1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تاریخ احمدیت ۔ جلد 5 ۔ یونی کوڈ

'تاریخ احمدیت ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تاریخ احمدیت ۔ جلد 5 ۔ یونی کوڈ

    ‏rov.5.1
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت

    سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی
    المصلح الموعود کے
    سوانح قبل از خلافت
    پہلا باب (فصل اول)
    آسمانی نوشتوں کے مطابق ولادت‘پاکیزہ بچپن‘حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفاقت میں ابتدائی سفر اور بعض دوسرے دلچسپ واقعات
    (۱۳۰۶ھ ۔ ۱۳۱۲ھ)
    (جنوری ۱۸۸۹ء سے دسمبر ۱۸۹۴ء تک)
    سیدنا و امامنا و مرشدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود (ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز و اطال اللہ بقاہ) کا دور خلافت سلسلہ خلفاء کی تاریخ میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں اس خلافت کو نوازا ہے اور اس کے ہر پہلو کو اپنی برکت کے ہاتھ سے ممسوح کیا ہے اور اس کے ساتھ غیر معمولی برکتوں اور حیرت انگیز ترقیوں اور مافوق العادت کامیابیوں کو وابستہ فرمایا ہے۔ وہ اپنی نظیر آپ ہیں !!!
    جہاں تک خلافت ثانیہ کے روحانی و مذہبی اثر و نفوذ کی وسعت کا تعلق ہے اسے ایک عالمگیر حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ حضور خود ہی فرماتے ہیں۔
    ’’میں خلیفہ ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور اس لئے خلیفہ ہوں افغانستان کے لوگوں کے لئے عرب‘ایران‘چین‘جاپان‘یورپ‘امریکہ‘افریقہ‘سماٹرا‘جاوا‘اور خود انگلستان کے لئے غرضکہ کل جہان کے لوگوں کے لئے میں خلیفہ ہوں۔ اس بارے میں اہل انگلستان بھی میرے تابع ہیں۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس پر میری مذہبی حکومت نہیں سب کے لئے یہی حکم ہے کہ میری بیعت کرکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہوں‘‘۱۔
    اس ’’عالمگیر خلافت‘‘ اور ’’مذہبی حکومت‘‘ کے ساتھ ہی حال و مستقبل میں اسلام کی ترقی اور سربلندی وابستہ ہے جیسا کہ حضور نے لکھا ہے کہ
    ’’اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے جیسا کہ ہمیشہ وہ اپنے دین کی ترقی خلفاء کے ساتھ وابستہ کیا کرتا ہے۔ پس جو میری سنے گا وہ جیتے گا۔ اور جو میری نہیں سنے گا وہ ہارے گا جو میرے پیچھے چلے گا خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر مکمل کھولے جائیں گے۔ اور جو میرے راستہ سے الگ ہو جائے گا۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر بند کر دئے جائیں گے‘‘۲۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور دوسرے خلفاء میں ایک بھاری فرق ہے۔ یہ فرق حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے الفاظ میں یہ ہے کہ
    ’’جہاں تک خلافت کا تعلق میرے ساتھ ہے اور جہاں تک اس خلافت کا ان خلفاء کے ساتھ تعلق ہے جو فوت ہو چکے ہیں۔ ان دونوں میں ایک امتیاز اور فرق ہے۔ ان کے ساتھ تو خلافت کی بحث کا علمی تعلق ہے اور میرے ساتھ نشانات خلافت کا معجزاتی تعلق ہے پس میرے لئے خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات اور اس کے زندہ معجزات اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے‘‘۳۔ان آسمانی نشانات و معجزات میں خدائی تائید و نصرت کا نشان ایسا کھلا اور واضح نشان ہے جو آج تک حضور کی زندگی کے ہر گوشہ میں ہمیشہ جلوہ فرما نظر آتا ہے۔ خلافت ثانیہ کی تاریخ ابتداء ہی سے مخالفتوں کے ہجوم میں گھری ہوئی ہے مگر اس مقدس سالار کی قیادت میں احمدیت کا قافلہ فتح و ظفر کا پرچم لہراتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور آئندہ سے متعلق بھی خدائی فیصلہ یہی ہے کہ حضور کی سرکردگی میں جماعت احمدیہ کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ چنانچہ حضور نے ایک عرصہ ہوا یہ ارشاد فرمایا تھا۔
    ’’میرے آخری سانس تک خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کے لئے غلبہ اور ترقی اور کامیابی ہی مقدر ہے اور کوئی اس الٰہی تقدیر کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس بات پر خواہ کوئی ناراض ہو۔ شور مچائے۔ گالیاں دے یا برا بھلا کہے اس سے خدائی فیصلہ میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ یہ تقدیر مبرم ہے جس کا خدا آسمان پر فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ میری زندگی کے آخری لمحات اور میرے جسم کے آخری سانس تک جماعت کا قدم ترقی کی طرف بڑھاتا چلا جائے گا۔ جس طرح خدا کی بادشاہت کو کوئی شخص بدل نہیں سکتا اسی طرح خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے وعدہ کو بھی کوئی شخص بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا یہ زمین و آسمان کے خدا کا وعدہ ہے کہ بہرحال میری زندگی میں جماعت کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ میں نہیں جانتا کہ میرے بعد کیا ہو گا۔ مگر بہرحال یہ خدائی فیصلہ ہے میری زندگی میں کوئی انسانی طاقت اس سلسلہ کی ترقی کو روک نہیں سکتی‘‘۴۔خلافت ثانیہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خلافت موعودہ ہے جس کے قیام کی بشارتیں اور پیشگوئیاں صدیوں اور قرنوں سے ہوتی چلی آرہی تھیں چنانچہ (یہود کی قدیم روایات کی کتاب) طالمود (جوزف بارکلے) میں لکھا ہے۔
    ‏descend kingdom his and die shall Messiuh( )The he that said also is ’’‘‘It۔grandson and son his to
    (طالمود بائی جوزف بارکلے باب پنجم صفحہ ۳۷ مطبوعہ لنڈن ۱۸۷۸ء)
    ترجمہ:۔ یہ بھی روایت ہے کہ مسیح (موعود) وفات پا جائیں گے اور ان کی بادشاہت ان کے بیٹے اور پوتے کو ملے گی۔
    ازاں بعد جہاں خدا تعالیٰ نے آنحضرت~صل۱~ کی زبان مبارک سے یہ خبر دی کہ آخری زمانہ میں ایک عظیم الشان روحانی مصلح مسیح موعود کے نام سے مبعوث ہو گا وہاں آپ ہی کے ذریعہ سے اس بات کا بھی اعلان کیا گیا کہ یتزوج و یولد لہ۵۔ یعنی (جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تشریح فرمائی) آنے والا مصلح اکیلا اور تنہا نہیں آئے گا۔ بلکہ خدائی منشاء کے مطابق اس کی ایک خاص شادی ہو گی۔ اور اس شادی سے خدا اسے اولاد عطا کرے گا۔ جن میں سے ایک بیٹا ایک خاص شان کا نکلے گا۔ اس کے کام کو بہت ترقی حاصل ہو گی۔ اس طرح گویا خدا نے مسیح موعود کی بعثت کے ساتھ ہی آپ کے ایک موعود فرزند کی روحانی خلافت کی بھی داغ بیل ڈال دی۔
    آنحضرت~صل۱~ کے بعد امت محمدیہ کے بعض اولیاء و صلحاء مثلاً حضرت نعمت اللہ ولی اور حضرت امام یحییٰ بن عقب رحمتہ اللہ علیہما پر بھی یہ انکشاف ہوا کہ مسیح موعود کے بعد اس کا ایک صاحب عظمت و شوکت فرزند تخت خلافت پر متمکن ہو گا۔
    ان اولیاء کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ آیا اور اس موعود فرزند کے ظہور کا وقت بھی قریب آپہنچا تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ پر اس پیشگوئی کی مزید تفصیلات ظاہر فرمائیں چنانچہ دعویٰ ماموریت کے چوتھے سال ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء کو پیدائش مصلح موعود کی بڑی صراحت سے بشارت دی گئی اور پسر موعود کی پوری زندگی اور اس کے عہد خلافت کی تاریخ کا نہایت جامع و مانع نقشہ کھینچ دیا گیا۔ یہ بشارت ان لفظوں میں تھی۔
    ’’تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہو گا خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے اس کو مقدس روح دی گئی ہے۔ اور وہ رجس سے پاک ہے۔ وہ نور اللہ ہے مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔
    اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ اور وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔ (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظھر الاول و الاخر مظھر الحق و العلاء کان اللہ نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہو گا نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے۔ اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا۔ اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ اور قومیں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا و کان امرا مقضیا‘‘۶۔
    اس پیشگوئی کے بارے میں جناب الہیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دو مزید انکشافات ہوئے۔
    اول۔ یہ کہ ایسا موعود فرزند نو برس کے اندر اندر ضرور پیدا ہو جائے گا۔ چنانچہ حضور نے اشتہار ۲۲/ مارچ ۱۸۸۶ء میں تحریر فرمایا۔
    ’’اس عاجز کے اشتہار مورخہ ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ایک پیشگوئی دربارہ تولد ایک فرزند صالح ہے جو بصفات مندرجہ اشتہار پیدا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الہی نو برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہو گا۔ خواہ جلد ہو خواہ دیر سے بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا‘‘۷۔
    دوم۔ حضرت اقدس نے ’’سبز اشتہار‘‘ میں تحریر فرمایا کہ۔
    ’’اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی۔ اور اس عبارت تک کہ ’’مبارک وہ جو آسمان سے آتا
    ‏rov.5.2
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت
    ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے آپ میں شروع ہی سے اولوالعزمی اور جلال کا رنگ بہت نمایاں تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نہایت قدیمی اور مخلص صحابی حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہ جہاں پوری اپنا ایک چشم دید واقعہ تحریر فرماتے ہیں کہ۔
    ’’اپریل یا مئی ۱۸۹۳ء کا ذکر ہے کہ میں ایک روز نماز عصر کے لئے مسجد کی طرف جارہا تھا۔ جب اس جگہ پہنچا جہاں حضرت سید احمد نور کابلی رضی اللہ عنہ کی دکان تھی۔ تو میں نے دیکھا۔ کہ اس سے شمال کی طرف چند قدم کے فاصلہ پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو اس زمانہ میں میاں صاحب یا میاں محمود کہلاتے تھے چند بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ میں آپ کو دیکھ ہی رہا تھا کہ سیدنا و مولانا حضرت مولوی نور الدینؓ بھی تشریف لے آئے اگرچہ آنجناب زمین پر اکڑو بیٹھنے کو پسند نہیں فرماتے تھے تاہم میاں صاحب کے قریب پہنچ کر اکڑو زمین پر بیٹھ گئے۔ اور آپ کو اپنے ہاتھوں کے حلقہ میں لے لیا۔ اور بڑی محبت کی نظروں سے آپ کو دیکھتے ہوئے پیار کے لہجہ میں فرمایا۔ ’’میاں آپ کھیل رہے ہیں۔‘‘ میاں نے معصومانہ نظروں سے حضرت مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور جس لہجہ میں آپ سے سوال کیا گیا تھا بالکل اسی لہجہ میں بڑی تیزی سے جواب دیا کہ ’’بڑے ہوں گے تو ہم بھی کام کریں گے۔‘‘ سیدنا حضرت مولوی صاحبؓ نے یہ جواب سن کر فرمایا کہ ’’خیال تو تمہارے پیو کا بھی یہی ہے۔ اور نور الدین کا بھی واللہ اعلم بالصواب۔‘‘ مجھے ’’پیو‘‘ کے معنے معلوم نہیں تھے اس لئے میں یہ سمجھ نہیں سکا کہ سیدنا حضرت مولوی صاحب کس امر میں کس سے متحد الخیال ہیں۔ جب سیدنا حضرت مولوی صاحب مسجد کی طرف روانہ ہوئے تو ہمراہیوں میں سے کسی سے پوچھا کہ پیو کسے کہتے ہیں تو معلوم ہوا کہ باپ کو مگر یہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی متحد الخیال ہونے والی بات میں اس وقت نہیں سمجھا تھا وہ سیدنا حضرت مولانا نور الدینؓ کے زمانہ خلافت میں مجھے معلوم ہوئی۔ فالحمدللہ
    جس زمانے کی یہ بات ہے اس زمانے میں حضرت امیر المومنین کی عمر چار سال یا اس سے کچھ تھوڑی ہی زیادہ معلوم ہوتی تھی۔ مجھے آج بھی جب اس واقعہ کا خیال آتا ہے تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اتنی چھوٹی عمر میں حضرت مولوی صاحب کا سوال کیسے سمجھا اور اس کا اتنا چیدہ و سنجیدہ اور پسندیدہ و برجستہ جواب کس طرح دیا تھا‘‘۵۱۔
    ہمارے ملک کے بچوں میں ایک دلچسپ کھیل رائج ہے۔ کہ ایک لڑکا بیٹھ جاتا ہے اور باقی سب لڑکے اس کے سر پر اوپر نیچے مٹھیاں بند کرکے رکھتے چلے جاتے ہیں آپ بھی بچپن میں یہ کھیل کھیلا کرتے تھے۔ مگر یہ بالکل ابتدائی عمر کی بات ہے ورنہ تعلیمی دور اور اس کے بعد آپ کی پسندیدہ کھیل بیڈمنٹن۵۳ اور فٹ بال تھی۔ جو اپنے زمانہ خلافت سے قبل آپ ایک عرصہ تک کھیلتے رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زندگی کے آخری دنوں میں تو آپ نے موگریاں بھی رکھی ہوئیں تھیں۵۴۔
    ان ورزشی کھیلوں کے علاوہ شکار سے بھی آپ کو رغبت تھی جس کی وجہ خود اپنے قلم سے لکھتے ہیں کہ ’’میں ابتدائی ایام سے بندوق چلانے کا شائق رہا ہوں۔ بچپن میں ہی مجھے شکار کھیلنے کا شوق تھا۔ میں شکار خود نہیں کھاتا تھا۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو لا کر دے دیتا تھا۔ آپ چونکہ دماغی کام کرتے تھے اس لئے شکار کا گوشت آپ کے لئے مفید ہوتا۔ اور آپ اسے پسند بھی فرماتے تھے۔ اس وقت مجھے اتنی مشق تھی کہ میں پانچ چھ چھرے لے جاتا اور ہوائی بندوق سے چار پانچ پرندے مار لاتا تھا۔ حالانکہ وہ بندوق بھی معمولی قسم کی ہوائی بندوق ہوتی تھی‘‘۵۵۔
    آپ کشتی رانی اور تیراکی بھی کرتے تھے۔ چنانچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک چھوٹی کشتی بھی جہلم سے منگوا کر دی تھی اور آپ کو تیرنا سکھانے کے لئے ابو سعید عرب مقرر ہوئے تھے۔ اس زمانہ میں ڈھاب بڑی وسیع تھی مگر بعد میں ڈھاب پر کرکے اکثر جگہ مکانات بن گئے۵۶۔ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب جو پہلی مرتبہ ۱۹۰۵ء میں قادیان آئے تو انہوں نے اپنی آنکھوں سے حضور کو ڈھاب میں کشتی چلاتے دیکھا ہے۵۷۔
    حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی حیات طیبہ کے آخری زمانہ میں غالباً ۱۹۰۶ء کے قریب آپ کی سواری کے لئے ایک گھوڑی بھی خریدی جو نہایت عمدہ نسل اور عمدہ قد کی جوان بچھیری تھی۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے خان عبدالمجید خاں صاحب ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کپورتھلہ (فرزند اکبر حضرت منشی محمد خان صاحبؓ) کو خط لکھا کہ یہ چالاک گھوڑی ہے اس کی بجائے کوئی اور گھوڑی بھجوائی جائے یا اس کو بیچ کر کوئی اور عمدہ گھوڑی بھجوا دیں۔ حضرت شیخ عرفانی الکبیرؓ نے مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم میں حضور کا پورا خط نقل کرنے کے بعد لکھا ہے۔ ’’اس مکتوب سے ظاہر ہے ۔۔۔۔۔ کہ حضور نے بچپن ہی سے صاحبزادوں کی تربیت ایک ایسے رنگ میں فرمائی جو ان کی آئندہ زندگی کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتا ہے۔ خصوصیت سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کی تربیت میں آپ کو خاص شغف تھا یہ گھوڑی حضرت امیر المومنین ہی کی سواری کے لئے لی گئی تھی۔ اور حضرت امیر المومنین ایک عمدہ شاہسوار ہیں‘‘۵۸۔
    سیدنا حضرت محمود بچپن میں ٹوپی پہنا کرتے تھے لیکن ایک دفعہ عید کے روز آپ نے ٹوپی پہن رکھی تھی کہ حضور نے آپ کو دیکھ کر فرمایا۔ میاں تم نے عید کے دن بھی ٹوپی پہنی ہے آپ نے اسی وقت ٹوپی اتار دی اور پگڑی باندھ لی اور کچھ عرصہ بعد ٹوپی کا استعمال ہمیشہ کے لئے ترک کر دیا۵۹۔
    آپ کا لباس ابتداء ہی سے نہایت سادہ رہا ہے۔ شروع شروع میں آپ پرانے دستور کے مطابق پاجامہ پہنا کرتے تھے۔ جو شلوار کے رواج سے پہلے عام طور پر سکولوں میں رائج تھا۔ اور شرعی پاجامہ کہلاتا تھا۔ لیکن طالب علمی کی زندگی میں آپ نے شلوار کا استعمال شروع کر دیا۔ اس تبدیلی کی بھی ایک بڑی پر لطف سرگزشت ہے جس کی تفصیل خود آپ ہی کے الفاظ میں درج کرنا زیادہ مناسب ہو گا۔ فرماتے ہیں۔
    ’’بعض لڑکوں نے مجھے کہا میں شلوار پہنا کروں۔ چنانچہ میں نے شلوار بنائی۔ مجھے خوب یاد ہے جب پہن کر میں گھر سے باہر آیا۔ تو میں نہیں سمجھتا کوئی چور یا ڈاکو بھی کوئی واردات کرکے اتنی ندامت اور شرمساری محسوس کرتا ہو گا جتنی کہ مجھے اس وقت شلوار پہننے سے محسوس ہوئی۔ میں آنکھیں نیچی کئے ہوئے بمشکل اس مکان تک جو پہلے شفا خانہ تھا اور جس میں اس وقت ڈاکٹر عبداللہ صاحب بیٹھا کرتے تھے آیا۔ بھائی عبدالرحیم صاحب اور بعض دوسرے استادوں نے اس بات کی تائید بھی کی کہ شلوار اچھی لگتی ہے۔ مگر مجھے اتنی شرم آئی کہ واپس جا کر میں نے اسے اتار دیا‘‘۶۰۔
    ایک خاص اور نمایاں وصف جو ابتدائے عمر سے آپ میں پوری شان کے ساتھ نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے زبردست محبت و عقیدت تھی کہ حد بیان سے باہر ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
    ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ رات کے وقت صحن میں سو رہے تھے کہ بادل زور شور سے گھر آئے اور بجلی نہایت زور سے کڑکی۔ وہ کڑک اس قدر شدید تھی کہ ہر شخص نے یہی سمجھا کہ گویا بالکل اس کے پاس گری ہے ۔۔۔۔۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام جو صحن میں سو رہے تھے چارپائی سے اٹھ کر کمرہ کی طرف جانے لگے دروازہ کے قریب پہنچے کہ بجلی زور سے کڑکی۔ میں اس وقت آپ کے پیچھے تھا۔ میں نے اسی وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر آپ کے سر پر رکھ دئے اس خیال سے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے آپ پر نہ گرے۔ اب یہ ایک جہالت کی بات تھی بجلیاں جس خدا کے ہاتھ میں ہیں اس کا تعلق میری نسبت آپ سے زیادہ تھا۔ بلکہ آپ کے طفیل میں بھی بجلی سے بچ سکتا تھا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ہاتھوں سے بجلی کو نہیں روکا جا سکتا۔ مگر عشق کی وجہ سے مجھے ان باتوں میں سے کوئی بات بھی یاد نہ رہی۔ محبت کے وفور کی وجہ سے یہ سب باتیں میری نظر سے اوجھل ہو گئیں اور میں نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا‘‘۶۱۔
    آپ کا جذبہ عقیدت و فدائیت اور ادب و اطاعت محض اس لئے نہیں تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے والد ماجد تھے۔ بلکہ اس لئے کہ حضور اللہ تعالیٰ کے مامور ہیں اور اس نے اپنے حکم سے آپ کو بھیجا ہے چنانچہ سیدنا حضرت امیر المومنین نے بچپن کا ایک واقعہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔
    ’’میری عمر جب ۹ یا دس برس کی تھی میں اور ایک اور طالب علم ہمارے گھر میں کھیل رہے تھے وہیں ایک الماری میں ایک کتاب پڑی تھی جس پر نیلا جزدان تھا۔ وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی نئے نئے ہم پڑھنے لگے تھے اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ اب جبرئیل نازل نہیں ہوتا۔ میں نے کہا یہ غلط ہے میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے مگر اس لڑکے نے کہا کہ جبرئیل نہیں آتا کیونکہ اس کتاب میں لکھا ہے ہم میں بحث ہو گئی۔ آخر ہم دونوں حضرت صاحب کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔ آ نے فرمایا۔ کہ کتاب میں غلط لکھا ہے جبرائیل اب بھی آتا ہے‘‘۶۲۔
    آپ کا ایک اور واقعہ بھی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
    ’’ایک دفعہ حضرت صاحب کچھ بیمار تھے۔ اس لئے جمعہ کے لئے مسجد میں نہ جا سکے۔ میں اس وقت بالغ نہیں تھا۔ کہ بلوغت والے احکام مجھ پر جاری ہوں۔ تاہم میں جمعہ پڑھنے کے لئے مسجد کو آرہا تھا۔ کہ ایک شخص مجھے ملا۔ اس وقت کی عمر کے لحاظ سے تو شکل اس وقت تک یاد نہیں رہ سکتی۔ مگر اس واقعہ کا اثر مجھ پر ایسا ہوا کہ اب تک مجھے اس شخص کی صورت یاد ہے۔ محمد بخش ان کا نام ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ان سے پوچھا آپ واپس آرہے ہیں کیا نماز ہو گئی ہے؟ انہوں نے کہا آدمی بہت ہیں مسجد میں جگہ نہیں تھی۔ میں واپس آگیا۔ میں یہ جواب سن کر واپس آگیا اور گھر میں آکر نماز پڑھ لی۔ حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا۔ مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے۔ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں بچپن سے ہی حضرت صاحب کا ادب ان کے نبی ہونے کی حیثیت سے کرتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے پوچھنے میں ایک سختی تھی اور آپ کے چہرہ سے غصہ ظاہر ہوتا تھا۔ آپ کے اس رنگ میں پوچھنے کا مجھ پر بہت ہی اثر ہوا۔ جواب میں میں نے کہا کہ میں گیا تو تھا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آگیا آپ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ لیکن اب جس وقت جمعہ پڑھ کر مولوی عبدالکریم صاحب آپ کی طبیعت کا حال پوچھنے کے لئے آئے تو سب سے پہلی بات جو حضرت مسیح موعودؑ نے آپ سے دریافت کی وہ یہ تھی۔ کہ آج لوگ مسجد میں زیادہ تھے؟ اس وقت میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ کیونکہ میں خود تو مسجد میں گیا نہیں تھا۔ معلوم نہیں بتانے والے کو غلطی لگی یا مجھے اس کی بات سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں ان کی بات سے یہ سمجھا تھا کہ مسجد میں جگہ نہیں۔ مجھے فکر یہ ہوئی کہ اگر مجھے غلط فہمی ہوئی ہے یا بتانے والے کو ہوئی ہے دونوں صورتوں میں الزام مجھ پر آئے گا۔ کہ میں نے جھوٹ بولا۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے جواب دیا۔ ہاں حضور آج واقعہ میں بہت لوگ تھے۔ میں اب بھی نہیں جانتا کہ اصلیت کیا تھی خدا نے میری بریت کے لئے یہ سامان کر دیا کہ مولوی صاحب کی زبان سے بھی اس کی تصدیق کرا دی یا فی الواقعہ اس دن غیر معمولی طور پر زیادہ لوگ آئے تھے۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہے جس کا آج تک میرے قلب پر ایک گہرا اثر ہے‘‘۶۳body] gat[۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آپ کے دل میں جس قدر ادب و احترام تھا اس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی ذاتی ضرورت کے لئے حضور سے کبھی کوئی مطالبہ اپنی زبان سے نہیں کیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ کہ۔
    ذاتی ضرورت کے لئے میں نے کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی کچھ نہیں مانگا مجھے جب کوئی ضرورت پیش آتی میں خاموش پاس کھڑا ہو جایا کرتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھ جاتے کہ اسے کوئی ضرورت ہے چنانچہ آپ ہماری والدہ صاحبہ سے کہتے کہ اسے کوئی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔ پتہ لو یہ کیا چاہتا ہے۶۴۔
    اسی ضمن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
    ’’میری عمر بہت چھوٹی تھی مگر یہ خدا کا فضل تھا کہ باجودیکہ لکھنے پڑھنے کی طرف توجہ نہ تھی جب سے ہوش سنبھالا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کامل یقین اور ایمان تھا اگر اس وقت والدہ صاحبہ کوئی ایسی بات کرتیں جو میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی شان کے شایاں نہ ہوتی تو میں یہ نہ دیکھتا کہ ان کا میاں بیوی کا تعلق ہے اور میرا ان کا ماں بچہ کا تعلق ہے ۔۔۔۔۔۔۔ حالانکہ میں کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ نہ مانگتا تھا۔ والدہ صاحبہ ہی میری تمام ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔ باوجود اس کے والدہ صاحبہ کی طرف سے اگر کوئی بات ہوتی تو مجھے گراں گزرتی۔ مثلاً خدا کے کسی فضل کا ذکر ہوتا تو والدہ صاحبہ کہتیں میرے آنے پر ہی خدا کی یہ برکت نازل ہوئی ہے اس قسم کا فقرہ میں نے والدہ صاحبہ کے منہ سے کم از کم سات آٹھ دفعہ سنا اور جب بھی سنتا گراں گزرتا۔ میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بے ادبی سمجھتا تھا۔ لیکن اب درست معلوم ہوتا ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام بھی اس فقرہ سے لذت پاتے تھے۔ کیونکہ وہ برکت اس الہام کے ماتحت ہوئی کہ یادم اسکن انت و زوجک‘‘۶۵۔
    آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہر حکم کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کیا کرتے تھے اور آپ کے اشاروں کو بھی ابتدا ہی سے خوب سمجھتے۔ چنانچہ حضرت سید فضل شاہ صاحب کا واقعہ ہے کہ۔
    ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ چوبارے کے صحن میں بیٹھے تھے اور بادام آگے رکھے تھے ۔۔۔۔۔۔ میں بادام توڑ رہا تھا کہ اتنے میں حضرت میاں بشیر الدین جن کی عمر اس وقت چار یا پانچ سال کی ہو گی۔ تشریف لائے اور سب بادام اٹھا کر جھولی میں ڈال لئے۔ حضرت اقدس نے یہ دیکھ کر فرمایا یہ میاں بہت اچھا ہے یہ زیادہ نہیں لے گا۔ صرف ایک یا دو لے گا۔ باقی سب ڈال دے گا جب حضرت صاحب نے یہ فرمایا۔ میاں نے جھٹ بادام میرے آگے رکھ دئے اور صرف ایک یا دو بادام لے کر چلے گئے۶۶۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر زندہ ایمان ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ حضور کی ہر بات صدق دل سے تسلیم کرتے تھے۔ اور اسی کی تلقین دوسروں کو بھی فرماتے۔ چنانچہ بطور مثال آپ کے قلم سے لکھا ہوا ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے۔
    ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا۔ کہ بعض دفعہ ہم تسبیح کہتے ہیں تو ایک ہی دفعہ کی تسبیح پر ہمیں خدا تعالیٰ کا اس قدر قرب حاصل ہو جاتا ہے کہ دوسرا انسان ہزاروں ہزار ویسی تسبیح کرکے بھی اس سے اتنا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ میں اس مجلس میں نہیں تھا کسی ہمارے ہم عمر نے یہ بات سن لی۔ وہ مجھے ملے تو انہوں نے تعجب سے کہا۔ پتہ نہیں اس میں کیا راز ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے معلوم نہیں کس تسبیح کا ذکر کیا۔ اس نے مجھ سے ذکر کیا تو یہ بات فوراً میرے ذہن میں آگئی کہ ایک تسبیح دل سے نکلتی ہے اور ایک تسبیح زبان سے نکلتی ہے۔ جب تسبیح دل سے نکلتی ہے تو یکدم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کہیں سے کہیں پہنچ گیا ہے اور جو تسبیح زبان سے نکلتی ہے وہ خواہ کوئی انسان ہزاروں دفعہ دہرائے وہ وہیں کا وہیں بیٹھا رہتا ہے میں نے اسے کہا میں سمجھ گیا ہوں جو تسبیح دل سے نکلتی ہے اس کا اثر فوراً ظاہر ہو جاتا ہے اور جو صرف زبان سے نکلتی ہے اس کا کوئی اثر پیدا نہیں ہوتا‘‘۶۷۔
    وہ بزرگ جنہوں نے آپ کو انتہائی بچپن کے زمانہ سے دیکھا ہے بالاتفاق یہ گواہی دیتے ہیں کہ چھوٹی عمر سے ہی آپ کو دینی باتوں سے خاص شغف اور دلچسپی رہی ہے اور اگرچہ آپ ابتداء سے بہت کمزور اور دبلے پتلے ہوتے تھے اور اکثر صحت خراب رہتی تھی مگر اس زمانہ میں بھی مذہبی باتوں میں آپ ہمیشہ بڑے ذوق و شوق سے حصہ لیتے تھے۔ اگرچہ وہ باتیں شروع شروع میں آپ کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں اور نہ آسکتی تھیں تاہم آپ کو ان سے طبعاً ایک دلی لگائو اور گہرا تعلق تھا اسی تعلق کے باعث آپ نے بالکل چھوٹی عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں جانا شروع کر دیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی آپ کو نہایت محبت کے ساتھ اپنے شہ نشین پر دائیں طرف بٹھاتے تھے۶۸۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں۔
    ’’صداقت ہمارے پاس ہے اور ہمارے کانوں میں ابھی تک وہ آوازیں گونج رہی ہیں جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے براہ راست سنیں میں چھوٹا تھا مگر میرا مشغلہ یہی تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مجلس میں بیٹھا رہتا اور آپ کی باتیں سنتا ۔۔۔۔۔ ہم نے اس قدر مسائل سنے ہوئے ہیں کہ جب آپ کی کتابوں کو پڑھا جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام باتیں ہم نے پہلے سنی ہوئی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو عادت تھی کہ آپ دن کو جو کچھ لکھتے دن اور شام کی مجلس میں آکر بیان کر دیتے اس لئے آپ کی تمام کتابیں ہم کو حفظ ہیں اور ہم ان مطالب کو خوب سمجھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی منشا اور آپ کی تعلیم کے مطابق ہوں‘‘۶۹۔
    حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیلؓ سے مروی ہے کہ ’’حضرت صاحب ایک دفعہ سالانہ جلسہ پر تقریر کرکے واپس گھر تشریف لائے تو حضرت میاں صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) سے جن کی عمر اس وقت ۱۰۔ ۱۲ سال کی ہو گی پوچھا کہ میاں یاد بھی ہے کہ آج میں نے کیا تقریر کی تھی۔ میاں صاحب نے اس تقریر کو اپنی سمجھ اور حافظہ کے موافق دہرایا۔ تو حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے خوب یاد رکھا ہے‘‘۷۰۔
    آپ کے عہد طفولیت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ نظر آتی ہے کہ آپ کو چھوٹی عمر سے ہی نماز پڑھنے اور لمبی لمبی دعائیں کرنے کا بے حد شوق تھا۔ دراصل آپ روزانہ اپنی آنکھوں سے قبولیت دعا کے تازہ بتازہ نشانات اور معجزات مشاہدہ کرتے تھے جنہوں نے آپ کو رفتہ رفتہ معرفت‘بصیرت‘اور یقین و ایمان کی مستحکم چٹان پر کھڑا کر دیا تھا۔ خود فرماتے ہیں۔
    ’’ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائوں کی قبولیت کے ایسے نشان دیکھے ہیں کہ ان کے دیکھنے کے بعد خدا تعالیٰ کے وجود میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ پھر خود اپنی ذات میں بھی اس نشان کا مشاہدہ کیا ہے اور بارہا حیرت انگیز ذرائع سے دعائوں کو قبول ہوتے دیکھا ہے‘‘]01 [p۷۱۔
    اس سلسلہ میں بطور نمونہ بچپن کے تین واقعات ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔
    ۱۔ حضرت مفتی محمد صادقؓ کی چشم دید شہادت ہے کہ۔
    ’’چونکہ عاجز نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بیعت ۱۸۹۰ء کے اخیر میں کر لی تھی۔ اور اس وقت سے ہمیشہ آمدورفت کا سلسلہ متواتر جاری رہا۔ میں حضرت اولوالعزم مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کو ان کے بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ کس طرح ہمیشہ ان کی عادت حیا اور شرافت اور صداقت اور دین کی طرف متوجہ ہونے کی تھی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دینی کاموں میں بچپن سے ہی ان کو شوق تھا نمازوں میں اکثر حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ جامع مسجد میں جاتے اور خطبہ سنتے۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے جب آپ کی عمر دس سال کے قریب ہو گی آپ مسجد اقصیٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نماز میں کھڑے تھے اور پھر سجدہ میں بہت رو رہے تھے بچپن سے ہی آپ کو فطرتاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ خاص تعلق محبت تھا‘‘۷۲۔
    ۲۔
    اسی نوعیت کا ایک ایمان افروز واقعہ حضرت شیخ غلام احمد واعظ بھی بیان فرمایا کرتے تھے کہ۔
    ’’ایک دفعہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ آچ کی رات مسجد مبارک میں گزاروں گا۔ اور تنہائی میں اپنے مولیٰ سے جو چاہوں گا مانگوں گا۔ مگر جب میں مسجد میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص سجدے میں پڑا ہوا ہے اور الحاح سے دعا کر رہا ہے۔ اس کے اس الحاح کی وجہ سے میں نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ اور اس شخص کی دعا کا اثر مجھ پر بھی طاری ہو گیا۔ اور میں بھی دعا میں محو ہو گیا اور میں نے یہ دعا کی کہ یا الٰہی یہ شخص جو تیرے حضور سے جو کچھ مانگ رہا ہے وہ اس کو دے دے اور میں کھڑا کھڑا تھک گیا۔ کہ یہ شخص سر اٹھائے تو معلوم کروں کہ کون ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے وہ کتنی دیر سے آئے ہوئے تھے۔ مگر جب آپ نے سر اٹھایا۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں محمود احمد صاحب ہیں۔ میں نے السلام علیکم کی اور مصافحہ کیا۔ اور پوچھا میاں آج اللہ تعالیٰ سے کیا کچھ لے لیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو یہی مانگا ہے کہ الٰہی مجھے میری آنکھوں سے اسلام کو زندہ کرکے دکھا۔ اور یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے‘‘۷۳۔
    ۳۔ حضرت شیخ محمد اسمعیل سرسادیؓ۷۴ کا بیان ہے کہ۔
    ہم نے اپنی آنکھوں سے آپ کے بچپن کو دیکھا اور پھر اسی بچپن میں آپ کے ایثار اور آپ کی نیکی اور تقویٰ کو خوب دیکھا۔ ہم نے دیکھا کہ آپ کے قلب میں دین کا ایک جوش موجزن تھا۔ اور بچپن ہی سے آپ دعائوں میں اس قدر محو اور غرق ہوتے تھے کہ ہم تعجب سے دیکھا کرتے تھے کہ یہ جوش ہم میں کیوں نہیں۔ آپ بعض وقت دعا میں ایسے محو ہوتے تھے کہ ہم ہاتھ اٹھائے اٹھائے تھک جاتے تھے لیکن آپ کو اپنی محویت میں اس قدر بھی معلوم نہ رہتا کہ کس قدر وقت گزر گیا ہے چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سورج گرہن کی نماز پڑھنے کے لئے ہم مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئے نماز مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے پڑھائی اور نماز کے بعد مولوی صاحب نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے عرض کی کہ ’’میاں آپ دعا شروع کریں۔‘‘ آپ نے دعا شروع فرمائی۔ مگر آپ اس دعا میں ایسے محو ہوئے کہ آپ کو یہ خبر ہی نہ رہی کہ میرے ساتھ اور لوگ بھی دعا میں شریک ہیں دعا میں جس قدر لوگ شامل تھے ان کے ہاتھ اٹھے اٹھے اس قدر تھک گئے کہ وہ شل ہونے کے قریب ہو گئے۔ اور کئی کمزور صحت۷۵4] [rtf کے لوگ تو پریشان ہو گئے۔ تب مولوی محمد احسن صاحب نے جو خود بھی تھک چکے تھے دعا کے خاتمہ کے الفاظ بلند آواز میں کہنے شروع کئے جسے سن کر آپ نے دعا ختم فرمائی۷۶۔
    حضرت شیخ محمد اسمعیلؓ نے اپنے اس بیان میں مزید یہ لکھا ہے کہ۔
    ’’ہم نے بارہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے سنا ہے۔ ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار سنا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ لڑکا جس کا پیشگوئی میں ذکر ہے وہ میاں محمود ہی ہیں اور ہم نے آپ سے یہ بھی سنا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ’’میاں محمود میں اس قدر دینی جوش پایا جاتا ہے کہ میں بعض اوقات ان کے لئے خاص طور پر دعا کرتا ہوں‘‘۷۷۔
    حضرت مسیح موعودؑ کی بعض ابتدائی کتابوں میں آپ کا ذکر مبارک سیدنا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی عمر بمشکل دو سال کی ہو گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۱ء کے آغاز میں دعویٰ مسیحیت کا اعلان فرمایا۔ حضور نے اسی سال سے جہاں اپنے دعاوی کے ثبوت میں دوسرے زبردست نشانات پبلک کے سامنے رکھنے شروع کئے وہاں آپ نے التزام کے ساتھ پیشگوئی متعلقہ پسر موعود کی بھی بار بار منادی کرنا شروع کر دی۔ اور اپنی کتابوں میں بڑے زور شور سے تمام لوگوں کو توجہ دلانے لگے کہ پسر موعود سے متعلق آسمانی نشان کو بھی یاد رکھیں کہ یہ آپ کی سچائی اسلام کی سچائی اور محمد رسول اللہﷺ~ کی سچائی پر ایک عظیم الشان برہان ہے۔ چنانچہ ۱۸۹۱ء سے ۱۸۹۴ء تک کے زمانے میں آپ نے جو کتابیں تصنیف فرمائیں ان میں سے ’’ازالہ اوہام‘‘۔ ’’نشان آسمانی‘‘۔ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ اور ’’سر الخلافہ‘‘۷۸ میں پسر موعود کا ذکر بھی بڑی وضاحت سے موجود ہے۔
    چنانچہ ’’ازالہ اوہام‘‘ میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا۔
    ’’خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذریت سے ایک شخص پیدا ہو گا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہو گی۔ وہ آسمان سے اترے گا۔ اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دے گا۔ وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا۔ اور ان کو جو شبہات کے زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دے گا۔ فرزند دلبند گرامی اراجمند مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء لیکن یہ عاجز ایک خاص پیشگوئی کے مطابق جو خدا تعالیٰ کی مقدس کتابوں میں پائی جاتی ہے مسیح موعود کے نام پر آیا ہے۔ واللہ اعلم و علمہ احکم‘‘۷۹۔
    ’’نشان آسمانی‘‘ میں حضرت نعمت اللہ ولی~رح~ کے قصیدہ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا۔
    دور اوچوں شود تمام بکام
    پسرش یادگار مے بینم
    یعنی جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا تو اس کے نمونہ پر اس کا لڑکا یادگار رہ جائے گا یعنی مقدریوں ہے کہ خدا تعالیٰ اس کو ایک لڑکا پارسا دے گا جو اس کے نمونہ پر ہو گا اور اسی کے رنگ سے رنگین ہو جائے گا۔ اور وہ اس کے بعد اس کا یادگار ہو گا۔ یہ درحقیقت اس عاجز کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو ایک لڑکے کے بارے میں کی گئی ہے‘‘۸۰۔
    ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ (تصنیف ۱۸۹۲ء) میں حضور نے صرف ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء کا مکمل اشتہار شامل کر دیا بلکہ پیشگوئی متعلقہ مصلح موعود کا عربی ترجمہ بھی شائع فرمایا تا دنیائے عرب تک بھی اصل پیشگوئی کے الفاظ پہنچ جائیں۔ اور اتمام حجت ہو۔ چنانچہ حضور نے اس کتاب میں عربی میں پیشگوئی کے الفاظ لکھنے کے بعد تحریر فرمایا۔
    ’’قد اخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان المسیح الموعود یتزوج ویولدلہ ففی ھذا اشارہ الی ان اللہ یعطیہ ولدا صالحا یشابہ اباہ ولا یا باہ و یکون من عباداللہ المکرمین والسر فی ذلک ان اللہ لا یبشر الانبیاء و الاولیاء بذریہ الا اذا قدر تولید الصالحین وھذہ ھی البشارہ التی قد بشرت بھا من سنین ومن قبل ھذہ الدعوی لیعر فنی اللہ بھذا العلم فی اعین الذین یستشرفون و کانوا للمسیح کالمجلوذین۔‘‘
    ترجمہ: رسول اللہ~صل۱~ نے خبر دی ہے کہ مسیح موعود شادی کرے گا اور اس کے ہاں اولاد ہو گی اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے نیک لڑکا عطا کرے گا جو اپنے باپ کے مشابہ ہو گا۔ اور (کسی بات میں) اس کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے معزز بندوں میں سے ہو گا۔ اور اس میں بھید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء اور اولیاء کو بشارت نہیں دیتا مگر جبکہ اس نے نیکوں کو پیدا کرنا مقدر کیا ہو۔ اور یہ وہ بشارت ہے جو مجھے اس دعویٰ سے کئی سال پہلے دی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس علم کے ساتھ ان لوگوں کے سامنے (جو انتظار کرتے تھے اور مسیح کے جلدی ظہور کے لئے چشم براہ تھے) متعارف کرا دے۸۱۔
    ‏rov.5.3
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت
    پہلا باب (فصل دوم)
    تعلیم قرآن اور آمین ’’مدرسہ تعلیم الاسلام‘‘ میں ظاہری تعلیم‘پہلی شادی ’’انجمن ہمدردان اسلام‘‘ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ اور شعر و سخن کا آغاز
    (۱۳۱۲ ھ ۔ ۱۳۲۲ھ)
    (۱۸۹۵ء سے ۱۹۰۴ء تک)
    تعلیم قرآن ۱۸۹۵ء
    سیدنا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تعلیم قرآن کی ابتدا ۱۸۹۵ء میں ہوئی۸۲۔ حافظ احمد اللہ صاحب ناگپوری کو یہ سعادت حاصل ہوئی۔ کہ انہوں نے آپ کو (سادہ) قرآن شریف پڑھایا۸۳۔
    ’’انجام آتھم‘‘ میں ذکرحضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ۱۸۹۷ء میں ’’انجام آتھم‘‘ بھی شائع فرمایا تو اس کے ضمیمہ میں امیر المومنین حضرت سیدنا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی پیدائش کو سبز اشتہار کی پیشگوئی کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے نشان قرار دیتے ہوئے تحریر فرمایا۔
    ’’محمود جو بڑا لڑکا ہے اس کی پیدائش کی نسبت اس سبز اشتہار میں صریح پیشگوئی معہ محمود کے نام کے موجود ہے پہلے لڑکے کی وفات کے بارے میں شائع کیا گیا تھا جو رسالہ کی طرح کئی ورق کا اشتہار سبز رنگ کے ورقوں پر ہے‘‘۸۴۔
    ’’سراج منیر‘‘ میں ذکر
    اسی سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’سراج منیر‘‘ میں بھی سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کو سبز اشتہار کا موعود قرار دیا۔ اور علماء و خواص مسلم و غیر مسلم دنیا کو توجہ دلائی۔
    ’’پانچویں پیشگوئی میں نے اپنے لڑکے محمود کی پیدائش کی نسبت کی تھی کہ وہ اب پیدا ہو گا۔ اور اس کا نام محمود رکھا جائے گا اور اس پیشگوئی کی اشاعت کے لئے سبز ورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے جو اب تک موجود ہیں اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کی میعاد میں پیدا ہوا۔ اور اب نویں سال میں ہے‘‘۸۵۔
    اور حاشیہ میں تحریر فرمایا۔
    ’’ہاں سبز اشتہار میں صریح لفظوں میں بلا توقف لڑکا پیدا ہونے کا وعدہ تھا سو محمود پیدا ہو گیا۔ کس قدر یہ پیشگوئی عظیم الشان ہے۔ اگر خدا کا خوف ہے تو پاک دل کے ساتھ سوچو۔‘‘۸۶
    ’’محمود کی آمین‘‘
    ۷/ جون ۱۸۹۷ء کا دن نہ صرف سیدنا محمود کی زندگی میں بلکہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک یادگار دن ہے کیونکہ اس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے ختم قرآن مجید کی فرحت خیز و مسرت انگیز تقریب بڑے وقار اور دعائوں کے ماحول میں منائی اس اجتماع میں جماعت کے بہت سے دوستوں نے شرکت کی چنانچہ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء میں اس کا ذکر یوں کیا گیا ہے۔ ’’دوسرا جلسہ حضور کے لخت جگر جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد سلمہ اللہ کے ختم قرآن کی تقریب پر ہوا۔ اس جلسہ پر بھی بہت سے احباب تشریف لائے‘‘۸۷۔
    حضرت حافظ احمد اللہ خان صاحب ناگپوری فرماتے تھے کہ ختم قرآن کی تقریب پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے ڈیڑھ سو روپیہ عنایت فرمایا تھا۸۸۔
    اس موقعہ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک منظوم ’’آمین‘‘ لکھی جس میں اپنی تمام مبشر اولاد کے لئے عموماً اور حضرت محمود (ایدہ اللہ تعالیٰ) کے لئے خصوصاً نہایت درد و سوز اور الحاح و زاری سے دعائیں کیں اور اس فضل ربانی پر جو ختم قرآن کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اپنے آسمانی آقا کا تہ دل سے شکر ادا کیا اور اس کی حمد و ثنا کے خوب گیت گائے۔ جیسا کہ محمود کی آمین کے مندرجہ ذیل اشعار سے ظاہر ہے۔
    کیونکر ہو شکر تیرا تیرا ہے جو ہے میرا
    تو نے ہر اک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا
    جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    تو نے یہ دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا
    دل دیکھ کر یہ احسان تیری ثنائیں گایا
    صد شکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا
    یہ روزکر مبارک سبحان من یرانی
    ہو شکر تیرا کیونکر اے میرے بندہ پرور
    تو نے مجھے دئیے ہیں یہ تین تیرے چاکر
    تیراہوں میں سراسر تو میرا رب اکبر
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی۸۹
    سن میرے پیارے باری میری دعائیں ساری
    رحمت سے ان کو رکھنا میں تیرے منہ کے واری
    اپنی پنہ میں رکھیو سن کر یہ میری زاری
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    اے واحدیگانہ اے خالق زمانہ!
    میری دعائیں سن لے اور عرض چاکرانہ
    تیرے سپرد تینوں دیں کے قمر بنانا
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    فکروں میں دل حزیں ہے جاں درد سے قریں ہے
    جو صبر کی تھی طاقت اب مجھ میں وہ نہیں ہے
    ہر غم سے دور رکھنا تو رب عالمیں ہے
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی۹۰
    یہ تینوں تیرے بندے رکھیو نہ ان کو گندے
    کر ان سے دور یا رب دنیا کے سارے پھندے
    چنگے رہیں ہمیشہ کریو نہ ان کو مندے
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    اے میرے دل کے پیارے اے مہرباں ہمارے
    کر ان کے نام روشن جیسے کہ ہیں ستارے
    یہ فضل کر کہ ہویں نیکو گہر یہ سارے
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    اے میری جاں کے جانی اے شاہ دو جہانی
    کر ایسی مہربانی ان کا نہ ہووے ثانی
    دے بخت جاودانی اور فیض آسمانی
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    میری دعائیں ساری کریو قبول باری
    میں جائوں تیرے واری کر تو مدد ہماری
    ہم تیرے در پہ آئے لے کر امید بھاری
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی
    لخت جگر ہے میرا محمود بندہ تیرا
    دے اس کو عمر و دولت کر دور ہر اندھیرا
    دن ہوں مرادوں والے پر نور ہو سویرا
    یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی۹۱
    مقدمہ مارٹن کلارک سے بریت کی بشارت
    سیدنا حضرت محمود فرماتے ہیں۔ ’’جن دنوں کلارک کا مقدمہ تھا ۔۔۔۔۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جب اوروں کے لئے کہا تو مجھے بھی کہا کہ دعا اور استخارہ کرو۔ میں نے اس وقت رئویا میں دیکھا کہ ہمارے گھر کے اردگرد پہرے لگے ہوئے ہیں۔ میں اندر گیا جہاں سیڑھیاں ہیں وہاں ایک تہہ خانہ ہوتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کو وہاں کھڑا کرکے آگے اپلے چن دئیے گئے ہیں اور ان پر مٹی کا تیل ڈال کر کوشش کی جارہی ہے کہ آگ لگا دیں۔ مگر جب دیا سلائی سے آگ لگاتے ہیں تو آگ نہیں لگتی۔ وہ بار بار آگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر کامیاب نہیں ہوتے۔ میں اس سے بہت گھبرایا۔ لیکن جب میں نے اس دروازہ کی چوکھٹ کی طرف دیکھا تو وہاں لکھا تھا کہ ’’جو خدا کے بندے ہوتے ہیں ان کو کوئی آگ نہیں جلا سکتی‘‘۹۲۔
    چنانچہ اس خواب کے عین مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاف بری کر دئے گئے۹۳۔
    سفر ملتان
    آخر ۱۸۹۷ء میں سیدنا حضرت محمود سلمہ الودود نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ملتان کا سفر فرمایا۔ اس سفر کے صرف دو واقعات آپ کو یاد ہیں جن کی تفصیل خود آپ ہی کے الفاظ میں یہ ہے۔
    ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ واپسی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام لاہور میں ٹھہرے۔ وہاں ان دنوں مومی تصویریں دکھائی جا رہی تھیں۔ جن سے مختلف بادشاہوں اور ان کے درباروں کے حالات بتائے جاتے تھے۔ شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش دیر ہائوس ۔۔۔۔۔۔ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عرض کیا کہ یہ ایک علمی چیز ہے آپ اسے دیکھنے کے لئے تشریف لے چلیں۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ پر زور دینا شروع کر دیا۔ کہ میں چل کر وہ مومی مجسمے دیکھوں۔ میں چونکہ بچہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پیچھے پڑ گیا۔ کہ مجھے یہ مجسمے دکھائے جائیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام میرے اصرار پر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ مختلف بادشاہوں کے حالات تصویروں کے ذریعہ دکھائے گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسرا واقعہ جو مجھے یاد ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی لاہور کے اندر کسی نے دعوت کی اور آپ اس میں شامل ہونے کے لئے تشریف لے گئے۔ کچھ اثر میرے دل پر یہ بھی ہے کہ دعوت نہیں تھی۔ بلکہ مفتی محمد صادق یا ان کا کوئی بچہ بیمار تھا۔ اور آپ انہیں دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۹۴۔ بہرحال شہر کے اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام واپس آرہے تھے کہ سنہری مسجد کی سیڑھیوں کے پاس میں نے ایک بہت بڑا ہجوم دیکھا جو گالیاں دے رہا تھا ایک شخص ان کے درمیان کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی گاڑی پاس سے گزری۔ تو ہجوم کو دیکھ کر میں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی میلہ ہے چنانچہ میں نے نظارہ دیکھنے کے لئے گاڑی سے اپنا سر باہر نکالا۔ اس وقت کا یہ واقعہ مجھے آج تک نہیں بھولا۔ کہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص جس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا اور جس پر ہلدی کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ بڑے جوش سے اپنے ٹنڈے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار مار کر کہتا جا رہا تھا۔ ’’مرزا دوڑ گیا۔ مرزا دوڑ گیا۔‘‘ اب دیکھو ایک شخص زخمی ہے اس کے ہاتھ پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ مگر وہ مخالفت کے جوش میں یہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے ٹنڈے ہاتھ سے ہی نعوذ باللہ احمدیت کو دفن کر آئوں گا‘‘۹۵۔
    تعلیم الاسلام سکول میں داخلہ
    ۱۸۹۸ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام کا افتتاح ہوا۔ اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ ایڈیٹر الحکم اس کے پہلے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ آپ بھی اس مدرسہ میں داخل ہو گئے۔ اس سے پہلے آپ کچھ عرصہ تک ڈسٹرکٹ بورڈ کے لوئر پرائمری سکول میں بھی پڑھتے رہے تھے۹۶۔ یہ سکول غالباً ۴۱۔ ۱۹۴۰ء تک قائم رہا پھر توڑ دیا گیا۔ مگر اس کی شکستہ عمارت جس کی چار دیواری گر چکی ہے ابھی تک ریتی چھلہ کے قریب موجود ہے۔ اس سکول میں ابتداًء حضرت پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی بھی مدرس رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد تھا کہ ’’میاں کو بھی سکول لے جایا کرو‘‘۔ اور حضرت پیر صاحب اس ارشاد کی تعمیل میں آپ کو اسکول لے جایا کرتے تھے۹۷۔
    تعلیم الاسلام سکول کا افتتاح کس رنگ سے ہوا۔ اور اس کی ابتدائی حالت کیا تھی اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
    ’’مجھے یاد ہے ہمارا وہ ہائی سکول جس کی اب ایسی عظیم الشان عمارت کھڑی ہے کہ معائنہ کرنے والے انسپکٹر کہتے ہیں پنجاب بلکہ ہندوستان میں کسی سکول کی ایسی عمارت نہیں اس کا جب پہلے دن افتتاح ہوا۔ تو مرزا نظام الدین صاحب کے کوئیں کے پاس ٹاٹ بچھا کر لڑکے بٹھائے گئے۔ پھر کچھ دنوں تک لڑکے مہمان خانہ میں بٹھائے گئے۔ پھر ایک کچا مکان بنایا گیا تھا‘‘۹۸۔
    ہم مکتب
    سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کے بعض ہم مکتب یہ ہیں۔
    حافظ عبدالرحیم صاحب مالیر کوٹلہؓ۔ قاضی نور محمد صاحبؓ۔ محمد علی صاحب اشرفؓ (حکیم)۔ دین محمد صاحب پنشنر اکائونٹنٹ۹۹۔ شیخ محمد حسین صاحب چنیوٹی۔
    اساتذہ کرام
    ’’مدرسہ تعلیم الاسلام‘‘ کے زمانہ تعلیم میں آپ نے جن اساتذہ سے پڑھا۔ ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔
    ۱۔ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ۱۰۰۔ (۲) حضرت قاضی سید امیر حسینؓ۱۰۱۔ (۳) حضرت مولانا سید محمد سرور شاہؓ۱۰۲۔ (۴) حضرت مولانا شیر علیؓ۱۰۳۔ (۵) حضرت ماسٹر عبدالرحمن نو مسلم ؓ۱۰۴۔ (۶) مفتی محمد صادقؓ۱۰۵۔ (۷) ماسٹر فقیر اللہ صاحب۱۰۶۔ (۸) قاضی یار محمد صاحب پلیڈر۔
    دور تعلیم سے متعلق حضرت مولانا سید محمد سرور شاہؓ صاحب کے تاثرات
    آپ کا دور تعلیم کیسا پاکیزہ اور اخلاق و روحانیت سے کتنا معمور تھا؟ یہ معلوم کرنے کے لئے آپ کے بعض اساتذہ کے تاثرات معلوم ہوناضروری امر ہے۔
    حضرت مولانا سید محمد سرور شاہؓ صاحب کا بیان ہے کہ جب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ مجھ سے پڑھا کرتے تھے۔ تو ایک دن میں نے کہا کہ میاں! آپ کے والد صاحب کو تو کثرت سے الہام ہوتے ہیں کیا آپ کو بھی الہام ہوتا اور خوابیں وغیرہ آتی ہیں؟ تو میاں صاحب نے فرمایا کہ مولوی صاحب! خوابیں تو بہت آتی ہیں۔ اور میں ایک خواب تو تقریباً روز ہی دیکھتا ہوں اور جونہی میں تکیہ پر سر رکھتا ہوں اس وقت سے لے کر صبح کو اٹھنے تک یہ نظارہ دیکھتا ہوں کہ ایک فوج ہے جس کی میں کمان کر رہا ہوں اور بعض اوقات ایسا دیکھتا ہوں کہ سمندروں سے گزر کر آگے جا کر حریف کا مقابلہ کر رہا ہوں اور کئی بار ایسا ہوا ہے کہ اگر میں نے پار گزرنے کے لئے اور کوئی چیز نہیں پائی۔ تو سر کنڈے وغیرہ سے کشتی بنا کر اور اس کے ذریعہ پار ہو کر حملہ آور ہو گیا ہوں میں نے جس وقت یہ خواب آپ سے سنا اسی وقت سے میرے دل میں یہ بات گڑی ہوئی ہے کہ یہ شخص کسی وقت ¶یقیناً جماعت کی قیادت کرے گا۔ اور میں نے اسی وجہ سے کلاس میں کرسی پر بیٹھ کر آپ کو پڑھانا چھوڑ دیا۔ آپ کو اپنی کرسی پر بٹھاتا اور خود آپ کی جگہ بیٹھ کر آپ کو پڑھاتا اور میں نے خواب سن کر آپ سے یہ بھی عرض کر دیا تھا کہ ’’میاں آپ بڑے ہو کر مجھے بھلا نہ دیں۔ اور مجھ پر بھی نظر شفقت رکھیں‘‘۔۱۰۷ (بروایت حضرت حافظ مختار احمد صاحب)
    حضرت مولانا شیر علیؓ کے تاثرات
    اس سلسلہ میں حضرت مولانا مولوی شیر علیؓ کے تاثرات جو آپ نے ایک مفضل مضمون کی شکل میں شائع فرمائے تھے خاص اہمیت رکھتے ہیں اور ان سے سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی سیرت و شمائل اور اخلاق و عادات پر گہری روشنی پڑتی ہے یہ تاثرات ایسے مقدس بزرگ و حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے جلیل القدر صحابی کے ہیں جنہیں سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کے بچپن اور جوانی کے اکثر حالات اپنی آنکھوں سے مشاہدہ و ملاحظہ کرنے اور بہت قریب سے آپ کی عظیم شخصیت کے مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا تھا۔ حضرت مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’مئی ۱۸۹۹ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام کا چارج لینے کے بعد جلدی ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کے ارشاد کے ماتحت حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت جبکہ آپ کی عمر ۱۰ سال کی تھی بندہ کے پاس انگریزی پڑھنی شروع کی پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مکان میں جو دارالمسیح الموعود کے متصل اس جگہ واقع تھا جہاں آج کل نواب صاحب کا مکان ہے رہتا تھا جب تک میں اس مکان میں رہا حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ اس مکان میں پڑھنے کے لئے تشریف لاتے رہے اس کے بعد میں خود حضور کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا اور یہ خدمت بندہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری دس سال میں برابر ادا کرتا رہا۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد یہ سلسلہ حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ کے شش سالہ دور خلافت میں بھی جاری رہا …گویا حضور کا سارا بڑھنا اور پھولنا اور بابرگ و بار ہونا میری آنکھوں کے سامنے ہوا۔ آپ ایک نازک پتیوں والے چھوٹے پودے کی طرح تھے جبکہ میں نے پہلی دفعہ حضور کو دیکھا اور یہ پودا میرے دیکھتے دیکھتے جلد جلد بڑھا اور پھول پھل لایا۔ اور وہ حیرت انگیز ترقی کی جس کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی اور انسان کی عقل دنگ ہو جاتی ہے اگر کوئی قابل انشاء پرداز ہوتا تو وہ شاید اس حیرت انگیز ترقی کا نقشہ کھینچنے کی کچھ کوشش کرتا۔ لیکن میں تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتا۔ کہ اس بات کی شہادت دوں کہ جو کچھ خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں آپ کی نسبت پہلے سے خبر دی گئی تھی۔ اس کو میں نے اپنی آنکھوں سے لفظ بلفظ پورا ہوتا دیکھ لیا مجھے اپنی زبان کی کمزوری اور قلم کی ناتوانی پر افسوس آتا ہے جو صحیح نقشہ ناظرین کے سامنے پیش کرنے سے عاجز ہوں لیکن میں اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کچھ بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ و ھو الموفق۔
    ’’میں نے بچپن سے ہی حضور میں سوائے اوصاف حمیدہ اور خصائل محمودہ کے کچھ نہیں دیکھا۔ ابتداء میں ہی آپ میں نیکی کے انوار اور تقویٰ کے آثار پائے جاتے تھے۔ جو آپ کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اور زیادہ نمایاں ہوتے گئے۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص میرے اس بیان کو خوش اعتقادی پر محمول کرے اس لئے میں آپ کے بچپن کی ایک بات کا ذکر کرتا ہوں جس سے ناظرین خود حقیقت کا کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ آپ کو بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یہ ہدایت فرمائی تھی کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی کھانے پینے کی چیز نہ لینا۔ یہ ایک ہدایت تھی جو حضرت اقدس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے بچہ کو دی۔ اب دیکھئے کہ وہ خورد سال بچہ حضرت اقدسؑ کی اس ہدایت کی کس طرح تعمیل کرتا ہے۔ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ابتداء میں حضور بندہ کے مکان پر پڑھنے کے لئے تشریف لاتے تھے اور وہ مکان حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ہی مکان تھا جو حضور کے رہائشی مکان کے بالکل متصل بلکہ حضور کے گھر کے ساتھ ملحق تھا۔ ہم غالباً ۳ سال اس مکان میں رہے اور اس تمام عرصہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بندہ کے پاس پڑھنے کے لئے تشریف لاتے اور جب کبھی آپ کو پیاس لگتی۔ تو آپ اٹھ کر اپنے گھر تشریف لے جاتے اور اپنے گھر سے پانی پی کر پھر واپس تشریف لاتے۔ خواہ کیسا ہی مصفا پانی کیسے ہی صاف ستھرے برتن میں بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا آپ اسے نہ پیتے۔ صرف اس لئے کہ حضرت اقدس علیہ الصلٰوۃ والسلام کی طرف سے آپ کو ہدایت تھی کہ کسی کے ہاتھ سے کوئی کھانے پینے کی چیز نہ لینا اب بظاہر تو یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا آئینہ ہے جس میں ہمیں حضور کی اس وقت کی شکل صحیح رنگ میں نظر آسکتی ہے۔ اول دیکھئے کہ حضور اس بچپن کے زمانے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی کیسی کامل اطاعت کرتے اور کبھی بھی اس کی خلاف ورزی نہ کرتے۔ دوسرے دیکھئے کہ وہ اس اطاعت میں کس درجہ کی احتیاط سے کام لیتے۔ بظاہر حضرت اقدسؑ نے جب فرمایا کہ کسی کے ہاتھ سے کھانے پینے کی چیز نہ لینا۔ تو حضرت اقدسؑ کی مراد ایسی چیزوں سے تھی جو لوگ بچوں کو اپنی محبت اور پیار کے اظہار کے لئے دیتے ہیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ کسی کے برتن سے پانی بھی نہ پینا۔ مگر آپ کی احتیاط اس درجہ کی تھی کہ آپ اپنے گھر کے سوا قادیان میں کسی اور گھر سے کسی گھڑے یا صراحی سے پانی لے کر پینا بھی حضرت اقدس علیہ السلام کے حکم کی خلاف ورزی ہی سمجھتے تھے۔ یہی حد درجہ کی احتیاط ہے۔ جسے دوسرے لفظوں میں تقویٰ کہتے ہیں۔ پس آپ کے اسی عمل سے ثابت ہوتا ہے۔ کہ آپ بچپن میں ہی اطاعت اور تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن تھے۔ اور یہی بیج تھا جو آپ کی عمر کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا گیا اور زیادہ واضح اور زیادہ نمایاں شکل میں کمال کے آخری مرتبہ تک پہنچ گیا۔ یہ پانی کا واقعہ ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ ہوا۔ اور حضور ہمیشہ اطاعت کے اصول پر مضبوطی سے قائم رہے۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ خیال کرے کہ شاید حجاب کی وجہ سے آپ ہمارے گھر سے پانی پینے سے اجتناب فرماتے مگر ایسا نہیں تھا۔ آپ بے تکلفی سے ہمارے گھر میں رہتے اور حضور کی خوش خلقی اور خوش طبعی کی باتیں اس وقت تک بندہ کے گھر سے نہایت محبت کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔ اور جب حضور کے منصب خلافت پر سرفراز ہونے کے بعد بندہ کے گھر سے بیعت کے لئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور نے اس وقت کے بچپن کے واقعات ان کو یاد دلائے۔ کیونکہ حضور کا حافظہ بہت مضبوط ہے‘‘۱۰۸۔
    ’’حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طالب علمی کا ایک اور واقعہ لکھتا ہوں اس سے بھی آپ کی قلبی کیفیت پر روشنی پڑتی ہے۔ ایک دن کچھ بارش ہو رہی تھی۔ مگر زیادہ نہ تھی۔ بندہ وقت مقررہ پر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سیڑھیوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ حضور نے دروازہ کھولا بندہ اندر آکر برآمدہ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ آپ کمرہ میں تشریف لے گئے میں نے سمجھا کہ کتاب لے کر باہر برآمدہ میں تشریف لائیں گے۔ مگر جب آپ کے باہر تشریف لانے میں کچھ دیر ہو گئی۔ تو میں نے اندر کی طرف دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ آپ فرش پر سجدہ میں پڑے ہوئے ہیں میں نے خیال کیا کہ آج بارش کی وجہ سے شاید آپ سمجھتے تھے کہ میں حاضر نہیں ہوں گا اور جب میں آگیا ہوں تو آپ کے دل میں خاکسار کے لئے دعا کی تحریک ہوئی ہے اور آپ بندہ کے لئے دعا فرما رہے ہیں۔ آپ بہت دیر تک سجدہ میں پڑے رہے اور دعا فرماتے رہے‘‘۱۰۹۔
    صحت کی خرابی کا اثر زمانہ تعلیم پر
    اس اہتمام کے باوجود جو آپ کی ابتدائی دینوی تعلیم کے لئے کیا گیا چونکہ آپ کی صحت شروع ہی سے بہت کمزور تھی اور آپ بچپن ہی سے بیمار چلے آرہے تھے۔ اس لئے آپ اپنے اساتذہ کی توجہ اور شفقت کے باوجود کوئی خاص فائدہ نہ اٹھا سکے۔ چنانچہ حضور خود ہی فرماتے ہیں۔
    ’’میری تعلیم جس رنگ میں ہوئی ہے وہ اپنی ذات میں ظاہر کرتی ہے کہ انسانی ہاتھ میری تعلیم میں نہیں تھا بچپن میں میری آنکھ میں سخت ککرے پڑ گئے تھے اور متواتر تین چار سال تک میری آنکھیں دکھتی رہیں۔ اور ایسی شدید تکلیف ککروں کی وجہ سے پیدا ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے کہا اس کی بینائی ضائع ہو جائے گی۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے میری صحت کے متعلق خاص طور پر دعائیں کرنی شروع کر دیں۔ اور ساتھ ہی آپ نے روزے رکھنے بھی شروع کر دئیے۔ مجھے اس وقت یاد نہیں کہ آپ نے کتنے روزے رکھے بہرحال تین یا سات روزے آپ نے رکھے۔ جب آخری روزے کی آپ افطاری کرنے لگے۔ اور روزہ کھولنے کے لئے مونہہ میں کوئی چیز ڈالی تو یکدم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی۔ کہ مجھے نظر آنے لگ گیا ہے۔ لیکن اس بیماری کی شدت اور اس کے متواتر حملوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ماری گئی۔ چنانچہ میری بائیں آنکھ میں بینائی نہیں ہے میں رستہ تو دیکھ سکتا ہوں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتا۔ دو چار فٹ پر اگر کوئی ایسا آدمی بیٹھا ہو جو میرا پہچانا ہوا ہو تو میں اس کو دیکھ کر پہچان سکتا ہوں لیکن اگر کوئی بے پہچانا بیٹھا ہو تو مجھے اس کی شکل نظر نہیں آسکتی۔ صرف دائیں آنکھ کام کرتی ہے۔ مگر اس میں بھی ککرے پڑ گئے۔ اور وہ ایسے شدید ہو گئے کہ کئی کئی راتیں میں جگ کر کاٹا کرتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے میرے استادوں سے کہہ دیا تھا کہ اس کی پڑھائی اس کی مرضی پر ہو گی۔ یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اس پر زور نہ دیا جائے۔ کیونکہ اس کی صحت اس قابل نہیں کہ یہ پڑھائی کا بوجھ برداشت کر سکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام بارہا مجھے صرف یہی فرماتے کہ تم قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب سے پڑھ لیا کرلو۔ اس کے علاوہ آپ نے مجھے کچھ اور پڑھنے کے لئے کبھی کچھ نہیں کہا۔ ہاں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ طب بھی پڑھ لو۔ کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے۔ ماسٹر فقیر اللہ صاحب جن کو خدا تعالیٰ نے اسی سال ہمارے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ وہ ہمارے حساب کے استاد تھے۔ اور لڑکوں کو سمجھانے کے لئے بورڈ پر سوالات حل کیا کرتے تھے۔ لیکن مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ جتنی دور بورڈ تھا اتنی دور تک میری بینائی کام نہیں دے سکتی تھی۔ اور پھر زیادہ دیر تک میں بورڈ کی طرف یوں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ کیونکہ نظر تھک جاتی۔ اس وجہ سے میں کلاس میں بیٹھنا فضول سمجھا کرتا تھا۔ کبھی جی چاہتا۔ تو چلا جاتا اور کبھی نہ جاتا۔ ماسٹر فقیر اللہہ صاحب نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس میرے متعلق شکایت کی کہ حضور یہ کچھ پڑھتا نہیں۔ کبھی مدرسہ میں آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔ مجھے یاد ہے جب ماسٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس یہ شکایت کی تو میں ڈر کے مارے چھپ گیا کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس قدر ناراض ہوں۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا۔ آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ بچے کا خیال رکھتے ہیں اور مجھے آپ کی یہ بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ کبھی کبھی مدرسے چلا جاتا ہے۔ ورنہ میرے نزدیک تو اس کی صحت اس قابل نہیں کہ پڑھائی کر سکے۔ پھر ہنس کر فرمانے لگے کہ اس سے ہم نے آٹے دال کی دوکان تھوڑی کھلوانی ہے کہ اسے حساب سکھایا جائے۔ حساب اسے آئے یا نہ آئے کوئی بات نہیں۔ آخر رسول کریم~صل۱~ یا آپﷺ~ کے صحابہ نے کون سا حساب سیکھا تھا۔ اگر یہ مدرسہ میں چلا جائے تو اچھی بات ہے ورنہ اسے مجبور نہیں کرنا چاہئے۔ یہ سن کر ماسٹر صاحب واپس آگئے۔ میں نے اس نرمی سے اور بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ اور پھر مدرسہ میں جانا ہی چھوڑ دیا۔ کبھی مہینہ میں ایک آدھ دفعہ چلا جاتا تو اور بات تھی۔ غرص اس رنگ میں میری تعلیم ہوئی۔ اور میں درحقیقت مجبور بھی تھا۔ کیونکہ بچپن میں علاوہ آنکھوں کی تکلیف کے مجھے جگر کی خرابی کا بھی مرض تھا۔ چھ چھ مہینے مونگ کی دال کا پانی یا ساگ کا پانی مجھے دیا جاتا رہا۔ پھر اس کے ساتھ تلی بھی بڑھ گئی۔ ریڈ آئیوڈائڈ آف مرکری کی تلی کے مقام پر مالش کی جاتی تھی۔ اسی طرح گلے پر بھی اس کی مالش کی جاتی۔ کیونکہ مجھے خنازیر کی بھی شکایت تھی۔ غرض آنکھوں میں ککرے۔ جگر کی خرابی۔ عظم طحال۱۱۰ کی شکایت اور پھر اس کے ساتھ بخار کا شروع ہو جانا جو چھ چھ مہینے تک نہ اترتا اور میری پڑھائی کے متعلق بزرگوں کا یہ فیصلہ کر دینا کہ یہ جتنا چاہے پڑھ لے اس پر زیادہ زور نہ دیا جائے۔ ان حالات سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ میری تعلیمی قابلیت کا کیا حال ہو گا۔ ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ نے میرا اردو کا امتحان لیا۔ میں اب بھی بہت بدخط ہوں۔ مگر اس زمانہ میں تو میرا اتنا بدخط تھا۔ کہ پڑھا ہی نہیں جاتا تھا کہ میں نے کیا لکھا ہے۔ انہوں نے بڑی کوشش کی کہ پتہ لگائیں کہ میں نے کیا لکھا ہے مگر انہیں کچھ پتہ نہ چلا۔ میرے بچوں میں سے اکثر کے خط مجھ سے اچھے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ ان (حضرت میر ناصر نواب صاحب) کی طبیعت بڑی تیز تھی۔ غصہ میں فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس پہنچے۔ میں بھی اتفاقاً اس وقت گھر میں ہی تھا۔ ہم تو پہلے ان کی طبیعت سے ڈرا کرتے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر پہنچے تو اور بھی ڈر پیدا ہوا کہ اب نہ معلوم کیا ہو۔ خیر میر صاحب گئے اور حضرت صاحب سے کہنے لگے کہ محمود کی تعلیم کی طرف آپ کو ذرا بھی توجہ نہیں۔ میں نے س کا اردو کا امتحان لیا تھا۔ آپ ذرا پرچہ تو دیکھیں اس کا اتنا برا خط ہے کہ کوئی بھی یہ خط نہیں پڑھ سکتا۔ پھر اسی جوش کی حالت میں وہ حضرت مسح موعود علیہ السلام سے کہنے لگے آپ بالکل پروا نہیں کرتے اور لڑکے کی عمر برباد ہو رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب میر صاحب کو اس طرح جوش کی حالت میں دیکھا تو فرمایا۔ بلائو حضرت مولوی صاحب کو۔ جب آپ کو کوئی مشکل پیش آتی تو ہمیشہ حضرت خلیفہ اولؓ کو بلا لیا کرتے تھے۔ حضرت خلیفہ اولؓ کو مجھ سے بڑے محبت تھی۔ آپ تشریف لائے اور حسب معمول سر نیچے ڈال کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ مولوی صاحب میں نے آپ کو اس غرض کے لئے بلایا ہے کہ میر صاحب میرے پاس آئے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ محمود کا لکھا ہوا بالکل پڑھا نہیں جاتا۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کا امتحان لیا جائے۔ یہ کہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم اٹھائی اور دو تین سطر میں ایک عبارت لکھ کر مجھے دی اور فرمایا اس کو نقل کرو۔ بس یہ امتحان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے لیا۔ میں نے بڑی احتیاط سے اور سوچ سمجھ کر اس کو نقل کر دیا۔ اول تو وہ عبارت کوئی زیادہ لمبی نہیں تھی دوسرے میں نے صرف نقل کرنا تھا اور نقل کرنے میں تو اور بھی آسانی ہوتی ہے کیونکہ اصل چیز سامنے ہوتی ہے۔ اور پھر میں نے آہستہ آہستہ نقل کیا۔ الف اور با وغیرہ احتیاط سے ڈالے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس کو دیکھا تو فرمانے لگے۔ مجھے تو میر صاحب کی بات سے بڑا فکر پیدا ہو گیا تھا۔ مگر اس کا خط تو میرے خط کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ پہلے ہی میری تائید میں ادھار کھائے بیٹھے تھے۔ فرمانے لگے۔ حضور میر صاحب کو تو یونہی جوش آگیا۔ ورنہ اس کا خط تو بڑا اچھا ہے۔
    مدرسہ کے امتحانات میں ناکامی اور اس کی حکمت
    یہ وہ حالات تھے جن میں آپ کو زمانہ تعلیم میں گزرنا پڑا۔ صرف اس وجہ سے آپ اگلی جماعت میں بٹھا دئے جاتے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے فرزند ارجمند تھے۔۱۱۲ مگر چونکہ سرکاری امتحانوں میں یہ عقیدت مندی قائم نہیں رہ سکتی تھی۔ اس لئے آپ مڈل اور انٹرنس دونوں امتحانوں میں فیل ہو گئے تا دنیا پر یہ کھل جائے کہ آپ کا معلم حقیقی تو عرش کا خدا ہے۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں۔
    ’’دینوی لحاظ سے میں پرائمری فیل ہوں مگر چونکہ گھر کا مدرسہ تھا اس لئے اوپر کی کلاسوں میں مجھے ترقی دے دی جاتی تھی۔ پھر مڈل میں فیل ہوا۔ مگر گھر کا مدرسہ ہونے کی وجہ سے پھر مجھے ترقی دے دی گئی۔ آخر میٹرک کے امتحان کا وقت آیا تو میری ساری پڑھائی کی حقیقت کھل گئی اور میں صرف عربی اور اردو میں پاس ہوا۔ اور اس کے بعد پڑھائی چھوڑ دی۔ گویا میری تعلیم کچھ بھی نہیں۔ مگر آج تک ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا۔ کہ کسی نے میرے سامنے قرآن کریم کے خلاف کوئی اعتراض کیا ہو۔ اور پھر اسے شرمندگی نہ ہوئی ہو۔ بلکہ اسے ضرور شرمندہ ہونا پڑا ہے اور اب بھی میرا دعویٰ ہے کہ خواہ کوئی کتنا بڑا عالم ہو وہ اگر قرآن کریم کے خلاف میرے سامنے کوئی اعتراض کرے گا تو اسے ضرور شکست کھانی پڑے گی اور وہ شرمندہ اور لاجواب ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا‘‘۱۱۳۔
    پھر فرماتے ہیں۔ ’’اگر کچھ پاس کر لیتا تو ممکن ہے مجھے خیال ہوتا کہ میں یہ ہوں۔ وہ ہوں۔ لیکن اب تو اس حقیقت کا انکار نہیں ہو سکتا کہ جو مجھے آتا ہے یہ اللہ کا ہی فضل ہے میری اس میں کوئی خوبی نہیں۔ کچھ عرصہ ہوا لاہور میں دو مولوی صاحبان مجھ سے ملنے آئے اور بطور تمسخر ایک نے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کہاں تک ہے میں سمجھ گیا کہ ان کا مقصد کیا ہے میں نے کہا کچھ بھی نہیں۔ کہنے لگے آخر کچھ تو ہو گی۔‘‘ میں نے کہا صرف قرآن جانتا ہوں۔ کہنے لگے بس قرآن مجھے ان پر تعجب کہ ان کے نزدیک قرآن جاننا کوئی چیز ہی نہیں اور انہیں اس پر خوشی کہ ان کی تعلیم کچھ نہیں‘‘۱۱۴۔
    انجمن ہمدردان اسلام
    ۱۸۹۷ء میں جبکہ آپ کی عمر آٹھ نو سال کی تھی۔ قادیان کے احمدی نوجوانوں کی انجمن قائم ہوئی جس کے سرپرست (حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ) مولانا مولوی نور الدینؓ تھے اول اول اس کے اجلاس پرانے اور قدیم مہمان خانے میں ہوا کرتے تھے۔ اور اس وقت زیادہ سے زیادہ چھ سات ممبر تھے جن میں ایک سرگرم ممبر آپ بھی تھے۔ حضرت بھائی عبدالرحمنؓ قادیانی تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’تشحیذ الاذہان کا پہلا اور ابتدائی نام انجمن ہمدردان اسلام تھا۔ جو بالکل ابتدائی ایام اور پرانے زمانہ کی یادگار ہے۔ جبکہ سیدنا محمود بمشکل آٹھ نو برس کے تھے آپ کے دینی شغف اور روحانی ارتقاء کی یہ پہلی سیڑھی تھی۔ جو حقیقتاً آپ ہی کی تحریک خواہش اور آرزو پر قائم ہوئی تھی۔ کھیل کود اور بچپنے کے دوسرے اشغال میں انہماک کے باوجود آپ کے دل میں خدمت اسلام کا ایسا جوش اور جذبہ نظر آیا کرتا تھا۔ جس کی نظیر بڑے بوڑھوں میں بھی شاذہی ہوتی آپ کی ہر ادا میں اس کا جلوہ اور ہر حرکت میں اس کا رنگ غالب و نمایاں ہے جسے آپ کی کھیلوں کے دیکھنے اور مشاغل کو جانچنے کا اکثر موقعہ ملتا تھا۔ گھنٹوں آپ مطب میں تشریف لا کر ہم میں بیٹھا کرتے کبھی ٹیمیں بنا کرتیں اور کھیلوں کے مقابلوں کی تجاویز ہوا کرتیں کبھی فوجیں بنا کر مصنوعی جنگوں کا انتظام ہوتا۔ کبھی ڈاکو اور چوروں کا تعاقب ہوتا ان کی گرفتاری کے سامان ہوتے اور مقدمات سن کر فیصلے کئے جاتے سزائیں دی جاتیں اور کارہائے نمایاں کرنے والوں کو انعام و اکرام ملتے تو کبھی بحث مباحثات اور علمی مقابلوں کا رنگ جما کرتا۔ گرما گرم بحث ہوتی۔ حجز مقرر ہوتے اور فاتح و مفتوح کا فیصلہ ہوتا۔ الغرض ایسے ہی مشاغل اور مصروفیتوں کے نتائج میں سے ایک انجمن ہمدردان اسلام کا قیام بھی ہے جو آپ کی خواہش‘مرضی اور منشاء کے ماتحت قائم کی گئی‘‘۔
    ’’حضرت مولانا نور الدینؓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیدنا فضل عمرؓ کی زات والا صفات کی وجہ سے ہماری طرف خاص توجہ فرماتے۔ ہماری انجمن کے اکثر اجلاسوں میں شریک ہو کر ہدایات دیتے۔ ۔۔۔۔۔۔ اسی ہماری انجمن میں ایک مرتبہ سیدنا حضرت نور الدینؓ شریک تھے۔ ہمارے آقائے نامدار سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے نور نظر لخت جگر نے ۔۔۔۔۔۔۔ تقریر فرمائی۔ تقریر کیا تھی علم و معرفت کا دریا اور روحانیت کا ایک سمندر تھا۔ تقریر کے خاتمہ پر حضرت مولانا نور الدینؓ کھڑے ہوئے۔ اور آپ نے ۔۔۔۔۔ آپ کی تقریر کی بے حد تعریف کی۔ قوت بیان اور روانی کی داد دی نکات قرآنی اور لطیف استدلال پر بڑے تپاک اور محبت سے مرحبا جزاک اللہ کہتے ہوئے دعائیں دیتے نہایت اکرام کے ساتھ گھر تک آپ کے ساتھ آکر رخصت فرمایا‘‘۱۱۵۔
    اس انجمن کے پہلے صدر بھی مدرسہ کے ایک استاد تھے اور سیکرٹری بھی استاد (یعنی منشی خادم حسین صاحب بھیروی) لیکن جب دوبارہ انتخاب ہوا تو صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب قرار پائے۱۱۶۔ آپ کی صدارت میں انجمن کا پہلا اجلاس ۳/ مارچ ۱۸۹۹ء کو ہوا۔۱۱۷
    حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک پر بیعت
    ۱۸۹۸ء کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ آپ نے اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
    ’’۱۸۹۸ء میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی گو بوجہ احمدیت کی پیدائش کے میں پیدائش سے ہی احمدی تھا مگر یہ بیعت گویا میرے احساس قلبی کے دریا کے اندر حرکت پیدا کرنے کی علامت تھی‘‘۱۱۸۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ پہلا فوٹو
    وسط ۱۸۹۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو پہلا گروپ فوٹو لیا گیا اس میں آپ بھی صحابہ حضرت مسیح موعودؑ اور اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ موجود تھے۔ اس پہلے فوٹو کے بعد اگلے سال خطبہ الہامیہ کی تقریب پر ۱۱/ اپریل ۱۹۰۰ء میں عصر کے وقت دوسرا گروپ فوٹو لیا گیا تھا جس میں آپ بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ حیات ہی میں آپ کا ایک اور فوٹو لیا گیا۔ جس میں آپ کے ساتھ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد۔ حضرت مرزا شریف احمد‘حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہا اور حضرت مرزا مبارک احمد بھی شامل ہیں اور آپ کی ایک اور تصویر بھی ملتی ہے جو ۱۹۰۴ء میں بمقام گورداسپور لی گئی تھی جس میں آپ ترکی ٹوپی پہنے اور چھڑی ہاتھ میں لئے ہوئے نظر آتے ہیں‘‘۱۱۹۔
    ’’تریاق القلوب‘‘ میں ذکر
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’تریاق القلوب‘‘ میں تحریر فرمایا۔ ’’الہام یہ بتلاتا تھا کہ چار لڑکے پیدا ہوں گے اور ایک کو ان میں سے ایک مرد خدا مسیح صفت الہام نے بیان کیا ہے سو خدا تعالیٰ کے فضل سے چار لڑکے پیدا ہو گئے‘‘۱۲۰۔
    ’’میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ۔۔۔۔۔۔۔ خبر دی کہ خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ انا نبشرک بغلام حسین یعنی ہم تجھے ایک حسین لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ دہلی میں میری شادی ہوئی۔ اور خدا نے وہ لڑکا بھی دیا اور تین اور عطا کئے‘‘۱۲۱۔
    ’’میرا پہلا لڑکا جو زندہ موجود ہے جس کا نام محمود ہے ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی۔ اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کا نام لکھا ہوا یہ پایا کہ محمود۔ تب میں نے اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے لئے سبز رنگ کے ورقوں پر ایک اشتہار چھاپا‘‘۱۲۲
    حضورؑ نے یہ پیشگوئی دوبارہ پیش کرتے ہوئے ’’تریاق القلوب‘‘ ہی میں لکھا۔
    ’’محمود جو میرا بیٹا ہے اس کے پیدا ہونے کے بارے میں اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء میں اور نیز اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء میں جو سبز رنگ کے کاغذ پر چھاپا گیا تھا۔ پیشگوئی کی گئی تھی اور سبز رنگ کے اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس پیدا ہونے والے لڑکے کا نام محمود رکھا جائے گا ۔۔۔۔۔۔ پھر جب کہ اس پیشگوئی کی شہرت بذریعہ اشتہارات کامل درجہ پر پہنچ چکی اور مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوئوں میں سے کوئی بھی فرقہ نہ رہا جو اس سے بے خبر ہو۔ تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے ۔۔۔۔۔۔۔ محمود پیدا ہوا۔ اور اس کے پیدا ہونے کی میں نے اس اشتہار میں خبر دی ہے جس کے عنوان پر تکمیل تبلیغ موٹی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ جس میں بیعت کی دس شرائط مندرج ہیں اور اس کے صفحہ ۴ میں یہ الہام پسر موعود کی نسبت ہے
    اے فخر رسل قرب تو معلومم شد
    دیرآمدہ زراہ دور امدہ۱۲۳
    احکام اسلامی کی طرف تحریک ۱۹۰۰ء کا یادگار رسال
    بیسوی صدی کا آغاز آپ کی زندگی میں ایک نئے روحانی انقلاب کے آغاز پر ہوا۔ اس نہایت اہم اجمال کی تفصیل آپ ہی کے الفاظ میں یہ ہے۔
    ’’۱۹۰۰ء میرے قلب کو اسلامی احکام کی طرف توجہ دلانے کا موجب ہوا ہے اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کوئی شخص چھینٹ کی قسم کے کپڑے کا ایک جبہ لایا تھا۱۲۴۔ میں نے آپ سے وہ جبہ لے لیا تھا کسی اور خیال سے نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کا رنگ اور اس کے نقش مجھے پسند تھے۔ میں اسے پہن نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ اس کے دامن میرے پائوں سے نیچے لٹکتے رہتے تھے۔ جب میں گیارہ سال کا ہوا اور ۱۹۰۰ء نے دنیا میں قدم رکھا۔ تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لاتا ہوں۔ اس کے وجود کا کیا ثبوت ہے۔ میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا۔ آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی۔ جس طرح ایک بچہ کو اس کی ماں مل جائے۔ تو اسے خوشی ہوتی ہے اسی طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔ سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا میں اپنے جامہ میں پھولا نہیں سماتا تھا۔ میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو اس وقت میں گیارہ سال کا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ مگر آج بھی اس دعا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں آج بھی یہی کہتا ہوں خدایا تیری ذات کے متعلق مجھے کبھی شک پیدا نہ ہو۔ ہاں اس وقت میں بچہ تھا اب مجھے زائد تجربہ ہے اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو۔
    جب میرے دل میں خیالات کی وہ موجیں پیدا ہونی شروع ہوئیں۔ جن کا میں نے اوپر زکر کیا ہے تو ایک دن ضحیٰ کے وقت یا اشراق کے وقت میں نے وضو کیا۔ اور وہ جبہ اس وجہ سے نہیں کہ خوبصورت ہے بلکہ اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا ہے اور متبرک ہے۔ یہ پہلا احساس میرے دل میں خدا تعالیٰ کے فرستادہ کے مقدس ہونے کا تھا پہن لیا۔
    تب میں نے اس کوٹھری کا جس میں میں رہتا تھا۔ دروازہ بند کر لیا اور ایک کپڑا بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی اور میں اس میں خوب رویا۔ خوب رویا۔ خوب رویا اور اقرار کیا کہ اب نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ اس گیارہ سال کی عمر میں مجھ میں کیسا عزم تھا۔ اس اقرار کے بعد میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی۔ گو اس نماز کے بعد کئی سال بچپن کے زمانہ کے ابھی باقی تھے۔ میرا وہ عزم میرے آج کے ارادوں کو شرماتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم میں کیوں رویا۔ فلسفی کہے گا اعصابی کمزوری کا نتیجہ ہے مذہبی کہے گا تقویٰ کا جذبہ تھا۔ مگر میں جس سے یہ واقعہ گزرا کہتا ہوں مجھے معلوم نہیں۔ میں کیوں رویا؟ ہاں یہ یاد ہے کہ اس وقت میں اس امر کا اقرار کرتا تھا کہ پھر کبھی نماز نہیں چھوڑوں گا اور وہ رونا کیسا بابرکت ہوا۔ وہ افسردگی کیسی راحت بن گئی جب اس کا خیال کرتا ہوں۔ تو سمجھتا ہوں کہ وہ آنسو ہسٹریا کے دورہ کا نتیجہ نہ تھے پھر وہ کیا تھے؟ میرا خیال ہے وہ شمس روحانی کی گرم کر دینے والی کرنوں کا گرایا ہوا پسینہ تھے۔ وہ مسیح موعود کے کسی فقرہ یا کسی نظر کا نتیجہ تھے۔ گر یہ نہیں تو میں نہیں کہہ سکتا کہ پھر وہ کیا تھے‘‘۱۲۵۔
    انجمن تشحیذ الاذہان
    ۱۹۰۰ء میں آپ نے ایک نئی انجمن کی بنیاد رکھی جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’تشحیذ الاذہان‘‘ رکھا۔ اس مجلس کی غرض و غایت یہ تھی کہ نوجوانان احمدیت کو تبلیغ اسلام کے لئے تیار کرے۱۲۶۔
    خطبہ الہامیہ میں شرکت
    ۱۱/ اپریل ۱۹۰۰ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عید الاضحیہ کے بعد عربی میں خطبہ الہامیہ پڑھا تھا۔ حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد ایدہ اللہ کو بھی اس میں شرکت کا فخر حاصل ہوا۔ چنانچہ آپ کا بیان ہے کہ۔
    ’’مجھے خوب یاد ہے گو میں چھوٹی عمر میں ہونے کی وجہ سے عربی نہ سمجھ سکتا تھا۔ مگر آپ کی ایسی خوبصورتی اور نورانی حالت بنی ہوئی تھی۔ کہ میں اول سے آخر تک برابر تقریر سنتا رہا۔ حالانکہ ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکتا تھا‘‘۱۲۷
    ’’مجھے یاد ہے۔ ہمیں اس تقریر کے کئی فقرے یاد ہو گئے تھے۔‘‘۱۲۸
    بیماری اور دعا سے شفا یابی
    نومبر ۱۹۰۰ء میں آپ کو سخت بخار ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کی شفا یابی کی الہامی بشارت ملی۱۲۹۔ چنانچہ بخار اتر گیا۔
    مقدمہ دیوار کے فیصلہ کی قبل از وقت خبر
    تاریخ احمدیت جلد سوم۱۳۰ میں مقدمہ دیوار کا واقعہ بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے کہ کس طرح آپ کے چچا زاد بھائیوں نے آپ کو تکلیف دینے کی خاطر ایک دیوار کھینچ دی تھی۔ حضرت سیدنا محمود ایدہ اللہ الودود کو اس بارے میں بذریعہ خواب دیوار کے گرائے جانے کا نظارہ دکھایا گیا۔ حضور فرماتے ہیں۔
    ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ دیوار گرائی جا رہی ہے اور لوگ ایک ایک اینٹ کو اٹھا کر پھینک رہے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کچھ بارش ہو چکی ہے اس حالت میں میں نے دیکھا کہ مسجد کی طرف حضرت خلیفتہ اولؓ تشریف لا رہے ہیں۔ جب مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور دیوار گرائی گئی تو بعینہ ایسا ہی ہوا۔ اس روز کچھ بارش بھی ہوئی اور درس کے بعد حضرت خلیفہ اولؓ جب واپس آئے تو آگے دیوار توڑی جارہی تھی میں بھی کھڑا تھا چونکہ اس خواب کا میں آپ سے پہلے ذکر کر چکا تھا اس لئے مجھے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا۔ میاں دیکھو۔ آج تمہارا خواب پورا ہو گیا‘‘۱۳۱۔
    سیدنا کے بارے میں بشارت
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۳۰/ نومبر ۱۹۰۱ء میں ’’بشیر احمد۔ شریف احمد اور مبارکہ بیگم کی آمین‘‘ لکھی تو نہ صرف اپنے سب بچوں کے لئے بارگاہ الٰہی میں نہایت خشوع خضوع سے دعائیں ہی کیں بلکہ اپنی کل اولاد خصوصاً اپنے لخت جگر سیدنا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی بابت دنیا کو ان دعائوں کے شرف قبولیت پانے کی بشارت بھی سنا دی۔ جیسا کہ حضورؑ فرماتے ہیں۔
    خدایا تیرے فضلوں کو کروں یاد
    بشارت تو نے دی اور پھر یہ اولاد
    کہا ہرگز نہیں ہوں گے یہ برباد
    بڑھیں گے جیسے باغوں میں ہو شمشاد
    خبر تو نے یہ مجھ کو بارہا دی!
    فسبحان الذی اخزی الاعادی
    بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا
    جو ہو گا اک دن محبوب میرا
    کروں گا دور اس مہ سے اندھیرا
    دکھائوں گا کہ اک عالم کو پھیرا
    بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی
    فسبحان الذی اخزی الاعادی (درثمین)
    بارہ تیرہ برس کی عمر میں پہلا روزہ
    آپ نے پہلا روزہ بارہ تیرہ برس کی عمر میں رکھا چنانچہ خود ہی فرماتے ہیں۔ ’’مجھے جہاں تک یاد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پہلا روزہ رکھنے کی اجازت بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے پہلے سال صرف ایک روزہ رکھنے کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت دی تھی‘‘۱۳۲۔
    مڈل کا امتحان اور خدائی الہام
    جنوری ۱۹۰۲ء میں آپ مڈل کے امتحان کے لئے بٹالہ کو جانے والے تھے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا۔ ’’لیحملہ رجل‘‘ یعنی یہ کمزور ہے اس کے سہارے کے لئے کوئی آدمی ساتھ جانا چاہئے۱۳۳۔ چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب آپ کے ساتھ کئے گئے۔۱۳۴
    ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ میں ذکر
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ستمبر ۱۹۰۲ء میں ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ شائع فرمائی تو اس میں دنیا کو پسر موعود سے متعلق نشان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تحریر فرمایا۔
    ’’خدا نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ تیری برکات کا دوبارہ نور ظاہر کرنے کے لئے تجھ سے ہی اور تیری ہی نسل میں سے ایک شخص کھڑا کیا جائے گا۔ جس میں میں روح القدس کی برکات پھونکوں گا وہ پاک باطن اور خدا سے نہایت پاک تعلق رکھنے والا ہو گا۔ اور مظہر الحق و العلاء ہو گا گویا خدا آسمان سے نازل ہوا۔4]‘‘ [stf۱۳۵
    ’’نزول المسیح‘‘ میں ذکر
    حضرت اقدس علیہ السلام نے اسی سال ’’نزول المسیح‘‘ تالیف فرمائی اور اس میں بھی سیدنا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کا ذکر فرمایا کہ۔
    ’’مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی بشارت دی۔ چنانچہ قبل ولادت بذریعہ اشتہار کے وہ پیشگوئی شائع ہوئی پھر بعد اس کے وہ لڑکا پیدا ہوا جس کا نام بھی رئویا کے مطابق محمود احمد رکھا گیا اور یہ پہلا لڑکا ہے جو سب سے بڑا ہے‘‘۱۳۶۔
    پہلی شادی
    اکتوبر ۱۹۰۲ء میں آپ کا نکاح حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدینؓ کی دختر نیک اختر (حضرت) سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ سے رڑکی میں ہوا اور وسط اکتوبر ۱۹۰۳ء میں شادی ہوئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ڈاکٹر صاحب کو قبل ازیں رشتہ کی تحریک فرمائی تو لکھا کہ۔
    ’’اس رشتہ پر محمود بھی راضی معلوم ہوتا ہے اور گو ابھی الہامی طور پر اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مگر محمود کی رضا مندی ایک دلیل اس بات پر ہے کہ یہ امر غالباً و اللہ اعلم جناب الٰہی کی رضامندی کے موافق انشاء اللہ ہو گا‘‘۱۳۷۔
    عکس مکتوب مبارک سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام
    (بنام حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ)
    حضرت سیٹھ اسمعیل آدم صاحبؓ نے حضور کی شادی پر بمبئی سے ایک ٹوپی اور اوڑھنی کا تحفہ حضرت اقدسؓ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ ٹوپی پر مصلح موعود سے متعلق یہ الہام درج تھا۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظھر الاول و الاخر مظھر الحق والعلا|ء کان اللہ نزل من السماء اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت سیٹھ صاحبؓ دوسرے اکابر صحابہ کی طرح اس وقت بھی حضرت خلیفہ ثانی کے مصلح موعود ہونے کا یقین رکھتے تھے۱۳۸۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تحفہ کے شکریہ میں ۳۰/ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا۔
    ۲۰/ اکتوبر ۱۹۵۲ء
    بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔:۔ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    مجی عزیزی اخویم سیٹھ اسمعیل آدم صاحب!
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ آپ کا محبت اور اخلاص کا تحفہ جو آپ نے برخوردار محمود اور بشیر کی شادی کی تقریب پر بھیجا ہے یعنی ایک ٹوپی اور ایک اوڑھنی پہنچ گیا ہے۔ میں آپ کے اس محبانہ تحفہ کا شکر کرتا ہوں اور آپ کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا میں اس کا اجر بخشے آمین باقی خیریت ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ
    ’’مواہب الرحمن ‘‘ میں ذکر
    ’’مواہب الرحمن‘‘ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا۔ ’’الحمدللہ الذی وھب لی علی الکبر اربعہ من البنین و انجز وعدہ من الاحسان‘‘۱۳۹ یعنی اللہ تعالیٰ ہی سب تعریفوں کا مستحق ہے جس نے بڑھاپے کے باوجود چار فرزند عطا کئے اور بطور احسان اپنا وعدہ پورا فرما دیا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مکتوب مبارک
    (بنام حضرت سیٹھ اسمعیل آدم صاحبؓ)
    شعر و سخن کا آغاز
    ۱۹۰۳ء میں آپ نے شعر و سخن کی دنیا میں قدم رکھا تو ابتداًء آپ شاد تخلص فرماتے تھے آپ کی پہلی (مطبوعہ)۱۴۰ نظم کے چند اشعار یہ ہیں۔
    اپنے کرم سے بخش دے میرے خدا مجھے
    بیمار عشق ہوں ترا دے تو شفا مجھے
    جب تک کہ دم میں دم ہے اس دین پر رہوں
    اسلام پر ہی آئے جب آئے قضا مجھے
    تیری رضا کا ہوں میں طلبگار ہر گھڑی
    گر یہ ملے تو جانوں کہ سب کچھ ملا مجھے
    سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی تمام منظومات ’’کلام محمود‘‘ میں تاریخی ترتیب کے ساتھ طبع شدہ ہیں اور آپ کی سیرت کا صاف و شفاف آئینہ ہیں۔ جس میں عشق الٰہی۔ عشق رسولﷺ~ اور عشق اسلام کی شان اپنی پوری آن بان سے درخشاں و تاباں ہے۔ آپ نے اپنے کلام کے بارے میں وضاحت فرمائی ہے کہ
    ’’میرے نزدیک شعر اس لئے کہنا کہ لوگ پسند کریں اور داد دیں درست نہیں۔ میں بھی شعر کہتا ہوں۔ لیکن جب میں شعر کہتا ہوں تو نہیں معلوم ہوتا کہ کیا لکھ رہا ہوں۔ جب قلم ایک جگہ جا کر رک جاتا ہے‘تو پھر خواہ کتنا ہی زور لگائوں آگے شعر نہیں کہا جا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شعر جس کو انسان تلاش کرکے لاتا ہے وہ ناپسند ہے مگر جب طبیعت میں جوش اور بغیر خوض اور غور کے مضامین جاری ہوں تو وہ ایک قسم کا القاء اور الہام ہوتے ہیں‘‘۱۴۱
    نیز فرماتے ہیں۔
    ’’درحقیقت اگر دیکھا جائے تو میرے اشعار میں سے ایک کافی حصہ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک چوتھائی یا ایک ثلث حصہ ایسا نکلے گا جو درحقیقت قرآن شریف کی آیتوں کی تفسیر ہے یا حدیثوں کی تفسیر ہے لیکن ان میں بھی لفظ پھر مختصر ہی استعمال ہوئے ہیں ورنہ شعر نہیں بنتا۔ شعر کے چند لفظوں میں ایک بڑے مضمون کو بیان کرنا آسان نہیں ہوتا یا اسی طرح کئی تصوف کی باتیں ہیں جن کو ایک چھوٹے سے نکتہ میں حل کیا گیا ہے‘‘۱۴۲
    مولانا الطاف حسین صاحب حالی کو خط اور ان کا جواب
    حضرت سیدنا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے جب شعر کہنے شروع کئے تو آپ نے مولانا الطاف حسین صاحب حالی کو خط لکھا کہ میں شاعری میں آپ کا شاگرد بننا چاہتا ہوں اگر آپ منظور فرمائیں تو آپ کو اپنا کلام اصلاح کے لئے بھیج دیا کروں۔ کچھ دنوں کے بعد مولوی صاحب کا جواب آیا۔ کہ ’’میاں صاحبزادے! اپنی قیمتی عمر کو اس فضول مشغلے میں ضائع نہ کرو یہ عمر تحصیل علم کی ہے۔ پس دل لگا کر علم حاصل کرو۔ جب بڑے ہو گے اور تحصیل علم کر چکو گے اور فراغت بھی میسر ہو گی اس وقت شاعری بھی کر لینا‘‘۱۴۳`۱۴۴
    جناب جلال لکھنوی سے اصلاح سخن
    مولانا حالی سے مندرجہ بالا جواب ملنے کے بعد آپ نے کسی اور استاد کی طرف رجوع کرنا چاہا۔ اس دور کے بکثرت اساتذہ میں سے تین حضرات بہت بلند پایہ اور عالمگیر شہرت رکھنے والے تھے۔ منشی مفتی امیر احمد صاحب امیر مینائی لکھنوی۔ فصیح الملک نواب مرزا خان صاحب داغ دہلوی اور جناب سید ضامن علی صاحب جلال لکھنوی۱۴۵۔ مگر اول الذکر حضرات تو اس وقت وفات پاچکے تھے آخر الذکر ہی باقی تھے آپ نے اصلاح سخن کے لئے انہی کی طرف توجہ فرمائی۔۱۴۶
    کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ مشق سخن کا یہ سلسلہ جو خط و کتابت ہی کے ذریعہ سے سر انجام پاتا تھا۔ جناب جلال لکھنوی کی وفات تک جاری رہا یا ۱۹۰۹ء سے پیشتر ہی کسی وقت ختم ہو گیا۔ جو ان کے انتقال کا سنہ ہے۔
    گورداسپور میں قیام
    وسط اگست ۱۹۰۴ء سے اکتوبر ۱۹۰۴ء تک آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مقدمہ کرم دین کے سلسلہ میں گورداسپور میں رہے۔۱۴۷
    سفر لاہور و سیالکوٹ
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگست ۱۹۰۴ء میں لاہور۱۴۸ پھر اکتوبر ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ تشریف لے گئے ان دونوں سفروں میں بھی آپ کو حضرت اقدسؑ کی معیت حاصل ہوئی سفر سیالکوٹ کے بارے میں حضور کا ایک بیان خاص اہمیت رکھتا ہے۔ فرماتے ہیں۔
    ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔۔۔۔۔۔۔ سیالکوٹ تشریف لے گئے تو غیر احمدیوں میں سے بعض نے شورش کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا۔ کہ وہاں حضور کو کوئی تکلیف نہ ہو اس لئے اس نے یہ انتظام کر دیا کہ شہر کے ایک رئیس آغا باقر جو قادیان برائے علاج آچکے تھے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت رکھتے تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے انتظام کے لئے ان سے مشورہ کیا انہوں نے اپنی خدمات انتظام کے لئے پیش کر دیں اور اپنے ساتھ مسٹر بیٹی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو لگائے جانے کی خواہش کی اور ڈپٹی کمشنر نے اسے منظور کر لیا۔ چنانچہ ان دونوں نے مل کر ایسا عمدہ انتظام کیا کہ کسی قسم کی شورش نہ ہوئی لوگ پتھروں کو لے کر مکانوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ مگر ان دونوں نے کہہ دیا کہ اگر کسی نے شرارت کی تو ہم اس قدر سزا دیں گے کہ وہ یاد رکھے گا یہ سن کر سب دشمن ڈر گئے۔
    مجھے یاد ہے جب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر نکلتے وہ ساتھ رہتے۔ اس سفر میں ایک لیکچر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا اور کچھ لوگوں نے اس میں شورش کرنی چاہی اور بعض آنے والوں پر پتھر پھینکے مسٹر بیٹی نے ان لوگوں کو ڈانٹ کر ہٹا دیا۔ اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لیکچر ہو چکا تو باواز بلند کہا کہ مجھے ان مسلمانوں پر افسوس آتا ہے کہ غصہ تو ہم کو آنا چاہئے تھا کہ انہوں نے اپنے لیکچر میں ہمارے خدا کو مردہ ثابت کیا اور ہمارے خلاف اور بہت سی باتیں کہی ہیں لیکن مسلمانوں کے نبی کی بہت تعریف کی ہے اور وہ پھر بھی فساد کرتے ہیں غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کو سیالکوٹ میں ہر شر سے محفوظ رکھا اور اس سے دشمن اور بھی زیادہ غصہ میں بھر گئے۔ چنانچہ انہوں نے آخر تجویز کی کہ آپ کی واپسی پر ٹرین پر پتھر برسائے جائیں اور جو لوگ چھوڑنے جائیں واپسی کے وقت ان کو دکھ دیا جائے چنانچہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس ہوئے تو آپ کی گاڑی پر پتھر برسائے گئے اور جو لوگ وداع کے لئے گئے تھے واپسی پر ان پر حملہ کیا گیا ان لوگوں میں مولوی برہان الدین صاحب (جہلمی) مرحوم بھی شامل تھے لوگ بری طرح ان کے پیچھے پڑ گئے۔ ستر یا بہتر سال ان کی عمر تھی اور نہایت کمزور تھے مگر خندہ پیشانی سے مار کھائی حتی کہ ایک شخص نے گوبر اٹھایا ور ان کے منہ میں ڈال دیا۔ بعض دوستوں نے سنایا کہ مولوی صاحب اس وقت بالکل غمگین نہ تھے بلکہ بہت خوش تھے اور بار بار کہتے تھے۔ ’’ایہہ نعمتاں کتھوں ایہہ نعمتاں کتھوں‘‘۔ یعنی ’’یہ نعمتیں ہم کو پھر کب میسر آسکتی ہیں‘‘۔۱۴۹
    ایک غیر مطبوعہ قلمی نوٹ
    حضرت خلیفتہ المسیح اول مولانا نور الدینؓ کی معرکتہ الاراء کتاب ’’نور الدین‘‘ کا دوسرا ایڈیشن ۱۹۰۴ء میں طبع ہوا۔ کتاب کے اس دوسرے ایڈیشن کے شروع میں سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ قلمی نوٹ لکھا ہے۔۱۵۰
    ‏rov.5.4
    تا
    ‏rov.5.9
    ‏rov.5.10
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا دوسرا سال
    دوسرا باب (فصل دوم)
    خلافت ثانیہ کا دوسرا سال
    (۱۳۳۳ھ تا ۱۳۳۴ھ)
    (~جنوری ۱۹۱۵ء سے دسمبر ۱۹۱۵ء تک
    مبلغین کی اعلیٰ کلاسں کے لئے لیکچروں کا سلسلہ
    مبلغین کی اعلٰی کلاسں کے لئے جو قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی زیر تربیت ترقی کر رہی تھی دو انتظامات کئے گئے۔ اول ان کے لئے الگ بورڈنگ اور الگ سپرنٹنڈنٹ تجویز کیا گیا۲۳۷۔ دوم مفید لیکچروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور ابتدا میں مندرجہ ذیل حضرات نے طلبہ سے خطاب فرمایا۔ حضرت میر محمد اسحق صاحب (مضمون ’’ہستی باری تعالیٰ‘‘۔ ثبوت ملائکہ‘‘۲۳۸) حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ’’(مضمون کفر و اسلام‘‘۲۳۹ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی (مسئلہ دعا و تقدیر۲۴۰) شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور۔ (مضمون قدامت دید و سکھ ازم۲۴۱) چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب (مضمون عورتوں کے حقوق۲۴۲)۔ حضرت قمر الانبیاء کا محققانہ مضمون ’’کلمتہ الفصل‘‘ کے نام سے انہی دنوں چھپ گیا تھا۔ ۱۹۴۱ء میں اس کا دوسرا ایڈیشن ’’مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ تو آپ نے اس میں صراحتاً تحریر فرمایا۔ ’’یقیناً دوسرے منکرین کی نسبت غیر احمدی ہمارے بہت زیادہ قریب ہیں اور ہمارا کلمہ اور ہمارا شارع رسول ~(صل۱)~ ایک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پس اگر غیر احمدیوں سے دوسرے منکرین کی نسبت بعض امور میں امتیازی سلوک روا رکھا جائے تو یہ بالکل جائز اور معقول ہو گا‘‘۲۴۳۔
    ایک خبر کی تردید
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے متعلق غیر مبایعین اصحاب نے یہ خبر مشہور کر رکھی تھی کہ آپ نے اپنے خلیفتہ المسلمین تسلیم کئے جانے کے لئے حکومت انگریزی سے درخواست کی ہے۔ حضور نے اس غلط بیانی کے جواب میں ایک رسالہ شائع فرمایا جس کا عنوان تھا۔ ’’اللہ تعالیٰ کی مدد صرف صادقوں کے ساتھ ہے‘‘۲۴۴۔
    اس رسالہ میں ان لوگوں کی شہادتیں درج فرمائیں جن کی طرف یہ بے بنیاد خبر منسوب کی گئی تھی۔
    رسالہ ’’القول الفصل‘‘ کی تصنیف
    پہلے سال کے واقعات میں بتایا جا چکا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے ’’اندرونی اختلافات سلسلہ کے اسباب‘‘ پر ۔۔۔۔۔۔۔ لیکچر دیا تھا۔ جو اسی نام سے شائع ہوا۔ اس کے جواب میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۱/ جنوری ۱۹۱۵ء کو ’’القول الفصل‘‘ تصنیف فرمائی یہ رسالہ جو ۷۸ صفحات پر مشتمل تھا۔ صرف ایک دن میں لکھا گیا تھا۲۴۵۔ حضور نے انہی دنوں قاضی محمد یوسف صاحب مردان کے نام ایک خط میں اس لاجواب رسالہ کی نسبت تحریر فرمایا کہ۔
    ’’خواجہ صاحب کے رسالہ کے جواب آخر میں نے خود ہی لکھنا پسند کیا۔ پہلے مفتی محمد صادق صاحب کے سپرد کیا تھا انہوں نے بھی لکھا ہے لیکن اکیس جنوری کو میں نے جب (خواجہ صاحب کا) وہ رسالہ پڑھا تو حیران ہو گیا۔ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ خلافت کے عقیدہ (میں) مولوی صاحب (یعنی حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اولؓ ۔ ناقل) بھی ان کے ساتھ تھے۔ اور شخصی حکومت (خلافت کا نام رکھا ہے) کے قائل نہ تھے جس شخص نے مولوی صاحب کی زندگی میں ان کی چھ سالہ تقریریں۔ خطبے۔ درس وغیرہ سنے ہوں اسے تو اس بات کو معلوم کرکے حیرت ہی ہوتی ہے میں تو حیران ہوں اس جرات کو کیا کہوں بھول چوک اس کا نام نہیں رکھا جا سکتا۔ غلطی اسے نہیں کہہ سکتے گھنٹوں اس بارہ میں مجھ سے حضرت (خلیفہ اولؓ) نے گفتگو فرمائی ہے۔ ہر درس میں جہاں کوئی بھی خلافت (کا) ذکر آجاتا تو خلافت کے منکرین پر لے دے کرتے۔ مگر آج وہ کہا جاتا ہے۔ جو کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ خواجہ صاحب کے رسالہ کے جواب میں جو مضمون میں نے لکھا ہے اس میں ظلی نبوت پر کافی بحث ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ لوگ کہتے تو ہماری طرح ہی ظلی بنی ہیں لیکن اس کے معنی ایسے کر دیتے ہیں۔ کہ اس سے نبی صرف نام رہ جاتا ہے۔ کام نہیں رہتا۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ آپ نبی تھے۔ لیکن امتی نبی‘ظلی نبی‘بروزی نبی‘نبی سے مراد یہ ہے کہ آپ کو وہ درجہ ملا جو نبیوں کو ملا۔ وہ کام ملا جو نبیوں کے سپرد ہوا۔ امتی کے معنی ہیں کہ آپ پر شریعت اسلام کی اتباع فرض تھی۔ اور آپ ساری عمر قرآن کریم کے پابند رہے۔ ظلی بروزی سے یہ مطلب ہے کہ آپ کو جو کچھ ملا وہ آنحضرت~صل۱~ کے طفیل اور آپ کی اتباع سے ملا۔ آپ کی نبوت بلاواسطہ نہیں تھی۔ بلکہ آنحضرت~صل۱~ کی غلامی کا نتیجہ تھی۔ اور آپ آنحضرت~صل۱~ کے بروز تھے کیونکہ قرآن کریم میں و اخرین منھم کی آیت میں ہمارے آنحضرت~صل۱~ کے دو بعث لکھے ہیں اور حضرت صاحب لکھ گئے ہیں کہ ہر ایک مسلمان پر جس طرح اور ایمانیات کا ماننا فرض ہے ان دو بعثوں کا ماننا بھی فرض ہے۔ لیکن باوجود اس کے ہم کہتے ہیں کہ ظل اپنے اصل سے جدا نہیں ہوتا اور اس میں جو کچھ ہے اصل کا ہی ہے لیکن ہم ایسے الفاظ کبھی استعمال نہیں کر سکتے۔ جن سے حضرت مسیح (موعود) کی ہتک ہو جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ظل کیا شے ہے ظل کو تو نعوذ باللہ جوتیاں مارنی جائز ہیں عزت تو اصل انسان کی ہوتی ہے نہ اس کے سائے کی۔ ان لوگوں نے ظل کا مطلب ہی نہیں سمجھا۔ جو شخص تصویر کا نقص نکالتا ہے۔ وہ دراصل اس انسان کا نقص نکالتا ہے جس کی وہ تصویر ہے میں نے اس پر اس مضمون پر بحث کی ہے‘‘۔
    احمدیہ دارالتبلیغ ماریشس
    خلافت ثانیہ کے دوسرے سال جماعت احمدیہ کا دوسرا بیرونی مشن ماریشس میں قائم کیا گیا۔ اور اس کی تحریک خود ماریشس سے ہوئی اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ (روزہل) ماریشس میں ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر نور محمد نور دیا صاحب فرانسیسی زبان میں ایک اخبار ’’دی اسلامزم‘‘ شائع کرتے تھے اور لورپول میں ایک معزز انگریز مسٹر عبداللہ کوئلم کی ادارت میں ایک اسلامی اخبار ’’دی کریسنٹ‘‘ نکلتا تھا یہ دونوں اخبارات تبادلہ میں ایک دوسرے کو پہنچتے تھے۔ ’’دی کریسنٹ‘‘ کے پرچوں میں ’’اسلامزم‘‘ کا ذکر پڑھ کر ایڈیٹر ’’رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘‘ نے نور محمد صاحب کو اپنے رسالہ کے چند پرچے بھیجے اس طرح ۱۹۰۵ء میں احمدیت کا باقاعدہ پیغام اس جزیرہ تک پہنچا (جو دنیا کا کنارہ کہلاتا ہے) نور محمد صاحب نے بڑی تحقیقات کے بعد ۱۹۱۲ء میں احمدیت قبول کر لی اور کھلے طور پر احمدیت کا پیغام پہنچانے لگے۔ ان کے ذریعہ سے ماسٹر حاجی عظیم سلطان غوث صاحب آف فونکس بھی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے اور آخر دم تک جماعتی خدمات انجام دینے میں پیش پیش رہے۔ ۱۹۱۳ء میں قصبہ فونکس )PHOENISC( کے مسجد کے امام جناب سبحان محمد صاحب نے بھی احمدی ہونے کا اعلان کر دیا جس پر مخالفت کی آگ بھڑک اٹھی اور ان کو قتل کرنے کے منصوبے ہونے لگے مگر سبحان محمد صاحب بہت زور سے تبلیغ میں مصروف رہے۔ ۱۹۱۴ء میں ہندوستان کی ایک فوجی پلٹن ماریشس پہنچی۔ جس میں چار احمدی بھی تھے۔ جن کے نام یہ ہیں۔ ڈاکٹر لعل محمد صاحب۲۴۶۔ اسمعیل صاحب‘عبدالمجید صاحب۔ منظور علی صاحب۔ جناب سبحان محمد صاحب اکثر ان احمدیوں سے ملاقات کے لئے چھائونی کو جایا کرتے تھے اور وہ بھی گاہے بگاہے ان کے ہاں آجاتے اسی دوران میں کئی لوگ احمدیت کی طرف مائل ہونے لگے۔ اس مرحلہ پر ان لوگوں کی طرف سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں ایک انگریزی دان مبلغ بھیجے جانے کی درخواست آئی۲۴۷۔ اس درخواست پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی نظر انتخاب حضرت صوفی حافظ غلام محمد صاحب۲۴۸ بی۔ اے پر پڑی۔ حضرت صوفی صاحب ۲۰/ فروری ۱۹۱۵ء کو۲۴۹ قادیان سے روانہ ہو کر حیدر آباد مدراس ہوتے ہوئے ۱۴/ مارچ ۱۹۱۵ء کو کولمبو پہنچے۔ یہاں آپ نے تین ماہ قیام فرمایا۔ اور شبانہ روز تبلیغی کوششوں کے نتیجہ میں معمر اور تعلیم یافتہ اشخاص پر مشتمل جماعت قائم کر لی۔ اور کولمبو اس کا مرکز بنا اور آپ اس کے پہلے آنریری پریذیڈنٹ مقرر ہوئے۲۵۰`۲۵۱۔
    حضرت صوفی صاحب ۱۵/ جون ۱۹۱۵ء کو ماریشس کی بندرگاہ پورٹ لوئیس پہنچے ابھی آپ جہاز ہی میں تھے کہ ماریشس کے ایک اخبار JOURNAL( PETIT )LE نے حکومت سے آپ کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ مگر یہ کوشش ناکام ہوئی۔ مکرم ماسٹر نور محمد صاحب نے جہاز پر آپ کا استقبال کیا اور اپنے مکان پر لے آئے۔ چند ماہ تک اسی مکان میں جمعہ اور اجتماعات ہوتے رہے اور یہیں سے حضرت صوفی صاحب کی تبلیغ سے احمدیت کی شعائیں تمام جزیرہ میں پھیلنی شروع ہو گئیں۔ ماسٹر نور محمد صاحب کے مکان سے متصل غیر احمدیوں کی ایک بڑی مسجد تھی جہاں حضرت صوفی صاحب اور ماسٹر صاحب صبح کی نماز پڑھا کرتے تھے ۴/ فروری ۱۹۱۶ء کو آپ قریباً دس بارہ احمدیوں کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے اس مسجد میں گئے۔ پہلے غیر احمدیوں نے نماز پڑھی پھر آپ نے نماز پڑھائی۔ نماز مغرب سے فارغ ہو کر آپ نے عشاء کی نماز تک تقریر فرمائی جو سامعین کو بہت پسند آئی۔ تقریر سننے والوں میں مسجد کے پریذیڈنٹ جناب احمد حاجی سلیمان اچھا صاحب بھی تھے جو اس درجہ متاثر ہوئے کہ عشاء کی نماز انہوں نے حضرت صوفی صاحب کی اقتداء میں ادا کی۔ اس کے بعد حضرت صوفی صاحب اور دوسرے احمدی احباب پانچوں وقت کی نمازیں اور نماز جمعہ بھی اسی مسجد میں ادا کرنے لگے۔ غیر احمدی اصحاب نماز جمعہ پہلے پڑھ لیتے تھے۔ پھر حضرت صوفی صاحب خطبہ دیتے اور نماز جمعہ پڑھاتے تھے چار پانچ ہفتے کے بعد اس مسجد کے امام جناب میاں جی احمد صاحب نے یہ دیکھ کر کہ حضرت صوفی صاحب کی تقریریں اسلامی تعلیم کے بالکل مطابق ہوتی ہیں خود بھی حضرت صوفی صاحب کی اقتداء میں نمازیں پڑھی شروع کر دیں۔ قریباً تین ماہ گزرنے کے بعد غیر احمدیوں نے یکایک مسجد میں آنا ترک کر دیا۔ اور دوسری جگہ نمازیں پڑھنے لگے۔ اور نو ماہ بعد (۶/ ستمبر ۱۹۱۸ء کو) عدالت عالیہ میں یہ دعویٰ دائر کر دیا کہ احمدی مشرک ہیں ان کو اسلامی تعلیم کی رو سے مسجد میں داخلہ کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ مقدمہ قریباً دو سال تک چلتا رہا اور اس کی ستر کے قریب نشستوں میں متنازعہ فیہ مسائل پر پوری اور سیر حاصل بحث ہوئی اور احمدیت کا خوب چرچا ہوا۔ آخر نومبر ۱۹۲۰ء کو عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ دیا کہ احمدی مسلمان ہیں۔ لیکن چونکہ غیر احمدی بھی اسی مسجد میں نماز پڑھنا چاہتے ہیں اور اکثریت بھی انہیں کی ہے اس لئے احمدیوں کو اس مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کہ اس میں فساد کا اندیشہ ہے۲۵۲۔
    اگرچہ اس فیصلہ میں نماز باجماعت ادا کرنے کی اجازت تو احمدیوں کو نہیں دی گئی۔ لیکن چونکہ اجازت کا نہ دیا جانا اس وجہ سے نہیں تھا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں بلکہ احمدیوں کو مسلمان تسلیم کرکے فساد ہو جانے کے خدشے کی وجہ سے تھا اس لئے احمدیوں کی بات کو اس فیصلہ سے ذرا نقصان نہیں ہوا بلکہ ان کی ہمت زیادہ اور حوصلہ بہت بلند ہو گیا۔ اور باوجودیکہ وہ اس موقعہ پر قریباً پندرہ ہزار کی رقم کثیر خرچ کرچکے تھے جس میں نمایاں حصہ محمد صدر علی صاحب‘مازور صاحب اور بھنوں برادرز نے لیا تھا انہوں نے ۱۹۲۳ء میں نئی مسجد بنا لی۔ ۶۲۔ ۱۹۶۱ء میں خود احمدیوں نے اپنے ہاتھوں اس کی دوبارہ تعمیر کی اور اب یہ ماریشس کی دو منزلہ خوبصورت ترین مسجد شمار کی جاتی ہے۔
    حالات مقدمہ بیان کرنے کے بعد اب ہم دوبارہ ماریشس مشن کے ابتدائی واقعات کی طرف آتے ہیں۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت صوفی صاحب نے ماسٹر نور محمد صاحب کے مکان میں احمدیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ روزہل سے پانچ میل کے فاصلہ پر سینٹ پیری Pierre( ۔)St ہے جہاں معزز اور متمول بھنو خاندان آباد تھا۔ حضرت صوفی صاحب اس خاندان کی دعوت پر دوبارہ سینٹ پیئر تشریف لے گئے۔ جہاں آپ نے قرآن مجید اور دوسرے اسلامی لٹریچر سے ایسی مدلل گفتگو فرمائی کہ ایک دن میں اس خاندان کے سب افراد بیعت میں داخل ہو گئے اس واقعہ سے جزیزہ بھر میں ایک شور عظیم برپا ہو گیا۔ اور روزہل کے کئی مسلمانوں نے بھی بیعت کر لی۔
    بھنو خاندان نے خواہش ظاہر کی کہ قادیان سے ایک عالم خاص ان کے خاندان کی ضروریات کے لئے انہی کے اخراجات پر بلایا جائے۔ چنانچہ مرکز سے حضرت مولوی حافظ عبداللہ صاحبؓ ۱۴/ اکتوبر ۱۹۱۷ء۲۵۳ کو روانہ ہوئے۔ اور مع اہل بیت کے ماریشس تشریف لے گئے اور بہت اخلاص اور جانفشانی سے نوجوانوں کو پڑھانے لگے۔ روزانہ رات کو درس دیتے۔ ہفت روزہ اجلاس کرکے ان کو تقریر کی مشق کراتے اس کے علاوہ عام تبلیغی کاموں میں حضرت صوفی صاحب کا ہاتھ بٹاتے۔ افسوس دسمبر ۱۹۲۳ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اور ان کو ماریشس ہی میں پائی کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ حضرت مولانا عبیداللہ صاحب عہد خلافت ثانیہ کے پہلے شہید ہیں جنہوں نے اعلائے کلمتہ اللہ کرتے ہوئے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور جام شہادت نوش فرمایا۔
    مئی ۱۹۱۷ء میں حضرت صوفی صاحب نے چار نوجوانوں کو تحصیل علم کے لئے قادیان بھجوایا جن میں سے دو (پیر محمد صاحب اور الیاس اکبر علی صاحب) قادیان میں رحلت کرکے بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے۲۵۴4] [rtf۔
    ۲۸/ اپریل ۱۹۱۸ء کو آپ کا پورٹ لوئیس کے امام جامع کے ساتھ ایک کامیاب مناظرہ ہوا۲۵۵ ۱۹۲۶ء میں آپ دو ہفتہ کے لئے مڈغاسکر تشریف لے گئے اور وہاں پیغام حق پہنچایا۲۵۶۔ حضرت صوفی صاحب قریباً تیرہ سال تک ماریشس میں رہے۔ اس عرصہ میں آپ نے جزیرہ میں احمدیت کا سکہ بٹھا دیا۔ آپ کو تبلیغ کا جنون تھا اور دشمن تک آپ کی قابلیت کے معترف تھے۔ آخر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے ۴/۳ مارچ ۱۹۲۷ء کو آپ احمد حسن صاحب۲۵۷ سوکیہ کے ہمراہ ماریشس سے چل کر ۱۶/ مارچ ۱۹۲۷ء میں وارد قادیان ہوئے۔
    آپ کی واپسی کے بعد حضرت اقدس نے حافظ جمال احمد صاحب۲۵۸ کو بھجوایا۔ جو ۲۷/ جولائی ۱۹۲۸ء کو ماریشس پہنچے۔ اور اکیس (۲۱) برس تک نہایت درجہ اخلاص و فدائیت سے تبلیغ کا کام کرتے ہوئے ماریشس ہی میں ۲۷/ دسمبر ۱۹۴۹ء کو انتقال فرما گئے۔ ’’سینٹ پیری‘‘ میں آپ کا مزار مبارک ہے۔
    حافظ جمال احمد صاحب کے سانحہ شہادت کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے بالترتیب مندرجہ ذیل مبلغین کو ماریشس روانہ فرمایا۔
    ۱۔ حافظ بشیر الدین صاحب (ابن مولوی عبیداللہ صاحبؓ) آپ ۳/ جولائی ۱۹۵۱ء کو ماریشس پہنچے۔ اور ۱۳/ اپریل ۱۹۵۵ء کو واپس تشریف لائے۔ (۲) مولوی فضل الٰہی صاحب بشیر۔ آپ نے پہلی بار ۲/ فروری ۱۹۵۵ء کو ماریشس میں قدم رکھا۔ (اور کچھ عرصہ کے وقفہ سے) اب تک فریضہ تبلیغ بجا لا رہے ہیں۔
    (۳) مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر ۸/ دسمبر ۱۹۶۰ء ماریشس پہنچے اور تبلیغی فرائض انجام دینے کے بعد ۸/ ستمبر ۱۹۶۲ء کو مرکز میں آئے۔
    ماریشس مشن نے فرانسیسی زبان میں اسلام و احمدیت کے لٹریچر کی بکثرت اشاعت کی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی بعض تصانیف کا فرانسیسی ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ قرآن کریم کا فرنچ ترجمہ بھی اس مشن کے زیر انتظام چھپ رہا ہے۔ روزہل میں ۱۶/ جنوری ۱۹۶۲ء کو فضل عمر کالج کا اجرا ہوا۔ مئی ۱۹۶۲ء میں Massage Le نامی اخبار کا اجرا ہوا۔ اور جزیرہ کے چھ مقامات روزہل فونکس۔ سینٹ پیری۔ مونتین بلانش۔ تریولے اور پائی میں احمدی مساجد موجود ہیں۔ جماعت احمدیہ ماریشس کے بعض ممتاز احمدیوں کے نام یہ ہیں۔ احمدید اللہ بھنو۔ عبدالستار سوکیہ۔ مسٹر حنیف جواہر۔ عباس کالو۲۵۹۔
    حضرت میر محمد اسحٰق صاحب کا درس بخاری شریف
    اسی سال حضرت میر محمد اسحٰق صاحب نے درس بخاری شریف دینا شروع کیا۲۶۰۔ یہ درس ایک خاص رنگ اور امتیازی شان رکھتا تھا۔ ارشادات نبوی کی حکمتیں اور باریک در باریک معارف و نکات ایسے پاکیزہ و پسندیدہ و دل نشین و روح افزا انداز میں بیان فرماتے کہ سننے والے کے دل آنحضرت~صل۱~ کی عظمت و محبت سے معمور ہو جاتے اور ہر شخص یہی چاہتا کہ آپ بولتے رہیں اور میں سنتا رہوں درس کے دوران ربودگی اور وجد کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ آپ کا ایک ایک لفظ محبت رسول میں ڈوبا ہوا ہوتا اور ایک ایک بات سے درد و سوز ٹپکتا تھا۔ خصوصاً آنحضرت~صل۱~ کا نام مبارک زبان پر آتے ہی آپ پر رقت طاری ہو جاتی اور آواز بھرا جاتی اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے تھے۔ آپ درس حدیث کے دوران میں آنحضرت~صل۱~ کو حضور کے مختلف ناموں اور مختلف لقبوں سے یاد فرمایا کرتے تھے اور حضور کا جو نام یا لقب آپ کی زبان سے نکلتا تھا وہ اس جوش اخلاص و محبت میں نکلتا تھا کہ سننے والوں کے دل متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے خاص کر رسول مقبولﷺ~ کے الفاظ تو اس رنگ میں آپ کی زبان سے نکلتے کہ گویا دلوں پر نقش ہو جاتے اور پھر حضرت رسول مقبول~صل۱~ (فدا ابی و امی و روحی و جنانی) کا ذکر مبارک اس جذبہ سے فرماتے کہ ہر سننے والا محسوس کرتا کہ گویا میں آنحضرت~صل۱~ کی پاک مجلس میں بیٹھا ہوا اپنے کانوں سے احادیث رسول سن رہا ہوں۔ قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے ایک دفعہ تحریر فرمایا۔ ’’درس تدریس کا بھی حضرت میر صاحب کو بے حد شوق بلکہ عشق تھا ان کا حدیث کا درس اب تک سننے والوں کے کانوں میں گونج پیدا کرکے ان کے دلوں کو گرما رہا ہے۔ اور ان کی نگاہیں اس ذوق و شوق اور محبت سے درس دینے والے کو بے تابی سے ڈھونڈتی ہیں مگر نہیں پاتیں‘‘۲۶۱۔
    دراصل حدیث شریف حضرت میر صاحب کی غذائے روح اور راحت جان تھی۔ جس کے بغیر آپ کو تسکین ہی نہ ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار علمی و عملی مصروفیات کے باوجود آپ نے اپنی وفات تک (جو ۱۷/ مارچ ۱۹۴۴ء کو ہوئی) باقاعدہ درس جاری رکھا اور حتی الوسع کبھی ناغہ نہیں ہونے دیا۲۶۲4] ft[r۔
    ’’حقیقتہ النبوت‘‘ کی تالیف
    حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تالیف منیف مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ کا جواب ہے جس کا نام انہوں نے ’’القول الفصل کی ایک غلطی کا اظہار‘‘ رکھا تھا۔ حضور نے یہ معرکتہ الاراء کتاب جو تقریباً تین سو صفحات پر پھیلی ہوئی ہے بیس روز کے اندر اندر تالیف فرما کر مارچ ۱۹۱۵ء میں شائع فرما دی جس میں مسئلہ نبوت حضرت مسیح موعودؑ کے تمام پہلوئوں پر نہایت جامعیت سے بڑی سیر کن اور تسلی بخش بحث کی گئی ہے۔ اس موضوع پر اسے حرف آخر کا رتبہ حاصل ہے۔ اس کا فقرہ فقرہ بلکہ لفظ لفظ لائق مطالعہ ہے ہم اس کا صرف ایک اقتباس بطور نمونہ درج کرتے ہیں۔ حضور فرماتے ہیں۔
    ’’نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت~صل۱~ کی ہتک کرتے ہیں۔ اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد~صل۱~ کے لئے ہے وہ کیا جانے کہ محمد~صل۱~ کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے۔ وہ میری جان ہے میرا دل ہے۔ میری مراد ہے۔ میرا مطلوب ہے اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ہفت اقلیم ہیچ ہے وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔ میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے کہ ~}~
    بعد از خدا بعشق محمد مخمرم
    گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
    اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ باب نبوت کے بکلی بند ہونے کے عقیدے کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں اس میں آنحضرت~صل۱~ کی ہتک ہے‘‘۲۶۳`۲۶۴
    اس کتاب کے مطالعہ سے بہتوں پر حقیقت نبوت منکشف ہو گئی اور کئی اصحاب کو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے یا بیعت خلافت کی سعادت حاصل ہوئی۲۶۵۔
    ’’چند غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ’’حقیقتہ النبوۃ‘‘ کی اشاعت کے بعد ہی ۱۱/ مارچ ۱۹۱۵ء کو مسئلہ نبوت ہی سے متعلق سولہ صفحات کا ایک پمفلٹ بھی شائع فرمایا۔ جس میں مولوی محمد علی صاحب کی چند غلط فہمیوں کا ازالہ فرمایا گیا ہے۔
    ’’ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب‘‘
    ایک غیر احمدی دوست نے اپنے ایک خط میں پانچ سوالات پیش کئے اور درخواست کی کہ خود آپ کی طرف سے ان کا جواب دیا جائے۔ چنانچہ ’’ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب‘‘ کے عنوان سے حضور نے ایک مفصل مضمون لکھا جو پمفلٹ کی شکل میں بھی شائع کر دیا گیا۲۶۶۔
    ایک فرمانروائے ریاست کو تبلیغ
    حضور نے ایک فرمانروائے ریاست کو تبلیغی خط لکھا تھا۔ جس پر اس نے دریافت کیا کہ حضرت مرزا صاحب کا مقام کیا تھا؟ اس اہم سوال کے جواب میں حضور نے مفصل خط لکھنے کے علاوہ ’’تحفہ الملوک‘‘ اور ’’حقیقتہ النبوۃ‘‘ بھی بھجوائیں۔ حضور کا یہ خط ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ اردو مئی ۱۹۱۵ء (صفحہ ۱۹۹ تا ۲۰۶) میں چھپا ہوا ہے۔
    حضرت صاحبزادی سیدہ امتہ الحفیظ صاحبہ کا نکاح
    ۷/ جون ۱۹۱۵ء کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی دختر نیک اختر صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت حجتہ اللہ محمد علی خاں صاحب کے فرزند ارجمند حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب سے ہوا۲۶۷۔ خطبہ نکاح حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی نے پندرہ ہزار روپیہ مہر پر سوا سات بجے شام مسجد اقصیٰ میں پڑھا۔ آپ اس تقریب سعید پر لاہور سے بلوائے گئے تھے۲۶۸۔ حضرت ام المومنین نے حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں اس رشتہ کی بابت خواب دیکھا تھا]10 [p۲۶۹۔ ۲/ فروری ۱۹۱۷ء کو نہایت سادگی کے ماحول میں رخصتانہ عمل میں آیا۲۷۰۔ چنانچہ حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحبؓ کا بیان ہے کہ ’’میری شادی کے روز شام کو حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بلا بھیجا۔ چونکہ حضرت والد صاحب ابھی برات کے طریق کو اپنی تحقیقات میں اسلامی طریق نہیں سمجھتے تھے۔ اس لئے شہر پہنچا ہی تھا کہ آپ نے واپس بلا بھیجا۔ اور میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے واپس چلا گیا۔ اور بعد میں سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور ہمشیرہ بوزینب بیگم صاحبہ دلہن کو دارالمسیح سے دارالسلام لے گئیں‘‘۲۷۱۔ ۲۳۔ ۲۴/ جون کو حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ نے دعوت ولیمہ دی۔
    حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے بطن مبارک سے یہ اولاد ہوئی۔ نواب میاں عباس احمد خان صاحب (ولادت ۲/ جون ۱۹۲۰ء) طیبہ آمنہ بیگم صاحبہ (ولادت ۱۸/ مارچ ۱۹۱۹ء) طاہرہ بیگم صاحبہ (ولادت ۳/ جون ۱۹۲۱ء) زکیہ بیگم صاحبہ (ولادت ۲۳/ نومبر ۱۹۲۳ء) قدسیہ بیگم صاحبہ۲۷۲body] [tag (ولادت ۲۰/ جون ۱۹۲۷ء) شاہدہ بیگم صاحبہ (ولادت ۳۱/ اکتوبر ۱۹۳۴ء) میاں شاہد احمد خان صاحب (ولادت ۱۰/ اکتوبر ۱۹۳۵ء) فوزیہ بیگم صاحبہ (ولادت ۲۲/ نومبر ۱۹۴۱ء) میاں مصطفیٰ احمد خان صاحب (ولادت ۱۰/ جولائی ۱۹۴۳ء)۲۷۳
    سفر لاہور
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ مع اہل بیت ۷/ جولائی ۱۹۱۵ء کو لاہور تشریف لے گئے۲۷۴ اور ۱۲/ جولائی ۱۹۱۵ء کو رونق افروز قادیان ہوئے۲۷۵۔ ۱۱/ جولائی ۱۹۱۵ء کو بعد نماز مغرب میاں معراج الدین صاحب کے احاطہ میں حضور کا معرکتہ الاراء لیکچر ہوا۲۷۶۔ یہ لیکچر جو بعد کو (۲۶ صفحات میں) ’’پیغام مسیح‘‘ کے نام سے چھپ بھی گیا۔ یہ ایک نہایت ہی عمدہ و پسندیدہ لیکچر تھا جس کی عمدگی کا لاہور کے غیر مسلموں نے بھی اقرار کیا۲۷۷۔
    آسٹریلیا سے بیعت خلافت کا خط
    آسٹریلیا۲۷۸ میں سالہا سال سے ایک بزرگ صوفی حسن موسیٰ خان صاحب رہتے تھے۔ جو صحابی تھے اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان بھی آچکے تھے خلافت ثانیہ کے قیام پر بعض وجوہ سے آپ متامل رہے۔ مگر بالاخر ۱۱/ جولائی ۱۹۱۵ء کو بذریعہ خط بیعت کر لی۲۷۹۔ اور آخر دم تک اس براعظم میں آنریری طور پر اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ بڑے مخلص و پرجوش بزرگ تھے۔ ضعیف العمری کے باوجود بڑی محنت و جانفشانی سے کام کرتے۔ زبانی بھی تبلیغ کرتے اور تبلیغی خطوط بھی بکثرت لکھتے آپ ہی کی کوشش سے وہاں ’’بیرسن بین‘‘ اور ’’آڈ میئر‘‘ میں جماعتیں قائم ہوئیں اور جزیرہ فجی میں احمدیہ لٹریچر پہنچا۔ ۱۸/ اگست ۱۹۴۵ء کو آپ کی وفات ہوئی اللہ تعالیٰ آپ کو مدارج عالیہ عطا فرمائے۔ آپ کے بعد تبلیغ کا کام پرتھ کے ایک مخلص احمدی جناب شیر محمد صاحب نے سنبھال لیا۲۸۰۔
    ایک والئے ریاست کو جواب
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ پر ایک والی ریاست نے اپنے معتمد کے ذریعہ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حضور ہمارے یہاں تشریف لائیں ہم سلسلہ احمدیہ کے متعلق کچھ سننا چاہتے ہیں حضور نے جواب دیا کہ پیاسا کنوئیں کے پاس آتا ہے۔ کنواں پیاسے کے پاس نہیں جاتا۔ ہاں اگر آپ کو واقعی حق کی تلاش ہے۔ تو علمائے سلسلہ بھیجے جا سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی حفاظت کے آپ ذمہ دار ہوں۲۸۱۔
    کنانور(مالا بار) کے قریب احمدیوں پر راجہ صاحب کے مظالم
    ۱۹۱۵ء کے وسط آخر میں مالا باری احمدیوں پر بہت ظلم و ستم ڈھائے گئے ایک احمدی کو مسجد میں نماز پڑھنے کی وجہ سے زدوکوب کرکے نیم جان کر دیا۔ جس پر مقدمہ چلا۔ غیر احمدیوں نے مقدمہ کے لئے ایک فنڈ کھول دیا۔ چند روز کے بعد ایک احمدی کے ایس۔ حسن صاحب کا چھوٹا بچہ فوت ہو گیا۔ راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ احمدی کافر ہیں کسی مقبرے میں ان کا مردہ دفن نہیں کیا جا سکتا۔ آخر دوسرے دن بڑی کوشش کے بعد کنا نور سے دو میل دور ایک قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت ملی۔ چار پانچ ہزار لوگ شرارت کے لئے جمع ہو گئے۔ احمدی صرف نو تھے آخر مسلح پولیس کی حفاظت میں نعش لے جائی گئی۔ اور شام کے قریب بچہ دفن کرنے کی نوبت آسکی۔ اس واقعہ کے کچھ دن بعد راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ کوئی دکاندار کسی احمدی کے ہاتھ کوئی چیز فروخت نہ کرے۔ ورنہ وہ بھی قادیانی قرار دے کر مساجد سے روک دیا جائے گا۔ اس سے پہلے کئی احمدیوں کی بیویاں بھی چھینی جا چکی تھیں۔ اب اس حکم سے لوگوں کو اور شہ مل گئی۔ حتیٰ کہ زبانوں سے گزر کر ان حالات کا ذکر اخباروں میں بھی آنا شروع ہو گیا۔ اور ان کے مظالم کی رفتار بہت تیز ہو گئی۔ چنانچہ ایک اخبار ’’کیر لاپتر کا‘‘ نے لکھا۔ ’’احمدیوں پر تکالیف کی بوچھاڑ پہلے کی نسبت بہت زیادہ پڑنے لگی ہے۔ بیچارے اپنے گھر کے صحن سے بھی باہر نہیں نکلتے جن کے پاس کچھ مال تھا وہ اندر بیٹھے کھا رہے ہیں اور جو غریب ہیں وہ فاقے کاٹ رہے ہیں۔ جب یہ حالات منظر عام پر آگئے تو لفٹنٹ گورنر پنجاب نے گورنر مدراس کو توجہ دلائی۔ اور تحقیقات کے بعد احمدیوں کو اپنی مسجد اور اپنا قبرستان بنانے کے لئے الگ زمین دے دی گئی۔ مگر چند ہی روز کے بعد کنانور کے قاضی صاحب کی رپورٹ پر راجہ صاحب نے احمدیوں کے نام نوٹس جاری کر دیا کہ کیوں نہ تمہیں کافر قرار دیا جائے اس حکمنامہ نے اور آگ بھڑکا دی۔ لیکن بالاخر مظلوم احمدیوں کی فریاد سنی گئی۔ اور ۱۷/ نومبر ۱۹۱۵ء کو راجہ صاحب انگریزی حکومت کے زیر عتاب آگئے اور احمدیوں کو ان کے مظالم سے نجات ملی10] p[۲۸۲
    حضور کے نصائح حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب مبلغ انگلستان کو
    حسب الارشاد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب بی۔ اے۔ بی۔ ٹی ۶/ ستمبر ۱۹۱۳ء کو بغرض تبلیغ انگلستان روانہ ہوئے۲۸۳ حضور نے ان کو جو تفصیلی ہدایات و نصائح اپنے دست مبارک سے تحریر فرما کر دیں۔ ان کا ملخص یہ ہے۔ اس بات کو خوب یاد رکھیں کہ یورپ کو فتح کرنے جاتے ہیں نہ کہ مفتوح ہونے۔ یورپ کی ہوا کے آگے نہ گریں۔ بلکہ اہل یورپ کو اسلامی تہذیب کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ خدا کی بادشاہت کے دروازوں کو تنگ نہ کریں لیکن عقائد صحیحہ کے اظہار سے کبھی نہ جھجکیں۔ کھانے پینے پہننے میں اسراف اور تکلف سے کام نہ لیں۔ اخلاص سے سمجھائیں اور محبت سے کلام کریں۔ ہر ہفتہ مفصل خط لکھتے رہیں۔ اگر کوئی تکلیف ہو تو خدا تعالیٰ سے دعا کریں۔ اگر کسی فوری جواب کی ضرورت ہو۔ خط لکھ کر ڈال دیں۔ اور خاص طور پر دعا کریں تعجب نہ کریں اگر خط کے پہنچتے ہی یا پہنچنے سے پہلے ہی جواب مل جائے خدا کی قدرتیں وسیع اور اس کی طاقت بے انتہا ہے۔ اپنے اندر تصوف کا رنگ پیدا کریں کم خوردن‘کم گفتن‘کم خفتن عمدہ نسخہ ہے۔ اور تہجد ایک بڑا ہتھیار۲۸۴`۲۸۵
    سندھی ٹریکٹ
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے سندھ کو پیغام احمدیت پہنچانے کے لئے ۱۹۱۵ء کے آخر میں ٹریکٹ لکھا جو سندھی زبان میں بعنوان ’’ایک عظیم الشان بشارت‘‘ شائع کیا گیا۲۸۶
    ’’فاروق‘‘ کا اجراء
    خلافت ثانیہ کے عہد میں مرکز سے پہلا اخبار ’’فاروق‘‘ حضرت میر قاسم علی صاحب کی ادارت میں ۷/ اکتوبر ۱۹۱۵ء کو جاری ہوا۔ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس کے پہلے پرچہ میں بعنوان ’’فاروق کے فرائض‘‘ ایک نہایت قیمتی مضمون لکھا۲۸۷۔ حضرت میر قاسم علی صاحب فاروق کی ابتدا کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’خاکسار ایڈیٹر فاروق ۱۹۱۵ء میں دہلی سے ہجرت کرکے دارالامان میں آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بعض ذمہ دار احباب نے مجھے انجمن کی طرف سے ہیڈ مبلغ بننے کی صلاح دی۔ جس کے لئے میں نے اپنے آپ کو ناقابل سمجھا۔ اور اس تجویز کو منظور نہ کیا۔ میرے پیارے مقتدا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے میری حالت کا اندازہ فرما کر مجھے یہی حکم دیا کہ میں جس طرح دہلی سے ’’الحق‘‘ اخبار نکالتا تھا اسی طرح دارالامان سے اخبار جاری کروں اور اس کا نام خلافت ثانیہ کے لحاظ سے فاروق تجویز ہوا‘‘۲۸۸۔ ’’فاروق‘‘ مخالفین اسلام و احمدیت کے لئے شمشیر برہنہ تھا جس کے دلائل سے ان کے اعتراضات پارہ پارہ ہو جاتے تھے۔ افسوس اپریل ۱۹۴۲ء میں حضرت میر قاسم علی صاحب کی وفات کے بعد یہ بند ہو گیا۔
    مولوی عبدالحی صاحب کی خدمت میں لاہوری وفد
    حضرت صغریٰ بیگم صاحبہ (حرم حضرت خلیفہ اولؓ) اور مولوی عبدالحی صاحبؓ نے ابتدا ہی میں بیعت خلافت ثانیہ کر لی تھی۔ مگر غیر مبایعین برابر اس کوشش میں لگے رہے کہ حضرت خلیفہ اولؓ کے خاندان کی ہمدردیاں حاصل کرکے انہیں اپنے اندر جذب کر لیں۲۸۹۔ چنانچہ جناب میاں عبدالوہاب صاحب عمر کا بیان ہے کہ ’’مولوی عبدالباقی صاحب بہاری ایم۔ اے نے بتایا کہ حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ کی وفات کے بعد خلافت ثانیہ کے زمانے میں خلافت کے چند دشمن حضرت مولوی عبدالحی صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ خلیفہ بن جاتے تو ہم آپ کی اطاعت کرتے۔ مولوی عبدالحی صاحب نے باوجود بچپن کے ان کو جو جواب دیا وہ اس قابل ہے کہ سلسلہ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے انہوں نے فرمایا۔ ’’یا تو آپ کو آپ کے نفس دھوکہ دے رہے ہیں یا آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ بنتا تب بھی آپ میری اطاعت نہ کرتے۔ اطاعت کرنا آسان کام نہیں۔ میں اب بھی تمہیں حکم دوں تو تم ہرگز نہ مانو‘‘۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا کہ آپ ہمیں حکم دیں۔ پھر دیکھیں کہ ہم آپ کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ یا نہیں۔ مولوی عبدالحی صاحب نے کہا اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ جائو حضرت خلیفتہ المسیح کی بیعت کر لو۔ یہ بات سن کر وہ لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہنے لگے کہ یہ تو نہیں ہو سکتا‘‘۲۹۰۔
    جماعت احمدیہ کی طرف سے اہم میموریل
    ابتداء میں جب انگریزی حکومت نے مسلمانوں سے دریافت کیا۔ کہ تمہارے مقدمات وراثت کا فیصلہ رواج پر ہو یا شریعت پر۔ تو بعض نے رواج لکھوایا اور بعض نے شریعت۔ ہر قوم کے رواج الگ الگ تھے۔ اس لئے مقدمات بہت طول کھینچنے لگے۔ کیونکہ ہر شخص اپنے آپ کو کسی ذاتی فائدے کے لئے ایک خاص رواج کا پابند قرار دیتا جس پر بالاخر حکومت نے تجویز کی کہ تمام قوموں کے رواج کی ایک کتاب لکھی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو رواج اس میں درج ہوں وہی قانون قرار دیئے جائیں۔ اور ان کے سوا کچھ مسلم نہ ہو۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اکتوبر ۱۹۱۵ء میں جماعت احمدیہ کو ارشاد فرمایا کہ انہیں حکومت کو میموریل بھیجنے چاہئیں۔ کہ ہم خواہ کسی قسم یا ذات یا خاندان سے ہوں ہم احمدی ہیں اور شریعت کے تابع ہیں اور ہمارا عمل درآمد شریعت اسلامیہ ہے پس ہمارے مقدمات شرع کے مطابق فیصل ہوا کریں۔ جو مسئلہ اسلامی فرقوں میں متنازعہ فیہ ہو اس میں احمدی علماء کی رائے معتبر مانی جائے۲۹۱۔
    چنانچہ جماعت نے اس کی پوری پوری تعمیل کی اور گو جماعت احمدیہ کا اکثر و بیشتر حصہ پہلے ہی رواج پنجاب کی بندھنوں سے آزاد اور احکام اسلامی کا پابند تھا مگر میموریل کے ذریعہ سے انگریزی حکومت پر بھی واضح ہو گیا کہ یہ جماعت رواج کی بجائے اسلامی شریعت کو اپنا آئین سمجھتی ہے لیکن اس کے مقابل (ایک قلیل طبقہ کے سوا) مسلمانوں کے سواد اعظم نے شریعت پر رواج کو ترجیح دی۔
    سر ڈبلیو ایچ ریٹگین رواج عام پنجاب کی مشہور اور مستند ترین کتاب of digest ‘‘The law’’ customary میں لکھا ہے کہ
    ۔۔۔۔۔ governed is Batala Tehsil Qadian of Barlas Mughal the of family ‘‘The۔۲ ۲۹Law’’ Muhammdan by
    یعنی قادیان کا مغل برلاس خاندان رواج زمیندارہ کا نہیں بلکہ قانون شریعت کا پابند ہے۔
    مولوی عبدالحی صاحب کی وفات
    ۱۱/ نومبر ۱۹۱۵ء۲۹۳ کو مولوی عبدالحی صاحب (ابن حضرت خلیفہ اولؓ) کا انتقال ہوا۔ آپ کی وفات پر کثیر التعداد تعزیت ناموں کے علاوہ کئی احباب بیرون سے تعزیت کے لئے آئے۲۹۴۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے چودھری فتح محمد صاحب سیال مبلغ انگلستان کو مولوی صاحب کی وفات کی نسبت اطلاع دیتے ہوئے لکھا۔ ’’عزیز میاں عبدالحی کو دو ہفتہ بخار رہا۔ اور گو سخت تھا لیکن حالت مایوسی کی نہ تھی۔ مگر پچھلی جمعرات کو یک لخت حالت بگڑ گئی۔ اور ایک رات اور کچھ حصہ دن کا بیہوش رہ کر عصر کے قریب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قریباً اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور اب کے ففتھ ہائی کا امتحان دینا تھا۔ سال ڈیڑھ سال سے شبانہ روز جسم و علم میں ترقی تھی۔ اور اب خاصہ جوان آدمی معلوم ہوتے تھے۔ ذہن نہایت تیز اور رسا تھا مگر منشاء الٰہی کے مقابلہ میں انسان کا کچھ بس نہیں چل سکتا۔ اور اس کے ہر فعل میں حکمت ہوتی ہے اور جیسا کہ مجھے ان کی وفات کے بعد معلوم ہوا۔ یہ واقعہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی حکمتوں کے ماتحت تھا۔ ورنہ کئی فتنوں کا اندیشہ تھا۔ مرحوم بوجہ کمسن ہونے کے بہت سے فتنہ پردازوں کے دھوکے میں آجاتا تھا۔ میں آخری دنوں میں اپنے گھر میں ہی ان کو لے آیا تھا۔ (ان کی بہن امتہ الحی کی خواہش سے) اور حیران تھا کہ وہ ہر وقت والدہ صاحبہ اور میرے پاس بیٹھے رہنے پر مصر سا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بار بار کہتا تھا کہ آپ میرے پاس بیٹھے رہیں مجھے اس سے تسلی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے وفات سے پہلے اس کے دل کے دروازے اللہ تعالیٰ نے کھول دیئے تھے اور ایک پاک دل کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملا۔ مجھے اس سے ایسی محبت تھی جیسے ایک سگے بھائی سے ہونی چاہئے۔ اور اس کا باعث نہ صرف حضرت مولوی صاحبؓ کا اس سے محبت رکھنا تھا۔ بلکہ یہ بھی وجہ تھی کہ اسے خود بھی مجھ سے محبت تھی۲۹۵`۲۹۶
    احمدیہ ہوسٹل لاہور کا قیام
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نگاہ دوربین تبلیغ کی راہوں اور طریقوں سے گزر کر نونہالان جماعت کی ابتدائی تعلیمی و تربیتی ضرورتوں تک بھی جاپہنچی۔ قادیان میں ان دنوں کوئی کالج نہیں تھا۔ اس وجہ سے یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے جماعت کے نوجوانوں کو لاہور یا دوسرے شہروں کے کالجوں میں داخل ہونا پڑتا تھا۔ یہ صورت حال تربیتی نقطہ نگاہ سے بڑی خطرناک تھی۔ کیونکہ جماعتی ماحول سے نکل کر دنیا کے زہر آلود مادی ماحول میں داخل ہو جانا خام طبیعتوں پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ حضور نے جماعت کی نئی پود کو اس خطرہ سے محفوظ کر دینے کے لئے تجویز فرمائی کہ لاہور میں احمدی نوجوانوں کے لئے ایک ہوسٹل قائم کیا جائے۔ جہاں جماعت کے نوجوان طلبہ جماعت کے تربیتی نظام کے ماتحت رہیں۔ یہ ہوسٹل ۱۹۱۵ء کے آخر میں جاری ہوا۲۹۷۔ اور اس کے پہلے سپرنٹنڈنٹ مکرم بابو عبدالحمید صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ لاہور مقرر کئے گئے۲۹۸۔ اور درس و تدریس کا فرض حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ادا فرمانے لگے۲۹۹ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا شروع شروع میں یہ دستور تھا کہ حضور جب کبھی لاہور تشریف لے جاتے تو احمدیہ ہوسٹل میں ہی قیام فرماتے۔ کہ طلباء میں دینی روح پیدا ہو۔ اور وہ احمدیت سے اخلاص میں ترقی کریں۔ اور یہ حضور کی اس خاص توجہ کا نتیجہ تھا کہ احمدیہ ہوسٹل کے طلباء نہایت اخلاص و جوش رکھنے اور خدمات سلسلہ میں پورا حصہ لینے والے تھے۔ چنانچہ مسجد لندن کی تحریک پر صرف احمدیہ ہوسٹل کا چندہ دو ہزار کے قریب تھا۔ امتحان کے دنوں میں بھی طلباء احمدیت کی تبلیغ کے جوش میں سائیکلوں پر سوار تمام شہروں میں اشتہار بانٹتے پھرتے۔ ایک دفعہ حضور امتحان کے دنوں میں لاہور تشریف فرما ہوئے۔ تو لڑکوں نے امتحان کا کام چھوڑ دیا۔ مگر خدا کے فضل سے پھر بھی ان کے نتائج بہت عمدہ رہے۔ اسی طرح جب ۱۹۱۷ء میں غیر احمدیوں نے قادیان میں پہلا جلسہ منعقد کیا تو احمدیہ ہوسٹل کے طلباء بھی قادیان پہنچ گئے۔ وہ بھی امتحان کے دن تھے لیکن بفضلہ تعالیٰ سب کے سب پاس ہو گئے تھے۳۰۰۔
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاہب نے اپریل ۱۹۲۷ء میں جب کہ آپ ناظر تعلیم و تربیت تھے۔ احمدیہ ہوسٹل کے مفصل قواعد و ضوابط مرتب فرمائے۔ کل چالیس قواعد تھے جن میں سے چند یہ تھے۔ (۱) کسی بورڈر کے پاس رات کو کوئی مہمان نہیں ٹھہر سکے گا۔ (۲) ہر بورڈر اسلامی تعلیمات کا پابند ہو گا۔ اور سپرنٹنڈنٹ کے احکام کی اطاعت کرے گا۔ (۳) پانچوں نمازیں ادا کرنی ہوں گی۔ اور رمضان کے روزے رکھنے ہوں گے۔ (۴) سگریٹ نوشی ممنوع ہو گی۔ (۵) ہوسٹل کے ملازمین سے طلباء قرضہ نہیں لے سکیں گے وغیرہ وغیرہ۳۰۱۔
    احمدیہ ہوسٹل کے لاہور میں ایک عرصہ تک نوجوانان احمدیت کے دینی و علمی مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔ یہ گویا اسلامی ماحول میں پرورش پانے والا ایک شجر تھا جس نے حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحبؓ۔ ملک غلام فرید صاحب۔ ملک عبدالرحمن صاحبؓ خادم۔ ڈاکٹر بدر الدین صاحبؓ۔ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحبؓ درد ایم۔ اے۔ شیخ یوسف علی صاحبؓ بی۔ اے سید عزیز اللہ شاہ صاحبؓ۔ سید محمود اللہ شاہ صاحبؓ۔ جناب شیخ بشیر احمد صاحب۔ جناب مرزا عبدالحق صاحب۔ جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر۔ جناب میاں عطاء اللہ صاحب۔ صوفی محمد ابراہیم صاحب۔ اخوند عبدالقادر صاحب مرحوم اور چوہدری علی اکبر صاحب جیسے اثمار شیریں پیدا کئے۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء (صفحہ ۲۴۴۔ ۲۴۶) میں احمدیہ ہوسٹل کے قدیم طلبہ کی حسب ذیل فہرست شائع شدہ ہے۔
    ۱۹۱۵۔ ۱۹۱۶ء
    ۱۹۱۷ء
    ‏]3do [tag۱۹۱۸ء
    فہرست بیرونی طلباء
    (۱) میاں عبداللہ خان صاحب
    (۱) شیخ یوسف علی صاحب
    (۱) چوہدری عصمت اللہ صاحب۔ وکیل
    (۱) چوہدری محمد حسینصاحب ہیڈکلرک۔ جھنگ۔
    (۲) ملک غلام فرید صاحب
    (۲) سید محمود اللہ شاہ صاحب
    (۲) محمد حسن صاحب
    (۲) میاں محمد احمد صاحب وکیل کپورتھلہ
    (۳) ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب
    (۳) خلیفہ تقی الدین صاحب
    (۳) خاکسار غلام محمد
    (۳) مرزا عبدالحق صاحب۔ وکیل گورداسپور
    (۴) صوفی محمد ابراہیم صاحب
    (۴) چوہدری علی اکبر صاحب
    (۴) شیخ سردار علی صاحب سٹوڈنٹ
    ایم۔ بی۔ بی۔ ایس
    (۵) چوہدری محمد لطیف صاحب
    (۵) ڈاکٹر محمد رمضان صاحب
    (۵) شیخ بشیر احمد صاحب وکیل گوجرانوالہ
    (۶) ڈاکٹر غلام قادر صاحب
    (۶) سید عزیز اللہ شاہ صاحب
    (۶) اخوند غلام حسن صاحب
    پروفیسر بہاولپور کالج
    (۷) شیخ احمد الدین صاحب
    (۷) میاں عطاء اللہ صاحب
    (۷) چوہدری فضل احمد صاحب
    اے۔ ڈی۔ آئی۔ گجرات
    (۸) ڈاکٹر غلام علی صاحب
    (۸) حشمت علی خان صاحب
    (۹) ڈاکٹر غلام محمد صاحب
    (۱۰) ڈاکٹر لال الدین صاحب



