1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تاریخ احمدیت ۔ جلد 10 ۔ یونی کوڈ

'تاریخ احمدیت ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تاریخ احمدیت ۔ جلد 10 ۔ یونی کوڈ

    ‏tav.8.1
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    تاریخ احمدیت جلد نہم
    )رقم فرمودہ مکرم و محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب(
    یہ امر میرے لئے باعث خوشی ہے کہ امسال ادارۃ المصنفین کی طرف سے تاریخ احمدیت کی نویں جلد احباب کے سامنے پیش کی جارہی ہے۔ عنوانات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جلد سلسلہ کے بہت ہی اہم واقعات پر مشتمل ہے۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ جو قومیں اپنی تاریخ کو زندہ رکھتی ہیں ان کی تاریخ انہیں زندہ رکھنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ اور اپنے اسلاف کو بھلا دینے والی قومیں رفتہ رفتہ بھولی بسری قوموں کے انبوہ میں شامل ہوکر اپنی انفرادیت کو کھو دیتی ہیں۔ لیکن وہ قومیں جو دنیاوی رشتوں اور بندھنوں سے تالیف پاتی ہیں ان سے کہیں زیادہ مذہبی قوموں کا فرض ہوتا ہے کہ اپنی تاریخ اور اپنے اسلاف کے اعمال اور کردار کو زندہ وپائندہ رکھیں۔
    دنیاوی قوموں کی تاریخ تو بسا اوقات یاد رکھنے کے قابل واقعات سے ہی خالی ہوتی ہے بلکہ اکثر وبیشتر ظلم` حق تلفی` خود فراموشی اور خدا فراموشی کے واقعات کی کثرت کے باعث انتہائی بدزیب اور بھیانک نظر آتی ہے اس کے باوجود دنیاوی قومیں اپنے اسلاف کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لئے کثیر اموال صرف کرکے اپنی تاریخ کے مٹتے ہوئے باریک نقوش کو محفوظ کرنے میں کوشاں رہتی ہیں۔ پھر کیا مذہبی اقوام کا اس سے کہیں زیادہ یہ فرض نہیں کہ حقائق پر مشتمل اپنی قیمتی تاریخ کو محفوظ کرنے کی پوری کوشش کریں۔
    جماعت احمدیہ کی تاریخ کا یہ دور جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا اولین دور ہے اپنی قدروقیمت کے لحاظ سے آنحضرت ~صل۱~ آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم تابعین اور تبع تابعین کی تاریخ کے بعد دنیا کی ہر دوسری تاریخ سے زیادہ بلند مرتبہ اور ذی شان ہے۔ اور یقیناً اس لائق ہے کہہ مقدور بھر کوشش کے ساتھ اس کے تمام حسین خدوخال کو علمی اور عملی دونوں لحاط سے زندہ رکھا جائے۔
    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ادارہ المصنفین کو یہ مقدس فریضہ کما حقہ عمدگی اور احتیاط کے ساتھ سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قدم پر ان کارکنان کی راہ نمائی فرمائے جو اس عظیم الشان خدمت پر مامور ہیں۔
    جماعت کے تمام ذی استطاعت اصحاب کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد اس قیمتی سرمایہ کو اپنے گھروں اور سینوں میں محفوظ کرنے کی کوشش کریں۔ خود بھی اس سے استفادہ کریں اور اپنے اعزاء اور اقرباء کوبھی اس سے استغفار کرنے کی پر زور تحریک کریں۔
    موجودہ زمانہ میں اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ ہماری نئی نسل اپنے اسلاف کے کارناموں` اخلاق اور اطوار سے پوری طرح واقف ہو اور ان تمام نیک روایات کو اپنے کردار میں محفوظ کرے جن کے باعث ہمارے بزرگ اسلاف آسمان ہدایت کے روشن ستارے بنے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض کو سمجھنے اور پوری طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
    والسلام
    خاکسار محمد ظفر اللہ خان
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    پیش لفظ
    یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ تاریخ احمدیت کی نویں جلد طبع ہوکر احباب کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہے۔ کئی سالوں سے ہر جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ادارہ المصنفین تاریخ احمدیت کی ایک ضخیم جلد احباب کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے۔ تقریباً سات ۷۰۰ صد صفحات پر مشتمل کتاب کا مرتب کرنا اس پر نظر ثانی کرنا` اس کو لکھوانا اور طبع کرانا بہت ہی محنت شاقہ کو چاہتا ہے اور اس کا اندازہ وہی اصحاب کرسکتے ہیں جو تصنیف وطباعت کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد کو جزائے خیر دے اور اپنی برکتوں اور فضلوں سے نوازے کہ وہ نہایت ہی محنت اور جانفشانی سے ہر سال ایک جلد کا مواد اکٹھا کرتے اسے مرتب کرتے اور لکھتے ہیں۔ اور مواد اکٹھا کرنے اور تصاویر حاصل کرنے کے لئے انہیں کئی سفر بھی کرنے پڑتے ہیں ادارہ المصنفین کے عملہ کو تاریخ کی طباعت کے سلسلہ میں بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے ۔ مضمون کو لکھوانا` پروف پڑھنا اور تصاویر کے بلاک بنوا کر چھپوانا کافی تگ ودو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری محنت ٹھکانے لگ رہی ہے اور ہر سال ہم اپنی منزل مقصود کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
    تاریخ احمدیت کی ہر جلد ہی اہم واقعات پر مشتمل ہوتی ہے لیکن یہ جلد اس لحاظ سے خصوصیت رکھتی ہے کہ اس میں تین ایسے اہم واقعات کا ذکر آرہا ہے جو رہتی دنیا تک اثر انداز ہوں گے )۱( سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا دعویٰ مصلح موعود اور اس کے اثرات )۲( تفسیر کبیر جلد سوم کی تصنیف اور اس کی اشاعت )۳( مجلس انصار اللہ کا قیام یہ تینوں واقعات تاریخ سلسلہ میں بہت ہی اہم واقعات ہیں اور بڑے دور رس نتائج کے حامل ہیں۔ اس جلد میں جس قدر واقعات کا ذکر ہے ان سب کا خاکسار عینی شاہد ہے جب سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق دعویٰ مصلح موعود فرمایا تو وہ دن جماعت کے لئے عید کا دن تھا اور ہر شخص کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی صداقت کا زندہ ثبوت دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ وہ پیشگوئی جو طالمود میں ہزاروں سال سے موجود تھی اور پھر اس کو آنحضرت ~صل۱~ نے بیان فرمایا اور پھر اولیائے امت نے اسے لوگوں کے سامنے پیش کیا اور اس زمانہ میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مفصل خبر پاکر لوگوں کو اس کی اطلاع دی۔ وہ پیشگوئی پوری ہورہی تھی۔ دعویٰ مصلح موعود کے بعد ہوشیار پور لاہور` لودھیانہ اور دہلی میں جلسے ہوئے لاہور میں حضور نے تقریر فرماتے ہوئے جب یہ فرمایا کہ اس وقت میں نہیں بول رہا بلکہ خدا میری زبان سے بول رہا ہے۔ آج بھی ان الفاظ کی گونج کانوں میں موجود ہے۔ دعویٰ مصلح موعود کے بعد حضور نے ہر روز مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں بیٹھنا شروع کیا۔ تاکہ آپ لوگوں کا تزکیہ نفوس اور تربیت کرسکیں۔ تقریباً روزانہ یہ مجلس ہوتی۔ گرمیوں میں مسجد مبارک کی چھت پر اور سردیوں میں مسجد مبارک کے اندورنی حصہ میں جب حضور مسند پر رونق افروز ہوتے تو گویا یوں نظر آتے کہ جیسے چاند ستاروں کے درمیان چمک رہا ہو۔ عشاق تکلیف کی پروا کئے بغیر سردیوں اور گرمیوں میں دور دور سے مجلس میں پہنچتے۔ حضور اپنے نکتوں سے نوازتے رویاوکشوف والہامات سناتے۔ قرآن مجید کے معارف بیان فرماتے اور علمی گفتگو سے ایسا محظوظ کرتے کہ وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی جب حضور نے تفسیر کبیر تصنیف فرمائی تو ازراہ شفقت خاکسار کو کتابت وطباعت کے انتظام وانصرام کے لئے منتخب فرمایا خاکسار وقتاً فوقتاً حضور کی خدمت میں مضمون لینے کے لئے حاضر ہوتا۔ بعض اوقات حوالہ جات کے ضمن میں یا اور کوئی بات پوچھنے کے لئے جانا پڑتا تو دیکھا کہ حضور صبح آٹھ بجے سے کام شروع کرکے رات تین چار بجے تک اور بعض اوقات پانچ بجے تک تصنیف کے کام میں مشغول ہوتے اور اس ضمن میں آپ نے اپنی صحت کا بھی خیال نہ رکھا۔ اور اپنی صحت کو خطرے میں ڈال کر آپ نے قرآن مجید کی وہ تفسیر دنیا کے سامنے پیش کردی جو قیامت تک قرآن مجید کی سچائی پر شاہد ناطق ہوگی۔ مجلس علم وعرفان میں بھی انتظام کی سعادت نصیب ہوئی۔ اور ہر روز حضور کے بیٹھنے کے لئے مسندوں کو رکھوانے باہر سے آنے والے احباب کی ملاقات کروانے اور دیگر متعلقہ انتظامات کرنے کا موقعہ ملتا رہا۔ فالحمد للہ علی ذلک
