1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تاریخ احمدیت ۔ جلد 11 ۔ یونی کوڈ

'تاریخ احمدیت ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تاریخ احمدیت ۔ جلد 11 ۔ یونی کوڈ

    ‏tav.11.1
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    تاریخ احمدیت
    جلد ۱۱
    یورپ کی روحانی فتح کے لئے
    نئے احمدیہ مشنوں کے قیام سے لیکر مسقط مشن کے قیام تک

    مولفہ
    دوست محمد شاہد
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    تاریخ احمدیت کی بارہویں جلد
    )رقم فرمودہ حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب صدر عالمی عدالت(
    امسال ادارۃالمصنفین کی طرف سے >تاریخ احمدیت< کی بارہویں جلد طبع ہوکر احباب جماعت کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہے۔ اس کے بیشتر حصہ کو میں نے دیکھا ہے۔ اس میں صقلیہ` فرانس` سپین` سوئٹزر لینڈ اور ہالینڈ میں اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کے نئے مشنوں کے قیام کا ذکر ہے اور اس بات کا مفصل تذکرہ کیاگیا ہے کہ کن حالات میں یہ مشن قائم ہوئے اور احمدی مبشرین نے کس کس رنگ میں اشاعت اسلام کا فریضہ ادا کرنے میں مساعی جمیلہ کیں اور ان مساعی کے نتیجہ میں اب تک کس قدر سعید روحیں محمد رسول اللہ~صل۱~ کے جھنڈے کے نیچے آجمع ہوئی ہیں۔
    ۱۹۴۷ء میں ہجرت کے بعد حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ جب لاہور تشریف فرما تھے تو آپ نے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں پشاور` راولپنڈی` کوئٹہ اور کراچی میں استحکام پاکستان کے متعلق لیکچر دیئے تھے۔ ان لیکچروں میں حضورؓ نے اس بات کو مفصل طور پر بیان فرمایا کہ پاکستان ایک مضبوط` متحد اور مستحکم مملکت کیسے بن سکتی ہے۔ ان لیکچروں کی تفصیل بھی اس جلد میں بیان کردی گئی ہے۔ اگر آج بھی اہالیان پاکستان ان امور کو مشعل راہ بنائیں تو پاکستان ایک مضبوط اور قابل احترام مملکت بن سکتا ہے۔
    اسرائیلی حکومت کے قیام پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مسلمانان عالم کو متحد کرنے کی غرض سے ایک بین الاقوامی تحریک اٹھائی تھی جس پر مشرقی وسطی کے مسلم پریس نے بالاتفاق خراج تحسین اداکیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ اس فتنہ پر کاری ضرب لگانے کے لئے حضور رضی اللہ عنہ کی تحریک کو اپنائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس جدوجہد کا بھی اس جلد میں ذکر ہے۔
    کتاب کے آخر میں پاکستان میں جماعت احمدیہ کے عالمی مرکز ۔۔۔۔ ربوہ ۔۔۔۔ کے قیام اور افتتاح کا ذکر ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق جماعت کو بکھرنے کے بعد مضبوط شیرازے میں جمع کردیا اور ایسا عظیم مرکز عطا کیا جس سے پھر اعلائے کلمتہ اللہ کا کام شروع ہوگیا اور مبشرین اسلام بیرون پاکستان اشاعت اسلام کے لئے جانے لگے۔ الغرض یہ جلد پہلی ¶جلدوں کی طرح نہایت ضروری اور اہم امور پر مشتمل ہے۔
    ہمارے نوجوانوں کا اپنی تاریخ سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے اس لئے میں جماعت کے نوجوانوں سے خصوصاً اور دیگر احباب جماعت سے عموماً درخواست کرتا ہوں کہ وہ نئی جلد کو جلد از جلد حاصل کرلیں اور پہلی شائع شدہ جلدوں کا اگر انہوں نے مطالعہ نہیں کیا تو ان کا مطالعہ بھی کریں تا وہ مقصد جس کے حصول کے لئے ہم نے تن` من` دھن قربان کرنا ہے وہ ہر وقت ہمارے سامنے رہے۔ وباللہ التوفیق۔
    والسلام
    خاکسار
    ظفر اللہ خان
    ‏]po [tag
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    پیش لفظ
    اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے تاریخ احمدیت کی بارہویں جلد مکمل ہوکر احباب کی خدمت میں پیش ہورہی ہے۔ گیارہویں جلد میں ان واقعات کا ذکر تھا جو ۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک کے بعد رونما ہوئے نیز ہجرت کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جس عزم اور بہادری سے جماعت کے نظام کو دوبارہ قائم فرمایا اس کا ذکر کیاگیا تھا۔ اس جلد میں حضورؓ کی اس عظیم جدوجہد کا ذکر ہے جو آپ نے پاکستان میں وارد ہونے کے بعد استحکام پاکستان کے لئے کی۔ آپؓ نے لاہور` کراچی` کوئٹہ اور پشاور کا سفر اختیار کیا اور ملک عزیز کے ان بڑے بڑے شہروں میں پبلک لیکچر دیئے جن میں ان امور کو مفصل طور پر بیان فرمایا جن کو مدنظر رکھنے سے پاکستان مضبوط بنیادوں پر قائم ہوسکتا ہے۔ حضورؓ کے ان بصیرت افروز خطبات سے آپ کی عظیم بصیرت اور ذہانت کا پتہ چلتا ہے۔
    جماعت احمدیہ کا اہم مشن دنیا میں اسلام کی اشاعت ہے۔ اس فریضہ کو سرانجام دینے کے لئے صقلیہ` فرانس` سپین` سوئٹزر لینڈ اور ہالینڈ میں جن حالات میں تبلیغی مشن قائم ہوئے اور مبلغین کو جو جدوجہد کرنی پڑی اس کا بھی مفصل ذکر جلد کے شروع میں کیاگیا ہے۔
    پاکستان میں جماعت احمدیہ کے عالمی مرکز ۔۔۔۔ ربوہ ۔۔۔۔ کا قیام ہماری تاریخ میں ایک عظیم واقعہ ہے۔ اس کا افتتاح کس رنگ میں عمل میں آیا اس کا مفصل ذکر بھی اس جلد کا حصہ ہے۔ کتاب کے آخر میں ایک ضمیمہ لگایا گیا ہے جس میں افتتاح ربوہ کے موقع پر افتتاح کی مبارک تقریب میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کرنے والے احباب کے اسماء کا اندراج کیاگیا ہے۔ اسی طرح سیدنا حضرت امیرالمومنین المصلح الموعودؓ اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے بعض خطوط کا عکس بھی دیاگیا ہے۔
    ادارۃ المصنفین تمام ان اصحاب کا جنہوں نے اس جلد کی تیاری میں کسی نہ کسی رنگ میں مدد کی ہے دلی شکریہ ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان سب کی محنت کو نوازے اور اپنے فضلوں کا وارث کرے۔)آمین(
    خاکسار
    ابوالمنیرنورالحق
    ادارۃ المصنفین ربوہ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    پہلا باب
    یورپ` مشرق وسطی اور مشرق بعید کے نئے احمدی مشنوں کی بنیاد سے لیکر ۱۳۲۶ہش / ۱۹۴۷ء کے متفرق مگر اہم واقعات تک
    غرناطہ کی آخری مسلم ریاست پر نویں صدی ہجری اور پندرہویں صدی عیسوی کے آخر میں عیسائی بادشاہ فرڈی نینڈ کا قبضہ ہوا اور مسلمانوں کے پائوں یورپ سے بالکل اکھڑ گئے۔ اس حادثہ سے لے کر آج تک مغربی ممالک اپنی سیاسی بالادستی اور عالمی اقتدار کے باعث اسلام کے راستہ میں ایک زبردست اور فولادی دیوار بنے ہوئے ہیں جس کا جلد سے جلد پاش پاش کر دینا ملت اسلامیہ کا اولین فرض ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یورپ کی روحانی فتح تحریک احمدیت کا بنیادی مقصد اور اس کے نصب العین کا لازمی حصہ ہے۔ جیسا کہ آنحضرت~صل۱~ کے فرزند جلیل امام الزمان حضرت سیدنا المسیح الموعود والمہدی الموعود علیہ الصلٰوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں۔
    >خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں۔ کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجاگیا۔<۱
    حضرت اقدس علیہ السلام کے دل میں یورپ پر اسلام کا جھنڈا گاڑنے کی کتنی شدید تڑپ تھی؟ اس کا کسی قدر اندازہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کے ایک چشم وید واقعہ سے ہوتا ہے۔ حضرت مفتی صاحبؓ کی روایت ہے کہ-:
    >غالباً ۹۸۔۱۸۹۷ء کا ذکر ہے۔ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس حضورﷺ~ کے اندر کے کمرے میں بیٹھا تھا کہ باہر سے ایک لڑکا پیغام لایا کہ قاضی آل محمدﷺ~ صاحب آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک نہایت ضروری پیغام لایا ہوں حضور خود سن لیں۔ حضورﷺ~ نے مجھے بھیجا کہ ان سے دریافت کرو کیا بات ہے؟ قاضی صاحب سیڑھیوں میں کھڑے تھے میں نے جاکر دریافت کیا انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت مولوی محمد احسن صاحب نے بھیجا ہے ایک نہایت ہی عظیم الشان خوشخبری ہے اور خود حضرت صاحب کو ہی سنانی ہے۔ میں نے پھر جاکر عرض کیا کہ وہ ایک عظیم الشان خوشخبری لائے ہیں اور صرف حضورﷺ~ کو ہی سنانا چاہتے ہیں۔ حضور نے فرمایا آپ پھر جائیں اور انہیں سمجھائیں کہ اس وقت مجھے فرصت نہیں وہ آپ کو ہی سنادیں اور آپ آکر مجھے سنادیں۔ میں نے حکم کی تعمیل کی اور قاضی آل محمد صاحب کو سمجھایا کہ وہ خوشخبری مجھے سنادیں میں حضرت صاحب کو سنادیتا ہوں۔ تب قاضی صاحب نے ذکر کیا کہ ایک مولوی کا مباحثہ حضرت مولوی محمد احسن صاحب کے ساتھ تھا اور اس مولوی کو خوب پچھاڑا اور لتاڑا گیا اور شکست فاش دی گئی۔ میں نے آکر یہ خبر حضرت صاحب کے حضور عرض کی۔ حضور نے تبسم کرتے ہوئے فرمایا >میں نے سمجھا کہ یہ خبرلائے ہیں کہ یورپ مسلمان ہوگیا ہے۔<۲
    ‏body] [tagگو جماعت احمدیہ کا قیام ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء۳ کو ہوا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں مغربی دنیا میں تبلیغ اسلام کی بنیاد ۱۸۸۵ء سے رکھی گئی جبکہ حضور نے خدا تعالیٰ کی منشاء مبارک کے مطابق نشان نمائی کی عالمگیر دعوت کے لئے ہزاروں کی تعداد میں انگریزی کا یہ انعامی اشتہار یورپ اور امریکہ کی تمام نامور شخصیتوں کو رجسٹری کرکے بھجوایا۔ اس اشتہار کا متن >سرمہ چشم آریہ< میں شائع شدہ ہے۔
    ۱۸۹۴ء میں حضورﷺ~ نے مسلمانوں کو یورپ میں واعظ بھجوانے کی پرزور تحریک کی اور فرمایا-:
    >قوموالاشاعہ القران وسیروا فی البلدان ولا تصبوا الی الاوطان وفی البلاد الانکلیزیہ قلوب ینتظرون اعانتکم وجعل اللہ راحتھم فی معاناتکم فلا تصموا صموت من راوتعاما ودی وتحاما الا ترون بکاء الاحزان فی تلک البلدان واصوات الخلان فی تلک العمران۔ قوموا لتخلیص العانین وھدایہ الضالین ولا تکبوا علی سیفکم وسنانکم واعرفوا اسلحہ زمانکم فان لکل زمان سلاح اخروحرب اخرفلا تجادلوا فیما ھواجلی واظھر ولاشک ان زماننا ھذا یحتاج الی اسلحہ الدلیل والحجہ والبرھان لاالی القوس والسھم والسنان فاعدوا للاعداء ماترون نافعا عند العقلاء ولن یمکن ان یکون لکم الفتح الا باقامہ الحجہ وازالہ الشبھہ وقدتحزکت الارواح لطلب صداقہ الاسلام فادخلوا الامرمن ابوابہ ۔۔۔۔ فان کنتم صادقین وفی الصلحت راغبین فابعثوا دجالا من زمرہ العلماء لیسیروا الی البلاد الانکلیزیہ کالو عظاء لیتموا علی الکفرہ حجج الشریعہ الغراء۔۔۔۔ ولاشک ان تفھیم الضالین الغافلین واجب علی العلماء العارفین فقومواللہ واشیعوا ھداہ والا توملوا علیھا جزاء من سواہ ۔۔۔۔ فان فعلتم وکما قلت عملتم فبقی لکم ماثرالخیر الی اخرالزمان وتبعثون مع احباء الرحمن وتحشرون فی عباداللہ المجاھدین فاسمعوا رحمکم اللہ وقومواللہ قانتین ۔۔۔۔ ومن ذھب الی البلاد الانکلیزیہ خالصا للہ فھواحد من الاصفیاء وان تذرکہ الوفات فھومن الشھداء۔< ۴
    ترجمہ-: قرآن کے شائع کرنے کے لئے کھڑے ہوجائو اور شہروں میں پھرو اور اپنے ملکوں کی طرف میل مت کرو۔ اور انگریزی ولاتیوں میں ایسے دل ہیں جو تمہاری مددوں کے انتظار کررہے ہیں اور خدا نے تمہارے رنج اور ان کے رنج میں راحت رکھی ہے۔ پس تم اس شخص کی طرح چپ مت ہوجو دیکھ کر آنکھیں بند کرے۔ اور بلایا جاوے اور پھر کنارہ کرے۔ کیا تم ان ملکوں میں ان بھائیوں کا رونا نہیں سنتے اور ان دوستوں کی آوازیں تمہیں نہیں پہنچتیں؟ اے لوگو!! قیدیوں کو چھڑانے کے لئے اور گمراہوں کی ہدایت کے لئے کھڑے ہوجائو اور تلوار اور نیزوں پر افروختہ ہوکر مت گرو اور اپنے زمانہ کے ہتھیاروں اور اپنے وقت کی لڑائیوں کو پہچانو کیونکہ ہر ایک زمانہ کے لئے ایک الگ ہتھیار اور الگ لڑائی ہے پس اس امر میں مت جھگڑو جو ظاہر ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ ہمارا زمانہ دلیل اور برہان کے ہتھیاروں کا محتاج ہے۔ تیر اور کمان اور نیزہ کا محتاج نہیں۔ پس تم دشمنوں کے لئے وہ ہتھیار تیار کرو جو عندالعقلاء نافع ہیں۔ اور ہرگز ممکن نہیں جو بغیر محبت قائم کرنے اور شبہات دور کرنے کے تمہیں فتح ہو اور بلاشبہ روحیں اسلامی صداقت طلب کرنے کے لئے حرکت میں آگئی ہیں۔ پس تحصیل مقصد کے لئے دروازہ میں سے داخل ہو۔ پس اگر تم سچے ہو اور صلاحیت کی طرف راغب ہو تو علماء میں سے بعض آدمی مقرر کرو تاکہ واعظ بن کر انگریزی ملکوں کی طرف جائیں اور تاکافروں پر شریعت کی محبت پوری کریں اور کچھ شک نہیں کہ گمراہوں کا سمجھانا عالموں پر فرض ہے پس خدا تعالیٰ کے لئے کھڑے ہوجائو اور اس کی ہدایت کو پھیلائو اور اس پر کسی اور کے بدلہ کی امید مت رکھو۔ پس اگر تم نے ایسا کیا اور میرے کہنے پر عمل کیا تو اخیر زمانہ تک نیک یادگار تمہاری باقی رہے گی اور تم مقبولوں کے ساتھ اٹھائے جائو گے اور خدا کے مجاہد بندوں میں تمہارا حشر ہوگا۔ سو! جوانمردی دکھلائو خدا تعالیٰ تم پر رحم کرے۔ اور فرمانبردار بن کر اٹھ کھڑے ہو۔ اور جو شخص وعظ کے لئے انگریزی ملکوں کی طرف خالصاً لل¶ہ جائے گا پس وہ برگزیدوں میں سے ہوگا۔ اور اگر اس کو موت آجائے گی تو وہ شہیدوں میں سے ہوگا۔<
    عصرحاضر کے مجاہد اعظم سیدناالمسیح الموعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے تبلیغی جہاد کی اس پرزور تحریک کے بعد خدا کی پاک وحی سے علم پاکر ایک مسلم یورپ اور مسلم امریکہ کا تخیل پیش کرتے ہوئے یہ خوشخبری دی کہ-:
    >خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے ۔۔۔۔ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہر ایک قسم کی شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو اب نابود ہوچکی ہے۔ اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگادوں۔ اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہوگا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہوگا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک طرف تو خدا نے اپنے ہاتھ سے میری تربیت فرماکر اور مجھے اپنی وحی سے شرف بخش کر میرے دل کو یہ جوش بخشا ہے کہ میں اس قسم کی اصلاحوں کے لئے کھڑا ہوجائوں اور دوسری طرف اس نے دل بھی تیار کردیئے ہیں جو میری باتوں کو ماننے کے لئے مستعد ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ جب سے خدا نے مجھے دنیا میں مامور کرکے بھیجا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایک انقلاب عظیم ہورہا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں جو لوگ حضرت عیسیٰؑ کی خدائی کے ولدا وہ تھے اب ان کے محقق خودبخود اس عقیدہ سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں۔ اور وہ قوم جو باپ دادوں سے بتوں اور دیوتوں پر فریضتہ تھی بہتوں کو ان میں سے یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ بت کچھ چیز نہیں ہیں۔ اور گو وہ لوگ ابھی روحانیت سے بے خبر ہیں اور صرف چند الفاظ کو رسمی طور پر لئے بیٹھے ہیں۔ لیکن کچھ شک نہیں کہ ہزارہا بے ہودہ رسوم اور بدعات اور شرک کی رسیاں انہوں نے اپنے گلے پر سے اتار دی ہیں اور توحید کی ڈیوڑھی کے قریب کھڑے ہوگئے ہیں میں امید کرتا ہوں کہ کچھ تھوڑے زمانہ کے بعد عنایت الٰہی ان میں سے بہتوں کو اپنے ایک خاص ہاتھ سے دھکادے کر سچی اور کامل توحید کے اس دارالامان میں داخل کر دے گی۔ یہ امید میری محض خیال نہیں ہے بلکہ خدا کی پاک وحی سے یہ بشارت مجھے ملی ہے۔<۵
    حضرت اقدس علیہ السلام نے اس روحانی انقلاب کو قریب سے قریب ترلانے کے لئے مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کا صحیح اور واحد طریق حسب ذیل الفاظ میں بیان فرمایا-:
    >آج کل ان ملکوں میں جو اسلام نہیں پھیلتا اور اگر کوئی مسلمان ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کمزوری کی حالت میں رہتاہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ وہ لوگ اسلام کی اصل حقیقت سے واقف نہیں اور نہ ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کیاگیا ہے۔ ان لوگوں کا حق ہے کہ ان کو حقیقی اسلام دکھلایا جائے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کیاہے۔ وہ امتیازی باتیں جو کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ میں رکھی ہیں وہ ان پر ظاہر کرنی چاہئیں اور خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کا سلسلہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔ اور ان سب باتوں کو جمع کیاجائے جن کے ساتھ اسلام کی عزت اس زمانہ میں وابستہ ہے۔ ان تمام دلائل کو جمع کیاجائے جو اسلام کی صداقت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ہم کو سمجھائے ہیں۔<۶
    سیدناالمصلح الموعودؓ نے حضرت امام الزمان مہدی موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ طریق تبلیغ کو عملی جامہ پہنانے اور مغربی ممالک کے کونے کونے تک حقیقی اسلام کی آواز پہنچانے کے لئے سب سے پہلا اور بروقت قدم یہ اٹھایا کہ انگلستان میں احمدیہ دارالتبلیغ کا قیام فرمایا اور پے درپے مبلغ بھجوانے شروع کئے۔ جب اسلامی دعوۃ و تبلیغ کی راہ کسی قدر ہموار ہوگئی تو حضور جولائی ۱۹۲۴ء میں بہ نفس نفیس یورپ تشریف لے گئے تا ان ممالک کے تفصیلی حالات و مشکلات کا قریب سے مطالعہ کرنے اور وہاں کے ہر طبقہ اور ہر نقطہ خیال کے لوگوں سے مشورہ کرنے کے بعد تبلیغ اسلام کی ایک مستقل سکیم اور ایک مکمل نظام تجویز فرمائیں۔ اس مبارک سفر نے جو قریباً ساڑھے چار ماہ میں اختتام کو پہنچا۔ نہ صرف یورپ کی اسلامی مہم جو اب تک نہایت محدود اور بالکل ابتدائی اور مختصر صورت میں تھی پہلے سے زیادہ منظم اور تیز کردی بلکہ اس کے اثرات انگلستان سے نکل کر آہستہ آہستہ یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی پھیلنے لگے۔ اس کے بعد تحریک جدید جیسی عالمی تحریک کا آغاز ہوا جس کے مجاہد ۱۹۳۶ء میں سپین` ہنگری البانیہ اور یوگوسلاویہ تک اور ۱۹۳۷ء میں اٹلی اور پولینڈ تک جاپہنچے اور یورپ کے ان خطوں نے حضرت مصلح موعودؓ کے تربیت یافتہ شاگردوں کی زبانوں سے براہ راست اسلام کا پیغام سنا۔ لیکن ابھی یہ تبلیغی مہم ابتدائی مراحل میں سے گزر رہی تھی کہ یکم ستمبر ۱۹۳۹ء کو دوسری عالمگیر اور خوفناک جنگ عظیم چھڑگئی جس کا خاتمہ ۱۵ اگست ۱۹۴۵ء کو ہوا۔ چھ سال کے اس درمیانی عرصہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی پوری توجہ ان مجاہدین تحریک جدید کی تربیت کی طرف رکھی جنہوں نے حضور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدمت اسلام کے لئے زندگیاں وقف کی تھیں۔ چنانچہ جونہی بیرونی ممالک کے رستے کھلنے شروع ہوئے آپ نے ۱۸ ماہ فتح/دسمبر ۱۳۲۴ ہش/۱۹۴۵ء کو نو مجاہدین کا ایک قافلہ قادیان سے انگلستان روانہ فرمایا جس نے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ امام مسجد لنڈن کی نگرانی میں تبلیغی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے فرانس` سپین` سسلی` سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں احمدیہ مشن قائم کردیئے۔ ان مشنوں کو ابتداء میں کیاکیا مشکلات پیش آئیں؟ تبلیغی سرگرمیوں کے شروع کرنے اور جاری رکھنے کے لئے کن ذرائع کو بروئے کار لایاگیا اور ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟ وغیرہ ضروری امور کا مفصل ذکر ذیل میں ہر مشن کے تحت کیاجاتا ہے۔
    فصل اول
    احمدیہ مسلم مشن فرانس کا قیام
    اسلام کا دوراول اور فرانس
    فرانس کا مشہور ملک براعظم یورپ کے شمال مغرب میں واقع ہے جو سپین کے شمال میں ہے اور اس سے ملحق ہے۔ فرانس میں اسلام کا نام پہلی بار ۹۲ھ/۷۱۰ء میں پہنچا جبکہ مشور عالم مسلمان جرنیل طارق بن زیاد فتحمندی کا جھنڈا لہراتے ہوئے جبل الطارق )جبرالٹر( تک پہنچ گئے۔ ۹۳ھ/۷۱۱ء میں امیر افریقہ موسیٰ بن نصیر نے پورے اندلس پر مسلم حکومت قائم کردی۔ ۷ اس کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز~رح~ )ولادت ۶۱ھ/۶۹۰ء۔ وفات ۲۵ رجب ۱۰۱ھ فروری ۷۲۰ء نے جن کو سیدنا مہدی مسعودعلیہ السلام نے نیک اور عادل بادشاہ قرار دیا ہے۔۸ السمح بن مالک خولانی کو کمانڈر بناکر بھجوایا۔۹ تاریخ سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچتی ہے کہ اسلامی لشکر حضرت عمر بن عبدالعزیز~رح~ کی خلافت کے پہلے ہی سال ۹۹ھ/۷۱۸ء میں کوہ پیرینیزMOUNTAINS) (PYRENESS کو عبور کرکے فرانس کی سرحد میں داخل ہوچکاتھا اور گال (GAUL) قوم سے معرکہ آزمائی ہورہی تھی۔۱۰ پروفیسر فلپ۔ کے۔ حتی۔ السمح بن مالک خولانی کی فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ۷۲۰ء میں السمح نے سبتمانیہ (SEPTIMANIA) اور اربونہ کو فتح کرلیا۔ اربونہ کی گڑھی کو بعد میں عربوں نے ایک بڑا قلعہ بنادیا اور اس میں اسلحہ اور اناج کے گوداموں کے ساتھ ایک اسلحہ ساز کارخانہ بھی قائم کردیا۔ اسی سال السمح نے ڈیوک اکوتانیا کے صدر مقام تولوز کو فتح کرنے کی کوشش کی اور یہیں جام شہادت نوش کیا۔ ۱۱ فرانسیسی مولف و محقق ڈاکٹر گستاولی بان لکھتا ہے >آٹھویں صدی عیسوی میں جب عربوں نے فرانس پر حملہ کیا تو یہ ملک ان بادشاہوں کی حکومت میں تھا جو سلاطین کاہل الوجود کے نام سے مشہور ہیں۔ جاگیرداروں اور امراء کے مظالم سے حالت ابتر ہورہی تھی اور اسی لئے وہ باسانی عربوں کے ہاتھ آگیا اور انہوں نے بلا کوشش بلیغ اکثر جنوبی شہروں پر قبضہ کرلیا۔ پہلے انہوں نے لانگے ڈاک میں ناربان کے شہر کو فتح کیا اور ۷۲۱ء میں ایکی ٹین کے پایہ تخت ٹورس کا محاصرہ کیا مگر کامیاب نہ ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے یکے بعد دیگرے کارکاسان` نیم لیان` ماکان` اوتون وغیرہ کو فتح کیا اور دریائے رون صوبہ جات اور ڈافینے اور برکان کے صوبوں تک پہنچ گئے۔ فرانس کا آدھا ملک دریائے لوار کے کنارے سے فرانش کانتے تک بتدریج عربوں کے قبضہ میں آگیا۔۱۲ نیز لکھتا ہے >۷۳۷ء میں مارسیلز کے حاکم نے ان سے پرووانس لے لیا اور انہوں نے اول پر قبضہ کیا ۸۸۹ء میں وہ سینٹ ٹروپے میں موجود تھے اور دسویں صدی تک ان کا دخل پرووانس پر رہا۔ ۱۹۳۵ء میں وہ والے اور سوئٹزرلینڈ تک پہنچ گئے تھے۔ اور بعض مورخین کہتے ہیں کہ وہ مٹس تک آگئے تھے۔ ۱۳
    علامہ شہاب الدین ابوالعباس المقری کی کتاب >نفح الطیب< سے معلوم ہوتا ہے کہ عساکر اسلامیہ امیر عبدالرحمن الاوسط بن الحکم اول کی زیرسرکردگی ۲۲۶ھ/۸۴۱۔۸۴۰ء میں فرانس سے پیش قدمی کرتے ہوئے برطانیہ تک جا پہنچے تھے۔
    حضرت مصلح موعودؓ کا قیام فرانس تبلیغ اسلام کے لئے جدوجہد اور پرسوز دعائیں
    جماعت احمدیہ کی طرف سے فرانس میں تبلیغ اسلام کی سرگرمیوں کا براہ راست آغاز ۱۹۲۴ء میں ہوا جبکہ حضرت مصلح موعودؓ اپنے خدام کے ساتھ ویمبلے کانفرنس میں شرکت
    اور مسجد فضل لنڈن کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ۲۶۔ اکتوبر سے ۳۱۔ اکتوبر ۱۹۲۴ء تک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں رونق افروز رہے۔۱۴ پیرس کے ریلوے سٹیشن پر مسٹر خالد شیلڈریک امام مسجد پیرس اور مسٹر گوسٹن ڈیورینڈ )نمائندہ HAVER ایجنسی(۱۵ نے حضور کا استقبال کیا( مسٹر گوسٹن ڈیورنڈ نے ایک انٹرویو کے دوران پوچھا کہ آپ کے سفر کا مقصد کیا ہے؟ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا-:
    >میں اس غرض سے یورپ میں سفر کررہا ہوں کہ یورپ کی مذہبی حالت کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر صحیح اندازہ کروں جس سے مجھ کو ان ممالک میں اشاعت اسلام کے لئے ایک مستقل سکیم تیارکرنے میں مددملے۔ اور میرا یہ مقصد ہے کہ چونکہ میں دنیا میں صلح کا جھنڈا بلند کرنا چاہتا ہوں میں دیکھوں کہ مشرق اور مغرب کو کون سے امور ملاسکتے ہیں۔<۱۶
    اسی طرح الجیریا کے ممتاز مسلم لیڈر سیدمحمد سماوی ممبر سپریم کونسل کو بھی بتایا کہ مغربی ممالک میں جانے سے میرا مدعا یہ ہے کہ ان ممالک کی مذہبی حالت کا معائنہ کرکے اشاعت اسلام کے لئے ایک سکیم تجویز کروں۔۱۷
    جہاں تک فرانس کا تعلق تھا حضور نے اس مقصد کی تکمیل کے لئے ۲۶۔ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو ایک مجلس مشاورت منعقد فرمائی اور فیصلہ فرمایا کہ پیرس کے صحافیوں` مشرقی دنیا پر لکھنے والے مصنفوں` سیاسی لیڈروں اور غیر ملکی سفیروں کو پیغام اسلام پہنچانے کے لئے تین پارٹیاں سرگرم عمل ہوجائیں۔ اگرچہ وقت مختصر تھا اور زبان کی ناواقفی بہت بڑی سدراہ تھی۔ مگر چونکہ قیام فرانس مشن کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی تھا کہ اسلام کی آواز بہرکیف پیرس کے مختلف حلقوں تک پہنچائی جائے اس لئے انتہائی کوشش کی گئی کہ تبلیغ حق کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔ چنانچہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ نے اخبار نویسوں سے` حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ چوہدری محمد شریف صاحب اور مولوی عبدالرحمن صاحب مصری نے مشرقی مصنفین اور مشرقی ممالک کے سفراء سے اور حضرت خان ذوالفقار علی خان صاحب اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے انگریزی اور مغربی سفیروں سے ملاقاتیں کیں۔
    خود حضرت مصلح موعودؓ نے قیام پیرس کے دوران مسٹر گوسٹن ڈیورنڈ )نمائندہ ہورس ایجنسی( پرنس آف ویلز کی ایک رجمنٹ کے کپتان لارڈکریوبرٹس منسٹر پیرس اور ایڈیٹر >لی جرنل< کو شرف ملاقات بخشا وزیراعظم فرانس موسیونپکارے POINCARE)۔(M سے بھی ملاقات کا پروگرام تھا مگر انہیں فوری طور پر پیرس سے باہر صدر فرانس کے پاس جانا پڑا اس لئے یہ پروگرام ملتوی کرنا پڑا جس پر ان کی طرف سے معذرت کا خط بھی آیا۔ حکومت فرانس ان دنوں ایک عالی شان اور خوشنما مسجد تعمیرکرا۔ ہی تھی۔ حضور معہ خدام ۲۹۔ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو بوقت ڈھائی بجے اس شاندار مسجد میں تشریف لے گئے۔ مسجد میں متعدد فرانسیسی اخبارات کے نامہ نگار اور سینما والے آرٹسٹ بھی موجود تھے۔ دروازہ پر ناظم مسجد نے بہت سے مئوقر مسلمانوں کے ساتھ حضور کا استقبال کیا اور زیر تعمیر مسجد کے تمام حصے دکھائے۔ مسجد مراکش طرز پر تعمیر ہورہی تھی۔ مراکش کے مسلمان کاریگر اور فرانسیسی معمار بھی کام کررہے تھے مگر صناع زیادہ تر مغربی تھے۔ مسجد کے محراب میں حضور نے کھڑے ہوکر اپنی جماعت کے ساتھ ایک لمبی دعا کی۔ بلکہ آپ سب سے پہلے شخص تھے جس نے یہاں دعا کی اور فرمایا۔
    >میں نے تو یہی دعا کی ہے کہ یااللہ یہ مسجد ہم کو ملے اور ہم اس کو تیرے دین کی اشاعت کا ذریعہ بنانے کی توفیق پائیں۔<۱۸
    فرانس میں تبلیغی مشکلات
    سیدنا المصلح الموعودؓ نے فرانسیسی قوم کے کیریکٹر کا قریبی مطالعہ کرتے ہوئے خاص طور پر نتیجہ اخذ کیا کہ فرانسیسیوں میں قومی تعصب انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔ چنانچہ حضور نے ۴ ماہ احسان/جون ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء کو فرمایا-:
    >فرانس والوں میں اپنی چیز کے متعلق بہت تعصب پایا جاتا ہے۔ انگریزوں کی چونکہ بہت بڑی ایمپائر ہے اور وہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ان کا رویہ دوسروں کے متعلق روا وارانہ ہوگیا ہے مگر فرانسیسیوں کا طریق جدا ہے۔ وجہ یہ کہ گو ان کی بھی ایمپائر ہے مگر ان کے مقبوضات اتنے پھیلے ہوئے نہیں۔ اور ان کا رویہ ایسا ہے کہ ان کے ماتحت جتنی اقوام ہیں وہ پمنپ نہیں سکتیں ۔۔۔۔ مجھے خود بھی اس کا تجربہ ہے۔ پیرس میں فرانسیسیوں نے چندہ کرکے ایک اچھی بڑی مسجد بنوائی ہے۔ اس کے ساتھ دکانیں` قہوہ خانے اور ہوٹل وغیرہ بھی ہے تاکہ مراکش وغیرہ سے آنے والے مسلمان ٹھہریں۔ ہم پیرس گئے تو حکام نے دعوت دی کہ ہم مسجد دیکھنے آئیں۔ جب ہم مسجد دیکھنے روانہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ موٹر ڈرائیور کو پتہ نہیں کہ مسجد کہاں واقع ہے۔ ایک جگہ دو آدمی کھڑے باتیں کررہے تھے ہم میں سے کسی نے جاکر ایک سے پوچھا مسجد کہاں ہے؟ تو اس نے کندھے ہلاکر کہہ دیا کہ میں نہیں جانتا اور چل دیا۔ دوسرے شخص نے بتایا کہ میں ایٹلین ہوں اور وہ فرانسیسی ہے۔ آپ لوگوں نے چونکہ انگریزی میں اسے سے پوچھا اس لئے اس نے کہہ دیا کہ میں نہیں جانتا۔ وجہ یہ کہ فرانسیسی اپنی زبان کے سوا کسی دوسری زبان میں بات کرنا سخت ناپسند کرتے ہیں اور ایسے شخص کو حقارت سے دیکھتے ہیں جو فرانسیسی نہ جانتا ہوا۔ اٹالین نے کہا وہ انگریزی جانتا تھا اور مجھ سے انگریزی میں ہی باتیں کررہا تھا اور اسے مسجد کا پتہ بھی تھا۔ میرا تو واقف تھا اس لئے باتیں کررہا تھا مگر آپ لوگوں کے انگریزی میں بات کرنے پر برا مناکر چلاگیا۔ تو فرانسیسیوں میں اس قسم کا تعصب پایا جاتا ہے پھر ان کا یہ بھی طریق ہے کہ اپنی بات بہت سختی سے منواتے ہیں ۔۔۔۔ بیشک انگریز نرمی کرتا ہے مگر وہ نرمی ایسی ہی ہوتی ہے جیسی وہ اپنے کتے سے کرتے ہیں۔ اس کے طریق عمل سے پتہ لگتا ہے کہ وہ دوسرے کو آدمی نہیں سمجھتا بلکہ کتا خیال کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں فرانسیسی بیشک سختی کرتا ہے مگر ایسی ہی سختی جیسی غلام سے کی جاتی ہے۔ اس کے طریق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انسان تو سمجھتا ہے مگر اپنا غلام )اس کی مثال یہ ہے کہ۔ ناقل( اگر کسی۱۹ انگریز کی دعوت کریں تو میز` کرسی` چھری کانٹے کا انتظام کرنے کی فکر پڑجاتی ہے اور اس طرح گویا ہم انگریز کو ہی اپنے گھر نہیں لاتے بلکہ اس کے گھر کو اور اس کے تمدن کو بھی لانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا انتظام نہ کریں تو انگریز ناک بھوں چڑھاتا ہے اور طبیعت خراب ہے کا بہانہ بناکر کھانے کی طرف پوری طرح متوجہ نہیں ہوتا۔ مگر فرانسیسی کے لئے ایسا انتظام کیا جائے تو وہ ناپسند کرتا ہے اس لئے اسے بلانے پر کوئی فکر لاحق نہیں ہوتا۔ اور جب اسے بلایا جائے تو ہمارے ساتھ فرش پر بیٹھ کر خوشی سے کھاپی لیتا ہے اور خوب بے تکلف ہوکر باتیں کرتا ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جاتے وقت میزبان کو ہتھکڑی لگاکر ساتھ ہی لے جائے غرض انگریز اور فرانسیسی کے کیریکٹر میں یہ ایک نمایاں فرق ہے ۔۔۔۔ اس ماحول میں تبلیغ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ جو شخص دوسرے کو ادنیٰ اور حقیر سمجھتا ہے اس سے بات کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اگر کوئی بات کی بھی جائے تو وہ اسے کچھ وقعت نہیں دیتا اور اس کا اثر قبول نہیں کرتا۔<۲۰
    دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس میں احمدیہ مسلم مشن کا قیام
    ان شدید مشکلات کے باوجود خدا تعالیٰ کے اولوالعزم خلیفہ المصلح الموعودؓ نے جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد فرانس میں تبلیغی مشن کھولنے کا ارشاد فرمایا جس پر حضور کے حکم سے لنڈن میں مقیم تحریک جدید کے دو مجاہدین یعنی ۲۱ ملک عطاء الرحمن صاحب اور مولوی عطاء اللہ صاحب ۱۷ ماہ ہجری / مئی ۱۳۲۵ ہش / ۱۹۴۶ء کو پیرس پہنچ گئے اور ایک ہوٹل کے کمرہ کو اپنا مرکز بناکر نہایت مختصر سے پیمانہ پر کام شروع کردیا۔ مولوی عطاء اللہ صاحب جلد ہی فرانس سے افریقہ بھجوا دیئے گئے اور مشن چلانے کی تمام ذمہ داری ملک عطاء الرحمن صاحب کو سانپ دی گئی۔
    احمدی مجاہدین کے پیرس میں پہلے تین روز
    مبشرین نے اجنبیت کے ماحول میں پہلے تین دن کس طرح گزارے؟ اس کی تفصیل ملک عطاء الرحمن صاحب کی ایک ابتدائی رپورٹ میں ہمیں ملتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں-:
    >شام کے وقت ہم گاڑی سے اترے ۔۔۔۔ رات کا وقت تھا۔ ماحول ہر طرح اجنبی تھا۔ یہاں کے درودیوار` یہاں کے لوگوں اور زبان کے مکمل اجنبیت تھی۔ فرانسیسی قوم بہت متعصب` تنگ دل اور شکی واقع ہوئی ہے۔ چنانچہ بجائے اس کے کہ اس دوران میں جو ہمیں ملا اجنبیت کی وجہ سے ہمارے ساتھ ہمدردی سے پیش آتا ہماری اجنبی شکلوں اور لباس کی وجہ سے ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھتا ۔۔۔۔ آخر سڑک سے ہٹ کر ایک ہوٹل میں جانے کا اتفاق ہوا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹھہرنے کے لئے جگہ مل گئی۔
    ۱۸۔ مئی پیرس اور فرانس میں ہمارا پہلا دن تھا ۔۔۔۔ فی الحال دو کام مدنظر تھے رہائش کا کوئی مستقل انتظام اور فرانسیسی زبان سیکھنے کے لئے معلومات کا حاصل کرنا۔ سب سے پہلے برطانوی سفارت خانہ میں گیا رہائش کے لئے امداد کے سلسلہ میں انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ پیرس میں ان دنوں یہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ زبان سیکھنے کے سلسلہ میں بعض اداروں کا پتہ دیا۔ اس کے بعد برطانوی قونصل خانہ میں گیا وہاں بھی انہی امور کے سلسلہ میں بعض معلومات اور پتے حاصل کئے۔ وہاں سے دو تعلیمی اداروں اور ایک پرائیویٹ سکول میں گیا اور ممکن معلومات حاصل کیں۔ اس دوران ایک ایسے ادارہ میں بھی گیا جہاں مختلف ممالک کے طلباء کے لئے مقابلہ بہت ہی کم خرچ پر رہائش اور کھانے کا انتظام ہے۔
    ۱۹۔ مئی دفاتر بند تھے کہیں جانہ سکتا تھا۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اور دفتر کی مفصل رپورٹ بھجوائی۔ ہمارے سامان میں کتابوں کا ایک بنڈل تھا جو پیرس پہنچنے پر ہمیں نہ ملا تھا۔ کل اور آج پھر ہم متعلقہ دفاتر میں گئے لیکن اس کا کچھ پتہ نہ چلا کہ کہاں رہ گیا ہے۔ لنڈن میں یا ڈووریا کیلے کی بندرگاہ پر رہ گیا۔ ان تینوں مقامات پر دفتر متعلقہ کی طرف سے خط لکھوائے اور تاریں بھجوائیں۔ ایک فرانسیسی نوجوان سے دو اڑھائی گھنٹہ تبلیغی گفتگو ہوتی رہی ۔۔۔۔۔ وہ نوجوان آبدیدہ ہوگیا اور بڑے درد سے کہنے لگا >افسوس ہم نے یہ مذہب اپنے آباء سے اس رنگ میں پایا ہے کہ ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔ میرے والدین نے تو میرے اندر عیسائیت ہمیشہ کے لئے بھرنی چاہی ہے` اور بھردی ہے لیکن مجھے محسوس ہونے لگا ہے کہ آپ کی باتیں میرے عقائد سے مجھے ہلانا چاہتی ہیں۔<
    یہ لوگ اپنے مذہب کے لئے اس قدر ضدی اور متعصب واقع ہوئے ہیں کہ تبدیل مذہب کا انہیں وہم بھی نہیں ہوسکتا۔۲۲
    ۲۰۔ مئی آج صبح پیرس میں مختلف مقامات پر مختلف امور کے سلسلہ میں چند خطوط لکھے۔ ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارہ اور ایک دفتر میں بھی گیا۔ اس تعلیمی ادارہ کی منتظمہ سے تعلیم اور رہائش کے سلسلہ میں بعض معلومات حاصل کیں اور آخر میں اسے پون گھنٹہ کے قریب تبلیغ کی۔ اس نے بھی یہی کہا کہ >اسلام کی تعلیم کس قدر خوش نما ہے۔ مدلل اور حقائق پر مبنی ہے۔ لیکن میں رومن کیتھولک ہوں یہ نہ خیال کرنا کہ میں اپنا مذہب کبھی چھوڑوں گی۔<
    فرانس کے حالات سیاسی` ملکی` مذہبی اور قومی تبلیغ کی راہ میں روکیں رکھتے ہیں جنہیں صرف اور صرف ہمارا خدا ہی دور کرسکتا ہے جو انشاء اللہ ضرور دور کرے گا اور احمدیت جلد ایک دن اپنے الٰہی مقصد میں کامیاب ہوگی` انشاء اللہ۔<۲۳
    فرانس مشن کی پہلی رپورٹ اور حضرت مصلح موعود
    مجاہدین فرانس نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت اقدس میں جو پہلی رپورٹ بھیجی اس میں خاص طور پر فرانسیسیوں کے قومی تعصب اور ہوش رباگرانی۲۴ پر اظہار تشویش کیاگیا تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ۲ ماہ احسان / جون ۱۳۲۵ہش / ۱۹۴۶ء کی مجلس علم و عرفان میں مجاہدین فرانس کی ان مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا-:
    >یہ باتیں مبلغین نے لکھی ہیں اور ہمیں یہ پہلے بھی معلوم تھیں ہم نے ناواقفیت میں مبلغین کو نہیں بھیجا اور نہ مبلغین ان سے ناواقف تھے۔ دراصل جو قوم کامیاب ہونا چاہتی ہے اسے ہرقسم کی تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ اور ہمارے مبلغ یہی سمجھ کرگئے ہیں کہ انہیں کانٹوں پر چلنا ہے اور کانٹے انہیں پیش بھی آئے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے لئے خوشی سے برداشت کررہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اور بھی جو مبلغ جانے والے ہیں وہ یہی سمجھ کرجائیں گے اور یہی سمجھ کرجانا چاہئے۔ حقیقی لیڈر کا یہ کام ہوتا ہے کہ صاف صاف بتادیتا ہے کہ فلاں کام کرنے میں تکالیف ہوں گی` مشکلات پیش آئیں گی` تلواروں کے سایہ میں چلنا ہوگا۔ ہرقسم کی تکالیف اور مشکلات برداشت کرنی پڑیں گی جس نے چلنا ہے وہ چلے۔ اس کے بعد جو چلتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ ہماری مشکلات اور تکالیف کی تو ابھی ابتداء ہے۔ لوگ ابھی تک ہمیں کھیل سمجھتے ہیں اور ہماری طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوتے لیکن جب کوئی قوم ترقی کرنے لگتی ہے اور جلدجلد قدم بڑھاتی ہے تو اس کی زیادہ مخالفت کی جاتی ہے اور اسے زیادہ دکھ اور تکالیف دی جاتی ہیں۔ کفار نے جتنا بغض رسول کریم~صل۱~ کی مدینہ کی زندگی میں ظاہر کیا مکہ کی زندگی میں ظاہر نہیں کیا تھا۔<۲۵
    فرانسیسی زبان سیکھنے کی طرف خصوصی توجہ
    ابتدائی ڈیڑھ سال میں تبلیغ کا کوئی باقاعدہ کام نہ کیا جاسکا۔ سب سے بڑی روک زبان کی تھی۔ انگریزی میں کوئی موثر کام کرنا ممکن نہ تھا۔ اول تو وہاں انگریزی جاننے والے بہت کم ملتے تھے۔ اور جو کوئی انگریزی جانتا تھا وہ اس میں بولنا پسند نہ کرتاتھا۔ اس وقت کے پیش نظر ملک عطاء الرحمن صاحب نے فرانس پہنچتے ہی اپنی پوری توجہ فرانسیسی زبان سیکھنے کی طرف مبذول کردی جس میں انہیں نمایاں کامیابی ہوئی۔ بلکہ قریباً سوا دو سال کے بعد مشہور احمد انگریز مسٹر بشیر آرچرڈ یورپ کے احمدی مشنوں کا دورہ کرتے ہوئے سب سے پہلے پیرس میں ملک صاحب سے ملے تو انہیں فرانسیسی پر خاصہ عبور حاصل ہوچکاتھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے سفرنامہ کے تاثرات میں لکھا-:
    >میں لنڈن سے ۳ ستمبر ۱۹۴۸ء کو روانہ ہوا اور اسی شام پیرس میں پہنچا۔ میں پیرس میں چند گھنٹے ٹھہرا اور رات کو زیورک )سوئٹزرلینڈ( کے لئے روانہ ہوگیا جہاں ہمارا مشن قائم ہے۔ پیرس ریلوے سٹیشن پر برادرم ملک عطاء الرحمن صاحب موجود تھے۔ برادرم ملک صاحب مجھے اپنے ہمراہ اپنی جائے رہائش پرلے گئے۔ آپ کے پاس صرف دو چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔ دوران گفتگو میں نے ان کے کام کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ آپ اپنے وقت کا ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے اور نماز فجر سے لے کر رات دیر تک اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ آپ نے فرانسیسی زبان پر اچھا عبور حاصل کرلیا ہے اور ابھی تک زبان کو سیکھنے اور مہارت پیدا کرنے میں کوشاں ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ فرانسیسی زبان میں لٹریچر شائع کرسکیں۔ ان کے کھانا پکانے کے انتظامات بہت سادہ ہیں اور خوراک بھی بالکل سادہ ہے۔< )ترجمہ( ۲۶
    تبلیغ کی قانونی اور سرکاری اجازت اور پریس کانفرنس سے تبلیغی سرگرمیوں کا باضابطہ آغاز
    ‏]j2 [tagملکی قانون کے مطابق تبلیغ اسلام کے لئے حکومت کی اجازت حاصل کرنا ضروری تھا جس کے لئے ملک عطاء الرحمن صاحب ۱۳۲۶ہش / ۱۹۴۷ء سے برابر کوشش کررہے تھے آخر
    ایک لمبی جدوجہد کے بعد ماہ تبلیغ / فروری ۱۳۲۷ہش / ۱۹۴۸ء کے آخری عشرہ میں فرانس کی وزارت خارجہ نے اجازت دے دی۔ لیکن ابھی کام شروع کرنے کے لئے پولیس کے محکمہ اعلیٰ کی اجازت ومنظوری حاصل کرنے کی روک سدراہ تھی جو بڑی تک ودو` دوڑ دھوپ اور کئی مشکلات کے بعد ۲۲ ماہ احسان / جون ۱۳۲۷ہش / ۱۹۴۸ء کو دور ہوئی۔ ملک صاحب نے پولیس کی اجازت ملنے سے ڈیڑھ دو ماہ قبل ملک میں آئندہ تبلیغی پروگرام کا ایک قابل عمل ڈھانچہ بنالیا تھا اور فرانس کو اول مرحلہ پر ہی تحریک احمدیت سے روشناس کرانے کے لئے ایک تبلیغی پریس کانفرنس کے انعقاد اور ایک پمفلٹ اور ایک ٹرپکٹ کی ترتیب واشاعت کی تیاری شروع کردی تھی اور پریس سے رابطہ قائم کرنے کے لئے رائٹر (REUTER) اور فرانس کی ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے بھی تعلقات پیدا کرلئے۔ چنانچہ جونہی منظوری کی دوسری سرکاری اطلاع پہنچی انہوں نے پریس کانفرنس کا اعلان کردیا۔ بیس ہزار کی تعداد میں چار صفحات پر مشتمل پمفلٹ LEMESSIEESTVENU اور۲۷ پانچ سو کی تعداد میں بارہ صفحات پر مشتمل ٹریکٹ ۲۸ شائع کرنے کے علاوہ دعوت نامے بھی طبع کرائے جو جملہ مشہور بااثر اخبارات کے علاوہ ملک کے دوسرے شہروں کے مستند اخبارات کو خاص اہتمام سے بھجوائے۔
    پریس کانفرنس پروگرام کے مطابق ماہ وفا/جولائی ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کے دوران پیرس کے ایک بڑے ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں ایک درجن کے قریب اخباری نمائندے شامل ہوئے۔۲۹
    رائٹر کے نامہ نگار کا ایک مضمون >اسلام کا نیا حملہ یورپ پر<
    پریس کانفرنس کے چند ماہ بعد رائٹر کے نامہ نگار نے ملک عطاء الرحمن صاحب سے ایک خصوصی انٹرویو لیا اور ایک تفصیلی مضمون تیار کرکے اپنی عالمگیر سروس کے ذریعہ سے تمام ممالک میں بغرض اشاعت بھجوایا۔ اس مضمون کا ملخص یہ تھا کہ-:
    >کبھی صرف یہی مشاہدہ میں آتا تھا کہ مغرب مشرق کی تادیب وتعلیم کے لئے مشرق کی ہر وسعت پرچھا رہا ہے۔ عام علم و صنعت میں ہی نہیں بلکہ مغرب مشرق کا معلم دین و روحانیت بھی بن چکا تھا لیکن اب تھوڑے عرصہ سے اس کے برخلاف مشرق اپن دیرنیہ روایات اور تعلیم کے ماتحت مغرب کو تدریس دین اور اسرار روحانیت سے واقف کرانے کے لئے مغربی ممالک کی طرف غیر معمولی اہتمام سے بڑھتا ہوا نظر آنے لگا ہے۔ یہ مہم ایک وقت سے اسلام کے نام پر قرآنی تعلیم کی اشاعت کے لئے مغربی ممالک بالخصوص یورپ میں شروع ہوچکی ہے۔
    اسلام کا یہ حملہ یورپ پر تحریک احمدیت کی طرف سے شروع کیاگیا ہے۔ چنانچہ احمدیت کے مبلغ یورپ کے بیشتر ممالک میں اپنے مراکز قائم کرچکے ہیں۔
    حضرت احمد )علیہ الصلٰوۃ والسلام( تحریک احمدیت کے بانی ہیں۔ انہوں نے وفات مسیح کا عقیدہ پیش کرکے اس تحقیق کا انکشاف فرمایا ہے کہ مسیح )علیہ السلام( صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے بلکہ بہیوشی کی حالت میں انہیں صلیب پر سے اتارا گیا اور پھر وہ عراق` ایران` افغانسان سے ہوتے ہوئے تبت و وہندوستان میں آئے اور آخر سرینگر میں مقیم ہوگئے۔ چنانچہ محلہ خانیار سرینگر میں ایسی قبر بھی موجود ہے جو قبر مسیح کے نام سے مشہور ہے۔
    حضرت احمد )علیہ السلام( نے اپنی کتاب >مسیح ہندوستان میں< میں اس انکشاف پر تفصیلی بحث کی ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بیان فرمایا ہے کہ واقعہ صلیب سے ۷۲۱ سال قبل شاہ اسور یہود کے بعض قبائل کو سمریا میں قید کرکے لے گیا تھا۔ ان میں سے ایک حصہ بالاخر ہندوستان میں آباد ہوگیا۔ حضرت احمد)علیہ السلام( نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ افغان اور کشمیر کے قدیم باشندے دراصل اسرائیلی نسل سے ہیں چنانچہ اس کی تائید میں بعض قابل اعتماد مبصرین کی آراء پیش کی گئی ہیں جن کی روشنی میں ان اقوام کے خدوخال و نقوش اور رسوم وعادات اس تھیوری کی تائید کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض عیسائی محققین اس انکشاف میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ تحریک احمدیت کے موجودہ امام حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد )ایدہ اللہ تعالیٰ( بنصرہ العزیز( ہیں۔ اسلامی تبلیغ کی عالمگیر مہم انہی کی قیادت میں عمل میں آرہی ہے۔ ان کا یہ دعوی ہے کہ تمام حقائق اور تمام صداقتیں خدا کے آخری اور اکمل کلام قرآن شریف میں موجود ہیں اور دنیا میں کوئی صداقت نہیں جو قرآن مجید میں موجود نہ ہو۔
    یورپ پر اس حملہ کی تیاری آج سے دس سال قبل شروع کی جاچکی تھی مگر لڑائی کی وجہ سے مجوزہ پروگرام ملتوی ہوتا چلاگیا۔ لڑائی کے معاً بعد اس غیر معمولی مہم کے سلسلہ میں اسلام کے مبلغ فرانس` اٹلی` سپین` سوئٹزرلینڈ اور ہالینڈ وغیرہ پہنچ گئے۔ چنانچہ اس تھوڑے عرصہ میں وہ ان ممالک میں اپنے مراکز باقاعدہ قائم کرچکے ہیں۔
    )چوہدری( مشتاق احمد صاحب باجوہ اسلام لنڈن مسجد کی زیرنگرانی ایک انگریز نومسلم برائن آرچرڈبرسٹل )انگلینڈ( جن کا اسلامی نام بشیراحمد ہے اسلامی علم پڑھ رہے ہیں انہیں اسلام کی تبلیغ کے لئے تیار کیا جارہا ہے۔ بشیر احمد آرچرڈ قادیان سے لنڈن اس وقت بھجوائے گئے تھے جب قادیان تقسیم ہند کے وقت ہندوستان میں شامل کیاگیا تھا اور اہل قادیان زبردستی وہاں سے نکالے جارہے تھے۔
    اس وقت تک سپین اسلامی تحنبید کے لحاظ سے زیادہ ذرخیز ثابت ہورہا ہے۔ غالباً صدیوں کی مورش حکومت کے ورثہ وترکہ کی وجہ سے!
    فرانس کے متعلق خیال کیاجاتا ہے کہ اسلامی تعلیم وتبلیغ کے لئے یہ ملک دنیا بھر میں سب سے زیادہ سنگلاخ ہے۔ فرانس میں تبلیغ اسلام کا دشوارترین کام ملک عطاء الرحمن کے سپرد کیاگیا ہے۔ وہ آج کل پیرس میں مقیم ہیں اور حال ہی میں اپنی تبلیغی مہم کا آغاز کرچکے ہیں۔
    ملک عطاء الرحمن )جنہیں دیگر مسلمانوں کی طرح سگرٹ اور شراب سے مکمل پرہیز ہے( کے نزدیک فرانس خاصہ دلچسپ ملک ہے۔ باوجود اس کے مذہبی عقائد کی سختی سے پابندی ان کے لئے فرانس کے مشہور عالم لذیذ کھانوں اور بے مثال شرابوں کے چکھنے میں سختی سے روک ہے۔
    جماعت احمدیہ ابھی تک تقسیم پنجاب کو خلاف انصاف و عدل ایک ظالمانہ فیصلہ سمجھتی ہے کہ جس کے ماتحت قادیان کو ہندوستان میں شامل کیاگیا ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک انہیں انتہائی مظالم اور سختی کے ساتھ اپنے مقدس مرکز سے ہجرت پر مجبور کیاگیا ہے۔ پندرہ ہزار سے بیس ہزار احمدی اپنے مرکز سے ہجرت کرکے پاکستان میں منتقل ہونے پر مجبور کردیئے گئے۔ تمام مرکزی دفاتر اور تنظیم کو وقتی طور پر لاہور میں قائم کیاگیا۔ لیکن جہاں وہ اس ظلم کے خلاف ظاہری لحاظ سے ہرطرح احتجاج کررہے ہیں وہاں ان کے نزدیک یہ ہجرت خدائی نوشتوں کے ماتحت ہے کہ جس کی پیشگوئی حضرت احمد )علیہ السلام( کے الہامات میں پہلے سے موجود تھی اور یہی نہیں بلکہ ان کا ایمان ہے کہ جس طرح یہ ہجرت پہلے سے آسمانی نوشتوں میں موجود تھی ان کے مرکز قادیان کی واپسی کا بھی خدائی وعدوں میں وضاحت سے ذکر ہے اور وہ ایک دن ضرور اپنے مرکز میں واپس لوٹیں گے۔<۳۰
    فرانس میں پہلا تبلیغی پبلک جلسہ
    تبلیغی پریس کانفرنس نے فرانس میں اشاعت و تبلیغ اسلام و احمدیت کے لئے ایک خوشکن اور نمایاں حرکت سی پیدا کردی تھی۔ ملک صاحب نے اس سے فائدہ اٹھانے اور اپنے تبلیغی حلقہ کو مزید وسعت دینے کے لئے ۱۳ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کو وسیع پیمانہ پر ایک پبلک جلسہ کا انتظام کیا جو ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا اور کامیاب اجتماع تھا پوسٹر` ریڈیو ۳۱ اور پریس تینوں ذرائع سے جلسہ کا اعلان کیاگیا۔ علاوہ ازیں قریباً ایک ہزار مطبوعہ دعوت نامے بھجوائے گئے۔ مدعوئین میں پیرس کی بعض ادبی سوسائٹیوں کے ممبر اور پیرس یونیورسٹی کے پروفیسر اور بعض مستشرقین بھی تھے۔
    یہ جلسہ پیرس کے ایک بڑے پبلک ہال میں پیرس یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی صدارت میں ہوا جس میں مجاہد فرانس نے >جنگ اور اس کے بعد ۔۔۔۔۔ آنحضرت~صل۱~ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور پیشگوئیوں کی روشنی میں< کے موضوع پر ایک گھنٹہ تک لیکچردیا جو توجہ` سکون اور دلچسپی سے سناگیا اور سامعین نے کچھ وقفہ کے بعد اس موضوع پر تقریر کرنے کی خواہش کی۔ جلسہ میں تبلیغی ٹریکٹ اور پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے۔ ۳۲ اس جلسہ کے بعد ملک صاحب کو >پیرس کی فلوسافیکل سوسائٹی< کے زیراہتمام >ہستی باری تعالیٰ< اور >وجود ملائکہ< کے مضمونوں پر لیکچر دینے کا موقعہ ملا۔ ان لیکچروں میں لوگوں نے پہلے سے بھی بڑھ کر دلچسپی لی اور سوالات کے ذریعہ اپنی معلومات میں اضافہ کیا۔ ۳۳
    عیسائی لیڈروں کو قبول اسلام کی دعوت
    فرانس میں ان دنوں ۵۸ کے قریب مشنری سوسائٹیاں تھیں جن کے ہزاروں مناد دنیا کے اکثر ممالک میں عیسائیت کا پراپیگنڈہ کررہے تھے۔ ان سوسائٹیوں میں سے بعض کے بڑے بڑے فرانسیسی شہروں میں ایک سے زائد مراکز قائم تھے۔ ملک صاحب نے ان سوسائٹیوں اور ان کی شاخوں کو ایک مطبوعہ خد بھجوایا جس میں انہیں بتایا کہ مسیح صرف بنی اسرائیل کے نبی تھے مگر اسلام کا نبی ~)صل۱(~ رحمتہ للعالمین ہے اور آپﷺ~ کی لائی ہوئی شریعت سارے جہانوں اور زمانوں کے لئے ہے۔
    سفر بلجیم
    فرانس کے ساتھ ہی بلجیم کا مشہور ملک ہے جہاں زیادہ تر فرانسیسی رائج ہے۔ اور گو اس کے بعض حصوں میں فلیمنگ زبان بھی بولی جاتی ہے مگر شائستہ اور اعلیٰ طبقہ میں فرانسیسی کو ہی پسند کیاجاتا ہے۔ ملک عطاء الرحمن صاحب اس ملک تک پیغام احمدیت پہنچانے کے لئے ۲۶ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کو پہلے اس کے دارالحکومت برسلز میں اور پھر مشہور شہر اینٹورپ میں تشریف لے گئے۔ آپ کو دونوں شہروں میں اخباری نمائندوں سے ملاقات کرنے اور پبلک مقامات پر تبلیغی ٹریکٹ تقسیم کرنے کا موقعہ ملا۔ اس یک روزہ سفر کا یہ اثر ہوا کہ برسلز کے بعض اخبارات نے پہلی بار اسلام اور احمدیت کی نسبت عمدہ نوٹ شائع کئے۔ مثلاً اخبار >فیرڈی مانش DIMANCHE) (PHARE نے یورپ پر اسلام کا حملہ< کے عنوان سے حسب ذیل شدرہ سپرد اشاعت کیا۔
    >یورپ پر اسلام کا حملہ<
    >کچھ دن ہوئے ایک ذہین النظر` خوش کلام اور سنجیدہ طبع صاحب ہمارے اخبار DIMANCHE> <PHARE کے دفتر میں ملنے کے لئے آئے۔ مسیح کے نمائندہ کے طور پر انہوں نے ہم سے اپنا تعارف کرایا۔
    معلوم ہوا کہ ایک >مسیح< ہندوستان میں مبعوث ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے معتقدین کے سپرد یہ کام کیا ہے کہ وہ زمین کے کناروں تک ان کا پیغام پہنچائیں۔ چنانچہ مسلمان اب اس طرح عیسائیوں کو اسلام کی طرف کھینچنا چاہتے ہیں۔ قرآن کے ذریعہ نہ کہ پہلے کی طرح تلوار کے ذریعہ۔ چنانچہ یہ اپنے رنگ کا نیا اور جدید طریق ہوگا۔
    مسیح کے اس نمائندہ کے بیان کے مطابق حضرت احمد )علیہ السلام( وہ >موعود مسیح< ہیں کہ جن کے متعلق مختلف انبیاء نے کتب سابقہ میں پیشگوئیاں فرمائی تھیں۔ چنانچہ وہ ساری پیشگوئیاں حضرت احمد )علیہ الصلٰوۃ والسلام( کے وجود میں پوری ہوئیں۔ مثلاً گندمی رنگ` قدرے لکنت` کدعہ بستی میں` وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام پیشگوئیاں کے مطابق وہ ہندوئوں کے لئے کرشن ہوئے۔ زرتشتیوں کے لئے عیسودربہمی` عیسائیوں کے لئے مسیح اور مسلمانوں کے لئے مہدی۔
    ان تمام امور میں کیونکر شک کیا جاسکتا ہے اور پھر اس پیشگوئی پر کیوں شک ہوگا کہ جو اس مہدی نے فرمائی ہے کہ ساری ہی دنیا اپنے خاتمہ سے پہلے اسلام قبول کرے گی۔
    اس نمائندہ کے بیان کے مطابق تحریک احمدیت نے دنیا کی تمام وسعتوں میں اپنے مراکز اور جماعتیں قائم کی ہیں۔ امریکہ اور انگلستان اور فرانس میں بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی بلجیم میں بھی ان کی جماعت قائم ہو۔
    چنانچہ اس کے علاوہ ہم اور کیا کرسکتے ہیں کہ خدا ان صاحب کو اس مقصد کے لئے نیک مواقع عطا فرمائے۔ کیا تمام مذاہب اور عقائد اعزازواکرام کے حقدار نہیں؟<۳۴
    ‏tav.11.2
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    مرکز پر بوجھ ڈالے بغیر مشن جاری رکھنے کا عزم
    پاک وہند کی احمدی جماعتیں چونکہ سانحہ ہجرت کے دوران شدید مالی بحران سے دوچار تھیں اس لئے فیصلہ کیاگیا کہ فرانس مشن اور دوسرے نئے جاری شدہ احمدی مشنوں کو فی الحال بندکردیا جائے مگر مبلغ فرانس ملک عطاء الرحمٰن صاحب نے دوسرے مجاہدین یورپ کی طرح اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مرکز پر مشن کے اخراجات کا بوجھ ڈالے بغیر تبلیغ اسلام کا کام جاری رکھیں گے۔ انہیں اس گہوارہ الحادو دہریت میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ سیدنا المصلح الموعودؓ نے ان کی یہ درخواست قبول کرلی اور ۲۶ ماہ نبوت / نومبر ۱۳۲۷ہش / ۱۹۴۸ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا-:
    >فرانس میں مبلغ بھیجے گئے مگر کامیابی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی۔ وہاں کے بھی مبلغ کو جو لاہور کے ہی ہیں کہاگیا کہ تم واپس آجائو تو انہوں نے بھی کہا کہ مجھے واپس نہ بلایا جائے میں یہاں اپنی کمائی سے کام کروں گا۔ انہیں وہاں چھوڑدیا گیا اور انہیں اپنے خرچ پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ اب وہاں بھی کام شروع ہوگیا ہے۔ ان کی تار آئی ہے کہ اب وہاں جلسوں اور تقریروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ پریس اور دوسرے لوگ بھی توجہ کررہے ہیں۔ آج ہی اطلاع ملی ہے کہ وہاں کی ایک سوسائٹی نے اقرارکیا ہے کہ اگر الہام کے متعلق مضامین لکھے جائیں تو وہ خود بھی ان کی اشاعت میں مدد کرے گی۔<۳۵
    اہل کلیسا کے غلط نظریات کی تردید کے لئے تبلیغی لیکچروں کا سلسلہ
    فرانس اور دوسرے مغربی ممالک میں اہل کلیسا کے تعصب نے اسلام کی خوبصورت اور حسین ودلکش تصویر کو ایسے مکروہ` بھیانک اور
    گھنائونے رنگ میں پیش کیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ عوام ہی نہیں اچھے پڑھے لکھے اونچے طبقہ کے لوگ بھی اسلام کے بارے میں انتہائی غلط اور بے بنیاد نظریات رکھتے اور ان کی فخریہ اشاعت کرتے ہیں۔ ان دنوں چونکہ افریقہ کے بعض مسلمان ممالک فرانس کے مقبوضات میں شامل تھے اس لئے فرانسیسی عام طور پر اسلام کی بھی سخت حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کے نزدیک اسلام معاذ اللہ صرف زن اور زرپرستوں اور جبروتشدد کا مذہب سمجھا جاتا تھا۔
    ملک صاحب چونکہ اپنے مفید لیکچروں کی وجہ سے پیرس کے علمی حلقوں میں کسی حد تک متعارف ہوچکے تھے اس لئے اب آپ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے اعتراضات کی برسر عام اور پبلک میں ازالہ کرنے کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے پیرس کا ایک معروف ہال کرایہ پر لے کر لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع کردیا جو قسط اول کے طور پر مندرجہ ذیل آٹھ عنوانات پر مشتمل تھا۔
    )۱( حقیقی اسلام )۲( عیسائیت اور دیگر مذاہب )۳( اسلام میں عورت کی حیثیت )۴( اسلام اور تعدداز دواج )۵( اسلام اور جنگیں )۶( اسلام اور غلامی )۷( اسلام اور صوفی ازم )۸( اسلام کے پانچ ارکان
    ان لیکچروں کا پوسٹروں اور پیرس ریڈیو سے بھی اعلان کیاجاتا تھا اور لوگ ہر لیکچر میں پہلے سے زیادہ ذوق و شوق سے شامل ہوتے اور فائدہ اٹھاتے تھے۔ ۳۶
    فرانسیسی لٹریچر کی تیاری
    مغربی ممالک میں لوگ اس درجہ مصروف رہتے ہیں کہ ان کے لئے روز مرہ کے پروگرام میں سے لیکچروں یا پرائیویٹ ملاقاتوں کے لئے وقت نکالنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ان حالات میں تبلیغی میدان کو وسعت دینے کے لئے لٹریچر کی افادیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ملک عطاء الرحمن صاحب نے فرانسیسی زبان میں کچھ دسترس حاصل کرلی تو انہیں جلد سے جلد فرانسیسی لٹریچر تیار کرنے کی فکر دامنگیر ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے پہلے تو پریس کانفرنس کے موقعہ پر پمفلٹ اور ٹریکٹ شائع کئے اور فرانس اور بلجیم دونوں جگہ اس کی اشاعت کی۔ اس کے بعد >اسلامی اصول کی فلاسفی< کے فرانسیسی ترجمہ پر نظرثانی کی۔ >اسلام کا اقتصادی نظام< کا فرانسیسی ترجمہ کیا۔ علاوہ ازیں اسلام اور تحریک احمدیت سے متعلق تعارفی اور بنیادی معلومات پر مشتمل دو کتابیں تالیف کیں۔۳۷
    پہلی فرانسیسی روح کا قبول اسلام
    فرانس میں پہلی روح جسے قبول اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک تعلیم یافتہ فرانسیسی خاتون DEMAGANY MARGAERITE MADAME تھیں جو ۲۳ ماہ ہجرت / مئی ۱۳۲۸ہش / ۱۹۴۹ء کو بیعت فارم پر کرکے داخل احمدیت ہوئیں اور حضرت مصلح موعودؓ نے ان کا اسلامی نامہ عائشہ رکھا۔ ملک صاحب جب تک فرانس میں تبلیغ اسلام کے فرائض بجالاتے رہے یہ خاتون ان کے فرانسیسی تراجم میں ان کا ہاتھ بٹاتی رہیں۔ ۳۸
    مجاہد فرانس کی مرکز میں واپسی
    ملک عطاء الرحمن صاحب قریباً سوا پانچ برس تک فرانس کی سنگلاخ زمین میں کلمہ حق بلند کرنے کے بعد ۱۱ ماہ نبوت / نومبر ۱۳۳۰ہش / ۱۹۰۱ء کو واپس مرکز میں تشریف لے آئے اور ساتھ ہی یہ مشن بھی بندہوگیا۔
    تبلیغی مساعی کا فرانس پراثر
    اگرچہ ملک صاحب کی لگاتار اور ان تھک مخلصانہ کوششوں کے باوجود فرانس میں نئے مسلمان ہونے والوں کی تعداد میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا مگر ان کو یہ کامیابی ضرور نصیب ہوئی کہ انہوں نے دہریت اور مادہ پرستی کے مرکز میں برسوں تک نہایت استقلال اور پامردی کے ساتھ نہ صرف اسلام کا دفاع کیا بلکہ اہل فرانس کے علمی طبقہ کو اس کے اصولوں کی برتری اور اس کی زندہ طاقت کا احساس دلادیا۔ آپ کا پیغام سن کر جہاں ایک قلیل طبقہ تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے تصور سے لرزاں۔ خوفزدہ اور مبہوت ہوگیا کیونکہ اس کے نزدیک یہ بات کہ اسلام ابھی زندہ موجود ہے ایک ناقابل برداشت صدمہ سے کم نہ تھی وہاں وہ عنصر جو مغربی تہذیب کے گھنائونے` حیاسوز اور شرمناک اثرات اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں سے مضمحل ہوکر مایوس ہوچکا تھا۔ دعوت اسلام کی زندگی کے نئے پیغام سے تعبیر کرنے لگا۔ چنانچہ جیسا کہ ذکر آچکا ہے فرانس کے ایک اخبار نے اگر جماعت احمدیہ کی تبلیغی مہم کو >یورپ پر اسلام کا حملہ< قراردیا تو بلجیم کے ایک اخبار نے اسے یورپ کے لئے >زندگی کا نیا پیغام< قرار دیتے ہوئے یہ امید ظاہر کی کہ کاش اسلام ہی دنیا میں قیام امن کا ذریعہ ثابت ہوکر دنیا کی مشکلات دور کرنے کا باعث بنے۔
    ‏body] gat[ملک عطاء الرحمن صاحب نے ۲۹ ماہ نبوت / نومبر ۱۳۳۰ہش / ۱۹۵۱ء کو مجلس ارشاد تعلیم الاسلام کالج کے زیراہتمام ایک تقریر میں اہل فرانس کے اس ملے جلے رد عمل پر تفصیل سے روشنی ڈالی تو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج )ایدہ اللہ تعالیٰ( نے فرمایا-:
    >ملک عطاء الرحمن صاحب کی تقریر سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں آج سلام کسمپرسی کی حالت سے نکل کر عیسائیت پر حملہ آور ہونے کے قابل ہوگیا ہے۔ آج جو مذاہب مسلمانوں کی مجرمانہ غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام پر حملہ آور ہورہے ہیں وہ خود ان کے خیالی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ پس ہمیں اسلام کے خلاف صدیوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے ایسے حملہ آوروں کو بتادینا چاہئے کہ وہ خود کتنے پانی میں ہیں؟ جب ہم اسلام کی اصل تصویر اور ان کے اپنے مذاہب کی موجودہ ہیئت کذائی انہیں دکھانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو وہ کھرے کھوٹے میں خود تمیز کرکے اسلام قبول کرلیں گے۔ ہمار فرض ہے کہ ہم دنیا کو اسلام کے منور چہرے سے روشناس کراتے چلے جائیں اور ساتھ ساتھ دوسرے حملہ آور مذاہب کا چہرہ بھی انہیں دکھاتے رہیں جب دونوں تصویریں بیک وقت دنیا کے سامنے آکر ذہن نشین ہوجائیں گی تو یدخلون فی دین اللہ افواجا کا نقشہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ پس اگر آئندہ بیس تیس برس تک نومسلموں کی تعداد میں اضافہ نہ بھی ہو تب بھی ہمیں اسلام اور دیگر مذاہب کا اصل چہرہ دکھانے میں مصروف رہنا چاہئے۔ جس دن یہ کام باحسن وجوہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اسی دن دنیا دیوانہ وار اسلام کی طرف دوڑ پڑے گی اور ہمیں اپنی تمام مساعی کا اچانک ثمرہ مل جائے گا۔< ۳۹
    ‏body] [tag
    فصل دوم
    احمدیہ مسلم سپین مشن کا احیاء۴۰ اور اس کی شاندار اسلامی خدمات
    سیدنا حضرت امیرالمومنین المصلح الموعودؓ کے دل میں سپین کے اندر ازسرنو اسلامی حکومت قائم کرنے کی اس درجہ تڑپ تھی کہ جب مارچ ۱۹۴۶ء میں برطانوی وزارتی مشن ہندوستانی سیاست کی گتھیاں سلجھانے کے لئے ہندوستان آیا تو حضور نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ-:
    >کیا سپین میں سے نکل جانے کی وجہ سے ہم اسے بھول گئے ہیں؟ ہم یقیناً اسے نہیں بھولے۔ ہم یقیناً ایک دفعہ پھر سپین کولیں گے ۔۔۔۔۔۔ ہماری تلواریں جس مقام پر جاکر کند ہوگئیں وہاں سے ہماری زبانوں کا حملہ شروع ہوگا اور اسلام کے خوبصورت اصول کو پیش کرکے ہم اپنے ۔۔۔۔۔۔ بھائیوں کو خود اپنا جزو بنالیں گے۔<۴۱
    اس اعلان پر ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ مجاہد تحریک جدید مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر اور مولوی محمد اسحق صاحب ساقی ۳ احسان )جون( کو سپین کو محمد رسول اللہ کے قدموں پر لانے کا عزم کرکے لنڈن سے روانہ ہوئے اور ۱۰ ماہ احسان )جون( کو اس کے دارالحکومت میڈرڈ ۴۲ میں پہنچ گئے۔۴۳ دونوں احمد جوان قریباً چھ ماہ سے دوسرے مجاہدین کے ساتھ لنڈن میں مقیم تھے اور نہایت بے تابی سے سپین میں داخلہ کی اجازت کا انتظار کررہے تھے۔ یہ مجاہدین میڈرڈ پہنچ کر DIEZ ON PENS ECHEGRAY نامی گلی میں مقیم ہوئے۔
    حضرت امیرالمومنین کا نہایت اہم بیان مجاہدین سپین کے پہنچنے پر
    سیدنا المصلح الموعود نے فرزندان احمدیت کے سپین میں پہنچنے کی اطلاع پر مسجد مبارک قادیان میں ایک تقریر کرتے ہوئے سپین میں مسلمانوں کے شاندار عروج اور درد ناک زوال کی تاریخ پر نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا۔
    >اسلامی تاریخ میں ایک نہایت ہی اہم واقعہ سپین پر اسلامی لشکر کا حملہ ہے جس سے یورپ میں اسلام کا قیام ہوا۔ یوں تو سارے انسان ہی خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک جیسے ہیں اور کسی جماعت یا کسی طبقہ کو کسی دوسری جماعت پر فوقیت نہیں۔ لیکن یورپ اس اسلامی حملہ کے بعد سارے مشرق پرچھاگیا۔ گویا یہ اسلامی حملہ ایسا تھا جس نے ذوالقرنین کے بند کو توڑ دیا۔ یورپ سویا ہوا تھا اسلامی حملہ نے اسے بیدار کردیا۔ یورپ غافل تھا اسلامی حملہ نے اسے ہوشیار کردیا۔ اس نے بیدار ہوتے ہی ایشیا اور افریقہ پر قبضہ کرلیا۔ مسلمان اگر ہمت دکھاتے اور جو چیز ان کو دی گئی تھی اسے مضبوطی سے پکڑے رکھتے اور اپنی طاقت کو کمزور ہونے سے بچاتے تو آج مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی کہ بجائے اس کے کہ ایشیا یورپ پر قابض تھا آج یورپ ایشیا پر قابض ہے۔ اور بجائے اس کے کہ اسلام کے غلبہ اور شوکت کی وجہ سے یورپ میں عیسائیت کا نام ونشان نہ ملتا آج عیسائیت ایشیا میں اسلام کو کمزور کررہی ہے۔۔۔۔ اس ملک میں آج تک مسلمانوں کے بنائے ہوئے عالی شان محلات موجود ہیں۔ غرناطہ میں ہزاروں باغات تھے۔ مسلمانوں کے وقت میں جگہ جگہ لائبریریاں تھیں بعض کتب میں لکھا ہے کہ چھ سات سو کے قریب وہاں لائبریریاں تھیں اور بعض لائبریریوں میں لاکھ لاکھ ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ کتابیں تھیں۔ سارا یورپ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتا تھا۔ جس طرح آج لوگ برلن اور انگلینڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں یہی حال اس وقت قرطبہ ۴۴ اور غرناطہ۴۵ کا تھا۔ اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں اٹھارہویں صدی تک وہاں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھائی جاتی رہی ہیں۔
    جس ملک میں مسلمانوں نے اس شان سے حکومت کی آج وہاں کوئی ایک مسلمان بھی نہیں ملتا۔ کوئی غیرملک سے وہاں تعلیم کے سلسلہ میں یا اور کسی کام کے لئے گیا ہو تو اور بات ہے لیکن اس ملک کا کوئی باشندہ مسلمان نظر نہیں آئے گا۔ وہ لوگ جنہوں نے سینکڑوں سال تک سپین پر حکومت کی وہ آج سپین کے زیرنگیں ہیں اور وہ لوگ جو سپین کے بادشاہ تھے آج سپین کے غلام ہیں۔ یہ واقعات ایسے اہم جن کو کسی وقت بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ آٹھ سوسال کی حکومت کوئی معمولی بات نہیں لیکن آج اس ملک کی یہ حالت ہے۔ اس میں کسی مسلمان کی ہوا تک سونگھنے کو نہیں ملتی۔ اندلس میں مسلمانوں کو جو شان و شوکت حاصل تھی اور پھر اس کے بعد جو سلوک وہاں کے مسلمانوں سے کیاگیا اسی طرح صقلیہ میں مسلمانوں کا جو رعب و دبدبہ تھا اور اس کے بعد جس طرح انہیں وہاں سے نکالا گیا جب میں نے یہ حالات تاریخوں میں پڑھے تو میں نے عزم کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو میں ان علاقوں میں احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنے مبلغین بھجوائوں گا جو اسلام کو دوبارہ ان علاقوں میں غالب کریں اور اسلام کا جھنڈا دوبارہ اس ملک میں گاڑدیں۔
    پہلے میں نے ملک محمد شریف صاحب کو اس ملک میں بھیجا لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہاں اندرونی جنگ شروع ہوگئی اور سپین کے انگریزی قنصل نے ان سے کہا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں` پھر میں نے ان کو اٹلی بھیج دیا۔ مگر اب جو وفود گئے ہیں ان میں میں نے سپین کو بھی مدنظر رکھا ہے اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مبلغ سپین کے دارالسلطنت میڈرڈ میں پہنچ گئے ہیں جیسا کہ اخبار میں شائع ہوچکا ہے۔ دو آدمی اتنے بڑے علاقہ کے لئے کافی نہیں ہوسکتے اور ہمیں اس کے لئے مزید کوشش جاری رکھنی ہوگی مگر سردست ہم ان دو کو ہی ہزاروں کا قائم مقام سمجھتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے لئے کثرت سے اہم مقامات پر نئے تبلیغی رستے کھل رہے ہیں اور وہاں سے پیاسی روحیں پکار رہی ہیں کہ ہماری سیرابی کا کوئی انتظام کیا جائے لیکن ہمارے پاس نہ اتنی تعداد میں آدمی ہیں کہ ہم ہر آواز پر ایک وفد بھیج دیں اور نہ ہی وفود بھیجنے کے لئے اخراجات ہیں۔ ایسے حالات میں ایک مومن کا خون کھولنے لگتا ہے` خصوصاً سپین اور صقلیہ کے واقعات کو پڑھ کر تو اس کا خون گرمی کی حد سے نکل کر ابلنے کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ جہاں ہمارے آباء واجداد نے سینکڑوں سالوں تک حکومتیں کیں اور وہ ان ممالک کے بادشاہ رہے وہاں مسلمانوں سے یہ سلوک کیاگیا کہ ان کو جبراً عیسائی بنالیاگیا اور آج وہاں اسلام کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں۔ پھر یہ علاقے اس لحاظ سے بھی خصوصیت رکھتے ہیں کہ وہاں سے تمام یورپین ملکوں میں تبلیغ کے رستے کھلتے ہیں۔ پس اس فریضہ کو سرانجام دینے کے لئے ضرورت ہے اخلاص کی` ضرورت ہے متواتر قربانی کی` ضرورت ہے بلند عزائم کی۔<۴۶
    سپین میں تبلیغی مشکلات][مجاہدین سپین کو فرانس کے احمدی مبلغین کی طرح اول قدم پر ہی شدید تبلیغی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغربی ممالک میں مدتوں سے جو رو چل رہی تھی اس کی ابتداء مسلمانوں کے مکمل اخراج کے بعد سپین ہی سے ہوئی تھی اور یہ ملک صدیوں سے نہایت متعصب اور ظالم و تشدد کیتھولک چرچ CHURCH) (CATHOLIC کے ہاتھوں کٹھ پتلی بناہوا تھا جہاں کیتھولک فرقہ کے سوا کسی دوسرے مذہب بلکہ عیسائی فرقہ پروٹسٹنٹ (PROTESTANT) تک کو اپنے مخصوص نظریات پھیلانے کی اجازت نہ تھی۔
    ملکی آئین کے مطابق دوسرے مذاہب والے اگرچہ حکام کو اطلاع دے کر اپنے مکان کے اندر عبادت تو کرسکتے تھے مگر باہر اپنا بورڈ وغیرہ آویزاں نہیں کرسکتے تھے۔
    ۱۹۴۵ء میں جرمنی کی شکست کے بعد جب بین الاقوامی سیاست نے پلٹا کھایا تو اس ملک کی خارجہ پالیسی میں بھی کسی قدر لچک پیدا ہوگئی اور اس نے اسلام کے نام سے انتہائی نفرت کے باوجود شام` شرق الاردن` سعودی عرب اور ترکی وغیرہ مسلم ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کرلئے اس طرح خدا کے فضل وکرم سے اگرچہ مبلغین احمدیت کو بھی سپین میں داخلہ کی اجازت مل گئی مگر خفیہ پولیس مشن کی خاص نگرانی پر متعین کردی گئی۔۴۷
    مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے IDIOMAS DE NACIOUAL ESCULA میں داخلہ لیا اور چھ ماہ میں اپنا مافی الضمیر ادا کرنے کے قابل ہوگئے۔ زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ ایک روسی ترجمان KUZINIW ENVIQUE SR کی خدمات حاصل کرلیں اور پرائیویٹ ملاقاتوں میں اسلام کی آواز بلند کرنا شروع کردی اور نہایت حکیمانہ انداز سے عیسائی عقائد کی حقیقت واضح کرنے کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ صلیب سے اترنے اور کشمیر میں چلے آنے کا تذکرہ کرنے لگے۔ سپین میں عیسائیت کے خلاف یہ پہلا علمی محاذ تھا جس کا ہسپانوی عیسائیوں سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑتا تھا جس پر وہ آنحضرت~صل۱~ کی ذات مقدس پر رکیک حملے شروع کردیتے تھے۔ دوسرے مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی یہ اعتراض عام طور پر بڑی شدومد سے کیاجاتا تھا کہ اسلام کی اشاعت تلوار سے ہوئی۔ مبلغین اسلام نے اس خطرناک غلط فہمی کے ازالہ کی طرف بھی خاص توجہ دینا شروع کردی۔
    مجاہدین سپین کی طرف سے جو سب سے پہلی رپورٹ مرکز میں پہنچی وہ ماہ وفا / جولائی ۱۳۲۵ہش / ۱۹۴۶ء کی تھی جس میں مندرجہ بالا ابتدائی سرگرمیوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھا تھا کہ-:
    >یہاں کے لوگ دوسرے لوگوں اور دوسری اقوام کی نسبت سخت بغض اور تعصب رکھتے ہیں۔ یہاں کے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا ملک تمام ممالک سے بہرحال عمدہ اور بہتر ہے اور دیگر تمام ممالک کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ خصوصاً مسلمانوں سے ایسے بغض ہے کہ انہیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے جس کا سب سے بڑا سبب یہاں کے پادریوں کی فتنہ پردازی ہے۔ رعایا کی ضمیر پر پادریوں کا قبضہ ہے۔ کوئی شخص اپنی مرضی کے مطابق کچھ نہیں کرسکتا۔ حتی کہ دفتر میں کام کرنے کے لئے بھی ضروری ہے کہ چرچ سے کیتھولک ہونے کا سرٹفیکیٹ حاصل کیا جائے۔<۴۸
    روسی ترجمان کا قبول اسلام
    ہسپانیہ میں احمدیہ مسلم مشن کا پہلا ثمر ان کے روسی ترجمان کا قبول اسلام تھا جو ۱۳۲۵ہش / ۱۹۴۶ء کے وسط آخر میں حضرت مصلح موعود کے اعجاز قبولیت دعا کے نتیجہ میں حلقہ بگوش اسلام ہوا۔۴۹
    دوہسپانوی باشندوں کا قبول اسلام
    ۱۳۲۶ہش / ۱۹۴۷ء میں اسلام نے اس ملک کے اصل باشندوں پر براہ راست نفوذ و اثر پیدا کرنا شروع کردیا چنانچہ اس سال کے وسط میں دو ہسپانوی جوانوں پر بھی )جن میں سے ایک کا نام مسٹر میگل۵۰ اور دوسرے کا مسٹرفلپی اوریومینکڑس۵۱ تھا( صداقت اسلام منکشف ہوگئی اور وہ بیعت کرکے داخل احمدیت ہوگئے۔ حضرت مصلح موعود نے ان کا اسلامی نام بالترتیب اجمل احمد اور فلاح الدین تجویز فرمایا۔۵۲
    مسٹر فلپی ارویو نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں جو مکتوب لکھا وہ چونکہ اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے احمدیہ مسلم سپین مشن کے ابتدائی حالات اور ہسپانیہ کے سب سے پہلے نو مسلموں کے کوائف پر روشنی پڑتی ہے اس لئے اس کا اردو ترجمہ فائدہ سے خالی نہیں۔ انہوں نے لکھا۔
    >میرے پیارے آقا۔ سنٹرل لینگویج سکول میں ساقی صاحب اور ظفر صاحب سے جہاں وہ سپینش اور خاکسار انگریزی اور فرانسیسی سیکھ رہے ہیں` واقفیت ہوئی۔ اس دوستانہ تعارف کے بعد مجھے ان سے گفتگو کرنے کی خواہش پیدا ہوئی جو کہ بہت آسانی سے پوری بھی ہوگئی۔ انہوں نے دوسرے روز ہی مجھ سے میرا نام دریافت کیا جواباً میں نے اپنا نام بتایا۔ پھر دوران گفتگو ساقی صاحب نے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی اور موت کے بارے میں گفتگو شروع کردی لیکن تنگی وقت اور کلاس کا وقت ہونے کی وجہ سے سلسلہ گفتگو ختم نہ ہوسکا۔ مزید گفتگو کے لئے مجھے انہوں نے اپنے مکان پر دعوت دی میں مکان پرگیا اور مذہبی گفتگو ہوئی۔ مزہبی گفتگو کا سلسلہ کئی روز بلکہ مہینوں جاری رہا اور اس اثناء میں میں نے >ٹیچنگز آف اسلام< اور >مسیح ہندوستان میں( کا بھی مطالعہ کیا۔ پہلے پہل تو میں اسلام سے بہت متنفر تھا کیونکہ میرے رگ وریشہ میں کیتھولک مذہب سمایا ہوا تھا لیکن روزانہ کی بحث و گفتگو نے آخر مجھ پر اسلام کی صداقت منکشف کردی۔
    میں بے انتہا شکرگزار ہوں اس خدا کا جس نے مجھے اسلام کی تعلیم سے واقفیت کی توفیق بخشی اور جس نے حضور کو دنیا کے مختلف اطراف میں مبلغین بھجوانے کی توفیق عطا فرمائی خصوصیت سے سرزمین سپین میں جہاں اسلام نے کئی صدیوں تک حکومت کی۔
    میں نے شرائط بیعت پڑھ لئے ہیں اور میں اقرار کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی مدد سے زندگی بھر ان پر عمل کروں گا اور آپ کے تمام حکموں کو بجالائوں گا۔ آخر میں حضور کی خدمت میں نہایت انکسار سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے ہر حالت میں ان پر عمل کرنے کی اور فرمانبرداری کی توفیق بخشے اور دن بدن ایمان میں زیادہ سے زیادہ ترقی کروں اور میرا ہر دن اطاعت وفرمانبرداری میں بسر ہو اور خدا تعالیٰ مجھے نور روحانیت عطا فرماوے جس کے ذریعہ اور لوگوں کو منور کرسکوں جو ابھی تک ایمان نہیں لائے۔
    حضور کا فرمانبردار خادم فلپی ارویومینکڑس ۵۳
    لیکچر >اسلام کا اقتصادی نظام< کے ہسپانوی ترجمہ کی اشاعت
    یہ مشن ابھی ابتدائی مراحل میں تھا کہ ماہ اخاء / اکتوبر ۱۳۲۶ہش / ۱۹۴۷ء میں مبلغین کا خرچ ختم ہوگیا اور مرکز کو اسے بند کردینے کا فیصلہ کرنا پڑا۔۵۴ مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے تبلیغ اسلام کا جھنڈا سرنگوں ہونا کسی طرح گوارا نہ کیا اور اخراجات مشن چلانے کے لئے عطر فروخت کرنے کا کام شروع کردیا۔۵۵ میڈرڈ کارپوریشن کی طرف سے پھیری والوں کو مال بیچنے کی ممانعت تھی جس کی وجہ سے بڑی مشکلات پیش آئیں مگر انہوں نے اپنا کام جاری رکھا جو عملاً سپین میں ایک چلتا پھرتا تبلیغی ادارہ تھا جس کو حکومت کے سپاہی مشتبہ نظروں سے دیکھتے تھے بلکہ ایک بار جب آپ خوانچہ لگائے عطریات فروخت کررہے تھے خفیہ پولیس کے پانچ آدمی اپ کو گرفتار کرکے لے گئے اور چار گھنٹہ تک زیر حراست رکھا۔۵۶
    ہسپانوی زبان میں کوئی اسلامی لٹریچر موجود نہیں تھا اس خلاء کو جلد سے جلد پر کئے بغیر یہ تبلیغی مساعی ملک پر کوئی نتیجہ خیز اثر نہیں ڈال سکتی تھیں۔ مبلغ اسلام مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے اس شدید کمی کو محسوس کرتے ہوئے پہلے ہی سال حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود کے مشہور لیکچر >اسلام کا اقتصادی نظام< کا ہسپانوی ترجمہ مکمل کیا اور اس کی اشاعت کے لئے وزارت تعلیم میں درخواست کردی اور ساتھ ہی ماہ وفا/جولائی ۱۳۱۶ہش / ۱۹۴۷ء میں اس کتاب کا انگریزی ایڈیشن محکمہ سنسر شپ میں پیش کردیا خیال تھا کہ چونکہ سپین کی حکومت دن رات کمیونزم کے خلاف پراپیگنڈا کررہی ہے اس لئے اس کتاب کی اشاعت کی ضرور اجازت مل جائے گی خصوصاً اس لئے کہ اس میں دوسرے مذاہب کے خلاف ایک لفظ تک بھی موجود نہیں اور خالص مثبت انداز میں اسلام کے معاشی نظریات کی ترجمانی کی گئی تھی مگر اس معاملہ نے بہت طول کھینچا۔ ہوا یہ کہ چوہدری کرم الٰہی صاحب ظفر نے کتاب کے دیباچہ میں لکھا تھا کہ کمیونزم کا علاج صرف اسلام ہے۔ سنسر والوں نے اصرار کیا کہ اس فقرہ سے اسلام کا لفظ کاٹ دیا جائے۔ اس پر مولوی صاحب موصوف نے بعض ذمہ دار افسروں سے ملاقات کی اور بار بار درخواستیں دیں کہ عیسائیت کا ذکر کے لئے بغیر اسلامی تعلیم پیش کی گئی ہے۔ آخر خدا خدا کرکے خط و کتابت کے بعد یہ معاملہ وزارت تعلیم تک پہنچا اور کتاب کے اس فقرہ میں کسی قدر ترمیم کے بعد کتاب شائع کرنے کی اجازت مل گئی۔۵۷ پریس نے ماہ ہجرت/ مئی ۱۳۲۶ہش / ۱۹۴۷ء میں اسے چھاپنا شروع کیا اور ۲۳۔ ماہ ظہور/ اگست ۱۳۲۶ہش / ۱۹۴۷ء کو اس کا پہلا نمونہ تیار کرکے دیا۔ اخبار الفضل سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کا تین ہزار نسخہ شائع کیاگیا اور اس پانچ سو پونڈ سے بھی زیادہ لاگت آئی جو اصل تخمینہ سے قریباً ایک تہائی حصہ زیادہ تھی۔۵۸
    نتیجت¶ہ آپ زیربار ہوگئے۔ اسی دوران آپ کو ماہ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۶ہش / ۱۹۴۷ء میں صوبہ اراگون کے قدیم ترین شہر مشاراگوتا کی قومی صنعتی نمائش میں پھیری لگاکر عطر بیچنے کی اجازت مل گئی جس سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی آمد ہوئی کہ سب قرضہ بے باق ہوگیا۔۵۹
    کتاب کی مقبولیت
    ملک میں تبلیغی ٹریکٹوں کی اشاعت اور پبلک اجتماعات کے انعقاد میں بھاری رکاوٹیں تھیں مگر اس کتاب کی اشاعت نے سپین میں تبلیغ کی ایک نئی اور وسیع راہ کھول دی۔ ایک فوری اثر یہ بھی ہوا کہ سپین کے بعض متعصب عیسائیوں نے بھی یہ برملا اقرار کرنا شروع کردیا کہ اسلام کا اقتصادی نظام ہی دنیا کے دکھوں دردوں کا بہترین اور کامیاب علاج ہے۔
    کتاب کے متعلق بہت سے خطوط موصول ہوئے جن میں سرکردہ علمی وسیاسی طبقہ کے افراد نے نہایت اعلیٰ تاثرات کا اظہار کیا تھا۔ چنانچہ سپریم ٹریبونل کے پریذیڈنٹ CASTAN JOSE ۔D ۔SY نے کتاب پڑھ کر حسب ذیل مکتوب لکھا-:
    >میڈرڈ ۲۴۔ اپریل ۱۹۵۰ء
    امیرکرم الٰہی ظفر
    نہایت مکرم و محترم
    میں آپ کے نوازش نامہ کا بہت شکرگزار ہوں۔ اس کے ساتھ ایک بہترین کتاب ہے جس کے مطالعہ نے میری طبیعت پر نہایت شاندار اور اعلیٰ تاثرات پیدا کئے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ )اللہ تعالیٰ( آپ کو اس ملک )سپین( میں اور اس کے باہر بھاری کامیابی عطا کرے گا۔ کتاب حالات حاضرہ کے متعلق نہایت دلچسپ ہے۔
    آپ کا نیاز مند
    )دستخط( )ترجمہ(
    سپین کے عوامی اور خصوصی حلقوں کے علاوہ ملکی پریس نے بھی کتاب پر بہت عمدہ تبصرے شائع کئے۶۰ جن میں اس کتاب کی بیان کردہ تعلیمات کی برتری کا اقرار کیا۔
    مختصر یہ کہ حضور کی اس بلند پایہ تصنیف کی وجہ سے بفضلہ تعالیٰ تبلیغ اسلام کے کام میں بہت وسعت پیدا ہوگئی اور سنجیدہ طبقہ میں اسلامی تعلیمات کی برتری کے احساس کو پیدا کرنے میں بھاری مدد ملی۔۶۱
    حضرت مصلح موعود کا اظہار خوشنودی
    حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود نے سپین مشن کے انچارج مبلغ مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر کی تبلیغی کوششوں پر )۲۶۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کے( خطبہ جمعہ میں اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا-:
    >ہسپانیہ کے مبلغ نے بہت اچھا نمونہ دکھایا ہے۔ جب سلسلہ کی مشکلات بڑھیں اور ان نقصانات کے بعد جو مشرقی پنجاب میں ہوئے ہم مجبور ہوگئے کہ وہاں سے مشن ہٹالیں اور اسے بتایا گیا تو اس نے لکھا کہ مجھے واپس نہ بلایا جائے بلکہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اپنے گزارہ سے یہاں کام کروں۔ چنانچہ اس نے پھیری کاکام کرکے گزارہ کیا اور نہ صرف گزارہ کیا بلکہ اس نے ایک کافی رقم جمع کرکے میرے لیکچر >اسلام کا اقتصادی نظام< کا ترجمہ کرکے شائع کیا۔ دو اڑھائی ہزار روپیہ کے قریب اس پر خرچ آیا اور اب وہ اس فکر میں ہے کہ وہ اس کام کو وسیع کرے۔<۶۲
    حضرت مصلح موعود کا مکتوب گرامی بارسلونہ کی ایک ہسپانوی خاتون کے جواب میں
    ایک خاتون نے جو >اسلام کا اقتصادی نظام< سے بہت متاثر تھی` حضرت سیدنا المصلح الموعود کی خدمت میں ہسپانوی زبان میں ایک خط لکھا جس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا-:
    >ہسپانیہ ایک ایسا ملک ہے جس نے اسلام کی ایک دفعہ پہلے بھی روشنی دیکھی تھی لیکن اس وقت اس کی روشنی جنگ کے ذریعہ ظاہر ہوئی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آخر میں مشتبہ ہوگئی۔ اب وہ روشنی محبت اور صلح کے پیغام کے ذریعہ ظاہر ہوئی ہے اس وجہ سے وہ دائمی ہوگی اور کبھی نہ بجھے گی اور کبھی وہاں سے نکالی نہ جائے گی۔<۶۳
    اسلامی اصول کی فلاسفی کے ہسپانوی ترجمہ کی اشاعت
    کتاب >اسلام کا اقتصادی نظام< شائع ہوچکی تو مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ سیدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی معرکتہ الاراء اور حقائق و معارف سے پر اور قرآنی علوم سے لبریز کتاب >اسلامی اصول کی فلاسفی< کا بھی ہسپانوی ترجمہ شائع کریں۔
    لیکن اس کتاب کی اشاعت ایک زبردست معرکہ تھا۔ سب سے دشوار اور حل طلب مسئلہ اجازت کا تھا۔ محکمہ سنسر شپ کے انچارج پروفیسر BENEYTO نے جو >اسلام کا اقتصادی نظام< کی اجازت میں ممدو معاون تھے اپنی ذاتی ذمہ داری پر اس کتاب کی بھی اجازت دے دی اور ساتھ ہی تاکید کردی کہ جلد طبع کرکے شائع کردو تا کوئی روک نہ پڑجائے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے ۱۹۵۰ء )۱۳۲۹ہش( میں یہ کتاب بھی اسی مطبع AGUADO) DICIO (AFRO کو دے دی جہاں پہلی کتاب طبع ہوئی تھی۔ کتاب پانچ ہزار کی تعداد میں چھپ کرتیار ہوچکی تھی اور سرورق لگ رہاتھا کہ سپین حکومت کے وزیر تعلیم ۶۴ نے ایک خاص آرڈر کے ذریعہ مطبع والوں کو حکم جاری کردیا کہ کتاب کی اشاعت روک دی جائے اور اس کی تقسیم شدہ کاپیاں ضبط کرلی جائیں۔ اس پر مولوی صاحب نے وزیر تعلیم سے ملنے کی کوشش کی` خطوط لکھے` تار دیئے` مختلف شخصیتوں سے بار بار ملاقاتیں کیں۔ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے بھی )جو ان دنوں حکومت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے( ہسپانوی سفراء پر کتاب پر سے پابندی اٹھا لینے کے لئے زور دیا لیکن وزارت تعلیم نے جواب تک دینا گوارا نہ کیا۔][آخر سپین کی وزارت خارجہ نے ایک روز مولوی صاحب موصوف کو بلا کر کہا کہ اگر آپ اس کتاب میں سے بعض عبارتیں حذف کرنے کو تیار ہوں تو ہم اسے شائع کرنے کی اجازت دے دیں گے۔ مولوی نے صاحب نے کہا کہ آپ ایک ایسی بات کا مطالبہ کررہے ہیں جسے دنیا کا کوئی بھی انصاف پسند اور عقلمند انسان تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکتا۔ یہ خالص ایک مذہبی کتاب ہے اور اس کے مصنف ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ کے فرستادہ تھے۔ ان کی کتاب میں تبدیلی کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔
    علاوہ ازیں ماہ تبوک/ستمبر ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء میں لنڈن کے پاکستان آفس نے بھی بذریعہ چٹھی اطلاع دی کہ اگر کتاب میں ہسپانوی حکومت کی رائے کے مطابق ترمیم و تصحیح کردی جائے تو یہ پابندی اٹھالی جائے گی مگر مبلغ اسلام نے اسے بھی اپنے تار اور مفصل مکتوب میں یہی جواب دیا کہ تبدیلی ناممکن ہے۔
    یہ سلسلہ مراسلت ابھی جاری تھا کہ اس اثناء میں سنسرشپ کا محکمہ وزارت تعلیم کی بجائے وزارت اطلاعات کے ساتھ وابستہ کردیاگیا۔ اس تبدیلی سے کتاب کا معاملہ ازسرنو اٹھانا پڑا۔۶۵ جناب ظفر صاحب نے ایک مفصل خط ڈائریکٹر آف پراپیگنڈا کو لکھا اور ملاقات بھی کی مگر انہوں نے چند دنوں کے بعد جواب بھجوایا کہ وہ سابق وزیر تعلیم کا فیصلہ منسوخ نہیں کرسکتے جبکہ دوسرے مذاہب کے بارے میں حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔۶۶ قبل ازیں پریس کے مالک نے وعدہ کررکھا تھا کہ اگر کتاب کی تمام قیمت ادا کردی جائے تو وہ کتاب مشن میں لے جانے کی اجازت دے دے گا مگر اس نے بھی معذرت کردی اور بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ جب تک کتاب پر سے پابندی نہیں اٹھائی جاتی ساری ذمہ داری مطبع والوں پر ہوگی۔ اس پر مبلغ اسلام نے ڈائریکٹر جنرل آف پراپیگنڈا کو پے درپے خطوط لکھے۔ ایک زور وار خط کے ذریعہ ان کو قائل کرنے کی بہت کوشش کی کہ سچے مذہب کی نشانی یہ ہے کہ غیر مذاہب کو کھلی تبلیغ واشاعت کی اجازت دیتا ہے۔
    ڈائریکٹر جنرل صاحب نے بظاہر بڑی ہمدردی کا خط لکھا کہ آپ کی کوششوں کا معترف ہوں مگر ساتھ ہی یہ دو ٹوک جواب دیا کہ سپین میں کیتھولک کے سوا کسی مذہب کو تبلیغ کی قانوناً اجازت نہیں ہے مولوی کرم الیٰ صاحب ظفر نے مختلف شخصیتوں کے ذریعہ سے بھی اس پابندی کے اٹھائے جانے کی بہت کوششیں کیں مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔]4 [stf۶۷
    خدا کی قدرت! ان ایام میں جبکہ سپین گورنمنٹ کی طرف سے کتاب پر نہایت سختی سے پابندی عائد تھی خدائے قادر وتوانا ذوالمجدوالعلیٰ نے اہم ہسپانوی شخصیتوں تک کتاب پہنچاننے کا یہ سامان پیدا کردیا کہ لنڈن کے ایک نئے احمدی دوست محمد یٰسین صاحب نے مولوی صاحب موصوف سے وعدہ کیا کہ اسلامی اصول کی فلاسفی کا ہسپانوی ترجمہ اور ہسپانیہ کے چوٹی کے معزز اشخاص کے پتے ہمیں بھجوادیں ہم لنڈن سے یہ کتاب ان کو بھجوادیں گے۔ چنانچہ انہوں نے کتاب پہنچنے پر لنڈن ہی سے بذریعہ ڈاک ہسپانوی معززین کو پہنچانا شروع کردی۔ اسی دوران میں مولوی صاحب نے >اسلامی اصول کی فلاسفی< کا ایک نسخہ سپین کے صدر جنرل فرانکو کی خدمت میں بھی بھجوادیا۔ جنرل موصوف نے ایک خط کے ذریعہ کتاب کا دلی شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ کتاب انہیں بے حد پسند آئی۔ اس خط کے بعد مولوی صاحب نے کتاب کی محدود رنگ میں تقسیم شروع کردی۔ پولیس والے اکثر جواب طلبی کے لئے آتے تھے لیکن جب آپ ان کو جنرل فرانکو کا خط دکھاتے تو وہ خط کی نقل لے کر چل دیتے تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اہم لوگوں نے کتاب سے متعلق اپنے اعلیٰ تاثرات کا اظہار کیا۔
    چنانچہ ۱۹۶۴ء میں کارڈینل آرچ بشپ اشبیلہ نے کتاب ملنے پر حسب ذیل مکتوب لکھا-:
    >اشبیلہ کا آرچ بشپ کارڈینل` کرم الٰہی ظفر امیرمشن احمدیہ سپین کو سلام کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے سلامتی طلب کرتا ہے۔<
    >اسلامی اصول کی فلاسفی< کے بھجوانے پر دلی ممنون ہوں اور خوشی کا اظہار کرتا ہوں۔ کتاب میں نے انتہائی دلچسپی سے پڑھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل آپ پر ہو اور باقی سب پر بھی۔
    میں اس حقیقت کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مجھے ہر وہ تحریک بہت پسند ہے جو انسان کو مادی زندگی سے نکال کر روحانیت کی رفعتوں پر لے جائے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں ممد ہو۔ صرف اللہ تعالیٰ کے تعلق سے ہی امن وسلامتی وباہمی اخوت` نیکی اور خوشی حاصل ہوسکتی ہے۔ ہم جس دور میں سے گزر رہے ہیں وہ بے لگام مادہ پرستی کا دور ہے جس میں بے شمار لوگ خطرناک طور پر ملوث ہوچکے ہیں اور وہ اس امر کو بھول چکے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی حقیقی اور ابدی زندگی نہیں بلکہ دائمی اور روحانی زندگی اللہ تعالیٰ کے سچے تعلق سے حاصل ہوتی ہے۔
    آپ کی کتاب میں بے شمار ایسی عبارتیں موجود ہیں جو ہمیں نیکی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے نام پر ہمارے درمیان اتحاد` اتفاق اور اخوت پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔
    ان عبارتوں کی وجہ سے ہمارے پختہ عقیدہ پر کہ مسیح خدا کے بیٹے اور تمام دنیا کے نجات دہندہ تھے کوئی اثر یا فرق نہیں پڑتا۔
    خدا تعالیٰ سے تمام اسلامی دنیا کی خوشحالی طلب کرتا ہوں۔ اس کی رحمت آپ پر ہو۔
    دستخط )ترجمہ(
    اس خط کا بھی بہت فائدہ ہوا۔ عوام اور پولیس میں سے جو لوگ مولوی صاحب موصوف کے پاس آتے تو آپ انہیں اس کی فوٹو کاپی دکھا دیتے جس سے ان پر یہ گہرا اثر پڑتا کہ جب ان کے ایک مذہبی رہنما کو کتاب بہت پسند آئی ہے تو کتاب مفید ہی ہوگی۔۶۸
    بالاخر چودہ برسوں کے بعد انفارمیشن منسٹر MANUELFRAGA ۔D نے نہ صرف اس کتاب کے شائع کرنے کی بلکہ ایک ٹریکٹ >میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں< ۶۹ کے چھپوانے کی بھی باقاعدہ سرکاری اجازتی دے دی۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن پانچ ہزار کی تعداد میں اور دوسرا ایڈیشن چھ ہزار کی تعداد میں چھپ کر سپین کے سرکردہ علمی` سیاسی اور مذہبی طبقوں کے اکثر معزز اشخاص تک پہنچ چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عام طور پر اس کی نسبت بہترین خیالات کا اظہار کیاگیا ہے۔
    ذیل میں بطور نمونہ بعض ہسپانوی مقتدر شخصیتوں کے تاثرات درج کئے جاتے ہیں جن سے اس شاندار کتاب کے وسیع اثرات کا پتہ چلتا ہے۔
    )۱( پریذیڈنٹ رائل اکیڈیمی آف قرطبہ ARIZALA) DE MORTIOZ Y CASTEJON RAFAEL۔D نے درج ذیل مکتوب کی صورت میں خراج تحسین ادا کیا۔
    قرطبہ۔ ۳۰ نومبر ۱۹۶۵ء
    جناب کرم الٰہی ظفر
    احمدیہ مسلم مشن میڈرڈ
    نہایت واجب الاحترام
    آپ کا نوازش نامہ اور کتاب مصنفہ )حضرت( احمد )مسیح موعود علیہ السلام( ملی۔ میں اس تحفہ کے بھجوانے پر دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں نے اس کتاب کو انتہائی دلچسپی اور توجہ سے پڑھا ہے اس میں بیان کردہ تعلیم حقائق و معارف اور علم و عرفان سے پر ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی گئی ہے جس کے مطالعہ سے میرا دل و دماغ معطر ہوگیا۔
    میں نے ڈائریکٹر آف انسٹی ٹیوٹ CALIFALES) (ESTUDIOS جن کا نام FIGUERA GARICA VICENTE ۔D ہے اور جو چیف آف سٹیٹ کے کرنل بھی ہیں کہ یہ کتاب پڑھنے کے لئے دی۔ ان کو یہ کتاب اس قدر دلچسپ معلوم ہوئی کہ آپ نے اس ماہ کی ۲۰ تاریخ کو رائل اکیڈیمی میں اس کے متعلق ایک لیکچر دیا۔
    ہم ایک رسالہ >الملک< شائع کرتے ہیں جس میں عموماً خلفاء بنوامیہ آف قرطبہ کے تاریخی اور آثار قدیمہ سے متعلق مضامین شائع کرتے ہیں۔ اگر آپ ہمیں رسالہ ریویو آف ریلیجز بھجوادیا کریں تو یہ رسالہ ہم آپ کو بھجوا سکتے ہیں۔
    آخر میں پھر دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
    دستخط )ترجمہ(
    ۲۔
    کلچر ہسپانی HISPANI) (CULTURE کے ¶ڈائریکٹر صاحب نے لکھا۔ >روحانی علم و عرفان سے پر کتاب پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی۔< ۷۰
    ۳۔
    میڈیکل پروفیسر وممبر رائل اکیڈیمی آف میڈیسن DELAFUENTE) ALFONSO ۔(D نے مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر کے نام لکھا کہ-:
    جناب من میں آپ کا اسلامی اصول کی فلاسفی کے بھجوانے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کتاب انسان کی روحانی ترقی کے لئے علم و عرفان اور وعظ و نصیحت سے پر ہے جس کی آج کل شدید ضرورت ہے جبکہ دنیا ضلالت و گمراہی میں مبتلا ہے اور لوگوں کا الل¶ہ تعالیٰ کی ہستی پر یقین نہیں رہا۔ میں خلوص دل سے آپ کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اور آخر میں دوبارہ شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس کا مطالعہ میرے لئے بے حد مفید ثابت ہوا ہے۔۷۱ )ترجمہ(
    ۴۔
    ایک میڈیکل سکول کے پرنسپل اور رائل اکیڈیمی کے ممبر سرولا نووا NOVA VILLA SR نے ۵ مئی ۱۹۶۹ء کو لکھا-:
    >میں نے بڑی خوشی سے اس کا مطالعہ کیا اور اسے بے حد مفید پایا۔ میں اس کتاب کے مطالعہ سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ نہایت اعلیٰ اخلاقی تعلیم احسن رنگ میں بیان کی گئی ہے۔ یہ کتاب عالمگیر خوبیوں کی حامل ہے جس میں اسلامی تعلیم کا گہرا فلسفہ بیان کیاگیا ہے ہم سب کو اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ میں دوبارہ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور خلوص دل سے اپنی دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہوں۔<۷۲
    احمدیہ مشن کی دیگر ابتدائی نوسالہ عمومی سرگرمیاں )ازماہ ظہور/ اگست ۱۳۲۶ہش/ ۱۹۴۷ء تا امان/مارچ ۱۳۳۵ہش/ ۱۹۵۶ء
    احمدیہ دارالتبلیغ سپین کی دو ابتدائی اور نہایت اہم اور اثر انگیز مطبوعات کا یکجائی تذکرہ کرنے کے بعد اب ہم پھر پیچھے پلٹتے ہیں اور اس مشن کی بعض دیگر ابتدائی نوسالہ عمومی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
    چونکہ سپین میں تبلیغی مشکلات بے انداز تھیں اس لئے مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے جماعت احمدیہ کے مستقل سیاسی مسلک اور روایات کے عین مطابق قانون ملکی کا احترام کرتے اور اس کی حدود میں رہتے ہوئے ان تمام ذرائع کو حتی الامکان بروئے کارلانے کی انتہائی کوشش فرائی جو ملک کے مختلف حلقوں سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے اور ان تک حق و صداقت کی آواز پہنچانے میں کسی طرح بھی مفید و معاون بن سکتے تھے۔ مثلاً-:
    ۱۔
    احمدیہ دارالتبلیغ میں ہر اتوار کو دوپہر کے بعد اسلام کے بارے میں دلچسپی لینے والوں اور معلومات حاصل کرنے والوں کا گویا ہجوم رہتا تھا۔ مولوی صاحب موصوف اس موقع سے کما حقہ` فائدہ اٹھاتے۔ ان کے سامنے موقع محل کے مطابق مختصر تقریر کرتے اور سوال و جواب کی صورت میں اسلام کے خلاف مختلف شبہات کا ازالہ کرتے تھے۔
    ۲۔
    اس عرصہ میں آپ نے سپین کے سفارت خانوں` سرکاری افسروں` تعلیمی اداروں اور ملک کے دیگر مختلف حلقوں اور باہر سے آنے والے لوگوں سے روابط ومراسم پیدا کرنے کی کوششیں برابر جاری رکھیں۔ چنانچہ اس دور کی رپورٹوں میں ہسپانوی مراکش کے ولی عہد شہزادہ مولائی مہدی بن حسن` ۷۳ ہسپانوی کمرشل ایٹچی` سفیر ارجنٹائن` برطانی سفیر` سفیر برائے پاکستان` مصری سفیر فرانسیسی سفیر` وزیر پبلک ورکس اور گوائی کے وزیر مختار` امریکی سفیر` فلپائن کے سفیر` کولمبیا اور لبنان کے صحافیوں` سپین کے مشہور مولف و مورخ MANON GREGNO ۔DR اور سپین کی مختلف خطاب یافتہ شخصیتوں (COUNTS) سے ملاقاتوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس زمانہ میں مجاہد اسلام نے سفارت ارجنٹائن کے افسروں سے بالخصوص گہرے دوستانہ تعلقات پیدا کر لئے تھے اور ان لوگوں کو اکثر خوشگوار ماحول میں تبلیغ کے مواقع ملتے رہتے تھے اسی اثنا میں ملٹری ایٹچی کے سیکرٹری نے سائیکلوسٹائل مشین کا تحفہ احمدیہ مسلم مشن کو پیش کیا۔۷۴
    ۳۔
    مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو میڈرڈ ۷۵ )دارالحکومت( ہی میں محدود نہیں رکھا بلکہ وقتاً فوقتاً سپین کے دوسرے مشہور شہروں مثلاً اشبیلہ` ۷۶تاراگوتا`۷۷برشلونہ ۷۸ تشریف لے جاکر پیغام حق پہنچانے کی کوشش کی۔ بلنیہ۷۹ سپین کا تیسرے نمبر پر بڑا شہر ہے جو بحیرہ روم کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہ ہے اور جہاں جابجا اسلامی عہد حکومت کے آثار قدیمہ ملتے ہیں مجاہد اسلام نے ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء میں اس علاقے کی طرف بھی تبلیغی سفر کیا اور ایک گائوں الکھن سیڈل فارو SIDELFORO) (ALKHAN میں اسلام کی منادی کی۔۸۰
    ۴۔
    آپ نے >اسلام کا اقتصادی< اور >اسلامی اصول کی فلاسفی< کے ہسپانوی ترجموں کے علاوہ عام طور پر ملک میں درج زیل لٹریچر معززین کو بطور تحفہ یا قیمتاً دیا-:
    >خطبہ الہامیہ< )عربی(۔ >مسیح ہندوستان میں< )انگریزی(۔ >اسلامی اصول کی فلاسفی< )انگریزی و فرانسیسی(۔ >اسلام کا اقتصادی نظام< )انگریزی(۔ >کمیونزم اینڈ ڈیموکریسی< )انگریزی ازحضرت مصلح موعود(۔ >مسیح کہاں فوت ہوئے؟< )انگریزی(
    ان کتابوں میں سے بعض بیرونی ممالک میں بھی بھجوائی گئیں۔ مثلاً >اسلام کا اقتصادی نظام< پریذیڈنٹ ری پبلک ارجنٹائن کو جنہوں نے کتاب موصول ہونے پر تحریری شکریہ ادا کیا۔۸۱
    ۵۔
    آپ نے تبلیغ اسلام کی وسعت کے لئے ایک کارگر ذریعہ یہ اختیار کیا کہ زیر تبلیغ احباب کے نام بکثرت خطوط لکھے جن میں ان کے شکوک د وساوس کا ازالہ کیا اور صحیح اسلامی تعلیم پیش کی۔۸۲
    نو مسلموں کی تعلیم و تربیت
    مندرجہ بالا ذرائع کے نتائج خدا کے فضل و کرم سے بہت خوشکن نکلے اور اس کے نتیجہ میں ہر سال نو مسلموں میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔ اسلام میں آنے والوں کی اس نئی جماعت نے مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر پر ان کی تعلیم تربیت کی بھاری ذمہ داری ڈال دی جس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے انہوں نے خاص توجہ دی اور نو مسلموں کو نماز` اذان اور تکبیر سکھانے یسرناالقرآن پڑھانے اور عام دینی مسائل سے آگاہ کرنے کا کام بھی برابر جاری رکھا۔ نتیجت¶ہ سپین کے بعض نئے اسلامی بھائی جن میں مبارک احمد صاحب بہت نمایاں تھے۔ تبلیغ اسلام کی جدوجہد میں سرگرم حصہ لینے لگے۔