    (۱۱) میاں عبدالرحیم خان صاحب خالد
    (۱۲) چوہدری غلام حسین صاحب
    (۱۳) چوہدری ظفر اللہ خان صاحب
    نائب تحصیلدار
    ۱۹۱۹ء
    ۱۹۲۰ء
    ۱۹۲۱ء
    فہرست بیرونی طلباء
    (۱) عطاء اللہ صاحب میڈیکل سٹوڈنٹ
    (۱) صوفی عبدالقدیر صاحب
    (۱) عبدالقدیر کاٹھ گڑہی
    (۱) میاں ناصر علی صاحب تمیم
    (۲) سید عنایت اللہ شاہ صاحب میڈیکل سٹوڈنٹ
    (۲) شیخ فضل کریم صاحب
    (۲) عبدالجلیل صاحب کاٹھ گڑھی
    (۲) چوہدری غلام احمد صاحب
    (۳) ہارون رشید
    (۳) عبدالغفار مرحوم
    (۳) سید عبدالرزاق
    (۳) ملک غلام نبی
    (۴) غلام حسین
    (۴) محمد انور پسر قاضی عبدالحق صاحب مرحوم
    (۴) چوھدری ولی محمد
    (۴) چوہدری غلام احمد
    (۵) سید فضل الرحمان
    (۵) عبدالرحمان رانجہ
    (۵) مرزا غلام حیدر وکیل
    (۶) سید عبدالحی
    (۶) میر عطاء اللہ خان
    ۲۲۔ ۱۹۲۳ء
    ۱۹۲۴ء
    ۱۹۲۵ء
    فہرست بیرونی طلباء
    (۱) رشید احمد
    (۱) کرامت اللہ
    (۱) مرزا محمد یعقوب
    اس عرصہ میں اور نیز
    (۲) عبید السلام
    (۲) حبیب اللہ
    (۲) شیخ محمد یعقوب
    اس کے بعد کے دو سالوں
    (۳) حمید اللہ
    (۳) برکت اللہ
    (۳) محمد شریف][ میں بیرونی طلباء میں سے
    (۴) محمد اسمعیل
    (۴) محمد صادق
    (۴) میر عنایت اللہ
    کوئی ایسا طالب علم
    (۵) عبدالمنان
    (۵) عبدالرحیم مالا باری
    (۵) اسد اللہ خان
    ہوسٹل میں نہیں آیا
    (۶) نذیر احمد

