ و غم مصیبت معلوم ہوتی تھی۔ میں نہایت وحشت و تردُّد میں تھا کہ یہ کیا بات ہے اور غنودگی میں ایک الہام بھی ہوا کہ جو مجھے بالکل یاد نہیں رہا۔ چنانچہ کل سندرؔداس کی وفات اور انتقال کا خط پہنچ گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔معلوم ہوتا ہے یہ وہی غم تھا جس کی طرف اشارہ تھا۔‘‘
    (مکتوب مؤرخہ15فروری1888ء بنام چودھری رستم علی صاحب۔ مکتوبات جلد پنجم نمبر3 صفحہ72،73)
    1888ء (قریباً)
    ’’ایک دفعہ ہمیں لدھیاؔنہ سے پٹیالہؔ جانے کا اتفاق ہوا۔ روانہ ہونے سے پہلے الہام ہوا کہ
    اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ ہم ّ و غم پیش آئے گا
    اس پیشگوئی کی خبر ہم نے اپنے ہمراہیوں کو دے دی۔ چنانچہ جبکہ ہم پٹیالہ سے واپس آنے لگے تو عصر کا وقت تھا۔ ایک جگہ ہم نے نماز پڑھنے کے لئے اپنا چوغہ اُتار کرسید محمد ؔحسین خاں صاحب وزیر ریاست کے ایک نوکر کو دیا تا کہ وضو کریں۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوکر ٹکٹ لینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ جس رومال میں روپے باندھے ہوئے تھے وہ رومال گر گیا ہے۔ تب ہمیں وہ الہام یاد آیا کہ اس نقصان کا ہونا ضروری تھا۔
    پھر جب ہم گاڑی پر سوار ہوئے تو راستہ میں ایک سٹیشن دوراؔہہ پر ہمارے ایک رفیق کو کسی مسافر انگریز نے محض دھوکہ دہی سے اپنے فائدہ کے لئے کہہ دیاکہ لدھیانہ آگیا ہے۔ چنانچہ ہم اُس جگہ سب اُتر پڑے اور جب ریل چل دی تب ہم کو معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور سٹیشن تھا۔ اور ایک بیابان میں اُترنے سے سب جماعت کو تکلیف ہوئی اور اس طرح پر الہام مذکور کا دوسرا حصہ بھی پورا ہوگیا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ231،232۔ روحانی خزائن جلد18صفحہ 609،610)
    مئی 1888ء
    ’’ایک بار فتح مسیح نام ایک عیسائی نے کہا تھا کہ مجھے الہام ہوتا ہے میں نے جب اُسے کہا کہ تو پیشگوئی کر، تو گھبرا یا اورمجھے کہا کہ ایک مضمون بند لفافہ میں رکھا جاوے اور آپ اس کا مضمون بتادیں مجھے خدا تعالیٰ نے اطلاع دی کہ
    ’’ تُواس کو قبول کرلے‘‘
    جب میں نے اس کو بھی قبول کرلیا تو کئی سو آدمیوں کے مجمع میں آخر پادری وائٹ بریخٹ نے کہا کہ یہ فتح مسیح جھوٹا ہے۔‘‘
    (الحکم جلد6 نمبر 5 مورخہ 7 فروری 1902ء صفحہ 4 کالم نمبر 3)
    مئی 1888ء
    (الف) 1’’اِنَّ اللّٰہَ رَآٰی اَبْنَآئَ عَمِّیْ وَغَیْرَ ھُمْ۔ مِنْ شُعُوْبِ اَبِیْ وَ اُمِّیٓ الْمَغْمُوْرِیْنَ فِی الْمُھْلِکَاتِ ......... وَالْمُنْکِرِیْنَ لِوُجُوْدِ اللّٰہِ وَمِنَ الْمُفْسِدِیْنَ...........وَرَآٰی اَنَّھُمْ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ وَالشَّرُوْرِ۔ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ.......... وَلَا یَتُوْبُوْنَ مِنْ سَبِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) بَلْ کَا نُوْا عَلَیْہِ مِنَ الْمُدَا وِمِیْنَ .......... وَبَیْنَمَاھُمْ کَذَا لِکَ اِذِاصْطَفَانِیْ رَبِّیْ لِتَجْدِیْدِ دِیْنِہٖ ........ وَرَزَقَنِیْ مِنَ الْاِلْھَامَاتِ وَالْمُکَالَمَاتِ وَ الْمُخَاطَبَاتِ وَالْمُکَاشَفَاتِ رِزْقًا حَسَنًا.........فَطَغَوْا وَبَغَوْا وَاسْتَدْعَوْا الْاٰیَاتِ اسْتِھْزَآئً وَّقَالُوْا لَانَعْلَمُ اِلٰھًایُکَلِّمُ اَحَدًا ........... فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ اِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ........ وَکَذَالِکَ سَدَرُوْا فِیْ غَلَوَاتِھِمْ وَجَمَعُوْا فی جَھَلَاتِھِمْ وَسَدَلُوْا ثَوْبَ الْخُیَلَآئِ یَوْمًا فَیَوْمًا۔ حَتّٰی بَدَانَھُمْ اَنْ یُّشِیْعُوْا خُزَعْبِلَاتِھِمْ وَ یَصْطَادُوا السُّفَھَآئَ بِتَلْبِیْسَاتِھِمْ۔ فَکَتَبُوْا کِتَابًا کَانَ فِیْہِ سَبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَبُّ کَلَامِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاِنْکَارُ وُجُوْدِالْبَارِیِٔ عَزَّاسْمُہ‘۔ وَمَعَذَالِکَ طَلَبُوْا فِیْہِ اٰیَاتِ صِدْقِیْ مِنِّیْ وَ اٰیَاتِ وُجُوْدِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاَرْسَلُوْا کِتَابَھُمْ فِی الْاٰفَاقِ وَالْاَقْطَارِ وَاَعَانُوْا بِھَاکَفَرۃَ الْھِنْدِ وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیْرًا مَّا سُمِعَ مِثْلُہ‘ فِی الْفَرَاعِنَۃِ الْاَوَّلِیْنَ۔ فَلَمَّا بَلَغَنِیْ کِتَابُھُمُ الْذِيْ کَانَ قَدْصَنَّفَہ‘ کَبِیْرُھُمْ فِی الْخُبْثِ وَالْعُمُرِ
    1 (ترجمہ ازمرتب) اللہ تعالیٰ نے میرے جدّی بھائیوں اور قریبیوں کو دیکھا۔ کہ وہ مہلک امور میں منہمک ہیں...........اور اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر ہیں اور مفسد ہیں ...............اور اُس نے دیکھا۔ کہ وہ لوگوں کو بدیوں اور شرارتوں کی طرف بلاتے اور نیکی کے کاموں سے روکتے ہیں ................اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بد زبانی سے باز نہیں آتے۔ بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں..........اسی دَوران میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے دین کی تجدید کیلئے چُن لیا............اور اپنے الہامات ‘ مخاطبات اور مکاشفات سے مجھے بہرہ ور کیا..............جس پر اُنہوں نے سرکشی کی۔ اور تمسخر کے طور پر مجھ سے نشانات کا مطالبہ کیا۔ اور کہا۔ کہ ہمیں ایسے معبود کا کوئی علم نہیں جو کسی سے کلام کرتا ہو.............اور اگر یہ شخص سچا ہے تو ہمیں کوئی نشان دکھائے...............اسی طرح یہ لوگ اپنی حد سے بڑھ گئے۔ اور اپنی جہالتوں میں سرکش ہوتے گئے۔ اور ان کا تکبر روز بروز بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ انہوں نے اپنے گندے خیالات کی اشاعت شروع کردی اور کم عقل لوگوں کو اپنے فریبوں کا شکار بنانے لگے۔ چنانچہ انہوں نے ایک گندہ اشتہار نکالا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ہیں اور قرآن کریم کے متعلق بد زبانی کی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت مانگا ہے۔ اور انہوں نے اپنا یہ اشتہار تمام اطرافِ عالم میں شائع کیا ہے۔ اور اس طرح سے ہندوستان بھر کے غیر مسلم لوگوں کو اسلام کے خلاف مدد دی ہے اور اس قدر تکبر کیا ہے۔ جو پہلے فراعنہ نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ سو جب ان کے سرغنہ کا جو خباثت میں بھی اُن کا بڑا ہے۔ جیسا کہ عمر میں بڑا ہے۔ لکھا ہوا یہ اشتہار مجھے ملا
    ............ فَاِذَا الْکَلِمَاتُ کَلِمَاتٌ تَکَا دُالسَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْھَا............ فَغَلَّقْتُ الْاَبْوَابَ وَدَعَوْتُ الرَّبَّ الْوَھَّابَ۔ وَطَرَحْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ وَخَرَرْتُ اَمَا مَہ‘ سَاجِدًا.......... وَقُلْتُ یَارَبِّ یَارَبِّ انْصُرْ عَبْدَکَ وَاخْذُلْ اَعْدَآئِک۔ اِسْتَجِبْنِیْ یَا رَبِّ اسْتَجِبْنِیْ۔ اِلَامَ یُسْتَھْزَئُ بِکَ وَبِرَسُوْلِکَ۔ وَحَتَّامَ یُکَذِّبُوْنَ کِتَابَکَ وَیَسُبُّوْنَ نَبِیَّکَ۔ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ یَا مُعِیْنُ۔
    فَرَحِمَ رَبِّیْ عَلٰی تَضَرُّعَاتِیْ وَزَفَرَاتِیْ وَ عَبَرَاتِیْ وَنَادَانِیْ وَقَالَ
    اِنِّیْ رَاَیْتُ عِصْیَانَھُمْ وَطُغْیَانَھُمْ فَسَوْفَ اَضْرِبُھُمْ بِاَنْوَاعِ الْاٰفَاتِ اُبِیْدُھُمْ مِّنْ تَحْتِ السَّمٰوٰتِ۔ وَسَتَنْظُرُمَا آفْعَلُ بِھِمْ وَکُنَّاعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَادِرِیْنَ۔اِنِّیْٓ اَجْعَلُ نِسَآئَ ھُمْ اَرَامِلَ وَاَبْنَائَ ھُمْ یَتَامٰی وَ بُیُوْتَھُمْ خَرِبَۃً لِّیَذُوْقُوْا طَعْمَ مَا قَالُوْا وَمَا کَسَبُوْا۔ وَلٰکِنْ لَّآ اُھْلِکُھُمْ دَفْعَۃً وَّاحِدَۃً بَلْ قَلِیْلاً قَلِیْلاً لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ وَیَکُوْنُوْنَ مِنَ التَّوَّابِیْنَ اِنَّ لَعْنَتِیْ نَازِلَۃٌ عَلَیْھِمْ وَعَلٰی جُدْرَانِ بُیُوْتِھِمْ وَعَلٰی صَغِیْرِھِمْ وَکَبِیْرِھِمْ وَنِسَآءِ ھِمْ وَرِجَالِھِمْ وَ نَزِیْلِھِمُ الَّذِیْ دَخَلَ اَبْوَابَھُمْ۔ وَکُلُّھُمْ کَانُوْا مَلْعُوْنِیْنَ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَطَعُوْا تَعَلُّقَھُمْ مِّنْھُمْ وَبَعُدُوْا مِنْ مَّجَالِسِھِمْ فَاُولٰٓئِکَ مِنَ الْمَرْحُوْمِیْنَ۔
    .......... تو میں نے دیکھا کہ وہ الفاظ ایسے تھے کہ قریب تھا کہ آسمان ان کی و جہ سے پھٹ جائیں............اس پر میں نے دروازوں کو بند کرلیا۔ اور خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر کر دُعا کی..............اور کہا کہ اے میرے ربّ! اپنے بندہ کی نصرت فرما اور اپنے دشمنوں کو ذلیل و رُسوا کر۔ اے میرے ربّ ! میری دُعا سن۔ اور اُسے قبول فرما۔ کب تک تجھ سے اور تیرے رسُول سے تمسخر کیا جائے گا۔ اور کس وقت تک یہ لوگ تیری کتاب کو جھٹلاتے اور تیرے نبی کے حق میں بد کلامی کرتے رہیں گے۔ اے ازلی ابدی۔ اے مددگار خدا ! میں تیری رحمت کا واسطہ دے کر تیرے حضور فریاد کرتا ہوں۔
    تب میرے ربّ نے میری گریہ و زاری اور میری آہوں کوسُنکر مجھ پر رحم فرمایا اور مجھے پکار کر فرمایا :
    میں نے اُن کی نافرمانی اور سرکشی کو دیکھا ہے میں اُن پر طرح طرح کی آفات ڈال کر اُنہیں آسمان کے نیچے سے نابود کردوں گا۔ اور تم جلد دیکھو گے کہ میں ان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہوں۔ اور ہم ہر ایک بات پر قادر ہیں۔ میں اُن کی عورتوں کو بیوہ ‘ اُن کے بچوں کو یتیم اور اُن کے گھروں کو ویران کردوں گا اور اس طرح سے وہ اپنی باتوں کا اور اپنی کارروائیوں کا مزہ چکھیں گے۔ لیکن میں اُنہیں یکدم ہلاک نہیں کروں گا بلکہ تدریجاً پکڑوں گا۔ تاکہ اُنہیں رجوع اور توبہ کا موقع ملے۔ میری *** اُن پر۔ اُن کے گھروں پر‘ اُن کے چھوٹوں اور بڑوں پر‘ اُن کی عورتوں اور مَردوں پر۔ اُن کے اُس مہمان پر جو اُن کے گھر میں داخل ہوگا پڑے گی۔ اور اُن تمام پر *** برسے گی سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں۔ اور اُن سے اپنے تعلقات منقطع کرلیں۔ اور اُن کی مجالس سے دُوری اختیار کریں۔ پس وہی لوگ ہیں جن پر رحم کیا جائے گا۔
    ھٰذِہٖ خَلَاصَۃُ مَآ اَلْھَمَنِیْ رَبِّیْ۔ فَبَلَّغْتُ رَسَالَاتِ رَبِّیْ فَمَا خَافُوْا وَمَا صَدَّقُوْا۔ بَلْ زَادُوْاطُغْیَانًا وَّکُفَرًا وَّظَلُّوْایَسْتَھْزِئُ وْنَ کَاَعْدَآئِ الدِّیْنِ۔ فَخَاطَبَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ
    اِنَّا سَنُرِیْھِمْ اٰیَاتٍ مُّبْکِیَۃً وَّنُنَزِّلُ عَلَیْھِمْ ھُمُوْمًا عَجِیْبَۃً۔ وَاَمْرَاضًا غَرِیْبَۃً۔ وَنَجْعَلُ لَھُمْ مَعِیْشَۃً ضَنَکًا۔ وَنَصُبُّ عَلَیْھِمْ مَصَآئِبَ فَلَایَکُوْنُ لَھُمْ اَحَدٌ مِّن النَّاصِرِیْنَ۔
    فَکَذَالِکَ فَعَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِھِمْ وَاَنْقَضَ ظُھُوْرَ ھُمْ بِاَثْقَالِ الْھُمُوْمِ وَالدُّیُوْنِ وَالْحَاجَاتِ وَاَنْزَلَ عَلَیْھِمْ مِّنْ اَنْوَاعِ الْبَلَایَا وَالْاٰفَاتِ وَفَتَحَ عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ الْمَوْتِ وَالْوَفَاتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ اَوْیَکُوْنُوْنَ مِنَ الْمُتَنَبِّھِیْنَ۔ وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُھُمْ فَمَافَھِمُوْا وَمَاتَنَبَّھُوْا وَمَاکَانُوْا مِنَ الْخَآئِفِیْنَ۔
    وَلَمَّا قَرُبَ وَقْتُ ظُھُوْرِ الْاٰ یَۃِ اتَّفَقَ فِیْ تِلْکَ الْاَیَّامِ اَنَّ وَاحِدًا مِّنْ اَعَزِّ اَعِزَّتِھِمُ الَّذِیْ کَانَ اسْمُہ‘ اَحْمَدْ بِیْک اَرَادَ اَنْ یَّمْلِکَ اَرْضَ اُخْتِہِ الَّتِیْ کَانَ بَعْلُھَا مَفْقُوْدَالْخَبَرِ مِنْ سِنِیْنَ۔
    (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلدنمبر5 صفحہ566،570)
    (ب) ’’نامبردہ1کی ایک ہمشیرہ ہمارے چچا زاد بھائی غلامؔ حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلامؔ حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا ہے اور مفقود الخبر ہے اس کی زمین ملکیت جس کا ہمیں حق پہنچتا ہے۔ نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرادی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے۔ نامبردہ یعنی
    یہ میرے ربّ کی اس وحی کا خلاصہ ہے جو اُس نے مجھ پر نازل کی۔ پس میں نے اپنے پروردگار کے پیغامات اُن کو پہنچادیئے۔ لیکن نہ تو وہ ڈرے اور نہ ہی انہوں نے تصدیق کی بلکہ سرکشی اور انکار میں بڑھتے گئے۔ اور استہزاء میں دشمنانِ دین کا سا شیوہ اختیار کرلیا۔ پس میرے ربّ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا:
    ہم اُنہیں رُلانے والے نشانات دکھائیں گے۔اور اُن پر عجیب عجیب ہموم و امراض نازل کریں گے اور اُن کی معیشت تنگ کردیں گے اور اُن پر مصائب پر مصائب ڈالیں گے اور کوئی انہیں بچانیوالا نہیں ہوگا۔
    پس اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کے ساتھ سلوک کیا۔ غموں ‘ قرضوں اور حاجات کے بوجھ سے ان کی پیٹھیں توڑ دیں۔ اور ان پر قِسم قِسم کے مصائب اور آفات نازل کئے اور موت فوت کے دروازے ان پر کھول دیئے تاکہ وہ باز آئیں۔ اور غفلت کو چھوڑ دیں۔ لیکن ان کے دل سخت ہوگئے پس وہ نہ سمجھے اور نہ بیدار ہوئے اور نہ ہی اُنہیں کوئی خوف لاحق ہوا۔
    اور جب نشان کے ظہور کا وقت آیا۔ تو ان ایام میں ایسا اتفاق ہوا۔ کہ ان لوگوں کے ایک نہایت ہی قریبی رشتہ دار نے جس کا نام احمد بیگ تھا۔ ارادہ کیا کہ اپنی ہمشیرہ کی زمین پر قبضہ کرلے۔ جس کا خاوند کئی سالوں سے مفقود الخبرہوگیا تھا۔
    1 یعنی مرزا احمدبیگ ہوشیارپوری۔ (مرتّب )
    ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرادیں۔ چنانچہ اُن کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضامندی کے بیکار تھا اس لئے مکتوب الیہ نے بتمام تر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تا ہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کردیں۔ اور قریب تھا کہ دستخط کردیتے‘ لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدّت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب الٰہی میں استخارہ کرلینا چاہئے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آپہنچا تھا۔ جس کو خدائے تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کردیا۔
    اُس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح1کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور اُن کو کہدے
    1 وَاُنْبِئْتُ مِنْ اَخْبَارٍ مَّاذَھَبَ وَھْلِیْ قَطُّ اِلَیْھَا وَمَا کُنْتُ اِلَیْھَا مِنَ الْمُسْتَدْنِیْنَ۔ فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلَیَّ اَنِ اخْطُبْ صَبِیَّتَۃُ الْکَبِیْرَۃَ لِنَفْسِکَ۔ وَقُلْ لَّہ‘ لِیُصَاھِرْکَ اَوَّلًا ثُمَّ لْیَقْتَبِسْ مِنْ قَبَسِکَ۔ وَقُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ لِاَھَبَکَ مَاطَلَبْتَ مِنَ الْاَرْضِ وَاَرْضًا اُخْرٰی مَعَھَاوَاُحْسِنَ اِلَیْکَ بِاِحْسَانَاتٍ اُخْرٰی عَلٰی اَنْ تُنْکِحَنِیْ اِحْدٰی بَنَاتِکَ الَّتِیْ ھِیَ کَبِیْرَتُھَا۔ وَذَالِکَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ۔ فَاِنْ قَبِلْتَ فَسَتَجِدُ نِیْ مِنَ الْمُتَقَبِّلِیْنَ۔ وَاِنْ لَّمْ تَقْبَلْ فَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْاَخْبَرَنِیْ اَنَّ اِنْکَاحَھَارَجُلاً اٰخَرَ لَایُبَارَکُ لَھَا وَ لَالَکَ فَاِنْ لَّمْ تَزْدَجِرْ فَیُصَبُّ عَلَیْکَ مَصَآئِبُ وَاٰخِرُ الْمَصَآئِبِ مَوْتُکَ فَتَمُوْتُ بَعْدَالنِّکَاحِ اِلٰی ثَلَاثِ سِنِیْنَ۔ بَلْ مَوْتَکَ قَرِیْبٌ وَّیَرِدُعَلَیْکَ وَاَنْتَ مِنَ الْغَافِلِیْنَ وَکَذَالِکَ یَمُوْتُ بَعْلُھَاالَّذِیْ یَصِیْرُ زَوْجَھَا اِلٰی حَوْلَیْنِ وَسِتَّۃِ اَشْھُرٍ قَضَآئً مِّنَ اللّٰہِ فَاصْنَعْ مَآ اَنْتَ صَانِعُہ‘ وَاِنِّیْ لَکَ لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ............ ثُمَّ کَتَبْتُ اِلَیْہِ مَکْتُوْبًا بِاِیْمَآئِ مَنَّانِیْ وَ اِشَارَۃِ رَحْمَانِی..........وَھَآ اَنَا کَتَبْتُ مَکْتُوْبِیْ ھٰذَا مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ لَا عَنْ اَمْرِی فَاحْفَظْ مَکْتُوْبِیْ ھٰذَا فِیْ صَنْدُوْقِکَ فَاِنَّہ‘ مِنْ صُدُوْقٍ آمِیْنٍ وَاللّٰہ یَعْلَمُ اَنَّنِیْ فِیْہِ صَادِقٌ وَکُلُّ مَا وَعَدْتُّ فَھُوَمِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَمَا قُلْتُ اِذْ قُلْتُ وَلٰکِنْ اَنْطَقَنِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِاِلْھَامِہٖ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد نمبر5 صفحہ572 تا 574)
    (ترجمہ از مرتب) مجھے ایسے امور پر اطلاع دی گئی ‘ جن کی طرف کبھی میرا وہم بھی نہ گیا تھا اور نہ اُن کا مجھے کچھ پتہ تھا۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعہ سے حکم دیاکہ اس شخص کی بڑی لڑکی کے رشتہ کے لئے تحریک کر۔ اور اُسے کہہ۔ کہ پہلے وہ تم سے مصاہرت کا تعلق قائم کرے اور اس کے بعد وہ تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے۔ نیز اُسے کہہ کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو زمین تم نے مانگی ہے ‘ وہ میں تمہیں دے دوں۔ اور اس کے علاوہ کچھ اور زمین بھی۔ نیز تم پر اور کئی رنگ میں احسانات کروں بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا رشتہ مجھ سے کردو۔ اور یہ تمہارے اور میرے درمیان ایک عہدو پیمان ہے جسے اگر تم قبول کروگے تو مجھے بہترین طور پر اسے قبول کرنے والا پاؤ گے۔ اور اگر تم نے قبول نہ کیا تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا
    کہ تمام سلوک اور مروّت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا۔ اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار 20فروری1886ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی بُرا ہوگا۔ اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دُختر کا تین سال تک فوت ہوجائیگا۔ تین سال تک فوت ہونا روزِ نکاح کے حساب سے ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آوے۔ بلکہ بعض مکاشفات کے رُو سے مکتوب الیہ کا زمانہ حوادث جن کا انجام معلوم نہیں۔ نزدیک1 پایا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔
    پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کررکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجامِ کار اِسی عاجز کے نکاح میں لادے گا اور بے دینوی کو مسلمان بنادے گا۔ اور گمراہوں میں ہدایت پھیلادے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارے میں یہ ہے:۔
    کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا بِھَا یَسْتَھْزِئُ وْنَ ط فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَیَرُدُّ ھَآ اِلَیْکَ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ ط اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَا مَعَکَ۔ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔
    یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا۔ اور وہ پہلے سے ہنسی کررہے تھے۔ سو خدائے تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہوگا۔ اور انجام کار اُس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہوجاتا ہے تُو میرے
    بقیہ حاشیہ:۔ ہے کہ اس لڑکی کا کسی اور شخص سے نکاح نہ اس لڑکی کے حق میں مبارک ہوگا نہ تمہارے حق میں۔ اور اگر تم اپنے ارادے سے باز نہ آئے تو تم پر مصائب نازل ہوں گے۔ اور آخر میں تمہاری موت ہوگی۔ اور تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مرجاؤ گے بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور وہ موت ایسے حال میں آئیگی کہ تو غافل ہوگا اور ایسا ہی اُس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مرجائیگا۔ یہ قضاء الٰہی ہے پس تم جو چاہو کرو میں نے تم کو نصیحت کردی ہے............پھر میں نے اُسے اللہ تعالیٰ کے اشارہ سے خط لکھا...............(اور اُسے یہ بھی لکھا کہ) لو میں نے یہ خط خدا کے حکم سے لکھا ہے اپنی رائے سے نہیں لکھا۔ پس اس خط کو اپنے صندوق میں محفوظ رکھ کہ یہ نہایت ہی سچّے امین کی طرف سے ہے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس معاملہ میں سچا ہوں اور جو وعدہ میں نے کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں نے نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام سے مجھے بلوایا ہے۔
    1 اس پیشگوئی کے مطابق مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری 30ستمبر 1892ء کو بمقام ہوشیار پور فوت ہوگیا۔ (مرتب)
    ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی۔ یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بدباطنی اور بدظنّی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں۔ اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر کار خدائے تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔‘‘
    (اشتہار10جولائی1888ء ۔ تبلیغِ رسالت جلد اوّل صفحہ 115 تا 117۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 157 تا159)
    (ج) ’’1فَمِنْھَا مَا وَعَدَنِیْ رَبِّیْ فِیْ عَشِیْرَتِیَ الْاَقْرَبِیْنَ۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا یُکَذِّ بُوْنَ بِاٰیَآتِ اللّٰہِ وَکَانُوْا بِھَا یَسْتَھْزِئُ وْنَ۔ وَیَکْفُرُوْنَ بِااللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ۔ وَقَالُوْا لَا حَاجَۃَ لَنَا اِلَی اللّٰہِ وَلَآ اِلٰی کِتَابِہٖ وَلَآ اِلٰی رَسُوْلِہٖ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ۔ وَقَالُوْا لَا نَتَقَبَّلُ اٰیَۃً حَتّٰی یُرِیَنَا اللّٰہُ اٰیَۃً فِیْ اَنْفُسِنَا وَ اِنَّالَا نُؤْمِنُ بِالْفُرْقَانِ وَلَا نَعْلَمُ مَا الرِّسَالَۃُ وَمَا الْاِیْمَانُ وَاِنَّا مِنَ الْکَافِرِیْنَ۔ فَدَعَوْتُ رَبِّیْ بِالتَّضَرُّعِ وَالْاِبْتِھَالِ وَمَدَدْتُّ اِلَیْہِ اَیْدِی السُّؤَالِ فَاَلْھَمَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ
    سَاُرِیْھِمْ اٰیَۃً مِّنْ اَنْفُسِھِمْ
    وَاَخْبَرَنِیْ وَقَالَ
    اِنَّنِیْ سَاَجْعَلُ بِنْتًا مِّنْ بَنَاتِھِمْ اٰیَۃً لَّھُمْ
    فَسَمَّاھَاوَقَالَ
    اِنَّھَا سَیُجْعَلُ☆ ثَیِّبَۃً وَّیَمُوْتُ بَعْلُھَاوَ اَبُوْھَا اِلٰی ثَلٰثِ سَنَۃٍ مِّنْ یَّوْمِ النِّکَاحِ۔ ثُمَّ نَرُدُّ ھَا اِلَیْکَ بَعْدَ مَوْتِھِمَا وَلَا یَکُوْنُ اَحَدُھُمَا مِنَ الْعَاصِمِیْنَ۔
    1 (ترجمہ از مرتب) پس منجملہ ان نشانات کے ایک وہ نشان ہے جو میرے رب نے میرے قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وعدہ کیا۔ وہ الٰہی نشانات کو جھٹلاتے اور استہزاء کرتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے اور کہتے کہ ہمیں اللہ اور اس کی کتاب کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس کے رسول خاتم النبیینؐ کی حاجت ہے اور یہ بھی کہتے کہ ہم کوئی نشان اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک کہ خدا ہمیں اپنے آدمیوں میں کوئی نشان دکھائے اور ہمیں تو ان پر کوئی ایمان نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ رسالت اور ایمان کیا ہے۔ ہم ان کے منکر ہیں۔ تب میں نے اپنے ربّ سے تضرّع اور عاجزی کے ساتھ دُعا کی اور اس کی طرف سوال کا ہاتھ بڑھایا۔ تو میرے ربّ نے الہام کیا۔ اور فرمایا
    میں انہیں اُن کے اپنے آدمیوں میں نشان دکھاؤں گا
    اور بتایا کہ میں اُن کی ایک لڑکی کو اُن کے حق میں نشان بناؤں گا۔ اور اس کی تعیین کی اور فرمایا کہ وہ بیوہ ہوجائیگی اور اس کا خاوند اور اس کا باپ روزِ نکاح سے تین سال کے اندر اندر مرجائیں گے اور اُن کی موت کے بعد اُسے تیری
    ☆ غالباً سہوِکاتب ہے۔ سَتُجْعَلُ چاہیئے۔ واللہ اَعلم۔ (مرتّب)
    وَقَالَ
    اِنَّا رَآدُّوْھَآ اِلَیْکَ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔
    (کرامات الصادقین ٹائٹل پیج آخری ورق۔ روحانی خزائن جلد نمبر7 صفحہ 162)
    1888ء
    ’’اشتہار دہم جولائی 18871کی پیشگوئی کا انتظار کریں۔ جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے:۔
    وَیَسْئَلُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ۔ قُلْ اِیْ وَرَبِّیْٓ اِنَّہ‘ لَحَقٌّ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۔ زَوَّجُنَا کَھَا لَامُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِیْ۔ وَاِنْ یَرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔
    اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے۔ کہہ ہاں مجھے اپنے ربّ کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے نہیں روک سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح 2باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔ اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے۔ اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔‘‘
    (اشتہار 27دسمبر 1891ء ملحق بہ آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد 4صفحہ 350۔
    نیز تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ85، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 301)
    جولائی1888ء
    الہام3.......فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ ........کی تفصیل مکرر توجہ سے یہ کھلی ہے کہ خدائے تعالیٰ ہمارے کُنبے اورقوم میں ایسے تمام لوگوں پر کہ جو اپنی بے دینی اور بدعتوں کی حمایت کی و جہ سے پیشگوئی کے مزاحم ہونا چاہیں گے اپنے قہری نشان نازل کریگا اور ان سے لڑیگا اور انہیں انواع و اقسام کے عذابوں میں مبتلا کردے گا اور وہ مصیبتیں اُن پر اتاریگا جن کی ہنوز اُنہیں خبر نہیں۔ اُن میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جو
    طرف لوٹائیں گے اور ان میں سے کوئی اسے بچا نہیں سکے گا۔ اور فرمایا کہ ہم اُسے تیری طرف لَوٹائیں گے اللہ تعالیٰ کی باتیں ٹل نہیں سکتیں تمہارا ربّ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
    1 دراصل جولائی 1888ء ہے اور1887ء سہو کتابت ہے۔ (مرتب)
    2 ’’یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔یہ درست ہے۔ مگر جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط یہ بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ ہے کہ اَیَّتُھَاالْمَرْئَ ۃُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَآئَ عَلٰی عَقِبِکِ۔ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کردیا تو نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ132،133۔ روحانی خزائن جلد نمبر22 صفحہ 570)
    3 مندرجہ اشتہار مؤرخہ دہم جولائی 1888ء۔ (مرتب)
    اِس عقوبت سے خالی رہے کیونکہ انہوں نے نہ کسی اور و جہ سے بلکہ بے دینی کی راہ سے مقابلہ کیا۔ ‘‘
    (اشتہار پانزدہم جولائی 1888ء مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 160، 161)
    1888ء
    ’’ہمیں اس1 رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہیں تھی، سب ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کردیا تھا۔ اولاد بھی عطا کی اور اُن میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ2ہوگا۔ بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدّت تک وعدہ دیا جس کا نام محمودؔ احمدؐ ہوگا اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا۔‘‘
    (اشتہار 51؍جولائی 8881ء تتمہ اشتہار دہم جولائی 8881ء)
    اگست 1888ء
    اللہ جلّ شانہ‘ نے مجھے خبر دی کہ
    یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ صُلَحَآئُ الْعَرَبِ وَاَبْدَالُ الشَّامِ۔ وَتُصَلِّیْ عَلَیْکَ الْاَرْضُ وَالسَّمَآئُ۔ وَیَحْمَدُکَ اللّٰہُ عَنْ عَرْشِہٖ۔3
    (از مکتوب حضرت اقدس ؑ مؤرخہ اگست1888ء مندرجہ الحکم جلد 5نمبر32مؤرخہ 31اگست 1901ء صفحہ6 کالم نمبر2)
    1888ء
    ’’بارہا غوث اورقطب وقت میرے پر مکشوف کئے گئے جو میری عظمت مرتبت پر ایمان لائے ہیں‘ اور لائیں گے۔‘‘
    (از مکتوب حضرت اقدس ؑ مؤرخہ اگست1888ء مندرجہ الحکم جلد 5نمبر32مؤرخہ 31اگست 1901ء صفحہ6 کالم نمبر2)
    1 یعنی محمدی بیگم بنت مرزا احمد بیگ کے رشتہ کی۔ (مرتب)
    2 یعنی بشیر اوّل جو 7اگست1888ء کو پیدا ہوا۔ اور4نومبر1888ء کو فوت ہوگیا اور ا س کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’دین کا چراغ‘‘ لکھا ہے یہ اُس زمانہ سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ابھی آپ پر یہ بات نہیں کھُلی تھی کہ20فروری1886اء والے الہام میں دراصل دو لڑکوں کی خبر دی گئی تھی۔ ایک وہ لڑکا جو مہمان کے طور پر آنے والا تھا اور اُس نے دوسرے لڑکے کیلئے بطور ارہاص کے ہونا تھا اور دوسرا وہ جو عمر پانے والا تھا اور بشیر اوّل کے لئے دین کے چراغ کا لفظ اُس کی ذاتی استعدادات کی بناء پر استعمال کیا گیا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے صاحبزادے ابراہیم کے متعلق فرماتے ہیں۔ لَوْعَاش اِبْرَاھِیْمُ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا۔ یعنی اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو وہ ایسی استعداد رکھتا تھا کہ نبی ہوجاتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے 20فروری 1886ء والے الہام کی تشریح اپنے یکم دسمبر 1888ء والے ’’سبز اشتہار‘‘ میں فرمادی ہے جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ (مرتب)
    3 (ترجمہ از مرتب) تجھ پر عربؔ کے صلحاء اور شامؔ کے ابدال درود بھیجیں گے۔ زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔
    1888ء
    ’’اور مجھے بشارت دی ہے کہ جس نے تجھے شناخت کرنے کے بعد تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی‘ وہ جہنمی ہے۔‘‘
    (از مکتوب حضرت اقدس ؑ مؤرخہ اگست1888ء مندرجہ الحکم جلد 5نمبر32مؤرخہ 31اگست 1901ء صفحہ6 )
    1888ء
    ’’یہ بات کھُلی کھُلی الہام الٰہی نے ظاہر کردی کہ بشیر جو فوت ہوگیا ہے وہ بے فائدہ نہیں آیا تھا۔ بلکہ اُس کی موت اُن سب لوگوں کی زندگی کا موجب ہوگی۔ جنہوں نے محض لِلّٰہ اُس کی موت سے غم کیا۔ اور اُس ابتلاء کی برداشت کرگئے کہ جو اُس کی موت سے ظہور میں آیا۔‘‘
    (سبز اشتہار صفحہ 16،17 حاشیہ۔ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ136،137۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 179)
    1888ء
    ’’اس1کی موت کی تقریب پر بعض مسلمانوں کی نسبت یہ الہام ہوا:۔
    اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ۔ وَقَالُوْا تَا للّٰہِ تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَکُوْنَ مِنَ الْھَالِکِیْنَ۔ شَاھَتِ الْوُجُوْہُ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ حَتّٰی حِیْنٍ۔ اِنَّ الصَّابِرِیْنَ یُوَفّٰی لَھُمْ اَجْرُھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔
    اب خداتعالیٰ نے اِن آیات میں صاف بتلادیا کہ بشیر کی موت لوگوں کی آزمائش کے لئے ایک ضروری امر تھا۔ اور جو کچے تھے وہ مصلح موعود کے ملنے سے نا اُمید ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ تُو اسی طرح اس یوسف کی باتیں ہی کرتا رہیگا۔ یہاں تک کہ قریب مرگ ہوجائیگا۔ یا مرجائیگا۔ سو خدا تعالیٰ نے مجھے فرمادیا کہ ایسوں سے اپنا منہ پھیر لے جب تک وہ وقت پہنچ جائے۔ اور بشیر ؔ کی موت پر جو ثابت قدم رہے اُن کے لئے بے اندازہ اجر کا وعدہ ہوا۔ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں۔ اور کوتہ بینوں کی نظر میں حیرتناک۔‘‘
    (مکتوب 4دسمبر1888ء بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ۔ مکتوبات احمدیہ جلد 5 نمبر 5 صفحہ49،50)
    1888ء
    ’’2 اِنّ لِیْ کَانَ اِبْنًا صَغِیْرًا وَّکانَ اسْمُہ‘ بَشِیْرًا فَتَوَفَّاہُ اللّٰہُ فِیْ اَیَّامِالرِّضَاعِ۔ وَاللّٰہُ خَیْرٌ
    1 یعنی بشیر اوّل کی موت۔ (مرتب)
    2 (ترجمہ از مرتب) میرا ایک لڑکا جس کا نام بشیر احمد تھا۔ شیر خوارگی کے ایام میں فوت ہوگیا۔ اور حق یہ ہے کہ جن لوگوں نے تقویٰ اور خشیت ِ الٰہی کے طریق کار کو اختیارکرلیا ہو۔ اُن کی نظر اللہ تعالیٰ پر ہی ہوتی ہے اس وقت مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم محض اپنے فضل اور احسان سے وہ تجھے واپس دینگے (یعنی اس کا مثیل عطا ہوگا۔ سو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا بیٹا عطا کیا۔)
    وَّاَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰثَرُوْا سُبُلَ التَّقْوٰی وَالْاِرْتِیَاعِ فَاُلْھِمْتُ مِنْ رَّبِّیْ۔ اِنَّانَرُدُّہ‘ اِلَیْکَ تَفَضُّلاً عَلَیْکَ۔‘‘ (سِرّالخلافہ صفحہ53۔ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 381)
    1888ء
    (ا) ’’خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائیگا۔ جس کا نام محمود بھی ہے۔ وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا۔ یَخْلُقُ اللّٰہُ مَایَشَآئُ۔‘‘
    (سبز اشتہار مؤرخہ یکم دسمبر1888ء صفحہ 17 حاشیہ و تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ137۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 179)
    (ب) ’’ ایک الہام میں اس دوسرے فرزند کا نام بھی بشیرؔ رکھا۔ چنانچہ فرمایا کہ
    دُوسرا بشیر تمہیں دیا جائےگا
    یہ وُہی بشیرؔ ہے جس کا دوسرا نام محمودؔہے جس کی نسبت فرمایا کہ وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔ یَخْلُقُ اللّٰہُ مَایَشَآئُ۔‘‘ (مکتوب 4؍دسمبر1888ءبنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر5 صفحہ50)
    (ج) ’’خدائے عزّوجلّ نے ............. اپنے لطف و کرم سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اوّل کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا۔ جس کا نام محمود ؔ بھی ہوگا اور ا س عاجز کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔ وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘
    (اشتہار تکمیل تبلیغ مؤرخہ12جنوری1889ء۔ تبلیغِ رسالت جلد اوّل صفحہ 147،148۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحۃ 191)
    1888ء
    ’’میرا پہلا لڑکا جو زندہ موجود ہے جس کا نام محمودؔ ہے۔ ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا جو کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کا نام لکھا ہوا یہ پایا کہ
    محمود
    تب میں نے اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے لئے سبز رنگ کے ورقوں پر ایک اشتہار چھپایا۔ جس کی تاریخ اشاعت یکم دسمبر 1888ء ۔‘‘ (تریاق القلوب صفحہ 40، روحانی خزائن جلد نمبر15 صفحہ214)
    1888ء ’’ مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا ؎
    اےفخر رُسل قُرب تو معلومم شد :: دیر آمدۂٖ زراہِ دُور آمدۂٖ 1
    (اشتہارتکمیل تبلیغ مؤرخہ 12؍جنوری1889ء و تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ148، 149حاشیہ۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 191۔ 193)
    1 (ترجمہ از مرتب) اے رسُولوں کے فخر تیرا خدا کے نزدیک مقام قرب مجھے معلوم ہوگیا تُو دیر سے آیا ہے (اور) دُور کے راستہ سے آیا ہے۔
    1888ء
    (الف) ’’ خدائے تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا۔ کہ 20فروری1886ء کی پیشگوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی۔ اور اس عبارت تک کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ پہلے بشیرؔ کی نسبت پیشگوئی ہے۔ کہ جو رُوحانی طور پر نزولِ رحمت کا موجب ہوا۔ اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیرؔ کی نسبت ہے۔‘‘
    (سبز اشتہار یکم دسمبر1888ء صفحہ17 حاشیہ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ137۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 179)
    (ب) ’’اور یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہئے کہ جس پیشگوئی کا ذکر ہوا ہے۔ وہ مصلح موعود کے حق میں ہے کیونکہ بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ یہ سب عبارتیں پسر متوفّٰی کے حق میں ہیں۔ اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے۔ وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اُس کے ساتھ فضل ہے کہ جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گاپس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل ؔ رکھا گیا۔ اور نیز دوسرا نام اُس کا محمودؔ ہے اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے۔ اور ایک الہام میں اُس کا نام فضل ِ عمر ظاہر کیاگیا ہے۔ اور ضرور تھا کہ اُس کا آنا معرضِ التوا میں رہتا۔ جب تک یہ بشیر جو فوت ہوگیا ہے۔ پیدا ہوکر پھر واپس اُٹھایا جاتا۔ کیونکہ یہ سب امور حکمت ِ الٰہیہ نے اُس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے۔ اور بشیر اوّل جو فوت ہوگیا ہے۔ بشیر ثانی کے لئے بطور ارہاص تھا اِس لئے دونوں کا ایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا۔‘‘1
    (سبز اشتہار صفحہ12 حاشیہ و تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ141،142)
    1 مؤرخہ12؍جنوری1889ء کو جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ پیدا ہوئے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی پیدائش کی اطلاع اس اشتہار کے ذریعہ جس کا عنوان ’’تکمیل تبلیغ‘‘ تھا۔ یوں شائع فرمائی۔ خدائے عزّوجلّ نے جیسا کہ اشتہار دہم جولائی 1888ء اور اشتہار یکم دسمبر1888ء میں مندرج ہے اپنے لطف وکرم سے وعدہ دیا تھا۔ کہ بشیر اوّل کی وفات کے بعد ایک دُوسرا بشیر دیا جائیگا۔ جس کا نام محمود بھی ہوگا اور اِس عاجز کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔ وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے ‘ پیدا کرتا ہے۔ سو آج 12؍جنوری1889ء میں مطابق 9جمادی الاوّل1306ھ روز شنبہ میں اس عاجز کے گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہوگیا ہے جس کا نام بالفعل محض تفاؤل کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا ہے اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائے گی۔ مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے۔ یا وہ کوئی اور ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا۔ اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا۔ تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہوگا۔ اور اگر مدّتِ مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا۔ تو خدائے عزّوجلّ اُس دن کو ختم نہیں کرے گا جب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کرلے۔ مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر جاری ہوا تھا ؎
    اے فخر رسل قرب تو معلومم شد :: دیر آمدۂٖ زراہِ دُور آمدۂٖ
    1888ء
    (الف) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت ِ مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لئے گندی زیست اور کاہلانہ اور غدارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لئے مجھ سے
    بقیہ حاشیہ:
    پس اگر حضرت باری جلّ شانہ‘ کے ارادہ میں دیر سے مراد اسی قدر دیر ہے جو اس پسر کے پیدا ہونے میں جس کا نام بطور تفاؤل بشیر الدین محمود رکھا گیا ہے ظہور میں آئی۔ تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعود لڑکا ہو ورنہ وہ بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آئے گا۔‘‘
    (اشتہار تکمیل تبلیغ مطابق 12جنوری1889ء۔ تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ147 ۔ 149حاشیہ۔ مجموعہ اشتہارات جلداوّل صفحہ 191، 192)
    اس اشتہار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو ہی قرار دیا۔ اور تفاؤل کے طور پر نام بھی بشیر الدین محمود رکھا۔ مگر کامل انکشاف کے بعد صحیح اطلاع دینے کا وعدہ فرمایا۔ سو حضور علیہ السلام ایفائے عہد فرماتے ہیں اور اس امر کے متعلق مختلف کتب میں اطلاع دیتے ہیں۔
    (الف) ’’محمود جو بڑا لڑکا ہے۔ اس کی پیدائش کی نسبت اس سبز اشتہار میں صریح پیشگوئی مع محمود نام کے موجود ہے جو پہلے لڑکے کی وفات کے بارے میں شائع کیا گیا تھا۔ جو رسالہ کی طرح کئی ورق کا اشتہار سبز رنگ کے ورقوں پر ہے۔‘‘
    (ضمیمہ انجامِ آتھم صفحہ 15 مطبوعہ1897ء۔ روحانی خزائن جلد نمبر11 صفحہ 299)
    (ب) ’’پانچویں پیشگوئی میں نے اپنے لڑکے محمودؔ کی پیدائش کی نسبت کی تھی کہ وہ اَب پیدا ہوگا۔ اور اُس کا نام محمود رکھا جائیگا۔ اور اس پیشگوئی کی اشاعت کے لئے سبز ورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے جو اَب تک موجود ہیں۔ اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کی میعاد میں پیدا ہوا۔ اور اب نویں سال میں ہے۔‘‘
    (سراج منیر صفحہ 31مطبوعہ1897ء ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 12 صفحہ 36)
    (ج) ’’محمود جو میرا بڑا بیٹا ہے اس کے پیدا ہونے کے بارے میں اشتہار دہم جولائی1888ء اور نیز اشتہار یکم دسمبر1888ء میں جو سبز اشتہار کے کاغذ پر چھاپا گیا تھا پیشگوئی کی گئی۔ اور سبز رنگ کے اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس پیدا ہونے والے لڑکے کا نام محمودؔ رکھا جائے گا۔ پھر جبکہ اس پیشگوئی کی شہرت بذریعہ اشتہارات کامل درجہ پر پہنچ چکی.......تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے12جنوری1889ء کو بمطابق9جمادی الاوّل1306ھ میں بروز شنبہ محمود ؔپیدا ہوا۔ ‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ42، روحانی خزائن جلد نمبر15، صفحہ 219)
    مصلح موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشتہار تکمیل تبلیغ مؤرخہ12جنوری1889ء کے حاشیہ میں خیال ظاہر فرمایا تھا۔ اور بعض دوسرے مقامات پر بھی اشتہارات کئے ہیں۔ حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود میں پوری ہوئی۔ چنانچہ جملہ واقعات اور کوائف اس پر شاہد ہیں۔ اور خود حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسے صراحت کے ساتھ اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ چنانچہ حضور نے 28جنوری1944ء
    بیعت1کریں۔
    پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں اُنہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ میں اُن کا غمخوار ہوں گا۔ اور اُن کا بار ہلکا کرنے کے لئے کوشش کروں گا۔ اور خدا تعالیٰ میری دُعا اور میری توجہ میں اُن کے لئے برکت دیگا۔ بشرطیکہ وہ ربّانی شرائط پر چلنے کے لئے بدل و جان تیار ہوں گے۔ یہ ربّانی حکم ہے۔ جو آج میں نے پہنچا دیا ہے۔ اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے:۔
    2 اِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا۔ اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ۔ یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ۔‘‘
    (یکم دسمبر1888ء سبز اشتہار صفحہ24 و تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ145۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 188)
    (ب) ’’اُس نے اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا۔ کہ زمین میں طوفانِ ضلالت برپا ہے۔ تو اِس طوفان کے وقت میں یہ کشتی طیّار کر۔ جو شخص اِس کشتی میں سوا رہوگا و ہ غرق ہونے سے نجات پاجائے گا اور جو انکار میں رہے گا۔ اُس کے لئے موت درپیش ہے۔
    اورفرمایا کہ جو شخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا۔ اُس نے تیرے ہاتھ میں نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا۔‘‘
    (فتح اسلام صفحہ42،43مطبوعہ بار اوّل دسمبر و جنوری1890-91ء۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ24، 25)
    1889ء
    ’’خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا.......کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ حاضر
    بقیہ حاشیہ: بروز جمعتہ المبارک خطبہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم پاکر اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔ حضور فرماتے ہیں:۔
    (الف) ’’خداتعالیٰ نے اپنی مشیت کے ماتحت آخر اس امر کو ظاہر کردیا۔ اور مجھے اپنی طرف سے علم بھی دے دیا کہ مصلح موعود سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں۔‘‘
    (ب) ’’آج پہلی دفعہ میں نے وہ تمام پیشگوئیاں پڑھیں۔ اور اب ان پیشگوئیوں کو پڑھنے کے بعد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یقین اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔ کہ خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی میرے ذریعہ سے ہی پوری کی ہے۔‘‘
    (الفضل یکم فروری1944ء)
    1 بیعت ِ اولیٰ لدھیانہ میں 20رجب 1306ھ مطابق23مارچ 1889ء بروز شنبہ کو ہوئی۔ (مرتب)
    2 (ترجمہ از مرتب) جب تو عزم کرلے۔ تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر اور ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے ماتحت نظام جماعت کی کشتی طیّار کر (جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے) جو لوگ تمہارے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ وہ دراصل خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہوگا۔
    (ازالہ اوہام صفحہ 855۔ روحانی خزائن جلد 3صفحۃ 565)
    ہوجاؤ۔ اور اپنے ربّ کریم کو اکیلا مت چھوڑو۔ جو شخص اُسے اکیلا چھوڑتا ہے وہ اکیلا چھوڑا جائے گا۔‘‘
    (اشتہار تکمیل تبلیغ مؤرخہ 12جنوری1889ء و تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ148، 149۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 191، 192)
    مارچ 1889ء
    ’’مجھے معلوم ہوا ہے۔ کہ بعض فوائد و منافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لئے مقدّر ہیں۔ اِس انتظام پر موقوف ہیں۔ کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مُبارکہ ایک کتاب میں بقید ولدیت و سکونت مستقل و عارضی طورمع کسی قدر کیفیّت کے (اگرممکن ہو) اندارج پاویں۔
    (اشتہار گذارش ضروری مؤرخہ 4اپریل 1889ء مشمولہ ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ845،846۔
    روحانی خزائن جلد نمبر3، صفحہ 558، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 193)
    1889ء
    ’’یہ انتظام جس کے ذریعہ سے راستبازوں کا گروہ ایک ہی سلک میں منسلک ہوکر وحدت مجموعی کے پیرایہ میں خلق اللہ پر جلوہ نما ہوگا۔ وہ اپنی سچائی کی مختلف المخرج شعاعوں کو ایک ہی خط ِ ممتد میں ظاہر کرے گا۔ خداوند عزّوجلّ کو بہت پسند آیا ہے۔‘‘
    (اشتہار گذارش ضروری مؤرخہ 4مارچ1889ء مشمولہ ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ847۔
    روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 559۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 194)
    1889ء
    ’’خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دعاؤں او راس ناچیز کی توجہ کو ان کی1پاک استعدادوں کے ظہور و برُوز کا وسیلہ ٹھہرادے۔ اور اس قدوس جلیل الذّات نے مجھے جوش بخشا ہے تا میں ان طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہوجاؤں۔‘‘
    (اشتہار گذارش ضروری مؤرخہ4 مارچ18891ء مشمولہ ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ850،
    روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ562۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 197)
    مارچ 1889ء
    ’’ منجملہ ان نشانوں کے جو پیشگوئی کے طور پر ظہور میں آئے وہ پیشگوئی ہے جو میں نے اخویم قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹی ضلع گوجرانوالہ کے متعلق کی تھی..........اور وہ یہ ہے.........کہ قاضی صاحب آپ کو ایک سخت
    1 یعنی بیعت کرنے والوں کی۔ (مرتب)
    ابتلاء پیش آنے والا1ہے۔‘‘ (تریاق القلوب صفحہ 351 نشان نمبر 47۔ روحانی خزائن جلد15صفحہ 472)
    1889ء
    ’’ایک دفعہ مجھے علی گڑھ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اور مرض ضعف دماغ کی و جہ سے جس کا قادیان میں بھی کچھ مدّت پہلے دورہ رہ چکا تھا۔ میں اس لائق نہیں تھا کہ زیادہ گفتگو یا اور کوئی دماغی محنت کاکام کرسکتا.....اس حالت میں علی گڑھ کے ایک مولوی صاحب محمد اسمٰعیل نام مجھ سے ملے اور انہوں نے نہایت انکساری سے وعظ کیلئے درخواست کی.....میں نے اس درخواست کو بشوقِ دل قبول کیا۔ اور چاہا کہ لوگوں کے عام مجمع میں اسلام کی حقیقت بیان کروں.... لیکن بعد اس کے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روکا گیا۔
    مجھے یقین ہے کہ چونکہ میری صحت کی حالت اچھی نہیں تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ زیادہ مغزخواری کرکے کسی جسمانی بلا میں پڑوں۔ اس لئے اُس نے وعظ کرنے سے مجھے روک دیا۔
    ایک دفعہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی اتفاق ہوا تھا کہ میری ضعف کی حالت میں ایک نبی گذشتہ نبیوں میں سے کشفی طور پر مجھ کو ملے اور مجھے بطور ہمدردی اور نصیحت کے کہا کہ اس قدر دماغی محنت کیوں کرتے ہو۔ اس سے تو تم بیمار ہوجاؤ گے۔‘‘
    (فتح اسلام صفحہ 27،28 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 17، 18)
    دسمبر 1890ء
    کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اِس مسیح کے
    جس کی مماثلت کو خدا نے بتادیا
    حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب
    خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا
    (ٹائٹل رسالہ فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد نمبر3صفحہ1)
    1890ء
    ’’حضرت عالی سیدنا و مولانا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بطور پیشگوئی فرماچکے ہیں۔ کہ اِس اُمّت پر ایک زمانہ آنے والا ہے جس میں وہ یہودیوں سے سخت درجہ کی مشابہت پیدا کرلے گی..... تب فارسؔ کی اصل میں سے ایک ایمان کی تعلیم دینے والا پیدا ہوگا۔ اگر ایمان ثریّاؔ میں معلّق ہوتا ‘ تو وہ اُسے اس جگہ سے بھی پالیتا۔ یہ پیشگوئی
    1 یہ پیشگوئی حضور ؑ نے اس وقت فرمائی جبکہ قاضی صاحب لدھیانہ میں حضورؑ کی بیعت سے مشرف ہوئے۔ اور پھر جس طرح یہ ابتلاء پیش آیا۔ اور پیشگوئی پوری ہوئی اس کی تفصیل قاضی صاحب موصوف نے اپنے خط میں درج کرکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیجی۔ چنانچہ حضور ؑ نے اس خط کو بھی اسی کتاب تریاق القلوب میں درج فرما دیا۔ تفصیل وہاں دیکھ لی جاوے۔ (مرتب)
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جس کی حقیقت الہام الٰہی نے اِس عاجز پر کھول دی اور تصریح سے اُس کی کیفیت ظاہر کردی اور مجھ پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے کھول دیا کہ حضرت مسیح بن مریم بھی درحقیقت ایک ایمان کی تعلیم دینے والا تھا جو حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد پیدا ہوا.....پس جبکہ اس اُمّت کو بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے عہد پر چودہ سو برس کے قریب مدّت گذری تو وہی آفات ان میں بھی بکثرت پیدا ہوگئیں جو یہودیوں میں پیدا ہوئی تھیں۔ تا وہ پیشگوئی پوری ہو جو اِن کے حق میں کی گئی تھی۔ پس خدا تعالیٰ نے اِن کیلئے بھی ایک ایمان کی تعلیم دینے والا مثیلِ مسیح اپنی قدرتِ کاملہ سے بھیج دیا۔‘‘
    (فتح اسلام صفحہ13 ،15 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 9،10)
    1890ء
    ’’ خدا تعالیٰ نے مجھے بھی بشارت دی کہ
    موت کے بعد میں پھر تجھے حیات بخشوں گا
    اور فرمایا کہ
    جو لوگ خدا تعالیٰ کے مقر ّب ہیں ‘ وہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجایا کرتے ہیں۔
    اور فرمایا کہ
    ’’میں اپنی چمکار دکھلاؤنگا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤنگا
    پس میری اس دوبارہ زندگی سے مُراد بھی میرے مقاصد کی زندگی ہے۔‘‘
    (فتح اسلام صفحہ26 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 16 حاشیہ)
    1890ء
