1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تاریخ احمدیت ۔ جلد 8 ۔ یونی کوڈ

'تاریخ احمدیت ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تاریخ احمدیت ۔ جلد 8 ۔ یونی کوڈ

    ‏tav.8.1
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    تحریک جدید کی بنیاد سے لے کر خلافت جوبلی تک
    تاریخ احمدیت
    جلد ہفتم
    تحریک جدید کی بنیاد سے لیکر خلافت جوبلی تک
    )۱۹۳۴ء تا ۱۹۳۹ء(

    مولفہ
    دوست محمد شاہد
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    تاریخ احمدیت جلد ہشتم
    اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے امسال جلسہ سالانہ کے موقع پر خلافت ثانیہ کے بابرکت دور کی تاریخ کی چوتھی جلد احباب کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ یہ جلد ۱۹۳۴ء کے آخر سے لے کر ۱۹۳۹ء تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں تین اہم واقعات کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔ ۱۔ تحریک جدید کا اجراء` اس کی برکات اور نتائج` ۲۔ خدام الاحمدیہ کی تحریک اور ۱۹۴۷ء تک اس کی تاریخ` ۳۔ خلافت ثانیہ کی پچیس سالہ جوبلی۔
    حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ نے جو تحریکات اسلام کے غلبہ کے لئے جاری فرمائیں ان میں سے تحریک جدید اور خدام الاحمدیہ کی تحریک نہایت ہی اہمیت رکھتی ہیں۔ تحریک جدید کے اجراء سے جماعت احمدیہ کے مشن مختلف ممالک میں قائم ہوئے اور جماعت کی ترقی تیز رفتاری سے غیر ممالک میں شروع ہو گئی اور اب مختلف ممالک میں محمد رسول اللہ~صل۱~ اور آپ کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق و محبت رکھنے والے مخلصین کی ایسی جماعتیں قائم ہو گئی ہیں جو اسلام کی راہ میں جانی اور مالی قربانیاں دینے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے والی ہیں۔
    اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے ہماری ایک نسل یا دو نسل کی قربانیاں مکتفی نہیں بلکہ اس امر کی ضرورت ہے کہ قیامت تک ہر ایک صدی میں ہماری نسلیں صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلنے والی` صحیح اسلام پر قائم رہنے والی اور اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے والی ہوں اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہماری نسلوں کی صحیح تربیت کا انتظام نہ ہو اور اس اہم غرض کو پورا کرنے کے لئے سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ نے خدام الاحمدیہ کی بابرکت تحریک جاری فرمائی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ قیامت تک اس تحریک کے نتیجہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے جائیں جو صحیح اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والے اور اسلام کا جھنڈا بلند کرنے والے ہوں۔ آمین۔
    مصنف کتاب مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد نے رات دن محنت شاقہ کرکے کتاب کے مسودہ کو مکمل کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اجر عظیم عطا کرے اور دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے خاکسار نے خود بھی اول سے آخر تک مسودہ کو پڑھا اور اس بات کو مدنظر رکھا کہ ہر زاویہ سے مضمون مکمل ہو۔ مکرم سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدر آبادی` مکرم چودھری محمد صدیق صاحب فاضل انچارج خلافت لائبریری اور مکرم ڈاکٹر سید ظہور احمد شاہ صاحب نے اپنے قیمتی وقت کو خرچ کرکے مسودہ کو اول سے آخر تک پڑھا اور اپنے قیمتی مشورے سے نوازا۔ اسی طرح دیگر بزرگان نے بھی کتاب کے مختلف حصوں کو دیکھ کر اپنی قیمتی آراء سے آگاہ کیا۔ فجز اہم اللہ تعالیٰ۔ مکرم شیخ خورشید احمد صاحب اسسٹنٹ ایڈیٹر >الفضل< نے نہایت محنت سے کاپیوں اور پروفوں کو پڑھا اور مکرم قاضی منیر احمد صاحب اور لطیف احمد صاحب کارکنان ادارۃ المصنفین نے کتاب کے چھپوانے میں پوری جدوجہد کی۔ اسی طرح خلافت لائبریری کے جملہ کارکنان بالخصوص راجہ محمد یعقوب صاحب اور ملک محمد اکرم صاحب بھی شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد کے ساتھ پورا تعاون کیا۔ جناب مبارک احمد صاحب ایمن آبادی` میر مبشر احمد صاحب طاہر` جناب عزیز احمد صاحب ایزنک سٹوڈیو لاہور` چوہدری محمد طفیل صاحب کھڑریانوالہ` جناب سیٹھ احمد حسین صاحب حیدر آبادی اور جناب ممتاز احمد صاحب آف اوکاڑہ بھی شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے کتاب کے لئے تصاویر اور مواد مہیا فرمایا۔ اسی طرح دیگر دوست جنہوں نے مواد مہیا کرنے حوالہ جات نکالنے میں مدد کی` کتابت عمدگی سے کی اور اسے چھاپا سب ہی قابل شکریہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔
    خاکسار
    ابوالمنیر نور الحق
    منیجنگ ڈائریکٹر ادارۃ المصنفین ربوہ
    ۱۷۔ دسمبر ۱۹۶۷ء
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    تاریخ احمدیت کی آٹھویں جلد
    ‏]c )[tagرقم فرمودہ مکرم و محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب(
    الحمدلل¶ہ کہ تاریخ احمدیت کی آٹھویں جلد طبع ہو کر اشاعت کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس جلد میں ۱۹۳۴ء کے آخر سے لے کر ۱۹۳۹ء کے آخر تک کے واقعات درج ہیں۔ گویا اس جلد کے ساتھ سلسلہ احمدیہ کی پہلی نصف صدی کی تاریخ کی تکمیل ہوتی ہے۔ خاکسار کو ابھی اس جلد کے مطالعہ کا موقعہ تو نہیں ملا۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ تاریخی لحاظ سے اس جلد کی اہمیت کسی پہلی جلد سے کم نہیں۔
    جلد ہفتم کے آخر میں ان افسوسناک اور عبرت انگیز واقعات کا ذکر ہے جو حکومت پنجاب اور مجلس احرار کی متفقہ مخالفت کے نتیجے میں سلسلہ احمدیہ کے لئے نازک صورت اختیار کر گئے۔ احرار کانفرنس کے دوران میں خاکسار انگلستان میں تھا۔ نومبر میں واپس لاہور پہنچا۔ ایک رات لاہور ٹھہر کر دوسری صبح قادیان حاضر ہوا اور اسی شام لاہور لوٹ آیا۔ تفصیلی واقعات کو علم خاکسار کو قادیان میں حضرت خلیفہ المسیح ثانیؓ کی زبان مبارک سے حاصل ہوا۔ جناب میاں سر فضل حسین صاحب کا جو بھی پیغام حضورؓ کی خدمت میں پہنچا وہ خاکسار کے توسط سے نہیں پہنچا تھا۔ خاکسار اس وقت تک ابھی انگلستان میں تھا۔
    قادیان سے واپسی کے دوسرے دن سرہربرٹ ایمرسن گورنر پنجاب کا پیغام خاکسار کو ملا کہ وہ خاکسار کی ملاقات کے متمنی ہیں۔ یہ ملاقات دو گھنٹے جاری رہی۔ گورنر صاحب نے تفصیل اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ خاکسار خاموشی سے سنتا رہا۔ جب وہ اپنا بیان ختم کر چکے جب بھی خاکسار خاموش رہا۔ انہیں توقع ہو گی کہ خاکسار اپنی طرف سے کسی رائے کا اظہار کرے اور خاکسار کوئی غرض لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا نہیں تھا۔ ان کی خواہش کی تعمیل میں حاضر ہو گیا تھا۔ خاکسار کو بالکل خاموش پاکر انہوں نے پھر اپنی پہلی تقریر کو مختصر طور پر دوہرایا اور آخر کہا میں تسلیم کرتا ہوں کہ احرار کو قادیان میں کانفرنسیں کرنے کی اجازت دینا غلطی تھی۔ انہوں نے اس موقعہ سے بہت بے جا فائدہ اٹھایا اور اسے صرف سلسلہ اور بانی سلسلہ کے خلاف اشتعال پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا مرزا صاحب کے احساسات اور جذبات کو جو صدمہ پہنچا ہے اس کا بھی میں اندازہ کر سکتا ہوں۔ انہوں نے چند ہفتوں سے اپنے خطبات جمعہ میں اپنے رنج کا اظہار کرنا شروع کیا ہے جس کے ساتھ مجھے کسی قدر ہمدردی بھی ہے لیکن اب وہ بہت کچھ کہہ چکے ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ سلسلہ ختم کیا جائے۔
    ظفر اللہ خان۔ تو مجھ سے آپ کیا چاہتے ہیں؟
    سرہربرٹ ایمرسن۔ تم اپنا اثر استعمال کرکے اس قضیئے کو ختم کرا دو۔
    ظفر اللہ خان۔ میں کس حیثیت سے اس معاملے میں دخل دے سکتا ہوں؟ آپ ابھی فرما چکے ہیں کہ جہاں تک سلسلے کا تعلق ہے آپ امام جماعت احمدیہ کے علاوہ کسی اور فرد کو کسی حیثیت سے بھی سلسلے کا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے۔ خاکسار کو جناب امام جماعت احمدیہ نے اپنی نمائندگی کرنے کا فخر نہیں بخشا۔
    سرہربرٹ ایمرسن۔ تمہیں بہرصورت اس معاملے میں دلچسپی تو ہے اور تم ضرور چاہتے ہو گے کہ یہ قضیہ ختم ہو۔
    ظفر اللہ خان۔ دلچسپی ہی نہیں میرے لئے یہ امر حددرجہ قلق کا موجب ہے کہ حکومت نے بلاوجہ امام جماعت اور سلسلے کی توہین کی سعی کی۔
    سرہربرٹ ایمرسن۔ یہ تو بہت سنجیدہ الزام ہے۔
    ظفر اللہ خان۔ واقعات شاہد ہیں۔ اس مرحلہ پر خاکسار نے واقعات پر مختصر تبصرہ کرکے الزام ثابت کرنے کی کوشش کی۔ سرہربرٹ نے بات تو تحمل سے سن لی۔ لیکن کہا آپ ضرورت سے زیادہ ذکی الحس ہو رہے ہیں۔ خاکسار نے کچھ جوش میں کہا۔ بجا ہے۔ جہاں ایسی اقدار اور ایسی ہستیوں کا تعلق ہو جو انسان ¶کو جان سے عزیز ہوں وہاں انسان کی نظر میں جنہیں ایسی کوئی وابستگی نہ ہو ضرورت سے زیادہ ذکی الحس نظر آتا ہے۔ اس مرحلے پر خاکسار اجازت لے کر رخصت ہوا۔
    دوسرے دن گورنر صاحب نے پھر پیغام بھیج کر بلوایا اور کہا کہ کچھ تدبیر ہونی چاہئے۔ میں نے دریافت کیا۔ کیا تدبیر ہو؟ انہوں نے کہا تم مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر میری طرف سے کہو کہ وہ اپنا نقطہ نظر پبلک میں واضح کر چکے ہیں اور مجھے ان کے رنج میں ہمدردی ہے۔ اب خطبات کا یہ سلسلہ بند ہو جائے تو مناسب ہے۔ میں نے کہا میری نگہ میں حکومت کو کم سے کم یہ تو تسلیم کرنا چاہئے کہ نوٹس امام جماعت احمدیہ کے نام جاری نہیں ہونا چاہئے تھا بفرض محال اگر کوئی قانونی ذمہ داری تھی بھی تو وہ سلسلہ کے افسر کی تھی جس کی طرف سے چٹھیاں جاری ہوئی تھیں گورنر صاحب نے کہا ممکن ہے حکومت یہ بھی تسلیم کرلے لیکن اس بات کو ظاہر نہ کیا جائے۔
    خاکسار حضرت خلیفہ المسیحؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو بات چیت گورنر صاحب کے ساتھ ہوئی تھی۔ حضورؓ کی خدمت اقدس میں گزارش کر دی۔ حضور نے فرمایا مجھے حکوت کو دق کرنا مراد نہیں۔ لیکن میں یہ تو نہیں کر سکتا کہ حکومت کی طرف سے خفیہ تسلی دیئے جانے پر یکایک خاموش ہو جائوں۔ مجھے تو سلسلے کا احترام اور وقار مطلوب ہے۔ اگر میں بغیر کسی اعلان یا اظہار کے خاموش ہو جائوں تو اس سے تو سلسلے کے وقار کو پہلے کی نسبت زیادہ صدمہ پہنچے گا۔ یہی فرض کیا جائے گا کہ حکومت نے مجھے دھمکی دے کر خاموش کر دیا۔ مجھے کم سے کم یہ تو کہنا ہو گا کہ حکومت نے ان امور میں میرا موقف تسلیم کر لیا ہے۔ خاکسار نے لاہور واپسی پر حضورؓ کا ردعمل گورنر صاحب کی خدمت میں گزارش کر دیا۔ گورنر صاحب نے اسے تسلیم کر لیا۔ آخر یہی قرار پایا کہ کہ متعلقہ سیکرٹری حضور کے منشاء کے مطابق حکومت کی طرف سے حضور کی خدمت میں چٹھی بھیج دے اور گورنر صاحب نے یہ بھی کہ دیا کہا گر مرزا صاحب چاہیں تو بے شک چٹھی شائع کر دیں۔ آخر یہ بات چھپی تو رہ نہیں سکتی۔ کوئی احراری نمائندہ کونسل میں سوال کرکے حقیقت معلوم کر سکتا ہے لیکن حضرت خلیفتہ المسیحؓ نے چٹھی شائع کرنا پسند نہ فرمایا۔ بظاہر تو یہ معاملہ یوں سلجھ گیا لیکن حکومت پنجاب کی طرف سے ایذادہی کا سلسلہ ختم نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم سے سلسلے اور جماعت کو مخالفین کی ہر چال کے مقابل اپنی حفاظت اور نصرت سے نوازا۔ فالحمدلل¶ہ علٰے ذالک۔ احرار کانفرنسیں اور حکومت پنجاب کی مخالفانہ روش کو اللہ تعالیٰ نے ہر بلاکیں قوم را حق دادہ اند کے مطابق ایک گنج کرم کا موجب بنا دیا۔ ان حالات کے پیش آنے کے نتیجے میں حضرت خلیفہ المسیح ثانیؓ نے تحریک جدید کو جاری فرمایا جس کے شاندار مستقبل پر پچھلی ثلث صدی کی کامرانیاں شاہد ہیں۔ اللہم زد فزد۔
    ۱۹۳۹ء میں خلافت ثانیہ کی برکات پر ربع صدی کے عرصہ کی تکمیل ہونے کے پیش نظر حضرت خلیفہ المسیح ثانیؓ کی خدمت اقدس میں شکرانہ کے طور پر خلافت جوبلی منانے کی اجازت کی درخواست گزارش کی گئی۔ حضورؓ نے فرمایا خلافت جوبلی منانے میں تو شاید مجھے تامل ہوتا لیکن ۱۹۳۹ء ہی میں سلسلہ کے بھی پچاس سال پورے ہوں گے۔ اس لحاظ سے جوبلی منانے کی اجازت ہے اور اسی سلسلہ میں یہ ارشاد بھی فرمایا۔ سلسلہ کے سو سال پورے ہونے پر بڑی شان سے جوبلی منانا!
    سلسلے کی تاریخ کا ہر سال کئی نشان لے کر آتا ہے جن کا محفوظ کرنا سلسلے کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہے۔ تاکہ موجودہ اور آئندہ نسلیں ان نشانات سے سبق حاصل کریں اور اپنے ایمانوں کو تازہ اور مضبوط کریں اور ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا کے روح پرور شواہد کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں اور یعبدوننی لا یشر کون بی شیئا کا صحیح نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرتے جائیں۔ وما ترفیقنا الا باللہ العلی العظیم۔ ھو مولنا نعم المولی و نعم النصیر۔ واخردعونا ان الحمدللہ رب العالمین۔
    خاکسار
    ظفر اللہ خان
    ۱۵۔ دسمبر ۱۹۶۷ء
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود][پہلا باب )فصل اول(
    تحریک جدید کی بنیاد` مخلصین جماعت کی بیمثال قربانیاں وقف زندگی کا وسیع نظام اور اس کے عالمی اثرات
    تحریک جدید کا ماحول اور اس کی نسبت آسمانی بشارتیں
    ۱۹۳۴ء کا اختتام ایک ایسے عظیم الشان واقعہ کے آغاز سے ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کی دینی و اشاعتی سرگرمیاں جو پہلے صرف چند ممالک تک محدود تھیں` عالمگیر صورت اختیار کر گئیں اور تبلیغ اسلام کا ایک زبردست نظام معرض وجود میں آیا۔ ہماری مراد تحریک جدید سے ہے جس کی بنیاد خدا تعالیٰ کی مشیت خاص اور اس کے القاء سے حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ کے ہاتھوں عین اس وقت رکھی گئی جبکہ احراری تحریک اپنے نقطہ عروج پر تھی اور احرار اپنے خیال میں )معاذ اللہ( قادیان اور احمدیت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا فیصلہ کرکے قادیان کے پاس ہی اپنی کانفرنس منعقد کرنے والے تھے۔
    تحریک جدید کی بنیاد کے وقت ماحول
    چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ خود فرماتے ہیں۔ >یہ تحریک ایسی تکلیف کے وقت شروع کی گئی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی ساری طاقتیں جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لئے جمع ہو گئی ہیں۔ ایک طرف احرار نے اعلان کر دیا کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کو مٹا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ اس وقت تک سانس نہ لیں گے جب تک مٹا نہ لیں۔ دوسری طرف جو لوگ ہم سے ملنے جلنے والے تھے اور بظاہر ہم سے محبت کا اظہار کرتے تھے انہوں نے پوشیدہ بغض نکالنے کے لئے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سینکڑوں اور ہزاروں روپوں سے ان کی امداد کرنی شروع کر دی اور تیسری طرف سارے ہندوستان نے ان کی پیٹھ ٹھونکی۔ یہاں تک کہ ایک ہمارا وفد گورنر پنجاب سے ملنے کے لئے گیا تو اسے کہا گیا کہ تم لوگوں نے احرار کی اس تحریک کی اہمیت کا اندازہ نہیں لگایا۔ ہم نے محکمہ ڈاک سے پتہ لگایا ہے پندرہ سو روپیہ روزانہ ان کی آمدنی ہے۔ تو اس وقت گورنمنٹ انگریزی نے بھی احرار کی فتنہ انگیزی سے متاثر ہو کر ہمارے خلاف ہتھیار اٹھا لئے اور یہاں کئی بڑے بڑے افسر بھیج کر اور احمدیوں کو رستے چلنے سے روک کر احرار کا جلسہ کرایا گیا۔۔۔۔۔۔۔ ایسے وقت میں تحریک جدید کو جاری کیا گیا<۔۱
    احرار شورش تو محض ایک بہانہ تھی
    مگر احراری شورش تو محض ایک بہانہ تھی۔ تحریک جدید کی سکیم کا نافذ ہونا خدا کی ازلی تقدیروں میں سے تھا۔ جیسا کہ حضورؓ نے خود وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    >حقیقت یہی ہے کہ احرار تو خدا تعالیٰ نے ایک بہانہ بنا دیا ہے کیونکہ ہر تحریک کے جاری کرنے کے لئے ایک موقعہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب تک وہ موقعہ میسر نہ ہو جاری کردہ تحریک مفید نتائج نہیں پیدا کر سکتی<۔۲
    نیز فرمایا۔
    >تحریک جدید کے پیش کرنے کے موقع کا انتخاب ایسا اعلیٰ انتخاب تھا جس سے بڑھ کر اور کوئی اعلیٰ انتخاب نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی زندگی میں جو خاص کامیابیاں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں ان میں سے ایک اہم کامیابی تحریک جدید کو عین وقت پر پیش کرکے مجھے حاصل ہوئی اور یقیناً میں سمجھتا ہوں جس وقت میں نے یہ تحریک کی وہ میری زندگی کے خاص مواقع میں سے ایک موقع تھا اور میری زندگی کی ان بہترین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی تھی جبکہ مجھے اس عظیم الشان کام کی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔ اس وقت جماعت کے دل ایسے تھے جیسے چلتے گھوڑے کو جب روکا جائے تو اس کی کیفیت ہوتی ہے<۔۳
    تحریک جدید کا ذکر سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کے کشف میں
    تحریک جدید کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا وہ کشف بھی پورا ہو گیا جس میں حضورؑ
    کو غلبہ اسلام کے لئے پانچ ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک روحانی فوج دی گئی۔ چنانچہ حضور علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔
    >کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں۔ ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے۔ تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھا مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ تب میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیا۔ جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا۔ اور اسے میں نے مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ وہ میری اس بات کو سن کر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگرچہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتون پر فتح پا سکتے ہیں۔ اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی کم من فئہ قلیلہ غلبت فئہ کثیرہ باذن اللہ پھر وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے خوشحال ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کی کسی حکمت خفیہ نے میری نظر کو اس کے پہچاننے سے قاصر رکھا۔ لیکن امید رکھتا ہوں کہ کسی دوسرے وقت دکھایا جائے<۔۴
    دوسری بشارتیں
    اس کشف کے علاوہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ اور جماعت احمدیہ کے افراد کو بھی تحریک جدید کے بابرکت ہونے کی نسبت بشارتیں ملیں۔
    چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے ۹۔ نومبر ۱۹۳۴ء کو فرمایا۔
    >میں نے اللہ تعالیٰ سے متواتر دعا کرتے ہوئے اور اس کی طرف سے مبشر رویا حاصل کرتے ہوئے ایک سکیم تیار کی جس کو میں انشاء اللہ آئندہ جمعہ سے بیان کرنا شروع کروں گا۔ میں نے ایک دن خاص طور پر دعا کی تو میں نے دیکھا کہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور میں قادیان سے باہر پرانی سڑک پر ان سے ملا ہوں۔ وہ ملتے ہی پہلے مجھ سے بغل گیر ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد نہایت جوش سے انہوں نے میرے کندھوں اور سینہ کے اوپر کے حصہ پر بوسے دینے شروع کئے ہیں۔ اور نہایت رقت کی حالت ان پر طاری ہے اور وہ بوسے بھی دیتے جاتے ہیں اور یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ میرے آقا! میرا جسم اور روح آپ پر قربان ہوں۔ کیا آپ نے خاص میری ذات سے قربانی چاہی ہے؟ اور میں نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر اخلاص اور رنج دونوں قسم کے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ اول تو اس میں چوہدری صاحب کے اخلاص کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کیا ہے کہ انشاء اللہ جس قربانی کا ان سے مطالبہ کیا گیا۔ خواہ کوئی ہی حالات ہوں وہ اس قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ دوسرے یہ کہ ظفر اللہ خاں سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی فتح ہے اور ذات سے قربانی کی اپیل سے متی نصر اللہ کی آیت مراد ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے اپیل کی گئی تو وہ آگئی اور سینہ اور کندھوں کو بوسہ دینے سے مراد علم اور یقین کی زیادتی اور طاقت کی زیادتی ہے اور آقا کے لفظ سے یہ مراد ہے کہ فتح و ظفر مومن کے غلام ہوتے ہیں اور اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ اور جسم اور روح کی قربانی سے مراد جسمانی قربانیاں اور دعائوں کے ذریعہ سے نصرت ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں اور اس کے فرشتوں کی طرف سے ہمیں حاصل ہوں گی<۔۵
    >اس کے علاوہ بیسیوں رئویا و کشوف اور الہامات اس تحریک کے بابرکت ہونے کے متعلق لوگوں کو ہوئے۔ بعض کو رئویا میں رسول کریم~صل۱~ نے بتایا کہ یہ تحریک بہت مبارک ہے۔ اور بعض کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ یہ تحریک بابرکت ہے اور بعض کو الہامات ہوئے کہ یہ تحریک بہت مبارک ہے۔ غرض یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کے بابرکت ہونے کے متعلق بیسیوں رئویا و کشوف اور الہامات کی شہادت موجود ہے<۔۶
    خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک
    تحریک جدید براہ راست خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک تھی۔ جو حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کے قلب مبارک پر ایسے رنگ میں یکایک القاء ہوئی کہ دنیا کی روحانی اور اسلامی فتح کی سب منزلیں اپنی بہت سی تفصیلات و مشکلات کے ساتھ حضورؓ کے سامنے آگئیں اور مستقبل میں لڑی جانے والی اسلام اور کفر کی جنگ کا ایک جامع نقشہ آپ کے دماغ میں محفوظ کر دیا گیا۔
    ‏body] g[taتحریک جدید کی ان نمایاں خصوصیات کا تذکرہ خود حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے متعدد بار فرمایا۔ بطور مثال چند فرمودات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    ۱۔
    >جب میں نے اس کے متعلق ارادہ کیا تو میں خود نہ جانتا تھا کہ کیا کیا لکھوں گا۔ مگر جوں جوں میں نوٹ لکھتا جاتا۔ خدا تعالیٰ وہ طریق اور وہ ذرائع سمجھاتا جاتا تھا جن سے احمدیت مضبوط ہو سکتی تھی<۔۷
    ۲۔
    >میرے ذہن میں یہ تحریک بالکل نہیں تھی۔ اچانک میرے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحریک نازل ہوئی۔ پس بغیر اس کے کہ میں کسی قسم کی غلط بیانی کا ارتکاب کروں میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ تحریک جدید جو خدا نے جاری کی میرے ذہن میں یہ تحریک پہلے نہیں تھی۔ میں بالکل خالی الذہن تھا۔ اچانک اللہ تعالیٰ نے یہ سکیم میرے دل پر نازل کی اور میں نے اسے جماعت کے سامنے پیش کر دیا۔ پس یہ میری تحریک نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک ہے<۔۸
    ۳۔
    >اس سکیم میں بعض چیزیں عارضی ہیں۔ پس عارضی چیزوں کو میں بھی مستقل قرار نہیں دیتا۔ لیکن باقی تمام سکیم مستقل حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے القاء کے نتیجہ میں مجھے سمجھائی گئی ہے۔ میں نے اس سکیم کو تیار کرنے میں ہرگز غور اور فکر سے کام نہیں لیا اور نہ گھنٹوں میں نے اس کو سوچا ہے۔ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ تحریک پیدا کی کہ میں اس کے متعلق خطبات کہوں۔ پھر ان خطبوں میں میں نے جو کچھ کہا وہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے میری زبان پر جاری کیا کیونکہ ایک منٹ بھی میں نے یہ نہیں سوچا کہ میں کیا کہوں۔ اللہ تعالیٰ میری زبان پر خود بخود اس سکیم کو جاری کرتا گیا اور میں نے سمجھا کہ میں نہیں بول رہا بلکہ میری زبان پر خدا بول رہا ہے<۔۹
    ۴۔
    >تحریک جدید ایک ہنگامی چیز کے طور پر میرے ذہن میں آئی تھی۔ اور جب میں نے اس تحریک کا اعلان کیا ہے اس وقت خود مجھے بھی اس تحریک کی کئی حکمتوں کا علم نہیں تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک نیت اور ارادہ کے ساتھ میں نے یہ سکیم جماعت کے سامنے پیش کی تھی۔ کیونکہ واقعہ یہ تھا کہ جماعت کی ان دنوں حکومت کے بعض افسروں کی طرف سے شدید ہتک کی گئی تھی اور سلسلہ کا وقار خطرے میں پڑ گیا تھا پس میں نے چاہا کہ جماعت کو اس خطرے سے بچائوں۔ مگر بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی رحمت انسانی قلب پر تصرف کرتی اور روح القدس اور اس کے تمام ارادوں اور کاموں پر حاوی ہو جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں میری زندگی میں بھی یہ ایسا ہی واقعہ تھا جبکہ روح القدس میرے دل پر اترا اور وہ میرے دماغ پر ایسا حاوی ہو گیا کہ مجھے یوں محسوس ہوا گویا اس نے مجھے ڈھانک لیا ہے اور ایک نئی سکیم ایک دنیا میں تغیر پیدا کر دینے والی سکیم میرے دل پر نازل کر دی اور میں دیکھتا ہوں کہ میری تحریک جدید کے اعلان سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآنی نکتے مجھ پر پہلے بھی کھلتے تھے اور اب بھی کھلتے ہیں۔ مگر پہلے کوئی معین سکیم میرے سامنے نہیں تھی جس کے قدم قدم کے نتیجہ سے میں واقف ہوں اور میں کہہ سکوں کہ اس اس رنگ میں ہماری جماعت ترقی کرے گی۔ مگر اب میری حالت ایسی ہی ہے کہ جس طرح انجینئر ایک عمارت بناتا اور اسے یہ علم ہوتا ہے کہ یہ عمارت کب ختم ہو گی؟ اس میں کہاں کہاں طاقچے رکھے جائیں گے` کتنی کھڑکیاں ہوں گی` کتنے دروازے ہوں گے` کتنی اونچائی پر چھت پڑے گی۔ اسی طرح دنیا کی اسلامی فتح کی منزلیں اپنی بہت سے تفاصیل اور مشکلات کے ساتھ میرے سامنے ہیں۔ دشمنوں کی بہت سی تدبیریں میرے سامنے بے نقاب ہیں۔ ان کی کوششوں کا مجھے علم ہے۔ اور یہ تمام امور ایک وسیع تفصیل کے ساتھ میری آنکوں کے سامنے موجود ہیں۔ تب میں نے سمجھا کہ یہ واقعہ اور فساد خدا تعالیٰ کی خاص حکمت نے کھڑا کیا تھا تا وہ ہماری نظروں کو اس عظیم الشان مقصد کی طرف پھرا دے جس کے لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو بھیجا۔ پس پہلے میں صرف ان باتوں پر ایمان رکھتا تھا۔ مگر اب میں صرف ایمان ہی نہیں رکھتا بلکہ میں تمام باتون کو دیکھ رہا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ سلسلہ کو کس کس رنگ میں نقصان پہنچایا جائے گا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ سلسلہ پر کیا کیا حملہ کیا جائے گا اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری طرف سے ان حملوں کا کیا جواب دیا جائے گا۔ ایک ایک چیز کا اجمالی علم میرے ذہن میں موجود ہے<۔۱۰
    ۵۔
    >تحریک جدید بھی القائی طور پر خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھائی ہے۔ جب میں ابتدائی خطبات دے رہا تھا مجھے خود بھی یہ معلوم نہ تھا کہ میں کیا بیان کروں گا۔ اور جب میں نے اس سکیم کو بیان کیا تو میں اس خیال میں تھا کہ ابھی اس سکیم کو مکمل کروں گا اور میں خود بھی اس امر کو نہیں سمجھ سکا تھا کہ اس سکیم میں ہر چیز موجود ہے۔ مگر بعد میں جوں جوں سکیم پر میں نے غور کیا مجھے معلوم ہوا کہ تمام ضروری باتیں اس سکیم میں بیان ہو چکی ہیں اور اب کم از کم اس صدی کے لئے تمہارے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ سب اس میں موجود ہیں سوائے جزئیات کے کہ وہ ہر وقت بدلی جا سکتی ہیں۔
    پس جماعت کو اپنی ترقی اور عظمت کے لئے اس تحریک کو سمجھنا اور اس پر غور کرنا نہایت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح مختصر الفاظ میں ایک الہام کر دیتا ہے اور اس میں نہایت باریک تفصیلات موجود ہوتی ہیں اسی طرح اس کا القاء بھی ہوتا ہے۔ اور جس طرح الہام مخفی ہوتا ہے اسی طرح القاء بھی مخفی ہوتا ہے۔ بلکہ القاء الہام سے زیادہ مخفی ہوتا ہے۔ یہ تحریک بھی جو القاء الٰہی کا نتیجہ تھی پہلے مخفی تھی مگر جب اس پر غور کیا گیا تو یہ اس قدر تفصیلات کی جامع نکلی کہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے زمانہ کے لئے اس میں اتنا مواد جمع کر دیا ہے کہ اصولی طور پر اس میں وہ تمام باتیں آگئی ہیں جو کامیابی کے لئے ضروری ہیں<۔۱۱
    تحریک جدید کی نسبت پہلا اعلان
    جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ پر تحریک جدید کا القاء اکتوبر ۱۹۳۴ء میں منعقد ہونے والی نام نہاد >احرار تبلیغ کانفرنس< کے دوران ہوا۔
    حضرت امیرالمومنینؓ اگر چاہتے تو کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی اس کا اعلان فرما دیتے۔ مگر حضورؓ نے حیرت انگیز صبروتحمل اور بے نظیر ذہانت و فطانت کا ثبوت دیتے ہوئے اسے کانفرنس کے اختتام تک ملتوی کر دیا۔ البتہ ۱۹۔ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو یعنی کانفرنس کے شروع ہونے سے صرف دو روز پیشتر اپنے خطبہ جمعہ میں یہ اعلان ضرور فرما دیا کہ
    >سات یا آٹھ دن تک اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی اور توفیق بخشی تو میں ایک نہایت ہی اہم اعلان جماعت کے لئے کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میں وہ مطالبہ احراری جلسہ کے ایام میں پیش کرنا نہیں چاہتا تاکہ اسے انتقامی رنگ پر محمول نہ کیا جا سکے اور تا وہ مطالبہ فتنہ کا کوئی اور دروازہ نہ کھول دے۔ اس کے بعد میں دیکھوں گا کہ آپ لوگوں میں سے کتنے ہیں جو اس قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں۔ جو قربانیاں اس وقت تک ہماری جماعت کی طرف سے ہوئی ہیں۔ وہ ان قربانیوں کے مقابلہ میں بہت ہی حقیر ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت نے کیں یا عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے کیں یا رسول کریم~صل۱~ کے صحابہ نے کیں۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس رنگ میں قربانی کریں جو بہت جلد نتیجہ خیز ہوکر ہمارے قدموں کو اس بلندی تک پہنچا دے جس بلندی تک پہچانے کے لئے حضرت مسیح موعو علیہ الصلٰوۃ والسلام دنیا میں مبعوث ہوئے۔
    میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ لوگوں میں سے بعض کو دوردراز ملکوں میں بغیر ایک پیسہ لئے نکل جانے کا حکم دیا گیا تو آپ لوگ اس حکم کی تعمیل میں نکل کھڑے ہوں گے۔ اگر بعض لوگوں سے ان کے کھانے پینے اور پہننے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا تو وہ اس مطالبہ کو پورا کریں گے۔ اگر بعض لوگوں کے اوقات کو پورے طور پر سلسلہ کے کاموں کے لئے وقف کر دیا گیا تو وہ بغیر چون وچرا کئے اس پر رضامند ہو جائیں گے اور جو شخص ان مطالبات کو پورا نہیں کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہوگا بلکہ الگ کردیا جائے گا<۔۱۲
    تین فوری احکام
    اس سلسلہ میں حضورؓ نے اسی خطبہ میں فوری طور پر تین احکام صادر فرمائے۔
    پہلا حکم:۔
    >ہر وہ شخص جس کے چندوں میں کوئی نہ کوئی بقایا ہے یاہر وہ جماعت جس کے چندوں میں بقائے ہیں وہ فوراً اپنے اپنے بقائے پورے کرے اور آئندہ کے لئے چندوں کی ادائیگی میں باقاعدگی کا نمونہ دکھلائیں<۔
    دوسرا حکم:۔
    >اس ہفتہ کے اندر اندر ہر وہ شخص جس کی کسی سے لڑائی ہو چکی ہے` ہر وہ شخص جس کی کسی سے بول چال بند ہے` وہ جائے اور اپنے بھائی سے معافی مانگ کر صلح کرلے اور اگر کوئی معافی نہیں کرتا` تو اس سے لجاجت اور انکسار کے ساتھ معافی طلب کرے اور ہر قسم کا تذلل اس کے آگے اختیار کرے۔ تاکہ اس کے دل میں رحم پیدا ہو اور وہ رنجش کو اپنے دل سے نکال دے اور ایسا ہو کہ جس وقت میں دوسرا اعلان کرنے کے لئے کھڑا ہوں اس کوئی دو احمدی ایسے نہ ہوں جو آپس میں لڑے ہوئے ہوں۔ اور کوئی دو احمدی ایسے نہ ہوں جن کی آپس میں بول چال بند ہو۔ پس جائو اور اپنے دلون کو صاف کرو۔ جائو اور اپنے بھائیوں سے معافی طلب کرکے متحد ہو جائو۔ جائو اور ہر تفرقہ اور شقاق کو اپنے اندر سے دور کر دو تب خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہاری مدد کے لئے اتریں گے۔ آسمانی فوجیں تمہارے دشمنوں سے لڑنے کے لئے نازل ہوں گی اور تمہارا دشمن خدا کا دشمن سمجھا جائے گا۔ یہ دو نمونے ہیں جو میں اپنی جماعت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جس شخص کو یہ خطبہ پہنچے وہ اس وقت تک سوئے نہیں جب تک کہ اس حکم پر عمل نہ کرلے سوائے اس کے کہ اس کے لئے ایسا کرنا ناممکن ہو۔ مثلاً جس شخص سے لڑائی ہوئی ہو وہ گھر میں موجود نہ ہو یا اسے تلاش کے باوجود مل نہ سکا ہو یا کسی دوسرے گائوں یا شہر میں گیا ہوا ہو۔
    جماعتوں کے سکرٹریوں کو چاہئے کہ وہ میرے اس خطبہ کے پہنچنے کے بعد اپنی اپنی جماعتوں کو اکٹھا کریں اور انہیں کہیں کہ امیر المومنین کا حکم ہے کہ آج وہی شخص اس جنگ میں شامل ہو سکے گا جس کی اپنے کسی بھائی سے رنجش یا لڑائی نہ ہو اور جو صلح کرکے اپنے بھائی سے متحد ہو چکا ہو اور جب میں قربانی کے لئے لوگوں کا انتخاب کروں گا تو میں ہر ایک شخص سے پوچھ لوں گا کہ کیا تمہارے دل میں کسی سے رنجش یا بغض تو نہیں۔ اور اگر مجھے معلوم ہوا کہ اس کے دل میں کسی شخص کے متعلق کینہ اور بغض موجود ہے تو میں اس سے کہوں گا کہ تم بنیان مرصوص]ydob [tag نہیں۔ تمہارا کندھا اپنے بھائی کے کندھے سے ملا ہوا نہیں۔ بالکل ممکن ہے کہ تمہارے کندھے سے دشمن ہم پر حملہ کردے۔ پس جائو مجھ کو تمہاری ضرورت نہیں۔ یہ وہ کام ہیں جن کا پورا کرنا میں قادیان والوں کے ذمہ اگلے خطبہ تک اور باہر کی جماعتوں کے ذمہ اس خطبہ کے چھپ کر پہنچنے کے ایک ہفتہ بعد تک فرض مقرر کرتا ہوں<۔
    تیسرا حکم:۔
    >مجھے فوراً جلد سے جلد ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو سلسلہ کے لئے اپنے وطن چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔ اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کے لئے تیار ہوں اور بھوکے پیاسے رہ کر بغیر تنخواہوں کے اپنے نفس کو تمام تکالیف سے گزارنے پر آمادہ ہوں۔ پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو نوجوان ان کاموں کے لئے تیار ہوں وہ اپنے نام پیش کریں۔ نوجوانوں کی لیاقت کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یا تو وہ مولوی ہوں مدرسہ احمدیہ کے سندیافتہ یا کم سے کم انٹرنس پاس یا گریجوایٹ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرط یہ ہے کہ وہ سرکاری ملازم نہ ہوں اور نہ ہی تاجر ہوں اور نہ طالب علم ہوں۔ صرف ایسے نوجوان ہوں جو ملازمت کی انتظار میں اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہوں<۔۱۳]ybod [tag
    قربانی کا ماحول پیدا کرنے کا ارشاد
    ان تین احکام کے بعد حضور نے جماعت کو یہ بھی بتایا کہ کوئی بڑی قربانی نہیں کی جا سکتی جب تک اس کے لئے ماحول نہ پیدا کیا جائے۔ اس سلسلہ میں حضور کے الفاظ یہ تھے۔
    >کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ماحول ٹھیک ہو اور اگر گردوپیش کے حالات موافق نہ ہوں تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کے اندر نیکی کرنے کا مادہ بھی موجود ہوتا ہے اور جذبہ بھی` مگر وہ ایسا ماحول نہیں پیدا کرسکتے جس کے ماتحت صحیح قربانی کر سکیں۔ پس ماحول کا خاص طور پر خیال رکھنا ضروری ہے۔ میرے ایک بچہ نے ایک دفعہ ایک جائز امر کی خواہش کی تو مین نے اسے لکھا کہ یہ بیشک جائز ہے مگر تم یہ سمجھ لو کہ تم نے خدمت دین کے لئے تو زندگی وقف کی ہوئی ہے اور تم نے دین کی خدمت کا کام کرنا ہے اور یہ امر تمہارے لئے اتنا بوجھ ہو جائے گا کہ تم دین کی خدمت کے رستہ میں اسے نباہ نہیں سکوگے اور یہ تمہارے رستہ میں مشکل پیدا کردے گا۔
    تو میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ نیکیوں سے اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ ماحول پیدا نہیں کرسکتے وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جب کہا کہ قربانی کریں گے تو کرلیں گے حالانکہ یہ صحیح نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ہزارہا لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم قربانی کے لئے تیار ہیں اور جنہوں نے نہیں لکھا اور بھی اس انتظار میں ہیں کہ سکیم شائع ہولے تو ہم بھی شامل ہو جائیں گے۔ مگر میں بتاتا ہوں کہ کوئی قربانی کام نہیں دے سکتی جب تک اس کے لئے ماحول پیدا نہ کیا جائے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ ہمارا مال سلسلہ کا ہے۔ مگر جب ہر شخص کو کچھ روپیہ کھانے پر اور کچھ لباس پر اور کچھ مکان کی حفاظت یا کرایہ پر کچھ علاج پر خرچ کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ تو اس صورت میں اس کا یہ کہنا کیا معنیٰ رکھتا ہے کہ میرا سب مال حاضر ہے۔ اس قسم کی قربانی نہ قربانی پیش کرنے والے کو کوئی نفع دے سکتی ہے اور نہ سلسلہ کو ہی اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ سلسلہ اس کے ان الفاظ کو کہ میرا سب مال حاضر ہے کیا کرے جبکہ سارے مال کے معنے صفر کے ہیں۔ جس شخص کی آمد سو روپیہ اور خرچ بھی سو روپیہ ہے وہ اس قربانی سے سلسلہ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ پہلے خرچ کو سو سے نوے پر نہیں لے آتا۔ تب بیشک اس کی قربانی کے معنے دس فیصدی قربانی کے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔ پس ضروری ہے کہ قربانی کرنے سے پیشتر اس کے لئے ماحول پیدا کیا جائے۔ اس کے بغیر قربانی کا دعیٰ کرنا ایک نادانی کا دعویٰ ہے یا منافقت۔
    یاد رکھو کہ یہ ماحول اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ نہ ہوں۔ مرد اپنی جانوں پر عام طور پر پانچ دس فیصدی خرچ کرتے ہیں سوائے ان عیاش مردوں کے جو عیاشی کرنے کے لئے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ ورنہ کنبہ دار مرد عام طور پر اپنی ذات پر پانچ دس فیصدی سے زیادہ خرچ نہیں کرتے اور باقی نوے پچانوے فیصدی عورتوں اور بچوں پر خرچ ہوتا ہے اس لئے بھی کہ ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اور اس لئے بھی کہ ان کے آرام کا مرد زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ پس ان حالات میں مرد جو پہلے ہی پانچ یا دس یا زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس فیصدی اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں اور جن کی آمدنی کا اسی نوے فیصدی عورتوں اور بچوں پر خرچ ہوتا ہے` اگر قربانی کرنا بھی چاہیں تو کیا کرسکتے ہیں جب تک عورتیں اور بچے ساتھ نہ دیں۔ اور جب تک وہ یہ نہ کہیں کہ ہم ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں کہ مرد قربانی کرسکیں۔
    پس تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ قربانی کے لئے پہلے ماحول پیدا کیا جائے۔ اور اس کے لئے ہمیں اپنے بیوی بچوں سے پوچھنا چاہئے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں گے یا نہیں؟ اگر وہ ہمارے ساتھ قربانی کے لئے تیار نہیں ہیں تو قربانی کی گنجائش بہت کم ہے۔
    مالی قربانی کی طرح جانی قربانی کا بھی یہی حال ہے۔ جسم کو تکلیف پہنچانا کس طرح ہو سکتا ہے جب تک اس کے لئے عادت نہ ڈالی جائے۔ جو مائیں اپنے بچوں کو وقت پر نہیں جگاتیں۔ وقت پر پڑھنے کے لئے نہیں بھیجتیں ان کے کھانے پینے میں ایسی احتیاط نہیں کرتیں کہ وہ آرام طلب اور عیاش نہ ہوجائیں وہ قربانی کیا کرسکتے ہیں عادتیں جو بچپن میں پیدا ہو جائیں وہ نہیں چھوٹتیں۔ اس میں شک نہیں کہ وہ بہت بڑے ایمان سے دب جاتی ہیں۔ مگر جب ایمان میں ذرا بھی کمی آئے پھر عود کر آتی ہیں۔ پس جانی قربانی بھی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ متحد نہ ہوں۔ جب تک مائیں متحد نہیں ہوں گی تو وہ روز ایسے کام کریں گی جن سے بچوں میں سستی اور غفلت پیدا ہو۔ پس جب تک مناسب ماحول پیدا نہ ہو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا<۔۱۴
    پہلا باب )فصل دوم(
    تحریک جدید کے انیس مطالبات اور ملکی پریس
    اب تمہیدی امور چونکہ بیان کئے جاچکے تھے۔ اس لئے حضور نے ۲۳۔ نومبر` ۳۰۔ نومبر اور ۷۔ دسمبر ۱۹۳۴ء کے تین خطبات میں اپنی سکیم تفصیلی طور پر جماعت کے سامنے رکھی اور اسے ۱۶۔ دسمبر ۱۹۳۴ء کے ایک مطبوعہ اعلان میں >تحریک جدید< کے نام سے موسوم فرمایا۔۱۵انیس مطالبات حضرت امیرالمومنینؓ کے اپنے الفاظ میں
    >تحریک جدید کی سکیم انیس مطالبات پر مشتمل تھی۔ جن کی تشریح و توضیح ذیل میں خود سیدنا امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ کے الفاظ مبارکہ میں درج کی جاتی ہے۔
    پہلا مطالبہ:۔
    >آج سے تین سال کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر احمدی جو اس جنگ میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہے یہ اقرار کرے کہ وہ آج سے صرف ایک سالن۱۶ استعمال کرے گا۔ روٹی اور سالن یا چاول اور سالن یہ دو چیزیں نہیں بلکہ دونوں مل کر ایک ہوں گے۔ لیکن روٹی کے ساتھ دو سالنوں یا چاولوں کے ساتھ دو سالنوں کی اجازت نہ ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ سوائے اس صورت کے کہ کوئی دعوت ہو یا مہمان گھر پر آئے۔ اس کے احترام کے لئے اگر ایک سے زائد کھانے تیار کئے جائیں تو یہ جائز ہوگا۔ مگر مہمان کا قیام لمبا ہو تو اس صورت میں اہل خانہ خود ایک ہی کھانے پر کفایت کرنے کی کوشش کرے یا سوائے اس کے کہ اس شخص کی کہیں دعوت ہو اور صاحب خانہ ایک سے زیادہ کھانوں پر اصرار کرے یا سوائے اس کے کہ اس کے گھر کوئی چیز بطور تحفہ آجائے۔ یا مثلاً ایک وقت کا کھانا تھوڑی مقدار میں بچ کر دوسرے وقت کے کھانے کے ساتھ استعمال کر لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہمان بھی اگر جماعت کا ہو تو اسے بھی چاہئے کہ میزبان کو مجبور نہ کرے کہ ایک سے زیادہ سالن کے ساتھ مل کر کھائے۔ ہر احمدی اس بات کا پابند نہیں بلکہ اس کی پابندی صرف ان لوگوں کے لئے ہوگی جو اپنے نام مجھے بتا دیں ۔۔۔۔۔۔۱۷
    لباس کے متعلق میرے ذہن میں کوئی خاص بات نہیں آئی۔ ہاں بعض عام ہدایات میں دیتا ہوں مثلاً یہ کہ جن لوگوں کے پاس کافی کپڑے ہوں۔ وہ ان کے خراب ہو جانے تک اور کپڑے نہ بنوائیں پھر جو لوگ نئے کپڑے زیادہ بنواتے ہیں۔ وہ نصف پر یا تین چوتھائی پر یا ۵/۴ پر آجائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ¶سب سے ضروری بات عورتوں کے لئے یہ ہوگی کہ محض پسند پر کپڑا نہ خریدیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ضرورت ہو تو خریدیں دوسری پابندی عورتوں کے لئے یہ ہے کہ اس عرصہ میں گوٹہ کناری فیتہ وغیرہ قطعاً نہ خریدیں ۔۔۔۔۔۔ تیسری شرط اس مد میں یہ ہے کہ جو عورتیں اس عہد میں اپنے آپ کو شامل کرنا چاہیں۔ وہ کوئی نیازیور نہیں بنوائیں گی اور جو مرد اس میں شامل ہوں وہ بھی عہد کریں کہ عورتوں کو نیازیور بنوا کر نہیں دیں گے۔ پرانے زیور کو تڑوا کر بنانے کی بھی ممانعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب ہم جنگ کرنا چاہتے ہیں تو روپیہ کو کیوں خواہ مخواہ ضائع کریں خوشی کے دنوں میں ایسی جائز باتوں سے ہم نہیں روکتے۔ لیکن جنگ کے دنوں میں ایک پیسہ کی حفاظت بھی ضروری ہوتی ہے۔ ہاں ٹوٹے ہوئے زیور کی مرمت جائز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ علاج کے متعلق میں کہہ چکا ہوں کہ اطباء اور ڈاکٹر سستے نسخے تجویز کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانچواں خرچ سنیما اور تماشے ہیں۔ ان کے متعلق میں ساری جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ تین سال۱۸ تک کوئی احمدی کسی سنیما` سرکس` تھیٹر وغیرہ غرض کہ کسی تماشہ میں بالکل نہ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھٹا شادی بیاہ کا معاملہ ہے۔ چونکہ یہ جذبات کا سوال ہے اور حالات کا سوال ہے اس لئے میں یہ حد بندی تو نہیں کر سکتا کہ اتنے جوڑے اور اتنے زیور سے زیادہ نہ ہوں۔ ہاں اتنا مدنظر رہے کہ تین سال کے عرصہ میں یہ چیزیں کم دی جائیں۔ جو شخص اپنی لڑکی کو زیادہ دینا چاہے وہ کچھ زیور` کپڑا اور باقی نقد کی صورت میں دے دے۔ ساتواں مکانوں کی آرایش و زیبائش کا سوال ہے اس کے متعلق بھی کوئی طریق میرے ذہن میں نہیں آیا۔ ہاں عام حالات مین تبدیلی کے ساتھ اس میں خودبخود تبدیلی ہو سکتی ہے۔ جب غذا اور لباس سادہ ہو گا تو اس میں بھی خودبخود لوگ کمی کرنے لگ جائیں گے پس میں اس عام نصیحت کے ساتھ کہ جو لوگ اس معاہدے میں شامل ہوں وہ آرایش و زیبائش پر خواہ مخواہ روپیہ ضائع نہ کریں` اس بات کو چھوڑتا ہوں۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آٹھویں چیز تعلیمی اخراجات ہیں۔ اس کے متعلق کھانے پینے میں جو خرچ ہوتا ہے` اس کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں۔ جو خرچ اس کے علاوہ ہیں یعنی فیس یا آلات اور اوزاروں یا سٹیشنری اور کتابوں وغیرہ پرجو خرچ ہوتا ہے` اس میں کمی کرنا ہمارے لئے مضر ہوگا۔ اس لئے نہ تو اس میں کمی کی نصیحت کرتا ہوں اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے۔ پس عام اقتصادی حالات میں تغیر کے لئے میں ان آٹھ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہوں<۔۲۰
    دوسرا مطالبہ:۔
    >دوسرا مطالبہ جو دراصل پہلے ہی مطالبہ پر مبنی ہے یہ کرتا ہوں کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کا ۵/۱ سے ۳/۱ حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تین سال تک بیت المال میں جمع کرائے۔ اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدر وہ مختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں یا دارالانوار کمیٹی کا حصہ یا حصے انہوں نے لئے ہیں )اخبارات وغیرہ کی قیمتوں کے علاوہ( وہ سب رقم اس حصہ میں سے کاٹ لیں اور باقی رقم اس تحریک کی امانت میں صدر انجمن حمدیہ کے پاس جمع کرادیں۔۲۱
    ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ضروری شرط ہے کہ آنے اس میں نہیں لئے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ تین سال کے بعد یہ روپیہ نقد یا اتنی ہی جائداد کی صورت میں واپس کر دیا جائے گا۔ جو کمیٹی میں اس رقم کی حفاظت کے لئے مقرر کروں گا اس کا فرض ہو گا کہ ہر شخص پر ثابت کرے کہ اگر کسی کو جائداد کی صورت میں روپیہ واپس کیا جارہا ہے تو وہ جائداد فی الواقعہ اس رقم میں خریدی گئی ہے۔ اس سب کمیٹی کے ممبر علاوہ میرے مندرجہ ذیل احباب ہوں گے۔ )۱( میرزا بشیر احمد صاحب )۲( چودھری ظفر اللہ خاں صاحب )۳( شیخ عبدالرحمن صاحب مصری )۴( مرزا محمد اشرف صاحب )۵( مرزا شریف احمد صاحب )۶( ملک غلام محمد صاحب لاہور )۷( چودھری محمد شریف صاحب وکیل منٹگمری )۸( چوہدری حاکم علی صاحب سرگودھا اور چودھری فتح محمد صاحب<۲۲
    تیسرا مطالبہ:۔
    >تیسرا مطالبہ میں یہ کرتا ہوں کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے اس وقت بڑی ضرورت ہے کہ وہ جو گندہ لٹریچر ہمارے خلاف شائع کررہا ہے اس کا جواب دیا جائے یا اپنا نقطہ نگاہ احسن طور پر لوگوں تک پہنچایا جائے اور وہ روکیں جو ہماری ترقی کی راہ میں پیدا کی جارہی ہیں انہیں دور کیا جائے۔ اس کے لئے بھی خاص نظام کی ضرورت ہے` روپیہ کی ضرورت ہے` آدمیوں کی ضرورت ہے اور کام کرنے کے طریقوں کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کام کے واسطے تین سال کے لئے پندرہ ہزار روپیہ کی ضرورت ہوگی۔ فی الحال پانچ ہزار روپیہ کام کے شروع کرنے کے لئے ضروری ہے۔ بعد میں دس ہزار کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اور اگر اس سے زائد جمع ہو گیا تو اسے اگلی مدات میں منتقل کر دیا جائے گا۔ اس کمیٹی کا مرکز لاہور میں ہو گا اور اس کے ممبر مندرجہ ذیل ہوں گے۔ )۱( پیر اکبر علی صاحب )۲( شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور )۳( چودھری اسداللہ خاں صاحب بیرسٹر لاہور )۴( ملک عبدالرحمن صاحب قصوری )۵( ڈاکٹر عبدالحق صاحب بھاٹی گیٹ لاہور )۶( ملک خدا بخش صاحب لاہور )۷( چودھری محمد شریف صاحب وکیل منٹگمری )۸( شیخ جان محمد صاحب سیالکوٹ )۹( مرزا عبدالحق صاحب وکیل گورداسپور )۱۰( قاضی عبدالحمید صاحب وکیل امرتسر )۱۱( سید ولی اللہ شاہ صاحب )۱۲( شمس صاحب یا اگروہ باہر جائیں تو مولوی اللہ دتا صاحب۲۳ )۱۳( شیخ عبدالرزاق صاحب بیرسٹر لائل پور )۱۳( ۲۴ مولوی غلام حسین صاحب جھنگ )۱۴( صوفی عبدالغفور صاحب حال لاہور۔
    اس کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ میری دی ہوئی ہدایات کے مطابق دشمن کے پروپیگنڈا کا بالمقابل پروپیگنڈا سے مقابلہ کرے۔ مگر اس کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ تجارتی اصول پر کام کرے۔ مفت اشاعت کی قسم کا کام اس کے دائرہ عمل سے خارج ہوگا۔
    چوتھا مطالبہ:۔
    >قوم کو مصیبت کے وقت پھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کہتا ہے کہ مکہ میں اگر تمہارے خلاف جوش ہے تو کیوں باہر نکل کر دوسرے ملکوں میں نہیں پھیل جاتے۔ اگر باہر نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری ترقی کے بہت سے راستے کھول دے گا۔ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت میں بھی ایک حصہ ایسا ہے جو ہمیں کچلنا چاہتا ہے اور رعایا میں بھی ہمیں کیا معلوم ہے کہ ہماری مدنی زندگی کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے۔ قادیان بے شک ہمارا مذہبی مرکز ہے۔ مگر ہمیں کیا معلوم کہ ہماری شوکت و طاقت کا مرکز کہاں ہے۔ یہ ہندوستان کے کسی اور شہر میں بھی ہو سکتا ہے اور چین` جاپان` فلپائن` سماٹرا` جاوا` روس` امریکہ غرض کہ دنیا کے کسی ملک میں ہو سکتا ہے۔ اس لئے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگ بلاوجہ جماعت کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ کچلنا چاہتے ہیں تو ہمارا ضروری فرض ہو جاتا ہے کہ باہر جائیں اور تلاش کریں کہ ہماری مدنی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہمیں کیا معلوم ہے کہ کونسی جگہ کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ فوراً احمدیت کو قبول کرلیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ ہمارا پہلا تجربہ بتاتا ہے کہ باقاعدہ مشن کھولنا مہنگی چیز ہے۔ اس لئے پرانے اصول پر نئے مشن نہیں کھولے جا سکتے۔ اس لئے میری تجویز ہے کہ دو دو آدمی تین نئے ممالک میں بھیجے جائیں۔ ان میں سے ایک ایک انگریزی دان ہو اور ایک ایک عربی دان۔ سب سے پہلے تو ایسے لوگ تلاش کئے جائیں کہ جو سب یا کچھ حصہ خرچ کا دے کر حسب ہدایات جاکر کام کریں۔ مثلاً صرف کرایہ لے لیں آگے خرچ نہ مانگیں یا کرایہ خود ادا کر دیں۔ خرچ چھ سات ماہ کے لئے ہم سے لے لیں یا کسی قدر رقم اس کام کے لئے دے سکیں۔ اگر اس قسم کے آدمی حسب منشاء نہ ملیں تو جن لوگوں نے پچھلے خطبہ کے ماتحت وقف کیا ہے ان میں سے کچھ آدمی چن لئے جائیں جن کو صرف کرایہ دیا جائے اور چھ ماہ کے لئے معمولی خرچ دیا جائے اس عرصہ میں وہ ان ملکوں کی زبان سیکھ کر وہاں کوئی کام کریں اور ساتھ ساتھ تبلیغ بھی کریں اور سلسلہ کا لٹریچر اس ملک کی زبان میں ترجمہ کرکے اسے اس ملک میں پھیلائیں اور اس ملک کے تاجروں اور احمدی جماعت کے تاجروں کے درمیان تعلق بھی قائم کرائیں۔ غرض مذہبی اور تمدنی طور پر اس ملک اور احمدی جماعت کے درمیان واسطہ بنیں۔
    پس میں اس تحریک کے ماتحت ایک طرف تو ایسے نوجوانوں کا مطالبہ کرتا ہوں جو کچھ خرچ کا بوجھ خود اٹھائیں ورنہ وقف کرنے والوں میں سے ان کو چن لیا جائے گا جو کرایہ اور چھ ماہ کا خرچ لے کر ان ملکوں میں تبلیغ کے لئے جانے پر آمادہ ہوں گے جو ان کے لئے تجویز کئے جائیں گے۔ اس چھ ماہ کے عرصہ میں ان کا فرض ہوگا کہ علاوہ تبلیغ کے وہاں کی زبان بھی سیکھ لیں اور اپنے لئے کوئی کام بھی نکالیں جس سے آئندہ گزارہ کر سکیں۔ اس تحریک کے لئے خرچ کا اندازہ میں نے دس ہزار روپیہ کا لگایا ہے۔ پس دوسرا مطالبہ اس تحریک کے ماتحت میرا یہ ہے کہ جماعت کے ذی ثروت لوگ جو سو سو روپیہ یا زیادہ روپیہ دے سکیں اس کے لئے رقوم دے کر ثواب حاصل کریں<۔۲۶
    >ایسے نوجوان باقاعدہ مبلغ نہیں ہوں گے مگر اس بات کے پابند ہوں گے کہ باقاعدہ رپورٹیں بھیجتے رہیں اور ہماری ہدایات کے ماتحت تبلیغ کریں<۔۲۷
    پانچواں مطالبہ:۔
    >تبلیغ کی ایک سکیم میرے ذہن میں ہے جس پر سو روپیہ ماہوار خرچ ہوگا اور اس طرح ۱۲۰۰ روپیہ اس کے لئے درکار ہے۔ جو دوست اس میں بھی حصہ لے سکتے ہوں وہ لیں۔ اس میں بھی غرباء کو شامل کرنے کے لئے میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں حصہ لینے کے لئے پانچ پانچ روپے دے سکتے ہیں<۔۲۸
    چھٹا مطالبہ:۔
    >میں چاہتا ہوں کہ وقف کنندگان میں سے پانچ افراد کو مقرر کیا جائے کہ سائیکلوں پر سارے پنجاب کا دورہ کریں اور اشاعت سلسلہ کے امکانات کے متعلق مفصل رپورٹیں مرکز کو بھجوائیں۔ مثلاً یہ کہ کس علاقہ کے لوگوں پر کس طرح اثر ڈالا جاسکتا ہے۔ کون کون سے بااثر لوگوں کو تبلیغ کی جائے تو احمدیت کی اشاعت میں خاص مدد مل سکتی ہے۔ کس کس جگہ کے لوگوں کی کس کس جگہ کی احمدیوں سے رشتہ داریاں ہیں کہ ان کو بھیج کر وہاں تبلیغ کرائی جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پانچ آدمی جو سائیکلوں پر جائیں گے مولوی فاضل یا انٹرنس پاس ہونے چاہئیں۔ تین سال کے لئے وہ اپنے آپ کو وقف کریں گے۔ پندرہ روپیہ ماہوار ان کو دیا جائے گا۔ تبلیغ کا کام ان کا اصلی فرض نہیں ہو گا۔ اصل فرض تبلیغ کے لئے میدان تلاش کرنا ہو گا۔ وہ تبلیغی نقشے بنائیں گے۔ گویا جس طرح گورنمنٹ سروے (SURVEY) کراتی ہے وہ تبلیغی نقطہ نگاہ سے پنجاب کا سروے کریں گے۔ ان کی تنخواہ اور سائیکلوں وغیرہ کی مرمت کا خرچ ملا کر سو روپیہ ماہوار ہو گا۔ اور اس طرح کل رقم جس کا مطالبہ ہے ۲/۲۷۱ ہزار بنتی ہے۔ مگر اس میں سے ساڑھے سترہ ہزار کی فوری ضرورت ہے<۔۲۹
    ‏tav.8.2
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    تحریک جدید کی بنیاد سے لے کر خلافت جوبلی تک
    ساتواں مطالبہ:۔
    >تبلیغ کی وسعت کے لئے ایک نیا سلسلہ مبلغین کا ہونا چاہئے اور وہ یہی ہے کہ سرکاری ملازم تین تین ماہ کی چھٹیاں لے کر اپنے آپ کو پیش کریں تاکہ ان کو وہاں بھیج دیا جائے جہاں ان کی ملازمت کا واسطہ اور تعلق نہ ہو۔ مثلاً گورداسپور کے ضلع میں ملازمت کرنے والا امرتسر کے ضلع میں بھیج دیا جائے` امرتسر کے ضلع میں ملازمت کرنے والا کانگڑہ یا ہوشیارپور کے ضلع میں کام کرے۔ گویا اپنی ملازمت کے علاقہ سے باہر ایسی جگہ کام کرے جہاں ابھی تک احمدیت کی اشاعت نہیں ہوئی۔ اور وہاں تین ماہ رہ کر تبلیغ کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے اصحاب کا فرض ہو گا کہ جس طرح ملکانہ تحریک کے وقت ہوا` وہ اپنا خرچ آپ برداشت کریں۔ ہم اس بات کو مدنظر رکھیں گے کہ انہیں اتنی دور )نہ(۳۰ بھیجا جائے کہ اس کے لئے سفر کے اخرجات برداشت کرنے مشکل ہوں۔ اور اگر کسی کو کسی دور جگہ بھیجا گیا تو کسی قدر بوجھ ان اخراجات سفر کا سلسلہ برداشت کرے گا اور باقی اخراجات کھانے پینے پہننے کے وہ خود برداشت کریں۔ ان کو کوئی تنخواہ نہ دی جائے گی نہ کوئی کرایہ سوائے اس کے جسے بہت دور بھیجا جائے<۔۳۱
    آٹھواں مطالبہ:۔
    >ایسے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں۔ جو تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں<۔۳۲
    نواں مطالبہ:۔
    >جو لوگ تین ماہ )نہ(]4 [stf۳۳ دے سکیں ۔۔۔۔۔۔ ایسے لوگ جو بھی موسمی چھٹیاں یا حق کے طور پر ملنے والی چھٹیاں ہوں انہیں وقف کردیں۔ ان کو قریب کے علاقہ میں ہی کام پر لگا دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ زمینداروں کے لئے بھی چھٹی کا وقت ہوتا ہے۔ انہیں سرکار کی طرف سے چھٹی نہیں ملتی بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے یعنی ایک موقعہ آتا ہے جو نہ کوئی فصل بونے کا ہوتا ہے اور نہ کاٹنے کا۔ اس وقت جو تھوڑا بہت کام ہو اسے بیوی بچوں کے سپرد کرکے وہ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔ ہم ان کی لیاقت کے مطابق اور ان کی طرز کا ہی کام انہیں بتا دیں گے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے اعلیٰ نتائج رونما ہوں گے۔ مثلاً ان سے پوچھیں گے کہ تمہاری کہاں کہاں رشتہ داریاں ہیں اور کہاں کے رشتہ دار احمدی نہیں۔ پھر کہیں گے جائو ان کے ہاں مہمان ٹھہرو اور ان کو تبلیغ کرو<۔۳۴
    دسواں مطالبہ:۔
    >اپنے عہدہ یا کسی علم وغیرہ کے لحاظ سے جو لوگ کوئی پوزیشن رکھتے ہوں` یعنی ڈاکٹر ہوں` وکلاء ہوں` یا اور ایسے معزز کاموں پر یا ملازمتوں پر ہوں جن کو لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایسے لوگ اپنے آپ کو پیش کریں تاکہ مختلف مقامات کے جلسوں میں مبلغوں کے سوائے ان کو بھیجا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے طبقوں کے لوگ ہماری جماعت میں چار پانچ سو سے کم نہیں ہوں گے۔ مگر اس وقت دو تین کے سوا باقی دینی مضامین کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اس وقت چودھری ظفر اللہ خان صاحب` قاضی محمد اسلم صاحب اور ایک دو اور نوجوان ہیں۔ ایک دہلی کے عبدالمجید صاحب ہیں جنہوں نے ملازمت کے دوران میں ہی مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ وہ لیکچر بھی اچھا دے سکتے ہیں۔ سرحد میں قاضی محمد یوسف صاحب ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں اگر اچھی پوزیشن رکھنے والا ہر شخص اپنے حالات بیان کرے اور بتائے کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو قبول کرکے کس قدر روحانی ترقی حاصل ہوئی اور کس طرح اس کی حالت میں انقلاب آیا۔ پھر ڈاکٹر یا وکیل یا بیرسٹر ہو کر قرآن اور حدیث کے معارف بیان کرے تو سننے والوں پر اس کا خاص اثر ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ اگر لیکچروں کے معلومات حاصل کرنے اور نوٹ لکھنے کے لئے قادیان آجائیں تو میں خود ان کو نوٹ لکھا سکتا ہوں یا دوسرے مبلغ لکھا دیا کریں گے۔ اس طرح ان کو سہارا بھی دیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پرانے دوستوں میں سے کام کرنے والے ایک میر حامد شاہ صاحب مرحوم بھی تھے۔ ان کو خواجہ صاحب )خواجہ کمال الدین صاحب۔ ناقل( سے بھی بہت پہلے لیکچر دینے کا جوش تھا۔ اور ان کے ذریعہ بڑا فائدہ پہنچا۔ وہ ایک ذمہ دار عہدہ پر لگے ہوئے تھے۔ باوجود اس کے تبلیغ میں مصروف رہتے اور سیالکوٹ کی دیہاتی جماعت کا بڑا حصہ ان کے ذریعہ احمدی ہوا<۔۳۵
    گیارھواں مطالبہ:۔
    >دراصل خلیفہ کا کام نئے سے نئے حملے کرنا اور اسلام کی اشاعت کے لئے نئے سے نئے رستے کھولنا ہے مگر اس کے لئے بجٹ ہوتا ہی نہیں۔ سارا بجٹ انتظامی امور کے لئے یعنی صدر انجمن کے لئے ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سلسلہ کی ترقی افتادی ہورہی ہے اور کوئی نیا رستہ نہیں نکلتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آج سے دس سال قبل میں نے ریزرو فنڈ قائم کرنے کے لئے کہا تھا تاکہ اس کی آمد سے ہم ہنگامی کام کرسکیں۔ مگر افسوس جماعت نے اس کی اہمیت کو نہ سمجھا اور صرف ۲۰ ہزار کی رقم جمع کی۔ اس میں سے کچھ رقم صدر انجمن احمدیہ نے ایک جائداد کی خرید پر لگادی اور کچھ رقم کشمیر کے کام کے لئے قرض لے لی گئی اور بہت تھوڑی سی رقم باقی رہ گئی۔ یہ رقم اس قدر قلیل تھی کہ اس پر کسی ریزرو فنڈ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ ہنگامی کاموں کے لئے تو بہت بڑی رقم ہونی چاہئے جس کی معقول آمدنی ہو۔ پھر اس آمدنی میں سے ہنگامی اخراجات کرنے کے بعد جو کچھ بچے اس کو اسی فنڈ کی مضبوطی کے لئے لگا دیا جائے۔ تاکہ جب ضرورت ہو اس سے کام لیا جاسکے ۔۔۔۔۔ جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک ہنگامی کاموں کے لئے بہت بڑی رقم خلیفہ کے ماتحت نہ ہو کبھی ایسے کام جو سلسلہ کی وسعت اور عظمت کو قائم کریں نہیں ہوسکتے<۔۳۶
    ‏sub] gat[بارھواں مطالبہ:۔
    >وہ بیسیوں جو پنشن لیتے ہیں اور گھروں میں بیٹھے ہیں خدا نے ان کو موقع دیا ہے کہ چھوٹی سرکار سے پنشن لیں اور بڑی سرکار کا کام کریں یعنی دین کی خدمت کریں ۔۔۔۔۔۔ تا ان سکیموں کے سلسلہ میں ان سے کام لیا جائے یا جو مناسب ہوں انہیں نگرانی کا کام سپرد کیا جائے<۔۳۷
    تیرھواں مطالبہ:۔
    >باہر کے دوست اپنے بچوں کو قادیان کے ہائی سکول یا مدرسہ احمدیہ میں سے جس میں چاہیں تعلیم کے لئے بھیجیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ یہاں پڑھنے والے لڑکوں میں سے بعض جن کی پوری طرح اصلاح نہ ہوئی وہ بھی الا ماشاء اللہ جب قربانی کا موقع آیا تو یکدم دین کی خدمت کی طرف لوٹے اور اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔ یہ ان کی قادیان کی رہائش کا ہی اثر ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ قادیان میں پرورش پانے والے بچوں میں ایسا بیج بویا جاتا ہے اور سلسلہ کی محبت ان کے دلوں میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ خواہ ان میں سے کسی کی حالت کیسی ہی ہو جب دین کی خدمت کے لئے آواز اٹھتی ہے تو ان کے اندر سے لبیک کی سر پیدا ہو جاتی ہے الا ماشاء اللہ۔ لیکن اس وقت میں ایک خاص مقصد سے یہ تحریک کر رہا ہوں۔ ایسے لوگ اپنے بچوں کو پیش کریں جو اس بات کا اختیار دیں کہ ان بچوں کو ایک خاص رنگ اور خاص طرز میں رکھا جائے۔ اور دینی تربیت پر زور دینے کے لئے ہم جس رنگ میں ان کو رکھنا چاہیں رکھ سکیں۔ اس کے ماتحت جو دوست اپنے لڑکے پیش کرنا چاہیں کریں۔ ان کے متعلق میں ناظر صاحب تعلیم و تربیت سے کہوں گا کہ انہیں تہجد پڑھانے کا خاص انتظام کریں۔ قرآن کریم کے درس اور مذہبی تربیت کا پورا انتظام کیا جائے اور ان پر ایسا گہرا اثر ڈالا جائے کہ اگر ان کی ظاہری تعلیم کو نقصان بھی پہنچ جائے تو اس کی پروانہ کی جائے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی ظاہری تعلیم کو ضرور نقصان پہنچے اور نہ بظاہر اس کا امکان ہے۔ لیکن دینی ضرورت پر زور دینے کی غرض سے میں کہتا ہوں کہ اگر ان کی دینی تعلیم و تربیت پر وقت خرچ کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچ بھی جائے تو اس کی پروانہ کی جائے اس طرح ان کے لئے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جو ان میں نئی زندگی کی روح پیدا کرنے والا ہو<۔۳۸
    چودھواں مطالبہ:۔
    >بعض صاحب حیثیت لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے ہیں ان سے میں کہوں گا کہ بجائے اس کے کہ بچوں کے منشاء اور خواہش کے مطابق ان کے متعلق فیصلہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے لڑکوں کے مستقبل کو سلسلہ کے لئے پیش کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔ موجودہ حالات میں جو احمدی اعلیٰ عہدوں کی تلاش کرتے ہیں وہ کسی نظام کے ماتحت نہیں کرتے اور نتیجہ یہ ہوا ہے بعض صیغوں میں احمدی زیادہ ہو گئے ہیں اور بعض بالکل خالی ہیں۔ پس میں چاہتا ہوں کہ اعلیٰ تعلیم ایک نظام کے ماتحت ہو۔ اور اس کے لئے ایک ایسی کمیٹی مقرر کر دی جائے کہ جو لوگ اعلیٰ تعلیم دلانا چاہیں وہ لڑکوں کے نام اس کمیٹی کے سامنے پیش کردیں۔ پھر وہ کمیٹی لڑکوں کی حیثیت` ان کی قابلیت اور ان کے رجحان کو دیکھ کر فیصلہ کرے کہ فلاں کو پولیس کے محکمہ کے لئے تیار کیا جائے۔ فلاں کو انجینئرنگ کی تعلیم دلائی جائے۔ فلاں کو بجلی کے محکمہ میں کام سیکھنے کے لئے بھیجا جائے۔ فلاں ڈاکٹری میں جائے۔ فلاں ریلوے میں جائے وغیرہ وغیرہ۔ یعنی ان کے لئے الگ الگ کام مقرر کریں تاکہ کوئی صیغہ ایسا نہ رہے جس میں احمدیوں کا کافی دخل نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے صوبوں میں یہ کمیٹی اپنی ماتحت انجمنیں قائم کرے جو اپنے رسوخ اور کوشش سے نوجوانوں کو کامیاب بنائیں۔ اس کام کے لئے جو کمیٹی میں نے مقرر کی ہے اور جس کا کام ہو گا کہ اس بارے میں تحریک بھی کرے اور اس کام کو جاری کرے۔ اس کے فی الحال تین ممبر ہوں گے جن کے نام یہ ہیں۔ )۱( چودھری ظفر اللہ خاں صاحب )۲( خان صاحب فرزند علی صاحب )۳( میاں بشیر احمد صاحب<۳۹
    پندرھواں مطالبہ:۔
    >وہ نوجوان جو گھروں میں بیکار بیٹھے روٹیاں توڑتے ہیں اور ماں باپ کو مقروض بنا رہے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ اپنے وطن چھوڑیں اور نکل جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو زیادہ دور نہ جانا چاہیں۔ وہ ہندوستان میں ہی اپنی جگہ بدل لیں۔ مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بعض نوجوان ماں باپ کو اطلاع دیئے بغیر گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔ یہ بہت بری بات ہے جو جانا چاہیں اطلاع دے کر جائیں اور اپنی خیر و عافیت کی اطلاع دیتے رہیں<۔۴۰
    سولھواں مطالبہ:۔
    >جماعت کے دوست اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ میں نے دیکھا ہے اکثر لوگ اپنے ہاتھ سے کام کرنا ذلت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ ذلت نہیں بلکہ عزت کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت خلیفہ المسیح اولؓ میں بعض خوبیاں نہایت نمایاں تھیں۔ حضرت خلیفہ اولؓ اس مسجد۴۱ میں قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے میں چھوٹا سا تھا۔ سات آٹھ سال کی عمر ہوگی۔ ہم باہر کھیل رہے تھے کہ کوئی ہمارے گھر سے نکل کر کسی کو آواز دے رہا تھا کہ فلانے مہینہ آگیا ہے اوپلے بھیگ جائیں گے۔ جلدی آئو اور ان کو اندر ڈالو۔ حضرت خلیفہ اولؓ درس دے کر ادھر سے جارہے تھے۔ انہوں نے اس آدمی سے کہا کیا شور مچا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ کوئی آدمی نہیں ملتا جو اوپلے اندر ڈالے۔ آپ نے فرمایا تم مجھے آدمی نہیں سمجھتے۔ یہ کہہ کر آپ نے ٹوکری لے لی اور اس میں اوپلے ڈال کر اندر لے گئے۔ آپ کے ساتھ اور بہت سے لوگ بھی شامل ہو گئے اور جھٹ پٹ اوپلے ڈال دیئے گئے۔ اسی طرح اس مسجد کا ایک حصہ بھی حضرت خلیفہ المسیح اولؓ نے بنوایا تھا۔ ایک کام میں نے بھی اسی قسم کا کیا تھا مگر اس پر بہت عرصہ گزر گیا۔
    میں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنے کا جو مطالبہ کررہا ہوں۔ اس کے لئے پہلے قادیان والوں کو لیتا ہوں۔ یہاں کے احمدی محلوں میں جو اونچے نیچے گڑھے پائے جاتے ہیں۔ گلیاں صاف نہیں۔ نالیاں گندی رہتی ہیں بلکہ بعض جگہ نالیاں موجود ہی نہیں ان کا انتظام کریں۔ وہ جو اوورسیر ہیں وہ سروے کریں۔ اور جہاں جہاں گندہ پانی جمع رہتا ہے اور جو اردگرد بسنے والے دس بیس کو بیمار کرنے کا موجب بنتا ہے اسے نکالنے کی کوشش کریں اور ایک ایک دن مقرر کرکے سب مل کر محلوں کو درست کرلیں۔ اسی طرح جب کوئی سلسلہ کا کام ہو مثلاً لنگرخانہ یا مہمان خانہ کی کوئی اصلاح مطلوب ہو تو بجائے مزدور لگانے کے خود لگیں اور اپنے ہاتھ سے کام کرکے ثواب حاصل کریں۔
    ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جب قرآن پڑھتے تو حروف پر انگلی بھی پھیرتے جاتے۔ کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے قرآن کے حروف آنکھ سے دیکھتا ہوں اور زبان سے پڑھتا ہوں اور انگلی کو بھی ثواب میں شریک کرنے کے لئے پھیرتا جاتا ہوں۔ پس جتنے عضو بھی ثواب کے لئے کام میں شریک ہو سکیں اتنا ہی اچھا ہے۔ اور اس کے علاوہ مشقت کی عادت ہوگی ۔۔۔۔۔۔ یہ تحریک میں قادیان سے پہلے شروع کرنا چاہتا ہوں اور باہر گائوں کی احمدیہ جماعتوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنی مساجد کی صفائی اور لپائی وغیرہ خود کیا کریں اور اس طرح ثابت کریں کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا وہ عار نہیں سمجھتے۔ شغل کے طور پر لوہار` نجار اور معمار کے کام بھی مفید ہیں۔ رسول کریم~صل۱~ اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ خندق کھودتے ہوئے آپ نے پتھر توڑے اور مٹی ڈھوئی۔ صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ اس وقت رسول کریم~صل۱~ کو جو پسینہ آیا۔ بعض نے برکت کے لئے اسے پونچھ لیا۔ یہ تربیت۔ ثواب اور رعب کے لحاظ سے بھی بہت مفید چیز ہے جو لوگ یہ دیکھیں گے کہ ان کے بڑے بڑے بھی مٹی ڈھونا اور مشقت کے کام کرنا عار نہیں سمجھتے` ان پر خاص اثر ہوگا<۔۴۲
    سترھواں مطالبہ:۔
    >جو لوگ بیکار ہیں وہ بیکار نہ رہیں۔ اگر وہ اپنے وطنوں سے باہر نہیں جاتے تو چھوٹے سے چھوٹا جو کام بھی انہیں مل سکے وہ کرلیں۔ اخباریں اور کتابیں ہی بیچنے لگ جائیں۔ ریزروفنڈ کے لئے روپیہ جمع کرنے کا کام شروع کردیں۔ غرض کوئی شخص بیکار نہ رہے خواہ اسے مہینہ میں دو روپے کی ہی آمدنی ہو<۔۴۳
    اٹھارھواں مطالبہ:۔
    >قادیان میں مکان بنانے کی کوشش کریں۔ اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں لوگ مکان بنا چکے ہیں مگر ابھی بہت گنجائش ہے۔ جوں جوں قادیان میں احمدیوں کی آبادی بڑھے گی ہمارا مرکز ترقی کرے گا اور غیر عنصر کم ہوتا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یاد رکھو کہ قادیان کو خدا تعالیٰ نے سلسلہ احمدیہ کا مرکز قرار دیا ہے۔ اس لئے اس کی آبادی ان ہی لائنوں پر چلنی چاہئے جو سلسلہ کے لئے مفید ثابت ہوں۔ اس موجودہ حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے میری تاکید ہے کہ قادیان` بھینی اور ننگل کے سوا سردست اور کسی گائوں سے آبادی کے لئے زمین نہ خریدی جائے۔ ابھی ہمارے بڑھنے کے لئے بھینی اور ننگل کی طرف کافی گنجائش ہے<۔۴۴
    انیسواں مطالبہ:۔
    >دنیاوی سامان خواہ کس قدر کئے جائیں آخر دنیاوی سامان ہی ہیں۔ اور ہماری ترقی کا انحصار ان پر نہیں بلکہ ہماری ترقی خدائی سامان کے ذریعہ ہوگی اور یہ خانہ اگرچہ سب سے اہم ہے مگر اس میں نے آخر میں رکھا اور وہ دعا کا خانہ ہے۔ وہ لوگ جو ان مطالبات میں شریک نہ ہو سکیں۔ اور ان کے مطابق کام نہ کرسکیں۔ وہ خاص طور پر دعا کریں کہ جو لوگ کام کر سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ انہیں کام کرنے کی توفیق دے اور ان کے کاموں میں برکت دے ۔۔۔۔۔۔ پس وہ لولے لنگڑے اور اپاہج جو دوسروں کے کھلانے سے کھاتے ہیں` جو دوسروں کی امداد سے پیشاب پاخانہ کرتے ہیں اور وہ بیمار اور مریض جو چارپائیوں پر پڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی طاقت ہوتی اور ہمیں بھی صحت ہوتی تو ہم بھی اس وقت دین کی خدمت کرتے۔ ان سے میں کہتا ہوں کہ ان کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت کرنے کا موقعہ پیدا کر دیا ہے۔ وہ اپنی دعائوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور چارپائیوں پر پڑے پڑے خدا تعالیٰ کا عرش ہلائیں تاکہ کامیابی اور فتح مندی آئے۔ پھر وہ جو ان پڑھ ہیں اور نہ صرف ان پڑھ ہیں بلکہ کند ذہن ہیں اور اپنی اپنی جگہ کڑھ رہے ہیں کہ کاش ہم بھی عالم ہوتے۔ کاش ہمارا بھی ذہن رسا ہوتا اور ہم بھی تبلیغ دین کے لئے نکلتے۔ ان سے میں کہتا ہوں کہ ان کا بھی خدا ہے جو اعلیٰ درجہ کی عبارت آرائیوں کو نہیں دیکھتا۔ اعلیٰ تقریروں کو نہیں دیکھتا بلکہ دل کو دیکھتا ہے وہ اپنے سیدھے سادھے طریق سے دعا کریں خدا تعالیٰ ان کی دعا سنے گا اور ان کی مدد کرے گا<۔۴۵text] [tag

    عکس کے لئے

    مطالبات تحریک جدید کا پس منظر
    تحریک جدید کے مندرجہ بالا انیس مطالبات بیان کرتے وقت حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کے مدنظر گیارہ مصالح تھیں۔ جن کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضورؓ فرماتے ہیں:۔
    >میں نے اس سکیم کے متعلق مجموعی طور پر اس کی وہ تفصیلات جو موجودہ حالات میں ضروری تھیں` سب بیان کر دی ہیں۔ اور اس میں میں نے مندرجہ ذیل امور مدنظر رکھے ہیں ۔۔۔۔۔
    ‏in] ga)[t۱(
    >یہ کہ جماعت کے اندر اور باہر ایسا ماحول پیدا ہو جائے کہ جس سے جماعت کی ذہنیت اور اقتصادی حالت اچھی ہو جائے ۔۔۔۔۔۔ پس اس سکیم میں اول تو میرے مدنظر یہ بات ہے کہ ذہنیت میں ایسا تغیر کروں کہ جماعت خدمت دین کے لئے تیار ہو جائے اور آئندہ ہمیں جو قدم اٹھانا پڑے۔ اسے بوجھ نہ خیال کیا جائے بلکہ بشاشت کے ساتھ اٹھایا جاسکے<۔
    )۲(
    >دوسری بات میرے مدنظر یہ ہے کہ ہر طبقہ کے لوگوں کو یہ احساس کرا دیا جائے کہ اب وقت بدل چکا ہے۔ اس سکیم کا اثر سب پر ہی پڑے گا۔ جو شخص زیادہ کپڑے بنوانے کا عادی ہے۔ جب وہ جاکر اب اور کپڑا خریدنے لگا تو معاً اسے خیال آئے گا کہ اب ہماری حالت بدل گئی ہے۔ جب بھی بیوی سبزی ترکاری کے لئے کہے گی اور دو تین کے بجائے صرف ایک ہی منگوانے کو کہے گی تو فوراً اسے خیال آجائے گا کہ اب ہمارے لئے زیادہ قربانیاں کرنے کا وقت آگیا ہے<۔
    )۳(
    >تیسری بات میں نے یہ مدنظر رکھی ہے کہ جس قدر اطراف سے سلسلہ پر حملہ ہو رہا ہے سب کا دفعیہ ہو۔ اب تک ہم نے بعض رستے چن لئے تھے اور کچھ قلعے بنا لئے تھے۔ مگر کئی حملے دشمن کے اس لئے چھوڑ دیئے تھے کہ پہلے فلاں کو دور کرلیں پھر اس طرف توجہ کریں گے۔مگر اس سکیم میں اب میں نے یہ مدنظر رکھا ہے کہ حتی الوسع ہر پہلو کا دفعیہ کیا جائے<۔
    )۴(
    >چوتھی بات میں نے یہ مدنظر رکھی ہے کہ سلسلہ کی طرف سے پہلے ہم نے ایک دو رستے مقرر کر رکھے تھے اور انہی راہوں سے دشمن پر حملہ کرتے تھے اور باقی کو یہ کہہ کر چھوڑ دیتے تھے کہ ابھی اور کی توفیق نہیں۔ مگر اب سکیم میں میں نے یہ بات مدنظر رکھی ہے کہ حملے وسیع ہوں اور بیسیوں جہات سے دشمن پر حملے کئے جائیں۔ ہمارے حملے ایک ہی محاذ پر محدود نہ ہوں بلکہ جس طرح دفاع کے لئے ہم مختلف طریق اختیار کریں اسی طرح حملہ کے لئے بھی مختلف محاذ ہوں<۔
    )۵(
    >پانچویں بات یہ ہے کہ مغربیت کے بڑھتے ہوئے اثر کو جو دنیا کو کھائے جاتا ہے اور جو دجال کے غلبہ میں ممد ہے اسے دور کیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔ اور جوں جوں وہ زائل ہوتا جائے گا اسلام کی محبت اور اس کا دخل بڑھتا جائے گا۔ اسی لئے میں نے ہاتھ سے کام کرنے اور ایک ہی سالن کھانے کی عادت ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ دونوں باتیں مغربیت کے خلاف ہیں<۔
    )۶(
    >چھٹی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے زیادہ جدوجہد کی جائے کیونکہ ہماری فتح اسی سے ہو سکتی ہے۔ اسی لئے دعا کرنا میں نے اپنی سکیم کا ایک جزو رکھا ہے اس کی غرض یہی ہے کہ ہماری تمام ترقیات اسی سے وابستہ ہیں اور جب ہمارے اندر سے غرور نکل جائے اس وقت اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ امن کی بنیاد ایسے اصول پر قائم ہو کہ انسانیت کے لحاظ سے سب برابر ہوں۔ اس سکیم میں میں نے یہ بات بھی مدنظر رکھی ہے کہ امیر و غریب کا بعد دور ہو<۔
    )۷(
    ‏ind] ga[t >ساتویں بات اس سکیم میں میرے مدنظر یہ ہے کہ جماعت کے زیادہ سے زیادہ افراد کو تبلیغ کے لئے تیار کیا جائے۔ پہلے سارے اس کے لئے تیار نہیں ہوتے اور جو ہوتے ہیں وہ ایسے رنگ میں ہوتے ہیں کہ مبلغ نہیں بن سکتے۔ اول تو عام طور پر ہماری جماعت میں تبلیغ کا انحصار مبلغوں پر ہی ہوتا ہے۔ وہ آئیں اور تقریریں کر جائیں۔ ان کے علاوہ انصار اللہ ہیں مگر وہ اردگرد جاکر تبلیغ کر آتے ہیں۔ اور وہ بھی ہفتہ میں ایک بار اس سے تبلیغ کی عادت پیدا نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس اس سکیم میں یہ بھی مدنظر ہے کہ تبلیغ کا دائرہ زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے اور ایسے مبلغ پیدا کئے جائیں جو بغیر معاوضہ کے تبلیغ کریں<۔
    )۸(
    >آٹھویں بات اس سکیم میں میرے مدنظر یہ ہے کہ مرکز کو ایسا محفوظ کیا جائے کہ وہ بیرونی حملوں سے زیادہ سے زیادہ محفوظ ہو جائے۔ اس بات کو اچھی طرح سوچنا چاہئے کہ ایک سپاہی اور جرنیل میں کتنا فرق ہے مگر یہ فرق ظاہر میں نظر نہیں آتا۔ مثال کے طور پر آنکھوں کو لے لو۔ سپاہی اور جرنیل کی آنکھ میں کیا فرق ہے سوائے اس کے کہ سپاہی کی نظر تیز ہو گی اور جرنیل بوجہ بڑھاپے کے اس قدر تیز نظر نہ رکھتا ہو گا۔ اسی طرح دونوں کے جسم میں کیا فرق ہے؟ سوائے اس کے کہ سپاہی نوجوان اور مضبوط ہونے کی وجہ سے زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے اور جرنیل اس قدر نہیں اٹھا سکتا یا سپاہی زیادہ دیر تک بھوک برداشت کر سکتا ہے اور جرنیل ایسا نہیں کر سکتا۔ مگر باوجود اس کے جرنیل کی جان ہزاروں سپاہیوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے اور بعض دفعہ ساری کی ساری فوج اسے بچانے کے لئے تباہ ہو جاتی ہے۔ نپولین کو جب انگریزوں اور جرمنوں کی متحدہ فوج کے مقابل میں آخری شکست ہوئی تو اس وقت اس کی فوج کے ایک ایک سپاہی نے اسی خواہش میں جان دے دی کہ کسی طرح نپولین کی جان بچ جائے کیونکہ ہر ایک یہی سمجھتا تھا کہ اگر نپولین بچ گیا تو فرانس بھی بچ جائے گا ورنہ مٹ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ تو بعض دفعہ بعض چیزوں کو ایسی اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ ان کے مٹنے کے بعد شان قائم نہیں رہ سکتی۔ پس قادیان اور باہر کی اینٹوں میں فرق ہے۔ اس مقام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اسے عزت دیتا ہوں جس طرح بیت الحرم` بیت المقدس یا مدینہ و مکہ کو برکت دی ہے اور اب اگر ہماری غفلت کی وجہ سے اس کی تقدیس میں فرق آئے تو یہ امانت میں خیانت ہو گی۔ اس لئے یہاں کی اینٹیں بھی انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہیں اور یہاں کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے اگر ہزاروں احمدیوں کی جانیں بھی چلی جائیں تو پھر بھی ان کی اتنی حیثیت بھی نہ ہو گی جتنی ایک کروڑ پتی کے لئے ایک پیسہ کی ہوتی ہے۔ پس قادیان اور قادیان کے وقار کی حفاظت زیادہ سے زیادہ ذرائع سے کرنا ہمارا فرض ہے<۔
    )۹(
    >نویں بات اس میں میرے مدنظر یہ ہے کہ جماعت کو ایسے مقام پر کھڑا کر دیا جائے کہ اگلا قدم اٹھانا سہل ہو۔ میں نے اس سکیم میں اس بات کو مدنظر رکھا ہے کہ اگر آئندہ اور قربانیوں کی ضرورت پڑے تو جماعت تیار ہو اور بغیر مزید جوش پیدا کرنے والی تحریکات کرنے کے جماعت آپ ہی آپ اس کے لئے آمادہ ہو<۔
    )۱۰(
    >دسویں بات اس میں میں نے یہ مدنظر رکھی ہے کہ ہماری جماعت کا تعلق صرف ایک ہی حکومت سے نہ رہے۔ اب تک ہمارا تعلق صرف ایک ہی حکومت سے ہے سوائے افغانستان کے جہاں ہماری جماعت اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتی اور احمدی کام نہیں کر سکتے۔ باقی سب مقامات پر جہاں جہاں زیادہ اثر رکھنے والی جماعتیں ہیں مثلاً ہندوستان` نائجیریا` گولڈ کوسٹ` مصر سیلون` ماریشس وغیرہ مقامات پر وہ سب برطانیہ کے اثر کے نیچے ہیں۔ دیگر حکومتوں سے ہمارا تعلق نہیں سوائے ڈچ حکومت کے۔ مگر ڈچ بھی یورپین ہیں اور یورپینوں کا نطقہ نگاہ ایشیائی لوگوں کے بارہ میں جلدی نہیں بدلتا۔ ہمیں ایسی حکومتوں سے بھی لگائو پیدا کرنا چاہئے جن کی حکومت میں ہم شریک ہوں یا جو ہم پر حکومت کرنے کے باوجود ہمیں بھائی سمجھیں۔ مشرقی خواہ حاکم ہو مگر وہ محکوم کو بھی اپنا بھائی سمجھے گا۔ اسی طرح جنوبی امریکہ کے لوگ ہیں۔ انہوں نے بھی چونکہ کبھی باہر حکومت نہیں کی اس لئے وہ بھی ایشیائی لوگوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ پس اس سکیم میں میرے مدنظر ایک بات یہ بھی ہے کہ ہم باہر جائیں اور نئی حکومتوں سے ہمارے تعلقات پیدا ہوں۔ تاکہ ہم کسی ایک ہی حکومت کے رحم پر نہ رہیں۔ یوں تو ہم خدا تعالیٰ کے ہی رحم پر ہیں۔مگر جو حصہ تدبیر کا خدا نے مقرر کیا ہے اسے اختیار کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ اس لئے ہمارے تعلقات اس قدر وسیع ہونے چاہئیں کہ کسی حکومت یا رعایا کے ہمارے متعلق خیالات میں تغیر کے باوجود بھی جماعت ترقی کر سکے<۔
    )۱۱(
    >گیارھویں بات یہ مدنظر ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس درد میں ہماری شریک ہو سکیں۔ اللہ تعالٰی نے ہمیں یہ ایک نعمت دی ہے کہ ہمارے دلوں میں درد پیدا کر دیا ہے۔ گورنمنٹ نے جو ہماری ہتک کی۔ احرار نے جو اذیت پہنچائی اس کا یہ فائدہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ ہمارے دلوں میں درد کی نعمت پیدا کر دی اور وہی بات ہوئی جو مولانا روم نے فرمائی ہے کہ ~}~
    ہر بلا کیں قوم را حق دادہ است
    زیر آں گنج کرم بنہادہ است
    یعنی ہر آفت جو مسلمانوں پر آتی ہے اس کے نیچے ایک خزانہ مخفی ہوتا ہے۔ پس یقیناً یہ بھی ایک خزانہ تھا۔ جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیا کہ جماعت کو بیدار کر دیا اور جو لوگ سست اور غافل تھے ان کو بھی چوکنا کر دیا۔ پس یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو دنیوی نگاہ میں مصیبت تھا مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک رحمت تھا۔ اور میں نے نہیں چاہا کہ اس سے صرف موجودہ نسل ہی حصہ لے بلکہ یہ چاہا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس سے حصہ پائیں۔ اور میں نے اس سکیم کو ایسا رنگ دیا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس طریق پر نہیں جو شیعوں نے اختیار کیا بلکہ عقل سے اور اعلیٰ طریق پر جو خدا کے پاک بندے اختیار کرتے آئے ہیں اسے یاد رکھ سکیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
    اس کے علاوہ اور بھی فوائد ممکن ہے اس میں ہوں مگر یہ کم سے کم تھے جو میں نے بیان کر دیئے ہیں۔ یا یوں کہو کہ یہ سکیم کا وہ حصہ ہے جو خداتعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے بتایا<۔۴۷
    تحریک جدید جبری نہیں اختیاری سکیم ہے
    تحریک جدید میں شمولیت شروع ہی سے اختیاری تھی۔ حضرت امیرالمومنینؓ نے سب حالات جماعت کے سامنے رکھ دیئے اور ساتھ ہی ان کا علاج بھی۔ اور یہ نہیں رکھا کہ جو حصہ نہ لے اسے سزا دی جائے بلکہ سزا اور ثواب کو خداتعالیٰ پر ہی چھوڑ دیا تا جو حصہ لے اسے زیادہ ثواب ملے۔ اس اصول کے مطابق حضور نے کارکنان جماعت کو واضح ہدایات دیں کہ مردوں پر زور نہ دیا جائے صرف وہی رقم بطور چندہ وصول کی جائے جو ۱۵۔ جنوری ۱۹۳۵ء تک آجائے یا اس کا وعدہ آجائے۔ نیز کارکنوں کو خاص طور پر تاکید فرمائی کہ روپیہ کی کمی کا فکر نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ جماعت کا امتحان کرنا چاہتا ہے۔ وہ غیور ہے اور کسی کے مال کا محتاج نہیں۔ چنانچہ حضورؓ نے واضح طریق پر فرمایا۔
    >تحریک کو چلانے والے مندرجہ ذیل باتوں کو مدنظر رکھیں۔
    مردوں پر زور نہ دیا جائے
    ‏]text )[tag۱( یہ کہ وہ صرف میری تجاویز کو لوگوں تک پہنچا دیں۔ اس کے بعد مردوں پر اس میں شامل ہونے کے لئے زیادہ زور نہ دیں۔ ہاں عورتوں تک خبر چونکہ مشکل سے پہنچتی ہے اور باہر کی مشکلات سے ان کو آگاہی بھی کم ہوتی ہے۔ اس لئے رسول کریم~صل۱~ مردوں میں تو چندہ کے لئے صرف اعلان ہی کر دیتے تھے کہ کون ہے جو اپنا گھر جنت میں بنائے مگر عورتوں سے اصرار کے ساتھ وصول فرماتے تھے بلکہ فرداً فرداً اجتماع کے مواقع میں انہیں تحریک کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک عورت نے ایک کڑا اتار کر دے دیا تو آپﷺ~ نے فرمایا دوسرا ہاتھ بھی دوزخ سے بچا۔ پس عورتوں کے معاملہ میں اجازت ہے کہ ان میں زیادہ زور کے ساتھ تحریک کی جائے مگر مجبور انہیں بھی نہ کیا جائے اور مردوں پر تو زور بالکل نہ دیا جائے۔ صرف ان تک میری تجاویز کو پہنچا دیا جائے اور جو اس میں شامل ہونے سے عذر کرے اسے ترغیب نہ دی جائے۔ کارکن تحریک مجھے دکھا کر اور اسے چھپوا کر کثرت سے شائع کرا دیں اور چونکہ ڈاک خانہ میں بعض اوقات چٹھیاں ضائع ہو جاتی ہیں اس لئے جہاں سے جواب نہ ملے دس پندرہ روز کے بعد پھر تحریک بھیج دیں اور پھر بھی جواب نہ آئے تو خاموش ہو جائیں۔ اسی طرح بیرونی جماعتوں کے سکرٹریوں کا فرض ہے کہ وہ میرے خطبات جماعت کو سنا دیں جو جمع ہوں انہیں یکجا اور جو جمع نہ ہوں ان کے گھروں پر جاکر۔ لیکن کسی پر شمولیت کے لئے زور نہ ڈالیں اور جو عذر کرے اسے مجبور نہ کریں<۔
    نیز فرمایا۔
    >تیسری بات یہ مدنظر رکھی جائے کہ ہندوستان کے احمدیوں کا چندہ پندرہ جنوری ۱۹۳۵ء تک وصول ہو جائے جو ۱۶۔ جنوری کو آئے یا جس کا ۱۵۔ جنوری سے پہلے پہلے وعدہ نہ کیا جاچکا ہو اسے منظور نہ کریں۔ پہلے میں نے ایک ماہ کی مدت مقرر کی تھی مگر اب چونکہ لوگ اس مہینہ کی تنخواہیں لے کر خرچ کر چکے ہیں۔ اس لئے میں اس میعاد کو ۱۵۔ جنوری تک زیادہ کرتا ہوں۔ جو رقم ۱۵۔ جنوری تک آجائے یا جس کا وعدہ اس تاریخ تک آجائے وہی لی جائے۔ زمیندار دوست جو فصلوں پر چندہ دے سکتے ہیں یا ایسے دوست جو قسط وار روپیہ دینا چاہیں وہ ۱۵۔ جنوری تک ادا کرنے سے مستثنیٰ ہوں گے مگر وعدے ان کی طرف سے بھی ۱۵۔ جنوری تک آجانے ضروری ہیں۔جو رقم یا وعدہ ۱۶۔ جنوری کو آئے اسے واپس کر دیا جائے۔ ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے لئے میعاد یکم اپریل تک ہے۔ جن کی رقم یا وعدہ اس تاریخ تک آئے وہ لیا جائے۔ اس کے بعد آنے والا نہیں۔ اس صورت میں جو لوگ اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے وعدے اس تاریخ کے اندر اندر بھیج دیں۔ رقم فروری` مارچ` اپریل میں آسکتی ہے یا جو دوست بڑی رقوم دس بیس تیس چالیس کی ماہوار قسطوں میں ادا کرنا چاہیں یا اس سے زیادہ دینا چاہتے ہوں انہیں سال کی بھی مدت دی جاسکتی ہے۔ مگر ایسے لوگوں کے بھی وعدے عرصہ مقررہ کے اندر اندر آنے چاہئیں۔ اس میعاد کے بعد صرف انہی لوگوں کی رقم یا وعدہ لیا جائے گا جو حلفیہ بیان دیں کہ انہیں وقت پر اطلاع نہیں مل سکی مثلاً جو ایسے نازک بیمار ہوں کہ جنہیں اطلا نہ ہو سکے یا دوردراز ملکوں میں ہوں۔
    پس کارکنوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جماعتوں پر ایسے وقت بھی آتے ہیں کہ وہ امتیاز کرنا چاہتا ہے۔ اس کا منشاء یہی ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو ثواب سے محروم رکھا جائے۔ پس جن کو خدا پیچھے رکھنا چاہتا ہے انہیں آگے کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ اور ہم کون ہیں جو اس کی راہ میں کھڑے ہوں۔ ہمارے مدنظر روپیہ نہیں بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ خدا کے دین کی شان کس طرح ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ غیرت والا ہے وہ کسی کے مال کا محتاج نہیں۔ یہ مت خیال کرو کہ دین کی فتح اس ۲/۲۷۱ ہزار روپیہ پر ہے اور کہ بعض لوگ اگر اس میں حصہ نہ لیں گے تو یہ رقم پوری کیسے ہوگی۔ جب اللہ تعالیٰ اس کام کو کرنا چاہتا ہے تو وہ ضرور کردے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہے کہ روپیہ پورا نہ ہو تو وہ اس کے بغیر بھی کام کر دے گا۔ پس رقم کو پورا کرنے کے خیال سے زیادہ زور مت دو۔ کارکنوں کا کام صرف یہی ہے کہ تحریک دوسروں کو پہنچا دیں اور دس پندرہ دن کے بعد پھر یاد دہانی کردیں۔ اسی طرح جماعتوں کے سیکرٹری بھی احباب تک اس تحریک کو پہنچا دیں۔ یہ کسی کو نہ کہا جائے کہ اس میں حصہ ضرور لو۔ جو کہتے ہیں ہمیں توفیق نہیں انہیں مت کہو کہ حصہ لیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ جو باوجود توفیق کے اس میں حصہ نہیں لیتے ان کا حصہ اس پاک تحریک میں شامل ہو۔ اگر ایسا شخص دوسروں کے زور دینے پر حصہ لے گا تو وہ ہمارے پاک مال کو گندہ کرنے والا ہوگا۔ پس ہمارے پاک مالوں میں ان کے گندے مال شامل کرکے ان کی برکت کم نہ کرو<۔۴۸
    ساڑھے تیرہ سو سال قبل کی تحریک
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے اپنی سکیم کا نام >تحریک جدید< محض اس لئے رکھا تھا کہ بعض لوگوں کے لئے جدید چیز لذیذ ہوتی ہے۔ ورنہ اس تحریک کا مقصد دراصل جماعت احمدیہ کو اسلام کے عہد اول میں ساڑھے تیرہ سو سال پیچھے لے جانا تھا۔ اس اعتبار سے یہ ایک ایسی قدیم تحریک تھی جس کا لفظ لفظ قرآن مجید سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے حضورؓ نے اوائل ہی میں بتا دیا تھا کہ۔
    >یہ مت خیال کرو کہ تحریک جدید میری طرف سے ہے۔ نہیں بلکہ اس کا ایک ایک لفظ میں قرآن کریم سے ثابت کر سکتا ہوں اور ایک ایک حکم رسول کریم کے ارشادات میں دکھا سکتا ہوں۔ مگر سوچنے والے دماغ اور ایمان لانے والے دل کی ضرورت ہے۔ پس یہ خیال مت کرو کہ جو میں نے کہا ہے وہ میری طرف سے ہے بلکہ یہ اس نے کہا ہے جس کے ہاتھ میں تمہاری جان ہے۔ میں اگر مر بھی جائوں تو وہ دوسرے سے یہی کہلوائے گا اور اس کے مرنے کے بعد کسی اور سے۔ بہرحال چھوڑے گا نہیں جب تک تم سے اس کی پابندی نہ کرائے۔ یہ پہلا قدم ہے اور اس کے بعد اور بہت سے قدم ہیں۔ یہ سب باتیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ اور جب تم پہلی باتوں پر عمل کرلو گے تو پھر اور بتائی جائیں گی<۔۴۹
    اسی مضمون کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان فرمایا کہ۔
    >تحریک جدید کوئی نئی تحریک نہیں ہے بلکہ یہ وہ قدیم تحریک ہے جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم~صل۱~ کے ذریعہ جاری کی گئی تھی۔ انجیل کے محاروہ کے مطابق یہ ایک پرانی شراب ہے جو نئے برتنوں میں پیش کی جارہی ہے۔ مگر وہ شراب نہیں جو بدمست کردے اور انسانی عقل پر پردہ ڈال دے بلکہ یہ وہ شراب ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے لا فیھا غول ولاھم عنھا ینزفون )الصفت: ع ۲( یعنی اس شراب کے پینے سے نہ تو سر دکھے گا اور نہ بکواس ہوگی کیونکہ اس کا سرچشمہ وہ الٰہی نور ہے جو محمد رسول اللہ~صل۱~ دنیا میں لائے<۔۵۰
    تحریک جدید کے کامیاب ہونے کی عظیم الشان پیشگوئی
    حضرت امیرالمومنینؓ نے ابھی تحریک جدید کے مطالبات سے متعلق خطبات کا سلسلہ جاری نہیں فرمایا تھا کہ حضورؓ نے تحریک جدید کے کامیاب ہونے کی واضح پیشگوئی فرمائی کہ۔
    ۱۔
    >اگر تم سب کے سب بھی مجھے چھوڑ دو تب بھی خدا غیب سے سامان پیدا کردے گا۔ لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ جو بات خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہی اور جس کا نقشہ اس نے مجھے سمجھا دیا ہے وہ نہ ہو۔ وہ ضرور ہوکر رہے گی۔ خواہ دوست دشمن سب مجھے چھوڑ جائیں۔ خدا خود آسمان سے اترے گا اور اس مکان کی تعمیر کرکے چھوڑے گا<۔۵۱
    ۲۔
    >باوجودیکہ ہم نہ تشدد کریں گے اور نہ سول نافرمانی` باوجودیکہ ہم گورنمنٹ کے قانون کا احترام کریں گے` باوجود اس کے کہ ہم ان تمام ذمہ داریوں کو ادا کریں گے جو احمدیت نے ہم پر عائد کی ہیں اور باوجود اس کے کہ ہم ان تمام فرائض کو پورا کریں گے جو خدا اور اس کے رسولﷺ~ نے ہمارے لئے مقرر کئے` پھر بھی ہماری سکیم کامیاب ہوکے رہے گی۔ کشتی احمدیت کا کپتان اس مقدس کشتی کو پرخطر چٹانوں میں سے گزارتے ہوئے سلامتی کے ساتھ اسے ساحل پر پہنچا دے گا۔ یہ میرا ایمان ہے اور میں اس پر مضبوطی سے قائم ہوں جن کے سپرد الٰہی سلسلہ کی قیادت کی جاتی ہے ان کی عقلیں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تابع ہوتی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ سے نور پاتے ہیں اور اس کے فرشتے ان کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کی رحمانی صفات سے وہ موید ہوتے ہیں اور گو وہ دنیا سے اٹھ جائیں اور اپنے پیدا کرنے والے کے پاس چلے جائیں مگر ان کے جاری کئے ہوئے کام نہیں رکتے اور اللہ تعالیٰ انہیں مفلح اور منصور بناتا ہے<۔۵۲
    نیز فرمایا:۔
    ۳۔
    >میں یقین رکھتا ہوں` خالی یقین نہیں بلکہ ایسا یقین جس کے ساتھ دلائل ہوں اور جس کی ہر ایک کڑی میرے ذہن میں ہے اور اس یقین کی بناء پر میں کہتا ہوں کہ گو جوشیلے لوگوں کو وہ سکیم پسند نہ آئے لیکن ہماری جماعت کے دوست اس سکیم پر سچے طور پر عمل کریں تو یقیناً یقیناً فتح ان کی ہے<۔۵۳
    کمزور طبع احمدیوں کا اضطراب اور حضرت امیر المومنینؓ کا ایمان افروز جواب
    جماعت احمدیہ کے مخلصین نے اس تحریک پر کس شاندار طریق سے لبیک کہا۔ اس کا ذکر اگلی فصل میں آرہا ہے۔ اس جگہ ہم بتانا چاہتے ہیں
    کہ منافقین پر اس تحریک کا کیا ردعمل ہوا۔ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں۔
    >کئی نادان ہم میں ایسے بھی ہیں کہ جب تحریک جدید کے خطبات کا سلسلہ میں نے شروع کیا تو وہ اور قادیان کے بعض منافق کہنے لگ گئے کہ اب تو گورنمنٹ سے لڑائی شروع کر دی گئی ہے۔ بھلا گورنمنٹ کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہے ان کی اتنی بات تو صحیح ہے کہ گورنمنٹ کا اور ہمارا کیا مقابلہ ہے مگر اس لحاظ سے نہیں کہ گورنمنٹ بڑی ہے اور ہم چھوٹے بلکہ اس لحاظ سے کہ ہم بڑے ہیں اور گورنمنٹ چھوٹی اگر ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑے کئے گئے ہیں اور یقیناً اسی کی طرف سے کھڑے کئے گئے ہیں تو پھر اگر ہم مر بھی جائیں تو ہماری موت موت نہیں بلکہ زندگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی جماعتیں کبھی مرا نہیں کرتیں۔ حکومتیں مٹ جاتی ہیں۔ لیکن الٰہی سلسلے کبھی نہیں مٹتے۔ حکومت زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتی تھی کہ ہم میں سے بعض کو گرفتار کرلیتی یا بعض کو بعض الزامات میں پھانسی دے دیتی۔ مگر کسی آدمی کے مارے جانے سے تو الٰہی سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ الٰہی سلسلوں میں سے اگر ایک مرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی جگہ دس قائم مقام پیدا کر دیتا ہے<۔۵۴
    تحریک جدید کا اثر غیروں پر
    تحریک جدید کی تفصیلات >الفضل< کے ذریعہ منظر عام پر آئیں تو کئی غیر احمدی اصحاب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے بہت پسند کیا۔ اور بعض غیر احمدی امراء کے گھرانوں نے اس کے بعض مطالبات اپنے ہاں رائج بھی کرلئے۔ اسی طرح ہندوئوں اور سکھوں کے متعدد خطوط موصول ہوئے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ تحریک جدید سے بہت متاثر ہیں اور اس کے ایک حصہ پر عمل پیرا ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرجان ڈگلس ینگ نے اس تحریک کا ذکر سن کر اسے خوب سراہا۔ غرض کہ یہ تحریک اتنی مفید تھی کہ اغیار کو بھی اس کی خوبیاں نظر آئیں۔۵۵
    تحریک جدید کا ذکر ملکی پریس میں
    تحریک جدید کی اس سکیم کا چرچا ملکی پریس میں بھی ہوا۔ چنانچہ اخبار >انقلاب< لاہور نے ۴۔ دسمبر ۱۹۳۴ء کی اشاعت میں یہ نوٹ شائع کیا کہ۔
    >احمدیوں کے امام نے اپنے پیروئوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ تین سال تک سنیما` تھیٹر` سرکس وغیرہ ہرگز نہ دیکھیں۔ کھانے اور پہننے میں انتہائی سادگی اختیار کریں۔ بلا ضرورت نئے کپڑے نہ بنائیں۔ جہاں تک ہوسکے موجودہ کپڑوں میں ہی گزران کریں اور تبلیغ کے لئے چندہ دیں۔ عام مسلمانوں میں سے جن حضرات نے آج کل قادیانیوں کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے انہیں چاہئے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور عام مسلمانوں سے حلف لیں کہ وہ آئندہ سنیما نہ دیکھیں گے۔ تھیٹر نہ جائیں گے۔ سرکس کا تماشہ نہ دیکھیں گے۔ نیا کپڑا انتہائی مجبوری کے سوا نہ بنائیں گے۔ ایک وقت کے کھانے میں صرف ایک سالن پکا کے کھائیں گے اور تبلیغ اسلام کے لئے اتنا چندہ ہر مہینے ضرور دیں گے۔ مقابلہ اور مسابقہ اگر ایسے طریقے سے ہو کہ اس سے ملت کو فائدہ پہنچے تو سبحان اللہ کیا عجب ہے کہ جو مسلمان اپنے لیڈروں کے پیہم شور و غوغا کے باوجود اپنی اقتصادی اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوئے وہ قادیانیوں کی ضد ہی سے اس طرف متوجہ ہو جائیں۔
    لیکن ہمارے ہاں ضد دوسرے رستے پر بھی رواں ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے بعض ایسے حضرات بھی پیدا ہو جائیں جو قادیانیوں کے ترک سنیما کو بھی شیوہ احمدیت قرار دیں اور خود سنیما دیکھنا شروع کر دیں اور جو شخص سنیما دیکھنے سے انکار کرے اسے قادیانی مشہور کردیں کیونکہ من تشبہ بقوم فھو منھم۔ اگر قادیانی ایک وقت میں ایک سالن کے ساتھ روٹی کھائیں تو ہر مسلمان کم سے کم دو قسم کا سالن پکائے ورنہ تشبہ کی وجہ سے وہ بھی قادیانی سمجھا جائے گا۔ خدا کرے ایسی ضد پیدا نہ ہو جائے بلکہ اول الذکر مسابقت شروع ہو تاکہ مسلمانوں کو اقتصادی اعتبار سے فائدہ پہنچے<۔۵۶
    ہندو اخبار >ملاپ< نے لکھا۔
    >احمدی خلیفہ کا قابل تقلید حکم:۔ قادیانی احمدیوں کے خلیفہ صاحب نے اپنے پیروئوں کے نام یہ حکم جاری کیا ہے کہ وہ آئندہ تین سال تک سنیما۔ تھیٹر۔ سرکس وغیرہ ہرگز نہ دیکھیں اور کھانے پینے میں انتہائی سادگی اختیار کریں۔ بلا ضرورت کپڑے نہ بنائیں۔ جہاں تک ہوسکے موجودہ کپڑوں میں ہی گزران کریں اور تبلیغ کے لئے چندہ دیں یہ حکم بلاشک و شبہ قابل تقلید ہے خصوصاً ہندوئوں کے لئے جو وید پرچار کو بالکل فراموش کر بیٹھے ہیں حالانکہ وید پرچار میں ہندوئوں کی زندگی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہندو بھی فیصلہ کرلیں کہ وہ اپنا روپیہ زیادہ تروید پر چارہی کے ذریعہ خرچ کریں گے<۔۵۷
    پہلا باب )فصل سوم(
    مطالبات تحریک جدید پر جماعت احمدیہ کی طرف سے اخلاص و قربانی کا شاندار مظاہرہ اور غیروں کا خراج|تحسین0] f[f
    تحریک جدید کی سکیم اگرچہ انتہائی ناموافق اور ازحد پرخطر حالات میں جاری کی گئی تھی۔ مگر صورت حال جتنی نازک تھی اتنا ہی شاندار خیرمقدم اس کا جماعت احمدیہ کی طرف سے کیا گیا۔ جیسا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے ارشاد فرمایا۔
    >جس جوش اور جس جذبہ اور ایثار کے ساتھ جماعت کے دوستوں نے پہلے سال کے اعلان کو قبول کیا تھا اور جس کم مائیگی اور کمزوری کے ساتھ ہم نے یہ کام شروع کیا تھا وہ دونوں باتیں ایمان کی تاریخ میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ۵۸]ydbo [tag اس بات کی شہادت دے رہی تھی کہ گزشتہ انبیاء کی جماعتوں کو ایسی مشکلات سے ہی دوچار ہونا پڑا ہے۔ پس وہ بے بسی` بے کسی اور کم مائیگی بھی مومنوں کی جماعت سے ہماری جماعت کو ملاتی تھی اور وہ جوش اور وہ جذبہ اور ایثار جو جماعت نے دکھایا۔ وہ بھی ہمیں مومنوں کی جماعت سے ملاتا تھا۔ گویا ۱۹۳۴ء کا نومبر ایک نشان تھا سلسلہ احمدیہ کے مخالفوں کے لئے` وہ ایک دلیل اور برہان تھا سوچنے اور غور کرنے والوں کے لئے کہ یہ جماعت خدا کی طرف سے ہے اور یہ ان ہی قدموں پر چل رہی ہے جن پر گزشتہ انبیاء کی جماعتیں چلتی چلی آئی ہیں<۔۵۹
    مالی مطالبات اور جماعت احمدیہ
    جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز جذبہ ایثار و قربانی کا اندازہ کرنے کے لئے ہم سب سے پہلے تحریک جدید کے مالی مطالبات کو لیتے ہیں۔ حضورؓ نے پہلے سال کے لئے ساڑھے ستائیس ہزار چندہ کا مطالبہ فرمایا تھا مگر جماعت نے ڈیڑھ ماہ کے قلیل عرصہ میں ۳۳ ہزار روپیہ نقد اپنے امام کے قدموں میں ڈال دیا اور ایک لاکھ سے زائد کے وعدے پیش کر دیئے۔ چنانچہ ۲۴۔ جنوری ۱۹۳۵ء کو حضورؓ نے اعلان فرمایا کہ۔
    >الحمدلل¶ہ رب العلمین کہ جماعت احمدیہ کے مخلصین نے میری مالی تحریک کا جو جواب دیا ہے وہ مخالفوں کی آنکھیں کھولنے والا اور معاونوں کی ہمت بڑھانے والا ہے چونکہ سب نیکیوں کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لئے میں اسی پاک ذات کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں اپنی محبت کے اظہار کا ایک حقیر سا موقعہ دے کر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔
    چندوں کی تحریک ساڑھے ستائیس ہزار کی تھی اس کے متعلق اس وقت تک نقد تینتیس ہزار رقم آچکی ہے اور پندرہ جنوری سے پہلے ارسال شدہ وعدے کل ایک لاکھ چھبیس ہیں جو مطلوبہ رقم سے پونے چار گنے زیادہ ہیں اور ابھی بیرون ہند کے وعدے آرہے ہیں<۔۶۰
    امانت فنڈ
    امانت فنڈ۶۱ کی تحریک بھی جماعت میں بہت مقبول ہوئی اور مخلصین نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ چنانچہ ۲۶۔ جنوری ۱۹۳۵ء تک اس فنڈ میں پانچ ہزار کے قریب جمع ہوا۔۶۲ اور پھر جلد ہی ساڑھے پانچ ہزار روپیہ ماہوار کے قریب آمد ہونے لگی۔۶۳
    ‏]ybod [tagامانت فنڈ کا تذکرہ کرتے ہوئے ضمناً یہ بتانا ضروری ہے کہ >امانت فنڈ< کی تحریک نے احرار اور اس کے بعد دوسرے فتنوں کا سر کچلنے میں نمایاں حصہ لیا ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں۔
    >امانت فنڈ کے ذریعہ احرار کو خطرناک شکست ہوئی ہے۔ اتنی خطرناک شکست کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی شکست میں ۲۵ فیصدی حصہ امانت فنڈ کا ہے۔ لیکن باوجود اس قدر فائدہ حاصل ہونے کے دوستوں کا تمام روپیہ محفوظ ہے<۔
    >غرض یہ تحریک ایسی اہم ہے کہ میں تو جب بھی تحریک جدید کے مطالبات پر غور کرتا ہوں ان میں سے امانت فنڈ کی تحریک پر میں خود حیران ہو جایا کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ امانت فنڈ کی تحریک الہامی تحریک ہے کیونکہ بغیر کسی بوجھ اور غیر معمولی چندہ کے اس فنڈ سے ایسے ایسے اہم کام ہوئے ہیں کہ جاننے والے جانتے ہیں وہ انسان کی عقل کو حیرت میں ڈال دینے والے ہیں<۔۶۴
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی دعائیں
    حق یہ ہے کہ مالی مطالبات پر جماعتی اخلاص کا یہ غیر معمولی نمونہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی خاص دعائوں کا نتیجہ تھا۔ چنانچہ حضور خود بھی فرماتے ہیں۔
    >میں نے جب تحریک جدید جاری کی تو میں نے جماعت کے دوستوں سے ۲۷ ہزار کا مطالبہ کیا تھا اور میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا نفس اس وقت مجھے یہ کہتا تھا کہ ۲۷ ہزار روپیہ بہت زیادہے ہے یہ جمع نہیں ہوگا میرا دل کہتا تھا کہ اس قدر روپیہ کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ چنانچہ گو میں یہی سمجھتا تھا کہ اتنا روپیہ جمع نہیں ہوسکتا۔ دینی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے میں نے تحریک کردی اور ساتھ ہی دعائیں شروع کر دیں کہ خدایا ضرورت تو اتنی ہے مگر جن سے میں مانگ رہا ہوں ان کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے میں امید نہیں کرتا کہ وہ اس قدر روپیہ جمع کر سکیں تو خود ہی اپنے فضل سے ان کے دلوں میں تحریک پیدا کر کہ وہ تیرے دین کی اس ضرورت کو پورا کریں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت نے بجائے ستائیس ہزار کے ایک لاکھ دس ہزار کے وعدے پیش کر دیئے ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر وصولی بھی ہوگئی<۔۶۵
    صدر مجلس احرار کا اقرار
    دعائوں کی قبولیت کے اس نشان نے دشمنان احمدیت کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ چنانچہ مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی صدر مجلس احرار نے ۲۳۔ اپریل ۱۹۳۵ء کو ایک تقریر کے دوران تحریک جدید کی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا۔
    >ہم میاں محمود کے دشمن ہیں وہاں ہم اس کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ دیکھو اس نے اپنی اس جماعت کو جو کہ ہندوستان میں ایک تنکے کی مانند ہے کہا کہ مجھے ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ چاہئے۔ جماعت نے ایک لاکھ دے دیا ہے۔ اس کے بعد گیارہ ہزار کا مطالبہ کیا تو اسے دگنا تگنا دے دیا<۔۶۶
    خدائی تصرف
    مخلصین جماعت کی اس بے نظیر مالی قربانی میں خدا تعالیٰ کا ایک عجیب تصرف کارفرما تھا۔ جس کی تفصیل خود حضورؓ ہی کے الفاظ میں لکھنا ضروری ہے۔ حضور فرماتے ہیں۔
    >اس وقت ہماری مالی حالت اتنی کمزوری تھی کہ تبلیغی ٹریکٹوں کی اشاعت تک سے ہم عاجز تھے۔ ایسے حالات میں میں نے تحریک جدید جاری کی اور اس کا ایک حصہ ریزرو فنڈ کا رکھا۔ جب میں نے اس کے لئے تحریک کی تو مجھے پتہ نہ تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں۔ اس وقت میں نے جو تقریر کی اس کے الفاظ کچھ ایسے مبہم تھے کہ جماعت نے سمجھا کہ تین سال کے لئے چندہ مانگ رہے ہیں۔ اور وہ اکٹھا دینا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مثلاً کسی کا ارادہ سو روپیہ سال میں دینے کا تھا تو اس نے تین سال کا چندہ تین سو روپیہ اکٹھا دے دیا۔ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے صحیح مفہوم سمجھا۔ مگر ایسے بھی تھے جنہوں نے غلط سمجھا اور اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ایک لاکھ سات ہزار کے وعدے ہوئے۔ جب دوسرے سال کے لئے تحریک کی گئی تو بعض لوگ کہنے لگے ہم نے تو تین سال کا اکٹھا چندہ دے دیا تھا اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ میں نے کہا یہ طوعی چندہ ہے آپ اب نہ دیں۔ مگر انہوں نے کہا ہم تکلیف اٹھائیں گے اور خواہ کچھ ہو اب بھی ضرور چندہ دیں گے۔ اسی طرح انہوں نے تین سال کے لئے جو اکٹھا چندہ دیا تھا دوسرے سال اس سے زیادہ دیا کیونکہ وہ مجبور ہوگئے کہ اپنے اخلاص کو قائم رکھنے کے لئے چندہ پہلے سے بڑھا کر دیں۔ بعض مخلص ایسے تھے۔ جنہوں نے اپنا سارا کا سارا اندوختہ دے دیا تھا۔ ایک نے لکھا۔ دوسرے سال میں نے شرم کی وجہ سے بتایا نہیں تھا۔ میں نے اپنی کچھ اشیاء بیچ کر چندہ دیا تھا۔ پھر تیسرے سال سب کچھ بیچ کر چندہ دے چکا ہوں۔ اب رقم کم کرنے پر مجبور ہوں۔ لیکن نویں سال میں لکھا کہ خدا تعالیٰ نے کچھ رقم جمع کرنے کی توفیق عطا کی اس لئے پہلے کی طرح ہر سال کا چندہ بڑھا کر ادا کروں گا۔ دراصل جب میں تحریک جدید کے چندہ کا اعلان کر رہا تھا۔ خدا تعالیٰ ۲۵ لاکھ ریزرو فنڈ کی تحریک جو پہلے کی گئی تھی اسے کامیاب بنانے کی بنیاد رکھوا رہا تھا۔ میرا شروع سے ارادہ تھا کہ اس چندہ سے ریزرو فنڈ قائم کیا جائے جو تبلیغ اور سلسلہ کے دوسرے کاموں میں کام آئے۔ میں نے اس روپیہ سے زمین خریدی جو ساڑھے نو ایکڑ ہے اور تحریک جدید کی ملکیت ہے<۔۶۷
    تحریک جدید کا خوشگوار اثر صدر انجمن احمدیہ کے چندوں پر
    تحریک جدید کی ایک عجیب برکت یہ نازل ہوئی کہ جہاں اس سے پہلے جماعت احمدیہ کے عام چندوں کی رفتار کچھ عرصہ سے نسبتاً سست ہوچکی تھی اس میں بھی تیزی پیدا ہوگئی۔ چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔
    >خدا تعالیٰ کی قدرت ہے۔ اس سے پہلے صدر انجمن احمدیہ ہمیشہ مقروض رہا کرتی تھی اور اسے اپنا بجٹ ہر سال کم کرنا پڑتا تھا۔ جب میں نے اس تحریک کا اعلان کیا تو ناظروں نے میرے پاس آآکر شکایتیں کین کہ اس تحریک کے نتیجہ میں انجمن کی حالت خراب ہوجائے گی۔ میں نے ان سے کہا کہ تم خدا تعالیٰ پر توکل کرو اور انتظار کرو اور دیکھو کہ حالت سدھرتی ہے یا گرتی ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ یا تو صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ دو اڑھائی لاکھ روپیہ کا ہوا کرتا تھا اور یا اس تحریک کے دوران میں چار پانچ لاکھ روپیہ تک جاپہنچا۔ ادھر جماعت نے تحریک جدید کی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کردیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سال کے اندر ہی مطالبہ سے کئی گنا زیادہ رقم جمع ہوگئی۔ جب میں نے پہلے دن جماعت سے ۲۷ ہزار روپیہ کا مطالبہ کیا ہے تو واقعہ میں میں یہی سمجھتا تھا کہ میرے مونہہ سے یہ رقم تو نکل گئی ہے مگر اس کا جمع ہونا بظاہر بڑا مشکل ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ کس قدر عظیم الشان فضل ہے کہ ۲۷ ہزار کیا اب تک ۲۷ ہزار سے پچاس گنے سے بھی زیادہ رقم آچکی ہے<۔۶۸
    مالی مطالبات پر سب سے پہلے لبیک کہنے والی جماعتیں
    حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جس جماعت نے نہایت ہی اعلیٰ نمونہ پیش کیا وہ قادیان کی جماعت تھی۔ چنانچہ حضورؓ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    ‏tav.8.3
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    تحریک جدید کی بنیاد سے لے کر خلافت جوبلی تک
    >سب سے زیادہ قربانی کی مثال اور اعلیٰ نمونہ قادیان کی جماعت نے دکھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں کی احمدی آبادی سات ہزار کے قریب ہے۔ پنجاب میں احمدیوں کی آبادی سرکاری مردم شماری کے رو سے ۱۹۳۱ء میں ۵۶ ہزار تھی جو بہت کم ہے۔ لیکن اگر ہم اسی کو درست سمجھ کر آج ۷۰ ہزار بھی سمجھ لیں۔ تو گویا قادیان کی جماعت سارے پنجاب کا دسواں حصہ ہے۔ لیکن ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ کی تحریکات میں قادیان کی جماعت کی طرف سے پانچ ہزار روپیہ نقد اور وعدوں کی صورت میں آیا ہے اور ایسے ایسے لوگوں نے اس میں حصہ لیا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ اگرچہ مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زیادہ حصہ لے سکتے تھے مگر کم لیا ہے۔ مگر ایک خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنی حیثیت اور طاقت سے زیادہ حصہ لیا ہے۔ بعض لوگ تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنا سارا اندوختہ دے دیا ہے۔ بعض ایسے ہیں جن کی چار چار پانچ روپیہ کی آمدنیاں ہیں اور انہوں نے کمیٹیاں ڈال کر اس میں حصہ لیا یا کوئی جائداد فروخت کرکے جو کچھ جمع کیا ہوا تھا وہ سب کا سب دے دیا ہے۔ باہر کی جماعتوں میں سے بعض کے جواب آئے ہیں اور بعض کے ابھی نہیں آئے اور نہ ہی آسکتے تھے۔ مگر بظاہر حالات معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کی جماعت بڑھ جائے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ قادیان کی جماعت نے حسب دستور اس موقعہ پر بھی اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا ہے۔ باہر کی جماعتوں میں سے بھی بعض نے اخلاص کا عمدہ نمونہ دکھایا ہے اور بعض نے تو اتنی ہوشیاری سے کام لیا ہے کہ حیرانی ہوتی ہے۔ مثلاً لاہور چھائونی کی جماعت کا وعدہ قادیان کی جماعت کے وعدہ کے ساتھ ہی پہنچ گیا تھا۔ کوئی دوست یہاں سے خطبہ سن کر گیا اور اس سے سن کر دوست فوراً اکٹھے ہوئے اور تحریک میںشامل ہوگئے۔ اور جس وقت مجھے قادیان والوں کی رپورٹ ملی اسی وقت لاہور چھائونی کی مل گئی ۔۔۔۔۔۔۔ سرسری اندازہ یہ ہے کہ چودہ دن کے اندر اندر پندرہ ہزار کے قریب وعدے اور نقد روپیہ آچکا ہے جس میں سے چار ہزار کے قریب نقد ہے اور ابھی جماعت کا بہت سا حصہ خصوصاً وہ لوگ جن کی آمدنیاں زیادہ ہیں خموش ہے یا اس انتظار میں ہے کہ جماعت کے ساتھ وعدہ بھجوائیں گے لیکن دوسری طرف متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے یا غرباء میں سے بعض ایسے ہیں کہ جن کے پاس پیسہ نہیں تھا اور انہوں نے چیزیں پیش کر دیں اور کہا کہ ہمارا اثاثہ لے لیا جائے اگرچہ ہم نے لیا نہیں۔ کیونکہ میرے اصل مخاطب امراء تھے۔ مگر اس سے اتنا پتہ تو لگ سکتا ہے کہ جماعت میں ایسے مخلصین بھی ہیں جو اپنی ہر چیز قربان کر دینے کے لئے تیار ہیں۔ اس سلسلہ میں مجھے یہ شکایت پہنچی ہے کہ بعض جماعتوں کے عہدیدار لوگوں کو یہ کہہ کر خموش کر رہے ہیں کہ جلدی نہ کرو پہلے غور کرلو۔ گویا ان کے غور کا زمانہ ابھی باقی ہے۔ ڈیڑھ دو مہینہ سے میں خطبات پڑھ رہا ہوں اور تمام حالات وضاحت سے پیش کرچکا ہوں۔ لیکن ابھی ان کے غور کا موقعہ ہی نہیں آیا۔ یہ مشورہ کوئی نیک مشورہ نہیں یا سادگی پر دلالت کرتا ہے یا شاید بعض خود قربانی سے ڈرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس سے روکنا چاہتے ہیں کہ ان کی سستی اور غفلت پر پردہ پڑا رہے۔ کیا رسول کریم~صل۱~ کے زمانہ میں جہاد کے موقعہ پر پہلے غور کیا جاتا تھا اور یہ کہا جاتا تھا کہ جلدی نہ کرو غور کرلو۔ قرآن کریم میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فاستبقوا الخیرات یعنی دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اور جلدی کی کوشش کرو ۔۔۔۔۔۔۔ جماعتی لحاظ سے بعض مقامات سے مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ جماعتیں اپنی لسٹیں اکٹھی بھجوائیں گی۔ گویا دیر اس وجہ سے ہے۔ ان جماعتوں پر یا ان کے افراد پر کوئی الزام نہیں۔ مگر ان میں سے بھی بعض مخلصین ایسے ہیں جنہوں نے اس دیر کو بھی برداشت نہیں کیا اور رقمیں بھیج دی ہیں اور جماعت کا انتظار بھی نہیں کیا۔ یہ گو معمولی باتیں ہیں۔ مگر روحانی دنیا میں یہی چیزیں ثواب بڑھا دینے کا باعث ہو جایا کرتی ہیں<۔۶۹
    ‏]bus [tagبیرونی ممالک سے تحریک جدید کے حق میں آواز
    بیرونی ممالک میں سب پہلے بلاد عربیہ کے احمدیوں نے تحریک جدید پر لبیک کہا اور نہ صرف چندہ کے وعدے بھجوائے بلکہ ان کا ایک حصہ نقد بھی بھجوا دیا۔ چنانچہ شروع فروری ۱۹۳۵ء تک جماعت حیفا کی طرف سے چار سو شلنگ کے وعدے موصول ہوئے جن میں سے پچہتر شلنگ کی رقم بھی پہنچ گئی۔ علاوہ ازیں مدرسہ احمدیہ کبابیر )حیفا( کے احمدی بچوں نے بھی آٹھ شلنگ چندہ بھجوایا۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے جماعت احمدیہ حیفا کے افراد خصوصاً حیفا کے احمدی بچوں کے اس اخلاص اور قربانی کی بہت تعریف فرمائی۷۰ اور دعا دی کہ اللہ تعالیٰ ان بچوں کے اخلاص کو قبول کرے اور دنیا میں چمکنے والے ستارے بنائے کہ ان کی روشنی سے فلسطین ہی نہیں بلکہ سب دنیا روشن ہو اور یہ احمدیت کی تعلیم پر صحیح طور پر عمل کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے اور دوسروں کو خدا تعالیٰ کے قریب لانے والے ہوں۔ یہ بھی یوسفؑ کے بھائیوں کی طرح بضاعہ مزجاہ لائے ہیں۔ خدا تعالیٰ ان سے بھی وہی سلوک کرے اور انہیں اسلام کا یوسف گم گشتہ ملا دے جسے یہ اپنے یعقوب )محمد~صل۱(~ کے پاس لاکر اپنی قوم کی گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کرسکیں۔۷۱
    بیرون ہند کی بعض اور مخلص جماعتیں
    جماعت احمدیہ حیفا کے معاًبعد آبادان )ایران( عدن` لنڈن` بغداد` کمپالہ` زنجبار` دارالسلام` ٹانگا` نیروبی سربایا` جاوا` کولمبو کی طرف سے نہ صرف اخلاص و ایثار سے لبریز خطوط حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے حضور پہنچے بلکہ چندہ کے وعدہ جات بھی ملے اور نقد رقوم بھی۔۷۲]txte [tag