    (۶) عبدالغفور
    جس نے ہوسٹل میں
    (۷) نذیر احمد


    آکر ترقی کی ہو۔
    (۸) صلاح الدین



    ‏od1] [tag۱۹۲۶ء
    ۱۹۲۷ء


    (۱) مشتاق احمد
    (۱) عبدالرحمن جنید


    (۲) ناصر الدین
    (۲) افتخار الحق


    (۳) احمد الدین
    (۳) ضیاء اللہ


    (۴) محمد یوسف
    (۴) عبدالحمید خان


    (۵) محمد دائود



    (۶) شریف احمد



    (۷) غیور احمد



    (۸) غلام احمد



    (۹) فیض قادر



    (۱۰) مولوی عبدالسلام



    (۱۱) محمد اسمعیل رام پوری



    (۱۲) اختر احمد



    (۱۳) محمد زاہد
    ۳۰۲


    احمدیہ ہوسٹل میں مدت تک ’’احمدیہ فیلوشپ آف یوتھ‘‘ کے نام سے ایک مجلس قائم رہی۔ جس کے روح رواں جناب ملک عبدالرحمن صاحب خادم تھے اس مجلس نے یوم التبلیغ اور دوسرے موقعوں پر کئی پمفلٹ شائع کئے ایک پمفلٹ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی تحریر فرما کر اسی انجمن کو چھاپنے کے لئے عنایت فرمایا۳۰۳`۳۰۴
    پہلے پارہ کی نادر تفسیر (اردو اور انگریزی میں)
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور نگرانی کے ماتحت دسمبر ۱۹۱۵ء کے آخر میں قرآن شریف کے پہلے پارہ کی تفسیر اردو اور انگریزی ہر دو زبانوں میں شائع ہوئی۔ یہ تفسیر خود حضور کی لکھی ہوئی تھی مگر آپ کے نام سے شائع نہیں ہوئی۔ کیونکہ آپ نے جماعت کے ذمہ دار اصحاب سے فرما دیا تھا کہ میں صرف ایک نمونہ تیار کرتا ہوں۔ اور آگے اسے مکمل کرنا آپ لوگوں کا کام ہوگا۔ اس تفسیر کے لئے حضور نے علماء کی ایک کمیٹی بھی تجویز فرمائی جس کے ممبر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاب‘حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل تھے۔ اس تفسیر کا انگریزی ترجمہ احمدی علماء کے ایک بورڈ نے کیا تھا]4 [stf۳۰۵۔ جس میں قاضی عبدالحق صاحب مرحوم پیش پیش تھے۔ اور اس کی اشاعت خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خرچ پر ہوئی۔ جو جائداد کا ایک حصہ فروخت کرکے مہیا کیا گیا تھا۳۰۶۔
    اس نادر تفسیر نے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ یورپ کے حلقوں میں بھی بڑی ہلچل پیدا کر دی تھی حتیٰ کہ امریکہ کے مسیحی اخبار ’’مسلم ورلڈ‘‘ نے لکھا۔ احمدیت کے لٹریچر کا مطالعہ ہی اس بات کا اندازہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ مذاہب کی موجودہ جنگ میں اسلام اور مسیحیت میں سے کون غالب آنے والا ہے۳۰۷۔ ’’ایسٹ اینڈ ویسٹ‘‘ (لندن) نے لکھا۔ یہ قرآن مجید کا بے نظیر ترجمہ ہے۔ جس سے مطالب قرآن پر خوب روشنی پڑتی ہے۳۰۸۔ ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ لاہور نے یہ رائے دی کہ اس ترجمہ سے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ قرآن سراسر مربوط کلام ہے جس کی ہر آیت اپنی جگہ ٹھیک ٹکے ہوئے موتی کی طرح ہے۳۰۹۔ ہندوستان کے مشہور فاضل ڈاکٹر عبداللہ المامون السہروردی ایم۔ اے نے یہ تبصرہ کیا کہ یہ ترجمہ کتاب مجید کا ایک شاندار ایڈیشن ہے تشریحی نوٹ سبق اموز اور روشنی پیدا کرنے والے ہیں یہ نئی علمی کوشش اس امر کی مستحق ہے کہ مذاہب عالم کا غیر جانبداری سے مطالعہ کرنے والے تمام لوگ اس کی اعانت و تائید کریں۳۱۰
    محلہ دارالفضل
    قادیان کے شمال مشرق میں احمد آباد اور کھارا کے درمیان آخر ۱۹۱۵ء میں ایک نیا محلہ آباد ہونا شروع ہوا۔ جس کا نام ’’دارالفضل‘‘ رکھا گیا۳۱۱ یہ محلہ اسی سرزمین پر آباد ہوا جو انگریزی پارہ کے اخراجات مہیا کرنے کے لئے فروخت کی گئی تھی۳۱۲۔ اس محلہ میں ابتداًء حضرت مولوی عبیداللہ صاحب بسمل۔ حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب (مہر سنگھ) حضرت میر قاسم علی صاحب اور حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری وغیرہ بزرگوں نے مکانات بنائے تھے۔
    سرزمین سندھ سے متعلق ایک اہم خبر
    حصرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۱۵ء میں خواب میں دیکھا کہ آپ نہر میں بہہ رہے ہیں اور دعا کر رہے ہیں کہ یا اللہ سندھ میں تو پیر لگ جائیں۳۱۳]4 [rtf۔ یہ خواب ایک عرصہ کے بعد غیرمعمولی نشان بن کر پوری ہوئی۔ اور اب اس علاقہ میں حضور اور حضور کے خاندان اور سلسلہ کی ہزاروں ایکٹر کی جائداد موجود ہے۔ اور محمد آباد۔ احمد آباد۔ محمود آباد۔ ناصر آباد اسٹیٹس قائم ہیں۳۱۴۔
    ’’انوار خلافت‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے عہد کے دوسرے سالانہ جلسہ دسمبر ۱۹۱۵ء کی مختلف تاریخوں میں نہایت حقیقت نما اور معلومات افزا چار تقریریں فرمائیں۔ حضور نے ان تقریروں میں ’’مسئلہ اسمہ احمد‘‘ ’’مسئلہ نبوت‘‘ وغیرہ پر بڑی شرح و بسط سے کلام فرمایا ہے اور کتب معتبرہ کی رو سے عبداللہ بن سبا کے فتنہ کی پوری تاریخ بیان فرما دینے کے بعد جماعت کے دوستوں کو یہ دل ہلا دینے والی وصیت فرمائی کہ۔
    ’’آپ لوگ ان باتوں کو سمجھ کر ہوشیار ہو جائیں۔ اور تیار رہیں فتنے ہوں گے اور بڑے سخت ہوں گے ان کو دور کرنا تمہارا کام ہے خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے اور تمہارے ساتھ ہو اور میری بھی مدد کرے اور مجھ سے بعد آنے والے خلیفوں کی بھی کرے اور خاص طور پر کرے۔ کیونکہ ان کے مشکلات مجھ سے بہت بڑھ کر اور بہت زیادہ ہوں گے۔ دوست کم ہوں گے اور دشمن زیادہ۔ اس وقت حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ بہت کم ہوں گے۳۱۵۔
    متفرق مگر اہم واقعات
    ۱۔ خاندان مسیح موعودؑ میں ترقی۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے فرزند ارجمند مرزا حمید احمد صاحب کی ولادت ہوئی۳۱۶۔
    ۲۔
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے لاہور اور مالیر کوٹلہ کا سفر کیا]10 [p۳۱۷
    ۳۔
    حضرت ام المومنینؓ دہلی تشریف لے گئیں۳۱۸۔
    ۴۔
    مولوی عبدالحی صاحب کی وفات پر ۴/ نومبر ۱۹۱۵ء کو مولوی محمد علی صاحب‘شیخ رحمت اللہ صاحب مرزا خدا بخش صاحب وغیرہ حضرات قادیان آئے اور خاندان حضرت خلیفہ اول سے تعزیت کرنے کے بعد مزار حضرت مسیح موعودؑ پر فاتحہ پڑھنے چلے گئے۔ حضرت امیر المومنین کی طرف سے انہیں چائے کی دعوت بھی دی گئی تھی مگر وہ مقبرہ بہشتی ہی سے لاہور واپس ہو گئے۳۱۹4] ftr[۔
    ۵۔
    حضرت سید میر محمد اسحق صاحب کے فرزند میر محمد ناصر صاحب۔ میاں نجم الدین صاحب اور حافظ عبدالرحیم صاحب مالیر کوٹلہ کا انتقال ہوا۔
    ۶۔
    غیر مبایعین حضرات نے اپنے سالانہ جلسہ میں کچھ وقت سوال و جواب کے لئے رکھا تھا۔ حضرت امیر المومنین کے حکم سے حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ اور حضرت میر قاسم علی صاحب سوال و جواب میں شریک ہونے کے لئے لاہور تشریف لے گئے۳۲۰۔
    ۷۔
    حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ ماموریت سے پہلے کا فارسی کلام ’’درمکنون‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔
    ۸۔
    حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب (سابق مہر سنگھ) گورنمنٹ ہائی سکول پورٹ بلیر (انڈیمان) میں ہیڈ ماسٹر بن کر گئے۔ اور جلد ہی اپنے فرائص کے ساتھ ساتھ دیوانہ وار تبلیغ کرکے جماعت قائم کر دی اور کولمبو‘کانڈی وغیرہ شہروں میں لیکچر دیئے۔ اور لارڈ بشپ اور بدھ لیڈروں کو مقابلہ پر بلایا۔ جس کا مقامی پریس میں خوب چرچا ہوا۳۲۱۔
    ۹۔
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس سال چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب‘پیر اکبر علی صاحب فیروزپور۔ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب اور قاضی عبدالحق صاحب (قادیان) کے خطبات نکاح پڑھے۔
    ۱۰۔
    مشہور مباحثے۔ مباحثہ ڈیرہ غازی خان۳۲۲۔ حضرت میر محمد اسحق صاحب اور مولوی عزیز بخش صاحب برادر مولوی محمد علی صاحب کے درمیان) مباحثہ گوجرانوالہ۳۲۳۔ (احمدی مناظرین حضرت میر محمد اسحق صاحب۔ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب۔ حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی) مباحثہ شملہ۳۲۴ind] gat[ (جو مولوی عمر دین صاحب شملوی نے منشی عبدالحق صاحب اور حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ سے نبوت مسیح موعودؑ کے موضوع پر کیا) مباحثہ موضع کھیڑ ضلع گجرات۳۲۵۔ (احمدی مناظر حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی) مباحثہ چٹاگانگ۳۲۶۔ مباحثہ سڑوعہ۔ (شیخ محمد یوسف صاحب نے ایک سکھ سے مناظرہ کیا۳۲۷)
    ۱۱۔
    علمائے سلسلہ کی نئی مطبوعات۔ ’’حیات النبی‘‘ جلد اول (از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ) تذکرۃ المہدی حصہ اول۳۲۸ (از حضرت پیر سسراج الحق صاحب نعمانی) ’’صداقت مریمیہ‘‘ (از حضرت میاں معراج دین صاحبؓ عمر) ’’بابا نانک کی سوانح عمری‘‘ از شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور) ’’تذکرۃ الذاکرین‘‘ (حضرت منشی خادم حسین صاحبؓ بھیروی)
    ۱۲۔
    حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب (حیدر آباد (دکن) مہاشہ فضل حسین صاحب (لاہور) اور پروفیسر ریگ کلیمنٹ۳۲۹ (انگلستان) احمدیت میں داخل ہوئے۔
    ‏rov.5.11
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا تیسرا سال
    دوسرا باب (فصل سوم)
    خلافت ثانیہ کا تیسرا سال
    (جنوری ۱۹۱۶ء تا دسمبر ۱۹۱۶ء بمطابق ۱۳۳۴ھ تا ۱۳۳۵ھ تک)
    مسٹر والٹر قادیان میں
    جنوری ۱۹۱۶ء کے پہلے ہفتہ میں مسٹر والٹر (سیکرٹری کرسچن ینگ مین ایسوسی ایشن لاہور) سلسلہ احمدیہ کی تحقیق کے لئے قادیان آئے۔ مسٹر ہیوم (ایجوکیشنل سیکرٹری) اور مسٹر لیوکس (وائس پرنسپل فورمین کرسچن کالج لاہور) بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ان سب صاحبوں نے دوبارہ حضور سے ملاقات کرکے بعض مذہبی امور دریافت کئے اور حضور نے بڑی تفصیل سے ان کے جواب دیئے۳۳۰۔ اس پر انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔ گفتگو میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور قاضی عبدالحق صاحب ترجمان تھے۔
    اسی دوران میں مسٹر والٹر حضرت منشی اروڑے خاں صاحبؓ تحصیلدار کپورتھلہ سے بھی ملے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قدیم صحابی اور معمر بزرگ تھے۔ انہوں نے حضرت منشی صاحب سے چند رسمی باتوں کے بعد دریافت کیا۔ کہ آپ پر مرزا صاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثر کیا۔ حضرت منشی صاحب نے جواب میں فرمایا کہ میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا۔ مگر مجھ پر جس بات نے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحب کی ذات تھی جس سے زیادہ سچا اور زیادہ دیانتدار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص میں نے نہیں دیکھا۔ انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ باقی میں تو ان کے منہ کا بھوکا ہوں مجھے زیادہ دلیلوں کا علم نہیں یہ فرما کر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی یاد میں اس قدر بے چین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔ اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔ اور ان کے چہرہ کا رنگ ایک دھلے ہوئے کپڑے کی طرح سفید ہو گیا۳۳۱
    مسٹر والٹر نے بعد کو ’’احمدیہ موومنٹ‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں اپنے تاثرات ان الفاظ میں لکھے کہ ’’میں نے بعض پرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہونے کی وجہ دریافت کی تو اکثر نے سب سے بڑی وجہ مرزا صاحب کے ذاتی اثر اور جذب اور مقناطیسی شخصیت کو پیش کیا۔ میں نے ۱۹۱۶ء میں قادیان جا کر (حالانکہ اس وقت مرزا صاحب کو فوت ہوئے آٹھ سال گزر چکے تھے) ایک ایسی جماعت دیکھی جس میں مذہب کے لئے وہ سچا اور زبردست جوش موجزن تھا۔ جو ہندوستان کے عام مسلمانوں میں آج کل مفقود ہے۔ قادیان میں جا کر انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایک مسلمان کو محبت اور ایمان کی وہ روح جسے وہ عام مسلمانوں میں بے سود تلاش کرتا ہے احمد کی جماعت میں بافراط ملے گی‘‘۳۳۲۔
    اسی طرح مسٹر لیوکس نے سیلون میں جا کر تقریر کی تو کہا کہ ’’عیسائیت اور اسلام کے درمیان جو جنگ جاری ہے اس کا فیصلہ کسی بڑے شہر میں نہیں ہو گا۔ بلکہ ایک چھوٹے سے گائوں میں ہو گا جس کا نام قادیان ہے‘‘۳۳۳۔
    دارالبیعت کا افتتاح
    لدھیانہ کا دارالبیعت جہاں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے پہلی بیعت لی تھی اب تک ایک مکان کی شکل میں تھا۔ انجمن احمدیہ لدھیانہ نے ۱۹۱۶ء میں اس کی مرمت کرائی اور اس کی بیرونی صورت میں تبدیلی کرکے جانب شمال ایک لمبا اور ہوا دار پختہ کمرہ تعمیر کرا دیا۔ اس کی شمالی دیوار کے بیرونی رخ پر دارالبیعت کا نام اور تاریخ بیعت ۲۳/ مارچ ۱۸۸۹ء کا کتبہ ثبت کرا دیا۔ اور صحن میں پختہ اینٹوں کا بالشت بھر اونچا ایک چبوترہ اور ایک محراب بنوا کر نماز کے لئے مخصوص کر لیا۳۳۴۔
    اس ترمیم شدہ عمارت کا افتتاح کرنے کے لئے مرکز سے حافظ روشن علی صاحب تشریف لے گئے اور آپ نے دو دن تک وہاں لیکچر دیئے۳۳۵
    ۱۹۳۹ء کے قریب دارالبیعت یادگار کے طور پر پختہ بنا دیا گیا جس کی نگرانی میں حافظ سید عبدالوحید صاحب آف کمرشل ہائوس کوہ منصوری اور مولوی برکت علی صاحب لائق لدھیانوی نے نمایاں حصہ لیا۔
    تائی صاحبہ کی بیعت
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ۱۹۰۰ء میں الہام ہوا تھا۔ ’’تائی آئی‘‘۳۳۶ اس الہام میں تین زبردست پیشگوئیاں تھیں۔ (۱) حضرت مسیح موعودؑ کی اولاد میں سے خلیفہ ہو گا۔ (۲) اس وقت اس کی تائی صاحبہ جماعت احمدیہ میں آجائیں گی۔ (۳) بیعت کرنے تک آپ بہرحال زندہ رہیں گی۳۳۷۔ اور ایسا ہی ہوا کہ تائی صاحبہ کا نام حرمت بی بی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی بیوہ تھیں۔ اور جنہوں نے نہ حضرت مسیح موعود کی بیعت کی تھی اور نہ حضرت خلیفہ اولؓ کی اور سخت مخالف رہی تھیں۔ مارچ ۱۹۱۶ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کر لی10] p[۳۳۸۔ ایک احمدی شاعر جناب حسن رہتاسی نے اس پر یہ قطعہ کہا۔
    تیرے وعدے کے مطابق ترے مامور کے پاس
    چل کے دنیا کے کناروں سے خدائی آئی
    جس کے آنے کی خبر عہد نبوت میں ملی
    تائی والے کی خلافت میں وہ تائی آئی۳۳۹
    دارالسلطنت دہلی میں عظیم الشان جلسہ
    مارچ ۱۹۱۶ء میں دارالسلطنت دہلی میں جماعت احمدیہ کا عظیم الشان جلسہ منعقدہ ہوا۔ جو ۳/ مارچ ۱۹۱۶ء سے شروع ہو کر ۶/ مارچ ۱۹۱۶ء تک چار دن برابر منعقد ہوتا رہا تھا۔ اپنی نوعیت کا پہلا اور عظیم الشان تبلیغی جلسہ تھا۳۴۰ جلسہ کے آغاز میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا پیغام اہل دہلی کے نام جناب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے پڑھ کر سنایا۔ حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ۔ حضرت میر محمد اسحق صاحب۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب‘چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب‘حضرت میر قاسم علی صاحب‘چوہدری ابوالہاشم صاحب‘مولوی محمد الدین صاحب اور شیخ عبدالخالق صاحب ماہر بائیبل کے لیکچر ہوئے۳۴۱۔ لیکن اس جلسہ کی جان حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا وہ معرکتہ الاراء مضمون تھا جو حضور نے ’’اسلام اور دیگر مذاہب‘‘ کے عنوان سے قلم برداشتہ رقم فرما کر بھجوایا تھا۳۴۲۔
    حضور کا یہ نہایت اہم مضمون جس نے اہل دہلی پر باحسن طریق اتمام حجت کر دیا بعد کو کتابی صورت میں اردو کے علاوہ عربی اور انگریزی میں بھی شائع کیا گیا تھا۔
    ’’نصائح مبلغین‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۲/ مارچ ۱۹۱۶ء کو نماز ظہر کے بعد مبلغین کے لئے ایک اہم لیکچر دیا۔ جس میں بہت قیمتی نصیحتیں فرمائیں۔ مثلاً تبلیغ میں تزکیہ نفس سے غافل نہ رہیں۔ کتابیں اپنی خریدیں۔ سوال اور خوشامد سے بچیں۔ اللہ پر توکل کریں دعائوں میں مصروف رہیں۔ بدی کے رد میں پوری جرات سے لیکچر دیں۔ اپنے کام کا محاسبہ کرتے رہیں۔ استقلال سے کام لیں۔ مسائل پر غور کرنے کی عادت ڈالیں۔ اور لوگوں کو مرکز میں بار بار آنے کی تاکید کرتے رہیں۳۴۳ یہ لیکچر ’’نصائح مبلغین‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔
    ’’نجات کی حقیقت‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۵/ مارچ ۱۹۱۶ء کو ایک عیسائی کی درخواست پر مسئلہ نجات سے متعلق فلسفہ عیسائیت اور فلسفہ اسلام کا مقابلہ کرکے اسلام کی برتری ثابت فرمائی ہے۳۴۴۔
    حضرت خلیفتہ المسیح کا ایک پر حکمت جواب
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں ایک غیر مبائع صاحب کا خط پہنچا۔ کہ اختلاف عقائد کے باوجود حضور کی مستجاب دعائوں سے استفادہ کے لئے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت اقدس نے جواب لکھوایا۔
    ’’اگر آپ صرف دعا سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو میں دعائیں تو ہر مذہب اور ملت کے آدمیوں کے لئے کرتا ہوں اس کے لئے احمدی ہونا اور احمدیوں میں مبائع ہونا شرط نہیں۔ ہندو اور عیسائی بھی مجھے دعا کے لئے کہتے ہیں اور میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔ پس اگر یہی غرض آپ کی بیعت کرنے کی ہے۔ تو یہ غرض مبارک ہے آپ اپنی اصلی حالت میں رہیں اور مجھے کبھی کبھی علم کے لئے یاد دلاتے رہیں۔ اور اگر بیعت کی غرض اتحاد جماعت کا قائم رکھنا ہے تو پھر اس شرط پر میں آپ کی بیعت منظور کر سکتا ہوں کہ انتظام جماعت کے متعلق آپ کو میرے تمام احکام ماننے پڑیں گے۔ مسائل اختلافیہ میں نہ میں آپ کے عقائد کا ذمہ دار اور نہ آپ میرے عقائد کے ذمہ دار۔ نہ آج تک کوئی خلیفہ عقائد میں جماعت کا ذمہ دار ہوا ہے لیکن عقائد کے متعلق اتنی احتیاط ضروری ہو گی۔ کہ جب میں کسی مسئلہ پر بحث کو جماعت کے اختلاف کا باعث قرار دوں تو اس پر بحث کرنے سے کنارہ کشی کرنی ہو گی اگر ان شرائط پر آپ بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ تو آپ کی بیعت منظور ہے‘‘۳۴۵۔
    حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کامیابی اور شکریہ
    حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس سال ایم۔ اے کا امتحان دیا تھا۔ جس میں آپ کامیاب ہو گئے۔ احباب نے کثرت سے مبارکباد کے خطوط بھیجے جس پر آپ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔ ’’میری یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں میں سے ایک فضل ہے۔ کیونکہ ظاہر سامان بالکل مایوس کن تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ مجھے ایم۔ اے تک پڑھانے کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا۔ سو میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے اس قول کو پورا کرنے کے لئے ہی اللہہ تعالیٰ باوجود میری کمزوریوں کے تمام یونیورسٹی کے امتحانوں میں مجھے کامیاب فرماتا رہا۳۴۶۔
    اخبار ’’صادق‘‘ کا اجراء
    حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے جون ۱۹۱۶ء میں رد عیسائیت کے لئے اخبار ’’صادق‘‘ جاری کیا۔ جو چند اشاعتوں کے بعد بند ہو گیا۔
    ’’قبولیت دعا کے طریق‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو دعائوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے ۲۱/ جولائی اور ۲۸ جولائی ۱۹۱۶ء کو ’’قبولیت دعا کے طریق‘‘ پر نہایت پر معارف خطبات ارشاد فرمائے۳۴۷۔ جو کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔
    حضرت خلیفتہ المسیح کا فرمان
    بعض لوگ کتابیں یا اشتہارات شائع کرکے احباب جماعت کے نام بغیر ان کی تحریری اجازت یا زبانی درخواست کے وی۔ پی کر دیتے تھے۔ جس سے انجمن کے عام چندوں پر اثر پڑتا تھا۔ اس لئے حضور نے ایک فرمان کے ذریعہ اس کی سختی سے ممانعت کر دی۔ اور حکم دے دیا کہ اگر کسی صاحب کے نام کوئی ایسا وی۔ پی آجائے تو وہ اسے واپس کرکے مجھے اطلاع دیں۳۴۸۔
    سنگ بنیاد
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے شروع اگست ۱۹۱۶ء میں مسجد اقصیٰ کے قریب جانب غرب و جنوب جناب شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور کے مکان کا سنگ بنیاد رکھا۳۴۹۔
    حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے چند الزامات کے جواب
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسی ماہ درس قرآن مجید کے علاوہ حضرت میرزا شریف احمد صاحب کے لئے صحیح مسلم شریف کا ایک درس عام بھی جاری فرمایا۳۵۰۔
    ’’پیغام صلح‘‘ کے چند الزامات کے جواب
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کے خلاف ’’پیغام صلح‘‘ کے ایک مضمون میں نہایت ناروا اور بے جا الزامات لگائے گئے جن کے رد میں آپ کے قلم حقیقت رقم سے الفضل ۱۶/ ستمبر ۱۹۱۶ء کو ایک مفصل مضمون شائع ہوا۔
    عملی تعزیت نامہ
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور کی پہلی بی بی کی ایک بچی چھوڑ کر ۲۲/ ستمبر ۱۹۱۶ء کو فوت ہو جانے پر اپنے دست مبارک سے ایک خط لکھا کہ ’’آج آپ کا خط ملا تھا اس وقت سے عورت تلاش کرائی گئی لیکن بوجہ بیماریوں کے کوئی نہ مل سکی ۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹی بچی کا فکر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے کہ جب تک آپ کا گھر خدا تعالیٰ پھر آباد کرے بچی کو ہمارے گھر میں بھیج دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس غرض کے لئے ایک عورت کو بھیجتا ہوں‘‘۳۵۱۔
    حضرت میرزا شریف احمد صاحب کا تقرر
    حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب کئی ماہ سے آنریری طور پر افسر مدرسہ احمدیہ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ مگر اس سال آپ نے ہائی سکول کی پانچویں جماعت کو جغرافیہ پڑھانا بھی شروع کر دیا۔ اور مدرسہ احمدیہ کی نگرانی کے لئے حضرت میاں شریف احمد صاحب کا تقرر بطور اسسٹنٹ عمل میں آیا۳۵۲۔
    مغربی افریقہ میں احمدیت کا پیغام
    حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیرنے بیرونی ممالک سے تبلیغی خط و کتابت کا ایک سلسلہ جاری کر رکھا تھا۔ جس کے نتیجہ میں ۱۹۱۶ء میں نائیجیریا اور سیرالیون میں کئی لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۳۵۳۔
    ’’سیرت مسیح موعودؑ‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح نے یہ اندازہ فرما کر کہ جماعت احمدیہ کی روز افزوں ترقی اور اطراف عالم میں پھیلنے والی لہر کو دیکھ کر بہت سے لوگوں کو صاحب سلسلہ احمدیہ کے حالات سے آگاہی کا خیال پیدا ہو رہا ہے اور ابتدائی حالت میں مفصل و مبسوط کتب کا مطالعہ ان کے کے لئے مشکل ہو گا۔ نومبر ۱۹۱۶ء میں ’’سیرت مسیح موعود‘‘ کے نام سے ایک مختصر رسالہ تصنیف فرمایا جس میں بہت اختصار سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت‘دعویٰ دلائل‘مشکلات اور حضور کی چند پیشگوئیوں کا ذکر فرمایا۔ یہ رسالہ چھپ چکا ہے اور جاوی و انگریزی زبان میں اس کے تراجم بھی شائع ہو چکے ہیں۔
    آنریری مبلغین کے لئے تحریک
    حضرت خلیفتہ المسیح کے حکم سے تبلیغ کے کام کو ملک کے طول و عرض میں زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کے لئے نومبر ۱۹۱۶ء میں آنریری مبلغین کے تقرر کی تحریک ہوئی۳۵۴۔ جس پر کئی احمدیوں نے لبیک کہا۳۵۵۔
    بہار ہائیکورٹ کا فیصلہ
    مونگیر کے احمدیوں نے سب جج مونگیر کی عدالت میں غیر احمدیوں کے نام یہ درخواست دی تھی کہ وہ احمدیوں کے مساجد میں آکر نماز پڑھنے میں مزاحم نہ ہوں۔ غیر احمدیوں کی طرف سے کہا گیا کہ احمدی کافر ہیں اس لئے انہیں مسجدوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سب جج اور ڈسٹرکٹ جج نے دعویٰ خارج کر دیا اور قرار دیا کہ احمدی فرقہ کے لوگ مسلمان تو ہیں البتہ ان کی بعض رسوم و عقائد دوسرے مسلمانوں سے مختلف ہیں اس لئے وہ اس رعایت کے مستحق نہیں۔ اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ جس کی سماعت ۱۲/ دسمبر ۱۹۱۶ء کو شروع ہوئی جماعت احمدیہ کی طرف سے چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹرایٹ لاء پیش ہوئے۔ آپ نے کہا کہ عدالت ماتحت نے قانون محمدی کے تحت میرے موکلوں کو مسلمان قرار دیا ہے اس لئے احمدی اس رعایت کے مستحق ہیں۔ مدعا علیہم کی طرف سے مسٹر مظہر حق پیش ہوئے۔ اپیل کی سماعت ختم ہوئی تو خاتمہ پر چیف جج نے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی بہت تعریف کی اور کہا کہ ہائیکورٹ کے جج ان کے بہت شکر گزار ہیں۳۵۶۔ مگر ہائیکورٹ نے عدالت ماتحت کے فیصلہ کو بحال رکھا۔ اور اپیل نامنظور کر دی۔ فریق ثانی کی طرف سے بھی اپیل کی گئی وہ بھی خارج ہو گئی۳۵۷۔
    پروفیسر مارگولیتھ حضرت امیر المومنین کی خدمت میں
    حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کے لئے ۱۶/ دسمبر ۱۹۱۶ء کو مشہور مستشرق اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر قادیان آئے حصرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ملاقات کے وقت ترجمان تھے حضور نے ایک مختصر مگر نہایت مفید گفتگو فرمائی اس علمی مذاکرہ میں معجزہ شق القمر بھی زیر بحث آیا۔ حضور نے ان کو الوادع کہتے ہوئے مغربی حلقوں میں پہنچا دینے کے لئے ایک پیغام بھی دیا جو یہ تھا کہ اگر یورپین لوگ محبت سے اسلامی مسائل کے متعلق تحقیقات کریں تو اس سے انہیں فائدہ بھی ہوگا اور آپس میں محبت بھی بڑھے گی اور حضور نے ان کو بطور تحفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چند عربی مطبوعات دیں اور پروفیسر صاحب عازم لاہور ہو گئے۳۵۸۔
    ’’صادق لائبریری‘‘ کا قیام
    دسمبر ۱۹۱۶ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اپنی تمام بیش بہا کتابوں کا ذخیرہ صدر انجمن احمدیہ کے نام وقف کر دیا۳۵۹۔ اور صدر انجمن احمدیہ نے حضرت خلیفہ اولؓ کا کتب خانہ اور تشحیذ اور ریویو کی لائبریری میں اسے مدغم کرکے ایک مستقل مرکزی لائبریری ’’صادق لائبریری‘‘ کے نام پر قائم کر دی۔ جس کے ناظم‘افسر مدرسہ احمدیہ تھے۳۶۰۔ اور ۲۴/ جولائی ۱۹۱۷ء سے حضرت شاہزادہ عبدالمجید صاحب لدھیانوی اس کے لائبریرین مقرر ہوئے۳۶۱۔ ۱۹۲۴ء میں یہ لائبریری نظارت تالیف و تصنیف کے زیر انتظام کر دی گئی اور حضرت امیر المومنین کی خاص ہدایت پر مخالفین اسلام و احمدیت کی کتب خصوصیت سے جمع کی جانے لگی۔ ۱۴/ جنوری ۱۹۲۹ء کو حکیم غلام حسین صاحب نے اس کا چارج لیا۔ اور اپنی وفات تک جو ۱۳/ جون ۱۹۵۰ء کو ہوئی یہ خدمت نہایت محنت سے بجا لاتے رہے۳۶۲۔ نومبر ۱۹۲۹ء میں لائبریری کے قواعد و ضوابط تجویز ہوئے۳۶۳۔ جولائی ۱۹۳۲ء میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے اپنی لائبریری بھی اس میں شامل کر دی]01 [p۳۶۴۔ ۱۹۴۷ء میں اس کا بیشتر حصہ قادیان میں رہ گیا۔ تاہم جو کتابیں بھی لائی جا سکیں وہ از سر نو مرتب کی گئیں۔ اور دوبارہ ربوہ میں اس کا قیام عمل میں آیا۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر مئی ۱۹۵۲ء کو یہ مرکزی لائبریری اور حضور کی ذاتی لائبریری دونوں ملا کر ایک کر دی گئیں۔ اور اس مجموعہ کا نام خلافت لائبریری رکھا گیا۔ اور جون ۱۹۵۲ء میں اس کے پہلے انچارج جناب مولوی محمد صدیق صاحب فاضل شاہد ڈی۔ ایل۔ ایس واقف زندگی مقرر ہوئے۳۶۵4] ft[r۔
    خواتین کے لئے تبلیغی فنڈ کی پہلی تحریک
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے آخر ۱۹۱۶ء میں احمدی عورتوں کو تحریک فرمائی کہ وہ ولایت میں تبلیغ اسلام کے لئے ایک تبلیغی فنڈ قائم کریں۔ اور اس کی صورت حضور نے یہ تجویز فرمائی کہ مستورات آٹے کی ایک مٹھی ایک خاص برتن میں ڈال دیا کریں اور آٹا ہر ہفتہ فروخت کرکے اس کی قیمت قادیان میں بھجوا دی جائے۔ ابتداًء یہ تحریک قادیان میں شروع ہوئی۔ سب سے پہلے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی اہلیہ نے (جو حضرت خلیفہ اولؓ کی نواسی تھیں) اس میں حصہ لیا۳۶۶۔
    ’’ذکر الٰہی‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حسب سابق ۱۹۱۶ء کے سالانہ جلسہ پر بھی تین تقریریں فرمائیں۔ پہلی تقریر میں وقتی حالات کے مطابق متفرق امور۳۶۷ پر روشنی ڈالی۔ دوسری تقریر میں جماعت کے فرائض اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ تیسری روحانیت سے لبریز تقریر جسے تصوف اسلام کا بہترین خلاصہ اور عطر کہنا چاہئے۔ ’’ذکر الٰہی‘‘ کے عنوان پر فرمائی جس میں ذکر کی اہمیت‘اس کی اقسام اس کے آداب و اوقات بتانے کے علاوہ تہجد کے لئے اٹھنے اور نماز میں توجہ قائم رکھنے کے ایسے ایسے عملی طریق بتائے کہ سننے والے وجد میں آگئے۔ دوران تقریر میں ایک غیر احمدی صوفی صاحب نے رقعہ بھیجا کہ آپ کیا غضب کر رہے ہیں اس قسم کا ایک نکتہ صوفیاء کرام دس دس سال خدمت لے کر بتایا کرتے تھے۔ آپ ایک ہی مجلس میں سب رازوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں۳۶۸۔ یہ تینوں تقریریں ’’ذکر الٰہی‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہیں اور ۱۴۶ صفحات پر مشتمل ہیں۔
    ‏]bus [tag۱۹۱۶ء کے متفرق مگر اہم واقعات
    حضرت میرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں امتہ الحمید بیگم صاحبہ پیدا ہوئیں۳۶۹۔
    ۲۔
    حضرت قمر جان صاحبہ اہلیہ حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ لدھیانوی‘ماسٹر عبدالحق صاحبؓ اور حضرت پیر افتخار احمد صاحب کی زوجہ (ملکہ جان صاحبہؓ) اور ہمشیرہ (مختار بیگم صاحبہ) کی وفات ہوئی۔
    ۳۔
    حضرت ام المومنینؓ دہلی۔ پانی پت‘مالیر کوٹلہ اور پٹیالہ تشریف لے گئیں4] [stf۳۷۰
    ۴۔
    حضرت مرزا شریف احمد صاحب سالانہ جلسہ کی انتظامیہ کمیٹی کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔ اور آپ نے بڑی توجہ اور جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دیئے۳۷۱۔
    ۵۔
    مسجد اقصیٰ کی توسیع ہوئی اور منارۃ المسیح کی سفیدی کا کام ختم ہوا۳۷۲۔
    ۶۔
    حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے مولوی حکیم غلام محمد صاحب امرتسری (شاگرد خاص حضرت خلیفہ اولؓ) کا نکاح پڑھا]4 [stf۳۷۳۔
    ۷۔
    مشہور مباحثات: مباحثہ امرتسر (مابین حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی و مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری۳۷۴) مباحثہ سرگودھا (حضرت مولانا میر محمد اسحق صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے درمیان۳۷۵) مباحثہ گڑھ شنکر۔ (مابین حضرت مولانا میر محمد اسحق صاحب اور مولوی عصمت اللہ صاحب مبلغ انجمن حمایت اسلام لاہور۳۷۶) مباحثہ کولو تارڑ۔ (احمدی مناظر حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی۳۷۷) مباحثہ اجنالہ۳۷۸۔ (احمدی مناظر حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری و شیخ عبدالرحمن صاحب مصری) مباحثہ نواں کوٹ۳۷۹۔ (احمدی مناظر شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور) مباحثہ بنگہ (احمدی مناظر شیخ محمد یوسف صاحب۳۸۰) مباحثہ لکھنو (سیٹھ خیر الدین صاحب لکھنو نے غیر مبایعین سے مناظرہ کیا۳۸۱)
    ۸۔
    ‏ind] gat[ علمائے سلسلہ کی نئی مطبوعات: ’’الفارق‘‘۔ ’’القول المحمود فی شان مصلح الموعود‘‘ (از حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحبؓ)
    ۹۔
    ممتاز نو مبایعین: ڈاکٹر یوسف سلیمان صاحب (کیپ ٹائون۳۸۲) نواب اکبر یار جنگ صاحب۳۸۳ سابق ہوم سیکرٹری نظام حیدر آباد۔ حافظ سید عبدالوحید صاحب آف کمرشل ہائوس منصوری۳۸۴۔ مولوی عبداللطیف صاحب (پروفیسر چاٹگام کالج۳۸۵]ind )[tag
    ‏rov.5.12
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا چوتھا سال
    دوسرا باب (فصل چہارم)
    خلافت ثانیہ کا چوتھا سال
    (ربیع الاول ۱۳۳۵ھ تا ربیع الاول ۱۳۳۶ھ)
    ~ (جنوری ۱۹۱۷ء سے دسمبر ۱۹۱۷ء تک) ~[~
    زار روس سے متعلق پیشگوئی کے ظہور پر اتمام حجت][سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ ع ’’زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی با حال زار‘‘ اس کے مطابق ۱۲/ مارچ ۱۹۱۷ء۳۸۶ کو بالشویک انقلاب نے زار کی مطلق العنان اور آمرانہ حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور پھر اسے اور اس کے بیوی اور بچوں کو محبوس کرکے طرح طرح کی سختیوں عقوبتوں اور شرمناک مظالم کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۳۸۷۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان پیشگوئی کے پورا ہونے پر ۴/ اپریل ۱۹۱۷ء کو ’’زندہ خدا کے زبردست نشان‘‘ نامی ٹریکٹ لکھا اور دنیا پر اتمام حجت کر دیا اس ٹریکٹ پر بعض اشتہارات میں زار والی پیشگوئی پر کچھ اعتراض کئے گئے۳۸۸۔ جن کا جواب حضور نے ’’خدا کے قہری نشان‘‘ کے نام سے شائع فرمایا۔
    ’’الحجہ البالغہ‘‘
    قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے جون ۱۹۱۷ء میں مسئلہ وفات مسیح علیہ السلام پر ایک معرکتہ الاراء کتاب تصنیف فرمائی جو ’’الحجہ البالغہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۳۸۹۔
    ’’نور ہسپتال‘‘ کی بنیاد
    مخدوم و معظم حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کی کوششوں سے یکم رمضان ۱۳۳۵ھ مطابق ۲۱/ جون ۱۹۱۷ء کو ’’نور ہسپتال‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۳۹۰۔ اور ستمبر ۱۹۱۷ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔ ابتداًء ہسپتال میں کوئی سند یافتہ ڈاکٹر نہیں تھا اس لئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی اشارہ پر محترم حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ریاست پٹیالہ سے بلوائے گئے اور ۲/ فروری ۱۹۱۹ء کو ان کا تقرر عمل میں آیا۳۹۱۔ پہلے حضرت میر محمد اسحق صاحب افسر نور ہسپتال تھے مگر اب حضرت ڈاکٹر صاحب میڈیکل ایڈوائزر مقرر ہوئے۳۹۲۔ آپ کے زمانہ میں ہسپتال نے خوب کام کیا زنانہ وارڈ قائم ہوا۔ اپریشن روم میں ترقی ہوئی۳۹۳۔ ۱۹۳۰ء میں اسے سیکنڈ گریڈ ہسپتال کی حیثیت حاصل ہوئی اسی سال اس کے لئے مستقل قواعد و ضوابط تجویز کئے گئے۳۹۴۔
    ‏body] g[taنور ہسپتال متحدہ ہندوستان کا واحد ادارہ تھا۔ جس نے ایک مذہبی جماعت کی نگرانی میں ربع صدی سے زائد عرصہ تک بلاتمیز تمام مذہب و ملت خدمت کی۔
    مبلغین کا وفد بمبئی میں
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس سال بمبئی میں تبلیغ شروع کرنے گویا ہندوستان کے دروازہ کا تبلیغی محاصرہ کرنے کے لئے ۳/ اگست ۱۹۱۷ء کو مبلغین کا ایک وفد بھجوایا جس کے ممبر قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب‘حضرت مولانا میر محمد اسحٰق صاحب‘حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل ہلال پوری تھے۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست مبارک سے لکھی ہوئی اکتیس ہدایتیں بھی انکو دیں اور بارش کی حالت میں قادیان سے باہر تک انہیں الوداع کہنے کے لئے بھی تشریف لے گئے۳۹۵۔
    وفد نے قریباً دو ڈھائی ماہ قیام کرکے مسلمانوں کے مختلف فرقوں (خوجے‘بوہرے‘میمن‘اسمعیلی وغیرہ) میں اشتہاروں‘لیکچروں اور درس وغیرہ سے تبلیغ کی اور مخالفتوں کے باوجود خدا کے فضل سے عموماً اچھا اثر رہا10] p[۳۹۶۔ حضرت میرزا بشیر احمد صاحب نے بمبئی میں دو ٹریکٹ لکھے۳۹۷۔ عمومی تبلیغ زیادہ تر حضرت مولوی میر محمد اسحق صاحب کی مساعی کا نتیجہ تھی۔
    امرتسر اور شادیوال کے مقدمات کا فیصلہ
    اس سال احمدیوں کے خلاف امرتسر۳۹۸ اور شادیوال۳۹۹ میں دو اہم مقدمات کا فیصلہ ہوا۔ دونوں مقدمات میں وکالت کے فرائض چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ادا کئے۔ اور دونوں کا فیصلہ احمدیوں کے حق میں ہوا۔
    سفر شملہ
    حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ علیل ہو جانے کی وجہ سے طبی مشورہ پر ۳۰/ اگست ۱۹۱۷ء کو شملہ تشریف لے گئے اور ۱۰/ اکتوبر ۱۹۱۷ء کو رونق افروز قادیان ہوئے۴۰۰۔ اس سفر میں جو محض تبدیلی آب و ہوا کی غرض سے کیا گیا تھا۔ حضور کی دینی مصروفیت بہت زیادہ ہو گئی پورا سفر شروع سے آخر تک نہایت درجہ مشغولیت میں گزرا۔ حضور نے شملہ میں اپنے وعظ و تلقین کا سلسلہ جاری رکھا۔ ترقی اسلام میں حصہ لینے سے ¶متعلق جماعت احمدیہ کے نام چھ صفحات کا پیغام بھیجا۴۰۱ ۳۰/ دسمبر ۱۹۱۷ء کو حضور کا جماعت شملہ کے سالانہ جلسہ پر ’’زندہ مذہب‘‘ کے عنوان سے زبردست اور پر عظمت لیکچر ہوا۔ جس میں حضور نے قبولیت دعا کے معاملہ میں مذاہب عالم کے لیڈروں کو فیصلہ کن چیلنج دیا۴۰۲۔ شملہ سے واپسی پر حضور راجپورہ اسٹیشن پر پہنچے اور پھر حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر فاتحہ کے لئے تشریف لے گئے پھر راجپورہ واپس آکر پہلے سنور۴۰۳]4 [rtf پھر پٹیالہ پہنچے اور صداقت اسلام کے موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ تک نہایت زور دار الفاظ میں دلوں کو ہلا دینے والا لیکچر دیا۴۰۴۔
    خواجہ حسن نظامی صاحب کی عجیب و غریب دعوت مباہلہ اور اس کا جواب
    درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء~رح~ کے سجادہ نشین خواجہ حسن نظامی دہلوی نہایت شریف مگر ہوشیار صوفیوں اور صاحب طرز ادیبوں اور انشاء
    پردازوں میں سے تھے۔ خواجہ صاحب کے مراسم۴۰۵ جماعت احمدیہ کے ساتھ ایک عرصہ سے قائم تھے مگر یکایک خدا جانے کیا خیال آیا کہ انہوں نے (رسالہ نظام المشائخ میں) سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو مباہلہ کا یہ عجیب و غریب چیلنج دے دیا کہ وہ اجمیر شریف میں آئیں میں بھی وہاں حاضر ہو جائوں گا۔ آستانہ خواجہ غریب نواز کی مسجد میں میرزا صاحب میرے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنی باطنی قوت کے تمام حرجے مجھ پر آزمائیں۔ اور جب وہ اپنی ساری کرامت آزما چکیں تو مجھ کو اجازت دی جائے کہ میں صرف یہ کہوں۔ اے خدا بطفیل اس صاحب مزار کی حقانیت کے اپنی صداقت کو ظاہر کر اور ہم دونوں میں جو جھوٹا ہو اس کو اسی وقت اور اسی لمحہ میں ہلاک کر دے اور اس کے بعد میرزا محمود احمد کو اجازت دی جائے۔ کہ وہ اپنے الفاظ میں جو جی چاہیں کریں۔ میعاد صرف ایک گھنٹہ مقرر کی جائے۔ یعنی دونوں آدمیوں میں سے ایک پر ایک گھنٹہ کے اندر اس دعا کا اثر ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۴۰۶‘‘ اگر تم کو یہ مباہلہ منظور ہو تو ربیع الاول ۱۳۳۶ھ کی چھٹی تاریخ کو اپنے حواریوں کو لے کر اجمیر شریف آجائو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تم اس ارادہ سے اجمیر شریف آئو تو اپنی والدہ صاحبہ سے دودھ بخشوا کر آنا اور ریلوے کمپنی سے ایک گاڑی کا بندوبست کرا لینا جس میں تمہاری لاش قادیان روانہ ہو سکے۔ اور نیز اپنی اہلیہ صاحبہ سے مہر بھی معاف کرا لینا اور قادیان کو والد ماجد کی قبر سمیت ذرا غور سے دیکھ کر آنا کہ پھر تم کو زندگی میں وہ درو دیوار دیکھنے نصیب نہ ہوں گے اور جانشینی کے مسئلہ کو بھی طے کرکے آنا‘‘۔
    سیدنا حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو جب خواجہ صاحب کے اس چیلنج کا علم ہوا تو حضور نے مفصل اعلان فرمایا کہ مباہلہ کے مسنون طریق کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کے بارے میں مباہلہ کے لئے بالکل تیار ہوں۔ آیت مباہلہ سے ثابت ہے کہ دلائل کے اظہار کے بعد مباہلہ ہوتا ہے اس لئے ضروری ہو گا کہ مباہلہ سے پہلے دونوں اپنے اپنے عقائد پر تقریر کر لیں۔ مباہلہ میں شرط ہو گی کہ عذاب انسانی دخل سے پاک ہو گا۔ اس مباہلہ کا ظاہر ہونا یوم مباہلہ سے ایک سال کے عرصہ میں ضروری ہو گا ہاں خواجہ صاحب کو اجازت ہو گی کہ آپ ایک گھنٹہ یا آدھ گھنٹہ کا وقت مقرر کر لیں۔ آیت قرآنی کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے اور سنت رسولﷺ~ کے مطابق ضروری ہو گا کہ کم سے کم سرگروہ اپنے بیوی اور بچوں کو مباہلہ میں شامل کریں۔ ان بنیادی شرائط کے علاوہ آپ نے مباہلہ کا اثر وسیع کرنے اور فریقین کے لئے منحرف ہونے کی راہ مسدود کرنے کے لئے ایک شرط یہ رکھی کہ دونوں طرف سے ایک ایک ہزار آدمی شامل مباہلہ ہوں۔ دوسرے پانچ پانچ ہزار روپیہ بطور ضمانت کسی ثالث کے پاس رکھ دیا جائے۴۰۷۔
    حضرت خلیفہ ثانی نے خواجہ صاحب کو ان کے طریق مباہلہ کی طرف توجہ دلائی کہ ’’یہ طریق فیصلہ کہاں سے ایجاد کیا گیا ہے۔ اس قسم کا مقابلہ کسی ولی کسی بزرگ کسی نبی کے طریق عمل سے ثابت نہیں خواجہ صاحب فیصلہ کا طریق مخفی طاقتوں اور غیبی تصرفوں کا استعمال اور باطنی قوت کے حربوں کے وار بتاتے ہیں لیکن ہم قرآن کریم میں بار بار یہی لکھا پاتے ہیں کہ عذاب کا لانا کسی انسان کے اختیار میں نہیں پس جب کسی انسان کے اختیار میں یہ بات ہی نہیں تو اپنی طرف سے اس کے قواعد بنانے اور غیبی تصرفات کا دعویٰ کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے‘‘۔
    خواجہ صاحب کا چیلنج اور حضرت اقدس کا جواب پبلک کے سامنے آیا تو مولوی ظفر علی خاں نے ’’بچوں کا کھیل‘‘ اور ’’اسلام سے تمسخر‘‘ کے دہرے عنوان سے لکھا۔ ’’جناب طریقت ماب تقدس انتساب خواجہ حسن نظامی قدس سرہ کو اگر جدا مجد کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طریق کار بھی پسند نہ تھا۔ تو قرآن کریم کی وہ عام ہدایت کیا ان کے لئے بہترین معیار عمل نہ تھی۔ کہ اذ اتنا زعتم فی شی فردوہ الی اللہ و الرسول جب کسی چیز میں شکل منازعت نکل آئے اور تم میں نزاع ہو جائے تو اس معاملہ کو اللہ و رسول ~(صل۱)~ کی جانب لوٹائو۔ یعنی قرآن کریم اور سنت حسنہ نبویہ پر اس کو پیش کرو کہ تم مسلمان ہو تو کتاب و سنت سے اچھا جج تمہیں کون سا ملے گا۔ مگر ہمارا ہندوستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ایک گروہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ایک دوسرے گروہ کو کہ اسے بھی قائل اسلام ہونے کا ادعا ہے۔ مباہلہ کی *** آفرین دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آئو فلاں پیر کی چہار دیواری میں بیٹھ کر ہم تم ایک دوسرے کو بددعائیں دیں اور ایک گھنٹہ کے اندر اندر ملاء اعلیٰ سے عزرائیل کو بلا کر اپنی حبل الورید اس کے نشتر کے حوالہ کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔ خلیفہ قادیان جناب میرزا بشیر الدین محمود سلمہ کے عقائد سے کامل اختلاف رکھتے ہوئے بھی اس قدر کہنے پر صداقت ہم کو مجبور کرتی ہے کہ انہوں نے خواجہ صاحب کے مباہلہ کا جواب نہایت معقولیت سے دیا ہے‘‘۴۰۸۔
    اب خواجہ صاحب کی سنئے۔ حضرت کے جواب پر انہوں نے گو ابتداء میں مسنون مباہلہ کی اکثر و بیشتر شرائط پر بظاہر آمادگی ظاہر کی۔ مگر بالاخر یہ کہہ کر پیچھا چھڑا لیا کہ ’’چند ماہ کا ذکر ہے میری اہل قادیان سے کچھ مخاطبت ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں لگاتار تضیع اوقات نہیں کر سکتا تھا قادیان کی علانیہ گریز دیکھ لی اور سمجھ لی تو اس گفتگو کو ختم کر دیا۔ اب وہ مذکورہ مباہلہ کی نسبت کچھ ہی لکھتے رہیں مطلق جواب نہ دیا جائے گا۴۰۹۔ حالانکہ انہوں نے شروع میں چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اہل قادیان سے میری خانہ جنگی نہیں بلکہ جہاز جنگی ہے سارے جہان کو جس قوت مریبیہ و فنائیہ کا خوف لگا ہوا ہے میں اس کو ختم کرنا چاہتا ہوں پروشیا کے قوائے حربیہ کا خاتمہ ہو جائے گا تو دنیا کو امن نہیں ملے گا جتنا کہ قادیان کی طاقت زیر و زبر ہونے سے مل سکتا ہے‘‘۔ (ویش ۲۴/ جنوری ۱۹۱۸ء۴۱۰)
    مسٹر مانٹیگو کا اعلان اور مسلم اقلیت کے تحفظ کے لئے نئی جدوجہد کا آغاز
    مسٹر مانٹیگو وزیر ہند نے ۲۰/ اگست ۱۹۱۷ء کو اعلان کیا کہ حکومت کا منشاء ہندوستانیوں کو صرف انتظام حکومت میں شریک کرنا ہی نہیں
    بلکہ منتہائے مقصود یہ ہے کہ وہ حکومت خود اختیاری کے قابل ہو جائیں اور رفتہ رفتہ ملک کا پورا انتظام بالاخر ہندوستانیوں کو سونپ دیا جائے گا۴۱۱
    اس اہم اعلان سے ملکی سیاست میں ایک نیا انقلابی دور شروع ہوا۔ جس کے بعد کانگرس کی تحریک جہاں اور زور پکڑ گئی وہاں مسلمان اقلیت کو اپنے مستقبل سے متعلق ایک مہیب خطرہ پیدا ہو گیا کہ اس کے تحفظ حقوق کے بغیر آزادی ان کی مستقل قومی ہستی کو ختم کر دے گی اور انگریز کے بعد ملک کی بھاری ہندو اکثریت کے ابدی غلام بن جائیں گے۔ گیارہ سال کا واقعہ ہے کہ نواب محسن الملک کی کوشش سے مسلمانوں کا ایک وفد یکم اکتوبر ۱۹۰۶ء کو شملہ میں لارڈ منٹو وائسرائے و گورنر جنرل کی خدمت باریاب ہوا اور اس نے ایک مفصل عرضداشت پیش کی اور کہا۔ ’’جو طریقہ نیابت و قائم مقامی کا یورپ میں رائج ہے وہ اہل ہند کے لئے بالکل نیا ہے۔ ہماری قوم کے بعض دور اندیش افراد کا خیال ہے کہ اس طریقہ کو ہندوستان کی موجودہ سیاسی اور تمدنی حالت پر کامیابی کے ساتھ منطبق کرنے کے لئے نہایت حزم احتیاط و مال اندیشی سے کام لینا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ورنہ) منجملہ اور خرابیوں کے ایک بہت بڑی خرابی یہ پیش آئے گی کہ ہمارے قومی اغراض کا سیاہ و سفید ایک ایسی جماعت کے حوالہ ہو جائے گا جسے ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے نیز کہا۔ ’’قومی حیثیت سے ہم مسلمانوں کی ایک جداگانہ جماعت ہے جو ہندوئوں سے بالکل الگ ہے‘‘۴۱۲۔
    حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ابتدائے خلافت ہی سے جماعت کو سیاست سے الگ رہنے کی پرزور تلقین فرماتے اور بتاتے آرہے تھے کہ ہم مذہبی جماعت ہیں ہمیں سیاست کے دھندوں سے کنارہ کش ہو کر تبلیغ اسلام و احمدیت میں مصروف رہنا چاہئے۴۱۳۔ لیکن اب جو برطانوی حکومت کی طرف سے نئی پالسی کا اعلان ہوا اور مسلم اقلیت کے حقوق خطرے میں پڑنے لگے۔ تو حضور محض اسلامی ہمدردی کی بناء پر مسلمانوں کی ترجمانی اور ان کے مفاد کے تحفظ کے لئے میدان عمل میں آگئے۔ اور آپ نے مصمم فیصلہ کر لیا کہ ملکی امن کو برقرار رکھنے کے لئے حکومت سے تعاون بھی جاری رکھیں گے اور مسلم حقوق کو بھی پامال نہیں ہونے دیں گے۔ اور تمام ممکن اخلاقی اور آئینی ذرائع سے مسلم اقلیت کے جداگانہ وجود کو قائم و برقرار رکھنے کی کوشش کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے اور جیسا کہ آنے والے واقعات سے پتہ چلے گا حضور نے ہرا ہم قدم پر مسلمانوں کی صحیح ترجمانی اور نمائندگی کا حق ادا کر دیا۔ اس سلسلہ میں حضور نے پہلا قدم مسٹر مانٹیگو وزیر ہند کے ہندوستان آنے پر اٹھایا جب کہ انہوں نے ہندوستان کی مختلف جماعتوں کو دہلی میں آکر ریفارم سکیم گورنمنٹ کے سلسلہ میں ایڈریس پیش کرنے کا موقعہ دیا تھا تا آزادی سے متعلق برطانوی سکیم کو بروئے کار لایا جا سکے۔
    حضور اس موقعہ پر بنفس نفیس ۱۳/ نومبر ۱۹۱۷ء کو دہلی تشریف لے گئے۴۱۴ اور جماعت احمدیہ کے بعض سربرآوردہ ممبر بھی دہلی میں بلوا لئے۔ حضور کی ہدایت کے مطابق ۱۵/ نومبر ۱۹۱۷ء کو ایک احمدیہ وفد۴۱۵ نے مسٹر مانٹیگو سے ملاقات کی۔ اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے وفد کی طرف سے ایڈریس پیش کیا۔ جس میں ملکی شورش کے مختلف اسباب و وجوہ پر روشنی ڈالنے کے بعد اور آئندہ ’’سیلف گورنمنٹ‘‘ کے طریق انتقال سے متعلق مشورہ دیا کہ ’’انتخاب کا کوئی ایسا طریق نہ رکھا جائے کہ جس میں قلیل التعداد جماعتیں نقصان میں رہیں ایسے تمام صوبوں میں جہاں کوئی قلیل التعداد جماعت خاص اہمیت رکھتی ہو اور اس کی تعداد اس قدر کم ہو کہ اس کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اس جماعت کو اس تعداد سے زیادہ ممبروں کے انتخاب کا حق دیا جائے جس قدر کہ بلحاظ تعداد کے اس کے حصوں میں آتے ہیں۔ جیسا کہ پنجاب و بنگال کے سوا باقی صوبوں میں مسلمان اور پنجاب میں سکھ اور بمبئی میں پارسی اور مدراس میں عیسائی ہیں اور سرحدی صوبہ میں اگر کبھی اس کو آئینی حکومت ملی تو ہندو ہیں مگر یہ حق ایسی قلیل التعداد جماعتوں کو جو زیادہ قلیل نہیں ہیں ہرگز نہیں ملنا چاہئے۔ کیونکہ اس حق سے ان جماعتوں کو جو قلیل کثرت رکھتی ہیں سخت نقصان پہنچائے گا مثلاً اگر بڑی تعداد والی قلیل التعداد جماعتوں کو بھی یہ حق دیا جاوے۔ تو ہندوئوں کو تو جن کی میجارٹی جہاں ہے بہت زیادہ کوئی نقصان نہ ہو گا۔ مگر مسلمانوں کو جن کی میجارٹی (کثرت) صرف بنگال اور پنجاب دو صوبوں میں ہے اور بہت ہی کم ہے سخت نقصان پہنچے گا اور ان کی میجارٹی (کثرت) کہیں بھی نہ رہے گی۔ نیز بتایا ہم بلحاظ سیاست انہی فرقوں کے ساتھ شامل ہیں جو ہماری طرح دعویٰ اسلام رکھتے ہیں اس لئے ہمارا حق ہے کہ ہم اس حیثیت سے بھی اپنی رائے دیں‘‘۴۱۶۔ اخبار پانیئر (الہ آباد) نے اس کی خبر دیتے ہوئے لکھا کہ ’’احمدیہ وفد عصر کے وقت پیش ہوا۔ سیکرٹری وفد نے اصلاحات کی ضرورتوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوروپین اور ہندوستانی میں جو تفریق کی جاتی ہے یہ موجودہ باعث بے اطمینانی کا ہے ایسی کوئی اصلاحات نافذ نہ ہوں جو چھوٹی جماعتوں کے حقوق کے لئے ضرر رساں ہوں آخر میں بیان کیا ہندوستان کے واسطے دو قسم کی اصلاحیں ضروری ہیں۔ اول وہ اصلاحیں جو سارے ملک کی مجموعی حالت کا خیال کرکے پیش کی جاتی ہیں۔ دوئم وہ اصلاحیں جو تعلیم یافتہ اصحاب کی اکثریت چاہتی ہے دونوں قسم کی اصلاحیں بہت ضروری ہیں اور انصاف کا تقاضا ہے کہ ان اصلاحوں کو جاری کیا جائے لیکن آخری فیصلہ کرتے وقت مفصلہ ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی ایسی صلاح نہ ہو جس سے قلیل التعداد اقوام کے حقوق کو نقصان پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اصلاحیں اس ملک کی مختلف اقوام کی بہبودی کے لئے ضروری نظر آرہی ہیں۔ اور ان سے جائز حقوق پورے ہوتے ہیں ان کو مسترد نہیں کرنا چاہئے۴۱۷۔
    احمدیہ وفد کے موقف کی مزید وضاحت کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح بھی اسی دن ۶ بجے شام مسٹر مانٹیگو سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے اور ۳۵ منٹ تک گفتگو فرمائی۔ ترجمان کے فرائض چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے انجام دیئے۴۱۸۔ اور حضور ۲۶/ نومبر ۱۹۱۷ء کو دہلی سے قادیان واپس تشریف لائے۔
    یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ حضور کے اس نئے اقدام پر بعض حلقوں کا تاثر کیا تھا؟ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں۔ ’’جب میں نے بعض سیاسی معاملات میں دخل دینا شروع کیا تو اس لئے نہیں کہ وہ سیاسی تھے۔ بلکہ اس لئے کہ میں انہیں دین کا جزو سمجھتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ جب میں نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا۔ تو جماعت کے کئی دوست بھی اس پر معترض ہوئے اور بعض دوسرے لوگ خیال کرتے تھے کہ مجھے سیاسیات سے واقفیت ہی کیا ہو سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک دوست کے متعلق (وہ اب تو احمدی ہو چکے ہیں۔ لیکن اس وقت غیر احمدی تھے) بیان کیا کہ انہوں نے جب دیکھا کہ میں نے بھی سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے تو کہنے لگے میں نہیں سمجھ سکتا کہ ریل سے بارہ میل فاصلہ پر رہنے والا ایک شخص سیاسیات سے واقف ہی کس طرح ہو سکتا ہے (اس وقت قادیان میں ریل نہ تھی) لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے آہستہ آہستہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اپنے تو علیحدہ رہے غیر بھی اس امر کو محسوس کر رہے ہیں کہ میں سیاست سمجھتا ہوں اور یہ اس لئے کہ میں سیاست کو دینی نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہوں چونکہ اسلام کے اصول نہایت پکے ہیں۔ اس لئے جب میں اسلام کے اصول کے ماتحت کسی علم کو دیکھتا ہوں تو اس کا سمجھنا میرے لئے نہایت آسان ہو جاتا ہے کوئی علم ہو خواہ وہ فلسفہ ہو یا علم النفس ہو- یا سیاسیات ہوں میں اس پر جب بھی غور کروں گا ہمیشہ صحیح نقطہ پر پہنچوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور چونکہ قرآن مجید کے ماتحت ان علوم کو دیکھتا ہوں۔ اس لئے ہمیشہ صحیح نتیجہ پر پہنچتا ہوں اور کبھی ایک دفعہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے اپنی رائے کو تبدیل کرنا نہیں پڑا‘‘۴۱۹۔
    ریاست لائبیریا (مغربی افریقہ) میں احمدیت
    اسی سال مغربی افرقہ کی ریاست لائبیریا کے ایک پروفیسر نے احمدیت کا لٹریچر منگوایا اس طرح پہلی بار لائبیریا میں احمدیت کا پیغام پہنچا۴۲۰۔
    ’’تصدیق المسیح و المہدی‘‘
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو زمانہ قیام بمبئی میں تحریک ہوئی کہ حضرت مسیح موعودؑ کے مناقب پر ایک مختصر سا رسالہ لکھنا چاہئے۔ چنانچہ آپ نے بمبئی سے واپس آکر دسمبر ۱۹۱۷ء میں ’’تصدیق المسیح و المہدی‘‘ تصنیف فرمائی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ سے ثابت فرمایا۔
    تحریک وقف زندگی
    ‏0] [rtfسلسلہ کی تبلیغی سرگرمیاں روز بروز وسعت پکڑ رہی تھیں اس لئے حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اشاعت اسلام کے لئے ۷/ دسمبر ۱۹۱۷ء کو زندگی وقف کرنے کی تحریک فرمائی۴۲۱۔ اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے ۶۳ نوجوانوں نے اپنے نام پیش کئے جن میں مولوی عبدالرحیم صاحب ایم۔ اے شیخ یوسف علی صاحب بی۔ اے صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی۔ اے صوفی محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی ظہور حسین صاحب۔ مولوی غلام احمد صاحب۔ مولوی ابوبکر صاحب سماٹری۔ مولوی ظل|الرحمان صاحب بنگالی۔ خان بہادر مولوی ابوالہاشم خان صاحب ایم۔ اے اسسٹنٹ انسپکٹر مدارس بنگال۔ مولوی مبارک علی صاحب بنگالی۔ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اور مولوی رحمت علی صاحب مولوی فاضل بھی تھے۔۴۲۲
    ان وافقین کو تین گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ (۱) رابطین جو وافقین کے استاد تھے۔ (۲) مجاہدین جو عملاً تبلیغی جہاد میں مصروف عمل تھے۔ (۳) منتظرین جو مدرسہ احمدیہ یا ہائی سکول میں تعلیم پا رہے تھے۴۲۳۔
    ’’حقیقتہ الرویاء‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۲۷‘۲۸/ دسمبر ۱۹۱۷ء کو سالانہ جلسہ کے موقع پر تین تقاریر فرمائیں جو ’’حقیقتہ الرویاء‘‘ کے نام سے شائع ہوئیں۔ ان تقریروں میں حضور نے علم دین کے طریق بتائے۔ الہام‘کشف‘رویاء اور خواب کے فلسفہ پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی اور الہام خصوصاً ماموروں کے الہام کی علامات بیان فرمائیں۔
    ۱۹۱۷ء کے متفرق مگر اہم واقعات
    ۱۔ حضرت مرزا ناصر صاحب کے ختم قرآن پر ۲۴/ فروری ۱۹۱۷ء کو آمین ہوئی۔
    ۲۔
    ‏]ind [tag حضرت ام المومنینؓ‘حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ اور حضرت میر محمد اسحٰق صاحب جناب منشی قدرت اللہ صاحب سنوری کی ہمشیرہ کے رخصتانہ کی تقریب پر سنور (ریاست پٹیالہ) تشریف لے گئے۴۲۴۔
    ۳۔
    حضرت خلیفہ اول کی بڑی دختر حفصہ بیگم (اہلیہ مفتی فضل الرحمن صاحب) اور مرزا غلام اللہ صاحب کا انتقال ہوا۔
    ۴۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اجازت اور حضرت میر محمد اسحق صاحب کی نگرانی میں ایک ’’انجمن ارشاد‘‘ قائم ہوئی جس کا مقصد جوانوں کو تبلیغی ٹریننگ دینا تھا۴۲۵۔ اس کے علاوہ حضور کی تحریک تبلیغ ولایت کو کامیاب بنانے کے لئے مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے بھی انجمن شبان الاسلام کی بنیاد رکھی۴۲۶۔
    ۵۔
    حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ہجرت کرکے قادیان تشریف لے آئے۴۲۷۔
    ۶۔
    حضرت خلیفہ ثانی نے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کا نکاح ثانی جناب مرزا محمد شفیع صاحب کی دختر نیک اختر سے پڑھا۴۲۸۔
    ۷۔
    ۷۔ ۸۔ ۹/ اپریل ۱۹۱۷ء کو قادیان میں ’’احمدیہ کانفرنس‘‘ ہوئی۔ کانفرنس کا پہلا اجلاس تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں۔ دوسرا مسجد اقصیٰ میں اور تیسرا مسجد مبارک میں ہوا۔ وسطی اجلاس کی صدارت قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے کی۴۲۹۔
    ۸۔
    حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ کی یادگار میں شفا خانہ نور کا اجراء ہوا۔ اور اس کے پہلے انچارج مفتی فضل الرحمن صاحب بنے۔ شفا خانہ حضرت خلیفتہ اولؓ کے مطب والے مکان میں ہی کھولا گیا۴۳۰۔
    ۹۔
    حضرت خلیفتہ المسح ثانی کے حکم سے حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری پنجاب کی انجمنوں کی تنظیم کے لئے بھیجے گئے آپ کے ہمراہ محمد سعید صاحب سعدی اور مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری بھی تھے۴۳۱۔ یہ ۱۵/ اکتوبر ۱۹۱۷ء کا واقعہ ہے۔
    ۱۰۔
    قادیان میں ایک نیا محلہ ’’دارالرحمت‘‘ کے نام سے آباد ہونا شروع ہوا جس کے ابتدائی مکینوں میں بابو عبدالرحیم صاحب پوسٹماسٹر اور ملک غلام حسین صاحب رہتاسی بھی تھے۴۳۲۔
    ۱۱۔
    مشہور مباحثات: مباحثہ کاٹھ گڑھ (آریوں سے۔ احمدی مناظر حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ۴۳۳) مباحثہ نواں شہر۴۳۴۔ (آریوں سے) مباحثہ بھمبلہ ضلع گجرات (احمدی مناظر حضرت حافظ روشن علی صاحب۴۳۵) مباحثہ بمبئی (حضرت میر محمد اسحق صاحب نے حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ سے بھی اور پادری جوالا سنگھ کے ساتھ مباحثے کئے) مباحثہ ظفر وال (حضرت میر قاسم علی صاحب کا آریوں سے۴۳۶۔ مباحثہ کلا سوالہ۔ (شیخ محمد یوسف صاحب کا مہاشہ چرنجی لعل پریم کے ساتھ۴۳۷) مباحثہ سیکھواں (شیخ محمد یوسف صاحب کا سکھوں سے۴۳۸) ان کے علاوہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے (جو ان دنوں مدرسہ احمدیہ کی ساتویں جماعت کے طالب علم تھے) موضع پکیواں (ضلع گورداسپور) میں ایک آریہ پنڈت اور مولوی ابو تراب عبدالحق صاحب سے مباحثہ کیا۴۳۹]ind [tag۔
    ۱۲۔
    مرزا گل محمد صاحب (ابن مرزا نظام الدین صاحب) داخل احمدیت ہوئے۴۴۰۔
    ‏rov.5.12
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا چوتھا سال
    دوسرا باب (فصل چہارم)
    خلافت ثانیہ کا چوتھا سال
    (ربیع الاول ۱۳۳۵ھ تا ربیع الاول ۱۳۳۶ھ)
    ~ (جنوری ۱۹۱۷ء سے دسمبر ۱۹۱۷ء تک) ~[~
    زار روس سے متعلق پیشگوئی کے ظہور پر اتمام حجت][سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ ع ’’زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی با حال زار‘‘ اس کے مطابق ۱۲/ مارچ ۱۹۱۷ء۳۸۶ کو بالشویک انقلاب نے زار کی مطلق العنان اور آمرانہ حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور پھر اسے اور اس کے بیوی اور بچوں کو محبوس کرکے طرح طرح کی سختیوں عقوبتوں اور شرمناک مظالم کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۳۸۷۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان پیشگوئی کے پورا ہونے پر ۴/ اپریل ۱۹۱۷ء کو ’’زندہ خدا کے زبردست نشان‘‘ نامی ٹریکٹ لکھا اور دنیا پر اتمام حجت کر دیا اس ٹریکٹ پر بعض اشتہارات میں زار والی پیشگوئی پر کچھ اعتراض کئے گئے۳۸۸۔ جن کا جواب حضور نے ’’خدا کے قہری نشان‘‘ کے نام سے شائع فرمایا۔
    ’’الحجہ البالغہ‘‘
    قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے جون ۱۹۱۷ء میں مسئلہ وفات مسیح علیہ السلام پر ایک معرکتہ الاراء کتاب تصنیف فرمائی جو ’’الحجہ البالغہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۳۸۹۔
    ’’نور ہسپتال‘‘ کی بنیاد
    مخدوم و معظم حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کی کوششوں سے یکم رمضان ۱۳۳۵ھ مطابق ۲۱/ جون ۱۹۱۷ء کو ’’نور ہسپتال‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۳۹۰۔ اور ستمبر ۱۹۱۷ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔ ابتداًء ہسپتال میں کوئی سند یافتہ ڈاکٹر نہیں تھا اس لئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی اشارہ پر محترم حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ریاست پٹیالہ سے بلوائے گئے اور ۲/ فروری ۱۹۱۹ء کو ان کا تقرر عمل میں آیا۳۹۱۔ پہلے حضرت میر محمد اسحق صاحب افسر نور ہسپتال تھے مگر اب حضرت ڈاکٹر صاحب میڈیکل ایڈوائزر مقرر ہوئے۳۹۲۔ آپ کے زمانہ میں ہسپتال نے خوب کام کیا زنانہ وارڈ قائم ہوا۔ اپریشن روم میں ترقی ہوئی۳۹۳۔ ۱۹۳۰ء میں اسے سیکنڈ گریڈ ہسپتال کی حیثیت حاصل ہوئی اسی سال اس کے لئے مستقل قواعد و ضوابط تجویز کئے گئے۳۹۴۔
    ‏body] g[taنور ہسپتال متحدہ ہندوستان کا واحد ادارہ تھا۔ جس نے ایک مذہبی جماعت کی نگرانی میں ربع صدی سے زائد عرصہ تک بلاتمیز تمام مذہب و ملت خدمت کی۔
    مبلغین کا وفد بمبئی میں
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس سال بمبئی میں تبلیغ شروع کرنے گویا ہندوستان کے دروازہ کا تبلیغی محاصرہ کرنے کے لئے ۳/ اگست ۱۹۱۷ء کو مبلغین کا ایک وفد بھجوایا جس کے ممبر قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب‘حضرت مولانا میر محمد اسحٰق صاحب‘حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل ہلال پوری تھے۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست مبارک سے لکھی ہوئی اکتیس ہدایتیں بھی انکو دیں اور بارش کی حالت میں قادیان سے باہر تک انہیں الوداع کہنے کے لئے بھی تشریف لے گئے۳۹۵۔
    وفد نے قریباً دو ڈھائی ماہ قیام کرکے مسلمانوں کے مختلف فرقوں (خوجے‘بوہرے‘میمن‘اسمعیلی وغیرہ) میں اشتہاروں‘لیکچروں اور درس وغیرہ سے تبلیغ کی اور مخالفتوں کے باوجود خدا کے فضل سے عموماً اچھا اثر رہا10] p[۳۹۶۔ حضرت میرزا بشیر احمد صاحب نے بمبئی میں دو ٹریکٹ لکھے۳۹۷۔ عمومی تبلیغ زیادہ تر حضرت مولوی میر محمد اسحق صاحب کی مساعی کا نتیجہ تھی۔
    امرتسر اور شادیوال کے مقدمات کا فیصلہ
    اس سال احمدیوں کے خلاف امرتسر۳۹۸ اور شادیوال۳۹۹ میں دو اہم مقدمات کا فیصلہ ہوا۔ دونوں مقدمات میں وکالت کے فرائض چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ادا کئے۔ اور دونوں کا فیصلہ احمدیوں کے حق میں ہوا۔
    سفر شملہ
    حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ علیل ہو جانے کی وجہ سے طبی مشورہ پر ۳۰/ اگست ۱۹۱۷ء کو شملہ تشریف لے گئے اور ۱۰/ اکتوبر ۱۹۱۷ء کو رونق افروز قادیان ہوئے۴۰۰۔ اس سفر میں جو محض تبدیلی آب و ہوا کی غرض سے کیا گیا تھا۔ حضور کی دینی مصروفیت بہت زیادہ ہو گئی پورا سفر شروع سے آخر تک نہایت درجہ مشغولیت میں گزرا۔ حضور نے شملہ میں اپنے وعظ و تلقین کا سلسلہ جاری رکھا۔ ترقی اسلام میں حصہ لینے سے ¶متعلق جماعت احمدیہ کے نام چھ صفحات کا پیغام بھیجا۴۰۱ ۳۰/ دسمبر ۱۹۱۷ء کو حضور کا جماعت شملہ کے سالانہ جلسہ پر ’’زندہ مذہب‘‘ کے عنوان سے زبردست اور پر عظمت لیکچر ہوا۔ جس میں حضور نے قبولیت دعا کے معاملہ میں مذاہب عالم کے لیڈروں کو فیصلہ کن چیلنج دیا۴۰۲۔ شملہ سے واپسی پر حضور راجپورہ اسٹیشن پر پہنچے اور پھر حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر فاتحہ کے لئے تشریف لے گئے پھر راجپورہ واپس آکر پہلے سنور۴۰۳]4 [rtf پھر پٹیالہ پہنچے اور صداقت اسلام کے موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ تک نہایت زور دار الفاظ میں دلوں کو ہلا دینے والا لیکچر دیا۴۰۴۔
    خواجہ حسن نظامی صاحب کی عجیب و غریب دعوت مباہلہ اور اس کا جواب
    درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء~رح~ کے سجادہ نشین خواجہ حسن نظامی دہلوی نہایت شریف مگر ہوشیار صوفیوں اور صاحب طرز ادیبوں اور انشاء
    پردازوں میں سے تھے۔ خواجہ صاحب کے مراسم۴۰۵ جماعت احمدیہ کے ساتھ ایک عرصہ سے قائم تھے مگر یکایک خدا جانے کیا خیال آیا کہ انہوں نے (رسالہ نظام المشائخ میں) سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو مباہلہ کا یہ عجیب و غریب چیلنج دے دیا کہ وہ اجمیر شریف میں آئیں میں بھی وہاں حاضر ہو جائوں گا۔ آستانہ خواجہ غریب نواز کی مسجد میں میرزا صاحب میرے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنی باطنی قوت کے تمام حرجے مجھ پر آزمائیں۔ اور جب وہ اپنی ساری کرامت آزما چکیں تو مجھ کو اجازت دی جائے کہ میں صرف یہ کہوں۔ اے خدا بطفیل اس صاحب مزار کی حقانیت کے اپنی صداقت کو ظاہر کر اور ہم دونوں میں جو جھوٹا ہو اس کو اسی وقت اور اسی لمحہ میں ہلاک کر دے اور اس کے بعد میرزا محمود احمد کو اجازت دی جائے۔ کہ وہ اپنے الفاظ میں جو جی چاہیں کریں۔ میعاد صرف ایک گھنٹہ مقرر کی جائے۔ یعنی دونوں آدمیوں میں سے ایک پر ایک گھنٹہ کے اندر اس دعا کا اثر ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۴۰۶‘‘ اگر تم کو یہ مباہلہ منظور ہو تو ربیع الاول ۱۳۳۶ھ کی چھٹی تاریخ کو اپنے حواریوں کو لے کر اجمیر شریف آجائو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تم اس ارادہ سے اجمیر شریف آئو تو اپنی والدہ صاحبہ سے دودھ بخشوا کر آنا اور ریلوے کمپنی سے ایک گاڑی کا بندوبست کرا لینا جس میں تمہاری لاش قادیان روانہ ہو سکے۔ اور نیز اپنی اہلیہ صاحبہ سے مہر بھی معاف کرا لینا اور قادیان کو والد ماجد کی قبر سمیت ذرا غور سے دیکھ کر آنا کہ پھر تم کو زندگی میں وہ درو دیوار دیکھنے نصیب نہ ہوں گے اور جانشینی کے مسئلہ کو بھی طے کرکے آنا‘‘۔
    سیدنا حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو جب خواجہ صاحب کے اس چیلنج کا علم ہوا تو حضور نے مفصل اعلان فرمایا کہ مباہلہ کے مسنون طریق کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کے بارے میں مباہلہ کے لئے بالکل تیار ہوں۔ آیت مباہلہ سے ثابت ہے کہ دلائل کے اظہار کے بعد مباہلہ ہوتا ہے اس لئے ضروری ہو گا کہ مباہلہ سے پہلے دونوں اپنے اپنے عقائد پر تقریر کر لیں۔ مباہلہ میں شرط ہو گی کہ عذاب انسانی دخل سے پاک ہو گا۔ اس مباہلہ کا ظاہر ہونا یوم مباہلہ سے ایک سال کے عرصہ میں ضروری ہو گا ہاں خواجہ صاحب کو اجازت ہو گی کہ آپ ایک گھنٹہ یا آدھ گھنٹہ کا وقت مقرر کر لیں۔ آیت قرآنی کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے اور سنت رسولﷺ~ کے مطابق ضروری ہو گا کہ کم سے کم سرگروہ اپنے بیوی اور بچوں کو مباہلہ میں شامل کریں۔ ان بنیادی شرائط کے علاوہ آپ نے مباہلہ کا اثر وسیع کرنے اور فریقین کے لئے منحرف ہونے کی راہ مسدود کرنے کے لئے ایک شرط یہ رکھی کہ دونوں طرف سے ایک ایک ہزار آدمی شامل مباہلہ ہوں۔ دوسرے پانچ پانچ ہزار روپیہ بطور ضمانت کسی ثالث کے پاس رکھ دیا جائے۴۰۷۔
    حضرت خلیفہ ثانی نے خواجہ صاحب کو ان کے طریق مباہلہ کی طرف توجہ دلائی کہ ’’یہ طریق فیصلہ کہاں سے ایجاد کیا گیا ہے۔ اس قسم کا مقابلہ کسی ولی کسی بزرگ کسی نبی کے طریق عمل سے ثابت نہیں خواجہ صاحب فیصلہ کا طریق مخفی طاقتوں اور غیبی تصرفوں کا استعمال اور باطنی قوت کے حربوں کے وار بتاتے ہیں لیکن ہم قرآن کریم میں بار بار یہی لکھا پاتے ہیں کہ عذاب کا لانا کسی انسان کے اختیار میں نہیں پس جب کسی انسان کے اختیار میں یہ بات ہی نہیں تو اپنی طرف سے اس کے قواعد بنانے اور غیبی تصرفات کا دعویٰ کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے‘‘۔
    خواجہ صاحب کا چیلنج اور حضرت اقدس کا جواب پبلک کے سامنے آیا تو مولوی ظفر علی خاں نے ’’بچوں کا کھیل‘‘ اور ’’اسلام سے تمسخر‘‘ کے دہرے عنوان سے لکھا۔ ’’جناب طریقت ماب تقدس انتساب خواجہ حسن نظامی قدس سرہ کو اگر جدا مجد کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طریق کار بھی پسند نہ تھا۔ تو قرآن کریم کی وہ عام ہدایت کیا ان کے لئے بہترین معیار عمل نہ تھی۔ کہ اذ اتنا زعتم فی شی فردوہ الی اللہ و الرسول جب کسی چیز میں شکل منازعت نکل آئے اور تم میں نزاع ہو جائے تو اس معاملہ کو اللہ و رسول ~(صل۱)~ کی جانب لوٹائو۔ یعنی قرآن کریم اور سنت حسنہ نبویہ پر اس کو پیش کرو کہ تم مسلمان ہو تو کتاب و سنت سے اچھا جج تمہیں کون سا ملے گا۔ مگر ہمارا ہندوستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ایک گروہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ایک دوسرے گروہ کو کہ اسے بھی قائل اسلام ہونے کا ادعا ہے۔ مباہلہ کی *** آفرین دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آئو فلاں پیر کی چہار دیواری میں بیٹھ کر ہم تم ایک دوسرے کو بددعائیں دیں اور ایک گھنٹہ کے اندر اندر ملاء اعلیٰ سے عزرائیل کو بلا کر اپنی حبل الورید اس کے نشتر کے حوالہ کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔ خلیفہ قادیان جناب میرزا بشیر الدین محمود سلمہ کے عقائد سے کامل اختلاف رکھتے ہوئے بھی اس قدر کہنے پر صداقت ہم کو مجبور کرتی ہے کہ انہوں نے خواجہ صاحب کے مباہلہ کا جواب نہایت معقولیت سے دیا ہے‘‘۴۰۸۔
    اب خواجہ صاحب کی سنئے۔ حضرت کے جواب پر انہوں نے گو ابتداء میں مسنون مباہلہ کی اکثر و بیشتر شرائط پر بظاہر آمادگی ظاہر کی۔ مگر بالاخر یہ کہہ کر پیچھا چھڑا لیا کہ ’’چند ماہ کا ذکر ہے میری اہل قادیان سے کچھ مخاطبت ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں لگاتار تضیع اوقات نہیں کر سکتا تھا قادیان کی علانیہ گریز دیکھ لی اور سمجھ لی تو اس گفتگو کو ختم کر دیا۔ اب وہ مذکورہ مباہلہ کی نسبت کچھ ہی لکھتے رہیں مطلق جواب نہ دیا جائے گا۴۰۹۔ حالانکہ انہوں نے شروع میں چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اہل قادیان سے میری خانہ جنگی نہیں بلکہ جہاز جنگی ہے سارے جہان کو جس قوت مریبیہ و فنائیہ کا خوف لگا ہوا ہے میں اس کو ختم کرنا چاہتا ہوں پروشیا کے قوائے حربیہ کا خاتمہ ہو جائے گا تو دنیا کو امن نہیں ملے گا جتنا کہ قادیان کی طاقت زیر و زبر ہونے سے مل سکتا ہے‘‘۔ (ویش ۲۴/ جنوری ۱۹۱۸ء۴۱۰)
    مسٹر مانٹیگو کا اعلان اور مسلم اقلیت کے تحفظ کے لئے نئی جدوجہد کا آغاز
    مسٹر مانٹیگو وزیر ہند نے ۲۰/ اگست ۱۹۱۷ء کو اعلان کیا کہ حکومت کا منشاء ہندوستانیوں کو صرف انتظام حکومت میں شریک کرنا ہی نہیں
    بلکہ منتہائے مقصود یہ ہے کہ وہ حکومت خود اختیاری کے قابل ہو جائیں اور رفتہ رفتہ ملک کا پورا انتظام بالاخر ہندوستانیوں کو سونپ دیا جائے گا۴۱۱
    اس اہم اعلان سے ملکی سیاست میں ایک نیا انقلابی دور شروع ہوا۔ جس کے بعد کانگرس کی تحریک جہاں اور زور پکڑ گئی وہاں مسلمان اقلیت کو اپنے مستقبل سے متعلق ایک مہیب خطرہ پیدا ہو گیا کہ اس کے تحفظ حقوق کے بغیر آزادی ان کی مستقل قومی ہستی کو ختم کر دے گی اور انگریز کے بعد ملک کی بھاری ہندو اکثریت کے ابدی غلام بن جائیں گے۔ گیارہ سال کا واقعہ ہے کہ نواب محسن الملک کی کوشش سے مسلمانوں کا ایک وفد یکم اکتوبر ۱۹۰۶ء کو شملہ میں لارڈ منٹو وائسرائے و گورنر جنرل کی خدمت باریاب ہوا اور اس نے ایک مفصل عرضداشت پیش کی اور کہا۔ ’’جو طریقہ نیابت و قائم مقامی کا یورپ میں رائج ہے وہ اہل ہند کے لئے بالکل نیا ہے۔ ہماری قوم کے بعض دور اندیش افراد کا خیال ہے کہ اس طریقہ کو ہندوستان کی موجودہ سیاسی اور تمدنی حالت پر کامیابی کے ساتھ منطبق کرنے کے لئے نہایت حزم احتیاط و مال اندیشی سے کام لینا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ورنہ) منجملہ اور خرابیوں کے ایک بہت بڑی خرابی یہ پیش آئے گی کہ ہمارے قومی اغراض کا سیاہ و سفید ایک ایسی جماعت کے حوالہ ہو جائے گا جسے ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے نیز کہا۔ ’’قومی حیثیت سے ہم مسلمانوں کی ایک جداگانہ جماعت ہے جو ہندوئوں سے بالکل الگ ہے‘‘۴۱۲۔
    حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ابتدائے خلافت ہی سے جماعت کو سیاست سے الگ رہنے کی پرزور تلقین فرماتے اور بتاتے آرہے تھے کہ ہم مذہبی جماعت ہیں ہمیں سیاست کے دھندوں سے کنارہ کش ہو کر تبلیغ اسلام و احمدیت میں مصروف رہنا چاہئے۴۱۳۔ لیکن اب جو برطانوی حکومت کی طرف سے نئی پالسی کا اعلان ہوا اور مسلم اقلیت کے حقوق خطرے میں پڑنے لگے۔ تو حضور محض اسلامی ہمدردی کی بناء پر مسلمانوں کی ترجمانی اور ان کے مفاد کے تحفظ کے لئے میدان عمل میں آگئے۔ اور آپ نے مصمم فیصلہ کر لیا کہ ملکی امن کو برقرار رکھنے کے لئے حکومت سے تعاون بھی جاری رکھیں گے اور مسلم حقوق کو بھی پامال نہیں ہونے دیں گے۔ اور تمام ممکن اخلاقی اور آئینی ذرائع سے مسلم اقلیت کے جداگانہ وجود کو قائم و برقرار رکھنے کی کوشش کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے اور جیسا کہ آنے والے واقعات سے پتہ چلے گا حضور نے ہرا ہم قدم پر مسلمانوں کی صحیح ترجمانی اور نمائندگی کا حق ادا کر دیا۔ اس سلسلہ میں حضور نے پہلا قدم مسٹر مانٹیگو وزیر ہند کے ہندوستان آنے پر اٹھایا جب کہ انہوں نے ہندوستان کی مختلف جماعتوں کو دہلی میں آکر ریفارم سکیم گورنمنٹ کے سلسلہ میں ایڈریس پیش کرنے کا موقعہ دیا تھا تا آزادی سے متعلق برطانوی سکیم کو بروئے کار لایا جا سکے۔
    حضور اس موقعہ پر بنفس نفیس ۱۳/ نومبر ۱۹۱۷ء کو دہلی تشریف لے گئے۴۱۴ اور جماعت احمدیہ کے بعض سربرآوردہ ممبر بھی دہلی میں بلوا لئے۔ حضور کی ہدایت کے مطابق ۱۵/ نومبر ۱۹۱۷ء کو ایک احمدیہ وفد۴۱۵ نے مسٹر مانٹیگو سے ملاقات کی۔ اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے وفد کی طرف سے ایڈریس پیش کیا۔ جس میں ملکی شورش کے مختلف اسباب و وجوہ پر روشنی ڈالنے کے بعد اور آئندہ ’’سیلف گورنمنٹ‘‘ کے طریق انتقال سے متعلق مشورہ دیا کہ ’’انتخاب کا کوئی ایسا طریق نہ رکھا جائے کہ جس میں قلیل التعداد جماعتیں نقصان میں رہیں ایسے تمام صوبوں میں جہاں کوئی قلیل التعداد جماعت خاص اہمیت رکھتی ہو اور اس کی تعداد اس قدر کم ہو کہ اس کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اس جماعت کو اس تعداد سے زیادہ ممبروں کے انتخاب کا حق دیا جائے جس قدر کہ بلحاظ تعداد کے اس کے حصوں میں آتے ہیں۔ جیسا کہ پنجاب و بنگال کے سوا باقی صوبوں میں مسلمان اور پنجاب میں سکھ اور بمبئی میں پارسی اور مدراس میں عیسائی ہیں اور سرحدی صوبہ میں اگر کبھی اس کو آئینی حکومت ملی تو ہندو ہیں مگر یہ حق ایسی قلیل التعداد جماعتوں کو جو زیادہ قلیل نہیں ہیں ہرگز نہیں ملنا چاہئے۔ کیونکہ اس حق سے ان جماعتوں کو جو قلیل کثرت رکھتی ہیں سخت نقصان پہنچائے گا مثلاً اگر بڑی تعداد والی قلیل التعداد جماعتوں کو بھی یہ حق دیا جاوے۔ تو ہندوئوں کو تو جن کی میجارٹی جہاں ہے بہت زیادہ کوئی نقصان نہ ہو گا۔ مگر مسلمانوں کو جن کی میجارٹی (کثرت) صرف بنگال اور پنجاب دو صوبوں میں ہے اور بہت ہی کم ہے سخت نقصان پہنچے گا اور ان کی میجارٹی (کثرت) کہیں بھی نہ رہے گی۔ نیز بتایا ہم بلحاظ سیاست انہی فرقوں کے ساتھ شامل ہیں جو ہماری طرح دعویٰ اسلام رکھتے ہیں اس لئے ہمارا حق ہے کہ ہم اس حیثیت سے بھی اپنی رائے دیں‘‘۴۱۶۔ اخبار پانیئر (الہ آباد) نے اس کی خبر دیتے ہوئے لکھا کہ ’’احمدیہ وفد عصر کے وقت پیش ہوا۔ سیکرٹری وفد نے اصلاحات کی ضرورتوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوروپین اور ہندوستانی میں جو تفریق کی جاتی ہے یہ موجودہ باعث بے اطمینانی کا ہے ایسی کوئی اصلاحات نافذ نہ ہوں جو چھوٹی جماعتوں کے حقوق کے لئے ضرر رساں ہوں آخر میں بیان کیا ہندوستان کے واسطے دو قسم کی اصلاحیں ضروری ہیں۔ اول وہ اصلاحیں جو سارے ملک کی مجموعی حالت کا خیال کرکے پیش کی جاتی ہیں۔ دوئم وہ اصلاحیں جو تعلیم یافتہ اصحاب کی اکثریت چاہتی ہے دونوں قسم کی اصلاحیں بہت ضروری ہیں اور انصاف کا تقاضا ہے کہ ان اصلاحوں کو جاری کیا جائے لیکن آخری فیصلہ کرتے وقت مفصلہ ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی ایسی صلاح نہ ہو جس سے قلیل التعداد اقوام کے حقوق کو نقصان پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اصلاحیں اس ملک کی مختلف اقوام کی بہبودی کے لئے ضروری نظر آرہی ہیں۔ اور ان سے جائز حقوق پورے ہوتے ہیں ان کو مسترد نہیں کرنا چاہئے۴۱۷۔
    احمدیہ وفد کے موقف کی مزید وضاحت کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح بھی اسی دن ۶ بجے شام مسٹر مانٹیگو سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے اور ۳۵ منٹ تک گفتگو فرمائی۔ ترجمان کے فرائض چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے انجام دیئے۴۱۸۔ اور حضور ۲۶/ نومبر ۱۹۱۷ء کو دہلی سے قادیان واپس تشریف لائے۔
    یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ حضور کے اس نئے اقدام پر بعض حلقوں کا تاثر کیا تھا؟ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں۔ ’’جب میں نے بعض سیاسی معاملات میں دخل دینا شروع کیا تو اس لئے نہیں کہ وہ سیاسی تھے۔ بلکہ اس لئے کہ میں انہیں دین کا جزو سمجھتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ جب میں نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا۔ تو جماعت کے کئی دوست بھی اس پر معترض ہوئے اور بعض دوسرے لوگ خیال کرتے تھے کہ مجھے سیاسیات سے واقفیت ہی کیا ہو سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک دوست کے متعلق (وہ اب تو احمدی ہو چکے ہیں۔ لیکن اس وقت غیر احمدی تھے) بیان کیا کہ انہوں نے جب دیکھا کہ میں نے بھی سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے تو کہنے لگے میں نہیں سمجھ سکتا کہ ریل سے بارہ میل فاصلہ پر رہنے والا ایک شخص سیاسیات سے واقف ہی کس طرح ہو سکتا ہے (اس وقت قادیان میں ریل نہ تھی) لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے آہستہ آہستہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اپنے تو علیحدہ رہے غیر بھی اس امر کو محسوس کر رہے ہیں کہ میں سیاست سمجھتا ہوں اور یہ اس لئے کہ میں سیاست کو دینی نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہوں چونکہ اسلام کے اصول نہایت پکے ہیں۔ اس لئے جب میں اسلام کے اصول کے ماتحت کسی علم کو دیکھتا ہوں تو اس کا سمجھنا میرے لئے نہایت آسان ہو جاتا ہے کوئی علم ہو خواہ وہ فلسفہ ہو یا علم النفس ہو- یا سیاسیات ہوں میں اس پر جب بھی غور کروں گا ہمیشہ صحیح نقطہ پر پہنچوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور چونکہ قرآن مجید کے ماتحت ان علوم کو دیکھتا ہوں۔ اس لئے ہمیشہ صحیح نتیجہ پر پہنچتا ہوں اور کبھی ایک دفعہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے اپنی رائے کو تبدیل کرنا نہیں پڑا‘‘۴۱۹۔
    ریاست لائبیریا (مغربی افریقہ) میں احمدیت
    اسی سال مغربی افرقہ کی ریاست لائبیریا کے ایک پروفیسر نے احمدیت کا لٹریچر منگوایا اس طرح پہلی بار لائبیریا میں احمدیت کا پیغام پہنچا۴۲۰۔
    ’’تصدیق المسیح و المہدی‘‘
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو زمانہ قیام بمبئی میں تحریک ہوئی کہ حضرت مسیح موعودؑ کے مناقب پر ایک مختصر سا رسالہ لکھنا چاہئے۔ چنانچہ آپ نے بمبئی سے واپس آکر دسمبر ۱۹۱۷ء میں ’’تصدیق المسیح و المہدی‘‘ تصنیف فرمائی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ سے ثابت فرمایا۔
    تحریک وقف زندگی
    ‏0] [rtfسلسلہ کی تبلیغی سرگرمیاں روز بروز وسعت پکڑ رہی تھیں اس لئے حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اشاعت اسلام کے لئے ۷/ دسمبر ۱۹۱۷ء کو زندگی وقف کرنے کی تحریک فرمائی۴۲۱۔ اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے ۶۳ نوجوانوں نے اپنے نام پیش کئے جن میں مولوی عبدالرحیم صاحب ایم۔ اے شیخ یوسف علی صاحب بی۔ اے صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی۔ اے صوفی محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی ظہور حسین صاحب۔ مولوی غلام احمد صاحب۔ مولوی ابوبکر صاحب سماٹری۔ مولوی ظل|الرحمان صاحب بنگالی۔ خان بہادر مولوی ابوالہاشم خان صاحب ایم۔ اے اسسٹنٹ انسپکٹر مدارس بنگال۔ مولوی مبارک علی صاحب بنگالی۔ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اور مولوی رحمت علی صاحب مولوی فاضل بھی تھے۔۴۲۲
    ان وافقین کو تین گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ (۱) رابطین جو وافقین کے استاد تھے۔ (۲) مجاہدین جو عملاً تبلیغی جہاد میں مصروف عمل تھے۔ (۳) منتظرین جو مدرسہ احمدیہ یا ہائی سکول میں تعلیم پا رہے تھے۴۲۳۔
    ’’حقیقتہ الرویاء‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۲۷‘۲۸/ دسمبر ۱۹۱۷ء کو سالانہ جلسہ کے موقع پر تین تقاریر فرمائیں جو ’’حقیقتہ الرویاء‘‘ کے نام سے شائع ہوئیں۔ ان تقریروں میں حضور نے علم دین کے طریق بتائے۔ الہام‘کشف‘رویاء اور خواب کے فلسفہ پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی اور الہام خصوصاً ماموروں کے الہام کی علامات بیان فرمائیں۔
    ۱۹۱۷ء کے متفرق مگر اہم واقعات
    ۱۔ حضرت مرزا ناصر صاحب کے ختم قرآن پر ۲۴/ فروری ۱۹۱۷ء کو آمین ہوئی۔
    ۲۔
    ‏]ind [tag حضرت ام المومنینؓ‘حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ اور حضرت میر محمد اسحٰق صاحب جناب منشی قدرت اللہ صاحب سنوری کی ہمشیرہ کے رخصتانہ کی تقریب پر سنور (ریاست پٹیالہ) تشریف لے گئے۴۲۴۔
    ۳۔
    حضرت خلیفہ اول کی بڑی دختر حفصہ بیگم (اہلیہ مفتی فضل الرحمن صاحب) اور مرزا غلام اللہ صاحب کا انتقال ہوا۔
    ۴۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اجازت اور حضرت میر محمد اسحق صاحب کی نگرانی میں ایک ’’انجمن ارشاد‘‘ قائم ہوئی جس کا مقصد جوانوں کو تبلیغی ٹریننگ دینا تھا۴۲۵۔ اس کے علاوہ حضور کی تحریک تبلیغ ولایت کو کامیاب بنانے کے لئے مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے بھی انجمن شبان الاسلام کی بنیاد رکھی۴۲۶۔
    ۵۔
    حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ہجرت کرکے قادیان تشریف لے آئے۴۲۷۔
    ۶۔
    حضرت خلیفہ ثانی نے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کا نکاح ثانی جناب مرزا محمد شفیع صاحب کی دختر نیک اختر سے پڑھا۴۲۸۔
    ۷۔
    ۷۔ ۸۔ ۹/ اپریل ۱۹۱۷ء کو قادیان میں ’’احمدیہ کانفرنس‘‘ ہوئی۔ کانفرنس کا پہلا اجلاس تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں۔ دوسرا مسجد اقصیٰ میں اور تیسرا مسجد مبارک میں ہوا۔ وسطی اجلاس کی صدارت قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے کی۴۲۹۔
    ۸۔
    حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ کی یادگار میں شفا خانہ نور کا اجراء ہوا۔ اور اس کے پہلے انچارج مفتی فضل الرحمن صاحب بنے۔ شفا خانہ حضرت خلیفتہ اولؓ کے مطب والے مکان میں ہی کھولا گیا۴۳۰۔
    ۹۔
    حضرت خلیفتہ المسح ثانی کے حکم سے حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری پنجاب کی انجمنوں کی تنظیم کے لئے بھیجے گئے آپ کے ہمراہ محمد سعید صاحب سعدی اور مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری بھی تھے۴۳۱۔ یہ ۱۵/ اکتوبر ۱۹۱۷ء کا واقعہ ہے۔
    ۱۰۔
    قادیان میں ایک نیا محلہ ’’دارالرحمت‘‘ کے نام سے آباد ہونا شروع ہوا جس کے ابتدائی مکینوں میں بابو عبدالرحیم صاحب پوسٹماسٹر اور ملک غلام حسین صاحب رہتاسی بھی تھے۴۳۲۔
    ۱۱۔
    مشہور مباحثات: مباحثہ کاٹھ گڑھ (آریوں سے۔ احمدی مناظر حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ۴۳۳) مباحثہ نواں شہر۴۳۴۔ (آریوں سے) مباحثہ بھمبلہ ضلع گجرات (احمدی مناظر حضرت حافظ روشن علی صاحب۴۳۵) مباحثہ بمبئی (حضرت میر محمد اسحق صاحب نے حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ سے بھی اور پادری جوالا سنگھ کے ساتھ مباحثے کئے) مباحثہ ظفر وال (حضرت میر قاسم علی صاحب کا آریوں سے۴۳۶۔ مباحثہ کلا سوالہ۔ (شیخ محمد یوسف صاحب کا مہاشہ چرنجی لعل پریم کے ساتھ۴۳۷) مباحثہ سیکھواں (شیخ محمد یوسف صاحب کا سکھوں سے۴۳۸) ان کے علاوہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے (جو ان دنوں مدرسہ احمدیہ کی ساتویں جماعت کے طالب علم تھے) موضع پکیواں (ضلع گورداسپور) میں ایک آریہ پنڈت اور مولوی ابو تراب عبدالحق صاحب سے مباحثہ کیا۴۳۹]ind [tag۔
    ۱۲۔
    مرزا گل محمد صاحب (ابن مرزا نظام الدین صاحب) داخل احمدیت ہوئے۴۴۰۔
    ‏rov.5.13
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا پانچواں سال
    دوسرا باب (فصل پنجم)
    خلافت ثانیہ کا پانچواں سال
    (ربیع الاول ۱۳۳۶ھ تا ربیع الاول ۱۳۳۷ھ)
    ~ (جنوری ۱۹۱۸ء سے دسمبر ۱۹۱۸ء تک) ~[~
    احمدیان کٹک پر مظالم
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کے پانچویں سال (۱۹۱۸ء) کے شروع میں کٹک (صوبہ بہار) کے احمدیوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم توڑے گئے جن کے تصور سے بھی دل لرز جاتا ہے۔ چنانچہ اخبار ’’اہلحدیث‘‘ امرت سر جیسا معاند احمدیت اخبار بھی ان مظالم کا ذکر مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتا ہے۔ ’’قادیانیوں کا قافیہ ایسا تنگ کر دیا ہے کہ بیچارے مکان سے باہر تک نہیں نکل سکتے‘‘۔ مرزائیوں کی میت کا پوچھئے مت۔ شہر میں اگر کسی میت کی خبر پہنچ جاتی ہے تو تمام قبرستان میں پہرہ بیٹھ جاتا ہے۔ کسی کے ہاتھوں میں ڈنڈا ہے کسی کے ہاتھ میں چھڑی ہے۔ میت کی مٹی پلید ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تابوت نہیں ملتی۔ بیلداروں کی طلب ہوتی ہے تو وہ ٹکا سا جواب دے دیتے ہیں۔ بانس اور لکڑی کی بالکل عنقائیت ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر صورت سے ناامید ہو کر جب یہ ٹھان بیٹھتے ہیں کہ چلو چپکے سے مکان کے اندر قبر کھو کر گاڑ دیں۔ تو ہاتف غیبی افسران میونسپلٹی کو آگاہ کر دیتے ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آکر خرمن امید پر کڑکتی بجلی گرا دیتے ہیں‘‘۴۴۱۔
    سفر بمبئی
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت ۱۹۱۸ء میں زیادہ مضمحل ہو گئی اور ڈاکٹروں نے بمبئی جانے کا مشورہ دیا۔ حضور ۳/ مئی ۱۹۱۸ء کو قادیان سے روانہ ہوئے۴۴۲۔ اور لاہور میں ناک و حلق کا بجلی کے ذریعہ علاج کئے جانے کے بعد بمبئی تشریف لے گئے۴۴۳۔ اور خدا کے فضل سے بمبئی میں مرض سے افاقہ ہو گیا اور حضور ۱۵/ جون ۱۹۱۸ء کو قادیان پہنچ گئے۴۴۴۔ اس سفر میں حضور کی ایک بچی امتہ العزیز صاحبہ نے (جو حضرت ام ناصر کے بطن سے تھیں) ڈیڑھ سال کی عمر میں وفات پائی اور بمبئی میں دفن ہوئیں۴۴۵۔
    سفر ڈلہوزی
    حضور ایدہ اللہ تعالیٰ ڈلہوزی تشریف لے گئے اور ۲۲/ جون ۱۹۱۸ء سے ۱۷/ اگست ۱۹۱۸ء تک قیام فرمایا۴۴۶۔ اور ایک آزاد خیال عیسائی کی خواہش پر اس سے گفتگو فرمائی اس دن حضور کی طبیعت ناساز تھی مگر جب دوران گفتگو میں اس نے سیدنا نبی کریم~صل۱~ کی نیت پر حملہ کیا تو حضور نے جلالی رنگ میں ایسا مسکت جواب دیا کہ اسے بہت ہی ندامت سے خاموش ہو جانا پڑا4] f[st۴۴۷۔
    ’’اظہار حق اور حقیقت الامر‘‘
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے قلم سے مولوی محمد علی صاحب کے بعض وساس و اوہام کے ازالہ میں ’’اظہار حقیقت‘‘ اور ’’حقیقت الامر‘‘ کے نام سے بالترتیب جولائی ۱۹۱۸ء اور ستمبر ۱۹۱۸ء میں دو اہم رسائل شائع ہوئے۔
    انفلو انزا کی عالمگیر وبا میں جماعت کی بے لوث خدمت
    ۱۹۱۸ء میں جنگ عظیم کا ایک نتیجہ انفلوانزا کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس وبا نے گویا ساری دنیا میں اس تباہی سے زیادہ تباہی پھیلا دی۔ جو میدان جنگ میں پھیلائی تھی۔ ہندوستان پر بھی اس مرض کا سخت حملہ ہوا۔ اگرچہ شروع میں اموات کی شرح کم تھی۔ لیکن تھوڑے ہی دنوں میں بہت بڑھ گئی اور ہر طرف ایک تہلکہ عظیم برپا ہو گیا۔ ان ایام میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے شاندار خدمات انجام دیں۔ اور مذہب و ملت کی تمیز کے بغیر ہر قوم اور ہر طبقہ کے لوگوں کی تیمارداری اور علاج معالجہ میں نمایاں حصہ لیا۔ احمدی ڈاکٹروں اور احمدی طبیبوں نے اپنی آنریری خدمات پیش کرکے نہ صرف قادیان میں مخلوق خدا کی خدمت کا حق ادا کیا بلکہ شہر بہ شہر اور گائوں بہ گائوں پھر کر طبی امداد بہم پہنچائی۔ اور عام رضا کاروں نے نرسنگ وغیرہ کی خدمت انجام دی اور غرباء کی امداد کے لئے جماعت کی طرف سے روپیہ اور خورد و نوش کا سامان بھی تقسیم کیا گیا ان ایام میں احمدی والنٹیر (جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی شامل تھے) صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کرکے دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے اور بعض صورتوں میں جب کام کرنے والے خود بھی بیمار ہو گئے اور نئے کام کرنے والے میسر نہیں آئے بیمار رضا کار ہی دوسرے بیماروں کی خدمت انجام دیتے رہے اور جب تک یہ رضا کار بالکل نڈھال ہو کر صاحب فراش نہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنے آرام اور اپنے علاج پر دوسروں کے آرام اور دوسروں کے علاج کو مقدم کیا۔ یہ ایسا کام تھا کہ دوست دشمن سب نے جماعت احمدیہ کی بے لوث خدمت کا اقرار کیا۔ اور تقریر و تحریر دونوں میں تسلیم کیا کہ اس موقع پر جماعت احمدیہ نے بڑی تندہی و جانفشانی سے کام کرکے بہت اچھا نمونہ قائم کر دیا ہے۴۴۸ ۔
    حضرت خلیفہ ثانی کی تشویشناک علالت اور وصیت
    ‏]txet [tagحضرت امیر المومنین پر آخر ۱۹۱۸ء میں انفلوانزا کا اتنا شدید۴۴۹ حملہ ہوا کہ حضور نے ۱۹ اکتوبر ۱۹۱۸ء کو وصیت بھی لکھ دی جس میں اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے لئے گیارہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد فرما دی۔ اس اہم وصیت کا متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ’’میں مرزا محمود احمد ولد حضرت مسیح موعودؑ خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر ایسی حالت میں کہ دنیا اپنی سب خوبصورتیوں سمیت میرے سامنے سے ہٹ گئی ہے بقائمی ہوش و حواس رو بروان پانچ گواہوں کے جن کے نام اس تحریر کے آخر میں ہیں اور جن میں سے ایک خود اس تحریر کا کاتب ہے۴۵۰۔ جماعت احمدیہ کی بہتری اور اس کی بہبودی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ وصیت کرتا ہوں کہ اگر میں اس کاغذ کی تحریر کو اپنی حین حیات میں منسوخ نہ کروں۔ تو میری وفات کی صورت میں وہ لوگ جن کے نام میں اس جگہ تحریر کرتا ہوں ایک جگہ پر جمع ہوں جن کے صدر اس وقت نواب محمد علی خاں صاحب ہوں گے اور اگر کسی وجہ سے وہ شامل نہ ہو سکیں (گو اگر جدا مکان میں ہو تو میرا حکم ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں) تو پھر یہ جمع ہونے والے لوگ آپس کے مشورے سے کسی شخص کو صدر مقرر کریں پہلے صدر جلسہ سب کے رو برو باواز بلند کلمہ شہادت پڑھ کر خدا کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس معاملہ میں رائے دے گا۔ اور کسی قسم کی نفسانیت کو اس میں دخل نہ دے گا۔ پھر وہ ہر ایک نامزد شدہ سے اس قسم کی قسم لے اور سب لوگ صدر جلسہ سمیت اس بات پر حلف اٹھائیں کہ وہ اس معاملہ کو کسی پر ظاہر نہ کریں گے۔ حتیٰ کہ وہ شرائط پوری ہو جائیں جو میں نے اس تحریر میں لکھی ہیں اس قسم کے بعد یہ سب لوگ فرداً فرداً اس بات کا مشورہ دیں کہ جماعت میں سے کس شخص کے ہاتھ پر بیعت کی جاوے۔ تاکہ وہ جماعت کے لئے خلیفہ اور امیر المومنین ہو صدر جلسہ اس بات کی کوشش کرے کہ سب ممبروں کی رائے ایک ہو۔ اگر یہ صورت نہ ہو سکے تو سب لوگ جن کے نام اس کاغذ پر لکھے جاویں گے رات کو نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کریں کہ خدا یا تو ہم پر حق کھول دے۔ دوسرے دن پھر جمع ہوں اور پھر حلف اٹھائیں اور پھر اسی طرح رائے دیں۔ اگر آج کے دن بھی وہ لوگ اتفاق نہ کر سکیں تو ۵/ ۳ رائیں جس شخص کے حق میں متفق ہوں۔ اس کی خلافت کا اعلان کیا جاوے لیکن اعلان سے پہلے یہ ضروری ہو گا کہ حاضر الوقت احباب سے نواب صاحب یا ان کی جگہ جو صدر ہو اس مضمون کی بیعت لیں۔ کہ وہ سب کے سب ان لوگوں کے فیصلہ کو بصدق دل منظور کریں گے اور اس بیعت میں وہ لوگ بھی شامل ہوں جن کے نام اس کاغذ پر لکھے جائیں گے اس کے بعد اس شخص کی خلافت کا صدر اعلان کرے جس پر ان ممبروں کا حسب قواعد مذکورہ بالااتفاق ہو۔ بشرطیکہ وہ شخص ان ممبروں میں سے جو صدر جلسہ ہو اس کے ہاتھ پر اس امر کی بیعت کر ے۔ (جو بیعت کہ میری ہی سمجھی جائے گی اور اس شخص کا ہاتھ میرا ہاتھ ہو گا) کہ میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت صاحب کی بتائی ہوئی تعلیم اسلام پر میں یقین رکھوں گا اور عمل کروں گا اور دانستہ اس سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوں گا۔ بلکہ پوری کوشش اس کے قیام کی کروں گا روحانی امور سب سے زیادہ میرے مدنظر رہیں گے اور میں خود بھی اپنی ساری توجہ اسی طرف پھیروں گا اور باقی سب کی توجہ بھی اسی طرف پھیرا کروں گا۔ اور سلسلہ کے متعلق تمام کاموں میں نفسانیت کا دخل نہیں ہونے دوں گا اور جماعت کے متعلق جو پہلے دو خلفاء کی سنت ہے اس کو ہمیشہ مدنظر رکھوں گا اس کے بعد وہ سب لوگوں سے بیعت لے اور میں ساتھ ہی اس شخص کو وصیت کرتا ہوں۔ کہ حضرت صاحب کے پرانے دوستوں سے نیک سلوک کرے۔ نیوں سے شفقت کرے امہات المومنین خدا کے حضور میں خاص رتبہ رکھتی ہیں۔ پس حضرت ام المومنین کے احساسات کا اگر اس کے فرائض کے رستہ میں روک نہ ہوں احترام کرے۔ میری اپنی بیبیوں اور بچوں کے متعلق اس شخص کو یہ وصیت ہے کہ وہ قرضہ حسنہ کے طور پر ان کے خرچ کا انتظام کرے جو میری نرینہ اولاد انشاء اللہ تعالیٰ ادا کرے گی۔ بصورت عدم ادائیگی میری جائیداد اس کی کفیل ہو ان کو خرچ مناسب دیا جائے عورتوں کو اس وقت تک خرچ دیا جائے جب تک وہ اپنی شادی کر لیں بچوں کو اس وقت تک جبکہ وہ اپنے کام کے قابل ہو جائیں۔ اور بچوں کو دینوی اور دنیاوی تعلیم ایسے رنگ میں دلائی جاوے کہ وہ آزاد پیشہ ہو کر خدمت دین کرسکیں۔ جہاں تک ہو سکے لڑکوں کو حفظ قرآن کرایا جاوے۔ باقی حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ کی وصیتیں میں پھر اس شخص کو اور جماعت کو یاد دلاتا ہوں۔ جو کام حضرت مسیح موعودؑ نے جاری کئے ہیں کسی صورت میں ان کو بند نہ کیا جاوے ہاں ان کی صورتوں میں کچھ تغیر ہو تو ضرورتوں کے مطابق خلیفہ کو اختیار ہے اس قسم کا انتظام آئندہ انتخاب خلفاء کے لئے بھی وہ شخص کر دے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کا حافظ حامی اور ناصر ہو اس شخص کو چاہئے کہ اگر وہ دین کی ظاہری تعلیم سے واقف نہیں تو اس کو حاصل کرے دعائوں پر بہت زور دے ہر بات کرتے وقت پہلے سوچ لے کہ آخر انجام کیا ہو گا؟ کسی کا غصہ دل میں نہ رکھے خواہ کسی سے کس قدر ہی اس کو ناراضگی ہو۔ اس کی خدمات کو کبھی نہ بھلائے۔ ان لوگوں کے اسماء جن کو میں خلیفہ کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے مقرر کرتا ہوں۔ یہ ہیں۔
    (۱) نواب محمد علی خان صاحب (۲) ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب (۳) مولوی شیر علی صاحب (۴) مولوی سید سرور شاہ صاحب (۵) قاضی سید امیر حسین صاحب (۶) چوہدری فتح محمد صاحب سیال (۷) حافظ روشن علی صاحب (۸) سید حامد شاہ صاحب (۹) میاں چراغ دین صاحب (۱۰) ذوالفقار علی خاں صاحب۔
    اگر بیرونی لوگ شامل نہ ہو سکیں تو پھر یہیں کے لوگ فیصلہ کریں- خلیفہ وہی شخص ہو سکتا ہے جو قادیان میں رہے جو خود نمازیں پڑھے یہ ضروری ہدایت یاد رکھی جائے کہ یہ لوگ اس بات کا اختیار رکھیں گے کہ اپنے میں سے کسی شخص کو انتخاب کریں یا کسی ایسے شخص کو جس کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ایک نام اس میں اور زیادہ کر دیا جاوے۔ میاں بشیر احمد صاحب بھی اس میں شامل ہیں۔ والسلام۔
    اگر صدر جلسہ خود خلیفہ تجویز ہو تو جو الفاظ خلیفہ کی بیعت کے لئے رکھے گئے ہیں ان کا وہ خود حلفیہ طور پر مجلس میں اقرار کرے۔ خدا کے فضلوںکا انکار کوئی نہیں کر سکتا۔ خلیفہ خدا بناتا ہے۔ پس اس شخص کو جس کے لئے لوگ متفق ہوں خلافت سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔ ہاں مشورہ دینے والوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ایسے شخص کو منتخب کریں کہ وہ قادیان کا ہی ہو کر رہ سکے۔ اور جماعت کرا سکتا ہو۔ والسلام و اخر دعونا ان الحمدللہ رب العالمین (دستخط) خاکسار مرزا محمود احمد دستخط خاکسار شیر علی عفی عنہ بقلم خود کاتب تحریر ہذا۔ ۱۹/ اکتوبر ۱۹۱۸ء۔ دستخط فتح محمد سیال بقلم خود۔ دستخط خاکسار مرزا بشیر احمد بقلم خود ۱۸/۱۰ ۱۹۔ دستخط محمد سرور شاہ بقلم خود ۱۹/ اکتوبر ۱۹۱۸ء۔ دستخط خلیفہ رشید الدین ایل۔ ایم۔ ایس بقلم خود ۱۹/ اکتوبر ۱۹۱۸ء۔ (نوٹ) یہ کاغذ مولوی شیر علی صاحب کی تحویل میں رکھا جاوے اور اس کی نقل فوراً شائع کر دی جاوے۔ (دستخط) مرزا محمود احمد‘‘۔
    حضور کے ارشاد کی تعمیل میں دوسرے ہی روز یہ وصیت دفتر ترقی اسلام کے میگزین پریس قادیان سے شائع کر دی گئی۴۵۱
    فتح کا جشن مسلمانان ہند اور جماعت احمدیہ
    جرمنی نے ۱۱/ نومبر ۱۹۱۸ء کو معاہدہ صلح پر دستخط کئے اور دنیا نے جنگ کی تباہ کاریوں سے نجات پانے پر اطمینان کا سانس لیا ۱۲/ نومبر ۱۹۱۸ء کو ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک خوشی منائی گئی۔ چنانچہ شیخ عبدالقادر صاحب بی۔ اے (ایڈیٹر ’’مخزن)‘‘ نے لکھا۔ ’’ماہ نومبر کی بارھویں تاریخ جو خوشیاں سارے ملک میں منائی گئی ہیں وہ مدتوں تک یاد رہیں گی۔ اور ایک دن کی خوشی نے لڑائی کے زمانے کی بہت سی کلفتوں کو دھو ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا نے برطانیہ اور اس کے حلیف دول کو بڑی شاندار کامیابی دی ہے ۔۔۔۔۔۔ ظلم پر عدل کی فتح ہے خود مختاری پر جمہوریت کی فتح ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کی تاریخ ایک نیا ورق الٹتی ہے۔ خدا کرے کہ امن و آزادی کا ایک دور جدید دنیا بھر میں اس فتح سے شروع ہو۴۵۲۔ ۲۷/ نومبر ۱۹۱۸ء کو ملک بھر میں جشن فتح منایا گیا۔ اس تقریب پر مسلمان شعراء نے دل کھول کر نظمیں کہیں مثلاً میرا غلام بھیک بی۔ اے نیرنگ (صدر انجمن دعوت و تبلیغ اسلام انبالہ) نے لکھا۔
    دکھایا اوج طالع نے نگاہوں کو عجب منظر
    جسے دیکھو خوشی کے جوش میں آپے سے ہے باہر
    مبارکباد کا اک شور ہے مشرق سے مغرب تک
    ترانوں سے طرب کے گونجتا ہے گنبدا خضر
    ملی برطانیہ کو فتح کامل ایسے دشمن پر
    تصور میں نہیں آتا ہے دشمن جس سے قاتل تر
    شہنشہ جارج کو آخر خدا نے فتح کامل دی
    کہ خود فتح و ظفر کو ناز ہے اس شہ کی نسبت پر۴۵۳
    ایک اور مسلمان شاعر خان احمد حسین خاں (مدیر ’’شباب اردو)‘‘ نے لکھا۔ ~}~
    یہ فتح شاندار مبارک ہو شہریار
    تم کو نصیب خضر کی ہو عمر تاجدار
    یہ تیرا راج راحت اہل قلوب ہو
    اور اس پہ آفتاب نہ ہر گز غروب ہو۴۵۴
    دوسرے مسلمانوں کی طرح جماعت احمدیہ نے بھی اس جشن میں حصہ لیا۔ کھیلوں کے مقابلے ہوئے غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلایا گیا۔ چراغاں کیا گیا۴۵۵۔ اور اس تمام تر خوشی کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ’’مغرور اور متکبر سلطنت جرمنی جو آج سے چند سال پیشتر تمام دنیا کو اپنی ظلم و استبداد کی حکومت کے ماتحت لانے کے خواب دیکھ رہی تھی اس پر برطانیہ اور اس کی اتحادی طاقتوں نے کامل غلبہ اور فتح اور اقتدار حاصل کرلیا۴۵۶۔
    مسلمان بچوں کے لئے پانچ ہزار روپیہ
    حضور نے پانچ ہزار روپیہ جنگ عظیم میں کام آنے والے مسلمانوں کے بچوں کی تعلیم کے فنڈ میں عطا فرمایا۴۵۷۔
    متفرق مگر اہم واقعات
    ۱۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہاں (حضرت ام ناصر کے بطن سے) صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور (حضرت سیدہ امتہ الحی کے بطن سے) صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ کی ولادت ہوئی اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب پیدا ہوئے۔
    ۲۔ صدر انجمن احمدیہ نے اپنے کارکنوں کے لئے پراویڈنٹ فنڈ کا سسٹم جاری کیا۴۵۸
    ۳۔ ۱۹۱۸ء کا سالانہ جلسہ ملتوی کر دیا گیا۔
    ۴۔ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے ۱۹۱۴ء میں ولایت سے واپسی کے بعد سیالکوٹ میں وکالت شروع کی تھی مگر اپریل ۱۹۱۸ء کے قریب آپ لاہور میں قیام پذیر ہو گئے۔ اور امارت لاہور کی نازک ذمہ داری بھی آپ کے سپرد کر دی گئی۔ فرائض امارت کے علاوہ آپ صدر انجمن احمدیہ کے مشیر قانونی بھی تھے۴۵۹۔ اور جماعتی مقدمات میں بھی اکثر جایا کرتے تھے۔
    ۵۔ اس سال (۱۹۱۸ء میں) حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی۴۶۰ نے اور حضرت سید محمد علی شاہ صاحب نے انتقال فرمایا۴۶۱۔
    ۶۔ ۱۹۱۸ء میں غیر احمدیوں کے دائر کردہ دو اہم مقدمات خارج ہوئے۔ (۱) ایک مقدمہ مولوی قاضی فضل احمد لدھیانوی نے شیخ محمد شفیع صاحب سیکرٹری انجمن لدھیانہ کے خلاف ایک اشتہار کی بناء پر دائر کر رکھا تھا جو خارج ہو گیا۴۶۲۔ (۲) کٹک کے احمدیوں پر مسجد سے ممانعت کے تعلق میں ایک فوجداری مقدمہ تھا جو عدالت نے خارج کر دیا۴۶۳۔
    ۷۔ عہد خلافت ثانیہ کی پہلی سالانہ رپورٹ (صدر انجمن احمدیہ) پانچ سو کی تعداد میں شائع ہوئی۴۶۴۔
    ۸۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہارات کا مجموعہ ’’تبلیغ رسالت‘‘ کے نام سے حضرت میر قاسم علی صاحب نے شائع کرنا شروع کیا۔
    ۹۔ اس سال کے مشہور مباحثات: مباحثہ ہوشیار پور۴۶۵ (مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری اور مولوی ثناء اللہ کے درمیان) مباحثہ فتح گڑھ چوڑیاں۴۶۶۔ (شیخ محمد یوسف صاحب کا آریوں سے) مباحثہ گوجرانوالہ۴۶۷ (مولانا غلام رسول صاحب راجیکی کا عیسائیوں سے) مباحثہ شملہ۴۶۸ (مولوی عمر دین صاحب شملوی اور مولوی عبدالحق صاحب غیر مبائع) مباحثہ گجرات۴۶۹۔ (حضرت حافظ روشن علی صاحب کا آریہ پنڈت پور نند سے) مباحثہ ماچھیواڑہ۴۷۰ind] gat[ ضلع لدھیانہ (حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی کا دہلوی علماء سے) مباحثہ کپورتھلہ۴۷۱۔ (شیخ عبدالخالق صاحب نو مسلم اور پادری عبدالحق صاحب کے درمیان)
    ۱۰۔ علمائے سلسلہ کی نئی مطبوعات ’’میرا عقیدہ دربار نبوت مسیح موعودؑ‘‘ (مولفہ حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل ہلال پوری) ’’حق الیقین‘‘ (حضرت مولوی حکیم عبیداللہ صاحب بسمل)
    ۱۱۔ اس سال سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی۴۷۲ (کلکتہ) احمدیت میں داخل ہوئے جنہوں نے آگے چل کر حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کی طرح سلسلہ کی ہر اہم تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور قربانیوں میں ایک شاندار مثال قائم کی۔ خصوصاً تقسیم ملک کے بعد قادیان۔ درویشان قادیان اور احمدیت کے لئے ان کی مالی خدمات کا سلسلہ بہت وسیع اور قابل رشک ہے۔
    ‏rov.5.14
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا چھٹا سال
    دوسرا باب (فصل ششم)
    خلافت ثانیہ کا چھٹا سال
    (ربیع الاول ۱۳۳۷ھ تا ربیع الاول ۱۳۳۸ھ)
    (جنوری ۱۹۱۹ء سے دسمبر ۱۹۱۹ء تک)
    جماعت کے مرکزی نظم و نسق میں اصلاح اور نظارتوں کا قیام
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۱۹ء میں اس وقت کے نظام سلسلہ احمدیہ کی مناسب اصلاح و ترمیم فرما کر اسے نہایت مفید بنا دیا سلسلہ احمدیہ کا پہلا مرکزی نظام (خلافت کی نگرانی میں) صدر انجمن احمدیہ پر مشتمل تھا۔ جو اپنی تفصیل کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تجویز فرمودہ نظام نہیں بلکہ خود انجمن کا قائم کردہ نظام تھا۔ اس نظام میں مختلف صیغے ایک ہی سیکرٹری کے ماتحت اس طرح جمع تھے کہ ان صیغوں کے افسروں کو کوئی ذمہ دارانہ پوزیشن حاصل نہیں ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ صدر انجمن احمدیہ کے مشوروں میں بھی ان افسروں کی آواز کا دخل نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ صدر انجمن احمدیہ کے جملہ انتظامی فیصلہ جات خالصت¶ہ ایسے ممبروں کی رائے سے تصفیہ پاتے تھے۔ جن کے ہاتھوں میںکسی انتظامی صیغہ کی باگ ڈور نہیں تھی۔ پھر مجلس کے قواعد کی بنیاد ایسی طرز پر رکھی گئی تھی کہ جماعت کی نمائندگی کو اس میں کوئی دخل نہ تھا بحالیکہ حکومت کی سب سے خطرناک صورت یہی سمجھی گئی ہے کہ اول تو چند آدمی تمام لوگوں کے نمائندے قرار دے دیئے جائیں مگر دراصل وہ نمائندے نہ ہوں۔ دوسرے انہیں یہ اختیار دے دیا جائے کہ خود ہی اپنے قائم مقام تجویز کر دیا کریں۴۷۳۔ حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کی نظر اس امر تک پہنچ تو شروع میں ہی گئی تھی۔ مگر اس خیال سے کہ کسی اور قسم کے نقصانات پیدا نہ ہو جائیں قائم شدہ نظام کو یک دفعہ بدل دینا پسند نہیں فرمایا۔ بلکہ حضور نے کافی غور وفکر اور مقامی وبیرونی اہل الرائے احباب کے مشورہ کے بعد یکم جنوری ۱۹۱۹ء کو ایک متوازی نظام جاری فرمایا۔ جس میں ہر شخص خلیفہ وقت کی براہ راست نگرانی و ہدایات کے تحت ایک مستقل صیغہ کا انچارج اور ذمہ دار تھا اور پھر یہ سب انچارج باہم مل کر ایک انتظامی انجمن بناتے تھے۔ ان افسروں کا نام حضور نے ناظر تجویز فرمایا۔ اور ان کی انجمن کا نام محکمہ نظارت رکھا۴۷۴۔ اور مختلف ناظروں کے اوپر ایک صدر ناظر مقرر فرمایا جس کا نام ناظر اعلیٰ رکھا گیا۔ چنانچہ حضور نے ایک فرمان مبارک کے ذریعہ سے اعلان فرمایا کہ۔