    ’’ اس حکیم و قدیر نے اِس عاجز کو اصلاح خلائق کیلئے بھیج کر .....دنیا کو حق اور راستی کی طرف کھینچنے کے لئے کئی شاخوں1 پر امر تائید حق اور اشاعت ِ اسلام کو منقسم کردیا........... یہ پانچ طور کا سلسلہ جو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا...........خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ سب ضروری ہیں۔ اور جس اصلاح کے لئے اُس نے ارادہ فرمایا ہے۔ وہ اِصلاح بجز استعمال ان پانچوں طریقوں کے ظہور پذیر نہیں ہوسکتی۔‘‘ (فتح اسلام صفحہ17،18,43 ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 11,12 ،25،26)
    1 یہ پانچ شاخیں ہیں۔ جن کی تفصیل حضور اقدس نے آگے اسی کتاب میں فرمائی ہے ایک شاخ تالیف و تصنیف کا سلسلہ ہے دوسری اشتہارات۔ تیسری مہمانخانہ اور مہمانوں کی خاطر مدارات۔ چوتھی مکتوبات اور پانچویں شاخ سلسلہ بیعت ہے تفصیل کے لئے دیکھئے فتح اسلام صفحہ181 تا41۔روحانی خزائن جلد نمبر3صفحہ 12تا 25)۔ (مرتب)
    1890ء
    ’’ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک سخت بے دین ہندو سے اس عاجز کی گفتگو ہوئی اور اس نے حد سے زیادہ تحقیر دین متین کے الفاظ استعمال کئے۔ غیرت دینی کی و جہ سے کسی قدر اس عاجز نے وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ پر عمل کیامگر چونکہ وہ ایک شخص کو نشانہ بنا کر درشتی کی گئی تھی اس لئے الہام ہوا کہ
    تیرے بیان میں سختی بہت ہے۔ رِفق چاہئے رِفق۔‘‘
    (مکتوب بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔ مکتوبات احمدیہ جلد چہارم صفحہ6)
    جنوری 1891ء
    توضیح مرام 1
    (توضیح مرام ٹائٹل پیج)
    1891ء
    ’’فضل الرحمن2کی نسبت اس عاجز کو پہلے سے ظن نیک ہے ایک دفعہ اس کی نسبت
    سَیُھْدٰی3
    کا الہام ہوچکا ہے۔‘‘ (از مکتوب مؤرخہ 9رچ1891ء بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ و مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر2 صفحہ97)
    1891ء
    ’’اللہ جلّ شانہ‘ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارہ میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث ِ نبویہؐ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔‘‘
    (از مکتوب بنام مولوی عبدالجبار صاحب۔ مؤرخہ11؍فروری1891ء و تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ159۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 207)
    1891ء
    ’’ کل میں نے اپنے بازو پر یہ لفظ اپنے تئیں لکھے ہوئے دیکھا۔ کہ
    میں اکیلا ہوں‘ اور خدا میرے ساتھ ہے۔‘‘
    1 اس رسالہ توضیح مرام کا نام الہامی ہے۔ (مرتب)
    2 مفتی فضل الرحمن صاحب داماد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ۔ (مرتب)
    3 (ترجمہ از مرتب) وہ ضرور سیدھے راستہ پر ڈالا جائے گا۔
    (نوٹ از عرفانی صاحب) مفتی فضل الرحمن صاحب کے رشتہ نکاح کے متعلق حضرت مولوی صاحب نے مشورہ پوچھا تھا.....حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مشورہ دیا اور الہام الٰہی نے اس کی تائید فرمائی (مکتوبات جلد پنجم نمبر2 صفحہ 98، 99)
    اور اس کے ساتھ مجھے الہام ہوا۔
    اِنِّیْ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ 1
    سو میں جانتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی حجت ظاہر کردیگا۔‘‘
    (مکتوب بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔ مکتوبات احمدیہ جلد چہارم صفحہ3)
    11مارچ1891ء
    ’’شاید ایک ہفتہ ہوا۔ میں نے آپ2 کو خواب میں دیکھا۔ گویا آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں کیا کروں۔ تو میں نے آپ کو یہ کہا ہے ۔
    خدا سے ڈر ۔ پھر جو چاہے کر۔‘‘
    (مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بنام شیخ فتح محمد۔ مؤرخہ 18؍مارچ1891ء۔
    مندرجہ الفضل جلد 31نمبر9 مؤرخہ8؍مئی1943ء صفحہ3)
    1891ء
    ’’ہماری ایک لڑکی عصمت بی بی نام تھی۔ ایک دفعہ اس3کی نسبت الہام ہوا۔
    کَرْمُ الْجَنَّۃِ دَوْحَۃُ الْجَنَّۃِ 4
    تفہیم یہ تھی کہ وہ زندہ نہیں رہے گی۔ سو ایسا ہی ہوا۔ (نزول المسیح صفحہ 215روحانی خزائنجلدنمبر18صفحہ 593)
    1891ء
    ’’ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میں نعمت اللہ ولی کا وہ قصیدہ دیکھ رہا تھا جس میں اس نے میرے آنے کی بطور پیشگوئی خبر دی ہے اور میرا نام بھی لکھا ہے اور بتلایا ہے کہ تیرھویں صدی کے اخیر میں وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور میری نسبت یہ شعر لکھا ہے کہ
    مہدیٔ وقت و عیسیٰ ٔ دوراں -:- ہر دورا شہسوار مے بینم
    یعنی وہ آنے والا مہدی ؔبھی ہوگا اور عیسیٰ بھی ہوگا۔ دونوں ناموں کا مصداق ہوگا اور دونوں طور کے دعوے کرے گا۔
    1 (ترجمہ از مرتب) میرے ساتھ میرا خدا ہے۔ وہ ضرور میرے لئے راستہ پیدا کردے گا۔
    2 یعنی شیخ فتح محمد صاحب کو۔
    3 نوٹ:۔سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ 1۵1 سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبزادی عصمت بی بی کی وفات 1۹۸1ء میں ہوئی تھی اور یہ الہام اُس کی وفات سے پہلے کا ہے۔ (مرتب)
    4 (ترجمہ از مرتب) انگور کی جنّتی بیل۔ جنت کا بڑا درخت۔
    پس اِس اثناء میں کہ میں یہ شعر پڑھ رہا تھا عین پڑھنے کے وقت مجھے یہ الہام ہوا۔
    از پئے آں محمد احسن را -:- تارکِ روزگار مے بینم1
    یعنی میں دیکھتا ہوں کہ مولوی سید محمدؔ احسن امروہی اسی غرض کے لئے اپنی نوکری سے جو ریاست بھوپال میں تھی علیٰحدہ ہوگئے۔ تا خدا کے مسیح موعود کے پاس حاضر ہوں۔ اور اس کے دعوے کی تائید کے لئے خدمت بجالاوے۔ اور یہ ایک پیشگوئی تھی۔ جو بعد میں نہایت صفائی سے ظہور میں آئی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ 333۔ روحانی خزائن جلد نمبر22 صفحہ 346)
    1891ء
    ’’جب یہ آیتیں اُتریں کہ مشرکین رجس ہیں‘ پلید ہیں‘ شرّالبریّہ ہیں‘ سفہا ہیں اور ذریّت شیطان ہیں اور اُن کے معبود وقود النار اور حصب جہنّم ہیں تو ابوطاؔلب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بُلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے ! اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں۔ اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔ تُونے اُن کے عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا اور اُن کے بزرگوں کو شرّالبریّہ کہا اور ان کے قابل ِ تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنّم اور وقود النار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رِجس اور ذریّت شیطان اور پلید ٹھہرایا۔ میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا ورنہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اے چچا! یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہارِ واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔ اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اِس موت کو قبول کرتا ہوں۔ میری زندگی اِسی راہ میں وقف ہے۔ میں موت کے ڈر سے اظہارِ حق سے رُک نہیں سکتا۔
    اور اے چچا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تُو مجھے پناہ میں رکھنے سے دست بردار ہوجا۔ بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں میں احکامِ الٰہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رُکوں گا۔ مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہوکر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔ یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذّت ہے کہ اس کی راہ میں دُکھ اُٹھاؤں۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر کررہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رِقّت نمایاں ہورہی تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر ختم کرچکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طاؔلب کے آنسو جاری ہوگئے اور کہا کہ میں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا۔ تُو اورہی رنگ میں اور اَور ہی شان میں ہے۔ جا اپنے کام میں
    1 یہ الہامی شعر نمونہ پرچہ القادیان یکم ستمبر1902ء میں بھی درج ہے۔ لیکن پہلے مصرعہ میں’’ از پۓ آں محمد احسن را‘‘ کی بجائے ’’ از برائیش محمد احسن را ‘‘ لکھا ہے۔ اگر یہ راوی کے حافظہ کی غلطی نہیں ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس الہامی شعر کی دو قرأتیں ہیں۔ واللہ اعلم۔ (مرتب)
    لگا رہ۔ جب تک میں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 16,18روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 110،111)
    ’’یہ سب مضمون ابوطالب کے قصہ کا اگرچہ کتابوں میں درج ہے مگر یہ تمام عبارت الہامی ہے جو خدائے تعالیٰ نے اِس عاجز کے دل پر نازل کی۔ صرف کوئی کوئی فقرہ تشریح کے لئے اِس عاجز کی طرف سے ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 18,19روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 111،112)
    1891ء
    ’’صحیح مسلم میں جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید شرقی کے پاس اُتریں گے.......دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزیدؔ پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں......مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے جس میں یہ دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ نے مسیح کے اُترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ مسلمانوں میں سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو اپنی روحانی حالت کی رُو سے مسیح سے اور نیز امام حسین سے بھی مشابہت رکھتا ہے کیونکہ دمشق پایۂ تخت یزید ہوچکا ہے اور یزیدیوں کا منصوبہ گاہ جس سے ہزار ہا طرح کے ظالمانہ احکام نافذ ہوئے۔ وہ دمشق ہی ہے....... سو خدا تعالیٰ نے اُس دمشق کو جس سے ایسے پُر ظلم احکام نکلتے تھے اور جس میں ایسے سنگ دل اور سیاہ دروں لوگ پیدا ہوگئے تھے اِس غرض سے نشانہ بنا کر لکھا کہ اب مثیل دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈ کوارٹر ہوگا کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی میں ہی آتے رہے ہیں اور خدا تعالیٰ *** کی جگہوں کو برکت کے مکانات بناتا رہا ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 63تا70 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 138حاشیہ)
    1891ء
    ’’قادیانؔ کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ
    اُخْرِجَ مِنْہُ الْیَزِیْدِ یُّوْنَ
    یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ72 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 138 حاشیہ)
    1891ء
    (الف) ’’ایک صاف اور صریح کشف میں مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ ایک شخص حارثؔ نام یعنی حر ّ اث 1آنے والا ہے جو
    1 حارث کے معنے زمیندار کے ہیں۔ اور حر ّاث ؔ سے مراد بڑا زمیندار ہے۔ اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں پائی جاتی ہے۔ (مرتب)
    ابوداؤد کی کتاب میں لکھا ہے۔ یہ خبر صحیح ہے اور یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی درحقیقت یہ دونوں اپنے مصداق کے رُو سے ایک ہی ہیں۔ یعنی اِن دونوں کا مصداق ایک ہی شخص ہے۔ جو یہ عاجز ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 65حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 135)
    (ب) ’’یہ پیشگوئی جو ابوداؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حر ّاث ماورائے نہر سے یعنی ثمر قند کی طرف سے نکلے گا۔ جو آلِ رسول کو تقویت دیگا جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہوگی۔ الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے۔ کہ یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا۔ دراصل یہ دونوں پیشگوئیاں متحد المضمون ہیں۔ اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 79 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 141حاشیہ)
    1891ء
    ’’پھر وہ منصور1مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ
    خوشحال ہے ۔ خوشحال ہے
    مگر خدائے تعالیٰ کی کسی حکمت خفیہ نے میری نظر کو اُس کے پہچاننے سے قاصر رکھا۔ لیکن امید رکھتا ہوں۔ کہ کسی دوسرے وقت دکھایا جائے۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ98،99حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 149)
    1891ء
    ’’اس عبارت تک یہ عاجز پہنچا تھا کہ یہ الہام ہوا۔
    قُلْ لَّوْ کَانَ الْآمْرُمِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ لَوَجَدْتُّمْ فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔ قُلْ لَّوِاتَّبَعَ اللّٰہُ اَھْوَآئَ کُمْ لَفَسَدِتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَلَبَطَلَتْ حِکْمَتُہ‘۔ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمَاتِ رَبِّیْ لَنَفِدَالْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔2
    1 جس کا ذکر ابو داؤد کی حارث والی حدیث میں آتا ہے۔ یعنی حارث کی فوج کے مقدمۃ الجیش کا سردار جس کا نام حدیث میں منصور بیان ہوا ہے۔ اس کشف میں غالباً منصور سے مراد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ (مرتب)
    2 (ترجمہ از مرتب) کہہ کہ اگر یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا۔ بلکہ غیر اللہ کی بناوٹ ہوتا۔ تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے۔ کہہ کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے خیالاتِ باطلہ کی پیروی کرتا تو آسمان و زمین اور ان کے اندر رہنے والی مخلوق میں فساد برپا ہوجاتا۔ اور حکمت الٰہی باطل ہوجاتی۔ اور اللہ تعالیٰ غالب اور حکیم ہے۔ کہہ کہ اگر سمندر میرے ربّ کی باتوں (کے لکھنے) کے لئے روشنائی بن جاتے تو میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجاتے۔ اگرچہ ہم اتنے ہی اور (سمندر) ان میں شامل
    پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ
    اِن علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ میں اِن کے چُولھے ہیں۔ میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں۔ اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کُتر رہے ہیں۔
    (ٹھوٹھیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندوستانی میں سکوریاں کہتے ہیں عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانۂ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دُنیا سے بھرے ہوئے ہیں)۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 75،76حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 139، 140حاشیہ)
    1891ء
    ’’کشفی حالت میں اِس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں، ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے۔ تب میں نےاُس شخص کو جو زمین پر تھا، مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے مگر وہ چپ رہا اور اُس نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ تب میں نے اُس دُوسرے کی طرف رُخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اُسے میں نے مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے ۔ وہ میری اِس بات کو سُنکر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگرچہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔ اُس وقت میں نے یہ آیت پڑھی۔ کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئْۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللّٰہِ۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 97,98 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 149حاشیہ)
    1891ء
    ’ ’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ جو بات اِس عاجز کی دعا کے ذریعہ سے ردّ کی جائے وہ کسی اَور سے قبول نہیں ہوسکتی اور جو دروازہ اس عاجز کے ذریعہ سے کھولا جائے وہ کسی اور ذریعہ سے بند نہیں ہوسکتا۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 118حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 149حاشیہ)
    1891ء
    ’’ اَنْتَ اَشَدُّ مُنَاسَبَۃً بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاَشْبَہُ النَّاسِ بِہٖ خُلُقًا وَّ خَلْقًا وَّ زَمَانًا۔‘‘ 1
    (ازالہ اوہام صفحہ 123،124۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 165)
    بقیہ حاشیہ: کرکے انہیں بڑھاتے۔ کہہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بہت ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
    1 (ترجمہ از مرتب) تُو کیا بلحاظ اخلاق اور کیا بلحاظ صورت و خِلْقَتْ اور کیا بلحاظ زمانہ عیسیٰ ابن ِ مریم کے ساتھ سب لوگوں سے بڑھ کر مناسبت او مشابہت رکھتا ہے۔
    1891ء
    ’’خدا یتعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے۔ کہ میری ہی ذرّیّت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی۔ وہ آسمان سے اُترے گا۔ اور زمین والوں کی راہ سیدھی کردے گا۔ وہ اسیروں کو رُستگاری بخشے گا۔ اور ان کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقیّد ہیں‘ رہائی دے گا۔ فرزند1 دلبند گرامی ارجمند۔ مَظْھَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَآئِ۔ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآئِ۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 155،156۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 180)
    1891ء
    ’’چند روز کا ذکر ہے کہ اِس عاجز نے اِس طرف توجہ کی۔ کہ کیا اس حدیث کا جو اَلآیَاتُ بَعْدَالْمِأَتَیْنہے۔ ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرھویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کررکھی تھی اور وہ نام یہ ہے:۔
    غلام احمد قادیانی
    اس نام کے عدد پورے تیرہ سو1300ہیں اور اس قصبہ قادیانؔ میں بجز اِس عاجز کے اور کسی شخص کا نام غلام ؔاحمد نہیں۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اِس عاجز کے تمام دنیا میں غلامؔ احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور اِس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہ‘ بعض اسرار اعداد حروف تہجی میں میرے پر ظاہر کردیتا ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ185، روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 189،190)
    1891ء
    (الف) ’’ ایک دفعہ میں نے آدم کے سن پیدائش کی طرف توجہ کی۔ تو مجھے اشارہ کیا گیا کہ ان اعداد پر نظر ڈال۔ جو سورۃ العصر کے حروف میں ہیں کہ انہیں میں سے وہ تاریخ نکلتی ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ186۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 190)
    (ب) ’’ خداتعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عصر تک جو عہد ِ نبوّت ہے۔ یعنی تیئیس برس کا تمام و کمال زمانہ یہ کل مدّت گذشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر 4739 برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ
    1 (ترجمہ از مرتب) فرزند دلبند ۔ بزرگ اور اقبال مند۔ حق اور رفعت کا مظہر گویا کہ خدا آسمان سے اُتر آیا ہے۔
    علیہ وسلم کے روزِ وفات تک قمری حساب1سے ہیں۔‘‘
    (تحفہ گولڑویہ صفحہ 93-95روحانی خزائن جلد نمبر17 صفحہ 251،252)
    1891ء
    ’’ایک شخص کی موت کی نسبت خدا یتعالیٰ نے اعداد تہجی میں مجھے خبر دی جس کا ماحصل یہ ہے کہ
    کَلْبٌ یَمُوْتُ عَلٰی کَلْبٍ
    یعنی وہ کُتّا ہے اور کُتّے کے عدد پر مرے گا۔ جو باون 52 سال پر دلالت کررہے ہیں۔ یعنی اس کی عمر باون سال سے تجاوز نہیں کرے گی جب باون سال کے اندر قدم دھرے گا۔ تب اُسی سال کے اندر اندر راہی مُلک بقا ہوگا۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ186،187۔ روحانی خزائن جلد نمبر3صفحہ 190)
    1891ء
    ’’ابھی تھوڑے دن گذرے ہیں کہ ایک مدقوق اور قریب الموت انسان مجھے دکھائی دیا اور اُس نے ظاہر کیا کہ میرا نام دین محمد ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ دین محمدی ہے جو مجسّم ہو کر نظر آیا ہے اور میں نے اس کو تسلّی دی کہ تو میرے ہاتھ سے شفا پاجائیگا۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ 214، روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 206)
    1891ء
    ’’اور یہ جو میں نے مسمریزمی طریق کا عمل الترب1نام رکھا۔ جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے
    1 اور شمسی حساب کے رُو سے4598 برس بعد آدم صفی اللہ حضرت نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے۔ ( تحفہ گولڑویہ صفحہ 92حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 17صفحہ 247)
    2 ترب کے معنی لغت میں ہم عمر یا مثیل کے لکھے ہیں۔ مگر اس لفظ میں تراب کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔
    ’’وَامّا التراب فاعلم ان ھدا اللفظ ماخوذ من لفظ التِرب۔ وتِرب الشیٔ الذی خلق مع ذالک الشیٔ عنداھل العرب۔ وقال ثعلب ترب الشیٔ مثلہ وما شابہ شیئًا فی الحسن والبھائ۔ فعلی ھذین المعنیین سمی التراب ترابًا لکونھافِی خلقھا ترب السمآئ۔ فان الارض خلقت مع السمآء فی ابتداء الزمان۔ وتشا بھا فی انواع صنع اللّٰہ المنّان۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ262، 263حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 11صفحہ 262،263)
    (ترجمہ از مرتب) ’’لفظ تراب تِرب سے سے ماخوذ ہے اور عربوں کے نزدیک ترب الشیٔ کے معنی ہیں وہ چیز جو اس کے ساتھ پیدا ہو۔ اور ثعلب کا قول ہے کہ کسی چیز کی ترب وہ ہے جو خوبی میں اس کی مانند ہو۔ پس ان دونوں معنوں کی رُو سے مٹی کا نام تراب اس لئے رکھا گیا کہ وہ پیدائش میں آسمان کی ہم عمر یا مثیل ہے کیونکہ زمین ابتدائی زمانہ میں آسمان کے ساتھ ہی پیدا ہوئی ہے اور وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی صنعت کے اقسام میں مشابہ ہیں۔‘‘
    تھے۔ یہ الہامی نام ہے اور خدائے تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے اور اِس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ بھی الہام ہوا
    ھٰذَا ھُوَا التِّرْبُ الذی لَا یَعْلَمُوْنَ
    یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ312 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ259)
    1891ء
    ’’ او رمجھے اُس ذات کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی اور اسی وقت کشفی طور پر یہ صداقت1 مذکورہ بالا میرے پر ظاہرکی گئی ہے۔ اور اسی مُعلّمِ حقیقی کی تعلیم سے میں نے وہ سب لکھا ہے۔ جو ابھی لکھا ہے۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ376، روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 259)
    1891ء
    ’’اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیّت بھی کردی گئی۔ اُس وقت گویا یہ پیشگوئی1 آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنے ہونگے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اُسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔
    اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ
    یعنی یہ بات تیرے ربّ کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ398،روحانی خزائن جلد نمبر3صفحہ 306)
    بقیہ حاشیہ:۔ پس اس رُو سے وحی الٰہی میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ علم زمینی ہے نہ کہ آسمانی۔ اسے وہی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ جو رُوحانیت سے کم حصہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔
    اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔ مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 308 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 3۔ صفحہ 257 حاشیہ)
    1 یعنی مَاقَتَلُوْوَمَاصَلَبُوْہُکی تفسیر۔ (مرتب)
    2 یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری والی پیش گوئی۔ (مرتب)
    1891ء
    ’’ خدا تعالیٰ نے آپ اپنے کلام میں میری طرف اشارہ کرکے فرمایا ہے:۔
    نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ بندگانِ خدا کو بہت صاف کررہا ہے۔ اس سے زیادہ کہ کبھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ442، روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 335)
    1891ء
    ’’ ایک 1مدّت کی بات ہے جو اس عاجز نے خواب میں دیکھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ پر مَیں کھڑا ہوں اور کئی لوگ مَر گئے ہیں یا مقتول ہیں اُن کو لوگ دفن کرنا چاہتے ہیں۔ اِسی عرصہ میں روضہ کے اندر سے ایک آدمی نکلا اور اُس کے ہاتھ میں ایک سرکنڈہ تھا اور وہ اُس سرکنڈہ کو زمین پر مارتا تھا اور ہر ایک کوکہتا تھا کہ تیری اِس جگہ قبر ہوگی۔ تب وہ یہی کام کرتا کرتا میرے نزدیک آیا اور مجھ کو دکھلا کر اور میرے سامنے کھڑا ہوکر روضۂ شریفہ کے پاس کی زمین پر اُس نے اپنا سرکنڈہ مارا اور کہا کہ تیری اس جگہ قبر ہوگی۔ تب آنکھ کھل گئی۔
    اور میں نے اپنے اجتہاد سے اس کی تاویل کی کہ یہ معیّت معادی کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ جو شخص فوت ہونے کے بعد روحانی طور پر کسی مقدس کےقریب ہوجائے۔ تو گویا اس کی قبر اُس مقدس کی قبر کے قریب ہوگی۔ واللہ اعلم وعِلْمُہ‘ اَحْکَم ُ۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ470،471۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 352)
    1891ء
    ’’طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہوگا ہم اُس پر بہرحال ایمان لاتے ہیں۔ لیکن اِس عاجز پر جو ایک رؤیامیں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنے رکھتا ہے کہ ممالک ِ مغربی جو قدیم سے ظلمت کفرو ضلالت میں ہیں آفتابِ صداقت سے منوّر کئے جائیں گے اور اُن کو اسلام سے حصہ ملے گا۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 515, روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 376،377)
    1891ء
    ’’میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈنؔ میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مُدلّل بیان سے اسلامؔ کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔ بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق اُن کا جسم ہوگا۔
    سو مَیں نے اِس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ مَیں نہیں مگر میری تحریریں اِن لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز
    1 چونکہ مدّت کی مقدار معلوم نہیں ہوسکی اسلئے اسے اس کے وقت ِ ذکر کی رعایت سے 1891ء کے نیچے ہی رکھا جاتا ہے۔ (مرتب)
    صداقت کا شکار ہوجائیں گے۔‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ515،516۔ روحانی خزائن جلد نمبر3صفحہ 377)
    1891ء
    ’’اُس نے مجھے بھیجا اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہوچکا ہے۔ چنانچہ اُس کا الہام یہ ہے کہ
    ’’مسیح ابنِ مریم رسُول اللہ فوت ہوچکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تُو آیا ہے۔ وَکَانَ وَعْدُ اللّٰہِ مَفْعُوْلاً۔ اَنْتَ مَعِیْ وَاَنْتَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ۔ اَنْتَ مُصِیْبٌ وَّمُعِیْنٌ لِلْحَقِّ۔‘‘ 1 (ازالہ اوہام صفحہ 561،562۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 402 )
    1891ء
    ’’خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ
    تو مغلوب ہوکر یعنے بظاہر مغلوبوں کی طرح حقیر ہو کر پھر آخرغالب ہوجائے گا اور انجام تیرے لئے ہوگا اور ہم وہ تمام بوجھ تجھ سے اُتار لیں گے جس نے تیری کمر توڑ دی۔ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ تیری توحید ‘ تیری عظمت‘ تیری کمالیّت پھیلادے۔ خدا تعالیٰ تیرے چہرے کو ظاہر کرے گا اور تیرے سایہ کو لمبا کردے گا۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا ، پَر دُنیا نے اُسے قبول نہیں کیا۔ لیکن خدا اُسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچّائی ظاہر کردے گا۔ عنقریب اُسے ایک مُلک عظیم دیا جائیگا(........) اور خزائن اس پر کھولے جائیں گے(........) یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب۔ ہم عنقریب تم میں ہی اور تمہارے اردگرد نشان دکھلادینگے۔ حجت قائم ہوجائیگی اور فتح کھُلی کھُلی ہوگی۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک بھاری جماعت ہیں۔ یہ سب بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے۔ اگر لوگ تجھے چھوڑدینگے پَر مَیں نہیں چھوڑوں گا اور اگر لوگ تجھے نہیں بچائیں گے پر مَیں بچاؤنگا۔ مَیں اپنی چمکار دکھاؤنگا اور قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤنگا۔ اے ابراہیم تجھ پر سلام! ہم نے تجھے خالص دوستی کے ساتھ چُن لیا۔ خدا تیرے سب کام درست کردیگا اور تیری ساری مرادیں تجھے دیگا۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید اور تفرید۔ خدا ایسا نہیں جو تجھے چھوڑدے جب تک وہ خبیث کو طیّب سے جُدا نہ کرے۔ وہ تیرے مجد کو
    1 (ترجمہ از مرتب) اور اللہ کا وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔ تُو میرے ساتھ ہے اور تُو روشن حق پر قائم ہے۔ تو راہِ صواب پر ہے اور حق کا مدد گار ہے۔
    زیادہ کرے گا اور تیری ذریّت کو بڑھائے گا۔ اور مِن بَعد تیرے خاندان کا تجھ سے ہی ابتداء قرار دیا جائے گا۔ میں تجھے زمین کے کناروں تک عزّت کے ساتھ شہرت دُوں گا اور تیرا ذکر بلند کروں گا اور تیری محبت دلوں میں ڈال دُوں گا۔جَعَلْنَاکَ الْمسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ (ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا) ان کو کہدے کہ مَیں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں۔ یہ کہیں گے کہ ہم نے پہلوں سے ایسا نہیں سُنا۔ سو تو اِن کو جواب دے کہ تمہارے معلومات وسیع نہیں خدا بہتر جانتا ہے۔ تم ظاہر لفظ اور ابہام پر قانع ہو اور اصل حقیقت تم پر مکشوف نہیں۔ جو شخص کعبہ کی بنیاد کو ایک حکمت ِ الٰہی کا مسئلہ سمجھتا ہے وہ بڑا عقلمند ہے کیونکہ اس کو اسرارِ ملکوتی سے حصہ ہے ایک اولی العزم پیدا ہوگا۔وہ حسن اور احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔ وہ تیری ہی نسل سے ہوگا۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند
    مَظْھَرْ ُالْحَقِّ وَ الْعُلَآئِ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآئِ 1 یَاْتِیْ عَلَیْکَ زَمَانٌ مُّخْتَلِفٌ بِاَزْوَاجٍ مُّخْتَلِفَۃٍ۔ وَتَرٰی نَسْلاً بَعِیْدًا۔ وَلَنُحْیِیَنَّک۔ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ط ثَمَانِیْنَ حَوْلاً اَوْقَرِیْبًا مِّنْ ذَالِکَ
    (ازالہ اوہام صفحہ632،635 روحانی خزائن جلد 3صفحہ 441،443)
    1891ء
    ’’یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا۔ جو کمال طغیان اس کا اُس سَن ہجری میں شروع ہوگا۔ جو آیت وَاِنَّا عَلیٰ ذَھَابٍ بِہٖ لَقَادِرُوْنَ 2میں بحساب جمل مخفی ہے یعنی 1274ھ ۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ657۔روحانی خزائن جلدنمبر3صفحہ455)
    1891ء
    ’’خدا تعالیٰ نے اپنے کشف ِ صریح سے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے کہ قرآنِ کریم میں مثالی طور پر ابن ِ مریم کے آنے کا ذکر ہے۔3‘‘ (ازالہ اوہام صفحہ 667۔ روحانی خزائن جلد نمبر3 صفحہ 460)
    1891ء
    ’’اُس نے محض اپنے فضل سے بغیر وسیلہ کسی زمینی والد کے اُس ابن ِ مریم کو رُوحانی پیدائش اور روحانی
    1 (ترجمہ از مرتب) تجھ پر مختلف ازواج (یعنی رفقاء) کے ساتھ مختلف زمانے آئیں گے اور تُو دُور کی نسل دیکھے گا اور ہم تجھے خوش زندگی نصیب کریں گے اسّی سال یاا س کے قریب۔
    2 (ترجمہ از مرتب) یقینا ہم اُس کو لے جانے پر قادر ہیں۔
    3 دیکھو آیت وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ۔ (الزخرف:58 )
    زندگی بخشی۔ جیسا کہ اُس نے خود اُس کو اپنے الہام میں فرمایا۔
    ثُمَّ اَحْیَیْنَاکَ بَعْدَمَآ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی وَ جَعَلْنَاکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔
    یعنی پھر ہم نے تجھے زندہ کیا بعد اس کے جو پہلے فرقوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور تجھے ہم نے مسیح ابن ِ مریم بنایا۔ یعنی بعد اس کے جو عام طور پر مشائخ اور علماء میں موت روحانی پھیل گئی۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 674، روحانی خزائن جلد نمبر3صفحہ 464)
    ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنِّیْ الْحَزَنَ وَ اٰتَانِیْ مَا لَمْ 1 یُؤْتَ اَحَدٌ مِّنَ الْعَالَمِیْنَ۔
    احد من العالمین سے مراد زمانہ حال کے لوگ یا آیندہ زمانہ کے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ703،روحانی خزائن جلد نمبر3صفحہ479)
    ترجمہ:۔ ’’اس خدا کی تعریف ہے جس نے میرا غم دُور کیا اور مجھ کو وہ چیز دی جو اس زمانہ کے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دی۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ 107۔روحانی خزائن جلد نمبر22صفحہ110 )
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    1891ء
    ’’جب لوگ مسیح موعود کے دعویٰ سے سخت ابتلاء میں پڑگئے یہ الہامات ہوئے:۔
    اَلَّذِیْنَ 1 تَابُوْاوَاَصْلَحُوْااُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَاَنَاالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ اُمَمٌ یَّسَّرْنَا لَھُمُ الْھُدٰی وَاُمَمٌ حَقَّ عَلَیْھِمْ الْعَذَابُ وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔ وَ لَکَیْدُ اللّٰہِ اَکْبَرُ۔ وَاِنْ یَّتَخِذُوْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ۔ قُلْ اَیُّھَا لْکُفَّارُ اِنِّیْ مِنَ الصَّادِقِیْنَ۔ فَانْتَظِرُوْٓا اٰیَاتِیْ حَتّٰی حِیْنٍ۔ سَنُرِیْھِمْ اٰیَاتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ۔ حُجَّۃٌ قَآئِمَۃٌ وَّ فَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔ اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِافْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ و لَوْکَرِہَالْکَافِرُوْنَ۔ نُرِیْدُ اَنْ نُّنَزِّلَ عَلَیْکَ اَسْرَارًا مِّنَ السَّمَآئِ وَنُمَزِّقَ الْاَعْدَآئَ کُلَّ مُمَزَّقٍ وَّ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَ جُنُوْدَھُمَا مَاکَانُوْا یَحْذَرُوْنَ۔ سَلَّطْنَا کِلَابًا عَلَیْکَ وَ غَیَّظْنَا سِبَاعًا مِّنْ قَوْلِکَ وَفَتَنَّاکَ فُتُوْنًا۔ فَلَا تَحْزَنْ عَلَی الَّذِیْ قَالُوْٓا اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ۔ حُکْمُ اللّٰہِ الرَّحْمَانِ لِخَلِیْفَۃِ اللّٰہِ السُّلْطَانِ یُؤْتٰی لَہُ الْمُلْکُ الْعَظِیْمُ وَیُفْتَحُ عَلٰی یَدِہِ الْخَزَآئِنُ وَتُشْرِقُ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّھَا۔ ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ
    1 یہ الہام انجام آتھم صفحہ77پر یُوں درج ہے۔ ’’وَاَعْطَانِیْ مَا لَمْ یُعْطَ اَحَدٌ مِّنَ الْعَالَمِیْنَ۔‘‘ (مرتب)
    وَ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ عَجِیْبٌ۔
    یعنی جو لوگ توبہ کریں گے اور اپنی حالت کو درست کرلیں گے۔ تب مَیں بھی اُن کی طرف رجوع کروں گا اورمیں توّاب اور رحیم ہوں۔ بعض گروہ وہ ہیں جن کے لئے ہم نے ہدایت کو آسان کردیا اور بعض وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوا۔ وہ مکر کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی مکر کررہا ہے اور وہ خیرالماکرین ہے اور اس کا مکر بہت بڑا ہے اور تجھے ٹھٹھوں میں اُڑاتے ہیں۔ کیا یہی ہے جو مبعوث ہوکر آیاہے۔ ان کو کہہ دے کہ اے منکرو! مَیں صادقوں میں سے ہوں اور کچھ عرصے کے بعد تم میرے نشان دیکھو گے۔ ہم اُنہیں اُن کے اردگرد اور خود اُنہیں میں اپنے نشان دکھائیں گے۔ حجت قائم کی جائے گی اور فتح کھُلی کھُلی ہوگی۔ خدا تم میں فیصلہ کردے گا ۔وہ کسی جھُوٹے حد سے بڑھنے والے کا رہنما نہیں ہوتا۔ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نُور کو بُجھا دیں مگر خدا اُسے پُورا کرے گا اگرچہ مُنکر لوگ کراہت ہی کریں۔ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ کچھ اسرار تیرے پر آسمان سے نازل کریں اور دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ باتیں دکھا دیں جن سے وہ ڈرتے ہیں۔ ہم نے کُتّوں کو تیرے پر مُسلطّ کیا اور درندوں کو تیری بات سے غصّہ دلایا اور سخت آزمائش میں تجھے ڈال دیا۔ سو تو اُن کی باتوں سے کچھ غم نہ کر۔ تیرا ربّ گھات میں ہے۔ وہ خدا جو رحمان ہے۔ وہ اپنے خلیفہ سلطان کے لئے مندرجہ ذیل حُکم صادر کرتا ہے کہ اس کو ایک ملک عظیم دیا جائے گا اور خزائن علوم و معارف اس کے ہاتھ پر کھولے جائیں گے اور زمین اپنے ربّ کے نور سے روشن ہوجائیگی۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب۔‘‘
    (ازالہ اوہام صفحہ 855,856 روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 565، 566 )
    1891ء
    ’’ جب مولوی محمد حسینؔ صاحب نے ہمارے کفر کا فتویٰ دیا اور لوگوں کو بھڑکایا کہ یہ مسلمان نہیں۔ ان کے جنازے درست نہیں اور ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ ہونے دیا جاوے۔ اُس وقت چونکہ بُغض و عداوت بڑھ گئی تھی۔ ہم گویا تنہا رہ گئے۔ اُس وقت مَیں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ میرے بڑے بھائی میرزا غلام قادر مرحوم کی شکل پر ایک شخص آیا ہے مگر مجھے فوراً معلوم کرایا گیا کہ یہ فرشتہ ہے مَیں نے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو ؟ اُس نے کہا کہ
    جئْتُ مِنْ حَضْرَۃِ الْوِتْرِ
    میں جناب باری سے آیا ہوں۔ میں نے کہا کہ کیوں؟ اُس نے کہا کہ بہت سے لوگ تم سے الگ ہوگئے ہیں اور تمہاری عداوت میں بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ پیغام دینے آیا ہوں۔ مَیں نے اُس کو الگ ہو کر ایک بات کہنی چاہی۔ جب وہ الگ ہوا تو مَیں نے کہا کہ لوگ تو مجھ سے علیٰحدہ ہوگئے ہیں مگر کیا تم بھی الگ ہوگئے ہو؟ اس نے کہا۔ نہیں۔ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ معاً میری حالت ِ کشف اس پر جاتی رہی۔‘‘
    (الحکم جلد7نمبر 2مؤرخہ17جنوری1903ء صفحہ6۔ البدر جلد 1نمبر12 مؤرخہ16جنوری1903ء صفحہ97)1
    1 یہ الہام انجام آتھم صفحہ77پر یُوں درج ہے۔ ’’وَاَعْطَانِیْ مَا لَمْ یُعْطَ اَحَدٌ مِّنَ الْعَالَمِیْنَ۔‘‘ (مرتب)
    1891ء
    ’’چونکہ میری توجہ پر مجھے ارشاد ہوچکا ہے کہ
    اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ
    اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ1 تقویٰ کا طریق چھوڑ کر ایسی گستا خی2کریں گے اورآیت لَاتَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ کو نظرانداز کردیں گے تو ایک سال تک اس گستاخی کا آپ پر ایسا کھُلا کھُلا اثر پڑے گا جو دوسروں کے لئے بطور نشان کے ہوجائے گا۔‘‘ (از اشتہار17اکتوبر 1891ء و تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ38۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 249)
    نومبر1891ء
    ’’ ٭ رَاَیْتُنِیْ فِی الْمَنَامِ عَیْنَ اللّٰہِ وَتَیَقَّنْتُ اَنَّنِیْ ھُوَ وَلَمْ یَبْقَ لِیْ اِرَادَۃٌ وَّ لَا خَطْرَۃٌ وَّ لَا عَمَلٌ مِّنْ جِھَۃِ نَفْسِیْ وَصِرْتُ کَاِنَائٍ مُّنْثَلِمٍ بَلْ کَشَیْئٍ تَاَبَّطَہ‘ شَیْءٌ اٰخَرُ وَاَخْفَاہُ فِیْ نَفْسِہٖ حَتّٰی مَابَقِیَ مِنْہُ اَثَرٌ وَّ لَا رَآئِحَۃٌ وَّ صَارَکَالْمَفْقُوْدِیْنَ۔
    وَاَعْنِیْ بِعَیْنِ اللّٰہِ رُجُوْعَ الظِّلِّ اِلٰی اَصْلِہٖ وَغَیْبُوْ بَتَہ‘ فِیْہِ کَمَا یَجْرِیْ مِثْلُ ھٰذِہِ الْحَالَاتِ فِیْ بَعْضِ الْاَوْقَاتِ عَلَی الْمُحِبِّیْنَ۔ وَتَفْصِیْلُ ذَالِکَ اَنَّ اللّٰہَ اِذَا اَرَادَ شَیْئًا مِّنْ نِّظَامِ الْخَیْرِ جَعَلَنِیْ مِنْ تَجَلِّیَاتِہِ الذَّاتِیَّۃ بِمَنْزِلَۃِ مَشِیَّتِہٖ وَعِلْمِہٖ وَجَوَارِحِہٖ وَتَوْحِیْدِہٖ وَتَفْرِیْدِہٖ لِاِثْمَامِ مُرَادِہٖ وَتَکْمِیْلِ مَوَاعِیْدِہٖ کَمَا جَرَتْ عَادَتُہ‘ بِالْاَبْدَالِ وَالْاَقْطَابِ وَالصِّدِّیْقِیْنَ۔
    ٭ (مضمونِ بالا کا مفہوم بزبانِ اُردو حضور ؑ کے الفاظ میں)
    ’’مَیں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ مَیں خود خدا3ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا۔ اور مَیں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہوگیا ہوں۔ یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بس میں کر لیا ہو۔ اور اُسے اپنے اندر بالکل مخفی کرلیا ہو۔ یہاں تک کہ اُس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔
    اِس اثناء میں مَیں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی رُوح مجھ پر محیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہوکر اپنے وجود میں مجھے
    1 مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی۔ (مرتب)
    2 یعنی ’’ایک مجلس میں میرے تمام دلائل وفات مسیح سُنکر اللہ جلّ شانہ‘ کی تین مرتبہ قسم کھا کر یہ کہہ دیجئے کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیںاور صحیح اور یقینی امر یہی ہے کہ حضرت مسیح ابن ِ مریم زندہ بحدہ العنصری آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں۔‘‘ (اشتہار17 اکتوبر1891ء۔ تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ38۔ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 249)
    3 خواب میں اگر کوئی دیکھے کہ وہ خدا بن گیا ہے۔ تو اس کی یہ تعبیر ہوگی۔ ’’اِھْتَدٰی اِلَی الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیْمِ۔‘‘
    (تعطیرالانام صفحہ 9) کہ اس شخص کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت ملی۔ (مرتب)
    فَرَاَیْتُ اَنَّ رُوْحَہ‘ اَحَاطَ عَلَیَّ وَاسْتَوٰی عَلٰی جِسْمِیْ وَلَفَّنِیْ فِیْ ضِمْنِ وُجُوْدِہٖ حَتّٰی مَابَقِیَ مِنِّیْ ذَرَّۃٌ وَّکُنْتُ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ۔ وَنَظَرْتُ اِلٰی جَسَدِیْ فَاِذَا جَوَارِحِیْ جَوَارِحُہ‘ وَعَیْنِیْ عَیْنُہ‘ وَاُذُنِیْ اُذُنُہ‘ وَلِسَانِیْ لِسَانُہ‘۔ اَخَذَنِیْ رَبِّیْ وَاسْتَوْفانِیْ وَاَکَّدَالْاِسْتِیْفَآئَ حَتّٰی کُنْتُ مِنَ الْفَانِیْنَ۔ وَ وَجَدْتُّ قُدْرَتَہ‘ وَقُوَّتَہ‘ تَفُوْرُفِیْ نَفْسِیْ وَاُلُوْھِیَّتَہ‘ تَتَمَوَّجُ فِیْ رُوْحِیْ وَضُرِبَتْ حَوْلَ قَلْبِیْ سُرَادِقَاتُ الْحَضْرَۃِ وَدَقَّقَ نَفْسِیْ سُلْطَانُ الْجَبَرُوْتِ۔ فَمَا بَقِیْتُ وَمَا بَقِیَ اِرَادَتِیْ وَلَا مُنَایَ۔ وَانْھَدَمَتْ عِمَارَۃُ نَفْسِیْ کُلُّھَا وَتَرَائَ تْ عِمَارَاتُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ وَمَحَتْ اَطْلَالُ وُجُوْدِیْ وَعَفَتْ بَقَایَا اَنَا نِیَّتِیْ وَمَا بَقِیَتْ ذَرَّۃٌ مِّنْ ھُوِیَّتِیْ وَالْاُلُوْھِیَّۃُ غَلَبَتْ عَلَیَّ غَلَبَۃً شَدِیْدَۃً تَآمَّۃً وَّجُذِبْتُ اِلَیْھَا مِنْ شَعْرِ رَاْسِیْ اِلٰی اَظْفَارِ اَرْجُلِیْ فَکُنْتُ لُبًّا بِلَا قُشُوْرٍ وَّ دُھْنًا بِغَیْرِ ثُفْلٍ وَّ بُذُوْرٍ وَّ بُوْعِدَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ نَفْسِیْ فَکُنْتُ کَشَیْئٍ لَّایُرٰی اَوْکَقَطْرَۃٍ رَّجَعَتْ اِلَی الْبَحْرِ فَسَتَرَہُ الْبَحْرُ بِرِدَآئِہٖ وَکَانَ تَحْتَ اَموَاجِ الْیَمِّ کَالْمَسْتُوْرِیْنَ۔ فَکُنْتُ فِیْ ھٰذِہِ الْحَالَۃِ لَآ اَدْرِیْ مَاکُنْتُ مِنْ قَبْلُ وَمَاکَانَ وُجُوْدِیْ وَکَانَتِ الْاُلُوْھِیَّۃُ نَفَذَتْ فِیْ عُرُوْقِیْ وَ اَوْتَارِیْ وَاَجْزَآئِ اَعْصَابِیْ وَرَاَیْتُ وُجُوْدِیْ کَالْمُنْھُوْبِیْن۔ وَکَاَنَّ اللّٰہَ اسْتَخْدَمَ جَمِیْعَ جَوَارِحِیْ وَمَلَکَھَا بِقُوَّۃٍ لَّایُمْکِنُ زَیَادَۃٌ عَلَیْھَا فَکُنْتُ مِنْ اَخْذِہٖ وَ تَنَاوُلِہٖ کَاَنِّیْ لَمْ اَکُنْ مِّنَ الْکَآئِنِیْنَ۔ وَکُنْتُ اَتَیَقَّنُ اَنَّ جَوَارِحِیْ لَیْسَتْ جَوَارِحِیْ بَلْ جَوَارِحُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَکُنْتُ اَتَخَیَّلُ اَنِّی انْعَدَمْتُ بِکُلِّ وُجُوْدِیْ وَانْسَلَخْتُ مِنْ کُلِّ ھُوِیَّتِیْ۔
    پنہاں کرلیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرّہ بھی باقی نہ رہا۔ اور مَیں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضا اُس کے اعضا اور میری آنکھ اُس کی آنکھ‘ اور میرے کان اُس کے کان‘ اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے ربّ نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ مَیں بالکل اس میں محو ہوگیا اور مَیں نے دیکھا کہ اُس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی ہے اور اُس کی الُوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ حضرت عزّت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو مَیں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنّا ہی باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی۔
    اور الُو ہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور مَیں سر کے بالوں سے ناخن ِ پا تک اس کی طرف کھینچا گیا پھر مَیں ہمہ مغز ہوگیا۔ جس میں کوئی پوست نہ تھا۔ اور ایسا تیل بن گیا جس میں کوئی میل نہیں تھی ۔ اور مجھ میں اورمیرے نفس میں جُدائی ڈال دی گئی۔ پَس مَیں اُس شے کی طرح ہوگیا جو نظر نہیں آتی یا اُس قطرہ کی طرح جو دریا میں جاملے اور دریا اُس کو اپنی چادر کے نیچے چھپالے۔ اس حالت میں مَیں نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے مَیں کیا تھا اور میرا وجود کیا تھا۔ الُوہیت میرے رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی اور مَیں بالکل اپنے آپ سے کھویا گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضاء
    اپنے کام میں لگائے اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کرلیا کہ اُس سے زیادہ ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کی گرفت سے

    وَالْاٰنَ لَا مُنَازِعَ وَلَا شَرِیْکَ وَلَا قَابِضٌ یُزَاحِمُ۔ دَخَلَ رَبِّیْ عَلٰی وُجُوْدِیْ وَکَانَ کُلُّ غَضَبِیْ وَ حِلْمِیْ وَحُلْوِیْ وَ مُرِّیْ وَحَرَکَتِیْ وَسُکُوْنِیْ لَہ‘ وَمِنْہُ۔ وَصِرْتُ مِنْ نَّفْسِیْ کَالْخَالِیْنَ۔ وَبَیْنَمَآ اَنَا فِیْ ھٰذِہِ الْحَالَۃِ کُنْتُ اَقُوْلُ اِنَّا نُرِیْدُ نِظَامًا جَدِیْدًا۔ سَمَآئً جَدِیْدَۃً وَّاَرْضًا جَدِیْدَۃً فَخَلَقْتُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَوَّلًا بِصُوْرَۃٍ اِجْمَالِیَّۃٍ لَّا تَفْرِیْقَ فِیْھَا وَلَا تَرْتِیْبَ۔ ثُمَّ فَرَّقْتُھَا وَرَتَّبْتُھَا بِوَضْعٍ ھُوَ مُرَادُ الْحَقِّ وَکُنْتُ اَجِدُ نَفْسِیْ عَلٰی خَلْقِھَا کَالْقَادِرِیْنَ ثُمَّ خَلَقْتُ السَّمَآئَ الدُّنْیَا وَقُلْتُ اِنَّا زَیَّنَا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ ثُمَّ قُلْتُ الْاٰنَ نَخْلُقُ الْاِنْسَانَ مِنْ سُلَالَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ۔ ثُمَّ انْحَدَرْتُ مِنَ الْکَشْفِ اِلَی الْاِلْھَامِ فَجَرٰی عَلٰی لِسَانِیْ۔
    اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ اِنَّاخَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ وَّکُنَّا کَذَالِکَ خَالِقِیْنَ۔
    مَیں بالکل معدوم ہوگیا۔ اور مَیں اُس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضاء میرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضاء ہیں اور مَیں خیال کرتا تھا کہ مَیں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہُوِیَّتْ سے قطعاً نکل چکا ہوں۔ اَب کوئی شریک اور مُنازِع روک کرنے والا نہیں رہا۔ خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہوگیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہوگیا اور اس حالت میں مَیں یُوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو مَیں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر مَیں نے منشاءِ حق کے موافق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور مَیں دیکھتا تھا کہ مَیں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر مَیں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور کہا۔ اِنَّازَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ۔ پھر مَیں نے کہا۔اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا
    1 اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ اِنَّا خَلُقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔‘‘
    (کتاب البریّہ صفحہ78،79 ۔ روحانی خزائن جلد نمبر13 صفحہ 103 تا 105)
    (ب) ’’ ایک کشفی رنگ میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا ہے اور پھر مَیں نے کہا کہ آؤ۔ اب انسان کو پیدا کریں اس پر نادان مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو اب اس شخص نے خدا ئی کا دعویٰ کیا حالانکہ اُس کشف سے یہ مطلب تھا کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کریگا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہوجائیں گے اور حقیقی انسان پیدا ہوں گے۔‘‘ (چشمہ ٔ مسیحی صفحہ58 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر20 صفحہ 375، 376 )
    1 (ترجمہ از مرتب) مَیں نے ارادہ کیاکہ خلیفہ بناؤں تو مَیں نے آدم کو پیدا کیا۔ یقینا ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے۔ (مرتب)
    1 وَاُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ اللّٰہَ اِذَا اَرَادَ اَنْ یَّخْلُقَ اٰدَمَ فَیَخْلُقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّیَخْلُقُ کُلَّ مَالَا بُدَّمِنْہُ فِی السَّمَآء وَ الْاَرْضِیْنَ۔ ثُمَّ فِیْ اٰخِرِالْیَوْمِ السَّادِسِ یَخْلُقُ اٰدَمَ۔ وَکَذَالِکَ جَرَتْ عَادَتُہ‘ فِی الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ وَ اُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ ھٰذَا الْخَلْقَ الَّذِیْ رَاَیْتُہ‘ اِشَارَۃٌ اِلٰی تَائِیْدَاتٍ سَمَاوِیَّۃٍ وَّاَرْضِیَّۃٍ وَّجَعْلِ الْاَسْبَابِ مُوَافِقَۃً لِّلْمَطْلُوْبِ وَخَلْقِ کُلِّ فِطْرَۃٍ مُّنَاسِبَۃٍمُّسْتَعِدَّۃٍ لِّلَّحُوْقِ بِالصَّالِحِیْنَ الطَّیِّبِیْنَ۔
    وَاُلْقِیَ فِیْ بَالِی اَنَّ اللّٰہَ یُنَادِیْ کُلَّ فِطْرَۃٍ صَالِحَۃٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَیَقُوْلُ کُوْنِیْ عَلٰی عُدَّۃٍ لِّنُصْرَۃِ عَبْدِیْ وَارْحَلُوْا اِلَیْہِ مُسَارِعِیْنَ۔
    وَرَاَیْتُ ذَالِکَ فِیْ رَبِیْعِ الثَّانِیْ 1309 ھ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَصْدَقُ الْمُوْحِیْنَ۔ وَلَانَعْنِیْ بِھٰذِہِ الْوَاقِعَۃِ کَمَایُعْنٰی فِیْ کُتُبِ اَصْحَابِ وَحْدَۃِ الْوُجُوْدِ وَمَا نَعْنِیْ بِذَالِکَ مَاھُوَ مَذْھَبُ الْحُلُوْلِیِّیْنَ بَلْ ھٰذِہِ الْوَاقِعَۃُ تُوَافِقُ حَدِیْثَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَعْنِیْ بِذَالِکَ حَدِیْثَ الْبُخَارِیِّ فِیْ بَیَانِ مَرْتَبَۃِ قُرْبِ النَّوَافِلِ لِعِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ564 تا566۔ روحانی خزائن جلد نمبر5 صفحہ 564 تا 566)
    1891ء
    ’’مَیں پہلے خط میں لکھ چکا ہوں۔ کہ ایک آسمانی فیصلہ2 کے لئے مَیں مامور ہوں۔ اور اس کے ظاہری انتظام کے درست کرنے کے لئے مَیں نے 27دسمبر1891ء کو ایک جلسہ تجویز کیا ہے۔ متفرق مقامات سے اکثر مخلص جمع
    1 (ترجمہ از مرتب) اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو چھ دنوں کے اندر آسمانوں اور زمین کو اور ان تمام چیزوں کو پیدا کرتا ہے جن کا آسمان یا زمین میں پایا جانا ضروری ہوتا ہے اور چھٹے دن کے اخیر میں آدم کو پیدا کرتا ہے۔ اور یہی اس کی سنّتِ مستمرہ ہے۔ اور یہ بات بھی میرے دل میں ڈالی گئی کہ نئے آسمان اور زمین کا پیدا کیا جانا۔ جو مَیں نے رؤیا میں دیکھا ہے۔ اس میں تائیداتِ سماوی و ارضی کی طرف سے اصل مقصود کے مناسب حال اسباب پیدا کرنے اور ایسی فطرتوں کو وجود میں لانے کی طرف اشارہ ہے جو صالحین طیّبین میں شامل ہونے کی اہلیّت رکھتے ہوں۔ نیز میرے دل میں ڈالا گیا۔ کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک فطرتِ قابلہ کو آسمان سے حکم دیتا ہے کہ میرے بندے کی نصرت کے لئے تیار ہوجاؤ۔ اور اس بندے کی طرف دوڑ کر آؤ۔