    کتاب کے مسودہ پر نظر ثانی بھی کافی محنت چاہتی ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے امسال بھی مسودہ پر نظر ثانی کرنے کی توفیق دی۔ اللہ تعالیٰ مکرم سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدرآبادی کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے قیمتی وقت خرچ کرکے اول سے آخر تک مسودہ کو دیکھا اور مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب اور مکرم شیخ نور احمد صاحب منیر نے مسودہ کے بعض حصوں کو دیکھا اور مکرم قاضی محمد نذیر صاحب ناظر اصلاح وارشاد بھی قابل شکریہ ہیں کہ انہوں نے مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد کو مفید اور قیمتی مشوروں سے نوازا مکرم شیخ خورشید احمد صاحب نے کاپیاں پڑھنے اور پروف ریڈنگ کا اہم فریضہ ادا کیا۔ فجراہم اللہ احسن الجزاء ہر سال کوشش کی جاتی ہے کہ کتاب میں بیان ہونے والے واقعات کے ساتھ تعلق رکھنے والی تصاویر بھی محفوظ کردی جائیں۔ ان تصاویر کے حصول کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ امسال مواد اور تصاویر مہیا کرنے میں مندرجہ ذیل اصحاب نے ہمارے ساتھ تعاون فرمایا:۔
    ۱۔
    مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل
    ۲۔
    مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لائل پور
    ۳۔
    مکرم شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت احمدیہ کوئٹہ
    ۴۔
    الحاج خلیفہ عبدالرحمن صاحب کوئٹہ
    ۵۔
    مکرم میجر سید سعید احمد صاحب لاہور
    ۶۔
    مکرم میاں بشیر احمد صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ وناظم علاقائی انصار اللہ کوئٹہ
    ۷۔
    مکرم عبدالرحمن خاں صاحب کوئٹہ
    ۸۔
    مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب انور فاضل
    ۹۔
    مکرم جناب شیخ بشیر احمد صاحب سابق جج ہائیکورٹ لاہور
    ۱۰۔
    مکرم جناب عزیز احمد صاحب ایزنک سٹوڈیو لاہور
    ۱۱۔
    مکرم پیر خلیل احمد صاحب گولیکی
    ۱۲۔
    مکرم چوہدری غلام حیدر صاحب تعلیم الاسلام کالج ربوہ
    ۱۳۔
    مکرم عبدالرشید صاحب سماٹری ناظم اشاعت خدام الاحمدیہ کراچی
    ۱۴۔
    مکرم قائد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کراچی
    مندرجہ ذیل احباب نے مسودہ نقل کرنے میں مدد دی۔
    )۱( مکرم قاضی منیراحمد صاحب ادارہ المصنفین۔ )۲( چودہری نذیر احمد صاحب اکونٹنٹ سی ایم اے کرچی )۳( عزیزم منیر الحق صاحب شاہد ایم اے اسی طرح چودھری محمد صدیق صاحب ۔ ایم اے انچارج خلافت لائبریری اور ان کے رفقاء کارمکرم راجہ محمد یعقوب` ملک محمد اکرم صاحب اور مبارک احمد صاحب خاص شکریہ کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے مکرم مولانا دوست محمد صاحب کے ساتھ خاص تعاون فرمایا۔ مکرم چوہدری شاہ محمد صاحب اور مکرم محمد اسمٰعیل صاحب کاتب نے نہایت توجہ اور عمدگی سے کتابت کی۔ قاضی منیر احمد صاحب اور لطیف احمد صاحب کارکنان ادارہ نے نہایت محنت اور توجہ سے کتاب کی طباعت کا کام سرانجام دیا۔ الغرض سب احباب جنہوں نے مواد مہیا کیا۔ کتابت عمدگی سے کی۔ کاپیاں اور پروف پڑے۔ کتاب کو عمدگی سے چھاپا۔ سبھی قابل شکریہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے فضلوں` احسانوں اور برکتوں سے نوازے آمین۔
    خاکسار
    ابوالمنیر نور الحق مینجنگ ڈائریکٹر
    ادارۃ المصنفین ربوہ
    بروز جمعتہ المبارک ۱۳ ماہ فتح / ۱۳۴۷ ہش دسمبر۱۹۶۸ء
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    پہلا باب )فصل اول(
    ][تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے لے کر
    تفسیر کبیر )جلد سوم( کی اشاعت تک
    خلافت ثانیہ کا ستائیسواں )۲۷( سال
    )جنوری ۱۹۴۰ء تا دسمبر ۱۹۴۰ء بمطابق ذیقعدہ ۱۳۵۸ھ تا ذی الحجہ ۱۳۵۹ھ(
    صلح ۱۳۱۹ ہش تا فتح ۱۳۱۹ ہش
    تاریخ احمدیت کی آٹھویں جلد خلافت جوبلی )منعقدہ دسمبر ۱۹۳۹ء( کے ایمان افروز پر ختم ہوئی تھی۔ اب اس جلد سے ۱۹۴۰ء کے واقعات کا آغاز کیا جارہا ہے۔ یہ سال اپنے اندر بہت سی خصوصیتیں رکھتا ہے جن میں سے درج ذیل تین خصوصیات کو بالخصوص شہرت دوام حاصل رہے گی۔
    ۱۔
    تقویم ہجری شمسی کا اجرا
    ۲۔
    مجلس انصار اللہ کا قیام
    ۳۔
    تفسیر کبیر )جلد سوم( کی اشاعت
    علاوہ ازیں اس سال متعدد ایسے اہم واقعات پیش آئے جو مستقبل میں بڑے دور رس نتائج کے حامل ثابت ہوئے اور بالاخر جماعت احمدیہ کی ترقی اور عروج کا موجب بنے۔
    ۱۹۴۰ء کا ایک نہایت رنجدہ اور تکلیف دہ پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ اس میں حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحبؓ حلالپوری` حضرت ماسٹر عبدالرئوف صاحب بھیروی` حضرت مولوی امام الدین صاحبؓ گولیکی` حضرت میاں معراجدین صاحبؓ عمر اور دوسرے کئی اکابر صحابہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشانوں کے عینی گواہ تھے ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔
    ۱۹۴۰ء کے واقعات وحوادث کا نہایت مختصر سا خاکہ پیش کرنے کے بعد اس سال کے تفصیلی امور پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
    وما توفیقنا الا باللہ العلے العظیم
    خلافت جوبلی سے پیدا شدہ نئی ذمہ داریوں کو پورے اخلاص اورجذبہ کے ساتھ ادا کرنے کی تلقین
    جماعت احمدیہ چونکہ ۱۹۳۹ء کی خلافت جوبلی کی عظیم الشان تقریب کے بعد اپنی زندگی کے پہلے پنجاہ سالہ دور سے گزر کر اگلی نصف صدی میں داخل ہوچکی تھی اور ساتھ ہی الٰہی سنت وقانون
    کے مطابق نئی ذمہ داریوں اور نئے فرائض کابارگراں بھی اس کے کندھوں پر آن پڑا تھا` اس لئے جونہی یہ پروقار مگر تصنع اور تکلف سے خالی اور اسلامی سادگی کا آئینہ دار روحانی جشن بخیر وخوبی ختم ہوا` قافلہ احمدیت کے اولالعزم سپہ سالار اور آسمانی قائد حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ نے ۱۹۴۰ء کے آغاز میں ۱۲ صلح ۱۳۱۹ھ ہش )بمطابق ۱۲ جنوری ۱۹۴۰ء( کو ایک نہایت پرمعارف اور لطیف خطبہ خاص اس موضوع پر ارشاد فرمایاجس میں جماعت احمدیہ پر عائد ہونے والی نئی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے پہلے تو یہ بتایا کہ:۔