    ’’تمام احباب جماعت احمدیہ کی اطلاع کے لئے شائع کیا جاتا ہے کہ ضروریات سلسلہ کے پورا کرنے کے لئے قادیان اور بیرونجات کے احباب سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے یہ انتظام کیا ہے کہ سلسلہ کے مختلف کاموں کے سرانجام دینے کے لئے چند ایسے افسران مقرر کئے جائیں جن کا فرض ہو کہ وہ حسب موقع اپنے متعلقہ کاموں کو پورا کرتے رہیں۔ اور جماعت کی تمام ضروریات کے پورا کرنے میں کوشاں رہیں۔ فی الحال میں نے اس غرض کے لئے ایک ناظر اعلیٰ ایک ناظر تالیف و اشاعت ایک ناظر تعلیم و تربیت ایک ناظر امور عامہ اور ایک ناظر بیت المال مقرر کیا اور ان عہدوں پر سردست ان احباب کو مقرر کیا جاتا ہے‘ناظر اعلیٰ مکرمی مولوی شیر علی صاحب۔ ناظر تالیف و اشاعت مکرمی مولوی شیر علی صاحب۔ ناظر تعلیم و تربیت مکرمی سید سرور شاہ صاحب۔ ناظر امور عامہ عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب۔ ناظر بیت المال مکرمی ماسٹر عبدالمغنی صاحب۔ ان کے علاوہ جماعت کی ضروریات افتاء اور قضاء کو مدنظر رکھ کر افتاء کے لئے مولوی سید سرور شاہ صاحب مکرمی مولوی محمد اسمعیل صاحب اور مکرمی حافظ روشن علی صاحب اور قضا کے لئے مکرمی قاضی امیر حسین صاحب مکرمی مولوی فضل دین صاحب اور مکرمی میر محمد اسحاق صاحب کو مقرر کیا ہے۔ آئندہ جو تغیرات ہوں گے ان سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احباب کو اطلاع دی جاتی رہے گی میں امید کرتا ہوں کہ احباب ان لوگوں کے کام میں پوری اعانت کریں گے اور سلسلہ کی کسی خدمت سے دریغ نہ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کی تحریرات کو میری ہی تحریرات سمجھیں گے‘‘۴۷۵۔
    اس جداگانہ نظام نے کئی سال تک علیحدہ صورت میں کام کیا اور بالاخر اکتوبر ۱۹۲۵ء میں صدر انجمن احمدیہ اور اس کے جدید نظام کو ایک دوسرے میں مدغم کر دیا۴۷۶ جس میں صدر انجمن احمدیہ کا نظام اور اس کی اصولی صورت تو بدستور قائم رہی مگر صیغوں کی تقسیم اور ناظروں کی ذمہ دارانہ پوزیشن بھی جدید نظام عمل کے مطابق قائم ہو گئی اور جماعت کو صحیح معنوں میں موثر نمائندگی بھی میسر آگئی۔ اور قواعد اس رنگ میں ڈھال دیئے گئے کہ مجلس معتمدین کا براہ راست خلیفہ وقت سے تعلق و رابطہ ہو گیا۔ اور اسے خلیفہ وقت کو اطلاع اور مجلس شوریٰ کے غور کے بغیر کوئی بجٹ پاس یا تبدیل کرنے کا اختیار نہ رہا۴۷۷۔
    حضرت خلیفہ ثانی نے اس جدید نظام عمل کے مطابق مندرجہ ذیل نظارتیں قائم فرمائیں۔ (۱) نظارت علیا۔ (حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحبؓ) (۲) دعوت و تبلیغ۴۷۸ (حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال) (۳) تعلیم و تربیت۴۷۹ (حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ) (۴) بیت المال (حضرت مولوی عبدالمغنی خان صاحبؓ) (۵) امور عامہ (حضرت خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحبؓ) (۶) امور خارجہ (حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ) (۷) ضیافت (حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ) (۸) بہشتی مقبرہ (حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحبؓ)
    حضور نے ان ناظروں کے علاوہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحبؓ اور حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ کو مجلس معتمدین کا ممبر نامزد فرمایا۴۸۰۔ اور گو ناظروں اور مجلس معتمدین کے ممبروں کی تبدیلی حسب ضرورت ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ مگر اب تک یہی مخلوط نظام سلسلہ میں رانج ہے اور بفضلہ تعالیٰ روز افزوں ترقی پر ہے۔
    ’’اسلام اور تعلقات بین الاقوام‘‘
    حضرت خلیفہ ثانی ۱۲/ فروری ۱۹۱۹ء کو لاہور تشریف لے گئے۴۸۱۔ اور ۲۷/ فروری ۱۹۱۹ء کو دارالامان رونق افروز ہوئے۴۸۲۔ یہ سفر بغرض علاج کیا گیا تھا۔ مگر حضور نے اس کے دوران میں دو معرکتہ الاراء تقریریں بھی فرمائیں۔ پہلی تقریر ۲۳/ فروری کو بریڈ لا ہال میں ’’اسلام اور تعلقات بین الاقوام‘‘ کے موضوع پر۴۸۳۔ اس جلسہ کے صدر جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب تھے ملک کے مختلف اخبارات ’’روزانہ قومی رپورٹ‘‘ (مدراس) ’’روزانہ اخوت‘‘ (لکھنئو) روزانہ ’’ہمدم‘‘ (لکھنئو) ’’وکیل‘‘ (امرتسر) نے مختصر اور ’’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ (لاہور) نے اس کی مفصل خبر شائع کی۴۸۴۔
    ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘
    حضور نے دوسری تقریر مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی اسلامیہ کالج لاہور کے زیر اہتمام ۲۶/ فروری ۱۹۱۹ء کو حبیبیہ ہال میں فرمائی۔ اس تقریر کا عنوان تھا ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘۔ اس جلسہ کے صدر مورخ اسلام جناب سید عبدالقادر صاحب ایم۔ اے تھے۔ سید صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا۔ ’’آج کے لیکچرار اس عزت اس شہرت اور اس پائے کے انسان ہیں کہ شاید ہی کوئی صاحب ناواقف ہوں۔ آپ اس عظیم الشان اور برگزیدہ انسان کے خلف ہیں جنہوں نے تمام مذہبی دنیا اور بالخصوص عیسائی عالم میں تہلکہ مچا دیاتھا۴۸۵۔
    افتتاحی تقریر کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوران خلافت میں عبداللہ ابن سبا اور اس کے باغی اور مفسد ساتھیوں کی سازشوں اور فتنہ انگیزیوں پر اتنی تفصیلی روشنی ڈالی اور تاریخ اسلام کی گمشدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کڑیوں کو اس طرح منکشف و مربوط فرما کر سامنے رکھ دیا کہ بڑے بڑے صاحبان علم و فہم بھی حیران رہ گئے۔ خاتمہ تقریر پر صدر مجلس جناب سید عبدالقادر صاحب ایم۔ اے نے فرمایا۔ ’’حضرات! میں نے بھی کچھ تاریخی اوراق کی ورق گردانی کی ہے اور آج شام کو جب میں اس ہال میں آیا تو مجھے خیال تھا کہ اسلامی تاریخ کا بہت سا حصہ مجھے بھی معلوم ہے۔ اور اس پر میں اچھی طرح رائے زنی کر سکتا ہوں لیکن اب جناب مرزا صاحب کی تقریر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میں ابھی طفل مکتب ہوں۔ اور میری علمیت کی روشنی اور جناب مرزا صاحب کی علمیت کی روشنی میں وہی نسبت ہے جو اس (میز پر رکھے ہوئے لیمپ کی طرف اشارہ کرکے) کی روشنی کو اس بجلی کے لیمپ (جو اوپر آویزاں تھا کی طرف انگلی اٹھا کر) کی روشنی سے ہے حضرات جس فصاحت اور علمیت سے جناب مرزا صاحب نے اسلامی تاریخ کے ایک نہایت مشکل باب پر روشنی ڈالی ہے وہ انہیں کا حصہ ہے‘‘۴۸۶۔
    یہ اہم تقریر اگلے سال شائع ہوئی تو اس کے ابتداء میں سید عبدالقادر صاحب نے تمہیداً لکھا۔
    ’’فاضل باپ کے فاضل بیٹے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا نام نامی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ یہ تقریر نہایت عالمانہ ہے مجھے بھی اسلامی تاریخ سے کچھ شذبد ہے اور میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ کیا مسلمان اور کیا غیر مسلمان بہت تھوڑے مورخ ہیں جو حضرت عثمان کے عہد کے اختلافات کی تہہ تک پہنچ سکے ہیں اور اس مہلک اور پہلی خانہ جنگی کی اصلی وجوہات کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے ہیں حضرت مرزا صاحب کو نہ صرف خانہ جنگی کے اسباب سمجھنے میں کامیابی ہوئی ہے بلکہ انہوں نے نہایت واضح اور مسلسل پیرائے میں ان واقعات کو بیان فرمایا ہے جن کی وجہ سے ایوان خلافت مدت تک تزلزل میں رہا۔ میرا خیال ہے ایسا مدلل مضمون اسلامی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے احباب کی نظر سے پہلے کبھی نہیں گزرا ہو گا‘‘۴۸۷۔
    شرائط مناظرہ سے متعلق اہم اعلان
    حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک احمدی کے شرائط مباحثہ میں بعض خلاف شریعت شرائط بھی منظور کر لینے پر تحریر فرمایا کہ ’’قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فیصلہ خدا کا منظور ہو سکتا ہے نہ کسی اور کا۔ فروعات میں تو غیر شخص بھی فیصلہ کر سکتا ہے لیکن ایمانی اور اصولی معاملات میں کسی شخص کا فیصلہ ہرگز مانا نہیں جا سکتا۔ نہ میں ایک منٹ کے لئے کسی ایسے مباحثہ کا خیال اپنے دل میں آنے دے سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر سب کی سب جماعت احمدیہ دنیا کے ہر ایک گوشہ کی ایسے امر پر مرتد ہونے کے لئے تیار ہو (خدانخواستہ) تو میں اس کے ارتداد کو نہایت فراخدلی اور خوشی سے قبول کروں گا۔ مگر مسیح موعودؑ کی صداقت یا اسلام کی حقانیت کے متعلق زید اور بکر کی رائے کو حکم بنانے کے لئے تیار نہیں ہوں گا۔ اور ہرگز نہیں ہوں گا آپ لوگوں نے گناہ کیا ہے اور سخت گناہ کیا ہے۔ بلکہ اپنے ایمانوں پر اپنے ہاتھوں سے تبر چلایا ہے‘‘۴۸۸۔
    ’’عرفان الٰہی‘‘
    حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا پہلے سالوں میں یہ معمول رہا تھا کہ جلسہ کے موقع پر اپنی پہلی تقریر میں تو عام نصائح فرماتے اور دوسری تقریر علمی مسئلہ پر ہوا کرتی تھی مگر دسمبر ۱۹۱۸ء کا جلسہ جو مارچ ۱۹۱۹ء میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں پہلے دن تو حضور نے ’’عرفان الٰہی‘‘ جیسے دقیق مضمون کو بڑی شرح و بسط سے بیان فرمایا۔ اور عرفان الٰہی اور تزکیہ نفوس کے ذرائع بتاتے ہوئے نکات و معارف کا دریا بہا دیا۔ اور دوسرے دن کی تقریر میں متفرق امور پر روشنی ڈالی پہلے دن کی تقریر ’’عرفان الٰہی‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔
    نیا قبرستان
    احمدی بچوں اور غیر موصی احمدیوں کی تدفین کے لئے کوئی الگ قبرستان موجود نہیں تھا حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ نے جو ہمیشہ رفاہی کاموں میں دلچسپی رکھنے والے بزرگ تھے۔ اس طرف توجہ فرمائی اور اس کے لئے دور الضعفاء (ناصر آباد) سے متصل ایک قطعہ زمین کا انتظام کر دیا۴۸۹۔
    (متحدہ) ہندوستان میں زبردست سیاسی ہیجان اور جماعت احمدیہ کا رویہ
    (متحدہ) ہندوستان کی تاریخ میں ۱۹۱۹ء کا سال اس لحاظ سے یادگار رہے گا کہ اس میں ایسے طویل و عریض ہیجان کا آغاز ہوا جس کی نظیر اس سے پہلے گزرے ہوئے کسی سال میں نظر نہیں آتی۔ جنگ کے اختتام نے دنیا میں ایک عام بیداری پیدا کر دی تھی۔ اور چونکہ اس قسم کی بیداری کے ابتدائی مراحل میں بعض جوشیلی طبیعتیں حد اعتدال سے آگے نکل جاتی ہیں اس لئے اس کے انسداد کی غرض سے حکومت نے بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیں اور ۱۹۱۹ء کی ابتداء میں ایک ’’رولٹ بل‘‘ بھی پاس کرنے کی تجویز کی۔ جس کے ذریعہ سے پریس پر خاص پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ حکومت کے اس اقدام پر ملک کے بیدار شدہ حصہ میں سخت ہیجان پیدا ہوا۔ امپریل لیجلیٹو کونسل میں جن دنوں یہ بل پیش تھا ملکی اخباروں اور سیاسی جماعتوں نے اس کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور کونسل کے تمام ہندوستانی ممبروں نے اس کے خلاف ووٹ دیئے لیکن حکومت نے سرکاری اور نامزد عناصر کی مدد سے یہ بل پاس کرکے ’’رولٹ ایکٹ‘‘ بنا دیا۔ تمام ملک میں شدید ناراضگی کی لہر دوڑ گئی۔ مسٹر گاندھی کی تحریک پر (جسے ستیہ گرہ کا نام دیا گیا) دو دن (۳۰/ مارچ اور ۶/ اپریل ۱۹۱۹ء) ملک کے گوشے گوشے میں ہڑتال منائی گئی۔ نام کو تو یہ ’’سول نافرمانی کی پر امن تحریک‘‘ تھی مگر اس کے نتیجہ میں دہلی۔ احمد آباد اور دوسرے مقامات پر فسادات رونما ہو گئے پنجاب میں سب سے زیادہ شورش برپا ہوئی چند مقامی لیڈروں کی گرفتاری پر امرتسر میں کوئی آٹھ نو افسر قتل کر دیئے گئے۔ بنک لوٹے گئے سرکاری عمارتیں جلا دی گئیں۔ گوجرانوالہ کا ریلوے اسٹیشن نذر آتش کر دیا گیا۔ اور کئی جگہ ریل کی پٹری اکھاڑ دی گئی۔ اور تار کاٹ دیئے گئے اس پر اپریل ۱۹۱۹ء میں لاہور۔ امرتسر۔ گجرات۔ گوجرانوالہ اور لائل پور کے اضلاع میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ یعنی صوبہ کا انتظام فوجی افسروں کو سونپ دیا گیا۔ اور فوجی عدالتیں قائم کر دی گئیں۔
    مارشل لاء کے تحت ہر قسم کے جلسے اور جلوس بند کر دیئے گئے تھے۔ لیکن اہل امرتسر نے یہ قانون ٹھکرا دیا اور ۱۳/ اپریل ۱۹۱۹ء کو جلیانوالہ باغ میں ایک پبلک جلسہ کیا جس میں ہزاروں آدمیوں نے شرکت کی۔ امرتسر کے فوجی افسر جنرل ڈائر نے لوگوں کو منتشر ہونے کی کافی مہلت دیئے بغیر گولی چلا دی جس سے سینکٹروں آدمی قتل اور زخمی ہو گئے۔ اس انتہائی غیر دانشمندانہ کارروائی کے خلاف پورا ملک کوہ آتش فشاں بن گیا۔ حکومت نے ایک کمیٹی جلیانوالہ باغ کی خونی داستان سے متعلق تحقیق کے لئے مقرر کر دی جس کے نتیجہ میں حکومت کو تسلیم کرنا پڑا کہ جنرل ڈائر نے گولی چلانے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے حکومت نے پنجاب کے گورنر سر مائیکل اوڈ وائر کو واپس انگلستان بلا لیا۔ اور جنرل ڈائر کو ملازمت سے برطرف کر دیا۴۹۰
    چونکہ جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک ابتداء سے یہی رہا ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہئے جو ملکی امن کو برباد کرنے والی ہو اس لئے حضرت خلیفہ ثانی نے اس زمانے میں اپنی جماعت کو پے در پے نصیحت فرمائی کہ وہ ہر قسم کی امن شکن تحریک اور قانون شکنی کے طریق سے کلی طور پر مجتنب رہے۴۹۱۔ چنانچہ جماعت احمدیہ نے ان خطرناک ایام میں قیام امن کے لئے ہر ممکن جدوجہد سے کام لیا۔ حتیٰ کہ حکومت کے ایک پریس کمیونک میں کھلے طور پر تسلیم کیا گیا کہ جماعت احمدیہ نے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اپنے امام کی ہدایات پر عمل کیا ہے۴۹۲۔
    جہاں تک فوجی حکومت کی تشدد آمیز پالیسی کا تعلق ہے حضرت خلیفہ ثانی نے اسے وحشیانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے فرمایا۔ ’’اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رینگ کر چلنے کا حکم ایسا وحشیانہ اور ظالمانہ ہے کہ کوئی شخص بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ اور اس کے خلاف اگر ہندوستان کو غصہ پیدا ہو تو یہ کوئی تعجب کا مقام نہیں۔ اسی طرح جلیانوالہ باغ کے واقعہ میں بھی جس سختی سے کام لیا گیا ہے۔ وہ نہایت ہی قابل افسوس ہے اور جنرل ڈائر کا یہ قول کہ وہ اس لئے گولیاں چلاتے گئے تا ملک کے دوسرے حصہ پر اثر ہو اور بغاوت فرو ہو جائے۔ ان کے مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی ہے اور کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں۔ یہ بیان کہ جنرل ڈائر کا فعل اجتہادی غلطی ہے درست نہیں کیونکہ اجتہادی غلطی وہ ہوتی ہے کہ جس کا وقوع ایسے حالات میں ہو کہ اس کام کے کرنے یا نہ کرنے دونوں کے دلائل موجود ہوں لیکن اس جماعت پر گولیاں چلانا جو ہتھیار ڈال چکی ہو اور اپنے عمل سے اپنی غلطی کا اقرار کر رہی ہو خود میدان جنگ میں بھی جائز نہیں‘‘۴۹۳۔
    حضور نے اس کے ساتھ ہی ہندوستانیوں کو بھی نصیحت فرمائی کہ اگر قانون شکنی کی روح کو اس طرح پیدا کیا گیا تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا اور کیا آئندہ جب ہندوستان کو حکومت خود اختیاری ملے گی تو ہم میں سے بعض کا یہ فعل اس حکومت کے انتظام میں خلل ڈالنے والا نہ ہو گا اور آئندہ نسلیں یہ نہیں سمجھیں گی کہ حکومت کے قوانین کو توڑنے میں کوئی حرج نہیں؟ یاد رکھیں وہی ملک ترقی کر سکتا ہے جس میں قانون کے احترام کا مادہ ہو۴۹۴۔
    مگر افسوس مسٹر گاندھی اور ان کے ساتھیوں نے جو اس تحریک کے علمبردار تھے اس وقت اس اہم نصیحت کو لائق التفات خیال نہیں کیا۔ لیکن ملکی آزادی کے بعد وہی ہوا جو حضور نے فرمایا تھا اور برصغیر پاک و ہند کو جس رنگ میں مسلسل اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور پڑ رہا ہے اور آئے دن ایک ہی ملک کے باشندے اپنے ہم وطنوں اور اپنی ملکی حکومتوں کے خلاف قانون شکنی کے مظاہرے کرتے آرہے ہیں وہ تاریخ کا ایک کھلا ورق ہے۔ یہ واقعات جو یکے بعد دیگرے آتے چلے جا رہے ہیں۔ اتفاقی حادثابت نہیں بلکہ قانون شکنی کی اس باقاعدہ ٹریننگ کے ہولناک نتائج ہیں۔ جو یہ اصحاب غیر ملکی حکومت کے زمانے میں برابر دیتے آرہے تھے۔
    علماء دیو بند کا مباہلہ سے گریز
    حضرت خلیفتہ المسیح ثانی نے خواجہ حسن نظامی صاحب کو دعوت مباہلہ کے موقعہ پر یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ ’’اگر علمائے دیوبند یا علمائے فرنگی محل مباہلہ کے لئے تیار ہوں تو میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف ان کی تحریر پر ان سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں‘‘۴۹۵۔ اس کے بعد قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل اور خواجہ غلام نبی صاحب بلانویؓ نے علماء کو توجہ دلائی کہ حضرت خلیفتہ المسیح کی دعوت کیوں قبول نہیں کرتے اور ساتھ ہی حضور کی طرف سے شرائط مباہلہ کا بھی اعلان کر دیا۴۹۶۔ اور انتہائی کوشش کی کہ وہ اس آخری فیصلہ کی طرف رجوع کریں۴۹۷۔ علمائے دیو بند نے پوچھا کہ مباہلہ کا نتیجہ کس رنگ میں ظاہر ہو گا۔ اس طرف سے لکھا گیا کہ ’’ہمارے نزدیک مباہلہ کے نتیجہ میں سنت رسول کریم~صل۱~ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے کسی خاص قسم کے عذاب کی تعین نہیں ہوتی۔ ہاں وہ عذاب ایسا ہو گا۔ جس میں فریق مخالف کے کسی منصوبہ کا دخل نہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب علمائے دیو بند کا فرض ہے کہ جو کچھ آثار مباہلہ سمجھتے ہیں ان کی تعین کر دیں‘‘۴۹۸۔ اس جواب پر دیوبندی علمائے کے لبوں پر مہر سکوت لگ گئی۔
    تحریک خلافت کا آغاز اور حضرت خلیفہ ثانی کی بروقت رہنمائی
    پہلی جنگ عظیم میں اتحادیوں نے ترکی کی شان و شوکت خاک میں ملا دی تھی۔ گو ابھی صلح کے شرائط طے نہیں ہوئے تھے مگر اس کا مستقبل صاف صاف مخدوش نظر آرہا تھا۔ جس سے مسلمانان ہند کو از حد تشویش تھی۔ چنانچہ اسی سلسلہ میں ۳۱/ ستمبر ۱۹۱۹ء کو لکھنئو میں ایک آل انڈیا مسلم کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں حکومت کے خلاف منظم طریقہ سے صدائے احتجاج بلند کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو بھی اس کانفرنس میں خاص طور پر دعوت دی گئی۔ گو حضور اپنی ناسازی طبیعت اور بعض دوسری وجوہ کی بناء پر تشریف نہ لے جا سکے۔ مگر آپ نے اپنے قلم سے مسئلہ ترکی کے بارے میں ایک مفصل مضمون کانفرنس میں بھجوایا جو ’’ٹرکی کے مستقبل اور مسلمانوں کا فرض‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں چھپ گیا۴۹۹
    اس مضمون میں حضور نے اس موقعہ کو نازک قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلام کی ظاہری شان و شوکت سخت خطرے میں ہے اور پورا یقین دلایا کہ ’’جماعت احمدیہ ترکوں کی سلطنت سے ہر طرح ہمدردی رکھتی ہے کیونکہ باوجود اختلاف عقیدہ رکھنے کے ان کی ترقی سے اسلام کے نام کی عظمت ہے‘‘ اور پھر اسی پر اکتفا نہ کرکے ترکی کے مستقبل کو آئندہ خطرات سے محفوظ کرنے کے لئے نہایت مدبرانہ رنگ میں ایک متوازاً قابل عمل اور ٹھوس اور موثر سکیم تجویز فرمائی۔ اس سکیم میں خاص طور پر آپ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ ترکوں کے مستقبل کے بارے میں جن طاقتوں کو فیصلہ کرنا ہے ان میں صرف برطانیہ ہی ایک ایسی طاقت ہے جو اگرچہ مسلمان نہیں کہ وہ مذہباً ترکوں کی ہمدرد ہو لیکن وہ اپنی مسلمان رعایا کے جذبات و احساسات کی وجہ سے کسی حد تک مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتی ہے جیسا کہ حکومت حجاز کا نیم سرکاری اخبار ’’قبلہ‘‘ کئی دفعہ اقرار کر چکا ہے۔ پس ہمیں برطانیہ پر اور زیادہ زور دینا چاہئے کہ ترکی کو دوسری حکومتوں کے سپرد نہ کیا جائے۵۰۰
    گورنر پنجاب کی خدمت میں ایڈریس
    سر ایڈورڈ میکلیگن گورنر پنجاب کی خدمت میں ان کی لاہور میں آمد پر مختلف مسلمان فرقوں کی طرف سے دسمبر ۱۹۱۹ء کو خوش آمدید کے ایڈریس پیش کئے گئے۔ حضرت خلیفہ ثانی کی زیر ہدایت اسی دن صوبہ پنجاب کے احمدیوں کی طرف سے اکاون سربر آوردہ اصحاب پر مشتمل ایک وفد گورنر پنجاب کی خدمت میں پہنچا اور ان کی طرف سے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے خیر مقدم کا ایڈریس پیش کیا جس میں علاوہ اور امور کے یہ بھی کہا کہ ’’جناب عالی! ہم سے پہلے مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کا ایڈریس بھی جناب کی خدمت میں پڑھا گیا ہے اور ان میں دو امور کی طرف جناب کو توجہ دلائی گئی ہے۔ ایک مسئلہ مستقبل ٹرکی اور ایک مسلمانوں کی تعلیم کا سوال ہم اس موقع پر ان دونوں سوالات کے متعلق کہنا چاہتے ہیں ہم آخر الذکر مسئلہ کے متعلق تو ان کے خیالات سے بکلی متفق ہیں لیکن اول الذکر مسئلہ کے متعلق ہمارے اور ان کے نقطہ خیال میں کچھ فرق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم اپنے مذہبی نقطہ خیال سے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا مذہبی پیشوا سمجھیں جو حضرت مسیح موعودؑ کا جانشین ہو اور دنیاوی لحاظ سے اسی کو اپنا سلطان و بادشاہ یقین کریں جس کی حکومت کے نیچے ہم رہتے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ترکی حکومت سے ہماری ہمدردی اس بناء پر ہے کہ وہ اسلام کے نام میں ہمارے شریک ہیں۔ اور ان کی حکومت کا زوال اسلام کی ظاہری شان و شوکت کے لئے ایک صدمہ ہے‘‘۵۰۱
    حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں بعض جوانوں کو خاص خاص مذاہب کی ریسرچ کے لئے ارشاد فرمایا۔ مثلاً ہندو مذہب کے لئے (مہاشہ) ملک فضل حسین صاحب۔ چوہدری عبدالسلام صاحب کاٹھ گڑھی کو سکھ مذہب کے لئے۔ مولوی رحمت علی صاحب (مبلغ انڈونیشیا) شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اور عیسائی مذہب کی تحقیق کے لئیے شیخ (حکیم) فضل الرحمن صاحب مقرر ہوئے۵۰۲۔ ان حضرات میں سے مولوی رحمت علی صاحب اور شیخ فضل الرحمن صاحب اور شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے آگے چل کر بالترتیب انڈونیشیا۔ افریقہ اور مصر میں سلسلہ کی تبلیغ و اشاعت کے لئے بڑی قابل قدر خدمات سر انجام دیں اور ملک فضل حسین صاحب نے اندرون ملک میں ہندو مذہب کے رد اور اسلام کی تائید میں شاندار لٹریچر پیدا کیا۔ چوہدری عبدالسلام صاحب کاٹھ گڑھی نے تحریک شدھی ملکانہ میں ہندو دھرم کے رد میں سرگرم حصہ لیا۔
    ’’تقدیر الٰہی‘‘
    حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۱۹ء کے سالانہ جلسہ میں تین تقریریں فرمائیں جن میں ایک تقریر ’’تقدیر الٰہی‘‘ کے اہم اور نازک موضوع پر تھی۔ ’’مسئلہ تقدیر‘‘ پر ایمان کی ضرورت و حقیقت۔ تقدیر و تدبر۔ تقدیر عام اور تقدیر خاص کے پہلوئوں پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔ اور تقدیر سے متعلق شبہات کا پوری طرح ازالہ فرمایا۔ یہ علم و معرفت سے لبریز تقریر بعد کو ’’تقدیر الٰہی‘‘ ہی کے نام سے شائع ہو گئی۵۰۳۔
    ۱۹۱۹ء کے متفرق مگر اھم واقعات
    ۱۔ حضرت خان عبداللہ خان صاحب کے مشکوئے معلیٰ میں طیبہ آمنہ بیگم صاحبہ تولد ہوئیں۵۰۴۔
    ۲۔ بزرگوں کی وفات: مندرجہ ذیل بزرگ صحابہ داغ مفارفت دے گئے۔ حافظ معین الدین صاحبؓ۔ حضرت شیخ حامد علی صاحبؓ۔ حضرت منشی محمد اروڑے خان صاحبؓ کپورتھلوی۔ حضرت مولوی عظیم اللہ صاحبؓ نابھہ۔
    ۳۔ اس سال قادیان سے دو نئے رسائل جاری ہوئے۔ (۱) ’’اتالیق‘‘۵۰۵ (بچوں کا رسالہ ایڈیٹر ماسٹر احمد حسین صاحب مرحوم فرید آبادی) (۲) ’’رفیق حیات‘‘۵۰۶ (طبی رسالہ۔ ایڈیٹر حکیم عطا محمد صاحبؓ مرحوم)
    ۴۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ارشاد پر قادیان میں احمدی یتیم بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لئے وسط ۱۹۱۹ء میں احمدیہ یتیم خانہ قائم کیا گیا اور اس کے افسر حضرت میر قاسم علی صاحب مقرر ہوئے۵۰۷۔
    ۵۔ مشہور مباحثہ: مباحثہ بمبئی۵۰۸ (مولوی حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری اور مہاشہ رام چندر کے درمیان) مباحثہ قادیان (حضرت حافظ روشن علی صاحب و حضرت میر محمد اسحق صاحب اور غیر مبائع میر محمد مدثر شاہ صاحب کے مابین۵۰۹) مباحثہ شموگہ میسور (مولوی حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری اور مولوی سید عبدالکریم صاحب کے مابین۱۰مباحثہ ڈیریانوالہ ضلع سیالکوٹ۵۱۱ (حضرت حافظ روشن علی صاحب اور پیر جماعت علی شاہ صاحب کے خلیفہ مولوی غلام احمد صاحب اخگر کے مابین)
    ۶۔ علمائے سلسلہ کی نئی مطبوعات: ’’براہین العقائد‘‘ (مضامین میں حضرت میر محمد اسحق صاحب۔ حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ۔ حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب (اکمل) ’’تنویر الابصار‘‘ (از حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل) ’’بابا نانک کا مذہب‘‘ (از شیخ محمد یوسف صاحب) ’’نعم الوکیل‘‘ ’’جماعت مبایعین کے عقائد صحیحہ‘‘ (از مولوی فضل الدین صاحب وکیل۔
    ‏rov.5.15
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا چھٹا سال
    حواشی (پہلا باب)
    ۱۔ الفضل ۲۱/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۔ ۳ بعنوان کلمات طیبات۔
    ۲۔ الحکم ۲۱/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۳ کالم ۳۔ الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۳۔
    ۳۔ برکات خلافت طبع اول صفحہ ۶۔
    ۴۔ الفضل ۱۱/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۶۔ حقیقتہ الرویاء صفحہ ۹۶۔ ۹۷) (از حضرت خلیفہ ثانی)
    ۵۔ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۵۔
    ۶۔ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۴ء کالم ۲۔
    ۷۔ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۴ء کالم ۳ و صفحہ ۶ کالم ۱۔ حضرت قاضی صاحب کو تو حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں حضرت خلیفہ ثانی کی خلافت کا علم دیا گیا۔
    ۸۔ الفضل ۳۰/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۱ کالم ۲۔ ۳۔
    ۹۔ الفضل ۳۰/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۱ کالم ۲۔ ۳۔][۱۰۔
    الفضل۳۰/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۲۔
    ۱۱۔ الفضل ۳۰/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۲۔
    ۱۲۔ انہیں تو جنگ مقدس کے دوران میں حضرت خلیفہ اول اور حضرت خلیفہ ثانی کے خلیفہ ہونے کے بارے میں خواب آیا تھا۔ ۔(الفضل ۸/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۴ کالم ۱۔ ۲۔)
    ۱۳۔ الفضل ۱۵/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۶۔
    ۱۴۔ بشارات رحمانیہ حصہ اول صفحہ ۲۵۵۔
    ۱۵۔ آپ کے لطیف کشف کے لئے ملاحظہ ہو فاروق یکم فروری ۱۹۱۷ء صفحہ ۷۔
    ۱۶۔ رسالہ فرقان قادیان مئی و جون ۱۹۴۴ء صفحہ ۱۹‘۲۰۔ حکیم مرہم عیسیٰ صاحبؓ کا بیان ہے کہ ’’حضرت مسیح موعودؑ کی قبر شق ہو کر حضرت امام آخر الزمانؑ اس میں سے باہر سینے تک کھڑے ہو گئے ہیں مگر شکل حضور مسیح موعود کی اس وقت بالکل حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تھی۔ یہ خواب والدم بزرگوار نے حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ کے سامنے قادیان میں ایک مجلس میں سنائی تھی اور اس کی تعبیر بھی پوچھی تھی تو حضرت خلیفتہ المسیح اولؓ نے یہی جواب دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ علوم ظاہری و باطنی کی جامعیت حضرت فضل عمر بشیر الدین محمود احمد صاحب کو ہی عطا فرمائے گا‘‘۔
    ۱۷۔ الفضل ۲۳/ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ ۷۔ ۸ آپ کی خواب تعبیر میں حضرت خلیفہ اولؓ نے تحریر فرمایا۔ ’’خواب بہت عمدہ ہے اور تعبیر بھی صحیح ہے اور انشاء اللہ اسی طرح پوری ہو گی‘‘۔
    ۱۸۔ اخبار نور ۲۴/ ۱۷ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۶ کالم ۳۔
    ۱۹۔ روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۶ صفحہ ۷۵ و مرکز احمدیت قادیان صفحہ ۳۳۱ (از محمود احمد عرفانی مرحوم)
    ۲۰۔ تابعین اصحاب احمد حصہ اول صفحہ ۱۹۔ آپ کو خلافت محمود کی آٹھ روز پہلے ہی کشفاًاطلاع مل گئی تھی۔
    ۲۱۔ منشی صاحب مرحوم کی بیٹی صادقہ بیگم صاحبہ (اہلیہ برکت علی صاحب پریذیڈنٹ راجن پور ضلع ڈیرہ غازی خاں) کا بیان ہے کہ ہم نے اپنے ابا جان سے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ پیغامی عمائدین سے آپ کے گہرے تعلقات تھے پھر آپ نے خلافت ثانیہ کی بیعت کیسے کر لی؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے خلیفہ اولؓ کے اوائل زمانہ خلافت میں یہ رئویا ہوئی کہ ’’حضرت مسیح موعودؑ مسجد اقصیٰ میں تشریف فرما ہیں حضور کے اور بھی خدام کافی تعداد میں موجود ہیں حضورؑ نے فرمایا کہ بیعت کر لو۔ میں نے دوسرے دوستوں کے ساتھ بیعت کرنے کے بعد عرض کیا کہ حضور یہ تو ایک بچے کا ہاتھ ہے حضور نے فرمایا کہ یہ محمود ہے‘‘ ابا جان فرمایا کرتے تھے کہ میں نے حضور کے فرمان پر اس وقت سے بیعت کر لی تھی۔ جب محمود بچہ تھے پھر جب خدا نے ان کو خلیفہ بنا دیا تو میں کیسے پیغامی دوستوں کے ساتھ رہ سکتا تھا۔ (ملخص از مکتوب چوہدری برکت علی صاحب بنام مولف کتاب مورخہ ۶۴~/~ ۴~/~ ۱۱)
    ۲۲۔ روئداد جلسہ جوبلی صفحہ ۹۔
    ۲۳۔ الفضل ۱۶/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ کالم ۱۔ ۲۔
    ۲۴۔ الفضل یکم اگست ۱۹۱۵ء صفحہ ۷ کالم ۳۔ الفضل ۲۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ میں ان کی خواب درج ہے افسوس اپنی عمر کے آخر میں یہ غیر مبایعین میں شامل ہو گئے۔
    ۲۵۔ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے آرگن روح اسلام جلد ۲ نمبر ۷ صفحہ ۵۵ پر لکھا ہے کہ ۲۷/ مئی ۱۹۰۸ء کی شب کو تہجد میں دعا کر رہے تھے تو خیال آیا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کے بعد کون خلیفہ ہو گا اور آواز آئی بشیر الدین محمود۔ اس خواب سے تین باتیں بالکل واضح ہیں۔ اول حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ کا یہی عقیدہ تھا کہ خلافت کا سلسلہ جاری رہے گا ورنہ اگر انجمن اہی اصل جانشین ہے تو اس دعا کی انہیں ضرورت ہی کیا تھی۔ دوم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں شخصی خلافت کا سلسلہ انجمن کے باوجود جاری رہنا مقدر ہے۔ سوم دوسرے خلیفہ بشیر الدین محمود ہوں گے۔ افسوس ان واضح حقائق کے منکشف ہونے پر بھی شاہ صاحب نے انجمن والوں سے وابستگی اختیار کر لی اور وجہ یہ بتائی کہ اس کے ساتھ ہی مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ مگر وہ آتے ہی مرتدع ہو جائے گا۔ میں کہتا ہوں یہ فقرہ خود حضرت خلیفہ ثانی کی تائید میں ہے۔ کیونکہ *** میں مرتدع کے معنے ممسوح ہونے اور نشانہ ٹھیک نہ لگنے کے ہیں۔ پہلے معنے کی رو سے بتایا گیا تھا۔ کہ حضور رضائے الٰہی کے عطر سے آتے ہی ممسوح ہوں گے۔ یعنی مصلح موعود کی صفات کے حامل ہوں گے۔ دوسرے معنیٰ کے اعتبار سے اس میں یہ خبر دی گئی تھی کہ باوجود یکہ آپ رات کے تیروں (یعنی دعائوں) سے جماعت کو متحد رکھنے کی کوشش کریں گے۔ مگر آپ کو اس میں کامیابی نہ ہو گی۔ اس کے مقابل پر شاہ صاحب نے یہ توجیہہ کی کہ عقائد میں فتور آجائے گا۔ حالانکہ آتے ہی کا لفظ بتاتا ہے۔ کہ مرتدع ہونے کی صورت قیام خلافت کے بعد ہو گی۔ مگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کا تو کہنا یہ ہے کہ حضرت میاں صاحب کے عقائد خلیفہ بننے سے پہلے ہی بگڑ چکے تھے۔ اس لئے بیعت سے کنارہ کش ہو گئے۔ پھر یہ بات عقلاً بھی قابل تسلیم نہیں کہ کوئی خلیفہ آتے ہی گمراہ ہو جائے۔
    ۲۶۔ الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۳۔ ایضاً الحق دہلی ۱۹۱۴ء۔
    ۲۷۔ پیغام صلح ۱۰/ جون ۱۹۱۵ء صفحہ ۴۔
    ۲۸۔ بیان مولوی محمد عثمان صاحب امیر جماعت احمدیہ ڈیرہ غازی خاں و الفضل یکم اپریل ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۲۹۔ الفضل ۶/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ۱ کالم ۱۔
    ۳۰۔ مسٹر محمد عبداللہ کا حضرت خلیفہ اول کے نام مکتوب بدر ۲۳/ اکتوبر ۱۹۱۳ء میں شائع شدہ ہے ۔ الفضل ۱۳/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۳ کالم ۳
    ۳۱۔ فرقان سالانہ نمبر نومبر۔ دسمبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۴۴۔ ۴۵۔
    ۳۲۔ بیعت کے علاوہ بھی ہر نماز کے بعد اور دوسرے وقتوں میں بھی کئی دن تک بیعتیں ہوتی رہیں۔ پہلے روز ۳۶۰ عورتوں کی بیعت ہوئی جن میں حضرت ام المومنین~رضی۱~ اور حضرت اماں جان بھی شامل تھیں۔ (الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۳)
    ۳۳۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے اندازہ کی رو سے صرف پچاس کے قریب آدمی ہوں گے جو بیعت سے باز رہے (آئینہ صداقت صفحہ ۱۹۱) جناب مولوی محمد علی صاحب نے انحراف خلافت کی یہ عجیب توجیہہ فرمائی کہ ’’حضرت مولوی صاحب مرحوم (مراد خلیفہ اول۔ ناقل) ۔۔۔۔۔۔ وصیت کی رو سے نہیں بلکہ قوم کے اتفاق سے خلیفتہ المسیح کہلائے ۔۔۔۔۔۔۔ اب جب قوم کا اتفاق نہیں رہا تو خلافت کا خاتمہ ہو گیا‘‘۔ (الوصیت شائع کردہ مولوی محمد علی صاحب اگست ۱۹۱۴ء صفحہ ج) علاوہ ازیں پیغام صلح میں شائع ہوا۔ اب آئندہ کے واسطے اس سلسلہ خلافت کا رواج دینا ہی ایک بہت خطرناک ہے۔ (پیغام صلح ۲۹/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۴)
    ۳۴۔ انہی کی نسبت جناب مرزا محمد یعقوب بیگ صاحب نے ابتداء میں ہی لکھا ہی تھا۔ فی الحقیقت حضرت مولوی محمد علی صاحب سے بڑھ کر منصب صدارت و خلافت کے لئے اور کوئی موزوں کام نہ تھا۔ (سالانہ رپورٹ انجمن اشاعت اسلام لاہور حصہ اول۔ دوم صفحہ ۴) اور دعویٰ کیا کہ حضرت مولانا محمد علی صاحب کی آواز گویا کہ خدا کی آواز ہے اور اس کے رسول کی آواز ہے اور اس کے خلیفہ برحق حضرت مسیح موعودؑ کی آواز ہے۔ یہ ضرور کامیاب ہو کر رہے گا اور جماعت احمدیہ کا بہترین حصہ جو اپنے سر میں دماغ اور دماغ میں عقل اور دل میں تقویٰ اللہ اور خشیت اللہ رکھتا ہے ضرور اس مرد میدان کے ساتھ ہو جاوے گا اور آخر کار یہ شخص کامیاب ہو کر رہے گا‘‘۔ (ایضاً صفحہ ۱۲)
    ۳۵۔ ابتدائے خلافت میں فتنہ کو فرد کرنے کے لئے قلمی خدمات سر انجام دینے والے ممتاز بزرگ۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ۔ حضرت میر محمد اسمعیل صاحب~رضی۱~۔ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ۔ حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ۔ حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ۔ حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحبؓ ہلالپوری۔ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحبؓ۔ حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحبؓ۔ حضرت میر قاسم علی صاحبؓ۔ حضرت میاں محمد سعید سعدیؓ۔ حضرت محمد حسن صاحبؓ۔ آسان دہلوی رضی اللہ عنہم اور حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل۔
    ۳۶۔ اس سلسلہ میں حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ۔ حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ۔ حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحبؓ۔ حضرت بھائی عبدالرحیم صاحبؓ کو پشاور۔ لدھیانہ۔ سیالکوٹ اور شملہ وغیرہ مقامات کی طرف بھجوایا گیا۔ ان حضرات کے علاوہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ۔ حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ۔ حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ۔ حضرت ماسٹر محمد دین صاحب مسٹر مبارک اسمعیل صاحب نے بھی وعظ و تلقین کے لئے سفر کئے موخر الذکر دو حضرات سیالکوٹ گئے تھے۔ (الفضل ۲۱/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۷ کالم ۳ و الفضل یکم اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۲۔ و الفضل ۸/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱) لاہور میں جو اس فتنے کا اصل مرکز تھا حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی بھجوائے گئے۔ (الفضل ۶/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۳) اور انہوں نے مبارک منزل کے احاطہ چراغ دین میں اپنا مرکز قائم کر لیا۔ (یاد رہے کہ خلافت ثانیہ کے شروع سے ہی غیر مبائع زعماء نے ملک میں طوفانی دورے کرنے شروع کر دیئے تھے۔ (مجاہد کبیر صفحہ ۱۲۵) (ایضاً الفضل یکم اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱)
    ۳۷۔ چنانچہ ان حضرات کو سرتوڑ کوشش کے بعد بالاخر اقرار کرنا پڑا سوائے معددوے چند اشخاص کے میاں صاحب کے ساتھ ساری جماعت تھی۔ (پیغام صلح ۲۳/ مارچ ۱۹۳۷ء صفحہ ۶ کالم ۳) اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ بھی لکھا کہ میاں صاحب اگر حضرت مسیح موعودؑ کے بیٹے نہ ہوتے اور قادیان مرکز نہ ہوتا اور کوئی مبہم پیشگوئی ۔۔۔۔۔۔۔اور انصار اللہ پارٹی ان کی پشت پر نہ ہوتی تو پھر ہم دیکھ لیتے کہ میاں صاحب اپنے عقائد باطلہ کے ساتھ کس طرح کامیاب ہو جاتے‘‘ (ایضاً) بنا بنایا کام بنی بنائی جماعت بنی بنائی قومی جائیدادیں اسکول بورڈنگ روپیہ خزانہ سبھی کچھ بنا بنایا مل گیا۔ قادیان کا مرکز اور مسیح موعودؑ کا بیٹا ہونا کام بنا گیا قادیان کی گدی نہ ہوتی مسیح موعود کا بیٹا نہ ہوتے اور کہیں باہر جا کر میاں محمود احمد صاحب اپنے عقیدہ ۔۔۔۔۔۔۔ کو پھیلا کر دکھاتے اور پھر نئے سرے سے جماعت بنتی۔ اور ترقی کرتی تو کچھ بات تھی۔ (پیغام صلح ۱۵/ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۹ کالم ۳) خدا کی شان ۱۹۴۷ء کی ہجرت کے بعد حضرت امیر المومنین نے ربوہ میں عظیم الشان شہر بسا کر بتا دیا کہ خلافت ثانیہ کا قیام محض خدا تعالیٰ کی ازلی مشیت کے تحت عمل میں آیا تھا نہ کہ کسی سازش یا قادیان کے بنے بنائے انتظام کے بل بوتے پر!!
    ۳۸۔ مثلاً پٹیالہ میں ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب۔ دوالمیال میں مولوی کرم داد صاحب لکھنو میں مرزا کبیر الدین صاحب اور سرگودھا و لائلپور کے علاقہ میں مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے فتنہ کے اثرات زائل کرنے میں خوب کام کیا۔
    ۳۹۔ اس حقیقت کے ثبوت میں صرف چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔ ’’ایک غیر معصوم انسان کو جو اپنی رشد کی عمر کو بھی نہیں پہنچا اپنا پیر اور رہبر بنا لیا‘‘۔ (المہدی نمبر ۲ صفحہ ۳۵) ’’اب وہ پچیس سال کے نو عمر جوان کے غلام ہیں۔ کیونکہ وہ موجودہ خلیفہ صاحبزادہ صاحب کے ساتھ کامل اطاعت کی بیعت کر چکے ہیں پس وہ ایک گونہ ایک بچے کے دائمی غلام بن گئے‘‘۔ (پیغام صلح ۱۶/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۲ کالم ۲) ’’یہ ہے وہ ہٹ کا پکا اولو الہٹ جس کو غلطی سے اولوالعزم پکارا جاتا ہے‘‘۔ (رسالہ انکشاف حقیقت صفحہ ۴۹) ’’ہم بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت صاحب کے خاندان اور ان کے بعض تعلقداروں کا گزارہ اسی قسم کا ہے کہ ان کی جائداد کی آمدنی اس کے واسطے کافی نہیں ہے اور نوکری وغیرہ تو انہوں نے نہیں کی ہے کہ باہر سے کوئی اور سبیل گزارہ کا نکال دیوے پس لاچاراً اسی آمدنی سے گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ جو سلسلہ کی طرف سے جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ ساری ضروریات اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتیں تاوقتیکہ حضرت صاحب کے مرید ان کو نذرانہ مقررہ طور پر نہ دیویں۔ پس اگر صاحبزادہ صاحب ان کفر و فسق کے فتووں سے باز آجاویں ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے گزارے کے واسطے ایک مستقل صورت قائم کرنے کے واسطے تیار ہیں‘‘۔ (ٹریکٹ احمدی قوم کی خدمت میں اپیل صفحہ ۶۔ ۷۔ از عجب خان صاحب پاڑا چنار)
    اس ضمن میں پیغام صلح ۱۶/ مئی ۱۹۱۵ء صفحہ ۴ کالم ۱ کی یہ عبارت بھی ملاحظہ ہو۔ صاحبزادہ صاحب کے مریدین کو حضرت مولوی محمد علی صاحب کو خلیفتہ ¶المسیح ماننے میں کیا عذر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں تک ہم خیال کر سکتے ہیں صاحبزادہ صاحب کو فقط یہی فوقیت ہے کہ وہ جسمانی طور پر ولد مسیح موعود ہیں ورنہ حضرت مولوی صاحب ممدوح حضرت مسیح موعودؑ کے سلسلہ مبارکہ کی خدمت اس وقت سے کر رہے ہیں جب کہ صاحبزادہ صاحب کے دودھ کے دانت بھی ابھی نہ نکلے تھے‘‘۔
    ۴۰۔ چنانچہ جناب مولوی صدر الدین صاحب ۱۶/ اپریل ۱۹۱۴ء کو اور جناب مولوی محمد علی صاحب ۲۰/ اپریل ۱۹۱۴ء کو قادیان چھوڑ کر چلے آئے۔ (پیغام صلح ۲۱/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ و مجاہد کبیر صفحہ ۱۲۴) الفضل میں ان کے جانے پر یہ خبر شائع ہوئی۔ ’’صدر انجمن کے اجلاس میں مولوی محمد علی صاحب کو ۲/۱ ۴ ماہ کی رخصت باتنخواہ بحساب دو سو سولہ روپے ماہوار ملی ماسٹر صدر الدین صاحب کو ایک ماہ کی رخصت ملی باتنخواہ حساب ایک سو پچھتر روپیہ ماہوار اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جب آپ پھر آنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو رخصت باتنخواہ لینے کے کیا معنے‘‘۔ (الفضل ۲۹/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ۱ کالم ۱۔ ۲)
    ۴۱۔ لکھا ہے ’’ہمارے دوستوں نے ملزم کیا کہ تم نے یہ بھاری غلطی کی جو قادیان کو چھوڑ کر آئے ہم نے اس کی ہمیشہ یہی وجہ پیش کی کہ فساد سے بچنے کے لئے ہم نے قادیان کو چھوڑ دیا‘‘۔ (پیغام صلح یکم نومبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۲)
    ۴۲۔ جناب مولوی محمد علی صاحب نے انہی دنوں اقرار کیا تھا۔ سیکرٹری ان کا مرید محاسب ان کا مرید ناظران کا مرید خود وہ اس کے میر مجلس پندرہ ممبروں میں سے نو ان کے مرید وہ جس طرح چاہتے اس انجمن سے کام لے سکتے تھے۔ (پیغام صلح ۵/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۳۔)
    ۴۳۔ آپ نے بیعت خلافت پر ایک مفصل مکتوب حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھی لکھا تھا۔ جو الفضل ۸/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۴ پر طبع شدہ ہے۔
    ۴۴۔ اس تعلق میں پیغام صلح (۲۱/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۳) کا یہ اعلان ملاحظہ ہو۔ انجمن برائے نام ایک چیز رہ گئی ہے جو پیر کے ہر ایک حکم کی تعمیل کرنے والی ہو گی ہمارے نزدیک یہ تمام کارروائیاں سلسلہ کے انتظام کو بیخ و بن سے اکھاڑنے والی ہیں اور تھوڑے دنوں میں یہ مردہ انجمن جو اب پیر کے ہاتھ میں کام کرانے کا ایک آلہ ہو گا خود بخود مر جائے گی لہذا ہم اپنے احباب کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کسی قسم کا روپیہ قادیان نہ بھیجیں۔
    ۴۵۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر الوصیت میں تحریر فرمایا تھا کہ یہ ضروری ہو گا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے کیونکہ خدا نے اس مقام کو برکت دی ہے۔ مگر ان لوگوں نے اس بابرکت مقام سے ابدی انقطاع کر لیا۔ اور لاہور کو مدینہ المسیح لکھنا شروع کر دیا۔ (پیغام صلح ۲۸/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۲) پیسہ اخبار لاہور نے لکھا۔ میں کسی کی طرفدار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لاہور کی جماعت نے جواب اختلاف خلافت کے بعد لاہور کو کھینچ تان کر مدینہ المسیح بنایا ہے۔ اگر ان کا لاہور کے مدینہ المسیح ہونے کی نسبت پہلے سے اعتقاد تھا تو پیغام صلح بھی اب بہت عرصہ سے نکلتا ہے اس میں اس سے پہلے اس امر کو کیوں ظاہر نہ کیا گیا۔ (پیسہ اخبار بحوالہ الفضل ۲۳/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۲ کالم ۲۔ ۳۔)
    ۴۶۔ جناب مولوی محمد علی صاحب ابھی قادیان میں ہی تھے کہ انہوں نے صدر انجمن احمدیہ قادیان کے ملازم ہونے کے باوجود اس نئی انجمن کی تشکیل میں سب سے نمایاں حصہ لیا۔ اور پیغام صلح ۲/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ پر اس کا اعلان بھی کر دیا۔
    ۴۷۔ صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ سے یہ حقیقت بخوبی ¶واضح ہوتی ہے کہ فروری ۱۹۱۴ء کے گوشوارہ کے مطابق انجمن کے تمام ضروری شعبے مثلاً مدرسہ‘مقبرہ بہشتی‘تعمیر اور بیت المال وغیرہ سب مقروض ہو چکے تھے۔ سید محمد حسین شاہ صاحب نے پیغام صلح (۱۶/ جون ۱۹۱۴ء صفحہ ۳ کالم ۳) پر خزانہ کے خالی ہونے کا بایں الفاظ اقرار کیا۔ میاں صاحب نے چندوں کی تحریک اپنے متعلق کرکے انجمن کو ان مشکلات میں ڈالا ہوا ہے کہ اس کا خزانہ خالی ہے۔ الخ۔
    ۴۸۔ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۴۲۔ ۳۴۷ سے معمولی تصرف کے ساتھ ماخوذ (مولفہ حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ)
    ۴۹۔ پیغام صلح ۱۶/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ الف کالم ۱۔
    ۵۰۔ پیغام صلح ۲۴/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ج کالم ۱۔
    ۵۱۔ پیغام صلح ۲۷/ جنوری ۱۹۳۱ء صفحہ ۶ کالم ۲۔
    ۵۲۔ مجدد کامل (از خواجہ کمال الدین صاحب) مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۰ء صفحہ ۱۲۵۔
    ۵۳۔ پیغام صلح ۲۷/ جنوری ۱۹۳۱ء مولوی محمد علی صاحب کے مضمون کے چند فقرات یہ تھے۔ ’’جو چند دوستوں میں تبلیغ کے طریق کار کے متعلق اختلاف تھا۔ اسے کتاب میں لانا اور پھر بعض جگہ نامناسب الفاظ میں انجمن اور اس کے کاموں کی طرف اشارہ کرنا بہت احباب کے لئے رنج کا موجب ہوا ہے۔ (صفحہ ۶ کالم ۱)
    ۵۴۔ پیغام صلح ۱۲/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۳ کالم ۱ و مجاہد کبیر صفحہ ۴۱۱۔
    ۵۵۔ مجاہد کبیر صفحہ ۱۳۳ (بحوالہ رسالہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کے جواب کا تتمہ از ناظر اصلاح و ارشاد ربوہ)
    ۵۶۔ بحوالہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کے جواب کا تتمہ۔ صفحہ ۱۵۔ ۱۷۔
    ۵۷۔ بحوالہ میاں محمد صاحب کی کھلی چٹھی کے جواب کا تتمہ صفحہ ۱۶۔ ۱۷۔
    ۵۸۔ ایضاً صفحہ ۲۶۔ ۲۸ مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو مجاہد کبیر صفحہ ۳۴۶۔ ۳۴۸۔
    ۵۹۔ یہ الفاظ ڈاکٹر غلام محمد (احمدیہ بلڈنگس لاہور) کے ایک سرکلر سے لئے گئے ہیں جو انہوں نے اپنے دستخط سے ۲۵/ مارچ ۱۹۵۹ء کو ارسال کیا اور جس کی ایک کاپی مولف کتاب کے پاس موجود ہے۔
    ۶۰۔ ان حضرات میں دوسرے اکابر غیر مبایعین کے علاوہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب بھی تھے۔ جنہوں نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ ’’اگر میرے مرنے کے بعد میری اولاد ذکورواناث نابالغ رہ جائیں تو ان کی تعلیم و تربیت و ترویح وغیرہ کا انتظام بطور گارڈین کے خلیفہ وقت سلسلہ عالیہ احمدیہ کی سرپرستی میں کیا جائے‘‘۔ المرقوم ۲۹/ جنوری ۱۹۰۹ء (بحوالہ فرقان نومبر ۱۹۴۲ء صفحہ ۱۲)
    ۶۱۔ انہی دنوں کسی نے مولوی صدر الدین صاحب سے پوچھا ’’کہ یہ کیوں بنایا گیا ہے جواب دیا۔ الوئوں کی تسلی بھی تو چاہیئے۔‘‘ (الحق مئی ۱۹۱۴ء)
    ۶۲۔ پیغام صلح ۵/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۴ کالم ۲۔
    ۶۳۔ مجدد اعظم حصہ دوم صفحہ ۱۰۷۹۔ پھر نوبت یہاں تک آپہنچی کہ یہ لوگ بہشتی مقبرہ کے لفظوں پر خفا ہونے لگے۔ (ملاحظہ ہو پیغام صلح ۸/ مئی ۱۹۲۹ء صفحہ ۵)
    ۶۴۔ پیغام صلح ۴/ جنوری ۱۹۳۷ء صفحہ ۸ کالم ۳۔
    ۶۵۔ تقریر الحاج شیخ میاں محمد صاحب مطبوعہ پیغام صلح ۶/ فروری ۱۹۵۲ء صفحہ ۷ کالم ۱۔
    ۶۶۔ پیغام صلح ۵/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۳۔
    ۶۷۔ پیغام صلح ۱۹/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۳ کالم ۲۔
    ۶۸۔ بحوالہ الحق دہلی ۲۲/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۲ کالم ۱۔
    پیغام صلح ۲۴/ جنوری ۱۹۴۵ء صفحہ ۱ کالم ۳۔
    ۷۰۔ اشتہار ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء۔
    ۷۱۔ پیغام صلح ۲۲/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۳۔
    ۷۲۔ کلید کلام الامام صفحہ ۱۳۷ شائع کردہ دارالکتب اسلامیہ احمدیہ بلڈنگس لاہور۔
    ۷۳۔ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب ۔۔۔۔۔۔ اولیاء اللہ میں سے تھے۔ (پیغام صلح ۲۸// اپریل ۱۹۴۳ء صفحہ ۳ کالم ۲)
    ۷۴۔ مولوی محمد علی صاحب احمدیت کے پہلے مجدد تھے۔ (پیغام صلح ۲۶/ دسمبر ۱۹۵۱ء صفحہ ۹۔ از میاں محمد صاحب) حیرت یہ ہے کہ خود مولوی محمد علی صاحب نے ۱۹۱۴ء میں مصلح موعود کے جلد آنے سے صرف اس بناء پر انکار فرمایا تھا کہ ’’اب تو سو سال کے بعد ہی کوئی مجدد آئے گا‘‘۔ (ایک نہایت ضروری اعلان صفحہ ۱۳)
    ۷۵۔ پیغام صلح ۱۲/ مئی ۱۹۴۰ء صفحہ ۸ کالم ۱۔
    ۷۶۔ پیغام صلح ۲۹/ مارچ ۱۹۱۴ء کالم ۳۔
    ۷۷۔ پیغام صلح ۲۹/ مارچ ۱۹۱۴ء کالم ۳۔
    ۷۸۔ پیغام صلح ۲۴/ مارچ ۱۹۱۴ء۔
    ۷۹۔ چنانچہ مرزا خدا بخش صاحب نے ۱۹۰۱ء میں اپنی کتاب (عسل مصفیٰ بار دوم) میں لکھا۔ ’’اس وقت تک چار ہی لڑکے موجود ہیں جن میں سے ایک وہ موعود بھی ہے جو اپنے وقت پر اپنے کمالات ظاہر کرے گا اور جو حضرت اقدس کا جانشین ہو گا‘‘۔ (صفحہ ۷۹۹۔ ۸۰۰ طبع اول)
    ۸۰۔ مجدد اعظم حصہ اول صفحہ ۱۵۹ (از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب) اپنے اس نئے نظریہ کے باوجود کہ مصلح موعود کا زمانہ تیسری چوتھی صدی ہے ان دنوں پیغام صلح والوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کی نسبت ایک خواب کی بناء پر یہ امید وابستہ کر دی۔ خداوند تعالیٰ کے دربار میں ممکن ہے کہ تین کو چار کرنے والا آخر مرزا سلطان احمد خان صاحب ہی ہوں۔ (پیغام صلح ۳/ فروری ۱۹۱۶ء صفحہ ۸ کالم ۳) خدا کی قدرت حضرت صاحبزادہ صاحب نے خلافت ثانیہ کی بیعت کر لی اور یہ خواب حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی سچائی کا ثبوت بن گیا۔
    ۸۱۔ الوصیت صفحہ ۶ ب۔ شائع کردہ اشاعت اسلام۔ بار چہارم اگست ۱۹۱۴ء۔
    ۸۲۔ ریویو جلد ۷ نمبر ۱ صفحہ ۱۴۔
    ۸۳۔ پیغام صلح ۱۶/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۲۔
    ۸۴۔ پیغام صلح ۱۷/ دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۲۸ کالم ۲۔
    ۸۵۔ دافع البلاء (طبع اول) صفحہ ۱۰۔
    ۸۶۔ الحکم ۱۸/ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ کالم ۲۔
    ۸۷۔ بیان القرآن اردو صفحہ ۱۰۔
    ۸۸۔ مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو رسالہ تبدیلی عقائد مولوی محمد علی صاحب (از حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب فاضل ہلالپوریؓ) و مولوی محمد علی اور اس کی تفسیر بیان القرآن (نوشتہ جناب قاضی محمد یوسف صاحبؓ مردان)
    ۸۹۔ یہی وجہ ہے کہ ۲۲/ مارچ ۱۹۱۴ء کی شوریٰ میں اہل پیغام نے یہ فیصلہ کیا کہ ’’اگر میاں محمود احمد صاحب انجمن کے فیصلوں کو قطعی قرار دیں اور پرانے احمدیوں سے دوبارہ بیعت لینا لازم تصور نہ کریں تو ان کو صدر انجمن احمدیہ کا پریذیڈنٹ اور کل جماعت کا امیر تسلیم کیا جائے۔ (مجاہد کبیر صفحہ ۱۱۶) اس ضمن میں ان حضرات کا دلی عقیدہ معلوم کرنے کے لئے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کی یہ عبارت ملاحظہ ہو۔ خاتم النبین کے بعد نبی لانے کے مجرم جیسے کہ ہمارے قادیانی بھائی ہیں ویسے ہی غیر احمدی علماء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں کسی نئے یا پرانے نبی کے اس امت میں آنے کے عقیدہ کو مستلزم کفر سمجھتے ہیں (پیغام صلح ۲۲/ فروری ۱۹۱۶ء صفحہ ۸ کالم ۱`۲) دوسری طرف انہوں نے صاف لفظوں میں اپنا یہ فتویٰ شائع کیا۔ بے شک ختم نبوت کے منکر کو میں بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ (پیغام صلح ۲۷/ جنوری ۱۹۴۱ء صفحہ ۲ کالم ۱) اس فتویٰ میں جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنی پارٹی کے سوا باقی سب کلمہ گوئوں کو بے دین کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا ہے۔
    ۹۰۔ مجاہد کبیر صفحہ ۱۶۴۔
    ۹۱۔ پیغام صلح ۲۷/ فروری ۱۹۳۷ء صفحہ ۶ کالم ۳۔
    ۹۲۔ پیغام صلح ۷/ فروری ۱۹۳۷ء صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۹۳۔ پیغام صلح ۷/ فروری ۱۹۳۷ء صفحہ ۳ کالم ۳۔
    ۹۴۔ رسالہ خلافت اسلامیہ بروئے قرآن و حدیث صفحہ ۵‘۱۸۔
    ۹۵۔ پیغام صلح ۳/ جون ۱۹۳۷ء صفحہ ۶ کالم ۲۔
    ۹۶۔ مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے مولوی دوست محمد صاحب (غیر مبائع) کا ایک خط (محررہ ۶/ فروری ۱۹۲۷ء) حضرت خلیفہ ثانی کی خدمت میں پہنچا جس میں لکھا تھا کہ آپ نے ڈسٹرکٹ بورڈ کے الیکشن میں ایک احمدی کے مقابل غیر احمدی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ حکم منسوخ کیا جائے یہ خط جو دفتر پرائیوٹ سیکرٹری میں محفوظ ہے اس حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے کہ غیر مبائع حضرات کے نزدیک صرف رشتہ ناطہ ہی نہیں ووٹوں کے سلسلہ میں بھی احمدیت ہی کو مقدم رکھنا چاہیئے۔
    ۹۷۔ قادیانی مذہب بار پنجم صفحہ ۵۹ (مولفہ صلاح الدین محمد الیاس برنی)
    ۹۸۔ زمیندار ۱۷/ ستمبر ۱۹۴۴ء بحوالہ فرقان ستمبر و اکتوبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۲۰۔
    ۹۹۔ بحوالہ فرقان (قادیان) فروری ۱۹۴۶ء صفحہ ۶۔
    ۱۰۰۔ Mohammedanizm طبع دوم مطبوعہ ۱۹۵۰ء صفحہ ۱۸۷ (از ایچ۔ اے۔ آر۔ گب)
    اسی خیال کا اظہار انہوں نے اپنی دوسری کتابISLAM( IN TRENDS )MODERN کے صفحہ ۶۱۔ ۶۲ پر بھی کیا ہے اور لکھا ہے کہ بیرونی ممالک میں تبلیغی سرگرمیوں کے باوجود وہ مشکوک ہی رہے ہیں۔
    ۱۰۱۔ پیغام صلح ۱۵/ جنوری ۱۹۵۸ء صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۱۰۲۔ مجاہد کبیر صفحہ ۱۱۸ (مولفہ ممتاز احمد صاحب فاروقی بی۔ ایس۔ سی۔ ای۔ ای و محمد احمد ایم۔ اے خلف مولانا محمد علی مرحوم) مطبوعہ دسمبر ۱۹۶۲ء۔
    ۱۰۳۔ مجاہد کبیر صفحہ ۱۱۱۔
    ۱۰۴۔ بحوالہ پیغام صلح ۲۲/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۴ کالم ۲۔
    ۱۰۵۔ بحوالہ پیغام صلح ۲۹/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ۱ کالم ۳۔
    ۱۰۶۔ بحوالہ الفضل ۱۵/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۰ کالم ۳۔
    ۱۰۷۔ بحوالہ الفضل یکم اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۴ کالم ۳۔
    ۱۰۸۔ بحوالہ الفضل ۱۵/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۰ کالم ۲۔ ۳۔
    ۱۰۹۔ الفضل ۲۱/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۷ کالم ۳۔ اس درس کے بعد حضور نے حضرت خلیفہ اولؓ کی وصیت کے مطابق مستورات میں بھی درس شروع فرما دیا۔ حضرت خلیفہ اولؓ سورہ نساء تک درس دے چکے تھے اس لئے حضور نے سورہ مائدہ سے درس کی ابتداء فرمائی درس قرآن کے علاوہ حضور نے ۲۷/ اپریل ۱۹۱۴ء سے بخاری شریف کا درس بھی جاری کر دیا۔ (الفضل ۲۹/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۳۔)
    ۱۱۰۔ ۸/ ستمبر ۱۹۲۸ء کو حضور نے درس کے سب امتحانات میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والوں کو اپنے دست مبارک سے انعامات عطا فرمائے۔ انعام حاصل کرنے والے۔ حافظ عبدالسلام صاحب شملوی۔ صوفی صالح محمد صاحب قصوری۔ نذیر احمد صاحب سٹوڈنٹ بی۔ ایس۔ سی۔ چوہدری فقیر محمد صاحب کورٹ انسپکٹر اور شیخ عبدالقادر صاحب (سابق سوداگر مل) حال مربی سلسلہ احمدیہ لاہور۔
    ۱۱۱- الفضل یکم اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱-
    ۱۱۲ ابتدائی مجالس کے نوٹوں کے سلسلہ میں ملاحظہ ہو الحکم ۲۱/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۳۔۴ و ۲۸/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۴‘۷/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۵۔
    ۱۱۳- الفضل ۸/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱۔ ۲۔
    ۱۱۴- برکات خلافت طبع اول صفحہ ۵۔
    ۱۱۵- برکات خلافت طبع اول صفحہ ۷۔
    ۱۱۶- الحق ۲۹/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۱۔
    ۱۱۷ سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۲۷۔
    ۱۱۸- ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۲۷ء صفحہ ۳۲۶-
    ۱۱۹- الفضل یکم اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۔
    ۱۲۰- ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۲۶ء۔
    ۱۲۱- ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۸- ۱۹۱۷ء۔
    ۱۲۲- ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۸ء ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر ڈاک کے فرائض سرانجام دینے کے علاوہ مدرسہ احمدیہ میں بھی پڑھاتے تھے۔
    ۱۲۳- ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۸ء۔
    ۱۲۴- ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۲۰ء۔
    ۱۲۵- حضرت مفتی صاحب فرماتے تھے۔ ’’جب میں حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے دفتر میں آپ کا پرائیوٹ سیکرٹری تھا تو میں اس امر کو مشاہدہ کرتا رہا کہ مختلف علوم و فنون کے ماہر جو باہر سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ سے گفتگو کرتے تو ہر ایک علم کا ماہر آپ کی ملاقات کے بعد اس امر کا اقرار کرتا کہ اگرچہ ہم اپنے علم کے ماہر و ایکسپرٹ ہیں مگر حضرت صاحب سے گفتگو کے بعد ہم پر یہ اثر ہوا ہے کہ اس علم میں وہ ہم سے بھی زیادہ واقف ہیں‘‘۔ (الفضل ۲۵/ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۱۲ کالم ۱)
    ۱۲۶- مطبوعہ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۵۔ ۱۶۔
    ۱۲۷- مطبوعہ الفضل ۱۰/ مئی ۱۹۵۹ء صفحہ ۲۔ یاد رہے کہ یہ خطبہ بیماری کے دوران میں دیا گیا ورنہ زمانہ صحت میں آپ کا آخری خطبہ ۲۰/ فروری ۱۹۵۹ء کا ہے۔ (مطبوعہ الفضل ۳۰/ مئی ۱۹۵۹ء صفحہ ۲ تا ۴) ان دونوں خطبوں کے بعد حضور نے ۲۹/ مارچ ۱۹۶۰ء کو خطبہ عیدالفطر ارشاد فرمایا- جو حضو نے پہلے سے املا کروا لیا تھا۔ اس کے بعد آج تک حضور مجلس میں رونق افروز نہیں ہوئے (خطبہ عید الفطر کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۵/ اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۳`۴)
    ۱۲۸- ۱۹۴۴ء تک حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے سفروں کے خطبوں کو قلمبند کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا حضور کے ہمسفر خدام میں سے جن کو خیال آتا اپنے لفظوں میں خطبات کا ملخص الفضل کو بھجوا دیتے تھے۔ لیکن فروری ۱۹۴۵ء میں جب شعبہ زود نویسی کا قیام عمل میں آیا تو مستقل طور پر سفر و حضر میں حضور کے ملفوظات لکھنے کا خاص اہتمام کیا گیا۔
    ۱۲۹- ولادت ۲۷/ جنوری ۱۹۰۸ء مولوی فاضل کا امتحان جولائی ۱۹۲۹ء میں پاس کیا مئی ۱۹۳۰ء میں ادارہ الفضل میں شامل ہوئے اور ۱۹۴۵ء میں شعبہ زود نویسی کے انچارج مقرر ہوئے۔
    ۱۳۰- رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء صفحہ ۸۷۔
    ۱۳۱- خطبات لکھنے والے دوسرے اصحاب۔ شیخ رحمت اللہ صاحب شاکر۔ چوہدری عبدالمجید صاحب۔ بی۔ اے۔ مولوی محمد اسمعیل صاحب دیال گڑھی۔ مولوی سید احمد علی صاحب۔ مولوی عبدالعزیز صاحب چک سکندر۔ چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی۔ مولوی سلطان احمد صاحب پیرکوٹی۔ عبدالکریم صاحب۔
    ۱۳۲- الفضل ۱۹/ نومبر ۱۹۴۰ء صفحہ ۴ کالم ۴۔
    ۱۳۳۔ روح پرور خطاب صفحہ ۴۔ اس پہلے اشتہار کے شائع کرنے کے لئے آپ کے پاس روپے نہیں تھے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کو علم ہوا تو انہوں نے پانچ سو روپیہ کی ایک تھیلی پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعمیر مساجد کی رقم ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ اسے اس مصرف میں لانا جائز ہے اس لئے یہ رقم خرچ کر لی جائے۔ چنانچہ اس رقم سے خلافت ثانیہ کا یہ پہلا اشتہار بھی شائع ہوا۔ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحہ ۱۳۷) اور بیرونی جماعتوں میں واعظ بھی بھجوائے گئے۔ (سیرت سروری صفحہ ۳۸ غیر مطبوعہ از مولوی صدر الدین صاحب فاضل)
    ۱۳۴- اشتہار کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔ صفحہ ۶۔ ۷ (مشمولہ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۴ء)
    ۱۳۵- یہ پورا شعر حضرت مسیح موعودؑ کا ہے جو درثمین میں طبع شدہ موجود ہے۔ مولوی محمد علی صاحب اس شعر کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’اس شعر کو اپنے لئے ہی سمجھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں وہ لعل بے بدل صداقت ہے‘‘ (ضمیمہ پیغام صلح ۲/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ الف کالم ۱۔ ۲)
    ۱۳۶- حضرت مسیح موعودؑ کی اصطلاح میں تمزق اعداء کے ایک معنے ان پر اتمام حجت کا ہونا بھی ہے (انوار الاسلام صفحہ ۱۵)
    ۱۳۷- اشتہار کون ہے جو خدا کے کلام کو روک سکے صفحہ ۱۲ (مشمولہ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۴ء نوشتہ ۲۱/ مارچ ۱۹۱۴ء)
    ۱۳۸- الفضل ۶/۔ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۶۔
    ۱۳۹- تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو منصب خلافت طبع اول صفحہ ۵۱۔
    ۱۴۰- الفضل ۲/ جولائی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۰-
    ۱۴۱- ریزولیوش نمبر ۱۶۰۔
    ۱۴۲۔ ریزولیوشن نمبر۱۶۶ اس ریزولیوشن کی بحث کے دوران مولوی محمد علی صاحب اور ان کے تینوں رفقاء (مولوی صدر الدین صاحب کے علاوہ) اجلاس سے تشریف لے گئے جس کی وجہ مجاہد کبیر میں لکھی ہے کہ ’’انہوں نے دیکھا کہ وہ امور جو ایجنڈا پر بھی نہ تھے اس مجلس میں تحکمانہ طور پر پاس ہونے لگے‘‘ (صفحہ ۱۱۹) مگر صدر انجمن احمدیہ کا ریکارڈ اس ادعاء کی تغلیط کے لئے کافی ہے۔ پھر لکھا ہے کہ مولوی نور الدین صاحب کے وقت میں پکا فیصلہ ہو چکا تھا کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کو ولایت بھجوایا جائے۔ (مجاہد کبیر صفحہ ۱۲۰) ہمارا دعویٰ ہے کہ صدر انجمن احمدیہ نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا اگر انجمن نے کوئی ایسا پکا فیصلہ کیا ہوتا تو اسے ایجنڈا میں ضرور ہونا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔
    ۱۴۳- ریزولیوشن نمبر ۱۷۱۔
    ۱۴۴- ریزولیوشن نمبر ۱۷۳-
    ۱۴۵- اس اجلاس کی کارروائی پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور مولوی صدر الدین صاحب (سیکرٹری) کے دستخط ہیں۔
    ۱۴۶- الحکم ۱۴/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۹ کالم ۳۔ نمائندگان کی فہرست کے لئے ملاحظہ ہو الحکم ۲۱/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۷`۸ و الفضل ۲۰/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۵۔ ۱۶۔
    ۱۴۷- منصب خلافت صفحہ ۳۱۔
    ۱۴۸- منصب خلافت سرورق صفحہ ۲ (طبع اول)
    ۱۴۹- منصب خلافت سر ورق صفحہ ۲ و صفحہ ۵۵۔ ۵۶۔
    ۱۵۰- یہ ترمیم عملی اعتبار سے ہرگز کوئی نئی چیز نہیں تھی بلکہ یہ اسی اعلان کی دستوری و آئینی تعبیر تھی جو صدر انجمن احمدیہ نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت خلافت پر ان الفاظ میں کیا تھا کہ ’’حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہے ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا تھا‘‘۔ (بدر ۲/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۶ کالم ۲) اور انجمن کا ریکارڈ شاہد ہے کہ انجمن کی نگاہ میں حضرت خلیفہ اول کا فرمان قطعی اور ناطق رہا چنانچہ انجمن کو حضرت خلیفتہ المسیح کے حکم کی تعمیل میں اپنے فیصلوں کی ترمیم ہی نہیں تنسیخ بھی کرنا پڑی۔ (ملاحظہ ہو ریزولیوشن نمبر ۱۲۳۱ مورخہ ۲۶/ مارچ ۱۹۱۰ء) مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے اکابر نے ۱۹۱۳ء میں ایک اور اعلان کیا کہ ’’ساری قوم کے آپ مطاع ہیں اور سب ممبران مجلس معتمدین آپ کی بیعت میں داخل اور آپ کے فرمانبردار ہیں‘‘۔ (پیغام صلح ۴/ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۳ کالم ۱) پس یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ اس ترمیم سے عملاً کوئی فرق نہیں پڑا ہاں اس سے ان لوگوں کی ضرور قلعی کھل گئی جنہوں نے انجمن کے اجتہاد کو حجت قرار دینے کے باوجود اس کثرت رائے سے کیا ہوا فیصلہ قبول کرنے سے بالکل انکار کر دیا حالانکہ حضرت مسیح موعودؑ سلسلہ کے ان معاملات کے بارے میں جو انجمن کے ہاتھ میں ہیں یہ تحریر فرما چکے ہیں۔ ’’میری رائے تو یہی ہے کہ جس امر پر انجمن کا فیصلہ ہو جائے کہ ایسا ہونا چاہئے اور کثرت رائے اس میں ہو جائے تو وہی امر صحیح سمجھنا چاہئے اور وہی قطعی ہونا چاہئے‘‘۔ اس پر بس نہیں حضور نے ساتھ ہی وضاحت فرمائی کہ ’’میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ انجمن خلاف منشاء میرے ہرگز نہیں کرے گی‘‘۔ غیر مبایعین کی رائے میں یہ سب کارروائی حضرت مسیح موعودؑ کے منشاء کے خلاف تھی۔ اور انجمن کا ترمیم سے متعلق فیصلہ قابل تسلیم نہیں تھا اور اس لئے اس پر انہوں نے بہت شور بھی اٹھایا کیونکہ ان کے نزدیک صرف ان کے ہم خیال ممبروں ہی کا دوسرا نام انجمن تھا۔ وہ اسی انجمن کی مجموعی رائے کو ناطق و قطعی سمجھتے تھے۔
    ۱۵۱- منصب خلافت طبع اول صفحہ ۵۵۔ ۵۶۔
    ۱۵۲۔ جن مقامات کی جماعتوں کے نمائندے اس اجلاس میں موجود تھے ان کے نام یہ ہیں۔ لاہور۔ پاکپٹن۔ کریام ضلع جالندھر۔ راہوں۔ کلکتہ۔ امرتسر۔ بھنگالہ ضلع ہوشیارپور۔ مردان ضلع پشاور۔ صوابی۔ سہارن پور۔ جموں۔ سیالکوٹ۔ گوجرانوالہ۔ ملتان۔ علی پور۔ لائل پور۔ بٹالہ۔ سارچور۔ بھڈیار۔ گوکھووال۔ تلونڈی راہ والی۔ جالندھر چھائونی۔ گوجرہ۔ ماہل پور۔ کوٹ رادھاکشن۔ کراچی۔ بھریا۔ سرگودھا۔ دوالمیال۔ کپورتھلہ۔ لودھراں۔ جوڑہ۔ سیکھواں۔ محلا نوالہ۔ اہرانہ۔ صریح۔ مانگٹ اونچے۔ گوجرانوالہ۔ ڈیرہ غازی خاں- دوجو وال (اجنالہ) گجرات۔ شاہ جہان پور۔ دہلی۔ (الحکم ۱۴/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۰)
    ۱۵۳- منصب خلافت سر ورق صفحہ ۲۔
    ۱۵۴- شکریہ اور اعلان ضروری۔ مشمولہ ضمیمہ الفضل ۲/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۸۔
    ۱۵۵- رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء صفحہ ۳۳۔
    ۱۵۶- منصب خلافت صفحہ ۱۶ تا ۱۹ (طبع اول)
    ۱۵۷- اس لیکچر میں حضور نے غیر مبایعین کے اعتراضوں کی حقیقت کھول کھول کر بتائی کہا جاتا تھا کہ عمر چھوٹی ہے۔ حضور نے اس کے جواب میں حضرت ابن ابی لیلیٰؓ کا واقعہ بیان فرمایا جنہیں حضرت عمرؓ نے انیس سال کی عمر میں کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجا تھا۔ کوفہ والوں نے از راہ مذاق ان سے عمر پوچھی تو انہوں نے جواب دیا۔ آنحضرت~صل۱~ نے اسامہؓ کو جس عمر میں کبار صحابہ کا افسر بنا کر محاذ شام پر بھیجا تھا میں اس سے دو سال بڑا ہوں۔ حضور نے فرمایا۔ ’’میں بھی اس رنگ میں جواب دیتا ہوں کہ میری عمر تو ابن ابی لیلیٰ سے بھی سات برس زیادہ ہے‘‘۔ (منصب خلافت صفحہ ۴۴۔ ۴۵)
    ۱۵۸- صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ میں مولوی محمد علی صاحب کی اس اطلاع کا ذکر ہمیں ملتا ہے کہ میں چھ ماہ کی رخصت پر جاتا ہوں میری غیر حاضری میں افسر اشاعت اسلام کا مناسب انتظام کی جائے۔ (روئداد اجلاس ۲۶/ اپریل ۱۹۱۴ء)
    ۱۵۹- آئینہ صداقت صفحہ ۱۹۸‘۱۹۹ (طبع اول) اخبار نور (۱۷/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۹ کالم ۳) نے مولوی صاحب کی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کی سلامت روی اور صلح جوئی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ آپ عین اس جھگڑے اور اس شدید جنگ میں بنفس نفیس جناب مولوی محمد علی صاحب کے ہاں تشریف لے گئے۔
    ۱۶۰- الفضل ۱۸/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱‘۶/ جون ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱ پر ان کا ذکر ہے۔
    ۱۶۱- وفات ۲/ جنوری ۱۹۶۱ء۔
    ۱۶۲ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۴ء سے ماخوذ۔
    ۱۶۳ تفصیل تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ ۴۹۱۔ ۴۹۴ پر گزر چکی ہے۔
    ۱۶۴ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحہ ۱ (از چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔ اے) طبع اول دسمبر ۱۹۲۷ء۔
    ۱۶۵- لندن سے مکرم درد صاحب کی ادارت میں ایک ہفتہ وار اخبار مسلم ٹائمز کے نام سے بھی شائع ہوتا رہا۔ (الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۳۹ء)
    ۱۶۶- الفضل ۲۸/ اپریل ۱۹۳۹ء صفحہ ۴۔ اب ان کی عمر ۷۵ برس کی ہو گی۔ جب ان کے سامنے حضور کا ذکر آتا ہے۔ تو چشم پر آب ہو جاتے ہیں۔
    ۱۶۷- تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تواریخ مسجد فضل لندن (از حضرت میر محمد اسمعیل صاحبؓ) مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۷ء قادیان۔
    ۱۶۸- آپ کی واپسی ۱۳/ ستمبر ۱۹۳۵ء کو ہوئی۔
    ۱۶۹- تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو احمدیہ مشن لنڈن کی ایک سالانہ رپورٹ (مطبوعہ الفضل ۲۷/۲۴ مئی ۱۹۳۴ء)
    ۱۷۰- رسالہ نقوش آپ بیتی نمبر صفحہ ۴۔ ۵ میں خود قائداعظم کے الفاظ میں اس فیصلہ کا تذکرہ موجود ہے۔
    ۱۷۱- حضرت مولانا درد صاحب کی زبان سے اس اہم واقعہ کی تفصیل سنیئے فرماتے ہیں۔ ’’یہ بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ قائداعظم نے انگلستان سے ہندوستان واپس آکر مسلمانوں کی سیاسی قیادت سنبھالی اور اس طرح بالاخر ۱۹۴۷ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا ۔جب میں ۱۹۳۳ء میں امام مسجد لندن کے طور پر انگلستان پہنچا تو اس وقت قائداعظم انگلستان میں ہی سکونت رکھتے تھے۔ وہاں میں نے ان سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں ہندوستان واپس آکر سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا۔ مسٹر جناح سے میری یہ ملاقات تین چار گھنٹے تک جاری رہی۔ میں نے انہیں آمادہ کر لیا کہ اگر اس آڑے وقت میں جبکہ مسلمانوں کی راہنمائی کرنے والا اور کوئی نہیں ہے انہوں نے ان کی پھنسی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی کوشش نہ کی تو اس قسم کی علیحدگی قوم کے ساتھ بے وفائی کے مترادف ہو گی چنانچہ اس تفصیلی گفتگو کے بعد آپ مسجد احمدیہ لندن میں تشریف لائے اور وہاں باقاعدہ ایک تقریر کی جس میں ہندوستان کے مستقبل کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ اس کے بعد قائداعظم انگلستان کو خیر باد کہ کر ہندوستان واپس آئے۔ مسلم لیگ کو منظم کیا اور اس طرح چند سال کی جدوجہد کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا‘‘۔ (الفضل یکم جنوری ۱۹۵۵ء صفحہ ۸) قائداعظم کی یہ تقریر ۶/ اپریل ۱۹۳۳ء کو عید الاضحیہ کی تقریب پر ہوئی تھی اور جلسہ کے صدر سر سٹیوارٹ سنڈیمن Sandaman( Stewart )Sir تھے۔ قائداعظم نے تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا۔’’۔escape leftmeno oftheImam ‘‘Theeloquentpersuation (ترجمہ) امام صاحب کی فصیح و بلیغ ترغیب نے میرے لئے کوئی راہ بچنے کی نہیں چھوڑی۔ (انقلاب عظیم کے متعلق انذارد بشارات نمبر ۲ صفحہ ۱۹ از حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب) مسجد فضل پٹنی میں ایک سیاسی نوعیت کی تقریر پر مختلف حلقوں میں بڑے تعجب کا اظہار کیا گیا۔ اور پریس نے اس کی اشاعت میں سرگرم حصہ لیا۔ چنانچہ ’’دی ایوننگ سٹینڈرڈ‘‘ (لندن) ’’ہندو‘‘ (کلکتہ) ’’دی سٹیٹمین‘‘ (کلکتہ) ’’مدراس میل‘‘۔ ’’ویسٹ افریقہ‘‘ (افریقہ) ’’ایجپشن گزٹ‘‘ (اسکندریہ) ’’پایونیئر‘‘ (الہ آباد) وغیرہ اخبارات میں اس کی خبریں شائع ہو گئی تھیں جن کے تراشے مولانا درد صاحب کی ایک فائل میں محفوظ ہیں۔
    ۱۷۲- تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ۴۱۔ ۱۹۴۰ء صفحہ ۱۶ و ۴۲۔ ۱۹۴۱ء صفحہ ۱۳۔ ۱۷۔ ایضاً رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ۴۵۔ ۱۹۴۴ء صفحہ ۸۴۔ ۸۵۔
    ۱۷۳- مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری ۱۹۳۸ء کے آخر سے مارچ ۱۹۴۰ء تک لندن کے احمدیہ مسلم مشن میں کام کرتے رہے۔
    ۱۷۴- آپ ۲۹/ ستمبر ۱۹۴۵ء کو تشریف لے گئے۔
    ۱۷۵- الفضل ۲۷/ ۲۴ جولائی ۱۹۵۵ء صفحہ ۱۔
    ۱۷۶- پہلی بار روانگی کے بعد آپ ۷/ مارچ ۱۹۶۰ء کو ایک ماہ کے لئے واپس آئے اور ۲/ اپریل ۱۹۶۰ء کو پھر لنڈن چلے گئے تھے اس کے بعد آپ کا قیام لندن مشن میں ہی ہے۔
    ۱۷۷- آپ صحابی تھے اور انگلستان آنے سے قبل سیالکوٹ کے امیر تھے کرکٹ ٹیم کے ساتھ ۱۹۳۸ء کے قریب انگلستان گئے اور وہیں انتقال کیا۔
    ۱۷۸- آپ بھی صحابی تھے جو اس صدی کے شروع میں انگلستان گئے۔ آپ باقاعدگی سے ہائیڈ پارک میں تقاریر فرماتے تھے۔ ان کے ایک فرزند جن کا نام عبدالعزیز دین ہے اب بھی لنڈن میں مقیم ہیں اور تبلیغ کا بہت شوق رکھتے ہیں۔
    ۱۷۹- مبلغ انگلستان بشیر احمد صاحب رفیق کی ایک رپورٹ (مورخہ ۶۴/۲۴۲) سے ماخوذ۔
    ۱۸۰- خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مطبوعہ الفضل ۱۷/ مارچ ۱۹۵۷ء صفحہ ۴ کالم ۴۔
    ۱۸۱- ۔8 NO 1, VOL ISLAM GENUINE THE
    ‏۱۸۲- trail on Civilization صفحہ ۲۰۴ بحوالہ انصار اللہ ربوہ جولائی ۱۹۶۲ء صفحہ ۳۳۔
    ۱۸۳- ترجمہ رپورٹ آف دی مشنری کانفرنس ۱۸۹۴ء منعقدہ لندن صفحہ ۴۱۹۔ بحوالہ انصار اللہ دسمبر ۱۹۶۱ء۔
    ۱۸۴- تذکرہ (طبع دوم) صفحہ ۵۰۹۔
    ۱۸۵- ضمیمہ الفضل ۲/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ و الفضل ۲۵/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۔
    ۱۸۶- ضمیمہ الفضل ۲/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۱۔
    ۱۸۷- الفضل ۲۷/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۱۸۸- الفضل ۲۹/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۲۔
    ۱۸۹- منصب خلافت صفحہ ۳۳ طبع اول ۱۹۱۴ء۔
    ۱۹۰- الفضل ۲۷/ اپریل ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۔ الفضل ۹/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۸۔ الحکم ۱۴/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۹ کالم ۱۔
    ۱۹۱- حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خواہش کے مطابق حضرت منشی عبدالحق صاحب کاتب نے اس کتاب کی نہایت عمدہ اور نفیس کتابت کی۔
    ۱۹۲- بشارات رحمانیہ جلد اول صفحہ ۱۷۴۔ ۱۷۶ (از مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر فاضل) الفضل ۱۱/ دسمبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۷۔
    ۱۹۳- الفضل ۳/ جون ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۲- ۲۳۔
    ۱۹۴- پیغام صلح ۶/ اگست ۱۹۱۴ء صفحہ ب۔ ج۔
    ۱۹۵- الفضل ۳/ نومبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ کالم ۳۔ الفضل ۴/ اکتوبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱ و الفضل ۱۰/ نومبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۸ کالم ۲۔ ۳۔
    ۱۹۶-یاد رہے اس سے قبل ترکی کے سلطنت برطانیہ سے نہایت گہرے تعلقات تھے۔ چنانچہ شیخ عبدالقادر صاحب بی۔ اے بیرسٹر ایٹ لاء سیکرٹری خلافت کمیٹی سیالکوٹ لکھتے ہیں۔ ’’حضور سلطان المعظم خلیفتہ المسلمین نے سلطان ٹیپو کے نام ایک مراسلہ ارسال کیا اور اس دین کے پکے مسلمان نے خلیفتہ المسلمین کے حکم کو سر آنکھوں پر رکھا اور جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ ۱۸۵۷ء میں ہندوستان میں غدر مچا اس غدر کو فرو کرنے کے لئے انگریزوں کی افواج کو مصر سے گزر کر ہندوستان پہنچنے کی اجازت حضور خلیفتہ المسلمین سلطان المعظم نے دی تھی جنوبی افریقہ میں جنگ بوئر ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترکی نے انگلستان کا ساتھ دیا۔ ہزارہا ترکوں نے انگریزی جھنڈے کے نیچے لڑنے مرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ مساجد میں انگریزوں کی فتح و نصرت کے لئے دعائیں مانگی گئیں‘‘۔ (ترکی کے ارمینوں پر فرضی مظالم صفحہ ۲۳۔ شائع کردہ مجلس خلافت پنجاب) مطبوعہ ۱۹۲۰ء۔
    ۱۹۷- تاریخ اقوام عالم صفحہ ۶۷۴۔ ۶۷۶ (از مرتضیٰ احمد خاں میکش) شائع کردہ مجلس ترقی اردو کلب روڈ لاہور۔
    ۱۹۸- تاریخ اقوام عالم صفحہ ۶۸۵۔ ۶۸۶۔
    ۱۹۹- ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۳۹۹۔ ۴۰۵۔
    ۲۰۰- تذکرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ ۳ (از حضرت صاحبزادہ پیر سراج الحق نعمانیؓ) طبع اول ۲۵/ دسمبر ۱۹۲۱ء و تذکرہ طبع دوم صفحہ ۷۹۵۔
    ۲۰۱۔ اس سلسلہ میں مولانا سید میاں محمد صاحب ناظم جمعیتہ العلماء ہند نے اپنی کتاب علماء حق کے کارنامے میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ ہندوستان کے یہی غیور مسلمان جو علماء ملت پر ہندو پرستی کا الزام لگاتے ہیں گزشتہ جنگ جرمنی کے زمانہ میں انہوں نے عراق‘شام‘ایران وغیرہ وغیرہ اسلامی ممالک کو انگریزوں کے لئے کیوں تباہ کیا۔ خاص قبلہ ایمان اور کعبہ اسلام پر کیوں گولیاں برسائیں اس کا سبب بھوک اور فاقہ بے روزگاری اور تہیدستی تھی؟ یا ان کے دلوں میں اسلام اور ایمان سے مدینہ طیبہ اور مکہ معظمہ سے عربوں اور ترکوں سے کوئی بغض بھرا ہوا تھا‘‘۔ (صفحہ ۲۸۴)
    ۲۰۲- دولت آصفیہ اور حکومت برطانیہ صفحہ ۱۶۱۔ ۱۶۳۔ (از سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی) طبع اول
    ۲۰۳- الفضل ۱۵/ ستمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۵۔ ۶۔
    ۲۰۴- اخبار سرمہ روزگار آگرہ یکم دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۷۔
    ۲۰۵- پوری مسدس اخبار وکیل (امرتسر) مورخہ ۱۱/ مئی ۱۹۱۸ء و ستارہ صبح مورخہ ۱۱/ مئی ۱۹۱۸ء اور کتاب یادگار جنگ (پنجاب پبلسٹی کمیٹی لاہور) صفحہ ۱۷۔ ۱۸۔ پر موجود ہے۔ ایضاً ذکر اقبال (از عبدالمجید سالک) صفحہ ۸۷۔
    ۲۰۶۔ الفضل ۶/ ستمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۹۔
    ۲۰۷۔ حضرت اقدس کی ایک تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسٹر مانٹیگو وزیر ہند تھے۔ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحہ ۳۷۔ ۳۸)
    ۲۰۸۔ الفضل ۵/ اکتوبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۳۔
    ۲۰۹۔ الفضل ۲۱/ مئی ۱۹۴۷ء صفحہ ۴۔
    ۲۱۰۔ مکمل خط ملک فضل حسین صاحب مہاجر نے ریویو آف ریلیجنز اردو مئی ۱۹۴۱ء صفحہ ۷۔ ۱۲ پر چھپوا دیا تھا۔
    ۲۱۱۔ اس تبلیغی مہم کی تفصیلات خود حضرت حکیم مولوی عبیداللہ صاحب بسمل نے مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر کو لکھوا دی تھی۔ مگر افسوس وہ شائع ہونے سے پہلے ہی ایک خادمہ کے ہاتھوں ضائع ہو گئے۔
    ۲۱۲۔ ریویو آف ریلیجنز اردو جلد ۱۳ صفحہ ۴۲۱۔ ۴۲۷۔
    ۲۱۳۔ انہی دنوں ترکی کے شامل جنگ ہونے پر دوسرے مسلمانان ہند نے بھی انتباہ کیا تھا چنانچہ قاضی سراج الدین احمد صاحب بیرسٹرایٹ لاء راولپنڈی نے حقیقت خلافت اور مسلمانوں کا فرض میں لکھا یورپ میں اس لڑائی کے شروع ہونے کے بعد مسلمانان ہندوستان نے ترکوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اس لڑائی میں غیر جانبداری کی وضع اختیار کریں۔ لیکن آخر کار ترکوں نے اس مشورہ کو نہایت حقارت کے ساتھ رد کر دیا اور جرمنی کی جانبداری اختیار کرنے سے انگلستان فرانس اور روس کی رعایا کو ایک غیر مطبوع اور تشویشناک حالت میں ڈال دیا۔ درحقیقت ترکوں نے اس موقع پر مسلمانان عالم کے ساتھ اس سے بھی بڑھ کر برائی کی ہے۔ جرمنی نے ترکوں کو اپنے دام تزویر میں صرف اس غرض سے نہیں پھنسایا تھا کہ ان سے براہ راست امداد حاصل کرے بلکہ اس غرض سے بھی کہ سلطان ٹرکی کا جو اقتدار اسلامی دنیا میں مانا جاتا ہے اس کو استعمال کرکے قریب قریب تمام دنیا کے مسلمانوں سے ان سلطنتوں کے خلاف جن سے وہ وابستہ ہیں غدر اور فساد برپا کرا دیا جائے یہ ایسی کوشش تھی کہ اگر اس میں کامیابی ہو جاتی۔ تو صرف ایک ہی نتیجہ ہو سکتا تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان خدا کے نزدیک اور اپنی اپنی سلطنتوں کی نگاہ میں مردود ہو جاتے اور دین و دنیا میں ان کا کہیں ٹھکانہ باقی نہ رہتا۔ خداوند کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ جرمنی اور ترکوں کی یہ تدبیر کارگر نہ ہوئی اور خدا نے مسلمانان عالم کی عزت و آبرو رکھ لی۔ اس میں شک نہیں کہ ایک وجہ ایسی موجود تھی جس سے تمام اسلامی دنیا کو ترکی سلطنت کا احترام واجب تھا اور یہ اسی احساس کا معاوضہ تھا جو ترکی حکومت کے حرمین الشریفین کی حفاظت کو اپنے ذمہ لینے سے پیدا ہوتا تھا۔ لیکن ترکوں نے اپنے اس حق کو بھی اپنے ہاتھوں سے تلف کر دیا ہے۔ اگر ترکوں کو ارض مقدس اور حرمین الشریفین کی حفاظت کی کچھ بھی پروا ہوتی تو وہ دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت یعنی انگلستان کے برخلاف کبھی جنگ کا نام نہ لیتے بلکہ صرف اپنے اس فرض کی ادائیگی کی خاطر اس زبردست سلطنت کے ساتھ ہمیشہ مستحکم دوستی رکھتے‘‘۔ (صفحہ ۸۶۔ ۸۹)
    ۲۱۴۔ الفضل ۳/ دسمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۷ کالم ۱۔
    ۲۱۵۔ الفضل ۲۹/ نومبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۱۶۔ الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۲۱۷۔ الفضل ۲۲/ فروری ۱۹۲۳ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۱۸۔ ریکارڈ روئداد اجلاس صدر انجمن احمدیہ نومبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۳۸۰۔
    ۲۱۹۔ ریکارڈ ۳۱۔ ۱۹۳۰ء۔
    ۲۲۰۔ ایضاً ریکارڈ روئداد اجلاس صدر انجمن احمدیہ ۱۹۳۵ء۔
    ۲۲۱۔ مکمل فہرست کے لئے ملاحظہ ہو احمدی جنتری ۱۹۳۷ء صفحہ ۳۸۔ ۳۹۔
    ۲۲۲۔ پیغام صلح یکم دسمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۔
    ۲۲۳۔ خواجہ صاحب نے اندرونی اختلافات سلسلہ کے اسباب میں خود لکھا ہے میرا ارادہ تھا کہ میں فوراً ہی قادیان جائوں (صفحہ ۱۸) مگر فوراً نہ جا سکنے کی وجہ الفضل کا ایک مضمون بتایا ہے جو ان کے لاہور پہنچنے کے چھ دن بعد شائع ہوا۔
    ۲۲۴۔ یہ مفصل واقعہ قاضی محمد یوسف صاحب کی روایت الفضل ۱۵/ مئی ۱۹۴۶ء صفحہ ۵ پر چھپ چکا ہے۔
    ۲۲۵۔ الفضل ۳۱/ دسمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۲۶۔ الفضل ۳۱/ دسمبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۷۷۔ الحکم ۲۱/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۶ کالم ۳ و الفضل ۱۸/ اگست ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۔
    ۲۲۸۔ الحکم ۲۸/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۳ کالم ۲۔
    ۲۲۹۔ الفضل ۴/ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۶‘۱۰/ جون ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۲۳۰۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۷۸۔
    ۲۳۱۔ الفضل ۳/ نومبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۳۲۔ الفرقان۔ قمر الانبیاء نمبر۔ اپریل مئی ۱۹۶۴ء صفحہ ۱۱۔
    ۲۳۳۔ الفضل ۲۳/ جولائی ۱۹۱۴ء‘۲۵/ اکتوبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۵۔ ۶‘۵/ نومبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۸۔
    ۲۳۴۔ یہ نماز ہزاروں کی تعداد میں یورپ‘امریکہ اور آسٹریلیا میں بھیجی گئی۔ (الفضل ۱۲/ نومبر ۱۹۱۴ء) صفحہ ۱۰ کالم ۱۔ ۲ (نوٹ) اس عنوان کے تحت مصنفین سلسلہ کی صرف خاص خاص کتابوں کا تذکرہ ہو گا۔
    ۲۳۵۔ الفضل ۲۳/ جولائی ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۔ ۲۹/ نومبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۷ کالم ۱۔
    ۲۳۶۔ آپ کے حالات کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۲۸ (حاشیہ)
    ‏rov.5.16
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا چھٹا سال
    حواشی (دوسرا باب)
    ۲۳۷۔ الفضل ۲۴/ جنوری ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۲۳۸۔ الفضل ۲۶/ جنوری ۱۹۱۵ء صفحہ ۱‘۲۸/ جنوری ۱۹۱۵ء۔
    ۲۳۹۔ الفضل ۹/ فروری ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ کالم ۱۔ یہ مضمون بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہو گیا۔
    ‏h1] ga[t۲۴۰۔ الفضل ۱۶/ فروری ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ و الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۵ء۔
    ۲۴۱۔ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ ‘۱۱/ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۲۴۲۔ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ ‘۱۱/ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۲۴۳۔ مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت۔ مطبوعہ ۱۹۴۱ء صفحہ ۱۱۸۔
    ۲۴۴۔ ضمیمہ الفضل ۲۸/ جنوری ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔ ۴۔
    ۲۴۵۔ القول الفصل سرورق (مطبوعہ ۳۰/ جنوری ۱۹۱۵ء)
    ۲۴۶۔ عزیز الواعظین حضرت مولانا غلام امام صاحب شاہ جہانپوری ثم اسامی کی تبلیغ سے داخل احمدیت ہوئے سلسلہ کے نہایت فدائی اور بذلہ سنج بزرگ تھے۔ ۱۹۶۴ء میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کے لائق فرزند جناب محمود الحسن صاحب (ریونیو ممبر حکومت مشرقی پاکستان ) ڈھاکہ سے آپ کی نعش ربوہ لے آئے اور آپ مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے۔
    ۲۴۷۔ ریویو آف ریلیجنز اردو اکتوبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۲۴۔ ۲۶۔
    ۲۴۸۔ جیسا کہ تاریخ احمدیت جلد سوم (طبع اول) میں بالتفصیل ذکر آچکا ہے۔ حضرت صوفی صاحب نے ۱۹۰۷ء میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے تحریک فرمانے پر اپنی زندگی وقف کی تھی ۱۹۱۲ء میں آپ بی۔ اے کا امتحان پاس کرکے حضرت خلیفہ اولؓ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ حضرت نے قرآن مجید حفظ کرنے کا ارشاد فرمایا۔ آپ نے بفضلہ تعالیٰ چھ ماہ میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔ ان دنوں دربار خلافت میں نیروبی سے ایک مبلغ بھیجے جانے کی درخواست آئی ہوئی تھی۔ حضرت خلیفہ اول نے آپ کو کینیا کالونی کا پاسپورٹ لینے کا حکم دیا۔ مگر افریقہ کا پاسپورٹ نہ مل سکا اور حضرت خلیفہ اولؓ کا وصال ہو گیا۔ پھر حضرت خلیفہ ثانی کی ہدایت پر آپ نے ماریشس کے لئے پاسپورٹ کی درخواست دی۔ دسمبر ۱۹۱۴ء میں آپ کو پاسپورٹ مل گیا۔ (یہ حالات خود حضرت صوفی صاحب کے قلم سے روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۷ صفحہ ۲۸۵ پر موجود ہیں)
    ۲۴۹۔ الفضل ۲۲/ مارچ ۱۹۲۷ء صفحہ ۳۔
    ۲۵۰۔ روایات صحابہ جلد ۷ صفحہ ۲۸۵۔ ایضاً الفضل ۱۵/ اپریل ۱۹۱۵ء صفحہ ۷ و الفضل ۲۲/ مارچ ۱۹۲۷ء صفحہ ۳۔
    ۲۵۱۔ سیلون میں باقاعدہ مشن اگست ۱۹۵۱ء کو قائم ہوا۔ جس کا ذکر اپنے موقعہ پر آئے گا۔
    ۲۵۲۔ اس مقدمہ کی پوری عدالتی کارروائی ۲۷۳ صفحات میں طبع شدہ ہے۔
    ۲۵۳۔ الفضل ۱۶/ اکتوبر ۱۹۱۷ء۔
    ۲۵۴۔ ریویو آف ریلیجنز اردو۔ اکتوبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۲۷ و الفضل ۱۹/ ۱۵ مئی ۱۹۱۷ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۵۵۔ روائداد مباحثہ دربارہ حیات و وفات عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے نام سے یہ مناظرہ چھپ گیا تھا۔
    ۲۵۶۔ روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۷ صفحہ ۲۸۵۔ ۲۸۶۔ ایضاً و الفضل ۲۲/ مارچ ۱۹۲۷ء صفحہ ۳۔
    ۲۵۷۔ آپ قریباً دو سال تک قادیان میں علم دین حاصل کرنے کے بعد واپس تشریف لے گئے اور اب تک جماعت کے لٹریچر کی فرانسیسی زبان میں منتقل کرنے میں اہم خدمات بجا لا رہے ہیں۔
    ۲۵۸۔ حضرت حافظ صاحب صحابی تھے مئی ۱۹۰۸ء میں آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کے آخری سفر لاہور کے دوران زیارت کی جس کے قریباً دو ہفتہ کے بعد حضور علیہ السلام وصال فرما گئے۔ روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۷ صفحہ ۲۴۸۔ ۱۹۱۶ء میں آپ نے مبلغین کلاس پاس کی۔ (الفضل ۷/ مارچ ۱۹۱۶ء صفحہ ۱)
    ۲۵۹۔ وکالت تبشیر کے ریکارڈ اور جناب صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کی تقاریر سے ماخوذ!! جماعت احمدیہ ماریشس کی مطبوعات Massage’’ ‘‘Le (پہلا سالنامہ مئی ۱۹۶۳ء) اور Khilaafat’’ for ‘‘Victory سے بھی مدد لی گئی۔
    ۲۶۰۔ الفضل ۲۸/ فروری ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۶۱۔ الفرقان ستمبر اکتوبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۷۔
    ۲۶۲۔ الفرقان ستمبر اکتوبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۵۳ (مضمون جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر امیر جماعت احمدیہ لائلپور)
    ۲۶۳۔ حقیقتہ النبوۃ صفحہ ۱۸۵۔ ۱۸۶۔
    ۲۶۴۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب نے ’’حقیقتہ النبوۃ‘‘ کی نسبت ۱۳/ نومبر ۱۹۱۵ء کو ایڈیٹر پیغام صلح کے نام خط لکھا کہ میں نے کتاب حقیقتہ النبوۃ کی تعریف کی تھی۔ مگر اس کے دلائل پر رائے دینے کا حق مجھے حاصل نہیں۔ کیونکہ اختلاف سلسلہ احمدیہ کے متعلق وہی محض رائے دے سکتا ہے جو مرزا صاحب مرحوم کی تصانیف سے پوری آگاہی رکھتا ہو اور یہ آگاہی مجھے حاصل نہیں‘‘۔ پیغام صلح ۲۵/ نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۸۔
    ۲۶۵۔ الفضل ۲۲/ فروری ۱۹۱۶ء صفحہ ۲ کالم ۱۔ خالد۔ اپریل ۱۹۵۴ء صفحہ ۲۶۔ الفضل ۲۵/ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۸۔
    ۲۶۶۔ الفضل ۱۳/ اپریل ۱۹۱۵ء صفحہ ۲ تا ۸۔
    ۲۶۸۲۶۷۔ ‘ الفضل ۱۰/ جون ۱۹۱۵ء صفحہ ۲۰۱ (حضرت مولانا کا خطبہ نکاح الفضل ۱۷/ جون ۱۹۱۵ء میں شائع شدہ ہے)
    ۲۶۹۔ اصحاب احمد حصہ دوم صفحہ ۲۷۸۔
    ۲۷۰۔ الفضل ۲۴/ فروری ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۲۷۱۔ اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۲۹۸۔
    ۲۷۲۔ حضرت ام المومنینؓ کے وصال کے بعد ان کا نام ایک رویاء کی بناء پر نصرت جہاں بیگم رکھ دیا گیا۔
    ۲۷۳۔ اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۳۰۳-
    ۲۷۴۔ الفضل ۸/ جولائی ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۷۵۔ الفضل ۱۵/ جولائی ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۷۶۔ الفضل ۱۵/ جولائی ۱۹۱۵ء صفحہ ۳۔
    ۲۷۷۔ الفضل ۲۶/ ستمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۵۔
    ۲۷۸۔ مائونٹ گراوٹ متصل شہر برزبن ضلع کونیز لینڈ (آسٹریلیا)
    ۲۷۹۔ الفضل ۲/ ستمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۵۔
    ۲۸۰۔ الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۸۵۔
    ۲۸۱۔ الفضل ۲۰/ جولائی ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ کالم ۲۔
    ۲۸۲۔ تاریخ مالا بار (از شیخ محمود احمد صاحب عرفانی) میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
    ۲۸۳۔ الفضل ۹/ ستمبر ۱۹۱۵ء۔
    ۲۸۴۔ مفصل نصائح الفضل ۱۴/ ستمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۴۔ ۵ میں طبع شدہ ہے۔
    ۲۸۵۔ حضرت قاضی صاحب ۲۸/ نومبر ۱۹۱۹ء کو قادیان میں واپس پہنچے۔ (الفضل یکم دسمبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۱)
    ۲۸۶۔ پیغام صلح ۱۹/ ستمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۷۔ ۸ و ۲۱/ ستمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۸۔
    ۲۸۷۔ ملاحظہ ہو فاروق ۷/ اکتوبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۲۸۸۔ فاروق ۶/ اپریل ۱۹۲۵ء صفحہ ۷۔
    ۲۸۹۔ اس کی تفصیل حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے لیکچر نظام آسمانی کا پس منظر میں موجود ہے۔ (اس واقعہ کی تعیین نہیں ہو سکی اندازاً اس سال کے واقعات میں اسے درج کیا جا رہا ہے)
    ۲۹۰۔ الفضل ۴/ اگست ۱۹۳۷ء صفحہ ۴۔
    ۲۹۱۔ الفضل ۱۵/ اکتوبر ۱۹۱۵ء و ۱۴/ نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۲۔
    ۲۹۲۔ گیارھواں ایڈیشن مطبوعہ ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۸ (بحوالہ احمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۱۱۲۴ بار ششم
    ۲۹۳۔ الفضل ۱۴/ نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۲۹۴۔ الفضل ۲۱/ نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۲۹۵۔ نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر صفحہ ۳۸۔ ۴۰ (از سیدنا حضرت خلیفتہ المسسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ)
    ۲۹۶۔ مرحوم کی بیماری وغیرہ کے حالات کے لئے ملاحظہ ہو۔ (الفضل ۱۴/ نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۱۔ ۱۲ و ۲۱/ دسمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۳۔ ۷ و اخبار فاروق ۱۸/ نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۱۔ ۱۲ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے تعزیت نامہ کے لئے ملاحظہ فرمائیں فاروق ۲۵/ نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۰۔
    ۲۹۷۔ ابتداًء اس کے لئے اسلامیہ کالج کے پاس ایک مکان کرایہ پر لیا گیا۔ پھر اسے گوالمنڈی میں منتقل کیا گیا (الفضل ۱۱/ دسمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۸) کچھ عرصہ لارنس روڈ اینگلو بنگلو پر رہا۔ (الفضل مئی ۱۹۱۶ء) اور پھر شاہ ابوالعالی روڈ دیال سنگھ کالج لاہور کے پاس بھی رہا۔ (الفضل ۲۰/ ۱۰ ستمبر ۱۹۲۰ء) اسی طرح ایمپرس روڈ کوٹھی نمبر ۴۰ میں بھی۔
    ۲۹۸`۲۹۹۔ الفضل ۱۱/ دسمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۸ (بابو صاحب کے بعد متعدد سپرنٹنڈنٹ بنے جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔ چوہدری محمد حسین صاحب سابق امیر ضلع ملتان و سیکرٹری تعلیم و تربیت لندن۔ سید دلاور شاہ صاحب بخاری۔ شیخ فضل کریم صاحب پراچہ۔ ملک عبدالرحمن صاحب خادمؓ۔ ماسٹر نذیر خان صاحب۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب۔ چوہدری غلام احمد صاحب ایم۔ اے۔
    ۳۰۰۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء صفحہ ۱۳۲۔ ۱۳۴
    ۳۰۱۔ انگریزی قواعد و ضوابط کی ایک کاپی صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ ۱۹۲۷ء میں محفوظ ہے۔
    ۳۰۲۔ رپورٹ مجلس مشاورت۔
    ۳۰۳۔ الفرقان جنوری ۱۹۵۹ء صفحہ ۱۸ و الفرقان دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۳۸ و الفرقان اپریل `۱۹۶۱ء صفحہ ۳۳۔
    ۳۰۴۔ ایک یوم التبلیغ پر دو ہزار انگریزی ٹریکٹ شائع کرنے کا ذکر سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمدیہ ۳۷۔ ۱۹۳۶ء صفحہ ۲۰۰ پر ہے یہ ہوسٹل ۱۹۴۷ء کے فسادات میں بند ہو گیا تھا اب ستمبر ۱۹۶۴ء سے دوبارہ جاری ہوا۔
    ۳۰۵۔ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۵۴۔ ۳۵۵ (از حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ)
    ۳۰۶۔ الفضل ۲۲/ اکتوبر ۱۹۵۵ء صفحہ ۶ کالم ۱۔ ۲۔ انگریزی پارہ کا عربی متن حضرت پیر منظور محمد صاحب لدھیانوی نے لکھا (الفضل ۱۶/ ستمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ کالم ۱) حضرت مفتی محمد صادق صاحب اس کی چھپوائی کے لئے اور حضرت مولوی شیر علی صاحب اس کی پروف ریڈنگ کے لئے مدراس تشریف لے گئے (الفضل ۱۵/ جولائی ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۱ کالم ۲) اردو تفسیر اسلامیہ سٹیم پریس لاہور میں اور انگریزی تفسیر ایڈیسن پریس مدراس میں طبع ہوئی۔
    ۳۰۷۔ مسلم ورلڈ بابت اپریل ۱۹۱۶ء (بحوالہ ریویو آف ریلیجنز اردو اگست ۱۹۱۶ء صفحہ ۳۰۵۔
    ۳۰۸۔ ریویو آف ریلیجنز اردو جنوری ۱۹۱۷ء صفحہ ۳۲۔
    ۳۰۹۔ ریویو آف ریلیجنز اردو جنوری ۱۹۱۷ء صفحہ ۳۲۔
    ۳۱۰۔ الفضل ۲۴/ اکتوبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۴ کالم ۳۔
    ۳۱۱`۳۱۲۔ قادیان گائیڈ صفحہ ۱۰۰ (از محمد یامین صاحب تاجر کتب قادیان) صفحہ ۱۰۰۔ ۱۰۱۔
    ۳۱۳۔ الفضل ۷/ اپریل ۱۹۴۴ء صفحہ ۷۔
    ۳۱۴۔ تفصیل کے لئے دیکھیں المصلح ۲۳/ ستمبر ۱۹۵۳ء۔
    ۳۱۵۔ انوار خلافت صفحہ ۱۵۳۔ ۱۵۴۔
    ۳۱۶۔ الفضل ۵/ جنوری ۱۹۱۵ء۔
    ۳۱۷۔ الفضل ۳۔ ۵/ اکتوبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۳۱۸۔ الفضل ۱۹/ اکتوبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۳۱۹۔ الفضل ۱/ نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ کالم ۱۔ جہاد کبیر صفحہ ۱۴۵۔
    ۳۲۰۔ الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔
    ۳۲۱۔ اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۹۶۔ ۱۰۲۔
    ۳۲۲۔ الفضل ۱۴/ مارچ ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ کالم ۳۔
    ۳۲۳۔ الفضل ۲۷/ اپریل ۱۹۱۵ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۳۲۴۔ الفضل ۱۶/ جون ۱۹۱۵ء صفحہ ۱ کالم ۲۔ اس مباحثہ کا فیصلہ جو شیخ محمد عمر صاحب بی۔ اے ایل۔ ایل۔ بی وکیل چیف کورٹ (ثالث فریقین) نے کیا۔ قول فیصل کے نام سے طبع شدہ ہے۔
    ۳۲۵۔ الفضل ۲۰/ جولائی ۱۹۱۵ء صفحہ ۵۔ ۷۔
    ۳۲۶۔ الفضل ۱۰/ دسمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۵۔
    ۳۲۷۔ اخبار نور ۱۷/ اکتوبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۲۔
    ۳۲۸۔ دوسرا حصہ ۱۹۲۱ء میں شائع ہوا۔
    ۳۲۹۔ حضرت مسیح موعودؑ سے پروفیسر صاحب کی ملاقات کا تفصیلی ذکر تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۵۳۵۔ ۵۳۶ پر گزر چکا ہے۔
    ۳۳۰۔ الفضل ۴/ جنوری ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔ مفصل گفتگو الفضل ۱۵/ جنوری ۱۹۱۶ء صفحہ ۳۔ ۶ اور فاروق ۱۳/ جنوری ۱۹۱۶ء صفحہ ۲ میں چھپ گئی تھی۔ ان مہمانوں کے قیام اور ملاقات کا انتظام حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے سپرد تھا۔ (اصحاب احمد جلد نہم حاشیہ صفحہ ۱۱۲)
    ۳۳۱۔ اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ ۶۴۔ ۶۵۔
    ۳۳۲۔ احمدیہ موومنٹ۔
    ۳۳۳۔ تفسیر کبیر (سورۃ الکوثر صفحہ ۴۷۶ (از حضرت خلیفتہ المسیح الثانی)
    ۳۳۴۔ ریویو آف ریلیجنز جون۔ جولائی ۱۹۴۳ء صفحہ ۳۶۰۔
    ۳۳۵۔ الفضل ۱۵/ فروری ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔
    ۳۳۶۔ تذکرہ طبع دوم صفحہ ۷۷۸۔
    ۳۳۷۔ الفضل ۹/ دسمبر ۱۹۲۷ء صفحہ ۸۔
    ۳۳۸۔ الفضل ۴/ مارچ ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔
    ۳۳۹۔ کلام حسن صفحہ ۶۷۔
    ۳۴۰۔ یہ جلسہ راما تھیٹر ہال میں ہوا تھا۔
    ۳۴۱۔ حضرت مولانا میر محمد اسحٰق صاہب نے عربی میں لیکچر دیا تھا۔ اور چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب۔ مولوی محمد الدین صاحب اور چوہدری ابو الہاشم خان صاحب نے انگریزی میں حضرت میر صاحب نے ایک لیکچر اردو میں بھی دیا تھا۔
    ۳۴۲۔ الفضل ۱۸/ مارچ ۱۹۱۶ء صفحہ ۲۔ ۱۳۔ حضور نے جس مصروفیت اور جوش کے عالم میں اس مضمون کی تکمیل فرمائی۔ اس کی نسبت الفضل ۷/ مارچ ۱۹۱۶ء صفحہ ۱ پر لکھا ہے کہ آپ نے ایک حصہ تو ظہر تک لکھ کر امیر قافلہ مولوی محمد الدین صاحب بی۔ اے کے سپرد کیا۔ دوسرا حصہ ۲ بجے رات کے منشی فخر الدین کے ہاتھ بھجوایا پھر جمعہ کی نماز کے بعد شیخ عبدالخالق صاحب دہلی جا رہے تھے چند اوراق انہیں دیئے اور ایک حصہ دو گھنٹے کے بعد ماسٹر عبدالعزیز صاحب نے سائیکل سے جا کر اسٹیشن بٹالہ پر شیخ عبدالخالق صاحب کو پہنچایا اور باقی مضمون تین بجے رات کو حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی لے کر دلی کو روانہ ہوئے۔
    ۳۴۳۔ الفضل ۲۲/ اپریل ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۲۔
    ۳۴۴۔ الفضل ۲۷/ مئی ۱۹۱۶ء صفحہ ۳۔
    ۳۴۵۔ الفضل ۲۹/ اپریل ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۲۔
    ۳۴۶۔ الفضل ۱۸/ جون ۱۹۱۶ء صفحہ ۴۔
    ۳۴۷۔ الفضل ۲۹/ جولائی ۱۹۱۶ء صفحہ ۷۔ و الفضل ۸/ اگست ۱۹۱۶ء صفحہ ۶۔ ۱۲۔
    ۳۴۸۔ الفضل ۸/ جولائی ۱۹۱۶ء صفحہ ۲۔
    ۳۴۹۔ الفضل ۸/ اگست ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔
    ۳۵۰۔ الفضل ۲۹/ اگست ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔
    ۳۵۱۔ اخبار نور ۳/ نومبر ۱۹۱۶ء ضمیمہ (ب)
    ۳۵۲۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۹۵۔ ۲۸۵۔ جغرافیہ پرھانے کے دوران کا ایک واقعہ الفضل سالانہ جلسہ نمبر ۱۹۶۳ء صفحہ ۳۳ پر ملاحظہ ہو۔
    ۳۵۳۔ اخبار نور ۳/ نومبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۳۔ الفضل ۲۵/ نومبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۸/ ۷
    ۳۵۴۔ الفضل ۲۵/ نومبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۸۔
    ۳۵۵۔ الفضل ۱۳/ جنوری ۱۹۱۷ء صفحہ ۲۔
    ۳۵۶۔ الفضل ۲۲/۱۹ دسمبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۳۵۷۔ الفضل ۲/ جنوری ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۳۵۸۔ الفضل ۱۶/ ۱۲ دسمبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔ و الفضل ۲۲/ ۱۹ دسمبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۸۔ ۲۰۔
    ۳۵۹‘۳۶۰۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۶ء صفحہ ۴۶۴ و قادیان گائیڈ صفحہ ۷۲۔ حضرت خلیفہ اولؓ کا کتب خانہ اس وقت تک آپ کے گھر میں رکھا تھا۔
    ۳۶۱۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۷ء صفحہ ۳۶۶۔ ایضاً سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمدیہ ۳۳۔ ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۳۷۔۳۶۲۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۲۹ء صفحہ ۶۲۔
    ۳۶۳۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۲۹ء صفحہ ۳۵۷۔ ۳۵۹۔
    ۳۶۴۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۸۴۔
    ۳۶۵۔ رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ۵۳۔ ۱۹۵۲ء صفحہ ۳۲۔
    ۳۶۶۔ ضمیمہ الفضل ۱۶/ دسمبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۶/ ۵ اس ضمیمہ میں حضور نے اسلام کے عنوان سے مستوارت کے لئے ایک مضمون بھی شائع کیا۔
    ۳۶۷۔ اس سال مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی بچارے اپنی پیرانہ سالی اور بیماری کے باعث غیر مبایعین سے متاثر ہو گئے تھے اور انہوں نے اعلان کیا تھا کہ میں میاں محمود احمد صاحب کو خلافت سے معزول کرتا ہوں حضرت اقدس نے پہلی تقریر میں اس امر کا بھی ذکر فرما کر پورے جلال کے ساتھ اعلان فرمایا۔ ’’خلیفہ اگر خدا بناتا ہے اور واقعہ میں خدا ہی بناتا ہے تو مولوی محمد احسن کیا دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو اسے معزول کر سکتے ہوں۔ ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اعلان کرتا ہوں کہ جس کسی نے ان کی دی ہوئی خلافت سمجھ کر میری بیعت کی تھی وہ اپنی بیعت فخ کرنے میں آزاد ہے‘‘۔ (ذکر الٰہی طبع اول صفحہ ۱۳۔ ۱۴) حضرت مولوی محمد احسن صاحب بعد کو حضور کی خدمت میں قادیان تشریف لائے اور صاف اقرار کیا کہ حق قادیان میں ہے لیکن ساتھ ہی آبدیدہ ہو کر کہنے لگے کہ میں بڑھاپے میں اپنی بیوی کا محتاج ہوں مگر بیوی کو لاہوریوں نے لالچ دیا ہوا ہے اس لئے میں بھی ان کے ساتھ جانے پر مجبور ہوں۔ (الفضل ۲۳/ ستمبر ۱۹۵۹ء صفحہ ۳)
    ۳۶۸۔ تفسیر کبیر (سورہ التطفیف) صفحہ ۳۱۵ (از حضرت خلیفہ ثانی)
    ۳۶۹۔ الفضل ۲/ ستمبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔
    ۳۷۰۔ الفضل ۴۔ ۸۔ ۱۸/ اپریل‘۲۴/ اکتوبر ۱۹۱۶ء۔
    ۳۷۱۔ الفضل ۵/ ۲ دسمبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔
    ۳۷۲۔ الفضل ۳۰/ ستمبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔
    ۳۷۳۔ الفضل ۱۶/ مئی ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔
    ‏h1] gat[۳۷۴۔ مباحثہ احمدیاں و غیر احمدیاں کے نام سے کتابی صورت میں طبع شدہ ہے۔
    ۳۷۵۔ یہ مباحثہ بھی مباحثہ سرگودھا کے نام سے شائع ہو گیا تھا۔
    ۳۷۶۔ الفضل ۴/ جولائی ۱۹۱۶ء صفحہ ۲۔
    ۳۷۷۔ الفضل ۱۵/ جولائی ۱۹۱۶ء صفحہ ۲۔
    ۳۷۸۔ الفضل ۲۲/ اگست ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۔
    ۳۷۹۔ فتح مبین کے نام سے چھپا ہوا ہے۔
    ۳۸۰۔ اخبار نور ۱۷/ اپریل ۱۹۱۶ء صفحہ ۳۔
    ۳۸۱۔ الفضل ۵/ ۲ دسمبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۲۔
    ۳۸۲۔ الفضل ۱۳/ مارچ ۱۹۴۶ء صفحہ ۲۔
    ۳۸۳۔ الفضل ۲۸/ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۱۳۔
    ۳۸۴۔ الفضل ۷/ مارچ ۱۹۶۴ء صفحہ ۵۔
    ۳۸۵۔ الفضل ۴۔ ۸/ اپریل ۱۹۱۶ء صفحہ ۲۰۔
    ۳۸۶۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹینکا زیر لفظ ‘‘RUSSIA’’
    ۳۸۷۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں تاریخ احمدیت جلد سوم (طبع اول) صفحہ ۴۰۳‘۴۰۵۔ ایضاً ڈاکٹر محمد شاہ نواز صاحب کے مضامین مطبوعہ ریویو آف ریلیجنز اردو جنوری فروری ۱۹۳۵ء۔
    ۳۸۸۔ جناب مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار نے ’’خدائے قادیان اور زار روس‘‘ کے عنوان سے ایک نظم بھی کہی جس کے چند شعر یہ تھے۔ ~}~
    زار کی لفظی رعایت نے یہ سمجھایا تھا قول
    زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی با حال زار
    بعد مردن اتفاقاً چھڑ گئی جنگ فرنگ
    رنگ لائی مدتوں میں گردش لیل و نہار
    زار سے چھنوا دیا قسمت نے اس کا تخت و تاج
    کیونکہ قسمت کا نہیں دنیا میں کچھ بھی اعتبار
    حال اسی کو غیب کے اسرار کا معلوم ہے
    بادشاہی اور گدائی پر ہے جس کا اختیار
    (ارمغان قادیان صفحہ ۱۹۔ - ۲۰)
    ۳۸۹۔ ریویو آف ریلیجنز اردو ۱۵/ جولائی ۱۹۱۷ء صفحہ ۲۹۶۔
    ۳۹۰۔ الفضل ۱۴/ جولائی ۱۹۱۷ء صفحہ ۸۔
    ۳۹۱۔ حضرت ڈاکٹر صاحب ان دنوں ریاست پٹیالہ میں ملازم تھے اور ریاست سے فارغ ہونا مشکل تھا اور شروع میں حضرت ڈاکٹر صاحب بلا تنخواہ رخصت پر قادیان آئے تھے (ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۹ء)