    حضرت مصلح موعود کا پرمعارف خطبہ مبلغ سپین کے نکاح پر
    ۲۵ جنوری ۱۹۵۴ء کو سیدنا حضرت مصلح موعود نے چوہدری کرم الٰہی صاحب ظفر مجاہد سپین کے نکاح کا اعلان فرمایا۔ آپ کا نکاح محترمہ رقیہ شمیم بشریٰ صاحبہ بنت ماسٹر محمد اسحاق صاحب ہیڈماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول فورٹ عباس ساکن )ریاست بہاولپور( سے ہوا۔ اس موقع پر حضور نے اپنے پرمعارف خطبہ میں اس نکتہ پر خاص طور پر زور دیا کہ آنحضرت~صل۱~ کا ارشاد ہے کہ شادی دین کی خاطر کی جائے۔ خطبہ کے آخر میں حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا >یہ لڑکی جس کے نکاح کا میں اعلان کرنا چاہتا ہوں۔ بھائی عبدالرحیم صاحب کی نواسی ہے اور اس سے قبل ان کی دوسری لڑکی کے سوتیلے بیٹے ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب باوجود اس کے کہ وہ مالدار شخص ہیں اور اڑھائی تین ہزار روپیہ آمد پیدا کررہے ہیں اپنی لڑکی کے لئے مبلغ کو چنا ہے اور مبلغ کو پچاس ساٹھ روپیہ ملتے ہیں۔ پس موجودہ افسوسناک حالات کے باوجود یہ نہایت نیک نمونہ ہے جو ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب نے دکھایا ہے اور اس موقع پر بھی اگرچہ یہ نسبتاً پہلے واقعہ سے کم درجہ رکھتا ہے ایک مبلغ سے تعلق پیدا کرنے کی خواہش نمایاں پائی جاتی ہے اور یہ ایک نیکی کی بات ہے بشرطیکہ اس دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں۔۸۳
    حضرت مصلح موعودؓ کا بصیرت افروز مکتوب مبلغ اسلام سپین کی بیگم صاحبہ کینام )مورخہ ۲۔ امان/ مارچ ۱۳۳۳ہش/ ۱۹۵۴ء(
    مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر اپنی اہلیہ کے ساتھ سپین روانہ ہونے لگے تو حضرت مصلح موعود نے اپنے قلم مبارک سے ان کی اہلیہ صاحبہ کے نام حسب ذیل مکتوب تحریر فرمایا۔
    اغوزباللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    تم اس ملک جارہی ہو جس پر مسلمانوں نے پہلی صدی میں قبضہ کیا اور سات سو سال تک وہاں قابض رہے۔ اس ملک کا مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جانا ایک بڑے دکھ کی بات ہے مگر ملک تو نکلتے ہی رہتے ہیں وہاں سے اسلام کا نکل جانا اصل صدمہ ہے اور ایسا صدمہ جسے کسی مسلمان کو بھلانا نہیں چاہئے۔ شیعہ امام حسینؓ کی یاد میں ہر سال تازئے نکالتے ہیں یہ ایک بدعت ہے مگر اگر کسی صورت میں بھی یہ جائز ہوتا تو مسلمانوں کو سپین کا ماتم ہر سال کرنا چاہئے تھا یہاں تک کہ ہر بچے اور ہر بوڑھے کے دل پر زخم کا اتنا گہرا نشان پڑجاتا کہ کوئی مراہم اسے مندمل نہ کرسکتی۔
    تم خوش قسمتی سے وہاں جارہی ہو اپنے فرض کو یاد رکھو اور اپنے خاوند کو یاددلاتی رہو تمہارا جانا تمہارے خاوند کو تبلیغ میں سست نہ کردے مگر آگے سے بھی چست بنائے۔ صحابیات جب جنگوں میں جاتی تھیں تو اپنے خاوندوں کو خیموں میں نہیں گھسیٹتی تھیں بلکہ خیموں سے باہر نکالتی تھیں اسی وجہ سے ان کا نام عزت سے یاد کیاجاتا ہے اور قیامت تک یاد کیا جائے گا۔ مل بیٹھنے کا وقت مرنے کے بعد بہت لمبا ملنے والا ہے اس کی یاد میں ان کام کے دنوں کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانا چاہئے۔ آمین۔
    مرزا محمود احمد
    54)۔3۔(2
    اغوزباللہ من الشیطن الرجیم
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    تم اس ملک جارہی ہو جس پر مسلمانوں نے پہلی صدی میں قبضہ کیا اور سات سو سال تک وہاں قابض رہے۔ اس ملک کا مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جانا ایک بڑے دکھ کی بات ہے مگر ملک تو نکلتے ہی رہتے ہیں وہاں سے اسلام کا نکل جانا اصل صدمہ ہے اور ایسا صدمہ جسے کسی مسلمان کو بھلانا نہیں چاہئے۔ شیعہ امام حسینؓ کی یاد میں ہر سال تازئے نکالتے ہیں یہ ایک بدعت ہے مگر اگر کسی صورت میں بھی یہ جائز ہوتا تو مسلمانوں کو سپین کا ماتم ہر سال کرنا چاہئے تھا یہاں تک کہ ہر بچے اور ہر بوڑھے کے دل پر زخم کا اتنا گہرا نشان پڑجاتا کہ کوئی مراہم اسے مندمل نہ کرسکتی۔ تم خوش قسمتی سے وہاں جارہی ہو اپنے فرض کو یاد رکھو اور اپنے خاوند کو یاددلاتی رہو تمہارا جانا تمہارے خاوند کو تبلیغ میں سست نہ کردے مگر آگے سے بھی چست بنائے۔ صحابیات جب جنگوں میں جاتی تھیں تو اپنے خاوندوں کو خیموں میں نہیں گھسیٹتی تھیں بلکہ خیموں سے باہر نکالتی تھیں اسی وجہ سے ان کا نام عزت سے یاد کیاجاتا ہے اور قیامت تک یاد کیا جائے گا۔ مل بیٹھنے کا وقت مرنے کے بعد بہت لمبا ملنے والا ہے اس کی یاد میں ان کام کے دنوں کو زیادہ سے زیادہ مفید بنا)نا( چاہئے۔ آمین۔
    مرزا محمود احمد
    54)۔3۔(2
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب کا گرامی نامہ )مورخہ ۲ امان/مارچ ۱۳۳۳ہش/۱۹۵۴ء(
    قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی ایک مکتوب سپرد قلم کیا جو یہ تھا۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    عزیزہ مکرمہ بیگم کرم الٰہی صاحب ظفر السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    آپ کی شادی ظاہری حالات کے لحاظ سے دعائوں اور برکات کے ساتھ ہوئی ہے مگر ابھی تک یہ صرف ایک جسم ہے اور اس کے اندر حقیقت کی روح ڈالنا یا تو ہمارے خدا کے ہاتھ میں ہے جو تمام فضلوں اور رحمتوں کا سرچشمہ ہے اور یا وہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اپنے عمل سے خدائی نصرت و رحمت کی جاذب بنیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کو فضلوں اور رحمتوں کا مورد بنائے اور حسنات دارین سے نوازے۔ آمین۔
    سپین کا ملک جہاں آپ اپنے شوہر عزیز کرم الٰہی صاحب ظفر کے ساتھ جارہی ہیں۔ اسلام کا کھویا ہوا ورثہ ہے جہاں اسلام کے پودے نے ساتھ آٹھ سو سال اپنے بزرگ وبار کی شاندار بہاردکھائی ہے مگر اب اس پر خزاں کا دور دورہ ہے آپ اسے اپنی درد مندانہ کوششوں اور دعائوں کے ساتھ پر پھولوں اور پھلوں سے شاداب اور آراستہ کریں اور ثابت کردیں کہ ہمارے آقا~صل۱~ کی بعثت ثانی عالمگیر اور ہمہ گیر بہار کا پیغام لے کر آئی ہے۔ سپین کا دوبارہ اسلام سے مشرف ہونا اسلام کا وہ روحانی انتقام ہوگا جس کے لئے اندلسی بزرگوں کی روحیں پکاررہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے سرتاج کے ساتھ ہو اور دین و دنیا میں ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔ فقط
    خاکسار
    مرزا بشیراحمد
    54)۔3۔(2
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    عزیزہ مکرمہ بیگم کرم الٰہی صاحب ظفر السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    آپ کی شادی ظاہری حالات کے لحاظ سے دعائوں اور برکات کے ساتھ ہوئی ہے مگر ابھی تک یہ صرف ایک جسم ہے اور اس کے اندر حقیقت کی روح ڈالنا یا تو ہمارے خدا کے ہاتھ میں ہے جو تمام فضلوں اور رحمتوں کا سرچشمہ ہے اور یا وہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اپنے عمل سے خدائی نصرت و رحمت کی جاذب بنیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کو فضلوں اور رحمتوں کا مورد بنائے اور حسنات دارین سے نوازے۔ آمین۔
    سپین کا ملک جہاں آپ اپنے شوہر عزیز کرم الٰہی صاحب ظفر کے ساتھ جارہی ہیں۔ اسلام کا کھویا ہوا ورثہ ہے جہاں اسلام کے پودے نے ساتھ آٹھ سو سال اپنے بزرگ وبار کی شاندار بہاردکھائی ہے مگر اب اس پر خزاں کا دور دورہ ہے آپ اسے اپنی درد مندانہ کوششوں اور دعائوں کے ساتھ پر پھولوں اور پھلوں سے شاداب اور آراستہ کریں اور ثابت کردیں کہ ہمارے آقا~صل۱~ کی بعثت ثانی عالمگیر اور ہمہ گیر بہار کا پیغام لے کر آئی ہے۔ سپین کا دوبارہ اسلام سے مشرف ہونا اسلام کا وہ روحانی انتقام ہوگا جس کے لئے اندلسی بزرگوں کی روحیں پکاررہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے سرتاج کے ساتھ ہو اور دین و دنیا میں ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔ فقط
    خاکسار
    مرزا بشیراحمد
    54)۔3۔(2
    ‏tav.11.3
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    اسلام پرسرکاری پابندی
    سپین میں مبلغ اسلام کیی تبلیغی سرگرمیاں اگرچہ شروع ہی سے کیتھولک پادریوں کے لئے ناقابل برداشت تھیں لیکن اب جو اسلام کا اثرونفوذ بڑھنے لگا اور سعید روحیں حق وصداقت قبول کرنے لگیں توانہوں نے ماہ مارچ ۱۹۵۶ء میں سرکاری حلقوں سے گٹھ جوڑ کرکے تبلیغ اسلام پر پابندی لگوادی۔۸۴ پاکستانی سفارت خانہ کی طرف سے ۲۶ مارچ ۱۹۵۶ء کو اس کی اطلاع بھی پہنچ گئی۔ اس افسوسناک اور رنجدہ اقدام کی تفصیل مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر کے قلم سے لکھی جاتی ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں۔
    >ماہ مارچ کے شروع میں ایک روز صبح سفارت پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری< مسٹر افضل اقبال نے مجھے بلایا کر کہا کہ ہسپانوی حکومت آپ کی طرف سے لوگوں کو قبول اسلام کی دعوت دینے کو اپنے ملک کی کانسٹی ٹیوشن کی خلاف ورزی تصور کرتی ہے۔ میرا بھی یہی مشورہ ہے کہ آپ کوئی ایسا کام نہ کریں جسے حکومت ملک کے قانون کی خلاف ورزی تصور کرے۔ بعد میں انہوں نے یہ نوٹس کی صورت میں لکھ کر بھی بھجوادیا۔ میں نے ان کو کہا کہ مذہبی آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے جسے دنیا کی ہر مہذب حکومت تسلیم کرتی ہے۔ اگر سپین کی کوئی ایسی CONSTITUTION ہے تو اسے انہیں تبدیل کرناچاہئے۔ ورنہ پاکستان کو بھی ان کے مشنریوں کو تبلیغ کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ اگر وہ مجھے ملک سے باہر نکالنے کی دھمکی دیتے ہیں تو ہماری حکومت ان کے مشنریوں کو بھی نکل جانے کا نوٹس دیدے۔ کہنے لگے ہمارا ملک مذہبی آزادی کو تسلیم کرتا ہے مگر ان کا ملک تسلیم نہیں کرتا ہم ان کو ان کے ملکی قانون بدلنے کے لئے کیسے مجبور کرسکتے ہیں؟
    خاکسار نے ہسپانوی وزیر خارجہ کو ایک خط لکھا کہ میں دس سال سے سپین میں مقیم ہوں اب تک میرے خلاف کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی اب حکومت میری سرگرمیوں کو کیوں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتی ہے؟ہپسانوی حکومت سرکاری طور پر کیتھولک گورنمنٹ ہے اس کا دعویٰ ہے کہ یہ مذہب سچا ہے جو خدا تعالیٰ قائم کرنے کا ذریعہ اور اعلیٰ اخلاق کا حامل ہے۔ میری تبلیغی کا مقصد بھی محض اعلیٰ اخلاق کا قیام اور نبی نوع انسان کا خدا تعالیٰ سے حقیقی تعلق قائم کرنا ہے۔ میری تبلیغ کا واحد مقصد یہ ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک کو تمام مخلوق پہچان لے۔ نیز میں نے اس بات پر زور دیا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسلام ہرگز ملک سپین کے لئے کسی قسم کا خطرہ نہیں بلکہ اس سرزمین کی حقیقی فلاح و بہبود کا خواہش مند ہے۔ خط کا جواب ملاکر وزیر خارجہ صاحب نے آپ کے خط کا اچھا اثر لیا ہے۔
    >دراصل ساری شرارت پادریوں کی ہے کہ انہوں نے پولیس والوں اور حکام کو انگیخت کی ہے۔<۸۵
    حضرت مصلح موعود کی طرف سے خطبہ جمعہ میں زبردست احتجاج
    حکومت سپین کے اس فیصلہ کی اطلاع ملنے پر حضرت مصلح موعود نے ۲۰ شہادت/اپریل ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء کو ربوہ میں ایک پرجلال خطبہ پڑھا جس میں فرمایا-:
    >کرم الٰہی صاحب ظفر کو گورنمنٹ کی طرف سے نوٹس دیاگیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں ہے۔ چونکہ تم لوگوں کو اسلام میں داخل کرتے ہو جو ہمارے ملک کے قانون کی خلاف ورزی ہے اس لئے تمہیں وارننگ دی جاتی ہے کہ تم اس قسم کی قانون شکنی نہ کرو ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں۔ ہمارا ملک اسلامی ملک کہلاتا ہے لیکن یہاں عیسائی پادری دھڑلے سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور کوئی انہیں عیسائیت کی تبلیغ سے نہیں روکتا لیکن وہاں ایک مبلغ کو اسلام کی تبلیغ سے روکا جاتا ہے اور پھر بھی ہماری حکومت اس کے خلاف کوئی پروٹسٹ نہیں کرتی۔ وہ کہتے ہیں میں نے پاکستان کے ایمبیسڈر سے کہا کہ تمہیں تو ہسپانوی حکومت سے لڑنا چاہئے تھا اور کہنا چاہئے تھا کہ تم اسلامی مبلغ پر کیوں پابندی عائد کرتے ہو؟ جبکہ حکومت پاکستان نے اپنے ملک میں عیسائی پادریوں کو تبلیغ کی اجازت دے رکھی ہے اور وہ ان پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کرتی۔ اس نے کہا یہ تو درست ہے مگر سپین کی وزارت خارجہ کا سیکرٹری یہ کہتا تھا کہ تم اپنے ملک میں لوگوں کو جو بھی آزادی دینا چاہتے ہو بیشک دو ہمارے ملک کی کانسٹی ٹیوشن اس سے مختلف ہے اور ہمارے ملک کا یہی قانون ہے کہ یہاں کسی کو اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بہرحال یہ ایک افسوس کا مقام ہے کہ ہماری حکومت دوسری حکومتوں سے اتنا ڈرتی ہے کہ وہ اسلام کی حمایت بھی نہیں کرسکتی۔ حالانکہ اس کا فرض تھا کہ جب ایک اسلامی مبلغ کو ہسپانوی حکومت نے یہ نوٹس دیا تھا تو وہ فوراً پروٹسٹ کرتی اور اس کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی مگر پروٹسٹ کرنے کی بجائے ہسپانوی حکومت نے یہ نوٹس بھی ہمارے مبلغ کو پاکستانی نمائندہ کے ذریعہ ہی دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ایک وزیر سے کہا کہ مجھے یہ نوٹس دیاگیا براہ راست کیوں نہیں دیاگیا تو اس نے کہا یہ نوٹس براہ راست تمہیں اس لئے نہیں دیاگیا کہ اگر ہم تمہیں نکال دیں تو پاکستانی گورنمنٹ ہم سے خفاہو جائے گی پس ہم نے چاہا کہ پاکستانی سفیر تمہیں خود یہاں سے چلے جانے کے لئے کہتے تاکہ ہمارے خلاف حکومت پاکستان کو کوئی خفگی پیدا نہ ہو۔۔۔
    پاکستانی گورنمنٹ کے نمائندے کے ذریعہ ہسپانوی گورنمنٹ کی طرف سے ہمارے مبلغ کو یہ نوٹس دیاگیا ہے کہ چونکہ تم اسلامی مبلغ ہو اور ہمارے ملک کے قانون کے ماتحت کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسرے کا مذہب تبدیل کرے اس لئے تم اسلام کی تبلیغ نہ کرو ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں۔ شاید کوئی محبت اسلام رکھنے والا سرکاری اور افسر میرے اس خطبہ کو پڑھ کر اس طرف توجہ کرے اور وہ اپنی ایمبیسی سے کہے کہ تم ہسپانوی گورنمنٹ کے پاس اس کے خلاف پروٹسٹ کرو اور کہوکہ اگر تم نے اسلام کے مبلغوں کو اپنے ملک سے نکالا تو تم بھی عیسائی مبلغوں کو اپنے ملک سے نکال دیں گے۔
    بیشک اسلام ہمیں مذہبی آزادی کا حکم دیتا ہے مگر اسلام کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ جزاء سیئہ سیئہ مثلھا یعنی اگر تمہارے ساتھ کوئی غیر منصفانہ سلوک کرتا ہے تو تمہیں بھی حق ہے کہ تم اس کے بدلہ میں اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔ پس اگر کوئی حکومت اپنے ملک میں اسلام کی تبلیغ کو روکتی ہے تو مسلمان حکومتوں کا بھی حق ہے کہ وہ اس کے مبلغوں کو اپنے ملک میں تبلیغ نہ کرنے دیں۔ اسی طرح چاہئے کہ ہماری گورنمنٹ انگلستان کی گورنمنٹ کے پاس بھی اس کے خلاف احتجاج کرے اور کہے کہ یا تو سپین کی حکومت کو مجبور کرو کہ وہ اپنے ملک میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت دے نہیں تو ہم بھی اپنے ملک میں عیسائیت کی تبلیغ کو بالکل روک دیں گے۔ اسی طرح وہ امریکہ کے پاس احتجاج کرے اور کہے کہ وہ ہسپانوی گورنمنٹ کو اپنے اس فعل سے روکے ورنہ ہم بھی مجبور ہوں گے کہ عیسائی مبلغوں کو اپنے ملک سے نکال دیں۔ بہرحال یہ ایک نہایت ہی افسوسناک امر ہے کہ ایک ایسا ملک جو پاکستان سے دوستانہ تعلقات رکھتا ہے ایک اسلامی مبلغ کو نوٹس دیتا ہے کہ تم ہمارے ملک میں اسلام کی تبلیغ کیوں کرتے ہو؟۸۶ ایک دفعہ پہلے بھی پانچ سات نوجوان ہمارے مبلغ کے پاس بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے کہ سی۔آئی۔ ڈی کے کچھ آدمی وہاں آگئے اور انہوں نے کہا کہ تم مسلمان ہوگئے ہو۔ ان نوجوانوں نے کہا ہم حکومت کے تم سے بھی زیادہ وفادار ہیں۔ لیکن اس امر کا مذہب سے کیا تعلق ہے؟ انہوں نے کہا دراصل پادریوں نے حکومت کے پاس شکایت کی ہے کہ یہاں اسلام کی تبلیغ کی جاتی ہے اور گورنمنٹ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تمہاری نگرانی کریں۔ انہوں نے کہا تم ہمیں دوسرے کی باتیں سننے سے نہیں روک سکتے اگر ہمارا دل چاہا تو ہم مسلمان ہوجائیں گے لیکن تمہیں کوئی اختیار نہیں کہ تم دوسروں پر جبر سے کام لو۔ اس وقت سے یہ مخالفت کا سلسلہ جاری تھا جو آخر اس نوٹس کی شکل میں ظاہر ہوا۔ بہرحال یہ ایک نہایت ہی افسوسناک امر ہے کہ بعض عیسائی ممالک میں اب اسلام کی تبلیغ پر بھی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ پہلے عیسائی ممالک محمد رسول اللہ~صل۱~ کے خلاف رات اور دن جھوٹ بولتے رہتے تھے ہم نے ان افترائوں کا جواب دینے اور محمد رسول اللہ~صل۱~ کی حقیقی شان دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے اپنے مبلغ بھیجے تو اب ان مبلغوں کی آواز کو قانون کے زور سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسلام کی تبلیغ سے انہیں جبراً روکا جاتا ہے مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام اور محمد رسول اللہ~صل۱~ کے نام کی بلندی کے لئے عیسائی حکومتوں پر زور دیں کہ وہ سپین کو اس سے روکیں ورنہ ہم بھی مجبور ہوں گے کہ ہم عیسائی مبلغوں کو اپنے ملکوں سے نکال دیں۔
    دیکھو سویز کے معاملہ میں مصر کی حکومت ڈٹ گئی اور آخر اس نے روس کو اپنے ساتھ ملالیا۔ اگر سویز کے معاملہ میں مصر ڈٹ سکتاہے تو محمد رسول اللہ~صل۱~ کے نام کی بلندی کے لئے پاکستان کی حکومت اگر ڈٹ جائے تو کیا وہ دوسری اسلامی حکومتوں کو اپنے ساتھ نہیں ملاسکتی۔ محمد رسول اللہ~صل۱~ کی عزت یقیناً کروڑ کروڑ سویز سے بڑھ کرہے۔ اگر ایک سویز کے لئے امریکہ اور برطانیہ کے مقابلہ میں مصر نے غیرت دکھائی اور وہ ڈٹ کر کھڑا ہوگیا تو کیا دوسری اسلامی حکومتیں محمد رسول اللہ~صل۱~ کے لئے اتنی غیرت بھی نہیں دکھاسکتیں۔ انہیں عیسائی حکومتوں سے صاف صاف کہہ دیناچاہئے کہ یا تو تم اسلامی مبشرین کو اجازت دو کہ وہ تمہارے ملکوں میں اسلام کی اشاعت کریں ورنہ تمہارا بھی کوئی حق نہیں ہوگا کہ تم ہمارے ملکوں میں عیسائیت کی تبلیغ کرو۔ اگر تم ہمارے ملک میں عیسائیت کی تبلیغ کرسکتے ہو۔ تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم کہو کہ اسلام کی باتیں سن سکتے۔ بیشک ہمارے مذہب میں رواداری کی تعلیم ہے مگر ہمارے مذہب کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ بے انصافی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔ یہ ایک نہایت صاف اور سیدھا طرز ہے مگر افسوس ہے کہ مسلمان حکومتوں کا ذہن ادھر نہیں جاتا اور وہ اسلام کے لئے اتنی بھی غیرت نہیں دکھاتیں جتنی کرنل ناصر نے سویز کے متعلق غیرت دکھائی۔ اگر مسلمان حکومتیں محمد رسول اللہ~صل۱~ کے لئے سویز جتنی غیرت بھی دکھائیں تو سارے جھگڑے ختم ہو جائیں اور اسلام کی تبلیغ کے راستے کھل جائیں۔ اور جب اسلام کی تبلیغ کے راستے کھل گئے تو یقیناً سارا یورپ اور امریکہ ایک دن مسلمان ہوجائے گا۔۸۷
    جماعت احمدیہ کی طرف سے منظم احتجاج
    حضور کے اس خطبہ نے جماعت احمدیہ میں تشویش واضطراب کی لہر دوڑا دی۔ اس کی شہری اور دیہاتی شاخوں کی طرف سے احتجاج قراردادیں پاس کی گئیں۔ سفارت خانوں کی یاد داشتیں بھجوائی گئیں۔ احمدی اخبارات ورسائل نے مضامین اور اداریے لکھے۔
    مشرقی پاکستان کے مسلم پریس کا احتجاج
    احمدی مسلمانوں کے علاوہ مشرقی پاکستان کے دوسرے مسلم پریس نے بھی اس موقعہ پر غیرت ایمانی کا نمایاں ثبوت دیا اور اس پر بندش کے خلاف پر زور اور موثر آواز بلند کی چنانچہ مشرقی پاکستان کے مشہور روزنامہ >آزاد< نے اپنی ۲۶ جون ۱۹۵۶ء کی اشاعت میں >سپین اور اسلام< کے عنوان کے تحت ایک پرمغز اداریہ سپرد قلم کیا جس میں لکھا کہ۔
    سپین میں چونکہ حکومت کا مذہب RELIGION) (STATE صرف عیسائیت ہے اس لئے وہاں دوسرے مذاہب کی تبلیغ کی اجازت روک دی گئی ہے۔ اس بناء پر سپین کی حکومت نے جماعت احمدیہ کے مبلغ کو جو وہاں تبلیغ اسلام کا کام کررہا تھا نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ حکومت سپین کے اسی حکم کے خلاف جماعت احمدیہ صدائے احتجاج بلند کررہی ہے۔ اس کی طرف سے کثرت سے احتجاج خطوط بھجوائے جارہے ہیں۔ ان میں سے ایک احتجاجی خط کراچی میں غیرملکی سفارت خانوں کو بھی یادداشت کے طور پر دیاگیا ہے۔ احمدیہ جماعت کی بے چینی بالکل طبعی امر ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کا جماعت احمدیہ کے بڑے سے بڑے نقاد بھی انکار نہیں کرسکتے کہ مغربی ممالک میں اسلام کا پیغام صرف جماعت احمدیہ ہی اپنی ان تھک کوششوں کے ذریعہ پہنچارہی ہے۔ قریباً ہر ایک ملک میں ہر ایک مذہب کو اپنی اشاعت کا کم و بیش موقعہ ملتا ہے اور یہی بین الاقوامی مسلمہ اصول ہے۔ لٰہذا سپین کی حکومت کا اس بنیادی حق کو چھیننا ایک ایسا امر ہے کہ جس پر جماعت احمدیہ کے ممبران بے چین ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور اس معاملہ میں دوسرے مذاہب کے مشنری اور تمام رواداری برتنے والے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی حفاظت کے خواہاں اصحاب بھی جماعت احمدیہ کی ہمنوائی کریں گے۔
    حکومت سپین کا قابل نفرت حکم ہمارے سامنے پرانے زمانہ کے ایسابیلا ISABELLA اور فرڈی نینڈ FERDINAND کی حکومت کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ نیز ہمیں سپین میں عرب تمدن کے سنہری زمانہ اور طارق و موسیٰ بن نصیر کی بے نظیر جرات بھی یاد دلاتا ہے۔ درحقیقت عربوں نے ہی سپین کی تاریخ کو بنایا تھا۔ انہوں نے اپنے زمانہ میں عمارت سازی` انڈسٹری` علم موسیقی` ادب اور علوم وفنون کو ترقی دی تھی مگر وقتی طور پر عربوں کی یہ جلائی ہوئی شمعیں ناموافق حالات کی وجہ سے بجھادی گئیں مگر کچھ عرصہ بعد وہی یورپ کے ظلمت کدوں میں روشن ہوگئیں۔ اسی کی تاریخ میں یورپ کی نئی زندگی (RENAISSENCE) کے نام سے موسوم کیاجاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ سپین سے عرب حکومت کو اور مسلمانوں کو بہ نوک شمشیر نکال دیا گیا مگر ایسا کرنے والوں نے اسلام کو سپین سے نکال کر عربوں سے زیادہ خود یورپ کے تمدن کو نقصان پہنچایا۔ اسی وجہ سے مشہور عیسائی مورخ لین پول لکھتا ہے۔
    >اسی طرح سے سپین والوں نے اس عرب ہنس کو قتل کردیا جو روزانہ ایک سنہری انڈا دیا کرتا تھا۔ اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کا تمدن پانچ سو سال پیچھے پڑگیا۔<
    مندرجہ بالا تمام حقائق سپین کے موجودہ مدبر بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اور آج کل جنرل فرانکو سپین کی اس پرانی غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ حقیقت ان کی مساعی سے آشکار ہورہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے مسلم ممالک میں اپنے تمدن مشنز بھجوا کراہ افریقہ میں اپنے مقبوضہ مسلم علاقہ کی آزادی کا اعلان کرکے اسی بات کا واضح ثبوت فراہم کیا ہے آج کل سپین میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ پیرا نیز پہاڑ سے ہی افریقہ شروع ہوجاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سپین اور افریقہ میں گہرا تمدنی تعلق ہے۔
    ماضی اور حال کے ان مختلف حقائق وواقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے آج سپین گورنمنٹ کا یہ حکم خاص طور پر اسلامی دنیا کے لئے حیران کن اور انتہائی تکلیف دہ ہے اور طبعاً دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ سپین اور اسلامی دنیا کی دوستی اور تعلقات کیا صرف ایک کھوکھلی نمائش ہے اور کیا آج بھی سپین میں پرانے زمانہ کی طرح اسلام کے متعلق بغض موجود ہے۔
    اگر ان حقائق کو نظر انداز کردیا جائے تو پھر بھی مذہب کی تبلیغ ہر ایک انسان کا بنیادی حق ہے جس کو حکومت سپین نے اپنے حکم کے ذریعہ سے ختم کرنا چاہا ہے۔ اس کے متعلق حکومت پاکستان کو خود وفکر کرنا چاہئے اور اس کے جواب میں اسے سفارتی کارروائی اور حکومتی خط وکتابت کے علاوہ حکومت کو اپنے ملک میں دوسرے مذاہب کے مبلغین کے بارے میں بھی نئے سرے سے اصول وضع کرنے چاہئیں۔ اس ضمن میں ہماری ہمسایہ حکومت بھارت کا رویہ بھی قابل غور ہے۔ نہ معلوم اس سلسلہ میں ہماری حکومت نے بھی کچھ غوروفکر کیا ہے یا نہیں۔ )ترجمہ(۸۸
    مشرقی پاکستان کے دوسرے مشہور اخبار >اتفاق< نے ۲۹ جون ۱۹۵۶ء کے پرچہ میں لکھا کہ-:
    >حکومت فرانکو نے حال ہی میں سپین میں صرف عیسائیت کو STATERELIGION ہونے کا اعلان کیا ہے اور دوسرے مذہب کی تبلیغ پر پابندی عائد کردی ہے اسی وجہ سے میڈرڈ میں مقیم مبلغ اسلام کو سپین سے چلے جانے کا حکم جاری کیاگیا ہے۔
    حکومت سپین کا یہ فعل بین الاقوامی حقوق انسانیت پر ایک کاری ضرب ہے اور تمام عالم اسلام کے لئے خصوصاً انتہائی طور پر تکلیف دہ ہے۔ سپین ایک زمانہ میں یورپ میں اسلامی تمدن کا مرکز تھا اور یہاں فلسفہ` ادب` علوم وفنون اور علم صنعت و حرفت نے اس حد تک ترقی کرلی تھی کہ بعد میں یہی چیز یورپ کی نئی زندگی کا باعث بنی۔ بلامبالغہ کہا جاستکا ہے کہ دراصل سپین میں عربوں کے ذہنی ارتقاء نے ہی موجودہ ماڈرن یورپ کو جنم دیا۔ پھر بین الاقوامی اصول کی رو سے بھی مذہبی آزادی کا حق ہر ایک کے لئے تسلیم کیاگیا ہے۔ سپین کی موجودہ حکومت عالم اسلام کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات پیدا کرنے کی خواہاں ہے لیکن اگر اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو عالم اسلام کو تکلیف دینے والا ہو تو اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوگا کہ یہ محض ایک نمائشی خواہش ہے۔ حکومت کا یہ حکم پرانے زمانہ کے ایسا بیلا اور فرڈی نینڈ کے بغض و تعصب سے کم نہیں ہے۔ حکومت فرانکو نے مذہبی آزادی کو ختم کرنے لئے جو حکم جاری کیا ہے اس پر حکومت پاکستان کو بیدار ہونا چاہئے اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر سیاسی گفت و شنید سے اس اہم معاملہ کو طے کرے۔ )ترجمہ(۸۹
    مشرقی پاکستان کے ایک اور موقر جریدہ >ملت< )۲۱ جون ۱۹۵۶ء نے لکھا-:
    >ایک خبر سے یہ معلوم ہوا ہے کہ حکومت سپین نے اپنے ملک سے مبلغ اسلام کو نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حکم پاکستانی سفارت خانہ کے ذریعہ سے دیاگیا ہے۔ یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہے۔ مذہبی مبلغ کی آزادی کا ہر ملک میں ہونا نہایت ضروری ہے۔ پاکستان میں عیسائی مبلغین عیسائیت کی تبلیغ نہایت آزادی کے ساتھ بلا روک ٹوک کررہے ہیں۔ ہمیں یہ امید ہے کہ ہماری حکومت اس حکم کے ازالہ کے لئے مناسب کارروائی فرمائے گی۔< )ترجمہ(۹۰
    تبلیغ اسلام پر پابندی کے بعد سے خلافت ثانیہ کے اختتام تک ۱۳۳۵ہش/ ۱۹۵۶ء تا ۱۳۴۴ہش/ ۱۹۶۵ء
    اب اگرچہ حکومت کی طرف سے تبلیغ اسلام کی راہیں قانوناً بند کردی گئیں اور مسلم مشن پر پولیس کی خفیہ نگرانی اور بھی سخت
    ہوگئی تھی جس نے عوامی زہن پر ایک ہیبت سی طاری کردی تاہم خدا کا یہ فضل خاص ہوا کہ ملک کے چھوٹے اور بڑے` نچلے اور اونچے حلقوں کی اسلام سے دلچسپی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ لوگوں کے اس ملے جلے قلبی رجحان کی ایک ابتدائی جھلک مبلغ اسلام کی ایک ماہانہ رپورٹ )بابت ماہ احسان / جون ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۶ء کے مندرجہ ذیل چند فقروں سے خوب نمایاں ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں۔
    >روزانہ دو یا چار وردی والے پولیس کے آدمی میرے پاس آجاتے ہیں۔ دو دفعہ خفیہ پولیس والوں نے بھی دخل اندازی کی۔ لوگ جب اسلام کے متعلق شوق اور دلچسپی کا اظہار کرتے اور کتب خریدتے تو خاکسار ان سے ان کا پتہ مانگتا تو ان میں سے بعض کی حالت قابل رحم ہوتی۔ پولیس کے ڈر سے ہاتھ کانپ رہے ہوتے تھے اور بعض تو جلدی سے بھاگ جانے کی کرتے۔<۹۱
    مرعوبیت اقتدار اور تلاش حق کی اس کشاکش میں احمدی مبلغ کی تبلیغی مساعی محدود پیمانہ پر خلافت ثانیہ کے اختتام تک نہایت باقاعدگی سے برابر جاری رہیں جن کا خلاصہ یہ ہے۔][اسلامی لٹریچر کی اشاعت-: سپین کے طول و عرض میں مندرجہ ذیل اسلامی لٹریچر کی اشاعت کی گئی۔ انگریزی ترجمہ قرآن مجید` ۲۔اسلام کا اقتصادی نظام` ۳۔لائف آف محمدﷺ`~ ۴۔کمیونزم اینڈ ڈیموکریسی` ۵۔کشتی نوح` ۶۔احمدیہ موومنٹ` ۷۔نظام نو` ۸۔مسیح کشمیر میں` ۹۔مسیح کہاں فوت ہوئے` ۱۰۔میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں` ۱۱۔اسلامی اصول کی فلاسفی` ۱۲۔رسالہ ریویو آف ریلیجنز
    اس سلسلہ میں جن لوگوں کو مشن کی طرف سے لٹریچر دیاگیا ان میں مندرجہ ذیل شخصیتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ سپین کے وائس پریذیڈنٹ` ان کے پرائیویٹ سیکرٹری اور ملٹری ڈاکٹر اور پانچ لیفٹیننٹ کرنل فوجی افسر` صدر امریکہ جانسن` سپین سول گورنر۹۲ سول گورنر آف DADAJOZ اور شہر ALMERIDA کے میئر جائنٹ سیکرٹری وزارت رفاہ عام` جائنٹ سیکرٹری انفارمیشن منسٹری` چیف آف پروٹوکل وزارت خارجہ` وائس پریذیڈنٹ وون AGUSTIN)۔(D انفارمیشن منسٹر MANUELFRAGA)۔(D پروفیسر ڈاکٹر DEGBOZ `LOPEZ پروفیسر JUANBENCYTS ۔D مشہور وکیل BRANO `JUAN وزیراعظم اطالیہ` وزیر خارجہ اٹلی` چلی کے قونصل SANPER) CARLOS۔D۔`(S عرب` اطالیہ اور پرتگال کے قونص خانوں کے سربر آوردہ اصحاب` میلگا (MALGA) شہر کے آرچ بشپ` یونیورسٹی کے لاء پروفیسر MARIN) PASCUAL۔`(D جوڈیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر `EGRU)وزیرتعلیم CEN ISIDROAR۔(D SALHMAHEH`(BURGOS) یونیورسٹی کے وائس چانسلر` جنرل ڈانکو کے جنرل سول سیکرٹری` جج سپریم کورٹ۔۹۳
    پرائیویٹ ملاقاتیں-: اس دور میں مبلغ اسلام نے بھاری تعداد میں اہل سپین سے ملاقاتیں کر کے ان تک پیغام حق پہنچانے کی کوشش کی۔ ملک کے نامور معززین میں سے صدر مملکت جنرل فرانکو` محکمہ امور عامہ کے چیف` وزارت خارجہ کے جنرل سیکرٹری` سول گورنر `BADAGAZ المیریڈا ALMERIDA کے میئر` سپین کے واحد سرکاری خبررساں ایجنسی کے ڈائریکٹر` ٹیلی گراف آفس کے آفیسر ڈائریکٹر جوڈیشنل انسٹی ٹیوٹ سے ملاقاتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔۹۴
    اس کے علاوہ نائب صدر مملکت سے مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے ۱۶ ماہ تبلیغ /فروری ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء کو ایک خصوصی ملاقات کی جس کی تفصیل انہیں کے الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔
    >۱۶ فروری سوا ایک بجے ہزایکسی لینسی نے ملاقات کے لئے وقت دیا اور مجھے اپنے دفتر میں بلالیا۔ خاکسار نے ان کی خدمت میں قرآن کریم )انگریزی( کا تحفہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقدس اور مکمل کلام ہے جو اس کے پیارے نبی سیدنا حضرت محمد رسول اللہ~صل۱~ پر نازل ہوا اور قرآن کریم اصلی تورات اور انجیل کی سچائی کو تسلیم کرتا ہے۔ بائیبل کے بیان کردہ تمام انبیاء کو خدا تعالیٰ کے سچے مبعوث کردہ رسول مانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قرآن کی سچائی پر آپ ایمان لائیں تا آسمانی برکات سے آپ اور آپ کی قوم بھی حصہ لے۔
    میں نے ایڈریس میں مزید لکھا کہ قادیان کی ایک چھوٹی سی گمنام بستی میں سیدنا حضرت احمد علیہ الصلٰوۃ والسلام مبعوث ہوئے ہیں جن کے مقدس وجود میں مسیح موعود کی آمد ثانی کی پیشگوئی پوری ہوگئی ہے۔ آپﷺ~ کی آمد کے ساتھ ایک نئے روحانی دور کا آغاز اور مردہ پرستی اور ضلالت و گمراہی کے دور کا خاتمہ ہوتا ہے۔
    وائس پریذیڈنٹ صاحب نے نہایت شوق اور غور سے ہماری باتوں کو سنا` ان کی خدمت میں` لائف آف محمد` احمدیہ موومنٹ` کشتی نوح` اور اسلام کا اقتصادی نظام` کا ہسپانوی ترجمہ بھی پیش کیا۔ دروازہ تک الوداع کہتے آئے اور اسلامی طریق پر السلام علیکم کہا۔
    ان کے پرائیویٹ سیکرٹری` ان کے ملٹری ڈاکٹر اور پانچ لیفٹیننٹ کرنل` فوجی افسروں کو بھی تبلیغ کا موقعہ ملا اور >اسلامی اصول کی فلاسفی< )ہسپانوی ترجمہ( مطالعہ کے لئے بطور تحفہ پیش کیں۔ اہم مذہبی اور علمی شخصیتوں کو >اسلامی اصول کی فلاسفی< بطور تحفہ بھجوائی گئی۔۹۵
    علاوہ ازیں مبلغ اسلام کو اس عرصہ میں ریاست اینڈورا (ANDORA) جرمنی` ہالینڈ` برطانیہ` جنوبی امریکہ` کولمبیا` پرتگال اور منیزولا کے بعض باشندوں کو تبلیغ کرنے اور مندرجہ ذیل ممالک کے سفیروں یا نمائندوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے متعارف کرانے کا موقع ملا-:
    چلی` برطانیہ` یونان` شام` مراکش` الجیریا` ٹیونس` مصر` عراق` لبنان` سعودی عرب` لیبیا` امریکہ` ٹرکی` انڈیا` جرمنی` ارجنٹائن۔
    تقاریب واجتماعات میں شرکت
    مختلف تقاریب واجتماعات تبلیغ کا موثر ذریعہ بنتے ہیں۔ مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے سپین میں ہمیشہ اس ذریعہ سے ہر ممکن فائدہ اٹھایا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس زمانہ میں بھی جبکہ تبلیغ اسلام پر سرکاری پابندی عائد تھی ملک کی صنعتی ۹۶ نمائش` ویجی ٹیرین سوسائٹی کے سینٹر`۹۷ سپین یونیورسٹی` ۹۸ اخوان کیتھولک تنظیم ۹۹ اور پاکستان نیشنل ڈے۱۰۰ کے اجتماعات میں شرکت کرکے تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کیا۔
    سفر
    مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے اس دور میں بعض تبلیغی سفر بھی کئے۔ مثلاً گرینگا (GRANGA) میڈرڈ کے نواح میں ایک گائوں ہے جہاں آپ ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء میں تین ہفتہ تک چرچ کی شدید مخالفت کے باوجود اشاعت اسلام میں مصروف رہے۔۱۰۱
    تبلیغ بذریعہ خطوط
    اس عرصہ میں تبلیغی خط و کتابت کا سلسلہ بھی باقاعدہ جاری رہا۔ خصوصاً بارسیلونہ کے باشندوں سے۔۱۰۲
    چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب اور صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی سپین میں تشریف آوری`
    اس دور کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس میں سلسلہ احمدیہ کی دو مقتدر شخصیتوں یعنی چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب )صدر عالمی اسمبلی( اور صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب
    )وکیل الاعلیٰ والتبشیر تحریک جدید( نے احمدیہ مسلم مشن سپین میں مختصر قیام فرمایا۔
    چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب روم میں O۔A۔F کے اجلاس کی صدارت کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔ میڈرڈ ہوائی مستقر پر چوہدری کرم الٰہی صاحب ظفر` اسلامی ممالک کے اکثر سفراء اور وزارت خارجہ سپین کے ڈائریکٹر جنرل DENERNA) MARQUES (SIR نے اسقتبال کیا۔ چوہدری صاحب ایک گھنٹہ کے لئے احمدیہ مشن ہائوس میں تشریف لے گئے۔ ہسپانوی نو مسلم آپ کی ملاقات سے بے حد خوش ہوئے۔ اس موقعہ پر میڈرڈ کے پریس` ریڈیو اور ٹیلیویژن پر بھی احمدیہ مشن کا ذکر آیا۔۱۰۳
    صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب جو ان دنوں مغربی افریقہ کے مشنوں کا دورہ کررہے تھے واپسی پر ایک روز کے لئے سید مسعود احمد صاحب مبلغ انچارج سیکنڈے نیویا کی معیت میں ۲۳۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء کو میڈرڈ پہنچے۔ آپ کی تشریف آوری بھی ہسپانوی احمدیوں کے لئے غیر معمولی مسرت کا موجب ہوئی۔ احمدیوں کے علاوہ ایک ہسپانوی کرنل (AFADE) اور ایک ہسپانوی مصنف (ALARCON) کو بھی آپ سے ملاقات کا موقعہ ملا۔۱۰۴
    صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب قبل ازیں بھی ایک بار سپین میں تشریف لے گئے تھے۔ اس دورہ میں بشیراحمد صاحب رفیق امام مسجد لنڈن ان کے ہمراہ تھے۔۱۰۵
    سپین مشن کی نشاۃ ثانیہ خلافت ثالثہ میں
    خلافت ثالثہ کے عہد مبارک سے سپین مشن ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جبکہ نہ صرف اس کی تبلیغی سرگرمیوں کی وسعت پذیری اور رفتار ترقی دونوں میں بہت اضافہ ہوا اور ہورہا ہے بلکہ اب اس کا طریق کار اور پروگرام پہلے سے زیادہ معین` واضح اور نمایاں صورت اختیار کرچکا ہے۔
    اسلام لٹریچر کی وسیع پیمانہ پر ترسیل اور اس کے اثرات
    خلافت ثالثہ کے ابتدائی چار پانچ سال میں اس مشن کی طرف سے سب سے زیادہ توجہ اس امر کی طرف دی گئی کہ ملک کے مشہور اداروں اور نامور شخصیتوں تک اسلامی لٹریچر بکثرت پہنچا دیا جائے۔۱۰۶ اس لٹریچر میں سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا >پیغام امن اور حرف انتباہ< خاص طور پر شامل تھا۔ چنانچہ اس عرصہ میں جن ممتاز اور مشہور لوگوں کو اسلامی لٹریچر دیاگیا ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔
    ۱۔
    ہزایکسی لینسیSHICK) RENE ۔(SR پریذیڈنٹ نکرابوآ (NICRABUA) وسطی امریکہ۔
    ۲۔
    ملٹری ایٹچی صاحب PROTOCOL) OF FEIHC( افسر رابطہ نکرابوآ۔
    ۳۔
    ہزلیجسٹی JUANDEBOSTION) ۔(D جلاوطن بادشاہ سپین مقیم پرتگال۔
    ۴۔
    سپین کے مشہور ڈاکٹر JIMENEZ CARLOS۔D وزیر اقتصادیات سپین۔
    ۵۔
    ہزایکسی لینسی VILLABLE PEDROCUAL ۔D وزیراعظم پرتگال۔
    ۶۔
    ‏SALAZAR OLIVIERA MIS ANTO۔D پریذیڈنٹ رائل اکیڈیمی فزیکل سائنس۔
    ۷۔
    سیکرٹری پرسن ایسوسی ایشن۔۱۰۷]4 [rtf
    ۸۔
    سابق وزیرخارجہ سپین ARTAJO MARTIN ALBERTO۔D ۱۰۸
    ۹۔
    ‏ BENEYTO JUAN۔D پریذیڈنٹ کونسل آف پریس سپین۔
    ۱۰۔
    ‏ SHDIDOVAL FELIPEXIMENEX۔D
    ۱۱۔
    لیفٹیننٹ جنرل CASALOJA DE CON SR
    ۱۲۔
    لیبر یونین کے وزیر RAMAL GAREIS EMIGNE۔D
    ۱۳۔
    ہزایکسی لینسی جنرل فرانکو صدر مملکت سپین مع وزراء کونسل BAHAMONDE FRANCO FRANCISCO۔D SR, E,۔S
    ۱۴۔
    پریذیڈنٹ فرانس ہزایکسی لینسی موسیوجارج پومپیڈو POMPIDO) (GEORGE۱۰۹
    ان شخصیتوں نے اسلامی لٹریچر کے مہیا کئے جانے پر نہ صرف شکریہ ادا کیا بلکہ اس کا دلچسپی سے مطالعہ کرکے نہایت عمدہ تاثرات کا اظہار کیا۔ مثلاً لیبر یونین کے وزیر RAMAL) GAREIS EMIGNE ۔(D نے >اسلامی اصول کی فلاسفی< >کمیونزم اینڈ ڈیموکریسی< >اسلام کا اقتصادی نظام< >پیغام امن اور ایک حرف انتباہ< کی نسبت لکھا-:
    >میں خط کا جواب دیر سے دے رہا ہوں۔ کیونکہ نیا چارج لینے کی وجہ سے بے حد مصروفیت رہی ہے۔ لیکن یہ کتب پڑھنے کا بے حد اشتیاق تھا۔ کچھ دن ہوئے میں نے کتب پڑھ لی ہیں۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ کتب علوم روحانی کا خزانہ ہیں اور انتہائی دلچسپ ہیں۔ آپ کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔۱۱۰
    سربراہ مملکت سپین کے نام تبلیغی مکتوب
    مبلغ اسلام مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے ماہ فتح/دسمبر ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء میں مملکت سپین کے سربراہ ہزایکسی لینسی جنرل فرانکو کی خدمت میں ایک اہم تبلیغی مکتوب لکھا جس میں اسلام اور احمدیت کے اہم بنیادی عقائد کا خلاصہ بیان کیا۔ اور آخر میں انہیں آنحضرت~صل۱~ کے فرزند جلیل مہدی معہود علیہ السلام پر ایمان لانے کی دعوت دی۔
    صدر مملکت جنرل فرانکو نے اس مکتوب کے موصول ہونے پر ۲۴۔ دسمبر ۱۹۶۹ء کو شکریہ کا خط لکھا۔
    حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا مبارک سفر سپین
    ۲۵۔ ماہ ہجرت/مئی ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء کا دن سپین کی پوری تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ اس روز آنحضرت~صل۱~
    کے فرزند جلیل سیدنا احمد المسیح الموعود کا تیسرا خلیفہ راشد مغربی افریقہ کے نہایت درجہ کامیاب اور بے شمار برکتوں سے معمورر دورہ سے واپسی پر لنڈن سے بذریعہ ہوائی جہاز سپین کے دارلحکومت میڈرڈ )ماترید( میں رونق افروز ہوا۔ ۱۱۱
    اس مبارک سفر میں حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ مدظلہا العالی` صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید` چوہدری ظہوراحمد باجوہ`۱۱۲ پروفیسر چوہدری محمدعلی صاحب ایم۔ اے`۱۱۳ بشیراحمد خاں صاحب رفیق۱۱۴ اور محمد سلیم صاحب ناصر کو بھی حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی بابرکت رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔۱۱۵
    جناب بشیراحمد صاحب رفیق کا بیان ہے کہ-:
    >ہوائی جہاز میں یہ سفر قریباً دو گھنٹے میں طے ہوا۔ جوں جوں میڈرڈ قریب آتاگیا حضور کی طبیعت میں ایک اضطراب کی سی کیفیت نظرآنے لگی۔ میڈرڈ کا ہوائی اڈہ نظروں کے سامنے آیا تو حضور نے پیچھے مڑکر فرمایا-:
    >مجھے تو طارق کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں کیا تم کو بھی سنائی دے رہی ہیں۔<۱۱۶
    حضور نے اس سرزمین کو )جس کا ذرہ ذرہ مسلمانوں کی شوکت رفتہ اور عظمت پارینہ کا وائمی نشان اور ان کی عبرت ناک شکست اور الم انگیز پسپائی پر خون کے آنسولارہا ہے( قریباً ایک ہفتہ تک اپنے مبارک قدموں سے برکت بخشی۔
    حضور کے اس مبارک سفر سپین کی تفصیلات تو خلافت ثالثہ کے عہدمبارک کی تاریخ میں بیان ہوں گی یہاں ہمیں مختصراً صرف اس قدر بتانا ہے کہ حضور انور پہلے دو روز میڈرڈ )ماترید( میں قیام فرمارہے بعدازاں دوسرے تاریخی مقامات قرطبہ` غرناطہ اور طلیطلہ کی طرف تشریف لے گئے۔
    قرطبہ میں ورودمسعود
    چنانچہ حضور مع قافلہ ۲۷۔ ہجرت / مئی کی صبح کو میڈرڈ سے روانہ ہوکر شام کے وقت قرطبہ پہنچے۔۱۱۷ حضور کا قیام میلیا (MELIA) ہوٹل میں تھا۔ مختصر وقفہ کے بعد حضور شام کو مسجد قرطبہ میں تشریف لے گئے۔ اس موقع پر حضور کے پر انوار اور خدانما چہرہ کی زبردست مقناطیسی اور روحانی کشش کے بعض عجیب اثرات دیکھنے میں آئے۔ ایک تو یہ کہ جب حضور پہنچے تو قرطبہ کالج کے ایک پروفیسر پہلے ہی موجود تھے جو حضور کے رخ مبارک سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ازخود مسجد دکھانے کے لئے اپنی خدمات پیش کردیں۔ دوسرے یہ کہ محراب کے گرد لوہے کا جنگلہ لگاہوا تھا اور کسی کو محراب کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی مگر مسجد کے عیسائی محافظ نے بغیر کسی درخوات کے بلاتاتل حضور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ حضور جنگلہ کے اندر محراب میں تشریف لے چلیں اور ساتھ ہی آہنی جنگے کا دروازہ بھی کھول دیا۔ محراب میں داخلے کا نظارہ نہایت دردناک تھا۔ حضور تو مجسم دعا بنے ہی ہوئے تھے قافلہ کے باقی تمام افراد پر بھی رقت طاری تھی۔ حضور نے محراب میں کھڑے ہوکر نہایت الحاح وزاری سے دعا کی۔
    غرناطہ میں آمد
    حضور نے قرطبہ میں دعائوں سے معمور ایک شب گزارنے کے بعد اگلے روز علی الصبح مسجد قرطبہ اور قرطبہ کے مشہور محل >القصر< کو دوبارہ ملاخطہ فرمایا اور پھر غرناطہ۱۱۸ روانہ ہوئے اور شام کو غرناطہ پہنچے۔ حضور کا قیام قصر >الحمراء< کے ایک حصہ )یعنی غرناطہ پیلس ہوٹل( میں تھا۔ اگلے روز حضور نے الحمراء کا پرشکوہ محل دیکھا۔۱۱۹
    شوکت اسلام کیلئے حضور کی پرسوز دعائیں اور ان کی قبولیت پرآسمان بشارت
    حضور انور نے لندن سے سپین کے لئے روانگی کے وقت سے ہی اپنے پیارے رب کے حضور پرسوز دعائوں کا جو خاص سلسلہ شروع کر
    رکھا تھا وہ غرناطہ میں نقطہ عروج تک پہنچ گیا۔ اور غرناطہ ہی میں رب جلیل نے اپنے پاک الہام سے ان کی قبولیت کی بھاری بشارت عطا فرمائی۔ اس ایمان افروز واقعہ کی تفصیل امیرالمومنین سیدنا حضرت فاتح الدین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔ فرمایا-:
    >میں بہت پریشان تھا۔ سات سوسال تک وہاں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔ اس وقت کے بعض غلط کارعلماء کی سازشوں کے نتیجہ میں وہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی۔ وہاں کوئی مسلمان نہیں رہا۔ ہم نے نئے سرے سے تبلیغ شروع کی چنانچہ اس ملک کے چند باشندے احمد مسلمان ہوئے۔ وہاں جاکر شدید ذہنی تکلیف ہوئی۔ غرناطہ جو بڑے لمبے عرصہ تک دارالخلافہ رہا` جہاں کئی لائبریریاں تھیں` یونیورسٹی تھی` جس میں بڑے بڑے پادری اور بشپ مسلمان استادوں کی شاگردی اختیار کرتے تھے مسلمان وہاں سے مٹا دیئے گئے۔ غرض اسلام کی ساری شان و شوکت مادی بھی اور روحانی بھی اور خلاقی بھی مٹادی گئی ہے۔ طبیعت میں اس قدر پریشانی تھی کہ آپ اندازہ نہیں کرسکتے۔ غرناطہ جاتے وقت میرے دل میں آیاکہ ایک وقت وہ تھا کہ یہاں کے درودیوارے درود کی آوازیں اٹھتی تھیں آج یہ لوگ گالیاں دے رہے ہیں۔ طبیعت میں بڑا تکدر پیدا ہوا۔ چنانچہ میں نے ادارہ کیا کہ جس حد تک کثرت سے درود پڑھ سکوں گا پڑھوں گا تاکہ کچھ تو کفارہ ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت نے مجھے بتائے بغیر میری زبان کے الفاظ بدل دیئے۔ گھنٹے دو گھنٹے کے بعد اچانک جب میں نے اپنے الفاظ پر غور کیا تو میں اس وقت درود نہیں پڑھ رہا تھا بلکہ اس کی جگہ لاالہ الا انت اور لا الہ الا ھو پڑھ رہا تھا۔ یعنی توحید کے کلمات میری زبان سے نکل رہے تھے۔ تب میں نے سوچا کہ اصل تو توحید ہی ہے۔ حضرت نبی اکرم~صل۱~ کی بعثت بھی قیام توحید کے لئے تھی۔ میں نے فیصلہ تو درست کیا تھا یعنی یہ کہ مجھے کثرت سے دعائیں کرنی چاہئیں لیکن الفاظ خود منتخب کرلئے تھے درود سے یہ کلمہ کہ اللہ ایک ہے زیادہ مقدم ہے۔ چنانچہ میں بڑا خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی میری زبان کے رخ کو بدل دیا۔
    ہم غرناطہ میں دو راتیں رہے۔ دوسری رات تو میری یہ حالت تھی کہ دس منٹ تک میری آنکھ لگ جاتی پھر کھل جاتی اور میں دعا میں مشغول ہوجاتا۔ ساری رات میں سو نہیں سکا۔ ساری رات اسی سوچ میں گزرگئی کہ ہمارے پاس مال نہیں یہ بڑی طاقتور قومیں ہیں۔ مادی لحاظ سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔ ہمارے پاس ذرائع نہیں ہیں` وسائل نہیں ہیں` ہم انہیں کس طرح مسلمان کریں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا جو یہ مقصد ہے کہ تمام اقوام عالم حلقہ بگوش اسلام ہوکر حضرت محمد رسول اللہ~صل۱~ کی خادم بن جائیں گی۔ یہ بھی اقوام عالم میں سے ہیں یہ کس طرح اسلام لائیں گی اور یہ کیسے ہوگا؟ غرض اس قسم کی دعائیں ذہن میں آتی تھیں اور ساری رات میرا یہی حال رہا۔ چند منٹ کے لئے سوتا تھا پھر جاگتا تھا۔ پھر چند منٹ کے لئے سوتا تھا۔ ایک کرب کی حالت میں میں نے رات گزاری۔ وہاں دن بڑی جلدی چڑھ جاتا ہے۔ میرے خیال میں تین یا ساڑھے تین بجے کا وقت ہوگا میں صبح کی نماز پڑھ کر لیٹا تو یکدم میرے پر غنودگی کی کیفیت طاری ہوئی اور قرآن کریم کی یہ آیت میری زبان پر جاری ہوگئی-:
    ومن یتوکل علی اللہ فھوحسبہ ان اللہ بالغ امرہ قد جعل اللہ لکل شئی قدرا )الطلاق آیت ۴(
    اس بات کا بھی جواب آگیا کہ ذرائع نہیں کام کیسے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اللہ پر توکل رکھو اور جو شخص اللہ پر توکل رکھتا اسے دوسرے ذرائع کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی وہ اس کے لئے کافی ہے۔ ان اللہ بالغ امرہ۔
    اللہ تعالیٰ جو اپنا مقصد بناتا ہے اسے ضرور پورا کرکے چھوڑتا ہے اس لئے تمہیں یہ خیال نہیں آنا چاہئے یہ خوف نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ یہ نہیں ہوسکتا یہ ہوگا اور ضرور ہوگا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بعثت کی غرض ہی یہ ہے کہ تمام اقوام عالم کی وحدت اسلامی کے اندر جکڑدیا جائے اور حضرت نبی کریم~صل۱~ کے پائوں میں لاکر کھڑا کردیا جائے۔
    دوسرا یہ خیال تھا اور اس کے لئے میں دعا بھی کرتا تھا کہ خدایا یہ ہوگا کب؟ اس کا جواب بھی مجھے مل گیا۔
    قد جعل اللہ لکل شئی قدرا
    اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور تخمینہ مقرر کیا ہوا ہے جس وقت وہ وقت آئے گا ہوجائے گا تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ مادی ذرائع اگر نہیں ہیں تو تم فکر نہ کرو اللہ کافی ہے وہ ہوکر رہے گا۔ چنانچہ میرے دل میں بڑی تسلی پیدا ہوگئی۔<۱۲۰
    غرناطہ سے طلیطلہ تک
    حضور انور غرناطہ میں دو روزہ قیام کے بعد طلیطلہ ۱۲۱ تشریف لے گئے طلیطلہ میں اب تک چار قدیم مساجد باقی ہیں جو سپینن کے نیشنل ٹرسٹ کی تحویل میں ہیں۔ ان مساجد میں وہ چھوٹی سی مسجد بھی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہاں طارق بن زیاد نے اس سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد سب سے پہلی نماز پڑھی تھی۔ حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے طلیطلہ کی اس تاریخی مسجد میں دعا کی۔ حضرت اقدس جب دعا کے بعد مسجد کے قریبی دروازہ سے گزرکر باہر تشریف لائے تو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے بتایا کہ یہ وہ دروازہ ہے جو مسلمانوں کے دور حکومت کے خلیفہ کے لئے مخصوص تھا۔۱۲۲
    دورہ طلیطلہ کی ایک بھاری خصوصیت یہ بھی ہے کہ حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہاں سپین میں اسلام اور مسلمانوں کو گم گشتہ عظمت و شوکت کی بازیابی کے لئے ایک خاص سکیم بھی تجویز فرمائی جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب بھی سپین میں تشریف لے جاچکے ہیں۔
    حضور انور نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲۔ احسان/جون ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء میں اس خاص سکیم کی طرف اشارہ کرتے اور اس کے لئے خصوصی دعا کی تحریک کرتے ہوئے ارشاد فرمایا-:
    >سپین کے متعلق میں ایک اور کوشش کررہا ہوں جس کو ظاہر کرنا اس وقت مناسب نہیں لیکن جس کے لئے دعا کرنا آج ہی ضروری ہے۔ اس لئے بڑی کثرت سے یہ دعا کریں کہ جس مقصد کے لئے میں سپین گیا تھا اور جس کے پورا ہونے کے بظاہر آثار پیدا ہوگئے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے ہمارا کام کردے کیونکہ ہم کمزور اور عاجز بندے ہیں۔ پھر وہ دن ساری امت مسلمہ کے لئے بڑی خوشی کا دن ہوگا۔ بعض اس کو پہچانیں گے اور خوش ہوں گے بعض پہچانیں گے یہ ان کی بدقسمتی ہوگی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ دن ساری امت مسلمہ کے لئے خوشی کا دن ہوگا۔<۱۲۳
    مراجعت
    حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ تعالٰی طلیطلہ کی یادگار مسجدوں کو دیکھنے اور دعا کرنے کے بعد شام کو واپس میڈرڈ پہنچے اور اپنی نیم شبی دعائوں اور اشکبار اور پرنم آنکھوں سے آسمان پر مسلم سپین کی ایک بنیادی اینٹ رکھنے کے بعد یکم ماہ احسان/جون ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء کو میڈرڈ سے بذریعہ ہوائی جہاز لنڈن تشریف لے گئے اور یہ مبارک سفر بخیرو خوبی اختتام پذیر ہوا۔
    حضرت امیرالمومنین کے انٹرویو کی اشاعت میڈرڈ کے مشہور اخبار میں
    اگرچہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا دورہ سپین نہایت مختصر تھا تاہم ہسپانوی پریس میں حضورانور کی آمد کا خوب چرچا
    ہوا۔ چنانچہ میڈرڈ کے ایک کثیرالاشاعت اخبار پوایبلو (PUEBLO) نے اپنی ۲۔ جون ۱۹۷۰ء کی اشاعت میں حضور کا ایک مفصل انٹرویو شائع کیا جس کا ترجمہ درج ذیل کیاجاتا ہے۔
    اسلام کے ایک شہزادے کا میڈرڈ میں ورودمسعود
    >مجھے اپنی زندگی بھر میں ایک زندہ مجسمہ کے اتنا قریب ہونے کا موقعہ نہیں ملا جتنا آج حضرت امام جماعت احمدیہ سے مل کر نصیب ہوا۔ حضرت اقدس کا نورانی چہرہ دیکھ کر میں ورطئہ حیرت میں پڑگیا۔ میں جو میڈرڈ میں دینوی مشاغل اور لہوولعب میں مصروف زندگی دیکھنے کا عادی ہوں مجھے حضرت امام جماعت احمدیہ کے ساتھ جو دس ملین جماعت کے روحانی مقتدار ہیں ان سے بات کرنے کے لئے کافی ذہنی تیاری کی ضرورت پیش آئی۔ ہوٹل ہلٹن کے جس کمرے میں حضور تشریف رکھتے ہیں خوشبو سے معطر تھا۔ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی حضور اقدس کی دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی نظر نے مجھ پر اثر کیا میں اس کی کیفیت الفاظ میں بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
    جماعت احمدیہ جو دنیائے اسلام کا ایک جدید فرقہ اور زبردست منظم تبلیغی اور فعال جماعت ہے۔ ان کے افراد کی تعداد دس ملین ہے۔
    حضور اقدس کا نام حضرت مرزا ناصراحمد ہے۔ حضور اس جماعت کے امام ہیں جو اسلام میں ایک نیا فرقہ ہے اور زبردست منظم تبلیغی اور فعال جماعت ہے جو اس صدی میں ظاہر ہوئی۔ یہ دس ملین کی جماعت ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس جماعت کے متعلق مشہور ہے کہ عیسائیت کا یہی ایک جماعت )خصوصاً( افریقہ میں مقابلہ کررہی ہے۔
    میں اس پراثرشخصیت اور بزرگ مقدس ہستی ہے جن کی سفیدریش مبارک اور سفیدعمامہ میں تقدس کا نشان پایاجاتا ہے گفتگو کے نیاز حاصل کرتاہوں۔ میں اس حقیقت کا دلی طور پر اظہار کرتاہوں کہ حضور اقدس کا وجود حقانیت کا زندہ ثبوت ہے۔
    ہم سب برابر ہیں
    جماعت احمدیہ اور باقی مسلمانوں میں بنیادی عقائد کا کوئی فرق )نہیں( ان کے لئے قرآن کریم کامل کتاب اور اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے جس سے عقائد صحیحہ` اعلیٰ کامل اصول اور احکامات کا روحانی چشمہ بہتا ہے جس کی تعلیم سب مسلمانوں پر فرض ہے۔ اسلام کی تعلیم غیر متبدل ہے۔ خدا تعالیٰ کو واحد مانتے ہیں۔ ہم عیسائیوں کے تثلیث کے عقیدہ کو نہیں مانتے اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان براہ راست تعلق قائم کرتا ہے۔ اسلام میں خدا تعالیٰ کو اللہ کہتے ہیں۔ حضرت امام جماعت احمدیہ کے خیالات اور افکار میں انسانیت کے لئے گہری ہمدردی اور محبت کے جذبہ کا نمایاں اثر پایا جاتا ہے۔ بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی اور سچی محبت اس امر میں اسلام اور عیسائیت کی تعلیم )میں( کوئی فرق نہیں۔
    اسلام کا پیغام محبت کا پیغام ہے
    فرمایا۔ ہم نے اپنے مبلغوں کے ذریعہ اس محبت کا پیغام اہل افریقہ تک پہنچایا۔ ہم نے کئی لاکھ دلوں کو فتح کرلیا ہے۔
    سوال-: دنیا میں بدامنی` قتل و غارت کا جو فساد برپا ہے اس کا کیا علاج ہے؟
    جواب-: دنیا میں انشاء اللہ امن وسلامتی کا نظام قائم ہوکررہے گا۔ دنیا کی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہیں کہ سچی محبت کا پیغام ناکام ہوا ہو محبت کا پیغام ہمیشہ ہی کامیاب ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان انسان سے محبت کرنا سیکھے اور حقیقی ہمدردی سے پیش آئے۔
    سوال-: آپ کے نزدیک امن و انصاف کی کیا تعریف ہے؟
    جوابiq]-: gat[ امن و امان اور ظلم و تعدی دو متضاد چیزیں ہیں۔ دنیا میں کئی لوگ امن قائم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عملی طور پر وہ ظلم اور بے انصافی سے کام لیتے ہیں اور اس امر کا عملی ثبوت بہم پہنچاتے ہیں کہ وہ دل سے حقیقی طور پر دنیا میں امن قائم کرنا نہیں چاہتے۔ جب میں امن و سلامتی کے الفاظ استعمال کرتا ہوں تو دل سے حقیقی طور پر امن و سلامتی کا خواہش مند ہوں۔
    افریقہ کے باشندے ہمارے متعلق سچی گواہی دے سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں سچے دل سے امن و سلامتی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ پچاس سال کے عرصہ میں جب سے ہم نے وہاں مشن کھولے ہیں ہم وہاں سے ایک پائی تک بھی نہیں لائے۔ ہم نے ہزاروں پونڈ اہل افریقہ کی بہتری اور بھلائی کے لئے خرچ کئے ہیں۔ افریقہ کے احمدی احباب کا غیر ازجماعت احباب پر نہایت ہی اچھا اثر پڑا ہے۔ وہ محض ان کے نیک نمونہ کی وجہ سے ہے۔
    آخری سالوں میں جماعت احمدیہ نے ڈنمارک` سوئٹزرلینڈ` جرمنی` ہالینڈ وغیرہ میں اپنی مسجدیں بنائی ہیں۔ میڈرڈ میں بھی ایک چھوٹی سی جماعت موجود ہے۔ ان کا اپنا مشن کھلا ہوا ہے۔ یہ آخری گفتگو ہے جو حضرت امام جماعت احمدیہ سے کرسکا۔ مجھے بتایا گیا کہ پاکستانی سفیر نے بلایا ہے۔ اسی طرح آپ ساتھ والے کمرے میں داخل ہوگئے اور خوشبو کی دلربا مہک اور اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔<۱۲۴
    احمدیہ مسلم مشن سپین رجسٹرڈ ہوگیا
    خلافت ثالثہ کے مبارک دور کی ایک برکت یہ بھی ہے کہ ۱۳۳۹ہش/۱۹۷۰ء سے حکومت سپین نے >احمدیہ مسلم مشن سپین< کو باقاعدہ رجسٹرڈ کرلیا ہے جس کے بعد اب پولیس کی طرف سے کڑی نگرانی اور بے وجہ تنگ کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے اور تبلیغ اسلام پر بھی اب قانوناً کوئی پابندی نافذ نہیں ہے۔ فالحمدللہ علی ذالک۔۱۲۵
    دارالتبلیغ سپین کی شاندار خدمات پر ایک طائرانہ نظر
    احمدیہ مشن نے اس وقت تک اسلام کی جو شاندار خدمات انجام دیں ان سے اس ملک میں اسلام کا مستقبل صاف طور پر روشن نظر آنے لگا ہے جس کا بھاری ثبوت یہ ہے کہ چرچ کی اسلام کے خلاف جاری شدہ نفرت کی ظالمانہ مہم آہستہ آہستہ بے اثر ہوتی جارہی ہے اور قلوب واذہان میں آنحضرت~صل۱~ اور قرآن مجید اور مسلمانوں سے نفرت و حقارت کے خیالات و جذبات میں بتدریج نمایاں کمی واقع ہورہی ہے اور ان کی جگہ روا داری اور محبت نے لینی شروع کردی ہے۔
    ایک زمانہ وہ تھا جبکہ سپین کا ملکی پریس اسلام اور مسلمانوں کو نظر انداز کردیتا تھا مگر اب پریس کا رجعت پسندانہ انداز فکر و طرز عمل بھی بدل رہا ہے۔ اس خوشگوار تغیر و تبدل کا ایک نمونہ بارسیلونہ کے ہفتہ وار رسالہ REVISTA کا وہ مفصل مضمون بھی ہے جو اس نے اپنی ۱۹ تا ۲۵۔ جولائی ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں شائع کیا۔۱۲۶
    یہ مضمون چونکہ اسلام سے متعلق سپین کے موجودہ بدلتے ہوئے رجحانات کی ایک واضح تصور پیش کرتا ہے اس لئے اس کے ایک حصہ کا ترجمہ دیا جانا ضروری ہے۔ اخبار مذکور نے >کرم الٰہی ظفر مبلغ اسلام< کے جلی عنوان سے لکھا-:
    >احمدیت کے بنیادی اصول سمجھنے مشکل نہیں ہیں ہاں ہمارے لئے ان کا قبول کرنا مشکل ہے کیونکہ یورپ کو زیادہ ترقی یافتہ سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ سب اقتدار ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہمار مقصد صاف ہے جیسا کہ گزشتہ وقتوں میں دہرایا جاچکا ہے۔ کیا مشرقی ہی ہمیں اخلاق حسنہ سکھائے؟ ہوسکتا ہے مشرق ہی ہمیں آکر اخلاق حسنہ سکھائے جبکہ TOYNBEE کہتا ہے کہ آخر میں یہ دو متوازی تمدن اکٹھے ہوجائیں گے۔ BERTRAND RUSSELL کہتا ہے کہ یورپ اپنی مادہ پرستی کی وجہ سے اپنی تہذیب کا گلاگھونٹ رہاہے اس لئے خیال گزرتا ہے کہ شاید یہ سچ ہی ہو۔
    سچ تو یہ ہے کہ انتہائی ضلالت اور خوفناک مصائب کے اندر ایک نیا تہذیب و تمدن جنم لے رہا ہے ہمیں اس کو اس کی علامات سے پہچاننا چاہئے تاکہ انسان کا حقیقی وقار و عزت قائم ہو۔<
    ‏tav.11.4
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    افریقہ اور مشرق وسطی کے مسلمان سفیروں کو پیغام حق
    سپین مشن کی تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ سپین سے باہر افریقہ اور مشرق وسطی تک وسیع ہوچکا ہے۔ چنانچہ اس مشن کی طرف سے سفیر مصر )مصطفیٰ لطفیٰ( سفیرشام )نشاۃ الجسی( سفیرمراکو` نمائندہ لیبیا` نمائندہ الجزائر` نمائندہ موری طانیہ کو` >اسلامی اصول کی فلاسفی< )عربی( >اسلام کا اقتصادی نظام< )عربی(۔ >نحن مسلمون< )عربی(۔ >سفینہ نوح< >دعوت احمدیت و غرضہا< اور دیگر کتب اور پمفلٹ پیش کئے گئے۔ ان ممالک کے سفارتی عملہ کے باقی ممبروں کو بھی سلسلہ کا لٹریچر مطالعہ کے لئے دیاگیا اور >لما اعتقد الاسلام< کی وسیع تقسیم کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں انور سادات )صدر مصر(۔ بومحی الدین )صدر الجزائر(۔ حسن ثانی )والی مراکش(۔ حبیب بورقبیہ )صدر ٹیونس(۔ میجر جنرل جعفرنمیری )صدر سوڈان(۔ کرنل قزافی )صدرلیبیا(۔ جنرل حافظ الاسد )صدر شام( کو بھی >فلسفہ اصول الاسلامیہ<۔ >نظام الاقتصادفی الاسلام<۔ >سفینہ نوح<۔ >دعوۃ احمدیت و غرضہا< وغیرہ عربی لٹریچر بھجوایاگیا۔
    احمدیہ مشن کی کوششوں کا یہ بھی نتیجہ ہے کہ خدا کے فضل سے مراکو کے دو تعلیم یافتہ مسلمان محمدﷺ~ بن عیسیٰ CENTA) شمالی افریقہ مقبوضہ سپین( اور احمد عروشی )ربط( حلقہ بگوش احمدیت ہوچکے ہیں۔
    احمدیہ مشن کے ذریعہ حلقہ بگوش اسلام ہونیوالوں کے اسماء
    احمدیہ مشن کے ثمرات و نتائج کا اندازہ اس سے لگ سکتاہے کہ سرکاری پابندیوں اور کیتھولک چرچ کی پر زور مخالفت کے باوجود وسط احسان/جون ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء سپین کے مندرجہ ذیل )۲۹( انتیس افراد اسلام قبول کرچکے ہیں۔
    فہرست
    اسلامی نام
    ہسپانوی نام
    ۱۔ مکرم محمدﷺ~ احمد صاحب آف استھونیا
    ‏KUZMIN EURIQUE SR
    ۲۔ مکرم انوراحمد صاحب
    ‏BUENO MANNEL SR
    ۳۔ مکرم اجمل احمد صاحب
    ‏MIRANDA MIGUEL SR
    ۴۔ مکرم بشیراحمد صاحب )ڈاکٹر(
    ‏CARENO LUIS SR
    ۵۔ مکرم فلاح الدین صاحب
    ‏ARROYO JCLIPE JESUS SR
    ۶۔ مکرم مبارک احمد صاحب
    ‏CHICARANDA FERNANDO SR
    ۷۔ مکرم عطاء اللہ ناصر صاحب
    ‏LAGUNA IGLESIA ANTONIO SR
    ۸۔۹ مکرم سعیداحمدصاحب وسعیدہ صاحبہ
    ‏NARES COLME CARLOS SRS
    ۱۰۔ مکرم عبداللطیف صاحب
    ‏DEVAL LUIS SR
    ۱۱۔ مکرم بشیرالدین صاحب
    ‏CARBALLO VICENTE SR
    ‏]ni [tag۱۲۔ مکرم عبدالرحیم صاحب بارسلونہ
    ‏ABAD JOSE SR
    ۱۳۔ مکرم انیس عبدالباقی صاحب غرناطہ )وکیل(
    ‏ALBERDI SR
    ۱۴۔ مکرم منصوراحمد صاحب
    ‏GARZON MARIA JOSE SR
    ۱۵۔ مکرمہ نصیرہ صاحبہ )جرمنی میں فوت ہوگئیں(
    ‏CARMEN TA SR
    ۱۶۔ مکرم سیف الاسلام صاحب
    ‏PRELLEZO BUENO MANUEL SR
    ۱۷۔ مکرم عبدالسلام صاحب وناصرہ صاحبہ
    ‏(CEUTA) CASTILLOS FMILIO SRS
    ۱۸۔ مکرم ظفراللہ صاحب
    ‏POZO FRANCISCO SR
    ۱۹۔ مکرمہ امتہ اللہ صاحبہ )اہلیہ(
    ۲۰۔ مکرم عطاء المنان صاحب
    ‏GARCIA MORENO ANGEL SR
    ۲۱۔ مکرم بشارت الرحمن صاحب
    ‏DUCHEN FRANCISCO SR
    ۲۲۔ مکرمہ منصورہ عائشہ صاحبہ
    ‏RIO CARMENDEL SRTA
    ۲۳۔ مکرم محمدﷺ~ احمد صاحب
    ‏GARCTA XAVIERICARTI SR
    ۲۴۔ مکرم عبدالواحد محمود صاحب
    ‏CORDOBA DE EDUARDO SR
    ۲۵۔ مکرم عبدالاحد ناصر صاحب
    ‏UOJERRBA FERNEMDO SR
    ۲۶۔ مکرم منورہ احمد صاحب
    ‏ALVAREZ BRIZ VICENTE SR
    ۲۷۔ مکرم عبدالحی صاحب واہلیہ صاحبہ
    ‏SINDO RESTITUTO SR
    ۲۸۔ مکرم بشیراحمد صاحب
    ‏GOUZALEZ REQUENA JOSE SR
    ۲۹۔ مکرم نورالحق صاحب
    ‏SEQUI MIGUEL SR
    سپین کی نسبت حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی پرشوکت پیشگوئی
    سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے سپین کے مستقبل کی نسبت ایک نہایت پرشوکت پیشگوئی ماہ احسان/جون ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء کو فرمائی جس کو درج کرکے سپین مشن کے حالات وکوائف ختم کئے جاتے ہیں۔ حضور نے ارشاد فرمایا-:
    >ہم مسلمان سپین میں تلوار کے ذریعہ داخل ہوئے اور اس کا جو حشر ہوا وہ ظاہر ہے۔ اب ہم وہاں قرآن لے کر داخل ہوئے ہیں اور قرآن کی فتوحات کو کوئی طاقت زائل نہیں کرسکتی۔<۱۲۷
    فصل سوم
    صقلیہ )سسلی( میں اشاعت اسلام
    صقلیہ اٹلی کے نچلے حصہ میں ایک جزیزہ ہے جہاں یورپ میں سپین کے بعد دوسرے نمبر کی اسلامی حکومت قائم تھی اور جس کے ذریعہ مسلمانوں کی ہسپانوی سلطنت کے خاتمہ کے بعد بھی قریباً دو صدیوں تک پوری شان و شوکت سے اسلام کا جھنڈا لہراتا رہاتھا۔ صقلیہ کے اسلامی دور میں بکثرت اصحاب فضل وکمال پیدا ہوئے جو اپنے علم وفن میں ہسپانوی علماء کے ہم پلہ` نابغتہ الدہر اور یکتائے روزگار تھے اور یہ جزیزہ ہر قسم کی اسلامی یونیورسٹیوں کا مرکز تھا لیکن افسوس جو دردناک حشر ہسپانوی مسلمانوں کا ہوا وہی اس خطہ کے برگشتہ نصیب مسلمانوں کا ہوا۔ ۴۸۴ھ / ۹۲۔۱۰۹۱ء میں عیسائی بادشاہ راجر اول نے صقلیہ کے آخری مسلمان تاجدار ابن البعباع کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور مسلمان عیسائی حکومت کی رعایا قرار پائے۔ ۶۴۷ھ / ۵۰۔۱۲۴۹ء میں فریڈرک نے تمام صقلوی مسلمانوں کو اٹلی کے علاقہ )بوجارہ( نوسیرا میں جلاوطن کردیا مگر یہاں عیسائی بادشاہوں نے ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا اور یہ غریب اور نہتے مسلمان ناقابل برداشت تکالیف برداشت کرتے کرتے بالاخر جبراً عیسائی بنالئے گئے۔ ۷۰۰ھ / ۱۳۰۰ء میں یہ پورا علاقہ اسلام کے نام لیوائوں سے خالی ہوگیا۔<۱۲۸
    حضرت مصلح موعود کا عزم بالجزم
    حضرت مصلح موعود نے جب اندلس اور صقلیہ میں مسلمانوں کے رعب و دبدبہ اور پھر ان کے اخراج کی دردناک تاریخ پڑھی تو آپ نے مصمم ارادہ کیا کہ ان علاقوں میں ضرور احمدی مبلغین بھجوائیں گے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
    >اگر کوئی مسلمان مردہ دل ہو تو اور بات ہے ورنہ ایک غیرت رکھنے والے مسلمان کے دل پر ان حالات کا مطالعہ کرنے کے بعد جو زخم لگتے ہیں ان کے اندمال کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی سوائے اس کے کہ وہ اپنا خون دل پیتا رہے ۔۔۔۔ جب میں نے یہ حالات تاریخوں میں پڑھے تو میں نے عزم کیاتھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو میں ان علاقوں میں احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنے مبلغین بھجوائوں گا جو اسلام کو دوبارہ ان علاقوں میں غالب کریں اور اسلام کا جھنڈا دوبار اس ملک میں گاڑدیں۔<۱۲۹
    مبلغین اسلام کا سسلی میں ورود
    حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود کی اس دیرنیہ خواہش کی تکمیل کے لئے ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل اور مولوی محمد عثمان صاحب حضور کے حکم پر ۱۴۔ ماہ شہادت/اپریل ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء کو لنڈن سے اٹلی اور صقلیہ کے لئے روانہ ہوئے۔۱۳۰
    یہ پہلے مبلغین تھے جو جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد یورپ کی روحانی فتح کے لئے لنڈن سے بھجوائے گئے۔۱۳۱ ان مبلغین نے کچھ وقت فلارنس )اٹلی( میں پیغام حق پہنچایا بعدازاں مسینہ )سسلی( کو اپنا مرکز بناکر اشاعت اسلام کی مہم کا آغاز کردیا۔۱۳۲ جس کے نتیجہ میں یہاں ایک حرکت سی پیدا ہوگئی۔ چنانچہ نہ صرف یہ کہ اٹلی اور سسلی کے پریس۱۳۳ میں اسلام کا چرچا ہوا اور ان کے متعلق مضامین شائع کئے بلکہ بعض لوگوں نے قبول اسلام کی سعادت بھی پائی۔ مجاہدین اسلام کی تبلیغی سرگرمیاں ابھی بالکل ابتدائی حالت میں تھیں کہ سسلی کی کتھولک حکومت نے ان کو ملک میں مزید قیام کی اجازت دینے سے انکار کردیا جس پر پہلے مولوی محمد عثمان صاحب آخر ستمبر ۱۹۴۷ء میں مسینہ کو خیربار کہہ کے فلارنس )اٹلی( چلے آئے پھر ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل بھی ۲۱۔ نومبر ۱۹۴۷ء کو جنیوا پہنچ گئے جہاں ان کا قیام ۱۳۔ جنوری ۱۹۴۸ء تک رہا۱۳۴ جس کے بعد آپ حضور انور کے حکم سے فری ٹائون )سیرالیون( میں تشریف لے گئے۔ آپ کو سیرالیون میں گئے ہوئے۔ تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا کہ مولوی محمد عثمان صاحب بھی اعلائے حق کے لئے سیرالیون پہنچ گئے اور تبلیغ اسلام میں مصروف ہوگئے۔۱۳۵
    سیدنا المصلح الموعودؓ کی طرف سے اظہار خوشنودی
    اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ صقلیہ میں اگرچہ مبلغین اسلام کا قیام نہایت مختصر تھا مگر اس قلیل سے عرصہ میں خدا کے فضل وکرم سے اسلام کا بیج بو دیاگیا۔ حضرت سیدنا المصلح الموعود ان مبلغین کے سسلی میں پہنچنے پر کس درجہ مسرور محفوظ ہوئے۔ اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ جب حضور کی خدمت میں مبلغین اٹلی کی طرف سے یہ خوشکن اطلاع پہنچی کہ پہلے دو روز میں ہی خدا کے فضل و کرم سے دو نفوس۱۳۶ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ہیں تو حضور نے انہی دنوں مجلس علم و عرفان میں اس پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔
    >صقلیہ کے لوگ آج کل اپنی آزادی کے لئے کوشش کررہے ہیں۔ اس علاقے کے مسلمانوں کو جبراً عیسائی بنایاگیا تھا لیکن امتداد زمانہ کی وجہ سے وہ اب اپنے آبائی مذہب کو بالکل بدل گئے ہیں۔ صقلیہ میں رہنے والوں میں سے لاکھوں ایسے ہیں جو مخلص` دیندار اور پرہیزگار مسلمانوں کی اولادیں ہیں ان کے آبائواجداد اسلام کے فدائی اور بہت مثقی لوگ تھے لیکن یہ لوگ اسلام سے بالکل غافل ہیں اور عیسائیت کو ہی اپنا اصلی مذہب سمجھتے ہیں۔ میں نے اٹلی کے مبلغین کو لکھا کہ آپ اس علاقہ میں تبلیغ پر زور دیں` کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان کے آبائواجداد کی ارواح کی تڑپ اور ان کی نیکی ان کی اولادوں کو اسلام کی طرف لے آئے۱۳۷ پہلا خط ان کا جو مجھے پہنچا اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم اب روم سے آگئے ہیں اور صقلیہ کی طرف جارہے ہیں۔ پھر ان کا دوسرا۱۳۸ خط مجھے پہنچا کہ ہم مسینہ میں پہنچ گئے ہیں۔ لوگ ہمارے لباس کو دیکھ کر جوق در جوق ہمارے اردگرد جمع ہوجاتے ہیں۔ ہم ان کو یہ وعظ کرتے ہیں کہ تمہارے باپ دادا تو مسلمان تھے تمہیں کیاہوگیا کہ تم اسلام سے دور چلے گئے ہو۔ اب دوسرا مسیح آگیا ہے آئو اور اس کے ذریعہ حقیقی اسلام میں داخل ہوجائو۔ تیسرا خط ان کا مجھے آج ملا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں کے دو نوجوان احمدی ہوگئے ہیں۔ دونوں بہت جوشیلے احمدی ہیں۔ احمدیت کی تبلیغ کا بہت جوش رکھتے ہیں۔ ایک کا نام ہم نے محمود رکھا ہے اور دوسرے کا نام ہم نے بشیر رکھا ہے۔ ان کا خط بھی مجھے آیا ہے جس میں انہوں نے بیعت کا لکھا ہے۔ ہمارے لئے یہ حالات خوش کن ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ یہ دونوں ملک )سپین اور صقلیہ ناقل( ہمارے ذریعہ پھر اسلام کا گہوارہ بن جائیں۔< اس کے ساتھ ہی حضور نے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ-:
    >جہاں ہمارے مبلغین بیرونی ممالک میں تبلیغ کے لئے جارہے ہیں اور وہ ہماری طرف سے فریضہ تبلیغ ادا کررہے ہیں وہاں ہم پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان کی امداد صحیح طور پر کریں۔ اور ان کے اخراجات کو پورا کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔ ہمارے مبلغین کا تو بیرونی ممالک میں یہ حال ہے کہ ان میں سے ایک یعنے ماسٹر محمد ابراہیم صاحب نے جنگل میں جاکر درختوں کے پتے کھا کر پیٹ بھرا اور دوسرے بھی نہایت تنگی کے ساتھ گزارہ کرتے ہیں۔<۱۳۹
    علاوہ ازیں حضرت سیدنا المصلح الموعود نے ایک اہم مضمون بھی سپرد قلم فرمایا جس میں سسلی کے نومسلموں کے خطوط کا چربہ اور ترجمہ دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ۔
    >یہ اللہ تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ اس نے اسلام کی شوکت گزشتہ کو واپس لانے کے لئے ہماری جماعت کو قائم کیا ہے اور پھر ہمارے نوجوانوں میں اخلاص اور قربانی کی روح پیدا کی ہے اور آج ہم سپین اور سسلی دونوں جگہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوبارہ اسلام کا جھنڈا گاڑنے کی جدوجہد میں مشغول ہیں۔ الحمدللہ علے ذالک۔<۱۴۰
    گو صقلیہ مشن نامساعد حالات کی وجہ سے جلد بند کردینا پڑا مگر یورپ میں قیام توحید سے متعلق خدائی بشارتوں کی بناء پر ہمیں یقین ہے کہ جلدیا بدیر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے خدام ایک بار پھر اس علاقہ میں پہنچیں گے اور اس کے چپہ چپہ پر محمد رسول اللہ~صل۱~ کی حکومت قائم کرکے ہی دم لیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
    فصل چہارم
    سوئٹزر لینڈ مشن کا قیام
    سوئٹزرلینڈ وسطی یورپ کا مشہور ملک ہے جو عیسائیت کی عالمگیر تبلیغی مہم میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس ملک میں درجن کے لگ بھگ ایسی مشنری سوسائٹیاں ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں عیسائیت کا پرچار کررہی ہیں۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اس ملک کے اٹھارہ سو کیتھولک پادری دنیا میں صلیبی مذہب کی تبلیغ کررہے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ جرمنی` فرانس` اٹلی اور آسٹریا کی سرحدیں ملتی ہیں۔ اس ملک کا بہتر فیصد علاقہ جرمن زبان بولتا ہے اور بقیہ حصہ میں فرانسیسی اور اطالوی زبان رائج ہے۔ یہ ملک اگرچہ چھوٹا ملک ہے مگر چونکہ بین الاقوامی اعتبار سے اسے ایک خاص مرکزی حیثیت حاصل ہے اس لئے یہاں سے اٹھائی ہوئی آواز کا اثر ہمسایہ ممالک خصوصاً جرمنی پر بہت خوشگوار پڑتا ہے۔ وجہ یہ کہ سوئٹزرلینڈ کے اپنے پڑوسی ملکوں سے ہمیشہ گہرے اور عمدہ تعلقات رہے ہیں۔
    سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح المصلح الموعود کی دور رس نگاہ انتخاب نے ۱۳۲۵ھ/۱۹۴۶ء میں قلب یورپ کے اس اہم ملک کو بھی اشاعت اسلام کے لئے چنا اور اس میں مضبوط تبلیغی مرکز قائم کرنے کے لئے لنڈن سے شیخ ناصر احمد صاحب )چوہدری عبداللطیف صاحب۱۴۱ اور مولوی غلام احمد صاحب بشیر ۱۴۲ کے ہمراہ( سوئٹزرلینڈ بھجوا دیا تا نہ صرف اس ملک میں پیغام حق پہنچایا جائے بلکہ جرمنی سے آنے جانے والوں میں بھی تبلیغ کا رستہ جلد کھل جائے اور جرمنی میں داخلہ کی اجازت ملتے ہی وہاں بھی احمدیہ مسلم مشن کھولا جاسکے۔
    مجاہدین تحریک جدید کا یہ وفد ۱۰۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء کو لنڈن کے وکٹوریہ اسٹیشن سے بوقت دس بجے صبح بذریعہ گاڑی روانہ ہوا اور پیرس میں مجاہدین فرانس کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی اور مختصر قیام کے بعد ۱۳۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء کو دوپہر کے وقت سوئٹزرلینڈ کے مشہور شہر زیورچ پہنچا۔ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اس کی اطلاع ۱۵۔ اخاء/اکتوبر کو سفر دہلی سے واپسی پر بذریعہ تار قادیان موصول ہوئی اور ان کا تذکرہ بھی حضور نے اسی شام مجلس علم و عرفان میں اول نمبر پر کیا نیز فرمایا۔
    >جرمنی میں احمدیہ تبلیغی مشن قائم کرنے کے لئے بار بار کوشش کی گئی کہ احمدی مبلغین کو جرمنی میں جانے کی اجازت دی جائے مگر امریکہ نے بھی اور برطانیہ نے بھی اجازت نہیں دی۔ اس پر میں نے اپنے جرمنی جانے والے مبلغین کو ہدایت کی کہ وہ ہالینڈ چلے جائیں جو جرمنی کی سرحد پر ہے اور وہاں سے جرمنی میں بھی تبلیغ کی جاسکتی ہے مگر یہ کوشش بھی بہت لمبی ہوگئی۔ ہالینڈ کی گورنمنٹ کو برطانوی گورنمنٹ نے بھی توجہ دلائی مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جب میں نے دیکھا کہ یہ صورت بھی پیدا ہوتی نظر نہیں آتی تو میں نے یہ ہدایت بھجوائی کہ سوئٹزرلینڈ کا علاقہ ایسا ہے جہاں لوگوں کی حالت اچھی ہے اور جنگ کی وجہ سے وہاں سیاسی حالات اس قسم کے پیدا نہیں ہوئے کہ نازک صورت ہو اس لئے وہاں جانے کی کوشش کی جائے۔ چونکہ پہلے یہ بات تجربہ میں آچکی تھی کہ غیر ممالک کا سکہ مشکل سے ملتا ہے اٹلی کے مبلغ اس وجہ سے سخت تکلیف اٹھاچکے تھے اس لئے میں نے ہدایت کی کہ سوئٹزرلینڈ کا سکہ اتنا حاصل کرلیاجائے کہ کم از کم چھ ماہ گزارا ہوسکے اور پھر سوئٹزرلینڈ کو جائیں۔ سپین میں جانے کا راستہ خدا تعالیٰ نے اس طرح کھول دیا کہ وہاں ایک ہندوستانی رہتا تھا اس کے پاس کافی سکہ تھا اور وہ واپس آنا چاہتا تھا اسے انگریزی سکہ کی ضرورت تھی اتفاقاً وہ ہمارے مبلغین سے ملا اور اس نے کہا اگر تمہیں ضرورت ہو تو میرے پاس یہاں کے کافی سکے ہیں انگریزی سکہ سے تبادلہ کرلیں چنانچہ تبادلہ کرلیاگیا اور اس طرح سپین کے مبلغین کے ایک سال کے خرچ کا انتظام ہوگیا۔
    اٹلی کے لئے کوشش کی گئی جس کا نتیجہ نکل چکاہو گزشتہ مہینوں کا خرچ ¶بھیجنے کی گورنمنٹ نے اجازت نہیں دی تھی اس لئے ہمارے مبلغین کو محنت و مشقت کرکے پیٹ پالنا پڑا۔ مگر اس طرح تبلیغ کا کام اچھی طرح نہ کرسکتے تھے اب انہیں خرچ بھیجنے کا انتظام ہوگیا ہے۔ اس تلخ تجربہ کی وجہ سے میں نے ہدایت کردی تھی کہ سوئٹزرلینڈ کے خرچ کا انتظام ہوسکے تو مبلغ جائیں۔ اب انتظام ہونے پر جرمنی جانے والا وفد سوئٹزرلینڈ چلاگیا ہے اور ایسی جگہ جاکر ٹھہرا ہے جو جرمنی کے سرحد پر ہے۔<۱۴۳
    زیورچ میں احمدی مجاہدین کے ابتدائی چھ ایام
    ‏text] g[taشیخ ناصراحمد صاحب نے انچارج احمدیہ مشن سوئٹزرلینڈ کی حیثیت سے ابتدائی چھ ایام کی جو مختصر رپورٹ ۱۸۔ اخاء/اکتوبر بروز جمعہ مرکز میں بھیجی اس میں تحریر کیا کہ۔
    >۱۳۔ اخاء بروز اتوار دوپہر ایک بج کر اٹھارہ منٹ کی گاڑی سے ہم تینوں )برادرم چوہدری عبداللطیف صاحب۔ برادرم مولوی غلام احمدبشیر صاحب اور خاکسار ناصراحمد( سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورچ پہنچے۔ گاڑی سے اترنے سے قبل ہم نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ وہ اپنی خاص قدرتوں اور طاقتوں کے ذریعہ ہمیں کامیاب فرمائے اور ہر قدم پر اس کی تائید اور نصرت ہمارے شامل حال ہو۔ تاہم اس نہایت ہی عظیم الشان ذمہ داری کو باحسن وجوہ ادا کرسکیں جس کا باروقف کے گراں قدر فریضہ نے ہمارے کمزور کندھوں پر رکھا ہے۔ سرزمین سوئٹزرلینڈ پر قدم رکھتے وقت خاموش دعا کی گئی اور نیک فال کے طور پر پہلا کلمہ تبلیغ حق کا اس نئی سرزمین کو مخاطب کرکے منہ سے نکالا کہ خدا ہماری آواز میں برکت رکھ دے اور ہمارا طرز تبلیغ نیک طبائع کی کشش کا موجب بنے۔ سامان کی پڑتال کرنے کے بعد ہم ایک ہوٹل میں گئے جس میں ابتدائی تین ایام کے لئے جگہ کا انتظام کیاتھا۔ سٹیشن اور ہوٹل کے درمیان چند سوگز کا فاصلہ تھا لیکن اس قلیل فاصلہ کے طے کرنے کے دوران میں بے شمار افراد ہمارے گرد جمع ہونا شروع ہوگئے۔ انہیں ہم اپنی پگڑیوں اور اچکنوں میں عجوبہ نظرآئے۔ اکثر نے اس لباس میں کسی انسان کو پہلی بار دیکھا ہوگا۔ لوگ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ اور کہاں سے آئے ہیں؟ بعض ہنس دیتے۔ غرضکہ شہر میں قدم رکھتے ہی ہمیں ایک حیران اور ششدر پبلک کا سامنا کرنا پڑا۔ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا عوام کی حیرت کم ہوتی جائے گی لیکن ابھی ان کی حیرت کے بہت سے مواقع ہیں۔ کچھ وقت ہمیں زبان کی دقت سرکرنے کے لئے درکا ہے۔ ہم اپنے ساتھ دو قسم کے ٹریکٹ جرمن زبان میں طبع کراکرلائے ہیں جن میں اپنے آنے کی عرض` اسلام کی صداقت` حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تشریف آوری اور قبر میسح کا اعلان وغیرہ امور درج ہیں۔ ہم ابھی یہ ٹریکٹ تقسیم نہیں کررہے کیونکہ جب تک ہم ان کی زبان میں تفصیل کے ساتھ بات کرنے اور لٹریچر کی اشاعت کے لازمی نتیجہ کے طور پر پیش کئے جانے والے سوالات کا جرمن زبان میں جواب دینے کے قابل نہ ہوجائیں۔ اس وقت تک ان ٹریکٹوں کی اشاعت سے کما حقہ فائدہ نہیں ہوسکتا۔ امید ہے کہ انشاء اللہ العزیز جلد ہی ہم اس قابل ہوجائیں گے۔ وباللہ التوفیق ۔۔۔۔۔۔ یہاں ایک بڑے بنک کے ایک ڈائریکٹر مسٹر آرنی کے ساتھ ہمارا غائبانہ تعارف ہوچکا تھا جو مکرم چوہدری سرمحمد ظفراللہ خاں صاحب کے ایک دوست کے دوست ہیں ہم اگلے روز ان سے ملے بہت خوش خلقی سے پیش آئے۔ ہم نے سب سے پہلے انہیں کسی مکان کا انتظام کرنے کے لئے کہا کیونکہ اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہماری یہی تھی بصورت دیگر یورپ کے اس حددرجہ گراں ملک میں جہاں دنیا بھر سے عموماً اور جنگ کے مصیبت زدہ یورپ سے خصوصاً لوگ تفریح کے لئے آتے ہیں ہمارا بہت خرچ ہورہا ہے اور اشیاء یہاں لندن سے بہت مہنگی ہیں۔ چائے کی ایک پیالی کی قیمت قریباً ۸ پنس ہے اور اسی نسبت سے ہوٹلوں اور دوسرے بورڈنگ ہائوسوں کے کرائے ہیں۔ مسٹر آرنی نے بتایا کہ زیورچ میں مکان ملنا بہت دشوار ہے تاہم وہ کوشش کریں گے۔
    ہم ٹامس کک کے دفتر میں بھی گئے اور وہاں سے کچھ معلومات حاصل کیں اور بعض ضروری امور سرانجام دیئے۔ ۱۵۔ تاریخ کو برطانوی کونسل جنرل کے دفتر میں جاکر ہم نے اپنے نام رجسٹرڈ کرائے اور اس کے بعد شہر میں پھرتے رہے تا حالات کی واقفیت حاصل کریں ۔۔۔۔ ابھی ابھی جبکہ میں یہ سطور لکھ رہا ہوں ہم شہر سے باہر جاکر نماز جمعہ ادا کرکے واپس آئے ہیں۔ ہم کسی کھلی جگہ کی تلاش میں دور نکل گئے۔ پہاڑیوں پر چڑھ کر چلتے چلتے جب کوئی جگہ نہ ملی تو جنگلات کا رخ کیا اور قریباً ۴/۱/۱ گھنٹہ کی تلاش کے بعد گھنے جنگلات میں بلند اور خوبصورت درختوں کے جھنڈ تلے جاکر ہم نے اذان کہی جو اس طور پر پہلی اذان ہوگی کہ نماز جمعہ کے لئے دی گئی۔ اس کے بعد ہم نے نماز ادا کی اور خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ وہ ہمیں اس علاقے میں مسجد تعمیر کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں یہ نماز جمعہ ہمیشہ یاد رہے گی۔ یہ ہماری بے کسی اور ابتدائی کمزور حالت کا نشان ہوگی۔ اور ہم اپنے خدا سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری عاجزانہ دعائوں کو ضرور قبول فرمائے گا اور ہمیں اپنے اعلیٰ اور مقدس نام کو پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے گا۔<۱۴۴
    ماہ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء تا آخر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کا زمانہ سوئٹزرلینڈ مشن کی داغ بیل کا زمانہ تھا جبکہ ملک میں بے سرو سامانی کے عالم میں نہایت مختصر پیمانہ پر تبلیغی جدوجہد کا آغاز کیاگیا جو بوجہ اجنبی ماحول کے گردوپیش کے حالات کے جائزہ لینے` رہائش کا انتظام کرنے اور غیر زبان سیکھنے اور پرائیویٹ ملاقاتوں میں پیغام حق پہنچانے تک محدود رہی۔۱۴۵ اس ابتدائی زمانہ میں مبلغین اسلام نے جن لوگوں کو تبلیغ اسلام کی ان میں )اینگوانڈین( ہیفیلی` مسٹرمڈسن` )ڈنمارک( مسٹرلیبرمین` مسز سٹمائل` مسٹر شیف اکنکٹ` مسزفلر` کیتھولک پادری شرانر` مسٹر ایگرمین` مسٹر برونر )زیورچ( یونیورسٹی کے مشہور پروفیسر اور پروفیسر فارا بھی تھے۔ ان ملاقاتوں کے علاوہ مبلغین نے بعض تبلیغی خطوط بھی لکھے۔ مثلاً زیورک سے باہر سینٹ گالن سے ایک صاحب نے بذریعہ خط معلومات طلب کیں جن کو مفصل مکتوب لکھا۔ ایک روز انہیں یہودیوں کی ایک مجلس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہ یہ سنکر حیران وششدر رہ گئے کہ کیا مسلمان مبلغ بھی اپنا دین پھیلانے کے لئے یہاں آنے کی >جسارت< کرسکتے ہیں۔ یہودیوں ہی کو نہیں اکثر سولیس باشندوں کو مبلغین اسلام کے آنے کی غرض معلوم کرکے حددرجہ حیرت ہوتی تھی اور وہ کہتے تھے کہ اسلام دنیا میں کیسے پھیل جائے گا۔ اسی زمانہ میں شیخ ناصراحمد صاحب سے ایک بڑے ڈاکٹر نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح سوئٹزرلینڈ کے لوگ اسلام کو قبول کرلیتے ہیں۔ غرضکہ ان ابتدائی ایام میں لوگ احمدی مبلغین کی باتیں اکثر ہنسی میں اڑا دیتے تھے اور اس ملک میں اشاعت اسلام کو ناممکن تصور کرتے تھے۔
    ٹریکٹ >قبر مسیح< کی اشاعت اور احمدی مبلغین کو ملک سے باہر نکالنے کی مسیحی سازش
    کفر کی آنکھ بھی تیز ہوتی ہے۔ اگرچہ ان دنوں احمدیہ مسلم مشن اپنی زندگی کے ابتدائی دور سے گزررہا تھا مگر چرچ نے شروع ہی میں بھانپ لیا کہ سوئٹزر لینڈ سے اٹھنے والی اسلام کی
    بظاہر کمزور آواز صلیبی مذہب کے لئے مہیب خطرہ ثابت ہوگی۔ چنانچہ جونہی مجاہدین اسلام نے >قبر مسیح< کے ٹریکٹ کی اشاعت شروع کی تو چرچ احمدی مبلغین کو ملک سے باہر نکالنے کی سازشیں کرنے لگا۔ یہ وقت مجاہدین کے لئے بہت صبرآزما تھا۔ ذیل میں شیخ ناصراحمد صاحب کے قلم سے اس کی تفصیل درج کی جاتی ہے۔ شیخ صاحب نے ماہ تبلیغ/فروری ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کی رپورٹ میں لکھا۔
    گزشتہ سال یہاں قبر مسیح کے اعلان پر مشتمل ٹریکٹ کی اشاعت کے نتیجہ میں مخالفت کا ایک غبار اٹھاتھا۔ سخت کلامی سے لبریز خطوط ہمیں آئے۔ اخبارات میں مضامین ہمارا مضحکہ اڑانے اور مشن کی مخالفت کی غرض سے لکھے گئے۔ پادری طبقہ بالخصوص بوجہ اپنی نوعیت۱۴۶ کے ہمارا مخالف ہوگیا۔ چنانچہ ان ہی دنوں کی بات ہے کہ ایک پادری صاحب نے ہماری مالکہ مکان کو کہلا بھیجا کہ وہ حیران ہے کہ اس نے ہمیں رہنے کے لئے جگہ کیوں دے رکھی ہے۔ اکتوبر کے شروع میں ہم نے جبکہ برادران غلام احمد بشیر اور چوہدری عبداللطیف صاحبان ابھی یہیں تھے اپنے ویزا کی توسیع کی درخواست دی۔ چار ہفتہ کے بعد ہر دو صاحبان ہالینڈ تشریف لے گئے۔ قریباً چار ماہ تک اس درخواست کا کوئی جواب نہ آیا۔ یہ دیر غیر معمولی اور تشویشناک تھی۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں خاکسار کو کسی ذریعہ سے معلوم ہوا کہ میرے یہاں قیام کی اجازت کا معاملہ چرچ کونسل کے سامنے ہے۔ اس خبر میں مجھے خطرہ کی سرخی نظر آئی چنانچہ احتیاطی طور پر بعض تدابیر اختیار کیں۔ ۱۶۔ فروری کو خاکسار ایک کام کے سلسلہ میں پولیس کے دفتر میں گیا وہاں سے معلوم ہوا کہ پولیس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میری درخواست کو رد کردیا جائے اور یکم مارچ تک ملک چھوڑ دینے کے احکام جاری کئے جائیں۔ نادان پولیس میں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ آپ کا مشن پورا ہوگیا ہے اور ایک سال کا عرصہ اس کے لئے کافی ہے اس لئے اب آپ کو چلے جانا چاہئے۔ میں نے کہا کہ آپ نے عیسائی مشنوں کو بھی مصر وغیرہ ملک سے واپس بلالیں۔ کہنے لگا ہمارے مشنوں اور آپ کے مشنوں میں فرق ہے میں نے کہا بہت اچھا` اور اس کا شکریہ ادا کرکے واپس آگیا۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ کاغذات تصدیق کے لئے برن )دارالحکومت( بھجوائے ہوئے ہیں جہاں سے آخری احکام جاری ہوں گے۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے لوگوں میں ایک خاص قسم کی کجی پائی جاتی ہے جو شاید یورپ کے کسی اور ملک میں مفقود ہو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بوجہ مخصوص اور معلوم حالات کے یہ ملک ¶ایک عرصہ سے جنگوں سے محفوظ رہا ہے اور اس امر نے انہیں ایک بے جا فخر عطا کیا ہے اور یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ ان کی ذاتی خوبیاں` ان کا حسن تدبر اور نہ جانے کیا کچھ ان کے امن کے ضمانت ہیں۔ لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔ ملک کے افراد میں اس غرور کی جھلک نمایاں ہے اور انانیت کے جذبہ کو ان کی اس حالت نے بہت تقویت دی ہے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنی انفرادی مرضی کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور ہمچوما دیگرے نیست کا راگ الاپتے ہیں۔
    دوسری بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ یہاں کی پولیس جو غیر ملکوں سے متعلق ہے اس کے اختیارات بہت وسیع ہیں کیونکہ ان کا صیغہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت نہیں اس لئے یہ لوگ من مانی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اور غیر ملکوں کے لئے قوانین بھی سخت ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ بسا اوقات پولیس نے اپنے اس رویہ کے باعث غیر ملکیوں کو خواہ مخواہ تکلیف پہنچائی ان پر اور تو کسی شعبہ حکومت کا اقتدار نہیں اس لئے انجام کا فیڈرل کورٹ میں جاکر پولیس کے خلاف فیصلہ ہوا اور بیچارے غیرملکیوں کے حقوق کی حفاظت ہوئی۔ میں نے محسوس کیا کہ پولیس کے چھوٹے بڑے میں میرے خلاف مخالفت کی آگ لگی ہوئی ہے۔ اسی تنگ دلی اور کم ظرفی سے یہاں کے چرچ کو خاطر خواہ حصہ ملا ہے۔ وہ جنہوں نے صدیوں تک اپنے جھوٹے عقائد کے خلاف کوئی زبان ہلتی اور کوئی قلم چلتی نہ دیکھی تھی آج یہ کیا ہوا کہ اچانک ان کے >ایمان< کی جڑوں پر تبررکھ دیاگیا اور مسیح سپاہی قلم وزبان سے باطل کا بطلان کرنے لگے۔ ان کے نزدیک تو ہمارا ایک سال کا عرصہ ہی ہمارے مشن کی تکمیل کے لئے کافی ہے۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں عیسیٰؑ کی جھوٹی خدائی کا بت ہے وہ کب برداشت کرسکتے ہیں کہ کوئی اس بت کو توڑے۔ نہ صرف توڑے بلکہ بے دردی سے توڑے۔ ہم محمود کے سپاہی بفضل خدا اس سومنات کے بت کو توڑیں گے` توڑیں گے۔ اے خدا! ہمارے ہتھوڑے کو بھاری اور اس کی ضرب کو کاری بنا۔ آمین ۔۔۔۔ اس سلسلہ میں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ پولیس والوں نے اپنی پوزیشن کو بیرونی دنیا کی نظروں میں محفوظ بنانے کے لئے ایک جعلی عذر کی آڑلی اور کہا کہ چونکہ مرکز احمدیت اب مشن کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا اس لئے آپ یہاں ٹھہرنہیں سکتے۔ اب یہ تو مستقبل بتائے گا کہ ہم ان کے اس باطل عذر کو کس طرح باطل ثابت کریں گے اور پولیس کو اس آخری دلیل کا سہارا بھی نہ ملے گا۔ انشاء اللہ العزیز۔ تاہم خاکسار اس امداد کو ریکارڈ کرنا چاہتا ہے جو اس نازک وقت میں ہماری لواحمدی بہن محترمہ محمودہ کی طرف سے ملی۔ ان ایام میں ایک رقم کی ضرورت تھی جسے بطور ثبوت کے پیش کیا جاسکتا )بوقت ضرورت( کو سلسلسہ ہمارے اخراجات کا کفیل ہے۔ محترمہ محمودہ نے کہا کہ ان کے پاس تین صد فرینک کی ایک رقم ٹیکس کی ادائیگی کے لئے موجود ہے جس کی فی الحال ضرورت نہیں۔ چنانچہ یہ رقم لے کر اپنے نام پر بنک میں جمع کرادی گئی تا ہمارا کیس مضبوط ہوجائے۔ اس رقم کے ساتھ محترمہ محمودہ نے لکھا >خدا آپ کی مدد کرے۔ خدا بالخصوص اس موقعہ پر آپ کے ساتھ ہو۔<۱۴۷
    تبلیغی اجلاسوں کا نہایت مفید سلسلہ
    سوئٹزرلینڈ میں اشاعت اسلام کا باقاعدہ کام ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء سے شروع ہوا جبکہ شیخ ناصراحمد صاحب نے تبلیغی اجلاسوں کا سلسلہ جاری کیا۔ اس ضمن میں پہلا اجلاس ۲۰۔ صلح/جنوری ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کو ایک ہوٹل کے کمرہ میں منعقد کیاگیا۔ گو اس پہلے اجلاس کی حاضری تو بہت کم تھی مگر اس نئے تجربہ نے ملک میں تبلیغ کا ایک نیا رستہ کھول دیا۔۱۴۸ حلقہ واقفیت میں وسعت پیدا ہوتی گئی اور اسلام میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ ابتداء میں یہ اجلاس زیورچ میں کئے جاتے تھے۔ مگر بعدازاں برن` بازل` باڈن` ونٹرتمور` سینٹ گالن` شاف ہائوزن میں بھی ان کا انعقاد عمل میں لایا گیا۱۴۹ اور یہ ہر مقام پر کامیاب رہے اور ان سے تبلیغ واشاعت اسلام کی مہم کو تیز کرنے میں بھاری مدد ملی۔
    سوئٹزرلینڈ مشن کے ذریعہ جرمنی میں اشاعت اسلام
    جرمنی میں ابھی مستقل مشن کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا کہ خط و کتابت کے ذریعہ کم و بیش بیس افراد پر مشتمل ایک جماعت قائم ہوچکی تھی جس کی دیکھ بھال کے لئے شیخ ناصراحمد صاحب کنٹرول کمشن جرمنی سے اجازت لے کر گاہے گاہے تشریف لے جاتے رہے۔۱۵۰ اس دوران میں آپ کو جرمنی میں اشاعت اسلام کے متعدد مواقع میسر آئے بلکہ ایک بار تو ہمبرگ ریڈیو نے آپ کی ایک تقریر بھی نشر کی` تقریر کا موضوع تھا >یورپی ممالک میری نظر میں۔< اس تقریر کے بعض اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں تامعلوم ہوسکے کہ مجاہدین احمدیت مغربی دنیا کو کس جذبہ اور قوت و شوکت سے خدائے واحد دیگانہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔
    >آج یورپ خستہ حالی میں ہے ۔۔۔۔۔ جرمنی میں جو تباہی اور ہولناک بربادی نظر آرہی ہے وہ یورپین اقوام کی معروف محنت و قابلیت کی متناقض ہے۔ اس صورت حالات کی اس قوت استعماری سے مطابقت دکھلانا مشکل ہے جس کی بدولت یورپ کو صنعتی ترقی حاصل ہوئی۔ میں اپنے نفس سے یہ سوال کرتا ہوں کہ یورپ کی صنعت و سائنس کس کام کی اگر اس کے نتیجہ میں پائدار امن حاصل نہیں ہوا؟ اس میں سائنس کا قصور نہیں` ہم اسے ملزم نہیں کرسکتے۔ بنیادی طور پر کہیں کوئی نقص ہے۔ یورپ نے مادی ترقی کو ایک خوشحال سوسائٹی کی بنیاد سمجھا۔ آج یورپ مادیت میں اس قدر مستغرق ہوچکا ہے کہ روح کی طرف توجہ کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا ۔۔۔۔ روحانی دائرہ میں میں یورپ کو بہت قلاش پاتا ہوں۔ اس موقع پر مجھے خدا کے رسول محمد~صل۱~ کا ایک قول یا آگیا ہے جو آپ نے کئی صدیاں پیشتر فرمایا کہ ایک شخص نمودار ہوگا جو بہت جھوٹ بولے گا اور ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ کیا اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ محمد~صل۱~ نے یورپ میں مادیت کے ظہور کو قبل از وقت بھانپ لیاتھا۔ وہ مادیت جو اب خستگی اور بدحالی کے عالم میں ٹھوکریں کھاتی ہے کیونکہ ایک آنکھ سے کانی ہے۔ اور روح کی طرف نظر نہیں کرتی۔ مغرب کے خلاف یہ کوئی تواہین آمیز کلمہ نہیں جب یہ کہا جائے کہ یورپ کی ایک آنکھ تو تیز اور صاف دیکھتی ہے لیکن دوسری ظلمت سے نور کو شناخت نہیں کرسکتی۔ کیا یہ تعجب انگیز امر نہیں کہ مغربی اقوام نے پہاڑوں کی بلندیاں اور سمندروں کی گہرائیاں تو سرکرلیں پر نہ سمجھیں تو اپنے نفس کو۔ وہ ہر حادثہ کا سبب تلاش کرتے ہیں اور واقعات کو سائنس کی تحقیقات کی روشنی میں دیکھنا پسند کرتے ہی۔ تحقیق کے اس جنون کو براقرار نہ دیا جاتا اگر زندگی کے دوسرے پہلو کی جستجو بھی اسی جوش و خروش سے ہوتی۔ یہ لوگ اگر سمندروں کی گہرائیوں سے موتی نکال لاتے ہیں تو ان کے لئے خدا کی تلاش کیوں ممکن نہیں؟ ۔۔۔۔ انسان کو اب نئے سرے سے کوشش کرنی چاہئے اور ایک نئی بنیاد پر` اگر اتحاد عالم کی کوئی بنیاد مل سکے تو سب اقوام کی یہ خوش قسمتی ہوگی۔ ہاں یہ بناء محض اسی صورت میں قابل اعتماد ہوسکتی ہے جب یہ انسنای دماغ کی اختراع نہ ہو بلکہ آسمانی الہام پر مبنی ہو ۔۔۔ انسان پو بوجہ آزاد ہونے کے بھاری ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے آپ کو انسان ثابت کرے۔ صنعت` سائنس اور تمدن تبھی مفید ہیں اگر ہم اپنی خواہشات کو صحیح راستوں پر چلائیں۔ یہ چیز ہے جس کی مغربی ممالک کو بالخصوص ضرورت ہے۔ میں دوہراتا ہوں کہ ہم پاکستانی مادیت کے عالم میں یورپ کو قطعاً حقیر نہیں جانتے۔
    ہمارے لئے مایوس ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔ ایک مومن ہمت نہیں ہارسکتا۔ وہ اس یقین کی چٹان پر قائم ہے کہ خدا ہماری مدد کرے گا۔ خدا صرف ہندوستانیوں یا مصریوں ہی کا خدا نہیں` وہ یورپ کا بھی خدا ہے` ہم خواہ اس چھوڑ دیں لیکن وہ ہمیں ترک نہیں کرتا۔ وہ صرف ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے فرمانبردار رہیں۔ جونہی انسانیت خدا کی طرف جھکے گی اس کی سب مشکلات خود بخود رفع ہوجائیں گی۔
    شاید یورپ اس میدان میں بھی ایک مثال قائم کرسکتا ہے۔ اگر یورپ سچے خدا کی تلاش اسی جوش` محنت اور توجہ سے شروع کردے جس محنت اور جوش اور توجہ سے وہ دوسرے امور کی جستجو کرتا ہے اور دیگر سب اقوام کے لئے بھی راہبر بن جائے گا۔<۱۵۱ )ترجمہ(
    ابتدائی دور میں قبول اسلام واحمدیت کرنے والے خوش نصیب
    مجاہد سوئٹزرلینڈ شیخ ناصراحمد صاحب کی ان تھک تبلیغی مساعی اور دیوانہ وار کوششوں کے عملی نتائج ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کے آغاز میں رونما ہونے لگے چنانچہ ۱۲۔ ماہ صلح/جنوری ۱۳۲۷/۱۹۴۸ء کو اس ملک کی پہلی روح نے قبول اسلام کیا اور اس کا نام محمودہ رکھا گیا۔۱۵۲ محمودہ کے بعد شیخ صاحب کے ذریعہ سے جو خوش نصیب حلقہ بگوش اسلام واحمدیت ہوئے ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔
    )۱( پی۔ جے۔ ایف کے )۲( عبدالرحمن المہدی بن کوپی )۳( ہرایرک وٹیسٹائن WETISTEIN) ERICH (HERR )اسلامی نام حمید رکھا گیا( ۱۵۳ )۴( محمد اسمعیل ابراہیم راشد مصری۔ 4] f[st۱۵۴ )۵( ہرکارل سکمیڈٹ SCHMIDT) CARL (HERR )اسلامی نام عبدالرشید رکھاگیا( ۱۵۵ )۶( ہراگسٹ بارڈر BARDER) AUGUST (HERR )اسلامی نام بشیر رکھاگیا(۱۵۶ )۷( ہراینڈر بٹزی BITZI) ANDRE (HERR )اسلامی نام سعید رکھاگیا( )۸( ہرہیروزئیر ZEIER) HARRO (HERR )اسلامی نام امین رکھاگیا( ۱۵۷ )۹( کمال فولمار۔۱۵۸