    >دنیا میں جب کسی شخص کو کوئی خوشی پہنچتی ہے یا جب کوئی شخص ایسی بات دیکھتا ہے جو اس کے لئے راحت کا موجب ہوتی ہے تو اگر وہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہے تو وہ ایسے موقعہ پر یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر ہے کہ ہم کو یہ بات حاصل ہوئی اور جب کسی مسلمان کو ایسی خوشی پہنچتی ہے تو وہ اس مفہوم کو عربی زبان میں ادا کرتا ہے اور کہتا ہے الحمد لل¶ہ تو اس جلسہ پر ہماری جماعت نے جو خوشی منائی اس کا اگر خلاصہ بیان کیا جائے تو وہ یہی بنے گا کہ پیغام نبوت اور پیغام خلافت کی کامیابی پر ہماری جماعت نے اس سال الحمد للہ کہا۔ مگر باقی دنیا اور اسلام کی تعلیم میں ایک فرق ہے۔ باقی دنیا الحمد لل¶ہ کو اپنی آخری آواز سمجھتی ہے مگر اسلام الحمد لل¶ہ کو نہ صرف آخری آواز قرار دیتا ہے بلکہ اس کو نئی آواز بھی قرار دیتا ہے<۔۱
    اس ایمان افروز تمہید کے بعد حضور نے بتایا کہ:۔
    >پس یہ جو خوشی کا جلسہ ہوا اس نے درحقیقت ہماری ذمہ دریوں کو بہت بڑھادیا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک خاص جلسے کے منانے کے معنے ہی یہ ہیں کہ وہ ایک منزل پر پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے اپنے کام میں ایک درجہ کو حاصل کرلیا ہے۔ پس اس کے بعد ایک نئی ولادت کی ضرورت ہے گویا پہلا سلسلہ ختم ہوا اور اب ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا۔ جیسے ایک دانہ بویا جاتا ہے تو اس سے مثلاً ستر یا سو دانے نکل آتے ہیں۔ اب ستر اور سو دانوں کا نکل آنا اپنی ذات میں ایک بڑی کامیابی ہے مگر وہ پہلے بیج کا ایک تسلسل ہوتا ہے اور زمیندار اسے کوئی نیا کام نہیں سمجھتا بلکہ وہ سمجھتا ہے میرے پہلے کام کا ہی سلسلہ جاری ہے۔ لیکن جب زمیندار ان نئے دانوں کوپھر زمین میں ڈال دیتا ہے تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اب میرے کام کا نیا دور شروع ہوا ۔۔۔۔۔ اسی طرح جب ہماری جماعت نے اس جلسہ کو خوشی کا جلسہ قرار دیا تو بالفاظ دیگر انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہمارا پہلا بیج جو بویا ہواتھا اس کی فصل پک گئی۔ اب ہم نیا بیج بورہے ہیں۔ اور نئی فصل تیار کرنے میں مصروف ہورہے ہیں۔ یہ اقرار بظاہر معمولی نظر آتا ہے لیکن اگر جماعت کی حالت کو دیکھا جائے تو اس اقرار کی اہمیت بہت بڑھ جاتی اور اس پر ایسی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ اگر اس کے افراد رات دن کوشش نہ کریں تو اس ذمہ داری سے کبھی عہدہ برآ نہیں ہوسکتے۔ اس پچاس سالہ دور کے متعلق ہم نے جو خوشی منائی ہمیں غور کرنا چاہئے کہ اس دور کی پہلی فصل کس طرح شروع ہوتی تھی۔ جب ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس پہلی فصل کا بیج صرف ایک انسان تھا۔ رات کو دنیا سوئی ساری دنیا اس بات سے ناواقف تھی کہ خدا اس کے لئے کل کیا کرنے والا ہے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اللہہ تعالیٰ کی مشیت کل کیا ظاہر کرنے والی ہے۔ یہ آج سے پچاس سال پہلے کی بات ہے کہ ایک فرد بھی دنیا کا نہیں تھا جس کو معلوم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے یک دم بغیر اس کے کہ پہلے کوئی انتباہ ہو بغیر اس کے کہ پہلے کوئی انداز ہو` بغیر اس کے کہ پہلے کوئی انذار ہو۔ بغیر اس کہ پہلے کوئی اعلان ہو` ایک شخص جس کو خود بھی یہ معلوم نہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے خدا نے اس کو جگایا اور کہا کہ ہم دنیا میں ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنانا چاہتے ہیں اور تم کو اس زمین اور آسمان کے بنانے کے لئے معمار مقرر کرتے ہیں<۔
    >نبی کے بلائے جانے کے بعد دنیا میں جو بیج بوئے ہوئے ہوتے ہیں وہ پھر نئی جدوجہد شروع کردیتے ہیں۔ نبوت خلافت کا جامہ پہن لیتی ہے اور خلافت کے ذریعہ پھر خدا کے لئے نئے قلوب کی فتح شروع ہوجاتی ہے۔ یہی اس زمانہ میں ہوا۔ اور جب ہم نے ایک جشن منایا ایک خوشی کی تقریب سرانجام دی تو کسان کی زبان میں ہم نے یہ کہا کہ ہم نے پہلی فصل کاٹ لی۔ مگر کیا جانتے ہو کہ دوسرے لفظوں میں ہم نے کیا کہا؟ دوسرے لفظوں میں ہم نے یہ کہا کہ آج سے پچاس سال پہلے جو ایک بیج بویا گیا تھا` اس بیج کی فصل ہم نے کاٹ لی۔ اب ہم ان بیجوں سے جو پہلی فصل سے تیار ہوئے تھے ایک نئی فصل بونے لگے ہیں۔ اس عظیم الشان کام کے آغاز کے بعد تم سمجھ سکتے ہو کہ تم پر کتنی عظیم الشان ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں۔ تم نے اب اپنے اوپر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ جس طرح ایک بیج بڑھ کر اتنی بڑی فصل ہوگیا اسی طرح اب تم ان بیجوں کو بڑھائو گے جو اس فصل پر تم نے بوئے ہیں اور اسی رنگ میں بڑھائو گے جس رنگ میں پہلی فصل بڑھی۔ پس ہم نے جشن مسرت منا کر اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جس طرح ایک بیج سے لاکھوں نئے بیج پیدا ہوگئے تھے۔ اسی طرح اب ہم ان لاکھوں بیجوں کو ازسر نو زمین میں بوتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ پچھلے پچیس یا پچاس سال میں جس طرح سلسلہ نے ترقی کی ہے اسی طرح اتنے ہی گنے اگلے پچیس یا پچاس سال میں ہم آج کی جماعت کو بڑھادیں گے۔ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں جو تم نے اپنے اوپر عائد کی گذشتہ پچاس سال میں ایک بیج سے لاکھوں بیج بنے تھے۔ اب جب تک اگلے پچاس سال میں ان لاکھوں سے کروڑوں نہیں بنیں گے اس وقت تک ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں سمجھے جائیں گے ۔۔۔۔۔ غرض اس جشن کے منانے سے ہم نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہم نے پہلی فصل کاٹ لی اور نئے سرے سے اس سے حاصل شدہ بیجوں کو زمین میں ڈال دیا میرا تو جسم کا ذرہ ذرہ کانپ جاتا ہے۔ جب مجھے یہ خیال آتا ہے کہ کتنی اہم ذمہ داری ہے جو جماعت نے اپنے اوپر عائد گی۔ اگر ہم پہلی فصل نہ کاٹتے تو ہماری ذمہ داریاں کم رہتیں۔ مگر جب ہم نے اس فصل کو کاٹ کر الحمد للہ کہا تو ایاک نعبدو ایاک نستعین کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا سامان بھی ہمیں مہیا کرنا پڑا۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ اس جلسہ کے نتیجہ میں ہم نے لاکھوں نئے بیج زمین میں بو دیئے ہیں۔ اب ہمارا فرض ہے کہ اگلے پچیس یا پچاس سال میں ہم جماعت میں حیرت انگیز طور پر تغیر پیدا کریں ۔ کیا بہ لحاظ آدمیوں کی تعداد کے اور کیا بہ لحاظ مالی قربانی کے اور کیا بہ لحاظ تبلیغ کے اور کیا بلحاظ تربیت کے اور کیا بلحاظ تعلیم کے ۔ آج سے مثلاً پچیس یا پچاس سال کے بعد اگر ہم نئی فصل کے ویسے ہی شاندر نتائج نہ دکھائیں جیسے پہلی پچاس سالہ فصل کے نتائج نکلے تو ہماری الحمد بے معنی اور ہماری ایاک نعبدو ایک نستعین جھوٹی ہو جاتی ہے۔ پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس جلسہ کے بعد ان کو اپنی نئی ذمہ داریاں بہت جوش اور توجہ کے ساتھ ادا کرنی چاہئیں۔ اب ہماری پہلی فصل کے جو نتائج رونما ہوئے ہیں ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اگر اس سے زیادہ نہیں تو کم سے کم اتنے ہی گنے نتائج نئی فصل کے ضرور رونما کردیں۔ اور اگر پہلے ایک سے لاکھوں ہوئے تو آج سے پچاس سال بعد وہ کروڑوں ضرور ہوجائیں۔ اگر آج سے پچیس سال پہلے جماعت دس بارہ گنے بڑھی تھی` تو اگلے پچیس سال میں کم سے کم دس بارہ گنے ضرور بڑھ جانی چاہئے۔ مگر یہ کیونکر ہوسکتا ہے جب تک ہر احمدی کیا مرد اور کیا عورت اور کیا بچہ اور کیا بوڑھا` اور کیا کمزور اور کیا مضبوط` اپنے ذمہ یہ فرض عائد نہ کرلے کہ میں احمدیت کی ترقی کے لئے اپنے اوقات صرف کروں گا اور اپنی زندگی کا اولین مقصد اشاعت دیں اور اشاعت احمدیت سمجھوں گا۔ اسی طرح علمی طور پر کب ترقی ہوسکتی ہے جب تک ہماری جماعت کا ہر فرد دین سیکھنے اور دینی باتیں سننے اور پڑھنے کی طرف توجہ نہ کرے۔ اسی طرح مالی قربانی میں کب ترقی ہوسکتی ہے جب تک ہماری جماعت نہ صرف قربانیوں میں پیش از پیش ترقی کرے بلکہ اپنے اخراجات میں بھی دیانتداری سے کام لے۔ مال ہمیشہ دونوں طرح سے بڑھتا ہے۔ زیادہ قربانیوں سے بھی بڑھتا ہے اور زیادہ دیانتداری سے خرچ کرنے سے بھی بڑھتا ہے ۔ رسول کریم ~صل۱~ نے ایک دفعہ ایک شخص کو ایک دینار دیا اور فرمایا جاکر قربانی کے لے کوئی عمدہ سا بکرا لادو۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ حاضر ہوا اور کہنے لگا ۔ یارسول اللہ ~صل۱~ یہ بکرا موجود ہے اور ساتھ ہی اس نے دینار بھی رسول کریم ~صل۱~ کو واپس کردیا۔ رسول کریم ~صل۱~ حیران ہوئے اور فرمایا >یہ کس طرح؟< وہ کہنے لگا یارسول اللہ مدینہ میں شہر کی وجہ سے چیزیں گراں ¶ملتی ہیں میں دس بارہ میل باہر نکل گیا وہاں آدھی قیمت پر بکرے فروخت ہو رہے تھے میں نے ایک دینار میں دو بکرے لے لئے اور واپس چل پڑا۔ جب میں آرہا تھا تو رستہ میں ایک شخص مجھے ملا۔ اسے بکرے پسند آئے اور کہنے لگا اگر فروخت کرنا چاہو تو ایک بکرا مجھے دے دو میں نے ایک بکرا ایک دینار میں اسے دیا۔ پس اب بکرا بھی حاضر ہے اور دینار بھی۔ رسول کریم ~صل۱~ اس سے بہت ہی خوش ہوئے اور آپﷺ~ نے اس کے لئے دعا فرمائی کہ >خدا تجھے برکت دے< صحابہ کہتے ہیں کہ اس دعا کے نتیجہ میں اسے ایسی برکت ملی کہ اگر وہ مٹی میں بھی ہاتھ ڈالتا تو وہ سونا بن جاتی اور لوگ بڑے اصرار سے اپنے روپے اسے دیتے اور کہتے کہ یہ روپیہ کہیں تجارت پر لگادو۔ غرض کروڑوں کروڑوں روپیہ اسے آیا۔ تو اچھی طرح خرچ کرنے سے بھی مال بڑھتا ہے۔ مال بڑھنے کی صرف یہی صورت نہیں ہوتی کہ ایک کے دو بن جائیں بلکہ اگر تم ایک روپیہ کا کام اٹھنی میں کرتے ہو اور ایک روپیہ زائد بھی کمالیتے ہوتو تمہارے دو نہیں بلکہ چار بن جائیں گے پس صرف یہی کوشش نہیں ہونی چاہئے کہ مالی قربانیوں میں زیادتی ہوبلکہ اخراجات میں کفایت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے اور میں کارکنوں کو بالخصوص اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایک روپیہ کا کام اٹھنی میں کرنے کی کوشش کیا کریں۔
    غرض اب جو ہمارے پاس جماعت موجود ہے اب جو ہمارے پاس روپیہ ہے اب جو ہمارے پاس تبلیغی سامان ہیں اب جو ہمارے دنیا میں مشن قائم ہیں اب جو ہماری تعلیم اور اب جو ہماری تربیت ہے ان سب کو نیا بیج تصور کرکے آئندہ پچاس سال میں جماعت کی ترقی کے لئے سرگرم جدوجہد کرنی چاہئے تاکہ آئندہ پچاس سال میں موجودہ حالت سے ہماری تعداد بھی بڑھ جائے` ہمارا مال بھی بڑھ جائے` ہمارا علم بھی بڑھ جائے` ہماری تبلیغ بھی بڑھ جائے۔ اور اسی نسبت سے بڑھے جس نسبت سے وہ پہلے پچاس سال میں بڑھا۔<
    حضرت امیر المومنین نے اپنے اس پرشوکت خطبہ کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ:۔
    >اگر ہم اس رنگ میں کوشش نہیں کریں گے تو اس وقت تک ہماری نئی فصل کبھی کامیاب نہیں کہلا سکتی۔ مگر یہ کام ویسا ہی ناممکن ہے جیسا آج سے پچاس سال پہلے نظر آتا تھا۔ پھر اس وقت خدا کا ایک نبی کھڑا تھا۔ بے شک اس وقت کوئی احمدی نہ تھا مگر خدا کا نبی دنیا میں موجود تھا جو اس پیغام کو لے کر دنیا میں کھڑا تھا۔ مگر آج وہ نبی ہم میں موجود نہیں اور اس وجہ سے ہماری آواز میں وہ شوکت نہیں جو اس کی آواز میں شوکت تھی۔ پس آج ہمیں اس سے زیادہ آواز بلند کرنی پڑے گی اور ہمیں اس سے زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں گی۔ اس کے لئے دعائیں بھی کرو اور اللہ تعالیٰ کے دروازہ کو کھٹکھٹائو اور یاد رکھو کہ جب تک جماعت دعائوں پر یقین رکھے گی۔ جب تک تم ہر بات میں اللہ تعالیٰ سے امداد کے طالب رہو گے اس وقت تک تمہارے کاموں میں برکت رہے گی مگر جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ کام تم نے کیا` جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ نتائج تمہاری محنت سے نکلے اور جس دن تم یہ سمجھو گے کہ یہ ترقی تمہاری کوششوں کا نتیجہ ہے اس دن تمہارے کاموں میں سے برکتیں بھی جاتی رہیں گی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ آج دنیا میں تم سے بہت زیادہ طاقتور قومیں موجود ہیں مگر ان سے کوئی نہیں ڈرتا اور تم سے سب لوگ ڈرتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ تمہاری مثال اس تار کی سی ہے جس کے پیچھے بجلی کی طاقت ہوتی ہے۔ اب اگر تاریہ خیال کرے کہ لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں تو یہ اس کی حماقت ہوگی۔ کیونکہ لوگ تار سے نہیں بلکہ اس بجلی سے ڈرتے ہیں جو اس تار کے پیچھے ہوتی ہے۔ جب تک اس میں بجلی رہتی ہے ایک طاقتور آدمی بھی اگر تار پر ہاتھ رکھے تو وہ اس کے ہاتھ کو جلادے گی۔ لیکن اگر بجلی نہ رہے تو ایک کمزور انسان بھی اس تار کو توڑ پھوڑ سکتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھو اور اس بجلی کو اپنے اندر سے نکلنے نہ دو۔ بلکہ اسے بڑھائو اور ترقی دو۔ تبھی تم کامیابی کو دیکھ سکتے اور نئی فصل زیادہ شاندار اور زیادہ عمدگی کے ساتھ پیدا کرسکتے ہو۔ لیکن اگر یہ بجلی نکل گئی تو پھر تم کچھ بھی نہیں رہو گے۔ ہاں اگر بجلی رہی تو دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہیں کرسکے گی۔ اور اس صورت میں تمہارا یہ عزم کہ تم اگلے پچاس سال میں تمام دنیا پر چھا جائو ` ناممکن نہیں ہوگا کیونکہ کام خدا نے کرنا ہے اور خدا کے لئے کوئی چیز ناممکن نہیں<۔۲
    تقویم ہجری وشمسی کا اجراء
    سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ الثانی اگرچہ اہل مغرب کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کے بہت فکر مند اور اسی وجہ سے ان کے دلی خیر خواہ اور مونس و غمخوار تھے مگر آپ کو فطری طور پر مغربیت سے شدید نفرت تھی اور اس کا اظہار اپنی تقریروں اور تحریروں میں ہمیشہ برملا فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی یہ بھی قلبی خواہش تھی کہ جماعت احمدیہ کا ایک ایک فرد مغربیت کی ایک ایک یاد گار کو صفحہ ہستی سے مٹا کر ان کی جگہ اسلامی تہذیب اور اسلامی تعلیم کی شاندار عمارت استوار کرنے میں ہمہ تن مصروف ہوجائے۔
    حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی اس سلسلہ میں اپنے زمانہ خلافت کے آغاز ہی سے مختلف عملی اقدامات کرتے آرہے تھے۔ نومبر ۱۹۳۴ء میں حضور نے تحریک جدید کی بنیاد رکھی جس کے متعدد مطالبات میں مغربیت سے بغاوت کی روح نمایاں طور پر کارفرما تھی۔ بعد ازاں حضور نے سالانہ جلسہ ۱۹۳۷ء کے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام اور الہامات کی روشنی میں جماعت احمدیہ کے سامنے غلبہ اسلام کا یہ واضح تصور پیش فرمایا کہ:۔
