1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تاریخ احمدیت ۔ جلد 20 ۔ یونی کوڈ

'تاریخ احمدیت ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 25, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تاریخ احمدیت ۔ جلد 20 ۔ یونی کوڈ


    چھٹا باب
    افریقہ کے معرکۂ حق و باطل سے لیکر
    علّامہ نیازؔ فتحپوری ’’مدیرنگار‘‘کے سفرِ قادیان تک
    فصل اوّل
    ڈاکٹر بلی گراہم کا دورۂ ۱فریقہ‘ مغربی اور مشرقی افریقہ
    کے مجاہدین احمدیت کی دعوتِ مقابلہ اور دینِ حق کی فتحِ عظیم خلافتِ ثانیہ کا چھیالیسواں سال ۱۳۳۹ ھش ؍ ۱۹۶۰ء
    برِّ اعظم افریقہ میں احمدیہ مشن کے قیام کے بعد ھلال و صلیب اور حق و باطل کے درمیان جو عظیم معرکہ فروری ۱۹۲۱ء ۱ سے جاری تھا وہ ۱۹۶۰؁ء کے آغاز میں ایک نئے اور فیصلہ کن دور میں داخل ہو گیا جبکہ امریکہ کے شہرہ آفاق مسیحی منّاد اور شعلہ بیان لیکچرار ڈاکٹر بلی گراہم (BILLY GRAHAM)نے ۲ اس سال کے شروع میں افریقن ممالک کا وسیع پیمانہ پر دورہ کیا۔ انہوں نے عیسائیت کی منادی کے لئے چوبیس پبلک جلسوں سے خطاب کیا اس دورہ کی تیاریاں ۱۹۵۵ء سے کی جا رہی تھیں۔
    لائبیریا‘ نائیجیریا اور مشرقی افریقہ کے مبشرین احمدیت نے جو نہایت بے تابی سے اس دورہ کے منتظر تھے اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اسے ایک جنگ مقدّس کی صورت دے دی اور اس عالمی شہرت کے حامل مناد کو پوری قوّت سے للکارا اور تبلیغی مقابلہ کرنے کی دعوت عام دی مگر تثلیث کا یہ مایہ ناز نمائندہ کا سر صلیب کے شاگردوں کے سامنے سراسر عاجز‘ بے بس بلکہ دم بخود ہو کے رہ گیا جسے افریقہ کی مذہبی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔
    لائبیریا :۔ڈاکٹر بلی گراہم اپنے طے شدہ پروگرام کے پہلے مرحلہ پر جنوری ۱۹۶۰؁ء میں امریکہ سے سیدھے لائبیریا کے دارالسلطنت منروویا میں پہنچے جہاں انہوں نے اپنی پبلک تقریر میں بائبل کا دیگر مذہبی کتب سے موازنہ کرتے ہوئے یہ چیلنج کیا کہ :۔
    میں نے قرآن شریف کو شروع سے آخر تک پڑھا ہے اس میں کہیں انسان یادنیا کے مستقبل وغیرہ کے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں اورنہ بعدالموت زندگی پر اس سے کوئی تسلی بخش روشنی پڑتی ہے درانحالیکہ بائبل سچی پیشگوئیوں سے بھری پڑی ہے اور انسان کی دنیوی اور اخروی دونوں زندگیوں کا معقول حل پیش کرتی ہے۔
    یہ جلسہ لائبیریا کے صدر ڈاکٹر ولیم ٹب مین کی صدارت میں ہوا۔ اس تقریر کے معاً بعد مولانا محمدصدیق صاحب امرتسری انچارج احمدیہ مشن لائبیریا پریذیڈنٹ ٹب مین کی موجودگی میں ڈاکٹر بلی گراہم سے ملے اور انہیں بتایا کہ قرآن کریم کے متعلق آپ نے ابھی جو دعویٰ کیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ آپ مجھے وقت دیں آپ جب چاہیں میں یہ ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں کہ قرآن کریم دنیا کے مستقبل کے متعلق پیشگوئیوں سے بھرا پڑا ہے جن میں سے بے شمار پوری بھی ہو چکی ہیں۔ اسی طرح میں ثابت کروں گا کہ آخرت کے متعلق قرآن کریم کی تعلیم اور CONCEPTIONبائبل کے بیانات سے بہت زیادہ معقول اور اکمل ہے۔ اس پر ڈاکٹر بلی گراہم نے اگلی صبح گورنمنٹ ہاؤس میں قیامگاہ پر آنے اور بات چیت کرنے کی دعوت دی۔ اس دوران مولانا محمد صدیق صاحب نے راتوں رات ایک تبلیغی مکتوب اُن کے نام لکھا جس میں انہیں قرآن کریم کا سچے دل سے مطالعہ کرنے کی تحریک کی اور عیسائیت کے موجودہ عقائد کا بطلان ثابت کر کے آخر میں انہیں مناظرہ کا کھلا چیلنج دیا۔ اگلے روز آپ نے اُن سے ملاقات کی ۔ ڈاکٹر گراہم کے ساتھ اُن کے رپورٹر اور آٹھ امریکن پادری بھی موجود تھے۔ آپ نے موصوف کو ٹائپ شدہ کھلی چھٹی کے ساتھ قرآن کریم انگریزی ‘ٹیچنگ آف اسلام ‘ مسیح کہاں فوت ہوئے؟ اور دیگر پمفلٹ تحفۃً پیش کئے۔ یہ لٹریچر تو اُنہوں نے رسمی شکریہ کیساتھ قبول کر لیامگر مناظرہ سے بالکل انکار کر دیا اور اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور وقت نہ ہونے کا عذر کر کے دوسرے کمرے کی طرف چل دئے ۳
    نائیجیریا
    ڈاکٹربلی گراہم کے اس گریز پر لائبیریا پریس نے کوئی نوٹس نہ لیا اور وہ نائیجیریا آگئے۔ جہاں قدم رکھتے ہی احمدیہ مشن نائیجیریا کی دعوت مناظرہ
    کا اخبارات میںغیرمعمولی چرچا شروع ہو گیا۔ اگرچہ مسیحی کلیسیا کے منتظمین قبل ازیں اس چیلنج کو قبول کرنے سے انکار کر چکے تھے تاہم عوام اور خصوصاً مسلمانوں کو اُن کی آمد پر خاصی دلچسپی پیدا ہو گئی اور امید بندھی کہ اس علمی مقابلہ کی کوئی صورت نکل آئے گی لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ ڈاکٹر بلی گراہم سے آبادان کے اخبار نویس نے دریافت کیا کہ کیا وہ اسلام اور عیسائیت کے متعلق اس اہم چیلنج کو قبول کریں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس سوال کا جواب دینے کیلئے تیار نہیں۔ یہ الفاظ انکی بے بسی اور بے چارگی کی منہ بولتی تصویر تھے۔
    اس اجمال کی ایمان افروز تفصیل مولانا نسیم سیفی صاحب مبلغ نائیجیریا کے قلم سے درج ذیل ہے:۔
    ’’۱۹۵۵ء ہی کے جولائی‘ اگست میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یورپ‘ امریکہ اور افریقہ کے مبلغین کی لندن میں کانفرنس بلائی تھی اور حضور نے فرمایا تھا کہ میں قضیۂ زمین برسرزمین ہی طے کر دینا چاہتا ہوں۔ یہ کہ ڈاکٹر گراہم نے اس کانفرنس کے دو تین ماہ بعد ہی دورۂ افریقہ کے ارادے کااظہار کیا۔ یا یہ کہ نائیجیریا کی کرسچین کونسل نے اس کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لینے کی پیس کش کی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مبلغین کی لند ن والی کانفرنس فی الواقعہ قضیۂ زمین برسرزمین ہی چکا دینے والی بات تھی۔ بہر حال کسی نامعلوم وجہ کی بناء پر ڈاکٹر بلی گراہم مزید چار سال تک افریقہ کا دورہ نہ کر سکے۔
    جنوری ۱۹۶۰ء میں ان کی آمد کا ایک دفعہ پھر چرچا ہؤا ۔ بڑے بڑے شہروں میں قد آدم پوسٹر لگائے گئے۔ اخبارات میں موٹرکاروں کے اشتہارات کی طرح اشتہار دیئے گئے۔ اورآخرکار ان کا ہر اول دستہ آ پہنچا اور لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اب تو وہ ضرور ہی آئیں گے۔
    یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ جب یہ دستہ فری ٹاؤن پہنچا تو خاکسار کے ایک پمفلٹ جس کا عنوان ہے ’’ یاد رکھنے کے قابل پانچ نکات‘‘ کی تلاش میں اس دستہ کے چند ایک افراد بوؔ (BO)بھی پہنچے اور وہاں سے اس پمفلٹ کی ایک کاپی لے کر پھر آگے روانہ ہوئے۔ بہر حال جب یقین ہو گیا کہ ڈاکٹر بلی گراہم نائیجیریا کا ضرور دورہ کریں گے۔ تو خاکسار نے کرسچین کونسل کو مندرجہ ذیل خط لکھا:۔
    ’’مجھے اخبارات اور ریڈیو سے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ مشہور عالم عیسائی منّاد بلی گراہم جنوری ۱۹۶۰ء میں نائیجیریا آ رہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کرسچین کونسل اس بات کے امکان پر غور کرے کہ بلی گراہم اور ملک کے مسلمان لیڈروں اور خاص طور پر لیگوس کے مسلمان لیڈروں کی ملاقات کا انتظام کیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا کرنے سے اسلام اور عیسائیت جو کہ نائیجیریا میں دو اہم مذہب ہیں کے پیروکار وں کے آپس میں تعلقات بہت حد تک خوشگوار ہو جائیں گے۔ اور اس بات میں کسے شک ہو سکتا ہے کہ اس وقت نائیجیریا کی سب سے بڑی ضرورت بلکہ ساری دنیا کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے آپس میں تعلقات زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنائے جائیں۔
    اگر تبادلۂ خیال کے لئے بلی گراہم اور مسلمان مبلغین کی میٹنگ کا انتظام کیا جا سکے تو یہ امر بھی نہایت ہی قابل تعریف سمجھا جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ عنقریب ہی میرے اس خط کا جواب دیں گے۔‘‘
    مندرجہ بالا خط ۲؍نومبر ۱۹۵۹ء کو لکھا گیا تھا۔ اس خط کے جواب میں کرسچن کونسل کے سیکرٹری صاحب نے مجھے لکھا کہ انہیں افسوس ہے کہ بلی گراہم کے دورے کے انتظامات ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں لیکن تاہم وہ میرا خط اس کمیٹی کے سپرد کر دیں گے۔ جو اس دورے کے انتظامات کر رہی ہے۔
    ۶؍نومبر کو مجھے ایک صاحب JHON.E.MILLS کی طرف سے مندرجہ ذیل خط ملا:۔
    ’’ کرسچین کونسل آف نائیجیریا کے سیکرٹری صاحب نے مجھے آپ کا وہ خط ارسال کیا ہے جس میں آپ نے بلی گراہم اور مسلمان لیڈروں کی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ میں آپ کا یہ خط’’بلی گراہم مہم‘‘(CAMPAIGN)کی نیشنل ایگز یکٹو کمیٹی کو جس کی میٹنگ سوموار (۹؍نومبر) کے روز منعقد ہو رہی ہے دے دوں گا۔ میٹنگ کے بعد میں پھر آپ کو خط لکھونگا۔‘‘
    اس کے بعد ۱۵؍جنوری کو انہوں نے پھر مجھے لکھا:۔
    ’’میںنے ڈاکٹر بلی گراہم سے آپ کی ملاقات کے بارے میں ڈاکٹر جیری بیون (JERRY BEAVEN)سے جو کہ ڈاکٹر گراہم کی آمد کے سلسلہ میں جملہ انتظامات کو آخری شکل دینے کے ذمہ دار ہیں‘سے گفتگو کی ہے وہ مجھ سے اس بات میں اتفاق رکھتے ہیں کہ آپ کی تجویز نہایت قابل قدر ہے لیکن انہوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ میں آپ تک ان کی خلوص دل سے معذوری کا اظہارکر دوں کہ جس قسم کی میٹنگ کی آپ نے تجویز پیش کی ہے اس کا انعقاد ناممکن ہے۔
    ’’ڈاکٹر گراہم ان ڈاکٹری ہدایات کے ماتحت جو گزشتہ اٹھارہ ماہ سے ان کے ڈاکٹر نے انہیں دے رکھی ہیں۔ افریقہ کے دورے کو نہایت مختصر کرنے پر مجبور ہیں ان کا وقت بڑے بڑے جلسوں میں تقاریر کرنے اور اپنے مشنریوں سے گفت و شنید میں ہی صرف ہو گا۔ اگر آپ ڈاکٹر گراہم کے عقائد کے متعلق واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ان جلسوں میں شمولیت کریں جن میں کہ وہ تقاریر کریں گے۔ وہ نہ تو کوئی عالم دین ہیں اور نہ ہی ادبیات کے ماہر۔ بلکہ وہ ایک عیسائی مبلغ ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف یسوع مسیح کی انجیل کوپیش کرتے ہیں۔ اگر آپ عیسائیت کے متعلق مزید واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی یہ خواہش ہے کہ آپ اس سلسلہ میں طویل و مفصل گفت و شنید کریں تو میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ آپ لوکل عیسائی مبلغین سے بات چیت کریں جو کہ ایسی بات چیت کرنے کے لئے ہر وقت بخوشی تیار ہیں۔ میں ایک دفعہ پھر آپ کی دلچسپی کی داد دیتا ہوں۔
    جب خاکسار نے دیکھا کہ ڈاکٹر بلی گراہم سے ملاقات اور مناظرہ کی کوئی صورت پیدا ہوتی نظر نہیں آتی تو خاکسار نے ایک خط ان کے نام لکھا جس کا متن درج ذیل ہے
    ’’میں احمدیہ جماعت کے جملہ احباب کی طرف سے جن کا مشنری انچارج ہونے کا مجھے فخر حاصل ہے۔ آپ کو نائیجیریا میں آمد پرخوش آمدید کہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ جب آپ یہاں سے کسی اور جگہ جائیں تو آپ یہاں کی بہترین یادیں اپنے ساتھ لے کر جائیں۔
    اس ملک میں دو بڑے اور اہم مذہب ہیں۔ اور وہ ہیں اسلام اور عیسائیت اور ان دونوں مذاہب کے پیروکاروں کیلئے یہ بات از حد اہم ہے کہ ان کے تعلقات استوار رہیں۔ اور تعلقات کی یہ استواری جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے ان کے لیڈروں کے رویہ پر منحصر ہے۔ میں نے اس بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کرسچین کونسل آف نائیجیریا کو یہ تجویزپیش کی تھی کہ آپ کی اور مسلمان لیڈروں کی ملاقات کا انتظام کیا جائے میری یہ تجویز ’’بلی گراہم مہم کمیٹی‘‘ جو کہ آپ کی آمد کے سلسلہ میں جملہ انتظام کر رہی ہے کے سامنے رکھ دی گئی تھی۔ لیکن میری اس تجویز کو کمیٹی نے اس عذر کے ساتھ رد کر دیا تھا کہ آپ اپنے دورہ کو نہایت مختصر کرنے پر مجبور ہیں اور اسکی وجہ ڈاکٹری ہدایات ہیں مجھے اس بات کا پورا پوار احساس ہے کہ آپ کا کام زیادہ تر عیسائیوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن یہ بات تو میرے خیال میں بھی نہیں آ سکتی کہ آپ کسی ایسے موقع کو ضائع ہونے دیناچاہیں گے۔ جو مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لئے مہیّا کیا جا رہا ہو۔ خصوصًا جب کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلقات کی خوشگواری کا سوال پیدا ہوتا ہو۔
    بہر حال آپ کی مذہبی پوزیشن کے پیش نظرمیں نے آپ کی خدمت میں چند ایک کتابیں ارسال کی ہیں جو مجھے امید ہے کہ آپ ضرور پڑھیں گے۔‘‘
    یہ خط میں نے ستائیس جنوری کو لکھا تھا۔ یکم فروری کو ویسٹ افریقین احمدیہ نیوز ایجنسی نے اپنے ایک نمائندہ خصوصی کے حوالے سے ایک پریس ریلیز جاری کیا جس میں اس تمام خط و کتابت کا ذکر کیا گیا تھا اور خاکسار کے ان مضامین کا متن بھی درج کیا گیا ۔ جواس دوران خاکسار نے اپنے ہفتہ واری کالموں میں لکھے تھے ان میں سے ایک مضمون جو اخبار ڈیلی سروس میں چھپا تھا۔ اس مضمون کا حامل تھا کہ حضرت مسیح ناصری کی انجیل دراصل حضرت رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم کی آمد ہی کی خبر تھی۔ اور وہ اسی بات کی منادی کرنے کیلئے دنیا میں تشریف لائے تھے۔
    اس موقع پر خاکسار نے ڈاکٹر بلی گراہم کی ایک کتاب کا حوالہ دے کر ایک مختصر سی عبارت کے ساتھ ایک پوسٹر شائع کیا۔ پوسٹر کا مضمون یہ تھا:۔
    ’’ ڈاکٹر بلی گراہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو شروع سے آخر تک پڑھ جایئے اس میں کہیں بھی کسی پیشگوئی کا ذکر نہیں ہے اگر ڈاکٹر بلی گراہم کو اس بات کا یقین ہے کہ جو بات انہوں نے کہی ہے وہ درست ہے تو وہ ہم سے پبلک مناظرہ کر لیں۔‘‘
    اس پوسٹر سے تو گویا یہ سارا معاملہ بھڑک اٹھا بیرونی اخبارات کے کثیر التعداد نمائندے احمدیہ مشن آئے اور سارے حالات سُن کر انہوں نے دنیا بھر کے اخباروں میں ہمارے چیلنج کی خبریں شائع کروائیں۔ اس چیلنج کا سب سے زیادہ پروپیگنڈہ امریکہ میں ہؤا۔ وہاں کے اخباروں اور رسالوں نے نہ صرف اس خبر کو جلی حروف میں شائع کیا بلکہ اس پرایڈیٹوریل بھی لکھے اور کھلم کھلا اس بات کا اظہار کیا کہ اگر عیسائی مشنری کسی بات کو کہہ کر اس بات پر قائم نہیں رہ سکتے تو ایسی بات کہتے ہی کیوں ہیں۔
    دنیا کے سب سے زیادہ اشاعت والے ہفتہ وار ٹائم (TIME)ًَ ًَنے جو امریکہ سے شائع ہوتا ہے اس خبر کو دو کالموں میں لکھا۔ اور یہ پہلا ہی موقع تھا کہ ہمارے ایک پمفلٹ کی تقسیم اور اس کے نفس مضمون کا نمایاں طورپر ذکر کیا۔ ٹائم میں شائع شدہ خبر کا ترجمہ درج ذیل ہے:۔
    ’’مسلمان اور بلی‘‘
    گزشتہ ہفتہ سفید فام بلی گراہم نے جن کے متعلق نائیجیریا کے بعض باشندوں کا یہ کہنا تھا کہ ان کی کھال اڑی ہوئی ہوتی ہے اپنے افریقی مذہبی جہاد کو جاری رکھا‘ جہاں کہیں بھی وہ گئے بہت بڑے ہجوموں نے ان کی تقاریر کو سنا اور’’مسیح کے لئے‘‘فیصلے کئے۔ لیگوس میں جو کہ نائیجیریا کا درارالخلافہ ہے گراہم نے ایک لاکھ آدمیوں سے خطاب کیا۔ جس میں سے کم از کم دو ہزار اشخاص نے مسیح کیلئے فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کا اظہار مکمل خاموشی میں کیا جاتا رہا۔ یہ خاموشی نائیجیریا میں جہاں کہ حد سے زیادہ شور و شغب ہوتا ہے۔ ایک نہایت عجیب چیز تھی ان کی تقریر سننے کے لئے مسلمان بھی کافی تعداد میں میدان تقریر میں پہنچے۔ کیونکہ یہ تمام ان مقررین سے مختلف تھے جن کو افریقیوں نے پہلے سنا ہؤا ہے۔ ایک مسلمان کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا’’یہ شخص تو بالکل ہم جیسا ہی معمولی انسان ہے۔ اس کو ہرگز یہ دعویٰ نہیں کہ یہ کسی غیر معمولی طاقت کا مالک ہے اور نہ ہی یہ کوئی ایسا طریق بتاتا ہے جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے نقش قدم پر چلنے میں آسانی پیدا کرتا ہو۔‘‘
    لیکن مسلمانوں کی ایک کثیر تعداداور مسلمان جو کہ کل آبادی یعنی ساڑھے تین کروڑ کے نصف کے قریب ہیں۔ گراہم کی آمد سے خوش نہیں تھے۔ بلی گراہم کے نائیجیریا پہنچنے سے قبل مسلمانوں کے لیڈروں نے ان کے ساتھ ملاقات کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن ان کے ہراول دستہ نے اس تجویز کو رد کر دیا تھا اور رد کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ
    (گراہم ) بہت مصروف ہیں جواب یہ دیا گیا تھا :۔
    ’’ڈاکٹر گراہم کے متعلق آپ ان کی تقاریر سُن کر واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘
    نائیجیریا کے مسلمان جو اس بات پر مغرور ہیں کہ دسمبر کے الیکشن میں ان کا مسلمان وزیر اعظم اپنے عہدے پر قائم رہا۔ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ دورہ اس لئے کروایا گیا ہے تاکہ عیسائیوں کو سیاسی طاقت حاصل کرنے میں مدد ملے (حالانکہ یہ دورہ کافی عرصہ سے زیر تجویز تھا)
    گراہم کے جلسوں میں مسلمانوں کی طرف سے ایسے پمفلٹ تقسیم کئے گئے جن میں پانچ نکات پیش کئے گئے تھے۔ وہ پانچ نکات یہ ہیں:۔
    ۱۔ عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے نہیں تھے۔
    ۲۔ انہوں نے صلیب پر وفات نہیں پائی تھی۔
    ۳۔ وہ مردوں سے جی نہیں اٹھے تھے۔
    ۴۔ وہ آسمان پر اٹھائے نہیں گئے تھے۔
    ۵۔ وہ بذات خود واپس دنیا میں تشریف نہیں لائیں گے۔
    بلی نے کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن کچھ عرصہ کے لئے دونوں طرف طبائع کا پارہ چڑھتا رہا۔ اور دونوں طرفوں سے بیانات جاری ہوتے رہے۔ اس ہفتہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ کیونکہ عیسائی مناد گراہم آرام کرنے کے لئے اور ڈاکٹر البرٹ شویٹزر(ALBERT SHWEITZER)سے ملاقات کرنے کے لئے لمبا رینے (LAMBA RENE) چلے گئے۔‘‘
    لائف (LIFE)۴ جو امریکہ کا مشہور ترین رسالہ ہے اس میں ڈاکٹر گراہم کے دورہ کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کو واضح الفاظ میں پیش کیا گیا کہ افریقہ کے سارے دورے میں ان کی سب سے زیادہ مؤثر مخالفت نائیجیریا میں ہوئی۔
    نائیجیرین اخبارات نے توقع سے زیادہ ہمارے چیلنج کی طرف توجہ دی اور اس کے حق میں اور اس کے خلاف دل کھول کر اظہار رائے کیا۔ سب سے پہلے تو ہمارے چیلنج کو چھاپا پھر اس پر قارئین کے خطوط چھاپے گئے اور ایڈیٹوریل لکھے گئے۔ ایک اخبار نے پہلے صفحہ پر ’’مسلم اور عیسائیت‘‘ کے جلی عنوان سے ویسٹ افریقن احمدیہ نیوزایجنسی کاپریس ریلیز سارے صفحہ پر چھاپا اور اس کے ساتھ ہی ایڈ یٹوریل بھی لکھا جس میں نہ صرف قارئین کو وہ پریس ریلیز توجہ کے ساتھ پڑھنے کی تلقین کی۔ بلکہ ایک زخم خوردہ شیرنی کی طرح اس چیلنج کے خلاف دھاڑا بھی۔
    ایڈیٹوریل کا ترجمہ درج ذیل ہے:۔
    ’’ ہم اپنے قارئین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ وقت نکال کر ضرور بالضرور ہماری لیڈنگ سٹوری کو جو احمدیہ مشن سے لی گئی ہے پڑھیں ہم نے ارادۃً اس خبر کو اس قدر نمایاں جگہ دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے پڑھ سکیں۔ اور اس پر غور کر سکیں۔
    ہم نے خود اسے نہایت غور سے پڑھا ہے اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نائیجیریا میں احمدیہ مشن کے لیڈر مسٹر سیفی ہر حال میں اس بات کے فیصلہ کے لئے مناظرہ کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں مذاہب (اسلام اور عیسائیت ) میں سے کون سا مذہب دوسرے سے بہتر ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ایسے مناظرہ سے لوگوں کے تعلقات خوشگوار ہو سکیں گے۔ یہ بات غیر صحت مندانہ ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں ایک ختم نہ ہونے والی اور بدمزہ بحث چھڑ جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بات اتنی ہی بُری ہے جتنی کہ ایک ایسی بحث جس کا مقصد یہ ہو کہ یہ ثابت کیا جائے کہ یوربا (YORUBA)اور ابوؔ (IBO)میں سے کونسا قبیلہ اچھا ہے یا ھاؤسا (HAUSA)اور ابوؔ (IBO)میں سے کس قبیلہ کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہے۔
    اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ احمدی لیڈر نے بھی گراہم کی آمد سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کی آمد ایسے وقت میں رکھی گئی ہے جب کہ مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل ہؤا ہے اور الحاج ابوبکرتافاوابالیوا پرائم منسٹر بن گئے ہیں۔ یہ بات نہایت ہی خطرناک ہے اور اس سے عیسائیوں کے دلوں پر ایک کاری زخم لگا ہے ۔ نہ صرف نائیجیریا کے عیسائیوں کے دلوں پر بلکہ ساری دنیا کے عیسائیوں کے دلوں پر زخم لگاہے۔
    ہم مذہبی اختلافات کے بارے میں اپنا موقف دوبارہ پیش کر دینا چاہتے ہیں۔ نائیجیریا ایک ایسا خوش قسمت ملک ہے جہاں لوگوں کے مذہبی اختلافات ان کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالتے ۔ ہم ایک ایسے ملک کی تعمیر کر رہے جہاں مذہبی اختلافات لوگوں کے آپس کے تعلقات پر ہرگز اثر انداز نہ ہوں گے۔ ہمارا یقین ہے کہ تمام نائیجیرین چاہے وہ کس ہی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں باہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہر اس شخص یا اس گروہ کی مخالفت کرتے ہیں جو کہ مذہبی آگ کو ہوا دے۔ ہم نے دیگر ممالک میں ان باتوں کے بُرے نتیجے نکلتے دیکھے ہیں۔‘‘ (NORTERN STAR)
    ایک اور اخبار نائیجیرین ٹربیون (NIGERIAN TRIBUNE)نے اپنے ۹؍فروری کے شمارے میں مندرجہ ذیل ایڈیٹوریل لکھا:۔
    ’’غصہ دلانے والی حرکات‘‘
    ’’ دوسرے ممالک کی طرح نائیجیریا بھی بعض مشکلات سے دوچار ہے لیکن برعکس دوسرے ممالک کے یہاں کی مشکلات بہت زیادہ ہیں اور بہت پیچیدہ ہیں‘ اقتصادی مشکلات ہیں‘ اقلیتوں کی مشکلات ہیں‘ قبیلوں کی مشکلات ہیں اور پھر زبان کی بھی مشکلات ہیں۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں جس قدر قبیلے ہیں اور جس قدر زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اتنی ہی تعداد میں مشکلات بھی درپیش ہیں۔ دراصل یہ مشکلات بے شمار ہیں اور ہماری امید صرف اس بات پر قائم ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈر اور زندگی کے دوسرے شعبوں کے لیڈر بھی نفس پرستی سے بالا ہو کر نائیجیریا کے مفاد کے لئے زندگیاں بسر کریں۔ لیکن اگرچہ یہ مشکلات پیچیدہ ہیں نائیجیریا کے لوگ اپنے آپ کو اس لحاظ سے خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ یہاں نسلی اور مذہبی قسم کی مشکلات کالعدم ہیں۔ اور اس کے پیش نظر ہم ایسے شخص کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھ سکتے۔ جو نائیجیریا کی مشکلات میں اضافہ کا باعث ہو۔ اور اس طرح ہماری پریشانیوں میں اضافہ کرے ہم سمجھتے ہیں کہ پہلے ہی نائیجیریا اتنی مشکلات سے دوچار ہے کہ اس کے لیڈر آئندہ پچاس سال تک انہی کو حل کرنے میں مصروف رہیں گے اور اس لئے ہم مغربی افریقہ کے رئیس التبلیغ کے اس ردّ عمل کو ناپسندیدہ سمجھتے ہیں جس کا انہوں نے ڈاکٹر گراہم کے نائیجیریا کے دورے کے سلسلے میں اظہار کیا ہے۔
    یہ مسلمان مبلغ ڈاکٹر گراہم ہی کی طرح ‘ اگر سیاسی زبان میں بات کی جائے تو غیر ملکی ہیں یہ پاکستانی ہیں۔ جب کہ مشہور ڈاکٹر (گراہم) امریکن ہیں۔ لیکن ان دونوں کو نائیجیریا میں آنے کی دعوت نائیجیریا کے لوگوں نے دی ہے اور اسی وجہ سے ان کو صرف اس وقت تک خوش آمدید کہا جا سکتا ہے جب تک کہ وہ اپنے مذہبی حلقہ کے اندر رہ کر اپنا مذہبی کام کریں۔ لیکن مولوی نسیم سیفی صاحب اس تمثیلی برتن کیطرح ہیں جو گراہم کیتلی کو کالا کہتے ہیں۔ مولوی سیفی صاحب کے ساتھیوں نے کیوں ڈاکٹر گراہم کے جلسوں میں شور و شر پیدا کرنے کی ضرورت سمجھی اور کیوں وہاں گراہم کے خلاف پمفلٹ تقسیم کئے۔ سیفی صاحب کو گراہم کے ساتھ مناظرہ کرنے میں بھلا کیا خوشی حاصل ہو سکتی تھی۔
    ہم یہ بات کہنے کی جرأت کرتے ہیں کہ اس احمدی کی حرکات غصّہ دلانے والی ہیں۔ اور سراسر ناجائز ہیں۔ سیفی صاحب غیر معمولی طور پرجوش کا اظہار کرتے ہیں اور ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ غیر معمولی جوش اختلافات کو برداشت نہ کر سکنے کے مترادف ہے۔ ہمیں اس کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس بات سے نفرت کرتے ہیں۔ اس بات کو یہاں ہرگز پیدا نہ ہونے دینا چاہیئے۔
    نائیجیرین ٹربیون۔ نائیجیرین اتحاد کے پیش نظر تمام احمدیوں کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کراتا ہے کہ وہ مولوی سیفی صاحب کو مشورہ دیں کہ وہ بے وجہ نائیجیرین عیسائیوں کے عمائدین پر حملے نہ کریں۔ سیفی صاحب جو کہ اتنے ہی زیادہ مناظر ہیں ان کے لئے نائیجیریا کوئی مناسب زمین نہیں الفابسریواپالارا (ALFA BISRIYU APALARA)کی یاد ابھی تازہ ہے (یہ صاحب ایک مسلمان مبلغ تھے جن کو تبلیغی لیکچر دیتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش کو لیگون (LAGOON)میں پھینک دیاگیا تھا اس قتل کے نتیجہ میں گیارہ اشخاص کو پھانسی ملی تھی (نسیم) ہمارا خیال ہے کہ مولوی سیفی صاحب کیساتھ تعلق رکھنے والے بعض احمدیوں کی حرکات ایسی ہیں کہ ان کے نتیجہ میں ملک میں مناقشت پیدا ہونے کے امکانات ہیںاور اس کا نقصان نائیجیریا ہی کو ہو گا۔‘‘
    اس ایڈیٹوریل کی صحیح پوزیشن بالکل وہی ہے جسے تمثیلی طور پر یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ یہاں یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ نہ خاکسار نے اور نہ ہی کسی اور احمدی دوست نے ڈاکٹر بلی گراہم کے جلسوں میں کوئی پمفلٹ تقسیم کئے تھے ہاں اس میں کچھ شک نہیں کہ ان ایّام میں اندرون شہر جماعت نے ایک پمفلٹ ’’یاد رکھنے کے قابل پانچ نکات‘‘ جس کا ذکر امریکہ کے ہفتہ وار اخبار ٹائم (TIME)نے بھی کیا تھا۔ ضرور تقسیم کیا تھا۔ لیکن یہ محض غلط بیانی تھی کہ ہم نے کوئی پمفلٹ گراہم کے جلسوں میں تقسیم کئے تھے یا ان جلسوں میں کسی قسم کا شوروشر پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔
    مشرقی نائیجیریا کے گورنر سر فرانسس ابیام (SIR FRANCIS IBIAM)جوان دنوں سنٹرل بورڈ آف مشنز آف دی پریس بائٹیرین چرچ(PRESS BYTERIAN CHURCH) آف کینیڈا کے مہمان کے طور پر ٹورنٹو کا دورہ کر رہے تھے ان سے جب مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلقات اور کام کے متعلق سوالات کئے گئے تو انھوں نے پریس کو بتایا کہ اگرچہ نائیجیریا میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان لوگوں کو اپنے اپنے مذہب میں داخل کرنے کے سلسلہ میں ایک بہت بڑا مقابلہ جاری ہے لیکن ان دونوں مذاہب کے پیروکاروں میںآپس میں کوئی مناقشت نہیں ہے۔ ان سے یہ سوالات اس خبر کے سلسلہ میں کئے گئے تھے جو کہ وہاں کے مقامی اخباروں نے بلی گراہم کے دورے کے تعلق میں شائع کی تھی اور جس کا ملخص یہ تھا کہ مسلمان بلی گراہم کے دورے کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ نائیجیریا میں اخبار بین حضرات میں سے بعض کا خیال تھا کہ بلی گراہم کو چیلنج نہ دینا چاہیئے تھا۔ (اور یہ لوگ سب کے سب عیسائی تھے) اور بعض کا خیال تھا کہ چونکہ تبلیغ کا مطلب واضح الفاظ میں یہ ہے کہ اپنے مذہب کی برتری ثابت کر کے لوگوں کو اس میں داخل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لئے ہر وہ شخص جو تبلیغ کے میدان میں نکلتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے عقائد کی صحت کو ثابت کرنے کے لئے اور اپنے مخالف لوگوں کے اعتراضات کا جواب دینے کیلئے تیار رہے چنانچہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلی گراہم کا فرض یہ تھا کہ وہ خاکسار کے چیلنج کو قبول کرتے۔
    ڈیلی سروس (DAILY SERVICE)میں ایک صاحب نے
    ’’سیفی صاحب چپ رہیئے‘‘ کے عنوان سے ایک خط شائع کروایا۔ جس میں ان کا موضوعِ سخن یہ تھا کہ خاکسار نے اپنے ہفتہ واری کالم میں جو مضمون ’’گراہم کے لئے کتابیں‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مجھے عیسائیت سے کد ہے۔ انہوں نے اس خط میں یہ بھی کہا کہ سیفی صاحب کو یہ بھی خیال ہے کہ نبی دنیا میں لوگوں کی اصلاح کے لئے آتے ہیں نہ کہ اپنی جان دے کر لوگوں کے گناہوں کو اپنے سر پر اٹھانے کیلئے۔ اور کہ سیفی صاحب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ (محمد صلی اﷲ علیہ وسلم) کی وفات عام انسانوں کی سی وفات ہونے کی وجہ سے ان کو کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی ۔
    جب اخبارات کے نمائندوں نے ڈاکٹربلی گراہم سے خاکسار کے چیلنج کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر’’میں اس پر کوئی تبصرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں‘‘ اپنا دامن چھڑانے کی کوشش کی۔ نائیجیرین ٹربیون ؔ نے اس خبر کومندرجہ ذیل طریق پر شائع کیا۔ خبر کا عنوان تھا’’مسلمانوں کے چیلنج پر میں اپنی کسی رائے کا اظہار نہیں کرتا‘‘۔ ڈاکٹر بلی گراہم کہتا ہے۔ اور خبر کا متن تھا:۔
    ’’ ڈاکٹر بلی گراہم جو مشہور عالم عیسائی مناد ہیں اور جو سوموار کے روز ابادان (IBADAN)میں مذہبی مہم کے لئے وارد ہوئے ‘انہوں نے مسلمانوں کے ایک گروہ کے مناظرہ کے چیلنج کے متعلق کسی رائے کا اظہار کرنے سے انکار کر دیا ۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ اس چیلنج کو قبول کر لیں گے یا نہیں تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ میں اس پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا‘‘۔
    ’’مغربی افریقہ میں احمدیہ موومنٹ کے لیڈر مولوی نسیم سیفی صاحب نے ان عیسائی مناد کو پبلک مناظرہ کا چیلنج دیا تھا۔ کیونکہ سیفی صاحب کا خیال ہے کہ اگر کسی مذہب کی تبلیغ کرنے والا حقیقی طور پر جانتا ہے کہ وہ کن عقائد کی تبلیغ کر رہا ہے تو ان عقائد کے متعلق پبلک مناظرہ ایک مفید مطلب چیز ہو سکتی ہے۔
    ناردرن سٹار (روزنامہ) میں ایک صاحب نے لکھا کہ ’’مذہبی مناظرہ کسی طرح بھی غیر مفید نہیں ہو سکتا ‘‘اس عنوان سے انہوں نے لکھا کہ میں نے اخبار کی لیڈنگ سٹوری جس کا عنوان’’مسلمان اور عیسائیت ‘‘ہے بڑے شوق سے پڑھی ہے‘ اور اس کے ساتھ ہی آپ کا ایڈیٹوریل بھی شوق سے پڑھا ہے ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا ملک نہایت سرعت کے ساتھ ترقی پذیر ہے اور یہ ترقی خاص طور پر سیاسی‘ معاشی ‘ اور اقتصادی شعبوں میں ہو رہی ہے۔ لیکن کیا روحانیت کی طرف بھی کوئی توجہ دی جا رہی ہے یا نہیں ۔ اس میں کیا شک ہے کہ اس وقت دو بڑے اور اہم مذہب اسلام اور عیسائیت ہیں۔ جس طر ح ہم سیاسی‘ معاشی اور اقتصادی ترقی کے خواہاں ہیں اس طرح ہمیں اس بات کی بھی لگن ہونی چاہیئے کہ ہم سب سے اچھے روحانی نظام کے ساتھ منسلک ہوں اور اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ مختلف مذاہب کے لیڈر تبادلۂ خیالات کریں اور اپنے اپنے مذہب کے اچھے نکات سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ اور اس سلسلہ میں وہ اپنی مقدس کتابوں کے حوالے بھی دیں۔ میں آپ (ایڈیٹر) سے اس بات پر متفق نہیں ہوں کہ ایسی مذہبی مجلس ایک نہ ختم ہونے والی بحث کا آغاز کر دے گی۔ اور یہ بحث بدمزگی پیدا کر دے گی۔‘‘
    اس خط کے لکھنے والے صاحب نے خاکسار کے ایک خط کا حوالہ دیکر یہ ثابت کیا کہ اس ملاقات کا مقصد لوگوں کے تعلقات کو خوشگوار بنانا تھا نہ کہ ان کے درمیان مناقشت کی خلیج وسیع کرنا‘ اور اپنے خط کو اس بات پر ختم کیا کہ ’’میرا خیال تو یہ ہے کہ تمام سنجیدہ مسلمان میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ جس طرح مولوی سیفی صاحب نے تجویز کیا ہے عیسائی مناد اورمسلمان لیڈروں کی ملاقات کا انتظام ضرور ہونا چاہیئے۔‘‘ ایڈیٹر نے اس بات پر نوٹ دیا:۔
    ’’قارئین کے خیالات کو خوش آمدید کہا جائے گا‘‘۔
    ایک اور صاحب نے ڈیلی سروس میں لکھا’’ اب اس غم و غصّہ کا اظہار کیوں کیا جا رہا ہے‘‘خط کا مضمون یہ تھا’’ آپ کے اخبار میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ مولوی نسیم سیفی صاحب اسلام کا دفاع کرنا چھوڑ دیں۔ یہ تجویز نہایت غیر ضروری ہے۔ جب انگلستان میں مقیم نائیجیریا کے کمشنر مسٹر مبو (MBU)نے عیسائیت کے متعلق نہایت حسین پیرائے میں ذکر کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اسلام کے متعلق ناروا الفاظ ستعمال کئے تھے ہم مسلمان بالکل خاموش رہے تھے۔ جب سرفرانسس ابیام جو یونیورسٹی کالج سے تعلق رکھتے ہیں نے وسطی افریقہ میں عیسائیت کے متعلق تقریر کی تھی۔ ہم نے ان کو کسی رنگ میں بھی ملامت نہ کی تھی۔ جب اینگلی کن سناڈ (ANGLICAN SYNOD)نے اسلام کے خلاف خطرہ کی گھنٹی بجائی تھی۔ مسلمانوں نے کسی شور وغوغا سے آسمان سر پر نہ اٹھا لیا تھا۔ لیکن جب مولوی نسیم سیفی صاحب نے اپنے عقائد کے متعلق چند ایک باتیں کہیں تو عیسائیوں کا غضب بھڑک اٹھا۔ ہم مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عبادت اور تقریر کی آزادی ہر شخص کا پیدائشی حق ہے۔
    ویسٹ افریقن پائلاٹ(WEST AFRICAN PILOT)روزنامہ میں ایک صاحب نے لکھا ’’مولوی نسیم سیفی صاحب ایک ہندوستانی (پاکستانی) مسلم مشنری ہیں۔ جو کہ نائیجیریا میں اپنے مذہب یعنی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے عقائد کی تبلیغ کے لئے آئے ہوئے ہیں اور یہ ان کا جائز حق ہے۔ خصوصًا ایک ایسے ملک میں جہاں جمہوری نظام کا دور دورہ ہے مجھے اس بات کا یقین ہے کہ قرآن کریم میں علم اور حکمت کا ایک خزانہ موجود ہے جس کے متعلق یہ صاحب لوگوں کو تبلیغ کر سکتے ہیں ۔ بجائے اس کے کہ بائیبل کے ایسے حوالوں پر زور دیا جائے جو متنازعہ فیہ ہیںاس کے ساتھ ہی ساتھ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے متعلق ایسے کلمات کہے جائیں جو ہتک آمیز ہیں اور عیسائیت کو بھی رگیدا جائے۔
    ’’ قرآن کریم اور بائیبل کا موازنہ جو مبلغ اسلام کی طرف سے گاہے گاہے پیش کیا جاتا ہے وہ ایسا ہے کہ اس سے کسی وقت بھی جھگڑے کی بنیاد کھڑی کی جا سکتی ہے۔ خصوصًا ایسی صورت میں کہ ان کی باتوں کا جواب دینے کی کوشش کی جائے۔
    مسلمان اور عیسائی ایک لمبے عرصہ سے نہایت امن و سکون کے ساتھ اس ملک نائیجیریا میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اور مذہب ان کے آپس کے تعلقات میں کبھی حائل نہیں ہؤا۔ دوسرے مذہب کے متعلق باتیں کہنے کی بجائے ان صاحب کے پاس کافی مواد ہے جن کو وہ استعمال کر سکتے ہیں۔ میں مولوی نسیم سیفی صاحب سے اپیل کرتاہوں کہ وہ اپنی پبلک تقاریر‘ بیانات اور تحریروں کو قرآن کریم ہی کے دائرے میں محدود رکھیں۔ اسی طرح میں اینگلی کن چرچ کے بشپ کو بھی اپیل کرتا ہوں اور میتھو ڈسٹ چرچ کے چیئرمین اور عیسائیوں کی دیگر منظم جماعتوں کو بھی کہ وہ اس مبلغ اسلام کے عیسائیت پر حملوں کی روک تھام کریں‘‘۔
    ناردرن سٹار نے اپنے پہلے صفحہ پر ویسٹ افریقن احمدیہ نیوز ایجنسی کے پریس ریلیز کے متعلق جو ایڈیٹوریل لکھا تھا۔ خاکسار نے اس کا جواب دیاجو اس پرچہ میں چھپا۔
    اخبار والوں نے اس خبر پر یہ سرخی جمائی :۔
    ’’احمدیہ جماعت کے لیڈر کہتے ہیں کہ سٹار کی دلیل ایک ایسی منطق ہے جس کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
    اور خبر یوں لکھی:۔
    ’’مولوی نسیم سیفی صاحب جو مغربی افریقہ میں احمدیہ مشن کے لیڈر ہیں نے ناردرن سٹار کی ایڈیٹو ریل تنقید کا جواب لکھا ہے۔ یہ ایڈیٹوریل احمدیہ مشن کے اس پریس ریلیز کے جواب میں تھا جس میں ڈاکٹر بلی گراہم سے ملاقات کے سلسلہ میں احمدیہ جماعت کے لیڈر کی کوششوں کا ذکر تھا۔ جس روز ہم نے یہ پریس ریلیز چھاپا تھا اُسی روز ہم نے اس پر تنقید بھی چھاپ دی تھی۔ ہمارا خیال ہے کہ نسیم سیفی صاحب کی یہ کوشش کہ ڈاکٹر بلی گراہم سے پبلک مناظرہ کیا جائے۔ غیر صحت مندانہ اقدام ہے۔ ہم نے اس بات کا انتباہ بھی کیا تھا کہ کوئی شخص مذہبی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش نہ کرے۔
    ہم ذیل میں احمدیہ لیڈر کا جواب شائع کر رہے ہیں۔
    ’’میں آپ کا نہایت شکر گزار ہوں کہ آپ نے ہمارا پریس ریلیز شائع کر دیا اور اس بات کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس پر تنقید بھی کی۔ مجھے صرف اس بات کا افسوس ہے کہ آپ نے اپنی تنقید پریس ریلیز کی مکمل اشاعت سے قبل ہی شائع کر دی (دراصل پریس ریلیز دو اشاعتوں میں چھپا تھا اور تنقیدی ایڈیٹوریل پہلی ہی اشاعت میں شائع کر دیا گیا تھا لیکن بہر حال یہ کوئی ایسی اہم بات نہیں ہے جس پر مجھے خاص طور پر زور دینے کی ضرورت محسوس ہو۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری اس بات سے ناراض نہ ہوں گے کہ آپ کی تنقید ۔اگرچہ یہ تنقید خلوصِ دل سے کی گئی ہے۔ نہایت ہی غیر منطقی ہے۔ آپ کو اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ ابوؔ (IBO)اور یوروبا (YORUBA)اور اسلام اور عیسائیت والی مثال ایسی ہے جس کا ایک دوسرے سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ قبائل کا تعلق وراثت سے ہے اور ہم ان کو کسی رنگ میں تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی ایک قبیلہ کے لوگ یہ تبلیغ کرتے پھرتے ہیں کہ دوسرے قبیلوں کے لوگ بھی اس قبیلہ کے لوگ بن جائیں لیکن مذہب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ ہم اس بات کا انتخاب کرتے ہیں۔ لوگ مذہب کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں اور یہی چیز ہے جسے مذہب کی منادی کرنا کہتے ہیں۔ ڈاکٹر بلی گراہم کا نائیجیریا آنے کا مقصد بھی یہی تھا۔
    ’’سرفرانسس ابیام نے حال ہی میں کینیڈا میںکہا تھا کہ اپنے اپنے مذہب میں شامل کرنے کے لئے یقینا مختلف مذاہب (خصوصًا اسلام اور عیسائیت) میں مقابلہ کی ایک خاص روح پائی جاتی ہے۔ آپ عیسائی کیوں ہیں؟ اس لئے کہ آپ کے خیال میں عیسائیت ہر دوسرے مذہب سے اچھی ہے۔ میں مسلمان کیوں ہوں؟ اِس لئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام تما م مذاہب سے اچھا ہے۔ عیسائی یہ کوشش کررہے ہیں کہ لوگوں کو یہ بات سمجھائیں کہ عیسائیت سب مذاہب سے اچھی ہے۔ ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسلام سب سے زیادہ اچھا مذہب ہے۔ مجھے امید ہے کہ اب آپ ضرور مجھ سے کلی اتفاق کریں گے کہ مذہب کی تبلیغ ضروری ہے۔صرف ایسے لوگ جو اچھے عیسائی نہیں ہیں مذہب کی تبلیغ کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور پھر یہ بھی تو سوچئے کہ میرا بلی گراہم سے کیا مطالبہ تھا؟ صرف یہ کہ وہ مسلمانوں سے ملیں۔ میں نے جو خط ان کو لکھا تھا اس کا آخری فقرہ یہ تھا ’’ایک ایسے شخص کے لئے جو کہ بہت بڑا مذہبی لیڈر ہے محبت اور تکریم کے جذبات کے ساتھ میں چند ایک کتابیں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں مجھے امید ہے کہ آپ ان کتب کا ضرور مطالعہ کریں گے
    ’’کیا اب بھی آپ اس بات کو غیر صحت مندانہ کہتے ہیں؟‘‘ ۵
    مشرقی افریقہ
    ڈاکٹربلی گراہم مغربی افریقہ میں شکست فاش اٹھانے کے بعد مارچ کے اوائل میں مشرقی افریقہ کے شہر نیروبی پہنچے اور انہوں
    نے بڑے بڑے عظیم الشان جلسوں سے خطاب کیا تومشرقی افریقہ میں جماعت احمدیہ کے رئیس التبلیغ مولانا شیخ مبارک احمد صاحب فاضل نے اسلام کی طرف سے اُنہیں ایک چیلنج دیا۔ انہوں نے ڈاکٹر گراہم کے نام جو خط لکھا اور جو وہاں کے اخبارات میں بھی شائع ہؤا اس کا ترجمہ درج ذیل ہے :۔
    نیروبی ۳۔مارچ ۱۹۶۰ء
    ڈیئر ڈاکٹر گراہم!
    میں احمدیہ مسلم مشن مشرقی افریقہ کے ریئس التبلیغ کی حیثیت سے نیروبی میں آپ کی آمد پر بڑی مسرّت اور گرمجوشی کے ساتھ آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ عیسائیت کی تبلیغ کو اپنا مطمحِ نظر قرار دینے میں آپ نے جس رُوح اور جذبے کا اظہار کیا ہے وہ واقعی قابلِ قدر ہے اور میں آپ کے اس جذبہ اور رُوح کو سراہنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا جس مقصد کے تحت آپ نے یہاں تشریف لانے کی زحمت اٹھائی ہے اس کو مدّنظر رکھتے ہوئے میرے لئے یہ اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ میں آپ کو دین حق کو طرف دعوت دوں اور اس کی بے نظیر تعلیم کا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ دلاؤں۔
    (۲) بلاشبہ آپ بخوبی واقف ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ انجیل کے بیان کے مطابق یسوع مسیح کا اپنا فرمان یہ ہے کہ’’درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے‘‘۔ اسی طرح یسوع مسیح نے یہ بھی کہا ہے کہ:۔
    ’’اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا تو اس پہاڑ سے کہہ سکو گے کہ یہاں سے سِرک کروہاں چلا جا اور وہ چلا جائے گا۔ اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہ ہو گی۔‘‘ ۶
    پھر یہ بھی اسی کا فرمان ہے کہ :۔
    ’’جو کچھ تو خدا سے مانگے گا وہ تجھے دے گا‘‘ ۷
    مسیح کے یہ اقوال ایک ایسے معیار کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی مدد سے کسی مذہب کی صداقت کو بآسانی پر کھا جا سکتا ہے۔ اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ آیا اس معیار مذاہب کی صداقت کو پرکھنے کا اس سے بڑھ کر اور کوئی موقع ہو گا جبکہ آپ مشرقی افریقہ کے لوگوں کی بھلائی کی خاطر خود یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ آپ نے بڑے بڑے شاندار مقالے رقم فرمائے ہیں اورمروّجہ عیسائیت کی تائید میں بڑی زور دار اور گرما گرم تقاریر کی ہیں لیکن اگر خود یسوع مسیح کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق آپ کے اپنے مذہب کی صداقتعملاً دُنیا پر ظاہر ہونے کی صورت نکل آئے تو یہ بات آپ کی ان تمام مساعی پر جو اب تک آپ کر رہے ہیں سبقت لیجائیگی۔
    (۳) اس کے بالمقابل میرا دعویٰ یہ ہے کہ آج روئے زمین پر صرف اور صرف اسلام ہی وہ ایک زندہ مذہب ہے جس پر عمل کر کے لوگ نجات یافتہ قرار پا سکتے ہیں۔ اور یہ کہ مروّجہ عیسائیت آسمانی تائید و نصرت اور انسانوں کی حقیقی رہنمائی کے وصف سے یکسر بے بہرہ ہے۔ لہذا میں عوام کی بھلائی کی خاطر پُوری عاجزی اور اخلاق کے ساتھ آپ کو ایک ایسے مقابلے کی دعوت دیتا ہوں جس کے ذریعہ ہم اپنے اپنے مذہب کی صداقت کو آشکار کر سکتے ہیں۔
    (۴) مقابلے کا ایک طریق یہ ہے کہ تیس ایسے مریض لے لئے جائیں کہ جو میڈیکل سروسزکینیا کے ڈاکٹرصاحب کے نزدیک لاعلاج ہوں۔ ان تیس مریضوں میں سے دس یورپین‘ دس ایشیائی اور دس افریقن ہوں۔ انہیں قرعہ کے ذریعہ میرے اور آپ کے درمیان مساوی تعداد میں بانٹ لیا جائے۔ پھر دونوں مذاہب کے پیروؤں میں سے چھ چھ آدمی ہمارے ساتھ اور آ شامل ہوں اور ہم اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مریضوں کی صحت یابی کے لئے خدا کے حضور دُعا کریں تاکہ اس امر کا فیصلہ ہو سکے کہ کس کو خدا کی تائید و نصرت حاصل ہے اور کس پر آسمان کے دروازے بند ہیں۔
    (۵) مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہ تجویز قبول کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہ عین اُن اصولوں کے مطابق ہے جویسوع مسیح نے خود بیان فرمائے ہیں لیکن اگر آپ نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کیا تو دنیا پر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں اور دو اور دو چار کی طرح ثابت ہو جائے گی کہ صرف اور صرف اسلام ہی وہ زندہ مذہب ہے جو خدا کے ساتھ تعلق قائم کرنیکی صلاحیت سے بہرہ ور ہے۔
    آپ کا مخلص (دستخط ) شیخ مبارک احمد
    رئیس التبلیغ احمدیہ مسلم مشن مشرقی افریقہ (نیروبی)
    اگرچہ ڈاکٹر گراہم نے شیخ مبارک احمد صاحب کے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن جب وہاں کے اخبارات میں اس چیلنج کا خوب چرچا ہؤا اور اخبارات نے شیخ صاحب کافوٹو شائع کر کے آپ کے چیلنج کو اہمیت دی تو ایک شخص نے اس چیلنج سے متاثر ہو کر ڈاکٹر گراہم کے ایک پبلک لیکچر کے بعد ان سے سوال کیا کہ کیا وہ کوئی ایسی مجلس بھی منعقد کریں گے جس میں وہ بیماروں کو چنگا کرنے کے لئے خدا سے استمداد کریں۔ اس پر اُنہوں نے سراسر عجز کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ میرا کام محض وعظ کرنا ہے مریضوں کو چنگا کرنا نہیں۔
    اس جواب پر نیروبی کے ناموراخبار دی سنڈے پوسٹ نے اپنی ۶؍مارچ ۱۹۶۰ء کی اشاعت کے صفحہ ۲۶ پر لکھا:۔
    ’’اسلام کا چیلنج‘‘
    ’’جلسے کے بعد ڈاکٹر گراہم نے بالواسطہ طور پر اس چیلنج کا جواب دیا جو انہیں اس امر کے فیصلے کیلئے دیا گیا تھا کہ اسلام اور عیسائیت میں سے کونسا مذہب سچّا ہے۔ یہ چیلنج احمدیہ مسلم مشن کے رئیس نے گزشتہ جمعہ کے روز دیا تھا۔‘‘
    ’’شیخ مبارک احمد نے تجویز پیش کی تھی کہ تیس لاعلاج مریض منتخب کئے جائیں ان میں سے دس افریقن ہوں۔ دس یورپین اور دس ایشیائی۔ ان مریضوں کے بارہ میں ڈائرکٹر آف میڈیکل سروسز کینیا باقاعدہ یہ تصدیق کریں کہ فی الواقع یہ لاعلاج ہیں۔ ان مریضوں کو پھر مبلغِ اسلام اور ڈاکٹر گراہم کے درمیان قرعہ کے ذریعہ تقسیم کر دیا جائے۔ شیخ مبارک احمد نے لکھا تھا کہ’’اس کے بعد دونوں مذاہب کے پیروؤں میں سے چھ چھ آدمی اور شامل ہوں گے۔ پھر ہم اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مریضوں کی صحت یابی کے لئے خدا کے حضور دُعا کریں گے تاکہ اس امر کا فیصلہ ہو سکے کہ دونوں میں کس کو خدائی تائید و نصرت حاصل ہے اور کس پر آسمان کے دروازے بند ہیں۔‘‘
    ’’کسی کو چنگا نہیں کیا جائے گا‘‘
    ’’جلسے کے اختتام پر ایک ایشیائی ڈاکٹر گراہم کے پاس آیا اور اس نے اس سے دریافت کیا کہ وہ کوئی ایسی مجلس بھی منعقد کریں گے کہ جس میں مریضوں کو چنگا کرنے کا انتظام کیا جائے۔‘‘
    ڈاکٹر گراہم نے جواب دیا۔’’میرا منصب وعظ کرنا ہے چنگا کرنا نہیں ۔ میں صرف وعظ کرتاہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ خد کی مرضی پوری ہو‘‘
    ’’قبل ازیں شیخ مبارک احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر ڈاکٹر گراہم نے چیلنج قبول کرنے سے انکار کیا تو اس سے دُنیا پر ثابت ہو جائیگا کہ صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو بندے کا خدا سے تعلق قائم کرنے کی صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہے۔‘‘
    شیخ مبارک احمد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود ذاتی طور پر دُعا کے ذریعے لوگوں کا علاج کیا ہے اور وہ شفایاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی افریقہ میں ڈاکٹر گراہم عیسائیت کو فائدہ پہنچانے کی بجائے اُلٹا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہاں عیسائی ہونے والے مسلمانوں کے مقابلہ میں خود عیسائی بہت زیادہ تعداد میں اسلام قبول کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹانگانیکامیں تقریباً پچاس لاکھ مسلمان ہیں۔‘‘ ۸
    دنیائے عیسائیت میں زبردست اضطراب و تشویش

    ڈاکٹر بلی گراہم نے قاہرہ پہنچ کر کہا کہ انہوں نے افریقہ میں عیسائی لیڈر شپ کو بہت مضبوط پایا اور کہ تعلیمیافتہ لوگوں کی اکثریت عیسائی مشن سکولوں کی فارغ التحصیل ہے اور کہ یہ بات نہایت حوصلہ افزا ہے لیکن اسلام بھی بڑی سرعت کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ واپس امریکہ پہنچ کر ڈاکٹر موصوف نے اسلام کی ترقی پر فکر مندی کا ظہار کیا اور اس بات کی خواہش ظاہر کی کہ نئے خطوط پر افریقہ میں عیسائیت کی تبلیغ کے انتظامات کیئے جائیں انہی خیالات کا اظہار انہوں نے صدر امریکہ جان ایف کینیڈی سے بھی کیا ۹
    اس زبردست اضطراب کی بازگشت یورپ میں بھی سنائی دی گئی چنانچہ لنڈن کے بشپ نے افریقہ میں اسلام کی پیشقدمی پر سخت غم و غصّہ کا اظہار کیا اور عیسائیوں سے اسلام کے خلاف ایک متحدہ عیسائی محاذ قائم کرنے کی اپیل کی۔ چنانچہ انہی دنوں روزنامہ ’’ نئی روشنی‘‘ کراچی نے برطانوی نامہ نگار کے حوالہ سے حسبِ ذیل خبر شائع کی۔
    ’’لندن یکم اپریل (سمیع الدین نمائندہ نئی روشنی)لندن کے بشپ نے یہ شرانگیز تجویز پیش کی ہے کہ چونکہ افریقہ میں اسلامی مبلغین اور عیسائی مشنریوں کے درمیان لوگوں کو مشرف بہ اسلام کرنے اور عیسائی بنانے کی مہم میں زبردست مقابلہ ہو رہا ہے اور اسلام بڑی سرعت سے پھیل رہا ہے اس لئے ایک ادارہ اینٹی اسلام پروجیکٹ (یعنی ادارہ مخالفین اسلام) قائم کیا جائے بشپ مذکور بی بی ایس ریڈیو پر اسلام اور عیسائیت کے مقابلہ کے عنوان سے ایک پروگرام میں حصہ لے رہے تھے بشپ مذکور نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ ’’درحقیقت پہلی بار اب عیسائیت اور اسلام کا مقابلہ ہو رہا ہے اور پاکستان کے مذہبی رہنما مغربی افریقہ میں بسنے والے افراد کو وسیع پیمانے پر مشرف بہ اسلام کر رہے ہیں حالانکہ عیسائی مشنری عرصہ سے اس علاقہ میں سرگرم ہیں لیکن ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے اور ان میں سخت مایوسی پھیلی ہوئی ہے عیسائی مشنریوں کو مایوسیوں اور ناکامیوں سے بچنے کے لئے آرک بشپ نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ عیسائی مشنری اسلام کی اشاعت کو (نعوذ باﷲ ) روکنے کیلئے اسلام دشمن پروجیکٹ بنایا جائے چنانچہ اس اسکیم کو عملی جامعہ پہنا دیا گیا اور اینٹی اسلام پروجیکٹ کے نام سے ایک ادارہ بنا دیا گیا ہے واضح رہے کہ ہر سال عیسائی مشنریوں کے ذریعہ کروڑوں روپیہ عیسائیت کی نشر و اشاعت پر خرچ ہوتا ہے۔ لندن کے بشپ نے افریقہ کے جنگلوں میں بسنے والے افراد کی امداد کے لئے چار لاکھ روپیہ کی رقم کا عطیہ دیا ہے لندن کے آرک بشپ کی طرف سے یہ شرانگیز اور اسلام دشمن مہم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آئے دن عیسائی مشنری مسلمانوں اور اسلام کو زک پہنچانے کے لئے طرح طرح کے دل آزاراور شرانگیز فتنے چھوڑتے رہتے ہیں ’’اینٹی اسلام پروجیکٹ‘‘ بھی اس فتنہ کی ایک کڑی ہے اور دین برحق پر پیسہ کے زور سے فتح حاصل کرنا چاہتے ہیںکیونکہ وہ راست بازی کے ذریعے تو افریقی عوام کا دل جیت نہیں سکے اب نقرئی و طلائی تھیلوں کا منہ کھول کر اسلام کے خلاف صف آراء ہو رہے ہیں ۔ جس میں انہیں ناکامی یقینی ہے کیونکہ اسلام کی سادہ تعلیمات صداقت پر مبنی ہیں اور اس میں رنگ و نسل کی تمیز ختم اور مساوات و عدل و انصاف کو اوّلیت دی گئی ہے۔ چنانچہ خود افریقی باشندے سفید فام عیسائی حکمرانوں کے تشدد و امتیاز نسلی کے مقابلہ میں جب اسلامی اخوت و مساوت کو پرکھتے ہیں تو ان کا دل حقانیت اسلام کا شیدا ہو جاتا ہے۔ ۱۰
    بشپ صاحب کی اس اپیل کے بعد ایک مسیحی محقق مسٹر والراڈ پرائس (WILLRAD PRICE)نے اپنی کتاب "INCREDIABLE AFRICA"میں لکھا کہ ڈاکٹر بلی گراہم نے دورہ افریقہ سے واپسی پر یہ پیشگوئی کی ہے کہ برّاعظم افریقہ میں عیسائیت کا اثرونفوذکم ہوتاچلا جائے گا اور عیسائیوں کو اپنی جانوں کے محفو ظ رکھنے کے لئے غاروں میں چُھپنا پڑے گا۔ پرائس نے مزید لکھا کہ افریقہ میں اسلام کی ترقی عیسائیت کی نسبت تین گنا ہے جو افریقن کسی بیرونی ملک کے مذہب کو اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ اسلام کو بخوشی قبول کر لیتے ہیں کیونکہ مسلمانوں کے پیش نظر افریقنوں کی جائدادوں پر قبضہ کرنا نہیں ہے اس کے مقابلہ میں یورپین عیسائیوں کے متعلق افریقن کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں بائبل دے کر ہماری زمینیں ہم سے چھین لی ہیں۔ ۱۱
    ڈاکٹر بلی گراہم کے دورہ کے کچھ عرصہ بعد مسٹر لزلے رامزے(MR LISLE RAMSEY) ۱۲ نے امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سرپرستی میں افریقہ کے تیرہ ملکوں کا دورہ کرنے کے بعد یہ بیان دیا کہ اگر عیسائیوں نے غیر معمولی فراست کا ثبوت نہ دیا تو افریقہ سے عیسائیت ختم ہو جائے گی کیونکہ مسلمان عیسائیوں سے زیادہ کامیابی کے ساتھ تبلیغ کر رہے ہیں اور لوگ عیسائیت کے مقابل اسلام میں زیادہ تیزی کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔ ۱۳
    روزنامہ نوائے وقت لاہور کے نمائندہ خصوصی متعیّن امریکہ کے تاثّرات
    ڈاکٹر بلی گراہم کی پشت پر چرچ کا عالمی اثرو رسوخ اور امریکہ کی بے پناہ سیاسی قوت و شوکت اور سرمایہ تھا جس کے سامنے غریب اور کمزور افریقن مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہ تھی مگر اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجاہدین احمدیت نے مسلمانوں کی طرف سے ایسی کامیاب نمائندگی کی کہ صلیب پرستوں کا ناطقہ بند ہو گیا اور دنیا بھر میں جماعت احمدیہ کے اس فقیدالمثال کارنامہ کی دھاک بیٹھ گئی اور مسلمان عش عش کر اُٹھے۔
    چنانچہ لاہور کے مؤقر اور کثیر الاشاعت روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے نمائندہ خصوصی متعین امریکہ۔ مسٹر حفیظ ملک۔ نے خراج تحسین ادا کرتے ہوئے لکھا:۔
    ’’افریقہ کے آزاد ہونے پر افریقی عوام ایک انتہائی مشکل نفسیاتی مصیبت میں پھنس رہے ہیں۔ افریقہ کے اکثر حصوں میں اب بھی انسان دھات اور پتھر کے زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور جو زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ ایک شدید جذباتی‘ ایمان اور روحانی بحران میں مبتلا ہیں۔ افریقہ کے عوام میں بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے۔ کہ کبھی کوئی پیغمبر نازل نہیں ہوا۔ اب تک افریقہ ایام جہالت کا بہترین نمونہ ہے سوال یہ ہے کہ افریقہ میں عوام کا مذہب کیا ہو گا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ ا مریکی پادری اس پر بڑی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے مشہور و معروف پادری بلی گراہم نے افریقہ کا دورہ کیا گذشتہ ہفتے انہوں نے صدر آئزن ہاور سے وائٹ ہاؤس میں ۴۰ منٹ کے لئے تبادلہ خیالات کیا اور صدر آئزن ہاور کو یہ مشورہ دیا کہ نائیجیریا کا دورہ کریں کیونکہ اکتوبر میں نائیجیریا انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہو جائے گا۔ پادری بلی گراہم نے رپورٹروں کو ملاقات کے بعد بتایا کہ امریکہ کیلئے لازم ہے کہ وہ افریقہ کے عوام کے نیشنلزم کے ساتھ پوری پوری ہمدردی کرے۔ صدر آئزن ہاور کے ردِّ عمل پر بحث کرتے ہوئے بلی گراہم نے کہا کہ صدرآئزن ہاور نے نائیجیریا کے دورے کے مسئلہ پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس خیرسگالی کے دورہ سے امریکہ کو جو فائدہ پہنچے گا وہ محتاج بیان نہیں۔ لیکن پادری بلی گراہم کو جو غم ہے۔ وہ کسی اور مسئلہ سے ہے۔ انہوں نے رپورٹروں کو بتایا کہ مسلمان مشنری افریقہ میں جب سات حبشیوں کو مسلمان بناتے ہیں تو عیسائی مشنری کہیں مشکل سے تین حبشیوں کو عیسائی بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اسلام کی ترقی کو روکنے کیلئے بلی گراہم ایک مشنری پروگرام وضع کر رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ امریکی حبشیوں کو عیسائیت کی تبلیغ کے لئے مشنوں میں بھرتی کرنا چاہیئے جو اپنے افریقی بھائی بندوں کو آسانی سے عیسائی بنا سکیں گے۔ اس کے علاوہ بلی گراہم نے کہا کہ وہ ان مشنریوں کو اپنے مشن میں بھرتی کریں گے۔ جو علم نسلیات اور جناب رسالت مآبؐ کی تعلیمات سے آگاہ ہوں گے۔ تاکہ وہ اسلام کی کمزوریوں کو ’’افریقی‘‘ عوام پر واضح کر سکیں۔
    اب سوال یہ ہے کہ افریقہ میں تہذیب اور علم و ہنر اور مذہب پھیلانے کی ذمہ داری کس حد تک پاکستانیوں پر عائد ہوتی ہے جہاں تک کہ ہمارے عرب بھائیوں کا تعلق ہے۔ وہ تو عرب نیشنلزم کے سوا بات نہیں کرتے۔ اسلام ان کے لئے ثانوی اہمیت رکھتا ہے۔ بھارت کے پاس کوئی ایسا مذہب نہیں جس کی تبلیغ کی جاسکے۔ لیکن اس کے باوجود بھارت افریقہ میں ثقافتی تبلیغ کر رہا ہے۔ ہر سال افریقہ سے طلباء کی ایک خاص تعداد بھارتی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے آتی ہے۔ صرف مشرقی افریقہ کو لے لیجئے۔ اب تک ۳۵۰ افریقی طلبہ بھارتی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ ۲۰۰ طلبہ واپس جا چکے ہیں۔ نیروبی کے ایسٹ افریقن ٹائمز (جو احمدیہ جماعت کا اخبار ہے) کے بیان کے مطابق ۱۹۵۹ ء میں بھارت نے ۸ وظیفے یوگنڈا کے حبشی طلبہ کو دیئے۔۱۰ کنیا کے طلبہ کو ۴ ٹانگا نیکا کے طلبہ کو اور ایک زنجبارکے طالب علم کو دیئے گئے۔ بھارت میں انڈین کلچرل کونسل ان طلبہ کو تمام سہولتیں مہیّا کرتی ہے۔ جہاں تک افریقی ممالک کا تعلق ہے افسوس ہے کہ ان کے متعلق مکمل فہرست حاصل نہ ہو سکی۔ لیکن اندازہ کیا جاتا ہے۔ کہ اس سال سینکڑوں طلبہ افریقہ سے بھارت میں تعلیم کی غرض سے آئے ہیں۔ یہی جو ان طلبہ کل ان افریقی ممالک کے لیڈر
    ہو نگے اور ان کے توسط سے بھارت کو جو سیاسی فائدہ پہنچے گا۔ اس کا آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
    افریقہ میں اگر کوئی پاکستانی مذہبی مشنری کام کر رہی ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہے۔ مشرقی افریقہ میں مسلمانوں کی آبادی ۱۵ فیصد ہے جس میں ایسٹ افریقن ٹائمز کے بیان کے مطابق ۱۰۰۰۰افریقی لوگ احمدی ہیں۔ پرتگیزی مشرقی افریقہ میں تقریباً دس لاکھ افریقی مسلمان ہو چکے ہیں۔ جن میں سے غالب اکثریت احمدیوں کی ہے۔ کینیا کے سرحدی صوبوں میں اسلام کو فروغ ہو رہا ہے اور یہاں بھی غالب اکثریت احمدیوں کی ہے۔ نیروبی میں تو خیر احمدیوں نے ایک بہت بڑا مذہبی تبلیغی مرکز قائم کر رکھا ہے جو روزانہ انگریزی اخبار بھی شائع کرتا ہے۔ اور اس کے علاوہ تعلیم کے لئے اس سینٹر نے کالج وغیرہ بھی قائم کر رکھے ہیں۔
    ہمیں احمدیت سے شدید اختلافات ہیں اور ہم قادیانی فرقہ کے تصورات کو بالکل باطل اور گمراہ سمجھتے ہیں اور سواداعظم کی طرح ان تصورات سے نفرت وبیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں ان کی مساعی کی داد دینی پڑتی ہے بلی گراہم جب اپنے حالیہ دورہ میں نیروبی گئے تو اسلام کی طرف سے اگر کسی جماعت نے انہیں مباحثہ کی دعوت دی تو وہ جماعت احمدیہ تھی۔ کینیا ‘ یوگنڈا اور ٹانگا نیکا میں اس وقت ۲۵۰۰۱۰۰۰ مسلمان آباد ہیں لیکن ان کی تعلیمی حالت بہت ہی کمزور ہے۔ عیسائی مشنری سکولوں اور کالجوں کے ذریعہ سے طلبا کوعیسائیت کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جماعت احمدیہ کے سوا پاکستان میں اور کوئی مذہبی جماعت موجود نہیں جو افریقہ میں اسلام کی تبلیغ کے کام کو انجام دے سکے پاکستان میں جماعتِ اسلامی بہت ہی با اثر جماعت ہے۔ مولانا مودودی کے سیاسی خیالات سے ہمیں بہت زیادہ اختلافات ہیں ۔ لیکن ہمیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے کہ اگر وہ افریقہ میں مشنری کام کا بیڑہ اٹھائیں ۔ تو اس سے صرف اسلام کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے علاوہ انسانیت کی خدمت بھی ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک غیر ممالک میں جتنا بھی اسلامی مشنری کام ہوا ہے وہ علماء نے اپنی ذاتی حیثیت میں ادا کیا ہے اب ضرورت ہے کہ تبلیغی کام کو منظم کیا جائے۔ اگر جماعت اسلامی سیاسی خواہشوں اور دفاتر کے خواب سے علیحدہ ہو کر افریقہ میں اسلامی تہذیب وتمدن پھیلانے کی کوشش کرے تو ہمیں توقع ہے کہ فروغ اسلام میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق بلی گراہم کے تمام ارادے ناکام ہو کر رہ جائینگے اسلئے کہ جماعت اسلامی میں جو علماء ممبر کی حیثیت سے شامل ہیں۔ وہ صیحح معنوں میں اسلام کے عالم ہیں اور ان کے توسط سے جو اسلام پھیلے گا۔ وہ افریقی لوگوں کو روحانیت کے سرچشموں سے فیضیاب کریگا۔ دراصل یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس پر حکومتِ پاکستان کو تبلیغی کام کرنیوالی جماعتوں کی اعانت کرنی چاہیئے ۔ کیا ہم مولانا مودودی سے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ افریقہ میں تبلیغی کام کا بیڑا اٹھائیں گے؟ ہماری رائے میں تو ان سے بہتر انسان پاکستان میں اس کام کیلئے موجود نہیں۔‘‘ ۱۴
    اخبار ’’رضاکار‘‘ لاہور کا حقیقت افروز تبصرہ
    پاکستان کے مشہور شیعہ ہفت روزہ رضاکار نے نہ صرف اپنی یکم مئی ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں مندرجہ بالا مضمون شائع کیا بلکہ ۸؍مئی ۱۹۶۰ء کے پرچہ میں اس پر درج ذیل تبصرہ بھی سپرد اشاعت کیا:۔
    ’’ گزشتہ شمارہ میں ہم نے جناب حفیظ ملک صاحب نمائندہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لاہور مقیم واشنگٹن (امریکہ) کا ایک مراسلہ ’’افریقہ میں تبلیغ اسلام ‘‘کے عنوان سے نوائے وقت لاہور سے نقل کیا تھا۔
    محترم حفیظ ملک صاحب نے اپنے اس مراسلہ میں احمدی مبلغین اور عیسائی مشنریوں کی افریقہ میں تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔ اوراس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ احمدی مبلغین کس طرح عیسائی مشنریوں کا سر توڑ مقابلہ کر کے لاکھوں افریقیوں کو احمدی بنا رہے ہیں اختلاف عقائد کے باوجود حفیظ ملک نے احمدی مبلغین کی تبلیغی کوششوں کو سراہا ہے۔ اور انہیں خراج تحسین ادا کیا ہے‘‘۔
    افریقہ آزاد ہو رہا ہے۔ لہذا مغربی ممالک اب افریقیوں کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے کے لئے’’مذہب‘‘کو سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اور افریقہ میں وسیع پیمانے پر عیسائیت کی تبلیغ کر کے افریقیوں کے ساتھ روحانی اور نظریاتی رشتے استوار کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس وقت پورے براعظم افریقہ میں عیسائی مشنری پھیلے ہوئے ہیں ۔ اور عیسائیت کی تبلیغ پورے زور شور کے ساتھ جاری ہے۔اندریں حالات اس وقت افریقہ میں تبلیغ اسلام کے لئے ایک وسیع میدان موجود ہے۔ محترم حفیظ ملک صاحب نے اسلامیان پاکستان کی توجہ اسی طرف مبذول کرائی ہے اور اس ذیل میں جماعت اسلامی کو خصوصی دعوت دی ہے۔ کہ اس کے مبلغین افریقہ میں جا کر اسلام کی تبلیغ کریں۔ تو انہیں شاندار کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ ہماری آنکھیں تلاش کرتی رہیںکہ محترم حفیظ ملک کے مذکورہ مراسلہ میں اثنا عشری مبلغین کی تبلیغی خدمات کا بھی کہیں ضرور ذکر آئیگا۔لیکن ہمیں یہ دیکھ کر بے انتہا مایوسی ہوئی۔ کہ اس سلسلہ میں اثنا عشری مبلغین کا کہیں نام تک نہیں آیا۔
    ہماری جماعت کے مایہ ناز مبلغ مولانا خواجہ محمد لطیف صاحب قبلہ انصاری گزشتہ دو سال سے افریقہ میں مقیم ہیں اور موصوف نے ’’رضا کار‘‘ میں متعدد اقساط میں افریقہ میں مذہب اثنا عشری کا مقام کے عنوان سے افریقہ کے خوجہ اثنا عشری شیعوں کے حالات پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے۔ محترم خواجہ صاحب کے ان مراسلات سے تو ہم نے یہ اندازہ لگایا تھا۔ کہ افریقہ میں شیعہ ہر لحاظ سے صف اول میں شمار ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ پورے ملک کی صنعت و تجارت پر چھائے ہوئے ہیں۔ ہر مقام پر ان کی مساجد اور امام باڑے موجود ہیں۔ اور انہوں نے ہر جگہ تبلیغ دین کیلئے علماء کا انتظام کر رکھا ہے باوجود صاحبان ثروت ہونے کے ان کا دینی شغف قابل داد ہے۔ چنانچہ خود خواجہ صاحب نے یہ تحریر فرمایا تھا کہ افریقہ میں یہ مشہور ہے کہ ’’افریقہ میں اسلام تو عرب لائے تھے۔مگر اس ملک میں اسلام کو قائم رکھنے والے خوجہ اثنا عشری حضرات ہیں۔‘‘ افریقہ میں بسنے والے خوجہ اثنا عشری حضرات لاکھوں روپے سالانہ اپنے عبادت خانوں ‘مساجد اور امام باڑوں پر خرچ کرتے ہیں۔ پاک و بھارت سے بڑی بڑی تنخواہیں دے کر علماء کرام کو اپنے مذہبی مرکز میں تعینات کرتے ہیں۔ چنانچہ اس وقت افریقہ کے تمام قابل ذکر شہروں میں شیعہ مبلغین موجود ہیں۔ لیکن جب ہم اپنے ان مبلغین کی تبلیغی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب ہم ان کا مقابلہ احمدی مبلغین سے کرتے ہیں۔ تو ندامت سے ہمارا سر جھک جاتاہے۔ تبلیغی میدان میں عیسائی مبلغین کا مقابلہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے… کیونکہ ان مبلغین کی پشت پر حکومتیں ہیں۔ جو لاکھوں اور کروڑوں روپے سے ان کی امداد کر رہی ہیں۔ لیکن احمدی مبلغین کی پشت پر نہ ہی کوئی حکومت ہے۔ اور نہ ہی کوئی سرمایہ دارطبقہ۔ ان کی پشت پر صرف ان کی جماعت ہے۔ جو انہیں معمولی تنخواہیں دیتی ہے۔ اور ایک محدود سرمایہ سے ان کی تبلیغی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتی ہے۔ان حالات میںاحمدی مبلغین کا عیسائی مبلغین سے مقابلہ کرنا اور اس مقابلہ میں ان سے بازی لے جانا یقینا خراج تحسین کا مستحق ہے۔ اور ہمارے مبلغین حضرات کے لئے تازیانہ عبرت ہے۔ جن کو افریقہ میں ایک سرمایہ دارطبقہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ اور تبلیغ دین کے سلسلہ میں انہی ہر طرح کی سہولتیں میسر ہیں۔
    کاش ہمارے مبلغین حضرات بھی اپنے میں مشنری سپرٹ پیدا کرتے۔ یعنی آرام و آرائش کی زندگی کو خیر باد کہتے اور محنت و مشقت اپنا نصب العین بناتے۔ تو آج ان کا ذکر بھی تبلیغی مشن کے سلسلہ میں سرفہرست ہوتا۔ ہمیں اس تلخ نوائی سے معاف رکھنا چاہیئے ہمارے مبلغین آرام و آسائش کی زندگی گزارنے کے عادی بن چکے ہیں۔ کیونکہ ہمارے دینی مدارس کا ماحول ہی کچھ ایسا ہے۔ کہ انہیں آرام طلب بنا دیتا ہے۔ اور ان میں مشنری سپرٹ پیدا ہی نہیں ہوتی ہمارے چھوٹے دینی مدارس سے لے کر نجف اشرف کے دینی مدارس تک کی یہ حالت ہے کہ وہاں کوئی باقاعدگی اور نظام نہیں جب طلباء ایسے ماحول میں پروان چڑھیں گے۔ تو واضح ہے۔ کہ وہ آرام و آسائش کے عادی ہی بنیںگے ۔ لیکن یہ امر طے شدہ ہے کہ ایک مبلغ اور مشنری اس وقت تک بااحسن وجوہ خدمات انجام نہیں دے سکتا ۔ جب تک وہ محنت و مشقت کو اپنا نصب العین نہ بنائے۔
    اس سلسلہ میں اپنے مبلغین حضرات کی خدمت میں کچھ عرض کرنا ہے تو گستاخی لیکن ہم یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کہ ہمارے مبلغین نے مذہب کی تبلیغ بس یہی سمجھ رکھی ہے۔ کہ اپنے مکان پر عزت اور آرام ‘ کم و بیش آسودگی کی زندگی بسر کریں۔ کبھی کبھی نماز پڑھا دیا کریں کوئی مسئلہ پوچھے تو فتویٰ دے دیںاور کہیںسے دعوت آئے تو مجلس پڑھ آئیں۔‘‘
    حالانکہ مبلغین حضرات کو چاہیئے۔ کہ وہ اپنے مقام معزز کو چھوڑ کر اٹھیں۔ خدا کی دنیا اور خدا کے بندوں میں گھومیں پھریں۔ ان سے ملیں جلیں۔ افلاس۔ جہالت۔ تو ہم پرستی۔ بیماری اور ظلم و ناانصافی کے دردناک مناظر کو دیکھیں اور انہیں دور کرنے کے لئے اپناپسینہ بہائیں‘ لباس ‘ انداز گفتگو اور شانِ علم میں عزت نہیں‘ عزت تو خدمت میں ہے۔ لیکن خدمت سے ہمارے مبلغین کو واسطہ نہیں۔ حالانکہ مشنری اور خدمت لازم و ملزوم ہیں۔
    کیا ہمارے ہادیان دین نے اشاعت دین اور اعلائے کلمتہ الحق کا فرض اس طرح انجام دیا تھا۔ جس طرح ہمارے آج کل کے علماء کرام اور مبلغین حضرات انجام دے رہے ہیں۔؟تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہادیان دین نے بے غرضی اور بے نفسی کے ساتھ لوگوں کی خدمت کی۔ غریبوں مزدوروں۔ مظلوموں۔ بیماروں محتاجوں اور بیکسوں کی داد رسی کی۔ ہر طرح کے خطروں اور آزمائشوں کو جھیل کر خدا کا پیغام سنایا اور ہر جگہ پہنچایا۔ اور اس فرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں جس قدر تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھانا پڑیں۔ اُن سب کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا ۔
    ہمارے مبلغین حضرات کے لئے بھی یہی اسوۂ حسنہ قابل تقلید ہے لہذا ہم اپنے واجب التعظیم مبلغین کی خدمت میں یہ مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اگر وہ تبلیغ دین‘ ایسی اہم اور مقدس خدمت انجام دینا چاہتے ہیں تو آرام و آسائش کی زندگی کو خیر باد کہہ دیں اور محنت و مشقّت کو اپنا نصب العین بنائیں۔ اس وقت افریقہ میں تبلیغ کا میدان بڑا وسیع ہے اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ افریقہ میں ہمیں اس سلسلہ میں ہر قسم کے وسائل بھی میسّر ہیں۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ افریقہ میں مقیم ہمارے مبلغین حضرات اپنے میں صیحح مشنری سپرٹ پیدا کریں اور یا علیؓ کہہ کراٹھ کھڑے ہوں۔ تو ہمیں یقین کامل ہے کہ ہمارے مبلغین دیکھتے ہی دیکھتے احمدی اور عیسائی مبلغین سے سبقت لے جائیں گے کیونکہ اسلام حقیقی کی نشرواشاعت کاجو بہترین ذریعہ ہمارے پاس ہے وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں ہے حسینؑ مظلوم کا درد بھرا قصہ ایسا ہے۔ جو اپنوں بیگانوں۔ گوروں ۔ کالوں۔ پڑھے لکھے جاہلوں سب کو اپنی طرف کھینچنے کی پوری پوری اہلیت رکھتا ہے اور یہی قصہ اسلام کی نشرواشاعت کا بہترین ذریعہ ہے۔ سیّدالشہداء حضرت امام حسینؑ نے تبلیغ مذہب اور حفاظت دین کے لئے جو بے بہا قربانیاں میدان کربلا میں پیش فرمائیں کیا اُن کا ذکر صرف اس لئے ہے کہ ہم چند آنسو بہا کر اپنے حسینی ہونے کا دعویٰ کرنے لگیں؟ یا اُن قربانیوں کا تذکرہ ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم بھی اسوۂ حسینی کو اپنائیں اور سید الشہدا ء حضرت امام حسینؑ کے نقشِ قدم پر چل کر حفاظت دین اور تبلیغ اسلام کے لئے اپنا تن ‘ من ‘ دھن نچھاور کریں۔ اور اس راہ میں جو مصائب و تکالیف پیش آئیں انہیں خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کر کے اپنے سچا حسینی ہونے کا ثبوت فراہم کریں۔
    اگر ہم آج بھی گوش حق نیوش سے سنیں تو ہمیں امام مظلومؑ کے استغاثہ کی وہ آواز صاف سنائی دے رہی ہے جو آج سے چودہ سو سال قبل حضور سید الشہداء ؑنے میدان کربلا میں بلند فرمائی تھی اور ہم آج بھی سید الشہداء ؑ کے اس استغاثہ کی آوازپر حسینیت یعنی اسلام حقیقی کی نشرواشاعت کر کے لبیک کہہ سکتے ہیں۔
    آخر میں ہم مجاہد ملت مولاناخواجہ محمد لطیف صاحب قبلہ انصاری کی خدمت … میں یہ گذارش کریں گے کہ جہاں انہوں نے شیعیان افریقہ کی تنظیم کے سلسلہ میں اہم اور زریں خدمات انجام دی ہیں اب وہ افریقہ میں تبلیغی مہم کا بھی آغاز فرمائیں اور اس سلسلہ میں پوری سوچ بچار کے بعد ایک ایسا ٹھوس پروگرام مرتب فرمائیں کہ ہم بہت جلد حفیظ ملک نمائندہ نوائے وقت ہی کی زبان سے خوشخبری سنیں کہ افریقہ میں اثنا عشری مبلغین تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں نہایت ہی اہم اور شاندار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ‘‘ ۱۵
    بھارت کے مسلم پریس میں چرچا
    افریقہ کے اس معرکہ صلیب و ہلال کی گونج بھارت میں بھی سنائی دی چنانچہ بمبئی کے
    مشہوراخبار ’’انقلاب‘‘ نے جولائی ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں حسب ذیل مقالہ افتتاحیہ لکھا:۔
    ’’…اگر مسلمانوں کو تبلیغ کی وہی سہولتیں حاصل ہوتیں جو عیسائیوں کو ہیں اور اگر مسلمان مبلّغوں کو اسی سطح پر تربیت دی جاتی جس سطح پر عیسائی مبلغوں کو دی جاتی ہے تو افریقہ میں مسلمانوں کی آبادی کہیں زیادہ ہوتی اور افریقہ مسلم براعظم کے نام سے یاد کیا جاتا بدقسمتی سے مولویوں اور ملاّؤںکی بہت بڑی اکثریت اس قابل نہیں کہ نئے ڈھنگ سے اسلام کی تبلیغ کر سکے شاید یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نام نہاد مولویوں اور ملاّؤں کی وجہ سے اسلام کو فائدہ سے زیادہ نقصان پہونچ رہا ہے۔ اس وقت افریقہ میں تبلیغ کی خدمات صرف ایک احمدیہ مشن انجام دے رہا اگر مسلمانوں کے دوسرے تبلیغی مشن بھی افریقہ پہنچیں تو وہاں زیادہ تیزی کے ساتھ اسلام کی روشنی پھیلائی جا سکتی ہے۔
    امریکہ کے ایک مشہور عیسائی مبلّغ ڈاکٹر بلی گراہم نے حال ہی میں افریقہ کا دورہ کرنے کے بعد ’’نیویارک ٹائمر‘‘کے ایک نمائندے کو ایک بیان دیا ہے جس کے دوران میں اُنہوں نے کہاکہ’’افریقہ میں اسلام اور عیسائیت کے مابین سخت مقابلہ ہو رہا ہے اور ایک دن ایسا آ سکتا ہے کہ جب سارا افریقہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو جائے۔‘‘
    کچھ عرصہ قبل برطانیہ کے ایک پادری نے لندن ریڈیو سے ایک تقریر نشر کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا تھا کہ’’ افریقہ میں اگر چار بت پرست عیسائی مذہب اختیار کرتے ہیں تو ان کے مقابلے میں سات بت پرست حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہیں…ایک بت پرست کو مسلمان بننے میں صرف چار منٹ لگتے ہیں۔ اس کے برعکس عیسائی بننے میںچار سال لگ جاتے ہیں۔‘‘ یہ ایک طرح سے عیسائیت کے مقابلے میں اسلام کی سادگی کا اعتراف ہے اور اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ افریقہ کس طرف جا رہا ہے۔ ‘‘ ۱۶