    رسالہ >الاسلام< کا اجراء اور اس کی مقبولیت
    اشاعت اسلام کی مہم کو چلانے کے لئے چونکہ لسانی جہاد کے ساتھ قلمی جہاد بھی ضروری تھا اس لئے شیخ صاحب موصوف نے ایک مخلص احمدی محمد راشد صاحب مصری کے مالی تعاون سے ایک سائیکلوسٹائل مشن کا انتظام کرکے ماہ اخاء/اکتوبر ۱۳۳۸ہش/۱۹۴۹ء سے ISLAM> <DER )الاسلام( نامی ایک ماہوار رسالہ جاری کیا۔ اس رسالہ کا پہلا پرچہ تین اوراق پر مشتمل تھا جس میں اسلام کی تعلیم` قرآن کریم` احادیث النبیﷺ~ اور ملفوظات حضرت مسیح موعود کے اقتباسات درج تھے۔۱۵۹ یہ رسالہ جس کی ابتداء نہایت سادہ اور مختصر صورت میں ہوئی اپنے اثرونفوذ میں بہت جلد ترقی کرگیا اور اس کے علمی اور مدلل مضامین اسلام سے دلچسپی لینے والے حلقہ میں نمایاں اضافہ کا موجب ہوئے ISLAM> <DER )الاسلام( نے سوئٹزرلینڈ کے پڑھے لکھے طبقہ پر کتنا گہرا اثر ڈالا؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے بعض سویس لوگوں کی آراء کا مطالعہ کافی ہوگا۔
    ۱۔
    ایک شخص نے لکھا-:
    >آپ کے رسالہ >الاسلام< کا دسمبر کا ایشوع میرے لئے ایک نہ بولنے والی یادگار بن کررہ گیا ہے۔ اس رسالہ کے ذریعہ آپ مسلمانوں کے خلاف غلط فہمیوں اور تعصبات کے پہاڑ کو اٹھا رہے ہیں۔<
    ۲۔
    ایک صاحب نے اپنی رائے یہ دی کہ-:
    >مجھے بغداد میں تین سال بطور پروفیسر رہنے کا موقعہ ملا۔ رسالہ >اسلام< ہر بار میرے لئے وہاں کی خوشگوار یاد کو تازہ کردیتا ہے۔<
    ۳۔
    پرچہ کا باقاعدگی سے مطالعہ کرنے والے ایک دوست نے خط لکھا کہ-:
    >مجھے تین سال سے رسالہ >اسلام< کا مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ اس کے مضامین میرے لے حددرجہ دلچسپ اور امید افزاء ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہاں کی مذہبی اور فرقہ دارانہ جماعتوں کی طرف سے اسلام کے خلاف کس قدر خطرناک غلط باتیں پھیلائی جاتی ہیں! وقت آگیا ہے کہ ایک بار اس بڑے مذہب صحیح روشنی ڈالی جائے۔ اور اس کی تعلیم کو صحیح وضاحت کے ساتھ پیش کیاجائے۔<
    ۴۔
    قارئین >الاسلام< میں سے ایک کا تاثر یہ تھا کہ-:
    >اگرچہ رسالہ >اسلام< ہر نوع کے لوگوں کے مذاق کے مطابق تیار کیاجاتا ہے تاہم میرے لئے یہ پرچہ ہرماہ خاص رنگ میں تسلی بخش مواد لاتا ہے۔ اس کے ذریعہ نہ صرف اسلامی تاریخ اور اسلامی تعلیمات کو خاطر خواہ رنگ میں پیش کیا جاتاہے بلکہ ایک مسلمان کے طرز خیال اور اسکے فلسفہ حیات پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے۔<۱۶۰
    ۵۔
    ایک اور صاحب نے اپنے تاثرات مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کئے کہ-:
    >رسالہ اسلام کا جوبلی نمبر شائع کرنے پر میں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ آپ کے کام میں مستقبل میں بھی برکت ڈالے۔ کام کے دوران میں آپ کو بہت سے مواقع خوشی کے اور بہت سے مواقع مایوسی کے بھی آئے ہوں گے تاہم اپ اس امر پر یقیناً خوش ہوسکتے ہیں کہ آپ کو متعدد مقامات پر اسلام کے خلاف بالکل بے بنیاد اور غلط باتوں کی تردید کی توفیق ملی۔ میں اس امر کا اندازہ بخوبی لگاسکتا ہوں کہ آپ کا کام آسان نہیں۔ وہ متعصب نظریات جو صدیوں سے چلے آتے ہیں وہ ایک دن میں دور نہیں کئے جاسکتے۔ یہ بہت صبر ۔۔۔۔ چاہتا ہے کیونکہ بہت سی طاقتیں محض اس کام پر لگی ہوئی ہیں تا لوگوں کے سامنے اسلام کو ممکن ترین بھدی شکل میں پیش کیاجائے۔ مثال کے طور پر اکثر ایسے مضامین پڑھنے میں آتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے کہ محمدﷺ~ اگرچہ مذہبی آدمی تھے تاہم آپ )نعوذباللہ( بہت چالاک تھے۔ حیرت ہے کہ یہ باتیں ایک ایسے شخص کے متعلق کہی جاتی ہیں جس کے متعلق اس کی بیوی )جو اسے یقیناً سب سے زیادہ جانتی تھی( یہ شہادت دیتی ہے کہ آپﷺ~ کی زندگی آپ کی تعلیم کے مطابق اور آپ کی تعلیم آپ کی زندگی کے مطابق تھی۔<۱۶۱
    ۶۔
    ایک صاحب نے لکھا-:
    >میں >رسالہ اسلام< کے نئے پرچہ کا ہر دفعہ شوق سے انتظار کرتا ہوں۔ آپ کا یہ رسلاہ مہینہ میں دو بار بلکہ ہر ہفتہ شائع ہونا چاہئے تا اسلام مقدس کے خلاف یورپین پریس کے ذریعہ پھیلائے جانے والی غلط فہمیوں اور تعصبات کا جواب دیا جاسکے۔<
    ۷۔
    ڈنمارک سے ایک شخص نے لکھا کہ-:
    >تحریک احمدیت پر شائع ہونے والے سلسلہ مضامین کو پڑھ کر انہیں حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا یقین ہوگیا ہے۔ آپ محض محدث نہ تھے۔ اور خلافت اسلامی تعلیم` احادیث اور بانی سلسلہ احمدیہ کی تحریرات کے مطابق صراط مستقیم ہے۔<۱۶۲
    ۸۔
    ایک سولہ سال نوجوان نے لکھا-:
    >اسلام سے مجھے دلچسپی ہے کیونکہ یہ ایک اہم عالمگیر مذہب ہے۔ ان ممالک میں اسلام کو لوگ نہیں جانتے بلکہ بہت سی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ جماعت احمدیہ اسلام کی بہت خدمت کررہی ہے۔ یہ جماعت اسلام کی عزت کو دوبارہ قائم کرتی ہے۔ آپ کی کوششوں کا بہت بہت شکریہ۔ سوئٹزرلینڈ کی نوجوان سرگرم عمل جماعت احمدیہ کو میرے دلی جذبات پہنچا دیں۔ یہ لوگ ہر احترام کے اہل ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہئے۔<۱۶۳
    ۹۔
    ایک اسی سالہ شخص نے مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کیا-:
    >اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے رسالہ >اسلام< کے ذریعہ معرفت الٰہی کا علم ہوا۔ خدا تعالیٰ کے قوانین کے بارے میں پڑھا۔ ہاں خدائی قانون نہ کہ انسانی۔ اپنی یہ کوشش جاری رکھتے تا اس تاریکی کے زمانہ میں خدائی نور کا جلوہ قائم رہے۔ میری زندگی میں آپ پہلے شخص ہیں جو خدائی صداقت کو جانتے ہیں۔ آپ کے پاس خدائی نور ہے اور خدا تعالیٰ کی معرفت ہے اور آپ اس روشنی کو تاریکی کے درمیان روشن کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تاریکی بہت حمیق ہے اور تاریک انسانی ارواح میں اس روشنی کو جلانے کے لئے آپ کی جرات کے باعث خاموش طور پر آپ کو شاباش کہتا ہوں۔10]< p[۱۶۴
    رسالہ >الاسلام< نہایت باقاعدگی کے ساتھ بلاناغہ پہلے چھ سال سائیکلوسٹائل کرکے نکلا کرتا تھا مگر پھر پریس میں چھپنے لگا شروع میں اسے اگرچہ سوئٹزرلینڈ کے مخصوص حالات وکوائف کو پیش نظر رکھ کر ہی مرتب کیا جاتا تھا اور زیادہ تر اسی میں اشاعت پذیر ہوتا تھا مگر جوں جوں تبلیغی دنیا میں اس کی اہمیت و ضرورت بڑھتی گئی اور اس کے مندرجات و مضامین میں خاص تنوع اور محققانہ رنگ نمایاں ہوتاگیا تو اسے سویڈن` ڈنمارک` ناروے` آسٹریا` جرمنی` ہالینڈ` فرانس` مشرقی جرمنی` انگلستان` سپین` یوگوسلاویہ` پولیند` ٹرکی` فلسطین` مصر` افریقہ کے ممالک` شمالی امریکہ` کینڈا` انڈونیشیا` پاکستان میں بھی بھجوایا جانے لگا۔۱۶۵
    یہ ماہنامہ اب تک نہایت باقاعدگی اور اہتمام کے ساتھ جاری ہے اور اس کی ادارت کے فرائض مکرم چوہدری مشتاق احمدصاحب باجوہ مجاہد اسلام سوئٹزرلینڈ` مکرم مسعوداحمد صاحب ایم۔ اے۔ اور ڈاکٹر ایم۔ اے۔ ایچ۔ چوسی CHIUSSI) ۔H۔A۔(M بجالارہے ہیں۔
    تبلیغی ٹریکٹوں اور جرمنی ترجمہ قرآن کی اشاعت اور اس کے وسیع اثرات
    ‏0] ft[rبلاشبہ ان دو جرمن زبان کے پمفلٹوں نے جو مجاہدین اسلام لنڈن سے چھپوا کر لائے تھے سوئٹزرلینڈ کے باشندوں میں صحیح اسلامی
    خیالات وافکار کا پہلا بیج بودیا تھا مگر خدا کے فضل اور اس کی توفیق سے اس بیج کے بڑھانے اور بالاخر ایک ایسے تناور درخت کی شکل دینے کے لئے جس کی دور دور تک پھیلی ہوئی شاخوں پر حق جوئی کے پرندے آرام کرسکیں ایک نہایت بلند پایہ` علمی اور وسیع لٹریچر درکار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ ناصراحمد صاحب نے جرمن زبان پر عبور حاصل کرتے ہی جرمن لٹریچر کی طرف اپنی پوری توجہ مبذول کردی اور سب سے پہلے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت` مقام` اعلان قبرمسیح` کرسمس اور سال نو کے پیغامات پر مشتمل چار ٹریکٹ۱۶۶ مشن کی طرف سے چھپوا کر ملک میں تقسیم کئے نیز ان اخبارات ورسائل کو بھجوائے جن میں احمدیہ مسلم مشن سوئٹزرلینڈ کی نسبت مضامین شائع ہوئے تھے اور جن کی تعداد باون تھی۔۱۶۷ ان ٹریکٹوں کے بعد آپ نے آنحضرت~صل۱~ کی حیات طیبہ پر ایک کتابچہ بھی شائع کیا اور زیورک کے علاوہ لوزان اور برن نیز دوسرے مقامات پر بھی اس کی اشاعت کی۔ علاوہ ازیں فلسطین` شمالی امریکہ اور ہالینڈ کے احمدی مشنوں کو بھی بھجوایا کیونکہ ان ممالک میں بھی جرمنی زبان بولنے والے لوگ بستے ہیں۔۱۶۸ اس کتابچہ کا نام محمدﷺ~ تھا۔ سوئٹزرلینڈ کے ایک اخبار نے اس پر حسب ذیل الفاظ میں تبصرہ کیا۔
    >اسلام حملہ آور ہوتا ہے! >ہم عیسائی کیا کہہ رہے ہیں؟< یہ ایک لیکچر کا عنوان تھا جسے سننے کے لئے خاکسار گیا۔ مقرر نے حاضرین کو بتایا کہ اسلام یہاں بھی پھیلایا جارہا ہے۔<۱۶۹
    جرمن لٹریچر کے ضمن میں سب سے اہم قدم جو شیخ ناصراحمد صاحب نے اٹھایا وہ یہ تھا کہ آپ نے جرمنی ترجمہ قرآن کے اس مسودہ پر جو حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی زیرنگرانی انگلستان میں تیارہوا تھا سالہا سال تک اس پر کمال محنت و جانفشانی سے نظرثانی کی اور ۱۴۔ تبلیغ/فروری ۱۳۳۳ہش/۱۹۵۴ء کو اس کی طباعت مکمل ہوئی۱۷۰ اور AN>۔۔QUR HEILIGE <DER کے نام سے اسے شائع کردیاگیا۔ یہ پہلا ترجمہ قرآن تھا جو جماعت احمدیہ کی طرف سے جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ کی کسی زبان میں چھپا اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت مقبول ہوا اور بہت جلد نایاب ہوگیا جس پر شیخ صاحب نے >تفسیر صغیر< کی روشنی میں دوبارہ نظر ڈالی اور یہ ترمیم شدہ ترجمہ بھی نہایت مفید اصلاحات و ترمیمات کے ساتھ اور نہایت دیدہ زیب اور نفیس شکل میں ماہ نبوت/نومبر ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء میں منظرعام پر آگیا۔۱۷۱ جناب شیخ ناصراحمد صاحب اس ترجمہ کی خصوصیات اور طباعت سے متعلق بعض ضروری تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
    >تفسیر صغیر کے ترجمہ کی روشنی میں پہلا ترجمہ قرآن کریم کا جرمن زبان میں شائع کرنے کی اس مشن کو توفیق ملی۔ ہمارے جرمن ترجمہ کا پہلا ایڈیشن ۱۹۵۴ء میں شائع ہوا تھا۔۱۷۲ جس پر خاکسار نے کئی سال محنت کی تھی۔ جب ایڈیشن ختم ہونے کے قریب آیا تو خاکسار نے نئے ایڈیشن کی نظرثانی کا کام شروع کردیا۔ اس کا پر ایک سال گزرنے کے بعد تفسیر صغیر چھپ گئی اس لئے ایک بار پھر اس نئے ترجمہ کی روشنی میں جرمن ترجمہ کی نظرثانی کا کام شروع کیاگیا اور ساتھ ساتھ نوٹ بھی لکھے گئے۔۔۔۔ مختلف آیات کے ۲۴۲ تشریحی نوت کتاب میں شامل کئے گئے۔ چھوٹے چھوٹے حاشیہ کے نوٹ اس کے علاوہ ہیں۔ کتاب کی ظاہری خوبصورتی کے لئے ایک موزوں ٹائپ خرید کیا۔ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مقامات پر مفید اصلاحات ترجمہ میں کی گئیں اور جرمن زبان کے اسلوب کے مطابق مضمون کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی جس سے ترجمہ میں مزید روانی آگئی۔ ہمارا پہلا ترجمہ بھی بہت اچھا تھا اور اس کی بہت تعریف ہوئی تھی۔ تاہم یہ دوسرا ایڈیشن خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی مفید اصلاحات کا حامل ہے۔ اور بعض افراد نے دونوں ترجموں کا مقابلہ کرکے بہت سے مشکل مقامات پڑھنے والے کے لئے ¶حل ہوگئے ہیں۔ کتاب کا حجم آٹھ صد صفحات سے اوپر ہے۔
    اس کام میں علاوہ دوسری مشکلات کے مالی مشکلات بھی تھیں۔ ادھر قرآن کریم کی مانگ بہت تھی اور آرڈر پر آرڈر جمع ہورہے تھے۔ تاجران کتب بار بار پوچھتے تھے انہیں مختلف میعادیں دی گئیں۔ بالاخر نومبر تک کتاب کو مارکیٹ میں لانے کا خاکسار نے تہیہ کرلیا۔ اگست تک مطبع والوں نے کام شروع نہ کیا تھا۔ وقت بہت تھوڑا تھا صرف پروف دیکھنے اور اصلاح کرنے کا کام ہی اس قدر وقت طلب تھا کہ روزانہ نصف دن اس کام پر لگانے سے یہ کام چار مہینوں میں ختم ہوتا تھا۔ کام کے آخری مراحل کو تیز تر کرنے کے لئے وسط اکتوبر میں خاکسار نے ہالینڈ جاکر مطبع والوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ یہ وقت بے حد مصروفیت کا تھا۔ آخر اس تمام تگ ودو کا نتیجہ کام کے بروقت ختم ہونے کی صورت میں نکل آیا جو خدا تعالیٰ کے خاص فضل کے بغیر ممکن نہ تھا۔ پہلے ایڈیشن کی طباعت کے وقت قرآن کریم کی مانگ اتنی زیادہ نہ تھی جتنی اب جبکہ وہ ایڈیشن نایاب ہوگیا تھا۔ پہلے ایڈیشن نے مارکیٹ کو تیار کرنے میں مدد دی اور جب مارکیٹ تیار ہوگئی تو کتاب ختم ہوگئی اس لئے دوسرے ایڈیشن کو ملتوی کرنا بہت مضر ہوتا۔ علاوہ ازیں دوسرے لوگ بھی ترجمہ کو مارکیٹ میں لارہے تھے جس کے نتیجہ میں ایک تو لوگ غلط ترجمہ پڑھتے اور اسلام سے دور ہوجاتے دوسرے ہمارا ترجمہ فروخت نہ ہوتا یہ سب امور خاکسار کے نئے کام کو جملہ مشکلات کے باوجود ایک معین وقت تک ختم کرنے میں متحرک ثابت ہوئے۔ مورخہ ۱۱۔ نومبر کو ہیگ کی مسجد میں ایک خاص تقریب کے دوران میں مطبع کی فرم کے ڈائریکٹر STOOK ۔MR نے خاکسار کو پہلا تیار شدہ نسخہ قرآن کریم کا پیش کیا۔ اس پر خاکسار نے قرآن کریم کی خوبیوں اور نئے ایڈیشن کی تیاری اور ضرورت پر مختصر تقریر کی۔ اس کام پر خاکسار کے کم وبیش تین سال صرف ہوئے۔ اور اگر پہلے ایڈیشن کے کام کو بھی ساتھ ملالیا جائے تو یہ کام گیارہ برس کی محنت کے بعد بحمداللہ ختم ہوا۔ سیدنا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ کو ترجمہ کی طباعت مکمل ہونے کی اطلاع ہوئی تو حضور نے ازراہ ذرہ نوازی حسب ذیل تار خاکسار کو ارسال فرمایا۔
    ترجمہ-: >میں مبارکباد دیتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کے کام کو یورپ میں اسلام کی اشاعت کے لئے ایک نہایت موثر ذریعہ بنائے۔< )خلیفہ المسیح(
    علاوہ ازیں حضور نے خط کے ذریعہ فرمایا-:
    > جزاک اللہ بہت خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس ترجمہ کو قبول کرے۔<
    ایک اور خط میں حضور نے فرمایا-:
    >اللہ تعالیٰ واقعہ میں اس کو یورپ کے لئے فائدہ مند بنائے۔ ~}~
    آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج
    اس کے ذریعہ وہ لوگ جن کو تعصب نہیں اسلام کی طرف مائل ہوجائیں گے۔ آمین۔<۱۷۳
    جرمن ترجمہ قرآن پر سویس پریس کے شاندار تبصرے
    جرمن ترجمہ قرآن کی اشاعت سوئٹزرلینڈ کی مذہبی تاریخ میں ایک اہم اور انقلابی واقعہ تھا جس نے ملک بھر میں دھوم مچادی۔ سوئٹزرلینڈ کے اہل قلم نے اس کارنامہ کو خوب سراہا اور سویس پریس نے دل کھول کر اس پر بڑے مفصل اور شاندار تبصرے شائع کئے۔ بطور نمونہ بعض اخبارات ورسائل کی آراء وافکار کا ترجمہ دیا جاتا ہے۔
    )۱( ایک مشہور بدھ جماعت کے ماہنامہ EINSICHT> <DIE ۱۹۵۴ء کے آٹھویں شمارہ کے صفحہ ۱۲۶۔۱۲۷ پر جرمن ترجمہ قرآن کریم کی نسبت حسب ذیل ریمارکس شائع ہوئے۔
    ۸۰۰ صفحات پر مشتمل جرمن ترجمہ قرآن بمع عربی متن ۔۔۔۔ پہلا مستند اور قابل اعتماد ترجمہ ۔۔۔۔ قیمت ۱۸ مارک۔
    جماعت احمدیہ کی طرف سے زیورچ اور ہمبرگ کے مشنوں کے نام سے شائع شدہ یہ ترجمہ قرآن کریم اس لحاظ سے قابل توجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا محمود احمد صاحب نے اس کے شروع میں ۱۵۰ صفحات پر مشتمل ایک دیباچہ تصنیف کیا ہے جو بہت دلچسپ امور پر اس لحاظ سے روشنی ڈالتا ہے کہ اسلام کا مطمح نظر دیگر مذاہب کی تعلیمات کے بارہ میں کیا ہے۔ اس دیباچہ کے پہلے حصہ میں قرآن کریم کی ضرورت پر بحث کی گئی ہے اور بائبل اور ویدوں کے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق نظریات کی وضاحت کی گئی ہے۔ خاص طور پر یسوع مسیح CHRIST) (JESUS کی پوزیشن کو واصح کیاگیا ہے کہ وہ عالمگیر نبی نہ تھے کیونکہ انہوں نے خود واضح الفاظ میں >میں صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے لئے آیا ہوں< )متی ۲۴۔۱۵( کہ کر اس امر کو ظاہر کیا ہے کہ ان کی بعثت کا مقصد بنی اسرائیل کے لئے محدود تھا اور وہ تمام دنیا کی طرف مبعوث نہیں ہوئے تھے۔
    صفحہ ۲۳ پر یہ بھی تحریر ہے کہ حضرت بدھ بھی عالمگیر تعلیمات نہیں لائے۔ اگرچہ ان کی تعلیمات ان کی وفات کے بعد چین میں پھلیں لیکن ان کا اپنا ذہن ہندوستان کی چار دیواری سے باہر کبھی گیا ہی نہیں۔
    آگے چل کر تمدن و تہذیب اور کلچر کی اہمیت کے بارہ میں اسلامی نظریات کو پیش کیاگیا ہے اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے >کیا پہلی کتب میں کوئی ایسا نقص تو نہیں آگیا تھا جس کی وجہ سے ایک نئی کتاب کی ضرورت شدید طور پر دنیا کو محسوس ہورہی تھی اور قرآن کریم اس ضرورت کو پورا کرنے والا تھا۔<
    نئے اور پرانے عہدنامہ میں سے متعدد حوالے پیش کرنے کے بعد اس سوال کا جواب مثبت میں دیاگیا ہے اور واضح کیاگیا ہے کہ اس بات کی واقعی ¶ضرورت تھی >کہ خدا تعالیٰ ایک نئے الہام کو ازل کرتا جو غطلیوں سے منزہ ہوتا اور بنی نوع انسان کو اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ روحانیت کی طرف لے جانے والا ہوتا اور وہ کتاب اور الہام قرآن کریم ہے۔<
    اسی طرح ویدوں کی ظالمانہ تعلیمات` توہمات` تناقض اور خلاف اخلاق تعلیمات پر سیرکن بحث کی گئی ہے تاکہ ان قابل اعتراض تعلیمات کی روشنی میں قرآن کریم جو کہ ان باتوں سے بالا اور منزہ ہے` کی تعلیمات کی اہمیت واضح کی جائے۔
    دوسرے حصے میں جمع القرآن پر بحث کی گئی ہے اور اسلامی تعلیمات کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں ان میں سے بعض ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔
    >قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان کیسا لانا چاہئے۔ اس کی ہستی کے ثبوت کیا ہیں۔ اور وہ اس امر پر زور دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی تاریکی کے وقتوں میں اپنا کلام نازل کرکے اور اپنی غیرمعمولی قدرتوں کو ظاہر کرکے اپنی ہستی کو ثابت کرتا رہتا ہے۔<
    >نجات کیا ہے اور کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ نجات تین قسم کی ہے۔ کامل` ناقص اور ملتوی نجات` کامل نجات انسان اس دنیا سے حاصل کرتا ہے۔<
    >قرآن تعلیم اور دماغی نشوونما پر خاص زور دیتا ہے۔ وہ فکر اور غور کرنے کو مذہبی فرائض میں سے قراردیتا ہے۔ وہ لڑائیوں اور جھگڑوں سے روکتا ہے اور کسی حالت میں بھی حملہ میں ابتداء کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔<
    >قرآن کریم غلامی کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ صرف جنگی قیدیوں کے پکڑنے کی اجازت دیتا ہے مگر اس کے لئے بھی یہ شرط مقرر کرتا ہے کہ ہر قیدی اپنے حصہ کا حرجانہ ادا کرکے آزاد ہونے کا حق رکھتا ہے۔<
    >قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جو انسان کی روح اور اس کی پیدائش کے متعلق مکمل بحث کرتی ہے اس بارہ میں دوسری کتب یا تو خاموش ہیں یا قیاس آرائیوں پر اکتفا کرتی ہیں۔<
    >قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ تمام اشیاء کی علت العلل بھی ہے یعنی تمام کی تمام مفردات اس سے نکلی ہیں اور سب کی سب مخلوق اس کی طرف لوٹتی ہے۔<
    >انسان کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم بتاتا ہے کہ تورات اور انجیل کے دعوئوں کے خلاف انسان کی پیدائش تدریجی طور پر ہوئی ہے۔<
    >انسانی پیدائش سے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس لئے پیدا کیاگیا ہے تا وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرے اور اس کا نمونہ بنے۔<
    اس تمہید کے آخر میں مرزا محمود احمد صاحب نے جماعت احمدیہ کے بانی کی وفات کے بعد ۱۹۰۸ء میں پیدا شدہ اختلافات کا ذکرکیا ہے جن کی وجہ سے جماعت کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا یہاں تک کہ خدا نے انہیں خود مصلح موعود بنایا اور توفیق دی کہ وہ جماعت کے شیرازہ کو دوبارہ قائم کرسکیں اور انہیں دشمنوں پر غلبہ عطا کیا۔ مندرجہ ذیل فقرات قابل غور ہیں۔
    >یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو میرے ذریعہ سے دنیا بھر میں پھیلادیا اور قدم قدم پر خدا تعالیٰ نے میری راہنمائی کی اور بیسیوں مواقع پر اپنے تازہ کلام سے مجھے مشرف فرمایا یہاں تک کہ ایک دن اس نے مجھ پر یہ ظاہر کردیا کہ میں ہی وہ موعود فرزند ہوں جس کی خبر حضرت مسیح موعود نے ۱۸۸۶ء میں میری پیدائش سے پانچ سال پہلے دی تھی۔ اس وقت سے خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد اور بھی زیادہ زور پکڑ گئی۔ اور آج دنیا کے ہر براعظم پر احمدی مشنری اسلام کی لڑائیاں لڑرہے ہیں۔<
    اس کتاب کا بیشتر حصہ عربی اور جرمن تین پر مشتمل ہے۔ عربی جاننے والے احباب کے لئے یہ امر لذت کا باعث ہوگا کہ وہ جرمنی ترجمہ کا اصل عربی تین سے مقابلہ کرسکیں گے۔ اس کتاب کے شروع میں جو یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ یہ ترجمہ ایک قابل اعتماد تمہید پر مشتمل ہے اور علمی طبقہ کے لئے اپنے عربی متن کے ساتھ جس کے وجہ سے اسلامی تعلیمات اور اسلامی دنیا کو جاننے کے لئے ایک نیا دروازہ کھولتا ہے سے ہمیں اس سے کلی اتفاق ہے۔ )ترجمہ(
    )۲( ایک مشہور علمی اور ادبی ماہوار رسالہ POLITIK GEO )اگست ۱۹۵۴ء( میں انڈونیشیا میں مقیم جرمن سفیر HENTIG VON OTTO ۔DR کے قلم سے حسب ذیل تبصرہ شائع ہوا۔
    دوسری جنگ عظیم کے بعد سے قرآن کریم کے مستند جرمن ترجمہ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی رہی ہے۔ جرمنی سے قریبی اور مشرقی وسطی کے ممالک سے دوبارہ تعلقات قائم ہونے کے باعث جرمن عوام میں قرآن کریم کے مطالعہ کا شوق بڑھ رہا ہے۔ احمدیہ جماعت کے زیورک اور ہمبرگ کے مشنوں نے اورینٹل اینڈ ریلیجس پبلشنگ کارپوریشن ربوہ )پاکستان( کی طرف سے ممنونانہ انداز میں قرآن کریم کے مستند جرمن تراجم کی کمی پورا کرنے کی سعی کی ہے۔ قرآن کریم کا یہ ترجمہ صاف ستھرے باریک کاغذ پر ہالینڈ میں چھپا ہے اور اس کے دائیں طرف اصل عربی متن محبت اور پوری احتیاط کے ساتھ ایک ماہر تحریر کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے اور اپنی تحریر کی خوبی کی وجہ سے اس ترجمہ کو کتابی متاع کا موجب بناتا ہے جرمن ترجمہ ہر صفحہ کے بائیں طرف درج کیاگیا ہے۔ ہر سورۃ کے شروع میں سورۃ کا عربی نام اور اسی طرح سورۃ کے نزول کا مقام )مکہ یا مدینہ(۔ آیت کا نمبر اور رکوع درج کیاگیا ہے۔ قرآن کریم کے دو زبانوں کے متنوں )جنہیں ۶۲۹ صفحات میں مکمل کیاگیا ہے( سے پہلے مفصل دیباچہ دو حصوں میں درج کیاگیا ہے۔ اس دیباچہ کے مصنف جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا محمود احمد صاحب ہیں۔ اس دیباچہ کے پہلے حصہ میں قرآنی تعلیمات کا دوسرے بڑے مذاہب عیسائیت` یہودئیت اور ہندو ازم کی تعلیمات سے موازنہ کیاگیا ہے۔ دوسرے حصہ میں جمع القرآن اور اس کے نزول کی تفاصیل کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیمات کی خصوصیات پر بحث کی گئی ہے۔ قرآن کریم کے اس جرمن ترجمہ کے متعلق شائع کرنے والوں نے لکھا ہے کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ ترجمہ بہترین ہے۔ قدامت پسند علماء کی رائے کے مطابق قرآن کریم کا ترجمہ دوسری زبانوں میں محال ہے۔ اس بارہ میں تمام کوششیں تفسیر قراردی جاسکتی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یقیناً اس ترجمہ کے متعلق کہیں کہیں اعتراض کی گنجائش ہوگی لیکن چونکہ اس ترجمہ کو اصل عربی متن کے ساتھ شائع کیاگیا ہے اس لئے اس کے شائع کرنے والوں نے اس احتیاط اور یقین کا سامان بہم پہنچادیا ہے کہ اس کو پڑھنے والے اسلام کی صحیح تصویر حاصل کر سکیں گے۔ قرآن کریم کی مستند اور مشہور علماء کے ہاتھ سے لکھی ہوئی مختلف تفاسیر اس بات کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ قرآن کریم کا ایسا ترجمہ شائع کرنا جو سب کی رائے میں درست ہو کتنا مشکل کام ہے۔ اس ترجمہ کے لئے ایڈیشن کے متعلق اس امر کا اہتمام غالباً مناسب ہوگا کہ ہر سورۃ کا جرمن ترجمہ بھی درج کیا جائے اور مختصر طور پر یہ بھی واضح کیا جائے کہ یہ نام کیوں تجویز کیاگیا ہے۔ جرمن پبلک کے لئے یہ بھی ضروری ہوگا کہ مشکل اور اہم آیات کا مطلب تفصیلی فٹ نوٹ کی صورت میں درج کیا جائے۔ )ترجمہ(
    )۳( مشہور سویس اخبار ZEITUNG> ZURCHER <NEUE نے اپنے ۳۱۔ اگست ۱۹۵۴ء کے ایشوع میں لکھا۔
    گزشتہ کئی سال سے زیورخ میں احمدیہ مسلم مشن کی ایک شاخ قائم ہے۔ جماعت احمدیہ اسلام ہی کا ایک روشن خیال فرقہ ہے جس کا نام اس کے بانی مرزا غلام احمد آف قادیان پنجاب )۱۸۳۵ء۔۱۹۰۸ء( کے نام پر رکھاگیا ہے۔ آپ کا دعویٰ تھا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو الہام الٰہی کے ذریعہ اسلام اور )حضرت( محمد ~)صل۱(~ کی خدمت کے لئے مامور کیا ہے۔ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ رسالت و نبوت کے بھی دعویدار تھے۔ لیکن نبوت کے باوجود آپ کا دعویٰ تھا کہ آپ قرآنی شریعت اور )حضرت( محمد ~)صل۱(~ کے کامل متبع ہیں۔ اور آپ کوئی نیا قانون لے کر نہیں آئے۔ گویا اس طرح وہ اپنے آپ کو صرف >تنبیہہ کرنے والا< سمجھتے رہے جسے نبی پاک کے بروز کامل کے صورت میں قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق مسیح اور مہدی ہوکر آنا تھا اور جس کا کام مادی دنیا میں صرف روحانی بیج بونا تھا۔ آپ نے اپنی پیشگوئی کے ذریعہ اطلاع دی تھی کہ آپ کی جماعت زمین کے کناروں تک پھیلے گی اور آپ کے متبعین کو قرب الٰہی حاصل ہوگا۔
    اس پیغام ربانی کے ساتھ آپ کا ظہور ۱۸۸۰ء میں آپ کے اپنے گائوں میں ہوا اور آپ نے اس وقت ان نشانات و معجزات کا ذکرکیا جن سے آپ کے مشن اور پیشگوئیوں کی صداقت کا اظہار ہوتا تھا ابتدائی مخالفت کے باوجود آپ کی جماعت پھیلتی ہی گئی حتیٰ کہ ہندوستان اور بیرونی مسلم دنیا میں اسکی شاخیں قائم ہوگئیں۔
    ۱۸۸۹ء میں آپ نے جماعت کے خلیفہ )امام( کی حیثیت سے بیعت لینی شروع کی۔ ۱۹۱۴ء میں آپ کے پہلے خلیفہ )حضرت حکیم الامت( مولانا نورالدین )رضی اللہ عنہ( کی وفات پر جماعت میں کچھ اختلافات پیدا ہوگیا اور کچھ لوگ جنہیں بعد میں لاہوری پارٹی کے نام سے موسوم کیاگیا اس وجہ سے الگ ہوگئے کہ وہ حضرت احمد کو نبی ماننا پسند نہ کرتے تھے بلکہ صرف مصلح سمجھتے تھے۔ جماعت قادیان متفقہ طور پر حضرت احمد کے فرزند )حضرت( مرزا محمود احمد کے ہاتھ پر جمع ہوئی اور آپ کو خلیفہ تسلیم کرلیا۔ کہاجاتا ہے کہ آپ کی پیدائش سے قبل ہی خدا تعالیٰ نے آپ کے موعود خلیفہ ہونے کے متعلق خبردے دی تھی۔ آپ ہی کے عہد خلافت میں اسلام کا مشن یورپ میں قائم ہوا جس کا مرکز انگلستان ہے۔ لیکن مشن کا کام فرانس` سپین` ہالینڈ` جرمنی اور کچھ سال سے سوئٹزرلینڈ میں بھی جاری ہے اسی طرح شمال اور جنوبی امریکہ میں بھی جماعت تبلیغ کا کام کررہی ہے۔
    جماعت احمدیہ کے عقائد کی بنیاد اسلام کی معروف تعلیم پر ہے۔ صرف تین امور میں اختلافات پایا جاتا ہے۔
    اول-: یسوع مسیح جو خدا کے نبی اور )حضرت( محمد )مصطفیٰ~صل۱(~ سے قبل بطور ارہاص آئے تھے۔ وہ صلیب پر فوت ہوئے بلکہ ان کی حالت وفات یافتہ شخص کے مشابہ ہوگئی تھی۔ وہ اپنی قبر سے اٹھ کر مشرق کی جانب روانہ ہوگئے تاکہ کشمیر میں اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں )مسیح کی زندگی کے بارہ میں اسی طرح کے اور غلط خیالات بھی ان میں پائے جاتے ہیں(
    آپ نے ۱۲۰ سال کی عمر کے بعد کشمیر میں وفات پائی جہاں سرینگر شہر میں دفن ہوئے اب تک ان کا مقبرہ موجود ہے لیکن غلطی سے اس مقبرہ کو یوز آصف کی طرف منسوب کیاجاتا ہے۔
    دوم-: جہاد یعنی جنگ مقدس کا استعمال منکرین کے استیصال کے لئے ناجائز ہے۔ اسلام کی تبلیغ قرآنی دلائل کی روشنی میں صرف امن وآشتی سے ہی کی جانی چاہئے۔
    سوم-: موعود مہدی حضرت احمد ہیں جو یسوع کے مثیل اور حضرت محمد مصطفیٰ~صل۱~ کے نقش حقیقی ہیں برخلاف عام مسلمانوں کے جو ایسا عقیدہ نہیں رکھتے ہیں۔
    گو جماعت احمدیہ قرآن کریم کی تشریحات کے بارہ میں آزادی کی قائل ہے لیکن ان کا کوئی عقیدہ اسلام کے منافی نہیں۔ مسلمانوں کے عام فرائض نماز` روزہ اور زکٰوہ کے علاوہ جماعت احمدیہ کی طرف سے دین دار اور اخلاق فاضلہ پر خاص زور دیا جاتا ہے اور ہر فرد قوم کے ساتھ پر امن برتائو کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس طور پر جماعت احمدیہ جو اسلام ہی کا ایک فرقہ ہے اور اصلاحی تحریک ہے اپنے آپ کو دلچسپ طریق پر پیش کرتی ہے۔ پرانی رسومات کے خلاف یہ جماعت اسلام کو محض مذہب تک محدود رکھتی ہے اور ان کا یہ استدلال قرآن تعلیم پر مبنی ہے۔
    حکومت برطانیہ نے بھی جماعت احمدیہ کے اس موقف کو تسلیم کیا ہے کہ جماعت ۱۹۰۰ء سے ہی اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف رہی ہے اور انہوں نے سیاسیات ملکی میں حصہ نہ لے کر یہ کام اور لوگوں کے سپرد رکھا ہے۔
    ‏tav.11.5
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    حالیہ ترجمتہ القرآن بھی ان کی تبلیغی کارروائیوں کا ہی ایک اہم حصہ ہے۔ مشہور و معروف مشرقی علوم کی اشاعت کی ذمہ دار فرم HARRASSONSITZ OTTO نے جو پہلے پہل LEIPZIG میں قائم ہوئی تھی اس کتاب کو خوبصورتی اور نفاست کا لباس پہنایا ہے۔ یہ ترجمہ جو عربی متن کے ساتھ ہے انڈکس` مبسوط دیباچہ اور تشریح الفاظ کے ساتھ رکسون کی لچک دار جلد میں خوبصورت طباعت کے ساتھ اور باریک کاغذ پر شائع کیاگیا ہے اور اپنی تمام خصوصیات کے باوجود نہایت تھوڑی قیمت پر میسر آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پہلا جامع ترجمہ ہے جو مسلمانوں کے زعم میں یورپین اقوام کے سامنے محمد~)صل۱(~ کی تعلیم پیش کرتا ہے۔ اگرچہ عربی زبان کے اسلوب ومحاورات کو جانچنے اور اس کی جزئیات پر نظر رکھنے کے قابل وہی شخص ہوسکتا ہے جس کی تربیت اسلامی ماحول میں ہوئی ہو دراصل یہ ترجمہ بھی پرانے تراجم سے کوئی خاص اختلافات نہیں رکھتا اور جہاں کہیں تھوڑا بہت اختلافات بھی ہے اسے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں۔ سورۃ فاتحہ کے مطالعہ کے وقت بھی کوئی خاص فرق معلوم کرنا مشکل ہے۔
    جہاں نئے ترجمہ کا ہر لحاظ سے خیر مقدم کیاگیا ہے وہاں ۱۶۰ صفحات پر مشتمل دیباچہ جسے مرزا محمود احمد )خلیفہ ثانی( نے تصنیف کیا ہے ایسے تبلیغی پراپیگنڈا پر مبنی ہے جس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ ناشرین کو واقعی اس کا حق پہنچتا ہے۔ لیکن کیا ہم بھی اس پروپیگنڈا کو جانچنے اور اس پر تنقید کرنے کا حق رکھتے ہیں؟
    دیباچہ کا دوسرا حصہ مجمل طور پر قرآن تعلیمات کو پیش کرتا ہے جو یسوع مسیح کی مخصوص تعلیم سے ٹکراتی ہیں۔ پہلے حصہ میں بتایاگیا ہے کہ پرانی کتب مقدسہ کے ہوتے ہوئے نئی کتاب۔ قرآن مجید کی کیا ضرورت تھی۔ پرانے مذاہب کا اختلاف اور اس بات کا متقاضی تھا کہ کوئی نیا مذہب ان کی جگہ لے جس کا دائرہ عمل تمام اقوام عالم ہوں کیونکہ بائبل اور انجیل کے خدا خاص خاص اقوام کے قومی خدا تھے۔ حتیٰ کہ جب مسیح بپتسمہ دینے کے لئے اقوام کا ذکر کرتے تو ان کا مطلب بنی اسرائیل کے قبائل ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح ویدوں` زرتشت اور کنفیوشس کا حلقہ` عمل خاص اقوام تک محدود رہا صرف اسلام ہی توحید الٰہی کا معلم ہے اور اس کا پیغام ساری دنیا کے لئے ہے۔ پہلی کتب میں بہت سی خامیاں ہیں۔ اس کے علاوہ یہ متضاد امور سے بھرپور ہیں۔ خالص الٰہی الفاظ متن میں قائم نہیں رہے۔
    ان کی تعلیم وحشیانہ` غیرمعقول اور غلط فلسفہ الٰہیات پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایک کامل و مکمل کتاب کی ضرورت پیش آئی جو قرآن مجید کے وجود سے پوری ہوئی۔ باقی تمام مذاہب مکمل اور آخری مذہب ہونے کے دعویدار نہیں ہیں بلکہ ان سب میں ایک موعود نبی کی خبر موجود ہے جو )حضرت( محمد~)صل۱(~ ہیں جن کے ذریعہ آخری فتح اسلام کے حق میں مقدر ہوچکی ہے۔
    تاریخ کے یہ اوراق خواہ کتنے ہی حیران کن ہوں لیکن یہ تصویر کس طور پر سامنے آئی؟ اس بارہ میں یہ کہنا ضروری ہے کہ )حضرت( مرزا احمد )علیہ السلام( ان معاملات کو ناموزوں پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ وہ اپنے خیال میں اگر کوئی معمولی سی خامی ان کتب میں دیکھتے ہیں جو مقابلہ کے وقت انہیں نظرآتی ہے اس کے متعلق وہ یک طرفہ نظریہ قائم کرلیتے ہیں اور اکثر اوقات ان کا فیصلہ معمولی اور نامناسب طریق پر ہوتا ہے۔
    واقعت¶ہ یہ امر صداقت پر مبنی نہیں کہ عہدنامہ عتیق جس کو جمع کرنے پر ایک ہزار برس لگے متضاد امور پر مشتمل اور عہدنامہ جدید میں بہت سے اور لوگوں کے کلام کو دخل ہے۔ ہر وہ بات جس سے قومی حدبندی کی تنقیض ہوتی ہے اس سے احتراز کیاگیا ہے۔ مثلاً یسعیاہ ۲۔۵/۲ یا ملاقی ۱:۱۱ یا اس کی غلط تعبیریں کی گئی ہیں۔ مثلاً متی ۲۸:۱۹۔
    دوسری طرف فریضئہ جہاد پر خاموشی اختیار کی گئی ہے جس کے ذریعہ اسلام کو محمد رسول اللہ~صل۱~ کی شروع مدنی زندگی سے ہی بزور شمشیر پھیلایاگیا۔ اسلام کے اس اہم مسئلہ میں بڑی آسانی سے اصلاح کردی گئی ہے۔ مزید یہ زور دیاگیا ہے کہ بنی اسرائیل کے لئے جادوگری کے مرتکب کو جو موت کی سزا کا حکم توریت نے دیا ہے )خروج ۱۸:۲۲( یہ وحشت وبربریت پر مبنی ہے کیونکہ حقیقی جادوگر کبھی صفحہ ہستی پر ظاہر نہیں ہوئے۔ البتہ توریت کی اس تعزیر کا اطلاق ان فن کاروں پر ہوتا ہے جو اپنی شعبدہ بازیوں سے لوگوں کے لئے سامان تفریح بہم پہنچاتے ہیں۔
    لیکن آخری دنوں سورتوں کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ خود )حضرت( محمد سحرکاری یا اس سے ملتی جلتی کسی شے کے وجود کو تسلیم کرتے رہے ہیں۔
    عہدنامہ جدید کے پیرے۔ متی ۱۲:۴۷ اور یوحنا ۲:۳ پر سخت نقطہ چینی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس میں ماں کی عزت کو برقرار نہیں رکھاگیا لیکن حقوق نسواں سے متعلق قرآنی دلائل )صفحہ ۱۳۴( چوتھی سورت کے ہوتے ہوئے بہت کم سچائی پر مبنی نظرآتے ہیں۔
    اس طرح نہ صرف اسلام بلکہ قرآن کی ایک معیاری اور خوبصورت تصویر کو پیش کیاگیا ہے اور سارے قرآن کو ایسے ربط باہمی سے منسلک قراردیاگیا ہے جس سے )پڑھنے والے کو( مکی اور مدنی زندگی میں نازل ہونے والی سورتوں میں کوئی اختلاف نظرنہیں آسکتا۔ نہ اسے ان اہم مقامات کا پتہ لگ سکتاہے جہاں موضوع سے ہٹ کر نیا موضوع چھیڑاگیا ہے۔ نہ قاری کو ان دلچسپ تبدیلیوں پر آگاہی ہوسکتی ہے جو محمد ~)صل۱(~ کے خیالات میں وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی رہی ہیں۔ مثلاً دوسرے حصہ میں توحید الٰہی پر بہت زور دیاگیا ہے اور الحاد پر سخت حملے کئے گئے ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف سخت رویہ روا رکھا گیا ہے لیکن جہاں فردوس کی نعماء کا ذکر کرتے وقت صرف وفادار بیویوں کو نہ کہ سیاہ چشم حوروں کو مجاہدین شہداء کا منتظر دکھایا گیاہے۔ اگرچہ محمد~)صل۱(~ کو جو >جھوٹے نبی کے نام سے پکارا جاتا رہا ہے۔ اس کی کتنی ہی پر زور تردید کیوں نہ کی جائے۔ جیسا کہ بیل )ELAB(]ydob [tag کا پادری ہر اتوار کو بلاناغہ پرانے طریق کے مطابق اپنے منبر سے یہ آواز اٹھاتا ہے کہ جھوٹے محمد کے قلعوں کو مسمار کردو۔< تب بھی عہدنامہ عتیق کے نبیوں اور )حضرت( محمد ~)صل۱(~ کا موازنہ ان کے )حضرت محمد مصطفیٰ~صل۱(~ کے حق میں بہت غیر مفید ثابت ہوتا ہے سوائے اس کے کہ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ جو باتیں محمد رسول اللہ ~)صل۱(~ کی زندگی میں منصہ شہود پر آگئی تھیں ان کے حصول کے لئے یہودیت اور عیسوئیت کو صدیوں کی مساعی کرنی پڑیں اور وہ بھی مختلف طریق عمل پر۔
    اس حقیقت سے بھی انکار مشکل ہے کہ محمد رسول اللہ ~)صل۱(~ مکی زندگی میں بلاشبہ نبی تھے۔ ان کا سراپا ان کے مشن میں محوتھا اور انہوں نے دیانتدار مصلح یا ریفارمر کی زندگی بسر کی لیکن جونہی آپ مدینہ میں منتقل ہوئے آپ میں وہ تمام صلاحیتیں نظر آنے لگیں جو ایک کہنہ مشق سیاستدان میں ہونی چاہئیں۔ جو اپنے مقصد کے حصول کے لئے کیا کچھ نہیں کر گزرتے۔ وہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے ایسی وحی کے بھی مدعی ہیں جن میں ان کے ذاتی مراعات کا جواز یا ذکر ہے اور ان مراعات کا دائرہ کسی حد تک اخلاقیات پر بھی حاوی ہے۔ اسی طرح طرح سورۃ ۳۳:۴۹ جس میں آپ کے لئے ازواج کی تعداد کا ذکر ہے یا جب آپ کی نظر خوبصورت زینب پر جاپڑی جو آپ کے متبنیٰ کی بیوی تھی۔ آپ کی خواہش تھی کہ زید کے عقد سے آزاد ہونے کے بعد اس سے شادی کرلیں تو ایک >وحی< کے ذریعہ تمام شک و مخالفت کو دبادیاگیا )۳۶۔۳۸/۳۳( اسی طرح سورۃ نمبر۶۶ میں ذکر ہے کہ فرشتئہ وحی آپ کو رنج واندوہ کے پنجوں سے آزاد کرانے کے لئے حرم نبویﷺ~ میں بھی اترا کرتا تھا۔
    >بائبل اور قرآن )کریم( کی اصلیت کا موازنہ اور ان پر بحث کرتے ہوئے بھی جدا جدا پیمانے استعمال کئے گئے ہیں۔<
    )۴( آسٹریا کے موقر جریدہ UNDLITURGIE BIBLE نے اپنی اشاعت اگست و ستمبر ۱۹۵۴ء میں قرآن کریم کے جرمن پر درج ذیل الفاظ میں ریویو شائع کیا۔
    >قرآن کریم کا نیا شائع کردہ ترجمہ عربی زبان اور اس کے لٹریچر کو سمجھنے میں کافی مدد دینے کا موجب ہوگا۔ آسٹریا میں الٰہیات اور مشرقی علوم کے طالب علموں کو جو عربی میں ڈاکٹری کے امتحان میں شامل ہورہے ہیں ادب عربی میں مہارت پیدا کرنے کے لئے اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔<
    )۵( زیورخ کے بااثر اخبار BLATT BUCHER DAS نے اپنی ۲۴۔ ¶ستمبر ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں لکھا۔
    >۸۰۳ صفحات پر مشتمل خوبصورت رکسون کی جلد میں قرآن کریم کا ترجمہ عربی زبان سے جرمن زبان میں احمدیہ مسلم مشن زیورخ کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے۔ اصل کتاب کے ساتھ الفاظ کی تشریح اور انڈکس کے علاوہ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب )خلیفہ المسیح الثانی( کے قلم سے ایک مبسوط دیباچہ بھی شامل ہے۔
    گزشتہ کئی سال سے سوئٹزرلینڈ میں احمدیہ مسلم مشن قائم ہے جس کا صدر مقام زیورخ میں ہے عربی اور جرمنی زبان کے حالیہ ترجمے کی اشاعت کا سہرا اسی مشن کے سرہے۔ اصل کتاب سے پہلے تقریباً ڈیڑھ صد صفحات پر مشتمل ایک لمبا دیباچہ شامل ہے جس کے فاضل مصنف کا ذکر اوپر آچکا ہے جو مسیح موعود کے دوسرے خلیفہ اور جماعت احمدیہ کے موجودہ امام ہیں۔ مسلمان اس بات کے دعویدار ہیں کہ اسلام کے ظہور کا مقصد یہودیت و عیسوئیت کا استیصال ہے اور ان کا یہی دعویٰ نیم مخاصمت کی وجہ ہے۔ عربی متن اور اس کے ترجمہ کے بارہ میں علمی حلقوں سے تنقید کی آوازیں سنی گئی ہیں لیکن ان کا ذکر اس موقع پر بے جا ہوگا۔ ہم اس ترجمہ کی اشاعت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ HENNING نے جو ترجمہ REKLAME, YTIUNIVERS کی لائبریری کے لئے کیا تھا وہ بھی چونکہ اب نایاب ہے اس لئے بھی یہ ترجمہ ان لوگوں کی ضرورت پورا کرنے کا موجب ہے جو اسلام کا اصل چہرہ اور اس کی روح ان کی کتاب مقدس سے دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ )ترجمہ(
    )۶( اخبار STUTLTGUST> BESINNUNG ARDERTUND <FIER نے یکم فروری ۱۹۵۵ء کو ایک طویل تبصرہ سپرد قلم کیا جس کا ملخص درج ذیل کیاجاتا ہے۔
    انیسیویں صدی میں اشاعت اسلام کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کی مساعی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس جماعت نے حال ہی میں قرآن کریم کا ترجمہ جرمن زبان میں شائع کیا ہے۔ یہ ترجمہ پہلا نہیں بلکہ اس کی خوبی یہ ہے کہ اسے ایک اسلامی جماعت نے خود اپنے زیر اہتمام شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے اور جرمن ترجمہ کے ساتھ عربی متن بھی دیاگیا ہے۔ احمدیہ جماعت کی بنیاد )حضرت( مرزا غلام احمد صاحب )علیہ الصلٰوۃ والسلام( نے ۱۸۸۰ء میں رکھی جو ۱۸۳۵ء میں قادیان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ حضرت نبی کریم~صل۱~ کی پیشگوئی کے مطابق چودھویں صدی کے سر پر بطور مسیح اور مہدی ظاہر ہوئے ہیں وہ ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے اور ۱۹۱۴ء سے حضرت مرزا بشیراحمد محمود صاحب جماعت کے دوسرے خلیفہ اور امام ہیں۔ اس ترجمہ قرآن کریم کا دیباچہ انہی کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ اس دیباچہ میں اس بات پرزور دیاگیا ہے کہ اسلام سے پہلے مذاہب وقتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے آئے تھے لیکن حضرت نبی کریمﷺ~ اور اسلام کے ذریعہ مذہب کی تکمیل ہوئی۔ مثال کے طور پر حضرت مسیح صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو اکٹھا کرنے آئے تھے۔ گو ان کے حواریوں نے بعد میں دوسروں کو تبلیغ کرنی بھی شروع کی لیکن حضرت مسیح کا یہ مشن نہ تھا کیونکہ متی ۲۳۔۱۰ میں صاف لکھا ہے۔
    >میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم اسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر چکو گے جب تک کہ ابن آدم نہ آئے گا۔<
    پس نبی کریم~صل۱~ اور قرآن کے ذریعہ اسلام سے پہلے قائم شدہ مذاہب کے اختلافات کو دور کیاگیا جو وقتی اور قومی تعلیموں کی وجہ سے پیدا ہوگئے تھے۔ پس گزشتہ مذاہب کا اختلاف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ دنیا کو متحد کرنے والی آخری تعلیم کے رستہ میں روک نہیں بلکہ ان کا وجود ہی ایک ایسی عالمگیر اور کامل تعلیم کا متقاضی ہے۔
    عہدنامہ قدیم انسانی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اس میں تناقضات اور اختلافات موجود ہیں اور اس میں مصنف نے اپنے خیالات کو بھی درج کردیا ہے۔ پھر عہدنامہ قدیم میں ظالمانہ احکام موجود ہیں۔ غلاموں کے لئے سخت اور انسان سوز احکام درج ہیں۔ چنانچہ خروج ۲۰۔۲۱/۲۱ میں لکھا ہے۔
    >اگر کوئی اپنے غلام یا لونڈی کو لاٹھیاں مارے اور وہ مار کھاتی ہوئی مرجائے تو اسے سزا دی جائے لیکن اگر وہ ایک دن یا دو دن جئے تو اسے سزا دی جائے اس لئے کہ وہ اس کا مال ہے۔<
    اس تعلیم میں غلاموں کے لئے کتنی سختی ہے۔ پھر بائبل میں خلاف عقل تعلیم بھی موجود ہے۔ چنانچہ احبار باب ۲۰ آیت ۲۷ میں لکھا ہے۔
    >مرد یا عورت جس میں جن ہو یا وہ جادوگر ہو تو وہ قتل کئے جادیں چاہئے کہ تم ان پر پتھرائو کرو اور ان کا خون انہیں پر ہووے۔<
    یہ کیسی تعلیم ہے۔ یہ سب اختلافات ظالمانہ اور خلاف عقل تعلیمات قرآن کریم کی ضرورت پر دلالت کرتی ہیں۔ عہدنامہ جدید یعنی اناجیل مسیح کے اقوال پر مشتمل نہیں کیونکہ مسیح اور ان کے حواری یہودی النسل تھے اس لئے اگر مسیح کا کوئی قول محفوظ ہوسکتا ہے تو عبرانی زبان میں لیکن انجیل کا کوئی نسخہ عبرانی زبان میں محفوظ نہیں بلکہ تمام اناجیل یونانی زبان میں ہیں۔ اناجیل کے اندر بھی اختلافات اور توہمات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ مثلاً مرقس ۱۲۔۱۳/۱ میں لکھا ہے۔
    >اور روح اسے فی الفور بیابان میں لے گئی اور وہ وہاں بیابان میں چالیس دن تک رہ کر شیطان سے آزمایا گیا اور جنگل کے جانوروں کے ساتھ رہتا تھا اور فرشتے اس کی خدمت کرتے تھے۔<
    وہ انسان جو حضرت مسیح کی عظمت اور ان کے مقام کا قائل ہے اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہے کہ یہ مقامات اناجیل میں بعد میں داخل کئے گئے ہیں۔ پھر مسیح نے اناجیل میں اپنے نہ ماننے والوں کے خلاف جو سخت الفاظ استعمال کئے ہیں مثلاً انہیں سور اور کتے قراردیا اور اپنی والدہ کا بھی لحاظ نہیں کیا اور اس کی بے ادبی کی۔ یہ سب امور ہماری رائے میں بعد کے آنے والے لوگوں نے ایجاد کئے ہیں جبکہ مسیح اس دنیا سے جاچکے تھے اور ایک مصنوعی اور خیالی مسیح اس زمانہ کے نادان اور دین سے ناواقف لوگ بنارہے تھے۔ ان سب امور کے پیش نظر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نئے الہام کی ضرورت تھی جو اس قسم کی غلطیوں سے پاک ہو اور بنی نوع انسان کو اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ روحانیت کی طرف لے جائے اور وہ کتاب قرآن مجید ہے۔ قرآن کریم ایک مکمل اور عالمگیر شریعت ہے جو کامل نبی ~)صل۱(~ کے وجود باجود سے معرض وجود میں آئی۔
    بائبل میں حضرت نبی کریم~صل۱~ کی آمد کے بارہ میں متعدد پیشگوئیاں بھی موجود ہیں۔ مثلاً خدا تعالیٰ کے حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے وعدے جس طرح حضرت موسیٰ کے ذریعہ پورے ہوئے۔ اسی طرح حضرت اسمعیلؑ کی نسل سے جو وعدے تھے وہ آنحضرت~صل۱~ کے وجود سے پورے ہوئے۔ اس طرح یسعیاہ اور دانیال کی پیشگوئیوں کے مصداق آنحضرت~صل۱~ ہیں اور استشناء ۱۶۔۲۰/۱۸ کی پیشگوئی نبی کریم~صل۱~ کے وجود میں نہ کہ مسیح کے وجود میں پوری ہوئی کیونکہ اس پیشگوئی کے مطابق آنحضرت~صل۱~ ایک نئی شریعت کے حامل ہیں اور مسیح کو کوئی شریعت نہیں دی گئی۔ اور پھر اس پیشگوئی کے مطابق آنحضرت~صل۱~ کو مکمل تعلیم دی گئی۔
    اسی طرح متی ۳۳۔۴۶/۲۱ کی پیشگوئی کے مصداق آنحضرت~صل۱~ ہیں۔ آخر وہ کون تھا جس سے عیسائیت اور یہودیت ٹکرائی اور پاش پاش ہوگئی۔ یہ سب امور دیباچہ میں بیان کئے گئے ہیں۔
    قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو ۲۳ سال کے عرصہ میں آنحضرت~صل۱~ پر نازل ہوا۔ حضرت مسیح خدا کے بیٹے نہیں بلکہ دیگر انبیاء کی طرح ایک نبی تھے اور وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔ اسلام اور قرآن کے ذریعہ ہی دین وایمان کی تکمیل ہوسکتی ہے۔
    عیسائی دنیا اس سوال کا جواب کیا دے گی کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اور نبی کریمﷺ~ کے ذریعہ دین کی تکمیل ہوئی۔ امام جماعت احمدیہ اس دیباچہ میں عیسائی دنیا کو مندرجہ ذیل الفاظ میں چیلنج کرتے ہیں۔
    >اگر مسیحی پوپ یا اپنے آرچ بشپوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ میرے مقابل پر اپنے پر نازل ہونے والا تازہ کلام پیش کریں جو خدا تعالیٰ کی قدرت اور علم غیب پر مشتمل ہو تو دنیا کو سچائی کے معلوم کرنے میں کس قدر سہولت ہوجائے گی۔<
    امام جماعت احمدیہ اپنے آپ کو مصلح موعود قرار دیتے ہیں جن کی پیدائش کی خبر حضرت مسیح موعود نے ان کی پیدائش سے پانچ سال قبل ۱۸۸۶ء میں دی تھی۔ وہ اپنے الہامات کو اسلام اور قرآن کی صداقت کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ قرآن کے نئے علوم ان پر کھولے گئے ہیں اور دوسرے مسلمان جماعت احمدیہ کی مخالفت پر کمربستہ ہیں۔ افغانستان میں ۱۹۲۴ء میں دو احمدیوں کو شہید کیاگیا جماعت احمدیہ جہاد کی تعریف دوسرے مسلمانوں کی طرح یہ نہیں کرتی کہ آنے والا مسیح اور مہدی کافروں کا تلوار سے قلع قمع کرے گا۔ ان کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ صلیب سے زندہ اترے اور پھر مرہم عیسیٰ کے ذریعہ سے شفاء پائی اور بعد میں کشمیر گئے اور سرینگر میں فوت ہوئے۔ یہ بات غلط ہے کہ قرآن کریم معجزات کا قائل نہیں بلکہ قرآن کریم پورے یقین کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔ اور امام جماعت احمدیہ نے دیگر امور کے علاوہ نبی کریم کی پیشگوئیاں کو بھی معجزات قراردیا ہے۔ ہاں قرآن کریم اس قسم کی جاہلانہ باتیں نہیں کہتا کہ محمد رسول اللہ حقیقی مردے زندہ کیاکرتے تھے یا سورج اور چاند کی رفتار کو ٹھہرادیا کرتے تھے یا پہاڑوں کو چلایا کرتے تھے` یہ تو بچوں کی کہانیاں ہیں۔ ان باتوں کو قرآن کریم نہ محمد رسول اللہ~صل۱~ کی طرف منسوب کرتا ہے اور نہ کسی اور نبی کی طرف بلکہ اگر پہلی کتب میں اس قسم کی باتیں استعمال ہوئی ہیں تو قرآن کریم ان کی تشریح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ باتیں محض استعارۃ استعمال ہوئی ہیں اور لوگوں نے انہیں حقیقی رنگ دینے میں غلطی کی ہے۔ مسیح کی الوہیت اور ان کی طرف خدائی قوتوں کو منسوب کرنے کا بھی جماعت احمدیہ نے رد کیا ہے۔ جماعت احمدیہ اس بات کو بھی پیش کرتی ہے کہ حضرت نبی کریم~صل۱~ نے اپنے دائرہ رسالت میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی تعلیمات کے برعکس تمام دنیا کو مدنظر رکھا۔ ان کی تعلیمات میں حضرت موسیٰ کی تعلیمات اور حضرت عیسیٰ کی نرمی اور بردباری اور محبت کی تعلیمات کامل طور پر موجود ہیں۔ وہ دشمنوں سے صلح کرنے اور اہلی زندگی کے لئے بالخصوص عالمگیر اور کامل مثال ہیں۔
    )حضرت( مسیح موعود نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ انہوں نے قرآنی مسیح )حضرت عیسیٰ علیہ السلام( کے خلاف کبھی نہیں لکھا کیونکہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی تھے بلکہ جہاں جہاں انہوں نے مسیح پر حملے کئے ہیں وہاں انجیل کے مسیح پر انجیل کی تعلیمات کے مطابق الزامات لگائے ہیں جسے وہ دنیا کا نجات دہندہ اور خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ اگر نجات مسیح کے دامن سے ہی وابستہ ہے تو پھر اس بات کا کیا جواب ہے کہ جو انبیاء اور راست باز لوگ مسیح سے پہلے گزرے ان کی نجات کیسے ہوئی جبکہ مسیح پر ایمان نہیں لائے تھے۔
    اسلام اب عیسائیت کے خلاف زور سے حملہ آور ہے اور احمدیت کے مرکز میں یہ پروپیگنڈا پورے زور سے جاری ہے۔ اور یہ امر عیسائی دنیا کی آنکھوں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ )ترجمہ(
    )۷( ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب ماضی مینجر مدارس دینیہ مصر نے جرمن ترجمہ قرآن کے متعلق مندرجہ ذیل رائے تحریر کی۔
    >اماالترجمہ نفسھا فقد اختبرتھا فی مواضع مختلفہ وفی کثیر من الایات فی مختلف السور فوجدتھا من خیرالترجمات التی ظھرت للقران الکریم فی اسلوب دقیق محتاط ومحاولہ بارعہ لاداء المعنی الذی یدل علیہ التعبیرالعربی المنزل لایات القران الکریم۔<۱۷۴
    یعنی جہاں تک ترجمہ کا تعلق ہے میں نے مختلف مقامات اور مختلف سورتوں کی بہت سی آیات کا ترجمہ بنظر غائر دیکھا ہے۔ میں نے اس ترجمہ کو قرآن مجید کے جملہ تراجم سے جو اس وقت منصئہ شہود پر آچکے ہیں بہترین پایا ہے۔ اس ترجمہ کا اسلوب نہایت محتاط علمی رنگ لئے ہوئے ہے۔ باریک بینی کو مدنظر رکھا گیا ہے اور معانی قرآن کی ادائیگی میں انتہائی علمی قابلیت کا اظہار کیاگیا ہے تاکہ عربی میں نازل شدہ قرآنی آیات کی کما حقہ ترجمانی ہوسکے۔۱۷۵
    حضرت سیدنا المصلح الموعود کا زیورچ میں ورودمسعود
    سوئٹزرلینڈ کو اپنی زندگی کے نویں سال یہ دائمی فخر نصیب ہوا کہ حضرت سیدنا المصلح الموعود جب دوسری بار یورپ تشریف لے گئے تو حضور زیورچ )سوئٹزرلینڈ( میں بھی ۹۔ ماہ ہجرت/مئی سے ۱۰ ماہ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء تک جلواہ افروز ہے۔ حضور کی رہائش سے متعلق جملہ انتظامات کی سعادت شیخ ناصر احمد صاحب کے حصہ میں آئی جس پر حضور نے درج ذیل الفاظ میں بذریعہ تار اظہار خوشنودی فرمایا کہ-:
    >ہم خدا کے فضل سے اہل وعیال کے ساتھ بخیریت پہنچ گئے ہیں۔ جنیوا سے آگے تمام انتظامات شیخ ناصر احمد )مبلغ سلسلہ( نے کئے تھے جو کہ بہت عمدہ تھے۔ شروع میں تازہ روغن ہونے کی وجہ سے کچھ تکلیف ہوئی لیکن چند گھنٹے کے بعد یہ تکلیف رفع ہوگئی۔<۱۷۶
    سیدنا المصلح الموعود کا سوئٹزرلینڈ میں ورودمسعود ڈاکٹر پروفیسر روسیو کی نگرانی میں معائنہ اور علاج کی غرض سے تھا۔۱۷۷ اور حضور نے نہ صرف ان سے طبی مشورہ لیا بلکہ زیورچ میں ڈاکٹر پروفیسر روزئیر` ہومیوپتھ ڈاکٹر گیزل اور مشہور معالج ڈاکٹر BOSIO)۔(DR سے اور جنیوا میں ہومیوپتھ ڈاکٹر شمڈٹ SCHMIDT) ۔(DR سے مشورہ فرمایا۔ تمام طبی ٹسٹ مکمل ہوچکے تو ڈاکٹر بوسیو نے ۲۳ مئی ۱۹۵۵ء کو طبی رپورٹوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنی تشخیص بتائی۔ چنانچہ حضور انور نے اسی روز حسب ذیل خصوصی پیغام بذریعہ تاراسال فرمایا۔
    >خدا کا شکر ہے کہ تمام طبی ٹسٹ مکمل ہوگئے ہیں اور بیماری متعین کرلی گئی ہے۔ مشہور معالج ڈاکٹر بوسیو BOSIO) ۔(DR نے رپورٹوں کا مطالعہ کرنے کے بعد آج اپنی تشخیص سے مطلع کردیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خون اور شریانیں اور باقی ہر چیز معمول کے مطابق پائی گئی ہے لیکن یہ کہ مجھے بہت زیادہ آرام کرنا چاہئے اور اگر ممکن ہوسکے تو مجھے یہاں کچھ زیادہ عرصہ قیام کرنا چاہئے۔ پھر یہ کہ میری تصویریں زیادہ مختصر ہونی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال حملے کے نتیجے میں جو زخم لگا تھا وہ خطرناک تھا۔ اور یہ کہ سرجن کی رائے درست نہیں تھی` ایکسرے فوٹو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چاقو کی نوک گردن میں ٹوٹ گئی تھی جو اب بھی اندر ہی موجود ہے اور ریڑھ کی ہڈی )سپائینل کارڈ( کے قریب ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ جن خطرناک معائنوں سے بچنے کی کوشش کی جارہی تھی اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔4]< f[st۱۷۸
    زیورچ میں حضرت مصلح موعود کی نہایت اہم دینی مصروفیات
    طبی تشخیص کے بعد حضرت سیدنا المصلح الموعود زیورچ میں مزید ڈھائی ہفتے رونق افروز ہے۔ اگرچہ قبل ازیں بھی حضور کی دینی مصروفیات برابر جاری رہیں چنانچہ حضور مرکزی ڈاک ملا خطہ فرمانے اور یورپ میں تبلیغ اسلام کو کامیاب طور پر وسیع کرنے کی سکیم تیار کرنے میں شب و روز منہمک رہے نیز لندن میں یورپ اور امریکہ کے مبلغین کی تبلیغی کانفرنس بلوانے کا فیصلہ سوئٹزرلینڈ ہی میں فرمایا۱۷۹]4 [rtf لیکن قیام زیورچ کے آخری ایام میں حضور کی دینی مصروفیات یکایک بڑھ گئیں اور اہل سوئٹزرلینڈ کو عموماً اور سویس احمدیوں کی خصوصاً اپنے مقدس و محبوب آقا کی مبارک و روح پر ورمجالس سے فیضیاب ہونے اور حضور کے روح پر ور کلمات وارشادات سننے کے ایسے ایسے قیمتی مواقع میسر آئے جو ہمیشہ کے لئے اس سرزمین کے فرزندوں کے لئے سرمایہ افتخار رہیں گے۔ اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود کی دینی سرگرمیوں کا مختصر اور تاریخ وار خاکہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    ۲۴۔ ہجرت )مئی( حضور نے عیدالفطر کی تقریب پر جماعت کے نام یہ پیغام دیا کہ
    >ایک دوست نے لکھا ہے کہ آپ عید پر کوئی پیغام دیں چنانچہ میں یہ پیغام بھجواتا ہوں اللہ تعالیٰ ہمارے دوستوں کے روزے قبول فرمائے اور عید ان کے لئے بہت بہت مبارک کرے۔<۱۸۰
    ۳۔ احسان )جون( آج حضور نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔۱۸۱
    ۴۔ احسان )جون( آج حضرت اقدس زیورچ کے احمدیہ مشن میں تشریف لائے اور معائنے کے بعد اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا کہ
    >خدا تعالیٰ سوئٹزرلینڈ کے باشندوں کی اپنے دین کی طرف رہنمائی فرمائے اور ان کا حامی و ناصر ہو۔<۱۸۲
    ۵۔ احسان )جون( آج حضور کی طبیعت نسبتاً بہتر رہی۔ حضور نے آج سوئٹزرلینڈ کے احمدی احباب کو بیلوائر پارک PARK) (BELVOIR میں چائے پر مدعو کیا۔ اس موقع پر حضور نے احباب سے خطاب کرتے ہوئے۔ اس تقریب کو باپ اور بیٹوں کی ملاقات سے تعبیر فرمایا۔ سوئٹزرلینڈ کے احمدی احباب نے اپنے آقا اور روحانی باپ کو اپنے درمیان رونق افروز پاکر بے حد خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔۱۸۳]4 [rtf
    ۵۔ احسان )جون( حضور نے آج چائے پارٹی کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے احمدی احباب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا! اے میرے روحانی بچو میں تم سے مل کر بہت خوش ہوا ہوں۔ بیشک سوئٹزرلینڈ ایک چھوٹا ساملک ہے لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر عمل کروگے تو بڑے بڑے ملک بھی تم پر رشک کریں گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والی عزت عطا کرے گا۔ حضور نے انگریزی زبان میں خطاب فرمایا اور شیخ ناصراحمد صاحب )مبلغ سوئٹزرلینڈ( کو جرمن زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔۱۸۴
    ۸۔ احسان )جون( آج سوئس ٹیلیویژن کے ذریعہ حضور انور کا انٹرویو نشر ہوا۔ حضور نے یہ انٹرویو انگریزی زبان میں دیا جس کا ترجمہ مکرم شیخ ناصراحمد صاحب ہی نے جرمن زبان میں کرکے سنایا۔ حضور نے سفر یورپ کی غرض` رمضان المبارک کی اہمیت` جماعت احمدیہ کی تبلیغی جدوجہد اور اس کی ضرورت سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ یوگوسلاویہ کا ایک باشندہ حضور کے دست مبارک پر بیعت کرکے داخل احمدیت ہوا۔۱۸۵ آج شب کو حضور کا ایک انٹرویو بھی سوئس ٹیلیویژن کے ذریعہ نشر ہوا اور اس ملک کے خوش نصیب باشندوں نے خدا کے مقدس مصلح موعود کا پر انوار اور مقدس چہرہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور حضور کو اسلام کے حقیقی تصور اور اس کی اہمیت پر گفتگو فرماتے ہوئے سنا۔۱۸۶
    ۱۰۔ احسان )جون( آج حضور نے نماز جمعہ پڑھائی۔۱۸۷
    حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود تیس دن تک سوئٹزرلینڈ کی سرزمین کو اپنے مقدس وجود سے برکت عطا کرنے اور اس کو باشندوں کو نور اسلام سے منور کرنے کے بعد ۱۰۔ احسان )جون( کو ڈھائی بجے بعد دوپہر زیورچ سے جنوبی سوئٹزرلینڈ کے مقام لوگانو (LOGANO) تشریف لے گئے جہاں سے روانہ ہوکر ۱۱۔ احسان )جون( کو اٹلی کی مشہور بندرگاہ وینس میں پہنچے ۱۸۸ اور سوئٹزرلینڈ کی اسلامی تاریخ کا ایک زریں ورق الٹ گیا۔
    رومن کیتھولک کے یورپ کو تبلیغ اسلام
    جون بست وسوم XXIII) JOHN (POPE کا انتخاب ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء کے آخر میں عیسائیوں کے رومن کیتھولک فرقے کے نئے یورپ کی حیثیت سے ہوا تو محترم شیخ ناصراحمد صاحب )مبلغ اسلام سوئٹزرلینڈ( نے آنحضرت~صل۱~ کے اسوہ حسنہ کے مطابق ان کے نام ایک مفصل تبلیغی مکتوب لکھا جس میں مروجہ عیسائی معتقدات و نظریات کا غلط ہونا ثابت کرنے کے بعد انہیں دعوت اسلام دی اور توجہ دلائی کہ وہ اسلام کی دائمی تعلیمات اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ~صل۱~ کی مقدس زندگی اور پاک سیرت کا یورپ کے روایتی تعصب سے بالا ہوکر مطالعہ کریں اور بانی تحریک احمدیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ ماموریت پر غور کرکے اس صداقت کو قبول کرنے کی سعادت حاصل کریں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اکناف عالم میں پھیلانے کے ¶لئے مبعوث فرمایا ہے۔۱۸۹ اس خط کے بعد شیخ صاحب نے بعض اور تبلیغی خطوط بھی پوپ کے نام لکھے۔
    احمدیہ مشن کی اسلامی خدمات اور حلقہ مخالفین
    احمدیہ مشن کی لسانی و قلمی اسلامی خدمات سوئٹزرلینڈ کے حلقہ مخالفین کو کس طرح گوارا نہیں تھیں۔ اور چرچ جو ابتداء ہی سے مبلغین اسلام کی آمد کو اپنے لئے زبردست چیلنچ سمجھتا تھا اسلام کے روحانی انقلاب کی راہ روکنے کے لئے اب آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آنے لگا۔ چنانچہ اخبار LUCERNE GNUTIEZKIRCHEN نے اپنی ۶۔ فروری ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں مجاہدین احمدیت کی سرگرمیوں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کو چرچ کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے انتباہ کیا کہ۔
    >مسلمانوں کی ایک جماعت اس کوشش میں ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو ہر جگہ پہنچائے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمان مبلغین ہمارے ملک میں بھی مقرر کئے جائیں کیونکہ سوئٹزرلینڈ بھی اب ان علاقوں میں شامل ہوچکا ہے جن میں اسلامی مبلغین مصروف عمل ہیں۔ مختلف طریقے جو یہ جماعت اس جدوجہد کے سلسلہ میں عمل میں لائے گی؟ ظاہر ہے۔ وہ نام جس کا گزٹ میں ذکر کیا گیا ہے وہ بھی کم دلچسپ نہیں۔ ہمیں اس امر کا خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ کبھی FREI JAKOB یا BADER AUGUST بھی اسلام کی خدمت میں لگ جائیں گے یہ زیادہ دیر کی بات نہیں جب اس امر کا علم ہوا کہ اسلام کا منظم تبلیغی کام سوئٹزرلینڈ میں بھی شروع ہورہا ہے۔ اس امر کا بھی اعلان ہوچکا ہے کہ یہ جماعت زیورک میں ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ رکھتی ہے۔ گو ہمیں اس سے خائف نہیں ہونا چاہئے لیکن بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مناسب وقت کے اندر اندر اس کے مقابلہ کے لئے تیار کرلیں اور اسے یہ سمجھ کر نہ چھوڑیں کہ وہ کسی عملی خطرہ کا پیش خیمہ نہیں ہے۔ اگرچہ وقتی طور پر وہ خطرہ معلوم نہیں ہوتا تاہم ہمیں اس امر کی ترغیب دلا رہے ہیں کہ ہم اپنی دینی معلومات اور مذہبی طریقہ زندگی کے متعلق گہرا مطالعہ شروع کردیں۔<۱۹۰
    اسی طرح اخبار GALLE ۔ST WEIZ OSESCH نے اپنے ۷۔ مارچ ۱۹۵۸ء کے ایشوع میں لکھا۔
    >آج مسلمانوں کے ثقافتی حلقوں میں تبلیغ واشاعت کی شدید خواہش پیدا ہورہی ہے۔ یہ خواہش جو اپنے جوش کی وجہ سے اچانک پھوٹ پڑی ہے۔ یورپین مبصرین کے لئے سنسی خیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دنیا اچانک اپنی قوت سے دوبارہ آگاہ ہوگئی ہے۔ ایسی قوت سے جو سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ ایک ایسی خواہش جو تین صدیوں تک دبی رہی اچانک شعلہ بن کر یورپ کے ثقافتی حلقوں کو متاثر کرنے کے عزم صمیم میں تبدیل ہوچکی ہے تاکہ مسلمان قرآن اور ہلال کے لئے موجودہ ترقی یافتہ تبلیغی کام کے ذریعہ نئے آفاق تلاش کرسکیں۔ اسلام عرصہ سے اپنی اشاعت کے اس نئے جوش اور نئے ولولہ کی وجہ سے یورپ کو اپنی کوششوں کا مرکز قراردے چکا ہے اور محض یہی نہیں بلکہ اپنے قدموں کو مضبوطی سے جمارہا ہے۔ اگر کوئی اس حقیقت کو خوش فہمی سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرے تو اسے ان حقائق پر غور کرنا چاہئے۔ زیورک میں چند سالوں سے ایک اسلامی تبلیغی مرکز قائم ہے جو اپنا رسالہ خود شائع کرتا ہے۔ اور جو اپنے لیکچروں اور خطبات کے ذریعہ سوئٹزرلینڈ کی ہر سوسائٹی اور ایسوسی ایشن سے ہر ممکن تعلق پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ اسلامی لٹریچر کی سرگرم اشاعت کے کسی موقع کو ضائع نہیں ہونے دیتا` خاص طور پر نوجوانوں میں ایسے مواقع کو کسی صورت میں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ زیورک کا یہ اسلامی مرکز کسی لحاظ سے بھی ایک الگ الگ تھلگ کوشش نہیں بلکہ ایک بہت بڑی منظم سکیم کی ایک شاخ ہے۔ اب ہر ایک شخص کو یہ حقیقت مدنظر رکھنی پڑے گی کہ سرخ دیو آہنی پردے کے پیچھے آڑ لئے بیھٹا ہے اور وہ اپنی تمام تر طاقتوں کو مجتمع کئے ہوئے منتظر ہے کہ کب اسے موقع میسر آئے اور وہ مغرب کا گلا گھونٹنے کے لئے میدان میں آئے اس اثناء میں اسلام بھی یورپ کا مقابلہ کرنے کے لئے نہایت اطمینان کے ساتھ پیش قدمی کررہا ہے مگر اس کی پیش قدمی اس کی محتاط` محرک اور موثر قوت کے ساتھ ہے جو اس کا خاصہ ہے۔4]< fts[۱۹۱
    ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء میں سوئٹزرلینڈ کے مخالف اسلام طبقے کیا سوچ رہے تھے اور کیا کررہے تھے؟ اس کا نقشہ شیخ ناصر احمد صاحب نے اپنی ماہ تبرک/ستمبر ۱۳۳۰ہش/۱۹۶۱ء کی رپورٹ میں بایں الفاظ کھینچا۔
    >مخالفین کے حلقہ میں سے ایک شخص نے گمنام خط لکھا کہ اپنا بستر بوریا باندھ کر واپس چلے جائو اور پھر نہ لوٹو۔ ایک رسالہ میں ہمارے ایک مضمون پر کڑی تنقید شائع ہوئی لیکن مضمون نگار نے بات کو محض بگاڑ کر پیش کیا اور لوگوں کو ہمارے خلاف ابھارنا چاہا ہم نے مختصر رنگ میں اس کا جواب دیا۔ ان ہی دنوں خاکسار کو پولیس والوں نے ایک بیان کے لئے بلایا اور مضمون مذکورہ بالا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں لوگوں کے مذہبی جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ خاکسار نے انہیں جواباً کہا کہ ہمیں اس امر سے سخت حیرت ہے کہ اس مضمون میں جو اسلام میں خدا تعالیٰ کے تصور کے موضوع پر لکھاگیا ہے کسی صحیح الدماغ انسان کو کوئی اعتراض ہوسکتا ہے۔ خاکسار کے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ پولیس افسر نے ہمارے مضمون کو خود پڑھا تک نہ تھا۔ لٰہذا خاکسار نے مناسب سمجھا کہ انہیں نفس مضمون سے آگاہ کردیا جائے چنانچہ خاکسار نے بتایا کہ ہم نے مضمون یہ لکھا ہے کہ اسلام میں خدا صرف ایک وجود ہے جس کا نہ بیٹا ہے نہ بیوی۔ خدا تعالیٰ کا یہ تصور عیسائیت کے تصویر تثلیث سے بالکل مختلف ہے۔ شاید ایک عیسائی توحید باری تعالیٰ کے تصور کو نہ سمجھ سکے لیکن ہم مسلمان تثلیث کو نہیں سمجھ سکتے نہ ہی خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک کرسکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مشکل یا مصیبت کے اظہار کے وقت >یسوع خدا< پکارنا خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔ نہ ہی ہم ابنیت کے قائل ہیں نہ ہی صلیبی موت کے۔ اسلام کے خدا کو کسی مدد کی حاجت نہیں وہ کسی کام کو کرنے پر مجبور نہیں وغیرہ۔ اس پر پولیس افسر نے کہا کہ آپ کو یہ سب باتیں کہنے کا حق ہے اور یہ مذہبی آزادی کے عین مطابق ہے۔ خاکسار نے کہا کہ آپ کے نزدیک مخالف مضمون نگار نے کوئی معقول بات بھی پیش کی ہے یا صرف جذباتی طور پر ہمارے خلاف لوگوں کو ابھارا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اس کے نزدیک بھی مضمون متعلقہ کو جرنلزم سے کوئی تعلق نہیں۔ خاکسار نے کہا کہ اگر اس قسم کے بے ضرر مضمون پر بھی اعتراض ہوسکتا ہے تو پھر اسلام کی تبلیغ ہی بند کردینی چاہئے۔ قرآن کریم کی اشاعت ممنوع قراردینی چاہئے بلکہ ہر بات جو موجودہ چرچ کے خلاف ہے اسے حکما روک دینا چاہئے۔ لیکن پھر ملک میں مذہبی آزادی نہیں رہے گی بلکہ مسلمان تو الگ رہے یہودیوں کو بھی خلاف قانون قرار دینا پڑے گا کیونکہ مسلمان تو بہرحال حضرت مسیح کی عزت کرتا اور انہیں خدا تعالیٰ کا نبی مانتا ہے برعکس اس کے یہودی آپ کو نعوذ باللہ کذاب اور ملعون سمجھتے ہیں۔ خاکسار کی باتوں کو پولیس افسر اچھی طرح سمجھ گیا۔<۱۹۲
    نیز لکھتے ہیں-:
    >مخالفت کے ذکر کے سلسلہ میں عیسائی مشنری کونسل کے ایک رسالہ کا ذکر بہت ضروری ہے جو انہوں نے گزشتہ عرصہ میں شائع کیا ہے۔ یہ ایک دوماہی رسالہ ہے جس کا نام <WONDERER> ہے۔ اسے شائع کرنے والی کونسل کے اراکین دس مشنری سوسائٹیز ہیں جو اس ملک کی طرف سے دنیا کے مختلف حصوں میں عیسائیت کا پرچار کررہی ہیں۔ )سوئٹزرلینڈ کا ملک عیسائیت کی عالمگیر تبلیغی مہم میں خاص حیثیت رکھتا ہے۔ صرف کیتھولک فرقہ کے ہی اٹھارہ صد مبلغ دنیا بھر میں کام کررہے ہی۔ ایک شہر بازل کی ایک تبلیغی انجمن نے ہی ۲۲۵ مبلغ بھجوا رکھے ہیں( لطف یہ ہے کہ یہ سارے کا سارا رسالہ ہماری تبلیغی مساعی کے بیان پر مشتمل ہے اور اس مشن کی کارروائیوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے اور لوگوں کو ہماری جانب سے خطرہ سے خبردار کرکے لکھاگیا ہے کہ یہ احمدی لوگ ایک خاص جذبہ سے سرشار ہیں ان کی سکیموں کو حقیر نہ جانو اور نہ ہی ان کی کارروائیوں سے لاپرواہی برتو بلکہ اپنے آپ کو ان کے مقابلہ کے لئے تیار کرلو کیونکہ اگر یہ لوگ ایک غلط بات کی تائید میں اس قدر محنت اور قربانی کا نمونہ دکھا سکتے ہیں تو کیا ہم عیسائی لوگ اس کی خاطر ان سے بھی زیادہ قربانی نہیں دکھا سکتے جس نے ہمارے لئے اپنی جان تک دے دی! رسالہ مذکورہ میں ایک صفحہ پر ہمارے قبر مسیح والے اشتہار کی فوٹو دی گئی ہے۔ ایک صفحہ پر قرآن کریم کے جرمن ترجمہ کا ایک پورا صفحہ دیاگیا ہے اور جماعت کی تاریخ حضرت مسیح موعود کے دعاوی حضور کی پیشگوئیوں۔ مشنوں کے قیام۔ یورپ کی مساجد۔ مسجد زیورک وغیرہ امور کا ذکرکیاگیا ہے۔
    یورپ میں تبلیغ اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ چرچ نے اس تفصیل اور شدت کے ساتھ ہمارا نوٹس لیاہے۔ پہلے یہ لوگ ہمیں کم مایہ اور حقیر سمجھتے تھے لیکن اب ان کے تفکرات میں ایک نمایاں انقلاب آرہاہے اور یہ اپنے لوگوں کو ہمارے مقابلہ کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ضمنی طور پر یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری کمزور کوششوں کی فوقیت اور اثر کا اعتراف بھی ہے۔
    >گزشتہ دنوں ایک مشہور اخبار میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان ایک بحث کا سلسلہ چل پڑا ہمارے لئے اس مباحثہ میں دلچسپ پہلویہ ہے کہ ایک مضمون نگار نے لکھا کہ اسلام اس قدر سرعت سے آگے بڑھ رہا ہے اور اب اس ملک میں بھی قدم جماچکا ہے۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اندرونی اختلافات کو بھلا کر اس بیرونی خطرہ کا مقابلہ کریں۔ اس رپورٹ کی تیاری کے دوران میں اطلاع ملی ہے کہ ایک کتاب اسلام کے متعلق ایک مخالف نے شائع کی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اسلام کا چرچا اس قدر بڑھتا جاتا ہے کہ عوام کو اس کی اصل تعلیم سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔<۱۹۳
    سوئٹزرلینڈ کے علمی طبقوں میں اسلام کا عام چرچا
    ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں سویس کے علمی حلقوں میں اسلام کا خوب چرچا ہوا۔ چنانچہ شیخ ناصراحمد صاحب نے لکھا۔
    >ان دنوں سوئٹزرلینڈ میں مختلف مواقع پر اسلام پر لیکچر ہورہے ہیں۔ اخبارات میں مضامین بھی آئے دن چھپتے رہتے ہیں۔ دراصل ہماری تحریک پر ہی زیورک کی یونیورسٹی میں ایک سلسلہ تقاریر کا جاری ہوا جس میں ایک پروفیسر نے اسلام پر لیکچر دیئے۔ احمدیت کا ذکر بھی کیا۔ آخری لیکچر کے دن ہم نے ایک اشتہار سائیکلوسٹائل کرکے سامعین میں تقسیم کیا اور انہیں دعوت دی کہ اسلام پر مزید معلومات ہم سے حاصل کریں اور رسالہ >اسلام< طلب کریں۔ چنانچہ اس پر بہت سے لوگوں نے اپنے پتے اس غرض کے لئے ہمیں بھجوائے۔ یوں ریڈیو پر بھی چند مہینوں سے ایک سلسلہ لیکچروں کا شروع ہے جس کا عنوان ہے >اسلام اور مغرب<۔ اس پروگرام میں حصہ لینے والوں نے بعض دفعہ اسلام کے بارہ میں بہت اچھی باتیں کہی ہیں۔ ایک دفعہ ایک صاحب نے احمدیہ صاحب جماعت کی تبلیغی مساعی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صرف ایک ہی تنظیم ایسی ہے جو اسلام کی تبلیغ کا کام کررہی ہے۔ یہ لوگ تربیت یافتہ نوجوانوں کے ذریعہ تحریر و تقریر کے ہتھیاروں سے اسلام کو پھیلارہے ہیں۔ آسٹرین ریڈیو پر بھی ایک پروفیسر نے اسلام پر ایک لیکچر نشرکیا جس کی نقل ہم نے منگوائی۔<۱۹۴
    آسٹریا میں تبلیغ اسلام
    سوئٹزرلینڈ مشن کے ذریعہ جرمنی کے علاوہ آسٹریا تک بھی اسلام کا پیغام پہنچا۔ اس سلسلہ میں شیخ ناصراحمد صاحب نے ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء میں آسٹریا کے دورے بھی کئے۱۹۵ جن میں سے دو کی رپورٹ خود شیخ صاحب کے قلم سے لکھی جاتی ہے۔
    پہلا دورہ-:وہ تحریر فرماتے ہیں۔
    >آسٹریا کے دورہ کے سلسلہ میں مورخہ ۹۔ جون کو اتربروک کی یونیورسٹی میں خاکسار نے >اسلام کی روحانی دنیا< کے موضوع پر ایک مفصل لیکچر دیا۔ اس لیکچر کے بعد سامعین کو مزید معلومات حاصل کرنے کی دعوت دی گئی چنانچہ رہائش گاہ پر ایک گروپ سامعین کا آیا اور دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ تقریر کے موقعہ پر مسلمان ممالک کے بہت سے طلباء بھی موجود تھے جنہوں نے ہماری مساعی کو بہت تحسین و قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ تقریر سے پہلے بھی انفرادی گفتگو ہوتی رہی۔ اس لیکچر کا اعلان لوکل اخبارات میں شائع ہوا۔ نیز ریڈیو پر بھی متعدد بار اس کا اعلان نشرکیاگیا۔ خاکسار اس موقعہ پر ایک پروفیسر ڈاکٹر FRANZ LEONHARD سے بھی ملا اور یونیورسٹی میں مزید لیکچروں کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔ چنانچہ دسمبر میں وہاں دو لیکچروں کا انتظام ہوگیا ہے۔ علاوہ ازیں آسٹریا کے دوسرے شہروں میں بھی لیکچروں کے انتظام کے لئے خط و کتابت ہورہی ہے۔ جون کے مہینہ میں وی آنا گیا اور وہاں مقامی احمدی افراد سے متعدد انفرادی اور اجتماعی ملاقاتیں کرکے تبلیغی کام کو وسیع کرنے کی ایک سکیم پر غور کیاگیا انشاء اللہ العزیزیہ سکیم تیار کرکے اس پر عمل شروع کردیا جائے گا۔ وی آنا میں خدا کے فضل سے ایک چھوٹی سی جماعت قائم ہوچکی ہے۔ اپریل میں ایک خاندان نے بیعت کی۔ جون میں ایک اور خاتون نے۔ اس خاتون کے خاوند ڈاکٹر خالد رسیڈلر چند سال سے احمدیت قبول کرچکے ہیں۔
    مورخہ ۱۴۔ جون کو خاکسار آسٹریا کے فیڈرل صدر SCHARB ADOLF ۔DR سے ان کے ایوان خاص میں ملاقات کے لئے گیا۔ اس موقعہ پر ان کی خدمت میں قرآن کریم کا ایک نسخہ پیش کیاگیا۔ گفتگو کے دوران میں صدر محترم نے خود ہی اس امر کا اعتراف کیا کہ مسلمانوں نے اپنے زمانہ اقتدار میں عیسائی حکومتوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ رواداری کا نمونہ دکھایا ہے۔ اس سے ایک روز قبل خاکسار نے وی آنا کے صدر بلدیہ JONAS FRANZ HERN کو بھی ایک نسخہ قرآن کریم کا بطور تحفہ پیش کیا۔ وی آنا کے ایک اخبار میں ایک نوٹ شائع کرایاگیا تو اسلام سے دلچسپی رکھنے والے حضرات خاکسار سے مل کر مزید معلومات حاصل کریں۔ ایک روز ایک چھوٹے سے گروپ کے ساتھ گفتگو کرنے اور لٹریچر تقسیم کرنے کا موقع ملا۔ وی آنا میں ہی خاکسار ایک لیکچروں کی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سے ملا اور اسلام پر تقاریر کا انتظام کروایا۔ آسٹریا کے دورہ کی خبر یونائیٹڈ پریس` آسٹرین پریس ایجنسی` رائٹر اور وی آنا کے اخبارات کو دی گئی۔۱۹۶
    دوسرا دورہ-:
    >آسٹریا کے دورہ کے سلسلہ میں مورخہ ۶۔ اکتوبر کو ایک جگہ HOLLABRUNN میں پبلک یونیورسٹی میں خاکسار کا لیکچر >اسلام کی روحانی دنیا< کے موضوع پر ہوا۔ حاضری بہت خوش کن تھی اور سامعین نے یہ مفصل لیکچر بہت شوق اور توجہ کے ساتھ سنا۔ مورخہ ۱۳۔ اکتوبر کو وی آنا میں ایک لیکچر >اسلام اور نبیﷺ~ اسلام< کے موضوع پر ہوا۔ اس کے بعد اسلام پر ایک اور لیکچر وی آنا میں مورخہ ۲۰۔ اکتوبر کو ہوا۔ بعد میں سامعین کو ان کی خواہش پر لٹریچر پیش کیاگیا۔ اس سفر کے دوران میں خاکسار نے سالزبرگ` وی آنا` ہولابرن اور گرانر میں مختلف اداروں سے ملاقاتیں کرکے آئندہ لیکچروں کا اجمالی پروگرام طے کیا۔ وی آنا کے احمدی افراد سے متعدد ملاقاتیں انفرادی اور اجتماعی رنگ میں کی گئیں۔ تبلیغ کے کام کو وسعت دینے کے ذرائع پر غور کیاگیا۔ وہیں ایک آسٹرین نومسلم میاں بیوی کا نکاح ان کی خواہش پر اسلامی طریق پر بھی پڑھا گیا۔ ان کی شادی قبول اسلام سے پہلے کی ہے۔
    >دسمبر ۱۹۶۰ء میں شہر آنزبرگ کی یونیورسٹی میں دو لیکچروں کا انتظام تھا جن کا اعلان علاوہ اخبارات کے ریڈیو کے ذریعہ بھی کیاگیا۔ اکتوبر والے لیکچروں کا اعلان بھی پوسٹروں اور ریڈیو کے ذریعہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ مورخہ ۶۔ دسمبر کو آنحضرت~صل۱~ کی حیات طیبہ نیز تعلیم الاسلام پر ایک تقریر ہوئی۔ بعد میں بعض سامعین نے علیحدہ بیٹھ کر مزید سوالات کے ذریعہ معلومات حاصل کیں۔<۱۹۷
    احمدیہ گزٹ کا اجراء
    ملک میں قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد جب بتدریج بڑھنے لگی تو یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ سویس احمدیوں کی دینی روحانی تربیت` مرکز اور مشن سے مضبوط رابطہ اور تعلق پیدا کرنے اور ان کے سامنے جماعت کے مالی جہاد کی تحریکات رکھنے کے لئے ایک مخصوص پرچہ شائع کیا جائے۔ چنانچہ شیخ ناصراحمد صاحب نے اس اہم ضرورت کی تکمیل کے لئے ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء کے شروع سے >احمدیہ گزٹ< جاری کیا جس سے نہ صرف نئے مسلمانوں کی تربیت واصلاح میں بھاری مدد ملی بلکہ رسالہ >اسلام< کے صفحات پر جو دبائو قلت حجم کے باعث تھا وہ بھی کم ہوگیا۔۱۹۸
    زیورچ میں تعمیرمسجد کیلئے قطعہ زمین کاحصول
    مغربی ممالک میں اشاعت اسلام کا بہترین ذریعہ مسجد کا قیام ہے کیونکہ یہ اسلام کے روحانی انقلاب اور آسمانی نوبت خانے کا علامتی نشان ہونے کے علاوہ اسلامی درسگاہ بھی ہے اور خدائے واحد کی عبادت کا مرکز بھی۔ جناب شیخ ناصراحمد صاحب مسجد کی اس خصوصی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اور شروع ہی سے دلی تڑپ رکھتے تھے کہ سوئٹزرلینڈ میں اسلام کی پنجوقتہ منادی کے لئے جلد سے جلد مسجد تعمیر کی جائے۔ چنانچہ اس غرض سے شیخ صاحب نے ۱۳۳۶ہش/۱۹۵۷ء کے وسط اول میں سب سے پہلے شہر کے میئر سے ملاقات کی بعدازاں دوسرے مقامی حکام سے متعدد بار مل کر موزون قطعہ زمین کے حصول کی کوشش کی۔ آخر ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء کی شبانہ روز جدوجہد کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے معجزانہ طور پر مدد فرمائی اور نہایت نامساعد حالات میں ایک گرجا گھر کے سامنے نہایت باموقع قطعہ زمین کا انتظام ہوگیا۔۱۹۹ قطعہ زمین کے انتظامات کے ابتدائی مراحل طے کرنے کے بعد ماہ شہادت/اپریل ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء میں بلڈنگ پرمٹ کی درخواست دی گئی جو تعمیر کے پروگرام میں مشکل ترین مرحلہ تھا۔ یہ مرحلہ کس طرح طے ہوا؟ اس کی تفصیل شیخ صاحب موصوف کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔ لکھتے ہیں۔
    >پہلے ایک اعلان گزٹ میں شائع ہوتا ہے تا اعتراض کرنے والے اپنے اعتراض کورٹ میں پیش کریں اس کے بعد ایک محکمہ سے دوسرے محکمہ میں فائلیں جاتی اور باریک نکتہ چینی اور جرح قدح ہوتی ہے جس پر کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ استشنائی حالات میں معاملہ بالائی حکومت کے پاس بھی جاتا ہے۔ خاکسار نے ہر مرحلہ پر اپنی درخواست کا جائزہ لیااور قدم قدم پر افسران سے ملا۔ آرکیٹیکٹوں` کارپوریشن کے محکمہ جائداد والوں` تعمیر کے محکمہ کے افسران۔ غرض ہر قسم کے اراکین کے ساتھ قدم قدم پر تعلق قائم رکھا۔ معاہدہ کی رو سے مسجد کی تعمیر کا کام دسمبر )۱۹۶۰ء( تک ایک خاص مرحلہ پر پہنچ جانا چاہئے ۔۔۔۔ ایک مرحلہ پر چرچ والوں نے بھی مداخلت کی اور حکومت کو لکھا کہ ان لوگوں کو مسجد نہ بنانے دی جائے کیونکہ اسی جگہ ایک چرچ بھی ہے حکومت نے چرچ کی اس درخواست کو رد کردیا ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ بالخصوص اعلیٰ حکام سے مفید رنگ میں ملنے کی توفیق ملی اور چرچ کی مخالفت بے ثمررہی۔<۲۰۰
    قطعہ زمین پر کھدائی اور دعا
    جس طرح قطعہ زمین کے حصول کی سعادت محترم جناب شیخ ناصراحمد صاحب کے حصہ میں آئی اسی طرح اس پر تعمیر مسجد کے جملہ انتظامات سوئٹزرلینڈ مشن کے دوسرے انچارج اور مجاہد تحریک جدید محترم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کی زیرنگرانی پایہ تکمیل کو پہنچے جو مرکز کے حکم سے ۱۳۴۱ہش/۱۹۶۲ء کے آغاز میں لنڈن سے سوئٹزرلینڈ تشریف لے گئے اور وہاں اب تک خدمات دینیہ بجالارہے ہیں۔ چوہدری صاحب نے ۳۱۔ وفا/جولائی ۱۳۴۱ہش/۱۹۶۲ کو بل دور کے ذریعہ کھدائی کا کام شروع کرایا۔ کھدائی سے پہلے جماعت احمدیہ زیورچ نے اجتماعی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مسجد کی تعمیر کو بابرکت فرمائے اور یہ سوئٹزرلینڈ میں اشاعت و غلبئہ اسلام کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہو۔۲۰۱
    اخراجات کے تعلق میں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا فوری اقدام
    چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اخراجات مسجد کے تعلق میں محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے فوری اقدام کا تذکرہ
    کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
    >وکیل التبشیر ہونے کے باعث تمام مشنوں سے طبعاً ایک گہرا رابطہ ہے لیکن اس مسجد محمود کے ساتھ تو آپ کا ایک خاص تعلق ہے وہ یہ کہ زیورک میں تعمیر کے بلند معیار کے تقاضا کے باعث ایک بڑی رقم کی ضرورت تھی اور پھر زرمبادلہ کا سوال تھا۔ حکومت پاکستان سے نصف سے بھی کم رقم کا زرمبادلہ ملا۔ بقیہ رقم بیرونی ممالک سے جہاں زرمبادلہ کی پابندی نہیں` مہیا ہونی تھی۔ مرکز کی عظیم ذمہ داریوں کے پیش نظر یہ بوجھ اتنا زیادہ محسوس ہوتا تھا کہ خود مجھے اس پر اصرار کی ہمت نہ تھی۔
    خوش نصیبی سے اس شعبہ کے انچارج محترم میاں صاحب تھے انہیں غیرمعمولی جرات اور توکل حاصل تھا۔ محترم میاں صاحب کی منظوری کا تار ملا جس کے بعد گرامی نامہ مورخہ ۲۵۔ جولائی کو ملا۔ اس میں آپ نے تحریر فرمایا۔
    >مسجد کی تعمیر کے متعلق وکالت مال صاف انکاری تھی۔ مجلس تحریک ذمہ داری لینے کو تیار نہ تھی میں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے خود فیصلہ کردیا۔ خدا تعالیٰ سامان بھی پیدا فرمادے گا۔ ایک شریف انسان بھی دوسرے کے اعتماد کو ضائع نہیں کرتا تو پھر وہ قادر کامل اپنے پر کئے گئے اعتماد کو کیسے ضائع کرے گا اس لئے مجھے تو کامل یقین ہے کہ سب راہیں آسان ہوجائیں گی۔ گو اس وقت کوئی رستہ نظر نہیں آتا لیکن لطف بھی اسی میں ہے کہ کامل تاریکی سے انسان کامل روشنی میں آجائے۔ اب آپ اللہ کا نام لے کر بنیادی رکھیں۔<۲۰۲
    حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے دست مبارک سے سوئٹزرلینڈ کی پہلی مسجد کا سنگ بنیاد
    ۲۵۔ ظہور/اگست ۱۳۴۱ہش/۱۹۶۲ء کو سوئٹزرلینڈ کی اس پہلی یادگار مسجد کا سنگ بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دختر نیک اختر حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے
    اپنے دست مبارک سے رکھا اور دعا فرمائی۔ اس مقدس تقریب کے ایمان افروز کوائف واحوال مجاہد اسلام سوئٹزرلینڈ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کے قلم سے لکھے جاتے ہیں۔
    >دنیا میں بے شک تقدیر اور تدبیر دونوں الٰہی قانون جاری ہیں لیکن مجھے اپنی زندگی میں تقدیر اس طرح تدبیر حاوی نظر آئی ہے گویا تدبیر کا وجود ہی نہین- سوئٹزرلینڈ میں مبلغ مقرر کئے جانے کا خیال میرے دماغ کے کسی گوشے میں بھی نہیں آسکتا تھا لیکن تقدیر یہاں پر لے آئی۔ اور پھر وہم میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مبشر اولاد میں سے کسی کے ہاتھوں مسجد زیورک کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ غیر متوقع طور پر حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ مدظلہا العالی کے دست مبارک سے اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جانا محض تقدیر الٰہی کا ایک کرشمہ ہے۔
    عاجز نے یہاں سخت نامساعد حالات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے یہ کام شروع کیا اور جملہ مراحل یکے بعد دیگرے محض اس کے کرم سے سرانجام پاگئے حتیٰ کہ مسجد کے پلاٹ پر کام شروع کرنے کا دن آگیا۔ میں نے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر سے درخواست کی تھی کہ وہ خودسنگ بنیاد کے لئے تشریف لاویں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میرے لئے امسال یورپ آنا ممکن نہیں آپ خود ہی بنیاد رکھ لیں۔ میں نے پھر اپنی اس شدید خواہش کا اظہار کیا کہ مسجد کی بنیاد ایسے ہاتھوں سے رکھی جائے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دوہرا تعلق ہو۔ نہ صرف یہ کہ وہ سلسلہ کا خادم ہو بلکہ جسمانی طور پر بھی حضور کے برگ وبار میں سے ہو۔ سنگ بنیاد رکھنے کا وقت قریب آرہا تھا کوئی انتظام نہ ہونے کے باوجود قلب کو اطمینان تھا کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی جناب سے سامان پیدا کردے گا۔
    اچانک ایک دن محترم امام صاحب مسجد لنڈن چوہدری رحمت خان صاحب کا مکتوب گرامی آیا جس میں حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی تشریف آوری کا ذکر تھا۔ یہ خبر اتنی غیر متوقع اور خوشکن تھی کہ اس کے سچا ہونے پر یقین نہ آتا تھا۔ میں نے یہ خط اہلیہ ام کو دیا انہوں نے بھی پڑھ کر تعجب کا اظہار کیا۔ خاکسار نے حضرت بیگم صاحبہ کی خدمت میں بذریعہ تار یورپ تشریف آوری پر خوش آمدید عرض کیا اور مسجد زیورک کا سنگ بنیاد رکھنے کی درخواست کی آپ نے کمال شفقت سے اسے منظور فرمایا اور تحریر فرمایا کہ وہ اسے بڑی سعادت سمجھتی ہیں۔
    میں نے سوئٹزرلینڈ کے تمام احمدی احباب سے جن میں سے اکثر زیورک سے باہر رہتے ہیں رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اس تقریب میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کریں۔ آسٹریا کے احمدیوں کو بھی مدعو کیاگیا۔ اخبارات اور نیوز اینجسیوں سے بھی رابطہ قائم کیا۔ پھر اپنی جماعت کے احباب کے علاوہ زیورک یا اس کے نواح میں مقیم مختلف ممالک کے مسلمانوں کو بھی اس تاریخی تقریب میں مدعو کیا۔ اس موقعہ پر پریس کے لئے جرمن زبان میں ایک تفصیلی بیان تیار کیاگیا۔ اس دوران حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب مدظلہ` اور محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے پیغامات بھی موصول ہوگئے` ان کا بھی جرمن ترجمہ تیار کروایا گیا۔
    حضرت بیگم صاحبہ ممدوحہ حسب پروگرام مورخہ ۲۴۔ اگست بروز جعمہ پونے بارہ بجے ڈنمارک سے محترمہ صاحبزادی فوزیہ بیگم صاحبہ کے ہمراہ تشریف لائیں۔ ہوائی اڈہ پر صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب معہ بیگم صاحبہ بھی موجود تھے جو ایک دن قبل ہمبرگ پہنچ گئے تھے۔ ائرپورٹ پر پرتپاک خیرمقدم کیاگیا طے شدہ پروگرام کے مطابق اسی روز دو بجے ایک نیوز ایجنسی نے ایک خاتون کو تیپ ریکارڈ کے ساتھ حضرت بیگم صاحبہ کا انٹرویو ریکارڈ کرنے کے لئے بھجوایا۔ حضرت بیگم صاحبہ سے اس خاتون نے مختلف سوالات کئے اور حضرت بیگم صاحبہ کی زبان مبارک سے جواب ریکارڈ کرنے کے بعد عزیزہ امتہ المجیدبنت چوہدری عبداللطیف صاحب امام مسجد ہمبرگ نے اس کا جرمن ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ بھی ریکارڈ کیاگیا۔
    حضرت بیگم صاحبہ نے اپنے بیان کے آخر میں فرمایا کہ سویس لوگوں کے لئے میرا پیغام یہ ہے کہ وہ اسلام کا مطالعہ کریں اور ہمارے مبلغ مشتاق احمد صاحب باجوہ سے رابطہ پیدا کرکے لٹریچر حاصل کریں۔ اس کی اولین سعادت نیوز ایجنسی کے مینجر کو حاصل ہوئی اس نے فوراً فون کیا کہ میں لٹریچر دیکھنا چاہتا ہوں مجھے بھجوایا جائے۔ چنانچہ بذریعہ ڈاک اسے لٹریچر بھجوایاگیا۔ حضرت بیگم صاحبہ کا یہ انٹرویو زیورک کے ایک اخبار میں من و عن شائع ہوا۔
    ۲۵۔ اگست کو ساڑھے دس بجے صبح مسجد کی بنیاد کا وقت مقرر تھا۔ صبح اٹھے تو مطلع ابر آلود تھا۔ ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی۔ خاکسار صبح ہی وہاں پہنچ گیا کیونکہ بعض دوست جو باہر سے آرہے تھے ان سے مسجد کے قریبی ایک ریسٹوران میں ہی ملاقات کرنے کا اہتمام کیاگیاتھا۔ خاکسار بعض احباب و خواتین کے ہمراہ پلاٹ پر مہمانوں کا منتظر تھا کہ بارش میں کچھ اضافہ ہوگیا۔ اس اثناء میں حضرت بیگم صاحبہ کے ریسٹوران میں تشریف لے آنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ اب کافی دوست جمع ہوچکے تھے۔ بردرام چوہدری عبداللطیف صاحب بھی ہمبرگ سے پہنچ گئے تھے آپ کی بڑی خواہش تھی کہ اس مبارک تقریب میں شریک ہوں۔ حضرت بیگم صاحبہ کی خدمت میں درخواست بھجوائی گئی کہ اب تشریف لے آویں۔ چند منٹ میں آپ کی کار آگئی۔ خاکسار نے آگے بڑھ کر کارکا دروازہ کھولا۔ حضرت بیگم صاحبہ مدظلہاالعالی محترمہ صاحبزادی فوزیہ بیگم صاحبہ` محترمہ بیگم صاحبہ صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب` عزیزہ امتہ المجید اور اہلیہ ام کی معیت میں اترے۔ یہ نظارہ سویس آنکھوں کے لئے عجیب تھا۔ پریس فوٹو گرافروں کے کمیرے حرکت میں آگئے۔ سب سے پہلے جماعت احمدیہ سوئٹزرلینڈ کی طرف سے السلام علیکم اور خوش آمدید عرض کرنے کے لئے ہماری نو مسلمہ بہن مس فاطمہ ہولٹز شو آگے بڑھیں اور ان سے مصافحہ کے بعد پھول پیش کئے۔ ان کے ساتھ دوسری نومسلم بہن مس جمیلہ سوسترنک تھی۔ حضرت بیگم صاحبہ مدظلہاالعالی دونوں کے ہمراہ سٹیج کی طرف تشریف لے گئیں چند منٹ وہاں خواتین کے ساتھ ٹھہرنے کے بعد خاص طور پر تیار شدہ سیڑھیوں کے ذریعے نیچے بنیاد کی جگہ پر تشریف لے گئیں۔ خاکسار آپ کے ہمراہ تھا۔ ایک بالٹی میں سیمنٹ رکھا تھا۔ میں نے آپ کی خدمت میں مسجد مبارک کی وہ اینٹ جو سیدنا حضرت امیرالمومنین اطال اللہ بقاء واطلع شموس طالعہ سے دعا کے ساتھ بنیاد میں رکھ دی پھر اس کے اوپر تھوڑا سا سیمنٹ لگایا۔ خاکسار نے اس کے بعد مزید پلستر لگاکر حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی لخت جگر اور مبشرہ صاحبزادی کے دست مبارک کی رکھی ہوئی بنیاد کو محفوظ کردیا۔ اس کے بعد حضرت بیگم صاحبہ سیڑھیوں پر سے ہوتی ہوئی اوپر سٹیج پر تشریف لائیں۔ خاکسار نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کعبہ کے موقع کی دعائیں تلاوت کیں۔ سویس ریڈیو کا نمائندہ اس کارروائی کو ریکارڈ کرنے کے لئے آیا ہوا تھا اس نے اپنا مائیک میرے سامنے رکھ دیا۔ ہمارے نومسلم بھائی مسٹر رفیق چانن نے جو اس تقریب کے لئے لمبا سفر کرکے آئے تھے ان کا جرمن ترجمہ پڑھ کر سنایا۔
    حضرت بیگم صاحبہ نے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کیا اور دعا فرمائی اور پھر برادرم چوہدری عبداللطیف صاحب نے اس کا جرمن ترجمہ سنایا اور آخر میں خاکسار نے حضرت بیگم صاحبہ اور حاضرین سمیت ہاتھ اٹھاکر لمبی دعا کی اس طرح یہ تاریخی تقریب انجام پذیر ہوئی۔
    اللہ تعالیٰ کی یہ عجیب قدرت تھی کہ حضرت بیگم صاحبہ کی آمد سے قبل بارش ہورہی تھی لیکن اس تقریب کے آغاز کے ساتھ ہی بارش بالکل رک گئی۔ حضرت بیگم صاحبہ اپنے قافلہ سمیت مشن ہائوس تشریف لے گئیں اور باقی احباب و خواتین جن میں سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے احمدی بہن بھائیوں کے علاوہ مختلف ممالک کے مسلمان بھی موجود تھے` ریستوران میں تشریف لے گئے۔ یہاں پر ریڈیو کے نمائندہ نے بعض سوالات دریافت کئے برادرم لطیف صاحب نے ان کے جوابات ریکارڈ کروائے۔
    مسجد کے پلاٹ کے ساتھ جلد سازی کی ایک بہت بڑی فرم کا کارخانہ ہے اس کے ڈائریکٹر نے ۲۳۔ اگست کو جب خاکسار انجنیئروں کے ہمراہ پلاٹ پر بنیاد کی سکیم طے کررہا تھا آکر ملاقات کی اور ہمیں خوش آمدید کہا اور اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ اس نے ایک خوبصورت بیضوی البم تیار ¶کروایا اس البم کو اس تاریخی تقریب میں شریک ہونے والے احباب و خواتین کی یاد محفوظ رکھنے کے لئے دستخطوں کے واسطے استعمال کیا گیا۔
    ۲۵۔ کی شام کو جب ریڈیو نے ہماری اس مسجد کے افتتاح کی خبر نشر کی تو اس کے ساتھ ہی ایک پادری کا مسجد کے بارہ میں تبصرہ بھی براڈ کاسٹ کیاگیا۔ ایک نومسلم خاتون نے اس بارہ میں اپنا تاثر دیتے ہوئے بتایا کہ اس پادری کی آواز کی لرزش سے اس کی سراسیمگی ہویدا تھی۔ اس نے کہا کہ میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ عین گرجا کے سامنے کیوں مسجد بنائی جارہی ہے!
    یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر ہے جس میں کسی انسانی تدبیر کا دخل نہ تھا۔ اتفاق سے ہمیں مسجد کے لئے پلاٹ ایسی جگہ ملا ہے جو عین گرجا کے سامنے ہے۔ مسجد خدائے واحد کا گھر ہے اور اس سے پانچوں وقت اس کی توحید کی منادی ہوتی ہے۔ اس کے بالمقابل مسیجی گرجا تثلیث کا مرکز ہے۔ ان کے ایک دوسرے کے مقابل پر ہونے سے تصویری زبان میں توحید و تثلیث کے مقابلہ کا اظہار ہے اور یہی چیز ہے جس کو سوئٹزرلینڈ میں فطری طور پر محسوس کیا جارہا ہے۔ یہاں کے لوگوں کے سوالات ان کے اس احساس کے آئینہ دار ہیں۔
    سویس پریس نے اس واقعہ کو غیرمعمولی اہمیت دی ہے۔ ملک کے ایک سرے سے لیکر دوسرے تک جرمن۔ فرنچ اور اطالوی زبان کے اخبارات نے یہ خبر شائع کی۔ بعض نے تبصرہ بھی کیا ہے اور بعض نے مضمون لکھے ہیں۔ بعض اخبارات نے تقریب کی تصاویر شائع کی ہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۷۲ ایسے اخبارات یا ان کے تراشے موصول ہوچکے ہیں جن میں یہ خبر شائع ہوئی ہے` الحمدلل¶ہ۔
    پریس کے نقطہ نظر سے سویس کے لئے اس خبر کی اہمیت کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعہ سے ہوسکتا ہے۔ اخبار ٹسرشر (ZURCHERWOCHE) نے جو زیورک کا اپنی تعداد اور اثر کے لحاظ سے بہت وقیع ۲۴ صفحات کا ہفت روزہ ہے` ۲۸ اگست کو اس بناء پر میرا انٹرویو لیاکہ مسجد کے باعث لوگوں میں اسلام اور جماعت کے متعلق کوائف معلوم کرنے کی جستجو پیدا ہوگئی ہے۔ یہ انٹرویو ۳۱ اگست کے پرچہ میں شائع ہوا۔ یہ اخبار ہر ہفتہ نیا پرچہ شائع ہونے پر پوسٹر شائع کرتا ہے جس میں اس ہفتہ کے پرچہ کے اہم مضامین کے عنوان دیئے ہوئے ہوتے ہیں تا لوگوں میں اس کو خریدنے کے لئے کشش پیدا ہو۔ یہ پوسٹر تمام ٹراموں اور بسوں میں لٹک رہا ہوتا ہے اور اس اخبار کے بیچنے والے ایجنٹ اپنی دکانوں کے باہر نمایاں جگہ پر اسے لگاتے ہیں۔][۳۱ اگست کو یہ پوسٹر زیورک میں تمام جگہوں پر ایک ہفتہ کے لئے لگادیاگیا۔ اس پوسٹر کا پہلا جلی عنوان یہ تھا >زیوریک میں مسجد کیوں؟<
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد میں سے ایک کے اس موقعہ پر لمبا سفر کے سوئٹزرلینڈ میں پہنچ جانا اور اپنے دست مبارک سے یورپ کے اس امیر ترین اور حسین ترین خطہ میں جسے بعض قلب یورپ کہتے ہیں مسجد کی بنیاد رکھنا زیورک یا سوئٹزرلینڈ کے عوام کے لئے ہی نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے لئے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم نہ صرف مسجد کی اس اینٹ وکنکریٹ کی عمارت کو شایان شان طریق پر مکمل کریں اور فرنش کریں بلکہ اس کو ہمیشہ نمازیوں سے آباد رکھیں اور اسے اسلام کی تبلیغ واشاعت کے ایک موثر مرکز کے طور پر قائم رکھنے کی سعی کریں جس کے لئے طویل اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔
    حضرت بیگم صاحبہ ممدوحہ نے اپنے ایک نوٹ میں تحریر فرمایا۔
    >۔۔۔۔ بنیاد کے تعلق کی بناء پر کچھ ایسی ذمہ داری محسوس ہورہی ہے جیسے میرے ہی کاندھوں پر بوجھ ہے۔<
    جو ذمہ داری ہمارے پیارے آقا کی صاحبزادی پر بنیاد رکھنے سے عائد ہوئی ہے ہم سب احمدی اپنی آقا سے تعلق کی نسبت سے اس میں شریک ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے باحسن عہدہ برآ ہونے کی توفیق بخشے۔ آمین!
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب مدظلہ العالی کو اللہ تعالیٰ نے بہت نکتہ سنج طبیعت بخشی ہے آپ نے اس موقعہ پر یہ دعا تحریر فرمائی ہے۔
    >اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے عزیزہ امتہ الحفیظ بیگم کے سنگ بنیاد رکھنے کو مبارک اور مثمر ثمرات حسنہ کرے اور ہمشیرہ کے نام کی طرح اس مسجد کو یورپ کے اس علاقہ کے لئے حفاظت کا قلعہ بنادے۔ آمین۔<
    حضرت بیگم صاحبہ مدظلہاالعالی اپنے ایک مکتوب میں لنڈن سے تحریر فرماتی ہیں۔
    >مجھے بے حد خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مسجد کو شروع کرنے کی توفیق عطا فرمائی ورنہ مبلغ تو اس ملک میں عرصہ دراز سے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر خاص احسان ہے۔ میری دعا ہے کہ آپ ہی کے ہاتھوں سے یہ پائیہ تکمیل کو پہنچے اور اس کا افتتاح بنیاد کے موقعہ سے بھی شاندار اور خوشی کا موجب ہو میں تو یہ دعا کررہی ہوں کہ اللہ تعالیٰ سیدنا بھائی صاحب ہی کو کامل صحت عطا فرمائے اور رسم افتتاح ان کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائے۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے اگر ایسا ہوجائے تو آپ کی خوش نصیبی قابل رشک ہوگی۔<
    حضرت بیگم صاحبہ کے قلب مطہر سے جو دعا نکلی ہے وہ ہراحمدی کے دل میں درد کی ٹیس پیدا کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے میرے دل میں شدید تڑپ پیدا ہوگئی ہے کہ کاش ایسا ہی ہو اگر اللہ تعالیٰ یہ دن لے آئے تو میری خوش نصیبی میں کیا شبہ! یہ مبارک دن ساری دنیا کے احمدیوں کے لئے ایک مسرت کا دن ہوگا۔ کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مسیح پاک علیہ السلام کے جگہ گوشہ کی یہ پرسوز دعا` ایک دردمند بہن کی بارگاہ الٰہی میں پکار` ایک مخلصہ کے قلب کی صدا جس سے ہراحمدی کے قلب کی صدا ہم آہنگ ہے` سن لے!