    اور یہ رؤیا مَیں نے ربیع الثانی 1309ھ میں دیکھی تھی۔ والحمدللّٰہ علیٰ ذالک۔ اور اس سے مراد وحدت وجودی لوگوں والا عقیدہ یا حلولیوں والا عقیدہ نہیں۔ بلکہ یہ واقعہ صحیح بخاری کی اس حدیث کے مطابق ہے جس میں نوافل کے ذریعہ سے اللہ کے صالح بندوں کو حاصل ہونے والے مرتبہ ٔ قرب کا ذکر ہے۔
    2 ’’آسمانی فیصلہ‘‘ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اسلام کی برکات اب بھی جاری ہیں اور آپ اس مدّعا کے ثابت کرنے کے لئے مامور ہیں۔ (مرتب)
    ہوں گے۔‘‘
    (مکتوب مؤرخہ 22 دسمبر1891ء بنام نواب محمد علیخان صاحب آف مالیر کوٹلہ۔ مکتوباتِ احمدیہ۔ جلد پنجم نمبر4صفحہ9)
    1891ء
    ’’ایک دُعا کے وقت کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ1 میرے پاس موجو دہیں اور ایک دفعہ گردن اُونچی ہوگئی۔ اور جیسے اقبال اور عزت کے بڑھنے سے انسان اپنی گردن کو خوشی کے ساتھ اُبھارتا ہے ویسی ہی صورت پیدا ہوئی۔
    مَیں حیران ہوں کہ یہ بشارت کس وقت اور کس قسم کے عروج سے متعلق ہے۔ مَیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ظہور کا زمانہ کیا ہے مگر مَیں کہہ سکتا ہوں کہ کسی وقت میں کسی قسم کا اقبال1اور کامیابی اور ترقی عزّت جلّ شانہ‘ کی طرف سے آپ کے لئے مقرر ہے۔ اگر(چہ) اس کا زمانہ نزدیک ہو یا دُور ہو۔ سو مَیں آپ کے پیش آمدہ ملال سے گو پہلے غمگین تھا۔ مگر آج خوش ہوں کیونکہ آپ کے مآل کار کی بہتری کشفی طور پر معلوم ہوگئی۔‘‘
    (مکتوب بنام حضرت نواب محمد علی خان صاحب22دسمبر1891ء ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر4 چہارم صفحہ 8،9)
    1891ء
    ’’کِتَابٌ سَجَّلْنَاہُ مِنْ عِنْدِنَا۔‘‘
    ترجمہ:۔ یہ وہ کتاب ہے جس پر ہم نے اپنے پاس سے مُہر لگادی ہے۔‘‘
    (آسمانی فیصلہ صفحہ 13 مطبوعہ بار سوم نومبر 1901ء۔ روحانی خزائن جلد نمبر4صفحہ 321)
    1891ء
    ’’خدا تعالیٰ نے مجھ مخاطب کرکے صاف لفظوں میں فرمایا ہے:۔
    اَنَا الْفَتَّاحُ اَفْتَحُ لَکَ۔ تَرٰی نَصْرًا عَجِیْبًا وَّ یَخِرُّوْنَ عَلَی الْمَسَاجِدِ۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَآ اِنَّا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔ جَلَابِیْبُ الصِّدْقِ۔ فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ۔ اَلْخَوَارِقُ تَحْتَ مُنْتَہٰی صِدْقِ الْاَقْدَامِ۔ کُنْ لِّلّٰہِ جَمِیْعًا وَّ مَعَ اللّٰہِ جَمِیْعًا۔ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔
    یعنی میں فتا ّح ہوں تجھے فتح دُوں گا۔ ایک عجیب مدد تو دیکھے گا اور منکر یعنی بعض اُن کے جن کی قسمت میں ہدایت مقدّر
    1 مراد نواب محمد علی خان صاحب آف ملیر کوٹلہ۔ (مرتب)
    2 خاکسار مرتب عرض کرتا ہے کہ یہ بشارت 1908ء میں اس طرح سے پوری ہوئی۔ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نواب صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دامادی کا شرف بخشا۔ اور حضور کی بڑی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صا حبہ آپ کے نکاح میں آئیں۔ اس سے بڑھ کر آپ کی اقبال مندی خوش نصیبی اور ترقی عزّت اور کیا ہوسکتی ہے۔ (مرتب)
    ہے‘ اپنے سجدہ گاہوں پر گریں گے یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش۔ ہم خطا پر تھے۔ یہ صدق کے جلابیب ہیں‘ جو ظاہر ہوں گے۔ سو جیسا کہ تجھے حکم کیا گیا ہے۔ استقامت اختیار کر۔ خوارق یعنی کرامات اُس محل پر ظاہر ہوتی ہیں۔ جو انتہائی درجہ صدق اقدام کا ہے۔ تو سارا خدا کے لئے ہوجا۔ تو سارا خدا کے ساتھ ہوجا۔ خدا تجھے اُس مقام پر اُٹھائے گا جس میں تُو تعریف کیا جائے گا۔ ‘‘
    (آسمانی فیصلہ صفحہ 37۔ مطبوعہ بار سوم نومبر 1901ء۔ روحانی خزائن جلد نمبر4 صفحہ 342)
    1891ء
    ایک الہام میں چند دفعہ تکرار اور کسی قدراختلافِ الفاظ کے ساتھ فرمایا کہ
    ’’میں تجھے عزّت دُوں گا اور بڑھاؤں گا۔ اور تیرے آثار میں برکت رکھ دُونگا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘ (آسمانی فیصلہ صفحہ 37۔ مطبوعہ بار سوم نومبر 1901ء۔ روحانی خزائن جلد نمبر4 صفحہ 342)
    27 دسمبر 1891ء
    28۔27۔14۔2۔27۔2۔26۔2۔28۔1۔23۔15۔11
    1۔2۔27۔14۔10۔1۔28۔27۔47۔16۔11۔34۔14۔11
    7۔1۔5۔34۔23۔34۔11۔14۔7۔23۔14۔1۔1
    14۔5۔28۔7۔34۔1۔7۔34۔11۔16۔1۔14۔7۔2۔1۔7۔5۔1۔14۔1
    14۔2۔28۔1۔7 1
    (اشتہار 27؍دسمبر 1891ء ملحق بہ آسمانی فیصلہ و تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ 85۔ روحانی خزائن جلد 4۔ صفحہ 350)
    1892ء
    ’’دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی سخت عارضہ ہوتا ہے تو خداوند کریم اپنی طرف سے شفا بخشتا ہے۔ اسی طرح ایک دفعہ زحیر اور اسہال خونی کی سخت بیماری ہوئی.......لیکن اس نازک حالت میں خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے ایک عجیب طور سے شفا بخشی....... ایسا ہی اس دوسری بیماری میں جب حال قریب موت ہوا۔ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا:۔
    اَلْاِبْرَائُ
    سو یقین رکھتا ہوں کہ خداوند کریم اس بیماری سے نجات بخشے گا۔‘‘
    (مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ۔ مؤرخہ 7؍اپریل 1892ء۔ مکتوات احمدیہ جلد پنجم نمبر 2 صفحہ 119)
    1 یہ اعداد اور ان کے اندر کی چابی سب الہام کا حصہ ہیں جس کی حقیقت خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ مگر انشاء اللہ العزیز اپنے وقت پر ضرور ظاہر ہوگی۔ (مرتب)
    1892ء
    ’’ بارہا اِس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔‘‘
    (نشان آسمانی صفحہ 15۔ روحانی خزائن جلد نمبر4صفحہ 375)
    1892ء
    ’’یہ عاجز خدائے تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرسکتا۔ کہ اس تکفیر کے وقت میں کہ ہریک طرف سے اس زمانہ کے علماء کی آوازیں آرہی ہیں کہ لَسْتَ مُؤْ مِنًا۔ اللہ جلّ شانہ‘کی طرف سے یہ ندا ہے کہ
    قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔1
    ایک طرف حضرات مولوی صاحبان کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح اس شخص کی بیخ کنی کرو۔ اور ایک طرف الہام ہوتا ہے۔
    یَتَرَ بَّصُوْنَ عَلَیْکَ الدَّوَآئِرَ عَلَیْھِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْئِ۔2
    اور ایک طرف وہ کوشش کررہے ہیں کہ اِس شخص کو سخت ذلیل اور رسوا کریں اور ایک طرف خدا وعدہ کرتا ہے۔
    اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۔ اَللّٰہُ اَجْرُکَ اللّٰہُ یَعْطِیْکَ جَلَالَکَ۔3
    اور ایک طرف مولوی لوگ فتوے پر فتوے لکھ رہے ہیں کہ اِس شخص کی ہم عقیدگی اور پَیروی سے انسان کافر ہوجاتا ہے اور ایک طرف خدا تعالیٰ اپنے اس الہام پر بتواتر زور دے رہا ہے۔
    ’’ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ‘‘4
    غرض یہ تمام مولوی صاحبان خدا تعالیٰ سے لڑ رہے ہیں۔ اب دیکھئے کہ فتح کِس کی ہوتی ہے۔‘‘
    (نشان ؔآسمانی صفحہ 38،39۔ روحانی خزائن جلد نمبر4 صفحہ 398، 399)
    25جولائی 1892ء
    25جولائی 1892ء مطابق 20 ؍ذی الحجہ 1309ھ روز دو شنبہ۔ ’’آج مَیں نے بوقت
    1 (ترجمہ از مرتب) کہہ مجھے مامور کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔
    2 (ترجمہ از مرتب) وہ تجھ پر حوادث کے نزول کا انتظار کررہے ہیں۔ بُری گردش اُنہی پر پڑے گی۔
    3 (ترجمہ از مرت) جو تیری ذلّت چاہے مَیں اُسے ذلیل کروںگا۔ اللہ تیرا اجر ہے۔ اللہ تجھے تیرا جلال عطا کرے گا۔
    نوٹ از مرتب:۔ الہام اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَک حضرت اقدس کو 1892ء میں بمقام لاہور شیخ محمد حسین بٹالوی کی نسبت بھی ہوا تھا ۔ ( دیکھیں الحکم جلد 1 نمبر 6 مؤرخہ 30؍ نومبر 1897ء صفحہ 2)
    4 (ترجمہ از مرتب) کہہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو۔ اسی طرح وہ بھی تم سے محبت کریگا۔
    صبح صادق ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے۔ اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے۔ تب مَیں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اُٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لاکر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے۔ مَیں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سُرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے۔ پیروں سے سر تک سُرخ لباس پہنے ہوئے شاید جالی کا کپڑ اہے۔ مَیں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دئے تھے لیکن اِس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا یا دل میں کہا کہ مَیں آگئی ہوں۔ مَیں نے کہا یا اللہ آجاوے اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھُل گئی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
    اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازہ پر کھڑی ہوئی ہے اور مَیں دالان کے اندر بیٹھا ہوں۔ تب مَیں نے کہا کہا۔ آ ! روشن بی بی اندر آجا۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں صفحہ 33 از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام)
    ماہِ اگست 1892ء
    ’’ مجھے تین چار روز ہوئے ایک متوحش1خواب آئی تھی۔ جس کی یہ تعبیر تھی کہ ہمارے ایک دوست پر دشمن نے حملہ کیا ہے اور کچھ ضرر پہنچاتا ہے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کا بھی کام تمام ہوگیا۔‘‘
    (مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ۔ مؤرخہ 26؍ اگست 1892۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر 2 صفحہ122)
    1 (نوٹ از مرتب) یہ متوحش خواب حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ کے متعلق تھی اور اس میں ایک دوست سے مراد بھی آپ ہی ہیں۔ چنانچہ حضرت اقدس ؑ اسی مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    کل کی ڈاک میں آں مکرم کا محبت نامہ پہنچ کر بوجہ بشریت اس کے پڑھنے سے ایک حیرت دل پر طاری ہوئی مگر ساتھ ہی دل پھر کھُل گیا۔ یہ خداوند حکیم و کریم کی طرف سے ایک ابتلاء ہے انشاء اللہ القدیر کوئی خوف کی جگہ نہیں.........مجھے معلوم نہیں کہ ایسا پُر اشتعال حکم کس اشتعال کی و جہ سے دیا ہے کیا بدقسمت وہ ریاست ہے جس سے ایسے مبارک قدم نیک بخت اور سچّے خیر خواہ نکالے جائیں۔ اور معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔‘‘
    (مکتوب مذکور۔ مکتوباتِ احمدیہ جلد پنجم نمبر2 صفحہ 121 تا 123)
    حضرت مولانا یعقوب علی صاحب عرفانی ؓ اس پُر اشتعال حکم کے سبب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت حکیم الامت اور مولوی محرم علی چشتی مرحوم پر ایک سیاسی الزام آپ کے دشمنوں نے لگایا تھا۔ راجہ امر سنگھ صاحب کو حضرت حکیم الامت سے بہت محبت تھی اور وہ آپ کی عملی زندگی اور صداقت پسندی کا عاشق تھا اور وہ ایک مدبّر اور صائب الرائے نوجوان تھا۔ وہ سیاسی
    ماہ ِ اگست 1892ء
    ’’ مَیں نے رات کو جس قدر آں مکرم کے لئے دُعا کی اور جس حالت ِ پُر سوز میں دُعا کی اُس کو خداوند کریم خوب جانتا ہے...... دُعا کی حالت میں یہ الفاظ منجانب اللہ زبان پر جاری ہوئے:۔
    لَوَیٰ عَلَیْہِ (اَوْ) لَا وَلِیَّ عَلَیْہِ 1
    اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا۔ اور اسی کی طرف سے تھا۔‘‘
    (مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ مؤرخہ 26؍اگست 1892ء۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر2 صفحہ 122)
    14؍اگست 1892ء
    14؍اگست 1892ء مطابق 20؍محرم 1309ھ۔ ’’آج خواب میں مَیں نے دیکھا کہ محمدی (بیگم)جس کی نسبت پیشگوئی ہے باہر کسی تکیہ میں معہ چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے اور سر اس کا شاید مُنڈا ہوا ہے اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے۔ مَیں نے اُس کو تین مرتبہ کہا ہے کہ تیرے سر منڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مرجائے گا۔ اور مَیں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اتارے ہیں اور پھر خواب میں مَیں نے یہی تعبیر کی ہے اور اسی رات والدہ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح ہوگیا ہے اور ایک کاغذ مہر ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے اور شیرینی منگوائی گئی ہے اور پھر میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے۔‘‘
    (رجسٹر صفحہ 34 متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام )
    20اگست 1892ء
    ’’ آج رات بوقت دو2 بجے مَیں نے دیکھا کہ ایک سانپ صاحب جان مرحومہ کے گھر میں پھرتا ہے۔ پھر وہ زمین پر بیٹھ گیا اور محمد سعید نے اس کے سر پر انگلی رکھی تا اس کو قتل کرے۔ پھر مَیں نے بھی انگلی رکھ دی۔ تب اس کے سر میں آگ لگ گئی مگر مجھے معلوم ہوا کہ میری انگلی کو اس نے کاٹا ہے۔ انگلی د ہنی طرف کی سبابہ تھی متورم ہوگئی اور اندیشہ رہا کہ اس کا اثر دل کو نہ پہنچے مگر پہنچنا معلوم نہیں ہوا۔ اور اسی خواب میں معلوم ہوا کہ کچھ تکلیف
    بقیہ حاشیہ: جماعت جو مہارا جہ پرتاپ سنگھ کی حالت سے واقف اور ان پر قابو یافتہ تھی انہیں یہ شبہ تھا کہ کسی بھی وقت مہارا جہ پرتاپ سنگھ کو معزول کردیا جائے گا۔ اور اس کی جگہ مہارا جہ امر سنگھ ہوجائیں گے یہ دراصل سیاسی اور اقتداری جنگ تھی۔ اور اس کو مذہب کا رنگ دیا گیا۔ کہ حضرت مولوی صاحب را جہ امر سنگھ کو جب وہ مہارا جہ ہوجائیں گے مسلمان کرلیں گے اس قسم کی سازش کرکے آپ کو اور مولوی محرم علی چشتی کو جموں سے نکل جانے کا حکم دیدیا گیا۔ آپ نے حضرت اقدس کو اطلاع دی اس کے جواب میں حضرت اقدس نے ............ خط لکھا۔‘‘ (حیات احمد جلد چہارم صفحہ 423)
    1 (ترجمہ از مرتب) اس پر مہربان ہوا (یا) اس کے مقابلہ میں کوئی دوست نہیں۔
    محمود کو بھی پہنچی ہے مگر بظاہر خیریت ہے۔ الٰہی ہریک تکلیف سے بچا۔ آمین۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیںصفحہ 34 از حضرت مسیح موعود ؑ صفحہ )
    26 اگست 1892ء
    ’‘ آج رات خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہتا کہ لڑکے کہتے ہیں کہ
    عِید کل تو نہیں پر پرسوں ہوگی۔
    معلوم نہیں کل اور پرسوں کی کیا تعبیر ہے۔‘‘
    (مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ مؤرخہ 26؍ اگست 1892ء۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر2 صفحہ 123)
    1892ء
    ’’خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیراعظم پٹیالہ کسی ابتلاء اور فکر اور غم میں مبتلا تھے۔ ان کی طرف سے متواتر دُعا کی درخواست ہوئی۔ اتفاقاً ایک دن الہام ہوا۔
    ’’چل رہی ہے نسیم رحمت کی -:- جو دُعا کیجئے قبو ُل ہے آج‘‘
    اُس وقت مجھے یاد آیا کہ آج اِنہیں کے لئے دُعا کی جائے۔ چنانچہ دُعا کی گئی اور ان کو بذریعہ خط اطلاع دی گئی اور تھوڑے عرصہ کے بعد انہوں نے ابتلاء سے رہائی پائی اور بذریعہ خط اپنی رہائی سے اطلاع دی۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ 225، روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 603)
    1892ء
    ’’ مَیں نے اُس1 کی وفات کے بعد اُس کو ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ سیاہ کپڑے پہنے ہوئے ہے (جو سر سے پَیر تک سیاہ ہیں) اور مجھ سے قریباً سو قدم کے فاصلہ پر کھڑا ہے اور مجھ سے مدد کے طور پر کچھ مانگتا ہے۔ مَیں نے جواب دیا کہ اب وقت گذرگیا۔ اب ہم میں اور تم میں بہت فاصلہ ہے۔ تو میرے تک نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ 295،296۔ روحانی خزائن جلد نمبر22 صفحہ 209)
    1892ء
    ’’ طُوْبِٰی لِمَنْ سَنَّ وَ سَارَ ‘‘ 2
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 2۔ روحانی خزائن جلد نمبر5صفحہ2)
    1892ء
    لَاتَخَفْ اِنَّنِیْ مَعَکَ۔ وَمَا شٍ مَّعَ مَشْیِکَ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُ الْخَلْقُ۔ وَجَدْتُّکَ مَاوَجَدْتُّکَ۔ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَاِھَانَتَکَ۔ وَاِنِّیْ مُعِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِعَانَتَکَ۔
    1 میر عباس علی صاحب لُدھیانوی۔ (مرتب)
    2 (ترجمہ از مرتب) جس شخص نے اس طریق کو اختیار کرلیا اور ا س پر چل پڑا۔ وہ بہت ہی خوش نصیب ہے۔
    اَنْتَ مِنِّیْ وَ سِرُّکَ سِرِّیْ وَاَنْتَ مُرَادِیْ وَمَعِیْ ۔اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ۔ اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ۔‘‘ 1
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 11۔ روحانی خزائن جلد نمبر5 صفحہ11)
    1892ء
    ’’ مَنِہ دل در تنعُّمہائے دُنیا گر خدا خواہی
    کہ مے خواہد نگارِ من تہید ستانِ عشرت را ‘‘2
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 55۔ روحانی خزائن جلد نمبر5 صفحہ 55)
    1892ء
    ’’ مصفّا قطرۂ باید کہ تا گوہر شود پیدا
    کُجا بیند دلِ ناپاک رُوئے پاکِ حضرت را‘‘ 2
    1892ء
    ’’ اب اس عاجز پر خداوند کریم نے جو کچھ کھولا اور ظاہر کیا وہ یہ ہے کہ اگر ہیئت دانوں اور طبعی والوں کے قواعد کسی قدر شہب ثاقبہ اور دُمدار ستاروں کا نسبت قبول بھی کئے جائیں تب بھی جو کچھ قرآن کریم میں اللہ جلّ شانہ‘ و عزّ اسمہ‘ نے ان کائنات الجَو ّ کی رُوحانی اغراض کی نسبت بیان فرمایا ہے اُس میں اور اُن ناقص العقل حکماء کے بیان میں کوئی مزاحمت اور جھگڑا نہیں کیونکہ ان لوگوں نے تو اپنا منصب صرف اِس قدر قرار دیا ہے کہ علل ماویہ اور اسباب عادیہ اِن چیزوں کے دریافت کرکے نظام ظاہری کا ایک باقاعدہ سلسلہ مقرر کردیا جائے لیکن قرآن کریم میں رُوحانی نظام کا ذکر ہے اور ظاہر ہے خدا تعالیٰ کا ایک فعل اس کے دوسرے فعل کا مزاحم نہیں ہوسکتا۔ پس کیا یہ تعجب کی جگہ
    1 (ترجمہ از مرتب) خوف نہ کر مَیں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے ساتھ ساتھ چلتا ہوں تو میرے ہاں وہ منزلت رکھتا ہے۔ جسے مخلوق میں سے کوئی نہیں جانتا۔ مَیں نے تجھے پایا ہے جو مَیں نے تجھے پایا ہے جو تیری اہانت چاہے گا مَیں اُسے ذلیل و رُسوا کردُوں گا اور جو شخص تیری مدد کرنے کا ارادہ کرے گا۔ اس کا مَیں مدد گار ہوں گا۔ تو میرا ہے اور تیرار از میرا راز ہے۔ اور تُو میرا مقصُود ہے اور میرے ساتھ ہے تُو میری درگاہ میں صاحب ِ وجاہت ہے مَیں نے تجھے اپنے لئے برگزیدہ کرلیا ہے۔
    2 اس شعر کا صرف دوسرا مصرع الہامی ہے اور شعر کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کو چاہتے ہو تو دنیا کی آسائشوں سے دل مت لگاؤ۔ کیونکہ میرا محبوب آسائش سے دُور رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (مرتب)
    3 اس شعر کا صرف پہلا مصرع الہامی ہے اور شعر کا مطلب یہ ہے کہ موتی کے پیدا ہونے کے لئے صاف قطرہ چاہئے۔ ایک ناپاک دل اس جناب عالی کے پاک چہرے کو کہاں دیکھ سکتا ہے۔
    ہوسکتی ہے کہ جسمانی اور رُوحانی نظام خدا تعالیٰ کی قدرت سے ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ119،120،حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر5 صفحہ 119،120)
    3ستمبر 1892ء
    ’’ اقبال کے دن آئیں گے۔
    یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ اُنْظُرْاِلٰی یُوْسُفَ وَاِقْبَالِہٖ۔ وَقَالُوْ امَتٰی ھٰذَاالْوَعْدُ۔ قُلْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ۔ خَرُّوْالَہ‘ سُجَّدًا۔‘‘ 1
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 27)
    21ستمبر 1892
    ’’سَیُوْلَدُ لَکُمُ الْوَلَدُ وَیُدْنٰی مِنْکُمُ الْفَضْلُ۔ اِنَّ نُوْرِیْ قَرِیْبٌ۔‘‘ 2
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 26)
    24 ستمبر 1892ء
    روز شنبہ۔ ’’ آج بوقت قریب دو بجے رات کے مَیں نے خواب میں دیکھا کہ میری بیوی آشفتہ حال کسی طرف گئی ہوئی ہے۔ مَیں نے ان کو بُلایا ہے اور کہا کہ چلو تمہیں وہ درخت دکھلا آؤں۔ پس مَیں ان کو باہر کی طرف لے گیا جب درخت کے قریب پہنچے جہاں قریب ایک باغ بھی تھا تو مَیں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ محمود ؔ کہاں ہے اُس نے کہا کہ بہشت میں۔ پھر کہا کہ قبر کے بہشت میں۔اَللّٰھُمَّ زِدْنِیْ عُمُرِی وَ عُمُرِ ابْنِیْ وَ عُمُرِ زَوْجَتِیْ وَبَدِّلْ سُوْٓئَ ھٰذِہِ الرُّؤْیَا بِالْحَسَنَۃِ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اٰمین۔ تَوَکَّلْتُ عَلَیْکَ۔‘‘ 3
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 44)
    27 ستمبر 1892ء 4
    ’’ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمٰعیل کا (جن کی عمر اُس وقت دس برس کی تھی )
    1 (ترجمہ از مرتب ) ہر دور کی راہ سے تیرے پاس تحائف آئیں گے۔ یوسف کو دیکھ اور اس کے اقبال کو بھی۔ انہوں نے کہا یہ وعدہ کب تک۔ کہہ یقینا خدا کا وعدہ سچ ہے۔ وہ اس کی خاطر سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے۔
    2 (ترجمہ از مرتب) عنقریب تمہارے لئے ایک لڑکا پیدا کیا جائے گا۔ اور فضل تم سے نزدیک کیا جائے گا۔ یقینا میرا نور قریب ہے۔
    3 (ترجمہ از مرتب) اے اللہ میری عمر میں زیادتی فرما۔ اور میرے بیٹے کی عمر میں اور میری بیوی کی عمر میں بھی۔ اور اس خواب کی برائی کو بھلائی میں بدل دے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ آمین۔ میں تجھی پر توکل کیا ہے۔
    4 یہ تاریخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متفرق یاد داشتوں کے رجسٹر میں صفحہ 44 پر درج ہے۔ یہ رجسٹر خلافت لائبریری ربوہ میں موجود ہے۔ (مرتب)
    پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہے اور اسحاق میرے چھوٹے بھائی کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے۔ اور پھر خط کے اخیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اسحاق فوت ہوگیا ہے۔ اور بڑی جلدی سے بلایا کہ دیکھتے ہی چلے آویں۔ اس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت تپ سے بیمار تھے.......تب مجھے اس تشویش میں یک دفعہ غنودگی ہوئی۔ اور یہ الہام ہوا۔
    اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ
    یعنی اے عورتو! تمہارے فریب بہت بڑے ہیں .......اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے۔ تب مَیں نے..... شیخ حامد علی کو جو میرا نوکر تھا پٹیالہ روانہ کیا جس نے واپس آکر بیان کیا کہ اسحق اور اس کی والدہ ہر دو زندہ موجود ہیں۔‘‘ (نزول المسیح صفحہ 232، 233۔ روحانی خزائن جلد نمبر18 صفحہ 610،611)
    30ستمبر1892ء
    ظُلُمَاتُ الْاِبْتَلَآئِ۔ ھٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ۔ یُوْلَدُ لَکَ الْوَلَدُ وَیُدْنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ۔ اِنَّ نُوْرِیْ قَرِیْبٌ۔ اَجِٓیْیُٔ مِنْ حَضْرَۃِ الْوِتْرِ۔1
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 50)
    4اکتوبر1892ء
    2 عَفَااللّٰہُ عَنْکَ لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ۔ اِنَّمَآ اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ لِشَیْئٍ اَنْ تَقُوْلَ لَہ‘ کُنْ فَیَکُوْنُ۔ اَنْتَ بِنَا مُلْحِقٌ ۔اِنَّمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ لِشَیْئٍ اَنْ تَقُوْلَ لَہ‘ کُنْ فَیَکُوْنُ۔ اٰتِیْکَ غَدًا۔ جَآئَ کَ رَبُّکَ الْاَعْلٰی۔ اَنْتَ بِنَا مُلْحِقٌ۔ اِنَّمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدَتَّ لِشَیْئٍ اَنْ تَقُوْلَ لَہ‘ کُنْ فَیَکُوْنُ۔اَنْتَ مِنْ مَّآئِ نَا وَھُمْ مِّنْ فَشَلٍ۔ اَنْتَ بِنَا مُلْحِقٌ۔ اِنَّمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ لِشَیْئٍ اَنْ تَقُوْلَ لَہ‘ کُنْ فَیَکُوْنُ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ
    1 (ترجمہ از مرتب) ابتلاء کے اندھیرے۔ یہ سخت دن ہے۔ تجھے ایک بیٹا عطا ہوگا۔ اور فضل تیرے نزدیک ہوگا۔ میرا نور قریب ہے۔ میں جناب باری سے آتا ہوں۔
    2 (ترجمہ از مرتب) اللہ تجھے معاف کرے ان کو تو نے کیوں اجازت دی۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہوجا تو ہوجائیگی۔ تو ہم سے ملنے والا ہے۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے۔ تو اُسے کہے کہ ہوجا تو وہ ہوجائے گی۔ مَیں تیرے پاس کل آؤں گا۔ تیرا رب اعلیٰ تیرے پاس آیا۔ تو ہم سے ملنے والا ہے۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہوجا۔ تو وہ ہوجائے گی۔تُو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور
    وَتَفْرِیْدِیْ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْخَلْقُ۔ اَلْبَیْتُ الْمُحَوَّفَۃُ مُلِئَتْ مِنْ بَرَکَاتٍ۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 26)
    10اکتوبر1892ء
    ’’مُرَادَاتُکَ حَاصِلَۃٌ۔1 یہ الہام قرآن کریم میں لکھا ہوا دکھلایا گیا۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 26)
    12اکتوبر 1892ء 12اکتوبر 1892ء مطابق 28؍اسوج سم 1940
    ’’ 2 برسرسہ صد شمار ایں کار را۔ معلوم ہوتا ہے۔ ایں کار سے مراد اشتہار زن موعودہ کاکام ہے۔ واللہ اعلم۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 50)
    12اکتوبر 1892ء
    (1) جَآئَ کَ رَبُّکَ الْاَعْلٰی۔ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ فَتَرْضٰی۔
    (2) یَاْتِیْکَ قَمَرُ الْاَنْبِیَآئِ وَاَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔ 3
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ 27)
    12اکتوبر 1892ء
    سبحان اللہ4 ! مخالفت ِ قوم کثیر کا رے است صعب ۔ایں کار از تو آیدو مرداں چنیں کنند۔
    اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْخَلْقُ۔ وَجَدْتُّکَ مَاوَجَدْتُّکَ۔ اَنْتَ مَخْلُوْقٌ مِّنْ مَّآئِ نَا الْقَدِیْمِ وَھُمْ مِّنَ الْفَشَلِ۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ 29)
    تفرید۔تُومجھ سے اس مرتبہ پر ہے جس کو مخلوق نہیں جانتی۔ وہ گھر جو لوگوں کے ہجوم سے گھراہؤاہے برکتوں سے بھردیا گیا ہے۔
    1 (ترجمہ از مرتب) تیری مرادیں حاصل ہوں گی۔
    2 (ترجمہ از مرتب) اس کام کو تیسری صدی کے سر پر شمار کر۔
    3 (ترجمہ از مرتب) تیرا رب اعلیٰ تیرے پاس آیا۔ اور تجھے ایسا کچھ دے گا۔ جس سے تو راضی ہوجائے گا۔ تیرے پاس نبیوں کا چاند آئے گا۔ اور تیرا کام ظاہر ہوجائے گا۔
    4 (ترجمہ از مرتب) اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ بہت سے لوگوں کی مخالفت مشکل کام ہے یہ کام تجھ سے ہوسکتا ہے اور مرد ایسا ہی کرتے ہیں۔ تو میری طرف سے ایسے مرتبہ پر ہے جسے لوگ نہیں جانتے۔ مَیں نے تجھے پایا جیسا کہ پایا۔ تو ہمارے قدیم پانی سے پید اشدہ ہے اور وہ بُزدلی سے ہیں۔
    12اکتوبر 1892ء
    فَقُلْ لَّھُمْ مَّیْسُوْرًا۔ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ۔ یَعْقِلُکَ رَبُّکَ بِالْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃِ۔ فَشُبِّہَ عَلَیْہِ وَکَانَ مِنَ الْمُلْبَسِ۔ 1 (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ 30)
    12اکتوبر 1892ء
    محمد حسین ۔ الہام (گورنمنٹ پنجاب میں شہادت مخفی ناانصافی سے بیچتا ہے۔) اِذَادُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا۔2
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ 30)
    18اکتوبر1892ء
    ’’جب یہ عاجز نور افشاں کے جواب میں اِس بات کو دلائل شافیہ کے ساتھ لِکھ چکا کہ درحقیقت رُوحانی قیامت کے مصداق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور کسی قدر نعت ِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو درحقیقت احاطہ ٔ بیان سے خارج ہے، اِن عبارات میں درج کرچکا اور نیز بطور نمونہ کچھ مناقب و محامدِ صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم بھی اسی ثبوت کے ذیل میں تحریر کر چکا تو وہ 17؍اکتوبر 1892ء کا دن تھا۔ پھر جب رات کو بعد تحریر نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مناقب و محامدصحابہ رضی اللہ عنہم سویا تو مجھے ایک نہایت مبارک اور پاک رؤیادکھا یا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مَیں ایک وسیع مکان میں ہوں جس کے نہایت کشادہ اور وسیع دالان ہیں اور نہایت مکلّف فرش ہورہے ہیں اور اُوپر کی منزل ہے اور مَیں ایک جماعت کثیر کو ربّانی حقائق و معارف سُنا رہا ہوں اور ایک اجنبی اور غیر معتقد مولوی اُس جماعت میں بیٹھا ہے جو ہماری جماعت میں سے نہیں ہے مگر مَیں اس کا حُلیہ پہچانتا ہوں۔ وہ لاغر اندام اور سفید ریش ہے۔ اُس نے میرےاُس بیان میں دخل بے جادے کرکہا کہ یہ باتیں کنہ باری میں دخل ہے اور کنہ باری میں گفتگو کرنے کی ممانعت ہے۔ تو میں نے کہا کہ اے نادان ! اِن بیانوں کو کنہ باری سے کچھ تعلق نہیں۔ یہ معارف ہیں اور مَیں نے اُس کے بے جا دخل سے دل میں بہت رنج کیا اور کوشش کی کہ وہ چپ رہے مگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا۔ تب میرا غصہ بھڑکا اور مَیں نے کہا کہ اِس زمانہ کے بدذات مولوی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ خدا اُن کی پردہ دری کرے گا اور ایسے ہی چند الفاظ اور بھی کہے جو اَب مجھے یاد نہیں رہے۔ تب مَیں نے اِس کے بعد کہا کہ کوئی ہے کہ اِس مولوی کو اِس مجلس سے باہر نکالے؟ تو میرے ملازم حامد علی نام کی صورت پر ایک شخص نظر آیا۔ اُس نے اُٹھتے ہی اِس مولوی کو پکڑ لیا اور دھکّے دے کر اُس کو اُس مجلس سے باہر نکالا اور زینہ کے نیچے اتار دیا۔ تب مَیں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جماعت کے قریب ایک وسیع چبوترہ پر کھڑے ہیں اور یہ بھی
    1 (ترجمہ از مرتب) پس انہیں آسان پہلو سے کہہ۔ اور ا ن کے لئے بخشش مانگ تجھے تیرا رب کتاب اور حکمت کے ذریعہ عقل دے گا۔ یہ امر اس پر مشتبہ ہوگیا۔ اور وہ شک میں پڑگیا۔
    2 (ترجمہ از مرتب) جب زمین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔
    گمان گذرتا ہے کہ چہل قدمی کر رہے ہیں اورمعلوم ہوتا ہے کہ جب مولوی کو نکالا گیا۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُسی جگہ کے (قریب) ہی کھڑے تھے مگر اُس وقت نظر اُٹھا کر دیکھا نہیں۔ اب جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کتاب آئینہ کمالات ِ اسلام ہے۔ یعنی یہی کتاب اور یہ مقام جو اُس وقت چھپا ہوا معلوم ہوتا ہے اور آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت ِ مبارک اُس مقام رکھی ہوئی ہے کہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محامدِ مبارکہ کا ذکر اور آپ کی پاک اور پُر اثر اور اعلیٰ تعلیم کا بیان ہے اور ایک انگشت اُس مقام پر بھی رکھی ہوئی ہے کہ جہاں صحابہ رضی اللہ عنہم کے کمالات اور صدق و صفا کا بیان ہے اور آپ تبسّم فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ
    ھٰذَا لِیْ وَھٰذَا لِاَصْحَابِیْ
    یعنی یہ تعریف میرے لئے ہے اور یہ میرے اصحاب کے لئے۔
    اور پھر بعد اس کے خواب سے الہام کی طرف میری طبیعت متنزّل ہوئی اور کشفی حالت پیدا ہوگئی تو کشفاً میرے پر ظاہر کیا گیا کہ اِس مقام میں جو خدا تعالیٰ کی تعریف ہے، اُس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا ظاہر کی اور پھر اُس کی نسبت یہ الہام ہوا کہ
    ھٰذَا الثَّنَآئُ لِیْ 1
    اور یہ رات منگل کی تھی اور تین بجے پر پندرہ منٹ گزرے تھے۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 215۔217 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد نمبر5 صفحہ 215 تا 217)
    19اکتوبر1892ء
    زرِ چندہ حیدر آباد 2 ۔ کشف میں نواب محمد علی سے ملاقات ہوئی۔
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ 31)
    19اکتوبر1892ء
    3 لَاتَیْئَسُوْامِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ۔اِنَّ رَوْحَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُہ‘ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْالَہ‘ سٰجِدِیْنَ۔
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ 30)
    1 (ترجمہ ازمرتّب) یہ تعریف میرے لئے ہے۔
    2 (ترجمہ ازمرتّب) حیدرآباد کے چندے کا روپیہ۔
    3 (ترجمہ از مرتب) اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو۔ یقینا اللہ کی رحمت قریب ہے۔ مَیں نے چاہا کہ خلیفہ بناؤں تب مَیں نے آدم کو پیدا کیا۔ پھر جب مَیں اسے ٹھیک ٹھاک کروں اور اس میں اپنی روح پھُونکوں تو تم اس کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گرجاؤ۔
    3 نومبر 1892ء
    ’’تیرے کلام میں جو تیرے منہ سے نکلتا ہے برکت رکھی جاتی ہے کیونکہ وہ تیرے منہ سے نکلتا ہے۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ 26)
    نومبر 1892ء
    ’’ یَاْتِیْ قَمَرُ الْاَنْبِیَآئِ وَاَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔‘‘ 1
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ26)
    9نومبر 1892ء
    ’’مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں قادیان کی طرف آتا ہوں اور نہایت اندھیری اور مشکل راہ ہے اور مَیں رجماً بالغیب قدم مارتا جاتا ہوں اور ایک غیبی ہاتھ مجھ کو مدد دیتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مَیں قادیان پہنچ گیا اور جو مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے وہ مجھ کو نظر آئی۔ پھر سیدھی گلی میں جو کشمیریوں کی طرف سے آتی ہے چلا۔اس وقت مَیں نے اپنےتئیں ایک سخت گھبراہٹ میں پایا کہ گویا اس گھبراہٹ سے بیہوش ہوتا جاتا ہوں اور اس وقت باربار اِن الفاظ سے دُعا کرتا ہوں کہ رَبِّ تَجَلَّ رَبِّ تَجَلَّ2۔ اور ایک دیوانہ کے ہاتھ میں میراہاتھ ہے اور وہ بھی رَبِّ تَجَلَّ کہتا ہے اور بڑے زور سے مَیں دُعا کرتا ہوں۔
    اور اس سے پہلے مجھ کو یاد ہے کہ مَیں نے اپنے لئے اوراپنی بیوی کے لئے اوراپنے لڑکے محمود کے لئے میں نے بہت دُعا کی ہے ۔ پھرمَیں نے دو کُتے خواب میں دیکھے۔ ایک سخت سیاہ اورایک سفید اورایک شخص کہ وہ کُتّوں کے پنجے کاٹتا ہے۔ پھر الہام ہؤا:
    کُنْتُمْ کَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ3۔‘‘
    (رجسٹرمتفرق یادداشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 235 )
    12نومبر 1892ء
    اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَا مَعَکَ وَلَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا الْمُسْتَرْشِدُوْنَ۔‘‘ 4
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ26)
    1 (ترجمہ از مرتب) نبیوں کا چاند آئیگا۔ اور تیرا کام ظاہر ہوجائے گا۔
    2 (ترجمہ از مرتّب) اے میرے ربّ تجلّی فرما اے میر ے ربّ تجلّی فرما۔
    3 تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے نکالی گئی ہے۔
    4 (ترجمہ از مرتّب) تُو میرے ساتھ ہے اور مَیں تیرے ساتھ ہوں اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا مگر وہی جو رُشد رکھتے ہیں۔
    13نومبر 1892ء
    ’’ قَدْجَآئَ وَقْتُ الْفَتْحِ وَالْفَتْحُ اَقْرَبُ۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام صفحہ26)
    یکم دسمبر 1892ء
    ’’رَدَدْنَآ اِلَیْکَ الْکَرَّۃَ الثَّانِیَۃَ۔ وَقَالُوْٓا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔ قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَجِیْبٌ۔ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔ یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَاَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔‘‘ 2
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں صفحہ26 از حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام خلافت لائبریری ربوہ)
    7دسمبر 1892ء
    7دسمبر 1892ء کو ایک اوررؤیادیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مَیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کرلیتا ہے سو اس وقت مَیں سمجھتا ہوں کہ مَیں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ3 خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہورہا ہے۔ یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔ تب مَیں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور تَوَدُّدْ سے مجھے فرماتے ہیں کہ
    یَاعَلِیُّ دَعْھُمْ وَاَنْصَاَھُمْ وَزِرَاعَتَھُمْ
    یعنی اے علی ! اِن سے اور اِن کے مددگاروں اور اِن کی کھیتی سے کنارہ کر اور اِن کو چھوڑ دے اور اِن سے منہ پھیر لے اور مَیں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توہی حق پر ہے مگر اِن لوگوں سے ترکِ خطاب بہتر ہے اور کھیتی سے مراد مولویوں کے پَیروؤں کی وہ جماعت ہے جو اُن کی تعلیموں سے اثر پذیر ہے جس کی وہ ایک مدّت سے آبپاشی کرتے چلے آئے ہیں۔
    پھر بعد اس کے میری طبیعت الہام کی طرف منحدر ہوئی اور الہام کے رُو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے۔
    ذَرُوْنِیْٓ اَقْتُل مُوْسٰی
    1 (ترجمہ از مرتّب) فتح کا وقت آگیا ہے اورفتح قریب ہے۔
    2 (ترجمہ از مرتّب) ہم دوبارہ تیری طرف لوٹائیں گے۔ اورانہوں نے کہا یہ تیرے لیے کیونکر۔ کہ وہ خداعجیب ہے۔ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے۔ وہ رحم کرنے والوں میں سے بہت ہی رحیم ہے۔
    3 ’’اس کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ بعد جو خلافت ہوگی اس کا انکارایک جماعت کریگی اورفتنہ ڈالے گی۔‘‘ (برکاتِ خلافت صفحہ 29)
    یعنی مجھ کو چھوڑو تا مَیں موسیٰ کو یعنی اس عاجز کو قتل کردُوں اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً بیس منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بُدھ کا دن تھا۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 218,219 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 218،219 حاشیہ)
    1892ء
    (الف)’’ میرے پر کشفاً یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی۔ حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی۔ تب اُن کی روح رُوحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی اور اُس نے جوش میں آکر اور اپنی امّت کو ہلاکت کا مفسدہ پرداز پاکر زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہ چاہا جو اُس کا ایسا ہم طبع ہو کہ گویا وہی ہو۔ سو اُس کو خدائے تعالیٰ نے وعدہ کے موافق ایک شبیہ عطا کیا اور اس میں مسیح کی ہمّت اور سیرت اور رُوحانیت نازل ہوئی اور اس میں اور مسیح میں بشدّت اتّصال کیا گیا۔ گویا وہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے بنائے گئے اور مسیح کی توجُّہات نے اس کے دل کو اپنا قرار گاہ بنایا اور اس میں ہوکر اپنا تقاضا پورا کرنا چاہا۔ پس ان معنوں سے اُس کا وجود مسیح کا وجود ٹھہرا اور مسیح کے پُر جوش ارادات اس میں نازل ہوئے جن کا نزول الہامی استعارات میں مسیح کا نزول قرار دیا گیا۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 254,255روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 254،255)
    (ب) ’’جیسا کہ میرے پر کشفاً کھولا گیا ہے، حضرت مسیح کی رُوح اِن افتراؤں کی و جہ سے جو اُن پر اِس زمانہ میں کئے گئے، اپنے مثالی نزول کے لئے شدّت جوش میں تھی اور خدا تعالیٰ سے درخواست کرتی تھی کہ اِس وقت مثالی طور پر اس کا نزول ہو۔ سو خدا تعالیٰ نے اُس کے جوش کے موافق اُس کی مثال کو دنیا میں بھیجا تا وہ وعدہ پُورا ہو جو پہلے سے کیا گیا تھا .......حضرت مسیح علیہ السَّلام کو دو مرتبہ یہ موقعہ پیش آیا کہ اُن کی رُوحانیت نے قائم مقام طلب کیا۔ اوّل جبکہ اُن کے فوت ہونے پر چھ سو برس گذر گیا اور یہودیوں نے اِس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذباللہ مکّار اور کاذب تھا اور اُس کا ناجائز طور پر تولّد تھا اور اسی لئے وہ مصلوب ہوا اور عیسائیوں نے اِس بات پر غلُوّ کیاکہ وہ خدا تھا اور خدا کا بیٹا تھا اور دنیا کو نجات دینے کے لئے اُس نے صلیب پر جان دی...... تب بہ اعلام الٰہی مسیح کی رُوحانیت جوش میں آئی اور اُس نے ان تمام الزاموں سے اپنی برّیت چاہی اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا۔ تب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے.....یہ مسیح ناصری کی رُوحانیت کا پہلا جوش تھا جو ہمارے سید ہمارے مسیح خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے اپنی مراد کو پہنچا۔ فالحمد للہ۔
    پھر دوسری مرتبہ مسیح کی رُوحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصاریٰ میں دجّالیّت کی صفت اتم ّ اور اکمل طور پر آگئی.......پس اِس زمانہ میں دُوسری مرتبہ حضرت مسیح کی رُوحانیت کو جوش آیا اور انہوں نے دوبارہ مثالی طور پر دُنیا میں اپنا نزول چاہا اور جب ان میں مثالی نزول کے لئے اشد درجہ کی توجہ اور خواہش پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے اُس خواہش کے موافق دجّال موجودہ کے نابود کرنے کے لئے ایسا شخص بھیج دیا جو ان کی رُوحانیت کا نمونہ تھا۔ وہ نمونہ مسیح
    علیہ السَّلام کا رُوپ بن کر مسیح موعود کہلایا......موجودہ فتنوں کے لحاظ سے مسیح کا نازل ہونا ہی ضروری تھا کیونکہ مسیح کی ہی قوم بگڑی تھی او ر مسیح کی قوم میں ہی دجّالیّت پھیلی تھی۔ اس لئے مسیح کی رُوحانیت کو ہی جوش آنا لائق تھا۔
    یہ وہ دقیق معرفت ہے کہ جو کشف کے ذریعہ اس عاجز پر کھُلی ہے۔
    اور یہ بھی کھُلا کہ یوں مقدر ہے کہ ایک زمانہ کے گذرنے کے بعد کہ خیر اور صلاح اور غلبہ ٔ توحید کا زمانہ ہوگا۔ پھر دُنیا میں فساد اور شرک اور ظلم عَود کرے گا اور بعض بعض کو کیڑوں کی طرح کھائیں گے اور جاہلیّت غلبہ کرے گی اور دوبارہ مسیح کی پرستش شروع ہوجائے گی اور مخلوق کو خدا بنانے کی جہالت بُرے زور سے پھیلے گی اور یہ سب فساد عیسائی مذہب سے اِس آخری زمانہ کے آخری حصہ میں دُنیا میں پھیلیں گے۔ تب پھر مسیح کی روحانیت سخت جوش میں آکر جلالی طور پر اپنا نزول چاہے گی تب ایک قہری شبیہ میں اُس کا نزول ہوکر اُس زمانہ کا خاتمہ ہوجائے گا تب آخر ہوگا اور دُنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسیح کی اُمّت کی نالائق کرتُوتوں کی وجہ سے مسیح کی روحانیت کے لئے یہی مقدّر تھا کہ تین مرتبہ دُنیا میں نازل ہو۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ 341۔346)
    دسمبر1892ء
    ’’اب مجھ کو بتلایا گیا کہ جو مسلمان کو کافر کہتا ہے اور اس کو اہل قبلہ اور کلمہ گو اور عقائد اسلام کا معتقد پاکر پھر بھی کافر کہنے سے باز نہیں آتا۔ وہ خود دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ سو مَیں مامور ہوں کہ ایسے لوگوں سے جو ائمۃ التکفیرہیں او رمفتی اور مولوی اور محدِّث کہلاتے ہیں اور ابناء اور نِساء بھی رکھتے ہیں، مباہلہ کروں اور پہلے ایک عام مجلس میں ایک مفصّل تقریر کے ذریعہ سے ان کو اپنے دلائل سمجھادوں اور اُسی مجلس میں ان کے تمام الزامات اور شُبہات کا جو ان کے دل میں خلجان کرتے ہیں، جواب بھی دے دُوں اور پھر اگر کافر کہنے سے باز نہ آویں تو اُن سے مباہلہ کروں۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام ۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ 256،257)
    دسمبر1892ء
    ’’مباہلہ کی اجازت کے بارے میں جو کلامِ الٰہی میرے پر نازل ہوا وہ یہ ہے:۔
    نَظَراللّٰہُ اِلَیْکَ مُعَطَّرًا۔ وَقَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا۔ قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَالَاتَعْلَمُوْنَ قَالُوْا کِتَابٌ مُمْتَلِیٌٔ مِّنَ الْکُفْرِ وَالْکَذِبِ قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَاَبْنَآئَ کُمْ وَنِسَآئَ نَا وَ نِسَآئَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔
    ترجمہ:۔ یعنی خدا تعالیٰ نے ایک معطّر نظر سے تجھ کو دیکھا اوربعض لوگوں نے اپنےدلوں میں کہا کہ اے خدا! کیا تو زمین پر ایک ایسے شخص کو قائم کردے گا کہ جو دنیا میں فساد پھیلادے؟ تو خدا تعالیٰ نے اُن کو جواب دیا کہ جو مَیں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور اُن لوگوں نے کہا کہ اِس شخص کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو کذب اور کُفر سے بھری ہوئی ہے۔ سو اُن کو کہدے کہ آؤ! ہم اور تم معہ اپنی عورتوں اور بیٹوں اور عزیزوں کے مباہلہ کریں۔ پھر اُن پر *** کریں جو
    کاذب ہیں۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 263۔265 ۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 263۔265)
    1892ء
    ’’مجھے حکم ہوا ہے کہ مَیں مبا ہلہ کی درخواست کو آئینہ کمالاتِ اسلام کے ساتھ شائع کروں۔‘‘
    (مکتوب بنام نواب محمد علی خاں صاحب مؤرخہ 10دسمبر 1892ء۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر 4 صفحہ 20)
    دسمبر1892ء
    ’’یہ وہ اجازت مبا ہلہ ہے جو اِس عاجز کو دی گئی۔ لیکن ساتھ اِس کے جو بطور تبشیر کے اور الہامات ہوئے اُن میں سے بھی کسی قدر لکھتا ہوں اور وہ یہ ہیں:۔
    ’’ یَوْمَ یَجِیْٓئُ الْحَقَّ وَیُکْشَفُ الصِّدْقُ وَیَخْسَرُ الْخَاسِرُوْنَ۔ اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَامَعَکَ وَلَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا الْمُسْتَرْشِدُوْنَ۔ نَرُدُّ اِلَیْکَ الْکَرَّۃَ الثَّانِیَۃَ وَنُبَدِّ لَنَّکَ مِنْ بَعْدِ خَوْفِکَ اَمْنًا۔ یَاْتِیْ قَمَرُ الْاَنْبِیَآئِ وَاَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔ یَسُرُّاللّٰہُ وَجْھَکَ وَیُنِیْرُبُرْھَانَکَ۔ سَیُوْلَدُ لَکَ الْوَلَدُ وَیُدْنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ اِنَّ نُوْرِیْ قَرِیْبٌ 1 وَقَالُوْا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَجِیْبٌ۔ وَلَا تَیْئَسْ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ۔ اُنْظُرْ اِلٰی یُوْسُف وَاِقْبَالِہٖ۔ قَدْجَآئَ وَقْتُ الْفَتْحِ وَالْفَتْحُ اَقْرَبُ۔ یَخِرُّوْنَ عَلٰی الْمَسَاجِدِ۔ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَآ اِنَّا کُنَّاخَاطِئِیْنَ۔ لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ نَجِیَّ الْاَسْرَارِ۔ اِنَّاخَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ یَوْمٍ مَّوْعُوْدٍ۔‘‘
    یعنی اس دن حق آئے گا اور صدق کھُل جائے گا۔ اور جو لوگ خسارہ میں ہیں وہ خسارہ میں پڑیں گے۔ تُو میرے ساتھ اور مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا۔ مگر وہی جو رُشد رکھتے ہیں۔ ہم پھر تجھ کو غالب کریں گے۔
    1 حضرت مسیح موعود علیہ السَّلام تریاق القلوب صفحہ 42 پر فرماتے ہیں:۔
    ’’میرا دوسرا لڑکا جس کا نام بشیر احمد ہے اس کے پید اہونے کی پیشگوئی آئینہ کمالاتِ اسلام کے صفحہ 266 میں کی گئی ہے.......اور پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں۔ یَاْتِیْ قَمَرُ الْاَنْبِیَآئِ وَاَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔ یَسُرُّاللّٰہُ وَجْھَکَ وَیُنِیْرُبُرْھَانَکَ۔ سَیُوْلَدُ لَکَ الْوَلَدُ وَیُدْنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ اِنَّ نُوْرِیْ قَرِیْبٌ۔ ......... یعنی نبیوں کا چاند آئیگا اور تیرا کام بن جائیگا۔ تیرے لئے ایک لڑکا پیدا کیا جائے گا اور فضل تجھ سے نزدیک کیا جائیگا۔ یعنی خدا کے فضل کا موجب ہوگا اور نیز یہ کہ شکل و شباہت میں فضل احمد سے جو دوسری بیوی سے میرا لڑکا ہے مشابہت رکھے گا اور میرا نُور قریب ہے۔ پھر.....20؍اپریل 1893ء کو جیسا کہ اشتہار 20؍اپریل 93ء سے ظاہر ہے اس پیشگوئی کے مطابق وہ لڑکا پید اہوا۔ جس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔‘‘ (مراد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم ۔اے)
    ( مرتب)
    اور خوف کے بعد امن کی حالت عطا کردیں گے۔ نبیوں کا چاند آئے گا۔ اور تیرا کام تجھے حاصل ہوجائے گا خدا تیرے منہ کو بشّاش کرے گا۔ اور تیرے بُرہان کو روشن کردے گا۔ اور تجھے ایک بیٹا عطا ہوگا۔ اور فضل تجھ سے قریب کیا جائے گا۔ اور میرا نُور نزدیک ہے اور کہتے ہیں کہ یہ مراتب تجھ کو کہاں؟ اِن کو کہہ کہ وہ خدا عجیب خدا ہے اُس کے ایسے ہی کام ہیں جس کو چاہتا ہے اپنے مقربوں میں جگہ دیتا ہے اور میرے فضل سے نومید مت ہو۔ یُوسف کو دیکھ اور اُس کے اقبال کو۔ فتح کا وقت آرہا ہے۔ اور فتح قریب ہے۔ مخالف یعنی جن کے لئے توبہ مقدّر ہے‘ اپنی سجدہ گاہوں میں گریں گے۔ کہ اے ہمارے خدا! ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے۔ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں ‘ خدا تمہیں بخش دے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ مَیں نے ارادہ کی کہ ایک اپنا خلیفہ زمین پر مقرر کروں۔ تو مَیں نے آدم کو پیدا کیا۔ جو نجیُّ الاسرار ہے۔ ہم نے ایسے دن اس کوپیدا کیا۔ جو وعدہ کا دن تھا۔
    یعنی جو پہلے سے پاک نبی ؐ کے واسطہ سے ظاہر کیا گیا تھاکہ وہ فلاں زمانہ میں پیدا ہوگا۔ اور جس وقت پید اہوگا۔ فلاں قوم دُنیا میں اپنی سلطنت اور طاقت میں غالب ہوگی۔ اور فلاں قسم کی مخلوق پرستی رُوئے زمین پر پھیلی ہوئی ہوگی۔ اسی زمانہ میں وہ موعود پیدا ہوا۔ اور وہ صلیب کا زمانہ اور عیسیٰؔ پرستی کا زمانہ ہے۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 266۔269روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 266۔269)
    1892ء
    ’’مجھے دکھلایا اور بتلایا گیا اور سمجھایا گیا ہے کہ دُنیا میں فقط اسلام ہی حق ہے اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ یہ سب کچھ ببرکت پیروی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تجھ کو ملا ہے اور جو کچھ ملا ہے اُس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 276۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 276)
    1892ء
    (الف) ’’ مجھے یہ قطعی طور پر بشارت دی گئی ہے کہ اگر کوئی مخالف ِ دین میرے سامنے مقابلہ کے لئے آئیگا تو مَیں اس پر غالب رہوں گا اور وہ ذلیل ہوگا۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 348۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ 348)
    (ب) ’’وَاَوْحٰی اِلَیَّ بِاَنَّنِیْ غَالِبٌ عَلٰی کُلِّ خصِیْمٍ اَعْمٰی وَقَالَ اِنِّیْ مُھِیْنٌّ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 382۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 382)
    (ج) ’’ مجھے اُس نے اپنے فضل و کرم سے اپنے خاص مکالمہ سے شرف بخشا ہے اور مجھے اطلاع دے دی ہے کہ مَیں جو سچا اور کامل خد ا ہوں۔ مَیں ہر ایک مقابلہ میں جو رُوحانی برکات اور سماوی تائیدات میں کیا جائے تیرے ساتھ ہوں اور تجھ کو غلبہ ہوگا۔‘‘ (جنگ مقدس صفحہ 55,56۔ بیان حضرت اقدس 25؍مئی 1893ء۔ روحانی خزائن جلد6 صفحہ 137،138)
    1892ء
    ’’مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ مَیں ان مسلمانون پر بھی اپنے کشفی اور الہامی علوم میں غالب ہوں۔ ان کے ملہموں کو چاہئے کہ میرے مقابل پر آویں۔ پھر اگر تائید الٰہی میں اور فیضِ سماوی میں اور آسمانی نشانوں میں مجھ پر غالب
    ہوجاویں تو جس کا رد سے چاہیں مجھ کو ذبح کردیں مجھ کو منظور ہے اور اگر مقابلہ کی طاقت نہ ہو تو کُفر کے فتوے دینے والے جو الہاماً میرے مخاطب ہیں یعنی جن کو مخاطب ہونے کے لئے الہام ِ الٰہی مجھ کو ہوگیا ہے، پہلے لکھ دیں اور شائع کرادیں کہ اگر کوئی خارق عادت امر دیکھیں تو بلاچون و چرا دعویٰ کو منظور کرلیں۔ مَیں اس کام کے لئے بھی حاضر ہوں اور میرا خداوندکریم میرے ساتھ ہے۔ لیکن مجھے یہ حکم ہے کہ مَیں ایسا مقابلہ صرف ائمۃ الکفر سے کروں۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 348۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 348)
    1892ء
    ’’احادالناس ...........کےلئے مجھے یہ حکم ہے کہ اگر وہ خوارق دیکھنا چاہتے ہیں تو صحبت میں رہیں۔ خدا تعالیٰ .........اس عاجز کو ضائع نہیں کرے گا۔ اور اپنی حجت دنیا پر پوری کردے گا اور کچھ زیادہ دیر نہیں ہوگی کہ وہ اپنے نشان دکھائے گا۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 349۔ روحانی خزائن جلد5صفحہ349)
    10دسمبر1892ء
    ’’یہی خط1لکھتے لکھتے یہ الہام ہوا۔