    فصل دوم
    ڈاکٹر پروفیسر عبدالسلام صاحب کا یاد گار دورۂ بھارت
    ۷؍جنوری ۱۹۶۰ء کو بھارت کے شہربمبئی میں ۴۷ ویں آل انڈیا سائنس کانگرس منعقد ہو رہی تھی۔ مشہور عالم پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر محمد عبدالسلام
    سے درخواست کی گئی کہ وہ اس بین الاقوامی کانگرس سے خطاب فرمائیں نیز بھارت کی یونیورسٹیوں کو بھی اپنے علمی لیکچروں سے نوازیں۔
    ڈاکٹر صاحب نے یہ درخواست قبول کر لی آپ لنڈن سے ۲۱؍دسمبر ۱۹۵۹ء کو بذریعہ ہوائی جہاز دہلی پہنچے اور اگلے روز ۲۲؍دسمبر کو دہلی یونیورسٹی میں لیکچر دیا جو ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ اس موقع پر بھارت کے ممتاز سائنسدان ‘ ماہرین طبعیات‘ ممتاز سکالر اور دانشور موجود تھے۔ آپ کا تبّحرعلمی‘ خوداعتمادی اور موثّر انداز بیان اُن سے خراج تحسین وصول کئے بغیر نہ رہا۔موضوع خالص علمی تھا اور سائنسی سوالات کی بوچھاڑ تھی مگر ڈاکٹر صاحب نے اپنے مدلّل ‘ برجستہ اور معلومات افروز جوابات سیسامعین کو مسحور کر دیا۔
    ۲؍جنوری ۱۹۶۰ء کو آپ بمبئی تشریف لے گئے اور ۷؍جنوری کو آپ نے آل انڈیا سائنس کانگرس میں معرکہ آرالیکچر دیا۔ کانفرنس میں تین ہزار مندوب شامل ہوئے جن میں ستّر سے زیادہ غیر ملکی نامور سائنسدان تھے۔ آپ کا انداز فاضلانہ اور طرزِادا بہت دلکش تھی۔ آپ نے حیرت انگیز ایمانی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا لیکچر قرآن مجید کی مبارک آیات پر ختم کیا۔ اسٹیج سے اترتے ہی آپ کو ایک جم غفیر نے گھیر لیا۔ حاضرین اس عظیم سائنسدان کی یہ مقبولیت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ بھارتی پریس نے بھی اگر کسی سائنسدان کا خصوصی ذکر کیا تو وہ آپ ہی تھے۔ چنانچہ اخبار ٹائمز آف انڈیا (بمبئی) نے ۸؍جنوری ۱۹۶۰؁ء کو صفحہ اوّل کے چوکھٹا میں نوٹ لکھا کہ ’’سائنسدان عوام میں غیر مقبول ہوتے ہیں مگر رات جب پروفیسر عبدالسلام صاحب تقریر کر کے سائنس کانگرس کے پنڈال سے اترے تو یہ بات غلط ثابت ہو گئی۔ سامعین نے آپ کی شخصیت سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور دیر تک آپ کو گھیرے رہے ہر شخص آٹو گراف لینا چاہتا تھا۔ آپ نے کسی کو مایوس نہیں کیا۔‘‘(ترجمہ) ۱۷
    ڈاکٹر صاحب سائنس کانگرس میں شرکت کے بعد ۱۱؍جنوری کو پہلے مدراس پھر ۱۳؍جنوری کو مدراس سے حیدر آباد دکن پہنچے اور اسی روز ۳ سے ۵ بجے شام تک عثمانیہ یونیورسٹی سے پُراز علم خطاب فرمایا اور سوالوں کے جوابات دئے ۱۸ڈاکٹر صاحب نے وسطی و جنوبی ہند کے اس طویل سفر کے دوران مقامی احمدی جماعتوں سے مثالی رابطہ رکھا اور جماعتوں نے بھی آپ کے شایان شان اور پُرجوش استقبال میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی علاوہ ازیں آپ کے اعزاز میں تقاریب منعقد کیں جو تبلیغی‘ تربیتی اور تعلیمی اعتبار سے بہت مفید ثابت ہوئیں اور سلسلہ احمدیہ کی آواز ملک کے بااثر اور چوٹی کے علمی طبقوں تک پہنچی۔ داراسلطنت دہلی (۲۳؍دسمبر ۱۹۵۹ء) بمبئی (۷؍جنوری ۱۹۶۰ء) مدراس (۱۲؍جنوری ۱۹۶۰ء) اور حیدر آباد دکن (۱۳؍جنوری ۱۹۶۰ء) کی تقاریب کی مفصل رپورٹیں اخبار بدر قادیان میں بالترتیب مولانا محمد سلیم صاحب‘ مولوی سمیع اﷲ صاحب قیصر‘ؔ مولوی شریف احمد صاحب امینی ؔ اور محمد عبداﷲصاحب بی۔ایس۔سی۔ایل۔ایل۔بی حیدر آباد دکن کے قلم سے شائع شدہ ہیں۔ ۱۹ ان تقاریب میں احمدیہ مسلم مشن بمبئی کی شاندار تقریب سب سے کامیاب رہی جسمیں آپ نے ’’مغرب میں اسلام کا حال‘‘ کے عنوان پرایک پُر جوش لیکچر دیا نیز سوالوں پر جوابات دئے۔ اس تقریب کا پریس میں بہت چرچاہوا ۲۰ مثلاًروزنامہ ’’الجمعیت‘‘ دہلی نے ۱۳؍جنوری ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں ’’برطانیہ کے مسلمان ڈیلیگیٹ ڈاکٹر عبدالسلام کی تقریر‘‘ کے زیر عنوان لکھا:۔
    ’’سائنس کی ترقی اسلام کے اصولوں کے قطعاً خلاف نہیں۔ چنانچہ پندرھویں صدی عیسوی تک سائنسی غوروفکر پر مسلمانوں کا قبضہ رہا۔ اور وہ دنیا پرچھائے رہے۔ جب انہوں نے سائنس کو چھوڑ دیا تو یورپ کی قوموں نے اسے اپنا لیا اور ترقی کرتے رہے جس کے نتیجہ میں وہ آج تک دنیا پر اور عالمی فکروخیال پرچھائے ہوئے ہیں۔ یہ باتیں امپیریل کالج لندن کے شعبہ ریاضیات کے صدر اور رائل سو سائٹی آف لندن کے پہلے پاکستانی مسلمان ممبر ڈاکٹر عبدالسلام نے جو ہندوستانی سائنس کانگریس کے اجلاس کے سلسلہ میں آج کل یہاں آئے ہوئے ہیں احمدیہ مسلم مشن لائبریری کلب بیک روڈ میں ایک ضیافتی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہیں۔ جلسہ کی صدارت احمدیہ مسلم مشن کے انچارج جناب سمیع اﷲ صاحب نے کی۔ اسلام اور سائنس کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ سائنس ایک زمانہ میں مسلمانوں کا فن تھا۔ انہوں نے یونانیوں سے بہت کچھ لیا تھا اور اس میں خود بھی بہت کچھ اضافہ کیا تھا۔ تُرکوں کے دور میں بھی مسلمان اپنے وقت کے بڑے سائنس دان اور ٹیکنالوجی ایٹ تھے جنکی مدد سے وہ اپنے سمندری بیڑے اور گولہ باری میں نت نئی جدتیں کیا کرتے تھے اور یورپ کی قومیں ان سے خوفزدہ رہا کرتی تھیں۔ آج اس کے برعکس یورپ سائنس پر پوری طرح چھایا ہوا ہے اور مسلمان پیچھے ہیں۔
    انہوں نے اپنے انگلستان اور پاکستان کے درس و تدریس کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے پورے وثوق کے ساتھ کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے طلباء کی صلاحیتوں اور انگلستان کے طلبہ کی صلاحیتوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور بتایا کے اگر پوری قوم نے وقت کی اس ضرورت پر توجہ کی تو وہ دن دور نہیں کہ جب مسلمان بھی پہلے کی طرح سائنس کے میدان میں نہ صرف زمانہ سے پیچھے نہیں رہیں گے بلکہ باقی دنیا کی رہنمائی کے قابل ہو جائیں گے۔
    باقی دنیا میں سائنس کی ترقی اور ہندوستان و پاکستان میں اس کی موجود ہ صورت حال کا تقابل کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ سائنس میں کام دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک نظریاتی اور دوسرے عملی۔ نظریاتی کام ایک مقررہ راستے پر ہوتے ہیں اور آدمی غوروفکر سے نئے خیالات پیش کرتا ہے جو خدا کی دین ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا الہام ہے اور فرانس کے ایک مشہور سائنسدان کا قول ہے کہ ’’ قسمت کی دیوی انہیں لوگوں پر مہربان ہوتی ہے جو پہلے سے تیار ہوتے ہیں‘‘۔
    ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ خدا کی دین جب یہودی اور عیسائی سائنسدانوں کو نصیب ہوتی ہے توکوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ مسلمانوں کو نصیب نہ ہو انہوں نے بتایا کہ نظریاتی سائنس میں ہندوستان اور پاکستان میں اچھے سائنسدان موجود ہیں۔ البتہ عملی سائنس میں سوائے شری دی رامن اور کرشن کے کسی بھی سائنسدان نے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا ہے۔ پھر بھی امید ہے کہ آئندہ بیس سال میں اس میدان میں ہمارے ملکوں کی حالت بہتر ہو جائے گی۔‘‘ ۲۱
    شیخ امری عبیدی صاحب کا بطور میئرانتخاب
    ۱۵؍جنوری ۱۹۶۰ء کا دن مشرقی افریقہ کی احمدی جماعتوں کے اثر و نفوذ میں ایک نئے باب کے اضافہ کا موجب ثابت ہوا کیونکہ اس روز احمدیہ مشن دارالسلام ۲۲ کے مبلغ انچارج شیخ امری عبیدی صاحب
    دارالسلام کے میئر منتخب ہوئے آپ پہلے افریقن تھے جو اس عہدہ پر فائز ہوئے۔ ۲۳ دارالسلام ہی وہ شہر تھا جہاں ایک زمانہ میں احمدیہ مشن کو شدید مخالفت سے دوچار ہونا پڑاچنانچہ جب شیخ مبارک احمد صاحب رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے یہاں بیت الذکر بنانے کا فیصلہ کیا تو مقامی حکام کی طرف سے بار بار انتباہ کیا گیا اور بالخصوص دارالسلام کے میئر نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا کہ احمدیوں کو زمین ہی نہ مل سکے تا یہاں اُن کے قدم ہی نہ جم سکیں۔ اس ناموافق ماحول میں خدا تعالیٰ نے نہایت با موقعہ زمین دی ۔ شیخ صاحب نے نہایت خاموشی اور سادگی سے چند مبشرین اور مخلصین جماعت کی موجودگی میں متضرّعانہ دعاؤں کے ساتھ بنیاد رکھی اور پھر سب خاموشی سے اپنی اپنی جگہوں پر چلے گئے۔ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل شاملِ حال ہوا کہ خدا کا یہ گھر مع مشن ہاؤس کے پایہ تکمیل کو پہنچا اور اس کا شاندار افتتاح ہوا شیخ امری عبیدی صاحب اسی مشن ہاؤس میں مقیم تھے کہ آپ میئر منتخب ہوئے اور اسی میں میونسپلٹی کے کاغذات دستخطوں کے لئے آپ کی خدمت میں پیش ہونے شروع ہوئے اور پورے شہر سے مبارک باد دینے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ ۲۴
    صداقت احمدیت کا یہ ایک چمکتا ہوا نشان تھا جو سرزمین مشرقی افریقہ میں ظاہر ہوا جس سے حضرت مسیح موعود ؑکی یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی کہ ’’کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔‘‘ ۲۵ سبحان اﷲ ! اس رباّنی وعدہ کے موافق افریقہ کی ’’چھوٹی‘‘ اقوام کے بڑے بننے کا عمل جاری ہو چکا تھا اور جن کو ادنیٰ خیال کیا جاتا تھا وہ عزت کے تخت پر بیٹھ رہے تھے اور جن کو روندا گیا وہ سرفراز ہو رہے تھے۔
    نئے میئر کے انتخاب کے بعد دارالسلام میں افریقن نمائندوں کی ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ شیخ امری صاحب جونہی وہاں تشریف لے گئے افریقنوں کا ہزار ہا کا مجمع اُن کے احترام میں فرطِ عقیدت سے کھڑا ہو گیا اور اُن کو کندھوں پر اٹھالیا۔ اس انتخاب پر ہر طرف افریقن عوام میں خوشی کی زبردست لہر دوڑ گئی اور اسے ملک کی مکمل آزادی کا پیش خیمہ سمجھا جانے لگا۔ ۲۶ انگریزی اور سوا حیلی پریس نے اس خبر کو نمایاں رنگ میں شائع کیا۔ شیخ امری صاحب کا فوٹو دیا اور آپ کی تعلیمی ‘ تبلیغی اور علمی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا ان اخبارات میں دارالسلام کا ہفت روزہ سنڈے نیوز (SUNDAY NEWS)خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس اخبا رنے ۲۴؍جنوری ۱۹۶۰ء کے پرچہ میں شیخ امری عبیدی صاحب کے فوٹو کے ساتھ اس ہفتہ کی شخصیت کے عنوان سے حسب ذیل نوٹ سپرد ِاشاعت کیا۔
    ’’ دارالسلام کا پہلا شہری :۔ شاعراورسیاست دان ‘ ماہرالسنہ اور مذہبی لیڈر۔ یہ ہیں چند خصوصیات جن کے حامل ہمارے دارالسلام کے پہلے افریقن میئر ہیں۔ہزور شپ شیخ کلوٹا امری عبیدی ان دو کونسلروں سے ایک ہیں جنہیں تھوڑا عرصہ ہوا کہ یاکوروارڈ سے بلا مقابلہ میونسپل کونسل کے لئے انتخاب کیا گیا تھا اور میونسپل کونسل کے ایک خاص اجلاس میں بہت سے ووٹوں کی کثرت سے میئر انتخاب کیا گیا۔ اس شہری عہدہ پر فائز ہونے والے یہ صاحب ایک باہمت انسان اور وسیع علم اور تجربے کے مالک ہیں۔
    خوش مزاج انسان :۔ چھوٹے قد اور مضبوط جسم کے ساتھ وہ ایک خوش طبع انسان ہیں۔ جن کی زندگی کے تمام پہلو خواہ ذاتی ہوں یا مجلسی اور سیاسی ان کے مذہب اسلام سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں وہ ٹانگانیکا کے مغربی صوبہ کے ایک قصبہ اجیجی (UJIJI)میں ۱۹۲۴ء میں پیدا ہوئے اور اپنے دیہاتی سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتے رہے ۱۹۲۷ء میں وہ ٹبوراسکول میں داخل ہوئے اور ٹانگا نیکا افریقن یونین کے صدر (MR.NYRERE)کے ہم جماعت تھے۔ ۱۹۴۱ء میں وہ دارالسلام کے پوسٹل ٹریننگ سکول میں داخل ہوئے لیکن دو ہی سال کے بعد اسے ترک کر کے ٹبورا میں بطور مبلغ اسلام کام کرناشروع کر دیا۔ (مکرم شیخ مبارک احمد صاحب رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے خاکسارکو بتایا ہے کہ محکمہ ڈاک خانہ جات دو سال کے عرصہ میں برادرم امری صاحب کو کام سکھاتا اور وظیفہ بھی دیتا رہا۔ اس عرصہ میں انہوں نے امری صاحب کو احمدیہ مشن میں اپنے ساتھ کام کرنے کو کہا۔ ان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد مکرم شیخ صاحب نے محکمہ متعلقہ کو لکھا۔ انہوں نے بغیر کسی قسم کے خرچ کا مطالبہ کرنے کے انہیں فارغ کر دینے کا وعدہ کیا بشرطیکہ خود امری صاحب بھی اسکے خواہشمند ہوں۔ امری صاحب تو پہلے ہی تیار تھے۔ انہوں نے بھی لکھدیا اور اس طرح یہ دنیوی حکومت کی ملازمت سے دستبردار ہو کر آسمانی حکومت کے کارندے بن گئے۔ لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کی قربانی کا انہیں یہ صلہ دیا ہے کہ اب انہیں وہ اعزاز حاصل ہؤا جو سابقہ ملازمت کے دوران انہیں کبھی حاصل نہیں ہو سکتا تھا اور ان کے انتخاب پر بہت سے جاہ و دولت رکھنے والے رشک کر رہے ہیں دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ انہیں اس سے بھی بلند عہدوں پر فائز کرے اور ان کی دنیوی ترقی ان کے لئے اور قوم و ملک اور اسلام و احمدیت کے لئے فخر کا باعث ہو۔ آمین ۔
    اگلے دس سال میں انہوں نے ایک مشہور مسلمان عالم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سے مکمل طور پر دینی تربیت حاصل کی اور ۱۹۵۳ء میںوہ ربوہ مشنری ٹریننگ کالج۔ مغربی پاکستان میں داخل ہوئے۔ جہاں سے انہوں نے دینیات کی ڈگری حاصل کی ٹانگانیکا واپس آنے پر شیخ امری صاحب کو ۱۹۵۶ء میں احمدیہ مسلم مشن (دارالسلام)کا انچارج مقرر کیا گیا۔ اور وہ تمام مشرقی صوبہ اور ساحلی علاقہ کے نگران رہے۔ اس فرقہ میں ایشیائی بھی شامل ہیں۔ اور افریقن بھی۔
    شاعر :۔ ۵۳ـ۔۱۹۵۰ء تک کے عرصہ میں اس بورڈکے اکیلے افریقن ممبر رہے جس نے قرآن مجید کا سواحیلی میں ترجمہ کیا ہے یہ ترجمہ جو ۱۹۵۳ء میں طبع ہوا معیاری سواحیلی زبان میں کیا گیا ہے۔ شیخ امری صاحب اردو ‘سواحیلی ‘ انگریزی اور عربی زبان بولتے ہیں سواحیلی میں یہ اٹھارہ سال کی عمر سے نظمیں لکھتے چلے آ رہے ہیں۔ جن میں سیاست ۔ مذہب اور سوشل معاملات پرطبع آزمائی کی گئی ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ایک دیوان کی شکل میں چھپ چکا ہے۔ اور ایک دوسری تصنیف میں انہوں نے شاعری کیعام موضوع پر قلم کی روانی دکھائی ہے۔
    مجلس شعرائے سواحیلی کے قابل ترین ممبران بورڈ میں سے ایک ہونے کے علاوہ وہ اس مجلس کے نائب صدر بھی ہیں اور ان کی نظمیں اور مضامین مقامی پریس میں باقاعدگی سے چھپتے رہتے ہیں۔
    ان کا اہم ترین مشغلہ تعلیم ہے۔ افریقن نوجوانوں کو جوٹانگا نیکا کے مختلف حصّوں سے تعلق رکھتے ہیں تبلیغی تربیت دینے کے علاوہ وہ شام کو انہیں تعلیم دیتے ہیں۔ ان کلاسوں میں انگریزی عربی اور سواحیلی پڑھائی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دارالسلام میں ایک سیکنڈری سکول کا ہونا لازمی امر ہے۔ اور امید رکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں اس کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔
    ذمہ داری:۔ صبح پانچ بجے سے لے کر رات کے دس بجے تک کام کرنا ان کا معمول ہے درمیان میں دو تین گھنٹے کا وقفہ بھی ہوتا ہے وہ خیال کرتے ہیں کہ بطور میئر کے ان پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ ان کے مذہبی کام میں حارج نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا۔ ’’ایک مذہبی آدمی کا فرض ہے کہ وہ شہری اور سیاسی کاموں میں حصہ لے اور یہ بات خود قرآن مجید سے مستنبط ہوتی ہے۔ اسلام نے سیاسیات اور دوسرے قابل عمل اصولوں کی تعلیم دی ہے۔‘‘
    یہی وجہ ہے کہ انہیں مذہبی لیڈر ہونے اور ٹانگانیکا افریقن نیشنل یونین کی مرکزی کمیٹی کا ممبر رہنے میں کوئی دشوار ی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسان خواہ کسی سیاسی یا سوشل تنظیم میں شامل ہو اسے اس میں بھی اپنے مذہب کی پیروی کرنی چاہیئے۔
    دارالسلام کے کونسلروں نے ایک ایسے انسان جو اس کردار’’ ہمت اور قابلیت کا جامع ہے بطور میئر انتخاب کر کے ایک نہایت مستحسن کام کیا ہے۔۔‘‘
    سنڈے نیوز
    مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۶۰ء ۲۷
    شیخ امری عبیدی صاحب کا
    ایک ایمان افروز مکتوب
    میئر منتخب ہونے کے بعد شیخ امری عبیدی صاحب نے اپنے ایک مفصل اور ایمان افروز مکتوب میں تحریر فرمایا:۔
    ’’ ۶۰؍۱؍۱۵ کو میں دارالسلام کا میئر منتخب
    ہوا۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس انتخاب کی ہر طرف سے داد دی گئی۔ مسٹر نریرے جیسے قومی لیڈر نے قریباً بتیس ہزار کے ایک عظیم اجتماع میں میرے انتخاب کو سراہا اور ٹانگانیکا افریقن نیشنل یونین کے اراکین نے مجھے دلی مبارک باد پیش کی اور نہایت گرمجوشی سے میرا استقبال کیا۔ میرے میئر بننے کی وجہ سے مشن کو علاوہ دوسرے فوائد کے یہ فائدہ بھی حاصل ہؤا ہے کہ جو لوگ میری ملاقات کے لئے میرے پاس آتے ہیں۔ ان سے عموماً مشن کے دفتر میں ہی ملاقات کی جاتی ہے اور اس طرح تبلیغ کا ایک نیا دروازہ کھل گیا ہے۔ لوگ احمدیت کے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہ ہونے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ لوگوں نے اپنے بچوں کو اسلامی اور دینی تعلیم کی خاطر ہمارے سکول میں بھجوانا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ اس وقت تک آٹھ بچے داخل ہو چکے ہیں اور مزید درخواستیں وصول ہو رہی ہیں۔ مقامی اخبارات مجھ سے مذہبی امور کے متعلق پوچھتے ہیں اور مضامین لکھنے کے لئے کہتے ہیں۔ چنانچہ روزوں کے متعلق میرے دو مضامین اخبار میں شائع ہو چکے ہیں ۔
    میرے میئر منتخب ہونے کی وجہ سے امریکہ۔ یونائیٹڈ کنگڈم‘ اسرائیل اور بعض دوسرے ممالک کے ممتاز نمائندگان بھی میری ملاقات کے لئے آتے رہے ہیں انہیں عموماً مشن کے دفتر میں اور کبھی کبھی میئر کے ملاقات کے کمرے میں ملتا ہوں اور اس ذریعہ سے ان تک تبلیغ اسلام پہنچانے کا نادر موقعہ ہاتھ آتا ہے۔
    گو بعض لوگ اعتراضات بھی کرتے ہیں چنانچہ مس مرجوالی برہام نے جو یونائیٹڈ کنگڈم میں ایک یونیورسٹی کی پروفیسر ہیں مجھے یہ کہا کہ یہ نامناسب ہے کہ ایک دینی ادارہ اور گروہ کا امیر میئر ہو کیونکہ اس میں تعصب کی جھلک ہو گی لیکن میرے اس جواب پر وہ خاموش ہو گئی کہ اگر یہ یوں ہی ہوتا تو کونسلرز کی اکثریت میرے حق میں ووٹ نہ دیتی۔
    حالانکہ ان میں مسلمان‘ ہندو اور عیسائی سب موجود تھے۔ میں نے اس سے مذہب کے متعلق بھی بات چیت کی اور بتا یا کہ عیسائیت افریقہ میں ناکام ہو رہی ہے۔ میں نے اس سے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کی نوآبادیاتی پالیسی مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ اس ذریعہ سے وہ لوگوں کی مختلف جماعتوں میں انتشار اور افتراق پیدا کر رہے ہی۔ مس مرجوالی نے مجھ سے دریافت کیا کہ آیا میںنے قاہرہ میں تعلیم حاصل کی ہے (بعد میں ایک امریکن اخبار نویس نے بھی مجھ سے ایسا ہی سوال کیا) میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ سوال انہوں نے بعض سیاسی مصلحتوں کی بناء پر مجھ سے کیا تھا لیکن میں نے انہیں بتایا کہ میں نے پہلے تو مقامی طور پر تعلیم حاصل کی تھی اور بعد میں احمدیت کے مرکز پاکستان گیا۔ میں نے وہاں احمدیہ ادارہ جات سے تعلیم حاصل کی۔
    میرے میئر منتخب ہونے سے احمدیت کے مخالفوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے عبدالکریم جی جیسے انسان بھی دوستی پر آمادہ نظر آ رہے ہیں۔ جو اپنے میئر ہونے کے زمانہ میں جماعت احمدیہ کو دارالسلام میں مسجد بنانے کی اجازت نہ دیئے جانے کی انتہائی کوشش میں مصروف رہے۔
    ۶۰؍۱؍۲۲ کو میں ٹیونس میں آل افریقن پیپلز کانفرنس میں شامل ہونے کے لئے دارالسلام سے ٹیونس گیا۔ اس میٹنگ میں تمام افریقہ کے نمائندگان شامل تھے۔ میں نے ٹیونس میں مشن قائم کرنے کی بھی کوشش کی اور اس سلسلہ میں صدر حبیب بورقیہ کو ملنے کی کوشش کی۔ لیکن سیاسی مصروفیات کی وجہ سے مجھے افسوس ہے یہ موقع میسّر نہ آیا۔ البتہ مجھے یہ خوشی ہے کہ مجھے وہاں بھی تبلیغ کا موقعہ میسّر آیا۔ وہاں مجالس میں عموماً عام شربتوں کے علاوہ شراب کے جام بھی گردش میں تھے۔ اس پر میں نے ٹیونس کے بعض آدمیوں کو قرآن کریم کی ان آیات کی طرف توجہ منعطف کرائی جن میں شراب کی ممانعت کا ذکر ہے تو وہ بہت شرمندہ ہوئے اور حسن اتفاق سے اس کے بعد جس کانفرنس میں بھی میں نے شمولیت کی اس میں شراب نہ رکھی گئی۔
    اس کے علاوہ بھی کئی مواقع ایسے میسّر آئے کہ میں اپنے فریضۂ تبلیغ کو صیحح طور پر
    سرانجام دینے اور ایسے مواقع حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ چنانچہ برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ایک نمائندہ نے مجھ سے ایک ٹیلی ویثرن انٹرویو میں دریافت کیا کہ کیا ایک مبلغ ہونے کے لحاظ سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ٹانگانیکا میں برطانوی حکومت کے بعد اسلام زیادہ ترقی کرے گا۔ میں نے کہا ۔ برطانوی راج میں جب کہ نوآبادیاتی حکومتیں کھلے بندوں عیسائیت کی مدد کر رہی ہیں۔ اسلام میں ایک کے مقابل دس آدمی شامل ہو رہے ہیں۔ تو جب یہ حکومتیں اور ان کی واضح مدد ختم ہو جائیگی۔ تو یقینا اسلام انتہائی تیزی سے ترقی کرے گا۔
    ٹیونس جاتے ہوئے راستے میں میں نے تین سیاسی لیڈروں کو سواحیلی ترجمہ قرآن کے نسخے پیش کئے ان میں دوٹانگانیکا کے تھے اور ایک زنجبارکا۔ مجھے راستے میں دیکھ کر بہت تعجب اور افسوس ہوا۔ کہ ٹانگانیکا اور زنجبار کے مسلمان دوست ایسا گوشت استعمال کر رہے ہیں جو صیحح طور پر ذبح نہیں کیا گیا۔ یہ وہی گوشت تھا جو پچیس یورپین ممالک میں اور ہوائی جہاز میں مہیا کیا جاتا تھا۔ جب میں نے ان کو اس امر کے متعلق بتلایا تو انہوں نے اس کی کچھ بھی پرواہ نہ کی۔ میں نے اس عرصہ میں سبزیوں پر ہی اکتفا کیا۔ ۲۸
    ایک اور اعزاز :۔ جولائی کے آخر میں شیخ امری عبیدی کو ایک اور اعزاز ملا اور وہ یہ کہ میئر آف دارالسلام کے ممتاز عہدے پر فائز ہونے کے بعد آپ مغربی صوبے کے ضلع کیگاما کیطرف سے ٹانگا نیکا کونسل کے بلا مقابلہ رکن منتخب ہو گئے۔ ۲۹




    جلسہ سالانہ ربوہ
    ( منعقدہ ۲۲۔۲۳۔۲۴ ؍جنوری ۱۹۶۰ء)
    جلسہ سالانہ ۱۹۵۹ء سیدنا حضرت مصلح موعود کے فیصلہ کے مطابق ۲۲۔۲۳۔۲۴؍جنوری
    ۱۹۶۰ء کو ہونا قرار پایا تھا۔ چنانچہ انہی تاریخوں میں یہ عظیم الشان روحانی اجتماع سرزمین ربوہ میں منعقد ہوا جس میں ستّر ہزار عشّاقِ خلافت نے شرکت فرمائی۔ یہ جلسہ بھی سلسلہ احمدیہ کی روزافزوں ترقی اور وسعت کا آئینہ دار تھا اور حضرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل الہام کا عملی ظہور تھا ۔
    ’’ خدا تجھے بکّلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور اُن کے نفوس و اموال میں برکت دوں گااور ان میں کثرت بخشوں گا۔ ‘‘ ۳۰
    حضرت مصلح موعودؒکا افتتاحی خطاب
    سیدنا حضرت مصلح موعودؒ نے اپنے روح پرور افتتاحی خطاب میں دنیا پھر کے
    احمدیوںکو خاص طور پر تلقین فرمائی کہ وہ اپنی نسلوں کے اندر دین حق اور احمدیت کی محبت پیدا کرتے چلے جائیں۔ یہاں تک کہ محمد رسول اﷲ صلّی اﷲعلیہ و آلہ وسلم کا جھنڈا ساری دنیا پر لہرانے لگے۔ حضور کا یہ خطاب قریباً پون گھنٹہ تک جاری رہا جسے نہایت توجہ‘ گہرے انہماک اور کمال درجہ کے اشتیاق اور انہماک کے ساتھ سناگیا۔ ۳۱
    پہلے دن کی بقیہ کارروائی
    حضور کی تقریر کے بعد مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ سابق صوبہ پنجاب کی زیر صدارت
    بالترتیب حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور مولانا قاضی محمد نذیر صاحب نے فاضلانہ تقاریر فرمائیں ازاں بعد خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمسؔنے خطبہ جمعہ دیا بعد ازاں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی صدارت میں میاں عطاء اﷲ صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت راوالپنڈی اور مولوی عبدالمالک خاں صاحب مربی سلسلہ احمدیہ کراچی نے تقاریر فرمائیں۔
    دوسرا دن
    دوسرے دن کا اجلاس حضرت چوہدری محمد ظفر اﷲ خاں صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ‘
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب شمسؔ نے خطاب فرمایا۔ حضرت صاحبزادہ صاحب کی تقریر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی سیرت طیبہ سے متعلق تھی اور بہت ایمان افروز واقعات پر مشتمل تھی آپ کی پُر اثر اور پُر شکوہ آواز نے دلوں کو جِلا اور روحوں کو ایک نئی زندگی بخشی۔ آپ کی یہ تقریر بہت مقبول ہوئی اور جلدہی پہلے الفضل میں پھر کتابی شکل میں شائع کر دی گئی۔ اجلاس دوم میں شیخ بشیر احمد صاحب جج ہائیکورٹ لاہور صدر تھے جس میں پہلے خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری صاحب نے ایک پُر مغز اور مبسوط تقریر فرمائی پھر حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی نے سورہ فاتحہ کی نہایت لطیف اور پُر معارف تفسیر فرمائی۔ جو قرآنی حقائق و دقائق سے لبریز تھی۔ شیخ بشیر احمد صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مصلح موعود ؒکی شفایابی کے لئے نہایت دردانگیز انداز میں تحریک دعا کی آپ کی آواز میں ایسا سوز اور اثر تھا کہ ایک ایک فقرہ احباب کے دلوں میں اُترتا گیا۔ آپ کی درخواست پر حضرت مولانا راجیکی صاحب نے اجتماعی دعا کرائی یہ دعا اس درد و کرب سے مانگی گئی کہ جلسہ گاہ میں آہ و بُکا اور گریہ و زاری سے ایک حشر بپا ہو گیا ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل تڑپ رہا تھا۔ سوز و گداز کا یہ عالم بیس منٹ تک جاری رہا جس کے بعد حضرت مولانا صاحب نے بلند آواز سے آمین کہہ کر دعا کو ختم کیا اور صاحب صدر نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے اجلاس کے اختتام کا اعلان فرمایا۔ ۳۲
    تیسرا دن
    جلسہ کے تیسرے روز کا پہلا اجلاس بھی شیخ بشیر احمد صاحب کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈاکٹر چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر ایم اے پی ایچ ڈی
    امریکہ‘ حضرت چوہدری محمد ظفر اﷲ خاں صاحب نائب صدر عالمی عدالت انصاف ہیگ اور مولانا ابوالعطاء صاحب نے فکر انگیز تقاریر فرمائیں۔
    نماز ظہر و عصر مولانا جلال الدین صاحب شمسؔ نے جمع کر کے پڑھائیں۔ حضرت مصلح موعود کی متوقع آمد اور تقریر کے پیش نظر احباب کا اشتیاق عروج پر تھا۔ جلسہ گاہ وقت سے بہت پہلے بھر گئی اور ہر طرف ہجوم خلائق کا منظر دکھائی دیتا تھا اور تل دھرنے کو جگہ نہ رہی امام عالی مقام کی تشریف آوری سے قبل منتظمین جلسہ نے حضور کی جلسہ سالانہ ۱۹۵۳ء کے موقع کی پُر معارف تقریر کے ابتدائی حصہ کا ریکارڈ سنانے کا انتظام کیا جس سے پورے مجمع پر رقّت طاری ہو گئی۔
    حضور سوا دو بجے کے قریب بذریعہ کار جلسہ گاہ میں رونق افروز ہوئے اور جلسہ گاہ پُر جوش نعروں سے گونج اٹھا۔
    حضرت مصلح موعودؒ کا بصیرت افروز اختتامی خطاب
    حضور کے کرسی پر تشریف فرما ہونے
    کے بعد حضرت ماسٹر فقیر اﷲ صاحب نے تلاوت فرمائی پھر جناب ثاقبؔ صاحب زیروی مدیر لاہور نے اپنی ایک دعائیہ نظم نہایت پُردرد لب و لہجہ میں پڑھ کر سنائی یہ نظم دعاؤں کی مزید تحریک کا موثّر ذریعہ بنی۔
    تلاوت و نظم کے بعد حضور انور نے ایک نہایت بصیرت افروز خطاب فرمایا جو پون گھنٹہ تک جاری رہا۔ یہ تقریر ایک خاص رنگ کی حامل تھی اور جوش‘ ولولہ اور غیرتِ دینی کے جذبات سے پُر تھی جس کا خلاصہ حضور کے مبارک الفاظ میں یہ تھا کہ
    ’’ اﷲ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو اس غرض کے لئے قائم کیا ہے کہ دنیا میں (دین حق) اور احمدیت کی اشاعت کی جائے۔ یہی ہمارے تمام کاموں کا نقطہ مرکزی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کام کو ہمیشہ جاری رکھیں یہانتک کہ دنیا کا کوئی ملک اور کوئی گوشہ ایسا نہ ہو جہاں (دین حق) اور محمد رسول اﷲ کی آواز نہ پہنچ جائے۔‘‘
    اس ضمن میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان اور جملہ احباب جماعت سے عہد لیا کہ وہ قیامت تک خدمت دین کا سلسلہ جاری رکھیں گے چنانچہ فرمایا
    ُ میں اس موقع پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام اولادکو خواہ وہ آپ کے بیٹے ہیں یا پوتے اور نواسے یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ میرے سامنے اﷲ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کریں کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو خدمتِ دین میں لگائے رکھیں گے اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی احمدیت کی تبلیغ کی طرف توجہ دلاتے رہیں گے اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رکھیں گے یہاں تک کہ قیامت آ جائے مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سچے دل سے ایمان لانے والے تمام احمدی بھی خواہ کسی جگہ کے رہنے والے ہوں آپ کے روحانی بیٹے ہیں۔ اس لئے جماعت احمدیہ کے تما م دوستوں کو چاہیئے کہ وہ بھی اس عہدمیں شامل ہوں۔
    مَیں اس وقت عہد کے الفاظ دہراؤں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے تمام افراد اور آپؑ کے روحانی بیٹے کھڑے ہو جائیں اور اس عہد کو دہرائیں۔اشھد ان لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ ہم اﷲتعالیٰ کی قسم کھا کر اس بات کا اِقرار کرتے ہیں کہ ہم (دین حق) اور احمدیت کی اشاعت اور محمد رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ وسلم کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے چلے جائیں گے اور اس مقدس فرض کی تکمیل کے لئے ہمیشہ اپنی زندگیاں خدا اور اس کے رسولؐ کے لئے وقف رکھیں گے اور ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کر کے قیامت تک (دین حق) کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اُونچا رکھیں گے۔
    ہم اس بات کااقرار کرتے ہیں کہ ہم نظامِ خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے آخر دم تک جدو جہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تاکہ قیامت تک خلافتِ احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ (دین حق) کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔ اے خدا تُو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔الھم آمین ۔الھم آمین۔الھم آمین۔
    یہ اقرار جو اس وقت آپ لوگوں نے کیا ہے اگر اِس کے مطابق قیامت تک حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی جسمانی اور روحانی اولاد اشاعتِ دین کے کام میں مشغول رہے تو یقیناً احمدیت تمام دنیا پرچھا جائے گی اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے گا‘‘۔نیز آئیندہ خلفاء کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا
    ’’آئندہ خلفاء کو بھی وصیّت کرتا ہوں کہ جب تک دُنیا کے چپّہ چپّہ میں دین حق نہ پھیل جائے۔ اور دنیا کے تمام لوگ قبول نہ کرلیں۔ اُس وقت تک دین حق کی تبلیغ میں وہ کبھی کوتاہی سے کام نہ لیں خصوصاً اپنی اولاد کو میری یہ وصیّت ہے کہ وہ قیامت تک دین حق کے جھنڈے کو بلند رکھیں اور اپنی اولاد در اولاد کو نصیحت کرتے چلے جائیں۔ کہ انہوں نے (دین حق)کی تبلیغ کو کبھی نہیں چھوڑنا۔ اور مرتے دم تک دین حق کے جھنڈے کو بلند رکھنا ہے۔
    اسی مقصد کو پورا کرنے اور (دین حق ) کے نام کو پھیلانے کے لئے میں نے تحریک جدید جاری کی ہے ۔ جو پچیس سال سے جاری ہے۔ اور جس کے ماتحت آج دُنیا بھرکے تمام اہم ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مشن قائم ہیں۔ اور لاکھوں لوگوں تک خدا اور اس کے رسول کا نام پہنچایا جا رہا ہے۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تبلیغی مراکز کو وسیع کرنے اور مبلغین کا جال پھیلانے میں ہمیں خدا تعالیٰ نیبڑی بھاری کامیابی عطا کی ہے مگر ابھی اس میں مزید ترقی کی بڑی گنجائش ہے۔ اور ابھی ہمیں ہزاروں واقفین زندگی کی ضرورت ہے جو دنیا کے چپّہ چپّہ پر دین حق کی اشاعت کریں۔ ہماری جماعت اب خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں ساٹھ ہزار واقفین زندگی کا میّسر آنا کوئی مشکل امر نہیں۔ اور اگر ایک آدمی سو احمدی بنائے تو ساٹھ ہزار واقفین زندگی کے ذریعہ سات لاکھ احمدی ہو سکتا ہے۔ پھر سات لاکھ میں سے چار پانچ لاکھ مبلّغ بن سکتا ہے۔ اور چار پانچ لاکھ مربی چار پانچ کروڑ احمدی بنا سکتا ہے اور چار پانچ کروڑ احمدی اگر زور لگائے تو وہ اپنی تعداد کو چار پانچ ارب تک پہنچا سکتا ہے جو ساری دنیا کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔‘‘
    ازاں بعد حضرت مسیح موعودؑ کے الہام ’’ ہے کرشن ردّر گوپال تیری مہماگیتا میں لکھی گئی ہے‘‘ ۳۳کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہندوستان میں اشاعت دین کو وسیع کرنا ہمارے لئے ضروری ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ہندوستان میں دین حق کی تبلیغ پر زور دیں۔ اس ملک کی ترقی اور عظمت کے قیام کے لئے مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک کوشش کی ہے اور ہندوستان کے چپّہ چپّہ پر اُن محبان وطن کی لاشیں مدفون ہیں جنہوں نے اس کی ترقی کے لئے اپنی عمریں خرچ کر دیں تھیںپس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم دین حق کے خوبصورت اصول پیش کر کے ہندؤوں اور سکھوں کو بھی اپنا جز و بنانے کی کوشش کریں جب تک ہم ہندؤوں میں تبلیغ نہیں کریں گے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کرشن ثابت نہیں ہو سکتے۔
    اپریل ۱۹۰۲ء میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ
    ’’دو دفعہ ہم نے رویاء میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جُھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں۔‘‘ ۳۴
    حضرت مصلح موعود ؒنے یہ رویا ء بیان کرنے کے بعد اپنے روح پرور خطاب کے آخر میں فرمایا
    ’’ اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہندوؤں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت قائم ہو جائے گی اور سارا ہندوستان آپ کے کرشن ہونے کے لحاظ سے اور ساری دنیا محمد رسول اﷲصلّی اﷲ علیہ وسلم کا بروز ہونے کے لحاظ سے آپ کے تابع ہو جائے گی۔… اسی غرض کے لئے میں نے جماعت میں تحریک جدید کے علاوہ وقف جدید کی تحریک بھی جاری کی ہوئی ہے تاکہ سارے پاکستان میں ایسے معلّمیں کا جال بچھ جائے جو لوگوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کریں۔ اور انہیں دین حق اور احمدیت کی تعلیم سے روشناس کریں مگر یہ کام صحیح طور پر تبھی ہو سکتا ہے جب کم از کم ایک ہزار معلّم ہوں اور ان کے لئے اخراجات کا اندازہ بارہ لاکھ روپے ہے۔ بارہ لاکھ روپیہ کی رقم مہیا کرنا جماعت کے لئے کوئی مشکل امر نہیں۔ کیونکہ اگر دو لاکھ افراد جماعت چھ روپے سالانہ فی کس کے لحاظ سے چندہ دیں بارہ لاکھ بن جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہماری جماعت تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔
    پچھلے سال جماعت کی طرف سے صرف ستّر ہزار روّپے کے وعدے ہوئے تھے اور اس سال بھی اتنے ہی وعدے ہوئے جس سے صرف نوے معلّمیںرکھے جا سکے۔ اس سال پچھلے سال سے زیادہ اچھا کام ہؤا ہے۔ چنانچہ مشرقی پاکستان میں بھی کام شروع ہو گیا ہے اور وہاں بھی ایک انسپکٹر اور چار معلّم مقرر کئے جا چکے ہیں۔ پچھلے سال ان معلّمیںکی تعلیم و تربیت اور خدمتِ خلق کا جذبہ دیکھ کر پانچ سو نئے افراد نے بیعت کی تھی اس سال چھ سو اٹھائیس افراد نے بیعت کی ہے۔
    پس میں احباب جماعت کو تاکید کرتا ہوںکہ وہ اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی طرف پوری توجہ کریں اور اس کو کامیاب بنانے میں پورا زور لگائیں اور کوشش کریں کہ کوئی فردِ جماعت ایسا نہ رہے جو صاحب استطاعت ہوتے ہوئے اس چندہ میں حصہ نہ لے۔
    یہ امر یاد رکھو کہ قوم کی عمر انسان کی عمر سے بہت زیادہ ہوتی ہے پس آپ لوگ ایسی کوشش کریں کہ آپ کے زمانہ میں تمام دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔ابھی تو ایک نسل بھی نہیں گذری کہ ہندوستان میں ہمارے سلسلہ کے شدید ترین مخالف بھی احمدیت کی خوبیوں کے قائل ہوتے جا رہے ہیںاور میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ادنیٰ خادم ہوں میری تفسیر کی وہ بہت تعریف کرتے ہیں۔ یہ انقلاب جو پیدا ہو رہا ہے محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی دعاؤں کی وجہ سے ہؤا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا کی تھی کہ ۳۵
    ع
    پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار

    اوراﷲ تعالیٰ نے احمدیت کیطرف لوگوں کی توجہ پھیرنی شروع کر دی اورہمیں یقین ہے کہ اس دعا کے مطابق ایک دن ساری دنیا احمدیت میں داخل ہو جائے گی۔ دنیا کی آبادی اس وقت دو ارب سے زیادہ ہے اور اگلے بیس پچیس سال میں وہ تین ارب ہو جائیگی اور پھر تعجب نہیں کہ کئی سال میں وہ اس سے بھی زیادہ ہو جائے۔ مگر دنیا کی آبادی خواہ کتنی بڑھ جائے۔
    اﷲ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ احمدیت کو ترقی دے گا اور اسے بڑھائے گا۔ یہاں تک کہ ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی۔ بشرطیکہ جماعت اپنی تبلیغی سرگرمیاں ہندوستان میں بھی اور یورپ میں بھی جاری رکھے اور وکالتِ تبشیر اور اصلاح و ارشاد کے محکموں کے ساتھ پورا تعاون کرے۔‘‘ ۳۶اس ولولہ انگیز خطاب کے بعد حضور نے ایک
    پُر سوز دعا کرائی جس کے بعد احباب جماعت تک یہ خصوصی پیغام پہنچانے کی ہدایت فرمائی کہ
    ’’ دوستوں کو چاہیئے کہ وہ کثرت کے ساتھ الفضل کا مطالعہ کیا کریں۔‘‘ ۳۷
    جلسہ سے متعلق ایک مخلص
    احمدی کے تاثرات
    دعاؤں کے اس تاریخی جلسہ کی نسبت لاہور کے ایک مخلص احمدی جناب عبدالجلیل صاحب عشرتؔ (بی اے آنرز ) (برادر مولانا عبدالمجید سالک مرحوم) نے حسب ذیل تاثرات قلمبند کئے۔
    ’’ جلسہ کے شروع ہونے سے ایک دن پہلے جب ہم ربوہ پہنچے تو ایک ہلکا سا احساس ہؤا کہ شاید جلسہ کی تاریخوں کے التواء کی وجہ سے اس دفعہ شامل ہونے والوں کی تعداد کم ہو لیکن جلسہ کے پہلے اور پھر دوسرے دن دیکھتے ہی دیکھتے خدا کے نیک بندے جوق در جوق گذشتہ سالوں کی طرح آ پہنچے۔ اللہم زدفزد
    ۲۲؍جنوری کو جلسہ کے افتتاح سے پہلے ہزاروں احباب اپنے محبوب آقا کی زیارت کے لئے چشم براہ تھے حضور تشریف لائے لیکن حضور کی نقاہت اور ضعف کو دیکھ کر عشاق کی آنکھیں پُر نم اور دل غمزدہ ہو گئے حضور نے زندگی بھر میں پہلی دفعہ لکھی ہوئی افتتاحی تقریر پڑھی حضور کی آواز میں رقت تھی۔
    حاضرین جلسہ بھی زارو قطار رو رہے تھے حضور کی تقریر کا موضوع وہی تھا جو ہمیشہ حضور کی زندگی کا نصب العین رہا ہے یعنی خدا تعالیٰ کے نام اور رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کو دنیا کے کونے کونے میں جلد از جلد پہنچانے کا عزم بالخیر۔ اﷲ اﷲجسمانی کمزوری کایہ حال اور عزم اتنا بلند !! دوسرے دن حضور طبّی مشورہ کے مطابق جلسہ میں تشریف نہ لائے۔ یہ بھی حضور کی زندگی میں پہلا موقعہ تھا۔ عشاق تڑپ رہے تھے برادرم ثاقبؔزیروی نے حضور کی صحت کے متعلق اشعار سوز میں ڈوبی ہوئی آواز میں سنائے انہوں نے تڑپا دیا۔ پھر خداجزائے خیر دے مکرمی شیخ بشیر احمد صاحب جج ہائی کورٹ کو کہ انہوں نے نہایت مبارک ساعت میں اور نہایت مؤثر الفاظ میں حضور کی صحت کے لئے اجتماعی دعا کرنے کے لئے تحریک کی ۔ جب حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی کی اقتداہامیں دعا ہوئی۔ تو ہر آنکھ پُر نم تھی۔ اور دعا کرنے والوں کی آہ بکا کا یہ عالم تھا کہ دلدوز چیخوں کی آوازیں دور دور تک جاتی تھیں۔
    تیسرے دن کے اجلاس اول میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ نے پہلی دفعہ تقریر فرمائی موضوع ’’ ذکر حبیب‘‘ تھا۔ تحریر کے تو آپ بادشاہ ہیں۔ لیکن تقریر نے بھی وہ لطف دیا۔ کہ لفظ لفظ پر حاضرین سر دھنتے تھے۔ آپ نے ایسے دلکش اور پُر کیف واقعات بیان کئے کہ دل کہتا تھا۔ کہ واقعی ذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے۔
    تیسرے دن حضرت اقدس وقت پر تشریف لائے۔ ضعف و نقاہت کا وہی عالم تھا۔ حاضرین کے دل بھرے ہوئے تھے تقریر پھر لکھی ہوئی تھی۔ موضوع وہی تھا کہ خدا کے دین کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤ رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم کے دین کا جھنڈا ساری دنیا میں بلند کرو۔ تقریر کے بعد مختصر لیکن پرُدرد دعا ہوئی۔
    میرا احساس ہے کہ حضور کی صحت کی کمزوری بہت تشویش کا موجب ہے۔ جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے آگے جھک جائے اور اس سے حضور کی صحت عاجل و کامل کے لئے انتہائی درد و الحاح سے دعائیں کرے اور کرتا چلا جائے یہاں تک کہ
    ع
    اجابت از در حق بہر استقبال می آید
    اس وقت کہ حضور بیمار ہیں۔ حضور کی بھر پور زندگی کے بڑے بڑے واقعات یاد آتے ہیں تو دل غم سے بھر جاتا ہے ۔حضور کی عمر ۱۹ سال کی تھی جب آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی نعش مبارک کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا تھا۔ کہ اگر ساری جماعت اور سب لوگ حضور کو چھوڑ جائیں تب بھی میں وفاداری کے ساتھ حضور کے مشن کی اشاعت کرتاچلا جاؤنگاپھر ۲۵ سال کی عمر میں خلافت کا بارگراں آپ کے کندھوں پر رکھا گیا۔ جماعت کے اکابر جماعت اور مرکز سے علیحدہ ہو گئے خزانے میں چند آنے رہ گئے لیکن اس اولوالعزم انسان کو ذرہ بھر گھبراہٹ نہ ہوئی۔ بڑے بڑے فتنے اٹھے۔ لیکن اس خدا کے شیر کے پائے استقلال متزلزل نہ ہوئے۔ جلسوں میں مسلسل چھ چھ گھنٹے بڑے بڑے علمی مسائل پر وہ وہ نکات بیان کئے کہ اپنے تو خیر۔ غیر بھی عش عش کر اٹھے۔ قرآن کریم کے علوم کے دریا بہادئے۔ تفسیریں لکھیں درس دیئے۔ جماعت کی تربیت کی۔ نگرانی کی۔ ہزارہا تقرریں اور خطبے دئے۔ کتابیں لکھیں۔ شعر لکھے۔ ساری دنیا میں تبلیغ (دین حق) کیلئے مبلغ بھیجے۔ جماعت کا مرکزی نظام قائم کیا۔ سکول کالج اور کئی علمی ادارے قائم کئے سیاست کے میدان میں بھی مسلمانانِ ہند کی رہنمائی فرمائی۔ کشمیر کی آزادی کے جہاد میں حصہ لیا۔ ۱۹۴۷ء کے قتل و غارت کے ایام میں قادیان سے جماعت کے ہزاروں افراد کو صحیح و سالم پاکستان پہنچایا۔ ربوہ شہر دیکھتے دیکھتے آباد کرا دیا۔ پھر دین کی خاطر اپنا قیمتی خون بھی دیا۔
    جاننے والے جانتے ہیں کہ حضور کو اپنی جماعت کے تمام افراد کے ساتھ ایک دلی لگاؤ اور ذاتی تعلق ہے۔ ہر ایک کے خاندان نجی حالات اور ذاتی معاملات کو جانتے ہیں۔ اور ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ مجھ سے حضور کو سب سے زیادہ تعلق اور محبت ہے ۔ ہم میں سے کون ہے۔ جس پر حضور کے ذاتی احسان اور نوازشات نہیں۔ ایسے قیمتی وجود کو آج بیمار دیکھ کر کون ہے جس کا دل بھر نہ آئے۔ آج ہم اس مقدس وجود کے گوناگوں فیوض سے محروم ہیں اور یہ ان وجودوں میں سے ایک وجود ہے۔ جو صدیوں کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔
    ہمارا فرض ہے کہ دعائیں کریں۔ صدقے دیں اور اپنی سجدہ گاہوں کو رو رو کر تر کر دیں تاکہ خدا اپنے خاص اور بے پایاں رحم سے حضور کو دوبارہ صحت دے اور لمبی زندگی عطا کرے۔ رب اشف امامنا انت الشافی۔ آمین ‘‘ ۳۸





    فصل سوم
    کلکتہ عالمی کانفرنس میں
    احمدی نمائندہ کی پُر اثر تقریر
    کلکتہ میں مجلس ادیان عالم کے ز یر اہتمام ۲؍فروری سے ۹؍فروری۱۹۶۰ء تک ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس
    میں مذہبی نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب کے نقطہ نگاہ سے مسئلہ قیام امن پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر مولوی بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ کلکتہ نے نہایت موثر لیکچر دیا۔
    آپ نے بتایا کہ تمام گذشتہ مذاہب علاقائی تھے۔ عصر جدید کا سب سے اہم تقاضا عالمگیر امن کا قیام ہے اور اسے وہی مذہب پورا کر سکتاہے جو عالمگیر تعلیم پیش کرتا ہو اور جس کے اندر تمام قوموں کو یکجا کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ اسلام کا دعویٰ ہے کہ اُس کی ہمہ گیر تعلیم تمام شعبہ ہائے حیات پر حاوی ہے اور بالخصوص صلح و امن کے مسئلہ پر دوسروں کے مقابل پر اس کی تعلیم ممتاز ہے۔ آپ نے آیت للا نفرق بین احد منھم و نخن لہ مسلمون(البقرہ:۱۳۷)کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن مسلمانوں کو تاکیدی حکم فرماتا ہے کہ تمام نبیوں پر ایمان لاؤ۔ قرآن کے نزدیک ہر ایک قوم و ملک میں نبی گذرے ہیں اور سب کے سب واجب الاحترام ہیں یہ وہ نسخہء کیمیا ہے جس کے صحیح استعمال سے قوموں کے درمیان پیدا شدہ منافرت دور ہو سکتی ہے۔ لیکچر کے دوران جب مولانا صاحب نے وید اور گیتا کی شُرتیاں پڑھنا شروع کیں تو ہندوؤں پر وجد کی ایک کیفیت طاری ہو گئی۔ اکثر دوست ان شلوکوں کو دھیمی دھیمی آواز سے دہراتے جاتے تھے۔ بہت تھے جو اس لئے جُھوم رہے تھے کہ ابھی ان میں جو قرآنی آیات کو مجازی لَے سے پڑھ رہا تھا اب وہ آریہ ورت کے آکاش اُپدیشوں کو ہندی سُر میں سُنا رہا ہے۔ سامعین کا ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو زبان سے عدم واقفیت کے سبب خاموش تھا۔ لیکن جب پروفیسر چوپٹرہ صاحب
    ایم ۔اے۔پی۔ ایچ ۔ڈی نے آپ کی تقریر کا انگریزی ترجمہ پیش کیا تو خاموش طبقہ بھی اُس وجدانی کیفیت سے حصّہ پا کر دادِسخن دینے لگا۔
    اس اثر انگیز تقریر کے بعد لوگوں کے دلوں میں احمدیہ لڑیچر پڑھنے کا غیر معمولی اشتیاق پیدا ہو گیا۔ احمدی نوجوانوں نے اس موقعہ پر نہ صرف چودہ قسم کے انگریزی ٹریکٹ ڈیڑھ ہزار کی تعدا د میں تقسیم کیئے بلکہ اردو‘ ہندی‘ بنگلہ اور گورمکھی زبانوں کا لڑیچر بھی تقسیم کیا۔اسٹیج پر نمائندگانِ مذاہب کے علاوہ مدبّرین‘ مفکّرین و اکابرِ شہر تشریف فرما تھے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں دوسروں کا گذر محال تھا۔ لیکن خدا تعالیٰ کا خاص فضل و کرم یہ ہوا کہ مستعداحمدی نوجوانوں نے اُسی حلقہ خاص میں پہنچ کر منا سب ٹریکٹ تقسیم کئے‘ جہاں دوسرے فرقوں کی اکثر کتابوں کی تقسیم کو حکماً روک دیا گیا مگر خدّام احمدیت کے لئے کوئی امتناعی حکم صادر نہ ہوا ممالکِ غیر کے نمائیندگان اور ہندوپاک کے مشاہیر کو ضخیم اور قیمتی کتب پیش کی گئیں۔
    کانفرنس میں جناب محمد نور عالم صاحب ایم اے نے جماعت احمدیہ کلکتہ کی طرف سے پریس رپورٹر کے فرائض انجام دیئے۔ آپ کی مطبوعہ رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ۔
    ٓٓ’’جلسہ کے اختتام پر مجھے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے ہماری کو تاہ عملی و تغافل کیشی کو نظر انداز کر کے اور ہماری شکست سامانی پر ترس کھاتے ہوئے اس عالمی کانفرنس کے انعقاد کا اہتمام تو غیروں کے سپرد کیا اور اس کے مقاصد کو ہمارے حق میں کر دیا ۔ اور اس طرح یہ کانفرنس کافی حد تک اسلام و احمدیت کی تبلیغ کا ذریعہ بنی رہی‘ ‘۔ ۳۹
    سردار دیوان سنگھ مفتون ایڈیٹر
    ’’ریاست‘‘ دہلی ربوہ میں
    اس سال فروری کے تیسرے ہفتہ میں دہلی کے
    مشہور ہفت روزہ ’’ ریاست‘‘ کے نامور ایڈیٹر سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون پاکستان تشریف لائے۔
    ۲۱؍ فروری کو دہلی سے لاہور پہنچے اور چند روزہ قیام کراچی کے بعد ۲؍مارچ ۱۹۶۰ء کی شام کو بذریعہ چناب ایکسپریس وارد ربوہ ہوئے اور تحریک جدید کے گیسٹ ہاؤس میں مقیم ہوئے۔اگلے روز صبح کو آپ نے سیدنا حضرت مصلح موعود سے شرف ملاقات حاصل کیا اور پھرحضرت مرزا بشیر احمد صاحب ‘ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب‘حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب مختار ؔشاہجہانپوری اور حضرت ڈاکٹر حشمت اﷲ خان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بعد ازاں فضل عمر ہسپتال‘ اخبار الفضل اور تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے مرکزی دفاتر دیکھنے کے علاوہ جامعہ احمدیہ‘ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور تعلیم الاسلام کالج میں بھی گئے۔ کالج میں آپ نے ایک مختصر سی تقریربھی کی۔ سوا تین بجے کے قریب آپ بذریعہ موٹر کار اپنے آبائی وطن حافظ آباد (ضلع گوجرانوالہ) کی طرف روانہ ہو گئے۔ ۴۰
    سردار دیوان سنگھ صاحب مفتونؔ نے ہندوستان پہنچتے ہی اپنے اس اہم سفر کے دلچسپ حالات قلمبند کر کے ایڈیٹر صاحب اخبار ’’بدر‘‘ قادیان کو ارسال فرما دیئے۔ جو درجِ ذیل کئے جاتے ہیں ۔:
    ’’احمدی جماعت کے مرکز ربوہ میں چند گھنٹے‘‘
    ’’جب ’’ریاست‘‘ جاری ہوا تو اس وقت میں نہ تو احمدی جماعت کے کسی شخص سے واقف تھا اور نہ اس جماعت کے متعلق کوئی کسی قسم کی واقفیت ہی تھی ریاست جاری ہونے کے پہلے سال میں ہی افغانستان میں احمدی جماعت کے ایک مبلغ کو افغان گورنمنٹ کے حکم سے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اور اس بیجارے کا جرم صرف یہ تھا کہ یہ احمدی خیالات کی تبلیغ کرتا تھا ۔ میں نے جب یہ اطلاع روزانہ اخبارات میں پڑھی تو میرے جسم میں ایک کپکپی سی پیدا ہوئی۔ کیونکہ میں جب بھی ظلم ہوتا دیکھتا ہوں تو میرا خون کھولنے لگ جاتا۔ اس اطلاع کو سن کر میں نے افغان گورنمنٹ اور کنگ امان اﷲ کے خلاف ایک سخت ایڈیٹوریل لکھا۔
    اس ایڈیٹوریل لکھنے کا نتیجہ یہ ہوا۔ کہ چند احمدی حضرات مجھے اصل واقعات بتانے کے لئے میرے دفتر میں آئے۔ اور ادھر افغانستان کے قونصل جنرل مسٹر اکبر خاں آئے تاکہ وہ اپنی گورنمنٹ کی پوزیشن صاف کر سکیں یہ پہلا موقعہ تھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ دنیا میں کوئی احمدی جماعت بھی ہے۔ جس کا شعار اپنے خیال کے مطابق اسلام کی تبلیغ ہے اور اس کا ہیڈ کوارٹر قادیان میں ہے کیونکہ میں زندگی بھر ہی مذہبی حلقوں سے قطعی بے تعلق رہا۔
    اس واقعہ کے بعد مجھے کبھی کبھی احمدی جماعت کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہا اور اس جماعت کے کئی بزرگوں مثلاً محمد ظفر اﷲ خان ڈاکڑ محمد اقبال صاحب مرحوم کے حقیقی بھتیجے مسٹر اعجاز احمد جو ایک زمانہ میں دہلی میں سب جج تھے۔ اور میاں محمد صادق جو دہلی میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس تھے سے دوستانہ تعلقات بھی رہے احمدی جماعت کے لوگ جب کبھی ملتے ان کی تبلیغی باتیں میرے لیئے ناقابل برداشت حد تک ذہنی کوفت کا باعث ہوا کرتیں کیونکہ میں فطرتاً مذہبی دنیا سے قطعی الگ رہنا پسند کرتا ہوں مگر ان لوگوں کے ذاتی کیریکٹر اور بلندی کا بہت ہی مداح ہوں اور یہ واقعہ ہے کہ آج سے چند برس پہلے مجھے اپنے دفتر کیلئے جب کبھی کسی ایماندار شخص کی ضرورت ہوتی تو میں قادیان کے کسی دوست کو لکھتا کہ وہ اپنے ہاں سے کسی دیانتدار شخص کو ملازمت کے لئے بھیج دیں۔ کیونکہ میرا تجربہ تھا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ تو خدا سے ڈرتے ہیں۔ مگر احمدی جماعت کے لوگ خدا سے اس طرح بدکتے ہیں۔ جیسے گھوڑا سایہ سے بدکتا ہے۔ اور خدا سے خوفزدہ ہونے کے باعث یہ بددیانت ہو ہی نہیں سکتے۔ چنانچہ میں نے دفتر ریاست میں کئی احمدی مقرر کئے اور دفتر کے ان احمدی حضرات میں سے دو اصحاب کی زندگی کے واقعات تو مجھے اب تک یاد ہیں۔ ایک صاحب انشاء اﷲ خان اکونٹنٹ مقرر کئے گئے جو کئی برس دفتر ’’ریاست‘‘ میں رہے اور آج کل یہ پاکستان کی کسی بہت بڑی فرم میں آڈیٹر ہیں۔ یہ مسٹر انشاء اﷲ خان کبھی دفتر کا بغیر ٹکٹ کے پوسٹ کارڈ بھی استعمال نہ کرتے۔ اور اگر کوئی ضرورت ہوتی تو ڈاکخانہ سے پوسٹ کارڈ منگا کر لکھتے اور دوسرے صاحب کا نام یاد نہیں۔ یہ لڑکا بہت ہی شریف اور نیک تھا ۔ یہ دفتر سے کچھ روپیہ ایڈوانس لیتا رہا۔ اس کے ذمہ کچھ روپیہ باقی تھا تو یہ دفتر سے غائب ہو گیا۔ کچھ پتہ نہ تھا کہ یہ کہاں ہے چھ ماہ کے بعد اس کا منی آرڈر اور خط پہنچا۔ جس میں اس نے لکھا کہ وہ ذاتی حالات سے مجبورہو کر چلا آیا اور وہ رقم واپس کی جاتی ہے جو اس کے ذمہ ماہوار ایڈوانس تھی ۔ اس کا ایسا کرنا اس کے بلند کریکٹر ہونے کا ثبوت تھا۔ ورنہ راقم الحروف کو نہ تو رقم یاد تھی اور نہ ہی اس کا کوئی پتہ ہی معلوم تھا۔ احمدیوں اور راقم الحروف کے تعلقات صرف اس حد تک جاری تھے۔ کیونکہ مجھے آج تک کبھی قادیان جانے کا اتفاق نہیں ہوا حالانکہ یہ میری ہمیشہ خواہش رہی کہ میں ان کے ہیڈکوارٹر کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔ ان معمولی تعلقات کی موجودگی میں احمدی حضرات کئی بار ظلم کا شکار ہوئے۔ اور ’’ریاست‘‘ نیظلم کے خلاف آواز پیدا کرنا اپنا فرض اور ایمان سمجھا کیونکہ ’’ریاست‘‘ ظلم کے خلاف آواز پیدا کرنے کے لئے عالمِ وجود میں آیا تھا اور خدا کا شکر ہے کہ وہ اپنے آخری لمحوں تک اپنے اس شعار پر قائم رہا چنانچہ جوں جوں ان پر کئے جا رہے مظالم کے خلاف ’’ ریاست‘‘ میں آواز پیدا کی جاتی میرے اور ان کے درمیان اخلاص کے تعلقات زیادہ ہوتے چلے گئے ان کے بعض لیڈروں سے خط و کتابت بھی ہوا کرتی۔ اور میری خواہش تھی کہ اگر میں کبھی پاکستان جاؤں تو اس نئی آبادی ربوہ کو بھی دیکھوں جہاں کہ یہ لوگ قادیان سے تباہ ہو کر بطور مہاجر آباد ہوئے ہیں۔ میں نے جب پاکستان جانے کا قصد کیا تو دوسرے دوستوں کے علاوہ ایک احمدی بزرگ گیانی عباد اﷲ( جو سکھ مذہب اور سکھ تاریخ پر ایک اتھارٹی تسلیم کئے جاتے ہیں)کو بھی لکھا کہ اگر ممکن ہوا اور میں گوجرانوالہ اور اپنے سابق وطن حافظ آباد گیا۔ تو دو تین گھنٹہ کے لئے ربوہ بھی آؤں گا۔ کیونکہ پنڈی بھٹیاں کے راستہ حافظ آباد سے ربوہ زیادہ دور نہیں ۔
    میں ۲۰؍فروری ۱۹۶۰ء کی رات کو پاکستان کے لئے دہلی سے روانہ ہوا۔ اور ۲۱؍ کی دوپہر کو لاہور پہنچا۔ تو ۲۳؍فروری کو گیانی عباد اﷲ مجھ سے ملنے کے لئے لاہور نیڈوز ہوٹل میں آئے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ میں ان کے ساتھ ربوہ چلوں ۔ مگر میں نے کہا کہ میں کل کراچی جا رہا ہوں۔ وہاں سے واپس ہونے کے بعد ربوہ ضرور آؤں گا۔ میرے پاکستان کے دورہ کے حالات بہت ہی طویل اور دلچسپ ہیں۔ جو اس اخبار کے دس پندرہ صفحات سے کم جگہ میں نہیں آ سکتے اس لئے میں ان حالات میں سے اب صرف وہ لکھتا ہوں جس کا تعلق احمدی جماعت کے دوستوں سے ہے۔
    میں جب کبھی بمبئی‘کلکتہ یا کسی دوسرے شہر میں جاتا ہوں تو کوشش کرتا ہوں کہ میری موجودگی کا میرے دوستوں کو علم نہ ہو اور میں آخری روز تمام دوستوں سے مل لیا کرتا ہوں چنانچہ میں جب کراچی پہنچا تو میں نے انتظام کیا تھا کہ میں ایسی جگہ قیام کروں جس کا کسی کو علم نہ ہو حالانکہ وہاں سے حضرت جوش ملیح آبادی وغیرہ درجنوں نے زور دیا تھا کہ میں جب کبھی وہاں جاؤں تو ان کے ہاں قیام کروں کراچی میں ایک پوشیدہ جگہ پر قیام کرنے کے بعد میں پہلے ر وز حضرت جوشؔ ملیح آبادی صاحب اور بھیا احسان الحق سے ملا۔ کیونکہ ان سے نہ ملنے کی صورت میں مجھے ذہنی کوفت محسوس ہوتی ان سے ملنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ اور لوگوں کو بھی کراچی میں میری موجودگی کا علم ہو گیا جمعہ کے روز کراچی کی احمدیوں کی مسجد میں جب نماز ہو چکی تو ایک احمدی نے دوسرے احمدی سے ذکر کر دیا کہ دیوان سنگھ کراچی میں ہے یہ بات چیت شیخ اعجاز احمد ( جو آج کل وہاں غالباً یونائٹڈ نیشنزکے فود ڈیپارٹمنٹ میں کسی اعلیٰ عہدہ پر ہیں اور دوہزار روپیہ کے قریب تنخواہ پاتے ہیں) نے بھی سُن لی انہوں نے پوچھا کہ دیوان سنگھ کہاں ہے تو اطلاع دینے والے نے کہا کہ اس کا اسے کچھ علم نہیں شیخ اعجاز احمد اور ان کے دو تین دوستوں نے کار میں میری تلاش شروع کی۔ یہ دو گھنٹہ کے قریب مختلف جگہوں سے دریافت کرتے رہے اور آخر ان کو غالباً مسٹر ظفر احمد ( جو پاکستان کے تمام دورہ میں میرے ساتھ تھے) کے گھر سے علم ہوا ۔ کہ میں فلاں بلڈنگ میں مقیم ہوں۔ چنانچہ یہ حضرات وہاں پہنچ گئے اور کچھ عرصہ بات چیت کرنے کے بعد انہوں نے خواہش کی کہ میں احمدی جماعت کے ہیڈکوارٹر میں ان کے ساتھ چائے پیئوں۔ میں نے بہت کوشش کی اور بار بار کہا کہ میں دن کے وقت کچھ نہیں کھایا کرتا مگر یہ نہ مانے اور شام کو مسٹر نذیر مجھے اپنی کار میں وہاں لے گئے۔ اس پارٹی میں پاکستان کی مرکزی گورنمنٹ کے ایک درجن کے قریب بڑے بڑے حکام موجود تھے کیونکہ احمدیوں میں آپس میں بہت ہی محبت اور اخلاص ہے ۔چائے کی میز پر مختلف باتیں ہوتی رہیں اور یہ پُر لطف صحبت ایک گھنٹہ کے قریب جاری رہی اور اس کے بعد میں جتنے روز کرچی میں رہا مسٹر نذیر کی کار میرے لئے وقف رہی۔اس کے اگلے روز میں اپنے ایک مرحوم احمدی دوست سید انعام اﷲ شاہ ایڈیٹر’’دور جدید‘‘ کے گھر گیا۔ وہاں مرحوم کی بیوی اور ایک لڑکی طلعت موجود تھیں۔ یہ لڑکی ایم اے میں پڑھتی ہیں۔ میرا وہاں خلاف توقع پہنچنا ان کے لئے انتہائی حیرانی اور مسرت کا باعث ہوا۔ کیونکہ ان کو علم نہ تھا کہ میں کراچی میں ہوں۔ مرحوم سید انعام اﷲ شاہ کی یہ لڑکی بہت ہی ذہین ہے مرحوم کی دو لڑکیاں شادی شدہ ہیں۔ وہ اپنے سسرال میں تھیں اور لڑکا محمود انعام سرکاری ملازم ہے وہ اپنے دفتر تھا۔ یہ ماں بیٹی ایسی مسرت محسوس کر رہی تھیں جیسے ان کو کوئی گمشدہ شے مل گئی ہو مجھے وہاں بیٹھے ابھی دو تین منٹ ہوئے تھے اور مرحوم انعام اﷲ شاہ کے اخلاص اور محبت کے متعلق باتیں ہو رہی تھیں ۔ تو طلعت دوسرے کمرہ میں گئی اور وہاں پھلوں کا رس اور خشک اور تازہ پھل جمع کرنے میں مصروف ہو گئی اور یہ تمام سامان ایک چھوٹی میز پر لے آئی میں دن کو کچھ نہیں کھایا کرتا۔ اس روز یکم رمضان تھی اور پہلا روزہ تھا میں نے مذاقاً کہا ’’ تم روزہ داروں کے روزہ توڑنے کے گناہ کی مرتکب اور معاون ہو رہی ہو‘‘۔ لڑکی کھل کھلا کر ہنس پڑی۔ میں نے پھلوں کا رس پی لیا اور تھوڑی دیر بیٹھ کر اور باتیں کر کے واپس چلا آیا۔ رات کو جب دوستوں سے ملنے کے بعد اپنی قیام گاہ پر پہنچا تو مجھے ظفر صاحب نے بتایا کہ شام کو محمود انعام اپنے گھر پہنچے اور ان کو میرے آنے کا علم ہوا تو وہ اپنی دوسری بہنوں کے ساتھ قیام گاہ پر ملنے آئے تھے اور یہ بغیر ملے واپس جانا نہ چاہتے تھے مگر ظفر صاحب سے اس حلفیہ وعدہ پر کہ یہ مجھے ان کے مکان پر پھر لائیں گے وہ واپس چلے گئے۔ میں اگلے روز مغرب کے بعد پھر ان کے مکان پر گیا۔ ظفر میرے ساتھ تھے میں نے اطلاع کرنے کے لئے ظفر صاحب کو اوپر بھیجا۔تو تینوں لڑکیاں اور محمود بھاگ کر نیچے آ گئے یہ مجھے اپنے ساتھ اوپر لے گئے وہاں ایک لڑکی کے شوہر بھی موجود تھے ڈیرھ گھنٹہ کے قریب دلچسپ باتیں ہوئیں۔ ان لوگوں نے جس اخلاص اور محبت کا سلوک کیا۔ اسے میں زندگی میں کبھی بھول نہ سکوں گا۔
    ۲۸ ؍اور ۲۹؍فروری کو دوستوںسے ملتا رہا اور یکم مارچ کی شام کو چناب ایکسپریس میں ربوہ کے لئے روانہ ہوا۔ کیونکہ یہٹرینکراچی سے سیدھی ربوہ جاتی ہے۔ یہ گاڑی شام کے وقت لائلپور پہنچی۔ وہاں گیانی عباد اﷲ موجود تھے میں ان کے اور ظفر صاحب کے ہمراہ مغرب کے وقت ربوہ سٹیشن پر پہنچا وہاں دو سو کے قریب طلباء اور دوسرے دوست اور معترف موجود تھے یہ مجمع میرے لئے خلاف توقع تھا۔ کیونکہ میں ایسے مجمع کا عادی نہیں ہوں اور میں تمام زندگی ہی تنہائی میں لطف محسوس کرتا رہا ہوں۔ سٹیشن سے کار میں گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ وہاں احمدی جماعت کی کئی اہم شخصیتیں میری منتظر تھیں۔ ان سے ملا۔ ان تمام دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد چند طلباء آئے۔ اور انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ کل میں ان کے سامنے تقریر کروں میں نے ان سے کہا کہ میں لیڈر کلاس میں سے نہیں ہوں نہ تو کبھی تقریر سننے جاتا ہو ں اور نہ زندگی میں کبھی کوئی تقریر کی۔ اور میں تو صرف ایک جنرنلسٹ ہوں۔ مگر آپ لوگوں سے ملنے آپ کے کالج ضرور آؤں گا۔ رات کو آرام سے سویا۔ صبح پانچ چھ بجے کے قریب اذان ہوئی میں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے کبھی ایسی خوش الحانی کے ساتھ اذان نہ سنی تھی۔ چنانچہ میں نے صبح ایک دوست سے یہ دریافت کیا۔ کہ کیا اذان دینے والا عرب تھا۔ یا پاکستانی۔ تو معلوم ہوا کہ مؤذن ربوہ کا ہی ایک پاکستانی ہے نو بجے تک غسل وغیرہ سے فارغ ہوا۔ تو کا ر آ گئی۔ اور مجھے بتایا گیا کہ مجھے مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں ناشتہ پر جاناہے اس کار میں ان کے ہاں گیا۔ وہاں ایک درجن کے قریب احمدی لیڈر موجود تھے اور سب کے سب روزہ میں تھے اور صرف میں ہی روزہ سے محروم تھا۔ناشتہ کے لئے کئی اقسام کی اشیاء موجود تھیں۔ مگر میں دن کے وقت کچھ نہیں کھایا کرتا ۔ صرف ایک پیالی چائے پی۔ یہ لوگ محبت اور اخلاص کے مجسمہ ہیں مختلف باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے ان سے مذاقاً کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی جماعت کے لوگوں نے میرے خلاف ایک سازش کر رکھی ہے۔ اور آپ لوگوں نے فیصلہ کیا ہے۔ کہ آپ مجھے بغیر احمدیت کا کلمہ پڑھا نیکے واپس دہلی نہ جانے دیں گے کیونکہ لاہور کراچی میں احمدیوں کی محبت اور اخلاص کا شکار رہا۔ اور اب یہاں بھی یہی کیفیّت ہے ۔ یہاں باتیں کرنے اور ان کی محبت کا شکار ہونے کے بعد دوستوں کے ساتھ احمدی جماعت کے پیشوا حضرت صاحب کے مکان پر گیا۔ کیونکہ وہاں ساڑھے نو بجے کا وقت ملاقات کے لئے مقرر تھا۔ پرائیویٹ سیکرٹری کے کمرہ میں چند منٹ بیٹھنے کے بعد اوپر کی منزل میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ لیٹے ہوئے تھے اور بیمار تھے۔ انہوں نے انتہائی اخلاص اور محبت کے جذبات سے میرے وہاں جانے پر مسرت کا اظہار کیا۔ اور میں نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں آپ کی زیارت کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہاں چند منٹ حاضری دینے کے بعد جب میں زینہ سے اُتر رہا تھا۔ تو ایک صاحب ایک تحفہ لائے جو پیکٹ کی صورت میں تھا۔…اور اس پیکٹ میں ایک رومال جرابوں کا ایک جوڑہ اور عطر کی ایک شیشی تھی یہ تحفہ میجر حبیب اﷲ شاہ صاحب کی بھتیجی کی طرف سے مجھے بھجوایا گیا تھا۔ جو میجر صاحب موصوف کے ساتھ میرے دیرینہ اور مخلصانہ مراسم کی بناء پر تھا۔
    اس ملاقات سے فارغ ہونے کے بعد ہم لوگ کالجوں میں گئے کیونکہ وہاں طلباء منتظر تھے سب سے پہلے تبلیغی کالج کے ہال میں پہنچے مائیکر و فون پر میرا تعارف کرایا گیا۔ جس کیلئے میں نے شکریہ ادا کیا ۔اس کالج میں غیر ممالک میں بھیجنے کیلئے مبلغ تیار کئے جاتے ہیں اور طلباء میں کئی غیر ممالک مثلاًافریقہ اور جرمنی کے نوجوان بھی ہیں جو بے تکلف اردو بول سکتے تھے۔ ان طلباء نے مختلف قسم کے سوالات شروع کر دیئے۔مثلاً میں نے اخبار کیوں بند کر دیا۔ کتنے برس اخبار جاری رہا ۔ پاکستان کے متعلق کیا رائے ہے۔ کتنے روز پاکستان میں قیام ہو گا۔ہندوستان میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے ۔’’ہندوستان میں اردو زبان کا مستقبل کیسا ہے وغیرہ۔ میں ان سوالات کا جواب دیتا رہا تو ایک طالب علم نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ احمدی مذہب کیوں قبول نہیں کرتے‘‘اس سوال کا جواب تو میں نے یہ دیا کہ میں نے اس مسئلہ پر آج تک کبھی غور نہیں کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میری تو دعا ہے کہ خدا آپ کو بھی اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں کامیابی نصیب نہ کرے اور اس دعا کی وجہ یہ ہے کہ احمدی جماعت میں جتنے نیک اور مخلص لوگ ملتے ہیں۔ دوسرے کسی مذہب میں نہیں مل سکتے اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اس جماعت کا حلقہ محدود ہے اور میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کی تبلیغی سرگرمیوں کے نتیجہ کے طور پر جب اس جماعت کو بھی بہت زیادہ وسعت نصیب ہو گی تو اس میں بھی بُرے لوگ شامل ہو جائیں گے۔ جیسے دوسرے بڑے مذاہب میں شامل ہیں۔ یعنی زیادہ کپوتوں کے مقابلہ پر چند سپوت زیادہ قابل قدر ہیں یا دوسری مثال یہ ہے کہ جب میں کسی چھوٹے سے خوبصورت اور معصوم بچہ کو دیکھتا ہوں تو میری خواہش ہوتی ہے کہ یہ بچہ کبھی بھی بڑا نہ ہو۔ کیونکہ بڑا ہونے کی صورت میں یہ اپنے حسن اور اپنی معصومیت سے محروم ہو جائے گا۔ میرے اس جواب کو سن کر تمام لڑکے ہنس پڑے……اس تبلیغی کالج کے بعد میںدوسرے کالجوں میں گیا کیونکہ وہاں کے طلباء بھی میرے منتظر تھے وہاں اسی قسم کے سوالات ہوتے رہے اور میں جواب دیتا رہا۔ ایک بجے تک ان کالجوں میں رہا۔ ان سے فارغ ہونے کے بعد روزنامہ اخبار الفضل کے دفتر میں گیا کیونکہ اپنی صحافتی برادری کی حاضری بھی ضروری تھی ڈیڑھ بجے کے قریب ہم لوگ واپس گیسٹ ہاؤس پہنچے۔ وہاں کھانا تیار تھا۔ میں نے اور ظفر صاحب نے کھانا کھایا کیونکہ انکار کرنا مناسب نہ تھا۔ تین بجے کے قریب ہم لوگ ربوہ سے روانہ ہوئے۔ کار میں گیانی عباد اﷲ کے علاوہ ربوہ کے ایک دوسرے احمدی اور حافظ آباد کے ایک زمیندار احمدی تھے جو مجھے لینے کیلئے میرے وطن حافظ آباد سے ربوہ آئے تھے راستہ میں بہت دلچسپ باتیں ہوتی رہیں شام کو چھ بجے کے قریب ہم لوگ حافظ آباد پہنچے وہاں دو گھنٹے کے قریب قیام کیا اور پاسپورٹ کی خانہ پوری کرائی۔ نو بجے کے قریب ہم گوجرانوالہ پہنچے اور گیارہ بجے نیڈوز ہوٹل چھوڑنے کے بعد گیانی صاحب وغیرہ واپس ربوہ چلے گئے۔
    ربوہ بہت وسیع علاقہ میں تعمیر کیا جا چکا ہے اور صرف دس برس کے عرصہ میں اتنے بڑے قصبہ یا شہر کا آباد ہونا ایک تعجب خیز امر ہے۔ کیونکہ احمدی جماعت کے لوگ عام طور پر غریب یا درمیانہ حیثیت کے ہیں جو اٌنی ضر وریات کی پروانہ کرتے ہوئے بھی اپنی فدا ہونے والی قابل قدر سپڑت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی جماعت کی خدمت کرنا اپنا ایمان اور فرص سمجھتے ہیں اور یہی سپرٹ احمدیت کے مذہبی جھنڈے کو ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ اکثر ممالک میں بھی بلند کرنے کا باعث ہے‘‘۔ ۴۱
    آخری تین سورتوں کی پُرمعارف دعائیہ تفسیر
    اس سال رمضان کے بابرکت ایام میں بیت
    مبارک ربوہ میں حسب سابق پورے قرآن مجید کے جس خصوصی درس کا اہتمام کیا گیا تھا اس میں سورۂ احقاف سے سورۃ الناس تک درس حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔ اے (آکسن) نے دیا۔ 28؍مارچ 1960ء مطابق 29؍رمضان المبارک 1379ھ کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے قرآن مجید کی آخری تین سورتوں یعنی سورۃالاخلاص‘ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی ایسی پُر معارف دعا ئیہ تفسیر بیان فرمائی کہ جسے سنکر سامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔
    حضرت صاحبزادہ صاحب کی بیان فرمودہ یہ تفسیر اُن جامع دعاؤں پر مشتمل تھی جوان سورتوں سے مستنبط ہوتی ہیں۔ قرآن مجید روحانی علوم و معارف کے ایک
    بحرِ ناپید اکنار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ان تین سورتوں میں جو دعائیں سکھائی ہیں ۔ ایک ہی وقت میں ان سب کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم یہ دعائیہ تفسیر مختصر ہونے کے باوجود اپنی ذات میں اس قدر لطیف اور جامع ہے کہ اس میں قریب قریب وہ تمام جماعتی دعائیں آجاتی ہیں جن سے اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کے افراد کو ان سورتوں میں بیان کردہ مضامین کے پیش نظر اپنی زبانوں کو ہر وقت تَر رکھنا چاہیئے۔ تا خدائی افضال اور رحمتوں کے وہ مورد بنے رہیں اور وہ روحانی انقلاب جس کا خدا نے وعدہ فرمایا ہے جلد دنیا میں ظاہر ہو کر دین حق کو پورے کرہ ارض پر غالب کر دے۔ یہ دعائیہ تفسیر درج ذیل الفاظ میں تھی۔
    ’’اے ہمارے اﷲ! اے ہمارے ربّ! تُو ازلی ابدی خدا ہے خالق و مالک اور حيّ و قیوم ہے۔ تُو اپنی ذات میں اکیلا اور منفرد ہے۔ ذات اور صفات میں کوئی تیرا ہمتا اور ہمسر نہیں۔ حقیقی مُحسن تُو ہی ہے اور تُو ہی سب تعریفوں کا حقیقی مستحق ہے۔ تُو بلند درجات والا اور غیر محدود ہے۔ تیری غیر محدود نعمتیں تیری اَن گنت مخلوق پر ہرآن اور ہر لحظہ جاری ہیں۔ تیرے قُرب کے دروازے غیر محدود ہیں۔ کوئی مقامِ قُرب ایسا نہیں جس سے آگے قرب کا کوئی اور مقام نہ ہو۔
    اے صمد خدا! تو کسی کا محتاج نہیں اور سب مخلوق تیری محتاج ہے۔ ہم بھی تیرے ہی محتاج ہیں اور تیرے ہی سامنے اپنی ضرورتوں اور احتیاجوں کو پیش کرتے ہیں۔ اے لم یلد خدا!اے لم یولد خدا !تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ تُو نے اپنی صفات کسی سے ورثہ میں حاصل نہیں کیں اور نہ کوئی اور اِن صفات کو تجھ سے ورثہ میں حاصل کریگا۔ کوئی ہستی اور کوئی وجود تیرا مماثل اور مشابہ نہیں۔ اپنی ذات اور اپنی صفات میں تو یکتا ہے۔
    اے ہمارے خدا !جوواحد و یگانہ ہے اے ہمارے ربّ جو ازلی اور ابدی ہے تُو نے ہی محمدؐ رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ وسلم کو ایک کامل اور مکمل شریعت دیکر دُنیا کی طرف بھیجا ہے۔ تُو نے ہی آپکو روحانی دُنیا کے لئے سورج بنایا ہے۔ ہم تیرا واسطہ دے کر تجھ سے ہی یہ دعا کرتے ہیں کہ تُو ہمیں اپنی اس روشنی کی سب برکتوں سے مالا مال کر۔ اے خدا روحانی علوم کے یہ دریا اور دنیوی ترقیات کی یہ فراوانی ہمیں خودپسندی کی طرف نہ لے جائے اور عیش و عشرت میں نہ ڈبودے۔ اے خدا ! ہم پر ایسا فضل کر کہ جس طرح تُو اپنے سورج کو آہستہ آہستہ اور تبدریج نصف النہارتک لے جا رہا ہے۔ ہم بھی تیری صفتِ ربوبیت کے ماتحت آہستہ آہستہ اور بتدریج روحانی کمالات تک پہنچتے رہیں۔ اے خالق خدا‘ خیرو برکات کے جو سامان تُو نے پیدا کئے ہیں انسان اپنی غفلت اور سستی کی وجہ سے ان میں سے اپنے لئے کبھی شر کے سامان بھی پیدا کر لیتا ہے۔ اے خدا ‘ تو ہمیں توفیق دے کہ ہم تیرے فضل اور تیری ہی رحمت سے ہر شر سے محفوظ رہیں اے خالق و مالک خدا دنیا والے آج دنیوی سہاروں اور دنیاوی سامانوں پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ اے ہمارے ربّ ‘ تُو ہماری پناہ بن جا‘ تُو ہمارا ملجا ہو جا‘ ہمارابھروسہ تیرے سوا اور کسی پر نہیں۔ اے خدا تُو نے اپنے قرآن میں نفع کی ہر بات اور ترقی کا ہر اصول رکھا ہے۔ تُو ہی ہمیں توفیق دے کہ ہم قرآنی تعلیم کو کبھی نہ چھوڑیں ‘ تا ایسا نہ ہو کہ یہ دونوں جہان ہمارے لئے جہنم بن جائیں۔
    اے ہمارے ربّ ! تیرا مسیح ثریا سے ہمارے لئے علومِ قرآنی لے کر آیا اور تیرے خلیفہء اول نے ہمیں ان علوم کے سِکھانے میں اپنی زندگی بسر کی۔ اے خدا تیرے ہزاروں ہزار صلوٰۃ اور سلام ہوں ان پر۔ اور اے خدا تیرے خلیفہء ثانی نے تجھ سے الہام پا کر تیرے قرآن کے علوم کو سیکھا‘ اور دن رات ایک کر کے اور اپنے آرام کی گھڑیوں کو قربان کر کے علومِ قرآنی کے ان خزانوں سے ہماری جھولیاں بھریں اور ہمارے دل کو ان سے منوّرکیا۔ اے خدا‘ آج وہ بیمار ہیں اور ہم بے بس‘ مگر تُو تو شافی اور کافی خُدا ہے‘ تجھے تیرے ہی منہ کا واسطہ تُو ہمارے پیارے امام کو شفا دے اور بیماری کا کوئی حصّہ باقی نہ رہنے دے۔ آپ کی زندگی میں برکت ڈال اور آپ کی قیادت اور رہنمائی میں دنیا کے کناروں تک اپنے دین کی اشاعت کی ہمیں توفیق بخش اور ہم میں سے جو افراد اس وقت آپ کی خدمت کر رہے ہیں ان پر بھی اپنا فضل اور رحمت نازل فرما۔
    اے محسن خدا! تُو نے ہی افراط و تفریط کی دو پہاڑیوں کے درمیان (دین حق) جیسا خوبصورت میدان بنایا ہے۔ اے خدا‘ ایسا کر کہ ہم (دین حق )کی تعلیم سے کبھی منحرف نہ ہوں ‘ ہمارا قدم اس میدان سے کبھی باہر نہ نکلے۔اے ہمارے ربّ ! روحانی فیوض تُو نے ہم پر موسلادھار بارش کی طرح برسائے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہی روحانیت ہم میں کبرونخوت کے جذبات پیدا کر کے ہمارے لئے ہلاکت کا باعث بن جائے۔ اے خُدا ‘ تو نے آسمان سے دودھ اتارا ہے۔ اے خُدا ہمارے پیالے اس دودھ سے ہمیشہ بھرے ہی رہیں۔ اے ہمارے ربّ‘ اُن وعدوں کے مطابق جو تو نے اپنے رسُول صلی اﷲ علیہ وسلّم سے کئے تھے تو نے اپنی تقدیر کی تاروں کو ہلانا شروع کیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ( دین حق )کی لائی ہوئی تعلیم ساری دنیا میں پھیل جائے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلّم وسط آسمان میں سورج کی طرح چمک کر ساری دُنیا کو منّور کر دیں۔ اے خُدا ہمیں اعمالِ صالحہ کی توفیق دے ‘ ہماری دستگیری فرما اور اس روشنی سے زیادہ سے زیادہ متمتع فرما‘ اور ہمارے اُن بھائیوں کو جو تیری تعلیم کو پھیلانے کیلئے دُنیا کے کونے کونے اور ملک ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اپنی رحمتوں سے نواز‘ ان کے تقویٰ میں برکت دے۔ ان کی قلموں اور ان کی زبانوں پر اپنے انوار نازل کر اور ان کی کوششوں کو دجّال کے ہر دجَل اور شرّ سے محفوظ رکھ۔ اے خدا‘ ایسا کر کہ تیرے یہ کمزور بندے ہر فردِ بشر کے دل میں تیری توحید کی میخ اور محمد رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلّم کا جھنڈا گاڑ دیں۔ اے خدا‘ اپنے فضل سے تو ایسے سامان پیدا کر کہ یہ انوار جو تیری طرف سے بنی نوعِ انسان کی ترقیات کے لئے نازل ہوئے ہیں دُنیا کی نظر سے کبھی اوجھل نہ ہوں اور تا ابد دُنیا کے ہر گھرا اور ان گھروں کے سب مکینوں کے دلوں سے لا الہ الّا اﷲ محمد رسُول اﷲکا نعرہ بلند ہوتا رہے۔ اے قدیر و حکیم خُدا‘ جس طرح تُو نے اپنے مسیح کے لئے چاند اور سورج کو گرہن لگایا ہے ایسا ہو کہ اسی طر ح تمام مذاہب باطلہ کے نقلی سورجوں اور چاندوں کو بھی گرہن لگ جائے۔
    اے ہمارے رب! تو ہمیں مسیح موعود علیہ الصّلٰوۃ و السلام کے مددگاروں میں سے بنا اور اُن آفات اور عذابوں سے ہمیں ہمیشہ بچا جو آپ کے مخالفوں کے لئے مقدر ہو چکے ہیں۔ اور شرک اور بدعت اور ظلم کی ہر قید و بند سے ہمیں ہمیشہ محفوظ رکھ۔ اے خدا ہمیں نیکی اور تقویٰ پر ہمیشہ قائم رکھ اور بد خصلت وساوس پیدا کرنے والوں سے ہمیں ہمیشہ پناہ دے تا ہمارا بیعت کا تعلق اور غلامی کا رشتہ جو ہم نے تیرے رسول ‘ تیرے مسیح‘ اور تیرے خلفاء سے باندھا ہے وہ ہمیشہ مضبوطی سے قائم رہے۔
    اے خدا! ہمارے بیماروں کو شفا دے‘ ہمارے کمزوروں کو طاقت بخش ‘ ہمارے غریبوں کو مالدار بنا‘ ہمارے ضرورتمندوں کی ہر ضرورت کو پورا کر اور ہمارے جاہلوں کی جھولیاں دینی اور دنیوی علوم سے بھر دے ۔ اے خُدا‘ ابتلاؤں میں ہمیں ثابت قدم رکھ اور کامیابیوں میں ہمیں مزاج کے منکسر اور طبیعت کے غریب بنا اے خدا تیرے اور تیرے رسُولؐ کے خلاف نہایت گندہ اور مکروہ اور ناقابل برداشت لٹریچر شائع ہو رہا ہے ہمیں اور ہماری نسلوںکو اس فتنہ سے محفوظ رکھ اور اس کے خلاف قلمی اور لسانی جہاد کی ہمیں توفیق دے اور اس میں ہمیں کامیاب فرما۔ اے خدا‘ ایسا نہ ہو کہ حاسدوں کی کوششیں ہمارے قومی شیرازہ کو بکھیر دیں اور ہم میں لا مرکزیت آ جائے۔ اے خدا‘ حاسد اپنے حسد میں جلتے ہی رہیں۔ ہمارا قومی شیرازہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلاجائے اور ہمارا مرکز تاابد بنی نوع انسان کی بھلائی اور خدمت کا مرکز بنا رہے۔ اے خدا‘ ہمارا قادیان ہمیں جلد کامیابی و کامرانی کے ساتھ واپس دلا۔ اے ہمارے اﷲ ! اے ہمارے رب! ہم تیرے ہی آستانہ پر جھکتے ہیں ‘ تجھ پر ہی ہمارا توکل ہے تو ہی ہمارا سہارا ہے‘ ہمیں بے سہارا نہ چھوڑیو یارب العالمین‘‘۔ ۴۲










    فضل چہارم
    جماعت احمدیہ کو حقیقی عید منانے کی تحریک
    ۲۹؍مارچ ۱۹۶۰ء کو حضرت مصلح موعود نے خطبہ عید الفطر کے دوران
    دنیائے احمدیت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ۔
    ’’احادیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم عید کے موقعہ پر عیدگاہ میں آتے اور جاتے ہوئے اور پھر عیدگاہ میں تشریف رکھتے وقت بھی بڑی کثرت کے ساتھ یہ تکبیر پڑھا کرتے تھے کہ
    اﷲ اکبر۔ اﷲ اکبر۔ لا الہ الا اﷲ و اﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد
    رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم کی یہ سنّت بتاتی ہے کہ مومنوں کی حقیقی عید اﷲ تعالیٰ کی بڑائی اور اس کی عظمت کے بیان کرنے میں ہی ہے۔ پس اگر ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عظمت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس کے نام کو پھیلادیں۔ اس کی بڑائی کو ثابت کر دیں۔ اور اپنی تمام کوششیں اور مساعی اس غرض کے لئے وقف کر دیں۔ کہ خدا تعالیٰ کا نام بلند ہو۔ تو یقینا ہماری عید حقیقی عید کہلا سکتی ہے۔ لیکن اگر ہمیں اپنے فرائض کا احساس نہ ہو۔ اور خدا تعالیٰ کی توحید کی اشاعت اور اس کی عظمت کے قیام کے لئے اسلام جن قربانیوں کا ہم سے تقاضا کرتا ہے۔ ان قربانیوں کے میدان میں ہمارا قدم سُست ہوتو پھر ہماری عید صحیح معنوں میں عید نہیں کہلا سکتی۔ پس آج میں اپنی جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اس عید کو حقیقی رنگ میں منانے کی کوشش کرنی چاہیئے اور اس ظاہری عید کو اُس عظیم الشان روحانی عید کے حصول کا ایک ذریعہ بنانا چاہیئے جس میں ساری دنیا خدا تعالیٰ کی بڑائی کی قائل ہو جائے اور (دین حق ) کے نیچے جمع ہو جائے اگر دنیا میںخدا تعالیٰ کی بڑائی قائم نہ ہو ۔ تو ہماری عید کوئی عید نہیں۔ لیکن اگر اس کی بڑائی قائم ہو جائے۔ اور دنیا محمد رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو جائے۔ تو اسی میں ہماری حقیقی عید ہے‘‘۔ ۴۳
    جامعہ احمدیہ کی نئی
    عمارت کا سنگ بنیاد
    جامعہ احمدیہ کا مرکزی ادارہ عرصہ سے ایک ایسی وسیع اور شایان شان عمارت سے محروم تھا جو اُس کی ضروریات کو صحیح رنگ میں پورا کر سکے ۲۹؍مارچ
    ۱۹۶۰ء کوعیدالفطر کی پُر مسرّت تقریب کے موقع پر ہی ۵بجے شام اس عظیم الشان درسگاہ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔جس میں رفقائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دیگر بزرگانِ سلسلہ کے علاوہ صدرانجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے ناظر و وکلاء صاحبان۔افسران صیغہ جات ‘ ربوہ کے تعلیمی اداروں کے ممبران۔ اسٹاف اور بہت سے دیگر مقامی احباب شامل تھے۔ سب سے پہلے حضرت مولاناغلام رسول صاحب راجیکی نے قادیان کے مقامات مقدسہ کی ایک اینٹ اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر دیر تک دعا کی۔ دعا کے دوران آپ کی زبان پر یہ شعر جاری ہوا۔
    ؎
    ما غریباں خاک بوسانِ حرم


    ایں چنیں برکات کے یا بدامم

    دعا سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے اس اینٹ کو بنیاد میں اپنے ہاتھ سے نصب فرمایا آپ کے بعد بعض اور ممتاز رفقاء اور دیگر بزرگانِ سلسلہ نے اینٹیں نصب کیں۔ ان میں حضر ت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔ اے (آکسن) پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ‘حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلیٰ ‘حضرت قاضی محمد عبداﷲصاحب‘حضرت ڈاکٹر حشمت اﷲ خاں صاحب اور حضرت سیّد زین العابدین ولی اﷲ شاہ صاحب شامل تھے۔ ان اصحاب کے علاوہ میاں عبدالرحیم احمد صاحب وکیل التعلیم ‘ سیّد میر داؤد احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ اور اساتذہ جامعہ میں سے ماسٹر عطا محمدصاحب اور صاحبزادہ ابوالحسن صاحب قدسی ابن حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے بھی ایک ایک اینٹ رکھی۔ مزید براں جامعہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو بھی بنیاد میں اینٹیںرکھنے کا موقع دیا گیا۔ چنانچہ جن طلباء کے حصہ میں یہ سعادت آئی ان میں غانا مغربی افریقہ کے عبدالوہاب بن آدم صاحب ابراہیم محمد مینو صاحب اور مشرقی افریقہ کے یوسف عثمان صاحب۔ ابوطالب صاحب ۔ عمر جمعہ صاحب۔ احمد قادری صاحب اور چین کے محمد عثمان صاحب شامل تھے۔ بعد ازاں حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی نے اجتماعی دعا کرائی۔ جس میں جملہ حاضرین شامل ہوئے دعاسے فارغ ہونے کے بعد جامعہ کی طرف سے تمام حاضرین کی خدمت میں شیرینی پیش کی گئی۔ ۴۴
    سنگ بنیاد کے ایک ماہ بعد اساتذہ جامعہ کا ایک وفد کوئٹہ بھجوایا گیا تا اس عمارت کے لئے عطیات کی تحریک کر ے۔ کوئٹہ کے مخلصین نے اس پر نہایت گرمجوشی سے لبیک کہا علاوہ ازیں مرزا محمد امین صاحب آف کوئٹہ نے بعد میں ایک گرانقدر رقم بھجوائی جس کا خصوصی ذکر پرنسپل جامعہ احمدیہ سید داؤد احمد صاحب نے الفضل ۳۰؍اکتوبر ۱۹۶۰ء میں فرمایا ۴۵
    صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کا
    خطبہ صدارت جلسہ تقسیم انعامات میں
    ۳۰؍مارچ ۱۹۶۰ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے جلسہ تقسیم انعامات کی ایک
    پُر وقار تقریب شام چار بجے سکول کی عمارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں سکول کے طلبہ اور اسٹاف کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ کے ناظر و وکلا ء صاحبان ‘افسران صیغہ جات اور ربوہ کے تعلیمی اداروں کے ممبران اسٹاف نے بھی شرکت فرمائی علاوہ ازیں تحصیل چنیوٹ کے مقامی افسران اور دور و نزدیک کے متعدد ہائی سکولوں کے ہیڈ ماسٹر صاحبان بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔
    صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب ایڈیشنل چیف سیکرٹری حکومت مغربی پاکستان تشریف لائے اور کرسی صدارت پر رونق افروز ہوئے۔تلاوت و نظم کے بعد سکول کے ہیڈماسٹر میاں محمد ابراہیم صاحب نے سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے ہر میدان میں سکول کی روز افزوں ترقی پر روشنی ڈالی۔ صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے اپنے خطاب میں سکول کی رفتار ترقی پر اظہار اطمینان کے رنگ میں فرمایا۔ میں تین باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
    پہلی بات یہ ہے کہ اس سکول کے قیام اور اجراء سے قبل اور بہت سے ہائی سکول موجود تھے ہم دیکھتے ہیں اس کے باوجود اس سکول کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ اس سکول کے قیام کی ایک خاص غرض اور ایک خاص مقصد تھا۔ وہ غرض یہ تھی کہ اس سکول میں طلبہ کو دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جائے تاکہ وہ صحیح معنوں میں دیندار بنیں اور اچھے شہری ثابت ہوں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیئے کہ یہ غرض کماحقہ پوری ہوتی رہے اور اسے ہمیشہ ہی عام تعلیمی مقاصد پر نمایاں فوقیت حاصل رہے۔ اس غرض کو پورا کرنے سے ہی سکول اپنے خصوصی امتیاز کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
    دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ سکول کے قیام کی بنیادی غرض کو مقدم رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ عام تعلیمی مقاصد کو وہ اہمیت حاصل نہ ہو۔ جو انہیں لازمی طور پر حاصل ہونی چاہیئے۔ جس بنیادی غرض کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔ اس کا لازمی اقتضا اور نتیجہ یہ ہونا چاہیئے کہ عام تعلیمی مقاصد کے حصول میں بھی تمام دوسرے سکولوں سے اس کا قدم آگے ہو۔ یعنی جن تعلیمی مقاصد کا حصول بلااستثناء تمام سکولوں کے درمیان باہم مشترک ہے ان میں بھی یہ سکول دوسروں کے بالمقابل ہر لحاظ سے فضیلت حاصل کرے اور اپنی اس فضیلت کو برقرار رکھے۔
    تیسری بات یہ ہے کہ موجود زمانے میں سائنس کی بے انداز ترقی کے باعث انسانی زندگی جس نہج پر استوار ہو رہی ہے اور جو نئے مسائل ابھرا بھرکر سامنے آرہے ہیں ان کے پیشِ نظر یہ بات ناگزیر ہوتی جا رہی ہے کہ تمام سکولوں میں درسی علوم کے ساتھ ساتھ فنّی تعلیم کو بھی رائج کیا جائے اور طلبہ کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی جملہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نہ صرف اچھے تعلیم یافتہ بنیںبلکہ اچھے فن کار بھی ثابت ہوں۔ مثال کے طور پر سکولوں میں زراعت اور کار پینٹری وغیرہ کے شعبے بآسانی قائم کئے جا سکتے ہیں۔ اور طلبہ کو ان فنوں کی عملی تربیت دی جا سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ فی زمانہ فنّی تعلیم کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور اہمیت کے پیشِ نظر حکومت نے گزشتہ چند سال سے فنّی تعلیم کا ایک علیحدہ ڈائریکٹر مقرر کیا ہوا ہے۔ پس ہمارے سکولوں کو وقت کے ایک اہم تقاضے کو پورا کرتے ہوئے فنّی تعلیم کی طرف بھی خاص توجہ دینی چاہیئے۔ان اہم صدارتی ارشادات کے بعد جناب صاحبزادہ صاحب موصوف نے سکول کے طلبہ میں انعامات تقسیم فرمائے۔ ۴۶
    جناب جمال عبدالناصر صدر جمہوریہ
    متحدہ عرب کی خدمت میں پیغام حق
    جناب جمال عبدالناصر دورہ بھارت کے دوران ۵؍اپریل ۱۹۶۰ء کو مدراس تشریف لائے۔ جماعت احمدیہ
    مدراس نے انہیںخوش آمدیہ کہا اور اُن کی خدمت میں تبلیغی مکتوب اور سلسلہ کی طرف سے شائع شدہ عربی انگریزی لٹریچر ارسال کیا۔ مکتوب انگریزی میں تھا جس کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔ مولانا شریف احمد صاحب امینی ان دنوں احمدیہ مسلم مشن مدراس کے انچارج تھے۔

    بسم اﷲ الرحمن الرحیم
    احمدیہ مسلم مشن عزت مآب جمال عبدالناصر
    اسلامک سنٹر مدراس نمبر14 صدر جمہوریہ متحدہ عرب
    5؍اپریل 1960ء نزیل راج بھون۔ مدراس
    برادرِ اسلام! السلام علیکم و رحمتہ اﷲ و برکاتہ
    عالیجناب کی شہر مدراس میں تشریف آوری پر ہم جماعت احمدیہ کی طرف سے خوش آمدید کہتے ہوئے آپ کی خدمت میں اھلاً وَّ سھلاًمرحبا کا تحفہ پیش کرتے ہیں۔
    صدر محترم! احمدیہ تحریک آپ کے لئے کوئی عجیب و انوکھی چیز نہیں۔ اس کی شاخیں اکنافِ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور آپ کے وطن عزیز جمہوریہ متحدہ عرب میں بھی قائم ہیں۔ آنمکرم کی ہمارے وطن ہندوستان میں تشریف آوری اپنے اندر کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے قطع نظر کرتے اور اُفق سیاسیات سے بالا ہوتے ہوئے ہماری نظریں اُس
    ’’ گرانبہا خدمت‘‘پر پڑرہی ہیں۔ جو دنیائے عرب نے مذہب اسلام کے ذریعہ انسانیت اور تہذیب کی انجام دی ہے۔ باقی دنیا تو آپ کی شخصیت میں صرف مصر کی سیاسی آزادی۔ جمہوریہ عرب میں اصلاحات ملکی۔ اور معرکہ سویز کی فتحیابی کو دیکھ رہی ہے۔ مگر ہماری نگاہیں آپ کی ذات میں مستقبل میں اسلام کی سربلندی اور دنیائے عرب کی ترقی کو دیکھ رہی ہیں۔ مگر ہماے اس’’ مقصد اعلیٰ ‘‘ کا حصول اُس جذبے اور ولولہ پر منحصر ہے جس کو لے کر ترقی کی شاہراہ پر چلیں گے۔ اور ہم دیانتداری سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے صرف سیاسی بیداری ہی کافی نہیں۔ بلکہ جب تک اﷲ تعالیٰ کی حکومت انسانی قلوب پر قائم نہ ہو جائے دنیا کو امن و سکون نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہم آنمکرم کی خدمت میں خلوص قلب سے عرض کرتے ہیں کہ ہندوستان اور دنیائے عرب کے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے۔ صرف سیاسی حیثیت سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے بھی کہ پھر ہم اپنے ’’خدا‘‘ کو پا لیں۔
    اس زمانہ میں جب کہ مادی طاقتیں اپنے عروج پر ہیں۔ یہ ایک فطرتی تمنا ہے کہ ہم جمہوریہ متحدہ عرب سے توقع رکھیں کہ وہ دنیا کی گمشدہ کڑی کو واپس لائے۔ وہ گمشدہ کڑی جو بندے اور اُس کے خالق و مالک سے تعلقات محبت کو از سر نو قائم کر دے۔ اور حقیقت میں یہی وہ عربی روایات ہیں جنہوں نے عربی نسل کو دنیا میں ایک اتحاد پیدا کرنے والی طاقت بنا دیا تھا ۔
    صدر محترم! آپ نے علیگڑھ میں خطاب فرماتے ہوئے یہ امر بالکل بجا فرمایا تھا کہ
    ’’آئندہ سائنس کی اجارہ داری سرمایہ داری کی ایک نئی قسم ہو گی‘‘
    سرمایہ داری کیا بلکہ مادیت کی نئی شکل و صورت ہو گی۔ ہم سرمایہ داری یا مادیت کی اس نئی شکل و صورت پر قابو نہیں پا سکتے جب تک کہ انسان کی سرمایہ دارانہ ذہنیت یا مادیت کی رگوں میں مذہب روحانیت کا ٹیکہ نہ لگائیں۔ پس اس الحادو مادیت کے قلع قمع اور روحانیت و انسانیت کے اُجاگر کرنے کے لئے ہی ’’تحریک احمدیت‘‘ خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم کی گئی ہے۔ احمدیت کوئی انسانی تحریک نہیں۔ خالص خدا کی قائم کردہ ہے۔ اور اس کا قیام آنحضرت صلے اﷲ علیہ وسلم کی اُن پیشگوئیوں کے عین مطابق عمل میں آیا ہے۔ جو اسلام کی نشئاۃ ثانیہ غلبہ دین کے لئے ظہور مہدی و مسیح موعود کی ذات سے وابستہ تھیں اور اشاعت اسلام کی جو شاندار خدمات اس جماعت نے ابتک انجام دی ہیں۔ وہ اظہر من الشمس ہیں۔
    ہم آپ کی خدمت میں اسلامی اصول کی فلاسفی (جو کہ بانی ء سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود اور مہدی و معہود کی تالیف تصنیف ہے) کا عربی ترجمہ’’ الخطاب الجلیل‘‘ اور دوسرے لڑیچر کا ’’تحفہ ‘‘ ارسال کرنے میں خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ معمولی چیز ہے مگر حقیقت میں قیمتی موتی اور جواہر ہیں۔ امید ہے آپ ان کتب کا کا مطالعہ فرمائینگے۔ خدا آپ کا اور ہمارا ہادی اور حامی و ناصر ہو ۔آمین۔
    آپکا خیر اندیش محمد کریم اﷲ نوجوان
    سیکرٹری جماعت احمدیہ مدراس ۴۷
    تقویٰ دعوت الی اﷲ اور وقف کی پُر زور تحریک
    اس سال مجلس شوریٰ ۸۔۹؍اپریل ۱۹۶۰ء کوگذشتہ
    سال کی طرح تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے وسیع و عریض ہال میں ہی منعقد ہوئی۔ سیدنا حضرت مصلح موعود کی طبیعت ایک عرصہ سے ناساز چلی آ رہی تھی مگر حضور نے خدام کی دلجوئی کے لئے اس سال بھی شمولیت فرمائی اور نمائندگان کی آراء سن کر ان کے بارے میں اپنے فیصلوں کا اعلان فرمایا۔ حضور کے ارشاد پر مشاورت کے اکثر اجلاسوں کی کارروائی شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور کی زیر صدارت ہوئی۔
    سیدنا حضرت مصلح موعود نے مشاورت کے اختتامی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے احباب جماعت کو پُرز ور تحریک فرمائی کہ وہ تقویٰ دعوت الی اﷲ اور وقف کی طرف خصوصی توجہ دیں چنانچہ فرمایا:
    ’’ حقیقت یہ ہے۔ کہ تقویٰ کے بغیر انسان کا کوئی عمل اُسے اﷲ تعالیٰ کا مقرب نہیں بنا سکتا یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ہر نماز میں بلکہ نماز کی ہر رکعت میں یہ دعا مانگنے کی ہدایت فرمائی ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھمْ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بھی الہام ہے کہ


    ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتّقاء ہے


    اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

    پس دوستوں کو اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ اور بار بار قادیان جانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
    پس تقویٰ اﷲ کے حصول کی کوشش کرو۔ اپنی آئندہ نسلوں میں دین کی محبت پیدا کرو۔ انہیں اسلام اور احمدیت کی خدمت کے لئے وقف کرو۔ اشاعت احمدیہ کے لئے ہر قسم کی مالی اور جانی قربانیوں میں حصہ لو۔ اور اﷲ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو۔ کہ وہ ہماری ناچیز کوششوں میں برکت ڈالے۔ اور ہمارے کاموں کو اپنے فضل اور رحم کے ساتھ نتیجہ خیز ثابت کرے۔ تاکہ ہم نے یہاں جو وقت صرف کیا ہے۔ وہ ضائع نہ ہو۔ اور ہم خدا تعالیٰ کے نزدیک جھگڑالو قرار نہ پائیں۔ تاکہ اس کے دین کے خدمت گذار اور اس کے احکام کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ ا ﷲتعالیٰ ہمارے دلوں میں ایمان ۔ اخلاص۔ اور تقویٰ پیدا کرے۔ اور ہمارے قلوب میں ایسی محبت اور عشق بھر دے کہ بغیر اس کے مل جانے کے ہماری سوزش میں کمی واقع نہ ہو۔ ہماری گھبراہٹ دور نہ ہو۔ ہمارا جوش کم نہ ہو۔ اور ہماری راحت اور ہمارا چین سوائے اس کے کسی اور چیز میں نہ ہو۔ کہ ہمیں اس کا قرب حاصل ہو جائے۔ اور ہم اس کے وصال سے لُطف اندوز ہوں ہماری ہر قسم کی خوشی اور امید اس سے وابستہ ہو۔ اور ہماری محبت اور چین اس کے رسولوں خصوصاً محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے خلیفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ وابستگی اور ان کی تعلیموں اور منشاء کے مطابق چلنے میں ہو۔ اور ہم ان کے نام کو دنیا میں پھیلانے والے ہوں اﷲ تعالیٰ ہماری مدد کرے۔ اور ہماری زبانوں میں برکت ڈالے۔ تاکہ ہم دوسرے لوگوں کو بھی خدائے واحد کے کلام کی طرف کھینچ سکیں۔ اور اﷲ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔ کہ ہم خدا تعالیٰ کے کلام سے محبت کرنے والے۔ اس کی تعلیم سے پیار کرنے والے۔ اس کے حکموں کو پھیلانے والے۔ اور اس کے بندوں سے محبت کرنے والے ہوں…حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک ایک سال میں تیس تیس ہزار احمدی ہوتا تھا۔ اب تو ۳۰۔۳۰۔۴۰۔ـ۴۰ لاکھ سالانہ احمدی ہونے چاہئیں۔ حضر ت مسیح ناصری کی امت نے۱۹۰۰سال کی عمر پائی ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کو ۱۹۰۰۰سال سے بھی زیادہ عمر دے گا۔ اور دنیا کے چپہ چپہ پر کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئیگی جہاں احمدیت اور (دین حق )کا نام نہ لیا جاتا ہو ‘‘۔۴۸
    شاہ حسین اردن کا جماعت احمدیہ
    نائیجیریاکی طرف سے شاندار استقبال
    اسلامی مملکت اردن کے جلالۃ الملک شاہ حسین نے اس سال ایران ترکی اور سپین کے دورہ سے
    واپسی پر ۹؍مئی۱۹۶۰ء کو لیگوس میں ایک روزقیام فرمایا ۔شاہ کی آمد اگرچہ غیر رسمی حیثیت کی تھی ‘ پھر بھی یہ موقعہ اس اعتبار سے بہت اہم تھا۔ کہ نائیجیریا جیسے اسلامی علاقہ میں پہلی دفعہ ایک عرب مسلمان بادشاہ وارد ہوا تھا شاہ کی آمد کا اعلان صرف ایک روز پہلے کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود احمدی احباب کو استقبالیہ کے لئے فوراً منظم کیا گیا۔ ایک سبز جھنڈے پر عربی میں اھلاً و سھلًا و مرحبا اورانگریزی میں ’’ خوش آمدید شاہ حسین لکھا ہوا تھا لیگوس کے احمدی احباب چودہ میل سفر کر کے لیگوس کے ہوائی اڈے پر پہنچے جملہ احباب نے ’’ احمدیہ مشن‘‘ کیطغرے (BADGES)لگا رکھے تھے۔ اس طرح استقبال کرنے والوں میں یہ ممتاز گروہ اخباری نمائیندوں ‘غیر ملکی اور ملکی پریس فوٹو گرافرزکے لیئے بالخصوص ایک خاص کشش کا موجب ہوا انہوں نے اس منظر کی متعد تصاویرلیں۔
    جس وقت شاہ حسین کا طیارہ پہنچا احمدی احباب نے نعرہ تکبیر۔ اﷲاکبر اسلام زندہ باد جلالۃ الملک یعیش الملک حسین یعیش کے نعرے بلند کئے نائیجیریا کے قائم مقام گورنر جنرل اور استقبال کرنے والے دوسرے افسر مشرقی انداز کے اس استقبال سے بہت متاثر ہوئے۔ ہوائی اڈے پر جمع ہونے والے دوسرے لبنانی‘شامی اور دوسرے مسلمانوں نے بھی اس استقبال کو بہت سراہااور ان میں سے بعض نعرے بلند کرنے میں وہ احمدیوں کے ساتھ شامل بھی ہوئے۔ شاہ اردن کا لیگوس میں قیام صرف سولہ گھنٹے تھا۔ احمدیہ مشن کی طرف سے ایک روز قبل منعقد ہونے والی مسلم فیسٹول کمیٹی (MOSLIM FESTIVAL COMMITTEE)میں دوسری مسلمان جمعیتوں کے زعماء کو شاہ سے وفد کی صورت میں ملاقات کی تحریک کی گئی۔ اسی طرح گورنمنٹ ہاؤس سے ٹیلیفون پر ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کی کوشس بھی کی گئی۔ لیکن اس وقت شاہ کا پروگرام معین طور پر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اطلاع حاصل نہ ہو سکی۔ لیگوس کے مقامی حاکم (OBA)مسلمان تھے۔ جن کو جناب مولانا نسیم سیفی صاحب رئیس لتبلیغ مغربی افریقہ نے ٹیلیفون پر تحریک کی کہ وہ ملاقات کی کوشش کریں ان کی طرف سے کوشش کرنے پر صرف چار اصحاب کے لئے ملاقات کی اجازت حاصل ہو سکی چنانچہ مسلمانوں کی طرف سے لیگوس کے مقامی حاکم ان کے ایک وزیر احمدیہ مشن کے رئیس التبلیغ مغربی افریقہ اور لیگوس شہر کے چیف امام پر مشتمل وفد نے گورنمنٹ ہاؤس میں شاہ سے ملاقات کی‘ جناب رئیس التبلیغ صاحب نے شاہ کو ہدیہ پیش کرنے کے لئے حسب ذیل کتب منتخب کی تھیں جو آپ نے شاہ کو پیس کیں۔
    (۱) اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ الخطاب الجلیل مصنفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ ۔
    (۲) لائف آف محمد تصنیف منیف حضرت مصلح موعود۔
    (۳) ہمارے بیرونی مشن۔ انگریزی مصنفہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیرربوہ۔ شاہ حسین نے یہ تحفہ بہت خوشی سے قبول کیا۔ پریس کے نمائندوں نے اس موقعہ پر متعدد تصاویر لیں۔ لیگوس کے ممتاز ڈیلی ٹائمز اور ’’پائلاٹ‘‘ نے شاہ حسین کے کتب کا تحفہ قبول کرنے کی تصویر شائع کی۔
    شاہ حسین نے اپنے قیام کے دوران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا جس میں جناب نسیم سیفی صاحب ایڈیٹر اخبار ’’ٹروتھ‘‘ کی حیثیت سے شامل ہوئے۔
    شاہ حسین کو مذکورہ کتب کے تحفہ کے ہمراہ احمدیہ مشن کی طرف سے جو مکتوب لکھا گیا تھا۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔
    جلالۃا لملک شاہ حسین السلام علیکم اھلاً و سھلاً و مرحباً
    میں بصد ادب و احترام ملک نائیجیریا کے احمدیوں کی طرف سے اعلیٰ حضرت کو ہمارے ملک میں قدم رنجہ فرمانے پر دلی خوش آمدید عرض کرتا ہوں۔ ہر چند آپکی یہ زیارت مختصر حیثیت کی ہے۔ ہم آپ کے نائیجیریا کے دارالحکومت لیگوس میں ورود کے بہت قدر مند ہیں۔
    جلالۃ الملک کے لئے ہمارے دلوں میں جو محبت جاگزیں ہے۔ اس کی ایک علامت کے طور پر آپ کی خدمت میں ’’لائف آف محمد‘‘کا تحفہ بھی پیش کر رہا ہوں ۔ جو ہماری جماعت کے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی کی تصنیف ہے۔ ( الخطاب الجلیل اور ہمارے بیرونی مشن کتب بعد میں شامل کی گئیں تھیں)
    اس امر کا ذکر یہاں بے تعلق نہ ہوگا کہ جلالۃالملک کے مرحوم دادا امیر عبداﷲ ہماری جماعت حیفا کے حق میں ہمیشہ مروت کا سلوک فرماتے رہے ہیں۔ جس کے لئے ہم ان کے احسان مند رہیں گے بالآخر ہم دعا کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ آپ پر اپنی برکات نازل فرماتا رہے آمین۔
    والسلام نسیم سیفی رئیس التبلیغ مغربی افریقہ
    برائے جماعت احمدیہ نائیجیریا ۴۹

    علاّمہ نیازؔ فتحپوری کے تاثّرات
    فضل عمر ڈسپنسریوں سے متعلق
    علاّمہ نیازؔ فتحپوری ۲۱؍مئی ۱۹۶۰ء کو مارٹن روڈ اور گولیمار کراچی کی احمدیہ ڈسپنسریوں کی رفاہی خدمات کو دیکھ کر
    بہت خوش ہوئے اور حسبِ ذیل الفاظ میں اپنے قلبی تاثرات قلمبند کیئے:-
    عکس تحریر علامہ نیازؔ


















    فضل عمر ڈسپنسری دیکھنے کے بعد کسی کاصرف یہ کہہ دیناکہ اسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ بڑا ناقص اعتراف ہے۔ اس عظیم خدمت انسانی کاجویہ ڈسپنسری انجام دے رہی ہے۔ مارٹن روڈ اور گولیمار کے دونوں شفاخانے جنہیں خدّام جماعت احمدیہ نے واقعتاً اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا ہے جذبہ خیر‘ جوش عمل اور جسم و روح کی بیداریوں کی ایسی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن سے ’’غضّںبصر‘‘ ممکن نہیں۔
    ان شفاخانوں کا اصل مقصود خالصتاً ﷲ انسانی درد و دکھ میں شریک ہونا ہے اور اسی لئے دواؤں کے علاوہ یہاں تیماردارانہ غذائیں بھی مفت تقسیم کی جاتی ہیں اور دماغی محنت کے لئے دارالمطالعہ بھی قائم کر دیا گیا ہے اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کے اس دور بے عملی میں جماعت احمدیہ کا یہ اقدام نوع انسانی کی اتنی بڑی خدمت ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی اور جس جماعت کی تعمیر اس ’’بنیان مرصوص‘‘ پر قائم ہو وہ کبھی فنا نہیں ہو سکتی۔
    نیاز فتحپوری
    ۲۱؍ مئی ۱۹۶۰ء ۵۰
    ملایا کے وزیر اعظم ٹنکو عبدالرحمن بیت احمدیہ ہیگ میں
    ۲۶؍ مئی ۱۹۶۰ء کو ہز ایکسی لینسی ٹنکو عبدالرحمن وزیر اعظم ملایا ہیگ کی بیت احمدیہ میں تشریف لائے۔ حضرت چوہدری محمد ظفر اﷲ خان صاحب
    نائب صدر عالمی عدالت اور انچارج ہالینڈ مشن حافظ قدرت اﷲ صاحب نے آپ کا استقبال کیا۔ میٹنگ ہال میں آپ کا تعارف معزّزین سے کروایا گیا جو خاص طور پر اس تقریب میں شمولیت کے لیئے تشریف لائے تھے۔ ان معززّین میں عرب جمہوریہ کے سفیر‘ عالمی عدالت کے جج جناب بیضاوی (BADAWI)پاکستانی ایمبیسی کے کونسلر اور حکومت انڈونیشیا کا نمائندہ شامل تھے۔ چند ایک مقامی احمدی بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔ جن میں ڈاکٹر ملاما آف ٹراپیکل انسٹی ٹیوٹ ایمسرڈم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
    حضر ت چوہدری محمد ظفر اﷲ خان صاحب نے معزّز مہمان کا استقبال کرتے ہوئے مختصر طور پر ان شاندار خدمات کا تذکرہ کیا جوٹنکوعبدالرحمن نے انپے ملک کی ترقی اور بہبود کے سلسلہ میں آزادی حاصل کرنے سے قبل کیں اور اب تک سرانجام دے رہے تھے۔ حافظ قدرت اﷲ صاحب نے احمدیہ مشن کی طرف سے معزّز مہمان کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا اور اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم بیت احمدیہ میں تشریف لائے۔ نیز کہا کہ آج کی محفل میں شریک ہونے والے اگرچہ مختلف ملکوں اور قوموں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اخوت دینی کا رشتہ انہیں یکجا کرنے کا باعث ہے۔ یہ درسِ اخوّت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلّم نے مسلمانوں کو سکھایا تھا اور اسی کے باعث وہ آج بھی ممتاز ہیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلّم کی دعوت کا دائرہ دنیا کی تمام قوموں تک وسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ نے عہد حاضر میں تمام دنیا میں اشاعت دین کا نظام قائم کر رکھا ہے۔
    تقریر کے بعد آخر میں آپ نے عزت مآب وزیر اعظم ملایا کی خدمت میں انگریزی ترجمہ قرآن پیش کیا جِسے موصوف نے نہایت مسّرت سے قبول فرمایا۔ انہوں نے امام بیت ہالینڈ کا شکریہ ادا کیا اور حاضرین سے ملاقات پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔ ۵۱







    فصلِ پنجم
    وزیر اعظم روس کا چیلنج اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب
    کا حقیقت افروز تبصرہ
    اُن دنوں پوری دنیا روسی اور اینگلو امریکن بلاک میں بٹی ہوئی تھی۔ اور روس اور اسکی اشتراکی تحریک کا ایسا رعب تھا کہ امریکہ اور برطانیہ جیسی حکومتیں بھی لرزہ براندام تھیں۔ اس ماحول میں روس کے وزیر اعظم نکیتا سرگیوچ خروشیف (NIKITA SERGEYEVICH KHURUSHCHEV)نے اعلان کیا کہ عنقریب کُل جہان اشتراکی پرچم کے نیچے جمع ہو جائے گا۔
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی غیرت ملّی نے اس موقع پر خاموش رہنا گوارانہ فرمایا اوراس کے جواب میں ایک نہایت پُر قوّت و شوکت مضمون سپرو قلم کیا۔ جس میں واضح طور پر بتایا کہ آخری عالمی غلبہ اشتراکیت کیلئے نہیں دینِ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقدر ہے چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا:-
    ’’آجکل اشتراکی روس کے وزیر اعظم مسٹرخروشیف خاص طور پر جوش میں آ کر گرج اور برس رہے ہیں ہمیں ان کے سیاسی نعروں سے کوئی سروکار نہیں وہ جانیں اور ان کے مغربی حریف برطانیہ اور امریکہ۔ گو طبعاًہمیں مغربی ممالک سے زیاہ ہمدردی ہے کیونکہ ایک تو وہ ہمارے اپنے ملک پاکستان کے حلیف ہیں اور دوسرے جہاں برطانیہ اور امریکہ کم از کم خدا کی ہستی کے قائل ہیں وہاں روس نہ صرف کٹّر قِسم کا دہریہ ہے بلکہ نعوذ باﷲ خدا پر ہنسی اڑاتا اور مذہب کے نام و نشان تک کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہے۔
    لیکن اِس وقت جو خاص بات میرے سامنے ہے وہ مسٹر خروشیف کا وہ اعلان ہے جو ۷؍جولائی ۱۹۶۰ء کے اخباروں میں شائع ہؤا ہے۔ اس اعلان میں مسٹر خروشیف اپنے مخصوص انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ بہت جلد اشتراکی جھنڈا ساری دنیا پر لہرانے لگے گااور اشتراکیت عالمگیر غلبہ حاصل کرے گی۔ چنانچہ اِس بارے میں اخباری رپورٹ کے الفاظ درج ذیل کئے جاتے ہیں:-
    ’’آسٹریلیا ۶؍جولائی۔ روسی وزیر اعظم مسٹر خروشیف نے منگل کے دن یہاں کہا کہ مجھے کمیونسٹ ملک کے سوا کسی دوسرے ملک میں جا کر کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ آپ نے مزید کہا کہ میں ساری دُنیا پر اشتراکی جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں اور مجھے اُسوقت تک زندہ رہنے کی خواہش ہے۔ مجھے توقع ہے کہ میری اس خواہش کی تکمیل کا دن دُور نہیں‘‘
    (نوائے وقت لاہور ۷؍جولائی ۱۹۶۰ء)
    خواہش کرنے کا ہر شخص کو حق ہے مگر ہم مسٹر خروشیف کو کُھلے الفاظ میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ انشاء اﷲ تعالیٰ ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔ مسٹر خروشیف ضرور تاریخ دان ہونگے اور انہوں نے لازماً تاریخ عالم کا مطالعہ کیا ہو گا کیا وہ ایک مثال بھی ایسی پیش کر سکتے ہیں کہ دنیا کے کسی حصہ میں اور تاریخ عالم کے کسی زمانہ میں توحید کے مقابلہ پر شرک یا دہریت نے غلبہ پایا ہو؟ وقتی اور عارضی غلبہ کا معاملہ جداگانہ ہے (کیونکہ وہ نہر کے پانی کی اس ٹھوکر کا رنگ رکھتا ہے ۔ جس کے بعد پانی اور بھی زیادہ تیزی سے چلنے لگتاہے) جیسا کہ حضرت سرور کائنات فخر رسل صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنگ اُحد میں ہوا مگر لمبا یا مستقل غلبہ کبھی بھی توحید کے سچے علمبرداروں کے مقابل پر دہریت اور شرک کی طاقتوں کو حاصل نہیں ہوا اور نہ انشاء اﷲ کبھی ہو گا قرآن واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ:-
    کتب اﷲ لا غلبن انا و رسلی
    یعنی خدا نے یہ بات لکھ رکھی ہے کہ شرک اور دہریت کے مقابلہ پر اس کی توحید کے علمبردار رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔زیادہ مثالیں دینے کی ضرورت نہیں حضرت موسٰی ؑکی طرف دیکھو کہ وہ کس کمزوری کی حالت میں اُٹھے اور ان کے سامنے فرعون کی کتنی زبردست طاغوتی طاقتیں صف آرا تھیں مگر انجام کیا ہوا اس کے لئے لنڈن کے عجائب خانہ میں فرعون کی نعش ملاحظہ کرو۔ حضرت عیسٰیؑ کا یہ حال تھا کہ ایلی ایلی لماسبتقنی کہتے کہتے بظاہر رخصت ہو گئے مگر آج ان کے نام لیوا ساری دنیا پر سیلِ عظیم کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔ حضرت فخرِ رسل صلی اﷲعلیہ وسلم کی طرف نگاہ اٹھاؤ کہ عرب کے بے آب و گیاہ ریگستان میں ایک یتیم الطرفین بچہ خدا کا نام لے کر اٹھتا ہے اور سارا عرب اس پر یوں ٹوٹ پڑتا ہے کہ ابھی بھسم کر ڈالے گا مگر دس سال کے قلیل عرصہ میںاس دُ رِّیتیم نے ملک کی کایا پلٹ کر رکھدی اور سارا عرب توحید کے دائمی نعروں سے گونج اٹھا۔
    مگر ہمیں اس معاملہ میں گزشتہ مثالیں دینے کی ضرورت نہیں۔ مسٹر خروشیف نے ایک بول بولا ہے اور یہ بہت بڑا بول ہے ہم اس کے مقابل پر اس زمانہ کے مامور اور نائب رسولؐ اور خادم ِ(دین حق)حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہؐ کی ایک پیشگوئی درج کرتے ہیں جو آپ نے خدا سے الہام پا کر آج سے پچپن سال پہلے شائع فرمائی اور اس میں اپنے ذریعہ ہونے والے عالمگیر اسلامی غلبہ کا زور دار الفاظ میں اعلان فرمایا ۔
    آپ فرماتے ہیں:۔
    ‎ ’’خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائیگا اور میرے سلسلہ (یعنی اسلام اور احمدیت ) کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کر دے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کا مُنہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی اور یہ سلسلہ زورسے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاویگا۔ بہت سی روکیں پیدا ہوں گی اورابتلا آئیں گے مگر خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے وعدہ کو پورا کرے گا۔ اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ سواَے سننے والو اِن باتوں کو یاد رکھو اور اِن پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ کر لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔‘‘
    (تجلیّات الٰہیہ صفحہ ۴)
    دوسری جگہ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔
    ’’اے تمام لوگو سُن رکھو کہ یہ اس خدا کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا… وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب (اسلام) اور اس سلسلہ میں فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائیگی۔ …دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا (یعنی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ سلم) میں تو ایک تخمریزی کرنے آیا ہوں۔ سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھُولے گا اور کوئی نہیں جو اس کوروک سکے‘‘
    (تذکرۃ الشہادتین صفحہ ۶۴)
    اور تیسری جگہ روس کے مخصوص تعلق میں اپنے ایک کشف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
    ’’میں نے دیکھاکہ زارِ روس کا سونٹا (عصا) میرے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ اس میں پوشیدہ نالیاں بھی ہیں‘‘ (تذکرہ بحوالہ البدر ۲؍فروری ۱۹۰۳ء)
    اس لطیف رؤیا میں روس کے متعلق یہ عظیم الشان بشارت دی گئی ہے کہ وہ خدا کے فضل سے ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ و السّلام کی روحانی توجہ کے نتیجہ میں (دین حق) قبول کرے گا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی غلامی کا جُوا برضا و رغبت اپنی گردن پر رکھے گا اور اس طرح انشاء اﷲ اشتراکیت کے موجودہ گڑھ میں بھی دوسرے ممالک کے ساتھ ساتھ دین حق کا جھنڈا لہرائے گا اور یہ جو اس کشف میں ’’پوشیدہ نالیوں‘‘ کے الفاظ آتے ہیں ان میں اشتراکی نظام کی طرف اشارہ ہے جو اس کشف کے سولہ سترہ سال بعد عالمِ وجود میں آیا اور اس کی پالیسی کی بنیاد آئرن کرٹن اور مخفی کارروائیوں پر رکھی گئی۔
    اب مسٹر خروشیف کو چاہیئے کہ اپنے بلند و بالابولوں کے ساتھ ان خدائی پیشگوئیوں کو بھی نوٹ کر لے۔ انسانی زندگی محدود ہے مسٹر خروشیف نے ایک دن مرنا ہے اور میں بھی اس دنیوی زندگی کے خاتمہ پر خدا کی ابدی رحمت کا امیدوار ہوں مگر دنیا دیکھے گی اور ہم دونوں کی نسلیں دیکھیں گی کہ آخری فتح کس کے مقدر میں لکھی ہے۔ روس کا ملک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عظیم الشان پیشگوئی دیکھ چکا ہے جو اِن ہیبت ناک الفاظ میں کی گئی تھی کہ :۔
    ’’زار بھی ہو گا تو ہو گا اُس گھڑی باحالِ زار‘‘ (براھین احمدیہ حصہ پنجم)
    اب (دین حق) کے دائمی غلبہ اور توحید کی سربلندی کا وقت آ رہا ہے اور دُنیا خود دیکھ لے گی کہ مسٹر خروشیف کا بول پورا ہوتا ہے یا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق(دین حق) کی فتح کا ڈنکا بجتا ہے‘‘۔ ۵۲
    خدا کی قدرت دیکھئے۔ ساری دنیا میں اشترکیت کے تسلّط کا خواب دیکھنے والا یہ شخص جو سٹالن کے بعد روس کا مسلّمہ رہنما تھا۔ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۶۴ء کو کمیونسٹ پارٹی کے عدم اعتماد کی بناء پر معزول کر دیا گیا اور سات سال تک گوشہ گمنامی میں رہنے کے بعد ۱۱؍ستمبر ۱۹۷۱ء کو چل بسا اور کریملن میں ماسکو کے ایک عام قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ۵۳
    اٹھارہ سال بعد ۹؍نومبر ۱۹۸۹ء کو برلن دیوار کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور نہ صرف مشرقی جرمنی بلکہ مشرقی یورپ کے سب اشتراکی ممالک روس کی استبدادی زنجیروں کو توڑ کر آزاد ہوئے۔ روسی صدر گورباچوف ۲۴؍اگست ۱۹۹۰ء کو کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدہ سے مستعفی ہو گئے ۔ روسی کمیونسٹ پارٹی توڑ دی گئی اور ۲۶؍اکتوبر ۱۹۹۱ء کو ماسکو شہر کی کونسل نے شہر سے اشتراکی انقلاب کے بانی لینن کا مجسمہ ہٹانے کا اعلان کر دیا۔ ۵۴
    علاّمہ نیاز فتحپوریؔ کا سفر پاکستان اور
    جماعت احمدیہ کا قریبی مطالعہ
    علامہ نیاز فتحپوری صاحب ایڈیٹر ماہنامہ
    ’’ نگار‘‘ لکھنئو امسال مئی کے اوائل میں پاکستان تشریف لائے۔ جہاں آپ نے
    وسط جونتک قیام فرمایااُس دوران میں آپ باوجود خواہش کے ربوہ تشریف نہ لا سکے۔ لیکن لاہور اور کراچی میں آپ کو احمدی احباب سے ملنے اور جماعت احمدیہ کا قریب سے مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا۔ آپ نے واپس جا کر ’’ نگار‘‘ بابت جولائی ۱۹۶۰ء میں اپنے سفرِ پاکستان کے حالات سپرد قلم فرمائے۔ جس میں آ پ نے ’’ احمدی جماعت کا قریب تر مطالعہ‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت جماعت کی عظمتِ کردار اور بلندئ اخلاق کے بارہ میں اپنے قلبی تاثرات کا بھی ذکر فرمایا جو درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    احمدی جماعت کا قریب تر مطالعہ
    ’’ لکھنئوسے چلتے وقت ایک ذہنی یا جذباتی پروگرام میں نے یہ بھی بنایا تھا کہ اس سفر
    کے دوران میں اگر قادیان نہیں تو ربوہ ضرور دیکھونگا جو سنا ہے کسی وقت وادئ غیر ذی زرع تھا اور اب احمدی مجاہدین نے اسے ایک متمدن شہر بنا دیا ہے۔ قادیان کا سوال اس لئے سامنے نہ تھا کہ پورا خاندان میرے ساتھ تھا اور ربوہ تو خیر میں کراچی سے تنہا بھی آ سکتا تھا لیکن افسوس ہے کہ میرا یہ ارادہ پورا نہ ہو سکا۔ اس کا ایک سبب تو یہ تھا کہ میرے ویزا میں ربوہ درج نہ تھا۔ دوسرے یہ کہ میری صحت اس کی متقاضی نہ تھی کہ موسم گرما میں سفر ریگستان کی جرأت کر سکوں لیکن میری اس پست ہمتی کی تلافی کسی نہ کسی حد تک اس طرح ہو گئی کہ بعض مخلصین سے امرتسر سٹیشن پر تبادلۂ نگاہ ہو گیا بعض سے لاہور میں یاد اﷲ ہو گئی اور جب کراچی پہونچا تو ایک سے زائد بار مجھے ان کو زیادہ قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقعہ مل گیا۔
    سب سے پہلی چیز جسے میں نے بیّن طور پر محسوس کیا ان کی متانت و سنجیدگی تھی ان کے ہنستے ہوئے چہرے ان کے بشاش قیافے اور ان کی بوئے خوشدلی تھی۔ دوسری بات جسنے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا یہ تھی کہ انہوں نے دوران گفتگو میں مجھ سے کوئی تبلیغی گفتگو نہیں کی ۔ کبھی کوئی ذکر تعلیم احمدیت کا نہیں چھیڑا۔ جو یقینا مجھے پسند نہ آتا۔ میرا مقصود ایک خاموش نفسیاتی مطالعہ کرنا تھا۔ اور یہ آج کی انتہائی ادا شناسی تھی کہ دعوتوں‘ عصرانوں میں انہوں نے مجھے اس مطالعہ کا پورا موقعہ دیا۔ اور کوئی بات ایسی نہیں چھیڑی کہ معاملہ نگاہ سے ہٹ کر زبان تک پہونچتا اور میرا زاویۂ نظر بدل جاتا۔
    اس کا علم تو مجھے تھا کہ احمدی جماعت بڑی با عمل جماعت ہے لیکن یہ علم زیادہ سماعی و کتابی تھا۔ اور میں کبھی اس کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ اُ ن کی زندگی کی بنیاد ہی سعَی و عمل پر قائم ہے۔ اور جدوجہد ان کا قومی شعار بن گیاہے۔
    اس سے ہر شخص واقف ہے کہ وہ ایک مشنری جماعت ہے اور ایک خاص مقصد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھتی ہے اور ایسے ناقابل شکست عزم و حوصلہ کے ساتھ کہ تاریخ اسلام میں اس کی مثال قرون اولیٰ کے بعد کہیں نہیں ملتی۔
    میں حیران رہ گیا یہ معلوم کر کے کہ ان کے دوشفاخانے جو انہوں نے یہیں کراچی کی دو غریب آبادیوں میں قائم کئے ہیں۔ محض ان کے چند نوجوان افراد کی کوشش کا نتیجہ ہیں۔ جنہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اس کی بنیاد کھو دی۔ ان کی دیواریں اٹھائیں۔ ان کی چھتیں استوار کیں۔ ان کا فرنیچر تیار کیا۔ اور اب صورت حال یہ ہے کہ ان شفاخانوں سے روزانہ سینکڑوں غرباء کو نہ صرف دوائیں بلکہ طبی غذائیں بھی مفت تقسیم کی جاتی ہیں اور عوام کی ذہنی تربیت کے لئے ریڈنگ روم اور کتب خانے بھی قائم ہیں۔
    ؎
    دل شکستہ دراں کوچہ می کنند درست


    چنانکہ خود نشناسی کہ از کجا بشکست

    کراچی اور لاہور میں اس جماعت کے افراد پانچ پانچ ہزار سے زیادہ نہیں لیکن اپنی ’’ گراںما ئگی مستقبل‘‘ کے لحاظ سے وہ ایک ’’ بنیان مرصوص‘‘ ناقابل تزلزل ایک
    حصار آہنی ہیں ناقابل تسخیر! اور کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اس ’’ اسوۂ حسنہ‘‘ کی جس کاذ کر
    محراب و منبر پر تو اکثر سنا جاتا ہے لیکن دیکھا کہیں نہیں جاتا۔
    پھر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے وہ کیا بات ہے جس نے انہیں یہ سوجھ بوجھ عطا کی اس کا جواب ابھری ہوئی جماعتوں کی تاریخ میں ہم کو صرف ایک ہی ملتا ہے۔ اور وہ عظمتِ کردار ! بلندئ اخلاق!
    اس وقت مسلمانوں میں ان کو کافر و بے دین کہنے والے تو بہت ہیں لیکن مجھے تو
    آج ان مدعیانِ اسلام کی جماعتوں میں کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آتی جو اپنی پاکیزہ معاشرت اپنے اسلامی رکھ رکھاؤ اپنی تابِ مقاومت اور خوئے صبر و استقامت میں احمدیوں کے خاک ِپا کو بھی پہونچتی ہو!

    ع
    ایں آتشِ نیرنگ تہ سوز و ہمہ کس را

    یہ امر مخفی نہیں کہ تحریک احمدیت کی تاریخ ۱۸۸۹ء سے شروع ہوتی ہے۔ جس کو کم و بیش ستّر سال سے زیادہ زمانہ نہیں گذرا‘ لیکن اسی قلیل مدت میں اس نے اتنی وسعت اختیار کر لی کہ آج لاکھوں نفوس اس سے وابستہ نظر آتے ہیں۔ اور دنیا کا کوئی دورو دراز گوشہ ایسا نہیں جہاں یہ مردانِ خدا اسلام کی صحیح تعلیم انسانیت پرستی کی نشرو اشاعت میں مصروف نہ ہوں۔
    آپ کو یہ سُن کر حیرت ہو گی کہ جب بانی ٔ احمدیت کی رحلت کے بعد ۱۹۳۴ء میں موجودہ امیر جماعت نے تحریک جدید کا آغاز کیا تو اس کا بجٹ صرف ۲۷ ہزار کا تھا لیکن ۲۵ سال کے بعد وہ بیس لاکھ ۸۰ ہزار تک پہونچ گیا۔ جو انتہائی احتیاط و نظم کیساتھ‘ تعلیمات اسلامی پر صرف ہو رہا ہے اور جب قادیان و ربوہ میں صدائے اﷲ اکبر بلند ہوتی ہے تو ٹھیک اسی وقت یورپ ‘ افریقہ و ایشیا کے ان بعید و تاریک گوشوں کی مسجدوں سے بھی یہی آواز بلند ہوتی ہے‘ جہاں سینکڑوں غریب الدیار احمدی خدا کی راہ میں دلیرانہ آگے قدم بڑھائے ہوئے چلے جا رہے ہیں۔
    باور کیجئے جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ باوجود ان عظیم خدمات کے بھی اس بے ہمہ و باہمہ جماعت کو بُرا کہا جاتا ہے تو مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور مسلمانوں کی اس بے بصری پر حیرت ہوتی ہے۔

    ؎
    مبیں حقیر گدایانِ عشق راکایں قوم


    شہانِ بے کر و خسرو انِ بے کُلہ اند

    جب سے میں نے طریق احمدیت پر اظہار خیال شروع کیا ہے۔ عجیب و غریب سوالات مجھ سے کئے جا رہے ہیں۔ بعض حضرات اس جماعت کے معتقدات کے بارے میں استفسار فرماتے ہیں۔ بعض براہ راست بانی احمدیت کے دعوائے مہدویت و نبوت کے متعلق سوال کرتے ہیں کچھ ایسے بھی ہیںجو ان کے اخلاق کو داغدار ظاہر کر کے مجھے ان کی طرف سے متنفر کرنا چاہتے ہیں اور بعض توصاف صاف مجھ سے یہی پوچھ بیٹھتے ہیں ’’کیا میں احمدی ہو
    گیا ہوں‘‘ یہ سب سنتا ہوں۔ اور خاموش ہو جاتا ہوں۔ کیونکہ وہ یہ تمام سوالات اس لئے کرتے ہیں کہ وہ مجھے بھی اپنا ہی جیسا مسلمان سمجھتے ہیں اور اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ :۔
    ؎
    ہم کعبہ و ہم بتکدہ سنگ رہِ مابود


    وفتیم و صنم برسر مہراب شکستیم

    مذہب و اخلاق در اصل ایک ہی چیز ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ احمدی جماعت کی بنیاداسی احساس پر قائم ہے اور اسی لئے وہ مذہبی عصبیت سے کوسوں دور رہیں وہ تمام اخلاقی مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور جس حد تک خدمت خلق کا تعلق ہے‘ رنگ و نسل اور مسلک و ملت کا امتیاز ان کے یہاں کوئی چیز نہیں وہ ہمیشہ سادہ غذا استعمال کرتے سادے کپڑے پہنتے ہیں سگریٹ و مے نوشی وغیرہ کی مزموم عادتوں سے مبّرا ہیں‘ نہ تھیٹر و سنیما سے انہیں کوئی واسطہ ‘ نہ کسی اور لہو و لعب سے دلچسپی۔ انہوں نے اپنی زندگی کی ایک شاہرہ قائم کر لی ہے اور اسی پر نہایت متانت و سلامت روی کے ساتھ چلے جا رہے ہیں یہی حال ان کی عورتوں کا ہے اور اسی فضا میں ان کے بچے پرورش پا رہے ہیں مجھے مطلق اس سے بحث نہیں کہ ان کے معتقدات کیا ہیں۔ میں تو صرف انسان کی حیثیت سے ان کا مطالعہ کرتا ہوں اور ایک معیاری انسان کی حیثیت سے انکا احترام میرے دل میں ہے۔
    اس وقت تک بانی ٔ احمدیت کا مطالعہ جو کچھ میں نے کیا ہے اور میں کیا جو کوئی خلوص و صداقت کے ساتھ ان کے حالات و کردار کا مطالعہ کرے گااسے تسلیم کرنا پڑیگا کہ وہ صحیح معنی میں عاشق رسولؐ تھے اور اسلام کا بڑا مخلصانہ درد اپنے دل میں رکھتے تھے۔ انہوں نے جو کچھ کہا یا کیا وہ نتیجہ تھا محض انکے بے اختیار انہ جذبٔہ خلوص اور داعیات حق و صداقت کا۔اس لئے سوال اُن کی نیت کا باقی نہیں رہتا۔ البتہ گفتگو اس میں ہو سکتی ہے کہ انہوں نے کن معتقدات کی طرف لوگوں کو دعوت دی ‘ سو اس پر روایتاً و درایتاً دونوںطرح غور و تامل ہو سکتا ہے‘ لیکن بے سود ‘ کیونکہ اس کا تعلق صرف ان کے ایہال و عواطف سے ہو گا نہ کہ عمل و کردار سے‘ اور اصل چیز عمل و کردار ہے۔ اب رہا سوال میرے احمدی ہونے یا نہ ہونے کا سو اسکے متعلق میں اسکے سواکیا کہہ سکتا ہوں کہ سرے سے میرا مسلمان ہونا ہی مشکوک ہے … چہ جائیکہ احمدی ہونا ۔ یہاں تو چیز صرف عمل ہے اوراس حیثیت سے میں اپنے آپ کو اور زیادہ نااہل پاتا ہوں۔

    برہمن می شدم گرایں قدرزنار می بستم

    اس لئے مناسب یہی ہے کہ مجھ سے اس قسم کا کوئی ذاتی سوال نہ کیا جائے نہ اس لحاظ سے کہ یہ بالکل بے نتیجہ سی بات ہے بلکہ اس خیال سے بھی کہ

    دریغا آبروئے دیر گر غالب مسلماں شد

    اس سلسلہ میں مجھے ایک بات اور عرض کرنا ہے ‘ وہ یہ کہ آج یا کل یقینا وہ وقت بھی آئے گا جب میں احمدی جماعت کے مذہبی لڑیچر پر ناقدانہ تبصرہ کرونگا‘ کیونکہ بغیر سمجھے ہوئے کسی بات کو مان لینا میرے فطری رجحان کے خلاف ہے اور احمدی جماعت کے معتقدات میں کئی باتیں مجھے ایسی بھی نظر آتی ہیں جواب تک میری سمجھ میں نہیں آئیں۔ لیکن اس کا تعلق صرف میرے ذاتی و انفردی ردّ و قبول سے ہو گا نہ کہ احمدی جماعت کے وجود اجتماعی سے جس کی افادیت سے انکار کرنا گویا دن کو رات کہنا ہے اور دن کو رات میں نے کبھی نہیں کہا۔۵۵
    حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب
    کادورہ مغربی پاکستان و آزاد کشمیر
    اس سال میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم تعلیم وقف جدید نے مغربی پاکستان اور
    آزاد کشمیر کا نہایت کامیاب اصلاحی‘ تبلیغی و تربیتی دورہ فرمایا۔ آپ کی تشریف آوری پر احمدی جماعتوں نے پُرجوش خیر مقدم کیا‘ خاص تقاریب کا انعقاد کر کے غیر از جماعت معززین کو بھی مدعو کیا۔ آپ کے پُر اثر خطابات نے اپنوں اور بیگانوں کو بہت متاثر کیا اس دورہ میں مندرجہ ذیل مقامات پر آپ کی تقاریر ہوئیں:۔
    ۱۔قاضی احمد ضلع نواب شاہ۔ (مقامی جماعت کی طرف سے رئیس علی نوازخاں صاحب کے باغ میں دعوت عصرانہ کا انتظام مورخہ ۲؍جون) ۵۶ ۲۔موضع موہلنکی ضلع گوجرانوالہ (جلسہ عام میں شرکت مورخہ ۱۴ ؍ اکتوبر) ۳۵۷۔وزیر آباد (مقامی جماعت کے دعوت عصرانہ اور اجلاس عام سے موثر خطاب) ۴۵۸ـ۔کھاریاں (مورخہ ۱۹۔۲۰؍اکتوبر ۵۵۹۔مانسہرہ (مورخہ ۲۸؍اکتوبر ۶۰ ۶۔مظفر آباد(مورخہ ۲۹؍اکتوبر ۶۱ ۷۔باغ شہر (فاریسٹ ریسٹ ہاؤس میں قیام اور ڈاکڑ امام دین صاحب کے مکان پر احباب جماعت کو قیمتی نصائح سے نوازا) ۶۲ ۸۔میر پور آزادکشمیر( تقریر اور مجلس سوال و جواب) ۶۳
    ۹۔جہلم ۶۴

    علاّمہ نیاز فتحپوری قادیان میں
    ۲۸۔۲۹ جولائی ۱۹۶۰ء کو علاّمہ نیاز فتحپوری نے زیارت قادیان کا شرف حاصل کیا اور مرکز احمدیت
    کی روحانی فضا اور جماعت کی دینی خدمات سے بے حد متاثر ہوئے جس کا اظہار انہوں نے واپسی پر اپنے رسالہ ’’نگار‘‘(ستمبر ۱۹۶۰ء) کے ذریعہ درج ذیل الفاظ میں فرمایا:۔
    ۲۸ـ۔۲۹ جولائی کی وہ چند ساعتیں جو میں نے قادیانؔ بسر کیں‘ میری زندگی کی وہ گھڑیاں تھیں‘ جن کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
    حیاتِ انسانی کا ہر لمحہ زندگی کا ایک نیا درس‘ ایک نیا تجربہ اپنے ساتھ لاتا ہے۔ اگر زندگی نام صرف سانس کی آمد و شد کا نہیں بلکہ آنکھ کھول کر دیکھنے اور سمجھنے کا بھی ہے … اور … ان چند ساعتوں میں جو کچھ میں نے یہیں دیکھا وہ میری زندگی کا اتنا دلچسپ تجربہ تھا کہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں ۵۰ سال پیچھے ہٹ کر وہی زندگی شروع کرتا جو قادیانؔ کی احمدی جماعت میں مجھے نظر آئی ۔ لیکن

    ع
    حیف صد حیف کہ مادیر خبردار شدیم

    میں انفرادی حیثیت سے ہمیشہ بے عمل انسان رہا ہوں‘ لیکن مسائلِ حیات کو (جن میں مذہب بھی شامل ہے) میں ہمیشہ اجتماعی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہوںاور یہ نقطۂ نظر میرے ذہن میں حرکت و عمل کے سوا کچھ نہیں …پھر یہ داستان بہت طویل ہے کہ پچھلی نصف صدی میں کتنی خانقاہیں‘ کتنے خانوادے‘ کتنے ادارے‘ کتنی درسگاہیںکتنے جلوہائے منبر و محراب میری نگاہ سے گزرے‘ اور میں کس طرح ان سے بے نیاز انہ گزر گیا۔ لیکن اب زندگی میں سب سے پہلی مرتبہ احمدی جماعت کی جیتی جاگتی تنظیم عمل دیکھ کر میں ایک جگہ ٹھٹک کر رہ گیا ہوں اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اپنی زندگی کے اس نئے تجربہ و احساس کو کن الفاظ میں ظاہر کروں۔
    میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور علماء اسلام کی بے عملی کی طرف سے اس قدر مایوس ہو چکا ہوں کہ میں اس کا تصوّر بھی نہیں کر سکتا کہ ان میں کبھی آثارِ حیات پیدا ہو سکتے ہیں لیکن اب احمدی جماعت کی جیتی جاگتی تنظیم عمل کو دیکھ کے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا

    ؎
    غنچہ پھر لگا کھلنے‘ آج ہم نے اپنا دل


    خوں کیا ہؤا دیکھا گم کیا ہوا پایا

    کیونکہ عالم اسلامی میں آج یہی ایک ادارہ ایسا ہے جو

    ع
    دعوتِ بر گے و نوائے کند

    اور اسلام کا مفہوم میرے ذہن میں ’’ دعوتِ برگ و نوا‘‘ کے سوا اور کچھ نہیں۔
    لوگ منزل تک پہنچنے کے لئے راہیں ڈھونڈھتے ہیں۔ برسوں سرگرداں رہتے ہیں اور ان میں صرف چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو منزل کو پا لیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُنہیں میں سے ایک مرزا غلام احمدؐ قادیانی بھی تھے۔ سو اب یہ فکرو جستجو کہ وہ کن راہوں سے گزر کر منزل تک پہنچے بالکل بے سود ہے۔ اصل چیز راہ پیمائی نہیں بلکہ منزل تک پہنچ جانا ہے۔ اور اگر میں احمدی جماعت کو پسند کرتا ہوں تو صرف اسی لئے کہ اس نے اپنی منزل پا لی ہے اور یہ منزل وہی ہے جس کی بانی ٔ اسلامؐ نے نشاندہی کی تھی۔ اس سے ہٹ کر میں اور کچھ نہیں سوچتا اور نہ سوچنے کی ضرورت۔
    میرا قادیانؔ آنا بھی اسی سِلسلہ کی چیز تھی یعنی جس کی عملی زندگی کا ذکر میں سنتاچلا آ رہا تھا اسے آنکھوں سے بھی دیکھنا چاہتا تھا۔
    ہر چند میں بہت کم وقت لے کر یہاں آیا‘ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نتیجہ تک پہنچنے کے لئے یہ قلیل فرصت بھی کم نہ تھی۔ کیونکہ اس جماعت کی زندگی ایک ایسا کُھلا ہوا صحیفۂ حیات ہے جس کے مطالعہ کیلئے نہ زیادہ وقت کی ضرورت ہے نہ کسی چون و چرا کی۔ اسی طرح ان کی دفتری تنظیم بھی گویا ایک شفاف آئینہ ہے جس میں زنگ کا نام تک نہیں۔ یکسر خلوص و اخلاق‘ یکسر حرکت و عمل۔
    قادیانؔ میں احمدی جماعت کے افراد جو ’’ درویشانِ قادیان‘‘ کہلاتے ہیں‘ دو سَو سے زیادہ نہیں۔ جو قصبہ کے ایک گوشہ میں نہایت اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان کو دیکھ کر کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا

    ؎
    یک چراغ ست دریں خانہ کہ از پر توِآں


    ہر کجا می نگری‘ انجمنے ساختہ اند

    یہی وہ مختصر سی جماعت ہے جس نے ۴۷ء کے خونیں دور میں اپنے آپکو ذبح و قتل کے لئے پیش کر دیا اور اپنے ہادی و مرشد کے مسقط الرأس کو ایک لمحہ کے لئے چھوڑنا گوارانہ کیا۔

    ؎
    موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے


    آستانِ یار سے اُٹھ جائیں کیا؟

    یہی وہ جماعت ہے جس نے محض اخلاق سے ہزاروں دشمنوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور اُن سے بھی قادیانؔ کو ’’دارالامان‘‘ تسلیم کرا لیا۔ یہی وہ جماعت ہے جو ہندوستان کے تمام احمدی اداروں کا سر رشتٔہ تنظیم اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہے اور یہی وہ دُورافتادہ مقام ہے جہاں سے تمام اکناف ہند میں اسلام و انسانیت کی عظیم خدمت انجام دی جا رہی ہے۔
    آپ کو یہ سُن کر حیرت ہو گی کہ صرف پچھلے تین سال کے عرصہ میں انہوں نے تعلیم اسلامی‘ سیرت نبویؐ‘ ضرورت مذہب‘ خصوصیات قرآن وغیرہ متعدد مباحث پر ۴۳ کتابیں ہندی‘ اُردو‘ انگریزی اور گور مکھی زبان میں شائع کیں اور ان کی ۴۴۰۵۰۰ کاپیاں تقریباً مفت تقسیم کیں۔
    اسی طرح تعلیمی و ظائف پر جن میں مُسلم و غیر مُسلم طلبہ دونوں برابر کے شریک ہیں ۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۰ء میں اس جماعت نے ۳۱ ہزار روپیہ صرف کیا ۔خود قادیانؔ میں ان کے تین مدرسے قائم ہیں۔ دو مڈل اسکول لڑکوں اور لڑکیوںکے لئے اور تیسرا مولوی فاضل کے نصاب تک۔ ان کے علاوہ تیرہ مدرسے ان کے ہندوستان کے مختلف مقامات میں ہیں جن پر جماعت کا ہزاروں روپیہ صرف ہو رہا ہے۔
    اِسی سلسلہ میں ایک اَوربڑی خدمت جو صدقۂ جاریہ کی حیثیت رکھتی ہے وہ قادیانؔ کا شفاخانہ ہے اس میں ۱۹۴۸ء سے اس وقت تک ۳۴۶۳۰۰۰ مریضوں کا علاج کیا گیا جن میں ۳۰ فی صدی مسلمان اور ۷۰ فیصدی غیر مسلم تھے۔
    یہ ہیں وہ چند خدمات جماعت احمدیہ قادیانؔ کی جن سے متاثر ہو کر ۱۹۴۸ء سے لے کر اس وقت تک قریب قریب ڈیڑھ لاکھ آدمیوں نے یہاں کے حالات کا مطالعہ کرنے کی تکلیف گوارا کی۔
    یہاں میں نے کالج اور دارالاقامہ کی ان عظیم الشان عمارتوں کو بھی دیکھا جنہیں بانی ٔ تحریک احمدیت نے بڑے اہتمام سے طیار کروایا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد ان پر جائیداد متروکہ کی حیثیت سے حکومت نے قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن اب یہ عمارتیں جماعت احمدیہ کے حق میں واگزاشت کر دی گئی ہیں۔
    جس وقت مَیں نے حضرت میرزا صاحب کے بیت الفکر‘ بیت الدعا‘ بیت الریاضت‘
    مسجد نور‘ مسجد اقصیٰ اور منارۃ المسیح کو دیکھا تو ان کی وہ تمام خدمات سامنے آ گئیں جو تحفّظِ اسلام کے سلسلہ میں ایک غیر منقطع جدوجہد کے ساتھ ہزاروں مصائب جھیل کر انہوں نے انجام دی تھیں اور جن کے فیوض اس وقت بھی دنیا کے دور دراز گوشوں میں جاری ہیں۔
    جس وقت مَیں قادیان پہنچا اتفاق سے ایک جرمن احمدی ولیمؔ ناصر بھی یہاں مقیم تھے۔ یہ ایک درویش صفت انسان ہیں جو مہینوں سے احمدیہ جماعت کے مختلف مرکزوں اور اداروں کے سیاحانہ مطالعہ میں مصروف ہیں۔ مَیں ان کو دیکھتا تھا اور حیرت کرتا تھا کہ جرمنی ایسے سرد ملک کا باشندہ ہندوستان کی شدید گرمی کو کس طرح خوش دلی سے برداشت کر رہا ہے۔ لیکن جب مَیں نے ان سے گفتگو کی تو معلوم ہؤا کہ ان کو شدائدِ سفر کا احساس تک نہیں ‘ سچ ہے۔

    ع
    عشق ہر جامی برد مارابہ ساماں می برد

    مَیں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے عیسوی مذہب چھوڑ کر اسلام کیوں قبول کیا؟ تو اس کا سبب انہوں نے ’’ اسلام کی بلند اخلاقی تعلیم‘‘ ظاہر کیا جس کا علِم انہیں سب سے پہلے جرمنی کی جماعت احمدیہ کو دیکھ کر ہوا تھا۔ یہ بلاد مغرب و افریقہ میں جس جوش و انہماک کے ساتھ خدمتِ اسلام میں مصروف ہے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن پاک کے تراجم حد درجہ سلیقہ و اہتمام کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔ چنانچہ انگریزی ‘ جرمنی اور ان کے اس عزم و ولولہ کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔
    مَیں نے یہاں سے رخصت ہوتے وقت اس قطعۂ زمین کو بھی دیکھا جہاں حضرت میرزا غلام احمد صاحب آسودۂ خواب ہیں اور ان کی وہ تمام مجاہدانہ زندگی سامنے آ گئی جس کی کوئی دوسری نظیر مجھے اِ س دَور میں تو کہیں نظر نہیں آتی۔

    ؎
    کیست کز کوشش فرہاد نشاں باز د ہد


    مگرآں نقش کہ از تیشہ بخارا ماند
    ۶۵

    ایک معزّز غیر احمدی دوست کا خط اور
    علّامہ صاحب کا خیال افروز جواب
    مدیر’’ نگار‘‘ علامہ نیازؔ فتحپوری کے احمدیت سے متعلق مسلسل تائیدی قلم اٹھانے سے جہاں احمدیہ جماعت میں
    اُن کے لئیجذبات تشکر پیدا ہوئے اور ہر طرف خوشی کی ایک لہر دور گئی وہاں غیراز جماعت
    حلقوں میں دو زبردست ردّ عمل پیدا ہوئے۔ایک طبقہ احمدیت کی نسبت گہرا مطالعہ کرنے لگا مگر ایک طبقہ میں بے چینی کے آثار ظاہر ہو گئے۔ جناب سیّد نصیر حسین صاحب سہارنپوری دوسرے طبقہ میں شامل تھے جنہوں نے یہ مضامین پڑھ کر آپ کو ایک تنقیدی خط لکھا جس میں پروفیسر الیاس برنی صاحب کی ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ بھی دیا۔
    علاّمہ موصوف نے اکتوبر ۱۹۶۰ء کے پرچہ میں یہ خط اور اس کا جواب شائع کر دیا جو نہایت خیال افروز تھا ذیل میں خط اور جواب دونوں کو بجنسہٖ درج کیا جاتا ہے۔
    احمدی جماعت اور الیاس برنی
    سید نصیر حسین سہارنپور
    کچھ زمانہ سے آپ احمدی جماعت کی طرفداری
    میں اظہار خیال کر رہے ہیں اور اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان سے بہت متاثر ہیں لیکن شاید آپ کو معلوم نہیں کہ وہ غیر احمدی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں۔ وہ اس حد تک متعصب ہیں کہ تمام مسلمانوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات بھی ناجائز سمجھتے ہیں اور ن کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ وہ اپنے سوا سب کو کافر کہتے ہیں اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اب رہا میرزا غلام احمد صاحب کا دعویٰ مہدویت و مسیحیت و نبوت۔ سو اس کی بابت میں مشورہ دونگا کہ آپ جناب الیاس برنی کی کتاب ’’فتنۂ قادیانیت‘‘ کا مطالعہ فرمائیے۔ اس کے پڑھنے پر آپکو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا صاحب کے دعوے کتنے لغو و باطل تھے۔
    نگار اس میں شک نہیں میں احمدی جماعت سے کافی متاثر ہوں اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اس وقت ان تمام جماعتوں میں جو اپنے آپکو مسلمان کہتے ہیں صرف احمدی جماعت ہی ایک ایسی جماعت ہے۔ جس نے صحیح معنی میں اسلام کی حقیقت کو سمجھا ہے ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ آپ کیا ساری دنیا نے اسلام کو مخصوص عقائد میں محدود کر دیا ہے۔ اور اس سے ہٹ کر کبھی یہ غور کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی کہ اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کے عروج کا تعلق صرف عقیدہ سے نہ تھا بلکہ انوارو کردار اور حرکت و عمل سے تھا۔
    محض یہ عقیدہ کہ اﷲ ایک ہے اور رسول برحق اپنی جگہ بالکل بے معنیٰ بات ہے اگر ہماری اجتماعی زندگی متاثر نہیں ہوتی۔ اسی طرح مخصوص جہت میں مخصوص انداز سے عبادت کر لینا بھی بے سود ہے۔ اگر وہ ہماری ہیٔت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ تاریخ و عقل دونوں کا فیصلہ یہی ہے۔ پھر غور کیجئے کہ اس وقت احمدی جماعت کے علاوہ مسلمانوں کی وہ کونسی دوسری جماعت ایسی ہے جو زندگی کے صرف عملی پہلو کو اسلام سمجھتی ہو۔ اور محض عقائد کو مذہب کی بنیاد
    قرار نہ دیتی ہو۔
    میں نے جب سے آنکھ کھولی مسلمانوں کو باہم دست و گریبان ہی دیکھا۔ سنّی۔ شیعی۔ اہلِ قرآن۔ اہل حدیث‘ دیوبندی ۔غیر دیوبندی۔ وہابی۔ بدعتی اور خدا جانے کتنے ٹکڑے مسلمانوں کے ہو گئے۔ جن میں سے ہر ایک دوسرے کو کافر کہتا تھا۔ اور کوئی ایک شخص ایسا نہ تھا۔ جس کے مسلمان ہونے پر سب کو اتفاق ہو۔ ایک طرف خود مسلمانوں کے اندر اختلاف و تضاد کا یہ عالم تھا۔ اور دوسری طرف آریائی و عیسوی جماعتوں کا حملہ اسلامی لٹریچر اور اکابر اسلام پر کہ اسی زمانہ میں میرزا غلام احمد صاحب سامنے آئے اور انہوں نے تمام اختلافات سے بلند ہو کر دنیا کے سامنے اسلام کا وہ صحیح مفہوم پیش کیا جسے لوگوں نے بھلا دیا تھا یا غلط سمجھا تھا یہاں نہ ابوبکرؓ و علیؓ کا جھگڑا تھا نہ رفع یدین و آمین بالجہر کا اختلاف یہاں نہ عمل بالقرآن کی بحث تھی نہ استناد بالحدیث کی۔ اور صرف ایک نظریہ سامنے تھا اور وہ یہ کہ اسلام نام ہے۔ صرف اسوۂ رسول کی پابندی کا۔ اور اس عملی زندگی کا۔ اُس ایثار و قربانی کا۔ اس محبت و رأفت کا۔ اس اخوت و ہمدردی کا اور اس حرکت و عمل کا جو رسول اﷲ کے کردار کی تنہا خصوصیّت اور اسلام کی تنہا اساس و بنیاد تھی۔
    میرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کی مدافعت کی اور اس وقت کی۔ جب کوئی بڑے سے بڑا عالم دین بھی دشمنوں کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ انہوں نے سوتے ہوئے مسلمانوں کو جگایا اٹھایا اور چلایا یہاں تک کہ وہ چل پڑے۔ اور ایسا چل پڑے کہ آج روئے زمین کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو ان کے نشاناتِ قدم سے خالی ہو۔ اور جہاں وہ اسلام کی صحیح تعلیم نہ پیش کر رہے ہوں۔
    پھر ہو سکتا ہے کہ آپ ان حالات سے متاثر نہ ہوں ۔ لیکن میں تو یہ کہنے اور سمجھنے پر مجبور ہوں۔ کہ یقینا بہت بڑا انسان تھا وہ جس نے ایسے سخت وقت میں اسلام کی جانبازانہ مدافعت کی اور قرونِ اولیٰ کی اس تعلیم کو زندہ کیا ۔ جس کو دنیا بالکل فراموش کر چکی تھی۔
    رہا یہ امر کہ مرزا صاحب ؐ نے خود اپنے آپ کو کیا ظاہر کیا۔ سو یہ چنداں قابل لحاظ نہیںکیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو کیا کہا بلکہ صرف یہ کہ کیا کیا۔اور یہ اتنی بڑی بات ہے۔ کہ اس کے پیش نظر ( قطع نظر روایات واصطلاحات سے) میرزا صاحب کو حق پہنچتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو مہدی کہیں کیونکہ وہ ہدایت یافتہ تھے‘ مثیل مسیحؑ کہیں۔ کیونکہ وہ روحانی امراض کے معالج تھے‘ اَور ظل بنیؐ کہیں کیونکہ وہ رسولؐ کے قدم بہ قدم چلتے تھے۔
    ۲:۔ اب رہا یہ امر کہ غیر احمدی لوگوں میں وہ رشتہ مصاہرت قائم نہیں کرتے اور ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ تو اس پر کسی کو کیوں اعتراض ہو۔ کیا آپ کسی ایسے خاندان میں شادی کرنا گوارا کریں گے جس کے افراد آپ کے مسلک کے مخالف ہیں اور کیا آپ ان لوگوں کی اقتداء کریں گے جو اپنے کردار کے لحاظ سے مقتدا بننے کے اہل نہیں ہیں۔
    احمدی جماعت کا ایک خاص اُصولِ زندگی ہے ۔ جس پر ان کے مرد‘ ان کے بچے اور ان کی عورتیں سب یکساں کاربند ہیں۔ اس لئے اگر وہ کسی غیر احمدی مرد یا عورت سے رشتۂِ از دواج قائم کریں گے تو ان کی اجتماعیت یقینا اس سے متاثر ہو گی اور وہ یکرنگی وہم آہنگی جو اس جماعت کی خصوصیتِ کاخاصہ ہے ختم ہو جائے گی۔ آپ اس کو تعصب کہتے ہیں اور میں اس
    کو اعتصام و فراست تدبیر۔
    رہی برنی ؔ صاحب کی کتاب۔ سو اس کے متعلق اس سے زیادہ کیا کہوں کہ جس حد تک بانی ٔ احمدیت کی زندگی و تعلیم احمدیت کا تعلق ہے وہ تلبیس و کتمانِ حقیقت کے سوا کچھ نہیں۔ اور مجھے سخت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ احمدیت کے مخالفین میرزا غلام احمد صاحب سے بہت سی ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جو انہوں نے کبھی نہیں کہیں۔ خصوصیّت کے ساتھ مسئلہ ختم نبوت کہ عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ میرزا صاحب رسولؐ اﷲ کو خاتم النبییین نہیں سمجھتے تھے‘ حالانکہ وہ شدّت سے اس کے قائل تھے کہ شرعی نبوّت ہمیشہ کے لئے رسول اﷲ ؐ پر ختم ہو گئی۔ اور شریعت اسلام دنیا کی آخری شریعت ہے۔‘‘ ۶۶



    حواشی
    ۱۔
    افریقہ کے اوّلین احمدی مبلغ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیرّ ۱۹؍فروری ۱۹۲۱ء کو سیرالیون میں پہنچے اور ۲۸؍فروری کو آپ نے گولڈ کوسٹ (غانا) کے ساحل پر قدم رکھا تھا (تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ ۲۷۶ طبع اول)
    ۲۔
    ۷؍نومبر ۱۹۱۸ء کو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۳ء میں "WHEATEN COLLEGE ILLINOIS" سے گریجویٹ ہوئے ۱۹۴۶ء میں "YOUTH FOR CHRIST INTERNATIONAL" کے وائس پریذیدنٹ منتخب ہوئے جس کے بعد انہوں نے دنیا بھر میں اشاعت عیسائیت کیلئے دورے شروع کر دئے۱۹۴۹ء تک وہ (روس کے علاوہ) قریباً تمام مشہور ممالک میں کامیاب لیکچر دے چکے تھے۔ عیسائی دنیا میں ان کی دھوم مچی ہوئی تھی اور اُن کا شمار صفِ اوّل کے ممتاز عالمی منادوں میں ہوتا تھا۔
    ۳۔
    الفضل ۳؍ستمبر ۱۹۶۴ء صفحہ ۴ــ۔۵ (مضمون مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری)
    ۴۔
    (اُس نے لکھا کہ مسٹر نسیم سیفی نے جو لیگس میں جماعت احمدیہ کے بڑے سرگرم مبلغ ہیں ڈاکٹر گراہم کی بیان کردہ ایک بات سے اختلاف کیا اور انہیں اس بارہ میں چیلنج کے رنگ میں پبلک مناظرہ کے لئے للکارا مسٹر گراہم اس دعوت کو پی گے (دی مسلم ورلڈجولائی ۱۹۶۰ء بحوالہ انصار اﷲ فروری ۱۹۶۱ء صفحہ ۴۲)
    ۵۔
    ’’میدان عمل ‘‘ صفحہ ۳۰۔۳۱ (از مولانا نسیم سیفی صاحب ) ایضاً الفضل ۲۸ تا ۳۰ جولائی ۱۹۶۴ء
    ۶۔
    متی باب ۱۷ آیت ۲۰
    ۷۔
    یوحنا باب ۱۱ آیت ۲۲
    ۸۔
    الفرقان ربوہ مئی ۱۹۶۰ء صفحہ ۷۔۸۔۲۸۔۲۹
    ۹۔
    الفضل ۳۰؍جولائی ۱۹۶۴ء صفحہ۴
    ۱۰۔
    روزنامہ ’’نئی روشنی کراچی ۲؍اپریل ۱۹۶۰ء بحوالہ الفضل ۷؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ۲
    ۱۱۔
    الفضل ۳۰؍جولائی ۱۹۶۴ء صفحہ۴
    ۱۲۔
    صدر ریلجس ہیری ٹیج آف امریکہ(RELIGIOUS HERITAGE OF AMERICA)
    ۱۳۔
    بحوالہ مضمون مولانا نسیم سیفی صاحب مطبوعہ الفضل ۳۰ؔ؍جولائی ۱۹۶۴ء صفحہ۴
    ۱۴۔
    اخبار ’’نوائے وقت‘‘ لاہور ۱۲ اپریل ۱۹۶۰ء بحوالہ الفضل ۲۶؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ۵
    ۱۵۔
    اخبار رضاکار ۸؍مئی ۱۹۶۰ء بحوالہ الفضل ۲۶؍مئی ۱۹۶۰ء صفحہ ۳۔۴
    ۱۶۔
    بحوالہ اخبار بدر قادیان ۲۸؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ ۹
    ۱۷۔
    اخبار بدر قادیان ۲۱؍جنوری ۱۹۶۰ء صفحہ ۲
    ۱۸۔
    ایضاً ۳؍مارچ ۱۹۶۰ء
    ۱۹۔
    اخبار بدر قادیان ۲۱۔۲۸؍جنوری۔۲۵؍فروری۔۳؍مارچ ۱۹۶۰ء
    ۲۰۔
    اس سلسلہ میں اخبار ’’ہندوستان‘‘ ۸؍جنوری ۱۹۶۰ء کے متن کے لئے ملاحظہ ہو بدر ۲۸؍جنوری۱۹۶۰ء صفحہ۱۰
    ۲۱۔
    اخبار بدر قادیان ۲۱؍جنوری ۱۹۶۰ء صفحہ ۴ (اس رپورٹ کا بیشتر حصہ اخبار ’’دعوت‘‘ دہلی مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۶۰ء نے بھی شائع کیا)
    ۲۲۔
    تنزانیہ (سابق ٹانگانیکا) کا دارالسلطنت ۔ اُن دنوں اس کی آبادی ایک لاکھ تیس ہزار افراد پر مشتمل تھی سب سے زیادہ یورپین اور ایشیائی باشندے یہیں آباد تھے اور تجارتی مرکز ہونے کے باعث ان دونوں قوموں کا سب سے زیادہ سرمایہ اسی شہر میں لگا ہوا تھا۔
    ۲۳۔
    الفضل ۲۱؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ ۲
    ۲۴۔
    الفضل ۶؍فروری ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۲۵۔
    براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۸۷ طبع اوّل تالیف ۱۹۰۵ء
    ۲۶۔
    الفضل ۶؍فروری ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۲۷۔
    الفضل ۱۴؍فروری ۱۹۶۰ء صفحہ ۵ (ترجمہ مولوی محمد منور صاحب سیکرٹری احمدیہ مسلم مشن نیروبی)
    ۲۸۔
    الفضل ۷؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۲۹۔
    الفضل ۲۳؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۳۰۔
    اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء از مقام ہوشیارپور مشمولہ ضمیمہ اخبار ریاض ہند امرتسر یکم مارچ ۱۸۸۶ء صفحہ ۱۴۸
    ۳۱۔
    الفضل ۲۸؍جنوری ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۔۸
    ۳۲۔
    الفضل ۲؍فروری ۱۹۶۰ء صفحہ ۵ـ۔۸
    ۳۳۔
    ’’لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۳۴ ‘‘ طبع اوّل ۱۹۰۴ء۔ تذکرہ طبع چہارم صفحہ ۳۸۰
    ۳۴۔
    اکحکم ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ۸ تذکرہ طبع چہارم صفحہ ۴۲۰
    ۳۵۔
    براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۷ (طبع اوّل)
    ۳۶۔
    الفضل ۱۶۔۱۷؍فروری ۱۹۶۰ء
    ۳۷۔
    الفضل ۴؍فروری ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۳۸۔
    الفضل ۵؍فروری ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۳۹۔
    اخبار بدر قادیان ۱۰ مارچ ۱۹۶۰ ء صفحہ ۱۰ــ۔۱۱
    ۴۰۔
    الفضل ۶؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۴۱۔
    بدر ۳۱؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۔۱۰۔الفضل ۱۲۔۱۳؍اپریل ۱۹۶۰ء
    ۴۲۔
    الفضل یکم مئی۱۹۶۰ء صفحہ ۳۔۴
    ۴۳۔
    الفضل ۵؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ۳
    ۴۴۔
    الفضل یکم اپریل ـ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۔۸
    ۴۵۔
    الفضل ۳۰؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۴۶۔
    الفضل یکم؍ اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ۱۔۵
    ۴۷۔
    اخبار بدر قادیان ۲۱؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۶
    ۴۸۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۶۰ء صفحہ ۵۹۔۶۰
    ۴۹۔
    الفضل ۱۷؍جون۱۹۶۰ء صفحہ ۳
    ۵۰۔
    سوونیئر مجلس خدّام الاحمدیہ کراچی ۱۹۶۰ء
    ۵۱۔
    الفضل ۱۱؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ۴
    ۵۲۔
    الفرقان ربوہ اگست ۱۹۶۰ء صفحہ۶ تا ۸
    ۵۳۔
    اردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد اوّل زیر لفظ خروشیف صفحہ ۵۷۱۔ ناشر غلام علی اینڈ سنز لاہور اشاعت ۱۹۸۷ء
    ۵۴۔
    عالمی واقفیت عامہ صفحہ ۴۳۲ تا ۴۴۱۔ از طارق محمود ڈوگر ایم اے ایل ایل بی۔ ناشر ڈوگر سنز سنت نگر ڈوگر آباد لاہور ۱۹۹۲ء
    ۵۵۔
    بحوالہ الفضل ۱۵؍جولائی ۱۹۶۰ ء صفحہ۴
    ۵۶۔
    الفضل ۶؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ۵
    ۵۷۔
    الفضل ۱۴؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ۵
    ۵۸۔
    الفضل ۲۳؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ۶
    ۵۹۔
    الفضل۶؍ نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ۶
    ۶۰۔
    الفضل۳۰؍۱۹۶۰ء صفحہ ۶
    ۶۱۔
    الفضل ۲۲؍ نومبر ۱۹۶۰ صفحہ ۶
    ۶۲۔
    الفضل ۲۲؍ نومبر ۱۹۶۰ صفحہ ۶
    ۶۳۔
    الفضل ۱۸؍ نومبر ۱۹۶۰ صفحہ ۶
    ۶۴۔
    الفضل ۱۱ ؍دسمبر ۱۹۶۰ صفحہ ۶
    ۶۵۔
    رسالہ نگار لکھنؤ بابت ماہ ستمبر ۱۹۶۰ء بحوالہ’’الفرقان‘‘ اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴۱۔۴۳
    ۶۶۔
    رسالہ نگار لکھنٔو اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ۴۴۔۴۵ بحوالہ الفضل۲۹؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۳۔۴






    ساتواں باب
    احمدیہ مشن کا قیام اور اس کی عظیم الشان خدمات
    فصل اوّل
    جغرافیائی حالات
    فجی ۳۲۰جزیروں پر مشتمل ایک مجمع الجزائر اور پارلیمانی ریاست ہے جو بحرالکاہل کے جنوب مغربی جزائر میں مرکزی
    حیثیت رکھتی ہے۔اور اس شاہراہ پر واقع ہے جو آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ‘ امریکہ اور کینیڈا کو ملاتی ہے۔ فجی کا سب سے بڑا جزیرہ وی ٹی لیوو(VITILEVU)ہے اور اسی میں دارالحکومت صوا(SUVA)ہے جو بلحاظ آبادی ملک کا سب سے اس شہر ‘ سب سے بڑی بندرگاہ اور بین الاقوامی ڈیٹ لائن کے عین مغربی کنارہ پر واقع ہے۔ فجی کا دوسرا بڑا مقام ناندی (NANDI)ہے جو وی ٹی لیووVITILEVU)) کے مغربی کنارے پر بین الاقوامی فضائی مستقرہے۔
    آبادی
    ۱۹۷۴ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبای پانچ لاکھ ساٹھ ہزار تھی جو ۱۹۸۹ء میں سات لاکھ‘ستائیس ہزار نو سو دو تک پہنچ گئی۔ ۱
    تقریباً نصف آبادی اُن مسلم و غیر مسلم ہندوستانیوں پر مشتمل ہے جن کے آباء واجداد کو بیسویں صدی کے وسط میں گنے کے کھیتوں کے مالکان نے یہاں لا کر آباد کیا۔ ہندوستانیوں کی اکثریت ہندو ہے۔ مقامی باشندے تمام تر مسیحی (میتھوڈسٹ) ہیں اور میلانیشین اور پولی نیشین نسل سے تعلق رکھتے ہیں ان کے علاوہ پندرہ ہزار کے لگ بھگ یورپی اور چھ ہزار کے قریب چینی بھی آباد ہیں:۔ فجی میں پہلی یورپی نوآبادی ۱۸۰۴ء میں قائم ہوئی۔ انگریز حاکموں کے پیچھے پیچھے پادری آئے جنہوں نے پوری مقامی آبادی کو عیسائی بنا دیا۔ ۱۸۷۴ء میں یہ مجمع الجزائر سلطنتِ برطانیہ کے زیر تسلط آگیا۔ ۱۹۶۵ء میں فجی کو حکومتِ خود اختیاری ملی اور۱۰؍اکتوبر ۱۹۷۲ء کو یہ ایک آزاد مملکت کی حیثیت میں ابھر آیا۔ ۲
    ہندو مسلم کشمکش اور فجی مسلم لیگ کی بنیاد
    ابتداء میں پردیس اور
    غریب الوطنی نے ہندو اور
    مسلمانوں کو شیرو شکر کر رکھا تھا۔ حتی کہ انتہائی محبت و مروت میں وہ بعض مذہبی قیود کوبھی خیر باد کہہ چکے تھے۔ ہندو عورتوں نے مسلمان مردوں سے اور مسلمان عورتوں نے ہندو مردوں سے باقاعدہ شادیاں کر لی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کر کے امداد کر تے تھے اور ان میں کسی قسم کا فساد نہ تھا۔ کہ یکایک فجی کے آریوں نے ہندوستان سے پنڈت سری کرشن اور ٹھاکر کندن سنگھ جی کو بلوا کر ملک کی پُر سکون فضا مکدّر کر دی۔ سب سے پہلے سناتن دھرمیوں اور پھر عیسائیوں پربر سے بعد ازاں مسلمانوں کو آنکھیں دکھانا شروع کیں اور آریہ سماج تحریک ایک سیلاب کی طرح پھیلنے لگی جس کی زد میں بہت جلد مسلمان بھی آنے لگے۔ آریہ پنڈتوں نے مسلمانوں کو چیلنج پر چیلنج کرنا شروع کیئے جس پر ۱۹۲۶ء میں فجی مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا جس کے بانی اور وائس پریذیڈنٹ عبدالغفور ساہو خاں تھے۔ فجی میں مسلمانوں کی یہ پہلی نمائندہ تنظیم تھی۔ جمعیت العماء ہند کو لکھا گیا کہ کوئی ایسے عالم بھیجے جو اسلام کے علاوہ آریہ مذہب سے بھی واقف ہوں تمام اخراجات فجی کے مسلمان برداشت کریں گے۔مگر جمعیت العلماء مسلمان فجی کے دکھ کا کوئی مداوا نہ کر سکی۔ اس مایوسی کے عالم میںمسلمانانِ فجی نے جناب سیّد غلام بھیک صاحب نیرنگؔ کو انبالہ لکھا۔ انہوں نے ایک صاحب مولوی تراب علی صاحب کو تیار بھی کیا مگر یہ صاحب مسلمانان فجی کے پچیس پونڈ وصول کرنے کے باوجود نہ خود فجی پہنچے نہ روپیہ واپس کیا۔ ۳ ابتک فجی کے مولوی عبدالکریم صاحب بانی اسلامیہ سکول ناصوری آریوں اور عیسائیوں کا مقابلہ کر رہے تھے اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی خدمات سے متاثر تھے۔ انہیں مسلم سکول کے لیئے ٹیچر کی ضرورت تھی انہوں نے انجمن مذکور سے رابطہ کر کے ایک صاحب ماسٹر محمد عبداﷲ کو فجی منگوالیا۔ ماسٹر صاحب ۲۶؍مارچ ۱۹۳۱ء ۔ ۴ کو بمبئی سے بذریعہ برطانوی جہاز روانہ ہو کر وسط اپریل ۱۹۳۱ء میں فجی پہنچ گئے۔ ماسٹر صاحب کی تحریک پر فجی مسلم لیگ کی طرف سے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور سے رابطہ کیا گیا اور متواتر ڈیڑھ سال تک انجمن کے ایک ممتاز عالم مرزا مظفر بیگ صاحب ساطعؔ کو درجنوں تاریںاوربہت سے خطوط پہنچے کہ فجی آ کر آریہ سماج اورعیسائیت کا مقابلہ کر کے مسلمانوں کی مدد کریں۔ ۵ جس پرجناب ساطع ؔ صاحب ۷؍اپریل ۱۹۳۳ء کی شب کو بذریعہ فرنٹیرمیل لاہور سے روانہ ہوئے۔مسلم لیگ فجی نے تمام اخراجات سفر بی اینڈ او کمپنی بمبئی کے پاس جمع کروا دئیے تھے اور کمپنی نے اطلاع دے دی تھی کہ فجی کے لیئے جہاز کولمبو سے ملے گا۔ ۱۵؍اپریل کو آپ کولمبو سے جہاز پر بیٹھے اور ۱۲؍مئی ۱۹۳۳ء کو آپ فجی پہنچ گئے۔ ۶ جناب ساطعؔ صاحب کو فجی میں قدم رکھے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ فجی مسلم لیگ نے احمدیت کی آڑ لے کر آپ کو جامع مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے سے روک دیا۔ ۷ آپ نے ساہو خانصاحب کے ہاں نماز پڑھنی شروع کر دی جہاں جامع مسجد کی نسبت کئی گنا حاضری ہوتی تھی۔ ۸ مرزا صاحب پہلے آٹھ ماہ صوا میں رہے پھر ۲۵؍دسمبر ۱۹۳۳ء کو ناندی آ گئے۔ ۹ اس دوران ۸؍اکتوبر ۱۹۳۳ء کو آپ کا پادری سموئیل شرن سے کامیاب مناظرہ ہوا۔ پادری صاحب نے بے اختیار ساطعؔ صاحب کی نسبت کہا کہ واقعی آپ شیرہیںمگر انہوں نے جواب دیا کہ میںتو اسلام کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بڑا فوٹو دکھاتے ہوئے کہا یہ ہے شیر جسکو خدا تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کے واسطے بھیجا ہے محمدؐ کے شیروں کے آگے مسیح ؑکی بھیڑیں نہیں ٹھہر سکتیں!! یہ سنتے ہی مسلمانوں نے تین بار نعرہ تکبیر بلند کیا ۔ ۱۰ اس مناظرے نے احمدیت کے بعض شیدائی پیدا کر دئیے چنانچہ ۲۶؍جنوری ۱۹۳۴ء کو جب کئی مفسدین نے آپ کی قیام گاہ پر حملہ کیا تو انہی لوگوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اسوقت جناب ساطع صاحب نے تحریک کی کہ اب تک آپ سب لوگ اپنے آپ کو فخر سے احمدی کہلانے اور احمدیت کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں لیکن جب تک باقاعدہ بیعت کر کے آپ حضرات جماعت احمدیہ میں شریک نہ ہو جائیں آپ کی حیثیت صرف معاونین کی ہے احمدی کی نہیں۔ انہوں نے یہ الفاظ اس جذبے سے کہے کہ اس مجلس میں موجود چھ حضرات نے انجمن اشاعت اسلام کے امیر مولانا محمدعلی صاحب کے نام بیعت نامہ لکھ کر دستخط کر دئیے۔ جن میں ضلع ناندی کے محمدرمضان خان صاحب اور ان کے بھائی عبداللطیف خاں صاحب ا ور محمد حکیم خاں صاحب (پسر محمدرمضان خاں صاحب ) بھی تھے۔ ۱۱
    مرزا مظفر بیگ صاحب ساطعؔ نے لکھا:۔
    ’’ ضلع ناندی کے محمد اسحٰق خانصاحب و محمدرمضان خانصاحب نے استقلال اور آہنی عزم کا وہ نمونہ پیش کیا کہ اس زمانے میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے‘ ان کی سپرٹ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی سپرٹ سے رنگین تھی۔ خطرناک سے خطرناک حالات میں بھی احمدیت کو کامیاب بنانا ان کا ہی کام تھا۔ معاندین سلسلہ کاہر رنگ میں مقابلہ کرنے والے یہی دو شیر مرد تھے خدا تعالیٰ نے انہیں جسمانی قوت بھی شیروں کی سی دی ہے اور سینوں میں دل بھی شیروں کے سے دئے‘‘۔ ۱۲ مرزا صاحب موصوف کم و بیش ساڑھے تین برس تک تبلیغی فرائض انجام دینے کے بعد ۱۶؍جنوری ۱۹۳۷ء کو کلکتہ اور۳۱؍جنوری ۱۹۳۷ء کو لاہور پہنچ گئے۔ ۱۳










    فصل دوم
    مستقل احمدیہ مشن کی بنیاد
    سیدنا حضرت مصلح موعودکی دیرینہ خواہش تھی کہ فجی میں جماعتِ مبائعین کی طرف سے احمدیہ مشن کھو لا جائے
    چنانچہ حضورنے ۱۹۵۶ء میں شیخ عبدالواحد صاحب سابق مبلغ چین و ایران کو ارشاد فرمایا کہ جزائر فجی کے لئے تیاری کریںاور کچھ ہندی پڑھ لیں۔ان جزائر میں پہلی بار احمدیت کا نام ۱۹۲۵ء کے قریب پہنچا تھا جبکہ (حضرت چوہدری غلام احمد خان صاحب آف کریام کے نسبتی بھائی) چوہدری کاکے خانصاحب مرحوم ۔ ۱۴ کے بڑے صاحبزادے چوہدری عبدالحکیم صاحب ۔۱۵ جنرل مرچنٹ کاروبار کے سلسلہ میں جالندھر اور ہوشیارپور کے دوستوں کے ساتھ فجی تشریف لے گئے اور ناندی میں قیام کیا۔ ان کی خط و کتابت حضرت مصلح موعودسے ہوتی رہی اور اُن کا چندہ پہلے قادیان اور پھر ربوہ میں براہ راست پہنچتا رہا اور’’ الفضل ‘‘اور دوسرا مختصر لٹریچر انہیں ملتا رہا جس سے نہایت محدود حلقہ میں سلسلسہ احمدیہ کے صحیح حالات پہنچا سکے اور گو فجی میں کوئی جماعت اُن کے ذریعہ قائم نہ ہو سکی۔ تا ہم وہ اخلاص سے جماعتی لٹریچر اور اخبار الفضل دوسروں کو دیتے رہتے تھے۔ ۱۶ اس ماحول میں فجی کے لئے شیخ عبدالواحد صاحب کو انٹری پرمٹ ملنا قریباً ناممکن تھا۔ کیونکہ قانونی طور پر کوئی رجسٹرڈ جماعتِ مبائعین ایسی نہ تھی جو ضمانت دے سکے۔ ان سراسر مخالف حالات میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے خلیفٔہ موعودکی قلبی آرزو کو پورا کرنے کا یہ سامان فرمایا کہ محمد رمضان خاں صاحب رئیس اعظم ناندو جو انجمن اشاعت اسلام کے پُر جوش اور سرکردہ ممبر تھے اور ان دنوں فجی کی انجمن کے پریذیڈیٹ تھے حج بیت اﷲ شریف اور زیارتِ مدینہ منورہ سے مشرّف ہو کر ۱۵؍ جولائی ۱۹۵۹ء کو مقامات مقدّسہ کی زیارت کے لئے قادیان گئے ان کے ہمراہ اُن کی بیگم صاحبہ اور پوتا عقیب خاں بھی تھا۱۸؍جولائی کو دیار حبیب کی برکات سے فیضیاب ہونے کے بعد لاہور پہنچے۔ ۱۷ اوراپنے داماد انوار رسول صاحب ( سپرنٹنڈنٹ سیکرٹریٹ) کے ہاں قیام پذیر ہوئے۔ ۱۸ محترم انوار رسول صاحب کے بیان کے مطابق اُن کے رشتہ کی منظوری حضرت مصلح موعود نے دی اور فرمایا کہ شاید اس طرح اُس جگہ (یعنی جزائر فجی میں) ’’حقیقی احمدیت پھیل جائے‘‘ (مکتوب دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ ۱۰؍جولائی ۱۹۵۴ء نمبر۲۵۷۰)۔
    الحاج محمدرمضان صاحب ۱۴؍اگست کو اپنی صاحبزادی اور پوتے کے ساتھ ربوہ میں تشریف لائے اور تحقیق کی غرض سے ایک ہفتہ تک مرکزِاحمدیت میں قیام فرمارہے۔ ۱۹ آپ نے حضرت مصلح موعود کی ملاقات بھی کی اور جلد ہی خلیفہ موعود کی بیعت کا شرف حاصل کر لیا اسی طرح آپ کی بیگم صاحبہ اور محمد عقیب خاں صاحب بھی انوار خلافت سے مالا مال ہوئے۔ وکالت تبشیر ربوہ کی طرف سے ۲۹؍اکتوبر ۱۹۵۹ء کو چوہدری عبدالحکیم صاحب کے نام اطلاع دی گئی کہ الحاج محمد رمضان صاحب نے بیعت خلافت کر لی ہے۔
    محترم حاجی محمد رمضان صاحب نے اپنے پوتے کو تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل کرا دیا اور خود ۱۹۶۰ء میں واپس وطن تشریف لائے اور چوہدری عبدالحکیمصاحب کے ساتھ مل کر زور شور سے حق کی منادی شروع کر دی لوگوں کے سامنے مرکز احمدیت ربوہ اور خلافت کی برکات سے متعلق اپنے ذاتی مشاہدات بیان فرمائے اور ہم خیال دوستوں سے بیعت خلافت کرانے کا آغاز کیا چنانچہ ۱۳؍مئی ۱۹۶۰ء تک ۱۵بیعتیں مرکز کو بھجوائیں ۱۹؍اپریل ۱۹۶۰ء تک ۳۰افراد پر مشتمل ایک جماعت تیار ہو گئی اس کے ساتھ ہی آپ نے مولانا شیخ عبدالواحد صاحب کے لیئے جولائی ۱۹۶۰ء میں پرمٹ ربوہ پہنچادیا جس پر شیخ صاحب موصوف۶؍اکتوبر۱۹۶۰ء کو مرکز احمدیت ربوہ سے ۔ ۲۰ عازم فجی ہوئے اور ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۶۰ء کو بوقت دس بجے شب ناندی ایئر پورٹ پر قدم رکھا۔ اس طرح اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیارے بندے حضرت مصلح موعود کی دلی خواہش کی تکمیل کا غیبی سامان فرمایا اور اس کے فضل خاص سے احمدیہ مشن فجی کی بنیاد رکھی گئی۔
    فجی کے بعض ابتدائی احمدیوں
    کے ایمان افروز کوائف
    فجی کے اوّلین احمدی چوہدری عبدالحکیم صاحب اور الحاج محمد رمضان خانصاحب (جو فجی مشن کے قیام کا موجب بنے) کا ذکر اوپر آ چکا ہے ان کے علاوہ بعض دیگر ابتدائی احمدیوں کا تفصیلی
    تذکرہجناب شیخ عبدالواحد صاحب کے مکتوب مورخہ ۲۲؍ فروری ۱۹۶۸ء میں ملتا ہے فرماتے ہیں۔
    ۱۔ حاجی محمد رمضان خانصاحب کے زیر اثر حاجی صاحب کی والدہ کا خاندان اور حاجی صاحب کے والد کا خاندان انکے زیر تبلیغ تھا چنانچہ میرے پرمٹ کے ساتھ ہی حاجی صاحب نے بھائی محمدجان خان کی بیعت اور ان کے بھائیوں کی مردوں عورتوں کی بیعت ربوہ بھیج دی۔ حاجی صاحب کا خاندان بنگالی ہے اور انکی والدہ کا خاندان افغانی ہے میرے فجی پہنچنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ نے یہ ایک مختصر جماعت قائم کر دی اور مجھے بشارت دی کہ فجی میں ایک چھوٹی سی معمولی چھپر کی سی مسجد میں ایک چھوٹی سی جماعت جو بنگالی رنگ اور افغانی رنگ کے افراد پر مشتمل ہے میرا استقبال کر رہی ہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنا فضل ایسے ہی رنگ میں دکھایا اور میرے آنے پر جماعت کے ممبروں کا چناؤ ہوا اور ناندی کی جماعت کے سب سے پہلے پریذیڈنٹ بھائی محمد جان خان چنے گئے اور اِس وقت تک اﷲ تعالیٰ کے فضل سے ان کو اس خدمت کا موقع مل رہا ہے۔
    ۲۔ حاجی محمدرمضان خانصاحب کے اثر اور تعلقات کاروباری و رشتہ داری کی برکت سے ماسٹر محمد شمس الدین صاحب جو ۱۹۶۰ء میں ناندی سے ۱۸میل آگے لَوتوکاٹاؤن میں رہتے تھے بیعت میں شامل ہو گئے۔ چونکہ سمجھدار اور پڑھے لکھے تھے اور کام کرنے کا سلیقہ رکھتے تھے ۔ دوستوں نے متفقہ طور پر اُن کو جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا۔ اﷲ تعالیٰ نے اُن کے دل میں تبلیغ کا بہت شوق پیدا کر دیا۔ انہوں نے دور و نزدیک بہت سے دورے کئے۔ بہت سے متعلقین نے بیعت کی۔
    ۳۔ مولوی محمد قاسم خان صاحب آف مارو (ھنڈرونگا)۔ مولوی صاحب موصوف ناندی سے ۳۴میل کے فاصلہ پر مارو میں گنے کی کھیتی کرتے ہیں۔ نومبر ۱۹۶۰ء میں جب میں ناندی پہنچ چکا تھا اپنے صاحبزادہ جسکا نام انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی ہی رکھ دیا تھا ناندی مارکیٹ میں مجھ سے ملا جبکہ میں مکرم حاجی رمضان خانصاحب کے ساتھ اسی غرض کے لیئے مارکیٹ میں گھومنے کے لیئے آیا تھا کہ لوگوں سے تعارف ہو الحمدﷲکہ ان سے تعارف اور مختصر گفتگو ہوئی حاجی صاحب کے یہ چھوٹے بھائی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا حسب توفیق واستطاعت مطالعہ رکھتے ہیں۔ وہاں سے فارغ ہو کر دوپہر کو حاجی صاحب کے گھر پر آ کے خدا تعالیٰ کے فضل سے دونوں باپ بیٹے نے بیعت خلافت کر لی نہایت پر جوش جذبہ تبلیغ رکھتے ہیں اپنے گاؤں مجھے دو سال تک بلاتے رہے لوگوں کو دعوتیں دیتے خرچ کرتے لیکن نہ غیر احمدی اور نہ لاہوری خیال کے احباب بات سننے آتے بظاہر ان کی دعوت کی تیاری اور کھانا اور محنت ضائع ہی جاتی۔ آخر خدا تعالیٰ نے ان کے صبر اور دعاؤں پر رحم کیا ان دونوں بھائیوں کی متواتر تبلیغ سے ان کے عزیز رشتہ دار ماروؔ رحمت اﷲ خان میموریل سکول کے ہیڈماسٹر ماسٹر محمد حسین صاحب نے بیعت کر لی اور ان کے ساتھ مل کر تبلیغ کرنی شروع کی اور اپنے اثر و رسوخ سے اپنے متعلقین کو ہماری باتیں سننے کیلئے تیار کیا اور تین سال سے بویاہوا بیج ایک ایک دو دو پانچ پانچ ‘ دس دس کر کے اگنے لگا۔ الحمدﷲ کہ اب ماروؔ میں جماعت احمدیہ ہی قابل ذکر جماعت ہے جہاں ایک ۴۰ x۵۰ فٹ لمبی چوڑی بلڈنگ بیت محمود کے نام سے تیار ہو گئی ہے جسکی بنیاد حضرت بزرگوار چوہدری
    سرظفر اﷲخا نصاحب نے۶۵۔۱۱۔۷کو رکھی تھی۔ مولوی محمد قاسم خانصاحب موصوف جو ہماری جماعت مارو کے امام الصلوٰۃ ہیں بہت جوشیلی اور پرُ اخلاص طبعیت رکھتے ہیں لیکن ایک نرالی اور قابل رشک بات ہے کہ جماعت کے مبلغ کے لیئے اتنی محبت اتنی غیرت اپنے دل میں رکھتے ہیں کہ اسکی طرف سے فیصلہ ہو جانے پر اپنے تمام خیالات چھوڑدیتے ہیں دوسرے اگر کچھ دیر کیلئے اختلاف کے وقت میں دل میں تنگدلی اور کشیدگی بھی یا شکر نجی بھی رکھیں اور بعد میں سمجھانے پر ٹھیک ہو جائیں گے ان میں ایسا مقابلہ نہیں پایابلکہ معاون اور اطاعت کرنے والا۔ اللھّم زدفزد۔
    4۔ محمد صدیق خانصاحب (جنرل پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ فجی) نہایت سمجھدار اور نیک آدمی ہیں علم دین اور لڑیچر احمدیت سے واقفیت رکھتے ہیں ۱۹۶۰ء میں ہی میرے ساتھ ناندی میں ملاقات ہوئی پھر لوتوکا میں ان کے مکان پر پہنچ کر تبلیغ کرتا رہا۔ پہلے لاہوری پیغامی خیالات کو ہی ٹھیک سمجھتے تھے دسمبر۱۹۶۰ء میں ان کی بیگم صاحبہ جو بہت نیک عقلمند اور تبلیغ تربیت کرنے کا جوش رکھنے والی خاتون ہیں انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے مکان کے درازہ پر گلوب (بلب) تو لگا ہے لیکن جلتا نہیں خاکسار (شیخ عبدالواحد ) نے ہاتھ سے اسکو پھیر دیا ہے تو جلنے لگ گیا ہے دونوں میاں بیوی میرے پاس ملنے آئے اور خواب سنایا میں نے تعبیر بتائی کہ پیغام حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو پہنچ چکا ہے صرف منہ اس طرف پھیرنا باقی ہے چنانچہ دونوں نے بیعت کر لی چنانچہ اس وقت سے نہایت توجہ محنت اور اخلاص سے خدمت دین میں لگے رہتے ہیں۔ ٗگذشتہ سال تک آپ لوتوکا جماعت کے پریذیڈنٹ رہے اب گذشتہ سال سے ساری فجی جماعت کے جنرل پریذیڈنٹ چنے گئے ہیں ان کی بیگم صاحبہ لجنہ اماء اﷲ لوٹوکا کی پریذیڈنٹ ہیں اور دین کی خدمت کے شوق میں بڑھاپے میں اردو پڑھنا سیکھا ہے۔ ان کے بچے بھی دین کے کاموں میں جوش و شوق سے حصہ لیتے ہیں۔ فجز اھم اﷲ خیراً۔ ان کی تبلیغ و کوشش نیک اثر و نمونہ سے بہت سے متعلقین داخل سلسلہ ہوئے ہیں جن میں سے حاجی محمد حنیف ۔شاہ محمد صاحبان مالک پاپولر فرنیچرشاپ بھی ہیں جن کے متعلق مولوی احمد یار صاحب لاہوری مبلغ نے لکھا تھا کہ لوٹوکاکے بہت بڑے امیر گھرانہ کے پیغامی جماعت میں شامل ہونے کی امید ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ ایک ہفتہ پیغامی مبلغ کو اپنے گھر پر رکھنے انکی مہمان نوازی کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ خلافت کی بیعت سے ہی روحانی زندگی سے ہم بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔ دو ہفتہ کے بعد اٹھارہ افراد خاندان کے ساتھ بیعت میں شامل ہو گئے۔ (الحمد لِلّٰہِ علیٰ ذالک)بیعت کے بعد جماعت احمدیہ لوٹوکا کے پریزیڈنٹ منتخب ہوئے۔ کوشش کر کے احمدیوں کی ایک ایجوکیشن کمیٹی بنائی۔ آپ اس ایجوکیشن سوسائٹی کے چیئرمین ہیں مکرم ڈاکٹرشوکت علی صاحب احمدی
    ایم۔ اے ۔ پی۔ ایچ۔ ڈی اس کالج کے پرنسپل ہیں جو کہ کمیٹی ناندی میں چلاتی ہے۔ مکرم ڈاکٹر شوکت علی صاحب ۱۹۶۱ء کے آخر میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے پھر آپ کاٹھیاوار گجرات ہندوستان ڈاکٹریٹ کرنے گئے واپس آ کر اسلامیہ سیکنڈری سکول لوٹوکا کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ احمدیت کی مخالفت میں انکو ہمیشہ مقابلہ کرنا پڑا ۔ بالآخر محترم بزرگوار چوہدری سرمحمد ظفر اﷲ خانصاحب کے نومبر ۱۹۶۵ء میں فجی آنے پر ڈاکٹر صاحب کی احمدیت کی بہت مخالفت ہوئی جس کے نتیجہ میں وہاں سے نوکری چھوڑنی پڑی ۔ اﷲ تعالیٰ نے اچھا ہی کیا کہ اس تکلیف کے بدلہ اپنا کالج قائم ہو گیا۔ ۲۱






    فصل سوم
    فجی کی پہلی اور مرکزی بیت فضل عُمر کی تعمیر
    جب اﷲ تعالیٰ نے ناندی اور لوٹو کا جیسے اہم شہروں میں مخلص
    جماعتیں قائم فرمادیں تو شیخ عبدالواحد صاحب نے فجی کے دارالحکومت سووا شہر کا رُخ کیا۔ یہاں بھی اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل سے نوازا اور جون ۱۹۶۱ء میں ایک ہی دن ۱۲افراد بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے اور پھر آہستہ آہستہ وہاں ایک مخلص‘ جوشیلی اور فعال جماعت قائم ہو گئی جس کے بعد علاقہ ساما بو لد میں ایک مکان کرایہ پر لے کر باقاعدہ مرکز قائم کر دیا گیا یہ مرکز ۸۲کنگز روڈ میں کھولا گیا ( اسی مرکز میں دسمبر ۱۹۶۲ء میں جزائر فجی کے احمدیوں کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا جس میں ۱۲۵ افراد شامل ہوئے)۔اگلی عیدالفطر کے موقع پر جماعت بڑھ جانے کی وجہ سے یہمکان اتنا ناکافی ثابت ہوا۔نہ جماعت کے احباب وہاں سما سکے اور نہ ان کی موٹریں وغیرہ کھڑی کرنے کیلئے کوئی جگہ تھی۔ عیدالفطر کے خطبہ میں شیخ عبدالواحد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام وسّع مکانک کا حوالہ دیکر تحریک کی کہ صووا (SUVA) شہر میں جماعتی مرکز کے لیئے کوئی وسیع مکان تلاش کر کے خریدنے کا انتطام کیا جائے۔چنانچہ احباب جماعت نے مناسب جگہ کی تلاْش شروع کر دی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ ساتھ والا پلاٹ مع مکان قابل فروخت ہے جس کی بیوہ مالکہ تین ہزار پونڈ طلب کرتی ہے جماعت کی طرف سے دو ہزار پونڈ کی پیش کش کی گئی مگر وہ تین ہزار پونڈ سے کم فروخت کرنے پر راضی نہ ہوئی۔ چونکہ وہ قطعہ زمین جماعت کے مرکز اور مسجد کے لیئے نہایت موزوں اور باموقعہ تھا اس لیئے جماعت نے اس عورت کے بعض رشتہ داروں کے ذریعہ اسے سمجھایا کہ اس کی زمین کسی تجارتی غرض کے لیئے نہیں بلکہ محض خانۂ خدا کی تعمیر اور تبلیغ اسلام کے مرکز کے لیئے لی جا رہی ہے چنانچہ آخر کار دو ہزار پونڈ قیمت پر اس قطعہ زمین اور مکان کو فروخت کرنے پر رضامند ہو گئی جس کے بعدوکیل کے ذریعہ تحریری معاہدہ کے علاوہ اسے بیعانہ بھی ادا کر دیا گیا یہ وسط ۱۹۶۲ء کی بات ہے۔ اس کے بعد جب اس عورت کے رشتہ داروں اور بعض لوکل تنظیموں کے سربراہوں اور کارندوں کو جو جماعت احمدیہ کے مخالفین میں سے تھے اس سودے کا پتہ چلا تو اُن سب نے مل کر اسکو ورغلایا کہ وہ اس سودا کو یہ کہہ کر فسخ کر دے کہ اس پر ناجائز دباؤ ڈال کر متعلقہ معاہدہ پر دستخط کرائے گئے ہیں حالانکہ یہ محض جھوٹ اور افتراء تھا تاہم اگرچہ وہ قانونی طور پر اس سودے کو کالعدم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی پھر بھی عرصہ تک جماعت کو پریشان کئے رکھا۔ اور جب اُسے اپنا کوئی حربہ کارگر ہوتا نظر نہ آیا اور وکیل کی معرفت ہماری جماعت نے اُسے حسب معاہدہ تین ماہ کے اندر اندر پوری رقم بھی ادا کر دی تو مخالفین کے اُکسانے پر وہ اس مکان میں بطور کرایہ دار رہنے پراصرار کرنے لگی اور مکان خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ ادھر شہر میں مخالفین یہ غلط اور جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے لگے کہ احمدی ایک کمزور بیوہ عورت کو قانونی پیچیدگیوں میں پھنسا کر اس کی جائیداد سے اُ سے بے دخل کر رہے ہیں حالانکہ اس عورت نے ہماری جماعت سے بات شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی وہ زمین اور مکان فروخت کرنے کا اعلان کر رکھا تھا اور ایک شراب خانے کا مالک اسے اس زمین و مکان کے لیئے تین ہزار پونڈ پیش کر چکا تھا مگر محلہ کے شرفا کی مخالفت کی وجہ سے وہ زمین شراب خانہ کے لیئے فروخت نہ کی گئی۔ آخر مالکہ زمین کو وکیل کے ذریعہ جماعت کی طرف سے ایک ماہ کے اندر اندر وہاں سے نکل جانے کا آخری نوٹس دیا گیا جس کے اختتام پر اس نے مجبور ہو کر عمارت بکلّی خالی کر دی اور اپنے بعض احمدی عزیزوں کے ہاں چلی گئی۔ چنانچہ پھر مزید تین صد پونڈ لگا کر اس عمارت کی مرمت کی گئی ایک حصّہ کو تبدیل کر کے اور باقاعدہ محراب وغیرہ بنا کر اُسے مسجد کی شکل دے دی گئی اور اس کا نام’’بیت فضل عمر‘‘ رکھا گیا۔ ایک حصہ احمدیہ لائبریری اور ریڈنگ روم اور آفس کے لیئے استعمال کے قابل بنا لیا گیا اور باقی حصہ میں کچھ تبدیلیاں کر کے اُسے مبلغین اور مہمانوں کے استعمال کے قابل بنایا گیا۔ اس مقصد کے لیئے احمدی مخلصین نے کئی بار وقار عمل کیا اور سارا سارا دن کام کرتے رہے۔ جماعتی مرکز اور دفاتر یکم اکتوبر ۱۹۶۰ء کو اسمیں منتقل کر دئیے گئے۔ ۲۲
    پہلا مناظرہ اور رسالہ الاسلام کا اجراء
    جناب شیخ عبدالواحد صاحب فاضل تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’پہلا مناظرہ جس میں لاہوری جماعت اور اہل سنت متفق ہو کر مقابلہ پر آئے ڈاکٹر محمدیوسف کی ڈسپنسری با میں لوٹوکا سے ۲۴میل کے فاصلہ پر ہوا۔ ناندی ‘ اور لوٹوکا(LAUTOKA)سے چار بڑی موٹریں بھر کر چوبیس اور چوالیس میل کا سفر کر کے احمدی وہاں جوش و خروش سے پہنچے خاکسار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کی صداقت پر حقیقۃ الوحی سے دلائل پیش کئے پھر وفات مسیح پر مناظرہ ہوا خدا تعالیٰ کے فضل سے لیکچر اور مناظرہ کا بہت ہی اچھا اثر ہوا اور غیر مبائعین اور غیر احمدی مناظرمبہوت ہو گئے۔ کوئی بات نہ بن آتی تھی۔ ناندی اور لوٹو کا کے احمدی بھائی رات۱۱بجے بڑی خوشی اور کامیابی سے لوٹے۔ با ؔسے لوٹتے ہوئے بھائی محمد شمس الدین صاحب پر ایک وجد اور سرشاری کی کیفیت تھی حاضرین سے کہتے تھے کہ دین کی خدمت اور اسکی راہ میں جہاد بھی شراب کی سی مستی کی کیفیت رکھتاہے آج ایک کیف اور وجد آ گیا ہے۔ (فالحمد لِلّٰہِ علیٰ ذالک )۔ دوسرا انتظام اﷲ تعالیٰ نے بھائی محمد شمس الدین صاحب کے دل میں یہ ڈالا کہ دلائل سے تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات و ملفوظات کی برکت سے معمور اور بھر پور ہیں لیکن غیر ہمارے خلاف اخباراور اشتہارات کے ذریعہ بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتا ہے ہم بھی ایک اردو و انگریزی میں ماہوار اخبار نکا لیں خوب جواب دیں اور تبلیغ کا حق ادا کر دیں ۔ ہم قرض لے کراقساط پر ایک سیکنڈ ہینڈ گیسٹیٹنر مشین لیکر اپنا پریس چلا دیں۔ اگرچہ سرمایہ نہ تھا لیکن عشق کی دیوانگی میں یہ قدم اٹھا لیا گیا اور مبائعین اور ہمدردوں نے قربانی کی دو دو چار چار پونڈ کر کے چندہ جمع کر کے آرم سٹرونگ سپرنگ ہال کمپنی سے گیسٹیٹز مشین اس کا سٹینڈ اور ایک ٹائپ رائٹر خرید کر مئی ۱۹۶۱ء میں نماز کی کتاب عربی اردو انگریزی ترجمہ کے ساتھچھاپ کر تبلیغ و تربیت کی ابتداء اور بسم اﷲ کر دی اور جون ۱۹۶۱ء میں ماہوار’’ الاسلام‘‘کا پہلا پرچہ اردو اور انگریزی میں گورنمنٹ سے اجازت لیکر نکال دیا جس سے ایک انقلاب شروع ہو گیا۔ اخبار تنظیم (اہلحدیث) اور اخبار ’’ آذان‘‘ اہلسنت دنگ ہو گئے۔ انکی ہر غلط پیش کی گئی بات کا جواب ملنے لگا اور غلطیوں کی وضاحت ہونے لگی۔ اہلحدیث کے اخبار نے لکھا مسلمانو! بیدار ہو یہ کیا انقلاب آ رہا ہے؟ چنانچہ ہمارے اخبار’’الاسلام‘‘ کے مقابلہ پر دونوں اخبار بند ہو گئے اور مسلمانوں نے یہ کہہ کر کہ تمہیں اخبار نہیں نکالنا آتا اسمیں کوئی قیمتی اور وزنی بات نہیں ہوتی۔ انہوں نے دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ دوسرا ان اخبارں کے لیئے قربانی کرنے والے نہ تھے اور خریداروں کو دلچسپی نہ تھی۔ لیکن ہمارے اخبار کے لیئے احمدیہ جماعت کے افراد قربانی کرتے اور خریداروں کیلئے دلچسپی کا سامان اور قیمتی مضامین لکھتے اخبار میں اسلام کی ترقی نظر آتی تھی۔ ۲۳
    ٹریکٹوں کا ابتدائی سلسلہ
    محترم شیخ صاحب نے ابتداء ہی میں اشاعت حق کا یہ مؤثر ذریعہ اختیار فرمایا کہ ٹریکٹوں کی اشاعت کا
    باقاعدہ سلسلہ جاری کر دیا۔ چنانچہ ۱۹۶۳ء تک آپ نے حسب ذیل ٹریکٹ ہزاروں کی تعداد میں شائع کر کے فجی میں پھیلا دئیے۔۱۔حضرت مسیح کشمیر میں ۲۔ بائیبل میں اختلافات اور قرآن مجید کی محفوظ حیثیت۳۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے متعلق بائیبل کی پیشگوئیاں۔۴۔خدا اور رسول کی محبت۵۔ پرائمر آف اسلام6۔ مسلمان اور عیسائی کی گفتگو
    ۲۴