    >حضور اطال اللہ بقاء کی ولادت با سعادت سے قبل سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مسجد کی دیوار پر محمود لکھا دیکھا تھا۔ بیشک یہ جماعت کی امامت کی پیشگوئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں بھی اس کو پورا کیا کہ سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ الودود کو مشرق و مغرب میں جابجا مساجد تعمیر کروانے کی توفیق بخشی۔ گویا اس لحاظ سے ان مساجد کی دیوار پر محمود کا نام ہی تحریر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پیشگوئیوں کے ماتحت اس پسر موعود` اس اولوالعزم امام کو مراکز تثلیث میں خدائے واحد کے نام کی منادی کے لئے مساجد بنانے اور روحانی لحاظ سے ایک وسیع عالمی نظام قائم کرنے کی توفیق بخشی ہے اب وہ خدائے قدیر اپنی قدرت کاملہ سے اسے حضور کی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھنا بھی دکھائے۔ کامل صحت بخشے اور صحت وعافیت کے ساتھ لمبی` کامیاب` بامراد عمردے تانہ صرف زیورک کی مسجد میں آپ کی تلاوت قرآن پاک گونج پیدا کرے بلکہ یورپ اور دنیا بھر میں ان مقدس ہونٹوں سے نکلی ہوئی تلاوت دیر تک گونج پیدا کرتی رہے۔ آمیں۔<۲۰۳
    ‏tav.11.6
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    چندہ مسجد کے لئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی پرزور اور موثر تحریک
    مسجد سوئٹزرلینڈ کی تعمیر میں دنیا بھر کے احمدیوں نے اپنی گزشتہ رویات کے مطابق سرگرم حصہ لیا۔ حضرت مرزا بشیراحمد صاحب نے ایک
    مکتوب گرامی میں جو آپ نے ۱۶۔ تبوک/ستمبر ۱۳۴۱ہش/۱۹۶۲ء کو وکیل المال کے نام رقم فرمایا چندہ مسجد میں حصہ لینے کے لئے ایک پرزور اور موثر تحریک فرمائی۔ چنانچہ آپ نے لکھا۔
    >الحمدلل¶ہ کہ جماعت احمدیہ کے دوست اس مبارک تحریک میں دل کھول کر حصہ لے رہے ہیں دراصل یہ مسجد لندن کی مسجد کے بعد یورپ کی مسجدوں میں ایک خاص امتیاز رکھتی ہے کیونکہ ایک تو یہ مسجد یورپ کے وسطی ملک میں واقع ہے جس کا چاروں طرف اثر پڑتا ہے اور دوسرے یہ مسجد ایک ایسے ملک میں بنائی جارہی ہے جو عرصہ دراز سے امن کا گہوارہ رہا ہے۔ پس درحقیقت یہ مسجد نہ صرف ہماری بڑی دعائوں کی مستحق ہے بلکہ اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی امداد کے لئے دل کھول کر چندہ دیا جائے۔<۲۰۴
    سوئٹزرلینڈ کے عیسائی چرچ کا ردعمل
    سوئٹزرلینڈ کے پادری جو مبلغ اسلام کی تبلیغی سرگرمیوں خصوصاً جرمن ترجمہ قرآن کے باعث سخت پریشان ہو رہے تھے مسجد کے سنگ بنیاد پر اور بھی مشتوش ہوگئے۔ عیسائی چرچ کا خانہ خدا کا تاسیس پر کیا ردعمل تھا اس کا اندازہ سوئٹزرلینڈ کے مشہور عیسائی اخبار EUANGELIST SCWEIZER )۷۔ اکتوبر ۱۹۶۲ء( کے درج ذیل نوٹ سے بخوبی لگایا جاسکتاہے۔
    >ہمیں ایک اعلان کے ذریعہ پتہ چلا ہے کہ حال ہی میں مختلف یورپی ممالک میں ۳۷ مقامی باشندوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ ان میں سے اکثر نومسلم سکنڈے نیوین ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ہم ان تمام مساجد کو مدنظر رکھ کر جو گزشتہ سالوں میں یورپ کے ان عیسائی ممالک میں تعمیر ہوئی ہیں دیکھیں تو نو مسلموں کی یہ تعداد بہت تھوڑی ہے۔ جرمنی میں تعمیر شدہ اور زیرتعمیر مساجد کی مجموعی تعداد سات ہے۔ لندن` دی ہیگ اور ہلسنکی میں بھی مساجد تعمیر ہوچکی ہیں اور ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورک میں بھی ایک مسجد کا سنگ بنیاد رکھاگیا ہے۔<
    ان مساجد میں سے اکثر مساجد گزشتہ تین سال کے عرصہ میں ہی تعمیر ہوئی ہیں یا انہیں تعمیر کرنے کی تجویز منصہ شہود پر آئی ہے۔ یہ مساجد اس امر کی آئینہ دار ہیں کہ یورپ میں اسلامی مشنوں کا ایک جال پھیلایا جارہا ہے۔ ان مشنوں کے قائم کرنے والے مسلمانوں کے صف اول کے دو بڑے گروہوں یعنی شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق نہیں رکھتے` ان کا تعلق مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت سے ہے جنہیں بالعموم >بدعتی< سمجھا جاتا ہے۔ اس جماعت کا نام جماعت احمدیہ ہے۔ یورپ کی اکثر مساجد اس جماعت نے ہی تعمیر کی ہیں۔ یہ جماعت آج سے سترسال قبل برصغیر پاک وہند میں معرض وجود میں آئی تھی۔ اس جماعت کے افراد کی تعداد میں دس لاکھ کے قریب ہے۔ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ حقیقی اسلام کی علمبردار ہے۔ اپنے اس دعویٰ کی رو سے یہ نوع انسان کی فلاح اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے کوشاں ہے۔ احمدیہ تحری اول و آخر ایک مشنری تحریک ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہر خاندان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے میں سے کم از کم ایک فرد ایسا پیش کرے جو تبلیغ اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف رکھے یہ عقل کو اپیل کرنے کی بنیاد پر اپنے مشن بالعموم اسلامی ممالک میں نہیں بلکہ افریقی ممالک میں اور ان میں سے بھی زیادہ تر مغربی افریقہ میں اور پھر یورپ اور امریکہ میں قائم کررہے ہیں۔ ان کے یورپی مراکز زیورک` لندن اور کوپن ہیگن میں قائم ہیں۔ ان میں سے زیورک کا مرکز وسطی یورپ اور اٹلی کے علاقہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ لندن کے مرکز کا رابطہ سارے مغربی یورپ سے ہے اور کوپن ہیگن کے مرکز کے دائرہ عمل میں شمالی یورپ کا تمام علاقہ شامل ہے۔
    ان اسلامی مشنوں کو اب تک جو کامیابی ہوئی ہے اسے کوئی عظیم یا نمایاں کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ڈنمارک کا نومسلم گروپ ۴۲ ڈینش مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ کوپن ہیگن میں جو دوسرے مسلمان رہتے ہیں وہ زیادہ تر عرب باشندے ہیں۔ ۱۹۶۰ء کے دوران زیورک میں عیسائیوں کے علاوہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے صرف ۱۵۷ باشندے شمار کئے گئے تھے۔ ان کا ایک قلیل حصہ اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔ یورپ کی مساجد صرف اس غرض کے لئے ہی قائم نہیں کی گئی ہیں کہ مسلمان ان میں عبادت کریں بلکہ تبلیغ اسلام کی ساری مہم ان مساجد کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔ مساجد سے ملحق کلب کے کمرے اور لائبریریاں وغیرہ بھی ہوتی ہیں تاکہ ان میں جماعت کے افراد باہم مل کر اپنی مساعی اور سرگرمیاں جاری رکھ سکیں ۔۔۔۔ یورپ کے عیسائی ممالک میں اسلام کے یہ نمائندے بدھ مت والوں کے برخلاف عیسائیت کا مقابلہ کرنے میں بہت پیش پیش ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ مسیح کی اصل تعلیم عہدنامہ جدید کے واسطہ سے تحریف کا شکار ہونے کے بعد بدلی ہوئی شکل میں آگے پھیلی ہے۔ یہ مسیح کی صلیبی موت کے نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس طرح سے یہ لوگ بائبل کے مندرجات اور عیسائی معتقدات کے بارہ میں نئی توجیہات پیش کرکے ناقص علم رکھنے والے سامعین اور قارئین کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جرمن زبان میں ان کی جو مطبوعات شائع ہوئی ہیں ان میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام میں زمانہ حال کے جدید مسائل کا پورا حل موجود ہے اور اسلام ہی انسانی ضرورتوں کے مناسب حال وہ اکیلا مذہب ہے جو وسعت فکر` تعمیر وترقی اور آزاد خیالی کا علمبردار ہے۔ اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں انہیں اسلامی روایات کی نئی تشریح کرنی پڑتی ہے۔ جرمنی میں مسلم طلبہ کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ کسی کا مسلمان ہونا ہر لحاظ سے بہتر اور اعلیٰ وافضل ہے۔ اسی طرح ان پر واضح کیا جاتا ہے کہ تقدیر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مستقبل میں جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ پہلے سے طے شدہ ہے اور یہ کہ مستقبل کے بارہ میں ہمیں چنداں فکر پالنے کی ضرورت نہیں۔ تقدیر کا یہ مفہوم ہرگز درست نہیں ہے۔ تقدیر کا عقیدہ نہ صرف یہ کہ سرگرمی اور جدوجہد سے منع نہیں کرتا بلکہ یہ بذات خود نسبتاً زیادہ سرگرمی اور جدوجہد کا متحمل ہے۔
    جماعت احمدیہ نے قرآن مجید کا جو جرمن ترجمہ شائع کیا ہے اس کے شروع میں ایک دیباچہ بھی درج کیاگیا ہے یہ دیباچہ اپنے مندرجات کی رو سے بائبل اور عیسائیت کے خلاف ایک بھر پور حملہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن مجید کے ترجمہ میں الفاظ کے انتخاب کا خاص خیال رکھ کر یورپی دماغوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس لئے اس میں لفظی ترجمہ پر اکتفاء نہیں کیاگیا۔ اس کے باوجود اس میں اس بات پر بہت زور دیاگیا ہے کہ عربی زبان ہی ایک ایسی زبان ہے جو گوناگوں اور باریک درباریک معانی ومطالب کے اظہار پر پوری قدرت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم اسلام قبول کریں تو ساتھ ہی ہمیں عرب ثقافت کو بھی قبول کرنا ہوگا۔ اس لحاظ سے ایک ایسا مسلمان جو عربی نہ جانتا ہو صحیح معنوں میں پورا مسلمان نہیں بن سکتا۔ اندریں حالات یورپ میں ان اسلامی مشنوں کا مقصد مشتبہ اور ناقابل نظر آنے لگتا ہے۔ تاہم اگر یہ لوگ افریقہ میں ہی اپنے پائوں جمانے کی کوشش کریں تو یہ بات قرین قیاس ہوتے ہوئے سمجھ میں آسکتی ہے۔<۲۰۵
    مسجد کی تکمیل اور اخبارات میں چرچا
    یہ مسجد قریباً نو ماہ میں مکمل ہوئی۔ ابھی اس کے مینار۲۰۶ بھی پوری طرح نہیں بنے تھے کہ سویس اخبارات کی دلچسپی کا خصوصی مرکز بن گئی چنانچہ زیورک کے وقیع روزنامہ GNUTZEI ZURCHER NEU نے جو نہ صرف سوئٹزرلینڈ میں بلکہ جرمنی اور آسٹریا میں بھی بکثرت پڑھا جاتا ہے ۱۷ اپریل ۱۹۶۳ء کے پرچہ میں گرجا کے خاکستری لیکن بہت اونچے مینار کے ساتھ` مسجد کے مینار کی تصویر شائع کی اور اس کے ساتھ حسب ذیل نوٹ بھی سپرد قلم کیا۔
    جب کوء شخص مختلف دیاروامصار میں سیاحت کے بعد اپنے وطن واپس آتا ہے تو وہ ان چیزوں کو خصوصاً دیکھتا ہے جن سے ہمارے اس شہر کی عظمت میں حاصل ہوتی ہے اور دیکھنے والے کے سامنے ایک نیا منظر آتا ہے۔ عام خاکستری پتھروں کی عمارتوں کے درمیان ۔۔۔۔ عین بالگرسٹ (BALGRIST) کے گرجا کے بالمقابل سوئٹزرلینڈ کی اولین مسجد کا چھوٹا سا مینار جو تقریباً مکمل ہوچکا ہے سفید چمکتا نظرآتا ہے۔ ایک اجنبی ہمارے گھروں کے اندر گھونسلا بناتا ہے اور ہمیں اس کا احساس ہوتا ہے۔۔۔۔ )ترجمہ(
    زیورک کے اس اخبار کے علاوہ بازل` برن` باڈن` اراڈر وغیرہ کے جرمن زبان کے اخبارات میں سفید مینار کی تصویر کے ساتھ نوٹ شائع ہوئے۔ ایک تراشہ سے جو آسٹریا کے اخبار کا ہے معلوم ہوتا ہے قریبی ملکوں میں بھی یہ امر دلچسپی کا موجب ہوا۔ فرانسیسی زبان کے جنیوا کے مشہور اخبار ٹریبیون نے بھی مینار کی تصویر اپنے نوٹ کے ساتھ شائع کی۔ بازل کے اخبار ZEITUNG> <NATIONAL مورخہ ۱۹۔ اپریل ۱۹۶۳ء کے نوٹ کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    سوئٹزرلینڈ میں مذہبی آزادی مختلف مذہبی جماعتوں کو پنپنے کا موقع دیتی ہے ۔۔۔۔ سوئٹزرلینڈ کی پہلی مسجد زیورک میں پایہ تکمیل کو پہنچ رہی ہے۔ احمدیہ مشن جس کا مرکز مغربی پاکستان میں ہے اس مسجد سے اپنے خطبات سنایا کرے گا۔ ہماری تصویر میں مسجد کا نفیس مینارہ جس کے اوپر ترکی انداز کا ہلال ہے نورخ سٹرک زیورک پر نظرآرہا ہے۔۲۰۷
    مورخہ ۳۔ مئی ۱۹۶۳ء کو جب مینار کے علاوہ مسجد کی عمارت پر بھی پینٹ ہوچکا تھا زیورک کے مشہور روزنامہ DIETAT نے بڑے سائز کی تصویر اخبار کے آخری سرورق پر نمایاں طور پر شائع کی اور نیچے لکھا کہ زیورک کی چھتوں کے اوپر ہلال۔ زیورک میں بالگرسٹ کے محلہ میں مسجد کی تعمیر مکمل ہوگئی۔۲۰۸
    مسجد محمود سوئٹزرلینڈ کا چوہدری محمدظفراللہ خاں صاحب )صدرجنرل اسمبلی( کے ہاتھوں پر شوکت افتتاح
    سیدنا المصلح موعود کے عہدمبارک کی اس اہم مسجد کا نام مسجد محمود تجویز کیاگیا اور اس کی شاندار افتتاحی تقریب ۱۲۔ احسان/جون ۱۳۴۲ہش /۱۹۶۳ء کو چوہدری محمد ظفراللہ خاں
    صاحب کے ہاتھوں عمل میں آئی جس کی مفصل روداد چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ انچارج سوئٹزرلینڈ مشن کے الفاظ میں دی جاتی ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں۔
    >ماہ جون کے شروع میں پریس کے نام ایک چار ورقہ چٹھی تیار کرکے بھجوائی گئی جس میں احمدیت کی مختصر تاریخ اس کی عالمگیر علمی و تبلیغی تربیتی سرگرمیوں کا خاکہ دیاگیا۔ افتتاح کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی تقاریب کے پروگرام میں نمائندگان پریس کو شمولیت کی دعوت دی گئی` الحمدلل¶ہ اس طریق سے پریس` ریڈیو` ٹیلیویژن سب ہماری فعال جماعت سے متعارف ہوگئے نہ صرف زیورک بلکہ باہر کے بعض اخبارات نے بھی اپنے نوٹوں میں اس سے استفادہ کیا۔ محترم حافظ قدرت اللہ صاحب کے تعاون سے جرمنی اور ہالینڈ کے پریس کو بھی یہ چٹھی پہنچادی گئی۔
    سویس ٹیلیویژن نے یہ خواہش کی کہ اس تقریب سے قبل مسجد محمود کے بارہ میں انہیں فلم تیارکرنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ ۱۸۔ جون کو دن کے وقت اور پھر رات کو فلش لائٹ کی روشنی میں کئی گھنٹے لگاکر انہوں نے یہ فلم تیار کی جسے ۱۹۔ جون کی شب کو دکھایاگیا۔ احمدیت کی مختصر تاریخ سے تو وہ پہلے ہی واقف ہوگئے تھے لیکن انہیں فوٹو بھی مطلوب تھے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیردے محترم امیر صاحب جماعت احمدیہ کراچی اور خدام الاحمدیہ کراچی کو کہ گزشتہ سال انہوں نے اپنا البم خاکسار کو بھجوادیا تھا وہ اس موقعہ پر کام آیا۔ اس میں سے ٹیلیویژن نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام` حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت مصلح الموعود اطال اللہ بقاء کے فوٹو لئے۔ افتتاح کی خبر کے لحاظ سے محترم چوہدری ظفر اللہ تعالیٰ اور حضرت مصلح الموعود اطال اللہ بقاء کے فوٹو لئے۔ افتتاح کی خبر کے لحاظ سے محترم چوہدری ظفر اللہ صاحب کے فوٹو کی ضرورت تھی جو ان کی اسلام کے بارہ میں تازہ شہرہ آفاق تصنیف کے مگردپوش سے لایاگیا۔ مسجد کی دیوار پر مسجد محمود کے نیچے کلمہ طیبہ کی عبارت اسی طرح سبزدھات کے حروف میں نصب کی گئی ہے۔ یہ کتبہ محترم شیخ رحمت اللہ صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے بڑی محنت سے کم سے کم وقت میں تیار کروا کے بھجوادیا تھا۔ ۱۸۔ اگست کو آرٹسٹ اسے چوبی چبوترہ پر کھڑا نصب کررہا تھا اس مرحلہ پر بعض حروف کی درستی کے لئے میں خود چبوترہ پرگیا۔ خود درستی کی۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ کس کمیرہ کا اس طرف رخ ہے لیکن معلوم ہوا کہ یہ منظر بھی فلمایاگیا تھا۔ پس اخبارات اور ٹیلیویژن کے چرچا کے باعث سوئٹزرلینڈ کے لوگوں میں اس مسجد کے دیکھنے کا اشتیاق اور بڑھ گیا۔
    مورخہ ۲۱۔ جون کو ریڈیو نے خواہش کی کہ میں ان کے سٹوڈیو میں احمدیت اور مسجد کی تاریخ کے بارہ میں مختصر پیغام ریکارڈ کروا دوں تا ۲۲ کو وہ افتتاح کی تقریب کے بارہ میں خبر دیتے ہوئے اسے بھی شامل کر سکیں۔ میں نے اس کی تعمیل میں پیغام ریکارڈ کروادیا۔ محترم چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب پر اگ سے تشریف لارہے تھے ایئرپورٹ پر خاکسار` محترم حافظ قدرت اللہ صاحب اور محترم چوہدری عبداللطیف صاحب )مبلغین کے نمائندگان کے طور پر( اور جماعت کے کچھ احباب موجود تھے۔ پریس کے نمائندے اور فوٹو گرافر بھی پہنچ گئے تھے۔ حکومت سوئٹزرلینڈ کی طرف سے چیف پراٹوکول موجود تھے۔ اقوام متحدہ میں سوئٹزرلینڈ کے مبتصر آج کل یہاں رخصت پر ہیں وہ بھی استقبال کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔ محترم چوہدری محمد ظفراللہ صاحب کا جہاز تقریباً پونے ایک بجے اترا۔ آپ روس اور مشرقی یورپ کے ایک لمبے سفر سے واپس آرہے تھے مگر آپ کے چہرہ پر تکان کے اثرات نہ تھے حسب معمول ہشاش بشاش تھے۔ آپ جب مشن ہائوس پہنچے تو احباب باہر استقبال کے لئے منتظر تھے۔
    محترم چوہدری صاحب اڑھائی بجے پریس کانفرنس میں تشریف لائے جو مشن کے دفتر کے کمرہ میں منعقد ہو رہی تھی۔ کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ بین الاقوامی پریس ایجنسیوں` سویس پریس ایجنسیوں` زیورک اور سوئٹزرلینڈ کے دیگر مقامات کے بعض اہم اخبارات کے نمائندے بھی موجود تھے۔ ہم نے مسیحی اخبارات کو بھی دعوت بھجوائی تھی۔ بعض ان کے نمائندے بھی شریک تھے۔ چنانچہ ایک ایسے ہی صاحب نے اپنے ان تاثرات کا اظہار کیا کہ مسجد میں پریس کانفرنس بلائی گئی تو اتنے لوگ آگئے کہ کھڑے ہونے کے لئے بھی جگہ نہیں لیکن جب چرچ کی طرف سے کانفرنس بلائی جاتی ہے اس وقت یہ لوگ توجہ ہی نہیں دیتے۔ محترم چوہدری صاحب نے پریس کے سوالات کے جوابات دیئے۔ مسٹر عبدالسلام میڈیسن اور خاکسار بھی ساتھ موجود تھے۔ بعض سوالات جو مشن سے تعلق رکھتے تھے ان کے جوابات خاکسار نے دیئے۔ ریڈیو کے نمائندہ اور ہمارے امام مسجد فرینکفورٹ میاں مسعود احمد صاحب جہلمی نے یہ پریس کانفرنس ٹیپ ریکارڈ کی۔
    افتتاح کی تقریب کے لئے تین بجے کا وقت مقرر تھا۔ مختلف ملکوں کے مسلمان کثیرتعداد میں جمع تھے۔ اپنے احمدی احباب دور دور سے آئے ہوئے تھے۔ مبلغین یورپ میں سے تین کا ذکر اوپر کرچکا ہوں ان کے علاوہ محترم چوہدری رحمت خاں صاحب امام مسجد لندن` محترم کرم الٰہی صاحب ظفر مبلغ سپین` محترم میر مسعود احمد صاحب رئیس التبلیغ سکنڈے نیویا` محترم عبدالسلام میڈسن صاحب مبلغ ڈنمارک` محترم محمود سیف الاسلام ارکس صاحب مبلغ سویڈن بھی شریک تقریب تھے۔ محترم چوہدری عبدالرحمان صاحب واقف زندگی بھی تشریف لائے تھے۔ جرمنی سے احمدی مصنف اور جرنلسٹ محمد ایس عبداللہ اپنی بیگم صاحبہ اور بعض جرنلسٹ احباب اور ساربروکن ریڈیو کے نمائندہ کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ اسی طرح ایک اور جرمن خاتون محترمہ وینڈلٹ بھی تشریف لائی تھیں۔
    زیورک اور اس کے نواح بلکہ دور دور کے شہروں سے جو معززین شریک ہوئے ان کی فہرست طویل ہے۔ ان میں اس شہر کے پریذیڈیٹ` اس کانٹول کے صدر وسابق صدر` اراکین پارلیمنٹ` شہر کی کونسل کے اراکین` ڈاکٹر صاحبان` سفارت طونس اور سفارت پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری` ڈچ قنصل` برطانوی قنصلیٹ کے نمائندہ` ڈومینکین قنصل وغیرہ ایک کثیرتعداد میں معززین موجود تھے۔ یونیورسٹی اور فیڈرل درس گاہ کے طلبہ کے علاوہ مختلف کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والے مختلف ملکوں کے احباب بھی موجود تھے۔ مسلمان احباب نے میزبانی کے جذبہ کا مظاہرہ کیا اور لیکچر روم کی اکثر نشستیں غیرمسلموں کے لئے خالی کردی گئیں۔ باہر کے دروازہ سے لے کر اوپر کی منزل کو آنے والی سیڑھیاں مسجد کے آگے خالی جگہ ہر طرف لوگ موجود تھے۔ لائوڈ سپیکر کا اہتمام تھا۔
    اس مبارک تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو خاکسار کے قدیمی رفیق کار محترم حافظ قدرت اللہ صاحب نے مخصوص پر اثر انداز میں فرمائی اس کے بعد خاکسار نے اپنے افتتاحی خطاب میں منجملہ دیگر امور کے احمدیت کی مختصر تاریخ اور مصلح موعود کی پیشگوئی بیان کی جو انگریزی اور جرمن دونوں زبانوں میں سائیکلوسٹائل کرکے شائع کردی گئیت تھی۔ اس کے بعد محترم چوہدری محمدظفر اللہ خاں صاحب نے اپنی تقریر پڑھ کر سنائی۔ اس کا جرمن ترجمہ پریس اور پبلک کے پاس تھا اس لئے غیرزبان میں ہونے کے باوجود حاضرین کی دلچسپی قائم رہی۔ پھر محترم ڈاکٹر ایمل لانڈالٹ )TLOEMILLAND۔(DR پریذیڈنٹ زیورک مائیکرو فون پر تشریف لائے اور ایک دلچسپ تقریر فرمائی جس میں مذہبی آزادی اور جماعت احمدیہ کو مسجد کے لئے پلاٹ دیئے جانے کا ذکر فرمایا۔
    آخر میں محترم عبدالرشید فوگل (VOGEL) نے سیدنا حضرت امیرالمومنین اطال اللہ بقاء ہ` حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب مدظلہالعالیٰ` حضرت سیدہ محترمہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کے پیغامات مختصراً پڑھ کر سنائے۔ اس کے بعد مستشرقین انگلستان` ہالینڈ` جرمن کے پیغامات میں سے اقتباسات پیش کئے۔ تمام پیغامات اپنے اپنے رنگ میں اچھے تھے اور ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان ممالک میں احمدیت کے ذریعے موثر رنگ میں اسلام کی تبلیغ ہورہی ہے۔ ڈاکٹر منٹگمری واٹ MONTGAMERYWALT)۔(DR کا پیغام جو آنحضرت~صل۱~ کے متعلق اپنی تصنیف کی وجہ سے )دو جلدوں میں سیرت کی تصنیف ہے( عالم اسلام میں غیرمعمولی شہرت حاصل کرچکے ہیں` بہت ہی اچھا تھا۔۔۔۔
    آخر میں بعض عائدین حکومت کی طرف سے موصولہ پیغامات پیش کئے گئے۔ مملکت لائبیریا کے صدر زیورک تشریف لائے ہوئے تھے خاکسار انہیں ملا اور انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ۲۲ کو انکی روانگی کا پروگرام بن چکا ہے جس کے باعث افتتاح کی تقریب میں شرکت ممکن نہیں ورنہ وہ ضروری شامل ہوتے تاہم وہ اپنا پیغام روانگی سے قبل ضرور بھجوادیں گے۔ چنانچہ ان کی طرف سے طویل پیغام موصول ہوا جس میں ہمارے مبلغ )محترم مبارک احمد صاحب ساقی( کے کام کا بھی ذکر ہے۔
    سیرالیون کے رئیس التبلیغ مولوی بشارت احمدصاحب بشیر نے سیرالیون کے نائب وزیراعظم اور وزیرتجارت` اور فری ٹائون کے میئر کے اس تقریب کے لئے پیغامات بھجوائے۔ نائجیریا کے وزیرداخلہ نے بھی اپنا پیغام بھیج دیا۔ پیغامات سوائے دو تین کے جو آخر میں موصول ہوئے جرمن زبان میں شائع کردئے گئے تھے۔ اس تقریب پر مندرجہ ذیل ملکوں کے مبلغین کرام کی طرف سے بھی پیغامات موصول ہوئے۔
    سیرالیون` نائجیریا` برما` ملایا` سنگاپور` لائبیریا` ٹوگو` ٹانگانیکا` بورنیو` غانا۔
    کانو نائجیریا سے محترم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب اور سائوتھ افریقہ کے ڈاکٹر عمرسیلمان صاحب نے لندن سے اپنے محبت بھرے پیغامات سے نوازا )اس تقریب کے بعد فجی سے بھی پیغام موصول ہوا۔ اللہ تعالٰے سب کو اپنے فضل سے جزائے خیربخشے۔ آمین(
    مسٹر عبدالرشید فوگل کے پیغامات پیش کرنے کے ساتھ تقاریر کا پروگرام ختم ہوا۔ خاکسار نے میٹنگ کے سٹیج پر ہی مسجد محمود کی چابی زیورک کے پریذیڈنٹ محترم ڈاکٹر ایمل لانڈالٹ کو دی کہ وہ اس قصبہ کے میزبان کے جذبہ کے اظہار کے طور پر محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو پیش کریں۔ انہوں نے مائیکروفون پر آکر چند کلمات کے ساتھ چاندی کی طشتری میں یہ چابی محترم چوہدری صاحب کوپیش کی۔ چوہدری صاحب یہ چابی لیتے ہوئے انبوہ کثیر کے ساتھ مسجد کے دروازہ کی طرف بڑھے اور اللہ کے نام کے ساتھ اس خدا کے گھر کا دروازہ کھولا۔ محترم کرم الٰہی صاحب ظفر مبلغ سپین نے مائیکروفون پر جو بالکونی میں رکھا ہوا تھا پہلی اذان دی۔ محترم چوہدری صاحب نے نماز ظہر و عصر جمع کرکے پڑھائیں اور اس طرح مسجد محمود کی تقریب افتتاح تکمیل پذیر ہوئی` الحمدلل¶ہ۔
    اوپر کی منزل میں مسجد ہے اور نیچے کی منزل میں رہائش کمرے ہیں۔ افتتاحی تقریب کے بعد مہمانوں کے لئے )کل و شہرب کا انتظام تھا۔ برادران و خواتین کی کمروں میں ڈیوٹیاں تقسیم تھیں۔ مبلغین کرام بھی اس خدمت میں حصہ لے رہے تھے۔ جگہ کی تنگی اور مہمانوں کی کثرت کے باعث انتظامات میں خاصی دقت تھی۔ اور پھر بعض چیزیں اپنے طور پر بھی تیار کرنی تھیں۔ تین خواتین نے دن رات کام کیا۔ ان میں سے ایک جس نے حال ہی میں بیعت کی ہے خاکسار کی امداد کے لئے پندرہ دن کی اپنے دفتر سے رخصت حاصل کرلی ہوئی تھی۔ اور ٹائپ` سائیکلوسٹائل` خطوط` پریس سے رابطہ وغیرہ سیکرٹری کا جملہ کام شب و روز محنت سے کیا۔
    تمام امور کو نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔ اس موقعہ پر میاں مسعود احمد صاحب جہلمی امام مسجد فرینکفورٹ نے مسلسل بہت ہمت سے کام کیا` جزاکم اللہ۔ محترم چوہدری عبداللطیف صاحب مبلغ جرمنی کا آغاز کار میں خاکسار کی امداد فرماتے رہے ہیں اور اب افتتاح کے ضمن میں انہوں نے بہت امداد کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی جناب سے جزائے خیربخشے` آمین۔ ۲۲۔ جون کو شام چوہدری صاحب اور مبلغین کرام کے اعزاز میں ڈنر کا اہتمام تھا جس میں احباب جماعت اور بعض دیگر دوست شریک ہوئے۔ ۲۳۔ جون بروز اتوار صبح نوبجے۔ یورپین مشنز کانفرنس شروع ہوئی۔ محترم چوہدری صاحب نے دعا اور تقریر سے اس کا افتتاح فرمایا۔
    اسی روز اڑھائی بجے مجلس تقاریر منعقد ہوئی جس میں محترم چوہدری صاحب کی صدارت میں مندرجہ ذیل یورپین احمدی احباب نے تقاریر فرمائیں۔
    )۱( مسٹر محمد ایس عبداللہ جرمنی )۲( مسٹر عبدالسلام میڈسن ڈنمارک
    )۳( مسٹررفیق چانن سوئٹزرلینڈ )۴( مسٹر عبدالرشید فوگل سوئٹزرلینڈ
    پہلے تین مقررین نے >یورپ میں اسلام کا کردار< کے موضوع پر تقاریر فرمائیں اور علی الترتیب ماضی` حال اور مستقبل کے بارہ میں بیان کیا۔ چوتھے مقرر نے افریقہ میں اسلام کے موضوع پر تقریر فرمائی محترم چوہدری صاحب کے ریمارکس کے بعد جن کا ترجمہ ساتھ محترم چوہدری عبداللطیف صاحب فرماتے رہے اس علمی مجالس کا اجلاس ختم ہوا۔
    محترم چوہدری محمد ظفراللہ صاحب کا جہاز ساڑھے پانچ بجے ائرپورٹ سے روانہ ہونا تھا آپ احباب سے رخصت ہوئے۔ محترم رفیق چانن صاحب لندن اپنی شادی کے لئے جارہے تھے اور چوہدری عبدالرحمن صاحب آپ کے اس سفر میں ہم رکاب تھے خاکسار نے ائرپورٹ پر دلی شکریہ کے ساتھ الوداع کہا۔
    ابھی یورپین مشنز کی کانفرنس کا کام باقی تھا۔ کانفرنس نے متعدد اہم امور پر غورکیا اور محترم عبدالسلام میڈسن صاحب کارروائی کاریکارڈ رکھتے رہے اور اس کے اختتام پر رپورٹ تیار کی ۔۔۔۔۔۔
    مورخہ ۲۵) جون اڑھائی بجے دوپہر پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں شریک ہونے والوں کو تیار کردہ بلیٹن دے دیا گیا اور ساتھ ہی ان کے سوالات کے جوابات بھی دیئے گئے۔ مسٹر محمودارکن نے نے بڑی توجہ سے ٹائپ کاکام کیا۔ اسی طرح محترمہ ناصرہ رینڈلٹ نے بھی اس کام میں امداد فرمائی۔ فجزاہم اللہ احسن الجزاء۔
    ٹیلی ویژن` ریڈیو اور اخبارات میں چرچا کے باعث مسجد محمود کی شہرت دور نزدیک پہنچ چکی ہے زائرین کا تانتا بندھ رہا ہے۔ ایک طبقہ میں واقعی حق کی جستجو کا جذبہ نظرآتا ہے وہ عیسائیت سے مطمئن نہیں` ان کے قلوب میں صراط مستقیم کے لئے تڑپ ہے۔<۲۰۹
    مسجد محمود کے ملک گیر اثرات وبرکات
    مسجد محمود کی تعمیر سے ملک میں اسلام اور احمدیت کی شہرت دور دور تک پھیل چکی ہے اور اس کے ملک گیر اثرات وبرکات روز بروز نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں بعض ممتاز شخصیتوں کے تاثرات ملاخطہ ہوں۔
    )۱( ڈاکٹر محمد عزالدین حسن البانوی نژاد۲۱۰ نے ایک تقریب سعید پر جو صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کے اعزاز میں منعقد کی گئی مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار فرمایا۔
    >ساری دنیا میں احمدیت اسلام کی علمبردار ہے اور اس نے اب تک بہت کچھ حاصل کرلیا ہے۔ قبل ازیں عثمانی سلطنت کے دور میں اسلامی دنیا میں ترکی ایک نمایاں حیثیت رکھتا تھا اور ترکی کی ہر چھوٹی بڑی سفارت کے ساتھ ایک مسلمان عالم ہوتا تھا جو اس ملک میں مسلمانوں کی ضروریات کا خیال رکھتا تھا۔ بدقسمتی سے پہلی جنگ عظیم کے بعد یہ دستور عموماً مسلمان حکومتوں نے ترک کردیا۔ اب یہ جماعت احمدیہ کی بڑی خوبی ہے کہ اس نے پیش قدمی کی اور وہ ہر جگہ اسلام کے مراکز قائم کررہی ہے۔ بہت سے ممالک میں مسلمان اقلیتوں کے لئے یہ مساعی بہت خوش کن ہے۔ زیورک میں اس مسجد کی تعمیر احمدیت کی مساعی کی ایک روشن مثال ہے اس کی اہمیت کا اظہار مسلمانوں کی بڑی تعداد سے ہوتا ہے جو عیدین پر یہاں جمع ہوتے ہیں یہاں پر مقیم مسلمانوں کے بچوں کی تعلیم کا بھی جماعت نے بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ جماعت کا ایک اور بڑا کام قرآن کریم کے بہت سی زبانوں میں تراجم ہے اور حال ہی میں قرآن کریم کے یہ تراجم ان ممالک میں جہاں کی زبان عربی نہیں ہے مذہبی تعلیم کے حصول کے لئے بڑی قیمت رکھتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ باقی مسلمان بھی احمدیوں کا اپنے معتقدات پر عمل اور مسلمان بھائیوں کی امداد کی مثال کی تقلید کریں گے۔<۲۱۱
    )۲( ایک ترک دوست قہرمان تونا۲۱۲ بلو نے کہا۔
    >مجھے سوئٹزرلینڈ میں رہتے پانچ سال ہوگئے ہیں۔ میرے لئے اپنے والدین اور وطن عزیز سے دور رہنا بڑا مشکل تھا۔ اپنے والدین اور وطن سے دوری کو والدین` عزیزوں اور دوستوں سے خط و کتابت کم کردیتی۔ لیکن ایک مسجد کی آرزو جہاں تمام مسلمان جمع ہوسکیں کی تکمیل کی کوئی صورت نظر نہ آئی تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ۲۲۔ جون ۱۹۶۳ء کو جماعت احمدیہ کی اس مسجد کی تعمیر مکمل ہوگئی` اب تمام ترک اور دوسرے مسلمان یہاں جمع ہوسکتے اور نمازیں ادا کرسکتے ہیں۔ ہمارے امام کے پر اثر خطبات اور تشریحات نہ صرف میرے لئے بلکہ بہت سے ترک احباب کے لئے بہت ممدثابت ہوتے ہیں۔ مجھے یہ بھی ذکر کرنا ہے کہ قرآن مجید کے تراجم اور ایسا ہی اور بہت سی کتب کے تراجم مثلاً دیباچہ تفسیر القرآن کا ترکی زبان میں ترجمہ ہمارے لئے بہت ہی قابل قدر ہے۔ یہاں ہماری یہ مسجد ہمیں قبلی سکون اور مسرت بخشتی ہے اور پھر ہم خوش ہیں کہ اسلام کا نور دور دراز علاقوں میں پھیلتا اور روشن سے روشن تر ہوتا جارہا ہے۔<۲۱۳
    )۳( سوئٹزرلینڈ کے ایک کیتھولک دوست مسٹر فرودن فرولا ۲۱۴ نے مسجد کی اہمیت و عظمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔
    >ہم اسے خوش قسمتی تصور کرتے ہیں کہ اس مسجد کی تعمیر سے ایک ایسا مرکز قائم ہوگیا جو نہ صرف وسطی یورپ کے مسلمانوں کے لئے مقام اجتماع ہے بلکہ غیر مسلموں کے لئے بھی مذہبی تبادلہ خیالات کے لئے ایک ادارہ کاکام دیتا ہے۔ اس سے باہمی مفاہمت کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ مسجد محمود کی شہرت نے ہر جگہ بڑی کشش پیدا کی ہے۔ درحقیقت یہاں پر نہ صرف زیورک بلکہ سوئٹزرلینڈ کے مختلف حصوں اور ہمسایہ ممالک جرمنی اور آسٹریا سے لوگ آتے ہیں۔ کچھ چھوٹے چھوٹے گروپ تعلیم عربی کے حصول اور قرآن و بائبل کے موازنہ اور تاریخ و ادب سے بہتر واقفیت حاصل کرنے کے لئے بن گئے۔ میں خود ایک ایسے گروپ سے تعلق رکھتا ہوں جو ہر ہفتہ عربی تعلیم کے حصول کے لئے جمع ہوتا ہے۔۔۔ ہم نے عربی کی تعلیم کی بنیاد کے طور پر قاعد یسرنا القرآن کو استعمال کیا ہے جو پاکستان میں طلبہ مدارس کے لئے ابتدائی کتاب کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔۔۔۔ بڑی مشکل کے بعد اپنے استاد باجوہ صاحب کی راہ نمائی میں جو ہم سے ناقابل یقین محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں اس قاعدہ کو ختم کردیا ہے۔ ہم اب قرآن کو گرامر اور لغت اور محاورات کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔ اس حاصل کئے ہوئے علم کو استعمال کرنے اور ان ممالک اور ان کے لوگوں کو دیکھنے کے لئے ہم میں سے تین اب تک مشرق وسطی کی سیاحت کرچکے ہیں انہوں نے ان ممالک کو اپنی توقعات سے بڑھ کر پایا۔ میں خود بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ کسی مناسب موقع پر مسلم ممالک دیکھوں۔<۲۱۵
    )۴( ہزایکسی لینسی سید توفیق عبدالفتاح سفیر جمہوریہ متحدہ عربیہ نے ایک الوداعی دعوت میں )جوان کے اعزاز میں جماعت احمدیہ زیورچ کی طرف سے دی گئی( تقریر کرتے ہوئے کہا۔
    >سوئٹزرلینڈ میں میرے پہلے سال کے قیام کے دوران مجھے زیورک میں مسجد کا علم نہ تھا اس کے بعد مجھے ایک لبنانی ڈاکٹر سے مسجد کا علم ہوا اور ان کی تحریک پر ہم عیدالاضحیٰ کی تقریب میں شریک ہوئے اس کے بعد میں آتا رہا اور امام مسجد نے ہمیشہ مجھے خوش آمدید کہا۔ یہاں ہمیں بہت سے سویس مسلمانوں اور دوسرے مسلمانوں سے تعارف کا موقعہ ملا جن کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں اور صحیح رابطہ قائم ہوچکا ہے۔ جب بھی امام نے مجھے بلایا میں نے کبھی آنے میں تامل نہیں کیا۔ امام کی سرگرمی عمل کو شدت سے محسوس کرتا رہا ہوں اور اس مجلس میں اس تاثر کے اظہار سے مجھے خوش ہے۔
    >امام! میں پھر آپ کے اس پرتپاک خوش آمدید کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کبھی مجھے بھولے نہیں جب مجھے قاہرہ جانے کا موقعہ ملا میں آپ کا ذکر کرتا رہا۔ الازہر کے امام سے کئی دفعہ آپ کے متعلق بات ہوئی اور میں نے انہیں آپ کے مشن کی کارگزاری سے آگاہ کیا۔ ابھی گزشتہ رمضان میں میں قاہرہ میں تھا وہ آپ کا اور آپ کے مشن کا ذکر بڑی دلچسپی سے سنتے رہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہاں کس قدر کامیاب ہیں۔ آپ اور آپ کے سوئٹزرلینڈ میں کارہائے نمایاں کے لئے اپنے ممنونیت کے جذبات کا اظہار ایک حقیر خدمت ہے جو میں بجالاتا ہوں۔< ۲۱۶
    صاحبزادہ مرزا مبارک احمدصاحب وکیل التبشیر سوئٹزرلینڈ میں
    ۱۳۴۴ہش/ ۱۹۶۵ء کا ایک قابل ذکر واقعہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمدصاحب کی سوئٹزرلینڈ میں آمد ہے۔ صاحبزادہ صاحب مغربی افریقہ کے تبلیغی دورہ پر تشریف لے جاتے ہوئے ۲۳۔ ماہ شہادت کو زیورک پہنچے اور ۲۷۔ ماہ شہادت تک ٹھہرے آپ کے اس مختصر سے قیام سے نہ صرف سوئٹزرلینڈ کی احمدیہ جماعت کو بہت فائدہ پہنچا بلکہ آپ کی موثر گفتگو نے زیر تبلیغ اصحاب اور جماعت سے اخلاص واحترام رکھنے والے دوسرے دوستوں کو بھی بہت متاثر کیا۔ صاحبزادہ صاحب دورہ مغربی افریقہ سے واپسی پر لندن سے استنبول جاتے ہوئے دوبارہ سوئٹزرلینڈ سے گزرے اور ایک اثر انگیز خطاب فرمایا۔ ۲۱۷
    حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا مبارک سفر سوئٹزرلینڈ
    سوئٹزرلینڈ کی سرزمین کو ۱۳۳۴ہش/ ۱۹۵۵ء میں اگر سیدنا حضرت مصلح الموعود کے مبارک قدموں نے برکت بخشی تو ۱۳۴۶ہش/ ۱۹۶۷ء
    میں اسے حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے خدا نما اور مقدس وجود سے براہ راست انوارو فیوض حاصل کرنے کا سنہری موقعہ میسرآیا۔
    حضور پر نور اپنے دورہ یورپ کے دوران ۱۰۔ وفا/جولائی ۱۳۴۶ہش/۱۹۶۷ء کو پیر کے روز صبح گیارہ بجے کے قریب زیورک میں رونق افروز ہوئے۔ ہوائی مستقر پر سوئٹزرلینڈ کے معززین اور سربرآور دہ مسلمانوں نے حضور کا استقبال کیا۔ اسی روز شام کو حضور کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں معززین بکثرت شامل ہوئے اور اس موقعہ پر مختلف ملکوں نے مسلمانوں نے حضور ایدہ اللہ تعالٰے کی خدمت اقدس میں اپنے جذبات محبت وعقیدت پیش کئے۔۲۱۸
    اگلے روز )مورخہ ۱۱۔ جولائی بروز منگل( سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اعزاز میں وسیع پیمانہ پر ایک ظہرانہ کا اہتمام کیاگیا جس میں سات ملکوں کے سفیروں` متعدد دیگر سفارتی نمائندوں اور سوئٹزرلینڈ کے سربرآور دہ حضرات نے شرکت کی۔ سویس ریڈیو نے حضور کا ایک خصوصی انٹرویو اور استقبالیہ تقریب کی فلم تیار کی۔ انٹرویو کے مناظراسی شام ٹیلیویژن پر دکھائے گئے۔۲۱۹
    حضور ایدہ اللہ تعالیٰ زیورک میں چار روز قیام کے بعد ۱۴۔ ماہ وفا/جولائی کو ہیگ )ہالینڈ( تشریف لے گئے۔۲۲۰
    مسجد محمود میں ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء کی تقریب عیدالاضحیٰ
    ‏0] ft[rمسجد محمود میں ۱۷۔ تبلیغ/فروری ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء کو تقریب عیدالاضحیہ منائی گئی۔ اس عید کو یہاں پہلی بار یہ خصوصیت حاصل تھی کہ زیورک ریڈیو نے کافی وقت پہلے طے کئے ہوئے پروگرام کے مطابق نصف گھنٹہ سے بھی زیادہ وقت اس تقریب کے لئے مخصوص کیا۔ ریڈیو پروگرام میں )جو آسٹریا` جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کا اکٹھا چھپتا ہے( اس کا ذکر بھی شائع شدہ تھا۔ اس میں انچارج مبلغ سوئٹزرلینڈ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کا مکمل خطبہ ریکارڈ کیاگیا اور مختصر تبصرہ و تعارف کے ساتھ نشر کیاگیا۔ اس پروگرام میں دلچسپی رکھنے والے کروڑوں لوگوں نے اسے سنا۔ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شہرہ آفاق خطبہ الہامیہ اور کتاب برکات الدعا کے اقتباسات اور اپنے محبوب امام حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے برقی پیغام کا ترجمہ بھی سنایاگیا۔۲۲۱
    عید کے روز سخت سردی تھی اور برفباری ہورہی تھی اور پھر کام کا دن تھا تاہم حاضری اچھی ہوگئی۔ حتیٰ کہ اس موسم میں برن سے الجزائر کے سفیرہزایکسی لینسی محمد یوسفی اور انڈونیشین سفارت کے سیکنڈ سیکرٹری نے بھی شرکت کی۔ مقامی ترکی قنصل کے نمائندے بھی اس وقت موجود تھے۔ اس یادگار تقریب کی رپورٹ جرمن اور فرنچ دونوں حصوں کے پریس میں شائع ہوئی۔ اخبار ٹاگس اینائگر ANZEIGER> <TAGES نے اپنی ۱۲۔ فروری ۱۹۷۰ء کی اشاعت میں لکھا۔
    >اس تقریب میں بکثرت شرکت سے ان کے مختلف رنگوں` نسلوں اور مذہبوں کے باعث اپنی اپنی الگ زبانوں اور انوکھے آداب سے ایسا عجیب اور رنگین امتزاج پیدا ہوگیا تھا کہ زیورک کے ایک عام باشندے کو گودہ اس حلقہ میں دلی مسرت کے ساتھ قبول کرلیاگیا ہو ضرور قدرے اجنبیت کا احساس ہوگا۔< ۲۲۲4] ftr[
    المختصر وہ سرزمین جو ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء میں کبھی مجاہدین احمدیت کے لئے بالکل اجنبی تھی اب اس میں اسلام ایک موثر اور طاقتور تحریک کی صورت میں ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ قرآن مجید اور دوسرا اسلامی لٹریچر سویس مفکروں` دانشوروں` صحافیوں` سیاستدانوں اور صاحب علم طبقوں کی توجہ کا مرکز بنتا جارہا ہے` شاندار مسجد ۔۔۔ مسجد محمود ۔۔۔ تعمیر ہوچکی ہے` دل اسلام کے لئے جیتے جارہے ہیں اور سعید روحیں آہستہ آہستہ آنحضرت~صل۱~ کے قدموں میں آرہی ہیں اور یہ تثلیث کدہ بھی اذانوں سے گونجنے لگا ہے۔ فالحمدللہ علی ذالک
    فصل پنجم
    احمدیہ مسلم مشن ہالینڈ کا قیام
    تبلیغی نقطئہ نگاہ سے ہالینڈ نہایت درجہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وہ ملک ہے جس نے تین سو پچاس سال تک جزائر مشرق۲۲۳ الہند کے دس کروڑ باشندوں پر حکمرانی کی ہے۔ ان باشندوں کی بھاری اکثریت مسلمان ہے اور ان کا ایک حصہ ہالینڈ میں ہی مستقل بودوباش اختیار کرچکا ہے۔ ا ملک کا تعلق جنوبی امریکہ کی بعض نو آبادیات سے بھی ہے جہاں مسلمان خاصی تعداد میں آباد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہالینڈ کی لائیڈن یونیورسٹی UNIVERSITY) (LEIDEN مشرقی علوم کے >مغربی مرکز< کی حیثیت سے نہ صرف پورے یورپ بلکہ دنیا بھر میں بہت مشہور ہے اور علمی دنیا میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام رکھتی اور بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ لہذا یہاں کے مستشرقین کو حقیقی اسلام سے روشناس کرانے سے یورپ کے اونچے علمی طبقوں میں زبردست انقلاب آسکتا ہے اور اسلام کی روحانی فتح کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
    اگرچہ ہالینڈ سے انڈونیشی مسلمانوں کے ایک عرصہ سے تعلقات چلے آرہے تھے اور ایک بڑی تعداد اس میں مقیم ہوگئی تھی لیکن اتنے لمبے زمانہ میں یہاں اشاعت اسلام کی کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی گئی حتیٰ کہ کسی مسلمان کو یہ خیال تک نہیں آیا کہ اپنی مرکزیت کو برقرار رکھنے اور خدائے واحد کا نام بلند کرنے کے لئے اس سرزمین میں کوئی خانہ خدا ہی تعمیر کردیں۔
    ہالینڈ میں اسلام واحمدیت کی پہلی آواز مسجد فضل لنڈن کے افتتاح کے بعد مولانا عبدالرحیم صاحب درد ایم۔ اے مبلغ انگلستان کے ذریعہ سے پہنچی جنہوں نے ۱۹۲۶ء میں بلجیم اور اس ملک کا دورہ کیا اور وہاں کی متعدد سوسائیٹیوں میں لیکچر دیئے۔۲۲۴ ۳۴۔۱۹۳۳ء میں آپ نے ہالینڈ کے پروفیسر ونسنک سے خط و کتابت کی۔۲۲۵ ۳۵۔۱۹۳۴ء میں بعض ڈچ سفراء سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ جاوا میں ہمارا مشن قائم ہے جس پر انہوں نے احمدیت سے متعلق واقفیت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اور جب آپ دوسری مرتبہ ملنے کے لئے تشریف لے گئے تو ان کے پاس احمدیت کا لٹریچر موجود تھا۔۲۲۶ مولانا کی سالانہ رپورٹ ۳۶۔۱۹۳۵ء سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈچ سفیر سے انہوں نے مسلسل رابطہ قائم رکھا۔۲۲۷ لنڈن مشن کی سالانہ رپورٹ ۳۸۔۱۹۳۷ء میں ہالینڈ کے دو پادریوں کے مسجد فضل لنڈن میں آنے کا ذکر ملتا ہے۔۲۲۸ مولانا درد انگلستان ہی میں تھے کہ ۵۔ اپریل ۱۹۳۰ء کو مسٹر انڈریا سا ڈچ قنصل قادیان گئے۔ یہ پہلے ولندیزی باشندے تھے جنہیں مرکز احمدیت میں جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مسٹر انڈری سا سماٹرا میں ڈچ آفیسر مقرر تھے اور انہیں مولوی رحمت علی صاحب مبلغ جاوا وسماٹرا کے کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ کے حالات کا علم ہوا تھا۔۲۲۹4] f[rt مسٹر انڈریاسا مرکز احمدیت کے پر انوار ماحول اور اہل قادیان کی اسلامی اخوت و روا داری سے بے حد متاثر ہوئے چنانچہ انہوں نے واپسی پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے نام ڈچ زبان میں حسب ذیل خط لکھا۔
    >ہم نے قادیان میں نیکی کے سوا اور کچھ نہیں پایا۔ سو ہندوستان سے جو بہت سے اثرات میرے دل پر ہوئے ہیں ان میں سے خاص اثرات قادیان کے ہیں جنہوں نے میرے دل میں خاص جگہ حاصل کی ہے۔ سب سے اول آپ لوگوں کی مہمان نوازی ہے جس سے میں مسرور ہوا اور میں آپ کا ممنون ہوں گا اگر آپ میرا شکریہ اپنے سب احباب کو پہنچادیں۔ خاص بات جو مجھ پر اثر کرنے والی ہوئی وہ ایک طبعی ایمان اور سچی برادری ہے جو لل¶ہی محبت سے پیدا ہوکر قادیان کو رسولوں کی سی ایک فضا بخش رہی ہے جو عیسائی حلقوں میں شاذو نادر ہے۔ آپ کے فاضل ذوالفقار علی خاں صاحب )ناظر اعلیٰ( نے )جن کے ساتھ مجھے خاص محبت حاصل ہوگئی ہے( جو کتب مجھے عطا فرمائی ہیں ان کے پڑھنے کے بعد پھر آپ کو اطلاع دوں گا۔<۲۳۰
    مولانا عبدالرحیم صاحب درد کی انگلستان سے مراجعت کے بعد مولانا جلال الدین صاحب شمس کے قیام لنڈن کا زمانہ آتا ہے جو ہالینڈ میں احمدیت کی داغ بیل کے اعتبار سے ایک سنہری دور ہے۲۳۱ جس میں دوسری یوروپین زبانوں کے تراجم کے علاوہ ڈچ ترجمہ قرآن بھی آپ کے زیر نگرانی مکمل ہوا۔ اس ترجمہ کی سعادت ایک ولندیزی خاتون مسز زمرمان کے حصہ میں آئی جو ڈچ کے علاوہ انگریزی اور جرمن زبان کی بھی ماہر ہیں اور ایٹلین پر بھی ایک حد تک عبور رکھتی ہیں۔ اس خاتون نے اس مقدس فریضہ کی بجاآوری کے دوران صداقت اسلام کے بعض قہری نشان دیکھے اور بالاخر اللہ کے فضل اور احمدی مبلغوں کی مساعی جمیلہ کے نتیجہ میں داخل اسلام ہوگئیں اور آج تک نہایت خلوص سے ہالینڈ میں مبلغین اسلام کے دوش بدوش شاندار اسلامی خدمات بجالارہی ہیں مسز ناصرہ زمرمان ZIMMERMAR) ۔(N نے اپنے قبول اسلام کی ایمان افروز سرگزشت اپنے قلم سے لکھی ہے جس کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    ۱۹۴۵ء کا سال میرے لئے تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سال کے شروع میں میں بمباری سے مسمار شدہ لنڈن میں پہنچی ہی تھی کہ مجھے ایک ترجمہ کرنے والے محکمہ BUREAU) (TRANSLATION کی طرف سے ملاقات کے لئے پیغام ملا۔ مجھے بتایاگیا کہ یہ ملاقات قرآن کریم کے ڈچ ترجمہ کے سلسلہ میں ہے۔ مجھے آخری تین سو صفحات کا ترجمہ کرنے کے لئے کہاگیا اس پر مجھے خواہش پیدا ہوئی کہ میں یہ دیکھوں کہ پہلے حصہ کا ترجمہ کیسا ہوا ہے؟ میں پہلے حصہ کے چند صفحات کو لے کر گھر لوٹی اور ان کا بنظر غائر مطالعہ کیا۔ اس ترجمہ کا میری طبیعت پر بہت برا اثر ہوا۔ مترجم نے قدیم ڈچ زبان میں جس کو آج کل سمجھنا بھی مشکل ہے ترجمہ کیا ہوا تھا۔ اور پھر اس کا انداز بھی کوئی اچھا نہ تھا اس لئے میں نے ترجمہ کرنے سے انکارکردیا۔ میرے لئے یہ کام اس وجہ سے بھی مشکل تھا کہ میری پیدائش اور تربیت عیسائی ماحول میں ہوئی تھی جس میں سرے سے گناہ کا تصور ہی بالکل آورہے۔ یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ حضرت یسوع ہمارے گناہوں کی خاطر مصلوب ہوگئے قرآن کریم کی تعلیمات میرے لئے صدمہ کا موجب ہوئیں کیونکہ قرآن کریم میں اعمال پر بہت زور دیاگیا ہے اور گناہوں کی پاداش میں سزا کا بھی ذکر ہے اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کا ترجمہ کرنا میرے لئے محال تھا۔ آخر لمبی سوچ اور گہرے غور کے بعد میں نے اس مبارک کام کو سرانجام دینے کا فیصلہ کیا اور میں نے دفتر کے ڈائریکٹر سے تمام قرآن کا ترجمہ اپنے طرز اور موجودہ ڈچ زبان میں کرنے کی اجازت لے لی۔ میں نے اس کام کر سرانجام دینے کے لئے دن رات ایک کردیا اور ابتدائی ۳۰` ۴۰ صفحات کا ترجمہ کرکے میں ڈائریکٹر کے پاس لے کر گئی۔
    اس موقعہ پر اس امر کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ جب میں ڈائریکٹر کو ملنے گئی تو ہماری قرآن کریم کے متعلق طویل گفتگو ہوئی۔ ڈائریکٹر نے اس مقدس کتاب کے متعلق نہایت ہی توہین آمیز کلمات استعمال کئے` بعد میں بھی اس کا رویہ یہی رہا اور اس نے وہاں کئی بار متواتر اور مسلسل قرآن کریم کی توہین جاری رکھی جن کا میری طبیعت پر بہت ناگوار اثر ہوا لیکن جلد ہی جب میں دوبارہ اسے ملنے گئی تو میں نے اسے نہایت ہی المناک کیفیت میں پایا۔ اسے LAMBAGO کا شدید حملہ ہوا میں نے اسے فوری طور پر گھر پہنچانے کا انتظام کیا۔ جہاں اگلے ہی روز وہ چل بسا۔ چند روز بعد دوسری ڈائریکٹرس بھی جس نے اس گفتگو میں حصہ لیاتھا بیمار ہوئی اور اس مقدس کتاب کی توہین کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہ بچ سکی اور ہسپتال میں اس جہان سے رخصت ہوگئی۔ ان واقعات نے میری طبیعت پر گہرا اثر کیا۔ لیکن ابھی خدا تعالیٰ نے اس مقدس کتاب کی صداقت کو میرے قلب پر اور منقوش کرنا تھا۔ خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ ان واقعات کے بعد اس دفتر کا ٹائپسٹ جس نے اس توہین آمیز اور مضحکہ خیز گفتگو میں حصہ لیا تھا جنوبی امریکہ گیا۔ تین ہفتہ کے اندر اندر ہی مجھے معلوم ہوا کہ وہ بھی خدائی عذاب کا شکار ہوکر اس دنیا سے کوچ کرگیا ہے۔ ایک اور سیکرٹری جس نے اس توہین میں کبھی حصہ نہ لیا تھا صحیح و سلامت رہی۔
    ان واقعات نے میری دنیا یکسر بدل ڈالی۔ میری طبیعت پر قرآن کریم کی صداقت اور حقانیت کا سکہ بیٹھنا شروع ہوا اور اس کتاب کی عظمت کا میرے دل پر گہرا اثر ہوا انہی واقعات نے میری توجہ اسلام کی طرف مبذول کی۔ میں نے ان واقعات کا اس لئے بھی ذکرکردیا ہے تاکہ یہ مخالفین کے لئے حجت کا باعث ہوسکیں۔ میں اپنے مولا کریم کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے اس کام کے کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔ میں نے ترجمہ کے دوران میں اس مقدس کتاب سے جو روحانی شیرینی اور پرکیف روحانی اثرات حاصل کئے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتے۔ خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا۔ جو روشنی میں نے قرآن کریم سے حاصل کی وہ خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ بالخصوص اپنی رحمت کا سلوک فرمایا۔ میں ترجمہ کے دوران قرآن کریم کی صداقت کی دل سے قائل ہوچکی تھی چنانچہ میں نے قرآن شریف سے لگائو اور تعلق کو بڑھانے کے لئے لنڈن مسجد میں گاہے گاہے جانا اور احمدیت کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ میرے ساتھ ہر دفعہ برادرانہ اخوت اور محبت کا سلوک کیاگیا اور میری روحانی تشنگی دور کرنے کے سامان مہیا کئے جاتے رہے۔ اس محبت اور اخوت بھرے سلوک نے مجھے احمدیت کے بہت ہی قریب کردیا۔
    ہالینڈ آنے پر تھوڑے عرصہ میں ہی یہاں مشن قائم ہوگیا۔ یہاں تینوں مبلغین نے میری تربیت کے لئے اخلاص اور محنت سے کام کیا` مجھے کتب مطالعہ کے لئے انہوں نے دیں۔ لمبی لمبی دیر تک اپنا قیمتی وقت مجھ پر صرف کرتے رہے۔ ان کی مخلصانہ کوششوں کی وجہ سے مجھے احمدیت جیسی نعمت ملی۔ میں ہمیشہ اپنے ان تینوں بھائیوں کی ممنون رہوں گی جن کے ہاتھوں میری نجات کے سامان ہوئے۔۲۳۲
    مسززمرمان کے علاوہ جن کے لنڈن مشن سے تعلق بالاخر قبول اسلام پر منتج ہوا حضرت مولانا شمس صاحب کے ذریعہ ایک ڈچ طالب علم مسٹرکاخ بھی حلقہ بگوش السلام ہوئے۔ یہ پہلے ولندیزی نومسلم تھے جنہوں نے آنحضرت~صل۱~ کی غلامی کا فخر حاصل کیا اور ان کا نام ظفراللہ رکھاگیا۔ مسٹرکاخ کا شمار آج یورپ کے ان پرجوش نومسلموں میں ہوتا ہے جنہیں اسلام اور سلسلہ احمدیہ سے انتہائی اخلاص اور انس ہے۔
    مستقل مشن کا قیام
    ہالینڈ میں مستقل احمدیہ مسلم مشن کی بنیاد حافظ قدرت اللہ صاحب کے ہاتھوں پڑی جو دوسرے مجاہدین تحریک جدید کے ساتھ کچھ عرصہ انگلستان میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنے کے بعد ماہ وفا/جولائی ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کو ہالینڈ میں پہنچے۔۲۳۳ آپ نے ہیگ کی کولمبس سٹریٹ )۔STR (COLAMBUS میں ایک کمرہ کرایہ پر لے کر اشاعت اسلام کی جدوجہد کا آغاز کردیا۔
    ایک مبلغ اسلام کے آنے کا واقعہ اس ملک کی تاریخ میں چونکہ ایک انوکھا اور نرالا واقعہ تھا اس لئے ڈچ پریس نے اس میں خاصی دلچسپی لی۔۲۳۴ ہالینڈ میں جب پہلی بار اسلامی مشن کے قیام کی خبر منظر عام پر آئی تو ڈچ عوام نے اگرچہ اس خبر کو دلچسپی کے ساتھ پڑھا مگر اس دلچسپی میں تعجب اور تعصب کے ملے جلے جذبات تھے۔ چنانچہ ہیگ کے ایک بااثر ہفت روزہ )POST (HAAGSCHE نے >ایشیا کی بیداری< کے زیر عنوان یہ لکھا۔
    >یورپ کے لئے ایشیا کی یہ بیداری بالکل غیرمتوقع ہے۔ آج مروجہ پہلے طریق کے بالکل الٹ مشرق سے اسلام کے مبلغ مغرب کو بھیجے جارہے ہیں اور جماعت احمدیہ اس کوشش میں پیش پیش ہے۔<
    جہاں تک کیتھولک پبلک کا تعلق ہے اس نے اسلامی مشن کا استقبال دوسروں سے بھی بڑھ کر انقباض کے ساتھ کیا۔ چنانچہ وہاں کا ایک کیتھولک ہفتہ وار اخبار TIMOTHEUS )جولائی ۱۹۴۷ء( نے اپنے ایک نوٹ پر سرخی دی کہ۔
    >کیا ہالینڈ کے آسمان پر ہلال اسلامی کا طلوع گوارا کیا جاسکتا ہے؟<
    نیزلکھا۔
    >ہمیں ذاتی طور پر ان مبلغ اسلام صاحب سے تعرض کرنے کی چنداں ضرورت نہیں مگر ہم ان کو یہ ضرور بتادینا چاہتے ہیں کہ انہیں اپنے تبلیغی ارادوں کے ضمن میں ڈچ لوگوں سے کوئی خاص امید نہیں وابستہ کرنی چاہئے۔ اور اگر وہ کوئی ایسی امید لے کر آئے ہیں تو ہمیں ڈر ہے کہ انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ وہ اپنا بستربوریا ابھی سے باندھ لیں اور واپسی کی ٹھان لیں۔<۲۳۵
    پریس کے علاوہ سرکاری حلقوں نے بھی انتہائی تعصب کا مظاہرہ کیا بلکہ ڈچ وزیراعظم نے شروع میں ایک بار حافظ قدرت اللہ صاحب سے دوران ملاقات یہاں تک کہہ ڈالا کہ ہالینڈ میں آپ کو وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ ہوگا آپ اپنے لئے کوئی اور ملک انتخاب کرلیں۔۲۳۶
    مبلغ اسلام کی ابتدائی تبلیغی سرگرمیاں
    حافظ قدرت اللہ صاحب نے ہالینڈ کی سرزمین میں انوار قرآنی پھیلانے کے لئے اولین توجہ ہیگ کے مختلف ڈچ خاندانوں اور شخصیتوں سے خوشگوار تعلقات پیدا کرکے انہیں دعوت اسلام دینے کی طرف دی۔ ازاں بعد آہستہ آہستہ ہالینڈ کے دوسرے شہروں اور علاقوں کی طرف بھی تبلیغی سفر کئے اور پیغام حق پہنچایا۔ حافظ صاحب کی ان مساعی کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ماہ کے اندر اندر مشرقی ہالینڈ کی ایک مخلص خاتون اسلام میں داخل ہوگئیں جس نے قبول حق کرتے ہی مالی قربانی کا ایسا بہترین نمونہ پیش کیا کہ قرن اول کی مسلم خواتین کی مالی قربانیوں کی یاد تازہ ہوگئی۔
    مذکورہ بالا ابتدائی سرگرمیوں کا ذکر حافظ صاحب کی ایک رپورٹ میں ملتا ہے جو اخبار الفضل کی ۲۴و۶۲۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کی اشاعتوں میں موجود ہے۔ اس اہم رپورٹ کے ضروری حصے ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔ آپ نے لکھا کہ۔
    >اس عرصہ میں خاص ملاقاتوں اور بعض مشہور احباب سے تعلقات پیدا کرنے کے علاوہ ۱۰ مختلف خاندانوں سے تعلقات پیدا کئے۔ ان افراد میں سے ایک صاحب مسٹر کوننگ ہیں جو میری آمد کی خبر پڑھتے ہی مجھے ملنے کے لئے آگئے اور کہا کہ میں ایک عرصہ تک انڈونیشیا میں آزاد خیال پادری کے فرائض انجام دے چکا ہوں اور کہ میں ہر مذہب و ملت کی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور ہر ایک شخص کو خواہ وہ کسی مذہب سے متعلق ہو اپنا بھائی خیال کرتا ہوں۔ چنانچہ اس نے اپنی مدد کا ہاتھ میرے لئے بڑھادیا۔ اسی طرح اسی سٹریٹ میں ایک خاندان سے وافقیت پیدا ہوگئی جس سے زبان کے حصول میں کافی مدد ملی۔
    ایک دفعہ روٹرڈم جانے کا موقعہ ملا تو وہاں اتفاقاً ایک دوست سے بات چل نکلی۔ چنانچہ اس مختصر سے تعارف کے بعد انہوں نے چائے پر مجھے بلایا اور پھر تعلقات وسیع ہوتے گئے۔ آخر اپنے اس دوست کی تقریب نکاح اور بعض دیگر خاندانی اجتماعوں میں شرکت کا موقعہ ملا جس سے بہت سے لوگوں سے تعارف کا موقعہ پیدا ہوگیا۔ اسی طرح ایک انڈونیشین فیمیلی سے تعلقات قائم کرنے کا موقعہ ملا انہیں مسلمانوں کے ساتھ خاص الفت ہے اور طبیعت بہت ہی مہمان نواز۔ چنانچہ دونوں عیدوں کا انتظام اس فیملی نے بخوشی اپنے ہاں کیا اور مہمانوں کی تواضع کی۔
    ایک اور خاندان جس کا جماعت احمدیہ کی تاریخ کے ساتھ بھی ایک گونہ تعلق قائم ہوچکا ہے اور ڈچ مشن کے ساتھ مزید قرب کا تعلق ہے یہ وہ فیمیلی ہے جس نے ہمارا قرآن کریم ڈچ زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ پہلے ان کی رہائش لندن میں تھی مگر تھوڑا عرصہ ہوا )میرے آنے کے بعد( وہ اس ملک میں مقیم ہوگئے۔ مسززمرمان جنہوں نے یہ مقدس کام سرانجام دیا ڈچ ہیں جو انگریزی` جرمن اور فرنچ زبانوں کے متعلق خوب مہارت رکھتی ہیں اور ایٹلین سے ایک گونہ واقفیت ہے۔ آپ کے خاوند مسٹر زمرمان انگریز ہیں جنہوں نے وقتاً فوقتاً اس مقدس کام میں اپنی بیگم کو امداد دی۔ ان کے ساتھ تعلقات کچھ برادرانہ سا رنگ اختیار کرگئے ہیں۔ دونوں احباب بڑے احترام اور محبت سے پیش آتے ہیں۔ اسی طرح بعض اور خاندان ہیں جن کا وجود کسی نہ کسی رنگ میں مفید ضرور ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے قبل مسٹر کوپے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن سے غائبانہ تعارف لندن میں ہی ہوچکا تھا۔ آپ کی والدہ جرمن ہیں اور والد ڈچ۔ ایک عرصہ آپ نے جرمنی میں بسرکیا پھر ایک خاصہ عرصہ اسلامی ممالک میں گزارا۔ اسی ماحول کا اثر تھا کہ آپ نے اسلام قبول کرلیا اور تب سے آپ اسلام کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور ارکان اسلام کو ادا کرنے کے پابند ہیں۔ آپ نے میرے ساتھ برادرانہ ہمدردی کا پورا ثبوت دیا اور ابتدائی ایام میں ہفتہ وار اور کبھی پندرہ روزہ ایمسٹرڈم سے صرف ملنے کی خاطر آتے رہے۔ آپ کو احمدیت کی تعلیمات اور عقائد سے پوری واقفیت ہے اور قریباً ہر مسئلہ میں احمدیہ نقطہ نگاہ کے ساتھ متفق ہیں۔ تمام اختلافات اور تفصیلات کو سمجھنے کے باوجود نماز میرے پیچھے ادا کرتے ہیں مگر ابھی آخری قدم اٹھانے میں کچھ ہچکچاہٹ سی محسوس کرتے ہیں خدا کرے کہ انہیں علی الاعلان احمدیت کا اعلان کرنے کی جلدی ہی توفیق ملے۔ آمین ۲۳۷
    دوسرے دوست مسٹرالعطاس ہیں جن کی مدد اور دوستانہ اور برادرانہ ہمدردی شروع سے میرے شامل حال رہی۔ آپ لائیڈن یونیورسٹی میں تعلیم پاتے ہیں۔ رہائش بھی لائیڈن میں ہے۔ آپ کا اصل وطن حضرموت ہے مگر آپ کے والد انڈونیشیا میں تاجر ہیں۔ مسٹر العطاس کی وجہ سے لائیڈن میں بہت سے تعلقات قائم کرنے کا موقعہ ملا۔
    مسٹر العطاس نے کچھ عرصہ ہوا اپنے ہاں بعض مسلم طلبہ کو اس غرض کے لئے جمع کرنا شروع کیا )دو ہفتہ یا تین ہفتہ کے وقفہ کے بعد( تا میں انہیں اسلام کے متعلق بعض مسائل سمجھا سکوں۔ چنانچہ چار پانچ دفعہ ایسی مجلس میں شامل ہونے کا موقع ملا جو اپنے مقاصد کے لحاظ سے بہت مفید رہا۔ مسٹر کوپے بھی بعض دفعہ ایمسٹرڈم سے اس درس میں شریک ہونے کے لئے آجاتے رہے اور رات وہی قیام رہا۔
    اس ملک میں صوفی موومنٹ کا بھی کافی اثر ہے۔ گوان کا اصلی ہیڈکوارٹر تو سوئٹزرلینڈ میں ہے مگر ماحول اچھا پیدا ہوجانے کی وجہ سے ان کی مساعی کا عمل دائرہ عمل زیادہ تر اسی ملک میں ہے۔ ان کا ایک رسالہ بھی ایمسٹرڈم سے نکلتا ہے اس کے ایڈیٹر خان بک نے جب میری خبراخبار میں پڑھی تو مجھے ملاقات کے لئے انہوں نے اپنے مکان واقع واسے نار )مضافات ہیگ( میں دعوت دی۔ چنانچہ مسٹر کوپے کی معیت میں ان سے ملاقات کی۔
    اس موومنٹ کے ایک اور خاص ممبر مسٹر ہوبک ہیگ میں مقیم ہیں جنہوں نے کافی کتب تصنیف کی ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا انہوں نے ایک کتاب QURAN UNKNOWN THE لکھ کر اہل یورپ کو قرآن کریم کے بعض مضامین سے متعارف کرایا ہے۔ ان سے کئی بار میری ملاقات ہوچکی ہے۔ ان کو اپنے صوفیانہ رنگ کے فلسفہ پر ناز ہے۔ مگر تبادلہ خیالات نے جب کبھی گہرا رنگ اختیار کیا تو جواب سے عاجز ضرور آگئے۔ تصنیف کے علاوہ آپ کا کام بسااوقات پبلک میں لیکچر سے اپنے خیالات کی اشاعت کرنا بھی ہے۔
    ان ملاقاتوں کے علاوہ مسٹر گوبے سابق قونصل جدہ` لائیڈن یونیورسٹی کے بعض پروفیسرز خصوصاً مشہور پروفیسر کرام جو علوم شرقیہ کے ہیڈ کے طور پر یونیورستی میں منعین ہیں نیز ریورنڈ ڈاکٹر ترائو۔ نیز ایک بشپ اور بعض پادریوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
    روٹرڈم کے نزدیک سنحیڈم جگہ میں بعض ہندوستانی جہازیوں کی خواہش پر جانے کا موقعہ ملا۔ یہ جہازی ایک ڈچ جہاز میں ملازم ہیں۔ عرصہ تین ماہ سے ان کا قیام یہاں ہے اور شائد ایک ماہ مزید وہ یہاں رہیں۔ ان جہازوں کی تعداد چوبیس کے قریب ہے۔ سوائے ایک کے سب کے سب مسلمان ہیں۔ اکثر میرپور کشمیر سے اور کچھ بمبئی کے علاقہ سے۔ انہوں نے تحفہ کے طور پر کچھ رقم بھی میرے لئے جمع کرکے مجھے دی مگر میں نے ایسا ذاتی تحفہ لینے سے انکار کردیا کیونکہ میں نے انہیں کہا کہ میں اپنی کسی ذاتی ضرورت کے پیش نظر یہاں نہیں آیا بلکہ تبلیغ اسلام کے فریضہ کو لے کر یہاں آیا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اس تحفہ کی صورت کو تبدیل کرتے ہوئے تبلیغ اسلام کے لئے یہ رقم پیش کی چنانچہ پھر میں نے اسے قبول کرلیا جس سے وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ اگر میں عید پڑھانے کے لئے ان کے ہاں پھر آسکوں۔ مگر میں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ عید کا انتظام میں نے ہیگ میں اپنے بعض دوستوں کی معیت میں کیا ہے اس لئے میرے لئے یہاں آنا مشکل ہے ہاں اگر آپ میں سے کسی کو فرصت ہوتو ہیگ میں اس دن آسکتے ہیں۔
    ان ملاقاتوں کے علاوہ لائیڈن کے بعض طلبہ نیز ہارلم اور ڈیلفٹ کے بعض اشخاص سے بھی واقفیت پیدا ہوئی۔ پچھلے دنوں ایک نہایت ہی قابل عورت مسز WOLTURE کا پتہ چلا اور نیز معلوم ہوا کہ وہ مسلمان نہیں مگر انہیں مسلمانوں کے ساتھ گہری ہمدردی ہے چنانچہ ان سے وقت مقرر کرکے ملاقات کی۔ واقعہ میں )نہیں اسلامی کلچر اور اسلامی مسائل سے دلچسپی ہے اور وہ اپنی تقریر و تحریر میں اپنے تاثرات کو پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔
    عرصہ قریباً تین سال کا ہوا جبکہ محترم مولانا شمس صاحب لندن میں فریضہ تبلیغ اسلام انجام دینے میں مصروف تھے ایک ڈچ طالب علم مسٹر کاخ آپ کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہوئے خدا کے فضل سے بہت نیک اور مخلص نوجوان ہیں۔ ابھی آپ کی تعلیم جاری ہی تھی کہ مجھے ہالینڈ آنے کا ارشاد ہوا۔ اتفاقاً مسٹر کاخ بھی ان دنوں اپنی رخصتیں گزارنے کے لئے ہالینڈ میں تھے۔ گو آپ کی رہائش ہیگ سے کافی دور فاصلہ پر تھی مگر پھر بھی بہت حد تک مفید رہی۔ برادرم مسٹر کاخ کا قیام کچھ عارضی سا قیام نظر آتا تھا اس لئے طبعاً ایک گہری خواہش تھی کہ خدا جلدی ہی کوئی اور مخلص احمدی عطا کردے تو بڑے لطف کا باعث ہو اپنے اعمال تو اس قابل نہ تھے کہ کسی ایسی نعمت سے نوازا جاتا مگر خدا کی رحمت نے جلدی ہی ایسا سامان کردیا۔ میری آمد کی خبر پڑھ کر مشرقی ہالینڈ سے ایک خاتون کا خط ملا جو عرصہ سے اس ملک میں کسی اچھے مسلم بھائی کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ اس خط میں اس نے ملنے کی خواہش کی۔ گو فاصلہ کافی دور کا تھا مگر قلیل عرصہ میں چار پانچ دفعہ ملنے آئی۔ قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ۔ ٹیچنگز آف اسلام۔ احمدیت یعنی حقیقی اسلام۔ انگریزی ریویو کے بعض پرچے اور احمدیت کا بعض دوسرا لٹریچر نہایت شوق سے چند ہی ایام میں مطالعہ کرلیا اور پھر ایک دن خود ہی اپنے احمدی ہونے کی خواہش کا اظہار کردیا۔ یہ خاتون اپنے مذہبی رجحان کے باعث اپنے خاوند سے بھی الگ ہوچکی ہیں اور ایک حد تک کسمپرسی میں دن گزار رہی ہیں۔ ان کے پاس اپنی ضروریات کے لئے کچھ سرمایہ تھا مگر خدمت اسلام کا جذبہ کچھ عجیب ہی رنگ میں موجزن ہوا اپنے اعلان احمدیت کے ساتھ ایک ہزار گلڈر )یکصد پونڈ( کا مختصر سرمایہ بطور چندہ پیش کردیا۔ میں نے ان کی تنگ حالی کے پیش نظر اسے لینے سے جب کچھ گریز کیا تو نہایت رقت آمیز لہجہ میں اس کے قبول کرنے پر اصرار کرتے ہوئے یہ کہا کہ میری گزشتہ عمر گنہگاری میں گزری ہے اور خدا جانے میں نے اپنے پروردگار کو ناراض کرنے کا کس قدر سامان کیا آج مجھے سکون قلب عطا ہوا ہے اس کے مقابلہ میں تبلیغ اسلام کے لئے میری یہ پونجی بالکل بے حقیقت ہے آپ اس کو قبول کرلیں۔ پھر سختی سے انہوں نے یہ کہا کہ قربانی کے راستہ میں آپ کا میرے لئے روک بننا کسی طرح بھی جائز نہیں` یہ آپ کی ذات کے لئے نہیں بلکہ اسلام کی خاطر پیش کررہی ہوں۔ آپ اگر اسلام کے لئے اپنی تمام مصروفیات کو قربان کرسکتے ہیں تو کیا میں یہ چھوٹی سی رقم اس کے لئے پیش نہیں کرسکتی؟
    آخر میں نے وہ رقم لے لی اور حضور انور کی خدمت میں اس کا بیعت نامہ اور اس کا چندہ پیش کردیا۔ خدا تعالیٰ اس کے ایمان اور اخلاص کو ترقیات عطا فرماوے۔ آمین خدا کے فضل سے یہ خاتون شریعت اسلامی کی پورے طور پر پابند ہیں۔ پنجوقتہ نمازیں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتی ہیں۔ ماہ رمضان میں باوجود مشکلات کے آپ نے سارے روزے رکھے اور راتوں کو عبادت میں صرف کیا۔ الحمدلل¶ہ کہ خدا نے بعض نہایت عمدہ خوابوں اور بشارات کے ذریعہ سے اس کے ایمان کو تقویت دی۔
    عرصہ زیر رپورٹ میں بعض دیگر تقاریب میں بھی وقتاً فوقتاً شامل ہونے کا موقعہ ملا مگر اپنے طور پر جو تقاریب منعقد کیں۔ وہ عیدین کی تقاریب تھیں۔ ان دونوں موقعوں کے انتظام میں برادرم مسٹر العطاس نے نہایت اخلاص سے حصہ لیا۔ پہلی عید پر تو چھ سات افراد ہی تھے مگر دوسری عید میں چودہ پندرہ احباب شامل ہوگئے۔ برادرم مسٹرکاخ بارن سے` نو احمدی خاتون رضیہ سلطانہ خواسل سے` مسٹر کوپے ایمسٹرڈم سے` بعض طلبہ لائیڈن سے اور بعض ہیگ سے۔ خدا کے فضل سے یہ اجتماع اچھا کامیاب رہا۔ عید کے بعد کھانے کا انتظام بھی کیاگیا تھا۔ چنانچہ دو گھنٹہ کی دلچسپ گفتگو کے بعد سب نے اکٹھے ظہر و عصر کی نماز پڑھی پھر کھانا کھایا پھر اس اجتماع کا فوٹو لیاگیا۔
    اس عید کے موقعہ پر سوئٹزرلینڈ سے دو واقفین برادران کی آمد کی خبر بھی ملی گئی تھی چنانچہ خطبہ میں ہی میں نے یہ خبراحباب کو بتادی جس سے احباب بہت خوش ہوئے۔
    تبلیغی اغراض کے ماتحت عرصہ زیر رپورٹ میں بعض علاقوں کا سفر بھی مجھے اختیار کرنا پڑا۔ گوحتیٰ الوسع ایسے سفروں سے محبتنب ہی رہا مگر پھر بھی بارن` ارن ہم` بسم` ہلفرسم` وارنمنڈ` روٹرڈم` سنجیڈم` فولن ڈم نیز بعض دفعہ ہیگ کے مضافات اور اکثر دفعہ لائیڈن جانا پڑا۔
    ملکی لوگوں سے تعلقات کے نتیجہ میں خط وکتابت نے بھی کافی وقت لیا۔ ایک دفعہ کیلیفورنیا سے ایک خط آیا جس میں خط آیا جس میں خط بھیجنے والے نے اپنا تعارف یوں کرایا کہ >میں چونکہ ڈچ مسلم ہوں اس لئے ایک امریکن رسالہ میں آپ کی آمد کی خبر پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی خدا تعالیٰ آپ کو آپ کے کام میں کامیابی عطا کرے< چنانچہ ان کے ساتھ بعد میں خط وکتابت جاری رہی۔ اس کے علاوہ ایک خط ڈچ گی آنا )جنوبی امریکہ( سے ایک مسلم لیڈر کا موصول ہوا جس میں اس نے مجھ سے تعلقات پیدا کرنے کی خواہش کا اظہار کیاتھا۔ اسی طرح اس ملک سے بعض اور خطوط اسی رنگ کے موصول ہوئے۔<۲۳۸
    دو مجاہدین تحریک جدید کی آمد اور حلقہ تبلیغ میں وسعت
    حافظ قدرت اللہ صاحب کو ہالینڈ میں تشریف لائے ابھی صرف چار ماہ ہی ہوئے تھے کہ حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر چوہدری عبداللطیف صاحب اور مولوی غلام احمد صاحب بشیر ۴۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کو ہیگ پہنچ گئے اور تبلیغ اسلام کی مہم میں اضافہ اور حلقہ تبلیغ میں وسعت پیدا ہونے لگی۔ چوہدری عبداللطیف صاحب دسمبر ۱۹۴۷ء تک ہالینڈ میں رہے اور ۲۰۔ جنوری ۱۹۴۹ء ہو ہمبرگ پہنچ کر یورپ کے نئے اسلامی مشن کا بنیاد رکھی مگر مولوی غلام احمد صاحب بشیر حضرت مصلح موعود کے طفیل ماہ صلح/جنوری ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء تک تبلیغی خدمات بجالاتے رہے۔۲۳۹
    لائیڈن یونیورسٹی کے مسلم طلبہ کے اجلاس
    ۱۹۴۷ء کے آخر میں مجاہدین اسلام نے لائیڈن یونیورسٹی کے مسلمان طلباء کی صحیح اسلامی تربیت کرنے اور ان کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے متعارف کرانے کے لئے اجلاسوں کا ایک سلسلہ جاری کیا طلباء ان اجلاسوں میں اسلامی تعلیمات سے متعلق سوالات دریافت کرتے جن کا تسلی بخش جواب دیا جاتا۔ ۲۴۰
    ہالینڈ میں تبلیغی ٹریکٹوں کی اشاعت اور ان کا اثر
    دسمبر ۱۹۴۷ء میں مبلغین احمدیت کی طرف سے انگلینڈ میں تبلیغی ٹریکٹ دو ہزار کی تعداد میں چھپوایا گیا۔ جنوری ۱۹۴۸ء میں اس کی مزید پانچ ہزار کاپیاں طبع کرائی گئیں۔۲۴۱ اس ٹریکٹ کے بعد >ڈچ لوگوں کے نام ایک پیغام< کے عنوان سے ایک اور انگریزی ٹریکٹ شائع کیاگیا جو پہلے زیادہ ہیگ کے اندر بعد ازاں ایمسٹرڈم میں تقسیم کیاگیا۔ اس ٹریکٹ کا پبلک پر ایسا اثر ہوا کہ بہت سے خطوط موصول ہوئے۔ بلکہ ایک اخبار نے >سمندر کے کنارے تبلیغ اسلام< کے عنوان سے ایک طویل اداریہ بھی لکھا۔۲۴۲ ماہ تبوک/ستمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۲۸ء میں اس ٹریکٹ کا ایک اور ایڈیشن حضرت میسح کی صلیبی موت کے مسئلہ پر اضافہ کے بعد سات ہزار کی تعداد میں شائع کیاگیا اور ملک کے مختلف حصوں میں اسے باقاعدہ پروگرام کے ساتھ تقسیم کیاگیا۲۴۳ مبلغین احمدیت کی یہ ابتدائی تحریری مہم تھی جس کے بعد آہستہ آہستہ اسلام کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی۔
    تبلیغی اجلاسوں کا آغاز
    یورپ کے دوسرے اسلامی مشنوں کے دوش بدوش ہالینڈ میں بھی ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء سے تبلیغی اجلاس منعقد کئے جانے لگے۔ اس غرض کے لئے ابتداء میں دعوت نامہ سائیکلوسٹائل کئے جاتے اور روزناموں میں اعلان کرایا جاتا تھا۔۲۴۴ یہ تجربہ اس ملک میں بھی بہت مفید ثابت ہوا ہے۔
    ابتدائی ولندیزی احمدی
    شروع شروع میں جن ولندیزی باشندوں کو مبلغین اسلام کی مساعی کے نتیجہ میں شناخت حق کو توفیق ملی ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔
    )۱( مسززمرمان )آپ کے قبول اسلام کی تفصیل آچکی ہے(
    )۲( مسٹر پی` جے` ایف` کے المہدی عبدالرحمن بن کوپے۔۲۴۵
    )۳( مسٹرولی اللہ جانسن۲۴۶
    )۴( مسز لافان پرتون پن اوپن۲۴۷
    ‏tav.11.7
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    ملکہ ہالینڈ اور پرنسس کے نام تبلیغی خطوط
    ماہ تبوک/ستمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء میں تخت ہالینڈ سے دستبردار ہونے والی بلکہ WILHELMINA QUEEN کے پچاس سالہ عہد حکومت کے اختتام پر جوبلی کی تقریب اور اسی طرح نئی بلکہ JULIANA QUEEN کی تاجپوشی کی رسم نہایت تزک و احتشام سے منائی گئی۔ مبلغین اسلام نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں کی خدمت میں تہنیت نامے اور ارسال کئے اور پیغام حق پہنچایا۔ ملکہ WILHELMINA نے جواباً جماعت احمدیہ ہالینڈ کا شکریہ ادا کیا اور جماعت احمدیہ کی مساعی کے متعلق خراج تحسین ادا کرتے ہوئے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔۲۴۸
    پریس کے رویہ میں خوشگوار تبدیلی
    احمدیہ مشن کو قائم ہوئے ابھی تین ہی سال کا عرصہ گزرا تھا کہ پریس کے رویہ میں بھی ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہونے لگی۔ چنانچہ ہالینڈ کے ایک موقر روزنامہ COURANT DEAMSTERDAMSE نے اپنی ایک اشاعت میں چار کالمی سرخی دے کر لکھا۔
    >آشتی اور تحمل جماعت احمدیہ کا طرہ امتیاز ہے۔ جماعت احمدیہ جہاد کے غلط تصور کی اصلاح کرتی ہے۔ اس کے مشن نہ صرف ہندوستان اور ایشیا میں بلکہ افریقہ` یورپ اور امریکہ میں بھی موجود ہیں۔ اس جماعت سے وابستہ ہونے والے زیادہ تر پڑھے لکے مسلمان ہیں جو اس کے لئے مالی قربانی بھی کرتے ہیں۔<۲۴۹ )ترجمہ(
    مبلغین اسلام کی ہالینڈ میں سہ روزہ کانفرنس
    ماہ ظہور/اگست ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء میں ہالینڈ مشن کے زیراہتمام یورپ کے مبلغین اسلام کی سہ روزہ کانفرنس منعقد ہوئی اس کانفرنس میں جرمنی` سوئٹزرلینڈ` ہالینڈ` اسپین` فرانس` اٹلی اور انگلستان کے مجاہدین اسلام نے شرکت فرمائی۔ یورپ میں تبلیغ اسلام کی مہم کو تیز کرنے کے سلسلہ میں بعض نہایت اہم تجاویز زیر غور آئیں اور آئندہ کے لئے ایک جامع پروگرام تجویز کیاگیا۔ کانفرنس کے آخر میں ایک استقبالیہ دعوت کا بھی اہتمام کیاگیا جس میں ہالینڈ کی نامور شخصیتوں اور اعلیٰ سرکاری افسروں کے علاوہ متعدد پاکستانیوں نے شمولیت کی۔۲۵۰
    حافظ قدرت اللہ صاحب نے کانفرنس کے کوائف پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا۔
    >اس کانفرنس میں یورپ میں کام کرنے والے ہمارے سات مشنوں نے حصہ لیا۔ نمائندہ حضرات کے اسماء درج ذیل ہیں۔ برادرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ )لنڈن`( برادرم بشیراحمد صاحب آرچرڈ )سکاٹ لینڈ( برادرم ملک عطاء الرحمن صاحب )فرانس`( برادرم عبداللطیف صاحب )جرمنی`( برادرم شیخ ناصر احمد صاحب )سوئٹزرلینڈ`( برادرم چوہدری کرام الٰہی صاحب ظفر )سپین( اور خاکسار ہالینڈ سے۔ علاوہ ازیں اس موقعہ پر چوہدری عبدالرحمن صاحب )لنڈن( اکائونٹنٹ کی ملاقات بھی مسرت کا باعث ہوئی۔ ہماری کانفرنس یہاں کے ہوٹل پومونا میں تین روز تک منعقد رہی۔ کل کارروائی )سب کمیٹیوں کے وقت کے علاوہ( کوئی ۱۶ گھنٹے تھی جو ۶ اجلاس پر مشتمل تھی۔ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق برادرم چوہدری ظہور احمد باجوہ سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے رہے اور کانفرنس کے اجلاس` انتخاب کے مطابق مختلف احباب کی صدارت میں منعقد ہوئے۔ کانفرنس میں تمام مشنوں کے تبلیغی حالات اور مساعی کا ایک جائزہ لیا گیا۔ گزشتہ سال کے فیصلہ جات پر نظرثانی کی گئی اور اس سلسلہ میں جو امور خاص طور پر قابل توجہ نظر آئے یا جن نئے امور کی طرف توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی گئی انہیں سامنے لایاگیا۔ مثال کے طور پر یورپ میں یوم پیشوایان مذاہب کا انعقاد یا ایک ماہوار اعلٰے انگریزی اخبار کا اجماء وغیرہ۔ ہماری کانفرنس بفضلہ تعالیٰ بہررنگ کامیاب رہی اور شامل ہونے والے نمائندگان نے مختلف وجوہ سے اس اجتماع کا فائدہ اٹھایا۔ خصوصاً تبادلہ خیالات اس پہلو کی رو سے کہ آئندہ یورپ میں تبلیغ کو کس کس رنگ میں کامیاب طریق سے کیا جاسکتا ہے؟ بہت ہی مفید ثابت ہوئی۔۔۔۔ حاضری کوئی ۱۳۰ احباب پر مشتمل تھی جو اچھی تعلیم یافتہ طبقہ سے متعلق تھی۔ پاکستانی اور ایرانی منسٹرز کے علاوہ ڈچ ایسٹرن فارن دیپارٹمنٹ کے چیف` مڈل ایسٹ براڈ کاسٹ محکمہ کے افسر اعلیٰ` جاوا کی ایک ریاست کے حکمران اور کئی سوسائٹیوں کے ہیڈز اور سرکاری محکمہ جات سے مختلف افسران اس میں شامل ہوئے۔ ان تمام احباب کی چائے وغیرہ سے تواضع کی گئی۔ پریس نمائندگان کی ایک تعداد بھی تھی جنہوں نے اپنے فرائض اچھی طرح سرانجام دیئے۔ ایک حصہ حاضرین میں سے مستشرقین کا بھی تھا جنہوں نے خاصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس تقریب میں خاکسار نے پہلے مختصر طور پر احباب کرام کو خوش آمدید کہا جس کے بعد جملہ مبلغین کرام نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ صدارت کے فرائض محترم جناب سید لال شاہ صاحب بخاری نے انجام دیئے۔ مسجد کے قیام کے سلسلے میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد دیر سے زیرغور تھا جسے مبلغین یورپ کی کانفرنس کے موقعہ پر پورا کرنے کی توفیق ملی۔ پریس کانفرنس کے لئے جگہ وہی مقرر کی گئی جس میں بعض مبلغین کی رہائش کا انتظام تھا اور اسی ہوٹل میں مبلغین کی تین روز سے کانفرنس بھی منعقد ہورہی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے جس نے اس کانفرنس کو کامیاب دیکھنے کی توفیق دی۔ اٹھارہ نمائندگان پریس نے شمولیت کی جو قریباً تمام ہی کے تمام ایسے تھے جو مختلف ایجنسیوں کے اعلیٰ نمائندہ تھے۔ محکمہ براڈ کاسٹ کے دو نمائندگان )ورتھ براڈ کاسٹ اور محکمہ براڈ کاسٹ پاکستان و انڈیا( موجود تھے۔ نیز یہاں کی بڑی ڈچ نیوز ایجنسی ۔P۔N۔A رائٹر` فرنچ اور بلجیئم نیوز ایجنسیز کے نمائندگان کے علاوہ بعض سرکردہ اخبارات کے رپوٹرز بھی موجود تھے جس کے نتیجہ میں ہماری کانفرنس کی خبر دور و نزدیک پھیل گئی۔
    کانفرنس کے شروع میں خاکسار نے مختصر الفاظ میں اپنے آنے والے مبلغین کا تعارف کرایا جس کے بعد برادرم شیخ ناصر احمد صاحب نے ہماری تبلیغی مساعی کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا کام اسلام کو صحیح رنگ میں یورپ کے سامنے پیش کرنا ہے نیز یہ کہ دنیا کی موجودہ بدامنی کا علاج اسلامی تعلیم میں مضمر ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا۔
    اس مختصر سے تعارف کے بعد نمائندگان پریس کو موقعہ دیاگیا کہ وہ اس سلسلہ میں جو جو استفسارات کرنا چاہیں کریں۔ چنانچہ جملہ مبلغین نے اس تبادلہ خیالات اور گفتگو میں حصہ لیا اور یہ کانفرنس کوئی پونے دو گھنٹہ تک جاری رہی۔<۲۵۱
    اس کانفرنس کے بعد مشن کی تبلیغی سرگرمیاں پہلے سے تیز تر ہوگئیں اور ہیگ کے علاوہ دوسرے متعدد اہم شہروں میں بھی اسلام پھیلنے لگا۔
    ڈچ ترجمہ قرآن کی طباعت واشاعت
    ماہ نبوت/نومبر ۱۳۳۲ہش/۱۹۵۳ء سے ہالینڈ کے اسلامی مشن کی ترقی کامیابی اور شہرت کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے جبکہ قرآن مجید کا ڈچ ترجمہ نظر ثانی اور طباعت کے مختلف مراحل طے کرنے کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔ سیدنا المصلح الموعود نے ماہ صلح/جنوری ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء میں ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید کے ڈچ ترجمہ کی طباعت سے متعلق فوراً معلومات حاصل کی جائیں چنانچہ حافظ قدرت اللہ صاحب لائیڈن کی ایک ممتاز ومشہور فرم BRILL کے ڈائریکٹر صاحب اور بعض ممتاز مستشرقین سے ملے اور چوہدری عبداللطیف صاحب نے ہیگ کی مختلف فرموں سے رابطہ قائم کیا۔۲۵۲ ماہ تبوک/ستمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء تک ڈچ ترجمہ کی تین کاپیاں ٹائپ کرلی گئیں جس کے بعد ترجمہ کے بعض حصوں پر ادبی نقطہ سے ناقدانہ نظرڈالی گئی۔۲۵۳
    مسودہ پر تسلی بخش صورت میں نظرثانی کا کام مکمل ہوچکا تو اسے پریس میں دے دیاگیا اور ماہ نبوت/نومبر ۱۳۳۲ہش/۱۹۵۳ء میں یہ چھپ کرتیار ہوگیا۔ یہ ترجمہ جو ہالینڈ ہی میں طبع ہوا چونکہ سابقہ تمام ڈچ۲۵۴ تراجم قرآن سے ظاہری اور معنوی دونوں اعتبار سے فوقیت رکھتا تھا اس لئے اسے بہت جلد قبول عام کی سند حاصل ہوگئی اور آج یہ ملک بھر میں بنظر استحسان دیکھا جاتا ہے۔ ترجمہ ڈچ کا دوسرا ایڈیشن ربوہ سے شائع کیاگیا ہے۔ اس ترجمہ کی اشاعت نے ہالینڈ کے عوام و خواص کی آنکھیں کھول دیں اور ان کو نہ صرف یہ محسوس کرادیا کہ اسلام آج بھی ایک زندہ اور ناقبال شکست طاقت ہے بلکہ انہیں جماعت احمدیہ کی اس ٹھوس اور شاندار اسلامی خدمت کا کھلے بندوں اقرار کرنا پڑا۔ اس حقیقت کے ثبوت میں بطور مثال ڈچ اخبارات کے چند نوٹ` تبصرے اور خبریں ملاخطہ ہوں۔
    )۱( روٹرڈم )ہالینڈ( کے اخبار COURANT ROTTERDAMSE NIEUWE نے اپنے ۱۴۔ جنوری ۱۹۵۴ء کے ایشوع میں لکھا۔
    >قرآن مجید کا نیا ترجمہ جس کے چھپنے کی خبر ہم اپنے اخبار کی ۲۴۔ اکتوبر کی اشاعت میں دے چکے ہیں اب چھپ کر منظر عام پر آگیا ہے۔ ایسی شکل وصورت میں کہ ہم اسے مذہبی کتاب کے لئے بطور نمونہ قرار دے سکتے ہیں۔ اس کی ظاہری خوبصورتی جو گہرے سبزرنگ کے چمڑے پر سنہری عربی حروف اور دلکش کتابت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح اس کا مناسب سائز۔ یہ سب امور اس پر دال ہیں کہ اس کی طرف خاص توجہ مبذول کی گئی ہے۔ ہم پریس اور پبلشر کو جنہوں نے دی اورنٹیل اینڈ ریلیجس پبلشنگ کارپوریشن ربوہ اور احمدیہ مسلم مشن ہالینڈ کے کہنے پر اسے شائع کیا ہے اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
    جب ہم اس کتاب کو کھولتے ہیں تو اس کے صفحات کے دائیں طرف عربی متن اور بائیں طرف ڈچ ترجمہ پاتے ہیں۔ ہر سورت کی ابتداء میں نہایت خوبصورت بلاکس میں صورت کا عربی نام درج کیاگیا ہے۔ قرآن )مجید( سے پہلے جو حصہ چھ سو پینتیس صفحات پر مشتمل ہے ۱۸۰ صفحات کا دیباچہ ہے جو حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے لکھا ہے۔ آپ حضرت احمد کے دوسرے جانشین ہیں جو ۱۸۸۹ء میں پیدا ہوئے۔
    چونکہ یہ موقع اسلام اور عیسائیت پر بحث کرنے کا نہیں ہے اس لئے ہم اس عالمانہ لکھے ہوئے دیباچہ پر تنقید کئے بغیر آگے چلتے ہیں۔ ہم یہ بیان کرنا مناسب خیال کرتے ہیں کہ اس میں اسلامی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے اور مشنری تحریک کے رنگ میں بعض سوالات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔
    احمدیت اپنے اندر ایک عالمگیر رنگ رکھتی ہے۔ وہ مذاہب کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کا اعلیٰ الہام اور گزشتہ مذاہب کا جزو قرار دیتی ہے جہاں باقی بڑے بڑے مذاہب اپنی اتنہاء پاتے اور اپنے وجود کو کھودیتے ہیں۔ یہ خلاصہ ہے اس دیباچہ میں بیان کئے ہوئے نظریات کا۔
    اس ترجمہ کی نظر انداز نہ ہونے والی خصوصیت یہ ہے کہ اسے چار ڈچ زبان دانوں کی مدد سے تیار کیاگیا ہے جنہوں نے انتخاب الفاظ میں نہایت ہی اعلیٰ معیار پیش نظررکھا ہے۔ اس کی زبان واضح اور سادہ ہے` مگر قابل قدر اور اعلیٰ۔ اس ترجمہ کے لئے جماعت احمدیہ مرکزیہ کی طرف سے ۱۹۴۷ء میں شائع ہونے والے انگریزی ترجمہ کو بطور بنیاد رکھا گیا ہے اور ترجمہ کے دوران میں مسلمان عربی دانوں کے ساتھ خاص طور پر مشورہ کیاجاتا رہا ہے جس کی وجہ سے اصل تین کو قابل اعتبار طور پر ترجمہ میں پیش کیاگیا ہے۔ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جہاں تک ایک مشرقی زبان کے متن میں اتحاد ہوسکتا ہے اس ترجمہ کا دوسرے تراجم سے کوئی اصولی فرق نہیں ہے اس لئے اس کا پرانے تراجم کے ساتھ ملانا اور بھی دلچسپی کا باعث ہوگا۔
    جو ترجمہ ۱۹۳۴ء میں قرآن فنڈ جماعت احمدیہ انڈونیشیا کے کہنے پر بٹاویہ )جاکرتا( میں VISSER کی طرف سے شائع ہوا تھا وہ ایک کمیشن نے کیا تھا جس میں مسٹرسودیوو بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ ایک دیباچہ اور مولانا محمد علی صاحب کے نوٹس بھی شامل ہیں۔ اس ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والے پورے طور پر ڈچ زبان نہیں جانتے تھے اس وجہ سے نیا ترجمہ بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں الفاظ مختصر` زیادہ قابل فہم اور صحیح تر ہیں۔ سورتوں کے فقرات میں جو تعلق اور بندش تھی اسے بھی قائم رکھاگیا ہے جس کی وجہ سے مختلف آیات ایک مجموعہ کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ اسی طرح الفاظ کا انتخاب بھی نمایاں طور پر بہتر ہے۔ آیتوں میں یہ نسبت بٹاویہ میں چھپنے والے ترجمہ کے زیادہ سلاست ہے۔
    یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ پہلی بار اس ترجمہ میں ہی خدا کا نامGOD کی بجائے اللہ پیش کیاگیا ہے۔ گزشتہ تراجم میں لفظ GOD ہی استعمال ہوتا رہا ہے۔
    مسٹر سودیوو کے ترجمہ میں عیسائیت کے اثر کے وجہ سے پرانے عہدنامہ کی طرز پر کلام کو اختیار کیاگیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مقامات ہماری توجہ کو زبور کی طرف کھینچ کر لے جاتے ہیں یا بائبل کے دوسرے ترجمہ کا مطابق گزشتہ انبیاء کی طرف۔ حتیٰ کہ ۱۸۵۹ء میں جو ترجمہ پروفیسر کیزر (KEYZER) کی زیرنگرانی چھپا تھا اس میں بھی لفظ GOD ہی استعمال ہوا ہے۔ اس وجہ سے نئے ترجمہ نے کامل طور پر ایک الگ حیثیت اختیار کرلی ہے جو کہ پڑھنے والے کو اسلام کے اثر ونفوذ کے دائرہ میں لاکھڑا کرتی ہے۔
    یہ ترجمہ پروفیسر کیزر (KEYZER) کے ترجمہ کے مقابلہ میں بہت بڑی حیثیت رکھتا ہے انہوں نے اپنے کام کے لئے بہت سے غیرزبان والوں کا ساتھ ملایا تھا۔ جس کی وجہ سے ڈچ زبان مبہم سی ہوکر رہ گئی ہے۔ علاوہ ازیں اس کی چھپوائی بہت ردی تھی اور پبلشر آخری ایڈیشن میں بھی اصلاح نہ کرسکا۔
    یہ کوئی قابل تعجب امر نہیں ہے کہ عربی الفاظ کے بہت سے معانی میں سے اس ترجمہ میں ان معانی کو ترجیح دی گئی ہے جو ایک ترقی کرنے والی جماعت )جیسا کہ جماعت احمدیہ ہے( کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ہم اس کے متعلق صرف چند ایک باتیں ہی بیان کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔
    مثلاً عورتوں کے معاشرتی حقوق میں انصاف ومساوات کے دوسرے تراجم کی نسبت واضح طور پر پیش کیاگیا ہے۔ اسی طرح مصنوی امور کو ظاہر پر ترجیح دی گئی ہے۔
    اخلاقیات کے معاملہ میں بھی معنویات کی طرف زیادہ میلان نظر آتا ہے۔ افسوس ہے کہ مفصل فقرات کا درج کرنا بہت زیادہ جگہ کا متقاضی ہے )لہذا ہم ایسا نہیں کرسکتے( اور قارئین کرام کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس ترجمہ کا دوسرے تراجم کے ساتھ ضرور مقابلہ کریں۔ خواہ صرف ان مقامات کا ہی کیا جائے جو پہلے واضح نہ تھے اور اب واضح اور عام فہم ہو گئے ہیں۔
    اس ترجمہ کا کچھ عرصہ کے بعد ڈاکٹر کرامرس کے ترجمہ کے ساتھ مقابلہ کرنا بہت بڑی دلچسپی کا باعث ہوگا جوکہ ELSVIER شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
    جماعت احمدیہ جو اپنے اندر ایک زبردست مشنری روح رکھتی ہے اس نے نہایت ہی اچھا کام کیا ہے کہ قدامت پسند مسلمانوں کے اعتراضات کی پروانہ کرتے ہوئے قرآن مجید کا دوسری یورپین زبانوں اور ڈچ زبان میں ترجمہ کردیا ہے ہم اس معاملہ میں ہر حیثیت اسے کامیاب یقین کرتے ہیں۔<۲۵۵
    ‏]body )[tag۲( ریفارمڈ چرچ کے ہفت روزہ WOARD> ADBLASSER, <KERKBODE, نے اپنی ۳۰۔ جنوری ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں لکھا۔
    >اس وقت مسلمانوں کی مقدس کتاب >قرآن< ہمارے زیر نظر ہے جو عربی اور ڈچ زبان میں چھپی ہے ترجمہ نہایت سلیس ہے۔ یہ ایڈیشن نہایت ہی اچھا تیار کیاگیا ہے۔ کاغذ عمدہ جلد پر سنہری حروف کا ٹھپہ لگاہوا ہے۔ اگرچہ قرآن میں بہت کچھ بائبل سے لیاگیا ہے تاہم دیباچہ میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ )حضرت( محمد )مصطفٰے( کی تعلیم بائبل سے اچھی ہے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے صرف ورق اٹھانے کی ضرورت ہے۔
    جو شخص مسلمانوں کے مذہب سے دلچسپی رکھتا ہو یا دوسرے لوگوں کے مذاہب سے اس کے لئے یہ بہترین ذریعہ ہے۔< )ترجمہ(
    )۳( ہالینڈ کے مشہور اور بااثر روزنامہ VOLK VRIJE HET )۸۔ مارچ ۱۹۵۴ء( نے ڈچ ترجمہ قرآن پر درج ذیل الفاظ میں تبصرہ شائع کیا۔
    >قرآن مجید ڈچ ترجمہ کے ساتھ حضرت مرزا بشیر محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی زیر ہدایت دی اورینٹل اینڈ ریلیجس پبلشنگ ربوہ پنجاب نے شائع کیا ہے` اور MOLLAND) (ZUID کی پبلشنگ کمپنی نے ہالینڈ میں اس کی اشاعت اپنے ذمہ لی ہے یہ ایڈیشن ایک دیباچہ` عربی متن اور ڈچ ترجمہ پر مشتمل ہے۔ دیباچہ میں اس امر پر مفصل بحث کی گئی ہے کہ یہود ونصاریٰ کے مذاہب کے بعد اسلام کی کیا ضرورت تھی؟
    >اس میں اس بات پر بھی زور دیاگیا ہے کہ مسیح صرف یہود کے لئے تھے نہ کہ ساری دنیا کے لئے جیسا کہ محمدﷺ~۔ اس دعویٰ کے ثبوت میں متی ۲۱`۲۶/۱۵ اور ۶/۷ کو پیش کیاگیا ہے۔< )ترجمہ(
    )۴( ایک ہفت روزہ WEEGSCHALL DE IN نے اپنی ۱۵۔ مارچ ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں لکھا۔
    ‏iq] g>[taاحمدیہ مسلم مشن نے قرآن مجید کا ڈچ ترجمہ تیار کیا ہے اس میں عربی حروف کو خاص قاعدہ کے مطابق لکھاگیا ہے جس کی وجہ سے قرآن کو Q لکھا گیا ہے )عام طور پر K سے لکھا جاتا ہے( اس ایڈیشن میں اصل عربی متن اور اس کا ڈچ ترجمہ اکٹھا دیاگیا ہے۔ اس کے دیباچہ میں جو حضرت میر مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کا لکھا ہوا ہے قرآن کی عالمگیری کا بائبل اور ویدوں کی قومی تعلیم سے بالا قراردیاگیا ہے۔ اس دیباچہ کے مطابق عہد قدیم کی بہت سی پیشگوئیاں مسیح سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ ان کا تعلق اسلام کے نبی پاک سے بتلایا جاتا ہے جو مسلمانوں کی اس پاک کتاب سے واقفیت حاصل کرنا چاہے اب ڈچ زبان میں کرسکتا ہے۔< )ترجمہ(
    ملکہ ہالینڈ اور عمائد مملکت کو قرآن مجید کا تحفہ اور پریس
    احمدیہ مشن ہالینڈ کی طرف سے ملکہ ہالینڈ کے علاوہ محترم وزیراعظم` وزیر تعلیم` میئر آف روٹرڈم دی ہیگ اور ایمسٹرڈم کی خدمت
    میں ڈچ ترجمہ کی ایک ایک کاپی بھی پیش کی گئی جس کا ذکر ہالینڈ کے پانچ چھ چوٹی کے اخباروں نے کیا۔ چنانچہ HANDELSBLAD>> <ALGEMEEN نے اپنی ۱۵۔ اپریل ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں >قرآن نئے ڈچ ترجمہ کے ساتھ< کے عنوان کے ماتحت لکھا۔
    >کل دوپہر کے بعد احمدیہ مسلم مشن نے نئے ڈچ ترجمہ کی ایک کاپی وزیرتعلیم کی خدمت میں پیش کی ہے۔ اس سے قبل ملکہ جولیانا` وزیراعظم ڈاکٹر والیس میئر آف روٹرڈم اور میئر آف دی ہیگ کی خدمت میں بھی اس کی ایک ایک کاپی پیش کی جاچکی ہے۔
    وزیرتعلیم کے نام ایک خط میں احمدیہ مسلم مشن کے انچارج غلام احمد صاحب بشیر نے ان کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کروائی ہے کہ ہالینڈ میں بھی دوسرے مغربی ممالک کی طرح سکولوں میں بچوں کو اسلام کے متعلق غلط تعلیم دی جاتی ہے۔ مسٹر بشیر کے خیال کے مطابق تاریخ کی کتب میں یہ بیان کیاجاتا ہے کہ اسلام اپنے متبعین کو اس تعلیم کے جبری پھیلانے کی تلقین کرتا ہے یہ بالکل صحیح نہیں۔ اس لئے وزیرتعلیم کی خدمت میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ ان درستی کتابوں پر نظرثانی کی جائے۔<
    اخبار COURANT> <HAAGSCHE نے ۱۵۔ اپریل ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں یہ خبربایں الفاظ شائع کی۔
    >وزیرتعلیم مسٹر کالیس کی خدمت میں قرآن پیش کیاگیا۔< اسلام کے متعلق بہتر معلومات بہم پہنچانے کی درخواست۔<
    >کل دوپہر کے بعد احمدیہ مسلم مشن ہالینڈ کی طرف سے وزیرتعلیم کی خدمت میں نئے ڈچ ترجمہ کی کاپی پیش کی گئی۔ اس کے ساتھ وزیرتعلیم کی خدمت میں ایک تحریری درخواست بھی پیش کی گئی ہے جس میں یہ عرض کیاگیا ہے کہ ڈچ درستی کتب میں اسلام کے متعلق بہتر اور زیادہ صحیح معلومات بہم پہنچائی جائیں۔
    علاوہ ازیں ملکہ ہالینڈ` وزیرتعلیم` میئر آف دی ہیگ اور روٹرڈم کی خدمت میں بھی اس ترجمہ کی ایک ایک کاپی پیش کی گئی ہے۔<
    محولہ بالاخبر کو ہارلم کے روزانہ اخبار نے بھی دوہرایا۔ اسی طرح >نیوہاگسے کرانت< ہیت فادر لینڈ نیوے روٹردمس کرانت میں بھی نقل کیا۔
    مندرجہ ذیل خبر چار ڈچ اخبارات میں چھپی۔
    >۲۴۔ اپریل کو قرآن مجید کی ایک کاپی ایمسٹرڈم کے میئر کی خدمت میں پیش کی گئی جنہوں نے اسے بہت ہی پسند کیا اور کافی دیر تک اس کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔<
    اخبار HANDELSBLAD ALGEMEEN نے لکھا۔
    >آج مسٹر بشیر انچارج احمدیہ مسلم مشن ہالینڈ نے قرآن کے نئے ڈچ ترجمہ کی ایک کاپی جو کہ نہایت ہی خوبصورت تھی ایمسٹرڈم کے میئر کی خدمت میں پش کی ہے۔ اس کتاب میں جس میں ایک دیباچہ اور تمہیدی مضمون بھی ہے ڈچ ترجمہ کے ساتھ اصل عربی متن بھی طبع کیاگیا ہے۔ )۲۴۔ اپریل ۱۹۵۴ء ایمسٹرڈم<(
    ایک کیتھولک اخبار ROTTERDAM MAASBODE میں اس کی ۲۶۔ اپریل ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں یہ خبر چھپی۔
    >قرآن کا نیا ایڈیشن< گزشتہ ہفتہ کے روز احمدیہ مسلم مشن ہالینڈ کے انچارج مسٹر بشیر نے ایمسٹرڈم کے میئر کی خدمت میں ڈچ ترجمہ کا نیا ایڈیشن پیش کیا۔ یہ کتاب ایک تمہیدی مضمون اور دیباچہ کے علاوہ عربی متن )جس کے مقابل پر ڈچ ترجمہ دیاگیا ہے( پر مشتمل ہے۔<][اخبار AMSTERDAM DEUDRSKARANT نے اپنے ۲۶۔ اپریل ۱۹۵۴ء کے نمبر میں یہ خبر شائع کی۔