    یَجِیْٓئُ الْحَقُّ وَیُکْشَفُ الصِّدْقُ وَیَخْسَرُالْخَاسِرُوْنَ۔ یَاْتِیْ قَمَرُالْاَنْبِیَآئِ وَاَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَایُرِیْدُ۔
    یعنی حق ظاہر ہوگا اور صدق کھُل جائے گا اور جنہو ں نے بدظنیوں سے زیان اُٹھایا وہ ذلّت اور رُسوائی کا زیان بھی اُٹھائیں گے۔ نبیوں کا چاند آئیگا اور تیرا کام ظاہر ہوجائے گا۔ تیرا ربّ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
    مگر مَیں نہیں جانتا کہ یہ کب ہوگا اور جو شخص جلدی کرتا ہے خدائے تعالیٰ کو اس کی ایک ذرّہ بھی پرواہ نہیں۔ وہ غنی ہے۔ دوسرے کا محتاج نہیں۔ اپنے کاموں کو حکمت اور مصلحت سے کرتا ہے اور ہر ایک شخص کی آزمائش کے پیچھے سے اپنی تائید دکھلاتا ہے۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 355۔ روحانی خزائن جلد5صفحہ355)
    1892ء
    حضرت اقدس نے ویب صاحب کے ہندوستان آنے سے پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ ہند میں آیا ہے اور ڈھول بجا رہا ہے جس کی تعبیر یہ تھی کہ وہ ایک بیہودہ کام میں مصروف ہے جس سے کچھ حاصل نہیں۔ چنانچہ یہ بات پوری ہوئی۔
    (بدر ؔجلد 6نمبر 1مؤرخہ 14؍مارچ 1907ء صفحہ2)
    1892ء
    ’’چند ماہ کا عرصہ ہوا جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں کہ ایک مضمون مَیں نے میاں محمد حسین کا دیکھا۔ جس
    1 یعنی خط بنام نواب محمد علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ مندرجہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔ (مرتب)
    میں میری نسبت لکھا ہوا تھا کہ یہ شخص کذّاب اور دجّال اور بے ایمان اور باایں ہمہ سخت نادان اور جاہل اور علوم دینیہ سے بے خبر ہے۔ تب مَیں جناب الٰہی میں رویا کہ میری مدد کر تو اس دعا کے بعد الہام ہوا کہ
    اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ
    یعنی دعا کرو کہ مَیں قبول کروں گا۔ مگر مَیں بالطبع نافر تھا کہ کسی کے عذاب کے لئے دُعا کروں۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 604۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ 604)
    1893ء
    ’’میرا ارادہ یہ تھا کہ یہ خط1اُردو میں لکھوں۔ لیکن رات کو بعض اشارات الہامی سے ایسا ہوا۔ کہ یہ خط عربی میں لکھنا چاہئے۔ اور یہ بھی الہام ہوا۔ کہ اِن لوگوں پر اثر بہت کم پڑیگا۔ ہاں اتمام حجت ہوگا۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 360۔ روحانی خزائن جلد5صفحہ 360)
    1893ء
    ’’2 قَدْاَلْھَمَنِیْ رَبِّیْ فِیْ اَمْرِکُمْ وَقَالَ
    اِنَّھُمْ یُنَادُوْنَ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 366،367روحانی خزائن جلد5 صفحہ 366،367)
    1893ء
    ’’1 ھُوَ نَادَانِیْ وَ قَالَ
    قُلْ لِّعِبَادِٓیْ اِنَّنِیْٓ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ ‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 367،368۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ36)
    1893ء
    ’’ 4 نَادَانِیْ رَبِّیْ مِنَ السَّمَآئِ اَنْ
    اِضْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَقُمْ وَاَنْذِرْ فَاِنَّکَ مِنَ الْمَامُوْرِیْنَ۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ
    1 یعنی التبلیغ مشمولہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد5صفحہ364 (مرتب)
    2 (ترجمہ از مرتب) (اے فقراء و مشائخ)مجھے میرے ربّ نے آپ لوگوں کے متعلق الہام کے ذریعہ سے بتایا ہے کہ یہ لوگ دُور سے پکارے جاتے ہیں۔ یعنی بہت دُور جاپڑے ہیں۔
    3 (ترجمہ از مرتب) اس نے مجھے پکار کر فرمایا۔ کہ میرے بندوں سے کہدے کہ مَیں خدا کی طرف سے مامور ہوں۔ اور مَیں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔
    4 (ترجمہ از مرتب) میرے ربّ نے مجھے آسمان سے پکار کر فرمایا کہ تُو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی
    اُنْذِرَ اٰبَآؤُ ھُمْ۔ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلَ الْمُجْرِمِیْنَ۔ اِنَّا جَعَلْنَاکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ لِاُتِمَّ حُجَّتِیْ عَلٰی قَوْمٍ مُتَنَصِّرِیْنَ۔ قُلْ ھٰذَا فَضْلُ رَبِّیْ۔ وَاِنِّیْٓ اُجَرِّدُ نَفْسِیْ مِنْ ضُرُوْبِ الْخِطَابِ۔ وَاُمِرْتُ مِنَ اللّٰہِ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ اِنَّہ‘ یَرَی الْاَوْقَاتَ وَیَعْلَمُ مَصَالِحَھَا۔ وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا عِنْدَہ‘ خَزَآئِنُہ‘ اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہ‘ کُنْ فَیَکُوْنَ۔ قُلْ اَتَعْجَبُوْنَ مِنْ فِعْلِ اللّٰہِ۔ قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَعْجَبُ الْعَجِیْبِیْنَ۔ یَرْفَعُ مَنْ یَّشَآئُ وَیَضَعُ مَنْ یَّشَآئُ وَیُعِزُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیُذِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآئُ۔ لَایُسْئَلُ عَمَّایَفْعَلُ وَھُمْ مِنَ الْمَسئُوْلِیْنَ۔ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنِّی الْحَزَنَ وَاَعْطَانِیْ مَالَمْ یُعْطَ اَحَدٌمِّنَ الْعَالَمِیْنَ۔ وَقَالُوْا کِتَابٌ مُّمْتَلِیٌٔ مِّنَ الْکُفْرِ وَالْکَذِبِ۔ قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَ اَبْنَآئَ کُمْ وَنِسَآئَ نَا وَ نِسَآئَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسُکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔ وَادْعُ عِبَادِیْ اِلَی الْحَقِّ وَبَشِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللّٰہِ وَادْعُھُمْ اِلٰی کِتَابٍ مُّبِیْنٍ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ
    کے ماتحت یہ کشتی تیار کر اور اُٹھ اور (لوگوں کو آنے والوں عذابوں سے) ڈرا۔ کیونکہ تو مامور ہے کہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادوں کے پاس کوئی نذیر نہیں آیا تھا۔ اور تاکہ مجرموں کی راہ اچھی طرح ظاہر ہوجائے۔ ہم نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا ہے تاکہ نصرانیت کو اختیار کرنے والے لوگوں پر مَیں اپنی حجت پوری کروں۔ تو کہہ کہ یہ میرے ربّ کا فضل ہے اور مَیں اپنے آپ کوہر قسم کے خطابوں سے الگ رکھتا ہوں۔ اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملا ہے اور مَیں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ وہ اوقات کو دیکھتا اور اس کے مصالح کو جانتا ہے اور ہر چیز کے اس کے پاس خزانے ہیں جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے۔ ہوجا۔ پس وہ ہوجاتی ہے۔ تو کہہ کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے فعل پر تعجب کرتے ہو۔ تو کہہ کہ اللہ کی شان نہایت عجیب ہے وہ جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گرادیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ذلیل کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنی جناب کا برگزیدہ بنا لیتا ہے۔ جو کچھ کرتا ہے اس کی بابت پوچھا نہیں جاتا۔ اور لوگ جو کچھ کرتے ہیں۔ اس کی بابت پوچھے جائیں گے تو کہہ کہ تمام تعریف اللہ کو ہے جس نے مجھ سے غم دور کردیا اور مجھے وہ کچھ دیا جو تمام مخلوقات میں سے اور کسی کو نہیں دیا۔ اور کہتے ہیں کہ یہ کتاب کفر اور جھوٹ سے پُر ہے۔ کہہ کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں ‘ اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں اور اپنے آدمیوں اور تمہارے آدمیوں کو بُلا کر تضرّع کے ساتھ جھوٹوں پر *** ڈالیں۔ اور میرے بندوں کو حق کی طرف بُلا اور اُنہیں اللہ تعالیٰ کے (جلوہ نمائی کے) دنوں کی بشارت دے اور ایک روشن کتاب کی طرف انہیں بُلا۔جو لوگ تیری بیعت کرتے ہیں۔ وہ (تیری نہیں بلکہ) خدا کی بیعت کرتے ہیں۔
    وَاللّٰہُ مَعَھُمْ حَیْثُمَا کَانُوْا اِنْ کَانُوْا فِیْ بَیْعَتِھِمْ مِّنَ الصَّادِقِیْن۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ نُوْرًا وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّ یَجْعَلْکُمْ مِّنَ الْمُنْصُوْرِیْنَ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۔
    ھٰذَا مَا اَلْھَمَنِیْ رَبِّیْ فِیْ وَقْتِیْ ھٰذَا وَمِنْ قَبْلُ یُنْعِمُ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ وَھُوَ خَیْرُ الْمُنْعِمِیْنَ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 373۔375 روحانی خزائن جلد5 صفحہ 373۔375)
    ’’ 1 وَبَشَّرَنِیْ فِیْ وَقْتِیْ ھٰذا۔ وَقَالَ
    یَا عِیْسٰی سَاُرِیْکَ اٰیَاتِیَ الْکُبْرٰی۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 382۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ382)
    1893ء
    ’’ 2 اِنِّیْ مَعَکَ حَیْثُ مَاکُنْتَ وَاِنِّیْ نَاصِرُکَ وَاِنِّیْ بُدُّکَ الَّازِمُ وَ عَضُدُکَ الْاَقْوٰی۔ وَاَمَرَنِیْ اَدْعُوَالْخَلْقَ اِلَی الْفُرْقَان وَدِیْنِ خَیْرِالْوَرٰی۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 382۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ382)
    اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہوتا ہے اور وہ جہاں پر ہوں گے۔ اللہ ان کے ساتھ ہوگا۔ بشرطیکہ وہ اپنی بیعت میں سچّے ہوں۔ تو کہہ کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور وہ تمہیں اپنا خاص نور عطا کرے گا۔ اور تمہیں کوئی امتیازی نشان بخشے گا۔ اور اپنے منصوروں میں داخل کردے گا۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں اور اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔
    یہ ہیں وہ الہام جو میرے رب نے مجھے اسی وقت اور اس سے قبل کئے۔ وہ جس پر چاہتا ہے انعام کرتا ہے۔ اور وہ سب منعموں سے بہتر ہے۔
    1 (ترجمہ از مرتب) اور خدا تعالیٰ نے مجھے اسی وقت بشارت دی۔ اور فرمایا ہے۔ اے عیسیٰ مَیں تجھے عنقریب بڑے بڑے نشان دکھاؤں گا۔
    2 (ترجمہ از مرتب) تُو جہاں بھی ہو مَیں تیرے ساتھ ہوں مَیں تیری مدد کروں گا اور مَیں ہمیشہ کے لئے تیرا چارہ اور سہارا اور تیرا نہایت قوی بازو ہوں اور مجھے حکم دیا کہ مَیں لوگوں کو قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی دعوت دُوں۔
    1893ء
    ’’ 1 اِنِّیْ جَاعِلُکَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ وَکَانَ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئِ مُّقْتَدِرًا۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 426۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ426)
    ’’ 2 وَفَھَّمَنِیْ رَبِّیْ اَسْرَارَ ھٰذِہِ 3 الْاٰیَۃِ وَاخْتَصَّنِیْ بِھَا۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 442۔443۔ روحانی خزائن جلدصفحہ442،443)
    1893ء
    ’’4 وَ قَدْ اَنْبَاَنِیْ رَبِّیْ اَنَّنِیْ کَسَفِیْنَۃِ نُوْحٍ لِّلْخَلْقِ فَمَنْ اَتَانِیْ وَدَخَلَ فِی الْبَیْعَۃِ فَقَدْ نَجَامِنَ الضَّیْعَۃِ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 486۔ روحانی خزائن جلد5صفحہ486)
    1893ء
    ’’5 وَاِنِّیْ اَدْرَکْتُ بِالْکَشْفِ اَنَّ حَظِیْرَۃَ الْقُدْسِ تُسْقٰی بِمَآئِ القُرْاٰنِ وَھُوَ بَحْرٌمَّوَّاجٌ مِّنْ مَّآئِ الْحَیَاۃِ۔ مَنْ شَرِب مِنْہُ فَھُوَ یُحْیٰی۔ بَلْ یَکُوْنُ مِنَ الْمُحْیِیْنَ۔
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 545۔546۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 545، 546)
    1893ء
    ’’ 6 یَآاَحْمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ
    1 (ترجمہ از مرتب) اور کہا کہ مَیں تجھے عیسیٰ ؔ ابن مریمؔ بناتا ہوں اور اللہ ہر ایک بات پر قادر ہے۔
    2 (ترجمہ از مرتب) اورمیرے ربّ نے مجھے اس آیت کے اسرار سمجھائے ہیں اور انہیں مجھ سے مخصوص کیا ہے۔
    3 (ترجمہ از مرتب) یعنی آیت وَالسَّمَآء ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ۔ اس آیت کے حضور نے آگے تفسیر فرمائی ہے۔ دیکھئے آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 443تا446۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 443 تا 446۔ (مرتب)
    4 (ترجمہ از مرتب) اورمیرے ربّ نے مجھے خبر دی ہے کہ مَیں لوگوں کے لئے نوح کی کشتی کی طرح ہوں۔ پس جو شخص میرے پاس آکر بیعت میں داخل ہوگا وہ ضائع ہونے سے بچ جاوے گا۔
    5 (ترجمہ از مرتب) مجھے کشف سے معلوم ہوا ہے۔ کہ مظیرۃ القدس کی سیرابی قرآن کریم کے پانی سے ہورہی ہے وہ ایک سمندر ہے جس میں آب حیات موجیں ماررہا ہے۔ جو اس میں سے پیتا ہے وہ زندہ ہوجاتا ہے بلکہ دوسروں کو زندہ کرنے والا بن جاتا ہے۔
    6 (ترجمہ از مرتب) اے احمد! خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ خدائے رحمان نے تجھے قرآن سکھلایا۔ تاکہ تُو ان لوگوں کو ڈرائے ۔
    اٰبَآؤُھُمْ۔ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْن۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔ وَیُعَلِّمُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ۔ تُقِیْمُ الشَّرِیْعَۃَ وَ تُحْیِ الدِّیْنَ۔ اِنَّا جَعَلْنَاکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنْ عِنْدہٖ وَلَوْ لَمْ یَعْصِمْکَ النَّاسُ۔ وَاللّٰہُ یَنْصُرُکَ وَلَولَمْ یَنْصُرْکَ النَّاسُ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ یَآ اَحْمَدِیْ اَنْتَ مُرَادِیْ وَمَعِیْ۔ اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ۔ اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغَفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیَرْحَمْ عَلَیْکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 550۔551۔ روحانی خزائن جلد 5صفحہ 550، 551)
    1893ء
    ’’1تَضَرَّعْتُ فِیْ حَضْرَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَطَرَحْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ مُتَمَنِّیًا لِّکَشْفِ سِرِّالنُّزُوْلِ وَکَشْفِ حَقِیْقَۃِ الدَّجَّالِ لِاَعْلَمَہ‘ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ وَاَرَاہُ عَیْنَ الْیَقِیْنِ۔
    جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔ اور تاکہ مجرموں کی راہ کھُل جائے۔ کہہ مَیں خدا کی طرف سے مامور ہوں۔ اور مَیں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ اے عیسیٰ مَیں تجھے وفات دُوں گا۔ اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور منکروں کے ہر ایک الزام اور تہمت سے تیرا دامن پاک کروں گا۔ اور تیرے تابعین کو اُن پر جومنکر ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ آج تُو میرے نزدیک با مرتبہ اور امین ہے۔ تُو مجھ سے ایسا ہے جیسا میری توحید اور تفرید۔ سو وہ وقت آگیا۔ جو تیری مدد کی جائے اور تجھے لوگوںمیں معروف مشہور کیا جائے۔ اور اللہ تعالیٰ تجھے اپنے پاس سے سکھائے گا۔ تو شریعت کو قائم کرے گا۔ اور دین کو زندہ کرے گا۔ ہم نے تجھے مسیح بن مریم بنایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا اگرچہ لوگ تیری حفاظت نہ کریں۔ اور اللہ تعالیٰ تیری مدد کرے گا۔ اگرچہ لوگ تیری مدد نہ کریں۔ یہ بات تیرے ربّ کی طرف سے سچ ہے۔ پس تُو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔ اے میرے احمد! تُو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ مَیں نے تجھے اپنے لئے اختیار کیا۔ کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو۔ تو آؤ میری پیروی کرو۔ تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔ اور تمہارے گناہ بخش دے اور تم پر رحم کرے اور وہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
    1 (ترجمہ از مرتب) مَیں نے اللہ تعالیٰ کے حضور زاری کی۔ اور اس کے سامنے اپنے آپ کو یہ تمنّا کرتے ہوئے ڈال دیا۔ کہ مجھ پر نزول کا راز کھلے۔ اور دجّال کی حقیقت کا انکشاف ہو۔ تاکہ علم الیقین کی رُو سے جانوں اور عین الیقین کی آنکھ سے
    فَتَوَجَّھَتْ عَنَایَتُہ‘ لِتَعْلِیْمِیْ وَتَفْھِیْمِیْ۔ وَاُلْھِمْتُ وَعُلِّمْتُ مِنْ لَّدُنْہُ اَنَّ النُّزُوْلَ فِیْ اَصْلِ مَفْھُوْمِہٖ حَقٌّ وَّلٰکِنْ مَّافَھِمَ الْمُسْلِمُوْنَ حَقِیْقَتَہ‘........فَاَخْبَرَ فِیْ رَبِّیْ اَنَّ النُّزُوْلَ رُوْحَانِیٌّ لَّاجِسْمَانِیٌّ............ اَمَّاالدَّجَّالُ فَاسْمَعُوْا اُبَیِّنْ لَّکُمْ حَقِیْقَتَہ‘ مِنْ صَفَآئِ اِلْھَامِیْ وَزُلَالِیْ... ....اَیُّھَا الْاَعِزَّۃُ قَدْکُشِفَ عَلَیَّ اَنَّ وَحْدَۃَ الدَّجَّالِ لَیْسَتْ وَحْدَۃً شَخْصِیَّۃً بَلْ وَحْدَۃٌ نَّوْعِیَّۃٌ بِمَعْنَی اتِّحَادِ الْاٰرَآئِ فِیْ نَوْعِ الدَّجَّالِیَّۃٍ کَمَا یَدُلُّ عَلَیْہِ لَفْظُ الدَّجَّالِ وَاِنَّ فِیْ ھٰذَا الْاِسْمِ اٰیَاتٍ لِّلْمُتَفَکِّرِیْنَ۔ فَالْمُرَادُ مِنْ لَّفْظِ الدَّجَّالِ سِلْسِلَۃٌ مُّلْتَئِمَۃٌ مِّنْ ھِمَمٍ دَجَّالِیَۃٍ بَعْضُھَا ظَھِیْرٌ لِّلْبَعْضِ کَاَنَّھَا بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ مِّنْ لَّبِنٍ مُّتَّحِدَۃِ الْقَالِبِ کُلُّ لَبِنَۃٍ تُشَارِکُ مَایَلِیْھَافِیْ لَوْنِھَا وَ قِوَامِھَا وَمِقْدَارِھَا وَ اسْتِحْکَامِھَا وَاُدْخِلَتْ بَعْضُھَا فِیْ بَعْضٍ وَّ اُشِیْدَتْ مِنْ خَارِجِھَا بِالطِّیْنِ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 552۔555۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ552،555)
    1893ء
    ’’رَاَیْتُ فِیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَارَاَیْتُہ‘ فِیْ مُسْتَطْرَفِ الْاَیَّامِ فَجَعَلَنِیْ کَالْعِرْدَامِ وَاَعَدَّنِیْ لِلْاِصْلِخْمَامِ لِاُحَارِبَ الْفَرَاعِنَۃَ وَ الظَّالِمِیْنَ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 561۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ 561)
    دیکھوں۔ تب اس کی عنایت میری تعلیم و تفہیم کی خاطر متوجہ ہوئی اور مجھے الہاماً بتلایا گیا۔ کہ اصل مفہوم کے لحاظ سے تو نزول حق ہے۔ مگر مسلمان اس کی حقیقت کو نہیں سمجھے .......... پس میرے ربّ نے مجھے بتلایا۔ کہ نزول روحانی ہے۔ جسمانی نہیں.......... اب دجّال کے متعلق سُنو۔ جس کی حقیقت مَیں تمہیں صاف خالص الہام سے بتاتا ہوں..........اے عزیزو! مجھے بتایا گیا ہے کہ دجّال کو بصیغہ واحد ذکر کرنے سے مقصُود اس کی وحدت شخصی کا اظہار نہیں۔ بلکہ وحدت نوعی مراد ہے۔ کہ اس کے تمام افراد دجّالی خیالات میں ہم رنگ ہوں گے جیسا کہ اس لفظ دجّال سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اور سوچنے سے یہ نام کئی رنگ میں اس حقیقت کا پتہ دیتا ہے۔ پس لفظ دجّال سے مراد دجّالی خیالات کی ایک زنجیر ہے جس کی کڑیاں ایک دُوسری سے ایسی ملی ہوئی ہیں جیسے ایک قالب کی اینٹوں کی پختہ عمارت ہو۔ جس کی اینٹیں رنگ۔ مقدار اور مضبوطی میں ایک جیسی ہوں اور ان کو باہم ملا کر اور باہر سے لیپ کر ایک کردیا گیاہو۔ (مرتب)
    1 (ترجمہ از مرتب) انہی ایام میں مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اس سے پہلے بھی قریب عرصہ میں مجھے آپ کی زیارت ہوچکی تھی۔ آپ نے مجھے اپنا چابک بنایا اور مجھے مقابلہ کے لئے تیار کیا تاکہ مَیں فرعونی سیرت لوگوں اور ظالموں سے جنگ کروں۔
    1893ء
    ’’1 وَھَنَّأَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ
    اِنَّا مُھْلِکُوْا بَعْلِھَا کَمَآ اَھْلَکْنَآ اَبَاھَاوَرَادُّوْھَآ اِلَیْکَ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَاتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ وَمَانُؤَخِرُّہٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ۔ قُلْ تَرَبَّصُوْا الْاَجَلَ وَاِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَرَبَّصِیْنَ۔ وَاِذَا جَآئَ وَعْدُالْحَقِّ اَھٰذَا الَّذِیْ کَذَّ بْتُمْ بِہٖ اَمْ کُنْتُمْ عَمِیْنَ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 576۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ576)
    1893ء
    (الف) 2 ’’ وَرَاَیْتُ فِی الْمَنَامِ کَاَنِّیْ اَسْرَجْتُ جَوَادِیْ لِبَعْضِ مُرَادِیْ وَمَآ اَدْرِیْ اَیْنَ تَاَھُّبِیْ وَاَیُّ اَمْرٍ مَطْلَبِیْ۔ وَکُنْتُ اُحِسُّ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّنِیْ لِاَمْرٍ مِّنَ الْمَشْغُوْفِیْنَ۔ فَامْتَطَیْتُ اَجْرَدِیْ بِاسْتِصْحَابِ بَعْضِ السِّلَاحِ مُتَوَکِّلًا عَلَی اللّٰہِ کَسُنَّۃِ اَھْلِ الصَّلَاحِ۔ وَلَمْ اَکُنْ کَالْمُتَبَاطِئِیْنَ۔ ثُمَّ وَجَدْ تُّنِیْ کَاَنِّیْ عَثَرْتُ عَلٰی خَیْلٍ قَصَدُوْا مُتَسَلِّحِیْنَ دَارِیْ لِاِھْلَاکِیْ وَتَبَارِیْ وَکَاَنَّھُمْ یَجِیْئُوْنَ ِؒاِضْرَاریْمُنْخَرِطِیْنَ وَکُنْتُ وَحِیْدًا وَّ مَعَ ذَالِکَ رَاَیْتُنِیْ اَنِّیْ لَا اَلْبَسُ مِنْ خُوذٍ غَیْرَعُدَدٍ وَّجَدْ تُّھَا مِنَ اللّٰہِ کَعُوْذٍ۔ وَقَدْ اَنِفْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْقَاعِدِیْنَ وَ الْمُتَخَلِّفِیْنَ الْخَآئِفِیْنَ فَانْطَلَقْتُ مُجِدًّااِلٰی جِھَۃٍ مِّنَ الْجِھَاتِ۔
    1 (ترجمہ از مرتب) اور میرے ربّ نے مجھے مبارکباد دی اور فرمایا۔ ہم اس کے خاوند کو (بھی) ہلاک کریں گے جیسا کہ ہم نے اس کے باپ کو ہلاک کیا۔ اوراس (لڑکی) کو تیری طرف لوٹائیں گے۔ تیرے ربّ کی طرف سے (یہ) سچ ہے۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ اور ہم اسے صرف گنتی کی مدّت کے لئے تاخیر کریں گے کہہ اس عرصہ کی انتظار کرو۔ اور مَیں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ اور جب خدا کا وعدہ آئیگا (تب کہا جائیگا) کیا یہ وہی ہے جس کو تم نے جھٹلا یا تھا یا تم اندھے تھے۔
    2 ترجمہ از مرتب) اور (ایک مرتبہ) مَیں نے خواب میں دیکھا کہ گویا مَیں نے کسی مقصد کے لئے جانے کی غرض سے اپنے گھوڑے پر زین ڈالی ہے اور یہ بات مَیں نہیں جانتا تھا کہ کدھر اور کس مقصد کے لئے جانے کی تیار کررہا ہوں ہاں مَیں اپنے دل میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ مَیں کسی خاص بات کے شغف اور اشتیاق کی و جہ سے یہ تیاری کررہا ہوں اور مَیں نے کچھ ہتھیار لگا لئے اور صالحین کے طریق کے مطابق اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے چُستی کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ اس کے بعد مَیں نے ایسا محسوس کیا کہ گویا مجھے کچھ سواروں کا پتہ لگا ہے جو مسلّح ہیں اور مجھے ہلاک کرنے کی غرض سے میرے مکان پر چڑھائی کرکے آئے ہیں۔ اور مَیں تنِ تنہا ہوں۔ اور ان ہتھیاروں کے سوا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے پناہ کے طورپر دیئے گئے تھے۔ کوئی خود وغیرہ بچاؤ کا سامان میرے پاس نہیں تھا۔ اور میدانِ مقابلہ سے پیچھے ہٹ رہنا اور ڈر کر اندر بیٹھے رہنا بھی گوارا نہ ہوا اس لئے مَیں اپنے اس اہم مقصد کے لئے جو میرے پیش نظر
    مُسْتَقْرِیًا اِرْبِیَ الَّذِیْ کُنْتُ اَحْسِبُہ‘ مِنْ اَکْبَرِ الْمُھِمَّاتِ وَاَعْظَمِالْمَثُوْبَاتِ فِی الدُّنْیَا وَالدِّیْنِ۔ اِذْرَاَیْتُ اُلُوْفًا مِّنَ النَّاس فَارِسِیْنَ عَلَی الْاَفْرَاسِ۔ یَاْتُوْنَ اِلَیَّ مُتَسَارِعِیْنَ۔ فَفَرِحْتُ بِدُؤْ یَتِھِمْ کَالْخَبَّاسِ وَ وَ جَدْتُّ فِیْ قَلْبِیْ حَوْلًا لِّلْجِحَاسِ۔ وَکُنْتُ اَتْلُوْھُمْ کَتِلْوِالصَّیَّادِیْنَ۔ ثُمَّ اَطْلَقْتُ الْفَرَسَ عَلٰی اٰثَارِھِمْ لِاُدْرِکَ مِنْ فَصِّ اَخْبَارِھِمْ۔ وَکُنْتُ اَتَیَقَّنُ اَنَّنِیْ لَمِنَ الْمُظَفَّرِیْنَ۔ فَدَنَوْتُ مِنْھُمْ فَاِذَاھُمْ قَوْمٌ دُرُوْسُ الْبَرَّۃِ کَرِیْہُ الْھَیْئَۃِ مِیْسَمُھُمْ کَمِیْسَمِ الْمُشْرِکِیْنَ۔ وَلِبَاسُھُمْ لِبَاسُ الْفَاسِقِیْنَ وَرَاَیْتُھُمْ مُطْلِقِیْنَ اَفْرَاسَھُمْ کَالْمُغِیْرِیْنَ۔ وَکُنْتُ اُقَیّدُ لَحْظِیْ بِاَشْبَاحِھِمْ کَالرَّآئِیْنَ وَکُنْتُ اُسَارِعُ اِلَیْھِمْ کَالْکُمَاۃِ۔ وَکَانَ فَرَسِیْ کَاَنَّہ‘ یُزْجِیْہِ قَآئِدُالْغَیْبِ۔ کَاِزْجَآئِ الْحَمُوْلَاتِ بِالْحُدَاۃِ۔ وَکُنْتُ عَلٰی طَلَاوَۃِ اَقْدَامِہٖ کَالْمُسْتَطْرِفِیْن۔ فَمَالَبِثُوْا اَنْ رَّجَعُوْا مُتَدَھْدِھًا اِلٰی خَمِیْلَتِیْ۔ لِیُزَاحِمُوْا حَوْلِیْ وَحِیْلَتِیْ وَلِیُتْلِفُوْا ثِمَارِیْ وَیُزْعِجُوا اَشْجَارِیْ۔ وَلِیَشُنُّوْا عَلَیْھَا الْغَارَاتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فَاَوْ حَشَنِیْ دُخُوْ لُھُمْ فِیْ بُسْتَانِیْ وَاُدْھِشْتُ بِاِغْرَاقِھِمْ وَ وُلُوْجِھِمْ فِیْھَا فَضَجِرْتُ ضَجْرًا وَّقَلِقَ جَنَانِیْ وَ شَھِدَ تَوَسُّمِیْ اَنَّھُمْ یُرِیْدُوْنَ اِبَادَۃَ اَثْمَارِیْ وَکَسْرَ اَغْصَانِیْ۔ فَبَادَرْتُ اِلَیْھِمْ وَظَنَنْتُ اَنَّ الْوَقْتَ
    تھا اور دین و دنیا کے حق میں بہترین نتائج پیدا کرنے والا تھا۔ اپنی پوری طاقت اور کوشش کے ساتھ تیزی سے ایک طرف چل پڑا۔ اسی اثناء میں مجھے ہزارہا شاہسوار نظر آئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور نہایت تیزی کے ساتھ میری طرف آرہے تھے۔ مَیں انہیں دیکھ کر ایسا خوش ہوا کہ گویا مجھے غنیمت ملی ہے اور مجھے اپنے اندر دشمن کے مقابلہ کی طاقت محسوس ہونے لگی۔ اور مَیں اس طرح پر ان کا پیچھا کرنے لگا۔ جیسے شکاری لوگ شکار کا پیچھا کرتے ہیں۔ پھر مَیں نے اس کی حقیقت ِ حال دریافت کرنے کے لئے اپنا گھوڑا ان کے پیچھے دَوڑایا۔ اور مجھے یقین تھا کہ مَیں کامیاب ہوں گا۔ پھر مَیں ان کے قریب ہوا تو دیکھتا کیا ہوں کہ ان لوگوں کے کپڑے بوسیدہ اور دریدہ ہیں۔ ان کی شکلیں مکروہ ہیں۔ اور ان کی ہیئت مشرکوں کی سی اور لباس بدکردار لوگوں کاسا ہے اور مَیں نے دیکھا کہ وہ غارت ڈالنے کی غرض سے اپنے گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ اور میں پورے غور اور توجہ سے ان کی شکلوں کو دیکھ رہا ہوں اور مَیں پہلوانوں اور بہادروں کی طرح تیزی سے ان کی طرف جارہا ہوں اور میرا گھوڑا ایسا تیزی سے جاتا تھا کہ کوئی غیب سے اِسی طرح پر چلا رہا ہے جیسا کہ حدی خوان لوگ اونٹوں کو تیز چلاتے ہیں۔ مَیں اس کے قدموں کی خوبصُورتی اور دلکشی کی و جہ سے بھی خوشی محسوس کرتا تھا۔ اس پر انہوں نے میری طاقت اور میری تدبیر میں مزاحم ہونے۔ میرے باغ کے پھلوں کو تلف کرنے اور درختوں کی بیخ کنی کرنے اور ان کو تباہ و برباد کرنے کے لئے ان پر غارت ڈالنے کی غرض سے فوراً لوٹ کر میرے باغ کی طرف رُخ کیا۔ ان کے میرے باغ میں داخل ہونے اور گھس جانے کی و جہ سے
    مِنْ مَّخَاشِی اللَّاوَآئِ۔ وَصَارَتْ اَرْضِیْ مَوْطِنَ الْاَعْدَآئِ۔ وَاَوْجَسْتُ فِیْ نَفْسِیْ خِیْفَۃً کَالضَّعِیْفِیْنَ الْمَزْئُ وْ دِیْنَ فَقَصَدْتُّ الْحَدِیْقَۃَ۔ لِاُفَتِّشَ الْحَقِیْقَۃَ۔ فَلَمَّا دَخَلْتُ حَدِیْقَتِیْ۔ وَاسْتَشْرَفْتُ بِتَحْدِیْقِ حَدَقَتِیْ وَاسْتَطْلَعْتُ طَلْعَ مَقَامِھِمْ رَاَیْتُھُمْ مِّنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ فِیْ بُحْبُوْحَۃِ بُسْتَانِیْ سَاقِطِیْنَ مَصْرُوْعِیْنَ کَالْمَیِّتِیْنَ۔ فَاَفْرَخَ کَرْبِیْ وَاٰمَنَ سِرْبِیْ وَبَادَرْتُ اِلَیْھِمْ جذِلًا وَّبِاِقْدَامِ الْفَرِحِیْنَ فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْھُمْ وَجَدْتُّھُمْ اَصْبَحُوْا فَرْسٰی کَمَوْتِ نَفْسٍ وَّاحِدٍ مَیِّتِیْنَ ذَلِیْلِیْنَ مَقْھُوْرِیْنَ سُلِخَتْ جُلُوْدُھُمْ وَشُجَّتْ رُئُ وْسُھُمْ وَذُعِطَتْ حُلُوْقُھُمْ وَقُطِعَتْ اَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ وَصُرِعُوْا کَالْمُمَزَّقِیْنَ۔ وَاغْتِیْلُوْا کَالَّذِیْنَ سَقَطَ عَلَیْھِمْ صَاعِقَۃٌ فَکَا نُوْا مِنَ الْمُحْرَقِیْنَ۔ فَقُمْتُ عَلٰی مَصَارِعِھِمْ عِنْدَ التَّلَاقِیْ وَعَبَرَاتِیْ یَتَحَدَّرْنَ مِنْ مَّاٰقِیْ وَقُلْتُ یَارَبِّ رُوْحِیْ فِدَآئُ سَبِیْلِکَ لَقَدْ تُبْتُ عَلَیَّ۔ وَنَصَرْتَ عَبْدَکَ بِنُصْرَۃٍ لَّا یُوْجَدُ مِثْلُہ‘ فِی الْعَالَمِیْنَ۔ رَبِّ قَتَلْتَھُمْ بِاَیْدِیْکَ قَبْلَ اَنْ قَاتَلَ صِرْعَانِ۔ وَحَارَبَ حِتْنَانِ۔ وَبَارَزَقِتْلَانِ۔ تَفْعَلُ مَاتَشَآئُ وَلَیْسَ مِثْلُکَ فِی النَّاصِرِیْنَ۔ اَنْتَ اَنْقَذْ تَنِیْ وَنَجَّیْتَنِیْ وَمَاکُنْتُ اَنْ اُنْجٰی
    میں گھبرایا۔ اور مجھے سخت تشویش اور بے چینی پیدا ہوئی۔ اور میری فراست نے بتایا۔ کہ وہ لوگ میرے باغ کے پھلوں کو تباہ کرنا اور شاخوں کو توڑدینا چاہتے ہیں اس لئے مَیں دوڑ کر ان کی طرف بڑھا۔ اور مَیں نے سمجھا کہ یہ وقت سخت خطرناک ہے اور میری زمین کو دشمنوں نے اپنا وطن بنا لیا ہے اور مَیں کمزور اور خوفزدہ لوگوں کی طرح اپنے دل میں خوف محسوس کرنے لگا۔ سو اس بنا پر مَیں حقیقت حال معلوم کرنے کی غرض سے اپنے باغ کی طرف چل پڑا۔ اور جب مَیں اپنے باغ میں داخل ہوا۔ اور غور سے اُس میں نگاہ ڈالی اور اس میں ان کے مقام کی جگہ دریافت کرنے لگا۔ تو مَیں نے دُور ہی سے دیکھا کہ وہ میرے باغ کے درمیانی صحن میں گرے پڑے اور مُردوں کی طرح بچھڑے پڑے ہیں۔ اس پر میری گھبراہٹ جاتی رہی۔ اور مجھے اطمینان خاطر حاصل ہوگیا۔ اور مَیں نہایت خوشی کے ساتھ تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔ اور جب مَیں ان کے قریب پہنچا۔ تو دیکھا کہ وہ سب کے سب یکدم ذلّت کی حالت میں اور مورد غضب ِ الٰہی بن کر اس طرح پر مر گئے جیسے ایک شخص کا مرنا واقع ہوتا ہے اور ان کے چمڑے اتارے گئے اور اُن کے سروں کو کچل دیا گیا اور ان کے گلوں کو کاٹ دیا گیا اور اُن کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے اور پارہ پارہ کرکے پھینک دیئے گئے اور یکدم ان پر ایسی تباہی آئی جیسی کسی قوم پر بجلی گر کر ایک ہی دم میں اُسے نابود کردیتی ہے اور وہ بھسم ہوگئے اس کے بعد مَیں اُن کی ہلاکت کی جگہ پر جہاں وہ مقابلہ کیلئے اکٹھے ہوئے تھے کھڑا ہوا۔ اورمیری آنکھوں سے آنسو کثرت سے بہہ رہے تھے اور مَیں نے (بارگاہِ الٰہی میں) عرض کیا۔ کہ اے میرے ربّ میری جان تیری راہ پر فدا ہو۔ تو نے مجھ ناچیز پر خاص کرم فرمایا ہے اور اپنے بندۂ درگاہ کی وہ نصرت فرمائی ہے جس کی نظیر اقوام میں نہیں مل سکتی۔ اے میرے ربّ تُو نے پیشتر اس کے کہ دو فریق باہم جنگ کرتے اور دو حریف کارزار کو عمل میں لاتے اور دو مرد میدانِ کارزار میں کار فرما ہوتے۔ اپنے ہاتھوں سے ان کو قتل کردیا۔ تو جو چاہتا ہے
    مِنْ ھٰذِہِ الْبَلَایَالَوْ لَا رَحْمَتُکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔ ثُمَّ اسْتَیْقَظْتُ وَکُنْتُ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ الْمُنِیْبِیْنَ۔ فالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
    وَاَوَّلْتُ ھٰذِہِ الرُّؤْیَآ اِلٰی نُصْرَۃِ اللّٰہِ وَ ظَفَرِہٖ بِغَیْرِ تَوَسُّطِ الْاَیْدِیْ وَالْاَسْبَابِ۔ لِیُتِمَّ عَلَیَّ نَعْمَآئَ ہٗ وَیَجْعَلَنِیْ مِنَ الْمُنْعَمِیْنَ۔ وَالْاٰنَ اُبَیِّنُ لَکُمْ تَاْوِیْلَ الرُّؤْیَا لِتَکُوْنُوْا مِنَ الْمُبَصِّرِیْنَ۔ فَاَمَّا شَجُّ الرُّئُ وْسِ وَذَعْطُ الْحُلُوْقِ فَتَاوِیْلُہ‘ کَسْرُکِبْرِ الْاَعْدَائِ۔ وَقَصْمُ اِزْدِھَآئِھِمْ وَجَعْلُھُمْ کَالْمُنْکَسِرِیْنَ۔ وَاَمَّا تَقْطِیْعُ الْاَیْدِیْ فَتَاْوِیْلُہ‘ اِزَالَۃُ قُوَّۃِ الْمُبَارَاتِ وَالْمُمَارَاتِ وَاِعْجَازُھُمْ وَصَدُّھُمْ عَنِ الْبَطْشِ وَحِیَلِ الْمُقَاوَمَاتِ وَالْتِزَاعُ اَسْلِحَۃِ الْھَیْجَآئِ مِنْھُمْ وَجَعْلُھُمْ مَخْذُوْلِیْنَ مَصْدُوْدِیْنَ وَاَمَّا تَقْطِیْعُ الْاَرْجُلِ فَتَاْوِیْلُہ‘ اِتْمَامُ الْحُجَّۃِ عَلَیْھِمْ وَسَدُّطَرِیْقِ الْمَنَاصِ وَتَغْلِیْقُ اَبْوَابِ الْفِرَارِ وَتَشْدِیْدُ الْاِلْزَامِ عَلَیْھِمْ وَجَعْلُھُمْ کَالْمَسْجُوْنِیْنَ وَھٰذَا فِعْلُ اللّٰہِ الَّذِیْ قَادِرٌ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ۔ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ۔ وَیَرْحَمُ مَنْ یَّشَآئُ۔ وَیَھْزِمُ مَنْ یَّشَآئُ۔ وَیَفْتَحُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَمَا کَانَ لَہ‘ اَحَدٌ مِّنَ الْمُعْجِزِیْنَ۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 578، 581۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 578، 581)
    کرتا ہے۔اور تیرے جیسا کوئی مدد دینے والا نہیں ہے تُو نے ہی مجھے بچایا اور مجھے نجات بخشی۔اے ارحم الراحمین ۔ اگر تو رحم نہ کرتا۔ تو ممکن نہ تھا کہ مَیں ان بلاؤں اور آفات سے نجات پاتا۔ پھر مَیں بیدار ہوگیا۔ اور مَیں اس وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کررہا تھا۔ اور اس کی طرف میری رُوح جھکی ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ کے لئے تعریف ہے جو تمام مخلوق کا ربّ ہے۔
    اور مَیں نے اس رؤیا کی یہ تعبیر کی کہ اس میں ظاہری اسباب اور انسانی کوششوں کے دخل کے بغیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور کامیابی کی بشارت ہے اور یہ کہ وہ مجھ پر اپنے انعام کو کامل کرنا اور مجھے اپنے فضلوں میں داخل کرنا چاہتا ہے۔ اب میں تمہاری بصیرت افزائی کے لئے اس رویا کی تعبیر کھول کر بتاتا ہوں۔ اس میں سر کو کچلنے اور گلا کاٹنے سے مراد دشمن کے تکبّر کو اور اُن کے فخرو غرور کو توڑنا اور اُن میں انکسار پیدا کرنا ہے۔ اور اُن کے ہاتھوں کو کاٹنے سے مراد اُن کی مقابلہ کی قوت کو مٹانا۔ اُنہیں عاجز کردینا اور چیرہ دستی سے اور مقابلہ کرنے سے روکنا اور ان سے لڑائی کے ہتھیار چھین لینا اور انہیں بستگی اور بے چارگی کی حالت میں کردینا ہے۔ اور پاؤں کاٹنے کے معنے اُن پر اتمام حجت کرنا اور بھاگ سکنے کی تمام راہیں اور فرار کے تمام دروازے بند کرنا اور انہیں پورے طور پر ملزم کرنا اور قیدیوں کی طرح کردینا ہے۔اوریہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ہر ایک بات پر کامل قدرت رکھتا ہے جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا
    (ب) مدّت کی بات ہے، مَیں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ مَیں ایک گھوڑے پر سوار ہوں اور باغ کی طرف جاتا ہوں اور مَیں اکیلا ہوں۔ سامنے سے ایک لشکر نکلا جس کا یہ ارادہ ہے کہ ہمارے باغ کو کاٹ دیں۔ مجھ پر اُن کا کوئی خوف طاری نہیں ہوا اور میرے دل میں یہ یقین ہے کہ مَیں اکیلا ان سب کے واسطے کافی ہوں۔ وہ لوگ اندر باغ میں چلے گئے اور ان کے پیچھے مَیں بھی چلا گیا۔ جب مَیں اندر گیا تو مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سب کے سب مرے پڑے ہیں اور اُن کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کاٹے ہوئے ہیں اور اُن کی کھالیں اُتری ہوئی ہیں۔ تب خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا نظارہ دیکھ کر مجھ پر رقت طاری ہوئی اور مَیں رو پڑا کہ کس کا مقدور ہے کہ ایسا کر سکے۔
    فرمایا : اس لشکر سے ایسے ہی آدمی مراد ہیں جو جماعت کو مُرتد کرنا چاہتے ہیں اور اُن کے عقیدوں کو بگاڑنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت کے باغ کے درختوں کو کاٹ ڈا لیں۔ خدا تعالیٰ اپنی قدرت نمائی کے ساتھ اُن کو ناکام کرے گا اور اُن کی تمام کوششوں کو نیست و نابود کردے گا۔
    فرمایا: یہ جو کچھ دیکھا گیا ہے کہ اُن کا سر کٹا ہوا ہے اِس سے یہ مراد ہے کہ اُن کا تمام گھمنڈ ٹوٹ جائے گا اور اُن کے تکبّر اور نخوت کو پامال کیا جاوے گا اور ہاتھ ایک ہتھیار ہوتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان دشمن کا مقابلہ کرتا ہے۔ ہاتھ کے کاٹے جانے سے مُراد یہ ہے کہ اُن کے پاس مقابلہ کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا اورپاؤں سے انسان شکست پانے کے وقت بھاگنے کاکام لے سکتا ہے لیکن اُن کے پاؤں بھی کٹے ہوئے ہیں جس سے یہ مراد ہے کہ اُن کے واسطے کوئی جگہ فرار کی نہ ہوگی اور یہ جو دیکھا گیا ہے کہ ان کی کھال بھی اُتری ہوئی ہے اس سے یہ مراد ہے کہ اُن کے تمام پَردے فاش ہوجائیں گے اور اُن کے عیوب ظاہر ہوجائیں گے۔‘‘
    (بدر جلد 2 نمبر 23مؤرخہ 7ن 1906ء صفحہ 3)
    1893ء
    اَ لَااے دشمنِ نادان و بے راہ * بِتَرس از تیغِ بُرّانِ محمدؐ 1
    (اشتہار مؤرخہ20؍فروری1893ء )مشمولہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد5 صفحہ 649)
    (ترجمہ) ’’اے لیکھرام تُو کیوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
    بقیہ ترجمہ: چاہتا ہے رحم کرتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے شکست دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے فتح دیتا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
    1 حضرت مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ والسَّلام نے سب سے اوّل اجمالی طور پر20؍فروری1886ء کے اشتہار (مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 98) میں اس پیشگوئی کا ذکر فرمایا۔ پھر برکات ؔ الدعا۔ کرامات الصادقین اور آئینہ کمالاتِ اسلام میں مفصّل طور پر اس کے متعلق الہامات الٰہی بیان فرمائے جن میں صاف طور پر لکھ دیا گیا۔ کہ لیکھرام اپنی شوخی
    کی اس تلوار سے جو تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردیگی، کیوں نہیں ڈرتا۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ 288۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 301)
    1893ء
    (الف) ’’اس عاجز نے اشتہار 20؍فروری 1886ء میں ........لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو اُن کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں۔ سو اس اشتہار کے بعد .........لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اِس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو ، شائع کردو۔ میری طرف سے اجازت ہے سو اُس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ‘ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔
    عِجْلٌ جَسَدٗ لَّہ‘ خُوَارٌ ۔ لہ‘ نَصَبٌ وَّعَذَابٌ
    یعنی یہ صرف ایک بے جان گو سالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اُس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدّر ہے جو ضرور اس کو مل کر رہے گا۔‘‘
    (اشتہار 20؍فروری 1893ء مشمولہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 649، 650)
    (ب) ’’یہ گوسالہ بیجان ہے جس میں رُوحانیت کی جان نہیں۔ صرف آواز ہی آواز ہے پس وہ سامری کے گوسالہ کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ عبارت لَہٗ نَصَبٌ وَّعَذَابٌ کی تصریح موافق تفہیم الٰہی یہ ہے کہ لَہٗ کَمِثْلِہٖ نَصَبٌ وَّعَذَابٌ۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ 287۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 300)
    بقیہ حاشیہ:
    شرارت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے کی سزا میں چھ سال کے اندر عید کے دوسرے دن بذریعہ قتل اس دُنیا سے کوچ کر جائیگا۔
    اس کے مقابل پر اُس نے بھی اپنی کتاب میں حضرت اقدس کی نسبت لکھا کہ میرے پرمیشر نے مجھے یہ الہام کیا ہے کہ یہ شخص (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ مرتب) تین سال کے اندر ہیضہ سے مرجائیگا۔
    لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح حضرت اقدس نے اس کی نسبت پیشگوئی فرمائی تھی۔ کہ بترس از تیغِ بُرّانِ محمدؐ اسی کے مطابق یہ شخص ۶ برس کے عرصہ کے اندر بذریعہ قتل پنجہ ٔ اجل میں گرفتار ہوگیا۔ اور جس طرح فرمایا گیا تھا کہ گوسالہ سامری کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا۔ بالکل اسی طرح یہ گوسالہ سامری بھی شنبہ کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔ اور جس طرح وہ جلایا گیا۔ اور اس کی ہڈیاں دریا میں پھینکی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی جلایا گیا۔ اور اس کی ہڈیاں بھی دریا ہی میں ڈالی گئیں۔
    مفصّل دیکھو استفتاؔء اُردو۔ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 125۔ سراجؔ منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ 110، 111 تریاق ؔالقلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ172، 191۔ نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18 صفحہ 522، 524۔ حقیقۃ ؔالوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحۃ294۔ چشمہ ٔؔمعرفت صفحہ125 وغیرہ۔ (مرتب)
    20 فروری 1893ء
    (الف) ’’ آج جو 20؍فروری 1893ء روز دوشنبہ ہے۔ اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو بیس فروری 1893ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی اُن بے ادبیوں کی سزا میں جو اِس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں‘ عذاب شدید میں مبتلا ہوجائیگا۔ ‘‘
    (اشتہار 20؍فروری 1893ء مشمولہ آئینہ کمالاتِ اسلام ۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 650 )
    (ب) ’’لیکھرام کے متعلق ایک یہ پیشگوئی تھی کہ
    یُقْضٰی اَمْرُہٗ فِیْ سِتٍّ
    یعنی چھ میں اس کاکام تمام کیا جائے گا.......اس پیشگوئی کا جیسا کہ مفہوم ہے ایسا ہی ظہور میں آیا یعنی لیکھرام چھ مارچ کو زخمی ہوا اور دن کے چھٹے گھنٹے میں زخمی ہوا۔‘‘
    (استفتاء اُردو صفحہ 17 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 125)
    1893ء
    ’’میرے پر ظاہر کیا گیا کہ اس1 کے مَرنے کے تھوڑی مدّت کے بعد پنجاب میں طاعون پھیل جائے گی۔‘‘
    (مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مؤرخہ 14؍جون 1903ء۔ مندرجہ الفضل جلد 39/5نمبر 97
    مؤرخہ 25؍اپریل 1951ء صفحہ 4)
    1893ء
    ’’ اِس کتاب2کی تحریر کے وقت دو دفعہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مجھ کو ہوئی اور آپ نے اس کتاب کی تالیف پر بہت مسرت ظاہر کیااور ایک رات یہ بھی دیکھا کہ ایک فرشتہ بلند آواز سے لوگوں کے دلوں کو اس کتاب کی طرف بُلاتا ہے اور کہتا ہے:۔
    ھٰذَا کِتَابٌ مُّبَارَکٌ فَقُوْمُوْا لِلْاِجْلَالِ وَالْاِکْرَامِ
    یعنی یہ کتاب مبارک ہے اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔
    (اشتہار کتاب آئینہ کمالاتِ اسلام مندرجہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد5 صفحۃ 652)
    1 یعنی لیکھرام پشاوری۔ (مرتب)
    2 یعنی آئینہ کمالاتِ اسلام (مرتب)
    25 فروری 1893ء
    ’’آج رات مَیں نے جو 25؍فروری 1893ء کی رات تھی۔ شیخ1صاحب کی اِن باتوں2سے سخت درد مند ہوکر آسمانی فیصلہ کے لئے دُعا کی۔ خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک دوکاندار کی طرف مَیں نے کسی قدر قیمت بھیجی تھی کہ وہ ایک عُمدہ اور خوشبودار چیز بھیج دے۔ اُس نے قیمت رکھ کر ایک بدبودار چیز بھیج دی۔ وہ چیز دیکھ کر مجھے غصہ آیا اور مَیں نے کہا کہ جاؤ دوکاندار کو کہو کہ وُہی چیز دے ورنہ مَیں اس دَغا کی اُس پر نالش کروں گا اور پھر عدالت سے کم سے کم چھ ماہ کی اُس کو سزا ملے گی اور امید تو زیادہ کی ہے۔ تب دوکاندار نے شاید یہ کہلا بھیجا کہ یہ میرا کام نہیں یا میرا اختیار نہیں اور ساتھ ہی یہ کہلا بھیجا کہ ایک سودائی پھرتا ہے۔ اُس کا اثر میرے دل پر پڑگیا اور مَیں بھول گیا اور اب وہی چیز دینے کو تیار ہوں۔
    اِس کی مَیں نے یہ تعبیر کی کہ شیخ صاحب پر یہ ندامت آنے والی ہے اور انجام کار وہ نادم ہوں گے اور ابھی کسی دوسرے آدمی کا اُن کے دل پر اثر ہے۔‘‘
    (اشتہار شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور۔ صفحہ 7 مندرجہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ 655، 656)
    1893ء
    ’’پھر مَیں نے توجہ کی تو مجھے یہ الہام ہوا:۔
    اِنَّانَرٰی تَقَلَّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ۔ نُقَلِّبُ فِی السَّمَآئِ مَاقَلَّبْتَ فِی الْاَرْضِ اِنَّا مَعَکَ نَرْفَعُکَ دَرَجَاتٍ۔
    یعنی ہم آسمان پر دیکھ رہے ہیں کہ تیرا دل مہر علی کی خیر اندیشی سے بد دعا کی طرف پھر گیا۔ سو ہم بات کو اُسی طرح آسمان پر پھیردینگے جس طرح تو زمین پر پھیر دیگا۔ ہم تیرے ساتھ ہیں تیرے درجات بڑھائینگے۔ ‘‘
    (اشتہار شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور صفحہ8 مندرجہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 656)
    1 شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور (مرتب)
    2 شیخ مہر علی صاحب کی نسبت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کے قید ہونے سے چھ ماہ قبل بذریعہ ایک خواب اطلاع دی تھی کہ اس کی جائے نشست فرش کو آگ لگی ہوئی ہے اور حضرت نے اس پر پانی ڈال کر بجھایا ہے۔ اس ابتلا اور مصیبت سے حضرت اقدس نے اُسی وقت شیخ صاحب کو خبر دے دی اور توبہ اور استغفار کی طرف توجہ دلائی۔ لیکن بعد رہائی شیخ صاحب نے حضرت کے اس خط سے انکار کردیا۔ بلکہ اُلٹا یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ خط تو کوئی نہیں لکھا مگر اس مضمون کا جھوٹا بیان مجھ سے لکھوانا چاہتے تھے۔ اس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیخ صاحب کے اسی دلآویز رویہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ (مرتب)
    1893ء
    ’’ خواب میں مَیں نے دیکھا کہ اس1کے گھر میں آگ لگ گئی اور پھر مَیں نے اُس کو بُجھایا.........بعد میں شیخ مہر علی کی نسبت ایک اور پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ ایک اور سخت بلا میں مبتلا ہوگا۔ چنانچہ بعد اس کے وہ مرض فالج میں مبتلا ہوگیا۔‘‘
    (حقیقۃ الوحی صفحہ 222،223۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 233)
    18 مارچ 1893ء
    (الف) ’’آج جو 29؍ شعبان 1310ھ ہے اِ س مضمون کے لکھنے کے وقت خدا تعالیٰ نے دُعا کے لئے دل کھول دیا۔ سو مَیں نے اِس وقت اسی طرح سے رقّتِ دل سے اس مقابلہ2میں فتح پانے کے لئے دُعا کی اور میرا دل کھُل گیا۔ اور مَیں جانتا ہوں کہ قبول ہوگئی اور مَیں جانتا ہوں کہ وہ الہام جو مجھ کو میاں بٹالوی کی نسبت ہوا تھا کہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۔ وہ اسی موقع کیلئے ہوا تھا۔ مَیں نے اس مقابلہ کے لئے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔‘‘
    (آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 604، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 604)
    (ب) (خدا تعالیٰ نے) ’’مجھ کو بشارت دی کہ اگر میاں بطالوی یا کوئی دوسرا اس کا ہم مشرب مقابلہ3 پر آئے تو شکست فاش اٹھا کر سخت ذلیل ہوگا۔‘‘ (کرامات الصادقین صفحہ 4۔ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 46)
    19 مارچ 1893ء
    ’’یکم رمضان المبارک۔ اِنَّنِیْ1 مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰی۔ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ نَجَّیْنَاکَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاکَ فَتُوْنًا۔ رسید مژدہ کہ ایام غم نخواہد ماند۔ لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ۔ اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّھُمْ مَیِّتُوْنَ۔ لَنُبَدِّ لَنَّکُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِکُمْ اَمْنَا۔ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ اَیْنَ الْمَفَرُّ۔ یَوْم تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ۔ یعنی زمین کے باشندوں کے خیالات اور رائیں بدلائی جائینگی۔ اِنَّمَا یُؤَخِّرُ ھُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی اَجَلٍ قَرِیْبٍ۔ اِنَّا مُقْتَدِرُوْنَ وَاِنَّا قَادِرُوْنَ۔ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا اِنَّا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 84)
    1 یعنی شیخ مہر علی ہوشیار پوری۔ (مرتّب) 2 و 3 مقابلہ تفسیر نویسی۔ (مرتّب)
    2 (ترجمہ از مرتب) مَیں تم دونوں کے ساتھ ہوں۔ میں سنتا ہون اور دیکھتا ہوں۔ ایسے طریق سے مدافعت کر جو احسن ہو۔ ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تیری خوب آزمائش کی۔ خوشخبری پہنچی کہ غم کے دن نہیں رہیں گے۔ خدا ہی کیلئے معاملہ ہے اس کے پہلے اور اس کے بعد بھی۔ تو بھی مریگا۔ اور وہ بھی مریں گے۔ یقینا ہم تمہارے خوف کی حالت کو اس کے بعد امن کی حالت میں بدل دیں گے۔ وہ اپنے منہ پیٹیں گے کہ کہاں بھاگیں۔ اُس دن وہ زمین دوسری زمین میں تبدیل کردی جائیگی ان کو مقررہ میعاد تک ڈھیل دے رہا ہے۔ وہ میعاد قریب ہے۔ ہم قادرو توانا ہیں ۔ اے ہمارے ربّ ہم کو بخش دے ہم خطار کار تھے۔
    25 مارچ 1893ء
    ’’ اب تک آپ1 کیلئے جہاں تک انسانی کوشش سے ہوسکتا ہے توجہ کی گئی .......اور آخر جو بار بار کی توجہ کے بعد الہام ہوا۔ وہ یہ تھا:۔
    اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔قُلْ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ
    یعنی اللہ جل شانہ‘ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ کوئی بات اس کے آگے اَنہونی نہیں۔ انہیں کہدو ...2.... جائیں۔ اور یہ الہام ابھی ہوا ہے۔ اس الہام میں جو میرے دل میں خداتعالیٰ کی طرف سے فعلی طور پر کئے وہ یہی ہیں کہ ارادۂ الٰہی آپ کی خیر اور بہتری کیلئے مقدّر ہے لیکن وہ اس بات سے وابستہ ہے کہ آپ اسلامی صلاحیت اور التزام صوم و صلوٰۃ و تقویٰ و طہارت میں ترقی کریں۔ بلکہ ان شرائط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امر مخفی نہایت ہی بابرکت امر ہے جس کے لئے یہ شرائط رکھے گئے ہیں۔‘‘
    (مکتوب بنام نواب محمد علی خانصاحب۔ اصحابِ احمد جلد دوم صفحہ 216۔217)
    3 2اپریل 1893ء
    ’’حضرت مولوی حکیم نورالدّین صاحب نے بھیرہ میں ایک عظیم الشان مکان بنوایا تھا........ابھی پورے طور پر وہ مکان طیار نہ ہوا تھا .......جاڑہ کا موسم تھا۔ مولوی صاحب چلتی ہوئی ملاقات کو آئے تھے۔ رات کو حضرت امام کو وحی4 ہوئی کہ مولوی صاحب کو ہجرت کرنی چاہئے۔ چنانچہ صبح کو مولوی صاحب کو سنایا کہ ہجرت کرو۔ اور وطن نہ جاؤ۔ یہ صدیق کا فرزند کوئی چگونگی درمیان میں نہ لایا۔ مکان خراب ہوا۔ مگر یہ مردِ خدا نہیں گیا۔‘‘
    (از خطبہ مولانا عبدالکریم صاحب ؓ الحکم جلد 6 نمبر 32 مؤرخہ 10 ؍ستمبر 1902ء صفحہ 11)
    2اپریل 1893ء
    ’’آج جو 2؍ اپریل 1893ء مطابق 14؍ ماہِ رمضان 1310 ھ ہے۔ صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوںاور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں۔ اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل ‘ گویا اُس کے چہرہ پر سے خون ٹپکتا ہے۔ میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ مَیں نے
    1 یعنی نواب محمد علی خانصاحب آف مالیر کوٹلہ۔ (مرتب)
    2 یہ جگہ اصل خط میں پھٹی ہوئی ہے۔ (اصحاب احمد)
    3 یہ تاریخ حضڑت خلیفہ اوّل کی جیبی بیاض میں (جو مولوی عبدالرحمٰن صاحب شاکرؔ کے پاس ہے) درج ہے۔ (مرتبؔ)
    4 اس وحی کا ذکر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی سوانح حیات میں جو اکبر شاہ صاحب نجیب آبادی کو لکھوائی۔ یوں فرمایا۔’’مولوی عبدالکریم صاحب سے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے) فرمایا کہ مجھ کو نورالدین کے متعلق الہام ہوا ہے اور وہ شعر حریری میں موجود ہے۔ لاتصبون الی الوطن۔ فیہ تھان و تمتحن۔‘‘ (مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نورالدین) (ترجمہ از مرتب) تو وطن کی طرف ہرگز رُخ نہ کرنا۔ اس میں تیری اہانت ہوگی اور تجھے تکلیفیں اُٹھانی پڑیں گی۔
    نظر اُٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں۔ ملائک شِداد غلاظ میں سے ہے۔
    اور اُس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی۔ اور مَیں اُس کو دیکھتا ہی تھا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے؟ اور ایک1اَور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے تب مَیں نے اُس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرام اور اُس دُوسرے شخص کی سزادہی کے لئے مامور کیا گیا ہے ۔ مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے ہاں یہ یقینی طور پر یاد رہا ہے کہ وہ دُوسرا شخص اُنہیں چند آدمیوں میں سے تھا جن کی نسبت مَیں اشتہار دے چکا ہوں اور یہ یک شنبہ کا دن اور 4 بجے صبح کا وقت تھا فالحمدللہ علیٰ ذالک۔‘‘
    (برکات الدّعا۔ ٹائٹل پیج صفحہ 4 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد6 صفحہ 33)
    1893ء
    ’’اللہ جل شانہ‘ کی قسم ہے کہ مجھے صاف طور پر اللہ جل شانہ‘ نے اپنے الہام سے فرمادیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بلا تفاوت ایسا ہی انسان تھا۔ جس طرح اور انسان ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کا سچا نبی اور اس کا مرسل اور برگزیدہ ہے۔ اور مجھ کو یہ بھی فرمایا۔ کہ جو مسیح کو دیا گیا۔ وہ بمتابعت نبی علیہ السلام تجھ کو دیا گیا ہے اور تو مسیح موعود ہے اور تیرے ساتھ ایک رُوحانی حربہ ہے جو ظلمت کو پاش پاش کردے گا۔ اور یکسر الصلیب کا مصداق ہوگا۔‘‘