    ۳۹۲۔ ایضاً ریکارڈ ۱۹۲۱ء۔
    ۳۹۳۔ اصحاب احمد جلد ہشتم صفحہ ۱۲۳۔
    ۳۹۴۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۳۰ء (نور ہسپتال کا ایک کمرہ ملک صاحب خان صاحب نون کے خرچ پر تعمیر ہوا) ریکارڈ ۱۹۲۸ء۔
    ۳۹۵۔ الفضل ۴/ اگست ۱۹۱۷ء صفحہ ۱ و الحکم ۲۸/ نومبر ۱۹۲۱ء صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۳۹۶۔ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۵۸۔
    ۳۹۷۔ الفضل ۲۲/ ستمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۳۹۸۔ الفضل ۱۹/ ۱۵ مئی ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۰۔ ۱۱۔
    ۳۹۹۔ الفضل ۸/ ستمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۷۔
    ۴۰۰۔ الفضل یکم ستمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۱ و ۱۳/ اکتوبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۴۰۱۔ ملاحظہ ہو ضمیمہ الفضل ۲۲/ ستمبر ۱۹۱۷ء۔
    ۴۰۲۔ زندہ مذہب صفحہ ۲۹۔ (از حضرت خلیفہ ثانی)
    ۴۰۳۔ سنور میں حضور حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری‘منشی محمد تقی صاحب اور مولوی قدرت اللہ صاحب کے گھر بھی تشریف لے گئے تھے۔
    ۴۰۴۔ الفضل ۱۶/ اکتوبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۴ (لیکچر کے لئے ملاحظہ فرمائیں ۱۵/ دسمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۳۔ ۱۵۔
    ۴۰۵۔ اس ضمن میں حضرت مسیح موعودؑ کی ۱۹۰۵ء میں درگاہ میں ملاقات اور حضور کی خط و کتابت کا ذکر تاریخ احمدیت جلد سوم (طبع سوم) صفحہ ۴۳۷ پر گزر چکا ہے ہم یہاں یہ مزید بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحبؓ کی وفات پر حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں یکم اکتوبر ۱۹۰۷ء کو ریاست مانگرول (کاٹھیا واڑ) سے مندرجہ ذیل تعزیت نامہ لکھا۔ قدسی صفات۔ سراپا نوازش و الطاف مرزا صاحب! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔۔۔۔ الحکم آیا اور عزیز مبارک احمد کی وفات معلوم ہوئی۔ جس کے پڑھنے سے اس قدر غم واندوہ ہوا ہے کہ ظاہر نہیں کر سکتا۔ زمانہ قیام دہلی میں عزیز مرحوم کو دیکھا تھا کیا پیارا بچہ تھا۔ اگرچہ آپ کو صبر و رضا کی تلقین لقمان کو حکمت سکھانا ہے تاہم رسمی طور پر اس نیت سے یہ نامہ ارسال ہے گو آپ کو اور آپ کی جماعت کو اس ابتلا میں قلبی اطمینان میسر ہو گیا ہو گا مگر افسوس کہ میں بسبب اس محبت کے جو مجھ کو آپ اور آپ کی جماعت سے ہے عزیزم مرحوم کی ناگہانی وفات کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اور سخت قلق میں ہوں۔ خواجہ حسن نظامی خواہر زاد حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی دہلی۔
    ۴۰۶۔ رسالہ نظام المشائخ دہلی محرم ۱۳۳۶ھ صفحہ ۵۲۔ ۵۳۔ بعنوان اجمیر شریف میں بلاوا۔
    ۴۰۷۔ الفضل ۱۸/ دسمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۸۔ ۹۔
    ۴۰۸۔ ستارہ صبح ۳۱/ دسمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۲ جلد ۱ نمبر ۱۰۰۔
    ۴۰۹۔ رسالہ مرشد نمبر ۱ بحوالہ الفضل ۱۴ مئی ۱۹۱۸ء صفحہ ۵۔
    ۴۱۰۔ بحوالہ الفضل ۱۸/ ۱۵ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۴۔
    ۴۱۱۔ ]h2 [tag تاریخ ہند و پاک صفحہ ۲۳۸ مطبوعہ حجازی پریس لاہور۔
    ۴۱۲۔ حیات محمد علی جناح صفحہ ۶۱ (از سید رئیس احمد جعفری) طبع دوم۔
    ۴۱۳۔ برکات خلافت صفحہ ۵۳۔ ۶۴۔ (تقریر سیدنا حضرت خلیفہ ثانی برسالانہ جلسہ ۱۹۱۵ء)
    ۴۱۴۔ رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ۱۸۔ ۱۹۱۷ء صفحہ ۵ و الفضل ۱۷/ نومبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۴۱۵۔ ممبر حضرت نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب۔ خان بہادر راجہ پائندہ خاں جنجوعہ جہلم۔ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب۔ عبداللہ بھائی الہ دین صاحب سکندر آباد دکن۔ مولوی غلام اکبر خان صاحب وکیل ہائیکورٹ حیدر آباد دکن۔ حضرت مولوی شیر علی صاحب۔ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال۔
    ۴۱۶۔ ریویو آف ریلیجنز اردو دسمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۴۵۳۔ ۴۵۷۔ ۴۵۸۔
    ۴۱۷۔ بحوالہ الفضل ۲۰/ نومبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۱۔
    ۴۱۸۔ الفضل ۲۰/ نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۴۱۹۔ الفضل ۷/ جولائی ۱۹۳۲ء صفحہ ۸۔ ۹۔
    ۴۲۰۔ الفضل ۲۴/ نومبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۲۔
    ۴۲۱۔ الفضل ۲۲/ دسمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۵۔
    ۴۲۲۔ رپورٹ محکمہ نظارت جماعت احمدیہ صفحہ ۱۰۔
    ۴۲۳۔ الحکم ۷/ مئی ۱۹۲۱ء صفحہ ۵۔ الفضل ۱۷/ جولائی ۱۹۴۳ء صفحہ ۵۔
    ۴۲۴۔ الفضل ۲۷/ فروری ۱۹۱۷ء صفحہ ۱‘۱۴/ ۱۰ ۱ اپریل ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۴۲۵۔ الفضل ۲۷/ جنوری ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۴۲۶۔ فاروق ۶/ ستمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۳۔
    ۴۲۷۔ الفضل ۳۰/ ستمبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۴۔
    ۴۲۸۔ فاروق ۱۲/ اپریل ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۴۲۹۔ الفضل ۱۳/ ۱۰ اپریل ۱۹۱۷ء صفحہ ۳ ‘۱۰/ اپریل ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۰۔
    ۴۳۰۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۷ء۔
    ۴۳۱۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۷ء۔
    ۴۳۲۔ قادیان گائیڈ صفحہ ۱۰۲۔
    ۴۳۳۔ اخبار نور ۱۷/ ۳ مئی ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۴۳۴۔ الفضل ۳/ مارچ ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۴۳۵۔ الفضل ۱۷/ مارچ ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۲۔
    ۴۳۶۔ h2] gat[ الفضل ۱۸/ اگست ۱۹۱۷ء صفحہ ۱ و سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۵۸۔
    ۴۳۷۔ الفضل ۷/ مارچ ۱۹۱۷ء صفحہ ۹۔
    ۴۳۸۔ اخبار نور ۱۷/ اگست ۱۹۱۷ء صفحہ ۸۔
    ۴۳۹۔ فاروق ۶/ ستمبر صفحہ ۳۔ ۴ و ۲۷/ ستمبر ۱۹۱۷ء صفحہ ۳۔ ۸۔
    ۴۴۰۔ الفضل ۲۸/ جولائی ۱۹۱۷ء صفحہ ۱۔
    ۴۴۱۔ بحوالہ الفضل ۹/ فروری ۱۹۱۸ء صفحہ ۳۔
    ۴۴۲۔ الفضل ۴/ مئی ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۔
    ۴۴۳۔ الفضل ۱۱/ مئی ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۔
    ۴۴۴۔ الفضل ۱۸/ جون ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۔
    ۴۴۵۔ مکتوب حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بنام مولف کتاب محررہ ۳۱/ جولائی ۱۹۶۴ء۔
    ۴۴۶۔ الفضل ۲۰/ اگست ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۔
    ۴۴۷۔ الحکم ۷/ جولائی ۱۹۱۸ء صفحہ ۴۔
    ۴۴۸۔ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۵۸۔ ۳۵۹۔ (از حضرت میرزا بشیر احمد صاحبؓ)
    ۴۴۹۔ حضرت امیر المومنین کو انفلو انزا کی وجہ سے ہر وقت حرارت رہتی تھی۔ اور ضعف قلب کا عارضہ بھی لاحق ہو گیا تھا حضور کی بیماری پر حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب تار دے کر بلوائے گئے۔ حضرت میر صاحب تو قادیان پہنچنے کے دوسرے تیسرے روز خود انفلو انزا میں مبتلا ہو گئے۔ مگر حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو قریباً سوا تین ماہ حضور کی خدمت میں رہ کر تیمارداری اور علاج کا موقعہ ملا۔ رات کو حضور کے پاس صرف حضرت ڈاکٹر صاحب ہی ہوتے۔ اکثر کھانا بھی حضور کے ساتھ کھاتے تھے۔ حضور نے انہیں پہلا حکم یہ دیا کہ میری اجازت کے بغیر کمرہ سے باہر نہ جائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے حضور کا بول و براز ٹسٹ کرانے کے لئے لاہور کے پتھالوجیکل ڈیپارٹمنٹ میں بھجوایا جہاں ڈاکٹر عبدالغنی صاحب کڑک کام کرتے تھے۔ تشخیص کا نتیجہ سامنے آنے پر حضرت ڈاکٹر صاحب نے ایک نئی ایجاد شدہ دوا کے چھ ٹیکے منگوائے اب سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ نئی قسم کا ٹیکہ حضور کے لگایا بھی جائے یا نہیں۔ اس بارے میں بعض احباب متامل تھے کہ مبادا کوئی بری علامت پیدا ہو جائے مگر حضرت ڈاکٹر صاحب کو یقین تھا کہ یہ علاج انشاء اللہ ضرور کارگر ہو گا۔ اس لئے آپ نے پسند کیا کہ بطور تجربہ ایک ٹیکہ آپ کے لگا کر نتیجہ دیکھ لیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد جب کوئی بری علامت ظاہر نہ ہوئی۔ پھر تو حضور کے بھی ٹیکہ لگایا گیا۔ دوسرے ٹیکہ کے بعد حضور کی بیماری ختم ہو گئی اور تیسرے ٹیکہ کی ضرورت نہ رہی۔ (نیز ملاحظہ ہو اصحاب احمد جلد ہشتم صفحہ ۱۱۶۔ ۱۱۷)
    ۴۵۰۔ یعنی حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ۔ ناقل۔
    ۴۵۱۔ حضرت مولانا شیر علی صاحب کے قلم سے لکھی ہوئی اصل وصیت خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔
    ۴۵۲۔ اخبار حق لاہور ۲۳/ نومبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۴۵۳۔ یادگار جنگ صفحہ ۳۷۔ ۳۸ (شائع کردہ پنجاب پبلسٹی کمیٹی لاہور)
    ۴۵۴۔ اخبار حق لاہور ۲۳/ نومبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۔
    ۴۵۵۔ الفضل ۳/ دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۲۔
    ۴۵۶۔ الفضل ۷/ دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۱۔
    ۴۵۷۔ الفضل ۲۶/ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۳۔
    ۴۵۸۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ اکتوبر ۱۹۱۸ء۔
    ۴۵۹۔ الفضل ۲۹/ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۴۔
    ۴۶۰۔ الفضل ۲۳/ نومبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۴۶۱۔الحکم ۱۴/ ۷ دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۸۔
    ۴۶۲۔ الفضل ۲۶/ جنوری ۱۹۱۸ء صفحہ ۲۔
    ۴۶۳۔ الفضل ۲۲/ جون ۱۹۱۸ء صفحہ ۲۔
    ۴۶۴۔ ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۱۸ء۔
    ۴۶۵۔ الفضل ۱۲/ فروری ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۰۔ ۱۱۔
    ۴۶۶۔ اخبار نور ۳/ فروری ۱۹۱۸ء صفحہ ۷۔ ۱۵۔
    ۴۶۷۔ الفضل ۱۲/ مارچ ۱۹۱۸ء صفحہ ۲۔
    ۴۶۸۔ ’’فیصلہ حکم‘‘ کے نام سے چھپ گیا تھا۔
    ۴۶۹۔ الفضل یکم جون ۱۹۱۸ء صفحہ ۹۔
    ۴۷۰۔ الفضل ۲۸/ مئی ۱۹۱۸ء صفحہ ۲۔
    ۴۷۱۔ تشحیذ الاذہان دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۹۔ ۲۶۔
    ۴۷۲۔ سیٹھ صاحب کا وطن مالوف چنیوٹ ضلع جھنگ ہے آپ کے والد ماجد میاں حاجی سلطان محمود صاحب نے چنیوٹ میں اسلامیہ ہائی سکول جاری کیا۔ جس کی وجہ سے اپنی برادری میں بانی خطاب پایا حاجی تاج محمود صاحب مرحوم جن کا انتقال جولائی ۱۹۶۴ء میں ہوا آپ کے سگے چچا تھے۔ (الفضل ۱۸/ ستمبر ۱۹۶۴ء صفحہ ۴)
    ۴۷۳۔ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۶۲۔ ۳۶۳ و الفضل ۳/ نومبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۳ (تقریر سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی)
    ۴۷۴۔ رپورٹ محکمہ نظارت (از یکم جنوری ۱۹۱۹ء تا مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۲ (شائع کردہ حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ ناظر اعلیٰ) و الفضل یکم اپریل ۱۹۱۹ء صفحہ ۷۔ ۸۔
    ۴۷۵۔ الفضل ۴/ جنوری ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۔ ۲۔ نظارتوں کی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ طبع شدہ ہے۔
    ۴۷۶۔ الفضل ۳۱/ اکتوبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۳‘۳/ نومبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۳۔
    ۴۷۷۔ الفضل ۳/ نومبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۳۔
    ‏]1h [tag۴۷۸‘۴۷۹۔ ۲۹/ نومبر ۱۹۵۵ء کو نظارت دعوۃ و تبلیغ ختم کر دی گئی اور فیصلہ ہوا کہ جماعت بہت بڑھ چکی ہے اور جماعتی تربیت کی طرف بہت ضرورت ہے اس لئے نظارت تعلیم و تربیت دو نظارتوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ اول نظارت تعلیم دوم نظارت رشد و اصلاح۔ نظارت رشد و اصلاح کے کارکن اپنے گریڈ کے لحاظ سے علی الترتیب (۱) مربی (۲) معلم کے نام سے موسوم ہوں گے۔ اس فیصلہ کے مطابق نظارت تعلیم وتربیت کا تربیتی حصہ عملہ و بجٹ سمیت نظارت رشد و اصلاح کی طرف منتقل کر دیا گیا۔
    ۴۸۰۔ h2] gat[ الفضل ۲۱/ نومبر ۱۹۲۵ء صفحہ ۱ (یکم مئی ۱۹۲۶ء کو حضور نے نظارت تجارت کا اضافہ کیا اور اس کے پہلے (آنریری) ناظر حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو مقرر فرما کر ارشاد فرمایا کہ شاہ صاحب ہر تجارتی معاہدہ مرزا شریف احمد صاحب کے مشورہ سے کریں گے (ریکارڈ صدر انجمن احمدیہ ۱۹۲۶ء) تقسیم ملک کے بعد نظامت خدمت و رویشاں نظامت دیوان اور نظارت زراعت کا بھی قیام عمل میں آیا۔
    ۴۸۱۔ الفضل ۱۵/ فروری ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۔
    ۴۸۲۔ الفضل ۴/ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ‏h1] ga[t۴۸۳۔ اس تقریر کا ملخص ریویو آف ریلیجنز اردو ستمبر۔ اکتوبر ۱۹۱۹ء میں شائع ہوا۔
    ۴۸۴۔ الفضل ۸/ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۔
    ۴۸۵۔ الفضل ۸/ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۳۔
    ۴۸۶۔ الفضل ۸/ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۵۔ غیر مبائع اخبار پیغام صلح نے ۲/ مارچ ۱۹۱۹ء کی اشاعت میں ’’میاں صاحب کا ایک قابل قدر لیکچر‘‘ کے عنوان سے لکھا۔ علانیہ اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ ۲۶/ فروری ۱۹۱۹ء کو حبیبیہ ہال لاہور میں خلافت اسلامیہ کے اندرونی اختلافات‘‘ پر جو لیکچر انہوں نے دیا وہ نہایت ہی قابل قدر اور لائق تحسین تھا جس محنت اور جس قابلیت کے ساتھ میاں صاحب نے تاریخ کی ورق گردانی کرکے ان اسباب کو معلوم کیا ہے جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات اور آپس کی نزاعات اور جنگوں کا باعث تھے اور جس خوبی کے ساتھ اس الزام کو کہ صحابہ رضی اللہ عنہم دراصل ان فتنوں کے موجب تھے ان خیر القرون کے بزرگوں سے اتارنے کی کوشش کی ہے۔ وہ داد دینے کے قابل ہے۔
    ۴۸۷۔ ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘ بار دم سر ورق صفحہ ۲۔
    ۴۸۸۔ الفضل ۲۹/ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۴۸۹۔ قادیان گائید صفحہ ۸۶۔ اس نئے قبرستان میں سب سے پہلے امتہ الرشید بنت محمد یامین صاحب تاجر کتب آف قادیان حال (ربوہ) دفن ہوئی۔
    ۴۹۰۔ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۵۹۔ ۳۶۰ (از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) سرگزشت صفحہ ۶۰۔ ۶۳ (از عبدالمجید سالک) تاریخ ہند حصہ دوم صفحہ ۲۴۴۔ ۲۴۵۔ (مطبوعہ حجازی پریس لاہور)
    ۴۹۱۔ ملاحظہ ہو الفضل ۱۰/ مئی ۱۹۱۹ء۔
    ۴۹۲۔ سول اینڈ ملٹری گزٹ ۲/ مئی ۱۹۱۹ء (بحوالہ الفضل ۱۰/ مئی ۱۹۱۹ء صفحہ ۳)
    ۴۹۳۔ ترک موالات اور احکام اسلام صفحہ ۲۔ ۳ (از حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ)
    ۴۹۴۔ ترک موالات اور احکام اسلام۔ صفحہ ۴۔ ۵ (ملخصاً)
    ۴۹۵۔ الفضل ۲۲/ فروری ۱۹۱۹ء صفحہ ۳۔
    ۴۹۶۔ الفضل ۲۲/ فروری ۱۹۱۹ء صفحہ ۳۔
    ۴۹۷۔ الفضل ۲۱/ اکتوبر ۱۹۱۹ء۔
    ۴۹۸۔ الفضل ۲/ فروری ۱۹۲۰ء صفحہ ۵۔
    ۴۹۹۔ اس کا انگریزی ایڈیشن Turkey’’ of Future ehT‘‘ کے نام سے شائع شدہ ہے۔
    ۵۰۰۔ الفضل ۲۷/ ستمبر ۱۹۱۹ء۔
    ۵۰۱۔ الفضل ۲۲/ دسمبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۳۔
    ۵۰۲۔ رپورٹ محکمہ نظارت جماعت احمدیہ صفحہ ۱۰۔
    ۵۰۳۔ جمعدار فضل دین صاحب کا تحریری بیان ہے کہ اس تقریر کے دوران میرے پاس ایک بزرگ عبداللہ نامی بیٹھے تھے انہوں نے حضور کی خدمت میں اپنا نام لکھے بغیر یہ سوال لکھ بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے علم کی وجہ سے انسان تقدیر کے مطابق کام کرنے پر مجبور ہے۔ عجیب بات ہے کہ ابھی سوال کا کاغذ حضور تک پہنچنے بھی نہ پایا تھا کہ حضور نے از خود عبداللہ کا نام بطور مثال لے کر اس اعتراض کا جواب دینا شروع کر دیا۔ جو تقدیر الٰہی طبع اول (صفحہ ۱۰۹۔ ۱۱۰) پر موجود ہے۔
    ۵۰۴۔ اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۳۰۳۔
    ۵۰۵۔ الفضل ۱۷/ مئی ۱۹۱۹ء صفحہ ۵۔
    ۵۰۶۔ الفضل ۱۶/ ستمبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۸۔
    ۵۰۷۔ الفضل ۲۱/ جون ۱۹۱۹ء صفحہ ۴ کالم ۳۔
    ۵۰۸۔ الفضل ۲۸/ جنوری ۱۹۱۹ء صفحہ ۹۔ ۱۰۔
    ۵۰۹۔ h2] gat[ الفضل ۲۹/ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۹۔
    ۵۱۰۔ الفضل ۲۶/ جولائی ۱۹۱۹ء صفحہ ۸۔
    ۵۱۱۔ الفضل ۳۰/ ستمبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۔
    ‏rov.5.17
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا ساتواں سال
    تیسرا باب (فصل اول)
    دارالتبلیغ امریکہ کی بنیاد سے لے کر
    ’’لجنہ اماء اللہ‘‘ کے قیام تک
    خلافت ثانیہ کا ساتواں سال
    (جنوری ۱۹۲۰ء تا دسمبر ۱۹۲۰ء بمطابق ربیع الاخر ۱۳۳۸ھ تا ربیع الاخر ۱۳۳۹ھ تک)
    دارالتبلیغ امریکہ کی بنیاد
    ۱۹۲۰ء کے سال کو ایک نمایاں خصوصیت یہ حاصل ہے کہ اس میں سلسلہ احمدیہ کی باقاعدہ تبلیغی مہم پرانی دنیا کی حدود سے نکل کر نئی دنیا میں جا پہنچیں اور امریکہ میں مستقل مرکز کی بنیاد پڑی۔ یہ وہی امریکہ ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی پیشیگوئی کے مطابق ڈاکٹر الیگزنڈر ڈوئی فالج زدہ ہوکر کچھ دنوں کے بعد ۹ مارچ ۱۹۰۷ء کو بڑی حسرت واندوہ کی حالت میں ختم ہو گیا۔ ۱ ڈوئی اس عداوت و دشمنی کا بدترین نمونہ تھا۔ جو امریکن پادریوں کو اسلام اور بانی اسلام حضرت رسول خدا محمد مصطفیٰ~صل۱~ سے رہی ہے۔
    دراصل امریکہ کے پادری گذشتہ صدی سے تمام عالم اسلام حتیٰ کہ مرکز اسلام مکہ معظمہ پر بھی صلیب کے جھنڈے لہرانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ مسٹر جان ہنری بیرس berose( Henry )Gohn نے گذشتہ صدی کے نصف آخر میں کہا تھا کہ صلیب کی چمکار آج ایک طرف لبنان پر ضوافگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کی چمک سے جگمگا رہا ہے یہ صورت حال پیش خیمہ ہے اس آنے والے انقلاب کا جب قاہرہ دمشق اور تہران کے شہر خداوند یسوع کے خدام سے آباد نظر آئیں گے۔ حتیٰ کہ صلیب کی چمکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی وہاں بھی پہنچے گی۔ اس وقت خداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ذریعہ مکہ کے شہر اور خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہوگا ۲
    یہ حالات تھے جن میں حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو جو اس وقت انگلستان میں تھے امریکہ چلے جانے کا حکم صادر فرمایا۔ آپ ۲۶ جنوری ۱۹۲۰ء کو انگلسان کی بندرگاہ لور پول سے روانہ ہوئے۳ اور ۱۵ فروری ۱۹۲۰ کو امریکہ کی بندرگاہ فلاڈلفیا پر اترے لیکن شہر کے اندر داخل نہ ہو سکے کیونکہ راہداری کے انسپکٹر نے کئی گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد صرف اس وجہ سے کہ آپ ایک ایسے مذہب کے داعی و مبلغ تھے جو تعدد ازدواج کی اجازت دیتا ہے آپ کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی۔ اور فیصلہ کیا کہ آپ جس جہاز میں آئے ہیں اسی میں واپس چلے جائیں۔
    حضرت مفتی صاحب نے اس فیصلہ کے خلاف محکمہ آباد کاری (واشنگٹن) میں اپیل کی۔ اپیل کے فیصلہ تک آپ کو سمندر کے کنارے ایک مکان میں بند کر دیا گیا۔ جس سے باہر نکلنے کی ممانعت تھی مگر چھت پر ٹہل سکتے تھے۔ اس کا دروازہ دن میں صرف دو مرتبہ کھلتا تھا جبکہ کھانا کھلایا جاتا تھا۔
    اس مکان میں کچھ یورپین بھی نظر بند تھے جو عموماً نوجوان تھے اور پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت تک کے لئے یہاں نظر بند کردیئے گئے تھے جب تک حکام کی طرف سے ان کے متعلق کوئی فیصلہ ہو۔ یہ لوگ حضرت مفتی صاحب کابڑا ادب کرتے تھے۔ اور ان کی ضرویات کا خیال رکھتے تھے۔ ان کے لئے نماز پڑھنے کی جگہ بھی انہوں نے بنادی تھی۔ اور برابر خدمت کرتے رہتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب نے موقعہ سے فائدہ اٹھا کر ان نوجوانوں ہی کو تبلیغ کرنا شروع کردی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو ماہ کے اندر پندرہ آدمی اسی مکان میں مسلمان ہوئے۔
    ادھر یہ صورت ہوئی ادھر آپ کی شہرت کا غیبی سامان یہ ہوا۔ کہ امریکن پریس نے آپ کی آمد اور ملک میں داخلے کی ممانعت کا بہت چرچا کیا۔ اور بعض مشہور ملکی اخبارات مثلاً ’’فلاڈلفیا ریکارڈ‘‘ ۔ پبلک ریکارڈ‘‘۔ نارتھ امریکن بلیٹین‘‘۔ ایوننگ بلیٹین‘‘۔ پبلک لیجر‘‘۔ دی پریس‘‘۔ نے نہ صرف آپ کی آمد کے بارے میں خبر دی۔ بلکہ جماعت احمدیہ کے حالات بھی شائع کئے۔]4 [stf۴
    سیدنا حضرت خلفیتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے امریکی حکومت کے اس رویہ پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔
    ’’امریکہ جسے طاقتور ہونے کا دعٰوی ہے اس وقت تک اس نے مادی سلطنتوں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی ہوگی۔ روحانی سلطنت سے اس نے مقابلہ کر کے نہیں دیکھا۔ اب اگر اس نے ہم سے مقابلہ کیا تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ ہمیں وہ ہرگز شکست نہیں دے سکتا کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے ہم امریکہ کے اردگرد علاقوں میں تبلیغ کریں گے اور وہاں کے لوگوں کو مسلمان بناکر امریکہ بھیجیں گے اور ان کو امریکہ نہیں روک سکے گا اور ہم امید رکھتے ہیں کہ امریکہ میں ایک دن لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی صدا گونجے گی اور ضرور گونجے گی‘‘۔۵
    آخر شروع مئی ۱۹۲۰ء میں امریکی حکومت کی طرف سے حضرت مفتی صاحب سے پابندی اٹھالی گئی۔ جس کی فوری وجہ یہ ہوئی۔ کہ حضرت مفتی صاحب کی تبلیغ سے کئی انگریزوں کے مسلمان ہونے کی خبر جب متعلقہ محکمہ کے افسر کو پہنچی تو وہ بہت گھبرایا اور سوچنے لگا۔ کہ اس طرح تو یہ آہستہ آہستہ سارے نظر بند نوجوانوں کو مسلمان کرلیں گے۔ اور جب شہر کے پادری صاحبان کو اس کا علم ہوگا تو وہ سخت ناراض ہوں گے۔ اور شہر کی پبلک میرے خلاف ہوجائے گی اس پر اس نے اعلیٰ افسروں کو تار دیئے کہ جس قدر جلد سے جلد ممکن ہو ہندوستانی مشنری کو اندرون ملک میں داخلے کی اجازت دیدی جائے چنانچہ حکام نے بھی آپ کو امریکہ داخل ہونے کا فیصلہ کر دیا۔ اور حضرت مفتی صاحب ۶ نے نیو یارک میں داخل ہوکر ایک مکان کا حصہ لیکچروں اور دفتر کے لئے کرایہ پر لے کر تبلیغ اسلام کا کام شروع کر دیا ۷ اور سعید روحیں حلقہ بگوش اسلام ہونے لگیں۔
    اس کے بعد آپ نے ڈیٹرائٹ میں چند ماہ قیام فرمایا اور عرب آبادی میں خاص طور پر پیغام حق پہنچایا پھر ۱۹۲۱ء میں آپ شکاگو منتقل ہوگئے وہاں آپ نے ایک عمارت خرید کر امریکہ مشن کا مرکز قائم کیا۔۸ اور ’’دی مسلم سن رائز‘‘ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ بھی جاری کیا۔ حضرت مفتی صاحب (جو امریکہ میں آج تک ڈاکٹر صادق کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں) ۴ دسمبر ۱۹۲۳ء میں قادیان سے تشریف لے گئے ۹ اور امریکہ مشن کا چارج حضرت مولوی محمد الدین صاحب نے لے لیا۔
    حضرت مولوی محمد الدین صاحب نے اپنے عہد میں امریکہ کے طول وعرض میں تبلیغی حدود کو اور زیادہ وسعت دی اور کئی امریکنوں کو مسلمان کیا۔ آپ جنوری ۱۹۲۳ء میں قادیان سے تشریف لے گئے اور ۳۰ جون ۱۹۲۵ء کو واپس تشریف لے آئے۔
    ۲۰ مئی ۱۹۲۸ء کو مکرم صوفی مطیع الرحمان صاحب بنگالی مشن کے باقاعدہ انچارج بناکر بھیجے گئے جو ۱۸ اگست ۱۹۲۸ء کو شکاگو پہنچے۔ ۱۰ ملک میں ان دنوں گورے اور کالے کا سوال بہت شدت سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اور شکاگو مشن کالے باشندوں کی آبادی میں ہونے کی وجہ سے سفید فام لوگوں کی آمدورفت بہت کم تھی۔ اس لئے صوفی صاحب نے ۱۹۲۹ء میں شہر کے مرکز میں ایک اور مکان کرایہ پر لے لیا۔ جو شہر کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے ہر قسم کے لوگوں کے لئے باآسانی تبلیغی سنٹر بن گیا۔۱۱
    مکرم صوفی صاحب ۱۳ دسمبر ۱۹۳۵ء کو واپس قادیان آئے اوردوبارہ ۲۱اکتوبر ۱۹۳۶ء کو امریکہ بھیجے گئے۔ جہاں آپ بارہ سال تک تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دینے کے بعد ۱۹۴۸ء میں واپس آئے۔ آپ نے اپنے زمانہ قیام میں رسالہ’’مسلم سن رائز‘‘ کی اشاعت کے علاوہ آنحضرت ~صل۱~ کی سیرت اور قبر مسیحؑ پر شاندار تصانیف شائع کیں۔ علاوہ ازیں آپ نے متعدد پمفلٹ اور ٹریکٹ صداقت اسلام پر شائع کئے۔ آپ کے ذریعہ امریکہ میں متعدد نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔
    صوفی مطیع الرحمان صاحب بنگالی مرحوم کے بعد مندرجہ ذیل مبلغین نے امریکہ میں تبلیغ کا فریضہ ادا کیا۔ چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر ایم۔ اے (شکاگو۔ واشنگٹن) چوہدری غلام یٰسین صاحب بی۔ اے (نیویارک واشنگٹن) مرزا منور احمد صاحب مولوی فاضل مرحوم (جوپٹس برگ میں ہی شہید ہوئے) چوہدری شکر الٰہی صاحب (سینٹ لوئیس) عبدالقادر ضیغم مولوی فاضل (پٹس برگ) مولوی نورالحق صاحب انور مولوی فاضل (نیویارک) سید جواد علی صاحب بی ۔اے (ڈیٹرائٹ) امین اللہ خان سالک شاہد بی۔ اے(شکاگو)صوفی عبدالغفور صاحب بی۔ اے (واشنگٹن نیویارک) عبدالرحمان خان صاحب بنگالی بی ۔ اے (واشنگٹن پٹس برگ) راجہ عبدالحمید صاحب (ڈیٹن)
    ۱۹۵۰ سے امریکہ کا مرکزی دارالتبلیغ شکاگو کی بجائے واشنگٹن مقرر کیا گیا ہے اور اس کے حلقہ میں شکاگو ‘واشنگٹن ‘بوسٹن‘فلاڈلفیا‘نیویارک۔ بالٹی مور۔ پٹس برگ۔ نیگس ٹائون۔ کلیولینڈ۔ ڈیٹن ۔ انڈیا ناپولس۔ ملواکی ۔ سینٹ لوئیس اور کینس سٹی۔ ولیاینٹک اور ڈیٹرائٹ میں مشہور جماعتیں قائم ہیں۔
    امریکہ کے بعض نہایت مخلص اور ایثار پیشہ احمدیوں کے نام یہ ہیں:۔ ولی کریم۔ لطیفہ کریم۔ امتہ اللطیف۔ مرسل شفیق (ڈیٹن) احمد شہید۔ علیہ شہید۔ ابوصالح ابوالکلام۔ رشیدہ کلام۔ (پٹس برگ) علیہ علی (انڈیاناپولس) نور الاسلام۔ محمد بشیر (شکاگو) زینب عثمان۔ عبداللہ علی (سینٹ لوئیس) عبدالحکیم‘امتہ الحفیظ (کلیولینڈ) کریما کریم عبدالرحمان (بالٹیمور) رشیدہ طٰہ (واشنگٹن) بشیر افضل مصطفٰے دلیل (نیو یارک) خلیل محمود ایم۔ اے (باسٹن)
    امریکہ مشن کی طرف سے اس وقت تک تیس سے زائد کتب ورسائل شائع ہوچکے ہیں مثلاً اسلامی اصول کی فاسفی اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے انگریزی تراجم۔ اسلام اینڈ ڈیماکریسی(از حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) حیاتاحمد Ahmad( of )Life قبر مسیح jesus( of Tomb )The مئولفہ جناب صوفی مطیع الرحمان صاحب بنگالی مرحوم) اسلام کا تعارف Islam( of Interpetation )An (اطالوی پروفیسر واگ لیری) موخرالذکر کتاب کا دیباچہ جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب (سابق جج عالمی اسمبلی حال جج عالمی عدالت ہیگ) کا لکھا ہوا ہے۔ مشن کی طرف سے اس وقت تبلیغ اسلام کے لئے ’’دی مسلم سن رائز‘‘ اور تربیتی اغراض کے لئے ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کے نام سے دو رسالے بھی جاری ہیں۔ ۱۹۶۵ء میں ڈاکٹر بشارت احمد صاحب منیر نے جماعت کو فضل عمر پریس بطور عطیہ دیا۔۱۲
    امریکہ میں جماعت احمدیہ کو تبلیغ اسلام کے کام میں جو بھاری کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان میں امریکی سفارتخانہ کا ترجمان ’’پنوراما‘‘ لکھتا ہے کہ American ‘‘1,000 Ahmadiyya’’ by Islam to converts۱۳ یعنی امریکہ میں ایک ہزار نو مسلم جماعت احمدیہ کی مساعی کے نتیجہ میں داخل اسلام ہوئے ہیں۔
    دوسری طرف ایک امریکن پادری نارمن ونسنٹ پیل peal( vincent )Norman خود امریکہ میں عیسائیت کی ناکامی کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ گذشتہ سال موسم بہار میں عوامی رجحانات کا جائزہ لینے کا ایک خاص اہتمام کیا گیا تھا اس کے نتیجے میں پتہ چلا کہ گرجوں میں حاضری روز بروز گر رہی ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب (عیسائیت) کا اثر روز بروز کم ہوتا جارہا ہے ان کی تعداد پہلے کی نسبت دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے ۔ ایک اور جدید رجحان یہ ہے کہ بائبل کو خدا کا مستندالہامی کلام تسلیم کرنے میں پس وپیش سے کام لیا جارہاہے۔ یہ اب محض ایک دینی کتاب کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ اور اس منہ بولتی تصدیق کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ کہ خداوند کا فرمان یہ ہے ’’یقیناً خداوند کا فرمان اور انجیل وہ بنیادیں ہیں جن پر پروٹسٹنٹ ازم قائم ہے جب یہ بنیاد ہی کمزور ہوجائے۔ تو پھر پوری عمارت کا متزلزل ہونا لازمی ہے‘‘۔]4 [stf۱۴
    مسجد لنڈن کے لئے چندہ کی تحریک
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۷ جنوری ۱۹۲۰ء کو مسجد لنڈن کے لئے چندہ کی تحریک فرمائی۔ جس پر جماعت نے ایسے رنگ میں لبیک کہا کہ ایک دنیا ور طہ حیرت میں آگئی۔ چنانچہ عبدالمجید قریشی ایڈیٹر اخبار ’’تنظیم‘‘ امرت سر نے لکھا ’’تعمیر مسجد کی تحریک ۶ جنوری ۱۹۲۰ء میں امیر جماعت احمدیہ نے کی اس سے زیادہ مستعدی اس سے زیادہ ایثار اور اس سے زیادہ سمع و اطاعت کا اسوہ حسنہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ۱۰ جون تک ساڑے اٹھتر ہزار روپیہ نقد اس کارخیر کے لئے جمع ہوگیا تھا کیا یہ واقعہ نظم وضبط امت اور ایثار وفدائیت کی حیرت انگیز مثال نہیں۔۱۵
    لاہور اور امرت سر میں عظیم الشان لیکچرحضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۱۳ فروری ۱۹۲۰ء ۱۶سے ۲۳ فروری ۱۹۲۰ء۱۷ تک لاہور اور امرت سر کے سفر میں رہے حضور نے اس سفر میں چھ عظیم الشان لیکچر دیئے۔
    ۱۔ پہلا لیکچر ۱۵ فروری کو بصدارت خان ذوالفقار علی خان صاحب بریڈلا ہال لاہور میں ہوا جس میں حضور نے مسٹر لائڈ جارج وزیراعظم انگلستان کے اس اعلان کی عقلی و نقلی دلائل سے دھجیاں اڑادیں۔ کہ آئندہ دنیا کا امن عیسائیت سے وابستہ ہے حضور نے روز روشن کی طرح ثابت فرما دیا کہ مستقبل میں امن و امان کا قیام صرف اسلام ہی کے ذریعہ ہو سکتاہے۔۱۸
    ۲۔ حضور کا دوسرا اہم لیکچر ’’واقعات خلافت علوی‘‘ کے موضوع پر لاہور کی مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی کے زیرانتظام کالج کے حبیبیہ ہال میں ہوا۔ اور حضور کے مشہور و مقبول لیکچر اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘ کی طرح یہ تاریخی تقریر بھی نہایت مقبول ہوئی اور صاحب صدر جناب خان بہادر شیخ عبدالقادر صاحب بی۔اے نے اختتامی تقریر میں فرمایا ۔ ’’حضرات ! میں آپ سب صاحبان کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اس پرزور اور پراز معلومات تقریر کے لئے جو آپ نے اس وقت ہمارے سامنے کی ہے میں نے دیکھا ہے کہ حضرت نے قریباً تین گھنٹے تقریر کی ہے اور آپ صاحبان نے ہمہ تن گوش ہوکر سنی ہے اس تقریر سے جو وسیع معلومات اسلامی تاریخ کے متعلق معلوم ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض بالکل غیر معمولی ہیں ۔ حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان کی تلاش اور تجسس کے لئے کسی وقت بہت سی کتب کا مطالعہ کیا ہوگا۔ مگر میں بلا تامل کہ سکتا ہوں کہ یہ باتیں محض مطالعہ سے حاصل نہیں ہوسکتیں بلکہ
    ایں سعادت بزرو بازو نیست
    تانہ بخشد خدائے بخشندہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس روانی سے کسی نے تاریخی معلومات کو مسلسل بیان کیا ہو اور پھر کسی تاریخی مضمون میں ایسا لطف آیا ہو جو کسی داستان گو کی داستان میں بھی نہ آسکے۔ اس کے لئے میں پھر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
    ۳۔ حضور کا تیسرا لیکچر ’’مذہب اور اس کی ضرورت‘‘ پر ۱۸ فروری ۱۹۲۰ء کو احمدیہ ہوسٹل لاہور میں ہوا جس میں حضور نے انگریزی خوانوں کے اعتراضات اور موجودہ علمی تحقیقات کو مدنظر رکھ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ایسی خوبی و خوش اسلوبی سے پیش کیا کہ دل وجد کرنے لگے۔ یہ لیکچر اپنی شان اور اپنے رنگ میں بالکل اچھوتا تھا۔ نہایت مشکل وادق مسائل بڑی صفائی و برجستگی سے بیان فرمائے گئے تھے۔ ۲۰
    ۴۔ حضور نے ۱۹ فروری ۱۹۲۰ء کو بیرون دہلی دروازہ ایک نہایت عمدہ تبلیغی لیکچر دیا یہ لیکچر ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا ۔ اکثر احباب چشم پر آب تھے۔ اور غیراز جماعت دوست بھی بہت متاثر ہوئے۔۲۱
    ۵۔ اس کے بعد حضور لاہور سے امرت سر تشریف لے گئے اور ۲۲ فروری ۱۹۲۰ء کو بندے ماترم ہال میں (جہاں ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے لیکچر دیاتھا۔ اور باوجود مولویوں کی اشتعال انگیزی کے یہ لیکچر بخیروخوبی ختم ہوا۔ اور حضور رات کی گاڑی میں لاہور واپس ہوگئے ۔
    ۶۔ حضور نے ۲۴ فروری ۱۹۲۰ء کو جماعت لاہور سے ایک اہم خطاب فرمایا گوبظاہر تو احباب لاہور ہی اس کے مخاطب تھے لیکن فی الحقیقت یہ خطاب تمام جماعت ہائے احمدیہ کے لئے تھا۔ ۲۲
    سیالکوٹ اور امرتسر میں لیکچر
    حضور ۷ اپریل ۱۹۲۰ء ۲۳ کو قادیان سے سیالکوٹ تشریف لے گئے اور ۱۵ اپریل ۱۹۲۰ء ۲۴ کو قادیان واپس آئے۔ سفر لاہور کی طرح اس سفر میں بھی حضور نے کئی تقریریں فرمائیں چنانچہ ۱۰ اپریل ۱۹۲۰ء ۲۵ کو احمدیہ حال کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے حاضرین سے خطاب فرمایا۔ دوسرے روز ۱۱ اپریل ۱۹۲۰ء کو اس عنوان پر کہ’’دنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہوگا‘‘۔ لیکچر دیا۔ اس لیکچر کے وقت آپ کو ایسا محسوس ہوا کہ آسمان سے یکا یک ایک نور اترا ہے اور میرے اندر داخل ہوگیا ہے اور میرے جسم سے ایسی شعاعیں نکلنے لگی ہیں۔ کہ میں نے حاضرین کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا ہے۔ اور وہ جکڑے ہوئے میری طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔ اور بفضلہ تعالیٰ یہ تقریر بہت کامیاب ہوئی تیسرے روز ۱۲ اپریل ۱۹۲۰ء کو حضور نے پنجابی زبان میں ایک گھنٹہ تک عورتوں کو لیکچر دیا۔ ۲۶جو فرائض مستورات کے نام سے چھپ چکا ہے حضور سیالکوٹ سے واپسی پر ۱۳ اپریل کو لاہور رونق افروز ہوئے۔ اور ۱۴ اپریل کو امرت سر پہنچے اور اس موضوع پر کہ ’’کیا دنیا کے امن و امان کی بنیاد عیسائیت پر رکھی جاسکتی ہے‘‘ بندے ماترم ہال میں لیکچر دیا۔ اور مسٹر لائڈ جارج وزیراعظم کے اعلان کے مقابل اسلام کو ذریعہ امن ثابت فرمایا۔ اس لیکچر کے دوران میں جب حضور نے اس حدیث کا ذکر فرمایا جس میں خدا تعالیٰ کا ماں سے بھی زیادہ شفیق ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو مشکٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی صفحہ ۲۰۷) یہ سنتے ہی امرتسر کی مسجد خیرالدین کے امام جناب مولوی سید عطااللہ شاہ صاحب بخاری فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت جوش و خروش سے حوالہ صفحہ ‘سطر ‘مطبع ‘سنہ کا مطالبہ کرنے لگے۔ حضور نے جواباً فرمایا۔ اس وقت آپ تقریر سنیں اگر حوالہ کی ضرورت ہو تو مکان پر تشریف لے آئیں۔ جناب بخاری صاحب خوب جانتے تھے کہ یہ میدان مناظرہ نہیں ہے کہ کتابیں ساتھ لائی گئی ہوں اور نہ یہ لیکچر کسی اسلامی فرقہ کے خلاف ہو رہا تھا کہ کسی غیر احمدی کو اعتراض ہو سکتا مگر چونکہ ان کی نیت اور تھی۔ اس لئے انہوں نے معقول جواب کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔ اور جو شور وغل شروع کر چکے تھے اس میں ترقی کرتے گئے اسی دوران میں بعض دوست یہ اندازہ کرکے کہ غوغائی لوگ خشت باری کا ارادہ کر رہے ہیں۔ حضور کے آگے کھڑے ہوگئے تا حضور کو تکلیف نہ پہنچے مگر حضور نے ان کو حکماً بٹھا دیا۔ بعض نے خطرہ بڑھتا ہوا دیکھ کر یہ بھی عرض کیا کہ لیکچر بند کردیا جائے۔ مگر حضور نے بڑے جلال کے رنگ میں فرمایا۔ کہ کیا تم مجھے بزدل بناتے ہو۔ ۲۷ اور لیکچر بند نہیں فرمایا۔ آخر پولیس نے یہ دیکھ کر کہ حالت خراب سے خراب تر ہوا چاہتی ہے۔ مداخلت کی اور مولوی سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری سے جلسہ کا ہال چھوڑ دینے کے لئے کہا اس پر وہ اپنے ساتھیوں سمیت شوروغل مچاتے جلسہ کی جگہ سے نکل کر باہر دروازہ پر کھڑے ہوگئے۔ ادھر ہال میں تو حضور کا لیکچر ہو رہا تھا۔ اور ادھر ہال کے باہر مولوی بخاری صاحب احمدیت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کر رہے تھے کہ شرافت سے ذرا سا بھی تعلق رکھنے والا انسان انہیں زبان پر لانے کا خیال بھی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے غیظ و غضب کے عالم میں یہاں تک کہہ ڈالا آج میں مصروف جہاد ہوں اور مرنے مارنے پر تیار ہوں نماز نہیں پڑھوں گا بلکہ اس کو جو خلیفہ بنا ہوا ہے زندہ نہیں نکلنے دوں گا۔ آخر کچھ وقت کے بعد حضور لیکچر ختم کرکے اسی مشتعل ہجوم میں سے ہوتے ہوئے خدا کے فضل سے بخیریت اپنی قیام گاہ پر تشریف لے آئے۔۲۸ اور قادیان واپس تشریف لانے پر جناب بخاری صاحب کی مطلوبہ حدیث کا مکمل متن مع حوالہ شائع کردیا۔۲۹
    مبلغین کلاس کا اجراء۔
    حضرت امیرالمومنین کی ہدایت پر ۲۱جون ۱۹۲۱ء کو پہلی یادگار مبلغین کلاس جاری ہوئی اور اس کے استاد علامہ زمان حضرت حافظ روشن علی صاحب جیسے مثالی عالم ربانی مقرر ہوئے۔ ۳۰ مولانا جلال الدین صاحب شمس ۔ مولانا غلام احمد صاحب بدوملہوی۔ مولانا ظہور حسین صاحب اور مولانا شہزادہ خانصاحب مرحوم جیسے نامور علماء و فضلا اس پہلی کلاس کے ابتدائی طلبہ ہیں اس کلاس میں بعد کو حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب بھی شامل ہوگئے۔ ۳۱ تین سال بعد ۱۹۲۴ء میں کر یہہ ضلع جالندھر کے ایک نہایت ذہین وطباع طالب علم کو بھی خوش قسمتی سے اس کلاس میں داخل ہوکر حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب سے شرف تلمذ حاصل ہوا یہ طالب علم اب علمی دنیا میں مولانا ابوالعطاء ۳۲ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ سلسلہ کے مبلغین میں سے ابوالبشارت مولانا عبدالغفور صاحب ۔ مولوی قمرالدین صاحب سیکھوانی جناب قریشی محمد نذیر صاحب اور دوسرے متعدد طلباء تھے جنہیں آپ سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضرت حافظ صاحب اپنے فرائض تعلیم و تربیت اور جہاد تبلیغ میں اپنی زندگی کے آخری سانس تک مصروف رہے آپ نے اپنی وفات سے قبل یہ وصیت فرمائی کہ میرے شاگرد ہمیشہ تبلیغ کرتے رہیں۔۳۳۔ اور حق یہ ہے کہ آپ کے تمام شاگردوں نے آپ کی وصیت پر عمل کرنے کا اپنی اپنی حالت کے مطابق پورا پورا خیال رکھا ہے اور رکھتے ہیں لیکن آپ کے فیض یافتہ تلامذہ میں سے جنہوں نے آپ کے سامنے بھی بہت تبلیغ کی تھی اور آپ کے بعد تو پوری قوت سے تبلیغ کے لئے کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہیں ان کے متعلق خود حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد پیش کر دینا زیادہ انسب واولیٰ ہے حضور نے فرمایا ’’حافظ روشن علی صاحب وفات پاگئے تو ۔۔۔۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فوراً مولوی ابوالعطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو کھڑا کر دیا اور جماعت نے محسوس کیا کہ یہ پہلوں کے علمی لحاظ سے قائم مقام ہیں‘‘۔۳۴ پھر ۱۹۵۶ء میں فرمایا۔ ’’یہ نہ سمجھو کہ اب وہ خالد نہیں ہیں اب ہماری جماعت میں اس سے زیادہ خالد موجود ہیں چنانچہ (مولوی جلال الدین صاحب ناقل )شمس صاحب ہیں۔ مولوی ابوالعطاء صاحب ہیں۔ عبدالرحمان صاحب خادم ہیں‘‘۔]4 [stf۳۵
    ’’معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ‘‘
    فاتح اتحادی ملکوں نے ترکی سے جو شرائط صلح طے کیں وہ انتہا درجہ کی ذلت آمیز تھیں۔ ترکی سلطنت کے حصے بخرے کر دیئے گئے فلسطین عراق ‘عرب اور شام کو آزاد و خودمختار سلطنتیں قرار دے کر ان پر برطانیہ کی عملداری قائم کر دی گئی اور حجاز پر شریف حسین مکہ کی بادشاہت تسلیم کرلی گئی اور مصر ٹرکی کے حقوق واختیارات سے آزاد کر دیاگیا۔ شرائط نامہ میں ٹرکی کی بحری اور بری اور ہوائی افواج بھی نہایت درجہ محدود کر دی گئیں۔ ۳۶ اس کے علاوہ اور بھی سخت شرائط اور پابندیاں لگادی گئیں۔
    اس معاہدہ کے سلسلہ میں آئندہ طریق عمل سوچنے کے لئے یکم و ۲ جون ۱۹۲۰ء کو الہ آباد میں خلافت کمیٹی کے تحت ۳۷ کانفرنس منعقد کی گئی۔ جمیعتہ العلماء ہند ۳۸ کے مشہور لیڈر جناب مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محل کی دعوت پر حضور نے ایک مضمون معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ کے عنوان سے ایک دن میں رقم فرمایا۔ اور اسے راتوں رات چھپواکر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے ذریعہ بھجوادیا۔ ۳۹ ان کے ساتھ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی تشریف لے گئے۔
    اس مضمون میں حضور نے اپنا نقطہ نگاہ بدلائل واضح فرمایا۔ کہ ’’میرے نزدیک اس معاہدہ کی کئی شرائط میں حقوق کا اتلاف ہوا ہے‘‘ اس کے بعد لکھا کہ مسلمانوں کے سامنے کئی آراء پیش کی جارہی ہیں۔ بعض نے ہجرت کی تجویز پیش کی ہے بعض نے جہاد عام کو پسند کیا ہے بعض نے قطع تعلقی عدم موالات کی پالیسی کو سراہا ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ سب تجاویز نادرست اور ناقابل عمل ہیں چنانچہ حضور نے تینوں تجاویز کا مفصل جائزہ لیا۔
    ۱۔ ہجرت کے بارے میں بتایا کہ شرعاً ہجرت کا یہ کوئی موقعہ نہیں ہے اور ہندوستان کے سات کروڑ مسلمان ہندوستان کو چھوڑ کر کہیں جاسکتے ہیں؟
    ۲۔ جہاد کی نسبت وضاحت فرمائی کہ ایک حکومت کو باقاعدہ تسلیم کرکے اس میں رہنے کے بعد اس کے خلاف علم جہاد بلند نہیں کیا جاسکتا۔
    ۳۔ تحریک عدم موالات کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے صاف اور واضح لفظوں میں انتباہ فرمایا کہ ’’سوائے اس کے کہ اس فیصلہ سے لاکھوں مسلمان اپنی روزی سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور تعلیم سے محروم ہوجائیں اور اپنے حقوق کو جو بوجہ مسلمانوں کے سرکاری ملازمتوں میں کم ہونے کے پہلے ہی تلف ہورہے ہیں۔ اور زیادہ خطرہ میں ڈال دیں اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا‘‘۔
    مضمون کے دوسرے حصہ میں حضور نے مسلمانوں کو مستقبل کے لئے ایک عملی پروگرام بنانے کی طرف توجہ دلائی اور تجویز پیش کی کہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی و بہبود کے لئے بلا تاخیر ایک عالمگیر لجنہ اسلامیہ (یعنی موتمر عالم اسلامی) قائم ہوجانی چاہئے۔ آخر میں مسلمانوں کو اسلام کے درخشندہ اور روشن مستقبل کی خبر دیتے ہوئے تحریر فرمایا یہآخری صدمہ واقعہ میں آخری صدمہ ہے اب اسلام کے بڑھنے کے دن شروع ہوتے ہیں اور اب ہم دیکھیں گے کہ مسیحی کیونکر اس کی بڑھتی ہوئی رو کو روکتے ہیں خدا کی غیرت اس کے مامور کے ذریعہ ظاہر ہوچکی ہے۔ اور اب سب دنیا دیکھ لے گی۔ کہ آئندہ اسلام مسیحیت کو کھانا شروع کردے گا۔ اور دنیا کا آئندہ مذہب وہی مذہب ہوگا جو اس وقت سب سے کمزور مذہب سمجھاجاتا ہے۔ ۴۰
    حضرت خلیفہ المسیح کا پیغام احمدی قوم کے نام
    جولائی ۱۹۲۰ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جماعت احمدیہ کو اپنے پیغام میں مدرسہ احمدیہ کی ترقی و بہبود کے لئے اپنے بچے بھجوانے اور مالی اعانت کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ مدرسہ احمدیہ تمہاری عملی جدوجہد کا نقطہ مرکزی ہے اور اسی کی کامیابی پر اس امر کا فیصلہ ٹھہرا ہے کہآئندہ سلسلہ کی تبلیغ جاری رکھی جاسکے گی یا نہیں۔۴۱اس پیغام پر کئی مخلصین جماعت نے اپنے نونہال اس اہم درسگاہ میں داخل کرادیئے اور مدرسہ کے طلبہ میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔
    مسجد لندن کے لئے زمین کی خرید پر خوشی کی تقریب
    حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ ۳۱ جولائی ۱۹۲۰ء کو دھرم سالہ تشریف لے گئے اور ۲۷ ستمبر ۱۹۲۰ء کو واپس قادیان آئے ۴۲ اس سفر کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ مسجد احمدیہ لنڈن کے لئے قطعہ زمین کی اطلاع ملنے پر ۹ ستمبر کو ایک پر مسرت تقریب منعقد ہوئی جس میں حضرت خلیفتہ المسیح کے حکم سے قریباً تمام رفقاء سفر (مثلاً حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب‘حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب‘حضرت میر محمد اسماعیل صاحب ‘حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم ۔اے‘حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب) نے باری باری مسجد لنڈن کے بارے میں اشعار پڑھے اور سب کے بعد خود حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ قطعہ سنایا۔
    مرکز شرک سے آوازہ توحید اٹھا
    دیکھنا دیکھنا مغرب سے ہے خورشید اٹھا
    نور کے سامنے ظلمت بھلا کیا ٹھہرے گی
    جان لو جلد ہی اب ظلم صنا دید اٹھا۴۳
    اس قطعہ کے علاوہ حضور کی ایک نظم بھی مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے پڑھ کر سنائی۔ نظموں کا پروگرام ختم ہونے پر دعا ہوئی اور نماز عصر پڑھنے کے بعد دسترخوان دعوت بچھایا گیا جس میں آقا و خدام سب خوشی خوشی شامل ہوئے۔۴۴
    ’’الواح الہدیٰ‘‘ نونہالان احمدیت کو درد انگیز خطاب
    اسی سال جبکہ حضور دھرم سالہ میں مقیم تھے نوجوانان احمدیت کو نہایت قیمتی نصائح کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے ایک درد انگیز نظم کہی جس کا پہلا شعر یہ تھا۔
    نونہالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے
    پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو
    ‏body] gat[اس نظم کی یہ خصوصیت تھی کہ حضور نے نہ صرف قریباً ہر شعر کی وضاحت نثر میں بھی حاشیہ کے ذریعہ سے فرمائی۔ بلکہ نظم لکھنے سے قبل اس کا پس منظر بھی اپنے قلم سے تحریر فرمایا جس میں لکھا۔ ’’اے نوجوانان جماعت احمدیہ! ہر قوم کی زندگی اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے کس قدر ہی محنت سے کوئی کام چلایا جائے اگر آگے اس کے جاری رکھنے والے لوگ نہ ہوں تو سب محنت غارت جاتی ہے اور اس کام کا انجام ناکامی ہوتا ہے۔ گو ہمارا سلسلہ روحانی ہے مگر چونکہ مذکورہ بالا قانون بھی الٰہی ہے اس لئے وہ بھی اس کی زد سے بچ نہیں سکتا ۔ پس ۔۔۔ آپ پر فرض ہے کہ آپ گوش ہوش سے ہماری باتوں کو سنیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ تاخدا تعالٰے کی طرف سے جو امانت ہم لوگوں کے سپرد ہوئی ہے اس کے کما حقہ ادا کرنے کی توفیق ہمیں بھی اور آپ لوگوں کو بھی ملے۔ اس غرض کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے مندرجہ ذیل نظم لکھی ہے جس میں حتی الوسع وہ تمام نصیحتیں جمع کردی ہیں جس پر عمل کرنا سلسلہ کی ترقی کے لئے ضروری ہے ۔۔۔۔ خوب یاد رکھو کہ بعض باتیں چھوٹی معلوم ہوتی ہیں۔ مگر ان کے اثر بڑے ہوتے ہیں پس اس میں لکھی ہوئی کوئی بات چھوٹی نہ سمجھو اور ہر ایک بات پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ تھوڑے ہی دنوں میں اپنے اندر تبدیلی محسوس کرو گے اور کچھ ہی عرصہ کے بعد اپنے آپ میں اس کام کی اہلیت پیدا ہوتی دیکھو گے۔ جو ایک دن تمہارے سپرد ہونے والا ہے یہ بھی یاد رکھ کہ تمہارا یہی فرض نہیں کہ اپنی اصلاح کرو بلکہ یہ بھی فرض ہے کہ اپنے بعد آنے والی نسلوں کی بھی اصلاح کی فکر رکھو۔اور ان کو نصیحت کرو کہ وہ اگلوں کی فکر رکھیں۔ اور اسی طرح یہ سلسلہ ادائے امانت کا ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہوتا چلا جاوے تاکہ یہ دریائے فیض جو خداتعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا ہے ہمیشہ جاری رہے اور ہم اس کام کے پورا کرنے والے ہوں ۔ جس کے لئے آدم اور اس کی اولاد پیدا کی گئی ہے۔ خدا تمہارے ساتھ ہو۔ اللھم آمین۔ ۴۵
    ’’سیرت خاتم النبین‘‘ کی اشاعت
    اس سال کے آخر میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی معرکتہ الارا کتاب ’’سیرت خاتم النبین‘‘ کی پہلی جلد جو آنحضرت ~صل۱~ کی مکی زندگی کے بصیرت افروز حالات پر مشتمل ہے۔ شائع ہوئی۔ ابتداً یہ کتاب ۱۹۱۹ء کے ریویو میں ماہوار چھپتی رہی تھی پھر نظر ثانی کے بعد کتابی شکل میں شائع ہوئی اس محققانہ تالیف نے جو آپ ہی اپنی نظیر ہے سیرت النبی~صل۱~ کے چودہ سوسال کے اسلامی لٹریچر میں ایک شاندار اضافہ کیا ہے اور ہم بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح آنحضرت رسول مقبول ~صل۱~ کی شان تمام نبیوں میں ارفع و اعلیٰ ہے اسی طرح سیرت خاتم النبین سیرت کی دوسری تمام کتابوں سے اعلیٰ و افضل ہے۔ چنانچہ اس کے پہلے ایڈیشن پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ سر محمد شفیع صاحب بیرسٹرایٹ لاء لاہور‘مولوی الف دین صاحب وکیل ہائیکورٹ پنجاب اور ’’آگرہ اخبار‘‘ (آگرہ) ’’میونسپل گزٹ‘‘ لاہور نے بہت عمدہ تبصرے کئے ہیں۔۴۶
    ’’سیرت خاتم النبین‘‘ کا دوسرا حصہ اگست ۱۹۳۱ء میں شائع ہوا جو ابتدائے ہجرت سے ۵ ہجری کے آخر تک کے واقعات پر مشتمل تھا اور اپنی ظاہری و باطنی خوبیوں کے لحاظ سے ایک زبردست علمی کارنامہ تھا۔ حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے فرمایا ’’میں سمجھتا ہوں رسول کریم ~صل۱~ کی جتنی سیرتیں شائع ہوچکی ہیں ان میں سے یہ بہترین کتاب ہے اس تصنیف میں ان علوم کا بھی پرتو ہے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں اس کے ذریعہ انشاء اللہ اسلام کی تبلیغ میں بہت آسانی پیدا ہوگی‘‘۔
    اس حصہ پر نواب سر سکندر حیات خان‘سیٹھ عبداللہ ہارون ایم۔ایل۔ اے کراچی ‘ڈاکٹر سر محمد اقبال۔ مولوی الف دین ایڈووکیٹ ضلع سیالکوٹ‘نواب اکبر یار جنگ جج ہائیکورٹ حیدر آباد دکن ‘مولانا سید سلیمان ندوی‘رسالہ معارف (اعظم گڑھ)اور اخبار ’’سچ‘‘ لکھنو نے بھی بے حد خراج تحسین ادا کیا۔ ۴۷
    سیرت کا تیسرا حصہ جس میں غزوہ بنو قریظہ کے بعد سے لے کر آنحضرت ~صل۱~ کے تبلیغی خطوط تک کے واقعات درج تھے۔ اپریل ۱۹۴۹ء میں شائع ہوا۔
    ترک موالات و احکام اسلام
    حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے رسالہ ’’معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ‘‘ میں مسلمانوں کو تحریک عدم موالات اور ہجرت کے نقصانات سے بروقت انتباہ فرما دیا تھا۔ مگر مسلمان لیڈروں نے مسٹر گاندھی کی قیادت میں یکم اگست ۱۹۲۰ء ۴۸ سے عدم تعاون کا منظم پروگرام شروع کرکے ملک میں ایسی آگ لگادی کہ کوئی صوبہ اور کوئی ضلع محفوظ نہ رہا۔ بلکہ قصبوں اور دیہات تک اس کی لپیٹ میں آگئے ہر طرف سیاسی جلسوں اور جوشیلی تقریروں کا بازار گرم اور مسلمانوں کی ہجرت کا تانتا لگا ہوا تھا۔ لوگ اپنا گھر بار اور وطن عزیز چھوڑ اعزا واقرباء سے منہ موڑ کر افغانستان کی طرف چلے جارہے تھے۔ اس لئے حضور نے اپنے مذکورہ بالا مضمون میں مختصراً جن خیالات کا اظہار فرمایا تھا ان کو ایک اپنی کتاب ترک موالات و احکام اسلام (مطبوعہ دسمبر۱۹۲۰ء) میں ازروئے آیات قرآنیہ واحادیث نبویہﷺ~ بڑی شرح وبسط سے ثابت فرما دیا۔ اس لاجواب تصنیف نے جو ۹۲ صفحات پر مشتمل ہے جہاں حامیان ’’عدم موالات’’ و ’’ہجرت‘‘ کے خیالات و دلائل کی بے بنیادی ظاہر کر دی۔ وہاں سنجیدگی سے غور کرنے والوں کے لئے کامیابی کا ایک نیا رستہ کھول دیا۔ انہیں دعوت دی کہ یہ وقت اس مجرب نسخہ موالات کو استعمال کرنے کا ہے جس نے بغداد کی اسلامی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے ہلاکو خاں کے پوتے کو اسلام کی غلامی میں داخل کر دیا تھا۔ اور جو خدائے واحد لاشریک کے عبادت گزاروں میں شامل ہو کر ایک نئی اسلامی حکومت کا بانی ہوا تھا۔
    اس کتاب لاجواب میں حضور نے نہایت غیرت دلانے والے لفظوں میں لکھا کہ ’’اگر یہ درست ہے کہ ترک موالات سے ایک دوسال میں تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائو گے تو اسلام کی دوبارہ زندگی یقیناً مسٹر گاندھی کے ہاتھ ہوگی اور نعوذ بااللہ من ذالک ابدالا باد تک محمد رسول اللہ ~صل۱~ کا سر مبارک بار احسان سے ان کے سامنے جھکا رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔ حضرت مسیح تو خیر ایک نبی تھے۔ اب جس شخص کو تم نے اپنا مذہبی راہ نما بنایا ہے وہ تو ایک مومن بھی نہیں پس محمد رسول اللہ ~صل۱~ کی اس ہتک کا نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ سخت دیکھو گے اور اگر باز نہ آئے تو اس جرم میں مسٹر گاندھی کی قوم کی غلامی اس سے زیادہ تم کو کرنی پڑے گی جتنی کہ حضرت مسیح کی امت کی غلامی تم کہتے ہو کہ ہمیں کرنی پڑی ہے‘‘۔۴۹
    افسوس کہ حضور کی یہ آواز بہرے کانوں سے سنی گئی۔ عوام تو رہے ایک طرف مسلمانوں کے قومی لیڈروں نے اس امید خام کی وجہ سے کہ اتحادیوں کے ہاتھوں ترکی حکومت کو جو مشکل پیش آگئی ہے وہ حل ہوجائے گی۔ اور ہم انگریز کی غلامی سے بھی آزاد ہوجائیں گے مسٹر گاندھی اور کانگریس کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اور بعض بعض ممتاز لیڈروں نے تو ان کے لئے وہ کچھ کہا کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح کہا گیا۔ چنانچہ ظفرالملک صاحب علوی نے کہا کہ اگر آنحضرت ~صل۱~ خاتم النبین نہ ہوتے تو میں ضرور کہتا کہ اس زمانے کے بنی مہاتما گاندھی ہیں۔ جناب ڈاکٹر آصف علی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’میں صدق دل سے یقین کرتا ہوں کہ اس صدی کے مجدد مہاتماگاندھی ہیں۔ مولانا شوکت علی نے کہا۔ میں کہتا ہوں امام مہدی گاندھی جی ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر کا مریڈنے جیل سے پیغام بھیجا کہ میں آنحضرت ~صل۱~ کے بعد بے سوچے سمجھے مہاتما گاندھی کی پیروی کرتا ہوں۔ (امیرشریعت احرار) جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے مسجد خیرالدین امرت سر میں کہا۔ کہ میں مسٹر گاندھی کو نبی بالقوۃ مانتا ہوں‘‘۔۵۰
    جناب ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار نے راولپنڈی میں ایک ہنگامہ خیز تقریر کے دوران میں کہا۔ کہ میں وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو تلک اور گاندھی بتا رہے ہیں یہ اخلاقی قوت ان بزرگوں کی ہی کام کر رہی ہے۔ یہ آسمانی قوت ہے۔ ہندوئوں نے اور مہاتما گاندھی نے مسلمانوں پر جو احسان کئے ہیں ان کا عوض ہم نہیں دے سکتے۔ ہمارے پاس زر نہیں ہے جب جان چاہیں ہم حاضر ہیں۔ ۵۱
    راولپنڈی کے بعد انہوں نے کلکتہ میں کہا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے کلکتہ کی تاریخی سرزمین پر ایک اجلاس خاص منعقد کیا اور اس مشترک پلیٹ فارم پر سے جس کی تعمیر خود خدائے قادر وقیوم کے مقدس ہاتھوں کی رہین منت ہے۔ اس آواز کی ایک قرنا پھونکی گئی ہے اس وقت برطانیہ اقتدار کے حواس درست کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ’’عدم تعاون‘‘ ہے۔ ۵۲
    لیکن آہ! جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے قبل از وقت انتباہ فرما دیا تھا۔ اس تحریک نے مسلمانوں کا رہا سہا وقار خاک میں ملادیا۔ اور انہیں تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا۔ اور مسلمانان ہند کی ملی و سیاسی زندگی کا یہ خونچکاں حادثہ آج بھی ایک غیور ۔ درد مند مسلمان کو تڑپادینے کے لئے کافی ہے۔ چنانچہ سید رئیس احمد صاحب جعفری لکھتے ہیں:۔
    ’’اٹھارہ ہزار مسلمان اپنا گھر بار جائداد اسباب غیر منقولہ اونے پونے بیچ کر خریدنے والے زیادہ ترہندو تھے۔ افغانستان ہجرت کر گئے وہاں جگہ نہ ملی واپس کئے گئے کچھ مرکھپ گئے جو واپس آئے تباہ حال ‘خستہ درماندہ مفلس ‘قلاش ‘تہی دست‘بے نوائے یار ومدد گار۔ اگر اسے ہلاکت نہیں کہتے تو کیا کہتے ہیں‘‘۔۵۳
    میاں محمد مرزا صاحب دہلوی لکھتے ہیں ۔ ’’کچھ دنوں بعد جب مورخ کابے رحم قلم اس ایجی ٹیشن کے جذبی اثر سے آزاد ہو کر اس کا جائزہ لے گا۔ اور خالص سیاسی نقطہ نظر سے اسے جانچے گا۔ تو ایجی|ٹیشن کا یہ سارا دور اپنی ہنگامہ خیزیوں کے باوجود اسے ایک ایسا بے نتیجہ سیاسی بحران نظر آئیگا جس نے مسلمانوں کی قومی خود داری کا خاتمہ کرکے رکھ دیا۔ (یہ) ہندوئوں کا پروگرام تھا ہندو ہی اس کے رہنما تھے۔ مسلمانوں کی حیثیت اس ایجی ٹیشن میں ان کے آلہ کار سے زیادہ نہیں تھی۔ اس وقت تک ان سے کام لیا جب تک انہیں ضرورت رہی اور اس وقت ایجی ٹیشن بند کر دیا جب ان کی ضرورت ختم ہوگئی‘‘۔ ۵۴
    جناب عبدالمجید صاحب سالک لکھتے ہیں ۔ یہ مخلص اور جوشیلے مسلمان کس جوش و خروش سے ایک دینی حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے وطن کو ترک کر رہے تھے۔ اور پھر چند ماہ بعد جب امیر امان اللہ خان کی حکومت نے اس لشکر جرار کی آباد کاری سے عاجز آکر اس کو جواب دے دیا تو ان مہاجرین کی عظیم اکثریت بادل بریاں وبا دیدہ گریاں واپس آگئی۔ اور اس تحریک کا جو محض ہنگامی جذبات پرمبنی تھی نہایت شرمناک انجام ہوا۔۵۵
    لیکن یہ شرمناک انجام دراصل تحریک خلافت کے ہولناک اثرات کا ابھی آغاز تھا کیونکہ چند سال بعد ۱۹۲۴ء میں خود ترکی کی قومی اسمبلی نے ترکی خلیفتہ المسلمین کو معزول اور ان کے عثمانی شاہی خاندان کو جلا وطن کر کے ترکی خلافت کا خاتمہ کر دیا اور محمد مصطفٰے کمال پاشا کی صدارت میں ترکی میں جمہوری حکومت قائم ہوگئی۔
    اس واقعہ کی خبر ہندوستان میں پہنچی تو عامتہ المسلمین اور ان کے خلافتی لیڈروں پر کیا بیتی۔ اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے خود مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں ۔ ادھر فیصلہ خلافت کی پہلی خبر رپوٹر ایجنسی نے بھیجی اور اتنی بات کان میں پڑگئی کہ خلیفہ معزول اور خلافت موقوف ! ادھر دماغی رد فعل (ری ایکشن) کی ایک طوفانی لہر سب کے دماغوں میں دوڑ گئی۔ افسوس یہ ہے کہ خواص بھی اپنی دماغی حالت عوام سے بلند تر ثابت نہ کر سکے۔ بلکہ کہنا چاہئے عوام کی بدحواسی ذخیرہ دماغی کی رہنمائی انہی نے کی جس طرح اب سے پہلے دنیا کی ہر خوبی انگورہ والوں میں تھی اس طرح ایک لمحہ کے اندر دنیا جہان کی برائیاں ان میں سمٹ آئیں۔ شاید ہی کوئی بے محل اور بد حواسانہ بات ایسی ہوگی جو نہ کہی گئی ہو بس ایک جوش تھا جو مصطفٰے کمال پاشا۔ کے خلاف امڈ رہا تھا۔ کافر‘بے دین‘دشمن خلافت۔ چنگیزی بدترازہلا کو ۔ ہم مسلمانان ہند نے پانچ سال سے قومی زندگی کی نئی کروٹ لی تھی اور یہ پہلا واقعہ تھا کہ ہماری دماغی قوت اور قومی نظام کے لئے ایک آزمائش پیش آئی۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم آزمائش میں فیل ہوگئے۔ گذشتہ دو ماہ نے ثابت کر دیا کہ ہم میں اب تک کوئی نظام و جمعیت نہیں ہے اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہم میں نازک وقتوں کے لئے حالات پر قابو پانیوالے دماغ مفقود ہیں‘‘۔۵۶
    مولوی سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی جنہوں نے تحریک خلافت کے دوران سیرت گاندھی۵۷ تصنیف کی تھی۔ تحریک کے انجام پر ان الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں۔ ’’مسلمانوں میں ایسا انتشار پیدا ہوگیا تھا کہ ان کا کوئی حقیقی رہنما یا لیڈر ایسا نہ تھا جس پر وہ پوری طرح اعتماد کرسکیں۔ دوسری طرف ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوئوں کے عزائم بھی کھل کر سامنے آگئے تھے۔ ان کے مفادات کی نمائندگی گاندی جی کر رہے تھے۔ مسلمان ان پر اعتماد رکھتے تھے حالانکہ وہ ان کے بالکل کام کے نہ تھے اور فائدہ کی بجائے نقصان ہی پہنچا سکتے تھے۔ اور پہنچایا۔ ۵۸
    تحریک خلافت کے علمبردار حضرات خلیفہ کی معزولی پر پہلے تو مصطفٰے کمال پاشا کو گالیاں دیتے تھے۔ مگر جب کچھ وقت گذر گیا۔ تو معزول شدہ خلیفہ کو سخت سست کہنے لگے چنانچہ خود مولانا آزاد صاحب نے بھی جو مسلمانوں میں خلافت ترکی کے سب سے زیادہ سرگرم مبلغ تھے۔ خلیفتہ المسلمین کے خلاف یہاں تک لکھا کہ خلیفہ قطعاً بے کار تھا۔ وہ قسطنطنیہ کے ایک قصر میں رہتا تھا۔ دس ہزار پونڈ اس کا وظیفہ تھا۔ اور اگر کوئی مشغولیت تھی تو صرف یہ کہ جمعہ کے دن جلوس سلاملق کے ساتھ ادائے نماز کے لئے مسجد چلاجائے گویا یہ خلافت محص نام اور تنخواہ کی خلافت تھی جس کو دس ہزار پائونڈ ملیں اور جمعہ کے دن سلاملق کے ساتھ نکلے وہی خلیفہ ہے۔ ۵۹
    ملائکہ اللہ
    حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۲۰ء کے سالانہ جلسہ میں جو ایمان افروز تقریرں فرمائیں۔ وہ ملائکہ اللہ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ ان تقریروں میں جماعت کو نہایت قیمتی اور اہم ہدایات دینے کے علاوہ ملائکہ اللہ کے دقیق و لطیف مضمون پر ایسی صاف و شفاف اور ایسی بصیرت افروز وتسکین بخش روشنی ڈالی کہ دل عش عش اور روح وجد کرنے لگی ملائکہ کی حقیقت و ضرورت۔ ان کے فرائض وخدمات بیان فرمائے ان کے وجود پر ہوسکنے والے شبہات و اعتراضات کے کافی وشانی جوابات دیئے۔ اور آخر میں ان سے تعلق پیدا کرنے کے متعدد ذرائع بتائے۔
    ۱۹۲۰ء کے متفرق مگر اہم واقعات
    (۱) حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کے حرم اول میں صاحبزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں چوتھے فرزند مرزا مبشر احمد (اول) پیدا ہوئے۔ ]01 [p۶۰
    ۲۔ خان محمد عبدالرحیم خان صاحب (ابن حضرت نواب محمد علی خانصاحب) بیرسٹری کے لئے انگلستان روانہ ہوئے۔ ۶۱
    ۳۔ الفضل نے حضرت مسیح موعود کے پرانے خدام کے سوانح اور حالات زندگی محفوظ کرنے کی پہلی تحریک کی۔ ۶۲
    ۴۔ سیلون ‘ماریشس اور نائیجیریا کے طلبہ کے لئے باقاعدہ غیر ملکی کلاس کھولی گئی جس میں حضرت مولانا شیر علی صاحب بھی کچھ وقت دیتے رہے۔ ۶۳
    ۵۔ حضرت مسیح موعود نے ۱۹۰۱ میں مدرسہ تعلیم الاسلام میں لیکچروں کا ایکسلسلہ جاری فرمایا تھا یہ سلسلہ ایک سال جاری رہنے کے بعد بند ہوگیا۔ اور اس سال ۲۲ جنوری ۱۹۲۰ء کو پھر جاری ہوا۔ جبکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ضرورت مذہب کے عنوان پر پہلا لیکچر دیا۔۶۴
    ۶۔ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے سید زین العابدین ولی اللہ صاحب کا نکاح پڑھا اور خطبہ ارشاد فرمایا۔
    ۷۔ حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور۔ حضرت مولوی فتح دین صاحب دھرم کوٹ بگہ ‘حضرت مولوی عبدالغفار صاحب افغان‘حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحب بھینی شرقپور ‘حضرت منشی گلاب دین صاحب رہتاسی۔ حضرت میرز امیر احمد خان صاحب عرائض نویس (مردان) اور حضرت مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی جیسے اکابر صحابہ کا وصال ہوا۔
    ۸۔ مشہور مباحثے۔ مباحثہ فیروز پور ۶۵ (حضرت منشی فرزندعلی خان صاحب اور سید مدثر شاہ صاحب غیر مبائع کے درمیان) مباحثہ قادیان۔ ۶۶(شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور مرحوم اور سردار گنگا سنگھ کے درمیان) مباحثہ جہلم ۶۷]ydob [tag (حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی اور مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کے درمیان )مباحثہ ڈوگری ۶۸ ضلع سیالکوٹ (احمدی مناظر حافظ جمال احمد صاحب مرحوم) مباحثہ عالم پور کوٹلہ ۶۹۔ (مولوی جلال الدین صاحب شمس اور مولوی محمد امین صاحب اہلحدیث کے مابین ) مباحثہ چنیوٹ ۷۰ (حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی اور مولوی میر محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی) مباحثہ سارچور (مولوی جلال الدین صاحب شمس اور مولوی عبدالل¶ہ صاحب کے درمیان)۔۷۱
    ۹۔ خان اوصاف علی خاں صاحب سی۔ آئی۔ ای کمانڈر نابھہ جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے۔
    (الفضل ۱۲ جولائی ۱۹۲۰ء صفحہ ۱۰ ’’فہرست نومبائعین‘‘ نمبر)556
    ‏rov.5.18
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال
    فصل دوم
    خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال
    ( جنوری ۱۹۲۱ء تا دسمبر ۱۹۲۱ء بمطابق ربیع الاخر ۱۳۳۹ھ تا جمادی الاول ۱۳۴۰ھ تک)
    ہندومسلم اتحاد کے لئے ایک اہم تجویز
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے ۲۳ جنوری ۱۹۲۱ء کو ہندومسلم اتحاد کے سلسلہ میں پہلی بار یہ تجویز فرمائی کہ آریہ صاحبان اپنے بیس (۲۰) طلبہ یا کم و بیش جتنے مناسب سمجھیں ہمارے پاس بھیج دیں ان کا خرچ ہم برداشت کریں گے اور ان کو قران شریف پڑھائیں گے اس کے مقابلہ میں آریہ صاحبان ہمارے صرف دو آدمیوں کو سنسکرت پڑھادیں۔ اور ویدوں کا ماہر بنادیں اور ان کا خرچ بھی ہمارے ذمہ ہوگا۔۷۲ مگر افسوس آریہ صاحبان سے آجتک اس طرف توجہ نہیں ہوسکی۔
    حضور نے اگلے سال ۱۹۲۲ء میں گوروکل کانگڑی کے بعض ہندو طلباء کے سامنے یہ تجویز بیان فرمائی تو ایک ہندو طالب علم (جو گندرپال) اس کی معقولیت سے متاثر ہوکر خود بخود قادیان آگئے اور بالاخر مشرف باسلام ہوئے جن کا اسلامی نام محمد عمر رکھا گیا۔۷۳
    ’’ہدایات زریں برائے احمدی مبلغین‘‘
    ۲۶ جنوری ۱۹۲۱ء کو حضور نے بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں جماعت کے مبلغین اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے سامنے تقریر فرمائی جس میں مبلغین کو نہایت قیمتی ہدایات دیں پوری تقریر حضرت میر قاسم علی صاحب نے ’’ہدایات زریں‘‘ کے نام سے شائع کردی تھی۔ حضور کی ان ہدایات کا خلاصہ یہ تھا کہ مبلغ کو بے غرض دلیر ‘ہمدرد خلائق‘وسیع المعلومات‘نظافت پسند۔ بااخلاق۔ تہجد گذار۔ دعاگو‘بے نفس‘غیر جانبدار ‘منظم‘سوشل تعلقات میں ماہر اور ایثار وقناعت کا مجسمہ ہونا چاہئے۔۷۴
    دارالتبلیغ گولڈ کوسٹ (غانا) اور نائیجیریا کا قیام
    اس سال افریقہ میں پہلے مستقل دارالتبلیغ کا قیام عمل میں آیا۔ اور یہ تاریک براعظم اسلام و احمدیت کے نیراعظم کی ضیا پاشیوں سے منور ہونے لگا۔
    حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالٰے کو افریقہ میں تبلیغ کی تحریک کیسے ہوئی؟ یہ ایک نہایت ایمان افروز بات ہے جس کی تفصیل خود حضرت اقدس کے قلم سے درج کرتا ہوں فرماتے ہیں۔ ’’مجھے افریقہ میں تبلیغ اسلام کی ابتدائی تحریک درحقیقت اس وجہ سے ہوئی کہ میں نے ایک دفعہ حدیث میں پڑھا کہ حبشہ سے ایک شخص اٹھے گا جو عرب پر حملہ کرے گا۔ اور مکہ مکرمہ کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا۔۷۵ جب میں نے یہ حدیث پڑھی اسی وقت میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ اس علاقہ کو مسلمان بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ یہ انذاری خبر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ٹل جائے اور مکہ مکرمہ پر حملہ کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہمیں بعض دفعہ منذر رویاء آتا ہے تو ہم فوراً صدقہ کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کی موت کی خبر ہمیں ہوتی ہے تو وہ صدقہ کے ذریعہ ٹل جاتی ہے۔ اور صدقہ کے ذریعہ موت کی خبریں ٹل سکتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر افریقہ کے لوگوں کو مسلمان بنا لیا جائے تو وہ خطرہ جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے۔ نہ ٹل سکے۔ چنانچہ میرے دل میں بڑے زور سے تحریک پیدا ہوئی کہ افریقہ کے لوگوں کو مسلمان بنانا چاہئے۔ اسی بنا پر افریقہ میں احمدیہ مشن قائم کئے گئے ہیں بے شک خدا تعالٰے نے بعد میں اور بھی سامان ایسے پیدا کر دئے جن سے افریقہ میں تبلیغ اسلام کا کام زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوتا چلا گیا مگر اصل بنیاد افریقہ کی تبلیغ کی یہی حدیث تھی۔ کہ افریقہ سے ایک شخص اٹھے گا جو عرب پر حملہ کرے گا اور خانہ کعبہ کو گرانے کی کوشش کرے گا۔ (نعوذباللہ) میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کے فضلوں کی امید میں چاہا کہ پیشتر اس کے کہ وہ شخص پیدا ہو جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے ہم افریقہ کو مسلمان بنالیں اور بجائے اس کے کہ افریقہ کا کوئی شخص مکہ مکرمہ کو گرانے کا موجب بنے وہ لوگ اس کی عظمت کو قائم کرنے اور اس کی شہرت کو بڑھانے کا موجب بن جائیں۔‘‘۷۶
    حضرت خلیفتہ المسیح نے افریقہ میں پہلا مشن قائم کرنے کے لئے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر کا انتخاب فرمایا۔ جو ان دنوں لنڈن میں فریضہ تبلیغ ادا کر رہے تھے۔ چنانچہ مولانا نیر صاحب ۷۷ ۹فروری ۱۹۲۱ء کو لنڈن سے روانہ ہوئے اور ۱۹ فروری ۱۹۲۱ء ۷۸4] ftr[ کو سیرالیون پہنچے تختہ جہاز پر مسٹر خیر الدین افسر تعلیم سیر الیون نے آپ کا استقبال کیا۔ ۲۰ فروری ۱۹۲۱ء کو مسلمانوں کے مقامی مدارس اور مسجد میں آپ نے چار لیکچر دیئے۔ آخر تقریر کے بعد جو عیسائیوں کے لئے مخصوص تھی سوال و جواب بھی ہوئے ۲۱ فروری ۱۹۲۱ء کی صبح کو آپ نے سرکاری حکام سے ملاقات کرکے مسلمانوں کی تعلیمی حالت کی طرف توجہ دلائی ۷۹ اور اسی روز تیسرے پہر جہاز پر سوار ہو کر ۲۸ فروری ۱۹۲۱ء کو ساڑھے چار بجے شام گولڈ کوسٹ (غانا) کی بندرگاہ سالٹ پانڈ پر اترے اور مسٹر عبدالرحمان پیڈرو کے مکان پر قیام پذیر ہوئے۔
    گولڈ کوسٹ عملاً عیسائیت کا مرکز تھا۔ جہاں شمالی اور جنوبی نائیجیریا اور وسط افریقہ کے کچھ لوگ آباد ہوگئے تھے۔ اور اصل باشندوں میں صرف فینٹی قوم مسلمان تھی جس کے چیف (امیر) کا نام مہدی تھا۔ ۸۰ جس رات حضرت نیر صاحب سالٹ پانڈ پہنچے اسی رات مہدی نے خواب میں دیکھا کہ میرے کمرے میں رسول خدا ~صل۱~ تشریف لائے ہیں۔ ۸۱چیف مہدی ۴۵ برس سے مسلمان تھے۔ اور اس وقت سے برابر تبلیغ اسلام میں مصروف تھے انہیں یہ از حد غم تھا کہ میری آنکھیں بند ہوتے ہی کہیں اس علاقہ کے مسلمان سفید عیسائی مشزیوں کے رعب میں آکر اسلام کو خیرباد نہ کہہ دیں۔ چیف مہدی نے جو نہایت خدا پرست بزرگ تھے کیپ کوسٹ کے ایک شامی مسلمان سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا پتہ معلوم کیا۔ اور کچھ روپیہ جمع کرکے ان کو لنڈن بھجوایا تامسلمانوں کا کوئی سفید فام مبلغ گولڈ کوسٹ آئے اور تبلیغ کا کام شروع کرے مگر دوسال تک کوئی مبلغ افریقہ کی طرف نہ بھجوایا جاسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عوام میں یہاں تک سخت بدگمانی پیدا ہوگئی حتیٰ کہ وہ کہنے لگے کہ سفید آدمی مسلمان ہی نہیں ہوتے۔۸۲حضرت نیر صاحب نے سیرالیون اور سکنڈی سے اپنی آمد کے تار دیئے تو اسی وجہ سے ان پر بھی چنداں اعتبار نہ کیا گیا۔ البتہ آپ کے سالٹ پانڈ پہنچنے پر پہلے بعض آدمی مختلف دیہات سے خبر کی تصدیق کے لئے پہنچے۔ پھر چیف مہدی صاحب کا نقیب آپ سے آکر ملا اور ۱۱ مارچ ۱۹۲۱ء کو اکرافل۸۳میں فینٹی مسلمانوں کا جلسہ مقرر ہوا۔
    مولانا نیر صاحب ترجمان کے ساتھ بذریعہ موٹر وہاں پہنچے چیف مہدی کے مکان کے سامنے پانچصد افراد کا مجمع تھا۔ چیف مہدی اپنے قومی لباس پہنے حلقہ امراء میں بیٹھے تھے ۔ مولانا نیر صاحب کے لئے دوسری طرف میز لگایا گیا۔ آپ کا ترجمان اور ائمہ مساجد آپ کے ارد گرد تھے۔ نقیب نے عصائے منصب ہاتھ میں لے کر چیف اور اس کے ممبروں کی طرف سے خوش آمدید کہا۔ پھر خود چیف مہدی نے تقریر کی۔ کہ ۴۵ برس ہوئے میں مسلمان ہوا۔ مجھے صرف اللہ اکبر آتا تھا۔ اور یہی میرے ساتھ کے دوسرے مسلمان جانتے تھے۔ ہوسا قوم۸۴ اور لیگوس کے لوگ بعد میں آئے اور ہمیں اسلام سکھایا۔ ہم جاہل ہیں۔ ۸۵ اسلام کا پورا علم نہیں۔ سفید آدمی مسیحیت سکھانے آتے ہیں۔ میں بوڑھا ہوں مجھے فکر تھی کہ میرے بعد یہ مسلمان مسلمان رہیں میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ میری زندگی میں آپ آگئے۔ اور ابیہ مسلمان آپ کے سپرد ہیں ان کو انگریزی و عربی پڑھائی جائے اور دین سکھایا جائے۔
    اس کے بعد مولانا نیر صاحب نے اپنی تقریر میں کہا۔ کہ اللہ تعالٰے نے تمہاری دستگیری کی اور اس جماعت کی طرف سے مبلغ آیا جو زندہ اسلام پیش کرتے ہے۔ میری آنکھوں نے مسیح موعودؑ کو دیکھا۔ میرے کانوں نے اس کے مقدس منہ سے نکلے ہوئے الفاظ سنے۔ میرے ہاتھوں نے اس برگزیدہ پہلوان اسلام کے پائوں کو چھوا۔ پس تم کو مبارک ہو کہ خدانے تمہاری مدد کی۔ اب انشاء اللہ فینٹی مسلانوں کی تعلیم و تربیت کا کام احمدی جماعت کرے گی۔
    ۱۸ مارچ ۱۹۲۱ء کو اکرافول میں دوسرا جلسہ منعقد ہوا جس میں آپ نے دو گھنٹہ تقریر فرمائی۔ اور فینٹی قوم اور ان کے چیف کو جماعت احمدیہ میں شامل ہونے اور گذشتہ رسوم و رواج کو ترک کرکے سچے اور مخلص مسلمان بننے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ دوسرے ہی دن ان کی مجلس اکابر نے فیصلہ کیا کہ ہم سب لوگ اپنی جماعتوں سمیت احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک ہی دن میں ہزاروں لوگ سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوگئے اور ید خلون فی دین اللہ افواجا کا نظارہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔ ۸۷۸۶
    فینسٹی قوم کے احمدی ہونے کے بعد حضرت مولانا نیر صاحب نے نائیجیریا کی طرف توجہ مبذول فرمائی چنانچہ پہلی بار آپ بذریعہ جہاز ۸ اپریل۱۹۲۱ء کو نائیجیریا کے صدر مقام لیگوس میں پہنچے۔ ۸۸
    لیگوس میں ان دنوں ۳۵ ہزار کے قریب مسلمان تھے۔ اور ۲۰ ہزار کے قریب عیسائی مگر علم دولت تجارت اور سرکاری عہدے سب عیسائیوں کے ہاتھ میں تھے۔ اور جہاں عیسائیوں کے چالیس مدارس تھے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک (محمڈن اسکول) تھا۔ ان حالات میں حضرت مولانا نیر نے لیگوس میں قدم رکھا اور پہنچتے ہی مختلف مساجد میں لیکچر دیئے۔ پھر پبلک لیکچروں کا ایک باقاعدہ سلسلہ شروع کر دیا جس سے سعید روحیں احمدیت کی طرف کشاں کشاں آنے لگیں۔ ۸۹ ماحول کے اثر سے لیگوس کے مسلمانوںمیں یہ رسم قائم ہوچکی تھی۔ کہ وہ دوسرے کا ادب و احترام کرنے کی خاطرفوراً گھٹنوں کے بل ہوجاتے تھے حضرت مولانا نیر صاحب نے اس کے خلاف زبردست وعظ کی جس پر بہت سے مسلمانوں نے یہ رسم چھوڑ دی۔ لیگوس میں ایک فرقہ اہل قرآن بھی تھا۔ ۹۰ اس کے بارہ اکابر نے حضرت مولانا نیر صاحب سے ملاقات کی اور بتایا کہ بارہ برس ہوئے ہمارے سابق امام جماعت نے مرنے سے پہلے یہ خوشخبری دی تھی کہ ایک سفید رنگ کا آدمی man( )White آئے گا جو مسیح موعود کی خبر لائے گا۔ اور اہل قرآن کی تصدیق کرے گا یہ پیشگوئی آپ کے وجود سے پوری ہوئی ہم آپ کے ساتھ ہیں۔۹۱ چنانچہ ان اکابر میں سے جنہوں نے مولانا نیر کے ہاتھ پر بیعت کی۔۹۲ الفا عبدالقادر بھی ایک بزرگ تھے افسوس چند ماہ بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ ۹۳ مولانا نیر نے پرنس الیکو سلطان لیگوس کو ان کے محل میں جاکر تبلیغ کی۔ ۹۴
    آپ چار ماہ لیگوس میں ٹھرے اور دن رات دیوانہ وار تبلیغ کرتے رہے اور بالاخر ۸ اگست ۱۹۲۱ء کو واپس سالٹ پانڈ پہنچے ۹۵ سالٹ پانڈ میں آکر شہر کے عین وسط میں کمرشل روڈ پر ایک دو منزلہ مکان کرایہ پر لے کر مشن ہائوس قائم کیا۔ اور اندرون ملک ایک لمبا دورہ کیا۔ ۹۶ اور ایک مبلغین کلاس جاری کی جس میں عربی میں قرآن و حدیث ‘فقہ اور عقائد احمدیہ کی تعلیم دینے لگے۔ ۹۷اسی طرح گولڈ کوسٹ (غانا) جماعت کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ان میں عہدیدار مقرر کئے۔ انتظامی تقسیم کے مکمل ہونے کے بعد آپ دوبارہ ۱۵ دسمبر ۱۹۲۱ء کو نائیجیریا کے دارالخلافہ لیگوس میں تشریف لے گئے۔ اور تبلیغ شروع کردی۔ اسی دوران میں حضرت خلیفہ المسیح ثانی نے ۲۳ جنوری ۱۹۲۲۔ ۹۸ کو گولڈ کوسٹ مشن سنبھالنے کے لئے مولوی حکیم فضل الرحمان صاحب کو روانہ فرمایا۔ ۹۹ جو ۱۱ مارچ کو لنڈن اور ۱۷ اپریل کو لیگوسپہنچے اور حضرت نیر کے ذریعہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد ۱۳ مئی ۱۹۲۲ء کو سالٹ پانڈ پہنچ گئے۔ اس طرح نائیجیریا اور غانا مشن جو ایک ہی مبلغ کے مشن کے تحت تھے دو مستقل مشنوں کی صورت اختیار کرگئے گولڈ کوسٹ کے انچارج حکیم فضل الرحمان صاحب اور نائیجیریا مشن کے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر۔
    دارالتبلیغ نائیجیریا
    واقعات کے تسلسل کے لحاظ سے سب سے پہلے نائیجیریا مشن کے بقیہ حالات لکھے جاتے ہیں۔ حضرت مولانا نیر صاحب نے جو نائیجیریا مشن کے مستقل انچارج کی حیثیت سے لیگوس کے باہر بھی تبلیغ کو وسعت دینی شروع کی پہلے اور شمالی نائیجیریا کے ایک اہم شہر زاویہ کے امیر ۱۰۰ اور امیر کانو تک پیغام حق پہنچایا۔ پھر واپس لیگوس آکر ۱۱ ستمبر ۱۹۲۲ء کو مدرسہ تعلیم الاسلام جاری کیا جو صحیح معنوں میں لیگوس میں پہلا اسلامی مدرسہ تھا۔ ۱۰۱ نیز ارد گرد کے علاقوں میں مقامی احمدیوں کے وفود بھجوائے۔ ۱۰۲ حضرت مولانا نیر صاحب کو مغربی افریقہ میں بڑی جدو جہد کرنا پڑی اور آپ شمالی نائیجیریا کے دورہ سے واپس آکر کم وبیش ۴ ماہ تک بیمار رہے۔ اور گورنمنٹ ہسپتال میں داخل کئے گئے۔ پھر آپ ڈاکٹری ہدایت کے تحت تبدیل آب و ہوا کے لئے بتاریخ ۲۱ جنوری ۱۹۲۳ء لنڈن بھجوادیئے گئے۔ ۱۰۳
    حضرت مولانا نیر کے بعد مالی مشکلات ۱۰۴ کی وجہ سے سالہا سال تک کوئی مرکزی مبلغ نہیں بھجوایا جاسکا۔ آخر حضرت خلیفہ ثانی کے ارشاد سے الحاج حکیم فضل الرحمان صاحب نے ستمبر ۱۹۲۹ء کے قریب گولڈ کوسٹ (غانا) سے واپسی سے پہلے نائیجیریا کا دورہ کیا۔ ۱۰۵ پھر وہ مرکز میں تشریف لے آئے حکیم صاحب فروری ۱۹۳۳ء کو قادیان سے روانہ ہوکر لنڈن ‘سیرالیون اور گولڈ کوسٹ میں قیام کرتے ہوئے جولائی ۱۹۳۴ء میں نائیجیریا پہنچے۔ ]01 [p۱۰۶ آپ وہاں پہنچتے ہی ایک خظر ناک اندرونی کشمکش سے دوچار ہوگئے۔ جو بعض لوگوں نے ایک خود ساختہ قانون کی بناء پر پیدا کردی تھی۔ ۱۰۷ معاملہ آخر عدالت تک پہنچا۔ ۲۰ مارچ ۱۹۳۷ء کو اس کا فیصلہ ہوا۔ ۱۰۸ لیکن فیصلہ ہونے کے باوجود ۱۹۳۹ء تک حالات مخدوش رہے ۱۹۴۰ء میں حضرت خلیفہ ثانی کے ارشاد پر جماعت کی دوبارہ تشکیل کی گئی۔ جس کے بعد مکرم حکیم صاحب نے جماعت نائیجیریا کی ترقی واستحکام کی طرف پوری توجہ دینی شروع کردی۔ اور اپنی مسلسل جدوجہد اور قابل رشک اخلاص سے مشن کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر کھڑا کر دیا چنانچہ انہوں نے جماعت نائیجیریا کی تربیت واصلاح کے لئے متعدد اقدامات کئے تعلیم الاسلام سکول کے لئے سرکاری گرانٹ منظور کرائی۔ ۱۰۹ نئی جماعتیں قائم کیں۔ لیگوس میں ایک نہایت خوبصورت مسجد ۱۱۰ اور مشن ہائوس تعمیر کیا۔ آنحضرت ~صل۱~ کی سیرت طیبہ ’’دی لائف آف محمدﷺ‘‘~ کے نام سے تصنیف کی ۔ جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی اور آج تک مغربی افریقہ کے تمام سکولوں کے نصاب میں شامل ہے جنوری ۱۹۴۵ء میں جناب مولوی نور محمد صاحب نسیم سیفی نائیجیریا بھجوائے گئے جنہوں نے حکیم صاحب کی واپسی کے بعد جو ۱۹۴۷ء میں ہوئی مشن کا چارج لیا۔ اور (چند ماہ کے وقفہ کے ساتھ) قریباً انیس سال تک اہم تبلیغی خدمات بجالاتے رہے ۔ آپ ہی نے دی ٹرتھ Truth( )The کے نام سے نائیجریا مشن کا پہلا ہفت روزہ اخبار جاری کیا جو نائیجیریا میں مسلمانوں کا واحد اخبار ہے۔ اور عیسائیت کے حملوں کے سامنے ایک آہنی دیوار کا کام دے رہا ہے۔ اور تبلیغ اسلام و احمدیت کا نہایت کامیاب اور موثر ذریعہ ہے محترم سیفی صاحب نے پروفیسر الیاس برنی کی کتاب Movement( )Qadiani (قادیانی مذہب) کا جواب Movement’’ ‘‘Our (ہماری تحریک) کے نام سے لکھا جو ہالینڈ سے شائع ہوا۔ ۶۰۔۱۹۵۹ء میں مشہور ہو ساقبیلہ کے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں داخل احمدیت ہوئے۔۱۱۱ آپ جولائی ۱۹۶۴ء میں واپس ربوہ تشریف لائے اور اب مولوی شیخ نصیر الدین احمد صاحب دارالتبلیغ نائیجیریا کے انچارج مبلغ ہیں۔
    جناب نسیم سیفی صاحب کے زمانہ سے لے کر اب تک جن مبلغین کو نائیجیریا کی سرزمین میں اعلائے کلمہ اسلام کی توفیق ملی یا جو سرگرم عمل ہیں ان کے نام یہ ہیں۔ قریشی محمد افضل صاحب۔ سید احمد شاہ صاحب۔ مولوی مبارک احمد صاحب ساقی‘شیخ نصیر الدین احمد‘مولوی بشارت احمد صاحب بشیر ۔ مولوی محمد بشیر صاحب شاد۔ مولوی محمد اسحاق صاحب خلیل۔ عبدالمجید صاحب بھٹی۔ ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب‘قریشی مقبول احمد صاحب۔ چوہدری رشید الدین صاحب۔ کرنل محمد یوسف شاہ صاحب۔ حاجی فیض الحق صاحب‘قریشی فیروز محی الدین صاحب۔ بشیر احمد صاحب شمس۔
    لٹریچر
    دارالتبلیغ نائیجیریا کی طرف سے بڑی کثرت سے لٹریچر چھپ چکا ہے جس میں یوربا زبان میں ترجمہ قرآن (پارہ اول) Islam of outline (Anاسلام کا اجمالی خاکہ) Christ and Mhuammad حضرت محمد اور یسوع) movement Our (ہماری تحریک) Qadian of Ahmad (احمد قادیانی) Christianity and Islam (اسلام اور عیسائیت) وغیرہ (جو جناب نسیم سیفی صاحب کی تالیفات ہیں) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ نائیجیریا کے وزیراعظم الحاج ابوبکر۱۱۲ نے اپنی تقریر کے دوران میں کہا کہ مجھے جب بھی عیسائیوں سے بحث کے دوران کوئی بات پیش کرنی ہوتی ہے تو ہمیشہ احمدیہ لٹریچر میری رہنمائی کرتا ہے میں اس کے علاوہ کسی اور مذہبی لٹریچر پر اعتماد نہیں کرتا جتنا احمدیہ جماعت کے لٹریچر پر کرتا ہوں‘‘۔
    نائیجیریا میں اس وقت مرکزی مبلغوں کے علاوہ متعدد مقامی مبلغ بھی کام کر رہے ہیں ۳۵ جماعتیں قائم ہیں اور مشن اس حد تک ترقی کر چکا ہے کہ وہ خود کفیل ہے اور اس کے ماتحت دس سکول اور دو ہسپتال کھولے جاچکے اور انیس مساجد تعمیر کی جاچکی ہیں۔ اور احمدیہ مشن کی طرف سے ہرماہ تقریباً آٹھ دفعہ ریڈیو پر تقاریر اور ایک مرتبہ خطبہ جمعہ نشر کیا جاتا ہے۔
    نائیجیریا مشن غیروں کی نظر میں
    اخبار مسلم ورلڈ نے لکھا (۱) ’’سنوسیہ اور اس جیسے مسلمانوں کے قدیم فرقے جو یورپین طاقت سے کھلے کھلے جنگ کے حامی تھے۔ ایک ایک کرکے میدان سے ہٹ گئے ہیں۔ اور ان کی جگہ فرقہ احمدیہ لے رہا ہے جس نے لیگوس کے مرکز سے پھیل کر تمام فرانسیسی مغربی افریقہ پر اثر جمالیا ہے‘‘۔
    (۲) اسی طرح دی نائیجیریا سپیکٹیڑ لیگوس نے لکھا۔ ’’معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کے لئے مقدر ہوچکا ہے کہ وہ نائیجیریا کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا کردیں چند ہی سال گذرے ہیں جبکہ انہوں نے یہاں کام شروع کیا اور اب یہ سلسلہ نہ صرف لیگوس میں بلکہ تمام نائیجیریا کے مسلمان نوجوانوں کی زندگی میں ایک بھاری تبدیلی پیدا کر رہا ہے‘‘۔۱۱۳
    ۳۔ ’’تمام نائیجیریا اور خصوصاً اس کے مرکز لیگوس میں زیادہ افراد حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں۔ یہی حال ابادان کا ہے جو ملک کا تعلیمی مرکز ہے‘‘ (نائیجیریا کے لاٹ پادری بشپ ہاولز کی رپورٹ)۱۱۴
    ۴۔ ’’آج اسلام کو مغربی نائیجیریا میں بہت زیادہ غلبہ حاصل ہو رہاہے جس کا اندازہ اس امر سے بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ عیسائیت قبول کرنے والے ایک کے مقابل پر اسلام میں بیس داخل ہونے والے ہوتے ہیں‘‘۔ (دی لائٹز یکم نومبر ۱۹۵۳ء از اینگلیکن مشزی)
    ۵۔ ہم چرچ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو سنبھالے اگر ہماری اس تنبیہ کی طرف توجہ نہ کی گئی تو عین ممکن ہے کہ اسلام فاتحانہ انداز میں جنوبی نائیجیریا کے آخری سرے تک پہنچ جائے۔ 4] f[st۱۱۵ (ویسٹ افریقن پائلاٹ نائیجیریا ۲۱ مئی ۱۹۵۷ء)
    ۶۔ ’’میتھوڈسٹ کے چرچ نے اپنی سالانہ کانفرنس کی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلام مغربی افریقہ اور خود برطانیہ میں ایک زبردست تبلیغی مہم سر کر رہا ہے‘‘۔۱۱۶ (ڈیلی سروس (نائیجیریا) ۱۲ جون ۱۹۵۷ء)
    ۷۔ ابادان (نائیجیریا) کے انچارج بشپ اے ۔ بی آکیں یسیلے نے کہا۔’’اسلام اس امر کا بڑے زور سے تقاضا کررہا ہے کہ اسے مغربی افریقہ کا مسلمہ مذہب قرار دیا جائے اور اس نے ایک سے زیادہ صوبائی پادریوں سے یہ سنا ہے کہ اسلام بہت زیادہ ترقی کی طرف گامزن ہے۔
    ۸۔ (افریقہ میں) لاکھوں لاکھ افریقن جن کی تعداد وہاں کی اصل آبادی کے پانچویں حصے کے برابر ہوگی۔ اسلام قبول کرچکے ہیں۔ بعض علاقوں میں جہاں آجکل عیسائی مشزی اور مسلمان مبلغ ایک دوسرے کے بالمقابل اپنے اپنے مذہب کی اشاعت میں مصروف ہیں حالت یہ ہے کہ عیسائیت قبول کرنیوالے ایک شخص کے مقابلے میں دس افریقن اسلام قبول کرتے ہیں۔ یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ مغربی افریقہ میں اب اسلام کو واضح طور پر افریقنوں کا مذہب قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ عیسائیت وہاں صرف اور صرف سفید لوگوں (یورپین) کا مذہب بن کر رہ گیا ہے۔ ۱۱۷
    ۹۔ ’’آج سے تیس سال قبل وہ (یعنی مسلمان) سب سے زیادہ پسماندہ قوم تھے لیکن جب سے احمدیہ جماعت نے اپنے ترقیاتی پروگرام کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا ہے مسلمانوں میں حیرت انگیز تبدیلی واقع ہوگئی ہے‘‘۔ (کیتھولک ہیرلڈ ۱۹ اگست ۱۹۵۵ء)
    ۱۰۔ ابادان کے بشپ نے غانا میں تقریر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جہاں عیسائیت کو سخت ناکامی ہوئی ہے وہاں مسلمانوں نے میدان جیت لیا ہے‘‘۔ (نائیجیرین ٹریبیون ۲۴ فروری ۱۹۵۵ء)
    ۱۱۔ نائیجیریا کے بشپ ایس۔ او۔ روڈ وٹون نے کل افریقہ چرچ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا عیسائی چرچ نائیجیریا میں اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے بہت تشویش میں ہے (ڈیلی ٹائمز۔ ۱۴ جنوری ۱۹۵۸ء)
    ۱۲۔ مسٹر ریمزے نے افریقہ کے تیرہ ممالک کا دورہ کرنے کے بعد اس خیال کا اظہار کیا کہ عیسائیت افریقہ میں اسلام سے شکست کھا رہی ہے۔ (ویسٹ افریقن پائلاٹ ۲۱ مارچ ۱۹۶۰ء)
    ۱۳۔ جیوفرے ہیرلڈ (ایک مشہور عیسائی مصنف) نے ویسٹ افریقن ریویو (لنڈن) کی دسمبر ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں لکھا ہے احمدیہ جماعت اگرچہ قلیل التعداد ہے لیکن یہ بہت زیادہ کام کرنے والے لوگ ہیں۔ اور اپنی آواز کو خوب دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ مغربی افریقہ میں ان کے متعدد مدارس ہیں جو مغربی خطوط پر چلائے جاتے ہیں۔ ان کے اخبارات بھی ہیں۔
    گولڈ کوسٹ (غانا) مشن۱۱۸ اوپر بتایا جاچکاہے کہ الحاج حکیم فضل الرحمان صاحب ۱۳ مئی ۱۹۲۲ء کو انچارج مشن کی حیثیت میں یہاں پہنچے آپ آخر ستمبر ۱۹۲۹ء ۱۱۹ تک گولڈ کوسٹ میں تبلیغ اسلام و احمدیت میں مصروف عمل رہے۔ محترم حکیم صاحب کے عہد میں مشن کو بہت فروغ ہوا۔ سالٹ پانڈ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول جاری کیا۔ اور جماعت کے امراء سے چندہ خاص کرکے سکول کی عمارت تعمیر کی ۱۲۰ اپریل ۱۹۲۸ء میں شہر کماسی میں آپ کا غیر احمدیوں سے مناظرہ ہوا۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے احمدیت کو نمایاں فتح بخشی۔ اس مناظرہ میں حکومت کے اعلیٰ افسروں کے علاوہ پراونشل کمشنر بھی موجود تھے۔ ۱۲۱ حکیم صاحب ابھی گولڈ کوسٹ ہی میں تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم پر مولوی نذیر احمد (علی) صاحب (ابن حضرت بابو فقیر علی صاحب اسٹیشن ماسٹر) ۲۲ فروری ۱۹۲۸ء کو قادیان سے گولڈ کوسٹ روانہ ہوئے۔ ۱۲۲ اور وہاں کچھ عرصہ حکیم صاحب کا ہاتھ بٹانے کے بعد یکم اکتوبر ۱۹۲۹ء سے مشن کے انچارج مقرر کئے گئے۔ ۱۲۳ اور کامیاب جرنیل ثابت ہوئے۔
    مولوی نذیر احمد علی صاحب کے زمانہ میں گولڈ کوسٹ (حال غانا) کی جماعت نے خوب ترقی کی کوامنیاٹا۔ اسیام۔ کیپ مقامات میں نئے سکول کھلے اور متعدد نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ مئی ۱۹۳۳ء میں آپ واپس تشریف لے آئے۔ اور مشن کا کام الحاج حکیم فضل الرحمان صاحب نے انجام دینا شروع کر دیا۔ ۱۲۴
    آپ کے دور میں یہاں مشن ہائوس بھی تعمیر ہوگیا۔ ۲۱۲۵ فروری ۱۹۳۶ء کو مولوی نذیر احمد علی صاحب اور مولوی نذید احمد صاحب مبشر سیالکوٹی مولوی فاضل گولڈ کوسٹ روانہ ہوئے۔ اور ۲۳ اپریل ۱۹۳۶ء کو گولڈ کوسٹ پہنچے۔ اور یکم مئی ۱۹۳۶ء کو اس مشن کا چارج لیا۔۱۲۶ اور کماسی میں جواشانٹی کا مرکز ہے احمدیہ پرائمری سکول کی بنیاد رکھی۔ ۱۲۷ اکتوبر ۱۹۳۷ء ۱۲۸ میں مولوی نذیر احمد علی صاحب حضرت خلیفہ ثانی کے ارشاد کے تحت سیرالیون میں نیا داراتبلیغ کھولنے کے لئے تشریف لے گئے اور گولڈ کوسٹ مشن مولوی نذیر احمد صاحب مبشر کی امارت میں جلد جلد ترقیات کی منزلیں طے کرنے لگا اور خدا کے فضل سے یہ آپ ہی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج غانا کی جماعت ممالک بیرون پاکستان کی عظیم ترین جماعتوں میں شمار ہوتی ہے جس میں اڑھائی سو سے زیادہ جماعتیں ہیں۔ پونے آٹھ لاکھ روپیہ کا بجٹ ہے ایک سو باسٹھ کے قریب مساجد اور سولہ کے قریب سکول قائم ہیں۔اور بیس کے لگ بھگ (مرکزی مبلغین کے علاوہ) مقامی مبلغ کام کر رہے ہیں جن کے لئے الگ الگ مشن ہائوس موجود ہیں۔ حضرت خلیفہ ثانی المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کی نسبت فرمایا تھا۔ افریقی اقوام میں بیداری کے جو سامان پیدا ہوئے ہیں ان میں مولوی نذیر احمد صاحب کو اس عمارت کی ایک بنیادی اینٹ بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۱۲۹ حضرت اقدس کے حکم سے مولوی نذیر احمد صاحب مبشر تین بار اس ملک میں بھجوائے گئے اور آپ کو یہاں (آمدورفت کے عرصہ کو مستثنیٰ کرکے) ۱۹۳۶ء سے لیکر ۱۹۶۱ء تک تبلیغی جہاد کرنے کا موقعہ ملا۔ اس عرصہ میں تعداد۔ تعلیم اور جائیداد غرضکہ ہر جہت سے مشن نے حیرت انگیز ترقی کی چنانچہ مسٹر جان ہمفری فشر John ۔)Mr fisher( Humphrey نے جو جماعت کی تبلیغی مساعی پر تحقیقات کے لئے خود مغربی افریقہ گئے تھے۔ اپنی کتاب Ahmdiyya میں آپ کی خدمات کو سراہا ہے۔ ۱۳۰ مولوی نذیر احمد صاحب مبشر کے بعد اب مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم انچارج مشن کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اور سالٹ پانڈ سے ایک ماہوار اخبار ’’دی گائیڈنس‘‘ Guidance( )The بھی آپ کی ادارت میں ۱۹۶۲ء سے شائع ہوتا ہے۔
    اب ذیل میں ان مجاہدین کے نام لکھے جاتے ہیں جنہوں نے مندرجہ بالا مبلغین کے علاوہ اس مشن میں کام کیا ہے۔ یا ابھی تک مصروف جہاد ہیں ملک احسان اللہ صاحب۔ مولوی عبدالخالق صاحب ۔ مولوی بشارت احمد صاحب نسیم امروہوی۔ مولوی صالح محمد صاحب۔ مولوی عبدالحق صاحب انور ۔ چوہدری عطاء اللہ صاحب۔ مولوی بشارت احمد صاحب بشیر۔ صوفی محمد اسحاق صاحب۔ مولوی عبداللطیف صاحب شاہد۔ مولوی عبدالقدیر صاحب شاہد۔ مولوی محمد افضل صاحب قریشی۔ ملک خلیل احمد صاحب اختر۔ مولوی فضل الٰہی صاحب انوری۔ مولوی عبدالرشید صاحب رازی۔ مسعود احمد صاحب دہلوی۔ سید سفیر الدین احمد صاحب۔ قریشی فیروز محی الدین صاحب۔ مرزا لطف الرحمان صاحب۔ جناب مولوی عبدالمالک خان صاحب۔ صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب۔ سید دائود احمد صاحب انور۔ مولوی عبدالحمید صاحب۔ منیر احمد صاحب رشید۔ پروفیسرمحمد لطیف صاحب۔ سید محمد ہاشم صاحب بخاری۔ ان مرکزی مبلغین کے علاوہ دو درجن کے قریب مقامی مبلغین بھی کام کررہے ہیں۔ جن میں سے مسٹر عبدالوہاب بن آدم اور مسٹر ابراہیم بن مانو ربوہ میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔
    لٹریچر۔ اس مشن کی طرف سے فینٹی‘اشانٹی اور انگریزی زبان میں اسلامی لٹریچر چھپ چکا ہے۔
    غانا دارالتبلیغ کی خدمات غیروں کی نظر میں
    بالاخر غانا دارالتبلیغ سے متعلق غیروں کے چند تاثرات درج کئے جاتے ہیں جن سے اس مشن کی فتوحات کا کسی قدر اندازہ ہوگا۔
    ۱۔ غانا یونیورسٹی کالج کے مشہور پروفیسر مسٹر ایس۔جی ولیم سن لکھتے ہیں غانا کے شمالی حصہ میں رومن کیتھولک کے سوا عیسائیت کے تمام اہم فرقوں نے محمد کے پیروئوں کے لئے میدان خالی کردیا ہے اشانٹی اور گولڈ کوسٹ کے جنوبی حصوں میں آج کل عیسائیت ترقی کر رہی ہے لیکن جنوب کے بعض حصوں میں خصوصیت سے ساحل کے ساتھ ساتھ جماعت احمدیہ کو عظیم فتوحات حاصل ہورہی ہیں۔ یہ خوشکن توقع کہ گولڈ کوسٹ جلد ہی عیسائی بن جائے گا اب معرض خطر میں ہے اور یہ خطرہ ہمارے خیال کی وسعتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک خاصی تعداد احمدیت کی طرف کھچی چلی جارہی ہے۔ اوریہ یقیناً صورت حال عیسائیت کے لئے کھلا چیلنج ہے تاہم یہ فیصلہ ابھی باقی ہے۔ کہ آئندہ افریقہ میں ہلال کا غلبہ ہوگا یا صلیب کا۔ ۱۳۱(ترجمہ)
    ۲۔ ورلڈ کرسچن ڈائجسٹ (جون ۱۹۶۱ء صفحہ ۳۹۔۴۰) میں لکھا ہے ’’کیا اسلام کی روز افزوں ترقی اور اس سارے علاقہ کو بہت جلد اپنی لپیٹ میں لے لینے کے اسلامی چیلنج کا ہمارے پاس کوئی موثر و موزوں جواب ہے۔ غانا میں بھی جماعت احمدیہ سر گرم عمل ہے۔ غانا کے شمالی علاقہ کے لوگ مذہبی ہیں۔ اس لئے وہاں تھوڑی سی کوشش بھی اسلام کو وسیع پیمانہ پر پھیلانے کا موجب ہوسکتی ہے‘‘۔
    ۳۔ ماہنامہ ’’مجلہ الازہر‘‘ (بابت جولائی ۱۹۵۸ء) نے ’’الاسلام فی غانا‘‘ کے عنوان سے جماعت احمدیہ کی خدمات کا ان الفاظ میں ذکر کیا۔ ’’ولھم نشاط بارز فی کافہ النواصی ومدارسھم ناجحہ بالرغم ان تلامیذ ھا لا یدینون بمذھبھم جمیعا‘‘۔ یعنی فرزندان احمدیت کی سرگرمیاں تمام امور میں انتہائی طور پر کامیاب ہیں اور ان کے مدارس بھی کامیابی سے چل رہے ہیں۔ بحالیکہ ان مدارس کے سبھی طلبہ ان کی جماعت سے وابستہ نہیں ہیں۔
    ۴۔ غانا کے ڈپٹی سپیکر الحاج یعقوب طالع نے بیان دیا کہ یہ امر ہمارے مشاہدہ میں آیا ہے کہ اگر احمدیہ جماعت اسلام کے احیاء اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی جدوجہد نہ کرتی تو اسلام مادیات کے تھپیڑوں میں کبھی کا دب چکا ہوتا۔ میں چشم دید گواہ ہوں کہ سلسلہ احمدیہ کی مساعی کے نتیجہ میں اسلام دنیا کے مختلف ممالک میں سربلندی حاصل کررہا ہے۔ اور یہ کہنے میں مبالغہ نہ ہوگا۔ کہ اس دور کی انسانی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہے۔ ۱۳۲
    ۵۔ غانا یونیورسٹی کے ایک لیکچرار Price ۔A۔J نے مانچسٹر گارڈین کی ایک اشاعت میں لکھا ’’مالکیوں کے علاوہ مسلمانوں کا ایک اور فرقہ جماعت احمدیہ بھی ہے جو اپنی تبلیغی مساعی کے لحاظ سے مشہور ہے اس کا مرکز پاکستان میں ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ جماعت تیزی کے ساتھ ترقی کے راستہ پر گامزن ہے عیسائی اور مشرکین دونوں میں سے لوگ جوق در جوق اس میں داخل ہورہے ہیں۔ اس جماعت کی ترقی کی رفتار کا اندازہ اس امر سے ہوسکتاہے۔ کہ ۱۹۳۱ء میں اس کے ممبروں کی تعداد تین ہزار ایک سو دس تھی جبکہ ۱۹۴۸ء میں یہ تعداد بائیس ہزار پانچ سو بہتر تک پہنچ چکی ہے احمدیہ مشن کی نمایاں کامیابی میں اس کی تعلیمی سرگرمیوں کا بھی دخل ہے۔ جس میں ثانوی تعلیم بھی شامل ہے ان کی مساعی کو مغربی افریقہ کے تمام علاقوں میں محسوس کیا جارہا ہے۔ ۱۳۳
    حضرت خلیفہ المسیح کا تیسرا نکاح
    ۷ فروری ۱۹۲۱ کو حضرت خلیفتہ المسیح ثانی نے حضرت مسیح موعود کے مخلص اور قدیم صحابی ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی دختر نیک اختر حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ کو اپنی زوجیت کا فخر بخشا۔ خطبہ نکاح حضرت سید سرورشاہ صاحب نے پڑھا مہر ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا۔۱۳۴ ۲۱ فروری ۱۹۲۱ء کو تقریب رخصتانہ عمل میں آئی ۲۳ فروری ۱۹۲۱ء کو بوقت صبح دعوت ولیمہ ہوئی۔ ۱۳۵ حضور کو اس نکاح کی تحریک اس لئے ہوئی کہ سیدہ مریم بیگم صاحبہ کا نکاح حضرت مسیح موعود کے فرزند مرزا مبارک احمد سے ہواتھا۔ مگر جب صاحبزادہ صاحب وفات پاگئے تو حضور نے گھر میں اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ یہ رشتہ ہمارے ہی گھر میں ہوتو اچھا ہے۔ ۱۳۶
    سکھوں کے ایک گورو صاحب قادیان میں
    کرتار پور ضلع جالندھر میں سکھوں کی مشہور گدی ہے ۔ ۲۵ فروری ۱۹۲۱ء کو وہاں کے گورو ضلع گورداسپور کا دورہ کرتے ہوئے قادیان آئے۔ حضرت اقدس نے ان کی پیشوائی کے لئے حضرت مولوی شیر علی صاحب ناظر اعلیٰ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو شہر سے باہر بھجوایا۔ گورو صاحب گھوڑے پر اور انکے مصاحب رتھ اور گاڑیوں میں سوار تھے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کے صحن میں اتارا گیا۔ حضرت خلیفہ ثانی نے مزاج پرسی کے بعد ان سے مسلمانوں اور سکھوں کے ان باہمی خوشگوار تعلقات کا تذکرہ فرمایا۔ جو شاہان مغلیہ کے زمانہ میں تھے۔ کوئی پون گھنٹہ کی ملاقات کے بعد گورو صاحب نے رخصت کی اجازت چاہی۔ حضرت اقدس نے اپنے گھر سے میووں کی ایک سینی لگوا کر حضرت میر قاسم علی صاحب کے ہاتھ بھجوائی جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ ۱۳۷
    سفر لاہور ومالیر کوٹلہ
    ۴ مارچ ۱۹۲۱ء کو حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایک مقدمہ میں شہادت کی غرض سے لاہور تشریف لے گئے لاہور میں حضور کی دو تقریریں ہوئیں جن کے عنوان یہ تھے ’’مذہب کی ضرورت‘‘ اور ’’حقیقی مقصد اور اس کے حصول کے طریق‘‘۔ ۷ مارچ ۱۹۲۱ء کو حضور مالیر کوٹلہ روانہ ہوئے۔ مالیر کوٹلہ کے اسٹیشن پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب‘حضرت نواب محمد عبداللہ خانصاحب وغیرہ اصحاب استقبال کے لئے موجود تھے۔ حضور بذریعہ موٹر شیروانی کوٹ تشریف لے گئے۔ ۹ مارچ ۱۹۶۲ء کو حضور نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے شہر والے مکان میں ’’صداقت اسلام‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا۔ ۱۰ مارچ کو حضرت ماسٹر قادر بخش صاحب (والد ماجد حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد) کی درخواست پر لدھیانہ میں قیام فرمایا ۔ حضرت ماسٹر صاحب نے حضور کے اعزاز میں ایک بڑی دعوت کا انتظام کیا۔ حضور لدھیانہ سے ۱۱ مارچ ۱۹۲۱ء کو قادیان واپس تشریف لائے۔ ۱۳۸
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ایک پرجلال و شوکت تقریر
    ۹ مارچ ۱۹۲۱ء میں قادیان کے غیر احمدیوں کا بڑی دھوم دھام سے جلسہ ہوا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ایڈیٹر اہلحدیث مولوی محمد علی صاحب روپڑی ۔ مولوی میر محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی۔ مولوی انور شاہ صاحب کاشمیری مدرس اعلیٰ دیوبند اور مرتضیٰ حسن صاحب دربھنگوی وغیرہ نے دل آزار اور اشتعال انگیز تقریریں کیں۔ ۱۳۹ جن کے جواب میں ۲۱۔ ۲۲ مارچ کی درمیانی شب کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک پر جلال و شوکت تقریر فرمائی۔
    چونکہ علماء صاحبان کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کی بے حرمتی کرنے اور کھودنے کی افواہیں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں جن کی تصدیق خود اس جلسہ کی تقاریر سے بھی ہوگئی تھی۔ اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے پہلی بار قادیان کی آبادی اور احمدی مساجد اور بہشتی مقبرہ کی حفاظت کے اقدامات کرنے پڑے۔ ۱۴۱۱۴۰4] [rtf
    جمعدار فضل الدین صاحب کمبوہ کا تحریری بیان ہے کہ۔:
    ’’جس سال احراریوں نے اپنے بد ارادے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے متعلق اور بہشتی مقبرہ کے متعلق ظاہر کئے تھے اور قادیان میں ایکبہت بڑے جلسہ کا انعقاد کا اعلان کردیا تھا میں ان دنوں مہینہ کی رخصت پر اپنے گائوں ہمزہ آیا ہوا تھا مجھے جب احرایوں کے جلسہ قادیان کی اطلاع ملی تو میں اپنے والد صاحب سے اجازت لی اور قادیان کی طرف روانہ ہوگیا۔ چونکہ ان دنوں قادیان کی طرف ریل نہیں جاتی تھی میں بٹالہ سے ٹانگہ پر سوار ہوکر قادیان پہنچا اور بہشتی مقبرہ کے قریب ٹانگہ سے اتر کر دعا کے لئے بہشتی مقبرہ گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد چہار دیوار ڈال کر چھت ڈالی ہوئی تھی۔ دعا کے بعد میں مسجد مبارک قادیان میں گیا۔ سب سے پہلے میں وہاں قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے ملا اور رات مہمان خانہ میں گزاری۔ دوسرے دن صبح کے وقت میں ابھی بیت مبارک میں ہی تھا کہ حضرت صاحب زادہ مرزا شریف احمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے مجھ سے علیحدگی میں فرمایا کہ عبدالکریم لوہار جو ان دنوں سیویوں کی مشین بنایا کرتے تھے ان کو بلا لائیں۔ وہ اپنے ساتھ ایسا سامان لے آئیں جس سے بیت مبارک کی پچھلی طرف کھڑکیوں کی سیخیں کاٹی جاسکیں تاکہ اگر مخالفین دار مسیح پر کسی قسم کا حملہ کریں تو ان کھڑکیوں کے ذریعہ مرزا گل محمد صاحب کی حویلی میں بچوں اور عورتوں کو حفاظت کے لئے بھیجا جاسکے۔ آپ کے حکم پر میں مذکورہ لوہار کی دکان پر پہنچا تو اس نے میرے ساتھ آنے سے انکار کردیا اور کہا کہ مجھے بہت کام ہے۔ میں وہاں نہیں جاسکتا۔ جب میں نے اس سے اوزار مانگے کہ میں خود ہی سیخیں کاٹ کر اوزار واپس کردوں گا تو اس نے اوزار دینے سے بھی انکار کر دیا اس پر میں مایوس ہوکر واپس آیا تو بیت مبارک میں مجھے کوئی شخص نہ ملا۔ اسی روز احرار گاڑی میں متواتر پہنچ رہے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ تمام ہندوستان کے احرار آرہے ہیں۔۱۴۲ بٹالہ سے ان کے قافلے پیدل اور ٹانگوں پر قادیان روانہ ہوئے۔ مولوی ثناء اللہ وغیرہ بھی ان میں تھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کے بد ارادوں کی خبریں جو وہ اپنی باتوں میں بیان کرتے تھے قادیان پہنچتی رہیں ہمارے نوجوانوں نے ایسی سکیم تیار کرلی تھی جس کے تحت وہ بٹالہ میں بہت جمع ہوچکے تھے وہ ہر قافلہ میں دو دو تین تین شامل ہوجاتے اور چونکہ گرمی کے دن تھے وہ ہاتھوں میں پنکھے لے کر آگے بڑھ جاتے اور ہر قافلہ میں جو مولوی ہوتے ان کو پنکھا کرتے اور ان کی باتیں سن لیتے اور پھر پنکھا اپنے دوسرے ساتھی کے حوالے کر کے واپس قادیان جاکر بیان کرتے۔ اس طرح ان کی تمام باتیں قادیان میں قبل از وقت پہنچتی رہیں۔ اس دن انہوں نے پہنچ کر ایک ہندوئوں کے مکان میں تقریریں کیں وہاں بھی ہمارے خاص خاص نوجوانوں کو جانے ہی کا حکم تھا جو وہاں سے رپورٹیں لے کر آتے تھے۔ دوسرے دن ان کا اس قدر ہجوم تھا کہ حضرت صاحب کے حکم سے ایک فوٹو گرافر کو منارۃ المسیح کے اوپر جاکر کیمرہ سے فوٹو لینے کو کہا گیا۔ کیوں کہ وہ دن اور دھوپ کا وقت تھا اور احراریوں کی نظریں منارۃ المسیح پر بدنیتی سے پڑ رہی تھیں جب فوٹو گرافر نے وہاں جاکر کیمرہ نصب کیا تو ان لوگوں نے دیکھا اور بعض نے تو ان میں سے یہ کہنا شروع کیا کہ دیکھو وہ منارۃ المسیح پر مشین گن لگ گئی۔ اسی دن حضرت میر محمد اسماعیل سول سرجن نے مجھے جب مسجد مبارک میں دیکھا تو فرمایا کہ آپ چونکہ ملٹری کے آدمی ہیں میں آپ سے کچھ سوالات کرتا ہوں آپ اس کا جواب دیدیں اس کے بعد میں کوئی کام آپ کے حوالے کردوں گا۔ جو آپ کو کرنا ہوگا۔ میں نے لبیک کہا تو آپ نے سب سے پہلے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آپ نے فرسٹ ایڈ کی تعلیم حاصل کی ہے۔ میں نے جواب اثبات میں دیا۔ پھر آپ نے سوال کیا کہ آپ فیلڈ ایمبولنس کی ٹریننگ بھی رکھتے ہیں جس میں زخمیوں کو اٹھا کر ہسپتال پہنچانے کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ نے آگ بجھانے کی فائر بریگیڈ کی ٹریننگ بھی حاصل کی ہے میں نے جواباً کہا ہاں صاحب۔ پھر میں نے کہا کہ حضور کچھ اور بھی پوچھنا چاہتے ہیں تو آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ اب میں آپ کا امتحان لینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر آپ کو بیس آدمی فائر بریگیڈ کے لئے دے دیئے جائیں تو ان کے لئے آپ کو کس سامان کی ضرورت ہوگی۔ میں نے جواباً عرض کیا کہ تیس چالیس خالی ٹینوں کی ضرورت ہوگی۔ بیس کے سر کٹے ہوئے ہوں جن میں ہم مٹی یا ریت ڈالیں گے اور بیس کے آدھے سر کٹے ہوئے ہوں جس میں پانی ڈالا جائے تا کہ ضرورت کے وقت کام آسکے۔ اس کے علاوہ بیس آدمیوں کے پاس بیس لاٹھیاں ہوں تاکہ اس سے ضرورت کے وقت کام لیا جاسکے۔ اور گینتیاں اور بیلچے دس دس ہوں آپ نے کہا کہ آپ اس میں پاس ہوگئے۔ پھر آپ نے فرمایا فیلڈ ایمبولینس میں اگر زخمیوں کو اٹھانے کا کام دیا جائے تو آپ کو کس سامان کی ضرورت ہے میں نے ابھی سٹریچر کا نام ہی لیا تھا تو آپ نے کہا یہ تو فیلڈ ہے یہاں سٹریچر کہاں سے آئیں گے اس پر میں نے کہا کہ حضور بیس آدمیوں کے لئے بیس بانس کی لاٹھیاں چاہیئں اور بیس خالی بوریاں چاہئیں تاکہ چاقوئوں سے بوریوں میں سوراخ کرکے ان میں بانس دے کر سٹریچر کا کام لیا جاسکے۔ اس پر آپ نے کہا کہ چاقو کہاں سے آئے گا تو میں نے اپنی جیب سے چاقو نکال کر دکھلا دیا کہ یہ تو میں ہمیشہ اپنے پاس رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ بیت مبارک کے سامنے الفضل کا دفتر ہے اس پر آپ چالیس آدمی لے کر شام مغرب کی نماز کے بعد صبح تک اپنے انتظام کو مکمل رکھیں گے اور دیکھنا کہ جو آدمی آپ کو دیئے جاتے ہیں یہ پنجابی زمیندار ہیں انہیں حقہ پینے کی عادت ہے کہیں یہ آپ کو وقت پر جواب نہ دے دیں حضرت صاحب کی طرف سے قادیان کے گردا گرد دس دس میل تک کے لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ ایک ایک آدمی ہر گھر سے قادیان آجائے اس طرح کافی احمدی جمع ہوچکے تھے مغرب کی نماز کے بعد میں اپنے چالیس منتخب آدمیوں کو لے کر حضرت نواب محمد علی خان کے مکان کی چھت پر جو مسجد مبارک سے متصل ہے چلا گیا وہ چالیس آدمی کچھ اس چھت پر کچھ دوسری چھت پر بھیج دیئے گئے اور ٹینوں میں پانی اور مٹی ڈال کر مسجد مبارک کے سامنے والے مکانوں کی چھتوں پر اردگرد کے مکانوں کی چھتوں پر رکھوا دیئے گئے اور میں ان دوستوں کو آہستہ آہستہ ان کے فرائض بتانے لگا کہ کس چیز کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔
    حضرت میر محمد اسماعیل صاحب نے فرسٹ ایڈ کے لئے پٹیاں بھی پہنچادیں تھی عشاء کی نماز ہم نے چھتوں پر ہی ادا کی تو زمیندار دوست حقے کی خواہش پر مجھ سے اجازت لینے آئے کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم حقہ پی آئیں ۔ میں نے انہیں کہا کہ دیکھو اب آپ نے میرے ساتھ کام کرنا ہے اور میرا کہا ماننا ہے ورنہ ہم اپنے مقصد میں ناکام ہوکر بجائے حضور سے دعا لینے کی ان کی ناراضگی کا باعث بن جائیں گے اس لئے صرف ایک شخص سیڑھی سے اترے اور جاکر حقہ پی آئے اور اس کے آنے کے بعد دوسرا جائے۔ اس طرح سے میں نے خیال کیا کہ ایک ہی آدمی ایک وقت میں غیر حاضر رہ سکتا ہے اور اپنا بستر سیڑھی کے پاس لگا لیا۔ حضور کی طرف سے ان دنوں ہدایات جماعت کو دی جاتی تھیں تعمیل کے لئے پھیلادی جاتی تھی۔ عشاء کے بعد ابھی دو گھنٹے گذرے تھے کہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب دوتین دوستوں کے ہمراہ مکان کے اوپر تشریف لائے اور مجھے اوپر بلایا اور فرمایا کہ دیکھو آج رات قادیان میں ہر طرح کا خطرہ ہے اس لئے اپنے آدمیوں کو چوکس رکھنا۔ میں نے اپنے تمام آدمیوں کو چوکس رہنے کے لئے ہدایت کردی۔ اور کہا کہ ایک آواز آنے کے بعد دوسرے کا انتظار نہ کریں اور فوراً اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے آجائیں یہ ایک عجب رات تھی مگر خدائی وعدوں پر ایمان تھا۔ رات کے دو بجے کے قریب جب احرار اپنے خیالات کو دماغوں میں لے کر محو خواب تھے اور ہر اک احمدی اللہ تعالیٰ کے آگے دعا میں مصروف تھا منارۃ المسیح سے بگل کی آواز ایسے رنگ میں سنائی دی کہ گویا وہ صور اسرافیل تھی اور قیامت کا دن تھا۔ ہر احمدی اپنی آرام گاہ سے فوراً کھڑا ہوگیا اور بعض گھروں میں اس آواز سے بچوں کی چیخیں سنائی دیں۔ میں نے اپنے آدمیوں کو کہا کہ کہیں کچھ احمدی زخمی ہوگئے ہیں اور کہیں آگ لگ گئی ہے فوراً چوک میں اپنے سامان کو لے کر کھڑے ہوں میں آگے آگے تھا میرے ہاتھ میں ایک بیلچہ تھا اور ایک خالی ٹین اور میں نے اپنے آدمیوں کو وہاں کھڑا کردیا دیکھتے ہی دیکھتے احمدیہ اسکول کالج کے لڑکے چند منٹ کے اندر‘باہر کے محلوں کے احمدی دوست رات کے وقت مسجد مبارک کی طرف بھاگے اور جہاں جہاں جگہ ملی گلی کوچوں میں کھڑے ہوگئے اور ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا آپ نے اس بگل سے کیا سمجھا میں نے عرض کیا کہ دشمن نے ہمارے آدمیوں کو زخمی کر دیا ہے اور ہمارے گھروں کو آگ لگادی ہے یہی خیال لئے میں یہاں آیا ہوں کہ پتہ چلے تو اپنے فرض کو ادا کروں۔ میر صاحب نے کہا کہ بس آپ لوگ جاکر آرام کریں کوئی بات نہیں ۔ ادھر تو یہ حالت تھی اور ادھر لشکر احرار کی یہ حالت تھی کہ وہ بگل کی آواز سن کر انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم پر آسمانی فوجوں نے حملہ کردیا ہے اور ہم ہر طرح سے بے دست وپا ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کی چیخیں بھی نکل گئیں۔ جو کہ ہمارے رپورٹروں نے بتایا اور ہم نے احراریوں کے پائوں کے نیچے سے زمین نکلتی دیکھی۔ صبح کو ایک دوست نے مسجد مبارک کے چوک میں تقریر کی جس میں انہوں نے گورو گوبند سنگھ کے اس واقعہ کا ذکر کیا کہ سکھوں میں جو پانچ پیارے ہیں ان کا کس طرح امتحان لیا گیا اور وہ اس طرح کے گوبند سنگھ کے لنگر میں بے شمار سکھ حلوہ پوری کھانے والے موجود ہیں۔ اس نے یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ کچھ کام بھی کرسکتے ہیں تو اس نے رات کے وقت ایک میدان میں ایک تنبو لگا کر اس میں بکرے باندھ دیئے آپ سکھوں کا امتحان کرنا چاہتے تھے صبح کو کڑاہ|پرشاد کھانے والے سکھوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ آج ہمیں چند سکھوں کے سر درکار ہیں آئو کون ہمیں اپنا سر دیتا ہے۔ ان میں سے ایک شخص اٹھ کر آگے بڑھا اور تنبو سے باہر گورو صاحب تلوار لے کر کھڑے ہوگئے وہ آگے بڑھا تو وہ تنبو میں لے گئے اور اسے ایک طرف بٹھا کر تلوار سے ایک بکرے کو مار دیا۔ جب تلوار کی آواز باہر سکھوں نے سنی تو ان میں ہلچل مچ گئی پھر گوبند سنگھ صاحب خون آلود تلوار لے کر باہر آئے اور کہا کہ مجھے ایک اور سر کی ضرورت ہے۔ پھر ایک دوسرا سکھ آپ کے ساتھ اندر گیا تو آپ نے اس کو پہلے سکھ کے ساتھ بٹھا دیا اور پھر تلوار ایک بکرے کی گردن پر ماری۔ اب تو خون بھی تنبو سے باہر دکھائی دینے لگا۔ سکھ آہستہ آہستہ کھسکنے لگے اسی طرح آپ تیسری چوتھی اور پانچویں مرتبہ آئے اور صرف پانچ آدمی آپ کے ساتھ تنبو میں داخل ہوئے باقی سب بھاگ گئے ان پانچ سکھوں کو جنہوں نے اپنی جان قربان کرنے کا وعدہ کیا تھا پانچ پیارے کہتے ہیں اور سکھوں کی ہر بات پانچ باتوں پر ہی مقرر ہے۔ پانچ پیارے ہیں پانچ ککے ہیں اس احمدی مقرر نے کہا کہ لو ادھر تو صرف پانچ پیارے تھے آج تمہارا بھی امتحان ہوگیا کہ تم نے اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کردیا۔ وہ تو پانچ پیارے تھے۔ احمدی جماعت کا ہر فرد پیارا ہے۔ یہ تو صرف میرے دیکھے ہوئے حالات ہیں باقی انتظامات کے متعلق میں نہیں کہہ سکتا۔ اسی روز شام کے وقت اعلان کیا گیا کہ مرزا گل محمد صاحب کی حویلی میں عشاء کے بعد جلسہ منعقد ہوگا اور اس میں حضور بھی تشریف لائیں گے اور اس میں غیر احمدیوں کے لئے داخلہ کے ٹکٹ دیئے جائیں گے اور احمدیوں کی شناخت پر اندر آسکیں گے۔
    عشاء کے بعد جلسہ کا انتظام شروع ہوا حضرت میر محمد اسحاق نے پولیس کے افسروں اور مجسٹریٹ وغیرہ کو جو احراریوں کے جلسہ میں آئے ہوئے تھے جلسہ میں شمولیت کے لئے دعوت دی جب یہ افسران جلسہ گاہ میں تشریف لاکر اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے تو حضرت میر صاحب نے ان کو کچھ مٹھائی اور چائے پیش کی۔ انہوں نے ابھی چائے پینی شروع کی ہی تھی کہ حضور تشریف لے آئے تمام حاضرین نے کھڑے ہو کر حضور کا استقبال کیا۔ حضور السلام علیکم کہہ کر اپنی کرسی پر تشریف لے گئے۔ بیٹھنے کے بعد حضور فوراً کھڑے ہوگئے اور تقریر شروع کردی۔ تقریر اس موضوع پر تھی کہ گورنمنٹ نے پولیس اور باقی محکمے مظلوموں کی مدد اور ان کی دادرسی کے لئے بنائے ہیں مگر افسوس ہے کہ محکمے اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کرتے بلکہ برعکس اس کے ظالموں کی مدد کرتے ہیں حضور کی آواز اس قدر بلند تھی کہ حاضرین پرایک سکتے کا عالم تھا۔ اور ان کے سامنے پڑی ہوئی چائے اور مٹھائی انہیں ایسا زہر دکھائی دے رہا تھا کہ حلق سے نیچے نہیں اترتا تھا۔ چائے اور مٹھائی اس طرح پڑی رہ گئی حضور مختصر سی تقریر کے بعد تشریف لے گئے اور افسر بھی اٹھ کر جلسہ گاہ سے چلے گئے مگر احمدی اور غیر احمدی پبلک جم کر بیٹھی رہی حضور کے بعد میر محمد اسحاق نے ان اعتراضات کے جواب دینے شروع کئے جو احراریوں نے اپنے اسٹیج پر کئے تھے۔ آپ قرآن اور احادیث سے ان کے جوابات دیتے تو غیر احمدی پبلک سے حوالہ حوالہ کے آوازے اٹھتے ادھر جو احمدی احباب حوالے تلاش کرنے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے وہ فوراً کتاب میر صاحب کے آگے رکھ دیتے اور حضرت میر صاحب حوالہ پیش کردیتے۔ کئی غیر احمدیوں کی طرف سے یہ سنا گیا کہ آج تک ہم نے ایسے عالم نہیں دیکھے تھے کہ جو حوصلہ مندی سے اس طرح حوالے پیش کرتے ہوں اور مخالفین کی باتیں توجہ اور حوصلہ سے سنتے ہوں‘‘۔ (غیر مطبوعہ)
    ترکی اور حجاز کے حقوق کی حفاظت
    ۲۳ جون ۱۹۲۱ء کو جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ‘حضرت مرزا شریف احمد صاحب‘حضرت نواب محمد علی خان صاحب ۔ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور بعض دوسرے سر برآور دہ حضرات شامل تھے۔ شملہ میں وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ سے ملاقات کی ۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے جماعت احمدیہ کی طرف سے ان کا خیر مقدم کیا۔ اور سلسلہ احمدیہ کے حالات بیان کرنے کے بعد وائسرائے ہند کی توجہ خاص طور پر تین باتوں کی طرف مبذول کرائی۔
    اول حکام میں یہ روح پیدا کی جائے کہ ان کا سلوک ہندوستانیوں سے برادرانہ ہو اور اقوام کے ساتھ مساویانہ سلوک ہو۔
    ودم ترکی حکومت کے ساتھ ہمیں ہمدردی ہے اگر پچاس سال کے بعد برطانوی حکومت کی مدد سے السس‘لوریں فرانس کو واپس مل سکتے ہیں کوئی وجہ نہیں کہ سمرنا اور تھریس ترکوں کو واپس نہ دلائے جائیں۔
    سوم ترکوں سے علیحدگی کے بعد حجاز کی آزادی میں کوئی خلل نہیں آنا چاہئے۔ مسٹر چرچل وزیر نوآبادیات نے ایک سکیم میں ذکر کیا ہے کہ اگر حکومت حجاز اپنے بیرونی تعلقات برطانوی حکومت کی نگرانی میں دیدے اور اندرونی امن کی ذمہ داری اٹھالے تو انگریزی حکومت اسے سالانہ مالی امداد دے گی۔ یہ سکیم آزادی حجاز کے سراسر منافی ہے اگر حکومت حجاز واقعہ میں ملکی حفاظت نہیں کرسکتی تو حجاز ترکوں کو انہی شرائط پر واپس کردینا چاہئے جن شرائط پر مسٹر چرچل اسے انگریزی حکومت کے ماتحت رکھنا چاہتے ہیں۔ ۱۴۳
    سفر کشمیر
    اس سال حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے طبی مشورہ کے مطابق کشمیر کا سفر فرمایا۔ آپ ۲۵ جون ۱۹۲۱ء کو روانہ ہوئے ۱۴۴ اور تین ماہ بعد ۲۹ ستمبر ۱۹۲۱ء کو واپس تشریف لائے۔ ۱۴۵ حضور دوران سفر اسلام آباد۔ گاندھر بل۔ چشمہ اچھا بل۔ چشمہ ویری ناگ اور آسنور یاڑی پور وغیرہ کی طرف بھی تشریف لے گئے مگر قیام اکثر و بیشتر سری نگر میں رہا۔ ماحول کی کشمیری جماعتوں نے حضور کی آمد سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اور نوے کے قریب بیعتیں ہوئیں۔ ۲۲ اگست ۱۹۲۱ء کو حضور تمام اہل بیت کے ساتھ محلہ خان یار میں تشریف لے گئے۔ اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے مزار مبارک پر بہت دیر تک دعا کی۔ اور روضہ کے محافظ کو اس کی مرمت کے لئے کچھ رقم بھی دی۔ اس کے بعد حضور جامع مسجد دیکھنے گئے۔ ۱۴۶ ۲۶۔۲۷ اگست کو حضرت اقدس کے ارشاد پر آسنور میں احمدیان کشمیر کا جلسہ ہوا۔ جس میں حضور نے تربیتی امور پر لیکچر دیئے۔ آسنور کے احمدیوں نے اس موقع پر جلسہ کے انتظام اور مہمانوں کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔ ۱۴۷4] f[rt
    آئینہ صداقت
    دسمبر ۱۹۲۱ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے قلم سے ایک معرکتہ الاراء کتاب ’’آئینہ صداقت‘‘ شائع ہوئی۔ جس میں حضور نے مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے کی انگریزی کتاب ’’دی سپلٹ‘‘ Split( )The سے پیدا ہوسکنے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کے علاوہ اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس عظیم الشان تصنیف کا (جو۲۰۳ صفحات پر مشتمل ہے) اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ احمدیت ۔ خدا کا قائم کیا ہوا پودہ ہے اس کو کوئی اکھاڑ نہیں سکتا۔
    خلافت اس کا لگایا ہوا درخت ہے اس کو کوئی نہیں کاٹ سکتا۔ اس عاجز اور ناتوان وجود کو اسی نے اپنے فضل اور احسان سے اس مقام پر کھڑا کیا ہے اس کے کام میں کوئی روک نہیں ہوسکتا۔ ۱۴۸
    اس زبردست تصنیف کا انگریزی ترجمہ split’’ the about Truth ‘‘The کے نام سے کلکتہ میں چھپ کر ۱۹۲۴ء میں شائع ہوا۔
    ہستی باری تعالیٰ
    سالانہ جلسہ ۱۹۲۱ء میں حضرت اقدس نے ہستی باری تعالیٰ کے موضوع پر تقریر دلپذیر فرمائی جو اسی نام سے شائع ہوئی اس معرکہ الاراء تقریر میں حضور نے ہستی باری تعالیٰ کے دلائل اس کی صفات شرک اور اس کی باریک درباریک اقسام رویت الٰہی اور اس کے مدارج اور اس کے طریق حصول پرایسی زبردست روشنی ڈالی ہے کہ گویا دن ہی چڑھا دیا ہے۔
    ۱۹۲۱ء کے متفرق مگر اہم واقعات
    ۱۔ حضرت میر ناصر نواب صاحب نے مسجد مبارک (قادیان) سے مہمان خانہ تک احمدیہ بازار میں فرش لگوایا۔ ۱۴۹
    ۲۔ قادیان میں شرقی جانب واقع ڈھاب کے پرکرنے کا کام حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی نگرانی میں ہوا۔
    ۳۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جنرل خان اوصاف علی خان صاحب سی ۔ آئی۔ ای کمانڈر انچیف۱۵۰افواج نابھہ اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے نکاح پڑھے۔ ۱۵۱
    ۴۔ حضرت مسیح موعود کے جلیل القدر صحابی حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب گوڑیانی نے وفات پائی۔
    ۵۔ جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے اور ان کے چند رفقاء حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی کو لاہور لے جانے کے لئے قادیان آئے جماعت کی طرف سے خانصاحب ذوالفقار علی خان نے ناشتہ کرنے کے لئے کہا۔ مگر انہوں نے معذرت کردی۔ واپسی پر ٹمٹم میں کھانا رکھوادیا گیا لیکن مولویمحمد علی صاحب نے کھانا اتروا دیا۔ ۱۵۲
    ۶۔ مشہور مباحثے۔ مباحثہ قادیان۱۵۳ (حضرت میر قاسم علی صاحب اور پنڈت پورنانند صاحب کے درمیان) مباحثہ مالیر کوٹلہ۱۵۴ شیخ عبدالرحمان صاحب مصری حضرت میر قاسم علی صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے درمیان) مباحثہ قادیان ۱۵۵ (حضرت حافظ روشن علی صاحب اور مہاشہ دھرم بھکشو صاحب کے درمیان) مباحثہ لاہور ۱۵۶ (حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی اور منشی پیر بخش صاحب ایڈیٹر رسالہ ’’تائید الاسلام‘‘ لاہور کے درمیان)۔
    ۷۔ علماء سلسلہ کی نئی مطبوعات۔ التشریح الصحیح لالہامات المہدی والمسیح (از مولوی فضل دین صاحب وکیل) تذکرۃ المہدی حصہ دوم (از پیر سراج الحق صاحب نعمانی) شہید مرحوم کے چشم دید واقعات (از سید احمد نور صاحب کابلی) تاریخ مالا بار (از شیخ محمود احمد صاحب عرفانی)۔
    ‏rov.5.19
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا نواں سال
    فصل سوم
    خلافت ثانیہ کا نواں سال
    (جنوری ۱۹۲۲ء تا دسمبر ۱۹۲۲ء بمطابق جماد الاول ۱۳۴۰ھ تا جماد الاخر ۱۳۴۱ھ تک)
    ۱۹۲۲ء کے آغاز میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کو مصر جانے کا حکم ہوا ۱۵۷ حضور نے آپ کو روانہ کرتے ہوئے اپنے قلم سے مندرجہ ذیل ہدایات لکھ کر دیں۔
    آپ مصر جاتے ہیں ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ سر زمین دنیا کی تباہی اور ترقی کے ساتھ ایک خاص تعلق رکھتی ہے۔اس سرزمین سے اسلام کو بہت سا نقصان بھی پہنچا ہے اور فائدہ بھی اور آئندہ اور بھی حوادث ہیں جو اس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ انجام کار وہ اسلام کے لئے مفید ہونگے۔ پس اس سرزمین میں بہت ہی ڈرتے ڈرتے قدم رکھیں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں کہ وہ آپ کا قدم ادھر ادھر پڑنے سے آپ کومحفوظ رکھے۔ آپ کا اول کام عربی زبان کا سیکھنا ہے اس لئے ہندوستانیوں سے رابطہ پیدانہ کریں۔ کیونکہ غیر ملک میں اپنے اہل ملک جب ملتا ہے تو ان کی طرف بہت کھنچ جاتا ہے۔ پس جہاں تک ہوسکے عربوں سے ہی میل ملاقات رکھیں تاکہ زبان صاف ہونے کا موقع ملے۔ اور یہ بھی احتیاط رہے کہ تعلیم یافتہ لوگوں سے تعلق ہو۔ کیونکہ جہال کی زبان بہت خراب ہوتی ہے سیاسیات میں نہ پڑیں۔ اور نہ سیاسی لوگوں سے تعلق رکھیں۔ کیونکہ سیاسی لوگوں میں اگر تبلیغ ہوئی بھی تو ان کو اپنے راستہ سے ہٹاکر دین کی طرف لانا دگنی محنت چاہتا ہے۔ اور اس قدر کام آپ موجودہ اغراض کو پورا کرتے ہوئے نہیں کرسکتے۔
    اپنے اخلاق کا نمونہ دکھانے کی کوشش کریں کیونکہ غیر جگہ انسان جاتا ہے تو لوگ اس کی حرکات سکنات کیطرف زیادہ توجہ کرتے ہیں۔ ہر ایک بات پر اپنی رائے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب کوئی ایسی بات پیش کرے جس پر رائے کا اظہار نامناسب ہے یا ایسی بحثوں کی طرف لے جائے جو سفر کے مقصد کے خلاف ہے تو بہتر ہے کہ کہدیں کہ مجھے اس امر سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے نہ میں نے اس پر کافی غور کیا ہے۔ اور نہ اس پر میں اپنی رائے کا اظہار کرسکتا ہوں ہر قوم میں کچھ عیوب ہوتے ہیں کچھ خوبیاں۔ پس مصریوں کی خوبیاں سیکھنے کی کوشش کریں مگر ان کے عیوب سیکھنے کی کوشش نہ کریں۔ بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے گردوپیش ایک قسم کے حالات دیکھتا ہے تو بری باتیں بھی اسے اچھی نظر آنے لگ جاتی ہیں اور وہ اسے بطور فیشن اختیار کرلیتا ہے۔ مومن کو اس سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ ۱۵۸
    شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ۱۸ فروری ۱۹۲۲ء کو قادیان سے روانہ ہوئے ۱۵۹ اور سکندر آباد سے ہوتے ہوئے بمبئی پہنچے جہاں سے بذریعہ جہاز قاہرہ (مصر) میں وارد ہوئے آپ نے حضور کی ہدایات کی روشنی میں وہاں اس رنگ سے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا کہ خدا کے فضل سے پہلے سال ہی ایک جماعت پیدا کرلی چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ ۱۹۲۲ء پر فرمایا۔ اس سال بیرونی ممالک میں تبلیغ کے سلسلہ میں ایک نیا مشن مصر میں جاری کیاگیا ہے جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک طالب علم کے ذریعہ جماعت پیدا کردی ہے۔ ۱۶۰ دسمبر۱۹۲۳ء سے آپ کی ادارت میں ’’قصر النیل‘‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری ہوا۔ ۱۶۱
    عرفانی صاحب نے ۱۹۲۶ء تک مصر میں کام کیا۔۱۶۲ اور اعلیٰ طبقہ کے سرکاری ملازمین آپ کے ذریعہ داخل جماعت ہوئے۔ جن میں سے الاستاذ احمد حلمی آفندی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ۱۶۳ آپ کے زمانہ میں تبلیغ اسلام و احمدیت کا کام تمام تر انفرادی ملاقات یا لٹریچر کے ذریعہ سے ہوا۔ مگر آپ کے بعد مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ابوالعطاء صاحب کے مصر کے علماء اور مسیحی پادریوں سے مناظرے ہوئے۔ چنانچہ مولانا جلال الدین صاحب شمس کا ازہر کے تعلیم یافتہ ایک مرتد پادری کامل منصور سے ’’حدیقتہ الازبکیہ‘‘ کے گرجا میں اناجیل کی حقیقت کے باے میں ایک معرکتہ الاراء مباحثہ ہوا۔ جو بعد کو تحقیق الادیان کے نام سے رمضان ۱۳۴۸ھ بمطابق فروری ۱۹۳۰ء میں شائع کیا گیا۔ اس مباحثہ سے عیسائیت کا نمائندہ لاجواب ہوگیا۔ مباحثہ کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ بہت سے مصری نوجوان جو عیسائیت کا نمائندہ لاجواب ہوگیا۔ مباحثہ کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ بہت سے مصری نوجوان جو عیسائیت کے اوہام کا شکار ہو رہے تھے۔ پھر سے اسلام پر پختہ ہوگئے۔ انہی نوجوانوں میں عبدالحمید خورشید آفندی بھی تھے جو اس مباحثہ میں آپ کے دلائل وبراہین سے اتنے متاثر ہوئے کہ احمدی ہو کر عیسائیوں کا مقابلہ کرنے لگے مولانا شمس صاحب نے قاہرہ میں قیام کے دوران میں ایک بہائی محی الدین الکروی سے بھی پرائیویٹ مناظرے کئے اور بار بار تحدی کی کہ بہائی شریعت سے کوئی ایک ہی ایسا مسئلہ دکھایا جائے جو اسلامی شریعت میں موجود نہیں۔ اور ضروری ہو۔ مگر وہ کوئی ایسا مسئلہ پیش نہ کرسکے۔
    ۱۹۳۳ء میں مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل نے مشہور عیسائی پادری ڈاکٹر فلپس )Philips( سے عیسائیت کے بنیادی عقائد پر مناظرہ کیا جس میں اسلام کو نمایاں فتح اور عیسائیت کو شکست فاش نصیب ہوئی۔ مولانا ابوالعطاء صاحب نے مباحثہ کی پوری روداد فلسطین کے عربی رسالہ البشارۃ الاسلامیتہ الاحمدیہ میں شائع کرتے ہوئے بلا وعربیہ کے تمام پادریوں کو چیلنج دیا کہ اگر ان میں طاقت ہے۔ تو اس کا جواب دیں۔ بعد ازاں اردو میں بھی ’’مباحثہ مصر‘‘ اسی چیلنج کے ساتھ شائع کیا گیا مگر آج تک نہ بلادعربیہ میں نہ برصغیر پاک وہند میں کسی پادری کو اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں ہوسکی۔ ۱۶۴`۱۶۵
    مولانا ابوالعطاء صاحب کے بعد مولوی محمد سلیم صاحب فاضل نے جولائی ۱۹۳۷ء سے دسمبر ۱۹۳۷ء تک مصر میں قیام کیا۔ آپ مصر سے حج پر روانہ ہوکر ۱۰ مارچ ۱۹۳۸ کو قادیان میں واپس آئے۔ اسی زمانہ میں ایک مشہور عیسائی عالم انستاس مارمی کرملی نے نشوء اللغہ العربیہ ونموھا واکتناء ھا کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں حضرت مسیح موعود کے اس نظریہ کی تائید کی کہ عربی زبان ام الالسنہ ہے۔ ۱۶۶
    ۱۹۴۰ء کے قریب مولوی محمد دین صاحب مرحوم فاضل مجاہد تحریک جدید البانیہ سے مصر تشریف لائے اور دارالتبلیغ کی سرگرمیاں باقاعدہ صورت میں ہونے لگیں۔ ابھی آپ مصر ہی میں مقیم تھے کہ چوہدری محمد شریف صاحب فاضل فلسطین سے مصر تشریف لے گئے اور جماعت کی ازسر نو تنظیم کی۔ اور کئی اصحاب کو سلسلہ میں شامل کیا۔ اور وقتاً فوقتاً آپ اپنے زمانہ اقامت بلاد عربیہ میں مصر جاتے رہے۔
    اسی زمانہ میں البانیہ کے دو طالب علم ۱۶۷جامع ازہر میں بغرض حصول تعلیم داخل ہوئے جن کے متعلق ازہر کے حلقوں میں یہ شور اٹھا کہ یہ احمدی ہیں اس لئے ان کو اس اسلامی درسگاہ سے نکال دیا جائے علامہ مصطفیٰ المراغی شیخ الجامع الازہر نے ازہر کے نامور علماء کی ایک کمیٹی بنائی تاوہ پوری تحقیقات کرکے رپورٹ کرے کہ کیا جماعت احمدیہ مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے یا نہیں؟ اور اگر اختلاف ہے تو کس قدر؟ اس کمیٹی کی تشکیل پر چوہدری محمد شریف صاحب انچارج مبلغ بلادعربیہ نے عربی رسالہ (البشریٰ) اور مصری اخبارات کے ذریعہ اس کا خیر مقدم کیا اور شیخ الجامع الازہر (علامہ مصطفٰے المراغی) کی معرفت کمیٹی کو سلسلہ احمدیہ کا ضروری لٹریچر بھیجا۔ اور لکھاکہ میں خود بھی حاضر ہوکر جماعت احمدیہ سے متعلق مستند معلومات بہم پہنچا سکتا ہوں۔
    اسی دوران ۱۹۴۲ء میں بابوعبدالکریم صاحب یوسف زئی پوسٹ ماسٹر (آف پونچھ) مرحوم نے لیبیا میں اقامت کے وقت ازہر (مصر) سے یہ دریافت کیا حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں یا وفات پاچکے ہیں؟ اور جو شخص وفات مسیح کا قائل ہے اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے تو شیخ الازہر نے یہ استفسار علماء ازہر اپنی کمیٹی (کبار علماء الازہر) یعنی ازہر کے بڑے بڑے علماء کے ایک نامور ممبر استاذ محمود شلتوت کو جواب لکھنے کے لئے دیا۔ الشیخ محمود شلتوت نے پوری تحقیق کے بعد حضرت مسیح کی وفات کا فتویٰ دیا حسب دستور علماء ازہر کی کمیٹی میں پیش ہوا۔ سب علماء ازہر نے اس جواب پر اتفاق کیا اور یہ فتویٰ مصر کے ایک کثیر الاشاعت ہفتہ وار اخبار ’’الرسالہ والروایہ‘‘ میں ’’رفع عیسیٰ‘‘ کے عنوان سے شائع کردیا گیا۔ ۱۶۸
    اس کے کچھ عرصہ بعد خود الاستاذ محمود شلتوت شیخ الازہر )RECTOR( کے ازہر یونیورسٹی کی طرف سے آپ کے تمام اہم فتادی دسمبر ۱۹۵۹ء میں ’’الفتاویٰ‘‘۱۶۹ کے نام سے شائع کردیئے گئے ’’الفتادیٰ‘‘ میں ’’وفات مسیح‘‘ سے متعلق ان کا سابقہ فتویٰ بھی شامل کیا گیا جس کا خلاصہ خود الاستاذ شلتوت کے الفاظ میں یہ ہے۔
    (’’۱) انہ لیس فی القران الکریم ولا فی السنتہ المطھرہ مستند یصلح لتکوین عقیدہ یطمئن الیھا القلب بان عیسی رفع بجسمہ الی السماء وانہ حی الی الان فیھا و انہ ینزل منھا اخر الزمان الی الارض۔
    (۲) ان کل ماتفیدہ الایات الواردہ فی ھذہ الشان ھووعد اللہ عیسی بانہ متوفیہ اجلہ ورافعہ الیہ وعاصمہ من الذین کفروا وان ھذا الوعدقد تحقق فلم یقتلہ اعدائہ ولم یصلبوہ ولکن وفاہ اللہ اجلہ ورفعہ الیہ۔‘‘۱۷۰ترجمہ (۱) قرآن کریم اور سنت مطہرہ سے ہرگز کوئی ایسی سند نہیں ملتی جس کی بناء پر اس عقیدہ پر دلی اطمینان ہوسکے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے مادی جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور یہ کہ وہ اب تک آسمان پر زندہ ہیں اور وہ آخری زمانہ میں زمین پر اتریں گے۔
    (۲) قرآنی آیات یہ بتارہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علہ السلام سے وعدہ فرمایا تھے کہ وہ انہیں وفات دے گا۔ ان کا رفع فرمائے گا۔ اور کافروں کے شر سے بچائے گا۔ یہ وعدہ یقیناً پورا ہوچکا ہے۔ حضرت عیسیٰ کے دشمن نہ انہیں قتل کرسکے اور نہ صلیب پر مار سکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی کے دن پورے کر کے انہیں وفات دے دی اور ان کا اپنی طرف رفع فرمایا۔
    عالم اسلامی کی سب سے قدیم اور سب سے بڑی درسگاہ (یونیورسٹی) کے اس فتویٰ نے ممالک اسلامیہ میں زبردست ہلچل پیدا کردی۔ اور اس پر سب قدامت پسند علماء نے سخت نکتہ چینی کی اور آجتک کر رہے ہیں۔ مصر کے ایک عالم الشیخ عبداللہ محمد صدیق الغماری نے اپنی کتاب ’’اقامہ البرھان علی نزول عیسی فی اخر الزمان ‘‘ میں اس کے خلاف زبردست احتجاج اور اسے مصیبت عظمی اور اہم واقعہ قرار دے کر علامہ شلتوت کو اپنے ہندی بھائیوں کی دلداری اور حمایت کی خاطر یہ اپنا فتویٰ واپس لے لینے کا مشورہ دیا۔ مگر علامہ الشیخ شلتوت برابر آخردم تک اپنے موقف پر قائم رہے۔ اور صاف صاف کہا۔ ’’ انا ابدیت رائی ولا یضرنی ان اوافق القادیانیتہ اوغیرھم‘‘ ۱۷۱یعنی میں نے اپنی رائے ظاہر کردی ہے اور مجھے قادیانی جماعت یا کسی اور کی تائید و موافقت نقصان نہیں پہنچاسکتی۔
    الاستاذ شلتوت نے ۲ نومبر۱۹۶۰ء کو شیخ نور احمد صاحب منیر مبلغ بلاد عربیہ سے ملاقات کی ۱۷۲اور دوران ملاقات مسئلہ اجرائے نبوت کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ظاہری طور پر لفظ نبوت طبائع میں ہیجان پیدا کردیتا ہے۔ اس لئے عوام اس اصطلاح سے مشتعل ہوجاتے ہیں۔ مگر جو تاویل اور توضیح جماعت احمدیہ کرتی ہے اس قسم کی نبوت غیر تشریعی کی یقیناً گنجائش موجود ہے اور دوسری طرف بانی احمدیت کا لٹریچر اور اسلامی خدمات اس تادیل اور گنجائش کو قبول کرنے میں ممد ہیں‘‘۔ افسوس تین سال بعد علامہ الاستاذ محمود شلتوت دسمبر ۱۹۶۳ء میں انتقال فرما گئے اور دنیائے اسلام ایک عالم متبحر سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئی۔
    الشیخ الاکبر علامہ محمود شلتوت کے علاوہ اور بھی کئی مقتدر علما مسیح کی وفات کا فتویٰ دے چکے ہیں مثلاً الاستاذ مصطفیٰ المراغی (ازہر یونیورسٹی) علامہ عبدالکریم شریف۔ ڈاکٹر احمد زکی ابوشادی الاستاذ عباس محمود العقاد۔ ۱۷۳
    مصری علماء مسئلہ ام الالسنہ اور مسئلہ وفات مسیح وغیرہ میں احمدیت کے علم کلام کی تصدیق کرنے کے بعد اب مسئلہ نسخ فی القرآن کے بارے میں بھی جماعت احمدیہ کا مسلک اختیار کر رہے ہیں چنانچہ الاستاذ عبدالمتعال محمد الجبری نے ۱۹۶۱ء میں النسخ فی الشریعتہ الاسلامیتہ کما افھمہ ۱۷۴ شائع کی ہے جس میں قرآنی نسخ کے عقیدہ کا ابطال کیا گیاہے۔
    مصری پریس پر جماعت احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں نے کہاں تک اثر ڈالا ہے؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے مصر کے بااثر اور مشہور رسالہ الفتح کے دواقتباس کافی ہوں گے۔ اخبار الفتح نے لکھا۔
    ’’نظرت فاذاحرکتھم امر مد ھش فانھم رفعو اصواتھم و اجروا اقلامھم باللغات المختلفہ وایدو ادعوتھم ببذل المال فی المشرقین والمغربین فی مختلف الاقطار و الشعوب ونظموا جمعیاتھم وصدقوا الحملہ حتی استفحل امرھم وصارت لھم مراکزدعایتہ فی اسیاء واوربا وامریکا وافریقیہ تساوی علما وعملا جمعیات النصاری وامافی التاثیر والنجاح فلامناسبتہ بینھم و بین النصاری فلقادیانیون اعظم نجاحالما معھم من حقائق الاسلام و حکمہ‘‘۔۱۷۵
    یعنی میں نے جماعت احمدیہ کا بغور مطالعہ کیا ہے اس جماعت کے کام حیرت انگیز ہیں احمدیوں نے اپنا قلم اور آواز مختلف زبانوں میں احیائے اسلام کے لئے استعمال کی ہے۔ اور مشرق و مغرب میں اپنے اموال خرچ کرکے اپنے عقائد پھیلائے ہیں۔ چنانچہ یہ جماعت بہت اہمیت حاصل کرچکی ہے ایشیا یورپ‘امریکہ اور افریقہ میں ان کے تبلیغی مراکز قائم ہوچکے ہیں۔ یہ مراکز علمی و عملی رنگ میں عیسائیوں کے مراکز کے ہم پلہ ہیں۔ یہ جماعت سب سے زیادہ کامیاب ہے کیونکہ اس کے پاس اسلام کے حقائق ومعارف ہیں جو شخص ان کے حیرت انگیز کارناموں کو بغور دیکھتا ہے اور سب باتوں کا موازنہ کرتا ہے وہ اس بات پر حیرت زدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کہ اس چھوٹی سی جماعت نے تبلیغ و اشاعت اسلام کے لئے جو عظیم الشان کام کیا ہے وہ دوسرے کروڑوں مسلمانوں سے نہیں ہوسکا۔
    (۲) اسلام کی طرف منسوب ہونے والے تمام فرقوں میں سے صرف قادیانی فرقہ ہی زندہ اور بیدار فرقہ ہے اس کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ نہیں لیکن اس کے یورپ اور مشرق میں پھیلے ہوئے تبلیغی مشن ‘مساجد اور مدارس دیکھنے سے آپ کو یقین ہوجائے گا کہ سچا اورمخلص مومن کون ہے۔ ۱۷۶4] ft[r
    جماعت احمدیہ مصر کی طرف سے اب تک مندرجہ ذیل لٹریچر شائع ہوچکا ہے حمامتہ البشریٰ (حصہ اول تالیف سید نا حضرت مسیح موعود) (۲) التبلیغ ۰ تالیف سید ناحضرت مسیح موعود۔ (۳) الخطاب الجلیل (اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ از السید زین العابدین ولی اللہ صاحب) از تالیفات سید ناحضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ (۴) الصلٰوۃ فی الاسلام ترجمہ نماز از عبدالمجید الرحالتہ (۵) تنویر الالباب لابطال دعوۃ البہاء والباب۔ (۶) النور المبین (۷) کشف اللثام اور (۸) جواہر الکلام (از مکرم مولانا جلال الدین شمس) ’’بشائر التوراۃ والانجیل فی حق سلیل سیدنا ابراہیم الخلیل‘‘ (از مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری)
    بالاخر یہ بتانا بھی مناسب ہوگا کہ مصر کے مندرجہ ذیل مخلص احمدی احباب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی زیادت اور مرکز سے استفادہ کے لئے آچکے ہیں۔ (۱) عبدالحمید خورشید آفندی (۲) الاستاذ احمد حلمی آفندی (۳) الشیخ عبدالحمید ابراہیم آفندی (۴) ابراہیم عباس فضل اللہ از خرطوم۔ سوڈان مصر (۵) رضوان عبداللہ ۔ (آپ ربوہ میں حصول تعلیم کے لئے آئے اور ۲۶ اگست ۱۹۵۳ کو ربوہ میں وفات پائی اور یہیں دفن کئے گئے۔ ۱۷۷
    احمدیہ ٹیریٹوریل کمپنی
    ۱۹۲۲ء کے آغاز میں دوسری ملکی جماعتوں اور قوموں کی طرح ٹیریٹوریل فورس میں جماعت احمدیہ کی بھی ایک کمپنی جالندھر میں قائم کی گئی۔۱۷۸ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ۱۹۳۹ء تک اس کمپنی کی کمان کرتے رہے۔ ۱۷۹ کمپنی کے جوانوں کے لئے آپ کی برگزیدہ شخصیت تنظیم واخلاق اور فوجی روح کے اعتبار سے ایک مثالی شان رکھتی تھی۔ جن دنوں آپ ٹریٹوریل فورس میں لیفٹنینٹ کے عہدہ پر فائز تھے۔ قادیان کے ’’تعلیم الاسلام میگزین‘‘ نے آپ کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا۔ ’’آپ کی طبیعت میں اللہ تعالیٰ نے اختراع کا ایک خاص ملکہ عطا فرمایا ہے چنانچہ آپ نے بندوق کی ایسی گولی ایجاد کی ہے جو بڑے بڑے جانور کے پار نکل جاتی ہے۔ اور اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے اخلاق فاضلہ کا بڑے بڑے افسروں کو بھی اقرار ہے۔ فوجی کام میں خاص دلچسپی لیتے ہیں آپ کا نشانہ نہایت اعلیٰ درجہ کا ہے نشانہ بازی میں بھی ایک ایسا آلہ ایجاد کر رہے ہیں جس کے ذریعہ سے دور فاصلے کی چیز بہت قریب نظر آنے لگے گی۔ اور نشانہ کبھی خطا نہ جائے گا‘‘۔۱۸۰
    مبلغ گولڈ کوسٹ (غانا) کو ہدایات زریں
    ۲۳ / جنوری ۱۹۲۲ء کی صبح کو حکیم فضل الرحمن صاحب مغربی افریقہ روانہ ہونے والے تھے۔ حضور نے ان کو تحریری اور زبانی ہر دو طرح ہدایات دیں جن کا ملخص یہ تھا : (۱) وہاں کی زبان سیکھیں (۲) نہایت محبت اور حکمت سے کام لیں (۳) وہ قومیں اپنے سرداروں کا بہت ادب کرتی ہیں اس لئے ان سے معاملہ کرتے وقت کوئی ایسی بات نہ ہو جو ان کو بری لگے۔ جب ان کو نصیحت کریں۔ تو علیحدگی میں کریں (۴) ان کی دماغی قابلیت کے لحاظ سے تدریجاً علم دین سکھائیں۔ (۵) ہمیشہ چست رہیں (۶) اپنا کام کرتے وقت دوسروں پر نگاہ مت رکھیں۔ (۷) اخلاق کا خاص خیال رکھیں اور حکام سے معاملہ کرتے وقت مناسب ادب سے پیش آئیں۔ (۸) افریقنوں کا تاثر ہے کہ دنیا ہم سے نفرت کرتی ہے مگر آپ ان سے محبت کا معاملہ کریں۔ (۹) عادات‘لباس اور کھانے پینے میں ہمیشہ کفایت مدنظر رہے۔۱۸۱
    ’’تحفہ شہزادہ ویلز‘‘
    شہزادہ ویلز (جو بعد کو ایڈورڈ ہشتم بنے اور ۱۹۳۶ء میں انگلینڈ چرچ سے اختلاف کر کے تخت سے دستبردار ہو گئے اور ڈیوک آف ونڈسر کہلائے) دسمبر ۱۹۲۱ء میں ہندوستان کے دورہ پر آئے تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے برطانیہ کے ولی عہد کو اسلام کا بے نظیر تحفہ پیش کیا۔ یعنی ’’تحفہ شہزادہ ویلز‘‘ کے نام سے ایک عظیم الشان کتاب تصنیف فرمائی۔۱۸۲ جسے آپ کی تجویز کے مطابق ۱۸۳جماعت احمدیہ کے بتیس ہزار سے زائد افراد نے ایک ایک آنہ فی کس جمع کر کے شائع کیا اور ۲۷ / فروری ۱۹۲۲ء کو لاہور میں احمدیہ وفد کے ذریعہ ایک مرصع رو پہلی کشتی میں شہزادہ معظم کے سامنے پیش کیا۔۸۴
    حضور نے اس کتاب میں ولی عہد برطانیہ کو دعوت اسلام دیتے ہوئے تحریر فرمایا :
    ’’ہم یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کی برکات ہمیشہ کے لئے جاری ہیں اور ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر اب بھی مسیحی دنیا اسلام اور مسیحیت کا اثر دیکھنے کے لئے تیار ہو تو اللہ تعالیٰ اچھے درخت میں اچھے پھل لگا کر دکھا دے گا۔۔۔۔۔۔ آپ اپنے رسوخ سے کام لے کر پادریوں کو تیار کریں۔ جو اپنے مذہب کی سچائی کے اظہار کے لئے بعض مشکل امور کے لئے دعا مانگیں اور بعض ویسے ہی مشکل امور کے لئے جماعت احمدیہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کرے۔ مثلاً سخت مریضوں کی شفا کے لئے جن کو بذریعہ قرعہ اندازی کے آپس میں تقسیم کرلیا جائے پھر آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس کی سنتا ہے اور کس کے منہ پر دروازہ بند کر دیتا ہے۔ اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں اور ہرگز نہ کریں گے کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے ہیں کہ خدا کی برکتیں ان سے چھین لی گئی ہیں۔ تو پھر اے شہزادہ آپ سمجھ لیں کہ خدا نے مسیحیت کو چھوڑ دیا ہے اور اسلام کے ساتھ اپنی برکتیں وابستہ کر دی ہیں‘‘۔۱۸۵
    شہزادہ ویلز نے اس لاثانی تحفہ کو نہایت قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا اور نہ صرف اپنے چیف سیکرٹری کے توسط سے اس کا شکریہ ادا کیا۔۱۸۶ بلکہ یکم مارچ ۱۹۲۲ء کو لاہور سے جموں تک کے سفر میں اسے مکمل طور پر مطالعہ کیا اور بہت خوش ہوئے اور جیسا کہ بعد کی اطلاعات سے معلوم ہوا کہ کتاب پڑھتے پڑھتے بعض مقامات پر ان کا چہرہ گلاب کی طرح شگفتہ ہو جاتا تھا۔]4 [stf۱۸۷ اسی طرح ان کے ایڈی کانگ نے یہ بھی بتایا کہ وہ کتاب پڑھتے پڑھتے یکدم کھڑے ہو جاتے تھے۔ چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے صراحتاً عیسائیت سے بیزاری کا اظہار کیا۔۱۸۸
    اخبار ’’ذوالفقار‘‘ (۲۴ / اپریل ۱۹۲۲ء) نے اس کتاب پر یہ ریویو کیا کہ ’’ہم خلیفہ ثانی کی سلسلہ احمدیہ کی اشاعت اسلام میں ہمت کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے۔۔۔۔۔۔۔ تحفہ ویلز کا بہت سا حصہ ایسا ہے جو تبلیغ اسلام سے لبریز ہے اور ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ جس کو دیکھتے ہوئے غیر احمدی ضرور رشک کریں گے یہ ضروری ہے کہ ہم اخبار نویسی کے میز پر تعصب کی مالا گلے سے اتار کر رکھ دیتے ہیں۔ اس واسطے اس تحفہ کو دیکھ کر ہم عش عش کر اٹھے۔ اس تحفہ میں فاضل مصنف نے سنت رسولﷺ~ پر پورا پورا عمل کیا ہے۔ دعوت اسلام کو بڑی آزادی اور دلیری کے ساتھ برطانیہ کے تخت و تاج کے وارث تک پہنچا دیا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اسلام کے کسی فرقہ کا کوئی فرد یا موجودہ زمانے کا کوئی شورش پسند اخبار حسد اور بغض کی راہ سے اس تحفہ پر کوئی حملہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں اس تحفہ میں کوئی ایسا مقام دکھائی نہیں دیا کہ جس میں خوشامد سے کام لیا گیا ہو۔ ہاں بعض مقامات ایسے ہیں جس میں مرزا غلام احمد صاحب آنجہانی کے ابتداء سے آخر تک مختصر سے حالات لکھے ہیں لیکن وہ واقعات امن پسندی اور حکومت کی وفاداری کا اظہار ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ بد امن اور شورش پسند فرقہ کو کبھی خدا دوست نہیں رکھتا اور تباہ اور برباد کر دیتا ہے‘‘۔۱۸۹
    اسی طرح پنجاب کے نیم سرکاری اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے ۱۸ / اپریل ۱۹۲۲ء کی اشاعت میں اس کی نسبت یہ رائے ظاہر کی کہ ’’یہ تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے کہ نہایت قابلیت اور علمیت کے ساتھ اپنے دلائل کو احسن رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔ قطع نظر اس کے کہ اس کی وسیع غرض ایک تبلیغی کوشش ہے۔ خواہ پرنس آف ویلز احمدی ہوں یا نہ ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ اس کتاب کی قدر و قیمت میں اور ان لوگوں کے لطف میں کمی نہیں ہوسکتی ۔ جو مذہب میں اور خاصکر ہندوستان اور برطانیہ کے بے شمار مذاہب میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ۱۹۰
    بیرونی دنیا پر بھی اس کتاب نے گہرا اثر ڈالا۔ اور مغربی ممالک میں تو اس نے تبلیغ اسلام کا ایک نیا راستہ کھول دیا۔ چنانچہ وی آنا (دارالخلافہ آسٹریا) کے ایک پروفیسر نے جو تین زبانوں کا ماہر تھا اسے پڑھ کر بے حد خوشی کا اظہار کیا۔ اور افسوس کیا کہ وہ بوڑھا ہوگیا ہے ورنہ دنیا بھر میں اس کی اشاعت کرتا۔ ۱۹۱ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے امریکہ سے لکھا کہ اس کتاب نے امریکہ کو بہت متاثر کیا ہے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا امریکہ کے علمی تقاضوں کے مطابق یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ ۱۹۲
    مغربی ممالک کے علاوہ افریقہ میں بھی اس کا اثر ہوا۔ چنانچہ نیروبی کے اخبار ’’لیڈر‘‘ (۲۳ نومبر ۱۹۲۲ء) نے کہا۔ ’’گو میں عیسائی نہیں مگر عیسائیوں کے گھر پیدا ہوا ہوں اور ان کے لٹریچر کو خوب سمجھتا ہوں لیکن جو کچھ مجھے اس کتاب سے حاصل ہوا ہے اور جو میں نے حظ اٹھایا ہے اسے بیان نہیں کرسکتا۔ اس کتاب کا لکھنے والا گو مسلمان ہے لیکن شبہ غالب ہے کہ وہ عیسائیوں میں سالہا سال تک رہا ہے اور ان کے لٹریچر کو اس نے غور سے پڑھا ہے ورنہ یہ بہت مشکل ہے کہ وہ عیسائیوں کوایسی پتہ کی باتیں اس دھڑلے سے سنائے آجتک کوئی ایسی کتاب میری نظر سے نہیں گذری جو مذہبی بنیاد پر لکھی گئی ہو اور تعصب سے مبرا رہی ہو اس شان کی یہ پہلی کتاب ہے۔ ۱۹۳
    سفر لاہور
    ۲۳ فروری ۱۹۲۲ء ۱۹۴ کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ لاہور تشریف لے گئے اور ۲ مارچ ۱۹۲۲ء کو واپس قادیان آئے یہ سفر بظاہر شہزادہ ویلز کے استقبال کی غرض سے تھا۔ جو ارشاد نبوی~صل۱~ اذا جاء کریم قوم فاکرموہ کی تعمیل میں تھا۔ لیکن اس کے پیچھے اور بھی اہم دینی مقاصد کار فرما تھے۔ جن کی تفصیل اخبار الفضل کے الفاظ میں یہ ہے کہ حضور خلیفتہ المسیح نے لاہور کے قیام کا ایک ہفتہ وعظ ونصیحت اور ارشاد و ہدایت میں صرف کیا۔ کہیں جماعت کے نونہال طلباء کو وعظ کرتے تھے کہیں عام لوگوں کو سمجھاتے تھے کہیں ایک جلسہ کی صورت میں تعلیم یافتہ لوگوں کو مذہبی اور روحانی لذت کا شوق دلاتے تھے کہیں دہریت اور مادیت کی رگ پرنشتر رکھتے تھے کہیں عیسویت کا سحر باطل کرتے تھے کہیں منکرین الہام و نبوت کو قائل کرتے تھے۔۔۔۔۔۔ غرض ایک کیفیت تھی ایک حال تھا ایک ولولہ تھا جو چلتا پھرتا اور کام کرتا اور لوگوں کو کام کرنے پر آمادہ کرتا نظر آتا تھا۔ اس سفر میں بہت سے لوگوں کے شکوک مذہب کے متعلق دور ہوئے بہت سے اوہام باطل ہوئے اور قریباً بیس پچیس شخصوں نے بیعت بھی کی۔۱۹۵
    اس سفر کے دوران حضور ۲۶ فروری ۱۹۲۲ء کو گنج مغلپورہ کی احمدیہ مسجد دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے اور وہاں دو نفل نماز پڑھائی۔ یہ مسجد مستری محمد موسیٰ صاحب (نیلہ گنبد لاہور) نے تعمیر کرائی تھی۔ ۱۹۶ ۲۷ فروری کو احمدیہ انٹرکالجئیٹ کے اجلاس میں روح کی نشاۃ ثانیہ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔ ۲۸ فروری کو دیال سنگھ کالج لاہور کے پرنسپل آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔ ۱۹۷
    ناظر اول کا تقرر
    مارچ ۱۹۲۲ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نظارت کے صیغوں کی مزید نگرانی خصوصاً محکمہ تجارت کی نگرانی کے لئے ناظراعلیٰ کے علاوہ ایک نیا عہدہ ناظر اول کا تجویز فرمایا۔ اور اس کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نامزد کئے گئے۔ ۱۹۸
    علماء کو تبلیغ اسلام میں مقابلہ کی دعوت
    قادیان کے غیر احمدی مسلمانوں نے گذشتہ سال کی طرح مارچ ۱۹۲۲ء میں بھی اپنا سالانہ جلسہ کیا۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جلسہ پر تشریف لانے والے غیر احمدی علماء کو تحقیق حق کے لئے تبادلہ خیالات اور بالاخر مباہلہ کی بار بار دعوت دی۔ ۱۹۹ جس پر مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری نے اپنی ایک تقریر میں یہ جواب دیاکہ میں بڑی حیثیت کا مالک ہوں اور آپ سے مخاطب ہونا بھی اپنی ہتک سمجھتا ہوں اور اس کے ثبوت میں کہا کہ کلکتہ تک آپ میرے ساتھ چلیں تو اس سے معلوم ہوجائے گا کہ پھول کس پر نچھاور ہوتے ہیں اور پتھروں کی بارش کس پر ہوتی ہے؟
    حضرت خلیفہ ثانی نے اس کے جواب میں اشتہار دیا کہ اگر مولوی صاحب نے اپنی حیثیت کا پتہ لگانا ہے تو اس کا یہ ذریعہ ہے کہ مولوی صاحب بھی اعلان کریں اور میں بھی اعلان کرتا ہوں کہ ایک سوآدمی جو کم سے کم پچاس روپیہ ماہوار کے ملازم ہوں یا علم دین کے واقف ہوں تبلیغ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔ اور اشاعت اسلام کے لئے چین یا جاپان یا امریکہ کی طرف نکل جائیں پھر دیکھیں کہ مولوی صاحب کی تحریک پر کس قدر آدمی اپنی نوکرں یا اپنے رشتہ داروں کو چھوڑ کر اسلام کی تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور میری تحریک پر کس قدر۔ ابھی اسی جگہ مولوی صاحب بھی اعلان کردیں اور میں بھی ابھی اعلان کرتا ہوں ابھی اس کا امتحان کر لیا جائے۔ کہ اس وقت جو ان کے ہزاروں ہم خیال جمع ہیں ان میں سے کس قدر ان کی بات مانتے ہیں اور میرے چند سو مبائع جو اس وقت موجود ہیں ان میں کس قدر میری بات کو مانتے ہیں۔
    پتھر کھانے سے گویا ثابت ہوجائے گا کہ محمد رسول اللٰہ ~صل۱~ کا سچا قائم مقام کون ہے مگر اسلام کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ مگر اس تجویز سے جو میں پیش کرتا ہوں اسلام کو بھی فائدہ ہوگا۔ ۲۰۰
    شیر اسلام کی یہ للکار سن کر شیر پنجاب کہلانے والے مولوی ثناء اللہ صاحب نے خاموشی مناسب سمجھی۔
    مجلس شوریٰ کا قیام
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جہاں صدر انجمن احمدیہ کے انتظام میں اصلاح کی ضرورت کو محسوس کیا۔ وہاں آپ کو اس ضرورت کا بھی احساس پیدا ہوا کہ اہم ملی امور میں جماعت سے مشورہ لینے کے لئے کوئی زیادہ مناسب اور زیادہ منظم صورت ہونی چاہئے۔ چنانچہ حضور نے وسط اپریل ۱۹۲۲ء میں مستقل طور پر مجلس شوریٰ کی بنیاد رکھی۔
    مجلس شوریٰ کے قیام سے گویا جماعتی نظام کا ابتدائی ڈھانچہ مکمل ہوگیا یعنی سب سے اوپر خلیفہ وقت ہے جو گویا پورے نظام کا مرکزی نقطہ ہے۔ اس سے نیچے ایک طرف مجلس شوریٰ ہے اور اہم اور ضروری امور میں خلیفہ وقت کے حضور اپنا مشورہ پیش کرتی ہے اور دوسری طرف اس کے متوازی صدر انجمن احمدیہ ہے جسے نظارتوں کے انتظامی صیغہ جات چلانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔
    جماعت احمدیہ کی پہلی مجلس شوریٰ ۱۵۔۱۶ اپریل ۱۹۲۲ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول (قادیان) ۲۰۱]ydob [tag کے ہال میں منعقد ہوئی اور اس میں ۵۲ بیرونی اور ۳۰ مرکزی نمائندوں نے شرکت کی۔ ہال کی شمالی جانب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی میز اور کرسی تھی اور سامنے نصف دائرہ کی شکل میں نمائندے کرسیوں پر بیٹھے تھے ساڑھے نو بجے صبح کے قریب حضور نے افتتاحی تقریر فرمائی جو بارہ بجے تک جاری رہی یہ چونکہ اپنی نوعیت کی پہلی مجلس شوری تھی۔ اس لئے حضور نے تفصیل کے ساتھ اس کی ضرورت واہمیت اور اس کے طریق کار پر روشنی ڈالی اور نمائندگان کو متعدد اہم ہدایات دیں جو ہمیشہ کے لئے مشعل راہ ہیں ان ہدایات کا خلاصہ یہ تھا۔
    ۱۔ ہر شخص دعا کرے کہ الٰہی میں تیرے لئے آیاہوں تو میری راہ نمائی کر کسی معاملہ میں میری نظر ذاتیات کی طرف نہ پڑے۔ میری نیت درست اور رائے درست اور تیری منشاء کے ماتحت ہو۔
    ۲۔ رائے دیتے وقت صرف یہ امر مدنظر رہے کہ جو سوال درپیش ہے اس کے لئے کونسی بات مفید ہے۔
    ۳۔ جذبات کی بجائے ہمیشہ واقعات کو مدنظر رکھنا چاہئے۔
    ۴۔ یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ ہماری تجاویز نہ صرف غلط نہ ہوں بلکہ غیروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ موثر ہوں۔
    ۵۔ کوئی شخص پہلی بات کے محض دہرانے کے لئے کھڑا نہ ہونا چاہئے۔ ہر شخص اپنا وقت بھی بچائے اور دوسروں کا وقت بھی ضائع نہ کرے۔ ۲۰۲
    ان قیمتی ہدایات کے بعد حضور نے مشورہ طلب امور کی تفصیلات کاذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ ’’میری طبعیت خدانے ایسی بنائی ہے کہ میں بھی سوچتا رہتا ہوں کہ کونسا کام کریں جس سے دنیا میں ہدایت پھیلے اور بعض دفعہ کوئی تجویز ایسی خوبصورت معلوم ہوتی ہے کہ اس پر عمل کرنے کے لئے مجبور ہوجاتا ہوں اور وہ دن یا وہ سال جس میں جماعت کا قدم آگے نہ ہو میرے لئے دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ میں یہی چاہتا ہوں کہ کوئی نہ کوئی کام نیا جاری ہو ۔۔۔۔۔۔ میری نظر اس بات پر پڑ رہی ہے کہ ہماری جماعت نے آج ہی کام نہیں کرنا بلکہ ہمیشہ کرنا ہے۔ دنیا کی انجمنیں ہوتی ہیں جو یہ کہتی ہیں آج کام کرکے دکھا دو اور لوگوں کے سامنے رپورٹ پیش کردو۔ مگر میں نے رپورٹ خدا کے سامنے پیش کرنی ہے اور خدا کی نظر اگلے زمانوں پر بھی ہے اس لئے مجھے یہ فکر ہوتی ہے کہ آج جو کام کررہے ہیں یہ آئندہ زمانہ کے لئے بنیاد ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ پس مجھے آئندہ کی فکر ہے اور میری نظر آئندہ پر ہے کہ ہم آئندہ کے لئے بنیادیں رکھیں جس کی نظر وسیع نہیں اسے تکلیف نظر آرہی ہے مگر اس کی آئندہ نسل ان لوگوں پر جو بنیادیں رکھیں گے درود پڑھیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زمانہ آئے گا جب خدا ثابت کردے گا کہ اس جماعت کے لئے یہ کام بنیادی پتھر ہے۔ ۲۰۳
    اس تقریر کے بعد حضور نے سلسلہ کے ہر ایک صیغہ کے معاملات پر غور کرنے اور تجاویز مرتب کرنے کے لئے سات سب کمیٹیاں مقرر فرمائیں اور پہلے دن کا اجلاس ختم ہوا۔
    دوسرے دن مشاورت کی کارروائی (نمازوں اور کھانے کے وقفہ کے علاوہ) صبح سات بجے سے لے کر سوا دوبجے شب تک جاری رہی جس میں منتخب کمیٹیوں کی تجاویز اور احباب کی آراء پیش ہوئیں۔ اور حضور نے متعدد اہم فیصلے فرمائے۔ مثلاً۔
    ۱۔ غیر ممالک میں نئے مشن قائم کئے جائیں لیکن پہلے اسلامی بلاد اور جاوا اور فلپائن وغیرہ کی طرف توجہ کی جائے اور ایسے لوگ وہاں بھیجے جائیں جو اپنا گذارہ بھی کریں اور ساتھ ہی تبلیغ بھی۔ ۲۰۴
    ۲۔ ہر جماعت میں امور عامہ کے لئے علیحدہ سیکرٹری مقرر ہو اور رشتہ ناطہ کے لئے ایک باقاعدہ رجسٹر رکھا جاوے۔
    ۳۔ چندہ کی وصولی کے نظام کو باقاعدہ کرنے اور نگرانی کرنے کے لئے انسپکٹر مقرر کئے جائیں۔ ۲۰۵
    ۴۔ جس طرح مبلغین تبلیغ کے لئے جاتے ہیںاسی طرح واعظین بھی جائیں اور جماعت کو اخلاقی اصلاح کی طرف توجہ دلانے کے علاوہ عام دینی مسائل سے بھی آگاہ کریں۔
    ۵۔ جماعت میں حفظ قرآن کی تحریک ہو۔ ۲۰۶
    ۶۔ مرکز سے ایک انگریزی اخبار جاری کیا جائے۔ ۲۰۷
    ۷۔ جو شخص کوئی نماز مسجد میں آکر باجماعت ادا نہ کرسکے اورکسی مجبوری کی وجہ سے رہ جائے وہ مسجد میں ہی آکر نماز پڑھے تاکہ آئندہ کے لئے اس کی سستی دور ہو۔
    ۸۔ والدین اپنے بچوں کو نماز باجماعت ادا کرانے میں ذمہ دار ہوں اسی طرح مستورات کو پابندی نماز کی عادت ڈالی جائے۔ ۲۰۸
    ۹۔ دو دو یا اس سے زائد افراد کی جماعتیں بنادی جائیں جو باہمی رشتہ اخوت و محبت استوار کرکے ایک دوسرے کی اصلاح میں ممد ہوں۔
    ۱۰۔ مرکز سے مستورات کے لئے ایک رسالہ جاری کیا جائے۔ ۲۰۹
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۱۹۲۲ء سے ۱۹۶۰ء ۲۱۰ تک مجلس شوریٰ میں بنفس نفیس شریک ہوتے رہے ہیں اور اس عرصہ میں حضور نے جس طرح قدم قدم پر ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں جماعت کی رہنمائی فرمائی ہے اور بے نظیر فراست و ذہانت‘حیرت انگیز قوت فیصلہ اور زبردست مدبرانہ قابلیت کا ثبوت دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اور مجلس شوری کی شائع شدہ رپورٹیں جو سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کے ایک اہم حصہ کی حامل ہیں اس امر پر شاہد ہیں اور جیسا کہ حضرت خلیفتہ المیسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۹۲۲ء کی شوریٰ میں بتایا تھا شوری کے فیصلے اور تمام تر کارروائی مستقبل میں قائم ہونے والی عالمگیر اسلامی نظام کے لئے سنگ بنیاد بننے والی ہے۔ جس پر دنیا کا آئندہ نظام استوار ہونے والا ہے۔
    اسی لئے حضور نے ۱۹۲۸ء میں نمائندگان شوریٰ کے سامنے ارشاد فرمایا:۔
    ’’ ۔۔۔۔۔۔۔ آج بے شک ہماری مجلس شوری دنیا میں کوئی عزت نہیں رکھتی مگر وقت آئے گا اور ضرور آئے گا جب دنیا کی بڑی سے بڑی پارلیمنٹوں کے ممبروں کو وہ درجہحاصل نہ ہوگا جو اس کی ممبری کی وجہ سے حاصل ہوگا۔ کیونکہ اس کے ماتحت ساری دنیا کی پارلیمنٹیں آئیں گی۔ پس اس مجلس کی ممبری بہت بڑی عزت ہے اور اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے بادشاہ کو ملتی تو وہ بھی اس پر فخر کرتا اور وہ وقت آئے گا جب بادشاہ اس پر فخر کریں گے۔‘‘ ۲۱۱
    یہ عظیم الشان پیشگوئی کب اور کس رنگ میں پوری ہونے والی ہے اس پر تو مستقبل کامورخ ہی لکھ سکے گا۔ مگر ہم یہاں ایک نشان کا تذکرہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اور وہ یہ کہ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت پر چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب مدتوں تک مجلس مشاورت میں حضور کے ساتھ بیٹھتے اور اس کی کارروائی چلانے میں مدد کرتے رہے۔ خدا کی شان دیکھو وہ فرزند احمدیت جو مجلس مشاورت میں امیرالمومنین کے پہلو میں خادمانہ حیثیت سے سلسلہ کی خدمات بجالاتا رہا۔ خدا نے اسے عالمی اسمبلی کا ۱۹۶۲ء میں صدر بنادیا۔ ۲۱۲
    اچھوت اقوام میں تبلیغ
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو ایک عرصہ سے یہ خیال تھا کہ ہندوستان کی اچھوت اقوام میں تبلیغ کی جاوے۔ تبلیغ کے عام فریضہ کے علاوہ آپ نے یہ بھی سوچا کہ ہندوستان میں ان قوموں کی تعداد کئی کروڑ ہے اور ہندو لوگ انہیں مفت میں اپنا بنائے بیٹھے ہیں۔ پس اگر ان قوموں میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ ہو اور وہ مسلمان ہوجائیں تو ان کی اپنی نجات کے علاوہ اس سے اسلام کو بھی بھاری فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ آپ نے اپریل ۱۹۲۲ء کے آغاز میں۲۱۳ ایک سکیم کے مطابق پنجاب کی اچھوت قوموں میں تبلیغ شروع فرمادی اور ان کے لئے ایک خاص عملہ علیحدہ مقرر کر دیا۔ آپ کی اس کوشش کو خدا نے جلد ہی بار آور کیا۔ اور تھوڑے عرصہ میں ہی کافی لوگ حق کی طرف کھنچ آئے اور بہت سے مذہبی سکھ بالیکی اور دوسرے اچھوت اسلام اور احمدیت میں داخل ہوئے اس رو کا سب سے بڑا زور ۲۴۔۱۹۲۳ء میں تھا۔ جبکہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ قومیں ایک انقلابی رنگ میں پلٹا کھائیں گی۔ مگر اس وقت بعض خطرات محسوس کرکے یہ سلسلہ دانستہ مدہم کردیا گیا اور انفرادی تبلیغ پر زور دیاجانے لگا۔اور خداکے فضل سے اس کے اچھے نتائج پیدا ہوئے۔ ۲۱۴
    ابتداء میں یہ کام شیخ عبدالخالق صاحب نو مسلم ۲۱۵ کے ذریعہ سے مختصر پیمانہ پر قادیان سے شروع کیا گیا۔ دو ڈھائی سال میں جو اچھوت حلقہ بگوش اسلام ہوئے ان کے ذریعہ سے ارد گرد کے دیہات میں تبلیغی جدوجہد جاری کی گئی اور پھر پورے ملک میں ان سرگرمیوں کا آغاز ہوا ۔ ۱۹۲۸ء سے مکرم جناب گیانی واحد حسین صاحب ۲۱۶ (سابق شیر سنگھ حال مربی سلسلہ احمدیہ) اچھوت اقوام کے طلباء کی تعلیم وتدریس کے لئے مقرر ہوئے ان کے بعد مہاشہ فضل حسین صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خاص ہدایات کے ماتحت عظیم الشان لٹریچر پیدا کیا جس سے اچھوتوں کو بیدار کرنے اور انہیں اسلام کے قریب لانے میں بھاری مدد ملی اس سلسلہ میں ’’اچھوتوں کی درد بھری کہانیاں‘‘ ’’اچھوتوں کی حالت زار‘‘۔ ویدشاستر اور اچھوت ادھار ’’اچھوت ادھار کی حقیقت یا ہندو اقتدار کے منصوبے‘‘ (حصہ اول) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ آخری کتاب مشہور اچھوت لیڈر ڈاکٹر امبید کار کی فرمائش پر لکھی گئی تھی اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کردیا گیا۔ ڈاکٹر امبید کار اس لٹریچر سے بہت متاثر تھے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ سے لندن میں ایک ملاقات کے دوران میں کہا کہ اگر میں کبھی مسلمان ہوا تو احمدی جماعت میں ہی داخل ہوں گا۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ہندوستان میں صوبہ پنجاب ۲۱۷ کے بعد بنگال کی طرف بھی توجہ فرمائی اور صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی اے کو ابتدائی سروے کے لئے بھجوایا۔ جنہوں نے بڑی حکمت عملی سے کام لے کر ایک مفصل سکیم پیش کی۔ ۲۱۸ جس پر وہاں بھی یہ کام ہونے لگا۔
    حفظ قرآن کریم کی تحریک
    اپریل ۔ مئی ۱۹۲۲ء میں حضرت خلیفہ ثانی نے جماعت میں حفظ قرآن کی تحریک فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ کم از کم تیس آدمی قرآن کریم کا ایک ایک پارہ حفظ کریں جس پر کئی اصحاب نے لبیک کہا۔ ۲۱۹
    درس القرآن
    سیدنا حضرت مصلح موعود نے ماہ اگست ۱۹۲۲ء میں درس القرآن دیا تھا اس تاریخی درس میں جن خوش نصیب اصحاب کو شرکت کی سعادت نصیب ہوئی ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں یہ فہرست الفضل ۱۰ اگست ۱۹۲۲ء صفحہ ۲‘۳ سے منقول ہے۔
    احباب قادیان
    ۱۔ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب
    ۷۔ایوب خان صاحب طالب علم ہائی سکول قادیان
    ۲۔ چوہدری فضل احمد صاحب
    ۸۔ چوہدری فتح محمد صاحب ایم ۔ اے
    ۳۔ مولوی حافظ ابوعبید اللہ غلام رسول صاحب وزیر آبادی
    ۹۔مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل و منشی فاضل
    ۴۔ مولوی عبدالصمد صاحب پٹیالوی
    ۱۰۔ مولوی عبدالمغنی صاحب ناظربیت المال
    ۵۔مولوی غلام نبی صاحب مولوی فاضل مصری
    ۱۱۔ مولوی ارجمند خان صاحب مولوی فاضل
    ۶۔ شیخ عبدالرحمان صاحب مولوی فاضل مصری
    ۱۲۔اللہ دتا صاحب طلب علم مدرسہ احمد قادیان
    ‏a] emarf[۱۳۔ناصر الدین صاحب طلباء مدرسہ احمد قادیان
    ۱۴۔ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب
    ۱۵۔ محمد اسماعیل صاحب سٹوڈنٹ میڈیکل سکول
    ۱۶۔سید عنایت اللہ شاہ صاحب سٹوڈنٹ میڈیکل کالج
    ۱۷۔ چوہدری بدالدین صاحب قادیان
    ۱۸۔ ماسٹر مولیٰ بخش صاحب قادیان
    ۱۹۔میاں عبدالغفار صاحب ابن ماسٹر مولیٰ بخش قادیان
    ۲۰۔ صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب
    ۲۱۔ مولوی جلال الدین صاحب مولوی فاضل
    ۲۲۔مولوی غلام احمد صاحب مولوی فاضل
    ۲۳۔ مولوی ظہور حسین صاحب مولوی فاضل
    ۲۴۔ مولوی زین العابدین صاحب ماریشسی
    ۲۵۔ مولوی ظل الرحمان صاحب بنگالی
    ۲۶۔ مولوی مبارک احمد صاحب مولوی فاضل
    ۲۷۔ مولوی محمد شہزادہ صاحب مولوی فاضل
    ۲۸۔ مسٹر محمد ابراہیم صاحب بی۔ایس۔ سی
    ۲۹۔ مسٹر غلام محمد صاحب
    ۳۰۔ مسٹر عبدالقدیر صاحب
    ۳۱۔ مسٹر مطیع الرحمان صاحب سٹوڈنٹ بی ۔ اے کلاس
    ۳۲۔ مولوی شیر علی صاحب بی۔ اے
    ۳۳۔ میر محمد اسحاق صاحب مولوی فاضل
    ۳۴۔ محمد یامین صاحب تاجر کتب قادیان
    ۳۵۔ ممتاز علی خان صاحب
    ۳۶۔ مولوی قمر دین صاحب مولوی فاضل
    ۳۷۔ رسائیدار خداداد خان صاحب
    ۳۸۔ ماسٹر عبدالرحمان صاحب بی۔اے
    ۳۹۔ مولوی رحمت علی صاحب مولوی فاضل
    ۴۰۔ حکیم مولوی غلام محمد صاحب
    ۴۱۔ قاضی عبداللہ صاحب بی ۔ اے۔ بی ٹی
    ۲۴۔ ماسٹر محمد دین صاحب بی۔اے
    ۳۴۔ مولوی فضل الٰہی صاحب بھیروی
    ۴۴۔ ڈاکٹر عطردین صاحب
    ۴۵۔ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے
    بیرونی احباب
    ۱۔ حاجی غلام احمد صاحب کریام
    ۲۔ مبارک اسماعیل صاحب بی۔اے ڈیرہ غازیخان
    ۳۔ میاں سعد الدین صاحب کھاریاں
    ۴۔ میاں قدرت اللہ صاحب سنور
    ۵۔ سید عبدالسلام صاحب بی۔اے۔ سیالکوٹ
    ۶۔ منشی محمد عبداللہ صاحب ریڈر سیالکوٹ
    ۷۔ مسٹر عطاء اللہ صاحب امرتسر
    ۸۔ مستری غلام نبی صاحب سیالکوٹ
    ۹۔ محمد حسن خاں صاحب لدہیانہ
    ۱۰۔ ملک حسن محمد صاحب سمبڑیال
    ۱۱۔میاں غلام مصطفٰے صاحب کھاریاں
    ۱۲۔ مولوی محمد اعظم صاحب تھہ غلام نبی
    ۱۳۔ میاں محمد امیر صاحب فیروز پور
    ۱۴۔ میاں بدر دین صاحب میڈیکل کالج
    ۱۵۔ مولوی محمد علی صاحب شیخوپورہ
    ۱۶۔ مسٹر عبدالوحید صاحب امرتسر
    ۱۷۔ مسٹر عبدالغنی صاحب جہلمی
    ۱۸۔شیخ محمد حسین صاحب انسپکٹر ڈاکخانہ جات امرتسر
    ۱۹۔ظہور الحسن صاحب مردان
    ۲۰۔ میاں غلام محمد صاحب طالب پور
    ۲۱۔ عالمگیر خان صاحب مردان
    ۲۲۔ مولوی معین الدین صاحب مردان
    ۲۳۔ میاں عبداللہ صاحب گولیکی
    ۲۴۔ مولوی فضل دین صاحب مانگٹ اونچی
    ۲۵۔ نیاز احمد صاحب گولیکی
    ۲۶۔ محمد دین صاحب میڈیکل سکول امرتسر
    ۲۷۔ حافظ راج علی کھاریاں
    ۲۸۔ نعمت اللہ صاحب گوہر لائلپور
    ۲۹۔ احمد یار صاحب بنگہ
    ۳۰۔ مہدی شاہ صاحب بیگم پورہ
    ۳۱۔ میاں خدابخش صاحب میانوالی
    ۳۲۔ عبدالرحمان صاحب کھیرانوالی
    ۳۳۔ مسٹر فضل کریم صاحب
    ۳۴۔ مخدوم محمد صدیق صاحب شاہ پور
    ۳۵۔ مسٹر حبیب اللہ صاحب سٹوڈنٹ لاہور
    ۳۶۔ شیخ بشیر احمد صاحب بی۔ اے۔ پٹیالہ
    ۳۷۔ مولوی غلام مرتضیٰ صاحب ضلع گورداسپور
    ۳۸۔ ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب غازی آباد
    ۳۹۔ عبدالرشید صاحب
    ۴۰۔ ملک مولیٰ بخش صاحب گورداسپور
    ۴۱۔ پروفیسر مولوی عبداللطیف صاحب چٹاگانگ
    ۴۲۔ ابو احمد خان صاحب بی۔اے کلکتہ
    ۴۳۔ عبدالسلام صاحب شملہ
    ۴۴۔ تقی الدین صاحب طالبعلم لاہور
    ۴۵۔ سید محمود اللہ شاہ صاحب طالب علم
    ۴۶۔ منشی برکت علی صاحب لائق لدھیانہ
    ۴۷۔ مولوی عبدالخالق صاحب مظفر نگر
    ۴۸۔ مسٹر لعل دین صاحب طالبعلم لاہور
    ۴۹۔ بابو روشن دین صاحب سیالکوٹ
    ۵۰۔ دوست محمد صاحب لاہور
    ۵۱۔ غلام فرید صاحب لاہور
    ۵۲۔ احمد دین صاحب طالب علم امرتسر
    ۵۳۔ چوہدری عصمت اللہ صاحب طالبعلم لاہور
    ۵۴۔ سید سردار شاہ صاحب
    ۵۵۔ چوہدری کرم الٰہی صاحب کرم پورہ ضلع شیخوپورہ
    مدراس ہائیکورٹ کا فیصلہ
    مالا بار میں غیر احمدی مسلمانوں نے ایک احمدی کی بیوی کا نکاح دوسری جگہ پڑھا دیا تھا۔ مقدمہ دائر کیا گیا تو ماتحت عدالت نے انہیں بری کردیا اس پر ہائیکورٹ میں نظر ثانی کی درخواست کی گئی اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب لاہور سے مقدمہ کی پیروی کے لئے مدارس تشریف لے گئے اور انی بحث میں ثابت کیا کہ (۱) برطانوی عدالتوں کے مسلمہ اصول کے مطابق احمدی مسلمان ہیں (۲) کوئی بھی تعریف اسلام کی مستند کتب سے پیش کی جائے اس کے مطابق احمدی مسلمان ہیں (۳) احمدیوں کے تمام عقائد قرآن کریم کے عین مطابق ہیں (۴) احمدیوں کے متعلق یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ انہوں نے کوئی عقیدہ ایسا ترک کیا ہے جو مسلمہ طور پر جزو اسلام ہے ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ احمدیہ جماعت اسلام ہی کا ایک اصلاح شدہ فرقہ ہے جو قرآن کریم کو اپنی الہامی کتاب مانتا ہے۔ ۲۲۰
    غیر از جماعت مسلمانوں سے تعلقات کی تلقین
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۳ نومبر ۱۹۲۲ء کو جماعت احمدیہ کویہ تلقین فرمائی کہ وہ غیر احمدی مسلمانوں سے میل جول رکھیں اور ان سے ہمدردی اور عمدہ برتائو کریں۔ اور ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوں۔ ان تعلقات کی وجہ سے دین میں خلل نہ آنے دیں۔ اور نہ اپنے مذہبی عقائد ان کی خاطر قربان کریں۔ ۲۲۱
    ‏0] ft[sتبلیغ ہدایت
    ۲۲۲ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تبلیغ ہدایت کے نام سے دسمبر ۱۹۲۲ء میں ایک اہم کتاب شائع فرمائی جس میں آپ نے مخصوص اور دلکش اور زور دار انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ ماموریت کو دلائل نقلیہ سے ثابت فرمایا۔ اگرچہ اس کتاب میں انہی مسائل پر آپ نے قلم اٹھایا جن پر احمدیہ لٹریچر میں بہت کچھ لکھا جاچکا تھا۔ لیکن آپ نے ہر بات اور مسئلہ میں خاص رنگ پیدا کیا۔ اور ترتیب اور طرز بیان دونوں بالکل نئے اور اچھوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تبلیغ ہدایت کو اپنے فضل سے بہت مقبولیت عطافرمائی کئی لوگوں نے اس کے ذریعہ ہدایت پائی اور عموماً اپنوں اور بیگانوں دونوں میں اسے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا اور آپ کی زندگی میں ہی اس کے آٹھ ایڈیشن شائع ہوئے۔ ۲۲۳ سندھی زبان والا ایڈیشن اس کے علاوہ تھا۔
    لجنہ اماء اللہ کی بنیاد اور اس کے شاندار نتائج
    سید ناحضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ مبارک میں جو مجالس قائم ہوئیں وہ سب مردوں کی تھیں۔ مثلاً ’’اشاعت اسلام۔ صدر انجمن احمدیہ۔ تشحیذالاذہان۔ مجلس احباب۔ مجمع الاخوان۔ مجلس ارشاد‘‘۔ وغیرہ لیکن مستورات کی کوئی علمی دینی اور تمدنی انجمن اس وقت تک موجود نہ تھی۔ لہذا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے (اپنے حرم دوم امتہ الحی صاحبہؓ کی ۲۲۴ تحریک پر ۲۵ دسمبر ۱۹۲۲ء کو لجنہ اماء اللہ کی بنیاد رکھی۔ ۲۲۵ جس کی پہلی سیکرٹری حضرت امتہ الحی صاحبہ تھیں۔
    حضرت امتہ الحی صاحبہ کے بعد یہ اہم خدمت آپ کے حرم حضرت سارہ بیگم صاحبہ اور پھر حضرت سیدہ ام طاہر رضی اللہ عنہما کے سپرد ہوئی۔ جب اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا تو لجنہ کی ممبرات نے حضرت ام المومنینؓ کی خدمت میں درخواست کی کہ اس کی صدارت قبول فرمائیںاور غالباً پہلا اجلاس آپ ہی کی صدارت میں ہوا تھا۔ لیکن آپ نے پہلے اجلاس ہی میں حضرت ام ناصرؓ کو اپنی جگہ بٹھا کر صدارت کے لئے نامزد فرمادیا۔ چنانچہ حضرت ام ناصر اپنی وفات تک جو ۳۱ جولائی ۱۹۵۸ء کو ہوئی یہ فرض نہایت خوش اسلوبی سے نبھاتی رہیں۔ اگست ۱۹۵۸ء سے حضرت ام متین صاحبہ کی صدارت میں یہ مجلس کام کر رہی ہے۔
    لجنہ اماء اللہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۵ دسمبر ۱۹۲۲ء کو اپنے قلم سے قادیان کی مستورات کے نام مندرجہ ذیل مضمون تحریر فرمایا۔
    ’’اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ ہماری پیدائش کی جو غرض و غایت ہے اس کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کی کوششوں کی بھی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح مردوں کی ہے جہاں تک میرا خیال ہے عوتوں میں اب تک اس کا احساس پیدا نہیں ہوا کہ اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے؟ ہماری زندگی کس طرح صرف ہونی چاہئے۔ جس سے ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرکے مرنے کے بعد بلکہ اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوسکیں۔
    اگر غور کیا جائے تو اکثر عورتیں اس امر کو محسوس نہیں کریں گی کہ روز مرہ کے کاموں کے سوا کوئی اور بھی کام کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔
    دشمنان اسلام میں عورتوں کی کوششوں سے جو روح بچوں میں پیدا کی جاتی ہے اور جو بدگمانی اسلام کی نسبت پھیلائی جاتی ہے اس کا اگر کوئی توڑ ہوسکتا ہے تو وہ عورتوں ہی کے ذریعہ سے ہوسکتاہے اور بچوں میں اگر قربانی کا مادہ پیدا کیا جاسکتاہے تو وہ بھی ماں ہی کے ذریعہ سے کیا جاسکتا ہے۔ پس علاوہ اپنی روحانی و علمی ترقی کے آئندہ جماعت کی ترقی کا انحصار بھی زیادہ تر عورتوں ہی کی کوشش پر ہے۔ چونکہ بڑے ہوکر جو اثر بچے قبول کر سکتے ہیں وہ ایسا گہرا نہیں ہوتا جو بچپن میں قبول کرتے ہیں۔ اسی طرح عورتوں کی اصلاح بھی عورتوں کے ذریعہ سے ہوسکتی ہے۔
    ان امور کو مدنظر رکھ کر ایسی بہنوں کو جو اس خیال کی موید ہوں اور مندرجہ ذیل باتوں کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہوں دعوت دیتا ہوں کہ ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے مل کر کام شروع کریں۔ اگر آپ بھی مندرجہ ذیل باتوں سے متفق ہوں تو مہربانی کرکے مجھے اطلاع دیں تاکہ اس کام کو جلد شروع کر دیا جائے۔
    ۱۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ عورتیں باہم مل کر اپنے علم کو بڑھانے اور دوسروں تک اپنے حاصل کردہ علم کو پہنچانے کی کوشش کریں۔
    ۲۔اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کے لئے ایک انجمن قائم کی جائے تاکہ اس کام کو باقاعدگی سے جاری رکھا جاسکے۔
    ۳۔اس بات کی ضرورت ہے کہ اس انجمن کو چلانے کے لئے کچھ قواعد ہوں جن کی پابندی ہر رکن پر واجب ہو۔
    ۴۔
    اس امر کی ضروت ہے کہ قواعد و ضوابط سلسلہ احمدیہ کے پیش کردہ اسلام کے مطابق ہوں اور اس کی ترقی اور اس کے استحکام میں ممد ہوں
    ۵۔اس امر کی ضرورت ہے کہ جلسوں میں اسلام کے مختلف مسائل خصوصاً ان پر جو اس وقت کے حالات کے متعلق ہوں مضامین پڑھے جائیں اور وہ خود اراکین انجمن کے لکھے ہوں تاکہ اس طرح علم کے استعمال کرنے کا ملکہ پیداہو۔
    ۶۔اس امر کی ضرورت ہے کہ علم بڑھانے کے لئے ایسے مضامین پر جنہیں انجمن ضروری سمجھے اسلام کے واقف لوگوں سے لیکچر کروائے جائیں۔
    ۷۔اس امر کی ضرورت ہے کہ جماعت میں وحدت کی روح قائم رکھنے کے لئے جو بھی خلیفہ وقت ہو اس کی تیار کردہ اسکیم کے مطابق اور اس کی ترقی کو مد نظر رکھ کر تمام کارروائیاں ہوں۔
    ۸۔اس امر کی ضرورت ہے کہ تم اتحاد جماعت کو بڑھانے کے لئے ایسی ہی کوشاں رہو جیسے کہ ہر مسلمان کا فرض قرآن کریم ۔ آنحضرت ~صل۱~ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ نے مقرر فرمایا ہے۔ اور اس کے لئے ہر ایک قربانی کو تیار رہو۔
    ۹۔اس امر کی ضرورت ہے کہ اپنے اخلاق اور روحانیت کی اصلاح کی طرف ہمیشہ متوجہ رہو اور صرف کھانے پینے پہننے تک اپنی توجہ کو محدود نہ رکھو۔ اس کے لئے ایک دوسری کی پوری مدد کرنی چاہئے۔ اور ایسے ذرائع پر غور اور عمل کرنا چاہئے۔
    ۱۰۔اس بات کی ضرورت ہے کہ بچوں کی تربیت میں اپنی ذمہ داری کو خاص طور پر سمجھو اور ان کو دین سے غافل اور بد دل اور سست بنانے کی بجائے چست۔ ہوشیار۔ تکلیف برداشت کرنے والے بنائو۔ اور دین کے مسائل جس قدر معلوم ہوں ان سے ان کو واقف کرو اورخدا ۔ رسولﷺ~ ۔ مسیح موعود ؑ۔ اور خلفاء کی محبت۔ اطاعت کا مادہ ان کے اندر پیدا کرو۔ اسلام کی خاطر اور اس کے منشاء کے مطابق اپنی زندگیاں خرچ کرنے کا جوش ان میں پیدا کرو۔ اس لئے اس کام کو بجا لانے کے لئے تجاویز سوچو اور ان پر عمل درآمد کرو۔
    ۱۱۔اس امر کی ضرورت ہے کہ جب مل کر کام کیا جائے تو ایک دوسرے کی غلطیوں سے چشم پوشی کی جائے اور صبر اور ہمت سے اصلاح کی کوشش کی جائے۔ نہ کہ ناراضگی اور خفگی سے تفرقہ بڑھایا جائے۔
    ۱۲۔چونکہ ہر ایک کام جب شروع کیا جائے تو لوگ اس پرہنستے ہیں اور ٹھٹھا کرتے ہیں اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کی ہنسی اور ٹھٹھے کی پرواہ نہ کی جائے اور بہنوں کو الگ الگ مہنوں یا طعنوں یا مجالس کے ٹھٹھوں کو بہادری و ہمت سے برداشت کا سبق اور اس کی طاقت کا مادہ پیدا کرنے کا مادہ پیدا کرنے کا مادہ پہلے ہی سے حاحل کیا جائے تاکہ اس نمونہ کو دیکھ کر دوسری بہنوں کو بھی اس کام کی طرف توجہ پیدا ہو۔
    ۱۳۔اس امر کی ضرورت ہے کہ اس خیال کو مضبوط کرنے کے لئے اور ہمیشہ کے جاری رکھنے کے لئے اپنی ہمخیال بنائی جائیں۔ اور یہ کام اس صورت میں چل سکتا ہے کہ ہر ایک بہن جو اس مجلس میں شامل ہواپنا فرض سمجھے کہ دوسری بہنوں کو بھی اپنا ہم خیال بنائے گی۔
    ۱۴۔اس امر کی ضرورت ہے کہ اس کام کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے صرف وہی بہنیں انجمن کی کارکن بنائی جائیں جو ان خیالات سے پوری متفق ہوں اور کسی وقت خدانخواستہ کوئی متفق نہ رہے تو وہ بطیب خاطر انجمن سے علیحدہ ہوجائے یا بصورت دیگر علیحدہ کی جائے۔
    ۱۵۔چونکہ جماعت کسی خاص گروہ کا نام نہیں۔ چھوٹے بڑے۔ غریب امیر سب کا نام جماعت ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس انجمن میں غریب امیر کی کوئی تفریق نہ ہو۔ بلکہ غریب اور امیر دونوں میں محبت اور مساوات پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور ایک دوسرے کی حقارت اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کا مادہ دلوں سے دور کیا جائے کہ باوجود مدارج کے فرق کے اصل میں سب مرد بھائی بھائی اور سب عورتیں بہنیں بہنیں ہیں۔
    ۱۶۔اس امر کی ضرورت ہے کہ عملی طور پر خدمت اسلام کے لئے اور اپنی غریب بہنوں اور بھائیوں کی مدد کے لئے بعض طریق تجویز کئے جائیں اور ان کے مطابق عمل کیا جائے۔
    ۱۷۔اس امر کی ضرورت ہے کہ چونکہ سب مدد اور سب برکت اور سب کامیابیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔ اس لئے دعا کی جائے اور کروائی جائے۔
    ہمیں وہ مقاصد الہام ہوں
    جو ہماری پیدائش میں اس نے مدنظر رکھے ہیں اور ان مقاصد کے پورا کرنے کے لئے بہتر سے بہتر ذرائع پر اطلاع اور پھر ان ذرائع کے احسن سے احسن طور پر پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمارا خاتمہ بخیر کرے۔ آئندہ آنے والی نسلوں کی بھی اپنے فضل سے راہنمائی کرے اور اس کام کو اپنی مرضی کے مطابق ہمیشہ کے لئے جاری رکھے۔ یہاں تک اس دنیا کی عمر تمام ہوجائے۔
    اگر آپ ان خیالات سے متفق ہیں اور ان کے مطابق اور موافق قواعد پر جو بعد میں انجمن میں پیش کرکے پاس کئے جارہے ہیں اور کئے جائیں گے عمل کرنے کے لئے تیار ہوں تو مہر بانی کرکے اس کاغذ پر دستخط کردیں۔ بعدمیں ان قواعد پر ہر ایک بہن سے علیحدہ علیحدہ دستخط لے کر اقرار و معاہدے لئے جائیں گے‘‘۔ ۲۲۶
    ‏rov.5.20
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا نواں سال
    اس ابتدائی تحریک پر (جو محض رضاکارانہ رنگ کی تھی) قادیان کی تیرہخواتین نے دستخط کئے ۔
    حضور کے فرمان پر ۲۵ دسمبر ۱۹۲۲ء کو یہ دستخط کرنے والی خواتین حضرت ام المومنین کے گھر میں جمع ہوئیں حضور نے نماز ظہر کے بعد ایک مختصر تقریر فرمائی۔ اور لجنہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس تقریر میں حضور نے لجنات کے سپرد جلسہ مستورات کا انتظام کرکے کئی مشورے دیئے۔ اور نصائح فرمائیں۔ ۲۲۷
    اس اجلاس اول کے بعد لجنہ اماء اللہ کے مفصل قواعد رسالہ تادیب النساء میں (جوقادیان سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی ادارت میں شائع ہوتا تھا) شائع کردیئے گئے۔ اور اس طرح باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ ۲۲۸
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے لجنہ کے اغراض ومقاصد جلد سے جلد پورا کرنے کے لئے اور احمدی مستورات کی اصلاح و تنظیم کرنے کے لئے سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ لجنات کے ہفتہ وار اجلاس جاری کئے اور فروری اور مارچ ۱۹۲۳ء کے تین اجلاسوں میں نہایت جامعیت کے ساتھ دینی اور دنیاوی علوم کی تفصیلات بیان فرمائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حضور نے خدمت دین کا عملی جوش پیدا کرنے کے لئے تعمیر مسجد برلن کی ذمہ داری بھی احمدی مستورات پر ڈالی۔ اور اس کے لئے چندہ کی فراہمی کا کام ’’لجنہ اماء اللہ کے سپرد فرمایا‘‘۔۲۲۹ (لجنہ اماء اللہ نے اس عظیم الشان تحریک کے کامیاب بنانے میں جس جذبہ ایثار وفدائیت کا ثبوت دیا اس کی تفصیل ایک مستقل عنوان کے تحت اگلے صفحات میں آرہی ہے)۔
    دوسال بعد حضرت اقدس خلیفتہ المسیح الثانی نے خواتین میں دینی تعلیم عام کرنے کے لئے ۱۷ مارچ ۱۹۲۵ء کو مدرستہ الخواتین جاری فرمایا۔ جس میں حضرت مولوی شیر علی صاحب ؓ حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب حضرت صوفی غلام محمد صاحبؓ سابق مبلغ ماریشس اور دوسرے اصحاب کے علاوہ خود حضور تعلیم دیتے تھے۔۲۳۰ حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ اس مدرسہ کے نگران تھے۔ اس مدرسہ نے خواتین کے علمی و تنظیمی خلاء کو پر کرنے میں بڑا کام کیا۔ اور خواتین کے مرکزی اداروں اور درسگاہوں کے لئے معلمات اور کارکنات پیدا ہوگئیں۔
    ۱۵ دسمبر ۱۹۲۶ء کو لجنہ اماء اللہ کی نگرانی میں ماہوار رسالہ ’’مصباح‘‘ جاری ہوا جس سے احمدی خواتین کی تربیت و تنظیم کو بہت تقویت پہنچی۔ ابتداء میں رسالہ کا انتظام مرد کرتے تھے مگر مئی ۱۹۴۷ء۲۳۱ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ارشاد پر اس کا پورا اہتمام مرکزی ’’لجنہ اماء اللہ‘‘ کو سونپ دیا گیا جس سے رسالہ کے علمی و دینی معیار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اور اب یہ جماعت کی مستورات کے واحد ترجمان کی حیثیت سے سلسلہ کی خدمت بجا لارہا ہے۔
    ۱۶ ستمبر ۱۹۲۷ء کو حضرت امتہ الحی صاحبہ کی یاد میں ’’امتہ الحی لائبریری‘‘ کا افتتاح ہوا اور اس کی نگرانی حضرت سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ کو تفویض ہوئی۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی لجنہ کے کام کے لئے وقف رکھی۔ افتتاح پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ حضرت ام المومنینؓ اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دوسرے افراد نے کتابیں عنایت فرمائیں۔ یہ لائبریری حضرت خلیفہ ثانی کی اجازت خاص سے گول کمرہ میں قائم ہوئی۔ ۲۳۲ ۱۹۴۷ء کے بعد اس لائبریری کا احیاء جنوری ۱۹۶۰ء کو ربوہ میں ہوا۔ ۲۳۳
    جولائی ۱۹۲۸ء میں صاحبزادی امتہ الحمید صاحبہ (بنت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) کی کوشش سے چھوٹی بچیوں کی لجنہ قائم ہوئی ۲۳۴ اور کچھ عرصہ بعد صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ کی تحریک پر ناصرات الاحمدیہ کی بنیاد پڑی۔ اسی سال احمدی مستوارات نے ’’سیرت النبیﷺ‘‘~ کی تحریک کو بھی کامیاب بنانے میں حصہ لینا شروع کیا۔ چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر سابق انچارج احمدیہ مشن امریکہ کا بیان ہے کہ ’’میری شادی سے قبل جو ۱۹۳۹ء میں ہوئی میری اہلیہ امتہ الحفیظ صاحبہ اور ان کی چھوٹی بہن امتہ الحی صاحبہ کئی مہینے تک حضرت سیدہ ام طاہر (خداتعالیٰ ان سے راضی ہو) کے ہاں مقیم رہیں۔ صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ اور صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ سلمہا اللہ تعالیٰ نے اپنی حقیقی والدہ کی وفات کے بعد اسی گھر میں پرورش پائی۔ میری اہلیہ صاحبہ اور امتہ الحی صاحبہ کی علی الترتیب دونوں صاحبزادیوں کے ساتھ بہنوں کی طرح کے تعلقات تھے جس کا ذکر حضرت امام جماعت نے میرے نکاح میں بھی فرمایا ان کے ہاں میرا آنا جانا پردہ کے اسلامی احکام کی پوری پابندی کے ساتھ اکثر ہوتا رہتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ان دنوں میں صاحبزادی سیدہ امتہ الرشید صاحبہ نے مجھ سے ایک سے زائد مرتبہ ذکر فرمایا کہ خدام الاحمدیہ کی بنیادوں پر احمدی لڑکیوں کی تنظیم قائم ہونی چاہئے۔ چنانچہ باہم مشورہ کے بعد طے پایا کہ ایسی تنظیم کا اعلان فرمانے کے لئے صاحبزای موصوفہ ایک خط کے ذریعہ سے حضور کی خدمت میں درخواست کریں اور یہ بھی گذارش کریں کہ اس تنظیم کا نام بھی حضور خود تجویز فرمائیں۔ اس خط کا مسودہ تیار کرنے میں خاکسار کو خدمت کا موقعہ ملا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ صاحبزادی امتہ الرشید صاحبہ اور خاکسار نے کچھ قیاس آرائی بھی کی کہ حضور اس تنظیم کا کیا نام تجویز فرمائیں گے۔ حسن اتفاق سے ایک نام ’’ناصرات الاحمدیہ‘‘ بھی ذہن میں آیا بہرکیف صاحبزادی موصوفہ کے حضور کی خدمت میں درخواست کے جلد بعد ہی حضور نے احمدی لڑکیوں کی تنظیم کے قیام کا اعلان فرمایا اور ایک کاغذ پر اپنے دست مبارک سے اسکا نام ’’ناصرات الاحمدیہ‘‘ تحریر فرمایا اور اس طرح اس تنظیم کی ابتداء ہوئی۔
    صاحبزادی سیدہ امتہ الرشید صاحبہ سلمہا اللہ تعالیٰ مستحق صد مبارک ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ مبارک تحریک ڈالی اور ان کی کوششیں مثمر ہوئیں فالحمد لل¶ہ علی ذالک۔
    ۱۹۳۰ء میں لجنہ کو مجلس شوریٰ میں نمائندگی کا حق ملا جولائی ۱۹۳۱ء میں تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہوا تو الجنہ نے اسے کامیاب بنانے کے لئے چندہ دیا۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے یکم اپریل ۱۹۳۸ء کو حکم دیا کہ جہاں جہاں لجنہ ابھی قائم نہیں ہوئی وہاں کی عورتیں اپنے ہاں لجنہ اماء اللہ قائم کریںاور وہ بھی اپنے آپ کو تحریک جدید کی والنٹیرز سمجھیں۔ ۲۳۵
    ماہ اپریل ۱۹۴۴ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو الہام ہوا ۔ اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کرلو تو اسلام کو ترقی حاصل ہوجائے گی۔ ۲۳۶ اس خدائی تحریک پر حضور لجنہ اماء اللہ کی تربیت و تنظیم کی طرف اور زیادہ گہری توجہ فرمانے لگے۔
    ۱۹۴۶ء میں پنجاب اسمبلی کے انتخاب کے سلسلہ میںقادیان کی احمدی خواتین نے اعلیٰ نمونہ پیش کیا جس پر حضور نے فرمایا کہ عورتوں نے الیکشن میں قربانی کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کے اس ذکر کو ہمیشہ تازہ رکھا جائے۔اور بار بار جماعت کے سامنے لایا جائے انہوں نے بے نظیر قربانی اور نہایت اعلیٰ درجہ کی جاں نثاری کا ثبوت دے کر ثابت کردیا ہے کہ وہ مردوں سے قومی کاموں میں آگے نکل آئی ہیں۔ ۲۳۷
    ۱۹۴۷ء میں ملک تقسیم ہوگیا اور ہر طرف فسادات کی آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے لجنہ اماء اللہ کی تنظیم معطل سی رہی۔ مگر جونہی حالات کچھ سدھرنے لگے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ہاتھوں جماعت کا نیا مرکز ربوہ تعمیر ہونا شروع ہوا تو لجنہ کی دینی سرگرمیاں پھر شروع ہوگئیں۔ چنانچہ ۱۹۵۰ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی تحریک وقف زندگی پر مستورات نے لبیک کہا ۱۹۵۱ء میں لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کا دفتر بنا۔ ۱۹۵۵ء میں ان کے چندوں سے ہالینڈ کی مسجد تعمیر ہوئی۔ ۹ دسمبر ۱۹۵۷ء کو فضل عمر جونئیر ماڈل سکول کا اجراء ہوا۔ جو حضرت سیدہ ام امتہ المتین کی ذاتی نگرانی اور دلچسپی کے باعث آٹھویں جماعت تک ترقی کرگیا ہے اس سکول کے علاوہ گھٹیالیاں۔ ہلال پور اور چک منگلہ میں بھی سکول جاری ہوچکے ہیں۔
    یہ اجمالی خاکہ ہے ان خدمات کا جو لجنہ اماء اللہ نے انجام دی ہیں۔ لجنہ کی تحریک اب عالمگیر تنظیم بن چکی ہے۔ جس کی شاخیں نہ صرف برصغیر پاک و ہند میں ہیں بلکہ کینیا‘یوگنڈا‘ٹانگا نیکا۔ غانا۔ نائیجیریا۔ ماریشس۔ سائوتھ افریقہ۔ امریکہ۔ لنڈن اور انڈونیشیا تک بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ ۲۳۸ اور اس کے کام کی وسعت روز بروز بڑھتی جارہی ہے لجنہ اماء اللہ نے غیروں پر بھی اپنی غیر معمولی عظمت و اہمیت کا سکہ بٹھا دیا ہے اس سلسلہ میں ہم دو اقتباسات تحریر کرکے آگے چلیں گے۔
    ۱۔ مولوی عبدالمجید صاحب قریشی ایڈیٹر اخبار تنظیم امرت سر نے لکھا ’’لجنہ اماء اللہ قادیان احمدیہ خواتین کی انجمن کا نام ہے اس انجمن کے ماتحت ہر جگہ عورتوں کی اصلاحی مجالس قائم کی گئی ہیں اور اس طرح پر وہ تحریک جو مردوں کی طرف سے اٹھتی ہے خواتین کی تائید سے کامیاب بنائی جاتی ہے اس انجمن نے تمام احمدیہ خواتین کو سلسلہ کے مقاصد کے ساتھ عملی طور پر وابستہ کردیا ہے عورتوں کا ایمان مردوں کی نسبت زیادہ مخلص اور مربوط ہوتا ہے عورتیں مذہبی جوش کو مردوں کی نسبت زیادہ محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ لجنہ اماء اللہ کی جس قدر کارگزاریاں اخبارات میں چھپ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کی آئندہ نسلیں موجودہ کی نسبت زیادہ مضبوط اور پرجوش ہونگی اور احمدیہ عورتیں اس چمن کو تازہ دم رکھیں گی جس کا مرور زمانہ کے باعث اپنی قدرتی شادابی اور سرسبزی سے محروم ہونا لازمی تھا۔‘‘۲۳۹
    ایک کٹر آریہ سماجی اخبار ’’تیج‘‘ (۲۵ جولائی ۱۹۲۷ء) نے رسالہ مصباح پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’’میرے خیال میں یہ اخبار اس قابل ہے کہ ہر ایک آریہ سماجی اس کو دیکھے اس کے مطالعہ سے انہیں احمدی عوتوں کے متعلق جو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ پردہ کے اندر بندرہتی ہیں اس لئے کچھ کام نہیں کرتیں فی الفور دور ہوجائے گی۔ اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ عوتیں باوجود اسلام کے ظالمانہ حکم کے طفیل پردہ کی قید میں رہنے کے کس قدر کام کررہی ہے اور ان میں مذہبی احساس اور تبلیغی جوش کس قدر ہے ہم استری سماج قائم کرکے مطمئن ہوچکے ہیں لیکن ہم کو معلوم ہوناچاہئے کہ احمدی عورتوں کی ہر جگہ باقاعدہ انجمنیں ہیں اور جو وہ کام کر رہی ہیں اس کے آگے ہماری استری سماجوں کا کام بالکل بے حقیقت ہے۔ مصباح کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ احمدی عورتیں ہندوستان ‘افریقہ ‘عرب ‘مصر ‘یورپ اور امریکہ میں کس طرح اور کس قدر کام کر رہی ہیں۔ ان کا مذہبی احساس اس قدر قابل تعریف ہے کہ ہم کو شرم آنی چاہئے چند سال ہوئے ان کے امیر نے ایک مسجد کے لئے پچاس ہزار روپے کی اپیل کی اور یہ قید لگادی کہ یہ رقم صرف عورتوں کے چندے سے ہی پوری کی جائے چنانچہ پندرہ روز کی قلیل مدت میں ان عورتوں نے پچاس ہزار کی بجائے پچپن ہزار روپیہ جمع کر دیا۔‘‘ ۲۴۰
    نجات
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے سالانہ جلسہ ۱۹۲۲ء کی تقاریر میں جماعت احمدیہ کو اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد مسئلہ نجات پر روشنی ڈالی اور اس کے مختلف اہم پہلوئوں کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا اگلے سال ۱۹۲۳ء کے سالانہ جلسہ پر بھی حضور نے اسی مضمون کا دوسرا حصہ بیان فرمایا جس میں مسئلہ کفارہ کے دلائل اور تفصیلات غیر معمولی وسعت اور انتہائی باریک نظری سے پیش فرمائے ان کا تجزیہ کرکے اس مسئلہ کا بے بنیاد ہونا ثابت کیا ۔ ۲۴۱ پہلا حصہ ’’نجات‘‘ ہی کے نام سے چھپ چکا ہے مگر دوسرا ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔
    ۱۹۲۲ء کے متفرق مگر اہم واقعات
    ۱۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں مرزا مبشر احمد صاحب پیدا ہوئے۔ ]01 [p۲۴۲
    ۲۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے حفظ قرآن کی تکمیل کرلی۔ آپ کے حفظ قرآن کی تاریخ ’’حافظ قرآن‘‘ نکلی۔۲۴۳
    ۳۔ مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس ‘مولوی غلام احمد صاحب بدوملہوی ‘مولوی ظہور حسین صاحب‘مولوی محمد شہزادہ خان صاحب اور مولوی ظل الرحمان صاحب بنگالی نے مبلغین کلاس کا امتحان (فزیالوجی۔ ’’ہدایات زریں)‘‘ پاس کیا۔ ۲۴۴
    ۴۔ حضرت میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی اور حضرت ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی کا انتقال ہوا۔
    ۵۔ پشاور کے علاقہ جہانگیر پورہ محلہ گل بادشاہ میں احمدیہ مسجد تعمیر ہوئی۔ ۲۴۵ جس میں حضرت قاضی محمد یوسف صاحب (مردان) کی کوششوں کا بہت دخل تھا۔
    ۶۔ قادیان سے ایک انگریزی اخبار ’’البشریٰ‘‘ کے نام سے ۲۰ مئی ۱۹۲۲ء کو جاری ہوا۔ ۲۴۶ جس کے ایڈیٹر اور مینجر چودھری غلام محمد صاحب بی۔اے سیالکوٹی مدرس تعلیم الاسلام ہائی سکول تھے۔ البشریٰ جو دستی پریس پر چھپتا تھا کچھ مدت چل کر بند ہوگیا۔
    ۷۔ وسط ۱۹۲۲ء میں ذوالفقار علی خان صاحب (ایڈیشنل سیکرٹری حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) نے وائسرائے ہند کی خدمت میں لکھا کہ رمضان میں مسلمان قیدیوں کو مشقت سے مستثنیٰ کیا جائے یا برائے نام مشقت لی جائے اور نماز تراویح کے لئے قرآن مہیا کئے جائیں ۔۲۴۷اس درخواست پر سب سے پہلے جس صوبہ نے مسلمان قیدیوں کے لئے اس نوع کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان کیا وہ صوبہ بہار تھا۔ ۲۴۸
    ۸۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے میاں عبدالسلام صاحب عمر کا نکاح چودھری ابو الہاشم خاں صاحب ایم۔ اے کی دختر محمودہ صاحبہ کے ہمراہ پڑھا۔ ۲۴۹
    ۹۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ارشاد پر قادیان میں تقاریر کی مشق کے لئے ایک انجمن قائم ہوئی جس کے صدر حضرت مولوی شیر علی صاحب اورسیکرٹری سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب مقرر ہوئے۔ ۲۵۰
    ۱۰۔ مدرسہ احمدیہ میں حافظ کلاس کھولی گئی۔۲۵۱
    ۱۱۔ مشہور مباحثے۔ مباحثہ نوشہرہ ۲۵۲ (مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مہاشہ گیان بھکشو کے درمیان) ہوا۔ مباحثہ دہلی ۲۵۳ (حکیم احمد حسین صاحب لائلپوری ۲۵۴ اور پادری احمد مسیح کے درمیان) مباحثہ لاہور ۲۵۵ (بابو عبیداللہ صاحب احمدی اور پادری چنن خاں کے درمیان) مباحثہ امرت سر ۲۵۶ (آریوں سے ہوا۔ احمدی مناظر حصرت حافظ روشن علی صاحب اور مولانا جلال الدین شمس تھے)
    حواشی
    ۱۔ ]h2 [tag تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد سوم (طبع سوم) صفحہ ۲۴۷۔ ۲۵۰
    ۲۔ بیروز لیکچرز صفحہ ۴۲
    ۳۔ الفضل ۹ مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ ۲
    ۴۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی آپ بیتی صفحہ۵۰ (مرتبہ جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی) مطبوعہ ۱۹۴۶ء طبع اول و الفضل ۳۔ مئی ۱۹۲۰ء صفحہ ۲ و ۲۸۔ جون ۱۹۲۰ء صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۵۔ الفضل ۱۵ اپریل ۱۹۲۰ء صفحہ۱۲
    ۶۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی آپ بیتی۔ صفحہ۵۱
    ۷۔h2] gat[ الفضل ۱۴ جون ۱۹۲۰ء صفحہ۴
    ۸۔ اس عمارت کو بعد میں مسجد کی شکل دے دی گئی اور اب یہ مسجد شگاگو کے نام سے مشہور ہے۔
    ۹۔ الفضل ۷/۴ دسمبر ۱۹۲۳ء صفحہ ۱
    ۱۰۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۷۴
    ۱۱۔ رپورٹ سالانہ ۳۵۔۱۹۳۴ء صفحہ ۴۴۔۴۵۔
    ۱۲۔ الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۶۶ء صفحہ ۴
    ۱۳۔ پنوراما ۳ جنوری ۱۹۵۲ء صفحہ۸
    ۱۴۔ ریڈرز ڈائجسٹ (امریکن ایڈیشن) ستمبر ۱۹۶۲ء صفحہ ۵۲۔۵۳ بحوالہ انصار الل¶ہ دسمبر ۱۹۶۲ء صفحہ ۴۲۔۴۳
    ۱۵۔ تنظیم ۲۸ دسمبر ۱۹۶۲ء صفحہ ۵۔۶ بحوالہ تاثرات قادیان۔
    ۱۶۔ الفضل ۱۶ فروری ۱۹۲۰ء صفحہ ۱
    ۱۷۔ الفضل یکم مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ ۱
    ۱۸۔ الفضل ۲۶ فروری ۱۹۲۰ء صفحہ ۳۔۴
    ۱۹۔ الفضل یکم مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ ۵۔۶
    ۲۰۔ الفضل یکم مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ۷
    ۲۱۔ الفضل یکم مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ ۸
    ۲۲۔ افضل ۱۵ مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ ۳۔ قیام لاہور کے دوران میں حضور نے کئی لوگوں مثلاً مسٹر رچرڈ پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور کو ملاقات کا موقع دیا اور دینی مسائل پر ان سے گفتگو فرمائی (الفضل ۲۳ فروری ۱۹۲۰ء صفحہ ۲)
    ۲۳۔ الفضل ۸ اپریل ۱۹۲۰ء صفحہ ۱
    ۲۴۔ الفضل ۱۹ اپریل ۱۹۲۰ء صفحہ۱
    ۲۵۔ الفضل ۱۵ اپریل ۱۹۲۰ء صفحہ۲
    ۲۶۔ الفضل ۱۹ اپریل ۱۹۲۰ء صفحہ۸۔۱۱
    ۲۷۔ الفضل ۱۴/۱۱ اپریل ۱۹۲۱ء صفحہ ۲۔ ان میں سے ایک حضرت مولوی عبدالمغنی صاحب اور دوسرے بابوعبدالمجید صاحب آڈیٹر ریلوے۔
    ۲۸۔ الفضل ۱۹ اپریل ۱۹۲۰ء صفحہ ۱۱۔۱۲
    ۲۹۔ الفضل ۱۹ اپریل ۱۹۲۰ء صفحہ ۱۲
    ۳۰۔ الفضل ۲۴ جون ۱۹۲۰ء صفحہ ۱
    ۳۱۔ الفرقان ربوہ دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۲۶
    ۳۲۔ حضرت حاجی غلام احمد صاحب آف کریام آپ کو مدرسہ احمدیہ میں داخل کرانے کے لئے خود قادیان تشریف لے گئے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ (جو اس وقت مدرسہ احمدیہ کے افسر تھے) کی خدمت میں آپ کو لیکر حاضر ہوئے چنانچہ آپ نے ان کو مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں داخل کردیا۔
    ۳۳۔ الفرقان دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ج
    ۳۴۔ الفضل ۱۹ نومبر ۱۹۴۰ء صفحہ۴
    ۳۵۔ الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۵۷ء صفحہ ۴
    ۳۶۔ مفصل معاہدہ کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۰ مئی ۱۹۲۰ء صفحہ ۸۔۹
    ۳۷۔ الفضل ۳ جون ۱۹۲۰ء صفحہ۱
    ۳۸۔ یہ دونوں جماعتیں ۱۹۱۹ء میں معرض وجود میں آئی تھیں ان کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب مرزا محمد دہلوی اپنی کتاب مسلمانان ہند کی حیات سیاسی میں مفصل لکھتے ہیں۔ ہندوئوں کو نئی حکومت کے زیر سایہ اپنی مضبوط قومی تعمیر کے لئے ملک پر زیادہ سے زیادہ سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی خواہش تھی اور اسی کے لئے انہوں نے جدوجہد شروع کردی مسلمانوں کا پرجوش طبقہ جو پہلے ہی جذبات سے مغلوب ہورہا تھا۔ یہسمجھا کہ یہ آزادی کی جنگ ہے بلا کسی شرط کے اس جدوجہد میں ہندوئوں کے ساتھ ہوگیا۔ ہندوئوں نے اس نئی طاقت کا خیر مقدم کیا اور بڑے سلیقہ سے اپنے مقصد کے آلہ کار بنالیا۔۔۔۔۔۔ خلافت کمیٹی کانگریس کا ایک جزو بن گئی تھی اور جمعیہ العلماء کی حیثیت ان دونوں جماعتوں کے مذہبی نقیب کی سی تھی کانگریس کوئی نئی تحریک وضع کرتی خلافت کمیٹی اس پر عمل کرنے کو میدان میں اتر آتی اور جمعیتہ العلماء اس تحریک کو قرآن و احادیث کے مطابق ثابت کرکے فتوے سے شائع کیا کرتی (صفحہ ۱۰۴‘۱۰۵ ‘۱۱۴)
    اس حقیقت کی روشنی میں یہ سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ تحریک خلافت کے اصل خدوخال کیا تھے؟ جناب ابوالکلام آزاد جو خلافتی لیڈروں کے سرخیل تھے۔ خود ہی انکشاف فرماتے ہیں کہ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ اگلا قدم کیا ہو۔ ایک میٹنگ ہوئی جس میں مسٹر شوکت علی۔ حکیم اجمل خاں اور مولوی عبدالباری فرنگی محل بھی شریک تھے گاندھی جی نے اپنا پروگرام ترک موالات سے متعلق پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وفود اور عرضداشتوں کے دن ختم ہوگئے۔ ہم کو حکومت کے ساتھ نصرت و اعانت کے تمام تعلقات منقطع کردینے چاہیں۔ گاندھی جی نے میری طرف دیکھا میں نے ایک لمحے کی جھجک کے بغیر کہا کہ مجھے یہ پروگرام منظور ہے اگر لوگ واقعی ترکی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو گاندھی جی کے پروگرام کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کچھ ہفتوں کے بعد خلافت کانفرنس میرٹھ میں منعقد ہوئی اس کانفرنس میں پہلی مرتبہ باضابطہ طور سے گاندھی جی نے اعلانیہ پبلک پلیٹ فارم سے ترک موالات کا پروگرام پیش کیا ان کی تقریر کے بعد میں نے ان کی مکمل تائید کی (انڈیا ونس فریڈم۔ صفحہ ۹۔۱۰ بحوالہ تقسیم ہند از عبدالوحید خاں صفحہ۵۰۔۵۲) نیز لکھتے ہں جہاں تک اس تحریک کا تعلق ایک ملکی مسئلہ سے ہے وہاں تک کہاں جاسکتا ہے کہ اس مسئلے کے محرک چند رفقا تھے میں نام لونگا مہاتما گاندھی کا وہ تحریک کے اولین اور سب سے بڑے بزرگ تھے جنہوں نے اس تحریک کا ساتھ دیا تھا۔ ایضاً صفحہ ۵۵۔
    ۳۹۔ الفضل ۳ جون ۱۹۲۰ء صفحہ ۱
    ۴۰۔ الفضل ۷ جون ۱۹۲۰ء صفحہ ۳۔۸ اس مضمون کاانگریزی ترجمہ بھی شائع کر دیا گیا تھا۔
    ۴۱۔ الفضل ۱۲ جولائی ۱۹۲۰ء صفحہ ۸
    ۴۲۔ الفضل ۲ اگست ۱۹۲۰ء صفحہ۱ ‘۲۷ ستمبر ۱۹۲۰ء صفحہ ۱
    ۴۳۔ الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۲۰ء صفحہ ۲
    ۴۴۔ الحکم ۲۱ ستمبر ۱۹۲۰ء (اس نمبر میں سب حضرات کی نظمیں چھپ گئی تھیں)۔
    ۴۵۔ الواح الہدیٰ (شائع کردہ مولوی محمد عنایت اللہ صاحب تاجر کتب قادیان)
    ۴۶۔ ملاحظہ ہو سرورق ۴۔ سیرت خاتم النبین حصہ دوم طبع اول۔
    ۴۷۔ ]2h [tag سیرت خاتم النبین حصہ اول طبع دوم (سرورق)
    ۴۸۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مولانا عبدالمجید صاحب سالک کی کتاب سرگزشت صفحہ ۱۱۶۔۱۱۷
    ۴۹۔ ترک موالات اور احکام اسلام طبع اول صفحہ۸۵۔۸۶
    ۵۰۔ اخبار اتفاق و ذوالفقار بحوالہ رہنمائے تبلیغ صفحہ ۱۳۹۔ ۱۴۰ (از سید طفیل محمد شاہ صاحب) بخاری صاحب اور دوسرے خلافتی لیڈروں نے جیل میں کیا کیا کارنامے انجام دیئے ان کی تفصیل سرگزشت صفحہ ۱۶۰۔۱۶۷ (ازمولانا سالک) سوانح سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری ۔ (از شورش) صفحہ ۶۵۔۷۳ نقوش آپ بیتی نمبر صفحہ ۶‘۷ میں ملاحظہ ہوں بخاری صاحب نے بیرونی سنسر شپ سے بچنے کے لئے اپنا نام پنڈت کرپارام برہمچاری لکھنا شروع کردیا تھا (سوانح سید عطاء اللہ شاہ بخاری از شوزش) صفحہ ۷۳ مولوی سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی نظر بند تو نہیں ہوئے البتہ انہوں نے سیرت گاندھی پر ایک کتاب لکھی جو ضبط کرلی گئی۔ (نقوش آپ بیتی نمبر صفحہ۱۲۸۹)
    ۵۱۔ تقاریر مولاناظفر علی خاں۔ صفحہ۵۹۔۶۱
    ۵۲۔ تقاریر مولانا ظفر علی خاں صفحہ۶۴
    ۵۳۔ حیات محمد علی جناح صفحہ۱۰۸ دوسرا ایڈیشن صفحہ ۱۰۸
    ۵۴۔ مسلمانان ہند کی حیات سیاسی صفحہ ۱۰۹
    ۵۵۔ سرگزشت صفحہ ۱۱۶۔ عامتہ المسلمین نے تو یوں اپنے ہاتھوں اپنا گھر بارتباہ و بروباد کیا۔ مگر خلافتی لیڈروں نے یہ قربانی کی کہ وہ لاکھوں روپے جو مسلمانوں نے خلافت کی بحالی کے لئے چندہ میں دیئے تھے ہضم کرگئے چنانچہ جب مولانا محمد علی صاحب جیل سے رہا ہوئے تو خلافت کا خزانہ خالی ہوچکا تھا۔ (سیرت محمد علی صفحہ ۴۷۸۔۴۷۹۔ از سید رئیس احمد صاحب جعفری) طبع دوم ۱۹۵۰ء
    ۵۶۔ تبرکات آزاد صفحہ۲۲۶۔۲۲۷۔ (مولاناآزاد کے مکاتیب ومقالات کا مجموعہ مرتبہ جناب غلام رسول صاحب مہر)
    ۵۷۔ خودنوشت سوانح عمری مشمولہ ’’مولانا مودودی اپنی اور دوسروں کی نظر میں‘‘ صفحہ۴۳۔
    ۵۸۔ بحوالہ تحریک اسلامی صفحہ ۸۶۔ مرتبہ خورشید احمد شائع کردہ ادارہ چراغ راہ کراچی۔
    ۵۹۔ ایضاً صفحہ ۲۴۷۔
    ۶۰۔ الفضل ۵۔۹ اگست ۱۹۲۰ء صفحہ ۱‘الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۲۰ء صفحہ ۱
    ۶۱۔ الفضل ۹/۸ فروری ۱۹۲۰ء صفحہ ۱
    ‏]1h [tag۶۲۔ الفضل ۳ جون ۱۹۲۰ء صفحہ ۱
    ۶۳۔ ریویو آف ریلیجز اردو مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ ۱۱۳
    ۶۴۔ الحکم ۲۸ جنوری ۱۹۲۰ء صفحہ۳
    ۶۵۔ الفضل ۲۹ مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ۸
    ۶۶۔ الفضل ۲۹ مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ ۱۱
    ۶۷۔ الفضل ۸ اپریل ۱۹۲۰ء صفحہ۸
    ۶۸۔ الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۲۰ء صفحہ۷
    ۶۹۔ الحکم ۱۴ اکتوبر ۱۹۲۰ء صفحہ۲۔۳۔
    ۷۰۔ الحکم ۲۸ نومبر ۱۹۲۰ء صفحہ ۳
    ۷۱۔ h2] gat[ مطبوعہ ہے۔
    ۷۲۔ الفضل ۳۱ جون ۱۹۲۱ء صفحہ ۶
    ۷۳۔ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مشاورت ۱۹۴۲ء میں اپنی جماعت کے ہندومت اور سکھ مذہب کے فاضلوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مہاشہ محمد عمر صاحب کے قادیان آنے کا واقعہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ’’ہندوعلوم اور لٹریچر کے کئی لوگ ہمارے پاس موجود ہیں ۔۔۔۔مولوی عبداللہ ناصر الدین صاحب ہیں جو دید بھی پڑھے ہوئے اور اعلیٰ ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔۔۔۔ سکھوں کے متعلق واقفیت رکھنے والے کئی لوگ ہیں گیانی عباد اللہ صاحب اور گیانی واحد حسین صاحب اور ان کے علاوہ سردار محمد یوسف صاحب جو سکھوں کی کتب اور لٹریچر کے پرانے ماہر ہیں اور خداتعالیٰ کے فضل سے دیر سے بہت مفید کام کررہے ہیں غالباً ۱۹۲۲ء کی بات ہے کہ مہاشہ محمد عمر صاحب ہندوطالبعلموں کی ایک پارٹی کے ساتھ مجھے ملنے کے لئے آئے تھے گوروکل کانگڑی کے ایک پروفیسر صاحب یہاں ایک جلسہ پر آئے تھے اور اپنی بہادری دکھانے کے لئے آئے کہ دیکھو میں کیسی اچھی تقریر کرتا ہوں طالب علموں کی ایک پارٹی کو بھی ساتھ لے آئے۔ انہوں نے طلبہ کو مجھ سے ملنے کو بھی بھیجا۔ اس وقت مہاشہ محمد عمر بھی ان کے ساتھ تھے میں نے طالب علموں سے کہا پروفیسر صاحب سے کہو کہ آپ اپنے چند طالب علم یہاں بھیج دیں میں خود ان کو قرآن پڑھائوں گا اسی طرح میں چند طالبعلم بھیجتا ہوں جن کو وہ وید پڑھائیں۔ خرچ اپنے طالب علموں کا بھی اور ان کے بھیجے ہوئے طالب علموں کا بھی میں ہی دونگا۔ اگر قرآن کریم میں تاثیر ہوگی تو ان کے بھیجے ہوئے طالب علموں کو میں مسلمان کرلوں گا اور اگر ویدوں میں تاثیر ہوگی تو ہمارے طالب علموں کو وہ ہندوکرسکیں گے۔ اور یہ ہم دونوں کا انعام ہوگا۔ مگر انہوں نے اس تجویز کو نہ مانا۔ مہاشہ محمد ¶عمر صاحب بھی اس پارٹی میں تھے ان کے دل پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ چند دنوں کے بعد بھاگ کر یہاں آگئے انہوں نے گو جوانی یہاں گزاری ہے مگر بچپن میں وہ ہندوئوں میں رہے ہیں اور وہیں پڑھتے رہے ہیں اس لئے ان کا لب ولہجہ ہندوانہ ہے ان کے علاوہ مہاشہ فضل حسین صاحب ہیںوہ شاید سنسکرت تو نہیں جانتے مگر ہندو لٹریچر سے اچھے واقف ہیں‘‘۔ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء صفحہ ۲۹۔۳۰)
    ۷۴۔
    تفصیل کے لئے دیکھیں ’’ہدایات زریں‘‘
    ۷۵۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے ’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخرب الکعبہ ذوالسویقتین من الحبشہ‘‘ (صحیح مسلم جلد دوم مصری صفحہ ۳۱۹)
    ۷۶۔ الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۲۰ء صفحہ۴۔۵
    ۷۷۔ الفضل ۷ مارچ ۱۹۲۱ء صفحہ۹
    ۷۸۔ الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۲۱ء صفحہ۶
    ۷۹۔ الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۲۱ء صفحہ۶۔۷۔ مسٹر خیرالدین صاحب عرصہ سے سلسلہ کا لٹریچر مطالعہ کررہے تھے اب حضرت نیر صاحب کی آمد پر انہوں نے بیعت کرلی اس طرح سیرالیون میں احمدیت کا بیج بویاگیا۔ سیر الیون کا سولہ سال بعد مستقل دارالتبلیغ ۱۹۳۷ء میں قائم ہوا جس کے تفصیلی حالات اگلی جلد میں آرہے ہیں۔
    ۸۰۔ الفضل ۵ مئی ۱۹۲۱ء صفحہ۱۔۲
    ۸۱۔ الفضل ۱۹ مئی ۱۹۲۱ء
    ۸۲۔ ابتداء میں جب مغربی افریقہ کے بعض مسلمانوں نے حضرت نیر صاحب سے ملاقات کی تو کہا کہ آج تک لوگ ہم پر ہنستے تھے کہ سفیدآدمی مسلمان نہیں ہوتے الحمدلل¶ہ کہ اب سفید آدمی مبلغ اسلام ہوکر یہاں آگیا ہے (الفضل ۵ مئی ۱۹۲۱ء صفحہ۲
    ۸۳۔ چیف مہدی کی جائے رہائش کا مقام
    ۸۴۔ نائیجیریا کی دو قومیں اولاً اسلام میں داخل ہوئیں ہوسا جو عرب مخلوط نسل سے ہیں۔ یو ربا جو حبشی النسل ہیں ہو ساقدامت پسند مسلمان ہیں اور یوربا مہذب اور تجارت سے شغل رکھتے ہیں۔
    ۸۵۔ اس زمانہ میں سیرالیون گولڈ کوسٹ اور نائیجیریا میں ایک بھی مسلمانوں کا ایسا مدرسہ نہیں تھا جس میں جدید طرز کی تعلیم دی جاتی ہو۔ مسلمانوں کے جو بچے ذرا انگریزی پڑھ لیتے وہ عیسائی ہوجاتے تھے ۔
    ۸۶۔ الفضل ۱۹ مئی ۱۹۲۱ صفحہ۳۔۶
    ۸۷۔ افریقہ میں جماعت احمدیہ کو عیسائیت کے مقابل شاندار فتوحات کی خبر پڑھ کر خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے حضرت خلیفہ ثانی کی خدمت میں خط لکھا کہ بے اختیار زبان سے الحمداللہ نکلا۔ افریقہ میں عیسائیت کے مقابلہ میں مرزائیت کی فتح یقیناً ہر مسلمان کو اچھی معلوم ہوگی بشرطیکہ وہ حاصل مقصد کو سمجھتا ہو میں آپ کے عقیدہ کے اب تک دل سے مخالف ہوں مگر امریکہ یورپ اور افریقہ میں آپ کے آدمیوں کے ذریعہ جو کچھ کام ہورہا ہے اس کا اعتراف کرنا اور اس کے نتائج سے مسرور ہونا لازمی سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے دین کا اس سے زیادہ بول بالا کرے۔ (الفضل ۲۱ اپریل ۱۹۲۱ء صفحہ ۹)
    ۸۸۔ الفضل ۹/۱۲ جون ۱۹۲۱ء صفحہ ۵۔
    ۸۹۔ الفضل ۸ اگست ۱۹۲۱ء صفحہ ۳۔
    ۹۰۔ یہ لوگ پنجاب کے چکڑالوی نہیں ان کا دوسرے مقامی مسلمانوں سے اختلاف صرف یہ تھا کہ تفسیر جلالین قرآن پر مقدم نہیں ہے۔
    ۹۱۔ الفضل ۲۳ جون ۱۹۲۱ء صفحہ۷
    ۹۲۔ حضرت خلیفہ ثانی نے نیر صاحب کو افریقہ میں بیعت لینے کی اجازت دی تھی (الفضل ۲۳ جون ۱۹۲۱ء صفحہ ۷)
    ۹۳۔ الفضل ۳ اکتوبر ۱۹۲۱ء صفحہ ۲۔
    ۹۴۔ الفضل ۲۵ اگست ۱۹۲۱ء صفحہ ۴
    ۹۵۔ الفضل ۳ اکتوبر ۱۹۲۱ء صفحہ ۲
    ۹۶۔ الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۱ء صفحہ۲
    ۹۷۔ الفضل ۸ دسمبر ۱۹۲۱ء صفحہ ۲
    ۹۸۔ الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ ۲‘۷
    ۹۹۔ الفضل ۱۴ ستمبر ۱۹۲۲ء صفحہ۱۔۲
    ۱۰۰۔ الفضل ۱۶ نومبر ۱۹۲۲ء صفحہ۲
    ۱۰۱۔ الفضل یکم جنوری ۱۹۲۳ء صفحہ ۹۔۱۲ اس مدرسہ کی مستقل عمارت کا افتتاح ۱۹۲۸ء میں ہوا۔ اس تقریب پر مسٹر ہنری کار (RRHENRYCA۔)MR پہلے نائیجیرین ریذیڈنٹ نے نائیجیریا میں مسلمانوں کی تعلیم کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا نائیجیریا کے مسلمانوں نے ڈاکٹر ای۔ ڈبلیو بلائڈن کے مشورہ پر ۱۸۹۶ء میں لیگوس محمڈن سکول جاری کیا جسے نائیجیرین مسلمان حکومت کی امداد اور سرپرستی کے باوجود زیادہ لمبے عرصہ تک قائم نہ رکھ سکے۔ اوربالاخر حکومت کو کلی طور پر اپنی تحویل میں لینا پڑا تحویل میں لینے سے قبل حکومت نے مسلمانوں کو بار بار توجہ دلائی کہ وہ اسلامی سکول کھولنے کی کوشش کریں لیکن کسی نے اس بات کی طرف توجہ نہ دی حتیٰ کہ ۱۹۲۲ء میں مسلمانوں کے احمدیہ فرقہ نے مولوی عبدالرحیم صاحب نیر کی تحریک پر تعلیم الاسلام سکول قائم کیا اس طرح صحیح معنوں میں یہاں سب سے پہلا مسلم سکول کھولنے کا فخر جماعت احمدیہ کو حاصل ہوا (ترجمہ) (ریویو آف ریلیجنز انگریزی ۱۹۲۸ء صفحہ۲۱۔۲۵)
    ۱۰۲۔ (الفضل ۲۲ جنوری ۱۹۲۳ء صفحہ ۱۔۲
    ۱۰۳۔ الفضل ۵ مارچ ۱۹۲۳ء صفحہ ۱۔ ۲
    ۱۰۴۔ رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ۳۲۔۱۹۳۳ء صفحہ ۱۵۷
    ۱۰۵۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحہ ۱۵۲۔۱۵۳
    ۱۰۶۔ رپورٹ سالانہ ۳۳۔۱۹۳۲ء صفحہ ۱۵۶۔
    ۱۰۷۔ رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ۳۹۔۱۹۳۸ء صفحہ ۷۸
    ۱۰۸۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو رپورٹ سالانہ ۳۷۔ ۱۹۳۶ء صفحہ ۳۴۔ ۳۶۔ رپورٹ سالانہ ۳۹۔۱۹۳۸ء صفحہ ۷۸۔ ۸۶۔
    ۱۰۹۔ رپورٹ سالانہ ۳۸۔۱۹۳۷ء صفحہ ۳۳
    ۱۱۰۔ اس کی بنیاد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے رکھی تھی۔
    ۱۱۱۔ یہ لوگ جناب محمد بشیر صاحب شاد کے ذریعہ سلسلہ میں داخل ہوئے تھے۔
    ۱۱۲۔ یہ تقریر آپ نے لیگوس کی احمدیہ مسجد میں کی تھی؟ جبکہ شمالی علاقہ کے لوکل چیف پہلی دفعہ نائیجیرین پارلیمنٹ کے اجلاس میں شمولیت کے لئے لیگوس تشریف لائے تھے اور جماعت احمدیہ نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ اجلاس منعقد کیا تھا۔
    ۱۱۳۔ بحوالہ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۶۷ (از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب)۔
    ۱۱۴۔ بحوالہ اسلام کا غلبہ (ازمولانا جلال الدین صاحب شمس صفحہ ۵۲۔۵۳
    ۱۱۵۔ ایضاً
    ۱۱۶۔ بحوالہ اشاعت اسلام اور ہماری ذمہ داریاں صفحہ ۱۲ (از جناب صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر ربوہ) روزنامہ ڈیلی ٹائمز ۲۳ فروری ۱۹۵۵ء (ترجمہ)
    ۱۱۷۔ رسالہ لائف امریکہ ۸ اگست ۱۹۵۵ء (ترجمہ)
    ۱۱۸۔ اہل گولڈ کوسٹ نے ۱۹۶۰ء میں انگریزوں سے آزادی حاصل کرلینے کے بعد اپنے ملک کا نام (غانا) رکھ لیا۔
    ۱۱۹۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحہ۱۵۱۔
    ۱۲۰۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء صفحہ۳۷۔
    ۱۲۱۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۸۲۔۱۸۳
    ۱۲۲۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحہ ۱۸۲۔۱۸۳
    ۱۲۳۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحہ۱۵۱
    ۱۲۴۔ رپورٹ سالانہ ۳۲۔۱۹۳۳ء صفحہ۱۵۵۔۱۵۷۔
    ۱۲۵۔ رپورٹ سالانہ ۳۵۔۱۹۳۶ء صفحہ۳۵
    ۱۲۶۔ رپورٹ سالانہ ۳۶۔۱۹۳۷ء صفحہ۴۱ ۔ ۴۳ اسکی تکمیل مولوی نذیر احمد صاحب مبشر کے زمانہ میں ہوئی اور افتتاح ۲۷ جنوری ۱۹۴۱ء کو عمل میں آیا۔
    ۱۲۷۔ ایضاً
    ۱۲۸۔ رپورٹ سالانہ ۳۸۔۱۹۳۷ء صفحہ ۳۴
    ۱۲۹۔ ۱۵ جنوری ۱۹۴۷ء صفحہ۱
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ۱۳۰۔ ملاحظہ ہو صفحہ ۱۲۱۔ ۱۷۷
    ۱۳۱۔ کرائسٹ آر محمد (مولفہ ایس۔ جی ولیم سن پروفیسر یونیورسٹی کالج غانا) مطبوعہ غانا بحوالہ اشاعت اسلام اور ہماری ذمہ داریاں۔ صفحہ۷
    ۱۳۲۔ افتتاحی ایڈریس تبلیغی نمائش برموقع سالانہ کانفرنس غانا ۱۹۶۲ء
    ۱۳۳۔ بحوالہ اشاعت اسلام اور ہماری ذمہ داریاں صفحہ۲۲ (از جناب صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر تحریک جدید ربوہ)
    ۱۳۴۔ الفضل ۱۰ فروری ۱۹۲۱ء صفحہ ۱۔ خطبہ نکاح کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۴ فروری ۱۹۲۱ء۔
    ۱۳۵۔ الفضل ۲۴ فروری ۱۹۲۱ء صفحہ۱
    ۱۳۶۔ الفضل ۱۴ فروری ۱۹۲۱ء صفحہ۴۔۵۔ زیادہ تفصیل کے لئے دیکھیں تابعین اصحاب احمد جلد سوم مولفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم ۔اے۔ قادیان۔
    ۱۳۷۔ الفضل ۳ مارچ ۱۹۲۱ء صفحہ ۲