    عکس کے لئے
    دوسرے مطالبات اور جماعت احمدیہ
    جماعت احمدیہ نے تحریک جدید کے مالی جہاد میں پرجوش حصہ لینے کے علاوہ دوسرے مطالبات پر بھی شاندار طور پر لبیک کہا۔
    سادہ زندگی
    مثلاً تحریک جدید کا سب سے پہلا مطالبہ جو اسلامی تمدن کی عمارت میں بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے سادہ زندگی کا مطالبہ ہے۔ جماعت کے مخلصین نے اس مطالبہ کے مطابق کھانے` لباس` علاج اور سنیما وغیرہ کے بارے میں اپنے پیارے امام کی ہدایات کی نہایت سختی سے پابندی کی۔ کھانے کے تکلفات یکسر ختم کر دیئے۔ بعض نے چندے زیادہ لکھوا دیئے۔ اور دو دو تین تین سال تک کوئی کپڑے نہیں بنوائے۔۷۳
    اکثر نوجوانوں نے سنیما` تھیٹر` سرکس وغیرہ دیکھنا چھوڑ دیا اور بعض جو کثرت سے اس کے عادی تھے اس سے نفرت کرنے لگے۔ الغرض حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی آواز نے جماعت میں دیکھتے ہی دیکھتے ایک زبردست انقلاب برپا کردیا۔ جو دوسرے لوگوں کی نگاہ میں ایک غیر معمولی چیز تھی۔ چنانچہ اخبار >رنگین< )امرتسر( کے سکھ ایڈیٹر ارجن سنگھ عاجز نے لکھا کہ:۔۷۴
    >احمدیوں کا خلیفہ ان کی گھریلو زندگی پر بھی نگاہ رکھتا ہے اور وقتاً فوقتاً ایسے احکام صادر کرتا رہتا ہے جن پر عمل کرنے سے خوشی کی زندگی بسر ہوسکے۔ میں یہاں ان کے خلیفہ کے چند احکام کا ذکر کرتا ہوں جن سے اندازہ ہو سکے گا کہ یہ جماعت کیوں ترقی کر رہی ہے۔
    ۱۔
    خلیفہ نے حال ہی میں جو پروگرام اپنے پیروئوں کے سامنے رکھا ہے` ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ہر بڑے یا چھوٹے امیر یا غریب کے دستر خوان پر ایک سے زیادہ کھانا نہ ہو۔ یہ حکم طبی اور اقتصادی پہلوئوں سے پرکھنے کے بعد شاندار نتائج کا ذمہ دار ثابت ہوسکتا ہے۔
    یوں تو ہر ایک ریفارمر اور عقلمند اپنے پیروئوں کو اس قسم کا حکم دے سکتا ہے لیکن کونسا ریفارمر ہے جو دعویٰ سے کہہ سکے کہ اس کے سو فیصدی مرید اس کے ایسے حکم کی پوری پوری تعمیل کرنے کے لئے حاضر ہوں گے۔ صرف خلیفہ قادیان کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے ایسے مریدوں نے جن کے دستر خوانوں پر درجنوں کھانے ہوتے تھے اپنے خلیفہ کے حکم کے ماتحت اپنے رویہ میں فوری تبدیلی کرلی ہے اور آج کوئی شخص ثابت نہیں کرسکتا کہ کوئی احمدی اپنے خلیفہ کے اس آرڈر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
    ۲۔
    خلیفہ کا حکم ہے کہ تین سال تک نئے زیور نہ بنوائے جائیں۔ بلا ضرورت کپڑا نہ خریدا جائے۔ عورتیں اپنے کپڑوں میں گوٹا` لیس فیتہ یا جھالر وغیرہ کا استعمال ترک کر دیں۔ حیرت ہے کہ اس حکم کے صادر ہوتے ہی تمام احمدی مرد اور عورتیں ہمہ تن گوش ہو جاتی ہیں اور اپنے خلیفہ کے اس اشارہ پر ان تمام چیزوں کو ترک کر دیتی ہیں۔ یہ اتنی بڑی قربانی ہے جس کا نتیجہ لازماً یہ ہے کہ یہ گروہ ہندوستان میں سب جماعتوں پر سبقت لے جاوے گا۔ جو لوگ جذبات پر قابو پانے اور جائز خواہشات کو بھی ترک کرنے پر قادر ہو سکتے ہیں وہ کبھی ناجائز خواہشات کا شکار نہیں ہو سکتے اور ظاہر ہے کہ خواہشات کی پیروی ہی انسان کے تنزل کا ذریعہ ہوتی ہے۔ پس احمدی اس بارہ میں بھی ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔
    اور ترک خواہشات کی سپرٹ ان کے خلیفہ نے جس تدبر اور دانائی سے ان کے اندر پھونک دی ہے وہ قابل صد ہزار تحسین و آفرین ہے اور ہندوستان میں آج صرف ایک خلیفہ قادیان ہی ہے جو سربلند کرکے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کے لاکھوں مرید ایسے موجود ہیں جو اس کے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہیں۔ اور احمدی نہایت فخر سے کہتے ہیں کہ ان کا خلیفہ ایک نہایت معاملہ فہم` دور اندیش اور ہمدرد بزرگ ہے جس نے کم از کم ان کی دنیاوی زندگی کو بہشتی زندگی بنا دیا ہے اور اس کے عالیشان مشوروں پر عمل کرنے سے دنیا کی زندگی عزت و آبرو سے کٹ سکتی ہے<۔۷۵
    تبلیغ کے لئے یک ماہی وقف
    تبلیغ کے لئے یک ماہی وقف کے مطالبہ کا جو اب بھی بہت خوشکن تھا۔ ستمبر ۱۹۳۶ء تک تیرہ سو اصحاب نے اپنی چھٹیاں ملک میں رضا کارانہ تبلیغ کے لئے وقف کیں۔۷۶ اور شمالی اور وسطی ہند کے علاوہ جنوبی علاقہ مثلاً میسور` مدراس` کولمبو اور بمبئی میں بھی تبلیغی وفود نے کام کیا۔۷۷ ایسے اصحاب کو حضرت خلیفتہ المسیحؓ کی طرف سے تحریرات خوشنودی عطا کی جاتی تھیں۔۷۸
    تبلیغ کے لئے ایک ایک ماہ وقف کرنے والوں میں قادیان کے لوگ ساری جماعت میں اول رہے۔۷۹
    سہ سالہ وقف
    مولوی فاضل بی۔ اے` ایف۔ اے اور انٹرنس پاس قریباً دو سو نوجوانوں نے اپنے آپ کو سہ سالہ وقف کے لئے پیش کیا۔۸۰
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے فرمایا۔
    >یہ قربانی کی روح کہ تین سال کے لئے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا جائے اسلام اور ایمان کی رو سے تو کچھ نہیں۔ لیکن موجودہ زمانہ کی حالت کے لحاظ سے حیرت انگیز ہے ۔۔۔۔۔۔ اس قسم کی مثال کسی ایک قوم میں بھی جو جماعت احمدیہ سے سینکڑوں گنے زیادہ ہو ملنی محال ہے<۔]4 [stf۸۱
    پنشنر اصحاب کی طرف سے بقیہ زندگی وقف
    کئی پنشنر حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کے حکم کی تعمیل میں آگے آئے اور مرکز میں کام کرنے لگے مثلاً خان صاحب فرزند علی صاحب` بابو سراجدین صاحب` خان صاحب برکت علی صاحب` ملک مولا بخش صاحب اور خان بہادر غلام محمد صاحب گلگتی وغیرہم۔ حضرت امیرالمومنینؓ نے اپنے ایک خطبہ میں بھی ان کی خدمات کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔۸۲
    بیکار نوجوانوں سے مطالبہ
    حضور کے اس مطالبہ کے تحت کہ بیکار نوجوان باہر غیر ممالک میں نکل جائیں` کئی نوجوان اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور نامساعد حالات کے باوجود غیر ممالک میں پہنچ گئے۔ چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیحؓ نے شروع ۱۹۳۵ء میں بتایا کہ۔
    >رنگون سے ابھی ہماری جماعت کے دو دوستوں کا مجھے خط ملا ہے۔ ان میں سے ایک جالندھر کا رہنے والا ہے اور ایک اسی جگہ کے قریب کسی اور مقام کا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہم آپ کی اسی تحریک کے ماتحت گھر سے پیدل چل پڑے اور اب پیدل چلتے ہوئے رنگون پہنچ گئے ہیں اور آگے کی طرف جارہے ہیں۔ کجا جالندھر کجا رنگون` پندرہ سو میل کا سفر ہے۔ لیکن انہوں نے ہمت کی اور پہنچ گئے۔ راستہ میں بیمار بھی ہوئے۔ لیکن دو ماہ بیمار رہنے کے بعد پھر چل پڑے۔ اب وہ سٹریٹ سیٹلمنٹس کے علاقہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تو ہمت کرکے کام کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے کام کے راستے پیدا کئے ہوئے ہیں<۔۸۳
    نیز فرمایا۔
    >ایک نوجوان نے گزشتہ سال میری تحریک کو سنا۔ وہ ضلع سرگودھا کا باشندہ ہے۔ وہ نوجوان بغیر پاسپورٹ کے ہی افغانستان جاپہنچا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی۔ حکومت نے اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تو وہاں قیدیوں اور افسروں کو تبلیغ کرنے لگا اور وہاں کے احمدیوں سے بھی وہیں واقفیت بہم پہنچالی اور بعض لوگوں پر اثر ڈال لیا۔ آخر افسروں نے رپورٹ کی کہ یہ تو قید خانہ میں بھی اثر پیدا کررہا ہے۔ ملانوں نے قتل کا فتویٰ دیا۔ مگر وزیر نے کہا کہ یہ انگریزی رعایا ہے۔ اسے ہم قتل نہیں کرسکتے۔ آخر حکومت نے اپنی حفاظت میں اسے ہندوستان پہنچا دیا۔ اب وہ کئی ماہ کے بعد واپس آیا ہے۔ اس کی ہمت کا یہ حال ہے کہ میں نے اسے کہا کہ تم نے غلطی کی اور بہت ممالک تھے جہاں تم جاسکتے تھے اور وہاں گرفتاری کے بغیر تبلیغ کر سکتے تھے تو وہ فوراً بول اٹھا کہ اب آپ کوئی ملک بتادیں میں وہاں چلا جائوں گا۔ اس نوجوان کی والدہ زندہ ہے۔ لیکن وہ اس کے لئے بھی تیار تھا کہ بغیر والدہ کو ملے کسی دوسرے ملک کی طرف روانہ ہو جائے۔ مگر میرے کہنے پر وہ والدہ کو ملنے جارہا ہے۔ اگر دوسرے نوجوان بھی اس پنجابی کی طرح جو افغانستان سے آیا ہے ہمت کریں تو تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ روپیہ کے ساتھ مشن قائم نہیں ہو سکتے۔ اس وقت جو ایک دو مشن ہیں ان پر ہی اس قدر روپیہ صرف ہو رہا ہے کہ اور کوئی مشن نہیں کھولا جاسکتا۔ لیکن اگر ایسے چند نوجوان پیدا ہو جائیں تو ایک دو سال میں ہی اتنی تبلیغ ہو سکتی ہے کہ دنیا میں دھاک بیٹھ جائے اور دنیا سمجھ لے کہ یہ ایک ایسا سیلاب ہے جس کا رکنا محال ہے<۔۸۴
    ہاتھ سے کام کرنے کا مطالبہ
    ہاتھ سے کام کرنے کے مطالبہ پر جماعت کے افراد نے خاص توجہ دی۔ چنانچہ اس ضمن میں مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ اور طلبہ نے اولیت کا شرف حاصل کیا اور ۱۳۔ دسمبر ۱۹۳۴ء کو قادیان کے اندرونی حصہ سے ایک ہزار شہتیریاں سالانہ جلسہ گاہ تک پہنچائیں۔۸۵ ۱۹۳۶ء سے اس مطالبہ کے تحت اجتماعی >وقار عمل< کا سلسلہ جاری کیا گیا جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔
    قادیان میں تعمیر مکان کا مطالبہ
    جہاں تک قادیان میں مکان بنانے کا تعلق تھا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے جماعت کے طرز عمل پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے شروع ۱۹۳۶ء میں فرمایا۔
    >جماعت نے اس معاملہ میں بہت کچھ کام کیا ہے۔ چنانچہ اب دو سو مکان سالانہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں بن رہا ہے اور بہت سے دوست زمینیں بھی خرید رہے ہیں<۔۸۶
    مطالبہ دعا
    جماعت احمدیہ اگرچہ ہمیشہ غلبہ حق کے لئے دعائوں میں مصروف رہتی تھی مگر تحریک جدید کے مطالبات کے ضمن میں حضور )ؓ( نے جو خاص تحریک فرمائی اس کی بناء پر جماعت میں خاص جوش پیدا ہو گیا اور احباب جماعت نے خدا تعالیٰ کے سامنے جبین نیاز جھکانے میں خاص طور پر زور دینا شروع کیا اور نمازوں میں عاجزانہ دعائوں کا ذوق و شوق پہلے سے بہت بڑھ گیا اور جماعت میں ایک نئی روحانی زندگی پیدا ہو گئی۔
    پہلا باب )فصل چہارم(
    خاندان مسیح موعودؑ کی قربانیاں
    جس طرح دوسری احمدی جماعتوں میں قادیان کی مرکزی جماعت نے تحریک جدید کے چندہ اور دوسرے مطالبات کی تکمیل میں سب سے عمدہ نمونہ دکھایا۔ اسی طرح قادیان کی جماعت میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان تحریک جدید کی قربانیوں میں بالکل ممتاز اور منفرد تھا۔ چنانچہ حضرت ام المومنین رضے اللہ عنہا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ` حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ` حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور صاحبزادی حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور خاندان مسیح موعودؑ کے دوسرے افراد نے قربانیوں کی قابل رشک یادگار قائم کی۔۸۷
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کا وجود مجسم تحریک جدید بن گیا
    خاندان حضرت مسیح موعودؑ میں سب سے بڑھ کر جس شخصیت نے تحریک جدید کے مطالبات پر پوری شان سے عمل کرکے دکھایا وہ خود حضرت خلیفہ المسیح الثانی~رضی۲~ تھے جن کی پوری زندگی تحریک جدید کو کامیاب بنانے میں صرف ہوئی۔ حتیٰ کہ آپ کا مقدس وجود مجسم تحریک جدید بن گیا۔
    ۱۔
    >۱۷` ۱۸۔ اکتوبر ۱۹۳۴ء سے لے کر آج تک سوائے چار پانچ راتوں کے میں کبھی ایک بجے سے پہلے نہیں سو سکا اور بعض اوقات دو تین چار بجے سوتا ہوں۔ بسا اوقات کام کرتے کرتے دماغ معطل ہو جاتا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب اسلام کا باطل سے مقابلہ ہے تو میرا فرض ہے کہ اسی راہ میں جان دے دوں اور جس دن ہمارے دوستوں میں یہ بات پیدا ہو جائے وہی دن ہماری کامیابی کا ہوگا۔ کام جلدی جلدی کرنے کی عادت پیدا کرو۔ اٹھو تو جلدی سے اٹھو۔ چلو تو چستی سے چلو کوئی کام کرنا ہو تو جلدی جلدی کرو اور اس طرح جو وقت بچے اسے خدا کی راہ میں صرف کرو۔ میرا تجربہ ہے کہ زیادہ تیزی سے کام کیا جاسکتا ہے میں نے ایک ایک دن میں سو سو صفحات لکھے ہیں اور اس میں گو بازوشل ہو گئے اور دماغ معطل ہو گیا۔ مگر میں نے کام کو ختم کرلیا۔ اور یہ تصنیف کا کام تھا جو سوچ کر کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے کام اس سے آسان ہوتے ہیں۔ اسی ہفتہ میں میں نے اندازہ کیا ہے کہ میں نے دو ہزار کے قریب رقعے اور خطوط پڑھے ہیں اور بہتوں پر جواب لکھے ہیں اور روزانہ تین چار گھنٹے ملاقاتوں اور مشوروں میں بھی صرف کرتا رہا ہوں۔ پھر کئی خطبات صحیح کئے ہیں۔ اور ایک کتاب کے بھی دو سو صفحات درست کئے ہیں بلکہ اس میں ایک کافی تعداد صفحات کی اپنے ہاتھ سے لکھی ہے<۔۸۸
    ۲۔
    >میرا کام سپاہی کی حیثیت رکھتا ہے۔ میرا فرض یہی ہے کہ اپنے کام پر ناک کی سیدھ چلتا جائوں۔ اور اسی میں جان دے دوں۔ میرا یہ کام نہیں کہ عمر دیکھوں۔ میرا کام یہی ہے کہ مقصود کو سامنے رکھوں اور اسے پورا کرنے کی کوشش میں لگا رہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اس یقین سے کھڑا ہوں کہ یہ مقصود ضرور حاصل ہو گا اور یہ کام پورا ہو کے رہے گا۔ یہ رات دن میرے سامنے رہتا ہے اور بسا اوقات میرے دل میں اتنا جوش پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو میں دیوانہ ہو جائوں۔ اس وقت ایک ہی چیز ہوتی ہے جو مجھے ڈھارس دیتی ہے اور وہ یہ کہ میری یہ سکیمیں سب خدا کے لئے ہیں اور میرا خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا ورنہ کام کا اور فکر کا اس قدر بوجھ ہوتا ہے کہ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عقل کا رشتہ ہاتھ سے چھوٹ جائے گا اور میں مجنون ہو جائوں گا مگر اللہ تعالیٰ نفس پر قابو دیتا ہے۔ ظلمت میں سے روشنی کی کرن نظر آنے لگتی ہے اور چاروں طرف مایوسی ہی مایوسی کے معاملات کو اللہ تعالیٰ امید اور خوشی سے بدل دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ معاملہ شروع سے ہے<۔۸۹
    ۳۔
    >یہ زمانہ ہمارے لئے نہایت نازک ہے۔ مجھ پر بیسیوں راتیں ایسی آتی ہیں کہ لیٹے لیٹے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنون ہونے لگا ہے اور میں اٹھ کر ٹہلنے لگ جاتا ہوں۔ غرض یہی نہیں کہ واقعات نہایت خطرناک پیش آرہے ہیں۔ بلکہ بعض باتیں ایسی ہیں جو ہم بیان نہیں کر سکتے۔ مجھے حضرت عمرؓ کا قول یاد آتا ہے۔ کسی نے ان سے کہا خالد کو آپ نے کیوں معزول کر دیا۔ آپ نے فرمایا تم اس کی وجہ پوچھتے ہو۔ اگر میرے دامن کو بھی پتہ لگ جائے کہ میں نے اسے کیوں ہٹایا تو میں دامن کو پھاڑ دوں۔ تو سلسلہ کے خلاف ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ جو میری ذات کے سوا کسی کو معلوم نہیں اور جو کچھ میں بتاتا ہوں وہ بھی بہت بڑا ہے اور اس سے بھی نیند حرام ہو جاتی ہے اور میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی نیند حرام کر دیا کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ شریعت کہتی ہے کہ اپنے جسم کا بھی خیال رکھو مگر پھر بھی مصروفیت ایسی ہے کہ جسمانی تکلیف کی کوئی پروا نہیں کی جاسکتی<۔۹۰
    پھر فرمایا۔
    >بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ تکلیف سے گھبرا جاتے ہیں یا کہیں زیادہ تنخواہ کی امید ہو تو چلے جاتے ہیں۔ بعض کام سے جی چراتے ہیں۔ بعض کام کے عادی نہیں ہوتے حالانکہ وقف کے معنی یہ ہیں کہ سمجھ لیا جائے اب اسی کام میں موت ہوگی نہ دن کو آرام ہو نہ رات کو نیند آئے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ حقیقی جوش سے کام کرنے والے کی نیند اکثر خراب ہو جایا کرتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کئی دفعہ چارپائی پر لیٹ کر کئی کئی گھنٹے فکر سے نیند نہیں آتی اور سلسلہ کے کاموں کے متعلق سوچنے اور فکر کرنے میں دماغ لگا رہتا ہے۔ پس کام کرنے والے کے لئے نیند بھی نہیں ہوتی۔ قرآن کریم نے جو کہا ہے کہ مومن سوتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین کی فکر میں ہی تھک کر سو جاتے ہیں۔ اس لئے نیند میں بھی ان کا دماغ دین کے کام میں لگا رہتا ہے<۔۹۱
    اسی تعلق میں یہ بھی فرمایا۔
    >یاد رکھو اس وقت ہم میدان جنگ میں ہیں اور میدان جنگ میں چلنا پھرنا برداشت نہیں کیا جا سکتا بلکہ دوڑنا چاہئے۔ اس وقت ضرورت تھی اس بات کی کہ جماعت احمدیہ کے بچے بچے کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی کہ ہم اسلام کے لئے قربان ہونے والی بھیڑیں اور بکریاں ہیں اور ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ ہماری گردنوں پر چھری چلا دی جائے۔ پھر انہیں رات اور دن یہ بتایا جاتا کہ مغرب کے مذبح پر اپنے آپ کو قربان نہیں کرنا بلکہ مغرب کو رسول کریم~صل۱~ کے دروازہ پر لاکر ذبح کرنا ہے<۔4] fts[۹۲
    حضرت امیر المومنینؓ اور حضور کے اہل بیت کا بے نظیر مالی جہاد
    تحریک جدید کے ریکارڈ کے مطابق حضور نے اپنی جیب خاص سے ۱۹ سال میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار چھ سو چھیاسی )۶۸۶`۱۸`۱( روپے چندہ
    تحریک جدید میں عطا فرمائے۔ علاوہ ازیں اپنی ایک قیمتی زمین تحریک جدید کو مرحمت فرمائی جو تحریک جدید نے ایک لاکھ باون ہزار سات سو )۷۰۰`۵۲`۱( روپے میں فروخت کی۔ اس طرح حضورؓ کی طرف سے تحریک جدید کو کل دو لاکھ اکہتر ہزار تین سو چھیاسی )۳۸۶`۷۱`۲( روپے آمد ہوئی۔۹۳
    حضورؓ کے اہل بیت نے بھی تحریک جدید میں سرگرم حصہ لیا۔ جو حضور کے فیض تربیت اور روحانی توجہ کا نتیجہ تھا۔۹۴
    دیگر مطالبات میں مشعل راہ
    حضرت امیرالمومنینؓ ذاتی طور پر کتنی سختی سے مطالبات تحریک جدید پر کاربند رہے` اس کا اندازہ حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ )حرم حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ( کے درج ذیل بیان سے بخوبی لگ سکتا ہے۔ آپ تحریر فرماتی ہیں۔
    >ڈلہوزی کا واقعہ ہے کہ آپ میز پر کھانا کھانے کے لئے تشریف لائے۔ تھوڑی دیر میں کیا دیکھتی ہوں کہ آپ خاموشی سے بغیر کھانا کھائے اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں۔ میں کچھ نہ سمجھ سکی کہ آپ کی ناراضگی کی وجہ کیا ہے؟ سب حیران تھے کہ اب پھر تمام دن فاقہ سے رہیں گے اور کام کی اس قدر بھرمار ہے کہیں آپ کو ضعف نہ ہو جائے۔ آخر میرے پوچھنے پر حضرت بڑی آپا جان )امی جان(نے بتایا کہ حضرت اقدسؓ نے اپنے کمرہ میں جاکر چٹ بھجوائی ہے کہ میں نے تحریک جدید کے ماتحت روکا ہوا ہے کہ میز پر صاف ایک ڈش ہوا کرے۔ آج میں نے ایک کی بجائے تین ڈش دیکھے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ میں کھانا ہرگز نہیں کھائوں گا<۔۹۵
    لباس کے بارے میں حضورؓ نے یہاں تک کفایت شعاری کی کہ چار سال کے عرصہ میں قمیصوں کے لئے کپڑا نہیں خریدا اور تحریک جدید کے آغاز سے پہلے کی قمیصیں ہی سنبھال سنبھال کر کام چلایا۔ بطور تحفہ کوئی کپڑا آگیا تو اس سے چند قمیصیں بنوا کر گزارہ کرلیا۔۹۶
    اس سے بڑھ کر یہ کہ اب انداز فکر میں یہ تبدیلی واقع ہو گئی کہ یہ خیال دامنگیر رہنے لگا کہ خرچ کس طرح کم کریں۔ اسی طرح برف کا استعمال شروع میں ترک کر دیا اور گرمیوں کی شدت کے باوجود سوڈے کی بوتل تک خرید کر پینا گوارا نہیں فرمایا۔۹۷ علاوہ ازیں دوسروں سے آنے والے تحائف کی نسبت بھی آپ نے ہدایت دے دی کہ وہ غریبوں کو بھجوا دیئے جایا کریں۔ چنانچہ انہیں دنوں خود ہی بتایا۔
    >ہمارے گھر میں لوگ تحائف وغیرہ بھیج دیتے ہیں اور میں نے ہدایا کو استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے مگر جب وہ میرے سامنے لائے جاتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ ایک سے زیادہ چیزیں کیوں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی نے تحفت¶ہ بھیج دیا تھا۔ تو میں کہتا ہوں کہ ہمارے تعلقات تو ساری جماعت سے ہیں اس لئے ہمارے ہاں تو ایسی چیزیں روز ہی آتی رہیں گی۔ اس لئے جب ایسی چیزیں آئیں تو کسی غریب بھائی کے ہاں بھیج دیا کرو۔ ضروری تو نہیں کہ سب تم ہی کھائو۔ اس سے غرباء سے محبت کے تعلقات بھی پیدا ہو جائیں گے۔ اور ذہنوں میں ایک دوسرے سے انس ہوگا<۔۹۸
    پھر حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے اپنے سب بچوں کو مستقل طور پر وقف فرما دیا اور اپنی جیب سے ان کے تعلیمی اخراجات ادا فرمائے اور اس کے بعد ان کو سلسلہ احمدیہ کے سپرد فرما دیا۔ چنانچہ حضور نے ایک بار فرمایا کہ۔
    >میں نے اپنا ہر ایک بچہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ میاں ناصر احمد وقف ہیں اور دین کا کام کررہے ہیں۔ چھوٹا بھی وقف ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اسے کس طرح دین کے کام پر لگایا جائے۔ اس سے چھوٹا ڈاکٹر ہے۔ وہ امتحان پاس کرچکا ہے اور اب ٹریننگ حاصل کر رہا ہے تا سلسلہ کی خدمت کرسکے )اس عرصہ میں دوسرے دونوں سلسلہ کے کام پر لگ چکے ہیں۔ الحمدلل¶ہ( باقی چھوٹے پڑھ رہے ہیں اور وہ سب بھی دین کے لئے پڑھ رہے ہیں۔ میرے تیرہ لڑکے ہیں اور تیرہ کے تیرہ دین کے لئے وقف ہیں<۔۹۹
    ہاتھ سے کام کرنے کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لئے حضورؓ نے >وقار عمل< کا نہایت پیارا طریق جاری فرمایا۔ اور اپنے ہاتھ سے مٹی کی ٹوکری اٹھا کر ایک عظیم الشان اسوہ پیش کیا۔
    حضورؓ فرماتے ہیں کہ۔
    >جب پہلے دن میں نے کہی پکڑی اور مٹی کی ٹوکری اٹھائی تو کئی مخلصین ایسے تھے جو کانپ رہے تھے اور وہ دوڑے دوڑے آتے اور کہتے حضور تکلیف نہ کریں ہم کام کرتے ہیں اور میرے ہاتھ سے کہی اور ٹوکری لینے کی کوشش کرتے۔ لیکن جب چند دن میں نے ان کے ساتھ مل کر کام کیا تو پھر وہ عادی ہو گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ یہ ایک مشترکہ کام ہے جو ہم بھی کر رہے ہیں اور یہ بھی کر رہے ہیں<۔۱۰۰
    الغرض جماعت احمدیہ کے مقدس امام و قائد کی حیثیت سے حضور نے تحریک جدید کے احکام اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں مکمل طور پر نافذ کر دکھائے جو سلسلہ احمدیہ کے لئے ہمیشہ مشعل راہ کا کام دیں گے۔
    پہلا باب )فصل پنجم(
    ‏head] gat[دفتر تحریک جدید کا قیام اور اس کا ابتدائی ڈھانچہ
    تحریک جدید جیسی عظیم الشان اور عالمی تحریک کے دفتر کا آغاز نہایت مختصر صورت اور بظاہر معمولی حالت میں ہوا۔ شروع میں اس کے لئے کوئی مستقل عمارت نہیں تھی۔ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ کی منظوری سے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری قادیان کا ایک کمرہ مخصوص کر دیا گیا تھا۔
    پہلے واقف زندگی کارکن
    تحریک جدید کے سب سے پہلے واقف زندگی کارکن مرزا محمد یعقوب صاحب۱۰۱4] f[rt تھے جن کو حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے نومبر ۱۹۳۴ء میں تحریک جدید کے مختلف مطالبات پر لبیک کہنے والوں اور وقف زندگی کرنے والوں کی فہرستیں تیار کرنے کا کام سپرد فرما دیا۔ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے ان کی نسبت اپنے قلم سے تحریر فرمایا >وہ سب سے پرانے کارکن ہیں<۔۱۰۲
    ۲۷۔ جنوری ۱۹۳۵ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے شیخ یوسف علی صاحب )پرائیویٹ سیکرٹری( کو منظور شدہ واقفین کی نسبت ارشاد فرمایا۔
    >وقف کنندگان سے کہیں کہ وقف کے صحیح معنوں کے مطابق انہیں دفتروں میں آج کل کام کرنا چاہئے کہ آج کل کام بڑھا ہوا ہے۔ مرزا محمد یعقوب صاحب تو پہلے ہی کام کرتے ہیں۔ دوسروں کو بھی چاہئے<۔
    چونکہ تحریک جدید کے اعلان نے جماعت میں زبردست بیداری پیدا کر دی تھی اور عام جوش و خروش کی وجہ سے بیرونی ڈاک میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا تھا اس لئے واقفین زندگی کے ہاتھ بٹانے کے باوجود دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے عملہ کو رات کے وقت بھی مسلسل کام کرنا پڑتا تھا۔ چنانچہ شیخ یوسف علی صاحب اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ >یہ سارا کام دفتر میں ہی تھا جس کے سبب کام پہلے سے دگنا ہو گیا۔ باوجود بعض واقفین سے کام لینے کے دفتر کے کارکنان کو علاوہ دفتر ٹائم کے راتوں کو بیٹھ کر کام کرنا پڑا اور ڈاک کی بروقت تعمیل میں پوری کوشش کی<۔۱۰۳
    فنانشل سیکرٹری کا تقرر
    جہاں تک تحریک جدید کے مالی مطالبات سے متعلق کام کا تعلق تھا یہ خدمت سیدنا حضرت امیرالمومنینؓ نے ۲۴۔ نومبر ۱۹۳۴ء۱۰۴`۱۰۵ سے چودھری برکت علی خاں صاحب کو سپرد فرمائی اور ان کو فنانشل سیکرٹری مقرر کیا۔ چودھری برکت علی صاحب اس عہدہ پر قریباً ربع صدی تک فائز رہے۔ اور یکم اپریل ۱۹۵۸ء کو ریٹائر ہوئے۔ بعد میں یہ عہدہ >وکیل المال< کے نام سے موسوم ہوا۔
    اپنے زمانہ عمل میں حضرت چودھری صاحبؓ نے اتنی محنت` اخلاص اور فرض شناسی سے کام کیا کہ خود حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا۔
    >چودھری برکت علی صاحب کو مہینوں رات کے ۱۲ بجے تک تحریک جدید کا کام کرنا پڑا۔ اسی طرح تحریک جدید کے دفتر کے کام کرنے کا وقت ۱۲ گھنٹے مقرر ہے۔ اس سے زیادہ ہو جائے تو ہو جائے کم نہیں کیونکہ یہ اقل مقدار ہے<۔۱۰۶
    پھر فرمایا۔
    >چودھری برکت علی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان چند اشخاص میں سے ہیں جو محنت` کوشش اور اخلاص سے کام کرنے والے ہیں اور جن کے سپرد کوئی کام کرکے پھر انہیں یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہوتی<۔
    نیز ارشاد فرمایا۔
    >جہاں تک روپیہ جمع کرنے کا سوال ہے۔ میں چوہدری برکت علی خاں صاحب کے کام پر بہت ہی خوش ہوں۔ انہوں نے تحریک جدید میں حیرت انگیز طور پر روپیہ جمع کرنے کا کام کیا ہے<۔۱۰۷body] [tag
    غرض کہ تحریک جدید کی تاریخ میں چودھری صاحب موصوف کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
    دفتر فنانشل سیکرٹری کے ابتدائی متفرق کوائف
    چودھری برکت علی صاحب مرحوم کا بیان ہے کہ۔
    >۲۳۔ نومبر ۱۹۳۴ء کو حضور نے ایک خطبہ کے ذریعہ تحریک جدید کا آغاز فرمایا اور اس کے دوسرے دن صبح ہی حضور لاہور تشریف لے جارہے تھے۔ احمدیہ چوک حضور کے انتظار میں کھچا کھچ احباب کرام سے بھرا ہوا تھا کہ حضور مسجد مبارک کی چھوٹی سیڑھیوں سے جو دفتر محاسب کے قریب کھلتی ہیں تشریف لائے۔ خاکسار دفتر محاسب کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔ خاکسار نے السلام علیکم عرض کرکے مصافحہ کیا تو حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ آپ تحریک کا کام شروع کر دیں اور ایک ہزار احباب کے پتے نکالیں۔ خاکسار نے دل میں آمنا و صدقنا کہا۔ حضور لاہور سے جمعرات کے دن واپس تشریف لائے تو خاکسار نے ایک ہزار کی فہرست پیش کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔<
    >اس تحریک کے وعدوں کے خطوط آرہے تھے۔ حضور نے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کو حکم دیا کہ وہ ان کا حساب بنا کر پیش کریں۔ مگر دفتر جو حساب پیش کرتا وہ حضور کے اپنے ذہنی حساب سے نہ ملتا۔ اس پر ایک جمعرات کی نماز مغرب کے بعد خاکسار کو فرمایا کہ آپ وعدوں کے تمام خطوط دفتر سے لے کر ان کا حساب بنا کر کل دس بجے قبل جمعہ پیش کریں۔ میں اس بارہ میں اعلان کرنا چاہتا ہوں۔ میں اسی وقت دفتر پہنچا۔ دیکھا تو میز پر خطوط پڑے تھے۔ دفتر والوں نے کہا۔ یہی سارے خط ہیں آپ لے لیں۔ میں نے گنے تو پانصد خطوط تھے۔ میں اسی وقت پہلے محلہ دارالسعتہ گیا۔ وہاںمیں نے خواجہ معین الدین صاحب اور قاری محمد امین صاحب کو ڈیڑھ ڈیڑھ سو خطوط دے کر کہا کہ آج ساری رات کام کرنا تا صبح ہی حساب مل جائے۔ انہوں نے خوشی سے کہا کہ جب تک ہم یہ کام پورا نہ کرلیں آرام نہ کریں گے اور دو سو خط میں نے اپنے واسطے رکھے صبح جب میں ان کے پاس پہنچا تو دونوں نے حساب تیار کر لیا ہوا تھا۔ مجھے دے دیا ۔۔۔۔۔۔ میں نے یکجائی حساب بنایا تو ساڑھے سولہ ہزار کے وعدے ہوئے۔ میں ساڑھے نو بجے محلہ دارالفضل سے اپنے گھر سے شہر کو آرہا تھا۔ خاں میر خاں صاحب حضور کے باڈی گارڈ ملے۔ انہوں نے کہا کہ حضور آپ کو یاد فرماتے ہیں۔ میں نے پیش ہو کر عرض کیا کہ حضور ساڑھے سولہ ہزار وعدوں کی میزان ہے۔ حضور نے فرمایا درست معلوم ہوتی ہے۔ میرے ذہنی حساب سے ملتی ہے۔ خاکسار نے عرض کیا کہ حضور نے مطالبہ ساڑھے سترہ ہزار کا فرمایا تھا۔ کل اور آج کی ڈاک حضور کے پاس ہے اس میں ایک ہزار سے اوپر کے ہی وعدے ہوں گے۔ اس لئے ساڑھے سترہ ہزار کا اعلان فرمائیں۔ فرمایا میں نے جو حساب ابھی دیکھا نہیں اس کا اعلان کس طرح کر سکتا ہوں۔ میں نے جو دیکھ لیا ہے اس کا ہی اعلان کیا جاسکتا ہے۔ جو دیکھا نہیں اس کا اعلان نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ حضور نے خطبہ میں ساڑھے سولہ ہزار کا ہی ذکر فرمایا<۔
    >اللہ تعالیٰ کا خاکسار پر کتنا بڑا فضل و احسان ہوا کہ مجھے ایک ساتھ چار کام کرنے کا موقعہ عطا فرمایا۔ کشمیر فنڈ اور دارالانوار کے کام کے لئے مجھے دو مددگار بھی مل گئے تھے۔ لیکن آڈیٹر اور تحریک جدید کا کام خاکسار اکیلا ہی کررہا تھا۔ حضور کی خدمت میں روزانہ رپورٹ پیش کرنے کے لئے حسابات بنانے اور خطوط کی منظوری کی روزانہ اطلاع دینے اور تحریک جدید کی رپورٹ پیش کرنے کے بعد مزید تکمیل کے لئے دفتر کی پابندی کا سوال ہی نہ رہا اور نہ ہی میں نے ۱۹۰۴ء سے ۱۹۰۸ء اور پھر ۱۹۰۹ء سے اب تک اس کا خیال کیا کہ دفتر کا وقت ختم ہوگیا۔ چلو گھر چلیں۔ بلکہ یہ بات گھٹی میں پڑی ہوئی تھی کہ جب تک روزانہ کا کام ختم نہ ہو دفتر بند نہ ہو۔ اگر ضرورت پڑے تو گھر لے جاکر روزانہ کام ختم کرو۔ پس میں نے دفتر کے وقت کا خیال نہیں رکھا بلکہ روزانہ کام ختم کرنا اصول بنایا ۔۔۔۔۔۔۔۔<
    >اتفاق کی بات ہے کہ تحریک جدید کا دفتر حضور کے قصر خلافت میں تھا۔ خاکسار تو رات کے دس بجے یا کبھی بارہ بجے تک کام کرتا مگر حضور ایک دو بجے تک عموماً اور بعض دفعہ ساری رات بھی کام کرتے اور نماز فجر پڑھانے کے لئے تشریف لے جاتے۔ جب خاکسار کا آقا ساری ساری رات کام کرتا تھا تو میرے لئے کیا عذر تھا کہ زیادہ وقت لگا کر کام پورا نہ کروں<۔
    >حضور ایدہ اللہ تعالیٰ جہاں وعدوں کے ہر خط پر رقم اور جزا کم اللہ احسن الجزاء اپنی قلم سے ارقام فرماتے وہاں اس کے متعلق اور بھی کوئی بات ہوتی تو اسے بھی خاکسار کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے لکھ دیتے تا خاکسار صحیح طریق اختیار کرسکے۔ اسی طرح عام ڈاک میں بھی ہر خط پر حضور کا نوٹ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی ہدایت کے لئے ہوتا۔ تحریک جدید کے خطوط کے نوٹ تو میں نے نہایت احتیاط سے محفوظ رکھے تھے کیونکہ خاکسار نے پانچویں سال میں ہی ارادہ کرلیا تھا کہ حضور کے ارشادات کسی نہ کسی طرح ضرور شائع کروں گا۔ انشاء اللہ مگر ع
    مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ
    وہ تمام ذخیرہ پاکستان آتے وقت ساتھ نہ لاسکا سوائے تحریک جدید کے رجسٹروں کے<۔۱۰۸
    پھر لکھتے ہیں۔
    >مجھے خوب یاد ہے کہ پہلے سال کے وعدوں کی آخری میعاد پندرہ جنوری ۱۹۳۵ء یعنی کل ڈیڑھ ماہ اور وعدوں کے خطوط ۲۳۔ جنوری تک آئے جن کی میزان ایک لاکھ دس ہزار ہوئی جو تحریک کے مطالبہ ۲/۲۷۱ سے چار گنا تھی۔ یہ جماعت کے اخلاص اور حضور کی دعائوں کا نتیجہ تھا۔ خاکسار جو روزانہ تفصیلی رپورٹ ¶دیتا تھا` ۲۳۔ جنوری کے بعد اسے خاکسار نے بند کر دیا اور یہ خیال کیا کہ اب صدر انجمن احمدیہ کے قواعد کے مطابق ہفتہ وار رپورٹ پیش کیا کروں گا۔ تین دن متواتر رپورٹ نہ ملنے پر حضور نے خاکسار کو بلا کر پوچھا کہ رپورٹ تین دن سے کیوں نہیں دی۔ خاکسار نے عرض کیا کہ اب وعدے آچکے ہیں خاکسار آئندہ بہ طریق صدر انجمن احمدیہ ہفتہ وار رپورٹ پیش حضور کرے گا۔ اس پر فرمایا میرے ساتھ کام کرنے والے کو روزانہ رپورٹ مجھے پہنچا کر دفتر بند کرنا ہوگا۔
    پس اس دن سے آج کا دن ہے کہ خاکسار بلا ناغہ تفصیلی رپورٹ روزانہ بہ توفیق الٰہی حضور اقدس کی خدمت میں پیش کرتا رہا ہے فالحمدلل¶ہ<۔۱۰۹
    نیز تحریر کرتے ہیں کہ۔
    >جنوری ۱۹۳۵ء کا ذکر ہے کہ تحریک جدید کے بارے میں ایک دوست کو میں نے خط لکھا۔ ایک لفظ مجھ سے نادانستہ ایسا لکھا گیا جس سے اس دوست نے میرے لہجہ کو حاکمانہ سمجھ کر حضور کی خدمت میں میری شکایت کی۔ اس وقت تحریک کی ساری خط و کتابت حضور کی خدمت میں آتی تھی۔ حضور نے خاکسار کو بلا کر پوچھا کہ کیا آپ نے کسی کو یہ لفظ لکھا تھا۔ میں نے معاً عرض کیا کہ حضور! لکھا تھا۔ اس پر حضور نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ۔
    یہ تو حاکمانہ طریق ہے میرے ساتھ جس نے کام کرنا ہے اسے اسلامی شعار اختیار کرنا ہوگا کیونکہ میرا کام اسلام کا استحکام اور اس کا مضبوط کرنا ہے۔
    پس اس دن سے میں نے حضور کے ارشادات کی روشنی میں تعمیل کرنا اپنا طریق بنایا<۔۱۱۰
    اسی طرح وہ بیان کرتے ہیں کہ۔
    >میں تین ماہ سے اکیلا ہی کام کررہا تھا کہ ایک دن حضور نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ اکیلے ہی کام کرتے ہیں۔ آپ ایک کلرک رکھ لیں اسے تنخواہ میں تحریک جدید سے دوں گا۔ چنانچہ میں نے پٹیالہ کے ایک پوسٹل کلرک کو رکھ لیا وہ بڑے محنتی اور شوق سے کام کرنے والے تھے۔ میرے ساتھ بڑی رات تک کام کرتے تھے اور وہاں جاکر بیمار ہوکر وفات پاگئے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں نے چودھری عبدالرحیم صاحب چیمہ۱۱۱ کو پندرہ روپے ماہوار پر رکھا۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے حافظہ ایسا عطا فرمایا ہے کہ وہ تحریک جدید کا دفتری کام اکثر یادداشت سے کرتے۔ بسا اوقات دوست دفتر میں آکر چوہدری صاحب سے اپنا حساب وعدہ و وصولی دریافت کرتے تو آپ زبانی ہی بتا دیتے اور اگر بعض اصرار کرتے کہ ریکارڈ دیکھ کر بتائو تو ان کو رجسٹر سے حساب دکھا کر مطمئن کر دیتے۔ بات یہ ہے کہ چوہدری صاحب نے اپنے ہاتھ سے سارا ریکارڈ رکھا ہوتا تھا اور پھر آمدہ خطوط کے وعدوں کی منظوری دی ہوتی تھی۔ اور وہ کام کو نہایت سرگرمی اور تندہی سے پورا کرتے۔ دفتر بند نہ ہوتا جب تک کام ختم نہ کرلیتے۔ اگر کام زائد ہوا تو گھر لے جاکر پورا کرتے<۔۱۱۲
    صیغہ امانت جائیداد
    یہاں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ تحریک جدید کے مطالبہ ۲ کے مطابق جو رقوم باہر سے آتی تھیں ان کا حساب اور خرچ کا انتظام >صیغہ امانت جائیداد< کا فرض تھا۔ اس صیغہ کے سیکرٹری حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ اور انچارج دفتر حضرت مولوی فخر الدین صاحب آف گھوگھیاٹ تھے۔
    تحریک جدید کا پہلا بجٹ )خرچ(
    تحریک جدید کا پہلا بجٹ ۶/۲/۶۱۷۸۲ روپے کا تھا جس کی تفصیل صدر انجمن احمدیہ قادیان کے ریزولیوشن ۱۷۸ مورخہ ۸۔ مئی ۱۹۳۵ء میں ملتی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے۔
    >رپورٹ ناظر اعلیٰ کہ حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے تحریک جدید کا بجٹ ارسال فرمایا ہے جو کہ مبلغ ۶/۲/۶۱۷۸۲ روپیہ کا ہے۔ حضور کا ارشاد حسب ذیل ہے۔
    >تحریک جدید کا بجٹ ارسال ہے۔ اسے صدر انجمن احمدیہ کے بجٹ کے ساتھ شامل کرلیں۔ اس کے مطابق رقم اس مد سے خزانہ صدر انجمن میں داخل ہوتی رہے گی۔ یہ بجٹ یکم مئی ۱۹۳۵ء سے ۳۰۔ اپریل ۱۹۳۶ء تک کا ہے۔ اس کے بلوں کے پاس ہونے کا یہ طریق مقرر کیا جائے کہ بلوں پر انچارج تحریک جدید کے دستخط ہوں۔ لیکن جیسے کہ زکٰوۃ کے بلوں کا قاعدہ ہے میرے تصدیقی دستخطوں کے ساتھ بل کو مکمل سمجھا جائے<۔۱۱۳
    مستقل دفتر کا قیام اور اس کے پہلے انچارج
    تحریک جدید کے دفتر کا مستقل صورت میں قیام آخر جنوری ۱۹۳۵ء میں ہوا جبکہ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے مولوی عبدالرحمن صاحب انور بوتالوی۱۱۴ کو انچارج تحریک جدید مقرر فرمایا اور قصر خلافت قادیان کے ایک کمرہ میں جو چوبی سیڑھیوں سے ملحق تھا` دفتر تحریک جدید قائم کیا گیا` جو کئی سال تک دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے اس کمرہ میں ہی رہا۔ بعد ازاں جب کام وسعت اختیار کر گیا تو حضرت سید ناصر شاہ صاحبؓ کے ایک حصہ مکان میں بیرونی مشنوں اور تجارتی شعبہ کا دفتر کھول دیا گیا۔ مگر جب یہ جگہ بھی ناکافی ثابت ہوئی تو حضرت شاہ صاحبؓ کے مکان سے متصل زمین میں تحریک جدید کی اپنی مستقل عمارت تعمیر کی گئی۱۱۵ جہاں ۱۹۴۷ء تک تحریک جدید کے مختلف شعبے مصروف عمل رہے۔
    جناب مولوی عبدالرحمن صاحب انور ۱۹۳۵ء سے ۱۹۴۶ء تک تحریک جدید کے انچارج رہے۔ >مولوی صاحب موصوف نے گیارہ بارہ سال سوائے وکالت مال کے کام کے سارا کام اکیلے کیا۔ وہ ابتدائی تنظیم کی حالت تھی۔ کام میں تنوع نہ تھا لیکن ذمہ داری کا کام تھا اور مولوی صاحب نے اپنی استطاعت کے مطابق اچھا نبھایا<۔ جیسا کہ مجلس تحریک جدید نے ۱۲۔ مارچ ۱۹۵۱ء کو اپنی ایک خصوصی قرارداد )ب/۲۶۷( میں آپ کی شاندار خدمات کا اقرار کیا۔۱۱۶
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی زریں ہدایات
    جناب مولوی عبدالرحمن صاحب انور کا بیان ہے کہ
    >جب جنوری ۱۹۳۵ء میں حضورؓ نے مجھے انچارج تحریک جدید مقرر فرمایا تو حضور نے اپنے ساتھ کام کرنے کے ضمن میں بعض نہایت قیمتی ارشادات خود فرمائے جو میرے لئے اس سارے عرصہ میں مشعل راہ ہے ۔۔۔۔۔۔
    ۱۔
    جب حضور کسی امر کے متعلق ہدایات دے رہے ہوں تو حضور کے کلام کو قطع نہ کیا جائے۔ بلکہ جب ساری بات ختم ہو جائے تو پھر اگر کسی امر کی تشریح کی ضرورت محسوس ہو تو صرف اس صورت میں کوئی بات دریافت کی جائے۔
    ۲۔
    اگر میں چل رہا ہوں تو مجھ سے بات کرنے کی غرض سے میرے چلنے میں رکاوٹ نہ پیدا کی جائے کہ میرا راستہ روکا جاوے بلکہ ساتھ چلتے چلتے اپنی بات کی جائے۔
    ۳۔
    ملاقات کے لئے جس قدر وقت لیا جائے اس وقت میں کام کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی جائے۔ اگر مزید وقت کی ضرورت ہو تو یا تو اس وقت خاص اجازت لی جائے یا باقی کام کسی دوسرے وقت میں اجازت لے کر کیا جائے۔
    ۴۔
    جس کام کے متعلق میں کہہ دوں کہ پھر پیش ہو تو اس کو جلدی ہی موقعہ حاصل کرکے پیش کر دیا جائے نہ یہ کہ دوبارہ پیش کرنے کے لئے ہفتے یا مہینے لگا دیئے جائیں۔
    ۵۔
    اگر میں کسی کام کے متعلق کوئی ہدایت دوں کہ یہ کام اس طور پر کیا جائے تو جو سمجھ میں آئے اس کے مطابق فوراً ہی اس کام کا خاکہ پیش کر دیا جائے تاکہ مجھے تسلی ہو کہ صحیح لائنوں پر یہ کام کیا جارہا ہے یا کچھ غلط فہمی ہے اور اگر کوئی غلط فہمی ہو تو اس کی فوراً اصلاح کر دی جائے۔
    ۶۔
    اگر ملاقات کے لمبا ہو جانے کی وجہ سے نماز کا وقت آجائے تو فوراً مجھے یاد دلا دیا جائے کیونکہ بعد میں مجھے اس احساس سے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ احباب کو مسجد میں نماز کے لئے اس وجہ سے انتظار کرنا پڑا<۔4] [stf۱۱۷
    اخراجات کے بنیادی اصول
    مولوی عبدالرحمن صاحب انور کے بیان کے مطابق تحریک جدید کے ابتدائی عرصہ میں کئی سال تک یہی دستور رہا کہ کارکنان )کسی کام کے سرانجام پاجانے کے بعد اس پر( جس قدر اصل خرچ ہوتا اسے پیش کرتے تھے تاکہ قربانی کا جذبہ اور سلسلہ کے لئے کم از کم خرچ کرنے کا جذبہ قائم رہے۔۱۱۸
    تحریک جدید کے ابتدائی زمانہ میں حضور نے انور صاحب کو ارشاد فرمایا کہ تم یہ فکر نہ کرو کہ روپیہ کہاں سے آئے گا روپیہ تو اللہ کے فضل سے جس قدر ضرورت ہو گی مہیا ہو جائے گا۔ تم یہ بتائو کہ اس کو کس کس کام پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے جو تجویز بہتر ہوا کرے اسے پیش کر دیا کرو۔۱۱۹
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے ایک بار خود ارشاد فرمایا کہ۔
    >تین چار سال سے ہم اس کوشش میں رہتے ہیں کہ بجٹ بڑھنے نہ دیں۔ لیکن اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم بجٹ کو مستقل حدود تک لے آئیں اور پھر مستقل خرچ کم رہے اور ہنگامی اخراجات کے لئے زیادہ رقوم رکھی جائیں چنانچہ تحریک جدید کا اسی لئے میں نے الگ فنڈ رکھا ہے اور اس میں عارضی خرچ زیادہ لیکن مستقل خرچ کم رکھا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ کئی ممالک میں نئے مشن کھل گئے ہیں<۱۲۰
    واقفین تحریک جدید کی تین اقسام
    ابتدا میں نظام تحریک جدید کے تحت تین قسم کے واقفین تھے۔
    ۱۔
    دفتر تحریک جدید کے عملہ میں کام کرنے والے۔
    ۲۔
    واقفین کا ایک حصہ مدرسین کہلاتا تھا جن میں بعض مرکز سلسلہ میں متعین کئے گئے اور بعض بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے جہاد پر روزانہ کئے گئے۔ اول الذکر مبلغین اندرون ہند کے نام سے اور دوسرے مبلغین بیرون ہند کے نام سے پکارے جاتے تھے۔
    ۳۔
    سروے سکیم میں کام کرنے والے واقفین۔
    اس کے بعد جوں جوں تحریک جدید کا نظام پھیلتا گیا واقفین کو مختلف شعبوں میں لگایا جانے لگا۔
    ابتدائی مبلغین کا انتخاب
    سیدنا فضل عمر حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔
    >تحریک جدید کے پہلے مبلغین کے انتخاب کے وقت صرف دیکھا جاتا تھا کہ جرات کے ساتھ کام کرنے کا مادہ ہو۔ لیاقت کا زیادہ خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ اس وقت ایسے آدمی کی ضرورت تھی۔ جو دلیری کے ساتھ آگ میں اپنے آپ کو ڈال دینے والا ہو۔ چنانچہ ایسے لوگوں کو منتخب کرکے ہم نے بھیج دیا اور وہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ ان میں سے بعض دینی علوم اور عربی سے بھی اچھی طرح واقف نہ تھے۔ بلکہ بعض کا تقویٰ کا معیار بھی اتنا بلند نہ تھا۔ مگر اس وقت ہمیں صرف آواز پہونچانی تھی اور دشمن کو یہ بتانا تھا کہ ہمارے پاس ایسے نوجوان ہیں۔ جو اپنا آرام و آسائش اپنا وطن۔ عزیز و اقارب۔ بیوی بچوں۔ غرضیکہ کسی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے نکل جائیں گے بھوکے پیاسے رہیں گے اور دین کی خدمت کریں گے کہ ایسی قوم کو جس میں ایسے نوجوان ہوں۔ مار دینا ناممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم نے یہ دکھا دیا۔ بعض نوجوان برائے نام گزارے لے کر اور بعض یونہی باہر چلے گئے اور اس طرح ہمارا خرچ بارہ مشنوں پر قریباً ایک مشن کے خرچ )کے( برابر ہے<۔۱۲۱
    بیرونی مشنوں کے سیکرٹری
    جب بیرونی ممالک سے ان نوجوانوں کی` تحریک جدید کے ابتدائی مشنوں کے قیام پر رپورٹیں آنا شروع ہوئیں اور انگریزی میں خط و کتابت کی ضرورت محسوس ہوئی تو حضورؓ نے مولوی نور الدین صاحب منیر کو سیکرٹری فارن مشنر تجویز فرمایا۔۱۲۲
    سیکرٹری تجارت و صنعت
    اسی طرح تجارتی اور صنعتی رپورٹوں کی آمد پر حضرت اقدس کی ہدایت پر حضرت مولوی ذوالفقار علی خاں صاحبؓ گوہر سیکرٹری تجارت و صنعت مقرر ہوئے اور بیرونی ممالک سے مختلف اشیاء درآمد کی جانے لگیں۔۱۲۳
    ‏tav.8.4
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    تحریک جدید کی بنیاد سے لے کر خلافت جوبلی تک
    پہلا باب )فصل ششم(
    اندرون ملک میں تحریک جدید کی ابتدائی سرگرمیاں
    تحریک جدید کے ابتدائی سہ سالہ دور میں اندرون ملک متعدد عظیم الشان کام انجام پائے جن کا ذیل میں بالاختصار تذکرہ کیا جاتا ہے۔
    اہم ٹریکٹوں کی اشاعت
    اس دور میں تحریک جدید کی طرف سے سب سے پہلے حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کے مندرجہ ذیل رقم فرمودہ ٹریکٹ بڑی کثرت سے شائع کئے گئے۔
    >ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمدیہ جماعت<۔ >زلزلہ کوئٹہ بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا نشان ہے<۔۱۲۴ >مجلس احرار کا مباہلہ کے متعلق ناپسندیدہ رویہ<۔ >احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی شرائط طے کریں<۔ >زندہ خدا کے زندہ نشان<۔
    سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ نے ٹریکٹوں کی اشاعت کا یہ سلسلہ جاری کرنے سے قبل اخبار >الفضل< میں حسب ذیل اہم اعلان شائع فرمایا۔
    >برادران! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    میں اپنے ایک خطبہ میں اعلان کر چکا ہوں کہ چند اشتہارات موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عنقریب شائع کئے جائیں گے۔ احباب کو ان کی اشاعت خاص توجہ سے کرنی چاہئے۔ پوسٹر عمدہ جگہوں پر لگانے چاہئیں اور چھوٹے اشتہار عقل اور سمجھ سے تقسیم کرنے چاہئیں۔ چونکہ جلد یہ سلسلہ شروع ہونے والا ہے میں پھر اس اعلان کے ذریعہ جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ فوراً مندرجہ ذیل امور کے متعلق انتظام کریں۔
    ۱۔
    وہ جلد دفتر تحریک جدید میں اطلاع دیں کہ انہیں کس کس قدر پوسٹروں اور اشتہاروں کی ضرورت ہوا کرے گی۔
    ۲۔
    ان کی جماعت یا اگر فرد ہے تو وہ کس قدر رقم کے اشتہار قیمت پر منگوانا چاہتا ہے )اشتہار صرف لاگت پر ملیں گے۔ کوئی نفع محکمہ ان سے نہیں لے گا( ہو سکتا ہے کہ اگر ضرورت زیادہ ہو اور جماعت پورے خرچ کی متحمل نہ ہو سکے تو کچھ حصہ قیمت پر اور کچھ مفت ارسال کیا جائے۔
    ۳۔
    بنگال` سندھ اور صوبہ سرحد کی جماعتوں کو چاہئے کہ بنگالی` سندھی اور پشتو میں ان اشتہاروں کے تراجم شائع کرنے کی کوشش کریں۔ اس میں ایک معقول حد تک دفتر تحریک جدید ان کی امداد کرے گا۔ مگر فیصلہ بذریعہ خط و کتابت ہونا چاہئے۔
    ۴۔
    ہر جماعت یا فرد ان اشتہاروں کے چسپاں کرنے اور تقسیم کرنے کا انتظام فوراً کر چھوڑے۔
    ۵۔
    ہر جماعت یا فرد کو اس امر کا انتظام رکھنا چاہئے کہ ہر اشتہار ایسے ہاتھ میں جائے جہاں اس کا فائدہ ہو اور اچھی جگہ پر پوسٹر چسپاں ہو۔ سارے پوسٹر ایک دن نہ لگائے جائیں کیونکہ بعض شریر دشمن انہیں پھاڑ دیتے ہیں بلکہ دو تین دن میں لگیں۔ تاکہ سب لوگ پڑھ سکیں۔
    ۶۔
    اشتہاروں کی اشاعت کے بعد جماعت کے افراد ان کے اثر کا اندازہ لگاتے رہا کریں اور مرکز کو اس کی اطلاع دیتے رہا کریں تاکہ آئندہ اشتہاروں میں اس تجربہ سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
    ۷۔
    سب اطلاعات میرے نام یا سیکرٹری دفتر تحریک جدید کے نام ہوں۔ والسلام
    خاکسار میرزا محمود احمد )خلیفہ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ(۱۲۵
    جناب مولوی عبدالرحمن صاحب انور کا بیان ہے کہ حضور کی طرف سے ان اشتہارات کا مضمون جمعرات کے روز عصر کے بعد ملنا شروع ہوتا تھا۔ جوں جوں حضور مضمون تحریر فرماتے دفتر تحریک جدید میں بھجوا دیتے اور ہدایت یہ تھی کہ ساتھ ہی ساتھ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بھی اس کو دیکھ لیں اور پھر کاتب کو کتابت کے لئے دے دیا جائے۔ اس طرح رات کے بارہ ایک بجے تک کتابت ختم ہوتی۔
    ایک کاپی اشتہار کی صورت میں لکھوائی جاتی اور دوسری کاپی پمفلٹ کے طور پر۔ ٹریکٹ راتوں رات چھاپ دیئے جاتے اور صبح کی پہلی گاڑی سے خاص آدمی کے ذریعہ سے نماز جمعہ سے قبل بٹالہ` امرتسر` لاہور اور لائلپور تک پہنچا دیئے جاتے تھے۔
    ٹریکٹوں کی تقسیم حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی باقاعدہ ہدایات اور نگرانی کے ماتحت ہوتی تھی۔ چنانچہ حضورؓ نے خود بتایا کہ۔
    >تحریک جدید کا کام چونکہ براہ راست میرے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے میں اسی رنگ میں اس کے کام کی نگرانی کرتا ہوں اور جہاں نقص واقع ہو اپنی توجہ کا بیشتر حصہ اس کی طرف صرف کرکے اسے دور کرنے کی کوشش کیا کرتا ہوں مثلاً ہم نے ٹریکٹ بھجوانے ہوں تو جن جماعتوں میں ٹریکٹوں کی زیادہ ضرورت ہوگی وہاں زیادہ ٹریکٹ بھی بھجوا دیئے جائیں گے اور جنہیں کم ضرورت ہوگی انہیں کم بھجوا دیئے جائیں گے۔ یہ نہیں ہوگا کہ سب کو یکساں بھجوا دیئے جائیں۔ اسی طرح اور امور میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کونسی جماعت کمزور ہے پھر جو جماعت کمزور ہو اس کی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے<۔۱۲۶
    کتابوں کی اشاعت
    تحریک جدید کے پہلے سہ سالہ دور میں اشتہارات کے علاوہ بعض کتابیں بھی شائع کی گئیں مثلاً ۱۹۳۶ء میں >مناظرہ مہت پور< اور ۱۹۳۷ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے چھ خطبات >اعمال صالحہ< کے نام سے چھاپے گئے۔
    اشاعت احمدیت پریس کے ذریعہ سے
    تحریک جدید کے ان ابتدائی ایام میں تبلیغ احمدیت کا کام دو انگریزی` ایک اردو اور ایک سندھی اخبار کے ذریعہ سے لیا جاتا تھا۔۱۲۷ انگریزی اخبار >سن رائز< اور >مسلم ٹائمز< تھے جن کا تذکرہ کرتے ہوئے حضورؓ نے ایک بار فرمایا۔
    >دو انگریزی اخبار ایک سن رائز لاہور سے اور ایک مسلم ٹائمز لنڈن سے شائع ¶ہوتے ہیں۔ ان میں سے بالخصوص سن رائز کی ضرورت اور اہمیت کو بہت محسوس کیا جارہا ہے۔ اور یہ پرچہ اگرچہ ہمیں قریباً مفت ہی دینا پڑتا ہے مگر فائدہ بہت ہے۔ امریکہ سے نو مسلمین نے لکھا ہے کہ یہ اخبار بہت ضروری ہے اور اسے پڑھ کر ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ بھی جماعت کا ایک حصہ ہیں۔ خصوصاً اس میں جو خطبہ جمعہ کا ترجمہ ہوتا ہے وہ ہمارے لئے ایمانی ترقیات کا موجب ہے۔ پہلے ہم یوں سمجھتے تھے کہ جماعت سے کٹے ہوئے الگ تھلگ ہیں مگر اب خطبہ پہنچ جاتا ہے اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم بھی گویا جماعت کا ایک حصہ ہیں<۔۱۲۸
    نئی درسگاہیں
    تحریک جدید کے انتظام کے ماتحت وافقین کے ذریعہ سے ملک کے آٹھ مقامات پر دینی درسگاہیں قائم کر دی گئیں جن میں بچوں اور بوڑھوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔۱۲۹
    ملک کا تبلیغی سروے
    جنوری ۱۹۳۵ء سے لے کر نومبر ۱۹۳۵ء تک صوبہ کے پانچ اضلاع کا مکمل تبلیغی سروے کیا گیا۔۱۳۰ جو اپنی نوعیت کی جدید چیز تھی۔
    سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی ہدایت پر قصبات اور دیہات کا جائز لینے کے لئے دو قسم کے فارم چھپوائے گئے۔ قصبات کے کوائف معلوم کرنے کی غرض سے زرد رنگ کا دو ورقہ اور عام دیہات کے لئے صرف یک ورقہ۔ یہ کام سائیکلوں کے ذریعہ سے کیا جاتا تھا۔ ابتداء میں چار سائیکل سوار بھجوائے گئے ایک کے پاس اپنی ذاتی سائیکل تھی۔ دو سائیکلیں ھدیت¶ہ اور ایک سائیکل د فتر نے خرید کی تھی۔ ۱۱۔ جنوری ۱۹۳۵ء کو حضور نے تحریک فرمائی کہ سولہ سائیکلوں کی فوری ضرورت ہے۔۱۳۱ اس پر جماعت نے اس کثرت سے سائیکلیں بھیج دیں کہ آئندہ سائیکل نہ بھجوانے کی ہدایت کرنا پڑی۔ اس معاملہ میں جماعت احمدیہ دہلی سب جماعتوں پر سبقت لے گئی۔۱۳۲
    اس تبلیغی سروے کی نوعیت و اہمیت کیا تھی؟ اس کی تفصیل حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی زبان مبارک سے سنئے حضور فرماتے ہیں۔
    >میں نے مختلف اضلاع کی سروے کرائی ہیں۔ اور میں چاہتا ہوں جن اضلاع کی سروے کرائی گئی ہے ان میں جو لوہار ترکھان یا پیشہ ور احمدی بیکار ہیں انہیں پھیلا دوں۔ تمام گائوں کے نقشے ہمارے پاس موجود ہیں اور ہر مقام کی لسٹیں ہمارے پاس ہیں جن سے پتہ لگ سکتا ہے کہ ان گائوں میں پیشہ وروں اور تاجروں کی کیا حالت ہے۔ اسی ذریعہ سے میں چاہتا ہوں کہ اپنی جماعت کے پیشہ ور بیکاروں کو ان علاقوں میں پھیلا دوں جہاں لوہار نہیں وہاں لوہار بھجوا دیئے جائیں۔ جہاں معمار نہیں وہاں معمار بٹھا دیئے جائیں جہاں حکیم نہیں وہاں حکیم بھجوا دیئے جائیں۔ اس سکیم کے ماتحت اگر ہماری جماعت مختلف علاقوں میں پھیل جائے تو جہاں ہمارے بہت سے تبلیغی مرکز ان علاقوں میں قائم ہو سکتے ہیں۔ وہاں لوگ بھی مجبور ہوں گے کہ احمدیوں سے کام لیں۔ اس طرح ان کی بیکاری بھی دور ہو گی اور تبلیغی مرکز بھی قائم ہو جائیں گے۔ بلکہ لکھے پڑھے لوگ کئی گائوں میں مدرسے بھی جاری کر سکتے ہیں چنانچہ ہمارے پاس ایسی بیسیوں لسٹیں موجود ہیں جہاں مدرسوں کی ضرورت ہے یا حکیموں کی ضرورت ہے یا کمپونڈروں کی ضرورت ہے مگر انہیں مدرس حکیم اور کمپونڈر نہیں ملتے۔ اسی طرح ہندوستان سے باہر بھی ہم بعض پیشہ وروں کو بھیجنا چاہتے ہیں جہاں بعض کام عمدگی سے کئے جاسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ غرض دنیا کے ایسے حصے جہاں تجارتی کام اعلیٰ پیمانے پر کئے جاسکتے ہیں` ہم نے معلوم کئے ہیں اور ہر جگہ کے نقشے تیار کئے ہیں۔ ان علاقوں میں تھوڑی سی ہمت کرکے ہم بیکاروں کو کام پر لگا سکتے ہیں اور بہت سے تبلیغی سینٹر قائم کرسکتے ہیں اور یہ کام ایسا اعلیٰ ہوا ہے کہ جس کی اہمیت ابھی جماعت کو معلوم نہیں اور گو یہ معلومات کا ذخیرہ ابھی صرف چند کاپیوں میں ہے۔ لیکن اگر یورپ والوں کے سامنے یہ کاپیاں پیش کی جائیں تو وہ ان کے بدلے لاکھوں روپے دینے کے لئے تیار ہو جائیں مگر افسوس ابھی ہماری جماعت نے اس کام کی اہمیت کو نہیں سمجھا` اسی طرح میں تجارتی طور پر مختلف مقامات کے نقشے بنوا رہا ہوں۔ اور اس امر کا پتہ لے رہا ہوں کہ چین اور جاپان اور دوسرے ممالک کے کس کس حصہ میں کون کونسی صنعت ہوتی ہے تاکہ ہم اپنی جماعت کے تاجروں یا ان لوگوں کو جو تجارت پیشہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں ان علاقوں میں پھیلا دیں<۔۱۳۳
    مکیریاں مشن
    تبلیغی جائزہ کی رپورٹیں موصول ہونے پر حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے تحریک جدید کے زیر انتظام شروع ۱۹۳۵ء میں چار تبلیغی۱۳۴ مراکز قائم فرمائے جس میں مکیریاں )ضلع ہوشیار پور( اور ویرووال )ضلع امرتسر( کے مشن بالخصوص قابل ذکر ہیں۔
    مکیریاں مشن کا قیام مختار احمد صاحب ایاز )پہلے امیر المجاھدین( کی کوششوں سے ہوا۔ مرکز کے لئے ایک احمدی مولوی محمد عزیز الدین صاحب سٹیشن ماسٹر ابن حضرت مولوی محمد وزیر الدین صاحبؓ )۳۱۳( نے اپنے مکان ہبہ کر دیا تھا۔ اس مشن کی ذیلی شاخیں حسب ذیل مقامات پر کھولی گئیں۔ چھنیان۔ بہبو وال۔ مہت پور۔۱۳۵
    مکیریاں شہر تو مخالفت کا گڑھ تھا۔ مگر اردگرد علاقوں میں بھی مخالفین کی تکالیف بڑی صبر آزما تھیں حتیٰ کہ جیسا کہ میاں علی محمد صاحب ساکن گھسیٹ پور حلقہ مکیریاں کی روایت ہے کہ ایک بار احمدیوں کو زندہ جلا دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ واقعہ یہ ہوا کہ ایاز صاحب موضع ڈگریاں میں عید پڑھنے کے لئے گئے۔ ان کے ساتھ حضرت بابو فقیر علی صاحبؓ بھی تھے۔ ناگاہ انہیں پتہ چلا کہ جس مکان میں وہ جمع ہیں مخالفین اسے آگ لگا دینے کی سازش کررہے ہیں۔
    اس پر سب احمدی چپکے سے باہر نکل گئے۔ ایاز صاحب کے بعد کیپٹن ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اور حضرت چودھری غلام احمد صاحبؓ آف کریام۱۳۶ امیر المجاھدین مقرر ہوئے۔ راشد احمد صاحب۱۳۷ حال سپرنٹنڈنٹ وکالت مال اول کے بیان کے مطابق ڈاکٹر صاحب ایک گائوں بھنگالا میں چھڑیوں سے زدوکوب کئے گئے۔ بائیکاٹ اتنا سخت تھا کہ احمدی پانی تک سے محرم کر دیئے گئے اور ان کو ایک گوردوارہ سے پانی لینا پڑتا تھا۔ میاں علی محمد صاحب ساکن گھسیٹ پور متصل مکیریاں کا بیان ہے کہ چودھری فضل دین صاحب سہوتہ گائوں کے ایک احمدی تھے جن کی اعوان برداری نے ان کی فصل اٹھانے کی ممانعت کردی۔ یہ خبر مکیریاں پہنچی تو ڈاکٹر صاحب موصوف اور حضرت بابو فقیر علی صاحب` شیخ نور الدین صاحب` سید لال شاہ صاحب )آنبہ( اور بعض دوسرے مجاہدین درانتیاں لے کر اس گائوں میں پہنچے اور فصل کاٹنا شروع کردی۔ اعوان احمدی رضا کاروں کا یہ جذبہ اخوت و محبت دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور بائیکاٹ ختم کرا دیا۔۱۳۸
    کچھ عرصہ بعد جب چودھری محمد شریف صاحب ایڈووکیٹ منٹگمری امیر المجاہدین مقرر ہوئے تو مکیریاں شہر کے ذیلدار خوشحال محمد صاحب نے چودھری صاحب سے ربط ضبط کے باعث منادی کرا دی کہ احمدیوں کو کوئی تکلیف نہ دے۔ اس پر وہاں امن ہو گیا اور عام مسلمانوں نے سودا سلف دینا شروع کر دیا۔۱۳۹
    ۲۶` ۲۷` ۲۸۔ ستمبر ۱۹۳۶ء کو مہت پور میں مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے شیعہ عالم مرزا یوسف حسین صاحب سے مناظرہ کیا جس سے احمدیت کی دھاک بیٹھ گئی اور کئی لوگ حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔
    اس مشن میں حضرت بابو فقیر علی صاحبؓ` ملک غلام نبی صاحب اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف کیمبلپور نے بھی امیر المجاہدین کے فرائض انجام دیئے۔ مجاہدین تحریک جدید میں سے جن اصحاب نے یہاں کام کیا۔ ان میں مولوی روشن الدین احمد صاحب بالخصوص قابل ذکر ہیں جو بارہ سال تک پیغام حق پہنچاتے رہے۔ مئی ۱۹۴۶ء میں آپ کویت جانے کے لئے قادیان آگئے اور مشن کا چارج مولوی حسام الدین صاحب نے سنبھالا۔۱۴۰
    )مولوی محمد اسمعیل صاحب ذبیح مولوی فاضل کا ایک غیر مطبوعہ نوٹ۔(
    >تحریک جدید کا مرکز مکیریاں یہ مرکز شروع تحریک جدید میں قائم کیا گیا تھا سب سے پہلے اس مرکز میں وہ نوجوان لگائے گئے جنہوں نے قادیان والوں کو مرکز رکھ کر اردگرد سروے کیا تھا۔ ان میں برادرم شیخ عابد علی صاحب اور برادرم بدر سلطان صاحب بھی تھے۔
    مکیریاں میں محلہ تکھوا وال میں حضرت بابو عزیز الدین صاحب نے مرکز کے لئے اپنا مکان وقف کیا تھا تکھو وال مکیریاں اور اس کے نواح میں اعوانوں کے باون گائوں تھے۔ خود مکیریاں کا ذیلدار بھی اعوان تھا جو ہمارا بڑا مخالف تھا اس کا نام خوشحال تھا جو تقسیم کے بعد سرگودہا کے چک میں آباد ہوا۔
    ابتداء میں مخالفوں نے پانی بند کردیا تو ایک رئیس خاندان کے ہری سنگھ نام سردار کے لڑکے دلیپ سنگھ نے اپنے ہاں سے پانی کا بندوبست کیا۔ مسلمان بڑی کمزور حالت میں تھے۔ تاہم ہماری مخالفت میں سب متحد تھے۔ مکیریاں سے تو جہاں تک مجھے یاد ہے ایک شخص تاج دین نے بیعت کی تھی۔ مگر اردگرد خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی احمدی ہوئے مہت پور میں باقاعدہ جماعت بن گئی۔
    مشہور تاریخی مناظرہ مابین شیعہ و احمدی جماعت اس مہت پور میں ہوا تھا۔ جس کی ابتدائی روئیداد بڑی لمبی ہے میں اور مکرم بدر سلطان صاحب مہت پور میں رہتے تھے۔ جن لوگوں نے وہاں کام کیا ان میں واقفین زندگی کے نام یہ ہیں۔
    مولوی منیر احمد صاحب انصاری۔ خاکسار محمد اسمعیل ذبیح۔ شیخ عابد علی صاحب۔ بدر سلطان صاحب۔ مولوی روشن دین احمد صاحب۔ مولوی اسمعیل صاحب مرحوم ابن حافظ ابراہیم صاحب۔
    عارضی واقفین رخصتوں کو وقف کرنے والے احباب کے نام۔ )رفقائے مسیح موعودؑ(
    ۱۔
    حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب وہاں ایک مشہور مقدمہ قتل میں ان سے دعا کرائی گئی تھی آپ نے قبل از وقت فرمایا تھا کہ فلاں کو یہ سزا ہوگی فلاں فلاں اپیل میں بری ہو جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ واقعہ سارے علاقہ میں مشہور ہوگیا تھا۔
    ۲۔ حضرت حاجی غلام احمد صاحب آف کریام۔ ۳۔ حضرت چھجو خاں صاحب آف سٹروعہ۔ ۴۔ حضرت مولوی محمد علی صاحب ارائیں۔ ۵۔ ان کے صاحبزادے میاں اکبر علی صاحب۔ ۶۔ حضرت ڈاکٹر کپتان سید محمد حسین صاحب۔ ۷۔ حضرت چوہدری شاہ محمد صاحب ریٹائرڈ انسپکٹر پولیس پٹیالہ ضلع گجرات ۸۔ حضرت سید ولی اللہ شاہ زین العابدین )بحیثیت ناظر امور عامہ( عتیق الرحمان کے ارتداد کے سلسلہ میں دارالتبلیغ پر حملہ ہوا۔ شاہ صاحب چند دن کے لئے اس سلسلہ میں گئے تھے۔ ۹۔ حضرت بھائی عبداللہ صاحب قادیانی مزین حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ ۱۰۔ مکرم بھائی محمود احمد صاحب حال سرگودہا۔ ۱۱۔ حضرت چوہدری محمد شریف صاحب وکیل ساہیوال۔ ۱۲۔ حضرت بابو فقیر علی صاحب۔ ۱۳۔ حضرت حکیم احمد الدین صاحب شاہدرہ۔
    )دوسرے احباب( ملک غلام نبی صاحب والد جنرل اختر حسین صاحب و عبدالعلی صاحب )دو مرتبہ( چونکہ علاقہ اعوانوں کا تھا اس لئے ملک صاحب نے اپنے علاقہ سے احمدی اعوانوں کو تحریک کرکے وہاں بار بار بھجوایا۔ جن میں بعض نام یہ ہیں۔ ماسٹر محبوب صاحب۔ ماسٹر محمد جعفر صاحب۔ ماسٹر محمد حیات صاحب۔ مکرم میجر ستار بخش صاحب کیمبل پور۔ ماسٹر عبداللہ صاحب کانہوآں۔ ماسٹر فضل کریم مرحوم صاحب بوریوالہ۔ مولوی فضل الدین صاحب اجمیری۔ بابو عبدالرحیم صاحب اوورسیئر نوشہرہ ککے زئیاں سیالکوٹ۔ بابو فضل احمد صاحب بھینی بسواں۔ دیر ووال اور مکیریاں کے علاوہ ایک تیسرا مرکز بھی کھلا مگر تھوڑا عرصہ۔ وہ تھا بوستاں افغاناں ضلع گورداسپور اس میں واقفین زندگی مولوی محمد عبداللہ صاحب مرحوم اور مولانا محمد ابراہیم صاحب قادیانی حال درویش کام کرتے تھے۔ ان کے ذریعہ بوستان کا نمبردار محمد یعقوب خاں احمدی ہوئے تھے۔ عارضی واقفین میں بابو ملک محمد شفیع صاحب )نوشہروی( حال ربوہ۔ چوہدری غلام یٰسین صاحب بی۔ اے سابق مبلغ امریکہ یاد ہیں۔
    ویرووال مشن
    ویرووال )ضلع امرتسر( میں بھی تحریک جدید کا مرکز قائم کیا گیا۔ خواص پور` فتح آباد` میاں ونڈ` گوئند وال اور جلال آباد میں اس مرکز کی شاخیں تھیں۔
    ویرووال کے علاقہ میں مکیریاں کے مقابل بہت زیادہ مخالفت کا زور تھا۔ اس لئے ابتدا میں بعض اوقات پندرہ سولہ مجاہد )یعنی تعطیلات وقف کرنے والے احمدی( یہاں بھجوائے جاتے رہے۔۱۴۱
    حلقہ ویرووال میں یکے بعد دیگرے متعدد امیر المجاہدین مقرر کئے گئے جن میں سے مشہور و ممتاز یہ ہیں۔
    ۱۔
    ڈاکٹر اعظم علی صاحب گجرات۔ آپ بڑے معاملہ فہم تھے اور انکسار و فروتنی سے مخالفوں کا دل موہ لیتے تھے۔
    ۲۔
    حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب۔ آپ کے تقویٰ اور نیکی کا غیروں پر بھی گہرا اثر تھا۔
    ۳۔
    حضرت میاں محمد یوسف خاں صاحب۔ آپ دن بھر کام کرتے اور روزانہ ذیلی مراکز کا دورہ کیا کرتے تھے۔
    ۴۔
    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب۔
    ۵۔
    عبدالمجید خاں صاحب آف ویرووال۔ آپ چھ سات سال کے لئے تقسیم ہند تک امیر المجاہدین رہے۔
    ویرووال میں مخالفین کا بہت زور تھا۔ امرتسر وغیرہ سے بدگو اور شعلہ مزاج خطیب و مقرر یہاں بڑی کثرت سے بلوائے جاتے جو زبردست اشتعال پھیلاتے اور مقاطعہ جاری رکھنے کی تلقین کرتے رہتے تھے لیکن احمدی مبلغین کی پے درپے تقاریر اور مجاہدین تحریک جدید کے صبر و استقلال` خوش خلقی اور دعائوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ خدا کے فضل سے کئی خوش قسمت داخل احمدیت ہو گئے جن میں مہر اللہ دتہ صاحب )حال لائلپور( بھی تھے۔ اس علاقہ میں آریہ اور عیسائی جگہ جگہ پہنچ کر اسلام کے خلاف زہر چکانی کرتے اور مسلمانوں کو گمراہ کرتے رہتے تھے۔ عامتہ المسلمین اس یلغار سے سہمے ہوئے تھے۔ جب احمدی مبلغوں کے ہاتھوں آریوں اور عیسائیوں کو شکست اٹھانا پڑی تو مسلمانوں کے حوصلے بھی بلند ہوگئے۔
    ویرووال مشن
    )خان عبدالمجید خاں صاحب آف ویرووال کے قلم سے ویرووال مشن سے متعلق ایک غیر مطبوعہ یادداشت مورخہ ۵۔ ستمبر ۱۹۶۶ء(
    بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
    ۶۶/۹/۵ تحریر کنندہ خاکسار خان عبدالمجید خان آف ویرووال ایک دوست مہر اللہ دتہ صاحب۱۴۲ نے بیعت کی اور مولویوں نے بہت بڑی احرار کانفرنس منعقد کرکے` جس کی صدارت مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی اور دائود غزنوی صاحب نے کی اور بائیکاٹ کرنے کی تلقین کی۔ اس کے بعد جملہ حاضرین نے جو ویرووال کی تاریخ میں بلحاظ تعداد کے سب سے بڑا اجتماع تھا ہاتھ اٹھا کر ہمارے بائیکاٹ کا حلفی وعدہ کیا۔ چند روز تک یہ حالت رہی کہ بازاروں اور گلیوں میں کوئی ہم سے سلام و علیکم اعلانیہ یعنی ایک دوسرے کے سامنے نہیں کرتا تھا۔ اور اگر کوئی تعلق والا ملتا تو آگے پیچھے دیکھ لیتا کہ کوئی اسے دیکھتا تو نہیں۔ یہ حالت چند روز رہی۔ ہمارے ایک body]PERMANENT ga[t واقف زندگی شیخ عابد علی صاحب نے جو خود بھی کبڈی کے پلیئر تھے ویرووال کے چند نوجوان لیڈروں کو مل کر کبڈی کا میچ جماعت احمدیہ کے ساتھ مقرر کرلیا۔ انہوں نے دور دراز سے تمام ضلع کے بہترین کھلاڑی جمع کر لئے اور ہمارے ہاں قادیان کے اس زمانہ کے مشہور کھلاڑی خواجہ محمد امین صاحب۱۴۳ اور سید احمد صاحب۱۴۴ پسر حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب۔ چند دیگر کھلاڑیوں کو قادیان سے لے آئے۔ بہت بڑا مجمع ہو گیا اور مقابلہ شروع ہوا تو سید احمد صاحب نے اپنی پھرتی اور چابکدستی سے بہت سے غالباً ہندوئوں کے کھلاڑی مار گرائے اور ان کے سب سے بڑے پہلوان کھلاڑی کو خواجہ محمد امین صاحب نے قینچی مار کر گرا لیا۔ مخالفین کی شکست واضح ہو گئی اور اکابرین شہر نے بظاہر فساد کے خوف سے کھیل بند کرا دیا اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے واضح فتح عطاء کی اور مولویوں کی اس تدبیر کو بھی بالکل باطل کر دیا کہ ان احمدیوں سے کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔ کبڈی کے کھیل نے بائیکاٹ بھی توڑ دیا اور انہیں واضح شکست بھی ہوگئی۔ فالحمد علی ذالک۔ یہ واقعہ اس غرض سے درج کر دیا ہے کہ شاید کسی علاقہ میں اس تدبیر سے مخالفین کا سحر توڑنے میں کسی وقت رہنمائی مل سکے۔
    جس قدر دوست وہاں بطور واقف زندگی کے گئے تھے روحانی اور اخلاقی لحاظ سے بہت سی منفرد خوبیوں کے مالک ہوتے تھے۔ کوئی فروتنی اور انکسار میں یکتا ہوتا اور کوئی تبلیغ کے وقت مخالفین کو بدزبانی پر تحمل و بردباری دکھانے میں بے مثال ہوتا اور کوئی تہجد کی ادائیگی اور دعا میں کوئی قرآن شریف کی باقاعدہ تلاوت اور درس و تدریس میں رفقائے حضرت مسیح موعود میں حضرت منشی سکندر علی صاحب` حضرت حکیم قطب الدین صاحب` حضرت ماسٹر غلام محمد صاحب اور حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اور حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی اور حضرت حکیم قطب الدین صاحب مفت علاج کرتے اور ادویہ مفت تقسیم کرتے تھے۔ اسی طرح ڈاکٹر اعظم علی صاحب آف گوجرانوالہ )بعدہ ساکن گجرات( بھی ادویہ مفت تقسیم کرتے۔ ٹیکے مفت لگاتے اور معمولی اور ادنیٰ لوگوں کو حقہ خود بھر کر دیتے اور پلاتے تھے۔ بابو غلام محمد صاحب کلرک ڈاک خانہ بڑے تحمل اور بردباری سے مخالفوں کو مسکت جواب دیتے۔ بازاروں میں جہلاء انہیں تنگ کرتے` گالیاں دیتے مگر وہ خندہ پیشانی سے برداشت کرتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت نبی اکرم~صل۱~ کے اخلاق عالیہ کے ذکر میں ایک جگہ یہ شعر درج فرمایا ہے۔ ~}~
    مے ریختند در رہ تو خارو بایں ہمہ
    چوں گل شگفتہ بود رخ جاں فزائے تو
    حضور~صل۱~ کے عالی مرتبت غلام کے غلاموں کی بھی ان حالات میں یہی روش تھی۔
    ڈاکٹر محمد انور صاحب آف جڑانوالہ ایک دفعہ دوپہر کے وقت پیدل نو دس میل ایک نوجوان کو لے کر قادیان کو روانہ ہو گئے تھے جو یہ کہتا تھا کہ میں اسی وقت گھر والوں سے چھپ کرہی جاسکتا ہوں۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب چیف میڈیکل آفیسر ریلوے اور ڈاکٹر عبیداللہ صاحب آف لاہور ہومیوپیتھی اور مرزا غلام رسول صاحب ریڈر چیف کمشنر پشاور ایک تنگ و تاریک کچے مکان میں پڑے اور تبلیغ کی غرض سے اپنے وقف کا پورا عرصہ مجاہدہ مشقت سے گزار کر واپس تشریف لے گئے۔ ع
    ہر گل را رنگ و بوئے دیگر است
    سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو پوتے حضرت محترم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب اور جناب مرزا منیر احمد صاحب خلف الرشید حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی اپنی نوعمری اور طالب علمی کے ¶زمانہ میں وہاں تشریف لے گئے اور فتح آباد کے مشہور قصبہ میں قاضی محمد حنیف صاحب ضلعدار نہر کے ہاں فروکش ہوکر وقف کے ایام کی مشقت برداشت فرماتے رہے اور ایک رات خاکسار کے ہاں ویرووال ٹھہر کر غریب خانہ کو شرف برکت و عزت بخشا۔ مکرم چوہدری محمد انور حسین صاحب حال امیر شیخوپورہ اور محترم پیر صلاح الدین صاحب حال ڈپٹی کمشنر بھی وہاں غالباً ایک ایک ماہ وقف کرکے تبلیغ کے لئے نوعمری اور طالب علمی کے زمانہ میں تشریف لے گئے تھے۔ بدر سلطان صاحب حال انسپکٹر خدام الاحمدیہ` شیخ عابد علی صاحب` مولوی روشن دین صاحب اور مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم پسر حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب بطور مستقل مبلغ اور واقف زندگی کے متعین ہوئے تھے۔ اور باوجود شدید بائیکاٹ گالی گلوچ اور مارپیٹ کرنے کے نہایت صبر اور استقلال سے کام کرتے رہتے تھے۔ اور مولوی روشن دین صاحب کو دو تین دفعہ مارا گیا۔ ویرووال راجپوتاں کے ایک بدکردار نے انہیں شدید طور پر مارپیٹ کی۔ دو تین سال مار پیٹ کرنے کے بعد جب لوگ تھک گئے اور ہمارے مبلغین مجاہدین کے استقلال` صبر اور خوش خلقی نے انہیں گرویدہ کرنا شروع کردیا۔ اسی زمانہ میں ہم مکرم و محترم مولوی روشن دین صاحب سے الگ مذاقاً پوچھا کرتے تھے کہ مولوی صاحب اب آپ کو کیوں مار نہیں پڑتی تو آپ نے فرمایا کہ اب میں مارنے والے کی آنکھ پہچان لیتا ہوں۔ حضرت محترم جناب قاضی محمد عبداللہ صاحب جو ۳۱۳ میں سے ہیں بھی بطور امیر اسی مرکز میں تشریف لے گئے تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ مہر اللہ دتہ کے متعلق فرمایا کہ انہیں حضرت نبی کریم~صل۱~سے محبت ہے اس لئے امید ہے کہ وہ احمدی ہو جائیں گے۔ چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد وہ احمدی ہوگئے اور اب ان کے بیوی بچے اور بہن بھائی سب احمدی ہیں بفضلہ تعالیٰ۔ اور حضرت قاضی صاحب محترم کا اندازہ اور قیاس بالکل درست ثابت ہوا۔
    ایک سب انسپکٹر پولیس مخالفین کی خفیہ حمایت کرتے رہتے تھے اور جب بھی ہمارا جلسہ ہوتا خواہ سیرۃ النبی~صل۱~ یا پیشوایان مذاہب کا وہ بالعموم منشی عبداللہ معمار صاحب کو امرتسر سے بلاکر مقابل پر جلسہ کرا دیتے اور ہمارے جلسہ میں حاضرین کی کمی لازماً ہو جاتی اور ہندو خصوصاً فساد وغیرہ سے ڈر کر چلے جاتے۔ ایک دفعہ ہم نے احتیاطاً اپنے جلسہ کی حفاظت وغیرہ کے لئے ایس۔ پی پولیس کو لکھ کر اپنے خرچ پر پولیس گارڈ منگوالی اور جلسہ کامیابی سے ہوتا رہا۔ یہ سب انسپکٹر پولیس تنزل ہوکر کچھ عرصہ کے بعد اے آیس آئی ہو گیا اور پھر جوانی میں ہی بیمار ہو کر ہسپتال میں مر گیا۔ اس کی عادت یہ تھی کہ ہمارا جلسہ خراب کر دیتا اور یونہی ملاقات اور دلجوئی کے طور پر اپنی بے تکلفی وغیرہ کے اظہار کے لئے خاکسار کے ہاں دوسرے تیسرے روز ملنے کے لئے آجاتا۔ ایک دفعہ سیرت پیشوایان مذاہب کا جلسہ اسی طرح خراب کرا دیا۔ ہندوئوں نے جب ہمارے مقابل پر جلسہ ہوتا دیکھا اٹھ کر چلے گئے۔ حضرت مولوی عبدالغفور صاحب نے بڑی پرجوش تقریر فرمائی اور سب انسپکٹر مذکور پر نام لئے بغیر غیض و غضب کا اظہار فرمایا۔ حضرت مولوی کا دل کیا دکھا کہ ان کی آواز نے عرش الٰہی کو ہلا دیا اور جلد ہی سب انسپکٹر مذکور تنزل ہو کر امرتسر لائن حاضر ہو گیا اور پھر جلد بیمار ہو کر عنفوان جوانی میں ہی ہسپتال میں راہی ملک عدم ہو گیا۔ اسی طرح ایک دفعہ پیشوایان مذاہب کا جلسہ تھا۔ میدان جلسہ گاہ کے دوسرے سرے پر غیر احمدیوں نے منشی عبداللہ معمار صاحب کو بلا کر جلسہ شروع کرا دیا۔ ہندو فساد کے احتمال سے ڈر کر چلے گئے اور ہمارے حاضرین بہت تھوڑے رہ گئے۔ حضرت مولوی عبدالغفور صاحب مبلغ سلسلہ نے پرجوش تقریر کی جس میں اس ¶تھانیدار کے خلاف اشارۃ غیض و غضب کا اظہار بطور انذار تھا۔ اس کے بعد جلد ہی مذکور تھانیدار ڈی گریڈ ہو کر لائن حاضر امرتسر ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ یہ میدان بہت وسیع قصبے کے ایک طرف تھانہ کے سامنے تھا جس کے ایک طرف تھا نہ` دوسری طرف تھانیدار کا مکان اور جنوباً مسجد اہل حدیث تھی اور شمال کی طرف ایک تکیہ کا وسیع احاطہ تھا جہاں پہلے غیر احمدی جلسے کیا کرتے تھے اور پھر جب ہمارا جلسہ ہوا ہم نے جلسے کرنے شروع کر دیئے تھے۔ اسی میدان میں رات کے وقت اور دن کے وقت ہمارا سب سے بڑا مناظرہ ہوا تھا جس میں عبداللہ معمار ایسا ذلیل ہوا تھا کہ سال ڈیڑھ سال ویرووال میں نہیں آیا تھا۔ بولتے بولتے اس کا گلا بیٹھ گیا اور عبدالرحیم اشرف صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب )مقامی مدرس اہلحدیث( اس کی مدد کے لئے بعض دفعہ تقریر کرتے رہے۔
    حضرت مصلح موعود~رح~ کے اس علاقہ میں مرکز قائم کرنے سے سارے علاقہ میں مذہبی زندگی کی رو چل گئی تھی۔ مسلمان خواہ ہمارے خلاف جمع ہوتے تھے لیکن ان میں اجتماعی زندگی` جلسے کرنے اور مذہبی گفتگو صبح شام کرنے کی رو چل گئی اور ان کی مردہ زندگی میں تبدیلی ہوگئی۔ آریوں نے ایک دفعہ شدھی شروع کی تھی اور ہمارے مبلغ حضرت مولوی محمد حسین صاحب کی ایک ہی تقریر سے جو ان کے مناظر دھرم بھکشو کے اعتراضات کے جواب میں کی گی تھی` شدھی کا تانا بانا ٹوٹ گیا اور مسلمان اتنے خوش تھے کہ ایک مخالف چار روپے ان کے کرائے کے طور پر دینے کے لئے آرہا تھا۔ جس کا خاکسار نے اس وقت کی مصلحت سے انکار کرکے واپس کرنا درست سمجھا۔ مگر اب یہ خیال آتا ہے کہ اگر قبول کرلیتا تو شاید اسی کی برکت سے اسے احمدیت نصیب ہو جاتی اور بعدہ مخالفت کی توفیق نہ ملتی۔ یہ عبدالرحیم اشرف صاحب ایڈیٹر المنبر کے تایا شیخ دین محمد تھے۔ انہی ایام میں مکتی فوج نے عیسائیوں کا ایک مرکز ہمارے علاقہ کے قریب بمقام رعیہ و بیاس قائم کیا اور ان کے ہیڈ ویرووال بھی آنے لگ گئے۔ مولوی عبدالرحیم اشرف صاحب حال ایڈیٹر المنبر کو خود تو جرات مقابلہ نہ ہوئی۔ ہمیں آگے کر دیا اور ہمارے ساتھ مناظرہ کرا دیا چنانچہ ہمارے مناظر حضرت ڈاکٹر عبدالرحمان صاحب آف موگا اور مکرم مولانا عبدالرحمن مبشر صاحب سے عیسائیوں کے اس وقت کے ایک بڑے مناظر سے دو مناظرے ہوئے اور انہیں ایسی شکست ہوئی کہ مکتی فوج نے یہ علاقہ ہی چھوڑ دیا۔ ہیڈ کوارٹر بھی چھوڑ دیا اور پھر کبھی نہ آئے لیکن یہ ناشکرے مسلمان لیڈر اور علماء مخالفت سے باز نہ آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت اسلام اور علم کلام کی برکت کا کبھی زبانی بھی اعتراف نہ کیا۔
    ہمارے مبلغین کرام جو ویرووال تشریف لے گئے ان کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں۔ حضرت مولانا ابراہیم صاحب بقاپوری` ملک مولوی محمد عبداللہ صاحب حال پروفیسر عربی و دینیات تعلیم الاسلام کالج` مولوی محمد شریف صاحب مبلغ۔ یہ تینوں بزرگ مرکز تحریک جدید قائم ہونے سے پہلے ایک دفعہ تشریف لے گئے تھے اور ویرووال میں سب سے پہلے غالباً انہی کی تقریریں ہوئی تھیں۔ حضرت مولوی محمد حسین صاحب مرکز قائم ہونے سے پہلے بھی اور بعدہ بیسیوں دفعہ مولوی عبدالغفور صاحب آف ہرسیاں بیسیوں دفعہ` مولانا محمد سلیم صاحب` مولوی دل محمد صاحب` مولوی غلام احمد صاحب فرخ` مولانا عبدالرحمن صاحب مبشر` مولوی غلام احمد صاحب بدوملہوی` مولوی غلام مصطفیٰ صاحب )برادر مولوی غلام احمد صاحب آف بدوملہی( مولانا محمد یار صاحب عارف )سابق مبلغ انگلینڈ( حضرت مولانا واحد حسین صاحب گیانی۔ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب۔ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی۔ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال۔ مولانا عبدالرحیم صاحب نیر۔ حضرت قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری۔ سید مولوی احمد علی شاہ صاحب مربی لائل پور وغیرہ۔ ماسٹر محمد شفیع اسلم صاحب میجک لینٹرن پر تقریر کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ مولوی محمد اسمعیل صاحب دیالگڑھی` جناب شیخ ناصر احمد صاحب )مبلغ سوئٹزرلینڈ( علاوہ ازیں ان علماء کے ساتھ بعض خاص دوست اور سلسلہ کے مخلصین فدائی جلسوں میں نظمیں پڑھتے یا شمولیت و امداد جلسہ کے لئے قادیان اور امرتسر سے تشریف لاتے رہے۔ مثلاً قاضی محمد منیر صاحب امیر امرتسر اور سید بہاول شاہ صاحب اکثر جلسوں میں شریک ہوتے` صدارت کرتے تھے مباہلہ میں شمولیت کے لئے چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ حال مبلغ سوئٹزر لینڈ مع اپنی بیگم صاحبہ او مکرم مرزا برکت علی صاحب سیرت النبیﷺ~ کے جلسہ میں تقریر کے لئے ایک دفعہ تشریف لائے۔
    اسماء امیر المجاہدین صاحبان حلقہ ویرووال
    )۳ ماہ( چوہدری محمد لطیف صاحب سب جج۔ )۳ ماہ( ڈاکٹر اعظم علی خان صاحب )گجرات۔ گوجرانوالہ( انکسار اور فروتنی سے مخالفوں کا دل موہ لیتے تھے۔ حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب )۳۱۳( تقویٰ اور نیکی کا خاص اثر تھا۔ )۳ ماہ( خان صاحب میاں محمد یوسف صاحب لاہور۔ تمام دن کام میں گزارتے تھے۔ اور روزانہ ذیلی مراکز یعنی سب سینٹروں کا دورہ کرتے تھے ۴/۳ ماہ( ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب۔ چوہدری غلام محمد صاحب ساکن کڑیال ضلع امرتسر۔ خاکسار عبدالمجید خاں چھ سات سال امیر المجاہدین پارٹیشن تک بفضلہ رہا تھا۔ ابتداً بعض وقت ۱۶/۱۵ مجاہد بیک وقت بھی اس حلقے میں جاتے رہتے تھے۔
    ماتحت مراکز یہ تھے۔ خواص پور۔ فتح آباد۔ میاں ونڈ گوئند وال۔ جلال آباد<۔
    )خاکسار عبدالمجید خاں سابق امیر المجاہدین حلقہ ویرووال(
    دارالصناعت
    ‏]0 [rtfاحمدی نوجوانوں میں صنعت و حرفت کا شوق پیدا کرنے کے لئے )محلہ دارالبرکات قادیان میں( دارالصناعت۱۴۵ قائم کیا گیا جس کا افتتاح حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے ۲۔ مارچ ۱۹۳۵ء کو فرمایا۔۱۴۶ اس موقعہ پر حضورؓ نے رندہ لے کر خود اپنے دست مبارک سے لکڑی صاف کی۔۱۴۷ اور آری سے اس کے دو ٹکڑے کرکے عملاً بتا دیا کہ اپنے ہاتھوں سے کوئی کام کرنا ذلت نہیں بلکہ عزت کا موجب ہے۔
    دارالصناعت میں طلبہ کی تعلیم و تربیت اور رہائش کا انتظام تحریک جدید کے ذمہ تھا۔ ابتدائی مسائل اور عقائد کی زبانی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ اس کے تین شعبے )نجاری` آہنگری اور چرمی(۱۴۸ تھے۔ حضرت خلیفہ المسیح ثانیؓ نے بابو اکبر علی صاحب کو )جو محکمہ ریلوے انسپکٹر آف ورکس کی اسامی سے ریٹائر ہو کر آے تھے( آنریری طور پر صنعتی کاموں کا نگران مقرر فرمایا۔۱۴۹ یہ صنعتی ادارہ ۱۹۴۷ء تک بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔
    بورڈنگ تحریک جدید
    وسط ۱۹۳۵ء میں بورڈنگ تحریک جدید کا قیام ہوا۔ اس بورڈنگ کا بنیادی مقصد حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے الفاظ میں یہ تھا۔
    >اسلامی اخلاق کی تفاصیل بچوں کو سمجھائی جائیں مثلاً سچ کی تعریف۔ سچ بولنے میں کیا کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں اور پھر شریعت نے ان کے کیا کیا علاج رکھے ہیں۔ یہ باتیں سکھائی جانی چاہئیں<۔۱۵۰
    حضور نے بورڈنگ کے قیام سے قبل مشاورت ۱۹۳۵ء میں اس بورڈنگ کے زیر غور اصولوں کی نسبت خاص طور پر وضاحت فرمائی کہ۔
    >بعض احباب کو یہ غلطی لگی ہے کہ گویا تحریک جدید کے ماتحت کوئی علیحدہ سکول قائم کیا جارہا ہے۔ یہ نہیں بلکہ بورڈنگ قائم کیا گیا ہے۔ بعض نے اپنے بچوں کے متعلق یہ کہا ہے کہ انہیں قادیان میں تعلیم دلائیں خواہ ہائی سکول میں داخل کر دیں خواہ مدرسہ احمدیہ میں۔ مگر تحریک جدید کے ماتحت جداگانہ انتظام ہے وہ سکول نہیں بلکہ بورڈنگ ہے جو خاص طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ لڑکا چاہے مدرسہ احمدیہ میں پڑھے چاہے ہائی سکول میں پڑھے۔ مگر فی الحال ہائی سکول میں پڑھنے والوں کے لئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔ اس انتظام کے ماتحت اپنے لڑکوں کو دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحریک جدید کے دفتر میں یہ تحریر دیں کہ ہم نے اپنے فلاں بچہ کو اس تحریک کے ماتحت آپ کے سپرد کیا ہے۔
    دوسری بات یہ ہے کہ بچہ کے متعلق تحریک جدید والوں کو کلی اختیارات دیئے جائیں یعنی تربیت کے متعلق بچہ کے والد یا سرپرست کو دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ ان سب بچوں کو ایک ہی قسم کا کھانا ملے گا سوائے اس کے کہ کوئی لڑکا ایسے علاقہ کا ہو جہاں روٹی کی بجائے چاول کھاتے ہیں اس کو چاول اور سالن دیں گے لیکن باقی سب کے لئے ایک ہی کھانا ہو گا اور انہیں ایک ہی رنگ میں رکھا جائے گا۔ کوئی نمایاں امتیاز ان میں نہ ہونے دیا جائے گا تاکہ غریب` امیر اور چھوٹے اور بڑے کا امتیاز انہیں محسوس نہ ہو۔ پس ان کا لباس بھی اور کھانا بھی قریب قریب ایک جیسا ہوگا۔ پھر ان کی دینی تعلیم پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ ہاں سکول میں پاس ہونے کے لئے سکول کی تعلیم بھی دلائی جائے گی۔ مگر یہ تعلیم دلانا مقصد نہ ہوگا بلکہ اصل مقصد دینی تعلیم ہوگی۔ بڑی عمر کے لڑکوں کو تہجد بھی پڑھائی جائے گی اور کسی ماں باپ کی شکایت نہ سنی جائے گی۔ یہ تو ہوسکے گا کہ لڑکے کو اس بورڈنگ سے خارج کر دیا جائے مگر یہ نہ سنا جائے گا کہ لڑکے کو یہ تکلیف ہے۔ اس کا یوں ازالہ کرنا چاہئے یا اس کے لئے یہ انتظام کیا جائے۔ اس بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ سے ہمارا عہد ہے کہ وہ ان بچوں میں باپ کی طرح رہے گا اور اگر لڑکوں میں سے کوئی ناروا حرکت کرے گا تو اس کی سزا خود لڑکے ہی تجویز کریں گے۔ مثلاً یہ کہ فلاں نے جھوٹ بولا اسے یہ سزا ملنی چاہئے۔
    اس قسم کے اصول ہیں جو اس بورڈنگ کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور ابھی میں غور کررہا ہوں۔ پس جو دوست اس تحریک کے ماتحت اپنے بچوں کو داخل کرنا چاہیں وہ تحریر دے جائیں۔ صرف یہاں کے کسی مدرسہ میں داخل کرا دینا کافی نہ ہوگا۔ اسی طرح انہیں بورڈنگ یا مدرسہ کے متعلق کوئی شکایت لکھنے کا حق نہ ہوگا۔ انہیں جو کچھ لکھنا ہو انچارج تحریک کو لکھیں۔ وہ اگر مناسب سمجھے گا تو دخل دے گا<۔۱۵۱
    بورڈنگ کے قیام پر حضور نے اس کی نسبت بعض اہم ہدایات دیں مثلاً۔:
    ۱۔
    طلباء کے جسمانی قویٰ اور حواس خمسہ کو ترقی دینے والی کھیلیں رائج کی جائیں۔
    ۲۔
    قصور وار طالب علم کی سزا لڑکے ہی تجویز کریں۔
    ۳۔
    ‏]dni [tag کھانے کا انتظام بھی لڑکوں کے ہاتھ میں دیا جائے۔
    ۴۔
    طلباء کی اخلاقی تربیت کی طرف توجہ دی جائے۔ مثلاً انہیں بتایا جائے کہ بدظنی اور نگرانی میں کیا فرق ہے؟ اور اس کے نہ جاننے سے کیا نقصانات ہوتے ہیں۔
    ۵۔
    لڑکوں کو اسلامی تاریخ سے آگاہ کیا جائے۔ ایسے چارٹ بنائے جائیں جن میں دکھایا جائے کہ پہلی صدی میں کہاں کہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی تھی۔ دوسری میں کہاں کہاں۔ تیسری صدی میں اسے کس قدر وسعت حاصل ہوئی حتیٰ کہ چودھویں صدی تک ساری کیفیت دکھائی جائے۔ اس طرح ہر طالب علم کے سینے میں ایک ایسا زخم لگے گا جو اسلام کی فتح سے ہی درست ہوگا۔
    ۶۔
    یہ بھی ہدایت دی کہ >طلباء کے ہر کمرہ میں اس قسم کے نقشے ہوں جن سے ہمارے لڑکے یہ سمجھ سکیں کہ مسلمان پہلے کیا تھے اور آج کیا ہیں۔ جب تک ہم اپنے بچوں کے سینوں میں ایک آگ نہ بھر دیں گے اور جب تک ان کے دل ایسے زخمی نہ ہو جائیں گے جو رستے رہیں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اسلام کی ترقی یہ چاہتی ہے کہ ایسی تاثیر پیدا ہو جو پرانی یاد کو تازہ رکھے اور پل بھر چین نہ لینے دے جب تک یہ نہیں ہوتا ہماری جدوجہد سخت کمزور رہے گی اور زیادہ شاندار نتائج پیدا نہیں ہوں گے۔ یہ چیزیں ہیں جو تحریک جدید کے مرکز اور بورڈنگ میں کام کرنے والوں کو مدنظر رکھنی چاہئیں<۔۱۵۲
    مولوی عبدالرحمن صاحب انور کا بیان ہے کہ حضرت امیرالمومنینؓ کی طرف سے بورڈنگ کے افسروں کو یہ ہدایت بھی تھی کہ وہ بچوں کی نسبت یہ ریکارڈ رکھیں کہ ان کی طبیعت کا رجحان کن امور کی طرف ہے۔ تا جب وہ بورڈنگ سے فارغ ہوں تو ان کے والدین کو رپورٹ کی جائے کہ ان کے رجحان طبع کی وجہ سے فلاں لائن کا انتخاب کرنا زیادہ مفید و مناسب ہوگا۔
    شروع میں ۳۶۔ ۱۵۳۳۷ طلبہ نے بورڈنگ میں داخلہ لیا۔ بچوں کی دینی تعلیم کے لئے ایک مولوی فاضل استاد۱۵۴ بطور ٹیوٹر مقرر کئے گئے۔ طلبہ اپنے علمی فرائض کے ساتھ باقاعدہ نماز باجماعت بلکہ تہجد بھی پڑھتے تھے۔ کھیتی باڑی کا کام سیکھنا بھی ان کے لئے لازمی تھا۔۱۵۵
    مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء کے معاًبعد اس بورڈنگ کا قیام عمل میں آگیا اور حضرت مصلح موعود~رح~ نے حضرت صوفی غلام محمد صاحب کو اس کا سپرنٹنڈنٹ مقرر فرمایا۔ حضرت صوفی صاحب ۲۸۔ جون ۱۹۳۵ء کو بی ٹی کرنے کے لئے علی گڑھ تشریف لے گئے تو قریباً دو سال ملک سعید احمد صاحب بی اے پسر حضرت ملک مولا بخش صاحب کو یہ خدمت سپرد ہوئی۔ ازاں بعد حضرت صوفی صاحب ہی ۱۹۴۶ء تک یہ خدمت سرانجام دیتے رہے۔۱۵۶`۱۵۷ بورڈنگ میں وقتاً فوقتاً مولوی عبدالخالق صاحب۔ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے` مولوی محمد اشرف صاحب` چودھری فضل احمد صاحب` چودھری فضل الرحمن صاحب` چودھری عبدالواحد صاحب` مولوی امام الدین صاحب ملتانی` مولوی محمد احمد صاحب جلیل` چودھری محمد اسمعیل صاحب خالد` ملک محمد شریف صاحب اور چودھری عصمت علی صاحب ٹیوٹر کے فرائض بجا لاتے رہے۔ اس زمانہ میں چودھری فضل احمد صاحب اور منشی فضل الٰہی صاحب خادم طفلاں مقرر تھے۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ سال میں کئی بار خود بورڈنگ میں تشریف لے جاتے اور طلباء سے گفتگو کرکے ان کے حالات دریافت فرماتے تھے۔۱۵۸ ایک دفعہ حضور ساتھ مٹھائی بھی لے گئے۔ بچوں کا ہجوم ہوگیا اور کارکنوں نے بچوں کو قطار میں کھڑا کرنا چاہا لیکن حضور نے فرمایا۔ بچوں کو اسی طرح آنے دو جس طرح وہ گھر میں اپنے والدین کے پاس آتے ہیں۔۱۵۹
    یہ بورڈنگ سالہا سال تک تحریک جدید کی نگرانی میں جاری رہا۔ ۱۹۴۶ء سے اس کا انتظام نظارت تعلیم و تربیت صدر انجمن احمدیہ قادیان کے سپرد کر دیا گیا۔۱۶۰ اس بورڈنگ کی نسبت حضور کے بڑے عزائم تھے۔۱۶۱ چنانچہ حضور نے ۳۔ اگست ۱۹۳۸ء کو تقریر فرمائی کہ۔
    >بدر کے موقع پر جب کفار نے اسلامی لشکر کا جائزہ لینے کے لئے آدمی بھیجے تو انہوں نے آکر کہا کہ سواریوں پر ہمیں آدمی نظر نہیں آتے بلکہ موتیں نظر آتی ہیں ان سے نہیں لڑنا چاہئے ورنہ ہماری خیر نہیں ہے جب نوجوانوں میں ہمیں یہ روح نظر آجائے گی اور ہم دیکھیں گے کہ وہ اسلام کے لئے قربان ہونے کے منتظر بیٹھے ہیں اور پرتولے ہوئے اس بات کے منتظر ہیں کہ کفر کی چڑیا آے اور وہ اس پر جھپٹ پڑیں۔ اس دن ہم سمجھیں گے کہ تحریک جدید کا بورڈنگ بنانے کا جو مقصد تھا وہ حاصل ہوگیا<۔۱۶۲
    ویدک یونانی دواخانہ دہلی
    تحریک جدید کے قومی سرمایہ سے )زینت محل لال کنواں( دہلی میں >ویدک یونانی دواخانہ< قائم کیا گیا۔ دواخانہ جاری کرنے سے پہلے حضرت امیر المومنینؓ نے چند واقفین کو یونانی طب کی تعلیم دلائی اور خود بھی ویدک اور یونانی ادویہ سے متعلق قیمتی مشور دیئے۔۱۶۳
    حکیم عبدالمجید صاحب ہلالپوری` حکیم محمد اسمعیل صاحب فاضل اس میں کام کرتے رہے۔ دواخانہ کے پہلے ناظم قریشی مختار احمد صاحب دہلوی اور دوسرے مولوی نور الدین صاحب منیر تھے۔ یہ دواخانہ ۱۹۳۹ء تک جاری رہا۔
    ‏]bus [tagقرآنی مجید کا انگریزی ترجمہ
    تحریک جدید کی طرف سے ایک مناسب رقم انگریزی ترجمتہ القرآن کے لئے مخصوص کر دی گئی۔۱۶۴ اور اس کی ترتیب و تدوین کے لئے ۲۶۔ فروری ۱۹۳۶ء کو حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ انگلستان بھجوائے گئے۔ آپ ۹۔ نومبر ۱۹۳۸ء کو واپس قادیان تشریف لائے۔
    ۲۵ لاکھ کا ریزرو فنڈ
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے فرمایا کہ۔
    >میں نے آج سے کچھ سال پہلے ۲۵ لاکھ ریزرو فنڈ کی تحریک کی تھی۔ مگر وہ تو ایسا خواب رہا جو تشنہ تعبیر ہی رہا مگر اللہ تعالیٰ نے تحریک جدید کے ذریعہ اب پھر ایسے ریزرو فنڈ کے جمع کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا ہے اور ایسی جائدادوں پر یہ روپیہ لگایا جاچکا اور لگایا جارہا ہے جن کی مستقل آمد ۲۵۔ ۲۰ ہزار روپیہ سالانہ ہوسکتی ہے تا تبلیغ کے کام کو بجٹ کی کمی کی وجہ سے کوئی نقصان نہ پہنچے<۔۱۶۵
    یہ جائدادیں سندھ میں خرید کی گئیں جو حضور کا شاندار کارنامہ ہے۔ جون ۱۹۳۷ء سے محمد آباد اسٹیٹ میں تحریک جدید کی طرف سے باقاعدہ مرکزی دفتر کھول دیا گیا۔۱۶۶
    پہلا باب )فصل ہفتم(
    بیرونی ممالک میں تحریک جدید کی ابتدائی سرگرمیاں
    تحریک جدید کا ایک اہم مقصد
    تحریک جدید کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ احمدی تمام دنیا میں پھیل جائیں اور قریب سے قریب زمانہ میں دور سے دور علاقوں میں جاکر مراکز احمدیت قائم کر دیں۔ چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے انہی دنوں میں ارشاد فرمایا۔
    ‏]ybod >[tagچونکہ نشر و اشاعت کا زمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور یہ مقدر ہو چکا ہے کہ وہ دنیا کے تمام ممالک میں احمدیت پھیلائے۔ اس لئے اگر خدا تعالیٰ یہ بتا دیتا کہ احمدیت کی اشاعت کے لئے فلاں ملک موزوں ہے تو ہم سارے وہاں جاکر اکٹھے ہو جاتے اور باقی ممالک میں احمدیت پھیلانے سے غافل ہو جاتے۔ اس لئے آج خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں ہم جائیں اور دنیا میں گھوم کر وہ ملک تلاش کریں جو احمدیت کے لئے مثیل مدینہ کا کام دے اس مقصد کے ماتحت جب ہم دنیا کے تمام ممالک میں پھریں گے تو ہر ملک میں احمدیت کا بیج بوتے جائیں گے اس طرح خدا تعالیٰ کا یہ منشاء بھی پورا ہو جائے گا کہ دنیا کے تمام ممالک میں احمدیت پھیلے اور آخر ہمیں وہ مقام بھی نظر آجائے گا جسے ہم تلاش کرنے کے لئے نکلے ہوں گے<۔۱۶۷
    نیز ارشاد فرمایا۔
    >روحانی جماعتوں کو ہمیشہ مختلف ملکوں میں اپنی تبلیغ کو پھیلا دینا چاہئے تاکہ اگر ایک جگہ مخالفت ہو۔ تو دوسری جگہ اس کمی کو پورا کیا جارہا ہو۔ جس طرح وہ آدمی زیادہ فائدہ میں رہتا ہے جس کے کئی ملکوں میں کھیت ہوں تااگر ایک ملک میں ایک کھیت کو نقصان پہنچے تو دوسرے ملکوں کے کھیت اس کی تلافی کردیں اور اس کے ضرر کو مٹا دیں۔ اسی طرح وہی دینی جماعتیں فائدہ میں رہتی ہیں جو مختلف ممالک اور مختلف جگہوں میں پھیلی ہوئی ہوں کیونکہ انہیں کبھی کچلا نہیں جاسکتا۔ پس اگر ہماری جماعت کے لوگ ساری دنیا میں پھیل جائیں گے تو وہ خود بھی ترقیات حاصل کریں گے اور ان کی ترقیات سلسلہ پر بھی اثر انداز ہوں گی اور جس جماعت کی آواز ساری دنیا سے اٹھ سکتی ہو اس کی آواز سے لوگ ڈرا کرتے ہیں اور جس جماعت کے ہمدرد ساری دنیا میں موجود ہوں اس پر حملہ کرنے کی جرات آسانی سے نہیں کی جاسکتی۔ پس مت سمجھو کہ موجودہ خاموشی کے یہ معنی ہیں کہ تمہارے لئے فضا صاف ہوگئی۔ یہ خاموشی نہیں بلکہ آثار ایسے ہیں کہ پھر کئی شورشیں پیدا ہونے والی ہیں۔ اس لئے موجودہ خاموشی کے یہ معنے ہرگز مت سمجھو کہ تمہارا کام ختم ہوگیا۔ یہ فتنہ تو تمہیں بیدار کرنے کے لئے پیدا کیا گیا تھا۔ اور اگر تم اب پھر سو گئے تو یاد رکھو کہ اگلی سزا پہلے سے بہت زیادہ سخت ہوگی۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمہیں دنیا میں پھیلائے۔ اگر تم دنیا میں نہ پھیلے اور سو گئے تو وہ تمہیں گھسیٹ کر جگائے گا اور ہر دفعہ کا گھسیٹنا پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔ پس پھیل جائو دنیا میں` پھیل جائو مشرق میں` پھیل جائو مغرب میں` پھیل جائو شمال میں` پھیل جائو جنوب میں` پھیل جائو یورپ میں` پھیل جائو امریکہ میں` پھیل جائو افریقہ میں` پھیل جائو جزائر میں` پھیل جائو چین میں` پھیل جائو دنیا کے کونہ کونہ میں` یہاں تک کہ دنیا کا کوئی گوشہ` دنیا کا کوئی ملک` دنیا کا کوئی علاقہ ایسا نہ ہو جہاں تم نہ ہو۔ پس پھیل جائو جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم پھیلے۔ پھیل جائو جیسے قرون اولیٰ کے مسلمان پھیلے۔ تم جہاں جہاں جائو اپنی عزت کے ساتھ سلسلہ کی عزت قائم کرو۔ جہاں پھرو اپنی ترقی کے ساتھ سلسلہ کی ترقی کے موجب بنو۔ پس قریب سے قریب زمانہ میں دور سے دور علاقوں میں جاکر مراکز احمدیت قائم کرنا تحریک جدید کا ایک مقصد ہے<۔۱۶۸
    حضور انور نے تحریک جدید کے اس بنیادی مقصد کے پیش نظر وقف کی درخواستیں پیش کرنے والے خوش قسمت اصحاب میں سے چند نوجوانوں کو بیرونی ممالک میں بھجوانے کے لئے منتخب فرمایا۔ یہ مجاہدین )جن کو تحریک جدید کا ہرا دل دستہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا( حسب ذیل تھے۔
    مولوی غلام حسین صاحب ایاز` صوفی عبدالغفور صاحب` چودھری محمد اسحاق صاحب سیالکوٹی` صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز` حافظ مولوی عبدالغفور صاحب جالندھری` چودھری حاجی احمد خاں صاحب ایاز` محمد ابراہیم صاحب ناصر` ملک محمد شریف صاحب آف گجرات` مولوی رمضان علی صاحب` مولوی محمد دین صاحب۔
    ان نوجوانوں کے انتخاب کے دوران حضرت امیر المومنینؓ` حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ اور حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیالؓ سے بھی کئی دن مشورہ فرماتے رہے۔ اور ریلوے کا تھرڈ کلاس کرایہ` جہاز کا ڈیک کرایہ اور ان کے لئے چھ ماہ کا الائونس منظور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ چھ ماہ کے اندر اندر اپنے اخراجات تجارت یا کسی اور ذریعہ سے خود برداشت کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح واجبی اخراجات پر یہ مجاہدین۱۶۹ تحریک مختلف ممالک کو روانہ ہوگئے۱۷۰ جنہوں نے سنگاپور )ملایا`( ہانگ کانگ )چین`( جاپان` ہنگری` پولینڈ` سپین` اٹلی` جنوبی امریکہ` البانیہ اور یوگوسلاویہ میں نئے مشن قائم کر دیئے اور بعض پہلے مشنوں کے استحکام کا موجب بنے۔
    اس انتخاب کے وقت جن امور کا خیال رکھا گیا ان کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں۔
    >تحریک جدید کے پہلے مبلغین کے انتخاب کے وقت صرف یہ دیکھا جاتا تھا کہ جرات کے ساتھ کام کرنے کا مادہ ہو۔ لیاقت کا زیادہ خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ اس وقت ایسے آدمی کی ضرورت تھی جو دلیری کے ساتھ آگ میں اپنے آپ کو ڈال دینے والا ہو۔ چنانچہ ایسے لوگوں کو منتخب کرکے ہم نے بھیج دیا اور وہ مقصد حاصل بھی ہوگیا۔ ان میں سے بعض دینی علوم اور عربی سے بھی اچھی طرح واقف نہ تھے بلکہ بعض کا تقویٰ کا معیار بھی اتنا بلند نہ تھا۔ مگر اس وقت ہمیں صرف آواز پہنچانی تھی اور دشمن کو یہ بتانا تھا کہ ہمارے پاس ایسے نوجوان ہیں جو اپنا آرام و آسائش` اپنا وطن` عزیز و اقارب` بیوی بچوں` غرضکہ کسی چیز کی پروانہ کرتے ہوئے نکل جائیں گے۔ بھوکے پیاسے رہیں گے اور دین کی خدمت کریں گے ایسی قوم کو جس میں ایسے نوجوان ہوں مار دینا ناممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم نے یہ دکھا دیا۔ بعض نوجوان برائے نام گزارے لے کر اور بعض یونہی باہر چلے گئے۔ اور اس طرح ہمارا خرچ بارہ مشنوں پر قریباً ایک مشن )کے( برابر ہے<۔۱۷۱
    پھر فرمایا۔
    >جانی قربانی کے سلسلہ میں مبلغین کا ایک جتھا مختلف ممالک میں جاچکا ہے۔ لیکن وہ ایک ایسا جتھا تھا جس کی خاص طور پر تعلیم و تربیت نہیں کی گئی تھی۔ بہرحال اس کے ذریعہ ہمیں غیر ممالک کا اچھا خاصہ تجربہ ہو گیا ہے۔ اس جتھا کے افراد میں بعض کمزوریاں بھی معلوم ہوئی ہیں کیونکہ ان میں اکثر ایسے تھے جو دینی تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ اور اگر کسی کو دینی تعلیم تھی تو دنیوی تعلیم کے لحاظ سے وہ کمزور تھا۔ لیکن بہرحال یہ ایک مظاہرہ تھا جماعتی قربانی کا اور یہ ایک مظاہرہ تھا اس بات کا کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی آواز ان کے کانوں میں آئے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اعلاء کلمہ اسلام کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اس مظاہرہ کے ذریعہ دنیا کے سامنے ہماری جماعت کے نوجوانوں نے اپنے اخلاص کا نہایت شاندار نمونہ پیش کیا ہے<۔۱۷۲
    ‏tav.8.5
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    تحریک جدید کی بنیاد سے لے کر خلافت جوبلی تک
    تحریک جدید کے دو مجاہدوں کا قابل رشک مظاہرہ
    اس مقام پر ہم تحریک جدید کے دور اول کے دو مجاہدوں یعنی ولیداد خان صاحبؓ اور عدالت خان صاحبؓ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے جنہوں نے تبلیغ اسلام کی راہ میں جام شہادت نوش کیا۔
    چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
    >قریب ترین عرصہ میں ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں نے اپنے اخلاص کا نہایت قابل رشک مظاہرہ کیا ہے اور وہ یہ کہ ان پچیس تیس نوجوانوں میں سے جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں` ایک نوجوان تھوڑا ہی عرصہ ہوا غالباً پندرہ بیس دن یا مہینہ کی بات ہے کہ محض احمدیت کی تبلیغ کی وجہ سے اپنے علاقہ میں مارے گئے ہیں۔ اس نوجوان کا نام ولی داد خان تھا اور اس نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی تھی۔ افغانستان کے علاقہ میں ہم نے انہیں تبلیغ کے لئے بھجوایا تھا۔ کچھ طب بھی جانتے تھے اور معمولی امراض کے علاج کے لئے دوائیاں اپنے پاس رکھتے تھے۔ کچھ مدت تک ہم انہیں خرچ بھی دیتے رہے۔ مگر پھر ہم نے انہیں خرچ دینا بند کر دیا تھا۔ ان کی اپنی بھی یہی خواہش تھی اور میں نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا تھا کہ اس علاقہ میں طب شروع کر دیں اور آہستہ آہستہ جب لوگ مانوس ہو جائیں تو انہیں تبلیغ احمدیت کی جائے چنانچہ خدا تعالیٰ نے انہیں ایسے مواقع بہم پہنچا دیئے کہ انہوں نے اس علاقہ میں لوگوں کو تبلیغ کرنی شروع کردی۔ کھلی تبلیغ سے تو ہم نے خود انہیں روکا ہوا تھا کیونکہ یہ وہاں قانون کے خلاف ہے۔ آہستہ آہستہ وہ تبلیغ کیا کرتے اور لوگوں کو نصیحت کیا کرتے کہ جب کبھی پنجاب میں جایا کرو` تو قادیان بھی دیکھ آیا کرو۔ رفتہ رفتہ جب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ احمدی ہے تو انہوں نے گھر والوں پر زور دینا شروع کر دیا کہ تمہیں اس فتنہ کے انسداد کا کوئی خیال نہیں۔ تمہارے گھر میں کفر پیدا ہو گیا ہے اور تم اس سے غافل ہو۔ چنانچہ انہیں اس قدر برانگیختہ کیا گیا کہ وہ قتل کے درپے ہو گئے۔ مولوی ولیداد خاں چند دن پہلے ہندوستان میں بعض دوائیاں خریدنے کے لئے آئے ہوئے تھے جب دوائیاں خرید کر اپنے علاقہ کی طرف گئے تو انہی کے چچا زاد بھائی اور سالہ نے ان پر گولیوں کے متواتر تین چار فائر کرکے انہیں شہید کردیا۔
    اسی طرح ایک اور نوجوان جو اس تحریک کے ماتحت چین میں گئے تھے وہ بھی فوت ہو گئے ہیں اور گو ان کی وفات طبعی طور پر ہوئی مگر ایسے رنگ میں ہوئی ہے کہ وہ موت بھی اپنے اندر شہادت کا رنگ رکھتی ہے۔ چنانچہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا مجھے ایسے حالات معلوم ہوئے جس سے پتہ لگتا ہے کہ واقعہ میں اس کی موت معمولی موت نہیں بلکہ شہادت کا رنگ لئے ہوئے ہے۔ اس نوجوان نے بھی ایسا اخلاص دکھایا جو نہایت قابل قدر ہے۔
    سب سے پہلے ۱۹۳۴ء میں جب میں نے یہ تحریک کی اور اعلان کیا کہ نوجوانوں کو غیر ممالک میں نکل جانا چاہئے تو یہ نوجوان جو عالباً دینیات کی متفرق کلاس میں پڑھتا تھا اور عدالت خاں اس کا نام تھا تحصیل خوشاب ضلع شاہ پور کا رہنے والا تھا۔ میری اس تحریک پر بغیر اطلاع دیئے کہیں چلا گیا۔ قادیان کے لوگوں نے خیال کرلیا کہ جس طرح طالب علم بعض دفعہ پڑھائی سے دل برداشتہ ہوکر بھاگ جایا کرتے ہیں اسی طرح وہ بھی بھاگ گیا ہے۔ مگر دراصل وہ میری اس تحریک پر ہی باہر گیا تھا مگر اس کا اس نے کسی سے ذکر تک نہ کیا۔ چونکہ ہمارے ہاں عام طور پر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدؓ اور دوسرے شہداء کا ذکر ہوتا رہتا ہے اس لئے اسے یہی خیال آیا کہ میں بھی افغانستان جائوں اور لوگوں کو تبلیغ کروں۔ اسے یہ بھی علم نہیں تھا کہ غیر ممالک میں جانے کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اسے پاسپورٹ مہیا کرنے کے ذرائع کا علم تھا۔ وہ بغیر پاسپورٹ لئے نکل کھڑا ہوا اور افغانستان کی طرف چل پڑا۔۱۷۳ جب افغانستان میں داخل ہوا تو چونکہ وہ بغیر پاسپورٹ کے تھا اس لئے حکومت نے اسے گرفتار کرلیا اور پوچھا کہ پاسپورٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ پاسپورٹ تو میرے پاس کوئی نہیں۔ انہوں نے اسے قید کردیا۔ مگر جیل خانہ میں بھی اس نے قیدیوں کو تبلیغ کرنی شروع کردی۔ کوئی مہینہ بھر ہی وہاں رہا ہوگا کہ افسروں نے رپورٹ کی کہ اسے رہا کردینا چاہئے ورنہ یہ قیدیوں کو احمدی بنالے گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کو ہندوستان کی سرحد پر لاکر چھوڑ دیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے مجھے اطلاع دی کہ میں آپ کی تحریک پر افغانستان گیا تھا اور وہاں میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ اب آپ بتائیں کہ میں کیا کروں۔ میں نے اسے کہا کہ تم چین میں چلے جائو۔ چنانچہ وہ چین گیا اور چلتے وقت اس نے ایک اور لڑکے کو بھی جس کا نام محمد رفیق ہے اور ضلع ہوشیارپور کا رہنے والا ہے تحریک کی کہ وہ ساتھ چلے۔ چنانچہ وہ بھی ساتھ تیار ہوگیا۔ اس کے چونکہ رشتہ دار موجود تھے اور بعض ذرائع بھی اسے میسر تھے اس لئے اس نے کوشش کی اور اسے پاسپورٹ مل گیا۔ جس وقت یہ دونوں کشمیر پہنچے تو محمدرفیق تو آگے چلا گیا مگر عدالت خاں کو پاسپورٹ کی وجہ سے روک لیا گیا اور بعد میں گائوں والوں کی مخالفت اور راہداری کی تصدیق نہ ہوسکنے کی وجہ سے وہ کشمیر میں ہی رہ گیا اور وہاں اس انتظار میں بیٹھا رہا کہ اگر مجھے موقع ملے تو میں نظر بچا کر چین چلا جائوں گا۔ مگر چونکہ سردیوں کا موسم تھا اور سامان اس کے پاس بہت کم تھا اس لئے کشمیر میں اسے ڈبل نمونیہ ہوگیا اور دو دن بعد فوت ہوگیا۔
    ابھی کشمیر سے چند دوست آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے عدالت خاں کا ایک عجیب واقعہ سنایا جسے سن کر رشک پیدا ہوتا ہے کہ احمدیت کی صداقت کے متعلق اسے کتنا یقین اور وثوق تھا- وہ ایک گائوں میں بیمار ہوا تھا جہاں کوئی علاج میسر نہ تھا۔ جب اس کی حالت بالکل خراب ہوگئی تو ان دوستوں نے سنایا کہ وہ ہمیں کہنے لگا کہ کسی غیر احمدی کو تیار کرو جو احمدیت کی صداقت کے متعلق مجھ سے مباہلہ کرلے۔ اگر کوئی ایسا غیر احمدی تمہیں مل گیا تو میں بچ جائوں گا اور اسے تبلیغ بھی ہو جائے گی ورنہ میرے بچنے کی اور کوئی صورت نہیں۔ شدید بیماری کی حالت میں یہ یقین اور وثوق بہت ہی کم لوگوں کو میسر ہوتا ہے کیونکہ ننانوے فیصدی اس بیماری سے مر جاتے ہیں۔ اور بعض تو چند گھنٹوں کے اندر ہی وفات پاجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ایسی خطرناک حالت میں جبکہ اس کی یقینی موت کا ننانوے فیصدی یقین کیا جاسکتا تھا` اس نے اپنا علاج یہی سمجھا کہ کسی غیر احمدی سے مباہلہ ہوجائے اور اس نے کہا کہ اگر مباہلہ ہوگیا تو یقیناً خدا مجھے شفا دیگا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ میں اس مرض سے مر جائوں۔ بہرحال اس واقعہ سے اس کا اخلاص ظاہر ہے۔ اسی طرح اس کی دور اندیشی بھی ثابت ہے کیونکہ اس نے ایک اور نوجوان کو خود ہی تحریک کی کہ میرے ساتھ چلو اور وہ تیار ہوگیا۔ اس طرح گو عدالت خاں فوت ہو گیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے بیج کو ضائع نہیں کیا بلکہ ایک دوسرے شخص نے جسے وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا` احمدیت کے جھنڈے کو پکڑ کر آگے بڑھنا شروع کر دیا اور مشرقی شہر کاشغر میں پہنچ گیا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کے ایک دوست کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرما دی۔ حاجی جنود اللہ صاحب ان کا نام ہے۔ وہ اسی تبلیغ کے نتیجہ میں قادیان آئے اور تحقیق کرکے احمدیت میں شامل ہوگئے۔ پھر کچھ عرصہ بعد حاجی جنود اللہ صاحب کی والدہ اور ہمشیرہ بھی احمدی ہو گئیں اور اب تو وہ قادیان ہی آئے ہوئے ہیں۔ تو عدالت خاں کی قربانی رائیگاں نہیں گئی بلکہ احمدیت کو اس علاقہ میں پھیلانے کا موجب بن گئی۔
    یہ ایسا علاقہ ہے جس میں احمدیت کی اشاعت کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ایسے ایسے خطرناک اور دشوار گزار رستے ہیں کہ ان کو عبور کرنا ہی بڑی ہمت کا کام ہے۔ حاجی جنود اللہ صاحب کی والدہ نے بتایا کہ رستہ میں ایک مقام پر وہ تین دن تک برف پر گھٹنوں کے بل چلتی رہیں۔ ایسے سخت رستوں کو عبور کرکے ہماری جماعت کے ایک نوجوان کا اس علاقہ میں پہنچنا اور لوگوں کو تبلیغ کرنا بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔
    تو تحریک جدید کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے عدالت خاں کو پہلے یہ توفیق دی کہ وہ افغانستان جائے چنانچہ وہ افغانستان میں کچھ عرصہ رہا اور جب واپس آیا تو میری تحریک پر وہ چین کے لئے روانہ ہوگیا اور خود ہی ایک اور نوجوان کو اپنے ساتھ شامل کرلیا۔ راستہ میں عدالت خاں کو خدا تعالیٰ نے شہادت کی موت دے دی۔ مگر اس کے دوسرے ساتھی کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ آگے بڑھے اور مشرقی ترکستان میں جماعت احمدیہ قائم کردے۔ یہ دو واقعات شہادت بتاتے ہیں کہ گو یہ اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہوئے مگر ان کی کوششیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول تھیں۔ چنانچہ ان دو آدمیوں میں سے ایک کو تو اللہ تعالیٰ نے عملی رنگ میں شہادت دے دی اور دوسرے کی وفات ایسے رنگ میں ہوئی جو شہادت کے ہم رنگ ہے<۔۱۷۴
    تحریک جدیدکے پہلے تین سالہ دورکے شاندارنتائج پرایک نظر
    سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں۔:
    >تحریک جدید کے پہلے دور میں احباب نے غیر معمولی کام کیا۔ اور ہم اسے فخر کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں۔ مورخ آئیں گے جو اس امر کا تذکرہ کریں گے کہ جماعت نے ایسی حیرت انگیز قربانی کی کہ جس کی مثال نہیں ملتی<۔۱۷۵
    حضرت امیر المومنینؓ نے اس اجمال کی تفصیل مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمائی۔
    >۱۹۳۴ء کے آخر میں جماعت میں جو بیداری ہوئی اس کے نتیجہ میں جماعت نے ایسی غیر معمولی قربانی کی روح پیش کی جس کی نظیر اعلیٰ درجہ کی زندہ قوموں میں بھی مشکل سے مل سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔ تحریک جدید کے پہلے دور میں احباب نے غیر معمولی کام کیا اور ہم اسے فخر کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں۔ مورخ آئیں گے جو اس امر کا تذکرہ کریں گے کہ جماعت نے ایسی حیرت انگیز قربانی کی کہ جس کی مثال نہیں ملتی اور اس کے نتائج بھی ظاہر ہیں۔ حکومت کے اس عنصر کو جو ہمیں مٹانے کے درپے تھا متواتر ذلت ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور احرار کو تو اللہ تعالیٰ نے ایسا ذلیل کیا ہے کہ اب وہ مسلمانوں کے سٹیج پر کھڑے ہونے کی جرات نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے سب دشمنوں کو ایسی سخت شکست دی ہے کہ حکام نے خود اس کو تسلیم کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔<
    >اس کے علاوہ جو جماعت میں تبدیلی ہوئی وہ بہت ہی شاندار ہے۔ ہماری جماعت لاکھوں کی تعداد میں ہے جس میں امیر غریب ہر طبقہ کے لوگ ہیں۔ بعض ان میں سے ایسے ہیں جن کو سات سات اور آٹھ آٹھ کھانے کھانے کی ¶عادت تھی اور جن کے دستر خوان پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک کھانے ہی کھانے پڑے ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر تحریک جدید کے ماتحت سب نے ایک ہی کھانا کھانا شروع کردیا اور نہ صرف احمدیوں نے بلکہ بیسیوں بلکہ سینکڑوں غیر احمدیوں نے بھی اس طریق کو اختیار کرلیا۔ میری ایک ہمشیرہ شملہ گئی تھیں انہوں نے بتایا کہ وہاں بہت سے رئوساء کی بیویوں نے مانگ مانگ کر تحریک جدید کی کاپیاں لیں اور کہا کہ کھانے کے متعلق ان کی ہدایات بہت اعلیٰ ہیں۔ ہم انہیں اپنے گھروں میں رائج کریں گے۔ ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ بعض غیر احمدیوں کے ساتھ ایک میس میں شریک تھے۔ تحریک جدید کے بعد جب انہوں نے دوسرا کھانا کھانے سے احتراز کیا اور دوسرے ساتھیوں کے پوچھنے پر اس کی وجہ ان کو بتائی تو انہوں نے بھی وعدہ کیا کہ یہ بہت اچھی تحریک ہے ہم بھی آئندہ اس پر عمل کریں گے۔
    پھر میں نے سنیما کی ممانعت کی تھی۔ اس بات کو ہمارے زمیندار دوست نہیں سمجھ سکتے کہ شہریوں کے لئے اس ہدایت پر عمل کرنا کتنا مشکل ہے۔ شہر والے ہی اسے سمجھ سکتے ہیں۔ ان میں سے بعض کے لئے سنیما کو چھوڑنا ایسا ہی مشکل تھا جیسے موت قبول کرنا جن کو سنیما جانے کی عادت ہو جاتی ہے وہ اسے زندگی کا جزو سمجھتے ہیں۔ مگر ادھر میں نے مطالبہ کیا کہ اسے چھوڑ دو اور ادھر ننانوے فیصدی لوگوں نے اسے چھوڑ دیا اور پھر نہایت دیانتداری سے اس عہد کو نباہا اور عورت مرد سب نے اس پر ایسا عمل کیا کہ جو دنیا کے لئے رشک کا موجب ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں اس سے لاکھوں روپیہ بچ گیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس سے جو وقت بچا اس کی قیمت کا اندازہ کرو ۔۔۔۔۔۔۔ یہ مطالبہ معمولی نہ تھا۔ لیکن جماعت نے اسے سنا اور پورا کر دیا اور اس سے فوائد بھی حاصل کئے۔ اس کے علاوہ کون نہیں جانتا کہ عورت کپڑوں پر مرتی ہے مگر ہزارہا عورتوں نے دیانتداری سے لباس میں سادگی پیدا کرنے کے حکم پر عمل کیا۔ یہ باتیں انفرادی قربانی اور قومی فتح کا ایک ایسا شاندار نمونہ ہیں جس کی مثال کم ملتی ہے۔ یہ قربانی معمولی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ کی قربانی ہے اور دیکھنے والی آنکھ کے لئے اس میں فتوحات کا لمبا سلسلہ ہے۔
    پھر کتنے نئے ممالک میں احمدیت روشناس ہوئی۔ کم سے کم دس پندرہ ممالک ایسے ہیں۔ کئی علاقوں میں گو احمدیت پہلے سے تھی مگر تحریک جدید کی جدوجہد کے نتیجہ میں اس کا اثر پہلے سے بہت وسیع ہوگیا ہے۔
    اس کے علاوہ ایک نتیجہ یہ نکلا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا نے محسوس کرلیا کہ جماعت احمدیہ صرف مسلمانوں کے لشکر کا ایک بازو ہی نہیں ہے بلکہ وہ اپنی منفردانہ حیثیت بھی رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے خود اپنے پائوں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔ پہلے ہماری اس حیثیت سے دنیا واقف نہ تھی تحریک جدید کے نتیجہ میں ہی وہ اس سے آشنا ہوئی۔ مگر یہ سب فتوحات جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں حاصل ہوئیں۔ ہمارا مقصد نہیں ہمارا مقصد ان سے بہت بالا ہے اور اس میں کامیابی کے لئے ابھی بہت قربانیوں کی ضرورت ہے<۔۱۷۶
    ‏sub] ga[tبعض ابتدائی تلخ تجربے
    مگر ان شاندار نتائج کے ساتھ کچھ تلخ تجربات بھی ہوئے چنانچہ حضورؓ نے فرمایا۔
    >ہم نے کئی نئے تجربے کئے ہیں۔ کئی نئے مشن قائم کئے گئے اور یہ نیا تجربہ تھا۔ میں نے تحریک کی تھی کہ نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں اور باہر نکل جائیں اور یہ بھی نیا تجربہ تھا۔ دوست اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور یہ بھی نیا تجربہ تھا۔ پھر صنعتی اداروں کا اجراء بھی نیا تجربہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ان سب میں کم و بیش کامیابی ہوئی۔ سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں اور بیسیوں باہر نکل گئے۔ کوئی کہیں چلا گیا کوئی کہیں۔ بعض تین تین سال سے بمبئی اور کراچی میں بیٹھے ہیں۔ وہ کسی بیرونی ملک میں جانے کے ارادہ سے گھروں سے نکلے تھے۔ لیکن چونکہ اب تک کوئی صورت نہیں بن سکی اس لئے ابھی تک اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے والدین چٹھیاں لکھتے ہیں۔ مجھ سے بھی سفارشیں کراتے ہیں۔ مگر وہ یہی التجا کرتے ہیں کہ جو ارادہ ایک دفعہ کرلیا۔ اب اسے پورا کرنے کی اجازت دی جائے۔ بعض ان میں سے اتنی چھوٹی عمر کے ہیں کہ ابھی داڑھی مونچھ تک نہیں نکلی مگر اس راہ میں وہ ٹوکری تک اٹھاتے ہیں۔ پھر بعض نوجوان بیرونی ممالک میں پہنچ گئے ہیں اور وہاں بھی کئی نئے تجربے ہمیں حاصل ہوئے ہیں۔ آپ لوگوں کو معلوم ہوگا کہ میں نے کہا تھا کہ ہم نے اپنے لئے مدنی طبع لوگوں کی تلاش کرنی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں اب تک مختلف ممالک میں قریباً پندرہ مشن ہمارے قائم ہوچکے ہیں۔ امریکہ` اٹلی` ہنگری` پولینڈ` یوگوسلاویہ` )یہ مشن البانیہ کے لئے ہے۔ لیکن چونکہ البانوی حکومت نے ہمارے مبلغ کو نکال دیا تھا` وہ وہاں کام کررہا ہے( فلسطین` جاوا` سٹریٹ سیٹلمنٹ` جاپان` چین` افریقہ۔ ان میں کئی مبلغ ایسے ہیں جو ہمارے خرچ پر گئے ہیں۔ کئی اپنے خرچ پر گئے ہیں۔ بعض تجارتوں کے ذریعہ سے اچھے گزارے کررہے ہیں اور بہت خوش ہیں۔ بعض ابھی مشکلات میں ہیں اور مختلف ممالک کے متعلق بھی ہمیں نئے تجربے ہوئے ہیں۔ مشرقی ممالک میں سوائے جاوا` سماٹرا` اور سٹریٹ سیٹلمنٹ کے ہمیں ابھی کامیابی نہیں ہوئی۔ چین اور جاپان میں ابھی تک بالکل کامیابی نہیں ہوئی- بلکہ تازہ اطلاع جو آج ہی بذریعہ تار مجھے ملی ہے یہ ہے کہ جاپانی گورنمنٹ نے صوفی عبدالقدیر صاحب کو قید کرلیا ہے اور ضمناً میں ان کے لئے دعا کی تحریک بھی کرتا ہوں۔ اس کے متعلق ہم اب تحقیقات کرائیں گے کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ لیکن بہرحال چوتھے سال کے ابتداء میں یہ واقعہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کا انذار ہے کہ سب حالات پر غور کرکے ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس قسم کی مشکلات بھی تبلیغ کے رستہ میں حائل ہوں گی۔
    صوفی عبدالقدیر صاحب تحریک جدید کے تجارتی صیغہ کے نمائندہ تھے۔ گویا وہ باقاعدہ مبلغ نہیں تھے اور ابھی زبان ہی سیکھ رہے تھے اور اب تو ان کی واپسی کا حکم بھی جاری ہوچکا تھا کیونکہ دوسرے مبلغ یعنی مولوی عبدالغفور صاحب برادر مولوی ابوالعطاء صاحب وہاں جاچکے ہیں۔ تو تجارتی اغراض کے ماتحت جانے والے ایک احمدی کے لئے جب اس قدر مشکلات ہیں تو تبلیغ کے لئے جانے والوں کے لئے کس قدر ہوں گی۔ جہاں تک معلوم ہوسکا ہے ان پر الزام یہ لگایا گیا ہے کہ وہ جاپانی گورنمنٹ کے مخالف ہیں۔ اور یہ بھی ہمارے لئے ایک نیا تجربہ ہے۔ انگریز ہمیں کہتے ہیں کہ تم ہمارے خلاف ہو اور دوسری حکومتیں یہ کہتی ہیں کہ تم انگریزوں کے خیر خواہ ہو۔
    بہرحال یہ سب نئے تجربے ہیں جو ہمیں حاصل ہورہے ہیں اور ان سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کس کس قسم کی رکاوٹیں ہمارے رستہ میں پیدا ہونے والی ہیں۔ پھر ایک نیا تجربہ یہ ہوا ہے کہ امریکن گورنمنٹ نے ہمارے مبلغ محمد ابراہیم صاحب ناصر کو اس بناء پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی کہ وہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے قائل ہیں تو ہمیں ان مبلغوں کے ذریعہ سے نئی نئی مشکلات کا علم ہوا ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہیں جن سے جماعت کے اندر بیداری پیدا ہوئی ہے۔ سادہ زندگی ہے۔ سنیما تھیڑوں وغیرہ کی ممانعت ہے۔ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا حکم ہے۔ اس سے قوم میں نئی روح پیدا ہوتی ہے<۔۱۷۷
    ‏head1] [tag۱۹۳۸ء کے پہلے فارم وقف زندگی کا نمونہ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
    و علی عبدہ المسیح الموعود
    فارم معاہدہ وقف زندگی
    میں اپنی ساری زندگی برضاء و رغبت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بغیر کسی قسم کی شرط کے وقف کرتا ہوں۔ اور دفتر تحریک جدید سے مندرجہ ذیل عہد کرتا ہوں۔
    ۱۔
    اس عرصہ میں اگر میرے گزارہ کے لئے کوئی رقم مقرر کی جائے گی تو اسے انعام شمار کرتے ہوئے قبول کروں گا۔ اور کسی رقم کو بطور اپنے حق کے شمار نہیں کروں گا۔
    ۲۔
    اس عرصہ میں جو صورت میری ٹریننگ کے لئے دفتر تحریک جدید کی طرف سے تجویز کی جاوے گی اس کی پورے طور پر پابندی کروں گا۔
    ۳۔
    کسی ادنیٰ سے ادنیٰ کام سے بھی جو میرے لئے تجویز کیا جاوے گا رو گردانی نہ کروں گا۔ بلکہ نہایت خندہ پیشانی اور اپنی پوری کوشش سے سرانجام دوں گا۔
    ۴۔
    اگر میرے لئے بیرون ہند کوئی کام سپرد کیا جائے تو بخوشی اسے سرانجام دوں گا۔
    ۵۔
    اگر میرے وقف کردہ عرصہ کے اندر دفتر تحریک جدید مجھے علیحدہ کردے تو اس میں مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ لیکن مجھے یہ اختیار نہ ہوگا عرصہ معہودہ میں اپنی مرضی سے اپنے آپ کو ان فرائض سے علیحدہ کرسکوں جو میرے سپرد کئے گئے ہوں۔
    ۶۔
    جس شخص کے ماتحت مجھے کام کرنے کے لئے کہا جائے گا اس کی کامل تابعداری کروں گا۔
    دستخط ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    تاریخ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    نام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    مکمل پتہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    میرے کوائف حسب ذیل ہیں۔
    ۱۔
    عمر
    ۲۔
    تعلیم دینوی و دینی
    ۳۔
    کون کونسی زبانوں سے واقف ہیں اور ان زبانوں کی تحریر و تقریر کس حد تک مہارت ہے؟
    ۴۔
    شادی شدہ ہیں یا بغیر شادی شدہ۔
    ۵۔
    کیا اپنے حالات کے ماتحت مستقل طور پر کسی بیرون ہند ملک میں رہائش کرسکتے ہیں؟
    ۶۔
    دیگر متفرق ضروری حالات۔
    نوٹ۔ زائد امور کو فارم ہذا کی پشت پر بھی درج کیا جاسکتا ہے۔
    موجودہ فارم معاہدہ وقف زندگی کا نمونہ
    ‏c] g[taبسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
    و علیٰ عبدہ المسیح الموعود
    میں اپنی ساری زندگی برضا و رغبت محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بغیر کسی قسم کی شرط کے وقف کرتا ہوں۔
    )۱(
    میں ہر قسم کی خدمت کو جو میرے لئے تجویز کی جائے گی بغیر کسی معاوضہ کے ان ہدایات کے مطابق بجا لائوں گا جو میرے لئے تجویز ہوں گی۔
    )۲(
    میں کسی وقت بھی نظام سلسلہ کے خلاف عملاً یا قولاً کوئی حرکت نہیں کروں گا۔ بلکہ ہمیشہ جملہ ہدایات مرکزیہ کی پابندی کروں گا۔ اسی طرح نظام وقف تحریک جدید کا بھی پورا احترام کروں گا۔ اور لفظاً اور معناً اس کی اتباع کروں گا۔
    )۳(
    اگر میرے لئے یا میرے اہل و عیال کے گزارہ کے لئے کوئی رقم دفتر تحریک جدید کی طرف سے منظور کی جائے گی تو اسے بطور اپنے حق کے شمار نہیں کروں گا۔ بلکہ اسے انعام سمجھتے ہوئے قبول کروں گا۔
    )۴(
    جو صورت میری تعلیم یا تربیت کے لئے تجویز کی جائے گی اس کی پورے طور پر پابندی کروں گا۔
    )۵(
    کسی ادنیٰ سے ادنیٰ کام سے بھی جو میرے لئے تجویز کیا جائے گا روگردانی نہیں کروں گا۔ بلکہ نہایت خندہ پیشانی اور پوری کوشش سے سرانجام دوں گا۔
    )۶(
    اگر میرے لئے کسی وقت کوئی سزا تجویز کی جائے گی تو بلا چون و چرا اور بلاعذر اسے برداشت کروں گا۔
    )۷(
    جب مجھے تحریک جدید کی طرف سے خواہ اندرون پاکستان یا بیرون پاکستان جہاں بھی مقرر کیا جائے گا وہاں بخوشی دفتر کی ہدایات کے مطابق کام کروں گا۔
    )۸(
    اگر کسی وقت مجھے کسی وجہ سے وقف سے علیحدہ کیا جائے گا تو اس میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن مجھے یہ اختیار نہ ہوگا کہ کسی وقت بھی اپنی مرضی سے اپنے آپ کو ان فرائض سے علیحدہ کرسکوں جو میرے سپرد کئے گئے ہوں گے۔
    )۹(
    میں ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں۔ خواہ وہ مالی ہو یا جانی ہو۔ عزت کی ہو یا جذبات کی ہو۔
    )۱۰(
    جس شخص کے ماتحت مجھے کام کرنے کے لئے کہا جائے گا اس کی کامل تابعداری کروں گا۔
    )۱۱(
    میں نے فارم معاہدہ وقف زندگی کی جملہ شرائط کو خوب سوچ کر اور ان کی پابندی کا پورا عزم کرکے پر کیا ہے۔
    نام
    دستخط مکمل پتہ
    تاریخ
    فارم کوائف
    ۱۔
    نام اور مکمل پتہ۔
    ۲۔
    تاریخ پیدائش۔
    ۳۔
    والد صاحب کا نام اور مکمل پتہ۔
    ۴۔
    سرپرست کا نام اور مکمل پتہ۔
    ۵۔
    تعلیم کیا ہے؟ کون کون سے امتحان کن مضامین میں` کس کس ڈویژن میں پاس کئے ہیں۔ نمبر حاصل کردہ۔
    ۶۔
    اگر تعلیم جاری ہے تو کس کلاس میں پڑھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کس سکول یا کالج میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۷۔
    کن مضامین میں زیادہ دلچسپی ہے۔
    ۸۔
    دینی معلومات کس قدر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ دینیات اور سلسلہ کی کون کونسی کتب پڑھی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۹۔
    کیا پیدائشی احمدی ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر نہیں تو تاریخ بیعت لکھیں۔
    ۱۰۔
    مجرد ہیں یا شادی شدہ؟
    ۱۱۔
    اگر شادی شدہ ہیں تو کتنے بچے ہیں۔ ان کی عمریں کیا کیا ہیں۔
    ۱۲۔
    پیشہ کیا ہے؟
    ۱۳۔
    اصل وطن کونسا ہے؟
    ۱۴۔
    موجودہ مستقل رہائش کہاں ہے اور کتنے عرصہ سے۔
    ۱۵۔
    گزارہ کی موجودہ صورت کیا ہے۔ اپنی/ والد یا سرپرست کی۔
    ۱۶۔
    والد یا سرپرست کی ماہوار آمد کتنی ہے؟
    ۱۷۔
    اگر خود برسر روزگار ہیں تو ماہوار آمد کتنی ہے؟
    ۱۸۔
    ملازمت کی صورت میں کس قسم کے کام کا تجربہ ہے؟
    ۱۹۔
    ملازمت کے علاوہ کس کام کا تجربہ ہے۔ صنعت کاروبار وغیرہ )تفصیل لکھیں(
    ۲۰۔
    کیا کبھی تقریر کرنے کا موقع ملا ہے؟
    ۲۱۔
    طبیعت کا ذاتی رجحان کس طرف ہے۔ جیسے زمینداری` تبلیغی` دفتری کام` تجارت وغیرہ۔
    ۲۲۔
    کس مجلس خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ سے تعلق ہے؟
    ۲۳۔
    کیا کسی مجلس کا کوئی عہدہ آپ کے سپرد تھا؟
    ۲۴۔
    عام صحت کیسی رہتی ہے؟
    ۲۵۔
    امیر جماعت یا پریذیڈنٹ کا مکمل پتہ۔
    ۲۶۔
    اپنے خاندان کے چند معروف احمدی احباب کے نام و پتہ لکھیں۔ ان سے کیا رشتہ ہے؟
    ۲۷۔
    کیا کبھی قادیان یا ربوہ میں قیام رہا ہے؟
    )ا(
    کب اور کتنے عرصے کے لئے۔
    )ب(
    کس سلسلہ میں۔
    ۲۸۔
    انگریزی یا عربی یا کوئی غیر ملکی زبان جانتے ہو؟ کس حد تک۔
    ۲۹۔
    کیا مضامین لکھتے رہے ہیں۔ کس زبان میں۔ کس قسم کے موضوع پر؟
    ۳۰۔
    کیا کبھی کسی غیر ملک میں قیام رہا ہے۔ کتنا عرصہ ۔۔۔۔۔ کس غرض کے لئے؟
    ۳۱۔
    کوئی خاص قابل ذکر امر۔
    دستخط تاریخ][ نام و مکمل پتہ
    مجاہدین بیرون ہند کے لئے ضروری ہدایات کی نقل
    >۱۔
    ہفتہ وار مکمل رپورٹ ڈائری کی صورت میں بلاناغہ بھیجا کریں۔ کہ یہ بھی ان کے فریضہ کا ایک ضروری حصہ ہے۔ ہر روز سونے سے پیشتر صبح سے شام تک کے حالات کو اپنی ڈائری میں درج کرلیا کریں۔ ڈائری اور رپورٹ باقاعدہ نہ بھیجنے سے ان کا نام واقفین کی لسٹ سے کاٹا بھی جاسکتا ہے۔
    ۲۔
    ہر قسم کی معلومات دینی ہوں۔ دینوی ہوں۔ سیاسی ہوں۔ اقتصادی ہوں۔ مرکز کو بھجواتے رہیں۔
    ‏]ni [tag۳۔
    تبلیغ کے قیمتی مواقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
    ۴۔
    جو لوگ احمدی ہوں ان کا تعلق مرکز سے مضبوط کیا جاوے۔ اور ان کو باقاعدہ اور باشرح چندہ دینے والا بنایا جائے۔
    ۵۔
    شائع شدہ لٹریچر کو نہایت احتیاط سے تقسیم کیا جائے اور مضامین کی ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے۔
    ۶۔
    ہندوستان کے احمدیوں اور مقامی احمدیوں میں باہمی تجارتی تعلقات کو قائم کیا جاوے۔
    ۷۔
    کوشش کریں کہ جلد از جلد اپنے اخراجات کا بوجھ خود اٹھانے کے قابل ہو جائیں۔ تاکہ مرکز ان کے خرچ سے بے نیاز ہوکر دوسرے ممالک میں مشن قائم کرسکے اور کام کو اور وسیع کیا جائے۔
    ۸۔
    جس قدر رقم چندوں میں وصول ہو۔ اس کا ۴/۳ مقامی اخراجات پر باقاعدہ طریق پر خرچ ہوسکے گا۔ جس کے لئے مرکز سے بجٹ کی منظوری حاصل کرنی ضروری ہوگی۔ باقی ۴/۱ حصہ مرکز میں بھجوانا ضروری ہوگا۔ تاکہ اس ملک کے لوگ دوسرے ممالک میں تبلیغ کے وسیع کام میں شامل ہوکر ثواب حاصل کرسکیں<۔ )مطالبات تحریک جدید صفحہ ۵۷۔ ۵۶(
    نقل فارم وقف جائیداد و آمد
    ‏]bus [tagمعاہدہ وقف جائیداد
    میں اپنی جائیداد اسلام اور احمدیت کی ضرورت کے لئے وقف کرتا ہوں۔ اور عہد کرتا ہوں کہ مطالبہ کے وقت وقف شدہ جائیداد میں سے جو جائیداد موجود ہوگی۔ اس پر جو حصہ رسدی مطلوبہ رقم بموجب ہدایات دفتر تحریک جدید۔ میرے ذمہ ڈالی جائے گی اسے ادا کردوں گا۔ میری وقف شدہ جائیداد کی موجودہ قیمت اندازاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روپے ہے۔
    نوٹ۔ مکان اور زمین کی صورت میں یہ بھی لکھیں کہ کہاں واقع ہے۔ زیور کی صورت میں وزن بھی لکھیں۔
    تفصیل جائیداد وقف شدہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    )مطالبات تحریک جدید صفحہ ۱۵۲
    نقل معاہدہ وقف آمد
    معاہدہ وقف آمد
    میں اپنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہ کی آمد اسلام اور احمدیت کی ضرورت کے لئے وقف کرتا ہوں۔ اور عہد کرتا ہوں کہ مطالبہ کے وقت جو ماہوار آمد ہوگی اس کے حساب سے جو حصہ رسدی مطلوبہ رقم ہو حسب ہدایت دفتر تحریک جدید میرے ذمہ ڈالی جائے گی۔ میں اسے ادا کردوں گا۔ میری موجودہ ماہوار آمد بعد وضع وصیت و ٹیکس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روپے ہے۔
    نوٹ۔ دو ماہ سے زائد آمد کا وقف قبول نہیں کیا جائے گا۔
    تاریخ باقی تفصیل فارم کی پشت پر لکھیں۔
    دستخظ: نام مع ولدیت:
    موجودہ پتہ:
    مستقل پتہ:
    )مطالبات تحریک جدید صفحہ ۱۵۳(
    پہلا باب )فصل ہشتم(
    تحریک جدید کا دوسرا )ہفت سالہ( دور
    ۲۶۔ نومبر ۱۹۳۷ء کو تحریک جدید کا دوسرا ہفتہ سالہ دور شروع ہوا جو اپریل ۱۹۴۴ء تک جاری رہا۔
    یہ دس سالہ دور )جو ۱۹۳۴ء سے شروع ہوا اور >دفتر اول<۱۷۸ کے نام سے موسوم کیا گیا( متعدد خصوصیات کا حامل تھا مثلاً چندہ تحریک جدید میں تخفیف` نئے مطالبات کا اضافہ` مستقل وقف زندگی کی تحریک` واقفین کی باقاعدہ ٹریننگ` سنیما کی مستقل ممانعت` دیہاتی مبلغین کی اہم سکیم` دنیا کی مشہور زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی تیاری` وقف زندگی کی وسیع تحریک` تحریک وقف جائداد وغیرہ۔
    القاء الٰہی سے دس سالہ دور کا تقرر
    ‏text] gat[تحریک جدید کا جب سہ سالہ دور ختم ہوا تو حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے القاء الٰہی کے تحت اس دس سال تک ممتد فرما دیا۔ چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔
    >یہ عجیب بات ہے کہ متعدد دوستوں کی طرف سے مجھے چٹھیاں آچکی ہیں کہ میں اس تحریک کو تین سال میں ختم کرنے کی بجائے دس سال تک بڑھا دوں۔ میرا اپنا بھی خیال اس نئے سال سے اسی قسم کا اعلان کرنے کا تھا۔ پس ان تحریکوں کو جو بالکل میرے خیال سے تو اردکھا گئیں۔ مجھے یقین ہوا کہ یہ الٰہی القاء ہے<۔۱۷۹
    ‏0] [stfہفت سالہ دور مقرر کرنے کی حکمت
    حضورؓ کے پیش نظر ہفت سالہ دور مقرر کرنے میں ایک بھاری حکمت مضمر تھی۔ چنانچہ فرمایا۔
    >بعض پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۴۲ء یا ۱۹۴۴ء تک کا زمانہ ایسا ہے جس تک سلسلہ احمدیہ کی بعض موجودہ مشکلات جاری رہیں گی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کردے گا کہ بعض قسم کے ابتلاء دور ہو جائیں گے اور اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے نشانات ظاہر ہو جائیں گے کہ جن کے نتیجہ میں بعض مقامات کی تبلیغی روکیں دور ہو جائیں گی اور سلسلہ احمدیہ نہایت تیزی سے ترقی کرنے لگ جائے گا۔ پس میں نے چاہا کہ اس پیشگوئی کی جو آخر حد ہے یعنی ۱۹۴۴ء` اس وقت تک تحریک جدید کو لئے جائوں تا آئندہ آنے والی مشکلات میں اسے ثبات حاصل ہو<۔۱۸۰
    یہ پیشگوئی آئندہ چل کر کس شان سے پوری ہوئی اس کی نسبت کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔
    چندہ تحریک جدید میں تخفیف
    ۲۶۔ نومبر ۱۹۳۷ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے تحریک جدید کے دوسرے سات سالہ دور کا اعلان فرمایا۱۸۱4] ft[r اور اس دور کے لئے مالی قربانی کی نئی شرح تجویز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ۔
    >اس سال کے لئے میری تحریک یہی ہے کہ جتنا کسی شخص نے اس تین سالہ دور کے پہلے سال چندہ دیا تھا اتنا ہی چندہ اس سال دے۔ پھر میری سکیم یہ ہے کہ ہر سال اس چندہ میں سے دس فیصدی کم کرتے چلے جائیں گے یعنی جس نے اس سال سو روپیہ چندہ دیا ہے اس سے اگلے سال نوے روپے لئے جائیں گے پھر اس سے اگلے سال اسی روپے پھر تیسرے سال ستر روپے پھر چوتھے سال ساٹھ روپے پھر پانچویں سال پچاس روپے اور پھر یہ پچاس فیصدی چندہ باقی دو سال مسلسل چلتا چلا جائے گا<۔۱۸۲
    مطالبات تحریک جدید میں اضافہ
    دسمبر ۱۹۳۷ء میں حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ نے پانچ مزید مطالبات فرمائے جن سے مطالبات تحریک جدید کی تعداد چوبیس تک جاپہنچی۔ ان مطالبات کی تفصیل درج ذیل ہے۔
    بیسواں مطالبہ: اپنی جائداد میں سے عورتوں کو ان کا شرعی حصہ ادا کریں۔
    اکیسواں مطالبہ: عورتوں کے حقوق و احساسات کا خیال رکھیں۔][بائیسواں مطالبہ: ہر احمدی پورا پور امین ہوگا اور کسی کی امانت میں خیانت نہیں کرے گا۔
    تئیسواں مطالبہ: مخلوق خدا کی خدمت کرو۔ اپنے ہاتھوں سے کام کرو اور خود محنت کرکے اپنے گائوں وغیرہ کی صفائی کرو۔
    چوبیسواں مطالبہ: ہر احمدی کو اپنے دل میں یہ اقرار کرنا چاہئے کہ آئندہ وہ اپنا کوئی مقدمہ جس کے متعلق گورنمنٹ مجبور نہیں کرتی کہ اسے سرکاری عدالت میں لے جایا جائے عدالت میں نہیں لے جائے گا بلکہ اپنے عدالتی بورڈ اور اپنے قاضی سے شریعت کے مطابق اس کا فیصلہ کرائے گا اور جو بھی وہ فیصلہ کرے گا اسے شرح صدر کے ساتھ قبول کرے گا<۔۱۸۳
    مطالبہ سادہ زندگی میں مستثنیات
    اس دور میں حضور نے مطالبہ سادہ زندگی میں کچھ مستثنیات فرما دیں مثلاً حضور نے اجازت دے دی کہ عیدوں کی طرح جمعہ کو بھی دو کھانے کھائے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح حضور نے یہ پابندی بھی اٹھا دی کہ >اگر اپنا ہی کوئی احمدی دوست مہمان ہو تو دستر خوان پر میزبان صرف ایک ہی کھانا کھائے< اب حضور نے اجازت دے دی کہ >اگر کوئی ایسا مہمان ہو جس کے لئے ایک سے زائد کھانے پکائے گئے ہوں تو اس صورت میں خود بھی دو کھانے کھانا جائز ہوں گے مگر شرط یہ ہے کہ کوئی غیر مہمان ہو۔ یہ نہ ہوکہ اپنے ہی رشتہ دار بغیر کسی خاص تقریب کے اکٹھے ہوں اور ان کے لئے )جمعہ کے استثناء کے علاوہ( ایک سے زائد کھانے تیار کرلئے جائیں اور خود بھی دو دو کھانے کھا لئے جائیں<۔ قبل ازیں حضور ایک استثناء گزشتہ سالوں میں کرچکے تھے اور وہ یہ کہ رسمی اور حکام کی دعوتوں میں ایک سے زیادہ کھانے کھانا یا کھلانا جو ملک کے رواج کیے مطابق ضروری ہوں جائز رکھے گئے۔۱۸۴
    مستقل وقف کی تحریک
    جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ حضور نے ابتداًء افراد جماعت کے سامنے صرف تین سال کے وقف کرنے کی تحریک فرمائی تھی۔ لیکن کام کی وسعت کے پیش نظر ۱۷۔ دسمبر ۱۹۳۷ء کو مستقل وقف زندگی کی تحریک کی اور ساتھ ہی وضاحت فرمائی کہ۔
    >آئندہ جو لوگ اپنے آپ کو وقف کریں وہ یہ سمجھ کر کریں کہ اپنے آپ کو فنا سمجھیں گے اور جس کام پر ان کو لگایا جائے گا اس پر محنت اور عقل وعلم سے کام کریں گے۔ عقل اور علم کا اندازہ کرنا تو ہمارا کام ہے مگر محنت` اطاعت اور اخلاص سے کام کا ارادہ ان کو کرنا چاہئے اور دوسرے یہ بھی خیال کرلینا چاہئے کہ وقف کے یہ معنے نہیں کہ وہ خواہ کام کے لئے موزوں ثابت ہوں یا نہ ہوں ہم ان کو علیحدہ نہیں کریں گے یا سزا نہیں دیں گے۔ صرف وہی اپنے آپ کو پیش کرے جو سزا کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ جن قوموں کے افراد میں سزا برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہوتی وہ ہمیشہ ہلاک ہی ہوا کرتی ہیں۔ صحابہ کو دیکھو وہ بعض اوقات ضرورت سے زیادہ سزا برداشت کرتے تھے اور خودبخود کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس وقف کرنے والوں کے لئے ان پانچوں اوصاف کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سزا برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں اور بعد میں یہ نہ کہیں کہ اس وقت ہمیں نوکری مل سکتی تھی۔ پس وہی آگے آئے جس کی نیت یہ ہو کہ میں پوری کوشش کروں گا۔ لیکن اگر نکما ثابت ہوں تو سزا بھی بخوشی برداشت کرلوں گا< ۔۔۔۔۔۔
    >مجھے امید ہے کہ ہمارے نوجوان ان شرائط کے ماتحت جلد از جلد اپنے نام پیش کریں گے تا اس سکیم پر کام کرسکیں جو میرے مدنظر ہے۔ ہم آدمی تو تھوڑے ہی لیں گے مگر جو چند آدمی سینکڑوں میں سے چنے جائیں گے وہ بہرحال ان سے بہتر ہوں گے جو پانچ سات میں سے چنے جائیں۔ پچھلی مرتبہ قریباً دو سو نوجوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور مجھے امید ہے کہ اب اس سے بھی زیادہ کریں گے۔ جنہوں نے پچھلی مرتبہ اپنے آپ کو پیش کیا تھا وہ اب بھی کرسکتے ہیں بلکہ جو کام پر لگے ہوئے ہیں وہ بھی چاہیں تو اپنے نام پیش کرسکتے ہیں کیونکہ ان کی تین سال کی مدت ختم ہوگئی ہے۔ بعض ان میں سے ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تین سال تو ہم جانتے نہیں۔ جب ایک دفعہ اپنے آپ کو پیش کردیا تو پھر پیچھے کیا ہٹنا ہے۔ ان کو بھی قانون کے ماتحت پھر اپنے نام پیش کرنے چاہئیں۔ کیونکہ پہلے ہمارا مطالبہ صرف تین سال کے لئے تھا۔ اور جو بھی اپنے آپ کو پیش کریں پختہ عزم اور ارادہ کے ساتھ کریں<۱۸۵
    مستقل واقفین کی ٹریننگ
    مندرجہ بالا تحریک کے نتیجہ میں تحریک جدید کے دور ثانی کو یہ عظیم خصوصیت حاصل ہوئی کہ کئی مخلص نوجوان مستقل طور پر اپنی زندگی وقف کرکے حضور کے قدموں میں آگئے اور حضور کی خصوصی توجہ اور تعلیم و تربیت اور دعائوں نے نہایت قلیل گزارہ پانے والی مستقل واقفین کی ایثار پیشہ` مخلص اور قربانی کرنے والے مجاھدوں کی ایک ایسی جماعت تیار کردی جس نے آئندہ چل کر اسلام اور احمدیت کی عظیم الشان اور ناقابل فراموش خدمات انجام دیں اور نہ صرف بیرونی دنیا میں مشن قائم کئے بلکہ مرکز میں نئے مبلغین کو تیار کرنے میں ہر ممکن جدوجہد کی جو حضور کی قوت قدسی کی دلیل اور شاندار کارنامہ ہے جس کو جتنا بھی سراہا جائے بہت کم ہے۔ ان واقفین نے قناعت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہوئے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عملی ثبوت پیش کیا۔ حضرت امیرالمومنینؓ انہی جانفروش واقفین کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔
    >میں تحریک جدید کے دور ثانی میں مستقل کام کی داغ بیل ڈالنے کے لئے مالی ۔۔۔۔۔ تحریک کے علاوہ کہ وہ بھی مستقل ہے` ایک مستقل جماعت واقفین کی تیار کررہا ہوں۔ دور اول میں میں نے کہا تھا کہ نوجوان تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر دور ثانی میں وقف عمر بھر کے لئے ہے اور اب یہ واقفین کا ہرگز حق نہیں کہ وہ خودبخود کام چھوڑ کر چلے جائیں۔ ہاں ہمیں اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ اگر ہم انہیں کام کے ناقابل دیکھیں تو انہیں الگ کردیں۔ پس یہ سہ سالہ واقفین نہیں بلکہ جس طرح یہ دور مستقل ہے اسی طرح یہ وقف بھی مستقل ہے اور اس دور میں کام کی اہمیت کے پیش نظر میں نے یہ شرط عائد کردی ہے کہ صرف وہی نوجوان لئے جائیں گے جو یا تو گریجوایٹ ہوں یا مولوی فاضل ہوں۔ اور جو نہ گریجوایٹ ہوں اور نہ مولوی فاضل` انہیں نہیں لیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے علمی کام کرنے ہیں۔ اور اس کے لئے یا تو دینی علم کی ضرورت ہے یا دنیوی علم کی۔ اس دور میں تین چار آدمیوں کو منہا کرکے کہ وہ گریجوایٹ نہیں کیونکہ وہ پہلے دور کے بقیہ واقفین میں سے ہیں` باقی سب یا تو گریجوایٹ ہیں یا مولوی فاضل ہیں۔ چنانچہ اس وقت چار گریجوایٹ ہیں اور چار ہی مولوی فاضل ہیں۔ کل غالباً بارہ نوجوان ہیں۔ چار ان میں سے غیر گریجوایٹ ہیں۔ مگر ہیں سب ایسے ہی جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے محنت سے کام کرنے والے اور سلسلہ سے محبت رکھنے والے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا منشاء ہے کہ ان میں سے بعض کو مرکز کے علاوہ باہر بھجوا کر اعلیٰ تعلیم دلوائی جائے اور علمی اور عملی لحاظ سے اس پایہ کے نوجوان پیدا کئے جائیں جو تبلیغ` تعلیم اور تربیت کے کام میں دنیا کے بہترین نوجوانوں کا مقابلہ کرسکیں بلکہ ان سے فائق ہوں۔ صرف انہیں مذہبی تعلیم دنیا ہی میرے مدنظر نہیں۔ بلکہ میرا منشاء ہے کہ انہیں ہر قسم کی دنیوی معلومات بہم پہنچائی جائیں اور دنیا کے تمام علوم انہیں سکھائے جائیں تا دنیا کے ہر کام کو سنبھالنے کی اہلیت ان کے اندر پیدا ہوجائے۔ ان نوجوانوں کے متعلق میری سکیم جیسا کہ میں گزشتہ مجلس شوریٰ کے موقع پر بیان کرچکا ہوں` یہ ہے کہ انہیں یورپین ممالک میں بھیج کر اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلائی جائے۔ اور جب یہ ہرقسم کے علوم میں ماہر ہوجائیں تو انہیں تنخواہیں نہ دی جائیں بلکہ صرف گزارے دیئے جائیں اور ان کے گزارہ کی رقم کا انحصار علمی قابلیت کی بجائے گھر کے آدمیوں پر ہو جیسا کہ صحابہؓ کے زمانہ میں ہوا کرتا تھا اور یوں انتظام ہو کہ جس کی بیوی ہوئی یا بچے ہوئے اسے زیادہ الائونس دے دیا۔ اور جس کے بیوی بچے نہ ہوئے اسے کم گزارہ دے دیا۔ یا کسی نوجوان کی شادی ہونے لگی تو اسے تھوڑی سی امداد دے دی<۔۱۸۶
    مجاہدین تحریک جدید کو ان دنوں نہایت معمولی خرچ دیا جاتا تھا جس کی تفصیل خود حضور کے الفاظ میں پیش کی جاتی ہے۔ حضور نے فرمایا۔
    >میری کوشش یہ ہے کہ اس دور میں سو واقفین زندگی ایسے تیار ہو جائیں جو علاوہ مذہبی تعلیم رکھنے کے ظاہری علوم کے بھی ماہر ہوں اور سلسلہ کے تمام کاموں کو حزم و احتیاط سے کرنے والے اور قربانی و ایثار کا نمونہ دکھانے والے ہوں۔ اس غرض کے لئے تعلیمی اخراجات کے علاوہ ہمیں ان لوگوں کو گزارے بھی دینے پڑیں گے اور یہ گزارہ پندرہ روپے فی کس مقرر ہے۔ اگر ایک گریجوایٹ بھی ہو تو اسے بھی ہم پندرہ روپے ہی دیتے ہیں زیادہ نہیں اور یہ اتنا قلیل گزارہ ہے کہ بعض یتامیٰ و مساکین کے وظائف اسی کے لگ بھگ ہیں۔ مگر باوجود اس کے کہ گزارہ انہیں اتنا تھوڑا دیا جاتا ہے جتنا بعض یتامیٰ و مساکین کو بھی ملتا ہے وہ کام بھی کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی تمام زندگی خدمت دین کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔ سردست ہمارا قانون یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی شادی ہوجائے تو اسے بیس روپے دیئے جائیں اور پھر بچے پیدا ہوں تو فی بچہ تین روپے زیادہ کئے جائیں اور اس طرح چار بچوں تک یہی نسبت قائم رہے۔ گویا ان کے گزارہ کی آخری حد بتیس روپے ہے مگر یہ بھی اس وقت ملیں گے جب ان کے گھروں میں چھ کھانے والے ہو جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ گزارہ کم ہے۔ اسی طرح بچوں کی حد بندی کرنی بھی درست نہیں اور اسے جلد سے جلد دور کرنا چاہئے مگر فی الحال ہماری مالی حالت چونکہ اس سے زیادہ گزارہ دینے کی متحمل نہیں اس لئے ہم اس سے زیادہ گزارہ نہیں دے سکتے۔ اور انہوں نے بھی خوشی سے اس گزارہ کو قبول کیا ہے<۔۱۸۷
    واقفین زندگی )تحریک جدید( کا پہلا گروہ
    )از شیخ ناصر احمد صاحب بی اے سابق انچارج سوئٹزرلینڈ مشن(
    ۱۲۔ جنوری ۱۹۳۹ء کو خاکسار دارالواقفین میں آیا۔
    ان دنوں واقفین کی منظوری کے لئے حضور نے ایک بورڈ مقرر فرمایا ہوا تھا۔ جس کے اراکین کے سامنے ہر واقف پیش ہوتا اور وہ مختلف سوالات کے ذریعہ اس کے رجحانات۔ قابلیتوں وغیرہ کا امتحان کرتے اس وقت تک دس نوجوان زندگیاں وقف کرکے دارالواقفین میں داخل ہوچکے تھے۔ جن کے اسماء گرامی ان کی تاریخ وقف کی ترتیب سے یہ ہیں۔
    ۱۔ مکرم چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر۔ ۲۔ مکرم چوہدری محمد شریف صاحب باجوہ
    ۳۔ مکرم چوہدری کرم الٰہی صاحب ظفر۔ ۴۔ مکرم ملک عطاء الرحمان صاحب۔
    ۵۔ مکرم میاں عبدالحی صاحب۔ ۶۔ مکرم قریشی محمد عالم صاحب۔
    ۷۔ مکرم مولوی محمد صدیق صاحب۔ ۸۔ مکرم چوہدری غلام یاسین صاحب۔
    ۹۔ مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ ۱۰۔ مکرم مولوی نور الحق صاحب۔
    بعد میں دو احباب کو بعض وجوہ کی بناء پر وقف سے فارغ کردیا گیا۔ خاکسار کو انٹرویو کے لئے سیدنا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہونا پڑا۔ یہ جنوری ۱۹۳۹ء کے ابتدائی دنوں کا واقعہ ہے۔ حضور نے فرمایا کہ خاکسار کے متعلق حضور کا یہ ارادہ ہے کہ فی الحال ایک ماہ کے لئے تجربت¶ہ وقف میں لیا جائے اور پختہ فیصلہ اس میعاد کے گزرنے کے بعد کیا جائے۔ گو عملاً وہی پختہ فیصلہ تھا کیونکہ ایک ماہ کی مدت گزرنے کے بعد کوئی نیا فیصلہ نہ ہوا۔ حضور نے اس موقعہ پر دریافت فرمایا کہ خاکسار میں اطاعت کا مادہ کس حد تک ہے۔ نیز مثال کے طور پر فرمایا کہ اگر مینار کی بلندی سے چھلانگ لگانے کا حکم خاکسار کو دیا جائے تو کیا کوئی ہچکچاہٹ تو محسوس نہ ہوگی؟ حضور نے یہ بھی فرمایا کہ حضور واقفین کا اخلاقی معیار بہت بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔ کسی واقف کو خلاف واقعہ امر بیان کرنے کی اجازت نہیں۔ ہر ایک کو سچ کی پوری پابندی کرنی چاہئے۔ مثال کے طور پر فرمایا کہ ایک واقف نے ایک موقعہ پر ایک بات کہی جسے جھوٹ تو نہیں کہہ سکتے لیکن وہ حق بیانی کے اس معیار پر پوری نہ اترتی تھی جس کا تقاضا ایک واقف سے کیا جاتا۔ چنانچہ اس واقف کے اس فعل پر حضور نے اسے بطور تزکیہ نفس یہ حکم دیا کہ وہ ایک ماہ پیدل سفر کریں اور تبلیغ کرتے رہیں۔
    اگست ۱۹۳۹ء میں حضور نے واقفین کو ارشاد فرمایا کہ قادیان سے پیدل کلو کا سفر کریں۔ گرمی کے مہینوں میں اپنا سارا سامان سر اور کندھوں پر اٹھا کر چلنا ایک مجاہدہ تھا جسے احباب نے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل میں بخوشی برداشت کیا۔
    اگست ۱۹۴۱ء کے مہینہ میں حضور کے ارشاد کے ماتحت ہم سفر ڈلہوزی کے لئے روزانہ ہوئے پٹھانکوٹ کے آگے کا سفر ہم نے پیدل کرنا تھا۔ یہ سفر ۱۹۳۹ء کے پہاڑی سفر کی نسبت آسان تھا ۶۔ اگست کو ۲۲۔ افراد کا ایک قافلہ مکرم مولوی غلام احمد صاحب فاضل بدوملہوی کی قیادت میں اس سفر پر روانہ ہوا۔ حضرت مصلح موعود کے چار صاحبزادگان مرزا خلیل احمد۔ مرزا حفیظ احمد۔ مرزا رفیع احمد اور مرزا وسیم احمد صاحبان بھی اس قافلہ میں شامل تھے۔ ۱۰۔ تاریخ کو ہم ڈلہوزی پہنچے۔ ایک سفر وہاں سے چمبہ تک بھی کیا۔ جہاں سے واپسی پر دس روز تک واقفین حضور کے مہمان رہے اور حضور کی کوٹھی بنام ۸ اوکس میں مقیم۔ سب واقفین یکم ستمبر کو واپس دارلامان پہنچے۔
    ۱۹۴۲ء میں ایک اور پہاڑی سفر پیش آیا۔ یہ کشمیر کا سفر تھا جو بوجہ بہت سے گونا گوں دلچسپ واقعات اور تجربات ہماری یادوں سے کبھی محو نہیں ہوسکتا۔ اس وفد کی امارت بھی حضور نے مکرم مولوی غلام احمد صاحب فاضل بدوملہوی کے سپرد فرمائی۔ پندرہ افراد پر مشتمل یہ قافلہ ۵۔ اگست کو قادیان سے روزانہ ہوا اور ۸۔ اگست کو جموں سے سرینگر کی جانب کا سفر پیدل شروع کیا۔ عام سڑک کے راستہ یہ فاصلہ ۲۰۳ میل ہے۔ لوگ ہمیں باورنہ کرتے کہ ہم سرینگر پیدل پہنچیں گے۔ بانہال کے درہ کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کے راستہ ہم ۲۰۔ اگست کو سری نگر پہنچے۔ سفر کا آخری حصہ کشتی میں کیا گیا۔ اور سری نگر کی سرزمین پر قدم رکھنے سے قبل دریائے جہلم کے پانی میں ہی ہمارا استقبال مکرم چوہدری اسداللہ خان بار ایٹ لاء نے کیا جو وہاں ایک ہوس بوٹ میں رہائش پذیر تھے۔ مورخہ ۲۔ ستمبر کو واپسی کا سفر شروع کیا۔ اور اسلام آباد سے ۳ کی صبح کو پیدل سفر شروع کرکے ۷ کی صبح کو ادہم پور پہنچ گئے۔ یہ سفر حیرت انگیز سرعت رفتاری سے کیا گیا۔ قادیان مورخہ ۸۔ ستمبر کو واپس وارد ہوئے۔
    ۱۹۴۳ء کا سالانہ سفر اپنی حیثیت میں نرالا تھا۔ دو دو واقفین کی پارٹیاں قادیان سے مختلف سمتوں میں پھیلا دی گئیں۔ ایک ماہ پیدل سفر اور سروے کا کام ان کے سپرد ہوا۔ خاکسار اس موقعہ پر چلتے چلتے کپورتھلہ اور پھر جالندھر تک پہنچا۔ اور پیدل ہی واپسی ہوئی۔ کپورتھلہ میں مکرم جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر وکیل نے جو ہماری عزت افزائی فرمائی۔ اور ہر طرح ہماری ضرورت کا خیال رکھا۔ اس کا بھی گہرا نقش ہمارے دلوں پر ہے۔ خداتعالیٰ انہیں اپنی رحمتوں سے حصہ دیتا رہے۔ یہ سفر ۲۰۔ جولائی کو شروع ہوا اور ہم ۲۶۔ اگست کو واپس دارالامان پہنچے۔
    ۱۹۴۴ء میں جبکہ حضور ڈلہوزی تشریف فرما تھے حضور نے ہمیں وہاں یاد فرمایا۔ اور اس طرح واقفین بمعہ اساتذہ کرام )حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مرحوم۔ حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی۔ مکرم مولوی غلام احمد صاحب بدوملہوی اور مکرم مولوی عبداللطیف صاحب پر مشتمل قافلہ ۲۔ جولائی کو ڈلہوزی کے لئے روانہ ہوا۔ اور قریباً ساڑھے تین ماہ کے قیام کے بعد ۱۱۔ اکتوبر کو واپس لوٹے۔
    ڈلہوزی میں علاوہ تعلیم کے تبلیغی مساعی جاری کی گئیں۔ اور ڈلہوزی میں احمدیت کا چرچا ہوگیا۔
    ۱۹۴۵ء کے دوران میں واقفین کی یہ جماعت منتشر ہونا شروع ہوئی اور یہ مبلغین ¶حضور کی ہدایات کے مطابق مختلف بلاد عالم میں پھیلا دیئے گئے۔
    ۱۹۳۸ء اور ۱۹۴۵ء کا درمیانی عرصہ کس طرح گزرا ان سالوں میں کیا کیا دور واقفین کی زندگی پر آئے۔ ان کی تعلیم کے لئے کیا کیا اقدام اٹھائے گئے۔ ان کی تربیت کن متنوع طریقوں پر عمل میں آئی۔ ان امور کو بیان کرنا ایک مضمون کے احاطہ مقدرت سے باہر ہے۔ اس غرض کے لئے ایک بڑی کتاب تصنیف ہوسکتی ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ ان تمام واقعات کو جو واقفین کو پیش آئے۔ جمع کرنے سے آئندہ واقفین کے لئے بہت قیمتی معلومات کا ذخیرہ مہیا ہوگا۔ مختصر یہ کہ حضور نے ہمیں تفسیر القرآن۔ حدیث۔ فقہ۔ منطق۔ اصول حدیث۔ عربی۔ صرف نحو۔ ایلوپیتھی کی ابتدائی تعلیم۔ فارسی زبان` عربی ادب۔ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم دلائی۔ آخری سال میں واقفین کے بعض گروہ مختلف علوم۔ مثل تفسیر۔ حدیث۔ منطق۔ فلسفہ۔ تصوف۔ صرف نحو کی تعلیم کی تکمیل کرتے رہے ابتداء میں واقفین نے قرآن کریم کے سب الفاط کے مادوں کے معانی منجد سے تلاش کئے۔ جن اساتذہ کرام سے ہمیں تدریس کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے اسماء کی فہرست بھی ان سطور میں بیان کرنا آسان نہیں۔ بعض بزرگ یہ تھے۔ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مرحوم ان سے ہمیں سب سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق ملی۔ حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم۔ مکرم مولوی غلام احمد صاحب بدوملہوی۔ مکرم مولوی عبداللطیف صاحب بہاولپوری۔ مکرم مولوی غلام نبی صاحب مصری۔ مکرم مولوی غلام رسول صاحب راجیکی۔
    آخری زمانہ میں بائبل کی تعلیم کے لئے مکرم شیخ عبدالخالق صاحب کو مقرر کیا گیا۔ جن سے ہم نے بہت استفادہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تقاریر کی مشق کے لئے ایک سلسلہ جاری کیا گیا۔ مکرم مولوی ابوالعطاء صاحب علاوہ دوسری تعلیم کے اس مشق کے بھی نگران تھے۔ وقتاً فوقتاً ہمیں حضرت مصلح موعود شرف ملاقات بخشتے اور قیمتی اور ہم نصائح فرماتے۔ حضور کی ہدایت کے مطابق ہم نے فن تقریر میں مہارت پیدا کرنے کے لئے مضامین لکھنے شروع کئے۔ ہر واقف ہر ماہ ایک مضمون لکھتا ہے۔ جو بعد میں اخبارات میں سلسلہ کو اشاعت کے لئے بھجوایا جاتا۔
    بعض اوقات حضور ہمارا امتحان بھی فرماتے۔ ایک موقعہ پر تو کورس کی سب کتب طلب فرمائی گئیں۔ اور حضور نے مختلف مضامین کا امتحان بعض اساتذہ کی موجودگی میں لیا۔ غرضیکہ حضور نے واقفین کی اس پود کی تیاری میں گہری دلچسپی لی۔ جو ہمارے لئے بڑے فخر کا موجب ہے۔
    خدام الاحمدیہ کے کام میں واقفین پیش پیش رہے۔ قریباً جملہ انتظامی امور واقفین کے ہاتھوں میں تھے۔ جنہوں نے اپنے فرائض کو سالہا سال تک صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی زیر قیادت سرانجام دیا۔
    مجلس رفقاء احمد کی بنیاد اور رسالہ >فرقان< کو چلانے کا کام واقفین نے ہی اپنے ذمہ لیا۔
    اب وہ کلاسیں اور تربیتی مجلسیں۔ وہ تعلیمی اجتماعات۔ وہ تنظیمی ادارے واقفین کے اس پہلے گروہ کے لئے ختم ہیں۔ وہ میدان تربیت سے میدان کارزار میں چھلانگ لگاچکے ہوئے ہیں۔ انہیں غیر ممالک میں رہتے ہوئے ایک عرصہ گزر گیا ہے۔ وہ جو سالہا سال سے ایک ہی چھت کے تلے اکٹھے بھائیوں کی طرح رہے۔ جن میں باہمی شکر رنجیاں شاذ اور محض عارضی ہوتیں۔ اور بعد میں جذبات محبت کو بڑھاتی تھیں۔ اب وہ کئی سالوں سے آسمان کی چھت کے تلے دنیا کے مختلف براعظموں میں پھیل چکے ہیں۔ وہ جو قریباً روزانہ پیارے آقا کی مجلس سے بہرہ اندوز ہوتے تھے۔ انہیں محبوب آقا کا چہرہ دیکھے ایک لمبا عرصہ گزر گیا ہے۔ اتنا لمبا عرصہ جو پہلے ان کی زندگیوں میں دوری اور جدائی کا عرصہ کبھی نہ آیا تھا۔ جو مقامات مقدسہ کے درمیان چلتے پھرتے تھے۔ آج ان کی جبینیں بیت مبارک میں ایک سجدہ بجالانے کو تڑپ رہی ہیں۔ جو کسی اہم مجلس` اجتماع یا جلسہ سے باہر نہ رہتے تھے۔ آج نہ وہ جمعہ کے اجتماعات میں اپنے آقا کے قریب ہوتے ہیں۔ نہ عیدین کے مواقع پر۔ نہ مشاورت کی تقریب پر نہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر نہ جلسہ سالانہ پر۔ یہ ساری ہی تقاریب جو سال کے مختلف مواسم میں آتی ہیں۔ ان کے اندر ایک ٹیس پیدا کرتی ہے۔ لیکن نہیں دوسری طرف وہ خوش بھی ہیں کہ انہیں یہ جدائی اور یہ دوری خدمت دین کی راہ میں پیش آئی ہے۔ ان کی سب سے بڑی خواہش اور دعا یہی ہے کہ وہ اپنے کام کو خوش اسلوبی سے بجا لاسکیں۔ آمین۔ اللھم آمین۔
    اس چمن واقفین کے ایک پرندہ نے چند ماہ سے یکایک چہچہانا بند کردیا ہے۔ اب اس کے نغمے یہ زمین والے نہیں سن سکتے۔ ہاں عرش معلیٰ پر اس کی محبت بھری آواز فرشتوں کو مسحور کررہی ہے وہ ہمارا پیارا مرزا منور احمد ہے۔ جو امریکہ میں تبلیغ کرتے کرتے شہادت کے مقام پر پہنچا۔
    فرشتو! ہمارا سلام محبت اس پاک روح کو پہنچائو۔ اور خدا کے حضور ہماری اس خواہش کو بھی کہ ہمیں بھی خدمت دین کی راہ میں اپنا سب کچھ نثار کرنے کی توفیق ملے۔ آمین۔
    یہ واقفین جو خطہ عالم پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے قریباً ہر ایک کو ہر نوع کی تکلیف و مصائب سے پالا پڑا ہے۔ زمانہ کے حوادث نے انہیں بہت سے اسباق دیئے ہیں۔ قادیان سے روانگی کے وقت انہیں جن مشکلات کا خیال تک نہ تھا۔ وہ انہیں پیش آئی ہیں۔ خدا کی مدد اور تائید بھی ہر لمحہ ان کے شامل حال رہی ہے۔ وہ اب آپ سے درخواست کرتے ہیں۔ کہ آپ ان کو اپنی خاص دعائوں میں یاد رکھیں۔ یا کبھی کبھی ان کے لئے خاص خاص دعائیں کریں۔ کہ خدا تعالیٰ ان کی راہنمائی فرمائے۔ انہیں مفید سے مفید طریق تبلیغ کے میدان میں استعمال کرنے کی توفیق دے۔ ان کی حقیرانہ مساعی میں برکت ڈالے اور انہیں وقف کے مقام کو سمجھنے اس کے مطالبات کو پورا کرنے اور ہر آن وقف کی راہ کو قائم رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین اللھم آمین۔
    )الفضل ۲۳` ۲۵۔ جنوری ۱۹۴۹ء(
    منتخب واقفین کے لئے ہدایات
    منتخب واقفین کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ اور دفتر تحریک جدید کی طرف سے جو ہدایات وقتاً فوقتاً جاری کی جاتی رہیں ان کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    ۱۔
    محنت صحت سے نہیں ہوتی بلکہ بشاشت سے ہوتی ہے۔
    ۲۔
    اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے رہنا چاہئے اور جب اپنے آپ میں محسوس ہوکہ اب میں فرائض معاہدہ کو ادا نہیں کرسکتا تو اسے اسی وقت علیحدہ ہو جانا چاہئے۔
    ۳۔
    ترقی کرنے والی قومیں محض روزمرہ کے کام سے نہیں ترقی کرتیں کیونکہ اس کی غرض تو محض قومی زندگی قائم رکھنا ہوتی ہے اور یہ قلیل ترین چیز ہوتی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ کونسے کام ایسے ہیں کہ جن کو ہم نے بعد میں کرنا ہے دشمن کیا کررہا ہے۔ دنیا کس طرح ترقی کررہی ہے` ہمیں ان کا مقابلہ کس طرح کرنا ہے۔
    ‏tav.8.6
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    تحریک جدید کی بنیاد سے لے کر خلافت جوبلی تک
    ۴۔
    نوجوانوں میں یہ روح ہونی چاہئے کہ بغیر روپے کے کام کرنا ہے۔
    ۵۔
    جب تک ہم نتیجہ کے ذمہ دار نہ بنیں` ترقی نہیں کرسکتے۔ لوگ اس مسئلہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں کہ >کام انسان کرتا ہے نتیجہ خدا پیدا کرتا ہے< کلمہ الحکمہ اریدبہ الباطل۔ اسی طرح توکل سے بھی لوگوں نے غلط مفہوم لیا ہے۔
    ۶۔
    انفرادی قربانی ضروری ہے تاکہ قوم سست نہ ہو۔ شکست خوردہ جرنیل اپنے آپ کو گولی مارلیتا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میرا کام غلبہ حاصل کرنا ہے۔ شریعت میں بھی پیھے ہٹنے کی سزا جہنم ہے۔ کمی تعداد اور معذوریوں کا کوئی سوال نہیں ہے۔ پس جو کامیاب نہیں ہوتا اسے سزا بھگتنی چاہئے۔ اسی لئے یہ اصول رکھا گیا ہے کہ سزا لینے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ہم صحیح طور پر اپنی ذمہ داری کا اندازہ نہیں لگاتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دماغ کام نہیں کرتا بلکہ بھاگنے کے راستے ڈھونڈتا ہے۔ ہر واقف زندگی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ خواہ حالات کس قدر سخت ہوں ناکامی کی ذمہ داری میری ہے۔
    ۷۔
    بہادر وہ ہے جو ہر قسم کی قربانی کرسکے نہ کہ وہ جو خاص قسم کی قربانی کرسکے لیکن دوسری قسم کی قربانی نہ کرسکے۔
    ۸۔
    وقت کی قربانی اہم ترین چیزوں میں سے ہے اور اس سے زیادہ قربانی وہ ہے جسے دنیا WASTEOFTIME کہتی ہے۔ دنیا اسے گناہ سمجھتی ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ جب یہ قربانی کے مقام پر کی جائے تو یہ اعلیٰ درجہ کی قربانی ہے۔ جیسے نمازی انتظار میں بھی نمازی ہے۔ بظاہر یہ وقت کا ضیاع ہے۔ اصل میں مقصود نماز کی عظمت کا اظہار ہے۔ پس مقصود کے لئے انتظار بڑی قربانی ہے۔ پس انتظار کا نام ضیاع وقت نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ یہ اس کے علم کو بڑھانے والی بات ہے کیونکہ علم اپنی اہمیت سے آتا ہے۔
    ۹۔
    وقف سے ایک غرض یہ ہے کہ جھوٹ کو مٹایا جائے خواہ کس قدر چھوٹا سے چھوٹا ہو۔ کوئی بھی جھوٹ اگر ثابت ہوا تو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ وقف ٹوٹ سکتا ہے اور جماعت میں اعلان ہوسکتا ہے۔ خواہ دین کی خاطر ہی ہو۔ سچ بولنے سے انکار کیا جاسکتا ہے لیکن سچ کے خلاف بیان کرنے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔ ہاں اسلامی عدالت میں گواہی سے انکار نہیں ہوسکتا۔ سرکاری عدالت میں )شرع کی رو سے( ایسا ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں سرکاری سزا برداشت کرنے کے لئے بھی اسے تیار رہنا چاہئے۔
    واقفین کو بھی یہی کیریکٹر جماعت میں پیدا کرنا چاہئے کیونکہ سلسلہ کا فائدہ جھوٹ سے وابستہ نہیں۔ اسلام کی بنیاد قولوا قولا سدیدا پر ہے۔
    اس حد تک اس امر کا احساس ہونا چاہئے کہ جو کبھی جھوٹ بولے وہ خود آکر کہے کہ میں نے جھوٹ بولا ہے` میرا وقف منسوخ کریں اور پھر سزا برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجانا چاہئے۔
    ۱۰۔
    عقل اس وقت کمزور ہوتی ہے جب انسان مشکلات کے وقت اپنے دماغ پر پورا زور نہیں دیتا۔ اور عذر تلاش کرنے کے درپے ہوجاتا ہے۔ ورنہ اگر مشکلات کے وقت عقل سے کام لیا جائے اور دماغ پر زور ڈالا جائے تو اس کا صحیح حل جلدی ہی مل سکتا ہے<۔۱۸۸
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کا اظہار خوشنودی
    واقفین نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے مقدور بھر کوشش کی کہ حضرت امیرالمومنینؓ کی ہدایات پر پوری طرح عمل پیرا ہوں۔ چنانچہ حضور نے واقفین کی قربانی` خلوص اور محنت شاقہ پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا۔
    >ضروری ہے کہ وہ نوجوان جو بغیر روپیہ کے کام کرنے کے لئے تیار ہوں وہ اپنی زندگیاں وقف کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے بعض نوجوان ہمیں ایسی ہی روح رکھنے والے دیئے ہوئے ہیں چنانچہ ان واقفین زندگی میں ایک وکیل ہیں۔۱۸۹ ان کے والد کئی مربعوں کے مالک ہیں اور وہ اپنے علاقہ کے رئیس اور مرکزی اسمبلی کے ووٹروں میں سے ہیں۔ وہ شادی شدہ ہیں مگر ہم انہیں بیس روپے ہی دیتے ہیں اور وہ خوشی سے اسے قبول کرلیتے ہیں۔ حالانکہ زمیندار ہونے کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ اپنے علاقہ میں انہیں رسوخ حاصل ہے۔ اگر وہ وکالت کرتے سو ڈیڑھ سو روپیہ ضرور کمالیتے۔ بلکہ ہوشیار آدمی تو آج کل کے گرے ہوئے زمانہ میں بھی دو اڑھائی سو روپیہ کما لیتا ہے۔ لیکن انہوں نے اپنے آپ کو وقف کیا اور قلیل گزارے پر ہی وقف کیا اور میں تو اس قسم کے وقف کو بغیر روپیہ کے کام کرنا ہی قرار دیتا ہوں کیونکہ جو کچھ ہماری طرف سے دیا جاتا ہے وہ نہ دیئے جانے کے برابر ہے۔ اسی طرح اور کئی گریجوایٹ ہیں جو اپنی ذہانت کی وجہ سے اگر باہر کہیں کام کرتے تو بہت زیادہ کمالیتے مگر ان سب نے خوشی اور بشاشت کے ساتھ اپنی زندگی وقف کی ہے۔ پس گو تحریک جدید کے واقفین ایک قلیل گزارہ لے رہے ہیں مگر عقلاً انہیں بغیر گزارہ کے ہی کام کرنے والے سمجھنا چاہئے کیونکہ ان کے گزارے ان کی لیاقتوں اور ضرورتوں سے بہت کم ہیں<۔۱۹۰
    نصاب کی تشکیل
    دورثانی کے ان واقفین کی تعلیم کی تکمیل کے لئے ان کی قابلیتوں اور آئندہ ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر نصاب تجویز کئے جاتے رہے۔ حضورؓ کا منشاء مبارک دراصل شروع میں زیادہ لمبی تعلیم دلانے کا نہ تھا بلکہ جلد بیرونی ممالک میں بھجوانے کا تھا۔ چنانچہ کئی ایک پاسپورٹ تیار کروائے گئے کہ اچانک دوسری عالمگیر جنگ شروع ہوگئی۔ اب حضورؓ نے مناسب سمجھا کہ ان واقفین کی مختلف لائنوں میں تربیت کی جائے۔ حضور نے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحبؓ کے ساتھ مشورہ کے بعد مختلف لائنیں مثلاً حدیث` فقہ` تفسیر` منطق و فلسفہ` تصوف مقرر فرمادیں اور فرمایا کہ طلبہ کو کہیں کہ ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنی اپنی لائن منتخب کرلیں۔۱۹۱ لیکن چونکہ عربی علوم کی کتب پڑھنے کے لئے بنیادی علم صرف و نحو کا حاصل کرنا ضروری تھا۔ اس لئے حضورؓ نے اس علم کا حاصل کرنا ہر واقف کے لئے ضروری قرار دیا۔ چنانچہ صرف و نحو کی ابتدائی کتب سے لے کر انتہائی کتب تک سب واقفین کو پڑھنا پڑیں۔ لیکن اس کے لئے کلاسز نہیں بنائی گئیں بلکہ نصاب تجویز کردیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ ہر واقف اساتذہ سے مدد لے کر اپنی اپنی ذہنی استعداد کے مطابق جلد سے جلد نصاب ختم کرے۔ بقیہ علوم کے لئے باقاعدہ کلاسز ہوتی رہیں۔
    صرف میں قانونچہ۱۹۲ کھیوالی مصنفہ مولوی خان ملک صاحب کا زبانی یاد کرنا لازمی تھا۔ اسی طرح آخری کتاب فصول اکبری کا امتحان پاس کرنا تھا۔ نحو میں نحو میر سے لے کر قافیہ تہذیب التوضیح اور شرح ملاجامی تک سب کتب درساً پڑھائی گئیں اور امتحان پاس کرنے کے لئے کڑی شرائط رکھی گئیں تاکہ ٹھوس بنیادوں پر علمی قابلیت پیدا ہو۔
    واقفین کے اساتذہ
    دور ثانی کے واقفین کو وقتاً فوقتاً مندرجہ ذیل اساتذہ نے تعلیم دی۔
    ۱۔ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ )جلالین۔ بیضاوی اور نحو( ۲۔ مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی )۱۹۴۰ء سے۔ حدیث۔ فقہ۔ نحو۔ کتب مسیح موعودؑ( ۳۔ مولوی عبداللطیف صاحب بہاولپوری )صرف و نحو۔ قانونچہ۔ فصول اکبری۔ کافیہ شافیہ۔ تہذیب التوضیح۔ فقہ و کنز۔ قدوری۔ شرح وقایہ۔ ہدایہ( ۴۔ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ )تصوف( ۵۔ مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری )علم معانی( ۶۔ صاحبزادہ سید ابوالحسن صاحب قدسی )مقدمہ ابن خلدون( ۷۔ مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری )فارسی( ۸۔ مولوی ارجمند خاں صاحب )فقہ( ۹۔ شیخ عبدالخالق صاحب نومسلم فاضل۱۹۳ )۱۹۴۲ء سے( )رد عیسائیت( ۱۰۔ قریشی محمد نذیر صاحب ملتانی )قرآن شریف۔ صرف و نحو( ۱۱۔ مولوی سکندر علی صاحب ہزاروی۱۹۴ )فقہ۔ اصول فقہ( ۱۲۔ پیر عبدالعزیز شاہ صاحب لکھیوال متصل ساہیوال ضلع سرگودھا۱۹۵ )منطق وفلسفہ۔ صرف و نحو۔ ترمذی شریف( ۱۳۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب قادیانی )صرف و نحو( ۱۴۔ مولوی محمد احمد صاحب جلیل۱۹۶ )حدیث۔ ادب( ۱۵۔ ملک سیف الرحمن صاحب۱۹۷ )قرآن کریم باترجمہ۔ فصول اکبری(( ۱۶۔ خان صاحب ڈاکٹر عبداللہ صاحب۱۹۸ پنشنر مرحوم )طب(۱۹۹ ۱۷۔ پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد )انگریزی( ۱۸۔ محمد سرور صاحب ایم۔ اے۲۰۰ )انگریزی( ۱۹۔ مولوی محمد اسرائیل صاحب بالا کوٹ۔ )غیر احمدی عالم(
    دارالمجاھدین
    واقفین کی خصوصی تربیت و تعلیم کے لئے ۱۹۳۸ء۲۰۱ میں )بابو محمد سعید صاحب۲۰۲ پوسٹ ماسٹر کے مکان واقعہ دارالفضل میں( باقاعدہ دارالمجاھدین کا قیام عمل میں آیا۔ جہاں کچھ عرصہ واقفین قیام پذیر رہے۔ ازاں بعد ماسٹر شیخ مبارک اسماعیل صاحب۲۰۳ کی کوٹھی میں اور پھر ۱۹۴۰ء میں ڈاکٹر حاجی خاں صاحب کی کوٹھی واقع دارالانوار میں منتقل ہوا جہاں واقفین کی رہائش اور تعلیم دونوں کا انتظام تھا۔ یہ دارالمجاہدین ہجرت ۱۹۴۷ء تک قائم رہا۔
    واقفین میں مجاہدانہ سپرٹ پیدا کرنے کیلئے مختلف اقدامات
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کے نزدیک ہر واقف مجاہد تھا۔ اسی لئے حضور نے واقفین کی ٹریننگ میں خاص طور پر یہ امر ملحوظ رکھا کہ مجاہدین تحریک جدید اپنا بلند مقام پہچانیں اور تحریک جدید کو مجاہدانہ معاہدہ سمجھتے ہوئے جہاد کی روح کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ چنانچہ حضور نے فرمایا۔
    >ہر واقف مجاہد ہے اور مجاہد پر اللہ تعالیٰ نے بہت ذمہ داریاں ڈالی ہیں۔ ان کو پورا کرنے والا ہی مجاہد کہلانے کا مستحق ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا مقابلہ تو ان قوموں سے ہیے جن کے نوجوانوں نے چالیس چالیس سال تک شادی نہیں کی اور اپنی زندگیاں لیبارٹریوں میں گزار دیں اور کام کرتے کرتے میز پر ہی مرگئے اور جاتے ہوئے بعض نہایت مفید ایجادیں اپنی قوم کو دے گئے۔ مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے کہ جن کے پاس گولہ بارود اور دوسرے لڑائی کے ہتھیار نہ رہے تو انہوں نے امریکہ سے ردی شدہ بندوقیں منگوائیں اور انہی سے اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔ انگلستان والوں نے کہا کہ بے شک جرمن آجائے ہم اس سے سمندر میں لڑیں گے۔ اگر سمندر میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو پھر اس سے سمندر کے کناروں پر لڑیں گے اور اگر سمندر کے کناروں پر لڑنے کے قابل نہ رہے تو ہم اس سے شہروں کی گلیوں میں لڑیں گے اور اگر گلیوں میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو ہم گھروں کے دروازوں تک مقابلہ کریں گے۔ اور اگر پھر بھی مقابلہ نہ کرسکے تو پھر کشتیوں میں بیٹھ کر امریکہ چلے جائیں گے مگر اس سے جنگ کرنا ترک نہیں کریں گے۔ ہمارا مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے کہ جہاں ان کو کھڑا کیا جائے وہ وہاں سے ایک قدم بھی نہ ہلیں سوائے اس کے کہ ان کی لاش ایک فٹ ہماری طرف گرے تو گرے لیکن زندہ انسان کا قدم ایک فٹ آگے پڑے پیچھے نہ آئے۔ ہمیں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے اور یہی لوگ ہیں جو قوموں کی بنیاد کا کام دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رسول کریم~صل۱~ کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ہر آدمی کفن بردوش ہے منھم من قضی نحبہ و منھم من ینتظر کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام کی راہ میں اپنی جانیں دے دی ہیں اور کچھ انتظار کررہے ہیں۔ یہ وقف ہے جو دنیا میں تغیر پیدا کیا کرتا ہے<۔۲۰۴
    واقفین میں مجاہدانہ روح اور سپاہیانہ انداز پیدا کرنے کے لئے حضور نے متعدد وسائل اختیار فرمائے۔
    اول۔ واقفین کے لئے قطعی ہدایت تھی کہ وہ دارالواقفین میں رہیں۔ شادی شدہ واقفین کو ہفتہ میں صرف ایک بار یعنی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو گھر جانے کی اجازت تھی اور مجرد واقفین تھوڑے سے وقت کے لئے ہفتہ میں دو بار گھر جاسکتے تھے اور مہینہ میں ایک رخصت گھر گزار سکتے تھے۔
    دوم۔ واقفین روزانہ ڈائری لکھنے کے پابند تھے۔ ڈائری میں خاص طور پر یہ ذکر کیا جانا ضروری تھا کہ انہوں نے کتنی نمازیں باجماعت ادا کی ہیں۲۰۵ اور کس مسجد میں؟ نیز یہ کہ تلاوت قرآن مجید کتنے دن کی ہے؟
    سوم۔ واقفین ہر پندرہ روز کے بعد عموماً ایک مرتبہ حضرت اقدسؓ کی خدمت میں اجتماعی طور پر حاضر ہوتے تھے۔ اس طرح حضور کو براہ راست نگرانی کرنے اور طلبہ کو فیض حاصل کرنے کا موقعہ میسر آتا رہتا تھا۔ حضور وقتاً فوقتاً مختلف علوم و فنون میں واقفین کا خود بھی امتحان لیتے۔
    چہارم۔]ybod [tag چونکہ وہ زمانہ واقفین کی عملی ٹریننگ کا تھا اس لئے ان کی خاص توجہ سے نگہداشت کی جاتی تھی۔ کسی غلطی کو نظر انداز نہیں کیا جاتا تھا اور اس پر گرفت ہوکر سزا دی جاتی تھی جیسے معین وقت کے لئے اعتکاف بیٹھنا` مقاطعہ یا خرچ کے بغیر لمبا پیدل سفر یا سب کے سامنے معافی مانگنا۔۲۰۶
    حضورؓ کا نظریہ اس بارہ میں یہ تھا کہ جب تک کسی قوم کے افراد کو سزا برداشت کرنے کی عادت نہ ہو۔ کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔
    پنجم۔ حضور نے بار بار واقفین پر یہ حقیقت فرمائی>وقف کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو کام سپرد ہو اسے کیا جاوے اسے دین ہی دین سمجھیں<
    ششم۔ مجلس خدام الاحمدیہ نئی نئی قائم ہوئی تھی۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی طرف سے اس مجلس کے کاموں میں واقفین کی شرکت لازمی قرار دی گئی تھی۔
    ہفتم۔ حضور شعار اسلامی کی خاص طور پر پابندی کرنے کا ارشاد فرماتے تھے۔ چنانچہ آپ نے واضح ہدایت دے رکھی تھی۔
    >واقفین اپنے سر کے بال اس طرح رکھیں کہ اس کے کسی حصہ کے بال دوسرے حصہ کے بالوں سے چھوٹے بڑے بالکل نہ ہوں۔ خواہ سارے بال چھوٹے ہوں خواہ سارے بال بڑے ہوں۔ لیکن یکساں ہوں< پھر فرمایا >داڑھی مومنوں والی ہو< اور اس کی تشریح دوسرے موقعہ پر یوں فرمائی۔
    >ایسی داڑھی ہو کہ دیکھنے والے کہیں کہ یہ داڑھی ہے۔ باقی رہا یہ کہ کتنی ہو اس کے متعلق کوئی پابندی نہیں ۔۔۔۔۔۔ اصل چیز تو یہ ہے کہ رسول کریم~صل۱~ کے حکموں کی اطاعت کی جائے۔ اور ایسے رنگ میں کی جائے کہ لوگوں کو نظر آئے کہ اطاعت کی ہے<۔
    ہشتم۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے واقفین میں جفاکشی اور مشقت کی عادت پیدا کرنے کے لئے اگست ستمبر ۱۹۳۹ء میں قادیان سے کلو تک پیدل سفر کروایا۔ واقفین کو اپنا سامان )بستر کپڑے وغیرہ( خود اٹھانے اور کھانا وغیرہ پکانے کا سب کام راستے میں اپنے ہاتھوں سے ہی سرانجام دینے کی ہدایت تھی۔ صرف راشن اور برتن اٹھانے کے لئے باربرداری کے انتظام کی اجازت تھی۔ اس سفر میں چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ امیر سفر تھے۔۲۰۷ اس کے بعد واقفین نے زیر امارت مکرم مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی ۱۹۴۰ء میں ڈلہوزی کی طرف اور ۱۹۴۱ء میں چنبہ کی طرف پیدل سفر کیا۔ اگلے سال ۱۹۴۲ء میں مولوی غلام احمد صاحب مولوی فاضل بدوملہوی ہی کی زیر قیادت مجاہدین کا قافلہ قادیان سے جموں تک بذریعہ ریل پہنچا۔ جہاں سے پیدل چل کر ۲۰۔ اگست کو سرینگر پہنچا۔۲۰۸ سرینگر سے واپسی پر شدید بارش اور راستہ کی خرابی کے باوجود واقفین نے سرینگر سے جموں تک کا سفر دورات اور ڈیڑھ دن میں پیدل طے کیا۔
    اسی طرح ۱۹۴۴ء اور ۱۹۴۵ء میں بھی واقفین نے مکرم مولوی صاحب موصوف کی قیادت میں پھر ڈلہوزی کا پیدل سفر کیا اور وہاں کچھ عرصہ قیام کیا جہاں تعلیم کے لئے اساتذہ کرام بھی تشریف لے گئے ہوئے تھے۔۲۰۹
    نہم۔ یہ زمانہ چونکہ واقفین کی ٹریننگ اور تربیت کا تھا۔ اس لئے حضورؓ نے جماعت کو اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔
    >آج نوجوانوں کی ٹریننگ اور ان کی تربیت کا زمانہ ہے اور ٹریننگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے۔ لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہورہا۔ مگر جب قوم تربیت پاکر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے تو دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔ درحقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اٹھنے پر اٹھے اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جائے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کردیا کرتی ہے اور یہ چیز ہماری جماعت میں ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ ہماری جماعت میں قربانیوں کا مادہ بہت کچھ ہے مگر ابھی یہ جذبہ ان کے اندر اپنے کمال کو نہیں پہنچا کہ جونہی ان کے کانوں میں خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی آواز آئے اس وقت جماعت کو یہ محسوس نہ ہوکہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں نے ان کو اٹھا لیا ہے اور صور اسرافیل ان کے سامنے پھونکا جارہا ہے۔ جب آواز آئے کہ بیٹھو تو اس وقت انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں کا تصرف ان پرہورہا ہے اور وہ ایسی سواریاں ہیں جن پر فرشتے سوار ہیں۔ جب وہ کہے بیٹھ جائو تو سب بیٹھ جائیں جب کہے کھڑے ہو جائو تو سب کھڑے ہو جائیں۔ جس دن یہ روح ہماری جماعت میں پیدا ہوجائے گی اس دن جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا اور اسے توڑ مروڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اسی طرح احمدیت اپنے شکار پر گرے گی اور تمام دنیا کے ممالک چڑیا کی طرح اس کے پنجہ میں آجائیں گے اور دنیا میں اسلام کا پرچم پھر نئے سرے سے لہرانے لگ جائے گا<۔۲۱۰4] [rtf
    سنیما کی مستقل ممانعت
    حضور نے ابتدا میں سنیما کی ممانعت تین سال کے لئے کی تھی مگر پھر اس کی توسیع دس سال تک کردی جس کے بعد سنیما کو مستقل طور پر ممنوع قرار دے دیا اور ارشاد فرمایا کہ۔
    >بعض لوگوں کے منہ سے یہ بات بھی نکلی ہے کہ سنیما کی ممانعت دس سال کے لئے ہے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ برائی کا تعلق دس سال یا بیس سال سے نہیں ہوتا۔ جس چیز میں کوئی خرابی ہو وہ کسی معیاد سے تعلق نہیں رکھتی۔ اس طرح سے تو میں نے صرف آپ لوگوں کی عادت چھڑا دی ہے۔ اگر میں پہلے ہی یہ کہہ دیتا کہ اس کی ہمیشہ کے لئے ممانعت ہے تو بعض نوجوان جن کے ایمان کمزور تھے۔ اس پر عمل کرنے میں تامل کرتے۔ مگر میں نے پہلے سال تین سال کے لئے ممانعت کی اور جب عادت ہٹ گئی تو پھر مزید سات سال کے لئے ممانعت کردی اور اس کے بعد چونکہ عادت بالکل ہی نہیں رہے گی اس لئے دوست خود ہی کہیں گے کہ جہنم میں جائے سنیما` اس پر پیسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟<۲۱۱
    پھر فرمایا۔
    >سنیما کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس زمانہ کی بدترین *** ہے) اس نے سینکڑوں شریف گھرانے کے لوگوں کو گویا اور سینکڑوں شریف خاندانوں کی عورتوں کو ناچنے والی بنا دیا ہے۔ میں ادبی رسالے وغیرہ دیکھتا رہتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ سنیما کے شوقین اور اس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے مضامین میں ایسا تمسخر ہوتا ہے اور ان کا اخلاق اور ان کا مذاق ایسا گندہ ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ سنیما والوں کی غرض تو روپیہ کمانا ہے نہ کہ اخلاق سکھانا۔ اور وہ روپیہ کمانے کے لئے ایسے لغو اور بیہودہ افسانے اور گانے پیش کرتے ہیں کہ جو اخلاق کو سخت خراب کرنے والے ہوتے ہیں اور شرفاء جب ان میں جاتے ہیں تو ان کا مذاق بھی بگڑ جاتا ہے اور ان کے بچوں اور عورتوں کا بھی جن کو وہ سنیما دیکھنے کے لئیے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اور سنیما ملک کے اخلاق پر ایسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں میرا منع کرنا تو الگ رہا اگر میں ممانعت نہ کروں تو بھی مومن کی روح کو خودبخود اس سے بغاوت کرنی چاہئے<۲۱۲
    اپریل ۱۹۴۳ء میں حضور کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی کہ بعض نوجوان سمجھتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین نے تاریخی تصاویر دیکھنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ۔
    >جو شخص کہتا ہے کہ میں نے ہسٹاریکل پکچرز دیکھنے کی اجازت دی ہے وہ کذاب ہے۔ میں نے ہرگز ایسا نہیں کہا ۔۔۔۔۔۔ میں نے جو اجازت دی ہے وہ یہ ہے کہ علمی یا جنگی اداروں کی طرف سے جو خالص علمی پکچرز ہوتی ہے مثلاً جنگلوں` دریائوں کے نقشے یا کارخانوں کے نقشے یا جنگ کی تصاویر جو سچی ہوں ان کے دیکھنے کی اجازت ہے کیونکہ وہ علم ہے<۔۲۱۳
    مزید فرمایا کہ
    >جغرافیائی اور تاریخی فلم سے مراد سچی فلم ہے۔ جھوٹی فلم کی ہرگز اجازت نہیں دی گئی۔ تاریخی فلم ایسی ہے جیسے سان فارنسسکو کے جاپان کے معاہدہ کی مجلس کی فلم ہوگی۔ جغرافیائی سے مراد یہ ہے کہ پہاڑ پر جاکر یا مثلاً جادا جاکر وہاں کے جنگلوں دریائوں کی فلم لے۔ جھوٹی فلم خواہ جغرافیائی ہو خواہ تاریخی ناجائز ہے۔ مثلاً نپولین کی جنگوں کی کوئی شخص فلم بنائے تو یہ جھوٹی ہوگی۔ باوجود نام نہاد تاریخی فلم ہونے کے وہ ناجائز ہوگی<۔۲۱۴
    وقف زندگی برائے سکیم دیہاتی مبلغین
    ایک لمبے تجربہ کے بعد حضرت امیرالمومنینؓ نے جب دیکھا کہ ہم اتنے مبلغ تیار نہیں کرسکتے جو دنیا کی ضرورت کو پورا کرسکیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضور کے دل میں دیہاتی مبلغین کی سکیم ڈالی۲۱۵ اور حضور نے ۲۹۔ جنوری ۱۹۴۳ء کو تیسری قسم کا وقف )برائے دیہاتی مبلغین( جاری کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ
    >میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دو قسم کے مبلغ ہونے چاہئیں۔ ایک تو وہ جو بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں جاکر تبلیغ کرسکیں۔ لیکچر اور مناظرے وغیرہ کرسکیں۔ اپنے ماتحت مبلغوں کے کام کی نگرانی کرسکیں۔ اور ایک ان سے چھوٹے درجہ کے مبلغ دیہات میں تبلیغ کے لئے ہوں۔ جیسے دیہات کے پرائمری سکولوں کے مدرس ہوتے ہیں ایسے مبلغ دیہات کے لوگوں میں سے ہی لئے جائیں۔ ایک سال تک ان کو تعلیم دے کر موٹے موٹے مسائل سے آگاہ کردیا جائے اور پھر ان کو دیہات میں پھیلا دیا جائے اور جس طرح پرائمری کے مدرس اپنے اردگرد کے دیہات میں تعلیم کے ذمہ دار ہوتے ہیں اسی طرح یہ اپنے علاقہ میں تبلیغ کے ذمہ دار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں ایک سال میں موٹے موٹے دینی مسائل مثلاً نکاح` نماز` روزہ` حج` زکٰوۃ` جنازہ وغیرہ کے متعلق احکام سکھا دیئے جائیں۔ قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا دیا جائے` کچھ احادیث پڑھائی جائیں` سلسلہ کے ضروری مسائل پر نوٹ لکھا دیئے جائیں۔ تعلیم و تربیت کے متعلق ان کو ضروری ہدایات دی جائیں اور انہیں سمجھا دیا جائے کہ بچوں کو کس قسم کے اخلاق سکھانے چاہئیں اور اس غرض سے انہیں ایک دو ماہ خدام الاحمدیہ میں کام کرنے کا موقع بہم پہنچایا جائے اور یہ سارا کورس ایک سال یا سوا سال میں ختم کراکے انہیں دیہات میں پھیلا دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔ پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس سکیم کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے اور اپنے اپنے ہاں کے ایسے نوجوانوں کو جو پرائمری یا مڈل پاس ہوں اور لوئر پرائمری کے مدرسوں جتنا ہی گزارہ لے کر تبلیغ کا کام کرنے پر تیار ہوں فوراً بھجوا دیں تا ان کے لئے تعلیم کا کورس مقرر کرکے انہیں تبلیغ کے لئے تیار کیا جاسکے<۲۱۶
    چونکہ جنگ کا زمانہ تھا اور گرانی بہت تھی اس لئے ابتداء میں صرف پندرہ۲۱۷ واقفین منتخب کئے گئے جن کی ٹریننگ باقاعدہ ایک کلاس کی شکل میں جنوری ۱۹۴۵ء۲۱۸ تک جاری رہی۔ انہیں علماء سلسلہ کے علاوہ خود سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی~رضی۱~ بھی تعلیم دیتے تھے۔ چنانچہ حضورؓ نے مجلس مشاورت )منعقدہ ۷` ۸` ۹۔ اپریل ۱۹۴۴ء( میں بتایا کہ۔
    >میں دیہاتی مبلغین کو آج کل تعلیم دے رہا ہوں۔ یہ لوگ مدرس بھی ہوں گے اور مبلغ بھی۔ چھ مہینہ تک یہ لوگ فارغ ہو جائیں گے۔ پندرہ بیس ان کی تعداد ہے<۔۲۱۹
    ٹریننگ کا دور ختم ہوا تو ان میں سے چودہ۲۲۰ کو فروری ۱۹۴۵ء سے پنجاب کے مختلف دیہاتی علاقوں میں متعین کردیا گیا۔
    دیہاتی مبلغین کے وقف کی یہ سکیم بہت کامیاب رہی اور حضور نے دیہاتی مبلغین کی نسبت اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا۔
    >خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا یہ تجربہ بہت کامیاب رہا ہے۔ کئی جماعتیں ایسی تھیں جو کہ چندوں میں سست تھیں اب ان میں بیداری پیدا ہوگئی۔ پہلے سال صرف پندرہ آدمی اس کلاس میں شامل ہوئے تھے اور پچھلے سال پچاس شامل ہوئے<۔۲۲۱
    دیہاتی مبلغین کی تیسری کلاس ۱۹۴۷ء میں کھولی گئی جس میں ۵۳ واقفین داخل کئے گئے۔ ابھی پڑھائی کا گویا آغاز ہی تھا کہ ملک فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر طلبہ قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے رہ گئے اور صرف چھ پاکستان آئے جنہیں تکمیل تعلیم کے بعد تبلیغ پر لگا دیا گیا۔۲۲۲
    اس کے بعد آئندہ کے لئے یہ شرط عائد کردی گئی کہ صرف غیر شادی شدہ لئے جائیں گے نیز یہ کہ ان کو صرف دوران تعلیم میں وظیفہ دیا جائے گا اور تعلیم کے بعد دو برس تک کسی الائونس کے بغیر مفوضہ کام کرنا ہوگا۔ چنانچہ ان شرائط کے مطابق چوتھی کلاس جون ۱۹۴۸ء سے لاہور میں جاری کی گئی۔۲۲۳ اور جب واقفین دور تعلیم مکمل کرچکے تو وہ اپنے اپنے حلقوں میں بھجوا دیئے گئے۔ اس طرح دیہاتی مبلغین کے چار گروپ بن گئے۔ جن کی تعداد ۱۹۵۲ء میں انسٹھ تک جاپہنچی۔۲۲۴ ۲۸۔ مارچ ۱۹۵۴ء۲۲۵ کو سیدنا حضرت المصلح الموعودؓ کے ارشاد پر مولانا ابوالعطاء صاحب اور میاں غلام محمد صاحب اختر پر مشتمل ایک بورڈ مقرر کیا گیا جس نے دیہاتی مبلغین کا امتحان لیا اور قابل مبلغین کا انتخاب کرکے نظارت اصلاح و ارشاد صدر انجمن احمدیہ میں بطور معلم رکھ لیا گیا اور باقی فارغ کر دیئے گئے۔۲۲۶body] [tag
    وقف جائیداد اور وقف آمد کی اہم تحریک
    سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے ۱۰۔ مارچ ۱۹۴۴ء کو جماعت سے وقف جائیداد اور اس کے نہ ہونے کی صورت میں وقف آمد کا مطالبہ فرمایا۲۲۷ اور ساتھ ہی وضاحت بھی فرمائی کہ۔
    >یہ وقف ۔۔۔۔۔۔ اس صورت میں ہوگا کہ ان کی جائیداد ان ہی کے پاس رہے گی اور آمد بھی مالک کی ہوگی اور وہی اس کا انتظام بھی کرے گا ہاں جب سلسلہ کے لئے ضرورت ہوگی۔ ایسی ضرورت جو عام چندہ سے پوری نہ ہوسکے تو جتنی رقم کی ضرورت ہوگی اسے ان جائیدادوں پر بحصہ رسدی تقسیم کر دیا جائے گا<۔۲۲۸
    اس مطالبہ کے اعلان سے قبل نہ صرف حضرت امیرالمومنینؓ نے اپنی جائیداد وقف فرما دی بلکہ حضور کا منشاء مبارک معلوم ہوتے ہی چودھری ظفر اللہ خاں صاحب اور نواب مسعود احمد خاں صاحب نے اپنی جائیدادیں اپنے آقا کے حضور پیش کردیں۔ جس کا ذکر خود حضور نے بایں الفاظ فرمایا۔
    >میں سب سے پہلے اس غرض کے لئے اپنی جائیداد وقف کرتا ہوں۔ دوسرے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب ہیں انہوں نے بھی اپنی جائیداد میری اس تحریک پر دین کی خدمت کے لئے وقف کردی ہے۔ بلکہ انہوں نے مجھے کہا آپ جانتے ہیں آپ کی پہلے بھی یہی خواہش تھی اور ایک دفعہ آپ نے اپنی اس خواہش کا مجھ سے اظہار بھی کیا تھا کہ میری جائیداد اس غرض کے لئے لے لی جائے۔ اب دوبارہ میں اس مقصد کے لئے اپنی جائیداد پیش کرتا ہوں۔ تیسرے نمبر پر میرے بھانجے مسعود احمد خاں صاحب ہیں انہوں نے کل سنا کہ میری یہ خواہش ہے تو فوراً مجھے لکھا کہ میری جس قدر جائیداد ہے اسے میں بھی اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کرتا ہوں<۔۲۲۹
    حضور نے اس وقف کے لئے ایک کمیٹی تشکیل فرمائی جس کے ذمہ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اس وقت فلاں ضرورت کے لئے وقف جائیدادوں سے کتنی رقم لی جائے۔
    نومبر ۱۹۴۴ء تک قریباً ایک کروڑ روپیہ مالیت کی جائیدادیں وقف ہوئیں۔۲۳۰
    وقف زندگی کی وسیع تحریک
    حضرت اقدسؓ کی دوربین نگاہ نے قبل از وقت دیکھ لیا تھا کہ جنگ کے اختتام پر ہمیں فوری طور پر تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دینا پڑے گی۔ اس لئے حضورؓ نے ۲۴۔ مارچ ۱۹۴۴ء کو وقف زندگی کی پرزور تحریک فرمائی۔۲۳۱ اور ارشاد فرمایا کہ۔
    >میرا اندازہ ہے کہ فی الحال دو سو علماء کی ہمیں ضرورت ہے تب موجودہ حالات کے مطابق جماعتی کاموں کو تنظیم کے ماتحت چلایا جاسکتا ہے لیکن اس وقت واقفین کی تعداد ۳۰۔ ۳۵ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ گریجویٹوں اور ایم۔ اے پاس نوجوانوں کی بھی کالج کے لئے ضرورت ہے تا پروفیسر وغیرہ تیار کئے جاسکیں۔ ایسے ہی واقفین میں سے آئندہ ناظروں کے قائم مقام بھی تیار کئے جاسکیں گے۔ آگے ایسے لوگ نظر نہیں آتے جنہیں ناظروں کا قائم مقام بنایا جاسکے۔ میری تجویز ہے کہ واقفین نوجوانوں کو ایسے کاموں پر بھی لگایا جائے اور ایسے رنگ میں ان کی تربیت کی جائے کہ وہ آئندہ موجودہ ناظروں کے قائم مقام بھی ہوسکیں۔ پس ایم۔ اے پاس نوجوانوں کی ہمیں ضرورت ہے<۔۲۳۲
    نوجوانان احمدیت کا شاندار اخلاص
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی اس تحریک پر نوجوانان احمدیت خدمت دین کے لئے دیوانہ وار آگے بڑھے اور اپنی زندگیاں وقف کیں۔ اخلاص و محبت کا یہ ایسا شاندار نظارہ تھا کہ اس نے غیر مسلموں تک کو متاثر کیا۔ چنانچہ اخبار >پرکاش< )جالندھر( نے لکھا۔
    >آپ احمدیت` تحریک قادیان کی طرف دھیان دیں اور آنکھیں کھولیں۔ قادیان میں بڑے سے بڑے احمدی نے اپنے لخت جگروں کو احمدیت کی تبلیغ کے لئے وقف کردیا ہے اور اس پیشہ کو بڑی آدر کی درشٹی سے دیکھا جاتا ہے۔ تحریک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کررہی ہے کیونکہ ان کے لیڈر عالم باعمل ہیں اور سپرٹ مخلصانہ ہے<۔۲۳۳
    غیر احمدی نوجوانوں پر تحریک وقف کا اثر
    اس تحریک کا غیر احمدی نوجوانوں پر کیا اثر ہوا؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے صرف ایک مکتوب درج کیا جاتا ہے۔ ایک غیر احمدی دوست اقبال احمد صاحب زبیری بی اے بی ٹی )علیگ( نے حضور کی خدمت میں لکھا:۔
    >حضرت امیرالمومنین السلام علیکم۔ آپ کی جماعت میں ایک صاحب بنام مبارک احمد صاحب میرے ہم پیشہ دوست ہیں۔ میرا اور موصوف کا قریباً دو ڈھائی سال سے ساتھ ہے اور ہمارے درمیان بہت گہرے اور مخلصانہ تعلقات قائم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ موصوف کے ساتھ دو جمعہ کی نمازوں میں شریک ہوا جبکہ علاوہ وقتاً فوقتاً الفضل پڑھنے کے آپ کا دیا ہوا خطبہ میں نے سنا۔ وہ خطبے جو میں نے سنے ان میں سے دو قابل ذکر ہیں۔ ایک جو ہندوستان اور برطانیہ کے مابین مصالحت کے متعلق تھا اور دوسرا جس میں آپ نے جماعت کے لوگوں سے زندگی وقف کردینے کے لئے خدا اور اس کے رسول کی راہ میں تاکید فرمائی ہے۔ مبارک احمد صاحب نے تو آپ کی آواز پر فوراً لبیک کہا اور ان کا خط اور درخواست غالباً اس وقت آپ کے زیر غور ہوگی۔ میں آپ کی جماعت کا باقاعدہ رکن تو اس وقت نہیں ہوں لیکن اللہ اور اس کے رسول کی خدمت کسی نظام کے ماتحت کرنے میں مجھے عذر بھی نہیں<۔
    مجاہدین تحریک جدید کے لئے اسناد
    تحریک جدید کے ابتدائی دس سال ختم ہوئے تو سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے دفتر اول کے مجاہدین کو اپنے دستخط سے مطبوعہ اسناد۲۳۴ عطا فرمائیں۔
    اشاعت لٹریچر
    دور ثانی میں تحریک جدید کی طرف سے مندرجہ ذیل لٹریچر شائع کیا گیا۔
    ۱۔ احمدیت یعنی حقیقی اسلام
    >۔SPLIT THE ABOUT TRUTH <THE ۔2
    ۳۔ انقلاب حقیقی
    ‏(1939) AIIND OUTSIDE COMMUNITY AHMADIYYA OF PROGRESS SHOWING ALBUM ۔4
    ۵۔ >تفسیر کبیر< جلد سوم )دسمبر ۱۹۴۰ء(
    ۶۔ سیر روحانی )۱۹۴۱ء( ۷۔ نظام نو )۱۹۴۳ء(
    تحریک جدید کے دس سالہ دور پر ایک نظر
    سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ تحریک جدید کے پہلے دس سالوں کی خدمات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    >تحریک جدید کے پہلے دور کی میعاد دس سال تھی ۔۔۔۔۔۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جس قربانی کی توفیق دی ہے اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس نے اس عرصہ میں جو چندہ اس تحریک میں دیا وہ تیرہ۔ چودہ لاکھ روپیہ بنتا ہے اور اس روپیہ سے جہاں ہم نے اس دس سال کے عرصہ میں ضروری اخراجات کئے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ریزروفنڈ بھی قائم کیا ہے اور اس ریزروفنڈ کی مقدار ۲۸۰ مربع زمین ہے۔ اس کے علاوہ بھی ایک سو مربع زمین ایسی ہے جس میں سے کچھ حصہ خریدنے کا ابھی وقت نہیں آیا۔ کچھ حصہ گو خریدا تو گیا ہے مگر اس پر ابھی قرض ہے۔ اسے اگر شامل کرلیا جائے تو کل رقبہ ۳۸۰ مربعے ہو جاتا ہے۔ اس دوران میں تحریک جدید کے ماتحت ہمارے مبلغ جاپان میں گئے۔ تحریک جدید کے ماتحت چین میں مبلغ گئے` سنگاپور میں گئے۔ اور اس تحریک کے ماتحت خدا تعالیٰ کے فضل سے سپین` اٹلی` ہنگری` پولینڈ` البانیہ` یوگوسلاویہ اور امریکہ میں بھی مبلغ گئے اور ان مبلغین کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور سلسلہ سے لاکھوں لوگ روشناس ہوئے<۔۲۳۵
    پہلا باب )فصل نہم(
    دفتر دوم سے لیکر دفتر سوم تک
    )مئی ۱۹۴۴ء تا نومبر ۱۹۶۵ء
    دفتر دوم کا آغاز
    مئی ۱۹۴۴ء میں دفتر دوم شروع ہوا۔ حضور نے دفتر دوم کیے مجاہدین کے لئے تین شرائط مقرر فرمائیں۔
    ۱۔
    چندہ ایک ماہ کی آمد کے برابر ہو۔
    ۲۔
    وہ انیس سال تک چندہ دیئے جائیں اور آمد کے مطابق ہر سال اس میں اضافہ کریں۔
    ۳۔
    آمد کے بند ہو جانے یا ملازمت سے علیحدگی کی صورت میں فوراً دفتر تحریک جدید کو اطلاع دیں۔ دفتر ان کے حالات کا جائزہ لے کر چندہ کی رقم مقرر کردے گا۔10] [p۲۳۶
    اس سلسلہ میں حضورؓ نے دفتر ثانی کے ہر مجاہد کو ایک خاص ارشاد یہ فرمایا کہ۔
    >وہ عہد کرے کہ نہ صرف آخر تک وہ خود پوری باقاعدگی کے ساتھ اس تحریک میں حصہ لیتا رہے گا بلکہ کم سے کم ایک آدمی ایسا ضرور تیار کرے گا جو دفتر دوم میں حصہ لے اور اگر وہ زیادہ آدمی تیار کرسکے تو یہ اور بھی اچھی بات ہے<۔۲۳۷
    فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام
    ۱۱۔ مئی ۱۹۴۴ء کو تحریک جدید کے سرمایہ سے قادیان میں >فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ< کے تحقیقاتی ادارہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اور اس کا افتتاح ۱۹۔ اپریل ۱۹۴۶ء کو ہندوستان کے مشہور سائنسدان سرشانتی سروپ بھٹناگر نے کیا۔ انسٹی ٹیوٹ نے تین سال کے قلیل عرصہ میں بیرونی ممالک سے لیبارٹری کا قیمتی سامان فراہم کرنے کے علاوہ سائنس کے مستند اور تازہ لٹریچر پر مشتمل ایک مثالی لائبریری قائم کردکھائی۔
    اخبار >انقلاب< )لاہور( ۲۰۔ اپریل ۱۹۴۶ء` روزنامہ >سٹیسمین< )دہلی۔ کلکتہ( )مئی ۱۹۴۶ء( اور لنڈن کے مشہور سائنسی رسالہ <NATURE> نے ۸۔ جون ۱۹۴۶ء کی اشاعت میں فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح پر نہایت زوردار تبصرے شائع کئے اور مذہب و سائنس کی ہم آہنگی کے لئے جماعت احمدیہ کی اس شاندار کوشش کو بہت سراہا۔۲۳۸`۲۳۹
    معاہدہ >حلف الفضول< کا احیاء
    ۱۲۔ جولائی ۱۹۴۴ء کو حضورؓ نے الہام الٰہی کی بناء پر معاہدہ حلف الفضول کا احیاء فرمایا۔۲۴۰ نیز بتایا کہ۔
    >یہ ایک معاہدہ تھا جو حضرت رسول کریم~صل۱~ کے زمانہ میں بعثت سے قبل ہوا۔ جس میں زیادہ جوش کے ساتھ حصہ لینے والے تین فضل نام کے آدمی تھے۔ اس لئے اس کو حلف الفضول کہتے ہیں۔ اور اس معاہدہ کا مطلب یہ تھا کہ ہم مظلوموں کو ان کے حقوق دلوانے میں مدد کیا کریں گے اور اگر کوئی ان پر ظلم کرے گا تو ہم اس کو روکیں گے۔۲۴۱
    جنگ عظیم )ثانی( کا اثر تحریک جدید پر
    یکم ستمبر ۱۹۳۹ء کو دوسری جنگ عظیم شروع ہوگئی جو ۱۰۔ اگست ۱۹۴۵ء تک جاری رہی۔ اس دوران میں چھ سال تک بیرونی ممالک میں کوئی نیا مشن قائم نہ کیا جاسکا۔ اور جو مشن جنگ سے پہلے قائم ہوچکے تھے وہ بھی اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہوگئے۔
    مشہور زبانوں میں لٹریچر
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے اس جنگی زمانہ میں اپنی پوری قوت تحریک جدید کی بنیادیں مضبوط کرنے اور تبلیغی لٹریچر کی تیاری میں صرف فرما دی۔۲۴۲ چنانچہ اس عرصہ میں دوسرے اہم امور کے علاوہ حضور نے دنیا کی مشہور زبانوں انگریزی` روسی` جرمن` فرانسیسی` اطالوی` ڈچ` ہسپانوی اور پرتگیزی میں قرآن مجید کا ترجمہ کرایا۔ انگریزی تفسیر القرآن کا کام تو قادیان میں ہورہا تھا۔ باقی زبانوں کے تراجم مولانا جلال الدین صاحب شمس مبلغ انگلستان کی نگرانی میں لنڈن میں پناہ گزین غیر ملکی ادیبوں نے مکمل کئے۔
    حضور نے ۲۰۔ اکتوبر ۱۹۴۴ء کو تراجم قرآن کریم کے ساتھ اور دوسرے تبلیغی لٹریچر کی اشاعت کی نہایت اہم سکیم رکھی اور اس غرض کے لئے بارہ کتابوں کا سیٹ تجویز فرمایا۔ جس کا دنیا کی آٹھ مشہور زبانوں میں ترجمہ ہونا ضروری تھا۔ ان بارہ کتابوں میں سے نو یہ تھیں۔ ۱۔ اسلامی اصول کی فلاسفی۔ ۲۔ مسیح ہندوستان میں۔ ۳۔ احمدیت یعنی حقیقی اسلام۔ ۴۔ رسول کریم~صل۱~ کی سوانح عمری۔ ۵۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح۔ ۶۔ ترجمہ احادیث۔ ۷۔ پرانے اور نئے عہد نامہ میں سے رسول کریم~صل۱~ کے متلعق پیشگوئیاں۔ ۸۔ پرانے اور نئے عہد نامہ کی روشنی میں توحید۔ ۹۔ نظام نو۔ یہ سیٹ انگریزی ممالک کے لئے تھا۔ جہاں تک عربی ممالک کا تعلق ہے حضورؓ کا منشاء تھا کہ اور قسم کا سیٹ تجویز ہونا چاہئے۔
    اس کے علاوہ حضور نے نو زبانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹریکٹوں اور اشتہاروں کی اشاعت کا پروگرام اس سکیم میں شامل کیا۔4] fts[۲۴۳
    اس عظیم الشان جدوجہد کا واحد مقصد یہ تھا کہ جونہی مادی اور سیاسی جنگ بند ہو تبلیغی اور روحانی جنگ کا آغاز کردیا جائے۔۲۴۴ چنانچہ حضورؓ نے فرمایا۔
    >لڑائی کا بگل تو جب اللہ تعالیٰ چاہے گا بجے گا۔ پریڈ کا بگل بجا دیا گیا ہے اور چاہئے کہ اسلام کا درد رکھنے والوں میں یہ بگل ایک غیر معمولی جوش پیدا کرنے کا موجب ہو۔ وقت آگیا ہے کہ جن نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں وہ جلد سے جلد علم حاصل کرکے اس قابل ہو جائیں کہ انہیں اسلام کی جنگ میں اسی طرح جھونکا جاسکے جس طرح تنور میں لکڑیاں جھونکی جاتی ہیں۔ اس جنگ میں وہی جرنیل کامیاب ہوسکتا ہے جو اس لڑائی کی آگ میں نوجوانوں کو جھونکنے میں ذرا رحم نہ محسوس کرے اور جس طرح ایک بھڑبھونجا چنے بھونتے وقت آموں اور دوسرے درختوں کے خشک پتے اپنے بھاڑ میں جھونکتا چلا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس کے دل میں ذرا بھی رحم پیدا نہیں ہوتا اسی طرح نوجوانوں کو اس جنگ میں جھونکتا چلا جائے۔ اگر بھاڑ میں پتے جھونکنے کے بغیر چنے بھی نہیں بھن سکتے تو اس قسم کی قربانی کے بغیر اسلام کی فتح کیسے ہوسکتی ہے؟
    پس اس جنگ میں وہی جرنیل کامیابی کا منہ دیکھ سکے گا جو یہ خیال کئے بغیر کہ کس طرح مائوں کے دلوں پر چھریاں چل رہی ہیں نوجوانوں کو قربانی کے لئے پیش کرتا جائے۔ موت اس کے دل میں کوئی رحم اور درد پیدا نہ کرے۔ اس کے سامنے ایک ہی مقصد ہو اور وہ یہ کہ اسلام کا جھنڈا اس نے دنیا میں گاڑنا ہے اور سنگدل ہوکر اپنے کام کو کرتا جائے۔ جس دن مائیں یہ سمجھیں گی کہ اگر ہمارا بچہ دین کی راہ میں مارا جائے تو ہمارا خاندان زندہ ہو جائے گا جس دن آپ یہ سمجھنے لگیں گے کہ اگر ہمارا بچہ شہید ہوگیا تو وہ حقیقی زندگی حاصل کر جائے گا اور ہم بھی حقیقی زندگی پالیں گے وہ دن ہوگا جب محمد مصطفیٰ~صل۱~ کیے دین کو زندگی ملے گی<۔۲۴۵
    بیرونی تبلیغ اور خصوصی تعلیم کیلئے واقفین کا اہم انتخاب
    یکم فروری ۱۹۴۵ء کا دن تحریک جدید میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس روز حضور نے دارالواقفین کے تمام مجاھدین کو قصر خلافت میں شرف باریابی بخشا۔ ازاں بعد حضور نے بائیس واقفین کو بیرونی ممالک میں بھجوانے اور نو واقفین کو تفسیر` حدیث` فقہ اور فلسفہ و منطق کی اعلیٰ تعلیم۲۴۶ دلانے کے لئے منتخب فرمایا تاوہ سلسلہ کے بزرگ علماء کے قائم مقام بن سکیں۔ اس موقعہ پر حضور نے اپنے دست مبارک سے جو تحریر بطور یادداشت لکھی وہ ایک نہایت قیمتی یادگار ہے جس کا عکس بھی اس مقام پر دیا جارہا ہے۔۲۴۷حضورؓ نے جن واقفین کو ممالک غیر کی تبلیغ کے لئے تجویز فرمایا ان کے نام یہ ہیں۔
    )عرب ممالک( مولوی رشید احمد صاحب چغتائی۔ مولوی نور احمد صاحب منیر۔ چوہدری شریف احمد صاحب۔ )ایران( مولوی صدر الدین صاحب` شیخ عبدالواحد صاحب۔ )سپین( مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر` چوہدری محمد اسحاق صاحب ساقی۔ )جنوبی امریکہ( مولوی منور احمد صاحب` چودھری غلام رسول صاحب۔ )اٹلی( مولوی محمد عثمان صاحب` محمد ابراہیم صاحب خلیل` )جرمنی( مولوی عبداللطیف صاحب` شیخ ناصر احمد صاحب` مولوی غلام احمد صاحب بشیر۔ )انگلستان( چودھری مشتاق احمد صاحب صاحب باجوہ۔ چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ۔ حافظ قدرت اللہ صاحب۔ )شمالی امریکہ( چودھری خلیل احمد صاحب ناصر` چوہدری غلام یٰسین صاحب` مرزا منور احمد صاحب۔ )فرانس( ملک عطاء الرحمن صاحب` مولوی اللہ دتا صاحب۔۲۴۸
    حصول تعلیم خاص کے لئے مندرجہ ذیل واقفین منتخب کئے گئے۔
    مولوی نور الحق صاحب۲۴۹
    )تفسیر(
    ملک سیف الرحمن صاحب۲۵۰
    )فقہ(
    مولوی محمد صدیق صاحب۲۵۱
    )حدیث(
    مولوی محمد احمد صاحب جلیل۲۵۲
    )حدیث(
    مولوی محمد احمد صاحب ثاقب۲۵۳
    )فقہ(
    مولوی غلام باری صاحب سیف۲۵۴
    )حدیث(
    حکیم محمد اسمعیٰل صاحب۲۵۵
    )منطق و فلسفہ(
    حافظ بشیرالدین عبیداللہ صاحب۲۵۶
    )تفسیر(
    ملک مبارک احمد صاحب۲۵۷
    )منطق و فلسفہ(