    (حجتہ الاسلام صفحہ 9۔ روحانی خزائن جلد6 صفحہ 49)
    1893ء
    ’’وَاِنِّیْ رَئَیْتَ اَنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ یُؤْمِنُ بِاِیْمَانِیْ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَرَئَیْتُ کَاَنَّہٗ تَرَکَ
    1 (نوٹ از مرتب) واقعات نے بتادیا کہ دوسرا شخص شردھانند تھا۔ جو اس پیشگوئی کے مطابق دسمبر 1926ء کو عبدالرشید کاتب دہلوی کے ہاتھ سے مارا گیا۔ شردھانند کے واقعہ قتل کے متعلق حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہُ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
    ’’ یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق ہے..........دو شخصوں کے قتل کی پیشگوئی تھی۔ ان میں سے ایک لیکھرام صاحب تھے۔ اور دوسرے کا نام آپ کو اُس وقت یاد نہ تھا عجیب حکمت ہے کہ پہلے شردھانند کا نام منشی رام تھا۔ اور مارے جانے کے وقت ان کا نام شردھانند تھا۔ اسی و جہ سے حضرت صاحب کو اُن کا نام یاد نہ رہا۔ پھر وہ لیکھرام کے بھی قائم مقام ہیں۔ چنانچہ تیج نے لکھا ہے کہ جب لیکھرام کے قتل کی خبر جالندھر پہنچی تو سوامی شرھانند صاحب اپنا کام چھوڑ کر لاہور آگئے۔ اور سوامی لیکھرام صاحب کا کام انہوں نے سنبھال لیا۔ بہر حال آریوں میں سے بڑے پایہ کے لیڈر تھے بہت سی باتیں ان کے قتل کی لیکھرام صاحب کے قتل سے ملتی ہیں۔ لیکھرام صاحب ہفتہ کے دن جمعہ وعید سے اگلے روز مارے گئے اور یہ جمعرات کو مارے گئے جو جمعہ کے ساتھ کا دن ہے۔ وہاں بھی قاتل کمبل پوش تھااور یہاں بھی کمبل پوش ہی ہے۔ وہاں بھی قاتل کو پہلے روکا گیا لیکن اس کو اندر جانے کی اجازت دی گئی اور یہاں بھی اسی طرح ہوا۔‘‘
    (الفضل جلد 14 ؍نمبر 55 مؤرخہ 11؍جنوری 1927ء صفحہ 4)
    2 (ترجمہ از مرتب) اور مَیں نے دیکھا کہ یہ شخص یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی اپنے مرنے سے پہلے میرا مومن ہونا مان لے گا اور
    قَوْلَ التَّکْفِیْرِ وَتَابَ۔ وَھٰذِہٖ رُؤْیَایَ وَاَرْجُوْ اَنْ یَّجْعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا۔‘‘
    (حجتہ الاسلام صفحہ 19۔ روحانی خزائن جلد6 صفحہ 59)
    5 جون 1893ء
    ’’ آج رات جو مجھ پر کھُلا وہ یہ ہے کہ جبکہ مَیں نے بہت تضرّع اور ابتہال سے جنابِ الٰہی میں دُعا کی کہ تُو اِس امر میں فیصلہ کر۔ اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کرسکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث1میں دونوں فریقوں میں جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچّے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دِن ایک مہینہ لے کر یعنی 15 ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاویگا۔ اور اُس کو سخت ذلّت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچّے خدا کو مانتا ہے اُس کی اِس سے عزت ظاہر ہوگی۔اور اس وقت جب پیشگوئی ظہور میں آوے گی۔ بعض اندھے سوُجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سُننے لگیں گے۔2 ‘‘
    (جنگ مقدس صفحہ 188،189۔ مضمون حضرت اقدس 5؍جون 1893۔ روحانی خزائن جلد6صفحہ 291،292)
    بقیہ حاشیہ: مَیں نے دیکھا کہ گویا اس نے مجھے کافر کہنا چھوڑ دیا ہے اور اس خیال سے توبہ کرلی ہے اور یہ میری رؤیا ہے۔ اور مَیں امید رکھتا ہوں کہ میرا خدا اسے پورا کردے گا۔
    خاکسار مرتب عرض کرتا ہے کہ اس پیشگوئی کے بیس برس بعد 1914ء میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک مقدمہ کے دَوران میں منصف اوّل ضلع گوجرانوالہ کی عدالت میں بیان دیتے ہوئے اور اسلام کے مختلف فرقوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھوایا کہ
    ’’ یہ سب فرقے قرآن مجید کو خدا کا کلام مانتے ہیں۔ اور یہ سب فرقے قرآن کی مانند حدیث کو بھی مانتے ہیں ایک فرقہ احمدیؐ بھی اب تھوڑے عرصہ سے پیدا ہوا ہے جب سے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے دعویٰ مسیحیت اور مہدویّت کا کیا ہے یہ فرقہ بھی قرآن کو اور حدیث کو یکساں مانتا ہے...........کسی فرقہ کو جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ ہمارا فرقہ مطلقاً کافر نہیں کہتا۔‘‘
    (مفصل دیکھو الفضل جلد 1نمبر 35 مؤرخہ 11؍فروری 1914ء صفحہ 3)
    1 یعنی مناظرہ مابین حضرت مسیح موعود علیہ السلام و ڈپٹی عبداللہ آتھم۔جو کتاب جنگ مقدس میں درج ہے۔ (مرتب)
    2 اس پیشگوئی میں صاف طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔ کہ اگر آتھم حق کی طرف رجوع نہ کرے گا تو پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاویگا سو چونکہ آتھم نے میعاد مقررہ کے اندر اسلام اور بانی ٔ اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق اپنی عادت کے خلاف بالکل خاموشی اختیار کرلی اور دیگر قرائن سے بھی ثابت کردیا کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے ڈر گیا۔ اور اسلام کی حقانیت سے مرعوب ہوگیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ بَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ کے مطابق اس پر رحم کیا اور اُسے ہاویہ میں گرنے سے بچالیا۔ لیکن چونکہ بعد میں اُس نے حضرت اقدس کے بار بار متوجہ کرنے حتیٰ کہ چار ہزار روپیہ تک انعامی اشتہار شائع کرنے پر بھی اظہارِ حق سے انکار کیا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چار ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ
    5جون 1893ء
    ’’ آج جلسہ مباحثہ سے واپس آنے کے بعد قریب ایک بجے دن کے حضرت اقدس کو اس مباحثہ کی فتح پر بشارت بخش الہام ہوا۔ جو حضور نے اسی وقت حاضرین کو آکرسُنایا۔ اور وہ یہ ہے:۔
    ھَنَّأَکَ اللّٰہُ
    یعنی اللہ تعالیٰ تجھے مبارکباد دیتا ہے۔ (عبدالکریم1) ۔‘‘
    (جنگ مقدس آخری مضمون حضرت اقدس ۔ نیز تبلیغ رسالت جلد سوم صفحہ 61 حاشیہ۔ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 434)
    جون 1893ء
    (ا) ’’یَمُوْتُ قَبْلَ از ثَمَانیہ 2 ایک دشمن کی نسبت یہ الہام ہے۔ نام اس دشمن کا یاد نہیں۔
    (2) یَمُوْتُ بِغَیْرِ مَرَضٍ 2 یہ کس کی نسبت ہے۔ پتہ معلوم نہیں۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 84)
    2 اگست 1893ء
    ’’خواب میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں اپنی اسی کتاب میں یہ مصرع لکھتا ہوں:۔
    آؤبُلبُل چلیں کہ وقت آیا
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 216)
    بقیہ حاشیہ: ’’اب اگر آتھم صاحب قسم کھالیویں (کہ وہ پیشگوئی کے نتیجہ میں مرعوب نہیں ہوئے اور کسی جہت سے بھی رجوع نہیں کیا) تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں۔ اور تقدیر مُبرم ہے اور اگر قسم نہ کھاویں۔ تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑیگا۔ جس نے حق کا اخفا کرکے دُنیا کو دھوکہ دینا چاہا ....... اور وہ دن نزدیک ہیں دُور نہیں۔‘‘ (اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ 11 تبلیغ رسالت جلد سوم صفحہ 177۔ مجموعہ اشتہارات جلد2 صفحہ 106) ’’اگر آتھم کو عیسائی لوگ ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیں۔ اور ذبح بھی کرڈالیں تب بھی وہ قسم نہیں کھائیں گے۔‘‘ (انجام آتھم صفحہ 3 بحوالہ اشتہار 30؍دسمبر 1895ء مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 204) مگر اس پر بھی آتھم نے قسم نہ کھائی۔ سو چونکہ آتھم نے سچی قسم سے منہ پھیرا۔ اور نہ چاہا کہ حق ظاہر ہو اس لئے آخری اشتہار مؤرخہ 30؍دسمبر 1895ء پر جو قسم دلانے کیلئے دیا گیا تھا ابھی سات مہینے بھی نہیں گذرے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق آتھم صاحب مؤرخہ 27؍جولائی 1896ء بمقام فیروز پور اس جہان سے رخصت ہوگئے۔ (مرتب)
    1 حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی۔ (مرتب)
    2 (ترجمہ از مرتب) آٹھ سے پہلے مریگا۔
    3 (ترجمہ از مرتب) بیماری کے بغیر مرے گا۔
    22 اگست 1893ء
    9؍صفر 1311ھ۔ 8؍بھادوں سم 1950 روز سہ شنبہ۔
    ’’آج رات مَیں نے دیکھا کہ ایک شخص مجھ کو کہتا ہے کہ تم ولی ہو میں نے کہا کہ کیونکر۔ اس نے جواب دیا کہ مَیں تمہارے ملنے کے لئے آیا تھا۔ راہ میں دریا تھا۔ مَیں نے کہا کہ اگر یہ ولی ہے تو دریا کا یہ کنارہ گر پڑے۔ تبھی وہ گر پڑا۔ اور پھر میری بیوی نے مجھ کو مبارکباد دی کہ تمہارے تیسرا لڑکا پیدا ہوا۔ مبارک باد ہو۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 218)
    1893ء
    ’’ بَشَّرَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ
    1 اِنِّیْ سَاُوْتِیْکَ بَرَکَۃً وَّ اُجْلِیْٓ اَنْوَارَ ھَا حَتّٰی یَتَبَرَّکَ بِثِیَابِکَ الْمُلُوْکُ وَالسَّلَاطِیْنُ۔
    وَقَالَ
    اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ وَ اِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ۔ یَآ اَحْمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ۔ مَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُ ھُمْ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔ قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ قُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔ کُلُّ بَرَکَۃٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ۔ وَقُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ۔ وَیَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُاللّٰہُ وَاَللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔ ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔ لَامُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔ اِنِّیْ مَعَکَ فَکُنْ مَّعِیْ اَیْنَمَا کُنْتَ۔ کُنْ مَّعَ اللّٰہِ حَیْثُمَا کُنْتَ۔ اَیْنَمَا تُوَلُّوْا افَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ۔ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْزِجَتْ لِلنَّاسِ وَفَخْرًا لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۔
    1 (ترجمہ از مرتب) مَیں تجھے برکت دُوں گا اور اس کے انوار کو روشن کروں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اور فرمایا۔ مَیں اس شخص کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔ اور وہ لوگ جو تیرے پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں ان کے لئے ہم کافی ہیں۔ اے احمدؐ! خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ جو کچھ تُونے چلا یا وہ تُونے نہیں چلایا۔ بلکہ خدا نے چلایا۔ تاکہ تُو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے۔ اور تاکہ مجرموں کی راہ کھُل جائے۔ یعنی معلوم ہوجائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔ کہہ مَیں خدا کی طرف سے مامور ہوں۔ اور مَیں سب پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔ ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔ اور کہہ اگر مَیں نے افترا کیا ہے تو میری گردن پر میرا گناہ ہے۔ وہ لوگ بھی تدبیریں کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیر کررہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر سب سے بہتر ہوتی ہے۔ اُسی نے اپنے رسُول کو ہدایت اور دین ِ حق کے ساتھ بھیجا تا اس دین کو سب دینوں پر غالب کرے۔ خدا کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا مَیں تیرے
    وَلَا تَیْئَسْ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اَلَآ اِنَّ رَوْحَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ اَلَآ اِنَّ نَصْرَاللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ یَنْصُرُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآئِ۔ لَامُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔ وَاِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَٓا اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔ قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِہِمْ یَلْعَبُوْنَ۔ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا۔ وَاِنَّ عَلَیْکَ رَحْمَتِیْ فِی الدُّنْیَا وَالدِّیْنِ۔ وَاِنَّکَ لَمِنَ الْمَنْصُوْرِیْنَ۔
    بُشْرٰی لَکَ یَآ اَحْمَدِیْ اَنْتَ مُرَادِیْ وَمَعِیْ غَرَسْتُ کَرَامَتَکَ بِیَدِیْ۔ اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا قُلْ ھُوَاللّٰہُ عَجِیْبٌ یَجْتَبِیْ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ۔ لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ۔ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ۔ وَاِذَا نَصَرَاللّٰہُ الْمُؤْمِنَ جَعَلَ لَہُ الْحَاسِدِیْنَ۔ تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَتَرَحَّمْ عَلَیْھِمْ اَنْتَ فِیْھِمْ بِمَنْزِلَۃِ مُوْسٰی فَاصْبِرْعَلٰی جَوْرِ الْجَائِرِیْنَ۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَایُقْتَنُوْنَ۔ اَلْفِتْنَۃُ ھُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوالْعَزْمِ۔ اَلَآ اِنَّھَا فِتْنَۃٌمِّنَ اللّٰہِ لِیُحِبَّ
    ساتھ ہوں پس تُو میرے ساتھ ہو جہاں تُو ہو وے۔ خدا کے ساتھ ہو جہاں تو ہو وے جس طرف تم رُخ کروگے اسی طرف اللہ تعالیٰ کی توجہ ہوگی۔ تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے فائدہ کے لئے اور مؤمنین کے لئے موجب ِ فخر بنا کر پیدا کی گئی۔ اور تُو خدا کی رحمت سے نومید مت ہو۔ خبردار ہو کہ خدا کی رحمت قریب ہے۔ خبردار ہو کہ خدا کی مدد قریب ہے وہ مدد ہر ایک دُور کی راہ سے تجھے پہنچے گی۔ خدا اپنی طرف سے تیری مدد کرے گا۔ تیری مدد وہ لوگ کریں گے۔ جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ اور تو ہمارے نزدیک صاحب ِ مرتبہ ہے اور امین ہے اور کہیں گے کہ یہ وحی نہیں ہے یہ کلمات تو اپنی طرف سے بنائے گئے ہیں۔ ان کو کہہ کہ وہ خدا ہے کہ جس نے یہ کلمات نازل کئے۔ پھر ان کو لہو ولعب کے خیالات میں چھوڑدے اور اس سے زیادہ ظالم اور کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ اور تیرے پر میری رحمت دُنیا اور دین میں ہے اور تو یقینا ان لوگوں میں سے ہے جن کے شاملِ حال نصرتِ الٰہی ہوتی ہے۔
    تجھے بشارت ہو اے میرے احمدؔ۔ تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ مَیں نے تیری عزت کا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا۔ کیا ان لوگوں کو تعجب ہے تو کہہ خدا ذوالعجائب ہے وہ اپنے بندو ں میں سے جسے چاہتا انتخاب کرلیتا ہے۔ وہ اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا اور لوگ پوچھے جاتے ہیں۔ اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔ اور جب خدا مومن کی مدد کرتا ہے تو اس کے کئی حاسد مقرر کردیتا ہے۔ لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آ۔ اور ان پر رحم کر۔ تُو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے اس لئے ظالموں کے ظلم پر صبر کر۔ کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ یونہی چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کا امتحان نہیں لیا جائے گا۔ اس جگہ ایک فتنہ ہے۔ پس صبر کرجیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔ خبردار وہ فتنہ (آزمائش) خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔ تا وہ تجھ سے محبت
    حُبًّا جَمًّا۔ وَفَّی اللّٰہُ اَجْرَکَ وَیَرْضٰی عَنْکَ رَبُّکَ وَیُتِمُّ اسْمَکَ وَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا قُلْ اِنِّیْ مِنَ الصَّادِقِیْنَ۔ فَانْتَظِرُوْٓا اٰیَاتِیْ حَتّٰی حِیْنٍ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔ قُلْ ھٰذَا فَضْلُ رَبِّیْ وَاِنِّیْٓ اُجَرِّدُ نَفْسِیْ مِنْ ضُرُوْبِ الْخِطَابِ۔ وَاِنِّیْٓ اَحَدٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ یُتِمُّ نُوْرَہٗ وَیُحْیِ الدِّیْنَ۔ نُرِیْدُ اَنْ نُنَزِّلَ عَلَیْکَ اٰیَاتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَنُمَزِّقَ الْاَعْدَآئَ کُلَّ مُمَزَّقٍ۔ حُکْمُ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ لِخَلِیْفَۃِ اللّٰہِ السُّلْطَانِ۔ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَاصْنَحِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ۔ وَاُمَمٌ حَقَّ عَلَیْھِمُ الْعَذَابُ وَیَمْکُرُوْنَ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی۔ رَبِّ اغْفِرْوَارْحَمْ مِنَ السَّمَآئِ۔رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْوَارِثِیْنَ۔ رَبِّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ۔ وَیُخَوِّ فُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا سَمَّیْتُکَ
    کرے۔ اللہ تعالیٰ تجھے تیرا اجر پورا پورا دے گا۔ اور تجھ سے راضی ہوگا۔ اور تیرے نام کو کمال بخشے گا۔ اور یہ لوگ تو تجھے محض تمسخر کا نشانہ بناتے ہیں۔ تو کہہ کہ مَیں یقینا راستباز ہوں۔ پس تم ایک وقت تک میرے نشانوں کا انتظار کرو۔ تمام تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے تجھے مسیح ابن ِ مریم بنایا۔ کہہ یہ میرے ربّ کا فضل ہے اور مَیں تو اپنے آپ کو تمام قسم کے خطابات سے الگ رکھتا ہوں۔ اور مَیں تو مسلمانوں میں سے ایک ہوں۔ وہ چاہتے ہیں۔ کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہہ کی پھونکوں سے بجھادیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچائے گا اور دین کو زندہ کرے گا۔ ہم تجھ پر آسمان سے نشانات اُتارنا چاہتے ہیں۔ اور دشمنوں کو بالکل منتشر کردینا چاہتے ہیں۔ خدائے رحمن کا حکم ہے اس کے خلیفہ کے لئے جس کی بادشاہت آسمانی ہے پس اللہ پر توکل کر۔ ہماری آنکھوں ک سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا۔ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ تیری نہیں بلکہ خدا کی بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہوتا ہے۔ اور (بالمقابل) کئی گروہ ایسے ہیں جن پر عذاب واقع ہوگا اور وہ تدبیریں کررہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم ایمان لاؤگے یا نہیں۔ پھر ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرو گے یا نہیں۔ میرے ساتھ میرا ربّ ہے عنقریب وہ میرا راہ کھول دیگا۔ اے میرے ربّ !مجھے دکھلا کہ تُو کیونکر مُردوں کو زندہ کرتا ہے۔ اے میرے ربّ ! مغفرت فرما اور آسمان سے رحم کر۔ اے میرے ربّ! مجھے اکیلا مت چھوڑ۔ اور تو خیر الوارثین ہے۔ اے میرے ربّ ! اُمّتِ محمدیہ کی اصلاح کر۔ اے ہمارے ربّ! ہم میں اور ہماری قوم میں سچا
    الْمُتَوَکِّلَ۔ یَحْمَدُکَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔ نَحْمَدُکَ وَنُصَلِّیْ۔ یَآ اَحْمَدُ یَتِمُّ اسْمُکَ وَلَا یَتِمُّ اسْمِیْ۔ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْعَابِرُسَبِیْلٍ۔ وَکُنْ مِّنْ الصَّالِحِیْن الصِّدِّیْقِیْنَ۔ اَنَا اخْتَرْتُکَ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ۔ خُذُوا التَّوْحِیْدَ التَّوْحِیْدَ یَآ اَبْنَآئَ الْفَارِسِ۔ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ وَ اخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُسْلِمِیْنَ۔ اَصْحَابُ الصُّفَّۃِ وَمَآ اَدْرَاکَ مَآ اَصْحٰبُ الصُّفَّۃِ تَرٰی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ رَبَّنَآ اِنَّنَاسَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاھِدِیْنَ۔ شَاْنُکَ عَجِیْبٌ وَّ اَجْرُکَ قَرِیْبٌ۔ وَمَعَکَ جُنْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِیْنَ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِی وَتَفْرِیْدِیْ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔ بُوْرِکْتَ یَا اَحْمَدُ وَکَانَ مَابَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ حَقًّا فِیْکَ۔ اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ۔ اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ وَاَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃٍ لَّایَعْلَمُھَاالْخَلْقُ۔ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَتْرُکُکَ حَتّٰی یَمِیْزَا لْخَبِیْثَ
    فیصلہ کردے۔ اور تُو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ اور تجھے یہ لوگ ڈراتے ہیں۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ مَیں نے تیرا نام متوکّل رکھا۔ خدا عرش سے تیری تعریف کررہا ہے ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔
    اے احمد ؐ تیرا نام پورا ہوجائیگا۔ اور میرا نام پورا نہیں ہوگا۔ تو دنیا میں ایسے طور پر رہ کہ گویا تو ایک غریب الوطن بلکہ ایک راہرو ہے اور صالح اور راستباز لوگوں میں سے ہو۔ مَیں نے تجھے چن لیا اور اپنی محبت تیرے پر ڈال دی۔ توحید کو پکڑو۔ توحید کو پکڑو۔ اے فارس کے بیٹو! اور تُو ان لوگوں کو جو ایمان لائے یہ خوشخبری سُنا کہ اُن کا قدم خدا کے نزدیک صدق کا قدم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے رُوگردانی نہ کر۔ اور لوگوں کے ملنے سے نہ تھک اور اطاعت اختیار کرنے والوں کے لئے اپنے بازو کو جھکا۔ جو صُفّہ میں رہنے والے ہیں۔ اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صُفّہ میں رہنے والے۔ تُو دیکھے گا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے ربّ! ہم ایمان لائے۔ پس ہمیں بھی گواہوں میں لکھ۔ تیری شان عجیب ہے اور تیرا اجر قریب ہے۔ اور آسمانوں اور زمینوں کی ایک فوج تیرے ساتھ ہے۔ تو مجھ سے ایسا ہے۔ جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔ پس وہ وقت آتا ہے کہ تُو مدد دیا جائے گا اور دُنیا میں مشہو رکیا جائے گا۔ اے احمد ؐ! تو برکت دیا گیا۔ اور جو کچھ تجھے برکت دی گئی۔ وہ تیرا ہی حق تھا۔ تومیری درگاہ میں وجیہہ ہے میں نے تجھے اپنے لئے چنا۔ تو مجھ سے بمنزلہ اس قُرب کے ہے جس کو دُنیا نہیں جانتی۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دےجب تک
    مِنَ الطَّیِّبِ۔ اُنْظُرْاِلٰی یُوْسُفَ وَاِقْبَالِہٖ۔ وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ۔ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ لِیُقِیْمَ الشَّرِیْعَۃَ وَیُحٰیِ الدِّیْنَ۔ کِتَابُ الْوَلِیِّ ذُوالْفَقَارِ عَلِیٍّ۔ وَلَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَا لَہٗ رَجُلٌ مِّنْ اَبْنَآئِ الْفَارِسِ۔ یَکَادُزَیْتُہٗ یُضِیْٓئُ وَلَوْلَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ۔ جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْمُرْسَلِیْنَ۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ سَیِّدِ وُلْدِ اٰدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِیّیْنَ۔ یَرْحَمُکَ رَبُّکَ وَیَعْصِمُکَ مِنْ عِنْدِہٖ وَ اِنْ لَّمْ یَعْصِمُکَ النَّاسُ۔ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ وَ اِنْ لَّمْ یَعْصِمْکَ اَحَدٌ مِّنْ اَھْلِ الْاَرْضِیْنَ۔ تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ۔ مَاکَانَ لَہٗٓ اَنْ یَّدْخُلَ فِیْھَآ اِلَّاخَآئِفًا وَّمَآ اَصَابَکَ فَمِنَ اللّٰہِ وَاعْلَمْ اَنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ۔ وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ۔ اِنَّا سَنُرِیْھِمْ اٰیَۃً مِّنْ اٰیَاتِنَا فِیْ الثَّیِّبَۃِ وَنَرُدُّھَا اِلَیْکَ اَمْرٌ مِّنْ لَّدُنَّآ اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا یُکَذِّبُوْنَ بِاٰیَاتِیْ وَکَانُوْا بِیْ مِنَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ۔ فَبُشْرٰی لَکَ فِی النِّکَاحِ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ اِنَّا زَوَّجْنَاکَھَا۔ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔ وَاِنَّا رَآدُّوْ ھَآ اِلَیْکَ اِنَّ رَبَّکَ
    کہ پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھلادے۔ یوسف اور ا سکے اقبال کی طرف دیکھ اللہ تعالیٰ اپنے امرپر غالب ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ مَیں نے چاہا کہ مَیں خلیفہ بناؤں۔ پس مَیں نے آدم کو پیدا کیا۔ تاکہ وہ شریعت کو قائم کرے اور دین کو زندہ رے۔ ولی کی کتاب علی کی ذوالفقار ہے۔ اور اگر ایمان ثریا سے لٹکا ہوتا تو ابناء فارس میں سے ایک شخص اُسے وہاں سے بھی لے آتا۔ قریب ہے کہ اس کا تیل روشن ہوجائے۔ا گرچہ آگ اسے چھوئی بھی نہ ہو۔ اللہ کا رسول تمام رسولوں کے لباس میں۔ کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو۔ تو آؤ میری پیروی کرو۔ تاخدا بھی تم سے محبت رکھے۔ اور محمدؐ اور محمد ؐ کی آل پر درود بھیج۔ جو تمام بنی آدم کا سردار اور خاتم النّبیّین ہے۔ تیرا ربّ تجھ پر رحمت کرے گا۔ اور اپنی جناب سے تیری حفاظت کا سامان کرے گا۔ اگرچہ لوگ تیری حفاظت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے تیری حفاظت کرے گا۔ اگرچہ رُوئے زمین کے لوگوں میں سے کوئی بھی تیری حفاظت نہ کرے۔ ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے۔ اور وہ ہلاک ہوگیا۔ اس کو نہیں چاہئے تھا کہ وہ اس کام میں (یعنی تکفیر اور تکذیب میں) دخل دیتا مگر ڈرتے ہوئے جو تجھ پر آئے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جان لے کہ نیک انجام متقیوں کا ہوتا ہے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو آنے والے عذاب سے ڈرا۔ ہم انہیں اس بیوہ کے متعلق بھی اپنا ایک نشان دکھائیں گے۔ اور اسے تیری لوٹائیں گے۔ یہ امر ہماری جناب سے مقدّر ہوچکا ہے۔ اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ یہ لوگ میرے نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور مجھ پر تمسخر کرتے تھے۔ پس تجھے نکاح کے متعلق بشارت ہو۔ یہ بات تیرے ربّ کی طرف سے حق ہے۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔ ہم نے اس کو تیرے ساتھ ملادیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں ٹل نہیں سکتیں اور ہم اُسے
    فَعَّالٌ لِّمَایُرِیْدُ۔ فَضْلٌ مِّنْ لَّدُنَّا۔ لِیَکُوْنَ اٰیَۃً لِّلنَّاظِرِیْنَ۔ شَاتَانِ تُذْبَحَانِ وَکُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ۔ وَنُرِیْھِمْ اٰیَاتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِھِمْ وَنُرِیْھِمْ جَزَآئَ الْفَاسِقِیْنَ۔ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَانْتَھٰٓی اَمْرُالزَّمَانِ اِلَیْنَآ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ۔ کُنْتُ کَنْزًا مَّخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ۔ اِنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاھُمَا۔ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ یُّوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ لَا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ۔ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمْرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰی وَاِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ مِّنَ السَّمَآئِ۔ رَبِّ اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ اِیْلِیْ اِیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَانِیْ۔ یَا عَبْدَالْقَادِرِ اِنِّیْ مَعَکَ اَسْمَعُ وَاَرٰی۔ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ وَاِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔اَنَا بُدُّکَ اللَّازِمُ اَنَا مُحْیِیْکَ نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُنِّیْ رُوْحَ الصِّدْقِ۔ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ وَلِتُصْنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْأَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ۔ اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ۔ فَکُنْ
    تیری طرف واپس لائیں گے۔ تیرا ربّ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ یہ ہمارا فضل ہے تا دیکھنے والوں کے لئے ایک نشان ہو۔ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ اور رُوئے زمین کے سب لوگ فنا ہونے والے ہیں۔ اور ہم اُنہیں ارد گرد اور خود اُن کی ذات میں نشان دکھائیں گے۔ اور اُنہیں ہم نافرمانوں کی سزا (کا نمونہ)دکھائیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے گی۔ اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرے گا (اس دن کہا جائے گا۔کہ) کیا یہ حق نہ تھا؟ بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کھُلی گمراہی میں ہیں۔ مَیں ایک خزانہ پوشیدہ تھا۔ پس مَیں نے چاہا کہ ظاہر کیا جاؤں۔ آسمان اور زمین بند گٹھڑی کی طرح تھے۔ پس ہم نے ان کو کھول دیا۔ کہہ میں محض ایک بشیر ہوں جس پر وحی کی جاتی ہے۔ کہ تمہارا معبود صرف ایک ہے اور تمام بھلائی اور نیکی قرآن میں ہے اور اس کے اسرار تک وہی پہنچ سکتے ہیں جو پاک دل ہیں۔ اور مَیں نے اس سے پہلے ایک عمر تم میں بسر کی ہے پس کیا تم سوچتے نہیں۔ کہو اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور میرا ربّ میرے ساتھ ہے وہ ضرور میرے لئے رستہ نکالے گا۔ اے میرے ربّ!بخش اور آسمان سے رحمت نازل کر۔ اے میرے ربّ! مَیں مغلوب ہوں تو میرے دشمن سے انتقام لے۔ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ اے عبدالقادؔر! مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ مَیں نے اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور قدرت کا درخت تیرے لئے لگایااور تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اور امین ہے۔ مَیں تیرا لازمی چارہ ہوں۔ مَیں تجھے زندہ کرنے والا ہوں۔ مَیں نے اپنی طرف سے راستی کی رُوح تجھ میں پھونکی۔ اور مَیں نے تجھ پر اپنی جناب سے محبت ڈال دی اور ایسا کیا کہ تو میری آنکھوں کے سامنے تیار کیا جائے۔ اس کھیتی کی طرح جو
    مِّنَ الشَّاکِرِیْنَ۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدُہٗ۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ عَلِیْمًا بِالشَّاکِرِیْنَ۔ فَقَبِلَ اللّٰہُ عَبْدَہٗ وَبَرَّاَہٗ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا۔ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ اللّٰہُ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکَافِرِیْنَ۔ وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا وَ لِنُعْطِیَہٗ مَجْدًا مِّنْ لَّدُنَّا وَکَذَالِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔ اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَا مَعَکَ۔ سِرُّکَ سِرِّی۔ لَا تُحَاطُ اَسْرَارُ الْاَوْلِیَآئِ۔ اِنَّکَ عَلٰی حقٍّ مُّبِیْنٍ۔ وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔ لَا یُصَدِّقُ السَّفِیْہُ اِلَّا ضَرْبَۃَ الْاِھْلَاکِ عَدُوٌّ لِّیْ وَعَدُوٌّ لَّکَ۔ عِجْلٌ جَسَدٌ لَّہٗ خُوَارٌ۔ قُلْ اَتٰیٓ اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُسْتَعْجِلِیْنَ۔ یَاْتِیْکَ قَمَرُ الْاَنْبِیَآئِ وَاَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔ وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُالْمُؤْمِنِیْنَ٭۔ یَوْمَ یَجِیْٓئُ الْحَقُّ وَیَنْکَشَفُ الصِّدْقُ وَیَخْسَرُ الْخَاسِرُوْنَ۔ وَتَرَی الْغَافِلِیْنَ یَخِرُّوْنَ عَلَی الْمَسَاجِدِ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَآ اِنَّا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔ تَمُوْتُ وَاَنَا رَاضٍ مِّنْکَ۔ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَآ اٰمِنِیْنَ۔‘‘
    (تحفہ بغداد صفحہ 17۔25 ۔ روحانی خزائن جلد 7 صفحۃ 21 تا 31)
    اپنی سُوئی نکالے۔ پھر مضبوط ہوجائے پھر اپنی نالی پر کھڑی ہوجائے۔ ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دے دی۔ تا تیری طرف منسُوب کردہ غلطیوں کو چاہے پہلی ہوں یا پچھلی مٹادے۔ پس تو شاکرین میں سے ہوجا۔ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو جاننے والا نہیں؟ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو قبول فرمالیا اور لوگوں کی جھوٹی تہمتوں سے بَری ثابت کیا اور وہ اپنے ربّ کے نزدیک وجیہہ ہے اور جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلّی کرے گا۔ تو اسے پاش پاش کردیگا۔ اور اللہ کافروں کی تدبیر کو سُست کردیگا۔ اور تاکہ ہم اُسے لوگوں کے لئے نشان اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں اور تاکہ ہم اسے اپنی طرف سے بزرگی عطا کریں اور ہم اسی طرح محسنوں کو جزا دیا کرتے ہیں تُو میرے ساتھ ہے اور مَیں تیرے ساتھ۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ اولیاء کے اسرار کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ تو کھلے کھلے حق پر ہے دنیا اور آخرت میں وجیہہ اور مقرّبین میں سے ہے۔ نادان آدمی ہلاکت کی مار کوہی مانتا ہے وہ میرا بھی دشمن ہے اور تیرا بھی۔ وہ ایک گوسالہ ہے وہ جسم ہی جسم ہے(رُوحانیت نہیں) وہ بُڑبڑاتا ہے۔ کہہ اللہ کا حکم آیا سمجھو اس لئے تم جلد بازی نہ کرو۔ تیرے پاس نبیوں کا چاند آئیگا اور تیرا کام سہل طور پر حاصل ہوجائیگا اور مومنوں کی مدد کرنا ہمارے ذمّہ ہوچکا ہے۔ اس دن حق آئے گا اور سچائی کھل جائیگی۔ اور نقصان اٹھانے والے نقصان اُٹھائیں گے۔ اور تم ان غافلوں کو دیکھو گے کہ وہ سجدہ گاہوں پر گر کر کہیں گے اے ہمارے ربّ! ہمیں بخش کہ ہم خطا کار تھے۔ (انہیں کہا جائے گا) آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے گا۔ اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ تو اس حالت میں وفات پائے گا کہ مَیں تجھ سے راضی ہوں گا۔ تمہارے لئے سلامتی ہے اور خوشحالی ہے۔ پس تم اس میں امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔
    ٭ 30جولائی 1893ء (منہ)
    1893ء
    ’’ 1 وَ اِ نِّیْ اَ نَا ا لرَّ حْمَانُ نَاصِرُ حِزْ بِہٖ‘‘
    وَ مِنْ حِزْبِیْ فَیُعْلٰی وَ یُنْصَرٗ
    (کرامات الصادقین صفحہ44۔ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 86)
    1893ء
    2 وَ بَشَرَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ مُبَشِّرًا
    ’’ سَتَعْرِفُ یَوْمَ الْعِیْدِ وَالْعِیْدُ اَقْرَبُ‘‘
    (کرامات الصادقین صفحہ 54۔ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 96)
    11ستمبر1893ء
    ’’مَیں نے خواب میں دیکھا کہ والدہ محمود خوش لباس کے ساتھ ایک جگہ آئی ہے جہاں مولوی نور دین بیٹھے ہیں اور آکر دو جوڑا کڑا مولوی صاحب کو دیئے ہیں۔ پھر دیکھا کہ وہ کھانا طیار کررہی ہیں۔ اور منشی جلال الدین بیٹھے ہیں۔ اور پھر ایک عورت آئی ہے جس کا نام اغلباً بھاگ بھری (ہے) جوان عورت ہے جس نے مجھ کو بلایا ہے۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 216)
    18 ستمبر 1893ء
    7؍ ربیع الاوّل 1311ھ۔ 4؍اسوج سم 1950 روزدوشنبہ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْ ھٰذِہِ الرُّؤْیَا۔
    1 اس شعر کا پہلا مصرع الہامی ہے اور شعر کا ترجمہ یہ ہے۔ اور مَیں ہی ہوں رحمن اپنی جماعت کی مدد کرنے والا۔ اور جو شخص میرے گروہ میں سے ہو۔ اُسے غلبہ اور نصرت دی جائے گی۔ (مرتب)
    2 اس شعر کا دوسرا مصرع الہامی ہے اور شعر کا ترجمہ یہ ہے کہ میرے ربّ نے مجھے بشارت دی اور بشارت دے کر کہا کہ تو عنقریب عید کے دن کو پہچان لے گا۔ اور عید اس سے قریب تر ہوگی۔
    اس شعر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔
    ’’ کتاب کرامات الصادقین کے ایک عربی شعر میں جو واقعہ قتل پنڈت لیکھرام سے چار سال پہلے تمام فرقوں میں شائع ہوچکا تھا۔ اُس کی موت کا دن اور تاریخ بتلائی گئی تھی۔ چنانچہ اس شعر پر ہندو اخبار نے لیکھرام کے قتل کے وقت بڑا شور مچایا تھا اور وہ شعر یہ ہے۔ وَ بَشَرَنِیْ رَبِّیْ .................غرض یہ عظیم الشان پیشگوئی اس قدر قوت اور عام شہرت کے ساتھ پھیلنے کے بعد 6؍مارچ 1897ء کو اس طرح پوری ہوئی کہ ایک شخص نے جس کا آج تک پتہ نہیںلگا کہ کون تھا۔ شام کے وقت لاہور کے شہر میں شنبہ کے دن جو عید سے دوسرا دن تھا۔ لیکھرام کے پیٹ میں ایک کاری چھُری مارکر دن دہاڑے ایسا غائب ہوا کہ آج تک پھر اس کا پتہ نہ لگا۔ حالانکہ لیکھرام کے ساتھ کتنی مدّت سے رہتا تھا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 182۔183۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 560)
    ’’میں نے خواب میں دیکھاکہ اوّل گویا کوئی شخص مجھ کو کہتا ہے کہ میرا نام فتح اور ظفر ہے اور پھر یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے:۔
    اَصْلَحَ اللّٰہُ اَمْرِیْ کُلَّہٗ ۔1
    اور پھر دیکھا کہ ایک مکان شبیہ مسجد میں ہوں اور ایک الماری کے پاس کھڑا ہوں اور حامد علی بھی کھڑا ہے۔ اتنے میں میری نظر پڑی تو مَیں نے میاں عبداللہ غزنوی کو دیکھا کہ بیٹھے (ہیں) اور میرا بھائی مرزا غلام قادر بھی بیٹھا ہے۔ تب مَیں نے نزدیک ہوکر ان کو السلام علیکم (کہا) تو انہوں نے بھی وعلیکم السلام کہا۔ اور بہت سے دعائیہ کلمات ساتھ ملادیئے جن میں صرف یہ لفظ محفوظ رہا کہ اَخَّرَکَ اللّٰہُ۔ مگر معنی یہی یاد رہے کہ ان کے کلمات ایسے ہی تھے کہ تیرا خدا مدد گار ہو۔ تیری فتح ہو۔ پھر مَیں اس مجلس میں بیٹھ گیا اور کہا کہ مَیں نے خواب بھی دیکھی ہے کہ کسی کو مَیں نے السلام علیکم کہا ہے اور اس نے جواب دیا ہے وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَالظَّفَرٌ۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 217)
    یکم اکتوبر1893ء
    ’’ 2 رَاَیْتُ فِیْ لَیْلَتِیْ ھٰذِہٖٓ اَنَّ النَّمْلَ تَخْرُجُ مِنْ اَنْفِیْ بَعْضُھَا حَیٌّ وَّ بَعْضُھَا مَیِّتٌ۔ وَ بَعْدَھَا خَرَجَ الدَّمُ وَ جَمَعَ فِی الْاَرْضِ۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِتَاْوِیْلِہٖ وَفَوَّضْتُ اَمْرِی اِلَیْہِ۔‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 219)
    1893ء
    ’’ اگرچہ مسلمانوں کے ظاہری عقیدہ کے موافق لیلۃ القدر ایک متبرک رات کا نام ہے۔ مگر جس حقیقت پر خدا تعالیٰ نے مجھ کو مطلع کیا ہے، وہ یہ ہے کہ علاوہ ان معنوں کے جو مسلَّمِ قوم ہیں۔ لیلۃ القدر وہ زمانہ بھی ہے جب دُنیا میں ظلمت پھیل جاتی ہے اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے۔ تب وہ تاریکی بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ آسمان سے کوئی نور نازل ہو۔ سو خدا تعالیٰ اس وقت اپنے نورانی ملائکہ اور رُوح القدس کو زمین پر نازل کرتا ہے۔ اسی طور کے نزول کے ساتھ جو فرشتوں کی شان کے ساتھ مناسب حال ہے۔ تب رُوح القدس تو اس مجدّد اور مُصْلح سے تعلق پکڑتا ہے جو ا جتبا اور ا صطفا کی خلعت سے مشرف ہوکر دعوتِ حق کے لئے مامور ہوتا ہے۔ اور فرشتے ان تمام لوگوں سے تعلق پکڑتے ہیں جوسعید اور رشید اور مستعد ہیں۔ اور ان کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں اورنیک
    1 (ترجمہ از مرتب) خدا تعالیٰ میرا تمام کام درست کردے۔
    2 (ترجمہ از مرتب) مَیں نے اسی رات میں دیکھا کہ میری ناک سے چیونٹیاں نکل رہی ہیں بعض زندہ ہیں اور بعض مُردہ۔ اور اس کے بعد خون نکلا اور زمین میں جمع ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی تعبیر کو بہتر جانتا ہے اور مَیں نے اپنا معاملہ اس کے سپرد کیا۔
    توفیقیں ان کے سامنے رکھتے ہیں۔ تب دُنیا میں سلامتی اور سعادت کی راہیں پھیلتی ہیں۔ اور ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب تک دین اپنے اُس کمال کو پہنچ جائے۔ جو اس کے لئے مقدّر کیا گیا ہے۔‘‘
    (شہادت القرآن صفحہ 17۔ پہلاا ایڈیشن۔ روحانی خزائن جلد6صفحہ 313،314)
    1893ء
    ’’ وَاِنَّ رَبِیْ قَدْ بَشَّرَنِیْ فِی الْعَرَبِ وَاَلْھَمَنِیْ اَنْ اَمُوْنَھُمْ وَاُرِیَھُمْ طَرِیْقَھُمْ وَاُصْلِحَ لَھُمْ شُیُوْنَھُمْ ۔1‘‘ (حمامتہ البشریٰ صفحہ 7، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 182)
    1893ء
    ’’ اَنْتَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ۔ وَمَآ اَنْتَ بِفَضْلِہٖ مِنْ مَّجَانِیْنَ۔ وَیُخَوِّفُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ۔ اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا۔ سَمَّیْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ یَحْمَدُکَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔ وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی۔ وَیَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُاللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔ 2
    (حما مۃ البشریٰ صفحہ 8۔ روحانی خزائن جلد7 صفحہ 183)
    1893ء
    ’’ 3 وَقَدْ اُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ قَوْلَ عِیْسٰی عِنْدَ مَنَارَۃِ دِمَشْقَ‘‘ اِشَارَۃٌ اِلٰی زَمَانِ ظُھُوْرِہٖ فَاِنَّ اَعْدَادَ حُرُوْفِہٖ تَدُلُّ عَلَی السَّنَۃِ الْھِجْرِیَّۃِ الَّتِیْ بَعَثَنِیَ اللّٰہُ فِیْہِ وَاخْتَارَذِکْرَ لَفْظِ الْمَنَارَۃِ اِشَارَۃً اِلٰی اَنَّ اَرْضَ دِمَشْقَ تُنِیْرُ وَ تُشْرِقُ بِدَعْوَاتِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ بَعْدَ مَآ اَظْلَمَتْ بِاَنْوَاعِ الْبِدْعَاتِ وَاَنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ اَرْضَ دِمَشْقَ کَانَتْ
    1 اور میرے ربّ نے عرب کی نسبت مجھے بشارت دی اور الہام کیا ہے کہ مَیں اُن کی خبر گیری کروں۔ اورٹھیک راہ بتاؤں اور ان کا حال درست کروں۔‘‘ (حما مۃ البشریٰ صفحہ 7 نیز مترجم حصہ اوّل صفحہ 19۔20)
    2 تُواپنے ربّ کی طرف سے اعلیٰ درجہ کی شہادت کے ساتھ ہے۔ اور تو اس کے فضل سے مجنون نہیں ہے اور اللہ کے سوا تجھے اوروں سے ڈراتے ہیں۔ ہم خود تیری نگرانی کرنے والے ہیں۔ مَیں نے تیرا نام متوکّل رکھا ہے۔ اللہ اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے اور یہود نصاریٰ تجھ سے کبھی راضی نہ ہوں گے۔ اور تدبیریں کرتے رہیں گے۔ اور اللہ بھی تدبیر کرے گا۔ اور تدبیر کرنے میں اللہ سب سے بڑھ چڑھ کر ہے۔‘‘
    3 (ترجمہ از مرتب) میرے دل میں ڈالا گیا کہ حدیث کے جن الفاظ میں منارہ دمشق کے پاس عیسیٰ کے نزول ترجمہ از مرتب:۔ کا ذکر ہے اس میں اس کے زمانہ ٔ ظہور کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ اس کے حروف کے اعداد اُسی سالِ ہجری پر دلالت کرتے ہیں۔جس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا۔ اور آپ نے منارہ کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا۔ کہ دمشق کی
    مَنْبَعَ فِتَنِ الْمُتَنَصِّرِیْنَ۔‘‘ (حمامۃ البشریٰ صفحہ 37۔ روحانی خزائن جلد7 صفحہ 225)
    1893ء
    اَلْھَمَنِیْ رَبِّیْ لِاُتِمَّ حُجَّۃَ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ وَاَرَی الْخَلْقَ جَھْلَ الْفَاسِقِیْنَ فَاَلَّفْتُ ھٰذِہِ الرِّسَالَۃَ ۔1 ‘‘
    (نورالحق حصہ دوم صفحہ 61۔ روحانی خزاءن جلد8 صفحہ 259)
    1894ء
    (الف) ’’ 2اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّآ اَیَّدْنَا عَبْدَنَا فَاْتُوْا بِکِتَابٍ مِّنْ مِّثْلِہ۔3 ‘‘
    (الحکم جلد6 نمبر 23 مؤرخہ24جون1902 ء صفحہ12)
    (ب) ’’بَعْدَ مَا اَزْمَعْتُ تَالِیْفَ ھٰذَا الْکِتَابِ اُلْھِمْتُ مِنْ رَّبِّ الْاَرْبَابِ اَنَّ الْکَافِرِیْنَ وَ الْمُکَفِّرِیْنَ لَایَقْدِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْ یُّؤَلِّفُوْا کِتَابًا مِثْلَ ھٰذَا فِیْ نَثْرِھَا وَنَظْمِھَا مَعَ الْتِزَامِ مَعَا رِفِھَا وَحِکَمِھَا۔ فَمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّکَذِّبَ الْھَامِیْ فَلْیَاْتِ بِمِثْلِ کَلَامِیْ۔ فَاِنَّ الْمَھْدِیَّ یُھْدٰی اِلٰی اُمُوْرٍ لَّایُھْدٰی اِلَیْھَا غَیْرُہٗ۔ وَلَا یُدْرِکُہٗ مُعَانِدُہٗ وَلَوْکَانَ عَلَی الْھَوَآئِ سَیْرُہٗ۔4‘‘
    (نورالحق حصہ دوم سرورق طبع اوّل۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ187)
    زمین طرح طرح کی بدعات کی ظلمتوں میں رہنے کے بعد مسیح موعود کی دُعاؤں سے روشن ہوجائیگی۔ اور یہ بات تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ دمشق کی زمین عیسائیوں کے فتنہ کا منبع رہی ہے۔
    1 (ترجمہ ازمرتّب ) میرے ربّ نے مجھے الہام کیا کہ مَیں ان (عیسائیوں) پر الٰہی حجت پوری کروں اور ان بدکاروں کی جہالت لوگوں کو دکھاؤں۔ تب مَیں نے یہ رسالہ (نورالحق) تالیف کیا۔
    2 (ترجمہ از مرتب) اگر تم اس بات کے متعلق شک میں ہو کہ ہم نے اپنے اس بندہ کی تائید و نصرت کی ہے۔ تو اس کتاب (نورالحق) کی مانند کوئی کتاب لے آؤ۔
    3 پیر سراج الحق صاحب نعمانی روایت فرماتے ہیں کہ:۔’’مجھے یاد ہے کہ نورالحق کتاب عربی زبان میں لکھنے کے لئے آپ آمادہ ہوئے تو آپ کو مسجد مبارک میں صبح کی نماز کے بعد کہ خاکسار آپ کی کمر اور پیر اور گردن دبارہا تھا۔ یہ وحی ہوئی۔ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا۔ اُسی وقت آپ نے یہ وحی ہم کو سُنائی اور بشارت دی کہ اس کتاب کی مثل کوئی پیش نہیں کرسکتا خواہ دنیاجمع ہوجاوے۔
    (الحکم جلد 6نمبر 23 مؤرخہ24؍جون 1902ء صفحہ12) (مرتب)
    4 (ترجمہ از مرتب) اور جب مَیں نے اس کتاب (نورالحق) کی تالیف کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تو خداوند کریم کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا کہ کافر اور مکفّر لوگ اس جیسی کتاب کی تالیف نہیں کرسکیں گے۔ جو ا س کی نثر اور نظم میں اور معارف اور حکمتوں کے التزام میں اس کی مثل ہو۔ اس لئے جو شخص میرے دعویٰ الہام کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتا ہو اُسے چاہئے کہ میرے اس کلام کی مثل لائے اور یاد رکھو کہ کوئی اس کی مثل نہیں لاسکتا۔ کیونکہ مہدی ان امور کی طرف راہ پاتا ہے جن تک اس کے غیر کی رسائی نہیں ہوتی اور اس کا دشمن اسے نہیں پاسکتا۔ اگرچہ وہ ہوا میں ہی کیوں نہ اُڑتا ہو۔
    (ج) ’’وَقَدْ اُلْھِمْتُ مِنْ رَّبِّیْ اَنَّھُمْ کُلُّھُمْ کَالْاَعْمٰی وَلَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ھٰذَا وَاَنَّھُمْ کَانُوْا فِیْ دَعَاوِیْہِمْ کَاذِبِیْنَ۔5‘‘ (نورالحق حصہ دوم صفحہ 62۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 260)
    (د) ’’رسالہ نورالحق اگرچہ عیسائیوں کی مولویت آزمانے کے لئے لکھا گیا۔ مگر یہ چند مخالف یعنی شیخ محمد حسین بطالوی اور اس کے نقش ِ قدم پر چلنے والے میاں رسل بابا وغیرہ جو مکفّر اور بدگو اوربدزبان ہیں اس خطاب سے باہر نہیں ہیں۔ الہام سے یہی ثابت ہوا ہے۔ کہ کوئی کافروں اور مکفّروں سے رسالہ نورالحق کا جواب نہیں لکھ سکے گا۔ کیونکہ وہ جھوٹے اور کاذب اور مفتری اور جاہل اور نادان ہیں۔‘‘ (اتمام الحجتہ صفحہ 24۔ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 303)
    1894ء
    ’’دوخواب اور دو الہام سے مجھ پر ظاہر ہوا ہے کہ دشمن اور مخالف اس کی نظیر بنانے سے عاجز رہے گا۔‘‘
    (مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مؤرخہ 3؍اپریل 1894ء بنام مولوی اصغر علی صاحب پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور۔مندرجہ الحکم جلد7نمبر38 مؤرخہ17؍اکتوبر1903ء صفحہ5تا7)
    1894ء
    ’’ وَلِیْ اَنْ اَقُوْلَ اِنَّنِیْ حِرْزٌ لَّھَا وَحِصْنٌ حَافِظٌ مِّنَ الْاٰفٓاتِ وَبَشَّرَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ
    (ترجمہ) ’’اورمَیں کہہ سکتا ہوں کہ مَیں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں‘ جو آفتوں سے بچاوے۔ اور خدا نے بشارت دی اور کہا۔ کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دُکھ پہنچاوے۔ اور تُو اُن میں ہو۔‘‘
    (نورالحق حصہ اوّل صفحہ 32،33۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 45)
    1894ء
    (الف) ’’ وَاِنِّیْ رَاَیْتُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ مِرَارًا فِی الْمَنَامِ وَمِرَارًا فِی الْحَالَۃِ الْکَشْفِیِّۃِ۔ وَقَدْ اَکْلَ مَعِیَ عَلٰی مَآئِدَۃٍ وَّاحِدَۃٍ۔ وَرَاَیْتُہٗ مَرَّۃً وَاسْتَفْسَرْتُہٗ مِمَّا وَقَعَ قَوْمُہٗ فِیْہِ۔ فَاسْتَوٰی عَلَیْہِ الدَّھْشُ وَّ ذَکَرَ عَظْمَۃَ اللّٰہِ وَطَفِقَ یُسَبِّحُ وَیُقَدِّسُ وَاَشَارَ اِلَی الْاَرْضِ وَقَالَ اِنَّمَا اَنَا تُرَابِیٌّ وَبَرِیْٓءٌ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ۔ فَرَاَیْتُہٗ کَالْمُنْکَسِرِیْنَ الْمُتَوَاضِعِیْنَ۔‘‘
    (ترجمہ) اور مَیں نے بارہا عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور بارہا کشفی حالت میں ملاقات ہوئی۔ اور ایک ہی خوان میں میرے ساتھ اُس نے کھانا کھایا۔ اور ایک دفعہ مَیں نے اس کو دیکھا۔ اور ا س فتنہ کے بارے میں پوچھا۔ جس میں اس کی قوم مُبتلا ہوگئی ہے۔ پس اس پر دہشت غالب ہوگئی۔ اور خدا تعالیٰ کی عظمت کا اس نے ذکر کیا۔ اور اُس کی تسبیح اور تقدیس
    1 (ترجمہ از مرتب) میرے ربّ کی طرف سے مجھے الہام ہوا ہے کہ یہ سب ہی اندھوں کی طرح ہیں۔ اور اس کی مثل ہرگز نہیں لاسکیں گے۔ اور یہ اپنے دعووں میں جھوٹے ہیں۔
    میں لگ گیا۔ اور زمین کی طرف اشارہ کیا۔ اور کہا کہ مَیں تو صرف خاکی ہوں۔ اور ان تہمتوں سے بَری ہوں جو مجھ پر لگائی جاتی ہیں۔ پَس مَیں نے اس کو ایک متواضع اور کسر نفسی کرنے والا آدمی پایا۔‘‘
    (نورالحق حصہ اوّل صفحہ 41۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 56، 57)
    (ب)’’خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ‘ ایک یہ بھی ہے جو مَیں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے۔ یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اُس سے باتیں کرکے اس کے اصل دعویٰ اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے یہ ایک بڑی بات ہے۔ جو توجہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفّارہ اور تثلیت اور انبیّت ہے ایسے متنفّر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء جو اُن پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔
    یہ مکاشفہ کی شہادت بے دلیل نہیں ہے بلکہ مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی طالب ِ حق نیّت کی صفائی سے ایک مدّت تک میرے پاس رہے اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجہ اور دُعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے۔ اُن سے باتیں بھی کرسکتا ہے اور اُن کی نسبت اُن سے گواہی بھی لے سکتا ہے۔ کیونکہ مَیں وہ شخص ہوں جس کی رُوح میں برُوز کے طور پر یسوع مسیح کی رُوح سکونت رکھتی ہے۔‘‘ (تحفہ قیصریہ صفحہ21۔ روحانی خزائن جلد12 صفحہ 273)
    1894ء
    ’’ وَرَاَیْتُہٗ مَرَّۃً اُخْرٰی قَآئِمًا عَلٰی عَتَبَۃِ بَابِیْ وَ فِیْ یَدِہٖ قِرْطَاسٌ کَصَحِیْفَۃٍ فَاُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ فِیْھَا اَسْمَائَ عِبَادٍ یُّحِبُّوْنَ اللّٰہَ وَیُحِبُّھُمْ وَبَیَانُ مَرَاتِبِ قُرْبِھِمْ عِنْدَ اللّٰہِ فَقَرَاْتَھَا فَاِذَافِیْ اٰخِرِھَا مَکْتُوْبٌ مِّنَ اللّٰہِ تَعَالٰی فِیْ مَرْتَبَتِیْ عِنْدَ رَبِّیْ۔
    ھُوَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ فَکَادَ اَنْ یُّعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔
    (ترجمہ) اور ایک مرتبہ مَیں نے اُس1کو دیکھا کہ میرے درازہ کی دہلیز پر کھڑا ہے اور ایک کاغذ خط کی طرح اُس کے ہاتھ میں ہے۔ سو میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس خط میں ان لوگوں کے نام درج ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کو دوست رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ اُنہیں دوست رکھتا ہے اور اُس میں اُن کے اُن مراتب ِ قرب کا بیان ہے جو عنداللہ اُن کو حاصل ہیں۔ پس مَیں نے اس خط کو پڑھا۔ سو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے آخر میں میرے مرتبہ کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ لکھا ہوا ہے۔ کہ وہ مجھ سے ایسا ہے۔ جیسا کہ میری توحید اور تفرید اور عنقریب وہ لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔‘‘