    >جس طرح آج باوجود مذاہب کے اختلاف کے مغربی تہذیب دنیا پر غالب آئی ہوئی ہے اسی طرح ہمارا کام ہے کہ ہم اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب کو اس قدر رائج کریں کہ لوگ خواہ عیسائی ہوں مگر ان کی تہذیب اور ان کی تمدن اسلامی ہو۔ لوگ خواہ یہودی ہوں مگر ان کی تہذیب اور ان کا تمدن اسلامی ہو۔ لوگ خواہ مذہباً ہندو ہوں مگر ان کی تہذیب اور ان کا تمدن اسلامی ہو۔ یہ چیز ہے جس کے پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔ کہ تہذیب اسلامی کو اتنا رائج کیا جائے اتنا رائج کیا جائے کہ اگر کچھ حصہ دنیا کا اسلام سے باہر بھی رہ جائے پھر بھی اسلامی تہذیب ان کے گھروں میں داخل ہوجائے۔ اور وہ وہی تمدن قبول کریں جو اسلامی تمدن ہو۔ گویا جس طرح آجکل لوگ کہتے ہیں کہ مغربی تمدن بہتر ہے۔ اسی طرح دنیا میں ایسی روچل پڑے کہ ہر شخص یہ کہنے لگ جائے کہ اسلامی تمدن ہی سب سے بہتر ہے۔ ۳
    مروجہ عیسوی کیلنڈر
    مغربیت کے عالمگیر ورثوں میں سے مروجہ عیسوی سن بھی ہے جو دراصل قدیم رومی کیلنڈر CALENDAR) (ROMAN ہے جسے پہلے اگسٹس (AUGUSTUS) پھر جولین (JULIAN) نے ترمیم کیا اور جولین کیلنڈر کہلانے لگا اس کے بعد بھی کئی بار اس میں ترمیم کی گئی۔ آخری بار مارچ ۱۵۸۲ء میں پایائے گریگوری سیزدہم XIII) GREGORY (POPE کے حکم سے اس میں ترمیم ہوئی جو لین کے چھ سو سال بعد ایک عیسائی راہب ڈینس ایگزیگوس EXIGUUS) (DIONYSIOUS نے اس رومن کیلنڈر سے حضرت مسیح کی پیدائش کے زمانہ سے قبل کے سال خارج کرکے اسے مسیحی سن قرار دے دیا۔۴
    سیدنا حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں سن ہجری کی بنیاد
    جہاں تک اسلامی کیلنڈر کا تعلق ہے اس کا آغا خلیفہ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کے عہد خلافت میں ہوا۔ چنانچہ علامہ شبلی نعمانی نے اپنی مشہور تالیف >الفاروق< میں لکھا ہے:۔
    >عام واقعات کے یاد رکھنے کے لئے جاہلیت میں بعض بعض واقعات سے سنہ کا حساب کرتے تھے مثلاً ایک زمانہ تک کعب بن لوئی کی وفات سے سال کا شمار ہوتا تھا۔ پھر عام الفیل قائم ہوا۔ یعنی جس سال ابرہتہ الاشرم نے کعبہ پر حملہ کیا تھا۔پھر عام الفجار اور اس کے بعد اور مختلف سنہ قائم ہوئے۔ حضرت عمرؓ نے ایک مختلف سنہ قائم کیا جو آج تک جاری ہے۔ اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ ۱۶ھ میں حضرت عمرؓ کے سامنے ایک چیک پیش ہوئی جس پر شعبان کا لفظ تھا۔ حضرت عمر نے کہا کہ یہ کیونکر معلوم ہوکہ گذشتہ شعبان کا مہینہ مراد ہے یا موجودہ۔ اسی وقت مجلس شوریٰ منعقد کی۔ تمام بڑے بڑے صحابہ جمع ہوئے اور یہ مسئلہ پیش کیا گیا اکثروں نے رائے دی کہ فارسیوں کی تقلید کی جائے چنانچہ ہر مزان جو خوزستان کا بادشاہ تھا اور اسلام لا کر مدینہ منورہ میں مقیم تھا۔ طلب کیا گیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے ہاں جو حساب ہے اس کو ماروز کہتے ہیں اور اس میں مہینہ اور تاریخ دونوں کا ذکر ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ بحث پیدا ہوئی کہ سن کی ابتداء کب سے قرار دی جائے۔ حضرت علی نے ہجرت نبوی کی رائے دی اور اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا۔ آنحضرت ~صل۱~ نے ربیع الاول میں ہجرت فرمائی تھی۔ سال میں دو مہینے آٹھ دن گذر چکے تھے۔اس لئے ربیع الاول سے آغاز ہونا چاہئے تھا۔ لیکن چونکہ عرب میں سال محرم سے شروع ہوتا ہے اس لئے دو مہینے آٹھ دن پیچھے ہٹ کر شروع سال سے سن قائم کیا<۔۵
    ہجری شمسی تقویم کی ضرورت
    ہجری تقویم کی بنیاد چاند کی تاریخوں پر رکھی گئی تھی۔ مگر جیسا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ الشمس والقمر بحسبان۶ یعنی سورج اور چاند دونوں ہی حساب کے لئے مفید ہیں۔ اور عقلی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو ان دونوں میں فوائد نظر آتے ہیں چنانچہ عبادتوں کو شرعی طریق پر چلانے کے لئے چاند مفید ہے۔ چاند کے لحاظ سے موسم بدلتے رہتے ہیں اور انسان سال کے ہر حصہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا قرار پاسکتا ہے۔ پس عبادت کو زیادہ وسیع کرنے کے لئے اور اس لئے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر لحظہ کے لئے کہہ سکے کہ وہ اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے گذارا ہے۔ عبادت کا انحصار قمری مہینوں پر رکھا گیا ہے لیکن وقت کی صحیح تعین کے لئے سورج مفید ہے اور سال کے اختتام یا اس کے شروع ہونے کے اعتبار سے انسانی دماغ سورج سے ہی تسلی پاتا ہے۔
    ہجری شمسی تقویم جاری کرنے کی اسلامی کوششیں][یہی وہ ضرورت تھی جس کی وجہ سے ہجری تقویم کے اجراء کے بعد قرن اول کے مسلمان بادشاہوں میں یہ خیال بڑی شدت سے اٹھاکہ ہجری قمری کی طرح ہجری شمسی بھی ہونی چاہئے۔ چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خلفائے عباسیہ مثلاً ہشام بن عبدالملک ` ہارون الرشید ` معتضدباللہ متوکل الطائع لل¶ہ نے ہجری شمسی تقویم جاری کرنے کی پے در پے کوششیں کیں ۷ مگر اس میں بعض رکاوٹیں پیدا ہوگئیں۔ ازاں بعد دولت عثمانیہ نے ۱۲۰۹ھ میں تقویم بنائی مگر وہ رائج نہ ہوسکی۔
    ہندوستان میں سلطنت خداداد میسور کے آخری تاجدار سلطان ابوالفتح علی ٹیپو رحمتہ اللہ علیہ )۱۷۵۲ء ۔ ۱۷۹۹ء( نے ہجری شمسی تقویم کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے ایک نئی تقویم تیار کی چنانچہ محمود خاں محمود بنگلوری اپنی کتاب >تاریخ سلطنت خداداد< میں لکھتے ہیں۔
    >سلطان سے پہلے ملک میں مغلیہ زمانے سے سن ہجری کا رواج چلا آتا تھا۔ اور اس میں یہ نقص تھا کہ لگان کی وصولی میں بہت سی مشکلات پیش آتی تھیں۔ اس لئے کہ لگان فصلوں کی تیاری کے بعد لیا جاتا تھا۔ سن ہجری کے مہینے آگے پیچھے ہوجاتے تھے۔ اس نقص کو محسوس کرتے ہوئے اس نے ایک نئی تقویم بنائی جس کی وجہ سے ہر مہینہ ٹھیک اسی موسم میں آتا تھا` جیسے اگلے موسم میں تھا۔ تقویم بنانے کے بعد اس نے مہینوں کے نام ابجد وابتث کے حساب پر رکھے۔ اس سے سلطان کی مراد یہ تھی کہ حروف تہجی کی ترتیب یا ابجد کے حساب پر اگر نام رکھے جائیں تو لوگوں کو یاد رکھنے میں زیادہ سہولت ہوگی<۔
    سلطان شہید~رح~ نے حروف ابجد کے حساب سے بارہ مہینوں کے حسب ذیل نام رکھے۔ احمدی۔ بہاری۔ جعفری۔ دارائی۔ ہاشمی۔ واسعی۔ زبرجدی۔ حیدری۔ طلوعی۔ یوسفی۔ یازوی۔ بیاسی۔ بحساب ابتث انہی مہینوں کو بالترتیب مندرجہ ذیل ناموں سے موسوم کیا۔ احمدی۔ بہاری۔ تقی۔ ثمری۔ جعفری۔ حیدری۔ خسروی۔ دینی۔ ذکری۔ رحمانی۔ راضی۔ ربانی۔۸
    سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعد یہ تقویم جاری نہ رہ سکی۔ تاہم مسلمان مدبروں کے دلوں میں یہ خیال برابر پرورش پاتا رہا کہ تقویم شمسی ہونی چاہئے چنانچہ مصر کے مشہور عالم السید محب الدین خطیب ے ۱۳۴۶ء میں قاہرہ کے المطبعہ السلفیہ سے تقویمنا الشمسی کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا جس میں ہجری شمسی تقویم کے لئے گذشتہ مسلم سلاطین کی جدوجہد کی تاریخ بیان کی اور آخر میں اس کے اجراء کی ضرورت واہمیت واضح کی۔
    حضرت فضل عمرؓ کی توجہ تقویم ہجری شمسی کی طرف
    مگر جو سعادت ازل سے حضرت فضل عمرؓ کے عہد زریں کے ساتھ وابستہ تھی اس کی تکمیل کسی اور دور میں کیسے ہوسکتی ۔ واقعہ یہ ہوا کہ سیدنا حضرت خلیفہ الثانی نے ۱۹۳۸ء میں اپنے سیر روحانی< والے مشہور سفر کے دوران جب دہلی میں رصد گاہیں اور جنتر منتر دیکھے تو اسی وقت سے تہہ کرلیا کہ اس بارہ میں کامل تحقیق کرکے عیسوی شمسی سن کی بجائے ہجری شمسی سن جاری کردیا جائے اور آئیندہ کے لئے عیسوی سن کا استعمال چھوڑ دیا جائے خواہ مخواہ عیسائیت کا ایک طوق ہماری گردنوں میں کیوں پڑا رہے ۹
    تقویم کے لئے کمیٹی کی تشکیل