    ازاں بعد مولوی خورشید احمد صاحب شاد۲۵۸ بھی اس زمرہ میں شامل کر لئے گئے اور حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے آپ کو حدیث شریف کی خصوصی تعلیم کا ارشاد فرمایا۔
    مندرجہ بالا واقفین مئی ۱۹۴۷ء میں فارغ التحصیل ہوئے جس کا ذکر خود حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۶۔ جون ۱۹۴۷ء کے خطبہ جمعہ میں کیا۔ چنانچہ فرمایا۔
    >مجھے کئی سال سے یہ فکر تھا کہ جماعت کے پرانے علماء اب ختم ہوتے جارہے ہیں۔ ایسا نہ ہوکہ جماعت کو یکدم مصیبت کا سامنا کرنا پڑے اور جماعت کا علمی معیار قائم نہ رہ سکے۔ چنانچہ اس کے لئے میں نے آج سے تین چار سال قبل نئے علماء کی تیاری شروع کردی تھی۔ کچھ نوجوان تو میں نے مولوی صاحب )یعنی حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ۔ ناقل( سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے مولوی صاحب کے ساتھ لگا دیئے۲۵۹ اور کچھ باہر بھجوا دیئے تاکہ وہ دیوبند وغیرہ کے علماء۲۶۰ سے ظاہری علوم سیکھ آئیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کی بات ہے کہ ان علماء کو واپس آئے صرف ایک ہفتہ ہوا ہے۔ جب وہ واپس آگئے تو مولوی صاحب فوت ہوگئے<۔۲۶۱
    حضرت اقدس نے مرکز میں ان واقفین کی واپسی پر ان کو دوسرے واقفین کے پڑھانے پر مقرر فرما دیا۔ نیز ارشاد فرمایا کہ فقہ پڑھنے والے دوسروں کو فقہ کی اور حدیث پڑھنے والے دوسروں کو حدیث کی تعلیم دیں۔ چنانچہ یکم رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ مطابق ۱۹۔ جولائی ۱۹۴۷ء تک تدریس کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد واقفین کو ایک ماہ کی رخصت دی گئی۔ اسی دوران میں ملک تقسیم ہوگیا اور ان کو ہجرت کرکے پاکستان آنا پڑا۔
    خاندانی وقف کی تحریک
    ۵۔ جنوری ۱۹۴۵ء کو حضرت امیرالمومنینؓ نے فرمایا۔
    >تحریک جدید کے پہلے دور میں میں نے اس کی تمہید باندھی تھی۔ مگر اب دوسری تحریک کے موقعہ پر میں مستقل طور پر دعوت دیتا ہوں کہ جس طرح ہر احمدی اپنے اوپر چندہ دینا لازم کرتا ہے۔ اسی طرح ہر احمدی خاندان اپنے لئے لازم کرے کہ وہ کسی نہ کسی کو دین کے لئے وقف کرے گا<۔۲۶۲
    اپنے پیارے آقا کے اس ارشاد پر کئی مخلصین نے اپنے بچوں کو وقف کیا اور کررہے ہیں۔
    بیرونی ممالک کی تبلیغ تحریک جدید کے دائرہ عمل میں
    فروری ۱۹۴۵ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی~رضی۱~ نے بیرون ہند کے جملہ مشن تحریک جدید کے سپرد فرما دیئے جس کے مطابق ۱۴۔ فروری ۱۹۴۵ء کو صدر انجمن احمدیہ قادیان نے حسب ذیل ریزولیوشن پاس کیا۔
    >رپورٹ ناظر صاحب اعلیٰ کہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ` تحریک کے مدارس اور مشن جو ہندوستان میں ہیں اپنے انتظام میں لے لے اور فلسطین` انگلستان اور امریکہ کے مشن تحریک جدید کے سپرد کردے<۔
    اخراجات کی تقسیم کی یہ صورت ہوکہ صدر انجمن احمدیہ بیرون ہند کے مذکورہ بالا مشنوں کا منظور شدہ بجٹ بعد وضع اخراجات سکول و مشن ہائے تحریک جو صدر انجمن کو ملیں گے نکلوا کر تحریک جدید کو دے دیا کرے۔ جوں جوں ان )فلسطین` انگلستان` و امریکہ( کے علاقوں کی آمد بڑھتی جائے گی اس قدر انجمن ان اخراجات سے آزاد ہوتی جائے گی<۔۲۶۳
    تحریک >وقف تجارت<
    ۵۔ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو حضور نے وقف تجارت کی تحریک فرمائی جس کا مقصد تجارت کے ذریعہ تبلیغی سنٹر قائم کرنا تھا۔ چنانچہ حضور نے فرمایا۔
    >وہ نوجوان جو فوج سے فارغ ہوں گے اور وہ نوجوان جو نئے جوان ہوئے ہیں اور ابھی کوئی کام شروع نہیں کیا۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ اپنی زندگی وقف کریں۔ ایسے رنگ میں نہیں کہ ہمیں دین کے لئے جہاں چاہیں بھیج دیں چلے جائیں گے بلکہ ایسے رنگ میں کہ ہمیں جہاں بھجوایا جائے ہم وہاں چلے جائیں گے۔ اور وہاں سلسلہ کی ہدایت کے ماتحت تجارت کریں گے۔ اس رنگ میں ہمارے مبلغ سارے ہندوستان میں پھیل جائیں گے۔ وہ تجارت بھی کریں گے اور تبلیغ بھی<۔۲۶۴
    وقف تجارت کے تحت واقفین تجارت کو مختلف مقامات پر متعین کیا گیا جہاں سے وہ دفتر کی ہدایات کے ماتحت تجارت کرتے اور اپنی باقاعدہ رپورٹیں بھجواتے تھے۔ اس وقف کے تحت سرمایہ واقفین خود لگاتے تھے۔۲۶۵`۲۶۶
    حضرت مصلح موعود کا مکتوب فنانشل سیکرٹری تحریک جدید کے نام
    حضرت مصلح موعود نے ۳۔ جولائی ۱۹۴۵ء کو چوہدری برکت علی صاحب فنانشل سیکرٹری تحریک جدید کے نام حسب ذیل مکتوب اپنے قلم
    مبارک سے تحریر فرمایا۔