    (نورالحق حصہ اوّل صفحہ 41،42۔ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 57)
    1894ء
    (الف) ’’فَالْحَقُّ الَّذِیْ اَرَانَا الْحَقُّ الْحَکِیْمُ وَاَنْبَاَنَا اللَّطِیْفُ الْعَلِیْمُ ھُوَ اَنَّ حَرْبَۃَ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ سَمَاوِیَّۃٌ لَّا اَرْضِیَّۃٌ وَّ مُحَارَبَاتُہٗ کُلُّھَا بِاَنْظَارٍ رُّوْحَانِیَّۃٍ لَّا بِاَسْلِحَۃٍ
    1 حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو۔ (مرتّب)
    جِسْمَانِیَّۃٍ وَّ ھُوَ یَقْتُلُ الْاَعْدَآئَ بِعَقْدِ النَّظَرِ وَالْھِمَّۃِ اَعْنِیْ بِتَصَرُّفِ الْبَاطِنِ وَاِتْمَامِ الْحُجَّۃِ لَابِالسِّھَامِ وَالرِّمَاحِ وَالْمَشْرَفِیَّۃِ وَلَہٗ مَلَکُوْتُ السَّمَآئِ لَا مَلَکُوْتُ الْاَرْضِیْنَ۔
    (ترجمہ) پس وہ حق جو ہم کو حکیم مطلق نے دکھلایا اور لطیف علیم نے بتلایا۔ وہ یہی ہے کہ مسیح موعود کا حربہ آسمانی ہے نہ زمینی اور لڑائیاں اُس کی روحانی نظروں کے ساتھ ہیں نہ جسمانی ہتھیاروں کے ساتھ اور وہ دشمنوں کو نظر اور ہمت سے قتل کریگا۔ یعنی تصرّف باطن اور اتمام حجت کے ساتھ نہ تیر اور نیزہ اور تلوار سے اور اُس کی آسمانی بادشاہت ہے نہ زمینی۔‘‘ (نورالحق حصہ اوّل صفحہ 52۔ روحانی خزائن جلد8صفحہ72)
    (ب) ’’وَاَلْھَمَنَا اَنَّ الْحَرْبَ حَرْبٌ رُّوْحَانِیٌّ بِنَظَرٍ رُّوْحَانِیٍّ
    (ترجمہ) اور ہمارے ربّ نے ہمیں الہام دیا کہ مسیح موعود کی لڑائیاں، رُوحانی لڑائیاں ہیں جو رُوحانی نظر کے ساتھ ہوں گی۔‘‘
    (نورالحق حصہ اوّل صفحہ54۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 75)
    1894ء
    ’’وَاُلْقِیَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّ الْمَسِیْحَ سَمَّی الْاٰخِرِیْنَ مِنَ النَّصَارَ الدَّجَّالِیْنَ۔ لَا الْاَوَّلِیْنَ۔ وَاِنْ کَانَ الْاَوَّلُوْنَ اَیْضًا دَاخِلِیْنَ فِی الضَّآلِیْنَ الْمُحَرِّفِیْنَ۔ وَالسِّرُّفِیْ ذَالِکَ اَنَّ الْاَوَّلِیْنَ مَاکَانُوْا مُجْتَھِدِیْنَ سَاعِیْنَ لِاِضْلَالِ الْخَلْقِ کَمِثْلِ الْاٰخِرِیْنَ۔ بَلْ مَاکَانُوْا عَلَیْھَا قَادِرِیْنَ۔
    (ترجمہ) اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے آخری زمانہ کے نصاریٰ کا نام دجّال رکھا۔ اور ایسا نام پہلوں کا نہیں رکھا۔ اگرچہ پہلے بھی گمراہوں میں داخل تھے۔ اور کتابوں کی تحریف کرنے والے تھے۔ سو اس میں بھید یہ ہے کہ پہلے نصاریٰ خلق اللہ کے گمراہ کرنے کی ایسی سخت کوششیں نہیں کرتے تھے۔ جیسی پچھلوں نے کیں بلکہ وہ ان کوششوں پر قادر نہیں تھے۔ ‘‘
    (نورالحق حصہ اوّل صفحہ 57،58۔ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 79،80)
    1894ء
    ’’وَاُلْقِیَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّ الْمُرَادَ مِنْ لَّفْظِ الرُّوْحِ فِیْ اٰیَۃِ یَوْمَ یَقُوْمُ الرَّوْحُ جَمَاعَۃُ الرُّسُلِ وَالنَّبِیِّیْنَ وَالْمُحَدَّثِیْنَ اَجْمَعِیْنَ الَّذِیْنَ یُلْقَی الرُّوْحُ عَلَیْھِمْ وَیَجْعَلُوْنَ مُکَلَّمِیْنَ۔
    (ترجمہ) اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس آیت میں لفظ رُوح سے مراد رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت ہے۔ جن پر رُوح القدس ڈالا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں۔‘‘ (نورالحق حصہ اوّل صفحہ 73۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 98)
    1894ء
    ’’ وَاِنِّیْ اُلْھِمْتُ مِنْ رَّبِّیْ اَنَّکَ لَا تَقْدِرُ عَلٰی ھٰذَا النِّضَالِ وَیُبْدِی اللّٰہُ عَجْزَکَ وَیُخْزِیْکَ وَیُثْبِتُ اَنَّکَ اَسِیْرٌ فِی الْجَھْلِ وَ الضَّلَالِ وَ لَوِاجْتَمَعَتْ قَوْمُکَ مَعَکَ عَلٰی ھٰذَا الْخَیَالِ فَتَرْجِعُوْنَ مَغْلُوْبِیْنَ۔
    (ترجمہ) اورمجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ تُو1اس مقابلہ پر قادر نہیں ہوگا۔ اور خدا تعالیٰ تیرا عجز ظاہر کردے گا۔ تجھے رُسوا کردے گا اور ثابت کرے گا۔ کہ تُو گمراہی میں اسیر ہے اور اگرچہ تیری قوم اس خیال مقابلہ میں تجھ سے متفق ہوجائے مگر آخر تم مغلوب ہوجاؤ گے۔‘‘ (نورالحق حصہ اوّل صفحہ 114۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 153)
    1894ء
    ’’وَاِنِّیْٓ اَرٰٓی اَنَّ اَھْلَ مَکَّۃَ یَدْخُلُوْنَ اَفْوَاجًا فِیْ حِزْبِ اللّٰہِ الْقَادِرِ الْمُخْتَارِ وَھٰذَا مِنْ رَّبِّ السَّمَآئِ وَ عَجِیْبٌ فِیْ اَعْیُنِ اَھْلِ الْاَرْضِیْنَ۔
    (ترجمہ) اور مَیں دیکھتا ہوں کہ اہل ِ مکّہ خدائے قادر کے گروہ میں فوج در فوج داخل ہوجائیں گے۔ اور یہ آسمان کے خدا کی طرف سے ہے اور زمینی لوگوں کی آنکھوں میں عجیب۔‘‘ (نورالحق حصہ دوم صفحہ 10۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 197)
    1894ء
    ’’فَالتَّاْوِیْلُ الصَّحِیْحُ وَالْمَعْنَی الْحَقُّ الصَّرِیْحُ اَنَّ الْمُرَادَ مِنْ خُسُوْفِ اَوَّلِ لَیْلَۃِ رَمَضَانَ اَنْ یَّنْخَسِفَ القَمَرُ فِیْ لَیْلَۃٍ اُوْلٰی مِنْ لِّیَالٍ ثَلَاثٍ یَّکْمُلُ نُوْرُالْقَمَرِ فِیْھَا وَتَعْرِفُ اَیَّامَ الْبِیْضِ..... اَلْمُرَادُ مِنْ قَوْلِہٖ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِی النِّصْفِ مِنْہُ اَنْ یَّظْھَرَ کُسُوْفُ الشَّمْسِ مُنَصِّفًا اَیَّامَ الْاِنْکِسَافِ ...... وَمَاقُلْتُ مِنْ نَّفْسِیْ بَلْ ھٰذَآ اِلْھَامٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔‘‘
    (ترجمہ) پس تاویل صحیح اور معنی حق صریح یہ ہیں۔ کہ یہ فقرہ کہ خسوف اوّل رات رمضان میں ہوگا۔ اس کے معنے یہ ہیں۔ کہ ان تین راتوں میں سے جو چاندنی راتیں کہلاتی ہیں۔ پہلی رات میں گرہن ہوگا۔ اور ایامِ بیض کو تُو جانتا ہے...........یہ قول کہ سورج گرہن اُس کے نصف میں ہوگا۔ اس سے یہ مراد ہے کہ سورج گرہن ایسے طور سے ظاہر ہوگا کہ ایامِ کسوف کو نصفا نصف کردے گا.............یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ خدا تعالیٰ کے الہام سے کہا ہے۔‘‘
    (نورالحق حصہ دوم صفحہ 13،15،19۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 201،204،210)
    1894ء
    ’’2 اِعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ نَفَثَ فِیْ رُوْعِیْ اَنَّ ھٰذَا الْخُسُوْفَ وَالْکُسُوْفَ فِیْ رَمَضَانَ اٰیَتَانِ مُخَوِّفَتَانِ لِقَوْمِ انِ تَّبِعُوْا الشَّیْطَانَ۔ وَاٰثَرُوا الظُّلْمَ وَ الطُّغْیَانَ وَھَیَّجُوا الْفِتَنَ وَاَحَبُّو الْاِفْتِنَانَ
    1 یعنی پادری عمادالدین۔ (مرتب)
    2 ’’میں نے اپنی کتاب نورالحق کے صفحہ 35 سے صفحہ38 تک یہ پیشگوئی لکھی ہے۔ کہ خدا نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ رمضان میں جو خسوف کسوف ہوا۔ یہ آنے والے عذاب کا ایک مقدمہ ہے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق ملک میں ایسی طاعون پھیلی کہ اب تک تین لاکھ کے قریب لوگ مرگئے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ 228۔ روحانی خزائن جلد22 صفحہ 239)
    وَمَا کَانُوْا مُنْتَھِیْنَ........ وَلَئِنْ اَبَوْا فَاِنَّ الْعَذَابَ قَدْحَانَ۔
    (ترجمہ) جان کہ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں پھونکا کہ یہ خسوف اور کسُوف جو رمضان میں ہوا ہے یہ دو خوفناک نشان ہیں۔ جو ان کے ڈرانے کے لئے ظاہر ہوئے ہیں۔ جو شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔ جنہوں نے ظلم اور بے اعتدالی کو اختیار کرلیا..... اور اگر نافرمانی کی تو عذاب کا وقت تو آگیا۔‘‘ (نورالحق حصہ دوم صفحہ 35۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 227،228)
    1894ء
    ’’فَمَآ اَنَا اَدْعُوْھُمْ کُلَّھُمْ کَدَعْوَتِیْ لِلنَّصَارٰی لِھٰذِہِ الْمُقَابَلَۃِ.......وَعُلِّمْتُ مِنْ رَّبِیْ اَنَّھُمْ مِّنَ الْمَغْلُوْبِیْنَ۔1 ‘‘
    (نورالحق حصہ دوم آخری صفحہ ٹائٹل پیج۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ271،272)
    1894ء
    وَبَشَّرَنِیْ وَقَالَ
    ’’اِنَّ الْمَسِیْحَ الْمَوْعُوْدَ الَّذِیْ یَرْقُبُوْنَہٗ وَالْمَھْدِیَّ الْمَسْعُوْدَ الَّذِیْ یَنْتَظِرُوْنَہٗ ھُوَاَنْتَ۔ نَفْعَلُ مَانَشَآئُ فَلَاتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔2 ‘‘ (اتمام الحجۃ صفحہ 3۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ275)
    1894ء
    ’’اِنَّکَ مِنَ الْمَاْمُوْرِیْنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآ ؤُھُمْ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۔ 3‘‘
    (سرّ الخلافہ صفحہ8۔ روحانی خزائن جلد8 صفحۃ 326)
    1894ء
    ’’4 وَاَظھَر عَلَیَّ رَبِّیْ اَنَّ الصِّدِّیْقَ وَالْفَارُوْقَ وَعُثْمَانَ کَانُوْا مِنْ اَھْلِ الصَّلَاحِ وَالْاِیْمَانِ۔ وَکَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰثَرَھُمُ اللّٰہُ وَخُصُّوْا بِمَوَاھِبِ الرَّحْمَانِ.............
    وَاِنِّیْ اُخْبِرْتُ اَنَّھُمْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ وَمَنْ اٰذَاھُمْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہَ وَکَانَ مِنَ
    1 (ترجمہ از مرتب) پس مَیں ان تمام (مکفر مولویوں) کو اس مقابلہ کے لئے بلاتا ہوں جیسا کہ مَیں نے عیسائیوں کو بُلایا۔ اور میرے ربّ کی طرف سے مجھے علم دیا گیا ہے کہ وہ مغلوب ہوں گے۔
    2 (ترجمہ از مرتب) خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کا انتظار کرتے ہیں۔ وہ تُو ہے ہم جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔
    3 (ترجمہ از مرتب) تو مامور ہے کہ ان لوگوں کو ڈرائے۔ جن کے باپ دادوں کے پاس کوئی نذیر نہیں آیا تھا اور تاکہ مجرموں کی راہ اچھی طرح ظاہر ہوجائے۔
    4 (ترجمہ از مرتب) اور میرے ربّ نے مجھ پر یہ ظاہر کیا کہ صدیق ؓ اور فاروقؓ اور عثمان ؓ صالح اور مومن تھے۔ اور اُن
    الْمُعْتَدِیْنَ۔ ‘‘ (سرّ الخلافہ صفحہ 8،9۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 326،327)
    1894ء
    ’’وَعُلِّمْتُ اَنَّ الصِّدِّیْقَ اَعْظَمُ شَانًا وَّ اَرْفَعُ مَکَانًا مِّنْ جَمِیْعِ الصَّحَابَۃِ۔ 1‘‘
    (سرّ الخلافہ صفحہ 18۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 337)
    1894ء
    ’’ 2کَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَارِفًا تَآمَّ الْمَعْرِفَۃِ حَلِیْمَ الْخُلُقِ رَحِیْمَ الْفِطْرَۃِ۔ وَکَانَ یَعِیْشُ فِیْ زِیِّ الْاِنْکِسَارِ وَالْغُرْبَۃِ۔ وَکَانَ کَثِیْرَ الْعَفْوِ وَالشَّفْقَۃِ وَالرَّحْمَۃِ۔ وَکَانَ یُعْرَفُ بِنُوْرِ الْجَبْھَۃِ وَکَانَ شَدِیْدَ التَّعَلُّقِ بِالْمُصْطَفٰی وَالْتَصَقَتْ رُوْحُہٗ بِرُوْحِ خَیْرِ الْوَرٰی وَغَشِیَہٗ مِنَ النُّوْرِمَا غَشِیَ مُقْتَدَاہُ مَحْبُوْبَ الْمَوْلٰی وَاخْتَفیٰ تَحْتَ شَعْشَعَانِ نُوْرِ الرَّسُوْلِ وَفُیُوْضِہِ الْعُظْمٰی۔ وَکَاَ نَ مُمْتَازًا مِّنْ سَائِرِ النَّاسِ فِیْ فَھْمِ الْقُرْاٰنِ وَفِیْ مَحَبَّۃِ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَ فَخْرِ نَوْعِ الْاِنْسَانِ۔
    وَلَمَّا تَجَلّٰی لَہٗ النَّشْأَۃُ الْاُخْرَوِیَّۃُ وَالْاَسْرَارُ الْاِلٰھِیَّۃُ نَفَضَ التَّعَلُّقَاتِ الدُّنْیَوِیَّۃَ وَنَبَذَالْعِلَقَ الْجِسْمَانِیَّۃَ وَانْصَبَغَ بِصِبْغِ الْمَحْبُوْبِ وَتَرَکَ کُلَّ مُرَادٍ لِّلْوَاحِدِالْمَطْلُوْبِ وَتَجَرَّدَتْ نَفْسُہٗ عَنْ کُدُوْرَاتِ الْجَسَدِ وَتَلَوَّنَتْ بِلَوْنِ الْحَقِّ الْاَحَدِ وَغَابَتْ فِیْ مَرْضَاتِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
    وَاِذَا تَمَکَّنَ الْحُبُّ الصَّادِقُ الْاِلٰھِیُّ مِنْ جَمِیْعِ عُرُوْقِ نَفْسِہٖ وَجَذْرِ قَلْبِہٖ وَ ذَرَّاتِ وُجُوْدِہٖ
    )لوگوں( میں سے تھے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے چُن لیا۔ اور خدا تعالیٰ کی عطا سے مخصُوص کئے گئے اور مجھے خبر دی گئی۔ کہ وہ صالحین میں سے تھے۔ اور جس شخص نے ان کو ایذا پہنچائی تو اُس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچائی اور وہ حد سے گذرنے والا ہوا۔
    1 (ترجمہ از مرتب) اور مجھے علم دیا گیا ہے کہ صدیق ؓ تمام صحابہ میں سے بڑی شان اور بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔
    2 (ترجمہ از مرتب) وہ (یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) عارفِ کامل‘ عادۃً حلیم اور فطرۃً رحیم تھے۔ خاکساری اور انکسار آپ کا شیوہ تھا اور عفو ‘ شفقت و رافت آپ کامعمول تھا۔ اور آپ کی پیشانی سے نور ٹپکتا تھا۔ آپ کا آنحضرت ؐ سے ایسا گہرا تعلق تھا کہ آپ کی روح آنحضرت ؐ کی رُوحِ پاک سے متحد ہوچکی تھی۔ اور آپ پر اُنہیں انوار کا نزول ہوگیا تھا۔ جو آنحضرت ؐ کے شامل ِ حال تھے۔ اور آنحضرت ؐ کے انوار و فیوض عظیمہ آپ پر محیط تھے۔ فہم قرآن اور محبت ِ نبوی ؐ میں آپ کو سب لوگوں سے ممتاز طور پر حصہ ٔوافر ملا تھا۔
    اور جب آپ پر رُوحانی عالم اور اسرارِ الٰہیہ کا دروازہ کھُلا۔ تو آپ نے عام دنیوی تعلقات اور جسمانی علائق کو چھوڑ دیا۔ اور محبوب حقیقی کے رنگ میں رنگین ہوگئے اور خداوند ِ یکتا کی راہ میں ہر ایک مراد کو چھوڑ دیا۔ اور جسمانی کدورتوں کا جامہ اُتار کر خدائی صفات کا جامہ پہن لیا اور رضائے الٰہی میں محو ہوگئے۔
    اور جب عشق ِ حقیقی آپ کے رگ و ریشہ میں اور ہر ذرّۂ وجود میں جاگزین ہوگیا اور اس کے
    وَظَھَرَتْ اَنْوَارُہٗ فِیْٓ اَفْعَالِہٖ وَ اَقْوَالِہٖ وَ قِیَامِہٖ وَقُعُوْدِہٖ سُمِّیَ صِدِّیْقًا وَّ اُعْطِیَ عِلْمًا غَضًّا طَرِیًّا وَّ عَمِیْقًا مِّنْ حَضْرَۃِ خَیْرِ الْوَاھِبِیْنَ فَکَانَ الصِّدْقُ لَہٗ مَلَکَۃً مُّسْتَقِرَّۃً وَ عَادَۃً طَبْعِیَّۃً وَّ بَدَتْ فِیْہِ اٰثَارُہٗ وَ اَنْوَارُہٗ فِیْ کُلِّ قَوْلٍ وَّفِعْلٍ وَّحَرَکَۃٍ وَّسُکُوْنٍ وَّحَوَآسَّ وَاَنْفَاسٍ وَّ اُدْخِلَ فِی الْمُنْعَمِیْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِیْنَ وَ اِنَّہٗ کَانَ نُسْخَۃً اِجْمَالِیَّۃً مِّنْ کِتَابِ النُّبُوَّۃِ وَکَان اِمَامَ اَرْبَابِ الْفَضْلِ وَانْفُتُوَّۃِ وَمِنْ بَقِیَّۃِ طِیْنِ النَّبِیِّیْنَ۔
    وَلَا تَحْسَبْ قَوْلَنَا ھٰذَا نَوْعًا مِّنَ الْمُبَالَغَۃِ وَلَا مِنْ قَبِیْلِ الْمُسَامَحَۃِ وَالتَّجَوُّزِ وَلَا مِنْ نَوْرِ عَیْنِ الْمُحَبَّۃِ بَلْ ھُوَا لْحَقِیْقَۃُ الَّتِیْ ظَھَرَتْ عَلَیَّ مِنْ حَضْرَۃِ الْعِزَّۃِ۔‘‘
    (سرّ الخلافہ صفحہ 31،32۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 355)
    1894ء
    (الف) ’’ خدا تعالیٰ کے الہام نے مجھے جتلادیا کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم نے اسلام کی عظمت اور اُس کے رعب کو تسلیم کرکے حق کی طرف رجوع کرنے کا کسی قدر حصہ لے لیا جس حصہ نے اُس کے وعدہ موت اور کامل طور کے ہاویہ میں تاخیر ڈال دی۔ اور ہاویہ میں تو گرا۔ لیکن اس بڑے ہاویہ سے تھوڑے دنوں کے لئے بچ گیا۔ جس کا نام موت ہے..........
    خدا تعالیٰ نے ..........مجھے فرمایا:۔
    1اِطَّلَعَ اللّٰہُ عَلٰی ھَمِّہٖ وَغَمِّہٖ۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا۔ وَلَا تَعْجَبُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ وَبِعِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔ وَنُمَزِّقُ
    انوار آپ کے افعال و اقوال اور نشست و برخاست میں نمایاں طور پر نظر آنے لگے تو آپ کو صدّیق کا نام دیا گیا اور تازہ اور باریک علوم خداوند تعالیٰ کی طرف سے عطاہوئے جس کے نتیجہ میں صدق آپ کی فطرت میں داخل ہوگیا اور طبعی عادت بن گیا اور اس کے آثارو انوار آپ کے ہر ایک قول وفعل اور ہر ایک حرکت و سکون میں نیز آپ کے حواس اور انفاسِ طیّبہ میں ظاہر ہوگئے اورآپکو خداوندِ کریم نے اپنے خاص انعام یافتہ لوگوں میں داخل فرمایا اور حق یہ ہے کہ آپ کا وجود کتابِ نبوّت کا ایک اجمالی نسخہ تھا اورآپ اربابِ فضل و کمال کے پیشوا اورانبیاء کی پاک سرشت سے بہرہ یاب تھے۔
    میرا یہ کلام مبالغہ پر ہر گز مبنی نہیں ہے۔ نہ اس کی بناء محض خوش اعتقادی پر ہے بلکہ یہ وہ حقیقت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر ہوئی ہے۔
    1 (نوٹ از مرتب) محترم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے درویش قادیان منشی محمد اسمٰعیل صاحب سیالکوٹی سے روایت کرتےہیں کہ ’’جب آتھم کی میعاد کا آخری دن تھا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد مبارک کی چھت پر تشریف لائے اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓ کو بُلایا اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔ اِطَّلَعَ اللّٰہُ عَلٰی ھَمِّہٖ وَغَمِّہٖ۔ اور اس کی تفہیم یہ ہوئی ہے کہ ہٖ کی ضمیر آتھم کی طرف جاتی ہے اس لئے معلوم ہوا کہ وہ اس میعاد کے اندر نہیں مرے گا۔ ‘‘ (اصحابِ احمد جلد اوّل صفحہ 57)
    الْاَعْدَآئَ کُلَّ مُمَزَّقٍ۔ وَّ مَکْرُ اُوْلٰٓئِکَ ھُوَ یَبُوْرُ۔ اِنَّانَکْشِفُ السِّرَّعَنْ سَاقِہٖ۔ یَوْ مَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ وَھٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا۔
    ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ہم ّ اور غم ّ پر اطلاع پائی۔ اور اس کو مہلت دی۔ جب تک کہ وہ بے باکی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف میل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھُلادے (یہ معنے فقرہ مذکورہ کے تفہیم الٰہی سے ہیں) اور پھر فرمایا۔ کہ خدا تعالیٰ کی یہی سُنّت ہے۔ اور ربّانی سنتوں میں تغیر اور تبدّل نہیں پائے گا اس فقرہ کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا۔ جب تک ایسے کامل اسباب پیدا نہ ہوجائیں۔ جو غضب الٰہی کو مشتعل کریں اور اگر دل کے کسی گوشہ میں بھی کچھ خوف الٰہی مخفی ہو اور کچھ دھڑکہ شروع ہوجائے تو عذاب نازل نہیں ہوتا۔ اور دوسرے وقت پر جا پڑتا ہے۔
    اور پھر فرمایا کہ کچھ تعجب مت کرو اور غمناک مت ہو اور غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر قائم رہو (یہ اس عاجز کی جماعت کو خطاب ہے) اور پھر فرمایا۔ کہ مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ تُو ہی غالب ہے (یہ اس عاجز کو خطاب ہے) اور پھر فرمایا کہ ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کردیں گے۔ یعنی ان کو ذلّت پہنچے گی اور ان کا مکر ہلاک ہوجائے گا۔ اس میں یہ تفہیم ہوئی کہ تم ہی فتحیاب ہو نہ دشمن۔ اور خدا تعالیٰ بس نہیں کرے گا اور نہ باز آئے گا، جب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور اُن کو ہلاک نہ کردے یعنی جو مکر بنایا گیا اور مجسم کیا گیا، اُس کو توڑ ڈالے گا۔ اور اُس کو مُردہ کرکے پھینک دے گا اور اُس کی لاش لوگوں کو دکھا دے گا اور پھر فرمایا کہ ہم اصل بھید کو اس کی پنڈلیوں میں سے ننگا کرکے دکھا دیں گے۔ یعنی حقیقت کو کھول دیں گے اور فتح کے دلائل ِ بیّنہ ظاہر کریں گے اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔ پہلے مومن بھی اور پچھلے مومن بھی اور پھر فرمایا کہ و جہ مذکورہ سے عذاب موت کی تاخیر ہماری سُنّت ہے۔ جس کو ہم نے ذکر کردیا۔ اب جو چاہے وہ راہ اختیار کرلے جو اُس کے ربّ کی طرف جاتی ہے ا س میں بدظنّی کرنے والوں پر زجر اور ملامت ہے اور نیز اس میں یہ بھی تفہیم ہوئی ہے کہ جو سعادت مند لوگ ہیں ‘ اور جو خدا ہی کو چاہتے ہیں اور کسی بخل اور تعصّب یا جلد بازی یا سوء فہم کے اندھیرے میں مبتلا نہیں وہ اِس بیان کو قبول کریں گے۔ اور تعلیم الٰہی کے موافق اس کو پائیں گے لیکن جو اپنے نفس اور اپنی نفسانی ضد کے پیرو یا حقیقت شناس نہیں وہ بے باکی اور نفسانی ظلمت کی و جہ سے اُس کو قبول نہیں کریں گے۔‘‘
    (انوار الاسلام صفحہ 2،3۔ روحانی خزائن جلد9 صفحہ 2،3)
    (ب) ’’ اس ہماری تحریر سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ جو ہونا تھا وہ سب ہوچکا اور آگے کچھ نہیں۔ کیونکہ آئندہ کے لئے الہام میں یہ بشارتیں ہیں۔ وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَآئَ کُلَّ مُمَزَّقٍ۔ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ
    وَثُلَّۃٌ مِنَ الْاٰخِرِیْنَ۔یعنی مخالف فاش شکستوں سے پارہ پارہ ہوجائیں گے اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔ پہلا گروہ بھی اور پچھلا گروہ بھی۔ پس یقینا سمجھو کہ وہ دن آنے والے ہیں کہ وہ سب باتیں پوری ہوں گی جو الٰہی الہام میں آچکیں۔ دشمن شرمندہ ہوگا اور مخالف ذلّت اُٹھائے گا اور ہریک پہلو سے فتح ظاہر ہوجائے گی اور یقینا سمجھئے کہ یہ بھی ایک فتح ہے اور آنے والی فتح کا ایک مقدّمہ ہے۔‘‘
    (انوار الالسلام صفحہ 15،16۔ روحانی خزائن جلد9 صفحہ 16،17)
    (ج) ’’ بعض وقت ایک باریک پیشگوئی لوگوں کے امتحان کے لئے ہوتی ہے۔ تا خدا تعالیٰ اُنہیں دکھلاوے کہ ان کی عقلیں کہاں تک ہیں۔ اور ہم لکھ چکے ہیں کہ حدیث نبویؐ کی رُو سے اِس پیشگوئی میں کج دل لوگوں کا امتحان بھی منظور تھا۔ اِس لئے باریک طور پر پوری ہوئی۔ مگر اس کے اور بھی لوازم ہیں جو بعد میں ظاہر ہوں گے جیسا کہ کشف ِ ساق کی پیشگوئی اِس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔‘‘ (اشتہار ملحقہ ضیاء الحق صفحہ8۔ روحانی خزائن جلد9 صفحہ 319)
    1894ء
    ’’ خدائے تعالیٰ نے کئی دفعہ میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اس جماعت پر ایک ابتلاء آنے والا ہے۔ تا اللہ تعالیٰ دیکھے کہ کون سچا ہے اور کون کچا ہے۔‘‘ (مکتوب نمبر 7 بنام نواب محمد علی خان صاحب مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم صفحہ 67)
    1894ء
    ’’اِس1 تحریر کے لکھنے کے بعد مجھ پر نیند غالب ہوگئی۔ اور مَیں سو گیا۔ اور خواب میں دیکھا کہ اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب ایک جگہ لیٹے ہوئے ہیں اور اُن کی گود میں ایک بچہ کھیلتا ہے جو اُنہیں کا ہے اور وہ بچہ خوش رنگ خوبصورت ہے اور آنکھیں بڑی بڑی ہیں۔ مَیں نے مولوی صاحب سے کہا کہ خدا نے بعوض محمد احمد آپ کو وہ لڑکا دیا کہ رنگ میں ‘ شکل میں ‘ طاقت میں اُس سے بدرجہا بہتر ہے۔ اور مَیں دل میں کہتا ہوں کہ یہ تو اور بیوی کا لڑکا معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلا لڑکا تو ضعیف الخلقت ‘ بیمار سا اور نیم جان سا تھااور یہ تو قوی ہیکل اور خوش رنگ ہے اور پھر میرے
    1 یعنی تحریر متعلق سعد اللہ لدھیانوی۔ (مرتب)
    نوٹ:۔ حضرت مولانا حاجی حافظ نور الدین خلیفۃ المسیح اوّل ؓ فرماتے ہیں:۔
    ’’میرا لڑکا عبدالحی آیۃ اللہ ہے۔ محمد احمد مر گیاتھا۔ لودھیانہ کے ایک معترض نے اس پر اعتراض کیا ..........مَیں نے اس لودھیانوی معترض کی تحریر کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا اوراُس پر کوئی توجہ نہ کی۔ مگر میرے آقا و امام نے اس پر توجہ کی ‘ تو اس کو وہ بشارت ملی جو انوارالاسلام کے صفحہ 26 (روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 27) پر درج ہے۔ اور پھر اس کے چند برس بعد یہ بچہ جس کا نام عبدالحی ہے، پیدا ہوا۔ کشف کے مطابق اس کے جسم پر بعض پھوڑے نکلے۔ جن کے علاج میں میری طبابت گرد تھی۔ عبدالحی کو ان پھوڑوں کے باعث سخت تکلیف تھی اور وہ ساری رات اور دن بھر تڑپتا اور بے چین رہتا۔ جس کے ساتھ ہم کو بھی کرب ہوتا۔ مگر ہم مجبور تھے، کچھ نہ کرسکتے تھے۔ ان پھوڑوں کے علاج کی طرف بھی اس کشف میں ایما تھا۔ اور اس کی ایک جُزو ہلدی تھی اور اس کے ساتھ ایک اور دوائی تھی جو یاد نہ رہی تھی۔ ہم نے اس کے اضطراب اور کرب کو دیکھ کر چاہا کہ ہلدی لگائیں۔ آپ نے کہا کہ مَیں جرأت نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا دوسرا جُزو یاد نہیں۔ مگر ہم نے غلطی
    دل میں یہ آیت گذری جس کا زبان سے سنانا یاد نہیں۔ اور وہ یہ ہے:۔
    مَانَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَانَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھَا۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔1
    اور مَیں جانتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عَدُوّالدین2کا جواب ہے کیو نکہ اس نے عیسائیوں کا حامی بن کر اسلام پر حملہ کیا۔ اور وہ بھی بیجا اور بے ایمانی سے بھرا ہوا حملہ۔ اور ایک جُزو اس خواب کی رہ گئی۔ مَیں نے دیکھا کہ اس بچہ کے بدن پر کچھ پھنسی یا ثُؤْلُوْل کے مشابہ بخارات نکل رہے ہیں۔ اور کوئی کہتا ہے کہ اس کا علاج ہلدی اور ایک اور چیز ہے۔ واللہ اعلم۔‘‘
    (انوار الاسلام صفحہ 26 بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 27،28 بقیہ حاشیہ درحاشیہ)
    1894ء
    ’’اولاد کے بارے میں میاں عبدالحق3نے کوئی الہام تو پیش نہ کیا۔ صرف طولِ امل ہے لیکن ہم کو اس بارہ میں بھی الہام ہوا اور اللہ جلّ شانہٗ نے بشارت دی اور فرمایا کہ
    اِنَّا نَبَشِّرُکَ بَغُلَامٍ
    یعنی ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں4۔‘‘
    (انوار الاسلام صفحہ 39 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد9 صفحہ 40 حاشیہ)
    کھائی اور ہلدی لگادی۔ جس سے وہ بہت ہی تڑپا اور آخر ہم کو وہ دھونی پڑی۔ اس سے ہمارا ایمان تازہ ہوگیا کہ ہم کیسے ضعیف اور عاجز ہیں کہ اپنے قیاس اور فکر سے اتنی بات نہیں نکال سکے۔ اور یہ مامور اور مُرسلوں کی جماعت ایک مشین اور کَلْ کی طرح ہوتے ہیں جس کے چلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔ اس کے بُلائے بغیر یہ نہیں بولتے۔ غرض میرا ایمان ان نشانوں سے بھی پہلے کا ہے اور یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو نشان کے بغیر نہ چھوڑا۔ سینکڑوں نشان دکھادیئے۔‘‘
    (رسالہ تفسیر سُورۂ جمعہ صفحہ 48،49)
    یہ لڑکا اس پیشگوئی کے پانچ سال بعد 15؍فروری 1899ء کو پید اہوا۔ جس کا نام عبدالحی رکھا گیا۔ (مرتب)
    1 (ترجمہ از مرتب) جس نشان کو بھی ہم مٹادیں یا بھلوادیں اس بہتر دوسرا نشان یا اس جیسا نشان لاتےہیں۔ کیا تُو نہیں جانتا کہ خداتعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ: 107)
    2 سعد اللہ لدھیانوی۔ (مرتب)
    3 یعنی میاں عبدالحق غزنوی ثمَّ امرتسری ۔ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مباہلہ کیا تھا۔ (مرتب)
    4 ہمیں خدا تعالیٰ نے عبدالحق کی یاوہ گوئی کے جواب میں بشارت دی تھی کہ تجھے ایک لڑکا دیا جائے گاجیسا کہ ہم اسی رسالہ انوار الاسلام میں اس بشارت کو شائع بھی کرچکے ہیں۔ سو الحمدللہ والمنتہ کہ اس الہام کے مطابق 27؍ذیقعد 1312ھ مطابق 24؍مئی 1895ء میں میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوا۔ جس کا نام شریف احمد رکھا گیا۔‘‘
    (ٹائٹل ضیاء الحق صفحہ آخر۔ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 323)
    یہاں 1894ء کے وہ الہامات درج کئے جاتے ہیں جو حضڑت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک کاپی میں درج فرمائے تھے۔ اورجب 1935ء حضرت صاحبزادہ مرزابشیر احمد صاحب نے پہلی بارتذکرہ مرتب کیا تھا اُس وقت یہ گم ہوچکی تھی۔ 1938ء میں یہ کاپی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو مل گئی اور حضور نے اس کا ذکر اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 19اگست 1938ء مطبوعہ الفضل جلد 26نمبر20 مورخہ 31 اگست 1938ء میں فرمایا تھا۔ بعد میں یہ کاپی دوبارہ کاغذات میں کہیں گم ہوگئی اور1983ء میں قادیان سے مل گئی اورآجکل یہ تبرکات کمیٹی ربوہ کی تحویل میں ہے۔ دیباچہ میں اس کی فوٹو بھی شائع کی گئی ہے۔ موجودہ تذکرہ کے متن میں یہ الہامات صفحہ188 سے صفحہ194 تک درج ہیں ان پر ’’٭‘‘ کا نشان لگادیا گیا ہے۔
    ٭ 17 اگست 1894ء
    اِنِّیْ اَنَا الْوَدُوْدُالْکَرِیْمُ۔ 1
    ٭ 18 اگست 1894ء
    اِنَّ اللہ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْاوَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔ 2
    ٭22 اگست 1894ء
    وَفِیْ ذَالِکُمْ بَلَاٌء مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ 3
    ٭ 25 اگست 1894ء
    (الف) اِنَّ النَّاسَ کَانُوْبِاٰیَاتِنَایَجْحَدُوْنَ۔ 4
    (ب) ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاَنْفُسِھِمْ خَیْرًا۔5
    1 (ترجمہ از مرتّب) یقیناً میں بہت محبت کرنے والا مہربان ہوں۔
    2 (ترجمہ) خداان کے ساتھ ہے جو پرہیزگاری اختیارکرتے ہیں اوران کے ساتھ ہے جو نیکوکارہیں۔
    (انجامِ آتھم ۔ روحانی خزائن جلدنمبر11 صفحہ54)
    3 (ترجمہ از مرتّب) اوراس میں تمہارے خدا کی طرف سے تمہارا بڑا اِمتحان تھا۔
    4 (ترجمہ از مرتّب) یقیناً لوگ ہمارے نشانوں کا انکارکرتے تھے۔
    5 (ترجمہ از مرتب) مومنوں نے اپنے (لوگوں کے) بارہ میں نیک گمان کیا۔
    ٭ 26 اگست 1894ء
    یَوْمَئذٍیَّفْرَحُ الْمُؤمِنُوْنَ۔ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰ خِرِیْنَ۔ 1
    ٭ 26 اگست 1894ء
    (الف) اِنَّانَکْشِفُ السِّرَّعَنْ سَاقِہٖ۔ 2
    (ب) وَلَاتَعْجَبُوْ اوَلَاتَحْزَنُوْاوَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ اِنَّکَ اَنْتَ الْاعْلٰی ۔ 3
    ٭27 اگست 1894ء
    (الف) اِنِّیْ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔ 4
    (ب) مَیں نے دیکھا کہ ایک بَیت اللہ اور ایک طرف بَیت المقدس اور بیچ میں مَیں کھڑا ہوں۔
    (ج) مَیں نے دیکھا کہ کچھ کیلے میرے سامنے رکھے ہیں اورایک کیلا مَیں نے حامد علی کودیا ہے۔
    ٭ 29اگست 1894ء
    لَنْ تَجِدَ لِسُنُّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا۔ 5
    ٭ 31 اگست 1894ء
    (الف) اِطَّلَعَ اللہُ عَلیٰ ھَمِّہٖ وَغَمِّہٖ۔ 6
    1 (ترجمہ) اس دن مومن خوش ہوں گے۔ ایک گروہ پہلوں میں سے اورایک گروہ پچھلوں میں سے۔
    (انجامِ آتھم۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ61)
    2 (ترجمہ) ہم حقیقت کو اس کی پنڈلی سے کھول دیں گے۔
    3 (ترجمہ) اورتعجّب مت کرو اورغمناک مت ہو اورتم ہی غالب ہوگے اگر تم ایمان پر ثابت قدم رہے۔ یقیناً غلبہ تجھ ہی کو ہے۔
    (انجامِ آتھم۔ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 61)
    4 (ترجمہ از مرتب) یقیناً میرا ربّ میرے ساتھ ہے اوروہ یقیناً میری رہبری کرے گا۔
    5 (ترجمہ) تُو خدا کی سُنّت میں تبدیلی نہیں پائے گا۔ (انجامِ آتھم۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 61)
    6 (ترجمہ) خدا اس کے یعنی آتھم کے غم پر مطلع ہؤا۔ (انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 61)
    (ب) اِطَّلَعَ اللہُ عَلٰی ھَمِّہٖ وَغَمِّہٖ۔ وَلَنْ تَجِدَلِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِیْلًا۔ وَلَا تَعْجَبُوْ وَلَاتَحْزَنُوْا۔1 وَفِیْ ذَالِکَ بَلَائٌ مِّنْ رَّبِکُمْ عَظِیْمٌ2
    وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ اِنَّانَکْشِفُ السِّرَّعَنْ سَاقِہٖ۔ وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَءَ کُلَّ مُمَزَّقٍ۔ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ ھٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَائَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیلًا۔3
    ٭یکم ستمبر1894ء
    اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْحُزْنَ۔4
    ٭2 ستمبر1894ء
    (الف) میں نے دیکھا کہ کئی انار میرے پاس رکھے ہیں اور ایک انار مَیں نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔
    (ب) وَمَکْرُاُوْلٰئِکَ ھُوَیَبُوْرُ۔ 5
    1 (ترجمہ) خدا اس کے یعنی آتھم کے غم پر مطلع ہؤا۔ یہ خدا کی سُنّت ہے اورتُو خدا کی سُنّت میں تبدیلی نہیں پائے گا۔ اورتعجّب مَت کرو اورغمناک مَت ہو۔
    2 (ترجمہ از مرتّب) اور اس میں تمہارے رَبّ کی طرف سے عظیم ابتلاء ہے۔
    3 (ترجمہ) اور تم ہی غالب ہو اگر تم ایمان پر ثابت قدم رہے۔ اورہم حقیقت کو اس کی پنڈلی سے کھول دیں گے۔ اورہم دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔ اس دن مومن خوش ہوں گے۔ اور گروہ پہلوں میں سے اورایک پچھلوں میں سے۔ یہ تذکرہ ہے جو چاہے خدا کی راہ کو اختیار کرے۔
    4 (ترجمہ) اس خدا کو تعریف جس نے میرا غم دُور کیا۔ (حقیقتہ الوحی۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 110)
    5 (ترجمہ) اور ان کا مَکر ہلاک ہوجائے گا۔ (انجامِ آتھم۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 61)
    (ج) اَیْ یَھْلِکُ بَعْدَوُجُوْدِھَاوَتَجَسُّمِھَا۔ وَیَمُوْتُ بَعْدَ حَیَاتِھَا فِیْ اَعْیُنِ النَّاسِ۔1
    (د) کَمِثْلِکَ دُرٌّلَّایُضَاعُ۔2
    (ہ) عَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْاشَیْئًا وَّھُوَخَیْرٌلَّکُمْ وَعَسٰی اَنْ تُحِبُّوْاشَیْئًاوَّ ھُوَشَرٌّلَّکُمْ وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن۔ 3
    ٭14ستمبر1894ء
    وَقْتُ الْاِبْتِلَائِ وَوَقْتُ الْاِ صْطِفَا ئِ وَلَایُرَدُّوَقْتُ الْعَذَابِ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔4
    ٭18ستمبر1894ء
    (الف) لَنْ یَّجْعَلَ اللہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۔5
    (ب) داغِ ہجرت
    1 (ترجمہ از مرتّب) یعنی اس کے وجود پانے اورجسم اختیار کرنے کے بعد وہ ہلاک ہوجائے گا اورلوگوں کی نظرمیں اس کی حیات کے بعد وہ مَرجائے گا۔
    2 (ترجمہ از مرتّب) تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاسکتا۔
    3 (ترجمہ از مرتّب) یہ ممکن ہے کہ تم ایک چیز سے نفرت کرو اور وہ دراصل تمہارے لیے اچھی ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو چاہو اوروہ دراصل تمہارے لئے اچھی نہ ہو اورخدا جانتا ہے اورتم نہیں جانتے۔
    4 (ترجمہ) اِبتلاء کا وقت ہے اور اصطفاء کا وقت ہے اورعذاب کا وقت مجرموں کے سر پر سے کبھی نہیں ٹل سکتا۔
    (انجامِ آتھم۔ روحانی خزائن جلد11 صفحہ 56،57)
    5 (ترجمہ) خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا کہ کافروں کا مومنوں پر کچھ الزام ہو۔
    (انجامِ آتھم۔ روحانی خزائن جلد11 صفحہ 59)
    (ج) وَمَکَرُہْ وَمَکَرَ اللہُ وَاللہ خَیْرُالْمَاکِرِیْنَ ثُمَّ یَتَقَضّٰی عَلَی الْمَاکِرِیْنَ۔ 1
    (د) زیدتہ الرّوا ئح 2 ----- قَالُوْاسَاحِرٌ کَذَّابٌ۔ 3
    (ھ) اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَالْاَبْتَرُ۔ 4
    (و) عَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْشَیْئاً وَھُوَخَیْرٌلَّکُمْ وَعَسٰی اِنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ۔ وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ۔5
    (ز) وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُوْلِی النِّعْمَۃِ۔ 6
    (ح) خُذْھَاوَلَاتَخَفْ سَنُعِیدُھَاسِیْرَتَھَاالْاُوْلٰی۔7
    (ت) اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ۔ 8
    29ستمبر1894ء
    ’’آخر اے مُردار9! دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا۔ اے عَدُوَّ اللہ! تو مجھ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ
    1 (ترجمہ از مرتّب) اور انہوں نے بھی تدبیریں کیں اور اللہ نے بھی تدبیریں کیں اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں سے سب سے بہتر ہے۔ پھر وہ تدبیر کرنے والوں پر جھپٹ پڑے گا۔
    2 نوٹ:۔ یہ الفاظ پڑھے نہیں گئے۔ (مرتّب)
    3 (ترجمہ ازمرتب) انہوں نے کہا کہ یہ شخص جادوگراوربہت بڑا جھوٹا ہے۔
    4 (ترجمہ) تیرابدگو بے خبر ہے۔ (انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 58)
    5 (ترجمہ از مرتّب) یہ ممکن ہے کہ ایک چیز سے تم نفرت کرو اوروہ دراصل تمہارے لئے اچھی ہو اورممکن ہے کہ ایک چیز تم چاہو اوروہ دراصل تمہارے لئے اچھی ہو اورخداجانتا ہے اورتم نہیں جانتے۔
    6 (ترجمہ) اورمنعم مکذّبوں کی سزا مجھ پر چھوڑدے۔ (انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 55)
    7 (ترجمہ از مرتّب) اسے پکڑلے اورخوف مت کر۔ ہم اس کی پہلی خصلت پھر اس میں ڈال دیں گے۔
    8 (ترجمہ از مرتّب) آج مَیں نے تمہارا دین تمہارے لئے مکمل کردیا ہے۔
    9 مُراد سعداللہ لدھیانوی۔ (مرتب)
    سے لڑ رہا ہے۔ بخدا مجھے اسی وقت 29؍ستمبر 1894ء کو تیری نسبت الہام ہوا ہے:۔
    اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَالْاَبْتَرُ ۔1‘‘
    ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 79۔ اشتہار انعامی تین ہزار روپیہ۔ مندرجہ انوار الاسلام صفحہ 12۔ روحانی خزائن جلد9صفحہ 86)
    ٭30ستمبر1894ء
    (الف) اِنَّا فَتَحْنَالَکَ فَتْحًامُّبِیْنًا۔2
    (ب) اَنْتَ مَعِیْ وَمَنْ مَّعَکَ ۔ 3
    ٭3اکتوبر1894ء
    قَدْجَائَ کُمُ الْفَتْحُ۔ 4
    ٭5اکتوبر1894ء
    یَانُوْحُ اَسِرِّرُؤْیَاکَ۔5
    ٭11اکتوبر1894ء
    عبداللہ آتھم کی نسبت۔لَیُنْبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ۔ 6
    1 (ترجمہ از مرتّب) تیرا دشمن ہی اَبتر رہے گا۔
    (نوٹ) یہ شخص یعنی سعد اللہ لدھیانوی جنوری 1907ء کے پہلے ہفتہ میں نمونیا پلیگ سے مَرگیا۔ اس کے مَرنے کے کچھ عرصہ بعد یعنی 12جولائی 1926ء کو اس کا اکلوتا بیٹا محمودنامی بھی جو اِس الہام سے پہلے کا تھا موضع کوم کلاں ضلع لدھیانہ میں لاولد فوت ہوگیا اور اِس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق سعد اللہ کی نسل منقطع ہوگئی۔(مرتّب)
    2 (ترجمہ) ہم نے تجھ کو کُھلی کُھلی فتح دی ہے۔ (انجام آتھم ۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 61)
    3 (ترجمہ از مرتب) تُو میرے ساتھ اور ان کے ساتھ ہے جو تیرے ساتھ ہیں۔
    4 (ترجمہ از مرتّب) فتح تمہارے پاس آگئی ہے۔
    5 (ترجمہ) اے نوح! اپنے خواب کو پوشیدہ رکھ۔ (انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد11 صفحہ 61)
    6 (ترجمہ) اورآتھم نابودکرنے والی آگ میں ڈال دیا جاوے گا۔
    (انجامِ آتھم ۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 62)
    ٭12اکتوبر1894ء
    اِنَّ النَّصَارٰی حَوَّلُواالْاَمْرَ۔ 1
    اکتوبر1894ء
    ’’بعض نادان عیسائیوں کا یہ کہنا کہ جو ہونا تھا ہوچکا۔ عجیب حماقت اور بے دینی ہے۔ وہ اس امر واقعہ کو کیونکر اور کہاں چھُپا سکتے ہیں کہ وہ پہلی2پیشگوئی دو پہلو پر مشتمل تھی۔ پس اگر ایک ہی پہلو پر مدار فیصلہ رکھا جائے تو اِس سے بڑھ کر کونسی بے ایمانی ہوگی۔ اور دوسرے پہلو کے امتحان کا وہی ذریعہ جو الٰہی تفہیم نے میرے پر ظاہر کیا۔ یعنی یہ کہ آپ قسم مؤکّد بعذاب موت کھا جائیں۔‘‘
    (اشتہار انعامی تین ہزار روپیہ مؤرخہ 5؍اکتوبر 1894ء مندرجہ تبلیغ رسالت صفحہ 159۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ87،88)
    ٭4نومبر1894ء
    اِس تاریخ مَیں نے دیکھا کہ ایک سانپ مَیں نے قتل کیا اورایک سانپ سے مَیں بھاگا ہوں۔
    ٭5نومبر1894ء
    (الف) اِس تاریخ یہ اِلہام ہؤا۔ بررُوئے من انوارہابتافت۔ 3
    (ب) بررُوئے من انوارسعادت بتافت۔ 4
    (ج) فَبَرَّاَہُ اللہُ مِمَّاقَالُوْاوَکَانَ عِنْدَاللہِ وَجِیْھًا۔5
    1 (ترجمہ از مرتّب) نصارٰی نے حقیقت کو بدل دیا ہے۔
    2 یعنی عبداللہ آتھم والی پیشگوئی کہ 15ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ (مرتب)
    3 (ترجمہ از مرتّب) میرے چہرہ پر اس کے انوار ہَویدا ہیں۔
    4 (ترجمہ از مرتّب) میرے چہرہ پر خوش بختی کے انوار ہَویدا ہیں۔
    5 (ترجمہ) سو خدا نے ان کے الزاموں سے اس کوبَری کیا اوروہ خدا کے نزدیک ایک وجہیہ ہے۔
    (انجامِ آتھم۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 58)
    (د) اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔ 1
    1894ء
    ’’جب آتھم نے قسم کھانے سے انکار کیا تب فیصلہ کے لئے دوسرا الہام یہ ہوا کہ اگر آتھم اس دعویٰ میں سچا ہے کہ اُس نے رجوع نہیں کیا تو وہ عمر پائے گا اور اگر جھوٹا ہے تو جلد مر جائے گا۔‘‘
    (ایام الصُلح حاشیہ صفحہ 89 ۔ روحانی خزائن جلد 14 صفحۃ 326حاشیہ)
    ٭5دسمبر1894ء
    کومَیں نے خواب میں دیکھا کہ اوّل گویا محمود کے کپڑوں کو آگ لگ گئی ہے۔ مَیں نے بجھادی ہےپھر ایک اور شخص کے آگ لگی ہے اورمَیں نے بُجھا دی ہے۔ اور پھر میرے کپڑوں کو آگ لگادی ہے اور مَیں نے اپنے اُوپر پانی ڈال لیا ہے اور آگ بُجھ گئی ہے مگر کچھ سیاہ داغ سا بازو پر نمودار ہے اور خیر ہے۔ وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللہِ۔‘‘
    ٭11دسمبر1894ء
    بروزمنگل وقت 12 منٹ دو گھنٹے
    یَوْمُ الثُّلْثَائِ
    رَئَیْتُ فِیْ ھٰذَاالْوَقْتِ کَاَنَّ حَامِدعَلِیْ دَخَلَ فِیْ ھٰذِہِ الْحُجْرَۃِ وَفِیْ یَدِہٖ فَخِذَانِ مِنْ شَاۃٍ مَسْلُوْخَۃٍ۔
    فَنُفَوِّضُ اَمْرَنَااِلٰی اللہِ وَنَسْئَلہٗ خَیْرًاوَّعَافِیَۃً۔ رَبَّنَااغْفِرْلَنَاذُنُوْبَنَا وَاحْفِظْنَامِنْ کُلِ بَلَائٍ وَاحْفِظْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔ 2
    1 (ترجمہ از مرتّب) میرا رَب یقیناً میرے ساتھ ہے وہ جلد ہی میری رہبری کرے گا۔
    2 (ترجمہ از مرتّب) اس وقت مَیں نے دیکھا کہ گویا حامد علی اس کمرہ میں داخل ہؤا ہے اور اس کے ہاتھ میں کھال اُتری ہوئی بکری کی دورانیں ہیں۔
    پس ہم اپنا معاملہ خدا کے سپردکرتے ہیں اور اس سے بہتری اور عافیّت کے طالب ہیں۔ اے ہمارے رَبّ! ہمارے قصورمعاف فرما اورہمیں ہر مصیبت سے بچا اورہمیں دُنیا و آخرت کی رسوائی سے بھی محفوظ رکھ۔
    12دسمبر1894ء
    بروز بدھ
    یَوْمُ الْاَرْبَعَائ
    رَئَیْتُ فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ کَاَنِّیْ عَلٰی مَکَانِ مُحَمَّد حُسَیْن بَتَالِوِیْ وَاِنَّا صَلَّیْنَا وَظَنَنْتُ اَنِّیْ اِمَامٌ وَاخْطَائْ تُ فِیْ جَھْرِالْفَاتِحَۃِ ۔۔۔ وَقُلْتُ لِمَ لَمْ تَمْنَعُوْنِیْ مِنَ الْجَھْرِ۔ ثُمَّ ظَنَنْتُ اَنِّیْ کَبَّرْتُ جَھْرًا وَمَاقَرَأتُ الْفَاتِحَۃَ وَمَااَتَذَکَّرُ اَنَّ مُحَمَّد حُسَیْن کَانَ مَعَنَافِی الصَّلٰوۃِ اَوْاَدَّی قَبْلَنَا الصَّلٰوۃَ ثُمَّ اِذَا فَرَغْنَامِنَ الصَّلٰوۃِ کُنْتُ جَالِسًا عَلٰی مُقَابَلَۃِ مُحَمَّد حُسَیْن عَلٰی فِرَاشٍ وَاَظُنُّ اَنَّہٗ کَانَ فِیْ ھٰذَاالْوَقْتِ اَسْوَدَ اللَّوْنِ کَالْعُرْیَانِ وَکَانَ لَوْ نُہٗ مَائِلًا اِلَی السَّوَادِ فَاَخَذَنِیَ الْحَیَائُ اَنْ اَنْظُرَاِلَیْہِ ۔۔۔ وَاَظُنُّ اَنِّیْ قُلْتُ لَہٗ ھَلْ لَکَ اَنْ تُصَالِحَ وتَمِیْلَ اِلَی السِّلْمِ قَالَ نَعَمْ فَدَنٰی مِنِّیْ حَتّٰی عَانَقَنِیْ جَالِسًافَقُلْتُ اَتَغْفِرُ لِیْ کُلَّ مَاقُلْتُ فِیْ شَأْنِکَ مِنْ کَلِمَاتٍ تُؤْ ذِیْکَ فَاِنْ شِئْتَ فَاغْفِرْوَاُرِیْدُ اَنْ لَایَبْقٰی لَکَ غِلٌّ وَنَزَاعٌ یَوْمَ نُحْشَرُوَنُقُوْمُ اَمَامَ اللّٰہِ تَعَالٰی قَالَ غَفَرْتُ لَکَ قُلْتُ فَاشْھَدْ اَنِّیْ غَفَرْتُ لَکَ کُلَّ مَاجَرٰی عَلٰی لِسَانِکَ مِنْ تَکْفِیْرِیْ وَتَکْذِیْبِیْ وَغَیْرَ ذٰلِکَ ثُمَّ قُمْتُ وَ تَذَکَّرْتُ رُؤْ یًا فِیْ ھٰذَاالْبَابِ وَقُلْتُ یَعْلَمُ الْحَاضِرُوْنَ مِنْ اَتْبَاعِیْ اَنِّیْ رَئَیْتُ مِنْ قَبْلِ فِیْ ھٰذَاالْبَابِ ثُمَّ نَادَامُنادٍ اَنَّ رَجُلًا اَلْمُسَمّٰی سُلْطَان بیگ فِیْ حَالَۃِ الْاِخْتِضَارِ فَقُلْتُ سَیَمُوْتُ وَرَئَیْتُ مِنْ قَبلِ اَنَّ الْمُصَالِحَۃَ یَکُوْنُ فِیْ یَوْمِ مَوْتِہٖ۔
    وَقُلْتُ لَہٗ اَنِّیْ رَئَیْتُ مِنْ قَبْلُ فِیْ مَنَامِیْ اَنَّ مِنْ عَلَامَاتِ الْمُصَالِحَۃِ اَنَّہٗ یَوْ مَئِذٍ یَمُوْتُ بَھَائُ الدِّیْنِ فَتَبَسَّمَ مُحَمَّد حُسَیْن وَعَجِبَ عَجَبًا شَدِیْدًا وَقَالَ ھٰذَا حَقٌّ اِنَّ بَھَاؤُ الدِّین قَدْ مَاتَ فَکَاَنَّہٗ اِسْتَعْظَمَ شَانَ ھٰذَاالْخَبَرِ ثُمَّ انْتَقَلَ مِنْ مَّکَانٍ اِلٰی مَکَانٍ اٰخَرَالَّذِیْ کَانَ فِیْ بَیْتٍ وَاحِدٍ فَقَصَدْ تُ اَنْ اَدْعُوْہُ اِلٰی مَائِدَۃٍ نوبتُ اَن اَیُّھَا لَہٗ فَجِئْتُہٗ بِمَکَانٍ کَانَ فِیْہِ وَقُلْتُ اَقْبِلْ دَعْوَتِی الْیَوْمَ فَاعْتَذَراِعْتِذَارًا خَفِیفَا ثُمَّ قَبِلَ وَقَالَ سَاَجِی ئُ وَقُلْتُ
    اِنِّیْ رَئَیْتُ قَبْلَ ھٰذَااَنَّ الْمُصَالِحَۃَ یَکُوْنَ بِلَاوَاسِطَۃِ اَحَدٍ وَلَایَکُوْنُ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ اَحَدٌ۔ فَکَانَ کَمَارَئَیْتُ وَرَئَیْتُہٗ عِنْدَالْمُعَانَقَۃِ کَاَنَّہٗ طِفْلٌ صَغِیْرٌ اَسْوَدُ اللَّوْنِ۔
    (کاپی الہامات نمبر 2۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ 1894ء)
    اِس رؤیا کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتغییر الفاظ سراجِ منیر میں یوں فرمایا ہے۔
    ’’ ایک مرتبہ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ گویا مَیں محمد حسین 1کے مکان پر گیا ہوں اور میرے ساتھ ایک جماعت ہے اور ہم نے وہیں نماز پڑھی ‘ اور مَیں نے امامت کرائی اور مجھے خیال گذرا کہ مجھ سے نماز میں یہ غلطی ہوئی ہے کہ مَیں نے ظہر یا عصر کی نماز میں سورۃ فاتحہ کو بلند آواز سے پڑھنا شروع کردیا تھا۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ مَیں نے سورۃ فاتحہ بلند آواز سے نہیں پڑھی بلکہ صرف تکبیر بلند آواز سے کہی پھر جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ محمد حسین ہمارے مقابل پر بیٹھا ہے اور اس وقت مجھے اُس کا سیاہ رنگ معلوم ہوتا ہے اور بالکل برہنہ ہے۔ پس مجھے شرم آئی کہ مَیں اُس کی طرف نظر کروں۔ پس اُسی حال میں وہ میرے پاس آگیا۔ مَیں نے اُسے کہا کہ کیا وقت نہیں آیا کہ تُو صُلح کرے اور کیا تُو چاہتا ہے کہ تجھ سے صلح کی جائے۔ اُس نےکہا کہ ہاں۔ پس وہ بہت نزدیک آیا اور بغلگیر2ہوا۔ اور وہ اس وقت چھوٹے بچہ کی طرح تھا۔ پھر مَیں نے کہا کہ اگر تُو چاہے تو ان باتوں سے درگذر کر جو مَیں نے تیرے حق میں کہیں جن سے تُجھے دکھ پہنچا اور خوب یاد رکھ کہ مَیں نے کچھ نہیں کہا مگر صحت نیت سے اور ہم ڈرتے ہیں خدا کے اس بھاری دن سے جبکہ ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے اس نے کہا کہ مَیں نے درگذر کی۔ تب میں نے کہا گواہ رہ کہ مَیں نے وہ تمام باتیں تجھے بخش دیں جو تیری زبان پر جاری ہوئیں اور تیری تکفیر اور تکذیب کو مَیں نے معاف کیا۔ اس کے بعد ہی وہ اپنے اصلی قد پر نظر آیا اور سفید کپڑے نظر آئے پھر مَیں نے کہا۔ جیسا کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا آج وہ پورا ہوگیا۔
    پھر ایک آواز دینے والے نے آواز دی کہ ایک شخص جس کا نام سلطان بیگ ہے جان کندن میں ہے۔ مَیں نے کہا کہ اب عنقریب وہ مرجائے گا کیونکہ مجھے خواب میں دکھلایا گیا ہے کہ اُس کی موت کے دن صلح ہوگی۔ پھر مَیں نے محمد حسین کو یہ کہا کہ مَیں نے خواب میں یہ دیکھا تھا کہ صلح کے دن کی یہ نشانی ہے کہ اُس دن بہاؤالدین فوت ہوجائے گا۔ محمد حسین نے اِس
    1 مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔ (مرتب)
    2 (نوٹ از مرتب) یہ رؤیا حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں پوری ہوئی۔ چنانچہ حضور فرماتے ہیں:۔
    ’’ جب میرا زمانہ آیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ندامت پیدا کی۔ چنانچہ میں ایک دفعہ بٹالہ گیا تو وہ خود مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور مَیں نے دیکھا کہ اُن پر سخت ندامت طاری تھی ..........پھر اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کو اس رنگ میں بھی پورا فرمادیا کہ ان کے دو لڑکے تعلیم حاصل کرنے کے لئے قادیان آئے اور انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی۔‘‘
    (الفضل جلد 32 نمبر 168 مؤرخہ 20؍جولائی 1944ء صفحہ 2)
    بات کو سن کر نہایت تعظیم کی نظر سے دیکھا اور ایسا تعجب کیا۔ جیسا کہ ایک شخص ایک واقعہ صحیحہ کی عظمت سے تعجب کرتا ہے اور کہا یہ بالکل سچ ہے اور واقعی بہاؤ الدین فوت ہوگیا۔ پھر مَیں نے اس کی دعوت کی اور اُس نے ایک خفیف عُذر کے بعد دعوت کو قبول کرلیا اور پھر مَیں نے اُس کو کہا کہ مَیں نے خواب میں یہ بھی دیکھا تھا کہ صلح بلاواسطہ ہوگی۔ سو جیسا کہ دیکھا تھا ویسا ہی ظہور میں آگیا اور یہ بدھ کا دن اور تاریخ 12؍دسمبر 1894ء تھی۔‘‘
    (سراج منیر صفحہ 70،71۔ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 80،81)
    ٭21دسمبر1894ء
    (الف) فَاَجَائَ ھَاالْمَخاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ۔ قاَلَتْ یَالَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا۔ فَوَقَا ھُمُ اللہُ مِنْ شَرِّذَالِکَ الْیَوْمِ۔1
    اس وقت مَیں نے دیکھا کہ میری بیوی اس گھر کے اندرکے دالان میں گھبرائی دردِزۃ میں اضطراب کرتی ہوئی میری چارپائی تک پہونچی ہے۔
    (ب) یَامَسٰیْحَ الْخَلْقِ عَدْوَانَا۔2
    مارچ 1895ء
    ’’کچھ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ مجھ کو خواب آیا تھا کہ ایک جگہ مَیں بیٹھا ہوں۔ یکدفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ غیب سے کسی قدر روپیہ میرے سامنے موجود ہوگیا ہے۔ مَیں حیران ہوا کہ کہاں سے آیا۔ آخر میری یہ رائے ٹھہری کہ خداتعالیٰ کے فرشتہ نے ہماری حاجات کے لئے یہاں رکھ دیا ہے۔ پھر ساتھ الہام ہوا کہ
    اِنِّیْ مُرْسِلٌ اِلَیْکُمْ ھَدِیَّۃً
    کہ مَیں تمہاری طرف ہدیہ بھیجتا ہوں اور ساتھ ہی میرے دل میں پڑا کہ اس کی یہی تعبیر ہے کہ ہمارے مخلص دوست حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب اس فرشتہ کے رنگ میں متمثل کئے گئے ہوں گے اور غالباً وہ روپیہ بھیجیں گے اورمَیں نے اس
    1 (ترجمہ از مرتب) پھر اس (عورت) کو دردِزہ کھجور کے تنے کی طرف لے گئ۔ تب اس نے کہا کاش مَیں اس سے پہلے مَرجاتی۔ پھرخدانے انہیں اس دن کی خرابی سے بچالیا۔
    2 (ترجمہ) اے مسیح جو خلقت کی بھلائی کے لئے بھیجا گیا۔ ہماری طاعون کے دفع کے لئے مددکر۔
    (ایّام الصّلح۔ روحانی خزائن جلد 14۔ صفحہ 403)
    خواب کو عربی زبان میں اپنی کتاب میں لکھ لیا۔ چنانچہ کل اس کی تصدیق ہوگئی۔ الحمد للہ قبولیت کی نشانی ہے کہ مولیٰ کریم نے خواب اور الہام سے تصدیق فرمائی۔‘‘
    (از مکتوب 6؍مارچ 1895ء بنام سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی۔ دیکھو مکتوبات احمد جلد پنجم حصہ اوّل صفحہ 3)
    اپریل 1895ء
    ’’اَوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّ الدِّیْنَ ھُوَالْاِسْلَامُ وَاَنَّ الرَّسُوْلَ ھُوَالْمُصْطَفَی السَّیِّدُ الْاِمَامُ۔ رَسُوْلٌ اُمِّیٌّ آمِیْنٌ۔ فَکَمَآ اَنَّ رَبَّنَآ اَنَّ اَحَدٌ یَّسْتَحِقُّ الْعِبَادَۃَ وَحْدَہٗ فَکَذَالِکَ رَسُوْلُنَا الْمُطَاعُ وَاحِدٌ لَّانَبِیَّ بَعْدَہٗ وَلَاشَرِیْکَ مَعَہٗ وَ اَنَّہٗ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔
    (خدا تعالیٰ نے ) مجھے الہام کیا کہ دین اللہ اسلام ہی ہے اور سچا رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سردار امام ہے جو رسول امّی امین ہے۔ پس جیسا کہ عبادت صرف خدا کے لئے مسلّم ہے اور وہ واحد لاشریک ہے اسی طرح ہمارا رسول اس بات میں واحد ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اور اس بات میں واحد ہے کہ خاتم الانبیاء ہے۔‘‘
    (منن الرحمن صفحہ 20۔ رُوحانی خزائن جلد9 صفحہ 164)
    1895ء
    (الف) ’’اِنَّہٗ صَرَفَ قَلْبِیْ اِلٰی تَحْقِیْقِ الْاَلْسِنَۃِ وَاَعَانَ نَظْرِیْ فِیْ تَنْقِیْدِ اللُّغَاتِ الْمُتَفَرِّقَۃِ وَعَلَّمَنِیْ اَنَّ الْعَرَبِیَّۃَ اُمُّھَا وَجَامِعُ کَیْفِھَا وَکَمِّھَا۔ وَاَنَّھَا لِسَانٌ اَصْلِیٌّ لِّنَوْعِ الْاِنْسَانِ وَلُغَۃٌ اِلْھَامِیَّۃٌ مِّنْ حَضْرَۃِ الرَّحْمَانِ۔ وَتَتِمَّۃٌ لِّخِلْقَۃِ الْبَشَرِ مِنْ اَحْسَنِ الْخَالِقِیْنَ۔
    اس نے زبانوں کی تحقیق کی طرف میرے دل کو پھیر دیا اور میری نظر کو متفرق زبانوں کے پرکھنے کے لئے مدد کی۔ اور مجھ کو سکھلایا کہ عربی تمام زبانوں کی ماں اور اُن کی کیفیت کمیّت کی جامع ہے اور وہ نوع انسان کے لئے ایک اصلی زبان اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک الہامی لغت ہے اور انسانی پیدائش کا تتمّہ ہے جو احسن الخالقین نے ظاہر کیا ہے۔‘‘
    (منن الرحمن صفحہ 22۔ رُوحانی خزائن جلد 9 صفحہ 164)
    (ب) ’’وَعُلِّمْتُ مِنْ سِرِّاللُّغَاتِ وَمَثْوَاھَا۔ وَزُوِّدْتُّ مِنْ فَصِّ الْکَلِمَاتِ وَنَجْرَاھَا۔ وَکَذَالِکَ اُعْطِیْتُ مِنْ اَسْرَارٍ عُلْیَا وَّ نِکَاتٍ عُظْمٰی۔
    اور مجھ کو لغتوں کا سِرّ اور ان کی اصل جگہ بتلائی گئی اور کلمات کے پیوند اور اُن کے راز سے مَیں توشہ دیا گیا۔ اور اسی طرح بلند بھید مجھ کو عطا کئے گئے اور بڑے بڑے نکتے مجھ کودیئے گئے۔‘‘
    (منن الرحمن صفحہ 38،39 رُوحانی خزائن جلد 9 صفحہ 182، 183)