    چنانچہ حضور نے جنوری ۱۹۳۹ء کے شروع میں تقویم ہجری شمسی کی ترویج سے متعلق ایک کمیٹی قائم فرمادی اور اس کے لئے مندرجہ ذیل ممبر نامزد فرمائے۔
    ۱۔
    حضرت سید محمد اسحاق صاحب فاضل ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ قادیان۔ )صدر کمیٹی(
    ۲۔
    ‏ ]ind [tag حضرت صاحبزادہ حافظ میرزا ناصر احمد صاحب فاضل پرنسپل جامعہ احمدیہ قادیان۔
    ۳۔
    حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحب حلالپوری )سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان(
    ۴۔
    مولوی ابوالعطاء صاحب فاضل سابق مبلغ بلاد عربیہ۱۰
    چونکہ حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحب کمیٹی کی تشکیل سے قبل از خود ایک قمری تقویم تیار کررہے تھے اس لئے ارکان کمیٹی کی طرف سے تقویم کا ڈھانچہ تجویز کرنے کا اہم فریضہ آپ ہی کے سپرد کیا گیا۔
    ‏]0 [stfتقویم کی منظوری اور اجراء
    آپ نے اس کا ایک خاکہ کمیٹی کے سامنے رکھ دیا جو کمیٹی نے اپنی رائے کے ساتھ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں پیش کیا ۔ جس کی منظوری حضرت امیر المومنین سیدنا فضل عمرؓ نے جنوری ۱۹۴۰ء کے آغاز میں دے دی۔
    حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحب جلالپوری نے >الفضل< ۲۶ صلح/جنوری ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء میں یہ تقویم شائع کردی اور جماعت احمدیہ کے اولوالعزم امام ہمام کی برکت اور توجہ سے عالم اسلام کی ایک قدیم ضرورت پوری ہوئی۔ اور ہجری شمسی تقویم جاری ہوگئی۔
    تقویم ہجری شمسی کی امتیازی حیثیت
    خلافت عثمانیہ نے ۱۲۰۹ء میں جو ہجری شمسی تقویم رائج کی وہ شمسی مہینہ مارچ سے شروع ہوتی تھی ۱۱ مگر موجودہ تقویم مروجہ عیسائی کیلنڈر کے بالکل متوازی چلتی تھی ۔یعنی اس کے ہر نئے سال کا آغاز اور اس کے مہینوں کی تقسیم بالکل رومن کیلنڈر کی طرح تھی۔ دولت عثمانیہ کے ہجری شمسی کیلنڈر میں مہینوں کے نام رومن سے مخلوط سریانی زبان سے اخذ کئے گئے تھے جو یہ تھے۔
    مارت` نیسان` مایس` جزیران` تموز` اغسطس` ایلول` تشرین الاول` تشرین الثانی` کانون الاول` کانون الثانی` شباط ۱۲
    اس کے مقابل حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کے جاری فرمودہ تقویم ہجری شمسی کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مہینوں کے نام ایسے مناسب تجویز کئے گئے جو اسلامی تاریخ کے مشہور واقعات کے لئے بطور یاد گار تھے تا آنحضرت ~صل۱~ کے فیضان اور دنیا کے لئے دین کامل کی یاد قیامت تک ہر لحظہ تازہ ہوتی رہے۔ بالفاظ دیگر ہجری شمسی سال کے بارہ مہینوں میں زمانہ نبوی کے بارہ ایسے ضروری واقعات آنکھوں کے سامنے پھر جاتے تھے جو تاریخ اسلام کا نقطہ مرکزیہ اور پیغمبر خدا ~صل۱~ کی سیرت مقدسہ کی جان ہیں۔ بہر حال حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے تقویم ہجری شمسی کے مہینوں کے مندرجہ ذیل نام تجویز فرمائے۔
    )۱( صلح )جنوری( )۲( تبلیغ )فروری( )۳( امان )مارچ(
    )۴( شہادت )اپریل( )۵( ہجرت )مئی( )۶( احسان )جون(
    )۷( وفا )جولائی( )۸( ظہور )اگست( )۹( تبوک )ستمبر(
    )۱۰( اخاء )اکتوبر( )۱۱( نبوت )نومبر( )۱۲( فتح )دسمبر(
    ہجری شمسی کی نسبت تفصیلی معلومات حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحب کیقلم سے
    تقویم ہجری شمسی میں کیا کیا امور مدنظر رکھے گئے اور ہجری شمسی مہینوں کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ نیز اس تقویم کے علم نفاذ کے سال اول کا
    کیلنڈر کیا ہے؟ ان سب امور پر حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحب جلالپوری کے ایک مضمون میں )جو >الفضل< ۲۶ صلح ۱۳۱۹ ہش مطابق ۲۶ جنوری ۱۹۴۰ء میں شائع ہو چکا ہے( بڑی شرح وبسط سے روشنی پڑتی ہے جسے بجنسہ درج کیا جاتا ہے۔۱۳]2ydob [tag
    ہجری شمسی تقویم )کیلنڈر(
    )منظور فرمودہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ نبصرہ العزیز(
    تقویم ہجری شمسی کی ترتیب وتجویز
    ہجری شمسی تقویم کے مرتب کرنے کے ساتھ تعلق رکھنے والے ضروری امور پر غور کرکے اس بارے میں رپورٹ پیش کرنے کے لئے حضرت سیدنا وامامنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نبصرہ العزیز نے ۱۹۳۹ء کے اوائل میں ایک کمیٹی مقرر فرمائی اور اس کے چار ممبر متعین فرمائے حضرت سید محمد اسحاق صاحب فاضل ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ قادیان )صدر کمیٹی( حضرت صاحبزادہ حافظ میرزا ناصر احمد صاحب فاضل پرنسپل جامعہ احمدیہ قادیان` مولوی ابوالعطاء صاحب فاضل مبلغ سلسلہ احمدیہ خاکسار محمد اسمٰعیل )سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان( اور ارشاد فرمایا کہ اس کیلنڈر کا ڈھانچہ تیار کرکے پیش کیا جائے اور اس میں دوسرے مروجہ شمسی کیلنڈروں کی نسبت مروجہ عیسوی کیلنڈر کو مقدم طور پر سامنے رکھا جائے )جو درحقیقت عیسوی کیلنڈر نہیں بلکہ رومی کیلنڈر ہے جسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے ۵۲۷ سال بعد صرف اس قدر تبدیلی کے ساتھ کرسچین کیلنڈر بنا لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قبل کے سالوں کے اعداد اس میںسے کم کردیئے اور بس( لیکن چونکہ اس کے کئی ایک مہینوں کے نام مشرکانہ ہیں اس لئے مہینوں کے نام کوئی اور تجویز کئے جائیں جو مناسب اور موزوں ہوں اور عیسوی کیلنڈر کی اصلاح کے لئے جو تبدیلی اس میں عیسائیوں نے کی ہے جس کے ماتحت اس کیلنڈر کو اب چلایا جارہا ہے اس مجوزہ کیلنڈر میں شروع سے ہی ملحوظ رکھا جائے۔
    چونکہ اس کمیٹی کے ارکان کو معلوم تھا کہ خاکسار راقم ایک قمری تقویم تیار کررہا ہے اس لئے کمیٹی نے قرار دیا کہ ہجری شمسی تقویم کا ڈھانچہ بھی خاکسار ہی تجویز کرے۔ اور اسے کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔ چنانچہ میں نے اس کا ایک خاکہ مرتب کرکے کمیٹی کے آگے پیش کیا۔ اور کمیٹی نے اس کے ساتھ اپنی رائے شامل کرکے اسے حضور کی خدمت میں پیش کیا۔ حضور نے اس کے متعلق تمام ممبران کی آراء سن کر حسب ذیل فیصلہ فرمایا:۔
    ہجری شمسی سال کا آغاز اور اس کے دنوں کی اس کے مہینوں پر تقسیم۔
    مروجہ عیسوی کیلنڈر کا کوئی نیا سال جس روز سے شروع ہوگا اسی روز سے ہجری شمسی سال کا آغاز شمار ہوگا۔ اور سال کے دنوں کی تقسیم بھی مہینوں پر مروجہ عیسوی کیلنڈروں کی طرح ہی ہوگی اور لیپ سال بھی وہی شمار ہوں گے جو مروجہ عیسوی کیلنڈر میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اور پہلے ہجری شمسی سال کا آغاز بھی ۶۲۲ء کے آغاز کے وقت سے محسوب ہوگا۔ لیکن چونکہ عیسوی کیلنڈر کے سابقہ طریق شمار میں غلطی سے ہر صدی میں لیپ کے ۲۵ سال گنے جاتے تھے اور ساتویں صدی عیسوی کے آغاز کے وقت تک اس غلطی کی وجہ سے تین دن زائد شمار ہوچکے تھے اس لئے ۱ھش )ہجری شمسی( کے آغاز کے دن کی عیسوی تاریخ یکم جنوری ۶۲۲ء نہیں بلکہ ۲۹۔ دسمبر ۶۲۱ء محسوب ہوگی۔ اور چونکہ اس کے بعد بھی ۱۵۸۲ء تک یہ غلط طریق شمار برابر جاری رہا اس لئے یہ فرق بڑھتا چلا گیا اور سولھویں صدی عیسوی میں دس دن تک پہنچ گیا اور ۱۵۸۲ء میں آکر اس غلطی کی اصلاح کی طرف توجہ کی گئی مگر وہ بھی بیک وقت نہیں بلکہ مختلف ممالک میں ۱۵۸۲ء سے لے کر قریباً ساڑھے تین سو سال کے لمبے عرصہ میں مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے اس کی اصلاح کی گئی حتیٰ کہ بعض اقوام نے اب بیسوی صدی میں آکر اس اصلاح کا اجراء کیا ہے جبکہ یہ فرق تیرہ دن تک پہنچ چکا تھا۔ ہاں اب چونکہ اس فرق کا ازالہ کیا جاچکا ہے اس لئے مروجہ عیسوی کیلنڈر کے کسی سال اور کسی مہینہ کے آغاز کے دن اور اس کے مقابل کے ہجری شمسی سال اور مہینہ کے آغاز کے دن میں اب کوئی فرق نہیں ہوگا اور ۱۳۱۹ ہش کے آغاز کا دن وہی محسوب ہوگا جو ۱۹۴۰ء کے آغاز کا دن تھا۔