    >گزشتہ ہفتہ کے روز احمدیہ یہ مسلم مشن ہالینڈ کے انچارج مسٹر بشیر نے ایمسٹرڈم کے میئر کی خدمت میں قرآن کے نئے ڈچ ترجمہ کی ایک کاپی پیش کی تھی جو کہ نہایت ہی خوبصورت ہے اس کتاب میں عربی متن کے مقابل پر ڈچ ترجمہ دیاگیا۔<
    یہ خبر AMSTERDAM TELEGRAAF میں بھی انہی الفاظ میں شائع ہوئی۔۲۵۶ )الغرض ڈچ ترجمہ قرآن کا ولندیزی حکومت کے عمائدین کے ہاتھوں پہنچنے کی دیر تھی کہ پریس کے ذریعہ اس واقعہ کی خبر آنا فانا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ گئی۔ یہ خدائی نصرت کا گویا ایک نیا سامان تھا جس نے ملک بھر میں قرآن مجید اور اسلام کی عظمت کا سکہ دلوں میں بٹھادیا اور کیتھولک چرچ پر جماعت احمدیہ کا علمی رعب طاری ہوگیا۔
    مسجد ہالینڈ کے لئے قطعہ زمین کا حصول
    سیدنا حضرت مسیح موعود کو ۱۸۸۸ء میں کشفی طور پر دیوار مسجد پر مصلح موعود کا مبارک نام محمود دکھایاگیا تھا۲۵۷]4 [rtf جس میں یہ اشارہ بھی کیاگیا تھا کہ دور مصلح موعود کو تعمیر مساجد کے ساتھ گہرا تعلق ہوگا چنانچہ عملاً ایسا ہی ہوا اور حضرت مصلح موعود نے اپنے عہدمبارک میں یورپ` امریکہ` افریقہ` ایشیا غرضکہ جملہ براعظموں میں متعدد مسجدیں بنوائیں اور ہمیشہ ہی جماعت کو یہ نصیحت فرماتے رہے کہ >ہمیں ہر اہم جگہ پر ہی نہیں ہر جگہ پر مسجدیں بنانی ہوں گی۔<۲۵۸
    جہاں تک ہالینڈ کا تعلق ہے حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر اس سرزمین پر ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء میں ایک شاندار اور عالی شان مسجد کی تعمیر کی گئی۔ مسجد فضل لنڈن کی طرح یہ مسجد بھی خواتین احمدیت کے چندوں سے تیار ہوئی۔
    مسجد ہالینڈ کے لئے زمین کا حصول ایک بڑا معرکہ تھا۔ ہالینڈ کے کیتھولک چرچ نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا کہ ہیگ بلکہ ملک کے کسی گوشہ میں مسجد تعمیر نہ ہونے پائے مگر اللہ تعالیٰ نے اپن قدرت طاقت کا ایسا غیبی ہاتھ دکھایا کہ چرچ کی تمام کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں اور ۷ ماہ وفا/جولائی ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء بروز جمعہ ہیگ میں ایک موزوں قطعہ کی باضابطہ منظوری ہوگئی۔۲۵۹ چنانچہ حافظ قدرت الل¶ہ صاحب اپنی ایک رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں کہ۔
    ۱۹۵۰ء میں جب مسجد کے لئے زمین خریدنے کا معاملہ زیر غور تھا تو اس وقت بھی بعض حالات ایسے رنگ میں ظاہر ہوئے جو ہمارے لئے ازدیاد ایمان کا موجب ہیں۔ ہیگ میں مسجد کے لئے مناسب جگہ کی تلاش کے لئے کافی تگ و دو کرنی پڑتی تھی۔ آخر حسن اتفاق ایسا ہوا کہ ہماری توقعات سے بڑھ کر ایک نہایت عمدہ جگہ اس غرض کے لئے ہمیں مل گئی۔ یہ جگہ ایک چرچ اور ایک اہم کیتھولک انسٹی ٹیوٹ کے نہ صرف قریب تھی بلکہ ان کے راستہ پر پڑتی تھی جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مذہبی حلقوں کی طرف سے اس کی مخالف ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ مگر ہیگ کی مینوسپل کمیٹی کا جو ذمہ دار شخص تھا اس نے اس تمام مخالفت کا ایسا ذمہ دارانہ مقابلہ کیا کہ آج بھی اس کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہمیں ان مشکلات کا علم اس وقت ہوا جب فیصلہ ہوکر پریس کے ذریعہ یہ خبر منصہ شہود پر آگئی کہ کمیٹی کے ایک ہنگامی اجلاس میں یہ امر بالاخر ملے پاگیا ہے کہ مجوزہ جگہ پر مسجد تعمیر کرلی جائے۔ کمیٹی کے اس تاریخی اجلاس میں کیتھولک مخالفت کے باوجود ڈاکٹربا کے سخت SCHUT) (BAKKE جو کمیٹی کے چیف ٹائون پلیز تھے ان کی پارٹی کو فتح حاصل ہوئی فالحمدللہ علی ذالک۔<۲۶۰
    مسجد ہیگ کی ابتدائی خبر ڈچ اخبارات میں
    مسجد کے لئے زمین کا حصول ایک ایسا اہم واقعہ تھا کہ ولندیزی پریس نے اس کا خاص طور پر چرچا کیا۔ چنانچہ یہ خبر ہالینڈ کے قریباً ساٹھ اخباروں نے شائع کی جن میں ہالینڈ کے چوٹی کے اخباروں سے لے کر صوبہ جاتی اخبار تک شامل تھے۔ مثلاً ایک اخبار نے لکھا۔
    >بزائودن ہائوت محلہ میں مسلم مشن کی طرف سے مسجد کی تعمیر چند سالوں کے اندر اندر ہالینڈ میں دو مسجدیں ہوجائیں گی۔ پہلی مسجد ہیگ میں COSTDUINLAAN )سٹرک پر( M۔P۔B بلڈنگ کے مدمقابل تعمیر ہوگی )یہ ایک کمپنی کی بلڈنگ کے مدمقابل تمعیر ہوگی(۲۶۱ یہ جگہ اب تک فارغ پڑی رہی تھی اور اس جگہ کے اردگرد بہت دیر سے مکان تعمیر ہوچکے ہیں۔ شاید خدا تعالیٰ نے اس جگہ کو اس لئے خالی رہنے دیا ہوگا کہ اس جگہ مسجد تعمیر ہوگی۔ دوسری مسجد ایمسٹرڈم میں TALPPLEIN چوک کے پاس تعمیر کی جائے گی۔ اس طرح مسلم مشن ہمارے ملک میں اپنی دو عمارتوں کا مالک ہوجائے گا جو نبی اکرم کی تعلیم کو پھیلانے کے لئے نقطہ مرکزی کی حیثیت اختیار کریں گی۔<
    اس قسم کی خبریں احمدیہ مسلم مشن ہالینڈ کے انچارج مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب کے ذریعہ سے نشر ہوتی ہیں۔ مسجد ہیگ کی تعمیر میں اب امام جماعت احمدیہ کی اجازت کا انتظار ہے۔ ان کی خدمت میں مسٹروالیون سے ایک نقشہ تیار کروا کے بھجوایا جاچکا ہوا ہے۔ اس نقشہ کی منظوری پر کام شروع ہوجائے گا۔ مسجد کے لئے زمین کسی پرائیویٹ مالک سے ۲۸ ہزار گلڈرز میں خریدی گئی ہے جس کا رقبہ ۸۰۰ مربع میٹر ہے۔ تعمیر پر قریباً ایک لاکھ گلڈرز خرچ ہوگا تب جاکر ایک سفید مسجد بلند ہوسکے گی جس میں دو سو کے قریب مومنین اپنی عبادت کرسکیں گے۔ اسی طرح ایک وسیع ہال بھی تعمیر ہوگا جس میں دو سو افراد بیٹھ سکیں گے۔ اس کی تعمیر کے ایک سال بعد امید کی جاتی ہے کہ ایمسٹرڈم میں بھی مسجد کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔
    جماعت احمدیہ اس وقت حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کی زیر قیادت کام کررہی ہے۔ آپ جماعت احمدیہ کے بانی حضرت احمد )علیہ السلام( کے سب سے بڑے فرزند ہیں۔ حضرت احمد نے ۱۸۸۹ء ۲۶۲ میں بمقام قادیان مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ آپ کی حین حیات میں جماعت نے کافی ترقی کی اور آپ کے فرزند ارجمند کی قیادت میں اور بھی بڑھ چڑھ کر ترقی کی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ افریقہ` ایشیا اور انڈونیشیا میں اس جماعت کے بہت سے افراد پائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں جماعت احمدیہ کے مشن اٹلی` ارجنٹائن` لنڈن` واشنگٹن` پیرس` زیورچ` ہیڈرڈ` ہیمبرگ میں بھی پائے جاتے ہیں۔
    حافظ صاحب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہالینڈ جیسے ملک میں ان کا کام کوئی آسان نہیں ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ پیغام جو ہم لے کر آئے ہیں محبت` صلح و آشتی کا پیغام ہے۔ کیونکہ اسلام کا مطلب ہی یہ ہے کہ خدا اور انسانوں کے ساتھ صلح۔ اس لئے ہم کامیابی کی امید کرتے ہیں۔
    جماعت کی تعداد ہمارے ملک میں ابھی تک بہت ہی تھوڑی ہے لیکن یہاں ایک اور تحریک بھی ہے جس میں بہت سے انڈونیشین شامل ہیں۔ اس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد روم صاحب ہائی کمشنر برائے انڈونیشیا کی رہائش گاہ واقع و اسناء میں اپنے اجتماعات کرتے ہیں اور اسی جگہ انہوں نے عید کی نماز بھی ادا کی تھی۔ ہیگ` ایمسٹرڈم` اور ترخت وغیرہ میں لوگوں نے بہت دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور بہت سے لوگ ان کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں مگر ابھی تک ڈیڑھ درجن کے قریب لوگوں نے بیعت کی ہے۔ ہالینڈ سے ایک ماہانہ دو ورقہ پرچہ بھی نکالا جاتا ہے جو ممبران جماعت احمدیہ کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جماعت احمدیہ کی مستورات ہیگ کی مسجد کے لئے اور امریکہ کی مسجد کے لئے چند جمع کررہے ہیں۔<۲۶۳ )ترجمہ(
    حضرت مصلح موعود کی طرف سے چندہ کی تحریک اور احمدی مستورات کا شاندار مالی جہاد
    حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے تحریک فرمائی کہ ہالینڈ کی مسجد احمدی عورتوں کے چندہ سے تعمیر کی جائے۔ احمدی خواتین نے اپنی گزشتہ مثالی روایات کے
    عین مطابق اس مالی تحریک کا ایسا والہانہ اور پر جوش خیر مقدم کیا کہ اس پر حضرت مصلح موعود نے تقریروں اور خطبوں میں اپنی زبان مبارک سے متعدد بار اظہار خوشنودی کیا۔ مثلاً ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا۔
    >ہالینڈ کی مسجد کے متعلق عورتوں میں تحریک کی گئی تھی انہوں نے مردوں سے زیادہ قربانی کا ثبوت دیا ہے۔ گو ان کی تحریک بھی چھوٹی تھی۔ عورت کی آمدن ہمارے ملک میں تو کوئی ہوتی ہی نہیں۔ اگر اسلامی قانون کو دیکھا جائے تو عورت کی آمد مرد سے آدھی ہونی چاہئے کیونکہ شریعت نے عورت کے لئے آدھا حصہ مقرر کیا ہے اور مرد کے لئے پورا حصہ۔ پس اگر مردوں نے چالیس ہزار روپیہ دیا تو چاہئے کہ عورتیں بیس ہزار روپیہ دیتیں مگر واقعہ یہ ہے کہ مردوں نے اگر ایک روپیہ چندہ دیا ہے تو عورتوں نے سوا روپے کی قریب دیا ہے انہوں نے زمین کی قیمت ادا کردی ہے اور ابھی چھ سات ہزار روپیہ ان کا جمع ہے جس میں اور روپیہ ڈال کر ہالینڈ کی مسجد بنے گی۔ پھر یہ چندہ انہوں نے ایسے وقت میں دیا ہے جبکہ لجنہ کا دفتر بنانے کے لئے بھی انہوں نے چودہ پندرہ ہزار روپیہ جمع کیا تھا۔<۲۶۴
    سالانہ جلسہ ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء کے موقعہ پر بتایا۔
    >مسجد ہالینڈ کا چندہ عورتوں نے مردوں سے زیادہ دیا ہے۔ مردوں کے ذمہ واشنگٹن کی مسجد لگائی گئی ہے اور اس کا خرچ مسجد بناکر قریباً اڑھائی پونے تین لاکھ ہوتا ہے اور جو عورتوں کے ذمہ کام لگایا تھا مسجد ہالینڈ کا اس کی ساری رقم زمین وغیرہ ملاکر کوئی اسی ہزار یا لاکھ کے قریب بنتی ہے انہوں نے اپنے اسی ہزار میں سے چھیالیس ہزار روپیہ ادا کردیا ہے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کو توجہ دلانے کی اتنی ضرورت نہیں مجھے یقین ہے کہ وہ میری اس مختصر تحریک سے ہی اپنے فرض کو سمجھنے لگ جائیں گی اور اس نیک کام کو تکمیل تک پہنچادیں گی۔ میں عورتوں سے کہتا ہوں تمہاری قربانی مردوں سے اس وقت بڑھی ہوئی ہے۔ اپنی اس شان کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دفتر کے قرضہ کو بھی ادا کرو اور اس کے ساتھ مسجد ہالینڈ کو بھی نہ بھولنا۔ اس کے لئے ابھی کوئی پچاس ہزار روپیہ کے قریب ضرورت ہے۔ ہمارا پہلا اندازہ مکان اور مسجد کی تعمیر کا تیس ہزار کے قریب تھا لیکن وہ کہتے ہیں کہ ساٹھ ہزار سے کم میں وہ جگہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس جگہ پر گورنمنٹ کی طرف سے کچھ قیود ہیں اور وہ ایک خاص قسم کی اور خاص شان کی عمارت بنانے کی وہاں اجازت دیتے ہیں اس سے کم نہیں دیتے۔ پس زمین کی قیمت مل کر نوے ہزار سے ایک لاکھ تک کا خرچ ہوگا جس میں سے وہ بفضلہ چھیالیس ہزار تک اس وقت تک ادا کرچکی ہیں۔<۲۶۵
    احمدی عورتوں نے اپنے آقا کے اس ارشاد پر مسجد ہالینڈ کے لئے عطیات کی مہم تیز ترکردی۔
    کھدوائی کا مرحلہ][تعمیر مسجد کے لئے چندہ کی ایک معقول رقم احمدی مستورات کی طرف سے فراہم ہوچکی تھی اس لئے حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر ۱۲۔ ماہ تبلیغ/فروری ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء کو چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب جج عالمی عدالت انصاف >حال چیف جسٹس( نے دعا کے ساتھ مسجد کی بنیادیں اٹھانے کے لئے کھدوائی کا کام شروع کرادیا۔ اس موقع پر مقامی جماعت احمدیہ کے اکثر احباب کے علاوہ مختلف اخبارات کے نمائندے اور پریس فوٹو گرافر بھی موجود تھے۔ سب سے پہلے حضرت چوہدری صاحب نے تمام احباب سمیت اجتماعی دعا کرائی پھر آپ نے کدال چلائی بعدازاں مبلغ ہالینڈ جناب مولوی ابوبکر ایوب صاحب نے کچھ زمین کھودی۔ پھر بعض دوسرے احمدیوں نے بھی اس میں حصہ لیا۔ ۲۶۶
    سنگ بنیاد
    کھدائی کا ابتدائی مرحلہ بخیر وخوبی طے ہوچکا تو ۲۰۔ ماہ ہجرت/مئی ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء کو حضرت چوہدری صاحب ہی کے مبارک ہاتھوں سے سرزمین ہالینڈ کی اس پہلی مسجد کا سنگ بنیاد رکھاگیا۔ اس موقعہ پر بہت سے مسلم ممالک کے نمائندوں اور ممتاز صحافیوں نے شرکت کی۔۲۶۷
    حضرت مصلح موعود کا پیغام
    مبلغ انچارج ہالینڈ مشن کی طرف سے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں مسجد کے سنگ بنیاد کی خوشخبری پہنچی تو حضور کو ازحد مسرت ہوئی اور حضور نے ایک خصوصی پیغام بھجوایا جس میں فرمایا کہ۔
    >جزاک اللہ مبارک ہو آپ کو بھی اور سب احمدی نومسلموں کو بھی۔ اللہ تعالیٰ چوہدری صاحب کے لئے یہ خدمت عظیم بہت بہت مبارک کرے اور ثواب کا موجب بنائے سچ وہی ہے جو سرعبدالقادر نے مسجد لنڈن کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا۔ ~}~
    ایں سعادت بزور بازو نیست
    تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
    اللہ تعالیٰ نے چوہدری صاحب کو مجھے آرام سے یہاں پہنچانے کی سعادت بخشی اور اس کے بدلہ میں ان کو مسجد ہالینڈ کا سنگ بنیاد رکھنے کی عزت بخشی۔ یہ وہ عزت ہے جو بہت بڑے بڑے لوگوں کو بھی نصیب نہ ہوئی ہوگی۔ ہم نئے سرے سے اسلام کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ محمد رسول اللہ~صل۱~ کا نائب ہونا کوئی معمولی عہدہ نہیں۔ آج دنیا اس کی قدر کو نہیں جانتی ایک وقت آئے گا جب ساری دنیا کے بادشاہ رشک کی نظر سے ان خدمات کو دیکھیں گے۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ جلد ہالینڈ کے اکثر لوگوں کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق بخشے۔<۲۶۸
    افتتاح کی بابرکت تقریب
    سیدنا حضرت مصلح موعود کی خاص توجہ اور نگرانی کے تحت مسجد ہالینڈ کی تعمیر پائیہ تکمیل تک پہنچ چکی تو چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ۹۔ فتح/دسمبر ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء کو اس کا افتتاح فرمایا۔ افتتاحی تقریب میں متعدد ممالک کے سربر آوردہ حضرات کثیر تعداد میں شامل ہوئے۔ مدعوین میں پاکستان` مصر` شام اور انڈونیشیا کے سفارتی نمائندے` یونیورسٹی کے پروفیسر صاحبان` مشہور فرموں کے ڈائریکٹرز` میونسپل افسران اور جرمنی` سوئٹزرلینڈ اور انگلستان کے مبلغین احمدیت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں ہیگ اور بعض دوسرے مقامات کے احمدی اور پریس اور ریڈیو کے نمائندگان بھی اس تقریب میں موجود تھے۔۲۶۹
    ہالینڈ میں مسجد کی تعمیر کو غلبہ اسلام کی شاہراہ میں ہمیشہ سنگ میل کی حیثیت حاصل رہے گی۔ اس سرزمین میں خانہ خدا کی اہمیت کو ہالینڈ کے اونچے طبقے نے خاص طور پر محسوس کیا ہے چنانچہ ہیگ کا ایک کثیرالاشاعت روزنامہ COURANT> HEAGSE <NIEUWE نے مسجد ہیگ میں نماز کی حالت کا ایک بڑا سا فوٹو دیتے ہوئے لکھا کہ۔
    >یہ فوٹو کراچی` قاہرہ یا بغداد کی نہیں بلکہ یہ مسجد خودہیگ میں ہے جس میں لوگ نماز ادا کررہے ہیں۔<
    اور پھر اسی مضمون کو جاری رکھتے ہوئے اخبار مذکور لکھتا ہے کہ۔
    >مسلمان دو دفعہ اس سے پہلے بھی یورپ میں آئے۔ ایک دفعہ آٹھویں صدی میں اور دوسری دفعہ پندرھویں صدی میں۔ مگر دونوں دفعہ ان کا آنا سیاسی نوعیت کا تھا مگر اس دفعہ ہمارے زمانہ میں ان کی آمد یورپ میں عقبی دروازہ سے ہوئی ہے اور اس طرف سے انہیں کسی لشکریا فوج کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ اس کے برعکس انہیں وہ خالی دل ملے ہیں جن سے عیسائیت عرصہ ہوا نکل چکی ہے۔<
    تکمیل مسجد کے لئے مزید چندہ کی تحریک
    مسجد ہالینڈ پر چونکہ اندازہ سے زیادہ خرچ ہوچکا تھا اس لئے حضرت مصلح موعود نے احمدی خواتین کو چندہ کی تحریک برابر جاری رکھی اور اس پر بہت زوردیا۔ چنانچہ فرمایا۔
    >اس سال ہالینڈ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف احمدی مستورات کے چندہ سے ہی ایک نہایت عظیم الشان مسجد تعمیر ہوتی ہے لیکن اس پر جو خرچ ہوا ہے وہ ابتدائی اندازے سے بہت بڑھ گیا ہے۔ اس وقت تک مستورات نے جو چندہ دیا ہے ۹۱ ہزار روپیہ اس سے زائد خرچ ہوگیا ہے مستورات کو چاہئے کہ جلد یہ رقم جمع کردیں۔<۲۷۰
    ایک اور موقعہ پر فرمایا۔
    >عورتوں نے ہالینڈ کی مسجد کا چندہ اپنے ذمہ لیا تھا مگر اس پر بجائے ایک لاکھ کے جو میرا اندازاہ تھا ایک لاکھ چوہتر ہزار روپیہ خرچ ہوا ۷۸ ہزار ان کی طرف سے چندہ آیا تھا گویا ابھی ۹۶ ہزار باقی ہے۔ پس عورتوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ وہ ۹۶ ہزار روپیہ جلد جمع کریں تاکہ مسجد ہالینڈ ان کی ہوجائے۔<۲۷۱
    بعدازاں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ۔
    >میں نے مسجد ہالینڈ کی تعمیر کے لئے عورتوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی جس میں سے ۹۹ ہزار عورتیں اس وقت تک دے چکی ہیں لیکن جو اندازہ وہاں سے آیا تھا وہ ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تھا اور عملاً اب تک ایک لاکھ پچھہتر ہزار روپیہ خرچ ہوچکا ہے۔ تحریک جدید کا ریکارد کہتا ہے عورتیں ننانوے ہزار روپیہ دے چکی ہیں۔۔۔۔ میں نے وکالت مال کے شعبہ بیرون کے انچارچ چوہدری شبیراحمد صاحب کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ریکارڈ ہے جس سے معلوم ہوکہ جب ہیگ سے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تخمینہ آیا تھا تو میں نے عورتوں سے اس قدر چندہ کرنے کی اجازت دی ہو کیونکہ عورتوں کا حق تھا کہ چندہ لینے سے پہلے ان سے پوچھ لیا جاتا کہ کیا وہ یہ چندہ دے بھی سکتی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا افسوس ہے کہ اس وقت ہم سے غلطی ہوئی اور ہم نے حضور سے دریافت نہ کیا کہ آیا مزید رقم بھی عورتوں سے جمع کی جائے۔ ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں جس کی رو سے زیادہ رقم اکٹھی کرنے کی منظوری لی گئی ہو۔ میں نے کہا میں یہ مان لیتا ہوں کہ آپ نے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپیہ کی جمع کرنے کی منظوری مجھ سے نہ لی لیکن جب وہ رقم ایک لاکھ پچھہتر ہزار بن گئی تو پھر تو آپ نے مجھ سے منظوری لینی تھی کیا آپ نے مجھ سے منظوری لی۔ انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہم نے اس کے متعلق بھی حضور سے کوئی منظوری نہیں لی اور ہمارے پاس کوئی ایسا کاغذ نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ عورتوں سے ایک لاکھ چونتیس ہزار یا ایک لاکھ پچھہتر ہزار روپیہ جمع کرنا منظور ہے۔ اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لجنہ اماء اللہ اس سال صرف چھتیس ہزار روپیہ چندہ کرکے تحریک جدید کردے دے اور باقی روپیہ تحریک جدید خود ادا کرے۔ لجنہ اماء اللہ چھتیس ہزار روپے سے زیادہ نہیں دے گی اور مسجد ہالینڈ ہمیشہ کے لئے عورتوں کے نام پر ہی رہے گی۔<۲۷۲
    حضرت مصلح موعود نے تعمیر مسجد ہیگ کے لئے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک خاص فرمائی تھی مگر خواتین احمدیت نے اپنے آقا کے حضور ایک لاکھ تینتالیس ہزار چھ سو چونسٹھ روپے کی رقم پیش کردی بلکہ بعض مستورات تو اس مد کی ختم ہونے کے بعد بھی چندہ بھجواتی رہیں۔4] f[st۲۷۳
    ہالینڈ میں حضرت مصلح موعود کی تشریف آوری
    مسجد ہیگ ابھی زیرتعمیر تھی کہ ہالینڈ مشن کو اپنی تاریخ کا ایک ایسا عظیم اعزاز نصیب ہوا جس پر ہالینڈ کے احمدی خصوصاً اور دوسرے ولندیزی باشندے عموماً جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔ یہ اعزاز حضرت مصلح موعود کا ورود ہالینڈ ہے۔
    حضرت اقدس دوسرے سفر یورپ کے دوران سوئٹزرلینڈ کو اپنے مبارک نزول سے برکت دینے کے بعد ۱۸۔ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء کو ہیگ میں بھی رونق افروز ہوئے۔۲۷۴]4 [rtf حضور یہاں ایک ہفتہ قیام فرما رہنے کے بعد ۲۵۔ احسان/جون کو ہمبرگ تشریف لے گئے۔ دوران قیام مسجد کی زیر تعمیر عمارت کے انٹرنس ہال میں ایک لمبی اور پرسوز دعا فرمائی۔۲۷۵
    مرکزاحمدیت سے دوسرے مجاہدین اسلام کی آمد
    حافظ قدرت اللہ صاحب قریباً ساڑھے تین سال تک تبلیغی فرائض انجام دینے کے بعد ۱۸۔ فتح/دسمبر ۱۳۶۹ہش/۱۹۵۰ء کو ہالینڈ سے پاکستان روانہ ہوگئے اور آپ کے بعد مولوی غلام احمد صاحب بشیر اور مولوی ابوبکر ایوب صاحب سماٹری نے مشن کی تبلیغی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ مقدم الذکر مشن کے انچارج مقرر ہوئے۔ یہ دونوں مبلغین ایک ہفتہ پیشتر ۱۱۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء کو لنڈن سے ہالینڈ میں پہنچے تھے۔۲۷۶ مولوی ابوبکر صاحب سماٹری قریباً ساڑھے چھ برس تک نہایت خلوص اور محبت سے تبلیغ اسلام کی خدمت بجالاتے رہے اور ۱۶۔ ماہ وفا/جولائی ۱۳۳۶ہش/۱۹۵۷ء کو ہالینڈ سے تشریف لے آئے۔ ۲۷۷
    مولوی ابوبکر صاحب ابھی ہالینڈ میں تھے کہ حافظ قدرت اللہ صاحب ۲۹۔ ماہ صلح/جنوری ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء کو دوبارہ اس ملک میں اشاعت اسلام کی غرض سے بھجوا دیئے گئے۔ اب چونکہ تعمیر مسجد کے بعد ہالینڈ مشن کا کام پہلے سے بہت بڑھ چکا تھا اور روز بروز بڑھ رہا تھا اس لئے مرکز سے ۶۔ تبوک/ستمبر ۱۳۳۶ہش/۱۹۵۷ء کو مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل ہالینڈ بھجوائے گئے اور قریباً ساڑھے تین برس تک حافظ صاحب کا ہاتھ بٹانے اور اہم تبلیغی خدمات بجالانے کے بعد ۲۳۔ امان/مارچ ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء کو واپس تشریف لائے اور آپ کی جگہ پر صلاح الدین خان صاحب بنگالی مورخہ ۴۔ ظہور/اگست ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء ہالینڈ روانہ کئے گئے جنہوں نے وہاں تین سال تک فریضہ تبلیغ ادا کیا اور ۱۱۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۴۳ہش/۱۹۶۴ء کو وارد ربوہ ہوئے۔ آپ کے بعد دوبارہ مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل ۶۔ ماہ اخاء/اکتوبر ۱۳۴۳ہش/۱۹۶۴ء کو عازم ہالینڈ ہوئے۔ تین سال بعد صلاح الدین خان صاحب بھی ۷۔ ماہ فتح/دسمبر ۱۳۴۶ہش/۱۹۶۷ء کو ہالینڈ تشریف لے گئے اور ۲۰۔ تبوک/ستمبر ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء کو واپس آئے۔
    لنڈن مشن کی طرح اس مشن کو بھی چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب کی بلند پایہ علمی و دینی شخصیت سے بہت فائدہ اٹھانے کا موقعہ ملا اور مل رہا ہے اور یقیناً اس مشن کی شہرت و ترقی میں ان کے مبارک وجود کا بھی بفضلہ تعالیٰ نمایاں دخل ہے۔ علاوہ ازیں خود مجاہدین ہالینڈ تبلیغ اسلام کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے نتیجہ ہوا کہ خدا کے فضل و کرم سے ہالینڈ کے طول و عرض میں اسلام کے چرچے عام ہونے لگے اور اسلام کا اثر ونفوذ یہاں تک بڑھا کہ عام ملکی پریس کے علاوہ عیسائی رسالوں ۲۷۸ میں بھی مبلغین احمدیت کے قلم سے اسلام کی نسبت بکثرت مضامین شائع ہونے لگے۔
    حافظ قدرت اللہ جنہیں ہالینڈ مشن کی بنیاد رکھنے کے علاوہ مجموعی اعتبار سے قریباً ۱۴ برس تک خدمت کرنے کا فخر بھی نصیب ہوا۔ مشن کا چارج مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل کو سونپ کر ۲۱۔ ماہ فتح/دسمبر ۱۳۴۶ہش/۱۹۶۷ء کو مرکز میں تشریف لے آئے۔ آپ کے بعد جناب اکمل صاحب تین سال تک تبلیغی فرائض بجا لاتے رہے اور پھر مسن کا چارج جناب صلاح الدین خاں صاحب کو دے کر ۲۰۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء کو مرکز میں پہنچ گئے۔۲۷۹ آپ کی آمد کے چند ماہ بعد مولوی ابوبکر ایوب صاحب سماٹری ۱۳۔ ماہ وفا/جولائی ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء کو ایک بارپھر ہالینڈ تشریف لے گئے اور اب تک اس ملک کو نور اسلام سے منور کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔
    ڈچ رسالہ >الاسلام< کا اجزاء
    حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ انچارج کی کوشش سے اوائل ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء میں مشن کی طرف سے >الاسلام< کے نام سے ایک ڈچ ماہنامہ جاری کیاگیا۔۲۸۰ یہ رسالہ اب تک سائیکلوسٹائل ہوکر آرٹ پیپر کے سادہ مگر دیدہ زیب سرورق کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اس رسالہ کے اجزاء کی غرض و غایت یہ تھی کہ ہالینڈ کے مسلمان حلقوں کو باقاعدگی سے بعض ضروری اور علمی مضامین پر مختصر نوٹ مہیا کئے جائیں تا وہ ان سے عندالضرورت فائدہ اٹھاسکیں اور خدا کے فضل و کرم سے یہ رسالہ اپنے اس مقصد کو بخوبی پورا کررہا ہے۔ یہ واحد رسالہ ہے جو ہالینڈ میں اسلام کی ترجمانی کے فرائض انجام دیتا ہے۔ اس کی مقبولیت کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ملک کی مشہور لائبریریوں یونیورسٹیوں اور گرجا گھروں میں منگوایا جاتا ہے اور مستشرقین اپنے اضافہ معلومات کی خاطر اسے خرید کر پڑھتے ہیں۔ ہالینڈ کے علاوہ سورینام )ڈچ گی آنا( اور انڈونیشیا میں بھی اس کے خریدار موجود ہیں۔
    ایک مشہور عیسائی پادری سے پبلک مناظرہ
    مبلغین احمدیت نے ہالینڈ میں آج تک عیسائی پادریوں سے متعدد کامیاب مناظرے کئے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء کی پہلی ششماہی میں بھی ایک کامیاب پبلک مناظرہ ہوا۔ مناظرہ میں جماعت احمدیہ کی نمائندگی مبلغ اسلام حافظ قدرت اللہ صاحب نے کی اور عیسائیوں کی طرف سے مشہور پادری ڈاکٹر ایڈن برج BURG) IDEN ۔(DR پیش ہوئے جو چرچ سوسائٹی میں بائبل کے پروفیسر اور جاوا سماٹرا کے ایک سابق گورنر جنرل کے بیٹے اور مذہبی حلقوں میں اچھی شہرت کے مالک ہیں۔ جناب عبدالحکیم صاحب اکمل مجاہد ہالینڈ اس دلچسپ مناظرہ کی روداد پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
    >اس دفعہ مشن ہائوس میں ایک کامیاب مناظرہ ہوا۔ عیسائیوں کی طرف سے جناب ڈاکٹر ایڈن برج BURG) IDEN ۔(DR پیش ہوئے۔ ڈاکٹر موصوف انڈونیشیا کے ایک سابق گورنر جنرل کے لڑکے ہیں اور یہاں مذہبی حلقہ میں اچھی شہرت کے مالک ہیں۔ ہماری طرف سے مکرم جناب حافظ قدرت اللہ صاحب انچارج مبلغ ہالینڈ مشن نے حصہ لیا۔ مباحثہ سے چند دن قبل ہم نے ڈاکٹر صاحب موصوف کو مشن ہائوس بلاکر مناظرہ کے لئے جملہ شرائط طے کیں۔ کافی بحث و تمحیص کے بعد >حضرت مسیح علیہ السلام کا مقام< موضوع بحث قراردیا۔
    جلسہ کا اعلان اخبارات میں دیاگیا۔ لوگ اس کثرت کے ساتھ آئے کہ بعض لوگوں کو سیڑھیوں میں بیٹھ کر اور انٹرنس ہال میں کھڑے ہوکر کارروائی سننا پڑی۔ پہلے وقت میں ڈاکٹر صاحب موصوف کو اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقعہ دیاگیا اور بعد میں مکرم برادرم حافظ صاحب نے اسلامی نقطہ نگاہ پیش فرمایا۔ اس کے بعد لوگوں کو سوالات کی کھلی اجازت تھی جس کا اعلان اخبار میں خاص طور پر کیاگیا تھا۔ چنانچہ اکثر سوالات کا رخ ڈاکٹر صاحب موصوف کی طرف رہا کیونکہ انہوں نے عیسائیت کے اصل معتقدات پیش کرنے کی بجائے اپنے پاس سے دلائل پیش کرکے اس مسئلہ کو کسی قدر قابل فہم بنانے کی کوشش کی تھی جس سے ایک حد تک وہ اسلامی نظریہ کے ہی قریب ہوگئے تھے۔ حاضرین میں عیسائی پادری اور ڈاکٹر صاحبان بھی موجود تھے۔ لہذا ڈاکٹر موصوف کے لئے سوالات کا یہ مرحلہ کافی کٹھن ثابت ہوا۔ ہمارے بعض دوستوں کی طرف سے بھی پوچھے گئے سوالات کے جواب میں ڈاکٹر صاحب موصوف صرف اس قدر کہہ سکے کہ میں ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتا۔ غرض خدا تعالیٰ کے فصل سے اسلامی نظریات کا لوگوں پر اچھا اثر رہا۔<۲۸۱
    کیتھولک اور پراٹسٹنٹ عیسائیوں کا اسلام کے خلاف گٹھ جوڑ اور حضرت مصلح موعود کا پر حکمت ارشاد
    مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل کا بیان ہے کہ >ایمسٹرڈم میں عیسائی منادوں کی ایک بڑے پیمانہ کی کانفرنس ہوئی جس میں افریقہ` یورپ اور بعض دیگر ممالک کے پادری
    صاحبان شامل ہوئے۔ کیتھولک اور پراٹسٹنٹ دونوں فرقوں کے لوگ شامل تھے۔ موضوع یہ تھا کہ افریقہ میں اسلام بڑی سرعت سے ترقی کررہا ہے اور یورپ میں بھی اب پائوں جمانے لگا ہے اس لئے ان نئے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک نئی کوشش کی ضرورت ہے۔ تجویز یہ ہے کہ کیتھولک اور پراٹسٹنٹ فرقے مل کر اور متحدہ محاذ بناکر مقابلہ کی کوئی صورت بنائیں تا احسن رنگ میں کوششیں بار آور ہوسکیں۔ لمبی کارروائی کے بعد کیتھولک فرقہ کی پادریوں نے کہا کہ دراصل مذہب تو کیتھولک ازم ہی ہے دوسرے لوگ تو احتجاجاً الگ ہوئے ہیں اگر وہ واپس آجائیں تو ہم ہر طرح مقابلہ کے لئے تیار ہیں۔ یہ بات دوسرے فرقوں کو ناگوار گزری اور وہ اتحاد احسن صورت میں نہ ہوسکا البتہ پھر بھی مالی امور کے بارہ میں کچھ سمجھ تہ ہوگیا۔ یہ خبر خاکسار نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھجوائی تو اس پر حضور نے اپنے خط ۵۹۔۲۔۱/۱۰۴۲۔P۔P میں تحریر فرمایا۔
    >ہالینڈ میں پراٹسٹنٹ زیادہ میں مگر باقی یورپ میں رومن کیتھولک مذہب والوں کا زور ہے ان کی طرف توجہ دیں۔ رومن کیتھولک کا روم میں یورپ ہے وہ بھی ایک قسم کا خلیفہ ہے۔ اسلامی خلافت اور عیسائی خلافت کی ٹکر میں اسلام کی فتح ہوگی اس لئے رومن کیتھولک کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ یہ لوگ دیر سے مزہب بدلتے ہیں مگر جب بدلتے ہیں تو بڑے پکے ہوتے ہیں۔ بدھ مذہب ان میں بہت پھیل رہا ہے۔۲۸۲4] [rtf
    تبلیغی دورے
    ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء کی پہلی ششماہی میں حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ انچارج اور مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل نے ملک کے مندرجہ ذیل نوشہروں کا تبلیغی دورہ کیا۔
    پابندریخت`۲۸۳ فلاردنگن` ۲۸۴ روٹرڈم` ۲۸۵ ڈیلفٹ`۲۸۶ ہارلم` ۲۸۷ ایمسٹرڈم`۲۸۸ اوت ریخت` ]10 [p۲۸۹ ہلفرسوم` ۲۹۰ واغنگن۔۲۹۱
    اس دورہ میں مبلغین اسلام کو ممبران جماعت سے ملاقات` تبلیغی مجالس میں شمولیت اور مختلف سوسائٹیوں میں تقاریر کے مواقع میسرآئے۔۲۹۲
    مذاہب عالم کانفرنسوں میں اسلام کی موثر نمائندگی
    ۲۰۔ صلع/ جنوری ۱۳۳۹ہش/ ۱۹۶۰ء کو ہالینڈ کے مرکزی شہر اوت ریخت (UTRECHT) کے آزاد خیال لوگوں کی طرف سے ایک مذاہب کانفرنس منعقد کی گئی جس میں اسلام` ہندودھرم` بدھ مت اور یہودیت سے متعلق تقاریر کا وسیع پیمانہ پر انتظام تھا۔ اس موقعہ پر اسلام کی طرف سے حافظ قدرت اللہ صاحب نے موثر رنگ میں نمائندگی فرمائی۔۲۹۳ ازاں بعد اخاء/اکتوبر ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء میں ایمسٹرڈم کے قریب ہیم ستیدے (HEEMSTEDE) کے سب سے قدیم اور بڑے گرچے کی عمارت میں بھی ایک مذاہب عالم کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ۲۷۔ اخاء کو اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے حافظ قدرت اللہ صاحب نے نماز کے موضوع پر لیکچر دیا۔ اس کانفرنس کی یہ خصوصیت تھی کہ ہر لیکچرار کو جملہ معلومات اپنی مقدس کتاب ہی سے پیش کرنا ضروری تھیں۔ ۲۹۴
    اس کے علاوہ ہالینڈ کے ایک اور اہم شہر آرنہم (ARNHEM) کے اندر ماہ اخاء/اکتوبر ۱۳۳۵ہش/۱۹۶۶ء کے آخری ہفتہ میں ایک اور بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اسلام` عیسائیت` بدھ ازم` ہندومت` صوفی موومنٹ` ویجیٹرین گروپ اور ہونسٹ خیالات کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ اس کانفرنس میں بھی حافظ قدرت اللہ صاحب نے اسلام کی ترجمانی کے فرائض ادا کئے۔ حافظ صاحب کی پوری تقریر گہری دلچسپی اور انہماک سے سنی گئی۔ تقریر کے اختتام پر وقفہ سوالات تھا۔ صدر مجلس نے حاضرین کو سوالات کے لئے کہا مگر لوگ تھے کہ مبہوت ہوئے بیٹھے تھے کسی کو کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔۲۹۵
    حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا سرزمین ہالینڈ میں دوبار وردومسعود
    حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے مبارک سفر یورپ کے دوران زیورک سے ہالینڈ تشریف لائے۔ حضور
    نے ہیگ کی مسجد میں خطبہ جعمہ ارشاد فرمایا۔ بعدازاں حضور نے ایک پریس ¶کانفرنس سے خطاب فرمایا جس میں ڈچ ریڈیو کے نمائندہ کے علاوہ اخباری نمائندے بکثرت شامل ہوئے۔ ڈچ پریس نے حضور کے بیان کو غیر معمولی اہمیت دی اور بڑی سنجیدگی سے اسے پبلک کے سامنے پیش کیا۔ اگلے روز حضور اقدس کے اعزاز میں نماز ظہر کے بعد ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیاگیا جس میں احباب جماعت کے علاوہ بہت سے دیگر غیراز جماعت مسلمان دوستوں اور معززین شہر نے شرکت کی جن میں ہالینڈ کے مشہور مستشرقین پروفیسر ڈاکٹر پپر PIPER) ۔DR۔(PRO اور مشہور انجنیئر پروفیسر THIJSSEN ۔body2]PRO ga[t ہالینڈ کے صوفی گروپ` بدھسٹ گروپ اور پروٹسٹنٹ گروپ کے لیڈر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اسی روز حضور کا ریڈیو سے خصوصی انٹرویو بھی نشر ہوا اور ۱۶ ماہ وفا/جولائی ۱۳۴۶ہش/۱۹۶۷ء کو حضور ہالینڈ کا نہایت موثر` مبارک اور کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد ہمبرگ تشریف لے گئے۔۲۹۶
    ڈھائی تین سال بعد جب حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ نے مشہور عالم دورہ افریقہ فرمایا تو واپسی پر حضور جن یورپین ممالک میں بھی تشریف لے گئے ان میں سب سے پہلا ملک ہالینڈ تھا جہاں حضور ۱۴۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء کو بذریہ ہوائی جہاز سوا نو بجے پہنچے۔ ڈچ نومسلم دور دور کے شہروں سے آکر مشن ہائوس میں جمع تھے اور حضور سے شرف ملاقات حاصل کرکے پھولے نہ سماتے تھے۔ اس موقعہ پر ایک پورا خاندان SUFFNER) ۔(FAM اور ایمسٹرڈم کے ایک صحافی حضور کے دست مبارک پر بیعت کرکے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔ علاوہ ازیں ایک آزاد خیال عیسائی فرقہ سونگ لی (SWINGLI) کے لیڈر ڈاکٹر بائوٹ کیمپ BUITKAMP)۔(DR اپنے فرقہ کے چیدہ چیدہ ممبروں کا ایک گروپ لے کر حضور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے حضور نے انہیں نصف گھنٹہ تک نہایت ایمان افروزرنگ میں تبلیغ اسلام کی۔ ڈاکٹر صاحب حضور کی گفتگو سے بہت متاثر ہوئے۔ اس عرصہ قیام میں ایک اسلامی ملک کے سفیر نے حضور اور افراد قافلہ کو کھانے پر مدعو کیا اور جماعت احمدیہ ہالینڈ کی طرف سے بھی ایک ڈنردیاگیا نیز صدر عالمی عدالت انصاف چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے حضور کے اعزاز میں دعوت چائے دی جس میں متعدد ممالک کے معزز جج صاحبان تھے۔ حضور دو روزہ مختصر قیام کے بعد )جو ہالینڈ مشن کے لئے بہت بابرکت ثابت ہوا( ۱۷۔ ماہ ہجرت/مئی ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء کو انگلستان تشریف لے گئے۔ ۲۹۷
    خدائے ذوالجلال کی قدرت کے ایک نشان کا ظہور
    ۱۳۴۵ہش/۱۹۶۶ء کا واقعہ ہے کہ ہالینڈ مشن کی طرف سے مسیح کشمیر میں >کے نام سے ڈچ زبان میں ایک مختصر ساپمفلٹ شائع کیاگیا۔ یہ کتابچہ جب ایک کیتھولک اخبار کے چیف ایڈیٹر کو ملا تو اسے سخت غصہ آیا اور اس نے اپنے اخبار میں اس کے خلاف ایک مضمون لکھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ یہاں کیا کرنے آئے ہیں اور انہیں یہاں آنے کی کس نے اجازت دی ہے؟ جب یہ مضمون اخبار میں چھپا تو ہالینڈ کے ایک مستشرقین ڈاکٹر فان لیون VANLEEUWEN)۔TH۔A۔(DR نے اس پر ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ اور اس کی تبلیغی واشاعتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس اخبار کے ایڈیٹر کے بارہ میں لکھا۔
    ہمارے ملک کے چرچ اخبارات میں سے ایک بڑے اخبار کے چیف ایڈیٹر نے احمدیہ مسلم مشن کے ایک پمفلٹ پر جو ان کے گھر کے لیٹر بکس میں ڈالاگیا تھا بڑے غیظ و غضب کا اظہار کیا ہے اور وہ اس پر بڑے چیں بجبیں ہوئے ہیں۔ اس مضمون سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایڈیٹر صاحب اب تک یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ اسلام کا نام بحرروم کے اس پار افریقہ` مشرق بعید یعنی انڈونیشیا میں جو کبھی ڈچ مقبوضات میں شامل تھا` لیا جاتا ہے۔ اور یہ امر ان کی حیرت اور اچنبھے کا موجب ہے کہ اسلام اب یورپ میں بھی اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کرچکا ہے بلکہ اب ان کے گھر تک آن پہنچا ہے۔
    ‏I) PAGE III (ORIENTATIEREEK
    اسی طرح ایک اور اخبار PAROOL HET نے مسلمان پادری صاحبان سے مناظرہ چاہتے ہیں کے عنوان سے لکھا۔
    >احمدی مسلمان پادریوں کو للکارتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ہالینڈ کے اندر ہورہا ہے۔ چنانچہ احمدیہ مسلم مشن ہیگ کے مبلغین کی طرف سے پادری صاحبان کو ایک خط موصول ہوا ہے جس میں ان کے اعتقادات کے بارہ میں دس سوالات کئے گئے ہیں۔<
    ۱۹۶۶ء میں ہالینڈ کے رہنے والے ایک متعصب مستشرق ڈاکٹر HOUBEN نے اسلام کے خلاف ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے اسلام کے خلاف یہ اعتراضات اٹھائے تھے کہ
    ۱۔
    جماعت احمدیہ اور مسجدہیگ کو ہالینڈ میں اسلام کا نمائندہ تصور کرنا غلط ہے اس لئے کہ اسلام کی جو تشریح و توضیح ان کی طرف سے کی جاتی ہے اسے ہم کسی صورت بھی اسلام کہنے کو تیار نہیں۔
    ۲۔
    دوسرا اعتراض انہوں نے یہ کیا کہ اسلام کا خدا جابر اور قاہر خدا ہے اور یہ کہ مسجدہیگ سے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں جو پروپیگنڈا کیاجاتا ہے کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں یہ درست نہیں۔ کیونکہ ان کا مسیح پر وہ ایمان نہیں جو ہم عیسائیوں کا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی قدرت ادھر مخالفت سے بھرا ہوا یہ مضمون نکلا ادھر اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب کے لئے بھی بعض مخالفین کو ہی تیار کردیا۔ چنانچہ ہالینڈ کے ایک کیتھولک اخبار 66>۔<M نے مارچ ۱۹۶۶ء کی اشاعت میں
    >جماعت احمدیہ عیسائی علماء کے لئے خوف وہراس کا باعث ہے<
    کا عنوان دیتے ہوئے اس مضمون کا مفصل جواب دیا۔۲۹۸ چنانچہ اس نے لکھا۔
    >پروفیسر ڈاکٹر ہیوبن (HOUBEN) نے ہمیں اپنا مضمون جو انہوں نے جماعت احمدیہ کے متعلق لکھا ہے غور سے پڑھنے کے لئے کہا ہے اور ان کے اس ارشاد کی تعمیل میں ہم نے اس مضمون کو غور سے پڑھا۔ اس کے مطالعہ سے مندزجہ ذیل دو اہم اعتراضات کا پتہ چلتا ہے جو انہوں نے اسلام اور احمدیت پر کئے ہیں۔
    اول یہ کہ اسلام ایک جابر اور قہار خدا کا تصور پیش کرتا ہے اور یہ کہ جماعت احمدیہ اور مسجدہیگ کو ہالینڈ میں اسلام کا نمائندہ تصور نہیں کیاجاسکتا کیونکہ اس جماعت کے بانی پر دوسرے مسلمان کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں۔ اس طرح ان کی طرف سے اسلام کی جو تشریح اور توضیح کی جاتی ہے وہ اسلام نہیں کہلا سکتا۔۲۹۹
    دوم یہ کہ مسجدہیگ سے مسیح ناصری کے بارہ میں جھوٹا پروپیگنڈا کیاجاتا ہے کیونکہ ظاہری طور پر تو یہ کہاجاتا ہے کہ ہم مسلمان مسیح ناصری پر ایمان رکھتے ہیں لیکن درحقیقت ان کا ایمان اس ایمان سے بہت مختلف ہوتا ہے جو عیسائی رکھتے ہیں۔<اخبار مذکور ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے۔
    >پروفیسر ڈاکٹر ہیوبن کا اسلام کے متعلق یہ لکھنا کہ وہ ایک جابر اور قہار خدا کا تصور پیش کرتا ہے سراسر مغالطہ انگیز ہے۔ اور یہ کہنا کہ اسلام میں تجدید واحیاء کی قوت کا فقدان ہے دوراز حقیقت ہے۔ کیونکہ خود جماعت احمدیہ تجدید واحیاء اسلام کا ایک زندہ ثبوت ہے اور شاید اسی لئے وہ عیسائی علماء کے لئے خوف وہراس کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کچھ عرصہ ہوا پروفیسر ڈاکٹر کمپس (CAMPS) نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا اور اس جماعت کی طرف سے ہوشیار رہنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔<
    آگے چل کر اخبار مذکور نے لکھا ہے کہ۔
    >جماعت احمدیہ کی طرف سے اسلام کی تجدید واحیاء کی کوشش اس کی بنیادی تعلیمات یعنی قرآن کریم کے عین مطابق ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ کا تصور یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق سے محبت کرنے والا ہے۔ یہ جماعت اس تعلیم کے نتیجہ میں بین الاقوامی اخوت کی دعویدار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جماعت نے ہاتھ پر ہاتھ دھرکر بیٹھے رہنے والے مسلمانوں میں سے پانچ لاکھ کے قریب لوگوں کے قلوب میں تبلیغ واشاعت اسلام کی روح پھونک کر تبلیغی مساعی کی حقیقی تڑپ پیدا کردی ہے اور اس جماعت نے عیسائیت یا مارکسزم سے یہ نظریات مستعار نہیں لئے بلکہ خالص اسلام کے پیغام کو لے کر ایک طرف پرانے خیالات کے مسلمانوں کی اصلاح کا کام شروع کیا ہے تو دوسری طرف اس پیغام کے ذریعہ عیسائی دنیا اور دہریوں پر اتمام حجت کردی ہے۔
    یہ درست ہے کہ جماعت احمدیہ ساڑھے سینتیس کروڑ مسلمانوں میں ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ اسلام میں ان معنوں میں ORTHODOX اور متحدہ اکثریت موجود ہی نہیں جن معنوں میں کیتھولک عیسائی یہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ اسلام میں تو کیتھولک مذہب کی طرح DOGMAS )اندھے عقائد( موجود ہی نہیں اور نہ ہی اسلام اپنی تعلیمات پر کسی اور کو حکم تسلیم کرتا ہے۔ اس کی تعلیم کا ایک ہی سرچشمہ ہے اور وہ ہے قرآن۔ جس طرح اصلاح یافتہ عیسائیوں کے نزدیک ان کی مذہبی کتاب بائیبل ہے اور جس طرح بائیبل کی آیات کی مختلف تشریحات و توضیحات سے متعدد فرقے پیدا ہوئے ہیں جو سب کے سب عیسائی ہی ہیں بعینہ اسی طرح قرآن کی تشریح اور تفسیر سے بھی مختلف و متعدد مکاتیب فکر معرض وجود میں آئے۔ لہذا کسی فرقہ کو اسلام سے خارج قرار نہیں دیاجاسکتا۔ دراصل تجدید واحیاء کی بنیاد پر چرچ اور فرقہ میں فرق اور امتیاز کرنا ہمیشہ سے ہی ایک نہایت مشکل اور نازک مسئلہ رہا ہے۔ مسلمانوں نے کبھی بھی علماء کو حکم نہیں مانا )جس طرح چرچ اور یورپ مذہبی عقائد میں اجادہ داری رکھتے ہیں نہ کہ کتاب( اور پھر دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن جو ایک ہی وجود محمد ~)صل۱(~ کی لائی ہوئی کتاب ہے بائیبل کی نسبت زیادہ واضح زبان میں بات کرتی ہے۔ اور بائیبل کا یہ حال ہے کہ اس میں مختلف لوگوں کی باتوں کو بعد میں جمع کیاگیا ہے۔
    احمدیت اسلام کی مختلف شکلوں میں سے ایک شکل ہے مگر یہ اسلام کی ایک ایسی ہی صورت ہے جو اسلام کی نمائندگی کرنے کا پورا پورا حق رکھتی ہے۔ اس تحریک کو یقیناً مخالف خیالات رکھنے والے مسلمانوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر یہ مخالفت کرنے والے علمی رنگ میں بات کرنے سے تہی اور کیتھولک ذہنیت ہی کے مظہر نظر آتے ہیں جو اپنے خیالات سے اختلافات رکھنے والوں کو کافر اور دائرہ مذہب سے خارج قرار دیتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ہیوبن نے اپنے مضمون میں گیارہ نکات ایسے بیان کئے ہیں جو ان کے خیال میں احمدیوں اور دیگر مسلمانوں کے درمیان مابہ النزاع ہیں لیکن ان کی یہ بات بھی ایسی ہی ہے جیسے کیتھولک مکتب فکر کی موجودہ مغالعہ انگیز شکل ہے۔ احمدیہ جماعت کو اسلام سے منحرف صرف اس وقت قراردیا جاسکتا ہے جبکہ وہ قرآنی تعلیمات سے رو گردانی کرے مگر جماعت احمدیہ کا تو یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت بھی منسوخ نہیں نہ آئندہ ہوسکتی ہے۔ نیز یہ کہ اگر کہیں یہ محسوس ہوکر ایک آیت کسی دوسری آیت کی مخالف ہے تو وہاں پر وہ تضاد کسی غلط تشریح کی وجہ سے پیدا ہوا ہوگا۔< ۳۰۰ )ترجمہ(
    کیتھولک سنٹر کو دعوت مقابلہ
    یورپین پادریوں نے اسلام اور بانی اسلام~صل۱~ کے نورانی چہرہ کو بگاڑ کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ مشہور ڈچ مستشرق سی۔ ایس۔ ہرخرن لے HURGRONJE)۔S۔(C >محمد ازم< میں لکھتے ہیں۔
    >ہر وہ بات جو اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے اختیار کی جاتی یا گھڑی جاتی تھی یورپ ایک لالچی اور حریص آدمی کی طرح اسے اچک لیتا تھا حتی کہ ازمنہ وسطیٰ میں ہمارے آبائواجداد کے ذہنوں میں محمد کا جو تصور قائم تھا وہ آج ہمیں ایک انتہائی طور پر مکروہ اور گھنائونی شکل کے مترادف نظر آتا ہے۔< )ترجمہ(
    اس سلسلہ میں صدیوں سے خاص طور پر یہ اعتراض وسیع پیمانہ پر پھیلایا اور ہرنسل میں اچھی طرح راسخ کیاگیا کہ اسلام تلوار کا مذہب ہے۔
    ہالینڈ مشن نے ٹیلی ویژن` ریڈیو` اخبارات کے انٹرویو اور اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ اس جھوٹ کی خوب قلعی کھولی ہے۳۰۱ مگر متعصب پادری ہیں کہ آج تک یہ مظالعہ دیئے جارہے ہیں۔ چنانچہ ۱۳۴۷ہش/۱۹۶۸ء کا ذکر ہے کہ ہالینڈ کے کیتھولک سنٹر APASTORALL نائمیخن (NIJMEGEN) کے ایک ماہوار پمفلٹ میں ایم مستشرق صاحب نے اسلام کے خلاف اسی خیال کی بناء پر ایک مضمون لکھا جس کا احمدیہ مشن کے انچارج جناب عبدالحکیم صاحب اکمل نے فوری نوٹس لیا اور انہیں ایک مکتوب مفتوح کے ذریعہ سے للکارا کہ اگر ان کے موقف میں ذرا برابر صداقت موجود ہے تو وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کوئی ایک آیت قرآنی ہی اس کے سیاق و سباق کی روشنی میں پیش کر دکھائیں۔ مگر مستشرق صاحب مذکور اس چیلنج کا جواب تک نہ دے سکے اور کا سرصلیب کے شاگردوں کے مقابل بالکل چپ سادھ لی۔۳۰۲
    ‏tav.11.8
    ‏tav.11.9
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    جیسلٹن میں پہلا جلسہ پیشوایان مذاہب
    اب تک جزیرہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے کسی جلسہ کا باقاعدہ انتظام نہیں کیا جاسکا تھا ڈاکٹر حافظ بدرالدین احمد صاحب کی کوشش سے ۲۸۔ ہجرت/مئی ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء کو جیسلٹن میں پہلا جلسہ پیشوایان مذاہب منعقد ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے جلسہ سے قریباً بیس روز قبل تمام عیسائی مشنوں کو بذریعہ خطوط دعوت دی کہ وہ جلسہ میں شرکت کریں اور جس پیشوا کی سیرت پرچاہیں لیکچر دیں لیکن کسی نے جواب تک نہ دیا۔ عیسائیوں کی اس بے رخی کے بعد بہت کم امید تھی کہ دوسرے مذاہب کے لوگ جو ہر طرح سے عیسائیوں کے زیر اثر اور ان سے مرعوب اور دبے ہوئے تھے اس تقریب میں حصہ لینے کی جرات کریں گے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جیسلٹن کی ریکری ایشن کلب CLUB) RECREATION (JESSELTON نے جہاں تمام پبلک تقریبات کا انعقاد ہوتا تھا کلب میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس پر ڈاکٹر صاحب کو اپنی قیام گاہ پر ہی اس کا انتظام کرنا پڑا۔ تیس آدمی شریک جلسہ ہوئے۔ جلسہ کی کارروائی تلاوت قرآن سے شروع ہوئی جس کے بعد حضرت بدہ کے سیرت پر ایک ہندو مدراسی نے` آنحضرت~صل۱~ کی حیات طیبہ پر ایک مدراسی مسٹر نیئر NAIR) ۔(MR نے` حضرت مسیح کے بارے میں ڈاکٹر حافظ بدرالدین احمد صاحب نے اور کرشن علیہ السلام پر انچارج مبلغ بورنیو مولوی محمد زہدی صاحب نے تقریریں کیں۔ یہ جلسہ اگرچہ پرائیویٹ احاطہ اور نہایت محدود تعداد کے ساتھ ہوا مگر بحمداللہ توقع سے زیادہ کامیاب رہا۔۳۵۷
    جیسلٹن میں پہلا پبلک جلسہ
    اس پرائیویٹ جلسہ کے چھ ماہ بعد احمدیہ مشن نے ایک اور قدم آگے بڑھایا اور ۲۶۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء کو جیسلٹن میں ہی سیرت النبیﷺ~ کے سلسلہ میں ایک اور جلسہ میں کامیابی ہوئی۔ یہ جلسہ بورنیو مشن کی تاریخ میں پہلا پبلک جلسہ تھا۔ یہ جلسہ ایک چینی کلب کے ہال HALL) UNION SERVICE CIVIL (JUNIOR میں منعقد ہوا اور اس میں مسٹر آر۔ پرائس PRICE)۔R ۔(MR مسٹر اے۔ کے۔ کے۔ نیئر NAIR)۔K۔K۔A۔(MR ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب اور مولوی محمد سعیدہ صاحب انصاری نے بالترتیب سیرت النبیﷺ`~ سوانح رسولﷺ`~ صحابہؓ کی آنحضرتﷺ~ ساے والہانہ عقیدت` اور آنحضرتﷺ~ شہزادہ امن کی حیثیت سے کے عنوان پر خطاب کیا۔ مولوی محمد سعید صاحب انصاری کے سوا جنہوں نے ملائی زبان میں تقریر کی باقی سب مقررین نے انگریزی میں لیکچردیا۔ اس جلسہ کے لئے جنگ نام پرنٹنگ کمپنی جیسلٹن JESSELTON) COMPANY PRINTING NAM (CHUNG سے چار سو انگریزی اشتہارات چھپوا کر تعلیم یافتہ طبقہ میں تقسیم کئے گئے۔۳۵۸ علاوہ ازیں ایک مقامی چینی اخبار میں بھی اعلان کیاگیا۔ مولوی محمد سعید صاحب انصاری نے یکم دسمبر ۱۹۵۰ء کی رپورٹ میں اس جلسہ کی تفصیلی اطلاع مرکز کودیتے ہوئے لکھا نارتھ بورنیو کا ملک ایک پسماندہ ملک ہے اور اس ملک کی روایت میں غالباً کبھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا جب کسی مذہبی تقریب کو ایسی پبلک پورت دی گئی ہو۔ اس لئے اس ملک کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توقع رکھنا کہ سامعین کی کثیریا معقول تعداد کسی ایسی تقریب کو مل جاویگی غالباً بے جا توقع سے کم نہیں لیکن پھر بھی سیرت النبیﷺ~ کے اس جلسہ میں باوجود اس دن شدید بارش کے ۴۲ دوست حاضر تھے ۔۔۔۔ جلسہ کا اثر پبلک پر من حیث المجموع اچھا پڑا اور ایک ایسے ملک میں جو مذہبی تقریبات کو قائم کرنے کے لحاظ سے بے جان سا ملک ہے کسی حد تک کچھ انفاس حیات بھرنے کا موقعہ مل گیا۔
    رسالہ PEACE کا اجراء
    جماعت احمدیہ بورنیو کی طرف سے مقامی احمدی جاعتوں کو منظم کرنے` ان کی معلومات میں اضافہ کرنے اور غیر سلموں تک پیغام حق پہنچانے کے لئے ماہ فتح/دسمبر ۱۳۳۳ہش/۱۹۵۴ء میں ایک سہ ماہی رسالہ PEACE مولوی محمد سعید صاحب انصاری کی ادارت میں جاری کیاگیا۔ یہ رسالہ انگریزی اور ملائی زبانوں میں شائع ہوتا تھا۔ اس کے انگریزی حصہ کی ادارت ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب کرتے اور ملائی حصہ مولوی محمد سعید صاحب انصاری ترتیب دیتے تھے۔ یہ رسالہ عموماً پانچ سو کی تعداد میں چھپتا تھا اور بورنیو کے علاوہ سنگاپور اور فلپائن وغیرہ میں بھی بھجوایا جاتا تھا۔ یہ رسالہ جماعت احمدیہ بورنیو کے واحد ترجمان کی حیثیت سے بہت عمدہ اثرات پیدا کرنے کا موجب ہوا اور اس کے ذریعہ بعض سعید روحوں کو قبول حق کی بھی توفیق ملی۔ افسوس مولوی محمد سعید صاحب انصاری کی مراجعت پاکستان ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء کے بعد اس مفید رسالہ کا صرف ایک ایشوع نکل سکا اور پھر اسے بند کردینا پڑا۔
    رانائو میں احمدی مبلغ اور جماعت احمدیہ کے خلاف فتنہ
    ۲۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء کا ذکر ہے کہ مبلغ بورنیو مرزا محمد ادریس صاحب ایک نئے تبلیغی میدان کی تلاش میں رانائو کے دور افتادہ علاقہ میں تشریف لے گئے۔ عیسائی حکومت نے جو پہلے ہی اس تاک میں تھی کہ کسی طرح احمدی مبلغین کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا اسے بہانہ ہاتھ آئے بغیر کسی قانون کے محض ایک روایتی قاعدہ کی آڑ لے کر انہیں بھی اور جناب مولوی محمد سعید صاحب انصاری کو بھی۔ جو بعد میں وہاں تشریف لے گئے اس علاقہ سے نکل جانے کا نوٹس دے دیا۔ چونکہ اس ظالمانہ کارروائی سے حکومت کی غرض محض یہ تھی کہ اس علاقہ میں تبلیغ اسلام کی سرگرمیاں روک دی جائیں۔ اس لئے اسلام کی عزت و حرمت اور احمدیت کے وقار کے لئے یہ ضروری سمجھاگیا کہ لک میں مذہبی آزادی کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے آئینی جدوجہد کی جائے چنانچہ احمدیہ بورنیو اور حکومت کے درمیان اس مسئلہ پر عرصہ تک خط وکتابت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ آخر حکومت کو احمدی مبلغین سے یہ پابندی اٹھانا پڑی اور جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے تمام برٹش بورنیو میں احمدیوں کو قانوناً تبلیغ کی آزادی حاصل ہوگئی اگرچہ حکومت اندر ہی عوام کو احمدیوں کے خلاف برابر اکساتی رہی۔ مرزا محمد ادریس صاحب کا بیان ہے کہ۔
    >بورنیو کے ایک علاقہ رانائو میں ۔۔۔۔ صرف ایک قوم ڈوسون نامی آباد ہے۔ یہ قوم پہلے لامذہب تھی۔ یہاں عیسائیوں کے دو مشن ایک لمبے عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ حکومت کی یہی پالیسی تھی کہ یہ علاقہ عیسائیت کی آغوش میں چلاجائے اس لئے حکومت کی طرف سے ہمیشہ مسلمانوں پر جو اس علاقہ میں داخل ہونا چاہیں پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔
    جب میں اس علاقہ میں گیا تو وہاں کے مقامی مسلمانوں نے میری آمد پر بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگوں نے قرآن مجید اور نماز سیکھنی شروع کردی۔ رانائو میں داخل ہونے کے معاً بعد عیسائیوں سے ایک پبلک جگہ میں مباحثہ ہوا جس کا خدا کے فضل سے غیر مسلموں اور غیر احمدیوں پر اچھا اثر پڑا۔ ایک غیر مسلم چینی دوست نے بعد میں ایک غیر مسلم کو بتایا کہ وہ خود مباحثہ میں موجود تھے ان پر یہی اثر ہے کہ عیسائیت اسلام کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ حکومت نے دیکھا کہ رانائو کے مقامی مسلمانوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے اور انہوں نے احمدی مبلغ سے دینی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی ہے اور نیز یہ کہ احمدیت عسیائیت کا برملا مقابلہ کر رہی ہے۔ رانائو میں ہر ماہ کی پچیس تاریخ کو منڈی لگتی ہے جس میں علاقہ کے دور دراز کے لوگ کثرت سے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ اس موقع پر اس علاقہ کا انگریز ڈسٹرکٹ آفیسر بھی دورہ پر ہمیشہ آتا ہے۔ جب منڈی کے موقع پر انگریز ڈسٹرکٹ آفیسر آیا تو اس نے مجھے اپنے آفس میں بلاکر پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ریذیڈنٹ کی طرف سے اس علاقہ میں داخل ہونے کا اجازت نامہ ہے؟ میں نے کہا یہ علاقہ بھی بورنیو کا حصہ ہے کوئی نئی دوسری حکومت ہونے کا اجازت نامہ ہے؟ میں نے کہا یہ علاقہ بھی بورنیو کا حصہ ہے کوئی نئی دوسری حکومت نہیں۔ ریذیڈنٹ سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ کیا حکومت کا یہ قانون ہے کہ رانائو میں داخل ہونے سے قبل ریذیڈنٹ کی اجازت حاصل کی جائے؟ کہنے لگا کہ قانون تو نہیں مگر چونکہ یہاں کے لوگ جاہل ہیں اس لئے حفاظت کی خاطر ضروری ہے کہ ریذیڈنٹ سے اجازت حاصل کی جائے۔ میں نے کہا کہ یہاں کے لوگ مجھ سے بڑی محبت سے پیش آتے ہیں۔ بہت سے لوگ بڑے شوق سے دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں مجھے ان سے کوئی خطرہ نہیں۔ ریذیڈنٹ سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ کیا حکومت کا یہ قانون ہے کہ رانائو میں داخل ہونے سے قبل ریذیڈنٹ کی اجازت حاصل کی جائے؟ کہنے لگا کہ قانون تو نہیں مگر چونکہ یہاں کے لوگ جاہل ہیں اسے لئے حفاظت کی خاطر ضروری ہے کہ ریذیڈنٹ سے اجازت حاصل کی جائے۔ میں نے کہا کہ یہاں کے لوگ مجھ سے بڑی محبت سے پیش آتے ہیں۔ بہت سے لوگ بڑے شوق سے دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں مجھے ان سے کوئی خطرہ نہیں۔ بعد میں ڈسٹرکٹ آفیسر نے وہاں کے امام اور نیٹوچیف کو آفس میں بلاکر میرے متعلق پوچھا کہ ادریس یہاں کیا کام کرتا ہے اور کہاں کہاں جاتا ہے؟ امام اور چیف دونوں نے میری تعریف کی اور کہا کہ ادریس اچھا آدمی ہے یہاں مفت دینی تعلیم دیتا ہے۔ ڈسٹرکٹ آفیسر نے جب دیکھا کہ اس طریق سے مبلغ کو رانائو سے نکالنے کی کوئی صورت نہیں بنی تو جیسلٹن ریذیڈنٹ کو میرے متعلق تمام حالات سے اطلاع دی۔ ریذیڈنٹ نے خود اور پولیس کے ذریعہ ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی کہ ادریس کو رانائو کے علاقہ سے واپس بلالو۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی حکومت کو جواب دیا کہ ادریس مبلغ ہے تبلیغ کی ہر شخص کو آزادی ہے اس لئے ہم ادریس کو واپس نہیں بلاسکتے۔ رانائو میں میرا قیام ایک ہیڈماسٹر امیرنامی کے گھر میں تھا ہیڈماسٹر صاحب کو ہر روز تبلیغ کا موقع ملتا تھا۔ میرے کچھ عرصہ قیام کے بعد ہیڈماسٹر صاحب اور ایک اور سابق سکول ماسٹر صاحب نے بیعت کرلی۔ یہ دونوں احمدی دوست رانائو میں صاحب اثرور سوخ تھے۔ ہیڈماسٹر صاحب وہاں میرے قیام کے دوران جبکہ ابھی وہ احمدی نہ ہوئے تھے وہاں کی مسلم ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری تھے۔ عید کے دن مسلم ایسوسی ایشن کی جنرل میٹنگ تھی انہوں نے اپنی مجلس عاملہ سے پوچھا کہ اجلاس کہاں کیا جائے؟ مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ عید کی نماز کے بعد مسجد میں اجلاس ہوگا۔ ہمارے احمدی دوست نے بتایا کہ میں چونکہ احمدی ہوگیا ہوں میں عید کی نماز احمدی مبلغ کے ساتھ اپنے گھر میں پڑھوں گا عید کی نماز پڑھنے کے بعد ہی میں مسجد میں میٹنگ کے لئے حاضر ہو سکوں گا ہمارے احمدی دوست عید کی نماز ہمارے ساتھ پڑھنے کے بعد جب مسجد میں میٹنگ کے لئے گئے اور وہاں اجلاس شروع ہوا تو امام نے وہاں پر میٹنگ میں گڑبڑ کی کہ تم قادیانی کیوں ہوگئے ہو؟ اسی گڑبڑ میں ایسوسی ایشن کی میٹنگ کی کارروائی بھی مکمل نہ ہوسکی۔ میں چونکہ رانائو میں مسلسل تین ماہ سے قیام پذیر تھا۔ رانائو میں خوراک مناسب حال نہ ہونے کی وجہ سے نیز دوسری جماعتوں کا دورہ کرنے کے لئے رانائو میں عید پڑھا کر میں جیسلٹن آگیا۔ اس دوران جبکہ میں ابھی جیسلٹن میں تھا بعد میں حکومت نے امام کی طرف سے ہمارے احمدیوں پر مقدمہ دائر کروادیا کہ احمدیوں نے مسجد میں آکر فتنہ وفساد اور گڑبڑ کی ہے۔ دو دن تک مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی جس میں ہمارے احمدی دوستوں سے سوالات کئے گئے کہ تم احمدی کیوں ہوگئے ہو؟ تم مسجد میں آکر غیر احمدی امام کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تم نے ایک غیر ملکی احمدی مبلغ کو اپنے گھر میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ وغیرہ۔ تمام سوالات کے جواب خدا کے فضل سے ہمارے احمدی دوستوں نے نہایت عمدگی سے دیئے۔ حکومت کا چونکہ مقصد یہ تھا کہ احمدیوں کو ڈرا دھمکاکر احمدیت سے انکار کروایا جائے دوسرے یہ کہ وہاں کہ جاہل پبلک کو احمدیت سے متنفر کیا جائے اور ان کے دل میں یہ ڈالا جائے کہ جب حکومت ان سے نفرت کرتی ہے تو ضرور کوئی مخفی برائی ان میں ہوگی جس کی وجہ سے حکومت بھی ان کو پسند نہیں کرتی۔ ہمارے احمدی دوستوں نے کہا کہ ہم احمدیت کو حقیقی اسلام سمجھتے ہیں احمدیت سے انکار نہیں کرسکتے۔ ہمارے احمدیوں کو پچیس پچیس ڈالر جرمانہ کی سزادی گئی۔
    جب رانائو میں ہمارے احمدی دوستوں پر مقدمہ ہوا اس وقت میں لنکونگن کی جماعت سے چندہ وصول کرنے کے لئے وہاں دورہ پر گیا ہوا تھا۔ جب وہاں سے جیسلٹن پہنچا تو مجھے حکومت کی طرف سے تحریری نوٹس دیاگیا کہ حکومت کی فلاں دفعہ کے تحت تم رانائو کے علاقہ میں داخل نہیں ہوسکتے۔ اس پر جماعت کی طرف سے احتجاج کیاگیا اور سنگاپور اور انڈونیشیا کی جماعتوں نے بھی احتجاج تاریں بورنیو کی حکومت کی بھجوائیں تو خود گورنر رانائو کے علاقہ میں تحقیق کے لئے گیا رانائو سے جیسلٹن واپسی پر اس نے ہمیں بلایا اور وعدہ کیا کہ ہم اپنا نوٹس واپس سے لیں گے۔ چنانچہ گورنر کے وعدہ کے مطابق جلد ہی حکومت کی طرف سے تحریری اطلاع آگئی کہ جماعت احمدیہ کا مبلغ جب چاہئے رانائو جاسکتا ہے۔
    حکومت کے فتنہ اور احمدیوں کو جرمانہ کی سزا دینے کی وجہ سے رانائو کے عوام ایک لمبا عرصہ تک ہم سے ڈرتے رہے مگر پھر وہاں خدا کے فضل سے حالات اچھے ہوگئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوئی کہ وہاں کے علاقہ کا چیف امام جو ہمارا شدید مخالف تھا اور ہمارے راستہ میں ایک بڑی روک تھا فوت ہوگیا اور اس کے فوت ہوجانے کی وجہ سے یہ روک دور ہوگئی ہے۔ اب اس کا قائم مقام امام اس کا لڑکا ہے۔ اپنے امام منتخب ہونے کے بعد اس نے جو پہلی تقریر کی اس میں اس نے واضح الفاظ میں کہا کہ آئندہ سے وہ احمدیت کے خلاف کوئی بات نہیں کہے گا۔<۳۵۹
    مباحثہ رانائو
    مندرجہ بالا بیان میں جس مباحثہ کی طرف اشارہ کیاگیا ہے وہ مولوی محمد سعید صاحب انصاری نے ۲۔ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء کو کیا جس کی تفصیل مرزا محمد ادریس صاحب کی ایک دوسری رپورٹ )مورخہ ۲۰۔ جون ۱۹۵۵ء( میں بایں الفاظ ملتی ہے۔
    >۳۰۔ مئی ۱۹۵۵ء کو مکرم مولوی محمد سعید صاحب انصاری جیسلٹن سے رانائو تشریف لائے ان کی آمد کے ساتھ رانائو میں کافی رونق پیدا ہوگئی۔ انصاری صاحب کی آمد سے تین چار دن قبل ہی عیسائی مسلمانوں کو مقابلہ کے لئے بلارہے تھے۔ ایک عیسائی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اکیلا ہزار مسلمانوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔
    مقامی مسلمانوں نے اور عیسائیوں نے آپس میں فیصلہ کرکے دو جون کا دن تبادلہ خیالات کے لئے مقرر کیا۔ مسلمان خود تو عیسائیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے ان کی ہم سے ہی امیدیں وابستہ تھیں۔ مقامی مسلمانوں نے عیسائیوں کی طرف سے وہ خط ہمیں دیا جس میں مسلمانوں کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ ۲۔ جون ۱۹۵۵ء کو فلاں مقام پر تبادلہ خیالات کے لئے حاضر ہوجائیں۔ چنانچہ مسلمانوں کی خواہش پر مکرم مولوی محمد سعید صاحب انصاری اور خاکسار میدان مقابلہ میں پہنچ گئے۔ ہم نے مقامی مسلمانوں کے ذریعہ نیٹوچیف اور پولیس کی طرف سے انتظام کرالیا تا کسی قسم کا کوئی فتنہ اور شرارت پیدا نہ ہو۔ ہم نے نیٹوچیف اور پولیس کے افسر کو وہ خط دکھادیا کہ عیسائیوں کی دعوت پر اور مقامی مسلمانوں کی خواہش پر ہم تبادلہ خیالات کرنے کے لئے آئے ہیں۔ کافی انتظار کے بعد پادری تو بوجہ عدیم الفرصتی کے تشریف نہ لائے البتہ ان کے نمائندے پہنچ گئے۔ عیسائیوں کے نمائندوں کے ساتھ مکرم مولوی محمد سعید صاحب انصاری نے قریباً دو گھنٹہ تبادلہ خیالات کیا۔ موضوع گفتگو تثلیث تھا۔ اس مباحثہ کے ذریعہ مقامی مسلمانوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ عیسائیت کا مقابلہ صرف جماعت احمدیہ ہی کرسکتی ہے۔<
    حکومت کی مسلم کشن پالیسی کے خلاف موثر آواز
    نارتھ برٹش بورنیو کی عیسائی حکومت نے رانائو کے مسلمانوں کے اپنے زیر اثر رکھنے اور ان کے مذہبی ماحول کو اپنے رنگ میں ڈھالنے اور ان پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے یہ طریق جاری رکھا تھا کہ وہ رانائو کا چیف قاضی اور امام خود مقرر کرتی تھی اور اردگرد کے دیہات میں اس کے منظور شدہ امام کے بغیر کوئی دوسرا شخص نہ امام بن سکتا تھا اور نہ مسلمانوں کو دینی تعلیم دینے کا مجاز تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان ذہنی طور پر مفلوج ہوگئے تھے اور اس علاقہ کا امام محض حکومت کا آلہ کاربن کے رہ گیا تھ حکومت جو چاہتی اس سے کہلواتی اور پبلک اس پر اندھا دھند آمنا وصدقنا کہہ دیتی۔
    مولوی محمد سعید صاحب انصاری نے حکومت کی اس مسلم کش پالیسی کے خلاف بورنیو کے واحد روزنامہ TIMES SABAH میں مفصل مضمون شائع کرایا جس میں مسلمانوں کو حکومت کے مقرر کردہ امام اور چیف قاضی کے نقصانات بتائے اور نہایت وضاحت سے بیان کیا کہ اس سے حکومت کا مقصد در پردہ مسلمانوں کی وحدت کو کمزور کرنا اور ان میں فتنہ پیدا کرنا ہے۔
    رانائو کے نئے احمدی نیٹوچیف۳۶۰ امان ان دنوں سنڈاکن کی سرکاری کانفرنس میں مدعو تھے۔ مرزا محمد ادریس صاحب نے ان کو بھی خاص طور پر اس معاملہ کی اہمیت بتلائی اور مسلمانوں کے موقف کے بارے میں بعض دلائل دیئے تا اگر یہ مسئلہ حکومت کی طرف سے پیش ہو تو اس کے خلاف موثر آواز بلند کی جا سکے۔۳۶۱ نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزی حکومت اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوسکی۔
    مشرقی ساحل میں احمدیت کی آواز
    مارچ ۱۹۵۵ء میں مولوی محمد سعید صاحب انصاری نے بورنیو کے مشرقی ساحل تک پیغام احمدیت پہنچانے کے لئے ایک کامیاب دورہ کیا۔ اس علاقہ سے سب سے پہلے سنڈاکن کے ڈنٹل مورا یوسف۳۶۲ نے قبول احمدیت کا اعلان کیا۔ یہ نوجوان نسلاً فلپینی ہیں۔ انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک ہر طرح کے شدائد کا نہایت پامردی اور جرات سے مقابلہ کیا اور مبلغ کے ساتھ مل کر دن رات تبلیغ کرتے رہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ہوا کہ اب سنڈاکن کی جامعت بورنیو کی سب سے بڑی جماعت ہے اور ڈنٹل مورا یوسف صاحب اس کے پریذیڈنٹ ہیں۔
    حضرت مصلح موعود کی بعض خصوصی ہدایات
    ۳۵۔۱۳۳۴ہش/۵۶۔۱۹۵۵ء میں جبکہ رانائو میں انگریزی حکومت کی مشینری جماعت احمدیہ اور اس کے مبلغین کے خلاف پورے زور سے حرکت میں آچکی تھی حضرت مصلح موعود نے ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب کو وقتاً فوقتاً درج ذیل ہدایات دیں۔
    ۱۔
    ڈاکٹر صاحب کے مراسلہ یکم تبوک/ستمبر ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء پر ارشاد فرمایا۔
    >احتجاج کا کیا سوال تھا کہہ دیتے ہم نہیں نکلتے ہمیں بھی وہی حق حاصل ہے جو اور لوگوں کو ہے۔ اصل طریق یہ ہے کہ بورنیو کے لوگوں میں پراپیگنڈا کریں کہ ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں تبھی یہ لوگ سیدھے ہوں گے۔<
    ۲۔
    انہوں نے اپنے مکتوب ۲۰۔ تبوک/ستمبر ۱۳۳۴ہش میں تبلیغی صورت حال کی اطلاع دی تو حضور نے اس پر لکھا۔
    >صحابہ کی طرح تبلیغ کریں` جس طرح جونک چمٹ جاتی ہے` منتیں کریں` غیرت دلائیں` جوش دلائیں` اور ایک ایک کو نہیں ہزاروں کو۔<
    ۳۔
    ڈاکٹر صاحب کے مکتوب ۲۲۔۲۳ تبوک/ستمبر ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء پر فرمایا۔
    >اصل اہم بات یہ ہے کہ آپ کو نہ نکالیں۔ آپ کہہ دیتے کہ بے شک ادریس کو قید کرلو میرا کوئی تعلق نہیں۔ اگر ادریس قید ہوجاتا اور کہہ دیتا کہ ڈاکٹر بدرالدین کو مجھ پر کیا اختیار ہے؟ نومسلموں سے کہتا کہ میں تمہارے ایمان کی خاطر قید ہونے لگا ہوں تو ساری دنیا میں تہلکہ مچ جاتا۔ ہم سارے افریقہ اور امریکہ میں شور مچوا دیتے۔ ڈچ بورنیو میں بھی شور مچوائیں اور کہیں کہ انگریز نکل جائیں ہم بورنیو انگریزوں کے ماتحت نہیں چاہتے۔ جب انگریز نے تبلیغ کو پولیٹیکل معاملہ قرار دیا ہے تو آپ کیوں نہیں پولیٹیکل معاملہ قرار دیتے؟ سارے افریقہ میں لوگ بطور قوم آباد ہیں انہوں نے گورنمنٹ سے ٹکرلی ہے اور ان کو شکست دی۔
    جب میں لیگوس کے چیف سے ذکر کیا کہ میرا ایک رسالہ جو عیسائیت کے خلاف ہے گورنمنٹ کہیں اسے ضبط نہ کرلے تو اس نے مٹھی بھینچ لی اور اس کو ہلاکر کہا ہم مسلمان اکثریت میں ہیں ہم گورنر کی گردن بھینچ دیں گے اس کو طاقت کیا ہے ۔۔۔۔ چاہتے تھا کہ عقل سے کام کرتے مگر ساتھ ہی پبلک کو ایسے حاکموں کے خلاف کھڑا کردیتے جو ظلم اور تعدی سے کام لیں۔<
    ۴۔
    ان کے ۲۶۔ ستمبر ۱۹۵۵ء کے ایک مکتوب پر تحریر فرمایا۔
    >آپ بار بار گورنر کو ملتے رہیں اس سے اثر پیدا ہوتا ہے۔ اب آپ اس علاقہ کو ہرگز نہ چھوڑیں اور اس موقعہ سے پورا فائدہ اٹھائیں اور اس میں تبلیغ پر زور دیں۔ اس وقت ایسا موقعہ ہے کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوجائیں۔<
    ۵۔
    ڈاکٹر صاحب موصوف کا ایک خط )مورخہ ۱۱۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء کو( حضور کی خدمت میں موصول ہوا جس پر حضور نے جوہدایات فرمائیں وہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کے الفاظ میں درج ذیل ہیں۔
    ‏]iq )[tagالف( >گورنر کے نام جو چٹھی لکھی گئی ہے بے شک بھجوادی جائے مگر اس میں یہ امر وضاحت سے تحریر کردیا جائے کہ نئی بلڈنگز وغیرہ کے متعلق جو قوانین عیسائی مشنوں کے متعلق ہیں وہ جب تک ان پر عائد ہوں گے ہم بھی ان کی پابندی کریں گے۔ اس بارہ میں حضور نے یہ تاکید فرمائی ہے کہ اس کے نتیجہ میں تبلیغ پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ تبلیغ ہم جہاں چاہیں کریں گے۔
    )ب( مقدمہ کی اپیل کے متعلق کل ہی لکھا جاچکا ہے۔ اگر تو گورنمنٹ نے اس مقدمہ کو آئندہ ہمارے خلاف استعمال نہیں کرنا تو پھر بے شک اپیل نہ ¶کریں ورنہ اپیل کی جائے۔
    )ج( اگر کسی علاقہ سے مبلغ کو تبلیغ سے روکنے کے لئے نکلنے کا حکم دیا جائے تو مبلغ ہرگز اپنی جگہ نہ چھوڑیں خواہ قید کرلئے جائیں۔ اس صورت میں یہ طریق اختیار کیا جائے کہ پبلک سے ایجی ٹیشن کروایا جائے کہ مذہب میں حکومت دخل دے رہی ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ جلد سے جلد لوکل مبلغ تیار کئے جائیں کیونکہ اگر حکومت غیر ملکیوں کو نکال ہی دے تو لوکل مبلغین کو تو نہیں نکال سکتی اس طرح تبلیغ کا راستہ بند نہ ہوگا بلکہ کھلا رہے گا۔<
    ۶۔
    ایک اور مکتوب پر ارشاد فرمایا۔
    >ان کو۳۶۳ سمجھائیں کہ جس علاقہ میں جائیں پہلے ان سے دوستیاں کریں` تعلقات بڑھائیں` ہلکی ہلکی تعلیم دیں پھر تبلیغ آسان ہوجائے گی` یاد رکھیں ذوالقرنین پہلے مغرب میں گیا پھر مشرق میں۔ سو پہلے تبلیغ مغرب سے شروع ہوئی اب مشرق کی طرف شروع ہورہی ہے۔ یہ جو ہے کہ سورج مغرب سے چڑھے گا اگر امریکہ سے رو شروع ہوئی تو راستہ میں آپ کا ملک آتا ہے۔< )۲۱۔ صلح/جنوری ۱۳۳۵ہس/۱۹۵۶ء(
    وسیع تبلیغی دورہ
    مرزا محمد ادریس صاحب نے ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء کی پہلی سہ ماہی میں رانائو کے علاوہ مندرجہ ذیل دیہات کا تبلیغی دورہ کیا۔ لیبانگ` تگوڈن` کتینتل` کینی راسن` پروپوٹ رنڈاگنگ` موکاب` پرنگ` سنگیٹن` توپنگ` پرنچانگن` لنگست` کنڈاسنگ` بنڈوتوہن۔ ان دیہات کی مجموعی آبادی مسلمان` عیسائی اور لامذہب لوگوں پر مشتمل ہے۔ مرزا صاحب موصوف نے ان مختلف الخیال لوگوں کو محبت و پیار سے حقیقی اسلام کی طرف دعوت دی` تعلیم یافتہ غیرمسلموں کو >اسلامی اصول کی فلاسفی< کا تحفہ دیا اور مسلمانوں کو امام مہدی کی بشارت سنانے کے علاوہ نماز اور قرآن مجید پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔۳۶۴
    ڈاکٹر بدرالدین احمدصاحب کا سفرفلپائن
    جماعت احمدیہ بورنیو کے ذریعہ ایک عرصہ سے فلپائن کے مسلمانوں تک پیغام حق پہنچ رہا تھا اور کئی سعید روحیں حق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوچکی تھیں۔ مرکز احمدیت نے فلپائن میں مبلغ بھجوانے کی مسلسل کوششیں کیں مگر فلپائن کی حکومت کسی مسلمان مشنری کو اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیتی تھی۔ یہ صورت حال دیکھ کر ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب نے اپنی خدمات حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پیش کیں چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں آپ ماہ وفا/جولائی ۱۳۳۶ہش/۱۹۵۷ء میں فلپائن تشریف لے گئے جہاں تھوڑے ہی عرصہ میں دو سو سے زائد اشخاص ان کی تبلیغ سے داخل سلسلہ ہوگئے جس پر حضور نے سالانہ جلسہ کی تقریر کے دوران خوشنودی کا اظہار فرمایا۔۳۶۵
    برونائی اسٹیٹ میں احمدیت
    ماہ وفا/جولائی ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء میں برونائی )میں جو شمالی بورنیو سے ملحق مسلم ریاست ہے( مکرم مولوی محمد سعید صاحب انصاری کے ذریعہ احمدیت کی داغ بیل پڑی اور سب سے پہلے یوسف بن بولت کو قبول حق کی سعادت نصیب ہوئی۔
    پاکستانی باشندوں میں تنظیم کی جدوجہد
    بورنیو میں پاکستانیوں کو بھی خاصی تعداد موجود ہے ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب کی سالہاسال کی کوشش سے ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء میں ان کو متحد و منظم کرنے کے لئے پاکستانی ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور اتفاق رائے سے اس کی صدارت ڈاکٹر صاحب ہی کو سونپی گئی۔ آپ کی وفات کے بعد ایک مقامی پاکستانی حاجی کا لاخاں صاحب صدر منتخب کئے گئے اور مبلغ بورنیو مرزا محمد ادریس صاحب سیکرٹری تجویز ہوئے۔ ۱۴۔ اگست ۱۹۶۱ء کو بورنیو میں پہلی بار پاکستانیوں نے اپنا یوم آزادی اہتمام سے منایا جس کے جملہ انتظامات مرزا صاحب موصوف نے کئے۔ اس تقریب کی رپورٹ مقامی اخبار TIMES> <SABAH میں شائع ہوئی۔ ۳۶۶
    سراوک کے خیر سگالی وفد کو پیغام حق
    ماہ احسان/جون ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء میں سراوک سے ساتھ افراد مشتمل ایک خیر سگالی وفد سرکاری طور پر آیا جو چینی اور سراوک کے مسلمان ممبروں میں مشتمل تھا مرزا محمد ادریس صاحب نے ان ممبروں کو سلسلہ کا لٹریچر پیش کیا۔ وفد کے لیڈر نے سراوک سے شکریہ کا خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ آج کل کی دہریت کی فضا میں مذہب کی تبلیغ قیام امن کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ یہ کام انجام دیکر انسانیت کی عظیم خدمت بجالارہے ہیں۔۳۶۷
    مبلغین کی تعارفی دورہ
    ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران مولوی بشارت احمد صاحب نسیم امروہوی مشن کا چارج سنبھالنے کے لئے بورنیو تشریف لے گئے۔ مرزا محمد ادریس صاحب نے ان کے ساتھ لنکونگن` تنوم اور ساپونگ کا دورہ کرکے احمدی دوستوں سے متعارف کرایا۔ اس سلسلہ میں یہ دونوں مبلغ ساباہ کے دو بڑے انگریزی روزناموں کے ایڈیٹروں سے بھی ملے۔۳۶۸
    افریقی ایشیائی جرنلسٹوں سے ملاقات
    انہیں ایام میں جیسلٹن افریقی ایشیائی جرنلسٹوں کا ایک وفد حکومت کی دعوت پر ساباہ آیا جنہیں مرزا صاحب موصوف نے عربی اور انگریزی اسلامی لٹریچر پیش کیا۔ وفد کے ایک مسلمان ممبر نے بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ ایک مسلمان مشنری ملنے کے لئے آیا ہے نیز کہا کہ آپ پہلے مسلمان ہیں جو مجھے یہاں ایک مسلمان بھائی کی حیثیت سے خاص طور پر ملنے آئے ہیں۔۳۶۹
    نئی مشکلات
    ماہ ظہور/اگست ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء میں یہ جزیرہ انگریزی تسلط واقتدار سے آزاد ہوگیا تو خیال کیا جاتا تھا کہ تبلیغ اسلام کی راہ میں حائل رکاوٹیں آہستہ آہستہ دور ہوجائیں گی مگر اس کے برعکس جماعت احمدیہ کو پہلے سے بھی زیادہ مشکلات سے دو چار ہونا پڑا حتی کہ مختلف مقامات میں احمدیوں کو ورغلانے` لالچ دے کر اپنے ساتھ شامل کرنے اور دھمکیاں دے کر مرعوب کرنے کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
    ریڈیوپر احمدیت کے خلاف پراپیگنڈا اور اس پر احتجاج
    ساباہ کی آزادی پر ابھی چند ماہ گزرے تھے کہ بعض متعصب لوگوں نے ساباہ ریڈیو سے احمدیت کے خلاف پراپیگنڈا شروع کردیا۔ مولوی بشارت احمد صاحب نسیم نے ۹۔ جنوری ۱۹۶۴ء کو ڈائریکٹر صاحب براڈ کاسٹنگ اینڈ انفارمیشن حکومت ساباہ اور سرواک کو احتجاج خطوط لکھے جن کی نقول فیڈرل سیکرٹری اور حکومتوں کے چیف سیکرٹری صاحبان کو بھی ارسال کیں جس پر ان کی طرف سی معذرت کا خط آیا۔۳۷۰
    احمدیہ مسلم سالانہ کانفرنس کی بنیاد
    ۱۹۔ فتح/دسمبر ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء کا دن ساباہ مشن کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے اس لئے کہ اس روز ساباہ میں سالانہ احمدیہ مسلم کانفرنس کی بنیاد پڑی۔
    اس پہلی کانفرنس کے انعقاد کے لئے ملکی حالات کے پیش نظر یک روزہ پروگرام بنایاگیا۔ احمدیہ مسلم مشن ہائوس جیسلٹن کی عمارت ہی میں جلسہ ہوا اور اسی میں مہمانوں کے قیام وطعام کا انتظام کیاگیا۔ احمدی احباب ۱۸۔ فتح/دسمبر کی صبح سے ہی آنے شروع ہوگئے۔ قریبی جماعتوں کے احمدیوں نے دور سے تشریف لانے والے دوستوں کی رہائش اور طعام کا خاطر خواہ بندوبست کیا۔ احمدی بہنوں نے کھانا تیار کرکے اور احمدی بھائیوں نے کھانا پیش کرکے اور حسب ضرورت خوردنی اشیاء شہر سے مہیا کرکے اخلاص کی عمدہ مثال قائم کی۔ اس کانفرنس میں پوتاتن` لوکاوی` رامایہ` ساپونگ` تمالنگ` تیلی پوک` رینانم` ساساگاسا` کوالابلائیت` برونائی اسٹیٹ اور سنڈاکن کے احمدیوں نے شرکت فرمائی۔ پروگرام کے مطابق تین اجلاس ہوئے جن میں مولوی بشارت احمدیہ صاحب نسیم مبلغ ساباہ کے علاوہ بوجنگ بن رئووف صاحب` محمد شریف تیوسوچنگ صاحب آف برونائی` ڈنٹل مورا یوسف آف سنڈاکن نے بھی خطاب فرمایا۔ رات کو شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں شادی بیاہ` چندوں کی ادائیگی اور بچوں کی دینی تعلیم کے لئے درس گاہ وغیرہ اہم امور زیربحث آئے۔۳۷۱ ۱۹۶۷ء کی سالانہ کانفرنس میں مبلغ انچارج ملیشیا مولوی محمد سعید صاحب انصاری اور مولوی محمد عثمان صاحب چینی ملبغ سنگاپور بھی شریک ہوئے۔
    خدا کے فضل و کرم سے یہ کانفرنس باقاعدگی سے ہرسال منعقد ہوتی ہے اور اس میں مختلف دینی و تربیتی موضوعات پر تقاریر کے علاوہ مجلس شوریٰ کا بھی انعقاد ہوتا ہے جس میں تبلیغ و تربیت کے سلسلہ میں فیصلے کئے جاتے ہیں۔ یہ کانفرنس اس علاقہ کے احمدیوں میں بیداری پیدا کرنے کا عمدہ ذریعہ ثابت ہورہی ہے۔
    ساباہ کی احمدی جماعتوں
    اس وقت اس ملک میں جسے اب ساباہ کہاجاتا ہے حسب ذیل مقامات پر خدا کے فضل سے احمدی جماعتیں پائی جاتی ہیں۔
    ۱۔ کوتاکینابالو )جیسلٹن(
    ‏(JESSELTON) KINABALU KOTA
    ۲۔ رامایہ )پینمپنگ ضلع(
    ‏(PENAMPANG) RAMAYAN ۔KG
    ۳۔ تمالانگ )توران ضلع(
    ‏eng2] g(TUARAN)[ta TELIPOK TAMALAG ۔KG
    ۴۔ رانائو
    ۵۔ )۱(لنکونگن )۲( کے ہیڈوپ آن` انومان` ہیونورٹ ضلع( لنکونگن اسٹیٹ
    ‏ESTATE) (LINGKUNGAN INUMAN KEHIDUPAN, LINGKUNGAN, ۔KG
    ۶۔ ساساگا ساپونگ اسٹیٹ )ٹینم ضلع(
    ‏ESTATE) (SAPONG SASAGA ۔KG
    ۷۔ لابوان
    ‏LABUAN
    ۸۔ سنڈاکن
    ‏SANDAKAN
    ۹۔ توائو
    ‏TAWAU
    ۱۰۔ برونائی اسٹیٹ )ملک ساباہ سے متصل علیحدہ ملک ہے(
    ‏ESTATE BRUNEI
    بعض مخلصین کا تذکرہ
    ساباہ کے احمدیوں کی تعداد اگرچہ بہت تھوڑی ہے مگر ان میں ایثار اور خلوص وفداکاری کی روح کارفرما ہے۔ چنانچہ مولوی بشارت احمد صاحب نسیم امروہوی مبلغ ساباہ تحریر فرماتے ہیں۔
    >تمالانگ جماعت کے پریذیڈنٹ مکرم عبدالہادی صاحب مخلص احمدی ہیں۔ سلسلہ کے کاموں میں خاص دلچسپی لیتے ہیں اور اپنی جماعت کی تربیتی و تعلیمی نگرانی اپنی دینی قابلیت کے مطابق پورے جوش اور شوق سے کرتے ہیں۔
    لنکونگن میں مکرم مانڈور محمد یعقوب صاحب بن پہنگیران احمد صاحب جماعت احمدیہ کے ہیڈوپ آن اور لنکونگن کے پریذیڈنٹ بھی ہیں اور بہت پرانے اور مخلص احمدی ہیں۔ ابتدائی زمانہ میں احمدیت کی بدولت مشکلات کے دور سے گزرے ہیں اور ثابت قدم رہے ہیں۔ اب ماشاء اللہ ان کے خاندان کے سارے ہی لوگ احمدیت کی آغوش میں ہیں۔
    سنڈاکن میں مکرم ڈینٹل مورا یوسف صاحب جو حال ہی میں حج بھی کرکے آئے ہیں۔ جماعت احمدیہ سنڈاکن کے پریذیڈنٹ اور لوکل مرکزی نظام کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔ محکمہ جنگلات میں اچھے عہد پر فائز ہیں۔ پرانے اور نہایت مخلص نوجوان ہیں۔ >معاندین سلسلہ کے ہاتھوں خاصے مشکل دور سے گزرچکے ہیں۔ اپنی اہلیہ اور قریبی رشتہ داروں سے ہی ایک لمبا زمانہ انہوں نے پریشان کن حالات میں گزارا لیکن صبر سے کام لیا۔ ثابت قدم رہے اب ان کی اہلیہ صاحبہ بھی حلقہ بگوش احمدیت ہیں اور بچے بھی سارے ہیں۔
    اس جماعت کے دوسرے دوست مکرم حسین۔ ائے آمل صاحب اگرچہ نئے احمدی ہیں لیکن مخلص اور دیندار نوجوان ہیں۔ آپ کی اہلیہ اور بچگان بھی نظام سلسلہ اور نظام خلافت سے وابستہ ہیں۔ آپ کی اہلیہ پہلے عیسائی تھیں اور ایک لمبا عرصہ عیسائی رہیں۔ آپ کے احمدیت قبول کرنے کے ایک سال بعد اسلام کی سچائی کی قائل ہوکر احمدیت کی آغوش میں آگئیں۔ اب مخلص احمدی خاتون ہیں۔
    اسی جماعت کے ایک اور نوجوان مکرم منصور بن سلیم شاہ صاحب میرین پولیس POLICE) (MARINE میں سب انسپکٹر ہیں۔ اپنے والد مرحوم مکرم سلیم شاہ صاحب آف لابوان کی طرح نہایت مخلص اور دیندار نوجوان ہیں۔ سلسلہ کے کاموں میں خاص دلچسپی لیتے ہیں۔ چندوں میں باقاعدہ ہیں۔ آپ کے خاندان کے سب افراد خدا کے فضل و کرم سے نظام سلسلہ عالیہ احمدیہ سے وابستہ ہیں۔
    جماعت احمدیہ لابوان کے پریذیڈنٹ مکرم سکرمان صاحب اس ملک کے سب سے پہلے احمدی ہیں۔ مخلص ہیں۔ آپ جاوا انڈونیشیا کے باشندہ ہیں لیکن ایک لمبے زمانہ سے اس ملک میں آباد ہیں۔ خاموش طبع ہیں۔ اس سے قبل آپ کمیونسٹ تھے۔
    جماعت احمدیہ توائو کے پریذیڈنٹ مکرم محمد جینی ابراہیم صاحب اور اسمعیل سلیم صاحب ہر دو نوجواں اگرچہ نومبائع ہیں لیکن بہت مخلص ہیں۔ یوں ۱۹۶۶ء کی ان کی بیعتیں ہیں۔ اخلاص میں ترقی کررہے ہیں۔ ان کی بیویاں بھی ان کے بعد بیعت کرچکی ہیں۔ تبلیغ کا شغل جاری رہتا ہے۔ اپنی مخلصانہ جدوجہد سے سعید روحوں کی کشش کا سامان بنے رہتے ہیں۔
    برونائی اسٹیٹ میں جماعت احمدیہ کے پریذیڈنٹ مکرم محمد شریف صاب تیوسو چیانگ پرانے اور مخلص دوست ہیں۔ آپ چینی النسل ہیں۔ آپ کی اہلیہ صاحبہ بھی چینی النسل ہیں اور آپ کی طرح مخلص اور دیندار خاتون ہیں۔ اس سے قبل آپ بدھسٹ تھے۔ مکرم کے عبدالقادر صاحب مرحوم اور مکرم سکرمان صاحب آف لابوان`مکرم سلیم صاحب مرحوم لابوان ان کے پرانے ہم جلیس تھے۔ اور اسی نیک صحبت کی بدولت انہیں اسلام اور احمدیت ایسی دولت پالینے کی توفیق میسر آئی۔ آپ قادیان اور ربوہ کی زیارت بھی کرچکے ہیں۔<۳۷۲
    ‏body] ga[t
    فصل ہفتم
    عدن مشن کا قیام
    عدن کا محل وقوع اور تبلیغی اہمیت
    بہرعرب کے جنوب مغربی ساحل اور اس کے بالائی حصوں میں ایک مشہور مملکت عدن و حضر موت واقع ہے جو مختلف چھوٹے چھوٹے بائیس ٹکڑوں میں مل کر بنتی ہے اور جو کسی وقت بالواسطہ طور پر برطانوی اقتدار کے زیر انتظام تھی مگر اب آزاد ہوچکی ہے اور اس پر مقامی شیوخ حکمران ہیں۔ عدن خاص اور اس کے قرب وجوار کی آبادی میں عرب مسلمانوں کی کثرت ہے گو عیسائی` پارسی` یہودی اور ہندو بھی خاصی تعداد میں آباد ہیں۔ عدن عرب کا دروازہ اور جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی مرکز ہے جہاں سے دنیا کے چاروں طرف ہوائی اور بحری راستے نکلتے ہیں لہذا یہ اسلام کی تبلیغ واشاعت کا بہترین مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    جماعت احمدیہ عدن اگرچہ ۱۹۳۶ء سے قائم ہے مگر اس کے اکثر ممبر بیرونی تھے۔ باقاعدہ طور پر اس مشن کا قیام ماہ ظہور/اگست ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء میں ہوا۔
    عدن مشن کے قیام کاپس منظر
    اس مشن کے قیام کاپس منظریہ ہے کہ یہاں کچھ عرصہ سے پانچ نہایت مخلص احمدی ڈاکٹر قومی اور ملی خدمات بجالارہے تھے جن کے نام یہ ہیں۔ ڈاکٹر فیروزالدین صاحب۔ ڈاکٹر محمد احمد صاحب۔ ڈاکٹر محمد خاں صاحب۔ ڈاکٹر صاحبزادہ محمد ہاشم خاں صاحب اور ڈاکٹر عزیز بشیری صاحب۔ ڈاکٹر فیروزالدین صاحب جو اس زمانے میں جماعت عدن کے پریذیڈنٹ تھے عدن سے قادیان آئے تو انہیں ڈاکٹر محمد احمد صاحب نے اپنے خط مورخہ ۲۳۔ صلح/جنوری ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء اور تار مورخہ ۲۳۔ صلح/جنوری ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء میں عدن مشن کھلوانے کی تحریک کی نیز لکھا کہ میں مبلغ کے لئے اپنا مکان چھ ماہ تک دینے کے لئے تیار ہوں اس عرصہ میں دارالتبلیغ کے لئے کسی اور مکان کا انتظام ہوسکے گا۔ ڈاکٹر محمد احمد صاحب نے اس کے ساتھ ہی پانچ سو روپیہ اخراجات سفر کے لئے بھی بھجوا دیئے اور ڈاکٹر عزیز بشیری صاحب نے اتنی ہی رقم کا وعدہ اخراجات قیام کے طور پرکیا۔ چنانچہ ڈاکٹر فیروزالدین صاحب جماعت عدن کی نمائندگی میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب کا خط اور تار پیش کیا اور درخواست کی کہ کوئی موزوں مبلغ عدن کے لئے تجویز فرمایا جائے ہم پنچوں ڈاکٹر اور دارالتبلیغ کا بار اٹھانے میں مدد کریں گے۔ اس پر حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود نے جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل نوجوان مولوی غلام احمد صاحب مبشر کو اس خدمت کے لئے نامزدفرمایا۔
    مبشراسلامی کا عدن میں ورود
    مولوی غلام احمد صاحب مبشر ۱۵۔ ماہ ظہور/اگست ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء کو قادیان سے روانہ ہوکر تیسرے دن ۶۔ ظہور/اگست کو بمبئی پہنچے جہاں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر اور دوسرے احباب جماعت نے ان کا استقبال کیا۔ بعدازاں ۹۔ ظہور/اگست کو جہاز میں سوار ہوئے اور ۱۹۔ ظہور/اگست بروز سوموار عدن پہنچے۔ بندرگاہ پر ڈاکٹر فیروزالدین صاحب اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب آپ کو لینے کے لئے پہلے سے موجود تھے۔
    ابتدائی تبلیغی سرگرمیاں
    مولوی غلام احمد صاحب مبشر حسب فیصلہ ڈاکٹر محمد احمد صاحب کے ہاں مقیم ہوئے اور جلد ہی ڈاکٹر محمد احمد صاحب اور ڈاکٹر فیروزالدین صاحب اور ڈاکٹر عبداللطیف صاحب کے ساتھ وفد کی صورت میں عدن سے دس میل کے فاصلہ پر واقع شیخ عثمان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض عربی تصانیف مثلاً الاستفتاء الخطاب الجلیل` التبلیغ ` اور سیرہ الابدال وغیرہ مختلف اشخاص کو پڑھنے کے لئے دس اور زبانی بھی پیغام حق پہنچایا۔ علاوہ ازیں عدن میں عربوں` عیسائیوں اور یہودیوں میں التبلیغ` سیرۃ الابدال` نظام نو )انگریزی`( اسلام اور دیگر مذاہب` میں کیوں اسلام کو مانتا ہوں وغیرہ کتب اور ٹریکٹ تقسیم کئے۔ احمدی ڈاکٹروں نے ابتداء ہی سے یہ خاص اہتمام کیا کہ وہ اولین فرصت میں اپنے حلقہ اثر کے دوستوں کو مبشر اسلامی سے متعارف کرائیں۔ اس غرض کے لئے انہوں نے بعض خاص تقریبات بھی منعقد کیں جن میں عدن کے باشندوں خصوصاً نوجوانوں کو مدعو کیا۔ خود مولوی صاحب بھی اشاعت میں ایسی برکت ڈالی کہ پہلے مہینہ میں ہی ایک دوست احمد علی صاحب نامی جو ہندوئوں سے مسلمان ہوئے تھے اور شیخ عثمان کے نواحی علاقہ کے باشندے اور عدن کے رہنے والے تھے حلقہ بگوش احمدیت ہوگئے۔ حضرت مصلح موعود نے ان کی بیعت قبول فرمائی اور مولوی غلام احمد صاحب کو ارشاد فرمایا >تبلیغ پر خاص زوردیں< اس پر مولوی صاحب نے عدن` شیخ عثمان اور تواہی۳۷۳ )سٹیمرپوائنٹ( میں باقاعدہ پروگرام کے مطابق انفرادی ملاقاتوں اور تقسیم لٹریچر کے ذریعہ سے زور شور سے تبلیغ شروع کردی اور گرجوں اور معززین کے گھروں اور بازاروں میں عربی` اردو اور انگریزی لٹریچر تقسیم کرنے لگے۔ چنانچہ آپ نے عربی کتب میں سے سیرۃ الابدال` اعجاز المسیح` التبلیغ` الاستفتاء۔ اردو میں احمدی اور غیراحمد میں فرق` پیغام صلح اور انگریزی میں احمدیہ موومنٹ` پیغام صلح` اور تحفہ شہزادہ ویلز` بعض عربوں` ہندوستانیوں اور انگریزوں کو پڑھنے کے لئے دیں جس سے خصوصاً انگریزوں اور عیسائیوں میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے حکام بالا تک رپورٹ کردی۔
    سرکاری مخالفت
    انسپکٹر سی۔ آئی۔ ڈی نے مولوی غلام احمد صاحب کو بلایا اور وہ لٹریچر جو آپ نے تقسیم کیا تھا اس کی ایک ایک کاپی ان سے طلب کی نیز حکم دیا کہ آپ اپنا لٹریچر بازاروں میں تقسیم نہ کریں صرف اپنے گھر میں لوگوں کو بلا کر اور دعوت دے کر لیکچر یا لٹریچر دے سکتے ہیں۔ یہ واقعہ ماہ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء میں پیش آیا جس کے ڈیڑھ مہینہ بعد کیتھولک چرچ کے ایک پادری نے شکایت کردی کہ مولوی صاحب پبلک لیکچر دیتے اور کیتھولک چرچ میں لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عدن نے مولوی صاحب موصوف کو تنبیہہ کی کہ وہ آئندہ نہ کیتھولک چرچ میں کوئی لٹریچر تقسیم کریں نہ پبلک لیکچر دیں ورنہ نہ انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ مولوی صاحب نے بتایا کہ پبلک لیکچر دینے کا الزام غلط ہے البتہ لٹریچر میں ضرور دیتا ہوں مگر صرف اسی طبقہ کو جو علمی دلچسپی رکھتا ہے۔ مولوی صاحب نے ان سے کہا کہ عیسائی مشنری تو کھلے بندوں دندناتے پھررہے ہیں کیا انہیں چھٹی ہے اور صرف مجھ پر یہ پابندی ہے؟ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے جواب دیا کہ یہ پابندی آپ پر ہی عائد کی جارہی ہے عیسائیوں پر اس کا اطلاق نہ ہوگا۔
    علماء کی مخالفت
    عیسائیوں کی انگیخت اور شرارت کے بعد ماہ ہجرت/مئی ۱۳۶۲ہش/۱۹۴۷ء میں بعض مقامی علماء نے بھی مخالفت کا کھلم کھلا آغاز کردیا۔ بات صرف یہ ہوئی کہ ایک مجلس مولود میں مولوی غلام احمد صاحب نے آنحضرت~صل۱~ کی قوت قدسیہ پر روشنی ڈالی۔ اور ضمناً آپ کے فرزند جلیل سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ذکر کیا جس پر دو علماء اور ان کے دو ساتھیوں نے آپ کو سٹیج سے اتارنے کے لئے ہنگامہ برپا کردیا۔ مجلس میں اٹھانوے فیصد شرفاء موجود تھے جو خاموش رہے اور انہی کے ایماء پر مولانا نے اپنی تقریر ختم کردی۔ بعدازاں شیخ عثمان کے ائمہ مساجد نے روزانہ نمازوں خصوصاً عشاء کے بعد لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا کہ وہ احمدی مبلغ کی نہ کتابیں پڑھیں اور نہ باتیں سنیں کیونکہ وہ کافرو ملعون ہے یہی نہیں انہوں نے پوشیدہ طور پر گورنمنٹ کو بھی احمدی مبلغ کے خلاف اکسانا شروع کردیا۔ ایک مرتبہ رستے میں مسجد کے ایک فقیہہ نے آپ کو بلند آواز سے پکارا اور آپ سے ایک کتاب یعنی استفتاء عربی مانگی جو آپ نے اسے دے دی۔ کتاب لینے کے بعد اس نے پہلے سوالات شروع کر دیئے اور پھر اونچی آواز سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان مبارک میں سخت بدزبانی کی مولوی غلام احمد صاحب نے پورے وقار اور نرم اور دھیمی آواز سے ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔ جب آپ وہاں سے واپس آنے لگے تو اس فقیہہ نے آپ کے پیچھے لڑکے لگادیئے جنہوں نے آپ کو پتھرمارے مگر مولوی صاحب ان کی طرف التفات کئے بغیر سیدھے چلتے گئے۔ قبل ازیں بھی اس مسجد والوں نے آپ سے یہی سلوک کیا تھا۔