    1895ء
    ’’ وَکُشِفَ عَلَیَّ اَنَّ الْاٰیَۃَ الْمَوْصُوْفَۃَ1وَالْاِشَارَاتِ الْمَلْفُوْفَۃَ تَھْدِیْٓ اِلٰی فَضَآئِلِ الْعَرَبِیَّۃِ۔ وَتُشِیْرُ اِلٰٓی اَنَّھَا اُمُّ الْاَلْسِنَۃِ وَ اَنَّ الْقُرْاٰنَ اُمّ الْکُتُبِ السَّابِقَۃِ۔ وَاَنَّ مَکَّۃَ اُمُّ الْاَرْضِیْنَ۔
    اور میرے پر کھولا گیاکہ آیۃ موصوفہ اور اشارات ملفوفہ عربی کے فضائل کی طرف ہدایت کرتی ہیں۔ اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ کہ وہ اُمّ الالسنہ ہے اور قرآن پہلی کتابوں کا اُمّ یعنی اصل ہے اور مکّہ تمام زمین کا اُمّ ہے۔‘‘
    (منن الرحمن صفحہ 39۔ رُوحانی خزائن جلد 9 صفحہ 183)
    24 مئی 1895ء
    (الف) ’’جب یہ پیدا 2ہوا تھا۔ تو اُس وقت عالمِ کشف میں آسمان پر ایک ستارہ دیکھا تھا جس پر لکھا تھا۔
    مُعَمَّرُ اللّٰہِ ۔‘‘3
    (الحکم جلد 11نمبر 1 مؤرخہ 10؍جنوری 1907ء صفحہ 1)
    (ب) ’’ تو اُس وقت عالم کشف میں مَیں نے دیکھا کہ آسمان پر سے ایک روپیہ اُترا اور میرے ہاتھ پر رکھا گیا۔ اس پر لکھا تھا۔
    مُعَمَّرُ اللّٰہِ ۔‘‘
    1895ء
    ’’ مجھے اپنے مرض ذیابیطس کی و جہ سے آنکھوں کا بہت اندیشہ تھا۔ کیونکہ اس مرض کے غلبہ سے آنکھ کی بینائی کم ہوجایا کرتی ہے اور نزول الماء ہوجاتا ہے۔ اس اندیشہ کی و جہ سے دعا کی گئی تو الہام ہوا کہ
    نَزَلَتِ الرَّحْمَۃُ عَلٰی ثَلٰثٍ اَلْعَیْنِ وَ عَلَی الْاُخْرَیَیْنِ۔‘‘
    یعنی رحمت تین اعضاء پر نازل ہوگی۔ ایک تو آنکھ اور دو اَور عضو۔ اس جگہ آنکھ کا ذکر تو کردیا لیکن باقی دو اعضاء کی تصریح نہیں فرمائی۔ مگر لوگ کہا کرتے ہیں کہ زندگی کا لُطف تین عضو کی بقا میں ہے؛ آنکھ، کانؔ، پرانؔ۔ اس الہام کے پورا ہونے کی کیفیت اس سے معلوم ہوسکتی ہے کہ قریباً اٹھارہ سال سے یہ مرض مجھے لاحق ہےاور ڈاکٹر اور حکیم لوگ جانتے ہیں کہ اس مرض میں آنکھوں کو کیسا اندیشہ ہوتا ہے پھر کونسی طاقت ہے جس نے پہلے سے خبر دے دی کہ یہ قانون تجھ پر توڑ دیا جائے گا اور بعد میں ایسا ہی کرکے دکھا دیا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 214۔ رُوحانی خزائن جلد18 صفحہ 592،593)
    1 یعنی آیت لِتُنذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَھَا۔(مرتب)
    2 مراد حضرت صاحبزادہ شریف احمد صاحب ۔
    3 (ترجمہ از مرتب) خدا کی طرف سے عمر پانے والا۔
    نوٹ:۔ یہ رؤیا حضور نے جنوری 1907ء میں بیان فرمائی ہے مگر چونکہ ساتھ فرمادیا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی پیدائش کے وقت دیکھی تھی۔ اس لئے اسے صاحبزادہ موصوف کی پیدائش کے سن کے الہامات و کشوف میں درج کیا گیا ہے۔ (مرتب)
    دسمبر 1895ء
    ’’ اس تاریخ سے پہلے جو جمادی الثانی 1313ھ روز شنبہ مطابق 7؍دسمبر 1895ء ہے دیکھا تھا کہ میرے تینوں لڑکے ایک جگہ بیٹھے ہیں اور مَیں کہتا ہوں یعنی ان کو مخاطب کرکے کہ ہم میں اور تم میں صرف ایک دن کی میعاد ہے۔ اس کی مَیں نے یہ تعبیر کی کہ یہ چوتھے لڑکے کی روح مجھ میں بولی ہے۔‘‘
    (کاپی مضامین متفرقہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 204)
    27 جنوری 1896ء
    ’’رَاَیْتُ کَاَنَّ مَسْجِدًا اَعْنِیْ الْمَسْجِدَ الَّذِیْ وَقَعَ عِنْدَ السُّوْقِ قَدْ ھُدِّمَتْ۔ وَھَدَّمَہٗ رَجْلٌ۔ وَھَدَّمَ مَعَہٗ مَکَانًا لَّنَا۔ وَاَنَا اَقُوْلُ کَانَ ھٰذَا مَسْجِدًا فَنُفَوِّضُ الْاَمْرَ اِلَی اللّٰہِ۔1‘‘
    (کاپی مضامین متفرقہ از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 219)
    16 مارچ 1896ء
    ’’عین ایک بجے رات پر 29؍رمضان شب دوشنبہ کو یعنی 16؍مارچ 1896ء کو مَیں نے امام علی شاہ کو خواب میں دیکھا۔ گویا پہلے مَیں ان کے مکان پر گیا اور پھر وہ میرے چھوڑنے کے لئے ایک جماعت کے ساتھ آئے جو شاید قریب دس آدمی کے ہوں گے اور انہوں نے مجھ سے میرا طریق پوچھا اور مَیں نے بجواب ان کے فارسی زبان میں ان کو کہا کہ
    ’’آنچہ2در ذکر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مے کردید آں نظر اجمالی بود و ناقص۔ و آنچہ ما مے کینم آں نظر مبسُوط است و محیط۔ بہ بینیدایں طریق است کہ کارِشما مثل غنچہ بود وہمہ اجزاء نہفتہ ( اس میں مَیں نے ہاتھ کو غنچہ کی شکل بناکر دکھلایا) پھر مَیں نے کہا۔ وکار3 ماہمہ شگفتہ است و مثل ِ گُل۔ و در ذکرِ ما نظر برہمہ تفاصیل نفی غیر عبور مے کند۔ و ایں چنیں شکل است۔ (پھر مَیں نے ہاتھ کو غنچہ شگفتہ کی طرح کرکے دکھلایا ‘ اورکہا بہ بینید4 ایں چنیں است لَآ اِلٰہَ
    1 (ترجمہ از مرتب) مَیں نے دیکھا گویا مسجد یعنی وہ مسجد جو بازار کے پاس ہے گرادی گئی ہے اور اس کو ایک شخص نے گرایا ہے اور اس کے ساتھ ایک اور مکان کو بھی جو ہمارا تھا گرادیا ہے اور مَیں کہتا ہوں کہ یہ تو مسجد تھی۔ پس ہم اس معاملے کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔
    2 (ترجمہ از مرتب) وہ جو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ذکر میں تم کرتے تھے وہ اجمالی نظر تھی اور ناقص اور وہ جو ہم کرتے ہیں وہ نظر مبسُوط اور محیط ہے دیکھو یوں ہے کہ تمہارا کام غنچہ کی طرح تھا اور تمام اجزاء پوشیدہ تھے۔
    3 (ترجمہ از مرتب) اور ہمارا کام کھِلے ہوئے پھول کی مانند ہے۔ اور ہمارے ذکر میں نظر غیر کی نفی کی تمام تفصیلات پر حاوی ہے اور یہ شکل ہے۔
    4 (ترجمہ از مرتب) دیکھو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یُوں ہے۔ یہ نفی تمام اجزاء پر تفصیلی طور سے ہے۔
    اِلَّا اللّٰہُ ۔ ایں نفی برہمہ اجزاء زروئے تفصیل است۔ میں نے جب یہ بات کہی تو ان کو ایک لذّت آئی جیسا کہ کسی کو ایک جدید اور عجیب نکتہ سُننے سے لذت آتی ہے اور یہ لذّت ان کی اُن کی ایک منہ کی حالت سے مجھ کو معلوم ہوئی اور انہوں نے ایک روپیہ نذر کیا۔ مجھے خیال آیا کہ مَیں نے تو کسی وقت ان کو دو رَوپے دیئے تھے۔ انہیں میں سے انہوں نے مجھے ایک روپیہ دیا پھر اسی جگہ کھڑے ہونے کی حالت میں ایک گلی میں جو ہمارے مکان کے قریب شمالی طرف ہے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ گورداسپور کب جائیں گے۔ مَیں نے جواب دیا۔نمے دانم۔ قدمے برزمین استوار نمے شود تاخدا نخواہد1۔ پھر مَیں اسی گلی میں اُن کو وہیں چھوڑ کر نکل آیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اور اُسی وقت 2 بجے رات کے یہ چند سطریں لکھیں گئیں۔ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 205)
    22مارچ 1896ء
    ’’ آج 22؍ مارچ 1896ء کو مجھ کو الہام ہوا۔
    یَآ اَھْلَ الْمَدِیْنَۃِ جَآئَ کُمْ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ۔2‘‘
    (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 205)
    1896ء
    ’’ مجھے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ
    ’’ مَیں اس زمانہ کے لئے تجھے گواہ کی طرح کھڑا کروں گا۔‘‘
    پس کیا خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے بارے میں اچھی گواہی ادا کرسکوں۔‘‘
    (مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام بنام نواب محمد علی خان صاحب۔ مؤرخہ 6؍اپریل 1896ء
    از مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم صفحہ 129)
    1896ء
    ’’ یَا عِیْسَی الَّذِیْ لَا یُضَاعُ وَقْتُہٗ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْخَلْقُ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِی وَ تَفْرِیْدِی۔ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔ ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔
    (ترجمہ) ’’ اے وہ عیسیٰ جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تو میری جناب میں وہ مرتبہ رکھتا ہے جس کا لوگوں کو علم نہیں۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔ سو وقت آگیا کہ تو لوگوں میں شناخت کیا جائے اور مدد دیا جائے۔ وہ خدا جس نے اپنے رسُول کو ہدایت اور دین ِ حق کے ساتھ بھیجا تا اس دین کو سب دینوں۔
    1 (ترجمہ از مرتب) مَیں نہیں جانتا کوئی قدم مضبوطی سے زمین پر نہیں پڑتا جب تک کہ خدانہیں چاہتا۔
    2 (ترجمہ از مرتب) اے شہر والو! تمہارے پاس اللہ کی نصرت آگئی۔ اور فتح قریب ہے۔
    لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنَ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ لِتُنْذِرْ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُھُمْ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ اِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزِئِیْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِیْنُ تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَنْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ مُتِمَّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔ سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِھِمْ الرُّعْبَ۔ اِذَا جَآئَ نَصْرُ اللّٰہِ وَلاْفَتْحُ وَانْتَھٰیٓ اَمْرالزَّمَانِ اِلَیْنَآ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ۔ اِنِّیْ مَعَکَ۔ کُنَ مَّعِیْ اَیْنَمَا کُنْتَ۔ کُنْ مَّعَ اللّٰہِ حَیْثُمَا کُنْتَ۔ کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔ اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا یَرْفَعُ اللّٰہُ ذِکْرَکَ۔ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔ یَآ اَحْمَدُ یَتِمُّ اسْمُکَ وَلَا یَتِمُّ اسْمِیْ۔ اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔ اَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ۔ شَانُکَ عَجِیْبٌ وَّ اَجْرُکَ قَرِیْبٌ۔ اَلْاَرْضُ وَالسَّمَآئُ مَعَکَ کَمَاھُوَ مَعِیْ2294 } ۔ اَنْتَ وَجِیْہٌ فِی حَضْرَتِیْ۔ اِخْتَرْتُکَ
    پرغالب کرے۔ خدا کی پیشگوئیوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ کہہ مَیں مامور ہوں اور مَیں سب سے پہلا مومن ہوں۔ وہ رحمن ہے جس نے قرآن سکھلایا تا کہ تُو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے۔ ہم تیرے لئے ٹھٹھا کرنے والوں کے لئے کافی ہیں کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم ایمان لاتے ہو کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے۔ پس کیا تم قبول کرتے ہو۔ میرے ساتھ میرا خدا ہے وہ عنقریب مجھے کامیابی کی راہ دکھائے گا۔ ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہو لو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ کیا مَیں بتلاؤں کہ کن پر شیطان اُترا کرتے ہیں۔ ہر ایک جھوٹے مفتری پر اُترتے ہیں۔ ارادہ کرتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے مُونہہ کی پھونکوں سے بُجھادیں اور خدا اپنے نور کو کامل کرے گا اگرچہ کافر کراہت ہی کریں۔ عنقریب ہم اُن کے دلوں پر رُعب ڈال دیں گے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ کا امر ہماری طرف رجوع کرے گا۔ کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا۔ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ میرے ساتھ ہو جہاں تُو ہو وے۔خدا کے ساتھ ہو جہاں تُو ہو وے۔ تم بہتر اُمّت ہو جو لوگوں کے نفع کے لئے نکالے گئے۔ تو ہماری آنکھوں
    1 ’’ھُوَ کا ضمیر واحد باعتبار واحد فی الذہن یعنی مخلوق ہے۔ اور ایسا محاورہ قرآن شریف میں بہت ہے۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 52 حاشیہ۔ رُوحانی خزائن جلد11 صفحہ 52 حاشیہ)
    لِنَفْسِیْ۔ اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ الدُّنْیَا وَ حَضْرَتِیْ۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔ زَادَ مُجْدَکَ۔ یَنْقَطِعُ اٰبَآئُ کَ وَیَبْدَئُ مِنْکَ۔ نُصِرْتَ بِالرُّعْبِ وَاُحْیِیْتَ بِالصِّدْقِ اَیُّھَا لصِّدِّیْقُ نُصِرْتَ۔ وَقَالُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنْاصٍ۔ اٰثَرَکَ اللّٰہ ُ عَلَیْنَا وَلَوْ کُنَّا کارِھِیْنَ۔ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَآ اِنَّا کُنَّا خاطِئِیْنَ۔ لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔ وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَتْرُکَکَ حَتّٰی یَمِیْزَالْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ۔ وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ۔ اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ ھٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۔ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ۔ سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ۔ یُقِیْمُ الشَّرِیْعَۃَ وَیُحِیِ الدِّیْنَ وَلَوْکَانَ الاِیْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَیَّا لَنَا لَہٗ۔ سُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا۔ خَلَقَ اٰدَمَ فَاَکْرَمَہٗ۔ جَرِیُّ اللّٰہِ فِی حُلَلِ الْاَنْبِیَآئِ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ رَدَّ عَلَیْھِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ۔ شَکَرَ اللّٰہُ سَعْیَہٗ۔ کِتَابُ الْوَلِیِّ ذُوالْفِقَارِ
    کے سامنے ہے۔ خدا تیرے ذکر کو بلند کرے گا اور دنیا اور آخرت میں اپنی نعمت تیرے پر پوری کرے گا۔ اے احمد ! تیرا نام پور اہوجائے گا۔ قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو۔ میں تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں۔ مَیں نے اپنی محبت کو تجھ پر ڈال دیا۔ تیری شان عجیب ہے۔ تیرا اجر قریب ہے۔ زمین و آسمان تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔ تو میری جناب میں وجیہہ ہے۔ مَیں نے تجھے اپنے لئے چُن لیا۔ تو دُنیا اور میری جناب میں وجیہہ ہے، پاک ہے۔ وہ خدا جو بہت برکتوں والا اور بہت بلند ہے، تیری بزرگی کو اُس نے زیادہ کیا۔ اب سے تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہوجائے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔ تُو رعب کے ساتھ مدد دیا گیا اور صدق کے ساتھ زندہ کیا گیا۔ اے صدیق! تو مدد دیا گیا اور مخالف کہیں گے کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔ خدا نے تجھے ہم پراختیار کرلیا۔ اگرچہ ہم کراہت کرتے تھے۔ اے ہمارے خدا! ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے۔ آج تم پر اَے رجوع کرنے والو! کچھ سرزنش نہیں۔ خدا تمہیں بخش دے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تجھے یونہی چھوڑ دے جب تک پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھلادے اور خدا اپنے امر پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے۔ جب خد اکی مدد اور فتح آئی اور اس کا کلمہ پورا ہوا۔ کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس میں تم جلدی کرتے تھے۔ مَیں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں تو مَیں نے آدم کو پیدا کیا۔ مَیں نے اس کو برابر کیا اور اپنی رُوح اس میں پھونکی شریعت کو قائم کرے گا۔ اور دین کو زندہ کرے گا۔ اور اگر ایمان ثریا سے معلّق ہوتا تب بھی اسے پالیتا۔ پاک ہے وہ جس نے اپنے بندہ کو رات میں سیر کرایا، آدم کو پیدا کیا اوراس کو عزت دی۔ خدا کا فرستادہ نبیوں کے حلّہ میں۔ وہ لوگ جو کافر ہوگئے اور خد اکی راہ سے روکنے لگے۔ ایک فارسی الاصل آدمی نے اُن کے خیالات کو ردّ کیا۔ خدا اس کی
    عَلِیٍّ۔ یَکَادُ زَیْتُہٗ یُضِیْٓ ئُ وَلَوْلَمْ تَمْسَسْہُ نَار۔ خُذُوا التَّوْحِیْدَ التَّوْحِیْدَ یَآ اَبْنَآئَ الْفَارِسِ۔ اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قَرِیْبًا مِّنَ الْقَادِیَانِ وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔ اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ۔ سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ یَا عَبْدِیْ لَا تَخَفْ اِنِّیْ اَسْمَعُ وَاَرٰی۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّا نَاْتِیْ الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا۔ اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ سَیِّدِ وُلْدِ اٰدَمَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ۔ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجَاھِلِیْنَ۔ وَقَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْ قَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ۔وَقَالُوْا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْ تُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ۔ وَاَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ۔ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ۔ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا۔ وَمَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔ قَالُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامٌ شَدِیْدٌ۔ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ ۔ وَاِنَّ عَلَیْکَ رَحْمَتِیْ فِی الدُّنْیَا وَالدِّیْنِ۔ وَاِنَّکَ
    کوشش کا شکر گذار ہے۔ اس ولی کی کتاب ایسی ہے جیسے علی کی ذوالفقار۔ اس کا تیل یونہی چمکنے کو ہے اگرچہ آگ چھو بھی نہ جائے۔ توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو، اے فارس کے بیٹو !ہم نے اِس کو قادیان کے قریب اُتارا ہے۔ اور حق کے ساتھ اُتارا ہے اور ضرورت ِ حقہ ّکے ساتھ اُترا ہے اور جو خدا نے ٹھہرا رکھا تھا وہ ہونا ہی تھا۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت انتقام لینے والی ہیں۔ سب بھاگ جائیں گے اور پیٹھ دکھلائیں گے۔ اے میرے بندے ! مت خوف کر مَیں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں۔ کیا تُونے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو کم کرتے چلے آتے ہیں۔ اس کی طرفوں سے۔ کیا تُونے نہیں دیکھا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ محمد پر اور اس کے آل پر درُود بھیج۔ وہ بنی آدم کا سردار اور خاتم الانبیاء ہے تو صراطِ مستقیم پر ہے۔ پس جو کچھ حکم ہوتا ہے کھول کر بیان کر اور جاہلوں سے کنارہ کر۔ اور کہتے ہیں کہ دوشہروں1میں ایک بڑے آدمی کو خدا نے کیوں مامور نہ کیا۔ اور کہتے ہیں کہ تجھے کہاں یہ رُتبہ ،یہ تو مکر ہے کہ مِل جُل کر بنایا گیا ہے اور کئی لوگوں نے اس مکر میں اس شخص کی مدد کی ہے تجھے دیکھتے ہیں اور تُو انہیں نظر نہیں آتا۔ اے لوگو ! جان لو کہ زمین مرگئی تھی اور خدا پھر اُسے نئے سرے زندہ کر رہا ہے۔ اور جو خدا کا ہو ، خدا اس کا ہوجاتا ہے۔ خدا اُن کے ساتھ ہے جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں۔ اور اُن کے ساتھ ہے جو نیکو کار ہیں۔ کہتے ہیں کہ
    1 یعنی اس شخص کو مہدی موعود ہونے کا دعوٰی ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان کا رہنے والا ہے کیوں مہدی معود مکّہ یا مدینہ میں مبعوث نہ ہؤاجو سرزمینِ اسلام ہے۔‘‘
    (حقیقٰۃ الوحی صفحۃ 82 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد22 صفحہ 85 حاشیہ)
    مِنَ الْمَنْصُوْرِیْنَ۔ یَحْمَدُکَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔ یَحْمَدُکَ اللّٰہُ وَ یَمْشِیْٓ اِلَیْکَ۔ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ کَمِثْلِکَ دُرُّلَّایُضَاعُ۔ بُشْرٰی لَکَ یَآ اَحْمَدِیْ۔ اَنْتَ مُرَادِیْ وَ مَعِیْ۔ اِنِّیْ نَاصِرُکَ۔ اِنِّیْ حافِظُکَ۔ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔ اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا۔ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَجِیْبٌ۔ یَجْتَبِیْ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ۔ لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ۔ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ۔ وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اِخْتِلَاقٌ۔ اِذَا نَصَرَ اللّٰہُ الْمُؤْمِنَ جَعَلَ لَہُ الْحَاسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ۔ قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمُ یَلْعَبُوْنَ۔ لَا تُحَاطُ اَسْرَارُ الْاَوْلِیَآئِ۔ تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَتَرَحَّمْ عَلَیْھِمْ۔ اَنْتَ فِیْھِمْ بِمَنْزِلَۃِ مُوْسٰی۔ وَاصْبِرْ عَلٰی مَایَقُوْلُوْنَ۔ وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ۔ اَنْتَ مِنْ مَّآئِنَا وَھُمْ مِنْ فَشَلٍ۔1 وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ
    یہ تمام افترا ہے ، کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے ، تو یہ سخت گناہ میری گردن پر ہے۔ آج تُو ہمارے نزدیک بارتبہ اور امین ہے۔ اور تیرے پر دین اور دُنیا میں میری رحمت ہے اور تُو مدد دیا گیا ہے۔ خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔ خبردار خدا کی مدد قریب ہے۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاتا۔ تجھے خوشخبری ہو، اے میرے احمد! تُو میری مراد ہے۔ اور میرے ساتھ ہے۔ مَیں تیر امددگار ہوں مَیں تیرا حافظ ہوں۔ مَیں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔ کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ وہ خدا عجیب ہے جس کو چاہتا ہے ، اپنے بندوں میں سے چُن لیتا ہے وہ اپنے کاموں میں پوچھا نہیں جاتا اور دوسرے پوچھے جاتے ہیں اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ضرور افترا ہے۔ خدا جب مومن کو مدد دیتا ہے تو زمین پر اُس کے کئی حاسد بنادیتا ہے۔ کہہ خدا ہے جس نے یہ الہام کیا۔ پھر ان کو چھوڑ دے تا اپنی کج فکریوں میں بازی کریں۔ اولیاء کے اسرار پرکوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ لوگوں سے لطف کے ساتھ پیش آ اور اُن پر رحم کر۔ تُو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے، اور ان کی باتوں پر صبر کر اور منعم مکذِّبوں کی سزا مجھ پر چھوڑ دے۔ تو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔ اور جب ان کو کہا
    1 ’’یہ جو فرمایا کہ تُو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔ اس جگہ پانی سے مراد ایمان کا پانی، استقامت کا پانی، تقویٰ کا پانی، وفا کا پانی، صدق کا پانی، حُبّ اللہ کا پانی ہے۔ جو خدا سے ملتا ہے اور فشل بُزدلی کو کہتے ہیں جو شیطان سے آتی ہے اور ہرایک بے ایمانی اور بدکاری کی جڑ بُزدلی اور نامردی ہے۔ جب قوت استقامت باقی نہیں رہتی تو انسان گناہ کی طرف جھُک جاتا ہے۔ غرض فشل شیطان کی طرف سے ہے اور عقائد صالحہ اور اعمال طیبہ کا پانی خدا تعالیٰ کی طرف سے۔ جب بچہ پیٹ میں پڑتا ہے تو اس وقت اگر بچہ سعید ہے اور نیک ہونے والا ہے تو اس نطفہ پر رُوح القدس کا سایہ ہوتا ہے اور اگر بچہ شقی ہے اور بد ہونے والا ہے تو اس نطفہ پر شیطان کا سایہ ہوتا ہے اورشیطان اس
    کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآئُ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآئُ وَلٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔ قِیْلَ ارْجِعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ فَلَا تَرْجِعُوْنَ۔ وَقِیْلَ اسْتَحْوِذُوْا فَلَا تَسْتَحْوِذُوْنَ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔ اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولَو الْعَزْمِ۔ تَبَّتْ یَدَٓا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ مَاکَانَ لَہٗ اَنْ یَّدْ خُلَ فِیْھَآ اِلَّا خَآئِفًا۔ وَمَآ اَصَابَکَ فَمِنَ اللّٰہِ۔ اَلَآ اِنَّھَا فِتْنَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ لِیُحِبَّ حُبًّا جَمًّا۔ حُبًّا مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْاَکْرَمِ۔ عَطَآئً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ۔ وَقْتُ الْاِبْتِلَآئِ وَ وَقْتُ الْاِصْطِفَآئِ۔ وَلَا یُرَدُّ وَقْتُ الْعَذَابِ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔ وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیئًا وَھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیئًا وَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ کُنْتُ کَنْزًا مَّخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ۔ اِنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَا ھُمَا۔ وَاِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا۔
    جائے کہ ایمان لاؤ، جیسا کہ اچھے آدمی ایمان لائے۔ تو جواب میں کہتے ہیں کہ کیا اس طرح ایمان لائیں جیسا کہ سفیہہ اور بیوقوف ایمان لائے۔ خوب یاد رکھو کہ درحقیقت بیوقوف اورسفیہ یہی لوگ ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ ہم کیسی غلطی پر ہیں۔ ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔ کہا گیا کہ تم رجوع کرو ، سو تم نے رجوع نہ کیا اور کہا گیا کہ تم اپنے وساوس پر غالب آجاؤ، سو تم غالب نہ آئے۔ سب تعریف خداکو ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔ اس جگہ فتنہ ہے سو اولوالعزم لوگوں کی طرح صبرکر۔ ابی لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ آپ بھی ہلاک ہوگیا۔ اس کو نہیں چاہئے تھا کہ وہ اس فتنہ میں دخل دیتا۔ یعنی اس کا بانی ہوتا مگر ڈرتے ہوئے اور تجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر اُسی قدر جو خدا نے مقرر کی۔ یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہے تا وہ تجھ سے بہت ہی پیار کرے۔ یہ خدا کا پیار کرنا ہے جو غالب اور بزرگ ہے اور یہ پیار وہ عطا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ ابتلا کا وقت ہے اور اصطفا کا وقت ہے اور عذاب کا وقت مجرموں کے سر پر سے کبھی نہیں ٹل سکتا۔ اور اے اس مامور کی جماعت سُست مت ہوجانا اور غم میں نہ پڑجانا۔ اور بالآخر غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر ثابت رہو گے۔ یہ ممکن ہے کہ ایک چیز کو تم چاہو اور وہ دراصل تمہارے لئے اچھی نہ ہو، اور ایک چیز سے نفرت کرو اور وہ دراصل تمہارے لئے اچھی ہو اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ مَیں ایک خزانہ پوشیدہ تھا سو مَیں نے
    بقیہ حاشیہ: میں شراکت رکھتا ہے اور بطور استعارہ وہ شیطان کی ذُریّت کہلاتی ہے اور جو خدا کے ہیں وہ خدا کے کہلاتے ہیں جن کو پہلی کتابوں میں بطور استعارہ ابناء اللہ کہا گیا ہے۔‘‘
    (انجام آتھم حاشیہ صفحہ 56۔ روحانی خزائن جلد11 صفحہ 56،57)
    اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ۔ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّالْخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ۔ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا افْتِرَآءٌ۔ قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰی۔ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ۔ اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنبِکَ م وَمَا تَاَخَّرَ۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔ فَبَرَّاَ ہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا۔ وَ اللّٰہُ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکَاذِبِیْنَ۔ وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًا۔ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ تَمْتَرُوْنَ۔ یَآ اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔ اِنَّآ اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ اِنَّ شَانِئِکَ ھُوَا1 الْاَبْتَرُ۔ یَاْتِیْ قَمَرُ الْاَنْبِیَآئِ وَاَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔ یَوْمَ یَجِیْٓئُ الْحَقُّ وَ
    چاہا کہ شناخت کیا جاؤں۔ زمین و آسمان بندھے ہوئے تھے سو ہم نے دونوں کو کھول دیا اور تجھے انہوں نے ایک ہنسی کی جگہ بنا رکھا ہے کیا یہی ہے جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا۔ کہہ مَیں ایک آدمی ہوں تم جیسا مجھے خدا سے الہام ہوتا ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے اور تمام بھلائی قرآن میں ہے اور مَیں اس سے پہلے ایک مدّت سے تم میں ہی رہتا تھا۔ کیا تمہیں میرے حالات معلوم نہیں اور انہوں نے کہا کہ یہ باتیں افترا ہیں کہہ حقیقی ہدایت جس میں غلطی نہ ہو خدا کی ہدایت ہے اور خبردار ہو کہ خدا کا گروہ ہی آخر کار غالب ہوتا ہے۔ ہم نے تجھے کھُلی کھُلی فتح دی ہے تا تیرے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کئے جائیں۔ کیا خدا اپنے بندوں کے لئے کافی نہیں ہے سو خدا نے ان کے الزاموں سے اس کو بَری کیا اور وہ خدا کے نزدیک وجیہہ ہے اور خدا کافروں کے مکر کو سُست کردے گا اور ہم اس کو لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے اور رحمت کا نمونہ ہوگا۔ اور یہی مقدّر تھا ۔یہ وہ سچا قول ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ اے احمد! رحمت تیرے لبوں پر جاری ہورہی ہے۔ ہم نے تجھے بہت سے حقائق اور معارف اور برکات بخشے ہیں۔ اور ذرّیت نیک عطا کی ہے۔ سو خدا کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔تیرا بد گو بے خیر ہے یعنی خدا اُسے بے نشان کردے گا اور وہ نامراد مرے گا۔ نبیوں کا چاند آئے گا
    1 ’’یہ الہام کہ اِنَّ شَانِئِکَ ھُوَا الْاَبْتَرُ۔ اس وقت اس عاجز پر خدا تعالیٰ کی طرف سے القاء ہوا کہ جب ایک شخص نو مسلم سعد اللہ نام نے ایک نظم گالیوں سے بھری ہوئی اس عاجز کی طرف بھیجی تھی اور اس میں اس عاجز کی نسبت اس ہندو زادہ نے وہ الفاظ استعمال کئے تھے کہ جب تک ایک شخص درحقیقت شقی خبیث طینت۔ فاسد القلب نہ ہو۔ ایسے الفاظ استعمال نہیں کرسکتا..............سو یہ الہام اس کے اشتہار اور رسالہ کے پڑھنے کے وقت ہوا کہ اِنَّ شَانِئِکَ ھُوَا الْاَبْتَرُ۔ سو اگر اس ہندو زادہ بد فطرت کی نسبت ایسا وقوع میں نہ آیا۔ اور وہ نامراد اور ذلیل اور رُسوا نہ مَرا۔ تو سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘
    (انجام آتھم حاشیہ صفحہ 58,59روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 58،59)
    یُکْشَفُ الصِّدْقُ وَیَخْسَرُالخَاسِرُوْنَ۔ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔ اَنْتَ مَعِیْ وَ اَنَا مَعَکَ سِرُّکَ سِرِّیْ۔ وَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْٓ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ۔ یُخَوِّفُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ۔ اَئِمَّۃُ الْکُفْرِ۔ لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔ غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ۔ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ۔ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۔ یَنْصُرُکَ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ۔ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلَبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ۔ لَامُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہٖ۔ اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔ قُلْ ھٰذَا فَضْلُ رَبِّیْ وَاِنِّیْٓ اُجَرِّدُ نَفْسِیْ مِنْ ضُرُوْبِ الْخِطَابِ۔ یَاعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمۃِ۔ نَظَرَ اللّٰہُ اِلَیْکَ مُعَطَّرًا۔ وَقَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ وَقَالُوْا کِتَابٌ مُّمْتَلِیٌٔ مِّنَ الْکُفْرِ وَالْکَذِبِ۔ قُلْ تَعَالُوْ انَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَاَبْنَآئَ کُمْ وَ نِسَآئَ نَا وَ نِسَآئَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔ سَلَامٌ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ صَافَیْنَاہُ وَنَجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ۔ تَفَرَّدْنَا بِذَالِکَ۔ یَادَاوٗدُ عَامِلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا۔ تَمُوْتُ وَاَنَا رَاضٍ مِّنْکَ۔ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ۔ کَذَّبُوْا بِاٰیَاتِیْ وَکَانُوْا بِھَا یَسْتَھْزِئُ وْنَ۔
    اور تیرا کام تجھے حاصل ہوجائے گا۔ اس دن حق آئے گا اور سچ کھولا جائے گا۔ اور جو خسران میں ہیں، ان کا خسران ظاہر ہوجائے گا۔ میری یاد میں نماز کو قائم کر۔ تو میرے ساتھ اور مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرا بھید میرا بھید ہے ہم نے تیرا وہ بوجھ اُتار دیا جس نے تیری کمر توڑ دی۔ اور تیرے ذکر کو ہم نے بلند کیا۔ تجھے خدا کے سوا اَوروں سے ڈراتے ہیں۔ یہ کفر کے پیشوا ہیں۔ مت ڈر، غلبہ تجھی کو ہے۔ مَیں نے اپنی رحمت اور قدرت کے درخت تیرے لئے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا کہ کافروں کا مومنوں پرکچھ الزام ہو۔ خدا تجھے کئی میدانوں میں فتح دے گا۔ خدا کایہ قدیم نوشتہ ہے کہ مَیں اور میرے رسُول غالب رہیں گے۔ اس کے کلموں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ خدا جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا کہہ یہ خدا کا فضل ہے اور میں تو کسی خطاب کو نہیں چاہتا اے عیسیٰ! مَیں تجھے وفات دُوں گااور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اور تیرے تابعداروں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ خدا نے تیرے پر خوشبودار نظر کی اور لوگوں نے دلوں میں کہا کہ اے خدا ! کیا تو ایسے مفسد کو اپنا خلیفہ بنائے گا۔ خدا نے کہا۔ کہ جو کچھ مَیں جانتا ہوں تمہیں معلوم نہیں۔ اور لوگوں نے کہا کہ یہ کتاب کُفر اور کذب سے بھری ہوئی ہے۔ ان کو کہدے کہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اکٹھے ہوں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر *** بھیجیں۔ ابراہیم یعنی اس عاجز پر سلام ہم نے اس سے دلی دوستی کی اور غم سے نجات دی۔ یہ ہمارا ہی کام تھا جو ہم نے کیا۔ اے داؤد! لوگوں سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاملہ کر۔ تو اس حالت میں مرے گا کہ مَیں تجھ سے راضی ہوں گا۔ اور خدا تجھ کو لوگوں کے
    فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَیَرُدُّھَآ اِلَیْکَ۔ اَمْرٌ مِّنْ لَّدُنَّا اِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ۔ زَوَّجْنَا کَھَا۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ لَاتَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔ اِنَّا رَآدُّوْ ھَآ اِلَیْکَ۔ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَالْاَرْضِ۔ اِذَانُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَہُمْ۔ اِنَّمَا یُؤَخِرُ ھُمْ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمّیً اَجَلٍ قَرِیْبٍ۔ یَاْتِیْ قَمَرُ الْاَنْبِیَآئِ وَاَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔ ھٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ۔ تَوَجَّھْتُ لِفَضْلِ الْخِطَابِ۔ اِنَّا رَآدُّوْھَآ اِلَیْکَ۔ اِنِ اسْتَجَارَتْکَ فَاَجِرْھَا۔ وَلَا تَخَفْ سَنُعِیْدُھَا سِیْرَتُھَا الْاُوْلٰی۔ اِنَّا فَتَحْنَالَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ یَانُوْحُ اَسِرَّ رُؤْیَاکَ۔ وَقَالُوْا مَتٰی ھٰذَا لْوَعْدُ۔ قُلْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ۔ اَنْتَ مَعِیْ وَاَنَا مَعَکَ۔ وَلَا یَعْلَمُوْنَ اِلَّا الْمُسْتَرْشِدُوْنَ۔ لَاتَیْئَسْ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ۔ اُنْظُرْ اِلٰی یُوْسُفَ وَاِقْبَالِہٖ۔ اِطَّلَعَ اللّٰہُ عَلٰی ھَمِّہٖ وَ غَمِّہٖ۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً۔ وَلَا تَعْجَبُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ وَبِعِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ اِنَّکَ
    شر سے بچائے گا۔ انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا۔ اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے نکاح کردیا۔ تیرے ربّ کی طرف سے سچ ہے پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ خدا کے کلمے بدلا نہیں کرتے، تیرا ربّ جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور ا س کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔ اس دن زمین دوسری زمین سے بدلائی جائے گی۔ جب صور میں پھونکا گیا تو کوئی رشتہ ان میں باقی نہیں رہے گا۔ خدا ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دے رہا ہے جو نزدیک وقت ہے۔ نبیوں کا چاند آئے گا۔ اور تیرا سارا کام حاصل ہوجائے گا۔ یہ سخت دن ہے۔ آج مَیں فیصلہ کرنے کے لئے متوجہ ہوا۔ ہم اس کو تیری طرف واپس لائیں گے۔ اگر تیری پناہ ڈھونڈے تو پناہ دے دے۔ اور مت خوف کر ہم اس کی پہلی خصلت پھر اس میں ڈال دیں گے۔ ہم نے تجھ کو کھُلی کھُلی فتح دی۔ اے نوح ! اپنے خوابوں کو پوشیدہ رکھ۔ اور کہا لوگوں نے یہ وعدہ کب ہوگا۔ کہہ خدا کا وعدہ سچا وعدہ ہے۔ تو میرے ساتھ اور مَیں تیرے ساتھ ہوں اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا مگر وہی جو رُشد رکھتے ہیں۔ خدا کے فضل سے نومید مت ہو۔ یوسف کو دیکھ اور اُس کے اقبال کو۔ خدا اس کے اَیْ 1آتھم کے غم پر مطلع ہوا۔ اس لئے اُس نے عذاب میں تاخیر کی۔ یہ خدا کی سنّت ہے اور تُو خدا کی سنّت میں تبدیلی نہیں پائے گا۔ اور تعجب مت کرو۔ اور غمناک مت ہو۔ اور تم ہی غالب ہو۔ اگر تم ایمان پر ثابت قدم رہے۔ اور مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے۔
    1 اس کے معنی ’’یعنی‘‘ ہیں۔ (مرتّب)
    اَنْتَ الْاَعْلٰی۔ وَنُمَزِّقُ الْاَعْدَآئَ کُلَّ مُمَزَّقٍ۔ وَمَکْرُ اُولٰٓئِکَ ھُوَ یَبُوْرُ۔ اِنَّا نَکْشِفُ السِّرَّ عَنْ سَاقِہٖ۔ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔ وَھٰذَا تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً۔ اِنَّ النَّصَارٰی حَوَّلُوا الْاَمْرَ۔ سَنَرُدُّھَا عَلَی النَّصَارٰی۔ لَیُنْبَذَ نَّ فِی الْحُطُمَۃِ۔ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ مَّظْھَرِ الْحَقِّ وَالْعَلَآئِ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآئِ۔ اِسْمُہٗ عمانوایل۔ یُوْلَدُ لَکَ الْوَلَدُ۔ وَیُدْنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ۔ اِنَّ نُوْرِیْ قَرِیْبٌ۔ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ عِجْلٌ جَسَدٌ لَّہٗ خُوَارٌ۔ فَلَہٗ نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ۔
    (فارسی و اُردو الہام)
    بخرام کہ وقت ِ تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنارِ بلند تر محکم افتاد۔ خدا تیرے سب کام درست کردے گا۔ اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔ مَیں اپنی چمکار دِکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔ اور تیری برکتیں پھیلاؤں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پَر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اُسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ 1‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 51 تا 62۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 51 تا 62)
    کہ غلبہ تجھی کو ہے۔ اور ہم دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے اور ان کا مکر ہلاک ہوجائے گا۔ اور ہم حقیقت کو اس کی پنڈلی سے کھول دیں گے۔ اُس دن مومن خوش ہوں گے۔ اور (ایک) گروہ پہلوں میں سے اور ایک پچھلوں میں سے۔ اور یہ تذکرہ ہے۔ پس جو چاہے خدا کی راہ کو اختیار کرے۔ نصاریٰ نے حقیقت کو بدلا دیا ہے۔ سو ہم ذلّت اور شکست کو نصاریٰ پر واپس پھینک دیں گے اور آتھم نابود کرنے والی آگ میں ڈال دیا جاوے گا۔ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اُترا۔ نام اس کا عمانوایل ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’خدا ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ تجھے لڑکا دیا جائے گا۔ اور خداکا فضل تجھ سے نزدیک ہوگا۔ میرا نُور قریب ہے۔ کہہ میں شریر مخلوقات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ بے جان گوسالہ ہے اور بے ہودہ گو یعنی لیکھرام پشاوری ، سو اس کو دُکھ کی مار اور عذاب ہوگا یعنی اسی دُنیا میں۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 51تا 62۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 51 تا 62)
    1 ’’ ان میں سے بعض الہامات بیس برس کے عرصہ سے ہیں۔ جو مختلف ترتیبوں اور کمی بیشی کے ساتھ باربار القا ہوئے ہیں۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ51)
    1896ء
    اُلْقِیَ 1 فِیْ رُوْعِیْ اَنْ اَکْتُبَ ھٰذَا الْمَکْتُوْبَ2 فِی الْعَرَبِیَّۃ وَ اُتَرْجِمَہٗ بِالْفَارِسِیَّۃِ وَ اَرْعَی النَّوَظِرَفِی النَّوَاضِرِ الْاَصْلِیَّۃِ وَ اُوْسِعَ التَّبْلِیْغَ بالْاَلْسُنِ الْاِسْلَامِیَّۃِ لَیِکُوْنَ بَلَاغًا تَآمًّا لِّلطَّالِبِیْنَ۔‘‘ (انجام آتھم صفحہ 74،75۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 74،75)
    1896ء
    ’’ 3 یَآ اَحْمَدِیْ اَنْتَ مُرَادِیْ وَمَعِیْ۔ یَحْمَدُکَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 77روحانی خزائن جلد 11 صفحہ77)
    1896ء
    ’’ 4 اَنْتَ عِیْسَی الَّذِیْ لَایُضَاعُ وَقْتُہٗ۔ کَمِثْلِکَ دُرٌّ لَایُضَاعُ۔ جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآئِ۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 77روحانی خزائن جلد 11 صفحہ77)
    1896ء
    ’’ 5 اِنِّی مُرْسِلُکَ اِلٰی قَوْمٍ مُّفْسِدِیْنَ۔ وَاِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔ وَاِنِّیْ مُسْتَخْلِفُکَ اِکْرَامًا کَمَا جَرَتْ سُنَّتِیْ فِی الْاَوَّلِیْنَ۔‘‘ (انجام آتھم صفحہ 79۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ79)
    1896ء
    ’’ 6 اِنَّکَ اَنْتَ مِنِّی الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ۔ وَاُرْسِلْتَ لِیُتِمَّ مَا وَعَدَ مِنْ قَبْلُ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔ اِنَّ وَعْدَہٗ کَانَ مَفْعُوْلاً وَّھُوَ اَصْدَقُ الصَّادِقِیْنَ۔‘‘ (انجام آتھم صفحہ 80۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 80)
    1 (ترجمہ از مرتب) میرے دل میں ڈالا گیا کہ مَیں اس کتاب کو عربی زبان میں لکھوں اور فارسی میں اس کا ترجمہ کروں۔ اور اس طرح دیکھنے والوں کو حقیقی سبزہ زاروں میں پھراؤں۔ اور تبلیغ کو اسلامی زبانوں میں پھیلاؤں۔ تاکہ طالبانِ حق کے لئے یہ تبلیغ مرتبہ ٔ کمال کو پہنچ جائے۔
    2 یعنی مکتوب مشمولہ کتاب انجام آتھم صٖحات 73 تا 282 ۔ روحانی خزائن جلد11 صفحہ 73 تا 282 (مرتب)
    3 (ترجمہ از مرتب) اے میرے احمد ! تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ عرش پر سے تیری تعریف کررہا ہے۔
    4 (ترجمہ از مرتب) تو عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرستادہ نبیوں کے لباس میں۔
    5 (ترجمہ از مرتب) مَیں تجھے ایک مفسد قوم کی طرف بھیجتا ہوں۔ اور مَیں تجھے لوگوں کا امام بناتا ہوں۔ اور مَیں تجھے اکرام سے خلیفہ مقرر کرتا ہوں جیسا کہ پہلے لوگوں میں میری سنّت رہی ہے۔
    6 (ترجمہ از مرتب) تُو ہی میری طرف سے مسیح ابن ِ مریم ہے۔ اور اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تا وہ جو وعدہ تیرے ربّ اکرم
    1896ء
    ’’ 1 اِنَّکَ اَنْتَ ھُوَ فِیْ حُلَلِ الْبُرُوْزِ۔ وَھٰذَا ھُوَالْوَعْدُ الْحَقُّ الَّذِیْ کَانَ کَالسِّرِّ الْمَرْمُوْزِ۔ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَلَا تَخَفْ اَلْسِنَۃَ الْجَاھِلِیْنَ وَ کَذَالِکَ جَرَتْ سُنَّۃُ اللّٰہِ فِی الْمُتَقَدِّمِیْنَ۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 80۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 80)
    1896ء
    ’’ 1 یَآ اَحْمَدُ اُجِیْبُ کُلَّ دُعَآئِکَ اِلَّا فِیْ شُرَکَآئِکَ۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 181۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 181)
    یکم اکتوبر1896ء
    ’’ کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ مرسلہ آں محب مجھ کو پہنچا۔ اُس کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ اس روپیہ کے پہنچنے سے تخمیناً سات گھنٹہ پہلے مجھ کو خدائے عزّوجلّ نے اس کی اطلاع دی۔ سو آپ کی اس خدمت کے لئے یہ اجر کافی ہے کہ خدا تعالیٰ آپ سے راضی ہے اس کی رضا کے بعد اگر تمام جہان ریزہ ریزہ ہوجاوے تو کچھ پرواہ نہیں۔ یہ کشف اور الہام آپ ہی کے بارہ میں مجھ کو دو دفعہ ہوا ہے۔ فالحمدللہ ۔ الحمداللہ۔‘‘
    (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اوّل صفحہ 5 بنام سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی مؤرخہ 2؍اکتوبر 1896ء)
    21دسمبر 1896ء
    ’’ جلسہ ٔ اعظم مذاہب جو لاہورٹاؤن ہال میں 26,27,28؍ دسمبر 1896ء کو ہوگا اُس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات اور معجزات کے بارے میں پڑھا جاوے گا۔ یہ وہ مضمون ہے جو انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اُس کی تائید سے لکھا گیا ہے......مجھے خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا اور اس میں سچائی اور حکمت او رمعرفت کا وہ نور ہے جو دوسری قومیں بشرطیکہ حاضر ہوں اوراس کو اوّل سے آخر تک سنیں شرمندہ ہوجائیں گی اور ہرگز قادر نہیں ہوں گی، کہ اپنی کتابوں کے یہ کمال دکھلاسکیں خواہ وہ عیسائی ہوں خواہ آریہ خواہ سناتن دھرم والے یا کوئی
    بقیہ حاشیہ:۔ نے پہلے سے کیا ہوا تھا۔ وہ پورا ہو۔ اس کا وعدہ ضرور پورا ہوتا ہے۔ اور وہ سب سے بڑھ کر سچا ہے۔
    1 (ترجمہ از مرتب) تُو بروزی طور پر وہی (یعنی عیسیٰ ؑ) ہے اور یہی وہ سچا وعدہ ہے جو رازِ پوشیدہ کی طرح چلا آتا تھا۔ پس جو حکم تجھے دیا جاتا ہے اُسے کھول کر لوگوں کو پہنچا۔ اور جاہل لوگوں کی زبان درازی سے مت ڈر۔ اور اسی طرح پہلے لوگوں میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت جاری رہی ہے۔
    2 (ترجمہ از مرتب) اے احمد ! مَیں تیری تمام دعائیں قبول کروں گامگر تیرے شریکوں کے بارے میں نہیں۔
    اور۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس روز اس کی پاک کتاب کا جلوہ ظاہر ہو۔
    مَیں نے عالمِ کشف میں اس کے متعلق دیکھا کہ میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا اور اس ہاتھ کے چھونے سے اس محل میں سے ایک نور ساطع نکلا۔ جو اردگرد پھیل گیا اور میرے ہاتھوں پر بھی اس کی روشنی ہوئی۔ تب ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا۔ وہ بلند آواز سے بولا کہ
    اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ خَرِبَتْ خَیْبَرُ
    اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس محل سے میرا دل مراد ہے جو جائے نزول و حلول انوار ہے اور وہ نور قرآنی متعارف ہیں اور خیبر سے مراد تمام خراب مذاہب ہیں جن میں شرک اور باطل کی ملونی ہے اور انسان کو خدا کی جگہ دی گئی یا خدا کی صفات کو اپنے کامل محل سے نیچے گرادیا ہے۔ سو مجھے جتلایا گیا کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ کھُل جائے گا اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائے گی جب تک کہ اپنا دائرہ پُورا کرے۔
    پھر مَیں اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے یہ الہام ہوا
    اِنَّ اللّٰہَ مَعَکَ۔ اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْمُ اَیْنَمَا قُمْتَ
    یعنی خدا تیرے ساتھ ہے اورخدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑاہو۔ یہ حمایت الٰہی کے لئے ایک استعارہ ہے1۔‘‘
    (اشتہار مؤرخہ 21؍دسمبر 1896ء زیر عنوان ’’سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری‘‘
    و تبلیغ رسالت جلد پنجم صفحہ7 7۔79۔ مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 293،294)
    جب مَیں مضمون ختم کرچکا تو خداتعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہؤا کہ
    ’’مضمون بالا رہا‘‘
    (حقیقتہ الوحی صفحہ 279۔ روحانی خزائن جلد22 صفحہ 291)
    1 ’’ یہ الہام بذریعہ ایک چھپے ہوئے اشتہار مؤرخہ 21؍دسمبر کے قبل جلسہ ہذا ہی دوروز کے اندر ہی دور و نزدیک شائع کیا گیا۔ اور سب لوگوں کو اس بات سے آگاہی دی گئی کہ ہمارا ہی مضمون غالب رہے گا۔ پس ایسا ہی ہوا کہ اس جلسہ میں جس قدر مضامین پڑھے گئے تھے ان سب پر ہمارا مضمون غالب اور فائق رہا اور خود اُس جلسہ میں غیر مذاہب کے وکلاء نے بھی پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکر گواہیاں دیں کہ مرزا صاحب کا مضمون سب پر غالب رہا۔ اور انگریزی اخبار سول ملٹری گزٹ اور پنجاب اَبزرور اور دیگر اخباروں نے بڑے زور سے گواہی دی۔ کہ ہمارا مضمون سب مضامین پر غالب رہا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 195۔ روحانی خزائن جلد18 صفحۃ 573)
    اس بارہ میں اس مذہبی کانفرنس کے سکرٹری دھنپت رائے بی اے ایل ایل بی پلیڈر چیف کورٹ پنجاب
    1896ء
    ’’مجھے کشفی طور پر عین بیداری میں بارہا بعض مُردوں کی ملاقات کا اتفاق ہوا ہے۔ اور مَیں نے بعض فاسقوں اور گمراہی اختیار کرنے والوں کا جسم ایسا سیاہ دیکھا کہ گویا وہ دھوئیں سے بنایا گیا ہے۔‘‘
    (اسلامی اصول کی فلاسفی ۔ رُوحانی خزائن جلد 10 صفحہ 405ٌ
    1896ء
    ’’مجھے اس سے بہت خوشی ہوئی۔ کہ چند روز ہوئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ مُبشّر الہام مجھے ہوا ہے۔
    اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً
    ترجمہ یعنی میں فوجوں کے ساتھ ناگاہ تیرے پاس آنے والا ہوں۔ یہ کسی عظیم الشان نشان کی طرف
    بقیہ حاشیہ: ’’رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب‘‘ (دھرم مہوتسو) میں تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’پنڈت گوردھن داس صاحب کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا لیکن چونکہ بعد از وقفہ ایک نامی وکیل اسلام کی طرف سے تقریر کا پیش ہونا تھا اس لئے اکثر شایقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ ڈیڑھ بجے میں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع مکان جلد جلد بھرنے لگا۔ اور چند ہی منٹوں میں تمام مکان پُر ہوگیا۔ اس وقت کوئی سات آٹھ ہزار کے درمیان مجمع تھا۔ مختلف مذاہب و ملل اور مختلف سوسائٹیوں کے معتدبہ اور ذی علم آدمی موجود تھے اگرچہ کرسیاں اور میزیں اور فرش نہایت وسعت کے ساتھ مہیا کیا گیا۔ لیکن صد ہا آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ بن نہ پڑا۔ اور ان کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے رؤسا ء عمائد پنجاب ‘ علماء فضلاء ‘ بیرسٹر ‘ وکیل ‘ پروفیسر ‘ اکسٹرا اسسٹنٹ ‘ ڈاکٹر‘ غرض کہ اعلیٰ طبقہ کے مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے ان لوگوں کے اس طرح جمع ہوجانے اور نہایت صبرو تحمل کے ساتھ جوش سے برابر چار پانچ گھنٹے اُس وقت ایک ٹانگ پر کھڑا رہنے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان ذی جاہ لوگوں کو کہاں تک اس مقدس تحریک سے ہمدردی تھی..........اس مضمون کے لئے اگرچہ کمیٹی کی طرف سے صرف دو گھنٹے ہی تھے۔ لیکن حاضرین جلسہ کو عام طور پر اس سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہوگئی کہ موڈریٹر صاحبان نے نہایت جوش اور خوشی کے ساتھ اجازت دی کہ جب تک یہ مضمون ختم نہ ہو۔ تب تک کارروائی جلسہ کو ختم نہ کیا جاوے ان کا ایسا فرمانا عین اہل ِ جلسہ اور حاضرین جلسہ کی منشاء کے مطابق تھا۔ کیونکہ جب وقت مقررہ کے گذرنے پر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب نے اپنا وقت بھی اس مضمون کے ختم ہونے کے لئے دے دیا۔ تو حاضرین اور موڈریٹر صاحبان نے ایک نعرہ خوشی سے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا .........یہ مضمون قریباً چار گھنٹے میں ختم ہوا۔ اور شروع سے اخیر تک یکساں دلچسپی و قبولیت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ ‘‘
    (دیکھو رپورٹ جلسہ ٔ اعظم مذاہب (دھرم مہوتسو) صفحہ 79، 80)
    اشارہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘
    (مکتوب مؤرخہ 3؍ جنوری 1897ء بنام سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اوّل صفحہ 7)
    یکم جنوری 1897ء
    ’’ 1 وَ بَشَّرَنِیْ رَبِّیْ بِرَابِحٍ رَّحْمَۃً۔ وَقَالَ
    اِنَّہٗ یَجْعَلُ الثَّلٰثَۃَ اَرْ بَعَۃً .........