    فصل چہارم

    حضرت چودھری محمدظفراﷲ خاں صاحب فجی میں
    نومبر ۱۹۶۵ء کے ادائل میںچودھری
    محمدظفر اﷲ خانصاحب امریکہ سے نیوزی لینڈتشریف لے جاتے ہوئے جزائر فجی میں ٹھہرے۔ فجی کے احمدی دوست آپ سے ملاقات کر کے ازحد خوش ہوئے اور آپ کی موجودگی سے کماحقہ‘ استفادہ کیا چودھری صاحب ’’تحدیث نعمت‘‘ میں لکھتے ہیں:۔
    ’’اکتوبر ۱۹۶۵ء میں مجھے بعض امور کی سر انجام دہی کے لیئے امریکہ جانا ہوا وہاں سے فراغت پا کر میں سان فرانسسکو سے نیوزی لینڈ کے سفر پر روانہ ہوا۔ ہوائی جہاز دوسری صبح قبل فجر جزائر فجی کے بین الاقوامی مطار ناندی پہنچا میرا ارادہ چند دن جزائر فجی میں ٹھہرنے کا تھا۔ ہم سان فرانسسکو سے جمعرات کے دن روانہ ہوئے تھے دوسرے دن ناندی پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہفتے کا دن ہے درمیان میں سے جمعہ کا دن غائب ہو گیا مطار پر شیخ عبدالواحد صاحب مبشر سلسلہ احمدیہ اور ناندی کے چند احباب تشریف لائے ہوئے تھے میں ان کے ہمراہ شہر چلا گیا اور آئندہ چھ دن یعنی ۵؍نومبرسے جمعہ ۱۱؍نومبرتک ان کے تجویز کردہ پروگرام کے مطابق ان کی خدمت میںحاضر و مشغول رہا۔ اس عرصہ میں مختلف مقامات پر حاضر ی کا موقع ملا لیکن زیادہ وقت جزائر کے صدر مقام سووا (SUVA)میں گذرا۔۱۹۶۵ء میں جزائر فجی کی مجموعی آبادی تین لاکھ کے لگ بھگ تھی جن سے نصف سے کچھ زائد ہندوستانی اور پاکستانی نثراد تھے۔ اور نصف سے کچھ کم جزائر کے اصل باشندے تھے اول الذکر عنصر میں مسلمان‘ ہندو‘ سکھ شامل تھے اس عنصر میں مسلمانوں کی نسبت ۲۰ فی صدتھی ۔ جزائر فجی میں اﷲ تعالیٰ کے فضل سے ایک مخلص اور مستعد جماعت احمدیہ سرگرم عمل ہے جو جزائر کی آبادی میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ ۲۵
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ
    کا روح پرور پیغام
    ۳۰؍مئی۱۹۶۶ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا جماعت فجی کے نام ایک ٹیپ شدہ روح پرور پیغام مکرم عبدالقدوس صاحب آف فجی آئی لینڈ کے
    ذریعہ پہنچا جس میں حضور نے نہایت لطیف اور وجد
    آفریں پیرایہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی منصب کی وضاحت فرمائی اور احمدیوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف پر زور طریق سے توجہ دلائی۔۲۶
    رسالہ دی مسلم ہارینجر کا اجراء
    مولوی نورالحق صاحب انورؔ کی کوششوں سے
    جون ۱۹۶۷ء سے ایک سہ ماہی رسالہ
    ’’دی مسلم ہارینجر‘‘(منادی اسلام) جاری ہوا جو انگریزی‘فجیئن اور ہندی زبانوں پر مشتمل تھا رسالہ کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا گیا۔ افسوس یہ مفید رسالہ چند سال بعد بند ہو گیا۔ ۲۷
    مولوی نورالحق انور صاحب کی آمد
    محترم شیخ صاحب فجی کی سر زمین میں پوری دلجمعی سے اعلاء کلمۃ اﷲ کے فریضہ
    میں مصروف تھے کہ ۲۶؍فروری ۱۹۶۷ء کو مرکز سے مولوی نورالحق صاحب انورؔ سابق مجاہد مشرقی افریقہ و امریکہ بھی فجی تشریف لے آئے۔ ۶؍مارچ کو فجی ریڈیو سے آپ کا اردو اور انگریزی زبان میں انٹرویو نشر ہوا اور آپ کے استقبالیہ جلسوں میں شامل غیراحمدی معززین شدت سے محسوس کرنے لگے کہ آج دنیا میں اسلام کی خاطر صحیح قربانی دینے والی جماعت صرف جماعت احمدیہ ہے۔ ۲۸
    بیت محمود کی تعمیر
    مارو کی اکثریت احمدی نفوس پر مشتمل تھی حضرت چوہدری محمد ظفر اﷲ خانصاحب نے اپنے قیام فجی کے دوران ۷؍نومبر ۱۹۶۵ء کو یہاں
    بیت محمود کی بنیاد رکھی اور شیخ عبدالواحد صاحب اور مولوی نورالحق صاحب انورؔکی نگرانی میں دو سال تک صووا اور ناندی کے مخلصین نے مزدوروں کی طرح کام کر کے خدا تعالیٰ کے اس گھر کو مکمل کیا اس تاریخی بیت الذکر کا افتتاح یکم جنوری ۱۹۶۸ء کو ہوا۔
    بیت ناندی کی بنیاد اور تکمیل
    ۱۴؍جنوری ۱۹۶۸ء کو مولوی نورالحق صاحب انورؔ نے بیت ناندی کا سنگ بنیاد رکھا یہ بیت آخر
    ۱۹۷۱ئمیں پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ ۲۹ اور اس کا افتتاح یکم جنوری ۱۹۷۲ء کو جلسہ سالانہ کی تقریب کے ساتھ عمل میں آیا۔
    پادری عبدالحق صاحب
    سے کامیاب مباحثہ
    ۶۔۷۔۸؍مئی۱۹۶۸ء کو مبلغ اسلام مولوی نورالحق صاحب نے مشہورعیسائی مناد پادری عبدالحق صاحب کو شکست فاش دی جس سے اسلام کو شاندار فتح نصیب
    ہوئی۔ مولانا شیخ عبدالواحد صاحب اس ایمان افروز واقعہ کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’وسط اپریل ۱۹۶۸ء میں ہندوستان سے عیسائیوں کے مشہور پادری عبدالحق صاحب فجی کونسل اور چرچز کی دعوت پر جزائر فجی میں تشریف لائے اور یہاں لیکچروں اور پبلک تقریروں کا سلسلہ شروع کیا اس سلسلہ میں وہ جزیرہ ویتی لیوو کے مغربی علاقہ کے اہم قصبات میں گئے اور اپنی تقریروں میں جملہ مذاہب میں خصوصیت سے اسلام کے خلاف تقریریں کیں۔ اس پر غیر از جماعت اسلامی غیرت والے دوستوں نے برادرم مولانا نورالحق صاحب انورؔ سے جو حسن اتفاق سے انہیں ایام میں با ؔکے دورہ پر تشریف لے گئے تھے مل کر پُرز ور درخواست کی کہ اس مخالف اسلام پروپیگنڈا کا دفاع ضروری ہے اور یہ کہ یہ کام بفضل خدا احمدی ہی کر سکتے ہیں۔ پادری عبدالحق صاحب اس دوران میں لوتوکا میں مقیم تھے۔ اور حسن اتفاق سے انہوں نے خود ہی جماعت احمدیہ لوتوکا کے ایک دوست سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ فجی کے احمدیوں سے ملنا چاہتے ہیں جس پر ہمارے دو تین دوست جب اُن سے ملنے گئے تو پادری صاحب نے ابتداء ملاقات میں ہی چیلنج دے دیا کہ وہ ہر قسم کے بحث و مباحثہ کے لیئے تیار ہیں ہر وقت ہر مقام پر اور ہر شخص سے خواہ وہ سنّی ہو یا احمدی ہو۔ ہمارے دوستوں نے ان کے چیلنج کو قبول کیا ۔بایں ہمہ گفت و شنید کے بعد یہ طے پایا کہ مندرجہ ذیل آٹھ مضامین پر تحریری مناظرہ نورالحق صاحب انورؔ اور پادری عبدالحق صاحب عیسائی منّاد کے درمیان ہو۔
    ۱۔ توحید ۲۔ کیا مسیح ناصری ا لہٰ مجسم ہے؟ ۳۔ کیا بائیبل خدا کا کلام ہے؟ ۴۔ کیا قرآن شریف کامل الہامی کتاب ہے ؟ ۵۔ کیا مسیح ناصری صلیب پر فوت ہوئے؟ ۶۔ کیا حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام مسیح موعود ہیں؟ ۷۔ کیا مسیح ناصری نجات دہندہ تھے؟۸۔ کیا اسلام میں نجات ہے؟ یہ بھی طے پایا کہ ہر مضمون پر سات سات پرچے ایک ایک گھنٹہ کے ہوں…بالآخر صووا ڈڈلی ہاؤس سکول میں ۶؍مئی ۱۹۶۸ء کی صبح سے مباحثہ شروع ہو گیا جس کا اعلان فجی ریڈیو اور اخبار فجی ٹائمز نے باقاعدہ طور پر کیا۔
    طریق کار یہ تھا کہ فریقین صبح ساڑھے آٹھ بجے سے لے کر شام چھ بجے تک متواتر سوائے دوپہر کے مختصر وقفہ کے آمنے سامنے بیٹھ کر مقررہ مضمون پر پرچے لکھتے اور شام کو ساڑھے سات بجے ڈڈلی سکول کے ہال میں ہی یہ پرچیحاضرین کو جنکی تعداد ایک سو تک محدود کر دی گئی تھی سُنا دیئے جاتے۔ شرائط کے مطابق دونوں مناظروں کو کسی مددگار کے رکھنے کی اجازت نہ تھی بوقت تحریر مناظرہ صرف فریقین کی طرف سے ایک ایک نگران مقرر تھا۔ اہل اسلام کی طرف سے خاکسار ( شیخ عبدالواحد ) فاضل نگران رہا عیسائیوں کی طرف سے گو بیشتر وقت پادری سُمَرْوِلْ جوناگپور ہندوستان میں چار پانچ سال رہ چکے ہیں اور اردو پر عبور رکھتے ہیں اور بڑی مرنجاں مرنج طبیعت کے مالک ہیں بطور نگران رہے لیکن ان کی مصروفیات کے باعث بعض دوسرے عیسائی حضرات بھی اس ڈیوٹی کو سرانجام دیتے رہے۔ ۶؍ مئی کی شام کو پہلے دن کے مباحثہ کی تحریر بخیر و خوبی ختم ہوئی موضوع مباحثہ تھے نمبر ۱ توحید نمبر۲ بایئبل کا الہام الٰہی ہونا ۔پادری عبدالحق صاحب نے توحید کے مضمون میں حسب معمول اپنی ساحرانہ فریب کاری سے کام لیا اور اپنی منطقیانہ ادق اصطلاحوں کی بھر مار سے حاضرین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گو یا وہ بہت بڑے فلاسفر اور علاّمہ دہرہیں گو حاضرین ان کی باتوں کو ذرّہ بھی نہسمجھتے تھے لیکن کسی حد تک ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پادری صاحب کا سحر سامری ناواقف پبلک پر چھا رہا ہے ہمارے مناظرنیبائیبل سے یہ پیش کیا کہ جس حکمت و فلسفہ پر تم اتنا ناز کرتے ہو اُسے تو انجیل میں بیوقوفی۔ چالاکی ۔ باطل خیالات‘ لاحاصل فریب اور دنیوی ابتدائی باتیں‘‘ کہا گیا ہے ( عہد نامہ جدید کی کتب کرنتھیوں اور کلسّیوں) تاہم اس روز بعض پادری صاحب کی چالاکی کا کسی حد تک شکار معلوم ہوتے تھے۔ لیکن دوسرے دن اﷲ تعالیٰ نے اس پُر فریب جادو کو محض اپنے فصل سے دھوئیں کی طرح اُڑا دیا۔ ۷؍مئی کو مباحثہ کے لیئے دو مضمون مقرر تھے نمبر۱ کیا مسیح ناصری الہٰ مجسم ہے؟ نمبر۲ کیا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام مسیح موعود ہیں؟ چونکہ معلوم ہوتا ہے پادری صاحب کی کاپیوں میں محفوظ شدہ منطقیانہ نوٹ ختم ہو گئے تھے وہ کوئی خاص ٹھوس بات کرنے کی بجائے اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ گو بوقت تحریر بھی ان کا حال دیکھنے والا تھا جبکہ بلا مبالغہ ان کو ہوش نہ تھی کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں اور کسطرح لکھ رہے ہیں مگر شام کے اجلاس میں پرچے سناتے ہوئے تو نظارہ قابل دید تھا پادری صاحب کے واسطے اپنے ہاتھوں کا لکھا بھی پڑھنامشکل تھا وہ شکستہ دل کھڑے ہوئے ان کی زبان لڑکھڑاتی اور آواز لرزتی تھی۔ یہ مباحثہ بفضل خدا ایک خاص کامیابی اور فتح کا دن تھا۔ اسکی خاص الخاص خصوصیت یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ حضور کے اپنے ہی مبارک الفاظ میں پیش کرنے کا موقع بلیغ احمدی مناظر کو اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔ اسکی زبان میں برکت عطا فرمائی اور آواز میں شوکت دی جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پُرشوکت عبارت پڑھتے تو حاضرین پر ایک کیف طاری ہو جاتا۔ بہر حال الحمد ﷲ ثم الحمد ﷲکہ دوسرے دن کے مباحثہ میں پادری صاحب کا سارا طلسم ٹوٹ گیا اور حاضرین پر جوان کے علم کا اثر پڑا تھا وہ زائل ہو گیا۔ اختتام مباحثہ پر غیر مسلم حاضرین نے بھی اسلام اور احمدیت کے متعلق بہت اچھا اثر لینے کا اقرار کیا اور بوقت رخصت بلاتفریق مذہب و ملّت سب احمدی مناظر سے ہاتھ ملانے کیلئے ٹوٹ پڑتے تھے۔ اس ہجوم میں جب بعض غیر مسلم عورتوں نے بھی خراج تحسین کے طور پر احمدی مناظر محترم برادرم مولانا نور الحق صاحب انورؔ سے مصافحہ کی کوشش کی تو برادرم موصوف نے نہایت ملاطفت اور محبت سے یہ مسئلہ سمجھایا کہ اسلام میں عورتوں سے مصافحہ کی اجازت نہیں اور نہایت بااخلاق طور پر ہاتھ اٹھاکر ان کے سلام کا جواب دے دیا۔
    ۸؍مئی۱۹۶۸ء کو حسب معمول مباحثہ کا تیسرا دن شروع ہوا۔ اُس دن کے لیئے مضمون نمبر ۱ کیا مسیح ناصری صلیب پر فوت ہوئے؟ نمبر ۲ کیا قرآن شریف کامل الہامی کتاب ہے؟ قبل از دوپہر فریقین اطمینان سے پرچے لکھتے رہے گو گذشتہ دن کی شکست کا اثر پادری صاحب کو مضطرب کیئے ہوئے تھا جس کا اظہار ان کی حرکات و سکنات سے نمایاں ہو رہا تھا لیکن قبل از دوپہر کے آخری پرچہ میں جب احمدی مناظر نے قرآن شریف سے یہ ناقابل تردید ثبوت پیش کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کی *** موت کی بجائے اﷲ تعالیٰ کے وعدہ انّی متوفیکَ وَ رَافعکَ اِلّی (آل عمران :۵۶) یعنی طبعی معجزانہ موت کے وعدہ الٰہی کے مطابق دم واپسیں نہایت عزت اورا حترام سے کشمیر میں فوت ہوئے اور اﷲ تعالیٰ کے فرمان ’’الحق من ربّکَ فلا تکونَنّ مِن الْممترین‘‘ (البقرہ :۱۴۸)کے مطابق یہ ناقابل تردید حقیقت ہے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کے اس ارشاد پر کہ نبتھلْ فنجعل لعنۃ اﷲ علی الکاذبین (آل عمران:۶۲)… ہمارے مناظر نے بڑی تحدّی سے یہ لکھا کہ خدا تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق میں پادری عبدالحق صاحب کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اگر سچے ہیںتو نہایت تضرّع سے اپنے ساتھیوں سمیت میدان مباہلہ میں آئیں اور ہم سے مل کر اﷲ تعالیٰ کے حضور دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ سچ اور جھوٹ کو ظاہر کردے ۔ پادری صاحب اب پیرانہ سالی میں ہیں اور میں بھی اب پچاس سال کی عمر کو پہنچنے والا ہوں۔ پادری صاحب مخلوقِ خدا پر رحم کریں وہ کہتے ہیں کہ اس پیرانہ سالی میں وہ آرام سے گھر بیٹھنے کی بجائے خدا کی خاطر ملک ملک گھوم رہے ہیں وہ اس خدا کی خاطر جس کے لیئے وہ آرام سے بے آرام ہو رہے ہیں آئیں اور اس انصاف والے یقینی رستہ کو اختیار کریں جس سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہو سکتا ہے آئیں اور ہم دونوں اپنے اپنے ساتھیوں سمیت یہ دُعا کریں کہ اے اﷲ ہم دونوں فریق میں سے جو جھوٹ اختیار کر رہا ہے اسکو عبرتناک سزا دے اور اسپر *** ڈال اور اے خدا جو سچاہے اس کا حامی ہو اس کو عزت دے۔ تو اسے پڑھتے ہی پادری صاحب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے میں خود عینی گواہ ہوں اور اس نظارہ کو نہیں بھول سکتا کہ ان الفاظ کے پڑھتے ہی پادری صاحب کے چہرہ پر موت کی سی زردی چھائی معلوم ہونے لگی اور ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ ۳۰








    فصل پنجم
    فریضہ دعوت حق بجا لانیوالے
    دوسرے مجاہدین احمدیت
    بانیمشن مکرم شیخ عبدالواحد صاحب فجی میں قریباً پونے نو سال تک احمدیت کا پیغام حق پہنچانے کے بعد ۱۷؍جولائی ۱۹۶۸ء کو واپس مرکز
    میںتشریف لائے۔آپ کی موجودگی یاآپ کے بعد جن مجاہدین احمدیت نے اس سر زمین میں فریضۂ تبلیغ بجا لانے کی سعادت حاصل کی ہے اور جماعت احمدیہ کے اثر و نفوذ میں غیر معمولی اضافہ کا موجب بنے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
    ۱۔ مولوی نورالحق انورؔ صاحب (تاریخ روانگی) ۲۶؍فروری ۱۹۶۷ء
    (تاریخ واپسی) ۲؍جون۱۹۶۸ء
    ۲۔ ڈاکٹر سید ظہور احمد شاہ صاحب (تاریخ روانگی)۲۳؍جنوری ۱۹۶۸ء
    (تاریخ واپسی) ۸؍نومبر ۱۹۷۰ء
    ۳۔ مولانا غلام احمد صاحب فاضل بدوملہوی (تاریخ روانگی) ۱۰؍جولائی ۱۹۷۰ء
    (تاریخ واپسی)۳۰؍مارچ ۱۹۷۲ء
    ۴۔ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری (تاریخ روانگی) ۱۰؍جولائی ۱۹۷۰ء
    (تاریخ واپسی)۲؍نومبر ۱۹۷۳ء
    ۵۔ مولوی غلام احمد فرخ صاحب (تاریخ روانگی) ۴؍جون ۱۹۷۲ء
    (تاریخ واپسی) ۲۹؍اپریل ۱۹۷۶ء
    ۶۔ مولوی عبدالرشید صاحب رازیؔ (تاریخ روانگی) ۲۰؍نومبر ۱۹۷۳ء
    (تاریخ واپسی) ۲۲؍جون ۱۹۷۷ء
    ۷۔ مولوی دین محمد صاحب شاہد (تاریخ روانگی) ۴؍ مئی ۱۹۷۷ء
    (تاریخ واپسی) ۱۳؍نومبر ۱۹۷۹ء
    ۸۔ مکرم شیخ سجاد احمد صاحب خالدؔ ( تاریخ روانگی) ۴؍مئی ۱۹۷۷ء
    (تاریخ واپسی) ۲۹؍ اپریل ۱۹۸۴ء
    ۹۔ مکرم حافظ عبدالحفیظ صاحب شہید (تاریخ روانگی) ۲۵؍فروری ۱۹۸۰ء آپ ۶؍اگست ۱۹۸۱ء کو کار کے ایک حادثہ میں جاں بحق ہو گئے اِنّا للّٰہ و اِنّا اِلیہِ راجعون۔ ۳۱
    ۱۰۔ مکرم مولوی عبدالعزیز صاحب وینس شاہد مع فیملی ۱۰؍مئی ۱۹۸۴ کو روانہ ہوئے
    تاحال میدان عمل میں ہیں اور خدمات دینیہ بجا لارہے ہیں۔
    ۱۱۔ مکرم حافظ جبرائیل سعید صاحب غانین نے ۸۷۔۱۹۸۶ء میں ایک سال کام کیا اور پھر ۲۸؍ اگست ۱۹۸۷ء کو طوالو منتقل ہو گئے۔ ۳۲ ان مرکزی مبلغین کے علاوہ
    ۱۳؍اکتوبر ۱۹۸۳ء سے ماسٹر محمد حسین صاحب مقامی مبلغ مقرر ہیں۔
    لوٹو کا میں پرائمری سکول کی بنیاد
    ۲۷؍دسمبر ۱۹۶۸ء کو سید ظہور احمد شاہ صاحب مبلغ فجی نے جماعت احمدیہ فجی کے
    پہلے پرائمریسکول کی بنیاد لوٹوکا (LAUTOKA)شہر میں رکھی اس موقع پر ملک کے قدیم اخبار ’’فجی ٹائمز‘‘ کے رپورٹر اور محکمہ تعلیم کے افسران بھی موجود تھے یہ سکول مکرمی ماسٹر محمد حسین صاحب صدر حلقہ لوٹوکا کی زیر نگرانی قائم ہوا۔ ۳۳ اس سکول کا نام ’’تحریک جدید انجمن احمدیہ اورسیز فجی‘‘ رکھا گیا۔ اس کے علاوہ لوٹوکا میں جماعت نے ’’تعلیم الاسلام کنڈرگارٹن‘‘ سکول بھی قائم کیا۔ سکول بہت جلد ترقی کی منازل طے کرنے لگا اور چندسالوں میں ہی اس کے طلبہ کی تعداد ساڑھے تین سوسے زائد ہو گئی اور سٹاف میں دس اساتذہ خدمات بجا لانے لگے۔ سکول کمیٹی نے مزید دو کمرے دو منزلہ عمارت کی صورت میں تعمیر کئے جنکی افتتاحی تقریب ۱۵؍مارچ ۱۹۷۵ء کو منعقد ہوئی جس میں طلبہ کے والدین‘ مارو‘ ناندی اور لوٹو کا کے احمدیوں کے علاوہ محکمہ تعلیم کے ایجوکیشن آفیسر وی نائر صاحب (V.NAIR)نے شرکت فرمائی۔مولوی غلام احمد صاحب فرّخؔ نے دُعا کر کے نئے کمرے کا تالا کھول کے افتتاح کیا۔ سکول کی بنیاد اور افتتاح کی باتصویر رپورٹیں اخبار’’فجی ٹائمز‘‘ نے نمایاں طور پر شائع کیں۔ اب یہ سکول روزافزوں ترقی کر رہا ہے۔ ۳۴
    ناندی میں بیت اقصٰی کی تعمیر
    ڈاکٹر سید ظہور احمد شاہ صاحب کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے زمانہ قیام میں
    ناندی میں بیت اور مشنری کواٹر کی بنیاد رکھی۔اس وقت جماعت فجی ابتدائی دور میں سے گذر رہی تھی اور مالی حالت ہرگز ایسی مضبوط نہ تھی کہ ہزاروں ڈالر خرچ کر کے کوئی شاندار عمارت تعمیر کی جا سکتی مگر اﷲ تعالیٰ نے اپنی نصرت کا عظیم الشان نشاں دکھلایا اور مسجد اور مشنری کواٹرز کی شاندار عمارت تعمیر ہو گئی جسکا نام بیت اقصٰی رکھا گیا اور اس کا افتتاح یکم جنوری ۱۹۷۲ء کو سالانہ تبلیغی کانفرنس کے موقع پر مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری فاضل انچارج مشن جزائر فجی نے فرمایا اس افتتاحی تقریب کے لیئے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒنے حسب ذیل برقیہ پیغام ارسال فرمایا۔
    ’’السلام علیکم و رحمتہ اﷲ و برکاتہ۔ میری طرف سے آپ سبکو بیت اقصٰی ناندی کا افتتاح کرنا بہت بہت مبارک ہو۔ اﷲ تعالیٰ اس بیت کو اس علاقہ میں اسلام کی ترقی اور اشاعت کا کامیاب مرکز بنائے۔ خلافت سے وابستگی اور نظام جماعت کی پابندی اپنا شعار بناؤ‘۔‘ ۳۵
    تائیدِ الہٰی کے ایک قہری نشان کا ظہور
    مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری فرماتے ہیں :۔
    ’’جماعت احمدیہ نے فجی کے مشہور شہر با (BA)میں احمدیہ مشن کی برانچ کھولنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیئے ایک مناسب حال مکان بھی خرید لیا تو اس شہر میں ہماری شدید مخالفت شروع ہو گئی۔ مخالفین کوشش کرنے لگے کہ جیسے بھی ہو تبلیغ اسلام کا یہ مشن ’’با‘‘ شہر میں کامیاب نہ ہونے پائے اور ہمارے قدم وہاں نہ جمیں۔ اس وقت وہاں ہمارے مخالفین کا سرغنہ وہاں کا ایک صاحب اقتدار شخص ابوبکر کویا نامی تھا۔ چنانچہ اس نے اور دیگر مخالفین نے شہر میں یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ احمدیوں کے ’’با‘‘ مشن کی عمارت کو جلا دیں گے۔ ۳۶
    چنانچہ جس قدر ممکن ہو سکا ہم نے حفاظتی انتظامات کر لیئے اس عمارت کے سامنے پولیس اسٹیشن تھا انہیں بھی توجہ دلائی گئی پولیس نے ہمیں مشن ہاؤس کی حفاظت کا یقین بھی دلایا پھر بھی ایک رات کسی نہ کسی طرح مخالفین کو نقصان پہنچانے کا موقعہ مل گیا اور ان میں سے کسی نے ہمارے مشن ہاؤس کے ایکحصہ پر تیل ڈال کر آگ لگا دی اور یہ یقین کر کے کہ اب آگ ہر طرف پھیل جائے گی اور مشن ہاؤس کو خاک سیاہ کر دے گی۔ آگ لگاتے ہی آگ لگانے والا فوراً بھاگ گیا۔ لیکن خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہو کہ افراد جماعت کو پتہ لگنیسے پہلے ہی وہ آگ بغیر کوئی خاص نقصان کئے خود ہی بجھ گئی یا بجھا دی گئی۔ مخالفین نے عمارت کی اس طرف جہاں عمارت کا اکثر حصہ لکڑی کا تھا آگ لگائی تھی جس سے چند لکڑی کے تختے جل گئے مگر وہ آگ آگے بڑھنے سے قبل ہی بجھ گئی ۔ چنانچہ اسی روز اس کی مرمت کروا دی گئی۔ مگر آگ کے نقصان کا موقعہ پر جائزہ لیتے ہوئے اس وقت کے مبلغ انچارج ۳۷نے اس جلے ہوئے کمرے پر کھڑے ہو کر بڑے دکھ بھر ے انداز میں آہ بھر کر جو یہ کہا کہ جس نے خدا تعالیٰ کے دین اسلام کی اشاعت کا یہ مرکز جلانے کی کوشش کی ہے خدا تعالیٰ اس کے اپنے گھر کو راکھ کر دے۔ تو خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہو اکہ اس کے چند روز بعد اچانک ’’با‘‘ میں جماعت کے مخالفین کے سرغنہ ابوبکر کو یا کے گھر کو آگ لگ گئی اور باوجود بجھانے کی ہر کوشش کے وہ رہائشی مکان سارے کا سارا جل کر راکھ ہو گیا۔ فاعتبروا یاا ولی الابصار ۳۸
    جزائر ٹونگا کے بادشاہ کو تبلیغ اسلام
    اور قرآن کریم کی پیشکش
    جناب مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کا بیان ہے کہ ’’نومبر ۱۹۷۱ء میں مجھے اخبارات کے ذریعہ علم ہوا کہ جزائر ٹونگا کے بادشاہ جو فجی میں قائم شدہ جنوبی
    بحراوقیانوس کے جزائر کی واحدیونیورسٹی کے اعزازی چانسلر بھی ہیں عنقریب فجی آ رہے ہیں…جماعت کے ایک مخیّر دوست برادرم محمد شمس الدین صاحب … نے محض خیریت دریافت کرنے کے لیئے مجھے مغرب کے بعد فون کیا میں نے ضمنی طور پر ان سے ذکر کیا کہ جزائر ٹونگا کے بادشاہ اپنے شاہی قافلہ کے ساتھ فجی کے دارالحکومت میں اپنے چچاکے ہاں مقیم ہیں تاہم اُن سے تبلیغی ملاقات کے لیئے ہماری کوشش کارگر نہ ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ ’’شاہ ٹونگا کے چچاسر ایڈورڈ ڈاکمباؤ نائب وزیر اعظم فجی تو میرے سکول فیلو اور کرکٹ فیلو بھی رہے ہیں‘‘ اور تجویز کیا کہ کل صبح ہی ان سے دفتر میں ملیں گے۔ چنانچہ اگلے روز ہم دونوں اُ ن سے ملے۔ وہ بڑی خوش خلقی سے پیش آئے اور ہماری خواہش کے مطابق اسی وقت فون پر ہماری طرف سے شاہ ٹونگا سے ملاقات کی درخواست کر دی جو شاہ نے منظور کر لی چنانچہ اسی وقت سر ایڈورڈ نے ہمیں بتایا کہ آج ہی شام کے پانچ بجے ہزمیجسٹی نے ہمیں ملاقات کے لیئے آدھ گھنٹہ دیا ہے اور ہماری خواہش کے مطابق دوسرے سب شاہی مہمان موجود ہوں گے۔
    چنانچہ اسی روز تین افراد پر مشتمل جماعت احمدیہ فجی کے تبلیغی وفد کی پریس فوٹوگرافرز اور اخباروں کے نمائندوں کی موجودگی میں شاہ ٹونگاسے ملاقات ہو گئی خاکسار نے انہیں جماعت کی طرف سے ایڈریس پیش کیا جس میں انہیں خوشآمدید کہنے کے علاوہ اسلام کی تعلیم سے آٗگاہ کیا گیا اور آخر میں قرآن کریم انگریزی اور دیگر اسلامی کتابیں بطور تحفہ پیش کی گیئں۔ شاہ ٹونگا نے کھڑے ہو کر قرآن کریم مجھ سے وصول کرنے کے بعد ہمارے ایڈریس کے جواب میں شکریہ کا اظہارکرتے ہوئے فرمایا کہ
    ’’میرا ملک صد فی صد عیسائی ہے میں بھی پیدائشی عیسائی ہوں میں نے اس سے پہلے کبھی قران کریم دیکھا تک نہیں تھا نہ اسلام سے مجھے تعارف تھا۔ آپ نے یہ تقریب پیدا کر کے مجھے اس مذہب سے متعارف کروایا ہے جو میری والدہ کی قوم کا صدیوں سے مذہب چلا آتا ہے۔ میری والدہ انڈونیشین نسل سے ہیں آپ کی طرف سے پیش کردہ قرآن کریم اور کتب کا ضرور مطالعہ کروں گا آپ نے ایک عظیم روحانی خزانہ مجھے عطا کیا ہے آپ لوگ بڑے شکریہ کے مستحق ہیں‘‘
    دوسرے روز لوکل اخبارو ں میں اس تقریب کی تصاویر کے علاوہ تما م روداد بھی شائع ہوئی اور ریڈیو پر بھی یہ خبر نشر کی گئی…اس واقعہ کی رپورٹ جب میں نے سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اﷲ تعالیٰ کی خدمت میں بھیجی تو حضور نے خوشنودی کا اظہار فرمایا اور دُعا کے ساتھ یہ ہدایت بھی فرمائی کہ
    ’’بادشاہ سے لے کر ادنیٰ سے ادنیٰ انسان تک دن رات اسلام کا پیغام پہنچائیں‘‘
    چنانچہ اگرچہ پہلے یہی حتی الوسع ہرموقع پر ادنیٰ و اعلیٰ سبکو تبلیغ کی جاتی تھی لیکن حضور کے اس تازہ ارشاد کے بعد ایک خاص تبلیغی مہم جاری کی گئی اور تقسیم کے لئے اپنا لٹریچر ٹیکسیوں اور بسوں میں رکھوایا گیا۔ نیز مارکیٹ میں تین چار احمدی سٹالوں پر بھی لٹریچر رکھوادیا۔حتیٰ کہ بیت اور مشن ہاؤس کے فَلَش پٹ اور کمپاؤنڈ کی صفائی کے لیئے آنے والے مزدوروں کی بھی چائے سے تواضع کر کے انہیں تبلیغ کی جاتی رہی اور اسلام کے متعلق لٹریچر پیش کیا جاتا رہا یہاں تک کہ بعد میں وہ غریب فجین باشندے ہمارا فجین زبان میں شائع شدہ لٹریچر ہم سے خود طلب کرنے لگے۔ ۳۹
    جزیرہ واٹو الیوو اور وٹی لیوو میں تبلیغی جہاد
    مولانا غلا م احمد صاحب بدوملہی کو فجی میں قریباً دو سال تک احمدیت کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی آپ نے زیادہ وقت جزیرہ واٹوالیوو میں گزارا اور جماعتی تعلیم و تربیت کے علاوہ مختلف شہروں اور قصبوں میں سوال و جواب کی محفلیں
    منعقد کر کے تبلیغ کی راہ ہموار کی ان دنوں اس جزیرہ میں مخالفت زوروں پر تھی مخالفین احمدیت نے وٹی لیوو سے ایک دوسرے جزیرہ کا رخ کیا مگر وہاں بھی انہیں شکست ہوئی اور مولانا صاحب اس جزیرہ میں ان کا تعاقب کرنے کے لیئے پہنچ گئے۔ مگر وہ مبلغ احمدیت کی علمی قابلیت اور ایمانی جرأت کی وجہ سے گفتگو کی جرأت نہ کر سکے اور بالآخر ایک شدید مخالف مولوی عبدالرحمان صاحب بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔ صوا سے اس جزیرہ میں پانچ علماء کا ایک وفد پہنچا اور لیکچر دئیے مگر احمدیوں سے بات چیت پر آمادہ نہ ہوئے ۱۹۷۰ء کے آخر میں لمبا سہ کے مشہور وکیل ممتاز مقبول صاحب نے بیعت کر لی اور جماعتی کاموں میں بڑی دلچسپی لینے لگے۔ ۴۰
    نور احمدیہ پریس
    ۱۹۷۱ ء میں جماعت احمدیہ فجی کو اﷲ تعالیٰ نے ایک پرنٹنگ مشین اوراسکے دیگر لوازمات خریدکراپنا پریس قائم کرنے کی توفیق عطا
    فرمائی جس پر انگریزی اور ہندی زبانوں میں بڑی کثرت سے لٹریچر شائع ہونے لگا۔ ابتداء میں رضاکارانہ طور پر پریس کا کام محترم ماسٹر محمد حسین صاحب ہیڈماسٹر احمدیہ سکول لٹوکا
    سر انجام دیتے تھے۔ ۴۱
    جماعت فجی کی ملّی خدمت
    ۲۴؍اکتوبر۱۹۷۲ ء کو فجی میں ایک ہولناک سمندری طوفان آیا جس کی مثال فجی کی تاریخ میں نہیں
    ملتی۔طوفان سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ۔اﷲ تعالیٰ کے فضل سے فجی کے احمدی احباب بڑی حد تک محفوظ رہے فجی کے احمدیوں نے اس موقع پر اپنے مصیبت زدہ ہم وطنوں کی ہر طرح امداد کی ان کو کھانا کھلایا اور سامان بھی پیش کیا۔ علاوہ ازیں فجی کے ریلیف فنڈ میں نہ صرف حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے چارسو فجیئن ڈالر ارسال فرمائے بلکہ مقامی جماعت احمدیہ نے بھی چندہ دیا ۔ ۴۲





    فصل ششم
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کا روح پرور پیغام جماعت احمدیہ فجی کے نام
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ رحمہ اﷲ تعالیٰ نے ۱۹۷۲ء کے آخر میں فجی کے احمدیوں کے نام ایک روح پرور
    پیغام ریکارڈ کرا کے ارسال فرمایا جسے فجی کی جماعتوں کے عام جلسوں اور دیگر تقاریب پر کئی بار احباب نے سُنا اور اپنے ایمانوں کو تازہ اور روح کو زندہ کیا۔ یہ پیغام حسب ذیل الفاظ میں تھا حضور نے تشہدو تعوذ کے بعد فرمایا:۔
    ٓٓ’’فجی میں بسنے والے احمدی بھائیو! السلام علیکم و رحمتہ اﷲ و برکاتہ‘
    مرکز احمدیت سے آپ کے جزائر کا فاصلہ ہزاروں میل کا ہے لیکن صرف آپ ہی مرکز سے اتنے فاصلے پر نہیں مغربی افریقہ میں بسنے والے احمدی بھی ہزاروں میل کے فاصلہ پر ہیں۔ اسی طرح امریکہ میں بسنے والے احمدی آپ سے بھی زیادہ فاصلہ پر بستے ہیں پس محض مرکز سے دوری اخلاص کی کمی اور ایثار اور قربانی سے بے پرواہی پر منتج نہیںہوتی بلکہ فاصلے محبت اور پیار سے اخلاص اور ایثار سے سکڑ جاتے اور زائل ہو جاتے ہیں جو محبت جو ایثار اور غلبہ اسلام کیلئے جو جوشمیں نے مغربی افریقہ کے افریقن احمدیوں میں پایا ہے اگر ویسا ہی اخلاص اور جوش ساری دنیا کے احمدیوں میں ہو جائے۔ آپس میں پیار کرنے لگیں بنی نوع انسان کی خدمت پر کمر بستہ ہو جائیں۔ اور اگر اﷲ تعالیٰ کے حقوق کو بھی اسی طرح ادا کریں جس طرح انہیں اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین اوروصیت کی گئی ہے تو غلبہ اسلام کی مہم جو اﷲ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جاری کی ہے اس کے اور بھی زیادہ خوشکن نتائج بہت جلدی ہماری آنکھوں کے سامنے آجائیں اور اپنی زندگیوں میں ہم غلبۂ اسلام کی آخری فتح اور آخری غلبہ کے ایام اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگیں ہماری روح انہیں محسوس کرنے لگے اور ہماری خوشیوں کی کوئی انتہاء نہ رہے کیونکہ اسی میںہماری خوشی اور مسرت ہے۔ یہ دنیا اور اس دنیا کے اموال اور دنیا کی مسرتیں اور لذتیں حقیقی نہیں ابدی بھی نہیں ہیں۔ ابدی اور حقیقی مسرت تو اﷲ تعالیٰ کے پیار میں انسان کو ملتی ہے اور اسی کی طرف رجوع کر کے اس کے پیار کو ہمیں حاصل کرنا چاہیئے۔ آج اس نے حضر ت نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کر کے ہمیں یہ وعدہ دیا ہے کہ تم نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس موعود عظیم روحانی فرزند کی باتوں کو سنو اور غلبہ اسلام کی جو مہم اس نے جاری کی ہے۔ اس میں حصہ لو معمولی حصہ نہیں بلکہ انتہائی حصہ ساری دنیا کی لذتوں اور دولتوں کو بھول کر اس حقیقی لذت اور حقیقی دولت کی تلاش کرو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ پس اگر تم حقیقی معنیٰ میں پورے اخلاص کے ساتھ خدا کے محمد
    (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کی طرف رجوع کرو گے اور توحید حقیقی پر پوری طرح قائم ہو جاؤ گے اور بے نفس محبت اسلام سے کرو گے اور قران کریم کی عظمت کو دلوں میں بٹھاؤ گے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے متلاشی رہو گے اور خدا تعالیٰ کے لیئے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی عظمت ساری دنیا کے دل میں بٹھانے کی کوشش کرو گے تو اپنے لیئے اﷲ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لو گے۔ اگر نہیں کرو گے تو دنیا تو تباہی کی طرف جارہی ہے تم اس قافلہ کے ساتھ کیوں شامل ہوناچاہتے ہو جس کے لیئے ہلاکت مقدر ہو چکی ہے تم اس جماعت میں پوری طرح اور اخلاص سے کیوں رہنا نہیں چاہتے کہ جس کے لیئے دنیا کی عزتیں اور آخرت کی عزت مقدر ہو چکی ہیں اور جو پیدا ہی اس لیئے کئے گئے ہیںکہ اﷲ تعالیٰ انہیں اپنی رحمتوں سے اپنے فضلوں اور پیار سے نواز ے۔
    خدا تعالیٰ آپ کو بھی اور ہمیں بھی اور دنیا میں ہر جگہ بسنے والے احمدیوں کو بھی یہ توفیق عطا کرے کہ سب احمدی انفرادی طور پر بھی اور جماعتی لحاظ سے بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگیں اور جو کام اﷲ تعالیٰ نے ان کے سپرد کیا ہے خدا تعالیٰ کی رضا کے لیئیوہ اس کام میں ہمہ تن مشغول رہیں اﷲ تعالیٰ کی رضا کو پائیں اور ابدی جنتوں کے وہ وارث ہوں آمین اﷲ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ السلام علیکم ‘‘ ۴۳
    بیت مبارک کی بنیاد
    جزائر فجی کا دوسرا بڑا جزیرہ وینوالیوو (VANUALEVU)ہے جس کا ہیڈ کوارٹر لمباسہ شہر ہے ۔۲۶؍نومبر۱۹۷۲ء کو اس شہر
    میں مسجد مبارک کی بنیاد رکھی گئی۔ اس روز جزیزہ میں واقع تمام احمدی جماعتوں نے پر جوش وقار عمل منایا اجتماعی وقار عمل کا دلکش نظارہ ملکی شاہراہ پر آنے جانے والے ہر شخص کو متاثر کرتا تھا۔ پہلی اینٹ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری نے اور دوسری مولوی غلام احمد صاحب فرّخؔ نے رکھی۔ ۴۴
    جزائر مشرقی بحرالکاہل میں
    قرآن کریم کی وسیع اشاعت
    حضرت خلیفہ المسیح الثالثؒ کی تحریک خاص کے مطابق جہاں دنیا بھر کے دوسرے احمدی مشنوں میں وسیع پیمانہ پر قرآن کریم کی اشاعت ہوئی وہاں فجی مشن کی طرف سے ۱۹۷۲ء سے بڑی
    تعدادمیں چھوٹے بڑے سائز کے قرآن کریم سادہ اور مترجم اردو انگریزی میں مع تفسیر اور مقامی زبان میں بھی مفت اور برائے نام ھدیہ پر بکثرت تقسیم کئے گئے۔ فجی کے پانچ مشہور ہوٹلوں میں قرآن کریم انگریزی کے جو نسخے رکھوائے گئے ان کی تعداد ایک ہزار تھی۔ چنانچہ مولوی محمدصدیق صاحب نے اپنی ایک رپورٹ میں اطلاع دی کہ
    ’’آسٹریلیا ۔ نیوزی لینڈ۔ فجی ۔ جزائر ٹونگا۔ پاپوا۔ نیوگنی۔ جزائر کوک (COOK)مغربی اور مشرقی ساموا (SAMOA)جزائر نیوہر برڈیز اور ہونیارا وغیرہ ان سب ممالکِ بحر الکاہل کی یونیورسٹیوں‘ کالجوں‘ پبلک لائبریریوں ‘ سکولوں‘ ہوٹلوں‘ مختلف سوسائیٹیوں‘سوشل کلبوں اور نادیوں وغیرہ کی لائبریریوں کو قرآن کریم کے مختلف بڑے چھوٹے انگریزی ایڈیشن مفت پیش کئے گئے ہیں جو کہ شکریہ کے ساتھ قبول کئے گئے اور اب ان لائبریریوں کی الماریوں میں رکھے ہوئے ہیں اور پبلک ان سے فائدہ اٹھاتی ہے۔اس کے علاوہ بیسیوں نادار طالب علموں‘ یونیورسٹی کے پروفیسروں‘ ٹیچروں وغیرہ نے ہم سے خود بھی قرآن کریم طلب کئے اور کرتے رہتے ہیں اور بعض کو مفت پیش کیے گئے اور بعض نے خود پیشگی قیمتیں ادا کیں بعض خود آ کرلے جاتے ہیں۔ جزائر فجی میں باہر سے آنے والے بڑے بڑے شاہی اور معزز مہمانوں ‘ بادشاہوں چیفوں‘ گورنروں ‘وزرائے اعلیٰ اور پارلیمنٹوں کے مختلف ممبروں‘ ہائی کمشنروں‘ ملکی سفیروں میں سے اکثر کو خود بطور نمائندہ جماعت یا تبلیغی وفد کی صورت میں مل کر تبلیع اسلام کی گئی جس کے بعد انہیں قرآن کریم انگریزی سوانح آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم‘ اسلامی اصول کی فلاسفی اور دیگر اسلامی کتب پیش کی جاتی رہیں جو کہ ہر ایک نے شکریہ کے ساتھ قبول کیںاور بعض نے اپنے ملک واپس جا کر شکریہ کے خطوط بھی لکھے ایسے اکثر اسلامی لٹریچر اور قرآن کریم کا مالی ہدیہ یا قیمت جماعت احمدیہ فجی کے بعض مخلص اور مخیّر احباب حصول ثو اب کی خاطر اپنی جیب سے مشن کو ادا فرماتے رہے ‘‘ ۴۵
    گورنر جنرل فجی کو اسلامی لٹریچر
    حمدیہ
    ۱۵؍فروری ۱۹۷۳ء کو مولانا محمد صدیق صاحب انچارج مبلغ فجی کی قیادت میں ایک
    احمدیہ تبلیغی وفد نے گورنر جنرل سے ملاقات کی اس گفتگو کے بعد تبلیغی ایڈریس پڑھا اور ان کو قرآن کریم اور دیگر اسلامی لٹریچر کی پیس کش کی جس کا انہوں نے بہت شکریہ ادا کیا اور اس شدید خواہش کا اظہار بھی کیا کہ قرآن کریم کا فجین زبان میں ترجمہ جلد از جلد شائع کیا جائے۔ تاکہ ملک کے اصلی باشندے اسے خود بلاواسطہ پڑھ کر معلوم کر سکیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ یہ تقریب بخیروخوبی ختم ہوئی جس کے بعد مقامی اخبارات میں اسکی خبریں اور فوٹو بھی شائع ہوئے۔ ۴۶
    ۲۲؍اپریل۱۹۷۳ء کو احمدیہ بیت لوٹو کا کا افتتاح عمل میں آیا ۔ اس بیت کی تعمیر میں ماسٹر محمد حسین صاحب نے بڑی محنت سے دن رات کام کیا تھا ۔ مولانا غلام احمد صاحب فرخؔ نے اس تقریب پر احباب کو تعمیر بیت کے بعد انکی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ۴۷
    ۳؍اگست ۱۹۷۴ء کو لمباسہ شہر کی نئی بیت احمدیہ ’’بیت ناصر‘‘ کا افتتاح عمل میں آیا۔ اس موقع پر فجی کے تمام احمدی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ریڈیو فجی نے اس کے افتتاح کے بارہ میں اعلانات کئے اور روزنامہ فجی نے اس کے افتتاحکے دلکش فوٹو شائع کئے۔ ۴۸
    ۸۔۹۔۱۰۔۱۱؍اکتوبر ۱۹۷۴کو حکومت فجی کی طرف سے آزادی کا رسالہ اور حکومت برطانیہ سے الحاق کاسوسالہ جشن منایا گیا۔ اس موقعہ پر تقریبات میں حصہ لینے کے لیئے ملکہ برطانیہ نے اپنے فرزندپرنس چارلس کو بھیجا جو پرنس آف ویلز ہیں۔ مولوی غلام احمد صاحب فرخؔ نے جماعت احمدیہ فجی کی طرف سے انہیں ایک تبلیغی مکتوب لکھا نیز قرآن کریم کی انگریزی تفسیر کا تحفہ ارسال کیا جس کو انہوں نے جذبات تشکر کے ساتھ قبول کیا چنانچہ ان کی سینئرلیڈی سیکرٹری نے ان کی طرف سے بکنگھم پیلس سے شکریہ کا خط لکھا۔ ۴۹
    ریڈیو فجی سے احمدیت کا چرچا
    حکومتِ فجی نے مذہبی رواداری کی سنہری روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیشہ پُرامن
    مذہبی اداروں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ مولوی غلام احمد صاحب فرّخؔ نے نومبر ۱۹۷۳ء میں ریڈیو فجی کے ڈائریکٹر سے ملاقات کر کے ریڈیو پر دوسرے فرقوں کے برابر وقت دیئے جانے کی درخواست کی جو انہوں نے فراخدلی سے منظور کر لی اور ۱۹۷۴ء سے احمدیہ مشن کو دوسرے فرقوں کے برابر صبح کے مذہبی پروگراموں اور دوسرے یادگاری مواقع پر تقاریر نشر کرنے کے مواقع دیئے جانے لگے اور یوم مسیح موعود‘یوم مصلح موعود‘ یوم خلافت‘ جلسہ سالانہ جماعت فجی‘ یوم سیرت النبیؐ‘ رمضان المبارک اور عیدین کے موقع پر مبلغین احمدیت کی تقریریں خبروں کے بعد نشر ہونے لگیں۔ اس طرح پورے ملک میں احمدیت کیآواز گو نجنے لگی۔ ۵۰
    بیت مبارک کا افتتاح
    ۳ ؍ اگست ۱۹۷۴ء کو جزیرہ وینوالیوا (VANUALEVU)
    کے دارالحکومت لمباسہ میںمولانا غلام احمد صاحب فرّخؔ
    نے بیت مبارک کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے بذریعہ ٹیلیگرام حسب ذیل پیغام عطا فرمایا ۵۱
    ’’ فجی میں اس احمدیہ بیت الذکرکے افتتاح کے موقعہ پر میری طرف سے تہ ِدل سے مبارکباد۔ خدا تعالیٰ اس مسجد کو اس علاقہ میں اسلام کی عظمت و شان اور مُسلمانوں کی مضبوطی کا موجب بنائے۔ اسلام اور احمدیت کی خدمت بے نفس ہو کر اخلاص کے ساتھ بجا لائیں اور اس کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کریں۔ میری طرف سے جملہ احباب کو جو اس تقریب میں شامل ہیں اور اسکی کامیابی کے لئے کوشاں ہیں السلام علیکم۔ اﷲ تعالیٰ آپ سب کو کامیاب فرمائے۔ ‘‘
    یاساوا گروپ کے جزائر کا تبلیغی دورہ
    مولوی عبدالرشید صاحب رازی نے ماہ نومبر ۱۹۷۴ء میں یا ساواگروپ
    کے جزائر کا وسیع تبلیغی دورہ کیا اور انفرادی ملاقاتوں اور پبلک جلسہ کے ذریعہ پیغام حق پہنچایا۔ ۵۲




    فصل ہفتم
    بیت فضل عمر کی بنیاد اور امام ھمام کا پیغام
    ۸ ؍دسمبر۱۹۷۴ء کو صوا میں جماعت احمدیہ کی بیت فضل اور مشن ہاؤس کے سنگ بنیاد کی تقریب عمل میں آئی۔ اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے حسب ذیل ایمان افروز پیغام ارسال فرمایا:۔
    بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولٖہ الکریم و علیٰ عبدہ المسیح الموعود
    خدا کے فضل اور رحم کیساتھ
    ھو الناصر
    جان سے عزیز بھائیو!
    السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ‘
    مجھے یہ معلوم کر کے از حد مسرت ہوئی کہ آپ نے بیت فضل عمر کی بنیادوں کی کھدائی کا کام اپنے ہاتھ سے خود کیا ہے۔ آج آپ اس کا سنگِ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ یہ دن نہ صرف جماعت ہائے احمدیہ فجی بلکہ جزائر فجی کے جملہ اہالیان کے لیئے ہر طرح بابرکت ثابت کرے۔ اس علاقہ میں اس بیت الذکرکو اعلاء کلمہ اسلام کے لیئے مرکز ثابت کرے اس طرح کہ اہالیان فجی کے دلوں میں انابت الی اﷲ اور خشیت اﷲ پیدا ہو جائے اور وہ اپنے دلوں کو پاک اور صاف کر کے خدائے واحد کے حضور جھک جائیں اور اس کے بندے بن جائیں۔ اے خدا ! تو ایسا ہی کر۔
    اس کے ساتھ میں احبابِ جماعت کو یہ نصیحت کروں گا کہ ہماری بیوت ذکر الٰہی سے معمور رہنی چاہیں۔ نہ صرف پنجوقتہ نمازوں کے اوقات میں بلکہ دیگر اوقات میں بھی ہماری مساجد دعاؤں‘نوافل‘ تعلیم و تعلّمِ قرآن ‘ تبلیغ حق اور تربیت نفوس کے مراکز بنی رہنی چاہیں۔ اﷲ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اور جملہ احباب کو بیوت کے فیوض و برکات سے پوری طرح متمتع ہونے کی سعادت نصیب کرے۔ آمین
    یہ دور ابتلاؤں اور آزمائشوں کا دور ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ اپنے فضل سے احباب جماعت کو ایمان پر استقامت بخشے‘ ثابت قدم رکھے۔ اور اس راہ میں ہر قربانی پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسے قبول کرے۔آمین
    مرزا ناصر احمد
    خلیفۃالمسیح الثالث(۳؍دسمبر ۱۹۷۴ء ۔ ۱۳۵۳ ھش) ۵۳
    جماعت احمدیہ فجی نے جنوری ۱۹۷۵ء میں ’’مسلم سن رائز‘‘ کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ جاری کیا۔ ۵۴
    اقوام متحدہ کی ایک اہم مسلمان شخصیت کی طرفسے مبارک باد
    وسط ۱۹۷۷ء میں جنوبی بحرالکاہل میں واقع COOK ISLANDمیں اقوام متحدہ کی طرف سے متعین CENSUS ADVISERمسٹر محمد سراج الاسلام
    دارلحکومت صوا میں تشریف لائے اور اس کیمشہور ہوٹل PACIFIC HOTELمیں قرآن مجید کا وہ انگریزی ترجمہ دیکھا جو جماعت احمدیہ فجی نے اشاعت قرآن کی مہم کے دوران دوسرے مقامات کے علاوہ یہاں بھی رکھوایا تھا۔ وہ اس ترجمہ سے از حد متاثر ہوئے اور واپس COOK ISLANDمیں آ کر احمدیہ مشن فجی کو قرآن مجید اور اسلامی لٹریچر بھجوانے کی فرمائش کی جو انہیں ارسال کر دیا گیا۔ جسے پڑھکر انہوں نے جماعت احمدیہ کو مبارک باد پیش کی۔ چنانچہ انہوں نے مولوی دین محمد صاحب انچارج فجی مشن کے نام حسب ذیل مکتوب لکھا۔
    (ترجمہ) ’’قرآن مجید کا ایک نسخہ اور دیگر اسلامی مطبوعات کو پا کر میں بہت خوش ہو اہوں۔ مجھے یہ معلوم کر کے بھی بہت خوشی ہوئی ہے کہ احمدیہ مشن اسلام کے حسین پیغام کی تبلیغ و اشاعت کا اہم فریضہ سرانجام دینے میں مصروف ہے۔ قرون اُولیٰ میں مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی ہے۔ اور اُن کی ناقابل تسخیر قوّت اس بات میں تھی کہ وہ اسلام کی تبلیغ کرتے رہے ۔ مگر افسوس کہ اب مسلمان اسلام کی تبلیغ و اشاعت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ غریب ‘ پسماندہ‘ شکست خوردہ اور ناپسندیدہ عنصر ہو کر رہ گئے ہیں۔ میں جماعت احمدیہ کو تبلیغ اسلام کی اہم خدمت کے سرانجام دینے پر مبارک باد کہتا ہوں‘‘۔
    آپکا دلی دوست۔ محمد سراج الاسلام ۵۵
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ
    کی دعا سے بارانِ رحمت
    جناب مولوی شیخ سجاد احمد صاحب خالد تحریر فرماتے ہیں کہ
    ’’جب ۱۹۷۷ء میں خاکسار فجی پہنچا تو مجھے
    معلوم ہوا ۔ کہ اس ملک کے باشندے اس سال بارش کی بڑی شدّت سے کمی محسوس کر رہے ہیں اورخشک سالی سے سخت پریشان ہیں۔ مُلک کے مولوی صاحبان بارش کے لئے دُعائیں کر چکے تھے۔ اور ہندو پنڈت کھلے میدانوں میں آگ جلا جلا کر بارش برسانے والے دیوتاؤں سے بارش کے لئے التجائیں کر چکے تھے۔ اس ملک کے ہندوؤں میں یہ رسم ہے کہ اگر حسبِ ضرورت بارش نہ ہو اور قحط سالی کا خطرہ ہو تو میدانوں میں نکل کر آگ جلاتے اور ڈھول بجا بجا کر اپنے دیوتاؤں کو بارش کی کمی کا احساس دلاتے ہیں۔ تاہم اس وقت ان کی سب رسمیں اور دیوتا بیکار اور بے جان ثابت ہوئے اور بارش نہ ہوئی۔ جس سے حکومتی حلقوں میں بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا کیونکہ یہ خشک سالی تقریباً سال بھر لمبی ہو گئی تھی۔ جو ملک کے لئے سخت نقصان دِہ تھی۔
    اس دَوران ایک روز قصبہ مارو میں خاکسار برادرم مکرم ماسٹر محمد یونس خانصاحب کے مکان پر سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اﷲ تعالیٰ کی خدمت میں خط لکھ رہا تھا مکرم ماسٹر یونس صاحب کو جب یہ معلوم ہوا تو کہنے لگے کہ ابھی ابھی اسی وقت حضور کی خدمت میں خصوصی طور پر لکھیں کہ سال بھر سے سارے ملک فجی میں بارش کا فقدان اور خشک سالی تباہی کا موجب ہو رہی ہے اور ملک کے لوگوں کی اور ہماری دعائیں اور دیگر رسوم بھی سب بے کار ثابت ہو چکی ہیں۔ حضور اس ملک کے باشندوں پر رحم فرماتے ہوئے متواتر خاص دعا فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ جلد از جلد اس سر زمین کو حسبِ ضرورت بارش سے سیراب فرمائے نیز میری طرف سے یہ بھی خاص التجا کریں کہ اپنے ایک ادنیٰ مرید ماسٹر محمد یونس خان کیلئے دعا فرمائیں کہ اﷲ تعالیٰ اسے ہائی بلڈ پریشر کی تکلیف سے شفا عطا فرمائے۔
    خاکسار نے اسی وقت ان دونوں اہم امور کے لئے حضور کی خدمت میں خاص دعا کی درخواست لکھ کر روانہ کر دی۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس سلسلہ میں حضور کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور خط کا جواب آنے سے پہلے پہلے سارے ملک میںاتنی شدید بارشیں ہوئیں کہ ہر طرف ہر یالا اور سبزی ہی سبزی ہو گئی اور ہر شخص کی زبان پر بلکہ لوکل اخباروں میں اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ کئی سالوں کے بعد ملک میں اتنی اچھی اور وسیع پیمانے پر بارشیں ہوئی ہیں۔ لیکن یہ بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ پاکستان کے دریائے چناب کے کنارے بسنے والے ایک مردِ با خدا حضرت امام جماعت احمدیہخلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اﷲ تعالیٰ کی مخلصانہ اور درد مندانہ دعائیں فجی میں اس بارانِ رحمت کے نزول کا موجب ہوئی ہیں۔ مکرم ماسٹر محمد یونس خانصاحب کی صحت کے لئے بھی اﷲ تعالیٰ نے حضور کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا وہ خدا کے فضل سے اب صحت یاب ہیں اور جماعتی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینے والے مخلص جوان ہیں۔فالحمد للہ تعالی۔ ۵۶
    خوابوں کے ذریعہ رہنمائی اور قبولِت احمدیت
    دنیا کے دوسر ے ممالک کی طرح جزائر فجی میں بھی بہت سے ایسے مخلص احمدی دوست موجود ہیں جن پر اﷲ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کے نتیجہ میں بذریعہ
    خواب احمدیت کی صداقت کا انکشاف فرما کر انہیںجماعت احمدیہ میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس سلسلہ میں بطور نمونہ صرف ایک خواب کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
    ماروکے مکرم محمد بشیر خاں صاحب تحریر کرتے ہیں کہ
    ’’جزائر فجّّّّی میں احمدیت کے چرچا اور احمدیہ مشن کے قیام سے پہلے وہاں عیسائیت کا بہت زور تھا۔ اور حضرت عیسٰیؑکی آسمان سے آمد کے عیسائی بھی مسلمانوں کی طرح منتظر تھے جس کی وجہ سے یہ خیال میرے دل میں گھر کرنے لگا۔ کہ عیسائیت سچی ہے اور عیسائی ہو جانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے تاہم اﷲ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔ میں ابھی عیسائی نہیں ہوا تھا بلکہ سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے خواب میں ایک نہایت بزرگ انسان ملے۔ انہوں نے بڑے جلال سے مجھے فرمایا‘‘ ۔ محمد بشیر ہوش کرو۔ جس شخص کی تمہیں تلاش ہے وہ عیسٰیؑ یا مسیح ناصریؑ نہیں ہے بلکہ وہ کوئی اور ہے اور دنیا میں ظاہر ہو چکا ہے۔ اس وقت جزائر فجی کے پہلے مبلغ جناب شیخ عبدالواحد صاحب فاضل فجی میں آ چکے تھے اور میرے والد محترم مولوی محمد قاسم صاحب بھی بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شمولیت اختیار کر چکے تھے۔ لیکن میرا اس طرف رجحان نہیں تھا۔ تاہم مذکورہ بالا خواب دیکھنے کے بعد میرا رجحان احمدیت کی مبائعجماعت کی طرف ہو گیا اور میں نے بھی اپنے والد صاحب کی طرح شرحِ صدر سے بیعت کر لی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی … کی بیعت کر لینے کے بعد مجھے سلام سے ایسی محبت اور لگاؤ پیدا ہو گیا اور ایسے فہم و فراست سے اﷲ تعالیٰ نے سرفرازفرمایا کہ میں عیسائیوں کے سامنے نہایت جرأت اور یقین سے اسلام کی حقانیت اور عیسائیت کے موجودہ عقائد کا بطلان ثابت کرنے لگ گیا اور مَیں نے اﷲکا تہہ دل سے شکر ادا کیا کہ صداقت مجھ پر کُھل گئی اور مَیں محمد رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ وسلم کے سچّے اور حقیقی غلاموں میں شامل ہو گیا ہوں۔‘‘ ۵۷












    فصل ہشتم
    جلسہ سالانہ 1977ء اور بیت فضل عمر اور لائبریری کا افتتاح
    ۲۵۔۲۶دسمبر ۱۹۷۷ء کو سوا(SUVA)کی بیت فضل عمر میں جماعت احمدیہ جزائر فجی کا نہایت کامیاب سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔ ملک بھر سے احباب جماعت ہوائی جہازوں‘ کاروں
    اور سپیشل بسوں سے سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے 500کی تعداد میں شامل ہوئے۔ جلسہ میں شامل مہمانوں اور زائرین کے قیام و طعام کا انتظام جلسہ سالانہ ربوہ کی طرز پر نہایت منظم رنگ میں کیا گیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا حسب ذیل پیغام اس موقع پر مولوی دین محمد صاحب شاھد ایم اے نے پڑھ کر سنایا۔
    ’’ اﷲ تعالیٰ آپ کے جلسہ سالانہ کو بابرکت کرے۔ متحد رہو اور خلافت کے تقدّس کو ہمیشہ ملحوظ رکھو اور اسکی عزت کرو ۔ اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کو دُعاؤں سے عاجزی کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اور پوری فرمانبرداری اور اطاعت سے حاصل کرو‘‘۔
    خلیفۃ المسیح الثالثؒ
    اس موقع پر پندرہ ہزار فجین ڈالر کے خرچ سے تعمیر ہونے والی پُر شکوہ بیت فضل عمر اور اس سے ملحق احمدیہ لائبریری کا افتتاح بھی عمل میں آیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے حسب ذیل مبارک پیغام احمدیہ لائبریری کی افتتاحی تقریب پر ارسال فرمایا تھا۔
    خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    برادران عزیر! السلام علیکم و رحمۃ اﷲ برکاتہ‘
    ’’مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ بیت فضل عمر (کے پہلے مرحلہ کی تکمیل پر) اور اس کے ساتھ ملحق لائبریری اور دارالمطالعہ کے افتتاح کی تقریب منعقد کر رہے ہیں۔
    دین حق میں بیت الذکرایک مقدّس جگہ ہے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا گھر کہلاتا ہے۔ اور یہ خالص اﷲ تعالیٰ کی عبادت کے لیئے مخصوص ہے۔ یہ مقدّس جگہ لوگوں کے دلوں میں اﷲ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے لیئے اور ان کی توجہ کو مذہب کی طرف بُلانے کے لیئے ہے۔ جو دنیا میں امن اور خوشحالی پیدا کرنے کا واحد ذریعہ اور ضمانت ہے۔ جب یہ صورت حال ہے تو اس بیت کے دروازے ہر اُس شخص کے لیئے کُھلے رہیں گے جو خدائے واحد و یگانہ سے دعا مانگنا اور اسکی عبادت کرنا جس طریق پر چاہے کر سکتا ہے بشرطیکہ
    ۱۔ وہ ان لوگوں کی عبادت میں مخل نہ ہو جنہوں نے اس بیت کو اپنی دینی ضروریات کے لئے بنایا ہے۔
    ۲۔ وہ اس بیت الذکر کے قواعد و قوانین کی پابندی کرے جو اس کے ٹرسٹیوں کی طرف سے بنائے گئے ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس طریق سے رواداری کی جو فضا پیدا ہو گی وہ آگے چل کر مختلف طبقوں کے درمیان باہمی نفرت جھگڑوں کو فسادوں کو دُور کر کے اُن کے درمیان خیر خواہی اور اچھے تعلقات اور محبت کی فصا پیدا کرنے کا موجب ہو گی۔
    مجھے امید ہے۔ وہ دن دور نہیں جبکہ لوگ لڑائی اور فساد کے طریق کو نفرت سے دیکھیں گے اور دوسرے کے ساتھ امن اور سلامتی اور محبت سے رہنے کا سبق سیکھ لیں گے۔
    میں اﷲ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ ان تمام مردوں اور عورتوں کی قربانیوں کو قبول فرمائے جنہوں نے اس بیت کی تعمیر کے لئے عطایا دیئے۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ یہ بیت حضرت محمد رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ وسلم اور آپ کے جلیل القدر متبع حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ظاہر ہونے والی ہدایت اور روشنی کو پھیلانے کا مرکز اور ذریعہ بنے۔ ‘‘
    والسلام
    آپ کا دلی دوست مرزا ناصر احمدخلیفۃ المسیح الثالثؒ
    مورخہ۷۷۔۱۱۔۱۰ ۵۸
    ایک خاندان کے قبول احمدیت کی دلچسپ روداد
    جناب شیخ سجّاد احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’ جزائر فجی میں تبلیغ کے دوران اﷲ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے بے شمار جلوے دیکھنے کا مجھے شرف حاصل ہوا۔ ۱۹۷۷ء کے آخر میں ایک مرتبہ اس ملک کے
    جزیرہ لمباسہکے تبلیغی دور ے پر گیا۔ جس کے دوران قصبہ نصروانگا کے ایک مخلص احمدی بھائی نور شاہ صاحب نے پروگرام بنایا کہ وہاں سے ۴۰میل دور BUAڈسٹرکٹ میں اُن کے خسرعبدالغفور صاحب کے گھر پہنچ کر اُن کو تبلیغ کی جائے۔ وہ عرصہ سے زیر تبلیغ تھے۔ اور احمدیت کی سچائی کا اقرار کرنے کے باوجود جماعت میں شمولیت سے گریز کر رہے تھے۔
    چنانچہ نور شاہ صاحب ‘ مکرم حامد حسین صاحب ‘ مکرم محمود شاہ صاحب ‘ مکرم محمود شاہد صاحب اور خاکسار پر مشتمل تبلیغی وفد ایک روز عبدالغفور صاحب کے گھر پہنچا۔ انکی بیگم صاحبہ کو ہمارا اس غرض کے لیئےآنا سخت ناگوار گذرا اور دیکھتے ہی کچن سے نکل کر ہمیں ڈانٹ ڈپٹ شروع کر دی اور کہنے لگیں کہ ان کے گھر میں احمدیت کے بارہ میں کوئی بات نہ کی جائے اور کچن میں واپس چلی گئیں ۔ ہم مکرم عبدالغفور صاحب کو تقریباً ایک گھنٹہ تبلیغ کرتے رہے۔ چنانچہ انہوں نے شرح صدر ہونے پر بخوشی بیعت فارم پُر کر دیا۔ دُعا کے بعد جب ان کی بیگم کو پتہ لگا کہ اُن کے خاوند نے بیعت کر لی ہے۔ تو بہت جُز بُز ہوئیں اور کمرے میں آتے ہی شور ڈالدیا کہ آپ نے ہمارے گھر میں فتنہ ڈالدیا ہے۔ میری بیٹی اور داماد پہلے ہی احمدی ہیں۔ اب آپ لوگوں نے میرے خاوند کو بھی احمدی بنا لیا ہے ابھی آپ فوراً یہاں سے چلے جائیں۔ اس پر خاکسار نے اُن کو بڑی نرمی اور عاجزی سے سمجھایا کہ ہم نے کوئی بُرا کام تو نہیں کیا۔ اﷲ تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ اور امام وقت کی بیعت ہی کرائی ہے۔ اور اب باقاعدہ الٰہی جماعت میں شمولیت سے ان کے اسلام کو چار چاندلگ گئے ہیں۔ اس پر وہ سنجیدہ ہو کر سوالات کرنے لگیں۔ جن کے خاکسار جواب دیتا رہا۔ حتّٰی کہ ان کے شکوک و شبہات بھی سب دور ہو گئے اور انہوں نے بھی اسی وقت بیعت کر لی۔ اس وقت کا ماحول روحانی لحاظ سے اتنا پیارا اور خوشگوار ہو گیا۔ کہ بیگم عبدالغفور صاحب خود ہی کہنے لگیں۔ کہ اگر بیعت کرناا ور امام وقت کی جماعت میں شامل ہونا نیکی کا کام ہے تو آپ میرے بیٹے محمد تقی کو بھی ضرور اس میں شامل کریں۔ تاکہ ہمارے کنبے میں کوئی اختلاف نہ رہے اس پر ہم سب اِن کے بیٹے محمد تقی صاحب کے گھر گئے میںنے انہیں کہا۔ کہ ہم آپ کے لیئے پاکستان سے ایک تحفہ لے کر آئے ہیں۔ وہ ہم اس شرط پر آپکو پیش کریں گے کہ آپ اسے ردّ نہ کریں چنانچہ دو گھنٹہ کی بحث کے بعد ان کی تسّلی ہو گئی اور انہوں نے بھی بیعت کر لی اور یوں اﷲ تعالیٰ کے فضل سے یہ سارا خاندان ہدایت پا گیا۔ ۵۹
    کسر صلیب کانفرنس کی بازگشت فجی میں
    بین الاقوامی کسر صلیب کانفرنس لنڈن (منعقدہ ۲۔۳۔۴؍جون ۱۹۷۸ء )کی بازگشت فجی کے طول و عرض میں بھی سُنی گئی۔ چنانچہ ریڈیو فجی میں اس کانفرنس کی تفصیل نشر ہوئی۔ اور فجی کے کثیر الاشاعت اور بااثر انگریزی
    اخبارات ’’ فجی ٹائمز‘‘ اور ’’فجی سن‘‘ ۶۰نے نہ صرف کانفرنس کی تفصیلات دیں بلکہ حضرت مسیح ناصریؑ کی صلیبی موت سے نجات اور قبر کشمیر کے بارہ میں نہایت دلچسپ‘ ایمان افروز اور مبسوط با تصویر مضامین سُپرد اشاعت کیئے۔ جس سے فجی کے علمی حلقوں پر انکشافات جدیدہ کی روشنی میں حضرت مسیح موعود ؑکے جدید علم کلام کی عظمت و برتری کا سکّہ بیٹھ گیا ۔
    جلسہ سالانہ ۱۹۷۸ء کیلئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا پیغام
    ۲۵۔۲۶؍دسمبر ۱۹۷۸ء کو جماعت احمدیہ جزائر فجی کا سالانہ جلسہ ملک کے داراکحکومت سوا (SUVA)میں منعقد ہوا۔ اس جلسے کیلئے حضرت خلیفۃ المسیح نے
    حسب ذیل پیغام بذریعہ کیبل گرام ارسال فرمایا۔
    " May Allah bless your 9th annual convention. Seek His help through humble prayers, submissions and prayers and set a high standard in the prctical life. Hold fast to the rope of Allah and make your lives living proof of the teachings of Islam. My thoughts and prayers are always with you, your ever loving KHALIFATUL MASIH"
    ترجمہ:۔ اﷲ تعالیٰ آپ کے نویں سالانہ جلسہ کو بابرکت فرمائے عاجزانہ دعاؤں سے عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اور پھر دعاؤں سے اﷲ تعالیٰ کی مدد و نصرت کو حاصل کرو۔ عملی زندگی میں کردار کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کرو۔ اﷲ تعالیٰ کی رسیّ کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کا زندہ نمونہ بناؤ۔ میری توجہ اور دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔ آپ سے ہمیشہ پیار کرنے والا۔
    خلیفۃ المسیح ۶۱
    بیت بلال کا افتتاح
    ۳؍دسمبر ۱۹۷۸ء کوصبح دس بجے نساواکا کی ’’بیت بلال‘‘ کا افتتاح جناب مولوی دین محمد صاحب نے سیّدنا حضرت خلیفۃ
    المسیح الثالثؒ کے مندرجہ ذیل مبارک پیغام سے کیا۔
    ’’ خدا تعالیٰ کے اس گھر سے ہمیشہ پیار کریں اور آباد رکھیں اﷲ تعالیٰ آپکو اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی اس گھر میں مقبول دعاؤں کی توفیق عطا فرماتا رہے‘‘۔ ۶۲
    حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا پیغام خدام الاحمدیہ فجی کے نام
    مجلس خدام الاحمدیہ جزائر فجی کا پہلا سالانہ تربیتی اجتماع ۱۱؍فروری ۱۹۷۹ء کو مارو میں منعقد ہوا۔ جزائر فجی کی تاریخ میں نوجوانوں کا ایسا بڑا خالص دینی اور اسلامی اجتماع پہلی دفعہ
    منعقد ہوا۔ جس پر احمدی احباب بہت خوش تھے اس کامیاب افتتاح کا آغاز سیدنا حضرت خلیفۃ الثالث ؒکے درج ذیل ایمان افروز پیغام سے ہوا جو مولوی دین محمد صاحب شاھد ایم اے نے پڑھکر سنایا۔
    اﷲ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھو الناصر
    پیارے بھائیو ! اراکین خدام الاحمدیہ
    السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ‘
    مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ فروری کے دوسرے ہفتہ میں اپنا عام اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔اﷲ تعالیٰ آپ کے اس اجتماع کو بابرکت اور کامیاب بنائے (آمین)
    اس موقع پر میں آپکو یاد دلاتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کے ممبر ہونے کی حیثیت سے آپ کے کندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ جانتے ہیں۔ کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا بنیادی مقصد ایک عالمی اسلامی نظام قائم کرنا تھا۔ اور یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا۔ جب تک ہم اپنی سوچ اور اپنے کاموں میں ایک مکمل تبدیلی نہ پیدا کر لیں ۔ لہذا ہمارے خدام کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ سادہ زندگی اچھے اخلاق و اطوار‘ اسلامی اصول ونظریات کو اپنا مطمح نظر بنانے کی کوشش اور بلا امتیاز قوم و نسل انسان کی خدمت کے لیئے اپنی زندگی وقف کرنے کی ایک مثال قائم کر دیں ۔ لوگوں کے دلوں کو جیتنے کے لئے ہمیں گولیوں اور تلواروں کی ضرورت نہیں ہمارا اسلحہ خانہ تو تقویٰ ‘ دعاؤں نظم و ضبط اور اﷲ تعالیٰ کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے۔
    خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس زمانہ میں اسلام‘ قرآن کریم اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلّم کی عزت کو دوبارہ قائم کرے۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ اس کام کو کرنے کے لئے ہمیں ذاتی آرام کا خیال کیئے بغیر دیوانہ وار دن اور رات کام کرناہو گا۔ یہ بات واضح ہے کہ ہم احمدیت اور قرآن کریم کا پیغام اس وقت تک دوسروں تک نہیں پہنچا سکتے جب تک ہمیں خود ان کا پورا علم نہ ہو۔ اس لیے خدّام الاحمدیہ کو اپنا فرض قرار دے لینا چاہیے کہ وہ قرآن کریم کو اتنا اچھے طور پر سیکھیں جتنا اچھے طور پر وہ سیکھ سکتے ہیں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی کتب جو دین حق کی صحیح تصویر پیش کرتی ہیں کا مطالعہ بھی کرنا ہے اور یہ بھی دیکھیں کہ کوئی احمدی (مرد ہو یا عورت ) ان پڑھ نہ رہے۔آپ کو اس امر کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنا امتی نبی اور مہدی مبعوث کر کے اور خلافت کو دوبارہ قائم کر کے تمہارے دلوں کو متحد کر دیا ہے اور تم میں باہمی محبت پیدا کر دی ہے تمہیںنظام خلافت کے تقدس کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے تمہیں سب سے زیادہ فکر اس با ت کی ہونی چاہئے کہ امام وقت سے جو ہر وقت تمہاری بھلائی کے لئے کو شاں رہتا ہے اور متواتر تمہارے لئے دُعا کرتا ہے تمہارا ذاتی تعلق قائم ہو۔ اﷲ تعالیٰ تمہیں عزم اور ہمت عطا کرے تا تم ایک سچے …کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکو۔ آمین ’’خلیفۃ المسیح الثالثؒ ‘‘ ۷۹۔۱۔۲۲ ۶۳







    فصل نہم

    حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کا روح پرور پیغام جلسہ سالانہ فجی ۱۹۷۹ء پر
    جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ فجی کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثالثؒ نے مندرجہ ذیل پیغام مرحمت فرمایا۔
    ‏Message of Hazrat Khalifatul Masih III
    ‏To The Ahmadies of Fiji Islands
    I am glad to hear that the Jamaats in Fiji Islands are holding their annual Jalsa on 25th and 26th December, 1979, May Allah bless this Jalsa and its participants. May it prove to be a step towards the realization of our goal ________ the propagation of Islam in the world.
    On the occasion of this Jalsa, I wish to draw your attention to the fact that in 1889 the Promised Messiah, under Divine guidance, established this Jammaat for the sole purpose of spreading Islam in the world and gathering togather under the banner of Islam, the peoples of all nations, of all countries and of all faiths. Ninety years have passed since then and the world of religion has undergone a lot of change in these ninety years. The message of Islam has now reached the four corners of the world and people of all countries and all nations are realizing the truth and are joining the Jamaat in large numbers.
    I have told you on many occasions that the next century of our life as a Jamaat _______ beginning in 1989 _____ is the century of victory and triumph of Islam over all other faiths. Only ten years are now left. In these ten years we must prepare ourselves and our children to be able to welcome this century of the triumph of Islam in a befitting manner. And this lays a great responsibility on our shoulders. We must be able not only to understand the Islamic teaching but also to practise it in our own lives. So that when in the next century, people join the Jamaat in hosts, as foretold by the Promised Messiah, we and our children may be able to act as their guides and teachers in the Islamic faith and tradition.
    It is for this reason that I placed before you the Ahmadiyya Centenary Jubilee Plan in my lecture on the last day of 1973 Annual Jalsa of Ahmadiyya Movement held at Rabwah. And in my Friday Sermon on February 8, 1974,referring to the proposed plan, I told you that the real thing is that this plan may find approval in the sight of Allah, the Almighty. For this purpose I called upon the members of the Jamaat to pray earnestly to bless this plan. I also put forth a special programme of prayers and worship to be followed by all Ahmadies for their spiritual betterment.
    1. In the last week of every month a day should be fixed by the members of the local Jamaat in which all the members should keep fast.
    2. Every member should daily offer two Rakaahs of Nafal (non-obligatory) prayers. These Nawafil should be offered after Zohar prayer or during the night, after the Isha prayer till the Fajar prayer. 3. Every Ahmadi should recite Sura Faiha seven times a day. 4. Every Ahmadi should glorify Allah and invoke His blessings on the Holy Prophet of Islam by reciting the following prayer thirty-three times a day. ۶۴
    سبحان اﷲ و بحمدہ سبحان اﷲ العظیم -اللھم صل علی محمد و آل محمد
    Glory be to Allah and His is the prasie! Glory be to Allah the great. O Allah bless Muhammad and his progeny.
    5. Every Ahmadi should ask forgiveness for his sins and shortcomings from Allah the Almighty be repeating the following prayer thirty-three times a day:
    استغفر ﷲ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ
    ‏I ask forgiveness from Allah my LOrd for all sins and
    ‏I incline to Him.
    6. Every member of the Jamaat should repeat the following prayers at least eleven times daily:
    ربنا افرغ علینا صبراً و ثبت اقدامنا و انصرنا علی القوم الکا فرین (A)
    Our Lord! put forth on us steadfastness and make our steps firm and help us against the disbeliving enemy.
    اللھم انا نجعلکٔ فی نحور ھم و نعوذبکٔ من شرورھم (B)
    O Allah, we make thee a shield against their design and seek refuge with thee from their mischief.
    I also called upon you that in addition to these prayers and Nawafil, you should also frequently pray to the Almighty in your own language to grant His approval to the proposed plan and to bless our efforts in the path of Allah and His Messenger, the Holy Prophet of Islam, peace and blessings of Allah be upon him.
    I hope that you must be acting upon this programme of prayers and worship. I pray to Allah to grant you the strength and the energy required to carry out the plan according to the wishes of our Lord. I pray to Allah that he may grant you all that is good in this world and the next . I love you dearly and pray for you daily. May Allah bless you ! May Allah be with you always and help you in all your endeavours. Ameen !
    ‏Yours sincerely,
    ‏Mirza Nasir Ahmad
    ‏ Khalifatul Masih III Rabwah : 16-12-1979
    ترجمتہ القرآن بزبان کیویتی
    مولانا شیخ عبدالواحد صاحب نے اپنے زمانہ قیام میں ایک عظیم الشان کارنامہ یہ سر انجام دیا
    کہ ایک کیوتی دوست سے کیویتی زبان میں پورے قرآن مجید کا ترجمہ کروایا جس کا سارا خرچ مکرم حاجی محمد لطیف صاحب نے برداشت کیا ۱۹۸۰ء میں اس ترجمہ کی نظرثانی کیے لیئے مرکزی ہدایت کے مطابق امیر و مشنری انچار ج فجی اور جماعت کے مخلص بزرگ ماسٹر محمد حسین صاحب آف لٹو کا پر مشتمل قرآن بورڈ قائم کیا گیا۔ ۶۵
    اب یہ ترجمہ قرآن ماسٹر صاحب کی مساعی سے منظر عام پر آ چکا ہے۔
    جلسہ سالانہ ۱۹۸۰ء پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا اہم پیغام
    جماعت احمدیہ فجی کا جلسہ سالانہ ۱۹۸۰ء صوا میں جماعت احمدیہ کی سب سے بڑی اور نئی مرکزی بیت میںمنعقد ہوا یہ بیت اور اس کی متصل شاندار عمارت فجی احمدیوں کے ایثار
    و قربانی اور مالی جہاد کی ایک دائمی یادگار ہے۔ جلسہ سالانہ کی اس تقریب پر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالثؒ نے حسب ذیل پیغام ارسال فرمایا:۔
    ’’ مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی ہے کہ آپ اپنا جلسہ سالانہ منعقد کر رہے ہیں اور یہ جلسہ آپ کی نئی تعمیر شدہ بیت میں ہو رہا ہے۔ میری دُعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ آپ کے اس جلسہ کو اور نئی تعمیر شدہ بیت کو ہر اعتبار سے آپ کے اور دین حق کے لیئے مبارک ثابت کرے یہ نئی بیت فجی میں جماعت احمدیہ کی ترقی اوردین حق کی تبلیغ و اشاعت کا ایک مرکز بنے ایمان و اخلاص میں اضافہ کا موجب بنے اب ہم پندرھویں صدی ہجری میں قدم رکھ چکے ہیں یہ صدی انشاء اﷲ تعالیٰ غلبہ‘‘ حق کی صدی ہو گی یہ صدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دی ہوئی بشارت کو پورا کرنے والی صدی ہو گی۔
    یقینا سمجھو کہ …اب زمانہ دین حق کی روحانی تلوار کا ہے۔ عنقریب اس لڑائی میں دشمن ذلت کے ساتھ پسپا ہو گا۔ اور دین حق فتح پائے گا … میں دیکھتا ہوں کہ آسمان پر اس کی فتح کے نشان نمودار ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۲۵۴ـ۔۲۵۵)
    لیکن ہر بشارت اپنے ساتھ نئی ذمہ داریاں بھی لاتی ہے اور نئی قربانیوں کا تقاضا بھی کرتی ہے پس میرا پیغام آپ کے لیئے یہ ہے کہ آپ لا الہ الاّ اﷲ کا ورد کرتے ہوئے نئے عزم کے ساتھ اس صدی کے آغازمیںدین حق کے لیئے اپنی قربانیوں میں نمایاں اضافہ کر دیں اور اپنی اولادوں میں بھی یہی جذبہ پیدا کریں کہ ہمارا قادر و توانا خدا بڑی قدرتوں کا مالک ہے۔ وہ ہماری حقیر مساعی کو اپنی برکتوں سے نوازتے ہوئے ضرور دین حق کو غلبہ عطا فرمائے گا۔‘‘ ۶۶
    تجارتی میلہ میں کامیاب تبلیغی مہم
    سال ہاسال کے دستور کے مطابق فجی کے مشہور شہر اور انٹر نیشنل ایئرپورٹ ناندی ۱۱تا۱۸؍جولائی ۱۹۸۱ء کو وسیع پیمانہ پر ایک تجارتی میلہ لگا۔ یہ ایام رمضان المبارک کے تھے۔ اس لیئے جماعت احمدیہ فجی میلے میں اپنا سٹال تو نہ لگا سکی البتہ میلہ کے آخری
    روز جلوس میں شریک ہونے کافیصلہ کیا گیا۔ امیر صاحب فجی کی اجازت سے مبلغ فجی حافظ ملک عبدالحفیظ صاحب نے اس جلوس میں شرکت کی اس غرض کیلئے ایک دوست کی وین حاصل کی گئی جس پر لکڑی کا بڑا سا فریم لگایا گیا۔ فریم کے اوپر جلی حروف سے لکھا تھا کہ
    ‏"THE PROMISED MESSIAH HAS COME"
    نیچے دوسرے رنگ میں ان الفاظ کا مقامی کائیویتی زبان میں ترجمہ درج تھا جسکو کیویتی نوجوان بڑے زور کے ساتھ اونچی آواز میں پڑھتے تھے فریم میں مندرجہ ذیل الفاظ بھی درج تھے۔
    ‏"TEACHING OF PEACE THE HOLY QUARAN"
    ۶۷
    ‏"TEACHING OF PEACE MASTER PROPHET MOHAMMAD, PEACE AND BLESSINGS ON HIM"
    ۶۸
    علاوہ ازیں ایک لمبے بینر پر کلمہ طیبہ لا الٰہ الاّ اﷲ ‘ محمّد رسول اﷲ کے مبارک الفاظ مع انگریزی ترجمہ کے لکھے تھے۔ وین کی دوسری طرف بھی متعدد پُرکشش تبلیغی فقرات سے مزین تھی۔جماعت احمدیہ کی اس وین کو ماسٹر محمد حسین صاحب آف لوتوکا چلا رہے تھے … یہ روحانی الفاظ ہزاروں افراد نے دیکھے جن میں سینکڑوں سیاح بھی تھے جنہوں نے گہری توجہ سے ان کو پڑھا بعض کی یہ حالت تھی کہ حیرانی کے عالم میں مبہوت ہو کر کھڑے تھے۔ حافظ ملک عبدالحفیظ صاحب وین کے ساتھ شیروانی‘ شلوار اور ٹوپی میں ملبوس ساتھ ساتھ دُعا کرتے ہوئے پیدل چلتے رہے۔ آپ کے ہمراہ چند خدام اور اطفال بھی تھے جوفٹ پاتھ پر کھڑے لوگوں میں لٹریچر تقسیم کرتے جاتے تھے اس طرح قریباً دو ہزار افراد کو لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ یہ جلوس ایک سکول سے شروع ہوا اورشہر کی درمیانی بڑی سڑک سے ہوتا ہوا شہر کے دوسرے سرے تک جا پہنچا اور ایک بڑے وسیع میدان ’’ پرنس چارلس گراؤنڈ‘‘ میں آ کر ختم ہو گیا ایک میل کا یہ راستہ لوگوں سے پوری طرح اٹا پڑا تھا بعض جگہ اتنا ہجوم تھا کہ پولیس کو لوگ پیچھے ہٹانے پڑے ۔گراؤنڈ میں اختتامی کارروائی ہوئی انعامات تقسیم کئے گئے
    نیز جلوس میں شرکت کرنے والی جماعت احمدیہ کی وین کو بھی سرٹیفکیٹ دیا گیا اور جلوس میں جماعت احمدیہ کی شمولیت پر خوشی کا اظہار کیا گیا قریباً سبھی حلقوں کی طرف سے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات دیکھنے میں آئے۔
    حافظ ملک عبدالحفیظ صاحب نے اس کامیاب تبلیغی مہم کی مفصل رپورٹ مرکز میں بھجوائی جو الفضل ۹؍ستمبر ۱۹۸۱ء کے صفحہ نمبر۱‘۸میں وین کی تصویر کے ساتھ اشاعت پذیر ہوئی اس رپورٹ کے آخر میں آپ نے لکھا:۔
    ’’خاکسار پیدل چلتے ہوئے اپنے پیارے رب کریم کے حضور دُعا گو تھا کہ ہمارے پیارے اﷲ ! یہ لوگ تیری مخلوق ہیں لیکن یہ آج تجھے نہیں پہچانتے اور ہلاکت کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اپنی رحمت سے ان کی ہدایت کے سامان پیدا کر اور آسمان سے فرشتوں کی فوجیں اُتار جو ان کے دلوں میں دین حق کی محبت بھر دیں تا تیرا دین ساری دنیا پر غالب آئے اور تیری توحید کا علم اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا پر لہرائے۔‘‘
    حافظ ملک عبدالحفیظ صاحب کی المناک شہادت
    ۱۶؍اگست۱۹۸۱ء کا واقعہ ہے کہ مبلغ فجی محترم حافظ ملک عبدالحفیظ صاحب ایک جماعتی دورے پر لمباسہ تشریف لے جارہے تھے کہ ہائی وے پر ایک ٹرک سے آپ کی کار ٹکرا گئی۔ جس کے نتیجہ
    میں آپ شدیدزخمی ہو گئے۔ آپ کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں آپ نے اپنی جان مولائے حقیقی کے سپرد کی ۔ اِناّ ﷲ و اِنّا الیہ راجعون۔ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے ارشاد پر مرحوم کا جسد خاکی فجی سے پاکستان لانے کا خصوصی انتظام کیا گیا چنانچہ جماعت فجی کے ایک نہایت مخلص نمائندہ جناب ظفر اﷲ خاں صاحب آپ کی نعش لے کر ۲۱؍اگست کی صبح کو بذریعہ ہوئی جہاز کراچی اور کراچی سے بوقت ۲بجے دوپہر ربوہ پہنچے اسی روز ساڑھے چھ بجے شام مولانا عبدالمالک خان صاحب ناظر اصلاح و ارشاد نے بہشتی مقبرہ کے وسیع احاطہ میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں مقامی احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ قبر تیار ہونے پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے دُعا کرائی۔ حافظ صاحب مرحوم حضرت مولوی نظام الدین صاحب (یکے از رفقاء احمد) کے پوتے مکرم کریم بخش صاحب آف بہاول پور کے صاحبزادے اور محترم مولانا محمد اسماعیل صاحب دیال گڑھی مربی سلسلہ احمدیہ (انچارج رشتہ ناطہ) کے داماد تھے۔ آپ ۱۹۴۳ء میں پیدا ہوئے جامعہ احمدیہ سے شاہد کی ڈگری
    حاصل کر کے ۱۹۷۴ء کے دوران میدان عمل میں قدم رکھا اور سب سے پہلے تخت ہزارہ ضلع سرگودھا میں ازاں بعد رحیم یار خاں اور مردان میں پیغام حق پہنچایا۔ ۲۵؍فروری۱۹۸۰ء کو آپ فجی تشریف لائے جہاں آپ تبلیغی جہاد میں ہمہ تن مصروف تھے کہ ایک طویل تبلیغی دورے پر جاتے ہوئے کار کے حادثہ میں شہید ہو گئے۔ ۶۹
    مجلس انصار اﷲ و مجلس خدام الاحمدیہ کا پہلا اجتماع
    جزائر فجی میں انصار اﷲ اور خدام الاحمدیہ کی مجالس کے پہلے سالانہ اجتماع ۸؍نومبر ۱۹۸۰ء کو لٹوکامیں منعقد ہوئے۔ صدارت کے فرائض مولوی سجاد احمد صاحب خالد نے انجام دیئے اس موقع پر حضرت
    خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے حسب ذیل پیغام دیا۔
    ’’میں یہ سن کر بہت خوش ہوا ہوں کہ جزائر فجی کی مجلس انصار اﷲ اور مجلس خدام الاحمدیہ اپنے سالانہ اجتماع منعقد کر رہی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ جزائر فجی کے انصار اور خدام کو طاقت اور جرأت عطا کرے تا وہ اپنے فرائض کو دین حق کی تعلیم کے مطابق سر انجام دے سکیں۔ اﷲ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور وہی اپنی برکات سے تمہیں نوازے‘‘۔ ۷۰
    پہلی سالانہ تربیتی کلاس
    جماعت احمدیہ فجی کی پہلی سالانہ تربیتی کلاس ۲۶؍اپریل تا یکم مئی ۱۹۸۱ء فجی کے دارالحکومت صووا کی بیت الذکر فضل
    عمرمیں منعقد ہوئی جس میں پانچ جماعتوں کے ۶۳خدام و اطفال نے شرکت کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اپنے پیغام میں کلاس کے طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ
    ’’جو کچھ آپ کو پڑھایا سکھایا جائے اُسے توجہ اور غور سے سنیں اور اپنی دینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیئے اپنے تئیں تیار کریں خدا کی باتیں پوری ہو کر رہیں گی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اﷲ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور اس سے مدد کے طالب بنیں۔۷۱
    نگران اعلیٰ کے فرائض ماسٹر محمد حسین صاحب لٹوکا نے اور کھانے کے جملہ فرائض مکرم امتیاز احمد مقبول صاحب قائد صووا اور ان کی بیگم صاحبہ نے بڑی خندہ پیشانی سے ادا کئے۔ ۷۲ ریڈیو فجی نے اس سلسلہ میں ملک حافظ عبدالحفیظ صاحب ۔ ماسٹر محمد حسین صاحب اور بعض طلبہ کا انٹرویو بھی نشر کیا۔

    فصل دہم

    حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا جماعت احمدیہ فجی کے نام آخری پیغام
    جماعت احمدیہ فجی کا بارھواں سالانہ جلسہ ۲۶‘۲۷؍دسمبر ۱۹۸۱ء کو منعقد ہوا جس کے لیئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اﷲ تعالیٰ نے حسب ذیل
    روح پرور پیغام دیاجو جماعت احمدیہ فجی کے نام حضور کا آخری پیغام تھا۔
    ’’برادرانِ جماعت احمدیہ فجی! السلام علیکم و رحمتہ اﷲ و برکاتہ‘
    مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ اپنی نئی تعمیر شدہ بیت الذکر کی عظیم الشان عمارت میں یہ جلسہ منعقد کر رہے ہیں۔ مَیں دعا کرتا ہوں کہ یہ نئی تعمیر شدہ بیت الذکراور یہ جلسہ آپ سب کیلئے اوردین حق کے لئے مبارک ہو۔ یہ مقام ادین حق کی اشاعت کا مرکز بنے۔ اور یہ جلسہ دین حق اور احمدیت کی تازگی کا موجب بنے۔ آمین ۔ ہمیں یہ امر یاد رکھنا چاہیئے کہ ہم پندرھویں صدی ہجری میں داخل ہو چکے ہیں اور یہ صدی اسلامی فتوحات کی صدی ہے۔یہ صدی حضرت (اقدس…ناقل) کی صداقت کو قائم اور مستحکم کرنے والی ہے…‘‘
    حضور نے اپنے پیغام میں مزید بتایا کہ
    ’’تمام پیشگوئیاں اپنے ساتھ کچھ ذمہ داریاں اور قربانیوں کا مطالبہ رکھتی ہیں اور میرا پیغام تمہارے لئے یہ ہے کہ لَآ اِلٰہَ اِلّا اﷲ اور دعاؤں کے ساتھ دین حق کی بہتری کے لئے ترقی کی منازل طے کرتے چلے جاؤ۔
    علاوہ ازیں اپنے بچوں کو بھی اپنے رنگ میں رنگین کرتے ہوئے ایسی عمدہ تربیت دو کہ وہ صبر اور آزمائش کے وقت تمہارے ساتھ رہیں۔ خدا کی راہ میں تمہارے قدم ثابت رہیں۔ یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول فرمائے اور ہم اپنے ہی دور میں دین حق کی عظیم فتح مبین کو مستقبل قریب میں اپنی آنکھوں سے دیکھ جائیں۔‘‘ (الفضل ۲۹؍جون ۱۹۸۲ء صفحہ ۱)
    عہد خلافت ثالثہ میں فجی مشن کی مطبوعات
    قرآن مجید کا فجین ترجمہ کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ فجی مشن کی
    طرف سے دسمبر 1982ء تک مندرجہ ذیل اسلامی لٹریچر شائع کیا گیا ۔(انگریزی)
    1. What is Ahmadiyyat?
    2. Islam and its message.
    3. Promised messiah has come.
    4. What is Islam?
    5. Message of peace and word of warning.
    6. Muslim prayer book.
    7. General knowledge Q.A.
    8. Jesus in Kashmir.
    9. We are Muslims.
    10.Welcome to Fiji Islands.
    11.Manzoom Kalam Hazrat Massihe Maood in Roman English.
    12. LA-ELAHA ILLALAHO (in six Languages)
    ‎ٹونگا۔ رومن۔ ہندی۔ کائیویتی۔ انگلش۔ وَانُووَاتُو
    13. A Report on London Conference.
    14. The proposed Century Ahmadiyya Juiblee (in1989)
    کائیویتی (KAIVITI)زبان میں
    1. NA CAVE NA AHMADIYYAT.
    ‎(احمدیت کیا ہے)
    ‏2. NA I TUKUTUKU NI YEIVINAKATI KE NA VOSA VAKARO.
    ‎(ترجمہ امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ)
    3. JISU NA KASHMIR.
    (مسیح کشمیر میں)
    4. NA PAROFISAI NAI VOCA TABU VOU.
    (محمد رسول اﷲ عہد نامہ جدید میں )
    5. NA PAROFISAI KA VOLAI E NAI VAKARUA " JOVA, KA TUCAKE ULE-NVANUA KO PERANA".
    ( باب استثناء کی پیشگوئی خداوندا خدا کا فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہونا)
    ‏6. Teaching of Islam.
    فجیئن زبان میں ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘
    7. The Holy Quran Part I and II
    (with Fijian Translation)
    (مسیح موعودؑ آ گئے فجی میں رہنے والے اور ملک میں آنے والوں کو ماننے کی دعوت (خوش آمدید) )
    ہندی زبان میں ـــــــــــــ---------------------بابا نانک اور اسلام ۷۳
    فجی کے نیشنل پریذیڈنٹ
    حاجی عبداللطیف صاحب 1964-1962
    واجد کمال الدین صاحب 1965-1964
    محمد صادق خاں صاحب 1967-1966
    عبداللطیف مقبول صاحب 1986-1983
    فجی کے نیشنل جنرل سیکرٹری
    امام کمال الدین صاحب 1966-1962
    محبوب یوسف خاں صاحب 1967 ۷۴
    صداقت احمدیت کا چمکتا ہوا نشان
    اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۸۹۸ء میں بشارت دی تھی کہ :۔
    ’’ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ ۷۵
    فجی بین الاقوامی ڈیٹ لائن کے عین مغربی کنارے پر واقع ہے اس سرزمین میں جماعت احمدیہ کے مشن کا قیام اور اس کے طول و عرض میںاحمدیت کی شاندار ترقیات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا چمکتا ہوا نشان ہیں۔ حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں۔
    ’’ و اوحی الی ربی و و عدنی انہ‘ سینصرنی حتی یبلغ امری مشارق الارض و مغاربھا۔ وتتموج بحور الحق حتی یعجب الناس حباب غوار بھا‘‘۔
    (ٖلجۃ النُّوْر صفحہ ۶۷)
    ترجمہ ۔ میرے رب نے میری طرف وحی بھیجی اور وعدہ فرمایا کہ وہ مجھے مدد دے گا۔ یہاں تک کہ میرا کلام مشرق و مغرب میں پہنچ جائے گا اور راستی کے دریا موج میں آئیں گے یہاں تک کہ اس کی موجوں کے حباب لوگوں کو تعجب میں ڈالیں گے۔
    ع
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ہے یہ تقدیر خداوند کی تقدیروں سے