    ہجری شمسی مہینوں کے نام
    ہجری شمسی سنہ کے مہینوں کے نام حضور نے حسب ذیل منظور فرمائے ہیں۔
    ۱۔ ماہ صلح بمقابل جنوری۔ اس مہینہ میں آنحضرت ~صل۱~ ایک رویا کی بناء پر تین ہزار صحابہ کرام کی معیت میں عمرہ کے لئے بیت اللہ شریف کی طرف روانہ ہوئے مگر کفار قریش مزاحم ہوئے۔ اس وجہ سے حدیبیہ کے مقام سے آپ کو واپس ہونا پڑا۔ لیکن اس موقعہ پر ان لوگوں کے ساتھ آپ کا ایک صلح کا معاہدہ ہوگیا جس کا نام اللہ تعالیٰ نے فتح مبین رکھا ہے۔ اس صلح کے نتیجہ میں لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے۔ گویا دریا کا بندٹوٹ گیا۔
    ۲۔ ماہ تبلیغ بمقابل فروری۔ اس مہینہ میں حضرت رسول کریم ~صل۱~ نے بادشاہوں کی طرف تبلیغی خطوط ارسال فرمائے اور انہیں اسلام کی دعوت پہنچائی۔
    ۳۔ ماہ امان بمقابل مارچ ۔ اس مہینہ میں حجہ الوداع کے موقع پر آنحضرت ~صل۱~ نے اعلان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں ` مالوں اور تمہاری عزت وآبرو کو ویسی حرمت بخشی ہے جیسی کہ اس نے حج کے دن کو` حج کے مہینہ کو اور حج کے مقام مکہ معظمہ کو حرمت عطا کی ہے۔
    ۴۔ ماہ شہادت بمقابل اپریل۔ اس مہینہ میں دشمنان اسلام نے دھوکہ اور غداری سے کام لے کر اور آنحضرت ~صل۱~ کی خدمت میں یہ درخواست کرکے کہ ہمیں دین اسلام کی تعلیمات سکھانے کے لئے ہمارے ہاں معلم اور مبلغ بھیجے جائیں اور اس طرح اکابر صحابہؓ کو اپنے ہاں بلاکر بے دردی کے ساتھ انہیں شہید کیا اور ایک مہینہ میں دوبار یہ غداری کی۔ ایک تو رجیع کے مقام پر جہاں آپﷺ~ نے چھ یا سات اکابر صحابہ کرام کو بھیجا تھا جن میں سے ایک یا دو کو تو ان لوگوں نے پکڑ کر کفار قریش کے پاس جاکر بیچ دیا اور باقی سب کو شہید کردیا اور دوسرے بئرمعونہ کے مقام پر جہاں آپﷺ~ نے ابوبرآء کلابی رئیس بنی کلاب کے درخواست پر اور اس کی ذمہ داری پر ستر انصار کو جو نہایت مقدس لوگ اور قرآن کریم کے حافظ اور ماہر تھے` ان لوگوں کی تعلیم و تربیت کی غرض سے بھیجا۔ ان لوگوں نے سوائے ایک انصاری کے جسے وہاں کے سردار نے ایک غلام کو آزاد کرنے کے متعلق اپنی ماں کی نذر پوری کرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا باقی تمام کو شہید کردیا۔
    ۵۔ ماہ ہجرت بمقابل مئی۔ اس مہینہ میں آنحضرت ~صل۱~ نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ میں قیام اختیار فرمایا۔
    ۶۔ ماہ احسان بمقابل جون۔ اس مہینہ میں آنحضرت ~صل۱~ نے بنی طیٰ کے اسیروں کو حاتم کے ساتھ ان کی قومی نسبت کی وجہ سے ازراہ کرم واحسان آزادی بخشی۔
    ۷۔ ماہ وفا بمقابل جولائی۔ اس مہینہ میں غزوہ ذات الرقاع ہوا تھا جس میں سفر کی شدت اور سواری کی کمی کی وجہ سے پیدل چلنے کے باعث صحابہ کرام کے پائوں چھلنی ہوگئے اور صحیح بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کے تو پائوں کے ناخن بھی جھڑ گئے اور انہوں نے اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر اور پائوں پر لپیٹ لپیٹ کر اس کا راستہ طے کیا اور اسی وجہ سے اس مہم کا نام ذات الرقاع مشہور ہوگیا۔ اور اسی موقع پر صلٰوۃ الخوف کا حکم نازل ہوا۔ غرض اس جنگ میں بھی صحابہ کرام نے خارق عادت طور پر اپنے صدق ووفا اور تسلیم ورضا کا نمونہ دکھایا تھا۔
    ۸۔ ماہ ظہور بمقابل اگست۔ اس مہینہ میں جنگ موتہ کے سلسلہ میں آنحضرت ~صل۱~ کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے بیرون عرب میں اسلام کی اشاعت اور ظہور یعنی غلبہ کی بنیاد رکھوائی۔ اس واقعہ سے قبل آپ نے ہر قل کے مقرر کردہ امیر بصری کی طرف حضرت حارث ابن عمیرازدیؓ کے ہاتھ ایک تبلیغی خط بھیجا تھا۔ جب وہ موتہ کے مقام پر پہنچے تو شرجیل غسانی نے انہیں باندھ کر قتل کردیا جس پر حضورﷺ~ نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امارت کے ماتحت تین ہزار صحابہ کرام کی فوج وہاں بھیجی۔ اور ارشاد فرمایا کہ اگر زید شہید ہوجائے تو اس کی جگہ جعفر بن ابی طالب لے لے۔ وہ شہید ہوجائے تو عبداللہ بن رواحہؓ اس کی جگہ پر کھڑا ہوجائے اور وہ شہید ہوجائے تو مسلمان اپنے میں سے کسی کو امیر بنالیں اور اسی ترتیب سے وہ اس جنگ میں شہید ہوئے۔
    ۹۔ ماہ تبوک بمقابل ستمبر۔ اس مہینہ میں جنگ تبوک کے موقعہ پر مخلصین کے اخلاص کا مختلف صورتوں میں امتحان ہوا۔ اور انہوں نے اپنے اپنے رنگ میں اعلیٰ سے اعلیٰ جوہر ایمان دکھائے۔
    ۱۰ ۔ ماہ اخاء بمقابل اکتوبر۔ اس مہینہ میں آنحضرت ~صل۱~ نے مہاجرین اور انصار میں سے ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کے درمیان خاص طور پر اخوت کا تعلق قائم کیا جس کے نتیجہ میں مہاجرین اور انصار کے تعلقات سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر ہوگئے۔
    ۱۱ ماہ نبوت بمقابل نومبر ۔ اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ~صل۱~ کو منصب نبوت ورسالت بخشا۔
    ۱۲۔ ماہ فتح بمقابل دسمبر۔ اس مہینہ میں آنحضرت ~صل۱~ نے فتح مکہ کے موقعہ پر اپنے خونخوار دشمنوں کو لاتثریب علیکم الیوم کہہ کر عفو عام کا اعلان فرمایا۔
    قمری مہینوں کی تعین
    ان واقعات کو اس شمسی مہینوں کی طرف منسوب کرتے وقت اس بات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر جو آنحضرت~صل۱~ نے اعلان فرمایا تھا کہ آئندہ ہر ایک قمری سال بارہ مہینوں کا شمار ہوگا۔ اس سے پہلے عرب میں جو تاریخ شماری کا یہ طریق قریباً دو اڑھائی سو سال سے جاری تھا کہ مہینے قمری گنے جاتے تھے اور سال شمسی۔ ان دونوں شماروں کو ملانے کے لئے ہر آٹھ سال میں تین سال ۱۳۔ ۱۳ ماہ کے شمار کئے جاتے تھے۔ اس کی بناء پر ہجرت کے ابتدائی دس سالوں میں چار سال ۱۳ ۔ ۱۳ مہینوں کے گنے گئے تھے اور وہ اس طور پر کہ نویں اور دسویں ہجری کے درمیان یعنی ان میں سے ایک سال کے اختتام اور دوسرے سال کے آغاز کے موقعہ پر ایک مہینہ زائد شمار کیا گیا۔ جس سے پہلے ساتویں اور آٹھویں سال کے درمیان اور ان سے پہلے` چوتھے اور پانچویں سال کے درمیان اور اس سے قبل پہلے اور دوسرے سال کے درمیان ایک ایک مہینہ زائد شمار کا گیا تھا پس ابتدائی دس ہجری سالوں کا عرصہ ۱۲۰ قمری مہینوں کا نہیں بلکہ۱۲۴ قمری مہینوں کا شمار ہوا تھا۔
    تقویم قمری کا اجمالی خاکہ
    اس تقویم میں نئے قمری دور کا آغاز ۱۰ ہجری کے شروع سے شمار کیا گیا ہے۔ اور ۳۰ ۔ ۳۰ دنوں کے اور ۲۹۔ ۲۹ دنوں کے قمری مہینوں کی تعین کے لئے قمری مہینہ کی اوسط مقدار کو سامنے رکھا گیا ہے اور تواریخ کی تعین کے لئے ایک طرف اس بات کو پیش نظر رکھا گیا ہے کہ حجتہ الوداع کے دن یعنی ۹ ذوالحجہ ۱۰ ہجری کو جمعہ تھا۔ اور دوسری طرف یہ کہ ابتدائی دس ہجری سالوں میں سے پہلے مہینہ جمعہ کے روز شروع ہوا تھا۔ اور پانچواں مہینہ )جوہر
    ‏tav.8.2
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    دائمی ہجری شمسی کیلنڈر