    خاتمہ جنگ اور مجاہدین تحریک جدید کی روانگی
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے قبل از وقت پیشگوئی فرمائی تھی کہ۔
    >تحریک جدید کا اجراء جن اغراض کے ماتحت الٰہی تصرف سے ہوا تھا اس کی وجہ سے میں سمجھتا تھا کہ تحریک جدید کا پہلا دور جب ختم ہوگا تو خدا تعالیٰ ایسے سامان بہم پہنچائے گا کہ تحریک جدید کی اغراض کو پورا کرنے میں جو روکیں اور موانع ہیں خدا تعالیٰ ان کو دور کردے گا اور تبلیغ کو وسیع کرنے کے سامان بہم پہنچا دے گا اور چونکہ تبلیغ کے لئے یہ سامان بغیر جنگ کے خاتمہ کے میسر نہیں آسکتے اس لئے میں سمجھتا تھا کہ ۱۹۴۴ء کے آخر یا ۱۹۴۵ء کے شروع تک یہ جنگ ختم ہوجائے گی<۔۲۶۷
    چنانچہ ۱۵۔ اگست ۱۹۴۵ء کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے اور جنگ ختم ہوگئی۔ اب چونکہ تبلیغی رستے بھی کھلنے شروع ہوگئے تھے اس لئے مجاہدین تحریک جدید بیرونی ممالک میں روانہ کئے جانے لگے۔ چنانچہ اس سال سولہ مبلغین۲۶۸ قادیان سے عازم ممالک بیرون ہوئے جن میں سے نو مجاہدین دسمبر ۱۹۴۵ء میں ایک قافلہ کی صورت میں انگلستان بھجوائے گئے۔ جنہوں نے لنڈن میں کچھ عرصہ ٹریننگ کے بعد یورپ کے اطراف و جوانب میں نئے مشن کھولے یہ یہ قافلہ مندرجہ ذیل مبلغین پر مشتمل تھا۔
    ‏tav.8.7
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    تحریک جدید کی بنیاد سے لے کر خلافت جوبلی تک
    چودھری ظہور احمد صاحب باجوہ۔ حافظ قدرت اللہ صاحب۔ ملک عطاء الرحمن صاحب۔ چودھری اللہ دتا صاحب۔ چوہدری کرم الٰہی صاحب ظفر۔ چودھری محمد اسحاق صاحب ساقی۔ مولوی محمد عثمان صاحب۔ ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل۔ مولوی غلام احمد صاحب بشیر۔۲۶۹body] g[ta
    تحریک جدید کی رجسٹریشن
    ۱۸۔ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو تحریک جدید کی رجسٹریشن ہوئی اور اس تاریخ سے اس کا پورا نام >تحریک جدید انجمن احمدیہ< رکھا گیا۔ تحریک جدید کے آرٹیکلز اینڈ میمورنڈم جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ نے مرتب کئے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ابتدائی ممبر یہ مقرر ہوئے۔:
    ۱۔
    مولوی عبدالرحمن صاحب انور انچارج دفتر تحریک جدید قادیان۔
    ۲۔
    مولوی بہائو الحق صاحب ایم۔ اے وکیل الصنعت و الحرفت جدید قادیان۔][۳۔
    خواجہ عبدالکریم صاحب بی۔ ایس۔ سی وکیل التجارت تحریک جدید قادیان۔
    ۴۔
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج قادیان۔
    ۵۔
    مولوی عبدالمغنی صاحب وکیل التبشیر )برائے ممالک ایشیاء و افریقہ( تحریک جدید قادیان۔
    ۶۔
    خان بہادر نواب چودھری محمد دین صاحب ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر۔
    ۷۔
    شیخ بشیر احمد صاحب بی اے۔ ایل ایل بی ایڈووکیٹ لاہور۔
    ازاں بعد کچھ وقفہ سے حضور کے ارشاد سے ان ڈائریکٹروں میں درج ذیل اصحاب کا اضافہ کیا گیا۔
    ۸۔
    مولانا جلال الدین صاحب شمس وکیل التبشیر )برائے ممالک یورپ و امریکہ( تحریک جدید قادیان۔
    ۹۔
    چودھری برکت علی خاں صاحب وکیل المال تحریک جدید قادیان۔
    ۱۰۔
    حضرت مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب وکیل الطباعتہ تحریک جدید قادیان۔۲۷۰
    مجلس تحریک جدید کا قیام
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے حکم سے ۱۷۔ مئی ۱۹۴۷ء کو مجلس تحریک جدید کا قیام عمل میں آیا جس کا کام تحریک جدید سے متعلق امور پر باہمی مشورہ سے فیصلے کرنے اور ان کو حضور کی خدمت میں منظوری کے لئے بھجوانا تھا۔ ۱۶۔مارچ ۱۹۴۷ء کو حضرت اقدس کے حکم سے اس مجلس تحریک جدید انجمن احمدیہ کے صدر مولوی جلال الدین صاحب شمس اور سیکرٹری مولوی عبدالرحمن صاحب انور تجویز کئے گئے۔
    خصوصی ممبران کا تقرر
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۳۰۔ اگست ۱۹۴۷ء کو تحریک جدید کے بعض خصوصی ممبران مقرر کرتے ہوئے ہدایت دی کی۔
    >میں یکم مارچ ۱۹۴۸ء تک مولوی نور الحق صاحب۲۷۱` چوہدری محمد شریف صاحب پلیڈر منٹگمری` مرزا مظفر احمد آئی۔ سی۔ ایس` مولوی سیف الرحمن صاحب` مولوی محمد صدیق صاحب فاضل ساکن قادیان اور سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو تحریک جدید انجمن کے ممبر مقرر کرتا ہوں۔ ان کے اختیارات دوسرے ممبروں کے مطابق ہوں گے اور ان کا کورم حقیقی کورم سمجھا جائے گا۔ خاکسار
    مرزا محمود احمد۴۷/۸ ۳۰<
    تقسیم ہند اور تحریک جدید
    ۱۹۴۷ء میں جماعت کے کثیر حصہ کو مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان میں پناہ گزین ہونا پڑا۔ یہ زمانہ تحریک جدید کے لئے بہت صبر آزما تھا۲۷۲ کیونکہ تقسیم ملک کی وجہ سے نظام درہم برہم ہوچکا تھا۔ ان حالات میں تحریک جدید کے دفاتر نہایت کس مپرسی کے عالم میں جو دھامل بلڈنگ لاہور میں قائم کئے گئے تھے۔ آمد میں یکایک کمی واقع ہوگئی۔ اور اخرجات بے تحاشہ بڑھ گئے اور بیرونی مشنوں کو امداد دینے کا سلسلہ بھی وقتی طور پر معطل ہوگیا۔ مگر تحریک جدید کے مجاہدین نے اس موقعہ پر غیر معمولی صبروتحمل اور وفا شعاری کا ثبوت دیا اور بیرونی مشن بھی جلد ہی اپنے پائوں پر کھڑے ہوگئے۔
    تحریک جدید کی پاکستان میں رجسٹریشن
    مجلس تحریک جدید کی طرف سے رجسٹریشن کے لئے رجسٹرار صاحب جائنٹ سٹاک کمپنیز مغربی پنجاب پاکستان کے نام ۱۴۔ فروری ۱۹۴۸ء کو درخواست دی گئی جس کی منظوری ۱۹۔ فروری ۱۹۴۸ء کو موصول ہوئی اور مجلس تحریک جدید پاکستان میں بھی رجسٹرڈ ہوگئی جو شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور اور مولوی عبدالرحمن صاحب انور کی۲۷۳ کوششوں کا نتیجہ تھا۔
    ‏sub] ga[tجامعہ المبشرین کا قیام
    تقسیم ملک سے پہلے قادیان میں جامعہ احمدیہ ہی ایک ادارہ تھا جہاں سے مبلغین فارغ التحصیل ہوکر مختلف مشنوں میں متعین ہوتے تھے۔ پاکستان بننے پر ۱۰۔ دسمبر ۱۹۴۹ء کو جامعہ احمدیہ کے علاوہ جامعہ المبشرین ربوہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کا سٹاف اکثر و بیشتر ان واقفین پر مشتمل تھا جو ۱۹۴۷ء میں علوم اسلامیہ کی خصوصی تعلیم حاصل کرچکے تھے۔ اس ادارہ کا مقصد یہ تھا کہ جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں اور دیگر واقفین زندگی کی تعلیم کا انتظام کرے اور ان کو تبلیغی ٹریننگ دے۔ جامعہ المبشرین سالہا سال تک مستقل ادارہ کی صورت میں قائم رہنے کے بعد ۷۔ جولائی ۱۹۵۷ء کو جامعہ احمدیہ میں مدغم کر دیا گیا۔
    تحریک جدید کے مستقل شعبوں کیلئے حضرتخلیفتہ المسیح الثانیؓ کا دستور العمل
    فروری ۱۹۵۰ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے اپنے قلم مبارک سے تحریک جدید کے مختلف شعبوں کے لئے ایک مفصل دستور العمل تجویز
    فرمایا۔ جس کی تفصیل خود حضورؓ کے الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔
    حضور نے تحریر فرمایا۔
    >تحریک جدید کے سردست مندرجہ ذیل وکلاء ہوں۔
    وکالت مال: )۱( وکیل المال اول )۲( وکیل المال ثانی )۳( وکالت جائیداد۔
    وکیل المال اول چوہدری برکت علی صاحب` وکیل ثانی قریشی عبدالرشید صاحب ہوں گے۔ تیسرا وکیل تجویز کیا جائے گا۔ اس کا کام بجٹ بنانا` اس کی نگرانی کرنا` روپیہ جمع کرنا` مبادلہ زر کے ماہرین کے ذریعہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا` جائیداد کی نگرانی` امانت اور جائز بنکنگ کے طریقوں کا رائج کرنا۔
    وکالت دیوان: اس وکالت کااصل کام مجلس وکالت کے سیکرٹری کا ہوگا۔ مجلس بلوانا` اس کی کارروائی کا ریکارڈ کروانا` مختلف وکالتوں میں تعاون قائم رکھوانا اور ادارہ جاتی مجالس بلوانا۔ یعنی مجلس وکالت کے علاوہ جب ضرورت ہو` جب کام خراب ہورہا ہو` تعاون میں کمی آئے یا ترقی کی تجاویز کا تقاضا ہو تو ایک سے زیادہ وکلاء کو بلوا کر کوئی ایسی سکیم تیار کروانا جس میں ایک سے زیادہ وکلاء کی شمولیت کی ضرورت ہو۔ وکالتوں کے لئے عملہ کا فیصلہ کہ اتنا درکار ہوگا اور اتنے اتنے عرصہ کے بعد اس کے بدلنے کی ضرورت ہوگی وغیرہ وغیرہ اور حسب ضرورت نئے آدمی لینا اور ان کی تعلیم و تربیت )کرنا( اس وکالت کا ایک نائب وکیل الدیوان ہوگا جس کے سپرد کام کا ایک حصہ ہوگا۔ اس وکالت پر سردست دو افسر ہوں گے۔ )۱( مولوی عبدالرحمن صاحب انور پرانے تجربہ کی وجہ سے ورنہ جس علم کی اس میں ضرورت ہے وہ ان کو نہیں۔ دوسرا وکیل میں مقرر کروں گا۔ نائب وکیل محمد شریف خالد صاحب۔
    وکالت تعلیم: اس وکالت کا کام تعلیمی انتظام نصاب بنوانا۔ کالج کی نگرانی۔ وقتی تعلیم کورس تیار کروانا تاکہ مبلغین کی تعلیم کی ترقی تاعمر جاری رہے۔ اس وکالت کا کام یہ ہوگا کہ جلد سے جلد علماء سے مشورہ کرکے۔
    اول۔
    کالج کی تعلیم کا کورس اور اس کی جماعتوں کا انتظام کرے۔
    )۲(
    دیہاتی مبلغین کی تعلیم کا کورس تیار کرے۔
    )۳(
    انگریزی دان مبلغین کی تعلیم کا کورس تیار کرے۔
    )۴(
    یہ فیصلہ کرے کہ مبلغین کو ساری عمر میں کتنے کورس پاس کروانے ضروری ہیں اور کس کس قسم کے یعنی علاوہ خالص تعلیمی کے انتظامی` تحقیقی` تبلیغی` سیاسی وغیرہ اور پھر ان کے کورس تجویز کرے اور کورس بنوائے۔ ہر اک جماعت کا پہلے سے کورس تیار ہونا چاہئے۔
    )۵(
    دیہاتی مبلغوں کے لئے کورس تجویز کرے اور کورس تیار کروائے اور شق اول کی طرح ان کی عمر بھر کی ترقی کے لئے کورس تیار کروائے۔ اس کام پر میاں عبدالرحیم احمد صاحب مقرر ہوں گے۔
    وکالت تجارت: اس کا کام )۱( تجارتی مہارت کے آدمی تیار کرنا )۲( مبادلہ زر کے قواعد جمع کرنا )۳( درآمد و برآمد اور تجارت کے قوانین مہیا کرنا اور سلسلہ کے لئے مفید معلومات کا جمع کرنا )۴( جماعت )کی( تجارت کی ترقی کی کوشش )۵( سلسلہ کی تجارت کی نگرانی اور ترقی )۶( تجارت کے ذریعہ سے سلسلہ کی آمد کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا )۷( تمام دنیا کی جماعتوں کو تجارتی زنجیر میں متحد کرنا۔ غرض تجارتی طور پر دنیا بھر میں احمدیت کو فائق کرنا اس کا کام ہوگا۔ مفصل سکیم یہ ناظر )وکلاء( بنائیں اور مجلس وکالت کے مشورہ کے بعد مجھ سے مشورہ لیں۔ اس پر عباس احمد خاں مقرر ہوں گے۔
    وکالت صنعت: اس وکالت کا کام سلسلہ میں صنعت و حرفت کی ترقی` نئے نئے صنعت کے ادارے جاری کرنا اور صنعت کے ماہرین پیدا کرنا` تمام دنیا کی جماعت میں صنعتی تعاون پیدا کرنا اور اشتراک عمل کی تجاویز نکالنا۔ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی نگرانی وغیرہ وغیرہ۔ اس وکالت پر مرزا مبارک احمد صاحب مقرر ہوں گے جب وہ فارع ہوں گے۔
    وکالت قانون: اس کا کام انکم ٹیکس کی نگرانی` بیرونی جماعتوں کے لئے صحیح قانون عمل بنوانا تا سب جماعتیں ایک مقررہ نظام کے مطابق چلیں۔ حسب ضرورت قانونی مشورہ دینا` مجلس کے تمام کاموں کو صحیح قانونی طور پر چلانے کی ذمہ داری` قواعد اور قوانین کے الفاظ کی درستی۔ اس وکالت کا کام )صدر انجمن کے اشتراک سے( چوہدری غلام مرتضیٰ صاحب اور چوہدری بہائو الحق صاحب کے سپرد ہوگا۔ گو چوہدری غلام مرتضیٰ صاحب ابھی باہر ہیں مگر چونکہ یہاں آتے رہتے ہیں انہیں ابھی سے اس وکالت پر مقرر کرکے مقررہ مجلس میں شامل کیا جائے۔ اس لئے گویا دو وکیل ہوں گے۔ )۱( چوہدری بہائو الحق صاحب )۲( چوہدری غلام مرتضیٰ صاحب۔
    وکالت تبشیر: اس وکالت کے سپرد بیرونی مشنوں کا کام ہوگا۔ ان کے لئے کام کی سکیم ان کے اداروں کی تنظیم کے قواعد بنانا اور ان کا تبادلہ اور کام پر لگوانا` لٹریچر مہیا کرنا` لائبریریاں مہیا کرنا۔ ان کے کام کی نگرانی` کام کی وسعت کی سکیمیں بنانا` نئے مشنوں کی سکیم` بیرونی ملکوں میں مساجد کی تعمیر` سکولوں کی تعمیر اور اجراء سردست اس کے دو وکلاء ہوں گے یعنی ایک مولوی عبدالمغنی خان صاحب اور ایک دوسرا۔ اصل میں اس کا ایک وکیل اور چار نائب کیل ہوں گے۔ جن کے سپرد )۱( پاکستان کے مبلغوں کا کام )۲( افریقی اور عالم اسلامی کے مشن )۳( یورپ اور امریکہ کے مشن )۴( ایشیائی ممالک کے مشن کے کام ہوں گے۔ وکیل تبشیر نگران اعلیٰ ہوگا۔
    اس محکمہ کے سپرد خط و کتابت کے ذریعہ تبلیغ کا کام کروانا اور لٹریچر کی مناسب تقسیم سے تبلیغ کا کام بھی ہوگا جو ہر علاقہ کے نائب کے سپرد اس کے علاقہ کے لئے ہوگا۔
    وکالت اشاعت: اس کا کام رسالوں اخباروں کی نگرانی` پروگرام کے ماتحت شائع کرنا` لٹریچر تیار کروانا` مہیا کرنا` اس کی ضرورت اور اسے آمد کا ذریعہ بنانا۔ اسے ایک مصنفین کا عملہ ملے گا۔ جو کام کی نوعیت کے لحاظ سے بدلتا بھی رہے گا اور تمام عملہ وکالت اس کام کے لئے اس کے ماتحت اس طرح ہوگا کہ وہ ہر ایک سے کچھ نہ کچھ تصنیف کا کام لے۔
    تمام وکالتوں کو دو ماہ کے اندر اندر اپنا اگلے سال کا پروگرام تیار کرلینا چاہئے اور پھر اس سے اگلے تین ماہ میں اگلے تین سال کا پروگرام اور پھر سہ ماہی چارٹ بنا کر اپنے اپنے کمروں میں لگا لینا چاہئے اور ہر سہ ماہ کے بعد رپورٹ کرنی چاہئے کہ کیا انہوں نے اپنا پروگرام تیار کرلیا ہے۔
    ان امور کو مجلس وکالت ریزولیوشن کے ذریعہ سے پاس کرے اور یہ ریزولیوشن بھی کرے کہ آئندہ کوئی جرم بغیر سزا کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ ہر امر کے متعلق مجلس وکالت یا اس کا مقرر کردہ کمیشن یہ فیصلہ کرے گا کہ غلطی ہوئی ہے یا نہیں اور اگر ہوئی ہے تو اس کی ضرور سزا دی جائے گی جس کی مقدار ایک دن گزارہ کی ضبطی سے لے کر ایک ماہ تک کے گزارہ کی ضبطی تک ہوگی۔ اگر مالی نقصان کسی وکیل یا دوسرے عملہ سے ہوگا تو اس نقصان کی حد تک رقم وصول کی جاسکے گی۔ سنگین جرموں میں مقاطعہ اور منسوخی وقف کی سزا دی جائے گی۔ مگر بہرحال کسی غلطی کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ معافی کی درخواست خلیفہ وقت سے ہوسکتی ہے جو معاف کرنے کا حق رکھیں گے<۔۲۷۴
    تحریک جدید کا بجٹ مجلس مشاورت میں
    قبل ازیں مجلس مشاورت میں صرف صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ پیش ہوتا تھا مگر ۱۹۵۱ء سے تحریک جدید کا مطبوعہ بجٹ بھی پیش کیا جانے لگا۔
    وقف زندگی سے متعلق نئے اصول
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۹۵۲ء میں فیصلہ فرمایا کہ وقف کے سلسلہ میں مندرجہ زیل امور بھی مدنظر رکھنے چاہئیں۔
    اول۔
    وقف ایک سے زیادہ اولاد والوں میں سے کسی ایک کا ہو۔ ہم دوسروں کا رستہ بند نہیں کرتے وہ بھی وقف کرسکتے ہیں مگر ایسے قواعد ضرور ہونے چاہئیں کہ مجبوری کے وقت وہ آسانی سے فارغ کئے جاسکتے ہوں۔
    )۲(
    وقف صرف بالغ مرد کا ہو۔ اکیس سال سے پہلے کے وقف آئندہ نہ لئے جائیں اور گزشتہ وقفوں کو بھی فارغ کرنے کا راستہ کھلا رکھا جائے تاکہ وقف لڑکے کا ہو باپ کا نہ ہو اور اس میں نمائش نہ ہو بالکل حقیقت ہو۔
    )۳(
    اکیس سال سے پہلے جن کو وظائف دیئے جائیں جیسے جامعہ احمدیہ وغیرہ میں تعلیم پانے والوں کو دیئے جاتے ہیں وہ بطور قرض ہوں جو وقف کی صورت میں وقف کے اندر مدغم ہو جائیں اور غیر وقف کی صورت میں وہ صرف قرضہ ہو جو حسب شرائط و معاہدہ وصول کرلیا جائے۔
    )۴(
    سابق واقفین جن کی تعلیم پر سلسلہ کا روپیہ خرچ ہوا ہے وہ بھی محکمہ کے قواعد کے مطابق رقم واپس کرکے فارغ ہوسکتے ہیں۔
    )۵(
    جو والدین اپنے بچوں کو وقف کرنا چاہیں وہ امیدواران وقف کی لسٹ میں رہیں۔ جب وہ اکیس سال کے ہوجائیں تو ان سے دوبارہ پوچھا جائے کہ آیا وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے وقف کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر وہ وقف نہ ہونا چاہیں تو ان کو فارغ کر دیا جائے اور اگر وقف ہونا چاہیں تو ان کا وقف قبول کرلیا جائے<۔۲۷۵
    اورئینٹیل اینڈ ریلیجس پبلشنگ کمپنی کا قیام
    ۲۰۔ اپریل ۱۹۵۳ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی ہدایت پر >اورئینٹل اینڈ ریلیجس پبلشنگ کمپنی< کے نام سے ایک اہم ادارہ قائم کیا گیا۔ اس کا واحد مقصد یہ تھا کہ عربی انگریزی اور دیگر زبانوں میں قرآن مجید اور دوسرے اسلامی لٹریچر کی اشاعت کی جائے۔ چنانچہ اس ادارہ کے قیام سے تراجم قرآن مجید اور دوسرے اسلامی لٹریچر میں معتدبہ اضافہ ہوا اور ہورہا ہے۔۲۷۶
    ‏0] fts[ربوہ میں دفاتر تحریک جدید کی عمارت کی تعمیر
    ربوہ میں سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۳۱۔ مئی ۱۹۵۰ء۲۷۷ کو دفاتر تحریک جدید کی مستقل عمارت کی بنیاد رکھی اور ۱۹۔ نومبر ۱۹۵۳ء۲۷۸ کو اس کا افتتاح فرمایا۔
    تحریک جدید میں شمولیت کی خاص تحریک
    سالانہ جلسہ ۱۹۵۳ء کے موقعہ پر سیدنا المصلح الموعودؓ نے ارشاد فرمایا کہ۔
    >تحریک جدید اب جس نازک دور میں سے گزررہی ہے وہ اس امر کی مقتضی ہے کہ ہر احمدی یہ فیصلہ کرے کہ اس نے بہرحال اس تحریک میں حصہ لینا ہے حتیٰ کہ کوئی جماعت بھی ایسی نہ ہو جن کے سارے کے سارے افراد تحریک میں شامل نہ ہوں<۔۲۷۹
    کتاب >پانچ ہزاری مجاھدین< کی اشاعت
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۱۹۳۸ء میں اعلان فرمایا کہ۔
    >چونکہ تحریک جدید میں چندہ دینے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی پانچ ہزار والی پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں اس لئے ان کی قربانی کی یاد قائم رکھنے کے لئے یہ طریق اختیار کیا جائے گا کہ۔
    ۱۔
    ان فہرستوں کو ایک جگہ جمع کرکے اور ساتھ تحریک جدید کی مختصر سی تاریخ لکھ کر چھاپ دیا جائے گا۔ اور دفتر تحریک جدید تمام احمدیہ لائبریریوں میں یہ کتاب مفت بھیجے گا۔
    ۲۔
    جب دس سال ختم ہو جائیں گے تو اس فنڈ کی آمد کا ایک معمولی حصہ چندہ دینے والوں کی طرف سے صدقہ کے طور پر سالانہ غرباء پر خرچ کیا جائے گا۔
    ۳۔
    مرکز میں ایک اہم لائبریری قائم کی جائے گی اور اس کے ہال میں ان تمام لوگوں کے نام لکھ دیئے جائیں گے<۔۲۸۰
    حضور کے مندرجہ بالا ارشاد کی تعمیل میں چودھری برکت علی خاں صاحبؓ۲۸۱ نے انتہائی محنت و عرقریزی کا ثبوت دیتے ہوئے جون ۱۹۵۹ء میں پانچ ہزاری مجاھدین کی مکمل فہرست شائع کردی۔
    اس فہرست میں جو بڑی تقطیع کے ۴۸۶ صفحات پر مشتمل ہے` برصغیر پاک و ہند کے علاوہ بالترتیب عدن` انڈونیشیا` مشرقی و مغربی افریقہ` ماریشس فلسطین` شام` لبنان` عراق` مسقط` چین` ایران` مصر` انگلستان` سپین` جرمنی` فرانس اور امریکہ وغیرہ ممالک کے جملہ مجاہدین اور ان کی ادا شدہ رقوم کا مفصل اندراج کیا گیا ہے۔ دوسرا ایڈیشن اس کا تلخیص و اضافہ کے ساتھ چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل اعمال اول نے یکم نومبر ۱۹۸۵ء کو شائع کیا جو چھوٹے سائز پر ہے اور اس کے کل ۳۰۶ صفحات ہیں۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے مجاہدین تحریک کے بلند مقام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
    >مبارک ہیں وہ جو بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ ان کا نام ادب و احترام سے اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور خدا تعالیٰ کے دربار میں یہ لوگ خاص عزت کا مقام پائیں گے کیونکہ انہوں نے تکلیف اٹھا کر دین کی مضبوطی کے لئے کوشش کی اور ان کی اولادوں کا خداتعالیٰ خود متکفل ہوگا اور آسمانی نور ان کے سینوں سے ابل کر نکلتا رہے گا اور دنیا کو روشن کرتا رہے گا<۔۲۸۲
    چندہ تحریک کے لئے نئی اقل ترین شرح
    حضور نے شروع میں تحریک کے مالی جہاد میں شرکت کے لئے اقل ترین شرح پانچ روپیہ مقرر فرمائی تھی مگر ۱۸۔ مارچ ۱۹۶۴ء کو حضور کی منظوری سے کم سے کم شرح دس روپے قرار دے دی گئی۔
    تفسیر القرآن انگریزی کی تکمیل
    جولائی ۱۹۵۲ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی منظوری سے تفسیر القرآن انگریزی کا کام مستقل طور پر تحریک جدید کے سپرد کردیا گیا اور یہ اہم کام بخیر و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچا۔ چنانچہ قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے مشاورت ۱۹۶۳ء کے نمائندگان کو اطلاع دی کہ۔
    >میں دوستوں کو بشارت دینا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید کی انگریزی تفسیر جو آج سے اکیس سال پہلے شروع ہوئی تھی اور جس کے ابتدائی حصہ میں مجھے بھی کچھ خدمت کا موقعہ ملا ہے اور حضرت مولوی شیر علی صاحب بھی اس کام کو کرتے رہے ہیں۔ درد صاحب مرحوم بھی یہ کام کرتے رہے ہیں۔ گو زیادہ کام ملک غلام فرید صاحب کے ذمہ رہا ہے اور اب تو کلیتہ ان کے ذمہ ہے۔ اس تفسیر کا آخری حصہ جو باقی تھا اب مکمل ہوکر آگیا ہے اور اس طرح خدا کے فضل سے یہ کام تکمیل کو پہنچ گیا ہے<۔۲۸۳
    مرکز سلسلہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کی ابتدائی فہرست
    تحریک جدید کے زیر انتظام ۱۹۶۸ء تک مرکز سلسلہ میں تعلیم حاصل کرنے والے خوش نصیب طلباء کی ایک ابتدائی فہرست درج ذیل ہے۔
    نمبرشمار نام
    ملک
    تاریخ آمد
    تاریخ فراغت
    کیفیت
    ۱ محمد زہدی صاحب
    ملائشیا
    ۱۳۔ مئی ۱۹۴۴ء
    ۷۔ نومبر ۱۹۱۸ء
    ۲ محمد عبداللہ پاشا صاحب
    مالا بار
    ۱۳۔ جون ۱۹۴۴ء
    مدرسہ احمدیہ پاس کیا۔
    ۳ عبد الشکور کنزے صاحب
    جرمنی
    ۱۰۔ جنوری ۱۹۴۹ء
    )مرتد ہوگئے(
    ۴ رشید احمد صاحب
    امریکہ
    ۲۴۔ دسمبر ۱۹۴۹ء

    ۵ علی چینی صاحب
    چین
    ۱۶۔ جنوری ۱۹۵۰ء

    ۶ ابراہیم عباس صاحب
    سوڈان )خرطوم(
    ۳۔ مارچ ۱۹۵۰ء
    تاریخ ولادت ۱۹۱۹ء
    ۷ محمد سلیم الجابی صاحب
    شام
    یکم اپریل ۱۹۵۰ء
    تاریخ پیدائش ۲۶۔ فروری ۱۹۲۸ء
    ۸ عثمان چینی صاحب
    چین
    ۲۰۔ اگست ۱۹۵۰ء

    ۹ محمد ابراہیم چینی صاحب
    چین
    ۲۱۔ اگست ۱۹۵۰ء
    دوسری بار ۵۔ جون ۱۹۵۴ء کو داخل ہوئے۔
    ۱۰ محمد ادریس چینی صاحب
    چین
    ۲۱۔ اگست ۱۹۵۰ء

    ۱۱ رضوان عبداللہ صاحب
    ‏io2] gat[ حبشہ
    ۳۔ دسمبر ۱۹۵۰ء
    ۲۶۔ اگست ۱۹۵۳ء کو چناب میں تیرتے ہوئے شہید ہوئے۔
    ۱۲ صالح شبیبی صاحب
    جاوا
    یکم جنوری ۱۹۵۱ء

    ۱۳ بختیار ذکریا صاحب
    سماٹرا
    ۲۲۔ جولائی ۱۹۵۱ء

    ۱۴ عارف نعیم صاحب
    سائپرس
    ۱۱۔ نومبر ۱۹۵۱ء

    ۱۵ زہر الاسلام صاحب
    ‏io2] gat[ انگلستان
    ۲۲۔ مارچ ۱۹۵۲ء

    ۱۶ علی امین خلیل صاحب
    سیرالیون
    ۱۵۔ اپریل ۱۹۵۲ء

    ۱۷ محمود عبداللہ محمد الشیوطی
    عدن
    ۲۶۔ مئی ۱۹۵۲ء
    ۱۶۔ نومبر ۱۹۵۲ء
    دوبارہ داخلہ ۲۳۔ ستمبر ۱۹۵۷ء
    ۱۸ مسٹر پی۔ ای۔ وی ایم اسماعیل صاحب۔ برما
    ۲۹۔ ستمبر ۱۹۵۲ء
    ۷۔ دسمبر ۱۹۵۴ء
    ۱۹ ابراہیم محمد ابوبکر ابن الحاج محمد ابوبکر۔ حبشہ
    ۲۹۔ ستمبر ۱۹۵۲ء

    ۲۰ احمد سپرجا صاحب
    جاوا
    اکتوبر ۱۹۵۲ء

    ۲۱ عبداللہ ابوبکر ابن ابوبکر اسماعیل۔ SOMALILAND
    یکم نومبر ۱۹۵۲ء

    ۲۲ سعید عبداللہ ابن عبداللہ ورسمہ۔ SOMALILAND
    یکم نومبر ۱۹۵۲ء

    ۲۳ رحیم بخش صاحب
    برٹش گی آنا
    ۱۹۵۲ء

    ۲۴ عبدالشکور ریش صاحب۔ A۔S۔U
    ۱۵۔ جنوری ۱۹۵۳ء

    ۲۵ منصور احمد صاحب
    انڈونیشیا
    ۵۔ جون ۱۹۵۴ء

    ۲۶ ادریس احمد صاحب
    چینی
    ۵۔ جون ۱۹۵۴ء

    ۲۷ عبدالوھاب بنآدم صاحب
    افریقہ
    ‏]3oi [tag ۵۔ جون ۱۹۵۴ء
    شاھد
    ۲۸ بشیر بن صالح صاحب
    افریقہ
    ۵۔ جون ۱۹۵۴ء

    ۲۹ علی صالح صاحب
    بٹورا۔ افریقہ
    یکم نومبر ۱۹۵۶ء
    ۳۔ دسمبر ۱۹۵۹ء
    ۳۰ یوسف عثمان صاحب
    بٹورا۔ افریقہ
    یکم نومبر ۱۹۵۶ء
    ۱۲۔ مارچ ۱۹۶۸ء
    شاہد
    ۳۱ محمدعبداللہ شیوطی صاحب
    عدن
    ۲۳۔ ستمبر ۱۹۵۷ء

    ۳۲ محی الدین شاہ صاحب
    سماٹرا
    یکم نومبر ۱۹۵۸ء
    ۲۔ جولائی ۱۹۶۲ء
    ۳۳ محمد ابراہیم صاحب
    سنگاپور
    یکم دسمبر ۱۹۶۰ء

    ۳۴ ظفر احمد ولیم صاحب
    آئرش
    ۱۰۔ اپریل ۱۹۶۱ء

    ۳۵ عبدالرحمن افریقی صاحب
    افریقہ
    ۱۴۔مئی ۱۹۶۱ء
    ۱۱۔ نومبر ۱۹۶۲ء
    ۳۶ احمد سعید دائودا صاحب
    غانا
    ۲۳۔ مئی ۱۹۶۲ء
    ۱۰۔ جنوری ۱۹۶۵ء
    شہادۃ الاجانب
    ۳۷ اے۔ ایس دائودا صاحب
    سیر الیون
    ۲۳۔ مئی ۱۹۶۲ء
    شہادۃ الاجانب
    ۳۸ احمد شمشیر سوکیہ صاحب
    ماریشس
    ۶۔ نومبر ۱۹۶۲ء ۱۹۶۲ء
    ۲۸۔ جولائی ۱۹۶۶ء
    شہادۃ الاجانب
    ۳۹ عبدالغنی کریم صاحب
    پاڈانگ انڈونیشیا
    ۱۴۔ اکتوبر ۱۹۶۳ء
    ۱۷۔ جنوری ۱۹۷۱ء
    تعلیم مکمل کی
    ۴۰ عبدالرئوف فجی صاحب
    فجی
    ۱۹۔ نومبر ۱۹۶۳ء
    ۸۔ دسمبر ۱۹۶۹ء
    ۴۱ سفنی ظفر احمد صاحب
    انڈونیشیا
    ۱۸۔ اگست ۱۹۶۴ء
    ۳۰۔ اپریل ۱۹۷۵ء
    شاہد
    ۴۲ حسن بصری صاحب
    انڈونیشیا
    ۱۸۔ اگست ۱۹۶۴ء
    دوسری بار ۱۸۔ جولائی ۱۹۶۶ء میں آئے۔
    ۴۳ عبدالقاہر صاحب
    ترکستان
    ۳۔ ستمبر ۱۹۶۴ء
    ۱۳۔ فروری ۱۹۶۵ء
    جامعہ چھوڑ کر چلے گئے
    ۴۴ یوسف یاسن صاحب
    کماسی۔ غانا
    ۳۔ اکتوبر ۱۹۶۴ء
    یکم نومبر ۱۹۷۲ء
    شاہد
    ۴۵ عبدالواحد بن دائود صاحب
    غانا۔ افریقہ
    ۳۔ اکتوبر ۱۹۶۴ء
    ۱۲۔ دسمبر ۱۹۷۱ء
    شہادۃ الاجانب
    ۴۶ احمد یوشیدا صاحب جاپانی
    جاپان
    ‏]3io [tag ۲۔ مارچ ۱۹۶۵ء
    ۲۶۔ جون ۱۹۶۶ء
    عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے فارغ
    ۴۷ عبدالمالک صاحب افریقی
    غانا۔ افریقہ
    ۱۲۔ ستمبر ۱۹۶۵ء
    ۲۲۔ جنوری ۱۹۷۰ء
    شہادۃ الاجانب
    ۴۸ لقمان ادریس صاحب
    جاکرتا۔ انڈونیشیا
    ۱۹۔ مئی ۱۹۶۶ء
    ۱۰۔ اپریل ۱۹۶۷ء
    خود چھوڑ کر چلے گئے
    ۴۹ ذوالکفلی لوبس صاحب
    جاکرتا۔ انڈونیشیا
    ۱۹۔ مئی ۱۹۶۶ء
    ‏io4] gat[ ۱۴۔ ستمبر ۱۹۶۹ء
    شہادۃ الاجانب
    ۵۰ سیوطی عزیز صاحب
    جاکرتا۔ انڈونیشیا
    ۱۹۔ مئی ۱۹۶۶ء
    ۱۲۔ دسمبر ۱۹۷۱ء
    شہادۃ الاجانب
    ۵۱ محمد عبدی روبلے صاحب
    تنزانیہ۔ افریقہ
    ۸۔ اکتوبر ۱۹۶۶ء
    ۱۲۔ دسمبر ۱۹۷۱ء
    ۵۲ جلیل احمد صاحب تلیجو
    ماریشس
    ۱۹۔ ستمبر ۱۹۶۷ء
    ۳۰۔ مارچ ۱۹۷۱ء
    شہادۃ الاجانب
    ۵۳ منیر الاسلام صاحب
    انڈونیشیا
    ۱۶۔ ستمبر ۱۹۶۸ء

    )ریکارڈ جامعہ احمدیہ ربوہ سے ماخوذ(
    ماہنامہ >تحریک جدید<
    اگست ۱۹۶۵ء سے مولوی نور محمد صاحب نسیم سیفی سابق رئیس التبلیغ مغربی افریقہ کی ادارت میں ماہنامہ >تحریک جدید< جاری ہوا جو تحریک جدید کا مرکزی ترجمان اور اس کی سرگرمیوں کا آئینہ دار ہے۔
    تحریک جدید کی مطبوعات دفتر دوم میں
    اس دور میں دفتر تحریک جدید کی طرف سے حسب ذیل لٹریچر شائع کیا گیا۔
    ۱۔ اسلام کا اقتصادی نطام )۱۹۴۵ء( ۲۔ تفسیر کبیر جلد ششم جزو چہارم حصہ اول )۱۹۴۵ء( ۳۔ تفسیر کبیر حصہ دوم )۱۹۴۶ء( ۴۔ تفسیر کبیر جلد اول جزو اول )۱۹۴۸ء( ۵۔ اسلام اور ملکیت زمین )۱۹۵۰ء( ۶۔ تفسیر کبیر جلد ششم جزو چہارم حصہ سوم )۱۹۵۰ء( ۷۔ کمیونزم اینڈ ڈیماکریسی (COMMUNISM DEMOCRACY) AND چار عدد )۵۱۔ ۱۹۵۰ء( ۸۔ تشریح الزکٰوۃ )۱۹۵۱ء(
    ‏ ANJUMAN JADID ۔I۔ TAHRIK OF ASSOCIATION OF ARTICLES AND MEMORANDUM ۔(1959)9 ۔PAKISTAN AHMADIYYA
    ‏]sub [tagوکالت مال کی مطبوعات
    ۱۔ خلاصہ مطالبات تحریک جدید ۲۔ اکناف عالم میں تبلیغ اسلام )۱۹۵۸ء( ۳۔ تحریک جدید کے کام پر ایک نظر )۱۹۵۹( ۴۔ افریقہ میں تبلیغ اسلام )۱۹۶۰ء( ۵۔ تحریک جدید اور اس کے تقاضے )۱۹۶۱ء( ۶۔ تحریک جدید کے کام کی وسعت )۱۹۶۳ء( ۷۔ سادہ زندگی )۱۹۶۵ء( ۸۔ تحریک جدید دفتر سوم کے اجراء کے متعلق حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثالث کی زریں ہدایات )۱۹۶۶ء( ۹۔ مجاھدہ )۱۹۶۶ء( ۱۰۔ تحریک جدید کے ذریعہ اکناف عالم میں اشاعت اسلام )۱۹۶۷ء( ۱۱۔ تحریک جدید کی برکات )مضمون حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ( )جولائی ۱۹۶۳ء( ۱۲۔ معاونین خاص مسجد سوئٹزرلینڈ کے لئے کم از کم تین سو روپیہ دینے والوں کی فہرست )مارچ ۱۹۶۳ء( ۱۳۔ اسلام اور عیسائیت )تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۵۴ء حضرت المصلح الموعودؓ )جون ۱۹۶۴ء( ۱۴۔ جاننے کی باتیں )متفرق ارشادات حضرت المصلح الموعودؓ( )اکتوبر ۱۹۶۱ء( ۱۵۔ JADID۔I۔TAHRIK )انگریزی ترجمہ تقریر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ( )جون ۱۹۶۴ء( ۱۶۔ تحریک جدید کے مالی جہاد میں روح مسابقت کیوں ضروری ہے؟ )۱۹۶۶ء( ۱۷۔ خشکی اور سمندر میں فساد اور اس کا علاج )خطبہ حضرت المصلح الموعودؓ( )۱۹۶۴ء( ۱۸۔ تحریک جدید کا دفتر سوم اور لجنات اماء اللہ کا فرض )مضمون حضرت صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ مرکزیہ )جولائی ۱۹۶۷ء(
    دفتر سوم کا اجراء
    حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۲۔ اپریل ۱۹۶۶ء کو تحریک جدید کے دفتر سوم کا اجراء فرمایا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ یہ دفتر یکم نومبر ۱۹۶۵ء سے شمار کیا جائے۔ چنانچہ فرمایا۔
    >۱۹۶۴ء میں دفتر دوم کے بیس سال پورے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت حضرت مصلح موعودؓ بیمار تھے اور غالباً بیماری کی وجہ سے ہی حضور کو اس طرف توجہ نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ اب دفتر سوم کا اجراء کردیا جائے لیکن اس کا اجراء یکم نومبر ۱۹۶۵ء سے شمار کیا جائے گا۔ کیونکہ تحریک جدید کا سال یکم نومبر سے شروع ہوتا ہے۔ اس طرح یکم نومبر ۱۹۶۵ء سے ۳۱۔ اکتوبر ۱۹۶۶ء تک ایک سال بنے گا۔ میں اس لئے ایسا کررہا ہوں تاکہ دفتر سوم بھی حضرت مصلح موعودؓ کی خلافت کی طرف منسوب ہو ۔۔۔۔۔۔۔ دوران سال نومبر کے بعد جو نئے لوگ تحریک جدید کے دفتر دوم میں شامل ہوئے ہیں ان سب کو دفتر سوم میں منتقل کر دینا چاہئے<۔۲۸۴
    مجاہدین دفتر سوم کو نصیحت
    دفتر سوم اور اس کے بعد شامل ہونے والے مجاہدین کو حضرت سیدنا خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۱۹۴۷ء میں نصیحت فرمائی۔
    >دفتر سوم والوں کا فرض ہے کہ وہ ایسا اچھا نمونہ دکھائیں جو دفتر چہارم والوں کے لئے قابل رشک ہو اور دفتر چہارم والوں کا فرض ہے کہ وہ ایسا اچھا نمونہ دکھائیں جو دفتر پنجم والوں کے لئے قابل رشک ہو اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے یہاں تک کہ قیامت تک یہ سلسلہ چلتا چلا جائے<۔۲۸۵
    زاں بعد ۱۹۴۸ء میں ارشاد فرمایا کہ۔:
    >دور اول تین لاکھ اسی ہزار تک پہنچا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ اسے پانچ لاکھ تک پہنچا دیں تو پھر تیسرے دور والوں سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اسے آٹھ لاکھ تک پہنچا دیں گے اور اس سے اگلے دور والے اسے دس بارہ لاکھ تک پہنچا دیں گے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر یہ بات یقینی ہے کہ ہم بیرونی ممالک میں تبلیغ کا جال بچھا دیں گے اور اس کے ذریعہ اسلام کا قلعہ ہر ملک میں قائم کردیں گے<۔۲۸۶
    دوسرا باب )فصل دہم(
    تحریک جدید کے نظام کی موجودہ وسعت` مخلصین احمدیت کی مالی اور جانی قربانیوں پر ایک نظر` تبلیغ اسلام سے متعلق تحریک جدید کی عظیم الشان خدمات` غیروں کی آراء اور تحریک جدید کا شاندار مستقبل
    تحریک جدید کا موجودہ مرکزی نظام
    تحریک جدید انجمن احمدیہ کا مرکزی نظام اس وقت )۱۹۶۷ء میں( مندرجہ ذیل شعبوں پر مشتمل ہے۔ وکالت علیا۔ وکالت دیوان۔ وکالت تبشیر۔ وکالت زراعت۔ وکالت قانون۔ وکالت تعلیم و صنعت۔ وکالت مال۔ صیغہ امانت۔ دفتر آبادی۔ آڈیٹر۔
    وکالت علیا چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اور حافظ عبدالسلام صاحب وکیل اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ۱۹۶۲ء سے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اس منصب پر فائز ہیں۔
    وکالت دیوان مولوی عبدالرحمن صاحب انور` چوہدری فقیر محمد صاحب ریٹائرڈ ڈی ایس پی اور حافظ عبدالسلام صاحب اس شعبہ کے نگران )یعنی وکیل الدیوان( رہ چکے ہیں۔ اب صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل الدیوان کے بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
    وکالت تبشیر ان دنوں وکالت تبشیر کا شعبہ بھی صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔ صاحبزادہ صاحب سے قبل مولوی جلال الدین صاحب شمسؓ )وکیل التبشیر برائے ممالک یورپ و امریکہ( مولوی عبدالمغنی خان صاحبؓ )وکیل التبشیر برائے افریشیائی ممالک( مولوی عبدالرحمن صاحب انور )وکیل التبشیر ثانی برائے عربی ممالک و انڈونیشیا( ملک عمر علی صاحبؓ کھوکھر رئیس۲۸۷ )وکیل التبشیر( اور چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ )وکیل التبشیر( یہ خدمت بجا لاتے رہے ہیں۔
    وکالت زراعت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اور چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کے بعد اب میاں عبدالرحیم احمد صاحب وکیل الزراعت ہیں۔
    وکالت قانون شروع میں چوہدری بہائو الحق صاحب اور چوہدری غلام مرتضیٰ صاحب دونوں اصحاب وکیل القانون مقرر کئے گئے تھے۔ مگر اب سالہا سال سے چوہدری غلام مرتضیٰ صاحب ہی اس عہدہ پر فائز ہیں۔
    وکالت تعلیم اس وقت میاں عبدالرحیم صاحب وکیل التعلیم ہیں۔ حافظ قدرت اللہ صاحب اور چوہدری غلام مرتضیٰ صاحب بھی یہ خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔
    وکالت صنعت حضرت خان صاحب ذوالفقار علی خاں صاحبؓ اور مولوی بہائو الحق صاحب اس شعبہ کے نگران رہ چکے ہیں۔
    وکالت مال اس شعبہ کے ابتدائی وکلاء کی فہرست یہ ہے۔
    ۱۔ چوہدری برکت علی صاحب )وکیل المال اول( ۲۔ قاضی محمد رشید صاحبؓ )وکیل المال ثانی( ۳۔ قریشی عبدالرشید صاحب )وکیل المال ثانی( ۴۔ حافظ عبدالسلام صاحب شملوی )وکیل المال اول( ان دنوں چوہدری شبیر احمد صاحب )وکیل المال اول( اور حافظ عبدالسلام صاحب وکیل المال ثانی کے فرائض بجا لارہے ہیں۔
    صیغہ امانت اس صیغہ میں بالترتیب مندرجہ ذیل اصحاب نے کام کیا۔
    حضرت بابو فخر الدین صاحب )سیکرٹری امانت`( چوہدری سلطان احمد صاحب بسرا۔ سید محمد حسین شاہ صاحب` حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحبؓ۔
    ان دنوں صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب اس صیغہ کے افسر ہیں۔
    دفتر آبادی ملک محمد خورشید صاحب ریٹائرڈ ایس۔ ڈی۔ او` چودھری عبداللطیف صاحب اوورسیر۲۸۸` چوہدری عطاء محمد صاحب` قریشی عبدالرشید صاحب` حسن محمد خان صاحب عارف اور ملک بشارت احمد صاحب سیکرٹری تعمیر رہ چکے ہیں۔ ان دنوں حافظ عبدالسلام صاحب سیکرٹری کے فرائض ادا کررہے ہیں۔
    ‏]body [tagدفتر آڈیٹر چودھری برکت علی صاحب فنانشل سیکرٹری تحریک جدید` قریشی عبدالرشید صاحب` ملک ولایت خاں صاحب کے بعد اب چودھری ناصر الدین صاحب آڈیٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
    تحریک جدید کی مجموعی آمد
    قیام تحریک جدید ۱۹۳۴ء سے لے کر ۳۱۔ دسمبر ۱۹۶۶ء تک تحریک جدید کی مجموعی آمد تین کروڑ چھیاسی لاکھ تہتر ہزار روپیہ ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
    نمبرشمار
    نام چندہ
    رقم
    کیفیت
    ‏]1l [tag۱
    چندہ تحریک جدید اندرون ملک
    ۰۰۔ ۹۰۳۳۴۰۰
    ۲
    چندہ مساجد ممالک بیرون جو پاکستانی جماعتوں نے پیش کیا
    ۰۰۔ ۱۰۱۴۳۰۰
    اس چندہ میں لندن مسجد کا چندہ شامل نہیں جو ۴۔۱۹۲۵ء میں صرف احمدی مستورات کے چندہ سے تعمیر کروائی گئی تھی۔ اس کا حساب دستیاب نہیں ہوسکا۔ یہ رقم جو یہاں ظاہر کی گئی ہے۔ امریکہ` ہالینڈ` جرمنی` سوئٹزرلینڈ اور ڈنمارک کی مساجد کی تعمیر کے لئے جمع ہوئی۔ اس میں بھی چار لاکھ روپیہ احمدی مستورات کی طرف سے پیش کیا گیا ہے جن کے ذمہ ہالینڈ اور ڈنمارک کی مساجد کا خرچ لگایا گیا تھا۔
    ۳
    آمد خالص از جائیداد وغیرہ اندرون ملک
    ۰۰۔۹۳۶۱۳۰۰
    ۴
    چندہ جات تحریک جدید و چندہ عام وغیرہ بیرون ملک
    ۰۰۔ ۵۲۷۷۰۰۰
    ۵
    آمد خالص از جائیداد` پریس و تعلیمی ادارہ جات بیرون ملک
    ۰۰۔ ۱۳۹۸۷۰۰۰
    مشن ہائے بیرون کی آمد ۴۶۔ ۱۹۴۵ء کے بجٹ سے تحریک جدید کو ملنی شروع ہوئی۔
    میزان )تین کروڑ چھیاسی لاکھ تہتر ہزار روپے۲۸۹(
    ۰۰۔ ۳۸۶۷۳۰۰۰
    تحریک جدید کی بدولت قائم ہونے والے بیرونی مشن
    تحریک جدید کے ذریعہ سے مندرجہ ذیل مشن قائم ہوئے۔
    نمبرشمار نام ملک
    سال قیام مشن
    نمبرشمار نام ملک
    سال قیام مشن
    ۱۔ سنگاپور )ملایا(
    ۱۹۳۵ء
    ۱۷۔ لبنان
    ۲۷۔ اگست ۱۹۴۹ء
    ۲۔ ہانگ کانگ )چین(
    "][ ۱۸۔ جرمنی )بذریعہ تحریک جدید(
    ۱۹۴۹ء
    ۳۔ جاپان
    "
    ۱۹۔ سیلون )بذریعہ تحریک جدید(
    ۱۹۵۱ء
    ۴۔ سپین
    ۱۹۳۶ء
    ۲۰۔ ٹرینیڈاڈ
    "
    ۵۔ ہنگری
    "
    ۲۱۔ برما
    ۱۹۵۳ء
    ۶۔ البانیہ
    "
    ۲۲۔ سوئٹزرلینڈ
    ۱۹۵۵ء
    ۷۔ یوگوسلاویہ
    "
    ۲۳۔ ڈنمارک
    ۱۹۵۶ء
    ۸۔ ارجنٹائن
    "
    ۲۴۔ لائبیریا
    "
    ۹۔ اٹلی
    ۱۹۳۷ء
    ۲۵۔ ڈچ گی آنا
    "
    ۱۰۔ پولینڈ
    "
    ۲۶۔ فجی آئی لینڈ
    ۱۹۶۰ء
    ۱۱۔ سیرالیون
    ۱۳۔ اکتوبر ۱۹۳۷ء
    ۲۷۔ ایوری کوسٹ
    ۱۹۶۱ء
    ۱۲۔ سپین
    ۱۹۴۶ء
    ۲۸۔ گیمبیا
    "
    ۱۳۔ عدن
    "
    ۲۹۔ تنزانیہ
    "
    ۱۴۔ بورنیو
    "
    ۳۰۔ کینیا
    "
    ۱۵۔ ہالینڈ
    ۱۹۴۷ء
    ۳۱۔ ٹوگولینڈ
    ۱۹۶۲ء
    ۱۶۔ عمان )اردن(
    ۳۔ مارچ ۱۹۴۸ء

    اس وقت )۱۹۶۷ء میں( تحریک جدید کے زیر انتظام مندرجہ ذیل ممالک میں مرکزی مشن چل رہے ہیں۔ جہاں قریباً سوا سو پاکستانی اور مقامی مبلغین تبلیغ اسلام میں سرگرم عمل ہیں۔ ان مرکزی مشنوں کی آگے متعدد شاخیں موجود ہیں۔۲۹۰یورپ: انگلستان` سپین` ہالینڈ` سوئٹزرلینڈ` مغربی جرمنی` سکنڈے نیویا۔
    امریکہ: )شمالی امریکہ( مرکزی دارالتبلیغ واشنگٹن
    )جنوبی امریکہ( ٹرینیڈاڈ۔ برٹش گی آنا۔
    مغربی افریقہ: نائیجیریا` غانا` سیرالیون` لائبیریا` آئیوری کوسٹ` گیمبیا۔۲۹۱
    مشرقی افریقہ: یوگنڈا` کینیا` تنزانیہ۔
    جنوبی افریقہ: )جزائر( ماریشس۔
    مشرق وسطی: فلسطین۲۹۲` شام` عدن۔
    مشرق بعید: انڈونیشیا` سنگاپور` ملائیشیا` بورنیو` فجی۔
    درج ذیل ممالک میں اگرچہ مشن قائم ہیں مگر ان دنوں مرکز کی طرف سے مبلغین متعین نہیں۔
    لبنان` جنوبی افریقہ` برما` سیلون` جاپان` فلپائن۔
    ان کے علاوہ دنیا کے متعدد مقامات پر احمدی پائے جاتے ہیں مثلاً
    ایران` کویت` ٹوگولینڈ` مسقط` بحرین` ارجنٹائن` سوڈان` عراق` مصر` دوبئی` ہانگ کانگ` کانگو` قبرص` آسٹریا` آسٹریلیا` ترکی۔۲۹۳
    یہ وہ ممالک ہیں جن سے خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری ہے ورنہ احمدی تو )روس کے سوا( دنیا کے قریباً ہر ایک خطہ میں پائے جاتے ہیں۔ )کتاب کے جدید ایڈیشن کے دوران روس میں بھی جماعت احمدیہ قائم ہوچکی ہے۔ مولف(
    بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کا شرف پانے والے واقفین تحریک جدید
    اب ذیل میں ان واقفین تحریک جدید کی مکمل فہرست دی جاتی ہے جنہوں نے براہ راست تحریک جدید کے زیرانتظام بیرونی ممالک میں
    تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کیا یا ادا کررہے ہیں۔
    نوٹ: قیام تحریک جدید سے قبل یا صدر انجمن احمدیہ کے کارکن کی حیثیت سے اعلائے کلمتہ اللہ کا شرف پانے والے مجاہدین اسلام۲۹۴ کا مفصل ذکر بیرونی مشنوں کی مستقل تاریخ میں کیا جاچکا ہے۔
    نمبر شمار
    نام
    تاریخ ولادت
    تاریخ تقرری
    کیفیت
    ۱
    چوہدری محمد شریف صاحب
    ۱۰۔ اکتوبر ۱۹۱۳ء
    ۹۔ جنوری ۱۹۳۵ء
    فلسطین معہ شام۔ گیمبیا۔ )گیمبیا کے پہلے مبلغ(
    ۲
    مولوی امام الدین صاحب ملتانی
    نومبر ۱۹۱۳ء
    ۲۷۔ جنوری ۱۹۳۵ء
    سنگاپور۔ انڈونیشیا
    ۳
    مولوی روشن دین احمد صاحب
    ۱۹۱۴ء
    ۳۔ فروری ۱۹۳۵ء
    مسقط مشن کے پہلے مبلغ۔ کینیا
    ۴
    ملک محمد شریف صاحب گجراتی
    ۳۔ فروری ۱۹۳۵ء
    سپین اور اٹلی مشن کے پہلے مبلغ
    ۵
    صوفی عبدالغفور صاحب
    ۱۹۳۵ء
    چین مشن کے پہلے مبلغ۔ امریکہ
    ۶
    چوہدری محمد اسحٰق صاحب سیالکوٹی
    ۵۔ ستمبر ۱۹۱۶ء
    ۱۰۔ فروری ۱۹۳۵ء
    ہانگ کانگ
    ۷
    مولوی غلام حسین صاحب ایاز
    )جامعہ احمدیہ کے ریکارڈ
    ۲۰۔ فروری ۱۹۳۵ء
    سنگاپور مشن کے پہلے مبلغ۔

    کے مطابق( یکم مئی
    بورنیو میں دفن کئے گئے۔

    ۱۹۰۵ء۲۹۶

    ۸
    شیخ عبدالواحد صاحب
    ۱۵۔ دسمبر ۱۹۱۵ء
    ۷۔ مارچ ۱۹۳۵ء
    ہانگ کانگ۔ ایران۔ فجی۔
    ۹
    حافظ عبدالغفور صاحب
    ۱۳۔ مئی ۱۹۱۳ء
    ۷۔ مارچ ۱۹۳۵ء
    جاپان )تحریک جدید کے اس مشن کے پہلے مبلغ
    )برادر خورد مولانا ابوالعطاء صاحب(

    مبلغ صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی اے ہیں(
    ۱۰
    ملک عزیز احمد صاحب کنجاہی
    ۲۳۔ ستمبر ۱۹۱۵ء
    ۷۔ مارچ ۱۹۳۵ء
    انڈونیشیا۔ اسی ملک میں مزار ہے۔
    ۱۱
    مولوی رمضان علی صاحب
    ۱۲۔ اگست ۱۹۱۳ء۲۹۷]4 [rtf
    ۷۔ مارچ ۱۹۳۵ء
    ارجنٹائن مشن کے پہلے مبلغ
    ۱۲
    مولوی محمد دین صاحب
    ۷۔ مارچ ۱۹۳۵ء
    البانیہ اور یوگوسلاویہ مشن کے پہلے مبلغ


    افریقہ جاتے ہوئے رستہ میں شہادت پائی۔
    ۱۳
    سید شاہ محمد صاحب۲۹۸
    ۱۵۔ جولائی ۱۹۱۳ء
    ۱۰۔ مارچ ۱۹۳۵ء
    انڈونیشیا
    ۱۴
    حاجی احمد خاں صاحب ایاز
    ۱۹۔ مئی ۱۹۳۵ء
    ہنگری` پولینڈ` چیکوسلواکیہ مشن کے پہلے مبلغ
    ۱۵
    مولوی نورالدین صاحب منیر
    ۱۶۔ ستمبر ۱۹۱۵ء
    یکم جولائی ۱۹۳۵ء
    مشرقی افریقہ
    ۱۶
    محمد ابراہیم صاحب ناصر
    ۴۔ اکتوبر ۱۹۱۲ء
    جولائی ۱۹۳۵ء
    ہنگری
    ۱۷
    ولی داد خاں صاحب
    ۱۷۔ مئی ۱۹۰۴ء
    دسمبر ۱۹۳۵ء
    افغانستان میں شہید کردیئے گئے۔
    ۱۸
    مولوی نذیر احمد صاحب مبشر
    ۱۵۔ اگست ۱۹۰۹ء
    ۲۔ فروری ۱۹۳۶ء
    غانا۔ سرالیون
    ۱۹
    چودھری خلیل احمد صاحب ناصر
    ۱۹۱۷ء
    ۱۳۔ مارچ ۱۹۳۷ء
    امریکہ
    ۲۰
    مولوی عبدالخالق صاحب
    ۱۵۔ فروری ۱۹۱۰ء
    اگست ۱۹۳۷ء
    غانا۔ ایران۔ مشرقی افریقہ۔
    ۲۱
    ملک عطاء الرحمن صاحب
    ۱۹۳۷ء )تاریخ پیشکش(
    فرانس
    ۲۲
    مرزا منور احمد صاحب
    ۲۰۔ اپریل ۱۹۱۹ء
    ۲۱۔ جنوری ۱۹۳۸ء
    امریکہ )امریکہ میں فوت ہوئے وہیں

    )تاریخ پیشکش(
    مزار ہے(
    ۲۳
    چودھری کرم الٰہی صاحب ظفر
    ۳۰۔ دسمبر ۱۹۱۹ء
    یکم مئی ۱۹۳۸ء
    دور جدید میں سپین مشن کے پہلے مبلغ
    ۲۴
    میاں عبدالحی صاحب
    ۲۸۔ فروری ۱۹۲۰ء
    ‏wf4] ga[t یکم مئی ۱۹۳۸ء
    سنگاپور۔ انڈونیشیا۔
    ۲۵
    مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری
    ۱۵۔ جون ۱۹۱۵ء
    ۱۰۔ جولائی ۱۹۳۸ء
    فلسطین۔ انگلستان۔ سیرالیون۔ لائبیریا۔ سنگاپور
    ۲۶
    چوہدری غلام یٰسین صاحب
    یکم مارچ ۱۹۱۵ء
    ۱۷۔ اگست ۱۹۳۸ء
    امریکہ
    ۲۷
    چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ
    ۳۰۔ دسمبر ۱۹۱۱ء
    ۱۲۔ ستمبر ۱۹۳۸ء
    انگلستان۔ سوئٹزرلینڈ
    ‏]1fw [tag۲۸
    شیخ ناصر احمد صاحب
    ۸۔ مارچ ۱۹۱۹ء
    ۱۲۔ جنوری ۱۹۳۹ء
    سوئٹزرلینڈ
    ۲۹
    مولوی صدر الدین صاحب
    ۱۹۱۸ء
    ۲۲۔ اکتوبر ۱۹۳۹ء
    ایران
    ۳۰
    چوہدری عبداللیف صاحب بی۔اے
    ۱۹۳۸ء میں عمر ۲۲ سال
    ۲۰۔ جنوری ۱۹۴۰ء
    تحریک جدید کے جرمنی مشن کے پہلے مبلغ
    ۳۱
    حافظ قدرت اللہ صاحب
    ۲۲۔ فروری ۱۹۱۷
    ۲۸۔ اپریل ۱۹۴۰ء
    ہالینڈ۔ انڈونیشیا۔
    ۳۲
    مولوی غلام احمد صاحب بشیر
    ۱۹۱۷ء
    ۲۲۔ جولائی ۱۹۴۲ء
    ہالینڈ
    ۳۳
    مولوی فضل الٰہی صاحب بشیر
    نومبر ۱۹۴۴ء میں
    یکم اگست ۱۹۴۳ء
    مشرقی افریقہ` ماریشس` فلسطین

    ۲۴ سال عمر

    ۳۴
    مولوی رشید احمد صاحب چغتائی
    ۲۷۔ جولائی ۱۹۱۹ء
    ۱۳۔ اپریل ۱۹۴۴ء
    فلسطین` اردن` لبنان
    ۳۵
    ملک احسان اللہ صاحب
    ۱۹۔ جنوری ۱۹۱۹ء
    ۳۰۔ اپریل ۱۹۴۴ء
    مغربی و مشرقی افریقہ
    ۳۶
    حافظ بشیرالدین عبیداللہ صاحب
    ۱۷۔ ستمبر ۱۹۲۰ء
    ۲۶۔ مئی ۱۹۴۴ء
    ماریشس` مشرقی افریقہ` سیرالیون


    فرنچ گنی )مغربی افریقہ(
    ۳۷
    چوہدری عطاء اللہ صاحب
    ۱۹۳۸ء میں ۲۳ سال عمر
    ۲۶۔ مئی ۱۹۴۴ء
    فرانس۔ غاغا )مغربی افریقہ(
    ۳۸
    چوہدری احسان الہی صاحب جنجوعہ
    ۱۵۔ فروری ۱۹۲۳ء
    ۱۶۔ جون ۱۹۴۴ء
    سیرالیون۔ نائجیریا۔ غانا
    ۳۹
    مولوی نورمحمد صاحب نسیم سیفی
    ۱۶۔ مئی ۱۹۱۷ء
    ۲۷۔ جولائی ۱۹۴۴ء
    نائجیریا
    ۴۰
    چوہدری محمد اسحاق صاحب ساقی
    ۵۔ اگست ۱۹۴۴ء
    سپین )ٹرینیڈاد مشن کے پہلے مبلغ10]( [p۲۹۹
    ۴۱
    مولوی نورالحق صاحب انور
    ۲۰۔ دسمبر ۱۹۲۰ء
    ۱۴۔ اگست ۱۹۴۴ء
    مشرقی افریقہ` امریکہ` فجی
    ۴۲
    مولوی محمد عثمان صاحب
    ۱۹۲۳ء
    ۲۔ ستمبر ۱۹۴۴ء
    اٹلی` سیرالیون
    ۴۳
    صوفی محمد اسحاق صاحب
    یکم مارچ ۱۹۲۳ء
    ۷۔ ستمبر ۱۹۴۴ء
    سیرالیون` لائبیریا` )مشن کے پہلے


    ‏wf5] [tag مبلغ( غاغا۔ یوگنڈا۔ کینیا۔
    ۴۴
    مولوی عبدالحق صاحب ننگلی

    سیرالیون` غاغا
    ۴۵
    مولوی نذیر احمد صاحب رائے ونڈی
    ۱۴۔ اپریل ۱۹۲۶ء
    ۲۳۔ نومبر ۱۹۴۴ء
    سیرالیون
    ۴۶
    شیخ نوراحمد صاحب منیر
    ۱۹۔ اکتوبر ۱۹۱۹ء
    ۶۔ فروری ۱۹۴۵ء
    لبنان` نائیجیریا۔
    ۴۷
    ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل
    ۲۳۔ فروری ۱۹۰۲ء
    ۱۴۔ فروری ۱۹۴۵ء
    اٹلی` سیرالیون )فری ٹائون(
    ۴۸
    چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ
    ۲۰۔ اپریل ۱۹۱۹ء
    ۳۔ اپریل ۱۹۴۵ء
    انگلستان
    ۴۹
    مولوی بشارت احمد صاحب بشیر
    ۲۴۔ جنوری ۱۹۲۴ء
    ۵۔ اپریل ۱۹۴۵ء
    غانا۔ سیرالیون
    ۵۰
    مولوی بشارت احمد صاحب نسیم
    قریباً ۱۹۲۳ء
    اپریل ۱۹۴۵ء
    غانا۔ ملائیشیا۔
    ۵۱
    ‏wf2] gat[ مولوی محمد منور صاحب
    ۱۳۔ فروری ۱۹۲۳ء
    ۱۸۔ اگست ۱۹۴۵ء
    مشرقی افریقہ
    ۵۲
    قریشی محمد افضل صاحب
    ۵۔ اکتوبر ۱۹۱۴ء
    ۱۹۴۵ء
    نائجیریا۔ غانا۔ آئیوری کوسٹ۔
    ۵۳
    مولوی عبدالواحد صاحب سماٹری
    ۶۔ ستمبر ۱۹۰۸ء
    ۱۹۴۵ء
    انڈونیشیا۔ عراق )۱۹۲۶ء میں سماٹرا روانہ


    ہوئے اور ۱۹۴۵ء سے تحریک جدید کے
    ‏]wf1 [tag

    ماتحت کام شروع کیا(
    ۵۴
    مولوی عبدالقادر صاحب ضیغم
    ۲۲۔ ستمبر ۱۹۲۲ء
    ۱۶۔ فروری ۱۹۴۶ء
    امریکہ
    ۵۵
    مولوی جلال الدین صاحب قمر
    ۵۔ مئی ۱۹۲۳ء
    ۵۔ مارچ ۱۹۴۶ء
    مشرقی افریقہ` فلسطین
    ۵۶
    سید ولی اللہ صاحب
    ۵۔ مارچ ۱۹۴۶ء
    مشرقی افریقہ
    ۵۷
    عنایت الل¶ہ صاحب خلیل
    اندازاً ۱۹۱۴ء
    ۵۔ مارچ ۱۹۴۶ء
    مشرقی افریقہ
    ۵۸
    حکیم محمد ابراہیم صاحب
    ۱۹۲۲ء
    ۲۱۔ مارچ ۱۹۴۶ء
    مشرقی افریقہ
    ۵۹
    مولوی نذیر احمد صاحب علی
    ۱۰۔ فروری ۱۹۰۵ء
    غانا۔ سیر الیون مشن کے پہلے


    مبلغ۔ سیرالیون میں مدفون ہیں۔
    ۶۰
    میر ضیاء اللہ صاحب
    ‏wf3] g[ta
    ۲۹۔ اپریل ۱۹۴۶ء
    مشرقی افریقہ )ت۳۰۰(
    ۶۱
    بشیر احمد آرچرڈ صاحب
    ۷۔ مئی ۱۹۴۶ء
    انگلستان` برٹش گی آنا` گلاسگو
    آف انگلستان

    ۶۲
    چوہدری شکر الٰہی صاحب۳۰۱
    ۲۰۔ مارچ ۱۹۲۰ء
    ۱۲۔ جون ۱۹۴۶ء
    امریکہ۳۰۱ )ارتداد کے
    ‏wf1] g[ta

    )بعد عبرتناک موت مرے(
    ۶۳
    مولوی محمد سعید صاحب انصاری
    ۲۰۔ مارچ ۱۹۱۶ء
    ۱۵۔ جون ۱۹۴۶ء
    سنگاپور۔ انڈونیشیا۔ ملایا۔
    ۶۴
    مولوی محمد زہدی صاحب
    ۷۔ نومبر ۱۹۱۸ء
    ۲۵۔ جون ۱۹۴۶ء
    انڈونیشیا۔ سنگاپور )قادیان سے(
    )آف ملایا(

    مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا(
    ۶۵
    ‏wf2] [tag مولوی عبدالکریم صاحب
    ۲۶۔ جون ۱۹۴۶ء
    سیرالیون
    ۶۶
    سید احمد شاہ صاحب
    ۱۰۔ اکتوبر ۱۹۱۸ء
    ۲۹۔ جون ۱۹۴۶ء
    نائیجیریا۔ سیرالیون
    ۶۷
    مولوی محمد صادق صاحب لاہوری
    ۱۹۲۴ء
    ۱۵۔ جولائی ۱۹۴۶ء
    سیرالیون )ت(
    ۶۸
    قریشی مقبول احمد صاحب
    ۳۰۔ جون ۱۹۲۲ء
    ۲۰۔ جولائی ۱۹۴۶ء
    لنڈن )آئیوری کوسٹ مشن کے
    ‏]1fw [tag
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    پہلے مبلغ( امریکہ
    ‏tav.8.8
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    تحریک جدید کی بنیاد سے لے کر خلافت جوبلی تک
    ۶۹
    چوہدری عنایت اللہ صاحب
    یکم جنوری ۱۹۲۰ء
    جولائی ۱۹۴۶ء
    مشرقی افریقہ
    ۷۰
    مولوی صالح محمد صاحب
    ۱۲۔ فروری ۱۹۰۲ء
    ۱۵۔ ستمبر ۱۹۴۶ء
    غانا )ت(
    ۷۱
    ‏]2wf [tag مولوی عبدالرحمن خان صاحب
    یکم جنوری ۱۹۱۵ء
    ۱۵۔ اکتوبر ۱۹۴۶ء
    لنڈن )ت(
    ۷۲
    مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم
    یکم اکتوبر ۱۹۲۲ء
    ۱۲۔ دسمبر ۱۹۴۶ء
    غانا
    ۷۳
    مولوی غلام احمد صاحب مبشر
    ۱۹۲۶ء
    ۱۹۴۶ء
    عدن مشن کے بانی
    ۷۴
    مولوی عبدالکریم صاحب شرما
    ۲۶۔ جولائی ۱۹۱۹ء
    ۲۸۔ اگست ۱۹۴۷ء
    مشرقی افریقہ
    ۷۵
    سید جواد علی صاحب
    ۱۹۲۴ء
    ۲۔ اکتوبر ۱۹۴۸ء
    امریکہ
    ۷۶
    شیخ نصیرالدین احمد صاحب
    ۱۵۔ مارچ ۱۹۲۳ء
    ۱۵۔ جون ۱۹۴۹ء
    سیرالیون` نائیجیریا۔
    ۷۷
    مولوی ابوبکر ایوب صاحب
    ۱۳۔ اکتوبر ۱۹۰۸ء
    جون ۱۹۵۰ء
    انڈونیشیا` ہالینڈ )پہلے صدر انجمن احمدیہ


    کے تحت خدمات بجالاتے رہے(
    ۷۸
    سید منیر احمد صاحب باہری
    ۱۲۔ اگست ۱۹۲۹ء
    ۳۱۔ اکتوبر ۱۹۵۰ء
    برما )تحریک جدید کے برما مشن


    کے پہلے مبلغ(
    ۷۹
    مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر
    ۲۸۔ مارچ ۱۹۲۸ء
    ۳۱۔ اکتوبر ۱۹۵۰ء
    سیلون۔ ماریشس


    مشرقی افریقہ۔
    ۸۰
    مولوی فضل الٰہی صاحب انوری
    ۱۶۔ اپریل ۱۹۲۷ء
    یکم دسمبر ۱۹۵۰ء
    غانا۔ جرمنی )فرانکفورٹ(
    ۸۱
    مرزا محمد ادریس صاحب
    ۱۵۔ اکتوبر ۱۹۲۹ء
    ۱۵۔ مارچ ۱۹۵۲ء
    بورنیو` یوگنڈا۔
    ۸۲
    مولوی عبدالقدیر صاحب شاہد
    ۱۹۲۵ء
    یکم مئی ۱۹۵۲ء
    غانا` سیرالیون
    ۸۳
    قریشی فیروز محی الدین صاحب
    یکم مئی ۱۹۵۲ء
    سنگاپور` غانا` نائجیریا۔
    ‏]1fw [tag۸۴
    عبداللطیف صاحب پریمی
    ۲۴۔ جون ۱۹۲۷ء
    یکم مئی ۱۹۵۲ء
    غانا )ت(
    ۸۵
    مولوی محمد صدیق صاحب گورداسپوری
    اکتوبر ۱۹۲۸ء
    یکم مئی ۱۹۵۲ء
    سیرالیون` غانا۔
    ۸۶
    مولوی مبارک احمد صاحب ساقی
    ۷۔ دسمبر ۱۹۳۰ء
    یکم مئی ۱۹۵۲ء
    نائیجیریا` لائبیریا۔ انگلستان
    ۸۷
    میر مسعود احمد صاحب
    یکم ستمبر ۱۹۲۷ء
    یکم مئی ۱۹۵۲ء
    ڈنمارک
    ۸۸
    صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب
    ۵۔ مارچ ۱۹۲۷ء
    یکم جولائی ۱۹۵۲ء
    انڈونیشیا
    ۸۹
    حکیم عبدالرشید صاحب ارشد
    ۲۱۔ اپریل ۱۹۲۱ء
    نومبر ۱۹۵۰ء
    انڈونیشیا
    ۹۰
    مولود احمد خاں صاحب
    ۷۔ مارچ ۱۹۲۵ء
    یکم اپریل ۱۹۵۳ء
    لنڈن
    ۹۱
    چوہدری محمود احمد صاحب چیمہ
    ۶۔ اگست ۱۹۲۸ء
    ‏wf4] g[ta یکم اپریل ۱۹۵۳ء
    سیرالیون` جرمنی۔
    ۹۲
    قاضی مبارک احمد صاحب
    ۱۹۔ فروری ۱۹۳۲ء
    یکم اپریل ۱۹۵۳ء
    سیرالیون` غانا` ٹوگولینڈ۔
    ۹۳
    بشیر احمد صاحب رفیق
    ۱۲۔ ستمبر ۱۹۳۱ء
    یکم دسمبر ۱۹۵۳ء
    انگلستان
    ۹۴
    خلیل احمد صاحب اختر
    ۱۸۔ اکتوبر ۱۹۳۱ء
    یکم دسمبر ۱۹۵۳ء
    انگلستان
    ۹۵
    عبدالشکور صاحب کنزے )جرمن(
    ۱۵۔ ستمبر ۱۹۱۹ء
    ۱۳۔ دسمبر ۱۹۵۴ء
    امریکہ` جرمنی۳۰۲
    ۹۶
    صالح الشبیبی صاحب )جاوی(
    نومبر ۱۹۲۱ء
    ۱۲۔ اپریل ۱۹۵۵ء
    انڈونیشیا )غیرملکی(
    ۹۷
    مولوی نظام الدین صاحب مہمان
    ۱۵۔ جولائی ۱۹۲۷ء
    یکم نومبر ۱۹۵۵ء
    سیرالیون
    ۹۸
    سید کمال یوسف صاحب
    ۱۹۳۳ء
    یکم جنوری ۱۹۵۶ء
    ڈنمارک مشن کے پہلے مبلغ
    ۹۹
    مولوی محمد بشیر صاحب شاد
    ۱۳۔ دسمبر ۱۹۳۵ء
    ۲۶۔ فروری ۱۹۵۶ء
    سیرالیون` نائیجیریا )مغربی افریقہ(
    ۱۰۰
    رشید احمد صاحب اسحاق
    ۱۵۔ جون ۱۹۳۳ء
    ۲۶۔ فروری ۱۹۵۶ء
    ڈچ گی آنا )م(
    ۱۰۱
    امری عبیدی صاحب
    ۲۵۔ اپریل ۱۹۵۶ء
    ٹانگانیکا )وفات یافتہ(
    ۱۰۲
    منیرالدین احمد صاحب
    ۱۲۔ اگست ۱۹۲۸ء
    ۱۲۔ جون ۱۹۵۶ء
    کینیا )مشرقی افریقہ(
    ۱۰۳
    ملک جمیل الرحمن صاحب رفیق
    ۹۔ مارچ ۱۹۲۶ء
    ۲۔ ستمبر ۱۹۵۶ء
    تنزانیا )مشرقی افریقہ(
    ۱۰۴
    چوہدری ناصر احمد صاحب
    ۱۴۔ اکتوبر ۱۹۳۳ء
    ۲۹۔ اکتوبر ۱۹۵۶ء
    سیرالیون
    ۱۰۵
    غلام نبی صاحب شاہد
    ۳۰۔ جنوری ۱۹۳۰ء
    ۲۸۔ نومبر ۱۹۵۶ء
    سیرالیون` غانا۔
    ۱۰۶
    منیر احمد صاحب عارف
    ۲۔ جنوری ۱۹۲۹ء
    ۲۸۔ نومبر ۱۹۵۶ء
    برما` نائیجیریا۔
    ۱۰۷
    مولوی عبدالرشید صاحب رازی
    مئی ۱۹۳۲ء
    ۲۸۔ نومبر ۱۹۵۶ء
    غانا` تنزانیا۔
    ۱۰۸
    مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل
    ۳۰۔اکتوبر ۱۹۳۳ء
    ۲۸۔ نومبر ۱۹۵۶ء
    ہالینڈ
    ۱۰۹
    حافظ محمد سلیمان صاحب
    اپریل ۱۹۳۰ء
    ۲۸۔ نومبر ۱۹۵۶ء
    تنزانیا )مشرقی افریقہ( کینیا۔
    ۱۱۰
    سردار مقبول احمد صاحب ذبیح
    ۳۱۔ اگست ۱۹۳۱ء
    ۲۸۔ نومبر ۱۹۵۶ء
    یوگنڈا )مشرقی افریقہ(
    ۱۱۱
    محمد اسحاق صاحب خلیل
    ۲۸۔ جون ۱۹۳۵ء
    ۲۲۔ جنوری ۱۹۵۷ء
    نائیجیریا )م(
    ۱۱۲
    عبدالرحمن صاحب سیلونی
    ۲۲۔ اپریل ۱۹۳۰ء
    ۱۳۔ فروری ۱۹۵۷ء
    سیلون` تنزانیا۔
    ۱۱۳
    محمد حنیف صاحب یعقوب
    یکم اکتوبر ۱۹۲۶
    ۳۔ اکتوبر ۱۹۵۷ء
    ٹرینیڈاڈ
    ۱۱۴
    میرغلام احمد صاحب نسیم
    ۱۵۔ اگست ۱۹۳۱ء
    ۶۔ اکتوبر ۱۹۵۷ء
    سیرالیون` گی آنا )جنوبی امریکہ(
    ۱۱۵
    مولوی رشیداحمد صاحب سرور
    ۱۳۔ اکتوبر ۱۹۳۴ء
    ۶۔ اکتوبر ۱۹۵۷ء
    تنزانیا )مشرقی افریقہ(
    ۱۱۶
    اقبال احمد صاحب غصنفر
    ۱۸۔ اپریل ۱۹۳۲ء
    ۶۔ اکتوبر ۱۹۵۷ء
    سیرالیون
    ۱۱۷
    صلاح الدین خان صاحب بنگالی
    دسمبر ۱۹۳۲ء
    ۶۔ اکتوبر ۱۹۵۷ء
    ہالینڈ
    ۱۱۸
    شیخ نذیر احمد صاحب بشیر
    ۲۰۔ دسمبر ۱۹۳۲ء
    ۲۸۔ نومبر ۱۹۵۷ء
    لنڈن
    ۱۱۹
    عبدالعزیز صاحب جمن بخش
    ۲۔ فروری ۱۹۳۵ء
    ۱۹۵۷ء
    ڈچ گی آنا
    آف ڈچ گی آنا

    ۱۲۰
    بشیر احمد صاحب شمس گجراتی
    ‏]3fw [tag فروری ۱۹۳۵ء
    ۲۰۔ اپریل ۱۹۵۸ء
    نائیجیریا۔ جرمنی۔
    ۱۲۱
    امین اللہ خاں صاحب سالک
    ۲۶۔ مئی ۱۹۳۶ء
    ۲۰۔ اپریل ۱۹۵۸ء
    امریکہ
    ۱۲۲
    مرزا لطف الرحمن صاحب انور
    ۱۵۔ فروری ۱۹۲۹ء
    ۲۵۔ جون ۱۹۵۸ء
    جرمنی` غانا` ٹوگولینڈ


    مشن کے پہلے مبلغ
    ۱۲۳
    منیرالدین صاحب یحییٰ فضلی
    ۳۔ جولائی ۱۹۳۶ء
    ۱۷۔ اگست ۱۹۵۹ء
    جرمنی
    ۱۲۴
    مولانا غلام احمد صاحب فاضل بدوملہی
    ۲۵۔ اکتوبر ۱۹۰۱ء
    ۱۰۔ دسمبر ۱۹۵۹ء
    گیمبیا )عارضی وقف(
    ۱۲۵
    محمود عبداللہ شبوطی صاحب عدنی
    ۲۴۔ مئی ۱۹۳۴ء
    ۴۔ فروری ۱۹۶۰ء
    عدن
    ۱۲۶
    مولوی نصیراحمد خاں صاحب
    ۱۰۔ اپریل ۱۹۳۰ء
    ۱۶۔ مئی ۱۹۶۰ء
    لبنان` غانا` سیرالیون۔
    ‏wf1] g[ta۱۲۷
    عبدالوہاب بن آدم صاحب
    ۱۸۔ جنوری ۱۹۳۸ء
    یکم جون ۱۹۶۰ء
    غانا )جامعہ احمدیہ ربوہ سے
    آف افریقہ

    شاہد کا امتحان پاس کیا(
    ۱۲۸
    مسعود احمد صاحب جہلمی
    یکم اپریل ۱۹۳۴ء
    ۴۔ جولائی ۱۹۶۰ء
    جرمنی
    ۱۲۹
    میجر راجہ عبدالحمید صاحب
    ۱۹۱۳ء
    ۱۳۔ ستمبر ۱۹۶۰ء
    امریکہ )سہ سالہ وقف(
    ‏]wf1 [tag۱۳۰
    چوہدری رحمت خاں صاحب
    اندازاً ۱۸۹۹ء
    یکم اکتوبر ۱۹۶۰ء
    انگلستان )سہ سالہ وقف(
    ۱۳۱
    مولوی عبدالمالک خان صاحب فاضل
    ۲۵۔ نومبر ۱۹۱۱ء
    جون ۱۹۶۱ء
    غانا )صدر انجمن احمدیہ سے آپ کی خدمات


    تین سال کے لئے مستعار لی گئیں(
    ۱۳۲
    چوہدری رشید الدین صاحب
    دسمبر ۱۹۳۴ء
    روانگی جون ۱۹۶۱ء
    نائیجیریا )۱۹۶۱ء میں تحریک نے آپ کی خدمات


    تین سال کیلئے صدر انجمن سے مستعار لیں(
    ۱۳۳
    حاجی فیض الحق خاں صاحب
    ۲۔ اکتوبر ۱۸۹۶ء
    ۱۰۔ نومبر ۱۹۶۱ء
    نائیجیریا )سہ سالہ وقف(
    ۱۳۴
    سید محمد ہاشم صاحب بخاری
    یکم جنوری ۱۸۹۷ء
    ۲۵۔ فروری ۱۹۶۲ء
    غانا اور سیرالیون میں رہے۔ )پیدائشی

    ‏wf3] [tag
    صحابی ہیں( )سہ سالہ وقف(
    ۱۳۵
    سید دائود احمد صاحب انور
    ۱۶۔ اکتوبر ۱۹۳۶ء
    ۴۔ جون ۱۹۶۲ء
    غانا
    ۱۳۶
    قاضی نعیم الدین احمد صاحب
    ۱۵۔ جولائی ۱۹۴۰ء
    یکم جولائی ۱۹۶۲ء
    کینیا )مشرقی افریقہ(
    ۱۳۷
    چوہدری عبدالرحمن خانصاحب بنگالی
    یکم دسمبر ۱۹۴۰ء
    یکم مارچ ۱۹۶۳ء
    امریکہ
    ۱۳۸
    قاضی عبدالسلام صاحب
    ۱۶۔ مارچ ۱۹۶۳ء
    کینیا )مشرقی افریقہ(
    ۱۳۹
    مولوی عبدالحمید صاحب
    ۱۹۰۱ء
    ۳۰۔ مئی ۱۹۶۳ء
    غانا )مغربی افریقہ( )سہ سالہ وقف(

    )کراچی سے روانگی(
    ۱۴۰
    مولوی عبدالشکور صاحب
    ۱۰۔ نومبر ۱۹۳۵ء
    ۲۹۔ جولائی ۱۹۶۳ء
    سیرالیون
    ۱۴۱
    محمد عثمان صاحب چینی
    ‏]3fw [tag ۱۳۔ دسمبر ۱۹۲۵ء
    یکم نومبر ۱۹۶۴ء
    سنگاپور
    ۱۴۲
    محمد عیسیٰ صاحب ظفر
    ۴۔ اپریل ۱۹۳۹ء
    ۱۲۔ جون ۱۹۶۵ء
    کینیا )مشرقی افریقہ(
    ۱۴۳
    دائود احمد صاحب حنیف
    ۳۔ فروری ۱۹۴۳ء
    ۱۲۔ جون ۱۹۶۵ء
    سیرالیون` گیمبیا` مغربی افریقہ۔
    ۱۴۴
    احمد شمشیر صاحب سوکیہ
    ۳۔ مئی ۱۹۳۳ء
    ۲۸۔ جولائی ۱۹۶۶ء
    ماریشس` کینیا )شہادت الاجانب کی
    آف ماریشس