    خلافت رابعہ کے عہد مبارک سے فجی مشن کا نیا انقلابی دور شروع ہوتا ہے جس کی تفصیل اپنے مقام پر آگے آ رہی ہے۔
    حواشی
    ۱۔
    ‏"LANDS AND PEOP0LES"GROLIER INCORPORATED - AMERICA ۱۹۸۹ء
    ۲۔
    فیروزسنز اردو انسائیکلوپیڈیامطبوعہ لاہور ۱۹۸۰ء زیر لفظ فجی (FIJI)جلد ۲صفحہ۵۳۱
    ۳۔
    اخبار پیغام صلح لاہور ۱۷؍دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۴۵
    ۴۔
    ۱۹۱۵ء میں مولوی صاحب نے ایک انجمن ہدایت الاسلام کی بنیاد رکھی جس کے تحت یہ پرائمری سکول جاری کیا
    ۵۔
    پیغام صلح ۳؍مئی ۱۹۳۱ء صفحہ ۷
    ۶۔
    اخبار پیغام صلح ۱۷؍دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ۴۵
    ۷۔
    اخبار پیغام صلح ۳؍جون۱۹۳۳ء صفحہ۱۰ ۷؍جون ۱۹۳۳ء صفحہ۲‘ ۱۱؍جون۱۹۳۳ء صفحہ۷‘ ۱۷؍دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۴۵
    ۸۔
    اخبار پیغام صلح ۱۱؍جنوری۱۹۳۴ء صفحہ۴
    ۹۔
    اخبار پیغام صلح ۱۹؍مئی ۱۹۳۴ء
    ۱۰۔
    اخبار پیغام صلح ۳؍جنوری ۱۹۳۴ء صفحہ۱۳
    ۱۱۔
    اخبار پیغام صلح ۱۹؍مئی۱۹۳۴ء صفحہ ۲۔۳)
    ۱۲۔
    (اخبار پیغام صلح ۱۷؍دسمبر۱۹۳۸ء صفحہ ۴۵
    ۱۳۔
    اخبار پیغام صلح ۲۳؍جنوری۱۹۳۷ء صفحہ ۳۔ ۳ ؍فروری۱۹۳۷ء صفحہ ۲
    ۱۴۔
    آپ کے والد چھجو خاں صاحب حضرت حاجی غلام احمد صاحب کریام کی قبولیت دعا کا نشان دیکھ کر احمدی ہوئے تھے (اصحاب احمد جلد دہم صفحہ ۱۰۶۔ مؤلفہ ملک صلاح الدین ایم اے
    ۱۵۔
    آپ کے تین اور بھائی تھے عبدالمجید خاں‘ عبدالحمیدخاں۔ طفیل محمدؐخاں۔ چاروں بھائیوں میں سے صرف عبدالحمید خاں (رٹیائرڈ محکمہ پولیس) چک ۳۰۳گ۔ ب ٹوبہ ٹیک سنگھ (پاکستان)بقید حیات ہیں
    ۱۶۔
    غیر مطبوعہ مکتوب مولانا شیخ عبدالواحد صاحب ( بنام موّرخ احمدیت) مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۶۸ء از فجی
    ۱۷۔
    اخبار بدر قادیان ۲۳؍جولائی۱۹۵۹ء صفحہ ۱
    ۱۸۔
    پیغام صلح۲۲؍جولائی ۱۹۵۹ ء صفحہ ۱۱۔ یاد رہے آپ کی صاحبزاری بدرالنساء خانم صاحبہ ۱۹۵۳ء سے حضرت مصلح موعود کی بیعت میں تھیں۔ اور انہوں نے ہی اپنے والد ماجد کو تحریک کی کہ وہ پاکستان میں آ کر حقیقی احمدیت کی تحقیق فرمائیں چنانچہ انہوں نے حج بیت اﷲ کے بعد اسی غرض سے پاکستان آنے کا وعدہ کیا تھا (غیر مطبوعہ مکتوب جناب شیخ انوار رسول صاحب ۹؍جنوری ۱۹۸۰ء
    ۱۹۔
    الفضل ۲۷؍اگست ۱۹۵۹ء صفحہ۲
    ۲۰۔
    الفضل ۹؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۲۱۔
    غیر مطبوعہ مکتوب مولانا شیخ عبدالواحد صاحب ۲۲؍فروری ۱۹۶۸ء بنام مورخ احمدیت
    ۲۲۔
    ماہنامہ خالد ربوہ جنوری ۱۹۸۴ء صفحہ۷۳‘۹۳‘ الفضل ۲۹ ؍مارچ ۱۹۶۳ء‘ یکم مارچ ۱۹۶۴ء
    ۲۳۔
    غیر مطبوعہ مکتوب مولانا شیخ عبدالواحد صاحب ۲۲؍فروری ۱۹۶۸ء
    ۲۴۔
    الفضل ۲۹؍ مارج ۱۹۶۳ء و یکم مارچ ۱۹۶۴ء
    ۲۵۔
    ’’تحدیث نعمت‘‘صفحہ ۶۸۷۔۶۸۸طبع اوّل (ستمبر ۱۹۷۱ء
    ۲۶۔
    لفضل ۲۷؍اگست ۱۹۶۶ء صفحہ ۱
    ۲۷۔
    الفضل ۱۴؍اکتوبر ۱۹۶۷ء صفحہ۳
    ۲۸۔
    الفضل۱۳؍اکتوبر ۱۹۶۷ء صفحہ۳
    ۲۹۔
    الفضل ۷؍جنوری ۱۹۷۲ء
    ۳۰۔
    بدر ۳۰؍مئی ۱۹۶۸ء
    ۳۱۔
    الفضل ۲۴؍اگست۱۹۸۱ء صفحہ۱
    ۳۲۔
    ریکارڈ وکالت تبشیر
    ۳۳۔
    الفضل ۲؍فروری ۱۹۶۹ء صفحہ۴
    ۳۴۔
    الفضل ۱۲؍اپریل ۱۹۷۵ء صفحہ۶
    ۳۵۔
    الفضل ۶؍جون۱۹۷۶ء صفحہ۳
    ۳۶۔
    یہ ۱۹۶۸ء کا واقعہ ہے
    ۳۷۔
    غالباً سید ظہور احمد شاہ صاحب مراد ہیں
    ۳۸۔
    رسالہ خالد جنوری ۱۹۸۴ء صفحہ۷۹
    ۳۹۔
    یادیں صفحہ ۶۶۳۔۶۶۶
    ۴۰۔
    ریکارڈ وکالت تبشیر ربوہ الفضل ۲۸؍جنوری ۱۹۷۱ء
    ۴۱۔
    ’’ تحریک جدید ‘‘جنوری ۱۹۷۲ء صفحہ۳۶
    ۴۲۔
    الفضل ۱۰؍فروری ۱۹۷۲ء صفحہ۳
    ۴۳۔
    الفضل۸؍نومبر ۱۹۷۲ء صفحہ۳
    ۴۴۔
    الفضل ۱۰؍ فروری ۱۹۷۳ء صفحہ ۶
    ۴۵۔
    الفضل ۱۱؍ اگست ۱۹۷۳ ء صفحہ۳
    ۴۶۔
    الفضل۲۲؍اپریل۱۹۷۳ء صفحہ۳۔۴
    ۴۷۔
    الفضل ۲۲؍جون۱۹۷۳ء صفحہ۳۔۴
    ۴۸۔
    الفضل ۱۰؍دسمبر ۱۹۷۴ء صفحہ۳
    ۴۹۔
    الفضل ۱۰؍دسمبر ۱۹۷۴ء صفحہ۳)
    ۵۰۔
    یکارڈ وکالت تبشیر ربوہ
    ۵۱۔
    الفضل ۱۸؍اگست ۱۹۷۴ء صفحہ۴
    ۵۲۔
    الفضل ۱۹؍فروری ۱۹۷۵ء صفحہ۳۔۴
    ۵۳۔
    الفضل۹؍جنوری ۱۹۷۵ء صفحہ۶
    ۵۴۔
    الفضل ۲۲؍اگست ۱۹۷۵ء صفحہ۵
    ۵۵۔
    الفضل ۹؍مارچ ۱۹۷۸ء صفحہ۳
    ۵۶۔
    یادیں ۱۳۹۔۱۴۲
    ۵۷۔
    یادیں ۱۳۹۔۱۴۲
    ۵۸۔
    الفضل ۱۶؍فروری ۱۹۷۸ء صفحہ۳۔۴
    ۵۹۔
    یادیں صفحہ۱۳۷
    ۶۰۔
    ان دونوں اخبارات کی مندرجہ ذیل اشاعتیں ملاحظہ ۱۵۔۱۹؍جون۱۸۔۳۰۔اگست ۳۔۴۔۱۱۔۱۲۔۱۴؍ستمبر ۱۹۷۸ء
    ۶۱۔
    الفضل ۵؍مارچ ۱۹۷۹ء صفحہ۵
    ۶۲۔
    الفضل۴؍فروری ۱۹۷۹ء صفحہ ۵
    ۶۳۔
    الفضل ۱۲؍اپریل۱۹۷۹ء صفحہ۳
    ۶۴۔
    ‏The Review of Religions Rabwah, Pakistan اپریل ۱۹۸۰ ء صفحہ۳۔۴
    ۶۵۔
    الفضل ۱۰؍اگست ۱۹۸۰ء صفحہ۴
    ۶۶۔
    الفضل ۱۵؍فروری ۱۹۸۱ء صفحہ ۴
    ۶۷۔
    قرآن اس کی تعلیم دیتا ہے
    ۶۸۔
    صلح کے معلم نبیوں کے سردار محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں
    ۶۹۔
    الفضل ۲۴؍اگست۱۹۸۱ ء صفحہ۱‘۸
    ۷۰۔
    الفضل ۱۱؍ فروری ۱۹۸۱ء صفحہ۵
    ۷۱۔
    رسالہ’’تحریک جدید‘‘ جولائی ۱۹۸۱ء صفحہ۱۰
    ۷۲۔
    الفضل ۲۴؍جون۱۹۸۱ء صفحہ۳‘۴
    ۷۳۔
    الفضل ۱۸؍جنوری۱۹۷۴ء
    ۷۴۔
    ‏"History of AHMADIYYAT in Fiji" (غیر مطبوعہ مرتبہ جماعت احمدیہ فجی
    ۷۵۔
    الحکم ۲۰‘۲۷؍اگست۱۸۹۸ء صفحہ۱۴‘۲۷؍مارچ‘ ۶؍اپریل ۱۸۹۸ء صفحہ۱۳








    آٹھواں باب
    ماہنامہ’’ انصار اﷲ‘‘ کے اجراء سے جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۶۰ء تک
    فصلِ اوّل
    جماعت احمدیہ کی کامیابیاںرسالہ
    ’’گورمت پرکاش‘‘ امرتسر کی نظر
    سکھوں کی نمائندہ تنظیم شرومنی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے ماہوار رسالہ ’’ گورمت پرکاش‘‘ نے ستمبر ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں لکھا کہ
    یعنی’’ میری یہ گذارش ہے کہ شرومنی کمیٹی کی طرف سے مقرر کردہ پر چار کمیٹی دنیا کے مشہور مذاہب کی طرف سے استعمال کئے جانے والے طریق تبلیغ کو سمجھے اور ان کی حیران کن کامیابی کے راز معلوم کرے۔ اور گہری نظر سے مطالعہ کرے کہ کل کا پیدا شدہ اسلامی فرقہ احمدیہ غیر ممالک میں گیارہ اخبار چلا سکتا ہے اور ۴۳۶ مراکز قائم کر سکتا ہے اور لاکھوں عقلمندوں کو اسلام کے دائرے میں لا سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم ساٹھ لاکھ سکھ شرومنی کمیٹی ایسی مرکزی جماعت کی موجودگی میں ابھی تک ایک درجن مغربی لوگوں کو بھی سکھ نہیں بنا سکے ہمارا ایک بھی اخبار غیر ممالک میں ان کی زبان میں شائع نہیں ہو رہا۔ اگر صرف امریکہ ہی کو لے لو تو وہاں آپ کو ہزاروں لوگ…اسلام کے پیروکار اور …پوجاری ملیں گے لیکن سکھ مذہب کے عقیدت مند نہیں ہیں۔‘‘ (ترجمہ از گورمت پرکاش ستمبر ۱۹۶۰ء)
    ایک اور سکھ ودوان نے اسی رسالہ گورمت پرکاش امرت سر میں سکھ مذہب کی تبلیغی ناکامیوں اور احمدیہ جماعت کی کامیابیوں کا موازنہ کرتے ہوئے اس کا سبب مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا کہ :۔
    یعنی’’ مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ایک چھوٹا سا احمدی فرقہ ہم سے کہیں زیادہ غیر ممالک میں تبلیغ کر رہا ہے۔ اور دریافت کیا گیا کہ ہم غیر ممالک میں پرچار کیوں نہیں کر سکتے۔ جواب میں سبب عرض ہے کہ انہیں اپنے مذہب کی ترقی کا لگن ہے۔ جو ہمیں نہیں۔ وہ غیروں کو حیران کن محبت سے اپنا بنا لیتے ہیں۔ اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اپنوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اور انہیں دھتکارتے ہیں۔‘‘ ۱ (ترجمہ از گورمت پرکاش ستمبر ۱۹۶۰ء)
    احمدیت کا ذکر جرمن فیڈرل حکومت کے بلیٹن میں
    جرمنی میں احمدیہ مشن کے کارناموں اور خدمات کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی اور جرمن پریس میں اب اشاعت اسلام سے متعلق مضامین بکثرت شائع ہو رہے تھے چنانچہ اسی سال جرمن
    کے ایک بااثر اور کثیر الاشاعت اخبار ’’ نیو رہین زیٹنگ‘‘(NEUE RHEIN ZEITUNG)میں ایک خاص مضمون مسجد ہمبرگ و مسجد فرینکفورٹ پر شائع ہوا جو ایک جرمن احمدی جرنلسٹ مسٹر عبداﷲ نے لکھا تھا۔ یہ مضمون دوبارہ جرمن فیڈرل حکومت کے پریس اور انفارمیشن کے بلیٹن (اا؍اکتوبر ۱۹۶۰ء) نے حسب ذیل نوٹ کے ساتھ سپرد اشاعت کیا (ترجمہ)
    ’’ آزادی عقیدہ اور آزادی ضمیر ناقابل انفاخ ہیں۔ ہر ایک کو بلا مداخلت مذہبی اعمال بجا لانے کی ضمانت دی جاتی ہے۔ـ‘‘
    اوپر کے الفاظ مغر بی جرمنی کے بنیادی قانون کی دفعہ چار سے لئے گئے ہیں۔ یہ الفاظ آج مغربی جرمنی کے مذہبی معاملات میں عالمگیر سلوک کے گویا کونے کا پتھر ہیں۔ خاص دارالحکومت اور بڑے شہروں میں جہاں دیگر ممالک کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ جرمن عوام دوسروں کے مذاہب میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ اس کی زندہ مثال وہ مہمان نوازانہ خیر مقدم ہے جو مغربی جرمنی نے دوسری عالمگیر جنگ کے بعد اسلام کا کیا ہے۔
    ذیل کا مضمون جو محمد عبداﷲ رکن اسلامیہ جرمنی مشن کا لکھا ہوا ہے حال ہی میں جرمنی کے اخبار ’’ نیورہین زیٹنگ‘‘میں شائع ہؤا ہے۔ جو کافی وسیع اشاعت رکھتا ہے۔
    تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ آرچ بشپ رک آف کولون کے اخبار میں بیان کیا گیا تھا کہ ۸۰۰ جرمنوں نے اسلام اختیار کر لیا ہے اور وہ جماعت احمدیہ کے ارکان بن گئے ہیں اس قسم کی خبروں سے یہ جستجو قدرتی ہے کہ آیا جرمنی میں کوئی منظم اسلامی جماعت کام کر رہی ہے۔
    مغربی جرمنی میں اسلام کی نمائندگی تین طریقوں سے ہو رہی ہے۔ اوّل مسلم سفارتی عملہ جو جرمنی میں اسلامی ممالک کی طرف سے مقرر ہے۔ اس گروپ میں جو سب سے بڑا ہے اسلامی ممالک کے طلبہ اور تجارت پیشہ اصحاب بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ہمبرگ اور ایشین میں مساجد تعمیر کی گئی ہیں تاہم اس طبقہ کے مسلمانوں کو اسلامی تحریک کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔ انکی بنیادی غرض مذہبی ثقافتی اور قومی روایات کو قائم رکھنا ہے نہ کہ اشاعت اسلام۔
    دوسرا گروپ ان مسلم مہاجرین کا ہے جنہوں نے دوسری عالمگیر جنگ کے بعد جرمنی کو اپنا نیا گھر بنا لیا ہے۔ ان کا ثقافتی مرکز باویریا کا دارالحکومت میونخ ہے۔ جہاں دونوں باویرین اور وفاقی حکومتیں مسجد کی تعمیر میں مدد دے رہی ہیں۔
    مذہب کے علاوہ ان دونوں گروپوں میں ایک اور بھی اشتراک ہے وہ دونوں گویا راہ گذروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سفارتی عملہ اور طلبہ آتے ہیں اور جاتے ہیں اور مہاجرین آرزو رکھتے ہیں کہ ایک دن اپنے وطن مالوف کو لوٹ جائیں گے۔
    احمدیہ تحریک آخری اور تیسرے گروپ یعنی جماعت احمدیہ کا معاملہ ان دونوں سے جداگانہ ہے۔ یہ جماعت اسی نام کی جماعت کے سامنے جواب دہ ہے جس کا ہیڈکوارٹر ربوہ پاکستان میں ہے۔ جماعت احمدیہ جس کے مشن تمام دنیا پر پھیلے ہوئے ہیں تقریباً ۶۰ سال ہوئے حضرت مرزا غلام احمد صاحب (قادیانی علیہ السلام ) نے قائم کی تھی یہ فرقہ اسلام سے فراری نہیں بلکہ اسکے برخلاف اس کا مقصد تجدید و احیائے اسلام ہے۔ اس اصلاحی تحریک کا کام دوگونہ ہے۔ اول یہ سراسر اسلامی فوق الفرق تحریک ہے۔ اور دوم اس نے وسیع پیمانہ پر اشاعت دین حق کا کام شروع کر رکھا ہے۔ ۱۹۳۶ء میں امام جماعت حضرت مرزا
    بشیر الدین محمود احمد نے جماعت احمدیہ کے پاکستانی نوجوانوں کو اپیل کی کہ وہ اشاعتِ اسلام کیلئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔ اس اپیل کی کامیابی کا عظیم ثبوت یہ ہے کہ اس وقت عیسائی اور غیر عیسائی ممالک میں ‘ ۴۴ مشنوں کا قیام ۲۵۴ مساجد کی تعمیر اور ۳۰ درسگاہوں کا قیام عمل میں آ چکا ہے۔ دس سال ہوئے پہلے احمدی مشنری مکرم عبدالطیف جرمنی میں داخل ہوئے۔ وہ آ کر ہمبرگ میں اقامت پذیر ہوئے تھے اور اس وقت سے یہ شہر آہستہ آہستہ جرمنی اور تمام شمالی یورپ کیلئے اسلامی مرکز بنتا چلا گیا۔ ڈنمارک‘ ناروے اور سویڈن کے مشن ہمبرگ کے امام کے ماتحت ہیں دوسری عالمگیر جنگ سے پہلے جرمنی میں صرف دو عبادت گاہیں تھیں مگر دونوں ہی پرائیویٹ ملکیت تھیں۔ برلن کی مسجد جو جنگ میں بدقسمتی سے بُری طرح شکستہ ہوئی ایک پاکستانی شہری کی ملکیت ہے۔ ابتداء میں یہ بھی احمدیہ تحریک کی ملکیت تھی۔ ہیڈن برگ کی مسجد جو بدقسمتی سے سویز شکاریوں کی جنت بن گئی ہے قصبہ شوئز نگٹن میں واقعہ ہے اس مسجد میں نماز نہیں ہوتی کم سے کم اس میں کوئی مسلم امام نہیں ہے۔ اس طرح جنگ کے بعد اہل اسلام کے لئے کوئی پبلک عبادت گاہ جرمنی میں نہیں تھی۔
    ۱۹۵۵ء میں حضرت امام جماعت احمدیہ ہمبرگ تشریف لائے جہاں آپکا استقبال بلدیہ اور مغربی جرمنی کے دوسرے اسلامی مراکز کے طریقہ سے کیا گیا اس تشریف آوری کے نتیجہ میں جرمنی میں اسلامی مشن کی توسیع کیلئے تجاویز کی گئیں۔ ۱۹۵۷ء اسلام کیلئے جرمنی میں مبارک سال تھا ان تجاویز کا نتیجہ عملی طور پر یہ نکلا کہ ہمبرگ سٹیلنجن میں جماعت کی پہلی
    بیت الذکر تعمیر ہوئی۔ اس کے بعد فرینکفورٹ آن مین میں ۱۲؍ستمبر ۱۹۵۹ء کو ایکبیت الذکر تعمیر ہوئی یہ دو بیوت الذکرجو جرمنی میں پہلی پبلک عبادت گاہیں ہیں احمدی مستورات کی کوشش کا نتیجہ ہیں۔ پاکستانی مستورات نے اپنے زیورات اور سنگار کو قربان کر دیا تاکہ انکے جرمن بھائی اور بہنیں نماز کیلئے دو بیوت الذکر حاصل کر سکیں۔
    اسلامی مشنری سرگرمیوں کا مقصد
    ان تمام اسلامی سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغربی جرمنی میں تبلیغی
    سرگرمیوں کا مقصد کیا ہے اور اس سے کیا توقعات وابستہ ہیں۔ اس سوال کا جواب آسانی سے دیا جا سکتا ہے تحریک احمدیہ کی منزلِ مقصود یہ ہے کہ تفہیم باہمی کو تقویت دی جائے حق کی خدمت کی جائے اور دوستی اور انصاف کے میدان کو وسیع سے وسیع تر کیا جائے یورپ نے اسلامی ممالک کو اور اسلام کو مادی ترقیات سے فیضیاب کیا ہے۔اسلام اس کے عوض میں یورپ میں مذہب کی صیحح روح کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ اسلام یورپ میں باغیوں کیلئے کشش اور مغربی مایوسوں کیلئے مرکز مہیا کرنے کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ ان تمام نیک بندوں کا ماویٰ ہے جو اﷲ تعالیٰ کے متلاشی ہیں۔ عیسائی ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے یقینا تم ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم عیسائی ہیں مومنوں کے ساتھ محبت میں زیادہ قریب پاؤ گے۔ ۲

    مجلس خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع
    اس سال مجلس خدّام الاحمدیہ کا انیسواں سالانہ اجتماع اپنی مخصوص روایات کے
    ساتھ دفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے احاطہ میں ۲۱‘۲۲‘۲۳؍اکتوبر ۱۹۶۰ء کو منعقد ہوا جس میں افتتاحی اور اختتامی دونوں خطابات نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے کئے۔ سیدنا حضرت مصلح موعود چونکہ اپنی علالت اور ناسازیٔ طبع کے باعث اس اجتماع میں تشریف نہیں لا سکے تھے اور نوجوانانِ احمدیت کو حضور کے زندگی بخش اور رُوح پر ور تازہ ارشادات سے مستفید ہونے کی سعادت سے محروم رہنا پڑا تھا اس لئے صاحبزادہ صاحب نے اجتماع میں حضور کا وہ ولولہ انگیز اور پُرجوش خطاب پڑھ کر سنایا جو حضور نے ۲۹؍ستمبر ۱۹۴۶ء کو مجلس خدام الاحمدیہ دلّی کے ارکان سے بعد نماز ظہر بمقام نمبر۸ پارک روڈ دہلی میں ارشاد فرمایا تھا (اور جو چند دن قبل اخبار الفضل میں چھپ چکا تھا) پڑھ کر سنایا جس پر مجمع میں دعا اور انابت الی اﷲ کی خاص کیفیت پیدا ہو گئی اور خدّام اُسے ہمہ تن گوش ہو کر سننے کے ساتھ ساتھ اپنے محبوب آقا کی صحت یابی اور درازیٔ عمر کیلئے زیر لب دعائیں کرتے رہے۔
    سیدنا حضرت مصلح موعود نے اپنے اس پُر جوش خطاب میں واضح لفظوں میں بتایا کہ
    ’’باتوں کا زمانہ گذر گیا اور اب باتوں کا زمانہ نہیں بلکہ عمل کرنے کا زمانہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ اب دیکھنا چاہتا ہے کہ ان بڑے بڑے دعووں کے بعد تم کتنے قطرے خون دل کے اس کے حضور میں پیش کرتے ہو۔ دنیا کے بادشاہ موتیوں اور ہیروں کی نذریں قبول کرتے ہیں مگر زمین و آسمان کا مالک سب بادشاہوں کا بادشاہ یہ دیکھتا ہے کہ کتنے قطرے خون دل کے کوئی شخص ہمارے حضور پیش کرتا ہے۔ ہمارے خدا کے دربار میں ہیروں اور موتیوں کی بجائے خون دل کے قطرے قبول کئے جاتے ہیں۔ ‘‘ نیز نہایت پُرشوکت انداز میںپیشگوئی فرمائی۔
    تم اس لئے اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہو کہ ہم ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر قربانیاں کریں گے اور اسلام کی حکومت کو دنیا بھر میں ازسر نو قائم کر دیں گے۔ پس اپنے اس عہد کو ہمیشہ مد نظر رکھو اگر تم اپنے عہد کو پورا کرتے جاؤ تو دنیا کی کوئی طاقت بلکہ دنیا کی تمام طاقتیں مل کر بھی تمہارے راستے میں روک نہیں بن سکتیں کیونکہ جب تم اﷲ تعالیٰ کے ہو جاؤ گے تو پھر خدا تعالیٰ خود تمہارے لئے کامیابی کے سامان پیدا کرے گا اور تمہارے لئے کامیابی کے راستے کھول دے گا۔ ‘‘ ۳
    اس پُرشوکت خطاب کے پڑھنے کے بعد صاحبزادہ صاحب نے مجلس عالمگیر کی طرف سے پیش کردہ الوداعی ایڈریس کا جواب دیا۔ اور مجلس خدام الاحمدیہ سے اپنی طویل وابستگی کا بہت گہرے اور پُر اثر انداز میں تذکرہ فرمایا اور خدام کو پورے اخلاص‘ جذبہ اور جوش سے کام کرنے اور اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرنے کی تلقین کی۔ نیز اعلان کیا کہ ایک روز قبل نائب صدر کے عہدہ کیلئے جو انتخاب عمل میں آیا تھا اس کے ضمن میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے سید میر داؤد احمد صاحب کو آئندہ دو سال کیلئے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا نائب صدر مقرر فرمایاہے ۔ ۴
    پیغام امام ھمام لجنہ اماء اﷲ کے نام
    لجنہ اماء اﷲ مرکزیہ ربوہ کا سالانہ اجتماع۲۱‘۲۲‘۲۳؍اکتوبر۱۹۶۰ء
    کو انعقاد پذیر ہوا۔ سیدنا حضرت مصلح موعود نے اس موقعہ کیلئے حسب ذیل ولولہ انگیز پیغام عطا فرمایا جس کو حضرت سیدہ ام امتہ المتین صاحبہ صدر لجنہ مرکزیہ نے پڑھ کر سنایا:۔
    اعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم ط
    بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ط
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھُوَالنَّاصرُ
    ممبرات لجنہ اماء اﷲ ! السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ
    ہمیں قادیان سے آئے ہوئے تیرہ سال ہو چکے ہیں اور اب وہاں جانے کے دن قریب معلوم ہوتے ہیں تمہیں بھی چاہیے کہ اپنے اخلاص اور قوّتِ عمل کو بڑھاؤ۔ تاکہ جب بھی قادیان میں تمہارا جانا مقدرہے۔ وہ بابرکت ثابت ہو۔ قادیان ہمارا اصل مرکز ہے اور وہی برکت پائے گا جو قادیان سے روحانی رنگ میں اتصال رکھے گا۔
    عیسائیوں کو انیس سو سال گزر چکے ہیں مگر اب تک وہ ہمت کر رہے ہیں اور ساری دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ تم کو تو انیس ہزار سال تک دُنیا پر روحانی رنگ میں قبضہ رکھنا چاہیے کیونکہ مسیح محمدؐی اپنی ساری شان میں مسیح ناصری ؑ سے بڑھ کر ہے۔ خدا تعالیٰ تم کو توفیق دے اور تمہاری ہمتوں میں برکت دے اور تم ہمیشہ خدا تعالیٰ کے قرب میں جگہ پاؤ۔
    رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوکان موسیٰ و عیسیٰ حیین لما وسعھما الا اتباعی۔ یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ بھی زندہ ہوتے تو اُن کے لئے میری اتّباع کے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا پس تمہارا آقاؐ تو عیسیٰ ؑ اور موسیٰؑ سے بھی بڑھ کر ہے۔ تمہیں چاہیئے کہ جب تم قادیان جاؤ تو اس وقت تک کروڑوں احمدی ہو چکا ہو۔ اور اپنی نسلوں کو سکھاؤ کہ وہ احمدیت کو بڑھائیں اور ترقی دیں۔ رسول کریم صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ماؤں کے قدموں کے نیچے جنّت ہوتی ہے اس کے یہی معنے ہیں کہ ماں اگر چاہے تو اپنے بچّوں کو جنّتی بنا سکتی ہے۔ سواَے احمدی عورتو ! اپنی اولاد کو جنّتی بنانے کی کوشش کرو اور اُن کو یہ تعلیم دو کہ احمدیت کو دُنیا میں پُر امن طریق پر پھیلا کر دم لیں۔ صرف پنجاب میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں۔
    تمہیں قادیان سے آئے ہوئے تیرہ سال ہو رہے ہیں۔ چاہیئے تھا کہ اس تیرہ سال کے عرصہ میں تم جماعت کو کئی گنا بڑھا دیتیں۔ بیشک عورت مردوں کی طرح کام نہیں کر سکتی مگر اپنے خاوندوں اور بیٹوں کو ترغیب دے سکتی ہے۔ عیسائی عورتیں اپنی زندگی وقف کر کے ساری عمر دین کا کام کرتی ہیں تم کو بہر حال عیسائیوں سے بڑھ کر نمونہ دکھانا چاہیئے اور قیامت تک اسلام اور احمدیت کے جھنڈے کو بلند رکھنا چاہیئے۔ اﷲ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور وہ تمہیں اپنے فرائض کو صیحح رنگ میں ادا کرنے کی توفیق بخشے‘ تمہیں احمدیت کا سچا خادم بنائے اور تمہیں اپنی برکات سے ہمیشہ بہرہ ور فرماتا رہے۔‘‘ ۵







    فصل دوم
    ماہنامہ انصار اﷲ کا اجراء
    اس سال نومبر ۱۹۶۰ء سے مرکزی جرائد و رسائل میں ماہنامہ ’’ انصار اﷲ‘‘ کا اضافہ ہواجو مجلس انصار اﷲ
    مرکزیہ کاترجمان تھا اور ہے۔یہ نام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا تجویز فرمودہ تھا۔ ۶
    یہ نہایت مفید اور معیاری رسالہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس کی خصوصی توجہ گہری دلچسپی اور تفصیلی ہدایات ورہنمائی سے جاری ہوا اور آپ ہی نے اس کی ادارت کے اہم فرائض مولانا مسعود احمد خاں صاحب دہلوی کے سپرد فرمائے جنہیں آپ مسلسل تیرہ برس تک کمال فرص شناسی‘ عرقریزی اور ولولۂ شوق کے ساتھ بجا لاتے رہے۔ آپ کے بعد دسمبر ۱۹۸۴ء یعنی رسالہ کے جبری التوا تک مندرجہ ذیل اہل قلم اصحاب اس کے ایڈیٹر رہے:۔
    ۱۔ مولانا غلام باری صاحب سیفؔ صاحب(جنوری ۱۹۷۴ء تا مارچ ۱۹۷۷ء)
    ۲۔ جناب سید عبدالحی صاحب شاھدؔ ایم اے (اپریل ۱۹۷۷ء تا دسمبر۱۹۷۹ء)
    نوٹ:۔ نومبر دسمبر ۱۹۷۹ء کا شمارہ سید عبدالحی صاحب و جناب کمال یوسف صاحب مبلغ سویڈن کی زیر ادارت چھپا۔
    ۳۔ پروفیسر ناصر احمد صاحب پروازیؔ(جنوری ۱۹۸۰ء تا اپریل ۱۹۸۰ء)
    ۴۔ جناب کمال یوسف صاحب (مئی ۱۹۸۰ء)
    ۵۔ جناب مرزا غلام احمد صاحب ایم اے (جون ۱۹۸۰ء و جولائی ۱۹۸۰ء)
    اگست ۱۹۸۰ء سے دوبارہ مولانا سیفؔصاحب نے زمام ادارت سنبھالی اور دسمبر ۱۹۸۴ء تک کے تمام شمارے آپ ہی کی نگرانی میں شائع ہوئے۔
    رسالہ ’’انصار اﷲ ‘‘ کے اس پورے دور میں چودھری محمد ابراھیم صاحب ایم اے (انچارج دفتر انصار اﷲ) اس کے پبلشر رہے۔ رسالہ کے اولین کاتب منشی نورالدین صاحب خوشنویس تھے۔ ماہنامہ ’’انصار اﷲ‘‘ کی غرض و غایت حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس کے جامع اور پُر تاثیر الفاظ میں یہ تھی:۔
    ’’ اس کا بنیادی مقصد تربیت نفس کا فریضہ ادا کرنے میں انصار کی مدد کرنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے والے اسی مقصد کو سامنے رکھ کر اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنے رسولوں کے فرائض میں سے ایک فرض یہ بھی قرار دیتا ہے ویزکیّھم رسول لوگوں کے دلوں کو پاک اور صاف کرتے ہیں تاکہ ان پر انوار الٰہی نازل ہوں۔ اپنے نفس کی تربیت ‘ اہل و عیال کی تربیت اپنے شہر اور ملک کی تربیت تمام بنی نوع انسان کی اور کُل دنیا کی تربیت ایک اہم فرض ہے جو ہم پر عائد ہوتا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر انصار کا ترجمان ’’انصار اﷲ‘‘ کے نام سے شائع ہو رہا ہے‘‘ ۷
    ادارہ ’’انصار اﷲ‘‘ نے اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے جو اقدامات تجویز کئے اس کی تفصیل رسالہ کے پہلے پرچہ میں مولانا مسعود احمد خاں صاحب نے درج ذیل الفاظ میں بیان کی:۔
    ’’ یہ مجلس انصار اﷲ کا ترجمان ہو گا اس میں ہم انشاء اﷲ التزام کے ساتھ امام الزمان سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایسے روح پرورملفوظات اور پُر معار ف تحریرات (نظم و نثر‘ عربی ‘ فارسی و اُردو) شائع کرنے کا اہتمام کریں گے کہ جو جذب و تاثیر کے شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں‘ جن کے بار بار کے مطالعہ سے دلوں کے زنگ دُھل کر سب کثافتیں دُور ہو جاتی ہیں اور قلوب و اذہان کی ایسی تطہیر ہوتی ہے کہ انسانوں کے سینے اور دماغ آسمانی نور سے منور ہو جاتے ہیں اور وہ دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے عالمِ بالا کی مخلوق نظر آنے لگتے ہیں‘ اس کے ساتھ ساتھ آپ کے رفقاء کے حالات‘ ان کے قبولِ حق کے واقعات ‘ قربانی و ایثار‘ اور فدائیت کے نمونے اوران کی ایمان افروز روایات بھی التزام کے ساتھ ہدیۂ ناظرین کی جائیں گی تا ہمیں احساس ہو کہ ہم کیسے عظیم الشان اسلاف کی اولاد ہیں‘ ہمارا اصلی ورثہ کیا ہے ‘ اور اسے بحفاظت تمام نئی نسلوں کے اندر منتقل کرنے کے ضمن میں ہم پر کیا ذمّہ داری عائد ہوتی ہے۔ پھر تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت کے چیدہ چیدہ واقعات بھی قارئین کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے تا ایمان و یقین اور خدمت اسلام کے عزمِ صمیم کو ایک نئی پختگی اور نیا استحکام حاصل ہو۔ اسی طرح اہل علم اور اہل قلم اصحاب کے بلند پایہ علمی اور تربیتی مضامین سے ہر شمارے کو مزّین کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ الغرض ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ماہنامہ ’’انصار اﷲ ‘‘ کا ہر شمارہ روحانی نعمتوں کا ایک خوانِ یغما ثابت ہو۔
    چنانچہ ہم بسم اللہ مجرٖ ھا و مر سٰھا کہتے ہوئے اﷲتعالیٰ کے حضور عاجزانہ دُعاؤں کے ساتھ اس کا آغاز کرتے ہیں۔ ہماری دُعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے اور ہمیں اس مقصدِ عظیم میں اپنے فضل سے کامیاب کرے اور ہماری اس سعی کو قبول فرماتے ہوئے اسے نصرتِ دین کا ایک مؤثر ذریعہ بنا دے کیونکہ نصرت دین ہی ہم سب کی زندگی کا مقصدِ وحید اور نصب العین ہے ۔اٰمین یا ارحم الراحمین۔
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس رسالہ کے اجراء پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے حسب ذیل پیغام دیا جو پہلے شمارہ کے صفحہ ۷۔۸ میں رسالہ
    ’’ انصار اﷲ‘‘کا خیر مقدم کے عنوان سے سپرد اشاعت ہوا۔
    ’’ مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک ماہوار رسالہ انصار اﷲ کے نام سے جاری کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے جو مجلس انصار اﷲ مرکزیہ کا ترجمان ہو گا۔ مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں اس رسالہ کے پہلے نمبر کیلئے کوئی پیغام لکھ کر ارسال کروں۔ پہلے تو میں حیران ہوا کہ جب کہ میں خود بھی مجلس انصار اﷲ کا ممبر ہوں تو میری طرف سے کسی پیغام کے کیا معنے ہیں۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لنفسک علیک حقٌ ’’ یعنی اے انسان تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔ ‘‘تو میں نے اس خدمت کیلئے اپنے آپ کو تیار پایا۔
    جیسا کہ اکثر ناظرین کو معلوم ہے انصاراﷲ کا لفظ خود قرآن مجید نے استعمال کیا ہے اور استعمال بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے تعلق میں کیا ہے اسلئے اس لفظ کو ہماری جماعت کے ساتھ خاص نسبت ہے کیونکہ ہماری جماعت کے مقدس بانی کا مثیلِ مسیح ہونے کا خصوصی دعویٰ تھا۔ پس رسالہ انصار اﷲ کیلئے میرا پیغام بھی انصار اﷲ ہی کے لفظ میں مرکوز ہے۔ اس رسالہ کے ایڈیٹروںکو چاہیئے کہ خود بھی انصار اﷲ یعنی خدا کے مدد گا ر بنیں اور رسالہ کے نامہ نگاروں کو بھی تلقین کریں کہ وہ اپنے تمام مضامین کو اسی مرکزی محور کے ارد گرد چکر دیں۔ اس وقت دُنیا نے موجودہ زمانہ کی مادی تہذیب و تمدن کے اثر کے ماتحت خدا کو گویا اکیلا چھوڑا ہوا ہے۔ انصار اﷲ کو چاہیئے کہ سب سے پہلے قرآن و حدیث کا مطالعہ کر کے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لٹریجر کو گہری نظر سے دیکھ کر خدا کا منشاء معلوم کریں کہ وہ اس بارہ میں کیا چاہتا ہے۔ یعنی وہ کن خرابیوں کو مٹانا چاہتا ہے اور کن خوبیوں کو قائم کرنا چاہتا ہے اور پھر اس مطالعہ کے بعد اپنی تمام قوتوں اور تمام ذرائع کے ساتھ خدا کی خدمت میں لگ جائیں اس کے بغیر نہ تو مجلس انصار اﷲ حقیقی معنی میں انصار اﷲ کہلا سکتی ہے او نہ یہ رسالہ صیحح طور پر خدا تعالیٰ کا ناصر و مددگار سمجھا جا سکتا ہے۔
    رسالہ انصار اﷲ کے مضامین اعلیٰ درجہ کے علمی اور تحقیقی ہونے چاہیئیں اور اس رسالہ کو اپنے بلند معیار سے ثابت کر دنیا چاہیے کہ حقیقۃً مذہب اور اور سائنس میں کوئی ٹکراؤ اور تضاد نہیں کیونکہ وہ دونوں ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں۔ سچا مذہب خدا کا قول ہے جو محمد رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ اس دنیا پر نازل ہوا اور پھر آپ کے خادم اور ظل حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے ذریعہ اس نے اس زمانہ میں نئی روشنی پائی۔ اور سچّی سائنس خدا کا فعل ہے جو خدا کی پیدا کی ہوئی نیچر کے پردوں میں مستور رہ کر زمانہ کی ضرورت کے مطابق ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ اگر ان دونوں میں کوئی ٹکراؤ سمجھا جاتا ہے تو وہ یقینا نظر کا دھوکا ہے یعنی یا تو کسی معاملہ میں مذہب کو ٹھیک طرح نہیں سمجھا گیا اور یا سائنس کی کسی تحقیق کرنے والوں کو ٹھوکر لگی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء اور آپ سے تربیت یافتہ اصحاب کے لٹریچر نے اس نام نہاد تضاد کو بیشتر صورتوں میں صاف کر دیا ہے اور اگر کوئی ظاہری تضاد باقی ہے تو وہ بھی انشاء اﷲ جلد صاف ہو جائے گا۔ رسالہ انصار اﷲ کو اس کام میں خاص حصّہ لینا چاہیئے۔ یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کیلئے بڑے بڑے عظیم الشان کارنامے مقدر ہیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے ایک جگہ خدا سے علم پا کر لکھا ہے کہ :۔
    ’’میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچّائی کے نُور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا مُنہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمے سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھُولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جائیگا۔‘‘ (تجلیات الٰہیہ صفحہ ۱۷)
    پس اے میرے عزیز و اور دوستو اور بزرگو یہی میرا پیغام ہے اور اسی مقصد و منتہا کیلئے آپ سب کو کوشش کرنی چاہیئے۔ اﷲ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ آمین
    خاکسار مرزا بشیر احمد
    حال لاہور ۲۰؍اکتوبر ۱۹۶۰ء
    ’’ اس پیغام کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے بھارت کے احمدیوں کو اس کی خریداری کی پُر زور تحریک بھی فرمائی چنانچہ آپ نے مولانا عبدالرحمن صاحب جٹ فاضل ناظر اعلیٰ کے نام مکتوب لکھا کہ:۔
    ’’ مجلس انصار اﷲ مرکزیہ نے ربوہ سے ایک ماہنامہ انصار اﷲنومبر ۱۹۶۰ء سے جاری کیا ہے جو مجلس انصار اﷲ مرکزیہ کا ترجمان ہے اس میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روح پرور ملفوظات اور پُر معارف تحریرات شائع کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حضور کے رفقاء کے دلچسپ حالات ‘ قبول حق کے ایمان افروز واقعات اور روایات‘ قربانی و ایثار اور فدائیت کے نمونے شائع کرنے کا التزام ہے اور پھر تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت کے چیدہ چیدہ واقعات بھی پیش کئے جانے کا پروگرام ہے۔ اسی طرح اہل علم بزرگان کے تربیتی مضامین اور اہل قلم حضرات کے بلند پایہ علمی مقالے بھی اس رسالہ کے ذریعہ پیش کئے جائیں گے۔ الغرض یہ ماہنامہ انصار اﷲ ایک معّلم اورمربی کا کام دے گا۔ میں اس خط کے ذریعہ بھارت کی مجالس انصار اﷲ کو تحریک کرتا ہوں کہ اس کے ممبران اس رسالہ کو اپنے نام جاری کرائیں اور اس سے استفادہ کریں اور جو اصحاب اپنے طور پر خرید کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں وہ مل کر اپنی اپنی مجالس ہی کیلئے کم از کم ایک رسالہ توضرور جاری کروالیں۔ اس رسالہ کا سالانہ چندہ صرف پانچ روپے ہے جو رسالہ کی خوبیوں کے بالمقابل معمولی رقم ہے۔ ‘‘
    والسلام مرزا بشیر احمد ربوہ
    ۱۹۶۱۔۱۔۲۸ ۸
    اس کے علاوہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے سالانہ اجتماع مجلس انصار اﷲ مرکزیہ (منعقدہ ۱۳۴۱ ھش؍۱۹۶۲ء) کے موقعہ پر اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ:۔
    ’’ میں اس جگہ رسالہ’’ انصار اﷲ ‘‘ کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ رسالہ خدا کے فضل سے بڑی قابلیت کے ساتھ لکھا جاتا اور ترتیب دیا جاتا ہے اور اس کے اکثر مضامین بہت دلچسپ اور دماغ میں جِلا پیدا کرنے اور روح کو روشنی عطاء کرنے میں بڑا اثر رکھتے ہیں پس انصار اﷲ کو چاہیئے کہ اس رسالہ کو ہر جہت سے ترقی دینے کی کوشش کریں‘ اس کی اشاعت کا حلقہ وسیع کریں اور اس کیلئے مختلف علمی موضوع پر اچھے اچھے مضامین لکھ کر بھجوائیں تاکہ اس کی افادیت میں ترقی ہو اور جماعت میں اس کے متعلق دلچسپی بڑھتی چلی جائے۔‘‘ ۹
    عہد حاضر میں تربیت و اصلاح نفس کا مسئلہ پوری دنیا کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن جماعت احمدیہ کے لئے جو دین حق کی علمبردار ہے اس کی اہمیت و ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہی واحد ذریعہ ہے جس کے نتیجہ میں اسلامی معاشرے کاخواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے اور جیسے کہ اوپر ذکر آ چکا ہے یہ نیا رسالہ اس بنیادی مقصد کی تکمیل کیلئے جاری کیا گیا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ماہنامہ ربع صدی سے نہایت خوبی اور مثالی رنگ میں بیش بہا علمی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس رسالہ کی اہم خصوصیات یہ تھیں:۔
    اوّل۔ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کے
    و جد آفریں‘زندگی بخش اور روح پرورکلام(نثر ونظم) کا نہایت موزوں انتخاب مسحور کن عنوانوں کیساتھ اس کی زینت ہوتا تھا۔ یہی وہ معرفت کالازوال خزانہ ہے جس کے نتیجہ میں قلوب کی آلائشیں دور ہوتی ہیں اور انسان اپنے اندر ایک پاک تبدیلی محسوس کرتا ہے۔
    دوم۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد قیمتی مکتوبات کے عکس اس میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوئے۔ یہ مکتوبات حضرت قاضی محمد عبداﷲ صاحب ‘حجۃ اﷲ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب ‘ حضرت مولوی محمد دین صاحب ‘ حضرت صوفی غلام محمد صاحب مبلّغ ماریشس‘ غضنفر احمدیت حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب‘ حضرت سیٹھ غلام نبی صاحب جہلمی‘ حصرت قاضی ظہور الدین صاحب اکملؔرحمھم اﷲ‘ جیسے اکابر رفقاء احمد کے نام ہیں اور بیش قیمت ارشادات پر مشتمل ہیں۔
    سوم۔ مولانا عبدالرحمن صاحب انورؔ کی مساعی سے متعدد بزرگ رفقاء کی غیرمطبوعہ روایات ریکاردڈہوئیں۔
    چہارم۔ خلفاء احمدیت کے ایمان افروز خطابات سپرد اشاعت ہوئے۔
    پنجم۔ اس زمانہ میں جماعت احمدیہ جس شاندار طریق سے عالمی سطح پر تبلیغ
    دین حق کر رہی ہے اور اس کے انقلاب انگیز نتائج پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کا جائزہ ایک مبصر کی حیثیت سے لیا جاتا رہا اور غیروں کے اعتراضات کو اس میں خاص طور پر شامل اشاعت کیا گیا۔
    ششم۔ یہ رسالہ دین حق و احمدیت کی تاریخ ‘ صحابہ کی سیرت اور بہت سے تربیتی‘ تبلیغی اور اصلاحی مضامین کے اعتبار سے ایک مختصر سے انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے جسے سلسلہ کے بہت سے مقتدر بزرگوں او ر دیگر مشہور اہل علم اصحاب کی علمی اور فکری کاوشوں کا نچوڑ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔
    نومبر ۱۹۶۰ء سے دسمبر ۱۹۸۴ء تک جن مشہور و ممتاز اہل قلم نے اپنے رشحات قلم سے اس رسالہ کو مزین کیا ان کے نام یہ ہیں۔
    حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب۔چوہدری محمد ظفر اﷲ خاں صاحب۔مولانا جلال الدین صاحب شمسؔ۔مولانا ابوالعطاء صاحب۔شیخ محمد اسمٰعیل صاحب پانی پتی۔شیخ عبدالقادر صاحب مربی سلسلہ۔شیخ عبدالقادر صاحب محقّقِ عیسائیت۔صوفی بشارت الرحمن صاحب۔شیخ محبوب عالم صاحب خالد۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ۔مرزا عبدالحق صاحب۔صاحبزادہ مرزا منوراحمد صاحب۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب۔مولاناغلام احمد صاحب فرّخؔ۔مولانا شیخ مبارک احمد صاحب۔مولانا عبدالمالک خاں صاحب۔پروفیسر حبیب اﷲ خاں صاحب۔مولانا محمد صادق صاحب سماٹری۔محترم ڈاکٹر شاہنواز خاں صاحب۔مولانا نسیم سیفیؔ صاحب۔شیخ محمد حنیف صاحب کوئٹہ۔اخوند فیاض احمد صاحب۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب۔چوہدری ظہور احمد صاحب۔ڈاکٹر نصیر احمد خاں صاحب ۔چوہدری محمد علی صاحب۔مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری۔شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی۔سید احمد علی شاہ صاحب۔ملک سیف الرحمن صاحب۔شیخ نور احمد صاحب منیرؔ۔مولوی عطاء اﷲ صاحب کلیمؔ۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیرؔ۔مولوی فضل الٰہی صاحب بشیر۔قاضی محمد اسلم صاحب۔صوفی محمد اسحاق صاحب ۔پروفیسرسعود احمد خاں صاحب دہلوی۔جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے مولف ’’اصحاب احمد‘‘۔جناب بشیر احمد رفیقؔصاحب۔مولوی فضل الٰہی صاحب انوریؔ۔ابو قیصر آدم خاں صاحب مردان۔جناب مسعود احمد صاحب جہلمی ۔حسن محمد خاں عارف صاحب۔محترم خالد سیف اﷲ صاحب ۔مولوی بشیر احمد صاحب زاھد۔ریٹائرڈ بریگیڈیر جناب وقیع الزمان خاں صاحب۔مولوی محمد احمد صاحب جلیلؔ۔
    ہفتم۔ انصار اﷲ کی عالمی تنظیم کے سالانہ اور علاقائی اجتماعات اور مختلف تقاریب اور تبادلوں کی رپورٹیں اس میں خاص اہتمام اور باقاعدگی کے ساتھ چھپتی تھیں۔
    ہشتم۔ ایک صفحہ بچوں کیلئے مخصوص تھا۔
    نہم۔ رسالہ نہ صرف مضامین و معلومات کے اعتبار سے بلند پایہ اور معیاری تھا بلکہ ظاہری محاسن سے بھی آراستہ و پیراستہ تھا۔
    دہم۔ جنوری ۱۹۷۶ء سے یہ رسالہ مصّور ہو گیا جس کے بعد گاہے گاہے اس میں اہم تصاویر بھی چھپنے لگیں۔

    فصل سوم
    سالانہ اجتماع مجلس انصار مرکزیہ
    خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اﷲ کے کامیاب اجتماعات کے بعد
    مجلس انصار اﷲ مرکزیہ کا چھٹا سالانہ اجتماع ۲۸‘۲۹‘۳۰؍اکتوبر ۱۹۶۰ء کو انعقاد پذیر ہوا جو اپنی مثال آپ تھا۔ اس اجتماع کا افتتاح قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے پُر اثر اور پُر درد خطاب اور پُر سوز دعا سے کیا۔ حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا:۔
    ’’انصار اﷲ کے اجتماع کیلئے کسی پیغام کا انتخاب کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے کیونکہ یہ پیغام بصورتِ احسن انصار اﷲ کے لفظ میں مرکوز ہے جس کے معنی خدائی خدمت گار کے ہیں۔ قرآن مجید نے انصار اﷲ کی اصطلاح اولاًحضرت مسیح ناصری کے مشن کے تعلق میں استعمال کی ہے۔ جہاں یہ ذکر آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے من انصاری الی اﷲ کہہ کر اپنے حواریوں سے اپنے خدا داد مشن میں مددگار بننے کا مطالبہ کیا اور اس کے جواب میں حواریوں نے عرض کیا نحن انصار اﷲ یعنی اے خدا کے مسیح ہم خدا کے کام میں آپ کے معاون و مددگار بننے کا وعدہ کرتے ہیں۔
    اس کے بعد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ گو بعض حواریوں سے کچھ کمزوریاں اور فروگزاشتیں بھی ہوئیں مگر انہوں نے بحیثیت مجموعی خدا کے رستہ میں تکلیفوں اور مصیبتوں اور صعوبتوں کو برداشت کرنے اور اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق حضرت مسیح ناصری کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے میں بڑی جانفشانی اور بڑے صبر و استقلال اور قربانی سے کام لیا۔ بلکہ وہ اپنے تبلیغی جوش میں اور بعض بعد میں آنے والے لوگوں کی غلط تشریحات کے نتیجہ میں حضرت مسیحؑ ناصری کے منشاء سے بھی آگے نکل گئے۔ کیونکہ گو مسیح ؑ کا مشن صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں تک محدود تھا مگر مسیحی مشنری اس حد بندی کو توڑ کر دوسری قوموں تک بھی جا پہنچے اور اس تجاوز میں خطرناک ٹھوکر کھائی مگر اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشن ساری قوموں اور سارے ملکوں اور سارے زمانوں تک وسیع ہے اور پھر محمدی نیابت کی وجہ سے آپ کا مقام بھی مسیح ناصری کی نسبت زیادہ بلند اور زیادہ ارفع ہے ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ خود فرماتے ہیں کہ۔

    ؎
    ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو



    اُس سے بڑھ کر غلام احمد ہے

    پس ایک طرف میدانِ عمل کی غیر معمولی وسعت اور دوسری طرف حضرت مسیح موعودؑ کے پیغام کی غیر معمولی رفعت آپ صاحبان سے غیر معمولی جدوجہد اور غیر معمولی قربانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ یاد رکھو کہ محض انصار اﷲ کہلانے سے کچھ نہیں بنتا۔ اﷲ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے اور اپنے بندوں کو ان کے دل کے تقویٰ اور ان کے اعمال کے پیمانے سے ناپتا ہے۔ آپ کی منزل ابھی دُور ہے بہت دور۔ پس اپنے قدموں کو تیز کرو بہت تیز بلکہ پرواز کے پَر پیدا کرو۔ کیونکہ یہ ہوائی اُڑان کا زمانہ ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ کو حضور کے ایک کشف میں ہوا میں اُڑنے کا نظارہ بھی دکھایا گیا تھا جس میں یہی اشارہ تھا کہ جماعت کو اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے بڑی تیز رفتاری کے ساتھ ہوا میں اُڑنا ہو گا۔
    پھر آپ لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت جماعت کا امام جس نے سینکڑوں کٹھن منزلوں اور خاردار جھاڑیوں میں سے جماعت کو کامیابی کے ساتھ گزارا ہے اور اس وقت تک خدا کے فضل سے ہمارے امام کی قیادت میں جماعت کا ہر قدم ترقی کی طرف اُٹھتا چلاآیا ہے۔ وہ ایک لمبے عرصہ سے بستر علالت میں پڑا ہے اور آپ لوگ اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اﷲ بنصرہ کے روح پرور خطابات اور آپ کی زندگی بخش ہدایات اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں آپ کے زریں ارشادات سے بڑی حد سے محروم ہیں اور حضور کی یہ بیماری بشری لوازمات کا ایک طبعی خاصہ ہے۔ مگر اس حالت میںآپ لوگوں پر یہ بھاری فرض عائد ہوتا ہے کہ جس طرح باپ کی بیماری میں فرص شناس بچے اپنے کاموں میں زیادہ بیدار اور زیادہ چوکس ہو کر لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح آپ بھی اس وقت کے نازک حالات میں اپنے غیر معمولی فرض کو پہچانیں اور اپنے عمل سے ثابت کر دیں کہ امام کی بیماری میں آپ کا قدم سُست نہیں ہوا بلکہ تیز سے تیز تر ہو گیا ۔ اور اس کے ساتھ ہی حضرت خلیفۃ المسیح کی صحت اور شفایابی اور حضور کی فعال زندگی کی بحالی کیلئے بھی بیش از پیش دُعائیں کریں تا ہمارا یہ امتحان جلد ختم ہو۔ اور یہ خدائی برات اپنے دولہا کے ساتھ تیز قدم اُٹھاتے ہوئے آگے بڑھتی چلی جائے۔ علاوہ ازیں اِن ایّام میںآپ لوگوں کو جماعت کے اتحاد کا بھی خاص بلکہ خاص الخاص خیال رکھنا چاہیئے۔ قرآن مجید نے رسول پاک ﷺ کے صحابہؓ کو بنیان مرصوص کے امتیازی نام سے یاد کیا ہے۔ اور بنیا ن مرصوص وہ ہوتی ہے جو آپس میں اس طرح پیوست ہو کہ کوئی چیز اس میں رخنہ نہ پیدا کر سکے اور یہ بات قربانی کی روح کے بغیر ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔ اگر ہر شخص کو یہ خیال ہو کہ ہر حال میں میری ہی بات مانی جائے اور میری ہی رائے کو قبول کیا جائے تو یہ بدترین قسم کا تکبر ہے جو جماعت کے اتحاد کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جویہ فرمایا ہے کہ ’’ سچّے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلّل اختیار کرو‘‘ اس میں یہی نکتہ مدنظر ہے کہ بعض اوقات انسان کو اتحاد کی خاطر اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے بھی اپنی رائے کو چھوڑنا پڑتا ہے دوستوں کو چاہیئے کہ اس نکتہ کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
    جہاد فی سبیل اﷲ کے تعلق میں آپ کاکام دو میدانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک میدان تبلیغ کا میدان ہے۔ یعنی غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا اور اپنے مسلمان بھائیوں کے دلوں سے احمدیت کے متعلق غلط فہمیوں کو دُور کرنا ۔ یہ ایک بڑا نازک اور اہم کام ہے جس کیلئے آپ صاحبان کو خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بے اصول لوگوں نے اسلام اور احمدیت کے متعلق غلط فہمیوں کا ایک وسیع جال پھیلا رکھا ہے۔ اس جال کے کانٹوں کو اپنے رستہ سے ہٹانا آپ لوگوں کا فرض ہے۔ مگر اس تعلق میں اِس قرآنی آیت کو کبھی نہیں بھُولنا چاہیئے کہ:۔
    ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والمو عظۃ الحسنۃ و جادلھم بالتی ھی احسن
    ’’یعنی لوگوں کو نیکی کے رستہ کی طرف محبت اور حکمت اور نصیحت کے رنگ میں بُلاؤ اور ایسا طریق اختیار نہ کرو جس سے دوسروں کے دل میں نفرت اور دُوری کے خیالات پیدا ہوں‘‘ بلکہ اپنے اندر ایک ایسے روحانی مقناطیس کی صفت پیدا کرو جس سے سعید لوگ خود بخود آپ کی طرف کِھچے چلے آئیں۔
    دوسرا میدان تربیت سے تعلق رکھتا ہے یعنی اپنے آپ کو اور اپنے دوستوں کو اور سب سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال کو اسلام اور احمدیت کی دلکش تعلیم پر قائم کرنا۔ یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہے بلکہ بعض لحاظ سے تبلیغ سے بھی زیادہ نازک اور اہم ہے۔ جماعت جوں جوں تعداد میں بڑھتی جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ سے بُعد ہوتا جاتا ہے اس کام کی اہمیت بھی بہت بڑھتی جاتی ہے۔ آپ لوگوں کو عہد کرنا چاہیئے کہ آپ پوری توجہ کے ساتھ اس بات کی کوشش کریں گے کہ اپنی عورتوں کو خلافِ شریعت رسموںسے باز رکھیں اور اپنی اولاد کونیکی کے رستہ پر چلائیں اور اپنے بچوں میں سے کم از کم ایک بچہ کو علم اور عمل میں اپنے سے بہتر بنانے اور اپنے پیچھے بہتر حالت میں چھوڑنے کی تدبیر کریں۔ ہمارے سامنے یہ تلخ حقیقت موجود ہے کہ جماعت میں بعض اعلیٰ پائے کے اصحاب جو علم و فضل میں بہت اعلیٰ مقام رکھتے تھے جب وہ فوت ہوئے تو ان کے ساتھ ہی ان کا علمی اور روحانی ورثہ بھی ختم ہو گیا ترقی کرنے والی جماعتوں کیلئے یہ صورت حال بڑی تشویشناک ہے پس انصار اﷲ کو چاہیئے کہ اس بات کا محاسبہ کرتے رہیں اور مسلسل نگرانی رکھیں کہ ان کے پیچھے ان کی اولاد میں دین کا ورثہ ضائع نہ ہو۔ یہ وہ بات ہے جس کا حضرت مسیح موعود ؑ کو بھی اپنی اولاد کے متعلق بے حد خیال تھا چنانچہ آپ اپنی ایک نظم میں اپنے بچوں کے متعلق فرماتے ہیں۔
    ؎
    یہ ہومیں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا
    جب آوے وقت میری واپسی کا
    اس دھوکہ میں نہیں رہنا چاہیئے کہ چونکہ ہم خود نیک اور دیندار ہیں اس لئے ہماری اولاد بھی لازماً نیک ہو گی۔ قرآن مجید فرماتا ہے۔
    یخرج الحي من المیت و یخرج المیت من الحي
    ’’ یعنی خدا کا یہ قانون ہے کہ مُردہ لوگوں میں سے زندہ لوگ پیدا ہو جاتے ہیں اور زندہ لوگوں کے گھر مُردہ بچے جنم لیتے ہیں۔‘‘
    چنانچہ حضرت سلیمان ؑ کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ :۔
    القینا علی کرسیہٖ جسدا
    ’’ یعنی جب سلیمان ؑ جو خدا کا ایک عظیم الشان نبی تھا فوت ہوا تو اس کے تخت پر ایک گوشت کا لوتھڑا تھا۔ انسان نہیں تھا۔‘‘
    پس یہ مقام خوف ہے اور اس کی طرف انصار اﷲ کو خاص توجہ دینی چاہیئے۔ دوستو اور عزیزو ! اپنے گھروں میں علم اور دین اور تقویٰ کی شمع روشن رکھو۔ تا ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد یہ روشنی ختم ہو جائے اور صرف اندھیرا ہی اندھیرا رہ جائے۔ مجھے اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اﷲ بنصرہ کا یہ دردناک شعر یاد آ رہا ہے کہ :۔
    ؎
    ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں
    آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو
    ۱۰
    سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح موعود نے اس خصوصی اجتماع کیلئے ایک نہایت
    روح پرور پیغام عطا فرمایا جسے صدر مجلس انصار اﷲ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے آخری اجلاس میں پڑھ کر سنایا اور تحریک جدید کی اہمیت پر ایک پُر جوش اور ایمان افروز تقریر فرمائی۔ حضور کے پیغام کا متن حسب ذیل تھا۔
    اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط
    بسم اللہ الرحمن الرحیم ط نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ط
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالنّاصر
    برادران جماعت احمدیہ ! السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ
    مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں تحریک جدید کے نئے مالی سال کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے دوستوں کو اس تحریک میں زیادہ سے زیادہ جوش اور اخلاص کیساتھ حصّہ لینے اور اپنے وعدوں کو پچھلے سالوں سے بڑھا کر پیش کرنے کی طرف توجہ دلاؤں۔ تحریک جدید کوئی نئی یا عارضی چیز نہیں بلکہ قیامت تک قائم رہنے والی چیز ہے۔ اس لئے مجھے ہر سال اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن چونکہ مجھے کہا گیا ہے کہ اس بارہ میں اعلان کروں اس لئے میں تحریک جدید کے نئے مالی سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں اور دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں اور زیادہ سے زیادہ مالی قربانی کا نمونہ دکھائیں تاکہ تبلیغ کا کام قیامت تک جاری رہے۔ یہ امر یاد رکھو کہ ہماری جماعت محمد رسول اﷲ ﷺ کی جماعت ہے۔ اور محمد رسول اﷲﷺ کا کام قیامت تک جاری رہے گا۔ پس ہمیں سمجھ لینا چاہیئے کہ ہمارے سپرد اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اشاعت اسلام کا جو کام کیا گیا ہے وہ قیامت تک جاری رہنے والا ہے اور ہمیں قیامت تک آپ کے جھنڈے کو بلند رکھنے کیلئے ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینا پڑیگا۔ بے شک رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت اشرار الناس پر آئے گی لیکن اگر لوگ نیکی پر قائم رہیں تو خدا تعالیٰ اس کو بدل بھی سکتا ہے اور بالکل ممکن ہے کہ قیامت اشرار الناس پر نہیں اخیار الناس پر آئے۔ یہ تو امت کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسا اچھا بنائے کہ خدا تعالیٰ اپنی تقدیر کو بدل دے اور قیامت آنے کے وقت بھی دنیا میں اچھے لوگ ہی ہوں بُرے نہ ہوں اور چونکہ اس زمانہ میں دنیا کی ہدایت کیلئے خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو کھڑا کیا ہے اور ہماری جماعت نے قیامت تک اسلام اور احمدیت کو پھیلاتے چلے جانا ہے۔ اس لئے ہماری خواہش ہے کہ اﷲ تعالیٰ ایسا فضل کرے کہ قیامت اچھے لوگوں پر ہی آئے اور ہماری جماعت کے افرادکبھی بگڑیں نہیںبلکہ ہمیشہ نیکی اور تقویٰ پرقائم رہیں۔ سلسلہ سے پورے اخلاص کے ساتھ وابستہ رہیں۔ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرتے رہیں۔ اور اپنے نیک نمونہ سے دوسروں کی ہدایت کا موجب بنیں۔ مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ لوگ بھی اپنا اچھا نمونہ دکھائیں اور دوسروں کو بھی اپنے عملی نمونہ اور جدوجہد سے نیک بنانے کی کوشش کریں تاکہ قیامت اشرار الناس پر نہیں بلکہ اخیار الناس پر آئے اور ہمیشہ آپ لوگ دین کی خدمت میں لگے رہیں۔ جو خدا تقدیر یں بناتا ہے وہ اپنی تقدیروں کو بدل بھی سکتا ہے۔ اگر آپ لوگ اپنے اندر ہمیشہ نیکی کی روح قائم رکھیں گے تو اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کے فعل کے ساتھ اپنی تقدیر کو بھی بدل دیگا۔ اور قیامت تک نیک لوگ دنیا میں قائم رہیں گے۔ جو خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرتے رہیں گے۔
    پس کوشش کریںکہ اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کو قیامت تک لئے چلا جائے اور اخیار کی صورت میں لے جائے نہ کہ اشرار کی صورت میں اور ہر سال جو ہماری جماعت پرآئے وہ زیادہ سے زیادہ نیک لوگوں کی تعداد ہمارے اندر پیدا کرے اور ہماری قربانیوں کے معیار کو اور بھی اونچا کر دے۔ اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور وہ آپ کو اس تحریک میں پورے جوش اور اخلاص کیساتھ حصّہ لینے کی توفیق بخشے اور ہمیشہ آپکو خدمتِ دین کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ اللھم آمین ‘‘ ۱۱
    اس عظیم الشان اجتماع کے پُر کیف لمحات کا کسی قدر اندازہ کرنے کیلئے درج ذیل رپورٹ پیش کی جاتی ہے جو مسعود احمد خاں صاحب دہلوی مدیر انصار اﷲ کے قلم سے نکلی ہے فرماتے ہیں:۔
    اجتماع کا آغاز ۲۸؍اکتوبر ۱۹۶۰ء کو دفتر مجلس انصار اﷲ مرکزیہ کے احاطہ میں خوبصورت شامیانوں سے تیار کردہ وسیع و عریض پنڈال میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب
    مدّ ظلّہ العالی کے رُوح پرور اور ولولہ انگیز خطاب سے ہوا۔ یہ خطاب اس درجہ پُر درد و پُر سوز اور اثر انگیز تھا کہ اس کا لفظ لفظ دلوں میں اُترتا چلا گیا۔ اس سے ایمان کو ایک نئی تازگی یقین کو ایک نئی پختگی ‘ قلوب کو ایک نئی جلاء اور ذہنوں کو ایک نئی بصیرت حاصل ہوئی۔ اجتماع کے اس پُر اثر افتتاح کے بعد ۳۰؍اکتوبر کے ۱۲ بجے دوپہر تک نمازوں اور کھانے وغیرہ کے درمیانی وقفوں کو چھوڑ کر مختلف اوقات میں آٹھ اجلاس منعقد ہوئے۔ ان آٹھ اجلاسوں میں آٹھ مرتبہ تلاوت قرآن مجید کے چھ درس‘ اسی طرح احادیث نبوی ﷺ اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چار چار درس یعنی کل چودہ درس ہوئے جو حقائق و معارف اور علوم ظاہری و باطنی کا خزینہ تھے حقوق اﷲاور حقوق العباد کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا کہ ان درسوں میں جس پر ایمان افروز پیرائے میں روشنی نہ ڈالی گئی ہو اور کوئی دل ایسا نہ تھا جو حسبِ استطاعت اس کے نتیجہ میں آسمانی نور سے منور نہ ہوا ہو ۔ علی الخصوص ۲۸ تا ۳۰ ؍اکتوبر کی دو درمیانی راتیں جذب و تاثیر کا ایک شاہکار تھیں جبکہ دو تہائی حصّہ رات گزرنے کے بعد چار بجے علی الصبح خاص التزام کے ساتھ نمازِ تہجد ادا کی گئی اور دُنیا میں غلبۂ اسلام اور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اطال اﷲ بقاء ہ‘ کی صحت کاملہ و عاجلہ اور درازیٔ عمر کیلئے انتہائی درد اور خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں مانگی گئیں سجدوں میں کی جانے والی دعائیں اثر و جذب میں ڈوبا ہوا ایک ایسا منظر پیش کر رہی تھیں جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر صادق آتا تھا۔
    ؎
    شور کیسا ہے ترے کوچے میں لے جلدی خبر
    خون نہ ہوجائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا
    پھر دونوں روز نماز تہجد اور نماز فجر کے بعد علی الصبح ذکرِ حبیب علیہ السلام کی جو مجلسیں منعقد ہوئیں وہ جذب و تاثیر اور روحانی کیف و سرور کے لحاظ سے ایک خاص شان کی حامل تھیں ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقاء میں سے حضرت مولوی قدرت اﷲ صاحب سنوری ‘ حضرت ڈاکٹر حشمت اﷲ خاں صاحب ‘ حضرت مرزا برکت علی صاحب‘ حضرت سیّد زین العابدین ولی اﷲ شاہ صاحب اور حضرت مولوی عبدالواحد صاحب میرٹھی نے عشقِ الٰہی ‘ عشقِ رسولؐ اور عشقِ مسیح موعود ؑ سے سرشار ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیّبہ کے چشم دید واقعات سے متعلق اپنی نہایت ایمان افروز روایات ایک خاص جذبے کے ساتھ سُنائیں۔ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی اور حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکملؔ بوجہ ناسازیٔ طبع تشریف نہ لا سکے تھے اس لئے اُن کی تحریر کردہ روایات پڑھ کر سُنائی گئیں۔ اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدّ ظلّہ العالی اور حضرت حافظ سیّد مختار احمد صاحب شاہ جہانپوری اور حضرت خدا بخش صاحب مومن کی روایات کے ریکارڈ خود انہی کی آواز میں سُنا ئے گئے۔ خوش بخت رفقاء مسیح موعود ؑ کی ایمان افروز روایات سن کر سامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ بھی علیٰ قدرِ مراتب عشقِ الٰہی‘ عشق رسولؐ اور عشق مسیح موعودؑکی لگن سے سرشار ہوکر فرطِ مسرت میں جھوم اُٹھے۔ نماز تہجد اور نماز فجر میں آہ وزاری اور پھر معاً بعد خود رفقاء حضرت مسیح موعود ؑ کی زبانی حضور علیہ السلام کے معمولات اور رُوح پرور مجالس کے تذکارِ مقدس اور ان کا اثر و جذب میں ڈوبا ہوا بیان وہ رنگ لایا کہ یوں محسوس ہونے لگا کہ کثافتیں دُور ہو رہی ہیں ‘سینے دُھل رہے ہیں اور رحانی انبساط تحلیل ہو ہو کر رگ و پے میں سرایت کر رہا ہے۔ الغرض تزکیۂ نفوس اور تطہیر قلوب کا یہ ایک ایسا منظر تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ذکر حبیب علیہ السلام کی ان ہر دو مخصوص مجالس کے علاوہ حضرت مسیح موعود ؑ کے قدیمی اور مخلص (رفیق خاص) حضرت قاضی محمد عبداﷲ صاحب مدّظلّہ نے بھی جنہیں حضور علیہ السلام کے ۳۱۳ رفقاء کبار میں شمولیت کا شرف حاصل ہے ایک علیحدہ اجلاس میں اپنی ایمان افروز روایات بیان کر کے کیف و سرور کا وہ سامان بہم پہنچایا کہ جس سے ہر دل تڑپ اُٹھا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ ہم خود اسی مبارک دور میں سے گزررہے ہیں اور اُن روح پرور مجالس میں شرفِ باریابی سے بہرہ اندوز وفائز لمرام ہیں۔ علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود ؑ کے بعض قدیمی‘ مخلص اور جلیل القدر رفقاء کی سیرۃ پر بھی دو نہایت ایمان افروز تقاریر ہوئیں جو جذب و تاثیر کی کیفیت کو اور بھی زیادہ بڑھانے اور اس میں اضافہ کا موجب بنیں۔ پھر اہم علمی اور تربیتی موضوعات (خدا تعالیٰ کو پانے کا طریق‘ انابت الی اﷲ کا مفہوم‘ قبولیت دعا کی ذاتی مثالیں‘ حضرت رسول کریمؐ سے حضرت مسیح موعود ؑ کی بے پایاں محبت ‘ تربیت اولاد کی اہمیت)پر رفقاء حضرت مسیح موعود ؑ اور علماء سلسلہ نے مختلف اوقات میں حاضرین سے خطاب فرمایا جو بہت از دیادِ علم اور از دیادِ ایمان کا باعث بنا۔ سوال و جواب کا نہایت مفید دلچسپ اور مسحور کن سلسلہ اس پر مستزاد تھا جس کے تحت انصار نے بعض دینی اور علمی سوالات استفسار کے رنگ میں پیش کئے جن کے علماء سلسلہ نے اُسی وقت نہایت عالمانہ رنگ میں جواب دیکر تعلیم و تدریس کا فریضہ نہایت مہتمم بالشان طریق پر ادا کیا اور اس طرح انصار کو اپنے علمی ذوق کی تسکین کا نادر موقعہ میّسر آیا۔
    اجتماع کے سب سے زیادہ مسحورکن اور کیف آور و کیف پرورلمحات وہ تھے کہ جب آخری اجلاس میں محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس انصار اﷲ مرکزیہ نے تحریک جدید کے نئے سال کے آغاز سے متعلق سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ بنصرہ العزیز کا وہ رُوح پرور پیغام پڑھ کر سُنایا جو حضور ایدہ اﷲ نے خاص انصار کے نام ارسال فرمایا تھا۔ یوں تو محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اجتماع کے متعدد اجلا سوں نیز سوال و جواب کی مجلس کے دوران صدارت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے انصار سے بارہاخطاب فرمایا اور انہیں بیش بہا نصائح اور ہدایات سے نوازا لیکن حضور ایدہ اﷲ کا پیغام سُنا نے سے قبل آپ نے تحریک جدید کی اہمیت پر جو معرکۃ الآراء تقریر ارشاد فرمائی اور حضور ایدہ اﷲ کی قیادت اور رہنمائی میں زمین کے کناروں تک تبلیغ اسلام کی وسعت اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے عظیم الشان انقلاب کی اہمیت کو جس ولولہ انگیز پیرائے میں واضح فرمایا اور دلوں کو ہلا کر روحوں کو بیدار کرنے والے جس جذبہ و جوش کے ساتھ احمدی مجاہدین اسلام کے محیرالعقول کارناموں پر روشنی ڈالی اس کی یاد دلوں سے کبھی محو نہیں ہو سکتی۔ تقریر کیا تھی زورِ خطاب کا ایک شاہکار تھیں جذب و اثر کا ایک مرقع تھی‘ قربانی و ایثار کے جذبے کو ابھارنے کا ایک انتہائی مؤثر ذریعہ تھی۔ سچ یہ ہے کہ وہ ایک آسمانی قرناء تھی جو اِس زور اور شان سے پھونکی گئی کہ قلوبِ انسانی کی اقلیم اور اس کے درودیوار لرز اُٹھے‘ خفتہ سے خفتہ دل بھی بیدار ہوئے بغیر نہ رہے انسان تو انسان ماحول کا ذّرہ ذّرہ ایک نئی زندگی سے معمور ہو کر متحرک نظر آنے لگا۔ بشاشت ‘ انشراح اور کیف و سرور نیز قربانی و ایثار اور جوشِ عمل کے اس نادر ماحول میں محترم صاحبزادہ صاحب موصوف نے جب نہایت پُر جوش و پُرشوکت لہجہ کے ساتھ سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ کا زندگی بخش و رُوح پرور پیغام پڑھا جو تحریک جدید کے نئے سال کے واسطے مالی قربانی کے مطالبہ پر مشتمل تھا تو سامعین کی حالت ہی کچھ اور ہو گئی۔ محترم صاحبزادہ صاحب موصوف کے پُر زور خطاب کے نتیجے میں زندگی کی جو لہر پیدا ہوئی تھی وہ یمِ بے کراں کی صورت میں ٹھاٹھیں مارتی ہوئی دکھائی دینے لگی اور سامعین چندہ تحریک جدید کے نئے سال کے وعدے لکھوانے کے لئے یوں بے تاب نظر آنے لگے کہ گویا وہ اِذنِ عام کے منتظر ہیں یعنی یہ کہ اجتماع میں ہی وعدے پیش کرنے کی اجازت مل جائے۔ اگر اس وقت اس کی اجازت دیدی جاتی تو ایک دوسرے پر سبقت لے جانیکا وہ پُر کیف منظر دیکھنے میں آتا جو اپنی مثال آپ ہوتا۔ وعدوں ہی کی بھر مار نہ ہوتی بلکہ اسٹیج پر نوٹوں اور نقدی کے انبار لگ جاتے اور انہیں سنبھالنا اور اسم وار محسوب کرنا مشکل ہو جاتا۔ بہر حال یہ بات مقصود نہ تھی اور نہ پروگرام میں اس کیلئے کوئی گنجائش ہی موجود تھی اس لئے آخری اجلاس کی بقیہ کارروائی حسبِ پروگرام جاری رہی ۔ ہر چند کہ روح پرور دینی نظموں اور مختلف درسوں اور تقریروں کا سلسلہ جاری تھا تاہم احباب ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کے انتہائی قابلِ رشک و قابلِ قدر جذبے سے کام لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے رقعوں پر اپنے وعدوں کی رقوم لکھ لکھ کر اسٹیج پر مکرم وکیل المال صاحب کو برابر پہنچا رہے تھے۔ کیسے پُرکیف تھے وہ لمحات جن میں احباب کو محترم صدر صاحب مجلس مرکزیہ کے ایسے ایمان افروز خطاب اور حضور ایدہ اﷲ کے جاں بخش و رُوح پرور پیغام سے مستفید ہونے کا موقع ملا! اور کیساپُر لطف تھا وہ منظر جو وعدہ جات کے رُقعے اوّلین فرصت میں وکیل المال صاحب تک پہنچانے کی خاموش دوڑ دُھوپ کے ضمن میں دیکھنے میںآیا! اور کیا ہی خوش نصیب ہیں وہ احباب جنہیں ایسے مقدس ترین لمحات اور ان کی گوناگوں روحانی کیفیات میں سے گزرنے اور ان سے بے حساب طور پر فیضیاب ہو کر فائز المرام ہونیکا انمول موقع نصیب ہوا۔
    ؎
    ایں سعادت بزورِ باز و نیست
    تانہ بخشد خدائے بخشذہ !
    اجتماع کی بقیہ کارروائی کے آخر میں محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس مرکزیہ کا حسب معمول اختتامی خطاب بھی ایک خاص شان کا حامل تھا جس میں آپ نے حصولِ قرب الٰہی کی اہمیت پر نہایت عمدہ پیرائے میں روشنی ڈالی ۔ بعدہ‘ آپ نے ایک
    پُر سوز اجتماعی دعا کے بعد چھٹے سالانہ اجتماع کی کارروائی مکمل ہونیکا اعلان فرمایا او ر احباب کو اپنے اپنے گھر واپس جانے کی اجازت دی۔
    الغرض انصار ا ﷲ کا اجتماع دُعاؤں ‘ ذکر الٰہی اور انابت الی اﷲ کے ایک ایسے رُوح پرور ماحول میں منعقد ہوا اور اوّل سے آخر تک فضا میں ایک ایسا روحانی کیف چھایا رہا اور طبیعتوں میں ایک نئے آسمان کے نیچے اور ایک نئی زمین پر زندگی بسر کرنے کا احساس اس قدر غالب رہا اور ہرآن روحانی کیف و سرور کے ایسے جُرعے پینے کی سعادت نصیب ہوتی رہی کہ جن کی صیحح کیفیت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ بلا مبالغہ یہی تاثر ہر اُس شخص کا ہے جسے امسال اجتماع کی برکات سے بہرہ اندوز ہونے کی سعادت ملی چنانچہ بہت سے احباب نے اجتماع سے واپس جانے کے بعد خطوط کے ذریعے اپنے تاثرات کا اظہار کیا جن میں سے مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ایسے خطوط کے بعض اقتباسات ذیل میں درج ہیں۔
    (۱) محترم جناب سیّد زین العابدین ولی اﷲ شاہ صاحب ناظر امور خارجہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’ تین دن اکثر تقریروں کے دوران ایک ایسا روحانی سماں بندھا رہا کہ گویا حضرت مسیح موعود ؑ ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہماری روحوں سے مخاطب ہیں۔ لاہور میں بھی بعض دوستوں نے میرے اس تاثر کی تصدیق کی اور بتایا کہ دوسرے دوستوں نے بھی بعینہٖ اسی کیفیت کا اظہار کیاہے۔ ایک صاحب نے تو یہ تجویز پیش کی کہ ایسے اجتماع سال میںچار دفعہ منعقد ہونے چاہئیں تا پژمردہ دل زندہ ہو جائیں اور زنگ دُھل دُھل کر دلوں کے آئینے صیقل ہوتے رہیں۔ ‘‘
    (۲) مکرم قریشی عبدالرحمن صاحب ناظم مجالس انصار اﷲ خیرپور ڈویثرن سکھر سے تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’ اجتماع میں یوں معلوم ہوتا تھا کہ میں خالصۃً ایک روحانی ماحول میں ہوں اور روحانی ہستیوں کی پاک صحبت سے مستفید ہو رہا ہوں الغرض تمام وقت ایسا روحانی سرور حاصل ہوتا رہا جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔‘‘
    (۳) مکرم جناب ماسٹر محمد ابراہیم صاحب صدر جماعت احمدیہ حلقہ دہلی گیٹ لاہور اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
    ’’ بلاشبہ ہمارا یہ اجتماع دنیوی آلائشوں کو صاف کر کے روحانی حسن کو نکھارنے کا ایک نہایت موثر ذریعہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود ؑ کے مبشر پوتے کو کام کرنے والی لمبی زندگی عطا فرمائے جن کے وجود اور رہنمائی کی برکت سے ایسا روح پرور اجتماع منعقد ہوتا ہے۔ ‘‘
    (۴) مکرم جناب میرالہ بخش صاحب تسنیم تلونڈی راہوالی ضلع گوجرانوالہ اپنے مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’ زندگی میں ایسے ایّام بہت قابلِ قدر ہوتے ہیں کہ جن میں انسان دنیوی افکار سے فارغ ہو کر کمال درجہ اشتیاق کے ساتھ روحانی نعمتوں سے لذّت اندوز ہو سکے۔ اجتماع انصار اﷲ کے ایّام بلاشبہ اسی قسم کے مبارک ایّام میں سے تھے۔ اجتماع کیا تھا ایک روحانی مائدہ تھا جس سے ہر شخص حسبِ استعداد متمتّع ہوا۔ رفقاء حضرت مسیح موعود ؑ کے رُوح پرور حالات اور خود حضرت مسیح موعود ؑ کی حیاتِ طیّبہ کے چشم دید واقعات کا تذکرہ خود حضور علیہ السلام کے رفقاء کی زبان سے ایک ایسی نعمتِ غیر مترقبہ کا درجہ رکھتا تھا کہ جس کی لذّت ہمیشہ اپنا اثر دکھاتی رہے گی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا ہم خود حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانے میں جا موجود ہوئے ہیں اور حضور علیہ السلام کو اپنے احباب کے درمیان چلتا پھر تا دیکھ رہے ہیں۔ ‘‘ ۱۲
    مشرقی پاکستان کے طوفان زدگان کی گراں قدر امداد
    اس سال اکتوبر کے آخر میں مشرقی پاکستان ہولناک سمندری طوفان کی زدمیں آ گیا جس میں تقریباً دس ہزار قیمتی جانیں تلف ہوئیں۔
    جماعت احمدیہ نے اپنی روایات کے مطابق اس موقعہ پر بھی مصیبت زدگان کی امداد کا قابل تقلید نمونہ دکھلایا چنانچہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان نے اپنے اجلاس (اجلاس (۷؍نومبر ۱۹۶۰ء ) میں اس غرض کیلئے پانچ ہزار کی رقم منظور کی اور اس کا چیک جناب لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خاں صاحب گورنر مشرقی پاکستان کے نام ارسال کر دیا ۱۳اس
    بر وقت امداد پر انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے حسبِ ذیل مکتوب لکھا۔
    (ترجمہ)
    ڈھاکہ D.O.O.O No. 850گورنر مشرقی پاکستان
    گورنمنٹ ہاؤس ۱۸؍نومبر ۱۹۶۰ء
    بخدمت ناظر صاحب بیت المال صدر انجمن احمدیہ ربوہ
    آپ نے صدر انجمن احمدیہ ربوہ (پاکستان) کی طرف سے پانچ ہزار روپے کی رقم کا جو عطیہ مشرقی پاکستان کے طوفان زدگان کی امداد کے لئے ارسال فرمایا ہے اس کیلئے تہہ دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ آپ کی بروقت امداد صیحح معنوں میں قابل تعریف ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ ممبران صدر انجمن احمدیہ کے قلوب میں اپنے ہم وطن بھائیوں کیلئے حقیقی بھلائی اور خیر خواہی کے جذبات موجود ہیں۔
    دستخط ایم اعظم خاں
    ایم اعظم خاں لیفٹیننٹ جنرل گورنر مشرقی پاکستان ۱۴
    صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے علاوہ شیخ رحمت اﷲ صاحب امیر جماعت کراچی نے بھی فوری طور پر ایک ہزار روپیہ کی رقم جماعت کراچی کی طرف سے بھجوا دی۔ ۱۵
    حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کی اہم تقاریر ضلع شیخوپورہ و ضلع سیالکوٹ میں
    حضرت صاحبزادہ مرزا
    ناصر احمد صاحب قیام پاکستان سے قبل ماحول قادیان کی تبلیغی سرگرمیوں میں نمایاں حصہ لیتے
    تھے لیکن ہجرت کے بعد دوسری نئی ذمہ داریوں اور بدلے ہوئے حالات کے باعث اس میں تعطّل واقع ہو گیا۔ اس سال دعوت الی اﷲ کا یہ سلسلہ آپ نے دوبارہ شروع فرما دیا چنانچہ آپ نے ۱۳؍نومبر کو جماعت احمدیہ بہوڑو چک ۱۸ (ضلع شیخوپورہ )میں اور ۲۴‘۲۵؍نومبر کو موسیٰ والا اور رلیو کے (ضلع سیالکوٹ) کے جلسوں میں تشریف لے گئے اور اپنے ایمان افروز خطابات سے نوازا اور بتایا کہ احمدیت ایک زندہ خدا اور زندہ رسول اور ایک زندہ مذہب کو پیش کرتی ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کو ماننے والے اسلام کے فیضان کے نتیجہ میں آج بھی زندہ خدا کے زندہ معجزات دیکھ رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ نے بعض روح پرور واقعات بھی بیان کئے اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ آج بھی ہماری دعاؤں کو سُنتا ہے اور ہر احمدی خدا تعالیٰ کی صفت تکلّم کا مظہر بن سکتا ہے۔‘‘ ۱۶
    مغربی افریقہ میں اسلام کی شاندار ترقیات کا واضح اعتراف
    ۱۹۶۰ء کے آغاز میں افریقہ کے احمدی مجاہدین کے مقابل مشہور عالم عیسائی منّا د ڈاکٹر بلی گراہم کو جس طرح لاجواب اور بے بس ہونا پڑا اس کی
    بازگشت کسی نہ کسی رنگ میں اس سال کے آخر تک یورپین اہل قلم کے ذریعہ سنائی دیتی رہی اور اسلام کو افریقہ میں جو شاندار ترقیات ہو رہی تھیں اُن کا چرچا جاری رہا جس کا ایک واضح ثبوت مسٹر سسیل نارتھ کاٹ کا حسبِ ذیل مضمون بھی ہے جو لاہور کے بااثر انگریزی روزنامہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کی ۱۱؍دسمبر ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں چھپا اور جس کا عنوان تھا۔
    ‏MARCH OF ISLAM IN WEST AFRICA.
    ‏Progresses ten times more rapidly than christianity.
    مغربی افریقہ میں اسلام کی پیش قدمی ۔ اسلام عیسائیت کے مقابلہ پر دس گنا ترقی کر رہا ہے مسٹر نارتھ سسیل کاٹ کے اس مضمون کا اردو ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔
    ’’ مغربی افریقہ کے ممالک کی آزادی نے ساحلی علاقوں میں اسلام کے حق میں ترقی کی ایک نئی رَو پیدا کر دی ہے۔ اسلام افریقنوں کیلئے ایک پیغام ہے کیونکہ افریقہ میں یہ اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ گویا یہ افریقہ کی کالی اقوام کا ہی مذہب ہے۔ عیسائیت کے برخلاف اسلام انسانی کمزور یوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ہر نئے آنے والے کو بسہولت اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ کیونکہ اسلام کی سادہ تعلیم کے پیش نظر اس کو رسمی قباحتوں سے دو چار نہیں ہونا پڑتا ۔
    اس ضمن میں سیرالیون اور مغربی افریقہ نائیجیریا دو اہم علاقے ہیں۔ سیرالیون بھی اگلے اپریل میں آزاد ملکوں کی برادری میں شامل ہو جائیگا۔ مغربی نائیجیریا وہ علاقہ ہے جہاں عیسائیت کا ماضی نہایت شاندار روایات کا حامل رہا ہے۔ لیکن اب انہی دو علاقوں میں اسلام کو نمایاں ترقی حاصل ہورہی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ سیرالیون تو احمدی مسلمانوں کی منتخب سر زمین ہے جہاں وہ پاکستان سے آئے ہوئے منظّم مشنوں کے ماتحت نہایت مضبوط حیثیت میں سرگرم عمل ہیں۔ احمدیہ جماعت اس مقصد کو لیکر کھڑی ہوئی ہے کہ اسلام کو عیسائیت کے مقابلہ میں موجودہ دنیا کی راہنمائی کیلئے پیش کرے اور یہ عیسائیت کیلئے ایک چیلنج ہے۔ اور اب توانہوں نے سیرالیون میں باقاعدہ ڈاکٹری مشن کھولنے کا بھی عزم کر لیا ہے اور وہاں احمدیہ سکولوں کی تعداد بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مغربی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام عیسائیت کے مقابلہ میں دس گنا زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ نائیجیریا کا وسیع شمالی علاقہ اسلام کا گڑھ بن چکا ہے جو باوجود عیسائی مشنوں کی سالہا سال کی کوششوں کے مذہبی اعتبار سے ناقابل تسخیر اسلامی ملک ثابت ہوا ہے۔ بلکہ خود جنوب کے جنگلاتی علاقہ میں جہاں عیسائی مشنز نہایت مضبوط ہیں وفود بھیج کر اسلامی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ اور اب نائیجیریا کے آزاد ہو جانے پر ان دونوں بڑے مذاہب کے ایسے تصادم کا امکان ہے جو اب تک کہیں اور رونما نہیں ہوا ہے۔ کیونکہ یہاں اسلام اور عیسائیت نہایت جوش و خروش کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابلہ میں کمر بستہ ہیں۔ تاکہ ان قبائل کو اپنے زیر اثر لائیں ۔ جو کسی مذہب سے وابستہ نہیںبلکہ تو ہماتی شرک میں مبتلا ہیں۔ اس مقابلہ کے نتیجہ پر ہی افریقہ کے مستقبل کا انحصار ہے۔
    مغربی افریقہ کے ساحل پرسینگال کے شہر ڈکار سے نائیجیریا میں پورٹ ہارکوٹ تک قومی آزادی کے حصول کے ساتھ ساتھ قبائلی رسم و رواج اور روایتی ٹونے ٹوٹکوں کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ غرضیکہ جذبۂ قومیت کا اظہار دو طرفہ ہوا ہے۔ ایک طرف تو مغربی اقوام کے اقتدار کے ختم ہونیکے ساتھ ساتھ ان کے طور و طریق بھی اپنائے گئے اور دوسری طرف مغربی روایات بھی از سر نو زندہ ہوتی رہی ہیں مثلاً گھانا میں صدر کو ائی نکروماکو ASAGYEFO’’ اسے جیفو‘‘ کے خطاب سے پکارا جاتا ہے جس کے معنے گھانا کی قومی زبان چوئی میں جنگجو فاتح کے ہیں۔ لیکن یہی لفظ بطور ’’ نجات دہندہ‘‘ کے عیسائی حلقوں میں مسیح کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح گھانا کے پڑھے لکھے عیسائی بھی دیہاتی علاقوں میں ان تقریبات میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ جن میں نہایت مشرکانہ روایاتی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ حالانکہ ان میں شمولیت کے خلاف عیسائی پادری برملا اظہار ملامت کرتے ہیں۔
    قومی جذبہ نے تو ہماتی ٹونوں ٹوٹکوں کو ایسی اہمیت دے دی ہے کہ وہ آج
    اباو اجداد کے ورثہ کے طور پر سمجھے جاتے ہیں حالانکہ آج کی دنیا میں ان کی وقعت کم ہو جانی چاہیئے تھی۔ ہر وہ چیز جو آبائی یا تاریخی حیثیت کی حامل ہے وہ قومی جذبہ کی ترقی میں بے حد ممد ثابت ہوتی ہے۔ جبکہ جدید آزاد قومیت خود مختاری کو ماضی کی شاندار روایات سے بھی مفتخرکرنا چاہتی ہو۔ اس لئے آج آزادی کی حمایت میں قدیم رسومات اور سفید فام لوگوں کے ساتھ مغربی ساحل پر آئی ہوئی عیسائیت میں ایک واضح تصادم پیدا ہو چکا ہے۔ میں کچھ عرصہ ہوا کہ مشرقی نائیجیریا کے ایبو (IBO)کے قبائلی شہر اونٹیشا (ONITSHA) سے آیا ہوں۔یہ وہ شہر ہے جہاں آج سے سو سال پہلے لنڈن کی چرچ مشن سو سائٹی نے عیسائیت کی بنیاد ڈالی تھی۔ اور آج دریائے نائیجیریا کے کنارے دو بڑے عظیم گرجے کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔ ایک رومن کیتھولک گرجا اور دوسرا انگلش چرچ کا گرجا ہے۔ مشرقی نائیجیریا کے اس صوبہ میں نوے فیصدی سکول عیسائی مشنوں کے ہیں۔ اور یہ صوبہ انگلش مشن کی تنظیم وغیرہ کے لحاظ سے خود مختار ہے۔ لیکن بہت سے مبصرین اس خطرے کا اظہار کرتے ہیں کہ مغربی افریقہ میں عیسائیت کا مستقبل اب خطرے سے خالی نہیں۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک عیسائی سکول میں پڑھے لکھے آدمی کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ خود بھی پادری بن جائے لیکن آج حکومت اور تجارتی اداروں میں اس قدر ترقیات کے راستے کھلے ہوئے ہیں کہ ہر پڑھا لکھا عیسائی گرجے کے پاس سے اس جذبہ سے سرشار گزر جاتا ہے کہ وہ حکومت کے کسی دفتر میں بڑا افسر بن جائے یا اس کا بھی سیاسی راہ نماؤں میں شمار ہونے لگ جائے۔
    اگرچہ آزاد ملکوں میں ابھی چرچ اور حکومت کے درمیان کسی قسم کی رسہ کشی شروع نہیں ہوئی۔ لیکن زمانہ کے ساتھ ساتھ گھانا کی طرز پر آمرانہ حکومتوں کے قیام کے بعد یہ سوال خود بخود اٹھ سکتا ہے کہ آیا وفاداری حکومت کا حق ہے یا انسانی ضمیر کا۔ ایک وقت تھا کہ انگریزی اقتدار کے زمانہ میں عیسائی مشنز کو حکومت کی حمایت حاصل رہتی تھی۔ لیکن اب قومی حکومتوں کے قیام کے بعد عیسائی مشنزآپ اپنے سہارے کھڑے ہونے پر مجبور ہونگے اور اس بدلی ہوئی ہوَا کے رخ کا مقابلہ بغیر کسی نو آبادیاتی طاقت کی حمایت کے کرنا ہو گا۔‘‘ ۱۷