    ثُمَّ کُرِّرَ عَلَیَّ صُوْرَۃُ ھٰذِہِ الْوَاقِعَۃِ فَبَیْنَمَآ اَنَا کُنْتُ بَیْنَ النَّوْمِ وَالْیَقْظَۃِ۔ فَتَحَرَّکَ فِیْ صُلْبِیْ رُوحُ الرَّابِعِ بِعَالَمِ الْمُکَاشَفَۃِ فَنَا دیٰٓ اِخْوَانَہٗ وَقَالَ
    بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ مِیْعَادُ یَوْمٍ مِّنَ الْحَضْرَۃِ
    فَاَظُنُّ اَنَّہٗٓ اَشَارَ اِلَی السَّنَۃِ الْکَامِلَۃِ۔ اَوْ اَمَدٍ اٰخَرَمِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔‘‘
    (انجام آتھم صفحہ 182، 183۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحۃ 182،183)
    (ب) ’’اسی لڑکے2نے اسی طرح پیدائش سے پہلے یکم جنوری 1897ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔‘‘ (تریاق القلوب صفحہ 41۔ روحانی خزائن جلد15 صفحۃ 217)
    (ج) ’’الہام کے موافق مباہلہ کے بعد ہمیں ایک لڑکا عطا کیا۔ جس کے پیدا ہونے سے تین لڑکے ہمارے ہوگئے یعنی دوسری بیوی سے۔ اور نہ صرف یہی بلکہ ایک چوتھے3لڑکے کے لئے متواتر الہام کیا۔ اور ہم عبدالحق کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ نہیں مرے گا جب تک اس الہام کا پورا ہونا بھی نہ سن لے۔ اب اس کو چاہئے کہ اگر وہ کچھ چیز ہے ، تو دُعا سے اس پیشگوئی کو ٹال دے۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 58۔ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 342)
    1 (ترجمہ از مرتب) اور میرے ربّ نے مجھے اپنی رحمت سے ایک چوتھے لڑکے کی بشارت دی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ تین کو چار کردے گا...........پھر دوبارہ اس واقعہ کا نقشہ مجھے دکھایا گیا۔ اور اسی (کشفی) حالت میں کہ مَیں نیند اور بیداری کی حالت میں تھا۔ عالم مکا شفہ میں چوتھے لڑکے کی روح نے میری صلب میں حرکت کی۔ اور اس نے اپنے بھائیوں کو پکار کر کہا کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک دن کی میعاد مقرر ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس نے ایک سال کی طرف یا کسی اور میعاد کی طرف جس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اشارہ کیا۔
    2 یعنی مبارک احمد پسر چہارم۔ (مرتب)
    3 ’’خدا تعالیٰ نے میری تصدیق کے لئے اور تمام مخالفین کی تکذیب کے لئے اور عبدالحق غزنوی کو متنبہ کرنے کے لئے اس پسر چہارم کی پیشگوئی کو 14؍جون 1899ء میں جو مطابق 4؍صفر 1317ھ تھی بروز چہار شنبہ پورا کردیا۔ یعنی وہ مولود مسعود چوتھا لڑکا (مبارک احمد ہے۔مرتب)تاریخ مذکورہ میں پیدا ہوگیا۔‘‘
    (تریاق القلوب صفحہ 43۔ روحانی خزائن جلد15 صفحہ 221)
    1897ء
    ’’خدا تعالیٰ نے ...........ایک فرزند کی نسبت جس کا نام مبارک احمد ہے ‘ ظاہر فرمایا کہ عبدالحق نہیں مرے گا جب تک کہ وہ پیدا نہ ہو...............دوسرا نام اس لڑکے کا ایک خواب کی بنا پر دولت احمد بھی ہے۔‘‘
    ( اشتہار معیار الاخیار صفحہ 5۔ مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 272)
    1897ء
    ’’مَیں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہوجائے۔ میرا دل مُردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے..... مَیں کبھی کا اس غم سے فنا ہوجاتا اگر میرا مولا اور میرا قادر توانا مجھے تسلّی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے، غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنی خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے۔ مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اُس کا بیٹا اب ضرور مرے گا۔ خد اقادر فرماتا ہے کہ اگر مَیں چاہوں تو مریم اور اُس کے بیٹے عیسیٰ اور تمام زمین کے باشندوں کو ہلاک کروں۔ سو اَب اُس نے چاہا ہے کہ ان دونوں کی جھوٹی معبودانہ زندگی کو موت کا مزہ چکھاوے۔ سو اب دونوں مریں گے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب استعدادیں بھی مریں گی‘ جو جھوٹے خداؤں کو قبول کرلیتی تھیں۔ نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہوگا۔ اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا اور بعد اس کے توبہ کا دروازہ بند ہوگا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہوجائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔
    قریب ہے کہ سب ملّتیں ہلاک ہونگی مگر اسلام۔ اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا‘ نہ کند ہوگا۔ جب تک دجالیّت کو پاش پاش نہ کردے۔ وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ‘ ملکوں میں پھیلے گی۔ اس دن نہ کوئی مصنوعی کفّارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کردے گا لیکن نہ کسی تلوار سے ‘ اور نہ کسی بندوق سے ‘ بلکہ مستعد رُوحوں کو روشنی عطا کرنے سے ‘ اور پاک دلوں پر ایک نور اُتارنے سے۔ تب یہباتیں جو مَیں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی۔‘‘
    اَلْاِشْتِھَارُ مُسْتَیْقِنًا بِوَحْیِ اللّٰہِ الْقَھَّارِ۔
    (مؤرخہ 14؍جنوری 1897ء مجموعہ اشتہارات جلد2 صفحہ 304، 305)
    یکم فروری 1897ء
    ’’جب میری لڑکی مبارکہ والدہ کے پیٹ میں تھی تو حساب کی غلطی سے فکر دامن گیر ہوا۔ اور اس کا غم حد سے بڑھ گیا کہ شاید کوئی اور مرض ہو تب مَیں نے جنابِ الٰہی میں دُعا کی تو الہام ہوا کہ
    آید آن روزے کہ مستخلص شود
    اور مجھے تفہیم ہوئی کہ لڑکی پیدا ہوگی۔ چنانچہ اس کے مطابق 27؍رمضان 1314ھ کو لڑکی پیدا ہوئی جس کام مبارکہ رکھا گیا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 202۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 580)
    1897ء
    ’’ خدا تعالیٰ نے حمل کے ایام میں ایک لڑکی کی بشارت دی اور اُس کی نسبت فرمایا۔
    تُنَشَّأُ فِی الْحِلْیَۃِ
    یعنی زیور میں نشوو نما پائے گی یعنی نہ وہ خورد سالی میں فوت ہوگی اور نہ تنگی دیکھے گی۔ چنانچہ بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی صفحہ 217۔ روحانی خزائن جلد22 صفحہ 227)
    فروری 1897ء
    (الف) ’’ ایک شخص اہل تشیع میں سے جوا پنے آپ کو شیخ نجفی کے نام سے مشہور کرتا تھا ایک دفعہ لاہور میں آکر ہمارے مقابلہ میں بہت شور مچانے لگا اور نشان کا طلب گار ہوا۔ چنانچہ ہم نے باشاعت اشتہار یکم فروری 1897ء اُس کو وعدہ دیا کہ چالیس روز تک تجھے اللہ تعالیٰ کوئی نشان دکھلائے گا۔ سو خدا کا احسان ہے کہ ابھی چالیس دن پورے نہ ہوئے تھے کہ نشان ہلاکت لیکھرام پشاوری وقوع میں آگیا۔ تب تو شیخ ضال نجفی فوراً لاہور سے بھاگ گیا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 209۔ روحانی خزائن جلد18 صفحہ 587)
    (ب) ’’حضرت شیخ الاسلام 1درخط ِ خود وعدہ می فرماید کہ در چہل دقیقہ نشا نے تونم نمود۔ بسیار خوب است۔ یکے از اخبار غیب بذریعہ اشتہار مے شائع فرمائید بجائے چہل دقیقہ مہلت چہل ساعت اوشا نرامی دہیم۔ پس اگر در چہل روز نشانے ازما ظاہر نہ شد۔ و ازیشاں در چہل ساعت ظاہر شد۔ یا فرض کنید کہ ازیشان نیز در چہل روز ظاہر شُد۔ بر بزرگی او شاں ایمان خواہیم آورد۔ و ترک دعویٔ خود خواہیم کرد۔ و اگر نشانے از مادریں مدّت بظہور2آمد وازیشاں چیزے بظہور نیا مد۔ ہمیں دلیل بر صدقِ ما وکذب شاں خواہد بود۔‘‘ (اشتہار واجب الاظہار۔ یکم فروری 1897ء صفحہ 3 حاشیہ۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 323 حاشیہ)
    1 (ترجمہ از مرتب) حضرت (حاجی شیخ محمد رضا طہرانی نجفی ملقّب بہ) شیخ الاسلام ( جو شیعہ ہیں) اپنے خط میں وعدہ کرتے ہیں کہ ہم چالیس منٹ میں نشان دکھانے کے لئے تیار ہیں۔ بہت اچھا۔ اشتہار کے ذریعہ سے کوئی پیشگوئی شائع کریں۔ ہم انہیں چالیس منٹ کی بجائے چالیس گھنٹے کی مہلت دیتے ہیں۔ پس اگر چالیس روز کے عرصے میں ہماری طرف سے کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔ اور ان کی طرف سے چالیس گھنٹہ کے اندر نشان ظاہر ہوگیا بلکہ چالیس گھنٹہ نہ سہی۔ چالیس روز کے اندر بھی اگر اُن کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہوا۔ تو اُن کی بزرگی پر ہم ایمان لے آویں گے۔ اور اپنے دعویٰ کو چھوڑ دیں گے۔ اور اگر اس عرصہ میں ہماری طرف سے کوئی نشان ظاہر ہوا۔ اور ان کی طرف سے کوئی ظاہر نہ ہوا۔ تو یہ ہمارے صدق اور اُن کے کذب کی دلیل ہوگا۔
    2 ’’شیخ نجفی نے اپنے خط میں چالیس دقیقہ میں نشان دکھلانے کا وعدہ
    فروری 1897ء
    ’’ ایک دفعہ مَیں نے اسی لیکھرام کے متعلق دیکھا کہ ایک نیزہ ہے اس کا پھل بڑا چمکتا ہے اور لیکھرام کا سر پڑا ہوا ہے۔ اُسے اس نیزے سے پرو دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ پھر قادیان میں نہ آوے گا۔ (ان ایام میں لیکھرام قادیان میں تھا اور اس کے قتل سے ایک ماہ پیشتر کا یہ واقعہ ہے)
    (البدر جلد 1 نمبر 12 پرچہ 16؍جنوری 1903ء صفحہ 90)
    12 فروری 1897ء
    ’’ بتاریخ نہم رمضان المبارک 1314 ہجری حضرت اقدس مسیح موعود مہدی مسعود نے خواب میں دیکھا کہ ملازم ان کا مسمی پیرا دروازے پر کھڑا آواز دے رہا ہے کہ یہ خط لے جاؤ۔ مولوی سید محمد احسن صاحب کا خط ہے۔ جب حضرت اقدس نے اُس خط کو لیا تو اُس پر لکھا ہوا بہت کچھ ہے مگر حضرت اقدس نے اُس وقت صرف (العارف) پڑھا۔ جب آپ اُس خط کو اندر مکان کے لے گئے تو اس کو مسک العارف پڑھا۔ پھر آنکھ کھُل گئی۔‘‘
    (مسک المعارف صفحہ 62 مصنفہ مولوی محمد احسن صاحب امروہوی)
    1897ء
    ’’ ایک عرصہ ہوا کہ مجھے الہام ہوا تھا۔
    وَسِّعْ مَکَانَکَ۔ یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔
    یعنی اپنے مکان کو وسیع کر کہ لوگ دُور دُور کی زمین سے تیرے پاس آئیں گے۔ سو پشاور سے مدراس تک تو مَیں نے اس پیشگوئی کو پورے ہوتے دیکھ لیا مگر ا س کے بعد دوبارہ پھر یہی الہام ہوا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ پیشگوئی پھر زیادہ قوت او ر کثرت سے پوری ہوگی۔ وَاللّٰہ یَفْعَلُ مَا یَشَآئُ لَا مَانِعَ لِمَآ ارَادَ۔‘‘
    (اشتہار مؤرخہ 17؍فروری 1897ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحۃ 327)
    بقیہ حاشیہ:۔ کیا تھا۔ اور ہم نے یکم فروری 1897ء سے چالیس روز میں.......سو خدا کا احسان ہے کہ یکم فروری 1897ء سے پینتیس دن تک یعنی چالیس دن کے اندر نشان ہلاکت لیکھرام پشاوری وقوع میں آگیا........اب ہماری طرف سے نشان تو ہوچکا۔ اور نجفی کا کذب کھُل گیا۔ تاہم تنزل کے طور پر ہم راضی ہیں کہ وہ مسجد شاہی کے منارہ سے اب نیچے گر کے دکھلاوے تاکہ اگر شیخ نجدی منظرین میں داخل ہے تو بارے شیخ نجفی کا قصہ تو تمام ہوا اور اگر اب بھی اپنا نشان نہ دکھلایا تو لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔‘‘
    (اشتہار 10؍مارچ 1897ء ۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 339)
    1897ء
    ’’ خداوند علیم و خبیر سے خبر پاکر مَیں نے اپنے اشتہار 12؍مارچ 1897ء میں اس امر کو ظاہر کردیا تھا کہ اب سید احمد خان صاحب کے۔سی۔ایس۔آئی کی موت کا وقت قریب ہے۔ افسوس ہے کہ ایک نظر دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا۔ سید صاحب غور سے پڑھیں کہ اب ملاقات کے عوض میں یہی اشتہار ہے۔ چنانچہ اس اشتہار کے ایک سال بعد سید صاحب وفات پاگئے۔‘‘
    ( نزول المسیح صفحہ 191,192۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 569،570)
    1897ء
    ’’ مَیں آپ1کو یقین دلاتا ہوں۔ کہ مجھے یہ بھی صاف لفظوں میں فرمایا گیا ہے کہ پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا اسلام کی طرف زور کے ساتھ رجوع ہوگا۔‘‘
    (اشتہار 12؍مارچ 1897ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 341)
    15 مارچ 1897ء
    ’’ اس تحریر کے وقت ابھی ایک الہام ہوا۔ اور وہ یہ ہے۔
    سلامت 2بر تو اے مَردِ سلامت3
    (سراج منیر صفحہ 27 حاشیہ ۔ اشتہار 15؍مارچ 1897ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 356 حاشیہ۔
    روحانی خزائن جلد12 صفحہ 31)
    1897ء
    (الف) ’’ شیخ محمد حسین بٹالوی.......کی نسبت تین مرتبہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنی حالت پُر ضلالت سے رجوع کرے گا اور پھر خدا اُس کی آنکھیں کھولے گا۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔‘‘
    (سراج منیر صفحہ 70۔ روحانی خزائن جلد12 صفحہ 80)
    (ب)’’ ممکن ہے کہ محمد حسین کا انجام اس آیت پر ہو اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ
    1 مراد سر سید احمد خاں صاحب۔ (مرتب)
    2 (ترجمہ) اے سلامتی والے شخص تیرے لئے سلامتی ہے۔
    3 یہ وحی الٰہی اس وقت حضور پر نازل ہوئی تھی۔ جب لیکھرام کی ہلاکت کے بعد آریوں کی طرف سے متواتر قتل کی دھمکی دی جاتی تھی۔ (مرتب)

    بَنُوْٓ اِسْرَائِیْلَ۔ کیونکہ بعض رؤیااس عاجز کی اس تاویل کی مؤ یّد ہیں۔‘‘
    (اشتہار 15؍مارچ 1897ء مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 356۔ و سراج منیر صفحہ29 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 31)
    (ج) ’’خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشف ظاہر کررہا ہے کہ وہ بالآخر ایمان لائیگا۔ مگر مجھے معلوم نہیں کہ وہ ایمانِ فرعون1 کی طرح صرف اسی قدر ہوگا کہ اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓ اِسْرَائِیْلَ۔ یا پرہیزگار لوگوں کی طرح۔ واللہ اعلم۔‘‘
    (استفتاء اُردو صفحہ 22 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد12 صفحہ 130)
    1897ء
    ’’میرے پر یہی کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النّبیّین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بکلّی بند ہیں۔ اب نہ کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کے رُو سے آسکتا ہے اور نہ کوئی قدیم نبی۔‘‘
    (سراج منیر صفحہ 3۔ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 76)
    1897ء
    ’’ نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُنِّی رُوْحَ الصِّدْقِ .......میں جو لفظ لَدُنْ کا ذکر ہے اُ س کی شرح کشفی طور پر یوں معلوم ہوئی۔ کہ ایک فرشتہ خواب میں کہتا ہے کہ یہ مقام لَدُنْ جہاں تجھے پہنچایا گیا۔ یہ وہ مقام ہے ‘ جہاں ہمیشہ بارشیں ہوتی رہتی ہیں۔ اور ایک دم بھی بارش نہیں تھمتی۔‘‘ (سراج منیر صفحہ 74۔ روحانی خزائن جلد12۔ صفحہ 76)
    1 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ ’’ اصل میں محمد حسین زیرک آدمی تھا۔ مگر دیکھتا تھا کہ ابتدا سے اس میں ایک قسم کی خود پسندی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ کہ اس طرح پر اس کا تنقیہ کر دے۔ یہ اس کے لئے استفراغ ہے۔ براہین میں ایک الہام درج ہے جس میں اس کا فرعون نام رکھا گیا ہے اس نے بھی آخر یہی کہنا تھا کہ اٰمَنْتُ بِالَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓ اِسْرَائِیْلَ۔ اس لئے اس کے لئے بھی اٰمَنْتُ بِالَّذِیْ کا وقت مقدّر ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ وہ کیا امر ہے جس کی و جہ سے یہ آخری سعادت اس کے لئے مقدّر ہے۔ فرمایا۔ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ مگر اُس نے ایک کام تو کیا ہے براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تھا اور وہ واقعی اخلاص سے لکھا تھا کیونکہ اُس وقت اُس کی یہ حالت تھی کہ بعض اوقات میرے جوتے اُٹھا کر جھاڑ کر آگے رکھ دیا کرتا تھا اور ایک بار مجھے اپنے مکان میں اس غرض سے لے گیا کہ وہ مبارک ہوجاوے۔ اور ایک بار اصرار کرکے مجھے وضو کرایا۔ غرض بڑا اخلاص ظاہر کیا کرتا تھا کئی بار اس نے ارادہ کیا کہ مَیں قادیان ہی میں آکر رہوں مگر مَیں نے اُس وقت اُسے یہی کہا تھا کہ ابھی وقت نہیں آیا۔ اس کے بعد اسے یہ ابتلاء پیش آگیا۔ کیا تعجب ہے کہ اس اخلاص کے بدلے میں خدا نے اس کا انجام اچھا رکھا ہو۔‘‘
    ( الحکم جلد 7 نمبر 2مؤرخہ 17؍جنوری 1903ء صفحہ 7،8)
    1897ء
    ’’ عالمِ کشف میں مَیں نے دیکھا کہ زمین نے مجھ سے گفتگو کی اور کہا۔
    یَاوَلِیَّ اللّٰہِ کُنْتُ لَآ اَعْرِفُکَ
    یعنی اے خدا کے ولی ! مَیں تجھ کو پہچانتی نہ تھی۔‘‘ (سراج منیر صفحہ 78۔ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 80)
    1897ء
    ’’ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ان اشتہارات1کی تقریب پر جو آریہ قوم اور پادریوں اور سکھوں کے مقابل پر جاری ہوئے ہیں۔ جو شخص مقابل پر آئے گا۔ خدا اُس میدان میں میری مدد کرے گا۔‘‘
    (سراج منیر صفحہ 72۔ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 81)
    1897ء
    ’’مجھے میرے خدا نے مخاطب کرکے فرمایا ہے۔
    اَلْاَرْضُ وَ السَّمَآئُ مَعَکَ کَما۔ ھُوَ2 مَعِیْ۔ قُلْ لِّیَ الْاَرْضُ وَالسَّمَآئُ قُلْ لِّیْ سَلَامٌ۔ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔ یَاْتِیْ نَصْرُ اللّٰہِ۔ اِنَّا سَنُنْذِرُ الْعَالَمَ کُلَّہٗ۔ اِنَّا سَنَنْزِلُ۔ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا
    یعنی آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہے۔ جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔ کہہ آسمان اور زمین میرے لئے ہے۔ کہہ میرے لئے سلامتی ہے وہ سلامتی جو خدا قادر کے حضور میں سچائی کی نشست گاہ میں ہے۔ خدا اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں۔ اور جن کا اُصول یہ ہے کہ خلق اللہ سے نیکی کرتے رہیں۔ خدا کی مدد آتی ہے ہم تمام دُنیا کو متنبہ کریں گے۔ ہم زمین پر اُتریں گے۔ مَیں ہی کامل اور سچا خدا ہوں میرے سوا اور کوئی نہیں۔‘‘
    (سراج منیر صفحہ 81،82۔ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 83،84)
    1897ء
    ’’ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ کہ دُنیا میں جس قدر نبیوں کی معرفت مذہب پھیل گئے ہیں اور استحکام پکڑ گئے ہیں اور ایک حصہ ٔدنیا پر محیط ہوگئے ہیں اور ایک عمر پاگئے ہیں اور ایک زمانہ اُن پر گذر گیا ہے، اُن میں
    1 ان اشتہارات سے مراد 15،22؍مارچ ، 5 ، 11،16، 27، 28؍اپریل 1897ء کے اشتہارات ہیں۔ جن میں لیکھرام کے قتل کا ذمہ دار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قرار دینے والے تمام لوگوں کے سامنے ایک فیصلہ کن طریق پیش کرکے انہیں اس کی طرف بلایا گیا تھا۔ مگر ان میں سے کسی کو سامنے آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ (مرتّب)
    2 ’’ضمیر ھُوَ اس تاویل سے (واحد) ہے کہ اس کا مرجع مخلوق ہے۔‘‘ (سراج منیر صفحہ 74 حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد12 صفحہ 83)
    سے کوئی مذہب بھی اپنی اصلیت کے رُو سے جھوٹا نہیں اور نہ اُن نبیوں میں سے کوئی نبی جھوٹا ہے۔‘‘
    (تحفہ قیصریہ صفحہ4۔ روحانی خزائن جلد12 ۔ صفحہ 256)
    1897ء
    ’’نامبردہ1نے خَلوت کی ملاقات میں سلطان روم کے لئے ایک خاص دُعا کرنے کے لئے درخواست کی اور یہ بھی چاہا ۔ کہ آئندہ اوس کے لئے جو کچھ آسمانی قضاء قدر سے آنے والا ہے اُس سے وہ اطلاع پاوے مَیں نے اس کو صاف کہہ دیا کہ سلطان کی سلطنت کی حالت اچھی نہیں ہے اور مَیں کشفی طریق سے اُس کے ارکان2کی حالت اچھی نہیں دیکھتا۔ اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔
    1 یعنی حسین کامی سفیر سلطانِ روم جو 1897ء میں قادیان آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملا تھا۔ (مرتب)
    2 ’’واضح ہوکہ عرصہ تخمیناً دوماہ یا تین ماہ کا گذرا ہے کہ ایک معزز تُرک کی معرفت ہمیں یہ خبرملی تھی کہ حسین کامی مذکور ایک ارتکابِ جُرم کی وجہ سے اپنے عہدہ سے موقوف کیا گیا ہے اور اس کی املاک ضبط کی گئی (ہیں) مگر میں نے اس خبر کو ایک شخص کی روایت خیال کرکے شائع نہیں کیا تھا کہ شاید غلط ہو۔ آج اخبار نیّر آصفی مدراس مورخہ 12اکتوبر 1899ء کے ذریعہ سے ہمیں مفصّل طورپر معلوم ہوگیا کہ ہماری وہ پیشگوئی حسین کامی کی نسبت نہایت کامل صفائی سے پوری ہوگئی۔ ہماری وہ نصیحت جو ہم نے اپنے خلوت خانہ میں اُس کو کی تھی کہ توبہ کروتانیک پَھل پاؤ۔ جس کو ہم نے اپنے اشتہار 24مئی 1897ء میں شائع کردیا تھا اس پر پابند نہ ہونے سے آخر وہ اپنی پاداشِ کردار کو پہنچ گیا اوراَب وہ ضرور اُس نصیحت کو یادکرتا ہوگا۔ ... اَب ہم اخبار مذکور میں سے وہ چھٹی ... ذیل میں نقل کردیتے ہیں اور وہ یہ ہے:۔
    ’’قسطنطنیہ کی چٹّھی ‘‘
    ’’ہندوستان کے مسلمانوں نے جو گذشتہ دوسالوں میں مہاجرین کریٹ اور مجروحین عساکرحرب یونان کے واسطے چندہ فراہم کرکے قونصل ہائے دولت علیہ ترکیہ مقیم ہندکودیا تھا معلوم ہوتا ہے کہ ہرزرچندہ تمام وکمال قسطنطنیہ میں نہیں پہنچا اور اس امر کے باور کرنے کہ یہ وجہ ہوتی ہے کہ حسین بک کامی وائس قونصل مقیم کرانچی کو جو ایک ہزارچھ سوروپیہ کے قریب مولوی انشاء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر اورمولوی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار لاہور نے مختلف مقامات سے وصول کرکے بھیجا تھا وہ سب غبن کرگیا ایک کوڑی تک قسطنطنیہ میں نہیں پہونچائی مگر خدا کا شکر ہے کہ سلیم پاشا ملحمہ کارکن کمیٹی چندہ کو جب خبر پہونچی تو اس نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اس روپیہ کے اُگلوانے کی کوشش کی اور کی اراضی مملوکہ کو نیلام کراکر وصولی رقم کا انتظام کیا اوربابِ عالی میں غبن کی خبر بھجواکر نوکری سے موقف کرایا.... حافظ عبدالرحٰمن الہندی الامرتسری۔ سکہ جدیدہ۔ وکالہ صالح آفندی قاہرہ (ملک مصر)‘‘
    (ازاشتہار 18 نومبر 1899ء مجموعہ اشتہارت جلد سوم صفحہ 189،190)
    یہی وہ باتیں تھیں جو سفیر کو اپنی بدقسمتی سے بہت بُری معلوم ہوئیں۔ مَیں نے کئی اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا۔ کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے اور خدا سچے تقویٰ اور طہارت اور نوعِ انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالت موجودہ بربادی کو چاہتی ہے توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ1۔ مگر مَیں اُس کے دل کی طرف خیال کررہا تھا کہ وہ ان باتوں کو بہت ہی برا مانتا تھا۔ اور یہ ایک صریح دلیل اس بات پر ہے کہ سلطنت روم کے اچھے دن نہیں ہیں۔ اور پھر اوس کا بدگوئی کے ساتھ واپس جانا یہ اور دلیل ہے کہ زوال کے علامات موجود ہیں ماسوا اس کے میرے دعویٰ مسیح موعود اور مہدی معہود کے بارے میں بھی کئی باتیں درمیان آئیں۔ مَیں نے اُس کو بار بار سمجھایا۔ کہ مَیں خدا کی طرف سے ہوں اور کسی خونی مسیح اور خونی مہدی کا انتظار کرنا جیسا کہ عام مسلمانوں کا خیال ہے یہ سب بیہودہ قصے ہیں۔ اس کے ساتھ مَیں نے یہ بھی اُس کو کہا کہ
    خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیٰحدہ رہے گا ‘ وہ کاٹا جائے گا ‘ بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔
    اور مَیں خیال کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں تِیر کی طرح اوس کو لگتی تھیں۔ اور مَیں نے اپنی طرف سے نہیں ‘ بلکہ جو کچھ خدا نے الہام کے ذریعہ فرمایا تھا۔ وہی کہا تھا ۔......
    اور مَیں مکرّر ناظرین کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مجھے اس سفیر کی ملاقات کا ایک ذرّہ شوق نہ تھا....... اُس کے الحاح پر مَیں نے اُس کو قادیان آنے کی اجازت دی۔ لیکن اللہ جلّ شانہٗ جانتا ہے ‘ جس پر جھوٹ باندھنا *** کا داغ خریدنا ہے۔ کہ اوس عالم الغیب نے مجھے پہلے سے اطلاع دیدی تھی کہ اِس شخص کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔‘‘
    (اشتہار 24؍ مئی 1897ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد2 صفحہ 415 تا 418)
    جون 1897ء
    ’’ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ خَلِیْفَۃَ اللّٰہِ السُّلْطَانَ۔2‘‘
    (اشتہار 7؍جون 1897ء ۔تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ 127۔ مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 423)
    1 اِس تقریر میں دو پیشگوئیاں تھیں (1) ایک یہ کہ تم لوگوں کا چال چلن اچھا نہیں۔ا ور دیانت اور امانت کی نیک صفات سے تم محروم ہو(2) دوم یہ کہ اگر تیری یہی حالت رہی تو تجھے اچھا پھل نہیں ملے گا۔ اور تیرا انجام بد ہوگا۔ پھر اسی اشتہار میں (بطور پیشگوئی سفیر مذکور کی نسبت) یہ لکھا تھا کہ بہتر تھا کہ میرے پاس نہ آتا۔ میرے پاس سے ایسی بدگوئی سے واپس جانا اُس کی سخت بد قسمتی ہے یہی و جہ تھی کہ میری نصیحت اس کو بُری لگی اور اوس نے جاکر میری بدگوئی کی۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 187 ۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحۃ 565، 566 نیز دیکھئے تریاق القلوب صفحہ 118۔ روحانی خزائن جلد15 صفحہ 409)
    2 (ترجمہ از مرتب) مَیں نے چاہا کہ اپنا خلیفہ بناؤں تو آدم کو پیدا کیا جو اللہ کا خلیفہ اور بادشاہ ہے۔
    25 جون 1897ء
    ’’ ہم نے دینی مصلحت اور شکر الٰہی کے طور پر ایک کتاب تحفہ ٔ قیصریہ نام بطور ہدیہ قیصرہ ہند کی خدمت میں بھیجنے کے لئے تجویز کی تھی۔ آج ایک خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس ارادہ میں کامیابی نہ ہو۔ ایک الہام میں ہماری جماعت کے ایک ابتلاء کی طرف بھی اشارہ ہے مگر انجام سب خیرو عافیت ہے۔‘‘
    (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی۔ مؤرخہ 9؍جون 1897ء ۔ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اوّل صفحہ 8)
    25 جون 1897ء
    ’’افسوس کہ پرچہ چودھویں صدی 15؍جون 1897ء میں بھی بہت سی جزع فزع کے ساتھ سلطان روم کا بہانہ رکھ کر نہایت ظالمانہ توہین اور تحقیر و استہزاء اس عاجز کی نسبت کیا گیا ہے .............مگر کچھ ضرور نہیں کہ مَیں اُس کے ردّ میں تضیع اوقات کروں۔ کیونکہ وہ دیکھ رہا ہے جس کے ہاتھ حساب ہے لیکن ایک عجیب بات ہے جس کا اس وقت ذکر کرنا نہایت ضروری ہے اور وہ یہ کہ جب یہ اخبار چودھویں صدی میرے رُوبرو پڑھا گیا تو میری رُوح نے اس مقام میں بددُعا کے لئے حرکت کی جہاں لکھا ہے کہ ’’ ایک بزرگ نے جب یہ اشتہار (یعنی اس عاجز کا اشتہار) پڑھا تو بے ساختہ اُن کے مُنہ سے یہ شعر نکل گیا ۔
    چوُں خدا خواہد کہ پَردہ کَس دَرَدْ
    میلش اندر طعنۂ پاکاں برد‘‘
    مَیں نے ہر چند اس رُوحی حرکت کو روکا اور دبایا اور بار بار کوشش کی کہ یہ بات میری رُوح سے نکل جائے مگر وہ نہ نکل سکی۔ تب مَیں نے سمجھا کہ وہ خدا کی طرف سے ہے تب مَیں نے اُس شخص کے بارے میں دُعا کی جس کو بزرگ کےلفظ سے اخبار میں لکھا گیا ہے اور مَیں جانتا ہوں کہ وہ دُعا قبول ہوگئی اور وہ دُعا یہ ہے کہ یا الٰہی اگر تُو جانتا ہے کہ مَیں کذّاب ہوں اور تیری طرف سے نہیں ہوں اور جیسا کہ میری نسبت کہا گیا ہے، ملعون اور مردُود ہوں اور کاذب ہوں اور تجھ سے میرا تعلق اور تیرا مجھ سے نہیں‘ تو مَیں تیری جناب میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ہلاک کر ڈال اور اگر تُو جانتا ہے کہ مَیں تیری طرف سے ہوں اور تیرا بھیجا ہوا ہوں ‘ او رمسیح موعود ہوں تو اُس شخص کے پَردے پھاڑ 1دے۔ جو بزرگ کے نام سے اس اخبار میں لکھا گیا ہے۔ لیکن
    1 الحمد للہ کہ یہ نشان بڑی آب و تاب سے پورا ہوگیا۔ اور چودھویں صدی کے بزرگ نے بڑی عجز و انکساری سے معافی نامہ لکھا۔ چنانچہ بزرگ صاحب لکھتے ہیں:۔
    ’’ سیدی و مولائی۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ‘ ۔ ایک خطا کار اپنی غلط کاری سے اعتراف کرتا ہوا (اس نیاز نامہ کے ذریعہ سے) قادیان کے مبارک مقام پر (گویا) حاضر ہوکر آپ کے رحم کا خواستگار ہوتا ہے۔ یکم جولائی 97ء سے یکم جولائی 98ء تک جو اس گنہ گار کو مہلت دی گئی۔ اب آسمانی بادشاہت میں آپ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مجرم قرار دیتا
    اگر وہ اس عرصہ میں قادیان میں آکر مجمع عام میں توبہ کرے۔ تو اُسے معاف فرما کہ تو رحیم و کریم ہے۔
    یہ دُعا ہے کہ مَیں اس بزرگ کے حق میں کی۔ مگر مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ بزرگ کون ہے اور کہاں رہتے ہیں۔ اور کس مذہب اور قوم کے ہیں۔جنہوں نے کذاب ٹھیرا کر میری پردہ دری کی پیشگوئی کی اور نہ مجھے جاننے کی کچھ ضرورت ہے مگر اس شخص کے اس کلمہ سے میرے دل کو دُکھ پہنچا اور ایک جوش پیدا ہوا۔ تب مَیں نے دُعا کردی اور یکم جولائی 1897ء سے یکم جولائی 1898ء تک اس کا فیصلہ کرنا خدا تعالیٰ سے مانگا ہے۔‘‘
    (از اشتہار 25؍ جون 1897ء۔ مجموعہ اشتہارات 437،438)
    جولائی 1897ء
    ’’ جولائی 1897ء میں جب عزیزی مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اسسٹنٹ سرجنی کا آخری امتحان دیا اور ہم نے اُن کے لئے دُعا کی تو الہام ہوا۔
    ’’تم پاس ہوگئے ہو‘‘
    یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ پاس ہوگیا ہے کیونکہ مخلصوں کے لئے جو یگانگت کی حد تک پہنچتے ہیں ایسے
    بقیہ حاشیہ:۔ ہوں (اس موقع پر مجھے القا ہوا کہ جس طرح آپ کی دُعا قبول ہوئی اسی طرح میری التجا و عاجزی قبول ہوکر حضرت اقدس کے حضور معافی و رہائی دی گئی) ..............اس وقت تو مَیں ایک مجرم گنہ گاروں کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں (مجھ کو حاضر ہونے میں بھی کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں۔) شاید جولائی 1898ء سے پہلے ہی حاضر ہوجاؤں۔
    امید کہ بارگاہِ قُدس سے بھی آپ کو راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے۔ کہ نَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمدًا و جان بوجھ کر نہ کیا جائے وہ قابل راضی نامہ و معافی کے ہوتا ہے۔ فَاعْفُوْا وَاَصْلِحُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُّحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔
    مَیں ہوں حضور کا مجرم
    دستخط بزرگ راولپنڈی 29؍اکتوبر 97ء ؁ ‘‘
    (کتاب البریّہ صفحہ 87 تا91۔ روحانی خزائن جلد13 صفحہ 113 تا117)
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خط کے جواب میں لکھا:۔
    ’’خدا تعالیٰ اس بزرگ کی خطا کو معاف کرے اور اس سے راضی ہو۔ مَیں اس سے راضی ہوں اور اس کو معافی دیتا ہوں۔‘‘ (از اشتہار 20؍نومبر 1897ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد2 صفحۃ 482)
    ؎ یہ بزرگ خوا جہ جہاں داد چیف آف گکھڑ باشندہ ضلع راولپنڈی کے تھے۔ دیکھئے الحکم جلد 47 نمبر 23۔ 24 مؤرخہ 28/21جون 1943ء صفحہ 4 (مرتب)
    فقرے آجاتے ہیں.........
    بالآخر عزیز مذکور اپنے امتحان میں بڑی خوبی سے کامیاب ہوا۔‘‘
    (نزول المسیح صفحہ 223۔ روحانی خزائن جلد18۔ صفحہ 601)
    29 جولائی 1897ء
    ’’ 29؍ جولائی 1897ء کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور اُس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اُس نے کوئی نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور مَیں اُس کو دُور سے دیکھ رہا ہوں اور جبکہ وہ قریب پہنچی ‘ تو میرے دل میں تو یہی تھا کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے۔
    پھر بعد اس کے میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا
    مَا ھٰذَٓا1 اِلَّا تَھْدِیْدُ الْحُکَّامِ
    یعنی یہ جو دیکھا ‘اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہوگی۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔
    پھر بعد اس کے الہام ہوا۔
    قَدِ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔
    ترجمہ:۔ مومنوں پر ایک ابتلا آیا یعنی بوجہ اس مقدمہ2کے تمہاری جماعت ایک امتحان میں پڑے گی۔
    1 حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ نے اپنی پرانی نوٹ بک کے حوالہ سے ان چار الہامات ذیل۔(ا) مَاھٰذَا اِلَّا لَّھْدِیْدُ الْحُکَّامِ۔(2) صادق آں باشد کہ ایام بلا۔ (3) یَاْتِیْکَ نُصْرَتِیْ۔ (4) ابرائ۔ کی تاریخ نزول 21؍اگست 1897ء لکھی ہے۔ واللہ اعلم۔ ان کے علاوہ دو اور الہام بھی اسی تاریخ کے لکھے ہیں۔ (ا) اِنِّیْ مَعَ اللّٰہِ الْعَزِیْزالْاَکْبَرِ۔ (2) اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ۔ دیکھئے ذکرِ حبیب صفحہ 221 (مرتب)
    2 یعنی مقدمہ اقدامِ قتل منجانب مارٹن کلارک (مرتب) ۔’’یہ مقدمہ اس طرح سے ہوا کہ ایک شخص عبدالحمید نام نے عیسائیوں کے سکھلانے پر مجسٹریٹ ضلع امرتسر کے رُو برو اظہار دیئے کہ مجھے مرزا غلام احمد نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ اس پر مجسٹریٹ امرتسر نے میری گرفتاری کے لئے یکم اگست کو وارنٹ جاری کیا۔ جس کی خبر سن کر ہمارے مخالفین امرتسر و بٹالہ میں ریل کے پلیٹ فارموں اور سڑکوں پر آ آ کر کھڑے ہوتے تھے۔ تا کہ میری ذلّت دیکھیں لیکن خدا کی قدرت ایسی ہوئی کہ اوّل تو وہ وارنٹ خدا جانے کہاں گم ہوگیا۔ دوم مجسٹریٹ ضلع امرتسر کو بعد میں خبر لگی کہ اُس نے غیر ضلع میں وارنٹ
    پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ
    لِیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الْمُجَاھِدِیْنَ مِنْکُمْ وَلِیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنَ۔
    یہ میری جماعت کی طرف خطاب ہے کہ خدا نے ایسا کیا تاخدا تمہیں جتلادے کہ تم میں سے وہ کون ہے کہ اُس کے مامور کی راہ میں صدق دل سے کوشش کرتا ہے اور وہ کون ہے جو اپنے دعویٰ بیعت میں جھوٹا ہے۔ سو ایسا ہی ہوا۔ ایک گروہ تو اس مقدمہ اور دوسرے مقدمہ میں جو مسٹر ڈوئی صاحب کی عدالت میں فیصلہ ہوا، صدق دل سے اور کامل ہمدردی سے تڑپتا پھرا۔ اور انہوں نے اپنی مالی اور جانی کوششوں میں فرق نہیں رکھا اور دُکھ اٹھا کر اپنی سچائی دکھلائی اور دوس