    ۱۳۸۔ الفضل ۷۔۱۴ مارچ ۱۹۲۱ء (والد صاحب (صفحہ ۵۳۔۵۴) از مولانا عبدالرحیم صاحب درد)
    ۱۳۹۔ الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۲۱ء صفحہ ۱۔۴ اپریل ۱۹۲۱ء صفحہ۳
    ‏h1] g[ta۱۴۰۔
    مفصل تقریر کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۴۔۱۱ اپریل ۱۹۲۱ء صفحہ ۲
    ۱۴۱`۱۴۲۔ مولویوں نے اپنے جلسہ میں یہ اعتراض اٹھایا کہ اگر مرزا صاحب سچے ہیں تو ان کی قبر کھود کر دکھائی جائے اگر وہ نبی ہیں تو ان کی لاش محفوظ ہوگی۔ حضور نے جواب دیا کہ قرآن و حدیث سے نبوت کے اس معیار کی تائید میں کوئی دلیل پیش کریں پھر ہزارہا نبیوں کی قبریں دکھا کر اس کا عملی ثبوت بہم پہنچادیں اس کے بعد ہم ان کا مطالبہ پورا کرکے حضور کی سچائی ثابت کر دکھائیں گے۔
    ۱۴۳۔ الفضل ۴ جولائی ۱۹۲۱ء صفحہ۶
    ۱۴۴۔ الفضل ۲۷ جون ۱۹۲۱ء صفحہ۱
    ۱۴۵۔ الفضل ۳ اکتوبر ۱۹۲۱ء صفحہ۱
    ۱۴۶۔ الفضل ۲۲ اگست ۱۹۲۱ء صفحہ۱
    ۱۴۷۔ الفضل ۵ ستمبر ۱۹۲۱ء صفحہ۱۔۲
    ۱۴۸۔ آئینہ صداقت صفحہ۲۰۳
    ۱۴۹۔ الفضل ۱۰ مارچ ۱۹۲۱ء صفحہ۱
    ۱۵۰۔ الحکم ۱۴ فروری ۱۹۲۱ء صفحہ۱۔۲
    ۱۵۱۔ الفضل ۱۷ جنوری ۱۹۲۱ء
    ۱۵۲۔ الفضل ۲۸ نومبر ۱۹۲۱ء صفحہ ۲
    ۱۵۳۔ الفضل ۳ فروری ۱۹۲۱ء صفحہ۱
    ۱۵۴۔ الفضل ۲۸ اپریل ۱۹۲۱ء صفحہ ۱
    ۱۵۵۔ الفضل ۱۷ اکتوبر ۱۹۲۱ء صفحہ۱
    ۱۵۶۔ مطبوعہ ہے (الفضل ۲۶ دسمبر ۱۹۲۱ء صفحہ۱۳
    ۱۵۷۔ آپ واقف زندگی تھے اور عہدیہ تھا کہ کوئی خرچ سلسلہ سے نہیں لیں گے اسلئے آپ کے والد حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے ایک ہزار روپیہ نظارت دعوت و تبلیغ کوبھجوادیا۔ (قادیان صفحہ۲۸۴ از شیخ محمود احمد عرفانی)
    ۱۵۸۔ الحکم ۷ دسمبر ۱۹۲۲ء صفحہ۶
    ‏h1] gat[۱۵۹۔ ایضاً۔
    ۱۶۰۔ نجات صفحہ ۶ (لیکچر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سالانہ جلسہ) ۱۹۲۲ء
    ۱۶۱۔ اس اخبار کا پہلا پرچہ خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔
    ۱۶۲۔ قادیان صفحہ ۲۸۴ (از محمود احمد صاحب عرفانی) آپ دوبارہ ۱۹۳۱ء سے ۱۹۳۴ء تک مصر میں مقیم رہے اور ’’العالم الاسلامی‘‘ کے نام سے اخبار شائع کرتے رہے۔
    ۱۶۳۔ آپ نے ۱۹۶۳ء میں وفات پائی۔
    ۱۶۴۔ قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس مباحثہ پر ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا تھا مناظرہ توخیر کا سرصلیب کے شاگرد ہونے کی وجہ سے کامیاب ہونا ہی تھا مگر مجھے اس مناظرہ کی روداد پڑھنے سے حیرت ہوئی کہ مولوی صاحب نے اس مختصر سے مناظرہ میں کتنا مواد بھر دیا ہے یہ مناظرہ یقیناً ان احمدی مبلغوں کے بہت کام آسکتا ہے جن کا مسیحی مشزیوں کے ساتھ سابقہ پڑتا ہے۔ (الفرقان دسمبر ۱۹۶۱ء)
    ۱۶۵۔ (مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب کی روانگی از قادیان ۱۳ اگست واپسی قادیان ۲۴ فروری ۱۹۳۶ء)
    ۱۶۶۔ یہ کتاب دراصل ان مضامین کا مجموعہ ہے جو الاستاذ کرملی نے ۱۹۳۵ء میں مقتطف‘الہلال اور لغت العرب وغیرہ مصری اخبارات میں تحریر کیئے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۸ جنوری ۱۹۶۲ء صفحہ ۳۔
    ۱۶۷۔ طلبہ کے نام ایوب فضلی قرانیا اور ثلیل ابیشطی تھا۔ ملاحظہ ہو رسالہ الاحمدیتہ عرفناھا۔
    ۱۶۸۔ ہفتہ وار رسالہ (الرسالتہ والروایتہ) نمبر ۴۶۲ بابت ۲۵ ربیع الثانی ۱۳۶۱ھ مطابق ۱۹۴۲ جلد ۱۰ نمبر ۴۶۲ (یہ رسالہ مصر کے مسلمہ ادیب الاستاذ احمد حسن الزیات کی ادارت میں نکلتا تھا۔
    ۱۶۹۔ ]2h [tag الفتاوی کی اشاعت کے بعد علامہ شلتوت نے جامعہ از ہر کے علمی ترجمان ’’مجلتہ الازہر‘‘ فروری ۱۹۶۰ء کے انگریزی حصہ میں دوبارہ عقیدہ وفات مسیح کا اعلان کیا۔
    ۱۷۰۔ الفتاویٰ صفحہ ۵۸ (شائع کردہ الادارۃ العامتہ للثقافتہ الاسلامیہ بالازہر مطبوعہ جمادی الاخر ۱۳۷۹ھ مطابق دسمبر ۱۹۵۹ء (نشرواشاعت نظارت اصلاح وارشاد نے اس صفحہ کا عکس پمفلٹ کی صورت میں الگ بھی شائع کر دیا ہے۔
    ۱۷۱۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مقدمتہ الہدی والتبصرۃ لمن یری صفحہ ۲۲ تا ۲۷۔ مطبوعہ فلسطین شائع کردہ چوہدری محمد شریف صاحب سابق مبلغ بلاد عربیہ ایضاً ’’رسالہ‘‘ کیا مسیح علیہ السلام زندہ ہیں‘‘۔ صفحہ ۱۳۔ ۱۴ (مرتبہ شیخ نور احمد صاحب منیر سابق مبلغ بلاد عربیہ)
    ۱۷۲۔ الفضل ۳ مارچ ۱۹۶۱ء صفحہ ۳۔۴ (اس موقعہ پر علامہ شلتوت نے شیخ نور احمد صاحب منیر کو اپنی تین اہم تصانیف بطور ہدیہ دیں جن کے نام یہ ہیں۔ توجیہات الاسلام۔ عقیدۃ و شریعہ۔ الفتاویٰ۔ شیخ الجامعہ نے ان میں سے ہر کتاب پر اپنے دستخط سے عبارت لکھی ھدیہ دینیہ علمیہ الی اخی فی اللہ السید نور احمد منیر من علماء باکستان مع خالص التحیات۔
    ۱۷۳۔ علماء مصر و عرب کے فتاوی کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو رسالہ کیا مسیح علیہ السلام زندہ ہیں مرتبہ شیخ نور احمد صاحب منیر مبلغ بلاد عربیہ
    ۱۷۴۔ طبع اول ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۹۶۱ء مطبوعہ مطبع دارالجہاد ۱۴ شارع الجمہوریہ ناشر مکتبہ دارالعروبہ شارع الجمہوریہ القاہرہ۔
    ۱۷۵۔ الفتح قاہرہ (مصر) صفحہ ۳۱۵۔ ۲۰ جمادی الاخرہ ۱۳۵۱ھ (بحوالہ الفرقان فروری ۱۹۵۶ء صفحہ۴
    ۱۷۶۔ اخبار الفتح ۱۷ جمادی الاخرہ ۱۳۵۸ھ مطابق اگست ۱۹۳۹ء بحوالہ (البشری) فلسطین جلد۵
    ۱۷۷۔ مقدم الذکر دو اصحاب قادیان میں حضور کی زیارت کے لئے آئے تھے اور باقی ربوہ میں۔
    ۱۷۸۔ الفضل ۱۶ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ ۷۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کے علاوہ سردار نذر حسین صاحب ‘مرزا گل محمد صاحب اور چوہدری فضل احمد صاحب بھی افسر تھے جن کا درجہ سیکنڈ لفٹنٹ کا تھا مرزا گل محمد صاحب اسسٹنٹ ایجوٹنٹ بٹالین بھی تھے (الفضل ۸ مارچ ۱۹۲۳ء صفحہ۲
    ۱۷۹۔ رپورٹ سالانہ ۳۹۔۱۹۳۸ء صفحہ ۳۴۸
    ‏h1] [tag۱۸۰۔ تعلیم الاسلام میگزین جلد ۲ نمبر۳ صفحہ۱۰۔ (سالنامہ ۱۹۳۱ء) صوبیدار عبدالمنان صاحب (حال افسر حفاظت خاص ربوہ) کا بیان ہے کہ ۱۹۲۵ء کے قریب اس کمپنی کا الحاق انبالہ چھائونی کی ۱۵ پنجاب رجمنٹ سے ہوگیا اور سے ۱۱۔۱۵ پنجاب رجمنٹ کا نمبردیا گیا حضرت میاں صاحب جوانوں کی اعلیٰ ٹریننگ اور نشانہ بازی کے مقابلوں میں شرکت کے لئے میرٹھ چھائونی تشریف لے جاتے اور ہمیشہ اول آیا کرتے تھے اس طرح آپ کی حسن تربیت کا یہ نتیجہ تھا کہ احمدیہ ٹریٹوریل کمپنی نے بٹالین اور بریگیڈ کی سالانہ کھیلوں کے مقابلہ میں کثرت سے انعام جیت کر انبالہ چھائونی میں ایک ریکارڈ قائم کردیا تھا۔
    ۱۸۱۔ الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ۷
    ۱۸۲۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ آنریبل چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے فرمایا اور حضرت مولانا شیر علی صاحب اسے چھپوانے کے لئے خود بمبئی تشریف لے گئے (الفضل ۲۷ فروری ۱۹۲۲ء صفحہ۱۔۲) چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ بلاد عربیہ نے ۱۹۴۳ء میں اس کا عربی ترجمہ بھی کبابیر (فلسطین) سے شائع گیا۔
    ۱۸۳۔ الفضل ۹ جنوری ۱۹۲۲ء صفحہ ۹
    ۱۸۴۔ ملاحظہ ہو تحفہ شہزادہ ویلز۔
    ۱۸۵۔ تحفہ شہزادہ ویلز۔ اردو صفحہ ۱۴۲۔۱۴۳ (طبع اول)
    ۱۸۶۔ ملاحظہ ہو تحفہ شہزادہ ویلز اردو انگریزی طبع دوم
    ۱۸۷۔ ’’ذوالفقار‘‘ ۲۴ اپریل ۱۹۲۲ء (بحوالہ الفضل ۸ مئی ۱۹۲۲ء صفحہ ۷)۔
    ۱۸۸۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحہ۱۲۷
    ۱۸۹۔ بحوالہ الفضل ۸ مئی ۱۹۲۲ء صفحہ ۷۔۸
    ۱۹۰۔ بحوالہ رہنمائے تبلیغ صفحہ۲۸۲ (از سید طفیل محمد شاہ صاحب مرحوم)
    ۱۹۱۔ الفضل ۸ جنوری ۱۹۲۳ء صفحہ۵
    ۱۹۲۔ نجات صفحہ۵ (لیکچر حضرت خلیفہ الثانی ۱۹۲۲ء)
    ۱۹۳۔ الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۲۳ء صفحہ۸
    ۱۹۴۔ الفضل ۲۷ فروری ۱۹۲۲ء صفحہ۱۔
    ۱۹۵۔ الفضل ۹ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ۳۔ اس سفر میں حضور کا قیام چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب امیر جماعت لاہور کی کوٹھی پر تھا (الفضل ۲۷ فروری ۱۹۲۲ء صفحہ ۱) اور چوہدری صاحب ہی نے حضور اور حضور کے خدام کی مہمان نوازی کا انتظام کیا (الفضل ۶ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ۲)
    ۱۹۶۔ الفضل ۲۷ فروری ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۵
    ۱۹۷۔ الفضل ۶ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ۲
    ۱۹۸۔ الفضل ۱۶ مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ۱
    ۱۹۹۔ الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۲۲ء و الفضل ۳ اپریل ۱۹۲۲ء صفحہ ۳
    ۲۰۰۔ الفضل ۳ اپریل ۱۹۲۲ء صفحہ۵
    ۲۰۱۔ ۱۹۴۷ء تک مجلس مشاورت کا انعقاد اسی ہال میں ہوتا رہا۔ اس کے بعد ۱۹۴۸ء کی مجلس شوریٰ رتن باغ لاہور میں ہوئی ۱۹۴۹ء میں اس کا اجراء ربوہ میں ہوا۔ ربوہ کی یہ پہلی شوریٰ چند گھنٹوں کے لئے منعقد ہوئی اور اس میں صرف بجٹ پیش ہوا۔ ۵۱۔۱۹۵۰ء کی شوریٰ جامعہ المبشرین کی خام عمارت کے احاطہ میں ہوئی ۱۹۵۲ء سے اس کے اجلاس دفتر لجنہ اماء اللہ کے ہال میں ہونے لگے۔
    ۲۰۲۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحہ ۸۔۱۳ ۔ ان بنیادی ہدایات کے علاوہ حضور نے نمائندوں کی راہنمائی کے لئے بکثرت اور ارشادات فرمائے جو مشاورت کی رپورٹوں میں محفوظ ہیں۔
    ۲۰۳۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحہ۲۰۔
    ۲۰۴۔ ایضاً صفحہ ۴۷۔۴۸
    ۲۰۵۔ ایضاً صفحہ ۵۳۔۵۴
    ۲۰۶۔ ایضاً صفحہ ۵۹۔
    ۲۰۷۔ رپورٹ مشاورت ۱۹۲۲ء صفحہ ۶۰
    ۲۰۸۔ ایضاً صفحہ۶۰
    ۲۰۹۔ ایضاً صفحہ۶۲
    ۲۱۰۔ یاد رہے کہ ۱۹۵۴ء اور ۱۹۵۵ء میں حضور نے اپنی بیماری کے بائث مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ (امیر صوبائی) کو صدارت کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔ ۱۹۶۰ء کے وسطی اجلاس کی صدارت حضور کی ہدایت پر شیخ بشیر احمد صاحب (سابق جج ہائیکورٹ لاہور) نے کی۔ اسی طرح ۱۹۶۱ء ۱۹۶۲ء اور ۱۹۶۳ء میں حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو مجلس شوریٰ کے لئے صدر نامزد فرمایا۔ اور ۱۹۶۴ میں حضور کے حکم سے شیخ محمد احمد صاحب مظہر امیر جماعت احمدیہ لائلپور کی صدارت میں شوریٰ کا انعقاد ہوا۔ ۱۹۴۶ سے ۱۹۴۹ء تک کی رپورٹیں غیر مطبوعہ ہیں چھپی ہوئی رپورٹوں کے ضبط تحریر میں لانے کا کام جن اصحاب نے کیا ہے ان میں خواجہ غلام نبی صاحب بلانوی ایڈیٹر الفضل اور مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر فاضل انچارج شعبہ زود نویسی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
    ۲۱۱۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحہ ۱۵۔
    ۲۱۲۔ یہاں شوریٰ کے متفرق کوائف درج کرنا ضروری ہے۔ (۱) ۱۹۲۶ء کی شوریٰ کے ساتھ ایک تبلیغی نمائش بھی منعقد ہوئی۔ (۲) ابتداء میں صدر انجمن کی نظارتوں کی رپورٹیں بھی مشاورت میں سنائی جاتی تھیں۔ مگر کارروائی کے لمبا ہوجانے کی وجہ سے ۱۹۳۰ء میں یہ سلسلہ بند کردیا گیا۔ (۳) ۱۹۳۰ء میں عورتوں کی نمائندگی کے لئے حضورنے یہ فیصلہ فرمایاکہ لجنات اپنی آراء پرائیویٹ سیکرٹری کو بھجوادیا کریں میں ان امور کا فیصلہ دیتے ہوئے ان کو بھی مدنظر رکھ لوں گا۔ (۴) ۱۹۴۱ء میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ شوریٰ میں لجنہ اماء اللہ کی طرف سے ایک نمائندہ شامل ہوا کرے چنانچہ آج تک اس پر عمل ہوتا ہے لجنہ کے سب سے پہلے نمائندے جو ۱۹۴۲ء میں مقرر ہوئے بابوعبدالحمید صاحب آڈیٹر تھے جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت پر ۱۹۴۷ء تک یہ خدمت بجالاتے رہے انکے بعد میاں غلام محمد صاحب اختر ۔ مولوی غلام باری صاحب سیف اور مولوی محمد احمد صاحب جلیل کو بھی شوریٰ میں نمائندگی کا موقعہ ملا۔
    ۲۱۳۔ ملاحظہ ہو رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء صفحہ۴۵۔
    ۲۱۴۔ سلسلہ احمدیہ صفحہ۳۷۳۔۳۷۴ (از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے)
    ۲۱۵۔ h2] gat[ الفضل ۱۱ جنوری ۱۹۲۴ء صفحہ ۹
    ۲۱۶۔ گیانی صاحب موصوف جو ۱۹۲۸ء سے اس وقت تک سلسلہ کی تقریری و تحریری خدمات میں مصروف ہیں۔ ۱۹۲۶ء میں داخل احمدیت ہوئے تھے۔
    ۲۱۷۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحہ ۲۰۱۔۲۰۴۔
    ۲۱۸۔ ’’جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات‘‘ صفحہ ۵۲ (از حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیالؓ)
    ۲۱۹۔ الفضل ۴ مئی ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۔
    ۲۲۰۔ الفضل ۴ ستمبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۲‘۲۸~/~۲۵ ستمبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۵۔
    ۲۲۱۔ الفضل ۱۶ نومبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۶۔۸۔
    ۲۲۲۔ وکالت تبشیر تحریک جدید کی طرف سے تبلیغ ہدایت کا فرانسیسی زبان میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے اور مناسب وقت میں شائع کردیا جائے گا۔
    ۲۲۳۔ بعد کے ایڈیشنوں میں کئی مقامات پر آپ کے قلم سے اضافہ و ترمیم ہوئی۔
    ۲۲۴۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء صفحہ ۱۷۔
    ۲۲۵۔ الفضل ۱۱ جنوری ۱۹۲۳ء صفحہ ۹۔ بمنہ کا نام حضور ہی کا تجویز فرمودہ ہے (الفضل ۸ فروری ۱۹۲۳ء صفحہ ۶)
    ۲۲۶۔ ]2h [tag ’’الازہار لذوات الخمار‘‘ صفحہ ۶۸۔ ۷۲ (مرتبہ حضرت سیدہ ام متین صاحبہ) سن اشاعت اپریل ۱۹۴۶ء۔
    ۲۲۷۔ الفضل ۱۱ جنوری ۱۹۲۳ء صفحہ ۹۔
    ۲۲۸۔ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء صفحہ ۱۸۔
    ۲۲۹۔ الفضل ۸ فروری ۱۹۶۳ء صفحہ ۶۔
    ۲۳۰۔ الحکم ۲۱ مارچ ۱۹۶۵ء صفحہ ۳۔ ایضاً مصباح یکم جون ۱۹۲۷ء صفحہ ۱۔ اس مدرسہ میں مولوی ارجمند خاں صاحب کو منطق پڑھانے اور ماسٹر محمد طفیل خان صاحب کو تاریخ وجغرافیہ پڑھانے اور ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب کو حفظان صحت پر لیکچر دینے کا موقعہ ملا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کا بیان ہے کہ پردہ کے پیچھے کھڑے ہوکر ہم لیکچر دیا کرتے تھے مکان غالباً حضرت سارہ بیگم صاحبہؓ والا چوبارہ تھا۔ جو مسجد مبارک کی گلی کے اوپر چھت پر ہے۔ اس مدرسہ میں حضور کی بیگمات بھی طالبات کی حیثیت سے شامل ہوتی تھیں۔
    ۲۳۱۔ الفضل ۲۷ مئی ۱۹۴۷ء صفحہ ۶۔ مصباح ابتداًء حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کی ادارت میں نکلتا تھا۔ ان کے بعد مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر ایک عرصہ تک ایڈیٹر رہے۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۶۱ء تک امتہ اللہ خورشید صاحبہ (بنت مولانا ابوالعطاء صاحب سابق مبلغ بلاد عربیہ) کی زیر ادارت نکلتا رہا۔ اور اب ان کی وفات کے بعد امتہ الرشید شوکت صاحبہ (اہلیہ جناب ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ) اس کی مدیرہ ہیں۔
    ۲۳۲۔ لائبریری کی تجویز ۱۹۲۴ء میں حضرت امتہ الحی صاحبہؓ کی وفات کے بعد ہوئی۔ ۱۹۲۵ء میں لجنہ اماء اللہ کی پرجوش کارکن حضرت ام دائود صاحبہؓ کی تحریک پر لائبریری کی مہتممہ حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہؓ تجویز ہوئیں۔ اور حضرت ام المومنینؓ نے کتابیں رکھنے کے لئے ایک الماری مستعار عنایت فرمائی۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۲۵ء کو مرکزی لجنہ نے فیصلہ کیا کہ لائبریری کے جمع شدہ فنڈ سے کتابیں خریدی جائیں۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد اس کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔ (ملاحظہ ہو حضرت ام طاہر صاحبہؓ کا مضمون مطبوعہ ’’مصباح‘‘ ۱۵ فروری ۱۹۳۰ء صفحہ ۱۶۔ ۱۷)
    ۲۳۳۔ رپورٹ کار گزاری لجنہ اماء اللہ مرکزیہ از یکم اکتوبر ۱۹۶۰ء تا ستمبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۱۱۔
    ۲۳۴۔ مصباح یکم اگست ۱۹۲۸ء صفحہ ۲۔
    ۲۳۵۔ مصباح ۱۵۔ اپریل ۱۹۳۸ء صفحہ ۳۔
    ۲۳۶۔ الفضل ۲۹۔ اپریل ۱۹۴۴ء صفحہ ۳۔
    ۲۳۷۔ مصباح مارچ ۱۹۴۶ء صفحہ ۱۷۔
    ۲۳۸۔ رپورٹ کارگزاری لجنات اماء اللہ یکم اکتوبر ۱۹۶۲ء تا ۳۰ ستمبر ۱۹۶۳ء صفحہ ۱۲۔ ۲۵۔
    ۲۳۹۔ اخبار ’’تنظیم‘‘ امرتسر ۲۸۔ دسمبر ۱۹۲۶ء صفحہ ۵۔۶ بحوالہ ’’تاثرات قادیان‘‘ صفحہ ۱۷۳ (از ملک فضل حسین صاحب طبع اول)
    ۲۴۰۔ بحوالہ تاثرات قادیان صفحہ ۲۳۰۔ ۲۳۱۔
    ۲۴۱۔ الفضل ۱۱۔ جنوری ۱۹۲۴ء صفحہ ۷۔
    ۲۴۲۔ الفضل ۲۴۔ اگست ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۔
    ۲۴۳۔ الفضل ۱۷`۲۰ اپریل ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۔
    ۲۴۴۔ الفضل ۹ فروری ۱۹۲۲ء صفحہ ۲۔
    ۲۴۵۔ الفضل ۲۴۔ اپریل ۱۹۲۲ء صفحہ ۸۔
    ۲۴۶۔ الفضل ۲۲۔ مئی ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۔
    ۲۴۷۔ الفضل ۱۲۔ جون ۱۹۲۲ء صفحہ ۴۔
    ۲۴۸۔ پیسہ اخبار بحوالہ الفضل ۱۰۔ اگست ۱۹۲۲ء صفحہ ۴۔
    ۲۴۹۔ الفضل ۲۔ نومبر ۱۹۲۲ء میاں صاحب کی برات (جس میں حضرت مولوی شیر علی صاحب‘حضرت حافظ روشن علی صاحب وغیرہ اکابر سلسلہ بھی شامل تھے) ۲۰ نومبر ۱۹۲۲ء کلکتہ گئی تھی (الفضل ۲۰۔ نومبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۱)
    ۲۵۰۔ الفضل ۱۲ جون ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۔
    ۲۵۱۔ الفضل ۲۴ اپریل ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۔
    ۲۵۲۔ الفضل ۸ مئی ۱۹۲۲ء صفحہ ۲۔
    ۲۵۳۔ الفضل ۱۴ اگست ۱۹۲۲ء صفحہ ۲۔
    ۲۵۴۔ اسی سال ماسٹر محمد حسن صاحب آسان دہلوی کا دہلی میں ایک اہم مباحثہ مولوی عبدالحق صاحب ودیارتھی (مبلغ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام) سے ہوا۔ (الفضل ۲۔ اکتوبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۸)
    ۲۵۵۔ الفضل ۲۸/۲۵ ستمبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۲ (یہ مباحثہ چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی میں ہوا) ایضاً الفضل ۹ اکتوبر ۱۹۲۲ء صفحہ۴۔
    ۲۵۶۔ الفضل ۳۰۔ نومبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۰۔ ۴ دسمبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۷۔ ۸۔
    ‏rov.5.21
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا دسواں سال
    چوتھا باب (فصل اول)
    تحریک شدھی کے خلاف محاذ جنگ۔ مجاہدین احمدیت کے کارہائے نمایاں اور اسلام کی شاندار فتوحات
    خلافت ثانیہ کا دسواں سال
    (جنوری ۱۹۲۳ء تا دسمبر ۱۹۲۳ء بمطابق جمادی الاول ۱۳۴۱ھ تا جماد الاخر ۱۳۴۲ھ
    شدھی تحریک کا پس منظر
    ہندوستان۱ میں اسلامی حکومت کی بنیاد تو فاتح سندھ محمد بن قاسم کے ہاتھوں ۷۱۲ء میں رکھی گئی۔ مگر اسلام کا پیغام اس برصغیر میں عرب تاجر اور سیاح برسوں پہلے پہنچا چکے تھے اور اس کی وسیع تبلیغ و اشاعت اکابر اولیاء و صوفیاء و صلحائے امت نے کی۔ ان بزرگوں کی اخلاقی قوت‘ان کے خوارق و کرامات اور ان کے زبردست روحانی اثرات کی وجہ سے ہندوستان کی کئی بت پرست قومیں راجپوت‘جاٹ‘میواتی وغیرہ اس کثرت سے اسلام میں داخل ہوئیں کہ ہر طرف مسلمان ہی مسلمان نظر آنے لگے۔
    مگر جیسا عظم الشان یہ داخلہ تھا ویسے وسیع پیمانے پر اس کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کا انتظام نہ ہو سکا۔ اور بعض ہندو قومیں اسلامی تعلیم و تربیت سے بالکل ہی محروم رہیں۔ چونکہ وہ اسلام کو سچا سمجھ کر مسلمان ہوئی تھیں اس لئے اپنے آپ کو سمجھتی اور کہتی تو مسلمان ہی رہی اور ہندو بھی انہیں مسلمان ہی خیال کرتے رہے لیکن اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے اور مسلمان کہلانے کے سوا ان کا رہنا سہنا‘کھانا پینا‘بول چال‘پہناوا‘برتائو اور رسم و رواج سب ہندوانہ تھے۔
    یہاں تک کہ نام بھی ہندوانہ کام بھی ہندوانہ اور ماحول بھی ہندوانہ۔ ان کے ہاں شادی کے موقعہ پر قاضی جی بھی بلائے جاتے تھے اور پنڈت جی بھی یہی حالت غمی کے موقع پر تھی۔ ان قوموں کے مردے دفن بھی کئے جاتے تھے اور جلائے بھی جاتے تھے۔
    ان کے کئی دور اسی حالت میں گزر چکے تھے۔ وہ تو ناواقفی کی وجہ سے اپنی اس غیر اسلامی حالت کو اسلامی حالت سمجھ کر مطمئن تھیں۔ اور مسلمان اپنی غفلت و بے پروائی کے باعث۔ اور ان قوموں کا مدتہائے مدید سے اس حالت پر قائم و برقرار رہنا بھی صرف اس لئے ہو سکا کہ یہ جہاں کہیں بھی تھیں سناتنی ہندوئوں میں گھری ہوئی تھیں۔ اور سناتنی ہندو کسی غیر مذہب کو اپنے مذہب میں داخل و شامل کرنا خود مذہبی احکام کی رو سے جائز نہیں سمجھتے۔ اور اس کے سخت مخالف تھے۔ اس لئے انہوں نے سودی کاروبار کے ذریعہ سے ان قوموں کا خون تو جہاں تک چوس ملا خوب چوسا۔ لیکن مذہبی لحاظ سے ان کے معاملات میں نہ کوئی مداخلت کر سکتے تھے اور نہ انہوں نے کوئی مداخلت کی۔ ہاں جب انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پنڈت دیانند سرسوتی کی کوشش سے سناتنی ہندوئوں کے خلاف ایک نیا فرقہ آریہ ظہور میں آیا تو وہ غیر مذاہب والوں کو اپنے مذہب میں شامل کر لینے کا قائل اور اس کے لئے بڑا جوش و خروش رکھنے والا تھا۔ چنانچہ اس نے قوت پاتے ہی شدھی یعنی غیر مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔
    ایسے نئے‘تازہ دم اور جوشیلے فرقہ کی متجسس نظروں سے صدیوں پرانی مالکانہ راجپوت کہلانے والی قومیں کہاں مخفی رہ سکتی تھیں۔ جو یو۔ پی کے متعدد شہروں اور ان کے نواحی علاقوں میں کثرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔ اس فرقہ نے کام تو ملکانے راجپوتوں میں بھی شروع کر دیا تھا۔ مگر بہت احتیاط بڑی ہوشیاری اور نہایت آہستہ روی سے وہ ان قوموں کو قابو میں لانے کے لئے سالہا سال تک دو حربے ان پر چلاتا رہا۔ پہلا یہ کہ مسلمان بادشاہوں نے اب سے صدیوں پہلے تمہارے دادوں پر دادوں کو زبردستی ہندو دھرم سے الگ کرکے مسلمان بنا لیا تھا۔ لیکن اب تو کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ جن کے بزرگوں سے جبراً ان کا دھرم چھڑوایا گیا تھا وہ اپنے بزرگوں کے دھرم میں نہ آجائیں؟ دوسرا حربہ مذہب اسلام کو بری سے بری اور بھیانک شکل میں دکھانا اور اس پر زیادہ سے زیادہ نفرت دلانے والے گھنائونے الزام لگانا تھا۔
    یہ خطرناک حربے جن قوموں پر چلائے جا رہے تھے اسلامی تعلیم و تربیت تو ان کے ان بزرگوں کو بھی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ جو اب سے پہلے کسی زمانے میں مسلمان ہوئے تھے۔ انہیں صرف اسلام قبول کرنے اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے اور مسلمان سمجھے جانے کا احساس تھا اور یہ ان کا سچا اور گہرا احساس ہی تھا جس نے باوجود اسلامی تعلیم حاصل نہ ہو سکنے کے انہیں بھی آخر دم تک اپنے حال پر قائم رکھا اور اسی کے اثر سے ان کی کئی نسلیں بھی اپنے حال پر قائم و برقرار رہتی ہوئی گزر گئیں۔ لیکن مرور زمانہ کے ساتھ یہ احساس بھی کم ہوتے ہوتے بہت کم رہ گیا اور انیسویں صدی کے آخر میں جب بالکل مٹ گیا یا مٹنے کے قریب ہو گیا۔ تو اب کون سی چیز ملکانہ راجپوتوں کو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں کی طرح اپنے حال پر قائم رکھ سکتی تھی؟
    مسلمانوں نے نہ تو کبھی پہلے ان کی طرف توجہ کی تھی۔ اور نہ وہ اب اس کی ضرورت سمجھتے تھے آریوں نے میدان بالکل خالی پایا۔ اور اسلام کے خلاف برسوں زہریلا اثر ان میں پھیلایا۔ اور جب تمام علاقوں کی اچھی طرح دیکھ بھال اور جانچ پڑتال کرکے اطمینان کر لیا۔ کہ ان کے دونوں حربے کارگر ثابت ہوئے ہیں اور تمام مختلف علاقوں کے چھوٹے بڑے سارے میدان ہموار و صاف ہو چکے ہیں تو انہوں نے اپنے کام کو اعلیٰ سے اعلیٰ پیمانے پر پہنچانے کا پورا پورا عزم کر لیا اور صوبہ یو۔ پی کے اضلاع ہردوئی۔ شاہ جہان پور‘فرخ آباد‘بدایوں‘متھرا‘ایٹہ‘اٹاوہ‘آگرہ‘مین پوری‘علی گڑھ اور ریاست ہائے جیسور اور بھرت پور اور تروا وغیرہ سب ان کے عزم بالجزم کی زد میں آگئے۔ اور شدھی کا سلسلہ بڑے جوش و خروش اور دھوم دھام سے جاری ہو گیا۔
    مسلمان علماء کا افسوسناک طریق عمل ان اضلاع اور ان کے ماحول میں بسنے والے علماء اور مسلمانوں کے مشہور ادارہ ندوۃ العلماء نے شدھی کی اس تحریک شدید کے مقابلہ و تدارک اور انسداد کی کوشش سے متعلق جس مجرمانہ غفلت اور بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ اس کی تفصیل علامہ شبلی کے شاگرد رشید و سیرت نگار مولانا سید سلیمان صاحب ندوی کے مندرجہ ذیل بیان سے بخوبی معلوم ہو سکتی ہے۔ آپ اپنی کتاب ’’حیات شبلی‘‘ میں رقم طراز ہیں۔
    ’’۱۹۰۸ء میں یک بہ یک یہ راز طشت از بام ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوۃ العلماء نے اگرچہ ابتداء ہی سے اشاعت اسلام کو اپنے مقاصد میں داخل کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ تاہم اب تک اس نے عملی طور پر اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کی تھی۔ لیکن اب وہ حالت پیش آگئی کہ خاموش رہنا مشکل تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ کی مجلس اشاعت اسلام کے معتمد جناب مولانا شاہ سلیمان صاحب پھلواروی تھے۔ اور مولانا (شبلی) کے خیال میں وہ کام نہیں کر رہے تھے۔ اس لئے مولانا دو برس تک عجیب شش و پنج میں رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس زمانے میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا۔ جس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ساری مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اس آگ میں کود پڑے۔ انہیں اطلاع ملی کہ شاہ جہانپور کے قریب ایک مسلمان زمیندار راجپوت مرتد ہوا چاہتا ہے یہ سننا تھا کہ وہ بے قرار ہو گئے مولانا (شبلی) نے اس واقعہ کا ذکر ۔۔۔۔۔۔۔۔ خود کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ فرماتے ہیں دو سال ہوئے کہ شاہ جہانپور سے ایک خط میرے سفید خاں سوداگر کا آیا کہ شاہ جہانپور سے آٹھ کوس پر ایک گائوں جمال پور ہے وہاں کے رئیس راجپوت جو مسلمان ہیں وہ ہندو ہونا چاہتے ہیں آریہ وہاں پہنچ گئے ہیں۔ ان کو ہندو کرنا چاہتے ہیں آپ جلد آئیے اور مدد کیجئے۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی دہلی کی انجمن ہدایت الاسلام کے مولانا عبدالحق حقانی کو لکھا وہ وہاں سے تشریف لائے تھے اور میں ندوہ سے گیا۔ جس وقت میں یہاں سے چلا ہوں میری جو حالت تھی یہ طلبہ ندوہ کے جو یہاں بیٹھے ہیں وہ اس کے شاہد ہوں گے کہ میں نے اس وقت کوئی گالی نہیں اٹھا رکھی تھی۔ جو میں نے ان ندوہ والی کو نہ سنائی ہو گی کہ اے بے حیائو! اور اے کم بختو! ڈوب مرو یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ ندوہ کو آگ لگا دو اور علی گڑھ کو بھی پھونک دو یہی الفاظ میں نے اس وقت کہے تھے اور آج بھی کہتا ہوں۔ اس وقت نہایت افسوس میں میں یہاں سے گیا تھا۔ وہاں جا کر میں نے پوچھا کہ کیا واقعہ ہے لوگوں نے یہ بیان کیا کہ آریہ اس گائوں میں آئے ہوئے ہیں اور وہ گائوں کے نو مسلم راجپوتوں کو ہندو بنانا چاہتے ہیں۔ مسلمان علماء کو بلوایا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک کوس پر خیمہ کھڑا کیا گیا ہے تین سو روپے کھانے میں صرف ہوئے ہیں۔ چندہ وغیرہ کیا گیا ہے۔ وہ نو مسلم بیچارے یہ کہتے تھے کہ مناظرہ جانتے نہیں۔ پڑھے لکھے نہیں۔ آپ ہمارے اس گائوں میں آئیے اور یہاں آکر ہم کو سمجھائیے جو باتیں ہمارے دل میں ہوں گی ہم آپ سے کہیں گے۔ آپ ان کا جواب دیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر ایک شخص بھی راضی نہ ہوا کہ گائوں میں جائے۔ اس بات کا کوئی ڈر نہیں تھا کہ وہ لوگ خدانخواستہ فوجداری کریں گے یا ماریں گے کیونکہ پولیس اور تحصیل دار وہاں موجود تھے کہ امن و امان قائم رہے۔ میں نے بالاخر یہ کہا کہ بھائیو! مجھے تو پالکی میں ڈال کر وہاں لے چلو میں چلتا ہوں لیکن کوئی شخص نہیں لے گیا۔ غرض تین دن تک میں وہاں پڑا رہا۔ بالاخر ان لوگوں نے یہ اعلان کر دیا کہ ہم ہندو ہیں۲۔
    اس افسوس ناک واقعہ کے دو سال بعد علامہ شبلی نے ’’شدھی کے مقابلہ‘‘ اور اشاعت اسلام کی تجویز کے لئے ۶۔ ۷۔ ۸/ اپریل ۱۹۱۲ء کا اجلاس لکھنو میں منعقد کیا۔ اس اجلاس میں علامہ شبلی کی دعوت پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود ایدہ اللہ تعالیٰ اور خواجہ کمال الدین صاحب نے بھی شرکت فرمائی۔ مگر علمائے کرام نے انسداد شدھی کے بارے میں کوئی عملی کارروائی کرنے اور تدابیر سوچنے کی بجائے اپنا سارا زور اس مخالفت میں لگا دیا کہ قادیانی کیوں بلوائے گئے ہیں۳؟ چنانچہ جناب سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں۔ ’’مولانا یہ چاہتے تھے کہ اشاعت کے کام تمام فرقے مل کر کریں۔ اس لئے مرزا بشیر الدین محمود احمد (صاحب) جو اب خلیفہ قادیان اور خواجہ کمال الدین صاحب تک کی شرکت سے انکار نہیں کیا گیا اس پر اسی جلسہ کے دوران میں مولانا پر یہ الزام رکھا گیا کہ انہوں نے قادیانیوں کو جلسہ میں کیوں شریک کیا؟ اور ان کو تقریر کی اجازت کیوں دی۔ مگر مولانا شروانی کی ثالثی سے یہ بلا ٹل گئی‘‘۴۔
    جناب سید سلیمان صاحب ندوی کی تحریر کے مطابق علامہ شبلی کے مدنظر ’’اشاعت و حفاظت اسلام‘‘ کی ایک اہم تجویز تھی۔ جس پر وہ اجلاس لکھنو کے بعد کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن عملاً اگر کچھ ہوا تو صرف یہی کہ چند ماہ بعد وہ ندوہ سے مستعفی ہو گئے۔ چنانچہ سید سلیمان صاحب خود لکھتے ہیں کہ اس تجویز پر عمل کا وقت آیا ہی تھا کہ مولانا بیمار اور پراگندہ خاطر ہو کر مولوی عبدالسلام صاحب اور سیرت کو لے کر بمبئی روانہ ہو گئے اور دو چار ماہ کے غور و فکر کے بعد جولائی ۱۹۱۲ء کو ندوہ سے مستعفی ہو کر سبکدوش ہو گئے اور کام کی ساری تجویزیں درہم برہم ہو کر رہ گئیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘۵۔
    مختصر یہ کہ علامہ شبلی اور ان کے ساتھی برسوں سے ارتداد کے مقابلہ کی جو تجویز کر رہے تھے وہ محض خواب و خیال بن چکی تھی اور ان کے علاوہ دوسرے علماء کو اپنے فرضی مشاغل سے فرصت نہ تھی نتیجہ یہ ہوا کہ شدھی کی آگ ۱۹۲۳ء کے آغاز میں پوری شدت سے بھڑک اٹھی اور علی گڑھ سے آگرہ تک اور فرخ آباد سے ریاست الور تک کے علاقے اس کی زد میں آگئے۔
    چوہدری افضل حق صاحب (مفکر احرار) نے علماء کی غفلت و بے حسی پر اظہار تاسف کرتے ہوئے لکھا۔
    ’’آج سے پہلے اسلام کو تبلیغی جماعت سمجھا جاتا تھا۔ مسلمان علماء اپنی خدمات کو جا بیجا ہر جگہ بیان کرتے تھے حالانکہ ان کی تمام کوششیں مسلمانوں کو کافر بنانے میں صرف ہوتی رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں اسلام کے سب سے بڑے دعویدار موجود تھے۔ ان ہی کے دروازوں پر مسلمان مرتد ہو رہے ہیں اور ان کے بنائے کچھ نہیں بنتی۔ جن کے ہندوستان بھر میں کفر کے فتویٰ کام کرتے تھے ان کا اپنا عمل قریب کے مسلمانوں پر کچھ اثر نہ ڈال سکا تین چار سو برس سے ایک قوم اسلام کے دروازے کے اندر داخل ہوئی مسلمانوں کو متوجہ نہ پا کر آج پھر واپس چلی گئی ایک مسخرہ نے سچ کہا کہ ’’علماء کا کام ہی مسلمانوں کو کافر بنانا ہے‘‘۔ سو انہوں نے مالکانہ راجپوتوں میں اپنی کامیاب تبلیغ کر دی ہے حضرات فرنگی محل‘حضرات دیوبند‘حضرات دہلوی کی صد سالہ اسلامی تبلیغ کا نتیجہ دیکھو کہ ان ہی اضلاع کے گرد و نواح میں ارتداد کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ ہمارے علماء کے لئے اس میں عبرت ہے ان کے لئے ندامت سے گردن جھکا لینے کا وقت ہے اس فتنہ و ارتداد کی تاریخ اغیار کے لئے دلچسپ اور مسلمانوں کے لئے باعث شرم ہے۔‘‘۶
    شردھانند کی طرف سے ہندوئوں کو میدان عمل میں آنے کی کھلم کھلا دعوت
    مسلمانان ہند خدا جانے کب تک خواب غفلت میں پڑے رہتے کہ وسط مارچ ۱۹۲۳ء میں مشہور آریہ سماجی لیڈر شردھانند نے جو اس تحریک
    کے پرجوش علمبردار تھے اور سب سے بڑے لیڈر تھے (اور جنہیں اس سے پہلے مسلمان علماء نے ’’ہندو مسلم اتحاد‘‘ کے خیال سے نہ صرف ’’خلافت کانفرنس‘‘ کے نائب صدر ہونے کا موقعہ دیا تھا۷ بلکہ جامع مسجد دہلی کے منبر پر بٹھا کر تقریر کرائی تھی۸) ہندوئوں سے چندہ کی اپیل کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ نواح آگرہ میں راجپوتوں کو تیز رفتاری سے شدھ کیا جا رہا ہے اور اب تک قریباً چار ہزار تین سو راجپوت ملکانے‘گوجر اور جاٹ ہندو ہو چکے ہیں۔ نیز کہا ’’ایسے لوگ ہندوستان کے ہر حصے میں ملتے ہیں۔ یہ پچاس ساٹھ لاکھ سے کم نہیں اور اگر ہندو سماج ان کو اپنے اندر جذب کرنے کا کام جاری رکھے تو مجھے تعجب نہ ہو گا کہ ان کی تعداد ایک کروڑ تک ثابت ہو جائے‘‘۹۔
    مہاراجہ کشمیر کی پشت پناہی
    شردھانند کے اس اعلان کے ساتھ آریہ اخبار کیسری (۱۲/ مارچ ۱۹۲۳ء) میں یہ خبر چھپی کہ مہاراجہ جموں و کشمیر نے ساڑھے چار لاکھ ملکانہ راجپوتوں کو دوبارہ ہندو بنانے کے مسئلہ پر کامل غور و خوض کے بعد پنجاب کے سناتن دھرمی پنڈتوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر کشمیری پنڈتوں سے گفت و شنید کریں‘‘۱۰۔
    مسلمانان ہند کے لئے نازک ترین دوران خبروں کے منظر عام پر آنا ہی تھا کہ ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک مسلمانوں میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی اور ان کے دل پاش پاش ہو گئے اور حواس پراگندہ اور انہیں یقین ہو گیا۔ کہ ہندو قوم شدھی کے بل بوتے پر ان کا نام مٹا دینے پر تلی ہوئی ہے۔ اور ہندوستان میں ان کی قومی زندگی اور قومی ہستی یقینی طور پر خطرہ میں ہے۔
    شدھی کے پیچھے ہندو راج کے منصوبے
    اس خطرناک حملہ کی شدت کا اندازہ لگانے کے لئے آریہ کے وہ بیانات بھی کافی رہنمائی کرتے ہیں۔ جو بعد کو ان کی زبانوں سے خود بخود جاری ہو گئے اور جن میں انہوں نے کھلا اعتراف کیا کہ شدھی کی تحریک صرف ملکانہ کے مسلم راجپوتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کے لئے نہیں بلکہ ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو ہندو دھرم کی چوکھٹ پر لا ڈالنے کے لئے اٹھائی گئی ہے۔ چنانچہ ایک آریہ سماجی راجکمار ایٹھی نے دہلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا ’’بلا شدھی ہندو مسلم ایکتا (اتحاد) نہیں ہو سکتی۔ جس وقت سب مسلمان شدھ ہو کر ہندو ہو جائیں گے تو سب ہندو ہی ہندو نظر آئیں گے پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کو آزادی سے نہیں روک سکتی‘‘۱۱
    سوامی و چارانند نے گوروکل کانگڑی کی سلور جوبلی کے موقعہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’سب دھرموں سے ہمارا دھرم پرانا ہے تو ہمارے دھرم کے سامنے کسی کو ادھیکار (حق) نہیں کہ وہ شدھ کرے۔ سوارج کے لئے ہندو مسلم ایکتا (اتحاد) ضروری ہے لیکن ہم سچی ایکتا شدھی میں مانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تک بھارت ورش کے مسلمان اور عیسائی شدھ نہیں ہو جائیں گے اس وقت تک تم کو سوارج نہیں مل سکتا‘‘۱۲۔ اسی موقعہ پر پنڈت لوک ناتھ جی نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اگر اس چھری کو جو گئو کی گردن پر چل رہی ہے۔ بند کرنا چاہتے ہو تو اس کا علاج شدھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ اگر آپ ہمیشہ کے لئے کانٹے دار درخت کو مٹانا چاہتے ہیں تو اس کی جڑ نکال دو‘‘۱۳۔
    اسی طرح ایک ہندو شاعر نے اپنے قومی نصب العین کو ان لفظوں میں دہرایا ~}~
    کام شدھی کا کبھی بند نہ ہونے پائے
    بھاگ سے وقت یہ قوموں کو ملا کرتے ہیں
    ہندوئو! تم میں ہے گر جذبہ ایماں باقی
    رہ نہ جائے کوئی دنیا میں مسلماں باقی۱۴
    مسلمان پریس کا شور و فغاں
    المختصر شدھی کی خوفناک تحریک نے مسلمانان ہند کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔ اور اسی لئے مسلمان پریس کو سوامی شردھانند اور ان کے ساتھیوں کے عزائم کو دیکھ کر بالاتفاق لکھنا پڑا کہ ملک کے تمام مسلمان فرقے اگر اس نازک موقعہ پر متحد ہو کر اس کے انسداد کی فوری جدوجہد نہ کریں گے تو ان کا تباہ ہونا قطعی اور یقینی ہے۱۵۔ خصوصاً اخبار ’’وکیل‘‘ امرتسر کے ایڈیٹر مولوی عبداللہ منہاس صاحب نے ۸/ مارچ ۱۹۲۳ء کی اشاعت میں ’’علمائے اسلام کہاں ہیں؟‘‘ کے عنوان سے ایک پرزور مضمون لکھا۔ جس میں حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس نازک موقعہ پر کیوں خاموش ہیں۱۶۔
    حضرت خلیفہ ثانی کی طرف سے شدھی کے خلاف جہاد کا اعلان
    مسلم پریس نے شدھی کے خلاف آواز تو مارچ ۱۹۲۳ء میں بلند کی مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۹۲۳ء کے آغاز میں ہی اس فتنہ کی طرف توجہ فرمائی اور یہ معلوم ہوتے ہی کہ ایک قوم کی قوم ارتداد کے لئے تیار ہے۔ فوراً دفتر کو ہدایت فرمائی کہ پوری تحقیق کریں۔ چنانچہ آپ کی ہدایت کے مطابق پہلے مختلف ذرائع سے اس خبر کی تصدیق کی گئی۔ ضروری حالات معلوم کرنے کے بعد دوسرا قدم یہ اٹھایا گیا کہ فروری ۱۹۲۳ء میں صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی۔ اے اور ایک اور احمدی کو علاقہ ملکانہ میں ابتدائی سروے اور فراہمی معلومات کے لئے بھجوا دیا۔ صوفی عبدالقدیر صاحب نے واپس آکر مفصل بتایا کہ حالت بہت مخدوش ہے اور فوری تدارک کی ضرورت ہے۱۷۔
    اس رپورٹ پر حضور نے شدھی کا وسیع پیمانہ پر مقابلہ کرنے کے لئے ایک زبردست سکیم تیار کی اور جیسا کہ شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ کا بیان ہے اس اولوالعزم امام نے یہاں تک تہیہ کر لیا کہ میری کل جماعت کی جائداد تخمیناً دو کروڑ روپیہ کی ہو گی اگر ضرورت پڑی تو یہ سب املاک و اموال خدا کی راہ میں وقف کرنے سے میں اور میری جماعت دریغ نہ کریں گے۱۸۔
    چنانچہ حضور نے ۷/ اپریل ۱۹۲۳ء کو اعلان فرمایا کہ جماعت احمدیہ فتنہ ارتداد کے خلاف جہاد کا علم بلند کرنے کی غرض سے ہر قربانی کے لئے تیار ہو جائے۱۹۔ اس کے بعد ۹/ مارچ ۱۹۲۳ء کو خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی کہ فتنہ ارتداد کے مٹانے کے لئے فی الحال ڈیڑھ سو احمدی سر فروشتوں کی ضرورت ہے۔ جو اپنے اور اپنے لواحقین کی معاش کا فکر کرکے میدان عمل میں آجائیں چنانچہ آپ نے فتنہ ارتداد کی وسعت بیان کرتے اور جماعت کو اپنی سکیم کے ایک حصہ سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    ’’ہمیں اس وقت ڈیڑھ سو آدمیوں کی ضرورت ہے جو اس علاقہ میں کام کریں اور کام کرنے کا یہ طریق ہو کہ اس ڈیڑھ سو کو تیس تیس کی جماعتوں پر تقسیم کر دیا جائے اور اس کے چار حصہ بیس بیس کے بنائے جائیں۔ اور تیس آدمیوں کو ریز رو رکھا جائے۔ کہ ممکن ہے کوئی حادثہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ڈیڑھ سو میں سے ہر ایک کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی الحال تین مہینہ کے لئے زندگی وقف کرنی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔ ہم ان کو ایک پیسہ بھی خرچ کے لئے نہ دیں گے۔ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچ انہیں خود برداشت کرنا ہو گا ۔۔۔۔۔ سوائے ان لوگوں کے جن کو ہم خود انتظام کرنے کے لئے بھیجیں گے۔ ان کو بھی جو ہم کرایہ دیں گے وہ تیسرے درجہ کا ہو گا۔ چاہے وہ کسی درجہ اور کسی حالت کے ہوں اور اخراجات بہت کم دیں گے۔ ان لوگوںکے علاوہ زندگی وقف کرنے والے خود اپنا خرچ آپ کریں گے۔ اپنے اہل و عیال کا خرچ خود برداشت کریں گے۔ البتہ ڈاک کا خرچ یا وہاں تبلیغ کا خرچ اگر کوئی ہو گا۔ تو ہم دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے لئے جماعت کو پچاس ہزار روپیہ دینا ہو گا۔ ایسے کاموں کے لئے جو تبلیغ وغیرہ کے ہوں گے۔ باقی مبلغین اسی رنگ میں جائیں گے وہاں اپنے اخراجات خود اٹھائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ ملازمتوں پر ہیں وہ اپنی رخصتوں کا خود انتظام کریں اور جو ملازم نہیں اپنے کاروبار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہاں سے فراغت حاصل کریں اور ہمیں درخواست میں بتائیں کہ وہ چار سہ ماہیوں میں سے کس سہ ماہی میں کام کرنے کے لئے تیار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی انتظام کے ماتحت ہم سخت انتظام کریں گے اور جو ہیڈ بنائے جائیں گے ان کی پوری اطاعت کرنی ہو گی۔ ممکن ہے کہ بعض اوقات افسر سختی بھی کر بیٹھیں اور مار بھی بیٹھیں لیکن جو ماتحت ہو کے جائیں گے ان کا فرض ہو گا کہ وہ اپنے تمام ارادوں کو چھوڑ کر جائیں۔ اور تمام سختیوں کے مقابلے میں کام کریں اور افسر نے اگر ناواجب تکلیف دی ہو گی تو کام کے ختم ہونے کے بعد رپورٹ کر سکتے ہیں مگر اس وقت کام کرنا ہو گا۔ ماتحتوں کو بہرحال افسروں کی اطاعت کرنی اور ان کا حکم ماننا ہو گا۔ اگر وہ زیادتی کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کو سزا دے گا صبر کا اجر ملے گا اور بعد میں رپورٹ کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سکیم کے ماتحت کام کرنے والوں کو ہر ایک اپنا کام آپ کرنا ہو گا۔ اگر کھانا آپ پکانا پڑے گا تو پکائیں گے اگر جنگل میں سونا پڑے گا تو سوئیں گے جو اس محنت اور مشقت کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں وہ آئیں۔ ان کو اپنی عزت اپنے خیالات قربان کرنے پڑیں گے ایسے لوگوں کی محنت باطل نہیں جائے گی۔ ننگے پیروں چلیں گے۔ جنگلوں میں سوئیں گے۔ خدا ان کی اس محنت کو جو اخلاص سے کی جائے گی ضائع نہیں کرے گا۔ اس طرح جنگلوں میں ننگے پیروں پھرنے سے ان کے پائوں میں جو سختی پیدا ہو جائے گی وہ حشر کے دن جب پل صراط سے گزرنا ہو گا ان کے کام آئے گی مرنے کے بعد ان کو جو مقام ملے گا وہ راحت و آرام کا مقام ہو گا۔ اور یہ وہ مقام ہو گا جہاں رہنے والے نہ بھوکے رہیں گے نہ پیاسے یہ چند دن کی بھوک اور چند دن کی پیاس اس انعام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے‘‘۲۰۔
    مسلمانان ہند کو متحدہ کام کرنے کی دعوت
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ایک طرف جماعت کو میدان جہاد میں آنے کی ہدایت دی تو دوسری طرف مسلمانان ہند کو متحدہ کام کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا۔
    ’’جب تک ایک لمبی اور باقاعدہ جنگ نہ کی جائے گی (سعی اور تبلیغ کی نہ تلوار کی) اس وقت تک ان علاقوں میں کامیابی کی امید رکھنا فضول ہے۔ اس کام پر روپیہ بھی کثرت سے خرچ ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندو اپنی پرانی کوششوں کے باوجود دس لاکھ روپیہ کا مطالبہ کر رہے ہیں مسلمانوں کو نیا کام کرنا ہے ان کے لئے بیس لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے اس اعلان کے ساتھ ہی حضور نے اپنی طرف سے پیشکش فرمائی کہ اگر دوسرے لوگ بقیہ رقم مہیا کر لیں تو ہم پچاس ہزار روپہ یعنی کل رقم کا چالیسواں حصہ اس کام کے لئے جمع کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ علاوہ ازیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق کے ماتحت ہماری جماعت تیس آدمی تبلیغ کا کام کرنے کے لئے دی گی۔ جن کے اخراجات وہ موعودہ رقم میں سے خود برداشت کرے گی۔ اور اگر اس سے زیادہ خرچ ہو گا تو بھی وہ خود اپنے مبلغوں کا کل خرچ ادا کرے گی اور میں یہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ اگر زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہوئی۔ تو ہماری جماعت انشاء اللہ سینکڑوں تک ایسے آدمی مہیا کر دے گی۔ جو تبلیغ کا عمر بھر کا تجربہ رکھتے ہوں گے‘‘۔
    حضور نے یہ دعوت دیتے ہوئے دوسری مسلمان کہلانے والی تمام جماعتوں (اہلحدیث۔ حنفی۔ شیعہ وغیرہ) کے سربرآوردہ اصحاب کو توجہ دلائی کہ وہ اس موقعہ کی نزاکت کو سمجھیں اور اسی نسبت سے اپنے لوگوں کی طرف سے مطلوبہ رقم کا فوراً اعلان کرکے ایک مقام پر جمع ہوں تا کام کی تفصیل اور انتظام پر غور کر لیا جائے اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنا وقت ضائع کرنے کا وقت نہیں کام کا وقت ہے۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اس دعوت اور فراخ دلانہ پیشکش پر اخبار ’’ہمدم‘‘ نے لکھا۔
    ’’جماعت احمدیہ کے جوش و ایثار کو دیکھتے ہوئے ان کی طرف سے پچاس ہزار بلکہ اس سے زیادہ روپیہ اس غرض یعنی انسداد ارتداد کے لئے فراہم ہو سکنے کا قریب قریب یقین و اعتماد ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ دیگر مسلمانوں سے ۲/۱ ۱۹ لاکھ تو کجا ایک لاکھ روپیہ بھی حالات موجودہ میں چند ہفتہ کے اندر جمع ہو جانے کی قوی تو کیا معمولی امید بھی ان طریقوں سے نہیں باندھ سکتے‘‘۔ ’’(ہمدم‘‘ ۱۸/ مارچ ۱۹۲۳ء بحوالہ ’’جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات‘‘ صفحہ ۴۳)
    اسی طرح اخبار ’’مشرق‘‘ نے لکھا۔
    ’’جماعت احمدیہ نے خصوصیت کے ساتھ آریہ خیالات پر بہت بڑی ضرب لگائی ہے اور جماعت احمدیہ جس ایثار اور درد سے تبلیغ و اشاعت اسلام کی کوشش کرتی ہے وہ اس زمانہ میں دوسری جماعتوں میں نظر نہیں آتی‘‘۔ ’’(مشرق‘‘ ۱۵/ مارچ ۱۹۲۳ء بحوالہ ’’جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات‘‘ صفحہ ۴۳)
    احمدیہ جماعت کی طرف سے والہانہ رنگ میں لبیک
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۷ اور ۹/ مارچ ۱۹۲۳ء کو جماعت سے جس عظیم الشان جانی و مالی قربانی کا مطالبہ فرمایا اس پر جماعت نے انتہائی والہانہ رنگ میں لبیک کہا اور ڈیڑھ ہزار احمدیوں نے اپنی آنریری خدمات حضور کی خدمت میں پیش کر دیں۔ اس قربانی کے لئے آگے آنے والے ملازم‘رئوسا‘وکلاء‘تاجر‘زمیندار‘صناع‘پیشہ ور‘مزدور‘استاد‘طالبعلم‘انگریزی خواں‘عربی داں‘بوڑھے اور جوان غرض کہ ہر طبقہ کے لوگ تھے۔ حتیٰ کہ مستورات اور بچوں تک نے اس جہاد کے لئے اپنا نام پیش کیا۔
    چنانچہ لجنہ اماء اللہ نے حضور کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ ہمیں راہ نمائی فرمائی جائے کہ ہم اس تبلیغی جہاد میں کیا خدمت سرانجام دے سکتی ہیں؟ خواتین نے ملکانہ عورتوں میں تبلیغ کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ اس موقعہ پر احمدی بچوں میں بھی اشاعت اسلام کا جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا۔ چنانچہ مرزا منور احمد صاحب جو اس وقت ۵ سال کے تھے ملکانہ علاقوں میں جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے فرزند محمد احمد صاحب نے جن کی عمر اس وقت بارہ سال ہو گی اپنی والدہ ماجدہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو لکھا کہ تبلیغ اسلام کرنا بڑوں کا ہی نہیں ہمارا بھی فرض ہے۔ اس لئے جب آپ تبلیغ کے لئے جائیں تو مجھے بھی لے چلیں۔ اور اگر آپ نہ جائیں تو مجھے ضرور بھیج دیں۔۲۱
    جہاں تک انسداد ارتداد کے لئے پچاس ہزار روپیہ چندہ کا تعلق تھا یہ بہت جلد جمع ہو گیا۔ اور جاعت کے مخیر بزرگوں نے بالخصوص اس میں اپنی بساط سے بڑھ کر حصہ لیا۔ جن میں سرفہرست حضرت نواب محمد علی خان صاحب تھے جنہوں نے ایک ہزار روپیہ اور جن کی حرم حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے دو سو روپیہ چندہ دیا۔ حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب‘جنرل اوصاف علی خاں صاحب نابھہ‘میر مرید احمد صاحب خیر پور سندھ‘شیخ محمد حسین صاحب کلکتہ اور حضرت سیٹھ عبداللہ بھائی نے پانچ پانچ سو کی رقمیں پیش کیں۔ ڈاکٹر فضل کریم صاحب کابل۔ حصرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بالترتیب چار سو تیرہ روپیہ۔ تین سو اور ڈھائی سو روپیہ چندہ دیا۔ ان کے علاوہ بابو فضل احمد صاحب راولپنڈی۔ چوہدری عبداللہ صاحب۔ چوہدری نذیر احمد صاحب راولپنڈی۔ خان صاحب مولوی فرزند علی خان صاحب۔ چوہدری عبداللہ صاحب۔ چوہدری نذیر احمد صاحب طالب پوری۔ شیخ مشتاق حسین صاحب گوجرانوالہ اور منشی محمد دین صاحب کھاریاں نے بقدر طاقت ڈیڑھ سو سے سوا دو سو روپیہ چندہ پیش کیا۔ سو سو روپیہ دینے والے تو متعدد اصحاب تھے۲۲۔ چندہ میں شرکت کے لئے ابتداًء یہ شرط تھی۔ کہ کم از کم ایک سو روپیہ چندہ دینے والے لوگ آگے آئیں۔ لیکن بعد کو غریب احمدیوں کی درخواست پر حضور نے یہ شرط اڑا دی اور غریبوں کو بھی اس ثواب میں حصہ لینے کا موقعہ میسر آگیا۔
    چندے کے علاوہ احمدی احباب نے مجاہدین کے لئے سائیکل دیئے خصوصاً لاہور کی جماعت نے ڈاکٹر محمد منیر صاحب آف امرتسر نے دھوپ سے بچانے والے پروٹیکٹر دیئے۔ بعض نے ستو کی بوریاں بھیج دیں عید الاضحیہ کا موقعہ آیا تو ہزاروں روپے میدان ارتداد میں ملکانہ قوم کے لئے جانور ذبح کرنے کے لئے بھجوا دیئے۲۳۔ بعض غریبوں نے جن کے پاس کچھ نقد اثاثہ نہ تھا۔ اپنا مکان یا زمین یا جانور بیچ کر اس میں حصہ لیا۔ کہتے ہیں کہ مشہور پنجابی شاعر ڈاکٹر منظور احمد صاحب بھیروی نے اپنی بھینس بیچ ڈالی اور میدان ارتداد میں جا پہنچے۔ بھینس اگرچہ خسارے پر بکی۔ مگر ڈاکٹر نے اس گھاٹے کے سودے پر بھی خوشی منائی۔
    مردوں کے علاوہ احمدی عورتوں نے بھی ایثار و قربانی کا ثبوت دیا۔ چنانچہ لجنہ اماء اللہ نے بیس بڑے دوپٹے ان ملکانہ عورتوں کے لئے بھیجے۔ جو ارتداد کے وقت اسلام پر ثابت قدم رہیں۔ حضرت اقدس کی صاحبزادی امتہ القیوم نے جن کی عمر اس وقت چھ سال کی ہو گی۔ اپنا ایک چھوٹا دوپٹہ دیا اور کہا کہ یہ کسی چھوٹی ملکانی کو دیا جائے۲۴۔
    قواعد انتظام انسداد فتنہ ارتداد
    سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے اس مرحلہ پر اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل بیس قواعد مقرر فرمائے۔
    ۱۔ اس انتظام کو باقاعدہ چلانے کے لئے ایک افسر ہو گا جو سب کام کی نگرانی کرے گا۔
    ۲۔ یہ افسر اپنے کام کی بہتری کے لئے اپنے کام کے کئی حلقہ تجویز کرے گا۔ جن میں سے ہر ایک حلقہ کا ایک نگران ہو گا۔
    ۳۔ ہر ایک حلقہ میں جس قدر لوگ کام کر رہے ہوں گے وہ حلقہ افسر کے ماتحت ہوں گے اور افسر کو چاہئے کہ ایک وقت مقررہ پر ان سے رپورٹ طلب کرے یعنی ان کو مقررہ عرصہ کے بعد اپنے کام کی رپورٹ کرنے کی ہدایت کرے اور اگر کسی کی رپورٹ نہ پہنچے تو اس کی رپورٹ طلب کرے۔ کارکنان کو چاہئے کہ علاوہ مقررہ رپورٹ کے ہر اہم بات کی اس کو رپورٹ کریں۔
    ۴۔ حلقہ کے افسر کا فرض ہو گا کہ ایک وقت مقررہ پر جس کی تعین افسر اعلیٰ کرے گا افسر اعلیٰ کو اپنے کام کی رپورٹ دیتا رہے۔ اور درمیان میں بھی جب کوئی اہم امر ہو اس کی رپورٹ کرتا رہے۔
    ۵۔ افسر اعلیٰ کا فرض ہو گا کہ وہ ہر روز اپنے تمام صیغہ کی رپورٹ جس میں اہم امور کو خاص طور پر پیش کیا جائے میرے پاس بھیجتا رہے۔
    ۶۔ افسر اعلیٰ کا فرض ہو گا کہ وہ وقتاً فوقتاً خود دورہ کرکے تمام حلقہ کے افسروں اور کارکنوں کے کام کو دیکھتا رہے اور جب وہ دورہ پر جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے ایک ہوشیار نائب کو اپنا قائم مقام مرکز میں بھی بنا جائے۔
    ۷۔ افسر اعلیٰ کو چاہئے کہ وہ اس امر کا کوئی مناسب انتظام کرے کہ صدر اور حلقوں کے مرکزوں میں ان لوگوں کے کھانے کے متعلق مناسب انتظام رہے جو بطور مہمان کے آویں یا جن کو کام کی مدد کے لئے بلوایا جائے۔ لیکن نہایت درجہ کی کفایت شعاری کو مدنظر رکھا جائے کیونکہ تھوڑی تھوری بے احتیاطی سے بڑے بڑے نقصانات پہنچ جاتے ہیں۔
    ۸۔ حلقہ کے افسروں کو بھی چاہئے کہ دورہ کرکے اپنے ماتحتوں کے کام کو دیکھتے رہیں اور ان کو مناسب ہدایتیں دیتے رہیں۔
    ۹۔ صدر مقام میں ایک مکمل ذخیرہ ان کتب اور اخبارات و رسائل کا رہنا چاہئے جو آریوں کے خلاف کام کرنے کے لئے ضروری ہے۔
    ۱۰۔ صدر مقام میں ایک واقف آریہ مذہب اور ہندی کا رہنا چاہئے جو نو آمدوں کو ہندی کے الفاظ سکھائے اور حوالہ نکال نکال کر ان کو دے اور ایسی باتیں آریہ لٹریچر سے نکالتا رہے جس سے دوسری اقوام کو وہ اپنی اصل شکل میں نظر آسکیں۔
    ۱۱۔ جو لوگ کام پر لگائے جاویں ان کو ایک کاپی مطبوعہ ہدایات کی رجسٹری رسید لے کر دی جائے اور اس پر ایک نمبر لکھ دیا جائے جب وہ شخص واپس جائے تو اس سے وہ کاپی لے کر دوسرے کو دے دی جائے نمبر وہی رہنے دیا جائے مگر دستخط دوسرے آدمی کو جسے دوبارہ دی گئی ہے کے لے لئے جاویں اس سے کاپیاں محفوظ رکھنے کا خیال لوگوں کے دل میں رہے گا۔
    ۱۲۔ چاہئے کہ سب کارکنوں کو آریہ مذہب کے خلاف مسائل مختصراً عمدگی سے سمجھا دیئے جاویں اور ان کے موٹے موٹے اعتراضات کے جواب بھی تاکہ اگر کوئی ان کا مبلغ مل جائے اور اس سے مجبوراً بات کرنی پڑے تو سبکی اور شرمندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۱۳۔ افسروں کو خاص توجہ رکھنی چاہئے کہ جن کے جو کام سپرد کیا گیا ہے وہی کام کرتے رہیں ہیں ایسا تو نہیں کہ جسے مثلاً خفیہ خبر رسانی پر لگایا گیا تھا وہ بحث میں لگ گیا ہے اور بحث والا خفیہ خبر رسانی پر۔ بے شک زائد وقت میں اگر ان کو اجازت مل جاوے تو دوسرا کام بھی کر سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہونا چاہئے کہ میلان طبیعت کے ماتحت وہ اصل کام کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ جاویں۔
    ۱۴۔ افسروں کو چاہئے کہ خاص طور پر طبائع کے میلان کا خیال رکھیں میلان طبع کا خیال نہ رکھنے سے بہت دفعہ کام خراب ہو جاتا ہے۔ جو شخص جس کام کے اہل ہو اسے وہی کام سپرد کیا جائے دوسرا کام سپرد نہ کیا جائے۔ اور اگر بعد کے تجربہ سے پہلا خیال غلط معلوم ہو تو پھر مناسب تبدیلی کر دی جائے۔
    ۱۵۔ چاہئے کہ حلقوں کے افسر وہ ایسے لوگوں کو مقرر کرے کہ جنہوں نے مستقل طور پر کام کرنا ہے۔ دوسرے لوگ خواہ درجہ میں بڑے ہوں علم میں زیادہ ہوں ان کو مستقل کام کرنے والوں کے ماتحت رکھنا چاہئے ورنہ کام خراب ہو جائے گا۔
    ۱۶۔ کام کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کر دینا چاہئے۔
    ۱۔ افسر اعلیٰ
    ۲۔ افسران حلقہ
    ۳۔ ایسے لوگ مقرر ہوں جو ہندی اور آریہ مذہب کا علم رکھتے ہوں اگر نہ ہوں تو صرف مرکز میں رکھے جاویں ورنہ ہو سکے تو فی حلقہ ایک آدمی مقرر کر دیا جائے یا ضروری حلقوں میں ایک آدمی رکھا جائے۔ یہ لوگ آریوں کے خلاف سامان بہم پہنچاویں۔ ۲۔ آریوں‘سناتینیوں‘جینیوں‘سکھوں میں جو اختلاف عقیدہ اور عمل میں ہے اس کو جمع کرکے مبلغوں کو سکھاویں۔ ۳۔ تاریخی طور پر برہمنوں نے راجپوتوں پر جو ظلم کئے ہیں ان کو جمع کریں خواہ عملاً ظلم کیا ہو خواہ ایسے عقائد کی تعلیم دے کر جن میں ان کا درجہ گھٹایا ہو۔ ۴۔ تاریخی طور پر ایسی مثالیں جمع کی جائیں جن سے معلوم ہو کہ مسلح راجپوتوں نے ہندو راجپوتوں کو شکست دی ہے اور پھر اس قوم کے لوگوں کے سامنے یہ بات پیش کی جائے کہ یہ لوگ جو فاتح ہیں ایسے بزدل تھے کہ ڈر کر مسلمان ہو گئے اور ہندو راجپوت جو ان سے ماریں کھاتے تھے ایسے بہادر تھے کہ یہ اپنے دھرم پر قائم رہے۔ ۵۔ بھرت پور۔ الور۔ بیکانیر اور دوسری راجپوتانہ کی ریاستوں کی تاریخوں سے یہ امر معلوم کیا جائے کہ وہ کب سے قائم ہیں اور اگر معلوم ہو کہ یہ قدیم سے چلی آتی ہیں مسلمان کی بنائی ہوئی نہیں ہیں یا یہ کہ ان کے علاقہ کبھی مسلمانوں کے براہ راست انتظام کے نیچے نہیں آئے تو پھر ان قوموں کے سرکردوں سے دریافت کی جائے کہ ان کی قومی روایتوں کے رو سے وہ ان علاقوں میں کب سے بس رہی ہیں جب ان کی روایتوں سے ثابت ہو جائے کہ وہ باہر سے آکر نہیں بسیں بلکہ اسی علاقہ کی رہنے والی ہیں تو پھر یہ بات ان کے سامنے پیش کی جائے اور آریوں سے بحث میں بھی یہ حربہ استعمال کیا جائے کہ جب ان علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ کبھی ہوا نہیں اور جب یہ قومیں باہر سے نہیں آئیں تو پھر ان ریاستوں میں جا کر مسلمانوں نے ان لوگوں کو جبراً مسلمان کیوں کر بنا لیا۔ اور اگر ان ریاستوں میں یہ لوگ بلاجبر کے مسلمان ہو گئے تو باہر کے اسی قسم کے لوگوں کی نسبت کیوں نہ یقین کیا جائے کہ وہ بھی اسی طرح مسلمان ہو گئے تھے۔
    ۶۔ ان لوگوں کے مسلمان ہونے کی تاریخ دریافت کی جائے پھر ہندو مصنفین کی کتب سے معلوم کیا جائے کہ وہ کس کس زمانہ میں مسلمانوںکے جبر کے متعلق مضامین لکھ چکے ہیں کن زمانوں کو ایسی کوششوں سے پاک بتاتے ہیں اور کن بادشاہوں کو غیر معتصب قرار دیتے ہیں پھر دونوں کا مقابلہ کرکے دیکھا جائے کہ جس وقت یہ لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ اس وقت کون سی حکومت اور کون بادشاہ تھا اگر یہ ثابت ہو جائے اور یہی بات اندازاً معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت اسلامی حکومت کمزور تھی اور ہندو راجائوں کا زور تھا یا یہ کہ وہ اکبر اور جہانگیر کا زمانہ تھا تو پھر بتایا جائے کہ اس زمانہ میں اگر اس قدر کثرت سے لوگ جبراً مسلمان بنائے جاتے تو اس کا تاریخ میں ثبوت ہونا چاہئے تھا برخلاف اس کے اس وقت یا تو مسلمانوں کا زور تھا ہی نہیں بلکہ وہ کمزور تھے یا یہ کہ اس وقت کے بادشاہوں کو بھی جابر نہیں کہتے پھر کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑے تعداد ان کے زمانہ میں جبراً مسلمان بنائی گئی جو دوسرے بقول تمہارے جابر بادشاہوں کے زمانہ میں بھی نہیں بنائی گئی۔
    ۷۔ باوا نانک صاحب کے مسلمان ہونے کے متعلق اور سکھ گروئوں میں ہندوئوں کے ظلم اور مسلمانوں کا ان سے نیک سلوک اور اس مضمون پر سکھ اخباروں کی آراء جمع کی جاویں اور ان کو مبلغین کو یاد کرایا جائے کیونکہ ان علاقوں میں سکھ پولیس میں زیادہ ملیں گے بعض تعلقہ دار بھی ہیں ان پر اس ذریعہ سے اثر ڈالنا چاہئے۔ عام طور پر ان لوگوں کو آریہ دھوکہ دے کر یہ بتاتے ہیں کہ ہم تمہارے خیر خواہ اور مسلمان تمہارے دشمن ہیں حالانکہ معاملہ بالکل برعکس ہے۔
    ۸۔ آریوں کی کتاب مصنفہ سے جس میں راجپوتوں کو ترکوںں کی اولاد قرار دیا گیا ہے اور جس پر راجپوت انجمنوں نے سخت شورش برپا کیا تھا خوب فائدہ اٹھایا جائے اور اس کے مفید حوالے اور ان کے استعمال کا موقع اور طریق مبلغوں کو سکھایا جائے۔
    ۴۔ کچھ لوگ جو بحث کا ملکہ اور شوق رکھتے ہوں مقرر کئے جاویں جن کا کام آریوں کو بحثوں میں الجھانا ہوتا کہ لوگوں پر ان کی کمزوری اور شکست ظاہر ہو۔
    ۵۔ کچھ لوگ جو مضمون نگاری کا ملکہ اور شوق رکھتے ہوں مقرر کئے جاویں جن کا کام یہی ہو کہ مطلوبہ وفد کی کوششوں اور کامیوں کو پبلک کے سامنے لاتا رہے تاکہ لوگوںکو سلسلہ کے کام سے دلچسپی پیدا ہو اور جماعت میں جوش پیدا ہو اور دوسرے لوگوں میں زندگی اور ہمدردی پیدا ہو۔ ان کو مختلف اخبارات سلسلہ اور دوسرے انگریزی اور اردو اخبارات میں برابر اور متواتر مضمون لکھتے رہنا چاہئے لیکن یاد رہے کہ (۱) مضون نہایت مختصر ہوں ایک یا ڈیڑھ کالم سے زیادہ نہ ہوں۔ (۲) دلچسپ پیرایہ میں بیان ہوں یوں نہ معلوم ہو کہ کوئی شخص اپنی مدح کر رہا ہے ۔ (۳) جوش دلانے والے ہوں۔ (۴) خاص دلچسپ واقعات مثلاً کسی مبلغ کی خاص قربانی (خواہ احمدی ہو خواہ غیر احمدی) کو بیان کیا جائے آریوں کی خفیہ تدابیر کو طشت ازبام کی جائے۔ ان لوگوں کی حالت کا صحیح نقشہ کھینچا جائے۔ ان کی روایات اور رسوم کو بیان کیا جائے۔ خاص کامیابیوں کو بیان کیا جائے۔ اپنے مبلغوں کے ایثار پر روشنی ڈالی جائے۔ ہر دفعہ نئے واقعات ہوں نئے پیرایہ میں ہوں۔ (۴) چونکہ اخبارات بہت سے ہیں اور ایک ہی مضمون کو بہت سے لوگ پسند نہیں کرتے اس لئے خاص مضامین کو چھوڑ کر باقی مضامین اس طرح لکھے جاویں کہ گو سب واقعات سب اخباروں کو جائیں لیکن ایک اخبار میں باقی واقعات مختصر ہوں اور ایک واقع کو خاص طور پر نمایاں کیا جائے۔ دوسرے میں اس کو مختصر اور ایک دوسرے امر کو نمایاں کرکے بیان کیا جائے اس طرح سب واقعات بہ صورت اجمال سب اخباروں میں شائع ہو جائیں گے اور تفصیل سب میں مجموعی طور پر مل جاوے گی اس تفصیل کی خاطر اجمال کو شوق سے لوگ اخبار سے لیں گے۔ (۵) جو مضمون چھپے اس میں لکھنے والے کا نام اس طرح آوے کہ احمدیہ وفد قادیان کا علم لوگوں کو ہوتا رہے۔
    ۶۔ مختلف ایسے لوگوں کے نام پر یہ مضمون چھپیں جو ڈگری یافتہ ہوں خواہ ایم اے بی اے خواہ مولوی فاضل منشی فاضل ڈاکٹر پلیڈر بیرسٹر وغیرہ۔ (۷) سب ایسے مضامین جو چھپیں وہ صدر دفتر سے جاویں تا یہ دیکھ لیا جائے کہ سب مضامین کی روح ایک ہی ہے اور کہیں اس میں تضاد تو نہیں ہو گیا بلادفتر کے معائنہ کسی شخص کو اجازت نہ ہو کہ اپنے طور پر مضمون لکھ کر شائع کرے۔ (۸) اگر کوئی کارکن دوسری جماعت کا سچے اخلاص سے کام کر رہا ہے یا یہ کہ ہمارے کام میں مدد دے رہا ہے تو اس کا ذکر بھی کیا جائے مگر ایسی طرز پر کہ دوسرے لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہمارے مقابلہ میں اس کو اچھا قرار دیا گیا ہے۔ رقابت پیدا نہ ہونے دی جائے۔ (۹) خواہ کسی افسر کا کسی کارکن سے کوئی اختلاف ہو اس کے اچھے کام کو ظاہر کرنے میں ہرگز کمی نہ کریں۔
    ۵۔ ایک شخص ایسا مرکز میں رہے جو دستی پریس (چھوٹا نقلوں کا پریس) کا کام اچھی طرح کر سکے تاکہ جہاں نقلیں بھیجنے کی ضرورت پیش آوے وہاں نقلیں فوراً بھیجی جا سکیں۔
    ۶۔ کچھ ایسے لوگ ہوں جو حکام کو ملنے ملانے کا کام اچھی طرح کر سکیں اور اس بات کی نگہداشت رکھیں کہ ہندو لوگ غلط شکایتوں کے ذریعہ حکام کو بدظن کرکے کام میں روک تو نہیں ڈالنی چاہتے۔
    ۷۔ ایک آدمی کم سے کم زیادہ ہوں تو اچھے ہیں فوٹو کا کام اچھی طرح کر سکنے کی قابلیت رکھنے والا وفد میں ہو اگر کوئی موجودہ وفد میں سے اس کام کو نہیں جانتا تو کسی ہوشیار آدمی کو یہ کام سکھا لیا جائے مگر چست رہنے والا ہو آہستہ فوٹو لینے کا یہ موقع نہیں ہو گا۔
    ۸۔ ہر حلقہ کے مرکز میں افسر کے ساتھ ایک مددگار بھی رکھا جائے جو چلنے پھرنے میں ہوشیار ہو تا ادھر سے ادھر خبر پہنچا سکے۔
    ۹۔ وفد کے ساتھ دین اسلام سے واقف ایک عالم کی ضرورت ہے جو علماء کی مجالس میں اپنے علم سے اثر ڈال سکے یا مباحثات میں اسلامی نقطہ خیال کی خوبی کی وضاحت کر سکے۔
    ۱۰۔ کچھ ایسے لوگ ہوں جو شعر اچھی طرح پڑھ سکیں۔
    ۱۱۔ کوئی آدمی متحرک تصاویر یا بائسکوپ دکھانے کی قابلیت رکھنے والا بھی ہونا چاہئے تا اگر ضرورت پڑے تو آریوں کی لٹھ بند جماعتوں کی تصویریں ان کو دکھاتا پھرے اور اس طرح ہو سکے تو پرانے براہمن بادشاہوں کے مظالم کا نقشہ۔
    ۱۲۔ جہاں تک ہو سکے ایک قانوں دان آدمی بھی ساتھ ہونا چاہئے تاکہ اگر کوئی ہیچ ڈال کر روکیں ڈالی جاویں تو فوری اور معتبر مشورہ ہو سکے۔
    ۱۳۔ ind] ga[t کچھ آدمی دفتری کام کرنے کی قابلیت رکھنے والے بھی چاہئیں تا اس کام کو اچھی طرح سنبھال سکیں۔
    ۱۴۔ کچھ آدمی آریوں کے ارادوں کا پتہ لگانے کے لئے مقرر ہونے چاہئیں۔
    ۱۵۔ کام کرنے والوں کو چاہئے کہ مناسب مقامات کو دیکھ کر اسے حلقہ تجویز کریں جہاں سے آسانی سے ایک حلقہ کی نگرانی ہو سکے۔ یہ مقام ان تمام جہات سے جو ہدایات نمبر اول میں درج ہیں مناسب ہو۔
    ۱۶۔ چاہئے کہ کام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ ایک حصہ جماعت کا ان لوگوں میں کام کرے جن میں آریہ اپنا جال پھیلا چکے ہیں دوسرا حصہ ان لوگوں میں کام کرے جن میں ابھی تک انہوں نے قطعاً جال نہیں پھیلایا یا پھیلایا ہے تو اس میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے۔
    ۱۷۔ روپیہ چاہئے کہ بنک میں جمع رہے۔ مگر سو دو سو روپیہ ہر حلقہ کے افسر کے نام سے اس جگہ کے سیونگ بنک میں جمع کر دیا جائے جس سے بوقت اشد ضرورت اسے روپیہ نکالنے کی اجازت ہو۔
    ۱۸۔ روپیہ کے خرچ میں کفایت کو مدنظر رکھنا چاہئے اگر کسی افسر سے بے احتیاطی ہوئی تو اس کا اسے ذمہ دار قرار دیا جائے گا مگر یاد رہے کہ ذمہ داری سے ڈر کر کام میں سستی نہیں کرنی چاہئے ذمہ داری اٹھائے بغیر انسان تعریف اور ثواب کا مستحق نہیں بنتا۔
    ھدایات برائے مبلغین اسلام
    (سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی رقم فرمودہ اہم ہدایات جو انسداد و ارتداد کے جہاد میں شامل ہونے والے ہر مجاہد کو مطبوعہ ٹریکٹ کی صورت میں دی جاتی تھیں)
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیمط
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    ‏rov.5.22
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا دسواں سال
    ھدایات برائے مبلغین اسلام
    مکرمی۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ چونکہ آپ نے اپنی زندگی کا ایک حصہ انسداد فتنہ ارتداد کے لئے وقف کیا ہے۔ میں چند ہدایات اس کام کے متعلق آپ کو دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے افسروں کے احکام کے ماتحت پوری طرح ان ہدایات پر عمل کریں گے۔ وہ ہدایات یہ ہیں۔
    ۱۔ اللہ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے نیک نیت اور محض ابتغاًء لوجہ اللہ اس کام کا ارادہ کریں۔
    ۲۔ گھر سے نکلیں تو دعا کرتے ہوئے اور رب ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق و اجعل لی من لدنک سلطانا نصیرا کہتے ہوئے نکلیں۔ اور بہت استغفار کرتے جائیں۔ کہ خدا تعالیٰ کمزوروں پر پردہ ڈال کر خدمت دین کا کوئی حقیقی کام لے لے۔
    ۳۔ سورہ فاتحہ اور درود کا بہت ورد رکھیں۔ نمازوں کے بعد تسبیح۔ تمحید اور تکبیر ضرور کریں۔ اور کچھ دیر خاموش بیٹھ کر ذکر الٰہی کریں کہ ایسے اوقات میں یہ نسخہ نور قلب پیدا کرنے میں بہت مفید ہوتا ہے۔
    ۴۔ ا۔ بھاشا کے الفاظ سیکھنے اور ان کے استعمال کرنے کی طرف خاص توجہ کریں کہ تبلیغ کا آلہ زبان ہے۔ زبان نہ آتی ہو تو تبلیغ بے اثر ہو جاتی ہے۔ پس بھاشا جو ان لوگوں کی زبان ہے۔ اس کے سیکھنے کی طرف پوری توجہ کرنی چاہئے۔ اس میں جس قدر کوشش کریں گے۔ اسی قدر تبلیغ زیادہ موثر ہو گی۔ اور جس قدر تبلیغ زیادہ موثر ہو گی اسی قدر ثواب کا زیادہ موقع ملے گا۔
    (ب) اسی طرح جس قوم سے مقابلہ ہو۔ اس کے مذہب اور طریق سے پوری واقفیت نہ ہو تو مقابلہ مشکل ہوتا ہے۔ پس اگر آریوں کے متعلق پوری واقفیت نہ ہو تو مرکز سے ان کے متعلق ضروری معلومات اور حوالوں کو اپنی پاکٹ بک میں نوٹ کر لیں۔ اور اسلام پر ان کے اعتراضوں کے جواب بھی۔ اور ان کو بار بار پڑھ کر یاد کرتے رہا کریں۔
    ۵۔ راستہ میں لوگوں سے ہرگز فخریہ طور پر باتیں نہ کرتے جاویں۔ فخر انسان کو نیکی سے محروم کر دیتا ہے اور سیاستاً بھی اس کا نقصان پہنچتا ہے۔ دشمن کی توجہ اس طرف پھر جاتی ہے اور وہ ہوشیار ہو جاتا ہے۔
    ۶۔ اگر پہلے سے آپ کی جگہ مقرر ہے۔ تو جو جگہ مقرر ہے۔اس جگہ جا کر مبلغ سے چارج باقاعدہ لے لیں۔ اور اس سے سب علوم ضروریہ حاصل کر لیں۔ اور اگر جگہ مقرر نہیں تو پھر مرکز میں جا کر افسر اعلیٰ سے ہدایات حاصل کریں۔
    ۷۔ جس قصبہ میں داخل ہوں۔ جس وقت وہ نظر آوے۔ مندرجہ بالا مسنون دعا کم سے کم تین دفعہ خشوع اور خضوع سے پڑھیں۔ نہایت مجرب اور مفید ہے۔ اللھم رب السموت السبع وما اظللن و رب الارضین السبع وما اقللن و رب الشیاطین وما اظللن و رب الریاح وما ذرین فانا نسالک خیر ھذہ القریہ و خیر اھلھا و خیر مافیھا و نعوذ بک من شر ھذہ القریہ و شر اھلھا و شرما فیھا۔ اللھم بارک لنا فیھا و ارزقنا جناھا وحببنا الی اھلھا وحبب صالحی اھلھا الینا۔ آمین۔ کم سے کم تین دفعہ سمجھ کر یہ دعا مانگو رسول کریم~صل۱~ سے یہ مروی۔ اور میرا اس کے متعلق وسیع تجربہ ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے۔ اے اللہ جو سات آسمانوں کا رب ہے۔ اور ان کا بھی جن پر یہ سایہ کئے ہوئے ہیں۔ اور جو ساتوں زمینوں کا رب ہے اور ان کا بھی جن کو یہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور شیطانوں کا بھی اور ان کا بھی جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں۔ اور ہوائوں کا بھی۔ اور ان چیزوں کا بھی جن کو وہ اڑاتی ہیں۔ ہم تجھ سے اس بستی کی بھلائی طلب کرتے ہیں اور اس کے باشندوں کی بھلائی بھی طلب کرتے ہیں اور ہر اس چیز کی بھلائی بھی جو اس میں پائی جاتی ہے۔ اور ہم اس بستی کی ہر ایک برائی سے پناہ مانگتے ہیں۔ اور اس بستی میں رہنے والوں کی برائی سے بھی پناہ مانگتے ہیں۔ اور اس بستی کی ہر ایک بری شے سے پناہ مانگتے ہیں۔ اے خدا اس بستی میں ہمارے قیام کو بابرکت کر۔ اور اس کی نعمتوں اور بارشوں سے ہمیں متمتع کر۔ اور ہماری محبت اس جگہ کے لوگوں کے دلوں میں ڈال اور ہمارے دل میں اس جگہ کے نیک لوگوں کی محبت پیدا کر۔
    ۸۔ سفر سے نکلتے ہی اپنے پاس ایک پاکٹ بک رکھیں۔ جس میں سب ضروری امور لکھتے چلے جاویں۔ کم سے کم دو کارڈ اور ایک لفافہ اور پنسل و چاقو بھی ہر وقت ساتھ رہیں۔
    ۹۔ جس حلقہ میں کام کرنا ہے۔ وہاں پہنچتے ہی ان امور کو دریافت کریں
    (۱) وہ کس ضلع میں ہے۔ (۲) کس تحصیل میں ہے۔ (۳) وہ کس تھانہ میں ہے۔ (۴) اس کا ڈاک خانہ کہاں ہے۔ (۵) اس میں کوئی مدرسہ بھی ہے یا نہیں۔ (۶) اس میں کوئی شفا خانہ بھی ہے یا نہیں۔ (۷) اس ضلع کے ڈپٹی کمشنر کون ہے اور اس کے اخلاق اور معاملہ کیسا ہے؟ (۸) اس تحصیل کے تحصیلدار اور نائب تحصیلدار کون ہیں اور ان کے اخلاق اور معاملات کیسے ہیں؟ (۹) اس تھانہ میں تھانیدار اور اس کے اوپر انسپکٹر کون ہے اور ان کے اخلاق اور معاملات کیسے ہیں۔ (۱۰) اس گائوں میں اگر پولیس مین مقرر ہے تو وہ کون ہے اور اس کے اخلاق اور اس کا معاملہ کیسا ہے۔ (۱۱) اس کے پوسٹ آفس کا انچارج کون ہے اور چٹھی رساں کون ہے اور ان کا طریق اس تحریک شدھی میں کیسا ہے۔ (۱۲) ڈاک وہاں کتنی دفعہ دن یا ہفتہ میں آتی ہے۔ (۱۳) مدرس کون لوگ ہیں اور وہ اس تحریک میں کیسا حصہ لیتے ہیں۔ (۱۴) ڈاکٹر کون ہے اور اس تحریک میں کیا حصہ لیتا ہے۔ (۱۵) اس میں کوئی مسجد ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو امام ہے یا نہیں اگر ہے تو اس سے کوئی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟
    ۱۰۔ حلقہ کا افسر ڈپٹی کمشنر سے۔ تحصیل کا انچارج تحصیلدار سے۔ تھانہ کا انچارج تھانہ دار سے ملنے کی کوشش کرے اور بغیر اپنے کام کی تفصیل بتائے اس کی دوستی اور ہمدردی کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
    مذکورہ بالا دوسرے لوگوں سے بھی اپنے تعلقات اچھے بنانے کی کوشش کرے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جس قدر نقصان یا فائدہ چھوٹے لوگوں سے جیسے پولیس مین چھٹی رسان وغیرہ سے پہنچ سکتا ہے اس قدر بڑے لوگوں سے نہیں پہنچ سکتا۔
    ۱۱۔ جس گائوں میں جائے اس کے مالک اور نمبردار اور پٹواری کا پتہ لے۔ اگر وہ مسلمان ہوں تو ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اور ان سے مدد کی درخواست کرے مگر یہ بات صاف صاف کہہ دے کہ مدد سے مراد میری چندہ نہیں بلکہ اخلاقی اور مشورہ کی مدد ہے تاکہ وہ پہلے ہی ڈر نہ جائے۔ اگر کوئی شخص مالی مدد دینا بھی چاہے تو شروع میں مدد لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیں کہ ابھی آپ مجھ سے اور ہمارے کام سے واقف نہیں۔ جب واقف ہو کر اسے مفید سمجھیں گے اور ہم لوگوں کو دیانتدار پاویں گے تب جو مدد اس کام کے لئے آپ دیں گے اسے ہم خوشی سے قبول کریں گے۔ اگر وہ غیر مسلم ہوں تب بھی ان سے تعلقات دنیاوی پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ میل ملاقات کا بھی ایک لحاظ ہوتا ہے۔
    ۱۲۔ کوئی مالی مدد دے تو اسے اپنی ذات پر نہ خرچ کرے بلکہ اس کی رسید باقاعدہ دے اور پھر اصل رسید مرکزی حلقہ سے لا کر دے تا لوگوں پر انتظام کی خوبی اور کارکنوں کی دیانتداری کا اثر ہو۔
    ۱۳۔ سادہ زندگی بسر کرے اور اگر کوئی دعوت کرے تو شرم اور حیا سے کھانا کھاوے۔ کوئی چیز خود نہ مانگے اور جہاں تک ہو سکے دعوت کرنے والے کو تکلف سے منع کرے اور سمجھاوے کہ میری اصل دعوت تو میرے کام میں مدد کرنا ہے مگر مستقل طور پر کسی کے ہاں بلا قیمت ادا کرنے کے نہ کھاوے۔
    ۱۴۔ دورہ کرتے وقت جو جو لوگ اسے شریف نظر آویں اور جن سے اس کے کام میں کوئی مدد مل سکتی ہے ان کا نام اور پتہ احتیاط سے اپنی نوٹ بک میں نوٹ کرے۔ تابعد میں آنے والے مبلغوں کے لئے آسانی پیدا ہو۔
    ۱۵۔ جن لوگوں سے اسے واسطہ پڑنا ہے۔ خصوصاً افسروں۔ بڑے زمینداروں یا اور دلچسپی لینے والوں کے متعلق غور کرے کہ ان سے کام لینے کا کیا ڈھب ہے اور خصوصیت سے اس امر کو اپنی پاکٹ بک میں نوٹ کرے کہ کس کس میں کون کون سے جذبات زیادہ پائے جاتے ہیں جن کے ابھارنے سے وہ کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔
    ۱۶۔ جن لوگوں سے کام لینا ہے ان میں سے دو ایسے شخصوں کو کبھی جمع نہ ہونے دو۔ جن میں آپس میں نقار ہو۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کے لوگوں سے ہوشیاری سے دریافت کر لو کہ ان معززین کی آپس میں مخالفت تو نہیں۔ اگر ہے تو کس کس سے ہے جن دو آدمیوں میں مقابلہ اور نقار ہو ان کو اپنے کام کے لئے کبھی جمع نہ کرو بلکہ ان سے الگ الگ کام لو اور کبھی ان کو محسوس نہ ہونے دو کہ تم ایک سے دوسرے کی نسبت زیادہ تعلق رکھتے ہو۔ تمہاری نظر میں وہ سب برابر ہونے چاہیں اور کوشش کرو کہ جس طرح ہو سکے انکا نقار دور کرکے ان کو کلمہ واحد پر اسلام کی خدمت کے لئے جمع کر دو۔
    ۱۷۔ جس جگہ جائو وہاں کے لوگوں کی قوم ان کی قومی تاریخ اور ان کی قومی خصوصیات‘ان کی تعلیمی حالت‘ان کی مالی حالت اور ان کی رسومات کا خوب اچھی طرح پتہ لو اور پاکٹ بک میں لکھ لو اور جہاں تک ہو سکے ان سے معاملہ کرتے ہوئے اس امر کا خیال رکھو کہ جن باتوں کو وہ ناپسند کرتے ہیں وہ ان کی آنکھوں کے سامنے نہ آویں۔
    ۱۸۔ جس قوم میں تبلیغ کے لئے جائو اس کے متعلق دریافت کرلو کہ اس میں سب سے زیادہ مناسب آدمی کونسا ہے جو جلد حق کو قبول کر لے گا۔ اس سے پہلے ملو پھر اس سے رئیس کا پتہ لو جس کا لوگوں پر سب سے زیادہ اثر ہے پھر اس سے ملو اور اسی معرفت پہلے قوم کو درست کرنے کی کوشش کرو۔
    ۱۹۔ جب کسی قوم میں جائو تو پہلے یہ دیکھو کہ اس قوم کو ہندو مذہب سے کون کونسی مشارکت ہے اور اسلام سے کون کونسی مشارکت ہے اور ان کو اپنی کاپی میں نوٹ کر لو۔ پھر ان باتوں سے فائدہ اٹھا کر جو ان میں اسلام کی ہیں۔ ان میں اسلام کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کرو اور ان اسلامی مسائل کی خوبی پر خاص طور پر زور دو جن پر وہ پہلے سے کاربند ہیں اور جن کے وہ عادی ہو چکے ہیں۔
    ۲۰۔ جب ایسی جگہ پر جائو جہاں کے لوگ اسلام سے بہت دور ہو چکے ہیں اور جو اسلام کی کھلی تبلیغ کو بھی سننا پسند نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو جاتے ہی کھلے طور پر تبلیغ نہ کرنے لگو بلکہ مناسب ہو تو اپنا مقصد پہلے ان پر ظاہر ہی نہ کرو۔ اگر کوئی پوچھے تو بے شک بتا دو۔ مگر خود اپنی طرف سے کوئی چرچا نہ کرو کیونکہ اس طرح ایسے لوگوں میں ضد پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
    ۲۱۔ اردگرد کے مسلمانوں کو یہ باتیں سمجھانے کی کوشش کرو کہ مسلمانوں کی عدم ہمدردی اور سختی سے یہ لوگ تنگ آکر اسلام کو چھوڑ رہے ہیں۔ اسلام کی خاطر آپ اب ان سے اچھی طرح معاملہ کریں اور خوش اخلاقی اور احسان سے پیش آویں اور سمجھاویں کہ ان کا ہندو ہونا نہ صرف ہمارے دین کے لئے مضر ہو گا بلکہ اس کا یہ نتیجہ بھی ہو گا کہ ہندو آگے سے زیادہ طاقتور ہو جائیں گے اور مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچائیں گے۔
    (ب) یہ بھی سمجھائیں کہ اس فتنہ کو سختی سے نہیں روکا جا سکتا اور سختی سے روکنے کا فائدہ بھی کچھ نہیں۔ پس چاہئے کہ محبت کی دھار سے ان کی نفرت کی کھال کو چیرا جائے اور پیار کی رسی سے ان کو اپنی طرف کھینچا جائے۔
    ۲۲۔ وہ لوگ جو غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ پس کبھی ان سے علمی بحثیں نہ کرو۔ بالکل موٹی موٹی باتیں ان سے کرو۔ موٹی موٹی باتیں یہ ہیں۔
    آریہ مذہب کے بانی نے کرشن جی کی (جن کی وہ اپنے آپ کو اولاد کہتے ہیں اور ان سے شدید تعلق رکھتے ہیں) جو بڑے بزرگ تھے۔ ہتک کی ہے۔
    نیوگ کا مسئلہ خوب یاد رکھو اور ان کو سمجھائو کہ تم راجپوت ہو کر ایسی تعلیم کے پیچھے جا سکتے ہو۔ مرکز میں ستیارتھ پرکاش رہے گی اگر حوالہ مانگیں تو دکھا سکتے ہو۔
    ان کو بتایا گیا ہے کہ تمہارے آبائو اجداد کو زبردستی مسلمان کر لیا گیا تھا۔ ان سے کہو کہ راجپوت تو کسی سے ڈرتا نہیں۔ یہ بالکل جھوٹ ہے اس بات کو ماننے کے تو یہ معنے ہوں گے کہ تمہارے باپ دادا راجپوت ہی نہ تھے۔ کیا اس قدر قوم راجپوتوں کی اس طرح دھرم کو خوف یا لالچ سے چھوڑ سکتی تھی۔
    کہو کہ یہ بات برہمنوں نے راجپوتوں کو ذلیل کرنے کے لئے بنائی ہے۔ پہلے ان لوگوں نے تمہاری زمینوں کو سود سے تباہ کیا اب یہ لوگ تمہاری قومی خصوصیت کو بھی مٹانا چاہتے ہیں۔ یہ بنیئے تو اپنے ایمان پر قائم رہے اور تم راجپوت بہادر ہو کر بادشاہوں سے ڈر گئے۔ یہ جھوٹ ہے تمہارے باپ دادوں نے اسلام کو سچا سمجھ کر قبول کیا تھا۔
    ان کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی قوم سے آملو۔ ان کو سمجھائو کہ لاکھوں راجپوت مسلمان ہو چکے ہیں۔ پس اگر ملنا ہے تو یہ ہندو مسلمان ہو کر تم سے مل جاویں اور یہ ملاپ کیسا ہوا کہ قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر دور کے تعلق والوں سے جاملو۔
    ان کو بتائو کہ کرشن جی کی ہم مسلمان تومہما کرتے ہیں اور ان کو اوتار مانتے ہیں لیکن آریہ ان کی ہتک کرتے ہیں اور ان کو گالیاں دیتے ہیں۔ تمہارے سامنے کچھ اور کہتے ہیں اور الگ کچھ اور کہتے ہیں۔
    ان کو بتائو کہ ہندو تو تم کو ہندو کرکے بھی چھوت چھات کرتے ہیں اور کریں گے۔ چند لوگ لالچ دلانے کو تمہارے ساتھ کھاپی لیتے ہیں ورنہ باقی قوم تم سے برتائو نہیں کرے گی چاہو تو چل کر اس کا تجربہ کر لو لیکن مسلمان تم کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔
    ان کو بتائو کہ آریہ جو آج تم کو چھوت چھات کی تعلیم دیتے ہیں دوسری جگہوں میں جا کر نیچ قوموں میں شدھی کرتے اور چماروں کو ساتھ ملاتے ہیں۔ اس کے حوالے یاد رکھو۔ (جیسے جموں میں شدھی ہو رہی ہے) لیکن ایسی طرز پر بات نہ کرو کہ گویا تم چھوت چھات کے قائل ہو بلکہ اس بات کا اظہار کرو کہ وہ جھوٹ اور فریب سے کام لے رہے ہیں۔
    ان کو بتائو کہ یہ لوگ تمہارے خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہیں۔ اس کا امتحان اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان عرصہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ سود کی شرح محدود کر دی جائے اور قانون انتقال اراضی پاس کیا جائے مگر ہندو اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں (ان دونوں قانونوں کو اچھی طرح سمجھ لو) ان باتوں کا ان کو فائدہ سمجھائو اور کہو کہ ان کا امتحان اس طرح ہو سکتا ہے کہ جو آریہ یا ہندو آئے اسے کہو کہ اگر تم سچ مچ ہمارے خیر خواہ ہو تو یہ دونوں قانون پاس کرائو۔ پھر ہم سمجھیں گے کہ تم ہمارے خیر خواہ ہو۔
    ۲۳۔ اپنے دل کو پاک کرکے اور ہر ایک تکبر سے خالی کرکے بیماروں اور مسکینوں کے لئے دعا کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ضرور سنے گا انشاء اللہ۔ میں بھی انشاء اللہ تمہارے لئے دعا کروں گا تا خدا تعالیٰ تمہاری دعائوں میں برکت دے۔
    ۲۴۔ اپنی زبان کو اس بات کا عادی بنائو کہ ان بزرگوں کو جن کو فی الواقع ہم بھی بزرگ ہی سمجھتے ہیں ایسے طریق پر یاد کرو جو ادب اور اخلاص کا ہو۔
    ۲۵۔ کھانے پینے پہننے میں ایسی باتوں سے پرہیز کرو جن سے ان لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ الگ جو چاہو کرو لیکن ان کے سامنے ان کے دل کو تکلیف دینے والی بات نہ کرو کہ علاوہ تمہارے کام کو نقصان پہنچانے کے یہ بداخلاقی بھی ہے۔
    ۲۶۔ ہر ایک کام تدریجی طور پر ہوتا ہے یہ مت خیال کرو کہ وہ ایک دن میں پکے مسلمان ہو جائیں گے جو لوگ مسلمان ہوجائیں گے۔ وہ آہستہ آہستہ پختہ ہوں گے پس یک دم ان پر بوجھ ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔ تین چار ماہ میں خود ہی درست ہو جائیں گے۔ پہلے تو صرف اسلام سے محبت پیدا کرو اور نام کے مسلمان بنائو۔ مگر یہ بھی نہ کرو کہ اسلام کی کوئی تعلیم ان سے چھپائو کیونکہ اس سے بعد میں ان کو ابتلاء آوے گا۔ اور یا وہ ایک نیا ہی دین بنا لیں گے۔
    ۲۷۔ لباس وغیرہ ان کے جیسے ہیں ویسے ہی رہنے دو اور ابھی چوٹیاں منڈوانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ باتیں ادنیٰ درجہ کی ہیں۔ جب وہ پکے مسلمان ہو جائیں گے خود بخود ان سب باتوں پر عمل کرنے لگیں گے۔
    ۲۸۔ جس جگہ پر جائو۔ وہاں خوش خلقی سے پیش آئو اور بے کسوں کی مدد کرو اور دکھیاروں کی ہمدردی کرو کہ اچھے اخلاق سو واعظ سے بڑھ کر ہوتے ہیں
    ۲۹۔ جس جگہ کی نسبت معلوم ہو کہ وہاں کسی شخص کو مناسب مدد دے کر باقی قوم کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ تو اس کی اطلاع افسر حلقہ کو کرو۔ مگر یاد رکھو کہ اس طرف نہایت مجبوری میں توجہ کرنی چاہئے۔ جب کوئی چارہ ہو ہی نہیں۔ اسی صورت میں یہ طریق درست ہو سکتا ہے۔ مگر خود کوئی وعدہ نہ کرو نہ کوئی امید دلائو امداد کس رنگ میں دی جا سکے گی۔ یہ افسروں کی ہدایت میں درج ہو گا۔ اس معاملہ کو افسر حلقہ کے سپرد رہنے دو۔
    ۳۰۔ کھانے پینے پہننے میں بالکل سادہ رہیں اور جس جگہ افسر حلقہ مناسب سمجھے وہاں کا مقامی لباس پہن لیں اور جس جگہ وہ مناسب سمجھے ایک چارد ہی پہن لو اگر ضرورت ہو تو گیردا رنگ دلوا لو۔ یاد رکھو کہ لباس کا تغیر اصل نہیں۔ لباس کا تغیر اسی وقت برا ہوتا ہے جب انسان ریا کے لئے یا کسی قوم سے مشابہت کی غرض سے پہنچتا ہے۔ تمہارا تغیر لباس تو عارضی ہو گا اور جنگ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہو گا۔ پس تمہارا طریق قابل اعتراض نہیں ہو گا کیونکہ تم سادھو یا فقیر یا صوفی کہلانے کے لئے ایسا طریق اختیار نہیں کرو گے اور چند دن کے بعد پھر اپنا لباس اختیار کر لو گے۔ اس لباس کی غرض تو صرف دشمن سلام کے حملہ کا جواب دینا ہو گی۔
    ۳۱۔ کبھی اپنے کام کی رپورٹ لکھنے اور پھر اس کو دفتر حلقہ میں بھیجنے میں سستی نہ کرو۔ یاد رکھو کہ یہ کام تبلیغ کے کام سے کم نہیں ہے۔ جب تک کام لینے والوں کو پورے حالات معلوم نہ ہوں وہ ہرگز کام کو اچھی طرح نہیں چلا سکتے۔ پس جو شخص اس کام میں سستی کرتا ہے وہ کام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔
    ۳۲۔ دشمن تمہارے کام کو یہ نقصان پہنچانے کے لئے ہر طرح کی تدابیر کو اختیار کرے گا۔ تمہاری ذرا سی بے احتیاطی کام کو صدمہ پہنچا سکتی ہے۔ پس فتنہ کے مقام سے دور رہو اور ایسی مجلس میں نہ جائو جس میں کوئی تہمت لگا سکے۔ کسی شخص کے گھر میں نہ جائو۔ جب تک تجربہ کے بعد ثابت نہ ہو جائے کہ وہ دشمن نہیں دوست ہے۔ کھلے میدان میں لوگوں سے باتیں کرو۔
    ۳۳۔ غصہ کی عادت ہمیشہ ہی بری ہے مگر کم سے کم اس سفر میں اس کو بالکل بھول جائو کسی وقت غصہ میں آکر اگر ایک لفظ بھی سخت تمہارے منہ سے نکل گیا یا تم کسی کو دھمکی دے بیٹھے یا کسی کو مار بیٹھے تو اس کا فائدہ تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔ مگر آریہ لوگ اس کو اس قدر شہرت دیں گے کہ ہمارے مبلغوںکو ان کے حملوں کے جواب دینے سے فرصت نہ ملے گی اور سلسلہ کی سخت بدنامی ہو گی۔ پس گالیاں سن کر دعا دو اور عملاً دو۔ اور جوش دلانے والی بات کو سن کر سنجیدگی سے کہہ دو کہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم تمہیں اس کا جواب دینے سے مانع ہے۔ تم پھر بھی اس کے خیر خواہ ہی رہو۔ اپنے مخالف سے بھی کہو کہ تم اس کے دشمن نہیں ہو بلکہ تم باوجود اس کی عداوت کے اس کے خیرہ خواہ ہو کیونکہ تم کو خدا تعالیٰ نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔ اگر کوئی مار بھی بیٹھے تو اس کی پرواہ نہ کرو۔ یاد رکھو کہ لوگ بزدل کو حقیر جانتے ہیں اور وہ فی الواقعہ حقیر ہے لیکن تکلیف اٹھا کر صبر کرنے والا اور اپنے کام سے ایک بال کے برابر نہ ہٹنے والا بزدل نہیں وہ بہادر ہے۔ بزدل وہ ہے جو میدان سے بھاگ جاتا ہے یا اپنی کوششوں کو سست کر دیتا ہے جو مار کھاتا ہے اور صبر کرتا اور اپنے کام کو جاری رکھتا ہے۔ وہی درحقیقت بہادر ہے کیونکہ بہادری کا پتہ تو اسی وقت لگتا ہے جب اپنے سے طاقتور کا مقابلہ ہو اور پھر بھی انسان نہ گھبرائے۔
    ۳۴۔ میں نے بار بار آہستگی کی تعلیم دی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مہینوں اور برسوں میں کام کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدم بقدم چلو۔ جب قدم مضبوط جم جائے تو پھر دوسرے قدم کے اٹھانے میں دیر کرنا اپنے وقت کا خون کرنا اور اپنے کام کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر گھنٹوں میں کام ہوتا ہے تو گھنٹوں میں کرو۔ اگر منٹوں میں کام ہوتا ہے تو منٹوں میں کرو۔ صرف یہ خیال کر لو کہ اس کی رفتار ایسی تیز نہ ہو کہ خود کام ہی خراب ہو جائے یا آئندہ کام پر اس کا بداثر پڑے۔
    ۳۵۔ ایسے علاقوں میں رات نہ گزارو جہاں فتنہ کا ڈر ہو۔ اگر وہاں رات بسر کرنی ضروری ہے تو شہر میں نہ رہو۔ شہر سے باہر کسی پرانے مکان یا کسی جھونپڑے میں یا پاس کے کسی گائوں میں رہو صبح پھر وہیں آجائو۔ یہ بزدلی نہیں حکمت عملی ہے۔
    ۳۶۔ اس عرصہ میں اگر پرانے ہندوئوں کو تبلیغ کر سکو تو موقع کو بھی ہاتھ سے جانے نہ دو۔ مگر سوائے ان لوگوں کے جن کا کام بحث کرنا مقرر کیا گیا ہے۔ دوسرے لوگ بحث کے کام میں حصہ نہ لیں۔ بلکہ فرداً فرداً اور الگ الگ تبلیغ کریں۔
    ۳۷۔ اردگرد کے ہندئوں کے خیال معلوم کرکے جو شدہی کے برخلاف ہوں۔ ان میں بھی غیر معلوم طور پر اس تحریک کے خلاف جوش پیدا کرنے کی کوشش کرو۔
    ۳۸۔ یہ کوشش کرو کہ شدھی ہونے والے راجپوتوں پر ثابت ہو جائے کہ ہندو قوم بحیثیت قوم ان کے ساتھ اپنے لوگوں والا برتائو کرنے کے لئے تیار نہیں اور کسی تدبیر سے ایسے لوگوں کو جو اس بات کو دیکھ کر شدھی کی بے ہودگی کو سمجھ سکیں ان لوگوں سے ملائو۔ جو شدھی شدہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے تیار نہیں۔
    ۳۹۔ ان ظلموں اور شرارتوں کی یا جبر کی خوب خبر رکھو۔ جو آریہ لوگ شدھی کے لئے کرتے ہیں اور جہاں جہاں ایسی مثالیں معلوم ہوں ان کا پورا حال معلوم کرکے گواہوں اور مخبروں کے نام سمیت اپنے حلقہ کے دفتر میں ضرور اطلاع دو۔ اس سے اس کام میں بہت مدد مل سکتی ہے اگر کسی جگہ کے متعلق معلوم ہو جائے کہ وہاں آریوں نے بندوقیں اور تلواریں لے کر جمع ہونا ہے اور طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے تو اس کی اطلاع ضرور قبل از وقت دفتر کو دو۔ تاکہ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
    ۴۰۔ راجپوت یا دیگر اقوام جن میں شدہی ہو رہی ہے ان میں سے اسلام کا درود رکھنے والے لوگوں کے ساتھ خاص تعلق پیدا کرو اور ہمیشہ ان سے دوستی اور تعلق بڑھانے کی کوشش کرتے رہو۔
    ۴۱۔ ]dni [tag محنت سے کام کرو اور وقت کو ضائع نہ ہونے دو۔ دن میں کئی کئی گائوں کی خبر لے لینی چاہئے۔ چلنے پھرنے کی عادت ڈالو اور کم ہمتی کو پاس نہ آنے دو۔
    ۴۲۔ ہدایت زریں میرا لیکچر تبلیغ کے طریق پر ہے۔ وہ حلقوں میں اور صدر میں رکھا ہوا ہو گا اس کو خوب اچھی طرح پڑھ لو۔ کیونکہ اس میں تبلیغ کے متعلق بعض عمدہ گر جو اس جگہ درج نہیں ہیں ملیں گے۔
    ۴۳۔ بعض شعر جن میں آریہ مذہب کی حقیقت پر روشنی ڈالی جائے گی اور بعض نظمیں مسائل کے متعلق اپنے پاس رکھو اور گائوں کے چند نوجوان لوگوں کو یاد کرا دو پھر بار بار ان سے بلند آواز سے پڑھوا کر وہ سنو۔ اس سے ان میں جوش پیدا ہو گا۔
    ۴۴۔ اصل چیز جو ارتداد سے روک سکتی ہے وہ روحانیت ہے۔ پس سنجیدگی اور قناعت کا مادہ پیدا کرنے کی کوشش کرو کہ اس کے بغیر سب کوششیں رائیگاں ہیں۔
    ۴۵۔ جہاں تک ہو سکے ان کو زائد وقت میں تعلیم دینے کی کوشش کرو۔ لفظ لفظ پڑھ کر بھی انسان کچھ عرصہ میں پڑھ جاتا ہے۔ وہ اردو جاننے لگیں تو اس سے بھی اس فتنہ کا بہت حد تک ازالہ ہو جائے گا۔
    ۴۶۔ ایسے تمام علاج جو مقامی واقفیت سے ذہن میں آویں ان سے اپنے حلقہ کے افسر کو اطلاع دو تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔
    ۴۷۔ ایسے نوجوان جو ذھین ہوں اور تعلیم کا شوق رکھتے ہوں اور تعلیم کی خاطر چند دنوں کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑ سکتے ہوں ان کی تلاش رکھو اور پتہ لگنے پر انکے نام اور پتہ اور جملہ حالات سے افسر حلقہ کو اطلاع دو۔
    ۴۸۔ جس بات کو مخفی رکھنے کے لئے کہا جائے۔ اس کو پوری طرح مخفی رکھو۔ حتیٰ کہ بلا اجازت اپنے آدمیوں پر بھی ظاہر نہ کرو کہ ایسا کرنا بدیانتی اور سلسلہ کی خیانت ہے۔
    ۴۹۔ آریوں کے طریق عمل اور ان کے مبلغوں کی نقل و حرکت اور ان کے انتظام کا نہایت ہوشیاری اور غور سے مطالعہ کرو اور جب کوئی بات اس کے متعلق معلوم ہو تو فوراً اس کے متعلق افسر حلقہ کو اطلاع دو۔ اس امر میں سستی تبلیغ کے لئے مضر اور اس میں کوشش تبلیغ کے لئے بہت مفید ہو گی۔
    ۵۰۔ مجھے خط براہ راست آپ لکھ سکتے ہیں۔ مگر یہ خط رپورٹ نہیں سمجھا جائے گا۔ رپورٹ وہی سمجھی جائے گی جو افسروں کے توسط سے مجھ تک آئے گی۔
    ۵۱۔ اس عہد کو ہمیشہ سامنے رکھیں جو آپ نے میرے ہاتھ پر بیعت کے وقت کیا تھا یا اب اس تحریک کے وقت کیا ہے اور ان ہدایات کو بار بار پڑھتے رہیں اور پوری طرح بلا سرمو کے فرق کے ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ اس میں آپ کا مددگار ہو۔
    ۵۲۔ جب دوسرے بھائی کو چارج دیں تو ان تمام لوگوں سے اس کو ملا دیں جو واقف ہو چکے ہیں اور جن سے کام میں مدد ملنے کی امید ہے اور ان لوگوں سے آگاہ کر دیں۔ جن سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور سارے علاقہ کی پوری خبر اس کو دیں اور اپنی نوٹ بک سے وہ سب باتیں جو میں پہلے بتا چکا ہوں۔ اس کو نقل کروا دیں تاکہ وہ بغیر محنت کے کام کو آگے چلا سکے اور ایک دفعہ ساتھ مل کر اس کو دورہ کرا دیں۔ پھر دعائوں پر زور دیتے ہوئے اور خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے کہ اس نے خدمت کا موقع دیا۔ واپس آجاویں اور آنے سے پہلے اپنے حلقہ کے مرکز میں آکر رپورٹ کریں کہ میں فلاں شخص کو چارج دے چکا ہوں اور جو معلومات وہ چاہیں ان کو بہم پہنچا کر اور ان کی اجازت سے مع الخیر واپس ہوں۔ خدا آپ کے ساتھ ہو۔ والسلام۔
    خاکسار: میرزا محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی قادیان دارالامان۔ ضلع گورداسپور
    ۲۱/ اپریل ۱۹۲۳ء
    مجاہدین احمدیت شدھی کے علاقہ میں
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ شدھی کے خلاف اپنی سکیم یکم اپریل ۱۹۲۳ء سے جاری کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ مگر حالات کی نزاکت کے پیش نظر حضور نے وسط مارچ ۱۹۲۳ء ہی سے اس کا آغاز فرما دیا۔
    چنانچہ آپ کی ہدایت پر صیغہ ’’انسداد ملکانہ‘‘ کے نام سے ایک نیا دفتر کھولا گیا اور اس کے افسر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور نائب حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب عبداللہ خاں صاحب تجویز ہوئے۔ اس مرکزی ادارہ کے قیام کے ساتھ آپ نے حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو امیر المجاہدین مقرر فرمایا۲۵۔ اور ان کی سرکردگی میں ۱۲/ مارچ ۱۹۲۳ء کو مجاہدین کا پہلا وفد روانہ فرمایا۔
    اس پہلے وفد کے مجاہدین مندرجہ ذیل تھے۔ (۱) حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔ اے (امیر المجاہدین) (۲) حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب بی۔ اے۔ بی۔ ٹی۔ (۳) شیخ یوسف علی صاحب بی۔ اے (۴) صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی۔ اے (۵) صوفی محمد ابراہیم صاحب بی۔ ایس۔ سی۔ (۶) ڈاکٹر نور احمد صاحب سب اسسٹنٹ سرجن (۷) حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب (نو مسلم‘قادیانی) (۸) مہاشہ محمد عمر صاحب نو مسلم (۹) ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم (۱۰) چوہدری بدر الدین صاحب (۱۱) مولوی ظفر اسلام صاحب (۱۲) میاں عبدالسمیع صاحب (۱۳) محمد ابراہیم صاحب نائک (۱۴) فتح محمد صاحب ملتانی سپاہی (۱۵) عزیز احمد صاحب (۱۶) عبداللطیف صاحب گجراتی (۱۷) میاں خدا بخش صاحب (مومن پٹیالوی) (۱۸) حبیب الرحمن صاحب افغان (۱۹) سید صادق حسین صاحب اٹاوہ (جن کو اٹاوہ سے شامل وفد ہونے کی ہدایت دی گئی۲۶۔ اس وفد کی روانگی کے چند دن بعد مولانا جلال الدین صاحب شمس بھی آگرہ اور اس کے ماحول میں مناظرات اور تقاریر کے لئے بھجوائے گئے۔
    چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی قیادت میں دستہ ۱۲/ مارچ ۱۹۲۳ء کو روانہ ہو کر ۱۴/ مارچ ۱۹۲۳ء کو بمقام اچھنیرا ضلع آگرہ میں پہنچا۲۷۔
    یہاں چوہدری نذیر احمد خاں صاحب وکیل ریاست جے پور اور نیاز محمد خان صاحب جے پور اور محبوب خاں صاحب جو اپنے علاقہ کے سرکردہ غیر احمدی راجپوتوں میں سے تھے اور اسلام کے لئے دردمند دل رکھتے تھے چوہدری صاحب کی ملاقات کے لئے آئے اور جماعت کا قافلہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم تو آپ ہی لوگوں کے منتظر تھے۔ یہ کام بہت نازک ہے اور آپ ہی کی کوشش اور تندہی سے خاطر خواہ طور پر انجام پا سکے گا۔
    اچھنیرہ میں مجلس ’’نمائندگان تبلیغ‘‘ کے نمائندوں میں شدید اختلاف رونما ہو چکے تھے اور ان کے دور ہونے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ تاہم حضرت چوہدری صاحب نے ان تینوں اصحاب کی معرفت کہلا بھیجا کہ ہم اس انجمن سے ہر طرح ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مگر باہمی چپقلش کے انتہا تک پہنچنے کی وجہ سے ان نمائندوں میں اتفاق نہ ہو سکا۔ لہذا انجمن کی طرف سے چوہدری صاحب کو اطلاع آئی کہ آپ لوگ اپنا کام الگ شروع کر دیں اور ساتھ ہی احمدیوں کے لئے آگرہ کے ماحول کا ایک ایسا علاقہ مقرر کر دیا گیا۔ جہاں ارتداد پورے زوروں پر تھا یعنی اس علاقہ کا ایک حصہ تو مرتد ہو چکا تھا اور باقی علاقہ ارتداد سے خطرناک طور پر متاثر تھا۔ اس علاقہ کے راجپوتوں اور مولوی صاحبان نے متفق ہو کر کہا کہ اس علاقہ میں خطرہ بہت سخت ہے اس لئے ہم یہ کام آپ ہی کے سپرد کرتے ہیں۲۸۔
    آریوں کی طرف سے شدھی کے مختلف ذرائع
    وہ علاقہ جو جماعت احمدیہ کے لئے مقرر کیا گیا بلاشبہ سب سے اہم میدان جنگ تھا اور جیسا کہ احمدی مجاہدین کو یہاں پہنچ کر معلوم ہوا۔ یہاں آریہ چپہ چپہ پر شدھی میں مصروف تھے اور اس غرض کے لئے اس پراپیگنڈہ کے علاوہ جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ ہر قسم کے ناروا طریقے استعمال میں لا رہے تھے۔ کہیں روپے کا لالچ دے رہے تھے اور کہیں ظلم و تشدد کرکے انہیں اپنی زمین اور مکان سے بے دخل کر رہے تھے۲۹۔ اور یہ سب ہندو راجوں اور ہندو افسروں کی پشت پناہی میں ہو رہا تھا۔ مثلاً ضلع فرخ آباد کی ایک چھوٹی سی ریاست تروانامی تھی۔ جس کا راجہ شدھی کا بڑا زبردست حامی تھا۔ وہ خود دیہات میں جاتا۔ سائبان لگ جاتے حلوہ پوری پکنی شروع ہو جاتی۔ راجہ غریب ملکانوں سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا۔ انکے قرضے اتارتا اس طرح بھولے بھالے ملکان شدھ ہونے کے لئے تیار ہو جاتے۔ ایک اور طریق یہ دیکھنے میں آیا کہ گائوں کے چند شوریدہ سر آوارہ طبع لوگوں کو چن لیتے اور ان پر اپنا اثر جما کر باقی لوگوں کو بھی شدھ کر لیتے۔ جس گائوں کو شدھ کرنا ہوتا تھا وہاں کی ملکانہ آبادی سے کئی گناہ آدمی لے کر موٹروں‘گاڑیوں‘اونٹوں‘رتھوں‘بندوقوں اور تلواروں کے ساتھ پہنچتے اور اس نمائش سے مرعوب کرکے مسلمانوں کو شدھ کر لیتے۔ ضلع آگرہ کے ایک گائوں (فتح پور) میں جب آریہ گئے تو بعض مسلمان عورتوں نے جو شدھی کے خلاف تھیں تنگ آکر کنویں میں ڈوب مرنے کی کوشش کی جنہیں بڑی مشکل سے بچایا گیا۳۰۔ جہاں جہاں آریوں کا زور بڑھتا جاتا تھا شدھ سے انکار کرنے والوں کا قافیہ حیات تنگ کیا جا رہا تھا تا وہ بھی ارتداد اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں۳۱۔
    اس سلسلہ میں ایک اہم واقعہ جو ترتیب کے لحاظ سے آگے آنا چاہئے۔ مگر آریوں کی تشدد آمیز کارروائیوں کا نمونہ بتانے کے لئے ضروری ہے۔ یہیں درج کئے دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ فرخ آباد کے گائوں بھڑا میں ایک نوجوان شہزادہ نامی نے اپنی بہادر مسلمان بیوی ’’بسم اللہ‘‘ کو شدھ ہونے کے لئے کہا مگر اس نے صاف انکار کر دیا جس پر شاہزادہ نے اسے لاٹھی سے مار مار کر نیم جان کر دیا وہ بے چاری آخر دم تک مرغ بسمل کی طرح تڑپتی رہی اور یہ کہتے ہی دم توڑ دیا کہ میں مر جائوں گی مگر شدھ نہیں ہوں گی اس حادثہ کے بعد آریوں نے اس مظلومہ کی لاش دفن کر دی اور مشہور کر دیا کہ وفات ہیضہ سے ہوئی ہے بسم اللہ کا باپ نور خاں ایک غریب اور بے کس آدمی تھا۔ بھاگا بھاگا اپنے مولویوں کے پاس گیا مگر کسی نے پروا نہ کی۔ آخر وہ فرخ آباد میں ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم کے پاس گیا۔ انہوں نے آگرہ کے مرکز میں اطلاع دی اور شیخ محمد احمد صاحب ایڈووکیٹ جو آگرہ میں مصروف جہاد تھے۔ فرخ آباد آئے اور نور خاں کی طرف سے عدالت میں درخواست دلوائی اور خاص توجہ سے مقدمہ کی پیروی کی۔ قصہ کوتاہ لاش نکلوائی گئی۔ اور ڈاکٹری معائنہ بھی ہوا۔ مگر اوپر سے نیچے تک تمام کارروائی ہندوئوں کے ہاتھوں میں ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم صاف بری ہو گیا۳۲۔
    یہ تمام تر حربے اتنے ناروا اور خلاف اخلاق تھے کہ مشہور ہندو لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی کھلا اعتراف کرنا پڑا کہ۔
    ’’جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں تحریک شدھی کی بنیاد مختلف اسباب پر ہے اور ناپسندیدہ طریق پر اسے چلایا جا رہا ہے۔ بجائے امن و یکجہتی کے اس کی وجہ سے نفرت و حقارت‘بے اعتمادی اور تلخی کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔ رواداری کا قطعی فقدان ہو گیا ہے۔ اور ہم میں سے اچھے اچھے اشخاص بھی قابل شرم شکوک و شبہات سے بری نہیں ہیں‘‘۳۳۔
    پھر ان ہی دنوں مسٹر گاندھی نے شدھی کے علمبردار سوامی شردھانند اور آریوں کی نسبت اپنی یہ واضح رائے دی کہ۔
    ’’آپ جہاں کہیں بھی آریہ سماجیوں کو پائیں گے وہاں ہی زندگی اور سرگرمی موجود ہو گی تنگ نظری اور لڑاکی عادت کی وجہ سے وہ ۔۔۔۔۔۔۔ دیگر مذاہب کے لوگوں سے لڑتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شردھا نندجی ۔۔۔۔۔۔۔ کو بھی اس سپرٹ کا حصہ وافر ملا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آریہ سماجی اپدیشک (مبلغ) کو اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی جتنی کہ دیگر مذاہب کی بدگوئی کرنے کے وقت ہوتی ہے‘‘۳۴۔
    مجاہدین احمدیت کی ابتدائی سرگرمیاں
    یہ وہ حالات تھے جن میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے علاقہ ارتداد میں قدم رکھا۔ حضرت چوہدری صاحب نے اپنا مرکز شہر آگرہ میں قائم کرکے مجاہدین کو مین پوری‘ایٹہ‘فرخ آباد‘علی گڑھ‘کرنال اور مظفر نگر کے اضلاع سے صحیح صحیح حالات کی رپورٹ کے لئے بھیجا اور دس دن میں لوٹنے کی تاکید کر دی۳۵۔ جن علاقوں میں شدھی ہو چکی تھی۔ یا ہونے کی افواہ تھی وہاں بھی مبلغ بھجوا دیئے۔ خصوصاً ریاست بھرت پور کے اکرن نامی مشہور گائوں میں جہاں جمیا نامی ایک بہادر راجپوت بڑھیا پورے گائوں کے شدھ ہونے کے باوجود اسلام پر قائم تھی۳۶۔ جمیا کے بیٹوں نے آریوں کے دھمکانے پر اس سے بار بار کہا کہ شدھ ہو جائو تمام آریہ اور ریاست کے حاکم کہہ رہے ہیں مگر یہ نیک بخت عورت نہ مانی۔ اسے بہت دکھ دیئے گئے اور اس کا بائیکاٹ کر دیا گیا لیکن وہ یہی کہتی رہی کہ ’’بیٹا میں اسلام کو ناہیں چھوڑ سکت چاہے گردن کٹ جائے‘‘۳۷۔ اسی طرح ملکان کے مشہور قصبہ نو گائوں میں حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ مقرر ہوئے۳۸۔
    جو اصحاب علاقہ کا ابتدائی دورہ کرنے کے لئے بھجوائے گئے تھے وہ جلد ہی پورے محاذ کا دورہ کرکے نہایت اہم معلومات لے کر واپس آئے۔ اس سلسلہ میں انہیں سخت مجاہدہ کرنا پڑا۔ چنانچہ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی‘صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی۔ اے۔ ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم۔ شیخ یوسف علی صاحب بی۔ اے اور دوسرے مجاہدین نے تیز اور چلچلاتی دھوپ میں کئی کئی میل روزانہ پیدل سفر کیا۔ بعض اوقات کھانا تو الگ رہا ان کو پانی بھی نہ مل سکا۔ کھانے کے وقت یا تو اپنا بچا کھچا باسی کھانا کھاتے یا بھونے ہوئے دانے کھا کر پانی پی لیتے اور اگر سامان میسر آسکتا تو آٹے میں نمک ڈال کر اپنے ہاتھوں روٹی پکا کر کھا لیتے۔ رات کو جہاں جگہ ملتی سو جاتے۔ ملکان نے ان کی خاطر تواضع دودھ سے کرنا چاہی۔ مگر انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا۔ بعض رئوسا نے مبلغین کے بستر اور سامان کے لئے مزدور دینا چاہے مگر یہ جانباز سپاہی اپنا سامان اٹھائے پیدل سفر کرتے رہے اور ایک گائوں میں کام ختم ہونے پر اس بات کی پروا کئے بغیر کہ کیا وقت ہے یا دوسرا گائوں کتنے فاصلے پر ہے فوراً آگے روانہ ہو جاتے انہوں نے بعض اوقات اندھیری راتوں میں ایسے تنگ اور پر خطر راستوں سے سفر کیا۔ جہاں جنگلی سور اور بھیڑیئے بکثرت پائے جاتے تھے۔ یہ مجاہد ملکانوں پر پانی تک کا بھی بوجھ نہ ڈالتے۔ اور یہ کہتے کہ آپ لوگوںکو دین سکھانے کے لئے ہمارے آدمی آئیں گے۔ جو آپ سے کچھ نہ لیں گے بلکہ اپنا خرچ بھی آپ برداشت کریں گے۔ یہ لوگ چونکہ اپنے مولوی صاحبان کی شکم پروریوں کی وجہ سے بدظن ہو چکے تھے۳۹۔ اس لئے ان کے نزدیک یہ بات بڑی حیرت انگیز تھی کہ ایسے خادم دین بھی موجود ہیں جو رضا کارانہ طور پر اسلام کی تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کا بیٹرہ اٹھائے ہوئے ہیں۔
    حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے نہ صرف تین دن کے اندر اندر ضلع ایٹہ کے اکثر دیہات کا دورہ مکمل کر لیا اور ہر گائوں سے متعلق ایسے تفصیلی کوائف مہیا کئے گویا مدت سے ان دیہات میں ان کی آمدورفت تھی۔
    ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم4] ft[s۴۰ اور خدا بخش صاحب ’’مومن جی‘‘ پٹیالوی نے ضلع فرخ آباد کا وسیع دورہ کیا۔ جناب ماسٹر صاحب نے جوگیوں کے لباس میں بھگوے کپڑے پہنے‘ننگے سر اور ننگے پائوں دورہ کرتے رہے جس کا مسلمانوں پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسے مولوی نہیں دیکھے جو اس طرح رات دن تبلیغ میں بھاگے پھریں اور کسی پر کھانے پینے کا بوجھ نہ ڈالیں۔
    جناب شیخ یوسف علی صاحب بی۔ اے ریاست بھرت پور اور علاقہ تسی میں گئے اور بہت سے گائوں میں پہنچ کر معزز لوگوں کو پیش آمدہ خطرہ سے آگاہ کیا۔ اسی دوران میں شیخ صاحب ریاست بھرت پور کے گائوں اکرن کی جواں ہمت ستر سالہ بڑھیا جمیا سے بھی ملے جو آریوں کے ڈرانے دھمکانے کے باوجود مذہب اسلام پر قائم تھی۔ مائی جمیا نے بتایا کہ مرتد مسلمانوں نے تعصب اور ضد کی وجہ سے اس کی فصل کاٹنے سے بالکل انکار کر دیا ہے۔ یہ خبر آگرہ کے دارالتبلیغ میں پہنچی تو حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال امیر وفد المجاہدین نے اسی وقت جناب قاضی محمد عبداللہ صاحب بی۔ اے بی۔ ٹی کو (جو اس علاقہ کے انچارج تھے) حکم دیا کہ سب کام چھوڑ کر فوراً اپنے آدمیوں کو ساتھ لے کر فصل کاٹنا شروع کر دیں۔ اور اس مائی کی حفاظت کا پورا پورا سامان کریں۔ چنانچہ حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب بی۔ اے۔ بی۔ ٹی اور دوسرے مجاہدین نے ہاتھوں میں درانتیاں پکڑ کر بڑھیا کی ساری فصل کاٹ دی‘‘۴۱۔
    صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی۔ اے نے ضلع مین پوری اور متھرا کا دورہ کرکے قریباً چالیس دیہات میں چکر لگایا۔ اور سولہ میل روزانہ کی اوسط سے پیدل سفر کرتے رہے۔ ایک بار کھانے کا کوئی انتظام نہ ہو سکا اور متواتر انیس گھنٹہ تک بھوکے رہے اور اسی حالت میں سفر جاری رکھا۴۲4] ft[r۔
    غرض کہ اس پہلے ہرا دل دستہ کے مجاہدین دس دن تک آگرہ‘متھرا‘بھرت پور‘ایٹہ‘اٹاوہ‘مین پوری‘فرخ آباد کے اضلاع میں طوفانی دورہ کرکے نہ صرف آئندہ کی مورچہ بندی کے لئے مکمل رپورٹ اور سکیم ساتھ لائے بلکہ شدھی سے متاثر مقامات کے مسلمان ملکان کے حوصلے بلند کر دیئے اور ان کو آریوں کے عزائم سے چوکس اور ہوشیار کر دیا۔
    حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے ۲۴/ مارچ کو تار دیا کہ بیس مبلغین کی فوری ضرورت ہے چنانچہ ادھر یہ مجاہدین حالات کا جائزہ لے کر آگرہ میں پہنچے ادھر ۲۶/ اپریل ۱۹۲۳ء کو قادیان سے بیس کی بجائے بائیس مجاہدین کا دوسرا وفد آگیا۔ اس وفد کے بعض افراد کے نام یہ ہیں۔ حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی۔ چوہدری عبدالسلام صاحب کاٹھ گڑھی۔ جناب خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل۔ جناب مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی۔ منشی عبدالخالق صاحب کپورتھلوی۔ منشی محمد الدین صاحب ملتانی (والد ماجد جناب شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ) ہادی علی خان صاحب۔ (برادر زادہ مولانا محمد علی و شوکت علی) شیخ محمد ابراہیم علی صاحب (پسر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) اور حضرت سید عزیز الرحمن صاحب بریلوی۴۳۔
    حضرت چوہدری صاحب رات کے ایک بجے تک اس وفد کو صورت حال سے آگاہ کرتے اور ہدایات دیتے رہے اور دوسرے ہی دن ۲۷/ مارچ ۱۹۲۳ء کو مختلف انسپکٹروں کی سرکردگی میں نئے مجاہدین کو مختلف اضلاع میں روانہ کرکے ہر طرف پھیلا دیا۴۴۔ چنانچہ مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی بھوپت پور (ضلع ایٹہ) میں چوہدری عبدالسلام صاحب کاٹھ گڑھی متھرا کے گائوں بھائی میں۔ حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب متھرا کے دوسرے گائوں انور میں اور سید عزیز الرحمن صاحب ضلع فرخ آباد میں بھجوائے گئے۴۵۔