    مخالفت کے اس ماحول میں آہستہ آہستہ ایک ایسا طبقہ بھی پیدا ہونے لگا جو مولوی صاحب کی باتوں کو غور سے سنتا تھا۔ خصوصاً عرب نوجوانوں میں حق کی جستجو کے لئے دلچسپی اور شوق پڑھنے لگا مگر چونکہ عرب کا یہ حصہ حریت مزاج` آزاد منش اور اکثربدوی لوگوں پر مشتمل ہے اس لئے عام طور پر فضا بہت مخالفانہ رہی۔
    شیخ عثمان میں دارالتبلیغ کا قیام اور اس کے عمدہ اثرات
    اب تک مولوی غلام احمد صاحب مبشر` ڈاکٹر محمد احمد صاحب کے یہاں مقیم تھے لیکن ماہ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۶ہس/۱۹۴۷ء میں جماعت
    احمدیہ نے ۶۵ روپے ماہوار کرایہ پر ایک موزوں مکان حاصل کرلیا۔ مولوی صاحب موصوف نے یہاں دارالتبلیغ قائم کرکے اپنی تبلیغ سرگرمیوں کو پہلے سے زیادہ تیز کردیا اور خصوصاً نوجوانوں میں پیغام حق پھیلانے کی طرف خاص توجہ شروع کردی کیونکہ زیادہ دلچسپی کا اظہار بھی انہی کی طرف سے ہونے لگا تھا۔ عدن شیخ عثمان اور تواہی کے علماء کو تبلیغی خطوط لکھے اور ان تک امام مہدی کے ظہور کے خوشخبری پہنچائی علاوہ ازیں ایک عیسائی ڈاکٹر کو جو پہلے مسلمان تھا اور پھر مرتد ہوگیا ایک تبلیغی مکتوب کے ذریعہ دعوت اسلام دی۔
    مستقل دارالتبلیغ کا ایک بھاری فائدہ یہ بھی ہوا کہ عوام سے براہ راست رابطہ اور تعلق پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا اور سعید الفطرت لوگ روزانہ بڑی کثرت سے دارالتبلیغ میں جمع ہونے اور پیغام حق سننے لگے۔
    عبداللہ محمد شبوطی کی قبول احمدیت
    ۱۷۔ ماہ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء بروز جمعتہ المبارک عدن مشن کی تاریخ میں بہت مبارک دن تھا جبکہ ایک یمنی عرب عبداللہ محمد شبوطی جو ان دنوں شیخ عثمان میں بودوباش رکھتے تھے ساڑھے گیارہ بجے شب بیعت کا خط لکھ کر داخل احمدیت ہوگئے اور اپنے علم اور خلوص میں جلد جلد ترقی کرکے تبلیغ احمدیت میں مولوی صاحب کے دست راست بن گئے۔ اس کامیابی نے شیخ عثمان کے علماء اور فقہاء کو اور بھی مشتعل کردیا اور وہ پہلے سے زیادہ مخالفت کی آگ بھڑکانے لگے۔ مگر مولوی غلام احمد صاحب اور عبداللہ محمد شبوطی نے اس کی کوئی پروانہ کی اور نہایت بے جگری` جوش اور فداکاری کی روح کے ساتھ ہر مجلس میں اور ہر جگہ دن اور رات زبانی اور تحریری طور پور پیغام احمدیت پہنچاتے چلے گئے اور امراء غرباء` علماء اور فقہاء غرض کہ ہر طبقہ کے لوگوں کو ان کے گھروں میں جاکر نہایت خاکساری اور عاجزی سے دعوت حق دینے لگے۔ نتیجہ فرمودہ تفسیر کو سن کر عش عش کرنے لگے حتی کہ بعض نے یہ اقرار کیا کہ حضرت مرزا صاحب کی بیان فرمودہ تفسیر واقعی الہامی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب سے آپ کو علم لدنی سے نوازا ہے۔
    علماء کی طرف سے کمشنر کو عرضی اور اس کا ردعمل
    ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء میں علماء نے عدن` شیخ عثمان اور تواہی کے مختلف لوگوں سے ایک عرضی دستخط کروا کر کمشنر کو دی کہ ہم اس مبشر قادیان کا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے یہ ہمارے ایمانوں کو خراب کررہا ہے۔ شیخ عثمان کے بعض نوجوانوں کو اس شکایت کا پتہ چلا تو انہوں نے علماء کے اس رویہ کی جو انہوں نے اپنی کم علمی و بے بضاعتی کو چھپانے اور اپنی شکست خوردہ ذہنیت پر پردہ ڈالنے کے لئے` کیا تھا دل کھول کر ندمت کی اور ان کے خلاف زبردست پراپیگنڈا کیا۔ بلکہ قریباً پچاس آدمیوں نے یہ لکھا کہ ہم اس مبشر اسلامی کو دیگر سب علماء سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اور واقعی یہ حقیقی مسلمان ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت کے فقیہوں اور فریسیوں نے حضرت مسیح کی مخالفت کی تھی یہ لوگ بھی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر اس شخص کا نفوذ وسیع ہوگیا تو ہماری کوئی وقعت نہ رہے گی۔ غرض کہ اس مخالفت کا خدا کے فضل سے اچھا نتیجہ نکلا۔
    ڈاکٹر فیروزالدین صاحب کا انتقال
    ان دنوں عدن میں یہود اور عرب کی کشمکش بھی یکایک زور پکڑگئی جس کا اثر تبلیغی سرگرمیوں پر بھی پڑنا ناگزیر تھا۔ علاقہ ازیں عدن کی جماعت کے پریذیڈنٹ جناب ڈاکٹر فیروزالدین صاحب عین فسادات کے دوران میں داغ مفارقت دے گئے جس سے مشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ مرحوم نہایت مخلص` نہایت پرجوش اور بہت سی صفات حمیدہ کے مالک تھے۔ تبلیغ کا جوش اور شغف ان میں بے نظیر تھا۔ اگر کوئی مریض ان کے گھر پر آتا تو وہ اس تک ضرور محبت` اخلاص اور ہمدردی سے احمدیت کا پیغام پہنچاتے۔ احمدیت کے مالی جہاد میں بھی آمدنی میں کمی کے باوجود بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ مولوی غلام احمد صاحب مبشر نے اپنے ۲۷۔ ماہ فتح/دسمبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کی رپورٹ میں ان کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا۔
    >احمدیت کی مالی خدمت کا جو جوش اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر رکھا ہوا تھا اس کی نظیر بھی کم ہی پائی جاتی ہے۔۔۔ ہمارا اندازہ ہے کہ وہ ہرسال )اپنی آمدکا( ساٹھ فیصدی اشاعت اسلام کے لئے خرچ کررہے تھے۔ مساکین` غرباء سے ہمدردی اور خدمت خلق کا جزبہ تو کوٹ کوٹ کر ان کے دل میں بھرا ہوا تھا۔ اگر کوئی مسکین بھی ان کے دروازے پر آجاتا اور وہ سوال کرتا تو آپ ضرور اس کی حاجت کو پورا کردیتے۔ بعض اوقات اپنی نئی پہنی ہوئی قمیض وہیں اتار کردے دیتے اور یہی باتیں بعض اوقات ان کے گھر میں کشمکش کا باعث ہوجاتیں۔ غرضکہ آپ کی زندگی حقیقت میں یہاں کی جماعت کے لئے ایک عمدہ نمونہ تھی۔<
    ایک اور عالم آغوش احمدیت میں
    اوائل ۱۳۲۷ہش/۱۹۲۸ء میں مولوی غلام احمد صاحب نے مرکز میں لکھا کہ اس علاقہ کے لوگ بالکل ہی اسلام سے بے بہرہ اور بدویانہ زندگی بسرکررہے ہیں حتی کہ انہیں نماز تک نہیں آتی قرآن شریف الگ رہا اگر آپ اجازت دیں تو خاکسار درویشانہ فقیرانہ صورت میں اندرونی حصہ عرب میں چلا جائے اور ان لوگوں تک اسلام واحمدیت کا حقیقی پیغام بذریعہ تربیت ہی پہنچائے تو عدن کی نسبت زیادہ کامیابی کی امید ہے لیکن مرکز نے اس کی اجازت نہ دی۔ اس تجویز کے ایک ماہ بعد محمد سعید احمد نامی ایک اور عرب عالم سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوگئے جس کے بعد جماعت عدن کے بالغ افراد کی تعداد ۳۷۴ ۹ تک پہنچ گئی۔ محمد سعید لحج کے رہنے والے تھے جو کہ محمیات عدن میں سے ہے۔
    ماہ شہادت /اپریل ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء میں مولوی غلام احمد صاحب شیخ عثمان )عدن( کے نواح میں ایک گائوں >معلا< نامی میں تبلیغ کے لئے گئے جو کہ شیخ عثمان سے چھ میل کے فاصلہ پر ہے وہاں ایک فقیہہ عالم سے گفتگو کا موقع ملا۔ مولوی صاحب نے انہیں امام مہدی علیہ السلام کی خوشخبری دی اور احادیث صحیحہ اور قرآن کریم سے آپ کی آمد کی علامات بتاکر صداقت ثابت کی اور آخر میں مسئلہ وفات مسیح پر دلائل دیئے۔ قریباً ایک گھنٹہ گفتگو ہوتی رہی۔ آخر انہوں نے تمام لوگوں کے سامنے اقرار کیا کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہوچکے ہیں اور باقی مسائل پر گفتگو کرنے سے بالکل انکار کردیا۔
    عیسائی مشنری کا تعاقب
    ماہ نبو/نومبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کا واقعہ ہے کہ ایک عرب نوجوان جو عیسائی مشنریوں کے زیر اثر اور ان کے پاس آتا جاتا تھا آپ کو گفتگو کے لئے ایک پادری کے مکان پر لے گیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ چار نوجوان عرب بیٹھے اناجیل پڑھ رہے ہیں۔ گفتگو شروع ہوئی تو مولوی صاحب نے اناجیل ہی کے حوالوں سے ثابت کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں کوئی خدائی صفات نہ پائی جاتی تھیں۔ پادری صاحب لاجواب ہوکر کہنے لگے کہ آپ ہماری کتابوں سے کیوں حوالے دیتے ہیں؟ مولوی صاحب نے جواب دیا ایک اس لئے کہ آپ کو وہ مسلم ہیں دوسرے آپ ہمیں انجیلوں کی طرف دعوت دیتے ہیں لہذا تنقید کرنا ہمارا حق ہے۔ آخر پادری صاحب ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے اور مزید گفتگو سے انکار کرکے الگ کمرے میں چل دیئے اس پر سب عرب نوجوانوں نے آپ کا دلی شکریہ ادا کیا کہ آج آپ نے ان کا جھوٹ بالکل واضح کردیا ہے۔
    مباحثے اور انفرادی ملاقاتیں
    ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کے وسط آخر میں مولوی صاحب کے عدن کے علماء سے وفات مسیح` مسئلہ ناسخ ومنسوخ` مسئلہ نبوت اور یا جوج ماجوج کے مضامین پر متعدد کامیاب مباحثے ہوئے۔ علاوہ ازیں آپ نے عدن کی بعض شخصیتوں مثلاً سیدحسن صافی` محمدعلی اسودی تک پیغام حق پہنچایا۔ ماہ تبوک/ستمبر میں آپ نے جعار ۳۷۵ اور لحج ۳۷۶ کا تبلیغی دورہ کیا۔ جعار میں حاکم علاقہ علی محمد کو تبلیغ کی اور لحج میں بعض امراء مثلاً وزیر معارف سلطان فضل عبدالقوی` وزیر تموین سلطان فضل بن علی وغیرہ سے ملے اور ان سے نیز مقامی علماء سے تعارف پیدا کیا۔
    بیرونی شخصیتوں تک پیغام حق
    عدن ایک اہم تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جہاں مختلف اطراف سے لوگ بکثرت آتے ہیں جن میں گردونواح کے علاقوں کے شیوخ وحکام بھی ہوتے ہیں مولوی غلام احمد صاحب مبشر اور عبداللہ محمد شبوطی ہمیشہ بیرونی شخصیتوں تک پیغام حق پہنچاتے رہتے تھے۔ ماہ فتح/دسمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء میں مولوی غلام احمد صاحب نے عدن کے مشہور سادات میں سے ایک عالم شمس العلماء سید نرین العدروس سے ان کے مکان میں ملاقات کی اور ان کے سامنے بڑی تفصیل سے حضرت مسیح موعود کے دعویٰ اور اس کے دلائل وبراہین بیان کئے۔
    مبلغ عدن کی واپسی
    مولوی غلام احمد صاحب ایک ان تھک اور پرجوش مبشر اسلامی کی حیثیت سے ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء کے آخر تک مملکت عدن میں اسلام و احمدیت کا نور پھیلاتے رہے اور عدن میں کئی سعید روحوں کو حق و صداقت سے وابستہ کرنے کا موجب بنے مگر آپ کی دیوانہ وار مساعی اور جدوجہد نے صحت پر سخت ناگوار اثر ڈالا اور آپ کو اس تبلیغی جہاد کے دوران ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء میں دماغی عارضہ بھی لاحق ہوگیا۔ احمدی ڈاکٹروں نے علاج معالجہ میں دن رات ایک کردیا۔ جب طبیعت ذرا سنبھل گئی اور آپ سفر کے قابل ہوئے تو آپ عدن سے ۲۲۔ ماہ فتح/دسمبر ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء کو بذریعہ بحری جہاز روانہ ہوگئے ۲۸۔ فتح/دسمبر کو بمبئی پہنچے اور ۱۲۔ ماہ صلح/جنوری ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء کو ربوہ میں تشریف لے آئے۔
    آپ کے بعد عدن کے مخلص احمدیوں خصوصاً عبداللہ محمد شبوطی اور میجر ڈاکٹر محمد خاں شیخ عثمان عدن نے اشاعت اسلام و احمدیت کا کام برابر جاری رکھا اور آہستہ آہستہ جماعت میں نئی سعید روحیں داخل ہونے لگیں۔ مثلاً ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء میں محمد سعید صوفی` ہاشم احمد` رائل حائل نے بیعت کی۔ وسط ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء میں چار نئے احمدی ہوئے۔ ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء میں علی سالم بادربن سالم عدنی داخل احمدیت ہوئے۔
    ایک عربی مکتوب کی اشاعت
    وسط ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء میں عبداللہ محمد الشبوطی نے ایک عالم الشیخ الفاضل عبداللہ یوسف ہروی کے نام >مطبعہ الکمال عدن< سے ایک عربی مکتوب چھپوا کے شائع کیا جس میں حضرت میسح موعود کی بعثت اور اختلافی مسائل پر نہایت مختصر مگر عمدہ پیرایہ میں روشنی ڈالی گئی تھی۔
    محمود عبداللہ شبوطی کا عزم ربوہ
    چونکہ عدن میں کسی نئے مبشرو مبلغ کی اجازت کا ملنا ایک مشکل مسئلہ بن کے رہ گیا تھا اس لئے جماعت عدن کے مشورہ سے عبداللہ محمد شبوطی نے اپنے ایک فرزند محمود عبداللہ شبوطی کو بتاریخ ۱۹۔ ماہ ہجرت/مئی ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ مرکز میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے عدن سے روانہ کیا۔ محمود عبداللہ شبوطی ۲۵۔ ہجرت/مئی کو ربوہ پہنچے اور جامعہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا۔
    پہلا پبلک جلسہ
    ۲۰۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۳۳ہش/۱۹۵۴ء کو جماعت احمدیہ عدن کا پہلا پبلک جلسہ سیرۃ النبیﷺ~ منعقد ہوا۔ جلسہ کا پنڈال دارالتبلیغ کے سامنے تھا اور اس میں مائیکروفون کا بھی انتظام کیاگیا۔ قبل ازیں احمدیوں کے جلسے محدود اور چار دیواری کے اندر ہوتے تھے مگر اس سال یہ جلسہ عام منانے کا فصیلہ کیاگیا اور علاوہ اخباروں میں اشتہار دینے کے قریباً ۵۰۰ دعوتی کارڈ جاری کئے گئے۔ ایک روز قبل مخالف علماء نے جمعہ کے خطبوں میں نہایت زہرآلود تقریریں کرکے لوگوں کو جلسہ میں آنے سے منع کیا لیکن ان مخالفانہ کوششوں کے باوجود جلسہ بہت کامیاب رہا۔ حاضرین کے لئے تین سو کرسیاں بچھائی گئی تھیں جو مقررہ پروگرام سے بھی بیس منٹ پہلے پر ہوگئیں۔ اس لئے جلسہ کی کارروائی بھی پہلے ہی شروع کردی گئی۔ صدر جلسہ عبدہ` سعید صوفی تھے جن کے صدارتی خطاب کے بعد بالترتیب منیر محمد خاں )ابن میجر ڈاکٹر محمد خاں( اور عبداللہ محمد شبوطی نے موثر تقریریں کیں۔ کرسیوں پر بیٹھنے والوں کے علاوہ جلسہ گاہ کے اردگرد قریباً ایک ہزار نفوس نے پوری خاموشی اور دلچسپی سے تقریریں سنیں اور نہایت عمدہ اثر لے کرگئے اور بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا۔۳۷۷4] ftr[ اس کامیاب تجربہ سے عدنی احمدیوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور انہوں نے ہرسال جلسہ سیرت النبیﷺ~ منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
    محمود عبداللہ شبوطی کی مراجعت وطن اور تبلیغ حق
    محمود عبداللہ شبوطی نے جو سالہا سال سے مرکز سلسلہ میں دینی تعلیم حاصل کررہے تھے مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد ۴۔ ماہ تبلیغ/فروری ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء کو اپنی زندگی خدمت اسلام کے لئے وقف کردی اور حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود نے ان کا وقف قبول فرمالیا اور ساتھ ہی عدن میں مبلغ لگائے جانے کی منظوری بھی دے دی۔ چنانچہ آپ حضور کے حکم پر ۱۴۔ ظہور/اگست ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء کو کراچی سے روانہ ہوکر ۱۵۔ ظہور/اگست کو عدن پہنچ گئے۔ آپ نے اگلے سال عدن سے پہلا احمدی رسالہ >الاسلام< جاری کیا اور علمی حلقوں میں اسلام واحمدیت کی آواز بلند کرنے کے علاوہ جماعتی تربیت و تنظیم کے فرائض بھی بجالانے لگے۔ آپ اب تک اعلائے کلمئہ حق میں مصروف رہیں۔۳۷۸
    فصل ہشتم
    کوائف قادیان
    )از ۱۶۔ ماہ نبوت/نومبر تا ۳۱ فتح/دسمبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء(
    تاریخ احمدیت کی گیارہویں جلدی میں ماحول قادیان کے فسادات پر مفصل روشنی ڈالنے کے بعد بتایا جاچکا ہے کہ کس طرح ۱۶۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کو عہد درویشی کا آغاز ہوا۔ اب اس فصل میں سال ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کے بقیہ کوائف قادیان کا ذکر کرنا مقصود ہے۔
    درویشان قادیان کے لیل و نہار
    ان اولین ایام میں درویشان قادیان کے لیل ونہار خاص طور پر باجماعت تہجد` پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی` درس میں شمولیت` مسجد اقصیٰ` بیت الدعا اور بہشتی مقبرہ نیز دوسرے مقامات مقدسہ میں دعائوں اور ذکر الٰہی کے انوارو برکات سے معمور تھے۔ اور ہر درویش حفاظت مرکز سے متعلق ہر چھوٹی اور بڑی مفوضہ ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے مجسم اطاعت وایثار ہوا تھا۔ محصوریت کے یہ ایام انتہا درجہ گھٹن اور بے بسی کے روح فرسا ماحول میں گھرے ہوئے تھے مگر یہ قدوسی پوری بشاشت ایمان اور جذبہ اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض بجالاتے اور اس سلسلے میں کسی کام کو خواہ وہ بظاہر کتنا ہی معمولی یا حقیر کیوں نہ ہو خادمان شان کے ساتھ انجام تک پہنچانے کو اپنے لئے بہت بڑی سعادت سمجھتے تھے۔ چنانچہ جیسا کہ مرزا محمد حیات صاحب سابق نگران درویشاں ۳۷۹ کی غیر مطبوعہ ڈائری سے معلوم ہوتا ہے درویشوں نے ان ابتدائی ایام میں دن رات کام کیا۔ مثلاً درویش لنگرخانہ میں سامان پہنچاتے` مہاجر احمدیوں کے گھر سے اصحاب بحفاظت جمع کرتے` بہشتی مقبرہ میں معماری کاکام کرتے` بیرونی محلوں سے جمع شدہ کتابوں کو مرتب اور مجلد کرتے اور اپنے حلقہ درویشی کے ہر اہم مقام پر نہایت باقاعدگی اور ذمہ داری کے ساتھ پہرہ دیتے تھے۔ درویشوں کی روزانہ ایک معین وقت پر اجتماعی حاضری بھی لی جاتی تھی۔ چونکہ احمدی حقلہ کے چاروں طرف غیر مسلم آباد ہوچکے تھے اور حکومت اور عوام دونوں طرف سے خطرات ہی خطرات نظر آتے تھے اس لئے ۲۲۔ ماہ نبوت/نومبر کو حفاظتی نقطہ نگاہ سے دارالشیوخ والی گلی کا دروازہ اور بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے مکان کے سامنے والی گلی کا دروازہ اینٹوں سے اور احمدیہ چوک سے مسجدمبارک جانے کا راستہ لوہے کا گیٹ لگاکر بند کردیاگیا اور تمام آمدورفت دفتر تحریک جدید` مرزا محمد اسمعیل صاحب کے مکان اور میاں عبدالرحیم صاحب دیانت سوڈا واٹر کی دکان سے ہونے لکی۔ ۲۳۔ ماہ نبوت/نومبر کو نو درویش ہندوئوں اور سکھوں کی آبادی میں سے ہوتے ہوئے اسٹیشن تک گئے اور لنگر کے لئے ایک سو بیس من کوئلہ لاد کرلائے۔ ۲۷۔ ماہ نبوت/نومبر کو سکھوں کا پروگرام جلوس نکالنے کا تھا اس لئے تمام درویشوں کو ان کے مکانات میں ہی متعین کردیاگیا۔ اسی اثناء میں ایک درویش بابا جلال الدین صاحب اپنے مکان سے باہر نکلے تو ملٹری کے ایک سپائی نے انہیں دو تین تھپڑ رسید کئے اور کہا کہ باہر کیوں نکلے ہو؟ شام چار بجے کے قریب یہ جلوس چوک میں پہنچا۔ اس موقعہ پر انتہائی اشتعال انگیز نظمیں پڑھی گئیں۔ ایک سکھ نے ہاتھ میں برہنہ تلوار لے کر کہا کہ یہ اسی تلوار کا اثر ہے کہ یہاں پاکستان نہیں بن سکا۔ یکم ماہ فتح/دسمبر کو بیمار اور معذور درویشوں کے سوا سب نے حضرت مصلح موعود نے ارشاد کی تعمیل میں روزہ رکھا۔ ۵۔ ماہ فتح/دسمبر کو مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل امیر مقامی نے نماز فجر کے بعد بہشتی مقبرہ کی چار دیواری کے شمال مشرقی کو نہ پر ایک کمرے کی بنیاد رکھی جو درویشوں کے تعاون سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ ۹۔ ماہ فتح/دسمبر کو درویشوں نے دفتر امور عامہ کے جنوبی جانب اجتماعی وقار عمل کیا۔ اس جگہ دو تین ہزار مسلمان پناہ گزین ہوگئے تھے جن کے فضلے سے بہت سٹراند پھیل گئی تھی۔ درویشوں نے اپنے ہاتھ سے اس جگہ کی صفائی کی اور گڑھوں کو مٹی سے پر کردیا۔ ۲۳۔ ماہ فتح/دسمبر کو مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل امیر مقامی نے مولوی برکات احمد صاحب راجیکی ناظر امور عامہ` ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے`۳۸۰ فضل الٰہی خاں صاحب اور ۹ دیگر درویشوں کو دارالعلوم اور دارالفضل میں بھجوایا تا قرآن مجید کے جو مقدس اوراق مسجد نوریا دارالفضل کے کھیتوں میں غیر مسلموں نے نہایت بے دردی سے بکھیر رکھے تھے وہ سپرد آتش کرکے دفن کردیئے جائیں۔ چنانچہ ان اصحاب نے نہایت محنت سے اس منقوضہ خدمت کو انجام دیا۔ ان لوگوں نے نور ہسپتال کے سامنے بیت البرکات کی دیوار پر مندرجہ ذیل فقرارت لکھے ہوئے دیکھے >مسلمانوں سے بچ کررہو۔< >قادیان کے ہندوئو! قادیان سے خبردار ہو اور مسلمان کاناس کرو۔< ۱۳۔ فتح/دسمبر کو کپٹن شیرولی صاحب نگران حفاظت قادیان کی تحریک پر بہشتی مقبرہ کے اردگرد دیوار کی تعمیر کا پہلا مرحلہ شروع کیاگیا۔ درویشوں نے اس کچی دیوار کو مکمل کرنے میں ازحد جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ یہ دیوار کئی برس تک قائم رہی۔ بعدازاں اس جگہ پختہ دیوار تعمیر کرلی گئی۔ اس طرح بہشتی مقبرہ اور اس سے متصل بڑا باغ بھی )جو سلسلہ کی عظیم تاریخ روایات کا حامل ہے( غیروں کی دست برد سے محفوظ ہوگیا۔
    حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے اہم خطوط
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب نے انہی دنوں اپنے قلم سے مولوی عبدالرحمن صاحب امیرمقامی قادیان اور جناب ملک صلاح الدین صاحب کو جو متعدد خطوط تحریر فرمائے وہ مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم میں محفوظ ہوچکے ہیں ان مکتوبات سے اس دور کے احوال و کوائف پر خوب روشنی پڑتی ہے اور باسانی اندازہ لگ سکتا ہے کہ ان ہوش ربا ایام میں دیار حبیب کے ان عشاق اور فدائیوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا؟ بدلے ہوئے حالات میں انہیں کون سے نئے مسائل پیش تھے؟ اور وہ کس طرح اپنی جان ہتھیلی میں لئے ہوئے حفاظت مرکز کا فریضہ بجالانے کے علاوہ دیگر اہم اسلامی خدمات انجام دے رہے تھے۔ ذیل میں حضرت میاں صاحب کے بعض خطوط کے چند اقتباسات بطور نمونہ درج کئے جاتے ہیں۔
    ۱۔
    )بنام مکرمی مولوی عبدالرحمن صاحبجٹ امیر جماعت قادیان(
    >آپ نے اپنے متفرق خطوط میں چار اغوا شدہ )مسلمان( عورتوں کا ذکرکیا ہے جو واپس ہوکر آپ کے پاس پہنچ چکی ہیں مگر اعلان اور تلاش ورثاء کے لئے آپ نے پورے کوائف درج نہیں کئے۔ مہربانی کرکے ایک نقشہ کی صورت میں اطلاع دیں کہ ان عورتوں کے نام اور ولدیت یا زوجیت اور عمر اور اصل سکونت وغیرہ کیا ہے تاکہ ورثاء کی تلاش میں مدد مل سکے۔ یہ رپورٹ ایک نقشہ کی صورت میں بناکر بھجوادیں۔< )۱۶۔ دسمبر ۱۹۴۷ء(
    ۲۔
    )بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے(
    >آپ نے لکھا ہے کہ بہشتی مقبرہ کی دیواروں اور کمرے کی تعمیر کا کام کرایا جارہا ہے اور یہ کہ اس غرض کے لئے وہ اینٹیں لی گئی ہیں جو ڈاکٹر حاجی خاں صاحب کے مکان کے پاس ہمارے مشترکہ حساب کی لکھی ہوئی تھیں۔ الحمدلل¶ہ اس سے بہتر مصرف ان اینٹوں کا کیا ہوسکتا ہے مگر آپ مجھے بواپسی مطلع فرمائیں کہ بہشتی مقبرہ )میں( کونسا تعمیری کام ہورہا ہے۔ اور بہتر ہوگا کہ دیوار اور کمرے کا جائے وقوع ایک سرسری نقشہ کی صورت میں تیار کرکے بھجوائیں۔ اس تعمیر کی وجہ سے آپ کا وقار عمل تو خوب ہورہا ہوگا۔<
    >قادیان کی ایک رپورٹ میں یہ ذکر تھا کہ بڑا باغ بھی سکھوں کے قبضہ میں ہے اس سے فکر ہوا کیونکہ بڑا باغ حضرت اماں جان والا پرانا باغ کہلاتا ہے اور وہ اس رقبہ میں شامل ہے جس پر ہم اپنا قبضہ سمجھتے رہے ہیں اور قادیان میں حکام کو جو نقشہ دیاگیا تھا اس میں بھی بڑا باغ ہمارے قبضہ میں دکھایا گیا تھا۔ علاوہ ازیں یہ باغ حلقہ مسجد مبارک اور بہشتی مقبرہ کے درمیان واقع ہے اور اگر اس پر دوسروں کا قبضہ ہو تو بہشتی مقبرہ اور ہمارے آدمیوں کی آمدورفت دونوں خطرہ میں پڑسکتے ہیں آپ اس کے متعلق بواپسی جواب دیں۔ اور اگر وہ خدانخواستہ قبضہ سے نکل چکا ہو تو اس کے متعلق پروٹسٹ کرکے دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔<۳۸۱
    ‏tav.11.10
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    >آپ نے کاشت کے واسطے بیلوں کی جوڑی وغیرہ کے لئے لکھا ہے۔ آپ زمین کا انتظام کریں پھر یہ انتظام بھی انشاء اللہ ہوجائے گا۔ مگر زمین ایسی حاصل کرنی چاہئے جو ہماری مقبوضہ آبادی سے ملتی ہوتا کہ آنے جانے اور نگرانی میں آسانی رہے اور مشن شکنی کا خطرہ بھی نہ ہو۔ دارالانوار میں میرا کنواں اور ساتھ والی میاں رشید احمد کی زمین اور دوسرے ملحقہ قطعات اس غرض کے لئے اچھے ہیں۔ چاہ جھلاروالا بھی اچھا ہے مگر اس میں اتنا نقص ہے کہ اس کے کھیت ہندوئوں اور سکھوں کے ساتھ مخلوط ہیں۔ اراضی تکیہ مرزا کمال الدین مناسب نہیں کیونکہ وہ بالکل ایک طرف نظروں سے اوجھل ہے اور ایسی جگہ میں فساد کا زیادہ خطرہ ہوسکتا ہے۔ آپ زمین کے زیادہ اچھا ہونے کا خیال نہ کریں بلکہ آنے جانے کی سہولت اور انتظامی سہولت کے پہلو کو مقدم رکھیں۔<۳۸۲
    >مولوی عبدالرحمن صاحب نے لکھا کہ قادیان میں کوئی ایندھن کا ٹال نہیں ہے یہ کام آپ آسانی سے قادیان میں کراسکتے ہیں کسی احمدی کو کہہ دیاجائے کہ وہ محمد دین حجام والی زمین۳۸۳ متصل مکان بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی میں ٹال کھول دے یا احمدیہ چوک کے کسی حصہ میں کھول دیا جائے۔
    میں نے آپ کے حسب منشاء قادیان میں احمدی دوستوں کی خیریت کا اعلان الفضل میں کرادیا تھا۔ آئندہ بھی گاہے گاہے کروادیا جائے گا۔
    میں نے آپ کی تجویز کے مطابق ڈاک خانہ اور ٹیلی فون گھر کے کرایہ کے متعلق گورداسپور چٹھی لکھ دی ہے مگر پوسٹ ماسٹر کی بجائے سپرنٹنڈنٹ کو لکھی ہے۔ معلوم نہیں آپ نے پوسٹ ماسٹر کا نام کیوں تجویز کیا تھا۔۳۸۴
    مولوی عبدالرحمن صاحب نے اغواء شدہ عورتوں میں سے جو قادیان واپس آگئی ہیں ان کے متعلق اعلان کرنے کے بارہ میں لکھا تھا مگر ابھی تک ایسی عورتوں کی مکمل فہرست مجھے نہیں ملی جس میں نام و پتہ و زدجیت و عمر وغیرہ کے کوائف درج ہوں۔ آپ ایسا نقشہ بناکر بھیج دیں تو انشاء اللہ اعلان وغیرہ کے ذریعہ ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔<
    )موصولہ قادیان ۲۰۔ دسمبر ۱۹۴۷(
    ‏in] [tag۳۔
    )بنام مولوی عبدالرحمن صاحب امیر قادیان(
    >آپ نے لکھا ہے یا شاید ملک صاحب نے لکھا تھا کہ حکومت نے چھینی ہوئی موٹروں کا ٹیکس مانگا ہے۔ آپ کو اس کا یہ جواب دینا چاہئے کہ موٹریں ہمیں واپس دے دی جائیں ہم بڑی خوشی سے ان کا ٹیکس ادا کردیں گے۔ یا کم از کم ہمیں تسلی کرادی جائے کہ وہ عنقریب واپس کردی جائیں گی تو پھر بھی ہم ان کا ٹیکس ادا کردیں گے۔<۳۸۵
    >اس کے علاوہ جو موٹریں قادیان میں حکومت کے افسروں نے ہم سے لے لی ہوئی ہیں ان کے متعلق درخواست دینی چاہئے کہ اب جبکہ ہنگامی حالات بدل چکے ہیں تو مہربانی کرکے ہمیں یہ موٹریں واپس دلائی جائیں۔ جتنی موٹریں یا ٹرک چھینے گئے ہوں خواہ وہ انجمن کے ہوں یا احمدی افراد کے ان کے متعلق مطالبہ ہونا چاہئے مگر فہرست احتیاط سے بنائی جائے تاکہ مالکوں کے نام اور موٹروں کی قسم اور نمبر میں غلطی نہ لگے۔ یہ خیال رہے کہ جو کمانڈ کار فیض اللہ چک کے پاس پکڑی گئی تھی وہ کیپٹن عبداللہ باجود کی تھی اور انہی کے نام پر مطالبہ ہونا چاہئے۔ اسی طرح ایک یا دو موٹر سائیکل بھی ضبط شدہ ہیں انہیں بھی اپنے مطالبہ میں شامل کرلیا جائے۔< )۱۸۔ دسمبر ۱۹۴۷ء(
    ۴۔
    )بنام مولوی عبدالرحمن صاحب امیر مقامی قادیان(
    >اس سوال کا جواب کہ صدر انجمن احمدیہ قادیان کے ممبروں کے متعلق مشرقی پنجاب کے رجسٹرار کو اطلاع دینے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ ناظر اعلیٰ لاہور سے پوچھ کر بھجوائوں گا۔ عموماً ایسی اطلاع ہر سال کے شروع میں دی جاتی ہے۔ پس وسط جنوری کے قریب ایسی اطلاع دینی کافی ہوگی اور قاضی عبدالرحمن صاحب سے کہہ دوں گا کہ وہ عبادت بناکر آپکو بھجوادیں۔
    آپ نے خط نہ پہنچنے کی شکایت کی ہے مگر جب سے مجھے علم ہوا ہے کہ ڈاک کھل گئی ہے میں بالعموم روزانہ خط لکھتا ہوں مگر لازماً یہ خط پانچ پانچ چھ چھ دن میں پہنچتے ہیں۔ امید ہے اب تک آپ کو خط مل چکے ہوں گے۔
    لاری یا ٹرک بھجوانے کی ہمیں خود فکر ہے اور اس کے متعلق مسلسل کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن بعض روکیں ہیں۔ آپ بالکل یہ خیال نہ کریں کہ ہم اس کی طرف سے غافل ہیں۔ دراصل اس کے لئے تین چیزیں ضروری ہیں۔ اول موٹروں کا ملنا جو اس وقت گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہیں۔ دوسرے گورنمنٹ کی اجازت کا ملنا اور تیسرے فوجی اسکورٹ کا ملنا۔
    جو واپس شدہ مسلمان عورتیں آپ کے پاس پہنچی ہوئی ہیں آپ ان کو حفاظت سے رکھیں اور ان کی خدمت کا ثواب کمائیں۔ انشاء اللہ جلدی کا نوائے بھجوایا جائے گا اس وقت ان کو لاہور بھجوادیں۔
    مختاراں بی بی سے کہہ دیں کہ اس کے رشتہ داروں کا لاہور میں پتہ لگ گیا ہے اور میں نے ان کو اطلاع دے دی ہے اور وہ اس کا انتظار کررہے ہیں۔ زہرہ کے متعلق لاہور ریڈیو پر اعلان کروایا ہے اور الفضل میں بھی کرارہا ہوں۔ جب بھی اس کے رشتہ داروں کا پتہ لگا آپ کو اطلاع دی جائے گی۔ مگر میں نے آپ کو لکھا تھا کہ واپس شدہ عورتوں کی ایک یکجائی فہرست پورے کوائف کے ساتھ تیار کرکے بھجوادیں۔
    مسماۃ سرداراں جو سوجان پور سے زخمی ہوکر آئی ہے اس کے متعلق حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ خاوند کا پتہ لئے بغیر نکاح کس طرح ہوسکتا ہے اس کا اعلان بھی اچھی طرح ہونا چاہئے۔ سو آپ مجھے مسماۃ سرداراں کے جملہ کوائف نوٹ کرکے بھجوادیں تاکہ میں اعلان کرواسکوں۔ یعنی خاوند کا نام` باپ کا نام` ماں باپ کے گائوں کا نام` سسرال کے گائوں کا نام وغیرہ وغیرہ۔ آپ کی طرف سے کوائف آنے پر انشاء اللہ اخبار میں بھی اور ریڈیو پر بھی اعلان کرادیا جائے گا۔۳۸۶
    آپ نے پوچھا ہے کہ جن احمدیوں کے مکانوں سے کچھ سامان برآمد ہورہا ہے اس سامان کو کیاکیا جائے۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سامان علیحدہ علیحدہ فہرستیں بناکر مالک مکان کے نام پر بطور امانت محفوظ رہنا چاہئے کیونکہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی جگہ خرچ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر آپ ایسی فہرست مجھے بھجوادیں تو میں مالکوں کو پوچھ کر ان کا منشاء بتاسکوں گا۔ اسی طرح پارچات کے متعلق بھی۔
    ہمارے بیرونی محلوں میں جو دروازوں` کھڑکیوں اور چھتوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے آپ اس کے متعلق افسروں کو زبانی اور تحریری توجہ دلاتے رہیں۔ مکانوں کی حتی الوسع حفاظت ہونی چاہئے ورنہ بعد میں جماعت کو بھاری خرچ کرنا ہوگا۔۳۸۷
    حنط )گندم( کے متعلق میں پہلے لکھا چکا ہوں کہ ضرورت سے کچھ زائد رکھ کرباقی فروخت کردی جائے مگر ایسی احتیاط کے ساتھ فروخت کی جائے کہ کسی قسم کا خطرہ یا نقصان کا اندیشہ نہ پیدا ہو۔ یہ صورت آپ مقامی طور پر خود سوچ سکتے ہیں۔
    >ننگل باغباناں )متصل قادیان۔ مرتب( کی احمدیہ مسجد کے جو مینارے گرائے گئے ہیں اور اس میں سکھ پناہ گزین رہتے ہیں اور اس کے اوپر کانگریس کا جھنڈا لگادیاگیا ہے۔ آپ اس کے متعلق مقامی پولیس اور علاقہ مجسٹریٹ اور ڈی۔ سی کو لکھ کر توجہ دلائیں۔ اس بات کا بھی پتہ لے کر رپورٹ کریں کہ ہمارے قادیان والی مسجدیں اور عیدگاہ کس حال میں ہیں۔ نمبروار رپورٹ کریں۔ موجودہ حالات میں انہیں پولیس کی موجودگی میں مقفل کردینا چاہئے اور کنجیاں اپنے پاس محفوظ رکھی جائیں<
    >ضیاء الاسلام پریس کے متعلق انشاء اللہ یہاں ضروری کارروائی کی جائے گی آپ بھی اس کے متعلق احتجاج کریں۔۳۸۸
    عبداللطیف کے بھٹہ کی اینٹیں آپ بے شک وہاں سے اٹھوا کر کچھ بہشتی مقبرہ میں اور کچھ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں جمع کروالیں۔ اس کا خرچ امانت سے برآمد کرلیں۔
    مقبرہ بہشتی کے اردگرد جو چار دیواری بنائی جارہی ہے اس میں صرف قبروں والاہ حصہ ہی شامل نہ کریں بلکہ قبروں کے ساتھ جو مقبروں کی خرید کردہ زمین ہے وہ بھی شامل کرلیں۔< )۲۲۔ دسمبر ۱۹۴۷ء(
    ۵۔
    )بنام مولوی عبدالرحمن صاحب امیر مقامی قادیان(
    >آج ملک صلاح الدین صاحب کا فون ملا جس میں یہ ذکر تھا کہ حضرت صاحب کا جلسہ سالانہ والا پیغام ابھی تک نہیں پہنچا۔۳۸۹ میں یہ پیغام تین نقلیں کروا کے ۲۳۔ دسمبر کو ہوائی ڈاک کے ذریعہ تین مختلف دوستوں کے نام بھجوا چکا ہوں۔ آیک آپ کے نام جو اصل ہے دوسرے عزیز ظفراحمد کے نام اور تیسرے ملک صلاح الدین صاحب کے نام۔ امید ہے آپکو ان میں سے کوئی نہ کوئی خط ۲۶۔۲۷ تاریخ تک مل جائے گا۔
    جلسہ کا پروگرام فون پر معلوم ہوا میں پہلے لکھ چکا ہوں اور آج اس کے متعلق تار بھی دے رہا ہوں کہ ایک تقریر جماعت احمدیہ کی پچاس سالہ تعلیم پر ہونی چاہئے کہ احمدی جس حکومت کے ماتحت بھی ہوں اس کے وفاداربن کررہیں اور اب جبکہ قادیان انڈین یونین میں آگیا ہے۔ قادیان میں رہنے والے احمدی پاکستان کے وفادار ہوں گے اور لنڈن میں رہنے والے احمدی برطانیہ کے وفادار ہوں گے اور امریکہ میں رہنے والے احمدی امریکہ کی حکومت کے وفادار ہوں گے وعلیٰ ہذا القیاس۔<
    >منشی محمد صادق صاحب کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ساتھ جو نیا دو منزلہ کمرہ تعمیرہوا تھا وہ پھٹ کر ایک طرف کو جھک گیا ہے۔ اس کی ضروری مرمت ہونی چاہئے ورنہ گر کر مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔<
    ۶۔
    )بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے قادیان(
    >عزیز مرزا مظفر احمد سیالکوٹ سے آئے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ڈی۔ سی گورداسپور کو فون کیا تھا اور ہمارے مکان کی جو سکھوں نے گرا کر مکان گوردوارے میں شامل کرلیا ہوا ہے اس کے متعلق فون پر بات کی تھی۔ ڈی۔ سی صاحب گورداسپور نے کہا کہ میں نے حکم دے دیا ہوا ہے کہ اگر احمدی اپنی دیوار تعمیر کرائیں اور کوئی سکھ مزاحم ہوتو اسے گرفتار کیا جائے۔ مظفر نے کہا کہ موجودہ حالات اور موجودہ فضا میں بہتر یہ ہے کہ حکومت خود اپنے انتظام میں دیوار تعمیر کرادے اور ہم سے خرچ لے لے۔ ڈی۔ سی صاحب نے ¶اتفاق کیا کہ ایسی ہدایات جاری ۔۔۔۔۔۔ کردیں گے۔<۳۹۰ )۲۷۔ دسمبر ۱۹۴۷ء(
    ۷۔
    )بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے(
    >جو دوست اپنی خوشی سے اگلی ٹرم میں قادیان ٹھہرنا چاہیں انہیں اجازت دی جائے۔ جزاھم اللہ خیرا وکان معھم۔ لیکن احتیاطاً حضرت صاحب سے بھی پوچھ لوں گا اور پھر اطلاع دوں گا۔
    آپ نے لکھا ہے کہ مسجد نور میں تین من کے قریب قرآن شریف کے اوراق منتشر پائے گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ آپ اس کے متعلق ڈی۔ سی گورداسپور اور کمشنر جالندھر اور وزیراعظم مشرق پنجاب اور پنڈت نہرو صاحب نئی دہلی اور گاندھی جو نئی دہلی کو لکھیں کہ مسلمانوں کے نزدیک سب سے زیادہ دکھ دینے والی بات ان کے مذہبی احساسات کو صدمہ پہنچانا ہے۔ یہ آنحضرت~صل۱~ کے اسی ارشاد کی عملی توجہیہ ہے کہ دشمن کے ملک میں قرآن شریف نہ لے جائو۔
    ڈاکٹر صاحب اور کمپوڈران کی تبدیلی کا انتظام کیا جارہا ہے۔
    اغواء شدہ مسلمان عورتوں کے متعلق جو قادیان کے ماحول میں ہیں پاکستان کے متعلقہ محکمہ کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ وہ اپنا نمائندہ ہندوستان بھجوائیں۔< )۲۷۔ دسمبر ۱۹۴۷ء(
    ۸۔
    )بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے(
    >مسجد نور مین جو قرآن کریم کے تین من اوراق پھٹے ہوئے پائے گئے ان کا فوٹو مجھے احتیاط کے ساتھ بھجوادیا جائے۔< )۲۹۔ دسمبر ۱۹۴۷ء(
    ۹۔
    )بنام ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے(
    >آپ نے فون پر کہا تھا کہ عزیز مرزا ظفر احمد کے مضمون ۳۹۱ نے لوگوں کو بہت رلایا۔ میں نے اس کے جواب میں کہاتھا کہ یہاں تو حضرت صاحب نے رونے سے منع کردیا ہے۔ اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ دعا میں رقت کا پیدا ہونا منع ہے۔ حضرت صاحب کا منشاء تھا کہ قادیان سے باہر آنے والے احمدی قادیان کی یاد میں رونے کی بجائی اپنی درد اور جوش کو قوت عملیہ میں منتقل کرنے کی کوشش کریں۔<
    فصل نہم
    ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کے بعض متفرق مگراہم واقعات
    الحمدلل¶ہ ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کے وہ حالات جو تاریخ احمدیت جلد دہم کے آخر سے شروع ہوئے تھے اختتام تک آپہنچے ہیں آب صرف بعض متفرق اور مختصر مگر اہم واقعات کا ذکر باقی ہے۔
    ‏]j1 [tagچوہدری محمدظفراللہ صاحب کی اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین سے متعلق پر شوکت تقریر
    ان بقیہ واقعات میں سے ایک اہم اور قابل ذکر واقعہ احمدیت کے مایہ ناز فرزند حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب کی اقوام متحدہ
    میں مسئلہ فلسطین سے متعلق وہ پر شوکت تقریر ہے جو آپ نے پاکستانی وفد کے لیڈر کی حیثیت سے ۹۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کو فرمائی۔ اس ضمن میں تفصیل گزر چکی ہے مگر بعض پہلو ابھی تشنہ کے جن کا تذکرہ اب کیا جاتا ہے۔ مسٹر الفرڈایم لنتھل اپنی کتاب ISRAEL> PRICE <WHAT میں )جوہنری ویگزی کمپنی شکاگو نے شائع کی( لکھتا ہے کہ >پاکستان کے مندوب نے تقسیم کی تجویز کے خلاف عربوں کی طرف سے زبردست جنگ لڑی۔ انہوں نے کہا فلسطین کے بارہ لاکھ عربوں کو اپنی مرضی کی حکومت بنانے کا حق چارٹر میں دیاگیا ہے۔ ادارہ اقوام متحدہ صرف ایسی موثر شرائط پیش کرسکتا ہے جن سے فلسطین کی آزاد مملکت میں یہودیوں کو مکمل مذہبی` لسانی` تعلیمی اور معاشرتی آزادی حاصل ہو اس کے لئے عربوں پر کوئی اور فیصلہ مسلط نہیں ہوسکتا )صفحہ ۱۷( نیز لکھا< جنرل اسمبلی میں پاکستانی نمائندے کی خطابت جاری رہی< مغربی طاقتوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ کل انہیں مشرق وسطی میں دوستوں کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ ان ملکوں میں اپنی عزت اور وقار تباہ نہ کریں۔ جو لوگ انسانی دوستی کے زبانی دعوے کرتے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ اپنے دروازے بے گھر یہودیوں پر بند کئے ہوئے ہیں اور انہیں اصرار ہے کہ عرب فلسطین میں یہودیوں کو نہ صرف پناہ دیں بلکہ ان کی ایک ایسی ریاست بھی بننے دیں جو عربوں پر حکومت کرے۔< حمید نظامی کے ۱۹۵۴ء کے خطوط )مطبوعہ >نشان منزل< صفحہ ۴۹( میں یہ ¶ذکر ملتا ہے کہ جب وہ وحی آنا عالمی صحافی کانفرنس میں شرکت کے لئے گئے تو ان کے جہاز میں ایک یہودی عالم اور ایک یہودی ایڈیٹر بھی سوار تھے جو چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی سخت ندمت کرتے اور آپ کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ یہودی حلقے آپ کی شخصیت سے اتنا بعض وعناد کیوں رکھتے ہی؟ مندرجہ بالا پس منظر کی روشنی میں اس کا سبب باسانی سمجھ میں آجاتا ہے۔ چوہدری صاحب نے فلسطینی مسلمانوں کا مسئلہ کس موثر رنگ میں پیش کیا؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے اخبار >نوائے وقت< میں شائع شدہ دو خبروں کا مطالعہ کافی ہوگا۔])[پہلی خبر(
    >سر ظفراللہ کی تقریر سے اقوام متحدہ کی کمیٹی میں سکتے کا عالم طاری ہوگیا امریکہ` روس اور برطانیہ کی زبانیں گنگ ہوگئیں
    لیک سیکس ۱۰۔ اکتوبر۔ رائٹر کا خاص نامہ نگار اطلاع دیتا ہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹی میں جو فلسطینی مسئلہ کو حال کرنے کے لئے بیٹھی تھی کل پاکستانی مندوب سر ظفراللہ کی تقریر کے بعد ایک پریشان کن تعطل پیدا ہوچکا ہے اور جب تک امریکہ اپنی روش کا اعلان نہ کردے دیگر مندوبین اپنی زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں۔ امریکن نمائندہ جو اس دوران میں ایک مرتبہ بھی بحث میں شریک نہیں ہوا اس وقت تک بولنے کے لئے آمادہ نہیں جب تک کہ صدر ٹرومین وزیرخارجہ مسٹر جارج مارشل اور خو وفد ایک مشترکہ اور متفقہ حل تلاش نہ کرلیں۔
    کمیٹی میں کل کی بحث میں کمیٹی کے صدر ڈاکٹر ہربرٹ ایوات )آسٹریلیاں( نے بہت پریشانی اور خفت کا اظہار کیا۔ جب بحث مقررہ وقت سے پہلے ہی آخری دموں پر پہنچ گئی اور امریکن مندوب اس طرح خاموش بیٹھا رہا گویا کسی نے زبان سی دی ہو۔ اقوام متحدہ کے تمام اجلاس میں یہ واقعہ اپنی نظیر آپ ہے۔
    پاکستانی مندوب نے ایک لفظ میں دوسرے مندوبین کے واردات قلب کا اظہار کردیا جب اس نے اکتا کر یہ مشورہ دیا کہ چونکہ بعض سرکردہ مندوبین تقریر کرنے سے واضح طور پر >ہچکچارہے ہیں< اس لئے فلسطین پر عام بحث فوراً بند کردی جائے۔ امریکن وفد دو دن سی اس بحث میں مبتلا ہے کہ اسے کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے لیکن ابھی تک وہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکا ہے۔ وفد کے ایک رکن نے دریافت کرنے پر یہ بتانے سے گریز کیا کہ امریکن صدر مقام میں کیا کچھ ہورہا ہے۔ مندوبین جس طرح اس مسئلہ پر اب تک اظہار خیال کرتے ہیں اس سے یہ نتیجہ نکالنے کی کافی وجوہات ہیں کہ مندوبین میں نہ صرف عرب اور یہودی مطالبات اور دلائل کی صحت اور حقانیت کے بارہ میں ہی عارضی اختلافات ہیں بلکہ بعض مندوبین کو اس امر کا بھی احساس ہے کہ روس سے متعلق امریکہ کی موجودہ حکمت عملی کے لئے عربوں کی حمایت اور ہمدردی انتہائی اور فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔
    روس نے بھی ابھی تک اس مسئلہ پر اپنی روش کا اظہار نہیں کیا ہے۔ امریکہ کی خاموشی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وہ روش کو اپنی خاموشی سے تھکا کر بولنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور خود سب سے آخر میں تقریر کرنا چاہتا ہے تاہم معلوم ہوتا ہے کہ فلسطینی مسئلہ اب بری طرح روس اور امریکہ کی باہمی کشمکش میں الجھ جائے گا۔ رائٹر(۳۹۲
    )دوسری خبر(
    >فلسطین کے متعلق سر ظفراللہ کی تقریر سے دھوم مچ گئی عرب لیڈروں کی طرف سے سر ظفراللہ خاں کو خراج تحسین
    نیویارک ۱۰۔ اکتوبر۔ مجلس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سرمحمدظفراللہ خاں رئیس الوفد پاکستان نے جو تقریر کی وہ ہر لحاظ سے افضل واعلیٰ تھی۔ آپ تقریباً ۱۱۵ منٹ بولتے رہے۔ اس تقریر کا اثر یہ ہوا کہ جب آپ تقریر ختم کرکے بیٹھے تو ایک عرب ترجمان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر عربوں کے معاملہ کے متعلق یہ ایک بہترین تقریر تھی۔ آج تک میں نے ایسی شاندار تقریر نہیں سنی۔
    سرمحمد ظفراللہ خاں نے اپنی تقریر میں زیادہ زور تقسیم فلسطین کے خلاف دلائل دینے میں صرف کیا۔ جب آپ تقریر کررہے تھے تو مسرت وابتہاج سے عرب نمائندوں کے چہرے تمتما اٹھے۔ تقریر کے خاتمے پر عرب ممالک کے مندوبین نے آپ سے مصافحہ کیا اور ایسی شاندار تقریر کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ ایک انگریز مندوب نے سرظفراللہ کو پیغام بھیجا کہ آپ کی تقریر نہایت شاندار تھی مجھے اس کی نقل بھیجئے میں انہماک سے اس کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں۔ تقریر کے بعد سرظفراللہ خاں بہت تھکے ماندے نظرآتے تھے۔<۳۹۳
    چوہدری محمدظفراللہ خاں صاحب کے اس تاریخی خطاب نے اقوام عالم کے سامنے فلسطینی مسلمانوں کا مسئلہ حقیقی خدوخال کے ساتھ نمایاں کردیا اور متعدد ممالک نے تقسیم فلسطین کے خلاف رائے دینے کا فیصلہ کرلیا لیکن بعد میں انہوں نے دنیا کی بعض بڑی طاقتوں کی طرف سے دبائو میں آکر اپنی رائے بدل لی اور ۳۰۔ نومبر ۱۹۴۷ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو عبر اور یہودی دو علاقوں میں تقسیم کرنے کی امریکی روسی قرار دار پاس کردی۔
    چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے ۹۔ دسمبر ۱۹۴۷ء کو گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک فاضلانہ خطاب فرمایا جس میں مسئلہ تقسیم فلسطین کی سازش پر مفصل روشنی ڈالی۔ اس تقریر کا ملخص اخبار >نوائے وقت< نے درج ذیل الفاظ می شائع کیا۔
    لاہور ۹۔ دسمبر۔ ادارہ اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کے قائد چوہدری سرمحمد ظفراللہ خاں نے آج مسئلہ فلسطین کے تمام پہلوئوں پر مفصل روشنی ڈالی۔ انہوں نے ادارہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقسیم فلسطین کے فیصلہ کو سخت نامنصفانہ قراردیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تقریر کرتے ہوئے سر ظفراللہ نے سخت افسوس ظاہر کیا کہ امریکی حکومت نے چھوٹی چھوٹی طاقتوں کے نمائندگان پر ناجائز دبائو ڈال کر تقسیم فلسطین کے حق میں فیصلہ کرالیا۔ سرظفراللہ نے کہا کہ امریکہ کی انتخابی سیاسیات نے فلسطین کو ایک مہرہ بنایا۔ آپ نے فرمایا کہ سرزمین فلسطین کی مجوزہ یہودی ریاست میں نہ صرف ایک مضبوط عرب اقلیت ہمیشہ کے لئے یہودیوں کی غلام بن جائے گی بلکہ ملک کی اقتصادیات پر بین الاقوامی کنٹرول قائم ہوجائے گا جو قطعاً غیرقانونی حرکت ہے۔
    چوہدری سرمحمد ظفراللہ نے بتایا کہ کس طرح امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہودی اثر کے ماتحت چھوٹی چھوٹی اقوام پر ناجائز دبائو ڈالا اور دو تین فیصلہ کن ووٹ حاصل کرلئے جس کے مطابق ادارہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی تقسیم کا نامنصفانہ فیصلہ ہوا۔
    سرظفراللہ نے بتایا کہ ۲۶- نومبر کو ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ ہم کامیاب ہوگئے ہیں اور مخالف فریق کو اپنی شکست کا یقین ہوگیا تھا لیکن عین آخری وقت رائے شماری بلاوجہ ۲۸۔ نومبر پر ملتوی کردی گئی تاکہ دوسرے ممالک پر دبائو ڈال کر فلسطین کے متعلق ان کا رویہ تبدیل کیا جاسکے۔ چنانچہ جب ہیٹی کے مندوب نے رائے شماری کے بعد مجھ سے ملاقات کی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور اس نے افسوس ظاہر کیا کہ اسے آزادی کے ساتھ ووٹ دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اکثر ایسے مندوبیں نے جنہوں نے تقسیم فلسطین کے حق میں ووٹ ڈالے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے نہایت مجبوری کے عالم میں تقسیم فلسطین کے حق میں ووٹ ڈالے اور اسی سپرٹ میں تقسیم فلسطین کا فیصلہ ہوا۔<
    >سرظفراللہ نے بتایا کہ جنرل اسمبلی میں کس طرح شروع میں عربوں کو تقسیم فلسطین کی سکیم کے استرداد کا یقین تھا لیکن بعدازاں زبردست سازشیں کی گئیں کہ عربوں کی حامی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کردیاگیا۔ صدر اسمبلی نے رائے شماری کو ۲۶۔ نومبر سے ۲۸۔ نومبر پر ملتوی کردیا۔ دریں اثناء امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بعض مندوبین پر ان کی حکومتوں کی مدد سے دبائو ڈالا اور عربوں کے حامی ۱۷ مندوبین میں سے ۴ مندوب دوسرے فریق سے جاملے۔ لائبیریا کے نمائندے نے اعتراف کیا کہ واشنگٹن میں ان کے سفیر نے انہیں تقسیم فلسطین کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہیٹی کے نمائندے نے ہمیں نہایت افسوس کے ساتھ بتایا کہ وہ اپنی حکومت کی تازہ ہدایات کے ماتحت اب تقسیم فلسطین کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور ہوگیا ہے۔ اس طرح بالاخر تقسیم فلسطین کے حق میں امریکی اور یہودی سازش کامیاب ہوگئی اور تقسیم فلسطین کا فیصلہ کردیا گیا۔< )نوائے وقت ۱۱۔ دسمبر ۱۹۴۷ء(
    حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کا سفر انگلستان
    اس سال کے آخر کا ایک واقعہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کا سفر انگلستان ہے حضرت صاحبزادہ صاحب ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء میں اپنے بعض رفقاء سمیت انگلستان تشریف لے گئے اور شروع وفا/جولائی ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء میں واپس پاکستان پہنچے۔۳۹۴ حضرت مصلح موعود نے آپ کو ہدایت فرمائی تھی کہ انگلستان میں لیبارٹری کاسامان حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں۔ چنانچہ آپ نے اس کی تعمیل کی۔ کہتے ہیں کہ سفرانگلستان کے دوران آپ کے ایک انگریزسیکرٹری نے بتلایاکہ فنڈ ختم ہورہاہے اور سفرجاری رکھنا مشکل ہے۔ آپ نے اللہ سے دعا کی اور فرمایا فکر نہ کرو انشاء اللہ انتظام ہوجائے گا۔ چنانچہ اگلے ہی روز جب آپ ایک بازار میں سے گزرہے تھے ایک شخص آپ کودیکھتے ہی بے ساختہ سینٹ (SAINT) یعنی ولی` خدا رسیدہ کہہ کر پکارنے لگا اور ایک بڑی رقم کا چیک آپ کی خدمت میں پیش کرکے دعا کی درخواست کی۔ انگریز سیکرٹری اس واقعہ سے بہت حیران ہوا اور کہنے لگا واقعی آپ لوگوں کا خدا نرالا ہے۔ ۳۴۵
    بیرونی مشنوں کے حالات
    نائیجیریا مشن-: جماعت احمدیہ اور مخالفین کے درمیان عرصہ سے ایک مقدمہ چل رہا تھا جس کا فیصلہ اس سال جماعت احمدیہ کے حق میں ہوگیا۔۳۹۶
    شام مشن-: اس سال جماعت احمدیہ دمشق کو اپنے ناظم تبلیغ السید محمدعلی بک الارنائوط جیسے مخلص اور مقتدر احمدی کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔ السید محمدعلی پر صداقت احمدیت کا انکشاف بذریعہ خواب ہوا تھا چنانچہ انہوں نے عالم رئویا میں دیکھا کہ ایک شخص آپ سے کہہ رہا ہے >احمدالقادیانی صادق< یعنی احمد قادیانی سچے ہیں۔ اس کے بعد الاستاذ منیر الحصنی صدر جماعت احمدیہ دمشق کی تحریک و تبلیغ پر آپ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگئے۔ ماہ شہادت/اپریل ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کے شروع میں آپ کا انتقال ہوا۔ دمشقی پریس نے مرحوم کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اہل شام کا پرانا اور حقیقی دوست ان سے جدا ہوگیا ہے۔ >الف باء< >الایام< >القبس< >الکفاح< >النصر< >المناد< >النضال< وغیرہ شامی اخبارات نے اپنے کالموں میں آپ کے دینی و ملی کارناموں کو خراج تحسین پیش کیا۔۳۹۷
    سیرالیومشن-: اس سال جماعت احمدیہ سیرالیون کا قدم ایسی تیزی سے آگے بڑھا کہ عیسائیوں کو مجبوراً اپنے بعض مشن بند کردینے پڑے۔ چنانچہ ایک عیسائی مبصر اور سیرالیون امریکن مشن کے پادری ویورڈگار نے اعتراف کیا۔
    >پورٹ لوکوہ میں انگریزی چرچ کے پیرو بہت کم ہیں حالانکہ یہ چرچ اس علاقہ میں بیسیوں سال سے کام کررہا ہے۔ اور امریکن مشن نے بھی لوگوں کو عیسائی بنانے کی بے حد کوشش کی ہے۔ مگر جب ہم اس مشن کا معائنہ کرنے کے لئے گئے تو ہم نے دیکھا کہ یہ مشن اپنا کاروبار بندکررہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے کام کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ اے۔ ایم۔ ای مشن کی ایک چھوٹی سی شاخ بھی وہاں موجود ہے۔ اسی طرح انگریزی مشن اور اس کا ایک متحدہ سکول بھی ہے لیکن عملاً پورٹ لوکوہ کے تمام طالب علم نیٹو ایڈمنسٹریشن سکول واقعہ اولڈ پورٹ لوکوہ میں اس کثرت سے چلے گئے ہیں کہ ان کا وہاں سمانا مشکل ہوگیا ہے۔ چونکہ لوگوں کا رجحان اسلام کی طرف ہے اس لئے لوگ ایسے سکولوں سے نفرت کرتے ہیں جن کے ناموں میں عیسائیت کا نشان پایا جاتا ہو۔ اور نیٹو ایڈمنسٹریشن سکول کو پسند کرتے ہیں جہاں ان کو عربی پڑھائی جاتی ہے۔ جنگل` دلدل اور دریا گویا سب نے سازش کی ہوئی ہے کہ لوگوں کو توہمات میں مصروف رکھیں کیونکہ ان کا پس منظر ہی قدامت پسندانہ ہے جس کا انحصار بے شمار دیوتائوں کی پوچا پر ہے۔ جب تک جنگل اور جھاڑیاں صاف نہ ہوجائیں اور دلدلوں میں کھیتی باڑی نہ ہونے لگے اور تعلیم اور تمدن اور اقتصادی حالت ترقی نہ کرجائے۔ اس وقت تک صرف توہمات کو برا بھلا کہنے سے عیسائیت کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ان حالات میں یہ بہتر ہے کہ لوگوں کو اسلام کی آغوش میں جانے کے لئے چھوڑدیا جائے جس کی طرف انہیں پہلے ہی دلی رغبت ہے۔ اسلام کی شریعت بہت اعلیٰ اخلاقی اصول پر مبنی ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ مسیحیت اس کے مقابلہ پر میدان میں شکست پر شکست کھانے کے باوجود لڑتی رہے۔ لڑائی ابھی تک جاری ہے۔ اصول کا تصادم دونوں طرف سے سختی سے جاری ہے لیکن حال میں احمدیہ تحریک کی طرف سے جو کمک اسلام کو پہنچی ہے اور جو روکوپر کے علاقے میں کافی مضبوطی سے قائم ہوچکی ہے وہ اسلام کے لئے بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔ شہر کا مبیہ میں امریکن مشن کا بند ہوجانا بھی اسی کشمکش کا نتیجہ ہے۔< ۳۹۸ )ترجمہ(
    مجاہدین احمدیت کی بیرونی ممالک کو روانگی ادرواپسی
    اس سال مندرجہ ذیل مجاہدین احمدیت تبلیغ اسلام کے لئے قادیان سے مشرقی افریقہ روانہ ہوئے۔ ۱۔ میرضیاء اللہ صاحب )روانگی ۹ صلح( ۲۔ مولوی فضل الٰہی صاحب بشیر )روانگی ۹ صلح( ۳۔ مولوی جلال الدین صاحب قمر )روانگی ۹ تبلیغ( ۴۔ سیدولی اللہ صاحب ) " ۹ تبلیغ( ۵۔ مولوی عنایت اللہ صاحب خلیل ) " ( ۶۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب ) " (۳۹۹
    مندرجہ ذیل مجاہدین احمدیت نہایت کامیابی کے ساتھ فریضہ تبلیغ بجالانے کے بعد ۱۳۶۲ہش/۱۹۴۷ء میں واپس تشریف لائے۔
    ۱۔ مولوی نذیر احمد صاحب مبشر )واپسی ازگولڈ کوسٹ ۷۔ ماہ صلح(۴۰۰
    ۲۔ الحاج حکیم مولوی فضل الرحمن صاحب )نائیجیریا ۳۔ ماہ فتح(۴۰۱
    چوہدری محمدظفراللہ خاں صاحب کا تقرر وزیر خارجہ پاکستان کی حیثیت سے
    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے مورخہ ۲۷۔ دسمبر ۱۹۴۷ء کو چوہدری محمدظفر اللہ خاں صاحب کو پاکستان کا وزیر خارجہ
    مقرر فرمایا۔ اس تقرر سے قبل چوہدری صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر آپ کو میری لیاقت اور دیانت پر پورا اعتماد ہے تو میں وزارت کے علاوہ کسی بھی اور حیثیت میں پاکستان کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ قائداعظم کا جواب صرف یہ تھا کہ تم پہلے شخص ہو جس نے ان خیالات کا اظہار کیا ہے میں جانتا ہوں کہ تم عہدے کے طلبگار نہیں ہو۔۴۰۲
    پاکستان کے صحافتی حلقوں میں چوہدری صاحب کے اس تقرر کا نہایت گرم جوشی سے خیرمقدم کیاگیا۔ چنانچہ۔
    ۱۔
    کراچی کے وقیع انگریزی اخبار ڈان (DAWN) نے لکھا۔
    >یہ انتخاب نہایت ہی پسندیدہ ہے اسے عالمگیر تائید حاصل ہوگی اور اس سے وزارت کی ذہانت اور حکومت کرنے کی اہلیت میں بیش بہا اضافہ ہوا ہے۔< ]4 [stf۴۰۳ )ترجمہ(
    ۲۔
    روزنامہ >احسان< لاہور نے ۳۰۔ دسمبر ۱۹۴۷ء کی اشاعت میں لکھا۔
    >چوہدری صاحب کو معاملات خارجہ اور ریاستی تعلقات کا محکمہ سونپا گیا ہے ۔۔۔ بین الاقوامی مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت کے لحاظ سے چوہدری ظفراللہ کا انتخاب برا نہیں۔ پچھلے دنوں یو۔ این۔ او کے رئیس وفد کی حیثیت سے انہوں نے جو کام کیا ہے وہ اس بات کی بہت بڑی ضمانت ہے کہ معاملات خارجہ کی اہم اور نازک ذمہ داری کو سنبھالنے کی صلاحیت ان میں پوری طرح موجود ہے۔<
    ۳۔
    اخبار >طاقت< )لاہور( نے لکھا۔
    >اتحادی قوموں کی اسمبلی کے اجلاس میں پچھلے دنوں چوہدری ظفراللہ خاں نے پاکستانی وفد کے قائد کی حیثیت سے اپنی آئینی قابلیت اور سیاسی تدبر کا جو اعلیٰ نمونہ پیش کیا تھا اس کو دیکھتے ہوئے موصوف کو پاکستان کا وزیر خارجہ بنائے جانا چنداں باعچ تعجب نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ چوہدری ظفراللہ نے فلسطین کے مسئلے پر اتحادی قوموں کے اجلاس میں جو معرکہ آراء تقریریں کیں ان کی گونج ساری دنیا میں پھیلی اور خاص طور پر عربی دنیا نے چوہدی ظفراللہ خاں کی ان تقریروں پر اتنی داد دی اور وہاں کے اخبارات نے ان پر اتنا لکھا کہ آج موصوف کا نام ہر عربی بولنے والے کی زبان پر ہے اور یوں بھی چوہدری ظفراللہ خاں کی قانون دانی کا ان کا سخت سے سخت دشمن بھی معترف ہے اور سفارتی کاموں کا ان کو کافی تجربہ ہے۔ چنانچہ انگریزی راج کے زمانہ میں وہ بعض اہم سیاسی مہموں پر بھیجے گئے اور ہمارا خیال ہے کہ ان کو بین الاقوامی سیاسیات کے نشیب و فراز سے کافی واقفیت ہے۔<۴۰۴
    ۴۔
    روزنامہ >سفینہ< )لاہور( نے حکومت پاکستان کو اس صحیح انتخاب پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے لکھا۔
    >چوہدری سرمحمدظفراللہ خاں کو پاکستان وزارت میں لے لیاگیا ہے اور ان کے سپرد امور خارجہ اور دولت مشترکہ کے تعلقات کے محکمے کردیئے گئے ہیں۔
    ہم چوہدری صاحب موصوف کی وزارت پاکستان میں شمولیت کا دلی خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کی سیاسی فراست اور معاملہ فہمی اس عہدے کے لئے ہرلحاظ سے مناسب ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ادائے فرض میں ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر ثابت ہوں گے چوہدری صاحب بیرونی سیاست کے فہم میں ناقابل تردید مرتبہ رکھتے ہیں۔ آپ کی قانونی قابلیت ملک کے داخلہ اور خارجہ امور میں ہمیشہ قابل اعتماد رہی ہے۔ ہم حکومت پاکستان کو اس صحیح انتخاب پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ہمیں توقع ہے کہ وہ مجوزہ نئے وزراء کے انتخاب میں بھی اسی طرح مردم شناسی کا ثبوت دے گی۔<۴۰۵
    ۵۔
    لاہور کے روزنامہ >انقلاب< نے >چوہدری ظفراللہ خاں کا نیا عہدہ< کے عنوان سے مندرجہ زیل شذرہ سپرد قلم کیا۔
    >حکومت پاکستان نے چوہدری ظفراللہ خاں کو وزارت خارجہ پر مامور کرکے حقیقت میں اپنی مردم شناسی کا ثبوت دیا ہے اور تمام حلقوں میں اس تقرر کی تعریف و تحسین کی گئی ہے۔ آج پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کو بیرونی خطرات اور فساد علائق سے محفوظ کردیا جائے تاکہ ہمارا ملک امن واطمینان کے ساتھ ترقی و خوشحالی کی منزلیں طے کرسکے۔ چوہدری ظفراللہ خاں کی قابلیت` ان کا تجربہ اور ان کے وسیع تعلقات ہمارے امور خارجہ کے لئے نہایت قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گی۔۔۔ ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ چوہدری صاحب بہت جلد صحیح اصول پر کام شروع کردیں گے اور ان کا عہد وزارت پاکستان کے لئے بہت بابرکت ثابت ہوں گا۔<۴۰۶
    ‏]0 [stf۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کی نئی مطبوعات
    اس سال قادیان سے تفسیر القرآن انگریزی کی پہلی جلد اور حیدرآباد دکن سے >اسماء القرآن فی القرآن< چھپی۔ موخرالذکر کتاب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی الکبیر کی تصنیف تھی۔ علاوہ ازیں حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے ۸۵۰ صفحات کی ایک انگریزی کتاب شائع کی۔ ۴۰۷ )نام CEITS PRECIOUS (8500
    بعض جلیل القدر صحابہ کا انتقال
    ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء میں حضرت مصلح موعود کی ہجرت کے بعد مندرجہ ذیل جلیل القدر صحابہ نے انتقال کیا۔
    ۱۔ حضرت مولوی محمد رحیم الدین صاحب متوطن جیب والا ضلع بجنور )وفات ۴ تبوک/ستمبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء بعمر ۸۷ سال بمقام قادیان(۴۰۸
    ۲۔ حضرت میاں امام دین صاحب کپور تھلوی )وفات ۲۷۔ تبوک/ستمبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء بمقام لاہور(۴۰۹
    ۳۔ حضرت صوفی غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس )وفات ۱۸۔۱۷ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء بمقام لاہور(۴۱۰
    ۴۔ چوہدری حکم دین صاحب دیالگڑھی )وفات ۱۹۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء بعمر ۸۸ سال بمقام لاہور(۴۱۱
    ۵۔ مرزا غلام نبی صاحب مس گرامر تسری )وفات ۱۱۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء بمقام لاہور(۴۱۲
    ۶۔ حضرت مولانا شیرعلی صاحب )وفات ۱۳۔ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء بمقام لاہور(۴۱۳
    ۷۔ حضرت مرزا محمد اشرف صاحب بلانوی )وفات ۱۴۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء بعمر ۸۰ سال بمقام جہلم(۴۱۴
    ‏18] t[nskfonحواشی
    ۱۔
    >الوصیت< صفحہ ۶ طبع اول ۲۴۔ دسمبر ۱۹۰۵ء میگزین پریس قادیان
    ۲۔
    ذکر حبیب مولفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ صفحہ ۵۲ طبع اول۔ ایضاً >سیرت المہدی< حصہ اول صفحہ ۲۸۹۔۲۹۰ )مرتبہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب( طبع ثانی ستمبر ۱۹۳۵ء ناشر احمدیہ کتاب گھر قادیان
    ۳۔
    اس سلسلہ میں ملاخطہ ہو تحقیقی مقالہ بعنوان >بیعت اولی کی تاریخ< مطبوعہ >الفرقان< ربوہ ماہ ہجرت/مئی ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء صفحہ ۱۷۔۳۱
    ۴۔
    ‏]2h >[tagنورالحق< حصہ ثانیہ صفحہ ۵۰ تا ۵۵ طبع اول۔ ذی القدر ۱۳ء مئی جون ۱۸۹۴ء۔ مطبع مفیدعام لاہور۔
    ۵۔
    لیکچر >اسلام اور ملک کے دیگر مذاہب< صفحہ ۳۴۔۳۵ طبع اول مطبوعہ رفاہ عام سٹیم پریس لاہور۔ ۳ ستمبر ۱۹۰۴ء
    ۶۔
    بدر قادیان ۲۱۔ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ کالم نمبر۱
    ۷۔
    ابن خلدون حصہ پنجم باب ۲۳ )تالیف علامہ عبدالرحمن ابن خلدون المغربی۔ ولادت ۷۳۲ھ/۱۳۳۲ء۔ وفات ۸۰۸ھ/۱۴۰۶ء
    ۸۔
    تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۲۵ طبع اول
    ۹۔
    ترجمہ >نفح الطیب< صفحہ ۶۵ از علامہ شہاب الدین ابوالبعاس التلمسانی المقری )۱۵۹۲ء ۔ ۱۶۱۸ء( مترجم مولوی خلیل الرحمن سرادھوی۔ مطبع مسلم یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ علیگڑھ ۱۹۲۱ء۔
    ۱۰۔
    انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا BRITANICA) (ENCYCLOPAEDIA زیر لفظ سپین جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۹۔ پروفیسر کے حتی کے تحقیق کے مطابق جبال البرانس کو سب سے پہلے الحربن عبدالرحمن الثقفی نے ۷۱۷ء میں عبور کیا تھا HISTORY) SHORT ARABS (THE ابن جبان نے لکھا ہے کہ حضرت امیرالمومنین سیدنا عمربن عبدالعزیز کے حکم سے قرطبہ میں ایک شاندار پل تعمیر کیاگیا تھا اور آپ ہی کے فرمان شاہی سے قرطبہ دارالسلطنت قرار پایا >)نفح الطیب< مولفہ علامہ مقری(
    ۱۱۔
    >عرب اور اسلام< صفحہ ۸۶ >دی عربس۔ اے شارٹ ہسٹری< مترجم پروفیسر سیدمبارزالدین صاحب رفعت ایم۔ اے محمد معین خان صاحب بی۔ اے ناشر ندوۃ المصنفین۔ دہلی
    ۱۲۔
    >تمدن عرب< )ترجمہ( صفحہ ۲۸۷۔۲۸۵ از ڈاکٹر گستاولی بان۔
    ۱۳۔
    ایضاً
    ۱۴۔
    حضور انور مولانا عبدالرحیم صاحب درد۔ چوہدری محمدظفراللہ خاں صاحب اور حضور کے ٹائپسٹ کا قیام >گرانڈ ہوٹل ڈی یورا< میں تھا اور باقی تمام قافلہ خدام روسبونامی گلی کے چار ہوٹلوں میں فروکش ہوا )الفضل ۲۹۔ نومبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۵ کالم نمبر۳(
    ۱۵۔
    ریوٹر (REUTER) کی طرح ایک خبررساں ایجنسی کا نام
    ۱۶۔
    الفضل ۲۹۔ نومبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۶ کالم نمبر۱ یہ گفتگو ایک ترجمان کے توسط سے ہوئی۔ حضور انگریزی میں ارشاد فرماتے تھے اور ترجمان اس کا فرانسیسی میں مطلب بیان کرتا تھا۔
    ۱۷۔
    الفضل ۱۸۔ دسمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۴ کالم نمبر۲۔
    ‏h1] [tag ۱۸۔
    الفضل ۱۸۔ دسمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۶۔
    ۱۹۔
    یہ مثال شامیوں نے ۱۹۲۴ء میں حضرت مصلح موعود کے سامنے ایک مجلس میں بیان کی تھی۔
    ۲۰۔
    الفضل ۴۔ ماہ احسان/جون ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۴
    ۲۱۔
    ۵۔ ماہ ہجرت/مئی ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء کو ان مبلغین کے اعزاز میں جماعت احمدیہ لنڈن کی طرف سے ایک الوداعی تقریب عمل میں آئی۔
    ۲۲۔
    اگرچہ فرانس میں اسلام کے خلاف صدیوں سے شدید تعصب پایا جاتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے عہد حکومت کے گہرے اثرات آج تک فرانس کے علم و تمدن میں موجود ہیں۔ چنانچہ جیسا کہ فرانس کے ایک فاضل مصنف موسیوڈوزی نے تسلیم کیا ہے۔ فرانسیسی سرمایہ علم و ادب میں ہمیں بے شمار عربی الفاظ و مصطلحات ملتی ہیں۔ یہی بات موسیوسری یو نے لکھی ہے ڈاکٹر گستاولی بان نے >تمدن عرب< کے آخر میں بعض ایسے عربی الفاظ کی فہرست بھی دی ہے جو آج تک فرانسیسی زبان میں مروج ہیں۔ سترھویں صدی عیسوی تک مسلم اطباء کی تالیفات فرانس کی درستی کتابیں بنی رہیں۔ انگلستان کا مورخ سنگر تو یہاں تک لکھتا ہے کہ پیرس کی یونیورسٹی میں پروفیسر کو قسم کھا کر یہ عہد کرنا پڑتا تھا کہ ہم کوئی لفظ ایسا نہ پڑھائیں گے جو ارسطو اور اس کے ترجمان ابن رشد کی تعلیم کے خلاف ہو۔ اگرچہ اس سنہری دور پر صدیاں گزرگئیں مگر مسلم خون کا اثر اب تک فرانسیسیوں میں باقی ہے۔ چنانچہ جیسا کہ فرانسیسی محقق ڈاکٹر گستاولی بان نے >تمدن عرب< میں لکھا ہے۔ فرانس کے بعض علاقوں میں عربوں کی اولاد باسانی پہچانی جاسکتی ہے >)تمدن عرب< از ڈاکتر گستاولی بان۔ >عرب اور اسلام<۔ پروفیسر فلپ کے۔ حتی >طب العرب< مسٹر ایڈورڈ جی۔ برآئون۔ >یورپ پر اسلام کے احسان< ڈاکٹر غلام جیلانی برق<
    ۲۳۔][ الفضل ۲۷۔ احسان/جون ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۲۔
    ۲۴۔
    دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوج نے فرانس کی میجینو(MAGINOT) لائن توڑ کر رکھ دی اور ۱۶۔ جون ۱۹۴۰ء کو پیرس میں داخل ہوگئی جس کے بعد مارشل پٹیان کی نئی حکومت نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ جرمن نے فرانس پر قبضہ کرکے ملک میں سخت لوٹ مار کی اور فرانس کئی سال تک قحط کا شکارہوگیا۔ روزمرہ استعمال کی چیزوں کے نرخ تین گنا سے بھی بڑھ گئے اور آٹا تک کمیاب ہوگیا۔ غرضکہ جنگ کی وجہ سے فرانس کی غذائی صورت حال حددرجہ نازک صورت اختیار کرگئی۔
    ۲۵۔
    الفضل ۴۔ ماہ احسان/جون ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۵۔
    ۲۶۔
    الفضل ۳۰۔ تبوک/ستمبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۲ کالم نمبر ۳۔۴
    ۲۷۔
    الفضل ۱۵۔ تبلیغ/فروری ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵ کالم نمبر۴ پمفلٹ کے پہلے صفحہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شبیہ مبارک تھی جس کے اوپر الہام >میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا< درج تھا اور اسے تصویری زبان میں واضح کرنے کے لئے دنیا کے نقشہ پر قادیان سے نور کی شعاعیں ان ممالک تک دکھائی گئی تھیں جہاں جہاں احمدیت کی خبر پہنچ چکی ہے حضور کی شبیہ مبارک کے بعد مختصر تمہید کے ساتھ حضور کا اقوام عالم کے نام صلح و آشتی اور امن وسلامتی کا پیغام دیاگیا تھا جو >الوصیت< >مسیح ہندوستان میں< اور >اسلامی اصول کی فلاسفی< کے تین اقتباسات کی صورت میں تھا۔ آخر میں اسلامی پیغام سننے اور مامور وقت سے وابستہ ہونے کی موثر اپیل کی گئی تھی )الفضل ۱۲۔ تبوک/ستمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۲( اس پمفلٹ کی ایک کاپی فرانس مشن کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔
    ۲۸۔
    اس ٹریکٹ میں اختصار کے ساتھ حضرت میسح موعود علیہ السلام کی بعثت سے متعلق انبیاء سابق کی پیشگوئیوں اور نشانات کا تذکرہ کرنے کے علاوہ خود حضور کی بعض پیشگوئیاں بھی دی گئی تھیں اور سلسلہ احمدیہ کی مختصر تاریخ بھی )الفضل ۱۶۔ وفا/جولائی ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۲(
    ۲۹۔
    ان دنوں ملک صاحب کا پتہ یہ تھا PEAEIRE BOULEVARD 220 ٹیلیفون نمبر ۴۱۶۵ تھا اور ٹیلیگرام کے لئے احمدآباد۔ پیرس PARIS) (AHMADABAD, کے الفاظ رجسٹرکرائے گئے تھے۔
    ۳۰۔
    اخبار الفضل مورخہ ۲۔ نبوت/نومبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۸
    ۳۱۔
    ملک صاحب کی ایک مطبوعہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں پریس پر یہود کا کافی اثر ونفوذ تھا۔ اور ریڈیو پر تو وہ گویا مسلط تھے۔ بعض دوستوں نے کہا یہ اسرائیلی کسی اسلامی جلسہ کا کہاں اعلان کرنے دیں گے لیکن ملک صاحب نے کوشش برابر جاری رکھی اور نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے فضل سے ریڈیو کے اسرائیلی افسر اعلان جلسہ پر رضا مند ہوگئے۔ ازاں بعد جب آپ نے اپنی آٹھ تبلیغی تقاریر کا سلسلہ جاری کیا تو ان تقریروں کا اعلان بھی ریڈیو سے نشرکیاگیا جس سے یہودیت نواز عیسائی ریڈیو پر اسلام کی بالواسطہ رنگ میں تبلیغ بھی ہوگئی )الفضل ۲۷۔ امان/مارچ ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء(
    ۳۲۔
    الفضل ۲۷۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵۔
    ۳۳۔
    الفضل ۳۱۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۶ کالم نمبر۳۔۴` ۲۷۔ امان/مارچ ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۵ کالم نمبر ۲۔۳
    ۳۴۔
    الفضل ۱۳۔ صلح/جنوری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۴ یورپ میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی
    ۳۵۔
    الفضل ۵۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۴ کالم نمبر۱
    ۳۶۔
    الفضل ۲۷۔ امان/مارچ ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء۔
    ۳۷۔
    الفضل ۱۵۔ تبلیغ/فروری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۵
    ۳۸۔
    الفضل ۹۔ ظہور/اگست ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۴
    ۳۹۔
    الفضل ۳۰۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء صفحہ ۷۔۸
    ۴۰۔
    جیسا کہ >تاریخ احمدیت< جلد ہشتم میں آچکا ہے حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کے حکم سے سپین میں پہلا مشن ملک محمد شریف صاحب گجراتی نے مارچ ۱۹۳۶ء میں قائم کیا تھا جو اندرونی خانہ جنگی کے باعث بند کردینا پڑا اور ملک صاحب سپین سے نکل کر اٹلی میں تشریف لے گئے۔
    ۴۱۔
    الفضل ۶۔ ماہ شہادت/اپریل ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء
    ۴۲۔
    ‏MADRID اسلامی نام ماترید یا مجریط
    ۴۳۔
    الفضل ۵`۱۷۔ احسان/جون ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۲
    ۴۴۔
    ‏CORDOVA
    ۴۵۔
    ‏OGARANADA
    ۴۶۔
    الفضل ۱۷۔ وفا/جولائی ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۲`۵
    ۴۷۔
    الفضل ۱۹۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵
    ۴۸۔
    الفضل ۱۵۔ ظہور/اگست ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۲
    ۴۹۔
    مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر کی رپورٹ میں اس خوش قسمت جو ان کا ذکر بایں الفاظ ملتا ہے۔
    >یہ سعید نوجوان ملک روس کا اصل باشندہ ہے اس کا باپ زار کے زمانہ میں جنرل سٹاف میں کمانڈنٹ کے عہدہ پر مامور تھا۔ یہ نوجوان خارکوف میں پیدا ہوا۔ انقلاب روس کے بعد اس کے باپ کو روس سے بھاگ کر جان بچانی پڑی اور اتھونیا میں چلے گئے جو آزاد ریاست تھی۔ پھر جلد ہی وہاں سے جنوبی امریکہ آگئے اور اس نوجوان نے ارجنٹائن میں تعلیم حاصل کی۔ اور وہاں چونکہ ہسپانوی زبان بولی جاتی ہے اور انگریزی بھی۔ اس لئے دونوں زبانیں وہاں سکھیں۔ ۱۹۳۶ء میں اتھونیا واپس آیا۔ کیونکہ اس کو اس ملک کے حقوق شہرت حاصل تھے۔ اتھونیا میں جب روس کا قبضہ جرمنی سے معاہدہ ہوجانے پر ہوگیا تو اس کا وہاں ٹھہرنا ناممکن ہوگیا۔ چنانچہ سپینش زبان جاننے کی وجہ سے سپینش محکمہ اطلاعات میں جرمنی میں ملازم ہوگیا۔ بعد میں ایک کرنیل کی مدد سے ۱۹۴۴ء میں سپین آگیا۔ ہم جس روز لنڈن سے روانہ ہوئے تو وکٹوریہ سٹیشن پر خاکسار نے نہایت الحاح سے دعا کی کہ اے مولا کریم اپنے گناہوں اور کمزوریوں کا مجھے اعتراف ہے مگر ان کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدنا حضرت المصلح الموعود کی قوت قدسیہ کے طفیل ہی ایسا نشان دکھلا کہ ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء کا نشان پورا ہو۔ چنانچہ تھا مس کک ایجنسی سے اس نوجوان کو ہمارے ساتھ کردیا کہ ہمیں کوئی نہایت سستی سی رہائش کی جگہ تلاش کردے۔ یہ ملک بیکاری کے لحاظ سے بالکل ہندوستان کے مثابہہ ہے۔ باوجود اس کے کہ نوجوان ہر لحاظ سے قابل ہے۔ ٹائپ` شارٹ ہینڈ اور اس کے علاوہ پانچ چھ زبانیں جانتا ہے لیکن عرصہ سے باوجود انتہائی کوشش کے بیکار تھا اور اسے اسی روز ہی ملازمت اس ایجنسی میں بطور ترجمان ملی تھی اور اس کا پہلا کام ہمارے ساتھ ہی شروع ہوا۔ یہ بعض مشکلات میں تھا۔ جس ہمدردی اور حسن سلوک سے بوجہ اجنبی ہونے کے یہ ہمارے ساتھ پیش آیا اس سے متاچر ہوکر خاکسار نے فوراً حضرت اقدس المصلح الموعود اطال اللہ بقاء واطلع شموس طالعہ کی خدمت میں خصوصیت سے درد مندانہ طور پر دعا کے لئے درخواست کی۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی مشکلات دور ہوگئیں اور حضور کی دعائوں کی قبولیت کو دیکھ کر اس نے اسلام قبول کرلیا` الحمدللہ علی ذالک<۔ الفضل ۲۰۔ تبوک/ستمبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۳
    ۵۰۔
    ‏MIRANDA MIGUEL RS][ ۵۱۔
    ‏ARROYO FELIPE JESUS SR
    ۵۲۔
    الفضل ۳۔ وفا/جولائی ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء صفحہ ۵
    ۵۳۔
    الفضل ۳۔ وفا/جولائی ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء صفحہ ۵
    ۵۴۔
    چوہدری محمد اسحق صاحب ساقی ماہ شہادت/اپریل ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء میں سپین سے پاکستان بلوالئے گئے۔
    ۵۵۔
    مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر تحریر فرماتے ہیں۔
    >برصغیرہندو پاکستان کی تقسیم کے وقت جب فسادات کی وجہ سے جماعت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور قادیان سے ہجرت کرکے پاکستان جانا پڑا تو مالی تنگی کی وجہ سے سیدنا حضرت المصلح الموعود نے یورپ کے بعض مشنوں کو بند کرنے کا فیصلہ فرمایا ان میں سپین کا مشن بھی تھا۔ خاکسار نے حضور پر نور کی خدمت مبارک میں عرض کیا کہ مشن نہ بند کریں خاکسار خود اخراجات پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ چنانچہ لنڈن میں جو عطر کا کام سیکھا تھا کام آیا۔ عطر کی شیشیاں بھرکر بعض دوستوں کے ذریعہ فروخت کرنے کی کوشش کی مگر آمد بہت قلیل ہوتی تھی۔ میڈرڈ یونیورسٹی کے ایک انگریز پروفیسر MORRIS SR سے تعارف تھا۔ ان کی اہلیہ ہسپانوی خاتون تھیں انہوں نے تحریک کی کہ RASTRO سنڈے مارکیٹ کیوں نہیں جاتے؟ چنانچہ ایک ہسپانوی دوست کے ساتھ سنڈے مارکیٹ جانا شروع کردیا۔ خدا کے فضل سے ہر اتوار کو تین چار پونڈ بکری ہوجاتی تھی۔ اسی طرح ایک واقف فیملی نے رائے دی کہ آپ نیشنل انڈسٹری نمائش ZARAGOZA جائیں چنانچہ اکتوبر ۱۹۴۸ء میں وہاں گیا` الحمدلل¶ہ وہاں اچھی بکری ہوئی۔ ۱۹۴۹ء میں اشبیلیہ بھی گیا۔ ماہ مئی ۱۹۴۹ء میں VALEHEIA کی صنعتی نمائش میں بھی شامل ہوا اور اس سال BARCELONA کی صنعتی نمائش میں بھی حصہ لیا اور کچھ رقم بھی جمع کرلی۔< )اقتباس از مکتوب محررہ ۱۴۔ احسان/جون ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء بنام مولف >تاریخ احمدیت(<
    ۵۶۔
    الفضل یکم تبوک/ستمبر ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۵
    ۵۷۔
    ان دنوں پروفیسر PEREZ BENEYTO JUAN۔D SR محکمہ سنسرشپ کے انچارج تھے جو پریس کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے اور آج کل سپین کی پریس کنوسل کے صدر ہیں۔ چونکہ سنسرشپ نے بہت سی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا تھا اس لئے پروفیسر صاحب مذکور نے مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر کو بلاکر کہا کہ خواہ خفیف سی ہوکر کوئی تبدیلی بہرحال کردیں۔ چنانچہ دیباچہ میں جہاں یہ لکھا تھا کہ >اسلام جو سب سے زیادہ سچا اور مکمل مذہب ہے< مولوی صاحب نے >اسلام< کے بعد >جو میری نزدیک< کے الفاظ کا اضافہ کردیا جس پر کتاب شائع کرنے کی اجازت مل گئی۔ اس سلسلہ میں ROCAMORA۔R۔S۔EXEMO PEDRO ڈائریکٹر جنرل پراپیگنڈا اور CERDERO ۔SR )حال جج سپریم کورٹ سپین و ممبر رائل مارل اور پولیٹکل سائنس اکیڈیمی کے ممبر( نے گرانقدر امداد دی۔ یہ کتاب AGUADOAFRO DICIO پریس میں چھپی۔
    ۵۸۔
    سپین مشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کتاب پر )مع ترجمہ کی قیمت کے( قریباً چار سو پونڈ اخراجات ہوئے تھے۔
    ۵۹۔
    الفضل ۱۹۔ فتح ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء صفحہ ۵
    ۶۰۔
    بطور نمونہ میڈرڈ کے مشہور اور صخیم رسالہ >انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹکل سائنس< کا مفصل ریویو >تاریخ احمدیت< جلد دہم صفحہ ۴۶۹` ۴۷۰ پر نقل کیا جاچکا ہے۔
    ۶۱۔
    ایک عرصہ سے سی آئی ڈی نے مبلغ اسلام کی نگرانی ترک کردی تھی مگر کتاب >اسلام کا اقتصادی نظام< کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کا سلسلہ دوبار شروع ہوگیا۔ چنانچہ ایک بار خفیہ پولیس کا ایک آدمی کیتھولک چرچ کی رپورٹوں کی بناء پر آپ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا تم نے کوئی کتاب شائع کی ہے؟ اس کے بعد سنسرشپ کا اجازت نامہ دیکھنے کا مطالبہ کیا۔ آپ نے اسے نہایت وضاحت سے بتایا کہ >جب بندہ اسلام کا مبلغ ہے تو میرا کام اسلام کی تبلیغ کرنا ہے آپ لوگوں کو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ بند ہرگز ہرگز ملک کے سیاسی معاملات میں دخل نہیں دیتا۔ میرا سپین میں پانچ سالہ قیام اس بات پر شاہد ہے۔< )الفضل ۲۲۔ صلح/جنوری ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۷ کالم نمبر۱۔۲
    ۶۲۔
    الفضل ۵۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۴
    ۶۳۔
    الفضل ۲۲۔ صلح/جنوری ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۴
    ۶۴۔
    نام MARTIN ILEANOZ JOSE SR )یہ صاحب اب فوت ہوچکے ہیں(
    ۶۵۔
    الفضل ۲۷۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء صفحہ ۴ کالم نمبر۲
    ۶۶۔
    الفضل ۲۲۔ صلح/جنوری ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۷ کالم نمبر۱
    ۶۷۔
    الفضل ۱۹۔ شہاد/اپریل ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۷ کالم نمبر۴
    ۶۸۔
    سپین مشن کی مطبوعہ رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر نے اس کتاب کی عام اشاعت تک مشن ہائوس میں اس کتاب کا درس جاری رکھا۔ )الفضل ۲۲۔ صلح/جنوری ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۴ کالم نمبر۴(
    ۶۹۔
    اس ٹریکٹ کا پہلا ایڈیشن پانچ ہزار اور دوسرا ایڈیشن چھ ہزار کی تعدا میں چھپ کر تقسیم ہوچکا ہے اور ہسپانوی عوام نے اسے بے حد پسند کیا ہے۔ ایک اعلٰے سرکاری افسر نے اسے پڑھ کر مبلغ اسلام سے کہا کہ میں دستخط کردیتا ہوں کہ میں ٹریکٹ میں بیان کردہ اسلامی تعلیم سے سوفیصدی اتفاق کرتا ہوں۔ مبلغ اسلام نے طرگونہ TARAGONA میں یہ ٹریکٹ تقسیم کئے۔ ایک نوجوان یہ ٹریکٹ پڑھ کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے جن کا نام حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے محمود احمد رکھا۔
    ۷۰۔
    ماہنامہ >تحریک جدید< ربوہ فتح/دسمبر ۱۳۴۵ہش/۱۹۶۶ء صفحہ ۱۵ )ایڈیٹر مولانا نسیم سیفی صاحب(
    ۷۱۔
    الفضل ۱۲۔ وفا/جولائی ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۱ کالم نمبر۱
    ۷۲۔
    الفضل ۱۲۔ وفا/جولائی ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۳
    ۷۳۔
    ان ایام میں مراکش کے بیشتر حصہ پر فرانس نے قبضہ کررکھا تھا مگر ایک حصہ سپین کے ماتحت تھا۔ اس علاقے میں ایک مورش سردار حکمران تھے جن کا نام المولائی حسن تھا جو خلیفہ سپینش مراکو کے نام سے ملقب تھے۔ یہاں انہی کے ولیعہد کا ذکر ہے۔
    ۷۴۔
    الفضل ۱۹۔ شہادت/اپریل ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۴ وتفصیلات کے لئے ملاخطہ ہو الفضل ۲۷۔ نبوت/نومبر ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء صفحہ ۵` ۲۲۔ صلح/جنوری ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء` ۲۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء` ۸۔ وفا/جولائی ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء صفحہ ۳۔
    ۷۵۔
    اسلامی نام ماترید یا مجریط
    ۷۶۔
    ‏SEVILLA
    ۷۷۔
    ‏AZOGARAZ
    ۷۸۔
    ‏BARCELONA
    ۷۹۔
    ‏VALENCA
    ۸۰۔
    الفضل ۱۲۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۷
    ۸۱۔
    الفضل ۲۲۔ صلح/جنوری ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۶ کالم نمبر۱
    ۸۲۔
    الفضل ۲۷۔ نبوت/نومبر ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء صفحہ ۴` ۲۲۔ صلح/جنوری ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۷۔
    ۸۳۔
    خطبات محمود جلد سوم صفحہ ۶۴۹ طبع اول مارچ ۱۹۷۹ء ناشر فضل عمر فاونڈیشن ربوہ
    ۸۴۔
    انہیں دنوں کا واقعہ ہے کہ جناب ظفر صاحب ایک روز گلی میں اسلام کی عام اخلاقی تعلیم بیان فرمارہے تھے کہ ایک صاحب نے کہا کہ تم ہمارے ملکی قانون کے خلاف اپنے مذہب کی تبلیغ کررہے ہو؟ سامعین نے اس کی مداخلت پر ملامت کی مگر وہ سیدھے پولیس والوں کے پاس پہنچے۔ پولیس افسر صاحب نے ایک سپاہی بھیج کر آپ کو بلوایا اور تنبیہہ کی کہ آپ کو شارع عام میں ہرگز کوئی بات نہیں کرنی چاہئے ورنہ حکومت سپین آپ کو ملک سے نکالنے پر مجبور ہوگی۔ کیتھولک مجلس عمل CATNOLIC ACTION کے ممبر نے بھی کہا کہ وہ اپنا پورا زور صرف کریں گے کہ آپ کو ملک سے نکال دیا جائے۔ خود شکایت کنندہ نے بتایا کہ چرچ آپ کی ہر حرکت و نقل کی نگرانی کررہا ہے اور سپین چرچ کو اس ملک میں آپ کی موجودگی کسی طرح گوارا نہیں۔
    ۸۵۔
    الفضل ۸۔ وفا/جولائی ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء صفحہ ۳
    ۸۶۔
    یہ واقعہ ۲۹۔ صلح/جنوری ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء کا ہے۔
    ۸۷۔
    الفضل ۱۵۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء خطبہ نمبر۲ صفحہ ۲۔۳
    ۸۸۔
    الفضل ۴۔ وفا/جولائی ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء صفحہ ۳
    ۸۹۔
    الفضل ۶۔ وفا/جولائی ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء صفحہ ۵
    ۹۰۔
    الفضل ۶۔ وفا/جولائی ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء صفحہ ۵
    ۹۱۔
    الفضل ۱۳۔ وفا/جولائی ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۳
    ۹۲۔
    سپین میں قریباً ۵۲ صوبے ہیں۔ اوائل ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء تک ستائیس گورنروں تک >اسلامی اصول کی فلاسفی< اور >اسلام کا اقتصادی نظام< بھجوایا جاچکا تھا۔ )الفضل ۲۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۳
    ۹۳۔
    الفضل ۱۴۔ شہادت ۱۳۳۸ہش صفحہ ۳` ۱۷۔ احسان ۱۳۳۸ہش صفحہ ۳` یکم وفا ۱۳۳۹ہش صفحہ ۴` ۶۔ شہادت ۱۳۴۲ہش صفحہ ۵` ۲۔ ہجرت ۱۳۴۲ہش صفحہ ۳` ۲۳۔ صلح ۱۳۴۵ہش صفحہ ۳` ۱۰۔ احسان ۱۳۴۴ہش صفحہ ` ۶۔ وفا ۱۳۴۴ہش` ۲۳۔ صلح ۱۳۴۵ہش
    ۹۴۔
    الفضل ۱۳۔ وفا/جولائی ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۳` ۱۰۔ احسان/جون ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء صفحہ ۳
    ۹۵۔
    الفضل ۲۰۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء صفحہ ۳
    ۹۶۔
    الفضل ۱۳۔ وفا/جولائی ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۳
    ۹۷۔
    الفضل ۱۴۔ شہادت/اپریل ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۳` ۲۸۔ شہادت/اپریل ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۴
    ۹۸۔
    الفضل ۱۱۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۳
    ۹۹۔
    الفضل ۲۸۔ شہادت/اپریل ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۴
    ۱۰۰۔
    ایضاً صفحہ ۴
    ۱۰۱۔
    الفضل ۱۱۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۳
    ۱۰۲۔
    الفضل ۱۱۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۳
    ۱۰۳۔
    الفضل ۲۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۳ کالم نمبر۱
    ۱۰۴۔
    الفضل ۶۔ وفا/جولائی ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء صفحہ ۳ کالم نمبر۲
    ۱۰۵۔
    الفضل ۵۔ ہجرت/مئی ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء صفحہ ۳ کالم نمبر۳
    ۱۰۶۔
    مثلاً ۷۔۱۳۴۸ہش میں رائل میڈیکل اکیڈیمی` رائل اکیڈیمی آف ہسٹری` جوڈیشل رائل اکیڈیمی` رائل اکیڈیمی آف فارمیسی کے ۱۰۳ ممبروں کو اسلام اصول کی فلاسفی بھجوائی اور بعض کو اسلام کا اقتصادی نظام بھی۔
    ۱۰۷۔
    رسالہ >تحریک جدید< وفا/جولائی ۱۳۴۵ہش/۱۹۶۶ء
    ۱۰۸۔
    الفضل ۱۲۔ وفا/جولائی ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۳
    ۱۰۹۔
    الفضل ۷۔ احسان/جون ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ ۳
    ۱۱۰۔
    )ترجمہ( الفضل ۱۷۔ احسان/جون ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ ۳
    ۱۱۱
    الفضل ۲۸۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ ۱
    ۱۱۲
    حال ناظر امور عامہ و خارجہ ربوہ
    ۱۱۳
    حال پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ربوہ
    ۱۱۴
    سابق امام مسجد فضل لنڈن حال پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ المسیح۔
    ۱۱۵
    الفضل ۵۔ ہجرت/مئی ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء صفحہ ۲
    ۱۱۶
    ایضاً صفحہ ۲ کالم نمبر۱
    ۱۱۷
    ‏CORDOVA
    ۱۱۸
    ‏OGRANADA
    ۱۱۹
    الفضل ۶۔ ہجرت/مئی ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء صفحہ ۴
    ۱۲۰
    الفضل ۱۵۔ وفا/جولائی ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ ۱۳
    ۱۲۱
    ‏]7 TOLEDO[p
    ۱۲۲
    الفضل ۲۔ ہجرت/مئی ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء صفحہ ۴
    ۱۲۳
    الفضل ۱۵۔ وفا/جولائی ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء
    ۱۲۴
    الفضل ۸۔ ظہور/اگست ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ ۵
    ۱۲۵
    مبلغ اسلام مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر کا مکتوب بنا مولف >تاریخ احمدیت< )مورخہ ۱۴۔ احسان/جون ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء
    ۱۲۶
    ‏REVISTA نے اس مضمون کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بھی شائع کیا جس میں مبلغ اسلام مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر کے ساتھ سابق سفیر سپین مقیم کراچی۔ سابق وزیر محنت سپین۔ سابق وزیر خارجہ سپین MARTIN SR ARTAJO )حال DRRIO SANZ ۔R۔S جنرل سیکرٹری آف سٹیٹ کونسل( اور سابق سفیر پاکستان مقیم میڈرڈ سیدمیراں محمد شاہ صاحب بھی کھڑے تھے۔
    ۱۲۷
    الفضل ۷۔ وفا/جولائی ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ ۳ کالم نمبر۲
    ۱۲۸
    تفصیلی حالات کے لئے ملاخطہ ہو >تاریخ صقلیہ< از جناب مفتی انتظام اللہ صاحب شہابی اکبر آبادی۔ ناشر ندوۃ المصنفین اردو بازار جامع مسجد دہلی
    ۱۲۹
    الفضل ۱۷۔ وفا/جولائی ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۳ کالم نمبر۲
    ۱۳۰
    الفضل ۲۰۔ ہجرت/مئی ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۵۔۶
    ۱۳۱
    جناب ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل مجاہد سسلی کا بیان ہے کہ >ہم پہلے لنڈن گئے تین ماہ وہاں رہے۔ اٹلی کے ویزا کی کوشش کی حکومت اٹلی نے لکھا کہ کسی مبلغ کو اٹلی جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔ آخر معجزانہ طور پر ویزا مل گیا اور ہم دونوں ٹرین کے ذریعہ پیرس سے روم پہنچے۔ جب سوئٹزرلینڈ کے ملک سے ہماری گاڑی جارہی تھی تو وہاں کی حکومت نے ہماری تلاشی لی اور ہمارے بستر وہاں ہی رکھ لئے۔ ہم حیران و پریشان` وہ سوس زبان بولیں ہم نہ سمجھیں۔ آخر تسلی کرنے کے بعد ایک ماہ تک ہمارے بستر بخیریت فلورنس پہنچ گئے۔
    ۱۳۲
    شروع میں ملک محمد شریف صاحب گجراتی مبلغ اٹلی ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل کے ساتھ مسینہ ۱۹۴۶ء میں تشریف لے گئے۔ یہ ۱۹۔ احسان/جون ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء کا واقعہ ہے۔ یہ مبلغین ایٹلین اور انگریزی زبان کے ٹریکٹ بھی ساتھ لے گئے تھے )الفضل ۴۔ وفا/جولائی ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۴(
    ۱۳۳
    مثلاً پراٹسٹنٹ عیسائیوں کے اخبار >لالوشے< )روشنی۔نور( روم نے ۱۵۔ ستمبر ۱۹۴۷ء کی اشاعت میں >مسلمان مبلغ< کے عنوان سے احمدیہ مشنوں کے تبلیغی کارناموں کا مختصر تذکرہ شائع کیا سسلی میں >محمد< کے عنوان سے تورین سے چھپنے والے ایک اخبار POPOLS) DEL (ILLUSTRAJIENE نے ۲۔ مارچ ۱۹۴۷ء کے ایشوع میں ایک مضمون سپرد اشاعت کیا اور اس میں مبلغین سسلی کے فوٹو بھی دیئے۔ اس کے علاوہ بلونیا سے شائع ہونے والی ایک کتاب ISLAM) DELL, (CADOTTRAINA کے صفحہ ۱۳۵ تا ۱۳۸ میں تحریک احمدیت اک ذکر کیاگیا۔ کتاب کے مصنف کا نام MORENO)۔M۔M( ہے۔
    ۱۳۴
    ان تاریخوں کا تعین مکرم ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل کے ویزا سے ہوتا ہے جو شعبہ تاریخ احمدیت ربوہ< کے پاس محفوظ ہے۔
    ۱۳۵
    آپ ۳۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو لندن سے فری ٹائون کے لئے روانہ ہوئے تھے )الفضل ۳۱۔ دسمبر ۱۹۴۸ء صفحہ ۱(
    ۱۳۶
    سسلی کے ابتدائی نومسلموں کا نام محمود اور بشیر رکھاگیا۔
    ۱۳۷