    ڈگری جامعہ احمدیہ ربوہ سے حاصل کی(
    ۱۴۵
    قریشی مبارک احمد صاحب
    ۵۔ اپریل ۱۹۳۸ء
    ۷۔ اگست ۱۹۶۶ء
    غانا۔
    ۱۴۶
    لئیق احمد صاحب طاہر
    ۷۔ اپریل ۱۹۴۳ء
    ۷۔ اگست ۱۹۶۶ء
    انگلستان
    ۱۴۷
    مولوی بشیراحمد صاحب اختر
    ۳۔ نومبر ۱۹۴۲ء
    ۷۔ اگست ۱۹۶۶ء
    کینیا )مشرقی افریقہ(
    تحریک جدید کے طبی مشن
    چند سالوں سے افریقہ کے ممالک میں احمدی ڈسپنسریاں کھولی گئی ہیں جن میں مندرجہ ذیل واقف زندگی ڈاکٹر کام کرچکے ہیں یاکررہے ہیں۔ ڈاکٹر کرنل محمد یوسف صاحب نائیجیریا۔ ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب )سیرالیون نائیجیریا( ڈاکٹر شاہ نواز صاحب۳۰۳ )سیرالیون( ڈاکٹر محمد اکرم صاحب ورک )سیرالیون(
    تحریک جدید کے بیرونی مدارس
    ممالک غیر میں اب تک ۵۷ سکول اور کالج قائم کئے جاچکے ہیں جن میں ہزاروں طلبہ دینی و دنیوی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یہ درسگاہیں زیادہ تر نائیجیریا` غانا اور سیرالیون میں ہیں۔۳۰۴ اکثر سکولوں میں مقامی اساتذہ کام کررہے ہیں۔ لیکن سیکنڈری سکولوں میں پاکستانی اساتذہ مقرر ہیں۔ ان مدارس میں جن واقفین تحریک جدید کو کام کرنے کا موقعہ میسر آیا ان کے اسماء یہ ہیں۔
    سید سفیر الدین صاحب )غانا`( نذیر احمد صاحب ایم ایس سی )غانا`( سمیع اللہ صاحب سیال )سیرالیون`( سعود احمد خاں صاحب دہلوی )غانا`( چودھری محمود احمد صاحب )یوگنڈا(
    بیرونی مساجد
    تحریک جدید کے ریکارڈ کے مطابق )۱۹۶۷ء تک( مندرجہ ذیل ممالک میں احمدیہ مساجد تعمیر ہوچکی ہیں۔
    یورپ: انگلستان )مسجد فضل لنڈن` جس کا سنگ بنیاد حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے اپنے دست مبارک سے ۱۹۲۴ء میں رکھا(
    ہالینڈ )چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ۹۔ دسمبر ۱۹۵۵ء کو اس کا افتتاح فرمایا(
    جرمنی )ہیمبرگ جس کا افتتاح چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے ۲۲۔ جون ۱۹۵۷ء کو فرمایا(
    فرانک فورٹ۔
    سوئٹزر لینڈ۔ )مسجد محمود زیورچ جس کی بنیاد حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے ۲۵۔ اگست ۱۹۶۲ء کو رکھی اور چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ۲۲۔ جون ۱۹۶۳ء کو افتتاح فرمایا(
    ڈنمارک۔ >)مسجد نصرت جہاں< جس کا افتتاح حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۱۔ جولائی ۱۹۶۷ء کو فرمایا(
    نوٹ: انگلستان` ہالینڈ اور ڈنمارک کی مساجد خالصت¶ہ احمدی مستورات کے چندہ سے تیار ہوئی ہیں۔
    امریکہ: ۳
    افریقہ: نائیجیریا ۲۵۔ سیرالیون ۳۵۔ غانا ۱۶۳۔ کینیا ۳۔ تنزانیا ۲۔ یوگنڈا ۵۔ گیمبیا ۱۔
    مشرق وسطی: فسلطین ۱۔
    مشرق بعید: انڈونیشیا ۵۱۔
    ایشیاء: )باستثناء برصغیر پاک و ہند( برما ۱
    بیرونی رسائل و جرائد
    تحریک جدید کے زیر انتظام بیرونی ممالک میں مندرجہ ذیل رسائل و اخبارات جاری ہیں۔
    اخبار احمدیہ )ماہوار` دارالسلام مشرقی افریقہ(
    ۔1
    اخبار احمدیہ )ہفت روزہ` لنڈن(
    ۔2
    )زیورچ جرمنی(
    ۔Islam Der ۔3
    )کوپن ہیگن` ڈنمارک(
    ‏ Islam Aktiv ۔4
    )انگریزی نائیجیریا(
    ‏ Truth The ۔5
    انگریزی )بو۔ سیرالیون(
    ‏ Crescent African The ۔6
    انگریزی )نیروبی(
    ‏ Times African East ۔7
    انگریزی )ٹرینیڈاڈ(
    ‏ Ahmadiyyat ۔8
    سنہالیز۔ انگریزی )کولمبو(
    ‏ Massage The ۔9
    انگریزی )جیسلٹن(
    ‏ Peace The ۔10
    )جکارتا۔ انڈونیشیا(
    ‏ Islam Sinar ۔11
    انگریزی )کیپ ٹائون جنوبی افریقہ(
    ‏ Asr ۔Al ۔12
    " " "
    ‏ Bushra ۔Al ۔13
    عربی )عدن(
    ‏]eng [tag Islam ۔Al ۔14
    برمی )برما(
    ‏ Huslira ۔Al ۔15
    انگریزی )لنڈن(
    ‏ Heral Muslim ۔16
    فجئین` انگریزی )فجی(
    ‏ Islam ۔17
    انگریزی )برٹش گی آنا(
    ‏ Ahmadiyyat ۔18
    ڈچ )ہیگ۔ ہالینڈ(
    ‏ Islam ۔19
    انگریزی ماہنامہ )سالٹ پانڈ` غاغا(
    ‏ Guidance ۔20
    یوگنڈا۔ فینٹی لوگنڈی )مشرقی افریقہ(
    ‏ Islam of Voice ۔21
    سواحیلی )دارالسلام مشرقی افریقہ(
    ‏ Mungu Ya Penzi Ma ۔22
    )کولمبو(
    ‏Doothan Satya ۔23
    وکالت تبشیر کی اہم مطبوعات
    تبلیغ اسلام کی عالمگیر مہم میں لٹریچر کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور بیرونی مبلغین کو میدان جہاد میں ہر جگہ لٹریچر کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ تو وہ اپنے مشنوں میں ہی تیار کرتے ہیں لیکن اس کا بیشتر حصہ مرکز میں تیار کیا جاتا ہے۔ مشنوں کے شائع شدہ لٹریچر کا ذکر تو ان کے حالات میں بالتفصیل کیا جارہا ہے۔ اس جگہ تحریک جدید کے مرکزی شعبہ وکالت تبشیر کی مطبوعات درج کی جاتی ہیں۔
    عربی لٹریچر
    کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام
    مکتوب احمد مواھب الرحمن حمامہ البشری
    تحفہ بغداد الخطاب الجلیل الاستفتاء
    الاسلام التعلیم
    کتب حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ
    لم اعتقد بالاسلام؟
    الاسلام والادیان الاخری
    کتب دیگر بزرگان سلسلہ
    حیات احمد )از حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحبؓ
    موسس الجماعہ الاحمدیہ والا نکلیز )از حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب دردؓ۔ ترجمہ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ(
    المودودی فی المیزان )السید منیر الحصنی امیر جماعت احمدیہ دمشق(
    القول الصریح فی ظھور المہدی والمسیح )مولانا نذیر احمد صاحب مبشر(
    اردو لٹریچر
    ‏body] >[tagتحریک جدید کے بیرونی مشن< )تقریر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب جلسہ سالانہ ۱۹۵۵ء(
    >اشاعت اسلام اور ہماری ذمہ داریاں< ") " " " " " " " " " ۱۹۵۷ء(
    >موجودہ زمانہ ایک روحانی مصلح کا متقاضی ہے<
    >جماعت احمدیہ کا پچہترواں جلسہ سالانہ ۔۔۔۔۔ مختصر کوائف ۱۹۶۷ء
    فارسی لٹریچر
    >پیام احمدیت< )از حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ(
    انگریزی لٹریچر
    ‏ (ENGLISH)
    ‏Quran Al
    ‏commentary and translation English with Quran yloH The
    ‏Translation English with Quran Holy The
    ‏Beauty of gems Forty
    ‏Islam of Teachings
    ‏Man of Conditions Moral the on Teachings Islamic
    ‏Beneificent the of Favours
    ‏removed standing Misunder A
    ‏Christianity of review A
    ‏Teachings Our
    ‏will The
    ‏Christianity of Review A
    ‏India in Jesus
    ‏Christianity of Fountain
    ‏sin of bondage of rid get to How
    ‏Split the About Truth The
    ‏Islam True the or Ahmadiyyat
    ‏Ahmadiyyat to Invitation
    ‏Revolution lRea The
    ‏Islam of order World new The
    ‏Islam in Believe I Why
    ‏Ahmadiyyat is What
    ‏woman of Librator The Muhammad,
    ‏Society Islamic of Structure Economic The
    ‏Movement Ahmadiyya
    ‏Muhammad of Life
    ‏Quran Holy the of study the to Introduction
    ‏Democracy and Communism
    ‏Tayyaba ۔i ۔Seerat
    ‏Pearls Scattered
    ‏Training Spirtual and Moral
    ‏Spirituality of Pillars Two
    ‏Movement Ahmadiyya of Future
    ‏Communism and Islam
    ‏Nabuwwat ۔i۔ Khatm About Truth
    ‏Maknoon ۔i۔Durr
    ‏Beauty and Charm of Mirror
    ‏March the on Islam
    ‏Missions Foreign Our
    ‏Africa in Islam
    ‏Islam of propagation The
    ‏Communism Towards Islam of Attitude
    ‏Islam of Preaching The
    ‏Atonement of Doctrine Christian The
    ‏God of Existence The
    ‏￿Die Jesus Did Where
    ‏(Illustrated) Jadid ۔i۔Tahrik
    ‏Religion Bahaee and Babee
    ‏Kashmir in Jesus
    ‏Islam of Primer
    ‏Islam of Interpretation An
    ‏Nabiyyin Khatamun of Meaning
    ‏Jesus of Tomb The
    ‏Islam on View Woman`s Christian A
    ‏SAWAHILEE:
    ‏Moja Kosa Kuondoa
    ‏Nyingine Dini Na Uislamu
    ‏GERMAN:
    ‏Translation German with Quran Holy The
    ‏DUTCH:
    ‏Translation Dutch with Quran Holy The
    ‏FRENCH:
    ‏Islam of Teachings the of Philosophy
    ‏CHINA:
    ‏Islam of Teachings the of Philosophy
    غیروں کی آراء تحریک جدید کی تبلیغی مساعی سے متعلق
    تحریک جدید کے شاندار تبلیغی کارنامہ پر اپنوں اور بیگانوں نے بہت کچھ لکھا ہے مگر چونکہ تحریک جدید کے قائم ہونے والے مشنوں کے تفصیلی حالات پر آئندہ اپنے اپنے مقام پر روشنی ڈالی جارہی ہے اور ان آراء کا اصل موقعہ وہی مقامات ہیں۔ لہذا اس جگہ بطور نمونہ صرف چند اقتباسات پر اکتفاء کرنا مناسب ہوگا۔
    الحاج عبدالوہاب عسکری
    الحاج عبدالوہاب عسکری ایڈیٹر >السلام البغدادیہ< اپنی کتاب >مشاھد اتی تحت سماء الشرق< میں جماعت احمدیہ کی نسبت لکھتے ہیں۔
    >وخد ماتھم للدین الاسلامی من وجھہ التبشیر فی جمیع الاقطار کثیرہ وان لھم دوائر منتظمہ یدیرھا اساتذہ وعلماء ۔۔۔۔۔۔۔ وھم یحتھدون بکل الوسائل الممکنہ لاعلاء کلمہ الدین ومن اعمالھم الجبارہ الفروع التبشیریہ والمساجد التی اسسوھا فی مدن امریکا و افریقیا و اوربا فھی السنہ ناطقہ مما قاموا ویقومون بہ من خدمات ولا شک ان للاسلام مستقبل باھر۳۰۵ علی یدھم<۳۰۶
    )ترجمہ( دین اسلام کے لئے ان کی تبلیغی خدمات بہت زیادہ ہیں اور ان کے ہاں بہت سے انتظامی شعبے ہیں۔ جنہیں بڑے بڑے ماہرین اور علماء دین چلاتے ہیں۔ اور وہ دین اسلام کی سربلندی کے لئے تمام ممکن ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے کوشاں ہیں اور ان کے عظیم الشان کارناموں میں سے ایک عظیم کام یورپ` امریکہ` اور افریقہ کے مختلف شہروں میں تبلیغی مراکز اور مساجد کا قیام ہے اور یہ مراکز و مساجد ان کی عظیم خدمات کی منہ بولتی تصویر ہیں جو وہ پہلے اور اب بجالارہے ہیں۔ اور اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان کے ہاتھوں اسلام کا ایک تابناک مستقبل مقدر ہوچکا ہے۔
    انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا
    >انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا< مطبوعہ ۱۹۴۷ء کے صفحہ ۷۱۱۔ ۷۱۲ پر جماعت احمدیہ کے عالمگیر تبلیغی نظام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے۔
    ‏ services the enlisting in succeeded community the of sections these "Both as active unceasingly are who men, sacrificing ۔self devoted, of an control They ۔pamphleteers and controversialists propagandists, Mauritius Africa, West India, in only not activity, missionary extensive persuading towards directed mainly are efforts their (where Java and Berlin, in also but sect), Ahmadiyya the join to religionists ۔co their to efforts special devoted have missionaries Their ۔London and Chicago of measure considerable a achieved have and converts European winning as Islam of presntation a such give they literature their In ۔success an received have who persons attract to calculated consider they and Muslims, ۔non attract only not thus dan lines, modern on education win but Controversialists, Christian by Islam on made attacks the rebut rationalist or agnostic under come have who Muslims faith the to back
    "۔influences
    ‏Pages 12, Volume Edition, Fourteenth Britannica, Encyclopaedia 712(The۔711
    )ترجمہ( احمدیہ جماعت کے دونوں گروہ نہایت مخلص اور ایثار پیشہ لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ لوگ اشتہارات` رسائل اور مناظرات کے ذریعہ مسلسل اشاعت کا کام کررہے ہیں ان کا ایک وسیع تبلیغی نظام ہے۔ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ مغربی افریقہ` ماریشس اور جاوا میں بھی )جہاں ان کی کوششیں بالخصوص اس غرض کے لئے وقف ہیں کہ ان کے ہم مذہب لوگ سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوجائیں( اس کے علاوہ برلن` شکاگو اور لندن میں بھی ان کے تبلیغی مشن قائم ہیں ان کے مبلغین نے خاص جدوجہد کی ہے کہ یورپ کے لوگ اسلام قبول کریں اور اس میں انہیں معتدبہ کامیابی بھی ہوئی ہے۔ ان کے لٹریچر میں اسلام کو اس شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے باعث کشش ہے اور اس طریق پر نہ صرف غیرمسلم ہی ان کی طرف کھنچے آتے ہیں بلکہ ان مسلمانوں کے لئے بھی یہ تعلیمات کشش کا موجب ہیں جو مذہب سے بیگانہ ہیں یا عقلیات کی رو میں بہہ گئے ہیں۔ ان کے مبلغین ان حملوں کا بھی دفاع کرتے ہیں جو عیسائی مناظرین نے اسلام پر کئے ہیں۔
    جامعہ ازہر کا ترجمان >الازھر<
    جامعہ الازہر کے ترجمان >الازھر< نے جولائی ۱۹۵۸ء کے شمارہ میں مغربی افریقہ میں تحریک جدید کی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔
    >ولھم نشاط بارزفی کافہ النواحی و مدار سھم ناجحہ بالرغم من ان تلامیذھا لایدینون جمیعا بمذھبھم<
    ‏body] gat[یعنی جماعت احمدیہ کی سرگرمیاں تمام امور میں انتہائی طور پر کامیاب ہیں۔ ان کے مدارس بھی کامیابی سے چل رہے ہیں باوجود یکہ ان کے مدراس کے تمام طلباء ان کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے۔۳۰۷
    روزنامہ >برنرٹکبلٹ< سوئٹزر لینڈ
    سوئٹزرلینڈ کا روزنامہ برنرٹکبلٹ (BERNERTAGBLATT) نے اپنی ۱۱۔جون ۱۹۶۱ء کی اشاعت میں لکھا۔
    >اس دوران میں یہ جماعت )احمدیہ( دنیا کے اور بہت سے حصوں میں بھی پھیلی گئی ہے جہاں تک یورپ کا تعلق ہے لندن` ہمبرگ` فرانکفورٹ` میڈرڈ` زیورچ اور سٹاک ہالم میں اب اس جماعت کے باقاعدہ تبلیغی مشن قائم ہیں۔ امریکہ کے شہروں میں سے واشنگٹن` لاس اینجیلیز` نیو یارک` پٹسبرگ اور شکاگو میں بھی اس کی شاخیں موجود ہیں۔ اس سے آگے گرنیاڈا` ٹرینیڈاڈ اور ڈچ گیانا میں بھی یہ لوگ مصروف کار ہیں۔ افریقی ممالک میں سے سیرالیون` گھانا` نائیجیریا` لائبیریا اور مشرقی افریقہ میں بھی ان کی خاصی جمعیت ہے۔ مشرقی وسطی اور ایشیا میں سے مسقط` دمشق` بیروت` ماریشس` برطانوی شمالی بورنیو` کولمبو` رنگون` سنگاپور اور انڈونیشیا میں ان کے تبلیغی مشن کام کررہے ہیں۔ دوسری عالمگیر جنگ سے قبل ہی قرآن کا دنیا کی سات مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ چنانچہ اب تک ڈچ` جرمن اور انگریزی میں پورے قرآن مجید کے تراجم عربی متن کے ساتھ شائع ہوچکے ہیں۔ اسی طرح عنقریب روسی ترجمہ بھی منظر عام پر آنے والا ہے۔ اس جماعت کا نصب العین بہت بلند ہے یعنی یہ کہ روئے زمین پر بسنے والے تمام بنی نوع انسان کو ایک ہی مذہب کا پابند بناکر انہیں باہم متحد کردیا جائے۔ وہ مذہب احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہے اس کے ذریعہ یہ لوگ پوری انسانیت کو اسلامی اخوت کے رشتے میں منسلک کرکے دنیا میں حقیقی اور پائیدار امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ بالاخر بنی نوع انسان اسلام کی آغوش میں آکر مسلمان ہو جائیں گے۔
    یہ جماعت خود اور اس کا مولد و مسکن سے نکل کر پوری دنیا پر اس قدر مضبوطی سے پھیل جانا نوع انسان کی روحانی تاریخ کے عجیب و غریب واقعات میں سے ایک عجیب و غریب واقعہ اور نشان ہے۔ )ترجمہ(۳۰۹
    پروفیسر سٹینکو ایم ووجیکا صدر شعبہ فلسفہ ولکیز کالج امریکہ
    امریکہ کی ریاست پنسلوانیہ میں ولکیز کالجCOLLEGE) (WILKES کے شعبہ فلسفہ کے صدر پروفیسر سٹینکو ایم ووجیکا VUJIKA) ۔M (STANKO نے انگلستان کے جریدہ >ایسٹرن ورلڈ< WORLD) (EASTERN میں لکھا۔
    >قادیان گروپ کو آج بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تقسیم برصغیر کے بعد سے ربوہ اس گروپ کا )ثانوی( مرکز ہے جو مغربی پاکستان میں واقع ہے۔ اس گروپ کی قیادت ۱۹۱۴ء سے بانی سلسلہ احمدیہ کے فرزند مرزا بشیر الدین )محمود احمد( کے ہاتھ میں ہے۔ بالعموم آپ کے پیرو آپ کو احتراماً >حضرت صاحب< کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ آپ ہمیشہ ہی ایک اولوالعزم لیڈر اور زرخیز دماغ مصنف واقع ہوئے ہیں۔ اپنے والد کی طرح آپ کو بھی دعویٰ ہے کہ آپ تعلق باللہ کے ایک خاص مقام پر فائز ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے ایک جگہ اپنے متعلق ذیل کی عبارت لکھی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جو کچھ لکھا ہے سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں۔
    >خداتعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو میرے ذریعہ سے دنیا بھر میں پھیلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور بیسیوں موقعوں پر اپنے تازہ کلام سے مجھے مشرف فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کا کوئی علم نہیں جو اسلام کے خلاف آواز اٹھاتا ہو اور اس کا جواب خداتعالیٰ مجھے قرآن شریف سے ہی نہ سمجھا دیتا ہو<۔ )دیباچہ تفسیر القرآن انگریزی(
    >۔۔۔۔۔۔۔۔ ربوہ میں سب سے زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ بیرونی مشنوں کو کنٹرول کرنے والے دفتر )وکالت تبشیر( میں دیکھنے میں آتا ہے۔ احمدیوں نے اپنے آپ کو اسلام کے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانے کے مقصد کے لئے دل و جان کے ساتھ وقف کررکھا ہے۔ اسلام کی اشاعت کو وہ ہر مسلمان کا بنیادی فرض تصور کرتے ہیں۔ ربوہ میں باقاعدہ ایک مشنری کالج )جامعہ احمدیہ( ہے جو بیرونی ممالک کے لئے مبلغین تیار کرتا ہے اور اسی طرح بیرونی ممالک سے آنے والے نو مسلموں کو اسلامی علوم سے بہرہ ورکرتا ہے۔ بیرونی مشنوں کو کنٹرول کرنے والا دفتر نشر و اشاعت کے میدان میں بھی انتہائی طور پر سرگرم واقع ہوا ہے۔ انگریزی ماہنامہ >دی ریویو آف ریلیجنز< کے علاوہ جسے اس کے باقاعدہ اور مستقل آرگن کی حیثیت حاصل ہے` یہ اس قدر کثیر تعداد میں کتابیں` چھوٹے چھوٹے رسالے اور پمفلٹ شائع کرتا ہے کہ جنہیں دیکھ کر حیرت آتی ہے۔ یہ تمام لٹریچر اسلامی دنیا اور غیر اسلامی دنیا دونوں کے نقطہ نظر سے شائع کیا جاتا ہے اور مقصد اس کی اشاعت سے یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو احمدیت کا حلقہ بگوش بنایا جائے<۔
    >احمدیوں کا یہ مطمح نظر کہ وہ مغرب کی عیسائی دنیا کو اپنے مخصوص اسلام کا حلقہ بگوش بنا کر ہی دم لیں گے بظاہر ایک دیوانے کی بڑ نظر آتا ہے۔ مسلانوں کی ایک چھوٹی سی تنظیم جس کا مرکز پاکستان میں ہے اور جو اپنے محدود وسائل سے کام لے کر مغرب کے متمول اور ذی ثروت ممالک میں تبلیغ اسلام کی انتہائی گراں بار ذمہ داری کو نبھانے میں کوشاں ہے اس کی اس قسم کی توقعات بظاہر مایوس کن دکھائی دیتی ہیں۔ بایں ہمہ یہ اس زبردست یقین اور جذبہ و جوش کی آئینہ دار ضرور ہیں` جس سے یہ لوگ مالا مال ہیں۔ اس مقصد کے حصول میں ابھی انہیں ایک معتدل حد تک کامیابی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کے مختلف حصوں میں ان کے تبلیغی مراکز قائم ہوچکے ہیں۔ امریکہ کے علاوہ یورپ میں بھی انگلستان` فرانس` اٹلی` سپین` ہالینڈ` جرمنی` ناروے` اور سویڈن میں ان کے باقاعدہ مشن ہیں۔ جنوبی امریکہ کے ممالک میں سے یہ لوگ ٹرینیڈاڈ` برازیل اور کاسٹاریکا میں موجود ہیں۔ اسی طرح ایشیائی ¶ممالک میں سے سیلون` برما` ملایا` فلپائن` انڈونیشیا` ایران` عراق اور شام میں بھی ان کے مبلغ مصروف کار ہیں۔ افریقی ممالک میں سے مصر` زنجبار` نٹال` سیرالیون` گھانا` نائیجیریا` مراکش اور ماریشس میں بھی ان کی جماعتیں قائم ہیں۔
    >سیرالیون کی نئی جمہوریہ مغربی افریقہ میں احمدیہ تحریک کے لئے ایک منتخب خطہ کی حیثیت رکھتی ہے اپنے پاکستانی مرکز کی رہنمائی میں اس تحریک نے اس چھوٹی سی مملکت کے اندر خاصا اثر و نفوذ حاصل کرلیا ہے۔
    >۔۔۔۔۔۔۔۔ احمدیت اپنے آپ کو زمانہ جدید کی ایک اسلامی تحریک کے طور پر پیش کرتی ہے اور اس امر کی دعویدار ہے کہ وہ دنیا کے ہر حصے میں نبردآزما ہوتے ہوئے اسلام کے ایک نئے علمبردار کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا کہ اب تک اس تحریک میں کتنے لوگ داخل ہوچکے ہیں` مشکل ہے۔ تاہم احمدیوں کے اپنے اندازہ کے مطابق پاکستان اور ہندوستان میں ہی ان کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے<۔
    >ایک مذہبی فرقے کے لئے بلحاظ تعداد اس کے افراد کا کم ہونا یا اس کے معتقدات کی مخصوص نوعیت جو دوسروں کے لئے پورے طور پر قابل فہم نہ ہو` نقصان کا موجب نہیں ہوا کرتی۔ ایسے فرقے صدیوں تک زمانے کے حالات سے نبردآزما رہنے کے انداز سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ مذاہب کی تاریخ ایسے چھوٹے چھوٹے فرقوں کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے زمانہ کے اتار چڑھائو اور اکثریت کے دبائو کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ہستی کو برقرار رکھا۔ اس بات کا امکان ہے کہ احمدیت بھی مستقبل میں اس طرح نمایاں طور پر پھلے پھولے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ اسلامی دنیا مغرب کی لادینی ثقافت کے زیراثر آجانے کے باعث ادھر ادھر بھٹک رہی ہے۔ احمدیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کی تحریک اسلام کو اس طور سے پیش کرتی ہے کہ جو دنیائے جدید کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ پھر وہ اسلام کی آخری فتح کے بارے میں نہایت درجہ پراعتماد ہیں۔ ایسی صورت میں احمدیت ان نئی نسلوں کے لئے دلکش اور جاذب نظر ثابت ہوسکتی ہے جو اصلاح حال کے پیش نظر نئے انداز فکر کی تلاش میں سرگرداں ہیں<۔۳۱۰ )ترجمہ(
    اخبار >دی وین گارڈ< گیمبیا
    گیمبیا کے ایک اخبار >دی وین گارڈ< (THEVANGUARD) نے اپنے ایک اداریہ میں لکھا۔
    >آس فرقہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب )علیہ السلام( نے اس فرقہ کی بنیاد قادیان میں ۱۸۸۹ء میں رکھی تھی اس وقت سے لیکر اب تک یہ فرقہ ساری دنیا میں پھیل چکا ہے اور اسلام کی ترقی کے لئے تبلیغی اور تعلیمی کوششوں میں پہلے سے بہت زیادہ مصروف ہے<۔
    >اپنے گھر کے پاس نگاہ دوڑا کر دیکھئے۔ سیرالیون` غانا اور نائیجیریا میں یہ فرقہ مضبوطی کے ساتھ قائم ہوچکا ہے جہاں اس کے تعلیمی ادارے باقاعدگی کے ساتھ ہزاروں مسلمانوں کو انگریزی اور عربی کی تعلیم دے رہے ہیں<۔۳۱۱
    مسٹر ایم جے آغا آف جنجہ مشرقی افریقہ
    کتاب >مذہبی تحریکات ہند< کے مولف مسٹر ایم۔ جے آغا` AGHA) ۔J ۔(Mآف جنجہ )مشرقی افریقہ( لکھتے ہیں۔
    >احمدی جماعت کے موجودہ سربراہ میاں محمود صاحب نے دیگر ممالک میں بھی مشن قائم کئے۔ اور احمدی مخلصین نے غیر ممالک میں اشاعت اسلام کے نام پر دل کھول کر مالی قربانیاں پیش کیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت نے اپنی تبلیغی سرگرمیاں تیزتر کردیں۔ چنانچہ گزشتہ پچاس سال کے عرصہ میں دنیا کے مختلف ممالک میں ان کے مشن عیسائی مبلغین کے مقابلے میں محدود ذرائع کے باوجود اچھا کام کررہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اہلسنت و الجماعت کے لوگ سواد اعظم کی حیثیت سے پچاس کروڑ کی تعداد میں ہیں` وسیع ذرائع اور وسائل کے باوجود ان کے دل میں تبلیغ اسلام کا کبھی خیال نہیں آیا<۔
    مسٹر ایم۔ جے آغا تحریک جدید کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    >اس شعبہ میں ایسے تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں جو مروجہ علوم کے علاوہ دینی تعلیم کی بھی واقفیت رکھتے ہیں اور مغربی ممالک میں عیسائیت کے مقابلے میں اسلام کو بحیثیت دین پیش کرتے ہیں۔ واقعی یہ بڑا کٹھن اور صبرآزما کام ہے جس کے لئے جانی اور مالی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ لیکن احمدی لوگ بڑی توجہ اور جذبہ کے ساتھ اس فریضہ کی ادائیگی میں حصہ لیتے ہیں۔ جس سے بیرونی ممالک میں مسجدیں` مدرسے اور تبلیغی مرکز قائم کئے جاتے ہیں اور قرآن مجید کے تراجم مختلف زبانوں میں شائع کرکے تقسیم کئے جاتے ہیں۔
    عیسائی مبلغین کے مقابلے میں احمدیہ فرقہ کی تبلیغی مساعی قابل داد ہیں کیونکہ ان کے ذرائع عیسائیوں کے مقابلے میں بہت کم اور بالکل محدود ہیں۔ مسلمانوں میں سوائے مصری اور چند ایک دیگر تبلیغی جماعتوں کے اشاعت اسلام کا کام بہت کم ادارے انجام دے رہے ہیں اور جو کررہے ہیں۔ ان میں احمدی جماعت پیش پیش ہے<۔۳۱۲
    اخبار >المنبر< لائل پور
    مدیر ہفت روزہ >المنبر< لائل پور لکھتے ہیں۔
    )پہلا اقتباس( >تحریک جدید< نام ہے ایک منظم جدوجہد کا جو آج سے اٹھائیس سال پہلے مرزا محمود احمد صاحب نے قادیان سے شروع کی تھی۔ اس تحریک کے پہلے سال پنجاب میں تین اہم مراکز قائم کئے تھے جن میں قادیانی وکلاء` ڈاکٹر` علماء` طبیب اور عام کاروباری حضرات ہفتے اور مہینے وقف کرکے مسلمانوں کو قادیانی بنانے کی سرتوڑ کوشش کیا کرتے تھے۔
    یہ تحریک ابتداء میں ایک محدود مدت کے لئے شروع ہوئی تھی۔ جب اس کے ۹ یا ۱۰ برس ختم ہوگئے تو مرزا محمود صاحب نے اعلان کردیا کہ اب یہ تحریک دائمی ہوگی چنانچہ اب اٹھائیسویں برس کا افتتاح ربوہ میں جماعت انصاراللہ کے اجتماع میں کیا گیا۔
    اس تحریک کے تحت پاکستان` ہندوستان` جرمنی` افریقہ اور دوسرے مسلم و غیر مسلم ممالک میں قادیانی مراکز قائم ہیں اور وہ رات دن اس کوشش میں مصروف ہیں کہ عیسائیوں` مسلمانوں اور دوسری اقوام کو قادیانی بنائیں۔
    یہ لوگ اس کام کے لئے زندگیاں وقف کرتے ہیں۔ اپنی اولادیں وقف کرتے ہیں۔ کتابیں چھاپتے ہیں۔ ٹریکٹ شائع کرتے ہیں۔ جلسے کرتے ہیں۔ قریہ قریہ بستی بستی گھوم پھر کر قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔
    ہمیں ذاتی طور پر علم ہے کہ ۱۹۵۳ء میں جب ہائیکورٹ میں پنجاب کے فسادات کی انکوائری ہورہی تھی تو مسلمان جماعتیں اور افراد قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت ثابت کرنے کے لئے مرزا غلام احمد صاحب کی کتابوں` خلیفہ محمود صاحب کی تحریروں سے قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کے ثبوت پیش کررہے تھے۔ ٹھیک انہی دنوں قادیانی جماعت کے ذمہ دار حضرات نے ہائیکورٹ اور انکوائری عدالت کے سربراہ جسٹس محمد منیر صاحب اور اس وقت کے گورنر جنرل مسٹر غلام محمد مرحوم کی خدمت میں قرآن مجید کا جرمنی یا ڈچ ترجمہ پیش کیا تھا جو اس زمانہ میں شائع ہوا تھا اور اس بناء پر مسٹر محمد منیر صاحب بار بار مسلمانوں کے نمائندوں سے سوال کیا کرتے کہ آپ لوگوں نے قرآن مجید کے کتنے تراجم غیر ملکی زبانوں میں کئے ہیں۔ اور آپ کا نظم غیر مسلم اقوام کو اسلام سے آشنا کرنے کے لئے کیا کچھ کررہا ہے؟
    یہ ٹھیک ہے کہ قادیانی حضرات پراپیگنڈے کے بڑے ماہر ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ مرزا غلام احمد سے قادیان کے وکیل المال تک ہر شخص مبالغے سے اپنی کوششوں کا ذکر کرتا ہے اور یہ بھی واقع ہے کہ قادیانی جماعت کا اندرونی نظم شدید انتشار کا شکار ہے۔ لیکن کیا اس سچی حقیقت کا انکار ممکن ہے کہ قادیانی جماعت کا بجٹ لاکھوں کا ہوتا ہے اور ابھی جو آپ نے ملاحظہ کیا کہ ربوہ میں انصاراللہ کے اجتماع میں چند گھنٹوں میں ۸۸۱۹۱ کی خطیر رقم کے وعدے ہوئے اور یہ ساری رقم صرف ہوگی عیسائیوں اور مسلمانوں کو قادیانی بنانے پر۔
    آپ کہہ سکتے ہیں کہ تبلیغی جماعت ہر سال سینکڑوں افراد کو غیر مسلم ممالک میں بھیجتی ہے اور ابھی جماعت اسلامی کے سربراہ کار مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے افریقہ جانے کا عزم ظاہر کیا تھا مگر حکومت نے انہیں جانے کی اجازت نہ دی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایسا ہوا لیکن ذرا سوچئے! اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد سوا آٹھ کروڑ۔ اور قادیانیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ دو تین لاکھ ہوگی۔ اگر اس جماعت کے شعبہ کے لئے چند گھنٹوں میں نوے ہزار کے قریب روپے کے وعدے ہو جاتے ہیں تو اس کے بالمقابل دو سو گنا اکثریت کا بجٹ اشاعت اور دعوت اسلام کے لئے کتنا ہونا چاہئے اور یہ واضح رہے کہ یہ بجٹ صرف تحریک جدید کا ہے۔ قادیانیوں کی مرکزی جماعت کا بجٹ تقریبا ۳۰/۲۵ لاکھ روپے کا ہوتا ہے<۔۳۱۳
    )دوسرا اقتباس( قبل ازیں مدیر >المنبر< ایک اور اشاعت میں لکھتے ہیں۔
    >قادیانیت میں نفع رسانی کے جو جوہر موجود ہیں ان میں اولین اہمیت اس جدوجہد کو حاصل ہے جو اسلام کے نام پر وہ غیر مسلم ممالک میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ قرآن مجید کو غیر ملکی زبانوں میں پیش کرتے ہیں۔ تثلیث کو باطل ثابت کرتے ہیں۔ سید المرسلینﷺ~ کی سیرت طیبہ کو پیش کرتے ہیں۔ ان ممالک میں مساجد بنواتے ہیں اور جہاں کہیں ممکن ہو اسلام کو امن و سلامتی کے مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں<۔۳۱۴
    )تیسرا اقتباس( مدیر >المنبر< مزید لکھتے ہیں۔
    >تحریک جدید جس کا آغاز ۱۹۳۴ء میں اس سے ہوا تھا کہ مرزا محمود نے ساڑھے ستائیس ہزار روپے )تقریباً ۹ ہزار سالانہ( کا مطالبہ جماعت سے کیا تھا۔ اس کے جواب میں قادیانی امت نے تین سال کے عرصے میں تین لاکھ ترپن ہزار روپے پیش کئے۔ ابتداء میں یہ تحریک دس سال کے لئے تھی۔ ۱۹۴۴ء میں مزید نو سال کے لئے اس تحریک کو وسیع کردیا گیا۔ لیکن ۱۹۵۳ء میں جب >اینٹی قادیانی تحریک< کا دور بیت چکا تو مرزا محمود نے نئے ولولوں کے ساتھ اعلان کیا >میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں تحریک جدید کو اس وقت تک جاری رکھوں گا جب تک تمہارا سانس قائم ہے< )المصلح ۱۱۔ نومبر ۱۹۵۳ء( چنانچہ اس تحریک کا گزشتہ سال کا بجٹ اڑتیس لاکھ روپے سے بھی زائد ہے۔
    اس تحریک میں چندہ دینے والوں کی تعداد بائیس ہزار کے قریب ہے جو مستقل سالانہ چندہ ادا کرتے ہیں اور خواہ کتنے ہی ہنگامی اور وقتی چندے انہیں دینا پڑیں تحریک جدید کا چندہ اس سے متاثر نہیں ہوتا اس تحریک میں فی کس چندہ کی مقدار بیس تیس سے سو ڈیڑھ سو روپے تک سالانہ ہے<۔۳۱۵
    )چوتھا اقتباس( یہی اخبار لکھتا ہے کہ۔
    >قادیانی مالیاتی نظام تین حصوں پر مشتمل ہے۔
    ۱۔
    وقتی اور ہنگامی چندے
    ۲۔
    مستقل چندے
    ۳۔
    وقف جائدادیں
    وقتی اور ہنگامی چندوں کا سلسلہ لامتناہی اور طویل سے طویل تر ہے۔ مساجد کی تعمیر` مختلف ممالک کے دارالتبلیغ` کسی خاص سفر کے لئے چندہ` کسی ملکی مسئلے کے لئے خاص فنڈ` بعض تعلیمی اسکیموں کے لئے خاص رقوم` تراجم قرآن مجید کے نام پر اپیل` الغرض ہر مسئلہ` ہر عنوان پر تحریک ہوتی ہے اور جماعت اس پر لبیک کہتی ہے۔
    ان وقتی چندوں کی مقدار` چند ہزار سے لاکھوں تک ہوتی ہے اور یہ تحریکات تقریباً سال بھر کسی نہ کسی عنوان سے جاری رہتی ہیں۔ ایک ختم تو دوسری شروع` دوسری جاری ہے تو تیسری کا آغاز` اس ضمن میں یہ بات خصوصیت سے قابل ذکر ہے کہ مرزا محمود آنجہانی نے جو نفسیاتی محرکات ان تحریکات کے لئے تجویز کئے وہ بے حد کامیاب رہے۔ مثلاً کسی ملک کی مسجد کے لئے اعلان کردیا کہ اس کا تمام بار صرف عورتوں پر پڑے گا۔ اور بعض اوقات تین چار لاکھ کی رقم سب کی سب عورتوں نے مہیا کی۔
    بعض تحریکات صرف کسانوں اور زمینداروں کے لئے` بعض مالی مطالبات صرف تاجروں سے` اور بعض کا تقاضا صرف ملازمین سے وغیرہ<۳۱۶
    یہ ہے وہ نظام تحریک جدید جس کا آغاز احراری مخالفت کے تیزوتند طوفان میں ایک نہایت کمزور سے بیج کی شکل میں ہوا۔ اور جو اب خدا کے فضل و کرم سے ایک تناور درخت بن چکا ہے اور جس کی شاخیں نہایت تیزی سے دنیا کے کناروں تک پھیلتی نظر آرہی ہیں۔ حق جوئی کے پرندے اس کے سائے تلے آرام کرتے اور اس کے شیریں اثمار سے مستفید ہورہے ہیں۔
    پہلے سلطنت برطانیہ کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس پر سورج غروب نہیں ہوتا مگر اب جماعت احمدیہ بھی خدا کے فضل سے مشرق و مغرب کے دور دراز علاقوں میں پھیل رہی ہے اور اب اس کے متعلق بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جماعت احمدیہ پر سورج غروب نہیں ہوتا۔ وذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء فالحمدللہ علی ذالک۔
    ‏0] [stfتحریک جدید دائمی قربانیوں کی تحریک ہے
    تحریک جدید کے ان حیرت انگیز نتائج کے باوجود ہمیں یہ کہنے میں ذرہ بھر تامل نہیں کہ اس وقت تک جو کچھ بھی انجام پاچکا ہے وہ ایک خوشکن بنیاد سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ جیسا کہ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے ایک بار فرمایا تھا۔ ~}~
    ہے ساعت سعد آئی اسلام کی جنگوں کی
    آغاز تو میں کردوں انجام خدا جانے
    ابھی ان کوششوں سے کفر و اسلام کی جنگ کا آغاز ہوا ہے اور دنیا کو روحانی طور پر فتح کرنے کے لئے جماعت کو بے شمار قربانیاں پیش کرنا مقدر ہے جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے شروع ہی سے جماعت کو اس حقیقت سے بخوبی آگاہ کردیا تھا۔ چنانچہ حضورؓ نے فرمایا۔
    >اس تحریک کی غرض عارضی نہیں ہے وہ وقت آرہا ہے جب ہمیں ساری دنیا کے دشمنوں سے لڑنا پڑے گا۔ دنیا سے میری مراد یہ نہیں کہ ہر فرد سے لڑنا پڑے گا کیونکہ ہر قوم اور ہر ملک میں شریف لوگ بھی ہوتے ہیں میرا مطلب یہ ہے کہ تمام ممالک میں ہمارے لئے رستے بند کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ پس ہماری جنگ ہندوستان تک محدود نہ رہے گی بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی ہمیں اپنے پیدا کرنے والے اور حقیقی بادشاہ کی طرف سے جنگ کرنی ہوگی۔ اگر تو احمدیت کوئی سوسائٹی ہوتی۔ تو ہم یہ کہہ کر مطمئن ہوسکتے تھے کہ ہم اپنے حلقہ اثر کو محدود کرلیں گے اور جہاں جہاں احمدی ہیں وہ سمٹ کر بیٹھ جائیں گے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے کہ جو بات اس کی طرف سے آئی ہے اسے ساری دنیا میں پہنچائیں اور ہم نے اسے پہنچانا ہے۔ ہمارا پروگرام وہ نہیں جو ہم خود تجویز کریں بلکہ ہمارا پروگرام ہمارے پیدا کرنے والے نے بنایا ہے<۔۳۱۷][پھر فرمایا۔
    >تحریک جدید تو ایک قطرہ ہے اس سمندر کا جو قربانیوں کا تمہارے سامنے آنے والا ہے جو شخص قطرہ سے ڈرتا ہے وہ سمندر میں کب کودے گا<۔۳۱۸
    جماعت کو انتباہ
    اسی طرح حضورؓ نے جماعت کے مخلصین کو متنبہ کرتے ہوئے واضح لفظوں میں بتایا کہ۔
    ‏tav.8.9
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    تحریک جدید کی بنیاد سے لے کر خلافت جوبلی تک
    >جس دن ہم میں وہ لوگ پیدا ہوگئے جنہوں نے کہا دور اول بھی گزر گیا` دور دوم بھی گزر گیا` دور سوم بھی گر گیا` دور چہارم بھی گزر گیا` دور پنجم بھی گزر گیا` دور ششم بھی گزر گیا` دور ہفتم بھی گزر گیا` اب ہم کب تک اس قسم کی قربانیاں کرتے چلے جائیں گے آخر کہیں نہ کہیں اس کو ختم بھی تو کرنا چاہئے۔ وہ اقرار ہوگا ان لوگوں کا کہ اب ہماری روحانیت سرد ہوچکی ہے اور ہمارے ایمان کمزور ہوگئے ہیں<۔
    >ہم تو امید رکھتے ہیں کہ تحریک جدید کے یہ دور غیر محدود دور ہوں گے اور جس طرح آسمان کے ستارے گنے نہیں جاتے اسی طرح تحریک جدید کے دور بھی نہیں گنے جائیں گے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے کہا کہ تیری نسل گنی نہیں جائے گی اور حضرت ابراہیمؑ کی نسل نے دین کا بہت کام کیا یہی حال تحریک جدید کا ہے۔ تحریک جدید کا دور چونکہ آدمیوں کا نہیں بلکہ دین کے لئے قربانی کرنے کے سامانوں کا مجموعہ ہے۔ اس لئے اس کے دور بھی اگر نہ گنے جائیں تو یہ ایک عظیم الشان بنیاد اسلام اور احمدیت کی مضبوطی کی ہوگی<۔۳۱۹
    قربانیوں کی ابدی ضرورت پر حضرت امیر المومنینؓ کا پرشوکت فرمان
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے محض اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ آپ نے دائمی قربانیوں کی اہمیت نمایاں کرتے ہوئے یہاں تک فرمایا کہ۔
    >یہ یاد رکھو کہ آمد کی زیادتی کے ہرگز یہ معنیٰ نہیں کہ کسی وقت تم اپنے چندوں سے آزاد ہوجائو گے۔ یا کوئی وقت جماعت پر ایسا بھی آئے گا جب تم سے قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ میں ایک انسان ہوں اور آخر ایک دن ایسا آئے گا جب میں مرجائوں گا اور پھر اور لوگ اس جماعت کے خلفاء ہوں گے۔ میں نہیں جانتا اس وقت کیا حالات ہوں گے اس لئے ابھی سے تم کو نصیحت کرتا ہوں تاکہ تمہیں اور تمہاری اولادوں کو ٹھوکر نہ لگے۔ اگر کوئی خلیفہ ایسا آیا جس نے سمجھ لیا کہ جماعت کو زمینوں سے اس قدر آمد ہورہی ہے` تجارتوں سے اس قدر آمد ہورہی ہے` صنعت و حرفت سے اس قدر آمد ہورہی ہے تو پھر اب جماعت سے کسی اور قربانی کی کیا ضرورت ہے۔ اس قدر روپیہ آنے کے بعد ضروری ہے کہ جماعت کی مالی قربانیوں میں کمی کردی جائے تو تم یہ سمجھ لو وہ خلیفہ خلیفہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے یہ معنیٰ ہوں گے کہ خلافت ختم ہوگئی اور کوئی اسلام کا دشمن پیدا ہوگیا۔ جس دن تمہاری تسلی اس بات پر ہوجائے گی کہ روپیہ آنے لگ گیا ہے اب قربانی کی کیا ضرورت ہے۔ اس دن تم سمجھ لو کہ جماعت کی ترقی بھی ختم ہوگئی۔ میں نے بتایا ہے کہ جماعت روپیہ سے نہیں بنتی بلکہ آدمیوں سے بنتی ہے اور آدمی بغیر قربانی کے تیار نہیں ہوسکتے۔ اگر دس ارب روپیہ آنا شروع ہوجائے تب بھی ضروری ہوگا کہ ہرزمانہ میں جماعت سے اس طرح قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے جس طرح آج کیا جاتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ کیا جائے۔ کیونکہ ابھی بڑی بڑی قربانیاں جماعت کے سامنے نہیں آئیں۔ پس چاہئے کہ اگر ایک ارب پونڈ خزانہ میں آجائے تب بھی خلیفہ وقت کا فرض ہوگا کہ ایک غریب کی جیب سے جس میں ایک پیسہ ہے دین کے لئے پیسہ نکال لے اور ایک امیر کی جیب میں سے جس میں دس ہزار روپیہ موجود ہے دین کے لئے دس ہزار نکالے کیونکہ اس کے بغیر دل صاف نہیں ہوسکتے۔ اور بغیر دل صاف ہونے کے جماعت نہیں بنتی اور بغیر جماعت کے بننے کے خداتعالیٰ کی رحمت اور برکت نازل نہیں ہوتی۔ وہ روپیہ جو بغیر دل صاف ہونے کے آئے وہ انسان کے لئے رحمت نہیں بلکہ *** کا موجب ہوتا ہے۔ وہی روپیہ رحمت کا موجب ہوسکتا ہے جس کے ساتھ انسان کا دل بھی صاف ہو اور دینوی آلائشوں سے مبرا ہو۔
    پس مت سمجھو کہ اگر کثرت سے روپیہ آنے لگا تو تم قربانیوں سے آزاد ہوجائو گے۔ اگر کثرت سے روپیہ آگیا تو ہمارے ذمہ کام بھی تو بہت بڑا ہے۔ اس کے لئے اربوں روپیہ کی ضرورت ہے۔ بلکہ اگر اربوں ارب روپیہ آجائے تو پھر بھی یہ کام ختم نہیں ہوسکتا۔ روپیہ ختم ہوسکتا ہے مگر یہ کام ہمیشہ بڑھتا چلا جائے گا۔
    پس کسی وقت جماعت میں اس احساس کا پیدا ہونا کہ اب کثرت سے روپیہ آنا شروع ہوگیا ہے قربانیوں کی کیا ضرورت ہے` اب چندے کم کردیئے جائیں اس سے زیادہ کسی جماعت کی موت کی اور کوئی علامت نہیں ہوسکتی۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اپنی موت کے فتوے پر دستخط کردے پس مت سمجھو کہ ان زمینوں اور جائیدادوں وغیرہ کی آمد کے بعد چندے کم کردیئے جائیں گے۔
    اگر یہ روپیہ ہماری ضرورت کے لئے کافی ہو جائے تب پھر تمہارے اندر ایمان پیدا کرنے کے لئے` تمہارے اندر اخلاص پیدا کرنے کے لئے` تمہارے اندر زندگی پیدا کرنے کے لئے` تمہارے اندر روحانیت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے اور ہمیشہ اور ہر آن کیا جائے اگر قربانیوں کا مطالبہ ترک کردیا جائے تو یہ تم پر ظلم ہوگا` یہ سلسلہ پر ظلم ہوگا۔ یہ تقویٰ اور ایمان پر ظلم ہوگا<۔۳۲۰
    خلفاء کو وصیت
    حضور نے نہ صرف جماعت کو قربانی کی طرف متوجہ کیا بلکہ آئندہ آنے والے خلفاء کو وصیت فرمائی کہ۔
    >جب تک دنیا کے چپہ چپہ میں اسلام نہ پھیل جائے اور دنیا کے تمام لوگ اسلام قبول نہ کرلیں اس وقت تک اسلام کی تبلیغ میں وہ کبھی کوتاہی سے کام نہ لیں خصوصاً اپنی اولاد کو میری یہ وصیت ہے کہ وہ قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھیں اور اپنی اولاد در اولاد کو نصیحت کرتے چلے جائیں کہ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو کبھی نہیں چھوڑنا اور مرتے دم تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنا ہے<۔۳۲۱
    تحریک جدید کا شاندار مستقبل
    سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو عالم رویا میں دکھایا گیا کہ۔
    >ایک بڑا بحر ذخار کی طرح دریا ہے جو سانپ کی طرح پیچ کھاتا ہے مشرق کوجارہا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کو الٹا بہنے لگا ہے<۔۳۲۲
    یہ دراصل اس عظیم الشان روحانی انقلاب کا ایک منظر ہے جو مستقبل میں جلد یا بدیر تحریک جدید کے ذریعہ سے رونما ہونے والا ہے اور جس کے نتیجہ میں تحریک جدید کی پانچہزاری فوج کا لاکھوں تک پہنچنا اور پھر دنیا کے مغربی نظاموں کی جگہ اسلام کے نظام نو کی تعمیر مقدر ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی~رضی۱~ نے ایک بار بالصراحت فرمایا تھا۔
    >جب ہم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم محمد رسول اللہ~صل۱~ کے نام کو دنیا میں پھیلائیں گے اور اسلام کے جلال اور اس کی شان کے اظہار کے لئے اپنی ہر چیز قربان کردیں گے تو ہمیں ان تبلیغی سکیموں کے لئے جس قدر روپیہ کی ضرورت ہوگی اس کو پورا کرنا بھی ہماری جماعت کا ہی فرض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا میں صحیح طور پر تبلیغ اسلام کرنے کے لئے ہمیں لاکھوں مبلغوں اور کروڑوں روپیہ کی ضرورت ہے۔ جب میں رات کو اپنے بستر پر لیٹتا ہوں تو بسا اوقات سارے جہان میں تبلیغ کو وسیع کرنے کے لئے میں مختلف رنگوں میں اندازے لگاتا ہوں۔ کبھی کہتا ہوں ہمیں اتنے مبلغ چاہئیں اور کبھی کہتا ہوں اتنے مبلغوں سے کام نہیں بن سکتا اس سے بھی زیادہ مبلغ چاہئیں۔ یہاں تک کہ بعض دفعہ بیس بیس لاکھ تک مبلغین کی تعداد پہنچا کر میں سو جایا کرتا ہوں۔ میرے اس وقت کے خیالات کو اگر ریکارڈ کیا جائے تو شاید دنیا یہ خیال کرے کہ سب سے بڑا شیخ چلی میں ہوں۔ مگر مجھے اپنے خیالات اور اندازوں میں اتنا مزہ آتا ہے کہ سارے دن کی کوفت دور ہوجاتی ہے۔ میں کبھی سوچتا ہوں کہ پانچ ہزار مبلغ کافی ہوں گے۔ پھر کہتا ہوں پانچ ہزار سے کیا بن سکتا ہے دس ہزار کی ضرورت ہے۔ پھر کہتا ہوں دس ہزار بھی کچھ چیز نہیں جاوا میں اتنے مبلغوں کی ضرورت ہے` سماٹرا میں اتنے مبلغوں کی ضرورت ہے` چین اور جاپان میں اتنے مبلغوں کی ضرورت ہے۔ پھر میں ہر ملک کی آبادی کا حساب لگاتا ہوں اور پھر کہتا ہوں یہ مبلغ بھی تھوڑے ہیں اس سے بھی زیادہ مبلغوں کی ضرورت ہے یہاں تک کہ بیس بیس لاکھ تک مبلغوں کی تعداد پہنچ جاتی ہے۔ اپنے ان مزے کی گھڑیوں میں میں نے بیس بیس لاکھ مبلغ تجویز کیا ہے۔ دنیا کے نزدیک میرے یہ خیالات ایک واہمہ سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھتے مگر اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو چیز ایک دفعہ پیدا ہوجائے وہ مرتی نہیں جب تک اپنے مقصد کو پورا نہ کرے۔ لوگ بے شک مجھے شیخ چلی کہہ لیں مگر میں جانتا ہوں کہ میرے ان خیالات کا خداتعالیٰ کی پیدا کردہ فضا میں ریکارڈ ہوتا چلا جارہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ میرے ان خیالات کو عملی رنگ میں پورا کرنا شروع کردے گا۔ آج نہیں تو آج سے ساٹھ یا سو سال کے بعد اگر خداتعالیٰ کا کوئی بندہ ایسا ہوا جو میرے ان ریکارڈوں کو پڑھ سکا اور اسے توفیق ہوئی تو وہ ایک لاکھ مبلغ تیار کردے گا۔ پھر الل¶ہ تعالیٰ کسی اور بندے کو کھڑا کردے گا جو مبلغوں کو دو لاکھ تک پہنچا دے گا۔ پھر کوئی اور بندہ کھڑا ہوجائے گا جو میرے اس ریکارڈ کو دیکھ کر مبلغوں کو تین لاکھ تک پہنچا دے گا۔ اس طرح قدم بقدم اللہ تعالیٰ وہ وقت بھی لے آئے گا جب ساری دنیا میں ہمارے بیس لاکھ مبلغ کام کررہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ہرچیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ اس سے پہلے کسی چیز کے متعلق امید رکھنا بے وقوفی ہوتی ہے۔ میرے یہ خیال بھی اب ریکارڈ میں محفوظ ہوچکے ہیں اور زمانہ سے مٹ نہیں سکتے۔ آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں میرے یہ خیالات عملی شکل اختیار کرنے والے ہیں<۔۳۲۳
    پہلا باب
    حواشی
    ۱۔
    تقریر فرمودہ ۲۷۔ ستمبر ۱۹۴۳ء )غیر مطبوعہ(
    ۲۔
    الفضل ۸۔ فروری ۱۹۳۶ء صفحہ ۱۰ )تقریر فرمودہ ۲۶۔ دسمبر ۱۹۳۵ء(
    ۳۔
    ایضاً
    ۴۔
    ازالہ اوہام طبع اول صفحہ ۹۷ تا ۹۹ حاشیہ۔
    ۵۔
    الفضل ۱۸۔ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۵ کالم ۲ و ۳۔
    ‏h1] [tag۶۔
    الفضل ۲۱۔ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۵ کالم ۲ )خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵۔ دسمبر ۱۹۳۹ء(
    ۷۔
    تقریر فرمودہ ۲۷۔ دسمبر ۱۹۴۳ء )غیر مطبوعہ(
    ۸۔
    الفضل ۲۔ دسمبر ۱۹۴۲ء۔
    ۹۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱۔ اکتوبر ۱۹۳۶ء مطبوعہ الفضل ۲۶۔ فروری ۱۹۶۱ء۔
    ۱۰۔
    الفضل ۷۔ اپریل ۱۹۳۹ء صفحہ ۷ کالم ۱۔ ۲۔
    ۱۱۔
    الفضل ۲۶۔ فروری ۱۹۶۱ء صفحہ ۴ )فرمودہ ۲۱۔ اکتوبر ۱۹۳۶ء(
    ۱۲۔
    الفضل ۲۳۔ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۲ و ۳۔
    ۱۳۔
    الفضل ۱۸۔ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۹۔
    ۱۴۔
    الفضل ۲۹۔ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۴ و ۵۔
    ۱۵۔
    الفضل ۱۶۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۔
    ۱۶۔
    حضرت فضل عمرؓ کی یہ تحریک ہمیں حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی ملتی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوالحسن علی بن محمد بن عبدالکریم الجزری )ابن اثیر( نے >اسد الغابہ< میں حضرت عمرؓ کے حالات میں یہ واقعہ لکھا ہے۔
    >عن ابی حازم قال دخل عمر بن الخطاب علی حفصہ ابنتہ فقدمت الیہ مزقا باردا وصبت فی المرق زیتا فقال ادمان فی اناء واحد لا اذوقہ حتی القی اللہ عزوجل )جلد چہارم صفحہ ۶۲ مصری( یعنی حضرت ابوحزمؓ سے مروی ہے کہ ایک بار حضرت عمر ابن الخطابؓ اپنی بیٹی حضرت حفصہؓ کے ہاں تشریف لائے۔ حضرت حفصہؓ نے سالن میں زیتون کا تیل ڈال کر پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ایک وقت میں دو دو سالن!! خدا کی قسم میں اسے کبھی نہیں کھائوں گا۔
    ۱۷۔
    حضورؓ نے اس مطالبہ کی مزید تشریح ۷۔ دسمبر ۱۹۳۴ء کے خطبہ جمعہ میں بھی فرمائی۔ یہ خطبہ ۱۳۔ دسمبر ۱۹۳۴ء کے الفضل میں شائع شدہ ہے۔
    ۱۸۔
    جیسا کہ آئندہ مفصل ذکر آرہا ہے حضور نے بعد کو سنیما کی مستقل ممانعت فرما دی اور ارشاد فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میرا منع کرنا تو الگ رہا اگر میں ممانعت نہ کروں تو بھی مومن کی روح کو خودبخود اس کی بغاوت کرنی چاہئے۔ )الفضل ۱۲۔ دسمبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۵ کالم ۳(
    ۱۹۔
    یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ سادہ زندگی کی اس سکیم کا سب سے زیادہ اثر براہ راست قادیان کے دوکانداروں پر پڑنے والا تھا۔ اس لئے حضورؓ نے حسب ذیل تجاویز فرمائیں۔
    )۱( قادیان کے احمدی جہاں تک ہوسکے یہاں کے دکانداروں ہی سے سودا سلف خریدیں اور دکاندار زیادہ بکری پر تھوڑے منافع کا اصول پیش نظر رکھیں اور سستا سودا خریدنے کی کوشش کیا کریں۔
    )۲( بیرونی احمدی جو جلسہ سالانہ یا مجلس شوریٰ پر آتے ہیں وہ بھی اگر ایسی چیزیں جو آسانی سے ساتھ لے جاسکیں یہاں سے خرید لیں یا کپڑے وغیرہ یہاں سے بنوالیا کریں تو قادیان کے دکانداروں کی بکری زیادہ ہوسکتی ہے۔
    اس ضمن میں حضور نے خاص طور پر چوہدری نصراللہ خاں صاحبؓ کی مثال دیتے ہوئے فرمایا۔
    چوہدری نصراللہ صاحب مرحوم کئی دفعہ اپنے کپڑے یہاں سے بنوایا کرتے تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ آپ رہتے سیالکوٹ میں ہیں اور کپڑے یہاں سے بنواتے ہیں یہ کیا بات ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سے دوہرا ثواب مجھے مل جاتا ہے۔ اس سے قادیان میں روپیہ کے چلن میں زیادتی ہوجاتی ہے اور بھائی کو فائدہ بھی پہنچ جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں۔ اگر چودھری صاحب مرحوم کے نقش قدم پر چلنے والے چند سو دوست بھی پیدا ہوجائیں تو قادیان کے دکانداروں کا نقصان ہی دور نہیں ہوسکتا بلکہ انہیں فائدہ بھی پہنچ سکتا ہے۔ )الفضل ۱۳۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۵(
    ‏]h1 [tag۲۰۔
    الفضل ۲۹۔ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۰ تا صفحہ ۱۲۔ اس جگہ یہ بتانا ضروری ہے کہ حضور نے ان آٹھ قربانیوں کی نسبت ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرمادی کہ جہاں یہ باتیں دوسرے گھروں کے لئے اختیاری ہیں وہاں ہمارے اپنے گھروں میں لازمی ہوں گی۔ قرآن کریم میں حکم ہے۔ یاایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوہ الدنیا الایتہ۔ پس اس حکم کے ماتحت ایک نبی کا خلیفہ ہونے کی حیثیت سے میں بھی اپنے بیوی بچوں کے لئے ان باتوں کو لازمی قرار دیتا ہوں۔
    ۲۱۔
    اس چندہ کا نام امانت تحریک جائداد رکھا گیا۔ )الفضل ۲۳۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۹(
    ۲۲۔
    الفضل ۲۹۔ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۲۔ ۱۳۔ اس سب کمیٹی نے فروری ۱۹۳۵ء میں کام شروع کردیا۔ حضرت مولوی فخرالدین صاحب پنشنر متوطن گھوگھیاٹ ضلع شاہ پور اس کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔ )الفضل ۲۲۔ جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۲۳۔
    یعنی مولانا ابوالعطاء صاحب )ناقل(
    ۲۴۔
    نقل مطابق اصل۔
    ۲۵۔
    الفضل ۲۹۔ نومبر ۱۹۳۴ء کالم ۲` ۳۔ اس چندہ کا نام پراپیگنڈا فنڈ رکھا گیا )الفضل ۲۳۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۹ کالم ۲(
    ۲۶۔
    الفضل ۲۹۔ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۳ و ۱۴۔
    ۲۷۔
    چندہ کی یہ مد تبلیغ بیرون ہند کے نام سے موسوم کی گئی۔
    ۲۸۔
    الفضل ۲۹۔ نومبر ۱۹۳۴ء۔ یہ تحریک سکیم خاص کے نام سے موسوم ہوئی۔
    ۲۹۔
    الفضل ۲۹۔ نومبر ۱۹۳۴ء چندہ کی اس مد کو تبلیغی سروے کا نام دیا گیا۔ )الفضل ۲۳۔ دسمبر ۱۹۳۴ء(
    ۳۰۔
    یہ لفظ جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہے` چھپنے سے رہ گیا ہے۔ )مرتب(
    ۳۱۔
    ‏h2] ga[t الفضل ۹۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۵۔
    ۳۲۔
    ایضاً۔
    ۳۳۔
    جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہے یہ لفظ سہواً رہ گیا ہے۔ )ناقل(
    ۳۴۔
    الفضل ۹۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۷۔
    ۳۵۔
    الفضل ۹۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۸۔
    ۳۶۔
    ایضاً صفحہ ۹ کالم ۱ و ۲۔
    ۳۷۔
    الفضل ۹۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۰۔
    ۳۸۔
    ایضاً کالم ۱۔ ۲۔
    ۳۹۔
    الفضل ۹۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۰ کالم ۳۔
    ۴۰۔ ][ ایضاً صفحہ ۱۰۔ ۱۱۔
    ۴۱۔
    مسجد اقصیٰ قادیان )ناقل(
    ۴۲۔
    الفضل ۹۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۱۔
    ۴۳۔
    الفضل ۹۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۱ کالم ۳۔
    ۴۴۔
    ایضاً صفحہ ۱۲۔
    ۴۵۔
    الفضل ۹۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۲۔
    ۴۶۔
    اس خطبہ کے علاوہ حضورؓ نے ۲۶۔ دسمبر ۱۹۳۵ء کو سالانہ جلسہ کے موقع پر خاص طور پر اسی موضوع پر مفصل تقریر فرمائی جو اخبار الفضل ۸۔ فروری` ۱۵۔ فروری` ۱۲۔ مارچ` ۱۴۔ مارچ ۱۹۳۵ء میں بالاقساط شائع ہوئی۔
    ۴۷۔
    الفضل ۱۳۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۶ تا ۸ )خطبہ جمعہ فرمودہ ۷۔ دسمبر ۱۹۳۴ء(
    ۴۸۔
    الفضل ۱۳۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۹ و ۱۰۔
    ۴۹۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۳۔ دسمبر ۱۹۳۵ء مطبوعہ الفضل ۲۱۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۱ کالم ۱۔
    ۵۰۔
    الفضل ۱۶۔ جون ۱۹۵۹ء صفحہ ۲ )تقریر فرمودہ ۳۱۔ جولائی ۱۹۳۸ء(
    ۵۱۔
    الفضل ۱۱۔ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۴ کالم ۳۔
    ۵۲۔
    الفضل ۷۔ نومبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۸ کالم ۲۔
    ۵۳۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۴۔ جنوری ۱۹۳۵ء مطبوعہ الفضل ۱۷۔ جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۴ کالم ۳۔
    ۵۴۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء صفحہ ۲۱۔ ۲۲۔
    ۵۵۔
    الفضل ۳۱۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۴ کالم۔ الفضل ۱۱۔ جولائی ۱۹۳۹ء صفحہ ۵ کالم ۳ و ۴۔ الفضل ۱۶۔ اپریل ۱۹۳۹ء صفحہ ۱۔
    ۵۶۔
    انقلاب لاہور ۴۔ دسمبر ۱۹۳۴ء۔
    ۵۷۔
    روزنامہ ملاپ ۵۔ دسمبر ۱۹۳۴ء۔
    ۵۸۔
    یعنی کم مائیگی۔ )ناقل(
    ۵۹۔
    الفضل ۲۔ دسمبر ۱۹۴۹ء صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۶۰۔
    الفضل ۲۴۔ جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۶۱۔
    مطالبہ امانت فنڈ کے علاوہ مالی مطالبات کی چار مدات میں پہلے سال بتفصیل ذیل آمد ہوئی۔ ۱۔ گندے لٹریچر کا جواب )۳۷۵۰۰ روپے( ۲۔ تبلیغ بیرون ہند )۳۲۴۴۳ روپے( ۳۔ تبلیغ خاص )۲۲۹۶۱ روپے( ۴۔ تبلیغ سروے سکیم )۱۷۴۴۴ روپے( یہ چاروں مدیں حضور کے ارشاد پر چندہ تحریک جدید سے موسوم کی گئیں۔ )کتاب تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین مرتبہ چودھری برکت علی خانؓ صفحہ ۱۰۔
    ۶۲۔
    ‏h2] gat[ الفضل ۳۱۔ جنوری ۱۹۳۵ء۔
    ۶۳۔
    الفضل ۳۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۷۔
    ۶۴۔
    الفضل ۱۸۔ فروری ۱۹۳۸ء صفحہ و الفضل ۴۔ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۱۴۔
    ۶۵۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء صفحہ ۱۰۳ و ۱۰۴۔
    ۶۶۔
    الفضل ۲۶۔ اپریل ۱۹۳۵ء صفحہ ۴ کالم ۴۔ جماعت احمدیہ کی شاندار مالی قربانی کے مقابل عوام نے دس کروڑ مسلمانان ہند کی نمائندگی کے دعویداروں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اس کی فقط ایک مثال کافی ہے۔ ۱۷۔ نومبر ۱۹۳۵ء کو مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری امیر شریعت احرر نے مسجد خیرالدین امرتسر میں ایک تقریر کی۔ الفضل کے نامہ نگار خصوصی کے بیان کے مطابق بخاری صاحب نے کہا۔ مسلمانو! میں تم کو چھوڑنے کا نہیں ہوں۔ مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا بلکہ مرکر بھی نہیں چھوڑوں گا کیونکہ مرنے کے بعد میرا بیٹا تم سے چندہ لے گا جب میں تم کو نہ اس جہان میں چھوڑنے والا ہوں نہ اس جہان میں تو پھر تمہیں چندہ دینے میں کوئی عذر نہیں ہونا چاہئے )یہ کہہ کر انہوں نے حاضرین کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ مگر ان کے کاسئہ گدائی میں کسی نے ایک حبہ تک نہ ڈالا( پھر کہا بولتے کیوں نہیں۔ چپ کیوں ہوگئے۔ کیسے ڈھیلے کرو۔ لوگوں نے اٹھ کر جانا شروع کردیا۔ )الفضل ۲۱۔ نومبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۹ کالم ۴(
    ۶۷۔
    تقریر فرمودہ ۲۷۔ دسمبر ۱۹۴۳ء )غیر مطبوعہ تقریر شعبہ زود نویسی میں موجود ہے(
    ۶۸۔
    الفضل ۱۶۔ فروری ۱۹۴۴ء صفحہ ۷۔
    ۶۹۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۴۔ دسمبر ۱۹۳۴ء )الفضل ۲۰۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۵۔ ۶(
    ۷۰۔
    اسی ضمن میں حضورؓ نے حیفا کی انجمن طلبہ جماعت احمدیہ کا ایک خط بھی شائع فرمایا جس میں اسٰمعیل احمد )پریذیڈنٹ( موسیٰ اسعد )سیکرٹری( اور عبدالجلیل حسین )خزانچی( کے دستخط تھے۔
    ۷۱۔
    الفضل ۷۔ فروری ۱۹۳۵ء صفحہ ۳ و ۴۔
    ۷۲۔
    الفض ۱۲۔ مارچ ۱۹۳۵ء صفحہ ۸۔ بیرونی جماعتوں کے بعض غرباء نے اس موقعہ پر اخلاص و ایثار کے قابل تقلید نمونے دکھائے مثلاً بیرون ہند کی ایک خاتون نے دو برس تک چکی پیس کر تحریک جدید کا وعدہ پورا کیا۔ )الفضل ۱۲۔ مارچ ۱۹۳۷ء صفحہ ۸ کالم ۱۔ ۲(
    ۷۳۔
    الفضل ۲۔ دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۶۔
    ۷۴۔
    الفضل ۱۲۔ جون ۱۹۳۵ء صفحہ ۹ کالم ۲۔][۷۵۔
    سیر قادیان صفحہ ۱۷۔ ۲۰ )از ارجن سنگھ عاجز ایڈیٹر اخبار رنگین امرتسر(
    ۷۶۔
    الفضل ۲۷۔ ستمبر ۱۹۳۶ء۔
    ۷۷۔
    الفضل ۲۹۔ اگست ۱۹۳۶ء۔
    ۷۸۔
    الفضل ۹۔ اگست ۱۹۳۵ء صفحہ ۳۔ الفضل ۱۰۔ نومبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۶ اور الفضل ۱۱۔ مارچ ۱۹۳۶ء میں فہرستیں ملاحظہ ہوں۔
    ۷۹۔
    الفضل ۲۱۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۴ کالم ۴۔
    ۸۰۔
    الفضل ۲۲۔ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۸۔
    ۸۱۔
    الفضل ۹۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۵۔
    ۸۲۔
    الفضل ۱۶۔ جنوری ۱۹۳۶ء صفحہ ۸ کالم ۳۔
    ۸۳۔
    الفضل ۱۶۔ جنوری ۱۹۳۶ء صفحہ ۷ کالم ۳۔ ۴۔
    ۸۴۔
    الفضل ۳۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۸۔ ۹۔
    ۸۵۔
    الفضل ۱۶۔ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۸۶۔
    الفضل ۱۵۔ فروری ۱۹۳۶ء صفحہ ۶ کالم ۴۔
    ۸۷۔
    چندہ کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین۔
    ۸۸۔
    الفضل ۱۲۔ فروری ۱۹۳۵ء صفحہ ۸ کالم ۱۔
    ۸۹۔
    ‏]2h [tag الفضل ۱۲۔ فروری ۱۹۳۵ء صفحہ ۶ کالم ۳۔
    ۹۰۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء صفحہ ۹۰۔ ۹۱۔
    ۹۱۔
    الفضل ۳۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۰۔
    ۹۲۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء صفحہ ۲۳۔ ۲۴۔
    ۹۳۔
    تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین صفحہ ۵۶ )مرتبہ چودھری برکت علی خاں صاحبؓ شائع کردہ تحریک جدید انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ جون ۱۹۵۹ء۔
    ۹۴۔
    ایضاً
    ۹۵۔
    الفضل ۲۶۔ مارچ ۱۹۶۶ء صفحہ ب کالم ۲۔ ۳۔ حضرت سیدہ ¶مہر آپا صاحبہ کا مزید کہنا ہے کہ ہم لوگ اس تحریک کے بعد ایک ہی ڈش دستر خوان پر رکھا کرتے تھے۔ لیکن بعض اوقات وہ ڈش جب پسند نہ ہوتا کبھی نمک مرچ میں یا پکنے میں کمی بیشی رہ جاتی تو ہم لوگ صرف اس خیال سے احتیاطاً ایک کی بجائے دو ڈش حضرت اقدس کے لئے کرلیتے کہ اگر ایک چیز ناپسند ہوئی تو دوسری سامنے رکھ دیں گے۔ مقصد یہ تھا کہ حضور کچھ نہ کچھ کھالیں۔
    ۹۶۔
    الفضل ۲۔ دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۶۔
    ۹۷۔
    الفضل ۱۲۔ جون ۱۹۳۵ء صفحہ ۹ کالم ۲۔
    ۹۸۔
    الفضل ۱۷۔ جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۶ کالم ۱۔
    ۹۹۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء صفحہ ۷۵۔ مشاورت ۱۹۵۴ء میں حضور نے مزید فرمایا آخر میرے تیرہ بیٹوں نے زندگیاں وقف کی ہیں یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے وقف چھوڑا تو میں نے ان کی شکل نہیں دیکھنی۔ میرے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ )رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء صفحہ ۷۲(
    ۱۰۰۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء صفحہ ۱۷۴۔
    ۱۰۱۔
    )ولادت ۱۹۰۴ء( آپ نے نومبر ۱۹۳۴ء کو اپنے والد مرزا محمد اشرف صاحب )محاسب صدر انجمن احمدیہ( کے توسط سے وقف زندگی کی درخواست پیش کی جو حضور نے قبول فرمالی۔ ۱۱۔ نومبر ۱۹۳۴ء سے آپ نے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں کام شروع کیا اور ۲۰۔ نومبر ۱۹۳۴ء سے آپ تحریک جدید کے باقاعدہ کارکن قرار پائے۔
    ۱۰۲۔
    حضورؓ نے یہ الفاظ حافظ عبدالسلام صاحب )حال وکیل المال ثانی( کے ایک مکتوب محرر ۲۲۔ جولائی ۱۹۵۲ء پر رقم فرمائے۔ اصل خط وکالت دیوان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔
    ۱۰۳۔
    رپورٹ سالانہ صیغہ جات صدر انجمن احمدیہ یکم مئی ۱۹۳۴ء لعایت ۳۰۔ اپریل ۱۹۳۵ء صفحہ ۲۰۳۔
    ۱۰۴۔
    اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۲۳۲ مولفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے ناشر احمدیہ بکڈپو ربوہ ضلع جھنگ پاکستان طبع اول اگست ۱۹۶۰ء۔
    ۱۰۵۔
    اس سلسلہ میں ناظر صاحب بیت المال کی طرف سے الفضل ۱۶۔ دسمبر ۱۹۹۳۴ء صفحہ ۲ کالم ۲ پر حسب ذیل اعلان شائع ہوا۔ حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حال کے خطبات میں جو مالی مطالبات مختلف رنگوں میں احباب جماعت سے کئے گئے ہیں۔ ان کے متعلق تحریک اور خط و کتابت اور حساب کتاب رکھنے کا کام چوہدری برکت علی خاں صاحب سرانجام دیں گے جو آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ ہیں۔
    ۱۰۶۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء صفحہ ۹۰۔ ۹۱۔
    ۱۰۷۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء صفحہ ۹۵۔ ۹۶۔
    ۱۰۸۔
    اصحاب احمد جلد ہفتم طبع اول صفحہ ۲۳۲ تا صفحہ ۲۳۶ )مولفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے( ناشر احمدیہ بکڈپو ربوہ طبع اول اگست ۱۹۶۳ء۔
    ۱۰۹۔
    " " " صفحہ ۲۳۵ ") " " (" " "
    ۱۱۰۔
    " " " صفحہ ۳۳۴۔ ۲۳۵ ") " " (" " "
    ۱۱۱۔
    ‏]2h [tag تحریک جدید میں تقرری ۶۔ مئی ۱۹۳۵ء۔
    ۱۱۲۔
    اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۲۳۵۔ ۲۳۶۔
    ۱۱۳۔
    ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ریزولیوشن نمبر ۱۷۸ مورخہ ۸۔ مئی ۱۹۳۵ء۔
    ۱۱۴۔
    ابن حضرت مولوی عبداللہ صاحب بوتالویؓ ولادت ۳۱۔ مئی ۱۹۰۸ء۔
    ۱۱۵۔
    الحکم جوبلی نمبر دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۵۸۔
    ۱۱۶۔
    اس عبارت کے بعد جو اوپر متن میں وادین کے درمیان درج کی گئی ہے یہ الفاظ بھی تھے کہ تحریک جدید مولوی صاحب کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور بطور اظہار تشکر ان کے لئے /-۷۵ روپے ماہوار پنشن تا عمر مقرر کرتی ہے اور اس امر کا اظہار کرنا چاہتی ہے کہ تحریک جدید اور اس کا نام سے تعلق رکھنے والے تمام افراد ان کی خدمات کا اقرار کرتے ہیں۔
    ۱۱۷۔
    الفرقان حضرت فضل عمر نمبر دسمبر ۱۹۶۵ء و جنوری ۱۹۶۶ء صفحہ ۶۱۔ ۶۲۔
    ۱۱۸۔
    ماہنامہ خالد اکتوبر ۱۹۶۲ء صفحہ ۳۸۔
    ۱۱۹۔
    ماہنامہ خالد ربوہ جولائی ۱۹۶۲ء صفحہ ۱۶۔ ۱۷۔
    ۱۲۰۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء صفحہ ۶۸۔
    ۱۲۱۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء صفحہ ۷۶۔
    ۱۲۲۔
    ماہنامہ تحریک جدید ربوہ اگست ۱۹۶۵ء صفحہ ۷۔
    ۱۲۳۔
    ایضاً صفحہ ۷۔ ۸۔
    ۱۲۴۔
    یہ ٹریکٹ اردو کے علاوہ بنگالی` سندھی` انگریزی` تامل اور ملیالم زبانوں میں بھی شائع کیا گیا تھا اور بیرونی ممالک میں بھی اس کی اشاعت کی گئی تھی۔ )الفضل ۲۷۔ ستمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۵ و الفضل ۲۰۔ اکتوبر ۱۹۳۵ء(
    ۱۲۵۔
    الفضل قادیان دارالامان ۲۹۔ جون ۱۹۳۵ء صفحہ ۲۔
    ۱۲۶۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء صفحہ ۱۱۸۔
    ۱۲۷۔
    الفضل ۲۹۔ اگست ۱۹۳۵ء صفحہ ۸۔
    ۱۲۸۔
    الفضل ۱۱۔ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۳۔
    ۱۲۹۔
    الفضل ۲۹۔ اگست ۱۹۳۵ء صفحہ ۸۔
    ۱۳۰۔
    الفضل ۲۰۔ نومبر ۱۹۳۵ء۔ اس عرصہ میں چھٹے ضلع کی ایک تحصیل کے ساٹھ )۶۰( گائوں میں بھی جائزہ لیا جاچکا تھا۔
    ۱۳۱۔
    الفضل ۲۴۔ جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۵ کالم ۱۔ ۲۔
    ۱۳۲۔
    الفضل ۱۴۔ فروری ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۱۳۳۔ ][ تقریر فرمودہ ۲۶۔ دسمبر ۱۹۳۵ء مطبوعہ الفضل ۱۴۔ مارچ ۱۹۳۶ء صفحہ ۴۔
    ۱۳۴۔
    الفضل ۲۹۔ اگست ۱۹۳۵ء صفحہ ۸۔ ان مشنوں میں واقفین کو برائے نام گزارہ ملتا تھا اور باقی دوست بعض ایام وقف کرکے تشریف لے جاتے تھے )الفضل ۱۱۔ دسمبر ۱۹۳۷ء( تحریک جدید کے پرانے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشن دھاریوال میں قائم کیا گیا تھا اور ایک کراچی میں بھی۔
    ۱۳۵۔
    علی محمد صاحب ساکن گھسیٹ پور حلقہ مکیریاں حال احمد نگر کا بیان ہے کہ شروع میں وہ مجاھدین کا کھانا پکانے کے لئے روزانہ اپنے گائوں سے آتے تھے۔
    ۱۳۶۔
    تحریک جدید کے پرانے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ فروری ۱۹۳۵ء میں آپ امیرالمجاہدین کے طور پر یہاں خدمت بجالارہے تھے۔
    ۱۳۷۔
    آپ مارچ ۱۹۳۵ء میں احمدی ہوئے تھے۔ مئی ۱۹۳۵ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے آپ کو غیر احمدی بچوں کو پڑھانے کے لئے مکیراں بھجوا دیا۔ ان دنوں مختار احمد صاحب ایاز امیر المجاہدین تھے۔ چند روز بعد ایاز صاحب کی رخصت ختم ہوگئی تو کیپٹن سید محمد حسین صاحب جو وہاں موجود تھے امیرالمجاہدین مقرر کئے گئے۔
    ۱۳۸۔
    بیان میاں علی محمد صاحب ساکن گھسیٹ پور متصل مکیریاں حال احمد نگر ضلع جھنگ۔
    ۱۳۹۔
    مکرم چودھری محمد صدیق صاحب ایم۔ اے واقف زندگی انچارج خلافت لائیبریری ربوہ کا بیان ہے کہ ۱۹۳۵ء میں مکیریاں کے مشن میں مجھے بھی تبلیغ کا موقعہ ملا اور بہبووال چھنیاں مقام تعین کیا گیا۔ عموماً جمعہ کے روز ہفتہ وار رپورٹ کے لئے مکیریاں آنا پڑتا تھا۔ مکیریاں میں شروع شروع میں بڑی مخالفت تھی اور کنوئوں سے پانی بھرنا بھی بند کردیا گیا تھا۔ اس لئے مشن ہائوس کے صحن میں ہی کنواں کھود لیا گیا تھا اور اسی سے پانی لیا جاتا تھا۔ ایک دن مغرب کی نماز باجماعت ہورہی تھی کہ مخالفین نے باہر سے گوبر کی پاتھیوں کی بوچھاڑ شروع کردی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے سب نمازیوں کو بچالیا۔ جب مکیریاں میں سخت مخالفت تھی تو اس وقت ایک ہمسایہ عورت مسماۃ کریم بی بی نے احمدی احباب کی ہر رنگ میں مدد کی اور ایک حد تک مخالفین کا مقابلہ بھی کیا۔ بعد میں اس کی اولاد میں سے ایک لڑکے دین محمد کو احمدیت کی قبولیت کی توفیق ملی اور وہ قادیان میں آگئے۔
    مکیریاں کا مشن ہائوس حضرت مولوی محمد وزیرالدین صاحبؓ کا تھا جو ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے۔ میرے ماموں محمد عزیز الدین صاحبؓ )ابن مولوی محمد وزیرالدین صاحبؓ( سٹیشن ماسٹر نے اپنی وصیت )جو کہ ۵/۱ کی تھی( میں وہ مکان صدر انجمن احمدیہ قادیان کو دے دیا تھا اور اسی میں یہ مشن قائم کیا گیا تھا۔
    ۱۴۰۔
    مکیریاں مشن میں حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹیؓ۔ ڈاکٹر بھائی محمود احمد صاحب حال سرگودھا۔ حضرت مولوی امام الدین صاحبؓ )والد ماجد خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ( کو بھی کام کرنے کا موقعہ ملا۔
    ۱۴۱۔
    بعض مجاہدین۔ حضرت منشی سکندر علی صاحب` حضرت قطب الدین صاحب` بابو غلام محمد صاحب` ڈاکٹر محمد انور صاحب )جڑانوالہ( ڈاکٹر عبدالحمید صاحب چیف میڈیکل آفیسر ریلوے` ڈاکٹر عبیداللہ صاحب آف لاہور )ہومیو( مرزا غلام رسول صاحب ریڈر چیف کمشنر پشاور` ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب` مرزا منیر احمد صاحب` چودھری انور حسین صاحب )حال امیر جماعت احمدیہ ضلع شیخوپورہ` پیر صلاح الدین صاحب )حال ایڈیشنل کمشنر ملتان(
    ۱۴۲۔
    ہجرت کے بعد فیصل آباد میں وفات پائی۔
    ۱۴۳۔
    حال سمبڑیال ضلع سیالکوٹ )ناقل(
    ۱۴۴۔
    حال ربوہ )ناقل(
    ۱۴۵۔
    یہ کارخانہ ٹھیکیدار عبدالرحمن صاحب کے مکان واقع دارالبرکات میں جاری کیا گیا تھا اور مستری شیر محمد صاحب ڈسکوی لوہارا سکھانے اور مستری نذیر محمد صاحب لاہوری بڑھئی کا کام سکھانے کے لئے مقرر کئے گئے۔ شروع میں چھ لڑکے داخل کئے گئے تھے۔ )الفضل ۴۔ مارچ ۱۹۳۶ء صفحہ ۲ کالم ۳(
    ۱۴۶۔
    الفضل ۵۔ مارچ ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۰۔
    ۱۴۷۔
    ایضاً۔
    ۱۴۸۔
    دارالصناعت کے بعض ابتدائی کارکن` ملک سعید احمد صاحب )سپرنٹنڈنٹ( حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحب بوتالوی )سپرنٹنڈنٹ بورڈنگ( چودھری عصمت علی صاحب` منشی فضل الٰہی صاحب` ماسٹر جلال الدین صاحب قمر` ملک احمد خان صاحب ریحان۔
    ۱۴۹۔
    ماہنامہ تحریک جدید ربوہ اگست ۱۹۶۵ء۔
    ۱۵۰۔
    الفضل ۱۷۔ جولائی ۱۹۳۷ء صفحہ ۱۰۔ بورڈنگ کی غرض کے سلسلہ میں ملاحظہ ہو الفضل ۲۵۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۹۔
    ۱۵۱۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۶ و ۱۷ و الفضل ۲۵۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۹۔
    ۱۵۲۔
    الفضل ۱۴۔ اپریل ۱۹۶۱ء صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۱۵۳۔
    الفضل ۱۳۔ اپریل ۱۹۶۱ء صفحہ ۳۔
    ۱۵۴۔
    الفضل یکم جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۵ کالم ۴۔
    ۱۵۵۔
    الفضل ۱۹۔ جون ۱۹۳۶ء۔
    ۱۵۶۔
    مزید تفصیل کے لئے سالانہ رپورٹس صدر انجمن احمدیہ قادیان ۱۹۳۵ء تا ۱۹۴۶ء۔
    ۱۵۷۔
    ایضاً۔
    ۱۵۸۔
    افتتاح کے بعد پہلی بار حضورؓ ۲۵۔ جولائی ۱۹۳۵ء کو بورڈنگ میں تشریف لائے۔ بچوں کو شرف مصافحہ بخشا۔ مختصر امتحان لیا اور ان کی تعلیمی و جسمانی ترقی کے لئے قیمتی ہدایات دیں۔ )الفضل ۳۰۔ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۲(
    ۱۵۹۔
    ماہنامہ خالد ربوہ جنوری ۱۹۶۲ء صفحہ ۲۲۔
    ۱۶۰۔
    مطالبات تحریک جدید طبع چہارم صفحہ ۱۱۰ )مرتبہ مولوی عبدالرحمن صاحب انور ناشر دفتر تحریک جدید قادیان۔ تاریخ اشاعت دسمبر ۱۹۴۶ء(
    ۱۶۱۔
    حضور نے ایک بار اس منشاء مبارک کا اظہار بھی فرمایا تھا کہ میرے مدنظر تعلیم الاسلام ہائی سکول` مدرسہ احمدیہ اور نصرت گرلز سکول تینوں کے ساتھ بورڈنگ تحریک جدید کا قیام بھی ہے۔ )الفضل ۲۵۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۸ کالم ۲(
    ۱۶۲۔
    الفضل ۱۳۔ اپریل ۱۹۶۱ء صفحہ ۵۔
    ۱۶۳۔
    الفضل ۱۱۔ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۱۶۴۔
    الفضل ۱۱۔ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۱۶۵۔
    الفضل ۲۴۔ نومبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۱۱ کالم ۱۔ ۲۔
    ۱۶۶۔
    عملہ محمد آباد اسٹیٹ کے بعض ابتدائی کارکن۔ سردار عبدالرحمن صاحب` ملک گل محمد صاحب خوشاب` بابو عنایت اللہ صاحب` چوہدری رحمت علی صاحب مسلم` منشی جلال احمد صاحب` چوہدری بشارت احمد صاحب` منشی سلطان احمد صاحب` منشی شیر جنگ صاحب` مولوی غلام صادق صاحب مدرس۔
    ۱۶۷۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵۔ مارچ ۱۹۳۵ء )الفضل ۲۹۔ مارچ ۱۹۳۵ء صفحہ ۶ کالم ۳(
    ۱۶۸۔
    الفضل ۱۶۔ جنوری ۱۹۳۶ء صفحہ ۱۰۔ ۱۱۔
    ۱۶۹۔
    ان مجاہدین کی ٹریننگ بالکل مختصر تھی۔ پڑھائی مسجد مبارک میں ہوتی تھی )مولوی محمد احمد صاحب جلیل کے بیان کے مطابق( مفتی فضل الرحمن صاحب ۱۹۳۵ء میں طب پڑھایا کرتے تھے۔ ازاں بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۲۶۔ مئی ۱۹۳۵ء کو جلیل صاحب کی نسبت ارشاد فرمایا کہ انہیں قرآن اور دینیات پڑھانے پر مقرر کر دیا جائے۔
    ۱۷۰۔
    ماہنامہ تحریک جدید )اگست ۱۹۶۵ء صفحہ ۷ کالم ۲(
    ۱۷۱۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء صفحہ ۷۶۔
    ۱۷۲۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۱۷۳۔
    اس واقعہ کا ذکر حضورؓ نے الفضل ۳۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۸۔ ۹ پر بھی فرمایا تھا۔
    ۱۷۴۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء صفحہ ۴۔ ۸۔
    ۱۷۵۔
    الفضل ۱۵۔ نومبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۶۔
    ۱۷۶۔
    الفضل ۱۵۔ نومبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۶ تا ۸۔
    ۱۷۷۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵۔ نومبر ۱۹۳۷ء مطبوعہ الفضل ۱۸۔ نومبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۵۔ ۶۔
    ۱۷۸۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے یکم دسمبر ۱۹۴۴ء کو ارشاد فرمایا۔
    >میرے نزدیک تحریک جدید کا دوسرا حصہ جس میں نئے حصہ لینے والے شامل ہوں اس کے لئے الگ رجسٹر کھولا جائے جس کا نام دفتر ثانی رکھ دیا جائے۔ پہلے دس سالوں سے جو لوگ حصہ لیتے آرہے ہوں ان کے نام جس رجسٹر میں درج ہوں اس کا نام دفتر اول رکھ دیا جائے<۔ )الفضل ۶۔ دسمبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۳ کالم ۲(
    ۱۷۹۔
    الفضل ۴۔ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۱۳ کالم ۴۔
    ۱۸۰۔
    الفضل ۱۳۔ جنوری ۱۹۳۸ء۔
    ۱۸۱۔
    الفضل ۴۔ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۱۵۔
    ۱۸۲۔
    ایضاً صفحہ ۱۳ کالم ۱۔
    ۱۸۳۔
    انقلاب حقیقی صفحہ ۱۲۵ تا ۱۲۸ )لیکچر سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی جلسہ سالانہ ۱۹۳۷ء(
    ۱۸۴۔
    الفضل ۱۱۔ فروری ۱۹۳۸ء صفحہ ۲۔ ۳۔
    ۱۸۵۔
    الفضل ۲۲۔ دسمبر ۱۹۳۷ء صفحہ ۷ کالم ۳۔
    ۱۸۶۔
    الفضل ۲۴۔ نومبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۸۔ ۹۔
    ۱۸۷۔
    الفضل ۲۴۔ نومبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۱۰۔
    ۱۸۸۔
    مطالبات تحریک جدید مرتبہ مولوی عبدالرحمن صاحب انور وکیل الدیوان تحریک جدید قادیان طبع چہارم صفحہ ۸۳۔ ۸۶۔
    ۱۸۹۔
    یعنی چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ )ناقل(
    ۱۹۰۔
    الفضل ۲۴۔ نومبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۱۰۔ ۱۱۔
    ۱۹۱۔
    اصحاب احمد جلد پنجم حصہ سوم صفحہ ۱۴۷۔
    ۱۹۲۔
    چونکہ قانونچہ پنجابی میں تھا اس کے قوانین کا مختصر سا خلاصہ اردو میں لکھوایا گیا جو مکرم مولوی عبداللطیف صاحب بہاولپوری نے مرتب کیا اور وہی کورس میں رکھا گیا۔
    ۱۹۳۔
    ۱۹۴۲ء سے آپ نے تعلیم دینا شروع کی۔
    ۱۹۴۔
    غیر احمدی عالم تھے جنہیں باقاعدہ تنخواہ پر استاد رکھاگیا تھا۔
    ۱۹۵۔
    بیعت ۱۹۴۰ء۔ قریب ڈھائی سال تک پڑھاتے رہے۔
    ۱۹۶۔
    آپ متعلم بھی تھے اور معلم بھی۔
    ‏h1] gat[۱۹۷۔
    ایضاً۔
    ۱۹۸۔
    والد ماجد میاں بشیر احمد صاحب سابق امیر جماعت کوئٹہ۔
    ۱۹۹۔
    حضور کے ارشاد کے ماتحت جملہ واقفین کے لئے ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب کی کتاب مخزن حکمت ہر دو جلد کا مطالعہ بھی لازمی قرار دیا گیا۔
    ۲۰۰۔
    ابن مکرم ڈاکٹر سید ولایت شاہ صاحب آف مشرقی افریقہ۔
    ۲۰۱۔
    الفضل ۸۔ دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۹ کالم ۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۳۸ء کے اوائل سے واقفین کی پڑھائی شروع ہوچکی تھی۔
    ۲۰۲۔
    ‏h2] g[ta یہ مکان دارالفضل میں چودھری غلام حسین صاحب مرحوم والد ماجد چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ کے مکان کے جانب جنوب واقع تھا۔
    ۲۰۳۔
    حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ کے بھتیجے تھے۔ یہ کوٹھی ریتی چھلہ سے بھینی بانگر کی طرف جانے والے راستہ پر واقع ہے۔ اس کوٹھی میں صرف چندہ ماہ دارالواقفین رہا ہے۔
    ۲۰۴۔
    الفضل ۳۰۔ جنوری ۱۹۴۶ء صفحہ ۷۔ ۸۔
    ۲۰۵۔
    نماز باجماعت کی پابندی واقفین کے لئے اس قدر ضروری تھی کہ حضور نے جامعہ احمدیہ کے بعض طلبہ کو نماز میں غفلت کے باعث وقف سے فارغ فرما دیا اور بعض طلبہ کا وقف اس وجہ سے قبول نہیں فرمایا کہ وہ نماز باجماعت میں سست پائے گئے۔ )ملاحظہ ہو ریکارڈ وکالت دیوان تحریک جدید ربوہ(
    ۲۰۶۔
    مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ حضور واقفین زندگی کا اعزاز و اکرام نہیں فرماتے تھے۔ حق یہ ہے کہ حضور کا واقفین سے محبت و شفقت کا سلوک اپنی مثال آپ تھا۔ حضور کی طرف سے دفتر تحریک جدید کو واضح ارشاد تھا کہ واقفین زندگی کو معزز الفاظ سے مخاطب کیا جائے۔ واقفین کا جو اکرام و اعزاز حضور فرماتے تھے وہ اس بات سے ظاہر ہے کہ ۱۹۴۴ء کے قریب حضور نے یہ اعلان فرمایا کہ میں آئندہ صرف اپنے افراد خاندان ہی کا نکاح پڑھوں گا۔ مگر اس اعلان سے واقفین کو مستثنیٰ رکھا۔ چنانچہ حضور نے مولوی نورالحق صاحب )ابوالمنیر( واقف زندگی کا خطبہ نکاح پڑھتے ہوئے ۱۰۔ اپریل ۱۹۴۴ء کو ارشاد فرمایا >میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ میں سوائے اپنے عزیزوں کے اور کسی کا نکاح نہیں پڑھائوں گا۔ مگر چونکہ یہ واقف زندگی ہیں اور اس وجہ سے میرے عزیزوں میں شامل ہیں اس لئے میں اس نکاح کا اعلان کررہا ہوں<۔ )الفضل ۲۲۔ جون ۱۹۴۴ء صفحہ ۵ کالم ۴(
    ۲۰۷۔
    مجاہدین کی یہ پارٹی ۷۔ ستمبر ۱۹۳۹ء کو واپس قادیان پہنچی )الفضل ۹۔ ستمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۲ کالم ۳(
    ۲۰۸۔
    الفضل ۶۔ ستمبر ۱۹۴۲ء صفحہ ۵۔ حاشیہ۔ ۱۹۴۲ء میں کشمیر کا پیدل سفر کرنے والے واقفین۔ مرزا منور احمد صاحب۔ ملک سیف الرحمن صاحب۔ مولوی محمد صدیق صاحب۔ شیخ عبدالواحد صاحب۔ چودھری غلام یٰسین صاحب۔ شیخ ناصر احمد صاحب۔ میاں عبدالحی صاحب۔ مولوی محمد احمد صاحب جلیل۔ چودھری خلیل احمد صاحب ناصر۔ حافظ قدرت اللہ صاحب۔ چودھری محمد شریف صاحب۔ ملک عطاء الرحمن صاحب۔ مولوی صدر الدین صاحب۔ چودھری کرم الٰہی صاحب ظفر۔ چودھری عبداللطیف صاحب۔
    اس سفر میں مجاہدین کے خورونوش کے سامان اور برتنوں کی باربرداری کی خدمت میاں نظام الدین صاحب نے بخوشی سرانجام دی۔
    ۲۰۹۔
    ڈلہوزی میں مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی کے علاوہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ۔ مکرم مولوی عبداللطیف صاحب بہاولپوری اور مکرم پیر عبدالعزیز صاحب بھی واقفین کی تعلیم کے لئے تشریف لے گئے تھے۔
    ۲۱۰۔
    الفضل ۷۔ اپریل ۱۹۳۹ء صفحہ ۷ )خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷۔ مارچ ۱۹۳۹ء(
    ۲۱۱۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء صفحہ ۸۵(
    ۲۱۲۔
    الفضل ۱۲۔ دسمبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۵ کالم ۲۔ ۳۔ )خطبہ جمعہ فرمودہ ۸۔ دسمبر ۱۹۴۴ء(
    ۲۱۳۔
    الفضل ۲۵۔ اپریل ۱۹۴۳ء صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۲۱۴۔
    الفضل ۲۵۔ ستمبر ۱۹۵۱ء صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۲۱۵۔
    الفضل ۳۰۔ جنوری ۱۹۴۷ء صفحہ ۴۔
    ۲۱۶۔
    الفضل ۴۔ فروری ۱۹۴۳ء صفحہ ۳۔
    ۲۱۷۔
    الفضل ۳۰۔ جنوری ۱۹۴۷ء صفحہ ۴ کالم ۱۔
    ۲۱۸۔
    ‏]h2 [tag رپورٹ سالانہ ۱۹۴۴ء و ۱۹۴۵ء صفحہ ۹۶۔
    ۲۱۹۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء صفحہ ۲۳۔
    ۲۲۰۔
    اولین دیہاتی مبلغین معہ حلقہ جات۔ ۱۔ مولوی عبدالمجید صاحب منیب )دھاریوال( ۲۔ مولوی غلام رسول صاحب )غازی کوٹ( ۳۔ حکیم احمد دین صاحب )بھینی میلواں( ۴۔ ماسٹر مہدی شاہ صاحب )اجنالہ( ۵۔ مولوی شیر محمد صاحب )میادی نانو( ۶۔ مولوی عطاء اللہ صاحب )عینو والی( ۷۔ خواجہ خورشید احمد صاحب )مغلپورہ( ۸۔ مولوی رحیم بخش صاحب )جوڑہ ضلع لاہور( ۹۔ سید محمد امین شاہ صاحب )کتھووالی( ۱۰۔ سید علی اصغر شاہ صاحب )ہیلاں گجرات( ۱۱۔ حافظ ابوذر صاحب )روڈہ سرگودھا( ۱۲۔ مولوی جمال الدین صاحب )پھلردان سرگودہا( ۱۳۔ حافظ بشیر الدین صاحب )ایمن آباد( ۱۴۔ مولوی شیخ محمد صاحب )دنیا پور ملتان( )رپورٹ سالانہ ۴۵۔ ۱۹۴۴ء صفحہ ۹۴(
    ۲۲۱۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷۔ جنوری ۱۹۴۷ء )مطبوعہ الفضل ۳۰۔ جنوری ۱۹۴۷ء صفحہ ۴ کالم ۱(
    ۲۲۲۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان ۴۸۔ ۱۹۴۷ء صفحہ ۶۔
    ۲۲۳۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان ۴۹۔ ۱۹۴۸ء صفحہ ۹۔
    ۲۲۴۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن پاکستان بابت سال ۵۲۔ ۱۹۵۱ء صفحہ ۲۴۔
    ۲۲۵۔
    ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ پاکستان ۱۹۵۴ء۔
    ۲۲۶۔
    حضورؓ کا ارشاد تھا کہ اگر وہ فارغ شدہ مبلغ چاہیں تو وہ دیہات میں امام بن سکتے ہیں تبلیغ کریں تو دس روپے ماہوار الائونس مل سکتا ہے۔
    ۲۲۷۔
    الفضل ۱۴۔ مارچ ۱۹۴۴ء صفحہ ۱۲۔ ۱۳۔
    ۲۲۸۔
    الفضل ۳۱۔ مارچ ۱۹۴۴ء صفحہ ۵ کالم ۲۔ ۳۔
    ۲۲۹۔
    الفضل ۱۴۔ مارچ ۱۹۴۴ء صفحہ ۱۲۔ ۱۳۔
    ۲۳۰۔
    الفضل ۳۔ نومبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۳۔
    ۲۳۱۔
    الفضل ۳۱۔ مارچ ۱۹۴۴ء صفحہ ۵۔
    ۲۳۲۔
    الفضل ۳۱۔ مارچ ۱۹۴۴ء صفحہ ۳۔ ۷۔ اس تحریک کے مطابق ۱۸۔ دسمبر ۱۹۴۴ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے مندرجہ ذیل واقفین کا حسب ذیل دفتروں میں تقرر فرمایا۔
    ۱۔ مولوی نورالدین صاحب منیر بی اے )دفتر پرائیویٹ سیکرٹری( ۲۔ مرزا بشیر احمد بیگ صاحب بی۔ اے )دفتر دعوت و تبلیغ( ۳۔ چوہدری عزیز احمد صاحب بی۔ اے )دفتر محاسب( ۴۔ چودھری عبدالباری صاحب بی۔ اے )دفتر بیت المال( ۵۔ مولوی برکات احمد صاحب بی۔ اے )دفتر امور عامہ( ۶۔ چودھری عبدالسلام صاحب اختر ایم۔ اے )دفتر تعلیم و تربیت( )کالجوں اور سکولوں کے کام کے لئے(
    ۲۳۳۔
    پرکاش ویکلی جالندھر شہر ۳۰۔ اپریل ۱۹۴۷ء بحوالہ الفضل ۱۰۔ مئی ۱۹۴۷ء صفحہ ۳ کالم ۲۔ اور )عزت و احترام( درشٹی )نگاہ(
    ۲۳۴۔
    یہ اسناد چودھری انور احمد صاحب کاہلوں حال مشرقی پاکستان نے کلکتہ میں تین رنگوں میں نہایت دیدہ زیب طبع کرائی تھیں۔
    ۲۳۵۔
    الفضل ۲۸۔ نومبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۱۔ ۲ و الفضل ۱۹۔ اکتوبر ۱۹۴۳ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۲۳۶۔
    الفضل ۲۸۔ مئی ۱۹۴۴ء صفحہ ۲۔
    ۲۳۷۔
    الفضل ۲۸۔ اگست ۱۹۵۹ء صفحہ ۸ )خطبہ فرمودہ ۲۸۔ اگست ۱۹۴۵ء(
    ۲۳۸۔
    ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا مفصل ذکر ۱۹۴۶ء کے حالات میں آرہا ہے۔
    ۲۳۹۔
    افسوس ۱۹۴۷ء کی تقسیم ملک سے حالات یکسر بدل گئے اور لیبارٹری اور لائیبریری دونوں جماعت سے چھن گئیں۔ تقسیم ملک کے بعد لاہور میں ماڈل ٹائون کے قریب ایک اجڑا ہوا کارخانہ الاٹ کروا کر اسی میں ریسرچ کا کام جاری کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد ربوہ میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی اپنی مستقل عمارت بھی تعمیر ہوگئی۔
    ۲۴۰۔
    الفضل ۲۲۔ جولائی ۱۹۴۴ء صفحہ ۱۔
    ۲۴۱۔
    حلف الفضول میں شمولیت کی ضروری شرائط مطالبات تحریک جدید طبع چہارم صفحہ ۱۵۷ و ۱۵۸ پر موجود ہیں۔
    ۲۴۲۔
    الفضل ۲۷۔ اکتوبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۱۔
    ۲۴۳۔
    ایضاً۔
    ۲۴۴۔
    ایضاً۔
    ۲۴۵۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۵۔ مئی ۱۹۴۴ء مطبوعہ الفضل ۲۰۔ مئی ۱۹۴۴ء صفحہ ۳ و ۴۔
    ۲۴۶۔
    حضرت اقدس قبل ازیں ۲۴۔ مارچ ۱۹۴۴ء کو اپنی اس سکیم کا تذکرہ خطبہ جمعہ میں فرما چکے تھے۔ )الفضل ۳۱۔ مارچ ۱۹۴۴ء صفحہ ۳(
    ۲۴۷۔
    اصل تحریر حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ ہالینڈ کے پاس محفوظ ہے۔
    ۲۴۸۔
    یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس فیصلہ میں حضور نے بعد ازاں خفیف سی تبدیلیاں بھی کیں جیسا کہ موجودہ باب کی آخری فصل میں ذکر آئے گا` چودھری شریف احمد صاحب جن کا نام عرب ممالک کے لئے تجویز کیا گیا تھا` باہر نہیں بھجوائے گئے تھے۔
    ۲۴۹۔
    )ابوالمنیر( نورالحق صاحب ابن منشی عبدالحق صاحب کاتب۔ ولادت ۱۷۔ دسمبر ۱۹۱۸ء۔ تاریخ قبولیت وقف ۵۔ ستمبر ۱۹۳۸ء )حال پروفیسر جامعہ احمدیہ ربوہ و منیجنگ ڈائرکٹر ادارۃ المصنفین ربوہ(
    ۲۵۰۔
    ولادت ۱۱۔ نومبر ۱۹۱۴ء۔ بیعت ۱۹۳۶ء۔ تاریخ قبولیت وقف یکم مارچ ۱۹۳۹ء )حال پروفیسر جامعہ احمدیہ ربوہ و مفتی سلسلہ احمدیہ(
    ۲۵۱۔
    ولادت ۵۔ مارچ ۱۹۱۶ء۔ تاریخ قبولیت وقف ۷۔ جون ۱۹۳۸ء )سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ ربوہ حال انچارج خلافت لائیبریری ربوہ۔ آپ یکم فروری ۱۹۴۵ء کو بلاد عربیہ کے لئے منتخب ہوئے مگر حضورؓ نے وہاں سے قلمزن کرکے بعد میں خصوصی تعلیم کی جماعت واقفین میں شامل فرما دیا۔
    ۲۵۲۔
    ولادت ۵۔ جولائی ۱۹۱۱ء` تاریخ قبولیت وقف ۲۹۔ مئی ۱۹۳۷ء۔
    ۲۵۳۔
    ولادت ۱۵۔ مئی ۱۹۱۷ء` تاریخ قبولیت وقف مئی ۱۹۳۹ء )حال پروفیسر جامعہ احمدیہ ربوہ(
    ۲۵۴۔
    ولادت یکم اکتوبر ۱۹۲۰ء` تاریخ قبولیت وقف ۱۴۔ ستمبر ۱۹۴۲ء۔
    ۲۵۵۔
    ولادت ۱۹۰۸ء` تاریخ قبولیت وقف ۳۔ مارچ ۱۹۴۷ء۔
    ۲۵۶۔
    ‏]2h [tag ولادت ۲۰۔ ستمبر ۱۹۲۰ء` تاریخ قبولیت وقف ۲۰۔ مئی ۱۹۴۴ء۔
    ۲۵۷۔
    ولادت ۲۲۔ اپریل ۱۹۲۲ء` تاریخ وقف ۱۹۴۳ء۔
    ۲۵۸۔
    ولادت ۲۴۔ ستمبر ۱۹۲۰ء` تاریخ قبولیت وقف ۱۹۴۳ء )سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ(
    ۲۵۹۔
    مولوی نورالحق صاحب )ابوالمنیر( اور حافظ بشیر الدین عبیداللہ صاحب کی طرف اشار ہے۔ )مرتب(
    ۲۶۰۔
    جن اساتذہ سے ان واقفین نے تحصیل علم کیا ان کے نام یہ ہیں۔
    مولوی شریف اللہ صاحب مدرس مدرسہ فتح پوری )استاذ مسلم شریف( شیخ الحدیث مولوی ابراہیم صاحب بلیانوی` تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو اکابر علماء دیوبند صفحہ ۱۵۵۔ ۱۵۸ مولفہ حافظ محمد اکبر شاہ صاحب بخاری ناشر ادارہ اسلامیات لاہور۔ اس کتاب کے صفحہ ۱۳۶۔ ۱۴۰ میں مولوی رسول خان صاحب ہزاروی کے حالات بھی درج ہیں۔ مدرسہ فتح پوری دہلی )استاذ بخاری` ہدایہ` اصول شاشی` مسلم الثبوت( مولوی مفتی محمد مسلم صاحب دیوبندی شیخ الحدیث جامعہ ڈابھیل۔ مولوی حافظ مہر محمد صاحب صدر المعلمین المدرستہ الحنفیہ اچھرہ لاہور )استاذ ابودائود منطق و فلسفہ( مولوی سید میرک شاہ صاحب کاشمیری لاہور )استاذ مسلم شریف( مولوی شہاب الدین صاحب خطیب مسجد چوبرجی کوارٹرز لاہور۔ مولوی رسول خان صاحب سرحدی پرنسپل اورنٹیل کالج حال شیخ التفسیر والفقہ جامعہ اشرفیہ لاہور )استاذ حدیث و اصول فقہ( مولوی محمد بخش صاحب دیوبندی لاہور )استاذ حدیث(
    ۲۶۱۔
    الفضل ۱۱۔ جون ۱۹۴۷ء صفحہ ۵۔
    ۲۶۲۔
    الفضل ۱۰۔ جنوری ۱۹۴۵ء صفحہ ۵۔
    ۲۶۳۔
    ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ قادیان ۱۹۴۵ء۔
    ۲۶۴۔
    الفضل ۱۱۔ اکتوبر ۱۹۴۵ء صفحہ ۶ )خطبہ جمعہ فرمودہ ۵۔ اکتوبر ۱۹۴۵ء( نیز الفضل ۲۰۔ اکتوبر ۱۹۴۵ء و ۷۔ نومبر ۱۹۴۵ء۔
    ۲۶۵۔
    الفضل ۷۔ نومبر ۱۹۴۵ء صفحہ ۴ کالم ۴۔
    ۲۶۶۔
    فارم وقف معاہدہ وقف تجارت و صنعت کے لئے ملاحظہ ہو مطالبات تحریک جدید طبع چہارم صفحہ ۸۷۔ ۸۹ مرتبہ مولوی عبدالرحمن صاحب انور انچارج تحریک جدید۔ اشاعت دسمبر ۱۹۴۶ء نیز ضمیمہ کتاب ہذا۔
    ۲۶۷۔
    الفضل ۲۹۔ اگست ۱۹۴۴ء صفحہ ۲۔
    ۲۶۸۔
    الفضل ۱۸۔ دسمبر ۱۹۴۵ء صفحہ ۱ و ۲۔
    ۲۶۹۔
    ایضاً۔
    ۲۷۰۔
    ‏]h2 [tag ریزولیوشن تحریک جدید ۱۶۔ مارچ ۱۹۴۷ء
    ۲۷۱۔
    یعنی مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب )حال پروفیسر جامعہ احمدیہ و مینجنگ ڈائریکٹر ادارۃ المصنفین ربوہ۔ ناقل(
    ۲۷۲۔
    ان ایام میں چونکہ تحریک جدید کی مالی حالت مخدوش ہوگئی تھی اس لئے حضور نے ارشاد فرمایا کہ کسی واقف کو فارغ نہیں رہنا چاہئے بلکہ کوئی نہ کوئی کام کرکے آمد پیدا کرنی چاہئے خواہ چنے اور آلو ہی کیوں نہ فروخت کرنے پڑیں چنانچہ واقفین نے اس کی تعمیل کی۔
    ۲۷۳۔
    محترم انور صاحب نومبر ۱۹۴۷ء میں قادیان میں تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ان کو پاکستان بلوایا اور ارشاد فرمایا کہ تحریک جدید کی رجسٹریشن اور دفاتر کا انتظام کریں۔
    ۲۷۴۔
    نقل ریزولیوشن نمبر ۱۴۴ غ۔ م )تحریک جدید( ۱۶۔ فروری ۱۹۵۰ء۔
    ۲۷۵۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحہ ۴۹۔ ۵۰۔
    ۲۷۶۔
    مطبوعات کے لئے ملاحظہ ہو کمپنی کی مطبوعہ CATALOGUE )ضخامت ۲۲ صفحات( اس کمپنی میں ۶۰۔ ۱۹۵۹ء سے محترم حافظ عبدالسلام صاحب شملوی چیئرمین کی حیثیت سے اور ۱۹۶۴ء سے مولوی نورالدین صاحب منیر )نائب وکیل التصنیف للتبشیر( مینجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات بجالارہے ہیں۔ ۱۹۶۰ء سے اب تک ملک بشارت احمد صاحب کے ذمہ کمپنی کی مینجری کے فرائض ہیں۔
    ۲۷۷۔
    الفضل ۳۔ جون ۱۹۵۰ء صفحہ ۱۔
    ۲۷۸۔
    الفضل ۲۷۔ نومبر ۱۹۵۳ء صفحہ ۳۔
    ۲۷۹۔
    روزنامہ المصلح کراچی ۱۳۔ جنوری ۱۹۵۴ء صفحہ ۴۔
    ۲۸۰۔
    الفضل ۲۹۔ دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۳ کالم ۲۔
    ۲۸۱۔
    اس کام میں چوہدری عبدالرحیم صاحب چیمہ )وکالت مال( نے بھی پوری تندہی سے ان کا ہاتھ بٹایا۔
    ۲۸۲۔
    تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین صفحہ ۱۵۔
    ۲۸۳۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۶۳ء )منعقدہ ۲۲۔ ۲۳۔ ۲۴۔ مارچ ۱۹۶۳ء( صفحہ ۹۔ ۱۰(
    ۲۸۴۔
    الفضل ۲۷۔ اپریل ۱۹۶۶ء صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۲۸۵۔
    الفضل ۲۔ دسمبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۵ کالم ۱ و خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۸۔ نومبر ۱۹۴۷ء۔
    ۲۸۶۔
    الفضل ۵۔ دسمبر ۱۹۴۸ء صفحہ ۶ کالم ۱ و خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶۔ نومبر ۱۹۴۸ء۔
    ۲۸۷۔
    ‏]2h [tag آپ نے یہ کام رضاکارانہ طور پر انجام دیا۔
    ۲۸۸۔
    قائم مقام سیکرٹری )ولادت مئی ۱۹۱۵ء بیعت فروری ۱۹۳۹ء` قبولیت وقف یکم جنوری ۱۹۴۶ء` وطن سیالکوٹ مٹھے کلاں( ۲۰۔ جولائی ۱۹۵۰ء سے آپ افسر تعمیرات کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔
    ۲۸۹۔
    وکالت مال کے ریکارڈ سے ماخوذ۔
    ۲۹۰۔
    یہ سطور اگست ۱۹۶۷ء میں لکھی جارہی ہیں۔ )مولف(
    ۲۹۱۔
    علاوہ ازیں ٹوگولینڈ میں مشن قائم تھا جو بند ہے۔
    ۲۹۲۔
    یہ مشن جو ۱۹۲۵ء سے تبلیغ اسلام کا فریضہ بجالارہا ہے تقسیم ہند ۱۹۴۷ء کے بعد براہ راست صدر انجمن احمدیہ قادیان )بھارت( کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔
    ۲۹۳۔
    ہندوستان کی احمدی جماعتیں براہ راست مرکز احمدیت قادیان کے ماتحت تبلیغ اسلام کا فریضہ بجالارہی ہیں۔
    ۲۹۴۔
    مثلاً حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیالؓ` حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب بی اے بی ٹی )مبلغ انگلستان( حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ )مبلغ انگلستان و امریکہ`( مولوی مبارک علی صاحب بی اے بی ٹی )مبلغ انگلستان و جرمنی( حضرت الحاج مولوی عبدالرحیم صاحب نیرؓ )مبلغ انگلستان و مغربی افریقہ( حضرت ملک غلام فرید صاحب ایم اے )مبلغ جرمنی و انگلستان( حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد ایم اےؓ )مبلغ انگلستان( حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحبؓ۔ حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ` صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی اے` مولوی محمد یار صاحب عارف )مبلغ انگلستان( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ )مبلغ بلاد عربیہ و غربیہ و انگلستان( حکیم فضل الرحمن صاحبؓ )مبلغ نائیجیریا( حضرت صوفی غلام محمد صاحبؓ )مبلغ ماریشس( حضرت حافظ عبیداللہ صاحبؓ )مبلغ ماریشس( حضرت مولوی حافظ جمال احمد صاحبؓ )مبلغ ماریشس`( حضرت مولوی محمد دین صاحب )مبلغ امریکہ( حضرت صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالیؓ )مبلغ امریکہ( مولانا ظہور حسین صاحب فاضل )مبلغ روس( حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحبؓ )مبلغ ایران( مولانا ابوالعطاء صاحب )مبلغ فلسطین و مصر( مولانا محمد سلیم صاحب )مبلغ فلسطین و مصر( شیخ محمود احمد صاحب عرفانیؓ )مبلغ مصر( مولانا رحمت علی صاحبؓ )مبلغ انڈونیشیا( مولوی محمد صادق صاحب سماٹری )مبلغ انڈونیشیا( شیخ مبارک احمد صاحب )مبلغ مشرقی افریقہ(
    ۲۹۵۔
    یہ فہرست اگست ۱۹۶۷ء میں مرتب ہوئی۔
    ۲۹۶۔
    مولوی غلام احمد صاحب فرخ کے نزدیک آپ ۱۹۰۳ء میں پیدا ہوئے۔ )الفضل ۲۰۔ فروری ۱۹۶۰ء صفحہ ۵ کالم ۱(
    ۲۹۷۔
    ۲۵۔ مئی ۱۹۶۶ء کو پاکستان تشریف لائے۔ ۳۔ مئی ۱۹۶۷ء سے لندن میں مقیم ہیں۔
    ۲۹۸۔
    وفات ۱۶۔ مئی ۱۹۸۴ء۔
    ۲۹۹۔
    جماعت سے بے تعلق ہیں۔
    ۳۰۰۔
    یعنی تاجر مبلغ۔
    ۳۰۱۔
    وفات سے قبل جماعت مبائعین سے بالکل منحرف ہوگئے تھے اور نہایت عبرتناک رنگ میں لقمہ اجل ہوئے۔
    ۳۰۲۔
    جماعت سے الگ ہوچکے ہیں۔
    ۳۰۳۔
    عارضی واقف۔
    ۳۰۴۔
    ان کے علاوہ ماریشس` گی آنا` فلسطین` جزائر غرب الہند` لائبیریا` کینیا` یوگنڈا` انڈونیشیا` اور فجی میں بھی خال خال احمدیہ سکول پائے جاتے ہیں۔
    ۳۰۵۔
    نقل مطابق اصل >مستقبلا باھرا< چاہئے۔
    ۳۰۶۔
    مشاھداتی تحت سماء الشرق تالیف الدکتور الحاج عبدالوھاب العسکری صاحب جریدہ السلام البغدادیہ مطبوعہ ۱۹۵۱م مطابق ۱۳۷۰ھ دارالحدیث للطباعہ والنشر والتالیف۔
    ۳۰۷۔
    بحوالہ الفضل ۱۶۔ فروری ۱۹۵۷ء۔
    ۳۰۸۔
    جزائر غرب الہند کا ایک جزیرہ )مولف(
    ۳۰۹۔
    بحوالہ ماہنامہ انصاراللہ فروری ۱۹۶۲ء صفحہ ۶۔ ۷۔
    ۳۱۰۔
    بحوالہ ماہنامہ انصاراللہ بابت ماہ فروری ۱۹۶۲ء صفحہ ۴۲۔ ۴۴۔
    ۳۱۱۔
    بحوالہ رسالہ تحریک جدید بابت ستمبر ۱۹۶۵ء صفحہ ۱۴۔
    ۳۱۲۔
    مذہبی تحریکات ہند شائع کردہ پاکستان ایسوسی ایشن پوسٹ بکس نمبر ۱۵۳۰ نیروبی کینیا۔ انجمن اسلامیہ دارالسلام۔ انجمن حمایت اسلام نیروبی )تاریخ اشاعت دسمبر ۱۹۵۹ء( پاکستان میں کتاب ملنے کا پتہ۔: تبلیغی مرکز ریلوے روڈ نمبر ۷ لاہور۔
    ۳۱۳۔
    ہفت روزہ المنبر لائلپور ۲۳۔ نومبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۱۱۔
    ۳۱۴۔
    المنیر لائلپور ۲۔ مارچ ۱۹۵۶ء۔
    ۳۱۵۔
    ہفت روزہ المنبر لائلپور ۱۱۔ اگست ۱۹۶۷ء صفحہ ۸۔
    ۳۱۶۔
    ہفت روزہ المنبر لائلپور ۱۱۔ اگست ۱۹۶۷ء صفحہ ۷۔
    ۳۱۷۔
    الفضل ۳۔ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۳ کالم ۲۔
    ۳۱۸۔
    الفضل ۳۔ جولائی ۱۹۳۶ء صفحہ ۱۰ کالم ۱۔
    ۳۱۹۔
    الفضل یکم مارچ ۱۹۴۶ء صفحہ ۳ کالم ۱۔ ۲ )خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۲۔ فروری ۱۹۳۵ء(
    ۳۲۰۔
    الفضل ۷۔ اپریل ۱۹۴۴ء صفحہ ۷ کالم ۳۔
    ۳۲۱۔
    الفضل ۱۷۔ فروری ۱۹۶۰ء صفحہ ۲۔
    ۳۲۲۔
    الحکم ۱۷۔ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۔
    ۳۲۳۔
    الفضل ۲۸۔ اگست ۱۹۵۹ء صفحہ ۶۔ ۷ )تقریر فرمودہ ۲۸۔ اگست ۱۹۴۵ء(
    ‏tav.8.10
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    شیخ احمد فرقانی کی شہادت سے سالانہ جلسہ ۱۹۳۵ء تک
    دوسرا باب )فصل اول(
    عراق میں شیخ احمد فرقانی کی شہادت سے لیکر
    سالانہ جلسہ ۱۹۳۵ء تک
    خلافت ثانیہ کا بائیسواں )۲۲( سال۱
    )جنوری ۱۹۳۵ء تا دسمبر ۱۹۳۵ء بمطابق رمضان المبارک ۱۳۵۳ھ تا شوال ۱۳۵۴ھ(
    تحریک جدید کے کارناموں پر طائرانہ نگاہ ڈالنے کے بعد اب ہم واقعاتی ترتیب کے پیش نظر ۱۹۳۵ء کی طرف پلٹتے ہیں۔
    عراق میں شیخ احمد فرقانی کی المناک شہادت
    جنوری ۱۹۳۵ء کے وسط میں عراق کے ایک نہایت مخلص احمدی حضرت شیخ احمد فرقانی کا سانحہ شہادت پیش آیا جس کی اطلاع ایک احمدی عرب نوجوان الحاج عبداللہ صاحب۲ کی طرف سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں پہنچی۔ چنانچہ انہوں نے ۱۰۔ شوال ۱۳۵۳ھ )مطابق ۱۶۔ جنوری ۱۹۳۵ء( کو عریضہ لکھا کہ آج بغداد سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ شیخ احمد فرقانی جو عرصہ دس سال سے احمدیت کی وجہ سے مخالفین کے ظلم و ستم برداشت کرتے آرہے تھے اور جن کا عراقیوں نے بائیکاٹ کر رکھا تھا` شہید کردیئے گئے ہیں۔ انا لل¶ہ وانا الیہ راجعون۔ آپ بغداد سے قریباً دو سو میل کے فاصلہ پر لواء کرکوک گائوں میں بودوباش رکھتے تھے۔ جب میں بغداد میں تھا تو وہ کئی ہفتے میرے پاس آکر رہے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے بے حد محبت اور اخلاص رکھتے تھے۔ حضور کے فارسی و عربی اشعار سنکر وجد میں آجاتے اور زاروقطار رونے لگتے تھے۔۳
    حضرت امیرالمومنینؓ کا سفر گورداسپور اور اخلاص و فدائیت کے ایمان افروز منظر
    اس سال کے ناقابل فراموش واقعات میں سے سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے وہ دو سفر ہیں جو حضور نے مولوی سید عطاء اللہ
    شاہ صاحب بخاری کے مقدمہ میں شہادت کے لئے مارچ ۱۹۳۵ء کے آخری ایام میں اختیار فرمائے تھے۔ ان تاریخی سفروں کے تفصیلی حالات اخبار >الحکم< )قادیان( کے نامہ نگار کے الفاظ میں درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    پہلا سفر:
    >عطاء اللہ بخاری کے مقدمہ میں حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ کے نام بھی بطور گواہ صفائی سمن تقسیم کیا گیا تھا جو حضور کے بلند مقام کو دیکھتے ہوئے خود ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس مقیم قادیان نے بمع انچارج صاحب چوکی قادیان تقسیم کیا۔
    حضور کی روانگی کی خبر معلوم ہونے پر قادیان اور نواح کے احمدیوں میں اس امر کا شدید جوش موجزن تھا کہ وہ اپنے امام کے ساتھ جائیں اور انہیں اندیشہ تھا کہ منتظمین ان کو روک نہ دیں۔ اس لئے لوگ بار بار پوچھتے تھے کہ کیا ہم کو جانے دیا جائے گا یا نہیں۔ لوگوں کے اس جوش کا احساس کرتے ہوئے ذمہ دار افسروں نے احباب جماعت کو روکنا پسند نہیں کیا۔ جانے والوں کی کثرت دیکھ کر نیشنل لیگ نے ۸۰۰ آدمیوں کے لئے سپیشل ٹرین ریزرو کروانے کا انتظام کیا۔
    ۲۳ کی صبح قادیان میں ایک غیر معمولی صبح تھی۔ چونکہ حضرت اقدس نے موٹرکار کے ذریعہ جانا تھا اس لئے نوجوانوں کی ایک بڑی جماعت نے حضور کی کار کی حفاظت کے لئے سائیکلوں پر جانے کی خواہش کی جو منظور کرلی گئی۔
    سائیکلسٹوں کی پندرہ پارٹیاں ترتیب دی گئیں جو حضور کی کار کے ساتھ تھیں۔ ڈیڑھ سو کے قریب یہ نوجوان تھے۔ صبح ۸ بجے حضور کی کار شاندار طریق سے روانہ ہوئی۔ بائیسکل سوار آگے اور پیچھے دائیں اور بائیں حضور کی کار کو گھیرے ہوئے تھے۔
    سپیشل ٹرین ۷ بجکر ۴۲ منٹ پر روانہ ہونے والی تھی` ہزارہا کی تعداد میں احمدی اس وقت اسٹیشن کے اندر باہر کھڑے تھے۔ ہر شخص کے چہرے پر اس امر کی خوشی اور مسرت جھلک رہی تھی کہ اس کو اپنے آقا کی معیت کا شرف حاصل ہوگا۔ چونکہ نیشنل لیگ نے بحیثیت مجموعی گاڑی کا کرایہ ادا کر دیا تھا اور ہر محلہ کیلئے ایک خاص ٹکٹ جاری کردیئے تھے جن پر نظارت امور عامہ کی مہر تھی اور ان پر نمبر لکھ دیئے گئے تھے تاکہ ریلوے والوں کو مسافروں کی گنتی میں کسی قسم کی دقت نہ ہوسکے۔