    میدان ارتداد میں تبلیغی جنگ کا ابتدائی نقشہ
    اس دوسرے وفد کے پہنچنے پر میدان ارتداد میں مدافعت کا ابتدائی نقشہ یہ ہو گیا امیر المجاھدین کے ساتھ صوفی محمد ابراہیم صاحب بی۔ ایس سی اور خواجہ علام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل نے آگرہ میں کام شروع کیا۔ مولانا جلال الدین صاحب شمس آگرہ اور دوسرے علاقوں میں مباحثوں اور تقریروں کے لئے مقرر ہوئے۔
    ضلع آگرہ کے موضع کھڈوائی میں مولوی ظفر اسلام صاحب موضع سکرار میں منشی محمد دین صاحب اور ان کی نگرانی اور نئے حالات سے تبلیغی مرکز میں اطلاع دینے کی خدمت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحبؓ قادیانی کے سپرد ہوئی۔ ضلع متھرا میں (جو اس وقت آریوں کا بھاری مرکز تھا) حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب‘حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ‘میاں خدا بخش صاحب مومن‘چوہدری بدر الدین صاحب‘چوھدری عبدالسلام صاحب کاٹھ گڑھی‘صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز‘حضرت قاضی محمد عبداللہ بی۔ اے۔ بی۔ ٹی اور شیخ یوسف علی صاحب بی۔ اے پہلے ہی نو گائوں‘پرکھم‘موضع بھائی‘موضع باٹھی‘موضع تیرہ اور موضع بیری وغیرہ میں کام کر رہے تھے۔
    ضلع فرخ آباد میں ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم تھے اور ان کے تحت حضرت سید عزیز الرحمن صاحب اور دوسرے متعدد مجاہدین قائم گنج‘علی گڑھ و قنوج‘برون‘چھٹرمئو‘محمد آباد اور منگھوالی میں مصروف جہاد تھے۔ ضلع ایٹہ کے قصبات و مواضع (دھومٹری‘بھوپت پور اور کاس گنج) میں مولوی عبدالخالق صاحب اور مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی فاضل وغیرہ نے مورچے سنبھالے۔ ریاست بھرت پور‘ضلع علی گڑھ‘ضلع مظفر گڑھ اور ضلع اٹاوہ میں بالترتیب مولوی عبدالصمد صاحب پٹیالوی۔ شیخ ابراہیم علی صاحب۔ منشی عبدالسمیع صاحب کپورتھلوی اور ہادی علی خان صاحب اور ان کے ساتھ دوسرے مجاہدین کا تقرر ہوا۴۶۔
    ۴/ اپریل ۱۹۲۳ء کو قادیان سے مجاہدین کا تیسرا وفد بھی۴۷ جو بائیس افراد پر مشتمل تھا راتوں رات ہدایات لے کر ۷/ اپریل کو میدان عمل میں پہنچ گیا۔ اس وفد میں دوسرے احباب کے علاوہ حضرت مولوی محمد حسین صاحب‘حضرت چوہدری برکت علی صاحب گڑھ شنکر‘حضرت مولوی حکیم غلام محمد صاحب امرتسری‘قریشی محمد حنیف صاحب میر پوری اور عبداللہ خانصاحب (خلف حضرت خان صاحب ذوالفقار علی صاحب بھی شامل تھے۔ اس وفد کی آمد پر زور شور سے تبلیغی جنگ لڑی جانے لگی۔
    اسی دوران میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے افسر صیغہ انسداد ارتداد ملکانہ حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے ساتھ آگرہ تشریف لے گئے۴۸`۴۹ اور بچشم خود اصل حالات کا مشاہدہ کرکے اور مبلغین کو ضروری اور مناسب ہدایات دے کر ۲۳/ اپریل ۱۹۲۳ء کو واپس تشریف لائے۔ آپ کے تاثرات یہ تھے کہ ’’یہ ایک عظیم الشان جنگ تھی۔ جس کا محاذ قریباً ایک سو میل کی وسعت پر پھیلا ہوا تھا اور اس وسیع محاذ پر اسلام اور کفر کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل پر تخت یا تختہ کے عزم کے ساتھ ڈیرہ جمائے پڑی تھیں‘‘۵۰۔
    آگرہ‘متھرا کے اضلاع اور ریاست بھرت پور میں شدھی کا حملہ بہت سخت تھا۔ مگر امیر وفد المجاہدین نے دور اندیشی کی کہ جن علاقوں میں آریہ ابھی پہنچے نہیں تھے یا ان کا زور کم تھا وہاں مجاہدین کو پیش قدمی کا حکم دے کر قبضہ کر لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے گائوں ارتداد سے بچ گئے۵۱body] ga[t۔
    ۱۶/ اپریل ۱۹۲۳ء کو قادیان سے انیس مجاہدین کا چوتھا وفد جو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی امارت میں روانہ ہوا جو حضرت شیخ صاحب موصوف‘حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی‘مرزا مہتاب بیگ صاحب مولوی محمد اسماعیل صاحب (برادر اکبر حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری) اور حضرت منشی قاسم علی خاں صاحب رامپوری وغیرہ اصحاب پر مشتمل تھا۵۲۔ ۱۸/ اپریل ۱۹۲۳ء کو آگرہ پہنچا۔ اس وفد کے پہنچنے پر میدان جہاد میں کام کرنے والوں کی مجموعی تعداد سو کے قریب ہو گئی۔ اس کے بعد ایسا انتظام کیا گیا کہ بیک وقت ایک ایک سو آنریری مبلغ اس علاقہ میں کام کرتے تھے ایک دستہ فارغ ہوتا تھا تو اس کی جگہ دوسرا وفد پہنچ جاتا تھا۵۳۔
    اگلے وفدوں میں آنے والے بعض اصحاب کا نام بالترتیب یہ ہے۔ چوہدری غلام احمد صاحب کریام۔ شیخ فضل احمد صاحب ہیڈ کلرک راولپنڈی (حال ربوہ`) محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب لاہور (سابق جج ہائیکورٹ مغربی پاکستان`) جناب میاں عطاء اللہ صاحب (بی۔ اے ایل ایل بی لاہور سابق امیر جماعت راولپنڈی مقیم کینیڈا`) چوہدری احمد دین صاحب (وکیل گجرات`) میاں فضل کریم صاحب بی۔ اے‘(مرزا) عبدالحق صاحب لاہور (حال امیر صوبائی و صدر نگران بورڈ`) شیخ محمود احمد صاحب پلیڈر کپور تھلہ‘بابو غلام رسول صاحب ریڈر سیشن کورٹ پشاور‘سید فضل الرحمن صاحب فیضی کمرشل ہائوس منصوری‘حضرت میر مہدی حسین صاحب‘حضرت مولوی حکیم قطب الدین صاحب قادیان‘حافظ ملک محمد صاحب پٹیالوی‘حضرت منشی فرزند علی خان صاحب‘ملک عزیز محمد صاحب پلیڈر ڈیرہ غازی خان‘حضرت مولوی محمد عبداللہ صاحب سنوریؓ۔
    حضرت مولوی محمد حسین صاحب کے نہایت ایمان افروز چشم دید اور خودنوشت حالات
    حضرت مولوی محمد حسین صاحب وہ خوش نصیب بزرگ ہیں جنہیں پہلی بار ۴۔ اپریل ۱۹۲۳ء کو مجاہدین کے تیسرے وفد میں جانے کی سعادت نصیب ہوئی بلکہ بعد ازاں میں کیا عرصہ مربی
    ملکانہ کی حیثیت سے شاندار خدمات کی توفیق ملی آپ اپنی کتاب ’’میری یادیں‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’شردھانند آریہ نے آگرہ سے غالباً یہ اشتہار دیا کہ اگر آریہ سماج چار لاکھ روپیہ اکٹھا کرکے مجھے بھیج دیں تو میں ساڑھے چار لاکھ ملکانہ مرد وزن بچوں کو آریہ بناسکتا ہوں۔ جب یہ اشتہار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں پہنچا تو حضور کو سخت قلق ہوا اور آپ نے وہ اشتہار خطبہ جمعہ میں پڑھ کر سنایا اور اعلان کیا کہ ہماری جماعت اب میدان میں نکلے اور تین ماہ خدا تعالیٰ کی خاطر وقف کرے اور اپنے ہی کرایہ اور کھانے کے بندوبست پر یوپی کے علاقہ جہاں بھی اس کا تعین کیا جائے رہ کر ان لوگوں کو دین
    ‏rov.5.22,a
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا دسواں سال
    حق سے اچھی طرح وابستہ کرے۔ چنانچہ جو لوگ اس کام کے لئے تیار ہوں وہ بہت جلد اپنی درخواستیں بھیج کر جانے کے لئے تیار رہیں۔ حضور کا یہ اعلان سنتے ہی سینکڑوں مخلصین نے درخواستیں دیں۔ میں نے بھی والد صاحب سے اجازت لے کر درخواست دے دی۔ میری اس درخواست کا سن کر والدہ صاحبہ بہت گھبرائیں کیونکہ کسی عورت نے بتا دیا تھا کہ جہاں یہ لوگ جائیں گے وہاں ہندوئوں سے جھگڑے ہوں گے اور وہاں ہندو کثرت سے ہیں۔ نامعلوم یہ کہاں مارے جائیں۔ عورتوں کے دل کمزور ہوتے ہیں۔ اسی لئے آپ بھی گھبرا گئیں۔ میں نے آپ کو بڑی محبت سے سمجھایا کہ خدا نے اس جگہ سے ہمیں بچائے رکھا جہاں ہم گورنمنٹ کی نوکری میں صرف جنگ کرنے کے لئے ہی گئے تھے اور یہ تو خدا تعالیٰ کا کام ہے وہ خود ہی ہماری حفاظت کرے گا۔ آپ بالکل فکر نہ کریں اور ہر نماز میں دوسری دعائوں کے ساتھ دین حق کی فتح کی دعا بھی کرنا شروع کردیں۔ قادیان سے ۱۲ مارچ ۱۹۲۳ء کو پہلا وفد برائے سروے حضور نے روانہ فرمایا۔ حضور اور دیگر احباب کثرت سے ڈلہ کے موڑ تک وفد کو روانہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔ وہاں ایک کنویں کے نزدیک تمام احباب اکٹھے ہوگئے۔ حضور نے مختلف نصیحتیں کرنے کے بعد ایک لمبی دعا کروا کر وفد کو روانہ کیا اور اس وقت تک وہیں کھڑے رہے جب تک وفد کے احباب جاتے ہوئے دکھائی دیتے رہے۔ جب یہ وفد آنکھوں سے اوجھل ہوا تو حضور نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ ہم بھی آپ کے ہمراہ واپس آگئے۔ اس وقت میرے دل میں بہت جوش اٹھا کہ کاش میں بھی اس جانے والے وفد کے ہمراہ ہوتا۔ واپس قادیان آکر غمگین دل کے ساتھ دوبارہ کام شروع کردیا۔ بالاخر ۲۴ مارچ ۱۹۲۳ء کو دوسرا وفد جانے کی افواہ سنی۔ بڑی خوشی ہوئی کہ اب میرا نام بھی اس وفد میں ضرور آجائے گا۔ میں نے فہرست میں اپنے نام کی تسلی کرنے کے لئے کوشش کی تو جواب ملا کہ آپ تسلی سے اپنا کام جاری رکھیں۔ جب آپ کا نام آئے گا تو روانگی سے ایک دن قبل آپ کو اطلاع کردی جائے گی۔ ۲۳ مارچ کا دن بھی آگیا مگر شام تک مجھے کوئی اطلاع نہ ملی اور اگلے دن صبح یہ اعلان ہوگیا کہ آج بعد دوپہر دوسرا وفد روانہ ہوگا۔ چنانچہ پہلے وفد کی روانگی کی طرح اب بھی ہم حضور کے ہمراہ اسی جگہ تک گئے اور نصائح کے بعد دعا کے ساتھ وفد کو روانہ کیا۔ میرا نام وفد میں نہ آنے کی وجہ سے سخت اضطراب کی حالت میں رہا اور پھر تنگ آکر میں نے حضور کی خدمت میں ایک درخواست لکھی کہ اگر حضور نے مجھے تیسرے وفد میں بھی نہ بھیجا تو میں بیمار ہوجائوں گا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے میری التجا سن لی اور مجھے اطلاع ملی کہ کل مورخہ ۴ اپریل ۱۹۶۳ء کو تیسرے وفد کے ہمراہ جانے کے لئے تیار رہیں اور کل دس بجے اپنا مختصر سامان‘کھانا اور کپڑے وغیرہ ہمراہ لیکر دفتر تشریف لے آئیں۔ یہ سن کر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اگلے دن مع سامان اور ساٹھ روپے نقد لے کر دفتر پہنچ گیا۔ وہاں سے سرٹیفکیٹ ملا کہ ’’حامل سرٹیفکیٹ جماعت احمدیہ ضلع گورداسپور پنجاب کا بونافائڈ مشنری ہے۔ اسے ہر جگہ جانا پڑے گا اور ضرورت کے مطابق لباس بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔ اس لئے گورنمنٹ اسے مشتبہ نظر سے نہ دیکھے وغیرہ وغیرہ۔
    مورخہ ۴۔ اپریل ۱۹۶۳ء کو دفتر سے فارغ ہونے کے بعد وفد کے سب اصحاب جو تعداد میں پچیس کے قریب تھے اکٹھے ہوئے اور ہمیں حضور اور دیگر افراد جماعت کثرت سے ڈلہ کے موڑ تک الوادع کرنے گئے۔ حضور نے حسب معمول نصائح فرمائیں اور اعلان کیا کہ جس کو نئی بستی میں داخل ہونے کی دعا یاد ہے وہ گاڑی میں ہی سب احباب کو حفظ کرا دے مجھے اور عبدالرحیم صاحب کو یہ دعا یاد تھی چنانچہ ہم نے سب کو یاد کروانے کا اقرار کیا۔ حضور نے بعد دعا و معانقہ ہمیں رخصت کیا۔ ہم پیدل ہی جارہے تھے اور بار بار مڑ کر پیچھے دیکھ لیتے تھے۔ حضور بھی اس وقت تک کھڑے ہمیں دیکھتے رہے جب تک ہم انہیں دکھائی دیتے رہے۔ ہم تیزی کے ساتھ چلتے رہے۔ عصر کی نماز قصر کرکے ہم نے نہر کے کنارہ پر نماز باجماعت ادا کی اور مغرب کے بعد بٹالہ پہنچے۔ رات کو بٹالہ سے بذریعہ گاڑی روانہ ہوئے اور اگلے دن بعد دوپہر آگرہ پہنچے۔ وہاں چوہدری فتح محمد صاحب سیال امیر تھے۔ انہوں نے ہمارے لئے حلقوں کا انتخاب کیا۔ جو لوگ مجھ سے واقف تھے وہ مجھے اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ آخر بابو جمال الدین صاحب جو ایڈیٹر ’’نور‘‘ محمد یوسف صاحب کے سسر تھے انہوں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ میں عمر رسیدہ ہوں اس لئے آپ مولوی محمد حسین کو میرے ہمراہ کردیں۔ چوہدری صاحب نے منظور کرلیا۔ ہمیں ضلع ایٹہ ملا اور عبدالرحمان صاحب قادیانی ہمیں ہمارے حلقہ میں پہنچانے کے لئے ہمراہ چل دیئے۔ کاسکنج پہنچنے کے بعد بذریعہ لاری ایٹہ پہنچے۔
    چونکہ ہم رات کے وقت ایٹہ پہنچے تھے اس لئے رہائش کے لئے سرائے تلاش کرنے لگے۔ ایک آدمی سے سرائے کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ آپ آباد سرائے میں جائیں گے یا غیر آباد میں؟ ہم نے کہا آباد سرائے میں تو وہ بیچارہ ہمیں راستہ بتا کر کہنے لگا کہ وہاں روشنی ہورہی ہوگی اور آپ آسانی سے وہاں پہنچ جائیں گے۔ جب ہم چند قدم ہی آگے بڑھے تو مجھے خیال آیا کہ اس آباد اور غیر آباد سرائے کے بارے میں معلوم کرنا چاہئے۔ چنانچہ واپس آکر دریافت کی تو معلوم ہوا کہ آباد سرائے میں ہر قسم کی بازاری عورت مل جائے گی اور غیر آباد میں نہیں ملے گی۔ میں نے لاحول پڑھا اور ہنستے ہنستے عبدالرحمان صاحب کو آواز دی کہ ذرا ٹھہر جائیں اور انہیں سارا حال سنایا۔ وہ بھی لاحول پڑھ کر ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ شکر ہے کہ آپ کو یہ بات بروقت سوجھ گئی ورنہ صبح کو ہماری بڑی بدنامی ہوتی۔ غرضیکہ ہم غیر آباد سرائے میں چلے گئے۔ صبح اٹھ کر نماز وغیرہ پڑھی اور بعد دعا بذریعہ یکہ ڈھمری روانہ ہوگئے۔ ظہر کے وقت علی گنج کی تحصیل میں ایک گائوں ’’گڑھی‘‘ تھا جو پختہ سڑک کے کنارہ پر تھا وہاں پہنچے۔ بھائی عبدالرحمان صاحب نے ہمیں سڑک پر ہی اتار دیا کہ آپ اس گائوں میں جہاں چاہیں ڈیرہ لگا لیں میں اب واپس جاتا ہوں۔ خدا حافظ کہہ کر اسی یکہ پر واپس روانہ ہوگئے۔ ہم اپنا سامان اٹھا کر اسی گائوں کی ایک چھوٹی سی پختہ بیت میں پہنچے۔ چھوٹے چھوٹے بچے جن کی زبان سے ہم واقف نہ تھے ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے۔ ’’ارے یہ کوہ ہے؟‘‘ یعنی یہ کون ہے؟ تھوڑے دیر کے بعد ایک معمر آدمی جس کا نام ممتاز علی خان تھا آیا۔ اس نے بڑی عمدہ سلیس اردو میں ہمارے ساتھ مہذبانہ طریق سے بات کی۔ ہمیں اس سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ وہ تعلیم یافتہ آدمی تھا۔ ہم نے اسے اس ملک میں آنے کی غرض بتائی۔ وہ سن کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ میں پہلے آپ کے کھانے کا انتظام کر آئوں پر بیٹھ کر باتیں کریں گے۔ بابو صاحب کہنے لگے کہ مولوی صاحب میں تو اب یہیں رہوں گا آپ کوئی اور گائوں قریب ہی تلاش کرلیں۔ میں نے کہا بہت اچھا۔ انشاء اللہ تعالیٰ میں بھی کوئی گائوں تلاش کرلوں گا۔ آپ بے فکر رہیں۔ رات کو کافی دوست اکٹھے ہوگئے۔ میں نے ان سے اردگرد کے دیہات کا پتہ لیا۔ ان سے قسم قسم کی باتیں کرکے ان سے تعلقات پیدا کئے۔ وہ لوگ مجھ سے زیادہ مانوس ہوگئے کیونکہ بابو صاحب کم گوتھے اور مجھے باتیں کرنے کا شوق پرانا تھا۔ رات کے بارہ بجے مجلس برخواست ہوئی۔ میں نے کچھ طالب علم بھی بابو صاحب کو مہیا کردیئے۔ صبح کے وقت میں نے نماز پڑھائی جس میں دو تین مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی۔ دن کے دس بجے میں اپنا بستر اور دیگر سامان اٹھا کر وہاں سے روانہ ہوا۔ ابھی دو میل کے قریب ہی سفر کیا تھا ایک گائوں میں بیت نما بوسیدہ سا مکان دیکھا۔ میں نے ایک مقامی دوست سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ ملکانہ مسلمانوں کا گائوں ہے۔ اور اس کا نام نگلہ گھنو ہے۔ میں اس بوسیدہ سے مکان میں پہنچا۔ اس میں محراب بھی بنا ہوا تھا اور فرش پر گھاس اگا ہوا تھا۔ وہیں میں نے اپنا ڈیرہ جما لیا۔ وہاں پانی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ میں اکیلا ہی بیٹھا رہا۔ کسی قسم کی کوئی گھبراہٹ نہ تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک معمر سی عورت آئی۔ میں نے السلام علیکم کہا۔ اس نے کہا بیٹے جیتے رہو۔ تم کہاں سے آئے ہو اور کیا کام ہے۔ میں نے اپنی آمد کی غرض بتائی کہ آریوں سے اس قوم کو بچانے کے لئے ہمارے پیارے امام نے ہمیں قادیان سے بھجوایا ہے۔ تفصیل سے باتیں بتائیں تو وہ بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی کہ یہاں کے لوگ بہت جاہل ہیں ان سے گھبرا نہ جانا۔ میں نے کہا اماں جی اگر یہ لوگ‘ہمارے بھائی‘جاہل نہ ہوتے تو آریہ ان پر حملہ کیوں کرتے۔ وہ یہ کہتے ہوئے چلنے لگی کہ میں آپ کے لئے ’’ستوا‘‘ یعنی ستو لاتی ہوں۔ میں نے کہا اماں جی آپ کا شکریہ۔ میرے پاس ستو بھی ہے اور بھنے ہوئے چنے اور جو موجود ہیں آپ کوئی تکلیف نہ کریں۔ ہمیں حضرت صاحب کا حکم ہے کہ اپنا ہی کھانا ہے کسی کو اس کی تکلیف نہیں پہنچانا۔ وہ بڑے اصرار کے بعد لے ہی آئی اور کہنے لگی بیٹا تین دن تک تو مہمان رہ کر حق رکھتے ہیں پھر چوتھے دن خود انتظام کرلینا۔ اس معمر خاتون کا نام ممتاز بیگم تھا اور یہی اس گائوں میں نماز و روزہ سے واقف تھی۔ باقی سب اسلام کی تعلیم سے ناواقف تھے۔ اس کی زرعی زمین کافی تھی لیکن بوجہ بیوہ ہونے کے مزارعان بددیانتی کرلیا کرتے تھے۔ اس کی دو شادی شدہ بیٹیاں تھیں اور ایک لڑکا نصیر الدین خان تھا جو مڈل پاس تھا۔ میرا پہلے دن ہی ان سے تعارف ہوگیا تھا۔ میں نے ظہر کی اذان کہی۔ بعض لوگ اذان سن کر آئے اور مجھے مل کر چلے گئے۔ رات کے وقت مائی جی ہی کھانا لے آئی اور میں نے اپنا سامان ان ہی کے گھر رکھ دیا۔ خود میں چوپال یعنی ایک مشترکہ مکان ہوتا ہے جس میں ہر گھر کی ایک چارپائی موجود رہتی ہے اور سب گھروں کے مہمان کھانا وغیرہ کھا کر رات وہیں آکر بسر کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسافر ہو تو اس کا کھانا بھی چوپال میں ہی آجاتا ہے۔ رات کو یہ سب لوگ میرے اردگرد جمع ہوگئے۔ نمبردار بھجو خان اور وہاں کا رئیس مظفر خان اس کا والد جان محمد خان‘دلاور خان‘خیراتی خاں‘میاں خاں‘منشی خاں‘عثمان خاں‘نتھو خاں‘نور محمد خاں اور افضل خاں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے ان سے تعلقات پیدا کرنے کے لئے ایک دلچسپ کہانی سنائی کیونکہ وہ لوگ کہانیوں کے بہت شوقین تھے۔ صبح کے وقت گائوں میں چرچا ہوگیا کہ ’’ارے پنجابی مولبی صاحب تو غجب کی کہانی کاہت ہیں‘‘ یعنی پنجابی مولوی صاحب تو غضب کی کہانی کہتے ہیں۔ میں بھی دن بھر اس قسم کی کہانیاں گھڑتا رہتا تھا جس سے دین حق کے ساتھ محبت بھی پیدا ہو اور دلچسپ بھی ہو۔ غرضیکہ تین چار دنوں میں وہ لوگ میرے ساتھ مانوس ہوگئے۔ میں نے آہستہ آہستہ اردگرد کے دیہات کا دورہ کرنا شروع کردیا اور آریوں کے تعلقات اور آمدورفت کا پتہ رکھا۔
    مجھے نگلہ گھنو میں رہتے ہوئے پانچواں ہی دن تھا کہ ٹھاکر گردندر سنگھ آریہ اپدیشک وہاں آگیا۔ اس گائوں میں ہندو ٹھاکروں کے دو ہی گھر تھے اور ایک گھر بنئے کا تھا مگر یہ سب لوگ میرے واقف ہوچکے تھے۔ اس آریہ ٹھاکر نے آکر ان لوگوں کو آریہ بن جانے کی پرزور تحریک کی اور ان کے جذبات کو بہت بھڑکایا اور ان میں ایک خون‘ایک تمدن اور ایک لباس اور ایک ہی قسم کی زبان ہونے اور اعتقاد میں ذرا سا اختلاف ہونے پر انہیں متحد ہونے کی ہدایت کی۔ میں خاموشی سے ان کی ساری باتیں سنتا رہا۔ جب وہ اپنی بات ختم کرچکا تو میں نے کہا ٹھاکر صاحب آپ نے متحد ہونے کی تحریک کی ہے میں نے اس سے بہت اچھا اثر لیا ہے اور ہم سب لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام لوگوں کا ایک ہی خون ہے ایک ہی خوراک ہے ایک ہی آنے کا راستہ ہے اور ایک ہی جانے کا راستہ ہے لباس بھی سب پہنتے ہیں اور غذا بھی سب کھاتے ہیں۔ زمین بھی سب کی ایک ہے اور آسمان بھی سب کا ایک ہی لیکن جس طرح ہم سب کی شکلیں جداگانہ‘عقلیں جداگانہ‘علم جداگانہ اور اعتقاد بھی جداگانہ ہیں لیکن بعض باتوں میں ہم سب ایک جیسے ہیں اور بعض میں مختلف ہیں اسی طرح نباتات‘جمادات اور حیوانات کا حال ہے۔ درخت کا لفظ تو سب کے لئے بولا جاتا ہے مگر کوئی کیکر ہے تو کوئی ڈھاک ہے‘کوئی شہتوت یا آم ہے تو کوئی نیم ہے غرضیکہ نام کا اشتراک ہے مگر تاثیرات اور فوائد سب ایک ہیں مگر ہم سب کے اعتقادات جو الگ الگ قائم ہوچکے ہیں اگر ہم کوشش کریں تو یہ ایک ہوسکتے ہیں اور یہ کوشش اسی طرح ہوسکتی ہے کہ آپ اپنے آریہ عقائد بیان کریں ہم سن کر ان پر غور کرتے ہیں۔ اگر وہ ہمارے دین حق سے اچھے ہوئے تو ہم ان کو قبول کرلیں گے۔ پھر میں اپنے ناقص علم کے ساتھ اسلامی عقائد و اخلاق بیان کروں گا۔ پھر آپ ان پر غور کریں پھر ان دونوں میں جو اچھے ہوں گے ان پر ہم دونوں اکٹھے ہوجائیں گے۔ سارے مجمع نے اس بات کو بہت پسند کیا مگر ٹھاکر صاحب نے کہا کہ آپ سے ہماری کوئی بات نہیں ہے۔ آپ پنجابی ہیں۔ میں تو اپنی برادری کو اپنے ساتھ ملا کرجائوں گا۔ میں نے کہا ہم سب مہادیو یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اس وجہ سے آدمی کہلاتے ہیں۔ اس لئے سب برادری ہیں۔ جب خدا کا بنایا ہوا سورج ساری دنیا کے کام آتا ہے‘اس کی ہوا‘پانی‘آگ‘چاند‘ستارے آسمان اور زمین غرضیکہ اس کی بنائی ہوئی ہر چیز دنیا کے کام آتی ہے تو خدا کا دین بھی ایک ہونا چاہئے اور اس وقت ضرورت بھی ساری دنیا میں ایک ہی دین کی ہے تاکہ جس طرح سب کے جسم ایک جیسے ہیں‘اعتقاد بھی ایک جیسا ہو اور آپس میں مستقل اتحاد پیدا ہوجائے۔ اگر ہر برادری کا مذہب علیحدہ علیحدہ ہو تو پھر دن رات جھگڑے ہی ہوتے رہیں گے۔ ٹھاکر صاحب بولے کہ دنیا میں جس طرح پہلے دن سے ایک ہی سورج چلا آرہا ہے اسی طرح دنیا میں ابتدائی کتاب وید مقدس چلی آرہی ہے اگر اس پر تمام دنیا ایمان لے آئے تو سب جھگڑے آج ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ میں نے ٹھاکر کا شکریہ ادا کیا کہ آخر آپ نے بھی محسوس کرہی لیا کہ میرا بیان کرنا صحیح تھا مگر ٹھاکر صاحب آپ نے میرے پہلے بیان پر غور نہیں کیا کہ بعض باتیں تو سب کی مشترک ہیں لیکن بعض میں تبدیلی ضروری ہے۔ مثلاً بارش بھی ابتدائے زمانہ سے چلی آرہی ہے۔ مگر ہمیں اس کی ہر وقت ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ہمیں کسی وقت اس کی ضرورت ہے تو کسی وقت دھوپ کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ پہلی جماعت کا قاعدہ صرف پہلی جماعت کے لئے ہی ہوتا ہے۔ لیکن اس کے حروف ساری کتابوں میں استعمال ہوتے ہیں اور طالب علم کی استعداد کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی کتابیں بھی بدلتی جاتی ہیں۔ اسی طرح بچپن میں بھی ہمیں لباس ہی پہنایا جاتا تھا مگر اب جوانی میں ہم وہ لباس نہیں پہن سکتے کیونکہ ہم بڑے ہوچکے ہیں۔ اسی طرح اگر ابتداء میں وید تھا تو وہ ابتدائی قاعدہ کی طرح تھا۔ اب جب کہ دنیا کی استعداد بڑھ چکی ہے تو انہیں اب مکمل کتاب کی ضرورت تھی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ کتاب قرآن کریم ہے۔ جیسے جوان آدمی کے ناپ کے کپڑے بڑھاپے تک کام میں آتے ہیں اسی طرح قرآن کریم اب قیامت تک کام دینے کا دعویدار ہے مگر وید میں ایسا کوئی دعویٰ نہیں ہے کہ میں ساری دنیا کے لئے کامل کتاب ہوں۔ جب وید دعویدار ہی نہیں تو مدعی سست گواہ چست والا معاملہ آپ نہ کریں۔ ٹھاکر صاحب بولے آپ ہماری باتوں میں دخل نہ دیں۔ یہ پنجاب نہیں کہ دھنیا‘جولاھا‘لوہار‘ترکھان سب ایک ہی ہوں۔ ہم راجپوت ہیں اور مسلمان بادشاہوں نے ان ہمارے بھائیوں کے بزرگوں کو پتاشے کھلا کر مسلمان کرلیا تھا اور ہم لوگوں نے بھی سستی کی کہ انہیں منہ نہ لگایا۔ اب ہم نے تہیہ کرلیا ہے کہ ہم انہیں اپنے ساتھ ملا کر رہیں گے خواہ ان کے پائوں پکڑنا پڑیں یا ان کے آگے ہاتھ جوڑنا پڑیں۔ میں نے کہا ٹھاکر صاحب میں بھی آپ کا خونی رشتہ دار ہوں اور پنجابی ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔ پنجاب میں گائوں کے گائوں راجپوتوں کے آباد ہیں اور میں خود بھی راجپوت کھوکھر ہوں۔ کوئی بھٹی ہیں کوئی چوہان راٹھور ہیں۔ رھا دھنیا‘جولاہا‘تیلی و موچی وغیرہ تو یہ سب ہندوئوں سے ہی ہمارے ہاں مسلمان ہوئے ہیں اور ادھر بھی موجود ہیں۔ مسلمان بھی ہیں اور ہندو بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ آپ ان ہندوئوں کو جو چمار‘بھنگی‘تیلی و لوہار ہیں کمی (کمین) جان کر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ہم لوگ ان کے مسلمان ہوجانے پر اور صاف رہنے کی وجہ سے ان سے نفرت نہیں کرتے کیونکہ یہ سب پیشوں کے نام ہیں اور پیشوں کے بغیر دنیا کا کام چل ہی نہیں سکتا۔ اس لئے وہ لوگ ہمارے مددگار ہیں۔ کسی بات میں ہم ان کے اور کسی بات میں وہ ہمارے محتاج ہیں۔ اناج حاصل کرنے کے لئے اگر وہ ہمارے محتاج نہیں تو جوتا‘تیل اور صفائی رضائی کے لئے ہم ان کے محتاج ہیں۔ اس لئے میں نے بتایا تھا کہ وید ابتدائی قاعدہ ہے۔ یہ ساری دنیا میں محبت واتحاد نہیں پیدا کرسکتا اور اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو ان کی شرن میں آجائے اس کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے۔ ٹھاکر صاحب بولے ہماری مقدس گائے کھانے والے لوگوں سے ہمارا اتحاد نہیں ہوسکتا اور یہ کہ ہم گائے کھانے والوں کو چیر کر رکھ دیں گے۔ ہمارا راجپوتی خون اب جوش میں ہے۔ جو ہمیں ماں کی طرح میٹھا میٹھا دودھ پلاتی ہے یہ ڈشٹ مسلمان اس کو ذبح کردیتے ہیں اور اس کا سرتن سے جدا کردیتے ہیں۔ چونکہ وہ راجپوت مسلمان بھی گائے کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس لئے ٹھاکر صاحب نے ان کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کی۔ جب وہ ذرا خاموش ہوا تو میں نے کہا ٹھاکر صاحب آپ تو غصہ میں آگئے۔ حالانکہ اپدیشک کا یہ فرض ہے کہ اپنے علم سے محبت کے ساتھ برے فعل کی برائی اور بھلے کام کی بھلائی بیان کرے پبلک کو سوچ بچار کا موقع دے۔ اس جگہ کس نے گائے کو تکلیف دی ہے کہ آپ خواہ مخواہ اپنے اور دیگر دوستوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔ آپ کے اس رویے سے مجھ پر کوئی اچھا اثر نہیں ہوا بلکہ یہی معلوم ہوا کہ آپ اپنے مذہب کی کوئی خوبی بیان نہیں کرسکتے بلکہ ایک ایسی طرح ڈالنا چاہتے ہیں جس سے آپ کی کمزوری پر پردہ پڑا رہے۔ میں بھی جذبات کو بھڑکا کر لڑائی کراسکتا ہوں مگر ہمارا دین حق سلامتی کا مذہب ہے۔ یہ جنگ کو روکنا اور صلح کو قائم کرنا چاہتا ہے۔ ٹھاکر صاحب بولے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اسلام تو پھیلا ہی جنگ سے ہے۔ مسلمان چور اور ڈاکو بن کر لوگوں کو لوٹتے رہے ہیں میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوا ہے اور ہمارے پاس ساری کتابیں موجود ہیں آپ کی کیا طاقت ہے کہ میری باتوں کا جواب دے سکو اور اگر کھجلی ہورہی ہو تو میں بھی اتارنے کے لئے تیار ہوں۔ بتائو کیا مرضی ہے۔ اس کی یہ باتیں سن کر تین چار آدمیوں نے ارادہ کیا کہ اس ٹھاکر کو دو چار رسید کرکے مزا چھکایا جائے اور بعض ٹھاکر صاحب سے لڑنے بھی لگے۔ میں نے بڑی محبت سے انہیں روکا اور کہا کہ جس طرح میں آپ کا مہمان ہوں بھائیو اسی طرح ٹھاکر صاحب ہمارے مہمان ہیں۔ ہمارا دین حق ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر کوئی تمہارا مہمان بھی غلطی کرے تو تمہارا یہ فرض ہے کہ تم اسے معاف کردو اور اکرام ضیف کو ملحوظ رکھو۔ میری یہ بات سن کر ٹھاکر صاحب بھی شرمندہ ہوئے اور انہوں نے محسوس کیا کہ اس پنجابی کی ان لوگوں میں مجھ سے زیادہ عزت ہے۔ خیر اب وہ صحیح راستے پر آگیا تھا۔ میں نے کہا ٹھاکر صاحب نے یہ دو الگ الگ سوال کئے ہیں۔ پہلا گائے کے متعلق ہے کہ مسلمانوں نے گائے پر ظلم کیا ہوا ہے اور دوسرا یہ کہ دین حق تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ میں ان دونوں سوالات کے جوابات علیحدہ علیحدہ دیتا ہوں۔ (۱) ہم سب مسلمان دودھ دینے والے سب جانوروں کی خدمت کرتے ہیں۔ چاہے گائے ہو یا بکری‘بھینس ہو یا اونٹنی ہم سب کو چارہ بھی ڈالتے ہیں اور راتب بھی کھلاتے ہیں۔ اس کی بچپن ہی سے نگہداشت کرتے ہیں مگر ہم ان تمام جانوروں کو اپنا خادم سمجھتے ہیں نہ کہ بزرگ۔ ان میں سے جو دودھ نہ دے یا بانجھ ہو جائے تو اسے ہندو اور مسلمان دونوں قصابوں کے پاس فروخت کرآتے ہیں تو یہ کوئی اعجوبہ نہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ میٹھا دودھ دینے کی وجہ سے وہ ماں ہے تو پھر ٹھاکر صاحب آپ یہ بتائیں کہ کیا بھینس‘اونٹنی اور بکری وغیرہ کا دودھ کڑوا ہوتا ہے؟ جب ان کا دودھ بھی میٹھا ہے تو گائے اگر ماں ہے تو بھینس نانی ہوئی اور بکری بہن ہوئی تو پھر ان کی عزت ہندوئوں کے دلوں میں کیوں نہیں ہے؟ اس کی وجہ اب ٹھاکر صاحب ہی بتائیں گے کہ ایسا کیوں نہیں ہے؟ (۲) ہر مذہب میں ماں باپ کی ایک جیسی عزت کرنے کا حکم ہے تو پھر ہمارے یہ ہندو بھائی کیا ظلم کرتے ہیں کہ گائے ماں کو مقدس جان کر اتنی زیادہ عزت کرتے ہیں کہ ایسی عزت نہ کرنے والوں کو چیر کر رکھ دینے کو تیار ہیں مگر اپنے باپ بیل کو ہل میں جوتنا یا ان کی مدد سے کنواں چلانا‘گاڑی کھینچنا‘کولہو چلانا‘اس پر بوجھ لادنا اور ذرا سی کوتاہی پر مار مار کر فنا کردینا اور ہر وقت اس پر مصیبت کھڑی رکھنا اور ذرا بھی عزت نہ کرنا حالانکہ اس بات کی کوشش سے ہی گائے دودھ دینے کے قابل اور ماں بنی تھی۔ (۳) اگر گائے ماں کا ہی مقام رکھتی ہے جو انہیں بچپن میں دودھ پلاتی ہے تو پھر اس کے مرنے پر وہ کیوں چماروں کے حوالے کرکے اس کی کھال اترواتے ہیں اور اس کے گوپر اوپلے اور پیشاب سے چننا متر بناتے ہیں اور اس کی کھال کے جوتے پہنتے ہیں۔ یہ سب تقدیس کے دعوے ان کی ان حرکات سے باطل ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے صرف ہندوئوں کو مسلمانوں سے دور رکھنے کے لئے یہ ایک جذباتی طریق اختیار کیا ہوا ہے۔ (۴) اگر ناکارہ بھینس‘بکری‘اونٹنی بھیڑ وغیرہ ذبح کئے جائیں اور ان کے مرنے پر ہی چمڑہ میسر آتا ہو تو پھر پانچ صد روپے کا بھی جوتا نہیں مل سکتا اور لوگ دھوپ اور سردی میں ننگے پائوں ہی چلیں اور ہر وقت کانٹے ہی نکالتے رہیں۔
    (۶) دوسرا سوال کہ دین حق تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ ٹھاکر صاحب نے کرکے راجپوتوں کی سخت توہین کی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی تلوار سے ڈر کر اپنا آبائی مذہب جھٹ تبدیل کرلیا مگر چمار‘بھنگی‘تیلی وغیرہ تلوار سے نہ ڈرے اور انہوں نے اپنا مذہب تبدیل نہ کیا۔ کیا آپ راجپوتوں کی یہی بہادری ظاہر کرتے پھر رہے ہیں کہ راجپوت اتنے ڈرپوک اور بھوکے تھے کہ جب انہیں تلوار اور پتاشے دکھائے گئے تو جھٹ ڈر کر اور میٹھی چیز دیکھ کر مسلمان ہوگئے۔ ٹھاکر صاحب آپ نے تو تاریخ دان ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اب آپ بتائیں کہ جب حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اس ہندوستان میں درویشی کی حالت میں آئے تھے تو ان کے ہاتھ میں کون سی تلوار تھی اور ان کے ہمراہ کونس سی فوج تھی؟ ہاں بزرگی‘نیکی‘تقویٰ‘طہارت‘خوش اخلاقی‘دلائل‘عبادت‘ریاضت‘شرافت اور تبلیغ کی تلوار تھی جس نے راجہ اور پرجا کو ان کے سامنے جھکا دیا اور لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہوگئے ورنہ جب مسلمان بادشاہ اکبر تخت نشین ہوئے تو ان کی بیوی جودہ بائی تھی اور وہ تمام عمر بت پرستی کرتی رہی اور ہندو ہی رہی۔ اور اسے جبراً مسلمان نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ دین حق میں جبر نہیں ہے۔ بلکہ ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کا سبق دیا جاتا ہے۔ دین حق ہمیشہ اپنی صداقت اور خوبیوں سے پھیلا ہے۔ آپ آج بھی قادیان جاکر دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے ہندو اور سکھ ¶مسلمان ہوچکے ہیں۔ اب تو مسلمانوں کے ہاتھ میں دین حق پھیلانے کے لئے تلوار نہیں ہے اور نہ اس سے قبل ہی دین حق تلوار سے پھیلا۔ البتہ اتنا ضروری ہے کہ جس نے تلوار سے دین حق کو مٹانے کی کوشش کی اسے تلوار ہی سے روکا گیا۔ اب آپ دلائل سے بات کریں انشاء اللہ دلائل سے ہی جواب دیئے جائیں گے۔ اس وقت کافی رات گزر چکی تھی مگر مرد بدستور چوپال میں اور عورتیں مکانوں کی چھتوں پر بیٹھی تھیں اور سب میرے جواب کے منتظر رہتے تھے۔ ٹھاکر صاحب بولے کہ آپ کے عرب والے نبی نے نو (۹) عورتوں کے ساتھ شادی کیوں کی؟ جب کہ امت کے لئے چار ہی جائز قرار دیں۔ اس کی کیا حکمت ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ عرب کے لوگ بھی ہندوئوں کی طرح بت پرست تھے اس وقت نہ تو کوئی اصول اور نہ کوئی شریعت تھی۔ جس طرح آج پٹیالہ کے ہندو راجہ نے دو سو سے زیادہ بیویاں رکھی ہوئی ہیں اسی طرح عرب کے لوگ اس وقت سو سو بیویاں رکھ لیتے تھے۔ جب حضرت نبی کریم~صل۱~ نے نویں شادی کی تو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا کہ اور شادی نہیں کرنا اور نہ ان میں سے ہی کسی کو چھوڑنا ہے۔ چونکہ نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہوتی ہیں اس لئے ان میں سے کسی کو بھی علیحدہ نہیں کرنا اور ساتھ ہی مومنوں کے لئے حکم دے دیا کہ تم چار تک اپنے خیالات کے مطابق شادیاں کرسکے ہو اور اگر تمہیں لڑائی جھگڑے کا خوف ہو تو ایک ہی شادی رہنے دو۔ اگر رسول پاک~صل۱~ کسی بیوی کو چھوڑ دیتے تو وہ ماں کی صورت میں کہاں جاتی جب کہ منوشاستری میں بھی یہی لکھا ہے کہ گرو کی بیوی ماں ہوتی ہے۔ ٹھاکر صاحب کہنے لگے کہ میں اب سمجھ گیا ہوں۔ میں نے کہا کہ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ہمارے آقا نے تو نو شادیاں کرکے اپنے حسن و اخلاق اور سلوک کا یہ نمونہ دکھایا کہ کسی ایک بیوی کو بھی کسی جگہ ناانصاف کہنے کا موقع نہیں ملا۔ حضور کے نیک سلوک کا ان کے دلوں پر اتنا اثر تھا کہ ایک دفعہ حضور~صل۱~ کے پاس مال غنیمت بکثرت پہنچا۔ یہ دیکھ کر بعض بیویوں کے دلوں میں خیال پیدا ہوا کہ اب موقع ہے کہ ہم آپ سے اچھے لباس اور زیورات کا مطالبہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے سامنے اپنی دلی کیفیت کا اظہار کیا۔ حضور~صل۱~ کو اللہ تعالیٰ نے جواب میں بتایا کہ اے نبی اپنی ان بیویوں سے کہہ دو کہ میں تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق زیورات اور لباس بنوا دیتا ہوں مگر پھر تم میرے پاس نہیں رہ سکتیں یعنی علیحدہ ہونا پڑے گا۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کو اور مجھے پسند کرتی ہو تو پھر تم اس خواہش کو ترک کردو۔ یہ سن کر سب نے یہ جواب دیا کہ ہم اپنی اس خواہش کو قربان کرتی ہیں ہمیں صرف آپ~صل۱~ کی اور اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ الفاظ معمولی نظر آتے ہیں مگر جب مستورات کی حالت اور خواہشات کو سامنے رکھ کر غور کیا جاتا ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی بیویوں کے ایسا کہنے سے آپ کے اعلیٰ اخلاق کا ان کے قلوب پر کتنا گہرا اثر تھا حالانکہ ان کا مطالبہ بھی جائز تھا لیکن انہوں نے کسی قسم کی بحث نہیں کی اور اپنے مطالبہ کے مقابل پر اپنے خدا اور اس کے رسول کا ساتھ نہ چھوڑا۔ مگر یہ اعتراض کرنے والے ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر تو دیکھیں۔ کہ ان کی ایک بیوی بھی جسے اولاد نہ ہو گیارہ مردوں سے نیوگ کرسکتی ہے۔ کتنی شرم کی بات ہے۔ پس معلوم ہوا کہ عرب کا ایک آدمی نو یا گیارہ بیویاں سنبھال سکتا تھا مگر ان آریوں کی ایک بیوی گیارہ مردوں کو سنبھال سکتی ہے۔ اگر یہ لوگ اس قسم کے اعتراض نہ کریں تو اور کیا کریں کیونکہ یہ کام ان کی طاقت سے باہر ہے۔ ٹھاکر صاحب یہ الفاظ سن کر چیخ اٹھے کہ یہ ہندو دھرم کی توہین کی ہے۔ میرے پاس حوالہ موجود تھا میں نے فوراً ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ نکال کر اسے دکھا دی۔ وہ بہت شرمندہ ہوا۔ رات کا پچھلا پہر تھا۔ مباحثہ ٹھاکر صاحب کے ان الفاظ پر ختم ہوا کہ صبح دس بجے اب میں اعتراض کروں گا یہ کہہ کر ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ قادیانی تلوار سے ہی قابو آئیں گے یہ علم سے قابو میں نہیں آسکتے۔ میں نے کہا اس شعر کا جواب آپ کو انشاء اللہ کل ہی دیا جائے گا۔ غرضیکہ سب مردوزن اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ میں اکیلا ہی دیا جلا کر بیٹھ گیا اور خیال کیا کہ اس کے بے تکے شعروں کا جواب بھی اگر بے تکے اشعار میں ہی دیا جائے تو اثر اچھا رہے گا اور خدا کا نام لے کر لکھنے بیٹھ گیا۔ فجر کی نماز تک میں نے اپنے ناقص علم کے مطابق ستر (۷۰) اشعار بنائے۔ جو شعر مجھے اس وقت یاد ہیں تحریر کردوں گا باقی سب ریکارڈ قادیان میں رہ گیا تھا۔ خیر فجر کی نماز کے لئے بیت پہنچا۔ وہاں ایک فقیر طبع آدمی جسے ہم میاں صاحب کہا کرتے تھے اس علی نامی تھا۔ وہ میرا بہت گرویدہ ہوچکا تھا۔ وہ بھی رات کو گفتگو کے اختتام پر ہی سویا تھا۔ اسے بیدار کیا اور اذان کہلوائی۔ بعدہ دونوں نے نماز باجماعت ادا کی۔ باقی لوگوں نے ہم سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ ہم جمعہ سے نمازیں پڑھنا شروع کردیں گے۔ نماز کے بعد دعا اور قرآن کریم پڑھ کر سوگیا۔ جب حضور ہمیں الوداع کہنے کے لئے ڈلہ موڑ تک تشریف لائے تھے تو اس وقت یہی نصیحت کی تھی کہ ’’کثرت سے دعائیں کرنا‘نماز کے بعد تسبیح و تحمید کرنا اور خدا کو ہی قادر مطلق جاننا اور صرف اور صرف اس کی ذات پر بھروسہ کرنا۔ کیسی بھی مخالفت ہو گھبرانا نہیں بلکہ میدان میں شیر بننا۔ مخالف چاہے کتنا بڑا عالم ہو اسے معمولی سمجھنا اور نڈر ہوکر اسے جواب دینا۔ اپنے علم اور عقل پر بھروسہ نہ کرنا۔ ہر وقت خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنا۔ تلاوت قرآن پاک باقاعدہ کرنا۔ ہر ایک کو دوست بنانے کی کوشش کرنا۔ خوش اخلاقی کو اپنا شعار بنانا تہجد پڑھنے کی کوشش کرنا۔ مخالف کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا۔ ملکانونکی اچھی طرح سے تربیت کرنا اور دین حق کا پابند کرنے کی کوشش کرنا۔ دین حق کی انہیں خوبیاں بتاتے رہنا اور خود بھی کتب کا مطالعہ کرتے رہنا۔ سب سے خندہ پیشانی سے پیش آنا اور دل و جان سے سب کا ہمدرد بننا۔ جائو خدا تعالیٰ حافظ و ناصر ہے۔ آمین ثم آمین‘‘ میں بیدار ہوکر دوبارہ بیت پہنچا۔ لوگ بھی بصد شوق آئے ہوئے تھے اور مختلف قسم کی باتوں میں مصروف تھے کوئی کہتا کہ ’’مولبی کا بہت مجہ آیو‘ٹھاکر سیدھو سادھو معلوم ہوت ہے پر رات کو تو غجب کردیو تھو‘‘ غرضیکہ قسم قسم کی باتیں ہورہی تھیں۔ رات والی بڑھیا پہنچ گئی اور کہنے لگی کہ مولوی بیٹا اللہ آپ کو بہت عمر دے۔ یہ ٹھاکر بڑا آریہ تھا اس کی خوب رات کو خبرلی ہے۔ گائوں کے سب مرد اور عورتیں کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں اتنا بڑا اور کوئی مولوی نہیں ہے۔ ہم تو اب اپنے بچوں کو اس سے پڑھوائیں گے۔ میں نے اپنے پیارے خدا کا شکر ادا کیا۔ ادھر ملکانہ لڑکے مقامی ہندو ٹھاکروں کو بتا رہے تھے کہ کیوں بھئی رات کو آریہ کا تماشا دیکھا کہ ’’ایک جورو اور گیارہ مرد‘‘۔ وہ ٹھاکر یہ سن کر کہتے کہ یہ آریہ بہت گندے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد ٹھاکر گردندر سنگھ اور بہت سا لوگوں کا ہجوم پہنچ گیا۔ سارا میدان شائقین سے بھر گیا۔ میں نے سب بھائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رات کو ٹھاکر صاحب نے کسی گم نام آریہ کے دو شعر سنائے تھے کہ ان قادیانیوں کو قتل کردو‘باتوں میں کامیابی مشکل ہے۔ میں نے ان کے شعروں کا جواب اشعار میں ہی دینے کا وعدہ کیا تھا۔ کیا وہ پہلے سنا لوں یا پہلے دوسری باتیں ہونی چاہئیں۔ ان میں مسئلہ نیوگ‘جونیں بدلنا وغیرہ سب کچھ بیان کردیا۔ اس کے ابتدائی شعر یہاں سے شروع ہوتے ہیں۔ ~}~
    کیا ڈراتے ہو ہمیں کہ مار دیں گے جان سے
    کیا ڈرا کرتے ہیں وہ جو عبد ہیں رحمان کے
    ہم تو مر اس دن گئے تھے جب ہم گھر سے چل پڑے
    اے سفیہہ کیا ہے تو واقف احمدی ایمان سے
    مرنا بہتر ہے ہمارا زندہ رہنا اور بھی
    گرچہ تم نے دیکھنا ہو مار دو تم جان سے
    پر عورتوں میں بیٹھ کر للکارنا اچھا نہیں
    سامنے مردوں کے آ اور جیت لے میدان سے
    نیوگ کا مسئلہ لئے پھرتے ہو تم در بدر
    آفریں اس وید پر اور اس کی اعلیٰ شان کے
    کتے کتیا کھیلتے تھے ایک دن مندر کے پاس
    آریہ ان کو بلاتے تھے بڑوں کے نام سے
    ہیں بزرگ یہ سب ہمارے آج قسمت سے ملے
    ہم کھلائیں گے انہیں بھوجن بڑے آرام سے
    یہ صرف چودہ مصرعے ہیں کل ستر مصرعے تھے جن میں پورا مضمون تناسخ‘جون بدلنا اور پھر کسی بھی عبادت یا عمل سے بخشش نہ ہونا درج تھا۔ میں کوئی شاعر نہیں‘نہ قابلیت ہی ہے مگر ملکانوں نے خوب مزے لے لے کر بار بار انہیں سنا تھا۔ ٹھاکر صاحب نے یہ اشعار سن کر جھٹ کہہ دیا کہ میں اس قسم کا آریہ نہیں ہوں۔ میں نے کہا کہ پھر آریوں کی قسمیں ہوئیں۔ کوئی پنڈت دیانند کو سچا جاننے والا جبکہ آپ اسے جھوٹا بتا رہے ہیں کیونکہ پنڈت صاحب نے تاکید کی ہوئی ہے کہ جس طرح شادی بیاہ ہے اسی طرح نیوگ ہے مگر جو بیاہ سے پیدا ہوں ان کا اظہار تو بڑی خوشی سے کیا جاتا ہے مگر جو نیوگ سے پیدا ہوتے ہیں آپ ان کی کوئی فہرست نہیں دکھا سکتے تو معلوم ہوا کہ یہ معیوب چیز ہی ہے۔ ٹھاکر صاحب کہنے لگے کہ مسلمانوں میں بھی عیب ہیں۔ ان کے ہاں بھی بہت بازاری عورتیں موجود ہیں۔ میں نے کہا ٹھاکر صاحب یہ کوئی قومی یا مذہبی اعتراض نہیں ہے۔ ہم نے تو مذہبی گفتگو کرنا ہے۔ ہمارا دعوٰی ہے کہ دین حق ایک عالمگیر مذہب ہے۔ اس کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ ایسا فعل کیا جائے بلکہ ایسا فعل کرنے والے کی دین حق نے بہت سخت سزا رکھی ہوئی ہے۔ یعنی سو ۱۰۰ کوڑوں کی سزا۔ کسبی شخص کا یہ فعل کرنا شخصی جرم ہے مذہبی نہیں۔ دوسرا ایسی بدکار عورتوں کا ہندوئوں کے بازار میں بیٹھنا بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ مسلمان ایسی بدکار عورتوں کو اپنے محلے میں رہنا بھی پسند نہیں کرتے بلکہ ایسی عورتیں ہندوئوں کے بازار میں آجاتی ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں بھی نیوگ کی تعلیم ہے اس لئے یہ بازار بھی برا نہیں منائیں گے۔ میں نے سوال کیا کہ ٹھاکر صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پچھلے جنم میں آپ کیا تھے اور پھر کیا آپ اچھے کام کرکے اپدیشک آدمی بنے ہیں۔ ٹھاکر صاحب نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ میں کسی بڑے پنڈت کو لیکر کسی وقت اسی جگہ آئوں گا اور پھر آپ کی تسلی ہوجائے گی۔ میں نے کہا کہ آپ نے اپنے ذمہ بہت سا قرض چڑھا لیا ہے۔ کیا آپ پنڈت کو لے کر آنے کی کوئی تاریخ بتا سکتے ہیں تاکہ میں بھی اس دن اسی گائوں میں موجود رہوں۔ ٹھاکر صاحب بولے میں آپ کو بذریعہ چٹھی (خط) اطلاع دے دوں گا۔ میں نے کہا آپ کا شکریہ ٹھاکر صاحب جان چھڑا کر ایسے رفو چکر ہوئے کہ بعد میں نہ تو کوئی خط ہی ملا اور نہ خود ہی کبھی دکھائی دیئے۔ مجھے یہ فائدہ پہنچا کہ ہمارے ملکانے بھائیوں کو کئی باتوں کا علم ہوگیا اور ان کو مجھ سے اور زیادہ محبت پیدا ہوگئی۔ بعدہ وہاں کے نوجوانوں نے مجھ سے پڑھنے کا اصرار کیا۔ میں نے ہاتھ سے ادب لکھ کر پڑھانا شروع کردیا۔ پھر قادیان چٹھی لکھی کہ دو درجن قاعدے یسرنا القرآن بھجوا دیں۔ چنانچہ بیس شاگردوں کو قاعدہ پڑھانا شروع کیا۔ آہستہ آہستہ چھوٹی بچیوں نے بھی آنا شروع کیا اور میں نے ان کو بھی قرآن پڑھایا۔
    نگہ گھنو میں جے پور کے رہنے والے ایک غیر احمدی دوست چوہدری نذیر احمد صاحب ایڈووکیٹ میرے کام کا معائنہ کرنے کے لئے آئے تھے۔ جو اکثر احمدیوں کا کام دیکھ کر یہی کہا کرتے تھے کہ دین حق تو صرف احمدیوں ہی کے پاس ہے اور یہی آریوں کا مقابلہ بھی کرتے ہیں ان کے برعکس دیوبندی وغیرہ سب ’’کلی توڑ‘‘ ہیں یعنی کوئی کام نہیں کرسکتے۔ ایک دن بعد نماز فجر یہی وکیل صاحب اچانک بذریعہ یکہ چوپال پہنچ گئے۔ میں اس وقت بچوں کو قرآن کریم پڑھا رہا تھا اور سب بچے بڑے زور شور سے پڑھ رہے تھے۔ میں نے ان سے ملاقات کی۔ وہ جان محمد خان صاحب رئیس اور بھجو خان صاحب نمبردار کو لیکر علیحدہ چلے گئے اور ان سے کچھ باتیں دریافت کیں اور پھر واپس آکر میرے ساتھ باتیں کرنے لگے۔ کہنے لگے مجھے ازحد خوشی ہوئی ہے۔ میں آپ کے کام اور اخلاق کے بارے میں آپ کی عدم موجودگی میں بھی اچھی تحقیق کرچکا ہوں اور آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اور پوچھنے لگے کہ آپ کے پاس کیا کوئی کاپی ہے؟ میں نے انہیں کاپی دی۔ انہوں نے اس پر لکھ دیا کہ میں فلاں تاریخ کو نگہ گھنو میں اچانک پہنچا اور مکرم مولوی محمد حسین صاحب کا کام دیکھ کر اور اہل دیہہ سے حالات دریافت کرکے مجھے اتنی خوشی ہوئی جو بیان سے باہر ہے۔ اس علاقہ کے لئے مولوی صاحب نہایت موزوں ہیں اگر کچھ عرصہ یہ ان لوگوں میں مزید رہیں تو یہاں کے رہنے والوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوں گے۔ اہل دیہہ ان سے بہت خوش ہیں۔ میں مولوی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مبارکباد دیتا ہوں۔ اگر اسی طرح مستعدی سے کام ہوتا رہا تو بچے تعلیم حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے‘‘۔ والسلام نذیر احمد وکیل جے پور ۲۳~/~۵~/~۲۱ حال نگلہ گھنو۔ میں نے اس سرٹیفکیٹ کی ایک نقل آگرہ روانہ کردی۔ بعدہ اردگرد کے دیہات لوہاری‘گوھیٹہ‘مہیکہ‘جہوڑا‘مجہولہ‘نگلہ امرسنگھ‘گڑھی‘دھروی‘علی گنج‘رانی کا رامپور‘بوپارہ وغیرہ کا دورہ کرنا شروع کردیا۔
    لوہاری گائوں میں ہمارے ایک مبلغ مولوی عبدالخالق صاحب بڑے محنت سے کام کررہے تھے۔ وہ ان دنوں احمد نگر ضلع جھنگ کے صدر ہیں۔ انہوں نے مجھ سے مشورہ کئے بغیر دیوبندیوں سے مناظرہ مقرر کرلیا۔ مقررہ تاریخ پر کافی مولوی صاحبان لوہاری پہنچ گئے اور ہماری طرف سے مولوی جلال الدین صاحب شمس‘مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی‘سیٹھ خیر الدین صاحب آف لکھنئو‘قاضی عبدالرحیم صاحب اور اسلم صاحب آف فرخ آباد۔ غرضیکہ کافی احباب پہنچ گئے۔ مجھے مناظرہ کی شرائط طے کرنے کے لئے بھیجا گیا۔ میری واپسی پر مناظرہ کا آغاز ہوا۔ حیات و ممات مسیح پر دیوبندیوں نے شور مچانا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ ان قادیانیوں کا علاج صرف ڈنڈا ہے اور کسی طریق سے ان کا علاج نہیں ہوسکتا۔ میرے گائوں کے لوگ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اگر علم کی بحث کرنا ہے تو مولویوں سے کرو اور اگر کسی سسرے نے ڈنڈا چلانا ہے تو ہم پر چلائے۔ غرضیکہ مناظرہ اسی شور میں بخیر وخوبی ختم ہوگیا۔ فریقین اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ جب اس بات کی اطلاع حضور کو قادیان پہنچی کہ دیو ¶بندیوں نے ہمیں ڈنڈے سے ڈرایا ہے اور مولوی محمد حسین صاحب کے گائوں والوں نے انہیں ایسا جواب دیا ہے تو حضور بہت خوش ہوئے کہ یہ ہمارے مبلغ کے تعلقات کا نتیجہ ہے اور مبلغین کو ہرجگہ ایسا ہی نمونہ اختیار کرنا چاہئے۔ غرضیکہ حضور نے یہ خوشنودی کا اظہار فرمایا میرے وہاں دورے کا تین ماہ کا عرصہ پورا ہوچکا تھا اور منشی عبدالخالق صاحب رخصت پر قادیان جارہے تھے تو بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی مجھ سے کہنے لگے کہ آپ خدا کے لئے دس دن اور وقف کردیں ورنہ یہ حلقہ خالی رہ جائے گا اور دشمن اپنا پروپیگنڈا کرکے لوگوں کو ہمارے خلاف کردے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان مراکز سے ہمیں جواب مل جائے۔ میں نے ان کے کہنے پر دس دن اور وقف کردیئے اور مزید دس دن وہاں گزارے۔ اسی اثناء میں منشی عبدالخالق صاحب قادیان سے میرے پاس نگہ گھنو پہنچے اور کہا آپ واپس جانے کے لئے تیار نہ ہوں۔ حضور کی طرف سے آپ کو کوئی خاص حکم آئے گا۔ کیونکہ آپ کے کام کے متعلق خفیہ خفیہ کچھ درخواستیں حضور کی خدمت میں پہنچی ہوئی ہیں کہ ان کا کام اور اثر بہت اچھا ہے لہذا انہیں ابھی واپس نہ بلایا جائے۔ مجھے آگرہ سنٹر سے بھی چٹھی موصول ہوئی کہ آپ بہت جلد آگرہ پہنچ جائیں تا آپ کو قادیان واپس بھجوایا جاسکے۔ ایک طرف مجھے قادیان جانے کی بہت خوشی تھی اور دوسری طرف ان لوگوں کی محبت کی وجہ سے ان لوگوں سے علیحدہ ہونے کا غم۔ گائوں کے سب مرد اور عورتیں مع میرے شاگردوں کے مجھے رخصت کرنے کے لئے جمع تھے اور رو رہے تھے کہ معلوم نہیں کہ کب ملاقات ہو۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ’’(میری یادیں‘‘ صفحہ ۴۵ تا ۶۷ اشاعت ۱۹۹۴ء)
    ‏rov.5.23
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ دسواں سال
    ایک اہم سرکلر
    (حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نائب ناظر انسداد راجپوتانہ قادیان کے ایک سرکلر کی نقل جو آپ نے ۴/ جون ۱۹۲۳ء کو جاری فرمایا اس سرکلر سے مجاہدین احمدیت کی مشکلات پر روشنی پڑتی ہے۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    ‏]body [tagمکرمی۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ دارالامان سے روانہ ہونے والے آخری وفد کو بالخصوص دارالامان سے روانہ ہونے والے خطوط میں متعدد بار حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی گائوں میں ہمارے مبلغ وارد ہوتے ہیں تو ملکانوں میں سب سے پہلے جو لوگ ان کا استقبال کرتے ہیں اور آریوں سے اپنی بیزاری کا تذکرہ کرتے ہیں وہی آریوں کے ایجنٹ ہوتے ہیں (الا ماشاء اللہ ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ آنے والے مبلغ کو اپنی باتوں میں الجھائے رکھیں اور اس کو یقین دلاتے رہیں کہ تم بے فکر رہو یہاں کوئی شدھی نہیں ہو گا اور کیا مجال ہے جو آریہ یہاں آسکیں۔ ان کی اس قسم کی باتوں کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ مبلغ اپنے علاقہ کو ارتداد کے فتنہ سے محفوظ خیال کر لیتا ہے۔ جس سے اس کی عملی طاقتیں سست ہو جاتی ہیں اور وہ گائوں کے سب لوگوں سے ملنے کی کوشش نہیں کرتا اور وہ لوگ جو اس فتنہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ احمدی مبلغ سے دور رہتے ہیں۔ اس لئے آریوں کا زہر ان پر سے نہیں اتر سکتا۔ اور آریوں کا ایجنٹ مبلغ کو اپنے ساتھ الجھائے رکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب اشدھی کا وقت آتا ہے تو اشدھ ہونے کے لئے سب سے آگے وہی اشخاص ہوتے ہیں جو کہ ہمارے مبلغ سے زیادہ ملنے والے اور ظاہراً اسلام کے حامی نظر آتے ہیں۔
    اس فتنہ کے متعلق حضور نے بار بار اب تک لکھوایا ہے۔ مگر اب تک بہتوں نے آریوں کی اس چالاکی کو نہیں سمجھا اور وہ اب تک آریوں کے ایجنٹ کے فریب سے آگاہ نہیں ہوئے۔ تازہ واقعہ یہ ہے کہ علادل پور کا ایک شخص جس کے باپ کا نام ملتان خان ہے اور اس کا نام ملائم خان آریوں کا ایجنٹ ہے۔ جس کو وہ ۱۵ ماہوار دیتے ہیں۔ اپنے گائوں کے احمدی مبلغ سے اس کے اچھے تعلقات ہیں۔ پہلے آنے والی رپوٹیں بتاتی رہی ہیں کہ اس شخص کو اسلام سے محبت ہے مگر آج ذہلیہ سے اطلاع ملتی ہے کہ یہی ملائم خان ساکن علادل پور ذہلیہ میں گیا اور اپنا نام ملائم سنگھ بتایا اور ہماری اس جگہ کے مبلغ کی سخت مخالفت کرنے لگا۔ اسنے وہاں کے لوگوں کو سخت جوش دلایا اور آریہ ہو جانے کے لئے بڑا زور لگایا اور ان لوگوں پر زور ڈالا کہ ہمارے مبلغ کو اپنے گائوں سے نکال دیں۔
    دوسری مثال یہ ہے کہ چارلی گنج جو بحمداللہ احمدی مبلغوں کے ذریعہ سارے کا سارا ارتداد سے واپس داخل اسلام ہوا ہے۔ جب یہ گائوں مرتد ہوا تھا۔ تو اس وقت چار گھر ظاہراً مسلمان ہی رہے تھے۔ لیکن اب جب چارلی گنج والے دوبارہ داخل اسلام ہوئے تو یہی چاروں گھر جو شدھی سے بچے ہوئے بتائے جاتے تھے اپنے گائوںکو دوبارہ مسلمان ہونے سے روکنے کے لئے لاٹھیاں لے کر باہر نکل آئے۔ یہ واقعہ صاف اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آریہ لوگوں نے بہت سے ملکان کو اپنا ایجنٹ بنایا ہوا ہے۔ جو بظاہر مسلمان ہی رہتے ہیں اور اشدھ نہیں ہوتے۔ مگر اندر ہی اندر لوگوں کو ارتداد کے لئے تیار کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
    پس ہمارے مبلغین کا فرض ہے کہ اپنے اپنے گائوں میں جو لوگ ملکانہ ان کو اپنے گائوں کی حالت سے مطمئن کرانا چاہتے ہوں۔ ان کی باتوں سے خوش ہو کر مطمئن نہ ہو بیٹھیں۔ یہ گائوں کے ہر ایک فرد تک پہنچیں اور اس کا عندیہ معلوم کریں۔ اس کو اسلام پاک سے آگاہ کریں۔ اور محبت اسلام ان کے دلوں میں ڈالیں۔ جب تک ہر ایک فرد سے آپ ذاتی طور پر واقفیت حاصل نہیں کریں گے برخلاف اس کے ایک ہی شخص کو جو آپ سے ملتا ہے اپنے گائوں کی زبان سمجھتے رہیں گے۔ آپ خطرہ سے خالی نہیں۔ ایسے لوگ جو چاہیں آپ کو اطمینان دلائیں۔ مگر آپ لوگ ایک دم کے لئے بھی ان سے غافل نہ ہوں۔ اور کام میں سرگرمی جاری رکھیں۔
    اللہ تعالیٰ دشمن کی چالوں کو سمجھنے اور ان کا تدارک کرنے کی آپ کو توفیق دے۔ آمین ثم آمین۔
    والسلام
    خاکسار: مرزا شریف احمد
    نائب ناظر انسداد ارتداد راجپوتانہ۔ قادیان
    ۴/ جون ۱۹۲۳ء
    نوشتہ سید عبدالرحیم لدھیانوی
    سند خوشنودی
    ’’(سند اظہار خوشنودی‘‘ کا متن جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے تحریک شدھی کے خلاف جہاد میں حصہ لینے والے مبلغین کو واپسی پر عطا کیجاتی تھی۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    سند اظہار خوشنودی
    مکرمی۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ- اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم کے ساتھ اپنا وقف کردہ وقت پورا کرکے آپ واپس آرہے ہیں۔ یہ موقعہ جو خدمت کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے۔ اس پر آپ جس قدر خوش ہوں کم ہے اور جس قدر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں تھوڑا ہے۔ ایسی سخت قوم اور ایسے نامناسب حالات میں تبلیغ کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اور ان حالات میں جو کچھ آپ نے کیا ہے وہ اپنے نتائج کے لحاظ سے بہت بڑا ہے۔ آپ لوگوں کے کام کی دشمن بھی تعریف کر رہا ہے اور یہ جماعت کی ایک عظیم الشان فتح ہے۔ اور میری خوشی اور مسرت کا موجب۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اس کام کو قبول فرمائے۔ میں آپ لوگوں کے لئے دعا کرتا رہا ہوں۔ اور انشاء اللہ دعا کرتا رہوں گا۔
    امید ہے آپ لوگ اس کام کو بھی یاد رکھیں گے۔ جو واپسی پر آپ کے ذمہ ہے۔ اور جو ملکانہ کی تبلیغ سے کم نہیں۔ یعنی اپنے ملنے والوں اور دوستوں میں اس کام کے لئے جوش پیدا کرتے رہنا کیونکہ اس سے بڑی مصیبت اور کوئی نہیں کہ ایک شخص کی محنت آبیاری۔ کسی کمی کے سبب سے برباد ہو جائے۔ مومن کا انجام بخیر ہوتا ہے اور اسے اس کے لئے خود بھی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ آمین۔ والسلام۔
    خاکسار
    (حضرت) مرزا محمود احمد (خلیفتہ المسیح ثانی)
    از قادیان۔ دارالامان۔ پنجاب
    (نوشہ سید عبدالرحیم لدھیانوی)
    مسلمان اور ہندو اخبارات کی طرف سے خراج تحسین
    اگرچہ مورچہ بندی کا ابھی یہ ابتدائی دور تھا مگر اس میں بھی مجاہدین احمدیت نے سرفروشی‘جاں بازی اور فدا کاری کا وہ شاندار نمونہ دکھایا کہ مسلمان ہی نہیں۔ ہندو بھی عش عش کر اٹھے۔
    ۱۔
    چنانچہ اخبار ’’زمیندار‘‘ لاہور (۸/ اپریل ۱۹۲۲ء) نے لکھا۔ ’’احمدی بھائیوں نے جس خلوص‘جس ایثار‘جس جوش اور جس ہمدردی سے اس کام میں حصہ لیا ہے وہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے‘‘۔
    ۲۔ اخبار ’’ہمدم‘‘ لکنھو (۶/ اپریل ۱۹۲۳ء۵۴) نے لکھا۔
    ’’قادیانی جماعت کی مساعی حسنہ اس معاملہ میں بے حد قابل تحسین ہیں اور دوسری اسلامی جماعتوں کو بھی انہی کے نقش قدم پر چلنا چاہئے‘‘۔
    ۳۔ اخبار ’’مشرق‘‘ گورکھپور نے لکھا۔ ’’جماعت احمدیہ کے امام و پیشوا کی لگاتار تقریروں اور تحریروں کا اثر ان کے تابعین پر بہت گہرا پڑتا ہے اور اس جہاد میں اس وقت سب کے آگے یہی فرقہ نظر آتا ہے اور باوجود اس بات کے احمدی فرقہ کے نزدیک اس گروہ نو مسلم کی تائید کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اس فرقہ سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا مگر اسلام کا نام لگا ہوا تھا۔ اس لئے اس کی شرم سے امام جماعت احمدیہ کو جوش پیدا ہو گیا ہے اور آپ کی بعض تقریریں دیکھ کر دل پر بہت ہیبت طاری ہوتی ہے کہ ابھی خدا کے نام پر جان دینے والے موجود ہیں۔ اور اگر ہمارے علماء کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ احمدیہ جماعت اپنے عقائد کی تعلیم دے گی۔ تو وہ اپنی متفقہ جماعت میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا خلوص پیدا کرکے آگے بڑھیں کہ ستو کھائیں اور چنے چبائیں اور اسلام کو بچائیں۔ جماعت احمدیہ کے ارکان میں ہم یہ خلوص بیشتر دیکھتے ہیں۔ دیانت‘ایفاء عہد۔ اپنے امام کی اطاعت۔ پس یہ جماعت فرد ہے۔ جناب مرزا صاحب اور ان کی جماعت کی عالی حوصلگی اور ایثار کی تعریف کے ساتھ مسلمانوں کو ایسے ایثار کی غیرت دلاتے ہیں۔ دیانت اور امانت جو مسلمانوں کی امتیازی صفتیں تھیں آج وہ ان میں نمایاں ہیں۔ جماعت احمدیہ کی فیاضی اور ایثار کے ساتھ ان کی دیانت اور آمد و خرچ کے ابواب کی درستگی اور باقاعدگی سب سے زیادہ قابل ستائش ہے اور یہی وجہ ہے کہ باوجود آمدن کی کمی کے یہ لوگ بڑے بڑے کام کر رہے ہیں۵۵۔
    ۴۔ ’’مسلمانوں کی مذہبی حمیت اور جوش مذہبی کا اندازہ یہ ہے کہ صرف قادیانی جماعت کے ڈیڑھ سو مبلغین تین ماہ تک بغیر کسی معاوضہ کے اور اپنے ذاتی خرچہ پر کام کر رہے ہیں اور دو سو مبلغ آمادہ کار ہیں۔ ان مجاہدین میں زمیندار۔ علماء۔ گریجوایٹ۔ اخبار نویس اور جج شامل ہیں‘‘۵۶
    ۵۔ نذیر احمد خان صاحب وکیل جے پور نے لاہور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔
    ’’قادیان کی احمدیہ جماعت کے ۷۲‘مبلغین کام کر رہے ہیں۔ چوہدری فتح محمد صاحب ایم۔ اے امیر وفد ایک نہایت ہی زیرک‘فہیم‘بردبار‘مدبر اور تبلیغ میں سالہا سال کا تجربہ رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کا انتظام اور نظام ایسے اعلیٰ پیمانہ اور طریق پر ہے کہ تمام مبلغین بھیجنے والوں کو انکا اتباع کرنا چاہئے اور حق یہ ہے کہ جب تک اس جماعت کے قواعد و ضوابط اور ہدایات پر جو ان کو مرکز سلسلہ سے ملتی رہتی ہیں سب مبلغین کاربند نہ ہوں گے کامیابی محال ہے ان احمدی مبلغین کو ہدایت ہے کہ وہ اپنے افسر کی اطاعت ایسی کریں کہ اگر جان جانے کا خطرہ بھی ہو تو بھی حکم بجا لائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس جماعت کے سوا اور کسی فرد کی ایسی اعلیٰ تربیت نہیں۔ نہ سنیوں میں نہ شیعوں میں نہ کسی اور جماعت میں۔ پس میں سچے دل سے مشورہ دیتا ہوں کہ اس اعلیٰ نمونہ کی تقلید سب بھائی کریں اور فائدہ اٹھاویں کہ بغیر اس کے کامیابی محال ہے‘‘۵۷ind] [tag
    ۶۔ اخبار ’’وکیل‘‘ (امرتسر) ۳/ مئی ۱۹۲۳ء نے اپنے اداریہ میں لکھا۔
    ’’احمدی جماعت کا طرز عمل اس بات میں نہایت قابل تعریف ہے جو باوجود چھیڑ چھاڑ کے محض اس خیال سے کہ اسلام چشم زخم سے محفوظ رکھا جائے۔ ان خانہ جنگیوں کے انسداد کی طرف خود مسلمانوں کے لیڈروں کو توجہ دلاتے ہیں اور ہر طرح کام کرنے کو تیار ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم علیٰ وجہ البصیرت اعلان کرتے ہیں کہ قادیان کی احمدی جماعت بہترین کام کر رہی ہے‘‘۵۸
    ۷۔ اخبار ’’نور‘‘ علی گڑھ (۳/ مئی ۱۹۲۳ء) نے لکھا۔
    ’’اب تک جتنی انجمنوں نے اس کارخیر میں قدم رکھا ہے ان میں سے اعلیٰ کام قادیانی جماعت کا ہے‘‘۵۹۔
    اب ہندو اخبارات کی رائے پڑھئے۔
    ۱۔ ’’آریہ پترکا‘‘ (بریلی) نے یکم اپریل ۱۹۲۳ء کی اشاعت میں لکھا۔ ’’اس وقت ملکانے راجپوتوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی پرانی راجپوتوں کی برادری میں جانے سے باز رکھنے کے لئے (یعنی مرتد ہونے سے بچانے کے لئے۔ ناقل) جتنی اسلامی انجمنیں اور جماعتیں کام کر رہی ہیں ان میں سے احمدیہ جماعت قادیان کی سرگرمی اور کوشش فی الواقع قابل داد ہے۶۰۔
    ۲۔ دیو سماجی اخبار ’’جیون تت‘‘ (لاہور) نے لکھا۔
    ’’ملکانہ راجپوتوں کی شدھی کی تحریک کو روکنے اور ملکانوں میں اسلامی موت کا پرچار کرنے کے لئے احمدی صاحبان خاص جوش کا اظہار کر رہے ہیں۔ چند ہفتے ہوئے قادیانی فرقہ کے لیڈر مرزا محمود احمد صاحب نے ڈیڑھ سو ایسے کام کرنے والوں کے لئے اپیل کی تھی جو تین ماہ کے لئے ملکانوں میں جاکر مفت کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ جو اپنا اور اپنے اہل و عیال کا وہاں کے کرایہ وغیرہ کا کل خرچہ خود برداشت کر سکیں۔ اور انتظام میں جس لیڈر کے ماتحت جس کام پر انہیں لگایا جاوے اسے وہ خوشی خوشی کرنے کے لئے تیار ہوں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس اپیل پر چند ہفتوں کے اندر چار سو سے زیادہ درخواستیں ان شرائط پر کام کرنے کے لئے موصول ہو چکی ہیں اور تین پارٹیوں میں ۹۰ احمدی صاحبان آگرہ کے علاقہ میں پہنچ چکے ہیں اور بہت سرگرمی سے ملکانوں میں اپنا پرچار کر رہے ہیں۔ اس نئے علاقہ کے حالات معلوم کرنے کے لئے ان میں سے بعض نے جن میں گریجویٹ نوجوان بھی شامل تھے۔ اپنے بسترے کندھوں پر رکھ کر اور تیز دھوپ میں پیدل سفر کرکے سارے علاقہ کا دورہ کیا ہے۔ اپنے مت کے پرچار کرنے کے لئے ان کا جوش اور ایثار تعریف کے قابل ہے‘‘۶۱۔
    تحریک شدھی اور تحریک خلافت کے لیڈر
    جماعت احمدیہ کے تبلغی جہاد کی ان مہمات کے مقابل تحریک خلافت کے لیڈروں کی بے حسی انتہا تک پہنچی ہوئی تھی اور انہوں نے اس اہم ترین مسئلہ کی طرف سنجیدگی سے توجہ کرنے کی تکلیف ہی گوارا نہیں فرمائی۔ چنانچہ اخبار ’’روزگار‘‘ آگرہ (یکم مئی ۱۹۲۳ء) نے لکھا۔ ’’اس میں شک نہیں کہ جتنے وفد اور جس قدر واعظ اور ہمدردان اسلام کوشاں ہیں ان میں سب سے بڑھا ہوا نمبر جماعت قادیان کا ہے۔ جس کے واعظ ہر قسم کے مصائب اور مصارف برداشت کرکے مصروف کار ہیں بے حد قابل شکر گزاری کے ہیں۔ لیکن افسوس یہ کیسا برتائو ہے کہ فرضی یا اصلی خلافت کے حامیان کی جماعت جو ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی گہری پسینے کی کمائی سے باون لاکھ وصول کرکے ٹھکانے لگا چکی ہے وہ واقعات فتنہ ارتداد دیکھتے ہیں اور خاموش ہیں‘‘۶۲۔
    شدھی اور شیعہ اصحاب
    شیعہ اصحاب فتنہ ارتداد کا مقابلہ کرنے کو کہاں تک اہمیت دیتے تھے اس کا اندازہ شیعہ اخبار ’’در نجف‘‘ (یکم جولائی ۱۹۲۳ء) کے مندرجہ ذیل اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے۔
    ’’ملکانہ راجپوت کے فتنہ ارتداد کو روکنا عبث اور بے فائدہ کوشش ہے۔ ہزاروں روپے کا مفت برباد کرنا ہے‘‘۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ’’فرض کرو اگر وہ مسلمان بھی ہو گئے تو کون مسلمان ہوں گے سنی مسلمان‘پیر پرست‘گور پرست‘اوہام پرست‘تقلید پرست یا غلام احمدی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اللہ جری اللہ مانیں گے یا اہلحدیث جو خدا تعالیٰ کو مجسم قرار دے کر عرش پر بٹھائیں گے اور پنڈلی کا سجدہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ (کے) قدم دوزخ میں ڈالیں گے۔ نیز اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ گفتگو کرکے اس سے مصافحہ و معانقہ وغیرہ کریں گے۔ ملکانہ راجپوت سے زیادہ خطرناک وہ مسلمان ہیں جو دائرہ اسلام میں رہ کر صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں‘‘۶۳۔
    شدھی اور دوسرے مسلمان علماء
    خلافتی لیڈر وغیرہ تو خیر خاموش رہے مگر دوسرے مسلمان علماء نے کس طرح اپنی مخالفانہ سرگرمیوں سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی اس کی تفصیل چوہدری نذیر احمد خاں وکیل جے پوری نے ۳/ اپریل ۱۹۲۳ء کو دہلی کی جامع مسجد میں بیان فرمائی اور کھلے لفظوں میں مسلمانوں کو بتایا کہ۔
    ’’حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے آریوں کے بطلان میں وہ مصالحہ جمع کر دیا ہے اگر اس کو اب استعمال کیا جائے تو یہ لوگ بیخ و بن سے اکھڑ سکتے ہیں۔ لیکن تعجب اور افسوسناک امر تو یہ ہے کہ ہمارے مسلمان علماء ان کی اور ان کی جماعت کی خواہ مخواہ مخالفت کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ لوگ ’’دشمنان اسلام‘‘ کے مقابلہ پر ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو اس میدان میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ میں نہ تو خود احمدی ہوں اور نہ میرا کوئی رشتہ دار احمدی ہے نہ اس ملک کا رہنے والا ہوں جہاں احمدیوں کی آبادی ہے لیکن ان کے کام کے طریق‘ان کی سرگرمی‘ان کے اخلاص‘ان کی تندہی اور جفاکشی سے کام کرنے کی حالت کا اندازہ کرکے مجبور ہوں کہ تمام اہل اسلام سے کہہ دوں کہ وہ ان حضرات کی مخالفت کو چھوڑ دیں۔ ان ہی لوگوں کے اخلاق ایسے ہیں جو جاہل اور اکھڑ ملکانوں کو آریہ ہونے سے باز رکھ سکتے ہیں اس کے برخلاف ہماری انجمنوں کے مبلغین ۵۵ کی تعداد میں وہاں گئے تھے جن میں سے اکثر شب برات کے حلوے کھانے اور عرس کرنے کے لئے واپس آچکے ہیں اور باقی جو ہیں وہ رمضان میں واپس گھر پہنچنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں آپ لوگ خیال کریں ان لوگوں سے کیا امید ہو سکتی ہے؟ اس لئے جو جماعت کام کرتی ہے اس کے رستے سے تمام رکاوٹیں دور کی جائیں‘‘۶۴۔
    رمضان گزرنے کے بعد علمائے کرام پھر میدان ارتداد میں آموجود ہوئے اور آریہ کی بجائے ایک دوسرے سے پھر الجھنے لگے اور خصوصاً احمدیوں کے خلاف تو محاذ قائم کر لیا۔ جس پر اخبار ’’زمیندار‘‘ (۱۷/ مئی ۱۹۲۳ء) نے ’’مجلس نمائندگان تبلیغ‘‘ اور دوسری جماعتوں کو شرم دلائی کہ۔
    ’’اگرچہ سوامی شردھانند آریہ سماجی ہیں لیکن آریہ سماج کی جماعتوں کے علاوہ سناتن دھرم اوجینی وغیرہ بھی ان کے شریک کار ہیں اور آج تک ان لوگوں میں اختلاف کی ایک آواز بھی بلند نہیں ہوئی۔ سناتن دھرم والوں نے کبھی شکایت نہیں کی کہ سوامی شردھانند ملکانوں کو آریہ بنا رہے ہیں۔ پرتاپ‘کیسری اور تیج کے فائل اٹھا کر دیکھئے۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ آپ کو ایک تحریر ایک خبر ایک اطلاع ایک مراسلہ بھی ایسا نہ ملے گا جس سے ہندو مبلغین کا ذرہ برابر باہمی اختلاف ظاہر ہوتا ہے لیکن ’’زمیندار‘‘۔ ’’سیاست‘‘۔ ’’وکیل‘‘ اور دوسرے اسلامی اخبارات کی جلدیں پڑھئے تو آپ پر بار بار اس افسوسناک حقیقت کا انکشاف ہو گا کہ ایک انجمن دوسری انجمن کو حلقہ ارتداد میں کام کرتے دیکھنا گوارا نہیں کرتی۔ خدا کا کام ہے لیکن ہندوئوں نے اسے ذاتی اختلاف اور ذاتی شہرت پسندی کی جولانگاہ بنا رکھا ہے کیا یہ سر پیٹنے کا مقام نہیں۔ ہم ’’مجلس نمائندگان تبلیغ‘‘ اور دوسری تمام تبلیغی انجمنوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر احمدی مبلغین ملکانوں کو احمدی بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو بگڑنے کا کوئی حق نہیں۔ جس طرح آپ ان کو حنفی و اہلحدیث بنانے کا حق رکھتے ہیں احمدی مبلغین ان لوگوں پر اپنا کیش و مذہب پیش کرنے میں آزاد ہیں اور ہندو ہو جانے سے ہزار درجے بہتر ہے کہ ایک مسلمان احمدی ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاسی نقطہ نگاہ سے بھی دیکھ لیجئے۔ اگر چھ لاکھ ملکانے مسلمانوں کی کسی جماعت میں شامل ہو جائیں تو مسلمان شمار کئے جائیں گے۔ لیکن اگر ہندو ہو گئے تو فریق ثانی کی طاقت میں اضافہ کا باعث ہوں گے مسلمانوں کے مقاصد سیاسی کی حفاظت کے دعوی دار بتائیں کہ صواب کی راہ کون سی ہے‘‘۶۵
    اس بروقت انتباہ کے باوجود ان حضرات کے طرز عمل میں ذرہ بھر فرق نہیں آیا۔ بلکہ احمدیوں کی کامیابی پر اور بھی زیادہ سیخ پا ہوئے۔ دراصل یہ بھی آریہ اخبارات کی ایک چال تھی کہ انہوں نے غیر احمدی علماء کو اکسایا‘کہ قادیانی تو ملکانوں کو احمدی بنا لیں گے۔ دوسرے علماء سے احمدی جماعت کے خلاف فتویٰ کفر طلب کرکے شائع کئے گئے اور ملکانوں سے کہا گیا کہ احمدی تو خود بھی مسلمان نہیں تمہیں کیا اسلام سکھائیں گے؟
    اس وقت احمدیوں کے علاوہ ’’جمعیتہ العلماء‘‘۔ ’’رضائے مصطفیٰ‘‘۔ ’’خدام الصوفیہ‘‘ وغیرہ تبلیغ کے لئے پہنچی ہوئی تھیں۔ آریوں کا جادو چل گیا۔ اور یہ سب جماعتیں الا ماشاء اللہ اپنی طاقت و قوت احمدیوں کے خلاف استعمال کرنے لگیں۔ اگر کوئی احمدی مجاہدین کی کوششوں کے نتیجہ میں شدھی سے تائب ہو کر واپس اسلام میں داخل ہوتا تو یہ اصحاب وہان جا کر ملکان سے کہتے کہ قادیانی تو آریوں سے بھی بدتر ہیں۶۶۔ ان کے ذریعہ تم کیوں مسلمان ہوئے؟
    پھر یہ اصحاب اس قدر بے بنیاد الزام لگاتے کہ خدا کی پناہ۔ یہ کہا گیا کہ قادیان میں ایک جھنڈا ہے اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ مرزا صاحب نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے وہ اپنے تئیں (نعوذ باللہ) رسول اللہ~صل۱~ سے افضل سمجھتے ہیں۔ قادیانی پانچ نمازیں نہیں پڑھتے ان کا حج قادیان میں ہوتا ہے۔ یہ گورنمنٹ کے ایجنٹ ہیں اور اس سے روپیہ لیتے ہیں ان کے پاس روپیہ بنانے کی مشین ہے۔ یہ ملکانوں کو روپیہ دے کر اپنے مذہب میں داخل کرتے ہیں۔ یہ لڑکوں کو بھگا لے جائیں گے۔ اب تو بچوں کو پڑھاتے ہیں پھر ان کے اخراجات کا دعویٰ دائر کر دیں گے۔ غرض کہ اس قسم کے مغالطے ملکانوں کو دیئے کہ بس حد ہو گئی۔ اب احمدی مجاہدین کو بیک وقت دو زبردست طاقتوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ آگے آریہ صاحبان اور پیچھے علماء کرام !!۶۷۔
    یہ افسوسناک صورت حال معلوم کرکے مولوی ممتاز علی صاحب ایڈیٹر اخبار ’’تہذیب نسواں‘‘ (لاہور) نے لکھا۔
    ’’میں نے سنا ہے کہ میدان ارتداد میں ہر فرقہ اسلام نے تبلیغ کے لئے اپنے اپنے نمائندے بھیجے ہیں۔ مناسب جانا کہ میں جس گروہ کے مبلغین کو سب سے زیادہ کامیاب دیکھوں ان میں سے ایک اپنے لئے منتخب کر لوں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تبلیغ کے کام میں سب سے زیادہ کامیابی احمدی مبلغوں کو ہوئی ہے اس لئے میں نے سوچا کہ اگر تہذیبی بہنوں کو اعتراض نہ ہو تو وہ ان میں سے کسی ایک مبلغ کا خرچ اپنے ذمہ لے لیں۔ مگر اسی اثناء میں ہمارے علماء نے اعلان شائع کیا کہ احمدی فرقہ کے لوگ سب کافر ہیں اور ان کا کفر ملکانہ راجپوتوں کے کفر سے بھی زیادہ شدید ہے۔ اس زمانہ میں علماء کا یہ کام مسلمان بنانا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو کافر بنانا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دنیا میں ایک بھی ایسا مسلمان نہ ہو گا۔ جس کے متعلق سب علماء دین بالاتفاق یہ کہہ سکیں کہ واقعی یہ ٹھیک مسلمان ہیں۔ ہمارے علماء سے جسے چاہو کافر بنوالو۔ وہابی کافر‘بدعتی کافر‘رافضی کافر‘خارجی کافر۔ لیکن اگر ان سے چاہو کہ چند کافروں کو مسلمان بنا دو۔ تو یہ کام ان سے نہیں ہو سکتا‘‘۶۸۔
    اسی کی تائید میں جناب عبدالمجید صاحب سالک اپنی کتاب ’’سرگزشت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ۔
    ’’ملکانہ راجپوتوں میں انسداد ارتداد اور تبلیغ اسلام کا کام شروع ہوا۔ بریلوی‘دیوبندی‘شیعہ‘احمدی‘لاہوری احمدی۔ میر نیزنگ کی جمعیتہ تبلیغ الاسلام کے مبلغ غرض ہر فرقے اور ہر جماعت کے کارکن آگرہ اور نواحی علاقوں میں پھیل گئے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ مل جل کر اسلام کی خدمت کرتے لیکن ان جماعتوں نے وہاں آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔ صرف احمدی مبلغین تو کچھ کام کرتے تھے اور باقی تمام فرقوں کے لوگ یا آپس میں مصروف پیکار تھے یا احمدیوں کے خلاف کفر کے فتوے شائع کرتے تھے‘‘۶۹۔
    جمعیتہ العلماء دہلی کی طرف سے احمدیوں کو دھمکی
    اسی پر اکتفا نہ کرتے ہوئے ’’جمعیتہ العلماء‘‘ دہلی نے احمدیوں کو تباہ کرنے کی بھی دھمکی دے دی۔ چنانچہ شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کا چشم دید بیان ہے کہ ’’جب میں ملکانہ میں کام کرتا تھا تو چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے مجھے حکم دیا کہ دہلی جائیں اور مولوی کفایت اللہ صاحب اور مولوی احمد سعید صاحب وغیرہ جمعیتہ العلماء کے علماء سے ملیں۔ اور اطلاع دیں کہ آپ کے فلاں مبلغ ملکانوں کو تبلیغ اسلام کرنے کی بجائے ان کو ہمارے خلاف بہکا رہا ہے۔ میں ان کی خدمت میں پہنچا تو غالباً مولوی احمد سعید صاحب نے میری عرض داشت پر جو کہا اس کا مفہوم یہ تھا کہ میں مدد کرتا ہوں۔ مگر میں ایک بات سنائے دیتا ہوں کہ جب یہ ملکانہ کا قضیہ ختم ہو جائے گا تو پھر ہم آپ کی جماعت کا مقابلہ کریں گے اور پیس کر رکھ دیں گے۔ یہ کہہ کر ساتھ ایک آدمی کر دیا کہ فلاں مولوی صاحب کے پاس لے جائیں یہ مولوی صاحب جو نوجوان تھے اور مولوی کفایت اللہ صاحب اور مولوی احمد سعید صاحب کے ماتحت کام کرتے تھے۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے کہ ہماری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ لوگ کیسے کام کر رہے ہیں۔ ہم اپنے آدمیوں کو تنخواہیں ہی نہیں سفر خرچ بھی دیتے ہیں اور بھی ان کی خاطر مدارت کرتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ بھاگ آتے ہیں۔ مگر آپ نے کیا روح پھونک دی ہے کہ ڈٹ کر دشمنوں کا مقابلہ کر رہے ہیں‘‘۷۰
    ’’انجمن نمائندگان تبلیغ‘‘ کی مزاحمت اورحضرت چوہدری فتح محمد صاحب کی غیرت دینی
    جیسا کہ اوپر جمعیتہ العلماء کا بطور مثال ذکر کیا گیا ہے بعض مستثنیات کے سوا علماء کے سب طبقے اجتماعی صورت میں احمدیوں کی مخالفت کررہے تھے۔ حتیٰ کہ ’’انجمن نمائندگان تبلیغ‘‘ بھی جسے
    بالکل غیر جانبداری سے کام کرنا چاہئے تھا وہ بھی مزاحمت کرنے لگی چنانچہ جناب شیخ محمد احمد صاحب (ایڈووکیٹ لائلپور) اس صورت حال کا تذکرہ کرتے اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی غیرت دینی کا ایک اہم واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔
    ’’تمام علاقے میں ہنگامے برپا تھے۔ ہر طرف رواروی اور ہماہمی تھی۔ اگر آج چوہدری صاحب موضع پرکھم میں ایک مسجد کی بنیاد رکھ رہے ہیں تو کل موضع اسپار میں مرتد ملکانوں کی اسلام میں واپسی کی تقریب پر شاداں و فرحاں احباب سمیت جا رہے ہیں۔ اور اس طرح شب و روز فرائض منصبی میں بشاشت سے منہمک ہیں اور اس مشکل ترین فرائض کا ایک پہاڑ سر پر اٹھایا ہوا ہے اور امام کے اشارات و ہدایات کے مطابق چلے جا رہے ہیں اور الا مام جنہ یقاتل من ورائہ کا منظر ہے۔ بعض اور انجمنیں بھی علاقہ ارتداد میں کام کر رہی تھیں یا کام بگاڑ رہی تھیں اور کبھی کبھی بلاوجہ محض حسد کی راہ سے ہمارے کام میں روک بن جاتی تھیں۔
    اسی قسم کا ایک واقعہ خاکسار کے رو برو پیش آیا۔ ’’انجمن نمائندگان تبلیغ‘‘ نے بذریعہ ایک کارکن ہمارے کام میں دراندازی کی۔ چوہدری صاحب مرحوم کو علم ہوا تو بپھرے ہوئے شیر کی مانند اس انجمن کے دفتر میں آئے۔ خاکسار ہمراہ تھا پھر وہاں جو واقعہ پیش آیا سننے اور سمجھنے کے قابل ہے اور میرے روزنامچے میں بہ الفاظ ذیل درج ہے۔
    ’’۲۳/ اگست ۱۹۲۳ء۔ امیر صاحب کی معیت میں نمائندگان تبلیغ کے دفتر میں گئے قریب سوا آٹھ بجے (شب) ان کے دفتر میں پہنچے۔
    نذیر احمد خاں وکیل جے پوری جو فتنہ ارتداد کے دوران میں معروف ہو چکے ہیں۔ وہاں موجود تھے اور آج ہی مہاسبھا بنارس سے واپس آئے تھے۔ اس کے متعلق اپنے دفتر کے کلرک کو کچھ مضمون وہاں کی کارروائی کے متعلق لکھوا رہے تھے۔ بدیں پیرایہ کہ والیان ریاست کی طرف سے ایک ہزار نمائندے شریک تھے۔ پنڈت مالویہ نے پرزور تحریک شدھی کے حق میں کی کہ خواہ کھان پان نہ ہو۔ لیکن بھنگیوں چماروں تک کو کنوئوں سے پانی بھرنے‘مندروں میں درشن وغیرہ کی اجازت ضرور دی جائے پنڈت لوگوں نے مخالفت بھی کی لیکن مالویہ کے آگے ان کی پیش نہ گئی اور بالاخر یہ پاس ہو گیا۔ مارواڑی کروڑ پتی اور دور دراز کے نمائندے شریک تھے راجہ بھرت پور کی حسن کارکردگی کا خصوصاً اعتراف کیا گیا۔
    اس کے بعد وکیل صاحب موصوف نے نوٹ لکھوایا کہ میرا یہ خیال ہے کہ اگر ہندوستان کی کل جماعتیں ایک شخص کے ماتحت ہو کر کام نہ کریں گی تو ۱۹۲۳ء میں دو کروڑ نفوس مرتد ہو جائیں گے اور ہمیں مخاطب کرکے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو اجمل خاں‘محمد علی‘شوکت‘کچلو وغیرہ تمام مسلمان لیڈروں کو کہتا کہ لیڈری کو چھوڑو۔ شکاری شکار کھیلتا ہے اور تم لوگ اس کی بندوق و تیر اٹھائے پھرتے ہو۔ وغیرہ۔
    اتنا عرصہ ہم خاموش بیٹھے رہے اور مضمون کے ختم ہونے پر امیر صاحب نے حرف مطلب یوں شروع کیا۔
    ہمیں نمائندگان تبلیغ سے سخت شکایت ہے ہم چھ ماہ سے یہاں پڑے ہیں۔ ہماری جماعت کے بہترین آدمی برسرکار ہیں۔ ہم دو ماہ میں شدھی وغیرہ سب کو پورے طور پر رفع دفع کر گئے ہوتے لیکن یہ مولوی لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ ہم جان توڑ کر مسلسل کوشش سے ایک دیہہ کو فتح کرنے والے ہوتے ہیں کہ آپ کا آدمی پہنچتا ہے اور کام خراب کر دیتا ہے ہمیں کافر ٹھہرا کر ملکان کو بہلا پھسلا کر۔
    کنور عبدالوہاب صاحب وغیرہ یہاں نہیں رہتے۔ ہم شکایت ان سے کیسے کریں۔ دین میں اعزازی عہدے نہیں ہوا کرتے کام کرنا ہوتا ہے۔ ہم اب یہ برداشت نہیں کر سکتے یا تو مولوی کو ۔۔۔۔۔۔۔ دو دن کے اندر نکال دیا جائے۔ ورنہ ہم اس انجمن کے خلاف جو چاہیں گے کریں گے۔ آریہ مسلمانوں سے بڑی قوم ہے۔ انگریز اتنی بڑی قوم ہے ہم نے ان سے مقابلہ ٹھانا ہوا ہے تو پھر یہ مولوی وغیرہ کیا چیز ہیں یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ تمام جماعت احمدیہ کہہ رہی ہے۔
    نذیر احمد خاں: آپ پندرہ دن اور ٹھہر جائیں۔ یہ مولوی ملانے بوریا بستر باندھ کر خود چل دیں گے۔
    امیر صاحب: ہم نے چھ مہینے انتظار کیا ہے لیکن کوئی اصلاح نہیں ہوئی۔ کنور عبدالوہاب صاحب کے سامنے ملکانوں نے ذکر کیا کہ آپ کے ایک مولوی نے احمدیوں کو ان کے گائوں میں نہ رہنے دیا ورنہ وہ لوگ ان کے زیر اثر پنجوقتہ نماز پڑھنے لگ گئے تھے حتیٰ کہ بعض تہجد بھی پڑھتے تھے نمائندگان کا آدمی گیا انہیں ورغلایا اور احمدیوں کو کافر قرار دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ احمدی وہاں سے لوٹ آئے اور وہ مولوی ایک دن بھی نہ ٹھہرا۔ سب نے نماز چھوڑ دی اور ویسے کے ویسے رہ گئے۔
    امیر صاحب نے فرمایا کہ ان لوگوں کی تحریر میرے پاس موجود ہے اور انہوں نے کہا ہم قادیان بیعت کرتے ہیں۔ لیکن ہم خاموش رہے۔ اب بتائو ہم نے انہیں کہا تھا کہ بیعت کرو۔ اسی طرح آئے دن واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ مولوی چاہتے ہیں کہ کام نہ خود کریں نہ کرنے دیں۔
    آنور ایک بڑا گائوں ہے چھ سو ملکانے وہاں آباد ہیں۔ اگر وہ واپس ہو تو بھرت پور پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ دیگر دیہات متھرا پر بھی اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ وہاں ہمارے تین آدمی مقرر ہیں۔ شیخ فضل صاحب جو بٹالہ کے رئیس ہیں اور دو اور تعلیم یافتہ آدمی اب چوتھا آدمی نمائندگان کا وہاں کیوں جائے۔ لیکن نواب خاں وہاں گیا کہ عبدالحی صاحب نے اسے حکم دیا کہ تم نوکر ہو وہاں ضرور جانا ہو گا۔ اس نے جا کر انہیں بگاڑا۔ ورنہ وہ واپسی کے لئے آمادہ تھے۔ اس شرط پر کہ آریوں سے جو دو سو روپیہ مرمت چاہ کے لئے وہ لے چکے ہیں انہیں واپس دے کر رسید ہم لے لیں اور اگر وہ کوئی مقدمہ کریں تو ہم ان کی امداد کریں۔ ہم تیار تھے کہ یہ آدمی پہنچا۔ ملکانے ایک ہوشیار قوم ہے انہوں نے جب دیکھا کہ دو خریدار ہیں۔ تو اب کہتے ہیں کہ ۸۰۰ دلائو۔ ہمارا چندہ صرف ہندوستان پر ہی نہیں بلکہ دیگر تمام ممالک یورپ امریکہ‘افریقہ پر بھی صرف ہوتا ہے۔ میں بجٹ سے ایک پیسہ زیادہ نہیں کر سکتا۔ اگر ہمارا مقابلہ ہی کرنا ہے تو جائو پنجاب میں‘بنگال میں‘تمام ہندوستان میں ہمارا مقابلہ کرو۔ یہ علاقہ اسلام پر ایک مصیبت ہے یہاں ہی ہمارے ساتھ دشمنی کرنی ہے۔ اگر اتحاد نہیں ہو سکتا تو دشمنی تو نہ ہو اگر ہم آپ کے خیال میں مسلمان نہیں تو ہم ہر دو کم از کم تعلیم یافتہ تو ہیں ملکا نے ہم دونوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ اس کا تو خیال ہے۔ اگر آپ کہیں تو ہم آپ کے حسب مرضی جو جو گائوں آپ چاہیں چھوڑ دیں لیکن باقیوں پر ہمارا کامل تسلط ہو گا اور آپ کی طرف سے کوئی در اندازی نہ ہو گی اگر یہ بھی نہ ہو تو ہم یہاں سے چلے جاتے ہیں لیکن ایک سو چالیس گائوں ہیں ان میں کم از کم دو سو اسی آدمی مبلغ درکار ہوں گے آپ کو ان کا انتظام کرنا ہو گا غرض کوئی معاہدہ بھی ہو لیکن استوار ہو۔
    خدا جانتا ہے کہ ہمیں یہاں آنے سے کوئی خاص غرض نہیں اور یہ شکایت محض جانبین کی بہتری کے لئے ہے انتھی کلامہ۔
    یہ تمام گفتگو نذیر احمد خاں صاحب اور عبدالحی صاحب نائب ناظم مجلس نمائندگان کے روبرو ہوئی۔ آخر نذیر احمد خاں صاحب عبدالحی صاحب کو اٹھا کر ایک طرف لے گئے اور واپس آکر عبدالحی صاحب نے کہا کہ آپ اپنے دیہات کی ایک فہرست ہمارے پاس بھیج دیں۔ اس کے بعد ہم ان نامزدہ دیہات میں کوئی مداخلت نہ کریں گے۔ کہا گیا کہ چھ ماہ ہوتے ہیں آپ کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم کہاں کہاں ہیں۔ بہرحال فہرست مطلوبہ ارسال کر دی جائے گی۔
    یہ تقریر میں نے واپسی پر رات کو ہی قلمبند کر لی تھی‘‘۷۱۔
    مجاہدین احمدیت پر ظلم و تشدد
    میدان ارتداد میں احمدی مجاہدین کو آریوں اور علماء کی طرف سے ظلم و تشدد کا تختہ مشق بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔ چنانچہ فرخ آباد میں آریوں نے ایک بار ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم کے مکان کا مسلح محاصرہ کر لیا۔ مگر اس دوران میں اچانک پولیس کا ایک مسلمان سپاہی آگیا اور ان کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے اسی طرح ایک مولوی آل نبی صاحب نے کئی سو آدمی لے کر ان کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا اور ماسٹر صاحب اور ان کی اہلیہ اور بوڑھی والدہ اور ننھے بچے یونس احمد کو (جو آب قادیان میں درویشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں) جبراً مکان سے نکال دیا اور ساتھ ہی دفتر بھی خالی کروا لیا۷۲۔ ان ہی مولوی صاحب کے رفقائے نے ایک دوسرے احمدی مبلغ عبدالرشید صاحب کو فحش گالیاں دیں اور قتل کی دھمکیاں دینے سے بھی قطعاً دریغ نہ کیا۷۳۔
    موضع اسہار میں آریوں اور مرتد ملکانوں نے مرزا غلام رسول صاحب (ریڈر سیشن جج پشاور) پر لاٹھیوں سے مسلح حملہ کرکے ان کی جھونپڑی نیچے گرا دی اور وہ نیچے دب گئے۔ بازوئوں سے کھینچ کر باہر نکالا گیا۔ ظالم و سفاک انہیں گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے اور دھکے دے کر گائوں سے نکال دیا۷۴۔ جس پر جماعت احمدیہ کی طرف سے مقدمہ دائر کیا گیا اور شیخ محمد احمد صاحب وکیل کپورتھلہ نے اس کی پیروی کی۔
    اکرن میں ہندو تھانیدار نے احمدی مبلغین کو علاقہ سے باہر نکل جانے پر مجبور کیا۷۵۔ پھر مہاراجہ بھرت پور نے پوری ریاست میں یہ ظالمانہ حکم دے دیا کہ کوئی غیر ریاستی پر چارک (مبلغ) ریاست کی حدود میں چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہ رہے۔ تب مجاہدین نے حدود ریاست سے باہر کیمپ لگا لیا۔ ایک مجاہد ریاست میں جاتا اور موضع اکرن میں ۲۴ گھنٹے ٹھہر کر واپس آجاتا۔ اس کے بعد دوسرا مجاہد پہنچ جاتا اور اس طرح باری باری اکرن میں شدھی کی خلاف مورچہ کی نگرانی ہوتی رہی۔ ریاستی حکام نے جب یہ صورت دیکھی تو بڑے سٹ پٹائے۔ آخر مہاراجہ بھرت پور نے احمدی مبلغین کے داخلہ ریاست پر قطعی پابندی عائد کر دی۔
    ریاست کی اس مذہبی دست درازی پر مسلم پریس مثلاً ’’پیسہ اخبار‘‘۔ ’’سیاست‘‘ اور ’’وکیل‘‘ نے پر زور احتجاج کیا۷۶]body [tag۔ جماعت احمدیہ کے ایک وفد نے (جو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی‘حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل پر مشتمل تھا) ناظم ریاست سے ملاقات کی اور یہ ظالمانہ حکم واپس لینے کی اپیل کی۔ مگر ریاستی حکام ٹس سے مس نہ ہوئے اور مجاہدین کو ریاست سے باہر ملحقہ دیہات میں قیام پذیر ہو کر ریاست کے مرتد مسلمانوں سے رابطہ قائم کرنے کے مختلف ذرائع اختیار کرنے پڑے۷۷۔
    مجاہدین احمدیت کا بے مثال استقلال
    احمدیت کے رستہ میں قدم قدم پر مشکلات و مصائب کے پہاڑ کھڑے کئے گئے مگر اسلام کے جانباز سپاہی بڑے وسیع حوصلہ اور استقلال اور مضبوط ارادے کے ساتھ شدھی کا قلعہ توڑنے میں دیوانہ وار مصروف ہو گئے۔ اسلام کی تائید میں لٹریچر پھیلایا۷۸۔ ملکانہ بچوں کے لئے ساندھن‘پرکھم‘صالح نگر‘کھڑوائی وغیرہ متعدد مقامات پر مدارس قائم کئے۔ ہسپتال کھولے‘پرانی مسجدیں مرمت کرکے آباد کیں اور نئی مسجدیں تعمیر کیں۷۹`۸۰ مجالس اور پبلک جلسوں کے ذریعہ اسلام کی منادی کی اور جب اور جہاں بھی آریوں نے مناظرے کی طرح ڈالی چیلنج دیئے احمدی اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالتے ہوئے میدان مناظرہ میں کود پڑے اور آریوں کے پیش کردہ دلائل کی دھجیاں بکھیر ڈالیں۔ چنانچہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے بھونگائوں‘بموری‘متھرا‘آگرہ‘ساندھن‘مین پوری اور دہلی میں کامیاب مناظرے کرکے کئی اہم مہمیں سرکیں۔
    یہ مجاہدانہ سرگرمیاں دیکھ کر مشہور مسلم اخبار ’’زمیندار‘‘ جو پہلے ہی جماعت کی تبلیغی کارناموں کو دیکھ کر رطب اللسان تھا اور زیادہ تعریف کرنے لگا۔ چنانچہ اخبار ’’زمیندار‘‘ نے لکھا۔
    ۱۔
    ’’جو حالات فتنہ ارتداد کے متعلق بذریعہ اخبارات علم میں آچکے ہیں ان سے صاف واضح ہے کہ مسلمانان جماعت احمدیہ اسلام کی انمول خدمت کر رہے ہیں۔ جو ایثار اور کمربستگی‘نیک نیتی اور توکل علی اللہ ان کی جانب سے ظہور میں آیا ہے وہ اگر ہندوستان کے موجودہ زمانہ میں بے مثال نہیں تو بے اندازہ عزت اور قدر دانی کے قابل ضرور ہے۔ جہاں ہمارے مشہور پیرا اور سجادہ نشین حضرات بے حس و حرکت پڑے ہیں۔ اس اولوالعزم جماعت نے عظیم الشان خدمت کرکے دکھا دی ہے‘‘۸۱۔
    ۲۔
    ’’قادیانی احمدی اعلیٰ ایثار کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا قریباً ایک سو مبلغ امیر وفد کی سرکردگی میں مختلف دیہات میں مورچہ زن ہے۔ ان لوگوں نے نمایان کام کیا ہے۔ جملہ مبلغین بغیر تنخواہ یا سفر خرچ کے کام کر رہے ہیں۔ ہم گو احمدی نہیں لیکن احمدیوں کے اعلیٰ کام کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ جس اعلیٰ ایثار کا ثبوت جماعت احمدیہ نے دیا ہے۔ اس کا نمونہ سوائے متقدین کے مشکل سے ملتا ہے۔ ان کا ہر ایک مبلغ غریب ہو یا امیر بغیر مصارف سفر و طعام حاصل کئے میدان عمل میں گامزن ہے۔ شدت کی گرمی اور لوئوں میں وہ اپنے امیر کی اطاعت میں کام کر رہے ہیں‘‘۸۲۔
    ۳۔ ’’احمدی مبلغ جس جوش اور ولولہ سے فتنہ ارتداد کے انسداد میں مصروف ہیں ان کی تعریف و توصیف کرنے سے ہم باز نہیں رہ سکتے‘‘۸۳۔
    کامیاب مدافعت اور شاندار پیش قدمی
    الحمدللہ کہ احمدی مبلغوں کی کوششیں بار آور ہوئیں اور اللہ کے فضل و کرم سے شدھی کی رو میں زبردست کمی آگئی اور شدھ کئے ہوئے خاندان بڑی کثرت سے دوبارہ اسلام میں آنے لگے۔ شورش انگیز اور تشدد آمیز کارروائیوں اور چیرہ دستیوں اور مخالف طاقتوں کی زبردست شورش کے باوجود ہر طرف اسلام کی فتوحات کے دروازے کھل گئے۔ ریاست بھرت پور کے کئی گائوں شدھی سے تائب ہو کر پھر سے اسلامی لشکر میں آشامل ہوئے۸۴۔ آنور کا قصبہ جس کے قریب سری کرشن جی کی پیدائش ہوئی اکثر و بیشتر مسلمان ہو گیا۔ اسہار کے ایک بڑے حصہ نے اسلام قبول کر لیا۸۵۔
    چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’دوران جنگ میں احمدیت کے جنگجو دستہ کے لئے بعض خطرے کے موقعے بھی پیش آئے جن میں بعض اوقات غنیم نے نازک حالات پیدا کر دیئے۔ اور ایسا تو کئی دفعہ ہوا کہ احمدی والنٹیر اپنی کوشش سے ایک شدھ شدہ گائوں کو اسلام میں واپس لائے مگر ہندو دستہ نے پھر یورش کرکے اسے پھسلا دیا۔ مگر احمدیوں نے دوبارہ حملہ کرکے پھر دوسری دفعہ قلعہ سر کر لیا۔ بعض دیہات نے کئی کئی دفعہ پہلو بدلا کیونکہ اس کشمکش کے دوران میں بعض ملکانہ دیہات میں کچھ لالچ بھی پیدا ہو گیا۔ مگر بالاخر ایک ایک کرکے ہر ہندو مورچہ فتح کر لیا گیا اور خدا کے فضل سے شدھی کے مواج دریا نے پلٹا کھا کر اپنا راستہ بدل لیا۔ بلکہ اس جدوجہد میں ایک حد تک ملکانہ راجپوتوں کی دینی تربیت بھی ہو گئی اور ان میں سے کم از کم ایک حصہ خدا کے فضل سے صرف نام کا مسلمان نہیں رہا۔ بلکہ اسلام کی حقیقت کو سمجھنے والا اور اسلام کے احکام پر چلنے والا بن گیا‘‘۸۶۔
    مجاہدین احمدیت کے ہاتھوں شدھی تحریک کو جس عبرتناک ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اس کا اقرار ہندوئوں اور سکھوں دونوں کی طرف سے برملا کیا گیا۔ چنانچہ لالہ سنت رام بی۔ اے سیکرٹری جات پات توڑک منڈل لاہور نے بیان دیا۔ ’’الفاظ بہت کڑے ہیں اور سخت مایوسی سے بھرے ہوئے ہیں مگر یہ سچائی ہے چاہے کڑوی ہو۔ بہت سے بھائی پوچھیں گے ہم اخباروں میں روز شدھی اور اچھوت ادھار کی خبریں پڑھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر تم کیسے کہتے ہو کہ شدھی اور اچھوت ادھار کی تحریک کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کے جواب میں میری عرض یہ ہے کہ کسی کو جھوٹا کہنے کی ضرورت نہیں۔ پرمیشور نے آپ کو آنکھیں دی ہیں کہ اس وقت ہندو سماج میں دوسرے دھرموں سے کتنے لوگ شدھ ہو کر آئے ہیں جن کی شدھی کی خبریں اخباروں میں جلی الفاظ میں چھپتی ہیں ان کی تعداد کم سے کم پانچ سو تو ہو گی مگر ان میں سے مجھے بیس کے نام تو گن دیجئے۔ جو آج بھی ہندو ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ ملکانوں کی شدھی پر بڑا فخر کیا جاتا ہے۔ تھی بھی وہ بڑی فخر کی بات مگر جو لوگ سچائی کو جانتے ہیں وہ بڑے متفکر ہیں۔ ملکانوں کی شدھی کی جو رپورٹ وقتاً فوقتاً اخبارات میں چھپتی رہی ہے اس کے بموجب شدھ ہونے والوں کی گنتی ڈھائی لاکھ سے کم نہیں پہنچی مگر ۔۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں میں بہت سے تو اپنی پہلی حالت میں واپس چلے گئے اور باقی بیچ میں لٹکے ہوئے کسی ٹھوکر کی راہ دیکھ رہے ہیں‘‘]10 [p۸۷۔
    پروفیسر پریتم سنگھ ایم- اے اپنی کتاب ’’ہندو دھرم اور اصلاحی تحریکیں‘‘ میں لکھتے ہیں۔
    ’’آریہ سماج نے شدھی یعنی ناپاک کو پاک کرنے کا طریقہ جاری کیا۔ ایسا کرنے سے آریہ سماج کا مسلمانوں کے ایک تبلیغی گروہ یعنی قادیانی فرقہ سے تصادم ہو گیا۔ آریہ سماج کہتی تھی کہ وید الہامی ہیں اور سب سے پہلا آسمانی صحیفہ ہیں۔ اور مکمل گیان ہیں قادیانی کہتے تھے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور حضرت محمد خاتم النبین ہیں۔ اس کدو کاوش کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی عیسائی یا مسلمان اب مذہب کی خاطر آریہ سماج میں شامل نہیں ہوتا مذہب کی تبدیلی بے معنی سی ہو گئی ہے آریہ سماج کا تعلیمی کام اب تک جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر سماج کا تبلیغی کام تقریباً بند ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آریہ سماج کی تحریک خاطر خواہ ترقی نہ کر سکی۔ پرانے ہندو جو بت پرست اور مقلد تھے وہ ویسے کے ویسے ہی رہے اور کچھ انگریزی پڑھے لکھے لوگ جو سماج میں داخل ہوئے وہ مادیات میں پھنس کر دہریہ ہو گئے۔ ان کی تو وہی حالت ہے۔
    ع نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘۸۸۔
    شردھانند کی طرف سے تحریک شدھی سے دست برداری کا اعلان
    جب آریوں کو کئی مقامات پر پسپا ہونا پڑا تو شدھی کے بانی شردھانند نے ۱۹/ اگست ۱۹۲۳ء کو تمام مسلمانوں کو مباحثہ کا چیلنج دیا۔ مقصد یہ تھا کہ مسلمان عملی میدان سے ہٹ کر براہ راست ان کی طرف متوجہ ہوں اور جہاں ہندو ان کی شخصیت و عظمت کے قائل ہوں وہان بھولی بھالی ملکانہ قوم پر رعب طاری ہو۔ اس چیلنج میں انہوں نے گو احمدیہ جماعت کا نام نہیں لیا تھا مگر چونکہ اس دعوت میں سب مسلمانوں ہی کو خطاب تھا اس لئے جماعت احمدیہ کی طرف سے ناظر تالیف و اشاعت نے فوراً مناظرہ کی منظوری بذریعہ تار بھیج دی اور ساتھ ہی مسلمان اور ہندو اخبارات کو بھی اس کی اطلاع کر دی۸۹۔
    انصاف و اخلاق کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے فریق مخالف کی اطلاع کا جواب دیتے مگر شردھانند صاحب نے اس تار کا تو کوئی جواب نہ دیا البتہ ’’ہندوستان کے سب مسلمانوں کو کھلا چیلنج‘‘ کے نام سے ایک نیا اعلان دے دیا۔ جس میں پبلک پر یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ گویا خود مسلمانوں نے مجھے دعوت مباحثہ دی ہے۔ تحریر کیا کہ:۔
    ’’کچھ عرصہ سے مسلمان اصحاب نے میری معرفت مباحثہ کرنا زیادہ تر مناسب سمجھا ہے اس لئے ان کی خواہش کو پورا کرنے کی غرض سے سب کا فرداً فرداً جواب نہ دیتے ہوئے ہندوستان کے جملہ مسلمان بھائیوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ آریہ سماج ہر وقت مباحثہ کے لئے تیار ہے۔ ۹/ ستمبر ۱۹۲۳ء تک اسلام کے ہر فرقہ کی طرف سے (جو مباحثہ کرنا چاہیں) میرے پاس درخواست آجانی چاہئے‘‘۹۰۔
    اس اعلان میں انہوں نے ایک تو مسلمانوں کی ’’درخواست‘‘ کے لئے ایسی قلیل مدت مقرر کی جو کسی لحاظ سے معقول نہیں تھی کیونکہ اس دوران میں ہر جگہ سے جواب کا بروقت پہنچنا بالکل ناممکن تھا۔ دوسرے ایسی بعض شرائط بھی لگا دیں جو دوسرا فریق منظور ہی نہ کر سکے۔ مثلاً مناظرہ کے وقت پریذیڈنٹ آریہ سماج کی طرف سے ہو گا۔ تیسرے اس تحکمانہ لہجہ میں اعلان لکھا کہ گویا آپ مہاراجہ ہیں اور اپنی رعایا کے نام احکام جاری فرما رہے ہیں لیکن اس کے باوجود احمدی جماعت نے جواب دیا کہ ہمیں ہر شرط منظور ہے۔ میدان میں نکلیں۔
    چنانچہ ناظر صاحب تالیف و اشاعت نے قادیان شردھانند جی کو للکارتے اور پبلک پر ان کی شکست خوردہ ذہنیت کو آشکار کرتے ہوئے لکھا:۔
    ’’ہم سب شرائط منظور کرتے ہیں جو آپ نے تجویز کی لیکن ہم تمام پبلک خصوصاً انصاف پسندوں کے سامنے اعلان کرتے ہیں کہ یہ ایک نہایت ہی غیر منصفانہ طریق ہے کہ ایک فریق اپنے ہی قبضہ میں سب اختیارات رکھتا ہے۔ اگر آریہ سماج اس طرح مجبور کرکے اپنی پیش کردہ شرائط کو منظور کرانا چاہتی ہے تو یہ اس کا رویہ خود اقرار شکست ہے بحث ایک جنگ ہے اور جب کہ شکست خوردہ دشمن کا بھی یہ حق تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کو فاتح کی پیش کردہ شرائط کے مقابلہ میں پیش کرے۔ تو یہ بات نہایت خلاف عقل ہے کہ ایک فریق بحث سے بھی پہلے اپنی طرف سے سب پیش کردہ شرائط کو بلا چون و چرا ماننے پر زور دے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آریہ سماج کی طرف سے جلد سے جلد مجھے اس امر کی اطلاع دی جائے گی کہ ان کو ہمارے ساتھ مباحثہ کرنا منظور ہے یا نہیں‘‘۹۱۔
    اب شردھانند صاحب کے لئے گریز کی کوئی راہ باقی نہ تھی۔ شرائط اگرچہ یکطرفہ تھیں اور وقت نہایت تنگ مگر جماعت احمدیہ نے اتمام حجت کے لئے مباحثہ منظور کر لیا۔ جماعت بڑی بے تابی سے اس وقت کے انتظار میں تھی کہ کب ’’سوامی جی‘‘ میدان مباحثہ قبول کرتے ہیں اور ہندو دھرم کے مقابل اسلام اور ویدوں کے مقابل قرآن مجید کی فتح کے نقارے بجتے ہیں۔ لیکن شردھانند تو اس مناظرے سے اپنا پیچھا چھڑانے کی فکر میں تھے اور کسی بہانہ کی تلاش میں تھے۔
    دہلی کی اتحاد کانفرنس
    حسن اتفاق سے ان ہی دنوں دہلی میں آل انڈیا نیشنل کانگرس نے ایک خاص اجلاس شدھی اور سنگھٹن کے مسئلہ پر غور کرنے کے لئے بلا رکھا تھا اس اجلاس میں جناب ابوالکلام صاحب آزاد صدر کانگریس نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ موجودہ ملکی حالت یہ ہے کہ سوارج اور خلافت کی جگہ شدھی سنگھٹن کی تحریک اور اس کی مدافعت نے لے لی ہے ہمیں متحدہ قومیت کی ضرورت ہے میں تمام ہندو مسلمانوں سے وطن کے نام سے اپیل کرتا ہوں کہ آئندہ کے لئے ان تمام سرگرمیوں کو بند کر دیں جو شدھی تحریک اور اس کی مدافعت وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں۔
    خطبہ صدارت کے بعد ہندو مسلم لیڈروں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی اور جناب آزاد کی تجویز پر ایک اتحاد کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ جس کی غرض کانگریس کے سامنے اپنی سفارشات پیش کرنا تھا یہ اتحاد کمیٹی حسب ذیل ممبروں پر مشتمل تھی۔ پنڈت شردھانند‘پنڈت مالویہ جی‘جناب ابوالکلام صاحب آزاد‘ڈاکٹر انصاری‘ڈاکٹر کچلو‘حکیم اجمل خاں‘مولوی شبیر حسین‘مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی‘پنڈت موتی لال نہرو‘سی۔ آر داس‘مسٹر کینڈا‘مسز سروجنی نائیڈو اور ڈاکٹر ستیہ پال۹۲۔
    اتحاد کمیٹی کے ممبر ہونے کی وجہ سے شردھانند جی کو مباحثہ سے انکار کرنے کا ایک موقعہ ہاتھ آگیا۔ اور اگرچہ کمیٹی کی تجاویز میں مباحثہ کے اعلان کی واپسی کا چنداں ذکر نہیں تھا۔ مگر انہوں نے فوراً اعلان شائع کر دیا کہ۔
    ’’کمیٹی صلح کے بن جانے سے ہر دو مذاہب کے درمیان پھر سے اتحاد کی بنیاد قائم ہو گئی۔ اب میں اس بنی ہوئی فضا کے راستے کو مکدر کرنا نہیں چاہتا اس لئے مباحثہ کو اپنی طرف سے بند کرتا ہوں‘‘۹۳۔
    اس اعلان پر دنیا نے اچھی طرح محسوس کر لیا کہ آریوں کے مشہور لیڈر اور شدھی کے بانی نے احمدیوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنی شکست پر اپنے ہاتھوں دستخط کر دیئے ہیں۹۴۔ یہ بات اتنی واضح اور کھلی تھی کہ ہندو اخبار ’’پرتاپ‘‘ لاہور نے لکھا۔
    ’’ممکن ہے فساد بھی ہو جاتا لیکن جو بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی وہ یہ ہے کہ یہ حالات تو پہلے بھی موجود تھے جبکہ سوامی جی نے مناظرہ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد تو کوئی اور فساد بھی نہیں ہوا۔ اس کے بعد کونسی ایسی بات ہوئی ہے جس نے سوامی جی کو مناظرہ کے بند کرنے پر مائل کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے خود ہی مناظرہ کا اعلان کیا۔ خود ہی اسے منسوخ کر دیا‘‘۹۵۔
    مناظرہ کی منسوخی سے آریہ سماج کو ایسی ضرب کاری لگی کہ چند دن بعد شردھانند تحریک شدھی سے ہی دستبردار ہو گئے اور اپنی علیحدگی کی وجہ یہ بیان کی کہ ’’میری صحت اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ شدھی جیسے اہم اور ضروری کام کو اسی شوق سے کئے جائوں میرا دل ہمیشہ کارکنوں کے ساتھ رہے گا‘‘۹۶۔
    اتحاد کمیٹی میں نمائندگان جماعت کی شمولیت
    اب اتحاد کمیٹی کی طرف آئیے۔ جس کی بناء پر شردھا نند جی نے پہلے میدان مناظرہ سے گریز اختیار کیا اور پھر شدھی سے دستکش ہو گئے۔
    ہم اوپر یہ ذکر کر آئے ہیں کہ جناب ابوالکلام صاحب آزاد صدر آل انڈیا نیشنل کانگرنس نے ہندو مسلمان لیڈروں کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ شدھی کی تحریک بھی اور اس کی مدافعت کا کام بھی بالکل بند کر دیا جائے۔ چنانچہ اتحاد کمیٹی کے ارکان سوامی شردھانند سے یہ سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو گئے کہ بیرونی آریہ اپدیشک بھی تحریک شدھی سے الگ ہو جائیں اور دوسری جگہ سے آنے والے مسلمان بھی میدان ارتداد سے ہٹ جائیں اور خود ملکان کو موقعہ دیا جائے کہ وہ آپس میں کوئی فیصلہ کر لیں۔
    یہ اطلاع قادیان میں پہنچی تو حضرت خلیفتہ المسیح کے حکم سے ناظر صیغہ انسداد ارتداد (حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے) نے حکیم اجمل خاں صاحب۔ ڈاکٹر انصاری صاحب اور ڈاکٹر کچلو کے نام (جو اتحاد کمیٹی کے ممبر تھے) اس سمجھوتہ کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے مفصل تار دیا۔ کہ
    ’’ہمارے نزدیک یہ سمجھوتہ سخت خلافت دانست اور خلاف مصالح اسلامیہ ہے۔ آریہ لوگ ایک عرصہ سے وہاں کام کر رہے ہیں اور کئی ہزار آدمی کو آریہ بنا چکے ہیں۔ اب پیچھے ہٹ جانے کے یہ معنی ہیں کہ ان لوگوں کو آریہ رہنے دیا جاوے۔ جو قوم پہلے قبضہ کر چکی ہے اس کے لئے آئندہ جنگ بند کر دینا کوئی حرج نہیں ہے۔ نقصان اس کا ہے جس نے اپنے اہل مذہب کو واپس لانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس ہم بڑے زور سے اس سمجھوتہ کے خلاف پروٹسٹ کرتے ہیں اس وقت تک کہ اس علاقہ کے لوگ واپس اسلام میں آجائیں ہم صبر نہیں کریں گے اور اسلام کی عزت کے مقابلے میں کسی سمجھوتہ کی پروا نہیں کریں گے۔ ہماری جماعت امید رکھتی ہے کہ آپ اس وقت اسلام کی طرف سے جو ذمہ داری آپ پر عائد ہے۔ اس کو محسوس کرتے ہوئے کوئی ایسا سمجھوتہ نہیں ہونے دیں گے جو اسلام کی تبلیغی روح
    ‏rov.5.24
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۴
    خلافت ثانیہ کا دسواں سال
    کے خلاف ہو‘‘۹۷۔
    تار پہنچنے تک اتحاد کمیٹی کے ہندو اور مسلمان لیڈروں میں قطعی فیصلہ ہو چکا تھا کہ دونوں قومیں اپنے اپنے آدمی علاقہ ارتداد سے واپس بلا لیں۔ اور صرف یہ سوال باقی رہ گیا کہ آریہ پہلے علاقہ خالی کریں یا مسلمان‘مسلمان لیڈروں نے مان لیا کہ ہمارے آدمی پہلے واپس آجائیں گے لیکن اب یہ اہم سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ احمدیوں کا کیا ہو گا۔ اس پر شردھانند جی نے مسلمان لیڈروں سے کہا۔ جناب! آپ لوگ کس خیال میں ہیں یہ تو سارا کھیل ہی احمدیوں کا ہے پس آپ انہیں الگ رکھ کر کس حیثیت میں سمجھوتہ کریں گے اور کیا سمجھوتہ کریں گے؟
    بعض مسلمان لیڈر اس سے پہلے نخوت کے رنگ میں احمدیوں کو دانستہ اس کمیٹی سے الگ کرکے اپنے طور پر سمجھوتہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر اس مرحلہ پر ان کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں مجبوراً حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی خدمت میں درخواست کرنا پڑی کہ وہ اپنے نمائندے بھجوائیں۹۸ چنانچہ سمجھوتہ کے خلاف احتجاجی تار ڈاک خانہ میں دینے کے معاًبعد حکیم اجمل خان صاحب‘جناب محمد علی صاحب (جوہر) اور ڈاکٹر انصاری صاحب کی طرف سے تار پہنچا کہ۔
    ’’حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب قادیان بٹالہ۔ ہماری پر زور درخواست ہے کہ آپ اپنے ذمہ دار قائم مقام کو جو آپ کے خیالات سے واقف ہو بھیجیں تاکہ شدھی اور اشدھی کی تحریکات کی وجہ سے جو فسادات پیدا ہو رہے ہیں ان کو روکنے کے لئے مشورہ کیا جائے‘‘۹۹4] [rtf۔
    چنانچہ حضور کے حکم پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم۔ چودھری فتح محمد صاحب سیال امیر وفد المجاہدین اور حضرت خان صاحب ذوالفقار علی صاحب (علی برادران کے بڑے بھائی) ۱۹/ ستمبر ۱۹۲۳ء کو دہلی پہنچے۱۰۰۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسلم لیڈروں کے نام اپنے نمائندوں کے ہاتھ ایک خط بھی بھجوایا جس میں تحریر فرمایا۔
    ’’جہاں تک میں آپ کے تار سے مطلب سمجھ سکا ہوں ہدایات دے دی ہیں اگر کوئی ایسا سوال پیدا ہوا۔ جس کے متعلق ان کو میری رائے معلوم نہ ہوئی تو مجھ سے دریافت کرکے آپ کو اطلاع دیں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہندو مسلم اتحاد ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے اتحاد کے لئے ہماری جماعت بے چین ہے اور ہمارے عظیم مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دنیا میں سے تفرقہ اور انشقاق مٹ جائے۔ لیکن ہمارے نزدیک اس بات کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے کہ موجب اختلاف کو معلوم کرکے ایسے اسباب مہیا کئے جائیں جن سے دائمی صلح اور آشتی پیدا ہو کر تمام اقوام عالم میں امن قائم ہو سکے۔ نہ یہ کہ ایسی صلح کی جائے جو دیرپا نہ ہو یا جس کے نتیجہ میں کسی اور جنگ کے سامان پیدا ہونے شروع ہو جائیں‘‘۱۰۱۔
    ان نمائندوں کے دہلی پہنچنے پر حکیم اجمل خاں صاحب نے دوبارہ تار دیا کہ۔
    ’’حضرت مرزا محمود احمد صاحب قادیان بٹالہ۔ خط اور فوری توجہ کا تہ دل سے شکریہ۔ آپ کا مشورہ ہمارے لئے بڑی مدد کا موجب ہو گا۔ اجمل خاں‘‘۱۰۲۔
    احمدی نمائندوں نے کمیٹی کے سامنے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا یہ موقف پوری وضاحت سے پیش کیا کہ جب تک شدھ شدہ مسلمانوں میں سے ایک فرد واحد بھی باقی ہے ہم یہ مہم ہرگز نہیں چھوڑیں گے نتیجہ یہ ہوا کہ سمجھوتہ نہ ہو سکا اور شردھانند اور دوسرے کانگریسی ہندوئوں کی یہ سیاسی تدبیر جو انہوں نے کانگریس کے پلیٹ فارم پر کی تھی۔ کامیاب نہ ہو سکی۔
    علاقہ ارتداد میں مستقل مبلغین کا تقرر
    گو ہندو مسلم لیڈروں کا کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا۔ مگر غیر احمدی علماء اور آریہ پر چارک تھک ہار کر تیزی کے ساتھ واپس آنے لگے۔ اس کے مقابل جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا تھا۔ احمدی مجاہدین آخر دم تک میدان عمل میں مصروف جہاد رہے چنانچہ تبلیغی نقطہ نگاہ سے یہ علاقہ آگرہ‘فرخ آباد اور مین پوری تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا جن کے الگ الگ امیر تبلیغ مقرر کئے گئے۱۰۳۔ اور چھ چھ سات مبلغ ان کے ماتحت لگا دیئے گئے۔ اس سلسلہ میں ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم مولوی محمد حسین صاحب۔ قریشی افضال احمد صاحب۱۰۴۔ مولوی عبدالحی صاحب بھاگلپوری۔ مولوی جلال الدین صاحب۱۰۵ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ جنہوں نے اس علاقہ میں لمبا عرصہ تک اسلام کا جھنڈا بلند رکھا اور خدا کے فضل سے اب بھی وہاں احمدیہ جماعت اور اس کی مساجد موجود ہیں اور ان گری ہوئی قوموں کو اٹھانے اور پختہ مسلمان بنانے کا کام جاری ہے۔
    تحریک شدھی کے ہنگامی دور کے بعد جماعت احمدیہ کا مستقل مزاجی سے ان علاقوں میں تبلیغی جدوجہد جاری رکھنے پر بھی مسلم پریس نے جماعت کی بہت تعریف کی۔ چنانچہ اخبار اہلسنت (امرتسر) نے لکھا۔
    ’’جب فتنہ ارتداد کی ابتدا تھی تو بہت سی انجمنیں وہاں کام کرنے کے لئے پہنچ گئی تھیں۔ مگر تھوڑے ہی دنوں میں وہ انجمنیں چلتی پھرتی نظر آنے لگیں۔ باوجودیکہ ان کے مقابل میں قادیانی بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔ سورج پور میں قادیانیوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ محمد اسمعیل کا آگرہ سے خط آیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ شدھی کا زور بہت کم ہے۔ لیکن قادیانیوں کا زور زیادہ ہے تمام انجمنیں کنارہ کشی کر گئی۔ کوئی مدرسہ مسلمانوں کا نہیں رہا۔ تمام گائوں پر قادیانی قبضہ کر رہے ہیں۔ صالح نگر اور ساندھن میں بھی قادیانی ہیں‘‘۱۰۶۔
    آریوں کی طرف سے احمدیت کی زبردست طاقت کا اقرار
    اس معرکہ حق و باطل نے آریوں کو جماعت احمدیہ کی زبردست اور بے پناہ تبلیغی و تنظیمی طاقت و قوت کا پورا پورا احساس کرا دیا چنانچہ اخبار ’’پرتاپ‘‘ لاہور نے