    فصل چہارم
    جلسہ سالان قادیان ۱۹۶۰ء کے لئے حضرت مصلح موعودؒ کا روح پرور پیغام
    اس سال ۱۶‘۱۷‘۱۸؍دسمبر ۱۹۶۰ء کو قادیان کا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔ سیّدنا حضرت مصلح موعودؒ نے اس مقدس اجتماع کیلئے ایک روح پرور
    اور ولولہ انگیز پیغام دیا جو پاکستانی قافلہ کے امیر حافظ عبدالسلام صاحب نے جلسہ کے افتتاحی اجلاس میں پڑھ کر سنایا ۔ اس خصوصی پیغام کا متن درج کیا جاتاہے۔
    اعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم ط
    بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ط
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    برادرانِ بھارت! السلام علیکم و رحمتہ اﷲ برکاتہ
    ہمیں قادیان سے گئے ہوئے تیرہ سال ہو گئے ہیں۔ او رتیرہ سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔ یہ زمانہ اپنی صعوبتوں اور مشکلات کے لحاظ سے ایک بڑا لمبا اور
    پُر فتن دور تھا۔ مگر اﷲ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ آپ نے ہر قسم کی مشکلات کے باوجود اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھا۔ اور حضرت مسیح موعود ؑ کے لائے ہوئے پیغام کو لوگوں کے کانوں تک پہنچایا۔ مجھے امید ہے اﷲ تعالیٰ آئندہ بھی آپ لوگوں کیلئے ہمیشہ خیرو برکت کے سامان پیدا کرتا چلا جائیگا۔ اور وہ مشکلات جو ابھی پائی جاتی ہیں ان کو بھی دور فرمادیگا۔
    یہ امر یاد رکھو کہ قادیان ہمارا مرکز اور خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے اور مرکز میں رہنے والوں اور مقدس مقامات کی زیارت کی غرض سے باہر سے آنے والوں پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اسلام کا عملی نمونہ بنیں ۔ اور اپنی عبادتوں اور دعاؤں اور بلند اخلاق کے ذریعہ دوسروں کیلئے بھی ہدایت اور رہنمائی کا موجب بنیں۔ اور کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو کسی کمزور انسان کیلئے ٹھوکر کا موجب ہو۔ پس اپنی ان تمام ذمہ داریوں کو احسن طریق پر ادا کرو جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے تم پر عاید ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر یقین رکھو۔ یہودی قوم اسلام کی شدید دشمن ہے مگر میں اسے داد دیتا ہوں کہ اس نے ۲۳ سو سال صبر کیا اور آخر اپنا مقدس مرکز پا لیا۔ اﷲ تعالیٰ ہماری جماعت کے افراد کو بھی اس امر کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ دعاؤں سے کبھی غافل نہ ہوں۔ اور ہمیشہ اپنے روحانی مرکز میں روحانی اور علمی برکات کیلئے جمع ہوتے رہیں۔ ہمارا خدا قادر مطلق خدا ہے اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اور ہم اس سے خیروبرکت کی امید رکھتے ہیں۔ ہم محمد رسول اﷲ ﷺ کی امت اور حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت ہیں۔ ہمارا حق یہودیوں سے بہت زیادہ ہے بشرطیکہ ہم استقلال دکھائیں اور اپنے نیک اخلاق سے اﷲ تعالیٰ کی رحمت کو کھینچنے والے بنیں۔ سو دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو۔ اور پھر دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ قادیان کے دروازے تمام احمدیوں کیلئے کھول دے اور جو روکیں پائی جاتی ہیں ان کو دور فرمادے اور ہماری عمروں کو اتنا بڑھا دے کہ ہم اپنی زندگی میں قادیان میں آباد ہو جائیں اور نہ صرف قادیان کے درودیوار کو دیکھیں بلکہ وہاں کے انوار اور برکات سے بھی فائدہ اٹھائیں اور ساری جماعت کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ساری جماعت دعاؤں میں لگ جائے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لائے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے اس کے راستہ میں کوئی چیز روک نہیں بن سکتی۔ جو روک بنے گا خود اپنا نقصان کرے گا۔ سو دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو۔ اور پھر دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ہم کو پھر اکٹھا کر دے اور اپنے فضل سے ہماری جھولی بھر دے۔ وہ احکم الحاکمین بھی ہے اور ارحم الراحمین بھی ہے۔ اس کے رحم کی کوئی انتہا نہیں اور نہ اس کی طاقت کی کوئی انتہا ہے صرف انسان کی اپنی غلطی ہوتی ہے کہ وہ اس سے مونہہ موڑ لیتا اور اس کے فضل سے ناامید ہو جاتا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ ایک جنگ کے بعد رسول اﷲ ﷺ نے دیکھا کہ ایک عورت جس کا بچہ کھویا گیا تھا دیوانہ وار ادھر اُدھر پھر رہی ہے وہ ایک ایک بچہ کو اٹھاتی اور سینہ سے لگاتی اور پیار کرتی اور پھر اسے چھوڑ کر اپنے بچے کی تلاش میں دوڑ پڑتی۔ وہ اسی حالت میں تھی کہ اسے اپنا بچہ مل گیا۔ اور وہ نہایت اطمینان اور آرام کے ساتھ اس کو لے کر بیٹھ گئی۔رسول کریمؐ نے صحابہؓ کو مخاطب کیا اور فرمایا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر اس عورت سے یہ کہا جائے کہ اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے تو یہ عورت اسے آگ میں ڈالنے کیلئے یتار ہو جائے گی؟ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ آپؐ نے فرمایاتم نے اس عورت کی محبت کا جو نظارہ دیکھا ہے اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے بھی زیادہ محبت رکھتا ہے اور جب اس کا کوئی کھویا ہوا بندہ اسے واپس مل جاتا ہے تو اسے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی اس عورت کو اپنے بچہ کے ملنے سے ہوئی ہے۔ پس اس ارحم الراحمین خدا پر امید رکھو۔ وہ عمریں بھی بڑھا سکتا ہے اور زمانہ کی طنابیں بھی کھینچ سکتا ہے۔ وہ اپنی قدرت اور رحمت سے ہمیں قادیان میں بسا سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں۔
    ہماری دُعا ہے کہ خدا تعالیٰ قادیان کو ہمیشہ اس شعر کا مصداق رکھے اور جلد ہی وہ وقت لائے کہ ہم سب کے سب کہہ اٹھیں
    ؎
    زمینِ قادیان اب محترم ہے
    ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے
    وہ خدا جس نے یہودیوں پر رحم کیا اور انہیں فلسطین میں لا کر بسا دیا وہ ہم پر بھی رحم کر سکتا ہے ۔ ہم غریب اور کمزور ہیں۔ ہم ۲۳ سو سال تک صبر نہیں کر سکتے۔ ہمارے لئے ۱۳۔۱۴ سال بھی بہت ہیں اس کے بعد امید رکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ اس تفرقہ کو مٹا دے گا اور دونوں ملکوں کو صلح اور محبت اور پیار کے ساتھ رہنے کی توفیق بخشے گا۔ ہماری تو خواہش ہے کہ خدا تعالیٰ قادیان کو اتنا بڑھائے کہ وہ بیاس تک پھیل جائے۔ اور ہماری عارضی جدائی دور ہو جائے اور ہمارا چہرہ خوشی سے پُر نور ہو جائے۔ ابھی قادیان نے بہت ترقی کرنی ہے مگر اس کیلئے خدا ہی سامان کر سکتا ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لئے آؤ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کر ے اور ہمیں اسلام اور احمدیت کے پھیلانے کیلئے آخر دم تک جدوجہد کرنے کی توفیق بخشے وہ احکم الحاکمین بھی ہے اور ارحم الراحمین بھی۔ اس سے بعید نہیں کہ وہ ہماری تمام مشکلات کا خاتمہ کر دے۔
    ایک غزوہ میں صحابہ ؓ کے اونٹ بدک گئے تھے تو رسول کریمؐ نے صحابہ ؓ سے فرمایا:۔ مر فقًا بالقواریر۔یعنی شیشوں کا بھی خیال رکھو۔ اور عورتوں کی طرف توجہ کرو تاکہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ مگر ہم تو اس وقت عورتوں سے بھی کمزور ترہیں۔ اگر صحابہ ؓ سے یہ کہا گیا تھا کہ عورتوں کا خیال رکھیں تو خدا تعالیٰ سے یہ کیوں عرض نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عورتوں سے بھی کمزور تر لوگوں کا خیال رکھے اور ان کا حقیقی اور دائمی مرکز ان کو پھر دلا دے اور سینکڑوں سال کے لئے ان کو وہاں بسا دے۔ اور پُرامن اور روحانی ذرائع سے تمام دنیا کے احمدیوں کو وہاں کھینچ کھینچ کر لائے اور ایک لمبے عرصہ تک ان کو خوشیاں دکھائے۔ اُس کی طاقت میں سب کچھ ہے۔ لیکن ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ایسا ہی کرے اور آپ لوگوں کو نیکی اور تقوٰے کے ساتھ اپنی تمام زندگی بسر کرنے کی توفیق بخشے۔ خدا تعالیٰ کا فضل جذب کرنے اور اس کی رحمت کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ضرورت ہے کہ آپ لوگ نیکی پر ثبات اختیار کریں۔ اور اﷲ تعالیٰ کے حضور دعاؤں اور گریہ وزاری سے کام لیں۔ خدا تعالیٰ ہر ایک کی سنتا ہے۔ بعض دفعہ چھوٹے بچوں کی دعا سنی جاتی ہے بعض دفعہ عورتوں کی دعا سنی جاتی ہے اور بعض دفعہ مردوں کی دعا سنی جاتی ہے۔ نینوہ کے لوگوں پر جب عذاب آیا اور انہوں نے اس کے آثار دیکھے تو ان کے مرد اور عورتیں اور بچے سب میدان میں جمع ہو گئے۔ اور انہوں نے بلبلا بلبلا کر دعائیں کرنی شروع کر دیں۔ مردوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اور عورتوں نے اپنے دودھ پیتے بچوں کو الگ پھینک دیا اور انہیں دودھ پلانا بند کر دیا اور اس قدر دعائیں کیں کہ آخر اﷲ تعالیٰ کا فضل جوش میں آ گیا۔ اور اس نے آنے والا عذاب ان سے دور کر دیا۔ اگر قادیان کی عورتیں بھی اپنے بچے پھینک کر دعاؤں میں لگ جائیں اور مرد بھی دعاؤں اور گریہ وزاری سے کام لیں تو ہمیں امید ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنا فضل نازل فرما دیگا۔ اور ہماری تمام مشکلات کو دور کر دیگا۔ اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور وہ ہمیشہ آپ کو اسلام اور احمدیت کا جھنڈا بلند رکھنے کی توفیق بخشے۔ نیکی اور تقویٰ میں دوسروں کیلئے نمونہ بنائے اور احمدیت کا سچا اور مخلص خادم بننے کی توفیق عطا کرے۔ آمین اللہم آمین
    مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
    ۶۰۔۱۱۔۲۳ ۱۸
    زائرین قادیان کے پاکستانی قافلہ کا مبارک سفر
    اس مبارک عالمی اجتماع میں قریباً دو سو پاکستانی احمدیوں نے شرکت کی۔ زیارتِ مرکزاور جلسہ کی روحانی برکات سے متمتع ہوئے۔ پاکستانی قافلہ
    کے اس مبارک سفر کے کوائف ‘ مشاہدات اور تاثرات الفضل کے نامہ نگار خصوصی کے قلم سے درج ذیل ہیں:۔
    ’’ پاکستان کے احمدی احباب کے قلوب میں قادیان جا کر اپنے مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے کی جو شدید خواہش اور تڑپ پائی جاتی ہے اس کے پیش نظر ہر سال یہ کوشش کی گئی تھی کہ کم از کم پانچ سو احمدی زائرین کو قافلہ کی صورت میں وہاں جانے کا موقعہ مل جائے لیکن افسوس ہے کہ صرف دو سوا فراد کے قافلہ کی اجازت مل سکی جس کی وجہ سے باقی احباب کو محروم رہنا پڑا دوسری دقت اب کے یہ ہوئی کہ قافلہ کو حسب سابق بسوں کے ذریعہ قادیان جانے کی اجازت نہ ملی مجبوراً ریل کے ذریعہ سفر کرنا پڑا جو ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔ اور جس میں بسوں و الا آرام اور سہولت میسّر نہ تھی بلکہ کئی ایک لحاظ سے دقت اور تکلیف کا احتمال تھا بہر حال جو افراد بھی اس قافلہ کیلئے منتخب ہوئے وہ اپنے آپ کو نہایت خوش قسمت تصور کرتے تھے اور نہایت ذوق و شوق سے سفر کی تیاری میں مصروف تھے۔
    دفتر خدمت درویشاں ربوہ نے خطوط کے ذریعہ قافلہ میں شامل ہونے والے تمام افراد کو جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے تھے اطلاع دے دی تھی کہ وہ ۱۴؍دسمبر کو قافلہ میں شمولیت کیلئے لاہور پہنچ جائیں اور اس سلسلہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کی تحریر فرمودہ ہدایات سے بھی مطلع کر دیا تھا چنانچہ ۱۴؍دسمبر کی شام تک قافلہ میں شامل ہونے والے بیشتر اصحاب جو دھامل بلڈنگ لاہور میں پہنچ گئے جہاں پر شعبہ خدمت درویشاں کا دفتر عارضی طور پر کھول دیا گیا تھا اور زائرین کی رہائش اور خوراک کا انتظام بھی موجود تھا۔ مکرم مختار احمد صاحب ہاشمی اور عبدالقدیر صاحب اس دفترمیں نہات محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کر رہے تھے جماعت احمدیہ لاہور اور خدام الاحمدیہ لاہور کے نمائندگان بھی ان کی مدد کیلئے موجود تھے۔ ربوہ سے اس قافلہ میں شامل ہونے والے احباب کی بیشتر تعداد بس کے ذریعہ لاہور پہنچی اور روانگی سے قبل مقامی احباب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کی اقتداء میں اجتماعی دعا کے ساتھ انہیں رخصت کیا۔
    لاہور پہنچ کر اراکین قافلہ نے اس اطلاع کو بہت ہی افسوس کے ساتھ سنا کہ محترم چوہدری اسد اﷲ خان صاحب امیر قافلہ اچانک فالج کے عارضہ کی وجہ سے بیمار ہو گئے ہیں(اﷲتعالیٰ انہیں شفاء کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے) جب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے محترم حافظ عبدالسلام صاحب کو امیر قافلہ مقرر فرمایا۔ قافلہ کے نائب امیر سردار بشیر احمد صاحب ایگز یکٹو انجنیئر مقرر ہوئے اور سیکرٹری کے فرائض چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے سپرد ہوئے اگلے روز (۱۵؍دسمبر) صبح جو دھامل بلڈنگ کے سامنے ممبران قافلہ اور انہیں الوداع کہنے والے احباب کثیر تعداد میں جمع ہو گئے۔ اس جگہ طارق ٹرانسپورٹ کی تین بسیں زائرین کو سٹیشن تک پہنچانے کیلئے کھڑی تھیں۔ ان بسوں کا انتظام طارق ٹرانسپورٹ کے منتظمین نے بلا معاوضہ کیا تھا۔ جزاھم اﷲ احسن الجزاء۔
    ممبران قافلہ کے پانچ حزب (گروپ) بنا دئے گئے اور ہر حزب پر ایک ایک سائق
    (لیڈر ) مقرر کیا گیا۔ چنانچہ حزب نمبرا کے سائق چوہدری احمد جان صاحب وکیل المال مقرر ہوئے۔ لیکن بیماری کی وجہ سے آپ کی بجائے آپ کے نائب محمد حنیف صاحب قمر نے سائق کے فرائض سرانجام دیئے ۔حزب نمبر ۲ سائق بابوشمس الدین خان صاحب امیر جماعت احمدیہ پشاور۔ حزب نمبر ۳ کے چوہدری غلام احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ پاک پتن اور حزب نمبر ۴ کے مولانا عبدالمالک صاحب فاضل مربی سلسلہ احمدیہ کراچی مقرر ہوئے۔حزب نمبر ۵ کے لیڈر مکرم میاں عطاء اﷲ صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی اور نائب مولوی عبدالباسط صاحب مربی سلسلہ مقیم کراچی مقر رہوئے۔ اس جگہ تمام ممبران قافلہ کو مفصل ہدایات دی گئیں اور سامان کا جائزہ لیا گیا۔
    پونے ۹ بجے کے قریب محترم شیخ بشیر احمد صاحب جج ہائی کورٹ نے تشریف لا کر اہل قافلہ سے مختصر اًخطاب فرمایا۔ آپ نے بڑے مؤثر رنگ میں اس پاک اور مبارک سفر کے دوران زیادہ سے زیادہ ذکر الٰہی اور دعائیں کرنے کی تلقین فرمائی۔ اس کے بعد اجتماعی دعا ہوئی اور پھر اہلِ قافلہ بسوں میں سوار ہونے شروع ہو گئے۔ روانگی کے وقت عجیب ایمان افروز منظر تھا اہل قافلہ زیر لب دعاؤں میں مصروف تھے کہ اﷲ تعالیٰ اس سفر کو زیادہ سے زیادہ بابرکت کرے اور الوداع کہنے والے دوست اراکین قافلہ کو ان کی خوش بختی پر مبارکباد دے رہے تھے۔ اور انفرادی طور پر دعاؤں کی درخواستیں اور التجائیں کر رہے تھے۔
    نو بجے یہ قافلہ جو ۱۹۶ افراد پر مشتمل تھا۔ اور جس میں ۲۴ خواتین اور ۲ بچے بھی شامل تھے۔ دعائیں کرتے ہوئے سٹیشن کو روانہ ہو گیا۔ بسوں سے سامان اتارا گیا اور اس پلیٹ فارم پر پہنچایا گیا جہاں سے گاڑی امرتسر روانہ ہونی تھی۔ چونکہ اس جگہ ضوابط کے مطابق پاسپورٹوں کے اندر اجات وغیرہ پر خاصہ وقت صرف ہوتا تھا اس لئے کارکنان نے اہلِ قافلہ کیلئے کھانے کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ ربوہ اور لاہور کی جماعتوں کے کئی ایک کارکن اور بزرگ بھی الوداع کہنے کیلئے تشریف لائے ہوئے تھے۔ ضوابط کی جملہ کارروائیوں کی تکمیل کے بعد ایک بجے کے قریب اہل قافلہ پلیٹ فارم کے اس حصّہ میں پہنچ گئے جہاں سے انہوں نے گاڑی پر سوار ہونا تھا۔ یہاں پر مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب کی اقتداء میں نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھی گئیں۔ جس کے بعد اہلِ قافلہ دعائیں کرتے ہوئے گاڑی میں سوار ہونا شروع ہو گئے۔
    حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے اس مبارک سفر میں ممبران قافلہ کی دینی اور روحانی راہ نمائی کیلئے بعض نہایت قیمتی اور زریں ہدایات تحریر فرما کر ارسال فرمائی تھیں۔ یہ ہدایات دفتر خدمت درویشاں نے چھپوا کر گاڑی کے روانہ ہونے سے پہلے تمام ممبران قافلہ میں تقسیم کر دیں ان ہدایات کا خلاصہ یہ تھا کہ :۔
    ’’ممبران قافلہ اپنے قلوب کی نیت اور ارادے کو پاک و صاف کر کے دعاؤں کے ساتھ اس مقدس سفر کو شروع کریں راستہ میں بھی دعائیں کرتے ہوئے جائیں۔ قادیان کے قیام میں بھی دعاؤں پر خاص زور دیں اور واپسی پر بھی دُعا کرتے ہوئے آئیںتاکہ اس سفر کو اﷲ تعالیٰ نہ صرف ممبران قافلہ اور اہل قادیان کیلئے بلکہ تمام جماعت کیلئے اور اسلام کیلئے مبارک اور مثمرثمرات حسنہ بنائے۔‘‘
    ان ہدایات نے ممبران قافلہ کے قلوب میں پہلے سے بھی زیادہ رقت اور سوزو گداز کے ساتھ دعائیں کرنے کی تحریک پیدا کر دی۔ چنانچہ گاڑی کی روانگی کے وقت اہلِ قافلہ نے حضرت سیّد زین العابدین ولی اﷲ شاہ صاحب کی اقتداء میں جو قافلہ کو الوداع کہنے کیلئے تشریف لائے ہوئے تھے بڑی دردمندی اور سوز کے ساتھ اجتماعی دعا کی۔
    ٹھیک تین بجے گاڑی روانہ ہو گئی جبکہ تمام اہلِ قافلہ کے قلوب پر ایک عجیب کیفیت طاری تھی اور وہ خاموشی کے ساتھ اپنے مولا کے حضور دعاؤں میں مصروف تھے کہ وہ اس مقدس سفر کو ان کیلئے اور سلسلہ کیلئے ہر لحاظ سے مبارک کرے اور انہیں زیادہ سے زیادہ روحانی برکات کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ گاڑی لاہور سے روانہ ہو کر راستے کے تمام سٹیشنوں کو چھوڑتی ہوئی سرحد پر آ کر تھوڑی دیر کے لئے رُکی۔ یہاں پر پاکستان پولیس کا حفاظتی دستہ اتر گیا اور اس کی جگہ انڈین پولیس کا حفاظتی دستہ گاڑی میں سوار ہوگیا جس کے بعد گاڑی ہندوستان کی حدود میں داخل ہو گئی۔ سوا چار بجے گاڑی امرتسر کے سٹیشن پر پہنچ گئی۔
    پولیس کسٹم اور ریلوے کی طرف سے گہرا تعاون ۔یہ امر خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ دونوں ملکوں میں پولیس کسٹم اور ریلوے کے محکموں نے قافلہ کو ہر ممکن سہولت بہم پہنچانے کی کوشش کی جس کیلئے ہم ان کے تہ دل سے شکر گزار ہیں۔ اہل قافلہ نے امرتسر پہنچ کر گاڑی تبدیل کرنا تھی اور گاڑی کے لاہور سے امرتسر پہنچنے اور وہاں سے بٹالہ جانے والی ٹرین کی روانگی میں اتنا کم وقفہ تھا کہ اگر ذرا بھی چیکنگ اور ضوابط کی دیگر کاروائیوں میں دیر ہو جاتی تو اہلِ قافلہ کو اگلی گاڑی نہ مل سکتی اور اس طرح انہیں مجبوراً رات امرتسر سٹیشن پر گزارنا پڑتی ۔ لیکن دونوں ملکوں کی پولیس کسٹم اور ریلوے کے محکموں کے تعاون اور مدد کی وجہ سے قافلہ کو امرتسر کے سٹیشن پر گاڑی تبدیل کرنے کا موقع مل گیا۔ لاہور میں پولیس اور کسٹم کے محکموں نے ضوابط کی تمام کاروائیاں بہ سرعت مکمل کرلیں اور محکمہ ریلوے کے تعاون کی وجہ سے گاڑی عین وقت پر روانہ ہو گئی۔ علاوہ ازیں ریلوے کے محکمہ نے دو زائد بوگیوں کا بھی انتظام کر رکھا تھا جو اہلِ قافلہ کیلئے مخصوص تھیں یہ انتظام بھی مزید آرام کا موجب بنا۔ جب گاڑی ہندوستان کی حدود میں داخل ہو گئی اور اٹاری کے سٹیشن پر پہنچی تو ہندوستان کے محکمہ کسٹم کے ارکان اور پولیس کے نمائندگان گاڑی میں سوار ہو گئے اور انہوں نے امرتسر کے سٹیشن پر پہنچنے سے پہلے پہلے چیکنگ اور پاسپورٹ اکٹھے کرنے کے کام کی قریباً تکمیل کر لی حالانکہ عام حالات میں یہ چیکنگ امرتسر کے سٹیشن پر ہوتی ہے۔ لیکن انہوں نے قافلہ کی سہولت کیلئے اور انہیں بر وقت اگلی گاڑی میں سوار ہونے کا موقع دینے کیلئے یہ چیکنگ راستہ میں ہی مکمل کر لی جس کے لئے وہ خاص طور پر شکریہ کے مستحق ہیں۔
    امرتسر کے سٹیشن پر متعدد درویش حضرات قافلہ کے استقبال اور ان کے لئے ضروری سہولتیں بہم پہنچانے کیلئے موجود تھے۔ یہاں پر پاسپورٹوں کے اندراج اور ان کی واپسی میں کچھ وقت لگا۔ جس کے بعد اہلِ قافلہ امرتسر سے بٹالہ جانیوالی ٹرین میں سوار ہو گئے۔ اس ٹرین میں بھی اہل قافلہ کیلئے دو بوگیاں مخصوص تھیں۔ جس کیلئے وہاں کے ریلوے حکام شکریہ کے مستحق ہیں۔
    یہاں سے روانہ ہو کر گاڑی دیر کا‘ کتھوننگل اور جنتی پور میں ٹھہرتی ہوئی بٹالہ کے سٹیشن پر پہنچی ۔ جنتی پور کے سٹیشن پر درویشان قادیان اہلِ قافلہ کیلئے کھانا لے کر آئے ہوئے تھے۔ جزاھم اﷲ احسن الجزاء۔
    بٹالہ سے گاڑی پھر تبدیل کرنا تھی۔ لیکن ریلوے کے حکام نے اہلِ قافلہ کی بوگیوں کو ہی قادیان جانے والی ٹرین کے ساتھ لگانے کا انتظام کر دیا جس کی وجہ سے اہلِ قافلہ رات کے وقت گاڑی تبدیل کرنے اور سامان اتارنے اور نئی گاڑی میں چڑھانے وغیرہ کی پریشانیوں سے بچے رہے جب گاڑی بٹالہ سے قادیان روانہ ہوئی اور وڈالہ گرنتھیاں کے سٹیشن سے آگے پہنچی تو جذبات میں ایک عجیب اور ناقابل بیان کیفیت پیدا ہو گئی۔ قلوب رقت اور سوزوگداز کے ساتھ دعاؤں میں مصروف ہو گئے اور آنکھیں بے تابانہ طور پر رات کی تاریکی میں منارۃ المسیح کی تیز اور بلند و بالا روشنی کو ڈھونڈھنے لگیں۔ جونہی یہ روشنی نظر آئی بے ساختہ طور پر ہاتھ دعاؤں کیلئے اُٹھ گئے اور آنکھوں سے رقت کے عالم میں آنسورواں ہو گئے ابھی یہ کیفیت جاری تھی کہ گاڑی سیّدنا حضرت مسیح موعود ؑ کے مولدو مسکن اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے دائمی مرکز۔۔۔۔ قادیان دارالامان کے سٹیشن پر آ کر رک گئی۔
    سٹیشن پر درویشان قادیان نے محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی قیادت میں أھلاً و سھلاً و مرحبا کہہ کر اہلِ قافلہ کا پرتپاک خیر مقدم کیا قادیان کے بہت سے سکھ اور ہندو معززین بھی استقبال کیلئے موجود تھے صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے امیر قافلہ محترم حافظ عبدالسلام صاحب سے مصافحہ اور معانقہ فرمایا۔ جس کے بعد درویشوں کے ساتھ نہایت اخلاص اور محبت کے جذبات سے پُر مصافحوں اور معانقوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
    سٹیشن سے باہر اہالیان قادیان کی طرف سے اہلِ قافلہ کیلئے بسوں کا اور ان کے سامان کیلئے ٹرک کا انتظام کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے بڑے آرام اور سہولت کے ساتھ اہلِ قافلہ اور اُن کا سامان دارالمسیح قادیان میں پہنچ گیابسیں دارالفتوح سے اس پختہ سڑک کی طرف مڑ گئیں جو مشرق کیطرف سے ہوتی ہوئی محترم چوہدری محمد ظفر اﷲ خان صاحب کی کوٹھی بیت الظفر کے قریب دارالانوار میں سے گذرتی ہے۔
    بزرگانِ قادیان سے ملاقاتیں۔ یہاں سے اہلِ قافلہ پیدل دارالمسیح میں داخل ہوئے۔اس جگہ سب سیپہلیجس جلیل القدر بزرگ سے اہلِ قافلہ کی ملاقات ہوئی وہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی تھے جو آج ہم سے رخصت ہو چکے ہیں۔ آپ باوجود ضعیف العمری ‘ بیماری اور ضعف و نقاہت کے شدید سردی کے عالم میں اپنے مکان کے سامنے سڑک پر ایک عصا کے سہارے کھڑے تھے اور بڑی ہی گرم جوشی کے ساتھ آنیوالے مہمان کا خیر مقدم فرما رہے تھے۔ ہر مہمان کو پہچانتے‘ مصافحہ کرتے‘ معانقہ فرماتے اور پھر رقت کے عالم میں دعائیں کرنا شروع کر دیتے۔ اﷲتعالیٰ حضرت بھائی جی کو جنت الفردوس میں بلند سے بلند مدارج عطا فرمائے۔
    اگلے چوک میں حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب فاضل امیر جماعت احمدیہ قادیان متعد درویشوں کی معیّت میں مہمانوں کے استقبال کیلئے تشریف فرماتھے۔ احمدیہ چوک میں آ کر تو یہ کیفیت تھی کہ جس طرف بھی دیکھیں مصافحوں ‘ معانقوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا اور ہر طرف سے السلام علیکم اور وعلیکم السلام کی پُر خلوص آوازیں آرہی تھیں۔ الٰہی آوازوں کے درمیان قافلہ کا سفر لاہور تا قادیان بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
    دعاؤں اور ذکر الٰہی کا ذوق و شوق۔ قافلۂ قادیان نے یہ مقدس سفر صرف دعاؤں‘ ذکر الٰہی اور شعائر اﷲ کی زیارت کیلئے اختیار کیا تھا۔ ممبران قافلہ نے اس مقصد کو ہر وقت پیس نظر رکھا ۔ چنانچہ دارالمسیح قادیان میں پہنچتے ہی بہت سے اصحاب جن میں متعدد ضعیف العمر بزرگ بھی شامل تھے۔ پورے دن کے سفر کی کوفت اور تھکان کے باوجود سب سے پہلے اس مقدس اور بابرکت مسجد میں نوافل کی ادائیگی کیلئے جا حاضر ہوئے۔ جہاں سیّدنا حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ و السلام نمازیں پڑھا کر تے تھے۔ اور جو مسجد مبارک کے نام سے موسوم ہے اور جن اصحاب کو وہاں پہنچتے ہی بیت الدعا میں جا کر نوافل ادا کرنے اور دعائیں کرنے کا موقعہ میسر آ گیا۔ وہ تو اپنی خوش بختی پر بجا طور پر نازاں تھے۔ الغرض وہاں جاتے ہی احباب شعائر اﷲ کی زیارت کرنے اور دعاؤں میں مصروف ہو گئے۔ انہوں نے اس امر کی پرواہ نہ کی کہ ان کا سامان بحفاظت پہنچ چکا ہے یا نہیں یا یہ کہ ان کی رہائش کا انتظام کس جگہ کیا گیا ہے؟ یا کھانے کا کیا انتظام ہے۔ انہوں نے ان سب امور کو نظر انداز کر دیا اور عاشقانہ انداز میں ان مقدس مقامات کی زیارت کے لئے کشاں کشاں جا رہے تھے۔ جو قادیان کی روحانی برکتوں کی جان ہیں گو اُن کے جسم سفر کی کوفت کی وجہ سے مضمحل تھے لیکن ان کی روحوں پر اور ان کے قلوب پر اضمحلال کا مطلقاً اثر نہ تھا اور اثر ہوتا بھی کیوں جبکہ دیار حبیب کی جگہوں کی ایک ایک اینٹ انہیں خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے اور اس سے اسلام اور احمدیت کی سر بلندی کیلئے انتہائی سوزوگداز کے ساتھ دعائیں کرنے کی دعوت دے رہی تھی۔ نوافل کی ادائیگی ‘ کھاناکھانے اور دیگر حوائج ضرور یہ سے فارغ ہونے کے بعد پھر ملاقاتوں کا سلسلسہ شروع ہو گیا ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے برسوں کے بچھڑے ہوئے دوست آپس میں مل رہے ہیں یہ تھی رات کے ابتدائی اور درمیانی حصّہ کی کیفیت ۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ہی مسجد مبارک میں باجماعت نماز تہجد شروع ہو گئی اور اہل وفائے قادیان جن میں ممبران قافلہ کے علاوہ درویشان کرام اور ہندوستان کے طول و عرض سے آئے ہوئے احمدی احباب بھی شامل تھے۔ جوق در جوق والہانہ اور عاشقانہ انداز میں مسجد مبارک میں جمع ہونے شروع ہو گئے۔ پرُسوز دعاؤں ‘التجاؤں اور مناجاتوں کا وہ اجتماعی سلسلہ شروع ہو گیا جو جلسہ کے ان ایام کی سب سے بڑی بابرکت اور سب سے نمایاں خصوصیت تھی۔ ہر احمدی اس یقین سے معمور تھا کہ یہ دعائیں اور مناجاتیں انشاء اﷲ جلد یا بدیر ضرور اپنا عظیم الشان اور ہمہ گیر اثر دکھلا کر رہیں گی۔ نماز تہجد ‘ نماز فجر اور درس کے بعد مقبرہ بہشتی جانے والی سڑک پر عاشقان احمدیت کا ایک تانتا لگ گیا۔ یہ نظارہ قبل از تقسیم کے جلسہ سالانہ کی یادکو تازہ کر رہا تھا۔ احباب گروہ در گر وہ اپنے آقا اور اپنے حبیب سیّدنا حضرت مسیح موعود ؑ کے مزار مقدس پر حاضر ہو رہے تھے۔ اور بڑی رقت اور سوز کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھے۔ مقبرہ بہشتی کے علاوہ دیگر مقامات مقدسہ مثلاً مسجد اقصیٰ‘ منارۃ المسیح اور دار حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی جلسہ کے اوقات کے علاوہ قریباً ہر وقت ہی زائرین کی آماجگاہ بنے رہے۔ جیسا کہ ایک گذشتہ مضمون میں عرض کیا جا چکا ہے۔ درویشان کرام نے نہایت اخلاص محنت اور جانفشانی کے ساتھ اہل قافلہ کی مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔ اور انہیں آرام و سہولت بہم پہنچانے کی اپنی طرف سے پوری کوشش کی جزاھم اﷲ احسن الجزاء۔
    اجتماعی رنگ میں مہمانوں کے قیام کا حسب سابق امسال بھی مدرسہ احمدیہ اور اس کے بورڈنگ میں انتظام کیا گیا تھا۔ کمروں کا ایک حصہ پاکستان سے جانے والے مہمانوں کیلئے اور ایک حصہ ہندوستان سے تشریف لانے والے احباب کیلئے مخصوص تھا جو دوست معہ اہل و عیال تشریف لائے ان کی رہائش کیلئے درویشوں کے مختلف مکانات کے علاوہ مرزا گل محمد صاحب مرحوم کے دیوان خانہ میں ( جہاں آج کل نصرت گرلز سکول ہے) انتظام کیاگیاتھا۔ قافلہ کے بہت سے ارکان اپنے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ہاں بھی ٹھہرے۔ دارِ حضرت مسیح موعود ؑ کے ایک بڑے حصہ میں بھی مہمانوں کی رہائش کا انتظام کیا گیا تھا تاکہ احباب ان مبارک اور مقدس مقامات کی برکات سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہو سکیں۔
    قافلہ کے قادیان جانے کی ایک اہم اور خاص غرض اس مقدس سالانہ جلسہ میں شرکت تھی۔ جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود ؑ نے رکھی ۔ جسے حضور نے ایک بہت بڑا نشانِ الٰہی قرار دیا۔ او رجس کی روحانی برکات کو ہر احمدی محسوس کرتا ہے۔ قادیان کا سالانہ جلسہ اپنی بعض خصوصیات کی وجہ سے یقینا ایک منفرد اور نرالی شان رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روئے زمین کا ہر احمدی اس جلسہ میں شامل ہونے کی تڑپ اور تمنا رکھتا ہے۔ اور جو احمدی اس میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ وہ یقینا اپنے آپکو خوش قسمت تصور کرتے ہیں۔ اس جلسہ میں شمولیت کیلئے پاکستان اور دیگر بیرونی ممالک کے علاوہ خود ہندوستان کے طول و عرض سے بھی کثرت کے ساتھ احمدی دوست تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان دوستوں میں حضرت مسیح موعود ؑ کے رفیق حضرت سید وزارت حسین صاحب بھی شامل تھے۔ جو صوبہ بہار سے اپنے دو لائق اور ہونہار فرزندوںیعنی ڈاکٹر سید اختراحمد صاحب اور نیوی پروفیسر پٹنہ کالج اور سید فضل احمدصاحب ایس پی کے ہمراہ تشریف لائے ۔کلکتہ سے سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی اور چنتہ کنٹہ (سابق ریاست حیدر آباد دکن) سے سیٹھ معین الدین صاحب بھی دیگر متعدد احمدی دوستوں کے ہمراہ آئے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں بمبئی ‘ بنگال ‘ بہار‘ اڑیسہ‘ آندھرا‘ میسورہ ‘کیرالہ ‘ یوپی ‘سی پی‘ جموں کشمیر اور پونچھ سے بھی سینکڑوں کی تعداد میں احمدی احباب اپنی اپنی جماعتوں کے امرا‘ پریذیڈنٹوں اور دیگر عہدہ داروں کے ہمراہ تشریف لائے ہوئے تھے۔ جو احمدی علماء اور مبلغین ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کر رہے ہیں وہ بھی اس مقدس جلسہ میں شرکت کرنے کے لئے اپنے روحانی مرکز میں آئے ہوئے تھے۔ مثلاً مولانا شریف احمد صاحب امینی مدراس سے۔ مولانا محمد سلیم صاحب فاضل دہلی سے۔ مولانا بشیر احمد صاحب کلکتہ سے۔ اور مولانا سمیع اﷲ صاحب بمبئی سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ آئرلینڈ کے ایک سعید الفطرت نو مسلم مسٹر ولیم ظفر احمد بھی اس جلسہ میں شامل ہوئے۔ یہ نوجوان ان دنوں ہندوستان میں مقیم ہیں اور یہیںاُنہیں مسلمان اور احمدی ہونیکی سعادت حاصل ہوئی۔
    مورخہ ۱۶؍دسمبر کی صبح کو جماعت احمدیہ کا یہ اُنہترواں جلسہ سالانہ اپنی روائتی شان سے ایک لمبی اور پُرسوز اجتماعی دعا کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ جلسہ گذشتہ سالوں کی طرح اس دفعہ بھی محلہ باب الانوار کے ایک وسیع احاطہ میں منعقد ہوا جس میں پارٹیشن سے قبل احمدی خواتین کا سالانہ جلسہ منعقد ہوا کرتا تھا۔
    صبح سوا دس بجے جلسہ کی کارروائی کاآ غاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا۔ جس کے بعد سٹیج کی بائیں جانب حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب فاضل امیر جماعت قادیان نے اﷲ اکبر‘ اسلام زندہ باد‘ رسول عربیؐ زندہ باد‘ حضرت مسیح موعود ؑ زندہ باد اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؒ زندہ باد کے نعروں کے درمیان لوائے احمدیت لہرایا ( جلسہ کے تینوں دن یہ لہراتا رہا اور خدام و انصار اس کا پہرہ دیتے رہے) بعدازاں آپ نے ایک مختصر تقریر فرمائی اور اختتامی دعا کے ساتھ جلسہ کا افتتاح فرمایا۔ افتتاح کے بعد پاکستانی قافلہ کے امیر محترم حافظ عبدالسلام صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ کا وہ بصیرت افروز اور روح پرور پیغام پڑھ کر سنایا جو حضور نے اس جلسہ کیلئے ارسال فرمایا تھا اور محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ کا تحریر فرمودہ ایمان افروز پیغام پڑھا۔ یہ دونوں پیغام سامعین نے کن جذبات و احساسات کے ساتھ سنے؟ اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ پیغامات کا ہر لفظ دل کی گہرائیوں میں اترتا جا رہا تھا۔ ایمان اور معرفت کو ترقی دے رہا تھا۔ اور روحوں کو جلا بخشنے کا موجب بن رہا تھا۔ ان پیغامات نے رقّت کا ایک خاص عالم طاری کر دیا جس کی وجہ سے ہر احمدی کا دل
    گریۂ وزاری کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھا۔
    تقاریر
    ان روح پرور پیغامات کے بعد پروگرام کے مطابق تقاریرکا سلسلہ شرع ہوا جس میںہندوستان و پاکستان کے احمدی علماء اور مبلغین و مبشرین نے حصہ لیا۔ تقاریر
    کا پروگرام حالات اور زمانہ کے تقاضوں کے مطابق بڑی عمدگی اور جامعیت کے ساتھ مرتب کیا گیا تھا۔ پروگرام کی افادیت کا کسی قدر اندازہ مندرجہ ذیل موضوعات سے لگایا جا سکتا ہے جن پر بزرگانِ سلسلہ و علماء اور مبلغین جماعت نے نہایت مبسوط ‘ مدلل اور جامع تقاریر فرمائیں اسلام میں توحید کامل کا نظریہ‘ ذکر حبیب‘ ضرورت مذہب ‘ خصوصیات اسلام‘ اسلام اور اشتراکیت‘ اتحادبین الاقوام کے متعلق اسلامی تعلیم‘ دنیا کا نجات دہندہ یعنی رسول عربی ؐ ‘ رسول کریم ﷺ کی بعض پیشگوئیاں ‘عقیدہ حیات آخرت‘ حضرت مسیح موعود ؑ کی چند پیشگوئیاں‘ موعود اقوام عالم وغیرہ ان موضوعات سے ظاہر ہے کہ ہمارے مقررین نے مشرقی پنجاب کے موجودماحول میں جو اسلام اور رسول عربی ؐ کے وابستگان دامن سے یکسر خالی نظر آتا ہے۔ نہایت واضح‘ پُرجوش اور واشگاف انداز میں تبلیغ اسلام کا حق ادا کیا اور رسول عربی ؐ کے فضائل و مناقب کو واضح کیا۔ یوں تو بھارت کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً جلسوں اور عرسوں کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماع ہوتے ہی رہتے ہیں اور ان میں پاکستانی مسلمانوں کے قافلے بھی بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ شامل ہوتے ہیں لیکن کسی اجتماع ‘ کسی جلسہ اور کسی عرس کے موقع پر اہتمام و التزام کے ساتھ اور واضح مگر دل نشین پیرایہ میں غیر مسلموں کو دعوت اسلام پہنچانے کی کوشس نہیں کی جاتی۔
    ’’یہ شرف آج ہندوستان کے وسیع و عریض ملک میںصرف قادیان کی مقدس بستی ہی کو حاصل ہے۔ جہاں پر جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ کے موقع پر ہر سال فضاء اﷲ اکبر‘ اسلام زندہ باد اور رسول عربی ؐ زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھتی ہے۔ اور جہاں بڑے کھلے اور پُرجوش انداز میں اسلام کی مدلّل تبلیغ کی جاتی ہے اور رسول عربیؐ کی اعلیٰ و ارفع شان کو غیر مسلم اصحاب پر واضح کر کے انہیں حضور ﷺ کی غلامی میں داخل ہونیکی دعوت دی جاتی ہے۔ اس طرح عملی طور پر یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ آج دنیا میں تبلیغ اسلام کرنے کی عزت و سعادت صرف جماعت احمدیہ ہی کے حصہ میں آئی ہے۔ ‘‘ ۱۹
    قافلہ قادیان ۱۹۶۰ء کے خوش نصیب اصحاب
    ذیل میں ان خوش نصیب ۲۰۰ اصحاب کی فہرست دی جاتی ہے جو قافلہ قادیان میں شامل ہو کر
    دیارِ حبیب کی برکتوں سے فیض یاب ہوئے۔ یہ فہرست حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے قلم سے
    الفضل ۲۷؍نومبر۱۹۶۰ء صفحہ ۵۔۶و الفضل ۳؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۲ پر اشاعت پذیر ہوئی۔
    ۱۔ چوہدری اسد اﷲ خان صاحب بیرسٹر ایٹ لاء نمبر ۳۲ ایلگن روڈ لاہور چھاؤنی
    ۲۔ خواجہ جمیل احمد صاحب ولد خواجہ عبدالحمید صاحب ربوہ
    ۳۔ میاں اﷲ بخش صاحب مکان نمبر ۱۵۵؍۱ چھاچھی محلہ راولپنڈی
    ۴۔ امتہ الحمید فردوس صاحبہ بنت سردار محمد صاحب جسونت بلڈنگ جودھامل روڈ لاہور
    ۵۔ حاجی اﷲ دتہ صاحب شیڈمین۔ لوکوشیڈ ملکوال ضلع گجرات
    ۶۔ مہر اﷲ دتہ صاحب گلی نمبر ۷۱ محلّہ سنت پورہ لائل پور
    ۷۔ چوہدری احمد جان صاحب وکیل المال اوّل تحریک جدید ربوہ ضلع جھنگ
    ۸۔ احمد علی صاحب ولد پاجو خان صاحب محلہمسلم گنج شیخوپورہ
    ۹۔ آمنہ بیگم صاحبہ معرفت ایم غلام محمد صاحب مسلم ٹیلرنگ ہاؤس بلاک نمبر ۱۸ سرگودہا
    ۱۰۔ پیر انوار الدین صاحب ۱۲۹۔Hمری روڈ راولپنڈی
    ۱۱۔ ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب ڈینٹل سرجن دی مونٹ مورنسی ہسپتال لاہور
    ۱۲۔ امتہ القیوم صاحبہ زوجہ غلام احمد صاحب برمکان حضرت مفتی محمد صادق صاحب ربوہ
    ۱۳۔ ڈاکٹر خواجہ احمد صاحب ۱۰۹۔Aسیٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ
    ۱۴۔ ڈاکٹر احمد علی صاحب ۱۱۵۲۔Fاعظم مارکیٹ لاہور
    ۱۵۔ ڈاکٹر اعظم علی خان صاحب نئی منڈی گجرات
    ۱۶۔ مستری بشیر احمد صاحب مسجد احمدیہ منشی محلہ لائل پور
    ۱۷۔ بدرمحی الدین صاحب سالٹ ڈیلر گندم منڈی سیالکوٹ
    ۱۸۔ سردار بشیر احمد صاحب ایگز یکٹو انجنیئر نمبر ۵۰ آریہ نگر پونچھ روڈ لاہور نمبر۴
    ۱۹۔ بشیر احمد صاحب کاٹھ گڑھی سیکرٹری سرگودھا بھیرہ بس سروس سرگودھا
    ۲۰۔ ڈاکٹر بشیر احمد صاحب انچارج لیاقت میموریل ہسپتال کوہاٹ
    ۲۱۔ زبیدہ ناہید صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر بشیر احمد صاحب لیاقت میموریل ہسپتال کوہاٹ
    ۲۲۔ ملک برکت علی صاحب سیکرٹری مال جماعت احمدیہ پوسٹ بکس نمبر ۱۵ لائل پور
    ۲۳۔ فیروزہ بیگم صاحبہ اہلیہ ملک برکت علی صاحب سیکرٹری مال جماعت احمدیہ پوسٹ بکس
    نمبر ۱۵ لائل پور
    ۲۴۔ جلال الدین صاحب شاد ولد میاں محمد اقبال صاحب محلّہ حکیم الدین صاحب سیالکوٹ شہر
    ۲۵۔ استانی حمیدہ صابرہ صاحبہ معلّمہ نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ
    ۲۶۔ شیخ حسن دین صاحب ولد حاجی محمد اسماعیل صاحب معرفت حکیم فضل الرحمن صاحب سنوری لال حویلی اکبر منڈی لاہور
    ۲۷۔ سید جمال یوسف صاحب دارالصدر شرقی ربوہ
    ۲۸۔ حسن محمد خان صاحب عارفؔ نائب وکیل التبشیر تحریک جدید ربوہ ضلع جھنگ
    ۲۹۔ چوہدری حمید اﷲ صاحب معرفت مسجد احمدیہ کوئٹہ
    ۳۰۔ خالد سیف اﷲ خان صاحب اسسٹنٹ ایگزیکٹوانجینئر الیکٹرک سٹی سیالکوٹ شہر
    ۳۱۔ خواجہ حفیظ احمد صاحب ٹیکسٹائل انجینئر P.O.W.Tملز لمیٹڈ لارنس پور
    ضلع کیمل پور
    ۳۲۔ شیخ خورشید احمد صاحب اسسٹنٹ ایڈیٹر الفضل ربوہ
    ۳۳۔ رشید احمد صاحب ارشد ولد سردار محمد صاحب سلک ملز غلہ منڈی قائد آباد
    ۳۴۔ دل محمد صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ چک نمبر ۶۱ ج۔ب ڈاکخانہ خاص ضلع لائل پور
    ۳۵۔ چوہدری رحمت علی صاحب نیشنل فین فیکٹری شاہدرہ لاہور
    ۳۶۔ رشیدہ فاروق صاحبہ اہلیہ عبداﷲ خان صاحب پروپرائٹر افغان سٹور نمک منڈی راولپنڈی
    ۳۷۔ صفیہ بیگم صاحبہ زوجہ محمد عبداﷲ صاحب مہار لاہور چھاؤنی
    ۳۸۔ ڈاکٹر رحمت اﷲ صاحب میڈیکل پریکٹیشنر قلعہ صوباسنگھ تحصیل پسرور براستہ بدوملہی ضلع سیالکوٹ
    ۳۹۔ رشید احمد خاں صاحب ولد قاضی محبوب عالم صاحب ضلعدار شیخ چوہڑ معرفت تار بابو صاحب دفتر نہر جھنگ
    ۴۰۔ روڑی صاحبہ بیوہ علی محمد صاحب معرفت لال دین صاحب موچی وارڈ نمبر ۵ بدوملہی ضلع سیالکوٹ
    ۴۱۔ سراج دین صاحب برٹش موٹر ورکس وائی۔ ایم۔ سی ۔ اے بلڈنگ دی مال لاہور
    ۴۲۔ شیخ سبحان علی صاحب چک نمبر ۴۱۶ ج۔ب سوڈی ڈاکخانہ مہدی آباد براستہ گوجرہ ضلع لائل پور
    ۴۳۔ بابو شمس الدین صاحب مکان نمبر ۲۶۵۵ محلہکیکر علاقہ ڈبگری پشاور شہر
    ۴۴۔ چوہدری شیر محمد صاحب انسپکٹر کوآپریٹوبنک بمبانوالہ ڈاکخانہ خاص ضلع سیالکوٹ
    ۴۵۔ سعید احمد خان صاحب کمرشل کول کارپوریشن پوسٹ بکس نمبر ۷۲ کوئٹہ
    ۴۶۔ چوہدری حاجی شریف احمد صاحب دارالصدر غربی ربوہ
    ۴۷۔ سعد اﷲ خاں صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ ترنگزئی تحصیل چارسدہ ضلع پشاور
    ۴۸۔ سکینہ بیگم صاحبہ اہلیہ محمد ظہور خاں صاحب احمدنگر متصل ربوہ ضلع جھنگ
    ۴۹۔ چوہدری سراج دین صاحب باجوہ منیجر ظفر آباد لابینی ڈاکخانہ ظفر آبادلوطکہ ضلع حیدر آباد سندھ
    ۵۰۔ چوہدری سلطان علی صاحب مکان نمبر ۲ گلی نمبر ۲۰ سلطان پورہ لاہور
    ۵۱۔ رحیم بی بی صاحبہ والدہ چوہدری سلطان علی صاحب سلطان پورہ لاہور
    ۵۲۔ شریف احمد صاحب معرفت اڈہ طارق ٹرانسپورٹ کمپنی بل روڈ لاہور
    ۵۳۔ صدق المرسلین صاحب خادم معرفت مسجد احمدیہ کوئٹہ
    ۵۴۔ مولوی صدر الدین صاحب C-4/5ماڈرن کالونی منگو پیر روڈ کراچی نمبر ۱۶
    ۵۵۔ شیخ ظہور احمد صاحب ولد شیخ اﷲ بخش صاحب دکاندار کوٹ مومن تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا
    ۵۶۔ چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ ربوہ
    ۵۷۔ اقبال بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ ربوہ
    ۵۸۔ عبدالعزیز صاحب صادق مربی سلسلہ دفتر اصلاح و ارشاد ربوہ
    ۵۹۔ شیخ عبدالقادر صاحب اکونٹنٹ کالونی ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ نمبر۰ ۱۱ چوبرجی پارک لاہور
    ۶۰۔ قاضی عبدالرحمان صاحب امیر جماعت احمدیہ دوالمیال ضلع جہلم
    ۶۱۔ عبدالحمید صاحب مکان نمبر 5-55ڈی۔44کنارہ دریا باغ محلہ جہلم شہر
    ۶۲۔ مرزا عبدالغنی صاحب مکان نمبر ۱۲ گلی نمبر ۸ بھارت نگر چمڑہ منڈی لاہور
    ۶۳۔ اہلیہ صاحبہ مرزا عبدالغنی صاحب مکان نمبر ۱۲ گلی نمبر ۸ بھارت نگر چمڑہ منڈی لاہور
    ۶۴۔ عبدالعزیز صاحب چک بہوڑ و نمبر۱۸ ڈاکخانہ خاص براستہ ڈھاباں سنگھ ضلع شیخوپورہ
    ۶۵۔ مرزا عطا ء اﷲ صاحب مکان نمبر ۶۳۲ شام گنج مردان
    ۶۶۔ مسٹر عطاء اﷲ صاحب سیکشن آفیسر منڈی آف کامرس کراچی
    ۶۷۔ حافظ عبدالسلام صاحب وکیل المال تحریک جدید ربوہ
    ۶۸۔ شیخ عزیز احمد صاحب کہکشاں پرفیومری متصل بیت احمدیہ لائل پور
    ۶۹۔ عبدالرحمان صاحب انسپکٹر وقف جدید بمقام جمال پور ڈاکخانہ دریا خاں مری ضلع نواب شاہ سندھ
    ۷۰۔ عبدالحمید صاحب ولد غلام بھیک صاحب چک نمبر ۱۳۲؍ گ۔ب ڈاکخانہ خاص ضلع لائل پور
    ۷۱۔ مولوی عبدالطیف صاحب ٹھیکیدار بھٹہ ربوہ
    ۷۲۔ عزیزہ بیگم صاحبہ لیڈی ویلفیئر ورکر چیچیاں باہواں تحصیل و ضلع گجرات
    ۷۳۔ مولوی عبدالقدیر صاحب شاہد معرفت وکیل التبشیر صاحب ربوہ ضلع جھنگ
    ۷۴۔ عبدالمجید خاں صاحب ولد محمد ظہور خاں صاحب دفتر اصلاح و ارشاد ربوہ
    ۷۵۔ حافظ عزیز احمد صاحب ولد شیخ محمد حسین صاحب کوچہ امیر الدین چنیوٹ ضلع جھنگ
    ۷۶۔ عبدالرحمان صاحب رحمان پنساری سٹور سبزی منڈی گوجر خاں ضلع راولپنڈی
    ۷۷۔ چوہدری عبدالطیف صاحب اورسیئر محلہ دارالرحمت غربی ربوہ
    ۷۸۔ عبدالحمید صاحب ولد اختر حسین صاحب سالٹ ڈیلر سانگلہ ہل ضلع شیخوپورہ
    ۷۹۔ عبدالسلام صاحب ولد محمد الیاس صاحب ST-11کوارٹر کوہاٹ روڈ پشاور
    ۸۰۔ عبدالرشید صاحب سیکرٹری مال جماعت احمدیہ حلقہ چابک سواراں لاہور
    ۸۱۔ عبدالمجید صاحب ولد چوہدری محمد حسین صاحب 73/100مارٹن روڈ کراچی نمبر ۵
    ۸۲۔ ملک عبدالسلام صاحب پیروچک ڈاکخانہ خاص تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ
    ۸۳۔ عبدالواحد صاحب مکان نمبر ۴ گلی نمبر ۵۶ نیا دھرم پورہ لاہور
    ۸۴۔ مولوی عطا ء الرحمن صاحب چغتائی سی بلاک (مارکیٹ) ماڈل ٹاؤن لاہور
    ۸۵۔ علی احمد صاحب ٹھیکیدار محلّہ دارالرحمت فیکٹری ایریا ربوہ
    ۸۶۔ نوابزادہ میاں عباس احمد خاں صاحب مکان نمبر ۵ ڈیوس روڈلاہور
    ۸۷۔ ملک عبدالرب صاحب معرفت ایشیوافریقن کمپنی پوسٹ بکس نمبر ۱۵۸ کراچی
    ۸۸۔ مولوی عبدالمالک خاں صاحب احمدیہ ہال میگزین لین کراچی نمبر ۳
    ۸۹۔ گیانی عباد اﷲ صاحب منیجر روزنامہ الفضل ربوہ
    ۹۰۔ عزیز احمد صاحب ایزنگ فوٹو گرافر نمبر ۲ ایبٹ روڈ لاہور
    ۹۱۔ سیّد غلام مرتضٰے صاحب کنسلٹنگ انجنیئر نمبر ۱۰ رائٹر ز چمبرس ڈنولی روڈ کراچی
    ۹۲۔ غلام محمد صاحب خادمبیت احمدیہ امین پور بازار لائل پور
    ۹۳۔ چوہدری غلام احمد خاں صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ پاکپٹن ضلع منٹگمری
    ۹۴۔ غلام اکبر خان صاحب ترنگزئی تحصیل چارسدہ ضلع پشاور
    ۹۵۔ چوہدری فضل احمد صاحب نائب ناظر تعلیم ربوہ
    ۹۶۔ فرزند علی صاحب چک نمبر 12/11-Lڈاکخانہ خاص براستہ چیچہ وطنی ضلع منٹگمری
    ۹۷۔ فضل احمد صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ بشیر آباد اسٹیٹ ضلع حیدر آباد (سندھ)
    ۹۸۔ ملک فضل احمد صاحب معرفت ملک فضل الدین صاحب کارکن دفتر خدام ا لاحمدیہ ربوہ
    ۹۹۔ راجہ فضل الٰہی خان صاحب مکان نمبر 31/1دارالصدر غربی ربوہ
    ۱۰۰۔ شیخ فتح محمد صاحب قلعہ صوبہ سنگھ براستہ بدوملہی ضلع سیالکوٹ
    ۱۰۱۔ چوہدری فضل الرحمن صاحب منیجر خیبر ٹیکسٹائل اینڈ ہوزری ملز نمبر ۶ دیال سنگھ منشن دی مال روڈ لاہور
    ۱۰۲۔ شیخ فضل حق صاحب معرفت شیخ فضل حق اینڈ سنز سبّی (بلوچستان)
    ۱۰۳۔ لطیف احمد صاحب اسسٹنٹ ایگزیکٹوانجنیئر تربیلا ڈیم پروجیکٹ ڈاکخانہ غازی خاں ضلع ہزارہ
    ۱۰۴۔ محمد الدین صاحب مکان نمبر ۳۹۱ گلی نمبر ۱۵ آر۔ اے بازار لاہور چھاؤنی
    ۱۰۵۔ ایس ایم عبداﷲ صاحب ہاگورہ ۔ ہاگورہ ورکس وزیر آباد گوجرانوالہ
    ۱۰۶۔ چوہدری محمد اسماعیل صاحب خالد مینجر احمد آباد اسٹیٹ ڈاکخانہ نبی سر روڈ ضلع
    تھرپار کرسندھ
    ۱۰۷۔ مولوی مقبول احمد صاحب ذبیح ؔوکالت دیوان تحریک جدید ربوہ
    ۱۰۸۔ محمد حمید اﷲ صاحب قریشی P.A.Iسیکشن آفیسر دفتر کنٹرولر پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف لاہور
    ۱۰۹۔ مبارک احمد صاحب بک سیلر محلہ لوہاراں والا بھیرہ ضلع شاہ پور
    ۱۱۰۔ محمد اسلم صاحب مجاہد کلاتھ ہاؤس چوک بازار ملتان
    ۱۱۱۔ ملک محمد خاں صاحب سالٹ ڈیلر گندم منڈی سیالکوٹ
    ۱۱۲۔ ڈاکٹر محمد شٰفیع صاحب وٹرنری اسسٹنٹ سرجن انچارج وٹرنری ہسپتال نوشہرہ ورکاں ضلع گوجرانوالہ
    ۱۱۳۔ محمد رشید صاحب ٹکٹ کلکٹر ریلوے اسٹیشن لاہور
    ۱۱۴۔ مولوی محمد اکبر افضل صاحب معرفت مولوی عبدالرحمن صاحب انور دارالصدر شرقی ربوہ
    ۱۱۵۔ محمد شفیع صاحب ہیڈ کلرک نمبر ۲۲ ایچی سن کالج لاہور
    ۱۱۶۔ محمد صدیق صاحب پرنامی محلہ مکان نمبر ۵۹۶ کربلا روڈ منٹگمری
    ۱۱۷۔ صوفی محمد اسحاق صاحب سابق مبلغ لائبیریا ربوہ
    ۱۱۸۔ شیخ مہر دین صاحب ولد شیخ فصل الٰہی صاحب محلّہ اسلام پورہ (بھنگہ)سیالکوٹ
    ۱۱۹۔ حاجی مسعود احمد صاحب خورشید ایران ٹریڈ سنٹر فاطمہ بلڈنگ کھوڑی گارڈن
    کراچی نمبر۲
    ۱۲۰۔ ممتاز فقیر اﷲ صاحب نوازش بلڈنگ شیخ فیروزالدین سٹریٹ نمبر ۴۵ فلیمنگ روڈ لاہور
    ۱۲۱۔ محمد ظفر اﷲ صاحب مکان نمبر B-879کمبواڑہ اہل اسلام میدان بھاٹیاں اندرون بھاٹی گیٹ لاہور
    ۱۲۲۔ مجیب الرحمن صاحب پراچہ معرفت یونائیٹڈٹرانسپورٹ کمپنی سرگودھا
    ۱۲۳۔ متعلی خاں صاحب ولد عمر بخش صاحب مرالہ ڈاکخانہ خاص تحصیل پھالیہ ضلع گجرات
    ۱۲۴۔ صوفی محمد ابراہیم صاحب سابق ہید ماسٹر ربوہ ضلع جھنگ
    ۱۲۵۔ محمود احمد صاحب بشیر مکان نمبر 89/1صاحب سنگھ بلڈنگ صدر روڈ پشاور چھاؤنی
    ۱۲۶۔ حمیدہ عارفہ بیگم صاحبہ بنت مرزا حسین بیگ صاحب 3-12/20یاٹ روڈ کوئٹہ
    ۱۲۷۔ محمد اقبال صاحب چک ۷۱۔ج ڈاکخانہ خاص ضلع سرگودھا
    ۱۲۸۔ مولوی محمد سعید صاحب انصاری وکالت تبشیر تحریک جدید ربوہ ضلع جھنگ
    ۱۲۹۔ محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی محمد سعید صاحب انصاری وکالت تبشیر تحریک جدید ربوہ
    ۱۳۰۔ محمد امین صاحب قلعہ صوباسنگھ براستہ بدوملہی ضلع سیالکوٹ
    ۱۳۱۔ چوہدری محمد صادق صاحب بی۔اے سیکرٹری ہاؤس بلڈنگ فائنانس کارپوریشن
    نمبر ۲۱ اسلام آباد کراچی نمبر ۵
    ۱۳۲۔ ایم محمد صادق صاحب امریکن کٹ پیس مرچنٹ چوک گھاس منڈی سیالکوٹ شہر
    ۱۳۳۔ محمد اسلم صاحب معرفت محمد حیات صاحب احمدی محلّہ ٹبہ جالیاں گلی رنگریزاں سیالکوٹ
    ۱۳۴۔ محمد سلیم صاحب معرفت میکوٹیکسٹائل ورکس نمبر ۱۸ کرشن نگر جی۔ ٹی روڈ گوجرانوالہ
    ۱۳۵۔ شیخ محمد حسین صاحب ڈھینگرہ مکان نمبر ۱ اکرم روڈ نمبر ۱ کاچھو پورہ لاہور
    ۱۳۶۔ محمد رمضان صاحب معرفت میاں مولا بخش صاحب احمدی ریٹائر ڈ پوسٹ ماسٹر گلی مولوی سراج دین گوجرانوالہ
    ۱۳۷۔ مرزا منظور احمد صاحب معرفت چوہدری محمد شریف صاحب احمدی نشاط کمیشن شاپ غلہ منڈی صادق آباد ضلع رحیم یارخاں
    ۱۳۸۔ شیخ محمد الدین صاحب سابق مختار عام صدر انجمن احمدیہ ربوہ
    ۱۳۹۔ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ محمد الدین صاحب سابق مختار عام صدر انجمن احمدیہ ربوہ
    ۱۴۰۔ چوہدری مقبول احمد صاحب اکونٹنٹ ظفر آباد لابینی۔ ڈاکخانہ ظفر آباد لوطکہ ضلع حیدر آباد (سندھ)
    ۱۴۱۔ محمد حسین صاحب بل کلرک دفتر ڈپٹی کمشنر گجرات
    ۱۴۲۔ حکیم مرغوب اﷲ صاحب معرفت جلیل دواخانہ مین بازار شیخوپورہ
    ۱۴۳۔ مسعود احمد صاحب عاطف لیکچر ار تعلیم الاسلام کالج ربوہ
    ۱۴۴۔ محمد شفیع خان صاحب 11-E8/9ناظم آباد کراچی نمبر ۱۸
    ۱۴۵۔ مرزا محمد اسلم صاحب ولد مرزا محمد حیات صاحب معرفت شفاخانہ رفیق حیات ٹرنک بازار سیالکوٹ
    ۱۴۶۔ محمد شریف صاحب ولد حسین بخش صاحب محلّہ دارالرحمت شرقی ربوہ
    ۱۴۷۔ حاجی محمد اسماعیل صاحب مکان نمبر ۱۳۷ نیؤ روڈ دھرم پورہ لاہور
    ۱۴۸۔ شیخ مبارک احمد صاحب نائب ناظر تعلیم ربوہ
    ۱۴۹۔ چوہدری مقبول احمد صاحب ڈسٹرکٹ انجینئرشیخوپورہ
    ۱۵۰۔ صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب جودھامل بلڈنگ لاہور
    ۱۵۱۔ مرزا مقصود احمد صاحب ایگز یکٹو انجینئر نمبر۶۰ دی مال پشاور کینٹ
    ۱۵۲۔ نظام الدین صاحب کارکن وکالت تبشیر تحریک جدید ربوہ
    ۱۵۳۔ نعیم اﷲ صاحب خالد ولد ڈاکٹر جید اﷲ خاں صاحب کوچہ اسماعیل حسین گوالمنڈی
    لاہور نمبر ۷
    ۱۵۴۔ راجہ ناصر احمد صاحب معرفت بشیر احمد صاحب شاہد گلی نمبر ۷ بلاکFچنیوٹ بازار
    لائل پور
    ۱۵۵۔ حافظ نیاز احمد صاحب کوٹھی نمبر ۹ چیڑجی روڈ پیسہ اخبار لاہور
    ۱۵۶۔ ملک نصر اﷲ خان صاحب کلائمکس انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ
    ۱۵۷۔ ناصر احمد صاحب عباسی فضل منزل آبادی حاکم رائے گلی سلطان احمد گوجرانوالہ
    ۱۵۸۔ شیخ نصیرالحق صاحب 146/Nسمن آباد لاہور
    ۱۵۹۔ مرزا نثار احمد صاحب فاروقی مکان نمبر ۲۰۳۴ کوچہ رسالدار قصہ خوانی بازار پشاور شہر
    ۱۶۰۔ چوہدری نذر محمد صاحب نذیر اسسٹنٹ چارج مین لوکوشیڈ روہڑی سکھر
    ۱۶۱۔ مولوی نورالحق صاحب انورؔ سابق مبلغ امریکہ کوارٹرز تحریک جدید ربوہ
    ۱۶۲۔ سلطان احمد صاحب ولد چراغدین صاحب چک نمبر 69/R.Bگھسیٹ پورہ ضلع لائلپور
    ۱۶۳۔ شیخ شریف احمد صاحب ولد شیخ نثار احمد صاحب بلاک نمبر۲ سرگودہا
    ۱۶۴۔ ڈاکٹر عمر دین صاحب ایم۔ بی۔بی۔ ایس اینٹی ملیریا آفیسر مری روڈ راولپنڈی
    ۱۶۵۔ ملک عبدالغنی صاحب ولد ملک عبدالقادر صاحب نمبر۹ چوہدری بلڈنگ نزد جوبلی سینما کراچی
    ۱۶۶۔ شیخ عبادالرحمان صاحب ولد منشی حبیب الرحمان صاحب مرحوم لاہور
    ۱۶۷۔ سیدلال شاہ صاحب امیر جماعت احمدیہ واربرٹن ضلع شیخوپورہ
    ۱۶۸۔ سید محمد حسین شاہ صاحب ولد عطا محمد صاحب ملتان
    ۱۶۹۔ مولوی محمد علی صاحب ولد میاں نور علی صاحب دارالصدر غربی ربوہ
    ۱۷۰۔ مسعود احمد صاحب جہلمی ولد میاں عبدالرحیم صاحب وکالت دیوان ربوہ
    ۱۷۱۔ نصیر الرحمان صاحب ناصر ابن حکیم حفیظ الرحمان صاحب اکبری منڈی لاہور
    ۱۷۲۔ مرزا واحد حسین صاحب دارالصدر (ج) ربوہ ضلع جھنگ
    ۱۷۳۔ حمید احمد صاحب اخترؔ ولد میاں عبدالرحیم صاحب مالیر کوٹلوی ۔ربوہ
    ۱۷۴۔ خالقداد خانصاحب ولد خدا داد خان صاحب راشن شاپ نمبر ۵۹۱ ٹونیشیا لائن کراچی
    ۱۷۵۔ صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب ربوہ
    ۱۷۶۔ سلیمہ بیگم صاحبہ بنت مرزا معظم بیگ صاحب کوئٹہ
    ۱۷۷۔ سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ فضل قادر صاحب ربوہ
    ۱۷۸۔ خان ضیاء الحق خانصاحب کوئٹہ
    ۱۷۹۔ امتہ الحمید بیگم صاحبہ اہلیہ خان ضیاء الحق خانصاحب کوئٹہ
    ۱۸۰۔ عبدالغفور صاحب ولد چوہدری چراغدین صاحب مکان نمبر ۱۷۲۴ موٹومل گارڈن کراچی
    ۱۸۱۔ علم دین صاحب ولد بوٹا چک نمبر69/R.Bگھسیٹ پورہ لائل پور
    ۱۸۲۔ حکیم عبدالرشید صاحب ارشدؔ ربوہ ضلع جھنگ
    ۱۸۳۔ کرم الٰہی صاحب ولد میراں بخش صاحب۔ سیالکوٹ۔
    ۱۸۴۔ لعل دین صاحب ولد علی محمد صاحب وارڈ نمبر ۵ بدوملہی ضلع سیالکوٹ
    ۱۸۵۔ مشتاق احمد صاحب برادر مولوی محمد احمد صاحب درویش قادیان
    ۱۸۶۔ محمد لطیف صاحب ولد عالم خانصاحب چک نمبر 69/R.Bگھسیٹ پورہ ضلع لائلپور
    ۱۸۷۔ شیخ محمد عمر انور صاحب مکان نمبر۹۱ بلاک نمبر۲ سرگودہا
    ۱۸۸۔ ایم عبدالواحد خانصاحب احمدیہ ہال میگزین لین کراچی نمبر۳
    ۱۸۹۔ ماسٹر نذیر حسین صاحب نمبر ۷۱ گوال منڈی روڈ لاہور
    ۱۹۰۔ نور دین صاحب ولد بہادر علی صاحب دارالرحمت ربوہ ضلع جھنگ
    ۱۹۱۔ محمد رمضان صاحب کارکن وکالت تبشیر ربوہ
    ۱۹۲۔ سعیدہ وزیر صاحبہ اہلیہ رشید خان صاحب ضلعدار شیخ چوہڑ۔
    ۱۹۳۔ حکیم ظفر الدین صاحب معرفت ملک ظفر ایند کمپنی مین بازار شیخوپورہ
    ۱۹۴۔ مولوی محمد صدیق صاحب لائبریرین ربوہ ضلع جھنگ
    ۱۹۵۔ محمد عیسیٰ صاحب سیکرٹری مال راجہ جنگ ضلع لاہور
    ۱۹۶۔ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب بھٹی یونائیٹڈ میڈیکل اینڈ اوپٹیکل ہال گھاس منڈی
    ۱۹۷۔ ملک منور احمد صاحب ولد ملک حبیب الرحمان صاحب فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ربوہ ضلع جھنگ
    ۱۹۸۔ مبارک احمد صاحب ولد چوہدری محمد بوٹا صاحب کراچی
    ۱۹۹۔ امتہ الرحیم صاحبہ اہلیہ مبارک احمد صاحب کراچی
    ۲۰۰۔ میاں عطاء اﷲ صاحب ایڈووکیٹ راولپنڈی
    حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا بصیرت افروز صدارتی خطاب مجلس مذاکرہ علمیہ میں
    ۲۲‘۲۳؍دسمبر ۱۹۶۰ء کو مجلس مذاکرہ علمیہ جامعہ احمدیہ ربوہ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا جس
    میںخالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری‘ ۲۰مفتی سلسلہ مکرم ملک سیف الرحمن صاحب ۲۱اور دوسرے ممتاز علماء نے پُر مغز‘ٹھوس اور فاضلانہ مقالے پڑھے۔ اجلاس کی پہلی نشست حضرت صاحبزاہ مرزا بشیر احمد صاحب کی صدارت میں ہوئی۔ حضرت میاں صاحب نے اپنے بصیرت افروز صدارتی خطاب میں احمدی نوجوانوں کو تلقین فرمائی کہ وہ ہمیشہ حضرت مسیح موعود ؑکے اس شعر کو مدّ نظر رکھیں کہ
    ؎
    اے بے خبر بخدمت فرقاں کمرببند
    زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاں نماند
    حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا حضرت مسیح موعود ؑ نے قرآن مجید کو اس دنیوی عالم سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ قرآن مجید بھی اپنی ذات میں ایک عالم ہے‘ جس طرح دنیوی عالم کے مخفی عجائبات زمانے کے ساتھ ساتھ کھلتے آ رہے ہیں اور جدید اکتشافات کے ذریعے اس کے مخفی خزانے باہرنکل رہے ہیں اور بے شمار اکتشافات کے باوجود انسان ابھی تک اس کے اسرار کا احاطہ نہیں کر سکا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید جو خدا تعالیٰ کا قول ہے اپنی ذات میں ایک عالم ہے جس کے مخفی خزانوں اور علوم و معارف کی کوئی انتہا نہیں۔ احمدی نوجوانوںکو چاہیے کہ وہ قرآن میں زیادہ سے زیادہ تدبر سے کام لیں اور نئے نئے خزانے نکال کر انہیں دنیا کیلئے عام کریں اور ان سے اُن علوم جدیدہ کا مقابلہ کریں جو مذہب کے مخالف ہیں اور دنیا کو دہریت کی طرف لے جانے والے ہیں یہی حضرت مسیح موعود ؑ کی بعثت کا مقصد ہے حضرت میاں صاحب نے اس موقع پر یہ نصیحت بھی فرمائی کہ تحقیق اور وضاحت کیلئے سوال کرنا اور اشکال پیش کر کے ان کی وضاحت چاہنا یا خود اس کا حل تلاش کرنا بہت اچھی چیز ہے لیکن اس میں یہ احتیاط مدّ نظر رکھنا ضرور ی ہے کہ ادب کو ہر حال میں ملحوظ رکھا جائے۔ سوالات استفسارات کے رنگ میں ہونے چاہییں ۔ ایسے اعتراضات کے رنگ میں نہیں جن سے مسلّمہ یا طے شدہ اصولوں یا عقائد کے کماحقہ احترام میں کوئی فرق آ سکے‘ بعض اوقات اس قسم کی بحثوں میں ہر چند کہ وہ تحقیق اور وہ از دیاد علم کی نیت سے ہوں‘ لوگ اس احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھا کرتے۔ لیکن ہمارے نوجوانوں کو جو بفضلہٖ تعالیٰ اس فرق کو سمجھتے
    ہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ ۲۲






    فصل پنجم
    جلسہ سالانہ ربوہ اور حضرت مصلح موعودؒ کے ایمان افروز خطابات
    اس سال ۲۶ تا ۲۸؍دسمبر جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ربوہ کی مبارک سر زمین میں احمدیت کے ۷۵ ہزار
    فدائیوں کا عظیم الشان اجتماع ہوا جو دعاؤں ‘ ذکر الٰہی‘ انابت الی اﷲ ‘ ذوق و شوق اور ولولہ عشق کے ایمان افروز مناظر کا مرقّع تھا اور اس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے متعدد ممالک کے مخلصین جماعت نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔ ۲۳
    اس مقدس تقریب میں سیدنا محمود المصلح الموعود نے دو روح پرور خطابات ارشاد فرمائے:۔
    افتتاحی خطاب
    حضور نے اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایا:۔
    ’’ اﷲ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ اس نے ہماری جماعت
    کے افراد کو ایک بار پھر اپنے ذکر کو بلند کرنے اور محمد رسول اﷲ ﷺ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کیلئے یہاں جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ ہم اﷲ تعالیٰ کے اس عظیم الشان احسان کو دیکھتے ہوئے اس کے حضور جس قدر بھی سجداتِ شکر بجا لائیں کم ہیں۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے بابرکت بنائے اور اس میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام مردوں اور عورتوں کو ان کے اخلاص اور محبت کی جزائے خیر عطا فرمائے اور انہیں اس امر کی توفیق بخشے کہ وہ اس جلسہ سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں اور اپنے اندر ایک نیک اور پاک تبدیلی پیدا کریں تاکہ جب وہ واپس جائیں تو دنیا ان کے نیک عزائم اور اعلیٰ اخلاق اور اسلام کیلئے فدائیت اور جاں نثاری کے جذبات کو دیکھ کر پکاراٹھے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کیلئے حقیقی امن اور سلامتی کا موجب ہیں اور انکے دلوں میں بھی یہ تڑپ پیدا ہو جائے کہ وہ جماعت احمدیہ کے مرکز میں آئیں اور ان غلط فہمیوں کو دور کریں جو ہمارے متعلق ان میں پائی جاتی ہیں۔
    دوستوں کو !یہ امر اچھی طرح یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارا یہ جلسہ تمام مرّوجہ جلسوں اور اجتماعوں سے بالکل مختلف رنگ رکھتا ہے۔ آپ لوگ یہاں کسی نمائش کیلئے اکٹھے نہیں ہوئے ۔ کوئی کھیل یا تماشہ دیکھنے کیلئے نہیں آئے بلکہ صرف اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ایک منّاد کی آواز آپ لوگوں نے سنی اور اس پر دوڑتے اور لبیک کہتے ہوئے آپ زمین کے چاروں اطراف سے اس کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔ گویا آپ لوگ وہ روحانی پرندے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا تھا کہ انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر رکھ دو اور پھر انہیں آواز دو تو وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ اڑتے چلے آئیں گے آپ لوگ بھی اس زمانہ کے مامور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اور آپ ہی وہ خوش قسمت وجود ہیں جنھیں فضائے آسمانی کی بلندیوں میں پرواز کرنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور ان ایام کو ضائع مت کرو۔ یہ جلسہ کوئی دنیوی میلہ نہیں بلکہ یہ خدا اور اس کے رسولؐ کے ساتھ تمہارا ملاپ پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے تمہارے لئے تجویز کیا ہے۔ پس اس امر کی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہ ہونے دو اور دعاؤں اور ذکر الٰہی میں ہر وقت مشغول رہو۔ اور اپنے اوقات کا صیحح استعمال کرو۔ اگر آپ لوگ اسلامی اجتماعات پر غور کریں تو آپ کو نہایت آسانی سے یہ امر معلوم ہو سکتا ہے کہ تمام اسلامی اجتماعات کی رُوح رواں صرف ذکر الٰہی اور دُعا اور انابت الی اﷲ ہی ہے ۔ نماز ہے تو وہ دعا اور ذکر الٰہی پر مشتمل ہے۔ جمعہ ہے تو وہ بھی وعظ و نصیحت اور دعا اور ذکر الٰہی پر مشتمل ہے۔ عیدین کی نمازیں ہیں تو ان میں بھی اٹھتے بیٹھتے ذکر الٰہی کی تاکید ہے۔ یہی نسخہ ہے جو ہر اجتماع کو بابرکت بناتا ہے پس اس نسخہ کو کبھی مت بھولو اور اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کیلئے اور اسی طرح اسلام اور احمدیت کی ترقی کیلئے رات دن دعائیں کرتے رہو اور پھر یہ بھی دعائیں کرو کہ اﷲ تعالیٰ اس عظیم الشان مقصد کو جلد سے جلد پورا فرمائے جس کیلئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ ہمیں اپنی موت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے اور پھر ہماری اولاد در اولاد کو بھی یہ توفیق بخشے کہ وہ قیامت تک اس جھنڈے کو اونچا رکھتی چلی جائے یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جنگِ اُحد کے موقع پر ایک صحابیؓ شدید زخمی ہوئے وہ نزع کی حالت میں تھے کہ ایک اور صحابیؓ انکے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ اگر آپ نے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے نام کوئی پیغام دینا ہو تو مجھے دیدیں وہ کہنے لگے میرے عزیزوں کو میری طرف سے اسلام علیکم کہنا اور انہیں یہ پیغام دے دینا کہ جب تک ہم زندہ رہے ہم اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول ﷺ کی حفاظت کرتے رہے اب ہم اس دنیا سے جا رہے ہیں اور یہ امانت تمہارے سپرد کر رہے ہیں۔ اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اپنی جانیں قربان کردو مگر محمد رسول اﷲﷺ پر کوئی آنچ نہ آنے دو۔ آج محمد رسول اﷲ ﷺ اپنے جسدِ عنصری کے ساتھ اس دنیا میں موجود نہیں مگر ان کا لایا ہوا دین آج بھی زندہ ہے۔ اُن کا لایا ہوا قرآن آج بھی موجود ہے۔ اور وہ دین ہم سے انہی قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے جن قربانیوں کا صحابہﷺ سے مطالبہ کیا گیا تھا۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اپنی جانیں دیں مگر اسلام کے جھنڈے کو کبھی نیچا نہ ہونے دیں اور ہم اپنی اولاد در اولاد سے بھی یہ کہتے چلے جائیں کہ اپنی ذمہ داریوںکو مت بھولنا ورنہ خدا کے حضور تم جواب دہ ہو گے۔ حقیقت یہ ہے کہ سلسلہ کی عظمت کو قائم رکھنا اور سلسلہ کی اشاعت میں حصّہ لینا کسی ایک فرد کا کام نہیں بلکہ یہ نسلا ًبعد نسل ایک لمبے زمانہ سے تعلق رکھنے والا کام ہے اسی وجہ سے میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ اپنے اپنے خاندانوں میں سے کم سے کم ایک ایک فردکو دین کیلئے وقف کرو تاکہ تمہارا خاندان اس نیکی سے محروم نہ رہے اور تم سب اس ثواب میں دائمی طور پر شریک ہو جاؤ۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی حالانکہ یہ ایک نہایت ہی ضروری امر ہے جس پر ہماری جماعتی اور مذہبی حیات کا انحصار ہے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ صرف اپنے اندر ہی ایمان پیدا کرنیکی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اگلی نسل کو بھی دین کا جاں نثار خادم بنانے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ دنیا میں کوئی شخص یہ پسند نہیں کر سکتا ہے وہ تو عالم بن جائے مگر اس کا بیٹا جاہل رہے یا وہ تو امیر بن جائے مگر اس کا لڑکا کنگال رہے۔ پھر نہ معلوم لوگ اپنی اگلی نسل کو دین کے راستہ پر قائم رکھنے کیلئے کیوں مضطرب نہیں ہوتے اور کیوں وہ دیوانہ وار اس کیلئے جدوجہد نہیں کرتے۔ یہ امر یاد رکھو کہ ہمارے سپرد خدا تعالیٰ نے ایک بہت بڑی امانت کی ہے اس زمانہ میں جبکہ ایمان ثریا پر جا چکا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کے ذریعہ پھر اسلام کو زندہ کیا اور اس نے آپ لوگوں کے ذریعہ اسے دنیا کے کناروں تک پہنچایا بلکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرایا ۔ اب آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اپنی اگلی نسل کو بھی اس امانت کا اہل بنائیں۔ اور اس کے اندر دین سے شغف اور محبت پیدا کریں تاکہ وہ بھی نمازوں اور دعاؤںاور ذکر الٰہی کی پابند ہو اور دین کیلئے ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینے والی ہو۔ یہ کام ہم اپنے زور سے نہیں کر سکتے صرف خدا ہی ہے جو اصلاحِ نفس کے سامان پیدا کیاکرتا ہے۔ پس اپنے لئے بھی دعائیں کرو اور اپنی اولادوں کیلئے بھی دعائیں کروکہ اﷲ تعالیٰ ان کے دلوں میں سچّا ایمان پیدا کرے اور انہیں دین کی ایسی محبت عطا کرے کہ کوئی دنیوی تعلق اُس کے مقابلہ میںنہ ٹھہر سکے تاکہ ہماری زندگی ہی پُر مسّرت نہ ہو بلکہ ہماری موت بھی خوشی کی موت ہو۔ ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے اب بہتر سال (۷۲) کا طویل عرصہ ہو چکاہے اور یہ صدی اب ختم ہونے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ مگر ابھی تک ہماری جماعت کی تعداد بہت کم ہے۔ بے شک اﷲ تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمدیہ کے مربیوں ‘ تحریک جدید کے مبلغوںاور وقف جدید کے معلموں اور پھر انفرادی جدوجہد کے ذریعہ ہر سال بیعتوں میں اصافہ ہوتا رہتا ہے مگر پھر بھی دنیا کی آبادی کو دیکھتے ہوئے ہماری تعداد ابھی ایسی نہیں جس پر اطمینان کا اظہار کیا جا سکے۔ اس لئے ہمیں بہت زیادہ فکر اور توجہ کے ساتھ اپنی کوششوں کا جائزہ لینا چاہیے ۔ اور کوشش کرنی جاہیے کہ ہماری زندگیوں میں ہی دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔ بے شک ہم کمزور اور بے سامان ہیں مگر ہمارا خدا بڑا طاقتور ہے اس لئے ہمیں اُسی سے دعائیں کرنی چاہییںکہ الٰہی ! تیری مدد آسمان سے کب نازل ہو گی۔ توآسمان سے اپنے ملائکہ کی فوج نازل فرماتاکہ وہ سعید دلوں پر اتریں اور انہیں اسلام اور احمدیت کا والہ و شیدا بنا دیں اور ہم اپنی زندگیوں میں ہی وہ دن دیکھ لیں جبکہ اسلام دنیا پر غالب آ جائے۔ اور یورپ اور امریکہ محمد رسول اﷲ ﷺ کی غلامی میں داخل ہو جائے۔ بے شک آج عیسائیت کی ترقی کو دیکھ کر انسان حیران ہوتا ہے اور اس کے واہمہ میں بھی نہیں آ سکتا کہ اسلام ایکدن دنیا پر غالب آئے گا مگر دعااور صرف دعا ہی وہ ہتھیار ہے جس سے یہ مہم ایک دن کامیاب ہو گی۔ اور حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئیوں کے مطابق اسلام دنیا پر غالب آئے گا اور کفر میدان میں دم توڑ رہا ہو گا۔ میں دوستوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انہیں اپنی دعاؤں میں قادیان کو بھی یاد رکھنا چاہیئے۔قادیان ہمارا مقدس مذہبی مرکز ہے جہاں بار بار جانا ہماری جماعت کے تمام افراد کیلئے ضروری ہے۔ پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے یہ دعائیں بھی کریں کہ وہ اپنے فضل سے قادیان کے راستے تمام احمدیوں کیلئے کھولے اور ہمیشہ کیلئے کھولے۔ اور وہ مشکلات جو اس وقت ہماری راہ میں حائل ہیں اُن کو دور فرمائے اور اپنی برکتوں اور رحمتوں سے مالا مال کرے۔ ان چند کلمات کے ساتھ میں جلسہ سالانہ کا افتتاح کرتا ہوں اور آپ لوگوں کیلئے دعا کر تا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کو خیریت کے ساتھ رکھے اور ان بابرکت ایام سے صیحح طور پر فائدہ اٹھانے اور اپنے اندر نیک اور پاک تبدیلی پیدا کرنیکی توفیق عطا فرمائے۔ اب میں دعا کروں گاسب دوست میرے ساتھ مل کر دعا کرلیں۔ ۲۴
    اختتامی خطاب
    حضورناسازیٔ طبع کے باعث ۲۸؍دسمبر ۱۹۶۰ء کی اختتامی تقریر کیلئے بنفس نفیس تشریف نہ لا سکے۔ اس لئے حضور کی مندرجہ ذیل
    ایمان افروز تقریر حضور کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی صدارت میں خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمسؔ نے پڑھ کر سنائی۔
    ’’اﷲ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں کو پھر اس مقدس اجتماع میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ جو اعلائے کلمتہ اﷲ کی غرض سے ۱۸۹۱ء میں حضرت مسیح موعود ؑ نے قائم فرمایا تھا۔ سب سے پہلا جلسہ جو حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں ہؤا اس میں صرف ۷۵ آدمی شریک ہوئے تھے۔ اور آخری جلسہ جو ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہؤا اس میں ۷۰۰ افراد شریک ہوئے تھے۔ لیکن اب اﷲ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد ستّر اسّی ہزار تک پہنچ چکی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ تعداد انشاء اﷲ بڑھتی چلی جائے گی اور قیامت تک اسلام اور احمدیت کا جھنڈا ہماری جماعت کے افراد کے ذریعہ دنیا کے تمام ملکوں میں بلند ہوتا رہے گا۔
    یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے سپرد ایک بہت بڑا کام کیا ہے ۔ہم نے ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کرنی اور محمد رسول اﷲﷺ کی تعلیم پھیلانی ہے اور ہم نے ساری دنیا میں اور ہمیشہ کیلئے نیکی اور تقویٰ کی روح کو قائم کرنا ہے اور یہ کام بغیر ایک لمبی اور مستقل جد و جہد کے انجام نہیں دیا جا سکتا۔ پس ضروری ہے کہ ہمارا ہر فرد اپنی ان ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اس پر عائد ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے۔ اور اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت میں صرف کرے۔ تاکہ جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو اس کا سر اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کی بنا پر ندامت اور شرمندگی سے نیچا نہ ہو بلکہ وہ فخر کے ساتھ کہہ سکے کہ میں نے اپنے اس فرض کو ادا کر دیا ہے جو مجھ پر اپنے رب کی طرف سے عائد کیا گیا تھا۔
    ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام اپنے فرائض کو ادا کرنے کا اپنے اندر اس قدر احساس رکھتے تھے کہ ایک دفعہ جب رسول کریمؐ نے عیسائیوں کے مقابلہ کیلئے شام کی طرف اپنا لشکر روانہ فرمایا تو آپؐ نے فرمایا کہ میں زید بن حارثہؓ کو اس لشکر کا کمانڈر مقرر کرتا ہوں۔ لیکن اگر زید اس جنگ میں شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب کمانڈر ہونگے اور اگر جعفر ؓ بھی شہید ہو جائیں تو عبداﷲ بن رواحہ کمانڈر ہونگے۔ اور اگر عبداﷲ بن رواحہ ؓ بھی شہید ہو جائیں تو پھر مسلمان خود کسی کو منتخب کر کے اپنا افسر بنا لیں۔ جب آپؐ یہ ہدایات دے رہے تھے تواس وقت ایک یہودی بھی بیٹھا آپؐ کی باتیں سن رہا تھا۔ آپ ؐ جب اپنی بات ختم کر چکے تو وہ یہودی وہاں سے اُٹھا اور سیدھا حضرت زیدؓ کے پاس پہنچا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر محمد ؐ سچے نبی ہیں تو تم اس جنگ سے کبھی زندہ واپس نہیں آؤ گے۔ کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر زیدؓ جنگ میں مارے جائیں تو جعفرؓ کو کمانڈر بنا لینا اور اگر جعفر ؓ بھی مارے جائیں تو عبداﷲ بن رواحہؓ کو کمانڈر بنا لینا اور اگر عبداﷲ بن رواحہؓ بھی مارے جائیں تو پھر کسی اور کو اپنا افسر بنا لینا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تم تینوں مارے جاؤ گے۔ حضرت زیدؓ نے جواب دیا کہ ہم مارے جائیں یا زندہ رہیںمحمد رسول اﷲ ﷺ بہر حال سچے نبی ہیں۔ آخرواقعہ بھی اسی طرح ہوا کہ جب لڑائی ہوئی تو یہ تینوں صحابہ یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے۔ حضرت عبداﷲ بن رواحہ ؓ کے متعلق ذکر آتا ہے کہ جب وہ کمانڈر مقرر ہوئے تو انہوں نے اسلامی جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اس وقت میدان جنگ کی یہ حالت تھی کہ دشمن کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی اور مسلمان صرف تین ہزار تھے۔ جب عبداﷲ بن رواحہؓ دشمن کے مقابلہ کیلئے آگے بڑھے تو لڑتے لڑتے ان کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔ اس پر انہوں نے جھٹ اپنے دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھام لیا۔ اور جب دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا تو انہوں نے جھنڈے کو اپنی رانوں میں دبا لیا۔ اس کے بعد کفار نے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹ دی۔ اس وقت کیونکہ وہ مجبور تھے اور جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں وہ جھنڈے کو سنبھال کر رکھ سکتے۔ اس لئے انہوں نے زور سے آواز دی کہ اب میں جھنڈے کو نہیں سنبھال سکتا اس لئے دیکھنا اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے۔ یہ سن کر حضرت خالد بن ولید آگے بڑھے اور انہوں نے جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ یہ لشکر ابھی مدینہ نہیں پہنچا تھا کہ رسول کریمؐ کو اﷲ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ ان تمام واقعات کی خبر دیدی اور آپ ؐ نے صحابہؓ کو بتایا کہ جب اسلامی لشکر کفار کے مقابلہ میںکھڑا ہوا اور زیدؓ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے تو زیدؓ کی جگہ جعفرؓ کو کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اور جب جعفر ؓ شہید ہو گئے توعبداﷲ بن رواحہؓ کو کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اور جب عبداﷲ بن رواحہؓ بھی شہید ہو گئے تو اﷲ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ اب وہ جھنڈا سیف من سیوف اﷲ یعنی حصرت خالد بن ولید ؓ کے ہاتھ میں آ گیا ہے اوروہ اسلامی لشکر کو حفاظت کے ساتھ واپس لا رہے ہیں۔ اب دیکھو حضرت عبداﷲ بن رواحہؓ کی قربانی کس قدر عظیم الشان تھی۔ عام طور پر کسی شخص کے پاؤں میں کانٹا بھی چُبھ جائے یا اس کی ایک انگلی پر بھی زخم آ جائے تو وہ بے چین ہو جاتا ہے۔ مگر ان کا پہلے ایک باز وکٹ گیا تو انہوں نے اپنے دوسرے بازو میں جھنڈے کو پکڑ لیا اور جب دوسرا بازو بھی کٹ گیا تو اسے رانوں میں تھام لیا۔ اور جب ایک ٹانگ بھی کٹ گئی تو اس وقت انہوں نے آواز دی کہ دیکھنااسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے اس فدائیت اور جاں نثاری کی کیا وجہ تھی؟ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے دلوں میں یہ یقین رکھتے تھے کہ خدا نے ہمیں ایک عظیم الشان کام کیلئے پیدا کیا ہے۔ اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے لئے اپنی موت تک جد و جہد کرتے چلے جائیں‘ جب یہ یقین اور ایمان کسی جماعت کے اندر پیدا ہو جائے تووہ خدا تعالیٰ کیلئے ہر قسم کی مشکلات کو دیوانہ وار برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرت بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ توخدا تعالیٰ کیلئے اپنی جانیں قربان کریں اور خدا تعالیٰ ان کی تائید نہ کرے ۔ کونٹ ٹالسٹائی جو روس کا مشہور مصنف گذرا ہے اس کے ایک دادا کے متعلق ذکر آتا ہے کہ وہ شہنشاہ روس کی ڈیوڑھی کا دربان تھا۔ ایک روز بادشاہ نے ملکی حالات پر غور کرنے کیلئے قلعہ کے دروازہ پر ٹالسٹائی کو کھڑاکیا اور کہا کہ آج خواہ کوئی شخص آئے اس کو اندر نہ آنے دیا جائے۔ کیونکہ آج میں ملک کیلئے ایک بہت بڑی سکیم سوچ رہا ہوں۔ ٹالسٹائی پہرے پر کھڑا ہو گیا اور بادشاہ ایک بالاخانہ پر بیٹھ کر سکیم سوچنے لگ گیا۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ بادشاہ کو شور کی آواز سنائی دی اور وہ ادھر متوجہ ہو گیا۔ واقعہ یہ ہوا کہ شاہی خاندان کا ایک شہزادہ کسی کام کیلئے بادشاہ سے ملنے گیا مگر دربان نے اسے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ آج کوئی شخص اندر نہ آئے۔ دربان کا یہ کہنا تھا کہ شہزادہ طیش میں آ گیا اور اس نے خیال کیاکہ ایک معمولی نوکر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ اتنی گستاخی کرے اور مجھے اندر جانے سے روکے۔ اس نے کوڑا اُٹھایا اور دربان کو مارنا شروع کر دیا۔ دربان بیچارہ سر جھکا کر مار کھاتا رہا۔ جب شہزادے نے سمجھا کہ اب اسے کافی سزا مل چکی ہے تو اس نے پھر اندر جانا چاہا ۔ مگر دربان پھر سامنے آ گیا اور کہنے لگا میں آپ کو اندر نہیں جانے دوں گا۔ شہزادے کو خیال آیا کہ شاید یہ دربان مجھے پہچان نہیں سکا۔ اس لئے اس نے دربان سے کہا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ دربان نے کہا ہاں میں جانتا ہوں آپ شاہی خاندان کے فلاں شہزادہ ہیں۔ یہ سن کر شہزادے کو اور غصہ آیا کہ باوجود جاننے کے کہ میں شہزادہ ہوں پھر بھی یہ مجھے روکنے کی جرأت کر رہا ہے چنانچہ اس نے پھر اسے مارنا شروع کیا۔ بادشاہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ آخر بادشاہ نے زور سے آواز دی کہ ٹالسٹائی ادھر آؤ! یہ سن کر ٹالسٹائی بادشاہ کے پاس پہنچا اور اس کے پیچھے پیچھے شہزادہ بھی غصّے سے بھرا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا اور جاتے ہی کہا اس نالائق نے آج مجھے اندر آنے سے روکا ہے۔ بادشاہ نے ٹالسٹائی سے پوچھا کیا تو نے شہزادے کو اندر آنے سے روکا تھا۔ اس نے جواب دیا ہاں حضور میں نے روکا تھا۔ بادشاہ نے کہا کیا تم جانتے تھے کہ یہ شہزادہ ہے؟ ٹالسٹائی نے کہا ہاں حضور مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ شہزادہ ہیں۔ بادشاہ نے کہا پھر تم نے اسے کیوں روکا۔ ٹالسٹائی نے کہا چونکہ حضور کا حکم تھا اس لئے میں نے انہیں اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد بادشاہ نے شہزادے سے پوچھاکہ کیا تم کو اس دربان نے بتایا تھا کہ یہ بادشاہ کا حکم ہے کہ کوئی شخص اندر نہ آئے۔ شہزادے نے کہا ہاں حضور بتایا تھا۔ یہ سن کر بادشاہ غصّے میں آ گیا اور اس نے کہا ٹالسٹائی یہ لو کوڑا اور اس شہزادے کو اتنے ہی کوڑے مارو جتنے اس نے تم کو مارے تھے۔ شہزادے نے کہا اے بادشاہ روس کے قانون کے مطابق یہ مجھے نہیں مار سکتا کیونکہ میں فوجی افسر ہوں اور کوئی غیر فوجی فوجی کو نہیں مارسکتا۔ بادشاہ نے کہا ٹالسٹائی میں تم کو بھی فوجی افسر بناتا ہوں۔ تم کوڑا لو اور اس کو سزا دو۔ شہزادے نے کہا روس کے قانون کے مطابق یہ اب بھی مجھے نہیں مار سکتا۔ کیونکہ میں جرنیل ہوں اور یہ جرنیل نہیں۔ بادشاہ نے کہا ٹالسٹائی میں تم کو بھی جرنیل بناتا ہوں۔ شہزادے نے کہا بادشاہ قانون روس کے مطابق یہ اب بھی مجھے نہیں مار سکتا کیونکہ میں شاہی خاندان کا شہزادہ ہوں بادشاہ نے کہا ٹالسٹائی میں تم کو بھی کونٹ بناتا ہوں تم اس کو سزا دو۔ چنانچہ اسی وقت ٹالسٹائی کونٹ ٹالسٹائی بن گیا۔ اور بادشاہ نے اس کے ہاتھوں سے شہزادہ کو سزا دلوائی۔ اب دیکھو بادشاہ نے ٹالسٹائی کو ایک حکم دیا اور جب ٹالسٹائی نے اس کی بجا آوری کیلئے مارکھائی تو بادشاہ کی غیرت جوش میں آ گئی اور اس نے نہ صرف ٹالسٹائی کا بدلہ لیا بلکہ اسے ایک عام آدمی سے کونٹ بنا دیا۔ اسی طرح جو لوگ خدا تعالیٰ کیلئے قربانیاں کرتے ہیں اور اس کے احکام کی بجا آوری کیلئے ہر قسم کی تکالیف برداشت کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ ان کے متعلق بھی اپنی غیرت کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے‘ اے غریبو ! کمزورو اور مفلسو ! تم نے چونکہ میری خاطر ماریں کھائی تھیں۔ اور میری خاطر صعوبتیں برداشت کی تھیں۔ اس لئے اب میں بھی تمہیں دنیا پر غلبہ دوں گا اور تمہیں ان انعامات سے حصہ دوں گا جو تمہارے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آ سکتے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اپنے اندر ایمان اور اخلاص پیدا کیا جائے۔جب کسی جماعت کے قلوب میں حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو دنیا کی کوئی مخالفت ان کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔ وہ بے شک دنیوی لحاظ سے کمز ور ہوتے ہیں مگر انہیں آسمان سے ایک بہت بڑی طاقت عطا کی جاتی ہے اور اﷲ تعالیٰ انہیں ان کے روحانی مقاصد میں کامیاب کر دیتا ہے۔ ہماری جماعت کے افراد کو بھی یہ عہد کر لینا چاہیئے کہ خواہ ہم پر کتنی بڑی مشکلات آئیں اور خواہ ہمیں مالی اور جانی لحاظ سے کتنی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں۔ پھر بھی جو کام ہمارے آسمانی آقا نے ہمارے سپرد کیا ہے۔ ہم اس کی بجا آوری میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کریں گے اور خدائی امانت میں کوئی خیانت نہیں کریں گے۔ ہمارے سپرد اﷲ تعالیٰ نے یہ کام کیا ہے کہ ہم اس کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کریں اور یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس سے عاجزانہ طور پر عرض کریں کہ اے ہمارے آقا دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ موجود تھے‘ بڑے بڑے سیاستدان موجود تھے‘ بڑے بڑے مدبرّ موجود تھے‘ بڑے بڑے نواب اور رؤسا موجود تھے‘ بڑے بڑے فلاسفر اور بڑے بڑے حکماء اور علماء موجود تھے۔ مگر تو نے ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم غریبوں اور بے کسوں کو چنا اور اپنی بیش بہا امانت ہمارے سپرد کر دی۔ اے ہمارے آقا ہم تیرے اس احسان کو کبھی بھلا نہیں سکتے اور تیری اس امانت میں کبھی خیانت نہیں کر سکتے ہم تیری بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے شہروں اور ویرانوں میں پھریں گے۔ ہم تیرے نام کو بلند کرنے کیلئے دنیا کے کونے کونے میں جائیں گے۔ اور ہر دکھ اور مصیبت کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر کھڑے ہو جائیں گے اگر ہم یہ عزم کر لیں اور دین کیلئے متواتر قربانیاں کرتے چلے جائیں تو یقینا اﷲ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ اور اسلام اور احمدیت کو دنیا میں غالب کر دے گا۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ ہم سخت کمزور اور ناطاقت ہیں۔ مگر ہمارے خدا میں بہت بڑی طاقت ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب اس کے بندے اس کی راہ میں خوشی سے موت قبول کر لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ انہیں دائمی حیات عطا کر دیتا ہے۔ اور لوگوں کے قلوب ان کی قربانیوں کو دیکھ کر صاف ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ گویا ان کا خون جماعت کی روئیدگی کیلئے کھاد کا کام دیتا ہے۔ جس سے وہ بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔ پس ہماری جماعت کے ہر بچے‘ ہرنوجوان‘ ہر عورت اور ہر مرد کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کے ہمارے سُپرد اﷲ تعالیٰ نے اپنی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کا جو اہم کام کیا ہے اس سے بڑھ کر دنیا کی اور کوئی امانت نہیں ہو سکتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ اپنے گھروں کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔ بعض لوگ بھیڑوں بکریوں کے گلے کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔ بعض لوگ گورنمنٹ کے خزانہ کا پہرہ دیتے ہوئے مارے جاتے ہیں اور بعض لوگ فوجوں میں بھرتی ہو کر اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں لیکن جو چیز اﷲ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کی ہے اس کے مقابلہ میںدنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں ۔۔۔ بلکہ ان کو اس سے اتنی بھی نسبت نہیں جتنی ایک معمولی کنکر کو ہیرے سے ہو سکتی ہے۔ پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں سرگرمی سے حصہ لو اور اس غرض کیلئے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو خدمت دین کیلئے وقف کروتاکہ ایک کے بعد دوسری نسل اور دوسری کے بعد تیسری نسل اس بوجھ کو اُٹھاتی چلی جائے اور قیامت تک اسلام کا جھنڈا دُنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہراتا رہے ۔ اس عظیم الشان مقصد کی سرانجام دہی کیلئے میں نے بیرونی ممالک کیلئے تحریک جدید اور اندرون ملک کیلئے صدر انجمن احمدیہ اور وقف جدید کے ادارے قائم کئے ہوئے ہیں۔ دوستوں کو ان اداروں کے ساتھ پورا پورا تعاون کرنا چاہیئے اور نوجوانوں کو سلسلہ کی خدمت کیلئے آگے آنے کی تحریک کرنی چاہیئے۔ ہم دیکھتے ہیںکہ دنیا میں سادھو اور بھکاری تک بھی اپنے ساتھی تلاش کر لیتے ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر تم اس عظیم الشان کام کیلئے دوسروںکو تحریک کرو تو تمہارا کوئی اثر نہ ہو۔ اس وقت اسلام کی کشتی بھنور میں ہے اور اس کو سلامتی کے ساتھ کنارے تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔ اگر ہم اس کی اہمیت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں تو ہزاروں نوجوان خدمت دین کیلئے آگے آ سکتے ہیں۔ ہمیں اس وقت ہر قسم کے واقفین کی ضرورت ہے۔ ہمیں گریجوایٹوں کی بھی ضرورت ہے اور کم تعلیم والوں کی بھی ضرروت ہے تاکہ ہم ہر طبقہ تک اسلام کی آواز پہنچا سکیں اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھ لو گے۔ تو یقینا اس کشتی کو سلامتی کے ساتھ نکال کر لے جاؤ گے اور اﷲ تعالیٰ تمہیں ابدی حیات عطا فرمائے گا۔ تمہارے بعد بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوں گے‘ بڑے بڑے علماء پیدا ہونگے‘ بڑے بڑے صوفیاء پیدا ہونگے‘ بڑے بڑے بادشاہ آئیں گے۔ مگر یاد رکھو اﷲ تعالیٰ نے جو شرف تمہیں عطا فرمایا ہے بعد میں آنیوالوں کو وہ میّسر نہیں آ سکتا جیسے عالم اسلام میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں مگر جو مرتبہ رسول کریم ﷺ کے ایک چھوٹے سے چھوٹے صحابیؓ کو بھی ملا۔ وہ ان بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوا۔ ان بادشاہوں اور نوجوانوں کو بیشک دنیوی دولت ملی مگر اصل چیز تو صحابہؓ ہی کے حصہ میں آئی۔ باقی لوگوں کو صرف چھلکا ہی ملا۔ یہ تقسیم بالکل ویسی ہی تھی جیسے غزوہ حنین کے بعد رسول کریم ﷺ نے مکّہ والوں میں اموال غنیمت تقسیم کئے تو ایک انصاری نوجوان نے بیوقوفی سے یہ فقرہ کہہ دیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مکہ والوں کو دیدیا گیا ہے۔ رسول کریم ﷺ کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ ؐ نے تمام انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے ایک نوجوان نے یہ کہا ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال غنیمت محمد رسول اﷲﷺ نے مکہ والوں کو دیدیا ہے۔ انصار نہایت مخلص اور فدائی انسان تھے رسول کریمؐ کی یہ بات سن کر ان کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے کہا۔ یارسول اﷲؐ ہم ایسا نہیں کہتے ہم میں سے ایک بیوقوف نوجوان نے غلطی سے یہ بات کہہ دی ہے۔ رسول کریمؐ نے فرمایا اے انصار ! اگر تم چاہتے تو تم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ محمد رسول اﷲﷺ کو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے فتح و کامرانی بخشی اور اسے عزت کے ساتھ اپنے وطن میں واپس لایا۔ مگر جب جنگ ختم ہو گئی اور مکہ محمد رسول اﷲ ﷺ کے قبضہ میں آگیا تو مکہ والے تو بکریوں اور بھیڑوں کے گلے ہانک کر اپنے گھروں میں لے گئے اور انصار خدا کے رسولؐ کو اپنے گھر میں لے آئے۔ اس طرح بیشک صحابہؓ کے بعد آنیوالوں کو بڑی بڑی دولتیں ملیں۔ حکومتوں پر انہیں قبضہ ملا۔ مگر جو روحانی دولت صحابہ ؓ کے حصہ میں آئی وہ بعد میں آنیوالوں کو نہیں ملی۔ پس خدمت دین کے اس اہم موقعہ کو جو تمہیں صدیوں کے بعد نصیب ہوا ہے ضائع مت کرو اور اپنے گھروں کو خدا تعالیٰ کی برکتوں سے بھر لو۔ میں نے اپنی خلافت کے ابتدائی ایام میں جب کام شروع کیا تھا تو میرے ساتھ صرف چند ہی نوجوان رہ گئے تھے اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو قابل اور ہوشیار سمجھتے تھے سب لاہور چلے گئے تھے اور ہمارے متعلق خیال کرتے تھے کہ یہ کم علم اور ناتجربہ کا ر لوگ ہیں۔ مگر اﷲ تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ وہی لوگ جن کو وہ ناتجربہ کار سمجھتے تھے اﷲ تعالیٰ نے انہی سے ایسا کام لیا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔ اس وقت میری عمر چھبیس سال تھی‘ میاں بشیر احمد صاحب کی عمر اکیس ساڑھے اکیس سال تھی۔ اسی طرح ہمارے سارے آدمی بیس اور تیس سال کے درمیان تھے مگر ہم سب نے کوشش کی اور محنت سے کا م کیا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے جماعت کے کام کو سنبھال لیا۔ اسی طرح اب بھی نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کا تہیہ کر لیں اور دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں اگر کسی نے صرف بی۔ اے یا ایم۔ اے کر لیا اور دینی تعلیم سے کورا رہا۔ تو ہمیں اس کی دنیوی تعلیم کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔
    غیر مبائعین کے الگ ہونے کے بعد میرے ساتھ جتنے نوجوان رہ گئے تھے وہ کالجوں میں بھی پڑھتے تھے مگر وقت نکال کردینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔ چنانچہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور صوفی غلام محمد صاحب اپنے پرائیویٹ اوقات میں دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہو اکہ انہوں نے ایم۔ اے اور بی۔ اے بھی کر لیا اور دینی تعلیم بھی مکمل کر لی۔ میں سمجھتا ہوں اگر اب بھی ہم پوری طرح اس طرف توجہ دیں تو چند سال کے بعد ہی ہمیں ایسے مخلص نوجوان ملنے شروع ہو جائینگے جو انجمن اور تحریک کے کاموں کو سنبھال سکیں گے۔ پس سلسلہ کی ضروریات اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنے حوصلوں کو بلند کرو اگر انسان کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے ہی اپنے حوصلہ کو گرا دے اور سمجھے کہ میںکچھ نہیں کر سکتا تو یہ اسکی غلطی ہوتی ہے۔ بیشک ایک انسان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ دنیا کو ہلا سکے لیکن وہ ہلانے کا ارادہ تو کر سکتا ہے۔ اگر تم اپنے حوصلوں کو بلند کرو گے اور سستی اور غفلت کو چھوڑ کر اپنے اندر چستی پیدا کرو گے تو تھوڑے عرصہ میں ہی تم میں سے کئی نوجوان ایسے نکلیں گے جو پہلوں کی جگہ لے سکیں گے۔ میں نے تحریک جدید میں نوجوانوں کو لگا کر دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں بلکہ شروع میں مَیں جن کے متعلق سمجھتا تھا کہ ممکن ہے وہ اس کام کے اہل ثابت نہ ہو سکیں انہوں نے بھی جب محنت کی تو اپنے کام کو سنبھال لیا اور اب وہ خوب کام کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر عزم تھا اور انہوںنے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہر ممکن کوشش کے ساتھ دین کی خدمت کریں گے۔ آئندہ بھی ہماری جماعت کے نوجوانوں کو اپنی زندگیاں وقف کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے‘ کیونکہ ہمیں اب سلسلہ کی ضروریات کیلئے بہت سے نئے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ اور یہ ضرورت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وقت ہمیں ایسے نوجوان درکار ہیں جن کو ہم انگلستان‘ امریکہ اور دوسرے یورپین ممالک میں بھیج سکیں اسطرح افریقہ وغیرہ کے لئے ہمیں سینکڑوں آدمیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ان کی جگہ نئے آدمی بھیجنے اور انہیں واپس بلانے کیلئے ہمیں اور آدمیوں کی ضرورت ہو گی اور یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا جائیگا۔ پس نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ خدمت دین کیلئے آگے آئیں اور اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں بھی وقف کی تحریک کو مضبوط کریں۔ ہمارے کاموں نے بہر حال بڑھنا ہے لیکن انہیں تکمیل تک اسی صورت میں پہنچایا جا سکتا ہے جب زیادہ سے زیادہ نوجوان خدمت دین کیلئے آگےآئیں۔
    ان نصائح کے ساتھ میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ہمارے کاموں میں برکت ڈالے اور وہ بوجھ جسے ہمارے کمزور اور ناتواں کندھے نہیں اُٹھا سکتے اسے خود اُٹھا لے اور ہمیں اپنی موت تک اسلام اور احمدیت کی خدمت کی تو فیق عطا کرتا چلا جائے۔ ہم کمزور اور بے بس ہیں لیکن ہمارا خدا بڑا طاقتور ہے۔ اس کے صرف کُن کہنے کی دیر ہوتی ہے کہ زمین و آسمان میں تغیرات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اس لئے آؤ ہم اﷲ تعالیٰ سے ہی دعا کریں کہ وہ ہم پر اپنا فضل نازل فرمائے۔ ہمیں اپنی رضااور محبت کی راہوں پر چلائے اور ہمارے مردوں اور عورتوں اور بچوں کو اس امر کی توفیق بخشے کہ وہ دین کی خدمت کیلئے زیادہ سے زیادہ قربانیوں سے کام لیں اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہیں۔ اﷲ تعالیٰ انہیں منافقت سے بچائے۔ اُن کے ایمانوں کو مضبوط کرے۔ ان کے دلوں میں اپنا سچا عشق پیدا کرے اور انہیں دین کی بے لوث خدمت کی اس رنگ میں توفیق بخشے جس رنگ میں صحابہ کرامؓ کو ملی۔ اور اﷲ تعالیٰ اُنکی آئندہ نسلوں کو بھی دین کا سچا خادم اور اسلام کا بہادر سپاہی بنائے اور انہیں ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۲۵