    یہ دونوں خط جن میں سے ایک ملک محمد شریف صاحب کا اور دوسرا ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل کا لکھا ہوا تھا الفضل کی ۴۔ وفا/جولائی ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء کی اشاعت میں محفوظ ہیں۔ حضور نے یہ خط ملاخطہ فرمانے کے بعد اپنے قلم سے تجویز فرمایا >اللہ تعالیٰ نے میری خواہش پوری کی اس وقت سپین اور سسلی دونوں سابق اسلامی ملکوں میں ہمارے مبلغ پہنچ گئے ہیں اور تبلیغ اسلام کاکام شروع ہوچکا ہے۔<
    ۱۳۸
    ایضاً
    ۱۳۹
    الفضل ۱۷۔ وفا/جولائی ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۳۔۴
    ۱۴۰
    الفضل ۴۔ وفا/جولائی ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۳ کالم نمبر۲
    ۱۴۱
    چوہدری عبداللطیف صاحب اور مولوی غلام احمد صاحب بشیر ۱۲۔ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کو سوئٹزرلینڈ سے ہالینڈ بھجوادیئے گئے جہاں حافظ قدرت اللہ صاحب کے ہاتھو ۲۔ وفا/جولائی ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کو احمدیہ مشن کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ چوہدری عبداللطیف صاحب نے کچھ عرصہ سوئٹزرلینڈ میں تبلیغی خدمات بجالانے کے بعد ۲۰۔ صلح/جنوری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء کو جرمنی میں مستقل مشن کی بنیاد رکھی جیسا کہ آگے مفصل ذکر آئے گا۔ )الفضل ۱۸۔ تبلیغ/فروری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۵` الفضل یکم امان/مارچ۱۳۲۸۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۲(
    ۱۴۲
    ایضاً
    ۱۴۳
    الفضل ۱۸۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۳
    ۱۴۴
    الفضل ۲۶۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۴
    ۱۴۵
    الفضل ۱۲۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۴`۵` الفضل ۲۸۔ شہادت/اپریل ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء صفحہ ۵
    ۱۴۶
    نقل مطابق اصل
    ۱۴۷
    الفضل ۱۸۔ امان/مارچ ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵
    ۱۴۸
    ملک عطاء الرحمن صاحب مجاہد فرانس کو ۱۵۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کے اجلاس میں شمولیت کا موقع ملا تو وہ اس کی کامیابی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور لکھا >اجلاس بفضلہ تعالیٰ خوب کامیاب تھا۔ مغربی ممالک کی مذہب سے بے رغبتی اور اسلام سے تعصب کے پیش نظر حاضری غیر معمولی تھی۔< )الفضل ۱۸ تبلیغ/فروری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۳( ان اجلاسوں کے لئے دعوت نامے بھجوانے کے علاوہ اخبارات میں اعلان شائع کئے جاتے تھے۔ اجلاس میں بالعموم پہلے شیخ ناصر احمد صاحب کسی اہم موضوع پر خطاب فرماتے پھر حاضرین کو سوالات کے ذریعہ اسلام سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا۔ بعض اجلاسوں میں اسلامی لٹریچر بھی تقسیم کیاگیا۔ سال میں ایک بار دیگر مذاہب کے نمائندوں کو بھی ایک پلیٹ فارم اور ایک ہی موضوع پر بولنے کی دعوت دی جاتی تھی تا لوگ اسلام اور دیگر مذاہب کا باسانی تقابلی مطالعہ کرسکیں۔ )الفضل ۷۔ ظہور/اگست ۱۳۳۶ہش/۱۹۵۷ء صفحہ ۳(
    ۱۴۹
    الفضل ۷۔ ظہور/اگست ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا مقامات میں ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء تک تبلیغی اجلاس منعقد کئے جاچکے تھے۔
    ۱۵۰
    چوہدری عبداللطیف صاحب )انچارج مبلغ جرمن مشن( کے مکتوب مورخہ ۴۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء سے ماخوذ۔
    ‏tav.11.11
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    ۱۵۱۔
    الفضل ۱۳۔ ہجرت/مئی ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۴۔۵
    ۱۵۲۔
    یہ ایک کیتھولک عقیدہ رکھنے والی جرمن نژاد خاتون تھیں جن کا پیدائشی نام فرائو والی ولڈہابر تھا۔ ابتداء میں ان کے سوس خاوند نے ان کے اسلامی رحجان کو پسند نہ کیا لیکن یہ امر ان کے شوق میں کمی کا باعث نہ بن سکا۔ شیخ صاحب موصوف کی متعدد مواقع پر لمبی گفتگوئوں اور خطوط کے ذریعہ تبلیغ کے بعد ان کے دل میں انشراح پیدا ہوا اور بیعت فارم پر کرنے کے ساتھ ہی فی الفور ممنوعات کا استعمال ترک کردیا اور بذریعہ خط اس عزم کا اظہار کیا کہ >اب میں بھی بہائو کے خلاف تیرنے کی کوشش کروں گی۔< )الفضل ۲۵۔ تبلیغ/فروری ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء(
    ۱۵۳۔
    الفضل ۱۶۔ امان/مارچ ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵` الفضل ۱۸۔ امان/مارچ ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۶
    ۱۵۴۔
    الفضل ۱۲۔ شہادت/اپریل ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۴
    ۱۵۵۔
    الفضل ۲۴۔ احسان/جون ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۸
    ۱۵۶۔
    الفضل ۱۷۔ ظہور/اگست ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۶
    ۱۵۷۔
    الفضل ۱۵۔ شہادت/اپریل ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء صفحہ ۵
    ۱۵۸۔
    چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ )موجودہ انچارج سوئٹزرلینڈ کمال فولمار مرحوم کے حالات زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    >سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن کی یونیورسٹی میں ان کے والد صاحب قانون کے پروفیسر تھے۔ مرحوم کو ان کے مضمون سے شغف پیدا نہ ہوا۔ فنی` تجارتی تعلیم حاصل کی اور پھر زرعی انجنیئرنگ میں لگ گئے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ ٹریکٹروں کی فرم میں ملازم ہوگئے اور مسلمان ملکوں خصوصاً مراکش اور ترکی میں اس فرم کی نمائندگی کے سلسلہ میں جاتے رہے اور اس طرح اسلام میں دلچسپی پیدا ہوگئی مجھے باقی ممالک کا تو علم نہیں لیکن یورپ کے ممالک میں خاصی تعداد ان احمدیوں کی ہے جو مختلف ملکوں میں گھومتے رہے ہیں۔ یہ بھی ایک طیوری صفت ہے۔ اللہ کی تقدیر اس طرح ان میں وسعت نظر پیدا کردیتی ہے اور ان کو ایک نئے ماحول سے قدرے مانوس کردیتی ہے اور ان کے لئے صداقت کی شناخت میں سہولت پیدا کردیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جو خدمت مرحوم ہے لینا چاہتا تھا اس کے لئے مزید تربیت کی ضرورت تھی۔ ان کی شادی جرمن میں ایسے باپ کی بیٹی سے ہوئی جو اخبار نویس تھا اور وہ خود اخبار ایڈٹ کرنے لگے جنگ کے بعد وہ سوئٹزرلینڈ آگئے اور ایک فارم خرید لیا۔ زمیندارہ اور صحافت ان کا شغل ہوگیا۔ ۱۹۵۹ء میں )جبکہ برادرم شیخ ناصر احمد صاحب یہاں مبلغ انچارج تھے( کا واقعہ ہے کہ ان کی ہمشیرہ نے جو معلمہ ہیں اپنے ایک مضمون >اسلام میں عورت کی حیثیت< کی تیاری کے سلسلہ میں ان سے قرآن کریم کے حوالہ جات میں مدد چاہی۔ ان کے پاس اس وقت قرآن کریم کا کوئی نسخہ موجود نہ تھا انہیں مشن کا پتہ کسی اخبار سے مل گیا اور انہوں نے مشن سے قرآن کریم طلب کیا۔ اس طرح مشن سے رابطہ پیداہوا اور ۱۷۔ دسمبر ۱۹۵۹ء کو انہوں نے بیعت کرلی` الحمدلل¶ہ ۔۔۔۔۔ برادرم فولمار ہماری ہر مجلس کی زینت ہوتے۔ میرے بار بار کہنے پر بیوی بچوں کو بھی ہمراہ لانا شروع کردیا۔ ایک دفعہ ہم نے گھر میں ان کے بیوی بچوں کو مدعو کیا۔ برادرم فولمار مرحوم نے مجھے کہا کہ اس سفر نے سینکڑوں صفحات کے مطالعہ سے زیادہ کام دیا۔ ایک موقعہ پر عربوں کی حمایت میں اجلاس تھا۔ مقصود یہ تھا کہ حالات بتائے جائیں اور چندہ کی اپیل کی جائے۔ برادرم کمال فولمار کو بلایا مگر نہ آئے۔ بعد میں مجھے بتایا کہ انہیں عربوں پر ظلم وستم کا اس قدر رنج ہے کہ انہیں ڈر تھا کہ وہ اپنے پر ضبط نہ رکھ سکیں گے اس لئے نہ آئے۔
    ۱۹۶۷ء میں جب سیدنا حضرت میرالمومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تشریف لائے تو انہیں جماعت کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضور جب اس موقعہ پر ان سے ملے اور معلوم ہوا کہ وہ کینسر سے بیمار ہیں تو فرمایا میں آپ کے لئے ایک بوٹی بھیج دوں گا وہ استعمال کیجئے۔ چنانچہ حضور نے بوتی بھجوائی۔ برادرم کمال مرحوم نے جذبات تشکر کے ساتھ اس کا استعمال شروع کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت فائدہ ہوا۔ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ نے بوٹی میں کچھ تاثیر رکھی ہے یا بوٹی بھجوانے والے کی دعا کی تاثیر تھی۔ صحت پڑ بڑا اچھا اثر پڑا۔ برادرم مرحوم نے چاہا کہ وہ ہدایت کے مطابق استعمال کرتے ہی رہیں۔ محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب بعد میں بھجواتے رہے۔ اور آخری بار تو انہوں نے اکٹھی دو سو خوراکیں بھجوائیں وہ ختم نہ کرپائے تھے کہ مرحوم ان کی ضرورت سے بے نیا ہوگئے۔
    برادرم فولمار طویل القامت` گرانڈیل` بارعب انسان تھے۔ میں نے جب بھی پوچھا کیا حال ہے؟ الحمدلل¶ہ کہا۔ خطوط میں بھی الحمدلل¶ہ ہی لکھتے۔ لیکن کینسر کی مرض ختم نہ ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور کی دعائوں اور حضور کی محبت سے تجویز فرمائی ہوئی بوٹی سے تو ان کی حالت کچھ بہتر رہی مگر پھر کینسر کے زخم سے خون بہنا شروع ہوگیا۔ مسز فولمار کو اہلیہ ام نے ہفتہ عشرہ کے لئے اپنے ہاں مدعو کیا تا وہ اس ماحول میں کچھ عرصہ رہ کر اسلام کا مطالعہ کرسکیں۔ اس دوران میں مسز فولمار نے زور دیا کہ اس کے شوہر کو ضرور ہسپتال جانا چاہئے۔ میرے اصرار پر وہ آمادہ ہوگئے مگر افسوس ہے کہ کوئی علاج ان کی زندگی کو لمبا نہ کرسکا۔ وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔< )الفضل ۲۰۔ تبوک/ستمبر ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء(
    ۱۵۹۔
    الفضل ۱۹۔ اخاء/اکتوبر و ۲۲۔ نبوت/نومبر ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء۔ >الاسلام< کا پہلا نسخہ اقبال احمد خاں صاحب ایم۔ ایس سی )سکالر فضل عمر انسٹی ٹیوٹ( نے جو ان دنوں انگلستان میں تھے دو پونڈ میں خریدا )الفضل ۲۲۔ نبوت/نومبر ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۵(
    ۱۶۰۔
    الفضل ۲۷۔ وفا/جولائی ۱۳۳۶ہش/۱۹۴۵۷ء صفحہ ۳
    ۱۶۱۔
    الفضل ۲۹۔ صلح/جنوری ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۳
    ۱۶۲۔
    یہ صاحب بعد میں حلقہ بگوش احمدیت ہوگئے۔
    ۱۶۳۔
    الفضل ۲۶۔ وفا/جولائی ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۳
    ۱۶۴۔
    الفضل ۳۰۔ نبوت/نومبر ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۳
    ۱۶۵۔
    الفضل ۲۱۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۱
    ۱۶۶۔
    الفضل ۱۸۔ تبلیغ/فروری ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵۔ موخرالذکر ٹریکٹ کا نام >ندائے آسمانی< تھا جس میں حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے چھ مختلف اقتباسات جمع کئے گئے تھے۔ یہ ٹریکٹ بذریعہ ڈاک ممتاز شخصیتوں کو بھجوایا گیا۔ اس ٹریکٹ کے اخراجات کا بڑا حصہ چوہدری ظہوراحمد صاحب باجوہ مبلغ انگلستان نے اپنے دادا مرحوم کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے ادا کئے۔ )الفضل ۲۱۔ صلح/جنوری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۴
    ۱۶۷۔
    الفضل ۲۱۔ صلح/جنوری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۴
    ۱۶۸۔
    الفضل ۱۹۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۶
    ۱۶۹۔
    الفضل ۲۳۔ ہجرت/مئی ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء صفحہ ۵
    ۱۷۰۔
    الفضل ۱۷۔ تبلیغ/فروری ۱۳۳۳ہش/۱۹۴۵ء صفحہ ۱
    ۱۷۱۔
    یہ دوسرا ایڈیشن ۶۵۳ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے ابتداء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے قلم مبارک کے لکھے ہوئے شہرہ آفاق دیباچہ تفسیر القرآن کا جرمن زبان میں ترجمہ بھی شامل کیاگیا ہے جو ۵۳ صفحات کو محیط ہے اور جس نے اس ترجمہ کی افادیت و عظمت کو چار چاند لگادیئے ہیں۔ یہ ایڈیشن ہیگ )ہالینڈ( میں طبع ہوا اور ZURICH ISLAM> <DER VERLAG کی طرف سے شائع کیاگیا۔
    ۱۷۲۔
    جرمن ترجمہ قرآن کا پہلا ایڈیشن کن کٹھن مراحل میں سے گزر کر منظرعام پر آیا اس کی تفصیل مکرم شیخ ناصر احمد صاحب کے قلم ہے۔ ۱۰۔ احسان/جون ۱۳۳۳ہش/۱۹۵۴ء کے الفضل میں شائع شدہ ہے۔
    ۱۷۳۔
    الفضل ۱۸۔ امان/مارچ ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء صفحہ ۳
    ۱۷۴۔
    مجلتہ الازھر فروری ۱۹۵۹ء
    ۱۷۵۔
    بحوالہ الفضل ۳۱۔ امان/مارچ ۱۳۴۶ہش/۱۹۶۷ء صفحہ ۷
    ۱۷۶۔
    الفضل ۱۲۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱۔ مکرم جناب چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے )جنہیں اس سفر میں حضرت مصلح موعود کے پرائیویٹ سیکرٹری ہونے کا شرف حاصل ہوا( حضور کے قیام زیورچ کی ایک رپورٹ میں تحریر فرمایا۔
    >۹ مئی کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ تقریباً ایک بجے زیورچ پہنچے اور کاروں میں سوار ہوکر قافلہ اپنی جائے رہائش STRASSEZ BEGONIAN میں آیا۔ یہ ایک چار منزلہ مکان ہے جس کے نیچے کی دو فلیٹیں شیخ ناصر احمد صاحب نے کوشش کرکے مالک سے جلدی جلد تیار کروالیں۔ بقیہ حصہ ابھی زیر مرمت ہے اور ان فلیٹوں کے آگے کی سیڑھیاں ہال وغیرہ میں ابھی پینٹ ہورہا ہے۔ خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کی جو علوم آسانی کے امین اور عارف اسرار ربانی ہوتے ہیں حسیں بہت تیز ہوتی ہیں۔ حضور کو بدبو بہت ناگوار گزری اور ایسا معلوم ہوا کہ یہاں رہنا ممکن نہیں۔ مگر فلیٹ کے اندر ایسی بو نہ تھی۔ آہستہ آہستہ اس فلیٹ کی خوبیاں بھی حضور کے سامنے آئیں اور حضور نے جب میں شام کو مائکرو بس پر جنیوا سے زیورچ پہنچا یہی خیال ظاہر فرمایا کہ فلیٹ اچھی ہے اور کرایہ کے لحاظ سے بہت عمدہ ہے۔< )الفضل ۲۴۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۳ کالم نمبر۱(
    ۱۷۷۔
    ڈاکٹر پروفیسر روسیوزیورک کے ہسپتال KANTONSPITZAL میں کام کرتے تھے اور سوئٹزرلینڈ کے مشہور ڈاکٹر تھے ہزایکس لینسی مسٹر غلام محمد گورنر جنرل پاکستان انہیں کے زیرعلاج رہے۔
    ۱۷۸۔
    الفضل ۲۴۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱
    ۱۷۹۔
    الفضل ۲۴۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۳
    ۱۸۰۔
    الفضل ۲۴۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱
    ۱۸۱۔
    الفضل ۷۔ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱
    ۱۸۲۔
    الفضل ۷۔ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱
    ۱۸۳۔
    الفضل ۸۔ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱
    ۱۸۴۔
    ایضاً
    ۱۸۵۔
    الفضل ۱۱۔ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱
    ۱۸۶۔
    ایضاً
    ۱۸۷۔
    الفضل ۱۴۔ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱
    ۱۸۸۔
    ایضاً
    ۱۸۹۔
    الفضل ۵۔ نبوت/نومبر ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۱۔ شیخ صاحب نے اس مکتوب کا جرمن ترجمہ ایک چھوٹی تقطیع کے رسالہ کی صورت میں چھپوالیا اور اس کے نسخے سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے نئے احمدیوں کو بغرض تقسیم بھجوائے۔ )الفضل ۱۵ ہجرت/مئی ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء(
    ۱۹۰۔
    )ترجمہ( بحوالہ >مغرب کے افق پر< )تقریر سالانہ جلسہ ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء جناب صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر تحریک جدید ربوہ( صفحہ ۲۸۔۲۹
    ۱۹۱۔
    )ترجمہ( بحوالہ >مغرب کے افق پر< صفحہ ۲۹۔۳۰
    ۱۹۲۔
    الفضل ۳۰۔ نبوت/نومبر ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۳
    ۱۹۳۔
    الفضل ۳۰۔ نبوت/نومبر ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۳۔۴
    ۱۹۴۔
    الفضل ۵۱۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۴
    ۱۹۵۔
    قبل ازیں شیخ صاحب موصوف کی آسٹریا کے بعض دوستوں سے تبلیغی خط و کتابت کرنے اور کتب بھجوانے کا سلسلہ جاری تھا جیسا کہ مشن کی رپورٹ )از وفا/جولائی تا تبوک/ستمبر ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء( سے ثابت ہے۔ چنانچہ لکھا ہے۔
    >آسٹریا سے بھی خطوط سوالات پر مشتمل آئے جن کے تفصیلی جوابات خاکسار نے بھجوائے اور لٹریچر کی ترسیل نیز خطوط کے ذریعہ وہاں بھی تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا۔< )الفضل ۲۳۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء(
    ۱۹۶۔
    الفضل ۲۵۔ ظہو/اگست ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء صفحہ ۵
    ۱۹۷۔
    الفضل ۲۱۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۳
    ۱۹۸۔
    الفضل ۲۱۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۴
    ۱۹۹۔
    الفضل ۲۷۔ وفا/جولائی ۱۳۳۶ہش/۱۹۵۷ء و ۱۵۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء
    ۲۰۰۔
    الفضل ۲۵۔ ظہور/اگست ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء صفحہ ۳
    ۲۰۱۔
    الفضل ۵۔ ظہور/اگست ۱۳۴۱ہش/۱۹۶۲ء صفحہ ۱
    ۲۰۲۔
    الفضل ۲۴۔ وفا/جولائی ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء صفحہ ۳
    ۲۰۳۔
    الفضل ۲۸۔ تبوک/ستمبر ۱۳۴۱ہش/۱۹۶۲ء صفحہ ۳۔۴
    ۲۰۴۔
    الفضل ۲۰۔ تبوک/ستمبر ۱۳۴۱ہش/۱۹۶۲ء صفحہ ۴
    ۲۰۵۔
    ترجمہ بحوالہ رسالہ >انصاراللہ< ربوہ نبوت/نومبر ۱۳۴۱ہش/۱۹۶۲ء صفحہ ۴۲ تا ۴۴۔
    ۲۰۶۔
    مسجد سوئٹزرلینڈ کا مینار قریبا ۶۸ فٹ بلند ہے۔
    ۲۰۷۔
    الفضل ۱۷۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۳۔۴
    ۲۰۸۔
    الفضل ۱۷۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء
    ۲۰۹۔
    الفضل ۱۸۔ وفا/جولائی ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۴۔۵
    ۲۱۰۔
    ڈاکٹر صاحب ایک مسلم انجنیئر ہیں جن کا خاندان پہلی جنگ عظیم میں سقوط ترکی کے بعد یورپ اور مصر میں آباد ہوگیا۔ ڈاکٹر صاحب خود سویس شہری ہیں۔ پانچ زبانیں بول سکتے ہیں اور ملک کے مختلف طبقوں میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
    ۲۱۱۔
    الفضل ۲۵۔ وفا/جولائی ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء صفحہ ۳
    ۲۱۲۔
    زیورک کی فیڈرل یونیورسٹی کے ایم۔ ایس سی!! جو ان دنوں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لئے سوئٹزرلینڈ میں مقیم تھے۔
    ۲۱۳۔
    )ترجمہ( الفضل ۲۵۔ وفا/جولائی ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء صفحہ ۳
    ۲۱۴۔
    ایک ممتاز الیکٹریکل انجنیئر
    ۲۱۵۔
    )ترجمہ( الفضل ۲۵۔ وفا/جولائی ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء صفحہ ۳
    ۲۱۶۔
    الفضل ۲۴۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ ۳
    ۲۱۷۔
    چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے اپنی مفصل رپورٹ میں لکھا۔
    >۲۴۔ اپریل کو محترم میاں صاحب کی آمد متوقع تھی چنانچہ استقبال کی ہم تیاری میں مصروف تھے۔ ۲۳۔ اپریل کو محترم میاں صاحب کے سیکرٹری مکرم میر مسعود احمد صاحب پہنچ گئے۔ ان کے استقبال کے بعد واپس آئے ہی تھے کہ اچانک محترم میاں صاحب بھی غیر متوقع طور پر پروگرام سے ایک دن قبل تشریف لے آئے۔ اس اچانک آمد سے بہت خوشی ہوئی۔ معلوم ہوا کہ بعض وجوہ کے باعث پروگرام میں کچھ تبدیلی کرنی پڑی اور اس لئے ایک دن پہلے پہنچ گئے۔
    آپ زیورک میں ۲۷۔ اپریل کے دوپہر تک ٹھہرے۔ ۲۵۔ کو آپ کے عزاز میں عصرانہ دیاگیا۔ احباب جماعت کے علاوہ زیر تبلیغ اصحاب اور جماعت سے اخلاص واحترام کا تعلق رکھنے والے دیگر دوست مدعو کئے گئے تھے۔ اس موقع پر محترم میاں صاحب کی ازحد موثر گفتگو سے حاضرین کے قلوب پر گہرا اثر ہوا۔ اس تقریب کے علاوہ ہمارے بعض احباب خصوصاً نو احمدی حبیب احمد سینرش اور پرانے مخلص احمدی عبدالرشید فوگل کو ان کی صحبت سے بہت مستفید ہونے کا موقع ملا۔ حبیب احمد سینرش نے ۲۹۔ دسمبر ۱۹۶۴ء کو بیعت کی اور میں نے نام حبیب احمد رکھا۔ ان کی والدہ نے مخالفت شروع کی میں نے ان کو مدعو کیا اور وہ کافی نرم پڑگئیں مگر ان کے پادری نے انہیں اکسایا اور کہا کہ مذہب کی تبدیلی کا سوال نہیں لیکن اسلام بھی کوئی مذہب ہے۔ یہ تو یورپ کے لوگوں کے لئے قطعاً موزوں نہیں۔ یہ قرون وسطی کا مذہب ہے۔ ان پادری صاحب نے اس فرم کے مالک سے بھی بات کی جہاں وہ ملازم تھے۔ وہ پہلے ہی ایک متعصب کیتھولک تھا اس نے ان کو پندرہ یوم کا نوٹس دے دیا انہوں نے کہا کہ پندرہ یوم کا سوال نہیں میں مستقل طور پر ہی فارغ ہوتا ہوں۔ اس پر والدین نے اور مخالفت شروع کردی۔ میں فون کرتا تھا تو حبیب کو بات نہ کرنے دینے اور خط لکھتا تو اس تک پہنچنے نہ دیتے آخر تنگ آکر ایک دن میں ان کے ہاں گیا۔ وہ زیورک سے دور رہتے ہیں۔ ان کے گھر پہنچا۔ اہلیہ اور عزیزم یحیی بھی ہمراہ تھے۔ یہ ان کی والدہ کے پاس بیٹھے اور مجھے حبیب اپنے کمرہ میں لے گیا۔ دیکھا کہ سامنے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا کتبہ لگایا ہوا ہے۔ مسجد کی تصویر دیوار پر آویزاں ہے اور عیدکا دعوتی کارڈ بھی زینت کے طور پرلگا ہوا ہے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح اس کی مخالفت ہورہی ہے اور یہ کہ وہ اللہ کے فضل سے اسلام پر قائم ہے۔ میں نے آئندہ کے لئے ایک ترک دوست کی معرفت ڈاک بھجوانے کا انتظام کیا اور اس کو ہدایت کی کہ وہ خود مجھے گاہے بگاہے فون کرلیا کرے۔ یہ نوجوان کئی گھنٹے محترم میاں صاحب کے ساتھ رہے۔
    ہمارے ایک دوست جو پشاور یونیورسٹی میں لیکچرار تھے اور اب یہاں ڈاکٹریٹ کررہے ہیں استقبالیہ تقریب سے اس قدر متاثر ہوئے کہ محترم میاں صاحب کے اعزاز میں اپنے ہاں عشائیہ کا اہتمام فرمایا۔ محترم میاں صاحب انہیں اور باقی حاضرین کو لطیف انداز میں جماعت کی اسلامی خدمات بتاتے رہے۔
    محترم میاں صاحب نے یہ ارادہ ظاہر فرمایا کہ واپسی پر ہفتہ عشرہ قیام کرسکیں گے۔ چنانچہ اس امید پر کہ جلد ہی پھر ملاقات ہوگئی ۲۷۔ اپریل کو انہیں الوداع کہا۔
    واپسی کے لئے مختلف تقاریب کا پروگرام زیر غور تھا کہ فون پر لندن سے معلوم ہوا کہ وہ تو ۶۔ جون کی شب کو پہنچیں گے اور ۷۔ جون کو پونے دو بجے کے جہاز پر استنبول کو روانہ ہوجائیں گے۔ میں نے اپنے خاص دوستوں کو فون پر اطلاع دی۔ ائرپورٹ پر محترم میاں صاحب کے استقبال کے لئے خاکسار بعض احباب کے ساتھ موجود تھا۔ ہمارے نو احمدی بھائی ضیاء اللہ مایر (MEIER) نے جماعت کی طرف سے گلدستہ پیش کیا ایک تقریب کا انعقاد کیاگیا جو اپنے رنگ میں فروعی تھا۔ میں نے اپنے مختلف طبقات کے احباب کو تھوڑا تھوڑا وقت دیا کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں اور بعد میں محترم میاں صاحب نے تقریر فرمائی۔< )الفضل ۲۴۔ وفا/جولائی ۱۳۴۴ہش/۱۹۶۵ء(
    ۲۱۸۔
    الفضل ۱۳۔ وفا/جولائی ۱۳۴۶ہش/۱۹۶۷ء صفحہ ۱
    ۲۱۹۔
    الفضل ۱۴۔ وفا/جولائی ۱۳۴۶ہش/۱۹۶۷ء صفحہ ۱
    ۲۲۰۔
    الفضل ۱۸۔ وفا/جولائی ۱۳۴۶ہش/۱۹۶۷ء صفحہ ۱
    ۲۲۱۔
    الفضل ۲۳۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ۳
    ۲۲۲۔
    )ترجمہ(الفضل ۲۳۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ۳
    ۲۲۳۔
    انڈونیشیا شرق الہند کے اسی مجمع الجزائر کا دوسرا نام ہے جو سترھویں صدی عیسوی کے آغاز سے لیکر ۱۹۴۹ء تک ہالینڈ کے مقبوضات میں شامل رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی فوجوں نے ولندیزی فوجوں کو زیر کرکے ان جزائر پر قبضہ جمالیا۔ ۱۹۴۵ء میں جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے تو ملک میں تحریک آزادی اٹھ کھڑی ہوئی اور آخر بڑی کشمکش کے بعد حکومت ہالینڈ نے ریاست ہائے متحدہ انڈونیشیا کی آزاد تسلیم کرلی اور آزاد انڈونیشیا کے ساتھ اتحاد و اشتراک عمل کا ایک پختہ معاہدہ طے کرلیا جس کی رو سے ہالینڈ اور انڈونیشیا تاج ولندیزی کے دو مساوی رتبہ ملک قرارپائے۔ ان ملکوں نے طے کیا کہ خارجہ امور` وفاع اور اہم اقتصادی معاملات میں دونوں ملک باہمی مشورہ سے پالیسی طے کیا کریں گے۔ )تایخ اقوام عالم از جناب مرتضیٰ احمد خاں میکش صفحہ ۷۹۴۔۷۹۵(
    ۲۲۴۔
    >جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات< صفحہ ۱۸ )از حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال اہم۔ اے ناظر دعوت >تبلیغ قادیان( ماہ دسمبر ۱۹۲۷ء مطبوعہ اسلامیہ سٹیم پریس دہلی دروازہ لاہور۔
    ۲۲۵۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ۳۴۔۱۹۳۳ء صفحہ ۱۹۶
    ۲۲۶۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ۳۵۔۱۹۳۴ء صفحہ۴۲
    ۲۲۷۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ قادیان ۳۶۔۱۹۳۵ء صفحہ ۳۱
    ۲۲۸۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ قادیان ۳۸۔۱۹۳۷ء صفحہ ۱۶
    ۲۲۹۔
    الفضل ۸۔ اپریل ۱۹۳۰ء صفحہ ۱ کالم نمبر۱
    ۲۳۰۔
    الفضل ۹۔ مئی ۱۹۳۰ء صفحہ ۷ کالم نمبر۲۔۳
    ۲۳۱۔
    لنڈن مشن کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا شمس نے لندن پہنچنے کے بعد ڈچ باشندوں میں تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری کردیا تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنے قیام انگستان کے پہلے سال ہالینڈ` جرمن اور سویڈن کے سکولوں کی ہائی کلاسز کے قریباً ستر طلباء کو ایک تقریب پر مدعو کیا )رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ قادیان ۳۹۔۱۹۳۸ء صفحہ ۵۵(
    ۲۳۲۔
    الفضل ۱۶۔ تبوک/ستمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵
    ۲۳۳۔
    الفضل ۲۸۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء صفحہ ۵ کالم نمبر۱
    ۲۳۴۔
    ایضاً
    ۲۳۵۔
    مضمون حافظ قدرت اللہ صاحب مطبوعہ رسالہ خالد ربوہ امان/مارچ ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۱۵
    ۲۳۶۔
    الفضل ۲۸۔ وفا/جولائی ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۶
    ۲۳۷۔
    مسٹر کوپی نے جنوری ۱۹۴۸ء میں اسلام قبول کرلیا )الفضل ۶۔ امان ۱۳۲۷ہش صفحہ ۵(
    ۲۳۸۔
    ملخصا ازالفضل ۲۸۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء
    ۲۳۹۔
    یادرہے تحریک جدید نے انہیں ۴ ماہ تبلیغ/فروری ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء کو وقف سے فارغ کردیا جس کے بعد وہ نظام خلافت سے برگشتہ ہوکر غیر مبائعین میں جا شامل ہوئے۔
    ۲۴۰۔
    الفضل ۱۶۔ امان/مارچ ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵ کالم نمبر۳
    ۲۴۱۔
    الفضل ۱۶۔ امان ۱۳۲۷ہش صفحہ ۵ کالم نمبر ۴
    ۲۴۲۔
    الفضل ۱۷۔ وفا ۱۳۲۷ہش صفحہ ۵ کالم نمبر۱` ۲۸۔ وفا ۱۳۲۷ہش صفحہ ۶
    ۲۴۳۔
    الفضل ۲۸۔ اخاء ۱۳۲۷ہش صفحہ ۲
    ۲۴۴۔
    الفضل ۲۸۔ اخاء ۱۳۲۷ہش صفحہ ۲
    ۲۴۵۔
    جناب حافظ قدرت اللہ صاحب نے اپنے ایک مضمون میں مسٹر کوپے کے حالات زندگی پر مفصل روشنی ڈالی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ۔
    آپ کا پورا نام مسٹر پی۔ جے۔ ایف۔ کے المہدی عبدالرحمن ابن کوپے ہے۔ آپ جرمن میں پیدا ہوئے۔ والدہ آپ کی جرمن ہیں اور باپ ڈچ۔ اسلام کے ساتھ دلچسپی کچھ بچپن سے ہی پیدا ہوچکی تھی۔ ۱۹۳۳ء میں کچھ یمنی سیلرز اس ملک میں آنکلے۔ عربی سے دلچسپی کی وجہ سے ان کے ساتھ میل ملاقات ہونے لگی اور آخر ان کے اثر سے متاثر ہوکر ۱۹۳۴ء میں برلن میں مسلمان ہوگئے اس کے بعد فرانس میں بعض عربوں اور الجیرین سے وقتاً فوقتاً ملاقات کے مواقع میسر آتے رہے۔ آپ کے یمنی دوست علوی طریقہ کے پابند تھے۔ چنانچہ آپ پر بھی وہی رنگ غالب تھا اور آپ کے تعلقات الجیرین علوی مشن کے ساتھ مضبوط تر ہوتے گئے۔
    عرصہ قریباً اڑھائی سال کا ہوا۔ مسٹر کوپے نے ایک خط انجمن احمدیہ کو لکھا اور وہ خط محترم مولانا شمس صاحب کو لندن بھیج دیاگیا۔ چنانچہ محترم موصوف نے پھر مسٹر کوپے سے خط وکتابت جاری رکھی۔ انہیں اسلامی لٹریچر بھجواتے رہے اور احمدیت کی تعلیم سے آگاہی دیتے رہے۔ محترم مولانا شمس صاحب کا ارادہ بھی تھا کہ وہ ایک دفعہ خود ہالینڈ آکر مسٹر کوپے سے ملاقات کریں مگر اس کے لئے حالات سازگار نہ ہوسکے۔ حضور )مصلح موعود( ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جب مجھے ہالینڈ جانے کا ارشاد فرمایا تو اس موقع پر مسٹر کوپے بہت کثرت کے ساتھ ایمسٹرڈم سے مجھے ملنے کے لئے آتے رہے۔ اسلامی امور کے متعلق تو انہیں ایک حد تک کافی معلومات تھیں مگر احمدیت کے متعلق بہت سے حقائق ان سے پوشیدہ تھے۔ آہستہ آہستہ ان کے شکوک کا ازالہ ہوتا رہا اور حقیقت کھلتی گئی۔ اڑھائی ماہ کا عرصہ ہوا الجیرین علوی ہیڈ کوارٹر کی طرف سے مسٹر کوپے کو ایک ہدایت موصول ہوئی اور ان سے خواہش کی گئی کہ وہ ہالینڈ میں ان کی طرف سے علوی طریقہ کا ایک مشن کھول کر تبلیغ کا کام شروع کردیں۔ مسٹر کوپے ابھی اس معاملہ پر غور ہی کررہے تھے کہ انہیں کیا جواب دیا جائے کہ دوسری طرف ہماری نوجوان احمدی خاتون رضیہ نے ایک دن پوچھا کہ مسٹر کوپے اب احمدیت میں داخل کیوں نہیں ہوجاتے؟ میں نے اس سے کہا کہ وہ اپنے علوی دوستوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں چھوڑ نے پر آمادہ نہیں۔ اس پر انہیں جوش آیا اور کہا کہ انہیں اپنی ایمانی جرات سے کام لینا چاہئے اور دوستوں کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے اخلاص بھرے دو تین خطوط مسٹر کوپے کو لکھے۔ فطرت نیک تھی۔ خود بھی دعائیں کیں بزرگوں کی دعائیں بھی شامل حال تھیں۔ ایک روز ایمسٹرڈم سے آئے اور آکر اپنے احمدی ہونے کا اعلان کردیا۔< )ملخصاً ازالفضل ۲۳۔ شہادت/اپریل ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵(
    ۲۴۶۔
    مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے باتصور مجلہ بابت ۱۳۳۱ہش/۱۹۶۲ء صفحہ ۸۴ پر آپ کے خود نوشت حالات شائع شدہ ہیں۔
    ۲۴۷۔
    مسز لافان پرتون پن لوپن ایک اعلٰے فوجی افسر کی بیوی ہیں۔ ان کے والدین آسٹریلین ہیں اور ان کے دادا مصری اور دادی آئرلینڈ کی رہنے والی تھیں۔ یہ دونوں شادی کے بعد آسٹریلیاں چلے گئے اور انہوں نے آپس میں عہد کرلیا کہ بچوں کو اسلام یا عیسائیت قبول کرنے پر مجبور نہیں کیاجائے گا سن بلوغت پر پہنچنے پر وہ خود فیصلہ کریں گے کہ انہیں کونسا مذہب پسند ہے؟ چنانچہ خاتون موصوفہ کے والد جوان ہوئے تو انہیں موقعہ دیاگیا کہ دونوں میں سے جو پسند آئے اسے قبول کرلیں۔ انہوں نے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دی اور کہا کہ ان کے نزدیک دونوں ہی اچھے ہیں لہذا وہ نہ مسلمان ہوئے اور نہ ہی عیسائیت پر عمل پیرا۔ انہوں نے بھی اپنے خاندان کی اس روایت کو زندہ رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو آزادانہ مذہب اختیار کرنے کی اجازت دی۔ ان کے تین بچوں میں سے دو نے عیسائیت کو قبول کرلیا اور ایک خاتون موصوفہ نے اسلام کو ترجیح دی ۔۔۔۔۔ ایک ڈچ فوجی افسر سے شادی کرنے کے بعد ہالینڈ تشریف لائیں جہاں انہیں آئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ مارمن چرچ کے دو مشنری ان کے مکان پر انہیں بھی تبلیغ کرنے لگے۔ محترمہ موصوفہ نے انہیں بتایا کہ وہ مسلمان ہیں اس لئے انہیں تبلیغ کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
    یہ مشنری ایک دفعہ مبلغ ہالینڈ سے مل چکے تھے اس پر انہوں نے کہا کہ یہاں مسلمان مشنری بھی ہیں وہ سن کر حیران رہ گئیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اسلام اور مشنری؟ انہوں نے یقین دلایا کہ ہیگ میں موجود ہیں اور انہیں مشن کا ایڈریس وغیرہ دیا۔ کچھ دنوں کے بعد فون کے ذریعہ وقت مقرر کرکے تشریف لائیں۔ دو تین گھنٹہ تک گفتگو کرتی رہیں۔ انہیں اپنے سلسلہ کے حالات بتائے گئے۔ قبر مسیح کے متعلق گفتگو ہوئی۔ انہیں بعض کتب مطالعہ کے لئے دی گئیں جو انہوں نے غور سے مطالعہ کیں اس کے بعد دو تین دفعہ حافظ قدرت اللہ صاحب سے ملاقات کی اور ہر دفعہ اور کتب مطالعہ کے لئے لے گئیں۔ آخر غور کرکے فارم بیعت پرکردیا۔ )ملخصاً الفضل ۳۰۔ وفا/جولائی ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۴(
    ۲۴۸۔
    الفضل ۲۸۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۸ء صفحہ۲
    ۲۴۹۔
    بحوالہ >خالد< ربوہ بابت ماہ امان/مارچ ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۱۵
    ۲۵۰۔
    الفضل ۲۹۔ ظہور/اگست ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء صفحہ ۱
    ۲۵۱۔
    الفضل ۲۸۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء صفحہ ۴
    ۲۵۲۔
    الفضل ۱۶۔ امان/مارچ ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۶` الفضل ۱۷۔ وفا/جولائی ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵
    ۲۵۳۔
    الفضل ۲۸۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۲
    ۲۵۴۔
    یادرہے ڈچ زبان میں سب سے پہلا ترجمہ >وعریش القرآن< کے نام سے شویگر کے ترجمہ کی بناء پر ۱۹۴۱ء میں ہمبرگ سے شائع کیاگیا۔ ایک اور ترجمہ دورائر کے ترجمہ سے جے ایچ گلیس سیکر نے لیڈن میں ۱۶۵۸ء میں چھاپا۔ ڈیلفٹ )ہالینڈ( کے پروفیسر شرع محمدی ڈاکٹر کیرز نے بھی ایک ترجمہ ۱۸۶۰ء میں ہارلم سے شائع کیا۔ بعدازاں ڈاکٹر ڈی کیر نے سیل کے انگریزی ترجمہ کو ڈچ زبان کا لباس پہنا کر چھاپا۔ ۱۹۳۰ء میں ایک اورترجمہ ڈچ زبان میں ہیگ کے ایک ڈچ مسلمان فاض نے شائع کیا۔ )پیام امین از محمد عبداللہ منہاس(
    ۲۵۵۔
    بحوالہ المصلح کراچی ۲۴۔ تبلیغ/فروری ۱۳۳۳ہش/۱۹۵۴ء صفحہ ۳
    ۲۵۶۔
    الفضل ۱۳۔ احسان/جون ۱۳۳۳ہش/۱۹۵۴ء صفحہ ۵
    ۲۵۷۔
    >تریاق القلوب< صفحہ ۴۰ طبع اول
    ۲۵۸۔
    الفضل ۲۔ صلح/جنوری ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء صفحہ ۱
    ۲۵۹۔
    الفضل ۲۸۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء صفحہ ۴
    ۲۶۰۔
    رسالہ خالد ربوہ امان/مارچ ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۱۷ اس مسجد کا رقبہ آٹھ سو مربع میٹر کے قریب ہے۔ حضرت مصلح موعود کا منشاء مبارک تو اس سے زیادہ رقبہ لینے تھا مگر حالات نے اس کی اجازت نہ دی۔ زمین با موقع اور اچھے علاقہ میں ہے اور اوست ڈائون لان LAAN) DUIN (OOST نامی سڑک پر واقع ہے۔
    ۲۶۱۔
    یہ ایک کمپنی کی بلڈنگ ہے اور ہالینڈ میں بہت مشہور ہے۔
    ۲۶۲۔
    اصل ۱۸۹۱ء )ناقل(
    ۲۶۳۔
    الفضل ۳۰۔ ظہور/اگست ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء صفحہ ۶
    ۲۶۴۔
    اخبار الفضل ۲۰۔ فتح/دسمبر ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء صفحہ ۵
    ۲۶۵۔
    الفضل ۳۱۔ فتح/دسمبر ۱۳۳۱ہش/۱۹۵۲ء صفحہ ۳
    ۲۶۶۔
    الفضل ۱۸۷۔ تبلیغ/فروری ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱
    ۲۶۷۔
    الفضل ۲۴۔ ہجرت/مئی ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۲
    ۲۶۸۔
    الفضل ۲۳۔ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ۳ کالم نمبر۱
    ‏h1] gat[ ۲۶۹۔
    الفضل ۱۳۔ فتح/دسمبر ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء صفحہ ۱
    ۲۷۰۔
    الفضل ۴۔ صلح/جنوری ۱۳۳۶ہش/۱۹۵۷ء صفحہ ۱
    ۲۷۱۔
    الفضل ۹۔ امان/مارچ ۱۳۳۶ہش/۱۹۵۷ء صفحہ ۴
    ۲۷۲۔
    الفضل ۲۳۔ تبلیغ/فروری ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء صفحہ ۳
    ۲۷۳۔
    یہ اعدادوشمار حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا العالی کے مکتوب مورخہ ۲۰۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء سے ماخوذ ہیں۔
    ۲۷۴۔
    الفضل ۲۱۔ احسان۔ ۲۶۔ احسان۔ ۲۸۔ احسان/جون ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء
    ۲۷۵۔
    الفضل یکم تبوک/ستمبر ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء صفحہ ۵ کالم نمبر۱
    ۲۷۶۔
    الفضل ۲۸۔ صلح/جنوری ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء صفحہ ۵
    ۲۷۷۔
    الفضل ۱۳۔ نبوت/نومبر ۱۳۳۶ہش/۱۹۵۷ء صفحہ ۳
    ۲۷۸۔
    مثلاً مشہور کیتھولک ماہنامہ داہیرائوت HERAUT) (DE نے فروری ۱۹۶۸ء کے شمارہ میں مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل انچارج مشن ہالینڈ کا پر مغز مقالہ >اسلام اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام< سپرد اشاعت کیا۔ اسی طرح ایک اور عیسائی رسالہ <TIFA> )بابت دسمبر ۱۹۶۹ء( میں بھی آپ کا ایک نوٹ شائع ہوا جس کا عنوان تھا >اسلامی تعلیم کی روشنی میں مسیح ناصری علیہ السلام اور کرسمس< ISLAM) DE VAN LIGHT HET IN KERSTFEEST HET EN CHRISTUS (JEZUS
    ہالینڈ کی وزارت دفاع کا ترجمان AKSENT چھپتا ہے اس کے مارچ ۱۹۷۰ء کے پرچہ میں جناب اکمل صاحب کے دو مضامین کی اشاعت ہوئی۔ ایک مضمون کا عنوان تھا >اسلام کا اثر ونفوذ ہالینڈ میں۔< دوسرے مضمون میں آپ نے مدلل طور پر ثابت کیا کہ اسلام تلوار سے ہرگز نہیں پھیلا۔
    اسی طرح نائمیخن (NIJMEGEN) کے ایک ماہنامہ کیتھولک آپسٹورال )LAAPOSTORA (KATHOLIC نے اپنے ایک خاص شمارہ میں مشن کے سابق امام حافظ قدرت اللہ صاحب کا ایک مضمون >اسلامی طریق تدفین< انگریزی` جرمن` فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں میں شائع کیا۔
    ۲۷۹۔
    قیام ہالینڈ کے دوران جناب اکمل صاحب کی اہلیہ مسعودہ اکمل صاحبہ ڈچ احمدی خواتین کی تعلیم و تربیت میں دلچسپی لیتی رہی چنانچہ ان کی کوشش سے نہ صرف ۱۳۴۷ہش/۱۹۶۸ء میں لجنہ اماء اللہ ہالینڈ کا قیام عمل میں آیا بلکہ احمدی بچوں کو السلام و احمدیت کے مسائل سکھانے کے لئے ایک )سنڈے( تعلیمی کلاس بھی کھولی گئی جو اب تک جاری ہے۔ لجنہ اماء اللہ ہالینڈ بیرونی ممالک کی فعال لجنات میں سے ہے۔ سال ۷۰۔ ۱۹۶۹ء میں جبکہ مسعودہ اکمل صاحبہ لجنہ ہالینڈ کی صدر اور مس امتہ الحفیظ (JOEMMEMBAKS) صاحبہ نے سیکرٹری کے فرائض انجام دئے اس لجنہ نے مرکزی چندہ` خاص تحریکات` نصرت جہاں ریزروفنڈ` وقف جدید اور چندہ اطفال احمدیہ کی مدات میں ۷۱۸ گلڈرز (GILDERS) جمع کئے۔ P:69) 1969-70 IMAILLAH LAJNA CENTRAL THE OF REPORT (ANNUAL
    ۲۸۰۔
    الفضل ۹۔ شہادت/اپریل ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۳
    ‏]h1 [tag ۲۸۱۔
    الفضل ۵۔ وفا/جولائی ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۴ کالم نمبر۱
    ۲۸۲۔
    غیرمطبوعہ
    ۲۸۳۔
    ‏PAPENDRECHT
    ۲۸۴۔
    ‏FLAARDINGEN
    ۲۸۵۔
    ‏ROTTERDAM
    ۲۸۶۔
    ‏DELFT
    ۲۸۷۔
    ‏HAARLEM
    ۲۸۸۔
    ‏AMSTERDAM
    ۲۸۹۔
    ‏UTRECHT
    ۲۹۰۔
    ‏HILVERSUM
    ۲۹۱۔
    ‏WAGENINGEN
    ۲۹۲۔
    الفضل ۱۴۔ وفا/جولائی ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۳
    ۲۹۳۔
    الفضل ۸۔ شہادت/اپریل ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء صفحہ ۳
    ۲۹۴۔
    الفضل ۱۰۔ صلح/جنوری ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۳
    ۲۹۵۔
    الفضل ۱۳۔ صلح/جنوری ۱۳۴۵ہش/۱۹۶۶ء صفحہ ۳
    ۲۹۶۔
    ملخصاً الفضل ۱۸۔وفا ۱۹۔وفا ۱۳۔ظہور ۱۳۴۶ہش صفحہ ۱`۳`۴
    ۲۹۷۔
    الفضل ۱۷۔۲۱۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ ۱۔۲۔ حضرت مصلح موعود اور حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے دوروں کی تفصیل اپنے اپنے مقامات پر آئے گی۔ وباللہ التوفیق۔ قیام ہالینڈ کے محولہ بالا کوائف مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل سابق انچارج مشن ہالینڈ کی ایک غیر مطبوعہ تحریر سے ماخوذ ہیں۔
    ۲۹۸۔
    ترجمہ بحوالہ >بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام اور اس کے نتائج< صفجہ ۱۳۔۱۵
    ۲۹۹۔
    اب عیسائیوں کی طرف سے دلائل سے عاجز آکر یہ کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں اختلافات کو ہوادے کر توجہ ہٹائی جائے۔ خصوصاً جماعت احمدیہ کے متعلق یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ یہ تو مسلمان ہی نہیں یہ اسلام کی نمائندگی کیسے کرسکتے ہیں۔ گویا یہ عیسائی اسلام کو زیادہ سمجھتے ہیں۔
    ۳۰۰۔
    بحوالہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ واشاعت صفحہ ۱۶` ۲۰ لیکچر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل الاعلیٰ ووکیل التبشیر برموقعہ جلسہ سالانہ ۱۹۶۷ء
    ۳۰۱۔
    ڈاکٹر دیونگ )ہیگ( نے حافظ قدرت اللہ صاحب کی کتاب ISLAM) IS (WHAT کے دیباچہ میں لکھا
    >اسلام کے بارے میں یہاں لوگوں کو بہت ہی کم صحیح معلومات مہیا ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر ہم بار بار پڑھتے ہیں کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنا مذہب تلوار کے ذریعہ پھیلائیں لیکن اس کے برعکس قرآن کریم میں واضح طور پر فرمان ہے کہ لااکراہ فی الدین۔<
    اسلام کے جملہ مکاتیب فکر میں سے صرف جماعت احمدیہ ہی ایک ایسا اسلامی فرقہ ہے جس نے اسلام کی مکمل اور واضح تصویر پیش کی ہے۔<
    دیباچہ ISLAM> IS <WHAT 1958 JULY 2 JONG DE۔E۔H۔K ۔DR
    ۳۰۲۔
    الفضل ۳۰۔ ظہور/اگست ۱۳۴۷ہش/۱۹۶۸ء صفحہ ۳
    ۳۰۳۔
    الفضل ۳۱۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۴۹ہش/۱۹۷۰ء صفحہ ۴
    ۳۰۴۔
    الفضل ۱۲۔ نبوت/نومبر ۱۳۴۷ہش/۱۹۶۸ء صفحہ ۳
    ۳۰۵۔
    ‏h2] [tagالفضل ۱۰۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۴ کالم نمبر۴
    ۳۰۶۔
    بحوالہ رسالہ خالد ربوہ امان/مارچ ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۱۵ تا ۱۹۔
    ۳۰۷۔
    رسالہ خالد ربوہ امان/مارچ ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۲۵۔۲۶
    ۳۰۸۔
    الفضل ۱۰۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۵ کالم نمبر۲
    ۳۰۹۔
    الفضل ۱۰۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۴ کالم نمبر۳
    ۳۱۰۔
    الفضل ۱۹۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء
    ۳۱۱۔
    الفضل ۱۰۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۴ کالم نمبر۴
    ۳۱۲۔
    الفضل ۱۰۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۴ کالم نمبر۴
    ۳۱۳۔
    ایضاً
    ۳۱۴۔
    الفضل ۱۰۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۵ کالم نمبر۱
    ۳۱۵۔
    ایضاً
    ۳۱۶۔
    الفضل ۱۰۔ شہادت/اپریل ۱۳۴۲ہش/۱۹۶۳ء صفحہ ۴ کالم نمبر۳
    ۳۱۷۔
    بحوالہ >جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام اور اس کے نتائج< صفحہ ۴۲ تا ۴۴ لیکچر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب برموقع جلسہ سالانہ ۱۹۶۲ء
    ۳۱۸۔
    بحوالہ الفضل ۳۔ ہجرت/مئی ۱۳۴۶ہش/۱۹۶۷ء صفحہ ۴
    ۳۱۹۔
    الفضل ۷۔ شہادت/اپریل ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۳
    ۳۲۰۔
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ۳۲۰۔
    رسالہ خالد ربوہ امان/مارچ ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۱۵۔۱۹
    ۳۲۱۔
    الفضل ۸۔ ظہور/اگست ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۳۔۴
    ۳۲۲۔
    الفضل ۱۵۔ وفا/جولائی ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء صفحہ ۵ کالم نمبر۵
    ۳۲۳۔
    مسز عزیزہ والٹر WALTER) AZIZAH ۔(MRS کا انتقال ۱۳۴۷ہش/۱۹۶۸ء میں ہوا۔ آپ ہالینڈ کی نہایت مخلص نومسلمہ اور سچ مچ ولیہ تھیں جو ۱۹۵۰ء سے احمدیہ مشن کے ساتھ وابستہ ہوئیں۔ اس خاتون کو مسجد سے ایک والہانہ تعلق تھا۔ مسجد ہیگ کے محراب کی تزئین اور دیواروں پر آیات قرآنی کے قطعات انہیں کے لکھے ہوئے ہیں۔ یہ بہن بہت دعاگو اور مستجاب الدعوات تھیں۔ بسااوقات جب کوئی مشکل درپیش ہوتی تو انہیں دعا کی تحریک کی جاتی۔ حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب بھی بسااوقات انہیں دعا کے لئے کہتے اور جناب الٰہی سے ان کی قبولیت کی بشارت بھی پاتیں۔ حضرت چوہدری محمدظفر اللہ خاں صاحب نے ان کی وفات پر خطبہ جمعہ میں ان کی خوبیوں کا ذکر فرمایا اور اس نیک خاتون کو >ایک نہایت صالحہ` عابدہ` زاہدہ` صاحبہ رئویاوکشوف اور مستجاب الدعوات< کے الفاظ سے یاد فرمایا۔ )الفضل ۱۱۔ اخاء/اکتوبر ۱۳۴۷ہش/۱۹۶۸ء )مضمون حافظ قدرت اللہ صاحب( الفضل ۱۲۔ نبوت/نومبر ۱۳۴۷ہش/۱۹۶۸ء صفحہ ۳ )مشن رپورٹ از جناب عبدالحکیم صاحب اکمل(
    ۳۲۴۔
    رسالہ خالد امان/مارچ ۱۳۴۸ہش/۱۹۶۹ء صفحہ ۱۵۔۱۹
    ۳۲۵۔
    زائرین کی آمد کی کثرت دیکھ کر جون ۱۹۷۱ء میں مسجد کو ظاہری طور پر مزید دلکش بنانے کی کوشش کی گئی مسجد اور مشن ہائوس ایک ہی عمارت پر مشتمل ہے۔ مسجد کو دوسرے حصہ عمارت سے نمایاں کرنے کے لئے ایک مختلف رنگ یعنی ہلکا سبزرنگ سے روغن کردیاگیا ہے جس کی وجہ سے اب یہ مسجد پہلے سے زیادہ دیدہ زیب اور نمایاں ہوگئی ہے اور زائرین کے لئے اس کی ظاہری صورت میں پہلے سے زیادہ کشش پیدا ہوگئی ہے۔ یہ کام مبلغ ہالینڈ صلاح الدین خاں صاحب نے اپنی نگرانی میں ہیگ کی ٹائون کمیٹی کے ایک ممتاز انجنیئر VERHOECKS ۔MR کے رضاکارانہ تعاون سے کرایا۔ یہ انجنیئر احمدی تو نہیں ہیں مگر پھر بھی ہماری مسجد کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے۔ اور تعمیری نوعیت کے کاموں میں بلا معاوضہ تعاون کرتے ہیں۔
    ۳۲۶۔
    آمد دسمبر ۱۹۵۸ء )تفصیل کوائف کے لئے ملاخطہ ہوا الفضل ۷۔ شہادت/اپریل ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء صفحہ ۳۔۴(
    ۳۲۷۔
    آمد ۲۶۔ مئی ۱۹۶۰ء )تفصیل الفضل ۱۵۔ وفا/جولائی ۱۳۳۹ہش/۱۹۶۰ء صفحہ ۵ پر شائع شدہ ہے(
    ۳۲۸۔
    آمد اگست ۱۹۵۹ء )تفصیل الفضل ۸۔ ظہور/اگست ۱۳۳۸ہش/۱۹۵۹ء(
    ۳۲۹۔
    الفضل ۱۸۔ وفا/جولائی ۱۳۴۳ہش/۱۹۶۴ء صفحہ ۴ پر آپ کی آمد کا مفصل ذکر ہے۔
    ۳۳۰۔
    ملیشیا فیڈریشن کے غرک تنکو عبدالرحمن صاحب )سابق وزیراعظم ملایا( تھے جنہوں نے یہ تحریک ۱۹۶۱ء میں پیش کی فیڈریشن میں ملایا کی گیارہ ریاستوں کے علاوہ سراوک اور سباہ بھی شامل ہیں جو جزیرہ بورنیو کا حصہ ہیں سباہ کی موجودہ واحد سیاسی اور برسراقتدار پارٹی O۔W۔S۔U ہے۔ سباہ کے مشہور شہروں کے نام یہ ہیں۔ کوتا کینا بالو )جیسلٹن( سنڈاکن۔ توائو۔ لاحدداتو۔ سمپورنا۔ لابوان۔ گننگائو۔ بیفرٹ۔ رانائو توران۔ قریب تازہ اعدادوشمار کے مطابق سباہ کی آبادی ۶۰۱۴۴۸ نفوس پر مشتمل ہے۔ کدازن قوم (KADAZAN) کل آبادی کا ایک تہائی حصہ ہے اور اس کی اکثریت مشرک ہے۔ اس کے علاوہ ملائی` چینی` باجائو` مورت` یورپین` پاکستانی اور انڈین لوگ بھی آباد ہیں۔ پاکستانی` ملائی اور باجائو سب کے سب اور کدازن اور انڈین لوگوں میں سے بھی بعض مسلمان ہیں۔ عیسائی بھی بھاری تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ہندو` سکھ اور بدھ بھی موجود ہیں۔
    ۳۳۱۔
    >تاریخ اشاعت اسلام< صفحہ ۵۴۰۔۵۴۱ )مولفہ مولانا شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی( ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز لاہور ۱۳۸۰ہش/۱۹۶۲ء
    ۳۳۲۔
    الفضل ۴۰۔ ظہور/اگست ۱۳۳۰ہش/۱۹۵۱ء صفحہ ۶
    ۳۳۳۔
    وفات ۱۷۔ صلح/جنوری ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء جماعت احمدیہ لابوان کے پریذیڈنٹ اور موصی تھے۔ آپ کی تبلیغ سے بہت سے لوگ شامل احمدیت ہوئے۔ جماعت کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے )الفضل ۳۔ تبلیغ/فروری ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۵(
    ۳۳۴۔
    بورنیو میں دکاندار کو توکے )سیٹھ( کے نام سے پکارتے ہیں۔
    ۳۳۵۔
    الفضل ۳۔ امان/مارچ ۱۳۴۳ہش/۱۹۲۴ء
    ۳۳۶۔
    ولادت ۳۱۔ جنوری ۱۸۹۸ء وفات ۳۱۔۳۰ جنوری ۱۹۶۱ء۔ حضرت خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے فرزند اکبر تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی بذریعہ خط بیعت کرکے داخل احمدیت ہوئے۔ ۱۹۱۵ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک کا اور ۱۹۲۶ء میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم۔بی۔بی۔ایس کا امتحان پاس کیا۔ اور کالج کے زمانہ میں آپ احمدیہ ہوسٹل میں رہے۔ امتحان پاس کرنے کے بعد حضرت مصلح موعود کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں آپ مشرقی افریقہ تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ بیرونی` کمپالہ اور میگاڈی میں رہنے کے بعد ۱۹۳۵ء میں واپس آئے اور کراچی میں پریکٹس شروع کردی۔ کراچی میں تین سال گزارنے کے بعد پھر مشرقی افریقہ چلے گئے اور میگاڈی وغیرہ میں پانچ سال تک رہے۔ یہ زمانہ دوسری جنگ عظیم کا تھا۔ حکومت کو ڈاکٹروں کی خدمات کی ضرورت تھی چنانچہ ڈاکٹر صاحب کیپٹن کے عہدہ پر فوج میں متعین ہوگئے۔ اس دوران میں انہوں نے زیادہ تر وقت مشرق بعید کے مختلف ممالک میں گزارا۔ ۱۹۴۶ء میں فوج سے سبکدوش ہوکر قادیان واپس آگئے۔ )الفرقان )ربوہ( شہادت/اپریل ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء(
    ۳۳۷۔
    الفضل ۴۔ شہادت/اپریل ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء صفحہ ۱
    ۳۳۸۔
    الفضل ۱۰۔ صلح/جنوری` ۲۔ تبلیغ/فروری ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء
    ۳۳۹۔
    کوالالمپور )ملایا( میں ۱۳۔ ستمبر ۱۹۱۸ء کو پیدا ہوئے۔ ۱۹۳۷ء میں حضرت مولانا غلام حسین صاحب ایاز مبلغ سنگاپور کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ۲۴۔ جنوری ۱۹۳۸ء کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے قادیان آئے اور ۱۹۴۶ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد اپنی زندگی حضرت مصلح موعود کی تحریک جدید کے ذیر انتظام تبلیغی جہاد میں مصروف عمل رہے۔
    ۳۴۰۔
    الفضل ۲۹۔ نبوت/نومبر ۱۳۲۵ہش/۱۹۴۶ء صفحہ ۱
    ۳۴۱۔
    آپ نسلاً چینی اور پیدائشی اعتبار سے ساباہ کے باشندہ ہیں۔ ابتداء میں بدھ مذہب کے پیروکار تھے۔ لابوان میں مقیم احمدی بزرگوں )توکے عبدالقادر صاحب` سوکارمن صاحب اور سلیم شاہ صاحب( کے ذریعہ دولت احمدیت نصیب ہوئی۔ ۱۳۳۷ہش/۱۹۵۸ء میں آپ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زیارت کے لئے پہلے ربوہ میں اور پھر دیار حبیب کی برکات سے مستفید ہونے کے لئے قادیان تشریف لے گئے۔ ساباہ مشن کے نہایت اور مفید اور مخلص وجودوں میں ممتاز شخصیت ہیں۔ مبلغین احمدیت کا خاص احترام کرتے ہیں۔ دینی معلومات میں اضافہ کرنے اور دوسروں تک پیغام حق پہنچانے کا بہت شوق ہے۔
    ۳۴۲۔
    یہ علاقہ آج تک احمدیت کے خلاف تعصب میں حدسے بڑھا ہوا ہے۔ یہاں کے عوام احمدیوں سے بات تک کرنا گوارا نہیں کرتے۔
    ۳۴۳۔
    الفضل ۲۳۔ نبوت/نومبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۴
    ۳۴۴۔
    الفضل ۶۔ صلح/جنوری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۸
    ۳۴۵۔
    محترم زہدی صاحب کے خودنوشت غیرمطبوعہ حالات سے ماخوذ۔
    ۳۴۶۔
    الفضل ۲۳۔ نبوت/نومبر۔ ۱۰۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء
    ۳۴۷۔
    الفضل ۲۳۔ نبوت/نومبر ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۴
    ۳۴۸۔
    الفضل ۱۶۔ صلح/جنوری ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۵
    ۳۴۹۔
    الفضل ۹۔ تبلیغ/فروری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۵
    ۳۵۰۔
    ایضاً
    ۳۵۱۔
    الفضل ۳۔ احسان/جون ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۵
    ۳۵۲۔
    الفضل ۹۔ تبلیغ/فروری ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۵
    ۳۵۳۔
    رپورٹ مولوی محمد سعید صاحب انصاری محررہ ۱۵۔ شہادت/اپریل ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء )آپ کی تشریف آوری کا تذکرہ آگے آرہا ہے(
    ۳۵۴۔
    الفضل ۳۔ احسان/جون ۱۳۲۸ہش/۱۹۴۹ء صفحہ ۵
    ۳۵۵۔
    مکتوب مولوی محمد سعید صاحب انصاری محررہ ۷۔ صلح/جنوری ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ء از لابوان۔
    ۳۵۶۔
    رپورٹ ہائے مولوی محمد سعید صاحب انصاری ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء
    ۳۵۷۔
    رپورٹ مولوی محمد سعید صاحب انصاری محررہ یکم احسان/جون ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء از لابوان
    ۳۵۸۔
    اس اشتہار کی ایک کاپی مولوی صاحب موصوف کے فائل بابت ۳۰۔۱۳۲۹ہش/۵۱۔۱۹۵۰ء میں )جو وکالت تبشیرتحریک جدید ربوہ کی تحویل میں ہے( آج تک محفوظ ہے۔
    ۳۵۹۔
    غیرمطبوعہ رپورٹ )وکالت تبشیرتحریک جدید ربوہ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے(
    ۳۶۰۔][رانائو کے علاقہ میں پانچ نیٹوچیف تھے ان میں مسلمان یہی ایک تھے جو مرزا محمد ادریس صاحب کے قیام رانائو کے دوران ۱۸۔ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۳۴ہش/۱۹۵۵ کو بیعت کرکے داخل سلسلہ احمدیہ ہوگئے۔ مرزا محمد ادریس صاحب کی طرف سے جب ان کا بیعت فارم حضرت مصلح موعود کی خدمت میں موصول ہوا تو حضور نے ارشاد فرمایا۔
    >ان کو کہیں کہ ہمیں تو آپ لوگ آگے نہیں آنے دیتے اب آپ کا کام ہے کہ اپنے قبیلے کو احمدی بنائیں اللہ تعالیٰ آپ کو پائیز (POINEER) بنائے اور دیتی برکات عطا فرمائے۔
    نیٹو چیف امان پر بعد میں بڑی سختی کی گئی اور انگریز ڈسٹرکٹ آفیسر اور مسلمان نائب افسر دونوں نے الگ الگ دھمکی دی کہ احمدی ہوجانے سے تم چیف نہ رہو گے مگر وہ نہایت پامردی سے حق پر قائم رہے۔
    ۳۶۱۔
    تبلیغی رپورٹ مرزا محمد ادریس صاحب ۱۹۵۵ء
    ۳۶۲۔
    اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیاوی لحاظ سے بھی غیرمعمولی ترقی دی۔ احمدیت کو قبول کرتے وقت وہ محکمہ جنگلات میں معمولی کلرک تھے لیکن اب وہ اسی محکمہ میں اعلیٰ افسر ہیں۔ ابھی حال ہی میں گورنمنٹ کے خرچ پر وہ ہالینڈ میں مزید ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آئے ہیں اور مزید ترقی حاصل کی ہے۔
    ۳۶۳۔
    مبلغین بورنیو کی طرف اشارہ ہے )مولف(
    ۳۶۴۔
    الفضل ۵۔ احسان/جون ۱۳۳۵ہش/۱۹۵۶ء صفحہ ۳
    ۳۶۵۔
    ریکارڈ کالت تبشیر` الفرقان )بوہ( شہادت/اپریل ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۳۴
    ۳۶۶۔
    الفضل ۸۔ فتح/دسمبر ۱۳۴۰ہش/۱۹۶۱ء صفحہ ۳
    ۳۶۷۔
    ایضاً
    ۳۶۸۔
    ایک روزنامہ اخبار >ساباہ ٹائمز اینڈ نارتھ بورنیو< کے ایڈیٹرو مالک مسٹرڈونلڈ سیٹفنز STEPHANS) (DONALD تھے جو ملک کی آزادی کے بعد ملیشیابن جانے پر ساباہ کے پہلے وزیراعلیٰ چنے گئے اور اب آسٹریلیا میں ملیشیا کے ہائی کمشنر ہیں۔
    ۳۶۹۔
    ایضاً
    ۳۷۰۔
    الفضل ۲۷۔ تبلیغ/فروری ۱۳۴۳ہش/۱۹۶۴ء صفحہ ۳
    ۳۷۱۔
    الفضل ۳۰۔ صلح/جنوری ۱۳۵۵ہش/۱۹۶۶ء صفحہ ۱
    ۳۷۲۔
    مکتوب مورخہ یکم نبوت/نومبر ۱۳۵۰ہش/۱۹۷۱ء بنام مولف تاریخ احمدیت
    ۳۷۳۔
    ان مقامات کا انتخاب اس لئے کیاگیا تھا کہ ان میں احمدی ڈاکٹر قیام پذیر تھے۔ چنانچہ عدن میں ڈاکٹر فیروز الدین صاحب اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب` شیخ عثمان میں ڈاکٹر محمد خاں صاحب اور تواہی میں ڈاکٹر کیپٹن عزیز بشیری صاحب رہتے تھے۔ مولوی صاحب موصوف ہفتے میں دو دو دن شیخ عثمان اور تواہی میں اور تین دن عدن میں تبلیغی فرائض سرانجام دیتے تھے اور جمعہ بھی یہیں پڑھاتے تھے۔
    ۳۷۴۔
    عرب ۲۔ ہندی گجراتی ۱۔ پنجابی ۲
    ۳۷۵۔
    عدن سے ۵۰ میل کے فاصلہ پر
    ۳۷۶۔
    شیخ عثمان سے ۱۶ میل دور ایک چھوٹی سی آزاد ریاست! جس کا مرکز حوط ہے۔
    ۳۷۷۔
    میجر ڈاکٹر محمد خاں` عبداللہ محمد شبوطی` عبدہ سعید صوفی` محمد سعیدصوفی` احمد محمد شبوطی` سیف محمد شبوطی نے اس جلسہ کی کامیابی میں نمایاں حصہ لیا۔
    ۳۷۸۔
    عدن مشن کے مرکزی ریکارڈ سے ماخوذ
    ۳۷۹۔
    حال سیالکوٹ
    ۳۸۰۔
    محترم ملک صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ >یہ میری ذاتی تحریر تھی اس کے لئے وہاں دوبار جانا پڑا۔ دوسری بار تھانیدار کو لے کر مسجد دارالفضل کی۔۔۔۔ تصویر بھی لی< غیرمطبوعہ مکتوب
    ۳۸۱۔
    مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے کا بیان ہے کہ
    یہ باغ ایک سکھ نے الاٹ کروالیا تھا لیکن ہماری طرف سے اس کو قبضہ نہیں لینے دیاگیا۔ پھر سردار امولک سنگھ صاحب مجسٹریٹ درجہ اول )متعین قادیان( نے اس بارہ میں مقدمہ کی سماعت کی اور بطور متبرک بہشتی مقبرہ کا حصہ تسلیم ہوکر ہمیں مل گیا لیکن گزشتہ سال )۱۹۶۳ء ناقل( جو احمدیہ محلہ کے نکاس مکانات کی قریباً سوا دو لاکھ روپیہ قیمت طلب کی گئی اور عدم ادائیگی کی صورت میں مرکزی وزارت آبادی نے نیلام کرنے کی دھمکی دی تھی یہ رقم صدر انجمن ادا کررہی ہے جس میں اس سکھ کی نیش زنی سے بڑے باغ کی قیمت چوالیس ہزار روپیہ بھی شامل کردی گئی ہے۔ )مکتوبات اصحاب احمد جلددوم(
    ۳۸۲۔
    مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے نے مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم میں لکھا ہے۔
    اس وقت تواراضی کا انتظام نہ ہوسکا چند سال بعد بعض درویشوں نے اردگرد کے غیرمسلم مہاجرین سے ٹھیکہ پر اراضی لے کر کاشت کرنا شروع کی اور اب تک کرپاتے ہیں۔ صدر انجمن احمدیہ نیز اس کے صیغہ پراویڈنٹ فنڈ اور بعض درویشوں نے بہشتی مقبرہ کے قریب اراضی خریدیں مگر اب دور دور بھی خریدلی گئی ہیں۔
    ۳۸۳۔
    یہاں اب ملک محمدبشیر صاحب کا ٹال ہے۔ علاوہ ازیں پرائیویٹ رنگ میں بھی متعدد درویش فروخت ایندھن کاکام کررہے ہیں۔ )مکتوب اصحاب احمد جلددوم(
    ۳۸۴۔
    اس سلسلہ میں طویل خط و کتابت ہوئی لیکن بعد کو کسٹوڈین کے قوانین جاری ہونے کے باعث کرایہ نہیں ملا اور یہ عمارتیں نکاس قرارپائیں۔ )مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم(
    ۳۸۵۔
    یہ سب موٹریں جو ایام فسادات میں عارضی طور پر احمدیوں سے حاصل کی گئی تھیں مستقل طور پر ضبط کرلی گئیں۔
    ۳۸۶۔
    یہ مستورات بحفاظت قادیان سے پاکستان بھجوادی گئی تھیں )مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم(
    ۳۸۷۔
    بہت سے مکان بطور ملبہ فروخت ہوگئے تھے مکرم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی مرحوم نے بہت محنت کرکے تمام ایسے مکانات کی محلہ وار فہرست حکومت کی مع اس تفصیل کے بھجوائی کہ ان کا کونسا حصہ منہدم ہے؟ بفضلہ تعالیٰ اس کے بعد مکانات کی ناجائز فروخت اور منہدم کرنے کا سلسلہ ختم ہوگیا )مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم(
    ۳۸۸۔
    صدر انجمن احمدیہ نے بعد میں مکمل محکمانہ ثبوت نہ ہونے کے باعث دعوی ترک کرکے یہ پریس خرید لیا تھا )مکتوبات اصحاب احمدجلد دوم(
    ‏]h1 [tag ۳۸۹۔
    تاریخ احمدیت جلد نمبر ۱۱ صفحہ ۴۱۱ و صفحہ ۴۳۹ میں اس پیغام کا متن سالانہ جلسہ قادیان ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کے کوائف کے تحت درج ہوچکا ہے۔
    ۳۹۰۔
    ملک صلاح الدین صاحب تحریر فرماتے ہیں >کچھ عرصہ بعد سردار امولک سنگھ مجسٹریٹ نے سکھوں کو بلاکرنا ناجائز قبضہ والا حصہ خالی کرنے اور ہمیں قبضہ کرنے کو کہا اور اسی روز کی مہلت ہمیں دی گئی۔ غیر مسلم اس حصہ سے ملبہ اٹھانے میں تاخیر کرنا چاہتے تھے۔ بحمداللہ خاکسار کی تجویز کامیاب ہوئی کہ ہم خود مل کر طبہ ان کی طرف ڈال کر درمیانی دیوار شام تک کھڑی کردیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔< ۳۹۱۔
    تفصیل کے لئے ملاخطہ ہو >تاریخ احمدیت< جلد نمبر۱۱ صفحہ ۴۴۴
    ۳۹۲۔
    نوائے وقت ۱۲۔ اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۱
    ۳۹۳۔
    نوائے وقت ۱۲۔ اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۲ کالم نمبر۲
    ۳۹۴۔
    الفضل ۶۔ وفا۔ ۳۰ وفا ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء حضرت میاں صاحب ۲۰۔ نومبر ۱۹۴۷ء کو وارد انگلستان ہوئے۔ چنانچہ مشتاق احمد صاحب باجوہ اور لندن کے دوسرے احمدیوں نے آپ کا استقبال کیا۔
    ۳۹۵۔
    >سیرت حضرت مرزا شریف احمد< صفحہ ۸۵۔۸۶ )مولفہ چوہدری عبدالعزیز صاحب واقف زندگی۔ ناشر مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ(
    ۳۹۶۔
    الفضل ۲۴۔ تبوک ۱۹۲۶ء صفحہ ۳
    ۳۹۷۔
    الفضل ۱۶۔ ہجرت ۱۳۴۶ہش صفحہ ۳
    ۳۹۸۔
    بحوالہ الفضل ۷۔ ہجرت/مئی ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء صفحہ ۴
    ۳۹۹۔
    الفضل ۸۔ صلح۔ ۱۰۔ صلح` ۱۰۔ تبلیغ ۱۳۲۶ہش صفحہ ۳
    ۴۰۰۔
    الفضل ۸۔ صلح ۱۳۲۶ہش
    ۴۰۱۔
    الفضل ۴۔ فتح ۱۳۲۶ہش
    ۴۰۲۔
    افتتاحیہ سول اینڈ ملٹری گزٹ ۱۲۔ اگست ۱۹۵۲ء )ترجمہ(
    ‏]h1 [tag ۴۰۳۔
    ڈان ۳۰۔ دسمبر ۱۹۴۷ء
    ۴۰۴۔
    >طاقت< ۳۰۔ دسمبر ۱۹۴۷ء
    ۴۰۵۔
    >سفینہ< ۳۰۔ دسمبر ۱۹۴۷ء
    ۴۰۶۔
    روزنامہ >انقلاب< لاہور یکم جنوری ۱۹۴۸ء صفحہ ۲ کالم نمبر۱
    ۴۰۷۔
    الفضل ۳۱۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء صفحہ ۴
    ۴۰۸۔
    الفضل ۵۔ تبوک ۱۳۲۶ہش صفحہ ۱ ۳۱۳ اصحاب کبار میں آپ کا نمبر ۳۰۲ نمبر پردرج ہے )ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۳۲۸( ۱۸۹۴ء میں قبول احمدیت کا شرف حاصل کیا۔ پہلی مرتبہ اگست ۱۸۹۶ء میں قادیان کی زیارت کی اور ایک ہفتہ مقیم رہے۔ دوسری بار فروری ۱۸۹۸ء میں آئے اور پورا مہینہ رمضان المبارک کا مرکز احمدیہ میں گزارا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بابرکت مجلس سے مستفیذ ہوئے۔ ۱۸۹۹ء سے مرکز سلسلہ کے تمام اخبارات و کتب ورسائل باقاعدہ منگوانے شروع کئے۔ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر اگرچہ منکرین خلافت کے ٹریکٹ قبل از وقت پہنچے مگر اپنے رئویا ومکاشفات کی بناء پر پر بلاتا مل بیعت خلافت کرلی۔ حضرت منشی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ >حضرت اقدس کے اکثر خطوں کا ذخیرہ میرے پاس محفوظ تھا جن کو میں نہایت محبت اور احتیاط سے رکھا کرتا لیکن افسوس ایک دفعہ سیلاب آنے کے باعث جبکہ میں اپنی جائے رہائش پر موجود نہ تھا تمام اسباب کوٹھے سمیت دریابرد ہوگیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون< )الفضل ۲۷۔ وفا ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء صفحہ ۶ مضمون میاں محمد یامین صاحب تاجر کتب قادیان(
    ۴۰۹۔
    الفضل ۲۸۔ تبوک ۱۳۲۶ہش صفحہ ۱
    ۴۱۰۔
    الفضل ۱۹۔ اخاء ۱۳۴۶ہش صفحہ ۲ کالم نمبر۲ آپ مچھرالہ تحصیل ننکانہ میں ۱۸۸۱ء میں پیدا ہوئے۔ ہوش سنبھالی تو باپ کا سایہ سرسے اٹھ گیا اور آپ حضرت چوہدری رستم علی صاحب مدار ضلع جالندھر کی کفالت میں آگئے جو ان دنوں منٹگمری میں کورٹ انسپکٹر تھے۔ جلسہ سالانہ ۱۸۹۳ء میں پہلی بار قادیان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ مئی ۱۸۹۵ء میں بیعت کی اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخلہ لے لیا ۱۹۰۵ء میں تعلیم الاسلام کالج قادیان سے ایف۔ اے کا امتحان پاس کیا اور اکتوبر ۱۹۰۵ء میں ایم او کالج علی گڑھ میں داخل ہوگئے۔ ۱۹۰۷ء میں تعلیم کے دوران حضرت مسیح موعود کی پہلی تحریک وقف زندگی پر لبیک کہی۔ ۱۹۱۲ء میں آپ نے حضرت خلیفہ اول کی ہدایت پر چھ ماہ کے اندر قرآن مجید حفظ کرلیا۔ ۲۰۔ فروری ۱۹۱۵ء کو جزیرہ ماریشس میں بغرض تبلیغ بھجوائے گئے اور ۱۶۔ مارچ ۱۹۲۷ء کو قادیان میں واپس تشریف لائے۔ بعدازا بیس سال تک پہلے مدرستہ البنات میں پھر ہائی سکول میں بعدازاں عمومی رنگ میں جماعت کی تعلیمی و تربیتی خدمات انجام دیتے رہے۔ >)روایات صحابہ< غیرمطبوعہ جلد نمبر۷ صفحہ ۲۶۹ الفضل ۳۔ فتح ۱۳۲۶ہش ۱۱۔ ہجرت ۱۳۲۷ہش(
    ۴۱۱۔
    الفضل ۱۳ امان ۱۳۲۷ہش صفحہ ۴ )والد ماجد مولانا محمد اسعمیل صاحب دیا لگڑھی مربی سلسلہ احمدیہ حال انچارج شعبہ رشتہ ناطہ اصلاح و ارشاد ربوہ( ۱۹۰۰ء میں مولوی حکیم نوالدین صاحب مرحوم ساکن ہجکہ ضلع شاہ پور کی تبلیغ سے حضرت میسح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت کا شرف ہاصل کیا اور آپ کے ذریعہ دیال گڑھ ضلع گورداسپور کی جماعت کی بنیاد پڑی۔ ۳۔۱۹۰۲ء میں مقدمہ گورداسپور کے دوران گورداسپور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی زیارت اور حضور کی روحانی مجلس سے فیضیاب ہونے کی سعادت حاصل کی۔ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے آپ کو ارشاد فرمایا کہ آپ تبلیغ میں لگے رہیں مومن کبھی اکیلا نہیں رہتا چنانچہ خدا کے فضل سے دیال گڑھ میں آہستہ آہستہ ۶۰۔۶۵ نفوس پر مشتمل ایک مخلص اور فعال جماعت پیدا ہوگئی۔ چوہدری صاحب نہایت راست گو` پاکباز` بے نفس اور منکسرالمزاج بزرگ تھے۔ آپ تحریک جدید دفتر اول کے مجاہد اور موصی تھے اور وصیت کا حصہ اپنی زندگی میں ہی ادا کردیاتھا۔ ۱۱۔۱۲ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کے سب سے بڑے کا نوائے میں قادیان سے ہجرت کرکے لاہور آرہے تھے کہ لاہور کے قریب چلتی بس سے نیچے گر پڑے۔ سر اور پائوں میں نہایت سخت چوٹیں آئیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔ )الفضل ۳۔۴۔ امان/مارچ ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء(
    ۴۱۲۔
    الفضل ۱۲۔ ماہ نبوت ۱۳۲۶ہش صفحہ ۱
    ‏]1h [tag ۴۱۳۔
    الفضل ۱۴۔ نبوت ۱۳۲۶ہش صفحہ ۱۔ سلسلہ احمدیہ کے نہایت قیمتی وجود` سیدنا حضرت مسیح موعود کے مخلص ترین صحابہ میں سے ایک نمایاں شخصیت اور مترجم قرآن مجید انگریزی۔ ۱۸۹۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آئے اور آخر دم تک سلسلہ احمدیہ کی خدمات بجالاتے رہے۔ >تاریخ احمدیت< جلد دوم اور اس کے بعد کی جلدوں میں آپ کا ذکر متعدد باد آچکا ہے )تفصیلی حالات کے لئے ملا خطہ ہو< سیرت حضرت مولانا شیرعلی< از ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض(
    ۴۱۴۔
    الفضل ۲۔ شہادت ۱۳۲۷ہش صفحہ ۴ حضرت مسیح موعود کے قدیم صحابی حضرت مرزا جلال الدین صاحب بلانوی )اصحاب کبار ۳۱۳ میں نمبر اول( کے منجھلے بیٹھے تھے۔ ۱۹۰۶ء میں مستقل ہجرت کرکے قادیان میں دھونی رمادی اور افسر جائداد اور محاسب کی حیثیت سے گرانقدر خدمات انجام دینے کے بعد جب ۱۹۳۲ء میں ریٹائر ہوئے تو حضرت مصلح موعود نے آپ کے اعزاز میں دی گئی الوداعی پارٹی میں نہایت شاندار الفاظ میں آپ کی تعریف فرمائی۔ آپ صاحب کشف والہام تھے۔ آپ کو بتایاگیا کہ آپ کی وفات ۸۰ برس کی عمر میں دو صحابیوں کے انتقال کے بعد مقدر ہے۔ چنانچہ ایسا ہی عمل میں آیا )الفضل ۲۔ شہادت ۱۳۲۷ہش صفحہ ۴( حضرت مصلح موعود نے ۲۱ ماہ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کو لاہور میں نماز جمعہ کے بعد آپ کا جنازہ غائب پڑھا اور خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا۔
    >مرزا محمد اشرف صاحب پنشز جو قادیان کے رہنے والے تھے جہلم میں وفات پاگئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سابقون الاولون صحابہ میں سے ایک مرزا جلال الدین صاحب بلانی ضلع گجرات کے ہوتے تھے یہ ان کے لڑکے تھے اور بڑی دیر تک قادیان میں محاسب رہے۔ نہایت مخلص اور نیک انسان تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے صحابی تھے۔ ان کے والد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے قرآن کریم کی کلید لکھنے پر مامور فرمایا تھا اور انہوں نے ایک مکمل کلید لکھی بھی جو افسوس ہے کہ اب تک شائع نہیں ہوسکی۔< )الفضل ۹۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء صفحہ ۶(
    ‏tav.11.12
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    جماعت احمدیہ کے نئے مرکز ربوہ کی بنیاد
    دوسرا باب
    حضرت مصلح موعود کی استحکام پاکستان سے متعلق مغربی پاکستان کے مشہور شہروں میں پبلک تقاریر
    سے لیکر
    جماعت احمدیہ کے نئے مرکز ربوہ کی بنیاد تک
    )خلافت ثانیہ کا چونتیسواں سال ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء(
    ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کا سال اپنی گونا گوں تعمیری خصوصیات کے باعث ایک نہایت بابرکت اور غیرمعمولی اہمیت کا حامل سال ہے جس کی بشارت رب رحیم نے اپنے خلیفہ برحق سیدنا المصلح الموعود کو برسوں قبل دے رکھی تھی چنانچہ حضور نے ۲۔ صلح/جنوری ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کو رتن باغ میں اس سال کا پہلا خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ۔
    >جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۴۴ء میں مجھے ایک رئویا میں بتایا تھا یہ سال اپنے اندر نئی نئی امیدیں رکھتا ہے۔<
    حضرت امیرالمومنین نے اس اجمال کی تفصیل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا۔
    >مارچ ۱۹۴۴ء میں میں نے ایک رئویا دیکھا جبکہ بعض لوگ میرے متعلق ایسی خبریں شائع کررہے تھے اور کچھ احمدی دوست بھی نہ معلوم کن اثرات کے ماتحت یہ خوابیں دیکھ رہے تھے کہ میری زندگی کے دن ختم ہورہے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے جب میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو مجھے ایک نظارہ دکھایاگیا کہ ایک سمندر ہے اور اس میں کچھ بائے (BUOY) ہیں۔ بوائے انگریزی کا لفظ ہے اور چونکہ یہ صنعتی شے ہے اس لئے اردو زبان میں اس کا کوئی ترجمہ نہیں )یہ بوائے ڈھول سے ہوتے ہیں جنہیں آہنی زنجیروں سے سمندر میں چٹانوں کے ساتھ باندھا ہوتا ہے اور وہ سمندر میں تیرتے پھرتے ہیں اور جو جہاز وہاں سے گزرتے ہیں ان کو دیکھ کر جہاز ران یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ اس بوائے سے چٹان قریب ہے اور اس سے بچ کر چلنا چاہئے۔ اور اگر سمندر کے اندر چٹانوں کے نشان بتانے کے لئے بوائے نہ لگے ہوئے ہوں اور جہاز آجائے تو جہاز کے چٹان سے ٹکرا کر ڈوب جانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔( تو میں نے دیکھا کہ سنمدر میں اسی قسم کے بوائے لگے ہوئے ہیں اور ان کی زنجیریں بہت لمبی ہیں اور دور تک چلی جاتی ہیں۔ خواب میں میں خیال کرتا ہوں کہ اس بوائے کا تعلق میری ذات سے ہے اور تمثیلی رنگ میں وہ بوائے میں ہی ہوں اور مجھے بتایاگیا کہ یہ نظارہ پانچ سال کے عرصہ سے تعلق رکھتا ہے تب میں نے سمجھا کہ آئندہ پانچ سال کے اندر کوئی اہم واقعہ اسلام کے متعلق پیش آنے والا ہے اور گویا مسلمانوں کو اس آفت سے بچانے کے لئے میں بطور بائے ہوں۔ اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ جب تک وہ واقعہ پیش نہ آئے مجھے زندہ رکھا جائے گا۔ اس رئویا کے پورا ہونے کا ایک پہلو تو یہ بھی نظر آتا ہے کہ ہمارا ملک اس عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے آزاد ہوچکا ہے اور ایسے حالات میں آزاد ہوا ہے جن کی موجودگی میں آزادی مل جانا خلاف توقع تھا اور کسی کو یہ وہم بھی نہیں گزر سکتا تھا کہ اتنی جلدی ہمارا ملک آزاد ہوجائے گا۔ پھر آزادی ملنے کے ساتھ ہی ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جو آج سے تھوڑا عرصہ پہلے کسی کے خیال میں بھی نہ تھے۔ مسلمانوں پر ایک بہت بڑی تباہی آئی اور بہت بڑی آفت کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔ گویہ تباہی ہندوئوں پر بھی آئی مگر اس زمانہ میں جب مجھے رئویا دکھایا گیاتھا کسی شخص کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا کہ ہمارے ملک میں اتنا بڑا اور عدیم المثال تغیر آئے گا اور ہمارا ملک چند سالوں کے اندر اندر آزادی حاصل کرلے گا اور وہ آزادی ایسی ہوگی جو اپنے ساتھ بہت سی تاریکیاں اور ظلمتیں بھی رکھتی ہوگی۔ اس رئویا کے ساتھ ایک اور رئویا بھی تھی ۔۔۔ اس رئویا میں ایک مضمون بار بار مجھ پر نازل ہوا وہ پورا مضمون تو مجھے یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ اس میں بار بار بیالیس اور اڑتالیس کا لفظ آتا تھا۔۔۔۔
    بہرحال اڑتالیس کا لفظ پنج سالہ زمانہ کی طرف توجہ دلاتا تھا۔ یہ رئویا میں نے مارچ ۱۹۴۴ء میں دیکھی تھی اور یہ پنج سالہ زمانہ مارچ ۱۹۴۹ء میں ختم ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے رئویا کی تعبیر میں اگر پورا سال ہو تو اس کی کسر بھی ساتھ ہی شامل ہوتی ہے اس لئے ممکن ہے کہ پانچ سال کی کسر بھی یعنی چھ ماہ اور ملاکر یہ پنج سالہ زمانہ اکتوبر ۱۹۴۹ء کے بعد پانچواں سال شروع ہوجائے گا۔ پس یہ سال اپنے اندر بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔<۱
    سیدنا حضرت مصلح موعود کی بیان فرمودہ تعبیر بالکل دوست ثابت ہوئی اور ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء میں رونما ہونے والے متعدد واقعات خصوصاً ربوہ جیسے عالمی اور بین الاقوامی شان رکھنے والے اسلامی مرکز کی بنیاد نے اس پر ہمیشہ کے لئے مہر تصدیق ثبت کردی اور ساتھ ہی بتادیا کہ سلسلہ احمدیہ کی تاریخ ایک ایسے آسمانی قافلہ کی تاریخ ہے جس کی ہر نئی منزل کے فیصلے آسمانوں پر خدا کے شاہی دفتر میں تیار ہوتے ہیں اور پھر ان کے مطابق زمین پر تنقیذ ہوتی ہے۔
    فصل اول
    مسئلہ کشمیر سے متعلق چوہدری محمدظفراللہ خان صاحب کی شاندار ترجمانی
    ۱۹۴۸ء کا سال ایک ہنگامہ پرور سال تھا جس کا آغاز قضیئہ کشمیر سے متعلق حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب کی O۔N۔U میں شاندار ترجمانی سے ہوا۔ اس سلسلہ میں پاکستانی پریس نے خاص طور پر بہت تفصیلی خبریں سے شائع کیں جن میں سے نمونتہ چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
    ۱۔ اخبار زمیندار نے اپنی اشاعت ۲۱۔ جنوری ۱۹۴۸ء میں آپ کی تقریر کی خبر کئی شہ سرخیوں کے ساتھ دی اور لکھا۔
    لیک سکسیس۔ ۱۸۔ جنوری سلامتی کونسل میں پاکستان کے وزیرخارجہ سر محمد ظفراللہ خاں نے آج کے اجلاس میں اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ان کوششوں کا ذکر کیا جس سے پاکستان اور ہندوستان میں کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکتا تھا۔ آپ نے ان تجاویز کو رد کرتے یا جو حکومت پاکستان کی طرف سے گورنر جنرل ہندوستان کو پیش کی گئی تھیں۔
    سرمحمد ظفراللہ خاں سے بتایا۔ کہ ہم نے تجویز پیش کی تھی کہ لڑائی فوراً بندکردی جائے۔ کشمیر سے ہندوستانی افواج اور اس کے ساتھ ساتھ حملہ آوروں کو فوراً کشمیر سے نکال دیا جائے۔ اور مشترکہ کنٹرول میں آزادانہ استصواب رائے کیا جائے۔
    سرمحمد ظفراللہ خاں نے حکومت ہندوستان کے رویہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔ کہ وہ چاہتی تھی کہ طاقت کے ذور سے مسلمانوں کو کشمیر سے نکال کر وہاں قائم کرے۔ سمجھوتے کی تمام کوششیں صرف پاکستان کی طرف سے ہی کی گئیں۔ سب سے پہلے ایک کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ حکومت پاکستان نے اس دعوت کو قبول کرلیا۔ اور کشمیر کے وزیراعظم کو کراچی آنے کی دعوت دی۔ لیکن بنوں نے وہاں آنے سے انکار کردیا۔
    اس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نے یہ تجویز پیش کی۔ کہ حکومت ہندوستان کے وزیراعظم اور ان میں ایک مشترکہ کانفرنس کے ذریعے کشمیر کی مسئلہ کا مناسب حل تلاش کیا جائے اس کا ہمیں ہر جواب بتایا کہ انہیں اس معاملہ میں تمام بات چیت شیخ عبداللہ سے کی جائے۔ سرمحمد ظفراللہ نے کہا کہ شیخ عبداللہ تو ایک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان سے سمجھوتہ کی بات چیف غیر ۔۔۔۔۔ جا سکتی تھی۔
    خاطر خواہ حل
    سرمحمد ظفر اللہ خاں نے کہا۔ کہ ۱۷۔ نومبر کو ہم نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر کشمیر اور اس سے متعلقہ تمام مسائل کو ادارہ اقوام متحدہ میں پیش کردیا جائے۔ سرمحمد ظفراللہ خاں نے بتایا کہ حکومت ہندوستان نے اس تجویز کو بھی ٹھکرا دیا۔ اور اس طرح ہماری چھٹی کوشش بھی ناکام کرکے رکھ دی گئی۔
    جارحانہ حکمت عملی
    سرمحمد ظفراللہ خاں نے کہا کہ میرے پاس بھی آپ کے کافی ثبوت موجود ہیں۔ کہ حکومت ہندوستان نے کشمیر کے کبھی ۔۔۔۔۔۔میں شامل ہونے ناجائز اثر اور دبائو ڈالا۔ آپ نے بتایا۔ کہ حکومت ہندوستان کو یہ معلوم تھا کہ کشمیر نے پاکستان سے معاہدہ کررکھا ہے۔ لیکن اسی کے باوجود کبھی اس نے ڈاک اور تار کے محکمہ کو ایک لیٹر افسر کے سپرد کردیا۔ آپ نے مسلسلہ عزم جاری رکھتے ہوئے کہا۔ کہ ہندوستان کے پوسٹ اینڈ ٹیلی گرافس کے ڈائریکٹر جنرل نے لیٹر میں ڈائریکٹر جنرل برٹش پوسٹ آفس کو بتایا تھا کہ آئندہ سے کشمیر کے لئے تمام ڈاک انڈین یونین کے راستے آئے گی۔ سرمحمد ظفراللہ خاں نے کہا۔ کہ یہ سب کچھ چار ہفتہ پہلے ہوا۔ اور اس کے بعد مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے ہندوستانی یونین میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔
    پاکستان کے وزیرخارجہ سرمحمدظفراللہ خاں نے اسلامتی کونسل میں اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا۔ کہ حکومت پاکستان مہاجرین کو ازسرنو بسانے میں کامیاب ہورہی ہے۔ کہ میں دوبارہ یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں۔ کہ حکومت ہندوستان کا مقصد صرف یہی ہے۔ کہ کشمیر پر مستقل طور پر قبضہ جمایا جائے اور وہ چاہتی یہ ہے۔ کہ وہاں سے مسلمانوں کا مکمل طور پر اخراج کردیا جائے۔
    سرمحمد ظفرالل¶ہ خاں نے سلامتی کی کونسل میں بتایا۔ کہ ایک وقت تھا۔ کہ حکومت ہندوستان یہ کہتی تھی کہ اس مسئلہ میں حکومت پاکستان کو براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے فوراً ہی بعد اس نے کہا کہ اس باہمی تنازعہ کو سیکورٹی کونسل میں پیش کردیا جائے گا۔ حکومت پاکستان نے چھ بار کی سمجھوتہ کے لئے کوشش کی لیکن ہندوستان نے ان تمام کوششوں کو ناکام بنادیا ہے۔
    سرمحمد ظفراللہ خاں نے کہ رہائی کے بعد شیخ عبداللہ کس مقصد کے حصول کے لئے دہلی گئے تھے۔ کہ وہ اس لئے دہی گئے کہ کشمیر کے یونین میں شامل ہونے کے لئے حکومت ہندوستان سے کوئی سازباز کریں۔
    پاکستانی وفد کے قائد نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت ہندوستان کے یہ الزامات طور پر ناجائز اور بے بنیاد ہیں۔ کہ حکومت پاکستان نے ضروری اشیاء کی نقل و حمل کو روک دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی مشکلاحات کی ناساز گاری تھی میرا مقصد ریاست پر کوئی ناجائز بوجھ ڈالنا نہ تھا۔
    سرمحمد ظفراللہ خاں نے کہا کہ دراصل کشمیر میں ڈوگرہ افواج مسلمانوں پر بدستور کررہی تھیں۔ چنانچہ ان حالات میں مسلمان ڈرائیوروں نے کشمیر میں حفاظتی فوج کے بغیر جانے سے انکار کردیا۔
    مجھے سخت افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس وقت حکومت ہندوستان سے کسی سوال کا جواب بن نہیں پڑتا۔ تو اس کی یہ عادت ہے کہ وہ صاف انکار کردیتی ہے۔
    سرمحمد ظفراللہ خان نے کہا۔ کہ فسادات کے دوران میں ہیں ادارہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کررہا تھا۔ میں نے ہندوستان کے نمائندوں مسز وجے لکشمی پنڈت سے ان فسادات کا ذکر کیا۔ آپ نے اپنے بھائی پنڈت نہرو کو تار بھیجا۔ پنڈت نہرو نے جوابی اطلاع دی کہ اس ضلع میں بالکل امن تھے۔ اور کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی۔ میں پوچھتا ہوں۔ کہ ایسی حکومت پر کس طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے۔
    اس کے بعد آپ نے ان الزامات کا ذکر کیا۔ جو حکومت ہندوستان نے پاکستان پر لگائے تھے۔ یونین نے کہا۔ کہ پاکستان کشمیر میں حملہ آوروں کو پٹرول اور دوسرا فوجی سامان مہیا کررہی ہے۔
    سرمحمد ظفراللہ خاں نے کہا۔ کہ جنگ کے بعد کئی ایک فوجی ذخائر تھے۔ لیکن اگر کوئی اسلحہ وہاں سے حاصل کرے تو اس کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر کیوں عائد کی جارہی ہے۔ حکومت ہندوستان کو یہ بخوبی علم ہے۔ کہ فوجی ذخائر کی تقسیم کے بعد پر حصہ پاکستان کو ملنا تھا۔ وہ ابھی تک ہمارے پاس نہیں پہنچا۔ حکومت ہندوستان پر الزامات تراش کر ہمارے زخموں پر نمک پاشی کررہی ہے۔
    سرمحمد ظفراللہ خاں نے کہا۔ کہ حکومت ہندوستان نے یہ الزام لگایا ہے۔ کہ پاکستان افواج کے فوجی کشمیر میں آزمائیں۔ تمام پس منظر کو علیحدہ رکھئے۔
    یہ سوال ایک انسانیت کا سوال ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ مشرقی پنجاب سے تمام مسلمانوں کا صفایا کردیاگیا۔ پچاس لاکھ کے قریب مسلمان مشرقی پنجاب سے زبردستی نکال دیئے گئے اور دس لاکھ کے قریب شہید کردیئے گئے ہیں۔
    قبائل اور کشمیر
    اسی قسم کا ہنگامہ کشمیر میں بھی جاری کردیاگیا کیا ان حالات میں کوئی غیر جانبدار رہ سکتا ہے۔ کئی ایک فوجیوں کو جانی ومالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ کیا ان حالات میں ان پر کوئی اثر نہ ہوسکتا تھا۔
    پاکستانی وفد کے قائد سرمحمد ظفراللہ خاں سے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے ان الزامات کا ذکر کیا جو ہندوستان نے پاکستان پر عائد کئے اور کہا تھا۔ کہ پاکستان قبائلیوں کو کشمیر میں آنے سے نہیں روک سکا۔ اور انہیں پاکستان کی سرحدات گزرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ سر ظفراللہ خاں کے حکومت سرحد کے ایک سرکاری تار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قبائلیوں کو روکنے کے لئے ہر ممکن اقدام اختیار کئے گئے تھے۔ اس تار میں طے کیاگیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی جغرافیائیی مشکلات کی وجہ سے ہم صوبہ کے طول و عرض میں قبائلیوں کی نقل و حمل کو کس طرح روک سکتے ہیں۔
    برت کا فراڈ
    سرگوپال سوامی آئینگر سابق وزیراعظم کشمیر نے مسٹر گاندھی کے جس برت کا ذکر کیاتھا۔ سرمحمد ظفراللہ خاں نے اس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہماری یہ خواہش ہے۔ کہ مسٹر گاندھی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ آپ پاکستان اور ہندوستان میں ایک نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس صورت میں ہمدردی ظاہر کرنے کے لئے ہم بالکل ایک ہیں لیکن میں یہ امر واضح کردینا چاہتا ہوں۔ کہ مسٹر گاندھی کا یہ برت پاکستان کو اس کے ضمیر کے خلاف کوئی بات منظور کرنے پر رضا مند نہ کرسکے گا۔ مجھے امید ہے کہ مسٹر گاندھی بھی میرے ان خیالات کی ہمنوائی کریں گے۔
    پاکستان کا روپیہ در جو ناگرہ
    اطلاع موصول ہوتی ہے کہ حکومت ہندوستان نے پاکستان کو وہ روپیہ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جو اس نے روک لیا تھا اس کے اس رویہ سے ہمارے اختلاف میں کافی کمی پیدا ہوگئی ہے۔ اب تو انڈین یونین جو ناگرہ میں استصواب رائے بڑی رضامند ہوگئی ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جس نے پاکستان میں شمول کا اعلان کیا تھا۔
    سرمحمد ظفراللہ خاں نے کہا۔ کہ اس مسئلہ کا حل صرف اسی طرح سے تلاش کیا جاسکتا ہے کہ کشمیر کے عوام کو یہ یقین دلادیا کہ ان کے ساتھ وہ سلوک ردا نہیں رکھا جائے گا۔ جو ان کے ہم مذہب بھائیوں سے دوسری ریاستوں میں کیا جاچکا ہے جب ایک بار انہیں یہ یقین اور اطمینان ہوگیا کہ اب ہم پر کوئی بیرونی دبائو نہیں۔ تو اس کے بعد وہ آزاد طور پر یہ فیصلہ کریں کہ وہ کس نوآبادیات میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ پاکستانی نمائندہ نے کہا کہ اب ہندوستان کی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ میں نے اپنی فوجیں اس لئے کشمیر میں بھیجیں۔ کہ وہاں امن قائم کیاجا سکے لیکن کر وہ بھی کشمیر میں جاکر امن کے لئے وبال جان ثابت ہوئے۔ اس پوچھتا ہوں کہ حکومت ہندوستان نے اس ضمن میں کیا کیا ہے۔ سرظفراللہ خان نے کہا۔
    استصواب رائے کا مسئلہ
    کہ میرے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کے سمجھوتہ کے لئے ہر ممکن کوشس کی۔ ہم اس امر کا مطلب کرتے ہیں کہ جو لوگ کشمیر میں داخل ہوئے ہیں۔ انہیں وہاں سے نکال دیا جائے اس میں ہندوستانی فوج بھی شامل ہے۔
    سرمحمد ظفراللہ خاں نے استصواب رائے کے متعلق اپنا نقطہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواہ مشترکہ نظام کے ماتحت استصواب رائے کیا جائے لیکن اس سے پہلے ریاست میں عام حالت کا پیدا کرنا ضروری ہے۔
    پاکستان کے نمائندہ سرمحمد ظفراللہ خاں نے کہا کہ مجھے اس امر کا احساس ہے کہ میں نے آپ کا کافی وقت لیا۔ لیکن مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر مجھے اپنے نقطہ نظر کو واضح کرنا تھا اس مسئلہ سے لاکھوں اشخاص کا مستقبل وابستہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس تفصیلی تقریر کے لئے جو وقت مں نے آپ کا لیا آپ اس کے لئے مجھے معاف فرمائیں گے۔
    آج کی تقریر میں سرمحمد ظفراللہ خاں دو گھنٹہ اور پچس منٹ تک مسلسل روتے رہے۔ آپ کی کل تقریر پانچ گھنٹہ اور ۲۵ منٹ تک جارہی۔
    صدر مجلس کا اعلان
    سرمحمد ظفراللہ خاں کی تقریر کے بعد کے نمائندہ )جو سلامتی کونسل کے صدر ہیں( نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ معاملہ نہایت نازک ہے کشمیر کا معاملہ چونکہ ۔۔۔۔۔ کوشش کریں پچیدہ سے نے اس دونوں پارٹیوں سے
    لیک سکسیس ۹۔ جنوری مجلس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شرکت کرنے والے پاکستانی اور ہندوستانی وفد کے قائدین سرمحمد ظفراللہ خاں اور سر گوپال سوامی آئینگر کے مابین مسئلہ کے متعلق تیسری گول میزکانفرنس آج بعد دوپہر شروع ہوگئی اس کانفرنس کا دوسرا اجلاس سیکورٹی کونسل کے صدر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ انڈنیشیا اور ہالینڈ کے مابین سمجھوتہ کرانے کے لئے سلامتی کونسل نے جو طریقہ اختیار کیا تھا۔ کشمیر کے مسئلہ میں بھی اس طریقہ کو بروئے کار لایا جائے گا۔ اس امر کا خیال ظاہر کیا جارہا ہے۔ کہ سیکورٹی کونسل ایک کمیٹی مقید کردے گی جس کے تین ارکان ہوں گے۔ کمیٹی کشمیر جاکر جنگ بند کرانے کے لئے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن کیا جارہا ہے کہ یہ کمیٹی تین ارکان پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی کے دو ارکان میں سے ایک کو پاکستان اور دوسرے کو ہندوستان منتخب کریگا۔ تیسرا ارکن سیکورٹی کونسل کو فیصلہ منتخب کرے گا۔ یہ رکن ایسا ہوگا جس پر ہندوستان اور پاکستان جنہوں کو اعتماد ہوگا۔ یہ کمیٹی فوراً کشمیر روانہ ہوجائے گی اور اپنا کام شروع کردے گی۔ پاکستا اور ہندوستان کے قائدین وفد کی ملاقاتوں کے متعلق یہ کہا جارہا ہے یہ ملاقاتیں سمجھوتہ کے لئے نیو خیز ثابت ہوں گی۔ سیکورٹی کونسل کے ہندوستانی وفد کے دفتر سے ایک کمیونک ¶جاری کیاگیا ہے۔ جس میں اس امر کا اظہار کیاگیا ہے کہ گاندھی جی کے برت توڑنے کا جو خوشگوار اثر ہندوستان پر ہوا ہے یہی اثر لیک سکسیس ہوگا۔ اور مسئلہ کشمیر کے متعلق پاکستان اور ہندوستان کے نمائندوں کے مابین کوئی نہ کوئی سمجھوتہ طے پاجائے گا۔
    سیکورٹی کونسل کے صدر سے سرمحمد ظفراللہ خاں اور سرگوپال سوامی آئینگر سے ابتدائی تو شہید کرنے کے بعد اس امر کا اعلان کیا ہے۔ کہ دونوں پارٹیاں یہ کمیٹی تین ارکان پر مستمل ہوگی۔ صدر اس امر کا اظہار بھی کیا۔ کہ دونوں پارٹیاں ابھی تک بنیادی مسائل کے تصفیہ کے سلسلہ میں مختلف نقط نظر رکھتی ہیں۔ صدر نے دونوں پارٹیوں سے اس امر کی استدعا کی۔ کہ دونوں پارٹیوں کو اصل مسئلہ کو حل کرنے سے قبل دیگر تنازعہ مسائل کے متعلق بات چیت کرلینی چاہئے۔ بات چیت بار آور ثابت ہوگی۔ اس بنا پر گول میزکانفرنس کا اجلاس جو آج گیارہ بجے قبل دوپہر منعقد ہونا تھا۔ وہ ساڑھے چار بجے شام پر ملتوی کردیا گیا۔ تاکہ دونوں نمائندے اس سلسلہ میں اپنی دوستوں سے مشورہ کرلیں۔ اور کمیٹی کی تشکیل کے سلسلہ میں ان کی رائے دریافت کرلیں یہ معلوم ہوا ہے کہ کمیٹی کے اختیارات کے سلسلہ میں بھی دونوں حکومتوں کے نمائندوں کے مابین اختلاف ہے۔ ان کا خیال ہے۔ کہ موقع پر صورت حال سے نپٹنے کے لئے کمیٹی کو وسیع اختیارات دیئے جائیں۔ اگر دیئے جائیں۔ تو ان اختیارات کی نوعیت کیا ہو۔ اگر آج اس سلسلہ میں کوئی سمجھوتہ ہوگیا۔ تو سیکورٹی کونسل اس سلسلہ میں منگل کے روز دیگر امور کا فیصلہ کردے گی۔ اس کے فوراً بعد کمیٹی کو کشمیر روانہ کردیا جائے گا۔
    نیویارک ۹۔ جنوری آج سلامتی کونسل کے صدر نے تجویز پیش کی ہے۔ کہ اگر انڈیا اور پاکستان دونوں مملکتوں کے نمائندے رضامند ہوں۔ تو پھر جنگ کشمیر بند کرانے کے لئے سلامتی کمیٹی فوراً بھیجی جائے۔ اس وقت دونوں مملکتوں کے نمائندے اپنی اپنی حکومتوں سے تجویز کے بارے میں صلاح مشورہ کررہے ہیں۔ آج رات تجویز پر غور کریں گے۔ اس تجویز کا پس منظر یہ ہے۔ کہ آج جب کونسل پر یہ بات ظاہر کی۔ کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے نمائندوں میں بنیادی امور کے کی تجویز پیش کی۔ کمیٹی تین ارکان پر ہوگی۔ جن میں سے ایک کو پاکستان نامزد کرے گا۔ اور دوسرے کو ہندوستان تیسرے رکن کو کونسل کا صدر پاکستان اور ہندوستان کی منظوری سے نامزد کرے گا۔۲
    اخبار آغاز لاہور نے مورخہ ۳۰۔ جنوری ۱۹۴۸ء میں حسب ذیل خبر شائع کی۔
    اسلامتی کونسل میں سرظفراللہ نے اپنی قابلیت کا لوہا منوالیا
    کونسل کے صدر نے پاکستانی وفد کے رئیس سے معافی مانگ لی!