    گاڑی ٹھیک سات بج کر ۴۵ منٹ پر روانہ ہوئی۔ گاڑی میں اس قدر بھیڑ تھی کہ بہت سے لوگ گورداسپور تک کھڑے کھڑے اور بہت سے اوپر تختوں پر بیٹھ کر گئے۔
    روانگی کے وقت ہر ایک کمرے میں لوگوں نے رقت سے دعائیں کیں۔ الغرص دعائوں کے ساتھ گاڑی روانہ ہوئی۔ قادیان سے چل کر بٹالہ سٹیشن پر گاڑی کھڑی ہوئی۔ پولیس نے ریلوے لائن پر گاڑی کی حفاظت کے لئے باوردی سپاہی کھڑے کئے ہوئے تھے۔ سٹیشن پر سب انسپکڑان پولیس کے علاوہ رائے صاحب پنڈت جواہر لال صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ خود باوردی موجود تھے۔ بٹالہ میں گاڑی کے انجن کا رخ تبدیل کیا گیا اور گاڑی گورداسپور روانہ ہوئی جہاں گاڑی ۹ ببج کر ۴۵ منٹ پر پہنچ گئی۔
    جماعت کا یہ بے پناہ ہجوم نہایت پرامن طریق سے جلوس کی شکل میں نکلا۔ پہلے اس سڑک کی طرف گیا۔ جہاں سے حضرت اقدس نے تشریف لانا تھا۔ جلوس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے پرانے صحابی اور بڑے بڑے بوڑھے اور بعض نابینا لوگ بھی موجود تھے۔ ان کے اخلاص کی اس حالت کو دیکھ کر میرے دل میں ایک قسم کی رقت پیدا ہوتی تھی۔ اس جلوس کو سینکڑوں لوگ اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر دیکھ رہے تھے۔ جلوس مختلف سڑکوں سے گزر کر اس جگہ پہنچا۔ جہاں سے حضرت کی موٹر گزرنے والی تھی مگر افسوس کہ موٹر دوچار منٹ پہلے گزرگئی۔ آخرش یہ جلوس چودھری شیخ محمد نصیب صاحب کی کوٹھی پر پہنچا جہاں حضرت اقدس قیام فرما تھے۔
    ناظر صاحب ضیافت جناب میر محمد اسحاق صاحب دو دن پہلے سے بمع اپنے ایک خاص سٹاف کے یہاں موجود تھے۔ ان کے انتظام نے گورداسپور میں سالانہ جلسہ کی جھلک دکھا دی۔
    میر صاحب خاص قابلیتوں اور خوبیوں کے آدمی ہیں۔ انتظامی معاملات کو وہ اس حسن و خوبی سے سرانجام دیتے ہیں کہ دیکھنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ کام بالکل ہلکا اور آسان ہے۔ میر صاحب نے ان تمام مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو ایسے موقعوں پر اور ایسی معاندانہ حالتوں میں پیش آجایا کرتی ہیں` سارا سامان لنگر خانہ قادیان سے گورداسپور بھجوا دیا تھا۔ اسی )۸۰( دیگیں اور سینکڑوں بالٹیاں` لوٹے` آبخورے` چٹائیاں` تھالیاں` پیالے` رکابیاں` لیمپیں` پانی کے حمام` الغرض ہر قسم کا سامان بافراط مہیا کردیا گیا تھا۔
    کوٹھی کے وسیع میدان میں دریاں اور چٹائیاں بچھا کر اس پر دسترخوان بچھا دیئے گئے تھے۔ کوٹھی کے سامنے کی طرف ایک چاندنی کا پردہ لگا دیا گیا تھا اور کئی ہزار آدمیوں کے بیٹھنے کے لئے چاندنیاں۴ تان دی گئی تھیں۔
    کوٹھی کے گرد نوجوان لڑکوں کا پہرہ اس لئے لگا دیا گیا تھا تاکہ کوئی سامان وغیرہ چرا نہ سکے جو بافراط ہرجگہ پھیلا پڑا تھا۔
    احباب کے پہنچنے سے پہلے کھانا پک کر تیار ہوچکا تھا۔ کھانے میں صرف پلائو پکوایا گیا تھا جو ہر طرح سے عمدہ اور مرغوب الطبع تھا۔
    میر صاحب کے سٹاف میں مولوی عبدالرحمن صاحب مولوی فاضل` مولوی ارجمند خاں صاحب مولوی فاضل اور مفتی فضل الرحمن صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ والنٹیئر اور معاونین نہایت اخلاص سے کھانا کھلاتے تھے اور سب مہمانوں سے شریفانہ برتائو کرتے تھے۔ اس سارے سٹاف کی نگرانی میر صاحب خود کررہے تھے۔
    اس تقریب پر بہت دور دور سے مہمان آئے تھے۔ بٹالہ` امرتسر` لاہور` شیخوپورہ` گجرات` فیروزپور` گوجرانوالہ` ملتان کے علاوہ کشمیر اور سرحد تک کے لوگ موجود تھے۔ فخر قوم چودھری ظفراللہ خاں صاحب` پیر اکبر علی صاہب ممبر کونسل` خان بہادر شیخ رحمت اللہ خاں صاحب` چودھری عبداللہ خاں صاحب` چودھری اسداللہ خاں صاحب` چودھری شکراللہ خاں صاحب` سید انعام اللہ شاہ صاحب مالک و ایڈیٹر دور جدید` سید دلاور شاہ صاہب سابق ایڈیٹر مسلم آئوٹ لک` خاں عبداللہ خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ۔ لیفٹینٹ سردار نذر حسین صاحب` مستری حاجی موسیٰ صاحب نیلہ گنبد` شیخ محمد حسین صاحب ملتان` خاں بہادر غلام محمد خاں صاحب آف گلگت` خواجہ محمد شان صاحب آف سرینگر` مسٹر غلام محمد صاحب اختر آف لاہور وغیرہ وغیرہ قابل ذکر احباب موجود تھے۔
    قادیان سے تو سات آٹھ سو احباب گئے جن میں سے چند احباب کا ذکر خاص طور پر کردینا مناسب ہوگا۔
    چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔ اے ناظر اعلیٰ` حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے` حضرت مرزا شریف احمد صاحب` مرزا گل محمد صاحب` خان صاحب فرزند علی خاں صاحب ناظر امور عامہ` جناب میر محمد اسحاق صاحب ناظر ضیافت` جناب شیخ یوسف علی صاحب اسسٹنٹ ناظر امور عامہ` مولانا جلال الدین شمس صاحب اسسٹنٹ ناظر تبلیغ` مولوی عبدالمغنی صاحب ناظر بیت المال` خان صاحب برکت علی خاں صاحب` میرزا عبدالغنی صاحب گورنمنٹ پنشنر کینیا کالونی` مرزا محمد شفیع صاحب محاسب صدر انجمن احمدیہ` مولانا شیر علی صاحب بی۔ اے` ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے ایڈیٹر ریویو` جناب میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر >فاروق< جناب خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر >الفضل`< شیخ محمود احمد عرفانی ایڈیٹر >الحکم< و پریذیڈنٹ نیشنل لیگ قادیان` مولانا نیر صاحب` مولانا محمد الدین صاحب ہیڈ ماسٹر` چودھری غلام محمد صاحب پریذیڈنٹ سمال ٹائون کمیٹی` شیخ عبدالرحمن صاحب مصری ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ` ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب میڈیکل آفیسر قادیان` مولوی غلام مجتبیٰ صاحب پریذیڈنٹ لوکل کمیٹی قادیان` مولوی فضل الدین صاحب` ملک عبدالرحمن صاحب خادم وکیل گجرات` صاحبزادہ ابوالحسن صاحب قدسی` مہاشہ فضل حسین صاحب وغیرہ وغیرہ آٹھ سو احباب موجود تھے۔
    گورداسپور میں اس موقع کے لئے حکومت نے لاہور اور امرتسر سے بہت سی ایڈیشنل پولیس منگوائی ہوئی تھی جس نے کچہری کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا اور کچہری کے ایک خاص حصے پر جس طرف حضرت اقدس کی موٹر نے کھڑا ہونا تھا کسی شخص کو جانے نہیں دیتی تھی۔
    احمدیہ پبلک کو یہ سنکر سخت مایوسی ہوئی کہ پولیس نے لوگوں کو کچہری کے کمپونڈ میں جمع ہونے سے روک دیا ہے۔ باوجود اس کے ہزارہا انسان سٹیشن سے کچہری آنے والی سڑک پر کھڑے تھے۔ میرے دل پر ایک رقت آمیز حالت طاری ہوئی جبکہ میں نے اس زمرے میں بعض نابینا اور سخت کمزور بڈھوں کو دیکھا جو فرط محبت سے چلے آئے تھے اور اپنے آقا کے انتظار میں کھڑے تھے۔
    حضرت اقدس ٹھیک وقت مقررہ پر کچہری کے کمپونڈ میں پہنچ گئے تھے جب ان کی موٹر جاکر رک گئی تو اس وقت پولیس نے فوراً اس طرف کے راستے روک دیئے۔ پولیس کے چند سپاہی کچہری کے احاطہ میں پھر رہے تھے اور اگر کسی جگہ کوئی اجتماع ہوجاتا تو اسے روک دیتے اور منتشر کر دیتے تھے۔
    سی۔ آئی۔ ڈی کے آدمی بھی نمایاں طور پر نظر آتے تھے خصوصاً آغا رشید صاحب سب انسپکٹر سی۔ آئی۔ ڈی بہت واضح طور پر چکر کاٹ رہے تھے۔
    احرار کے متعلق معلوم ہوا کہ ۲۲۔ مارچ کو بروز جمعہ مولوی عطاء اللہ بخاری نے خطبہ جمعہ گورداسپور میں پڑھا اور کہا کہ اگر میں زندہ بچ کر آگیا تو میں تم کو تمہارے مکانوں میں آکر ملوں گا۔ تمہارے لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے مدرسے بنائوں گا اور یہ کروں گا اور وہ کروں گا۔ احراریوں کی طرف سے کئی ایک مولانے آئے ہوئے تھے۔ جن میں مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی اور مولوی کرم الدین صاحب ساکن بھیں ضلع جہلم بھی تھے۔ مولوی کرم الدین نے اس مقدمہ میں آکر حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایک اور مماثلت پوری کردی اور وہ یہ کہ جس طرح کرم الدین کے مقدمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عزت سے نوازا اور ہزاروں آدمیوں کے سامنے کرم الدین کو ذلیل کیا حالانکہ وہ آپ کی ذلت دیکھنے کا متمنی تھا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو بتا دیا کہ وہ سلسلہ اب کس طرح بڑھا اور پھلا پھولا ہے اور کس طرح آج اس دن کی نسبت بیسیوں گنا زیادہ لوگ جمع ہیں۔ جس طرح کرم الدین نے آکر ہم پر یہ ثابت کردیا کہ وہ اور عطاء اللہ ایک ہی ہیں اسی طرح مسیح موعودؑ اور خلیفتہ المسیح ایک ہی ہیں۔ احمدیوں کو جب معلوم ہوا تو وہ جوق در جوق اس شخص کو دیکھنے جاتے تھے جس کے سبب خدا کے برگزیدہ مسیح کی صداقت کے بیسیوں نشان ظاہر ہوئے اور خداتعالیٰ کے مامور و مرسل کے دشمنوں کی صف اول میں لڑا اور ناکام و نامراد ہوا۔ مولانا انور صاحب بوتالوی نے اس کی تصویر۵ بھی لی۔ تاکہ آئندہ نسلوں کے لئے باعث عبرت ہو۔
    احراری کہلانے والوں میں ایک طبقہ ایسے لفنگوں کا تھا جو کوشش کرتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح احمدیوں کے گلے پڑے مگر پولیس نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا۔ ہندوئوں اور سکھ معززین کی ایک بڑی جماعت حضرت امیرالمومنین کو دیکھنے کے لئے بے قرار تھی اور وہ پوری بے قراری سے کئی گھنٹے انتظار میں کھڑی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت امیرالمومنین جب عدالت کے کمرے میں داخل ہوئے` دیوان سکھ آنند صاحب سپیشل مجسٹریٹ نے حضور کا پورا احترام کیا اور حضور کو کرسی پیش کی۔ حضور کے ساتھ حسب ذیل حضرات کو اندر جانے کا شرف حاصل ہوا۔ جناب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب` چودھری اسداللہ خان صاحب` پیر اکبر علی صاحب ممبر کونسل` شیخ بشیر احمد صاحب` مرزا عبدالحق صاحب بی۔ اے وکیل` چودھری نصیر الحق صاحب بی۔ اے وکیل` ایڈیٹر صاحب الفضل` ملک عبدالرحمن صاحب خادم ۔۔۔۔۔۔۔
    حضور کا عدالت سے نکلنا تھا کہ ہزاروں انسانوں کا جم غفیر جو عدالت کے سامنے جمع تھا` پروانہ وار اپنے آقا و مرشد کی موٹر کے گرد جمع ہوگیا اور وہ دیوانہ وار حضور کی موٹر کے ساتھ دوڑنے لگا۔
    عدالت سے لے کر شیخ محمد نصیب کی کوٹھی تک تقریباً پون میل کا فاصلہ ہوگا۔ وہ تمام خدام سے بھرا ہوا تھا۔ ان لوگوں کی اپنے امام کو دیکھ کر یہ حالت ہورہی تھی کہ وہ بے اختیار مسرت اور خوشی سے بھر جاتے تھے۔ ان کے چہروں پر سینکڑوں عیدوں کی خوشی ظاہر ہورہی تھی۔ ہر شخص بڑھ بڑھ کر السلام علیکم کا ہدیہ پیش کررہا تھا۔ حضور اپنے خدام کو دیکھ کر مسرت کا اظہار فرماتے اور بار بار وعلیکم السلام فرماتے۔
    کیمپ میں داخل ہو کر حضور نے کھانا تناول فرمایا اور پھر نماز باجماعت ادا فرمائی۔ کوٹھی کا وسیع پنڈال نمازیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور سب کے سب لوگ اپنے آقا کے ساتھ اپنے مالک حقیقی کے حضور سربسجود ہوگئے۔ نماز کے بعد پھر حضور عدالت کو تشریف لے گئے۔
    کیمپ میں ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ نے حاضرین کے وقت کو مفید کام میں لگانے اور تبلیغی اغراض کے لئے ایک جلسہ منعقد کیا جس میں متعدد نظموں کے علاوہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ایک عالمانہ تقریر کی جس میں ہزارہا کی حاضری تھی اور سامعین نے مولانا کی تقریر کو بہت توجہ سے سنا اور فائدہ حاصل کیا۔
    احرار گورداسپور کی وسعت اخلاق کا اس سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے گورداسپور کے سقوں کو پانی بہم پہنچانے سے روک دیا اور وہ ایسے وقت میں پانی سے انکار کرکے چلے گئے جبکہ بہتیرے لوگ ابھی کھانا کھارہے تھے اور ہزارہا بندگان خدا نے ابھی وضو کرنا تھا۔ مگر منتظمین کی جواں ہمتی قابل داد ہے کہ انہوں نے بیسیوں والنٹیئر لگا کر پولیس لائن کے کنوئیں سے پانی بھرلیا۔ حضور نے دوبارہ پانچ بجے عدالت سے واپس آنا تھا۔ پانچ بجے سے پیشتر ہی احباب جوق در جوق عدالت کی طرف جانے لگ گئے اور پہلے کی طرح حضور کی موٹر کے ساتھ ہزارہا مشتاقان دید دوڑتے ہوئے کیمپ تک آئے۔ حضور نے کیمپ میں داخل ہوکر اپنے خدام میں تقریر فرمائی اور پیش آمدہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
    >مومنوں کو مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ ہم دنیا پر غالب آئیں گے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نبی کے ماننے والوں پر زلزلے آئیں گے۔ اگر کہا جاتا کہ نبی کے ماننے والوں کے لئے پھولوں کی سیج بچھائی جائے گی۔ تب تو کہا جاسکتا تھا کہ ہمیں مشکلات کیوں پیش آتی ہیں مگر جبکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ انبیاء کی جماعتوں کو کانٹوں پر گزراتا ہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم پر بھی مشکلات آئیں گی` مصائب آئیں گے۔ مگر آخر کامیابی ہمارے لئے ہے۔ آپ لوگ عبادتیں کریں` دعائیں مانگیں اور خداتعالیٰ کی محبت اپنے دل میں پیدا کریں<۔
    آخر میں اس موقعہ پر آنے والے احباب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا۔
    >میں سب دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ان کا بھی جو آج آئے ان کا بھی جو پھر آئیں گے۔ میں تمام سفر میں دعا کرتا آیا ہوں کہ خداتعالیٰ ان تمام دوستوں پر جو آج آئے اپنے خاص خاص فضل نازل فرمائے اور ان پر بھی فضل نازل کرے جو پرسوں آئیں گے<۔
    ۶ بجے کے بعد سپیشل ٹرین قادیان کو روانہ ہوئی اور حضور بذریعہ موٹر قادیان تشریف لائے جس سڑک سے موٹر گزری وہاں جاتے اور آتے ہوئے پولیس کا انتظام تھا<۔۶
    دوسرا سفر:
    >مقدمہ کی دوسری تاریخ ۲۵۔ مارچ تھی۔ دشمنان سلسلہ کا خیال تھا کہ پہلے دن تو احمدی سپیشل ٹرین لے کر آگئے ہیں۔ اب کہاں آئیں گے اور حضرت امیرالمومنین کو شاید اس دفعہ تنہا آنا پڑے گا۔ مگر جماعت میں اس قدر جوش تھا کہ لوگ یہ کہتے تھے کہ اگر ایک ماہ تک بھی ہم کو اسی طرح آنا پڑے گا تو ہمارے اخلاص و محبت میں کمی نہیں آئے گی۔ جماعت کے اس اخلاص کو دیکھ کر اور پرزور مطالبہ کو سن کر نیشنل لیگ کو ریلوے کو پھر تار دینی پڑی کہ گاڑی بھیجی جائے۔
    چونکہ گاڑی کے متعلق مشہور تھا کہ وہ ساڑھے چھ بجے روانہ ہوگی اس لئے جماعت کے افراد اور قریب قریب کی جماعتوں کے سینکڑوں آدمی علی الصبح سٹیشن پر پہنچ گئے تھے۔
    سٹیشن کا نظارہ بڑا دلفریب تھا۔ سینکڑوں آدمیوں کا اجتماع سٹیشن پر ۔۔۔۔۔۔ سالانہ جلسہ کی شان کا منظر پیدا کررہا تھا۔ الفضل فروخت کرنے والے لڑکوں کی آوازیں ساکنین قادیان کے کانوں کو بھلی معلوم ہوتی تھیں۔ یہ وہ بستی تھی جہاں کسی زمانہ میں معمولی خوردو نوش کی اشیاء تک میسر نہ آتی تھیں۔ آج یہ حالت ہے کہ قادیان ہفتہ وار اخباروں کے علاوہ روزانہ اخبار کی اشاعت کا مرکز بنا ہوا ہے اور دیگر شہروں کی طرح ہم سن رہے ہیں کہ لڑکے شور مچارہے ہیں >آج کا تازہ پرچہ الفضل< ہماری یہ کامیابیاں دشمنوں کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹک رہی تھیں۔ دور دور تک لوگوں کی قطاریں افواج در افواج اور جوق در جوق سٹیشن کی طرف آرہی تھیں۔
    روانگی کا جب وقت آیا تو عازمین گورداسپور نے دعائوں کے لئے ہاتھ اٹھائے اور نہایت خشوع اور خضوع سے بارگاہ ایزدی میں گڑگڑانے لگے۔ دعا کے ساتھ فدایان کو لے کر یہ گاڑی گورداسپور کو پونے آٹھ بجے روانہ ہوئی گاڑی اس قدر کھچا کھچ بھری ہوئی تھی کہ بہت سے لوگوں کو گورداسپور تک بیٹھنے کی جگہ نہ ملی۔
    بٹالہ میں پہنچ کر گاڑی نے انجن کا رخ بدلنا تھا۔ اس لئے چند منٹ کا گاڑی کا قیام کرنا تھا۔ اس لئے سینکڑوں کی تعداد میں احباب گاڑی سے اتر کر ٹہلنے لگے۔ جس سے تمام سٹیشن بھر گیا۔ اس نظارہ کو دیکھنے کے لئے بہت سے غیراحمدی بھی سٹیشن پر جمع ہوگئے تھے جو پلیٹ فارم کے باہر سے دیکھ رہے تھے۔
    حسب معمول اس دفعہ بھی جلوس کی شکل میں یہ قافلہ گورداسپور میں داخل ہوا۔ اور کیمپ میں جاکر اور کھانا کھاکر لوگ جوق در جوق عدالت کی طرف چل دیئے اور اس وقت تک وہیں کھڑے رہے۔ جب تک امیرالمومنین واپس تشریف نہیں لائے۔ حضور کی واپسی پر آج بھی مشتاقان زیارت موٹر کے ساتھ دوڑے اور حضور کے دیکھنے سے سب کے چہروں پر خوشی اور مسرت کی لہریں چمکتی ہوئی نظر آتی تھیں۔
    حضور نے کیمپ میں آکر کھانا تناول فرمایا اور ہزارہا آدمیوں کو ساتھ لے کر نماز پڑھی۔ حضور دو بجے پھر تشریف لے گئے۔ آج بھی حضور کے جانے کے بعد ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی زیر صدارت حسب معمول جلسہ ہوا۔ جس میں مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ظہور حسین صاحب نے تقریریں کیں۔ مولانا شمس نے حضرت مسیح موعودؑ کی مسیح ناصری سے مماثلت پیش کرتے ہوئے بتلایا کہ پہلے مسیح پر متوازی حکومت قائم کرنے کا الزام تھا۔ جیسے وہ الزام غلط تھا ویسے ہی یہ الزام غلط ہے۔ مگر اس الزام نے ایک اور مماثلت کو ثابت کردیا۔
    حضور کی واپسی کے وقت تک تمام مشتاقان دید پھر عدالت سے لے کر کیمپ تک جمع ہوگئے اور حضور کا پرجوش طریق سے استقبال کررہے تھے۔ حضور نے واپسی پر چند الفاظ میں تقریر فرمائی جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے حضور نے فرمایا کہ۔:
    آج شہادت تو ختم ہوچکی ہے مگر پھر پرسوں کی تاریخ جرح کے لئے مقرر ہوئی ہے۔ احباب کو اس تکلیف سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ کیونکہ ان کے مقابلہ میں جو انعامات اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر فرمائے ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں۔ اگر وہ انعامات انسان کے سامنے رکھ دیئے جائیں تو انسان یہی کہے گا کہ اے میرے رب میری تو صرف یہی خواہش ہے کہ میں زندہ کیا جائوں اور پھر تیری راہ میں مارا جائوں۔ پھر زندہ کیا جائوں اور پھر تیری راہ میں مارا جائوں اور یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رہے۔
    تقریر کے بعد آپ نے احباب کو مصافحہ کا شرف بخشا اور پھر فرمایا کہ چونکہ اب گاڑی کا وقت بہت تنگ ہوچکا ہے اس لئے میں سب دوستوں کو جانے کی اجازت دیتا ہوں۔
    اس کے بعد حضور بذریعہ موٹر واپس تشریف لے گئے اور سائیکل سوار والنٹیرز آگے اور پیچھے تھے اور خدام بذریعہ ریل واپس آگئے۔
    چونکہ ۲۷۔ مارچ کو حضور نے سرکاری وکیل کی مکرر جرح کے لئے تشریف لانا تھا اس لئے احباب ۲۷ کو حضور کی معیت میں گورداسپور آنے اور حضور کے ساتھ رہنے کے لئے پرجوش جذبہ لیکر واپس آئے<۔۷
    تیسرا سفر:
    >تیسری مرتبہ حضور ۲۷ مارچ کو شہادت کے لئے تشریف لے گئے۔ اس سفر کے حالات بھی بالکل پہلے ہی دو سفروں جیسے تھے مگر ان میں حسب ذیل اضافہ کیا جاتا ہے۔
    فدائیان احمدیت کی عزت افزائی
    آج کے روز حضرت اقدس نے اپنے خدام کی عزت افزائی کے لئے بذریعہ ریل جانا منظور فرمایا۔ حضور بھی تھرڈ کلاس کے ڈبے میں سوار تھے اور اس طرح تمام احمدی مسافروں کو جو تیسرے درجے کا سفر کرتے ہیں عزت کو بڑھا دیا اور اب ہماری جماعت کے کسی غریب مسافر کو افسوس نہ ہوگا کہ وہ کیوں تیسرے درجے میں سفر کرتا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ اس کے سید و مولیٰ اپنے فدائیوں کے ساتھ تیسرے درجے میں سفر فرماچکے ہیں۔ حضور خدام کے اس زبردست جلوس میں گورداسپور کے سٹیشن سے کیمپ میں وارد ہوئے جہاں تھوڑی دیر قیام فرما کر حضور عدالت میں تشریف لے گئے۔ آج پہلے ہی وقت میں حضور فارغ ہوگئے۔
    جلسہ
    نماز ظہر کے بعد ۳ بجے کوٹھی کے وسیع احاطہ میں زیر صدارت ناظر صاحب تبلیغ جلسہ ہوا۔ اس جلسہ کا پروگرام جناب مرزا عبدالحق صاحب نے انجمن احمدیہ گورداسپور کی طرف سے چھاپ کر شائع کردیا ہوا تھا اس پروگرام کے ماتحت مولوی محمد نذیر صاحب مولوی فاضل نے پیشگوئیوں پر اعتراضات کے اصولی جواب اور مولانا شمس صاحب نے حبیب الرحمن لدھیانوی کے ان اعتراضات کا جواب دیا جو ایک روز قبل گورداسپور میں اپنی ایک تقریر کے دوران میں سلسلہ احمدیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کئے تھے۔ ۵ بجے حضرت امیرالمومنین جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور ایک عظیم الشان تقریر ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیا مذکورا کے حقائق و معارف سے پر ارشاد فرماتے ہوئے احمدیت کی سچائی کو ایسے طریق سے پیش کیا جو ہر شخص کے ذہن نشین ہوگیا۔ آج کے جلسہ میں گورداسپور کے ہندو` سکھ` عیسائی معززین کثرت سے شریک ہوئے ۶ بجے حضور نے تقریر ختم فرمائی اور دعا پر جلسہ ختم ہوا۔
    بیعت کرنے والے
    ان تین ایام میں ۹۰ اشخاص داخل سلسلہ حقہ ہوئے۔ اللھم زد فزد )امین(
    ریلوے میں نظارت امور عامہ کے ٹکٹ اور چیکر
    نظارت امور عامہ نے تین روز تک اپنی طرف سے ٹکٹ جاری کئے جن پر نمبر دے دیئے تھے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کس قدر آدمی سفر کررہے ہیں اور اس امر کے معلوم کرنے کے لئے کہ کوئی بغیر ٹکٹ سفر نہ کرے خاص طور پر ٹکٹ چیک کرنے کے لئے آدمی مقرر کر رکھے تھے۔ اس طرح یہ سفر نہایت خیروخوبی سے ۲۷۔ مارچ کی شام کو ختم ہوگیا۔ احرار یا ان کے معاونین نے جو سازش سلسلہ کے خلاف کی تھی۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کو اس میں منہ کی کھانی پڑی۔ الحمدللہ رب العلمین۔۸
    سفر گورداسپور سے متعلق غیروں کے تاثرات
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے مندرجہ بالا سفر احمدیت کی صداقت کا زبردست نشان تھے جسے دیکھ کر سنجیدہ طبع اور روشن خیال غیر احمدی بلکہ غیر مسلم اصحاب بھی بزبان حال و قال پکار اٹھے کہ احرار نے جس جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا ادعا کر رکھا ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوچکی ہے اور احرار کی مخالفت اس کی قوت و شوکت میں اضافہ ہی کا موجب بنی ہے۔ اس تعلق میں بعض تاثرات کا ذکر کیا جانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
    ایک مسلمان اخبار نویس کا تبصرہ
    ایک مسلمان اخبار نویس نے لکھا۔
    >احرار یہ سمجھتے ہیں یا کم ازکم دوسروں پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ احمدیت کو بہت جلد فنا کردیں گے۔ چنانچہ وہ اسی قسم کے اعلانات شائع کرکے مسلمانوں سے کافی روپیہ جمع کررہے ہیں پچھلے دنوں قادیان میں جو احرار کانفرنس ہوئی اس کا مقصد بھی یہی ظاہر کیا جاتا تھا اور عوام کو یہ بتلایا جاتا تھا کہ قادیان میں احرار کی ایک کانفرنس ہوتے ہی احمدی قادیان کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور ہندوستان سے احمدیت کا قلع قمع ہوجائے گا۔ لیکن بقول شخصے۔ ~}~
    ما درچہ خیالیم و فلک درجہ خیال
    احرار کے تمام منصوبے بگڑ گئے۔ احرار کانفرنس کے صدر امیر شریعت پنجاب` شیر خلافت` ضیغم کانگریس بانی احرار کانفرنس مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے خلاف حکومت نے دو گروہوں کے درمیان منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا۔ مولوی صاحب موصوف پر فرد جرم عائد ہوگیا۔ انہوں نے میرزا صاحب قادیان والا کو صفائی کی شہادت میں پیش کیا۔ تین دن تک خلیفہ صاحب کی گواہی ہوتی رہی اور تینوں دن گورداسپور میں احمدیوں کا کثیر اژدھام رہا۔ شہر میں` کچہری میں` سڑکوں پر جدھر دیکھو احمدی ہی احمدی نظر آتے تھے۔ احمدیوں کے مخالفوں میں سے کئی خلیفہ صاحب کی زیارت کے لئے آتے رہے اور ان کی نورانی شکل دیکھ کر محو حیرت ہوجاتے تھے۔ احمدیوں کے انتظامات` ان کی تنظیم اور باہمی اتحاد کے نظارے دیکھ کر اکثر لوگ بے حد متاثر ہوئے۔ شہر اور مضافات میں خلیفہ صاحب کی گواہی اور ان کے اعلیٰ اخلاق کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔ ہم نے خود گورداسپور پہنچ کر تمام حالات کا بچشم خود مطالعہ کیا اور دیکھا کہ غیر احمدی مسلمان خلیفہ صاحب سے ان کے مریدوں کی عقیدت دیکھ کر بے حد متاثر ہورہے تھے اور ہر طرف احمدیوں کی تنظیم` اتحاد` خلوص اور دینداری کا تذکرہ تھا۔
    خلیفہ صاحب ہرروز گواہی سے فارغ ہوکر شیخ محمد نصیب صاحب کی کوٹھی کے احاطہ میں ایک مختصر سا لیکچر دیتے رہے۔ آخری دن کی گواہی کے بعد جلسہ نہایت شاندار تھا۔ ہزاروں احمدیوں کے علاوہ جلسہ گاہ میں غیر احمدی مسلمان ہندو اور سکھ صاحبان بھی موجود تھے جہاں میرزا صاحب نے ایک شاندار تقریر فرمائی۔ غرض مسلمانوں کے خیالات میں احمدیوں کے متعلق بڑی حد تک تبدیلی واقع ہوگئی اور احرار نے احمدیوں کے خلاف مسلمانوں کے دلوں میں جو نفرت پیدا کر رکھی تھی وہ بڑی حد تک رفع ہوگئی۔ چنانچہ اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ احمدیوں کے متعلق احراری پراپیگنڈا کی تہہ میں کچھ ذاتی اغراض ہیں ورنہ یہ لوگ باقاعدہ نمازیں پڑھتے ہیں۔ شکل و صورت سے پکے مسلمان دکھائی دیتے ہیں۔ آپس میں محبت جو مسلمانوں کی خصوصیت ہے ان لوگوں میں نظر آتی ہے درآنحالیکہ دوسرے مسلمان اس نعمت سے بڑی حد تک محروم ہوچکے ہیں۔
    الغرض یہ تمام باتیں ہم نے اپنے کانوں سے سنیں اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ احرار نے قادیان میں جلسہ کرکے اور پھر مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب نے خلیفہ صاحب کو شہادت میں طلب کرکے احمدیوں کو بہت زیادہ تقویت پہنچائی ہے۔ احمدیوں کے متعلق پڑھے لکھے مسلمانوں کی رائے پہلے کی نسبت بہت اچھی ہوچکی ہے اور اکثر تعلیم یافتہ نوجوان احمدیت کے متعلق ریسرچ میں لگ ئے ہیں۔
    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شہادت کے تینوں دنوں میں کوئی ایک سو کے قریب غیر احمدی مسلمانوں نے بیعت کی۔ احمدیوں کو اس کامیابی پر بہت فخر ہے۔ چنانچہ چند احمدیوں نے بخاری صاحب کو امرتسر ریلوے اسٹیشن پر صاف صاف کہہ دیا کہ آپ کی مساعی ہمارے لئے عمدہ پھل لارہی ہیں اور ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔ جس کے جواب میں مولوی صاحب نے فرمایا۔ ہمیں بھی سلسلہ احمدیہ سے کوئی عداوت نہیں` ہاں ہم جہاد کے متعلق مرزا صاحب کی تعلیم کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ اگر خلیفہ صاحب اس میں ترمیم کردیں تو باقی باتوں کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے<۹
    اخبار >احسان< کا نوٹ
    اخبار >احسان< )لاہور( نے ۲۵۔ مارچ ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں لکھا:۔
    >خلیفہ قادیان کے ایک ہزار مرید سپیشل ٹرین میں آئے۔ اور چار ہزار کے قریب اشخاص ادھر ادھر سے جمع ہوگئے۔ سب سے زیادہ تعداد لاہور سے آئی۔ مرزائی کیمپ میں کھانے کا وسیع پیمانہ پر انتظام تھا<۔۱۰
    ایک سکھ صحافی کا تبصرہ
    سردار ارجن سنگھ ایڈیٹر اخبار >رنگین< نے اپنی کتاب >خلیفہ قادیان< میں >خلیفہ قادیان کا استقبال< کے زیر عنوان لکھا۔
    >یہ بات تو ظاہر ہے کہ مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب کا دعویٰ ہے کہ وہ آٹھ کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کے نمائندہ ہیں۔ برخلاف اس کے خلیفہ قادیان کے تابعدار ایک لاکھ کے قریب ہوں گے۔ مگر ناظرین یہ سنکر حیران ہوں گے کہ ان تاریخوں پر جبکہ خلیفہ صاحب شہادت دینے کے لئے آتے رہے۔ گورداسپور میں احمدیوں کی تعداد دس ہزار کے قریب ہوتی تھی۔ جبکہ دوسرے مسلمان شاید ایک سو بھی موجود نہ ہوتے تھے۔ اس سے خلیفہ صاحب اور مولوی صاحب کے اثر کا موازنہ ہوسکتا ہے کہ ایسی جماعت جس کے ارکان سارے پنجاب میں پچپن ہزار بیان کئے جاتے ہیں اپنے خلیفہ کے درشنوں کے لئے دس ہزار کی تعداد میں حاضر ہوتے ہیں اور اس جماعت کے جس کے ارکان صرف گورداسپور میں ہی دس ہزار سے زائد ہیں ایک سو بھی جمع نہیں ہوئے۔ حالانکہ مقدم الذکر صرف گواہ کی حیثیت میں آتے ہیں اور دوسرے بزرگ پر مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کا دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور ہے اور خلیفہ صاحب کے مرید ان کے حقیقی جان نثار اور سچے دل سے وفادار ہیں۔
    یہ منظر سبق آموز تھا۔
    اس منظر کے دیکھنے سے دل پر ایک خاص اثر ہوتا تھا۔ میں خود آخری روز وہاں موجود تھا۔ مجھے رہ رہ کر خیال آتا تھا کہ آخر اس شخص نے پہلی جون میں کون سے ایسے کرم کئے ہیں جن کے صلہ میں اسے یہ عقل کو حیران کرنے والا عروج حاصل ہوا ہے۔ میں ہی اس نظارہ کو دیکھ کر حیران نہ تھا۔ بلکہ میں نے دیکھا کہ غیر احمدی مسلمان بھی )یہ( اثر لے رہے تھے۔ میں نے بازار میں لوگوں کو باتیں کرتے سنا کوئی ظاہر اشان و شوکت کی تعریف کرتا تھا کوئی مریدوں کی عقیدت کو سراہ رہا تھا۔ کوئی جماعت کی تنظیم کی داد دیتا تھا۔ کوئی کہتا تھا آخر یہ گروہ عبادت میں اور اس کے احکام کی پیروی میں امتیاز رکھتا ہے۔ الغرض میں نے دیکھا کہ غیر احمدی مسلمانوں میں سے بہت سے تعریفیں کررہے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کے دلوں پر خاص اثر ہورہا ہے۔
    آخر یہ کیوں؟
    میں حیران تھا کہ اپنے جیسے انسان کا درشن پانے کے لئے یہ ہزارہا انسان جو سرگردان پھر رہے ہیں کیا یہ تمام غلطی یا جعل سازی کا شکار ہورہے ہیں جبکہ ان کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے اور ان میں بڑے بڑے تجربہ کار اور جہاندیدہ بزرگ بھی موجود ہیں۔
    میں سوچتا تھا کہ کیا جھوٹ اور فریب سالہا سال تک پھل لاسکتا ہے پچاس سال سے زائد عرصہ ہوا جبکہ اس فرقہ کے بانی نے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اگر وہ محض فریب کار تھا تو کیا فریب میں یہ طاقت ہے کہ وہ نصف صدی تک بڑھتا اور پھولتا چلا جائے یقیناً دھوکا بازی اور فریب کاری کی تو صرف اتنی ہی حیثیت ہوتی ہے کہ ~}~
    ‏]tpoe [tagاگر ماند شبے ماند شبے دیگر نمے ماند
    لیکن یہاں یہ حالت ہے کہ تیسرا دور آتا ہے اور ہر دور میں پہلے سے زیادہ قوت اور طاقت کے ساتھ یہ گروہ بڑھتا اور پھولتا جارہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جماعت کے دعاوی میں ضرور سچائی ہے اور اس گروہ کو بالضرور واہگوروجی کی شکتی حاصل ہے<۔
    احرار غور کریں
    >احراری بھی ایک مذہبی جماعت ہیں۔ ان کا بھی ایک امیر شریعت ہے جس کے ہاتھ پر لوگ اسی طرح بیعت کرتے ہیں جس طرح خلیفہ قادیان کے ہاتھ پر۔ پھر احرار اپنے آپ کو سچائی کے پاسبان سمجھتے ہیں اور قادیانی جماعت کو غلط راہ پر قرار دیتے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ احراری امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کے دلوں میں اپنے امیر کے لئے نہ وہ قربانی کا جذبہ ہے اور نہ ہی وہ عقیدت ہے جو خلیفہ قادیان کے مریدوں کے دلوں میں ہے۔ کیا کبھی احرار نے غور کیا ہے کہ اس کا کیا کارن ہے کہ ان کی سچائی )جسے وہ خود سچائی قرار دیتے ہیں( وہ رنگ نہیں لارہی جو بقول احرار خلیفہ قادیان کا دجل و فریب رنگ لارہا ہے۔ کیا آج کل ایشور نے اپنا اصول بدل دیا ہے؟ اور کیا ~}~
    صداقت آمد و باطل رواں شد
    طلوع شمس شد شپر نہاں شد
    کا کلیہ بدل گیا ہے` ہرگز نہیں۔ واہگوروجی کے نیم اٹل ہیں۔ خدا کے قاعدے کبھی نہیں بدلتے اور میں تو میرزاجی کے اس کتھا کی تائید کرتا ہوں۔ کہ ~}~
    کبھی نصرت نہیں ملتی درمولا سے گندوں کو
    کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو
    اس لئے اس حقیقت سے انکار نہیں ہوسکتا کہ احمدیہ تعلیم کے اندر کچھ ایسی کشش ضرور موجود ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کی طرف کھینچے آرہے ہیں اور خلیفہ قادیان میں کوئی ایسے جو ہر یقیناً ہیں جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور پھر لطف یہ ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ اس جماعت میں شامل ہوجاتا ہے وہ دیوانہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ جن لوگوں کو خلیفہ صاحب کے مذہبی عقائد سے اختلاف ہے وہ بھی آپ کی سیاسی رہنمائی کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر مثلاً خواجہ حسن نظامی جو مسلمانوں کے سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ مذہبی گورو بھی ہیں خلیفہ صاحب سے سیاسی مل ورتن کے حق میں ہیں۔ اسی طرح میاں سر فضل حسین وغیرہ بہت سے اسلامی سیاستدان احمدیوں سے تعاون کررہے ہیں مگر احراریوں سے کو اپریشن کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں چنانچہ احمدی مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ کانفرنس کے ممبر ہیں۔ اور یہ جماعت بھی مسلم لیگ کانفرنس کے اصولوں کی حامی ہونے کے علاوہ ہر قسم کی مدد کرتی رہتی ہے۔ الغرض سوائے جماعت احرار کے تمام مسلمان سیاستدان احمدیوں سے مذہبی عقیدوں میں اختلاف رکھنے کے باوجود ان سے تعاون کے حق میں ہیں اور خلیفہ قادیان بے شک مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے اندر اس قدر رسوخ پیدا کرلیا ہے<۔۱۱
    انجمن حمایت اسلام اور جماعت احمدیہ
    انجمن حمایت اسلام )لاہور( ایک مشہور قومی ادارہ ہے جس کی بنیاد جمادی الاول ۱۳۰۱ھ مطابق مارچ ۱۸۸۴ء میں رکھی گئی۔۱۲ اس قومی ادارہ سے جماعت احمدیہ کے بزرگوں کا ابتداء ہی سے بڑا گہرا تعلق رہا ہے۔ جیسا کہ >تاریخ احمدیت< جلد چہارم )طبع اول( صفحہ ۱۰۴۔ ۱۰۶ میں تفصیل آچکی ہے۔ خلافت ثانیہ کے اوائل سے ۱۹۳۵ء تک انجمن سے احمدیوں کے مراسم برابر قائم رہے اور وہ اس کے پلیٹ فارم پر قومی و تعلیمی خدمات بجالاتے چلے آرہے تھے مگر ۱۹۳۵ء میں احراری تحریک کے زیر اثر انجمن حمایت اسلام کی مستقل پالیسی میں یہ تغیر واقع ہوا کہ اس خالص تعلیمی انجمن کے سٹیج پر اختلافی مسائل کا چرچا کرکے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے خلاف ریزولیوشن پاس کیا گیا۔۱۳ یہ واقعہ کس افسوسناک ماحول اور ہلڑبازی کے ہنگامہ میں ہوا۔ اس کی تفصیل مشہور معاند احمدیت مولوی ثناء اللہ صاحب کے قلم سے پڑھئے۔ لکھتے ہیں۔
    >انجمن حمایت اسلام لاہور کا جلسہ ہمیشہ امن و امان سے ہوتا تھا کیونکہ اس میں اسلام کے امور عامہ پر تقریریں ہوتی تھیں۔ مگر اس دفعہ پروگرام میں خلاف معمول مضامین مخصوصہ پر تقریریں بھی درج تھیں مثلاً ختم نبوت وغیرہ۔ ہم جانتے ہیں کہ مسئلہ ختم نبوت بھی اسلام کے امور عامہ میں سے ہے۔ مگر چونکہ پنجاب میں فرقہ قادیانیہ ختم نبوت کا قائل نہیں اس لئے لازم تھا کہ تقریر میں اس فریق کا ذکر یا اشارہ ہوتا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خیر یہ تو ایک معمولی بات تھی جو آئی گئی ہوگئی۔ خاص قابل ذکر بات جو ہوئی وہ یہ ہوئی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں نے آوازے کسنے شروع کردیئے کہ وائسرائے کی اگزکٹو کونسل میں چودھری ظفراللہ خاں احمدی کے ممبر ہونے کے خلاف جلسہ انجمن میں رزلیوشن پاس کیا جائے۔ لیکن کارکنان انجمن مذکور اپنے اصول کے ماتحت اس سے انکاری رہے۔ حاضرین جلسہ )مسلمانوں( کا جم غفیر اس امر پر مصر تھا۔ ۲۲۔ اپریل کو بعد دوپہر مغرب تک جلسے میں یہی شور محشر رہا۔ آخرکار وہی جماعت مولوی ظفر علی خاں آف زمیندار کو لے آئی اور سٹیج پر تقریر کرا کر اپنے حسب منشاء رزولیوشن پاس کرالیا۔ کیا یہ رزولیوشن انجمن کا ہوگا یا پبلک کا اس کا فیصلہ انجمن کی روئداد کرے گی<۔۱۴
    اخبار >سیاست< )۱۴۔ مئی ۱۹۳۵ء( نے اس افسوسناک کارروائی کی ذمہ داری صدر انجمن حمایت اسلام علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب پر ڈالی اور یہ رائے دی کہ۔
    >علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال صاحب امت مرحومہ کے ایسے فرد ہیں جن کے وجود پر ہر مسلمان فخر و ناز کرسکتا ہے لیکن افسوس ہے کہ کچھ عرصہ سے احتیاج اور اس سے زیادہ حاشیہ نشینوں کے گمراہ مشورہ نے سر موصوف کو ایسے راستہ پر لگا دیا ہے جو ڈاکٹر کو کعبہ مفاد ملت کے خلاف لے جارہا ہے۔ آپ انجمن کے صدر ہیں۔ چاہئے یہ تھا کہ جلسہ انجمن کی بربادی سے آپ آزردہ خاطر ہوتے اور جن لوگوں نے یہ حماقت کی تھی ان کو ڈانٹ بتاتے اور یوں ملت مرحومہ پر واضح کردیتے کہ آپ احرار کی فتنہ آرائی کو معیوب سمجھتے ہیں اور آپ کو انجمن کی عزت کا لحاظ ہے۔ آپ سے خصوصاً یہ توقع اس وجہ سے بے جا نہ تھی کہ آپ بحیثیت صدر یہ کرسکتے تھے کہ احرار کی شرارتوں کے مظاہرہ اول کے بعد فی الفور انجمن کی کونسل کا جلسہ بلا کر ارکان انجمن سے کہہ دیتے کہ ہماری رائے میں احرار کا مطالبہ جائز ہے۔ آپ اس قسم کا ریزولیوشن قبول کرلیں اور خود پیش کردیں۔ یوں سر اقبال بہ یک وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی انجمن کی مناسب رہنمائی بھی کرتے اور فتنہ و فساد بھی بند ہوجاتا۔ لیکن افسوس ہے کہ علامہ اقبال نے اس جرات سے کام نہ لیا۔ اور منہ میں گھنگھنیاں ڈالے انجمن کی رسوائی کا تماشہ دیکھا کئے۔ جلسہ کے بعد جب یہ سوال پیش ہوا کہ مولانا ظفر علی صاحب کی تحریک پر جو قرارداد انجمن کے پلیٹ فارم سے چودھری ظفر اللہ خاں کے خلاف منظور ہوئی ہے۔ اس کی تائید یا تردید کی جائے تو ڈاکٹر صاحب نے پھر اپنی اخلاقی کمزوری کا مظاہرہ کیا اور دلیری سے یہ کہنا مناسب نہ جانا کہ احرار کی حرکت مناسب تھی یا غیر مناسب بلکہ خود خاموش رہنا پسند کیا اور ارکان انجمن کو خاموش رہنے کا مشورہ دیا۔ میں کہتا ہوں اور ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ علامہ اقبال کی شخصیت و اہمیت کے رہنما کا فرض تھا کہ وہ قوم کی علیٰ رئوس الاشہاد رہنمائی کرتا اور اگر احرار کی تحریک صحیح تھی تو اس کی تائید کرتا اور اگر معیوب تھی تو اس کی مخالفت کرتا لیکن علامہ اقبال نے ایسا نہ کیا<۔۱۵
    مجلس مشاورت میں حضرت امیر المومنینؓ کا احمدی نوجوانوں اور احمدی بچوں سے عہد لینا
    اس سال ۱۹` ۲۰` ۲۱۔ اپریل ۱۹۳۵ء کو قادیان میں مجلس مشاورت کا انعقاد ہوا۔ اس مجلس کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ حضرت امیرالمومنینؓ
    نے اپنی افتتاحی تقریر میں یہ وضاحت فرمائی کہ۔
    >اس وقت ہم جنگ کے میدان میں کھڑے ہیں اور جنگ کے میدان میں اگر سپاہی لڑتے لڑتے سو جائے تو مر جاتا ہے۔ ہمارے سامنے نہایت شاندار مثال ان صحابہ کی ہے جن کے مثیل ہونے کے ہم مدعی ہیں۔ ایک دفعہ رسول کریم~صل۱~ نے فرمایا` یہ جھنڈا وہ لے جو اس کا حق ادا کرے۔ ایک صحابی نے کہا یارسول اللہ~صل۱~ مجھے دیں۔ آپ نے اس کو دے دیا۔ جنگ میں جب اس کا ہاتھ کاٹا گیا جس سے اس نے جھنڈا تھاما ہوا تھا تو اس نے دوسرے ہاتھ سے تھام لیا اور جب دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا تو لاتوں میں لے لیا۔ اور جب ٹانگیں کاٹی گئیں تو منہ میں پکڑلیا۔ آخر جب اس کی گردن دشمن اڑانے لگا تو اس نے آواز دی۔ دیکھو مسلمانو اسلامی جھنڈے کی لاج رکھنا اور اسے گرنے نہ دینا۔ چنانچہ دوسرا صحابی آگیا۔ اور اس نے جھنڈا پکڑلیا۔ آج ہمارے جھنڈے کو گرانے کی بھی دشمن پوری کوشش کررہا ہے اور سارا زور لگارہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں جو جھنڈا دے گئے ہیں` اسے گرا دے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑے رہیں اور اگر ہاتھ کٹ جائیں تو پائوں میں پکڑلیں اور اگر اس فرض کی ادائیگی میں ایک کی جان چلی جائے تو دوسرا کھڑا ہوجائے اور اس جھنڈے کو پکڑلے۔ میں ان نمائندوں کو چھوڑ کر ان بچوں اور نوجوانوں سے جو اوپر بیٹھے سن رہے ہیں` کہتا ہوں۔ ممکن ہے یہ جنگ ہماری زندگی میں ختم نہ ہو گو اس وقت لوہے کی تلوار نہیں چل رہی۔ لیکن واقعات کی` زمانہ کی اور موت کی تلوار تو کھڑی ہے۔ ممکن ہے یہ چل جائے۔ تو کیا تم اس بات کے لئے تیار ہو کہ اس جھنڈے کو گرنے نہ دو گے؟ )اس پر سب نے بیک آواز لبیک کہا( ہمارے زمانہ کو خدا اور اس کے رسولوں نے آخری زمانہ قرار دیا ہے اس لئے ہماری قربانیاں بھی آخری ہونی چاہئیں۔ ہمیں خداتعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے چنا ہے۔ اور ہم خداتعالیٰ کی چنیدہ جماعت ہیں۔ ہمیں دنیا سے ممتاز اور علیحدہ رنگ میں رنگین ہونا چاہئے۔ صحابہؓ ہمارے ادب کی جگہ ہیں۔ مگر عشق میں رشک پیاروں سے بھی ہوتا ہے۔ پس ہمارا مقابلہ ان سے ہے جنہوں نے رسول کریم~صل۱~ کے دوش بدوش جنگیں کیں اور اپنی جانیں قربان کیں۔ ہم ان کی بے حد عزت کرتے اور توقیر کرتے ہیں۔ لیکن کوئی وجہ نہیں کہ ان کی قربانیوں پر رشک نہ کریں اور ان سے بڑھنے کی کوشش نہ کریں<۔10] p[۱۶
    دوسرا باب )فصل دوم(
    ڈاکٹر سرمحمد اقبال صاحب کا بیان جماعت احمدیہ کی نسبت
    سالانہ جلسہ انجمن حمایت اسلام کی ہنگامہ آرائی کے چند روز بعد ڈاکٹر سرمحمد اقبال صاحب نے ۳۔ مئی ۱۹۳۵ء کو ایک طویل بیان دیا جو اخبار >زمیندار< اور >احسان< میں شائع ہوا۔ اس بیان میں آپ نے مطالبہ کیا کہ حکومت جماعت احمدیہ کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے۔ اس عجیب و غریب مطالبہ کی معقولیت ثابت کرنے کے لئے مسئلہ ختم نبوت کی خود ساختہ۱۷ فلسفیانہ تشریح کا سہارا لیکر اپنا یہ خیال ظاہر کیا کہ۔
    >میرے نزدیک ۔۔۔۔۔۔۔ بہائیت قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے<۔۱۸
    نیز لکھا۔
    >ہندوستان میں حالات بہت غیرمعمولی ہیں۔ اس ملک کی بیشمار مذہبی جماعتوں کی بقاء اپنے استحکام کے ساتھ وابستہ ہے۔ کیونکہ جو مغربی قوم یہاں حکمران ہے اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ مذہب کے معاملہ میں عدم مداخلت سے کام لے۔ اس پالیسی نے ہندوستان ایسے ملک پر بدقسمتی سے بہت برا اثر ڈالا ہے جہاں تک اسلام کا تعلق ہے یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلم جماعت کا استحکام اس سے کہیں کم ہے جتنا حضرت مسیحؑکے زمانہ میں یہودی جماعت کا رومن کے ماتحت تھا۔ ہندوستان میں کوئی مذہبی سٹے باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کرسکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کرتی بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلا دے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں<۔۱۹
    اخبار >سیاست< کا اداریہ
    ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے اس بیان پر مسلم پنجاب کے مقتدر اور بااثر اخبار >سیاست< نے ۱۴` ۱۵۔ مئی ۱۹۳۵ء کی اشاعتوں میں حسب ذیل اداریہ لکھا۔
    >سراقبال اگر چاہتے تو جو زبان انہوں نے استعمال کی ہے اس سے بہتر زبان استعمال کرسکتے تھے۔ لیکن خیر یہ ان کے اختیار کی بات ہے کہ وہ اظہار جذبات میں اعتدال سے کام لیں یا نہ لیں` مجھے اور دوسرے مسلمانوں کو صرف یہ دیکھنا ہے کہ علامہ اقبال کا استدلال کہاں تک حق بجانب ہے۔
    علامہ ممدوح کے اس بیان میں ختم نبوت کے متعلق جو کچھ موجود ہے` سیاست اس کا موید ہے اور اس کو آب زر سے لکھنے کے قابل سمجھتا ہے۔ علامہ ممدوح نے اس بیان میں حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانیہ اور حضرت مھدی علیہ السلام کے ظہور کا انکار کیا ہے اور اس کو مجوسیوں یہودیوں اور نصرانیوں کا خیال ظاہر کرکے لکھا ہے کہ جاہل مولویوں نے ان عقائد کو اغیار سے لے کر عام کر دیا جس کی وجہ سے اسلام میں فتنے پیدا ہوچکے اور ہورہے ہیں۔ >سیاست< نے اس پر لکھا کہ اگر علامہ اقبال علمائے احناف وغیرہ کو بلاکر ان کے روبرو اپنا نظریہ پیش کریں اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہو جائے کہ نزول مسیح و ظہور مہدی محض ڈھکوسلہ ہی ڈھکوسلہ ہے تو اس سے تحریک قادیان کو اس قدر ضرر پہنچے گا کہ احرار کی فتنہ آرائی` افتراق پروری` نفاق انگیزی` چندہ بازی اور دشنام طرازی سے ہرگز نہیں پہنچ سکتا۔ تعجب ہے کہ سالہا سال سے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں جنگ عقائد جاری ہے۔ لیکن علامہ اقبال سے آج تک یہ بن نہیں پڑا کہ وہ ایک رسالہ یا مضمون لکھتے یا لیکچر ہی دے کر یہ کہتے کہ مسیح موعود و مہدی کی آمد کا خیال ہی شریعت حقہ سے بیگانہ ہے۔ لیکن اب بھی کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ میں علامہ اقبال سے بمنت عرض کروں گا کہ وہ ملت مرحومہ کے دل سے اس خیال باطل کو نکالنے کے لئے عملی تدابیر اختیار فرما کر عنداللہ ماجور و عند الناس مشکور ہوں۔
    علامہ اقبال نے اپنی تحریر زیر بحث میں حکومت پر مرزائیت نوازی کا الزام لگایا ہے۔ >سیاست< حکومت سے مطالبہ کرچکا ہے اور اس مطالبہ کی اب تجدید کرتا ہے کہ وہ اس خیال کی تردید یا تصدیق کرے اس لئے کہ علامہ ممدوح کی اعلیٰ حیثیت کے مسلمان کی طرف سے ایسا الزام لگنے کے بعد حکومت کی خاموشی مجرمانہ ہوگی۔ علامہ ممدوح نے اپنے بیان میں رائج الوقت آزادی عقائد کو مضر بتایا ہے۔ لہذا >سیاست< نے آپ سے بہ ادب التجا کی ہے کہ آپ براہ نوازش فرمائیں کہ آپ انگریزوں سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ آزادی عقائد پر کون کونسی پابندیاں عقائد کریں تاکہ مرزائی فرقہ کی طرح کے مختلف گروہ پیدا ہی نہ ہوسکیں۔ تاہم >سیاست< نے بہ ادب علامہ اقبال کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا تھا کہ چکڑالوی اور مرزائی فرقہ کے علاوہ ملت میں جس قدر فرقے نمودار ہوئے وہ سب ہندوستان سے اور انگریزوں کی حکومت کے حلقہ اثر سے باہر پیدا ہوئے لہذا حکومت حاضرہ کی روش کو افتراق بین المسلمین کا سبب قرار دینا کچھ صحیح نظر نہیں آتا۔
    علامہ اقبال نے اس بیان میں احرار کی موجودہ شرارت کے جواز کی دلیل یہ پیش کی ہے کہ ختم نبوت سے انکار کی وجہ سے مسلمانوں میں جو اختلاف پیدا ہوا ہے یہ ہر پہلے اختلاف سے بدتر ہے اگرچہ شیعہ اور سنی` حنفی اور وہابی اور دوسرے ایسے جھگڑوں کے متعلق ڈاکٹر صاحب کی رائے سے مجھے اختلاف ہے اور میں آپ سے عرض کرسکتا ہوں کہ شیعہ اور سنی اور حنفی اور وہابی اس طرح یکجا نماز نہیں پڑھتے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات ازدواج قائم نہیں کرتے جیسے احمدی اور غیر احمدی۔ تاہم اس دلیل کو ترک کرکے میں علامہ ممدوح سے استصواب کرنے کی جرات کرتا ہوں کہ کیوں چودھری ظفراللہ خاں کے تقرر کے بعد ان کی محبت ختم رسل )فداہ ابی و امی( میں جوش آیا اور کیوں اس سے پہلے وہ اس میدان میں نہ اترے حالانکہ اس فتنہ کی عمر کشمیر کمیٹی اور چودھری صاحب کے تقرر سے کوئی تیس سال کے قریب زیادہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ چودھری صاحب کے رکن پنجاب کونسل منتخب ہونے کے وقت یا ان کے سائمن کمیٹی کا ممبر منتخب ہونے پر یا ان کے اول مرتبہ سر فضل حسین کی جگہ مقرر ہونے پر یا مرزائیوں کی متعدد دیگر تحریکات کے زمانہ میں آپ نے اس گروہ کے خلاف علم جہاد بلند نہ کیا؟
    علامہ اقبال کا مطالعہ بہت وسیع ہے وہ مرزائیوں کی سیاسی مخالفت کے جواز میں اتحاد ملت کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ اگر بالفرض اس بات سے قطع نظر بھی کرلی جائے کہ احمدیوں کے سیاسی لحاظ سے علیحدہ ہونے کے بعد پنجاب کی وہ مسلم اکثریت جس کے لئے ہم گزشتہ دس سال سے لڑرہے ہیں برباد ہو جائے گی اور اس کے بعد شیعہ علیحدہ نیابت کے اس مطالبہ کو جو وہ گزشتہ پانچ سال سے پیش کررہے ہیں` زیادہ قوت سے پیش کرکے ملت کی صف میں مزید انتشار کا باعث ہوجائیں گے۔ میں علامہ ممدوح سے یہ پوچھنے کی جرات کرتا ہوں کہ وہ تاریخ عالم میں سے مجھے ایک مثال ایسی بتا دیں جس سے یہ ثابت ہوکہ جب کسی امت میں ایک دفعہ عقیدہ کا اختلاف پیدا ہوچکا ہو تو پھر وہ تبلیغ یا بحث یا مقاطعہ یا مجادلہ یا تشدد سے مٹ گیا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس کی ایک مثال بھی پیش نہیں کرسکیں گے۔ بلکہ دنیا جانتی ہے کہ بدھ مت والوں اور برہمنوں نے ہندوستان میں اور رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ عیسائیوں نے یورپ میں اور خوارج اور شیعہ اور سنی مسلمانوں نے شام` عراق اور عرب میں اختلاف عقائد کی وجہ سے ایک دوسرے کو قتل کرنے` برباد کرنے اور زندہ جلا دینے کے بعد اگر کسی اصول پر صلح کی تو وہ اصول یہی تھا کہ انہوں نے اختلاف عقاید کو گوارا کرلیا۔ اگر تاریخ کا یہ سبق ناقابل انکار ہے تو کیا یہ حقیقت اندوہناک نہیں کہ علامہ اقبال کا سا بلند پایہ مسلمان ملت کو مجادلہ مقاطعہ کا سبق دیتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ اختلاف عقیدہ کو بحث و مباحثہ کے لئے ترک کرکے سیاسی لحاظ سے متحد ہوجائو۔ اور لطف یہ کہ علامہ ممدوح مسلمانوں کو افتراق کی دعوت دیتے ہوئے خود مرزائیوں سے سیاسی طور پر اتحاد پیدا کررہے ہیں۔ چونکہ مقالہ امروزہ طویل ہوگیا ہے لہذا میں اس بحث کو اشاعت فردا میں مکمل کروں گا۔ و باللہ التوفیق<۲۰
    اخبار >سیاست< نے اپنے دوسرے اداریہ میں لکھا کہ۔
    >مجھے اس حقیقت کو الم نشرع کرنا ہے کہ جہاں تک مرزائیوں کی تکفیر کا تعلق ہے کوئی غیر مرزائی مسلمان ایسا نہیں جو علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال سے متفق نہ ہو۔ میں اپنی کتاب >تحریک قادیان< میں صاف لکھ چکا ہوں اور مقدمہ گورداسپور میں مرزائی جماعت کے موجودہ خلیفہ صاحب نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ غیر مرزائی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور شرع اسلام کی وجہ سے جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے وہ خود کافر ہوتا ہے۔ لہذا مرزائی جماعت کے کافر ہونے میں نہ کوئی شک ہوسکتا ہے اور نہ شبہ اور نہ کوئی شک و شبہ موجود ہی ہے۔ اور اس معاملہ میں مجھے ڈاکٹر صاحب کی ہمنوائی کا فخر حاصل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس تکفیر کا مسلمانوں کے باہمی تمدنی معاشرتی اور اخلاقی تعلقات پر کیا اثر ہونا چاہئے۔ کیا ہمیں مرزائیوں سے وہی سلوک کرنا چاہئے جو ہم عیسائیوں اور ہندوئوں اور سکھوں سے کرتے ہیں یا مرزائی اور عام مسلمانوں میں جو قضیہ تکفیر موجود ہے اس کو وہی حیثیت دینا چاہئے جو شیعہ` سنی` حنفی` وہابی` مقلد` غیر مقلد` بریلوی` بدایونی` دیوبندی اور چکڑالوی وغیرہ کے باہمی شغل تکفیر کو حاصل ہے۔ علامہ اقبال احرار کی موجودہ فتنہ پروری کی آج حمایت کررہے ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں۔ مرزائیت کم و بیش گزشتہ تیس سال سے موجود ہے اور اس طویل عرصہ میں ~}~
    ہر کہ رمز مصطفیٰ فہمیدہ است
    شرک را در خوف مضمر دیدہ است
    کا نعرہ لگانے والے علامہ اقبال کا طرز عمل وہی رہا ہے جس کی تائید و حمایت کی وجہ سے آج میرے ایسے مسلمان مورد طعن ہورہے ہیں۔ کوئی عطاء اللہ شاہ بخاری` کوئی حبیب الرحمن` کوئی افضل حق یا کوئی مظہر علی اگر اس روش کے حامیوں کو مرزائی کہدے یا اگر ایسا نہ کرسکے تو وظیفہ خوار قادیان کہہ کر بدنام کرے تو وہ قابل معافی ہے اس لئے کہ اسے روٹی کما کر کھانا ہے۔ اس کی ہردلعزیزی کا اساس عوام کی گمراہی ہے۔ وہ رسوائی کو شہرت سمجھ کر اس پر مرتا ہے اور اس کی تعلیم اور اس کا اخلاق بلند نہیں۔ لیکن علامہ اقبال کی شخصیت` علمیت` ہردلعزیزی` شرافت` نجابت` قابلیت اور بلند اخلاق و شہرت کا حامل اگر وہ بات کہے جو ملت کے لئے برباد کن ہو تو یقیناً ہمیں حق حاصل ہوتا ہے کہ ہم ملت کے مستقبل کا ماتم کریں اور نوحہ کریں کہ جن سے امید ہدایت تھی وہی ملت کو گمراہ کرکے تباہی و بربادی کی طرف لے جارہے ہیں۔
    یہ حقیقت کہ تیس سال کی طویل میعاد تک علامہ اقبال کا مسلک مرزائیوں کے متعلق وہی رہا جو آج ہم نے اختیار کررکھا ہے` ناقابل انکار ہے۔ علامہ صاحب نے آج سے پہلے کبھی یہ اعلان نہیں کیا۔ کہ مرزائی ختم نبوت کے دشمن ہیں لہذا یا معاشر المسلمین تم ان سے آگاہ رہو بلکہ اس کے برعکس سیاسی` علمی` تمدنی اور معاشرتی مجالس میں ان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر یعقوب بیگ اور علامہ اقبال یکساں بطور مسلمان انجمن حمایت اسلام کے رکن رہے اور علامہ نے کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ مسلم لیگ و مسلم کانفرنس میں چودھری ظفر اللہ خاں اور علامہ اقبال یکساں بطور مسلمان ممبر بنے رہے۔ علامہ صاحب نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ چودھری صاحب مسلم لیگ کے صدر ہوئے۔ عوام میں سے بعض نے اعتراض بھی کیا۔ علامہ صاحب نے نہ صرف کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ معترضین کی تائید بھی نہیں کی اور خود چودھری صاحب کے ماتحت لیگ کے ممبر بنے رہے۔ علامہ ممدوح لیگ اور کانفرنس کے صدر رہے لیکن آپ نے کبھی اس بات پر اعتراض نہیں کیا کہ ان مجالس میں قادیانی بھی بطور مسلمان شامل ہوتے ہیں۔ قادیان سے ان جماعتوں کو علامہ صاحب کی صدارت میں مالی امداد ملی مگر علامہ صاحب نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ پنجاب کونسل میں چودھری ظفراللہ خاں اور علامہ اقبال دونوں مسلمانوں کے نمائندوں کی حیثیت سے پہلو بہ پہلو کام کرتے رہے اور سائمن کمیٹی کے لئے جب چودھری صاحب کو بطور مسلمان ممبر منتخب کیا گیا تو علامہ صاحب نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اور انتہا یہ ہے کہ جب حکومت نے گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کی نیابت کے لئے علامہ اقبال اور چودھری ظفراللہ خاں صاحب کو بہ حیثیت مسلمان چنا تو نہ صرف علامہ اقبال نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ وہ لندن میں چودھری صاحب کے دوش بدوش کام کرتے رہے۔ حال ہی میں چودھری صاحب کے بھائی مسلمانان سیالکوٹ کی طرف سے کونسل کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ سیالکوٹ علامہ اقبال کا وطن ہے لیکن علامہ ممدوح نے ہرگز کوئی سعی اس بات کی نہیں کہ کی وہاں کے مسلمان اسداللہ خاں جیسے غیر مسلم کو اپنا نمائندہ منتخب نہ کریں۔
    لیکن شاید کہا جائے کہ گزشتہ راصلٰوۃ آئندہ را احتیاط` جو کچھ ہوا وہ غلط تھا۔ آئندہ علامہ صاحب ایسا نہ کریں گے۔ اول تو ممدوح کی حیثیت کے بلند فرد کے متعلق یہ عذر ہرگز عذر معقول نہیں کہلا سکتا۔ تاہم اگر بغرض دلیل اس کو صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تو علامہ اقبال کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ حال ہی میں لندن میں جوبلی کے موقعہ پر جو جماعت اس غرض سے قائم ہوئی ہے کہ برطانیہ اور دنیائے اسلام کے تعلقات بہتر ہوتے چلے جائیں اس میں علامہ اقبال اور چودھری ظفر اللہ خاں دونوں بطور مسلمان شامل ہیں۔ یہ لیگ کی خبر رائٹر نے دس مئی کو دی اور وہ گیارہ مئی کے اخبارات میں شائع ¶ہوئی۔ اس کے ممبر یا برطانیہ کے لارڈ ہوسکتے ہیں اور یا مسلمان۔ کوئی غیر مسلم غیر انگریز اس کا رکن نہیں ہوسکتا۔ اس میں جو لوگ بحیثیت مسلمان شامل ہیں ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔
    )۱( سر آغا خاں )شیعہ( )۲( امیرعبداللہ والی شرق اردن )سنی( )۳( سابق ولی عہد ایران )شیعہ( )۴( نواب چھتاری )حنفی( )۵( سرعزیز الدین احمد )سنی( )۶( سر محمد اقبال )سنی( )۷( سر عبدالصمد خاں )شیعہ( )۸( چودھری ظفراللہ خاں )قادیانی( )۹( سرسلطان احمد )شیعہ( )۱۰( سرعبدالقادر )سنی( )۱۱( حاجی عبداللہ ہارون )آغا خانی( )۱۲( سرحشمت اللہ )سنی( )۱۳( نواب لوہارو )سنی( )۱۴( حاجی علی رضا )سنی(
    سوال یہ ہے کہ اس انجمن میں چودھری ظفراللہ خاں کس حیثیت سے شامل ہوئے؟ وہ انگریز ہونے کے مدعی نہیں ہیں کہ انگریز ہوسکتے ہیں نہ انگریز ہیں اور اس انجمن میں کوئی شخص جو انگریز نہ ہو شامل ہو نہیں سکتا جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو۔ چودھری صاحب اگر مسلمان نہیں ہیں تو علامہ صاحب نے ان کے ساتھ ممبر بننا کیوں قبول کیا۔ اور اگر آپ ناواقفیت کا عذر بنائیں تو آپ دس مئی سے لے کر آج تک اس جماعت سے علیحدہ کیوں نہیں ہوگئے۔ میں کہتا ہوں کہ چودھری صاحب کی معیت میں اس جماعت کی رکنیت قبول کرکے علامہ صاحب نے تسلیم کرلیا ہے کہ باہمی نزاع تکفیر کے باوجود جس طرح عام مفاد ملت کی خاطر سنی` شیعہ` حنفی` وہابی` بریلوی` دیوبندی مل کر کام کرنے پر تیار ہیں۔ اسی طرح مرزائی اور غیر مرزائی مسلمان بھی اتحاد عمل پر آمادہ ہیں اور یہی وہ بات ہے جو ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان قبول کریں اور اپنا اصول عمل بنائیں۔
    علامہ صاحب سے تکفیر مرزائیت میں اتفاق کرنے کے بعد میں ایک عرض کرنا چاہتا ہوں۔ جہلاء خود غرض اشخاص اس دلیل کو رد کردیں تو اور بات ہے۔ مگر مجھے امید ہے کہ علامہ صاحب کی علمیت کا سچا مسلمان اس دلیل پر غور کرے گا۔ میرا استدلال یہ ہے کہ نبوت کو لاکھ بڑھائیں۔ پھر بھی توحید باری سے بالاتر نہیں لے جاسکتے۔ اگر ایسا کریں تو اللہ تعالیٰ کی توحید کے علمبردار اول جناب محمد مصطفیٰﷺ~ فداہ ابی و امی ہم سے خفا ہو جائیں گے اور اگر توحید رسالت سے بالاتر ہے تو علامہ اقبال خدائی کے دعویدار آغا خاں کے ساتھ اتحاد عمل کرتے ہوئے کس طرح مرزائیوں سے اتحاد عمل کو ناروا اقرار دے سکتے ہیں<۔۲۱
    روزنامہ >حق< لکھنو کا ادارتی نوٹ
    اخبار >سیاست< کے علاوہ روزنامہ >حق< )لکھنو( نے ۲۷۔ جون ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں حسب ذیل لیڈنگ آرٹیکل شائع کیا۔
    فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
    کیا زمانہ میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
    ‏tav.8.12
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    شیخ احمد فرقانی کی شہادت سے سالانہ جلسہ ۱۹۳۵ء تک
    مسلمانوں کا مایہ صدناز شاعر اب سے کچھ دن قبل مسلمانوں کا نیر اقبال بن کر مطلع پنجاب پر چمکا اور مسلمانوں کو جو تعلیم دی وہ شعر مندرجہ عنوان میں پیش کی گئی ہے۔ وہی اقبال جو فرقہ بندی کو مہلک اور ذات پات کے امتیاز کو موت سمجھتا تھا` آج کچھ اور کہہ رہا ہے۔ ایک طرف اس کا مندرجہ بالا شعر ہے اور دوسری طرف اس کا وہ بیان جو حال ہی میں اس نے جماعت احمدیہ قادیان کے متعلق اخبارات کو دیا ہے۔ ان دنوں پیغاموں میں جو اجتماع ضدین ہے اس کو دیکھ کر ہم حیران ہیں کہ اس شعر کہنے والے اقبال کو اقبال سمجھیں یا اس بیان دینے والے اقبال کو اقبال۔ شاعر اقبال نے اپنے شعر میں ہم کو پنپنے کے لئے فرقہ بندی اور ذات پات کے امتیاز سے مجتنب رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اور اب لیڈر اقبال نے ہم کو یہ سیاسی مشورہ دیا ہے کہ ہم قادیان کی جماعت احمدیہ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں اور حکومت پر زور ڈالیں کہ وہ قانونی حیثیت سے بھی احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھے۔
    ہم کو ڈاکٹر سر محمد اقبال سے اس حد تک پورا پورا اتفاق ہے کہ عام مسلمانوں اور احمدیوں میں اعتقادات کا بہت بڑا اختلاف ہے اور اگر اس اختلاف کو شدت پسندی کی نظر سے دیکھا جائے تو بعض صورتوں میں مذہبی اعتبار سے احمدی جماعت اور عام مسلمانوں کے درمیان اتحاد عمل ناممکن سا نظر آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ احمدیوں کو قطع نظر کرکے کیا اسی قسم کے اختلاف اہل سنت اور اہل تشیع میں کارفرما نہیں ہے؟ کیا یہی تضاد اہلسنت کی مختلف العقیدہ جماعتوں میں نہیں ہے۔ وہابی اور حنفی` بریلوی اور دیوبندی` اسی طرح مختلف اسکول ہر ہر جماعت میں موجود ہیں۔ ان میں کی ہر شاخ دوسری شاخ کو اپنے نقطہ نظر سے مرتد اور کافر گردانتی ہے اور بقول مدبرین فرنگ کے یہ تو مسلمانوں کا ایک عام مشغلہ ہے کہ ان میں کا ہرفرد دوسرے کو نہایت آسانی کے ساتھ کافر کہہ دیتا ہے۔ خیر یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کون مومن ہے اور کون کافر۔ لیکن اس تمام اختلاف کو دیکھتے ہوئے سب سے زیادہ محفوظ صورت یہی ہے کہ ہم ہرکلمہ گو کو مسلمان سمجھیں جو خدا کو ایک اور محمد رسول اللہ~صل۱~ کو اس کا محبوب اور رسول سمجھتا ہو۔ اگر مسلمان کی تعریف صرف یہی تسلیم کرلی جائے تو جس طرح ایک حنفی کو` ایک وہابی کو` ایک مقلد کو` ایک غیرمقلد کو` ایک دیوبندی کو اور ایک بریلوی کو مسلمان کہا جاسکتا ہے اسی طرح احمدیوں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اور کسی کو غیر مسلم کہنے کا ہم کو حق ہی کیا ہے جب وہ خود اس پر مصر ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔ اگر ہم اس کو مسلمان نہ بھی سمجھیں تو ہمارے اس نہ سمجھنے سے کیا ہوسکتا ہے اس کا مذہب خود اس کے قول سے تسلیم کیا جائے گا۔
    بہرحال ہم اس تمام بحث کو ان کے دلائل کے ساتھ پیش کرنے کی بجائے اس کے محض سیاسی پہلو کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے یہ کتر و بیونت کس حد تک مفید یا مضرت رساں ہے۔ ہماری ملکی سیاسیات کا موجودہ دور وہ اہم اور نازک دور ہے کہ ہر جماعت خواہ وہ اکثریت میں ہو یا اقلیت میں` اپنی شیرازہ بندی اپنی تنظیم اور اپنے تحفظ کی فکر میں ہمہ تن مصروف ہے۔ ہندو ہیں کہ اچھوتوں کو اپنے میں ملانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اچھوت ان میں سے نہیں۔ ان کو اس کا بھی احساس ہے کہ اچھوتوں سے ملنا دھرم کو مٹی میں ملانا ہے۔ مگر آج ضرورت نے اسی حرام کو حلال کردیا ہے اور وہ اچھوت جن کا سایہ تک ناپاک سمجھا جاتا تھا اور جن کو دیکھ کر ایک کراہت سی ہوتی تھی آج ہندوئوں کی سرآنکھوں پر جگہ پارہے ہیں۔ اور وہی ہندو جوان ناپاک اچھوتوں کو دیکھ کر حقارت اور تنفر کے ساتھ >چھی چھی چھی< کہا کرتے تھے` آج ان کو اپنے سر چڑھا رہے ہیں۔ ان کو اپنی برادریوں میں برابر کی جگہ دے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کھارہے ہیں۔ ان سے >روٹی بٹی< کے تعلقات پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ حالانکہ ان کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بغیر اچھوتوں کو ملائے ہوئے اکثریت میں ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے اس فرض سے غافل نہیں ہیں کہ اگر اس وقت انہوں نے اچھوتوں کو چھوڑ دیا تو ممکن ہے کہ ان کو مسلمان یا کوئی اور اقلیت اپنا لے اور ان کو ملا کر اکثریت بن جائے۔ ایک طرف تو یہ احتیاط ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی یہ لاپروائی بلکہ سیاسی بدبختی ہے کہ ان میں بجائے تنظیم کے ایک پھوٹ پڑی ہوئی ہے۔ عام مسلمانوں کا کیا سوال جبکہ مسلمانوں کے لیڈران کو باہمی تفرقہ سازی کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ ~}~
    گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا
    کار طفلاں تمام خواہد شد
    احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھنے اور قانونی حیثیت سے ان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیئے جانے کی تحریک ہی کو دیکھ لیجئے کہ یہ سیاسی اعتبار سے کس قدر ناسمجھی` عاقبت نااندیشی اور تدبر کے منافی تحریک ہے۔ اور اسی تحریک سے مسلمانوں کے سیاسی فقدان کا پتہ چلتا ہے۔ یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ احمدیوں کو اپنے سے علیحدہ نہ کرکے ہم بہرحال کسی نقصان میں نہیں بلکہ فائدے میں ہیں۔
    اول تو ہماری تعداد بڑھی ہوئی ہے۔ دوسرے ان کے ووٹروں سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تیسرے سب سے بڑی بات یہ کہ اس کا فیصلہ بالکل ہماری مرضی پر ہے کہ ہم کسی احمدی کو کسی مجلس قانون ساز میں منتخب ہونے دیں یا نہ ہونے دیں۔ لیکن احمدیوں کو اپنے حلقہ سے جدا کرنے کے بعد ہم کو سب سے پہلا نقصان تو یہ پہنچے گا کہ ہماری جماعت کا ایک عنصر گویا ہم سے علیحدہ ہوگیا۔ ہماری اقلیت اور بھی اقل ہوکر رہ جائے گی۔ اور گویا ہم خود اپنے ووٹروں کو اپنے ہاتھ سے دیں گے۔ اس کے علاوہ احمدیوں کے علیحدہ ہو جانے کے بعد ان کی نشستیں بالکل علیحدہ ہوجائیں گی اور وہ مجالس قانون ساز میں بغیر روک ٹوک کے جاسکیں گے۔ آج اگر وہ جانا چاہیں تو ان کو آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی لیکن علیحدگی کی صورت میں وہ بلاشرکت غیرے اپنی نشستوں کے مالک ہوں گے۔ اور ان کو مجالس قانون ساز میں جانے سے کوئی بھی نہ روک سکے گا۔ صرف پنجاب ہی کے صوبہ کو لے لیجئے جہاں سے یہ تحریک اٹھی ہے اور اس کے بعد اندازہ کیجئے کہ یہ تحریک کس قدر بے محل اور غلط ہے۔ پنجاب میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے مسلم اکثریت ہے اور مسلمانوں نے حکومت کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ پنجاب کی مسلم اکثریت کو آئینی طور پر تسلیم کرے۔ چنانچہ حکومت نے ایک نشست کی زیادتی سے مسلم اکثریت تسلیم کرلی ہے۔ ہندو اور سکھ متفقہ طور پر مسلم اکثریت قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ چنانچہ راجندر پرشاد اور مسٹر جناح کی گفتگوئے مصالحت بھی ہندوئوں اور سکھوں کی طرف سے اسی بناء پر بیکار قرار دی گئی اور اس سمجھوتہ کو اسی وجہ سے مسترد کیا گیا۔ لیکن اب مسلمانوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ احمدیوں کو ان سے علیحدہ کرکے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ پنجاب کے مسلمان جو ۵۶ فیصدی ہیں۔ صرف اسی صورت میں اکثریت کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ جب احمدی بھی ان میں شامل رہیں ورنہ دس فیصدی پنجاب کے احمدی اگر نکل گئے تو مسلمان صرف ۴۶ فیصدی رہ جاتے ہیں اور پھر سکھ` ہندو اور احمدی مل کر اکثریت میں آجاتے ہیں۔
    ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کیا مسلمان اپنے پیر پر خود کلہاڑی نہیں مار رہے ہیں کہ اچھے خاصے اکثریت میں ہوتے ہوئے اپنے کو اقلیت میں ڈال رہے ہیں اور اپنی اس کوشش پر خود ہی پانی پھیر رہے ہیں جو سالہا سال سے جاری تھی۔ حکومت نے جدید اصلاحات کے ماتحت ۵۱ نشستیں مسلمانوں کی رکھی ہیں۔ ان میں سے دو نشستیں احمدیوں کو ضرور مل جائیں گی اور کسی وقت ان کی جماعت کا وزیر ہوجانا بھی بعید از امکان نہیں ہے گویا اس طرح احمدی تو نہایت فائدہ میں رہیں گے۔ البتہ اگر نقصان پہنچے گا تو ان کو ہی جو آج اپنے لئے یہ تباہی کے سامان مہیا کررہے ہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ احمدیوں اور عام مسلمانوں میں مذہبی طور پر اتحاد عمل ناممکن ہے۔ لیکن سیاسی طور` جس طرح ایک حنفی` ایک شیعہ کو انگیز کرسکتا ہے۔ جس طرح ایک دیوبندی ایک بریلوی کو برداشت کرسکتا ہے کیا احمدی جماعت سے سیاسی تعلقات بھی اسی طرح نہیں رہ سکتے؟ ہم کو امید ہے کہ مسلمان اس تحریک پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے۔۲۲
    حضرت امیر المومنینؓ کا بصیرت افروز تبصرہ )خطبہ جمعہ میں(
    سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے حیرت انگیز بیان پر ۲۴۔ مئی ۱۹۳۵ء کے خطبہ جمعہ میں نہایت بصیرت
    افروز تبصرہ کیا۔ چنانچہ حضور نے فرمایا۔
    >ڈاکٹر سر اقبال کا بیان ۔۔۔۔۔۔۔ پڑھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی۔ کیونکہ یہ وہی ہیں جنہوں نے ۱۹۳۱ء میں جب کشمیر کمیٹی کا آغاز ہوا` شملہ میں زور دے کر مجھے اس کمیٹی کا پریذیڈنٹ مقرر کیا جو کشمیریوں کی آئینی امداد کے لئے قائم کی گئی تھی۔ حالانکہ وہ خالص اسلامی کام تھا۔
    پس اس وقت تو ہم مسلمان تھے۔ لیکن آج کہا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ اسلامی جماعت ہی نہیں۔ اگر جماعت احمدیہ اسلامی جماعت نہیں تو کیوں ۱۹۳۱ء میں سراقبال نے زور دے کر مجھے ایک اسلامی کمیٹی کا پریذیڈنٹ مقرر کیا۔ کیا ۱۹۳۱ء میں مجھے پریذیڈنٹ بنانے والے انگریزوں کے ایجنٹ تھے جو آج کہا جاتا ہے کہ انگریزوں کی حمایت کی وجہ سے یہ سلسلہ ترقی کررہا ہے؟
    اس وقت میری پریذیڈنٹی پر زور دیتے والے دو ہی شخص تھے` ایک خواجہ حسن نظامی صاحب اور دوسرے ڈاکٹر سراقبال۔ خواجہ صاحب تو اس موقع پر ہماری جماعت کے خلاف بولے نہیں۔ اس لئے ان کے متعلق میں کچھ نہیں کہتا۔ لیکن ڈاکٹر سر اقبال چونکہ ہمارے خلاف بیان دے چکے ہیں اس لئے ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ ۱۹۳۱ء میں انہوں نے کیوں ایک اسلامی کمیٹی کا مجھے پریذیڈنٹ بنایا؟ اب کہا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو عام مسلمانوں میں اثر و اقتدار کشمیر کمیٹی میں کام کرنے کی وجہ سے ہی حاصل ہوا۔ حالانکہ اس کمیٹی کی صدارت ڈاکٹر صاحب کے زور دینے کی وجہ سے مجھے ملی۔
    پس کیوں ۱۹۳۱ء میں انہوں نے احمدیوں کو مسلمان سمجھا؟ اور کیوں اب آکر انہیں محسوس ہوا کہ جماعت احمدیہ کو مسلمانوں میں سے الگ کر دینا چاہئے؟ یا تو انہیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ اس وقت ہماری حمایت کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے وہ روپے لے کر آئے تھے جو ان کی جیب میں اچھل رہے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ احمدیوں کو مسلمانوں میں شامل کرکے ان کی طاقت کو توڑ دیں اور یا یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ اس وقت احمدیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور اب جوکہہ رہے ہیں کہ انگریزوں نے احمدیوں کو طاقت دی تو غلط کہہ رہے ہیں۔ آخر ہمارے عقائد بدلے تو نہیں کہ ڈاکٹر سر اقبال کو اپنی رائے بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ بلکہ وہی عقائد ہم اب رکھتے ہیں جو ۱۹۳۱ء میں اور اس سے پہلے تھے۔ مگر ۱۹۳۱ء میں تو ہم ڈاکٹر سراقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیڈر` ان کے نمائندہ اور ان کے راہ نما ہوسکتے تھے اور ڈاکٹر اقبال میری صدارت پر زور دے سکتے اور میری صدارت میں کام کرسکتے تھے۔ لیکن اب ہمیں سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رکھنے تک کے لئے تیار نہیں۔ ۱۹۳۱ء میں تو ہمارے اسلام کا ڈاکٹر اقبال صاحب کو یہاں تک یقین تھا کہ جب یہ سوال پیش ہوا کہ وہ کمیٹی جو انتظام کے لئے بنائی جائے گی اس کے کچھ اور ممبر بھی ہونے چاہئیں اور ممبروں کے انتخاب کے متعلق بعض قواعد وضع کرلینے چاہئیں تو ڈاکٹر سر اقبال نے کہا کوئی قوانین بنانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صدر صاحب پر پورا پور اعتماد ہے۔ اور ہمیں چاہئے کہ ہم ممبروں کے انتخاب کا معاملہ ان کی مرضی پر چھوڑ دیں۔ وہ جسے چاہیں رکھیں جسے چاہیں نہ رکھیں۔
    پھر ہنس کر کہا میں تو نہیں کہتا لیکن اگر سارے ممبر آپ نے احمدی ہی رکھ لئے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اعتراض کریں گے کہ ان لوگوں نے کمیٹی کے تمام ممبر احمدی بنالئے۔ اس لئے آپ ممبر بناتے وقت احتیاط کریں اور کچھ دوسرے مسلمانوں میں سے بھی لے لیں اور سارے ممبر احمدی نہ بنائیں۔ لیکن آج سر اقبال کو یہ نظر آتا ہے کہ احمدی مسلمان۲۳ ہی نہیں حالانکہ اس عرصہ میں کوئی نئی بات ہمارے اندر پیدا نہیں ہوئی۔
    پھر مجھے تعجب ہے کہ ہماری مخالفت میں اس حد تک یہ لوگ بڑھ گئے ہیں کہ ڈاکٹر سر اقبال جیسے انسان جو مسلمانوں کی ایک جماعت کے لیڈر` فلاسفر` شاعر اور نہایت عقلمند انسان سمجھے جاتے ہیں۔ انگریزی حکومت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے احمدیوں کو کیوں پنپنے دیا؟ شروع میں ہی اس تحریک کو کیوں کچل نہ دیا؟ کیونکہ ان کے نزدیک اگر نئی تحریکات کا مقابلہ نہ کیا جائے تو اس طرح اکثریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ پس ان کے نزدیک حکومت کا فرض تھا کہ احمدیت کو کچل دیتی۔ بلکہ انہیں شکوہ ہے کہ انگریزوں نے تو اتنی بھی عقلمندی نہ دکھائی جتنی روما کی حکومت نے حضرت مسیح ناصری کے وقت میں دکھائی تھی۔ انہوں نے اتنا تو کیا کہ حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکا دیا۔ گو یہ دوسری بات ہے کہ خدا نے اپنے فضل سے انہیں بچالیا۔
    اس فقرہ کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ رومی حکومت نے جب حضرت مسیح ناصریؑ کو صلیب پر لٹکایا تو اس نے ایک جائز` مستحسن اور قابل تعریف فعل کیا اور اچھا کیا جو یہودیوں کے شوروغوغا کو سنکر عیسائیت کے بانی پر ہاتھ اٹھایا۔
    یا تو ان لوگوں کو اتنا غصہ آتا ہے کہ اگر ہم حضرت مسیح ناصری کو وفات یافتہ کہہ دیں تو ان کے تن بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے یا اب احمدیت کی مخالفت میں عقل اس قدر ماری گئی ہے کہ کہا جاتا ہے حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکانے کا فعل جو رومیوں نے کیا وہ بہت اچھا تھا گو پورا اچھا کام نہیں کیا کیونکہ وہ بچ رہے۔ ان کا فرض تھا کہ اگر حضرت مسیح ناصری آسمان پر چلے گئے تھے تو رومی انہیں آسمان سے کھینچ لاتے اور اگر کشمیر چلے گئے تھے تو وہاں سے پکڑ لاتے اور ان کے سلسلہ کا خاتمہ کردیتے۔ تاکہ یہود کے اتحاد ملت میں فرق نہ آتا۔ مگر انگریزوں سے تو بہرحال وہ زیادہ عقلمند تھے کہ انہوں نے اپنی طرف سے انہیں صلیب پر لٹکا دیا اور اب ڈاکٹر سر اقبال کو شکوہ ہے کہ انگریزوں نے اتنی جرات بھی نہ دکھائی اور بناوٹی طور پر بھی حضرت مرزا صاحب کو سزا نہ دی۔۲۴
    یہ بیان ہے جو ڈاکٹر سر اقبال نے دیا اور مسلمان خوش ہیں کہ کیا اچھا بیان ہے۔ حالانکہ اس فقرہ کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہوسکتے کہ جیسے رومیوں نے حضرت مسیح ناصریؑ سے سلوک کیا تھا ویسا ہی سلوک انگریزوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کرنا چاہئے تھا۔ اگر اس فقرہ سے ہزاروں حصہ کم بھی کسی احمدی کے منہ سے نکل جاتا تو ایک طوفان مخالفت برپا ہوجاتا اور احراری شور مچانے لگ جاتے کہ مسیح ناصریؑ کی توہین کر دی گئی لیکن اب چونکہ یہ الفاظ اس شخص نے کہے ہیں جو ان کا لیڈر ہے اس لئے اگر وہ رومیوں کے مظالم کی تعریف بھی کرجائیں تو کہا جاتا ہے واہ وا! کیا خوب بات کہی!! احمدی رسول کریم~صل۱~ کی تعریف کریں تو آپ کی ہتک کرنے والے قرار پائیں۔ اور یہ حضرت مسیحؑ کی کھلی کھلی توہین کریں تو آپ کی عزت کرنے والے سمجھے جائیں۔
    یہ باتیں بتاتی ہیں کہ مسلمانوں کا ایک حصہ ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں نجات اس کے لئے ناممکن ہوگئی ہے۔ وہ ہماری دشمنی میں ہرچیز کو توڑنے کے لئے تیار ہیں۔ وہ ہماری عداوت میں اسلام پر تبر چلانے` رسول کریم~صل۱~ کی عزت پر تبر چلانے اور پہلے انبیاء کی عزتوں پر تبر چلانے کے لئے بھی تیار ہیں اور صرف اس ایک مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کچل دی جائے۔ لیکن جیسے اسلام اور رسول کریم~صل۱~ اور پہلے انبیاء ¶پر جوتبر چلائے جائیں گے وہ رائیگاں جائیں گے۔ اسی طرح پر وہ تبر جو جماعت احمدیہ پر چلایا جائے گا۔ آخر چکر کھاکر انہی کے پائوں پر پڑے گا اور جماعت احمدیہ کو ایک ذرہ بھر بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا<۔۲۵
    حضرت امیر المومنین کا بصیرت افروز تبصرہ )مضمون کی صورت میں(
    سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے خطبہ جمعہ میں تبصرہ کرنے کے بعد >ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمدیہ جماعت( کے عنوان سے ایک نہایت
    محققانہ مضمون بھی تحریر فرمایا جو >الفضل< ۱۸۔ جولائی ۱۹۳۵ء میں چھپنے کے علاوہ ٹریکٹ کی شکل میں بھی شائع ہوا۔ اس قیمتی مضمون کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمدیہ جماعت
    سرمحمد اقبال صاحب کو کچھ عرصہ سے میری ذات سے خصوصاً اور جماعت احمدیہ سے عموماً بغض پیدا ہوگیا ہے اور اب ان کی حالت یہ ہے کہ یا تو کبھی وہ انہی عقائد کی موجودگی میں جو ہماری جماعت کے اب ہیں جماعت احمدیہ سے تعلق موانست اور مواخات رکھنا برا نہیں سمجھتے تھے یا اب کچھ عرصہ سے وہ اس کے خلاف خلوت اور جلوت میں آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ میں ان وجوہ کے اظہار کی ضرورت محسوس نہیں کرتا جو اس تبدیلی کا سبب ہوئے ہیں جس نے ۱۹۱۱ء کے اقبال کو جو علی گڑھ کالج میں مسلمان طلباء کو تعلیم دے رہا تھا کہ >پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں<۲۶ ۱۹۳۵ء میں ایک دوسرے اقبال کی صورت میں بدل دیا جو یہ کہہ رہا ہے کہ۔
    >میرے نزدیک قادیانیت سے بہائیت زیادہ ایماندارانہ ہے کیونکہ بہائیت نے اسلام سے اپنی علیحدگی کا اعلان واشگاف طور پر کردیا۔ لیکن قادیانیت نے اپنے چہرے سے منافقت کی نقاب الٹ دینے کے بجائے اپنے آپ کو محض نمائشی طور پر جزواسلام قرار دیا اور باطنی طور پر اسلام کی روح اور اسلام کے تخیل کو تباہ و برباد کرنے کی پوری پوری کوشش کی<۔
    )زمیندار ۵۔ مئی ۱۹۳۵ء(
    یعنے ۱۱ء کی احمدیہ جماعت آج ہی کے عقائد کے ساتھ صحابہؓ کا خالص نمونہ تھی لیکن ۱۹۳۵ء کی احمدیت بہائیت سے بھی بدتر ہے۔ اس بہائیت سے جو صاف لفظوں میں قرآن کریم کو منسوخ کہتی ہے۔ جو واضح عبارتوں میں بہاء اللہ کو ظہور الٰہی قرار دیتے ہوئے رسول کریم~صل۱~ پر ان کو فضیلت دیتی ہے گویا ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے نزدیک اگر ایک شخص رسول کریم~صل۱~ کی رسالت کو منسوخ قرار دیتا` قرآن کریم سے بڑھ کر تعلیم لانے کا مدعی ہوتا` نمازوں کو تبدیل کردیتا اور قبلہ کو بدل دیتا ہے اور نیا کلمہ بناتا اور اپنے لئے خدائی کا دعویٰ کرتا ہے حتیٰ کہ اس کی قبر پر سجدہ کیا جاتا ہے تو بھی اس کا وجود ایسا برا نہیں مگر جو شخص رسول کریم~صل۱~ کو خاتم النبین قرار دیتا` آپ کی تعلیم کو آخری تعلیم بتاتا` قرآن کریم کے ایک ایک لفظ ایک ایک حرکت کو آخر تک خداتعالیٰ کی حفاظت میں سمجھتا ہے۔ اسلامی تعلیم کے ہرحکم پر عمل کرنے کو ضروری قرار دیتا ہے اور آئندہ کے لئے سب روحانی ترقیات کو رسول کریم~صل۱~ کی فرمانبرداری اور غلامی میں محصور سمجھتا ہے وہ برا اور بائیکاٹ کرنے کے قابل ہے۔
    دوسرے لفظوں میں سرمحمد اقبال صاحب مسلمانوں سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ جو شخص رسول کریم~صل۱~ کی رسالت کو منسوخ کرے۔ قرآن کریم کے بعد ایک نئی کتاب لانے کا مدعی ہو۔ اپنے لئے خدائی کا مقام تجویز کرے اور اپنے سامنے سجدہ کرنے کو جائز قرار دے۔ جس کے خلیفہ کی بیعت فارم میں صاف لفظوں میں لکھا ہو کہ وہ خدا کا بیٹا ہے` وہ بانی سلسلہ احمدیہ سے اچھا ہے جو اپنے آپ کو خادم رسول اکرم~صل۱~ قرار دیتے ہیں۔ اور قرآن کریم کی اطاعت کو اپنے لئے ضروری قرار دیتے ہیں اور کعبہ کو بیت اللہ اور کلمہ کا مدار نجات سمجھتے ہیں۔ کیونکہ بہائی تو رسول کریم~صل۱~ کی ذات پر اور قرآن کریم پر حملہ کرتے ہیں۔ لیکن احمدی سرمحمد اقبال اور ان کے ہمنوائوں کو روحانی بیمار قرار دے کر انہیں اپنے علاج کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور ان کے ایمان کی کمزوریوں کو ان پر ظاہر کرتے ہیں۔ بہ بیں تفاوت رہ از کجاست تابہ کجا۔
    سر محمد اقبال صاحب اس عذر کی پناہ نہیں لے سکتے کہ میرا صرف مطلب یہ ہے کہ بہائی منافق نہیں اور احمدی منافق ہیں۔ کیونکہ اول تو یہ غلط ہے کہ بہائی کھلے بندوں اپنے مذہب کی تلقین کرتے ہیں۔ اگر سر محمد اقبال یہ دعویٰ کریں تو اس کے صرف یہ معنی ہوں گے کہ بیسویں صدی کا یہ مشہور فلسفی ان فلسفی تحریکات تک سے آگاہ نہیں جن سے اس وقت کے معمولی نوشت و خواند والے لوگ آگاہ ہیں۔ سرمحمد اقبال کو معلوم ہونا چاہئے کہ بہائی اپنی کتب عام طور پر لوگوں کو نہیں دیتے بلکہ انہیں چھپاتے ہیں۔ وہ ہر ملک میں الگ الگ عقائد کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ امریکہ میں صاف لفظوں میں بہاء اللہ کو خدا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن اسلامی ممالک میں اس کی حیثیت ایک کامل ظہور کی بتاتے ہیں۔ وہ اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر نمازیں پڑھ لیتے ہیں۔ ویسا ہی وضو کرتے ہیں اور اتنی ہی رکعتیں پڑھتے ہیں جتنی کہ مسلمان۔ لیکن الگ طور پر وہ صرف تین نمازوں کے قائل ہیں اور ان کے ہاں نماز پڑھنے کا طریق بھی اسلام سے مختلف ہے۔
    پھر یہ بھی درست نہیں کہ احمدی منافق ہیں اور لوگوں سے اپنے عقائد چھپاتے ہیں۔ اگر احمدی مداہنت سے کام لیتے تو آج سرمحمد اقبال کو اس قدر اظہار غصہ کی ضرورت ہی کیوں ہوتی احمدی ہندوستان کے ہر گوشے میں رہتے ہیں۔ دوسرے فرقوں کے لاکھوں کروڑوں مسلمان ان کے حالات سے واقف ہیں وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے` رسول کریم~صل۱~ کی بتائی ہوئی نماز کے مطابق نماز پڑھنے والے` روزے رکھنے والے` حج کرنے والے اور زکٰوۃ دینے والے ہیں۔ وہ کون سی بات ہے جو احمدی چھپاتے ہیں اور سرمحمد اقبال کے پاس وہ کونسا ذریعہ ہے جس سے انہوں نے یہ معلوم کیا کہ احمدیوں کے دل میں کچھ اور ہے مگر ظاہر وہ کچھ اور کرتے ہیں۔ رسول کریم~صل۱~ تو اس قدر محتاط تھے کہ جب ایک صحابی نے ایک شخص کو جس نے عین اس وقت کلمہ پڑھا تھا جب وہ اسے قتل کرنے لگے تھے` قتل کر دیا۔ اور عذر یہ رکھا کہ اس نے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ھل شققت قلبہ کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا ہے؟ لیکن ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب آج دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قوم جس کے افراد نے افغانستان میں اپنے عقائد چھپانے پسند نہ کئے لیکن جان دے دی` ساری کی ساری منافق ہے اور ظاہر کچھ اور کرتی ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہے۔
    اگر یہ الزام کوئی ایسا شخص لگاتا جسے احمدیوں سے واسطہ نہ پڑا ہوتا تو میں اسے معذور سمجھ لیتا۔ لیکن سر محمد اقبال معذور نہیں کہلا سکتے۔ ان کے والد صاحب مرحوم احمدی تھے۔ ان کے بڑے بھائی صاحب شیخ عطا محمد صاحب احمدی ہیں۔ ان کے اکلوتے بھتیجے شیخ محمد اعجاز احمد صاحب سب جج احمدی ہیں۔۲۷ اسی طرح ان کے خاندان کے اور کئی افراد احمدی ہیں۔ ان کے بڑے بھائی صاحب حال ہی میں کئی ماہ ان کے پاس رہے ہیں۔ بلکہ جس وقت انہوں نے یہ اعلان شائع کیا ہے اس وقت بھی سرمحمد اقبال صاحب کی کوٹھی وہ تعمیر کرا رہے تھے۔ کیا سرمحمد اقبال صاحب نے ان کی رہائش کے ایام میں انہیں منافق پایا تھا یا خود اپنی زندگی سے زیادہ پاک زندگی ان کی پائی تھی۔ ان کے سگے بھتیجے شیخ اعجاز احمد صاحب ایسے نیک نوجوان ہیں کہ اگر سرمحمد اقبال غور کریں تو یقیناً انہیں ماننا پڑے گا کہ ان کی اپنی جوانی اس نوجوان کی زندگی سے سینکڑوں سبق لے سکتی ہے۔ پھر ان شواہد کی موجودگی میں ان کا کہنا کہ احمدی منافق ہیں اور وہ ظاہر میں رسول کریم~صل۱~ سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن دل سے رسول کریم~صل۱~ کے دین کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں کہاں تک درست ہوسکتا ہے؟
    میں تمام ان شریف مسلمانوں سے جو اسلام کی محبت رکھتے ہیں` درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹھنڈے دل سے اس صورت حالات پر غور کریں جو ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے اعلان نے پیدا کردی ہے اور دیکھیں کہ کیا اس قسم کے غیظ و غضب کے بھرے ہوئے اعلان مسلمانوں کی حالت کو بہتر بنائیں گے یا خراب کریں گے اور سوچیں کہ ایک شخص جو اپنے احمدی بھائی کو بلوا کر اس سے اپنی کوٹھی بنواتا ہے دوسرے مسلمانوں کو ان کے بائیکاٹ کی تعلیم دیتا ہے کہاں تک لوگوں کے لئے راہنما بن سکتا ہے اور اسی طرح وہ شخص جو رسول کریم~صل۱~ کی ذات پر کھلا حملہ کرنے والے کو اچھا قرار دیتا ہے اور اپنے ایمان پر اعتراض کرنے والے کو ناقابل معافی قرار دیتا ہے کہاں تک مسلمانوں کا خیر خواہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ کاش سرمحمد اقبال اس عمر میں ان امور کی طرف توجہ کرنے کی بجائے ذکر الٰہی اور احکام اسلام کی بجاآوری کی طرف توجہ کرتے اور پیشتر اس کے کہ توبہ کا دروازہ بند ہوتا` اپنے نفس کی اصلاح کرتے تا خداتعالیٰ ان کو موت سے پہلے صداقت کے سمجھنے کی توفیق دیتا اور وہ محمد رسول اللہ~صل۱~ کے سچے متبع کے طور پر اپنے رب کے حضور میں پیش ہوسکتے۔ واخر دعونا ان الحمدللہ رب العالمین۔
    والسلام
    خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ<۲۸`۲۹
    ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کا ردعمل
    حضرت امیرالمومنینؓ کا مدلل مضمون اور آپ کے بیان فرمودہ حقائق کے رد میں ڈاکٹر صاحب موصوف کو آخر دم تک قلم اٹھانے کی جرات نہ ہوسکی۔ البتہ انہوں نے اپنے فلسفیانہ انداز میں احمدیت پر تنقید ضرور جاری رکھی۔ خصوصاً پنڈت جواہر لال نہرو کے دو مضامین۳۰ کے جواب میں )جو کلکتہ کے رسالہ >ماڈرن ریویو< میں شائع ہوئے تھے( انہوں نے احمدیت پر زبردست نکتہ چینی کی۔
    ایک ضمنی بات
    یہاں ضمناً یہ بتانا شاید غیر مناسب نہ ہوگا کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال شعر و سخن اور فلسفہ دانی میں ایک بلند پایہ شخصیت کے حامل تھے مگر جہاں تک اسلامی نظریات و مبادیات کا تعلق ہے۔ انہیں خود مسلم تھا کہ۔
    >میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔ میری عمر زیادہ تر مغربی فلسفہ کے مطالعہ میں گزری ہے اور یہ نقطہ خیال ایک حد تک طبیعت ثانیہ بن گیا ہے۔ دانستہ یا نادانستہ میں اسی نقطہ خیال سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں<۔۳۱
    اسی تعلق میں ایک بار انہوں نے اپنی چھوٹی ہمشیرہ کو خط میں لکھا۔
    >میں جو اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمر یورپ کا فلسفہ وغیرہ پڑھنے میں گنوائی۔ خداتعالیٰ نے مجھ کو قوائے دماغی بہت اچھے عطا فرمائے تھے۔ اگر یہ قویٰ دینی علوم کے پڑھنے میں صرف ہوتے تو آج خدا کے رسول کی میں کوئی خدمت کرسکتا<۳۲
    اس کے مقابل جہاں تک عمل کا تعلق ہے` ان کا اپنا اعتراف ہے کہ ~}~
    اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا۳۳
    اسی طرح ایک بار انہوں نے اپنی عملی زندگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ
    >میں تو قوال ہوں میں گاتا ہوں تم ناچتے ہو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ میں بھی تمہارے ساتھ ناچنا شروع کردوں<۳۴
    انہوں نے ایک اور موقعہ پر یہ بھی اعتراف کیا کہ
    >اگر میں اپنی پیش کردہ تعلیمات پر عمل بھی کرتا تو شاعر نہ ہوتا بلکہ مہدی ہوتا<۳۵
    علامہ احسان اللہ خاں تاجور نے اپنے رسالہ >شاہکار< میں لکھا ہے کہ
    >علامہ اقبال ۔۔۔۔۔۔۔ میں کمال قابلیت کے ساتھ طاقت گفتار کی بہ نسبت روح کردار بہت کم ہے<۳۶
    بلکہ امیر شریعت احرار مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری تو صاف کہا کرتے تھے کہ
    >اقبال کا قلم تمام عمر صحیح رہا اور قدم اکثر و بیشتر غلط<۳۷
    ڈاکٹر صاحب کے بعض عجیب و غریب نظریات
    عقیدہ و عمل کی اسی امتزاجی کیفیت کا نتیجہ تھا کہ علامہ اقبال نے احمدیوں کو ختم نبوت اور اسلام کا باغی ثابت کرنے کے لئے پنڈت نہرو کے جواب میں بعض ایسے نظریات پیش کردیئے جن کی تغلیط بعد کو خود ان کے مداحوں کو کرنا پڑی۔ مثلاً انہوں نے یہ نظریہ اختراع کیا کہ غلام قوموں کے انحطاط کے نتیجہ میں الہام جنم لیتا ہے۔ اسی خیال کو انہوں نے اپنے ایک شعر میں یوں باندھا ہے۔ ~}~
    محکوم۳۸ کے الہام سے اللہ بچائے
    غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز
    جناب حافظ اسلم صاحب جیرا جپوری نے اس شعر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۔
    >یہ خالص شاعرانہ استدلال ہے۔ غالب کی طرح جس نے کہا ~}~
    کیوں رد قدح کرے ہے زاہد
    مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
    >جس طرح مگس کی قے کہہ دینے سے شہد کی لطافت اور شیرینی میں فرق نہیں آسکتا۔ اسی طرح حکومت کی نسبت سے الہام بھی اگر حق ہو تو غارت گر اقوام نہیں ہوسکتا۔ خود حضرت عیٰسی علیہ السلام رومی سلطنت کے محکوم تھے جن کی نسبت ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے۔ ~}~
    فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نے کیا
    نبی عفت و غمخواری و کم آزاری
    بلکہ اکثر انبیاء کرام علیہم السلام محکوم اقوام ہی میں معبوث کئے گئے جس کے خاص اسباب و علل تھے ۔۔۔۔۔۔۔ دراصل نبوت کی صداقت کا معیار حاکمیت یا محکومیت پر نہیں ہے۔ بلکہ خود الہام کی نوعیت پر ہے<۔4] fts[۳۹
    علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے اس جوابی مضمون میں سے بطور نمونہ یہ صرف ایک مثال پیش کی گئی ہے ورنہ انہوں نے اس نوع کی لغزشیں کھائی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ اس واضح حقیقت کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے اخبار >الفضل )قادیان( کا چودہ قسطوں پر مشتمل سلسلہ مضامین مطالعہ کرنا ضروری ہے۔۴۰
    جو ۱۹۳۶ء کے وسط اول میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے جواب میں شائع کیا گیا اور جس میں ان کے بیان پر اس خوبی` جامعیت اور مدلل رنگ میں روشنی ڈالی گئی کہ بس دن ہی چڑھ گیا۔ اور سر محمد اقبال اور ان کے مداحوں پر ہمیشہ کے لئے حجت تمام ہوگئی۔
    مسئلہ وفات مسیحؑ کی معقولیت کا واضح اقرار
    بالاخر یہ بتانا از بس ضروری ہے کہ ڈاکٹر اقبال نے جہاں جماعت احمدیہ کے خلاف بہت سے فلسفیانہ اعتراضات کئے ہیں وہاں آپ جماعت احمدیہ کے بنیادی عقیدہ وفات مسیح کے بارے میں یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ۔
    >جہاں تک میں اس تحریک کا مفہوم سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک فانی انسان کی مانند جام مرگ نوش فرماچکے ہیں نیز یہ کہ ان کے دوبارہ ظہور کا مقصد یہ ہے کہ روحانی اعتبار سے ان کا ایک مثیل پیدا ہوگا کسی حد تک معقولیت کا پہلو لئے ہوئے ہے<۔۴۱
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کا اظہار مسرت ڈاکٹر سر محمد اقبال کے ایک خیال پر
    اس واضح اقرار حق کے علاوہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے ایک نہایت اہم اور قیمتی نکتہ بھی بیان فرمایا جو ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے کہ۔
    >بانی احمدیت کے الہامات کی اگر دقیق النظری سے تحلیل کی جائے تو یہ ایک ایسا موثر طریقہ ہوگا جس کے ذریعہ سے ہم اس کی شخصیت اور اندرونی زندگی کا تجزیہ کرسکیں گے اور مجھے امید ہے کہ کسی دن نفسیات جدید کا کوئی متعلم اس کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے گا<۴۲
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کو اس خیال پر ازحد خوشی ہوئی اور حضور نے ایک بار اس تجویز کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ۔
    >مجھے اس حوالہ کو پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب کوئی ماھر نفسیات بانی سلسلہ احمدیہ کے الہامات کا تجزیہ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں کرے گا اور صحیح تجزیہ کرے گا تو وہ لازماً احمدیت کی صداقت کا قائل ہو جائے گا پس یہ نصیحت علامہ اقبال مرحوم کی ہمارے لئے نہایت ہی مفید ہے۔ اگر کوئی شخص غلط تجزیہ کرے گا تو ہماری زبان اور قلم سلامت ہیں۔ ہم جواب دیں گے اور بتائیں گے کہ یہ تجزیہ تمہارا غلط ہے ۔۔۔۔۔۔ ہم تو کہیں گے کاش بہت سے ایسے لوگ کھڑے ہوں۔ اگر ایسے لوگ کھڑے ہوں گے تو وہ یقیناً احمدی جماعت کی تائید کرنے والے ہوں گے اور ہماری ترقی کا موجب ہوں گے۔ اور اگر وہ تعصب سے کام لیں گے تو پھر بھی ہمارے لئے کامیابی ہی کی صورت نکلے گی۔ کیونکہ ہم ان کی کمزوریاں ظاہر کریں گے اور دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ ہمارا مقابلہ کرنے والا خواہ کسی رنگ میں بھی پیش ہو وہ صداقت سے دور ہوتا ہے اور بنیادی کمزوریوں میں مبتلا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میرے نزدیک جو باتیں ایک رنگ میں ہمارے فائدہ کی ہوں ان پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اور ایسے لوگوں کا ممنون ہونا چاہئے جو کہ دانستہ یا نادانستہ سچائی کے معلوم کرنے کے لئے ایک رستہ کھولتے ہیں<۔۴۳
    دوسرا باب )فصل سوم(
    مجاہدین تحریک جدید کا بیرونی ممالک میں جانے والا پہلا قافلہ
    ۶۔ مئی ۱۹۳۵ء کا دن تاریخ احمدیت میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس روز تحریک جدید کے ماتحت بیرونی ممالک میں جانے والے
    مجاہدین کا پہلا قافلہ جو مندرجہ ذیل مبلغین پر مشتمل تھا قادیان سے روانہ ہوا۔
    ۱۔ مولوی غلام حسین صاحب ایاز )سنگاپور( ۲۔ صوفی عبدالغفور صاحب )چین(
    ۳۔ صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز )جاپان(۴۴`۴۵]ydob [tag
    دارالتبلیغ سٹریٹس سیٹلمینٹ
    سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے سنگاپور` ملاکا اور پنیانگ کی ریاستوں میں تبلیغ اسلام کے لئے مولانا غلام حسین صاحب ایاز۴۶ کو روانہ فرمایا۔ روانگی کے وقت آپ کو صرف اخراجات سفر دیئے گئے۔ آپ ایک لمبے عرصہ تک خود آمد پیدا کرکے گزارہ کرتے اور مشن چلاتے رہے۔
    ایاز صاحب نے سنگاپور میں پہنچتے ہی اس خطہ زمین کے مذہبی اور تجارتی حالات کا جائزہ لیا۴۷]4 [rtf اور ساتھ ہی دیوانہ وار تبلیغ اسلام و احمدیت میں مصروف ہوگئے۔ یہاں آپ کو شدید مخالفت کا سامنا ہوا۔ مگر آپ مجنونانہ رنگ میں مصروف جہاد رہتے۔
    آپ کی کوششوں کا پہلا ثمرہ حاجی جعفر صاحب بن حاجی وانتار صاحب۴۸ تھے جو جنوری ۱۹۳۷ء۴۹ میں آپ کی تبلیغ سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری سابق انچارج سنگاپور مشن کا بیان ہے کہ۔
    >سنگاپور میں قیام جماعت کے ابتدائی ایام میں مکرم حاجی صاحب مرحوم نے حضرت مولوی غلام حسین صاحب ایاز کی معیت میں سلسلہ کی خاطر بہت تکلیفیں اٹھائیں۔ دو تین مرتبہ بعض معاندین کی طرف سے زدوکوب اور ماریں بھی کھائیں مگر خدا کے فضل سے ہمیشہ ثابت قدم رہے۔ ایک مرتبہ بعض مخالف لوگوں کی انگیخت پر دو اڑھائی سو مسلح افراد نے آپ کے مکان کا محاصرہ کرلیا۔ اور اپنے ایک عالم کو ساتھ لاکر حاجی صاحب مرحوم سے اسی وقت احمدیت سے منحروف ہونے کا مطالبہ کیا اور بصورت دیگر ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی دھمکی دی۔ حاجی صاحب مرحوم نے اسی وقت اونچی آواز سے تشہد پڑھ کر اعلان کیا کہ میں کس بات سے توبہ کروں۔ میں تو پہلے ہی خدا کے فضل سے ایک سچا مسلمان ہوں۔ اور اگر میں نے کسی گناہ سے توبہ کرنی بھی ہو تو بندوں کے سامنے نہیں بلکہ میں اللہ کے سامنے اپنے سب گناہوں کی معافی مانگتا ہوا اس سے ملتجی ہوں کہ وہ مجھے معاف کرے۔ جب اس کے باوجود مجمع مشتعل رہا۔ اور مکان میں گھس کر جانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ تو مرحوم مومانہ جرات اور ہمت سے ایک چھرا ہاتھ میں لے کر اپنے مکان کی حدود میں اپنا دروازہ روک کر کھڑے ہوگئے اور ببانگ دہل یہ اعلان کردیا کہ مرنا تو ہر ایک نے ایک ہی مرتبہ ہے۔ کیوں نہ سچائی کی خاطر بازی لگا دی جائے۔ اب اگر تم میں سے کسی باپ کے بیٹے میں جرات ہے کہ بری نیت سے میرے مکان میں گھسنے کی کوشش کرے تو آگے بڑھ کر دیکھ لے کہ اس کا کیا حشر ہوگا۔
    مکان کی دوسری سمت سے حاجی صاحب مرحوم کا بہادر لڑکی باہر نکل آئی اور ہاتھوں میں ایک مضبوط ملائی تلوار نہایت جرات سے گھماتے ہوئے اس نے بھی سارے مجمع کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا کہ میرے والد جب سے احمدی ہوئے ہیں۔ میں نے ان میں کوئی خلاف شرع یا غیر اسلامی بات نہیں دیکھی۔ بلکہ ایمان اور عملی ہر لحاظ سے وہ پہلے سے زیادہ پکے مسلمان اور اسلام کے شیدائی معلوم ہوتے ہیں۔ اس لئے تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ احمدیت نے انہیں اسلام سے مرتد کردیا ہے۔ پس اگر آپ لوگوں میں سے کسی نے میرے باپ پر حملہ کرنے کی جرات کی یا ناجائز طور پر ہمارے گھر کے اندر گھسنے کی کوشش کی تو وہ جان لے کہ اس کی خیر نہیں۔ اگرچہ میں عورت ہوں۔ تاہم تم یاد رکھو کہ حملے کی صورت میں میں اس تلوار سے تین چار کو مار گرانے سے پہلے نہیں مروں گی۔ اب جسکا جی چاہے آگے بڑھ کر اپنی قسمت آزمالے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس مشتعل مجمع پر ایسا رعب طاری کیا کہ باوجود اس کے کہ لوکل ملائی پولیس کے بعض افراد وہاں کھڑے قیام امن کے بہانے مخالفین احمدیت کی کھلی تائید کررہے تھے۔ پھر بھی مجمع میں سے کسی فرد کو بھی مکرم حاجی صاحب کے گھر میں گھسنے یا حملہ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ آخر جب کافی وقت گئے تک وہ لوگ منتشر نہ ہوئے تو حاجی صاحب مرحوم نے ان کو مخاطب کرکے کہا۔ کہ میں خدا کے فضل سے احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے بھی مسلمان تھا اور قبول احمدیت کے بعد تو زیادہ پکے طور پر مسلمان ہوگیا ہوں کیونکہ احمدیت اسلام ہی کا دوسرا نام ہے۔ اس پر مخالفین شرمندہ ہوکر آہستہ آہستہ منتشر ہوگئے<۔۵۰
    ایاز صاحب ۱۴۔ مارچ ۱۹۳۶ء کو سنگاپور سے ملایا کی ریاست جوہور میں تشریف لے گئے۔ اور جوہور )دارالسلطنت( رنگم` پنتیان کچیل` باتو پاہت` موار` کوتاتینگی` بنوت وغیرہ شہروں کا تبلیغی دورہ کیا اور انگریزی اور ملائی زبان میں ٹریکٹ تقسیم کئے۔ دس روز بعد آپ نے ریاست ملاکا میں قدم رکھا۔ اور اس کے بعض مشہور شہروں مثلاً جاسین` آلور گاجا` مرلیمون` ستامپین اور تنجونگ تک پیغام احمدیت پہنچایا۔ ۲۱۔ اپریل کو آپ ملاکا سے روانہ ہوکر >نگری سمبیلن< کے شہر سرمبان SEREMBAN میں پہنچے۔ ۲۴۔ اپریل کو ایف` ایم ایس کے مرکز کوالالمپور تشریف لے گئے۔۵۱
    سنگاپور میں احمدیت کا بیج بویا جاچکا تھا جو آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا اور سعید روحیں کھینچی آرہی تھیں۔ کامیابی کے یہ ابتدائی آثار دیکھ کر وسط ۱۹۳۷ء میں ملایا میں مخالفت کا بازار گرم ہوگیا۔ پہلے ایک پندرہ روزہ اخبار >ورتا ملایا< نے کھلم کھلا مخالفت کی۔۵۲ پھر علاقہ کے علماء نے آپ کی نسبت واجب القتل ہونے کا فتویٰ دے دیا۔ اس ضمن میں مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کا بیان ہے کہ۔
    >۱۹۳۸ء یا ۱۹۳۹ء میں سنگاپور کی جامع مسجد میں )جسے مسجد سلطان کہا جاتا ہے( ایک عالم کا ہماری جماعت کے خلاف لیکچر تھا مکرم مولوی غلام حسین صاحب ایاز ۔۔۔۔۔۔۔ بھی وہاں تشریف لے گئے۔ مولوی )عبدالعلیم صاحب صدیقی( نے دوران تقریر میں کہا کہ مرزائیوں کا قرآن اور ہے۔ وہ نہیں ہے جو کہ حضرت سیدنا محمد~صل۱~ پر اترا تھا۔ اس پر مکرم مولانا غلام حسین صاحب ایاز نے بڑی جرات سے کھڑے ہوکر سب کے سامنے اپنے بیگ سے قرآن کریم نکالا اور صدیقی صاحب کو چیلنج کیا کہ دیکھو یہ ہے ہمارا قرآن آپ اپنا قرآن نکال کر مقابلہ و موزانہ کرلیں اگر ذرہ بھر زیر زبر کا بھی فرق ہو تو بے شک ہمیں ملزم یا کافر قرار دے لیں ورنہ اس قسم کی غلط بیانیاں کرتے ہوئے خدا کا خوف کریں۔ اس مولوی نے مجمع کو ہمارے خلاف پہلے ہی مشتعل کر رکھا تھا۔ بجائے چیلنج قبول کرنے کے اس نے پبلک کو ہمارے خلاف مزید اشتعال دلایا اور کہا کہ یہ شخص کافر مرتد ہے اس کی سزا اسلام میں قتل ہے۔ کوئی ہے جو کہ مسلمانوں کو اس سے نجات دلائے۔ اس پر مجمع میں سے بعض لوگوں نے مکرم مولوی غلام حسین صاحب ایاز کو سخت مارا اور گھسیٹ کر مسجد سے باہر نیچے پھینک دیا وہ مسجد اوپر ہے اور نیچے تہہ خانہ یا کمرے وغیرہ ہیں۔ چنانچہ مولوی صاحب مرحوم کو سخت چوٹیں آئیں۔ کمر پر شدید چوٹ آئی اور سر پر بھی جس سے آپ نیچے گرتے ہی بے ہوش ہوگئے۔ آپ کے ساتھ ایک احمدی دوست محمد علی صاحب تھے انہوں نے بھاگ کر پولیس کو اطلاع دی۔ چنانچہ پولیس مولوی صاحب کو کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد وہاں سے اٹھاکر ہسپتال لے گئی۔ جہاں پر آپ کو کئی گھنٹوں کے بعد ہوش آیا اور ہفتہ عشرہ ہسپتال میں رہنا پڑا۔ اسی طرح ایک مرتبہ آپ کو مخالفت کی وجہ سے بعض دشمنوں نے چلتی بس سے دھکا دے کر باہر بازار میں پھینک دیا تھا جس سے آپ کے منہ اور سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچالیا<۔۵۳