    حواشی
    ۱۔
    ترجمہ از گیانی عباد اﷲ صاحب ریسرچ سکالر سکھ مذہب الفضل ۲۱؍ستمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۵
    ۲۔
    الفضل ۲۳؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱۔۴
    ۳۔
    الفضل ۱۹؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۴۔
    الفضل ۲۳‘۲۵؍اکتوبر ۱۹۶۰ء
    ۵۔
    رسالہ مصباح ربوہ دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۲۔۳
    ۶۔
    ’’تاریخ انصار اﷲ‘‘ صفحہ ۱۳۸ از پروفیسر حبیب اﷲ خاں صاحب قائد تعلیم مجلس انصار اﷲ مرکزیہ ۱۹۷۸ء
    ۷۔
    رسالہ ’’انصار اﷲ‘‘نومبر ۱۹۶۰ء سرورق صفحہ۴
    ۸۔
    بدر ۹؍فروری ۱۹۶۱ء صفحہ ۱
    ۹۔
    ماہنامہ ’’انصار اﷲ ‘‘ نومبر ۱۹۶۲ء
    ۱۰۔
    ماہنامہ الفرقان ربوہ نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴۔۷
    ۱۱۔
    الفضل یکم نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۱۲۔
    رسالہ’’ انصار اﷲ‘‘ ربوہ دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴ـ۔۸
    ۱۳۔
    الفضل ۱۰؍نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۱۴۔
    الفضل ۳۰؍نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۱۵۔
    الفضل ۱۲؍نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۱۶۔
    الفضل ۲۴؍نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴۔ الفضل ۴؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۱۷۔
    بحوالہ الفضل ۲۳؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۳
    ۱۸۔
    بدر قادیان ۲۹؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۳۔۴
    ۱۹۔
    الفضل ۱۹‘۲۱؍جنوری ۱۹۶۱ء
    ۲۰۔
    موضوع ’’ قرآن مجید بمقابلہ دیگرالہامی کتب‘‘
    ۲۱۔
    موضوع ’’ اجتہاد کی ضرورت‘‘
    ۲۲۔
    الفضل ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۔۴
    ۲۳۔
    الفضل ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۲۴۔
    الفضل ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۔۴
    ۲۵۔
    الفضل ۷؍جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ۳۔۵



    نواں باب

    ۱۹۶۰ء میں وفات پانے والے بعض جلیل القدر
    اصحابِ مسیح موعودؑ اور دیگر مخلصین جماعت

    فصل اوّل
    حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے
    بانی احمدیہ مشن انگلستان
    (ولادت ۱۸۸۷ء بیعت ۱۸۹۹ء وفات ۲۸؍فروری ۱۹۶۰ء)
    حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سلسلہ احمدیہ کے ان ممتاز اور ناموربزرگوں کی صفِ اوّل میں شامل تھے جنہیںاﷲ تعالیٰ نے قریباً نصف صدی تک ایسی شاندار اور نمایاں دینی خدمات کی توفیق بخشی کہ آنے والی نسلیں قیامت تک آپ پر فخر کرتی چلی جائیں گی۔
    حضرت چوہدر ی صاحب۱۸۸۷ء میں اپنے آبائی وطن جوڑا کلاں تحصیل قصور میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی یہیں پائی۔ آپ کے والد حضرت چوہدر ی نظام الدین صاحب نے ۱۸۹۷ء میں بیعت کا شرف حاصل کیا۔ آپ کا بیان ہے
    ’’ والد صاحب کی بیعت کے بعد علاقہ اور گاؤں میں بہت شور اٹھا۔اس گاؤں میںمیرا ایک کلاس فیلو بھی تھا ہم دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم اﷲ تعالیٰ سے دعا کریں کہ جو حق ہے وہ ہم پر واضح کر دے۔ چنانچہ ہم دعا کرتے رہے میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک عظیم الشان پہاڑ ہے جیساکہ ہمالیہ کے پہاڑ ہیں اس میں سے کھود کر ایک تخت بنایا گیا ہے اور اس کے سامنے ایک بہت بڑا چشمہ نہایت ہی شفاف پانی کا بہہ رہا ہے جو اتنی تیزی سے بہہ رہا ہے کہ تیزی کی وجہ سے اس میں لہر اور تموّج پیدا کرتا ہے اور حضورؑ اس تخت پر چوکڑی مار کر بیٹھے ہیں۔۔۔ حضور نہایت ہی رقت سے اور وجد کی حالت میں فارسی کے کچھ اشعار پڑھ رہے ہیں جن میں یہ شعر بھی ہے۔
    ؎
    ایں چشمۂ رواں کہ بخلق خدا دہم


    یک قطرہ زبحر کمال محمدؐ است

    …اس وقت میرے دل میں گویا یہ احساس ہے کہ حضورؑ اﷲ تعالیٰ اور رسول کریم کے عشق میں یہ شعر پڑھ رہے ہیں اور آپ سچے ہیں۔ چہرہ نہایت نورانی ہے پھر ایسا ہوا کہ میں نے جون ۱۸۹۹ء میں قادیان جا کر بیعت کی۔ میرے والد صاحبنے مجھے بھیجا تھا اس موقعہ پر حضرت مرزا مبارک احمد صاحب کا عقیقہ بھی تھا۔ قادیان میں مَیں کئی دن رہا اور حضور کے ساتھ کھانا کھایا اور مجھے ایسا موقعہ مل گیا کہ گول کمرہ میں حضور مہمانوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے۔ ایک دن میں ایسی جگہ بیٹھا کہ میرے اور حضور کے درمیان کوئی اور شخص نہیں تھامستقل طور پر میں ۱۹۰۰ء کے دسمبر میں قادیان چلا گیا تھا اور وہاں سکول میں داخل ہو گیا تھا۔‘‘ ۱
    آپ اُن دنوں پانچویں جماعت میں تھے۔ آپ نے میٹرک تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے کیا بعدازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پھر علیگڑھ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ۲ ابھی آپ ایف اے میں تھے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود ؑنے ستمبر ۱۹۰۷ء میں وقفِ زندگی کی تحریک فرمائی۔ ۳ اس تحریک پر جن خوش نصیب جوانوں کو لبیک کہنے کی توفیق ملی ان میں آپ بھی شامل تھے۔ جب آپ کی درخواست حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوئی تو حضور نے آپ کا وقف قبول فرما لیا۔ ۴ اور آپ ایم اے پاس کرنے کے بعد قادیان میں مستقل طور پر ہجرت کر کے آ گئے۔
    وسط ۱۹۱۳ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے آپ کو خواجہ کمال الدین صاحب کی امداد کیلئے ووکنگ (انگلستان) بھجوایا آپ ۲۵؍جولائی ۱۹۱۳ء کو لنڈن پہنچے اور خواجہ صاحب کے ساتھ تبلیغی جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ جناب خواجہ صاحب غیراحمدیوں کے چندہ اور امداد کے طلبگار تھے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود کے ذکر کو ’’سّم قاتل‘‘ قرار دے رکھا تھا یہ نظریہ آپ کی طرزِ تبلیغ میں سب سے بڑی روک بننے لگا کہ اسی دوران سیدنا حضرت خلیفہ اوّل مولانا نورالدینؒ کا وصال ہو گیا اور آپ جماعت مبائعین میں شامل ہو گئے اور اس سلسلہ میں ووکنگ سے ۲۷؍مارچ ۱۹۱۴ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃالمسیح الثانی کی خدمت میں حسب ذیل مکتوب لکھا
    ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی (علیٰ رسولہ الکریم)
    جناب حضرت میانصاحب السلام علیکم و رحمتہ اﷲ و برکاتہ‘
    مولوی شیر علی صاحب کی ایک تار میرے نام آئی تھی۔ کہ جناب کو جماعت احمدیہ نے خلیفۃ المسیح تجویز کیا ہے۔اﷲتعالیٰ اس انتخاب کو مبارک کرے اور تمام جماعت کے لئے بھی مبارک کرے۔ میں بھی جناب کو خلیفہ مانتا ہوں۔ اور یہ خط اس لئے لکھتا ہوں کہ اپنی عقیدت دلی کا اظہار کروں۔
    میری اپنی حالت یہ ہے کہ مہینہ کے قریب بالکل آرام رہا۔ ایک ہفتہ سے نیوریلجیہ سے تکلیف ہے۔ اور اس سے آنکھوں کو بھی تکلیف ہو گئی ہے۔ تاہم میرا اپنا یہی خیال ہے کہ عارضی بات ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ کا فضل ہو جائیگا۔ لیکن حضور کی طرف سے میرے خطوط کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اس لئے حیران ہوں ۔ مجھے افسوس ہے کہ جناب کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی۔ آئندہ میں جناب کے لئے ۔تکلیف کاباعث نہیں ہونا چاہتا۔جہاںتک روپے کا معاملہ یا خرچ کا سوال ہے۔ میں خواجہ صاحب سے کسی قسم کا تعلق رکھنا پسند نہیں کرتا ہوں۔ اور نہ ہی میں ان کی نوکری کرنا چاہتا ہوں۔ اس لئے میرا اپنا خیال یہی ہے کہ اپریل یا مئی میں یہاں سے واپس آ جاؤں ۔ غالب امید ہے کہ خواجہ صاحب واپسی کے لئے روپیہ بطور قرضہ دیدینگے۔ اس لئے جناب تکلیف نہ فرمائیں۔
    پادری وائینویخٹ نے یہاں ووکنگ میں پہنچ کر ہمارے برخلاف لیکچر دئے تھے۔ اس کے لیکچروں کے جواب میں میں نے دو خط یہاں کے دو لوکل اخبارات میں
    شا ئع کروائے ہیں۔ ان میں ایک اس خط کے ساتھ بند کرتا ہوں۔ دعا کی سخت ضرورت ہے خاص کر آنکھوں کی صحت کے لئے ۔ والسلام
    راقم خاکسار فتح محمد
    از ووکنگ مورخہ ۲۷؍مارچ ۱۹۱۴ء
    ازاں بعد تحریر کیا کہ
    ’’ حضرت مسیح موعودؑ کے نام کو چھپانے سے مجھے سخت نفرت تھی اور واقعہ میں اس طریق تبلیغ میں مشکلات ہیں ۔ خواجہ صاحب بھی مخالفت کریں گے اور دوسرے مسلمان عام طور پر مخالفت کریں گے لیکن اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے میں کام شروع کرنا چاہتا ہوں کامیابی اور ناکامی اﷲ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔ ۵
    بہرکیف آپ اس بے سروساما نی میں ووکنگ کو چھوڑ کر لنڈن تشریف لے آئے اور ۹۔ہیریڈل روڈ پاپلر واک ۶ کے اندر کرایہ کے ایک مکان میں جماعت احمدیہ کے انگلستان مشن کی بنیاد رکھی۔ اس وقت جماعت احمدیہ لنڈن آپ کے علاوہ صرف چار ممبروں پر مشتمل تھی ۱۔ چوہدری محمد ظفر اﷲ خاں صاحب۔ ۲۔ چوہدری عبداﷲ خاںصاحب۔ ۳۔ عبدالعزیز صاحب سیالکوٹی۔ ۴۔ لیلیٰ زینب ایک نومسلمہ لیڈی۔ ۷
    ان دنوں جماعت کے انگریزی لٹریچر کی سخت قلّت تھی۔ آپ کے پاس دی ٹیچنگز آف اسلام ۸ (اسلامی اصول کی فلاسفی) اور دی میسیج آف پیس۹ (پیغام صلح) کی صرف چند کاپیاں تھیں جو آپ نے مختلف انگریزوں کو پڑھنے کے لئے دیں۔ بعد ازاں قادیان سے رسالہ ’’ ریویو آف ریلیجنز‘‘انگریزی کی چند کاپیاں بھی آنی شروع ہو گئیں جن سے علمی طبقہ تک آہستہ آہستہ احمدیت کی آواز پہنچنے لگی ۔تبلیغ کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ آپ کے وہ فاضلانہ لیکچر تھے جو آپ نے انگلستان کی مختلف سوسائیٹیوںاور کلبوں میں ان کے ا خراجات پر انہی کے مراکز میں جا کر دئے۔ اس سلسلہ میں آپ نے بڑی محنت سے ۱۴ لیکچر تیار کئے جن میں سے بعض کے عنوانات یہ تھے ۱۔ اسلام ۲۔ سلسلہ احمدیہ اور اسلام ۳۔ الہام۴۔ ایمانی ترقی کے مدارج ۵۔ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی خصوصیات ۶۔ قرآن شریف کی عبارت اور تعلیم پر بحث اور چند آیتوں کی تفسیر ۷۔ مسیح ہندوستان میں۸۔ یہودیوں کی گم شدہ اقوام وغیرہ ۱۰
    یہ سب لیکچر آپ نے طبع کرا کے ملک بھر کی مشہورسوسائیٹیوں کو بھجوا دئے۔ پہلی جنگ عظیم کے باعث ہر طرف ابتری سی پھیلی ہوئی تھی بایں ہمہ ملک کی متعدد سوسائیٹیوں نے غیر معمولی دلچسپی کا ثبوت دیا اور آپ کو اپنے پلیٹ فارم پر تبلیغ کے بہترین مواقع فراہم کئے۔ آپ کا سب سے پہلا کامیاب لیکچر الہام پر فوکسٹن میں ہوا جسے خدا نے بہت قبولیت بخشی ۱۱ جس کے بعد آپ نے فلہم لائبریری ‘تھیوسافی ہال ایسٹ پیریڈ‘تھیو سافیکل سو سائیٹی کے مرکز اور ساؤتھ سی اور برمنگھم میں لیکچر دئے اور ان کی خبریں اخبار
    دی ہیر وگیٹ(THE HERO GATE)اوردی ایوننگ نیوز (THE EVENING NEWS)میں شائع ہوئیں ۱۲اسی دوران حضرت قاضی محمد عبد اﷲ صاحب ۵؍اکتوبر ۱۹۱۵ء ۱۳ کو دوسرے مشنری کی حیثیت سے لنڈن تشریف لے آئے اور آپ کا ہاتھ بٹانے لگے۔ آپ نے مقررہ لیکچر بھی دیئے اور حضرت قاضی صاحب کی معیت میں سکاٹ لینڈ کا کامیاب دورہ بھی کیا۔ ۱۴ آپ کی تبلیغی کوششوں کا پہلا پھل مسٹر کوریو (MR.CORIO)ایک جرنلسٹ تھے جو اسلام لائے اور جن کا اسلامی نام بشیر کوریو رکھا گیا۔ ان کے بعد قریباً ایک درجن انگریز مسلمان ہوئے۔ ۱۵ حضرت چوہدری صاحب کم و بیش ڈھائی سال تک تبلیغی فرائض انجام دینے کے بعد ۲۹؍مارچ ۱۹۱۶ء کو قادیان واپس تشریف لائے۔
    آپ نے انگلستان مشن کے قیام اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ
    ’’ جب میں نے یہاں سے روانہ ہونے کاقصد کیا تو میری راہ میں بہت سی مشکلات ڈالی گئیں ۔ مگر اﷲ تعالیٰ نے میری مدد فرمائی اور میں اپنی دلی خواہش کو پورا کر سکا ۔ سب سے بڑی روک جو بیان کی جاتی تھی وہ یہ تھی کہ ایک نوجوان کیلئے انگلستان میں جانا بہت سے ابتلاؤں کا موجب ہو سکتا ہے اسکے لئے بمبئی پہنچ کر میرے دل میں ڈالا گیا کہ سورۂ یوسف کا وظیفہ کروں۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ میں بارہ بارہ بار ایک دن میں یہ سورۃ تلاوت کرتا اس سے مجھے بہت ہی فائدہ ہوا۔ اس پر تدبر کرنے کا خوب موقعہ ملا اور وظیفہ کی غرض بھی یہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ یوسف علیہ اسلام کے قویٰ مجھ سے زیادہ مضبوط تھے وہ شادی شدہ بھی نہ تھے۔ ایک شہزادی اُنکو اپنی طرف بلاتی ہے۔ وہ اُنکی مالکہ ہے ۔محسنہ ہے۔ انکو سزا بھی دلا سکتی ہے۔ مجبوراً اس کے پاس بھی ہر وقت رہنا پڑتا ہے پھر باوجود اسکے یوسف علیہ السلام ہر طرح محفوظ رہے تو میں جو کہ شادی شدہ اور دو بیویاں رکھتا ہوں۔ اور ان مشکلات میں بھی نہیں ۔ جو حضرت یوسف ؑ کو تھیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ میں محفوظ نہ رہوں۔ یہ بات میخ آھنی کی طرح میرے دل میں گڑ گئی۔ اور میں خدا کے فضل سے بڑی جرأت کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ مجھے جن باتوں سے ڈرایا جاتا تھا۔ ایک بھی مجھے پیش نہ آئی اور کبھی خیال تک بھی نہیں آیا۔ نہ صرف خود گناہ سے بچا ۔ بلکہ میں نے کئی روحوں کو احمدیت کی رہنمائی کی۔ وہاں پہلے پہلے مجھے خواجہ کمال الدین صاحب کے ساتھ کام کرنا پڑا...میں اپنی ذات کے متعلق ہر ایک تکلیف برداشت کر سکتا تھا مگر ایک اصولی اختلاف جو طرز تبلیغ میں پیش آ رہا تھااس کا میرے پاس کوئی علاج نہ تھا وہ حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر ضرورت کے وقت کرنا بھی غیر احمدیوں کیطرف سے حصول چندہ میں مانع سمجھتے تھے اور یہ خوف بھی تھا کہ اس پر ہنسی ہو گی اور میں اس کو بہت ضروری سمجھتا تھا۔ دوسری مجھے یہ شکایت تھی کہکسی سے اختلاف ہے تو ہو۔ اس کی تردید بھی ہو اس سے علیحدگی بھی ہوتی ہے تو ہو۔ مگر کم از کم میرے سامنے اسے گالیاں تو نہ دی جائیں۔آخری بات بھی ایک حد تک قابل برداشت ہو سکتی تھی مگر پہلی بات بہت مشکلات میں ڈالنے والی تھی۔ کیونکہ اس قدر بھی منظور نہیں کیاجاتا تھا کہ میں ووکنگ سے باہر اپنے طور پر اپنے ذاتی رسوخ و کوشش سے کام لیکر اگر کہیں لیکچردوں تو اس میں مسیح موعودؑ کا ذکر کردوں پھر اس کے ساتھ ہی خلافت کا جھگڑا بھی پیش آ گیا میں کہتا تھا کہ قیام خلافت سے مطلقاً انکار احمدی جماعت کی ترقی میں سخت حارج ہے۔ کیونکہ بغیر ایک شخص کی ماتحتی کے نظام وحدت قائم نہیں رہ سکتا۔ اور جب تک کوئی قوم نظام کے نیچے کام نہیں کرتی۔ وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی ...آخر میں الگ ہوا اور میری مضطرانہ دعاؤں کے جواب میں ایک صبح اﷲ نے کشف کی حالت کہویا الہام سے ممتاز کیا اور میں نے عالمِ بیداری میں یہ آواز زور سے سُنی کہ میاں محمود کی بیعت پشاور سے لیکر بہار تک کے لوگ کر لیں گے اور پھر آواز آئی۔ اﷲ اَکبر۔اﷲ اَکبرمیں اس کے معنی نہیں سمجھا مگر اس کے بعد میں نے دیکھا کہ غیر معمولی طور پر مجھ پر علوم کا انکشاف ہوا اور لیکچر دینے کے لئے میرا سینہ کھول دیا گیا ورنہ میرے لئے یہ بات بہت ہی مشکل بات تھی۔ چار ماہ تو مجھے خط و کتابت اور رسوخ پیدا کرنے میں لگ گئے۔ باقی ایک سال مجھے کام کرنے کا موقعہ ملا اور وہاں کے لوگ کام کرنے میں ایسا انہماک رکھتے ہیں کہ ایتوار ہی کو کوئی لیکچر ہو سکتا ہے۔ اس طرحپر ۴۸ لیکچر ہو سکتے ہیں مگر میرے ۵۴ لیکچرہوئے کیونکہ بعض سوسائیٹیوں نے مجھے لکھا کہ آپ ایک لیکچر ہفتہ کی شام کو دیں اور ایک اتوار کو۔ ایک لیکچر قابل ذکر ہے جو مسئلہ الہام و وحی پر تھا جسے سنکر ایک دہریہ نے پہلے مجھ پر کچھ ٹھٹھا کیا۔ مگر تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا اور وہ کہنے لگا کہ آپ کے دلائل نہایت معقول اور زبردست ہیں۔ میں خدا کو نہیں مانتا تھا۔ اب مانتا ہوں۔ پھر اس کی استدعا پر میں نے اسے حضرت مسیح موعود ؑ کی ایک پیشگوئی بتائی۔ جو ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ جب جنگ شروع ہوئی اور اخبارات میں بعینہٖ وہی فقرات چھپنے لگے جو میں نے حضرت اقدس ؑکی نظم اور عبارت سے بتائے تھے تو وہ احمدؑ پر ایمان لایا۔ اور اب مخلص احمدی ہے اور پرجوش مبلغ ۔
    پھر ایک اور لیکچر قابل ذکر ہے جس کے خاتمہ پر بوڑھا پریذیڈنٹ جو عیسائی تھا بول اُٹھا کہ اگر اسلام یہ ہے جو تم نے بیان کیا تو وہ عیسائیت سے بہت ہی اعلیٰ ہے ۔ پھر ایک یہودی تھا جس کو میں نے ٹیچنگز آف اسلام دی اس کے پڑھنے پر وہ احمدی ہو گیا۔ بعض لوگ ایسے بھی احمدی ہوئے۔ جو خدا تعالیٰ کی ہدایت سے میرے پاس پہنچے۔ ایک شخص میرے پاس
    آیااور اس نے کہا مجھے دوبار رویاء میں کہا گیا ہے کہ ایک ہندوستانی یہاں لیکچر دے گا۔ جو مذہب وہ بتائے وہی حق ہے اُسے قبول کرنا۔ چنانچہ یہ شخص بھی احمدی ہو گیا۔ ایک خاتون نے اپنا رویا ء سنایا کہ میں ایک مشرقی ملک میں گئی ہوں اور ایک دربار ہے جس کے تین حلقے ہیں اور میں تیسرے حلقے میں بیٹھی ہوں میںنے اُسے کہا کہ مسیح موعود خلیفہ اول کے بعد اب خلیفہ ثانی ہیں ان کی بیعت میں داخل ہو گی۔ یہ خاتون بھی احمدی ہے اور حضرت اقدس ؑسے اس کی محبت کا یہ حال ہے کہ تقریباً ہر وقت یہی ذکر کرتی رہتی ہے۔ ان احمدیوں میں سے جو خدا کے فضل سے میرے تعلق کے سبب ہوئے۔ تین ایسے مرد ہیں جو رائٹر ہیں۔ جن کا پیشہ ہی یہی ہے کہ بذریعہ تحریر و تصنیف وجہ معاشپیدا کرنا وہ سلسلہ احمدیہ کے لئے بہت مفید کام دے سکتے ہیں اور عمر میں بھی جوان نہیں بلکہ پختہ کار ہیں‘‘۔ ۱۶
    حضرت چوہدری صاحب دوبارہ اعلائے کلمۃ اﷲ کے لئے ۱۵؍جولائی ۱۹۱۹ء کو انگلستان کے لئے روانہ ہوئے۔ ۱۷ اور دو برس تک قیام فرما رہے۔ اس عرصہ میں آپ نے نجی ملاقاتوں ‘ خط و کتابت‘ لیکچر‘ تقسیم لٹریچر اور دیگر ممکن ذرائع سے اسلام و احمدیت کے نور کو پھیلانے کی بھر پور کوششیں کیں۔ ملک کے بعض رسائل مثلاً’’ برٹش امپائر یونین‘‘ ۱۸
    میں مضامین لکھے۔مشہور صحافیوں سے رابطہ قائم کیا۔ ہائیڈ پارک میں سوال و جواب کا سلسلہ برابر جاری رکھا ۱۹ نیزسپریچولسٹ سوسا ئیٹی کے زیر اہتمام کامیاب لیکچر دئے۔ ۲۰ دوران قیام آپ نے فرانس کا ایک تبلیغی سفر بھی کیا اور فرانس میں مقیم مسلمانوں تک پیغام احمدیت پہنچایا اور تبلیغی لٹریچر دیا۔ آپ کے ہمراہ ایک انگریز نو مسلم ڈاکٹر عباد اﷲ برنیڈن(پی۔ایچ۔ڈی۔ بی۔ ڈی) بھی تھے جنہوں نے فرانسیسی ترجمان کے فرائص انجام دئے۔ ۲۱
    جنوری ۱۹۲۰ء میں حضرت مصلح موعود ؒنے لنڈن میں خانہ خدا کی تعمیر کے لئے تحریک فرمائی جس پر جماعت نے پُرجوش رنگ میں لبیک کہا اور چوہدری صاحب نے حضور کی زیر ہدایت اگست ۱۹۲۰ء میں لنڈن کے محلہ پٹنی ساؤتھ فیلڈ ۲۲ میں ایک قطعہ زمین مع ایک مکان کے ۲۲۲۳پونڈ میں ۲۳ خریدا جو قریباً ایک ایکڑ پر مشتمل تھا۔ اس عمارت کی مرمت اور
    فر نیچر وغیرہ پر قریباً ایک ہزار پونڈ صرف ہوا۔ ۲۹؍دسمبر ۱۹۲۰ء کو آپ رہائشی مکان واقع سٹار سٹریٹ نمبر ۴ سے اس عمارت میں منتقل ہو گئے۔ ۲۴ ۶؍فروری ۱۹۲۱ء کو اس نئے دارالتبلیغ کا شاندار افتتاح عمل میں آیا۔ اس موقع پر ہندوستانی ‘ ایرانی ‘ نائیجیرین اور یورپین مسلمانوں کے علاوہ مشہور اخباروں کے نمائندے اور بعض سوسائیٹیوں کے سیکرٹری بھی موجود تھے اسی طرح ’’ پریچنگ آف اسلام‘‘ کے مصنف سرٹی ڈبلیو آرنلڈ بھی ۔چوہدری صاحب کی کوشش سے دارالبتلیغ لنڈن کے تار کا پتہ "ISLAM ABAD LONDON"الفاظ میں رجسٹرڈ ہوا۔ ۲۵ الغرض بہت سی دینی خدمات بجا لانے کے بعد آپ واپس ہندوستان کے لئے روانہ ہوئے اور حج بیت اﷲ سے مشرف ہونے اور شریف مکہ سے ملاقات کے بعد ۱۶؍ستمبر ۱۹۲۱ء کو قادیان پہنچے جہاں ایک جمِ غفیر نے آپ کا استقبال کیا۔ ۲۶
    ۱۹۲۲ء میں ’’مجلس شوری‘‘ کا آغاز ہوا۔ اس پہلی تاریخی مجلس شوریٰ میںآپ ناظر اشاعت و تربیت کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ ۲۷
    ۱۹۲۳ء میں ملکانہ قوم میں آریوں کی طرف سے شدھی کی تحریک زور شور سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ حضرت مصلح موعود نے مسلمانوں کو ارتداد کے اس طوفان سے بچانے کے لئے تبلیغی جہاد کا اعلان کیا اور آپ کو ’’ امیرالمجاہدین‘‘ مقرر فرمایا۔ مخلصین جماعت نے اس فتنہ کے خلاف وسیع پیمانہ پر مورچہ بندی کی نتیجہ یہ ہوا کہ بہت جلد آریوں کا منصوبہ ناکام ہوا اور ہزاروں ملکانے جو اندرونی اور بیرونی دباؤ کی تاب نہ لا کر مرتد ہو گئے تھے دوبارہ داخل اسلام ہو گئے جس پر ہندوستان کے مسلم پریس نے زبردست خراج تحسین ادا کیا اور اخبار زمیندار (لاہور) اخبار وکیل (امرتسر) اخبار ہمدم(لکھنؤ)اخبار مشرق (گورکھپور) اور اخبار نجات (بجنور) نے جماعت احمدیہ کے مجاہدانہ کارناموں پر شاندار نوٹ لکھے۔ یہی وہ معرکہ تھا جس کے دوران آریوں کو پہلی بار جماعت احمدیہ کی تبلیغی قوت و طاقت کا احساس ہوا اور انہیںاعتراف کرنا پڑا کہ ’’ بلا مبالغہ احمدیہ تحریک ایک خوفناک آتش فشاں پہاڑ ہے‘‘۔ ۲۸
    تحریک شدھی کے خلاف چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے بحیثیت امیر المجاہدین کس جذبہ ایمانی اور جوش و خروش کے ساتھ جہاد کیا؟ اس کی تفصیل جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر کپورتھلوی کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے فرماتے ہیں۔
    ’’۱۹۲۳ میں تحریک شدھی زوروں پر تھی ہندوستان بھرکے مسلمانوں میں ایک کھلبلی مچی ہوئی تھی اور ہر طرف سے جماعت احمدیہ کو پکارا جاتا تھا۔ اس پکار میں زمیندار ایسا مخالف سلسلہ اخبار بھی شامل تھا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ نے اس فتنے کے خلاف مہم شروع کی تو چوہدری فتح محمد صاحب مرحوم اس کے جرنیل مقر ر ہوئے۔ کام نہایت مشکل تھا ۔ ہزاروں مسلمان کہلانے والے اسلام سے منحرف ہو کر آریوں کی آغوش میں جا چکے تھے اور لاکھوں جانے والے تھے۔ مجلس مشاورت قادیان میں ہوئی اور ہمارے اولوالعزم امام نے یہاں تک تہیہ کیا کہ میری کل جماعت کی جائیداد تخمیناً دو کروڑ روپیہ کی ہو گی۔ اگر ضرورت پڑی تو یہ سب املاک و اموال خد اکی راہ میں وقف کرنے سے میں اور میری جماعت دریغ نہ کریں گے۔
    شہر آگرہ میں ایک کرایہ کی کوٹھی میں دارالتبلیغ قائم ہوا۔ اس کے ایک حصے میں چوہدری صاحب معہ اھل و عیال مقیم تھے۔ دوسرے حصے میں مبلغین جماعت آ کر ٹھہرتے اور اپنے اپنے مقررہ مقام پر روانہ ہو جاتے۔ سرکاری ملازم ۔ تاجر ۔ٹھیکیدار۔ وکیل۔ عہدیدار۔ علماء ہر طبقے کے احمدی و الہانہ خدمتِ (دین حق)میں مصروف تھے۔
    خاکسار نے دیکھا کہ چوہدری صاحب مرحوم اپنے بچے صالح محمد کو گود میں لئے معمولی سے معمولی ملکانے کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ گھنٹوں گفتگو فرما رہے ہیں۔ یہ دلداری ایسی تھی کہ ملکانے چوہدری صاحب سے ملکر ہی تسلی اور اطمینان پاتے تھے۔ چوہدری صاحب مرحوم کا تعہد حال ہمارے لئے خوشی اور تعجب کا موجب ہوتا تھا۔ تمام علاقے میں ہنگامے برپا تھے۔ ہر طرف رواروی اور ہماہمی تھی۔ اگر آج چوہدری صاحب موضع پرکھم میں ایک مسجد کی بنیادر کھ رہے ہیں تو کل موضع اسہار میں مرتد ملکانوں کی اسلام میں واپسی کی تقریب پرشاداں و فرحاں احباب سمیت جارہے ہیں۔ اور اس طرح شب و روز فرائضِ منصبی میں بشاشت سے منہمک ہیں ۔ اور اس مشکل ترین مہم کے فرائض کا ایک پہاڑ سر پر اُٹھایا ہوا ہے اور امام کے اشارات و ہدایت کے مطابق چلے جا رہے ہیں اور الامام جنۃ یقاتل من ورائہکا منظر ہے۔بعض اور انجمنیں بھی علاقہ ٔ ارتداد میں کام کر رہی تھیں یا کام بگاڑ رہی تھیں اور کبھی کبھی بلاوجہ محض حسد کی راہ سے ہمارے کام میں روک بن جاتی تھیں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ ۲۹ خاکسار کے روبرو پیش آیا ۔ انجمن نمائندگان تبلیغ نے بذریعہ ایک کارکن ہمارے کام میں دراندازی کی۔ چوہدری صاحب مرحوم کو علم ہوا تو بپھرے ہوئے شیر کی مانند اس انجمن کے دفتر میں آئے خاکسار ہمراہ تھا۔ پھر وہاں جو واقعہ پیش آیا سننے اور سمجھنے کے قابل ہے اور میرے روزنامچے میں یہ الفاظِ ذیل درج ہے۔
    ’’اگست ۱۹۲۳ء امیر صاحب کی معیت میں نمائندگان تبلیغ کے دفتر میں گئے۔ قریب سوا آٹھ بجے ( شب) انکے دفتر میں پہنچے۔
    نذیر احمد خاں وکیل جے پوری جو فتنہ ارتداد کے دوران میں معروف ہو چکے ہیں وہاں موجود تھے اور آج ہی مہاسبھا بنارس سے واپس آئے تھے۔ اس کے متعلق اپنے دفتر کے کلرک کو کچھ مضمون وہاں کی کارروائی کے متعلق لکھوارہے تھے۔ بدیں پیرایہ کہ والیان ریاست کی طرف سے ایک ہزار نمائندے شریک تھے۔ پنڈت مالویہ نے پُر زور تحریک شدھی کے حق میں کی۔ کہ خواہ کھان پان نہ ہو لیکن بھنگیوں چماروں تک کو کنوؤں سے پانی بھرنے
    مندروں میں درشن وغیرہ کی اجازت ضرور دی جائے۔ پنڈت لوگوں نے مخالفت بھی کی لیکن مالویہ کے آگے انکی پیش نہ گئی اور بالآخر یہ پاس ہو گیا۔ مارواڑی کروڑ پتی اور دور دراز کے نمائیندے شریک تھے۔ راجہ بھرتپور کی حسنِ کارکردگی کا خصوصاً اعتراف کیا گیا۔
    اسکے بعد وکیل صاحب موصوف نے نوٹ لکھوایا کہ میرا یہ خیال ہے کہ اگر ہندوستان کی کل جماعتیںایک شخص کے ماتحت کام نہ کریں لگی تو۱۹۲۳ء ہی میں دو کروڑ نفوس مرتد ہو جائیں گے اور ہمیں مخاطب کر کے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو اجمل خاں ‘محمد علی ‘شوکت علی‘ کچلو وغیرہ تمام مسلمان لیڈروں کو کہتا کہ لیڈری کو چھوڑو‘ شکاری شکار کھیلتا ہے اور تم لوگ اس کی بندوق و تیر اُٹھائے پھرتے ہو۔ وغیرہ۔
    اتنا عرصہ ہم خاموش بیٹھے رہے اور مضمون کے ختم ہونے پر امیر صاحب نے حرفِ مطلب یوں شروع کیا۔
    ہمیں نمائندگانِ تبلیغ سے سخت شکایت ہے ہم چھ ماہ سے یہاں پڑے ہیں۔ ہماری جماعت کے بہترین آدمی برسرکار ہیں۔ ہم دو ماہ میں شدھی وغیرہ سب کو پورے طور پر رفع دفع کر گئے ہوتے لیکن یہ مولوی لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ ہم جان توڑ کر مسلسل کوشش سے ایک دیہہ کو فتح کرنے والے ہوتے ہیں کہ آپ کا آدمی پہنچتا ہے اور کام خراب کر دیتا ہے۔ ہمیں کافر ٹھہرا کر‘ ملکانوں کو بہلا پھسلا کر۔
    کنور عبدالوہاب صاحب وغیرہ یہاں نہیں رہتے ہم شکایت اُن سے کیسے کریںدین میں اعزازی عہد ے نہیں ہوا کرتے کام کرنا ہوتا ہے ہم اب یہ برداشت نہیں کر سکتے یا تو مولوی کو...دو دن کے اندر اندر نکال دیا جائے ورنہ ہم اس انجمن کے خلاف جو چاہیں گے کریں گے۔ آریہ مسلمانوں سے بڑی قوم ہے۔ انگریز اتنی بڑی قوم ہے ہم نے ان سے مقابلہ ٹھانا ہوا ہے تو پھر یہ مولوی وغیرہ کیا چیز ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ تمام جماعت احمدیہ کہہ رہی ہے۔ نذیر احمد خاں ۔آپ پندرہ دن اور ٹھہر جائیں۔ یہ مولوی ملّانے بوریا بستر باندھ کر خود چل دیں گے۔
    امیر صاحب۔ ہم نے چھ مہینے انتظار کیا ہے لیکن کوئی اصلاح نہیں ہوئی کنور عبدالوہاب صاحب کے سامنے ملکانوں نے ذکر کیا کہ آپ کے ایک مولوی نے احمدیوں کو اُن کے گاؤں میں نہ رہنے دیا۔ ورنہ وہ لوگ ان کے زیرِ اثر پنجوقتہ نماز پڑھنے لگ گئے تھے۔ حتّٰی کہ بعض تہجد بھی پڑھتے تھے۔ نمائندگان کا آدمی گیا۔ انہیں ورغلایا اور احمدیوں کو کافر قرار دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ احمدی وہاں سے لوٹ آئے اور وہ مولوی ایک دن بھی نہ ٹھہرا سب نے نماز چھوڑ دی ویسے کے ویسے رہ گئے۔
    امیر صاحب نے فرمایا کہ ان لوگوں کی تحریرمیرے پاس موجود ہے اور انہوں نے کہا کہ ہم قادیان بیعت کرتے ہیں لیکن ہم خاموش رہے۔ اب بتاؤ ہم نے انہیں کہا تھا کہ بیعت کرو۔ اسی طرح آئے دن واقعات پیش آتے رہتے ہیں مولوی چاہتے ہیں کہ کام نہ خود کریں نہ کرنے دیں۔
    آنور ایک بڑا گاؤں ہے۔ چھ سو ملکانے وہاں آباد ہیں اگر وہ واپس ہو تو بھرتپور پر اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔ دیگر دیہات متھرا پر بھی اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔وہاں ہمارے تین آدمی مقرر ہیں شیخ فضل حق صاحب جو بٹالہ کے رئیس ہیں اور دو اور تعلیم یافتہ آدمی اب چوتھاآدمی نمائندگان کا وہاں کیوں جائے لیکن نواب خاں وہاں گیا کہ عبدالحی صاحب نے اُسے حکم دیا کہ تم نوکر ہو وہاں ضرور جانا ہو گا۔ اس نے جا کر انہیں بگاڑ اور نہ وہ واپسی کے لئے آمادہ تھے۔ اس شرط پر کہ آریوں سے جو دو سو روپیہ مرمت چاہ کے لئے وہ لے چکے ہیں انہیں واپس دیکر رسید ہم لے لیں اور اگر وہ کوئی مقدمہ کریں تو ہم انکی امداد کریں ہم تیار تھے کہ یہ آدمی پہنچا۔ ملکانے ایک ہوشیار قوم ہے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ دو خریدار ہیں تواب کہتے ہیں کہ ۸۰۰ دلاؤ۔ہمارا چندہ صرف ہندوستان پر ہی نہیں بلکہ دیگر تمام ممالک یورپ۔ امریکہ۔ افریقہ پر بھی صرف ہوتا ہے میں بجٹ سے ایک پیسہ زیادہ نہیںکر سکتا۔اگر ہمارا مقابلہ ہی کرنا ہے تو جاؤ پنجاب میں ‘ بنگال میں‘ تمام ہندوستان میں ہمارا مقابلہ کرو یہ علاقہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ یہاں ہی ہمارے ساتھ دشمنی کرنی ہے۔ اگر اتحاد نہیں ہو سکتا تو دشمنی تو نہ ہو۔ اگر ہم آپ کے خیال میں مسلمان نہیں تو ہم ہر دو کم از کم تعلیم یافتہ تو ہیں ملکانے ہم دونوں کو پریشان کر رہے ہیںاس کا تو خیال ہو۔ اگر آپ کہیں تو ہم آپ کے حسبِ مرضی جو جو گاؤں آپ چاہیں چھوڑ دیں لیکن باقیوں پر ہمارا کامل تسلط ہو گا اور آپ کی طرف سے کوئی دراندازی نہ ہو گی۔ اگر یہ بھی نہ ہو تو ہم یہاں سے چلے جاتے ہیںلیکن ایک سو چالیس گاؤں ہیں ۔ ان میں کم از کم دو سو اسی آدمی مبلغ درکار ہونگے۔ آپ کو اس کا انتظام کرنا ہو گا۔ غرض کوئی معاہدہ بھی ہو لیکن استوار ہو۔
    خد ا جانتا ہے کہ ہمیں یہاں آنے سے کوئی خاص غرض نہیں اور یہ شکایت محض جانبین کی بہتری کیلئے ہے ‘‘ انتھٰی کلامُہ‘۔
    یہ تمام گفتگو نذیر احمد خاں صاحب اور عبدالحی صاحب نائب ناظم مجلس نمائیندگان کے روبرو ہوئی۔ آخر نذیر احمد خاں صاحب عبدالحی صاحب کو اُٹھا کر ایک طرف لے گئے۔ اور واپس آ کر عبدالحی صاحب نے کہا کہ آپ اپنے دیہات کی ایک فہرست ہمارے پاس بھیجدیں اس کے بعد ہم اُن نامزدہ دیہات میںکوئی مداخلت نہ کریں گے کہا گیا کہ چھ ماہ ہوئے ہیں آپ کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم کہاں کہاں ہیں۔ بہر حال فہرست مطلوبہ ارسال کر دی جائے گی۔
    یہ تقریر میں نے واپسی پر رات کو ہی قلمبند کر لی تھی۔ چوہدری صاحب مرحوم نصف صدی سے زیادہ اسی جوش ‘ جوانمردی اور ہمت سے تبلیغ کا کام کرتے رہے بیماری میں بھی کام نہ چھوڑا مرحوم کا یہ نمونہ ہم سب کے لئے قابل عمل ہے
    ؔ؎
    در محبت مے نداند سوختن از ساختن


    ایں سعادت قسمت پروانہ شد اے ہمنشیں


    بے خطر بر شعلہ شمع حرم خودرا فگند


    ہم زجاں پروانہ را پروانہ شد اے ہمنشیں
    ۳۰
    ۱۹۲۴ء میں سیدنا حضرت مصلح موعودپہلی بار یورپ تشریف لے گئے اس تاریخی سفر میں آپ کو بھی حضور کی معیت کا شرف حاصل ہوا اس سفر سے مراجعت کے بعد حضرت چوہدری صاحب سالہا سال تک ناظر دعوت و تبلیغ اور ناظر اعلیٰ کے ممتاز عہدوں پر فائز رہے۔ ۱۹۴۶ء میں آپ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس حیثیت سے بھی آپ کو مسلمانوں کی نمایاں خدمات بجا لانے کا موقعہ ملا۔
    ملکی تقسیم کے وقت ۱۳؍ستمبر ۱۹۴۷ء کو آپ قادیان میں گرفتار کر لئے گے اور گورداسپور اور جالندھر جیل میں اپنے دوسرے قیدی ساتھیوں کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے اور بالآخر ۱۰؍اپریل ۱۹۴۸ء کو جالندھر جیل سے لاہور سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے اور یہیں سے رہا کئے گئے۔
    یکم؍اکتوبر ۱۹۵۰ء کو آپ ریٹائرہوئے۔ جس پر صدر انجمن احمدیہ پاکستان نے باقاعدہ ایک ریزولیوشن کے ذریعہ آپ کی نمایاں اور شاندار خدمات کا اعتراف کیا۔
    ۱۹۵۵ء میں آپ ناظر اصلاح و ارشاد اور نگران اعلیٰ مقامی اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے ۳۱ اس سال پہلے سال کی نسبت بیعتوں میں بہت خوشکن اضافہ ہوااورپھر آہستہ آہستہ تبلیغ میں مزید وسعت اور تیزی پیدا ہوتی گئی۔ آپ آخر دم تک تبلیغ دین کے جہاد میں سرگرم عمل رہے حتٰی کہ وفات سے قبل جس روز آپ کو دل کا دورہ ہوا اس روز بھی آپ نے باقاعدہ دفتر میں کام کیا۔ ۳۲ اس طر ح جوانی سے لیکر زندگی کے آخری سانس تک آپ کی عمر سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں گذری اور آپ خدمت دین کا فریضہ نہایت کامیابی سے بجا لاتے ہوئے اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہوئے۔ ۳۳
    حضرت چوہدری صاحب ایک مثالی داعی الی اﷲ تھے اور آپ کو حق تعالیٰ نے تبلیغ حق کا بے پناہ جذبہ عطا فرمایا تھا۔ آپ کے ذریعہ ہزاروں افراد نے احمدیت قبول کی۔
    مولانا احمد خاں صاحب نسیم کو قریباً اٹھارہ برس تک میدان تبلیغ میں آپ کی رفاقت کا شرف حاصل رہا۔ گورداسپور اور جالندھر کی جیل میں آپ کے ساتھ رہے اور ایک ساتھ رہا ہوئے۔ آپ کا چشمدید بیان ہے کہ
    ’’تبلیغی کاموں میں صرف مبلغین پر انحصار نہیں فرماتے تھے بلکہ خود ہر وقت تیار رہتے تھے اور ہر مبلغ کے حلقے میں خود پہنچتے تھے اور موقعہ پر حالات دیکھ کر ہدایات دیتے تھے۔ ضلع گورداسپور میں تو احمدی زمینداروں کے ساتھ آپ کا پروگرام ہمیشہ طے رہتا تھا۔ کہ ہر احمدی زمیندار سے دریافت فرماتے رہتے تھے کہ تمہاری کس کس گاؤں میں رشتہ داری ہے۔ پھر ان کو فرماتے کہ تم میرے ساتھ میری موٹر میں بیٹھ جاؤ۔ اس کو اپنی موٹر میں بیٹھا کر اس کے رشتہ داروں کے پاس پہنچ جاتے پھران کو پیغام حق پہنچاتے۔ اس طور پر ایسی موثر تبلیغ ان کو ہو جاتی کہ بعض دفعہ ایک ملاقات میں اور بعض دفعہ ایک سے زائد ملاقاتوں میں وہ لوگ احمدی ہو جاتے۔
    پھر جن دیہات میں احمدیت میں شامل ہونے والے احباب اکثریت میں ہو جاتے وہاں یہ کوشش فرماتے کہ اس گاؤں میں ایک بھی دوست ایسا نہ رہ جائے جو جماعت میں شامل نہ ہو۔ اس کی مثال جماعت احمدیہ اٹھوال اور جماعت احمدیہ سٹھیالی ہے اور بعض دوسرے گاؤں بھی ہیں۔
    ایک دفعہ مجھے کلوسوہل بھجوایا گیا اور فرمایا کہ ایسے رنگ میں کام کرو کہ گاؤں کے سب لوگ جماعت میں شامل ہو جائیں۔ چنانچہ میں نے کلوسوہل میں کام کیا۔ اور
    ۱۲۲ ؍ افراد کی بیعت ایک دن میں ہوئی تو بہت ہی خوش ہوئے‘‘۔
    حضرت چوہدری صاحب نے زمانہ اسیری (ستمبر ۱۹۴۷ء تا اپریل ۱۹۴۸ء) میں بھی تبلیغ کا سلسلہ بڑے زور شور سے جاری رکھا۔ چنانچہ مولانا احمد خاں صاحب نسیم تحریر فرماتے ہیں۔
    ’’تبلیغ کے متعلق جیل کے دو واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں۔ ایک دفعہ ایک آدمی کے متعلق ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ چونکہ ہر موقعہ پر کوئی نہ کوئی شرارت ہمارے خلاف کھڑی کرتا رہتا ہے اس کو چھوڑدو اس کو کوئی بھی منہ نہ لگائے۔
    مکرم چوہدری صاحب نے ہم سب کو فرمایا کہ ایک کام تم سب اپنے ذمہ لے لو یا تم دعا کرو۔ اور میں اس کو تبلیغ کرتا ہوں یا تم اس کو تبلیغ کرو۔ میں اس کیلئے دعا کرتا ہوں۔ اس طرح اس کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں اس پر اتمام حجت کر کے اس کو چھوڑو۔
    عصر کی نماز کے بعد جیل میں کچھ وقت ٹہلنے کے لئے مل جاتا تھا۔ میں اور برادرم مکرم میجر شریف احمد صاحب باجوہ دونوں مل کر ٹہل رہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ چودھری صاحب محترم چند قیدیوں کے ایک ٹولہ کے درمیان بیٹھے ہوئے ہیں جیل کے اندر تیس چالیس افراد خارش کی وجہ سے بیمار تھے۔ ان کو ایک علیحدہ بیرک میں رکھا ہؤا تھا۔ ان کے ساتھ کسی کو ملنے کی اجازت نہ تھی۔ تا یہ متعدی بیماری اور قیدیوں میں نہ پھیل جائے۔
    باجوہ صاحب نے جب چودھری صاحب کو ان میں بیٹھا ہؤا دیکھا تو فرمانے لگے چودھری صاحب کیا غضب کر رہے ہیں کہ ان متعدی بیماری والوں کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کو روکنا چاہیئے۔
    جب چودھری صاحب وہاں سے اُٹھ کر واپس تشریف لائے۔ تو ہم نے چودھری صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ یہ لوگ خارش کی وجہ سے بیمار ہیں۔ آپ وہاں نہ جایا کریں۔ چوہدری صاحب نے فرمایا کہ میں نے سوچا کہ یہ لوگ بہت تکلیف میں ہیں۔ ان بیچاروں کو کوئی بھی اپنے پاس نہیں آنے دیتا۔ ایسے وقت میں آدمی کا دل نرم ہوتا ہے۔ میں ان کے پاس گیا تھا تا میں اس سے فائدہ اٹھا کر ان کو تبلیغ کروں ممکن ہے کہ کسی کا دل احمدیت کی طرف مائل ہو جائے۔
    اللھم صلی علیٰ محمد و علیٰ آل محمدٍ
    سبحان اﷲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس رفیق کو کس قدر تبلیغ کی اپنے دل میں لگن تھی۔ اور کوئی موقع بھی تبلیغ کا ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ ہمیں مسکرا کر فرمانے لگے کہ میں تو اس نیت سے ان کے اندر جا کر بیٹھا تھا کہ ممکن ہے کوئی مسیح پاک پر ایمان لے آئے۔ تو کیا اﷲ تعالیٰ مجھے اس بیماری میں مبتلا کر دے گا۔ یہ ناممکن ہے ۔ آپ لوگ بے فکر رہیں۔
    جیل میں قیام کے دوران میں قریباً پچاس اور ساٹھ کے درمیان دوست جماعت میں شامل ہوئے۔ اور اس کام کے مکرم چودھری صاحب موصوف روح رواں تھے جب کسی کو تبلیغ شروع فرماتے تو ہم سب کو اکٹھا کر کے فرماتے کہ میں فلاں آدمی کو تبلیغ کرنے لگا ہوں۔ تم سب مل کر اس کے لئے دعا کرو۔ میں بھی دعا کر رہاہوں۔
    بٹالے کے ایک دوست جیل میں تھے انہوں نے چودھری صاحب سے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ اس قدر مطمئن کس طرح ہیں۔ آپ پر اس قید اور مصیبت کا ذرا بھی اثر نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اتنی دفعہ بشارت دی ہے۔ کہ تم بخیروعافیت جیل سے رہا ہو کر چلے جاؤ گے۔ کہ اب مجھے یہ دعا کرتے ہوئے بھی اﷲ تعالیٰ سے شرم محسوس ہوتی ہے کہ میں اب مزید اپنی رہائی کی دعا کروں۔
    اس نے کہا کہ آپ میری رہائی کے لئے بھی دعا فرماویں آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میںآپ کے لئے دعا کروں۔ اگر آپ احمدی ہو جائیں تو آپ کے لئے دعا کروں گا۔ اس دوست نے فرمایا کہ جس طرح آپ کو خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ رہا ہو جائیں گے آپ دعا فرماویں کہ اﷲ تعالیٰ مجھے بھی کوئی ایسا اطمینان بخش نظارہ دکھا دے تا میں بھی مطمئن ہو جاؤں ۔ آپ نے یہ وعدہ فرمالیا۔ کہ میں یہ دعا کروں گا ۔ چنانچہ چند دن کے بعد ہی اس دوست نے بھی ایک واضح رویاء دیکھی ۔ جس میں اس نے دیکھا کہ ہم پاکستان چلے گئے۔ اور جیل کے دروازے کھل گئے ہیں۔ اور ہم سب کو اپنے اپنے رشتہ دار لینے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ اور مٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہیں وغیرہ ۔ اس کے بعد وہ دوست بھی جماعت میں شامل ہو گئے۔ یہ دوست غلام محمد صاحب عرف (گاماں پہلوان ) صاحب ابھی زندہ ہیں اور ضلع شیخوپورہ میں موجود ہیں۔‘‘ ۳۴
    حضرت چوہدری صاحب نہ صرف مجسّم تبلیغ دین تھے اور اعلاء کلمہ (دین حق)کا خیال آپ کے جملہ تصورات پر غالب تھا بلکہ ہر لمحہ دوسرے مبلغین احمدیت میں بھی اس خیال اور جوش کو منتقل کرنیکی فکر میں رہتے تھے اور انہیں اپنے تجارب کی روشنی میںہر ممکن رہنمائی فرمایا کرتے تھے۔۱۹۳۱ء کا واقعہ ہے کہ مولانا ابوالعطاء صاحب بلا دعربیہ کے لئے روانگی سے قبل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک نوٹ بک پیش کرتے ہوئے درخواست کی کہ وہ اپنی قیمتی نصائح تحریر فرمادیں ۔ اس پر آپ نے اپنے قلم سے حسب ذیل الفاظ رقم فرمائے۔
    ’’ الَّذین جاھد وا فیناَ لنھد ینّھم سبلنا میرا یہ تجربہ ہے کہ جب انسان محض اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی مغفرت حاصل کرنے کے لئے اپنے وطن اور اہل و عیال کو ترک کر کے اور دنیا کی تمام خوشیوں اور لذّتوں سے علیحدہ ہو کر تبلیغ دین حقکی غرض سے اﷲ تعالیٰ کے راستہ پر گامزن ہوتا ہے اور دور دراز کے ممالک کا سفر اختیار کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے بہت قریب ہو جاتاہے اور اس پر علم و عرفان الٰہی کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ اس کا محض اپنے فضل و کرم سے اس طرح ظاہر طور پر حامی و ناصر ہوتا ہے کہ انسان کو حیرت ہوتی ہے۔ اور ہر ایک کام میں اﷲ تعالیٰ کا طاقتور ہاتھ اس کی امداد کرتا ہؤا صاف طور پر نظر آتا ہے جس سے انسان کا رسمی ایمان اور کامل اطمینان مکمل یقین سے بدل جاتا ہے اور یہ ایسا موقعہ ہوتا ہے کہ اگر انسان اس عظیم الشان کام کے اداب کو ملحوظ رکھے تو رضوان اﷲ کا مرتبہ حاصل کرنا بہت ہی آسان اور قریب ہو جاتا ہے آپ کو اﷲ تعالیٰ کے محض فضل سے ایسا موقع ہاتھ آیا ہے اس سے پورا فائدہ روحانی اٹھانے کی کوشش کریں آپ میرے لئے دعا کریں کیونکہ میرے دل میں سخت حسرت ہے کہ اس قسم کا موقعہ اب شاید مجھے نہ ملے۔ اگر کسی اور رنگ میں اﷲ تعالیٰ پھر اپنے افضال کی بارش برسائے تو اس کی رحمت سے یہ بات بعید نہیں ہے۔ ہم اس امید پر زندہ ہیں۔
    دوسری بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ ایک نوجوان آدمی کے لئے یہ بہت بڑا مجاہدہ ہے کہ اپنے اہل و عیال سے علیحدہ رہ کر اپنی عفت کو صحیح معنوں میں قائم رکھ سکے یہ کافی نہیں ہے کہ انسان صرف ارتکابِ زنا سے محفوظ رہے۔ بلکہ اس کے دل کے خیالات اُس کی نظر اس کے ہاتھ و پاؤں بلکہ تمام اعضاء اس قسم کے تاثرات سے محفوظ رہنے ضروری ہیں دَاِلاّ کامیابی ناممکن ہو جاتی ہے۔ میں چونکہ ایک ایسے ملک میں جا رہا تھا۔ جہاں اباحت کا دریا بہتا ہے اس لئے مجھے لوگوں نے اس قسم کے ابتلاء سے سخت ڈرایا۔اس سے مجھے سخت فکر لاحق ہوئی۔ تو مجھے القاء ً بتلایا گیا کہ سورۂ یوسف کو بار بار پڑھنا چاہیے ۔ اس کا نتیجہ تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے میرے دل سے گھبراہٹ کو دور فرما دیا اور مجھے اطمینان ہو گیا کہ اﷲ تعالیٰ مجھے اس قسم کے ابتلاء سے محفوظ رکھے گا۔ بلکہ میں نے اپنے اندر اس قسم کی طاقت محسوس کی جس سے میرا تمام ڈر اور گھبراہٹ دور ہو گئی۔ دوسری دفعہ انگلستان میں جا کر میں نے شادی کی لیکن وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ کی اجازت سے اس احساس کے ماتحت تھی کہ میری پہلی بیوی کی صحت کمزور ہے اور مجھے ان کے ساتھ اکیلا رہنے سے اُن کی زندگی ضائع ہو جانے کا خطرہ تھا اور یہ بھی خیال تھا کہ عورت کی مدد سے کام میں سہولت پیدا ہو گی وَ اِلاَّ کسی جسمانی جذبہ کے ماتحت نہ تھی۔ اﷲ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو‘‘ ۳۵
    حضرت چوہدری صاحب اسلامی تعلیم کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ طبیعت میں سادگی تھی‘ پیچ در پیچ طبیعت رکھنے والوں کو پسند نہ فرماتے صاف گو تھے جو بات حق خیال کرتے وہ برملا کہہ دیتے۔ نہایت بلند عزائم کے حامل بزرگ تھے۔ سلسلہ کے وقار کے لئے بے مثال غیرت رکھتے تھے۔ سلسلہ کے جملہ خدام کو انتہائی عزت‘ محبت اور حترام سے دیکھتے تھے اور ان کے جذبات و احساسات کا خیال رکھتے تھے۔ ظاہری ٹیپ ٹاپ سے کلیتہً عاری تھے اور سلسلہ کے تمام حلقوں میں یکساں طور پر بہت محبوب و مقبول تھے اپنے ماتحت کارکنوں کا خیال رکھنا تو آپ کا ایک نمایاں وصف تھاآپ بہت ہی وسیع القلب اور اعلیٰ خوبیوں کے مالک تھے اپنے ساتھیوں کی تکلیف سے انہیں سخت صدمہ ہوتا تھا آپ مظلوم کی امداد ایسے رنگ میں فرماتے کہ مظلوم کا ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہو بعض دفعہ ہندو یا بعض سکھ اپنے گاؤں کیغریب لوگوں پر ظلم کرتے تو آپ اس کے سدّباب کے لئے خود تشریف لے جاتے۔ اکثر اوقات وہ ہندو یا سکھ زمیندار آپ کی بات مان لیتے تھے لیکن اگر وہ باز نہ آتے تو آپ پورے زور سے غرباء کی مدد فرماتے اور بعض دفعہ دن رات ایک کر دیتے اور اس امداد میں مذہب و ملت کی کوئی قید نہ ہوتی تھی۔ آپ کا مکان اور دفتر مظلوموں کا گویا پناہ گاہ ہوتا تھا ۔
    حضرت چوہدری صاحب کو اﷲ تعالیٰ نے بہت بہادر دل عطا فرمایاتھا اور مسلمانوں کی خدمت اور ہمدردی کا جذبہ تو آپ کے رگ و ریشہ میں رچا ہوا تھا۔ جناب مولوی احمد خاں صاحب نسیم کا بیان ہے کہ
    ’’۱۹۴۷ء کے شروع میں ہی بعض جگہوں میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔ آپ نے اپنے علاقے میں دورے کر کے تمام مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ حالات جلد جلد بدل رہے ہیں تم لوگ تیاری کر لو تا آخر وقت میں نقصان نہ اٹھائیں۔ خطرناک سے خطرناک مقامات میں جانے سے آپ دریغ نہ فرماتے تھے۔
    ایک واقعہ آپ نے مجھ سے کئی دفعہ بیان فرمایا کہ میں (قادیان کے ماحول میں ایک گاؤں) چوہدری والے کی طرف سے آ رہا تھا تو پنجگرائیں میں ایک قافلہ مسلمانوں کا جو موضع کو ہالی کی طرف سے آ رہا تھا اس پر سکھوں نے حملہ کر دیا۔ اس وقت ادھر سے میں عین موقعہ پر پہنچ گیا۔ میری کار دیکھ کر حملہ آور بھاگ گئے۔ قافلہ والے مسلمان میرے ارد گرد جمع ہو گئے۔ میں نے ان کو تسلی دی ایک آدمی نے مجھے آ کر کہا کہ ہماری ایک لڑکی کو کچھ سکھ ٹانگے میں بٹھا کر ہم سے زبردستی چھین کر لے گئے ہیں۔ انہوں نے مجھے سمت بتائی۔ میں نے ڈرائیور کو کہا کہ موٹر کو ان کے پیچھے جلد دوڑاؤ۔ جب ہم گاؤں سے نکلے تو وہ تانگہ ہم نے دیکھ لیا۔ چنانچہ تھوڑی دیر میںہم نے اُن کو جا لیا۔ وہ لڑکی کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ چنانچہ لڑکی لا کر اس کے والدین کے سپرد کر دی اور خود اس قافلہ کے ساتھ بٹالہ تک گیا اور ان کو کیمپ میں چھوڑکر واپس آیا۔ ۳۶
    حضرت چوہدری صاحب نہ صرف’’ نظام الوصیت‘‘ سے وابستہ تھے بلکہ تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔
    سیدنا حضرت مصلح موعود نے آپ کے انتقال پر حسب ذیل نوٹ سپرد قلم فرمایا
    ’’ چوہدری فتح محمد صاحب سیال فوت ہو گئے ہیں انا ﷲِ و انا الیہ راجعون۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان سے بہت محبت کرتے تھے ۔ رات کے وقت تار دینے کی ضرورت پڑتی تو ان کو ہی بٹالہ بھجوایا کرتے تھے۔ جب خواجہ صاحب کو انگلستان میں مشکلات پیش آئیں تو حضرت خلیفۂ اولؒنے ان کو ان کی مدد کے لئے بھجوایا تھا ڈاکٹر عبید اﷲ صاحب امرتسری نے واپس آ کر ان کی بڑی تعریف کی کہ بہت صالح آدمی ہیں۔جب میں نے تشحیذالاذھان جاری کیاتو جن لوگوں نے ابتدا میں میری مدد کی۔ ان میں یہ بھی شامل تھے۔ ملکانہ تحریک ساری انہوں نے چلائی تھی۔ حضرت خلیفہ اول…کے داماد بھی تھے ۔ پٹی اور قصور کے بڑے زمیندار خاندان میں سے تھے۔ بچپن سے میرے ساتھ کام کیا مجھے افسوس ہے کہ وفات کے وقت مجھے پتہ بھی نہ لگا اﷲ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ انہیں اعلیٰ علیّین میں جگہ دے اور اس کے فرشتے ان کو لینے کے لئے آگے آئیں۔ اور خدا تعالیٰ کی برکتیں ہمیشہ ان پر اور ان کے خاندان پر نازل ہوتی رہیں۔ میری ایک بیٹی بھی اُن کی بہوہے۔ خدا اس کو بھی اپنے خاوند کی خدمت اور اپنے خسر کے لئے دُعاکی توفیق دے اٰمین
    جوانی سے چوہدری صاحب نے سلسلہ کی خدمت کی۔ قادیان جہاں سے وہ ہجرت کر کے آئے تھے اﷲ تعالیٰ ان کو دائمی طور پر وہیں لے جائے۔ اور جس طرح زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ساتھ دیا تھا۔ اب وفات کے بعد دائمی طور پر ان کا قُرب نصیب ہو آمین‘‘۔ ۳۷
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تحریر فرمایا
    ’’چوہدری صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفیق ابن رفیق تھے اور ان کے داماد چوہدری عبداﷲ خاں مرحوم بھی گویا پیدائشی لحاظ سے رفیق تھے اس طرح چودھری فتح محمد صاحب سیال نے گویا اوپر اور نیچے ہر دو جانب سے برکت کا ورثہ پایا تھا۔ چوہدری صاحب مرحوم کو یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ جماعت کی طرف سے پہلے مبلغ کے طور پر انگلستان میں تبلیغ (دین حق)کے لئے بھجوائے گئے اور نہ صرف ایک دفعہ بھجوائے گئے بلکہ انہیں متعدد مرتبہ تبلیغ کی غرض سے باہر جانے کا شرف حاصل ہوا۔ انہیں در اصل تبلیغ کا غیر معمولی عشق تھا اور انہیں خدا نے تبلیغ کا ملکہ بھی ایسا عطا کیا تھا کہ بہت جلد اپنی گفتگو سے دوسرے کا دل صداقت کے حق میں جیت لیتے تھے اور زمینداروں پر تو گویا اُن کا جادو چلتا تھا پھر ملکانہ کے علاقہ میں بھی وہ سالہا سال جماعت کی تبلیغی مہم کے نگران اور قائد رہے اور انہوں نے ایک بہت لمبے عرصہ تک مرکزی دعوت و تبلیغ اور ناظر اعلیٰ کے فرائض بھی بڑی کامیابی کے ساتھ ادا کئے اور مقامی تبلیغ کے تو وہ گویا ہیرو تھے۔ جن کے ہاتھ پر بے شمار لوگوں نے صداقت کو قبول کیا۔
    چوہدری صاحب بڑے سادہ مزاج اور بہت بے تکلف طبیعت کے بزرگ تھے اور گو وہ کام کی تفصیلات کو بعض اوقات بھول جاتے تھے۔ مگر اصولی امور میں وہ حقیقۃً غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے۔ اور ان امور میں ان کی نظر بعض اوقات اتنی گہری جاتی تھی کہ حیرت ہوتی تھی کہ ایسی سادہ طبیعت کا انسان اصولی امور میں اتنا ذہین اور اتنا دوررس ہے۔ چوہدری صاحب کو ملکی تقسیم کے ایام میں ہندو سیاست کا شکار بنکر قید بھی ہونا پڑا۔ مگر اس قید کا زمانہ بھی انہوں نے کمال صبر اور بشاشت سے برداشت کیا۔ بلکہجیل خانہ میں بھی کئی لوگوں کو ( جن میں بعض کافی مخالف تھے) اپنی مخلصانہ تبلیغ سے رام کر لیا۔
    گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں چوہدری صاحب بالکل نو عمر بلکہ طالب علم تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ انہیں ذاتی تعارف کا شرف حاصل تھا۔ اور حضور ان کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ایک دفعہ کسی سفر میں مصاحبت کا سوال تھا تو ساتھ جانے والوں کی فہرست دیکھ کر حضرت مسیح موعود ؑنے خود کہہ کر چوہدری صاحب کا نام لکھایا بلکہ نام لکھنے والوں سے کہا کہ شائد آپ لوگوں نے فتح محمد کا نام اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ وہ تو بہر حال پہونچ ہی جائے گا۔
    حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ کے ساتھ بھی چوہدری صاحب کا بچپن کا ساتھ تھا۔ چنانچہ رسالہ تشحیذالاذہان کے اجراء میں اور پھر مجلس انصار اﷲ کے قیام میں وہ شروع سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ رہے۔ در اصل وہ حضور کے ذاتی دوستوں میں سے تھے۔ اور حضور کے ساتھ بے حد عقیدت رکھتے تھے۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح اول کے ساتھ تو ان کا جسمانی رشتہ بھی تھا۔ یعنی زوجہ اول کے بطن سے حضور کی نواسی (ہاجرہ بیگم مرحومہ) جومیری رضاعی بہن تھیں چوہدری صاحب کے عقد میں آئیں اور چوہدری صاحب
    کی زیادہ اولاد انہی کے بطن سے ہوئی اور بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ
    کے ساتھ بھی چوہدری صاحب کا رشتہ قائم ہو گیا۔ کیونکہ حضور کی چھوٹی صاحبزادی عزیزہ امتہ الجمیل سلمہا چوہدری صاحب کے فرزند عزیز ناصر محمد سیال واقف زندگی کے ساتھ بیاہی گئی۔ چوہدری صاحب مرحوم ایک بڑے مجاہد اور نڈر۔ اور بہادر مبلغ ہونے کے علاوہ تہجد گزار اور نوافل کے پابند اور دعاؤں میں بہت شغف رکھنے والے بزرگ تھے اور صاحب کشف و رویاء بھی تھے ۔ میں جن دوستوں اور بزرگوں کو عموماً دعا کے لئے لکھا کرتا تھا۔ ان میں چوہدری صاحب مرحوم کا نام بھی شامل تھا۔ مجھے اس مخلص اور بے ریا اور وفادار بھائی کی وفات کا بڑا صدمہ ہے مگر ؎
    ؎
    بلانیوالا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر

    دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور جماعت کو ان کا بدل عطا فرمائے۔ اور ان کی اولاد اور بیوی اور دیگر لواحقین کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو ۔اٰمین یا ارحم الراحمین‘‘ ۳۸
    تالیفات (کتب اور پمفلٹ)

    ٭ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات (دسمبر ۱۹۲۷ء)
    ٭ اظہار حق (ردّ عیسائیت)
    ٭ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے راہ عمل
    WHAT SHOULD THE MUSLIM DO
    ٭ اچھوت اقوام کی نازک حالت
    ٭ اﷲ تعالیٰ کا کلام زمانہ حال کی اقوام کے متعلق
    ٭ مسلمانوں کی موجودہ مشکلات کا حل
    ٭ اسلامی تنظیم کے پانچ ارکان
    اولاد
    (محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ کے بطن سے) نواسی حضرت خلیفہ اوّل
    ۱۔ آمنہ بیگم صاحبہ
    ۲۔ عائشہ بیگم صاحبہ
    ۳۔ چوہدری صالح محمد صاحب
    ۴۔ چوہدری ناصر محمّدصاحب سیال (داماد حضرت مصلح موعود)
    ۵۔ منیرہ بیگم صاحبہ
    ۶۔ سلمہ بیگم صاحبہ
    (محترمہ سیدہ رقیہ بیگم صاحبہ دختر سید محمود اﷲ شاہ صاحب کے بطن سے)
    ۷۔ امتہ الحی بیگم صاحبہ
    (محترمہ صادقہ بیگم صاحبہ کے بطن سے)
    ۸۔ چوہدری منصور احمد صاحب سیال
    ۹۔ امتہ الشافی صاحبہ
    ۱۰۔ چوہدری مظفر احمد صاحب سیال
    (محترمہ صفیہ بیگم صاحبہ کے بطن سے)
    ۱۱۔ بُشریٰ بیگم صاحبہ
    ۱۲۔ طاہر عبداﷲ صاحب
    ۱۳۔ امتہ السلام بیگم صاحبہ
    حضرت مولوی خیر الدین صاحب آف نارووال
    (ولادت اندازاً ۱۸۸۹ء ۱۹۰۳ء وفات ۱۹؍مئی ۱۹۶۰ء بعمر ۷۱سال )
    حد درجہ خلیق اور ملنسار اور تہجد گزار بزرگ تھے۔ دنیاوی اعتبار سے آپ کی تعلیم تیسری جماعت تک تھی مگر حضر ت مسیح موعود علیہ اسلام کی توجہ روحانی نے آپ کے سینہ کو علم سے معمور کر دیا تھا۔ عموماً پنجابی میں تقریر فرماتے اور قوّت بیانی سے مجمع کو مسحور کر دیتے تھے۔ تبلیغ کا شوق آپ کی زندگی کے ہر کام میں نمایاں نظر آتا تھا۔عمر بھر دعوت الی اﷲ کے کام میں مصروف رہے اور بہت سی سعید روحوں کو آپ کے ذریعہ قبول حق کی سعادت حاصل ہوئی آپ جماعت احمدیہ کے آنریری مبلغ تھے اگر کہیںسُن پاتے کہ جماعت کا جلسہ منعقد ہو رہا ہے تو اکثر اپنے خرچ پر یا پیدل سفر کر کے جلسہ میں شرکت کرتے۔ حضرت مسیح موعود ؑاور آپ کے خاندان سے دلی انس و محبت تھی۔ خدمت خلق سے خاص قلبی بشاشت محسوس کرتے تھے۔ ۳۹
    حضرت چوہدری برکت علی خان صاحب وکیل المال (پنشنر)
    (ولادت ۷۔۱۸۸۶ء اندازاً۔ بیعت و زیارت ۱۹۰۲ء ۴۰
    وفات ۷؍اپریل۱۹۶۰ء )
    حضرت چوہدری برکت علی صاحب گڑھ شنکر ضلع ہوشیارپور کے ایک راجپوت خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کو احمدیت کا تعارف حضرت ڈاکٹر محمد اسمٰعیل خاں صاحب آف گوڑیانی کے ذریعہ ہوا۔ آپ نے ۱۹۰۰ء میں ورنیکلر مڈل کا امتحان دیا۔ امتحان کے بعد آپ حضرت ڈاکٹر صاحب کے پاس جاتے اور اخبار ’’ الحکم‘‘ کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ الحکم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلمات طیبّات دربار شام سیر کے کوائف اورتازہ الہامات باقاعدہ شائع ہوتے تھے جن کے پڑھنے سے آپ کا دل اطمینان اور تسلی سے لبریز ہو جاتا اور آپ کا جی چاہتا کہ ایسے شخص پر تو اپناسب کچھ قربان کر دنیا چاہئے۔ علاوہ ازیں گڑھ شنکر میں حضرت مسیح موعودؑ کے فدائیوں کی ایک مخلص جماعت قائم ہو چکی تھی جس میں حضرت چوہدری امیر خاں صاحب‘ حضرت شیخ برکت علی صاحب‘ حضرت حکیم چوہدری الٰہی بخش صاحب‘ چوہدری غلام بنی صاحب جیسے متدین اور عاشق رسول بزرگ شامل تھے۔ ان بزرگوں کے مثالی نمونہ کو دیکھ کر آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ جس شخص کے پیرو (دین حق) کے ایسے شیدائی اور تقویٰ شعار ہیں وہ خود کس پایہ کا ہو گا یقیناً وہ اﷲ تعالیٰ کا ایک برگزیدہ اور رسول ہے اور اخبار الحکم میں حضور کے ملفوظات پڑھ کر تو آپ بے اختیار ہو گئے اور فوراً بیعت کرنے کا فیصلہ کر لیااس وقت تک آپکے خاندان میں کوئی احمدی نہ ہوا تھا ۔
    حضرت چوہدری صاحب اپنی بیعت اور زیارت حضرت مسیح موعود ؑکے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں
    ’’میں نے اس زمانہ میں ان لوگوں کا نیک نمونہ دیکھا اور اخبار ’’الحکم‘‘ پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ مجھے جس پیشوا کی ضرورت ہے اور جس کے لئے میں طالب علمی کے زمانہ میں دل میں دعا کرتا تھا وہ یہی شخص ہے جس کی مجھے بیعت کرنا چاہیے۔ چنانچہ ۱۹۰۲ء میں ایک دن میں نے حضرت ڈاکٹر صاحب مرحوم سے عرض کیا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں آپ میری بیعت کا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھ دیں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ تمہاری راجپوتوں کی قوم بہت سخت ہے شاید وہ تمہیں روکیں اور تکالیف دیکر چاہیں کہ تم بیعت چھوڑ دو۔ میں نے اسی وقت کہا کہ مجھے اپنی قوم کی پروا نہیں اور نہ میں ان کی تکلیف دہی سے ڈرتا ہوں۔ اگر وہ اس راہ میں مجھے جان سے بھی مار دیں تو میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم نے میری بیعت کا خط لکھ دیا اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے دستخط سے بیعت کی منظوری کی اطلاع ملی۔ خط ملنے پر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ الحمد لِلّٰہِ ثُمَّ الحمد لِلَّہ۔
    بیعت کی منظوری آنے کے ایک مہینے کے بعد میں نے ڈاکٹر صاحب سے عرض کیا کہ میں قادیان جا کر دستی بیعت بھی کرنا چاہتا ہوں مگر میں کبھی گڑھ شنکر سے باہر نہیں گیا‘ نہ ریل کبھی دیکھی۔ مجھے قادیان کا راستہ بتا دیں۔ آپ نے کہا کہ یہاں سے بنگہ پہنچو‘ وہاں میاں رحمت اﷲ صاحب مرحوم باغانوالہ کی دکان پر جا کر ان سے کہنا کہ پھگواڑہ ریلوے سٹیشن تک کا یکہ کرا دیں اور ریل میں سوار ہو کر امرتسر گاڑی بدل کر بٹالہ دس بجے رات پہنچ جاؤ گے۔ بٹالہ میں ٹھہر نے کی معیّن جگہ تو ہے نہیں سٹیشن پر یا کسی اور جگہ ٹھہر جانا۔ بٹالہ سے قادیان کو کچی سڑک جاتی ہے۔ نماز فجر کے بعد قادیان چلے جانا۔‘‘
    ’’ میں روانہ ہوا اور جب بٹالہ سٹیشن سے نکلا تو سڑک پر ایک چھوٹی سی مسجدپر نظر پڑی۔ میں نے کہا کہ مسجد میں ہی رات کا بقیہ وقت گزار کر صبح قادیان کی طرف جانا چاہیے۔ مسجد میں گئے ابھی تھوڑا وقت ہی ہوا تھا کہ ایک صاحب نے آ کر کہا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا۔ میں مسافر ہوں قادیان جانا ہے۔ اس نے گالی دیتے ہوئے سختی سے کہا کہ خبیث مرزائی آ کر مسجد کو خراب کر جاتے ہیں۔ صبح مسجد دھونی پڑے گی۔ تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں نے کہا میں تو کبھی یہاں آیا نہیں۔ نہ کسی کو جانتا ہوں خدا کے گھر سے کیوں نکالتے ہو؟میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ اس پر وہ گالیاں دیتا اور سخت سُست کہتا بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ میں صبح فجر کی نماز پہلے وقت پڑھ کر قادیان کے لئے روانہ ہوا اور یہ مسافت پیدل طے کی ‘‘
    ’’مجھے معلوم نہ تھا کہ قادیان میں حضرت اقدس کے مکان کدھر ہیں۔ میں محلہ کمہاراں میں پہنچا اور ایک گلی کی طرف گیا جو سیّدوں کے مکانات کی طرف جاتی ہے تو مجھے محسوس ہوا کہ ان میں تو کوئی روحانیت نہیں اور یہ مکان حضرت صاحب کے نہیں۔ میں نے ایک لڑکے سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اس راستہ سے سیدھا جاؤ۔ آگے مہمان خانہ آ جائے گا تب میری جان میں جان آئی اور میں مہمان خانہ پہنچا ۔ اس وقت میاں اﷲدین صاحب فلاسفر مرحوم مہمان خانہ میں داخل ہوتے ہی ملے۔ انہوں نے پوچھا لڑکے کہاں سے آئے ہو؟ میں نے ڈاکٹر صاحب کا ذکر کر کے کہا کہ انہوں نے مجھے بیعت کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ ایک چارپائی دی اور کہا کہ اس پر آرام کرو۔ تھوڑی دیر بعد کہاکہ چلو لنگر خانہ میں روٹی کھا لو۔ پھر نماز ظہر کے لئے مسجد مبارک میں جانا ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام تشریف لائیں گے۔‘‘
    ’’مسجد مبارک میں پہنچنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک کھڑکی میں سے مسجد مبارک میں تشریف لائے۔ میں نے جب حضور کو دیکھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا کہ یہ تو سراپا نور ہی نور ہے۔ یہ تو سچوں اور راستبازوں کا سا چہرہ ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس کی بابت اخبار الحکم میں ’’ کلمات طیبات حضرت امام الزماں سلّمہ الرحمن‘‘ پڑھا کرتا تھا اور جس مقدس وجود باجُود کی مجھے تلاش تھی الحمد لِلّٰہ مغرب کی نماز کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام شہ نشین پرجلوہ فرما ہوئے تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے میرا بازو پکڑ کر حضور کے پیش کیا اور فرمایا کہ حضور یہ لڑکا بیعت کرنا چاہتا ہے۔ حضور نے نظر اُٹھا کر دیکھا اور فرمایا۔ کل بیعت کر لینا۔ میں نے اس وقت دیکھا کہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب ثمََّّّ عرفانی ایڈیڑ الحکم ایک ٹمٹاتے چراغ کی بہت مدہم سی روشنی میں حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی زبان مبارک سے جو کلمہ نکلتا ہے کھڑے کھڑے پنسل سے نوٹ کر رہے ہیں۔
    دوسرے دن جب نماز مغرب کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام شہ نشین پر جلوہ افروز ہوئے تو تھوڑی دیر بعد فرمایا
    ’’بیعت کرنے والے آگے آ جائیں‘‘
    آپ شہ نشین سے اُتر کر مسجد کے فرش پر تشریف فرما ہوئے اور بیعت ہوئی۔ میرے ساتھ دو اور دوست بیعت کرنے والے تھے بیعت کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے مع جماعت دعا فرمائی اور حضرت ایڈیٹر صاحب الحکم نے اپنی نوٹ بک میں ہرسہ کے نام لکھ لئے‘‘ ۴۱
    قادیان سے واپسی کے بعد آپ کے دل میں یہ شدید تمنا پیدا ہوئی کہ کاش آپ کو قادیان میں حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں رہنے کا موقعہ ملتا۔ آپ نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں قادیان میں رہوں گا خواہ وہاں فاقہ کرنا پڑے یا محنت مزدوری کر کے گذارہ کروں مگر رہوں گا قادیان میں۔ چنانچہ ۱۹۰۴ء میں آپ ہجرت کرکیقادیان آ گئے اور دفتر الحکم میں پانچ روپے ماہوار پر ملازم ہو گئے۔ اخبار کی دستی لکھنا‘ چٹیں بنانا‘ اور ان کو اخبار پر لگانا اور پھر ٹکٹیں چسپاں کر کے ڈاک خانہ تک پہنچانا آپ کا کام تھا۔ اس طرح مرکز میں سلسلہ احمدیہ کی خدمت کا آغاز ہوا۔
    اس زمانہ میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نشان کا گواہ بننے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ حضرت اقدس علیہ السلام کو ۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء کو الہام ہوا کہ سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہو گی۔ خوش آمدی نیک آمدی‘‘
    چنانچہ یہ پیشگوئی صبح کو ہی قبل از وقوع تمام جماعت کو سنائی گئی اور جب یہ پیشگوئی سنائی گئی۔ بارش کا نام و نشان نہ تھا اور آسمان پر ایک ناخن کے برابر بھی بادل نہ تھا اور آفتاب اپنی تیزی دکھلا رہا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج بارش ہو گی اور پھر بارش کے بعد زلزلہ کی خبر دی گئی تھی۔ پھر ظہر کی نماز کے بعد یک دفعہ بادل آیا اور بارش ہوئی اور رات کو بھی کچھ برسا اور اس رات کو جس کی صبح میں ۳؍مارچ ۱۹۰۷ء کی تاریخ تھی زلزلہ آیا زلزلہ کی خبر اخبار سول ایند ملٹری گزٹ لاہور (۵؍مارچ ۱۹۰۷ء) اور اخبار عام لاہور (۶؍مارچ ۱۹۰۷ء) میں شائع ہوئی۔
    اس پیشگوئی کے قبل از وقوع سننے والوں میں چوہدری برکت علی خاں صاحب بھی تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۵۷ پر آپ کا نام درج فرمایا ہے۔
    چوہدری صاحب موصوف نے ۱۹۰۴ء سے آخر ۱۹۰۸ء تک دفتر الحکم میں کام کیا ازاں بعد آپ دفتر محاسب صدر انجمن احمدیہ میں بطور محرر سوم تعینات ہوئے۔
    دس ماہ بعد آپ کو ترقی دے کر دفتر تعمیر میں منتقل کر دیا گیا ان دنوں تعلیم الاسلام ہائی سکول کی وسیع عمارت زیر تعمیر تھی اور ہائی سکول کے بورڈنگ کے سامنے کا حصہ اور کوارٹرز بھی بن رہے تھے۔ صدر انجمن احمدیہ کا اپنا بھٹہ بھی جاری ہو چکا تھا اور پندرہ بیس ہزار روپے ماہوار کا خرچ تھا آپ کے سپرد اس خرچ کی تقسیم اور حسابات کا کام ہوا جسے آپ نے اس محنت‘ مستعدی اور انتہائی عرقریزی کے ساتھ انجام دیا کہ آپ کی حسن کارکردگی پر صدرانجمن نے سولہ ماہ کے اندر بارہ روپے ماہوار سے آپ کی تنخواہ بیس روپے ماہوار کر دی اورآپ محرر سوم کے گریڈ سے ترقی دے کر محرر دوم کے گریڈ میں آ گئے اور دوبارہ دفتر محاسب میں تبدیل کر دئے گئے جہاں آپ نے اپنے فرض منصبی کے علاوہ محرر اوّل حضرت منشی مرزا محمد اشرف صاحب سے خزانہ کا کام بھی سیکھا جس پر آپ کو محرر اوّل کر دیا گیا اور حضرت منشی صاحب محاسب کے عہدے پر مقرر کر دئے گئے۔
    ۱۹۲۳ء میں آپ کو نظارت بیت المال میں تبدیل کر دیا گیا۔ ۱۹۲۹ء میں صدر انجمن احمدیہ کی مالی حالت بہت نازک ہو گئی۔ حضرت مصلح موعودنے ۱۵؍جون ۱۹۲۹ء کو چندہ خاص کی تحریک فرمائی ۴۲ جو خدا کے فضل و کرم کامیاب ہوئی اورا سمیں آپ کی کوششوں کا بھاری عمل دخل تھا۔
    ۱۹۳۱ء میں حضور نے آپ کو’’ کشمیر ریلیف فنڈ ‘‘ کا فنانشل سیکرٹری مقرر فرمایا آپ نے حضور کی ہدایات کی روشنی میں کام شروع کیا تو اﷲ تعالیٰ نے ایسی برکت بخشی کہ ہزاروں ہزار روپیہ اس فنڈ میں جمع ہو کر مسلمانان کشمیر کی بہبود میں خرچ ہوا۔
    ۱۹۳۲ء میں آپ کو صدر انجمن احمدیہ کے آڈیٹر کے فرائض سپرد کر دئے گئے۔
    یکم؍فروری ۱۹۳۳ء کو آپ دارالانوار کمیٹی قادیان کے سیکرٹری مقر ہوئے۔ آپ نے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب دردؔ سے چارج لیا جو ۲؍فروری ۱۹۳۳ء کو اعلائے کلمۂ حق کے لئے لنڈن تشریف لے جا رہے تھے۔
    اس طرح آپ کے ذمے تین کام ہو گئے۔ جنہیں اﷲ تعالیٰ نے آپ کو شاندار رنگ میں نبھانے کی توفیق بخشی چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ۱۱؍جون ۱۹۳۴ء کو آپ کی بڑی بیٹی حمیدہ بیگم صاحبہ کا خطبہ نکاح پڑھتے ہوئے آپ کی مساعی پر خوشنودی کااظہار کیا چنانچہ فرمایا
    ’’چوہدری برکت علی خاں…ان چند اشخاص میں سے ہیں جو محنت ‘ کوشش اور اخلاص سے کام کرنے والے ہیں اور جن کے سپرد کوئی کام کر کے پھر انہیں یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہوتی‘‘ ۴۳ اسی زمانہ میں حضرت مصلح موعود نے احباب جماعت کی صحیح آمد کی تشخیص کے مطابق جماعتوں کے چندوں کا بجٹ تیا رکرانے کے لئے مختلف جائنٹ ناظر بیت المال مقرر فرمائے۔ چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب‘ حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت سید محمد اسحٰق صاحب کے ساتھ چوہدری برکت علی خاں صاحب کو بھی اس عہدہ پر ممتاز فرمایا آپ کا حلقہ دہلی’شملہ‘ انبالہ رہتک‘ حصار‘ گوڑ گاؤں اور علاقہ کشمیر تھا۔ ۴۴
    ۲۳؍نومبر ۱۹۳۴ء کو حضرت مصلح موعود نے ایک خطبہ کے ذریعہ تحریک جدید کی بنیاد رکھی اور اس کے مالی شعبہ کا انچارج یعنی فنانشل سیکرٹری آپ کو نامزد فرمایا۔ آپ نے اپنی گذشتہ روایات کے عین مطابق اس عظیم الشان خدمت کے لئے اپنے جسم کی پوری توانائیاں وقف کر دیں اور تحریک جدید کے مالی نظام کو مستحکم کرنے میں گویا سردھڑکی بازی لگا دی۔ آپ کی محنت شاقہ انتھک جدوجہد اور غیر معمولی شغف کا اندازہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود کے مندرجہ ذیل الفاظ سے لگ سکتا ہے حضور نے مجلس مشاورت منعقدہ ۱۹۳۵ء میں فرمایا:۔
    ’’یہ زمانہ ہمارے لئے نہایت نازک ہے مجھ پر بیسیوں راتیں ایسی آتی ہیں کہ لیٹے لیٹے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنون ہونے لگا ہے اور میں اُٹھ کر ٹہلنے لگ جاتا ہوں غرض یہی نہیں کہ واقعات نہایت خطرناک پیش آ رہے ہیں بلکہ بعض باتیں ایسیہیںجو ہم بیان نہیں کر سکتے مجھے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا قول یاد آتا ہے کسی نے اُن سے کہا۔ خالد کو آپ نے کیوں معزول کر دیا آپ نے فرمایا تم اس کی وجہ پوچھتے ہو اگر میرے دامن کو بھی پتہ لگ جائے کہ میں نے اسے کیوں ہٹایا تو میں دامن کو پھاڑدوں تو سلسلہ کے خلاف ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ جو میری ذات کے سوا کسی کو معلوم نہیں اور جو کچھ میں بتاتا ہوں وہ بھی بہت بڑا ہے اور اس سے بھی نیند حرام ہو جاتی ہے اور میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی نیند حرام کر دیا کرتا ہوں…پرسوں میں یہاں سے کام کر کے گیا تو رات کے ساڑھے بارہ ایک بجے تک ڈاک پڑھی اور پھر صبح سویرے سے کام شروع کر دیا تو ہمارے ذمہ اتنے کام ہیں کہ انہیں چھوڑ ہی نہیں سکتے۔ کل رات کو جب میں یہاں سے گیا تو جسم مضمحل تھا اور صبح کو بخار بھی تھا۔ معلوم نہیں اب ہے یا نہیں گو جسم کوفت محسوس کرتا ہے مگر وقت نہیں کہ اسکا خیال رکھیں۔ شریعت کہتی ہے کہ اپنے جسم کا بھی خیال رکھو مگر پھر بھی مصروفیت ایسی ہے کہ جسمانی تکلیف کی کوئی پروانہیں کی جاسکتی اور میرے ساتھ کام کرنے والوں کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ چوہدری برکت علی صاحب کو مہینوں رات کے ۱۲ بجے تک تحریک جدید کا کام کرنا پڑا۔ اسی طرح تحریک جدید کے دفتر کے کام کرنے کا وقت ۱۲ گھنٹے مقرر ہے اس سے زیادہ ہو جائے تو ہو جائے کم نہیں کیونکہ یہ اقّل مقدار ہے ‘‘ ۴۵
    چوہدری برکت علی صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔
    ’’آڈیٹر تحریک جدید کا کام خاکسار اکیلا ہی کر رہا تھا۔ حضور کی خدمت میں روزانہ رپورٹ پیش کرنے کے لئے حسابات بنانے اور خطوط کی منظوری کی روزانہ اطلاع دینے اور تحریک جدید کی رپورٹ پیش کرنے کے بعد مزید تکمیل کے لئے دفتر کی پابندی کا سوال ہی نہ رہا اور نہ ہی میں نے ۱۹۰۴ء سے ۱۹۰۸ء اور پھر ۱۹۰۹ء سے اب تک اس کا خیال کیا کہ دفتر کا وقت ختم ہو گیا چلو گھر چلیں۔ بلکہ یہ بات گُُھٹی میں پڑی ہوئی تھی کہ جب تک روزانہ کا کام ختم نہ ہو دفتر بند نہ ہو۔ اگر ضرورت پڑے تو گھر لے جا کر روزانہ کام ختم کرو۔ پس میں نے دفتر کے وقت کا خیال نہیں رکھا بلکہ روزانہ کام ختم کرنااصول بنایا‘‘
    ’’اتفاق کی بات ہے کہ تحریک جدید کا دفتر حضور کے قصر خلافت میں تھا۔ خاکسار تو رات کے دس بجے یا کبھی بارہ بجے تک کام کرتا۔ مگر حضور ایک دو بجے تک عموماً اور بعض دفعہ ساری رات بھی کام کرتے اور نمازِ فجر پڑھانے کیلئے تشریف لے جاتے۔ جب خاکسار کاآقا ساری ساری رات کام کرتا تھا تو میرے لئے کیا عذر تھا کہ زیادہ وقت لگا کر کام پُورا نہ کروں ۴۶
    قریشی عبدالرشید صاحب آڈیٹر تحریک جدید کا چشمدید بیان ہے کہ
    ’’حضرت چوہدری صاحب مرحوم و مغفورسے میرا تعارف قادیان میں ۱۹۴۶ء میں ہوا جبکہ مجھے آپ کے ساتھ ایک لمبا عرصہ کام کرنیکی سعادت ملی اس اثناء میں مجھے آپ کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔
    حضرت چوہدری صاحب مرحوم بلاشبہ ایک بے لوث اور مسلسل سترہ سترہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے والے بزرگ تھے۔ آپ کے کام کا طریق دو اصولوں پر مبنی تھا۔ اول یہ کہ تحریک جدید کے ہر وعدہ کرنے والے دوست سے ایک ذاتی تعلق پیدا کرنے کی کوشش فرماتے اور اس وجہ سے روزانہ ڈاک کا جواب خود اپنے ہاتھ سے ہر دوست کو تحریر فرماتے اور خط کو ایک ایسا ذاتی رنگ دیتے کہ قاری گہرا اثر لئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ دوم روز کا کام روز ختم کرنا ضروری سمجھتے تھے اور روزانہ ڈاک کا جواب شام کو لکھ کر فارغ ہوتے تھے اس وجہ سے دفتری اوقات آپ کے لئے ناکافی تھے وعدہ جات کی تحریک کے دنوں میں میں نے آپ کو دفتر سے رات کے نو دس بجے سے قبل گھر جاتے ہوئے شاذ ہی دیکھا تھا۔ سب سے آخر میں وعدوں کی مکمل رپورٹ اور دن بھرکے کام کا خلاصہ ۹۔۱۰ بجے رات کے قریب حضرت اقدس کے حضوربھجواتے اور کچھ دیر تک انتظار فرماتے کہ حضور کی طرف سے رپورٹ کے ملاحظہ کے بعد کوئی استفسار نہ آ جائے اس کے بعد گھر تشریف لے جاتے۔
    باوجود تعلیم کی کمی کے آپکو اخبار کے لئے نوٹ لکھنے کا ایک خاص ملکہ حاصل ہو گیا تھا اور آپ کا اسلوبِ تحریر منفرد رنگ اختیار کر گیا تھا جو بعد میں کسی سے نقل نہ ہو سکا۔ آپ کے نوٹ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ باوجود اپنی سادگی کے وہ کس قدر گہرے اثر کے حامل ہوتے تھے اور چندہ تھا کہ اس کے نتیجہ میں اُمڈ ا چلا آتا تھا۔ چندہ جمع کر نے میںآپ کو ایک خاص مہارت تھی دو چار لاکھ روپیہ کسی تحریک کے لئے جمع کرنا آپ بہت معمولی بات سمجھتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بقایاجات کی وصولی کا کام آپ کے سپرد کیاگیا۔ جن دوستوں کو چندہ جمع کرنے کاتجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ بقایاجات بالخصوص طوعی چندوں کے بقائے وصول کرنا خاصہ مشکل کام ہے لیکن اس میں بھی مکرم چوہدری صاحب کو نمایاں کامیابی ہوئی اور آپ نے اس مد میں ایک کثیر رقم جمع کر کے تحریک جدید کو دی‘‘
    ’’ ۱۹۴۷ء کے قیامت خیزہنگامہ میں ہجرت کے وقت خدا کے اس مخلص بندہ کو اگر فکر تھا تو صرف اس بات کا کہ مخلصین جماعت کے چندوں کے حساب کا ریکارڈ کسی طرح پاکستان محفوظ پہونچ جائے۔ چنانچہ اس غرض کے لئے متعدد بار فرمایا کہ اگر پیدل قافلہ جانے کی صورت ہو تو ایک ایک کھاتہ ایک ایک کارکن کے سپرد کر دیا جائے۔ تقسیم (ملک) کے بعد جودھا مل بلڈنگ کے اسی کمرہ میں جو دفتر کے لئے الاٹ ہوا فروکش ہوئے‘ ان کے ساتھ رہنے والوں کا بیان ہے کہ رات جب کبھی ان کی آنکھ کھلتی تو وہ اکثر مرحوم کو چندہ جات کا کھاتہ لئے ہوئے کام کرتے ہوئے پاتے غرضیکہ محترم چوہدری صاحب کی زندگی کام۔کام۔کام پر مشتمل تھی اور اسی دُھن میں آپ نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی‘‘ ۴۷
    حضرت چوہدری صاحب صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کی نہایت قابل قدر اور ناقابل فراموش خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۵۷ء میں وکیل المال کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ رہٹائرمنٹ کے بعد آپ کی تمام تر توجہ حضرت مصلح موعود کے ارشاد کی تعمیل میں پانچ ہزاری مجاہدین تحریک جدید کے انیس سالہ حساب پر مشتمل کتاب کی تدوین کی طرف رہی۔
    آپ کی شبانہ روز محنت و کاوش جنابِ الٰہی میں مقبول ہوئی اور کتاب جون ۱۹۵۹ء میں چھپ کر شائع بھی ہو گئی۔ یہ کتاب جو آپ کی زندگی کا آخری یادگار کارنامہ ہے ۴۸۶ صفحات پر محیط ہے اور خوبصورت ٹائپ پر نصرت آرٹ پریس ربوہ میں طبع ہوئی ہے۔
    الغرض حضرت چوہدری صاحب تمام عمر خدمتِ سلسلہ میں مصروف رہے اور آپ نے قربانی و ایثار انتھک محنت اور سلسلہ احمدیہ اور خلافت کے ساتھ و الہانہ عقیدت کی شاندار مثال قائم کر دکھائی۔ ۴۸
    قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر تحریر فرمایا:۔
    ’’ چوہدری صاحب مرحوم جو غالباً گڑھ شنکر (ضلع ہوشیارپور) کے رہنے والے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے رفیق تھے اولاً انہوں نے قادیان میں آ کر کچھ عرصہ اخبار الحکم میں کام کیا اور پھر صدر انجمن احمدیہ کے عملہ میں شامل ہو کر ہمیشہ کے لئے ’’نوکر شاہی‘‘ بن گئے اور اس خدائی نوکری کو انہوں نے زائد از پچاس سال اس اخلاص اور جان نثاری اور وفاداری اور محنت سے نبھایا جو ہر احمدی کے لئے قابل رشک ہے میں نے ایسے بے ریا اور جانفشانی سے کام کرنے والے بہت کم لوگ دیکھے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ خدا انہیں اس پاک گروہ میں داخل فرمائے گا جن کے متعلق وہ فرماتا ہے کہ مِنھم مَن قَضیٰ نحبہ‘ وہ انتہائی عمر تک جب کہ وہ قریباً ۸۰ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اس والہانہ جذبہ کے ساتھ کام کرتے تھے کہ دل سے دعا نکلتی ہے۔ ان کا آخری خاص کارنامہ پانچ ہزار مجاہدین تحریک جدید کی کتاب کی تیاری اور اشاعت تھی ابھی چار پانچ دن کی بات ہے جب کہ وہ بے حد کمزور ہو چکے تھے اور گویا ان کے آخری سانس تھے۔ انہوں نے میاں عزیز احمد صاحب ایم۔ اے ناظر اعلیٰ کی زبانی مجھے یہ پیغام بھجوایا کہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی وفات سے جو خلا تبلیغ کے میدان میں پیدا ہوا ہے اسے جس طرح بھی ممکن ہو پورا کرنیکی کوشش کی جائے تاکہ سلسلہ کے تبلیغی کام میں روک نہ پیدا ہو۔ میری دلی دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ چوہدری برکت علی خاں صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کی اولاد کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں رکھے اور جماعت کو ان کا بدل عنایت کرے آمین یا ارحم الراحمین
    چوہدری صاحب کو جنازہ بھی ایسا نصیب ہوا جو بہت کم لوگوں کو میسر آتا ہے کیونکہ ایک تو جمعہ تھا اور دوسرے مشاورت کی وجہ سے بیرونی مہمان بھی بڑی کثرت سے آئے ہوئے تھے۔ ۴۹
    اولاد
    (محترمہ رحیمن بی بی صاحبہ کے بطن سے)
    ۱۔ حمیدہ بیگم صاحبہ (زوجہ چوہدری محمد اسمٰعیل خاں صاحب کاٹھ گڑھی
    یکے ازرفقاء مسیح موعودؑ)
    (محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ کے بطن سے)
    ۲۔ سروری بیگم صاحبہ
    ۳۔ چوہدری مبارک احمد خاں صاحب
    ۴۔ چوہدری کرامت احمد خاں صاحب
    ۵۔ چوہدری بشات احمد خاں صاحب
    ۶۔ چوہدری سعادت احمد خاں صاحب
    ۷۔ امتہ الحفیظ صاحبہ
    ۸۔ چوہدری رفاقت احمد صاحب ۵۰
    چوہدری دولت خان صاحب کاٹھ گڑھی
    (ولادت تقریب ۱۸۷۰ء بیعت ۱۹۰۵ء وفات ۱۲ ۔ اپریل ۱۹۶۰ء ) ۵۱
    چودھری دولت خان صاحب کاٹھ گڑھضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے آپ محکمہ جنگلات میں ملازم تھے۔ آپ جب احمدی ہوئے تو آپ کا افسر ناراض ہو گیا اور کہا دولت خاں اب میں دیکھوں گا کہ تمہیں کون ترقی دلاتا ہے؟ آپ نے فرمایا اگر اﷲ تعالیٰ ترقی دینا چاہے گا تو کوئی روک نہیں سکتا ۔ جب موقع آیا اور آپ کے افسر کو بالا افسر کا حکم پہنچاکہ اپنے ماتحتوں کی ترقی کے لئے سفارش کرو تو آپ کے افسر نے آپ کی بجائے کسی دوسرے آدمی کی سفارش کر دی۔ بالا افسر کیطرف سے منظوری کے کاغذات آئے تو اُن میں لکھا تھا کہ ترقی دولت خاں کو دی جاتی ہے۔ آپ کا افسر حیران رہ گیا۔ اس نے دوبارہ لکھا تو بالا افسر کا حکم آیا کہ ہمارے پہلے حکم کی تکمیل کرو ترقی دولت خاں ہی کو دی جاتی ہے۔
    سیدنا حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ کے جو افضال آپ پر ہوئے ہمیشہ ان کا ذکر کرتے تھے۔ تبلیغ کا آپ کو بہت جوش تھا دعوت الی اﷲ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے ۔ ہر چھوٹے بڑے کو پیغام حق پہنچاتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میرابھائی مجھے مولوی ثناء اﷲ صاحب کے پاس امرتسر لے گیا۔ جب مولوی صاحب سے آپ کی گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں مرزا صاحب اپنے ماننے والوں کو کیا پڑھا دیتے ہیں۔ ہر سوال کا جواب اُن کے پاس پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ ۱۹۲۳ء میں ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ قیام پاکستان تک جماعت احمدیہ کاٹھ گڑ ھ کے سیکرٹری مال رہے اور اس کام کو نہایت محنت اور خوش اسلوبی سے ادا کیا۔ ۱۹۴۷ء میں کاٹھ گڑھ سے ہجرت کر کے چک ۴۹۷؍ج۔ب تحصیل شور کوٹ ضلع جھنگ میں آباد ہو گئے اور ۱۹۵۹ء تک مسلسل سیکرٹری مال اور پریزیڈنٹ جماعت کے طور پر خدمات بجا لاتے رہے۔ چندہ
    باقاعدہ ادا فرماتے اور دوسروں سے بھی وصول کر کے مرکز کو بروقت ارسال کرتے تھے۔ سلسلہ
    کے کارکنوں کی خصوصیت سے بہت مہمان نوازی کرتے اور باوجود بوڑھے اور کمزور ہونے کے
    خود کھانا لا کر مہمان کے آگے پیش کرتے۔ آپ مجاہد مشرقی افریقہ مکرم مولوی عنایت اﷲصاحب
    خلیل کے حقیتی چچا تھے۔ ۵۲
    اولاد
    ۱۔ چوہدری علی محمد صاحب
    ۲۔ چوہدری محمد علی صاحب
    ۳۔ لطیفہ بیگم صاحبہ
    چوہدری محمد علی خاں صاحب اشرف ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر
    (ولادت ۱۶؍اکتوبر ۱۸۸۳ء بیعت ۱۹۰۳ء وفات ۱۶؍جون ۱۹۶۰ ) ۵۳
    چوہدری محمد علی صاحب اشرف اپنی سوانح میںلکھتے ہیں۔
    ’’خاکسار ۱۶؍اکتوبر ۱۸۸۳ ء میں پیدا ہوا اور سوا چار سال کی عمر میں تعلیم شروع کی۔ ورنیکلر مڈل پاس کر کے محکمہ پٹوار میں داخل ہو کر ہوشیار پور پہنچا مگر وہاں سے دل برداشتہ ہو کر اسلامیہ ہائی سکول ہوشیار پور میں انگریزی تعلیم حاصل کرنے لگا۔ اور چند مہینوںمیں اینگلو مڈل بڑی شان و شوکت سے پاس کیا۔ اوائلِ زندگی قبر پرستی میں گذری مگر ہوشیارپور میں میرے خیالات آریہ سماج میں جانے کی وجہ سے دہریت اور پھر آریہ مت کی طرف منتقل ہو گئے اور اینگلو مڈل بڑی تزک و احتشام سے پاس کرنے کی وجہ سے آریہ سماج میری عاشق ہو گئی اور اس نے مجھے اپنی طرف راغب کرنے کے لئے اور اپنے سکول میں لے لینے کی خاطر بے حد جدوجہد شروع کر دی اسی دوران میں میاں اکبر علی مرحوم تاجر کتب ہوشیار پور سیمیری جان پہچان ہو گئی وہ خفیہ احمدی تھے۔ انہوں نے دریافت کیا اب کیا ارادہ ہے؟میں نے آریہ مت قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا وہ کہنے لگے کہ کیوں میں نے جواب دیا کہ اسلام میں کیا رکھا ہے۔ سماج میں تو مزے ہی مزے ہیں خوب بھجن ہوتے ہیں۔ راگ رنگ اور طرح طرح کے نظاروں سے طبیعت خوب بہلتی ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ قبل اس کے تم آریہ مت اختیار کرو۔ پہلے اسلام کی چھان بین کر لو۔ میں نے پوچھا کہ کہاں کروں؟ مولوی لوگ تو برائے نام مسلمان ہیں۔قُلاَعوذیئے ۔ جمعراتیئے اور ختم وغیرہ پڑھ کر روٹی کھانے والے ہیں۔ یوں ہی بگلا بھگت دکھائی دیتے ہیں۔ بسم اﷲ کے معنی پوچھو تو بتلاتے نہیں۔ لمبی لمبی تسبیحیں پھیر کر گنڈے تعویذوں سے مسلمانوں کا مال ڈکار تے ہیں یوں ہی تقدس مآب بنے ہوئے ہیں اور
    ؎
    واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منر می کند