    لیک سکسیس ۲۸۔ جنوری سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں سرمحمد ظفراللہ خاں نے قرار دار کے غلط عنوان جمون اور کشمیر کے مسئلہ پر قراردار >کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ الفاظ جموں اور کشمیر< صحیح نہیں اور معاہدہ کے منافی ہیں۔ صدر نے اس سے اتفاق کیا اور ان الفاظ کے سہواً درج ہوجانے پر معافی چاہی اور انہیں حذف کردیا۔
    مسٹر آئینگر نے ایک پر زور تقریر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کہ ان الفاظ کو رکھنے یا انہیں حذف کردینے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ آخرکار انہوں نے ان الفاظ کو حذف کردینے پر اتفاق کیا۔
    سرظفراللہ خاں اپنی نلخصیت اور قابلیت کا برابر لوہا منوارہے ۔ مجلس اقوام متحدہ کے ایک اعلٰے افسر نے کہا۔ >یہ وہ جگہ ہے۔ جہاں دنیا کے بہترین دماغ جمع ہوتے ہیں۔ تاہم ایسے آدمی یہاں کبھی کبھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ بڑے آدمیوں میں بھی آپ کی شخصیت بہت ممتاز ہے اور ممتاز رہے گی۔ )نامہ نگار(۳
    اخبار پاکستان ٹائمز نے ۱۲۔ فروری ۱۹۴۸ء کی اشاعت میں لکھا۔
    ‏letter UNO Our
    ‏advocacy brilliant Zafrullah's
    ‏Indian case: Pakistan of
    ‏tactics delaying delegation's
    ‏UNO deleation Kashmir Azad with Corresondent Special our From
    ‏ the on karachi left we Mail): Air (By SUCCESS, LAKE American,۔Pan the by ,۔m۔a 12:55 at exactly 14, Jan of morning ۔m۔a 8 at Damascus was stop first Our >۔<Intrepid liner Service local the with chatted and there fasted break We ۔day same the on Palestine the of briefing able Zafrullah's of thanks countries, Arab۔in keenly are Syrians The ۔high very risen has stock Our ۔case broken plus phrases Arabic Broken question Kashmir the in terested quickly communication established phrases French plus English ۔manner fraternal very a in Arabs the with chafting were we and
    ۔real very is countries Arab into penetration Jewish of fear Arab The the dna differences political no have Syria of Muslims and Christians The compromising without minorilies their of trust the wonn have Muslims the as Syrians, ardent and Muslims ardent are The ۔principles Islamic Khouri, Dr ۔Syrians ardent also as Christians ardent are Christians Council, Security UNO the in Syria represents and Christian a is Who had Damascus of shops the of boards۔sign the all how on) (later me told and schools the hwo and Arabic adopted and French dropped overnight ۔Arabic in stcesubj their all teaching were colleges
    ‏ over flying and there, lunch had istanbul, to Damascus from flew We the in late day same the London reached Alps, the and Rome Athens, successful so been had Karachi at conference Press Sahib's Sirdar۔evening hopped we London From ۔him of full were papers English the that plane the of servicing proper after and (Ireland) Islands Shannon to morning, the in Early ۔Allantie the over flight all-night our started we But ۔time first the for us by decnetrepxe were bumps slight some leebergs The ۔Quetta near gets one jerks the than lighter were they but bumps these of cause the were forests, plane huge like looked which ۔hour an half than more for last not did they
    ‏NEWS BAD FIRST
    ‏ here And ۔form perfect in (Newfoundland) Gander, reached We would we that told were We ۔journey the of news bad first the came the comed hours, six for Gander at stop to have arrangement transport and us snapped newspapermen and time our of tbi streets York New the through passed we when But ۔us delayed roads the along plying were taxis and fro and to walking were people And ۔morning the In 3:30 at customers, of full were houses eating and۔sky a into went We ۔day as brihgt as light with flooded was Broadway ۔floor 47th hotel, scraper
    ‏CASE OPENS IYYENGAR
    ‏ the Success, Lake of village the to rushed and late rather up woke We ۔m۔p thirty۔two At ۔York New from away miles 23 quarters, UNO was He ۔ylevitceeff speaks engar Iyy India> for case the opened Iyyengar Zafrullah, Mohammad Sir ۔it for time ample had had He ۔prepared well straight almost flown had and Burma from hastily come had knew, I him, with team good a has he though But ۔York New to thee from on Kashmir's was Iyyengar ۔stronger seemingly is delegation Indian the picturesqa a is Sheikh, the Abdullah, ۔years eight for Minister Prime them with also is IIasksar ۔adviser legal the is Setalwad ۔stooge Pandit, Kashmiri another is Zulshi ۔out inside Kashmir knows he and is Pandit, another yet Kaul, Colonel and work Relations Public does who Foreign Indian the Vellodi, ۔Embassy Indian the to Attache Military the chance mere it is ۔team the complete other three and Secretary Asaf even that and them amongst Muslim only the is Abdullah that ￿apperarance an in put not has Ali
    ‏ Kashmir Azad The ۔point onne on concentrated was brief Iyyengar's arson and loot and massaeres the know You ۔fire case should forces of out making yeht were What audience, foreign a before rape, and of composed is it ۔meeting public a not is Council Security The ￿it China, USSR, UK, USA, ۔۔۔ countries 11 of diplomats headed۔hard Belgium, Canada, UKralne, and members permanent as France, was Belgium ۔members temporary as colombia and Syria Argentina, There ۔reactions outward any show not do members The ۔chair the in ۔smiles or frowns even or interruptions or boos or cheers no are for turn their till silence, Inscrutable In sit members ehT end the at quikly too bit a spoke Zafrullah ۔comes speaking ۔incident after incident quoting on went He ۔day first the of was He ۔it in quality a had words of quantity this all But the as simples as not was issue the that prove to trying seemingly a in represent to trying was Brahmin India۔South after spoke who delegate Every ۔complexily its man guileless Kashmir The ۔complex very all was it that admitting while him, deeply was which disease the of symptom a only was struggle said rodassabma an As ۔relations Pakistan۔Indo the in rooted his quoting not am I therefore and record,> the <off me to go and Junagadh <disregard ۔example for cannot, you name, >۔alone Kashmir for in
    ‏ replied Zafrullah and Zafrullah to retort the gave Sctalvad shone lucidity Zafrullah's that reply this in was It ۔back all into go not need <we ۔said Sctalvad ۔brightest its at simple a asking are we once; at and now problems, these in tribal the cheek cannot it admits Pakistan ۔question <if said, hallZafru And >۔Pakistan for it do us Ict rush; handad a push you not do why that aff as brave as are you when stands the engage you can how Kashmir; of out them of >۔country their outside them of few a with deal cannot you the of some of Insecutatallily the broke almost relort This referred I When ۔smilling almost were them of Some ۔delegates not were they them with Interviews Press my inn point this to most the of one be to considered now is Zafrullah ۔relicent so ۴۔shod very all are they And ۔UNO at spakers effective
    چوہدری محمدظفراللہ خاں صاحب کا بیان قضیہ کشمیرسے متعلق
    حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنی خود نوشت تحدیث نعمت میں O۔N۔U میں قضیہ کشمیر کے مسئلہ کی تفصیلات پر بلیغ روشنی ڈالی ہے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں۔
    قضیہ کشمیر کے لئے تحریری بیان کی تیاری
    کراچی سے ہم رات کے وقت پین امریکن جہاز سے روانہ ہوئے انداز تھا کہ ۱۰۔ جنوری کو ہم بفضل الل¶ہ نیو یارک پہنچ جائیں گے لیکن ۹۔ کی شام کو لندن پہنچنے پر ہمیں بتایا گیا کہ طیارے کے ایک انجمن میں کوئی نقص پیدا ہوگیا ہے اس لئے لندن چند گھنٹے رکنا ہوگا۔ دوسری صبح اندازہ ہوسکے گا کہ کب روانگی ہوگی۔ دوسری صبح دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سہ پہر یا شام کو روانگی ہوگی۔ ہم نے اس تاخیر سے یہ فائدہ اٹھایا کہ پاکستان ہائی کمیشن میں بیٹھ کر ان دستاویزات کے تحریری جواب کی تیاری شروع کردی جو حکومت ہندوستان نے مجلس امن میں اپنی درخواست کے ہمراہ پیش کی تھیں۔ چودھری محمد علی صاحب کی مدد سے کچھ نوٹ بھی مرتب کئے اور پھر ان کی موجودگی اور نگرانی میں پاکستان کی طرف سے تحریری بیان بھی تیار کروایا۔ اتنے میں شام ہوگئی اور مطار سے بلاوا آگیا۔ لندن سے روانہ ہوکر جب گینڈر پہنچے تو وہاں برفانی طوفان جاری تھا۔ رات مطار پر گزری لیکن سونے کی جگہ میسر آگئی فالحمدلل¶ہ۔ لندن میں جو مضمون املا کروایا گیا تھا اسے ہمارے سٹینو گرافر نے راتوں رات ٹائپ کرلیا۔ انہیں اس کام کے لئے رات کا اکثر حصہ جاگنا پڑا فجزاہ اللہ۔ ان کی کوٹھڑی اور میری کوٹھڑی کے درمیان صرف ایک لکڑی کی دیوار تھی۔ ٹائپ کی مشین کی آواز نے مجھے بھی کچھ زیادہ سونے نہیں دیا۔ ۱۲۔ کی صبح کو گینڈر سے روانہ ہوکر سہ پہر کو ہم نیویارک پہنچے۔ یہاں بھی بہت برف باری ہوچکی تھی لیکن ہمارے پہنچنے تک برف پگھلنی شروع ہوچکی تھی۔ مرزا ابوالحسن صاحب اصفہانی سفیر پاکستان متعینہ واشنگٹن اور لاری شفیع صاحب قونصل پاکستان متعینہ نیویارک مطار پر موجود تھے۔ ہمیں پریشانی تھی کہ مطار سے ہی سیدھے مجلس امن کے اجلاس میں شمولیت کے لئے لیک سکسیس جانا ہوگا۔ علاوہ تکان اور شب بیداری کے ہماری دستاویزات بھی ابھی تیار نہیں تھیں اور اصل مسئلے کے متعلق غور اور تیاری کا تو ابھی کوئی موقع میسر نہ آیا تھا لیکن طیارے سے اترتے ہی سفیر صاحب نے فرمایا کہ فکر نہ کرو جب تمہارے سفر میں ہر مقام سے تاخیر کی اطلاع آنا شروع ہوئی تو ہم نے اندازہ کرلیا کہ تم بروقت نہیں پہنچ سکوگے۔ چنانچہ ہم نے مجلس امن کے صدر کے خدمت میں گذارش کی کہ اندریں حالات اجلاس ملتوی کیا جائے۔ انہوں نے ہماری درخواست پر اجلاس پندرہ جنوری تک ملتوی کردیا ہے۔ ہمارے لئے یہ خبر ایک خوش کن مژدہ تھی۔ ہم مطار سے بجائے لیک سکسیس جانے کے سیدھے بارکلے ہوٹل گئے اور آرام کا سانس لیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر کے خلاف ہے۔ پاکستان کو اس سے روکنا لازم ہے۔ پاکستان قبائلیوں کی مدد بند کرے اور انہیں واپس جانے پر آمادہ کرے۔ الحاق کے متعلق ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ جہاں فرمانروائے ریاست ایک مذہب کا ہو اور رعایا کی کثرت دوسرے مذہب کی ہو وہاں فرمانروا کا فرض ہے کہ وہ الحاق کا فیصلہ رعایا کی کثرت رائے کی مطابق کرے۔ ہندوستان اس اصول پر پختہ طریق سے کاربند ہے۔ چنانچہ جب ریاست کشمیر میں امن قائم ہوجائے گا تو ہم کشمیر کی رعایا کے منشاء کے مطابق الحاق کے معاملے میں آخری فیصلہ کریں گے۔ ان کی تقریر کے بعد اجلاس دو دن کے لئے ملتوی ہوگیا۔
    پاکستان کی طرف سے جوابی تقریر
    دوسرے اجلاس میں میں نے جوابی تقریر میں کہا ہندوستان کے نمائندے نے اپنی تقریر میں عمداً اس قضیے کی پیچدگیوں کو پس پردہ رہنے دیا ہے اور صرف پاکستان کے خلاف الزامی پہلو پر زور دیا ہے۔ ہماری طرف سے اس اہم اور پیچیدہ قضیے کے پس پردہ حالات کو ظاہر کرنا اور ہندوستان کو مجرم کی حیثیت میں دکھانا ضروری ہے۔ اس لئے لازماً بہت سے امور کی وضاحت ناگزیر ہے جن کا بیان ہندوستان کی طرف سے اس لئے نہیں کیاگیا کہ وہ ان کے خلاف جاتے ہیں۔ ان تمام واقعات کا مختصر بیان بھی وقت چاہتا تھا اور مجلس امن کے ایک اجلاس میں تقریر کے لئے صرف سوا دو گھنٹے میسر آتے تھے اس لئے میری تقریر تین اجلاسوں میں مکمل ہوئی۔
    چند سالوں کے بعد کولمبیا کے نمائندے نے ایک دفعہ مجھے سے کہا۔ کشمیر کے معاملے میں ہندوستانی نمائندے کی پہلی تقریر سننے کے بعد مجلس امن کے اراکین کے کثرت کا یہ تاثر تھا کہ پاکستان نے آزادی حاصل کرتے ہی فساد کا رستہ اختیار کرلیا ہے اور دنیا کے امن کے لئے ایک خطرے کی صورت پیدا کردی ہے۔ لیکن جب جواب میں تمہاری طرف سے اصل حقیقت کے رخ سے پردہ ہٹایا گیا تو ہم سب نے سمجھ لیا کہ ہندوستان مکاری اور عیاری سے کام لے رہا ہے اور کشمیر کی رعایا پر ظلم ہورہا ہے اور ہمارا یہ تاثر بعد میں کسی وقت بھی زائل نہیں ہوا۔
    قضیہ کشمیر مسٹر سیتلواڈ کی طرف سے درشت کلامی
    دو تین دن بعد میری تقریر کا جواب مسٹر سیتلواڈ نے دیا۔ اپنی تقریر کے شروع میں انہوں نے میرے متعلق کچھ درشت کلامی بھی کی۔ مسٹر سیتلواڈ بڑے قابل وکیل ہیں انہوں نے اپنی قابلیت کا ہر حربہ استعمال کیا۔ لیکن ایک مردہ کیس میں جان ڈالنا ان کے بس کی بات نہ تھی۔ ممکن ہے مجلس کے بعض اراکین نے کچھ اثر قبول کیا ہو۔ کیونکہ ہمارے وفد میں سے سفیراصفہانی صاحب کچھ مشوش نظرآتے تھے مباوا کوئی رکن مسٹر سیتلواڈ کے فریب میں آجائے۔ مسٹر سیتلواڈ نے ہندوستان کے دامن کو پاک اور بے داغ ثابت کرنے کے لئے یہاں تک کہہ دیا کہ مہاراجہ کشمیر کی الحاق کی درخواست قبول کرتے ہوئے ہم نے خود ان پر واضح کردیا ہے کہ یہ الحاق عارضی ہے اور مستقل تب ہوگا جب کشمیر کی رعایا کی کثرت آزادانہ طور پر اس کی تائید میں اظہار رائے کردے گی۔ اس سے بڑھ کر انصاف پسندی کا ثبوت ہم کیادے سکتے ہیں؟ وہ بہت سی کھوکھلی اور بے بنیاد باتیں بھی کہہ گئے۔ میرا تاثر یہ تھا کہ انہوں نے ہمارے لئے موقع پیدا کردیا ہے کہ ہم اراکین مجلس پر ثابت کردیں کہ ہندوستان کا دعوی کچھ ہے اور عمل بالکل اس کے خلاف ہے۔ میرا یہ بھی تاثر تھا اور اب تک ہے کہ مسٹر سیتلواڈ نے اپنی طرف سے کوئی بات فریب یا بددیانتی سے نہیں کی تھی۔ البتہ بہت سے واقعات کا انہیں علم نہیں تھا اور میری طرف سے ان واقعات کے پیش کئے جانے پر انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ یہ واقعات صحیح ہوسکتے ہیں۔
    تیسرے اجلاس میں بعض اراکین مجلس امن اور بہت سے حاضرین کو خیال تھا کہ میں مسٹر سیتلواڈ کی درشت کلامی کے خلاف احتجاج کروں گا اور جواباً >ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں< کا تھوڑا بہت ثبوت سیتلواڈ صاحب کی خدمت میں پیش کروں گا۔ لیکن میں ان کی درشت کلامی پر قطعاً بر افروختہ نہیں تھا بلکہ مجھے اس خیال سے کچھ اطمینان تھا کہ اراکین مجلس نے اندازہ کرلیا ہوگا کہ اگر مسٹر سیتلواڈ کو درشت کلامی پر اترنا پڑا ہے تو یہ ان کے موقف کی کمزوری کا ثبوت ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں میں نے اپنی جوابی تقریر میں صرف اتنا ہی کہا۔ جناب صدر واراکین مجلس پچھلے اجلاس میں میرے فاضل دوست مسٹر سیتلواڈ نے اپنی تقریر میں میرے متعلق کچھ درشت الفاظ استعمال کئے تھے ان کے متعلق مجھے یہ کہنا ہے کہ میں مسٹر سیتلواڈ کو عرصہ سے جانتا ہوں جب میں ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کا جج تھا تو مجھے بارہا ان کے دلائل سننے کا اتفاق ہوا۔ میری رائے میں مسٹر سیتلواڈ ہندوستان کے قابل ترین وکیل ہیں اور درشت کلامی ان کا شعار نہیں۔ اس موقع پر ان کے موقف کی کمزوری کو جانتے ہوئے میں ان کی مشکلات کا اندازہ کرسکتا ہوں۔ مسٹر سیتلواڈ کی درشت کلامی ایک استثنائی صورت تھی جو قابل اعتناء نہیں۔ اس کے بعد میں نے ان کی تقریر کی طرف توجہ دلائی ان کے دلائل اور واقعات پر مسلسل اور بفضل اللہ موثر تنقید کی۔
    اس کے بعد کئی بار مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی ہے لیکن میری موجودگی میں نہ تو کبھی پاکستان کی طرف سے نہ ہی ہندوستان کی طرف سے کبھی درشت کلامی کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ میں یہ بات مثال بن گئی کہ باوجود شدید اختلاف کے دونوں فریق کے نمائندے ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے اور واقعات اور دلائل کی مضبوطی سے پیش کرنے کے ساتھ یہ التزام رہتا تھا کہ کلام میں بے جا تلخی نہ ہو۔
    مسٹر کرشنامین
    لیکن افسوس ہے کہ جب مسٹر کرشنامین نے ہندوستان کے نمائندے کے طور پر کشمیر کے مسئلے کی بحث میں حصہ لینا شروع کیاتو ان کی طرف سے یہ معیار قائم نہ رہا۔ لیکن وہ بھی اتنی احتیاط کرتے تھے کہ میری موجودگی میں کوئی بے جالفظ استعمال نہیں کرتے تھے۔ جن دنوں میں پہلی بار بین الاقوامی عدالت کارکن تھا تو مجلس امن میں پاکستان کی طرف سے یہ تجویز دہرائی گئی کہ کشمیر کمیشن کی تجاویز کی تعبیر کے متعلق فریقین کے درمیان جو اختلافات ہے اس کے لئے بین الاقوامی عدالت سے استصواب کیا جائے اور کمیشن کی تجاویز کی جو تعبیر عدالت کرے دونوں فریق اسے قبول کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ مسٹر کرشنامین نے ہندوستان کی طرف سے اس تجویز کو رد کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی کہ وہ >مذہبی دیوانہ< )خاکسار( عدالت کا رکن ہے اور اگرچہ وہ اس معاملے میں اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا لیکن اس کارکن ہونا ہی ہمارے لئے بے اطمینانی کا موجب ہوگا۔ بعد میں جب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل نمائندہ تھا تو میں نے پھر اس تجویز کا اعادہ کیا اور کہا کہ اب تو وہ >مذہبی دیوانہ< بین الاقوامی عدالت کارکن بھی نہیں اب اس تجویز کو مان لینے میں کیا عذر ہے؟ اس پر مسٹر کرشنا مین نے اپنی نشت پر بیٹھے بیٹھے مڑکر اپنے ایک سیکرٹری سے دریافت کیا >کیا میں نے اسے >مذہبی دیوانہ< کہا تھا؟< سیکرٹری نے اثبات میں سرہلایا۔
    مجلس امن کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر کرشنامین نے فرمایا میرے وزیراعظم نے کشمیر کے متعلق کبھی رائے شماری Plebiscite کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ میں نے جواب میں پنڈت نہروجی کے بیانات سے دس مثالیں پیش کیں جن میں پنڈت جی نے کشمیر میں eticsibelP کے ذریعے رائے عامہ معلوم کرنے کا علان کیا ہوا تھا اور کہا کہ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں لیکن جو مثالیں میں نے بیان کی ہیں وہ اراکین مجلس بلکہ خود ہندوستان کے محترم نمائندے کے اطمینان کے لئے کافی ہوں گی کہ ہندوستان کے قابل احترام وزیراعظم نے تنازعہ کشمیر کے متعلق یہ لفظ بڑی کثرت سے استعمال فرمایا ہے۔ جب مسٹر کرشنامین کی باری آئی تو انہوں نے اس امر کے متعلق صرف اتنا فرمایا میں اس امر کا اعادہ کرتا ہوں کہ میرے وزیراعظم نے کشمیر کے قضیے کے سلسلے میں کبھی لفظ Plebisciteاستعمال نہیں کیا۔ ایسی ڈھائی کا کیا علاج؟
    سرگوپالا سوامی آئینگر
    اس کے خلاف سرگوپالاسوامی آئینگر اگرچہ اپنی ہٹ کے پکے تھے لیکن واقعات میں ایجاد اور تصرف نہیں کرتے تھے۔ میں نے اپنی پہلی تقریر میں کشمیر میں ڈوگرہ مظالم کی داستان کے سلسلے میں بیان کیا کہ ۱۹۳۴ء تک ریاست کشمیر میں کسی شخص کا اپنی گائے ذبح کرنا نہ صرف جرم تھا بلکہ اس قدر سنگین جرم کہ اس کی سزا عمرقید تھی۔ ۱۹۳۴ء میں اس تعزیر میں تخضیف ہوئی لیکن اب بھی اس جرم کی سزا غالباً سات سال قید بامشقت ہے۔ اجلاس کے اختتام پر جب ہم کمرے سے باہر نکلے تو سرگوپالاسوامی نے اپنا بازو میرے بازو میں ڈال لیا اور فرمایا ان تفاصیل میں جانے کی کیا ضرورت تھی؟ میں نے کہا ضرورت کا فیصلہ تو مجھ پر رہنے دیجئے لیکن آپ تو ایک عرصہ کشمیر کے وزیراعظم رہے ہیں آپ ہی فرمائیں کہ اس وقت کشمیر میں گائو کشی کی کیا سزا ہے؟ انہوں نے فرمایا بھائی واقعہ تو یہی ہے کہ اب بھی اس جرم کی سزا سات سال نہیں بلکہ دس سال قید بامشقت ہے۔ لیکن تم یہ بتائو تم ملک کی تقسیم پر پاکستان کیوں منتقل ہوگئے۔ تمہارا وطن تو تقسیم کے بعد مشرقی پنجاب میں ہے۔ اگر تم ہندوستان میں رہتے تو ہندوستان کی سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس ہوتے۔ میں نے کہا میں جانتا ہوں لیکن یہ بھی جانتا ہوں کہ نام کو تو میں چیف جسٹس ہوتا لیکن عملاً میں نظر بندی میں ہوتا۔ کہنے لگے یہ تمہارا وہم ہے۔
    جانبین کی دو دو تقریریں سننے کے بعد مجلس امن نے یہ طے کیا کہ ماہ جنوری کے صدر مجلس پروفیسر لنگن ہوف اور ماہ فروری کے صدر مجلس جنرل میکناٹن فریقین کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کے بعد تصفیہ کی کوئی عملی تجویز مجلس ۔۔۔۔۔ کی گئی اور اس پر اظہار رائے ہونے لگا۔ اس قراردار کی رو سے جو کچھ ہم چاہتے تھے وہ سب تو میسر نہیں آتا تھا لیکن اصولاً ہمارا موقف تسلیم ہوجاتا تھا اس لئے بعض تفاصیل کی وضاحت چاہنے اور بعض پر تنقید کرنے کے ساتھ ہم نے اسے قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ لیکن ہندوستانی وفد نے قراردار کی مخالفت کی اور اس کی مرکزی تجویز کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وہ تجویز یہ تھی کہ رائے شماری کو آزاد اور غیرجانبدار رکھنے کی لئے ضروری ہے کہ ریاست کی حکومت کی تشکیل بھی غیرجانبداری کے اصول پر ہو۔ مسٹر نوئیل بیکر قراردار کی بڑے زور سے حمایت کررہے تھے اور اس کوشش میں بھی تھے کہ ہندوستانی وفد کو اور ان کی وساطت سے پنڈت جواہر لال صاحب کو قراردار کو قبول کرلینے پر آمادہ کرلیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ ایک ملاقات میں امریکہ کے نمائندہ سینیٹروارن آسٹن نے بتلایا کہ ہندوستانی وفد اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مجلس امن صرف قبائلیوں اور رضا کاروں کو ریاست سے واپس کرانے اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے لڑائی سے ہاتھ روکنے کا انتظام کردے باقی سب کچھ ان پر چھوڑ دیا جائے وہ سب انتظام کرلیں گے۔ سینیٹر نے کہا ہم نے ان پر واضح کردیا ہے کہ مجلس امن اس قضیے میں اپنے فرائض کو اس رنگ میں نہیں دیکھتی۔ مجلس امن کا فرض ہے کہ وہ اس تمام قضیے کی تہہ کو پہنچے اور یہ معلوم کرے کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو ہتھیار بند ہونے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ واضح ہے کہ جب انہوں نے حق خود اختیاری کو زائل ہوتے دیکھا تو وہ ہتھیار بند ہونے پر مجبور ہوگئے۔ اب لڑائی بند کرنے کا ایک ہی طریق ہے کہ ان لوگوں کا اطمینان کرادیا جائے کہ جس حق کے حاصل کرنے کے لئے انہوں نے لڑائی شروع کی تھی وہ حق اب انہیں بغیر لڑائی کے حاصل ہوجائے گا۔ اس کے بغیر جنگ بندی کا اور کوئی طریق نہیں۔
    ہندوستان کی طرف سے اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست
    آخر تبادلہ خیالات کا سلسلہ ختم ہونے پر مجوزہ قراردار کے متعلق رائے شماری کا وقت آیا۔ اس وقت تک جتنے اراکین مجلس نے قراردار کے متعلق اظہار خیال کیا تھا سب نے قراردار کی تائید کی تھی اور یہی اندازہ تھا کہ قراردار اگر بالاتفاق نہیں تو گیارہ میں سے دس آراء کی تائید کے ساتھ منظور ہوجائے گی۔ روس کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ شائد غیر جانبدار رہے۔ عین اس مرحلے پر سرگوپالا سوامی آئینگر نے بولنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر انہوں نے فرمایا ہمیں اپنی حکومت کی طرف سے ہدایت موصول ہوئی ہے کہ ہم مزید ہدایات کے لئے لدی واپس جائیں اس لئے ہم رخصت کی اجازت چاہتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ ہماری واپسی تک اجلاس ملتوی کیا جائے۔ اراکین مجلس اس درخواست پر حیران بھی ہوئے اور آزردہ بھی۔ یہ تو سب نے سمجھ لیا کہ ہندوستان کی نیت بخیر نہیں۔ اکثر نے تو اتنا ہی کہنے پر اکتفاء کیا کشمیر میں جنگ جاری ہے اور جانیں تلف ہورہی ہیں ضروری ہے کہ اس صورت حالات کا جلد کچھ مداوا کیا جائے اور اس امید کا اظہار کیا کہ ہندوستانی وفد بہت جلد واپس آجائے گا تاکہ مجلس اپنی کارروائی کو بغیر غیر ضروری توقف کے جاری رکھ سکے۔ لیکن بعض اراکین نے اپنی آزردگی کا اظہار بھی کیا۔ مثلاً کولمبیا کے مندوب نے کہا صاحب صدر! آپ کو اور اراکین مجلس کو یاد ہوگا کہ ابھی چند دن ہوئے ہندوستان کے فاضل نمائندے نے شکوے کے طور پر کہا تھا کہ کشمیر جلا رہا ہے اور مجلس امن ستار بجارہی ہے۔ کیا میں ہندوستان کے فاضل نمائندے سے دریافت کرنے کی جرات کرسکتا ہوں کہ اب کیا کشمیر کو جلانے والی آگ ٹھنڈی ہوگئی ہے؟ اور اگر نہیں تو اب کون ستار بجارہا ہے؟ سرگوپالاسوامی آئینگر نے اس قسم کی تنقید سے زچ ہوکرکہا مجھے یہ دیکھ کر رنج ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایک معزز رکن کی ایک جائز درخواست پر اس قسم کے تکلیف دہ خیالات کا اظہار کیا جارہا ہے مجلس کے اراکین کے ان احساسات کے باوجود مجلس کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ اجلاس ملتوی کیا جائے۔
    مسئلہ کشمیر۔ دلی اور لند میں رابطہ و سازباز
    جب التواء کی مدت کچھ طول پکڑنے لگی تو چودھری محمد علی صاحب نے مجھے کہا۔ ہمارا ہندوستانی وفد کے انتطامات ۔۔۔ پاکستان کا حمایتی کوئی نہ تھا مقابلہ بالکل غیر متوازن تھا۔ میں نے قریب پون گھنٹہ ان کی خدمت میں صرف کیا۔ اس عرصے میں انہوں نے ایک بار بھی مجھ سے نظر ملاکر بات نہ کی۔ کبھی ادھر جھانکتے کبھی ادھر۔ یہی کہتے فکر نہ کرو۔ ہندوستانی وفد جلد نیویارک پہنچ جائے گا۔ میں اس کوشس میں تھا کہ انہیں آمادہ کروں کہ ہندوستان کے ساتھ اپنا رسوخ استعمال کرکے انہیں ایفائے عہد پر مائل کریں اور اس میلان کا ثبوت مجلس امن کے سامنے پیش شدہ قراردار کو تسلیم کرنے سے مہیا کریں اور وہ اس طرف آنے کا نام نہ لیتے تھے۔ کہنے لگے تمہیں اس قراردار پر کیوں اصرار ہے اصل غرض اور طریق سے بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ مثلاً اگر یوں کردیا جائے یا یوں کردیا جائے یا یوں کردیا جائے۔ میں ان کی ہر ایک >یوں< پر تنقید کرتا گیا لیکن وہ راہ پر نہ آئے۔ میں بے نیل مرام لوٹ آیا اور اپنے رفیق کار سے کیفیت بیان کردہ اور نوابزادہ صاحب کی خدمت میں بھی رپورٹ بھیج دی۔ چودھری محمدعلی صاحب اور میں نیویارک واپس ہوئے۔
    مسئلہ کشمیر ۔۔ سماں بدل گیا
    کچھ دن بعد ہندوستانی وفد کی واپسی پر مجلس امن کے اجلاس پھر شروع ہوئے۔ لیکن اب سماں بدلا ہوا تھا۔ جیسے میں ذکر کر چکا ہوں روس تو اس مرحلے پر غیر جانبدار تھا کہ یہ کامن ویلتھ کا آپس کا معاملہ ہے ہم اس میں دخل نہیں دیتے۔ امریکہ اور برطانیہ پیش پیش تھے۔ مجلس کے باقی اراکین بیشک اپنی اپنی رائے رکھتے تھے لیکن ان دونوں کی رائے کا احترام کرتے تھے۔ امریکہ بہت حد تک کامن ویلتھ کا معاملہ ہونے کی وجہ سے برطانیہ کے مشورہ سے پر چلتا تھا۔ برطانہ کے نمائندے مسٹر فلپ نوئیل بیکر فریقین کی باہمی مفاہمت سے کسی موثر مونٹ بیٹن اور سرسٹیفورڈ کرپس کا اثر اپنا کام کرچکا تھا۔ ہمارے وفد کے سیکرٹری مسٹر ایوب کو مسٹر نوئیل بیکر کے سیکرٹری نے بتایا کہ وزیراعظم ایٹلی اور مسٹر نوئیل بیکر کے مابین اختلاف اور قدر بڑھ چکا ہے کہ مسٹر بیکر مستعفی ہونے کی سوچ رہے ہیں۔ اس امر کی تصدیق ۵۱ء میں خود مسٹر نوئیل بیکر نے کی۔ وہ اس وقت وزارت سے علیحدہ ہوچکے تھے۔ میرے ان کے ۳۳ء سے دوستانہ مراسم تھے۔ ۱۹۵۱ء میں اقوام متحدہ کی اسمبلی کا اجلاس پیرس میں ہورہا تھا۔ مسٹر نوئیل بیکر کا گزر پیرس سے ہوا تو وہ مجھے ملنے تشریف لائے۔ باتوں باتوں میں کشمیر کا ذکر چھڑ گیا۔ فرمایا میرے لئے یہ امر نہایت تکلیف دہ ہے کہ اس قضیے کے خاطر خواہ تصفیہ کی صورت میں پیدا ہوئی مگر بات بنتے بنتے بگڑ گئی۔ فرمایا ۱۹۴۸ء میں نیویارک میں میں نے بڑی کوشش سے سرگوپالا سوامی آئینگر اور باجپائی کو آمادہ کرلیا تھا کہ وہ پنڈت نہرو کو قراردار منظور کرنے پر رضا مند کریں۔ انہوں نے میرے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ پوری کوشس کریں گے۔ چنانچہ ہفتہ کے روز دونوں الگ الگ مجھے ملنے کے لئے آئے اور کہا ابھی پختہ اطلاع تو نہیں آئی لیکن ہمارے پیغام کا رد عمل خوشگوار معلوم ہوتا ہے۔ امید ہے دو ایک دن تک واضح ہدایت آجائے گی اور ہمارا اندازہ ہے کہ سوموار یا منگل وار تک ہم آپ کو پختہ اطلاع دے سکیں گے۔
    ‏eng] from[tag telegram disastrous that received I Monday on Then۔everything upsetting Atlee
    )اور پھر سوموار کے دن مجھے ایٹلی کا وہ منحوس تار وصول ہوا جس نے سارے معاملہ کو بگاڑ کے رکھ دیا(
    میں نے سخت احتجاج کیا لیکن ایٹلی نے میری ایک نہ مانی بلکہ اس بات سے میرے خلاف دل میں گرہ باندھ لی۔ تھوڑے عرصے بعد مجھے کامن ویلتھ کی وزارت سے علیحدہ کرکے بجلی اور ایندھن کا وزر بنادیا اور کچھ عرصہ بعد وزارت سے ہی الگ کردیا۔ شروع کیا اور اس کوشش میں لگ گئے کہ جہاں تک ہوسکتے نئی قراردار کو مضبوط کیا جائے۔ چینی صدر صاحب کے ساتھ متواتر مشورے ہوئے۔ بعض معمولی سی ترامیم اور وضاحتیں انہوں نے تسلیم بھی کیں لیکن قراردار کا ڈھانچہ وہی رہا جو وزیراعظم ایٹلی تجویز کراچکے تھے۔ آخر یہ قراردار اپریل میں کولمبین مندوب کی صدارت میں منظور ہوئی۔ اسی قراردار میں یہ تجویز تھی کہ تین اراکین کا ایک کمیشن مقرر کیا جائے جو برعظیم پاکستان وہند جاکر قراردار کی مختلف تجاویز کو فریقین کے مشورے اور ان کی رضامندی کے ساتھ عملی جامہ پہنائے اور کشمیر کے باشندگان کی آزادانہ رائے شماری کا اہتمام کرے۔ کولمبین صدر صاحب کی تجویز پر کمیشن کے اراکین کی تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کردی گئی۔ طے پایا کہ اس کمیشن میں دور کن مجلس امن نامزد کرے اور وہ دونوں ایک تیسرا رکن نامزد کریں ان کے علاوہ ایک رکن پاکستان اور ایک ہندوستان نامزد کرے۔ مجلس امن نے بلجیم اور کولمبیا کو نامزد کیا اور ان دونوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو نامزد کیا۔ پاکستان نے ارجنٹائن کو اور ہندوستان نے چیکو سلواکیہ کا نامزد کیا۔ کمیشن کا اصطلاح نام۔
    ‏(UNCIP) Pakistan & India on Commission Nations United
    قرار پایا کیونکہ کشمیر کے علاوہ جونا گڑھ کا قضیہ اور بعض اور امور بھی جو پاکستان کی طرف سے پش کئے گئے تھے اس کمیشن کے سپرد تھے لیکن عرف عام میں اس کمیشن کا نام کشمیر کمیشن ہی مشور ہوا۔
    >کشمیر کا فیصلہ کشمیر میں ہوگا<
    قراردار کے منظور ہونے تک ہندوستان کا یہی موقف تھا کہ مجلس امن لڑائی بند کرانے کا انتظام کردے باقی سب امور وہ خود طے کرلیں گے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مجلس امن اصل نزاع کا فیصلہ اپنی نگرانی میں کرانے پر مصر ہے تو انہوں نے اپنی فوجی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا تہیہ کرلیا۔ جب حکومت ہند کے اس عزم کی بھنک ہمارے کانوں میں پڑی تو ہم ابھی نیویارک ہی میں تھے۔ چنانچہ چودھری صاحب نے اور میں نے اس اقدام کے متعلق مشورہ کیا اور میری یہ پختہ رائے ہوئی کہ ہمیں ہندوستان کے اقدام کی روک تھام کے لئے اپنی فوج محاذ پر بھیج دینی چاہئے اور میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنی رائے کی اطلاع وزیراعظم لیاقت علی خاں کی خدمت میں بھیج دوں۔ چودھری صاحب کو اگرچہ حالات کے لحاظ سے یہ خدشہ تو محسوس ہوتا تھا کہ ہندوستان جنگی فیصلے کی کوشش کرے گا لیکن انہیں ایسا مشورہ تار کے ذریعہ بھیجنے میں تامل تھا ان کے خیال میں Cypher کے ذریعے سے پیغام بھیجنا محفوظ طریق نہ تھا۔ انہیں خدشہ تھا کہ بات ظاہر ہوجائے گی اور ہم مجلس امن کے روبرو زیر الزام ہوں گے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ وزیراعظم کی خدمت میں پیغام ایک خاص قاصد کے ہاتھ بھیجا جائے۔ میں نے کہا مرحلہ بہت نازک ہے اور ممکن ہے تاخیر خطرے کا موجب ہو۔ بات نکل جانے میں کوئی حرج نہیں۔ مجلس امن اپنا وقار بہت حد تک کھوچکی ہے۔ اگر انہیں پنڈت جواہرلال نہرو کو کچھ کہنے کی ہمت نہیں تو ہمیں کیا کہہ لیں گے۔ اگر ہم مجلس امن کے خوف سے غافل بیٹھے رہے تو جو نقصان ہمیں پہنچے گا اس کا ازالہ بعد میں نہیں ہوسکے گا۔ ممکن ہے چودھری صاحب مجھ سے متفق نہ ہوئے ہوں لیکن انہوں نے ناچار رضا مندی کا اظہار کردیا اور میں نے اس مضمون کا Cypher تار وزیراعظم کی خدمت میں ارسال کردیا >کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر میں ہوگا< نیویارک میں نہیں ہوگا لہذا ہندوستان کی فوجی تیاری کے پیش نظر لازم ہے کہ ہم اپنی باقاعدہ فوج محاذ پر بھیج دیں۔
    کمانڈر انچیف کی رپورٹ کا خلاصہ
    وزیراعظم صاحب نے میرا تار ملنے پر کمانڈر انچیف سرڈگلس گریسی کو ہدایت دی کہ وہ کشمیر کے محاذ کے متعلق موجودہ حالت کی رپورٹ پیش کریں۔ چنانچہ انہوں نے رپورٹ پیش کی۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستانی افواج بڑی مستعدی سے اور بڑے پیمانے پر آگے بڑھنے کی تیاری کررہی ہیں۔ اس صورت میں آزاد کشمیر کے فوجی دستے ان کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ اور نہ صرف آنا کشمیر کے علاقہ تک روبرو اس امر کو تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہ رہا۔ کمیشن کو اس اقدام کی اطلاع ہم نے خود کی تھی اور ان کے کراچی پہنچنے پر پہلی ملاقات میں کردی تھی۔
    اقوام متحدہ کی کشمیر کمیشن کے اراکین
    کمیشن کے سپرد جو کام کیا گیا تھا وہ نہایت ہی اہم اور بہت ذمہ داری کا تھا لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ متعلقہ حکومتوں نے اس کام کی اہمیت کو مناسب وقعت نہ دی اور اپنے نمائندوں کے انتخاب میں نہایت سہل انگاری سے کام لیا کمیشن کے اراکین بلاشبہ شرفاء تھے لیکن سیاسی سوجھ بوجھ ہمت اور حوصلے کے لحاظ سے اس درجہ تک نہیں پہنچتے تھے جو ان کے فرائض کی کماحقہ ادائیگی کے لئے ضروری تھا۔ ان میں سے صرف ایک رکن ان خوبیوں کے مناسب حد تک حامل ثابت ہوئے جو ان کے فرائض کی کامیاب ادائیگی کے لئے لازم تھیں۔ وہ چیکو سلواکیہ کے نمائندے ڈاکٹر جوزف کوربیل تھے جنہوں نے کمیشن سے علیحدگی کے بعد کمیشن کی سرگرمیوں کے متعلق ایک کتاب Kashmir in Danger شائع کی اس کتاب کا نیا ایڈیشن ۱۹۶۶ء کے شروع میں شائع ہوا ہے۔ بلجیم کے پہلے نمائندے ایک عمررسیدہ Boron تھے جنہیں صرف کھانے پینے اور سونے سے سروکار تھا۔ اگر کسی وقت کمیشن کے کام کی طرف توجہ فرماتے تو یہ دیکھنے کے لئے کہ کمیشن کا کوئی اقدام پنڈت جواہر لال نہرو کی طبع نازک پر گرا تو نہیں ہوگا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے نمائندے کچھ توجہ فرماتے تھے لیکن ان کی شرافت ان کی ہمت پر غالب تھی۔ کولمبیا کے نمائندے ڈاکٹر کوربیل سے دوسرے درجے پر تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کا کچھ ثبوت دیا لیکن ان کے لئے بڑی مشکل تھی کہ انگریزی زبان کی واقفیت بہت محدود تھی۔ ارجنٹائن کے نمائندے پرلے درجے کے شریف اور اس درجہ باحیا تھے کہ ان کے لئے بات کرنا دوبھر تھا۔ کمیشن نے جس حد تک اپنے فرائض کو سرانجام دیا اس میں ساٹھ فیصدی ڈاکٹر کوربیل کا حصہ تھا بیس فیصدی امریکی نمائندے کا اور بیس فیصدی کولمبین نمائندے کا۔ ڈاکٹر کوربیل ۱۹۴۹ء کے شروع میں کمیشن سے علیحدہ ہوگئے۔ ان کی علیحدگی کے بعد کمیشن نیم مردہ ہوگئی اور تھوڑے سے عرصے بعد اس نے دم توڑدیا۔
    ڈاکٹر جوزف کوربیل رکن کشمیر کمیشن
    ڈاکٹر جوزف کوربیل کمیشن پر تقرری کے وقت چیکوسلواکیہ کے سفیر متعینہ بیلگراڈ تھے۔ چیکوسلواکیہ کو ہندوستان نے کمیشن کا رکن نامزد کیا تھا۔ ان کی رکنیت کے دوران میں چیکو سلواکیہ اشتراکیت کے زیر اثر آنا شروع ہوگیا۔ اپنے وطن کے رحجان سے خائف ہوکر انہوں نے ۱۹۴۹ء کے شروع میں ہی یہ انتظام کیا کہ ان کے بیوی بچے لندن چلے جائیں۔ کمیشن سے مستعفی ہونے پر وہ خود بھی لندن چلے گئے اور وہاں سے بیوی بچوں سمیت امریکہ چلے گئے۔ وہاں ڈینور یونیورسٹی کے شعبہ سوشل سائنس فونڈیشن میں پروفیسر ہوگئے اور اب چند سالوں سے فیڈریشن کے ڈائریکٹر اور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ ہیں۔ میرے جو مراسم ان کے ساتھ کمیشن کے سلسلے میں قائم ہوئے تھے وہ ان کے کمیشن سے مستعفی ہونے کے بعد بھی قائم رہے۔ اور بتدریج مضبوط ہوتے گئے۔ حتی کہ ان مراسم نے گہرا دوستانہ رنگ اختیار کرلیا۔ مجھے کئی بار ان کے توسط کے ڈینور یونیورسٹی میں تقریر کے لئے اور دیگر تقاریب کے سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ہر موقع پر ان کی طرف سے بڑی تواضع اور شفقت کا سلوک ہوا۔ جزاء اللہ۔ ایک موقع پر میں ڈینور میں ان کے ہاں گیا ہوا تھا` ان کے بیوی بچوں کے ساتھ بے تکلفی ہوچکی تھی۔ میں نے باتوں باتوں میں ان کے صاحبزادے سے کہا جب تمہارے ابا کمیشن میں پہلے پہل مجھ سے ملے تو یہ مجھے کچھ شبہ کی نظر سے دیکھتے تھے اور واقعات پر بھی جب تک پورے طور پر اور دونوں حکومتوں کو پیش کی۔ اس سال اسمبلی کا اجلاس پیرس میں ہورہا تھا۔ کمیشن بھی پیرس متقل ہوگیا تھا اور وہیں یہ قراردار تیار ہوئی۔ دسمبر ۱۹۴۸ء کے آخری ہفتے میں دونوں حکومتوں نے دونوں قرار داروں کو قبول کرلیا۔ اس پر کمیشن نے دونوں کو دعوت دی کہ جب اصل نزاع کے طریق فیصلہ پر اتفاق ہوگیا ہے تو اب جنگ جاری رکھنا بے وجہ نفوس اور امول کا ضیاع ہے۔ چنانچہ کمیشن کی تحریک پر یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو جنگ بند ہوگئی۔ کمیشن کی دوسری قراردار اگرچہ آخر دسمبر میں قبول ہوچکی تھی لیکن اس کی تاریخ ۴ جنوری ۱۹۴۹ء قرار پائی۔ اس کے بعد کمیشن موقع پر طرفین کی فوجوں کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی۔ اب تیرہ اگست کی قراردار کے مطابق ٹروس ایگریمنٹ Agreement True یعنی فوجی انخلاء کے معاہدے کے ترتیب دینے کا مرحلہ درپیش تھا۔ کمیشن نے کراچی میں اس کے متعلق کچھ تبادلہ خیالات کیا اور پھر دلی پہنچ کر طرفیق کے فوجی نمائندوں کو طلب کیا کہ وہ ۱۳ اگست کی قراردار کے مطابق فوجی انخلاء کا منصوبہ تیار کرکے ساتھ لائیں۔ تاریخ مقررہ پر جب طرفین کے نمائندے کمیشن کے روبرو پیش ہوئے تو پاکستانی نمائندوں نے تو حسب ہدایت کمیشن اپنا منصوبہ کمیشن کی خدمت میں پیش کردیا لیکن ہندوستانی نمائندوں نے کہا کہ ان کا منصوبہ تیار تو ہے لیکن ابھی کمانڈر انچیف اور وزیراعظم اسے ملاخطہ نہیں کرسکے اس لئے کچھ مہلت درکار ہے۔ آخر ہفتہ عشرہ کی تاخیر کے بعد ان کی طرف سے منصوبہ پیش کیاگیا مگر بدیں شرط کہ کمیشن تو اسے ملاخطہ کرے لیکن پاکستان بلکہ مجلس امن کو بھی اس کی اطلاع نہ ہو۔ چنانچہ آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہندوستان نے کیا منصوبہ پیش کیا تھا۔
    فوجی انخلاء کے متعلق قراردار یہ تھی کہ قبائلیوں اور رضا کاروں کے ریاست کی حدود سے اخراج کے بعد پاکستانی فوج تمام کی تمام اور ہندوستانی فوج کا کثیر حصہ Bulk ریاست سے نکل جائے۔ جنگ بندی کے بعد قبائلی اور رضا کار جو ریاست کے باہر سے لڑائی میں شامل ہوئے تھے ریاست سے چلے گئے اور کمیشن کو قراردار کے اس حصے کی تعمیل کے متعلق اطمینان ہوگیا۔ اب سوال پیدا ہوا کہ کشمیر میں جو ہندوستانی فوجیں داخل ہوئی تھیں ان کا کثیر حصہ Bulk کیا قراردیا جائے۔ اس بات پر کمیشن اور ہندوستانی نمائندوں کا اتفاق نہ ہوسکا۔ چنانچہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ہم ہندوستان کے پیش کردہ منصوبے پر تو اپنی رپورٹ میں بحث کرنے کے مجاذ نہیں کیونکہ ہندوستان کی طرف سے ہم پر یہ شرط عائد کردی گئی ہے کہ ہم منصوبے کی تفاصیل کا اظہار نہ کریں۔ لیکن منصوبے پر غور کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کمیت اور کیفیت دونوں لحاظ سے ہندوستان کا پیش کردہ منصوبہ قرار دار کے ساتھ موافقت نہیں رکھتا۔ کمیشن کے الفاظ حسب ذیل تھے۔
    ‏Plan the does qualitatively nor quantitively Resolution><Neither the of terms the with comply
    اس مرحلے پر کمیشن نے یہ بھی کہہ دیا کہ جنگ بندی ہوکر حدفاصل مقرر ہوگئی ہے۔ ہماری رائے میں اب مزید کارروائی کی نگرانی کے لئے کمیشن کی بجائے ایک فرد واحد زیادہ موزوں ہوگا۔
    سراوون ڈکسن کا تقرر بطور نمائندہ اقوام متحدہ
    مجلس امن نے کمیشن کی یہ سفارش منظور کرتے ہوئے آسٹریلیا کی عدالت عالیہ کے جج سراوون ڈکسن کو جو بعد میں آسٹریلیا کے چیف جسٹس بھی ہوئے کشمیر کے قضیہ میں اقوام متحدہ کا نمائندہ مقرر کیا۔ انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ رائے عامہ کے استصواب کی شرائط طے کرنے کے بعد استصواب کا انصرام کریں یا فریقین کی رضامندی سے اس قضیہ کے طے کرنے کا کوئی اور طریقہ اختیار کریں۔ سراوون ڈکسن نہایت قابل اور پختہ کار شخص تھے۔ وہ کراچی تشریف لائے اور پھر کر خوب جانتے تھے اس لئے مصر ہوئے کہ انہیں بذریعہ تار ضرور مطلع کیا جائے۔ ان کے اصرار پر سراوون تار بھیجنے پر رضامند ہوگئے اور اسی شام سراوون نے پنڈت جی کو تار دے دیا کہ جس تجویز کے خاکے کا میں نے آپ سے ذکر کیا وزیراعظم پاکستان بھی آپ کی طرح اس کی تفاصیل تیار ہونے پر اس پر میرے اور آپ کے ساتھ تبادلہ خیالات کے لئے آمادہ ہیں اس لئے میں اب اس تجویز کی تفاصیل تیار کرکے آپ کو مطلع کروں گا۔ دوسرے دن سراوون تشریف لائے۔ بڑے آزردہ تھے۔ فرمایا تمہیں معلوم ہے پنڈت نہرو نے میرے تار کا کیا حیرت انگیز جواب دیا ہے۔ دریافت کرنے پر فرمایا پنڈت جی نے جواب دیا ہے۔ >مجھے تمہارے تار کی سمجھ نہیں آئی۔ مجھے تمہاری کسی تجویز کا علم نہیں۔ میرے لئے یہ بالکل نیامعاملہ ہے تم دلی آئو تو اس پر بات چیر کریں گے۔< سراوون نے فرمایا۔ اس تجویز کے متعلق میری اور پنڈت نہرو کی جو گفتگو ہوئی وہ بالکل واضح تھی اور اس میں کسی قسم کی غلط فہمی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ہوسکتا ہے کہ مزید غور کرنے پر وہ اس نتیجے پر پہنچے ہوں کہ میری تجویز پر تبادلہ خیالات کرنا ان کے مفاد کے خلاف ہے اور وہ اب اس پر آمادہ نہیں لیکن ان کا یہ کہنا کہ انہوں نے پہلے کسی ایسی تجویز کا ذکر بھی نہیں سنا اور ان کے لئے یہ ایک بالکل نئی بات ہے خلاف واقعہ ہے بہرصورت اگرچہ میرا دلی جانا بے سود ہے لیکن میں ان کی دعوت کو رد بھی نہیں کرسکتا کہ ایسا کرنا بدخلقی ہوگی۔ لہذا میں کل دلی جارہا ہوں شاید اس معمے کا حل وہاں جاکر معلوم ہو۔ تیسرے دن وہ کراچی واپس آئے اور بتلایا کہ دلی پہنچنے پر سر گرجاشنکرباجپائی ان کی پیشوائی کے لئے مطار پر آئے ہوئے تھے۔ فرمایا جب ہم کار میں بیٹھ گئے تو میں نے ان سے کہا آپ کے وزیراعظم کا اپنی رائے بدل لینا تو سمجھ میں آسکتا ہے لیکن انہوں نے یہ کیسے لکھا کہ انہیں میری کسی تجویز کا علم ہی نہیں اور ان کے لئے یہ بالکل نئی بات ہے۔ اس لئے جواب میں سرگرجاشنکرباجپائی نے بڑے دھیمے لہجے میں کہا۔
    ‏ have must Minister Prime the conceive I Owen! Amnesia><Sir temporary of attach an suffered
    )سراوون! میرا خیال ہے میرے وزیراعظم پر شاید عارضی نسیان کا حملہ ہوگیا ہو(
    سرگرجاشنکر کا یہ فقرہ دہرانے کے بعد سراوون نے جو کچھ کہا وہ پنڈت جی کی وفات کے بعد ضبط تحریر میں لانا مناسب نہیں۔
    ‏tav.11.13
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    جماعت احمدیہ کے نئے مرکز ربوہ کی بنیاد
    ڈاکٹر فرینک گراہم کا تقرر
    سراوون ڈکسن نے اپنی ناکامی کی رپورٹ مجلس امن کو بھیج دی۔ مجلس امن نے فریقین کے بیانات سنکر کینیڈا کے مندوب جنرل میکناٹن سے درخواست کی کہ وہ فریقین کے ساتھ بات چیت کے بعد اس قضیے کے تصفیہ کے لئے کوئی عملی تجویز پیش کریں۔ جنرل میکناٹن نے جو تجویز پیش کی اس کا مقصد بھی عملا وہی تھا جو سراوون کی تجویز کا تھا۔ لیکن ہدوستان نے اسے بھی رد کردیا۔
    اس کے بعد ڈاکٹر فرینک گراہم کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کے نمائندے مقرر کئے گئے وہ کئی بار کراچی تشریف لائے اور دلی بھی تشریف لے گئے۔ جنیوا میں فریقین کے ساتھ تبادلہ خیالات کیا۔ ایک چھوڑ چھ رپورٹیں مجلس امن میں پیش کیں۔ ہر رپورٹ میں اس امر پر بحث تھی کہ فوج کے انخلاء کا کیا طریق ہو۔ عموماً یہی ہوا کہ جو طریق بھی انہوں نے تجویز کیا پاکستان اس پر عمل کرنے کو تیار ہوگیا لیکن ہندوستان نے انکار کردیا۔ مجلس امن کی مساعی بھی ہندوستان کو اپنی ضد ترک کرنے پر آمادہ نہ کرسکیں۔ ایک عرصے تک تو یہی امر زیر بحث رہا کہ ہندوستان اپنی افواج متعینہ کشمیر میں سے کتنی افواج کے انخلاء پر رضامند ہونے کو تیار ہے۔ ہندوستان کی طرف سے ہرنوع کا بہانہ اور کردیں۔ انہوں نے اس حقیقت کو نظرانداز کردیا کہ جو اسباب پاکستان کے ظہور میں آنے کا موجب ہوئے تھے وہی اسباب کشمیر اور ہندوستان کے اتحاد کے رستے میں روک ہیں بلکہ بعض وجوہ سے کشمیر کے رستے میں یہ روک اور بھی ناقابل عبور ہے۔ برعظیم ہندو پاک میں اگرچہ مسلمانوں کو ہندو ذہنیت کا بہت کچھ تلخ تجربہ ہوا لیکن مسلمانو پر ہندو ذہنیت کی >کرم فرمائی< کے رستے میں برطانوی اقتدار ایک حد تک حائل رہا تھا۔ اس کے برعکس کشمیر میں ڈگرہ راج ایک سو سال سے مسلم آبادی کو بے دردی سے کچلنے میں بلا روک ٹوک مصروف رہا تھا۔ یہ امید رکھنا کہ ڈوگرہ مظالم کی یاد کشمیر کے مسلمانوں کے دل و دماغ سے محوکی جاسکے گی عبث ہے۔ پھر تقسیم ملک کے بعد خود ہندوستان میں جو سلوک مسلم اقلیت کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے وہ کشمیر کے مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ تیسرے ہندوستانی فوج کی طرف سے جو ظلمانہ اور حیا سوز سلوک کشمیر کی مسلم آبادی کے ساتھ ہورہا ہے وہ ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کے درمیان ایک ناقابل عبور خلیج قائم کرنے والا ہے۔ ہندوستان کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہی امر کافی ہونا چاہئے کہ وہی شیر کشمیر شیخ عبداللہ جن کو پنڈت نہرو بڑے فخر سے کشمیر کے متعلق اپنے موقف کی تائید میں پیش کیا کرتے تھے آخر کار ہندوستان کے سلوک اور پنڈت صاحب کی وعدہ خلافیوں سے سبق حاصل کرکے کشمیر کے حق خود اختیاری کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ جس کی پاداش میں پنڈت جی نے انہیں بغیر مقدمہ چلائے بارہ سال تک جیل میں رکھا۔ اس طویل حراست سے رہا ہونے کے بعد وہ پھر اس حق کے حصول کے لئے انتہائی جدوجہد کررہے ہیں۔ حال ہی میں شیخ صاحب نے کشمیری عوام کی کنونشن میں تقریر کرتے ہوئے صاف صاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے پنڈت جی کے وعدوں پر اعتبار کرنے میں غلطی کی اور الزام لگایا ہے کہ پنڈت جی نے نہ صرف ان سے کئے گئے وعدوں سے انحراف کیا بلکہ اقوام متحدہ کی مجلس امن میں جو کچھ انہوں نے منظور کیا اس سے بھی منحرف ہوگئے اور کشمیر کو ہندوستان کی کالونی بنانے کی پالیسی اختیار کرلی۔
    ہندوستان نے جو اقدام کشمیر کا الحاق اپنے ساتھ کرنے کے سلسلے میں کئے ان میں سے ایک کشمیر میں آئین ساز مجلس کا قیام تھا۔ جونہی اس کے متعلق ہندوستان کی طرف سے ابتدائی اعلان ہوا پاکستان نے مجلس امن میں اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے جواب میں سر بی۔ این۔ رائو نے جو اس زمانے میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ تھے حکومت ہند کی طرف سے ایک بیان مجلس امن کے روبرو پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان مجوزہ مجلس آئین ساز کو الحاق کے مسئلے پر اظہار رائے کرنے سے روک نہیں سکتا لیکن چونکہ یہ مسئلہ مجوزہ مجلس کے اختیار سے باہر ہوگا اس لئے اگر وہ مجلس اس مسئلے پر کسی رائے کا اظہار کرے تو اس کا کوئی اثر اس قضیے پر نہیں ہوگا جو مجلس امن کے سامنے ہے۔ لیکن حکومت ہند کے اس اعلان اور اقرار کا بھی وہی حشر ہوا جو ان کے باقی معاہدوں کا ہوتا رہا ہے۔ اور بالاخر ہندوستان نے یہ کہنا شروع کردیا کہ چونکہ کشمیر کی نام نہاد مجلس آئین ساز ہندوستان کے ساتھ الحاق کی تائید کرچکی ہے اس لئے اب اس مسئلے پر کسی استصواب رائے عامہ کی ضرورت نہیں رہی۔
    مجلس امن میں کشمیر کے معاملے پر ہندوستان کی نمائندگی جب مسٹر کرشنامین کرنے لگے تو انہوں نے سرے سے ہندوستان کی تمام ذمہ داری سے ہی انکار کردیا۔ اول تو کہا کہ ریاست کا الحاق ہندوستان کے ساتھ پہلے دن سے ہی غیر مشروط` پختہ اور مستقل ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی گنجائش ہی نہیں۔ دوسرے کمیشن کی قراردار کی رو سے ہندوستانی افواج کا انخلاء اسی صورت میں لازم آتا ہے جب پاکستا کی تمام افواج آزاد کشمیر سے واپس ہوجائیں۔ چونکہ پاکستان نے اس تمام عرصے میں اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کیا اس لئے ہندوستان اپنی ذمہ داری سے آزاد ہوچکا ہے۔ تیسرے چونکہ اس تمام عرصے میں حالات بہت حد تک بدل چکے ہیں اس لئے ہندوستان اب قرارداروں کا پابند نہیں رہا۔ چوتھے چونکہ اب ہندوستان نے آئینی طور پر ریاست کو ہندوستان کا جزو قرار دے دیا ہے اس لئے کشمیر کا قضیہ حل ہوگیا ہے اور تنازعہ باقی نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادارے کو کچھ کہنے یا کرنے کا حق ہو۔ ان سب باتوں کا کافی و
    بترس از آہ مظلوماں کو ہنگام دعا کردن
    اجابت ازدرحق بہراستقبال می آمید
    کشمیر کی مسلمان آبادی ایک صدی سے زائد عرصہ تک ڈوگرہ مظالم کا شکار رہی اور اس کے بعد زائد از بیس سال سے ہندوستانی مظالم سہ رہی ہے۔ ان مظالم میں تخضیف ہونے کی بجائے ان کی شدت بڑھ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ملک کسی قوم کسی فرد کا محض ان کے نام کی وجہ سے حمایتی نہیں۔ اس کی شان اس سے بہت بلند ہے۔ لیکن وہ حق اور راستی` امن اور انصاف` شفقت اور رحم` عجز اور انکسار سے ضرور محبت رکھتا ہے اور جبر اور تعدی` ظلم اور سختی` ایذادہی اور ضرررسانی اس کے غضب کو بھڑکاتی ہیں۔ وہ عقوبت میں دھیما ہے لیکن مظلوم کی فریاد کو سنتا اور آخر ظالم کو پکڑتا ہے۔ وہ شدید البطش ہے اس کی گرفت بہت سخت ہے۔۵
    فصل دوم
    استحکام پاکستان کیلئے کراچی` پشاور` راولپنڈی اور کوئٹہ میں نہایت ولولہ انگیز پبلک تقریریں` بیش قیمت ارشادات نیز دوسری جماعتی و دینی مصروفیات
    پچھلے سال ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود نے پنجاب کے دارالسلطنت لاہور میں >پاکستان کا مستقبل< کے عنوان پر متعدد کامیاب اور معرکتہ الاراء لیکچر دیئے جن کو چوٹی کے اہل علم طبقوں نے نہایت ذوق و شوق سے سنا اور زبردست خراج تحسین ادا کیا۔ اس سال حضور مغربی پاکستان کے دوسرے متعدد مرکزی مقامات میں تشریف لے گئے اور پاکستان کے ہزاروں باشندوں کو براہ راست اپنے بصیرت افروز خیالات اور تعمیری افکار سے روشناس کرایا۔ چنانچہ حضور نے سب سے پہلے سیالکوٹ۶اور جہلم۷ میں بعدازاں ۱۴۔ امان/مارچ کو کراچی میں` ۵۔۸ شہادت/ اپریل کو پشاور میں` ۱۲۔ شہادت/اپریل کو راولپنڈی میں اور ۱۶۔ احسان/جون کو کوئٹہ میں نہایت معلومات افزاء اور روح پرور پبلک تقاریر فرمائیں جن میں پاکستان کے پیش آمد اہم ملکی مسائل میں پاکستانیوں کی راہنمائی کرتے ہوئے نہایت شرح وبسط سے انہیں اپنی قومی و ملی ذمہ داریوں کی بجا آوری کی طرف توجہ دلائی اور اپنے پرجوش اور محبت بھرے الفاظ` بے پناہ قوت ایمان اور ناقابل تسخیر عزم وولولہ سے لاکھوں پژمردہ اور غمزدہ دلوں میں زندگی اور بشاشت کی ایک زبردست روح پھونک دی۔
    سفر سیالکوٹ
    سیدنا حضرت مصلح موعود فروری ۱۹۴۹ء کے پہلے ہفتہ لاہور سے سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ ۳۔ فروری ۱۹۴۹ء کو جماعت احمدیہ سیالکوٹ نے ایک عصرانہ۸ کا انتظام کیا جس میں چوہدری نذیر احمد صاحب ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ سیالکوٹ نے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا جس کے جواب میں حضور نے ایک اہم تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ ہمبرگ )جرمنی( میں گیارہ بارہ احمدی ہیں اور جرمن لوگوں میں اسلام کے متعلق خاص طور پر رغبت پائی جاتی ہے اور وہ سلام کی تحقیق کررہے ہیں جو قربانی اور کام کی روح ان لوگوں میں پائی جاتی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ جب یہ لوگ اسلام قبول کریں گے تو اسلام کے لئے ویسی ہی قربانیاں کریں گے جس طرح یہ لوگ دنیا کے لئے قربانیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انگلستان کی نسبت جرمن اسلام کی طرف بہت زیادہ راغب معلوم ہوتے ہیں۔
    حضور نے دوران تقریر مبلغ انگلستان مسٹر بشیر آرچرڈ کی قربانی اور تبلیغی خدمات پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی قربانی کے نتیجہ میں دوسرے لوگوں میں بھی ایک قسم کی بیداری پیدا ہوگئی ہے اور انہیں دیکھ کر میں امید کرتا ہوں کہ ان کے اندر اسلام کی حقیقی روح پیدا ہوجائے گی اور وہ اسلامی تمدن کے مطابق کام کرنے لگے جائیں گے۔ آخر میں حضور نے حاضرین کو نصیحت فرمائی کہ
    >آپ کوشش کریں کہ ہمارے اندر کوئی نہ کوئی ایسی چیز پائی جائے جسے دیکھ کر ہر شخص کہہ سکے کہ یہ پاکستانی ہے۔ کسی مجلس میں ہم چلے جائیں وہ فوراً ہمیں شناخت کرکے کہہ سکے کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں۔ جیسے یوروپین لوگوں کو فوراً پہچان لیا جاتا ہے۔<۹
    اگلے روز ۴۔ فروری ۱۹۴۹ء کو ۸ بجے شب جناح ہال میں خواجہ محمد صفدر صاحب پریذیڈنٹ مسلم لیگ سیالکوٹ کے زیر صدارت ایک جلسہ منعقد ہوا جس سے سیدنا حضرت مصلح موعود نے خطاب فرمایا اور >پاکستان اور اس کے بین المملکتی تعلقات< کے عنوان پر نہایت معلومات افروز لیکچر دیا۔ حضرت سیدنا مصلح موعود نے اپنے لیکچر کے آغاز میں تعلقات کی اقسام پر روشنی ڈالی مثلاً تعلقات عامہ` تعلقات خاصہ )مدافعانہ` جارحانہ` صنعتی وغیرہ(۔
    قیام پاکستان کے اس ابتدائی دور میں پاکستان کو دوسرے ممالک سے کن خطوط پر معاہدات کرنے چاہیں؟ اس بارہ میں حضور نے رہنمائی فرمائی اور پھر پاکستان کی ترقی واستحکام کے لئے بہت سی مفید تجاویز حاضرین کے سامنے رکھیں مثلاً۔
    ۱۔
    مذہب زبان اور جغرافیائی ماحول کے اعتبار سے کشمیر کو لازمی طور پر شامل ہونا چاہئے۔ اگر عقل سے کام لیا جائے تو یہ ہوجائے گالیکن اس کے حاصل کرنے کے لئے جس بیداری کی ضرورت ہے وہ نظر نہیں آتی۔ یہ کام کشمیری مہاجرین کا ہے جن کو ہم نے مطمئن کرنا ہے جب تک ان سے صحیح معاملہ نہ کیا جائے ان کے ووٹ حاصل کرنا مشکل ہیں۔
    ۲۔
    افغانستان سے تعلقات نہایت ضروری ہیں تا دشمن ہمارے ملک کو دو طرف سے خراب نہ کرسکے۔
    ۳۔
    سیلون سے معاہدہ کیا جائے تا ہمارے جہاز مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان جاتے ہوئے وہاں تھہرسکیں۔
    ۴۔
    برما سے تعلقات بڑھائے جائیں تا پاکستانی نیوی کے جہازوں کے لئے بندرگاہ مل سکے۔
    ۵۔
    نیوی اور ہوائی بیڑے کو مضبوط کیا جائے۔
    ۶۔
    انڈسٹری کو بڑھانا چاہیے تا انہیں خارجی اثر سے آزاد کیا جائے۔
    ۷۔
    عربی تعلیم کا رواج ضروری ہے تا یہ لینگو آفرنیکا کا کام دے سکے۔
    ۸۔
    تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اپنی حالت کو اسلام کے مطابق بنانا چاہیے۔
    ۹۔
    سیاحت کے فروغ کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ کالجیئٹ طلباء کو مختلف سوسائٹیاں بنالینی چاہیں اور ہر ایک سوسائٹی ایک ایک ملک میں جائے اور وہاں کے طلباء کو پاکستان میں آنے کی طرف مائل کرے۔ اس طرح تعلقات بڑھ جائیں گے اور تمام اسلامی ممالک ایک خاندان کی طرح ہوجائیں گے۔ مضامین بھی لکھے جائیں اور اخباروں میں پراپیگنڈا بھی کیا جائے۔ دوسرے ممالک کے ذرائع نقل و حرکت میں آسانی پیدا کی جائے۔
    ۱۰۔
    اسلامی ممالک کا بلاک بنایا جائے جس میں یہ ممالک شامل ہوں۔ ترکی` مصر` لبنان` شام` شرق اردن` سعودی عرب` افغانستان` عراق` ایران` انڈونیشیا` ملایا` سوڈان` الجزائر اور چین کے بعض حصے۔
    فرمایا۔ اگر یہ سب باتیں ہوجائیں تو اسلامی سیاسیات کے بنیاد پڑسکتی ہے۔ یہ بلاک ایسا ہوگا کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔ یہ بلاک اگر واقع میں صنعتی بن جائے` ہوشیار بن جائے اور اس کا دفاع مضبوط ہوجائے تو بڑی سے بڑی حکومت بھی اس کے ساتھ تعلقات رکھتے میں مجبور ہوگی۔۱۰
    حضرت بابو قاسم دین صاحب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ سیالکوٹ میں حضور کا ایک لیکچر خان بہادر خواجہ برکت علی صاحب ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر جنرل سیالکوٹ کی صدارت میں ہوا۔ چنانچہ تحریر فرماتے ہیں۔
    >حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لیکچر >استحکام پاکستان< کے سلسلہ میں موتی محل سنیما میں بصدارت خان بھائو خواجہ برکت علی صاحب ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر جنرل سیالکوٹ رات ۸ بجے کے قریب شروع ہوا۔ یہ سنیما سرائے مہاراجہ جموں و کشمیر کے ساتھ ہی واقع ہے جس میں ۲۔ نومبر ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا >لیکچر سیالکوٹ< )بصدارت حضرت مولوی نوردین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ( حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھ کر سنایا تھا۔
    لیکچر کے سننے کے لئے شہر سیالکوٹ میں ایک عام منادی کرائی گئی تھی۔ ہماری بیرونی جماعتوں کے لوگ بھی کشرت سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ تقریر کے وقت ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا اور حاضری ہمارے اندازہ سے کئی گنا زیادہ تھی۔ جلسہ نہایت پر امن ماحول میں ہوا اور نہایت کامیاب ہوا۔
    خاکسار جلسہ کے دوسرے دن مکرم چوہدری محمد اکرم صاحب سول سپلائی افسر سیالکوٹ کے ہاں گیا وہاں خان بہادر چوہدری قاسم علی صاحب` ذیلدار` سب رجسٹرار` پراونشل درباری ساکن بدر کی چیمہ تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ تشریف رکھتے تھے میں ان کو ملا۔ آپ نے حضرت مصلع موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جلسہ کی تقریر کی بہت تعریف کی اور فرمایا کہ خلیفہ صاحب کا سیاسی` جغرافیائی اور مذہبی لحاظ سے بہت وسیع علم اور مطالعہ ہے۔ ہال میں ایک نقشہ ضلع سیالکوٹ کا لٹکایا ہوا تھا جس کے ذریعہ سے پاکستان اور جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کی نشان دہی کرکے دوران تقریر میں بتاتے جاتے تھے۔ مکرم چوہدری صاحب نے مجھ کو فرمایا کہ رات کا لیکچر سن کر میری طبیعت پر یہ اثر ہوا ہے کہ اب ہم کو خلیفہ صاحب کی بیعت کرلینی چاہئے۔
    دوران قیام سیالکوٹ حضور نے سیالکوٹ۔ جموں کا بارڈر بھی جاکر دیکھا۔ حضور وہاں جیپ پر تشریف لے گئے تھے۔< )قاسم الدین محلہ حکیم حسام الدین سیالکوٹ(
    سفر جہلم
    اس سفر کا ذکر حضور کے ایک خطبہ کراچی میں ملتا ہے حضور نے فرمایا۔
    >میں نے گزشتہ ایام میں جہلم میں ایک تقریر کی جس میں مسلمانوں کو نصیحت کی کہ انہوں نے جو پاکستان مانگا تھا تو اس لئے مانگا تھا کہ وہ اسلامی تہذیب اور اسلامی تمدن کو آزادانہ طور پر قائم کرسکیں۔ اب جبکہ پاکستان قائم ہوچکا ہے کم از کم پانچ وقت کی نماز ہی مسلمان مسجد میں آکر ادا کرنا شروع کردیں۔ اگر وہ پانچوں وقت نماز بھی نہیں پڑھتے تو پاکستان مانگ کہ انہوں نے کیا لیا۔ اس پر ایک شخص نے پریذیڈنٹ کو رقعہ لکھا کہ میں والنیٹرز کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں بعد میں مجھے موقعہ دیا جائے۔ چنانچہ بعد میں اسے بولنے کا موقعہ دیاگیا۔ اتفاق سے پریذیڈنٹ ایک ایسے دوست تھے جو احمدیت کے مخالف رہے ہیں۔ وہ شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا۔ مرزا صاحب نے باتیں تو بڑی اچھی کہی ہیں لیکن ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ اگر نماز کا انہیں اتنا ہی احساس ہے تو اب ہماری نماز ہونے والی ہے مرزا صاحب چلیں اور ہمارے پیچھے نماز پڑھ کردکھادیں غرض ایک لمبی تقریر اس نے صرف اسی بات پر کی۔ اس وقت میرے دل میں بدظنی پیدا ہوئی کہ شاید پریذیڈنٹ کی مرضی اور ایماء سے یہ تقریر ہورہی ہے۔ بعد میں پریذیڈنٹ صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مجھے تو رقعہ میں یہ دکھایا گیا تھا کہ میں والنیٹروں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر تقریر کسی اور بات پر شروع کردی گئی ہے میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تقریر کرنے والے صاحب کا منشاء کیا ہے۔ امام جماعت احمدیہ نے اپنی تقریر میں یہ کہا ہے کہ مسلمانوں کو نماز پڑھنی چاہئے۔ نماز محمد رسول اللہ~صل۱~ کا حکم ہے اور مسجدیں بھی ہماری اپنی ہیں۔ انہوں نے صرف توجہ دلائی ہے کہ تم اپنے رسولﷺ~ کی بات مانو اور مسجدوں میں نمازیں پڑھا کرو۔ مگر یہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب ان کے پیچھے نماز پڑھیں۔ اگر تو انہوں نے یہ کہا ہوتا کہ مسلمانوں کو میرے پیچھے نمازیں پڑھنی چاہئیں تب بھی کوئی بات تھی وہ کہہ سکتے تھے کہ آپ ہمارے پیچھے پڑھیں۔ یا اگر کہتے کہ مسلمانوں کو احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھنی چاہئیں تب بھی یہ بات ان کے منہ پر سج سکتی تھی کہ اگر ہمیں احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ بھی ہمارے پیچھے پڑھیں لیکن انہوں نے تو ہمارے آقا کی ایک بات ہمیں یاد دلائی ہے۔ کیا ہمارا یہ کام ہے کہ ہم اپنے آقاﷺ~ کی بات پر عمل کریں یا یہ کام ہے کہ ہم کہیں جب تک تم ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو ہم اپنی آقاﷺ~ کے حکم پر بھی عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ غرض انہوں نے اسے خوب رگیدا اور لتاڑا۔<۱۱
    سفر سندھ کراچی
    حضرت امیرالمومنین سیدنا المصلح الموعود نے استحکام پاکستان اور جماعتی تنظیم و تربیت کے اہم اغراض ومقاصد کی تکمیل کے لئے پہلا طویل سفر سندھ کی طرف اختیار فرمایا۔ یہ انوار و فیوض سے معمور سفر ۱۴۔ ماہ تبلیغ/فروری سے شروع ہوا اور ۲۰۔ امان/مارچ کو بخیرو خوبی اختتام تک پہنچا۔
    لاہور سے ناصر آباد تک
    حضرت امیرالمومنین ۱۴۔ ماہ تبلیغ/فروری بروز ہفتہ اہلیت و خدام لاہور سے روانہ ہوئے۔ پورا قافلہ ۳۷ نفوس۱۲ پر مشتمل تھا۔ حضور پونے آٹھ بجے صبح بذریعہ کار رتن باغ سے روانہ ہوکر لاہور سٹیشن پر تشریف لائے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب` حضرت نواب میاں عبداللہ خاں صاحب` حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب` جناب شیخ بشیراحمد اصحب امیر جماعت احمدیہ لاہور` جناب چوہدری اسد اللہ خاں صاحب اور جماعت احمدیہ کے دیگر بہت سے افراد حضور کی مشایعت کے لئے سٹیشن پر موجود تھے حضور نے دوستوں کو شرف مصافحہ بخشا اور آٹھ بجے کراچی میل روانہ ہوگئی۔ سفر کی اطلاع چونکہ پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے ان تمام جماعتوں کو دے دی گئی تھی جو اس لائن پر واقع تھیں اس لئے جب بھی گاڑی کسی سٹیشن پر پہنچتی عموماً جماعت کے کثیر دوست مرد` عورتیں اور بچے وہاں استقبال اور حضور کی زیارت کے لئے موجود ہوتے۔ لاہور کے بعد اول رائیو ونڈ کے سٹیشن پر جماعت کے دوست حضور کے استقبال کے لئے تشریف لائے۔ اس کے بعد پتوکی` اوکاڑہ` منٹگمری` چیچہ وطنی` میاں چنوں` خانیوال` ملتان چھائونی` لودھراں` سماسٹہ` خانپور` رحیم یارخاں` روہڑی` اور حیدرآباد سندھ کے سٹیشنوں پر مختلف جماعتیں موجود تھیں۔ اوکاڑہ` منٹگمری اور خانیوال کے سٹیشنوں پر تو حضور نے گاڑی سے نیچے اتر کر جماعت کے دوستوں سے مصافحہ فرمایا مگر باقی سٹیشنوں پر گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی حضور مصافحہ فرماتے رہے۔ بعض مقامات پر جماعت کی درخواست پر حضور نے ہاتھ اٹھا کر دعا بھی فرمائی۔ گاڑی جب اوکاڑہ سٹیشن پر پہنچی تو جماعت کے بعض دوستوں نے خوشی میں بندوق سے ہوا میں فائر کئے۔ حضور دوستوں کا اژدحام دیکھ کر مصافحہ کرنے کے لئے گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر تشریف لے آئے اور مصافحہ کرنے کے بعد شروع کی۔ ابھی حضور دعا کر رہی رہے تھے کہ گاڑی حرکت میں آگئی اور دو ایک ڈبوں کے سوا باقی تمام گاڑی پلیٹ فارم سے آگے نکل گئی اس اثناء میں حضور بدستور مصروف دعا رہے۔ آخر زنجیر کھینچ کر گاڑی رکوائی گئی اور حضور اپنے ڈبے میں سوار ہوئے۔ منٹگمری سٹیشن پر چوہدری نورالدین صاحب ذیلدار نے عرض کیا کہ حضور راستہ میں چک نمبر۶ کی جماعت آتی ہے اس جماعت کے دوست لائن کے ساتھ حضور کی زیارت کے لئے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ اس پر حضور نے دفتر کو ہدایت فرمائی کہ جب وہ مقام قریب آجائے جہاں جماعت کے دوست کھڑے ہوں تو مجھے اطلاع دی جائے۔ چنانچہ چلتی گاڑی میں حضور کی خدمت میں اطلاع عرض کی گئی اور حضور نے کھڑکی کے قریب تشریف لاکر زائرین کو اپنے دیدار سے مشرف فرمایا۔
    دفتر کی طرف سے جماعتوں کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ چونکہ سفر لمبا ہے اس لئے رات کے دو بجے تک جو جماعتیں اسٹیشن پر آسکتی ہیں وہ آجائیں ملاقات صرف دو بجے تک ہوسکتی ہے اس کے بعد نہیں۔ مگر جب گاڑی روہڑی اسٹیشن پر پہنچی تو باوجود اس کے کہ اس وقت چار یا پونے چار بجے شب کا وقت تھا پھر بھی دوست اپنے اخلاص اور عقیدت کی وجہ سے اسٹیشن پر موجود تھے۔ چونکہ حضور اس وقت آرام فرمارہے تھے اس لئے وہ بھی صرف حضور کے ڈبے کے سامنے کھڑے رہے انہیں ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔
    اس سفر میں ۱۴۔ فروری اور دوپہر کا کھانا منٹگمری کی جماعت نے اور شام کا کھانا ملتان کی جماعت نے پیش کیا جو حضور اور حضور کے تمام ہمراہیوں کے لئے تھا۔ حضور ۱۵۔ فروری کو ۱۰ بجے صبح حیدرآباد سندھ رونق افروز ہوئے اور پھر معمہ اہل بیت اور ۱۱ بجے بذریعہ کار عازم میرپور خاص ہوئے اور دو بجے کے قریب حضور میرپورخاص پہنچ گئے۔
    میرپورخاص میں خان بہادر غلام حسین صاحب کی کوٹھی پر حضور نے قیام فرمایا۔ پانچ بجے خان بہادر غلام حسین صاحب نے حضور کے اعزاز میں اپنے رہائشی مکان پر دعوت چائے دی جس میں حضور شریک ہوئے۔ اور بھی بہت سے مقامی معززین اس دعوت میں شریک تھے۔
    ۶ بجے شام کے قریب حضور امیرالمومنین المصلح الموعود میرپورخاص کے بعض محبوس احمدیوں کو دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے۔ یہ احمدی دوست جن میں سے اکثر واقف زندگی تھے۔ عرصہ چھ سات ماہ سے محمد آباد اسٹیٹ کی زمیں میں ایک فساد کے سلسلہ میں زیر الزام تھے۔ حضور کے تشریف لے جانے پر جیل کے افسر صاحب کے حکم کے مطابق سب ماخوذین کو برآمدہ میں لائے جانے کی اجازت دی گئی۔ اس جگہ سب دوستوں نے یکے بعد دیگرے حضور سے مصافحح کا شرف حاصل کیا۔ حضور نے دریافت فرمایا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھتے میں سہولت ہے یعنی وضو وغیرہ کے لئے پانی مل جاتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نماز کی سہولت ہے ہم نماز ادا کرلیتے ہیں۔ وضو کے لئے قریب کی جگہ سے پانی لے آتے ہیں۔ پھر حضور نے فرمایا ماہ رمضان میں بھی آپ اس جگہ تھے روزے رکھ سکتے تھے یا نہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ ہم نے رمضان کے روزے رکھے تھے۔ ہم شام کو ہی دونوں وقت کا کھانا پکا لیا کرتے تھے کیونکہ سحری کے وقت آگ وغیرہ جلانے کی اجازت نہ تھی۔ پھر کچھ سکوت کے بعد حضور نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے ایک مختصر تقریر فرمائی جس کا ملخص یہ تھا کہ آپ لوگوں کو استغفار اور دعا کرتے رہنا چاہئے اور یہ کبھی خیال نہیں آنا چاہئے کہ ہم بے قصور ہیں خواہ موجودہ الزام غلط ہی ہو۔ کیونکہ بسااوقات اللہ تعالیٰ مومن غلطیوں کی سزا دہی میں پردہ پوشی سے کام لیتا ہے اور بظاہر ایسے الزام کے ذریعہ تکلیف میں ڈال دیتا ہے جس الزام کے متعلق مومن جانتا ہے کہ یہ الزام غلط ہے۔ اس طرح اس کو تکلیف تو اس غلطی کی وجہ سے جو پہلے اس سے ہوئی ہے پہنچ جاتی ہے مگر سزا یا تکلیف ایسے رنگ میں اسے پہنچتی ہے جس کی وجہ سے اول تو وہ خود کہتا ہے کہ میں بے قصور ہوں پھر دنیا بھی اس الزام کو درست نہیں سمجھتی اس لئے اس کی رسوائی اس طرح نہیں ہوتی جس طرح اس پہلی غلطی کے الزام میں پھنس جانے اور الزام کے صحیح ثابت ہونے سے ہوتی۔ آپ اس وقت جس حالت میں ہیں وہ بیشک تکلیف دہ ہے کیونکہ قید میں ہونے کے باعث ہر قسم کی آزادی سے محروم ہیں لیکن آپ لوگوں کو راضی برضا رہنا چاہئے اور اس حالت کو خوشی سے برداشت کرنا چاہئے۔ دنیا میں کئی لوگ ایسے بھی جو بہرے` گونگے اور اندھے ہیں۔ وہ نہ سن سکتے ہیں اور نہ بول سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں اور ہر قسم کی قید ان پروارد ہے۔ وہ آپ لوگوں کی نسبت بدر جہا سخت قید میں ہیں مگر پھر بھی وہ اپنی زندگی کو بسر کررہے ہیں اور انہیں چاہتے کہ ان کی زندگی ختم کردی جائے۔ آپ لوگوں پر جو یہ حالت آئی ہے یہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی آئی ہے آپ کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ جب اس حالت سے آپ لوگ باہر آئیں تو آپ کی حالت وہ نہ ہو جو داخل ہونے کے وقت تھی بلکہ اپنے نفس کی اصلاح کی اعلی درجہ کی حالت میں آپ لوگ باہر آئیں اور ایسے پاک اور صاف ہوکر نکلیں کہ جس سے دنیا کو روحانی نفع پہنچے۔
    اس ارشاد کے بعد حضور واپس قیام گاہ پر تشریف لائے اور مغرب وعشاء کی نمازیں ادا فرمائیں نماز سے فارغ ہونے کے بعد نازنول ریاست پٹیالہ کے ایک غیراحمد دوست نے جو مسلم لیگ کے سرگرم کارکن رہے تھے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں پر بہت سی باتیں ایسی کھلتی رہتی ہیں جن سے لوگوں کو اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے اس لئے میں بھی حضور کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا ہوں میری گزارش یہ ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں پر جو بیثمال تباہی آئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے اب اسلام اور مسلمانوں کا کیا بنے گا اور وہ کس طرح ترقی کرسکیں گے۔
    حضرت امیرالمومنین نے فرمایا یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں پو جو تباہی آئی ہے یہ اپنی ذات میں بے مثال ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ملسمانوں پر ¶بڑی بڑی تباہیاں آچکی ہیں چنانچہ اس ضمن میں سپین اور بغداد کی تباہی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ سپین میں تباہی آئی تھی وہ اس قسم کی تھی کہ کوئی ایک فرد بھی مسلمانوں میں سے نہیں بچا حالانکہ سپین میں مسلمانوں کا وہ عروج تھا کہ تمام یورپ پرانکا رعب اور دبدبہ چھایا ہوا تھا۔ پھر پنجاب کو کوئی مرکزی حیثیت حاصل نہیں تھی مگر بغداد جب تباہ ہوا تو وہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ پس اس تباہی اور اس تباہی میں بڑا فرق ہے۔ اس وقت گو لاکھوں مسلمان مارے گئے مگر لاکھوں بچ کر بھی نکل آئے ہیں حالانکہ سپین میں سے کوئی بھی ¶بچ کر نہیں نکل سکا تھا۔
    رہا یہ سوال کہ مسلمانوں کا اب کیا بنے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہم اسلام اور محمد رسول اللہ~صل۱~ کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں تو ہمارے لئے یہ سوال کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا قرآن کریم کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مسلمان کے تنزل کی بھی پیشگوئیاں ہیں اور مسلمانوں کی ترقی کی بھی پیشگوئیاں ہیں جب ہم نے اپنی آنکھوں سے قرآن کریم کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتی دیکھ لی ہیں جو مسلمانوں کی تباہی اور ادبار کے متعلق تھیں تو ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ پیشگوئیاں بھی ضرور پوری ہوکر رہیں گی جو مسلمانوں کے دوبارہ عروج اور ترقی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔
    باقی رہا یہ امر کہ مسلمان غلبہ حاصل کرسکیں گے۔ سو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ غلبہ اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب اسلام کی صحیح تصویر ان میں نظر آنے لگے گی۔ افسوس ہے کہ ابھی تک مسلمانوں نے اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی۔ مثلاً اگر اس وقت حکومت پاکستان یہ چاہے کہ تمام سینمائوں کو بندکرادے تو مسلمان اس کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ یہی حال پردہ اور سود وغیرہ مسائل کا ہے۔ اگر مسلمان اسلامی احکام پر عمل کرنا اپنے لئے فرض قرار دے لیں تو ان کی ترقی بالکل قطعی اور یقینی ہے مگر مسلمانوں میں یہ زندگی اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کرلیں اور اس سلسلہ میں شامل ہوجائیں جو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے قائم فرمایا ہے۔
    اس موقع پر غیر احمدی دوست نے عرض کیا کہ اب تو جماعت احمدیہ اور عام مسلمانوں میں کوئی زیادہ اختلاف نہیں رہا۔ اس پر حضرت امیرالمومنین نے مسلمانوں کے ان عقائد کا ذکر فرمایا کہ وہ قرآن کریم میں ناسخ ومنسوخ کے قائل ہیں اور وحی کو منقطع سمجھتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ ناسخ و منسوخ کا مسئلہ ایسا ہے کہ اگر اس کو درست تسلیم کرلیا جائے تو امان اٹھ جاتا ہے اور قرآن کریم پر عمل کرنا سخت مشکل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جب یہ اعتقاد پیدا کر لیاجائے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیتیں منسوخ ہیں تو نہیں کہا جاسکتا کہ یہ منسوخ ہے یا وہ منسوخ ہے۔ اسی طرح مسلمان وحی کو منقطع سمجھتے تھے حالانکہ یہی ایک ایسی چیز ہے جس سے اسلام کا روشن چہرہ لوگوں کو نظر آتا ہے۔ اگر آسمان سے تازہ وحی کے نزول کا سلسلہ جاری نہ ہو تو اسلام کا مصفی چہرہ غبار آلود ہوجائے۔
    رات کا کھانا شیخ بشیراحمد صاحب ایگزیکٹو انجینئر کے ہاں تھا اور حضور ان کی کوٹھی پر کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔
    ۱۶۔ تبلیغ/فروری دس بجے صبح حضور معہ قافلہ میرپورخاص سے کنجیجی بذریعہ ٹرین روانہ ہوئے راستہ میں جیمس آباد۔ ڈگری۔ جھڈو۔ نوکوٹ۔ فضل بھمبرو۔ ٹالہی۔ نبی سر روڈ اور کنری اسٹیشن پر جماعت کے دوست حضور کے استقبال اور زیارت کے لئے موجود تھے۔ ہر جگہ دوستوں کو حضور نے مصافحہ کا شرف بخشا۔ ڈگری کی جماعت نے کھانا پیش کیا۔ اسی روز ۳ بجے بعد دوپہر حضور معہ اہل بیت کنجیجی اسٹیشن کیا گیا۔ حضور معہ اہل بیت کار میں سوار ہوئے اور ناصر آباد اسٹیٹ تشریف لے آئے۔۱۳
    ناصرآباد میں قیام اور کراچی کے لئے روانگی
    حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود اس علاقہ میں قریباً تین ہفتہ تک ٹھہرے اور ناصر آباد` حیدرآباد` میرپورخاص` کنجیجی` احمدآباد` محمودآباد کا دورہ کرنے اور اہم جماعتی معاملات کو اپنی زیرنگرانی طے کرنے اور ضروری ہدایات دینے کے بعد ۱۱۔ امان/مارچ کو ۲/۱/۱۰ بجے کے قریب بذریعہ ٹرین ناصر آباد سے کراچی روانہ ہوئے۔ اسٹیشن پر بہت سے مقامی احباب الوداع کہنے کے لئے موجود تھے۔ راستہ میں کنری` نبی سر روڈ` ٹالہی اور فضل بھمبرو کے اسٹیشنوں پر بکثرت احمدی مرد` عورتیں اور بچے حضور کی زیارت کے لئے موجود تھے۔ میرپور خاص اور حیدرآباد میں بھی بہت سے احباب حضور کا خیرمقدم کرنے کے لئے حاضر تھے۔ کنری کی جماعت نے حضور کے لئے اور حضور کے ہمراہیوں کے لئے دوپہر کا کھانا پیش کیا۔ میرپور خاص کے سٹیشن پر مکرم ڈاکٹر حاجی خاں صاحب نے شام کے کھانے اور چائے کا اچھا انتظام کررکھا تھا۔ حیدرآباد کے دوستوں نے چائے پیش کی۔ حیدرآباد سٹیشن پر حضور کچھ وقت ویٹنگ روم میں تشریف فرمارہے جہاں بعض احباب نے حضور سے ملاقات اور گفتگو کا شرف حاصل کیا۔
    کراچی میں آمد
    صبح ساڑھے چار بجے ٹرین حیدرآباد سے کراچی روانہ ہوئی اور بارہ بجے کے قریب حضور معہ قافلہ بخیریت کراچی پہنچ گئے۔ اسٹیشن پر حضور کا خیرمقدم کرنے کے لئے آنے والے دوستوں کو حضور نے مصافحہ کا شرف عطا فرمایا۔ حیدرآباد اور کراچی میں بعض دوستوں نے حضور کو ہار پہنانے چاہے لیکن حضور نے انہیں منع کردیا۔ جماعت کراچی نے حضور کی رہائش کے لئے ایک ہندو کی کوٹھی کا انتظام کیا تھا جو مخصوص طور پر مذہبی امور کی انجام دہی کے لئے بنائی گئی تھی حضور نے وہاں رہائش کو پسند نہ فرمایا اور اس کی بجائے چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب بالقانہ کی کوٹھی >پردین ولا< واقع ہوشنگ روڈ میں فروکش ہوئے۔۱۴
    خطبہ جمعہ میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا اختیار کرنے کی تحریک
    ۲ بجے کے قریب حضور باوجود درد نقرس کی تکلیف کے نماز جمعہ کیلئے تشریف لے گئے نماز جمعہ کا انتظام بند روڈ پر ایک وسیع میدان
    میں کیا گیا تھا۔ حضور نے خطبہ جمعہ کے شروع میں یہ بتایا کہ۔
    >جماعت کے دوستوں نے ہماری رہائش کے لئے یہاں ایک جگہ تجویز کی تھی جس کا نام مندر ہے۔ لوگ کہتے ہیں وہ مندر نہیں تھا بلکہ مذہبی امور کے لئے وہ جگہ بنائی گئی تھی لیکن بہرحال میں نے اس مکان میں رہنے سے انکار کردیا ہے ۔۔۔۔ جب میں لاہور آیا تو چونکہ ہمیں کالج اور دوسری ضروریات کی لئے جگہ کی تلاش تھی۔ حکومت پنجاب کی بعض افسروں نے یہ تجویز کیا اور بعض لوگ متواتر اس غرض کے لئے مجھے ملے کہ ہم ننکانہ لے لیں اور اس پر قبضہ کرلیں۔ جب بھی ہم اپنی صروریات ان کی سامنے رکھتی وہ زور دیتی کہ ہم ننکانہ آپ کو دے دیتی ہیں لیکن میں آہستہ اس سے انکار کیا اور کہا کہ جو قانون ہم اپنے جذبات کے متعلق ضروری سمجھتے ہیں۔ چونکہ ننکانہ سکھوں کی ایک مذہبی جگہ ہی اس لئے ہم اس پر قبضہ کرکے دوسروں پر یہ اثر ڈالنا نہیں چاہتے کہ ہم بھی ضرورت کے موقع پر دوسروں کے مذہبی مقامات پر قبصہ کرلینا جائز سمجھتے ہیں۔ ہمیں کہا گیا کہ یہ مکانات خالی ہیں اور بہرحال کسی نے لینے ہیں آپ ہی لے لیں۔ ہم نے کہا کوئی لے لے سوال تو ہمارے جذبات کا ہے۔ کسی دوسرے شخص کے اگر وہ جذبات نہیں جو ہمارے ہیں یا ایسے مقامات پر قبضہ کرلینا کوئی شخص جائز سمجھتا ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ فلاں شخص کے جذبات کے لحاظ سے یہ کوئی بری بات نہیں یا چونکہ ایسے مقامات پر قبضہ کرلینا اور لوگ جائز سمجھتے ہیں اس لئے آپ بھی قبضہ کرلیں۔ ان کا معاملہ ان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے ہم سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاسکتا کہ ہم بھی اس معاملہ میں وہی کچھ کریں جو اور لوگ کرتے ہیں۔ دوسرے ہم یہ ضروری نہیں سمجھتے کہ عبادت گاہ ہی ہو تو اس پر قبضہ کرلینے سے جذبات کوٹھیس لگتی ہے بلکہ عبادت گاہ کے بغیر بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے چھینے جانے یا جن پر دوسرے مذاہب کے قبضہ کرلینے سے جذبات کوٹھیس لگتی ہے۔ اس نقطہ نگاہ کے ماتحت قطع نظر اس سے کہ اس کا نام صرف مندر تھا چونکہ وہ ایک ہندو کی عمارت ہے اور یہ عمارت مذہبی مجلسوں اور مذہبی انجمنوں کے نعقاد کے لئے استعمال کی جاتی تھی اس لئے اپنے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ہم اس عمارت میں ٹھہریں تاکہ ہماری وہ دلیل جو ہم قادیان کے متعلق دے رہے ہیں کمزور نہ ہوجائے اور ہمارا وہ اصول نہ ٹوٹے جو مذہبی مقامات کی تقدیس اور ان کے احترام کے متعلق ہم دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ بعض دوستوں نے کہا ہے کہ وہ اس عمارت کو خرید نے کا انتظام کررہے ہیں۔ بلکہ مجھے کہا گیا ہے کہ خود مالک مکان اسے فروخت کرنا چاہتا ہے چونکہ یہ ایک اہم امر ہے اس لئے اس معاملہ میں اگر کوئی قدم مقامی جماعت کی طرف سے اٹھایا جائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے پوری طرح تمام حالات کو میرے سامنے رکھے اگر میری تسلی ہوگئی اور مجھے اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نظر نہ آتی تب بھی میرے نزدیک مناسب یہی ہوگا کہ ہم یہ عمارت نہ لیں کیونکہ اپنے اصول کی پابندی ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔<۱۵
    اس وضاحت کے بعد حضور نے جماعت کراچی کو مسجد` مہمان خانہ اور لائبریری کے لئے ایک موزوں قطعہ تلاش کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ بعدازاں ارشاد فرمایا۔
    >دوسری چیز جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میں نے آج سٹیشن پر دوستوں کو منع کردیا تھا کہ وہ میرے گلے میں ہار نہ ڈالیں۔ یوں بھی ہار پہننے میں مجھے حیاسی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اس امر کو اگر نظر انداز کردیا جائے تب بھی میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی ضرورتوں کو سمجھنے والے افراد کو اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے زمانہ کے مطابق قدم اٹھانا چاہئے۔ ہمارے لئے اس وقت ایک ایسا زمانہ آیا ہوا ہے جس میں ہم اپنے مقدس مقام سے محروم ہیں اور دشمن اس پر قبضہ کئے ہوئے ہے۔ ہار پہننے کے معنے خوشی کی حالت کے ہوتے ہیں۔ میں جہاں جماعت کو یہ نصیحت کیا کرتا ہوں کہ ان کے دلوں میں پژمردگی پیدا نہیں ہونی چاہئے` ان کے اندر کم ہمتی نہیں ہونی چاہئے ان کے اندر کم ہمتی نہیں ہونی چاہئے` ان کے اندر پست ہمتی نہیں ہونی چاہئے وہاں میں اس بات کو بھی پسند نہیں کرتا کہ جماعت اس صدمہ کو بھول جائے اور ایسی غیر طبعی خوشیاں منانے میں محوہوجائے۔ جن کی وجہ سے وہ ذمہ داری اس کی آنکھ سے اوجھل ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد کی گئی ہے۔ نمائشی باتیں تو یوں بھی ناپسندیدہ ہوتی ہیں مگر کم سے کم اس وقت تک کے لئے ہمارے نوجوانوں میں یہ احساس زندہ رہنا چاہئے جب تک ہمارا مرکز ہمیں واپس نہیں مل جاتا۔ آخر کوئی نہ کوئی چیز ہوگی جس کے ساتھ نوجوانوں کو یہ بات یاد دلائی جاسکے گی۔ اگر ایسے مظاہروں سے نوجوانوں کو روکا جائے تو چونکہ پہلے ہم روکا نہیں کرتے تھے اس لئے قدرتی طور پر ہر احمدی کے دل میں یہ بات تازہ رہے گی کہ میں نے اپنے مرکز کو واپس لینا ہے۔ مجھے غیرطبعی خوشیوں کی طرف مائل نہیں ہونا چاہئے۔ اگر خدانخواستہ ہم بھی غیر طبعی خوشیوں میں محوہوگئے اور نوجوانوں کو ہم نے یہ محسوس نہ کرایا کہ کتنا بڑا صدمہ ہمیں پہنچا ہے تو ان کے اندر اپنے مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد اور کوشش کی سچی تڑپ زندہ نہیں رہ سکے گی اس لئے میں سمجھتا ہوں میرے لئے یا کسی اور کے لئے ایسے مظاہروں میں کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی۔<۱۶
    خطبہ جمعہ کے آخر میں حضور نے ارشاد فرمایا۔
    >ہماری جماعت صلح کی بنیادوں پر قائم ہے اور جہاں تک ہوسکے گا ہم صلح سے ہی اپنے مرکز کو واپس لینے کی کوشش کریں گے۔ دوسرے ہمارے ہاتھ میں حکومت نہیں اور جنگ کا اعلان حکومت ہی کرسکتی ہے افراد نہیں کرسکتے۔ گویا اس وقت اگر جنگ کا اعلان ہو تو دوہی حکومتیں کرسکتی ہیں یا انڈین یونین کرسکتی ہے یا پاکستان کرسکتا ہے۔ ہم پاکستان گورنمنٹ نہیں کہ انڈین یونین سے اعلان جنگ کرسکیں۔ ہم آزاد علاقہ کے بھی نہیں کہ ہم ایسا اعلان کرنے کے مجاذ ہوں۔ اس لئے اگر جنگ کے ذریعہ ہی ہمارے مرکز کا ملنا ہمارے لئے مقدر ہے تب بھی جنگ کے ۔۔۔۔۔ سامان خدا ہی پیدا کرسکتا ہے ہمارے اندر یہ طاقت نہیں نہیں کہ ہم ایسا کرسکیں اور نہ شریعت ہمیں جنگ کی اجازت دیتی ہے۔ شریعت جنگ کا اختیار صرف حکومت کو دیتی ہے اور حکومت ہمارے پاس نہیں۔ پس جنگ سے بھی اسی صورت میں فائد اٹھایا جاسکتا ہے جب خدا ایسے سامان پیدا فرمائے اور انڈین یونین سے کسی اور حکومت کی لڑائی شروع ہوجائے۔ بہرحال خواہ صلح سے ہمارا مرکز ہمیں واپس ملے یا جنگ سے دونوں معاملات میں ظاہری تدابیر کام نہیں دے سکتیں صرف خدا ہی ہے جو ہماری مدد کرسکتا اور ہمارے لئے غیب سے نصرت اور کامیابی کے سامان پیدا فرما سکتا ہے۔ اگر دلائل کو لو تو دلائل کا اثر بھی خدا تعالیٰ ہی پیدا کرسکتا ہے ورنہ جونشہ حکومت میں سرشار ہو اور جسے اپنی طاقت کا گھمنڈ ہو اس کے سامنے کتنے بھی دلائل پیش کئے جائیں وہ سب کو ٹھکرا دیتا ہے اور کہتا ہے ہم ان باتوں کو نہیں مانتے اور اگر طاقت کو لو تو اول تو مادی طاقت ہمارے پاس ہے ہی نہیں اور اگر ہو بھی اور فرض کرو ہماری جماعت موجودہ تعداد سے پچاس یا سوگنے بھی بڑھ جاتی ہے اور پانچ دس کروڑ تک پہنچ جاتی ہے تب بھی گورنمنٹ ہمارے قبضہ میں نہیں اور ہم شرعی نقطہ نگاہ سے جنگ نہیں کرسکتے۔ گویا ہماری حالت صلح کی صورت میں بھی اور جنگ کی صورت میں بھی کلی طور پر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کو اختیار کرنا ہمارا سب سے پہلا اور اہم فرض ہے۔ اگر ہم اپنے اس فرض کو ادا کرلیں تو یقیناً وہ کام جو ہم نہیں کرسکتے خدا اسے خود پور فرمائے گا۔ اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ خدائی طاقت اور قوت کی کوئی حدبندی نہیں۔ بندے کی بڑی سے بڑی جدوجہد اور کوشس بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جب خدا کرنے پر آتا ہے تو باجود اس کے کہ دنیا ایک کام کو ناممکن سمجھ رہی ہوتی ہے وہ ممکن ہوجاتا ہے۔ شام کو وہ اس حالت میں سوتی ہے جب وہ اسے ناممکن سمجھ رہی ہوتی ہے مگر جب صبح اٹھتی ہے تو اسے وہ ناممکن امر ممکن نظر آرہا ہوتا ہے اور بعض دفعہ صبح وہ ایک کام کا ممکن سمجھتی ہے مگر جب شام ہوتی ہے تو وہی ممکن امر اسے ناممکن نظر آنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ہمارے سب کام کرنے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرنا ہمارا اولین کام ہونا چاہئے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کاموں اور اپنی خوشیوں اور اپنی ہر قسم کی مصروفیتوں میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ راضی کرنے کی کوشش کریں۔<۱۷
    خالق دنیا ہال میں عظیم الشان پبلک لیکچر
    حضرت مصلح موعود نے قیام کراچی کے تیسرے روز ۱۴۔ امان/مارچ ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء کو ساڑھے پانج بجے شام خالق دنیا ہال میں >پاکستانیوں سے چند صاف صاف باتیں< کے عنوان سے ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی۔ صدارت کے فرائض آنریبل حاتم بی طیب جی چیف جسٹس سندھ چیف کورٹ نے انجام دیئے ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا بلکہ سینکڑوں احباب کو باہر کھڑے ہوکر لیکچر سننا پڑا۔ سامعین کا اکثر حصہ کالجوں کے طلباء پروفیسروں` ڈاکٹروں اور وکلاء وغیرہ پر مشتمل تھا۔ مسٹر ایم۔ ایچ گزدر ایم۔ ایل۔ اے ایڈوائزر حکومت سندھ مسٹرمدنی ڈپٹی سیکرٹری حکومت پاکستان۔ خان بہادر نذیر احمد ریٹائرڈ چیف جسٹس کشمیر مسٹر حاتم علوی۔ مسٹر واسطی وائس پرنپسل سندھ کالج اور مرکزی و صوابئی حکومت کے متعدد دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ حضور کی تقرر ڈیڑھ گھنٹہ تک کامل انہماک و سکوم اور گہری دلچسپی سے سنی گئی۔
    تقریر کے آغاز میں حضور نے مقررہ موضوع کی وسعت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ موضوع دراصل ایک طویل داستان کی حیثیت رکھتا ہے تاہم چونکہ یہ کراچی میرا پہلا لیکچر ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ کراچی کے باشندے کس حد تک میری باتیں سننے کے لئے تیار ہوسکتے ہیں اس لئے میں مضمون کے بہت سے حصوں کو چھوڑ کر چند ضروری امور بیان کرنے پر اکتفاء کروں گا۔
    سب سے پہلے حضور نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ پاکستان ایک نئی حکومت ہی نہیں بلکہ ایک نیا ملک بھی ہے اس لئے پاکستانیوں کو وطنیت کا وہ جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے جو پہلے موجود نہ تھا۔ وطنیت کا جذبہ ایک ایسی چیز ہے جو قدم کو اکٹھا رکھنے` اسے بھارنے اور ملک کے دفاع کے لئے اسے ہر ممکن قربانی کرنے پر آمادہ کردیتا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ جذبہ پیدا کرنے میں ہم کامیاب نہ ہوئے تو ذرا سا اختلاف ہمارے اتحاد کو توڑنے کا موجب بن جائے گا۔ وطنیت کے جذبہ کے بغیر کبھی ملک میں سے غداری کی روح نہیں کچلی جاسکتی۔
    حضور نے اصل موضوع پر تقریر شروع کرتے ہوئے فرمایا سب سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ پاکستان کا مطالبہ کیوں کیاگیا تھا؟ یہ مطالبہ اس لئے نہیں کیاگیا تھا کہ ہندوستان میں نسلی طور پر دو قومیں آباد تھیں۔ کیونکہ یہ ایک واضح بات ہے کہ ہندوستان میں بہت سی ایسی قومیں موجود ہیں جن کا ایک حصہ ہندو ہے اور ایک مسلمان۔ پھر زبان کے اختلاف کی بناء پر بھی یہ مطالبہ نہ کیا گیا تھا کیونکہ ہر صوبے میں رہنے والے ہندو اور مسلمان ایک ہی زبان بولتے تھے۔ پھر آخر کیا چیز تھی جس کی بناء پر پاکستان کا مطالبہ کیاگیا؟ ظاہر ہے کہ صرف اسلام ہی اس مطالبہ کی بنیاد تھا اور اسلامی کلچر کی حفاظت کرنے کے لئے ہی مسلمان علیحدہ حکومت کے طالب تھے۔ پس مطالبہ پاکستان کے پس پردہ جو چیز کام کررہی تھی وہ صرف اسلام تھا۔ یعنی مسلمان یہ چاہتے تھے کہ جس جگہ ان کی اکثریت ہو وہاں` نہیں ایک ایسی آزاد حکومت قائم کرنے کا موقعہ دیا جائے جس میں وہ اسلامی تعلیم اور اسلامی تہذیب کے مطابق ¶ترقی کر سکیں اور آزادی کے ساتھ دیگر اسلامی ممالک کی مدد کر سکیں۔
    حضور نے فرمایا اسلامی حکومت کے الفاظ سے بہت سے غیر مسلموں کو دھوکہ لگتا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید غیر مسلموں کو بھی اسلام احکام پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ حالانکہ یہ درست نہیں۔ دنیا کے سب مذاہب میں سے صرف اور صرف اسلامی احکام پر عمل کرنے کی پابندی صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔ دیگر مذاہب کے پیروئوں کو نہ صرف یہ کہ اسلام کے احکام پر چلنے کے لئے مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ اسلام کہتا ہے کہ ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی مذہبی کتابوں کے مطابق عمل کریں کیونکہ اگر وہ اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں اور پھر اس پر عمل نہیں کرتے تو وہ منافق ہیں اور منافق کبھی بھی اچھے شہری نہیں بن سکتے۔ پس مسلمانوں کو غیر مسلموں کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور انہیں بتانا چاہئے کہ اسلامی حکومت کا مطلب صرف یہ ہے کہ مسلموں کے لئے قرآن مجید کے قوانین ہوں گے نہ کہ غیر مسلموں کے لئے بھی۔
    کیا پاکستانی اسلامی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرنے میں سنجیدہ ہیں؟ حضور نے اس اہم سوال پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا جب ایک فرد کہتا ہے کہ اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے تو بالفاظ دیگروہ یہ کہہ رہا ہوتا ہی کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اسلامی ہوں۔ اب اگر اسلامی ہوں۔ اب اگر اسلام پر غور کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام کے نزدیک فرد کے اعمال کے تین حصے ہوتے ہیں۔ اول خود اس کی ذات سے تعلق رکھنے والے احکام` دوسرے اس کے ہمسایوں سے تعلق رکھنے والے احکام پوری طرح نہیں لیکن کسی قدر اس کے بس میں ہیں۔ البتہ اس کی ذات سے تعلق رکھنے والے احکام پوری طرہ اس کی اختیار مین ہیں۔ اب جو مسلمان اسلامی حکومت کا مطالبہ کرتا ہے اس کے مطالبہ کی سنجیدگی کا ثبوت یہی ہوسکتا ہے کہ جو احکام پوری طرح اس کے بس میں ہیں کم از کم ان پر وہ پوری طرح عمل کرکے دکھادے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ وہ اسلامی حکومت کا مطالبہ کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ وہ صرف سیاسی اغراض کے ماتحت کسی کو گرانی یا کسی کو بدنام کرنے کے لئے یہ مطالبہ کرتا ہے۔
    حضور نے فرمایا۔ قرآن مجید` احادیث اور رسول کریم~صل۱~ کا عمل واضح الفاط میں ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام نے نماز کا حکم دیا ہے۔ پردے کا حکم دیا ہے۔ روزہ کا حکم دیا ہے۔ سود کی ممانعت کی ہے اور مرد عورت کے آزادانہ اختلاط کو روکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں کے مختلف گروہ سود کی ممانعت اور پردے کے احکام کی کیا حدود سمجھتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمان اپنی اپنی جگہ ان احکام کا بھی بھی مفہوم سمجھتے ہیں کیا اس پر وہ عمل کرتے ہیں؟ اگر وہ ان احکام پر اپنی اپنی سمجھ کے مطابق عمل کرتے ہیں تو پھر تو بے شک وہ اسلامی حکومت کے قیام کے مطالبہ میں سنجیدہ سمجھی جا سکتے ہیں کیونکہ جن احکام کو پورا کرنا ان کے اختیار میں تھا ان پر انہوں نے عمل کرکے دکھادیا لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر یقیناً وہ اسلامی حکومت کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔
    حضور نے فرمایا۔ مسلمان ہندو کی مقابلہ پر کہا کرتے تھے کہ اسلامی کلچر خطرہ میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی وہ اپنے اپنے بیٹے` اپنے اپنے بھائی اور اپنی اپنی بیوی کو یہ کہنے کے لئے تیار ہیں کہ اگر تم نے اسلامی احکام پر عمل نہ کیا تو اسلامی کلچر خطرہ میں پڑ جائے گا؟ اگر آپ لوگ یہاں سے اٹھنے سے پہلے یہ فیصلہ کرلیں کہ اسلام کے جن احکام پر عمل کرنا آپ کے اپنے بس میں ہے اور جن پر عمل کرنے کے لئے کسی حکومت` کسی قانون اور کسی طاقت کی صرورت نہیں ان پر فوراً عمل کرنا شروع کردیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ شام سے پہلے پہلے اسلامی حکومت قائم ہوجائے گی۔ لیکن اگر لوگ منہ سے اسلامی حکومت کا مطالبہ کریں اور عملاً اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھیں تو جس طرہ کچی ایٹنوں کے ایک محل کو پکا نہیں کہا جاسکتا اسی طرح غیراسلامی اعمال کرنے والے افراد کے مجموعہ کا نام ہرگز اسلامی حکومت نہیں رکھا جاسکتا۔
    زبان کے مسئلہ پر پاکستان میں جو اختلافات نمودار ہورہے ہیں ان پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے حضور نے فرمایا یہ مسئلہ بالکل سادہ اور صاف تھا لیکن افسوس ہے کہ خواہ مخواہ اسے پیچیدہ بنایا جارہا ہے اصل مسئلہ صرف یہ ہے کہ جب پاکستان کے سب صوبوں نے اپنی مرضی سے مل کر اور اکٹھے ہوکر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو لازمی بات ہے کہ اس صورت میں کسی ایک صوبے کی زبان سے کام نہیں چل سکتا۔ مل کر کام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسی زبان ہو جو سب پاکستانی صوبوں کے باشندے جانتے ہوں۔ انگریزوں کے عہد میں اس قسم کی مشترکہ زبان کا کام انگریزی سے لیا جاتا تھا اب ان کے جانے کے بعد ہمارے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ انگریزی کی قائم مقام کونسی زبان ہو۔ ظاہر ہے کہ چونکہ انگریزی کی نسبت اردو قرآن مجید کو سمجھنے اور اسلامی ممالک سے اتحاد پیدا کرنے کی زیادہ صلاحیت اپنے اندر رکھتی ہے اس لئے ہمیں اس زبان کو ہی مشترکہ طور پر کام کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ حضور نے اس امر پر زور دیا کہ یہ سراسر غلط بحث ہے کہ بنگالی کی جگہ اردو کودی جائے گی یا سندھی کی جگہ اردو لے لے گی۔ کی انگریزی نے بنگالی یا سندھی کی جگہ لے لی تھی؟ اصل سوال تو صرف یہ ہے کہ جس طرح پہلے مل کر کام کرنے کے لئے انگریزی سے کام لیا جاتا تھا اب کونسی زبان سے کام لیا جائے۔
    حضور نے پاکستان کے دفاع کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ریلوے لائنیں ایسے رخ پر واقع ہیں جو دفاع کے لحاظ سے خطرناک ہیں۔ حضور نے اس سلسلے میں یہ تجویز پیش فرمائی کہ سندھ کے اس پار راولپنڈی سے کراچی تک ایک ئی ریلوے لائن بنائی جائے جس کے ذریعے خطرہ کے اوقات میں سندھ کا پنجاب کے ساتھ تعلق قائم رہ سکے۔
    کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا پاکستان کے دفاع کے نقطہ نگاہ سے یہ ایک اہم سوال ہے۔ اگر کشمیر انڈین یونین میں چلا گیا تو انڈین یونین کی روس کے ساتھ سرحد مل جانے کی وجہ سے اسے ایک بین الاقوامی حیثیت حاصل ہوجائے گی اور مغربی پنجاب کا فوجی خطہ محصور ہوجائے گا۔ حضور نے بحری طاقت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا پاکستان کے نوجوانوں کو بحری سفر کرنے اور بیرونی ممالک کی سیر کرنے کا شوق اپنے دلوں میں پیدا کرنا چاہئے۔
    حضور نے زرعی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا زراعت کو پاکستان کی سب سے بڑی دولت سمجھا جارہا ہے لیکن ہمیں ایک بہت بڑے خطرے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے اور وہ یہ کہ پاکستان کے زرعی علاقوں کے متعلق ماہرین کا یہ اندازہ ہے کہ پچاس سال میں یہ علاقے بالکل بے کار ہوجائیں گے اور اس کے آثار بھی ظاہر ہورہے ہیں۔ اس خطرہ کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں ضرررساں نمک بڑی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ نہروں کی وجہ سے پانی کی سطح اونچی ہورہی ہے اور زمین شور اور سیم والی ہوتی جاتی ہے۔۱۸ حضور کی یہ ایمان افروز تقریر سات بجے شام ختم ہوئی۔
    تھیوسافیکل ہال میں خواتیں اسلام سے انقلاب انگیزخطاب
    ۱۸۔ امان/مارچ کو حضرت امیرالمومنین نے مقامی لجنہ اماء اللہ کی درخواست پر تھیوسافیکل ہال بند روڈ کراچی میں مستورات کو خطاب فرمایا اس جلسہ میں ¶تقریباً ساڑھے چھ سو احمدی وغیرہ احمدی خواتین شریک ہوئیں جنہوں نے ہمہ تن گوش ہوکر تقریر سنی اور بہت متاثر ہوئیں۔۱۹
    حضور کی اثر انگیز تقریر کا بنیادی مقصد خواتین اسلام کو دعا اور قربانی اور ایثار کے لئے سرگرم عمل کرنا تھا۔ چنانچہ حضور نے اپنی اس تقریر میں سورہ کوثر کی نہایت ایمان افروز تفسیر کرتے ہوئے نہایت لطیف پیرایہ میں استنباط فرمایا کہ پاکستان کا استحکام دعا اور قربانی سے وابستہ ہے۔ حضور نے تقریر کے اختتامی حصہ میں نہایت پر جلال اور پرشوکت الفاظ میں فرمایا۔
    >میں جب قادیان سے لاہور آیا تو بعض بڑے بڑے آدمی مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور انہوں نے کہا اب تو لاہور بھی خطرہ میں ہے۔ بتائیے کیا کیا جائے؟ میں نے کہا لاہور کو ہی خطرہ نہیں سارا پاکستان خطرہ میں ہے۔ جب تم پاکستان مانگا تھا تو یہ سمجھ کر مانگا تھا کہ صرف اتنا ٹکڑہ ہمیں ملے گا اس سے زیادہ نہیں۔ اور یہ سمجھ کر مانگا تھا کہ روپیہ ہمارے پاس کم ہوگا` سامان ہمارے پاس کم ہوگا اور ہمیں اپنی حفاظت کے لئے بہت بڑی جدوجہد سے کام لینا پڑے گا۔ یہ نہیں کہ آپ نے مانگا زیادہ تھا اور ملاکم۔ یا آپ نے تو ہندوستان کا اکثر حصہ مانگا تھا اور آپ کو اس کا ایک قلیل حصہ دے دیا گیا ہے بلکہ جو کچھ آپ لوگوں نے مانگا تھا وہ قریب قریب آپ کو مل گیا ہے۔ اور یہ خطرات جو آج آپ کو نظرآرہے ہیں اس وقت بھی آپ کے سامنے تھے اس لئے یہ کوئی نئے خطرات نہیں۔ پاکستان کے لئے یہ خطرات ضروری تھے۔ اور اب جبکہ پاکستان قائم ہوچکا ہے پاکستان کے لئے دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے یا تو وہ فتح پائے گا یا مارا جائے گا۔
    اگر تم فتح حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور اگر تم شکست کھانا چاہتے ہو تو یاد رکھو دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو مغربی پاکستان کے تین کروڑ مسلمانوں کو پناہ دے سکے یا مغربی اور مشرقی پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کو پناہ دے سکے۔ مشرقی پنجاب میں سے صرف ساٹھ لاکھ مسلمان ادھر منتقل ہوئے تھے مگر ابھی تک لاکھوں لاکھ آدمی ادھر ادھر پھررہا ہے اور اسے رہنے کے لئے کوئی تھکانا نہیں ملا۔ حالانکہ وہ لاکھوں آدمی اپنی مرضی سے نہیں آیا تھا خو پاکستان کی حکومت نے ان کو بلوایا تھا یہ کہہ کر بلوایا تھا کہ ہم مشرقی پنجاب کی حکومت سے معاہدہ کر چکے ہیں کہ اس طرف کے مسلمان ادھر آجائیں اور اس طرف کے ہندو ادھر چلے جائیں۔ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ہم تمہاری مدد کریں گے` تمہارے لئے زمینوں اور مکانوں کا انتظام کریں گے تم اپنے گھروں کو چھوڑو اور مغربی پنجاب میں آجائو۔ اسی اپر انہوں نے اپنے وطن چھوڑے اور اسی امید پر وہ مغربی پنجاب میں آئے۔ ہم جو قادیان کے رہنے والے ہیں صرف ہماری ایک مثال ہے کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ قادیان کو چھوڑیں۔ ہم ایک چھوٹی سی بستی میں رہتے تھے اور ہمارا ارادہ تھا کہ اگر اردگرد کے دیہات اور شہروں میں رہنے والے مسلمان اتحاد کرلیں تو اس علاقہ کو نہ چھوڑا جائے مگر چند دنوں کے اندر اندر سارا مشرقی پنجاب خالی ہوگیا۔ مگر باوجود اس کے کہ وہ وہاں سے بھاگے اور اس خیال سے بھاگے کہ پاکستان میں ہمارے لئے جگہ موجود ہے پھر بھی وہ آج چاروں طرف خانہ بدوش قوموں کی طرح پھررہے ہیں اور انہیں کوئی ٹھکانا نظر نہیں آتا۔ ان کا یہ خیال کہ ہمیں پاکستان میں جگہ مل جائے گی غلط تھا یا صحیح؟ سوال یہ ہے کہ اگر مشرقی پنجاب کے ساٹھ لاکھ مسلمانوں کو پاکستان پناہ نہیں دے سکا تو پاکستان کے تین کروڑ مسلمانوں کو کیا بلوچستان پناہ دے گا؟ اس کی اپنی آبادی چالیس لاکھ کے قریب ہے۔ کیا ایران پناہ دے گا؟ جس کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے۔ کیا عرب پناہ دے گا؟ جس کی آبادی ۷۰`۸۰ لاکھ ہے۔ کیا افغانستان پناہ دے گا؟ جس کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ نہیں۔ آکر کوسا اسلامی ملک ہے جس میں تین کروڑ مسلمانوں کے سمانے کی گنجائش موجود ہے۔
    اگر پاکستان نے شکست کھائی تو یقیناً اس کے لئے موت ہے۔ پاکستان میں بھی موت ہے اور پاکستان سے باہر بھی موت ہے۔ اور جب موت ایک لازمی چیز ہے تو اب سوال یہ نہیں رہ جاتا کہ مسلمان جائیں کہاں؟ بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لاہور کے آگے لڑتے ہوئے مارے جائیں یا کراچی کے سمندر میں غرق ہوکر مریں۔ میں نے کہا یہ دونوں موتیں۔ آپ لوگوں کے سامنے ہیں اب آپ خود ہی فیصلہ کرلیں آپ کونسی موت قبول کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ لاہور کے سامنے دشمن سے لڑتے ہوئے مرنا زیادہ پسند کرتے ہیں یا یہ پسند کرتے ہیں کہ بھاگتے ہوئے کراچی کے سمندر میں غرق ہوجائیں اور مارے جائیں؟ بہرحال پاکستان کے لئے با سوائے اس کے اور کوئی چیز نہیں کہ یا فتح یا موت۔ دوسرے ملکوں کے لئے تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ تبدیل کرلیں کیونکہ ان کی آبادی تھوڑی ہے لیکن پاکستان کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ کوئی اسلامی ملک ایسا نہیں جو پاکستان کے لوگوں کو پناہ دے سکے۔ کسی ملک سے پاکستان کی آبادی دوگنی ہے اور کسی ملک سے تین گنی۔ اس لئے کوئی ملک ایسا نہیں جس میں پاکستان کے لوگ سماسکیں بلکہ ان ممالک میں پاکستان کی بیس فیصدی آبادی کا بسانا بھی ناممکن ہے۔ کجا یہ کہ کسی ملک سے دوگنی یا تگنی آبادی کو وہاں بسایا جاسکے۔ پس پاکستان کے ہر مسلمان مرد اور عورت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس نے یا تو عزت اور فتح کی زندگی بسر کرنی ہے یا عزت اور فخر کی موت اس نے مرنا ہے۔ یہی ایک راستہ ہے جس پر ہر شریف انسان کو چلنا چاہئے کہ یا وہ دشمن پر فتح پائے یا عزت کی موت مرے۔
    حیدرالدین میسور کا ایک مسلمان بادشاہ تھا جسے انگریزوں نے بہت بدنام کیا اور اس کے نام پر انہوں نے اپنے کتوں کا ٹیپو نام رکھا۔ یہ آخری مسلمان بادشاہ تھا جس میں اسلامی غیرت پائی جاتی تھی۔ حیدرآباد جو آج کئی قسم کی مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اس نے ہر دفعہ میسور کی اس حکومت کو تباہ کرنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ جب بنگلور پر انگریزون نے آخری حملہ کیا تو سلطان حیدالدین قلعہ کی ایک جانب فصیل کے پاس اپنی فوجوں کو لڑائی کے لئے ترتیب دے رہا تھا کہ ایک جرنیل اس کے پاس بھاگا بھاگا آیا اور اس نے کہا بادشاہ سلامت! اس وقت کہیں بھاگ جائیے کسی غدار نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا ہے اور انگریزی فوج قلعہ کے اندر داخل ہوکر مارچ کرتی ہوئی آگے بڑھتی چلی آرہی ہے` ابھی کچھ رستے کالی ہیں آپ آسانی سے ان رستوں کے ذریعہ بھاگ سکتے ہیں۔ حیدرالدین نے نہایت حقارت کے ساتھ اس کی طرف دیکھا اور کہا تم کہتے ہو میں بھاگ جائوں۔ یاد رکھو شیر کی دو گھنٹہ کی زندگی گیڈر کی دو سو سال کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔ یہ کہا اور تلوار اپنے ہاتھ میں لی اور سپاہیوں کے ساتھ مل کر انگریزوں سے لڑتا ہوا مارا گیا اور اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
    تو جرات اور بہادری ایسی چیز ہے جو دنیا میں انسان کا نام عزت کے ساتھ قائم رکھتی ہے۔ تاریخوں میں کبھی تم نے بزدلوں کے قصے بھی پڑھے ہیں کہ فلاں نے جنگ کے موقع پر اس اس طرح بزدلی دکھائی۔ کبھی تم ے بھگوڑوں کے قصے بھی پڑھے ہیں جن کو تاریخ نے یاد رکھا ہو۔ کبھی تم نے کام چوروں کے قصے بھی پڑھے ہیں۔ تاریخ میں جن لوگوں کو یاد رکھا جاتا ہے وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو قوم کے لئے قربانیاں کرتے اور اپنی جانوں اور مالوں کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔ یہ قربانیاں کرنے والے مرد بھی ہوتے ہیں` عورتیں بھی ہوتی ہیں اور بچے بھی ہوتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بھی ان قربانیوں کی مثالیں پائی جاتی ہیں اور یورپین تاریخ میں بھی ان قربانیوں کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اور تو بعض نابالغ بچوں نے ایسی قربانیاں کی ہیں جن کی مثال بڑے بڑے بہادروں میں بھی نہیں ملتی۔ پس انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ھوالابتر کے الفاظ گو ایک رنگ میں رسول کریم~صل۱~ پر چسپاں ہوتے ہیں مگر ایک رنگ میں آج پاکستان کے ہر فرد کے سامنے یہ الفاظ رہنے چاہئیں۔ انا اعطینک الکوثر خدا نے آپ لوگوں کو ایک آزاد حکومت دے دی ہے جس میں اسلامی طریقوں پر عمل کرنے کا آپ لوگوں کے لئے موقع ہے۔ اب اس دوسرے حصہ کو پورا کرنا مسلمانوں کا کام ہے کہ فصل لربک وانحر وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں` عبادتیں بجالائیں اور اپنی زندگی کو اسلامی زندگی بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے ملک اور اپنی قوم اور اپنے مذہب کی عزت بچانے کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ یہ دو چیزیں ایسی ہیں کہ اگر مسلمان ان پر عمل کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان سے وعدہ کرتا ہے کہ ان شانئک ھوالابتر وہ دشمن جو آج انہیں کچلنا چاہتا ہے خود کچلا جائے گا۔ وہ دشمن جو انہیں تباہ کرنا چاہتا ہے خود تباہ ہوجائے گا۔ صرف اس احسان کے بدلے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کیا ہے کہ اس نے انہیں کوثر بخشا۔ اللہ تعالیٰ ان سے دو باتیں چاہتا ہے کہ ایک یہ وہ اپنا دین درست کرلیں اور عبادت اور دعائوں اور ذکر الٰہی میں مشغول ہوجائیں اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے دین اور مذہب کے لئے ہر قسم کی قربانیاں پیش کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان شانئک ھو الابتر ]qi [tag یہ مت خیال کرو کہ تم تھوڑے ہو۔ یہ مت خیال کرو کہ تم کمزور ہو۔ اگر اس جذبہ اور نظریہ اور ایمان سے تم کھڑے ہوگے تو خدا بے غیرت نہیں` خدا بے وفا نہیں وہ چھوڑے گا نہیں جب تک وہ اس زبردست دشمن کو جو تم پر حملہ کررہا ہے تباہ اور برباد نہ کردے۔
    یہ ایک چھوٹی سی سورۃ ہے مگر قومی فرائض اور ذمہ داریوں کی وہ تفصیل جو اس سورۃ میں بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ سے امداد حاصل کرنے کے وہ ذرائع جو اس سورۃ میں بیان کئے گئے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سورۃ آج ہر پاکستانی کے سامنے رہنی چاہئے۔ خصوصاً ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اس سورۃ کے مضامین پر غور کرے اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی بنائے کیونکہ جماعت احمدیہ نے ایک نیا عہد خداتعالیٰ سے باندھا ہے اور نئے عہد پرانے عہدوں سے زیادہ راسخ ہوتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے سامنے اعلان کیا ہے کہ ہم اسلام کی خدمت کریں گے اور ہم اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو قربان کرکے اسلام کا جھنڈا دنیا کے کونے کونے میں گاڑدیں گے۔ جب تک اپنے عمل سے وہ یہ ثابت نہیں کردیتے کہ ان میں سے ہر مرد اور عورت اس عہد کے مطابق اپنی زندگی بسر کررہا ہے۔ جب تک وہ یہ ثابت نہیں کردیتے کہ اسلام کے لئے فدائیت اور جاں نثاری کا جذبہ ان کا ایک امتیازی نشان ہے اور وہ اپنی ایک ایک حرکت اسی جذبہ کے ماتحت رکھیں گے اس وقت تک ان کا یہ دعویٰ کہ ہم اسلام کی خدمت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں ایک باطل دعویٰ ہوگا اور ہر دوست اور دشمن کی نگاہ میں انہیں ذلیل کرنے والا ہوگا۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہر احمد مرد اور عورت کو اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں سچے طور پر اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی قربانی کرنے کے طاقت بخشے تاکہ وہ اپنے منہ سے ہی یہ کہنے والے نہ ہوں کہ ہم قربانی کررہے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی آسمان پر ان کی قربانیوں کو دیکھ کر تعریف کریں اور ان کی ترقی اور درجات کی بلند کے لئے دعائیں کریں اور اللہ تعالیٰ موجودہ مصائب سے بچاکر مسلمانوں کو عزت` آزادی اور ترقی کی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔<۲۰
    کراچی میں پریس کانفرنس
    حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔
    >میں جب کراچی میں تھا تو ایک پریس کانفرنس کے دوران میں مجھ سے پریس کے بعض نمائندوں نے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ سیکیورٹی کونسل کشمیر کے مسئلہ کے متعلق کیا فیصلہ کرے گی؟ میں نے انہیں جواب دیا کہ میرے خیال میں سیکیورٹی کونسل کا فیصلہ عقل اور انصاف پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ جو فریق ان کی جھولی میں زیادہ خیرات ڈالے گا وہ اس کے حق میں ووٹ دیں گے میں نے ان سے کہا کہ میرے خیال میں انڈین یونین نے ان کی جھولیوں میں کچھ ڈال دیا ہے۔ اس لئے مجھے اچھے آثار نظر نہیں آتے۔ پریس کے ایک نمائندہ نے کہا کہ پھر آپ سرظفر اللہ کو تاریکیوں نہیں دیتے؟ میں نے جواباً کہا کہ سرظفر اللہ میرے ملازم نہیں بلکہ پاکستان حکومت کے ملازم ہیں ان کی ملازمت کی ذمہ داریوں میں دخل دینا میرے لئے ہرگز جائز نہیں یہ پاکستان حکومت کا کام ہے کہ وہ ان کو مشورہ دے کر اس موقع پر ان کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔<۲۱
    جماعت احمدیہ کو تین بنیادی نصائح
    ۱۹۔ امان/مارچ کو حضور کو کراچی سے روانہ ہونا تھا۔ اس روز حضور نے اپنے خطبہ جمعہ میں جماعت احمدیہ کو تین بنیادی نصائح فرمائیں جن کی تفصیل حضور ہی کے مبارک الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔ فرمایا۔
    >جس طرح انسان پر بچپن کا زمانہ آتا ہے اسی طرح قوموں پر بھی ایک بچپن کا زمانہ آتا ہے۔ جب خدا کسی جماعت کو دنیا میں قائم کرتا ہے تو کچھ عرصہ اسے سیکھنے کا موقعہ دینا ہے مگر پھر اس پر ایک دوسرا زمانہ آتا ہے جب وہ قوم بالغ ہوجاتی ہے اور اس پر ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں جیسے بالغوں پر عائد ہوتی ہیں تب بہت سی باتیں جو طفولیت میں معاف ہوتی ہیں اور غلطی ہونے پر چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے بلوغت کے زمانہ میں نہ وہ باتیں اسے معاف ہوتی ہیں اور نہ غلطی واقعہ ہونے پر اس سے چشم پوشی کا سلوک کیا جاتا ہے۔ ہماری جماعت پر بھی بلوغت کا زمانہ آرہا ہے اور خدا تعالیٰ کے فعل نے بتادیا ہے کہ ہماری جماعت اب ان راستوں پر نہیں چل سکتی جن پر وہ پہلے چلا کرتی تھی بلکہ اب اسے وہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو قربانی اور ایثار کا راستہ ہے اور جس پر چلے بغیر آج تک کوئی قوم بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ ہندوستان میں احمدیوں کی آبادی کا زیادہ تر حصہ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ستر فیصدی حصہ پنجاب میں تھا۔ اب چونکہ مشرقی پنجاب کے مسلمان بھی ادھر آچکے ہیں اس لئے اب اسی فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ حصہ ہماری جماعت کے افراد کا پاکستان میں آچکا ہے اور بوجہ آزاد گورنمنٹ کا ایک حصہ ہونے کے ان پر بھی ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہیں جیسی آزاد قوموں پر عائد ہوتی ہیں۔ یہ امر ظاہر ہے کہ آزاد قوموں کو جنگ بھی کرنی پڑتی ہے یہ تو نہیں کہ جنگ کے اعلان پر وزیر جاکر لڑا کرتے ہیں یا سیکرٹری جاکر لڑا کرتے ہیں۔ بہرحال افراد ہی لڑا کرتے ہیں اور اگر کسی ملک کے افراد اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھیں تو جنگ میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
    ‏tav.11.14
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۱۱
    جماعت احمدیہ کے نئے مرکز ربوہ کی بنیاد
    جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہوتا ہے کہ افراد میں قومیت کا احساس ہو۔ اگر لڑنے والے افراد میں قومیت کا احساس نہیں ہوگا تو لازماً ان میں کمزوری پیدا ہوگی اور یہ کمزوری ان کی کامیابی میں حائل ہوجائے گی۔ پس بوجہ اس کے کہ اسی بلکہ پچاس فیصدی احمدی آزاد اسلامی حکومت میں آگئے ہیں ان کا فرض ہے کہ اب وہ پورے طور پر اپنے اندر تغیر پیدا کریں تاکہ اگر ملک اور قوم کے لئے کوئی خطرہ در پیش ہو تو وہ اس وقت قربانی اور ایثار کا نمونہ دکھا سکیں اور اس طرح ملک کی کامیابی کی صورت پیدا کردیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکی دفاع کے لئے ہر فرد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض بعض انسانوں اور جماعتوں کو لیڈر بننے کی توفیق عطا کی جاتی ہے۔ اگر لیڈر آگے آجاتے ہیں تو ساری قوم ان کے پیچھے چل پڑتی ہے۔ اور اگر لیڈر آگے نہیں تو قوم میں سستی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ لیڈر بعض دفعہ افراد ہوتے ہیں اور بعض دفعہ قومیں ہوتی ہیں۔ وہ قومیں ایسی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں کہ لوگ ہر اہم موقع پر ان کی طرف دیکھتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا کررہی ہیں۔ ہماری جماعت کی بھی خواہ لوگ کتنی مخالفت کریں اسے ایسی پوزیشن ضرور حاصل ہوگئی ہے کہ لوگ ہماری جماعت کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ اس جستجو میں رہتے ہیں کہ یہ لوگ کیا کررہے ہیں۔ اگر آئندہ آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہماری جماعت ہر وقت آمادہ رہے گی اور پاکستان کو جب کوئی خطرہ پیش آیا وہ سب سے بڑھ کر اس کے لئے قربانی کرے گی تو لازمی طور پر دوسرے مسلمان بھی ہماری جماعت کی نقل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اس طرح لوگوں کو بتائیں کہ ملک اور قوم کی خدمت کے معاملہ میں ہم جماعت احمدیہ کے افراد سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کو فائدہ پہنچ جائے گا چاہے وہ ایسا طریق ہمارے بغض کی وجہ سے اختیار کریں یا رشک کی وجہ سے کریں یا مقابلہ کی خواہش کی وجہ سے کریں۔ بہرحال جتنے لوگ آگے آئیں گے اتنا ہی یہ امر ملک کے لئے مفید اور بابرکت ہوگا پس جماعت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنی چاہئیں مگر ذمہ داریوں کا احساس آپ ہی آپ پیدا نہیں ہوجاتا۔ اس کے لئے پہلے اپنی ذہنیت میں تغیر پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جب تک وہ ذہنیت پیدا نہ ہو اس وقت تک لوگوں کا وجود نفع رساں نہیں ہوسکتا اس ذہنیت کو پیدا کرنے کے لئے سب سے پہلی چیز جس کو مدنظر رکھنا ہر شخص کے لئے ضروری ہے۔ وقت کی قیمت کا احساس ہے۔ ہمارے ملک میں لوگوں کو وقت ضائع کرنے کی عام عادت ہے۔ بازار میں جاتے ہوئے کوئی شخص مل جائے تو السلام علیکم کہہ کر اس سے گفتگو شروع کردیں گے اور پھر وہ دو دو گھنٹے تک باتیں کرتے چلے جائیں گے۔۲۲
    ۔۔۔۔۔۔ میں اس کے لئے آپ لوگوں کو ایک موٹا طریق بتاتا ہوں۔ اگر آپ لوگ اسے اختیار کرلیں تو یقیناً آپ سمجھ سکیں گے کہ آپ اپنے وقت کا بہت بڑا حصہ غیر ضروری بلکہ لغو باتوں میں ضائع کردیتے ہیں۔ وہ طریق یہ ہے کہ چند دن آپ اپنے روز مرہ کے کام کی ڈائری لکھیں جس میں یہ ذکر ہو کہ میں فلاں وقت اٹھا۔ پہلے میں نے فلاں کام کیا پھر فلاں کام کیا۔ دن کو تین حصوں میں تقسیم کرلیں اور ہر حصہ کے ختم ہونے پر ۵۔۱۰ منٹ تک نوٹ کریں کہ آپ اس عرصہ میں کیا کرتے رہے ہیں۔ اس طرح آٹھ دس دن مسلسل ڈائری لکھنے کے بعد دوبارہ اپنی ڈائری پر نظر ڈالیں اور نوٹ کریں کہ ان میں سے کون کون سے کام غیر ضروری تھے۔ اس کے بعد آپ اندازہ لگائیں کہ روزانہ ۲۴ گھنٹوں میں سے کتنا وقت آپ نے ضروری کاموں میں صرف کیا اور کتنا غیرضروری کاموں میں صرف کیا۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ بہت جلد یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ آپ کی بہت سی زندگی رائیگاں چلی جارہی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں صرف آٹھ دس دن ایسا کرنے سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ جن کاموں کو آپ بوجھ محسوس کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض دفعہ گھنٹہ گھنٹہ بھر یہی کہتے چلے جاتے ہیں کہ مرگئے بہت بڑا بوجھ آپڑا ہے ذرا بھی فرصت نہیں ملتی۔ ان کاموں میں آپ بہت تھوڑا وقت صرف کرتے ہی اور اکثر حصہ لغو کاموں میں ضائع کردیتے ہیں۔ پس ایک تو یہ تبدیلی اپنے اندر پیدا کرو کہ وقت ضائع کرنے سے بچو اور اسے زیادہ سے زیادہ قیمتی کاموں میں صرف کرنے کی کوشش کرو۔ دوسری چیز جس کی میں جماعت کو نصیحت کرنی چاہتا ہوں )بلکہ اصل میں تو یہ پہلی نصیحت ہونی چاہئے تھی( وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو قرآن کریم پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہماری ساری ضرورتیں قرآن کریم سے پوری ہوسکتی ہیں۔ اور یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی حقیقت ہے جس میں شبہ کی کوئی بھی گنجائش نہیں۔ آپ لوگ میرے مرید ہیں اور مرید کے نگاہ میں اپنے پیر کی ہر بات درست ہوتی ہے۔
    بعض دفعہ اس کی کوئی بات اسے بری بھی لگتی ہے تو وہ کہتا ہے سبحان اللہ کیا اچھی بات کہی گئی ہے۔ پس آپ لوگوں کا سوال نہیں کہ آپ میرے متعلق کیا کہتے ہیں؟ میں کہتا ہوں غیروں کا میرے متعلق کیا تجربہ ہے۔ غیر احمدیوں کی کوئی مجلس ہو۔ خواہ پروفیسروں کی ہو خواہ سائنس کے ماہرین کی ہو خواہ علم الاقتصادی کے ماہرین کی ہو میرے ساتھ مختلف دینوی علوم سے تعلق رکھنے والے افراد نے جب بھی بات کی ہے انہوں نے محسوس کیا ہے کہ میرے ساتھ گفتگو کرکے انہوں نے اپنا وقت ضائع نہیں کیا بلکہ فائدہ ہی اٹھایا ہے۔ کثرت کے ساتھ ہر طبقہ کے لوگ مجھ سے ملتے رہتے ہیں مگر ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے میرے علمی برتری اور فوقیت کو تسلیم نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے ماہر فوجیوں کو بھی میں نے دیکھا ہے مجھ سے گفتگو کرکے وہ یہی محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فائدہ اٹھایا ہے۔ یوں میری تعلیم کے متعلق جب وہ مجھ سے سوال کرتے ہیں مجھے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ میں نے پرائمری بھی پاس نہیں کی لیکن جب علمی رنگ میں گفتگو شروع ہو تو انہیں میری علمی فوقیت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایم۔ اے۔ ایل۔ ایل۔ بی یا ایک پروفیسر یا ایک ڈاکٹر یا ایک فوج کا ماہر بعض دفعہ وہ کچھ بیان نہیں کرسکتا جو خدا تعالٰے میری زبان سے بیان کروا دیتا ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ان کے علم کا منبع زید اور بکر کی کتابیں ہیں لیکن میرے سارے علم کا منبع خدا تعالیٰ کی کتاب ہے۔ یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ قرآن کریم کو دوسرے لوگوں کی عینک لگا کر پڑھتے ہیں۔ اور چونکہ وہ اس مفسریا اس مفسر کی عینک لگاکر قرآن کریم پڑھتے ہیں اس لئے ان کی نظر قرآنی معارف کی تہہ تک نہیں پہنچتی۔ وہ وہیں تک دیکھتے ہیں جہاں تک اس مفسر نے دیکھا ہوتا ہے۔ لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے شروع سے یہ توفیق عطا فرمائی ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کے کلام کو کبھی انسان کی عینک سے نہیں دیکھا۔
    جس دن سے میں نے قرآن کریم پڑھا ہے میں نے یہ سمجھ کر نہیں پڑھا کہ ممجھے یہ قرآن رازی کی معرفت ملا ہے یا علامہ ابوحیا کی معرفت ملا ہے یا ابن جریر کی معرفت ملا ہے بلکہ میں نے یہ سمجھ کر اسے پڑھا ہے کہ مجھے یہ قرآن براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے۔ محمد رسول اللہ ~صل۱~ کو خدا تعالیٰ نے بے شک واسطہ بنایا ہے لیکن مجھے اس نے خود مخاطب کیا ہے اور جب اس نے مجھے خود مخاطف کیا ہے تو معلوم ہوا کہ میرے سمجھنے کے لئے تمام سامان اس میں رکھ دیا ہے۔ اگر سامان نہ ہوتا تو مجھے مخاطب ہی نہ کرتا۔ اس رنگ میں قرآن کریم کو پڑھنے کی وجہ سے جو فائدہ میں نے اٹھایا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد اور کسی نے نہیں اٹھایا کیونکہ میں نے اپنے تصور میں خدا تعالیٰ کو اپنے سامنے بٹھا کر اس سے قرآن کریم پڑھا ہے اور دوسرے لوگوں نے انسانوں سے قرآن کریم کو پڑھا ہے اسی لئے مجھے قرآن کریم سے وہ علوم عطا ہوئے ہیں جو دوسروں کو عطا نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے ہر علم والے پر اللہ تعالیٰ مجھے کامیابی دیتا چلا آیا ہے۔ اکثر دفعہ ایسا ہوا ہے کہ فریق مخالف نے مجھ سے گفتگو کرکے تسلیم کیا ہے کہ وہی بات درست ہے جو میں پیش کررہا ہوں اور اگر کوئی ضدی بھی تھا تو بھی وہ میری برتری کلام کا انکار نہیں کرسکا۔ غرض قرآن کریم میں ایسے علوم موجود ہیں جو دوسری کتب میں نہیں۔ پھر یہ کیسی بدقسمتی ہوگی کہ ہمارے گھر میں تو خزانہ پڑا ہوا اور ہم دوسروں سے پیسہ پیسہ مانگ رہے ہوں۔ ہمارے گھر میں سونے کی کان پڑی ہو اور ہم دوسروں سے علم حاصل کرنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے خزانہ رکھنے والا دوسروں سے ایک پیسہ مانگنے لگ جائے۔ پس قرآن کریم پڑھنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ اس کے لئے کسی لمبے غور اور فکر کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے ایسے علوم عطا فرمائے ہیں جس سے بہت آسانی کے ساتھ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ میری کتابیں پڑھیں ان سے بہت جلد وہ قرآن علوم سے آگاہ ہوجائیں گے۔<۲۳
    ‏]ydbo >[tagتیسری بات جس کی میں جماعت کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے افراد اپنے عمل میں درستی پیدا کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں جن کے چھوڑنے میں کوئی بھی دقت نہیں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک انہی باتوں کو ہماری جماعت کے افراد نہیں چھوڑ سکے۔ مثلاً ڈاڑھی رکھنا ہے۔ میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں ایسے کوئی لوگ موجود ہیں۔ جو ڈاڑھی نہیں رکھتے حالانکہ اس میں کونسی دقت ہے۔ آخر ان کے باپ دادا ڈاڑھی رکھتے تھے یا نہیں؟ اگر رکھتے تھے تو پھر اگر وہ بھی ڈاڑھی رکھ لیں تو اس میں کیا حرج ہے پھر باپ دادا کو جانے دو سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ~صل۱~ ڈاڑھی رکھتے تھے یا نہیں۔ اگر رکھتے تو آپ کی طرف منسوب ہونے والے افراد کیوں ڈاڑھی نہیں رکھ سکتے۔ مجھے سے ایک دفعہ ایک نوجوان نے بحث شروع کردی کہ ڈاڑھی رکھنے میں فائدہ کیا ہے۔ وہ میرا عزیز تھا اور ہم کھانا کھاکر اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ اور چونکہ فراغت تھی اس لئے بڑی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ کج بحثی کررہا ہے تو میں نے اسے کہا میں مان لیتا ہوں کہ ڈاڑھی رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں۔ آخر تم مجھ سے یہی منوانا چاہتے ہو سو میں مان لیتا ہوں کہ ڈاڑھی رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس پر وہ خوش ہوا کہ آخر اس کی بات تسلیم کرلی گئی ہے۔ میں نے کہا میں تسلیم کرلیتا ہوں کہ اس میں کوئی بھی خوبی نہیں مگر تم بھی ایک بات مان لو اور وہ یہ کہ محمد رسول اللہ~صل۱~ کی بات مان لینے میں ساری خوبی ہے۔ بے شک ڈاڑھی رکھنے میں کوئی بھی خوبی نہ ہو مگر محمد رسول اللہ~صل۱~ کی بات مان لینے میں ساری خوبی ہے۔ جب محمد رسول اللہ~صل۱~ کہتے ہیں کہ ڈاڑھی رکھو تم بے شک سمجھو کہ یہ چیز ہر رنگ میں مضر اور نقصان دہ ہے مگر کیا بیسیوں مضر چیزیں ہم اپنے دوستوں کی خاطر اختیار نہیں کرلیا کرتے۔ اول تو مجھے ڈاڑھی رکھنے میں کوئی ضرر نظر نہیں آتا لیکن سمجھ لو کہ یہ مضر چیز ہے پھر بھی جب محمد رسول اللہ~صل۱~ کہتے ہیں کہ ڈاڑھی رکھو تو ہماری خوبی آیا اس میں ہے کہ ہم ڈاڑھی نہ رکھیں یا اس میں ہے کہ ڈاڑھی رکھیں۔ آخر ایک شخص کو ہم نے اپنا آقا اور سردار تسلیم کیا ہوا ہے جب ہمارا آقا اور سردارﷺ~ کہتا ہے کہ ایسا کرو تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے حکم کے پیچھے چلیں خواہ اس کے حکم کی ہمیں کوئی حکمت نظر نہ آئے۔ صحابہؓ کو دیکھو ان کے دلوں میں رسول کریم~صل۱~ کا کتنا عشق تھا۔ ڈاڑھی رکھنے کی معقولیت بھی ثابت کرسکتے ہیں لیکن صحابہؓ بعض دفعہ اس طرح رسول کریم~صل۱~ کی بات سنکر اس پر عمل کرنے کے لئے بے تاب ہوجاتے تھے کہ بظاہر اس کی معقولیت کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوتی تھی۔ ایک دفعہ رسول کریم~صل۱~ تقریر فرمارہے تھے کہ آپ نے کناروں پر کھڑے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ بیٹھ جائو۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اس وقت گلی میں سے آرہے تھے۔ رسول کریم~صل۱~ کے یہ الفاظ ان کے کانوں میں بھی پڑگئے اور وہ وہیں گلی میں بیٹھ گئے اور بچوں کی طرح گھسٹ گھسٹ کر انہوں نے مسجد کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ ایک دوست ان کے پاس سے گزرے تو انہیں کہنے لگے عبداللہ بن مسعود تم اتنے معقول آدمی ہوکر یہ کیا کررہے ہو؟ انہوں نے کہ ابھی رسول کریم~صل۱~ کا خطاب آپ سے تو نہیں تھا انہوں نے تو یہ بات ان لوگوں سے کہی تھی جو مسجد میں آپﷺ~ کے سامنے کھڑے تھے۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو بے شک آپﷺ~ کا یہی مطلب ہوگا لیکن مجھے یہ خیال آیا کہ اگر میں مسجد پہنچنے سے پہلے پہلے مرگیا تو ایک بات رسول کریم~صل۱~ کی بغیر عمل کے رہ جائے گی اس لئے میں گلی میں ہی بیٹھ گیا تاکہ آپ کا حکم پر عمل کرنے کا ثواب حاصل کرسکوں۔
    یہ ایمان ہے جو صحابہؓ کے اندر پایا جاتا تھا اور یہی ایمان ہے جو انسان کی نجات کا باعث بنتا ہے۔۔۔۔
    پس تیسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم ہر قسم کے اسلامی احکام کو قائم کرو اور ایسا نمونہ پیش کرو جو لوگوں کو خود بخود عمل کی تحریک کرنے والا ہو۔ شیعہ ہو` سنی ہو` کوئی ہو ہر ایک کے پاس جائو اور اسے منت سے` سماجت سے` ادب سے` محبت سے کہو اور بار بار کہو کہ یہ اسلامی حکم ہے میرا نہیں آپ کو اگر حضرت مرزا صاحب سے مخالفت ہے تو کیجئے مخالفت۔ اگر احمدیت کو آپ جھوٹا سمجھتے ہیں تو کہئے جھوٹا۔ مگر یہ حکم محمد رسول اللہ~صل۱~ کا ہے میرا یا کسی اور کا نہیں اس لئے اس حکم پر عمل خود آپ کے لئے بھی ویسا ہی ضروری ہے جیسا کہ کسی اور کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔ یہی طریق ہے جو اسلامی احکام کو قائم کرنے کے لئے تمہیں اختیار کرنا چاہئے۔ تم مسلمانوں سے کہو کہ ہمیں بے شک گالیاں دیجئے۔ ہمیں برا بھلا کہئے مگر یہ حکم ہمارا نہیں محمد رسول اللہ~صل۱~ کا ہے اس لئے ہماری خاطر نہیں بلکہ اپنے آقا اور مطاع کی خاطر اس حکم پر عمل کریں۔<۲۴
    سفر پشاور
    کراچی کا شہر اگر بحری شاہراہ پر واقع ہونے کے باعث پاکستان بھر میں ایک خاص امتیاز رکھتا ہے تو پشاور کو درہ خیبر کا دروازہ ہونے کی قدیم تاریخی حیثیت حاصل ہے جہاں سے اٹھائی ہوئی تحریک کے اثرات پاکستان کے پورے شمال مغربی سرحدی علاقے پر ہی نہیں پاکستان کے ہمسایہ ممالک چین` افغانستان` ایران اور روس پر بھی ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ حضرت مصلح موعود نے اسی اہمیت کے پیش نظر کراچی کے بعد پشاور کی سرزمین کو اپنے وجود سے برکت بخشی اور قریباً ایک ہفتہ تک قیام فرمارہے۔
    حضرت امیرالمومنین ۳۔ ماہ شہادت/اپریل کو نماز عشاء کے بعد لاہور کے اسٹیشن پر تشریف لائے لاہور کے احمدی حضور کو الوداع کہنے کے لئے وہاں موجود تھے۔ حضور احباب کی خاطر گاڑی کی روانگی تک ٹرین کے دروازہ میں ہی کھڑے رہے۔ گاڑی ساڑھے نو بجے رات روانہ ہوکر گوجرانوالہ پہنچی تو متعدد احمدی دوست اپنے محبوب آقا کی زیارت واستقبال کے لئے پلیٹ فارم پر موجود تھے اسی طرح وزیر آباد` لالہ موسیٰ` جہلم اور راولپنڈی کی جماعتوں کے دوست بھاری تعداد میں اسٹیشنوں پر حضور کے استقبال کے لئے آتے رہے۔
    کیمبل پور اسٹیشن پر نہ صرف احمدی موجود تھے بلکہ غیر احمدی دوست بھی حضور کی زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔ یہ سب قطاروں میں کھڑے تھے حضورؓ نے ٹرین سے نیچے اتر کر ہر ایک سے مصافحہ کیا اور مصافحہ کے دوران میں چوہدری اعظم علی صاحب سب جج درجہ اول ہر آدمی کا تعارف کراتے جاتے تھے۔ ایک دوست کا نام چوہدری اعظم صاحب نے محمد جہاں بتایا اس دوست کے پاس حضور کھڑے ہوگئے اور پوچھا آپ کا نام محمد جعفر نہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور میرا نام محمد جعفر ہی ہے۔ اس پر چوہدری صاحب نے کہا کہ حضور میں نام ادا نہیں کرسکا۔ لاکھوں کی جماعت کے امام کو اپنے خدام کے اس طرح نام یاد ہونا حیرت انگیز چیز تھی۔
    نوشہرہ چھائونی پر چالیس احمدی اور تیس غیر احمد دوست حضور کی زیارت کے لئے موجود تھے جنہوں نے ا