    یکم ستمبر ۱۹۳۷ء کو آپ ملایا کی ایک ریاست سلانگور میں تشریف لے گئے۔۵۴ اور پہلے کوالالمپور اور پھر کلانگ میں ٹھہرے۔ کلانگ میں پانچ اشخاص )جن میں حافظ عبدالرزاق بھی تھے( مشرف باحمدیت ہوئے۔ جنوری ۱۹۴۰ء تک یہاں پندرہ احمدیوں پر مشتمل ایک جماعت پیدا ہوگئی۔۵۵body] gat[
    یکم ستمبر ۱۹۳۹ء کو دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی تو جاپان نے دو تین ماہ کے اندر اندر مانچوکو اور شمالی چین کے علاوہ فلپائن` ہندچینی` تھائی لینڈ` ملایا` سنگاپور` جاوا` بورنیو` سیلبیس` نیوگنی اور بحرالکاہل کے بہت سے جزیروں کو اپنے زیراقتدار کرلیا۔
    یہ ایام سنگاپور مشن اور مولوی ایاز صاحب کے لئے انتہائی صبر آزما تھے۔ خصوصاً جاپانیوں کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کی وجہ سے آپ پر بہت سختیاں کی گئیں اور خرابی صحت کے باعث سر اور ڈاڑھی کے بال قریباً سفید ہوگئے۔۵۶ آپ اس دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کرتے تھے کہ >اس زمانہ میں بڑی رقت اور گداز سے دعائیں کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا مجھ سے یہ سلوک تھا کہ اکثر دفعہ بذریعہ کشف اور الہام دعا کی قبولیت اور آئندہ کامیابی کے متعلق مجھے بشارات مل جاتی تھیں اور یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اور حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی توجہ کی برکت تھی<۔۵۷
    اس زمانہ میں آپ نے سرفروشانہ جہاد تبلیغ اور خدمت خلق کا جو نہایت اعلیٰ اور قابل رشک نمونہ دکھایا اس کا کسی قدر اندازہ لگانے کے لئے ذیل میں تین چشم دید شہادتیں درج کی جاتی ہیں۔
    پہلی شہادت: پہلی شہادت محمد نصیب صاحب عارف کی ہے جو سنگاپور میں جنگی قیدی رہے۔ عارف صاحب نے ہندوستان واپس آکر اپنے مشاہدات الفضل ۱۹۔ دسمبر ۱۹۴۵ء میں شائع کرائے۵۸ جن میں لکھا۔
    >سنگاپور کے مبلغ مولوی غلام حسین ایاز بھی ان پرجوش مجاہدین میں سے ایک ہیں جن کا قابل رشک اخلاص اور تبلیغی انہماک ایک والہانہ رنگ رکھتا ہے۔ جاپان کے گزشتہ ساڑھے تین سالہ ملایا پر قبضہ کی وجہ سے جناب مولوی صاحب کی مساعی جمیلہ جماعت کے سامنے نہیں آسکیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مولوی صاحب موصوف گزشتہ دس سال سے اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے سنگاپور میں مقیم ہیں اور تحریک جدید کے ابتدائی مجاہدوں میں سے ہیں۔ اور تبلیغ کے ساتھ اپنے اخراجات کے لئے بھی آپ صورت پیدا کرتے ہیں۔ صرف پہلے چھ ماہ کا خرچ دفتر تحریک جدید نے دیا تھا۔
    مارچ ۱۹۴۱ء میں جب یہ عاجز سنگاپور پہنچا۔ تو چند دوستوں کے ساتھ دارالتبلیغ میں گیا۔ مولوی صاحب نے اپنی تبلیغی مساعی کا ذکر جس رنگ میں کیا۔ وہ انگشت بدنداں کر دینے والا تھا۔ کس طرح انکو احمدیت کی تبلیغ کے لئے تکالیف سہنی پڑیں۔ مخالفین نے دارالتبلیغ پر خشت باری کرنا شروع کردی جس کے نتیجہ میں مولوی صاحب کو کئی کئی دن مکان کے اندر بند رہنا اور خوارک اور دیگر ضروریات کے لئے تنگ ہونا بہت تکالیف کا باعث ہوا۔ چند ماہ بعد یہ عاجز ملایا میں کوالالمپور کے مقام میں تھا۔ ایک دن اپنے ڈپو کا چندہ حکیم دین صاحب اکونٹنٹ کو دینے گیا۔ تو آپ نے بتایا۔ اس مخالفت کے نتیجہ میں پولیس نے گورنمنٹ کے ریکارڈ میں بلیک شیٹ میں آپکا نام سب سے اوپر لکھوایا ہوا تھا۔ کس قدر افسوسناک بات تھی کہ احمدیت کا ایک مجاہد اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے اپنے وطن سے بے وطن ہوکر جن لوگوں کی اصلاح کے لئے ان کے پاس جاتا ہے وہ اسے انتہائی تکالیف پہنچانے کے درپے ہوگئے۔ ان مخالفین کا کیا حشر ہوا۔ وہ مولوی صاحب خود بیان کیا کرتے تھے کہ سنگاپور مفتوح ہونے پر ایسے تمام لوگ جو میرے مخالف شر اور فتنہ و فساد پر آمادہ رہتے تھے ایک ایک کرکے مختلف جرموں کی پاداش میں جاپانیوں کے ہاتھوں سزا یاب ہوئے۔
    سنگاپور میں لڑائی کے دوران میں مولوی صاحب کے لئے خداتعالیٰ نے ایک خاص نشان دکھایا۔ گولہ باری کے ایام میں مولوی صاحب نے لوگوں سے کہہ دیا کہ آپ میرے گھر میں بمباری کے وقت آجایا کریں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس خطرناک وقت میں مولوی صاحب کے اردگرد کے مکانات کو کافی نقصان پہنچا۔ اور کافی لوگوں کی اموات ہوئیں۔ مگر آپ کا گھر محفوظ رہا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی کہ >آگ ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی غلام ہے<۔ برابر پوری ہوتی رہی۔ پھر ایک اور تائید اور خدائی مدد نازل ہوئی کہ ایک جاپانی افسر مولوی صاحب کے مکان کے سامنے موٹر سائیکل سے گرگیا۔ اس کو شدید ضربات آئیں۔ جناب مولوی صاحب اس کو اٹھا کر اپنے مکان میں لے گئے۔ تیمارداری اور مرہم پٹی کی اور اس کو اس کے کیمپ میں پہنچانے کا بندوبست کیا۔ اس پر وہ جاپانی افسر مولوی صاحب کو اپنی طرف سے پروانہ دے گیا کہ آپ سنگاپور میں جس طرح چاہیں رہیں۔ آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔
    خداتعالیٰ کی قدرت کا یہ عجیب کرشمہ تھا کہ جاپانی حکومت کے قبضہ کے دوران میں کسی مخالف کو سراٹھانے کی جرات نہ ہوسکی۔ حالات کے سدھر جانے سے آپکو اپنی مالی حالت درست کرنے کا بھی موقعہ مل گیا۔ اور اوائل ۴۳ء میں آپ نے تین بادبانی کشتیاں تجارت کے لئے خرید لیں۔ جن کا نام >احمد<۔ >نور< اور >محمود< رکھا۔ ان سے مولوی صاحب کو کافی مدد حاصل ہوئی۔ مگر چونکہ جنگ کی وجہ سے ملک کی اقتصادی حالت پر اثر پڑرہا تھا۔ یہ کام زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا۔ ۴۳ء اور ۴۴ء مولوی صاحب کے لئے مالی لحاظ سے بہت کٹھن تھے۔ اس عرصہ میں جہاں ملک میں اشیاء خورد و نوش کی کمی واقع ہوگئی تھی۔ مولوی صاحب کو بھی کافی حد تک ان تکالیف میں سے گزرنا پڑا۔ مگر آپ نے نہایت صبر اور تحمل سے یہ عرصہ گزرا۔ بلکہ تبلیغی اور تنظیمی کاموں میں زیادہ وقت دینا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
    ۱۹۴۵ء میں مولوی صاحب کی حالت خداتعالیٰ کے فضل سے پھر بہتر ہونی شروع ہوگئی۔ ہم لوگ نظر بندی کی حالت میں ان کے حالات سے اتنے آگاہ نہیں تھے۔ مگر خداتعالیٰ کی غیبی امداد سے انہوں نے تمام احمدی جنگی قیدیوں کی مدد کیلئے مختلف کیمپوں میں تقسیم کرنے کے لئے ۲۰۰۰ ہزار ڈالر کی رقم روانہ فرمائی۔ اس وقت واقعی ہم لوگوں کو روپیہ کی بڑی ضرورت تھی۔ وہ روپیہ ہم کو پہنچنے نہ پایا تھا۔ اور ہم اس کے خیال میں ہی اپنی مشکلات کا حل سوچ رہے تھے کہ صلح ہوگئی۔ اور وہ رقم مولوی صاحب کو واپس لوٹا دی گئی۔ جزاہم اللہ احسن الجزاء فی الدارین خیراً۔
    جناب مولوی صاحب نے اس عرصہ میں اپنی تبلیغ جاری رکھی اور جماعت کی تنظیم کا کام بھی کرتے رہے۔ سینکڑوں ملائی اس وقت احمدیت کی آغوش میں آچکے ہیں۔ آپ کی انتھک کوششیں احمدیت کا نام محض خداتعالیٰ کے فضل سے اور حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعائوں کے طفیل پھیلا رہی ہیں۔ جناب مولوی صاحب کو ایک عرصہ گھر سے جدا ہوئے ہوگیا ہے مگر چلتے وقت جب ہم نے ان سے کہا کہ مولوی صاحب آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔ تو آپ نے فرمایا۔ >حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت کے بغیر ایک قدم بھی یہاں سے ہلانا اپنے لئے معصیت سمجھتا ہوں<۔ آپ نے احمدی دوستوں کی واپسی پر انہیں اتنا بھی نہ کہا۔ کہ میرا فلاں پیغام میرے گھر والوں کو پہنچا دینا۔ بلکہ کہا تو یہ کہا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو میرا سلام دینا اور یہاں کی میری تبلیغی مساعی کے لئے دعا کی درخواست کرنا<۔۵۹
    دوسری شہادت: دوسری شہادت یونس صاحب فاروق کی ہے جو ۱۱۔ جنوری ۱۹۴۶ء کو مکرم مولوی غلام حسین صاحب ایاز کے ذریعہ سے احمدیت سے مشرف ہوئے اور تقریباً پانچ ماہ سنگاپور میں رہنے کے بعد واپس ہندوستان آئے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے نام ایک مفصل مکتوب میں لکھا کہ۔
    >جب میں رخصت سے واپس لوٹا تو خوش نصیبی سے میرا یونٹ سنگاپور چلا گیا تھا۔ اس وجہ سے مجھے بھی سنگاپور آنے کا موقع مل گیا۔ اور بالکل حسن اتفاق سے ایک روز جبکہ میں اونان روڈ پر ٹہل رہا تھا اور ملایا کے مسلمانوں کی حالت پر افسوس کررہا تھا۔ یکایک میری نظر ایک بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا۔ جماعت احمدیہ قادیان سنگاپور۔ اندر گیا۔ تو دیکھا جناب مولوی غلام حسین صاحب ایاز بیٹھے تلاوت کررہے تھے۔ اس پر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ فوراً مولوی صاحب سے ملا۔ اپنے حالات سنائے ان کے حالات پوچھے اور اس کے بعد تقریباً روزانہ وہاں جانا شروع کردیا۔ اور وہاں سے سلسلہ کی کتابیں لیکر پڑھنے
    ‏tav.8.11
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    شیخ احمد فرقانی کی شہادت سے سالانہ جلسہ ۱۹۳۵ء تک
    مسلمانوں کا مایہ صدناز شاعر اب سے کچھ دن قبل مسلمانوں کا نیر اقبال بن کر مطلع پنجاب پر چمکا اور مسلمانوں کو جو تعلیم دی وہ شعر مندرجہ عنوان میں پیش کی گئی ہے۔ وہی اقبال جو فرقہ بندی کو مہلک اور ذات پات کے امتیاز کو موت سمجھتا تھا` آج کچھ اور کہہ رہا ہے۔ ایک طرف اس کا مندرجہ بالا شعر ہے اور دوسری طرف اس کا وہ بیان جو حال ہی میں اس نے جماعت احمدیہ قادیان کے متعلق اخبارات کو دیا ہے۔ ان دنوں پیغاموں میں جو اجتماع ضدین ہے اس کو دیکھ کر ہم حیران ہیں کہ اس شعر کہنے والے اقبال کو اقبال سمجھیں یا اس بیان دینے والے اقبال کو اقبال۔ شاعر اقبال نے اپنے شعر میں ہم کو پنپنے کے لئے فرقہ بندی اور ذات پات کے امتیاز سے مجتنب رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اور اب لیڈر اقبال نے ہم کو یہ سیاسی مشورہ دیا ہے کہ ہم قادیان کی جماعت احمدیہ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں اور حکومت پر زور ڈالیں کہ وہ قانونی حیثیت سے بھی احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھے۔
    ہم کو ڈاکٹر سر محمد اقبال سے اس حد تک پورا پورا اتفاق ہے کہ عام مسلمانوں اور احمدیوں میں اعتقادات کا بہت بڑا اختلاف ہے اور اگر اس اختلاف کو شدت پسندی کی نظر سے دیکھا جائے تو بعض صورتوں میں مذہبی اعتبار سے احمدی جماعت اور عام مسلمانوں کے درمیان اتحاد عمل ناممکن سا نظر آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ احمدیوں کو قطع نظر کرکے کیا اسی قسم کے اختلاف اہل سنت اور اہل تشیع میں کارفرما نہیں ہے؟ کیا یہی تضاد اہلسنت کی مختلف العقیدہ جماعتوں میں نہیں ہے۔ وہابی اور حنفی` بریلوی اور دیوبندی` اسی طرح مختلف اسکول ہر ہر جماعت میں موجود ہیں۔ ان میں کی ہر شاخ دوسری شاخ کو اپنے نقطہ نظر سے مرتد اور کافر گردانتی ہے اور بقول مدبرین فرنگ کے یہ تو مسلمانوں کا ایک عام مشغلہ ہے کہ ان میں کا ہرفرد دوسرے کو نہایت آسانی کے ساتھ کافر کہہ دیتا ہے۔ خیر یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کون مومن ہے اور کون کافر۔ لیکن اس تمام اختلاف کو دیکھتے ہوئے سب سے زیادہ محفوظ صورت یہی ہے کہ ہم ہرکلمہ گو کو مسلمان سمجھیں جو خدا کو ایک اور محمد رسول اللہ~صل۱~ کو اس کا محبوب اور رسول سمجھتا ہو۔ اگر مسلمان کی تعریف صرف یہی تسلیم کرلی جائے تو جس طرح ایک حنفی کو` ایک وہابی کو` ایک مقلد کو` ایک غیرمقلد کو` ایک دیوبندی کو اور ایک بریلوی کو مسلمان کہا جاسکتا ہے اسی طرح احمدیوں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اور کسی کو غیر مسلم کہنے کا ہم کو حق ہی کیا ہے جب وہ خود اس پر مصر ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔ اگر ہم اس کو مسلمان نہ بھی سمجھیں تو ہمارے اس نہ سمجھنے سے کیا ہوسکتا ہے اس کا مذہب خود اس کے قول سے تسلیم کیا جائے گا۔
    بہرحال ہم اس تمام بحث کو ان کے دلائل کے ساتھ پیش کرنے کی بجائے اس کے محض سیاسی پہلو کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے یہ کتر و بیونت کس حد تک مفید یا مضرت رساں ہے۔ ہماری ملکی سیاسیات کا موجودہ دور وہ اہم اور نازک دور ہے کہ ہر جماعت خواہ وہ اکثریت میں ہو یا اقلیت میں` اپنی شیرازہ بندی اپنی تنظیم اور اپنے تحفظ کی فکر میں ہمہ تن مصروف ہے۔ ہندو ہیں کہ اچھوتوں کو اپنے میں ملانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اچھوت ان میں سے نہیں۔ ان کو اس کا بھی احساس ہے کہ اچھوتوں سے ملنا دھرم کو مٹی میں ملانا ہے۔ مگر آج ضرورت نے اسی حرام کو حلال کردیا ہے اور وہ اچھوت جن کا سایہ تک ناپاک سمجھا جاتا تھا اور جن کو دیکھ کر ایک کراہت سی ہوتی تھی آج ہندوئوں کی سرآنکھوں پر جگہ پارہے ہیں۔ اور وہی ہندو جوان ناپاک اچھوتوں کو دیکھ کر حقارت اور تنفر کے ساتھ >چھی چھی چھی< کہا کرتے تھے` آج ان کو اپنے سر چڑھا رہے ہیں۔ ان کو اپنی برادریوں میں برابر کی جگہ دے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ کھارہے ہیں۔ ان سے >روٹی بٹی< کے تعلقات پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ حالانکہ ان کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بغیر اچھوتوں کو ملائے ہوئے اکثریت میں ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے اس فرض سے غافل نہیں ہیں کہ اگر اس وقت انہوں نے اچھوتوں کو چھوڑ دیا تو ممکن ہے کہ ان کو مسلمان یا کوئی اور اقلیت اپنا لے اور ان کو ملا کر اکثریت بن جائے۔ ایک طرف تو یہ احتیاط ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی یہ لاپروائی بلکہ سیاسی بدبختی ہے کہ ان میں بجائے تنظیم کے ایک پھوٹ پڑی ہوئی ہے۔ عام مسلمانوں کا کیا سوال جبکہ مسلمانوں کے لیڈران کو باہمی تفرقہ سازی کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ ~}~
    گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا
    کار طفلاں تمام خواہد شد
    احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھنے اور قانونی حیثیت سے ان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیئے جانے کی تحریک ہی کو دیکھ لیجئے کہ یہ سیاسی اعتبار سے کس قدر ناسمجھی` عاقبت نااندیشی اور تدبر کے منافی تحریک ہے۔ اور اسی تحریک سے مسلمانوں کے سیاسی فقدان کا پتہ چلتا ہے۔ یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ احمدیوں کو اپنے سے علیحدہ نہ کرکے ہم بہرحال کسی نقصان میں نہیں بلکہ فائدے میں ہیں۔
    اول تو ہماری تعداد بڑھی ہوئی ہے۔ دوسرے ان کے ووٹروں سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تیسرے سب سے بڑی بات یہ کہ اس کا فیصلہ بالکل ہماری مرضی پر ہے کہ ہم کسی احمدی کو کسی مجلس قانون ساز میں منتخب ہونے دیں یا نہ ہونے دیں۔ لیکن احمدیوں کو اپنے حلقہ سے جدا کرنے کے بعد ہم کو سب سے پہلا نقصان تو یہ پہنچے گا کہ ہماری جماعت کا ایک عنصر گویا ہم سے علیحدہ ہوگیا۔ ہماری اقلیت اور بھی اقل ہوکر رہ جائے گی۔ اور گویا ہم خود اپنے ووٹروں کو اپنے ہاتھ سے دیں گے۔ اس کے علاوہ احمدیوں کے علیحدہ ہو جانے کے بعد ان کی نشستیں بالکل علیحدہ ہوجائیں گی اور وہ مجالس قانون ساز میں بغیر روک ٹوک کے جاسکیں گے۔ آج اگر وہ جانا چاہیں تو ان کو آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی لیکن علیحدگی کی صورت میں وہ بلاشرکت غیرے اپنی نشستوں کے مالک ہوں گے۔ اور ان کو مجالس قانون ساز میں جانے سے کوئی بھی نہ روک سکے گا۔ صرف پنجاب ہی کے صوبہ کو لے لیجئے جہاں سے یہ تحریک اٹھی ہے اور اس کے بعد اندازہ کیجئے کہ یہ تحریک کس قدر بے محل اور غلط ہے۔ پنجاب میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے مسلم اکثریت ہے اور مسلمانوں نے حکومت کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ پنجاب کی مسلم اکثریت کو آئینی طور پر تسلیم کرے۔ چنانچہ حکومت نے ایک نشست کی زیادتی سے مسلم اکثریت تسلیم کرلی ہے۔ ہندو اور سکھ متفقہ طور پر مسلم اکثریت قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ چنانچہ راجندر پرشاد اور مسٹر جناح کی گفتگوئے مصالحت بھی ہندوئوں اور سکھوں کی طرف سے اسی بناء پر بیکار قرار دی گئی اور اس سمجھوتہ کو اسی وجہ سے مسترد کیا گیا۔ لیکن اب مسلمانوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ احمدیوں کو ان سے علیحدہ کرکے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ پنجاب کے مسلمان جو ۵۶ فیصدی ہیں۔ صرف اسی صورت میں اکثریت کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ جب احمدی بھی ان میں شامل رہیں ورنہ دس فیصدی پنجاب کے احمدی اگر نکل گئے تو مسلمان صرف ۴۶ فیصدی رہ جاتے ہیں اور پھر سکھ` ہندو اور احمدی مل کر اکثریت میں آجاتے ہیں۔
    ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کیا مسلمان اپنے پیر پر خود کلہاڑی نہیں مار رہے ہیں کہ اچھے خاصے اکثریت میں ہوتے ہوئے اپنے کو اقلیت میں ڈال رہے ہیں اور اپنی اس کوشش پر خود ہی پانی پھیر رہے ہیں جو سالہا سال سے جاری تھی۔ حکومت نے جدید اصلاحات کے ماتحت ۵۱ نشستیں مسلمانوں کی رکھی ہیں۔ ان میں سے دو نشستیں احمدیوں کو ضرور مل جائیں گی اور کسی وقت ان کی جماعت کا وزیر ہوجانا بھی بعید از امکان نہیں ہے گویا اس طرح احمدی تو نہایت فائدہ میں رہیں گے۔ البتہ اگر نقصان پہنچے گا تو ان کو ہی جو آج اپنے لئے یہ تباہی کے سامان مہیا کررہے ہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ احمدیوں اور عام مسلمانوں میں مذہبی طور پر اتحاد عمل ناممکن ہے۔ لیکن سیاسی طور` جس طرح ایک حنفی` ایک شیعہ کو انگیز کرسکتا ہے۔ جس طرح ایک دیوبندی ایک بریلوی کو برداشت کرسکتا ہے کیا احمدی جماعت سے سیاسی تعلقات بھی اسی طرح نہیں رہ سکتے؟ ہم کو امید ہے کہ مسلمان اس تحریک پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے۔۲۲
    حضرت امیر المومنینؓ کا بصیرت افروز تبصرہ )خطبہ جمعہ میں(
    سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے حیرت انگیز بیان پر ۲۴۔ مئی ۱۹۳۵ء کے خطبہ جمعہ میں نہایت بصیرت
    افروز تبصرہ کیا۔ چنانچہ حضور نے فرمایا۔
    >ڈاکٹر سر اقبال کا بیان ۔۔۔۔۔۔۔ پڑھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی۔ کیونکہ یہ وہی ہیں جنہوں نے ۱۹۳۱ء میں جب کشمیر کمیٹی کا آغاز ہوا` شملہ میں زور دے کر مجھے اس کمیٹی کا پریذیڈنٹ مقرر کیا جو کشمیریوں کی آئینی امداد کے لئے قائم کی گئی تھی۔ حالانکہ وہ خالص اسلامی کام تھا۔
    پس اس وقت تو ہم مسلمان تھے۔ لیکن آج کہا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ اسلامی جماعت ہی نہیں۔ اگر جماعت احمدیہ اسلامی جماعت نہیں تو کیوں ۱۹۳۱ء میں سراقبال نے زور دے کر مجھے ایک اسلامی کمیٹی کا پریذیڈنٹ مقرر کیا۔ کیا ۱۹۳۱ء میں مجھے پریذیڈنٹ بنانے والے انگریزوں کے ایجنٹ تھے جو آج کہا جاتا ہے کہ انگریزوں کی حمایت کی وجہ سے یہ سلسلہ ترقی کررہا ہے؟
    اس وقت میری پریذیڈنٹی پر زور دیتے والے دو ہی شخص تھے` ایک خواجہ حسن نظامی صاحب اور دوسرے ڈاکٹر سراقبال۔ خواجہ صاحب تو اس موقع پر ہماری جماعت کے خلاف بولے نہیں۔ اس لئے ان کے متعلق میں کچھ نہیں کہتا۔ لیکن ڈاکٹر سر اقبال چونکہ ہمارے خلاف بیان دے چکے ہیں اس لئے ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ ۱۹۳۱ء میں انہوں نے کیوں ایک اسلامی کمیٹی کا مجھے پریذیڈنٹ بنایا؟ اب کہا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کو عام مسلمانوں میں اثر و اقتدار کشمیر کمیٹی میں کام کرنے کی وجہ سے ہی حاصل ہوا۔ حالانکہ اس کمیٹی کی صدارت ڈاکٹر صاحب کے زور دینے کی وجہ سے مجھے ملی۔
    پس کیوں ۱۹۳۱ء میں انہوں نے احمدیوں کو مسلمان سمجھا؟ اور کیوں اب آکر انہیں محسوس ہوا کہ جماعت احمدیہ کو مسلمانوں میں سے الگ کر دینا چاہئے؟ یا تو انہیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ اس وقت ہماری حمایت کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے وہ روپے لے کر آئے تھے جو ان کی جیب میں اچھل رہے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ احمدیوں کو مسلمانوں میں شامل کرکے ان کی طاقت کو توڑ دیں اور یا یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ اس وقت احمدیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور اب جوکہہ رہے ہیں کہ انگریزوں نے احمدیوں کو طاقت دی تو غلط کہہ رہے ہیں۔ آخر ہمارے عقائد بدلے تو نہیں کہ ڈاکٹر سر اقبال کو اپنی رائے بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ بلکہ وہی عقائد ہم اب رکھتے ہیں جو ۱۹۳۱ء میں اور اس سے پہلے تھے۔ مگر ۱۹۳۱ء میں تو ہم ڈاکٹر سراقبال کے نزدیک مسلمانوں کے لیڈر` ان کے نمائندہ اور ان کے راہ نما ہوسکتے تھے اور ڈاکٹر اقبال میری صدارت پر زور دے سکتے اور میری صدارت میں کام کرسکتے تھے۔ لیکن اب ہمیں سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رکھنے تک کے لئے تیار نہیں۔ ۱۹۳۱ء میں تو ہمارے اسلام کا ڈاکٹر اقبال صاحب کو یہاں تک یقین تھا کہ جب یہ سوال پیش ہوا کہ وہ کمیٹی جو انتظام کے لئے بنائی جائے گی اس کے کچھ اور ممبر بھی ہونے چاہئیں اور ممبروں کے انتخاب کے متعلق بعض قواعد وضع کرلینے چاہئیں تو ڈاکٹر سر اقبال نے کہا کوئی قوانین بنانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صدر صاحب پر پورا پور اعتماد ہے۔ اور ہمیں چاہئے کہ ہم ممبروں کے انتخاب کا معاملہ ان کی مرضی پر چھوڑ دیں۔ وہ جسے چاہیں رکھیں جسے چاہیں نہ رکھیں۔
    پھر ہنس کر کہا میں تو نہیں کہتا لیکن اگر سارے ممبر آپ نے احمدی ہی رکھ لئے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اعتراض کریں گے کہ ان لوگوں نے کمیٹی کے تمام ممبر احمدی بنالئے۔ اس لئے آپ ممبر بناتے وقت احتیاط کریں اور کچھ دوسرے مسلمانوں میں سے بھی لے لیں اور سارے ممبر احمدی نہ بنائیں۔ لیکن آج سر اقبال کو یہ نظر آتا ہے کہ احمدی مسلمان۲۳ ہی نہیں حالانکہ اس عرصہ میں کوئی نئی بات ہمارے اندر پیدا نہیں ہوئی۔
    پھر مجھے تعجب ہے کہ ہماری مخالفت میں اس حد تک یہ لوگ بڑھ گئے ہیں کہ ڈاکٹر سر اقبال جیسے انسان جو مسلمانوں کی ایک جماعت کے لیڈر` فلاسفر` شاعر اور نہایت عقلمند انسان سمجھے جاتے ہیں۔ انگریزی حکومت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے احمدیوں کو کیوں پنپنے دیا؟ شروع میں ہی اس تحریک کو کیوں کچل نہ دیا؟ کیونکہ ان کے نزدیک اگر نئی تحریکات کا مقابلہ نہ کیا جائے تو اس طرح اکثریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ پس ان کے نزدیک حکومت کا فرض تھا کہ احمدیت کو کچل دیتی۔ بلکہ انہیں شکوہ ہے کہ انگریزوں نے تو اتنی بھی عقلمندی نہ دکھائی جتنی روما کی حکومت نے حضرت مسیح ناصری کے وقت میں دکھائی تھی۔ انہوں نے اتنا تو کیا کہ حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکا دیا۔ گو یہ دوسری بات ہے کہ خدا نے اپنے فضل سے انہیں بچالیا۔
    اس فقرہ کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں کہ رومی حکومت نے جب حضرت مسیح ناصریؑ کو صلیب پر لٹکایا تو اس نے ایک جائز` مستحسن اور قابل تعریف فعل کیا اور اچھا کیا جو یہودیوں کے شوروغوغا کو سنکر عیسائیت کے بانی پر ہاتھ اٹھایا۔
    یا تو ان لوگوں کو اتنا غصہ آتا ہے کہ اگر ہم حضرت مسیح ناصری کو وفات یافتہ کہہ دیں تو ان کے تن بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے یا اب احمدیت کی مخالفت میں عقل اس قدر ماری گئی ہے کہ کہا جاتا ہے حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکانے کا فعل جو رومیوں نے کیا وہ بہت اچھا تھا گو پورا اچھا کام نہیں کیا کیونکہ وہ بچ رہے۔ ان کا فرض تھا کہ اگر حضرت مسیح ناصری آسمان پر چلے گئے تھے تو رومی انہیں آسمان سے کھینچ لاتے اور اگر کشمیر چلے گئے تھے تو وہاں سے پکڑ لاتے اور ان کے سلسلہ کا خاتمہ کردیتے۔ تاکہ یہود کے اتحاد ملت میں فرق نہ آتا۔ مگر انگریزوں سے تو بہرحال وہ زیادہ عقلمند تھے کہ انہوں نے اپنی طرف سے انہیں صلیب پر لٹکا دیا اور اب ڈاکٹر سر اقبال کو شکوہ ہے کہ انگریزوں نے اتنی جرات بھی نہ دکھائی اور بناوٹی طور پر بھی حضرت مرزا صاحب کو سزا نہ دی۔۲۴
    یہ بیان ہے جو ڈاکٹر سر اقبال نے دیا اور مسلمان خوش ہیں کہ کیا اچھا بیان ہے۔ حالانکہ اس فقرہ کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہوسکتے کہ جیسے رومیوں نے حضرت مسیح ناصریؑ سے سلوک کیا تھا ویسا ہی سلوک انگریزوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کرنا چاہئے تھا۔ اگر اس فقرہ سے ہزاروں حصہ کم بھی کسی احمدی کے منہ سے نکل جاتا تو ایک طوفان مخالفت برپا ہوجاتا اور احراری شور مچانے لگ جاتے کہ مسیح ناصریؑ کی توہین کر دی گئی لیکن اب چونکہ یہ الفاظ اس شخص نے کہے ہیں جو ان کا لیڈر ہے اس لئے اگر وہ رومیوں کے مظالم کی تعریف بھی کرجائیں تو کہا جاتا ہے واہ وا! کیا خوب بات کہی!! احمدی رسول کریم~صل۱~ کی تعریف کریں تو آپ کی ہتک کرنے والے قرار پائیں۔ اور یہ حضرت مسیحؑ کی کھلی کھلی توہین کریں تو آپ کی عزت کرنے والے سمجھے جائیں۔
    یہ باتیں بتاتی ہیں کہ مسلمانوں کا ایک حصہ ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں نجات اس کے لئے ناممکن ہوگئی ہے۔ وہ ہماری دشمنی میں ہرچیز کو توڑنے کے لئے تیار ہیں۔ وہ ہماری عداوت میں اسلام پر تبر چلانے` رسول کریم~صل۱~ کی عزت پر تبر چلانے اور پہلے انبیاء کی عزتوں پر تبر چلانے کے لئے بھی تیار ہیں اور صرف اس ایک مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کچل دی جائے۔ لیکن جیسے اسلام اور رسول کریم~صل۱~ اور پہلے انبیاء ¶پر جوتبر چلائے جائیں گے وہ رائیگاں جائیں گے۔ اسی طرح پر وہ تبر جو جماعت احمدیہ پر چلایا جائے گا۔ آخر چکر کھاکر انہی کے پائوں پر پڑے گا اور جماعت احمدیہ کو ایک ذرہ بھر بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا<۔۲۵
    حضرت امیر المومنین کا بصیرت افروز تبصرہ )مضمون کی صورت میں(
    سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے خطبہ جمعہ میں تبصرہ کرنے کے بعد >ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمدیہ جماعت( کے عنوان سے ایک نہایت
    محققانہ مضمون بھی تحریر فرمایا جو >الفضل< ۱۸۔ جولائی ۱۹۳۵ء میں چھپنے کے علاوہ ٹریکٹ کی شکل میں بھی شائع ہوا۔ اس قیمتی مضمون کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمدیہ جماعت
    سرمحمد اقبال صاحب کو کچھ عرصہ سے میری ذات سے خصوصاً اور جماعت احمدیہ سے عموماً بغض پیدا ہوگیا ہے اور اب ان کی حالت یہ ہے کہ یا تو کبھی وہ انہی عقائد کی موجودگی میں جو ہماری جماعت کے اب ہیں جماعت احمدیہ سے تعلق موانست اور مواخات رکھنا برا نہیں سمجھتے تھے یا اب کچھ عرصہ سے وہ اس کے خلاف خلوت اور جلوت میں آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ میں ان وجوہ کے اظہار کی ضرورت محسوس نہیں کرتا جو اس تبدیلی کا سبب ہوئے ہیں جس نے ۱۹۱۱ء کے اقبال کو جو علی گڑھ کالج میں مسلمان طلباء کو تعلیم دے رہا تھا کہ >پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں<۲۶ ۱۹۳۵ء میں ایک دوسرے اقبال کی صورت میں بدل دیا جو یہ کہہ رہا ہے کہ۔
    >میرے نزدیک قادیانیت سے بہائیت زیادہ ایماندارانہ ہے کیونکہ بہائیت نے اسلام سے اپنی علیحدگی کا اعلان واشگاف طور پر کردیا۔ لیکن قادیانیت نے اپنے چہرے سے منافقت کی نقاب الٹ دینے کے بجائے اپنے آپ کو محض نمائشی طور پر جزواسلام قرار دیا اور باطنی طور پر اسلام کی روح اور اسلام کے تخیل کو تباہ و برباد کرنے کی پوری پوری کوشش کی<۔
    )زمیندار ۵۔ مئی ۱۹۳۵ء(
    یعنے ۱۱ء کی احمدیہ جماعت آج ہی کے عقائد کے ساتھ صحابہؓ کا خالص نمونہ تھی لیکن ۱۹۳۵ء کی احمدیت بہائیت سے بھی بدتر ہے۔ اس بہائیت سے جو صاف لفظوں میں قرآن کریم کو منسوخ کہتی ہے۔ جو واضح عبارتوں میں بہاء اللہ کو ظہور الٰہی قرار دیتے ہوئے رسول کریم~صل۱~ پر ان کو فضیلت دیتی ہے گویا ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے نزدیک اگر ایک شخص رسول کریم~صل۱~ کی رسالت کو منسوخ قرار دیتا` قرآن کریم سے بڑھ کر تعلیم لانے کا مدعی ہوتا` نمازوں کو تبدیل کردیتا اور قبلہ کو بدل دیتا ہے اور نیا کلمہ بناتا اور اپنے لئے خدائی کا دعویٰ کرتا ہے حتیٰ کہ اس کی قبر پر سجدہ کیا جاتا ہے تو بھی اس کا وجود ایسا برا نہیں مگر جو شخص رسول کریم~صل۱~ کو خاتم النبین قرار دیتا` آپ کی تعلیم کو آخری تعلیم بتاتا` قرآن کریم کے ایک ایک لفظ ایک ایک حرکت کو آخر تک خداتعالیٰ کی حفاظت میں سمجھتا ہے۔ اسلامی تعلیم کے ہرحکم پر عمل کرنے کو ضروری قرار دیتا ہے اور آئندہ کے لئے سب روحانی ترقیات کو رسول کریم~صل۱~ کی فرمانبرداری اور غلامی میں محصور سمجھتا ہے وہ برا اور بائیکاٹ کرنے کے قابل ہے۔
    دوسرے لفظوں میں سرمحمد اقبال صاحب مسلمانوں سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ جو شخص رسول کریم~صل۱~ کی رسالت کو منسوخ کرے۔ قرآن کریم کے بعد ایک نئی کتاب لانے کا مدعی ہو۔ اپنے لئے خدائی کا مقام تجویز کرے اور اپنے سامنے سجدہ کرنے کو جائز قرار دے۔ جس کے خلیفہ کی بیعت فارم میں صاف لفظوں میں لکھا ہو کہ وہ خدا کا بیٹا ہے` وہ بانی سلسلہ احمدیہ سے اچھا ہے جو اپنے آپ کو خادم رسول اکرم~صل۱~ قرار دیتے ہیں۔ اور قرآن کریم کی اطاعت کو اپنے لئے ضروری قرار دیتے ہیں اور کعبہ کو بیت اللہ اور کلمہ کا مدار نجات سمجھتے ہیں۔ کیونکہ بہائی تو رسول کریم~صل۱~ کی ذات پر اور قرآن کریم پر حملہ کرتے ہیں۔ لیکن احمدی سرمحمد اقبال اور ان کے ہمنوائوں کو روحانی بیمار قرار دے کر انہیں اپنے علاج کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور ان کے ایمان کی کمزوریوں کو ان پر ظاہر کرتے ہیں۔ بہ بیں تفاوت رہ از کجاست تابہ کجا۔
    سر محمد اقبال صاحب اس عذر کی پناہ نہیں لے سکتے کہ میرا صرف مطلب یہ ہے کہ بہائی منافق نہیں اور احمدی منافق ہیں۔ کیونکہ اول تو یہ غلط ہے کہ بہائی کھلے بندوں اپنے مذہب کی تلقین کرتے ہیں۔ اگر سر محمد اقبال یہ دعویٰ کریں تو اس کے صرف یہ معنی ہوں گے کہ بیسویں صدی کا یہ مشہور فلسفی ان فلسفی تحریکات تک سے آگاہ نہیں جن سے اس وقت کے معمولی نوشت و خواند والے لوگ آگاہ ہیں۔ سرمحمد اقبال کو معلوم ہونا چاہئے کہ بہائی اپنی کتب عام طور پر لوگوں کو نہیں دیتے بلکہ انہیں چھپاتے ہیں۔ وہ ہر ملک میں الگ الگ عقائد کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ امریکہ میں صاف لفظوں میں بہاء اللہ کو خدا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن اسلامی ممالک میں اس کی حیثیت ایک کامل ظہور کی بتاتے ہیں۔ وہ اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر نمازیں پڑھ لیتے ہیں۔ ویسا ہی وضو کرتے ہیں اور اتنی ہی رکعتیں پڑھتے ہیں جتنی کہ مسلمان۔ لیکن الگ طور پر وہ صرف تین نمازوں کے قائل ہیں اور ان کے ہاں نماز پڑھنے کا طریق بھی اسلام سے مختلف ہے۔
    پھر یہ بھی درست نہیں کہ احمدی منافق ہیں اور لوگوں سے اپنے عقائد چھپاتے ہیں۔ اگر احمدی مداہنت سے کام لیتے تو آج سرمحمد اقبال کو اس قدر اظہار غصہ کی ضرورت ہی کیوں ہوتی احمدی ہندوستان کے ہر گوشے میں رہتے ہیں۔ دوسرے فرقوں کے لاکھوں کروڑوں مسلمان ان کے حالات سے واقف ہیں وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے` رسول کریم~صل۱~ کی بتائی ہوئی نماز کے مطابق نماز پڑھنے والے` روزے رکھنے والے` حج کرنے والے اور زکٰوۃ دینے والے ہیں۔ وہ کون سی بات ہے جو احمدی چھپاتے ہیں اور سرمحمد اقبال کے پاس وہ کونسا ذریعہ ہے جس سے انہوں نے یہ معلوم کیا کہ احمدیوں کے دل میں کچھ اور ہے مگر ظاہر وہ کچھ اور کرتے ہیں۔ رسول کریم~صل۱~ تو اس قدر محتاط تھے کہ جب ایک صحابی نے ایک شخص کو جس نے عین اس وقت کلمہ پڑھا تھا جب وہ اسے قتل کرنے لگے تھے` قتل کر دیا۔ اور عذر یہ رکھا کہ اس نے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ھل شققت قلبہ کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا ہے؟ لیکن ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب آج دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قوم جس کے افراد نے افغانستان میں اپنے عقائد چھپانے پسند نہ کئے لیکن جان دے دی` ساری کی ساری منافق ہے اور ظاہر کچھ اور کرتی ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہے۔
    اگر یہ الزام کوئی ایسا شخص لگاتا جسے احمدیوں سے واسطہ نہ پڑا ہوتا تو میں اسے معذور سمجھ لیتا۔ لیکن سر محمد اقبال معذور نہیں کہلا سکتے۔ ان کے والد صاحب مرحوم احمدی تھے۔ ان کے بڑے بھائی صاحب شیخ عطا محمد صاحب احمدی ہیں۔ ان کے اکلوتے بھتیجے شیخ محمد اعجاز احمد صاحب سب جج احمدی ہیں۔۲۷ اسی طرح ان کے خاندان کے اور کئی افراد احمدی ہیں۔ ان کے بڑے بھائی صاحب حال ہی میں کئی ماہ ان کے پاس رہے ہیں۔ بلکہ جس وقت انہوں نے یہ اعلان شائع کیا ہے اس وقت بھی سرمحمد اقبال صاحب کی کوٹھی وہ تعمیر کرا رہے تھے۔ کیا سرمحمد اقبال صاحب نے ان کی رہائش کے ایام میں انہیں منافق پایا تھا یا خود اپنی زندگی سے زیادہ پاک زندگی ان کی پائی تھی۔ ان کے سگے بھتیجے شیخ اعجاز احمد صاحب ایسے نیک نوجوان ہیں کہ اگر سرمحمد اقبال غور کریں تو یقیناً انہیں ماننا پڑے گا کہ ان کی اپنی جوانی اس نوجوان کی زندگی سے سینکڑوں سبق لے سکتی ہے۔ پھر ان شواہد کی موجودگی میں ان کا کہنا کہ احمدی منافق ہیں اور وہ ظاہر میں رسول کریم~صل۱~ سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن دل سے رسول کریم~صل۱~ کے دین کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں کہاں تک درست ہوسکتا ہے؟
    میں تمام ان شریف مسلمانوں سے جو اسلام کی محبت رکھتے ہیں` درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹھنڈے دل سے اس صورت حالات پر غور کریں جو ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے اعلان نے پیدا کردی ہے اور دیکھیں کہ کیا اس قسم کے غیظ و غضب کے بھرے ہوئے اعلان مسلمانوں کی حالت کو بہتر بنائیں گے یا خراب کریں گے اور سوچیں کہ ایک شخص جو اپنے احمدی بھائی کو بلوا کر اس سے اپنی کوٹھی بنواتا ہے دوسرے مسلمانوں کو ان کے بائیکاٹ کی تعلیم دیتا ہے کہاں تک لوگوں کے لئے راہنما بن سکتا ہے اور اسی طرح وہ شخص جو رسول کریم~صل۱~ کی ذات پر کھلا حملہ کرنے والے کو اچھا قرار دیتا ہے اور اپنے ایمان پر اعتراض کرنے والے کو ناقابل معافی قرار دیتا ہے کہاں تک مسلمانوں کا خیر خواہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ کاش سرمحمد اقبال اس عمر میں ان امور کی طرف توجہ کرنے کی بجائے ذکر الٰہی اور احکام اسلام کی بجاآوری کی طرف توجہ کرتے اور پیشتر اس کے کہ توبہ کا دروازہ بند ہوتا` اپنے نفس کی اصلاح کرتے تا خداتعالیٰ ان کو موت سے پہلے صداقت کے سمجھنے کی توفیق دیتا اور وہ محمد رسول اللہ~صل۱~ کے سچے متبع کے طور پر اپنے رب کے حضور میں پیش ہوسکتے۔ واخر دعونا ان الحمدللہ رب العالمین۔
    والسلام
    خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ<۲۸`۲۹
    ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کا ردعمل
    حضرت امیرالمومنینؓ کا مدلل مضمون اور آپ کے بیان فرمودہ حقائق کے رد میں ڈاکٹر صاحب موصوف کو آخر دم تک قلم اٹھانے کی جرات نہ ہوسکی۔ البتہ انہوں نے اپنے فلسفیانہ انداز میں احمدیت پر تنقید ضرور جاری رکھی۔ خصوصاً پنڈت جواہر لال نہرو کے دو مضامین۳۰ کے جواب میں )جو کلکتہ کے رسالہ >ماڈرن ریویو< میں شائع ہوئے تھے( انہوں نے احمدیت پر زبردست نکتہ چینی کی۔
    ایک ضمنی بات
    یہاں ضمناً یہ بتانا شاید غیر مناسب نہ ہوگا کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال شعر و سخن اور فلسفہ دانی میں ایک بلند پایہ شخصیت کے حامل تھے مگر جہاں تک اسلامی نظریات و مبادیات کا تعلق ہے۔ انہیں خود مسلم تھا کہ۔
    >میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔ میری عمر زیادہ تر مغربی فلسفہ کے مطالعہ میں گزری ہے اور یہ نقطہ خیال ایک حد تک طبیعت ثانیہ بن گیا ہے۔ دانستہ یا نادانستہ میں اسی نقطہ خیال سے حقائق اسلام کا مطالعہ کرتا ہوں<۔۳۱
    اسی تعلق میں ایک بار انہوں نے اپنی چھوٹی ہمشیرہ کو خط میں لکھا۔
    >میں جو اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمر یورپ کا فلسفہ وغیرہ پڑھنے میں گنوائی۔ خداتعالیٰ نے مجھ کو قوائے دماغی بہت اچھے عطا فرمائے تھے۔ اگر یہ قویٰ دینی علوم کے پڑھنے میں صرف ہوتے تو آج خدا کے رسول کی میں کوئی خدمت کرسکتا<۳۲
    اس کے مقابل جہاں تک عمل کا تعلق ہے` ان کا اپنا اعتراف ہے کہ ~}~
    اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا۳۳
    اسی طرح ایک بار انہوں نے اپنی عملی زندگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ
    >میں تو قوال ہوں میں گاتا ہوں تم ناچتے ہو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ میں بھی تمہارے ساتھ ناچنا شروع کردوں<۳۴
    انہوں نے ایک اور موقعہ پر یہ بھی اعتراف کیا کہ
    >اگر میں اپنی پیش کردہ تعلیمات پر عمل بھی کرتا تو شاعر نہ ہوتا بلکہ مہدی ہوتا<۳۵
    علامہ احسان اللہ خاں تاجور نے اپنے رسالہ >شاہکار< میں لکھا ہے کہ
    >علامہ اقبال ۔۔۔۔۔۔۔ میں کمال قابلیت کے ساتھ طاقت گفتار کی بہ نسبت روح کردار بہت کم ہے<۳۶
    بلکہ امیر شریعت احرار مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری تو صاف کہا کرتے تھے کہ
    >اقبال کا قلم تمام عمر صحیح رہا اور قدم اکثر و بیشتر غلط<۳۷
    ڈاکٹر صاحب کے بعض عجیب و غریب نظریات
    عقیدہ و عمل کی اسی امتزاجی کیفیت کا نتیجہ تھا کہ علامہ اقبال نے احمدیوں کو ختم نبوت اور اسلام کا باغی ثابت کرنے کے لئے پنڈت نہرو کے جواب میں بعض ایسے نظریات پیش کردیئے جن کی تغلیط بعد کو خود ان کے مداحوں کو کرنا پڑی۔ مثلاً انہوں نے یہ نظریہ اختراع کیا کہ غلام قوموں کے انحطاط کے نتیجہ میں الہام جنم لیتا ہے۔ اسی خیال کو انہوں نے اپنے ایک شعر میں یوں باندھا ہے۔ ~}~
    محکوم۳۸ کے الہام سے اللہ بچائے
    غارت گر اقوام ہے وہ صورت چنگیز
    جناب حافظ اسلم صاحب جیرا جپوری نے اس شعر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۔
    >یہ خالص شاعرانہ استدلال ہے۔ غالب کی طرح جس نے کہا ~}~
    کیوں رد قدح کرے ہے زاہد
    مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
    >جس طرح مگس کی قے کہہ دینے سے شہد کی لطافت اور شیرینی میں فرق نہیں آسکتا۔ اسی طرح حکومت کی نسبت سے الہام بھی اگر حق ہو تو غارت گر اقوام نہیں ہوسکتا۔ خود حضرت عیٰسی علیہ السلام رومی سلطنت کے محکوم تھے جن کی نسبت ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ہے۔ ~}~
    فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نے کیا
    نبی عفت و غمخواری و کم آزاری
    بلکہ اکثر انبیاء کرام علیہم السلام محکوم اقوام ہی میں معبوث کئے گئے جس کے خاص اسباب و علل تھے ۔۔۔۔۔۔۔ دراصل نبوت کی صداقت کا معیار حاکمیت یا محکومیت پر نہیں ہے۔ بلکہ خود الہام کی نوعیت پر ہے<۔4] fts[۳۹
    علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے اس جوابی مضمون میں سے بطور نمونہ یہ صرف ایک مثال پیش کی گئی ہے ورنہ انہوں نے اس نوع کی لغزشیں کھائی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ اس واضح حقیقت کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے اخبار >الفضل )قادیان( کا چودہ قسطوں پر مشتمل سلسلہ مضامین مطالعہ کرنا ضروری ہے۔۴۰
    جو ۱۹۳۶ء کے وسط اول میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے جواب میں شائع کیا گیا اور جس میں ان کے بیان پر اس خوبی` جامعیت اور مدلل رنگ میں روشنی ڈالی گئی کہ بس دن ہی چڑھ گیا۔ اور سر محمد اقبال اور ان کے مداحوں پر ہمیشہ کے لئے حجت تمام ہوگئی۔
    مسئلہ وفات مسیحؑ کی معقولیت کا واضح اقرار
    بالاخر یہ بتانا از بس ضروری ہے کہ ڈاکٹر اقبال نے جہاں جماعت احمدیہ کے خلاف بہت سے فلسفیانہ اعتراضات کئے ہیں وہاں آپ جماعت احمدیہ کے بنیادی عقیدہ وفات مسیح کے بارے میں یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ۔
    >جہاں تک میں اس تحریک کا مفہوم سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک فانی انسان کی مانند جام مرگ نوش فرماچکے ہیں نیز یہ کہ ان کے دوبارہ ظہور کا مقصد یہ ہے کہ روحانی اعتبار سے ان کا ایک مثیل پیدا ہوگا کسی حد تک معقولیت کا پہلو لئے ہوئے ہے<۔۴۱
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کا اظہار مسرت ڈاکٹر سر محمد اقبال کے ایک خیال پر
    اس واضح اقرار حق کے علاوہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے ایک نہایت اہم اور قیمتی نکتہ بھی بیان فرمایا جو ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے کہ۔
    >بانی احمدیت کے الہامات کی اگر دقیق النظری سے تحلیل کی جائے تو یہ ایک ایسا موثر طریقہ ہوگا جس کے ذریعہ سے ہم اس کی شخصیت اور اندرونی زندگی کا تجزیہ کرسکیں گے اور مجھے امید ہے کہ کسی دن نفسیات جدید کا کوئی متعلم اس کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے گا<۴۲
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کو اس خیال پر ازحد خوشی ہوئی اور حضور نے ایک بار اس تجویز کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ۔
    >مجھے اس حوالہ کو پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب کوئی ماھر نفسیات بانی سلسلہ احمدیہ کے الہامات کا تجزیہ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں کرے گا اور صحیح تجزیہ کرے گا تو وہ لازماً احمدیت کی صداقت کا قائل ہو جائے گا پس یہ نصیحت علامہ اقبال مرحوم کی ہمارے لئے نہایت ہی مفید ہے۔ اگر کوئی شخص غلط تجزیہ کرے گا تو ہماری زبان اور قلم سلامت ہیں۔ ہم جواب دیں گے اور بتائیں گے کہ یہ تجزیہ تمہارا غلط ہے ۔۔۔۔۔۔ ہم تو کہیں گے کاش بہت سے ایسے لوگ کھڑے ہوں۔ اگر ایسے لوگ کھڑے ہوں گے تو وہ یقیناً احمدی جماعت کی تائید کرنے والے ہوں گے اور ہماری ترقی کا موجب ہوں گے۔ اور اگر وہ تعصب سے کام لیں گے تو پھر بھی ہمارے لئے کامیابی ہی کی صورت نکلے گی۔ کیونکہ ہم ان کی کمزوریاں ظاہر کریں گے اور دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ ہمارا مقابلہ کرنے والا خواہ کسی رنگ میں بھی پیش ہو وہ صداقت سے دور ہوتا ہے اور بنیادی کمزوریوں میں مبتلا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میرے نزدیک جو باتیں ایک رنگ میں ہمارے فائدہ کی ہوں ان پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اور ایسے لوگوں کا ممنون ہونا چاہئے جو کہ دانستہ یا نادانستہ سچائی کے معلوم کرنے کے لئے ایک رستہ کھولتے ہیں<۔۴۳
    دوسرا باب )فصل سوم(
    مجاہدین تحریک جدید کا بیرونی ممالک میں جانے والا پہلا قافلہ
    ۶۔ مئی ۱۹۳۵ء کا دن تاریخ احمدیت میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس روز تحریک جدید کے ماتحت بیرونی ممالک میں جانے والے
    مجاہدین کا پہلا قافلہ جو مندرجہ ذیل مبلغین پر مشتمل تھا قادیان سے روانہ ہوا۔
    ۱۔ مولوی غلام حسین صاحب ایاز )سنگاپور( ۲۔ صوفی عبدالغفور صاحب )چین(
    ۳۔ صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز )جاپان(۴۴`۴۵]ydob [tag
    دارالتبلیغ سٹریٹس سیٹلمینٹ
    سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے سنگاپور` ملاکا اور پنیانگ کی ریاستوں میں تبلیغ اسلام کے لئے مولانا غلام حسین صاحب ایاز۴۶ کو روانہ فرمایا۔ روانگی کے وقت آپ کو صرف اخراجات سفر دیئے گئے۔ آپ ایک لمبے عرصہ تک خود آمد پیدا کرکے گزارہ کرتے اور مشن چلاتے رہے۔
    ایاز صاحب نے سنگاپور میں پہنچتے ہی اس خطہ زمین کے مذہبی اور تجارتی حالات کا جائزہ لیا۴۷]4 [rtf اور ساتھ ہی دیوانہ وار تبلیغ اسلام و احمدیت میں مصروف ہوگئے۔ یہاں آپ کو شدید مخالفت کا سامنا ہوا۔ مگر آپ مجنونانہ رنگ میں مصروف جہاد رہتے۔
    آپ کی کوششوں کا پہلا ثمرہ حاجی جعفر صاحب بن حاجی وانتار صاحب۴۸ تھے جو جنوری ۱۹۳۷ء۴۹ میں آپ کی تبلیغ سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری سابق انچارج سنگاپور مشن کا بیان ہے کہ۔
    >سنگاپور میں قیام جماعت کے ابتدائی ایام میں مکرم حاجی صاحب مرحوم نے حضرت مولوی غلام حسین صاحب ایاز کی معیت میں سلسلہ کی خاطر بہت تکلیفیں اٹھائیں۔ دو تین مرتبہ بعض معاندین کی طرف سے زدوکوب اور ماریں بھی کھائیں مگر خدا کے فضل سے ہمیشہ ثابت قدم رہے۔ ایک مرتبہ بعض مخالف لوگوں کی انگیخت پر دو اڑھائی سو مسلح افراد نے آپ کے مکان کا محاصرہ کرلیا۔ اور اپنے ایک عالم کو ساتھ لاکر حاجی صاحب مرحوم سے اسی وقت احمدیت سے منحروف ہونے کا مطالبہ کیا اور بصورت دیگر ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی دھمکی دی۔ حاجی صاحب مرحوم نے اسی وقت اونچی آواز سے تشہد پڑھ کر اعلان کیا کہ میں کس بات سے توبہ کروں۔ میں تو پہلے ہی خدا کے فضل سے ایک سچا مسلمان ہوں۔ اور اگر میں نے کسی گناہ سے توبہ کرنی بھی ہو تو بندوں کے سامنے نہیں بلکہ میں اللہ کے سامنے اپنے سب گناہوں کی معافی مانگتا ہوا اس سے ملتجی ہوں کہ وہ مجھے معاف کرے۔ جب اس کے باوجود مجمع مشتعل رہا۔ اور مکان میں گھس کر جانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ تو مرحوم مومانہ جرات اور ہمت سے ایک چھرا ہاتھ میں لے کر اپنے مکان کی حدود میں اپنا دروازہ روک کر کھڑے ہوگئے اور ببانگ دہل یہ اعلان کردیا کہ مرنا تو ہر ایک نے ایک ہی مرتبہ ہے۔ کیوں نہ سچائی کی خاطر بازی لگا دی جائے۔ اب اگر تم میں سے کسی باپ کے بیٹے میں جرات ہے کہ بری نیت سے میرے مکان میں گھسنے کی کوشش کرے تو آگے بڑھ کر دیکھ لے کہ اس کا کیا حشر ہوگا۔
    مکان کی دوسری سمت سے حاجی صاحب مرحوم کا بہادر لڑکی باہر نکل آئی اور ہاتھوں میں ایک مضبوط ملائی تلوار نہایت جرات سے گھماتے ہوئے اس نے بھی سارے مجمع کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا کہ میرے والد جب سے احمدی ہوئے ہیں۔ میں نے ان میں کوئی خلاف شرع یا غیر اسلامی بات نہیں دیکھی۔ بلکہ ایمان اور عملی ہر لحاظ سے وہ پہلے سے زیادہ پکے مسلمان اور اسلام کے شیدائی معلوم ہوتے ہیں۔ اس لئے تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ احمدیت نے انہیں اسلام سے مرتد کردیا ہے۔ پس اگر آپ لوگوں میں سے کسی نے میرے باپ پر حملہ کرنے کی جرات کی یا ناجائز طور پر ہمارے گھر کے اندر گھسنے کی کوشش کی تو وہ جان لے کہ اس کی خیر نہیں۔ اگرچہ میں عورت ہوں۔ تاہم تم یاد رکھو کہ حملے کی صورت میں میں اس تلوار سے تین چار کو مار گرانے سے پہلے نہیں مروں گی۔ اب جسکا جی چاہے آگے بڑھ کر اپنی قسمت آزمالے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس مشتعل مجمع پر ایسا رعب طاری کیا کہ باوجود اس کے کہ لوکل ملائی پولیس کے بعض افراد وہاں کھڑے قیام امن کے بہانے مخالفین احمدیت کی کھلی تائید کررہے تھے۔ پھر بھی مجمع میں سے کسی فرد کو بھی مکرم حاجی صاحب کے گھر میں گھسنے یا حملہ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ آخر جب کافی وقت گئے تک وہ لوگ منتشر نہ ہوئے تو حاجی صاحب مرحوم نے ان کو مخاطب کرکے کہا۔ کہ میں خدا کے فضل سے احمدیت میں داخل ہونے سے پہلے بھی مسلمان تھا اور قبول احمدیت کے بعد تو زیادہ پکے طور پر مسلمان ہوگیا ہوں کیونکہ احمدیت اسلام ہی کا دوسرا نام ہے۔ اس پر مخالفین شرمندہ ہوکر آہستہ آہستہ منتشر ہوگئے<۔۵۰
    ایاز صاحب ۱۴۔ مارچ ۱۹۳۶ء کو سنگاپور سے ملایا کی ریاست جوہور میں تشریف لے گئے۔ اور جوہور )دارالسلطنت( رنگم` پنتیان کچیل` باتو پاہت` موار` کوتاتینگی` بنوت وغیرہ شہروں کا تبلیغی دورہ کیا اور انگریزی اور ملائی زبان میں ٹریکٹ تقسیم کئے۔ دس روز بعد آپ نے ریاست ملاکا میں قدم رکھا۔ اور اس کے بعض مشہور شہروں مثلاً جاسین` آلور گاجا` مرلیمون` ستامپین اور تنجونگ تک پیغام احمدیت پہنچایا۔ ۲۱۔ اپریل کو آپ ملاکا سے روانہ ہوکر >نگری سمبیلن< کے شہر سرمبان SEREMBAN میں پہنچے۔ ۲۴۔ اپریل کو ایف` ایم ایس کے مرکز کوالالمپور تشریف لے گئے۔۵۱
    سنگاپور میں احمدیت کا بیج بویا جاچکا تھا جو آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا اور سعید روحیں کھینچی آرہی تھیں۔ کامیابی کے یہ ابتدائی آثار دیکھ کر وسط ۱۹۳۷ء میں ملایا میں مخالفت کا بازار گرم ہوگیا۔ پہلے ایک پندرہ روزہ اخبار >ورتا ملایا< نے کھلم کھلا مخالفت کی۔۵۲ پھر علاقہ کے علماء نے آپ کی نسبت واجب القتل ہونے کا فتویٰ دے دیا۔ اس ضمن میں مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کا بیان ہے کہ۔
    >۱۹۳۸ء یا ۱۹۳۹ء میں سنگاپور کی جامع مسجد میں )جسے مسجد سلطان کہا جاتا ہے( ایک عالم کا ہماری جماعت کے خلاف لیکچر تھا مکرم مولوی غلام حسین صاحب ایاز ۔۔۔۔۔۔۔ بھی وہاں تشریف لے گئے۔ مولوی )عبدالعلیم صاحب صدیقی( نے دوران تقریر میں کہا کہ مرزائیوں کا قرآن اور ہے۔ وہ نہیں ہے جو کہ حضرت سیدنا محمد~صل۱~ پر اترا تھا۔ اس پر مکرم مولانا غلام حسین صاحب ایاز نے بڑی جرات سے کھڑے ہوکر سب کے سامنے اپنے بیگ سے قرآن کریم نکالا اور صدیقی صاحب کو چیلنج کیا کہ دیکھو یہ ہے ہمارا قرآن آپ اپنا قرآن نکال کر مقابلہ و موزانہ کرلیں اگر ذرہ بھر زیر زبر کا بھی فرق ہو تو بے شک ہمیں ملزم یا کافر قرار دے لیں ورنہ اس قسم کی غلط بیانیاں کرتے ہوئے خدا کا خوف کریں۔ اس مولوی نے مجمع کو ہمارے خلاف پہلے ہی مشتعل کر رکھا تھا۔ بجائے چیلنج قبول کرنے کے اس نے پبلک کو ہمارے خلاف مزید اشتعال دلایا اور کہا کہ یہ شخص کافر مرتد ہے اس کی سزا اسلام میں قتل ہے۔ کوئی ہے جو کہ مسلمانوں کو اس سے نجات دلائے۔ اس پر مجمع میں سے بعض لوگوں نے مکرم مولوی غلام حسین صاحب ایاز کو سخت مارا اور گھسیٹ کر مسجد سے باہر نیچے پھینک دیا وہ مسجد اوپر ہے اور نیچے تہہ خانہ یا کمرے وغیرہ ہیں۔ چنانچہ مولوی صاحب مرحوم کو سخت چوٹیں آئیں۔ کمر پر شدید چوٹ آئی اور سر پر بھی جس سے آپ نیچے گرتے ہی بے ہوش ہوگئے۔ آپ کے ساتھ ایک احمدی دوست محمد علی صاحب تھے انہوں نے بھاگ کر پولیس کو اطلاع دی۔ چنانچہ پولیس مولوی صاحب کو کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد وہاں سے اٹھاکر ہسپتال لے گئی۔ جہاں پر آپ کو کئی گھنٹوں کے بعد ہوش آیا اور ہفتہ عشرہ ہسپتال میں رہنا پڑا۔ اسی طرح ایک مرتبہ آپ کو مخالفت کی وجہ سے بعض دشمنوں نے چلتی بس سے دھکا دے کر باہر بازار میں پھینک دیا تھا جس سے آپ کے منہ اور سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچالیا<۔۵۳
    یکم ستمبر ۱۹۳۷ء کو آپ ملایا کی ایک ریاست سلانگور میں تشریف لے گئے۔۵۴ اور پہلے کوالالمپور اور پھر کلانگ میں ٹھہرے۔ کلانگ میں پانچ اشخاص )جن میں حافظ عبدالرزاق بھی تھے( مشرف باحمدیت ہوئے۔ جنوری ۱۹۴۰ء تک یہاں پندرہ احمدیوں پر مشتمل ایک جماعت پیدا ہوگئی۔۵۵body] gat[
    یکم ستمبر ۱۹۳۹ء کو دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی تو جاپان نے دو تین ماہ کے اندر اندر مانچوکو اور شمالی چین کے علاوہ فلپائن` ہندچینی` تھائی لینڈ` ملایا` سنگاپور` جاوا` بورنیو` سیلبیس` نیوگنی اور بحرالکاہل کے بہت سے جزیروں کو اپنے زیراقتدار کرلیا۔
    یہ ایام سنگاپور مشن اور مولوی ایاز صاحب کے لئے انتہائی صبر آزما تھے۔ خصوصاً جاپانیوں کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کی وجہ سے آپ پر بہت سختیاں کی گئیں اور خرابی صحت کے باعث سر اور ڈاڑھی کے بال قریباً سفید ہوگئے۔۵۶ آپ اس دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کرتے تھے کہ >اس زمانہ میں بڑی رقت اور گداز سے دعائیں کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا مجھ سے یہ سلوک تھا کہ اکثر دفعہ بذریعہ کشف اور الہام دعا کی قبولیت اور آئندہ کامیابی کے متعلق مجھے بشارات مل جاتی تھیں اور یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اور حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی توجہ کی برکت تھی<۔۵۷
    اس زمانہ میں آپ نے سرفروشانہ جہاد تبلیغ اور خدمت خلق کا جو نہایت اعلیٰ اور قابل رشک نمونہ دکھایا اس کا کسی قدر اندازہ لگانے کے لئے ذیل میں تین چشم دید شہادتیں درج کی جاتی ہیں۔
    پہلی شہادت: پہلی شہادت محمد نصیب صاحب عارف کی ہے جو سنگاپور میں جنگی قیدی رہے۔ عارف صاحب نے ہندوستان واپس آکر اپنے مشاہدات الفضل ۱۹۔ دسمبر ۱۹۴۵ء میں شائع کرائے۵۸ جن میں لکھا۔
    >سنگاپور کے مبلغ مولوی غلام حسین ایاز بھی ان پرجوش مجاہدین میں سے ایک ہیں جن کا قابل رشک اخلاص اور تبلیغی انہماک ایک والہانہ رنگ رکھتا ہے۔ جاپان کے گزشتہ ساڑھے تین سالہ ملایا پر قبضہ کی وجہ سے جناب مولوی صاحب کی مساعی جمیلہ جماعت کے سامنے نہیں آسکیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مولوی صاحب موصوف گزشتہ دس سال سے اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے سنگاپور میں مقیم ہیں اور تحریک جدید کے ابتدائی مجاہدوں میں سے ہیں۔ اور تبلیغ کے ساتھ اپنے اخراجات کے لئے بھی آپ صورت پیدا کرتے ہیں۔ صرف پہلے چھ ماہ کا خرچ دفتر تحریک جدید نے دیا تھا۔
    مارچ ۱۹۴۱ء میں جب یہ عاجز سنگاپور پہنچا۔ تو چند دوستوں کے ساتھ دارالتبلیغ میں گیا۔ مولوی صاحب نے اپنی تبلیغی مساعی کا ذکر جس رنگ میں کیا۔ وہ انگشت بدنداں کر دینے والا تھا۔ کس طرح انکو احمدیت کی تبلیغ کے لئے تکالیف سہنی پڑیں۔ مخالفین نے دارالتبلیغ پر خشت باری کرنا شروع کردی جس کے نتیجہ میں مولوی صاحب کو کئی کئی دن مکان کے اندر بند رہنا اور خوارک اور دیگر ضروریات کے لئے تنگ ہونا بہت تکالیف کا باعث ہوا۔ چند ماہ بعد یہ عاجز ملایا میں کوالالمپور کے مقام میں تھا۔ ایک دن اپنے ڈپو کا چندہ حکیم دین صاحب اکونٹنٹ کو دینے گیا۔ تو آپ نے بتایا۔ اس مخالفت کے نتیجہ میں پولیس نے گورنمنٹ کے ریکارڈ میں بلیک شیٹ میں آپکا نام سب سے اوپر لکھوایا ہوا تھا۔ کس قدر افسوسناک بات تھی کہ احمدیت کا ایک مجاہد اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے اپنے وطن سے بے وطن ہوکر جن لوگوں کی اصلاح کے لئے ان کے پاس جاتا ہے وہ اسے انتہائی تکالیف پہنچانے کے درپے ہوگئے۔ ان مخالفین کا کیا حشر ہوا۔ وہ مولوی صاحب خود بیان کیا کرتے تھے کہ سنگاپور مفتوح ہونے پر ایسے تمام لوگ جو میرے مخالف شر اور فتنہ و فساد پر آمادہ رہتے تھے ایک ایک کرکے مختلف جرموں کی پاداش میں جاپانیوں کے ہاتھوں سزا یاب ہوئے۔
    سنگاپور میں لڑائی کے دوران میں مولوی صاحب کے لئے خداتعالیٰ نے ایک خاص نشان دکھایا۔ گولہ باری کے ایام میں مولوی صاحب نے لوگوں سے کہہ دیا کہ آپ میرے گھر میں بمباری کے وقت آجایا کریں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس خطرناک وقت میں مولوی صاحب کے اردگرد کے مکانات کو کافی نقصان پہنچا۔ اور کافی لوگوں کی اموات ہوئیں۔ مگر آپ کا گھر محفوظ رہا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی کہ >آگ ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی غلام ہے<۔ برابر پوری ہوتی رہی۔ پھر ایک اور تائید اور خدائی مدد نازل ہوئی کہ ایک جاپانی افسر مولوی صاحب کے مکان کے سامنے موٹر سائیکل سے گرگیا۔ اس کو شدید ضربات آئیں۔ جناب مولوی صاحب اس کو اٹھا کر اپنے مکان میں لے گئے۔ تیمارداری اور مرہم پٹی کی اور اس کو اس کے کیمپ میں پہنچانے کا بندوبست کیا۔ اس پر وہ جاپانی افسر مولوی صاحب کو اپنی طرف سے پروانہ دے گیا کہ آپ سنگاپور میں جس طرح چاہیں رہیں۔ آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔
    خداتعالیٰ کی قدرت کا یہ عجیب کرشمہ تھا کہ جاپانی حکومت کے قبضہ کے دوران میں کسی مخالف کو سراٹھانے کی جرات نہ ہوسکی۔ حالات کے سدھر جانے سے آپکو اپنی مالی حالت درست کرنے کا بھی موقعہ مل گیا۔ اور اوائل ۴۳ء میں آپ نے تین بادبانی کشتیاں تجارت کے لئے خرید لیں۔ جن کا نام >احمد<۔ >نور< اور >محمود< رکھا۔ ان سے مولوی صاحب کو کافی مدد حاصل ہوئی۔ مگر چونکہ جنگ کی وجہ سے ملک کی اقتصادی حالت پر اثر پڑرہا تھا۔ یہ کام زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا۔ ۴۳ء اور ۴۴ء مولوی صاحب کے لئے مالی لحاظ سے بہت کٹھن تھے۔ اس عرصہ میں جہاں ملک میں اشیاء خورد و نوش کی کمی واقع ہوگئی تھی۔ مولوی صاحب کو بھی کافی حد تک ان تکالیف میں سے گزرنا پڑا۔ مگر آپ نے نہایت صبر اور تحمل سے یہ عرصہ گزرا۔ بلکہ تبلیغی اور تنظیمی کاموں میں زیادہ وقت دینا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
    ۱۹۴۵ء میں مولوی صاحب کی حالت خداتعالیٰ کے فضل سے پھر بہتر ہونی شروع ہوگئی۔ ہم لوگ نظر بندی کی حالت میں ان کے حالات سے اتنے آگاہ نہیں تھے۔ مگر خداتعالیٰ کی غیبی امداد سے انہوں نے تمام احمدی جنگی قیدیوں کی مدد کیلئے مختلف کیمپوں میں تقسیم کرنے کے لئے ۲۰۰۰ ہزار ڈالر کی رقم روانہ فرمائی۔ اس وقت واقعی ہم لوگوں کو روپیہ کی بڑی ضرورت تھی۔ وہ روپیہ ہم کو پہنچنے نہ پایا تھا۔ اور ہم اس کے خیال میں ہی اپنی مشکلات کا حل سوچ رہے تھے کہ صلح ہوگئی۔ اور وہ رقم مولوی صاحب کو واپس لوٹا دی گئی۔ جزاہم اللہ احسن الجزاء فی الدارین خیراً۔
    جناب مولوی صاحب نے اس عرصہ میں اپنی تبلیغ جاری رکھی اور جماعت کی تنظیم کا کام بھی کرتے رہے۔ سینکڑوں ملائی اس وقت احمدیت کی آغوش میں آچکے ہیں۔ آپ کی انتھک کوششیں احمدیت کا نام محض خداتعالیٰ کے فضل سے اور حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعائوں کے طفیل پھیلا رہی ہیں۔ جناب مولوی صاحب کو ایک عرصہ گھر سے جدا ہوئے ہوگیا ہے مگر چلتے وقت جب ہم نے ان سے کہا کہ مولوی صاحب آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔ تو آپ نے فرمایا۔ >حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت کے بغیر ایک قدم بھی یہاں سے ہلانا اپنے لئے معصیت سمجھتا ہوں<۔ آپ نے احمدی دوستوں کی واپسی پر انہیں اتنا بھی نہ کہا۔ کہ میرا فلاں پیغام میرے گھر والوں کو پہنچا دینا۔ بلکہ کہا تو یہ کہا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو میرا سلام دینا اور یہاں کی میری تبلیغی مساعی کے لئے دعا کی درخواست کرنا<۔۵۹
    دوسری شہادت: دوسری شہادت یونس صاحب فاروق کی ہے جو ۱۱۔ جنوری ۱۹۴۶ء کو مکرم مولوی غلام حسین صاحب ایاز کے ذریعہ سے احمدیت سے مشرف ہوئے اور تقریباً پانچ ماہ سنگاپور میں رہنے کے بعد واپس ہندوستان آئے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے نام ایک مفصل مکتوب میں لکھا کہ۔
    >جب میں رخصت سے واپس لوٹا تو خوش نصیبی سے میرا یونٹ سنگاپور چلا گیا تھا۔ اس وجہ سے مجھے بھی سنگاپور آنے کا موقع مل گیا۔ اور بالکل حسن اتفاق سے ایک روز جبکہ میں اونان روڈ پر ٹہل رہا تھا اور ملایا کے مسلمانوں کی حالت پر افسوس کررہا تھا۔ یکایک میری نظر ایک بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا۔ جماعت احمدیہ قادیان سنگاپور۔ اندر گیا۔ تو دیکھا جناب مولوی غلام حسین صاحب ایاز بیٹھے تلاوت کررہے تھے۔ اس پر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ فوراً مولوی صاحب سے ملا۔ اپنے حالات سنائے ان کے حالات پوچھے اور اس کے بعد تقریباً روزانہ وہاں جانا شروع کردیا۔ اور وہاں سے سلسلہ کی کتابیں لیکر پڑھنے
    ‏tav.8.12
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    شیخ احمد فرقانی کی شہادت سے سالانہ جلسہ ۱۹۳۵ء تک
    پڑھنے لگا۔ بہت ہی جلد اللہ تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی اور خادم نے اپنے آقا کے ہاتھ اپنے آپ کو بیع کردیا۔ اور اب نہ صرف اپنی زندگی بلکہ ہرچیز جو اس عاجز سے متعلق ہے احمدیت کے لئے وقف ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ جناب مولوی غلام حسین صاحب ایاز مبلغ سنگاپور کی جدوجہد کا میرے دل میں بہت اثر ہوا موصوف نے خدمت دین میں اتنی محنت اٹھائی ہے کہ قبل از وقت بوڑھے ہوگئے ہیں۔ جب مجھے آنجناب کی اصل عمر کا پتہ چلا۔ تو میں متحیر ہوگیا۔ کیونکہ ظاہری حالت سے آپ ۵۵ سال سے کم عمر کے نہیں معلوم ہوتے۔ اور ہمیشہ بیمار رہنے کے باوجود تبلیغی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ صبح ۴ بجے سے لے کر رات کے گیارہ بارہ بج جاتے ہیں۔ اس عرصہ میں موصوف کو گھڑی بھر کی بھی فرصت نہیں ملتی کہ ذرا آرام کرلیں۔ دن بھر کبھی تو سلسلہ کے لٹریچر کا ملائی زبان میں ترجمہ ہورہا ہے۔ کبھی مضمون تیار ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ دن بھر سوالات اور اعتراضات کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ اور ان کو سمجھانے میں گھنٹوں مغززنی کرنی پڑتی ہے۔ ملایا کے احمدی بچوں کی تعلیم و تربیت بھی خود ہی کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ لوگوں کے گھروں میں جاکر بھی تبلیغ کی جاتی ہے۔
    یہاں احمدیت کے خلاف بہت سخت پروپیگنڈا کیا گیا۔ اور اکثر لوگ ایسے سخت دشمن ہیں کہ جنگ سے پہلے کے زمانہ میں اکثر اوقات وعظ کے لئے اپنی مسجد یا اپنے گھر پر بلا کر مولوی صاحب کو بڑی بے رحمی سے زدوکوب بھی کرتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے چن چن کر جاپانیوں کے ہاتھوں سب کو ٹھکانے لگا دیا۔ اور احمدیت کو تبلیغ کے لئے راستہ صاف کردیا۔ مولوی صاحب کے جاپانی قبضہ کے زمانہ کے کارنامے معجزات سے کم نہیں۔
    میری ایک غیر احمدی حکیم سے شہر میں ملاقات ہوئی۔ احمدیت کا مخالف ہونے کے باوجود مولوی صاحب کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ کہتا تھا۔ جاپانیوں کے زمانہ میں جبکہ کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ جاپانیوں کے خلاف اپنے گھر میں بھی کسی قسم کی بات کرے۔ ایسے خطرناک وقت میں مولوی صاحب A۔N۔I کے کیمپ میں جاکر جاپانیوں کے خلاف کاروائیاں کرتے۔ دنیا حیران ہے کہ مولوی صاحب جاپانیوں کے ہاتھ سے بچ کیسے گئے؟ حالانکہ جاپانیوں کی عادت ہی نہیں تھی کہ کسی معاملہ کی تحقیقات کرتے۔ ان کے پاس تو رپورٹ پہنچنے کی دیر ہوتی۔ کہ فوراً گرفتاری عمل میں آتی اور بلا پرسش سرکاٹ کر شارع عام پر کھمبے سے لٹکا دیا جاتا۔ اسی طرح احمدیت کے اشد مخالفین کا صفایا ہوا۔ اور ایسے ہی حالات میں مولوی صاحب کے خلاف ہرروز رپورٹیں پہنچتی رہتی تھیں۔ اور ہر وقت جاپان ملٹری پولیس اور ۔D۔I۔C مولوی صاحب کے پیچھے لگی رہتی۔ مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو قبل از وقت اطمینان دلا دیا تھا۔ کہ وہ پکڑے نہیں جائیں گے اور مولوی صاحب نے اکثر لوگوں سے جن میں غیر احمدی بھی ہیں کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے گرفتاری سے بچائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اور اکثر لوگ جو احمدیت کے مخالف تھے احمدیت کی صداقت کے قائل ہوگئے۔ خصوصاً مولوی صاحب کے بہت سے معتقد ہوگئے۔ اور بعضوں نے بیعت بھی کرلی۔ ملایا کے عام مسلمانوں کی حالت دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے۔ یہ لوگ دین سے اتنی دور جاپڑے ہیں کہ بظاہر حالت درست ہونے کی امید نہیں۔ مذہب کی موٹی سے موٹی بات بھی انہیں معلوم نہیں۔ جو لوگ کچھ تھوڑا بہت جانتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ عیاشی کی یہ حالت ہے کہ شاید یورپ بھی مات کھا جائے۔ سنیما کے ایسے شوقین کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو۔ تو پروا نہیں سنیما ضرور دیکھیں گے۔ طرفہ یہ کہ عورتیں مردوں سے بہت آگے بڑھی ہوئی ہیں۔ اور خدا جانے مردوں کی غیرت کہاں چلی گئی ہے کہ اپنی آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہوتا دیکھتے ہیں اور چپ رہتے ہیں۔ نہ صرف چپ رہتے ہیں بلکہ خوش ہوتے ہیں۔ غریب عورتیں پیٹ کی خاطر اپنا سب کچھ بیچتی ہیں۔ اور جو آسودہ ہیں وہ عیاشی کی خاطر۔ بہرحال میں تو کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کوئی مسلمان کہلانے والا خطہ زمین سارے کا سارا اسلام سے اتنی دور جاسکتا اور اتنا غافل ہوسکتا ہے۔ وہ سارا مذہب اسی بات میں سمجھتے ہیں کہ احمدیت کی مخالفت کی جائے اور بس۔
    ان حالات میں مولوی غلام حسین صاحب ایاز کی تبلیغی سرگرمیاں دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی مولوی صاحب مایوس نہیں ہوئے۔ اور جناب مولوی صاحب کی انتھک کوششوں کا نتیجہ دیکھ کر ماننا پرتا ہے کہ یہ بھی ایک احمدیت کا معجزہ ہے۔ ایسے ماحول میں سے لوگوں کا احمدیت قبول کرنا۔ اور پھر مخلص احمدی بننا تقویٰ اور طہارت میں ایک مثال قائم کردینا۔ بلکہ فرشتہ خصلت انسان بن جانا اور دین کے لئے بڑی بڑی جانی اور مالی قربانیاں کرنا یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے۔ مولوی صاحب نے نہ صرف یہ کہ یہاں جماعت قائم کی۔ بلکہ اس کی تنظیم اور تربیت میں بھی کمال کر دیا ہے۔
    اس کے علاوہ جب ہندوستانی فوجیں یہاں آئیں۔ تو مولوی صاحب کو اپنے فوجی دوستوں کی تربیت کا بھی خیال پیدا ہوا۔ چنانچہ آپ نے اخبارات میں اشتہارات وغیرہ دیکر تمام احمدی فوجی دوستوں سے تعلق قائم کیا۔ اور ہر اتوار کو سب کی میٹنگ مقرر کی۔ جس میں سوائے ان لوگوں کے جن کی ڈیوٹی ہوتی۔ باقی سب دارالتبلیغ میں جمع ہو جاتے اور مختلف پہلوئوں سے احمدیت پر روشنی ڈالی جاتی۔ اور کوشش کی جاتی کہ ہر احمدی ضرور کچھ نہ کچھ تقریر کرے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ سب کو تقریر کرنے کی مشق ہوتی بلکہ ہمارے ایمان میں بھی ترقی ہوتی<۔۶۰
    تیسری شہادت: تیسری شہادت ایک غیر از جماعت دوست جناب کیپٹن سید ضمیر احمد صاحب جعفری بی۔ اے سول لائن جہلم کی ہے۔ آپ نے جون ۱۹۴۶ء میں جماعت احمدیہ کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے ایک خط لکھا کہ۔
    >میں حال ہی میں مشرق بعید سے آیا ہوں ملایا جاوا وغیرہ میں آپ کے سلسلہ کی طرف سے مولوی غلام حسین صاحب ایاز تبلیغ کا کام کررہے ہیں۔ ۱۹۴۵ء میں جب اتحادی فوجوں کے ساتھ ہم ملایا میں پہونچے۔ تو مولوی صاحب غالباً تنہا تھے۔ مگر ۱۹۴۷ء میں مولوی عبدالحیی اور شاید دو ایک اور کارکن بھی پہنچ گئے تھے۔ جہاں تک مولوی غلام حسین صاحب ایاز کی ذات کا تعلق ہے۔ ان کے خلاف میں ایک بات بھی نہیں کہہ سکتا۔ اپنے منصب کو وہ انتہائی ایثار و خلوص اور خاصے سلیقہ کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ بلکہ جن دشواریوں اور نامساعد حالات میں سے وہ گزر رہے تھے۔ اگر اس پر غور کیا جائے تو ان کے استقلال حوصلہ اور ہمت پر حیرت ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ اس کام کو ایک فریضہ ایمانی سمجھ کر کررہے ہیں۔ میں جس طرف سلسلہ کی توجہ بطور خاص دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دوسرے ملکوں میں صرف ایسے مبلغین بھیجے جائیں۔ جو علوم دینی کے ساتھ ساتھ جدید علم و کمالات سے بھی بہرہ اندوز ہوں۔ تاکہ وہ دوسرے ملکوں کی مخصوص فضاء میں اپنے لئے دائرہ کار پیدا کرسکیں۔ اور اپنے مقصد میں زیادہ موثر و کامیاب ثابت ہوں۔ علاوہ ازیں جو مشن بھی دوسرے ملکوں میں کھولا جائے اسے مالی لحاط سے مفلوک الحال نہ رکھا جائے ۔۔۔۔۔۔ مبلغین یا جماعت کے بیرونی نمائندوں کیلئے علم جدید کی ضرورت کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ تقسیم پنجاب کے زمانہ میں جب مولوی غلام حسین صاحب ایاز مشرق بعید میں قادیان کے متعلق وہاں کی رائے عامہ کو متاثر کرنا چاہتے تھے۔ تو ان بے چاروں کو محض اس لئے کہ انہیں انگریزی میں زیادہ دسترس نہ تھی )یہ ان کے لئے باعث توہین نہیں( یا ان کے سٹاف میں کوئی اس ڈھب کا شخص موجود نہ تھا۔ بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ تو حسن اتفاق سمجھئے کہ ان دنوں اتحادی فوجوں کے ساتھ بہت سے پاکستانی مسلمان افسر بھی وہاں تھے۔ ان میں سے چند ایک احمدی دوست بھی تھے جن کی امداد سے مشرق بعید میں قادیان کا بہت کچھ چرچا ہو بھی گیا۔ ورنہ بڑا مشکل تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ضمناً میں یہاں ایک ذاتی تاثر کا ذکر کروں۔ جس پر مجھے اب بے اختیار ہنسی آتی ہے۔ ممکن ہے آپ کے قارئین بھی اسے دلچسپی کا موجب پائیں۔ بیرون ملک جانے سے پیشتر احمدیت کے متعلق کوئی خیال آتے ہی میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ ان کے مبلغین کے لئے تو مزے ہی مزے ہیں۔ دیس دیس کی سیر اور فارغ البالی کی زندگی۔ آدمی کو یہ دو چیزیں مل جائیں تو اور کیا چاہئے۔ مگر ملایا میں مولوی غلام حسین ایاز کو دیکھ کر میری اس خوش فہمی کو سخت دھکا لگا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ یہ لوگ خاص محنت و مشقت کی زندگی گزار رہے تھے۔ اتنی مشقت اگر وہ اپنے وطن میں کریں تو کہیں بہتر گزر بسر کرسکتے ہیں<۔۶۱
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کا اظہار خوشنودی
    سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے مولانا غلام حسین صاحب ایاز کی عظیم الشان قربانیوں اور ان کے شاندار نتائج کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    >ایسے علاقوں میں بھی احمدیت پھیلنی شروع ہوگئی ہے جہاں پہلے باوجود کوشش کے ہمیں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ ملایا میں یا تو یہ حالت تھی کہ مولوی غلام حسین صاحب ایاز کو ایک دفعہ لوگوں نے رات کو مار مار کر گلی میں پھینک دیا اور کتے ان کو چاٹتے رہے اور یا اب جو لوگ ملایا سے واپس آئے ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ اچھے اچھے مال دار ہوٹلوں کے مالک اور معزز طبقہ کے ستر اسی کے قریب دوست احمدی ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ روزبروز ترقی کررہا ہے<۔۶۲
    مولوی غلام حسین صاحب ایاز کی دوبارہ روانگی
    مولانا غلام حسین صاحب ایاز جو ۶۔ مئی ۱۹۳۵ء کو قادیان سے روانہ ہوئے تھے پندرہ برس بعد ۲۴۔ نومبر ۱۹۵۰ء کو ربوہ میں تشریف لائے۔۶۳ اس کے بعد آپ ۸۔ اکتوبر ۱۹۵۶ء کو دوبارہ سنگاپور میں اعلائے کلمتہ الحق کے لئے بھجوائے گئے۔۶۴ کچھ عرصہ سنگاپور میں مقیم رہنے کے بعد بورنیو میں متعین کئے گئے۔
    وفات
    مولانا غلام حسین صاحب ایاز ذیابیطس کے مریض تھے۔ یہ بیماری یہاں آکر اکتوبر ۱۹۵۹ء کے دوسرے ہفتہ میں یکایک بڑھ گئی۔ ۱۶۔ اکتوبر ۱۹۵۹ء۶۵ کو رات کو بخیریت تھے۔ صرف معمولی سی تھکاوٹ کی شکایت تھی۔ آدھی رات کے بعد جب حسب معمول نماز تہجد کے لئے چارپائی سے اٹھے تو دھڑام سے زمین پر گر پڑے۔ آپ کی اہلیہ صاحبہ۶۶ جو ساتھ کے کمرے میں سورہی تھی آواز سنکر وہ فوراً اٹھیں اور آکر دیکھا کہ زمین پر پڑے ہیں۔ انہوں نے ساتھ کے ہمسایہ کو آواز دی جو احمدی تھا۔ اس نے آکر چارپائی پر ڈالا۔ اور اس کے بعد جلد ایمبولینس منگوا کر ہسپتال پہونچایا۔ اتفاق سے ڈاکٹر وہی تھا۔ جن کو آپ تبلیغ کیا کرتے تھے۔ اس نے بڑی محبت` ہمدردی اور تندہی سے علاج کیا۔ مگر افاقہ نہ ہوا۔ اور تقریباً ۳۶ گھنٹے بیہوش رہنے کے بعد ۱۸/۶۷۱۷ اکتوبر ۱۹۵۹ء کی درمیانی شب کو اپنے مولا کے ہاں پہونچ گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
    سنگاپور میں کام کرنیوالے دوسرے مجاہدین احمدیت کی خدمات
    مولانا غلام حسین صاحب ایاز کے قیام سنگاپور کے دوران مندرجہ ذیل مجاہدین بغرض تبلیغ بھجوائے گئے۔
    ۱۔
    مولوی عنایت اللہ صاحب جالندھری )برادر مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری( روانگی ۱۸۔ اپریل ۱۹۳۶ء۔۶۸
    ۲۔
    مولوی شاہ محمد صاحب ہزاروی )روانگی ۱۸۔ اپریل ۱۹۳۶ء(۶۹ آپ چند ماہ تک سنگاپور میں تبلیغی فرائض بجا لانے کے بعد ۱۹۳۷ء میں جاوا منتقل ہوگئے۔۷۰
    ۳۔
    مولوی امام الدین صاحب ملتانی۔ آپ ۱۹/ ۱۸۔ جون ۱۹۴۶ء کو قادیان سے روانہ ہوکر ۶۔ جولائی ۱۹۴۶ء کو سنگاپور پہنچے۔ ٹرانسپورٹ کی مشکلات کی وجہ سے ان دنوں آپ نے ایک نیوی فلیگ شپ نرابدا نامی میں بطور دھوبی ملازم ہوکر کام کیا اور سنگاپور پہنچ گئے۔ چونکہ جنگ نئی نئی ختم ہوئی تھی اور سنگاپور میں ابھی بے شمار جاپانی قیدی ہونے کی وجہ سے افراتفری اور نظام درہم برہم تھا۔ اس وجہ سے وہاں ان دنوں تبلیغی حالات اچھے نہ تھے۔ مرکز کے ساتھ خط و کتابت اور مالی امداد باقاعدہ نہیں تھی اس لئے لوکل طور پر ہی ادھر ادھر کے کام کرکے ضروریات زندگی پوری کرنی پڑتی رہیں۔ اور ساتھ ساتھ تبلیغ کا کام بھی جاری رکھا گیا۔
    وہاں کے بعض احمدی ملازمین کی مدد سے مالاباری ہندوستانیوں میں تبلیغ سے چار افراد نے بیعت کی۔ جو بہت مخلص ہیں۔ آپ ۱۹۴۶ء سے لے کر دسمبر ۱۹۴۹ء تک مولوی غلام حسین صاحب ایاز کی قیادت میں جماعتی امور سرانجام دیتے رہے۔ اور اس کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ارشاد کے ماتحت آپ سنگاپور سے شروع جنوری ۱۹۵۰ء میں پاڈانگ )انڈونیشیا( روانہ ہو کر ۱۶۔ فروری ۱۹۵۰ء کو جاکارتا پہنچے اور انڈونیشیا مشن میں منتقل ہوگئے۔
    ۴۔
    چوہدری محمد احمد صاحب )ستمبر ۱۹۴۶ء تا جنوری ۱۹۴۹ء(
    ۵۔
    مولوی محمد سعید صاحب انصاری )۳۔ دسمبر ۱۹۴۶ء تا مارچ ۱۹۴۸ء۔ جنوری ۱۹۶۱ء تا جون ۱۹۶۲ء(۷۰
    ۶۔
    میاں عبدالحیی صاحب۔
    جناب مولوی محمد سعید صاحب انصاری تحریر فرماتے ہیں۔
    >میں تحریک جدید میں بطور مبلغ ۱۹۴۶ء میں شامل ہوا۔ ۱۹۴۷ء میں سنگاپور میں وصیت کی۔ سنگاپور میں میرا قیام مارچ ۱۹۴۸ء تک رہا۔ اس عرصہ میں مجھے صرف دو تین بار الائونس ملا۔ کیونکہ وہاں کے حالات ہی ایسے تھے۔ جب کبھی الائونس ملا میں نے شرح کے مطابق حصہ وصیت وہاں کی لوکل جماعت میں باقاعدگی سے ادا کیا۔ مارچ ۱۹۴۸ء سے دسمبر ۱۹۴۹ء تک میں انڈونیشیا میں رہا۔ ان دنوں انڈونیشین اور ولندیزیوں میں جنگ ہورہی تھی ہماری جماعت کا بیشتر حصہ شہروں کو چھوڑ کر جنگلوں میں چلا گیا تھا اس سارے عرصہ قیام میں مجھے نہ لوکل جماعت سے کوئی ایک پیسہ ملا اور نہ مرکز کی طرف سے کوئی رقم موصول ہوئی۔ خدا جانتا ہے کہ یہ سارا عرصہ کتنی مشکل سے گزرا۔ بعض سکھوں سے قرض لینا پڑا جو بورنیو جاکر ادا کیا اس کے بعد ۱۹۵۰ء میں میرا تبادلہ بورنیو ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دفعہ میں نے تحریک جدید سے مارچ ۱۹۴۸ء سے دسمبر ۱۹۴۹ء تک الائونسوں کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے اس معاملہ کو پرانا کہہ کر الائونسوں کی ادائیگی سے معذرت کردی۔ چونکہ واقف زندگی )اس زمانہ میں( اپنے حق کے لئے بھی زور نہیں دے سکتا تھے لہذا مجھے خاموش ہونا پڑا۔ لیکن انڈونیشیا میں سکھوں سے لئے ہوئے قرض کو کئی ماہ تک ادا کرتا رہا۔ ۶۶/۷/۹ محمد سعید انصاری<۷۱
    مولانا محمد صادق صاحب کے کارنامے
    ۷۔ مولانا محمد صادق صاحب )۱۵۔ دسمبر ۱۹۴۹ء تا مارچ ۹/۸ مارچ ۱۹۵۷ء۔ ۳۔ دسمبر ۱۹۵۸ء تا ۱۸۔ اگست ۱۹۶۲ء۷۲
    آپ کے ابتدائی زمانہ قیام میں سنگاپور اور ملایا میں سخت مخالفت اٹھ کھڑی ہوئی۔ جس پر آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے ارشاد پر سنگاپور سے پنانگ تک کا وسیع تبلیغی دورہ کیا اور قریباً ایک سو علماء سے ملاقات کی۔ آپ کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ قریباً نوے فیصدی علماء نے اقرار کیا کہ ہم احمدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ خادم اسلام یقین کرتے ہیں اور انہیں کافر کہنے کے لئے تیار نہیں۔ ہمیں پہلے احمدیت کے عقائد کے متعلق دھوکہ دیا گیا تھا۔ جن کی وضاحت اب ہم پر ہوچکی ہے۔۷۳
    مکرم مولوی صاحب موصوف کا ۲۳۔ جولائی ۱۹۵۱ء کو ریاست سلانگور کے ہشام الدین عالم شاہ کی موجودگی میں علماء ریاست سے باقاعدہ ڈھائی گھنٹہ تک مباحثہ ہوا۔ اس اہم مباحثہ کی روداد مکرم مولوی محمد صادق صاحب کے قلم سے درج کی جاتی ہے۔
    >جرام JERAM )ریاست سلانگور( میں جماعت قائم ہونے کی وجہ سے ریاست میں کافی مخالفت ابھر چکی تھی اور چونکہ نکاح کرانا۔ مقبرہ میں دفن کرنے کی اجازت دینا بڑے افسروں کے اختیار میں ہوتا ہے اس لئے ہم نے سلطان سلانگور سے اپنے عقائد بیان کرتے ہوئے درخواست کی وہ ہماری جماعت کو اسلامی قرار دے کر لوگوں کے فتنہ کا سدباب کریں۔ سلطان موصوف نے اس درخواست کو درخور اعتناء جانا۔ اور بیس احمدی دوستوں کو دعوتی خطوط بھیج کر بلایا اور مجھے بھی بذریعہ تار جرام پہنچنے کا حکم جاری کردیا۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ریاست کے تمام بڑے بڑے علماء کو بلایا جاچکا ہے۔ دس بجے تو سلطان نے سلسلہ کلام شروع کرتے ہوئے فرمایا۔ کہ آج ہم ایک نئے مذہب کی تحقیق کے لئے جمع ہوئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ خود ہی اس کی تحقیق کریں۔ سلطان کے ارشاد پر میں نے اپنی ابتدائی تقریر میں حاضرین کو بتایا کہ احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں ہے۔ بلکہ وہ حقیقی اسلام ہی ہے۔ پھر سلطان نے علماء کے اشارے پر یہ ارشاد کیا کہ میں اپنے عقائد ذرا تفصیل سے بیان کروں۔ میں نے بیان کیا کہ جماعت احمدیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات یافتہ مانتی ہے۔ ۲۔ آنحضرت~صل۱~ کے بعد غیر تشریعی نبی آسکتا ہے اور جماعت احمدیہ مانتی ہے کہ امت محمدیہ کے مسیح موعود حضرت میرزا غلام احمد علیہ السلام ہیں۔ اس پر ایک عالم نے اٹھ کر کہا کہ آنحضرت~صل۱~ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ کیونکہ نبی اکرم~صل۱~ خاتم النبین ہیں۔ میں نے جواباً عرض کیا کہ اگر اس کا مطلب کسی نبی کا نہ آسکنا ہے تو پھر ان سے دریافت فرمائیں کہ یہ لوگ نبی اللہ عیسیٰؑ کے آنے کے قائل ہیں یا نہیں۔
    علماء نے کہا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نبی اللہ کا لفظ دکھایا جائے۔ میں نے مشکٰوۃ سے مطلوبہ حوالہ دکھا دیا اور علماء نے اسے دیکھ کر تسلیم بھی کرلیا۔ مگر قاضی القضاء کو اصرار تھا کہ نبی اللہ آنے والا عیسیٰ ہی ہوگا۔ کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا۔ یہ بحث ختم ہوئی۔ تو مجھے کہا گیا کہ میں غیر تشریعی نبی کے آسکنے کے دلائل قرآن کریم سے پیش کروں۔ سب سے پہلے میں نے الیواقیت و الجواہر سے خاتم النبین کے معنے بیان کئے کہ آپ تمام تشریعی انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں۔ جسے دوسرے علماء نے بھی تسلیم کیا۔ پھر تھوڑی بحث و تمحیص کے بعد جب ابھی قرآنی دلائل کا سلسلہ شروع بھی نہ ہوا تھا۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ ہمیں تاریخ مرزا صاحب۔ عقاید۔ دوسروں کے اختلافات۔ دعاوی اور معجزات کے متعلق پرچہ لکھ کر بھیج دیا جائے۔ تاکہ ہم اس پر مزید غور کرسکیں۔ اس کے لئے ۳۰۔ جولائی سے ۱۴ دن تک کا وقت مقرر کیا گیا۔ اور اس پر چودہ دن کا عرصہ تنقید کے لئے مقرر ہوا۔ اس کے بعد علماء نے سلطان سے درخواست کی کہ وہ ہمیں نماز جمعہ بڑی مسجد میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ پڑھنے کا حکم صادر فرمائیں۔ میں نے جواباً عرض کیا کہ یہ لوگ ہمارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کافر اور جھوٹا کہتے ہیں۔ اگر یہ انہیں سچا مان لیں تو ہم بخوشی اس کے لئے تیار ہیں۔ اور چونکہ آپ نے اب احمدیت کے متعلق تحقیق شروع کی ہے۔ اس لئے مناسب ہے کہ فی الحال اس سوال کو نہ اٹھایا جائے۔ اس پر ڈائرکٹر مذہبیات نے کچھ جرح قدح کی۔ لیکن سلطان نے یہی حکم دیا۔ جب تک فیصلہ نہیں ہوجاتا جماعت بدستور عمل و عبادت میں مشغول رہے۔ اس کے بعد سلطان کے ساتھ سب علماء نے بشمول ہمارے کھانا کھایا۔ اور ۲ بجے کے قریب ہم رخصت ہوئے۔ مطلوبہ پرچہ لکھ کر ۳۔ اگست کو شیخ الاسلام کی خدمت میں ارسال کر دیا گیا۔ یہ پرچہ بیس صفحات پر مشتمل تھا۔ )لیکن افسوس کہ علماء کی طرف سے تاحال اس کا جواب موصول نہیں ہوا<(۷۴
    ۲۴۔ ۲۵ ستمبر ۱۹۶۰ء کو مکرم مولوی محمد صادق صاحب نے ایک پراٹسٹنٹ پادری میتھیو فینلے )YALNFI (MATHEW سے مسئلہ الوہیت مسیح اور مسئلہ کفارہ پر مناظرہ کیا۔ خداتعالیٰ کے فضل سے اس مباحثہ میں اسلام کو ایسی شاندار کامیابی نصیب ہوئی کہ ایک مشہور مصنف شیخ علوی بن شیخ الہادی )عرب( نے اخبار میں لکھا کہ میں ستر برس کا ہوچکا ہوں مجھے معلوم نہیں کہ مسلمانوں نے کبھی اس طرح عیسائیوں کو مباحثہ میں شکست فاش دی ہو۔ یہی نہیں عیسائی مناظر پادری میتھیوفینلے نے جماعت احمدیہ سنگاپور کے پریذیڈنٹ عبدالحمید صاحب سالکین سے درخواست کی کہ یہ مباحثہ شائع نہ کیا جائے۔ پھر یونیورسٹی آف ملایا کے مسلم طلبہ نے اس مباحثہ کے ریکارڈ لئے۔۷۵
    مولانا محمد صادق صاحب کی طرف سے بنیادی لٹریچر تیار کیا گیا۔ چنانچہ آپ نے سنگاپور اور ملایا میں مندرجہ ذیل کتابیں تصانیف کیں جو شائع ہوچکی ہیں۔
    ۱۔
    ترجمہ قرآن مجید )غیر مطبوعہ( بزبان انڈونیشیا( یہ اہم کام تبلیغ و تعلیم اور مضامین لکھنے کے ساتھ ساتھ ایک سال )نومبر ۱۹۵۲ء تا ۲۲۔ دسمبر ۱۹۵۳ء( میں پایہ تکمیل تک پہنچا۔
    ۲۔
    سچائی۔ قریباً ۱۲۰ صفحات کی کتاب۔
    ۳۔
    >بیان احمدیت< ۱۹۵۵ء میں ملایا اور سنگاپور میں احمدیت کے خلاف یکے بعد دیگرے تین چار کتب شائع ہوئیں جن کے جواب میں آپ نے یہ کتاب شائع کی جس میں اختلافی مسائل پر سیرکن بحث کرنے کے علاوہ سینکڑوں اعتراضات کے جواب بھی دیئے۔ پورے ۴۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔
    ۴۔
    ارکان ایمان ۳۶ صفحات فلسکیپ سائز۔
    ۵۔
    اسلامی نمازیں جس میں تمام اسلامی نمازوں کا مفصل ذکر درج ہے۔ قریباً ۸۰ صفحات فلسکیپ سائز۔
    مولانا صاحب کے ذریعہ انڈونیشیا اور ملایا میں سینکڑوں نفوس کو ہدایت نصیب ہوئی جن میں سے انکو اسمٰعیل بن عبدالرحمن صاحب ساکن جوہور جوشاہی خاندان کے چشم و چراغ ہیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔۷۶
    دوسرے مجاہدین کی سرگرمیاں
    ۸۔ قریشی فیروز محی الدین صاحب )۱۱۔ جنوری ۱۹۵۳ء تا ۲۱۔ مارچ ۱۹۵۶ء( قریشی صاحب نے اپنے سہ سالہ قیام میں ملک کے بعض کثیر الاشاعت انگریزی اخبارات میں مضامین لکھ کر اسلام کی ترجمانی کی۔ اس خدمت کا ملک کے مسلمان اہل علم طبقہ پر اچھا اثر ہوا۔
    ۹۔
    مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری )۳۔ مئی ۱۹۶۲ء تا ۹۔ ستمبر ۱۹۶۶ء(
    مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری ساڑھے چار سال تک انچارج مشنری کے فرائض بجا لاتے رہے۔ اس عرصہ میں آپ نے کئی مقابلے کئے۔۷۷ سنگاپور رہ کرشنن مشن کے سمپوزیم میں اسلام کی نمائندگی کی۔۷۸ مسجد سنگاپور کی تجدید کرائی۔۷۹ نیز مندرجہ ذیل بادشاہوں اور دیگر نامور شخصیتوں کو قبول اسلام کی دعوت دی اور پیغام حق پہنچا کر قرآن کریم انگریزی اور دیگر اسلامی لٹریچر پیش کیا۔
    ۱۔ پرنس فلپ آف انگلینڈ۔ ۲۔ تھائی لینڈ کے شاہ بہانویں اور ان کی ملکہ۔
    ۳۔ بیلجیم کے شاہ بائو ڈوین )اول( ۴۔ انگلینڈ کے ڈیوک آف گلاسٹر۔
    ۵۔ چرچ آف انگلیند کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری۔
    ۶۔ سکم کے بادشاہ اور ان کی رانی۔ ۷۔ جاپان کے شاہنشاہ۔
    ۸۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم۔ ۹۔ ملایا کے شاہنشاہ یا سلطان اعظم نیگ دی اگونگ۔
    ۱۰۔ نیوزی لینڈ کے وزیراعظم۔ ۱۱۔ ملیشیا کے وزیراعظم تنکو عبدالرحمن۔
    ۱۲۔ سنگاپور کے وزیراعظم اور دیگر سب وزراء۔ ۱۳۔ الحاج امین الحسینی چیف مفتی آف فلسطین۔
    ۱۴۔ پرنس سہانوک ہیڈ آف کیمبوڈیا سٹیٹ۔۸۰
    فروری ۱۹۶۶ء میں ملائیشیا کے ایک جامعہ ازہر کے تعلیم یافتہ ملائی عالم استاد فوزی نے ایک کتاب بعنوان >مذاہب عالم< شائع کی جس میں صریح افترا پردازی سے کام لیتے ہوئے جماعت احمدیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بہت زہر اگلا۔ اس کتاب کے جواب میں مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری مبلغ انچارج سنگاپور نے ایک خط شائع کیا جس میں استاد فوزی کے تمام الزامات کا مسکت جواب دینے کے علاوہ ان کو متنازعہ فیہ امور اور اختلافی مسائل پر مناظرہ کا چیلنج بھی دیا گیا اور یہ بھی پیشکش کی گئی کہ ہمارے خلاف اپنے دعاوی ثابت کرنے کی صورت میں انہیں ۱۰۰۰ ہزار ڈالر انعام کے طور پر پیش کیا جائے گا اور پانچ علماء کے ساتھ سنگاپور آنے جانے اور رہائش کے خرچ کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی لی گئی۔ مگر باوجود کئی تحریری یا دوہانیوں کے وہ مقابل پر نہ آئے۔
    مولوی محمد صدیق صاحب کے بعد مولوی محمد عثمان صاحب چینی ۱۹۶۶ء میں بھجوائے گئے ہیں۔ جو اب تک سنگاپور میں مصروف تبلیغ ہیں۔
    دارالتبلیغ سنگاپور غیروں کی نظر میں
    مبلغین احمدیت نے علمی و تبلیغی طور پر کہاں تک سنگاپور کو متاثر کیا ہے؟ اس کا جواب ملایا یونیورسٹی کے مشہور پروفیسر زین العابدین بن احمد کی مندرجہ ذیل رپورٹ سے باسانی اخذ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا۔
    >آج سے تیس سال قبل جماعت احمدیہ کے اصول و عقائد زیر بحث آئے اور ملایا کے پریس میں ان کی مذمت کی گئی۔ لیکن اب ملایا کے تعلیم یافتہ مسلمان ان سنجیدہ نظریات و تشریحات سے کم تعصب روا رکھتے ہیں۔ جو اعتدال پسند احمدیوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔ وہ احمدیوں کے خیالات اور نظریات کو اپنا رہے ہیں۔ مگر احمدی کہلانے سے گریز کرتے ہیں۸۱ )ترجمہ(
    دارالتبلیغ جاپان کا قیام
    صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز ۴۔ جون ۱۹۳۵ء کو کوبے (Kobe) )جاپان( میں پہنچے۔۸۲ صوفی صاحب کا شروع میں بہت سا وقت جاپانی زبان سیکھنے میں صرف ہوا مگر آہستہ آہستہ آپ ملک کے مختلف حلقوں میں اثر و نفوذ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ کوبے (Kobe) کالج آف کامرس۔ کینڈین اکیڈمی` اوساکا انگلش سپیکنگ سوسائٹی اور بعض دوسری سوسائیٹیوں میں آپ کے لیکچر ہوئے اور کئی جاپانی شخصیتوں سے تعارف پیدا کیا۔۸۳ اور آپ کے ذریعہ ایک تعلیم یافتہ جاپانی بھی داخل احمدیت ہوا۔۸۴ حکومت جاپان کو آپ کی نسبت شروع سے بعض سیاسی نوعیت کے شکوک تھے۔ جاپانی پولیس کی طرف سے آپ کی کڑی نگرانی کی گئی۔ آپ زیرحراست لے لئے گئے۔ لیکن تحقیقات مکمل ہونے پر آزاد کر دئے گئے۔۸۵
    قیام جاپان کے دوران آپ نے آنحضرت~صل۱~ کی سوانح اور اسلامی تعلیمات و عبادات اور اس کی حکمتوں پر مشتمل ایک کتاب بھی تصنیف کرنی شروع کی جس کے قریباً تیرہ سو صفحات کا جاپانی میں رف ترجمہ بھی ہوچکا تھا اور ایک پبلشر کے ساتھ حق تصنیف کی فروخت سے متعلق بات چیت بھی ہورہی تھی کہ آپ کو واپس بلا لیا گیا۔۸۶ اور آپ ۱۲۔ جولائی ۱۹۳۸ء کو قادیان پہنچ گئے۔۸۷
    صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز جاپان میں ہی مصروف تبلیغ تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۱۰۔ جنوری ۱۹۳۷ء۸۸ کو مولوی عبدالغفور صاحب` برادر خورد مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل کو روزانہ فرمایا اور ان کو اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل ہدایات لکھ کر دیں۔
    >۱۔
    سب سے پہلے آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ آپ تحریک جدید کے ماتحت جارہے ہیں۔ جس کے مبلغوں کا اقرار یہ ہے کہ وہ ہر تنگی ترشی برداشت کرکے خدمت اسلام کا کام کریں گے۔ اور تنخواہ دار کارکن نہیں ہوں گے۔ بلکہ کوشش کریں گے کہ جلد سے جلد خود کما کر اسلام کی خدمت کرنے کے قابل ہوں۔ اس وقت جو مبلغ وہاں ہیں وہ تحریک جدید کے مبلغ نہیں بلکہ انہیں عارضی طور پر دعوۃ و تبلیغ سے لیا گیا ہے۔ اس لئے اس بارہ میں آپ کا معاملہ ان سے مختلف ہے۔ آپ کے لئے سردست ایک گزارہ کا انتظام کیا جائے گا۔ جیسا کہ چین` سپین` ہنگری وغیرہ کے مبلغوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ لیکن آپ کو بھی کوشش کرنی چاہئے اور ہم بھی کوشش کریں گے کہ آپ وہاں سے اپنے گزارہ کے قابل خود رقم پیدا کرسکیں۔ اور اس کا آسان طریق یہ ہے کہ جاپان اور ہندوستان میں تحریک جدید کی معرفت کوئی تجارتی سلسلہ قائم کیا جائے مگر اس سے بھی پہلے آپ کو جاپانی زبان سیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آپ کے سامنے ہنگری اور سپین کے مبلغوں کا شاندار کام رہنا چاہئے۔ جنہوں نے آپ کی نسبت زیادہ مشکلات میں اور ان ممالک کے لحاظ سے کم خرچ پر وہاں نہایت اعلیٰ کام کیا ہے اور اعلیٰ طبقہ میں احمدیت پھیلائی ہے۔
    ۲۔
    آپ کو اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنا چاہئے۔ جس سے سب نصرت آتی ہے اور قرآن کا مطالعہ اور اس کے مضامین پر غور پر مداومت اختیار کرنی چاہئے۔ اسی طرح کتب سلسلہ اور اخبارات سلسلہ کا مطالعہ کرتے رہنا چاہئے۔
    ۳۔
    باہر جانے والوں کو اپنا کام دکھانے کے لئے بعض دفعہ تصنع کی طرح رغبت ہو جاتی ہے اس سے بچنا چاہئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہمیشہ مدنظر رہے۔
    ۴۔
    نیک عمل نیک قول سے بہتر ہے اور عملی تبلیغ قولی تبلیغ سے بہتر ہے اور نیک ارادہ ان دونوں امور میں انسان کا ممد ہوتا ہے۔
    ۵۔
    نماز کی پابندی اور جہاں تک ہوسکے باجماعت اور تہجد جب بھی میسر ہو۔ انسان کے ایمان اور اس کے عمل کو مضبوط اور قوی کرتے ہیں۔
    ۶۔
    اللہ نور السموت و الارضط ہے۔ پس محبت الٰہی کو سب کامیابیوں کی کلید سمجھنا چاہئے جو خداتعالیٰ سے والہانہ محبت رکھتا ہے وہ کبھی ہلاک نہیں ہوتا۔ مگر خیالی محبت نفع نہیں دیتی۔ محبت وہی ہے جو دل کو پکڑلے۔
    ۷۔
    اسلام کے لئے ترقی مقدر ہے۔ اگر ہم اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو یہ ہمارا قصور ہے۔ یہ کہنا کہ یہاں کے لوگ ایسے ہیں اور ویسے ہیں صرف نفس کو دھوکا دینا ہوتا ہے۔
    ۸۔
    تبلیغ میں سادگی ہو۔ اسلام ایک سادہ مذہب ہے۔ خواہ مخواہ فلسفوں میں نہیں الجھنا چاہئے۔
    ۹۔
    ضروری نہیں کہ جو ہنسے وہ حق پر ہو یا عقلمند ہو۔ بہت باتیں جن پر پہلے ہنسا جاتا ہے بعد میں سننے والے کے دل کو مسخر کرلیتی ہیں۔ پس جدید علوم کے ماہروں کے تمسخر پر گھبرانا نہیں چاہئے۔ اور نہ ہر بات کو اس لئے رد کردینا چاہئے کہ ہمارے آباء نے ایسا نہیں لکھا۔ سچائی کے ضامن آباء نہیں۔ قرآن کریم ہی ہے۔ پس ہر امر کو قرآن کریم پر عرض کرنا چاہئے۔
    ۱۰۔
    دعا ایک ہتھیار ہے جس سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ سپاہی بغیر ہتھیار کے کامیاب نہیں ہوسکتا۔
    ۱۱۔
    غریبوں کی خدمت اور رفاہ عام کے کاموں کی طرف توجہ مومن کے فرائض میں داخل ہے۔
    ۱۲۔
    مبلغ سلسلہ کا نمائندہ ہے۔ اس لئے اس ملک کے سب حالات سے سلسلہ کو واقف رکھنا چاہئے۔ خواہ تمدنی ہوں` علمی ہوں` سیاسی ہوں` مذہبی ہوں۔
    ۱۳۔
    جس ملک میں جائے وہاں کے حالات کا گہرا مطالعہ کرے اور لوگوں کے اخلائق اور طبائع سے واقفیت بہم پہنچائے۔ یہ تبلیغ میں کامیابی کے لئے ضروری ہے۔
    ۱۴۔
    رپورٹ باقاعدہ بھجوانا خود کام کا حصہ ہے۔ جو شخص اس میں سستی کرتا ہے۔ وہ درحقیقت کام ہی نہیں کرسکتا۔
    ۱۵۔
    نظام کی پابندی اور احکام کی فرمانبرداری اور خطاب میں آداب اسلام کا حصہ ہے۔ اور ان کو بھولنا اسلام کو بھولنا ہے۔
    اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور سفر میں کامیاب کرے۔ خیریت سے جائیں اور خیریت سے آئیں اور خداتعالیٰ کو خوش کردیں<۔۸۹
    مولوی عبدالغفور صاحب پونے پانچ سال تک فریضہ تبلیغ بجالانے کے بعد ۳۰۔ اکتوبر ۱۹۴۱ء کو واپس قادیان تشریف لے آئے۔
    دارالتبلیغ ہانگ کانگ )چین( کا قیام
    چین میں پہلا احمدیہ مشن صوفی عبدالغفور صاحب بھیروی نے قائم کیا جو ۲۷۔ مئی ۱۹۳۵ء10] [p۹۰ کو ہانگ کانگ پہنچے اور متعدد سال تک فریضہ تبلیغ بجا لانے کے بعد واپس قادیان تشریف لے آئے۔ آپ کے زمانہ میں جماعت احمدیہ چین کی داغ بیل پڑی۔ سب سے پہلے چینی احمدی )جس کی اطلاع مرکز میں پہنچی( لی اونگ کنگ فنگ۔ FUNG KING LEUNG تھے۔ جو قصبہ SHOW KAWAI ضلع SANTAK صوبہ KWANTEENG کے باشندہ تھے۔۹۱
    صوفی صاحب موصوف نے دوران قیام میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا چینی ترجمہ۹۲ کرایا جس سے اشاعت احمدیت میں پہلے سے زیادہ آسانی پیدا ہوگئی۔
    صوفی صاحب کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے حکم سے ۱۶۔ جنوری ۱۹۳۶ء کو شیخ عبدالواحد صاحب فاضل چین روانہ ہوئے۔۹۳ شیخ صاحب نے >اسلامی اصول کی فلاسفی< کے چینی ترجمہ کی اشاعت کے علاوہ بعض تبلیغی پمفلٹ بھی بکثرت شائع کئے۔۹۴ آپ کے ذریعہ بھی کئی سعید روحیں حلقہ بگوش احمدیت ہوئیں۔۹۵ آپ ۶۔ مارچ ۱۹۳۹ء]10 [p۹۶ کو واپس مرکز میں پہنچے۔
    شیخ عبدالواحد صاحب ابھی چین میں اشاعت احمدیت کا فرض ادا کررہے تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے چوہدری محمد اسحاق صاحب سیالکوٹی کو ۲۷۔۹۷ ستمبر ۱۹۳۷ء کو چین روانہ فرمایا اور اپنے قلم سے مندرجہ ذیل نصائح لکھ کر دیں۔
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    اللہ تعالیٰ کی محبت سب اصول سے بڑا اصل ہے۔ اسی میں سب برکت اور سب خیر جمع ہے۔ جو سچی محبت اللہ تعالیٰ کی پیدا کرے وہ کبھی ناکام نہیں رہتا اور کبھی ٹھوکر نہیں کھاتا۔ نمازوں کو دل لگا کر پڑھنا اور باقاعدگی سے پڑھنا۔ ذکر الٰہی۔ روزہ۔ مراقبہ یعنی اپنے نفس کی حالت کا مطالعہ کرتے رہنا سونا کم۔ کھانا کم۔ دین کے معاملات میں ہنسی نہ کرنا نہ سننا۔ مخلوق خدا کی خدمت۔ نظام کا ادب و احترام اور اس سے ایسی وابستگی کہ جان جائے اس میں کمی نہ آئے۔ اسلام کے اعلیٰ اصول ہیں۔
    قرآن کریم کا غور سے مطالعہ علم کو بڑھاتا ہے اور دل کو پاک کرتا ہے اور دماغ کو نور بخشتا ہے۔ سلسلہ کی کتب اور اخبارات کا مطالعہ ضروری ہے۔
    خدا کے رسولﷺ~ اور مسیح موعودؑ اس کے خادم کی محبت خداتعالیٰ کی محبت کا ہی جزو ہے۔ نہ محمد~صل۱~ جیسا کوئی نبی گزرا ہے۔ نہ مسیح موعودؑ جیسا نائب~صل۱~۔
    تقویٰ اللہ ایک اہم شے ہے۔ مگر بہت لوگ اس کے مضمون کو نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں۔
    سلسلہ کے مفاد کو ہر دم سامنے رکھنا۔ بلند نظر رکھنا۔ مغلوبیت سے انکار اور غلبہ اسلام اور احمدیت کے لئے کوشش ہماری زندگی کا نصب العین ہونے چاہئیں<۔۹۸
    خاکسار مرزا محمود احمد<
    چوہدری محمد اسحٰق صاحب قریباً ساڑھے تین سال تک چین میں احمدیت کا نور پھیلاتے رہے اور اپریل ۱۹۴۱ء۹۹ کو قادیان آگئے۔
    حضرت امیرالمومنین کا پہلا سفر سندھ
    سیدنا حضرت امیرالمومنینؓ نے اراضیات سندھ کے معائنہ کی غرض سے پہلا سفر ۱۹۳۵ء میں کیا۔ حضور ۹۔۱۰۰ مئی ۱۹۳۵ء کو بعد نماز عصر قادیان سے روانہ ہوئے۔ حضور کے عہد خلافت میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ حضورؓ سندھ کی طرف تشریف لے گئے۔ اس سفر میں حضرت امیرالمومنینؓ کے ہمراہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے ناظر تعلیم و تربیت۔ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ناظر اعلیٰ۔ حضرت مولوی عبدالمغنی خان صاحب ناظر بیت المال۔ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب اور شیخ یوسف علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری تھے۔ حضرت مرزا محمد اشرف صاحب ناظم جائیداد پہلے ہی سندھ پہنچ گئے تھے۔۱۰۱
    حضرت امیرالمومنینؓ ۱۱۔ مئی ۱۹۳۵ء کو ڈھائی بجے )بعد دوپہر( جھڈو اسٹیشن پر اترے۔ اور تھوڑی دیر آرام فرمانے کے بعد اسٹیشن کی انتظارگاہ میں ظہر و عصر کی نمازیں پڑھائیں اور شام کے ۶ بجے حضور کا قافلہ دو پارٹیوں میں احمد آباد۱۰۲ اسٹیٹ کی طرف روانہ ہوا۔ حضور نے گھوڑے پر سوار ہونا پسند فرمایا۔ گھوڑوں پر حضور کے ہمراہ چوہدری غلام احمد صاحب منیجر احمد آباد اسٹیٹ` حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال` حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب اور بعض اور اصحاب تھے۔ ایک پارٹی جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب` حضرت مولوی عبدالمغنی خاں صاحب` چودھری محمد سعید صاحب خلف الرشید خان بہادر حضرت نواب چودھری محمد دین صاحب` حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور شیخ یوسف علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری پر مشتمل تھی` موٹرکار میں بیٹھی۔ ایک جگہ موٹر ٹھہرا کر حضور سے عرض کی گئی کہ اگر اجازت ہو تو احمد آباد پہلے پہنچ کر منتظر احباب کو اطلاع کردی جائے کہ حضور گھوڑے پر تشریف لارہے ہیں۔ حضور نے اجازت تو دے دی لیکن حضور موٹر سے پہلے پہنچ گئے۔ احمد آباد اسٹیٹ کے دوستوں نے خوبصورت گیٹ بنایا ہوا اور راستہ سجایا ہوا تھا۔ حضور جونہی احمد آباد میں پہنچے احباب نے اللہ اکبر کے نعروں سے حضور کا استقبال کیا۔۱۰۳
    حضور نے اس سفر میں اراضیات سندھ کا معائنہ فرمایا۔ ۱۷۔ مئی ۱۹۳۵ء کو حیدر آباد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور بینٹ ہال میں پبلک لیکچر دیا۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ بڑی رواں تقریر فرماتے تھے لیکن حیدرآباد میں حضور نے جو لیکچر دیا اس کے دوران دو ایک سیکنڈ کے لئے حضور کی زبان مبارک میں عجیب طرح لکنت ظاہر ہوئی جسے سب سندھی احمدیوں نے محسوس کیا۔]4 [stf۱۰۴
    سندھ سے واپس قادیان تشریف لے جاتے ہوئے جن احمدی جماعتوں نے حضور کا استقبال کیا ان میں سلسلہ احمدیہ کے مطبوعہ ریکارڈ میں صرف جماعت احمدیہ ضلع ملتان کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ اخبار الفضل ۲۴۔ مئی ۱۹۳۵ء میں لکھا ہے۔