    چوں بخلوت شامیروندآں کاردیگر می کند

    کے مصداق ہیں۔ خیر انہوں نے باصرار کہا کہ میں جگہ بتلاتا ہوں وہاں پہنچ کر اسلام کی تحقیقات کرنے کے بعد جو چاہو کرنا۔ مگر پہلے وعدہ کرو کہ کسی کو بتلائے بغیر وہاں چلے جاؤ گے میں نے کہا ہاں۔ وہاں ضرور جاؤں گا۔ انہوں نے مجھے قادیان مغلاں کی طرف رہنمائی کی۔ وہاں سے چھوٹتے ہی اپنے والد بزرگوار سے رشہ داروں سے ملنے کا بہانہ کر کے سیدھا پیدل قادیان پہنچ گیا۔ اور حضرت حکیم الامۃ کے درس مبارک میں داخل ہوا۔ جو کہ آپ اپنے عمر رسیدہ شاگردوں کو اپنے مطب میں حدیث وفقہ اور طب وغیرہ کا درس دیتے تھے۔ آپ نے درس میں شامل کر کے مجھ غریب سے دریافت فرمایا بچے کہاں سے آئے ہو؟ کیا مطلب ہے؟ میں نے اپنا مدعا ظاہر کیا۔ پھر فرمایا کچھ پڑھے لکھے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اینگلوورنیکلر مڈل پاس ہوں۔ آپ نے نہایت پیار سے مجھے مولوی قاضی یا رمحمد صاحب (وکیل نور پور) کے سپرد کر کے فرمایا کہ مفتی صاحب ( حضرت مفتی محمد صادق صاحب) کے پاس لے جاؤ اس کی دینی و دنیوی تعلیم کا انتظام کریں گے۔ حضرت مفتی صاحب نے مجھے مہتمم لنگرخانہ و مہمانخانہ کے سپرد کر کے فرمایا کہ صبح کو سکول حاضر ہو جاؤ۔ سب بندوبست ہو جائے گا۔ اگرچہ میرے خیالات پراگندہ تھے۔مگر پنجگانہ نمازی تھا۔ مسجد میں آمدورفت کے باعث معلوم ہوا کہ ہم سنی ہیں اور یہاں کے باشندے وہابی دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک روز نماز ظہر یا عصر پڑھ کر نکلنے لگا تو جماعت کی صف بندی شروع ہو گئی۔ مجھے ایک عمر رسیدہ بزرگ نے زبردستی جماعت کے ساتھ شامل ہونے کے لئے کہا۔ میں نے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے کہ بابا میں نماز پڑھ چکا ہوں مگر نقارخانہ میں طوطی کی صدا کون سنتا ہے۔ مجھے جبراً شامل کیا گیا۔ مرتا کیا نہ کرتا طَوْعاً وَ گرْھاً کھڑا ہو گیا۔ مگر دل میں یہی دعا کرتا رہا کہ الہٰی میرا گناہ بخشیومیں دیدہ و دانستہ ان کے ساتھ شامل نہیں ہوا۔ بعدازاں قادیان سے بھاگ نکلنے کا مصمم ارادہ کر لیا اور حضرت مفتی صاحب سے اجازت چاہی ۔ آپ نے بے حد محبت و پیار سے مجھے روکنا چاہا۔ مگر بدگمانی کا بھوت مجھے کہاں ٹکنے دیتا تھا۔ میں بے تحاشا بھاگا اور دریائے بیاس سے پار ہو کر اپنے رشتہ داروں کے پاس پہونچ گیا وہاں میری تلاش میں والد بھی پہونچے ہوئے تھے وہ آپس میں چہ میگوئیوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا قادیان سے۔ شامتِ اعمال دیکھیئے کہ چند حقہ باز
    ملاّ نے بھی موجود تھے۔ بس پھر کیا تھا۔ کہرام مچ گیا ہر طرف سے مجھ پر بپھر پڑے۔ کہ تم وہاں کیوں گئے وہاں تو ایک شخص اپنے آپ کو خدا بتاتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ میں عیسیٰ ہوں۔ اور امام مہدی ہوں۔ غرضیکہ سب کے سب حضرت اقدس مرزا صاحب کی شانِ مبارک میں بکواس کرنے لگ گئے۔ میں نے کہا کہ اﷲ گواہ ہے کہ جتنے دن بھی قادیان رہا ایک دن بھی میں نے نہ سنا کہ یہاں کوئی شخص اپنے آپ کو خدا کہتا یا عیسیٰ بنتا ہے۔ میں نے ہر چند اُن لوگوں سے کہا کہ ایسا وہاں کوئی شخص نہیں ۔ مگر میری ایک نہ سنی گئی۔ آخر مجھے یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ اچھا بھئی اگر وہاں کوئی شخص ایسا ہے جو خدا بنتا اور مہدی و عیسیٰ بنتا ہے تو میں تو پہلے ہی خدا کا متلاشی ہوں اور اسی دھن میں لگا پھرتا ہوں او ر اگرچہ وہاں سے میں بے حد اداسی میں اور قادیان کے باشندوں کو وہابی پا کر اور اُن سے متنفر ہو کر آیا ہوں مگراب میں دو بارہ ضرور وہاں اُس خدا کو دیکھنے جاؤں گا۔ خواہ تم مجھے کتنا ہی تنگ کرو۔ میں ہٹ دھرمی اور ضدی مشہور تھا۔ مجھے طرح طرح سے ورغلاتے کہ تم علیگڑھ۔ دیوبند یا دہلی لکھنؤ چلے جاؤ۔ جتنا خرچ ماہوار مانگو گے دیا جائے گا۔ مگر قادیان مت جاؤ مگر
    ع
    زمین جنبد نہ جنبد گل محمد

    میں ذرا بھی ٹس سے مس نہ ہوا اور بس دہراتا رہا کہ اس خدا کو ضرور دیکھنے جاؤں گا۔ دوسرے دن علی الصباح اپنے والد صاحب بزرگوار کو ہمراہ لیکر قادیان پہنچ گیا۔ وہ میرے ساتھ اس لئے گئے کہ میں کہیں اور جگہ نہ چلا جاؤں ۔قادیان پہنچتے ہی حضرت مفتی صاحب سے ملا کہ مفتی صاحب آپ مجھے خدا دکھادیں۔ وہ کہاں ہے۔ حضرت مفتی صاحب مجھے دیکھ کر حیران تھے کہ کل تو یہاں سے ایسابھاگا تھا جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔ آج پھر یہاں کیسے براجمان ہو گیا۔ مگر میں بار بار دوہراتا رہا کہ مجھے وہ خدا دکھا دو۔ میں تو اُسے دیکھنے آیا ہوں۔ کیونکہ کل راستہ میں مجھے لوگوں نے متفقہ طور پر یہ بات بتلائی ہے کہ قادیان میں ایک شخص خدا اور عیسیٰ بنتا ہے۔ حضرت مفتی صاحب تاڑ گئے کہ اسے خدا دیکھنے کا جنون ہے فرمانے لگے کہ اچھا ہمارے پا س ٹھہرو۔ ہم سب کچھ دکھادیں گے مگر یہ کام جلد نہ ہو گا۔ ذرا دھیرے دھیرے ہو گا۔ آپ نے اپنی کمال روشن ضمیری اور دوراندیشی سے مجھے سنبھال لیا اور چند دن کی ردّوکد کے بعد مجھے اصلی معنوں میں دیندار بنا کر سچ مچ خدا دکھا دیا اور حضرت امام صادق مسیح موعود و مہدی مسعود سے ملا دیا۔ جب اچھی طرح میری تسلی ہو گئی تو میں نے حضرت مفتی صاحب سے عرض کیا کہ میں بیعت کروں گا غالباً مئی ۱۹۰۳ء کا آخر تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے دستِ مبارک پر بیعت سے مشرف ہوا۔
    مجھے یہ بھی شرف حاصل ہے کہ میرے ہم کلاس حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اﷲ بنصرہِ العزیز اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے جیسے بزرگ و محترم ہستیاں تھیں ۔ اور حضرت خلیفہ اوّل کا درس سننے اور قرآن کریم کے معارف و نکات سے مستفید ہونے کا سنہری موقع مل گیا۔ حضرت مولانا مولوی شیر علی صاحب فرشتہ خصلت اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب ہفت زبان۔ علاّمہ زماں حضرت مولوی سرور شاہ صاحب اور حضرت قاضی امیر حسین صاحب جیسے مفسر قرآن اور شاعر بے بدل فردوسی ثانی ملک الشعراء حضرت مولوی عبید اﷲصاحب بسملؔ جیسی بزرگ و یکتا ہستیوں کے شاگرد بننے کا فخر حاصل ہوا ‘‘۔ ۵۴
    ’’۱۹۰۶ء کا ذکر ہے جبکہ خاکسار ریلوے ڈیپارٹمنٹ لاہور میں ملازم تھا کہ پرائیویٹ امتحان انٹرینس دینے کا ارادہ کر کے ملازمت ترک کرنا چاہی۔ میرے متعلق میرے اکثر اساتذہ اور پھر حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (جو ان دنوں صاحبزادگی کی حالت میں خاکسار کے ہم جماعت تھے) کا خیال تھا۔ کہ خاکسار خواہ نو سال تک کسی گورنمنٹ ہائی سکول میں داخل ہو کر امتحان میٹرک پاس کرنا چاہے تو ایسا ہرگز نہ ہو گا۔ میں ایسا خیال رکھنے والے تمام اصحاب کو کہا کرتا تھا کہ خدا کی ذات اس بات پر قادر ہے کہ بجائے نو سال محنت اُٹھانے کے پہلی دفعہ ہی پاس کر دے۔ چنانچہ خاکسار نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمتِ مقدسہ میں ایک عریضہ تحریر کر کے امتحان دینے اور ملازمت ترک کرنے کی اجازت چاہی حضرت نے فوراً باہر دروازے پر تشریف فرما ہو کر مجھ غریب کو سمجھانا چاہا کہ ملازمت کیوں چھوڑتے ہو‘‘ ملازمت چھوڑنا اچھا نہیں ہوتا خاکسار نے عرض کیا کہ حضرت اگر میں انٹرینس پاس کرلوں تو ملازمت میں مجھے خاصی ترقی مل سکتی ہے۔ وَاِلاَّ میں معمولی درجہ پر رُکا رہوں گا۔ حضرت نے مجھ سے یہ عرض سننے پر اظہارِ مسرت فرما کر مجھے پیار کر کے فرمایا۔ اچھا جاؤ اجازت ہے۔ میں دعا کروں گا پاس ہو جاؤ گے۔ چنانچہ میں نے پرائیویٹ طور پر محنت کر کے امتحان دے دیا اور پاس ہو گیا۔
    پھر قادیان میں اپنے اساتذہ اور حضرت صاحبزادہ صاحب سے مل کر خوشخبری سنائی تو سب حیران رہ گئے اور میری بات پر یقین نہ کرتے تھے۔ مگر جب میں نے حصرت اقدس سے اجازت اور دعا کرنے کا واقعہ سنا کر یونیورسٹی پنجاب کا مطبوعہ کارڈ دکھایا تو سب فرمانے لگے کہ تم معجزانہ رنگ میں پاس ہوئے ہو الحمد ﷲ۔ ۵۵
    چودھری صاحب نہایت منکسر المزاج‘ سلسلہ کے فدائی اور مخلص بزرگ تھے ۱۹۱۳ء میں اخبار ’’بدر‘‘ قادیان کے جائنٹ ایڈیٹر رہے کچھ عرصہ اخبار ’’الاسلام‘‘ (لاہور) کی ایڈیٹری کے فرائض انجام دئے مگر عمر کا کثیر حصہ محکمہ تعلیم کی ملازمت میں بسر کیا ۔ ۵۶
    آپ کی قابلیت انتظامی کا اتنا شہرہ ہوا کہ کئی سکولوں کے ہیڈ ماسٹر بنے۔ آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ کئی مباحثات پیش آئے سب میں فتحمند رہے مدمقابل پر چھا جاتے تھے۔ ۵۷
    تقسیم ملک سے قبل اپنے وطن بیرم پور میں سلسلہ احمدیہ کی خدمات بجا لاتے رہے ہجرت کے بعد قصبہ چنیوٹ ضلع جھنگ کے محلہ گڑھا گلی کتیال مکان نمبر ۳۱۸۷ میں پناہ گزین ہوئے اور تادم واپسی اپنے اکلوتے بیٹے احمد علی صاحب پٹواری کے پاس رہے اور یہیں انتقال کیا۔
    چودھری صاحب کا مذاق شعر و سخن بھی بہت پاکیزہ تھا۔ آپ کی شاعری کا آغاز حضرت مسیح موعود کے عہد مبارک میں ہوا چنانچہ آپ کی بعض نظمیں اُس دور کے بدر میں چھپی ہوئی ہیں۔ آپ کی اردو اور پنجابی منظومات ’’ ترانہ اشرف‘‘ ’’ریاض النور‘‘تائید حق‘‘
    ’’سہ حرفیاں‘‘ ’’بارہ ماہ‘‘ اور ’’دیوانِ اشرف‘‘ کے نام سے آپ کی زندگی میں ہی چھپ گئی تھیں۔
    میاں شیخ محمد صاحب قریشی
    (زیارت ۱۸۹۳ء بیعت ۱۹۰۳ء ۵۸ وفات ۶؍جون ۱۹۶۰ء )
    آپ قادیان کے قدیمی باشندوں میں سے تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ عالم بی بی صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں داخل سلسلہ عالیہ احمدیہ ہوئیں۔ اس اعتبار سے آپ پیدائشی احمدی تھے۔ آپ نے اپنی ملازمت کا طویل عرصہ جو تقریباً تیس سال تک ممتد ہے قادیان میں بحیثیت پوسٹ مین گذارا۔ ہجرت کے بعد کچھ عرصہ ربوہ اور لاہور میں رہے۔
    اولاد
    ۱۔ قریشی محمد عبداﷲ صاحب ربوہ
    ۲۔ قریشی عطاء اﷲ صاحب ربوہ
    ۳۔ قریشی عبدالغنی صاحب لاہور ۵۹
    میاں بدر الدین صاحب مالیر کوٹلوی
    (ولادت ۱۸۸۲ء اندازاً ۶۰بیعت و زیارت ۱۹۰۰ء ۶۱
    وفات۳؍جولائی ۱۹۶۰ء )۶۲
    میاں بدرالدین صاحب سادہ طبیعت رکھنے والے نہایت مخلص بزرگ تھے آپ کے والد میاں گل محمد صاحب حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے ملازموں میں سے تھے جو آپ کی معیت میں ۱۹۰۰ء میں مالیرکوٹلہ سے مستقل طور پر قادیان آ گئے تھے۔ آپ اپنے والد کے ساتھ عرصہ تک الدار میں پانی پہنچانے کی خدمت بجا لاتے رہے بلکہ جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور میں مقدمہ کے دوران تشریف فرما تھے تو پانی بھرنے کی غرض سے آپ کو قادیان سے بلایا گیا حضور ؑکو آپ کے پہنچنے کی اطلاع ہوئی تو شیخ حامد علی صاحب کو ارشاد فرمایا کہ دیکھو اس لڑکے کو اعلیٰ کھانا کھلایا کرو۔ اس پر آپ نے عرض کیا کہ حضور میرے لئے تو حضور ؑکے دستر خوان کا بچا کھچا کھانا ہی اعلیٰ ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی شادی ہوئی تو الدار کے جن خادموں کو انعام دیا گیا اُن میں آپ بھی تھے اس موقع پر حضور ؑنے اپنے دستِ مبارک سے آپ کو سرخ رنگ کی ایک لُنگی اور مبلغ ۵ روپے عطا فرمائے۔ آپ نے لُنگی لے لی اور روپے واپس حضور ؑکے ہاتھ پر رکھ کر کہا کہ حضور ؑیہ میری طرف سے چندہ ہے جسے حضور ؑنے قبول فرما لیا۔ آپ کی بیوی کو صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب مرحوم ابن حضرت مصلح موعود کو دودھ پلانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی چنانچہ آپ کی روایات میں یہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ یہ عاجزاندر والے کنویں پر سے پانی بھر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام تشریف لائے اور فرمایا۔ میاں بدر الدین ہمارے بچے کی والدہ بیمار ہے اور بچے کو دودھ پلانا ہے۔ (بچے سے مراد صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب مرحوم حضور کے پوتے ہیں) اور معلوم ہوا ہے کہ آپ کی بچی فوت ہو گئی ہے اور آپ کی بیوی کا دودھ ابھی تازہ ہے۔ اس پر میں نے عرض کی کہ حضور ؑمیری بیوی نے تو ابھی غسل وغیرہ (جسے عام طور پر چھلہ کہتے ہیں)بھی کرنا ہے۔ اور لوگ ایسی حالت میں عورت کا دوسروں کو دودھ پلانا بہت بڑا منحوس کہتے ہیں۔ اس پر حضور ؑنے فرمایا کہ نہیں نہیں یہ سب باتیں شرک ہیں۔ اگر آپ منظور کرتے ہیں تو اپنی بیوی کو ہمراہ لے آئیں۔ اس پر عاجز نے آکر اپنی بیوی سے کہا اور پھر اُسے اپنے ہمراہ لے گیا۔ اور جا کر حضور کو اپنے آنے کی اطلاع کر دی حضور باہر تشریف لائے اور ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب سے فرمانے لگے کہ ’’ ڈاکٹر صاحب ان کے دودھ کا معائنہ کریں‘‘ اس پر ڈاکٹر صاحب نے میری بیوی کے دودھ کو دیکھا اور حضور سے کہنے لگے کہ حضور دودھ بالکل صاف ہے۔ پھر حضور نے بچے کو منگوایا اور اُسے دودھ پلانے کو کہا تو میری بیوی نے بچے کو اُٹھا کر دودھ پلانا شروع کر دیا اور بچے نے بھی دودھ پینا شروع کر دیا‘‘۔ ۶۳
    ہجرت قادیان سے قبل آپ ریتی چھلہ میں سبزی فروشی کا کام کرتے تھے۔ ہجرت کے بعد ربوہ میں رہائش اختیار کر لی بعد ازاں دو سال تک سندھ میں رہے اور وفات سے ہفتہ عشرہ قبل بیماری کی حالت میں ربوہ واپس آئے حضرت مرزا بشیراحمد صاحب نے فضل عمر ہسپتال میں آپ کے علاج معالجے کا اہتمام کر دیا اور مجلس خدام الاحمدیہ حلقہ گولبازار نے آپ کی تیمارداری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن آپ اس بیماری سے صحت یاب نہ ہو سکے اور ۳؍جولائی ۱۹۶۰ء کو اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔ ۶۴
    محترم سردار کرم داد خان صاحب افسر حفاظت
    (ولد ولی داد خاں صاحب)
    (ولادت ۱۸۷۵ء بیعت و زیارت ۱۹۰۲ء ۶۵ وفات۲۸؍اگست ۱۹۶۰ء)
    محترم سردار کرم دادخاں صاحب فرماتے ہیں۔
    ’’ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بیعت کرنے سے پہلے خواب میں دیکھا۔ وہ اس طرح کہ ایک سڑک ہے۔ اس پر حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مل کر ٹہلتے آ رہے ہیں۔ بندہ سامنے سے آ رہا ہے۔ حضرت محمد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم)بندہ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔ (انگلی کا اشارہ کر کے) کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ یعنی تین دفعہ حضور نے فرمایا۔ جب میں نے ۱۹۰۲ء میں بمقام قادیان دارلامان میں جبکہ چھوٹی مسجد ہوا کرتی تھی۔ بیعت کی تو اسی حلیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پایا پھر بیعت کے وقت میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی۔ کہ میری برادری سب شیعہ ہے۔ حضور دعا فرمائیں۔ حضور نے فرمایا۔میں نے دعا کر دی ہے۔ (اب ہمارے سب رشتہ دار جو شیعہ تھے احمدی ہو چکے ہیں)
    پھر میں نے حضور کا خطبہ مسجد اقصیٰ میں سنا۔ حضور نے ’’ یاتون من کل فج عمیق‘‘ فرمایا۔ اور فرمایا۔ کہ کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اور فرمایا۔ تمہارے درمیان وہی مسیح بول رہا ہے۔ جس کی خبر خدا نے دی تھی اور اس کے رسول نے دی تھی۔ اس کے بعد پھر میں نے حضور کی زیار ت ۱۹۰۴ء بمقام گورداسپور کی تھی۔ جب حضور پر کرم دین بھین والے نے مقدمہ کر رکھا تھا۔ اتنے دن ٹھہرا رہا ہوں۔ جب تک مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہو گیا۔ جب مجسٹریٹ نے پانچ صد روپیہ جرمانہ کیا۔ خواجہ کمال الدین نے فوراً روپیہ آگے رکھدیا۔ بندہ عدالت میں موجود تھا۔ اس کے بعد بندہ ملازم ہو کر بمقام شب قدر علاقہ پشاور میں تھا۔ کہ حضور کے وصال کی خبر پہنچی ۔ بندہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کی۔ درمیانی جھگڑوں کا بھی علم ہوتا رہا۔ چنانچہ جب ایک مجلس بیت مبارک میں منعقد کی گئی۔ بندہ اس میں حاضر تھا ۔ مولوی محمد علی صاحب ‘صدر الدین صاحب‘ خواجہ کمال الدین وغیرہ چاہتے تھے کہ مدرسہ احمدیہ قائم نہ ہو۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تجویز کردہ تھا۔ بہت جوش کے ساتھ تقریریں کرتے رہے۔اور کہتے تھے۔ ہم نے کوئی ملاّں پیدا کرنے ہیں۔ جنہوں نے آگے دین کا ستیاناس کیا ہے۔ جب خواجہ صاحب کا لیکچر ختم ہوا۔ تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ جب حضور نے صدر کی اجازت لے کر لیکچر شروع فرمایا۔ تو خواجہ صاحب کا جو اثر مجلس کے اکثر افراد پر تھا۔ کافور ہو گیا۔ بلکہ جب حضور نے یہ فرمایا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنکھیں بند کرنے کے بعد ہی حضور کے ارادوں پر پانی پھیرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ تو لوگوں کی چیخیں نکل گئیں‘اور مسیح موعود اعلیہ السلام کے فدائی زاروقطارروئے اور سب نے حضور کے ساتھ اتفاق کیا کہ مدرسہ احمدیہ ضرور ہونا چاہیئے۔ پھر جب حضرت صاحب خود خلافت کے منصب پر متمکن ہوئے بندہ چھاؤنی لاہور میں موجود تھا۔ ادھر حضرت مولوی صاحب کی وفات ہوئی۔ ادھر ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب وغیرہ فوراً ہمارے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ بیعت میں جلدی نہ کرنی چاہیئے۔ میں نے کہا۔ جب خلیفہ خدابناتا ہے۔ تو اس میں جلدی یا نہ جلدی کے کیا معنے ہوئے۔ جس کو خدا خلیفہ بنائے گا۔ ہم بیعت کر لینگے۔ مگر آپ کے یہاں آنے سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ اگر حضرت محمود خلیفہ ہوئے۔ تو آپ لو گ بیعت نہیں کرینگے۔ ہاں اگر محمد علی خلیفہ ہوئے۔ تو ضرور بیعت کرلینگے۔بس میرا اتنا کہنا تھا۔ کہ محمد حسین شاہ صاحب سخت غصّہ میں بھر گئے۔ اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ کہنے لگے کہ تم لوگ اپنے بھائیوں پر بدظنی کرتے ہو۔ تم کو کیا معلوم ہے۔ کہ ہم بیعت کر لیں گے۔ کہ نہیں۔میں نے کہا ۔ یہاں آپ کے آنے کا کیا مطلب تھا۔ بندہ ہر جلسہ پر حاضر ہوتا رہا ہے۔ سوائے دو سال کے جب مجھے ملازم ہونے کی حالت میں عدن بھیجا گیا۔ بندہ نے ۱۹۳۱ء میں پنشن لے لی۔قادیان دارالامان میں مستقل طور پر آ گیا۔ کیونکہ مکان ہم نے ۱۹۱۹ء میں یہاں بنا لیئے تھے۔ بندہ نے آتے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ بنصرہِ العزیز کی خدمت میں لکھ بھیجا۔ کہ میں اپنی زندگی سلسلہ کے کاموں کے لیئے وقف کرتا ہوں۔ بندہ کو یہاں آتے ہی محلوں سے چندہ وصول کرنے پر لگایا گیا۔ پھر سیکرٹری وصایا مقرر کیا گیا۔ پھر انسپکٹر وصایا بنایا گیا۔ بعد میں باقاعدہ دفتر بہشتی مقبرہ میں کام کرنا شروع کیا۔ اور دفتر والوں نے مجھے کہا۔ کہ حضور نے آپ کی وقف زندگی پر خوشی کا اظہار فرمایا ہے۔ آپ یہاں ہی کام کرتے رہیں۔ اس کے بعد ۱۹۳۴ء تک میں دفتر میں ہی کام کرتا رہا۔ جب ۱۹۳۴ء میں احرار کا جلسہ ہوا۔ تو حضرت میاں شریف احمد صاحب سلمہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے دفتر بہشتی مقبرہ سے نکال کر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کی حفاظت کا افسر انچارج مقرر فرمایا۔ اس وقت سے بندہ اسی کام پر مقرر ہے۔ خاکسار کرم داد خاں پنشنر قادیان دارالامان ۳۸۔۱۔۲۷‘‘ ۶۶
    محترم سردار صاحب ۱۹۳۴ء سے ۱۹۴۷ء تک پہرے کے انچارج کی حیثیت سے نہایت خوش اسلوبی اور مستعدی اور فرض شناسی سے خدمات بجا لاتے رہے۔آپ سلسلہ احمدیہ کے سچے اور مخلص فدائی تھے اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کو بے حد محبت تھی۔ سلسلہ کی مالی تحریکات میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ موصی تھے اور جائیداد کے ۳؍۱ اور آمدنی کے ۹؍۱ حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی۔ اسی طرح تحریک جدید کے مالی جہاد میں بھی آپ برابر حصہ لیتے رہے آپ کو حضرت پیر منظور محمد صاحب اور حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحب ہلال پوری کی دامادی کا شرف حاصل تھا۔ ۶۷
    ۱ولاد
    (محترمہ حامدہ بیگم صاحبہ بنت حضرت پیر منظور احمد صاحب کے بطن سے)
    ۱۔محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ (اہلیہ چودھر ی مظفر الدین صاحب بنگالی
    سابق ایڈیٹر ریویوآف ریلیجنز)
    ۲۔ امینہ فرحت صاحبہ (اہلیہ چوہدری عبدالرحمن صاحب بنگالی سابق ٹیچر
    تعلیم الاسلام ہائی سکول و مبلغ امریکہ)
    حضرت بابو افضل خاں صاحب بٹالوی
    (ولادت اندازاً ۱۸۸۰ء بیعت اندازاً ۲۔۱۹۰۱ء
    وفات ۲۸؍ستمبر ۱۹۶۰ء ۔)
    آپ کے بزرگوں کا اصل وطن دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گورداسپور تھا۔ آپ کے دادا بٹالہ میںاٹھ آئے اور ککے زئیوں کی گلی میں مقیم ہو گئے۔ آپ کے والد میاں میر محمد کی ساری عمر تعلیم و تدریس میں گذری ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے ان کے پرانے مراسم تھے۔ ۶۸مگر قبول احمدیت کی توفیق اُن کی بجائے آپ کو نصیب ہوئی۔ آپ اپنے خاندان میں سب سے پہلے احمدی تھے۔ آپ نے اپنے بڑے بھائی شیخ غلام قادر خاں صاحب ۶۹ (والد مولانا عبدالمجید خاں سالکؔ مدیر ’’ انقلاب ‘‘) کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں بھیجیں اور اخبار بدر جاری کرایا۔ ۷۰ وہ سیدّنا حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ملاقات کا شرف حاصل کیا بعد ازاں بیعت حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے عہد میں بذریعہ خط کی اور پھر اپنے نمونہ‘ دعا اور تبلیغ سے پٹھانکوٹ میں ایک مخلص جماعت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اس طرح حضرت بابوافضل خاں صاحب کا وجود نہ صرف اپنے خاندان کو بلکہ علاقہ پٹھانکوٹ کو احمدیت سے منور کرنے کا ذریعہ ثابت ہوا۔
    شیخ غلام قادر خاں صاحب کے صاحبزادے محترم عبدالجلیل خاں صاحب عشرتؔ (بی اے آنرز) حضرت بابو صاحب کے حالاتِ زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں
    ’’مرحوم حضرت مسیح موعود الصلوٰۃ والسلام کے مخلص رفقاء میں سے تھے۔ بڑے عابد و زاہد اور تہجد گزار بزرگ تھے۔ غالباً ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کی بیعت کی۔ ہمارے خاندان میں اُنہی کی بد ولت احمدیت آئی ان کے بیعت کرنے کے بعد میرے والد حضرت شیخ غلام قادر صاحب پٹھانکوٹی نے احمدیت قبول کی اور اسی طرح یہ نعمت ہمارے خاندان کے حصہ میں آئی۔ الحمد ﷲ علیٰ ذالک۔
    چچا صاحب مرحوم ریذیڈنٹ وزیرستان کے دفتر سے بحیثیت سپرنٹنڈنٹ ریٹائر ہوئے اور پھر اپنے وطن مالوف بٹالہ میں قیام پذیر ہو گئے۔ پاکستان بننے کے بعد لاہور میں آ گئے۔سوئے اتفاق سے یہاں کوئی ڈھب کا مکان رہائش کے لئے نہ ملا۔ اس لئے کچھ تکلیف ہی میں رہے۔۶ سال ہوئے ان کی جوان بیٹی بیوہ ہو گئیں ۔ قدرتی طور پر انہیں بے حد صدمہ پہنچا۔ پھر بے سروسامانی کی حالت میں یہ صدمہ اور بھی زیادہ رُوح فرسا تھا۔لیکن مرحوم نے صبرورضا کا ایسا نمونہ دکھایا کہ جس کی مثال کم ہو گی۔ کبھی اُف تک نہ کی۔ اپنی موجودہ حالت کے متعلق بھی کبھی حرف شکایت لب تک نہ آنے دیا۔
    نہایت نیک اور پاکباز انسان تھے۔ روپیہ پیسہ کے معاملہ میں بہت محتاط اور کھرے تھے۔ دیانتداری اور راستبازی ان کی خاص صفتیں تھیں۔ بڑی بارعب شخصیت تھی۔ ذاتی و جاہت اور تقویٰ و طہارت کی وجہ سے ہر شخص ان کا احترام کرتا تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ایدہ تعالیٰ بنصرہٖ العزیز سے بہت محبت تھی۔ آپ کے خلیفہ منتخب ہونے پر بلاتامل بیعت کی۔ حضور ڈلہوزی جاتے ہوئے اکثر پٹھان کوٹ میں قیام فرمایا کرتے تھے۔ اور میرے والد مرحوم کو حضور سے ملاقات کا موقعہ ملتا رہتا تھا۔ ایک دفعہ حضور معہ دیگر افراد خاندان از راہ نوازش ہمارے غریب خانہ بھی تشریف لائے۔ والد مرحوم نے چچا صاحب کے نام ایک خط میں حضور کی ملاقات اور غریب خانہ پر تشریف آوری کا ذکر کیا۔ چچاصاحب کو والد صاحب کے بعد میں احمدیت قبول کرنے کے باوجود حضور سے اس درجہ قرب حاصل کرنے پر بہت رشک آیا اور انہوں نے اپنے جوابی خط میں اس کا ذکر کرتے ہوئے بڑی حسرت سے یہ شعر لکھا کہ
    ؎
    یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا


    ہم محو نالۂِ جرسِ کارواں رہے

    چچا صاحب اپنی ملازمت کے زمانہ میں سلسلہ کی مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ چنانچہ منارۃ المسیح قادیان کی تعمیر کے سلسلہ میں آپ نے چندہ دیا اور آپ کا نام منارہ پر کندہ ہے۔
    خاندانی روایات کے مطابق مرحوم کو شعروسخن سے بھی شغف تھا۔ اس سلسلہ میں میرے بڑے بھائی مکرم و محترم مولانا عبدالمجید سالکؔصاحب مرحوم اپنی کتاب
    ’’سرگذشت‘‘ صفحہ ۱۷میں لکھتے ہیں کہ ’’چچا محمد افضل خان کو اوائل عمر میں چند سال
    حیدر آباد دکن میں رہنے کا اتفاق ہؤا تھااس لئے اساتذہ کی صحبت میں ان کی شاعری خاصی منجھ گئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا۔ جب دکن میں داغؔ کا طوطی بولتا تھا۔ لیکن چچاداغؔ کو پسند نہ کرتے تھے اور ملک الشعرا ٔحبیب کشوری سے اصلاح لیا کرے تھے۔ ایک دفعہ ایک طرح ہوئی۔ عمر دعائے و صل شبِ ہجرتا سحر مانگوں ۔اس پر چچا نے غزل لکھی۔ دو تین شعر یاد آ گئے۔
    ؎؎
    بڑا گناہ ہے جو بحر سے گہر مانگوں


    بڑی خطا ہے جو معدن سے سیم و زر مانگوں


    کسی سے مانگنے کی ہے مجھے ضرورت کیا


    تجھی سے کیوں نہ عنایت کی اک نظر مانگوں

    اوائل عمر کے اس نمونۂ کلام ہی سے معلوم ہو جاتا کہ آپ کے خیالات شروع ہی سے کتنے پاکیزہ تھے۔ ۷۱
    اولاد۷۲
    ۱۔ بابو فضل الرحمن خاں صاحب (وفات ۱۹۷۵ء)
    ۲۔ عطاء الرحمن خاں صاحب ریٹائرڈ اسٹنٹ محکمہ خوراک پنجاب ( علامہ اقبال ٹاؤن لاہور)
    ۳۔ اقبال بیگم ریحانہ صاحبہ (وفات ۱۹۷۳ء)
    میاں صدرالدین صاحب درویش قادیان
    (زیارت و بیعت ۱۸۹۴ ء ۷۳ وفات ۴؍دسمبر ۱۹۶۰ء بعمر قریباً اکانوے سال ) ۷۴
    ’’ حضر ت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا ’’ قادیان کی مقامی آبادی میں سے احمدی ہونے والوں میں وہ ابتدائی مخلصین میں شامل تھے غالباً وفات کے وقت عمر نوّے اور سو سال کے درمیان ہو گی باوجود ناخواندہ ہونے کے بہت نیک اور متقی بزرگ تھے‘‘ ۷۵میاں صدر الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بزرگان سلسلہ سے بہت اخلاص و عقیدت رکھتے تھے۔ آپ تقسیم ملک کے بعد دیار ِحبیب میں ہی دھونی رما کر بیٹھ گئے اور پیرانہ سالی کے باوجود کمال محبت و وفا سے اپنا عہد درویشی نبھایا۔ آپ امانت و دیانت میں قادیان اور اس کے ماحول میں بہت مشہور تھے اور اپنے اور غیر سبھی آپ کے مداح تھے اس سلسلہ میں چودھری فیض احمد صاحب گجراتی رقمطراز ہیں
    ’’ حضرت بابا صاحب شروع ایام میں تو اپنے پیشے ( یعنی گھمار ناقل)کا کام ہی کرتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے ریتی چھلّہ میں ایک دکان آٹے اور دالوں کی کھول لی تھی اور ان کی امانت و دیانت کی وجہ سے یہ کاروبار خوب چلا۔ چنانچہ تقسیم ملک سے کچھ قبل کاروبار میں نقصان ہو گیا تھا۔ باباجی نے کوئی جنس خرید کی‘ بھاؤ اچانک گِر گئے۔ ابھی اس جنس کی قیمت ادا کرنی تھی چنانچہ مقروض ہو گئے۔ اسی اثناء میں مُلک تقسیم ہو گیا اور کاروبار جاتا رہا اور باباجی محض درویشی وظیفہ پر گذارہ کرنے لگے لیکن آفرین اس اسّی سالہ بوڑھے کی جواں ہستی پر کہ اُس نے زمانہِ درویشی ہی میں وہ قرض بے باق کیا۔ اس طرح کہ انہوں نے لنگرخانہ کو آٹے اور دالوں کی تقسیم شروع کر دی۔ ساری اجناس وہ اپنے بوڑھے کمزور ہاتھوں سے صاف کرتے اور خود چکی چلا کر دالیں بناتے اور یوں اس اسّی سالہ پیر فرتوت نے اپنی جھریوں والی کمزور بانہوںکے بل پر سارا قرض اتار دیا۔ بعض قرض خواہ کہتے تھے کہ آپ کے حالات تبدیل ہو گئے ہیں اس لئے قرض معاف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مرحوم کی غیرت نے اسے گوارا نہ کیا اور سب کو یہی جواب دیا کہ میں قرض کا بوجھ سر پر لئے قبر میں نہیں جانا چاہتا چنانچہ یہی عزم تھا جو قرض سے سبکدوشی کا باعث ہوا‘‘ ۷۶
    مرحوم نے اپنے پیچھے دو بیٹے یادگار چھوڑے۔ ۱۔ میاں عبدالرحمن صاحب (ربوہ)
    ۲۔ میاں محمد عبداﷲ (قادیان)

    حضرت چوہدری غلام محمد صاحب پوہلا مہاراں
    امیر حلقہ پوہلا مہاراں ضلع سیالکوٹ
    (ولادت ۱۸۷۵ء بیعت اگست ۱۹۰۴ء وفات ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۰ء )
    ضلع سیالکوٹ کے رفقاء مسیح موعود میں ایک ممتاز اور دعاگو اور صاحب الہام بزرگ ۱۹۰۳ء میں آپ کے خسر چوہدری عمر الدین صاحب ساکن قلعہ صوبا سنگھ قادیان سے واپس آئے اورآپ کو بتایا کہ جس نےآنا تھا آ گیا اور اپنے ساتھ ’’ ازالہ اوہام ‘‘کتاب بھی لائے دو تین ماہ بعد آپ نے کسی جگہ سے اس کا ایک صفحہ پڑھا اور ایسے متاثر ہوئے کہ ۱۹۰۴ء میں لاہور پہنچ کر حضرت مسیح موعودؑ کے دستِ مبارک پر بیعت کر لی۔ ۷۷ آپ اپنے واقعہ بیعت پر روشنی ڈاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں
    ’’ جب ہم لاہور آئے تو ایک نانبائی سے (جو کہ دہلی دروازہ کے قریب ہے) اور چونکہ ہمیں زیادہ واقفیت نہ تھی میں نے کہا کہ حضور کہاں تشریف رکھتے ہیں۔ اس نے حضور علیہ السلام کو بھی گالیاں دیں اور مجھے بھی سخت گالیاں سنائیں اور کہا۔ کہ حضور چار روز کے بعد جیل خانہ میں ہونگے اور بان بٹا کریں گے اور مخالفت کے غصہ میں آ کر کہا کہ آپ شاہ محمد غوث تشریف رکھتے ہیں جب میں اور بھائی کریم بخش صاحب (ٹھیکیدار محلہ دارالرحمت قادیان ) ملنے گئے۔ تو حضرت مولوی نورالدین صاحب اُٹھ کر نیارے اخلاق سے ملے اور مولوی
    برہان الدین صاحب جہلمی بھی وہیں تھے اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی آنکھیں دکھ رہی تھیں۔ اگلے دن صبح ہمارا مصافحہ ہوا اور میاں چراغ الدین صاحب مرحوم بھی حضورؑ کے پاس بیٹھے تھے یہ پہلی دفعہ مصافحہ حضورؑ سے ہوا اور جلسہ کے ایام تھے۔ ہم اسی غرض سے لاہور آئے تھے۔ بعد دوپہر چار بجے کے قریب میں نے بیعت کی…حضور علیہ السلام کے راس مبارک پر سفید پگڑی تھی اور سفید لباس تھا۔ اور بان کی چارپائی تھی۔ اور کوئی تکیہ یا بسترنہ تھا۔ حضور رونق افروز تھے۔ بیعت کے بعد حضور نے دعا کی اور ہم پر قدرتی ہیبت و رعب آپ کا اس قدر تھا کہ سرنگوں بیٹھے رہے کہ کسی بات کی جرأت نہ ہوئی ‘‘۔ ۷۸ فرمایا کرتے تھے کہ جب لاہور پہنچ کر پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو حضور نے میری طرف اپنی پاک اور مطہر نظر اٹھا کر دیکھا مجھے یوں محسوس ہوا کہ تمام گناہ اور آلائشیں سر سے پاؤں تک میرے جسم سے نکل گئی ہیں اور وہ روحانیت اور عشق الہٰی میں مخمور آنکھیں مجھے آج تک اسی طرح یاد ہیں جیسے کہ میں نے پہلی بار دیکھی تھیں۔ ۷۹
    جماعت میں نظام امارت قائم ہوا تو آپ کو حلقہ پوہلہ مہاراں کا امیر مقرر کیا گیا۔ وفات تک آپ کو ضلع سیالکوٹ کی قریباً چوتھائی جماعتوں کے فرائض امارت کمال خوش اسلوبی سے سنبھالنے کی سعادت نصیب ہوئی مظلوم کی مدد کے لئے شمشیر برہنہ تھے اور ہر حال میں سچائی پر قائم رہنا اُن کا وصف تھا۔ ایک قتل کے مقدمہ میں آپ کے دو عزیز ماخوذ تھے۔ ان کے خلاف موقعہ کی کوئی شہادت نہ تھی لیکن انہوں نے آپ کو آ کر بتا دیا تھا کہ ہم قتل کر آئے ہیں۔مخالفین نے عدالت میں آپ کا نام بطور گواہ لکھوا دیا۔ عدالت نے آپ کو بطور گواہ طلب کر لیا وہاں زار زار روتے بھی تھے اور سچی گواہی بھی دے رہے تھے جس کے نتیجہ میں ان دونوں رشتہ داروں کو پھانسی کی سزا ہو گئی۔
    فرض نمازوں کے علاوہ نماز تہجد اور اشراق اور نوافل کے باقاعدگی سے پابند تھے۔ اٹھتے ‘بیٹھتے ‘ لیٹتے‘ چلتے پھرتے غرض ہر حالت میں دعاؤں میں لگے رہتے تھے ۔ قرآن مجید پڑھنے پڑھانے میں انتہائی راحت محسوس کرتے تھے۔ ۸۰
    مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپرد قلم فرمایا۔
    ’’ ضلع سیالکوٹ کی جماعتوں کے چند بزرگ رفقاء میں سے ایک نمایاں بزرگ چودھری صاحب موصوف تھے۔ آپ کو زمینداروںمیں تبلیغ کا سلیقہ بھی آتا تھا اور اس کے لئے طبیعت میں جوش بھی تھا۔ جلسوں کے بہت شوقین تھے ۔ خود مرکز سلسلہ قادیان میں جا کر مبلغین لایا کرتے تھے اور جب تک حالات سازگار رہے باقاعدہ سالانہ جلسہ کراتے تھے۔ مہمان نوازی آپ کا خاص وصف تھا ان کے گاؤں سے مبلغین کی واپسی ان کو بہت شاق گذرتی تھی وہ ہر ممکن طریق سے اسے زیادہ سے زیادہ ملتوی کرنیکی کوشش فرماتے تھے اپنی اولاد کو خدمتِ سلسلہ کے جذبہ سے سرشار کرنا اُن کا خاص مقصد تھا‘ بے تکلف دوست ‘ تہجد گذار اور نہایت دعاگو اور صاحب الہام بزرگ تھے۔‘‘ ۸۱
    حضرت بابو قاسم دین صاحب (امیر جماعت احمدیہ ضلع سیالکوٹ )نے تحریر فرمایا:۔
    ’’ چوہدری صاحب ضلع سیالکوٹ کی ایک ممتاز قوم مہار سے تعلق رکھتے تھے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت ۱۹۰۴ء میں کی۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت مخلص رفقاء میں سے تھے میرے گذشتہ ۴۰ سال سے ان کے ساتھ تعلقات تھے۔ صاحبِ الہام اور اہل کشف تھے اپنے علاقہ میں احمدیت کا ایک ستون تھے۔ وہ زمین پر چلتے پھرتے فرشتہ تھے۔ ان کی زندگی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی تعلیم کی ایک زندہ مثال تھی وہ حقوق العباد اور حقوق اﷲ کے بجا لانے میں حتی المقدور کوشاں رہتے ایک نہایت باوقار باعزت ‘فرض شناس‘ راست گو مہمان نواز بزرگ تھے ان کا دستر خوان بہت وسیع ہوتا۔ ہر روز کوئی نہ کوئی مہمان ان کے ہاں ضرور ہوتا ان کی یہ عادت تھی کہ مہمان کو کھانا پہلے کھلاتے اور پھر آپ کھاتے۔ روزانہ اپنے گاؤں کی مسجد میں بچوں کو قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے نماز اشراق ‘ نمازِ تہجد باقاعدگی سے ادا کرتے اپنے زمانہ کے یقیناً ولی اﷲ تھے۔ خلیفہ وقت کے وہ عاشق تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت سے ان کو خاص تعلق اور محبت تھی۔
    جب سے ضلع سیالکوٹ میں ضلع وار نظام قائم ہوا ہے وہ اپنے حلقہ میں
    ۲۰ ‘۲۱جماعتوں کے امیر رہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں اپنے حلقہ امارت میں خلیفہ وقت کی نمائندگی کا حق پورے طور پر ادا کیا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی میں انہوں نے نہ کبھی دن دیکھا اور نہ رات۔ اس وجہ سے احباب اُن کا بہت احترام کیا کرتے۔ باوجود اس بات کے کہ مجھ سے عمر میں بہت زیادہ تھے مگر حفظِ مراتب کو انہوں نے ہمیشہ ملحوظ رکھا میں جب کبھی بھی ان کے حلقہ میں گیا وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہتے فرمایا کرتے تھے ’’ حفظ مراتب نہ کُنی زندیقی‘‘کاش کہ احمدیت کے ہونہار فرزند حفظِ مراتب کے مقام کو کبھی فراموش نہ کریں۔ اس میں ہر ایک قسم کی برکت ہے۔ اور کامیابی کا راز مضمر ہے۔ تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیالیاں کی بنیاد رکھنے والی بزرگ ہستیوں میں سے وہ ایک نمایاں حصہ لینے والے بزرگ تھے۔ آپ اس سکول کی مینجنگ کمیٹی کے سرگرم ممبر تھے۔ جب سکول کو کالج بنانے کے لئے چندہ کی تحریک ہوئی تو آپ نے اس میں بھی نمایاں حصہ لیا اور اور اپنا چندہ ادا کرنے میں سبقت کی اور ایک نمونہ قائم کیا ‘‘۔ ۸۲
    اولاد
    چوہدری فیض احمد صاحب
    چوہدری فضل الرحمن صاحب بی ایس سی
    چوہدری غلام اﷲ صاحب
    (بیگم میجر مہار صاحب)

    فصل دوم
    بعض ممتاز اور بزرگ خواتین کی وفات
    ۱۹۶۰ء میں سلسلہ احمدیہ کی مندرجہ ذیل ممتاز اور بزرگ خواتین نے
    بھی وفات پائی۔ ان سب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں بیعت کرنے کی سعادت حاصل تھی۔ ۸۳
    ۱۔ محترمہ بشیرن صاحبہ (زوجہ حضرت ماسٹر قادر بخش صاحب لدھیانوی والدہ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب دردؔ)
    (ولادت ۱۸۶۹ء ۔بیعت۱۹۰۵ء۔ وفات ۱۱؍جنوری ۱۹۶۰ء)
    صوم و صلوٰۃ کی حد درجہ پابند تھیں۔ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ احمدیہ سے بے پناہ محبت و عقیدت تھی۔ دیگر اوصاف کے ساتھ ساتھ اکرام حنیف اور مہمان نوازی کی صفت خاص طور پر نمایاں تھیں۔ اوائل زمانہ میں جبکہ لدھیانہ میں قادیان کے احباب آتے رہتے تھے ہر ایک کی خاطر تواضع کا خاص اہتمام کرتیں اور اس میں ایک خاص راحت محسوس کرتی تھیں۔ ۸۴
    ۲۔ محترمہ حسین بی بی صاحبہ زوجہ حضرت منشی محبوب عالم صاحب نیلہ گنبد لاہور
    (ولادت ۱۸۸۷ء۔ بیعت ۱۹۰۶ء ۔ وفات ۲۵؍فروری ۱۹۶۰ء)
    ۳۔ محترمہ بھابی زنیب صاحبہ بیوہ حضرت پیر مظہر قیوم صاحب
    (ولادت ۱۸۸۸ء۔ بیعت ۱۹۰۶ء۔ وفات ۱۳؍مارچ ۱۹۶۰ء)
    شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے اپنی کتاب ’’ مرکز احمدیت۔ قادیان‘‘ کے صفحہ ۳۶۱ پرآپ کی نسبت لکھا
    ’’آنکھوں سے معذور ہیں۔ مگر نہایت ذہین ‘‘ نہایت زیرک‘ خدمتِ سلسلہ کا بے پناہ شوق ہے۔ باوجود معذوری کے سال بھر میں سینکڑوں روپیہ چندہ جمع کر دیتی ہیں۔عورتوں میں جو تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں ان میں بھابی صاحبہ کا بڑا حصہ ہوتا ہے‘‘۔
    ۴۔ محترمہ استانی صفیہ بیگم صاحبہ بنت حضرت مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی ولادت ۱۸۸۶ء۔ بیعت ۱۹۰۰ء ۔ وفات ۱۳؍مارچ ۱۹۶۰ء
    نہایت محنتی دیندار‘ تہجد گذار اور صاحب کشف و رؤیا خاتون تھیں آپ کے شوہر شادی کے ایک عرصہ بعد احمدیت سے الگ ہو گئے تھے مگر آپ نہ صرف خود بھی احمدیت پر مضبوطی سے قائم رہیں بلکہ ایمان و استقلال کا ایسا شاندار نمونہ دکھلایا کہ آپ کی ساری اولاد احمدیت کے رنگ میں رنگین ہو گئی فیروزپور سے ہر سال جلسہ سالانہ پر بڑے اہتمام سے تمام بچوں کو ساتھ لے کر قادیان آتی تھیں۔ شادی کے بعد آپ فیروزپور گرلز سکول میں بطور نائب معلمہ ملازم ہو گئیں ۱۹۳۲ء میں مرکز سلسلہ کی ضرورت کے پیش نظر اپنی دس سالہ سروس کو خیر باد کہہ کر نصرت گرلز سکول قادیان میں تعلیمی خدمات بجا لانے لگی ۱۹۴۵ء میں ریٹائر ہوئیں اور بچوں کو قرآن شریف ناظرہ و باترجمہ پڑھانا اپنا معمول بنا لیا۔ بہت سے بچوں کو آپ نے قرآن کریم پڑھایا اور مسائلِ احمدیت ازبر کرائے۔ ۸۵
    شیخ محمود احمد صاحب عرفانیؔ نے آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا
    ’’ لجنہ اماء اﷲ کے کاموں میں بڑا حصہ لینے والی خاتون ہیں نصرت گرلز ہائی سکول میں عربی اور دینیات کی استانی ہیں ۔ عمدہ تقریر کر سکتی ہیں۔ سلسلہ کی سچی روح پیدا کرنے کے لئے لڑکیوں میں شاندار کام کر رہی ہیں‘‘ ۔ ۸۶
    ۵۔ محترمہ سیدہ بدر النساء صاحبہ اہلیہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ وفات ۳۰۔۳۱ ؍مئی ۱۹۶۰ء) ۸۷
    آپ شیخ محمد احمد صاحب مظہرؔایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ فیصل آباد کی والدہ ماجدہ تھیں۔
    آپ کے خلوص اور بے لوث قربانی کا ایک یادگار اور نہایت ایمان افروز واقعہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے
    ’’ایک دفعہ حضور لدھیانہ میں تھے کہ میں حاضر خدمت ہوا۔ حضور نے فرمایا کہ آپ کی جماعت ساٹھ روپے ایک اشتہار کے صرف برداشت کر لے گی میں نے اثبات میں جواب دیا اور کپورتھلہ واپس آ کر اپنی اہلیہ کی سونے کی تلڑی فروخت کر دی اور احباب جماعت میں سے کسی سے ذکر نہ کیا اور ساٹھ روپے لے کر میںاُڑ گیا اور لدھیانہ جا کر پیش خدمت کئے۔ چند روز بعد منشی روڑا صاحب بھی لدھیانہ آگئے میں وہیں تھا۔ ان سے حضور نے ذکر فرمایا کہ آپ کی جماعت نے بڑے اچھے موقعہ پر امداد کی۔ منشی روڑا صاحب نے عرض کی کہ جماعت کو یا مجھے تو پتہ بھی نہیں اس وقت منشی صاحب مرحوم کو معلوم ہوا کہ میں اپنی طرف سے آپ ہی روپیہ دے آیا ہوں‘‘۔ ۸۸
    ۶۔ محترمہ ایمنہ بیگم صاحب زوجہ حضرت چوہدری محمد عبداﷲ خاں صاحب بہلول پور (ولادت ۱۸۷۵ء۔ بیعت ۱۹۰۲ء ۔ وفات ۴؍جون ۱۹۶۰ء)
    ۷۔ محترمہ سردار بیگم صاحبہ زوجہ حصرت ماسٹر فقیر اﷲ صاحب (ولادت ۱۸۸۹ء ۔ بیعت ۱۹۰۱ء۔ وفات ۱۰؍ستمبر ۱۹۶۰ء )
    نہایت نیک طبع‘ نیک سیرت اور مخیر خاتون تھیں۔ کبھی کسی سوالی کو خالی ہاتھ نہ جانے دیتیں حتی الوسع ضرور امداد کرتیں۔ خلافت ثانیہ سے انہیں ہمیشہ ہی پوری وابستگی رہی۔ ۸۹
    ۸۔ محترمہ کلثوم صغریٰ صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا ذوالفقار علی خاں صاحب گوہرؔ وفات ۱۱۔۱۲؍ستمبر ۱۹۶۰ء۔ ۹۰
    ۹۔ محترمہ حسین بی بی صاحبہ زوجہ حضرت میاں امام دین صاحب سیکھوانی (ولادت ۱۸۷۰ء۔ بیعت ۱۸۹۱ء۔ وفات ۱۹؍ستمبر ۱۹۶۰ء) مرحومہ کو ۳۱۳ رفقاء کبار کی فہرست میں بھی شمولیت کا شرف حاصل تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود نے ان کے میاں کو اس فہرست میں معہ اہل خانہ شامل فرمایا تھا۔ ۹۱ و ذالک فضل اﷲ یوتیہ من یشاءآپ تہجد گذار اور دعاگو خاتون تھیں اور سلسلہ احمدیہ کی خاطر ہر قربانی پیش کرنے کے لئے ہر دم تیار رہتی تھیں۔ ۹۲



    فصل سوم
    پاکستان‘ مصر اور سیرالیون کے
    بعض مخلصینِ احمدیت کا ذکر خیر
    ان بزرگ ہستیوں کے علاوہ ۱۹۶۰ء میں کئی اور مخلصین احمدیت بھی داغ مفارقت دے گئے جن میں سے بعض کا تذکرہ مختصراً ذیل میں کیا جاتا ہے۔
    ۱۔ چوہدری فیض احمد بھٹی صاحب ( وفات یکم؍اپریل ۱۹۶۰ء)
    حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب (آف قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ) کے نواسے تھے۔ ۱۹۰۴ء میں بعمر چھ سال حضرت مسیح موعودؑکی زیارت کی ۱۹۲۵ء کے قریب مستقل طور پر قادیان آ گئے اور کم وبیش اٹھارہ سال تک الفضل کی کتابت کا کام کیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے والہ و شیدا تھے۔ تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین میں سے تھے ہجرت کے بعد کنری (سندھ)میں مقیم ہو گئے تھے۔ ۹۳
    ۲۔ سید بدرالحسن صاحب کلیمؔ (وفات ۱۲؍اپریل ۱۹۶۰ء)
    اخبار ’’ فاروق‘‘ ’’الحکم‘‘ اور ’’الفضل‘‘ میں ۳۰۔۳۲ سال تک خوشنویسی کی۔ سلسلہ کی کئی کتب آپ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی طبع ہوئیں۔ تحریک شدھی کے زمانے میں عرصہ چھ ماہ تک متھرا‘ آگرہ‘اجمیر‘بہار اور بندرابن میں تبلیغی فرائض انجام دئے۔ قیام قادیان کے زمانہ میں ہر سال دو ایک ماہ اپنے وطن جھنجھانہ ضلع مظفر نگر جاتے اور پیغام احمدیت پہنچاتے۔ ۹۴
    ۳۔ السید جلال الدین عبدالحمید خورشید صاحب (وفات یکم مئی ۱۹۶۰ء)
    مصر کے ایک نہایت مخلص احمدی نوجوان جو حضرت مصلح موعودؒ کی دُعا سے پیدا ہوئے اور خدا تعالیٰ کے ایک نشان تھے۔ خدام الاحمدیہ قاہرہ کے سیکرٹری تھے۔ جماعتی کاموں میں بڑی محنت اور سرگرمی دکھاتے تھے۔ اور تبلیغ سلسلہ کا بہت شوق تھا۔ ۹۵
    ۴۔ حکیم چراغ الدین صاحب (والد ماجد مولوی غلام باری صاحب سیف استاذالجامعہ)(وفات ۲۴؍جون ۱۹۶۰ء)۔ ۹۶
    اصل وطن قصبہ کاہنوان نزد قادیان جہاں صرف تین احمدی گھرانے تھے احمدیت کے عاشق صادق تھے۔ ایک بار قصبہ کے لوگ مسلح ہو کر آپ کے گھر پر حملہ آور ہوئے۔ اﷲ تعالیٰ نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اور وہ ناکام رہے۔ کئی دفعہ آپ کا بائیکاٹ ہوا مگر یہ حوادث و مصائب آپ کے پائے استقامت میں ذرا برابر لغزش پیدا نہ کر سکے۔ ایک شب قصبہ کے ایک شخص کو نفخ شروع ہوا اور حالت غیر ہونے لگی۔ اقرباء اسے آپ کے پاس بغرض علاج لائے آپ نے فرمایا بھائی میرا بائیکاٹ ہے میرے بڑے بھائی کے پاس جائیے ( وہ احمدی نہ تھے لیکن بہت بڑے حکیم تھے) انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں نہیں اور ہم آپ کا بائیکاٹ توڑتے ہیںاس طر ح اﷲ تعالیٰ نے بائیکاٹ کے خاتمہ کی خود تدبیر فرمائی۔ بہت مضبوط ہمت اور بلند حوصلہ کے مالک تھے۔ داخل احمدیت ہونے کے بعد ہر جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ شروع وقت میں جلسہ گاہ میں پہنچتے اور پوری کارروائی نہایت دلجمعی سے سنتے اور صرف نماز کے وقت باہر آتے ساری عمر سختی سے اس پر عمل پیرا رہے اور اسی کی تلقین اپنے عزیزوں کو کیا کرتے تھے۔ کاہنوان کے ارد گرد جہاں کہیں مقامی جماعتوں کے جلسے ہوتے نہایت ذوق و شوق سے ان میں شامل ہوتے اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے۔ چندوں کا خاص اہتمام فرماتے تھے ہجرت کے بعد چک نمبر ۶۹؍ر۔ب گھیسٹ پور ضلع لائل پور (فیصل آباد ) میں آباد ہو گئے آپ کے حُسن خُلق کا غیر احمدی دوستوں پر بھی ایسا گہرا اثر تھا کہ آپ کی وفات کے ذکر پر وہ اشکبار ہو جاتے تھے۔ ۹۷
    ۵۔ السیدامین خلیل شامی (وفات ۱۲۔۱۳؍ستمبر ۱۹۶۰ء)
    سیرالیون کے ایک نہایت مخلص فدائی اور جان نثار احمدی تھے۔ بانی مشن سیرالیون مولوی نذیر احمد علی صاحب کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ سے دلی محبت و عقیدت پیدا ہوئی اور وقتاً فوقتاً احمدیہ مشن کی اعانت فرماتے رہے مگر سلسلہ سے باقاعدہ طور پر دسمبر ۱۹۴۶ء میں منسلک ہوئے اور اس کے بعد اخلاص اور قربانی و ایثار کا ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر پورے سیرالیون میں نہیں ملتی قبول حق کے بعد آپ کو کئی ابتلاؤں میں سے گذرنا پڑا مگر آپ نے انتہائی صبرو تحمل اور خندہ پیشانی کے ساتھ تمام شدائد و تکالیف برداشت کیں۔ مخالفیں نے آپ کو احمدیت سے منحرف کرنے کے بہت جتن کئے مگر آپ کے استقلال و استقامت کے سامنے انہیں بالآخر شرمندہ ہونا پڑا۔
    صوفی محمد اسحٰق صاحب سابق مبلغ سیرالیون کا بیان ہے کہ
    ’’آپ سارے سیرالیون میں مشن کی مالی امداد کے لحاظ سے تمام احمدیوں میں ممتاز تھے۔ اپنا چندہ باقاعدگی سے دیا کرتے تھے اس کے علاوہ ہر سال اپنی ہر قسم کی آمد کا حساب لگا کر اپنی تمام سال کی زکواۃ بھی مشن کو باقاعدگی سے دیتے تھے اغلباً ۱۹۵۱ء میں جب آپ کو تحریک جدید کے چندہ کی طرف توجہ دلائی گئی تو…آپ نے تحریک جدید کا تمام چندہ یکمشت ادا کر دیا اور پھر ہر سال باقاعدگی سے اسے ادا کرتے رہے۔جس بات کے لئے سیرالیون کا مشن ہمیشہ آپ کا ممنون تھا وہ یہ ہے کہ آپ نے مشن کو کہہ دیا تھا کہ جس وقت بھی مشن کو کوئی مالی امداد درکار ہو اور اس وقت مشن میں پیسہ نہ ہو تو …اتنی رقوم ان سے بطور قرضہ حسنہ لے لی جائے۔ چنانچہ اس قسم کے بیسیوں مواقع پر آپ نے ہزار ہا روپیہ سے سیرالیون مشن کی مدد کی اور اگر یہ بعض رقوم آپ کو بر وقت واپس نہ مل سکیں اور بعض کسی غلطی کے باعث میرے سے ادا ہی نہ ہو سکیں لیکن اس کے باوجود آپ نے اس وعدہ کو آخری دم تک نباہا‘‘
    السید امین خلیل کو مبلغین سے بے پناہ محبت تھی فرمایا کرتے تھے میرا گھر مجاہدین احمدیت کے لئے وقف ہے اور اُن کی خدمت میرے لئے عین سعادت ۔شروع میں آپ کی اہلیہ احمدی نہیں تھیں تاہم وہ انہیں متواتر تبلیغ کرتے اور سمجھاتے رہے اس دوران اُن کا بیٹا علی امین سخت بیمار ہو گیا اُن کی اہلیہ ۵۰ میل دور ایک شہر مکینی (MAKENI)لے گئیں مگر وہاں بھی ڈاکٹری علاج میسر نہ آ سکا اور اس کی حالت زیادہ خراب ہو گئی اس حالت میں اُن کی اہلیہ نے دعا کی کہ اگر سیدنا احمد سچے ہیں اور آپ ہی اس زمانے کے موعود مسیح ہیں تو میرے بچے کو بغیر کسی ڈاکٹر کے شفا عطا فرمادے رات کو یہ دعا کی صبح بیماری میں خاصہ افاقہ ہو گیا اور دو تین روز میں کامل صحت ہو گئی جس پر ان کی اہلیہ نے بھی بیعت کر لی یہی وہ علی امین ہیں جنہیںآپ نے ۱۹۵۲ء میں دینی تربیت کے لئے ربوہ بھجوایا تھا اور وہ کئی سال تک مرکز کی دینی برکات سے فیضیاب ہو کر وطن لوٹے ۔
    سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود کے ذکر پر فرط محبت سے بے اختیار آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے بلاشبہ آپ حضرت اقدس علیہ السلام کے الہام ’’ یُصلّون علک ابدال الشام‘‘ کے مصداق تھے۔ ۹۸
    ۶۔ محترمہ امتہ اﷲ خورشید صاحبہ (بنت خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب) مدیرہ مصباح (وفات ۲۶؍ستمبر ۱۹۶۰ء)
    حضرت سیدہ مریم صدیقہؔصاحبہ صدر لجنہ اماء اﷲ مرکزیہ نے مرحومہ کی وفات پر لکھا
    ’’مرحومہ نہایت سادہ طبیعت رکھتی تھیں۔ لجنہ اماء اﷲ کی مخلص اور سرگرم کارکن تھیں۔ ۱۹۴۵ء سے وہ لجنہ اماء اﷲ مرکزیہ کی ایک رکن کی حیثیت سے باقاعدہ کام کر رہی تھیں۔ سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری رشدواصلاح کے عہدہ پر بھی فائز رہیں۔ ۱۹۴۷ء میں لجنہ اماء اﷲ مرکزیہ نے فیصلہ کیا۔ کہ ماہنامہ مصباح کا انتظام کلّی طور پر لجنہ اماء اﷲ لے لے تو میری نظرِ انتخاب سب سے پہلے امتہ اﷲ پر ہی پڑی اور چندہ دنوں میں ہی امتہ اﷲ خورشید نے ماہنامہ کا سارا انتظام سنبھال کر میرا بوجھ ہلکا کر دیا۔ ۱۹۴۷ء میں ملکی تقسیم کی وجہ سے جب ہمیں اپنا مقدس مرکز چھوڑنا پڑا تو کچھ عرصہ تک مصباح بھی بند رہا۔ لیکن تھوڑا عرصہ بعد ہی پھر اسے جاری کر دیا گیا۔ اور اس وقت سے تا وفات امتہ اﷲ خورشید ہی اس کی مدیرہ رہیں۔
    مرحومہ خدمتِ دین کو ’’ ایک فضلِ الٰہی‘‘ سمجھتے ہوئے باوجود صحت کمزور ہونے کے کام کا انتہائی شوق رکھتی تھیں اور جو کام بھی ان کے سپرد کیا جاتا۔ احسن طریق پر اس کو پورا کرنے کی کوشش کرتیں۔علاوہ ماہنامہ کے کام کے بارہا مختلف کاموں کے لئے میں نے ان کو بلوایا۔ اور ان کے سپرد کئے۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ طبیعت ٹھیک نہ ہوتی تھی لیکن کبھی انکار نہ کیا۔ اور جو کام لیا اس کو مکمل کیا۔ ان کی زندگی ہماری بچیوں کیلئے ایک نمونہ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی کوئی خاص ڈگری سوائے ادیب عالم کے انہوں نے حاصل نہ کی ہوئی تھی۔ لیکن دینی علم اچھا خاصا رکھتی تھیں۔ فرض کا احساس تھا۔ اپنی تمام ذمہ واریوں پر مقدم سلسلہ کی خدمت تھی۔ اور خدمت کو بجا لاتے ہی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی‘‘۔ ۹۹
    ۷۔ سیٹھ خیرالدین صاحب (وفات ۲۲؍دسمبر ۱۹۶۰ء) مرزا کبیر الدین صاحب لکھنوی جیسے پُرجوش داعی الی اﷲ کے ذریعہ اندازاً ۱۹۱۰ء میں احمدی ہوئے اور پھر حضرت مسیح موعود ؑکی کتب کے بکثرت مطالعہ سے میدانِ مناظرہ کے شہسوار بن گے۔ مولوی عبدالشکور صاحب امام اہلسنت لکھنؤاور مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری سے آپ نے جو مناظرے کئے وہ ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ آریوں کے مشہور مناظر پنڈت بھوجدت اور
    مہاتما منشی رام (شردھانند)سے بھی آپ کے کامیاب مباحثے ہوئے۔ شردھانند نے ایک مباحثہ کے اختتام پر کہا۔ ’’ میں اس نوجوان کی قدر کرتا ہوں اس نے ہمارے لٹریچر کا خوب مطالعہ کیا ہے‘‘ اصلاح و ارشاد کے کام کا ازحد شوق تھا اور تبلیغ اور مہمان نوازی اُن کا پیشہ تھا۔ مخیر و متوکل آدمی تھے نادار بھائیوں کی اعانت ایسے طریق سے کرتے تھے کہ اُن کے اعزاتک کو خبر نہ ہوتی تھی۔ سیرچشمی‘قناعت‘ سنجیدگی‘ بردباری اور غرض بصر آپ کا فطری جوہر تھا۔ ۱۰۰











    حواشی
    ۱۔
    فائل ’’قبولیت احمدیت کی دلچسپ سرگذشت‘‘صفحہ ۱ یہ فائل’’ شعبہ تاریخ احمدیت ربوہ ‘‘ میں محفوظ ہے
    ۲۔
    الفضل ۱؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ۸
    ۳۔
    تاریخ احمدیت جلد سوم ۵۱۰
    ۴۔
    آپ کی درخواست اور حضور کے مبارک الفاظ کا عکس تاریخ احمدیت جلد ۴ صفحہ ۴۹۵۔۴۹۶
    ۵۔
    الفضل ۱۰؍جون ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۱
    ۶۔
    الفضل ۲۶؍جولائی ۱۹۱۴ء صفحہ۸ 9 HAREDALE ROAD PAPLAR WALK HERNE HILL London.S.E.
    ۷۔
    الفضل ۷؍جولائی ۱۹۱۴ء صفحہ۲(یہ مخلص خاتون ۱۹۱۶ء کے شروع میں فوت ہو گئیں الفضل ۱۵؍فروری ۱۹۱۶ء صفحہ ۱)
    ۸۔
    ‏THE TEACHINGS OF ISLAM
    ۹۔
    ‏THE MESSAGE OF PEACE
    ۱۰۔
    الفضل۲۵ اگست ۱۹۱۴ء
    ۱۱۔
    الفضل ۲۰؍ستمبر ۱۹۱۴ء صفحہ۶
    ۱۲۔
    تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۶؍دسمبر ۱۹۱۴ ء صفحہ ۷۔۸۔ الفضل ۲۳؍فروری ۱۹۱۵ء صفحہ۲ الفضل ۲۷؍اپریل ۱۹۱۵ء صفحہ۸۔ الفضل ۲۸؍نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۹
    ۱۳۔
    الفضل ۷؍نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ۸
    ۱۴۔
    الفضل ۲؍فروری ۱۹۱۶ء صفحہ۱۰
    ۱۵۔
    تاریخ مسجد فضل لنڈن ’’ از حضرت سید محمد اسمٰعیل صاحبؒ
    ۱۶۔
    الفضل ۴’۸؍اپریل ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۹۔۲۰
    ۱۷۔
    آپ کے ساتھ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیرّبھی تھے الفضل ۱۹۔۲۲؍جولائی ۱۹۱۹ء صفحہ۱
    ۱۸۔
    ایک مضمون جون ۱۹۲۰ء کے شمارہ میں چھپا
    ۱۹۔
    الفضل ۵۔۹؍اگست ۱۹۲۰ء
    ۲۰۔
    الفضل ۲۷؍ستمبر ۱۹۲۰ء
    ۲۱۔
    الفضل ۲۶؍اگست ۱۹۲۰ء صفحہ۲
    ۲۲۔
    ‏ 63 MELROSE ROAD LONDON S.W.18
    ۲۳۔
    تاریخ مسجد فضل لنڈن از حضرت سید میر اسماعیل صاحب
    ۲۴۔
    الفضل ۲۷؍جنوری ۱۹۲۱ء صفحہ۸
    ۲۵۔
    الفضل ۳۱؍مارچ ۱۹۲۱ء صفحہ ۲
    ۲۶۔
    الفضل ۱۹؍ستمبر ۱۹۲۱ء صفحہ ۱
    ۲۷۔
    مطبوعہ رپورٹ میں آپ کا نام مرکزی نمائندگان کی فہرست میں نمبر ۲۶ پر درج ہے
    ۲۸۔
    اخبار تیج (دہلی) تفصیل تاریخ احمدیت جلد ۵ میں گزر چلی
    ۲۹۔
    یہ حصہ اگرچہ جلد پنجم صفحہ ۳۵۶ تا ۳۵۹ میں چھپ چکا ہے حضرت چودھری صاحب کے تبلیغی کارنامہ کی تفصیلات واضح کرنے کے لئے دوبارہ درج کیا جارہا ہے
    ۳۰۔
    ما ہنامہ خالد اگست ۱۹۶۰ء صفحہ ۷ تا ۹
    ۳۱۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان ۵۶۔۱۹۵۵ء صفحہ۱۰۸
    ۳۲۔
    الفضل یکم مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ۸
    ۳۳۔
    مزید تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو ’’تعلیم الاسلام میگزین’’قادیان چلد ۴ نمبر۱ (۱۹۳۳) صفحہ ۶تا۸
    ۳۴۔
    الفضل ۲۶؍مارچ ۱۹۶۰ صفحہ۳
    ۳۵۔
    الفضل ۵؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۳۶۔
    الفضل ۱۹؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۳۷۔
    الفضل ۲؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۳۸۔
    الفضل ۱؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۳۹۔
    الفضل ۲۳؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۶۔ ۳۰؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ۶
    ۴۰۔
    الحکم ۲۴؍اگست ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۶ کالم ۲ پر آپ کی بیعت کا اندراج بایں الفاظ موجود ہے
    ’’میاں برکت علی خاں صاحب گڑھ شنکر ہوشیارپور‘‘
    ۴۱۔
    اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۲۲۶ تا ۲۲۸ مولفہ ملک صاح الدین صاحب
    ۴۲۔
    مطبوعہ الفضل ۲۱؍جون ۱۹۲۹ء صفحہ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ’’رپورٹ مجلس مشاورت‘‘ ۱۹۳۰ء صفحہ ۳۱۷ تا ۳۲۶ (مطبوعہ ۱۶؍دسمبر ۱۹۳۰ء
    ۴۳۔
    الفضل ۱۷؍جون ۱۹۳۴ء صفحہ
    ۴۴۔
    الفضل ۱۹؍جون ۱۹۳۴ء صفحہ۱۰
    ۴۵۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء صفحہ ۹۰۔۹۱
    ۴۶۔
    اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۲۳۴ (از جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے قادیان
    ۴۷۔
    الفضل ۱۲؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۴۸۔
    تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو کتاب’’اصحاب احمد‘‘ جلد ہفتم ۲۱۸ تا ۲۵۶ (از جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے۔ ناثر احمدیہ بک ڈپو ربوہ اگست ۱۹۶۰ء
    ۴۹۔
    الفضل ۱۲؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ۳
    ۵۰۔
    اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۲۴۴
    ۵۱۔
    الفضل ۲۶؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ۴
    ۵۲۔
    الفضل ۲۶؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۴ (مضمون مولوی عبدالرحیم صاحب عارف مربی جھنگ)
    ۵۳۔
    الفضل ۱۹؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۵۴۔
    الحکم قادیان ۷؍نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۲۔۱۳
    ۵۵۔
    الحکم ۸۲؍جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۳
    ۵۶۔
    ’’دیوان اشراف‘‘ صفحہ ۲ مطبوعہ ۱۹۵۲ٔء ویسٹ پنجاب پریس لاہور
    ۵۷۔
    بدر ۳۰؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۰
    ۵۸۔
    رجسٹر اصحاب مشمولہ تاریخ احمدیت جلد ۸ صفحہ ۵۱ ضمیمہ
    ۵۹۔
    الفضل ۸؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۸
    ۶۰۔
    ریکارڈ بہشتی مقبرہ
    ۶۱۔
    ’’رجسٹر روایات‘‘ جلد ۷ صفحہ ۱۷۰ بہشتی مقبرہ کے ریکارڈ میں آپکا سال بیعت ۱۸۹۱ء درج ہے
    ۶۲۔
    الفضل ۵؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۶۳۔
    رجسٹر روایات نمبر۷ صفحہ ۱۷۱
    ۶۴۔
    الفضل ۵؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ۸
    ۶۵۔
    ’’ روایات‘‘ غیر مطبوعہ نمبر ۵ صفحہ۱
    ۶۶۔
    رجسٹر روایات نمبر ۵صفحہ ۱۔۲۔۳
    ۶۷۔
    الفضل ۳۰؍اگست ۱۹۶۰ء صفحہ ۸
    ۶۸۔
    سرگذشت صفحہ ۱۳۔۱۵ (از مولانا عبدالمجید سالک) طبع دوم ناشر قومی کتب خانہ لاہور
    ۶۹۔
    ولادت۱۸۷۲ء وفات ۵؍جولائی ۱۹۳۶ء پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ پٹھانکوٹ۔ ۱۷۔۱۸ برس کی عمر میں بٹالہ سے پٹھانکوٹ آ گئے۔ ۱۹۳۲ء میں میونسپلٹی کے سیکرٹری کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے اپنے مفوضہ فرائض طویل عرصہ تک اس خوش اسلوبی سے انجام دئے کہ افسر خوش تھے اور ملازمین مداح۔ سرورکائنات صلی اﷲ علیہ وسلم کے عاشق ( صادق تھے حضور کا نام مبارک زبان پر آتا تو بے اختیار آنسورواں ہو جاتے اور ایک وجد کی کیفیت ان پر طاری ہو جاتی۔(الفضل ۲؍ستمبر ۱۹۳۶ء مضمون جناب عبدالجلیل خاں صاحب عشرتؔ)
    ۷۰۔
    ’’ سرگذشت ‘‘ صفحہ ۱۸
    ۷۱۔
    الفضل ۸؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ۵
    ۷۲۔
    مکتوب جناب عبدالجلیل صاحب عشرتؔ (۱۶؍۳۷ ٹاؤن شپ لاہور) مورخہ ۲؍مئی ۱۹۸۶ء بنام مولِّف سے ماخودْ
    ۷۳۔
    رجسٹر رفقاء قادیان مشمولہ تاریخ احمدیت جلد ۸ صفحہ۴۳ ضمیمہ
    ۷۴۔
    اخبار بدر ۸؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۷۵۔
    الفضل ۹؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۷۶۔
    ’’ وہ پھول جو مرجھا گئے‘‘ صفحہ ۵۹ چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی درویش ناظر بیت المال آمد مطبوعہ فضل عمر پرنٹنگ پریس محلہ احمدیہ قادیان ۔دسمبر ۱۹۷۶ء
    ۷۷۔
    الحکم ۷؍اکتوبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۳ (خود نوشت روایات
    ۷۸۔
    الحکم ۷؍اکتوبر ۱۹۳۸ء صفحہ۳
    ۷۹۔
    الفضل ۹؍جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ۴
    ۸۰۔
    ایضاً
    ۸۱۔
    ’’الفرقان‘‘ جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ ۵۰
    ۸۲۔
    الفضل ۱۳؍جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ ۵
    ۸۳۔
    ولادت‘بیعت اور وفات کی تواریخ ریکارڈ بہشتی مقبرہ ربوہ سے ماخوذ ہیں
    ۸۴۔
    الفضل ۱۳؍جنوری ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۸۵۔
    الفضل ۱۷؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۵ تفصیلی حالات ’’ مصباح ‘‘ ربوہ مئی ۱۹۶۰ء میں ان کے بیٹے محمد امین خاں صاحب نے شائع کرا دئے تھے۔
    ۸۶۔
    مرکز احمدیت قادیان صفحہ ۳۶۱
    ۸۷۔
    الفضل ۱؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۸۸۔
    اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ ۹۲ طبع اوّل از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے
    ۸۹۔
    الفضل ۱۳؍ستمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۸
    ۹۰۔
    الفضل ۱۴؍ستمبر ۱۹۶۰ء صفحہ نمبر ۱
    ۹۱۔
    ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۴۱نمبر۳۲
    ۹۲۔
    الفضل ۲۱؍ستمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۹۳۔
    الفضل ۳۱؍مئی ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۹۴۔
    الفضل ۲۸؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۵ مضمون منعم الحسن صاحب ربوہ
    ۹۵۔
    الفضل ۲۱؍مئی ۱۹۶۰ء صفحہ ۳
    ۹۶۔
    الفضل ۲۰؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۹۷۔
    الفضل ۲۲؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ نمبر ۵ مضمون مولوی غلام باری صاحب سیف
    ۹۸۔
    الفضل ۱۱؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ۵۔ ۹؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۵
    ۹۹۔
    ’’مصباح‘‘ اکتوبر ۱۹۶۰ صفحہ۱
    ۱۰۰۔
    الفضل ۳؍فروری ۱۹۶۱ء صفحہ۵ مضمون سیدارشد علی صاحب لکھنوی















    حواشی

    ۱۔
    ترجمہ از گیانی عباد اﷲ صاحب ریسرچ سکالر سکھ مذہب الفضل ۲۱؍ستمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۵
    ۲۔
    الفضل ۲۳؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱۔۴
    ۳۔
    الفضل ۱۹؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۴۔
    الفضل ۲۳‘۲۵؍اکتوبر ۱۹۶۰ء
    ۵۔
    رسالہ مصباح ربوہ دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۲۔۳
    ۶۔
    ’’تاریخ انصار اﷲ‘‘ صفحہ ۱۳۸ از پروفیسر حبیب اﷲ خاں صاحب قائد تعلیم مجلس انصار اﷲ مرکزیہ ۱۹۷۸ء
    ۷۔
    رسالہ ’’انصار اﷲ‘‘نومبر ۱۹۶۰ء سرورق صفحہ۴
    ۸۔
    بدر ۹؍فروری ۱۹۶۱ء صفحہ ۱
    ۹۔
    ماہنامہ ’’انصار اﷲ ‘‘ نومبر ۱۹۶۲ء
    ۱۰۔
    ماہنامہ الفرقان ربوہ نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴۔۷
    ۱۱۔
    الفضل یکم نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۱۲۔
    رسالہ’’ انصار اﷲ‘‘ ربوہ دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴ـ۔۸
    ۱۳۔
    الفضل ۱۰؍نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۱۴۔
    الفضل ۳۰؍نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۱۵۔
    الفضل ۱۲؍نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۱۶۔
    الفضل ۲۴؍نومبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴۔ الفضل ۴؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۱۷۔
    بحوالہ الفضل ۲۳؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۳
    ۱۸۔
    بدر قادیان ۲۹؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۳۔۴
    ۱۹۔
    الفضل ۱۹‘۲۱؍جنوری ۱۹۶۱ء
    ۲۰۔
    موضوع ’’ قرآن مجید بمقابلہ دیگرالہامی کتب‘‘
    ۲۱۔
    موضوع ’’ اجتہاد کی ضرورت‘‘
    ۲۲۔
    الفضل ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۔۴
    ۲۳۔
    الفضل ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۱
    ۲۴۔
    الفضل ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۔۴
    ۲۵۔
    الفضل ۷؍جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ۳۔۵





    حواشی
    ۱۔
    فائل ’’قبولیت احمدیت کی دلچسپ سرگذشت‘‘صفحہ ۱ یہ فائل’’ شعبہ تاریخ احمدیت ربوہ ‘‘ میں محفوظ ہے
    ۲۔
    الفضل ۱؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ۸
    ۳۔
    تاریخ احمدیت جلد سوم ۵۱۰
    ۴۔
    آپ کی درخواست اور حضور کے مبارک الفاظ کا عکس تاریخ احمدیت جلد ۴ صفحہ ۴۹۵۔۴۹۶
    ۵۔
    الفضل ۱۰؍جون ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۱
    ۶۔
    الفضل ۲۶؍جولائی ۱۹۱۴ء صفحہ۸ (9 HAREDALE ROAD PAPLAR WALK HERNE HILL LONDON.S.E. (
    ۷۔
    الفضل ۷؍جولائی ۱۹۱۴ء صفحہ۲(یہ مخلص خاتون ۱۹۱۶ء کے شروع میں فوت ہو گئیں الفضل ۱۵؍فروری ۱۹۱۶ء صفحہ ۱)
    ۸۔
    ‏THE TEACHINGS OF ISLAM
    ۹۔
    ‏THE MESSAGE OF PEACE
    ۱۰۔
    الفضل۲۵ اگست ۱۹۱۴ء
    ۱۱۔
    الفضل ۲۰؍ستمبر ۱۹۱۴ء صفحہ۶
    ۱۲۔
    تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۶؍دسمبر ۱۹۱۴ ء صفحہ ۷۔۸۔ الفضل ۲۳؍فروری ۱۹۱۵ء صفحہ۲ الفضل ۲۷؍اپریل ۱۹۱۵ء صفحہ۸۔ الفضل ۲۸؍نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۹
    ۱۳۔
    الفضل ۷؍نومبر ۱۹۱۵ء صفحہ۸
    ۱۴۔
    الفضل ۲؍فروری ۱۹۱۶ء صفحہ۱۰
    ۱۵۔
    تاریخ مسجد فضل لنڈن ’’ از حضرت سید محمد اسمٰعیل صاحبؒ
    ۱۶۔
    الفضل ۴’۸؍اپریل ۱۹۱۶ء صفحہ ۱۹۔۲۰)
    ۱۷۔
    (آپ کے ساتھ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیرّبھی تھے الفضل ۱۹۔۲۲؍جولائی ۱۹۱۹ء صفحہ۱)
    ۱۸۔
    (ایک مضمون جون ۱۹۲۰ء کے شمارہ میں چھپا)
    ۱۹۔
    الفضل ۵۔۹؍اگست ۱۹۲۰ء
    ۲۰۔
    (الفضل ۲۷؍ستمبر ۱۹۲۰ء)
    ۲۱۔
    (الفضل ۲۶؍اگست ۱۹۲۰ء صفحہ۲)
    ۲۲۔
    ‏ 63 MELROSE ROAD LONDON S.W.18
    ۲۳۔
    تاریخ مسجد فضل لنڈن از حضرت سید میر اسماعیل صاحب
    ۲۴۔
    الفضل ۲۷؍جنوری ۱۹۲۱ء صفحہ۸
    ۲۵۔
    الفضل ۳۱؍مارچ ۱۹۲۱ء صفحہ ۲
    ۲۶۔
    الفضل ۱۹؍ستمبر ۱۹۲۱ء صفحہ ۱
    ۲۷۔
    مطبوعہ رپورٹ میں آپ کا نام مرکزی نمائندگان کی فہرست میں نمبر ۲۶ پر درج ہے
    ۲۸۔
    اخبار تیج (دہلی) تفصیل تاریخ احمدیت جلد ۵ میں گزر چلی
    ۲۹۔
    یہ حصہ اگرچہ جلد پنجم صفحہ ۳۵۶ تا ۳۵۹ میں چھپ چکا ہے حضرت چودھری صاحب کے تبلیغی کارنامہ کی تفصیلات واضح کرنے کے لئے دوبارہ درج کیا جارہا ہے
    ۳۰۔
    ما ہنامہ خالد اگست ۱۹۶۰ء صفحہ ۷ تا ۹
    ۳۱۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان ۵۶۔۱۹۵۵ء صفحہ۱۰۸
    ۳۲۔
    الفضل یکم مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ۸
    ۳۳۔
    مزید تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو ’’تعلیم الاسلام میگزین’’قادیان چلد ۴ نمبر۱ (۱۹۳۳) صفحہ ۶تا۸
    ۳۴۔
    الفضل ۲۶؍مارچ ۱۹۶۰ صفحہ۳
    ۳۵۔
    الفضل ۵؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۳۶۔
    الفضل ۱۹؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۳۷۔
    الفضل ۲؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۳۸۔
    الفضل ۱؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۳۹۔
    الفضل ۲۳؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۶۔ ۳۰؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ۶
    ۴۰۔
    الحکم ۲۴؍اگست ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۶ کالم ۲ پر آپ کی بیعت کا اندراج بایں الفاظ موجود ہے
    ’’میاں برکت علی خاں صاحب گڑھ شنکر ہوشیارپور‘‘
    ۴۱۔
    اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۲۲۶ تا ۲۲۸ مولفہ ملک صاح الدین صاحب
    ۴۲۔
    مطبوعہ الفضل ۲۱؍جون ۱۹۲۹ء صفحہ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ’’رپورٹ مجلس مشاورت‘‘ ۱۹۳۰ء صفحہ ۳۱۷ تا ۳۲۶ (مطبوعہ ۱۶؍دسمبر ۱۹۳۰ء
    ۴۳۔
    الفضل ۱۷؍جون ۱۹۳۴ء صفحہ
    ۴۴۔
    الفضل ۱۹؍جون ۱۹۳۴ء صفحہ۱۰
    ۴۵۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء صفحہ ۹۰۔۹۱
    ۴۶۔
    اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۲۳۴ (از جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے قادیان
    ۴۷۔
    الفضل ۱۲؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۴۸۔
    تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو کتاب’’اصحاب احمد‘‘ جلد ہفتم ۲۱۸ تا ۲۵۶ (از جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے۔ ناثر احمدیہ بک ڈپو ربوہ اگست ۱۹۶۰ء)
    ۴۹۔
    الفضل ۱۲؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ۳
    ۵۰۔
    اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ ۲۴۴
    ۵۱۔
    الفضل ۲۶؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ۴
    ۵۲۔
    الفضل ۲۶؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۴ (مضمون مولوی عبدالرحیم صاحب عارف مربی جھنگ)
    ۵۳۔
    الفضل ۱۹؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۵۴۔
    الحکم قادیان ۷؍نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۲۔۱۳
    ۵۵۔
    الحکم ۸۲؍جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۳
    ۵۶۔
    ’’دیوان اشراف‘‘ صفحہ ۲ مطبوعہ ۱۹۵۲ٔء ویسٹ پنجاب پریس لاہور
    ۵۷۔
    بدر ۳۰؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۱۰
    ۵۸۔
    رجسٹر اصحاب مشمولہ تاریخ احمدیت جلد ۸ صفحہ ۵۱ (ضمیمہ)
    ۵۹۔
    الفضل ۸؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۸
    ۶۰۔
    ریکارڈ بہشتی مقبرہ
    ۶۱۔
    ’’رجسٹر روایات‘‘ جلد ۷ صفحہ ۱۷۰ بہشتی مقبرہ کے ریکارڈ میں آپکا سال بیعت ۱۸۹۱ء درج ہے
    ۶۲۔
    الفضل ۵؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۶۳۔
    رجسٹر روایات نمبر۷ صفحہ ۱۷۱
    ۶۴۔
    الفضل ۵؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ۸
    ۶۵۔
    ’’ روایات‘‘ غیر مطبوعہ نمبر ۵ صفحہ۱
    ۶۶۔
    رجسٹر روایات نمبر ۵صفحہ ۱۔۲۔۳
    ۶۷۔
    الفضل ۳۰؍اگست ۱۹۶۰ء صفحہ ۸
    ۶۸۔
    سرگذشت صفحہ ۱۳۔۱۵ (از مولانا عبدالمجید سالک) طبع دوم ناشر قومی کتب خانہ لاہور
    ۶۹۔
    ولادت۱۸۷۲ء وفات ۵؍جولائی ۱۹۳۶ء پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ پٹھانکوٹ۔ ۱۷۔۱۸ برس کی عمر میں بٹالہ سے پٹھانکوٹ آ گئے۔ ۱۹۳۲ء میں میونسپلٹی کے سیکرٹری کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے اپنے مفوضہ فرائض طویل عرصہ تک اس خوش اسلوبی سے انجام دئے کہ افسر خوش تھے اور ملازمین مداح۔ سرورکائنات صلی اﷲ علیہ وسلم کے عاشق ( صادق تھے حضور کا نام مبارک زبان پر آتا تو بے اختیار آنسورواں ہو جاتے اور ایک وجد کی کیفیت ان پر طاری ہو جاتی۔(الفضل ۲؍ستمبر ۱۹۳۶ء مضمون جناب عبدالجلیل خاں صاحب عشرتؔ)
    ۷۰۔
    ’’ سرگذشت ‘‘ صفحہ ۱۸
    ۷۱۔
    الفضل ۸؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ۵
    ۷۲۔
    مکتوب جناب عبدالجلیل صاحب عشرتؔ (۱۶؍۳۷ ٹاؤن شپ لاہور) مورخہ ۲؍مئی ۱۹۸۶ء بنام مولِّف سے ماخودْ
    ۷۳۔
    رجسٹر رفقاء قادیان مشمولہ تاریخ احمدیت جلد ۸ صفحہ۴۳ (ضمیمہ)
    ۷۴۔
    اخبار بدر ۸؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۷۵۔
    الفضل ۹؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۴
    ۷۶۔
    ’’ وہ پھول جو مرجھا گئے‘‘ صفحہ ۵۹ چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی درویش ناظر بیت المال آمد مطبوعہ فضل عمر پرنٹنگ پریس محلہ احمدیہ قادیان ۔دسمبر ۱۹۷۶ء
    ۷۷۔
    الحکم ۷؍اکتوبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۳ (خود نوشت روایات
    ۷۸۔
    الحکم ۷؍اکتوبر ۱۹۳۸ء صفحہ۳
    ۷۹۔
    الفضل ۹؍جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ۴
    ۸۰۔
    ایضاً
    ۸۱۔
    ’’الفرقان‘‘ جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ ۵۰
    ۸۲۔
    الفضل ۱۳؍جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ ۵
    ۸۳۔
    ولادت‘بیعت اور وفات کی تواریخ ریکارڈ بہشتی مقبرہ ربوہ سے ماخوذ ہیں
    ۸۴۔
    الفضل ۱۳؍جنوری ۱۹۶۰ء صفحہ ۱
    ۸۵۔
    الفضل ۱۷؍مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۵ تفصیلی حالات ’’ مصباح ‘‘ ربوہ مئی ۱۹۶۰ء میں ان کے بیٹے محمد امین خاں صاحب نے شائع کرا دئے تھے۔
    ۸۶۔
    مرکز احمدیت قادیان صفحہ ۳۶۱
    ۸۷۔
    الفضل ۱؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۸۸۔
    اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ ۹۲ طبع اوّل از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے
    ۸۹۔
    الفضل ۱۳؍ستمبر ۱۹۶۰ء صفحہ ۸
    ۹۰۔
    الفضل ۱۴؍ستمبر ۱۹۶۰ء صفحہ نمبر ۱
    ۹۱۔
    ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۳۲۴۱
    ۹۲۔
    الفضل ۲۱؍ستمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۱
    ۹۳۔
    الفضل ۳۱؍مئی ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۹۴۔
    الفضل ۲۸؍اپریل ۱۹۶۰ء صفحہ ۵ مضمون منعم الحسن صاحب ربوہ
    ۹۵۔
    الفضل ۲۱؍مئی ۱۹۶۰ء صفحہ ۳
    ۹۶۔
    الفضل ۲۰؍جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۹۷۔
    الفضل ۲۲؍جولائی ۱۹۶۰ء صفحہ نمبر ۵ مضمون مولوی غلام باری صاحب سیف
    ۹۸۔
    الفضل ۱۱؍اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحہ۵۔ ۹؍دسمبر ۱۹۶۰ء صفحہ۵
    ۹۹۔
    ’’مصباح‘‘ اکتوبر ۱۹۶۰ صفحہ۱
    ۱۰۰۔
    الفضل ۳؍فروری ۱۹۶۱ء صفحہ۵ مضمون سیدارشد علی صاحب لکھنوی
     

اس صفحے کو مشتہر کریں