    >۱۹۔ مئی بروز اتوار ایک بجے دن حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا علاقہ سندھ سے قادیان دارالامان کی واپسی پر ملتان سے گزر ہوا۔ جماعت احمدیہ ملتان کے چھوٹے بڑے۔ بچے بوڑھے اور جوان تمام شوق زیارت کے لئے ملتانی چھائونی سٹیشن پر جمع تھے۔ بعض بیرونی جماعتوں کے دوست بھی آئے ہوئے تھے۔ اخوند محمد افضل خان صاحب پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ ڈیرہ غازی خاں باوجود پیرانہ سالی اور علالت اور ضعف کے ایک روز پیشتر ہی آگئے تھے۔ احمدی احباب کے علاوہ ملتان کے ہندو۔ عیسائی اور مسلم اکابر بھی شرف ملاقات حاصل کرنے کے لئے کافی تعداد میں جمع تھے۔ ان میں اکثر وکلاء۔ پروفیسران تھے۔ گاڑی ٹھیک وقت پر پہنچی اور حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ پر نگاہ پڑتے ہی اللہ اکبر کے نعرے فضاء میں گونج اٹھے۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی از راہ شفقت گاڑی کے دروازہ میں آکر کھڑے ہوگئے۔ جس رعب و تمکنت اور جلال کے ساتھ آپ رونق افروز ہوئے اس کی کیفیت صرف تصور میں آسکتی ہے۔ حضور نے اپنے غلاموں کو شرف مصافحہ بخشا۔ اور اس امر کی اطلاع ملنے پر کہ بعض غیر احمدی اور ہندو معززین بھی شرف دیدار کے منتظر ہیں۔ آپ سیکنڈ کلاس کے ویٹنگ روم میں تشریف لے آئے۔ جہاں سب کا آپ سے باری باری تعارف کرایا گیا۔ وکلاء میں سے غلام قادر خاں صاحب۔ رحیم بخش صاحب آزاد۔ پیرزادہ عطاء محمد صاحب۔ محمد ابراہیم صاحب شمی۔ لالہ رامچندر صاحب۔ مسٹر آرتھر اے اور پروفیسر صاحبان میں سے چودھری صادق محمد صاحب ایم۔ اے۔ مسٹر مبارک احمد صاحب ایم۔ اے۔ گوپال داس صاحب کھنہ ایم۔ اے۔ مسٹر دیسراج صاحب پوری ایم۔ اے قابل ذکر ہیں۔ لالہ رام پرتاپ صاحب اے۔ ایس۔ آئی ڈبلیو بھی تھے۔ ان کے علاوہ دیگر شرفاء بھی تھے جنہیں ذوق دیدار و ملاقات سٹیشن پر کشاں کشاں کھینچ لایا تھا۔ احباب نے پھولوں کے ہار حضور کے گلے میں ڈالے۔ آپ اور آپ کے رفقاء سفر کی برف اور بوتلوں سے تواضع کی۔ چونکہ گاڑی یہاں دس منٹ کے لئے ٹھہرتی ہے۔ اس لئے یہ قلیل وقت مصافحوں اور تعارف میں صرف ہوگیا۔ گاڑی نعروں کے درمیان روانہ ہوئی۔ ہجوم بفضلہ اچھا خاصہ تھا۔ اور دوستوں نے جس بے تابانہ اخلاص` کمال شوق اور کیف آور وارفتگی و شفتگی کا مظاہرہ کیا۔ وہ تحریر میں نہیں آسکتا۔ بعض احباب نے خانیوال تک معیت کی سعادت سے بہرہ اندوز ہونے اور چلتی گاڑی میں کھانا کھلانے کی غرض سے جو پہلے سے تیار تھا۔ ٹکٹ لے لئے تھے۔ جن میں اخوند محمد افضل خان صاحب۔ شیخ فضل الرحمن صاحب اختر پریذیڈنٹ۔ چوہدری اعظم علی صاحب سب جج۔ شیخ محمد حسین صاحب۔ وائس پریذیڈنٹ۔ ملک شیر محمد صاحب۔ خان بہادر ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب۔ پروفیسر عبدالقادر صاحب ایم۔ اے۔ میاں قادر بخش صاحب۔ میاں اللہ دتا صاحب۔ مسٹر بشیر احمد صاحب ٹکٹ کلکٹر قابل ذکر ہیں۔ حضرت امیرالمومنین اور آپ کے رفقاء کو گاڑی میں کھانا کھلایا گیا۔ قریباً ایک گھنٹہ کی مسافت کے بعد کراچی میل خانیوال پہنچی۔ جہاں مقامی اور محمود آباد اسٹیٹ کے احمدی احباب کو جم غفیر تھا۔ اللہ اکبر کے نعروں کے درمیان گاڑی پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئی۔ حضور نے اول احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔ پھر گفتگو فرماتے رہے۔ ملتان سے جو خدام ہمراہ آئے تھے انہیں الوداعی مصافحہ کی عزت بخشی۔ چند منٹ کے بعد گاڑی روانہ ہوئی۔ نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوئے۔ یہ امر نوٹ کرلینے کے قابل ہے کہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے بائیس سالہ عہد خلافت میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ حضور کا اس لائن سے گزر ہوا۔۱۰۵
    قادیان میں ورود
    حضرت امیرالمومنینؓ ۱۹۔ مئی ۱۹۳۵ء بوقت دس بجے شب بخیر و عافیت قادیان دارالامان واپس تشریف لائے۔ مقامی جماعت نے قادیان سے باہر استقبال کیا اور حضور نے اپنے خدام کو شرف مصافحہ بخشا۔۱۰۶
    کوئٹہ میں ہولناک زلزلہ اور مصیبت ]0 [stfزدگان کی وسیع پیمانے پر امداد
    ۱۹۳۵ء میں خداتعالیٰ کا قہری نشان ۳۱۔ مئی کو پونے تین بجے صبح کے وقت کوئٹہ کے خوفناک زلزلہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ جس نے
    زلزلہ بہار کو بھی مات کردیا۔ جیسا کہ اخبار >پرتاپ< لاہور )۶۔ جون ۱۹۳۵ء( نے لکھا۔ >یہ زلزلہ نہ صرف بلوچستان بلکہ ہندوستان کی تاریخ میں مہیب ترین ہے۔ اپریل ۱۹۰۴ء میں دھرم سالہ جو زلزلہ آیا اس نے بھی بہت تباہی مچائی تھی ۱۹۳۴ء میں بہار میں زلزلہ آیا۔ بہار کا زلزلہ بڑا ہولناک تھا اور اس کے حالات پڑھ کر ہم حیران ہوتے تھے لیکن کوئٹہ کے زلزلہ نے انہیں مات کر دیا ہے<۔۱۰۷
    سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۳۔ جون ۱۹۳۵ء کو ایک اہم مضمون لکھا۔ جس میں جماعت احمدیہ کو فوری توجہ دلائی کہ کوئٹہ کے مصیبت زدگان کی امداد کے سلسلہ میں ان پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ چنانچہ حضور نے تحریر فرمایا۔
    >احباب اخبارات میں پڑھ چکے ہوں گے کہ کوئٹہ میں ایک شدید زلزلہ آیا ہے۔ جس سے قریباً اسی فیصدی آبادی تباہ ہوگئی ہے۔ یہ ایک تازہ نشان ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا۔ جنہوں نے بوضاحت شدید زلزلوں کی خبر دیکر دنیا کو پہلے سے جگا دیا تھا۔ مگر افسوس کہ لوگ اب تک نہیں جاگے لیکن جہاں یہ زلزلہ ایک نشان ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی صداقت کا۔ وہاں اس کے صدمہ سے بچنے والے لوگوں کی ہمدردی اور ان کی خدمت کی اہم ذمہ داری بھی جماعت احمدیہ پر پڑتی ہے۔
    ہمارا فرض ہے کہ ہم مصیبت زدوں کی غیر معمولی خدمت کرکے دنیا پر ثابت کردیں کہ ہم دنیا کی ہمدردی اور اس کی خیر خواہی کو اپنا ذاتی فرض سمجھتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داری کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اسے پورا کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کرتے ہیں۔ میں نے اس وقت خدمت کرنے کے لئے ایک ڈاکٹر۔ دو کمپونڈر اور ایک سیکرٹری کو کوئٹہ روانہ کردیا ہے۔ اور ان کے ساتھ بہت سا سامان مرہم پٹی وغیرہ کا بھی بھیجا گیا ہے۔ اور ان لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نہ صرف جماعت احمدیہ کے حاجتمند احباب کی مدد کریں۔ بلکہ تمام مذاہب و ملت کے لوگوں کی حتی الوسع امداد کریں۔ اسی سلسلہ میں میں احباب جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جس رنگ میں بھی اس کام میں امداد کرسکتے ہیں۔ امداد سے دریغ نہ کریں۔ جو ڈاکٹر اس وقت وہاں پہنچ سکتے ہوں سلسلہ کے نظام کے تحت وہاں پہنچ کر کام کریں۔ جو ڈسپنسر اور کمپائونڈر وقت دے سکتے ہوں وہ بھی اپنے آپ کو پیش کریں اور جو لوگ مزدوری وغیرہ کا کام کرسکتے ہیں وہ بھی اپنے آپ کوپیش کریں کیونکہ ملبہ وغیرہ اٹھانے کا بھی بہت بڑا کام ہے۔ ممکن ہی اس کوشش سے بھی کئی جانیں بچ جائیں۔ گزشتہ تجربہ بتاتا ہے کہ بعض لوگ دو۔ دو ہفتہ بھی ملبوں کے نیچے سے زندہ نکل آئے ہیں۔ ان لوگوں کے سوا جو کام کے لئے وہاں جاسکتے ہوں دوسرے احباب سے میں یہ خواہش کرتا ہوں کہ وہ دل کھول کر چندہ دیں<۔۱۰۸
    جماعت احمدیہ نے اپنے پیارے امام کی آواز پر پورے خلوص سے لبیک کہا اور ہندوستان اور بیرونی ممالک کے احمدیوں نے مصیبت زدگان کی امداد کے لئے ہزاروں روپے پیش کردیئے۔۱۰۹
    یہاں اس خدائی تصرف کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ جہاں اس زلزلہ کے نتیجہ میں کوئٹہ کی آبادی کا اسی یا نوے فیصدی حصہ لقمہ اجل ہوا وہاں خدا کے خاص فضل و عنایت سے جماعت احمدیہ کوئٹہ کا نقصان صرف ۱۲ فیصدی کے قریب تھا۔ اور اکثر احمدی گھرانے بالکل محفوظ و مصئون رہے۔ خداتعالیٰ کی طرف سے احمدیوں کی یہ خصوصی حفاظت ایک خارق عادت بات تھی اور عقل و بصیرت رکھنے والوں کے لئے ایک عظیم الشان نشان۔۱۱۰
    لندن سے >مسلم ٹائمز< کا اجراء
    ۱۹۳۵ء میں امام مسجد لنڈن مولانا عبدالرحیم صاحب درد نے >دی مسلم ٹائمز< کے نام سے ایک انگریزی اخبار جاری کیا۔ یہ اخبار جس کا پہلا پرچہ ۶۔ جون۱۱۱ ۱۹۳۵ء کو شائع ہوا۔ انگلستان میں یہ پہلا اسلامی اخبار تھا جو جاری کیا گیا۔ یہ رسالہ ۱۹۳۷ء تک نکلتا رہا۔ فرینکفورٹ کی ایک مرکزی لائبریری میں اس کا مجلد فائل موجود ہے۔
    لنڈن سے رسالہ >الاسلام< )انگریزی( کا اجرا
    )سیدنا( حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب` مرزا ظفر احمد صاحب اور مرزا سعید احمد صاحب نے یورپ کو اسلامی
    ‏tav.8.13
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    شیخ احمد فرقانی کی شہادت سے سالانہ جلسہ ۱۹۳۵ء تک
    تعلیم سے روشناس کرانے اور اس کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کے لئے >الاسلام< کے نام سے ایک سہ ماہی انگریزی رسالہ لنڈن۱۱۲ سے جاری فرمایا۔ اس رسالہ کی زبان فصیح اور شستہ اور ظاہری صورت نہایت عمدہ تھی۔ اور رسالہ صوری و معنوی دونوں اعتبار سے معیاری تھا۔ الاسلام کا پہلا شمارہ جون ۱۹۳۵ء میں چھپا جس میں اسلامی جنگوں کی نسبت ایک سیر حاصل مضمون شائع ہوا۔۱۱۳ دوسرے نمبر میں مسئلہ نبوت پر مبسوط اور مدلل رنگ میں روشنی ڈالی گئی۔۱۱۴ یہ رسالہ ۱۹۳۸ء تک جاری رہا۔ رسالہ کے اجراء پر حسب ذیل سرکلر جاری کیا گیا جس سے اس کے مقاصد پر خوب روشنی پڑتی ہے۔
    ‏MOSQUE LONDON THE
    ۔ROAD MELROSE 63
    ‏Telephone:
    ۔1935 yrauanaJ 15th
    ‏ 1551 PUTNEY
    18۔W۔S ۔LONDON
    ‏Brother, Dear
    ‏ work propaganda and Press, the of age the is this know, Well You As Messiah, Promised the why is That ۔agency its through done be best can to God by sent was who him) upon be God of blessings and peace (May vast a us to bequeathed Islam, of propagation the of work the complete۔religion of field the in knowledge of treasure
    ‏ the of ever, than more us, convinced has England in stay brief Our eht consequently, and, Press the of importance and power enormous more become has English in literature suitable producing of necessity۔us to imperative
    ‏ supply, to therefore decided have God, in trusting undersigned, the We, our as far as need felt much that country, this in sojourn our during have we shape, practical it give To ۔allow capacity and means limited own our at here, from magazine quarterly small a start to humbledecided our of memento living a be to prove may it that so Expense,
    ۔country this in Islam of cause the, to service
    ‏ pages twentyeight of consist should magazine this that proposed is It ۔Religions> of <Review the of that than smaller little a being size its solid of full article, page ۔twenty a be will there number each In pages five or four remaining The ۔work research on based information under present at is title Its ۔comments and notes to devoted be will۔consideration
    ‏ Mirza and Ahmad, Said Mirza by assisted it, edit will Ahmad Nasir fixedMirza is subscription annual The ۔Manager its as act will Ahmad Zafar۔3/ at
    ‏ are magazine a running of responsibilities the know, undoubtedly you As interest our as But ۔ourselves like students for especially onerous, very God grace, His through that hope we limelight, for nor pecuniary not is us enable shortcomings, and weaknesses our of spite in will, Almighty in Islam propagate to ours of effort humble this success to bring to۔Materialism of centre the
    ‏ by us help will you that hope the ni letter this you sending are We and attached to here list the of out subject one least at chossing۔journal quarterly our for thereon articles, or article, and writing
    ‏ in influence your use would you if also it appreciate should We۔subscribers us getting
    ‏Faith the in Yours
    ۔AHMAD NASIR MIRZA
    ۔AHMAD MUZAFFAR MIRZA
    ۔AHMAD ZAFAR MIRZA
    ۔AHMAD SAID MIRZA
    اس عرضداشت کے ساتھ ہی مضمون نگار حضرات کی خدمت میں حسب ذیل سرکلر بھجوایا گیا۔
    ۔words 9000 than more contain not should article The ۔1
    ۔it with given be should bibliography Complete ۔2
    ۔given be must references Full ۔3
    ‏ teaching the of guidance and light the in written be must article The ۔4۔Messiah promised the of
    ‏ roughly then and studied be should view of point Western The۔ 5
    ۔discussed
    ‏ autoritative and authentic contain must articles The۔ 6
    ۔only information۔comprehensive and relevant concise, ,feirb be must It ۔7
    ۔avoided be should assertions Vain ۔8
    ۔discussed duly be should idea the of development and origin The ۔9
    ‏SUBBJECTS OF LIST
    ۔Salvery ۔1
    ۔Interest ۔2
    ۔Polygamy ۔3
    ۔women of Position ۔4
    ۔affairs International and Islam ۔5
    ۔Labour and Islam۔6
    ۔Capitalism and Islam ۔7
    ۔War and Islam۔8
    ۔Government of Form Islamic۔9
    ۔Prophethood ۔10
    ۔Divorce ۔11
    ۔Science and malsI ۔12
    ۔Spiritualism and Islam ۔13
    ۔Mormnism and Islam ۔14
    ۔Theosophy and Islam ۔15
    ۔Swedenborgianism and Islam ۔16
    ۔Purdah ۔17
    ۔Science Christian and Islam ۔18
    ۔Fasting ۔19
    ۔Nimaz ۔20
    ۔Hajj ۔21
    ۔Zakat ۔22
    ۔Sacrifice ۔23
    ۔Angels ۔24
    ۔death after Life ۔25
    ۔Ethics Islamic ۔26
    ۔Islamic and Christian Jewish, ۔Messiah The ۔27
    ۔Islam of spread The ۔28
    ۔wars Islamic ۔29
    ۔peace World ۔30
    ‏￿Cross the on die Jesus Did ۔31
    ۔Marriage ۔32
    ۔Control Birth and Islam ۔33
    ۔Quran Holy The ۔34
    ۔Hadith The ۔35
    ۔Fiqah ۔36
    ۔Revelation and Reason ۔37
    ۔Agnosticism and Islam ۔38
    ۔Materialism ۔39
    ۔culture Islamic ۔40
    ۔inheritance of law Islamic ۔41
    ۔economics Islamic ۔42
    ۔Advent Second The ۔43
    ۔Movement Ahmadiyya The ۔44
    ۔Judiciary Islamic The ۔45
    ۔Arts Fine and Islam ۔46
    ۔Movement Ahmadiyya the ni spilt The ۔47
    ۔Will of Freedom and Islam ۔48
    ۔Evolution ۔49
    ۔God of conception Islamic The ۔50
    حجاز کے ولی عہد مسجد فضل لنڈن میں
    ۱۲۔ جولائی ۱۹۳۵ء کو حجاز کے ولی عہد شہزادہ امیر سعود مسجد فضل لنڈن میں تشریف لائے۔ امام مسجد لنڈن حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد نے آپ کے اعزاز میں ایک دعوت استقبالیہ دی جس میں امریکہ برازیل` میکسیکو اور عرب کے سفراء کے علاوہ سرعبدالقادر اور پروفیسر گب جیسی نامور شخصیتیں بھی شامل ہوئیں۔ امیر سعود دو گھنٹے تک مسجد میں موجود رہے اور انگریز نو مسلموں سے عربی زبان میں نماز سنکر اور ان کی دستی تحریریں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔۱۱۵
    اس تقریب کا برطانوی پریس کے علاوہ عربی اور ہندوستانی اخبارات میں بھی چرچا ہوا۔ اس طرح مسجد کے افتتاح کے موقعہ پر ان کے نہ آنے کا عمدگی کے ساتھ ازالہ ہوگیا۔۱۱۶
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ پر حضرت امیرالمومنین کی حلفیہ شہادت
    ایک صاحب حاجی ضیاء اللہ صاحب )مالک پنجاب سوپ فیکٹری لاہور( نے حضرت امیرالمومنینؓ سے حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ پر حلفیہ
    شہادت دینے کا مطالبہ کیا۔ جس پر حضور نے تحریر فرمایا کہ۔
    >مکرمی السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ میں آپ کے خط کے جواب میں حلفیہ تحریر کرتا ہوں کہ وہ خدا جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کے قبضہ میں میری جان ہے اور جو دلوں کا بھید جانتا ہے میں اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے نزدیک وہ نبوت جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دعویٰ ہے اسلام کے لئے یا آنحضرت~صل۱~ کے لئے ہتک کا موجب نہیں بلکہ اسلام کی مضبوطی کا موجب ہے اور آنحضرت~صل۱~ کی عظمت بڑھانے کا۔ اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایسی نبوت نہ صرف قرآن کریم اور حدیث شریف سے ثابت ہے بلکہ مجھے خود اللہ تعالیٰ نے بذریعہ رویاء و کشوف اس پر یقین دلایا ہے۔
    والسلام خاکسار مرزا محمود احمد<۱۱۷
    سعودی حکومت کا غیر مسلم کمپنی سے معاہدہ اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کا بصیرت افروز بیان
    ۱۵۔ مارچ ۱۹۳۵ء کو جلالت الملک سلطان عبدالعزیز ابن سعود۱۱۸ اور ان کے ولی عہد پر طواف کعبہ کے دوران بعض یمنی عربوں نے قاتلانہ حملہ کردیا جس پر شاہ کے حفاظتی دستہ نے حملہ آوروں کو گولیوں سے ہلاک کردیا۔
    ۱۱۹ اس پر بعض مسلمان اخباروں نے حرم پاک میں عربوں کے قتل پر سخت احتجاج کیا۔ اور اسے >سرزمین حجاز میں یزیدیت< سے تعبیر کیا۔۱۲۰ مخالفت پورے زوروں پر تھی کہ خبر آئی کہ جلالت الملک نے ایک غیر مسلم کمپنی۱۲۱]4 [rtf کو کان کنی کا ٹھیکہ دینے کے لئے ایک معاہدہ طے کرلیا ہے۔
    اگرچہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ نہیں تھا۱۲۲ مگر خصوصاً مجلس احرار نے سلطان المعظم اور انکی حکومت کے خلاف مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے جلسے کئے اور اخباروں میں بدگوئی۱۲۳ سے کام لیتے ہوئے سخت زہریلا پراپیگنڈا کیا اور بالاخر اسے ایک خالص مذہبی مسئلہ قرار دے کر مخالفت کا ایک وسیع محاذ کھول دیا۔۱۲۴ جس کی اصل وجہ یہ تھی کہ احرار لیڈر شریف حسین دالئی مکہ کے شکست کھا جانے کے بعد سعودی حکومت کے بھی مخالف تھے۔ اور ابن سعود کو سرمایہ دارانہ ماحول کا پرورش یافتہ بتا کر بدنام کرتے رہتے تھے۔۱۲۵
    احرار کی اس افسوسناک روش کی نسبت کلکتہ کے مسلم روزنامہ اخبار ہند نے حسب ذیل مضمون شائع کیا۔
    >یہ واقع ہے کہ مولانا اسمٰعیل غزنوی سالہا سال سے شاہ ابن سعود کے ہاں آمدورفت رکھتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ مولانا غزنوی کے اسی تعلق کی وجہ سے ان کے بعض رفیقوں کو مخصوص ذاتی شکائتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ اور چونکہ ان کی شکائتیں دور نہ ہوسکیں۔ اور چونکہ وہ مجلس احرار میں بہت رسوخ رکھتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے مولانا اسمعیل غزنوی اور حکومت حجاز سے انتقام لینے کی یہ صورت نکالی ہے کہ مجلس احرار ملک بھر میں حکومت حجاز کے خلاف ایجی ٹیشن کرے اور اس طرح حکومت حجاز کو مجبور کردے کہ وہ مذکورہ بالا شکایتیں دور کرنے پر آمادہ ہوجائے۔
    اپنی اس اطلاع کا ذکر ہم نے اشارۃ پچھلے مضمون میں کیا تھا۔ مگر اس پر زور نہیں دیا تھا۔ کیونکہ ہمیں اس پر پورا یقین نہیں تھا۔ لیکن اب >مجاہد< کا افتتاحیہ دیکھ کر ہمیں بڑی حد تک اپنی اطلاع کی صحت پر بھروسہ ہوگیا ہے۔ کیونکہ >مجاہد< نے اپنے اس افتتاحیہ میں حد درجہ تدلیس و تلبیس سے کام لیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پس پردہ کوئی اور ہی حقیقت موجود ہے۔ >مجاہد< کے افتتاحیہ کا لب لباب یہ ہے کہ مجلس احرار اب تک جزیرۃ العرب کی حقیقی صورت حال سے واقف نہ تھی۔ لیکن اب اسے یقین سے معلوم ہوگیا ہے کہ شاہ ابن سعود انگریزوں کے زیر اثر ہیں اور یہ کہ عرب کے خارجی معاملات پر برطانیہ کا قبضہ ہے اور انگریز مدبر سلطان کو معاہدوں کے جال پھنسا کر داخلی مسائل پر قابض ہورہے ہیں۔ اور یہ کہ جنگ یمن و نجد برطانیہ ہی کے اشارے سے ہوئی تھی۔ اور شاہ ابن سعود کی فتح محض برطانیہ کی قوت سے ہوئی۔ اور یہ کہ امام یمن انگریزوں کے یا اٹلی کے یا کسی اور اجنبی قوت کے زیر اثر نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ الزامات۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ مجلس احرار اور اس کے آرگن >مجاہد< کے پاس اپنے ان دعووں کی تائید میں کوئی دلیل بھی ہے یا نہیں؟ اگر دلیل ہے تو پیش کرنا چاہئے۔ اس افتتاحیہ میں تو ان تمام الزاموں کی بنیاد اسی معاہدے کو بتایا گیا ہے جو کان کنی کے ٹھیکہ سے متعلق حکومت حجاز نے کیا ہے مگر ہمیں یہ بھی تو بتایا جائے کہ اس معاہدے میں کونسی دفعہ ایسی ہے جس کی بنا پر یہ تمام الزام تراش لئے گئے ہیں۔ ہم مجلس احرار اور اس کے آرگن کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ اس معاہدے میں کوئی ایسا لفظ بھی دکھا دے جس سے حجاز کی آزادی کو ذرا بھی خطرہ لاحق ہوتا ہو یا جس سے شبہ بھی ہوسکے کہ شاہ ابن سعود انگریزوں کے زیر اثر آگئے ہیں۔ >مجاہد< کے افتتاحیہ نے ہمیں یقین دلا دیا ہے کہ اس کو اور مجلس احرار کو عرب کے معاملات اور شاہ ابن سعود کی تاریخ سے کچھ بھی واقفیت نہیں ہے۔ کیونکہ اگر واقفیت ہوتی تو اس قسم کی بہکی بہکی باتیں نہ کہی جاتیں<۔۱۲۶
    ایک بار سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی نے بیان دیا کہ >جزیرہ نمائے عرب کی تاریخ میں وہ دن سیاہ ترین دن تھا جس دن وہاں سے تیل دریافت ہوا دولت نے انہیں برباد کردیا ہے<۔۱۲۷
    سعودی مملکت کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والوں کا مقصد کیا تھا؟ اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اخبار >اہلحدیث< میں لکھا۔
    >رنج اس لئے ہے کہ عرب کے پہاڑوں سے اگر یہ چیزیں مل گئیں تو حکومت نجدیہ کو بڑی قوت حاصل ہوگی جو ان برادران اسلام کو ناگوار ہے<۔۱۲۸
    مرکز اسلام کے سربراہ کی نسبت اشتعال انگیزیوں کا یہ افسوسناک طریق دیکھ کر سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ کو سخت صدمہ پہنچا اور حصور نے ۳۰۔ اگست ۱۹۳۵ء کے خطبہ جمعہ میں سلطان ابن سعود کے معاہدہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    >آج سے کئی سال پہلے جب لارڈ چیمسفورڈ ہندوستان کے وائسرائے تھے۔ مسلمانوں میں شور پیدا ہوا کہ انگریز بعض عرب رئوسا کو مالی مدد دیکر انہیں اپنے زیر اثر لانا چاہتے ہیں۔ یہ شور جب زیادہ بلند ہوا تو حکومت ہند کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم عرب رئوسا کو کوئی مالی مدد نہیں دیتے۔ مسلمان اس بات پر خوش ہوگئے کہ چلو خبر کی تردید ہوگئی۔ لیکن میں نے واقعات کی تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ گو ہندوستان کی حکومت بعض عرب رئوسا کو مالی مدد نہیں دیتی مگر حکومت برطانیہ اس قسم کی مدد ضرور دیتی ہے۔ چنانچہ ساٹھ ہزار پونڈ ابن سعود کو ملا کرتے تھے اور کچھ رقم شریف حسین کو ملتی تھی۔ جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے لارڈ چیمسفورڈ کو لکھا کہ گو لفظی طور پر آپ کا اعلان صحیح ہے مگر حقیقی طور پر صحیح نہیں۔ کیونکہ حکومت برطانیہ کی طرف سے ابن سعود اور شریف حسین کو اس قدر مالی مدد ملتی ہے اور اس میں ذرہ بھر بھی شبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان عرب پر انگریزی حکومت کا تسلط کسی رنگ میں بھی پسند نہیں کرسکتے۔ ان کا جواب میں مجھے خط آیا )وہ بہت ہی شریف طبیعت رکھتے تھے( کہ یہ واقعہ صحیح ہے۔ مگر اس کا کیا فائدہ کہ اس قسم کا اعلان کرکے فساد پھیلایا جائے۔ ہاں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ عرب کو اپنے زیر اثر لائے۔
    پس ہم ہمیشہ عرب کے معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں۔ جب ترک عرب پر حاکم تھے تو اس وقت ہم نے ترکوں کا ساتھ دیا۔ جب شریف حسین حاکم ہوا تو لوگوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ مگر ہم نے کہا اب فتنہ و فساد کو پھیلانا نامناسب نہیں۔ جس شخص کو خدا نے حاکم بنا دیا ہے اس کی حکومت کو تسلیم کرلینا چاہئے۔ تاکہ عرب میں نت نئے فسادات کا رونما ہونا بند ہوجائے۔ اس کے بعد نجدیوں نے حکومت لے لی تو باوجود اس کے کہ لوگوں نے شور مچایا کہ انہوں نے قبے گرا دیئے اور شعائر کی ہتک کی ہے اور باوجود اس کے ہمارے سب سے بڑے دشمن اہلحدیث ہی ہیں ہم نے سلطان ابن سعود کی تائید کی۔ صرف اس لئے کہ مکہ مکرمہ میں روز روز کی لڑائیاں پسندیدہ نہیں حالانکہ وہاں ہمارے آدمیوں کو دکھ دیا گیا۔ حج کیلئے احمدی گئے تو انہیں مارا پیٹا گیا۔ مگر ہم نے اپنے حقوق کے لئے بھی اس لئے صدائے احتجاج کبھی بلند نہیں کی کہ ہم نہیں چاہتے ان علاقوں میں فساد ہوں۔ مجھے یاد ہے مولانا محمد علی صاحب۱۲۹ جب مکہ مکرمہ کی موتمر سے واپس آئے تو وہ ابن سعود سے سخت نالاں تھے۔ شملہ میں ایک دعوت کے موقع پر ہم سب اکٹھے ہوئے تو انہوں نے تین گھنٹے اس امر پر بحث جاری رکھی وہ بار بار میری طرف متوجہ ہوتے اور میں انہیں کہتا کہ مولانا آپ کتنے ہی ان کے ظلم بیان کریں جب ایک شخص کو خداتعالیٰ نے حجاز کا بادشاہ بنادیا ہے تو میں تو یہی کہوں گا کہ ہماری کوششیں اب اس امر پر صرف ہونی چاہئیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں فساد اور لڑائی نہ ہو۔ اور جو شورش اس وقت جاری ہے وہ دب جائے اور امن قائم ہوجائے تاکہ ان مقدس مقامات کے امن میں خلل واقع نہ ہو۔ ابھی ایک عہد نامہ ایک انگریز کمپنی اور ابن سعود کے درمیان ہوا ہے۔ سلطان ابن سعود ایک سمجھدار بادشاہ ہیں۔ مگر بوجہ اس کے کہ وہ یورپین تاریخ سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے۔ وہ یورپین اصطلاحات کو صحیح طور پر نہیں سمجھتے۔ ایک دفعہ پہلے جب وہ اٹلی سے معاہدہ کرنے لگے تو ایک شخص کو جو ان کے ملنے والوں میں سے تھے میں نے کہا کہ تم سے اگر ہوسکے تو میری طرف سے سلطان ابن سعود کو یہ پیغام پہنچا دینا کہ معاہدہ کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لیں۔ یورپین قوموں کی عادت ہے کہ وہ الفاظ نہایت نرم اختیار کرتی ہیں مگر ان کے مطالب نہایت سخت ہوتے ہیں۔ اب وہ معاہدہ جو انگریزوں سے ہوا شائع ہوا ہے اور اس کے خلاف بعض ہندوستانی اخبارات مضامین لکھ رہے ہیں میں نے وہ معاہدہ پڑھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بعض غلطیاں ہوگئی ہیں اور اس معاہدہ کی شرائط کی رو سے بعض موقعوں پر بعض بیرونی حکومتیں یقیناً عرب میں دخل دے سکتی ہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کو پڑھ کر میرے دل کو سخت رنج پہنچا۔ حالانکہ انگریزوں سے ہمارا تعاون ہے اور ہم اس کا ذکر کرنے سے کبھی ڈرے نہیں۔ سوائے حکومت پنجاب کے کہ اس نے دو تین سال سے خود ہمارے تعاون کو ٹھکرا دیا ہے۔ باقی انگریزی حکومت سے ہم نے ہمیشہ تعاون کیا ہے اور ہمیشہ تعاون کرتے رہیں گے جب تک وہ خود حکومت پنجاب کی طرح ہمیں دھتکار نہ دے۔ مگر باوجود اس کے کہ ہم انگریزوں سے تعاون رکھتے ہیں اور باوجود اس کے کہ میں انگریزی حکومت کے ڈھانچہ کو دنیا کے لئے مفید ترین طرز حکومت سمجھتا ہوں جس میں اصلاح کی گنجائش ضرور ہے مگر وہ توڑنے کے قابل شے نہیں ہے۔ پھر بھی انگریز ہوں یا کوئی اور حکومت عرب کے معاملہ میں ہم کسی کا لحاظ نہیں کرسکتے۔ اس معاہدہ میں ایسی احتیاطیں کی جاسکتی تھیں کہ جن کے بعد عرب کے لئے کسی قسم کا خطرہ باقی نہ رہتا۔ مگر بوجہ اس کے کہ سلطان ابن سعود یوروپین اصطلاحات اور بین الاقوامی معاملات سے پوری واقفیت نہیں رکھتے۔ انہوں نے الفاظ میں احتیاط سے کام نہیں لیا اور اس میں انہوں نے عام مسلمانوں کا طریق اختیار کیا ہے۔ مسلمان ہمیشہ دوسروں پر اعتبار کرنے کا عادی ہے حالانکہ معاہدات میں کبھی اعتبار سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ سوچ سمجھ کر اور کامل غور و فکر کے بعد الفاظ تجویز کرنے چاہئیں گو میں سمجھتا ہوں یہ معاہدہ بعض انگریزی فرموں سے ہے۔ حکومت سے نہیں۔ اور ممکن ہے جس فرم نے یہ معاہدہ کیا ہے اس کے دل میں بھی دھوکا بازی یا غداری کا کوئی خیال نہ ہو۔ مگر الفاظ ایسے ہیں کہ اگر اس فرم کی کسی وقت نیت بدل جائے تو وہ سلطان ابن سعود کو مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔ مگر یہ سمجھنے کے باوجود ہم نے اس پر شور مچانا مناسب نہیں سمجھا۔ کیونکہ ہم نے خیال کیا کہ اب سلطان کو بدنام کرنے سے کیا فائدہ۔ اس سے سلطان ابن سعود کی طاقت کمزور ہوگی اور جب ان کی طاقت کمزور ہوگی تو عرب کی طاقت بھی کمزور ہوجائے گی۔ اب ہمارا کام یہ ہے کہ دعائوں کے ذریعہ سے سلطان کی مدد کریں اور اسلامی رائے کو ایسا منظم کریں کہ کوئی طاقت سلطان کی کمزوی سے فائدہ اٹھانے کی جرات نہ کرسکے<۔۱۳۰
    مقبولین الٰہی کے دل سے نکل ہوئی دعائیں اور آہیں عرش کو ہلا دیتی ہیں اور خظرات کے منڈلاتے ہوئے سیاہ بادل چھٹ جاتے ہیں اور مطلع صاف ہو جاتا ہے۔ یہی صورت یہاں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے سرزمین عرب کو نہ صرف اس معاہدہ کے بداثرات سے بچا لیا بلکہ ملک عرب کی کانوں سے اس کثرت کے ساتھ معدنیات برآمد ہوئیں کہ ملک مالا مال ہوگیا۔ اس حقیقت کی کسی قدر روداد مولانا محی الدین الو ائی ایم۔ اے الازہر کی کتاب >عرب دنیا< میں موجود ہے۔
    جناب ظفر انصاری صاحب کا مکتوب
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں )۷۔ اگست ۱۹۳۵ء(
    احرار کی ہنگامہ آرائی کے دوران جناب ظفر انصاری صاحب نے حضرت مصلح موعود کی فرصت میں حسب ذیل مکتوب لکھا۔
    لاہور
    ۱۹۳۵۔۸۔۷
    قبلہ حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ نصرہ
    السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ:۔
    بارگاہ ایزدی میں آپ کی درازی عمر کے لئے دست بدعا ہوں۔ راقم الحروف ایک ۲۰ سالہ نوجوان ہے۔ میرے رشتہ دار کانگرس اور احرار جیسی محض روپیہ اکٹھا کرنے والی جماعتوں میں رہے ہیں۔ میرے والد صاحب کانگرس میں ایک سال قید رہے۔ میرے ماموں صاحب مشہور قومی کارکن ہیں اور احرار میں قید ایک سال کی کاٹ چکے ہیں اگرچہ اب مجلس سے علیحدہ ہوگئے ہیں۔ مگر علامہ مشرقی کی تحریک میں مل گئے ہیں۔
    اعلیٰ حضرت صاحب یہ سب مجلسیں صرف روپیہ اکٹھا کرنا چاہتی ہیں۔ خدا کی قسم ان کے دلوں میں ملک کا درد ذرا بھر نہیں۔ جتنا ملک اپنا وطن اپنا کرتے ہیں اتنے ہی بے حیا ہوتے ہیں۔ میں ان کی پرائیویٹ زندگی سے بھی خوب واقف ہوں۔ سید عطاء اللہ شاہ صاحب سے بہ انسان بلحاظ کیریکٹر نہیں دیکھا سب ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔
    میں ان مجلسوں کو دور ہی سے سلام بھیجتا ہوں۔ میرا ان سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ ان میں گفتار ہی گفتار ہے چوش کردار آپ کی جماعت سا نہیں۔ کشمیر کی تحریک کے سلسلہ میں ہزاروں کو شہید کرایا۔ کتنے بچوں کو یتیم کرایا یہ بھیڑئے ہیں۔ میں ان کا منہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ اگر کوئی مجھے کہے کہ اپنی داستان مصیبت کسی لیڈر سے کہو تو میں اس کے منہ پر تھوک دوں گا یہی حال کانگرسی لیڈروں کا ہے۔ خود تو فرسٹ کلاس میں سفر کرتے ہیں اور غریب مزدوروں کو کہتے ہیں آزادی مل جانے پر تمہیں عیش ملے گی۔ میری یہ باتیں دل سے نکلی ہوئی ہیں۔ جب ان کی یہ حالت دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں۔ اے ہندوستان غلام رہ۔ ان کتوں سے ملک کو صاف کردے۔ آپ جناب کو سب حال معلوم ہے۔
    پہلے میں دوسروں کی دیکھا دیکھی نعوذ باللہ نقل کو کفر نباشد جناب کو بھی محض و تشنیع کرتا تھا۔ حالانکہ آپ کی کوئی تصنیف نہیں پڑھی تھی بخدا جتنے دوسرے لوگ زاں دراز و تصع ہوئے ہم اپنے گریبان میں منہ ڈال کر نہیں دیکھتے۔ جب غور کی تو معلوم ہوا کہ ہندوستان بھر میں صرف آپ کی جماعت جو کہتی ہے کرتی ہے۔ اور کیا لکھوں۔ میں سچے دل سے کہہ رہا ہوں۔ میں آپ سے کی اپنی داستان مصیبت بیان کرتا ہوں۔ آپ یہ خیال کریں کہ کوئی بہتر مل گیا ہوگا یا برا ہوگا تو میں ناراض ہوں گا۔ خدا کی قسم میں آپ کی جماعت کو دیکھ کر اس کا اتفاق دیکھ کر اس بات کا قائل ہوگیا ہوں الناس علی دین ملوکہم میں ایف ایس سی تک تعلیم یافتہ ہوں۔ سچ کہہ دوں کہ مجھے علم حاصل کرنے کا بڑا شوق ہے۔ میرے والد صاحب کا کانگریس نامراد میں قید ہوجانا میری امیدوں پر پانی پھیرا جانا ہوگیا۔ میرے رشتہ داروں نے میری شادی کردی حالانکہ میں زندگی کے میدان میں صرف خود کو ہی سنبھال نہ سکتا تھا۔ والد صاحب مجھے مجبور کرتے ہیں کہ تم میری اخبار نیر اسلام لاہور میں کام کرو اس کے ایڈیٹر ہوجائو۔ مگر میرا دل اس اخبار کی پالیسی سے تنگ آگیا ہے خواہ مخواہ دوسروں پر حملہ کرنا ان کا کام ہے۔ اب مجبور ہوں کہ کیا کروں۔ اگرچہ عرائض نویسی پاس ہوں مگر ناتجربہ کار ہوں واقفیت بہت کم ہے۔ دو بھائی بعمرہ ۱۰ سالہ ۸ سالہ طالب علم ۸ جماعت اور ایک بہن ایک بیوی ایک بچہ ہے کیا کروں۔ میں خود تو نہ لکھتا ڈر تھا کہ کوئی دشمن نہ دیکھ لے جب معلوم ہوا کہ آپ کے ہاں ڈاک کا سخت مکمل انتظام ہے تو لکھا۔ خدا کی قسم زیر آسمان سب سے پہلے آپ کی طرف توجہ کی ہے۔ تمام مجلسیں کمائو ہیں۔ ان سے امید بھلائی کرنا خدا سے انکاری ہے۔ خط بہت جلدی میں لکھا ہے۔ بے ربطگی عبارت اور اغلاط کا خیال نہ فرماتے ہیں۔ امید ہے حضور مجھے پتہ ذیل پر کوئی بہتر سبیل سوچ کر جواب موقف سے سرفراز فرما دیں گے۔ ظفر انصاری معرفت ورش لعل معرفت لالہ ریسراج کوہل انسپکٹر پک متصل گوالمنڈی لاہور۔
    نوٹ:۔ مجھے تیوار کے روز مورخہ ۱۲/۱۱ اگست کو جواب باداب مل جائے تو میری خوشیوں کا اضافہ ہوگا۔ ہاں عرائض نویس کا کام ۴ سال کہا ہے۔ سنا ہے حضرت مرزا صاحب بھی یہی کام کرتے تھے۔ کوئی اور سبیل نکالیں مجھے مندرجہ بالا تاریخ تک جواب مل جائے کیونکہ میں نے لاہور سے باہر چلا جانا ہے۔ )آپ کے بعد کہنے کو کہنا مجھ پر حرام ہے( آپ کا ادنیٰ غلام ظفر انصاری لاہور۔
    دوسرا باب )فصل چہارم(
    احرار کا احمدیت پر دوبارہ حملہ اور ناکامی
    جب احرار نے دیکھا کہ خداتعالیٰ نے ان کی حقیقت کو ظاہر کرکے انہیں مسلمانوں کی نظروں میں گرا دیا ہے تو انہوں نے دوبارہ مقبول ہونے کے لئے احمدیت پر ایک بار پھر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اخبار >مجاہد< نے لکھا۔
    >مسلمانو! ۔۔۔۔۔ اگر اپنے دشمن قادیانی کو برباد کرنا ہے تو تمام اختلافات مٹا کر مرزائیت کی بربادی کے لئے متحد ہوجائو<۔۱۳۱ نیز لکھا۔ >ہندوستان کی ننگی قوم مسلم کے لئے مجلس احرار اسلام ایک رحمت کی چادر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ واقعات لاہور کے چند غرض مند دیوانوں نے شور مچا دیا کہ چادر تو چھلنی ہوچکی۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ نے ایک لقمہ فریب کھایا اور سمجھے کہ ہم نے بھی چادر میں سوارخوں کو دیکھا ہے اور سب نے مل کر شور کیا کہ چادر کو پھاڑ ڈالو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کا ہنگامی جوش اور جذبات کے زیر اثر ہوکر چھوٹے چھوٹے مفروضہ سوراخوں میں اسے تبدیل کرنا کہاں کی اسلام دوستی ہے۔ نئی تو مل نہیں سکتی اور پرانی کو بھی پھاڑ ڈالو۔ افسوس اس عقل اور فہم پر<۔۱۳۲
    دو جھوٹے الزامات کی تشہیر
    اب احرار نے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے بہتان تراشی کا نیا سلسلہ شروع کیا اور دو الزامات کی خاص طور پر تشہیر کی۔
    اول۔body] g[ta یہ کہ احمدی رسول کریم~صل۱~ کی ہتک کرتے ہیں اور آنحضرت~صل۱~ کے درجہ کو بانی سلسلہ احمدیہ کے درجہ سے )نعوذباللہ( ادنیٰ سمجھتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ احمدیوں کے نزدیک قادیان کی بستی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے افضل ہے۔
    چنانچہ شیخ حسام الدین۱۳۳ صاحب نے منصوری میں مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی صدارت میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ >اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے تو مرزائی لوگ اس کی کوئی پروانہ کریں گے۔ بلکہ خوش ہوں گے<۔۱۳۴][حضرت امیرالمومنین کا پرشوکت جواب
    سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ان الزامات کے جواب میں ۳۰۔ اگست ۱۹۳۵ء کو ایک پرجلال خطبہ جمعہ دیا جس میں آنحضور~صل۱~ سے جماعت احمدیہ کی محبت و شیدائیت کا واضح ثبوت دیتے ہوئے فرمایا۔
    >ہمارے عقائد بالکل واضح ہیں اور ہماری کتابیں بھی چھپی ہوئی موجود ہیں ان کو پڑھ کر کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم~صل۱~ کی ہتک کرتے ہیں ہاں دشمن یہ کہہ سکتا ہے کہ گو الفاظ میں یہ لوگ رسول کریم~صل۱~ کی عزت کرتے ہیں مگر ان کے دلوں میں آپ کا ادب نہیں۔ مگر اس صورت میں ہمارا یہ پوچھنے کا حق ہوگا کہ وہ کونسے ذرائع ہیں جن سے کام لیکر انہوں نے ہمارے دلوں کو پھاڑ کر دیکھ لیا اور معلوم کرلیا کہ ان میں حقیقتاً رسول کریم~صل۱~ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ہتک کے جذبات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر احمدی بالفرض عام مسلمانوں کے سامنے رسول کریم~صل۱~ کی ہتک کرنے سے اس خیال سے بچتے ہیں کہ اس طرح مسلمان ناراض ہو جائیں گے تو ہندوئوں۔ سکھوں اور عیسائیوں کے سامنے تو وہ نڈر ہوکر رسول کریم~صل۱~ کی نعوذ باللہ ہتک کرتے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس میں کہتا ہوں تصفیہ کا آسان طریق یہ ہے کہ ہندوئوں سکھوں اور عیسائیوں میں سے ایک ہزار آدمی چنا جائے اور وہ موکد بعذاب حلف اٹھا کر بتائیں کہ احمدی عام مسلمانوں سے رسول کریم~صل۱~ کی عزت و عظمت کے متعلق زیادہ جوش رکھتے ہیں یا کم۔ اگر ایک ہزار سارے کا سارا یا اس کا بیشتر حصہ۔ کیونکہ ایک دو جھوٹ بھی بول سکتے ہیں۔ یہ گواہی دے کہ اس نے احمدیوں کو رسول کریم~صل۱~ کی عزت کرنے والا اور آپ کے نام کو دنیا میں بلند کرنے والا پایا تو اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کو اپنے فعل پر شرمانا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جو ہمارے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم~صل۱~ کی ہتک کرتے ہیں وہ بار بار ہمارے متعلق اس اتہام کو دوہرا کر خود رسول کریم~صل۱~ کی ہتک کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی کو گالی دینے کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے کی طرف گالی منسوب کرکے اس کا ذکر کیا جائے ۔۔۔۔۔۔ پس اگر یہ تصفیہ کا طریق جو میں نے بیان کیا ہے۔ اس پر مخالف عمل نہ کریں تو میں کہوں گا ایسے اعتراض کرنے والے درحقیقت رسول کریم~صل۱~ کی خود ہتک کرتے ہیں گو اپنے منہ سے نہیں بلکہ ہماری طرف ایک غلط بات منسوب کرکے<۔۱۳۵
    جہاں تک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نسبت احمدیوں کے عقیدہ کا تعلق ہے حضور نے واضح لفظوں میں اعلان فرمایا کہ۔
    >خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجانا تو الگ رہی ہم تو یہ بھی پسند نہیں کرسکتے کہ خانہ کعبہ کی کسی اینٹ کو کوئی شخص بدنیتی سے اپنی انگلی بھی لگائے اور ہمارے مکانات کھڑے رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بے شک ہمیں قادیان محبوب ہے اور بے شک ہم قادیان کی حفاظت کے لئے ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں مگر خدا شاہد ہے خانہ کعبہ ہمیں قادیان سے بدر جہا زیادہ محبوب ہے۔ ہم اللہ تعالٰی سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ خدا وہ دن نہیں لاسکتا۔ لیکن اگر خدانخواستہ کبھی وہ دن آئے کہ خانہ کعبہ بھی خطرہ میں ہو اور قادیان بھی خطرہ میں ہو اور دونوں میں سے ایک کو بچایا جاسکتا ہو تو ہم ایک منٹ بھی اس مسئلہ پر غور نہیں کریں گے کہ کس کو بچایا جائے بلکہ بغیر سوچے کہہ دیں گے کہ خانہ کعبہ کو بچانا ہمارا اولین فرض ہے۔ پس قادیان کو ہمیں خداتعالیٰ کے حوالہ کر دینا چاہئے<۔
    >ہم سمجھتے ہیں کہ مکہ وہ مقدس مقام ہے جس میں وہ گھر ہے جسے خدا نے اپنا گھر قرار دیا اور مدینہ وہ بابرکت مقام ہے جس میں محمد~صل۱~ کا آخری گھر بنا جس کی گلیوں میں آپ چلے پھرے اور جس کی مسجد میں اس مقدس نبی نے جو سب نبیوں سے کامل نبی تھا اور سب نبیوں سے زیادہ خدا کا محبوب تھا۔ نمازیں پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں اور قادیان وہ مقدس مقام ہے جس میں محمد~صل۱~ کی صفات مقدسہ کا خداتعالیٰ نے دوبارہ حضرت مرزا صاحب کی صورت میں نزول کیا۔ یہ مقدس ہے باقی سب دنیا سے مگر تابع ہے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے۔
    پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے تو احمدی خوش ہوں گے وہ جھوٹ بولتا ہے وہ افتراء کرتا ہے اور وہ ظلم اور تعدی سے کام لے کر ہماری طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جو ہمارے عقائد میں داخل نہیں اور ہم اس شخص سے کہتے ہیں لعنہ اللہ علی الکاذبین<۔
    >ہم تو سمجھتے ہیں کہ عرش سے خدا مکہ اور مدینہ کی حفاظت کررہا ہے۔ کوئی انسان ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ ہاں ظاہری طور پر ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی دشمن ان مقدس مقامات پر حملہ کرے تو اس وقت انسانی ہاتھ کو بھی حفاظت کے لئے بڑھایا جائے۔ لیکن اگر خدانخواستہ کبھی ایسا موقعہ آئے تو اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حفاظت کے متعلق جو ذمہ داری خداتعالیٰ نے انسانوں پر عائد کی ہے اس کے ماتحت جماعت احمدیہ کس طرح سب لوگوں سے زیادہ قربانی کرتی ہے۔ ہم ان مقامات کو مقدس ترین مقامات سمجھتے ہیں۔ ہم ان مقامات کو خداتعالیٰ کے جلال کے ظہور کی جگہ سمجھتے ہیں اور ہم اپنی عزیز ترین چیزوں کو ان کی حفاظت کے لئے قربان کرنا سعادت دارین سمجھتے ہیں۔ اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو شخص ترچھی نگاہ سے مکہ کی طرف ایک دفعہ بھی دیکھے گا خدا اس شخص کو اندھا کردے گا۔ اور اگر خداتعالیٰ نے کبھی یہ کام انسانوں سے لیا تو جو ہاتھ اس بدبیں آنکھ کو پھوڑنے کے لئے آگے بڑھیں گے ان میں ہمارا ہاتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے سب سے آگے ہوگا<۔۱۳۶
    احرار کو مباہلہ کا چیلنج
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ان الزمات کی تردید پر اکتفا نہ کرتے ہوئے احرار کو ہر دو امور کے تصفیہ کے لئے مباہلہ کا چیلنج بھی دیا۔ چنانچہ فرمایا۔
    >دوسرا طریق یہ ہے کہ ان مخالفین میں سے وہ علماء جنہوں نے سلسلہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ کیا ہوا ہو پانچ سو یا ہزار میدان میں نکلیں ہم میں سے بھی پانچ سو یا ہزار میدان میں نکل آئیں گے۔ دونوں مباہلہ کریں اور دعا کریں کہ وہ فریق جو حق پر نہیں خداتعالیٰ اسے اپنے عذاب سے ہلاک کرے ہم دعا کریں گے کہ اے خدا تو جو ہمارے سینوں کے رازوں سے واقف ہے۔ اگر تو جانتا ہے کہ ہمارے دلوں میں واقعی رسول کریم~صل۱~ کی عظمت و محبت نہیں۔ اور ہم آپ کو سارے انبیاء سے افضل و برتر یقین نہیں کرتے اور نہ آپﷺ~ کی غلامی میں نجات سمجھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ~صل۱~ کا ایک خادم اور غلام نہیں جانتے۔ بلکہ درجہ میں آپﷺ~ کو رسول کریم~صل۱~ سے بلند سمجھتے ہیں۔ تو اے خدا ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو اس جہاں میں ذلیل و رسوا کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک کر۔ اس کے مقابلے میں وہ دعا کریں کہ اے خدا ہم کامل یقین رکھتے ہیں کہ احمدی رسول کریم~صل۱~کی ہتک کرتے آپ کی تحقیر و تذلیل پر خوش ہوتے اور آپ کے درجہ کو گرانے اور کم کرنے کی ہر وقت کوشش کرتے ہیں۔ اے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو تو اس دنیا میں ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو ذلیل و رسوا کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک کر یہ مباہلہ ہے جو ہمارے ساتھ کرلیں اور خدا پر معاملہ چھوڑ دیں۔ پانچ سو یا ہزار کی تعداد میں ایسے علماء کا اکٹھا کرنا جو ہمارے سلسلہ کی کتب سے واقفیت رکھتے ہوں۔ آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کے نمائندہ کہلانے والوں کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ بلکہ معمولی بات ہے اور ہم تو ان سے بہت تھوڑے ہیں۔ مگر پھر بھی ہم تیار ہیں کہ پانچ سو یا ہزار کی تعداد میں اپنے آدمی پیش کریں۔ شرط صرف یہ ہے کہ جن لوگوں کو وہ اپنی طرف سے پیش کریں وہ ایسے ہوں جو حقیقت میں ان کے نمائندہ ہوں اگر وہ جاہل اور بے ہودہ اخلاق دانوں کو اپنی طرف سے پیش کریں تو ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بشرطیکہ وہ یہ تسلیم کرلیں کہ وہ ان کی طرف سے نمائندہ ہیں۔ ہاں احرار کے سرداروں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اس میں شامل ہوں۔ مثلاً مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب شامل ہوں۔ مولوی حبیب الرحمن صاحب شامل ہوں۔ چودھری افضل حق صاحب شامل ہوں۔ مولوی دائود غزنوی صاحب شامل ہوں۔ اور ان کے علاوہ اور لوگ جن کو وہ منتخب کریں شامل ہوں۔ پھر کسی ایسے شہر میں جس پر فریقین کا اتفاق ہو یہ مباہلہ ہو جائے۔ مثلاً گورداسپور میں ہی یہ مباہلہ ہوسکتا ہے۔ جس مقام پر انہیں خاص طور پر ناز ہے یا لاہور میں اس قسم کا اجتماع ہوسکتا ہے۔ ہم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو اگر ہم رسول کریم~صل۱~ پر کامل یقین نہ رکھتے ہوں۔ آپ کو خاتم النبین نہ سمجھتے ہوں آپ کو افضل الرسل یقین نہ کرتے ہوں اور قرآن کریم کو تمام دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لئے آخری شریعت نہ سمجھتے ہوں۔ اس کے مقابلے میں وہ قسم کھا کر کہیں کہ ہم یقین اور وثوق سے کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم~صل۱~پر ایمان نہیں رکھتے نہ آپ کو دل سے خاتم النبین سمجھتے ہیں اور آپ کی فضیلت اور بزرگی کے قائل نہیں بلکہ آپ~صل۱~ کی توہین کرنے والے ہیں۔ اے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر غذاب نازل کر۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود بخود فیصلہ ہو جائے گا کہ کون سا فریق اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔ کون رسول کریم~صل۱~ سے حقیقی عشق رکھتا ہے اور کون دوسرے پر جھوٹا الزام لگاتا ہے۔ مگر شرط یہ ہوگی کہ عذاب انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ایسے سامانوں سے ہو جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاسکیں<۔۱۳۷
    خانہ کعبہ کی حرمت و عظمت کا فیصلہ کرنے کے لئے بھی حضور نے دعوت مباہلہ دی چنانچہ فرمایا۔
    >اس کے لئے بھی وہی تجویز پیش کرتا ہوں جو پہلے امر کے متعلق پیش کرچکا ہوں کہ اس قسم کا اعتراض کرنے والے آئیں اور ہم سے مباہلہ کرلیں ہم کہیں گے کہ اے خدا مکہ اور مدینہ کی عظمت ہمارے دلوں میں قادیان سے بھی زیادہ ہے ہم ان مقامات کو مقدس سمجھتے اور ان کی حفاظت کے لئے اپنی ہرچیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اے خدا اگر ہم دل سے یہ نہ کہتے ہوں بلکہ جھوٹ اور منافقت سے کام لیکر کہتے ہوں اور ہمارا اصل عقیدہ یہ ہو کہ مکہ اور مدینہ کی کوئی عزت نہیں یا قادیان سے کم ہے تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر غذاب نازل کر اس کے مقابلہ میں احرار اٹھیں اور وہ یہ قسم کھا کر کہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ احمدی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے دشمن ہیں۔ اور ان مقامات کا گرنا اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجائی جانا احمدیوں کو پسند ہے۔ پس اے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے اور احمدی مکہ و مدینہ کی عزت کرنے والے ہیں تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔ وہ اس طریق فیصلہ کی طرف آئیں اور دیکھیں کہ خدا اس معاملہ میں اپنی قدرت کا کیا ہاتھ دکھاتا ہے لیکن اگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں تو یاد رکھیں۔ جھوٹ اور افترا دنیا میں کبھی کامیاب نہیں کرسکتا<۔۱۳۸
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی طرف سے نمائندگان کا تقرر اور چیلنج کی مزید وضاحت
    اس چیلنج کے شائع ہونے پر اگرچہ بعض احراری مقرر قادیان آکر تقریر کرگئے کہ ہم مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مگر خود مجلس احرار
    کے لیڈروں نے کوئی اور قدم نہیں اٹھایا۔ تب حضور نے اس خیال سے کہ شاید احرار کو یہ برا معلوم ہو کہ اخبار میں اعلان کر دیا گیا ہے اور ہمیں تحریراً مخاطب نہیں کیا گیا۔ ۶۔ ستمبر ۱۹۳۵ء کے خطبہ جمعہ میں اپنی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ` چوہدری اسداللہ خان صاحب بیرسٹر اور مولوی غلام احمد صاحب مولوی فاضل مبلغ جماعت احمدیہ کو اپنا نمائندہ مقرر کردیا کہ ان سے احرار کے نمائندے ضروری امور کا تصفیہ کرلیں اور تصفیہ شرائط کے پندرہ روز کے بعد مباہلہ ہو جائے۔ تا مباہلہ کرنے والوں کو بروقت اطلاع دی جاسکے۔۱۳۹
    نمائندگان کے تقرر کے ساتھ ہی حضور نے یہ وضاحت بھی فرمائی کہ۔
    >میری طرف سے چیلنج بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں جسے کوئی معقول آدمی رد کرسکے ان کا مرکز لاہور ہے اور میں نے تسلیم کرلیا ہے کہ ہم وہاں آجائیں گے گورداسپور پر انہیں بہت فخر ہے اور میں نے کہہ دیا ہے کہ ہم وہاں آجائیں گے۔ پھر ہم نے ان پر دوسرے مسلمانوں میں سے کسی خاص شخصیت کو پیش کرنے کی قید نہیں لگائی۔ جماعت احمدیہ کا امام مباہلہ میں شامل ہوگا۔ اس کے بھائی ہوں گے۔ صدر انجمن کے ناظر ہوں گے اور تمام بڑے بڑے ارکان ہوں گے ان کے علاوہ پانسو یا ہزار دوسرے معزز افراد جماعت بھی ہوں گے۔ احرار کے متعلق میں نے صرف یہ کہا ہے کہ احرار کے پانچ لیڈر یعنی مولوی مظہر علی صاحب اظہر` چودھری افضل حق صاحب` مولوی عطاء اللہ صاحب` مولوی دائود غزنوی صاحب اور مولوی حبیب الرحمن صاحب ہوں گے گویا ہم ان سے جو مطالبہ کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ پابندی اپنے اوپر لگاتے ہیں۔ ان میں خلیفہ کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی خلافت باقی ہے۔ لیکن جماعت احمدیہ کی طرف سے خلیفہ ہوگا اور ذمہ دار ارکان ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے مرد ممبر ہوں گے اور اس کے مقابلہ میں ان کے صرف پانچ لیڈر میں نے ضروری رکھے ہیں۔ باقی جن کو بھی وہ اپنا نمائندہ بنا کر لائیں گے۔ ہم ان کو مان لیں گے۔ اس مباہلہ میں تقریروں کا بھی اتنا سوال نہیں۔ کیونکہ یہ کوئی مسئلہ نہیں بلکہ واقعات ہیں اور صرف پندرہ منٹ اپنے عقیدہ کے بیان کے لئے کافی ہیں۔ پندرہ منٹ میں ہم اپنا عقیدہ بیان کردیں گے اور اتنے ہی عرصہ میں وہ کہہ سکتے ہیں جو یہ کہتے ہیں غلط ہے۔ حقیقتاً یہ ایسا نہیں مانتے اس میں دلائل وغیرہ کی بھی ضرورت نہیں۔ لمبی تفصیلات کی ضرورت مسائل میں ہوتی ہے۔ لیکن یہ مباہلہ واقعہ کے متعلق ہے۔ وہ کہتے ہیں احمدی رسول کریم~صل۱~ کی ہتک کرتے ہیں اور مکہ مکرمہ کی عزت نہیں کرتے۔ اور ہم کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ باقی رہے مباہلہ میں شامل ہونے والے آدمی سو ہم نے کسی چھوٹی موٹی جماعت کو چیلنج نہیں دیا بلکہ آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کی واحد نمائندہ جماعت کو دیا ہے۔ اور اتنی بااثر جماعت پانسو یا ہزار آدمی ایک محلہ سے جمع کرسکتی ہے۔ ہاں اپنی جماعت کے دوستوں کی سہولت کے لئے میں یہ کہتا ہوں کہ مباہلہ کے دن کے فیصلہ کا اعلان پندرہ روز پہلے ضرور ہو جانا چاہئے کیونکہ ہماری جماعت کے دوست دور دور سے اس میں شامل ہونے کی خواہش کریں گے اس لئے جس وقت ¶ان کا آدمی ہمارے آدمی سے گفتگو کرے اور ضروری امور کا تصفیہ ہو جائے اس کے پندرہ روز بعد مباہلہ ہو<۔۱۴۰
    اخبار >پرکاش< اور دعوت مباہلہ
    مشہور آریہ اخبار >پرکاش< )لاہور( نے >مباہلہ کا چیلنج< کے زیر عنوان لکھا کہ۔:
    >مرزائیوں اور احراریوں کے درمیان کشیدگی اس انتہا تک پہنچ گئی ہے کہ وہ اب ایک دوسرے کو مباہلہ کا چیلنج دینے لگ پڑے ہیں۔ احراریوں کی تو خدا جانے لیکن مرزائیوں نے پہل کردی ہے۔ چنانچہ خلیفہ قادیانی نے ۱۳۔ اگست کو احراریوں کو ذیل کے الفاظ میں مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔
    >ہم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔ اگر ہم رسول کریم~صل۱~ پر کامل یقین نہ رکھتے ہوں۔ آپ کو خاتم النبین نہ سمجھتے ہوں۔ آپ کو افضل الرسل یقین نہ کرتے ہوں اور قرآن کریم کو تمام دنیا کی ہدایت و رہنمائی کے لئے آخری شریعت نہ سمجھتے ہوں اس کے مقابلہ میں وہ احرار قسم کھا کر کہیں کہ ہم یقین اور وثوق سے کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم~صل۱~ پر ایمان نہیں رکھتے۔ نہ آپ کو دل سے خاتم النبین سمجھتے ہیں اور آپ کی فضیلت اور بزرگی کے قائل نہیں بلکہ آپ کی توہین کرنے والے ہیں۔ اے خدا! اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود بخود فیصلہ ہو جائے گا کہ کونسا فریق اپنے دعویٰ میں سچا ہے۔
    دیکھئے احراری خلیفہ صاحب کا مذکورہ چیلنج منظور کرتے ہیں۔ یا اسے اسی طرح شیر مادر کی طرح پی جاتے ہیں۔ جس طرح آنجہانی منشی غلام احمد قادیانی کا مباہلہ کا چیلنج مولوی ثناء اللہ پی گئے تھے<۔۱۴۱
    )اخبار پرکاش لاہور ۱۵۔ ستمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۷ کالم اول(
    آریہ اخبار کا یہ قیاس درست ثابت ہوا۔ چنانچہ کہ جس طرح ۱۹۰۷ء میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کے چیلنج مباہلہ کو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے منظور نہ کیا تھا۔ اسی طرح احراری لیڈروں نے بھی بالاخر مختلف حیلوں بہانوں کے ساتھ راہ فرار اختیار کرلی جیسا کہ آئندہ صفحات سے واضح ہو جائے گا۔
    شرائط مباہلہ میں تغیر و تبدل کی پیشکش
    حضرت امیرالمومنین چونکہ دل سے چاہتے تھے کہ کسی طرح احرار میدان مباہلہ میں آجائیں اور ملک میں فیصلہ کن مباہلہ۱۴۲ ہو جائے۔ لہذا آپ نے اپنی شرائط پر اصرار کرنے کی بجائے اعلان کر دیا کہ۔
    >میں ہرگز اس بات کا مدعی نہیں کہ جو شرطیں مباہلہ کے متعلق میری طرف سے پیش کی گئی ہیں ان میں ردوبدل نہیں ہوسکتا۔ میرے نزدیک دوسرے فریق کو کامل حق ہے کہ وہ اعتراض کرکے مثلاً ثابت کردے کہ فلاں شرط شریعت کے خلاف ہے یا فلاں شرط ناممکن العمل ہے یا فلاں شرط جو پیش کی گئی ہے اس سے بہتر فلاں شرط ہوسکتی ہے۔ یہ تینوں حق احرار کو حاصل ہیں اور اگر وہ کسی وقت بھی ثابت کردیں کہ میری پیش کردہ شرائط شریعت کے خلاف ہیں یا عملی لحاظ سے ناممکن ہیں یا ان سے بہتر شرائط فلاں فلاں ہیں تو میں ہر وقت ان شرائط میں تغیر و تبدل کرنے کے لئے تیار ہوں<۔۱۴۳
    مباہلہ ٹالنے کے لئے احرار کا ناپسندیدہ رویہ
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا چیلنج جماعت احمدیہ کی طرف سے بڑے بڑے پوسٹروں اور پمفلوں کی صورت میں بکثرت شائع کیا جارہا تھا۔۱۴۴ اور حضور کے نمائندگان خطوں پر خط احرار لیڈروں کے نام لکھ رہے تھے مگر احرار لیڈر مباہلہ پر آمادگی کا پراپیگنڈا کرنے کے باوجود تصفیہ شرائط کے بارے میں بالکل چپ سادھے بیٹھے تھے۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ وہ گاہے گاہے کسی مولوی کے نام کے ساتھ لمبے چوڑے القاب درج کرکے اسے قادیان بھجوا دیتے جو مسجد ارائیاں میں ساٹھ ستر افراد کے درمیان کھڑے ہوکر کہہ جاتا کہ >مرزائی< فرار کر گئے۔ حالانکہ نہ شرائط کا تصفیہ کیا نہ تاریخ مباہلہ کی تعیین ہوئی اور نہ نمائندگان جماعت کو کوئی تحریری جواب دیا گیا۔۱۴۵
    ‏]body [tagجماعت احمدیہ کی طرف سے جب احرار کو بار بار تصفیہ شرائط کرکے میدان مباہلہ میں آنے کے لئے للکارا گیا تو انہوں نے مباہلہ سے گریز کے لئے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ )حضرت خلیفتہ المسیح کی واضح تصریحات کے باوجود( ایک تو یہ مشہور کردیا کہ امام جماعت احمدیہ دوسرے احمدیوں کو تو پیش کرتے ہیں مگر خود مباہلہ کرنے پر آمادہ نہیں۔ دوسرے یہ کہا کہ مباحثہ کے لئے قادیان کی بجائے لاہور یا گورداسپور کی تعین کیوں کی جاتی ہے؟
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی چونکہ احرار کو بھاگنے کا کوئی موقعہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس لئے حضور نے صاف لفظوں میں اعلان کر دیا کہ۔
    >مباہلہ میں شامل ہونے والا اول وجود میرا ہوگا اور سب سے پہلا مخاطب میں اس دعوت مباہلہ کا اپنے آپ کو ہی سمجھتا ہوں اور نہ صرف میں خود مباہلہ میں شامل ہوں گا۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تمام بالغ اولاد جو آسانی سے جمع ہوسکتی ہے اس مباہلہ میں شامل ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ پس اس معاملہ میں یہ کہنا کہ میں اپنے آپ کو الگ رکھتا ہوں لوگوں کو دھوکہ و فریب میں مبتلا کرنا ہے۔ میرا وجود سب سے مقدم ہے اور میں سب سے پہلے اس مباہلہ میں شامل ہوں گا<۔]10 [p۱۴۶
    باقی رہا قادیان میں مباہلہ کئے جانے کا احراری مطالبہ تو حضور نے پوری فراخدلی سے یہ اجازت دے دی کہ۔
    >میرا اس میں کوئی حرج نہیں بے شک وہ قادیان آکر ہم سے مباہلہ کرلیں<۔۱۴۷
    بلکہ یہ بھی فرمایا کہ۔
    >اگر قادیان میں مباہلہ کرنے کا شوق ہو تو وہ خوشی سے قادیان تشریف لے آئیں بلکہ ہماری زیادہ خواہش یہ ہے کہ وہ ہمارے ہی مہمان بنیں ہم ان کی خدمت کریں گے انہیں کھانا کھلائیں گے ان کے آرام اور سہولت کا خیال رکھیں گے اور پھر ان کے سارے بوجھ اٹھا کر انشاء اللہ ان سے مباہلہ بھی کریں گے<۔۱۴۸
    احرار لیڈروں کا مطالبہ اور اس کا جواب
    احرار لیڈروں کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی تقریر مباہلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی وہ تحریرات پڑھیں گے جن میں ان کے نزدیک رسول کریم~صل۱~ کی ہتک کی گئی ہے اور پھر قسم کھا کر کہیں گے کہ ان سے اگر رسول کریم~صل۱~کی ہتک ثابت نہیں ہوتی تو ان پر عذاب نازل ہو۔
    حضرت امیرالمومنین نے اس مطالبہ کی معقولیت کو تسلیم کرتے ہوئے فرمایا۔
    >میرے نزدیک یہ بالکل درست بات ہے اور ان کا حق ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس قسم کی تحریریں پڑھیں۔ بیس پچیس منٹ میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی تحریرات پڑھ سکتے ہیں جن سے ان کے خیال میں رسول کریم~صل۱~ کی ہتک ثابت ہوتی ہے۔ ہم بیس پچیس منٹ میں ان تحریروں کا جواب دے دیں گے یا ایسی تحریریں پڑھ دیں گے جن سے ان کی پیش کردہ تحریروں کی تشریح ہوتی ہو۔ پس یہ ان کا حق ہے جسے ہم تسلیم کرتے ہیں۔ وہ انہی تحریرات کو سامنے رکھ کر مگر ان کے سیاق و سباق کو ساتھ ملا کر موکد بعذاب قسم کھا سکتے ہیں۔ مگر یہ ضروری ہے کہ تحریریں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہوں کسی اور احمدی کی نہ ہوں۔ کیونکہ اور احمدیوں سے بعض دفعہ غلطی بھی ہوجاتی ہے اور پھر ان غلطیوں کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے لیکن بہرحال دوسروں کی تحریر حجت نہیں ہوسکتی صرف وہی تحریریں پیش ہونی چائیں۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذاتی ہوں۔ کیونکہ ان کے متعلق ایک لحظہ کے لئے بھی ہمیں یہ خیال نہیں آسکتا کہ ان میں رسول کریم~صل۱~کی ہتک کی گئی ہے۔ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی باتیں خود اپنے کانوں سے سنیں۔ آپ کے طریق عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کی پاکیزہ زندگی کا روز و شب مشاہدہ کیا۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تحریرات پڑھی جائیں۔ یا نہ پڑھی جائیں۔ ہم تو ہر تحریر کو مدنظر رکھتے ہوئے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جن کو ظاہر ہونے کا موقعہ نہیں ملا ہر وقت قسم کھانے کے لئے تیار ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے رسول کریم~صل۱~ کی توہین نہیں کی۔ بھلا ان آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی کوئی شبہ رہ سکتا ہے۔ منشی روڑے خان صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشہور صحابی گزرے ہیں کپورتھلہ میں تحصیلدار تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے مولوی ثناء اللہ صاحب کپورتھلہ یا کسی قریب کے مقام پر گئے تو ان کے دوست انہیں بھی مولوی صاحب کی تقریر سنانے لے گئے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنی تقریر میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام پر اعتراضات کئے تو منشی روڑے خاں صاحب کے ساتھی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے بعد میں انہیں کہا آپ نے دیکھا مرزا صاحب پر کیسے کیسے اعتراض پڑتے ہیں منشی صاحب کہنے لگے تم ساری عمر اعتراض کرتے رہو میں نے تو اپنی آنکھوں سے مرزا صاحب کو دیکھا ہے انہیں دیکھنے کے بعد اور ان کی سچائی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد میں کس طرح تمہاری باتیں مان سکتا ہوں۔ ہماری جماعت میں ابھی تک سینکڑوں نہیں ہزاروں وہ لوگ زندہ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں وہ لوگ زندہ ہیں جنہوں نے آپ کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں سینکڑوں نہیں ہزاروں وہ لوگ زندہ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس عشق کا معائنہ کیا جو آپ کو رسول کریم~صل۱~ کی ذات سے تھا۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں وہ لوگ زندہ ہیں جن کے دلوں میں رسول کریم~صل۱~ سے محبت اور عشق کی لہریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام اور آپ کی قوت قدسیہ سے پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد اگر ساری دنیا بھی متفق ہو کر یہ کہتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے رسول کریم~صل۱~ کی ہتک کی تو بجز اس کے ہمارا کوئی جواب نہیں ہوسکتا کہ لعنہ اللہ علی الکاذبین۔ اور ہم ہر وقت ہر میدان میں یہ قسم کھانے کے لئے تیار ہیں کہ خدا تعالیٰ کی شدید سے شدید *** ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر نازل ہو۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شمہ بھر بھی رسول کریم~صل۱~ کی ہتک کی ہو یارسول کریم~صل۱~ کی ہتک کو کبھی برداشت کیا ہو یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ کر رسول کریم~صل۱~ کا کوئی عاشق اس امت میں پیدا ہوا ہو۔ پس اس کے لئے ہمیں کسی قسم کی شرط کی ضرورت نہیں۔ لمبی بحثیں کرنے کی حاجت نہیں۔ اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے پڑھنا چاہتے ہیں تو بیس پچیس منٹ اس کے لئے کافی ہیں اور اتنا وقت انہیں دے دیا جائے گا۔ اور اتنے ہی وقت میں ہم جواب دے دیں گے اور اگر وہ زیادہ وقت کی خواہش کریں تو جس قدر مناسب وقت کی ضرورت ہو ان کو دے دیا جائے گا اور اسی قدر وقت میں ہم جواب دے دیں گے<۔۱۴۹
    مباہلہ میں شرکت کے لئے احمدیوں کا جوش و خروش
    احمدیوں کی طرف سے مباہلہ میں شریک ہونے کا جو بے پناہ ذوق و شوق دیکھنے میں آیا وہ ایک فقید المثال مظاہرہ تھا۔ مخلصین جماعت کے کانوں تک جونہی حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی آواز اعلان مباہلہ کی نسبت پہنچی۔ انہوں نے دیوانہ وار تار دیئے کہ ہمیں اس مباہلہ میں شریک ہونے کی ضرور سعادت بخشی جائے۔۱۵۰ اکتوبر ۱۹۳۴ء کے آخری ہفتہ تک قریباً ایک ہزار احمدیوں کی درخواستیں حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں پہنچ چکی تھیں جن میں نہایت ہی اخلاص بلکہ لجاجت سے درخواست کی گئی تھی کہ مباہلین میں ان کو بھی شرکت کا موقعہ عطا کیا جائے۔ درخواست کرنے والے ۱۵۲۷ احمدیوں کی ابتدائی فہرستیں انہی دنوں اخبار الفضل میں شائع کردی گئی تھیں۔۱۵۱
    احرار کا صداقت مسیح موعودؑ پر مباہلہ کا چیلنج اور اس کی منظوری
    احرار لیڈروں نے جماعت احمدیہ کا یہ ولولہ اور جذبہ دیکھا تو بہت پریشان خاطر ہوئے اور انہوں نے ادعا کیا کہ وہ صداقت مسیح موعودؑ پر
    بھی مباہلہ کریں گے۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے احرار کا یہ چیلنج بھی منظور کرلیا۔ اور نہایت تحدی کے ساتھ اعلان فرمایا کہ۔
    >یہ مباہلہ بھی ضرور ہو مگر اس سے علیحدہ ہو وہ اس کے لئے دوسرے پانسو آدمی لائیں اور ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔ ہاں لیڈر وہی ہوں۔ ان کے وہی پانچوں لیڈر ایک مباہلہ میں شامل ہوں اور وہی دوسرے میں۔ ادھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے مرد ممبر اور ناظر دونوں میں شریک ہوں گے اور پانچ پانچ سو آدمی دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کوئی ایسی چیز نہیں جس پر مباہلہ کرنے سے ہمیں گریز ہو۔ ہم آپ کی صداقت پر جہاں وہ چاہیں قسم کھانے کو تیار ہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی ہم نے اسلام کی صداقت سمجھی ہے۔ ورنہ جس رنگ میں یہ مولوی اسلام کو پیش کرتے ہیں اس رنگ میں کون معقول شخص مان سکتا ہے۔ جو نامعقول یہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول کریم~صل۱~ نے اپنی پھوپھی زاد بہن کو دیکھا اور نعوذباللہ اس پر عاشق ہوگئے۔ ایسے بیوقوفوں کے بتائے ہوئے اسلام کو کون مان سکتا ہے۔ خداتعالیٰ کا بتایا ہوا اسلام تو وہ ہے جو رسول کریم~صل۱~ کی عصمت کو ثابت کرتا ہے جو صحیح احادیث میں ہے۔ مگر کون ہے جو ہمیں قرآن کریم کی طرف لایا۔ صحیح احادیث کی طرف لایا۔ یا تازہ نشانات کی طرف لایا۔ یہ سب کچھ ہمیں مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ذریعہ سے ملا۔ اور اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ ہم آپ کی صداقت کے متعلق مباہلہ کرنے سے ایک منٹ کے لئے بھی پس و پیش کرسکتے ہیں۔ ہم اس کے لئے تیار ہیں اور ہر میدان میں تیار ہیں۔ لیکن احرار اس کے لئے علیحدہ پانسو آدمی لائیں۔ ہم بھی علیحدہ لائیں گے اور اس طرح دو مباہلے ہوں تالیھلک من ھلک عن بینہ و یحی من حی عن بینہ کا نظارہ دنیا دیکھ لے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ خالی مسجد ارائیاں میں تقریر کرنے سے کام نہیں چل سکتا وہ باقاعدہ شرائط طے کریں۔ بلکہ میں نے تو یہاں تک کہ دیا تھا کہ مجھے اپنی پیش کردہ شرائط پر اصرار نہیں۔ انہیں اگر کوئی شرط بوجھل معلوم ہوتی ہو تو اسے پیش کریں۔ میں چھوڑنے کو تیار ہوں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ مباہلہ ہو ایسے رنگ میں کہ اللہ تعالیٰ کا زندہ نشان دنیا کو نظر آجائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان اللہ لسمیع علیم اس میں بتایا ہے کہ جب بھی مومن اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں گے وہ ضرور ان کی دعائوں کو سنے گا۔ پس میں احرار کو پھر ایک دفعہ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس پیالہ کو ٹالنے کی کوشش نہ کریں۔ شرائط طے کرلیں۔ کسی شرط پر انہیں اگر اعتراض ہو تو اسے پیش کریں اور اس طرح فیصلہ کرکے مباہلہ کرلیں<۔۱۵۲
    تصفیہ شرائط کئے بغیر تاریخ مباہلہ کا تقرر
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے بار بار تصفیہ شرائط پر زور دینے کا ردعمل یہ ہوا کہ احرار نے یکطرفہ کارروائی کرکے تصفیہ شرائط کئے بغیر تاریخ مباہلہ مقرر کرلی۔ چنانچہ مولوی مظہر علی صاحب اظہر سیکرٹری و نمائندہ مجلس احرار کی طرف سے ۱۴۔ اکتوبر ۱۹۳۵ء کو حضور کے نام سیالکوٹ سے تار آیا کہ مجلس احرار کی جانب سے مباہلہ کی تاریخ ۲۳۔ نومبر مقرر کی گئی ہے۔۱۵۳ حضور کو اس تار سے بہت تعجب ہوا کہ خطوط کا جواب تک نہیں دیا جاتا` شرائط کے متعلق کچھ لکھا نہیں جاتا اور ایک ماہ سے زائد عرصہ کے بعد جس کام کی تاریخ مقرر کی جاتی ہے اس کی اطلاع بذریعہ تار دی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ اطلاع ایک رجسٹری خط کے ذریعہ سے بھی آسکتی تھی۔
    حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی طرف سے احرار پر اتمام حجت
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فریق ثانی کی حیلہ گری اور ٹال مٹول کے باوجود ان پر اتمام حجت کی غرض سے مناسب سمجھا کہ ان سے دوبارہ
    پوچھ لیا جائے کہ تصفیہ شرائط کے بارے میں آپ نے کچھ نہیں لکھا ہے۔ چنانچہ ناظر دعوت و تبلیغ کی طرف سے مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کو جواب بھجوایا گیا کہ
    ‏tav.8.14
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۷
    شیخ احمد فرقانی کی شہادت سے سالانہ جلسہ ۱۹۳۵ء تک
    >اگر آپ مباہلہ پر واقعی تیار ہیں تو پہلے شرائط کا تصفیہ کرلیں۔ اخبار >الفضل< کے جن پرچوں میں ان ہماری مجوزہ شرائط کا ذکر ہے وہ آپ کی مزید واقفیت کے لئے آپ کو بھجوائے جارہے ہیں۔ انہیں ملاحظہ فرما کر اپنی رائے سے ہمارے مقرر کردہ نمائندگان کو مطلع فرمائیں۔ شرائط و تاریخ و مقام مباہلہ وغیرہ کا تعین ہمیشہ فریقین کی رضامندی سے ہوتا ہے۔ پس آپ اگر ہماری پیش کردہ شرائط کو بکلی مانتے ہیں تو بھی اور اگر کسی میں ترمیم کے خواہش مند ہیں تو پھر بھی جماعت احمدیہ کے مقرر کردہ نمائندگان سے گفت و شنید کرکے فیصلہ کا صحیح طریق اختیار فرمائیں۔ محض اپنی طرف سے ایک تاریخ مقرر کرکے تار دے دینا کوئی نتیجہ نہیں پیدا کرسکتا<۔۱۵۴
    اب بظاہر خیال کیا جاتا تھا کہ اس مکتوب کے بعد احرار کوئی اعتراض نہیں اٹھائیں گے لیکن ہوا یہ کہ اگرچہ اخبار >مجاہد< میں مجمل طور پر یہ ضرور شائع کردیا گیا کہ ہمیں سب شرطیں منظور ہیں اور ہم ضرور مباہلہ کریں گے۔ لیکن اس گول مول اعلان کے باوجود مجلس احرار نے اب بھی باقاعدہ تحریری جواب سے بالکل پہلو تہی اختیار کی جسے مباہلہ۱۵۵ جیسے انتہائی ذمہ داری کے معاملہ میں کوئی سنجیدہ کوشش کی بجائے محض ایک مذاق یا استہزاء کا نام دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ خصوصاً اس لئے کہ اس اعلان سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی پیش فرمودہ ہر اہم شرط بالکل مبہم` مشکوک اور مشتبہ ہوکے رہ گئی مثلاً۔
    اول۔]ydbo [tag اس اخباری اعلان سے اس پر کوئی روشنی نہیں پڑتی تھی کہ جماعت احمدیہ پانچ سو افراد تیار کرے یا ہزار نیز احرار کے مباہلین کی تعداد کتنی ہوگی؟
    دوم۔ اس مجمل اعلان میں اس بات کی بھی کوئی وضاحت نہیں تھی کہ مقام مباہلہ کونسا ہوگا؟ لاہور` گورداسپور یا قادیان۔
    سوم۔ مباہلہ کے وقت کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا۔
    چہارم۔ ایک اہم بات یہ تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے شرائط مباہلہ میں یہ درج تھا کہ طرفین کے نمائندے جب ضروری امور کا تصفیہ کرلیں گے تو تاریخ مباہلہ مقرر کی جائے گی جو اس تصفیہ کے پندرہ دن بعد کی ہونی چاہئے۔ اس کے دو ہی معنے بنتے تھے یا یہ کہ تاریخ مباہلہ خود حضرت خلیفہ المسیح مقرر کریں گے یا طرفین کی منظوری سے اس کا تعین ہوگا۔ لیکن احرار کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ ایک طرف مسٹر مظہر علی صاحب اظہر نے یہ اعلان کیا کہ سب شرائط منظور ہیں مگر دوسری طرف از خود تاریخ مباہلہ معین کردی۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کا حلفی بیان
    احرار کی یہ ناقابل فہم روش دیکھ کر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۳۰۔ اکتوبر ۱۹۳۵ء کو ایک پمفلٹ لکھا۔ جس میں مسلمانان ہند کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ >میں امید کرتا ہوں کہ سب حق پسند احباب اب معاملہ کو سمجھ گئے ہوں گے اور وہ احرار پر زور دیں گے کہ مباہلہ کی تفصیلی شرائط جماعت احمدیہ کے نمائندوں سے طے کرکے تاریخ کی تعیین کریں اور اس طرح خالی اخباری گھوڑے دوڑا کر اس نہایت اہم امر کو ہنسی مذاق میں نہ ٹلائیں۔۱۵۶
    یہی نہیں حضور نے اسی پمفلٹ میں احرار کے جواب کا انتظار کئے بغیر مندرجہ ذیل حلفیہ اعلان شائع فرما دیا کہ۔
    >میں اس خدائے قہار و جبار۔ مالک و مختار۔ معز و مذل۔ محی اور ممیت کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میرا اور سب جماعت احمدیہ کا بحیثیت جماعت یہ عقیدہ ہے )اور اگر کوئی دوسرا شخص اس کے خلاف کہتا ہے تو وہ مردود ہے ہم میں سے نہیں( کہ رسول کریم~صل۱~ افضل الرسل اور سید دلد آدم تھے۔ یہی تعلیم ہمیں بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دی ہے اور اسی پر ہم قائم ہیں۔ رسول کریم~صل۱~ کی امت اپنے آپ کو جانتے ہیں اور سب عزتوں سے زیادہ اس عزت کو سمجھتے ہیں۔ بے شک ہم بانی سلسلہ احمدیہ کو خدا کا مامور اور مرسل اور دنیا کے لئے ہادی سمجھتے ہیں۔ لیکن ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آپ کو جو کچھ ملا وہ رسول کریم~صل۱~ کے طفیل۔ اور آپ~صل۱~ کی شاگردی سے ملا تھا۔ اور آپ کی بعثت کا مقصد صرف اسلام کی اشاعت اور قرآن کریم کی عظمت کا قیام اور رسول کریم~صل۱~ کے فیضان کو جاری کرنا تھا اور جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے۔ ~}~
    ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم
    یک قطرہ زبحر کمال محمدﷺ~ است
    ایں آتشم ز آتش مہر محمدی ست
    وایں آب من زآب زلال محمدﷺ~ است
    آپ جو نور دنیا میں پھیلاتے تھے وہ رسول کریم~صل۱~ کے نور کا ایک شعلہ تھا اور بس۔ آپ رسول کریم~صل۱~ سے جدانہ تھے اور نہ ان کے مدمقابل اور اسی طرح یہ کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا کے دوسرے سب مقامات سے جن میں قادیان بھی شامل ہے افضل اور اعلیٰ ہیں اور ہم احمدی بحیثیت جماعت ان دونوں مقامات کی گہری عزت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور انکی عزت پر اپنی عزت کو قربان کرتے ہیں اور آئندہ کرنے کے لئے تیار ہیں اور میں خدائے واحد و قہار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس اعلان میں کوئی جھوٹ نہیں بول رہا۔ میرا دل سے یہی ایمان ہے اور اگر میں جھوٹ سے یا اخفاء یا دھوکہ سے کام لے رہا ہوں تو میں اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ۔
    اے خدا! ایک جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے اس قسم کا دھوکا دینا نہایت خطرناک فساد پیدا کرسکتا ہے۔ پس اگر میں نے اوپر کا اعلان کرنے میں جھوٹ` دھوکے یا چالبازی سے کام لیا ہے تو مجھ پر اور میرے بیوی بچوں پر *** کر۔ لیکن اگر اے خدا میں نے یہ اعلان سچے دل سے اور نیک نیتی سے کیا ہے تو پھر اے میرے رب یہ جھوٹ جو بانی سلسلہ احمدیہ کی نسبت میری نسبت اور سب جماعت احمدیہ کی نسبت بولا جاتا ہے تو اس کے ازالہ کی خود ہی کوئی تدبیر کر اور اس ذلیل دشمن کو جو ایسا گندہ الزام ہم پر لگاتا ہے یا تو ہدایت دے یا پھر اسے ایسی سزا دے کہ وہ دوسروں کے لئے عبرت کا موجب ہو۔ اور جماعت احمدیہ کو اس تکلیف کے بدلے میں جو صرف سچائی کو قبول کرنے کی وجہ سے دی جاتی ہے عزت کامیابی اور غیر معمولی نصرت عطا کر کہ تو ارحم الراحمین ہے اور مظلوموں کی فریاد کو سننے والا ہے۔ اللھم امین۔
    اے سننے والو۔ سنو! کہ میں نے اپنی طرف سے قسم کھالی ہے اور قسم کھاکر اس عقیدے کا اعلان کردیا جس پر میں اول دن سے قائم ہوں۔ اب احرار یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں مباہلہ سے گریز کرتا ہوں۔
    میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ مباہلہ ہو یا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اس میری قسم کی وجہ سے جماعت احمدیہ کو نصیب ہوگی اور پیش آمدہ ابتلائوں یا آئندہ آنے والے ابتلائوں سے ان کو نقصان نہ پہنچے گا بلکہ انہیں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل ہوگی۔ بے شک ابتلا خداتعالیٰ کی قائم کردہ جماعتوں کے لئے ضروری ہیں مگر اصل شے نتیجہ ہے جو ہمیشہ ان کے حق میں اچھا اور ان کے دشمن کے حق میں برا ہوتا ہے۔ اور اب بھی خداتعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ سے یہی سلوک ہوگا<۔۱۵۷
    ناظر دعوت و تبلیغ کو سند نمائندگی
    اگرچہ اس حلفیہ بیان نے حق بالکل واضح کر دیا تھا اور احراری لیڈروں کے لئے راہ فرار اختیار کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ تاہم حضرت امیرالمومنین نے شرائط مباہلہ کے تصفیہ کا معاملہ فی الفور طے کرنے کے لئے اپنی طرف سے ناظر صاحب و تبلیغ کو سند نمائندگی لکھ دی۔ چنانچہ لکھا۔
    >مکرمی ناظر صاحب دعوت و تبلیغ
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ میری طرف سے اس غرض کے لئے نمائندے ہیں۔ آپ جلد سے جلد احرار کے نمائندہ سے شرائط طے کرکے مباہلہ کی تاریخ کا اعلان کردیں۔ والسلام
    خاکسار مرزا محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی<۱۵۸
    یہ سند ناظر صاحب دعوت و تبلیغ نے ۳۔ نومبر ۱۹۳۵ء کو سیکرٹری صاحب مجلس احرار کو بھی بھجوا دی اور ساتھ ہی ان کے نام مفصل چٹھی لکھی جس کے آخر میں تحریر کیا کہ۔
    >اگر آپ مباہلہ سے گریز نہیں کررہے اور سنجیدگی سے مباہلہ کرنے کے خواہاں ہیں تو آپ وقت اور مقام مقرر کرکے مجھے اطلاع دیں جہاں پر میں آپ سے شرائط طے کرنے کے لئے حاضر ہو جائوں اور پھر شرائط ضبط تحریر میں لاکر اس پر فریقین کے نمائندوں کے دستخط ہو جائیں اور پھر متفقہ طور پر مباہلہ کے انعقاد کی تاریخ مقرر کرکے اعلان کردیا جائے<۔۱۵۹
    احرار کی طرف سے تحریف اورمباہلہ کے نام پر قادیان میں ہنگامہ کھڑا کرنے کی تیاریاں
    اس خط کے جواب میں مجلس احرار نے اپنے گزشتہ رویہ کو اور بھی ناخوشگوار بنالیا اور بجائے صحیح طریق اختیار کرنے کے تحریف سے کام
    کام لینا شروع کردیا چنانچہ مسٹر مظہر علی صاحب اظہر )جنرل سیکرٹری احرار( نے چنیوٹ )ضلع جھنگ( میں بیان کیا کہ >میں نے قادیان جاکر کہا تھا کہ مباہلہ قادیان میں ہونا چاہئے اور مرزا صاحب کی صداقت پر ہونا چاہئے۔ اور مرزا محمود نے تسلیم کرلیا ہے<۔۱۶۰ اسی طرح سید فیض الحسن صاحب سجادہ نشین آلو مہار صدر مجلس احرار پنجاب نے بھی اپنی تقریر چنیوٹ میں کہا کہ >مرزا محمود نے مجلس احرار کو چیلنج دیا ہے کہ آئو مجھ سے مرزا کی نبوت پر قادیان آکر مباہلہ کرو زعمائے احرار نے مرزا محمود کے اس چیلنج کو قبول کرلیا ہے<۔۱۶۱
    ظاہر ہے کہ یہ دونوں بیانات واقعہ کے صریحاً خلاف اور غلط بیانیوں پر مبنی تھے۔ کیونکہ
    ۱۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے چیلنج اس امر کا دیا تھا کہ وہ آنحضرت~صل۱~ سے عقیدت و محبت کا فیصلہ کرنے کے لئے لاہور یا گورداسپور میں مباہلہ کرلیں۔
    ۲۔
    حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے دعویٰ سے متعلق مباہلہ کے چیلنج کو حضرت خلیفتہ المسیح کی طرف منسوب کیا۔ حالانکہ یہ چیلنج خود احرار کی طرف سے تھا۔
    ۳۔
    صدر مجلس نے کہا کہ مرزا محمود نے قادیان آکر مباہلہ کرنے کا چیلنج دیا۔ حالانکہ یہ تجویز احرار کی تھی۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے تو احرار کے اصرار پر قادیان کو مقام مباہلہ قرار پانے کی اجازت دی تھی۔
    ۴۔
    جنرل سیکرٹری صاحب احرار کے فقرہ سے یہ متر شح ہوتا تھا کہ گویا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے تسلیم کرلیا ہے کہ مباہلہ قادیان میں ہی ہونا چاہئے۔ اور بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے متعلق ہی ہونا چاہئے نہ کہ آنحضرت~صل۱~ کی ہتک کے الزام کے متعلق۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ گویا حضور نے اصل بنائے مباہلہ کو ترک کردیا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط تھا۔ حضور نے کبھی بنائے مباہلہ کو نظر انداز نہیں ہونے دیا بلکہ اس کے برعکس یہ واضح اعلان فرمایا کہ ہم احرار سے صداقت مسیح موعودؑ پر بھی مباہلہ کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ یہ مباہلہ پہلے مباہلہ سے الگ ہو اور اس کے لئے الگ پانچسو آدمیوں کی تعداد دونوں فریقوں کی طرف سے پیش کی جائے۔۱۶۲
    احرار کی یہ حرکت بہت افسوسناک تھی۔ مگر ان خدا ناترس لوگوں نے مزید ظلم وستم یہ کیا کہ مباہلہ کے نام پر قادیان میں ہنگامہ برپا کرنے کی تیاریاں شروع کردیں اور تصفیہ شرائط سے گریز کرکے ملک بھر میں یہ عام تحریک کرنے لگے کہ لوگ ۲۳۔ نومبر ۱۹۳۵ء کو ہزاروں کی تعداد میں قادیان پہنچیں اور تو اور خود صدر مجلس احرار پنجاب نے چنیوٹ کانفرنس میں بیان دیا۔ >۲۳۔ نومبر کو زعمائے احرار اور ہزاروں مسلمان قادیان کے میدان مباہلہ میں پہنچ جائیں گے<۔10] p[۱۶۳ اس اعلان سے یہ بات واضح طور پر کھل گئی کہ احرار مباہلہ نہیں ہنگامہ کی تجویزیں سوچ رہے تھے۔ اس خیال کی مزید تائید مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کے مندرجہ ذیل بیان سے بھی ہوگئی کہ >پانچ سو اور ہزار کی شرط خود مرزا صاحب کی عائد کردہ ہے ہمارے نمائندے ہزار سے بھی بہت زیادہ ہوں گے<۔۱۶۴
    جناب مظہر علی صاحب اظہر نے محض نمائندوں کو غیر معین اور کثیر تعداد کا ذکر کرنے کے علاوہ اپنے اس بیان میں مباہلہ کی درپردہ اغراض خود اپنے قلم سے بے نقاب کر ڈالیں۔ چنانچہ انہوں نے لکھا۔
    >مجلس مباہلہ کا انتظام جس طرح مرزا محمود فرمائیں ہمیں منظور ہوگا فقط یہ احتیاط چاہئے کہ مباہلین کو دیکھنے والے لوگوں کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے<۔۱۶۵
    نظارہ بینوں کے لئے روک نہ ہونے کے مطالبہ سے بھی معلوم ہوتا تھا کہ احرار کے مدنظر مباہلہ نہیں فساد ہے۔ ورنہ مباہلہ میں نہ کوئی لمبی چوڑی تقریر ہونی تھی اور نہ میدان مباہلہ کوئی تماشہ گاہ ہے کہ اس کے دیکھنے کے لئے لوگوں کو تحریک کی جائے۔
    چنانچہ امیر مجلس احرار قادیان کی طرف سے انہی دنوں قادیان کے نواحی علاقہ میں ایک اشتہار شائع کیا گیا جس میں لکھا۔
    >پچھلے سال قادیان میں جو کانفرنس ہوئی تھی اس میں نصف لاکھ کے قریب مسلمان جمع ہوئے تھے حالانکہ کانفرنس کا پہلا سال تھا۔ اس سال انشاء اللہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان قادیان میں جمع ہونے والے ہیں<۔۱۶۶
    اس اشتہار نے جو عین مباہلہ کی گفتگو کے دوران تقسیم کیا گیا یہ حقیقت پوری طرح واضح کردی کہ احرار کا قادیان میں آنا مباہلہ کے لئے نہیں محض ہنگامہ بپا کرنے کے لئے ہے۔
    احراری کارروائی کا پس منظر
    اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ احرار کے اس قسم کے ٹال مٹول سے مطلب کیا تھا۔ دراصل بات یہ تھی کہ حکومت پنجاب نے احمدی اور احراری کشیدگی کے پیش نظر اپنے سرکلر نمبر سی ۱۶۷۳۴۷ ایس ایس بی مورخہ ۲۔ جولائی ۱۹۳۵ء کے ذریعہ احرار کو ۱۹۳۵ء میں قادیان کانفرنس کرنے سے روک دیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا چیلنج پڑھا تو انہوں نے سوچا کہ مباہلہ تو خیر دیکھا جائے گا اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر ہم حکومت سے برسر پیکار ہوئے بغیر قادیان میں کانفرنس کرلیں گے۔ کیونکہ مباہلہ کا چیلنج جماعت احمدیہ کی طرف سے ہے اور ہم ان کے بلائے پر جائیں گے اس لئے حکومت بھی ہم کو روکے گی نہیں۔ چنانچہ یہ امر دل میں رکھ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ بغیر اس کے کہ شرائط تحریر میں آئیں ہم مباہلہ کو منظور کرلیں۔ جب شرائط طے نہ ہوئی ہوں گی تو کئی باتیں عین موقعہ پر ایسی نکل آئیں گی جن کی بناء پر مباہلہ سے انکار کیا جاسکے گا۔ ہاں اس بہانہ سے قادیان میں کانفرنس کا موقعہ مل جائے گا۔
    تاریخ مباہلہ سے متعلق اس قدر عرصہ پہلے اعلان کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر وہ حضرت خلیفتہ المسیح کی یہ شرط مانتے کہ شرطیں طے ہونے کے بعد تاریخ مقرر کی جائے تو اس صورت میں انہیں ہنگامہ اور کانفرنس کے لئے لوگوں کو جمع کرنا مشکل ہوتا۔ اب انہوں نے قریباً ڈیڑھ ماہ پہلے آپ ہی تاریخ مقرر کردی تا اس عرصہ میں لوگوں کو آمادہ کرکے کانفرنس کی تیاری مکمل کرلیں۔۱۶۸
    گو حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی نگاہ دوربین شروع ہی سے معاملہ کی تہہ تک پہنچ چکی تھی۔ مگر اب تو احرار کے درپردہ عزائم ان کی زبانوں اور قلموں پر آگئے تھے۔ لہذا اب جبکہ اصل معاملہ کھل کر سامنے آگیا حضور یہ کبھی گوارا نہیں کرسکتے تھے کہ آپ کی مخلصانہ دعوت مباہلہ کو ہنگامہ آرائی کا ذریعہ بنا لیا جائے یا اس کے نام پر کانفرنس کی طرح ڈالی جائے۔
    چنانچہ حضور نے ۱۰۔ نومبر ۱۹۳۵ء کو مفصل کوائف و حالات سے پبلک کو آگاہ کردیا اور حکومت اور احرار دونوں کے لئے غیر مبہم الفاظ میں اعلان کر دیا کہ۔
    >میں صاف لفظوں میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہم قادیان میں مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔ مگر کانفرنس کے لئے نہیں۔ اگر احرار کو فی الواقع مباہلہ منظور ہے تو۔
    ۱۔
    شرائط طے کرلیں۔
    ۲۔
    پھر ایک تاریخ بتراضی طرفین مقرر ہو جائے۔ جس کی اطلاع حکومت کو بغرض انتظام دے دی جائے گی۔
    ۳۔
    اگر وہ قادیان میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں کو جو عام دعوت انہوں نے دی ہے اس کو عام اعلان کے ذریعہ سے واپس لیں۔
    ۴۔
    مجلس احرار ہمیں یہ تحریری وعدہ دے کر مباہلہ کے دن اور اس سے چار دن پہلے اور چار دن بعد کوئی اور جلسہ یا کانفرنس سوائے اس مجلس کے جو مباہلہ کے دن بغرض مباہلہ منعقد ہوگی۔ وہ منعقد نہیں کریں گے۔ اور نہ جلوس نکالیں گے اور نہ کوئی تقریر کریں گے۔ اور یہ تحریر >مجاہد< میں بھی شائع کر دی جائے۔
    ۵۔
    یہ کہ ان کی طرف سے مباہلہ کرنے والوں کے سوا جن کی فہرست ان کو پندرہ دن پہلے دینی ہوگی کوئی شخص باہر سے نہ تحریری نہ زبانی بلایا جائے گا۔ نہ وہ )اس صورت میں کہ انہیں ہماری ضیافت منظور نہ ہو( کسی کی رہائش کا یا خوراک کا جماعتی حیثیت میں یا منفردانہ حیثیت میں مذکورہ بالا نو ایام میں انتظام کریں گے<۔۱۶۹
    ۶۔
    مباہلہ کی جگہ پر مباہلہ کرنے والوں اور منتظمین اور پولیس کے سوا اور کسی کو جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ اگر وہ مذکورہ بالا باتوں پر عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو ہر حق پسند شخص تسلیم کرے گا کہ احرار کی نیت مباہلہ کی نہیں۔ بلکہ اس بہانے سے قادیان میں کانفرنس کرنے کی ہے۔
    پس میں یہ واضح طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس صورت میں ہم قادیان میں نہیں بلکہ گورداسپور یا لاہور میں مباہلہ کریں گے۔ وہاں وہ بے شک جس قدر آدمیوں کو چاہیں بلالیں۔ گو اس صورت میں بھی مباہلہ کرنے والوں کے علاوہ دوسرے آدمیوں کو میدان مباہلہ میں آنے کی اجازت نہ ہوگی۔ میرے اس اعلان کے بعد بغیر شرائط طے کئے کے اور بغیر ایسی تاریخ کے مقرر کئے کے جو دونوں فریق کی رضامندی سے ہو اگر احرار ۲۳۔ نومبر یا اور کسی تاریخ کو قادیان آئیں۔ تو اس کی غرض محض کانفرنس ہوگی نہ کہ مباہلہ اور اس صورت میں اس کی ذمہ داری یا تو حکومت پر ہوگی یا احرار پر۔ جماعت احمدیہ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی<۔۱۷۰
    عوام کو قادیان میں جمع کرنے کا پراپیگنڈا
    اس اعلان کا بھی احرار نے کوئی جواب نہ دیا مگر اپنی گزشتہ روایات کے مطابق اعلان پر اعلان جاری رکھے کہ مسلمان کثیر تعداد میں ۲۳۔ نومبر ۱۹۳۵ء کو قادیان پہنچ جائیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے صدر آل انڈیا نیشنل لیگ کے نام سے اخبارات میں یہ اعلان بھی کرایا کہ انہیں حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے تار موصول ہوا ہے جس میں ۲۳۔ نومبر کو قادیان میں مباہلہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ حالانکہ اس قسم کا کوئی تار صدر کو قادیان سے نہیں بھیجا گیا اور نہ اس وقت تک مباہلہ منعقد ہوسکتا تھا جب تک احرار شرائط کا تصفیہ نہ کرلیں جس کے لئے وہ قطعی طور پر تیار نہیں تھے۔ یہ جعلی تار اصل میں پروپیگنڈا کی کڑی تھا جو ان کی طرف سے لوگوں کو قادیان میں جمع کرنے کے لئے کیاجارہا تھا۔۱۷۱
    ۵۔ نومبر ۱۹۳۵ء کا واقعہ ہے کہ مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اور مولوی حبیب الرحمن صاحب ہوڑہ ایکسپریس پر امرتسر آرہے تھے۔ بھوماں وڈالہ ضلع امرتسر کے ایک احمدی محمد عبدالحق صاحب مجاہد۱۷۲ نے جو انہی کے کمرہ میں بیٹھے تھے بخاری صاحب سے دریافت کیا کہ مباہلہ کے لئے کونسا وقت مقرر ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا >بے وقت ہی مباہلہ ہوگا اور سارا دن ہوگا<۔ مجاہد صاحب نے دوبارہ پوچھا کہ مباہلہ کے شرائط طے ہوچکے ہیں؟ بخاری صاحب نے بتایا کہ >بے شرط مباہلہ ہوگا<۔۱۷۳
    اس پرائیویٹ مجلس کے چند روز بعد بخاری صاحب نے ۱۷۔ نومبر ۱۹۳۵ء کو مسجد خیرالدین امرتسر میں فیض الحسن صاحب سجادہ نشین آلو مہار شریف کی صدارت میں تقریر کی جس میں کہا >لوگ پوچھتے ہیں کہ مباہلہ ہوگا یا نہیں میاں سنو! ہمیں مباہلہ سے کیا۔ ہو یا نہ ہو۔ میں تو صرف کہتا ہوں کہ تم قادیان چلو اور کچھ نہ پوچھو۔ وہاں جمعہ پڑھیں گے۔ کھائیں گے ٹینٹوں میں بیٹھیں گے۔ گائیں گے۔ سوئیں گے۔ جلسہ کریں گے۔ تقریریں کریں گے۔ مرزا محمود کی دعوت کھائیں گے۔ مرزائی گندے` نجس پلید ہیں ان سے گھن آتی ہے۔ بدبو آتی ہے )اس پر کسی منچلے نے سوال کیا >جب مرزائی اتنے نجس ہیں تو پھر ان کی دعوت کیسے کھائو گے< اس پر بخاری صاحب نے کہا( میاں تم سیاسیات کو نہیں سمجھتے ابھی کچے ہو۔
    مرزا محمود نے ہمیں مباہلہ کی دعوت تو دی ہے مگر دیکھو ہم اسے کیسا خراب کریں گے۔ شرائط شرائط کہتا ہے۔ شرائط کیا بلا ہوتی ہیں۔ ہم شرائط کو نہیں جانتے ہم نے اگر مباہلہ کیا تو بے شرائط کریں گے اب تم چیں کرو پیں کرو ہم تم کو چھوڑنے کے نہیں۔ رضاکار تیار ہو جائیں۔ باوردی جائیں جمعرات تک پہنچ جائو ۔۔۔۔۔۔ والنٹیئر اور رضاکار تیار ہو جائیں۔ جمعہ قادیان جا پڑھو۔ مباہلہ ہو یا نہ ہو اس سے غرض نہ رکھو۔ شرائط کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مرزائیوں کے اب آخری دن ہیں۔ مباہلہ کریں یا نہ کریں ہم ان کو مٹا دیں گے۔ پچاس سال انہوں نے موجیں کرلی ہیں<۔۱۷۴
    حق کی فتح
    مندرجہ بالا تفصیلات سے ظاہر ہے کہ احراری زعماء کی طرف سے بے شرائط مباہلہ کا اعلان احمدیت کی شاندار فتح تھی جس سے انعقاد مباہلہ کے بغیر ہی حق و باطل میں فیصلہ ہوگیا۔
    چنانچہ حضرت امیرالمومنین نے ۱۵۔ نومبر ۱۹۳۵ء کو فرمایا۔
    >اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اتنا یقین ہوتا کہ سمجھتے ہم سچے ہیں اور مباہلہ کرسکتے ہیں تو جس طرح میں نے قسم کھا کر مباہلہ کرہی دیا ہے۔ یہ لوگ بھی اسی طرح کیوں نہ کردیتے۔ وہ اخباروں میں اعلان کررہے ہیں کہ احمدی مباہلہ سے ڈر گئے۔ حالانکہ میں نے پہلے ہی قسم کھالی تھی اور کیا ڈرنے والا پہلے ہی قسم کھالیا کرتا ہے۔ جو الزام وہ لگاتے تھے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ان کے مطابق الفاظ میں میں نے قسم شائع کردی ہے۔ تا کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مباہلہ سے ڈر گئے ہیں۔ اسی طرح اگر وہ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کی نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم~صل۱~ سے افضل سمجھتے تھے۔ بلکہ آپ پر ایمان نہ رکھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت آپ کے دل میں نہ تھی اور آپ چاہتے تھے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نعوذ باللہ من ذالک اینٹ سے اینٹ بج جائے )نصیب دشمناں( اور یہ کہ جماعت احمدیہ کا بھی یہی عقیدہ ہے تو کیوں احرار کے لیڈروں نے میرے الفاظ کے مترادف الفاظ میں بالمقابل قسم شائع نہیں کر دی۔ اگر وہ بھی قسم کھاتے تو لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ وہ بھی مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔ یا پھر پیش کردہ شرائط ہی شائع کردیتے اور لکھ دیتے کہ ہمیں یہ منظور ہیں<۔۱۷۵
    حکومت پنجاب کا نوٹس
    حکومت پنجاب کے بعض افسر احرار کے اس عذر کی بناء پر کہ ہمیں خود امام جماعت احمدیہ نے قادیان آنے کی دعوت دی ہے اس لئے ہمارے قادیان جانے میں کوئی روک نہیں ہونی چاہئے احرار کے حق میں تھے اور اس قضیہ میں >غیر جانبدار< رہنا چاہتے تھے۔ مگر جب حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے خود احرار کے اشتہارات سے ثابت کر دکھایا کہ احرار مباہلہ کا نام لے کر درپردہ کانفرنس اور ہنگامہ آرائی کے لئے آرہے ہیں تب ان کا نظریہ بھی بدل گیا اور حکومت پنجاب حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی گرفت پر اپنے بنائے ہوئے قانون کے احترام پر مجبور ہوگئی۔۱۷۶ اور اس نے ۱۶۔ نومبر ۱۹۳۵ء کو ایک نوٹس جاری کر دیا جس میں ۲۔ جولائی ۱۹۳۵ء کے فیصلہ کی روشنی میں ۲۲۔ ۲۳۔ نومبر کو قادیان میں اجتماع پر بھی پابندی لگا دی اور لکھا کہ >اگر مجلس احرار اور احمدیہ جماعت کے نمائندے حکومت کو بصورت تحریر یقین دلا دیں کہ اجتماع کی غرض و غایت کی نوعیت پر فریقین کا اتفاق ہو چکا ہے تو اس صورت میں حکومت اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرسکتی ہے<۔۱۷۷
    احرار کی درخواست اور حکومت کا جواب
    یہ نوٹس ملنے پر جناب مظہر علی صاحب اظہر جنرل سیکرٹری احرار نے چیف سیکرٹری صاحب پنجاب کو ایک درخواست بھیجی جس میں یہ عذر تراشا کہ ہم لوگ قادیان میں جمعہ پڑھنے کے لئے جانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ قادیان میں جمعہ پڑھنے کی کوئی خاص وجہ احرار کے لئے نہ تھی۔ خصوصاً ایسے لیڈروں کے لئے جن میں سے بعض تارک نماز مشہور تھے۔ تاہم مسٹر اظہر نے اپنی درخواست میں لکھا کہ >مجلس احرار کی یہ منشاء نہیں ہے کہ قادیان میں کسی غرض کے پیش نظر کوئی کانفرنس منعقد کی جائے۔ سردست اس کا مقصد وحید یہ ہے کہ نماز جمعہ قادیان میں ادا کی جائے جس کے بعد وہ پرامن طریق سے واپس ہو جائیں گے۔ ہاں اگر احرار کو پھر مباہلہ کی دعوت دی گئی اور اس کے متعلق فریقین نے شرائط طے کرلیں تو اس صورت میں مباہلہ بھی کر لیا جائے گا<۔
    مگر حکومت پنجاب نے جمعہ کو روکنے کے لئے نہیں بلکہ فساد سے بچنے کے لئے دو ٹوک جواب دیا کہ مجوزہ صورت میں بھی امن عامہ میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے حکومت اس اجتماع سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرسکتی۔۱۷۸
    رکن ادارہ اخبار >احسان< کا ایک نوٹ
    اجتماع کی ممانعت کے باعث اگرچہ احرار کے ارمان دل ہی میں رہ گئے مگر انہوں نے مباہلہ سے چھٹکارا پاجانے پر سکھ کا سانس لیا اور وہ پیالہ جسے وہ ٹالنے کے لئے عجیب و غریب عذرات کا سہارا لیتے آرہے تھے حکومت پنجاب کی مہربانی سے ٹل گیا۔ سچ ہے جان بچی لاکھوں پائے۔ اخبار >احسان< لاہور کے ادارہ تحریر کے ایک رکن ابوالعلاء صاحب چشتی نے احرار کی باطنی کیفیت کا نقشہ بڑے جامع الفاظ میں کھینچا تھا انہوں نے لکھا۔ >میں مرزا بشیرالدین محمود احمد نہیں جس سے مباہلہ کرنے کا نام سن کر رہنمایان احرار کے بدن پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے<۔۱۷۹
    مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا دلچسپ تبصرہ
    عالم اہلحدیث جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی اپنے اخبار >اہلحدیث< میں احرار کے طرز عمل پر ایک نہایت دلچسپ تبصرہ کیا تھا۔ جو انہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔
    >احراری اب کھلے لفظوں میں کہتے ہیں کہ قادیانی گروہ کے ساتھ مسائل کا فیصلہ علماء کی طرف سے ہوچکا ہمارا مقابلہ ان کے ساتھ سیاسی رنگ میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پس احرار اور قادیان کا اختلاف بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ مسلم لیگ اور ہندومہا سبھا کا ہے۔ اس لئے >حسب اصول< تقسیم کار احرار کو دوسری تبلیغی انجمنوں سے اپنا کام ممتاز کرلینا چاہئے یعنی منقولی مباحثے اور مباہلے دوسری انجمنوں اور اشخاص کے سپرد کردیں۔ احرار ان باتوں میں دخل نہ دیں جیسے مسلم لیگ کے ممبر ہندوئوں سے تناسخ وغیرہ مضامین پر بحث نہیں کرتے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ احرار اہل قادیان کے دھوکے میں آجاتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو مباہلے کی دعوت قبول نہ کرتے۔ خیر گزشتہ را صلٰوۃ آئندہ را احتیاط<۔۱۸۰
    مولوی صاحب نے >اہل حدیث< کی ایک اور اشاعت میں یہ نوٹ دیا کہ۔
    >مباہلہ احرار/ قادیان کے متعلق ہم نے اپنی رائے محفوظ رکھی تھی۔ آج ہم اسے ظاہر کرتے ہیں ہم دیکھتے تھے کہ جو شرطیں قادیانیوں نے پیش کی تھیں وہ تو معمولی تھیں۔ ان کے علاوہ بعض اور شرائط ضروری تھیں جو احرار کی طرف سے ہونی چاہئے تھیں<۔
    احرار کا احتجاجاً جمعہ نہ پڑھنے کا اعلان
    احرار نے کس طرح میدان مباہلہ سے فرار اختیار کیا؟ اس کی تفصیل تو بیان ہوچکی ہے۔مگر بالاخر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حکومت نے جب محض امن عامہ کے خیال سے جمعہ کے اجتماع پر احراری لیڈروں کے قادیان جانے پر پابندی لگا دی تو احرار نے اس سرکاری نوٹس کی بناء پر اعلان کردیا کہ وہ نماز جمعہ ادا ہی نہیں کریں گے اور ۲۲۔ نومبر ۱۹۳۵ء کو قادیان کی مسجد احرار میں نماز جمعہ نہیں پڑھی گئی۔ اس عجیب و غریب احتجاج پر بھی مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ایک نوٹ شائع کیا جو لائق مطالعہ ہے۔ آپ نے لکھا۔
    >شہر امرتسر میں عام طور پر شہرت ہے کہ قادیان کے مسلمانوں کو نماز جمعہ )مورخہ ۲۲۔ نومبر( ادا کرنے سے حکومت نے روک دیا ہے۔ ہم نے اشتہار مندرجہ پرچہ ہذا بصفحہ )۶( قادیان میں تقسیم کرنے کو دو آدمی بھیجے تھے انہوں نے اسی روز واپس آکر بتایا کہ اسلامی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے کو اس قدر لوگ آئے ہوئے تھے کہ ان کی تعداد مرزائیوں کی نسبت بہت زیادہ تھی۔ پولیس کا انتظام کافی تھا۔ کسی نے نماز جمعہ پڑھنے سے منع نہیں کیا۔ صرف مولوی عنایت اللہ صاحب امام مسجد نے چند کلمات شکایت متعلقہ حکومت کہہ کر اعلان کر دیا کہ چونکہ ہمارے بزرگ خصوصاً امیر شریعت کو قادیان میں آنے سے روکا گیا ہے۔ اس لئے ہم بطور احتجاج نماز جمعہ نہیں پڑھتے تم لوگ )حاضرین( اکیلے اکیلے نماز ظہر پڑھ لو۔ چنانچہ سب نے اپنی اپنی نماز ظہر پڑھ لی۔ مذہبی تعلیم کے لحاظ سے یہ واقعہ ہم نے تعجب سے سنا۔ ہمیں شبہ ہوا کہ ہمارے مخبروں کو شاید حقیقت حال کا علم نہ ہوا ہو۔ ہم اسی شش و پنج میں تھے کہ احرار کا اخبار >مجاہد< مورخہ ۲۴۔ نومبر دیکھنے میں آیا تو اس میں بھی مندرجہ ذیل اقتباس ملا۔
    حسب دستور مسلمان اپنی مسجد میں جمع ہوئے مگر آج پیش آمدہ حالات کی بناء پر بالاتفاق یہ قرار پایا کہ حکومت کی متشددانہ پالیسی نے چونکہ نماز جمعہ کے لئے امن کی شرط کو مفقود کردیا۔ اس لئے فریضہ جمعہ ادا نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ہر ایک مسلمان نے علیحدہ علیحدہ نماز ظہر ادا کی۔
    یہ فقرات پڑھ کر ہمیں اصل حقیقت منکشف ہوگئی۔ کہ نماز جمعہ کا ترک حکومت کے منع سے نہیں ہوا۔ بلکہ حکومت نے جو چند اکابر احرار کو قادیان میں جانے سے روک دیا تھا۔ اس خفگی میں نماز جمعہ کو ترک کیا گیا۔ اس لئے ہم اپنے قصور علم کا اعتراف کرتے ہوئے اس فعل )ترک نماز جمعہ( سے برات کا اعلان کرتے ہیں کہ یہ فعل شرعی ہدایت کے ماتحت نہیں ہوا چونکہ احرار سیاسی جماعت ہے ان کے خیال میں سیاست کے رو سے شاید جائز ہو۔ اللھم غفرانا<۔۱۸۲
    >زندہ خدا کا زندہ نشان<
    مولوی عبدالغفار صاحب غزنوی نے فتویٰ دے رکھا تھا کہ >کسی خاص جگہ نماز پڑھنا ضروری نہیں۔ لیکن جب اس جگہ پر پابندی عائد کر دی جائے تو نماز پڑھنا ضروری ہو جاتا ہے اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ قادیان میں جاکر نماز جمعہ ادا کرے<۔۱۸۳
    اس فتویٰ کی تعمیل میں >امیر شریعت احرار< مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری ۶۔ دسمبر ۱۹۳۵ء کا جمعہ پڑھنے کے لئے قادیان روانہ ہوئے مگر حکم امتناعی کو توڑنے کے سبب جینتی پورہ اسٹیشن پر گرفتار کر لئے گئے۔ اور عدالت گورداسپور سے چار ماہ قید کی سزا پائ