    اس پہلے کیلنڈر کے بعدبھی وقتاً فوقتاً مختلف سالوں کے کیلنڈر شائع ہوتے رہے۔ مگر ضرورت اس امر کی تھی کہ سالانہ کیلنڈروں کی اشاعت کے علاوہ پوری تحقیق و تفحص کے ساتھ ایک دائمی شمسی ہجری کیلنڈر بھی تیار کیا جائے۔ اس نہایت کٹھن` دشوار اور محنت طلب کام کا بیڑا جمعدار فضل الدین صاحب کمبوہ ۱۶ نے اٹھایا۔ اور نہایت درجہ محنت شاقہ اور دیدہ ریزی کے بعد ۱۹۶۰ء میں >فضل عمر ہجری شمسی دائمی تقویم< کے نام سے ایک مستقل تقویم شائع کردی۔ جس میں چودہ کیلنڈر ہیں جن کی مدد سے ہزاروں سال قبل اور ہزاروں سال آئندہ کی صحیح تاریخ` دن ` مہینہ اور سال بڑی آسانی سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے >مجمع البحرین< کے نام سے اس تقویم کا ایک ضمیمہ بھی شائع کیا۔ جس میں ہجری سال سے عیسوی اور عیسوی سال سے ہجری سال سے ہجری سال معلوم کرنے کا بہترین فارمولا پیش کیا۔۱۷
    حضرت مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری کی بیعت خلافت
    ۱۹۴۰ء کا ایک نہایت اہم واقعہ حضرت مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری کی بیعت خلافت ہے۔ حضرت مولوی صاحب ۱۷ مئی ۱۸۹۰ء ۱۸ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کرکے داخل احمدیت ہوئے اور صوبہ سرحد میں جماعت احمدیہ کے ایک بھاری ستون بن گئے۔ جولائی اگست ۱۸۹۱ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ تشریف لے گئے تو آپ بھی محض زیارت کے لئے حضور کی خدمت میں پہنچے۔ چنانچہ حضور نے >ازالہ اوہام< میں اپنے دوسرے مبائعین ومجبین کا نام بنام ذکر کرتے ہوئے ۳۳ نمبر پر آپ کی نسبت مندرجہ ذیل تعریفی کلمات تحریر فرمائے۔
    >حبی فی اللہ مولوی غلام حسن صاحب پشاوری اس وقت لدھیانہ میں میرے پاس موجود ہیں۔ محض ملاقات کی غرض سے پشاور سے تشریف لائے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وفادار مخلص ہیں اور لایخافون لومہ لائم میں داخل ہیں۔ جوش ہمدردی کی راہ سے دو روپے ماہواری چندہ دیتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ بہت جلدی للہیٰ راہوں اور دینی معارف میں ترقی کریں گے کیونکہ فطرت نورانی رکھتے ہیں۔ ۱۹
    جنوری ۱۸۹۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ضمیمہ انجام آتھم میں اپنے ۳۱۳ اصحاب کبار کی فہرست شائع فرمائی تو آپ کا نام نمبر اکاون پر درج کیا۔ ۱۹۰۲ء میں آپ کی ایک صاحبزادی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے عقد میں آئیں۔ ۱۹۰۶ء کے اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو صدر انجمن احمدیہ کے معتمدین میں شامل فرمایا۔
    حضرت مولوی غلام حسین صاحب خلافت اولیٰ کے عہد میں سلسلہ کی خدمات بجالاتے رہے۔ مگر ۱۹۱۴ء کے شروع میں جماعت میں آئندہ نظام خلافت کے خاتمہ کی نسبت مولوی محمد علی صاحب کے خیالات سے متاثر ہوکر ان کے زبردست موید وہمنوا بن گئے چنانچہ جب مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی زندگی کے آخری ایام میں >ایک نہایت ضروری اعلان< کے نام سے براہمن سٹیم پریس لاہور سے جو خفیہ ٹریکٹ شائع کیا تو اس پر آپ کی مندرجہ ذیل مصدقہ عبارت درج تھی کہ۔
    >مذکورہ بالا مضمون کی میں تصدیق اور تائید کرتا ہوں اور سلسلہ کی بھلائی اسی پر عامل ہونے میں یقین رکھتا ہوں۔ غلام حسن سب رجسٹرار پشاور<۲۰
    حضرت مولوی صاحب ایک لمبے عرصہ تک احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے نہایت ممتاز رکن رہے اور دیانتداری سے سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں مصروف رہے۔ لیکن اپنی فطرت نورانی کے باعث بالاخر لاہوری فریق سے بھی الگ ہوگئے۔
    اسی دوران میں ۱۹۳۹ء کا جلسہ قریب آگیا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس تقریب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت مولوی صاحب کو قادیان تشریف لانے کی دعوت دی۔ نیز لکھا کہ پشاور سے قادیان تک آنے کے لئے موٹر وغیرہ کا انتظام بھی ہوجائے گا۔ مگر ان کی طرف سے قریباً نفی میں جواب آیا۔ ایک تو انہوں نے بیماری اور کمزوری کا عذر کیا اور لکھا کہ اب ایسی حالت ہے کہ ڈرتا ہوں کہ کہیں سفر میں ہی پیغام آخرت نہ آجائے۔ دوسری بات انہوں نے جوبلی کی تقریب کے متعلق لکھی کہ یہ ایک بدعت ہے۔۲۱
    اس پر حضرت میاں صاحبؓ نے ادب کے طریق پر جواب لکھا اور اس میں جوبلی کی تقریب سے متعلق وضاحت فرمائی ۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ آپ خدا کے فضل وکرم سے قادیان تشریف لے آئے اور اس مبارک جلسہ پر خلافت کے تازہ انوار اور اس کی زندہ برکات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور ۲۲ جنوری ۱۹۴۰ء کو دوبارہ خلافت سے وابستہ ہوگئے اور تبلیغ ۱۳۱۹ھش )فروری ۱۹۴۰ء( کو >میری بیعت< کے عنوان سے ایک مضمون خلافت کے مختصر وجوہ لکھے۔ آپ کا یہ مضمون ۷۔ تبلیغ ۱۳۱۹ھش )۷۔ فروری ۱۹۴۰ء( کو اخبار الفضل میں شائع ہوا جو آپ نے اپنے سارے بیٹوں اور سرکردہ غیر مبائعین کے نام بھجوادیا۔ بیعت نامہ کی اشاعت پر مولوی محمد علی صاحب نے سخت تنقید کی اورپیغام صلح میں مضامین لکھے جس پر حضرت مولوی غلام حسن خاں صاحب نے دوبارہ قلم اٹھایا اور ایک اور مضمون لکھا جس میں اپنی بیعت کے اہم وجوہ پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی اور لکھا کہ۔
    >میں نے جو حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح ثانی کی بیعت اختیار کی ہے۔ تو جیسا کہ میں اپنے سابقہ مضمون میں تشریح کرچکا ہوں۔ وہ تین وجوہات پر مبنی ہے۔
    اول یہ کہ حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صدر انجمن کا انتظام وقتی اور عارضی تھا جو حضرت مسیح موعود نے اس وقت کے حالات کے ماتحت اپنی رائے سے قائم کیا تھا۔ مگر خداتعالیٰ نے اس انتظام کو مٹا کر اس کی جگہ اپنے پسند کردہ نظام خلافت کو قائم کردیا اور ایسا تصرف فرمایا کہ خود ارکان صدر انجمن کے ہاتھ سے ہی یہ تبدیلی عمل میں آئی جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا احترام بھی قائم رہا اور خدا کی مشیت بھی پوری ہوگئی۔ اس کی تائید میں میں اپنے سابقہ مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو واضح الہامات جو حقیقتہ الوحی )صفحہ ۱۰۵ طبع دوم( میں بالکل پاس پاس درج ہیں` بیان کرچکا ہوں۔ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انجمن کے نظام کو مٹا کر اس کی جگہ خلافت کے نظام کو قائم کردیا۔
    دوسری دلیل۔ جو مجھے قادیان میں آکر نظر آئی` وہ اس تائید اور نصرت الٰہی سے تعلق رکھتی ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کی قیادت میں مرکزی جماعت کو حاصل ہوئی ہے اور ہورہی ہے۔ اور چونکہ مذہبی اختلافات میں سب سے بڑی دلیل خدا تعالیٰ کی عملی اور فعلی شہادت ہوا کرتی ہے` اس لئے میں نے اسی شہادت کو قبول کرکے بیعت اختیار کی۔ مولوی محمد علی صاحب کا یہ فرمانا کہ ان کی انجمن کو قرآن مجید کا ترجمہ چھاپنے اور بعض اور کتب کی اشاعت کی توفیق کی ملی ہے۔ میری اس دلیل کو باطل نہیں کرتا۔ محض بعض کتب کی اشاعت کوئی فیصلہ کن امر نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید کے ترجمے اور تفاسیر تو بعض غیر مسلموں نے بھی شائع کئے ہیں۔ اور دوسری طرف قادیان کی جماعت کی طرف سے بھی نہایت عمدہ لٹریچر شائع ہورہا ہے اور قرآنی علوم کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے اور خدا نے چاہا تو تفسیر کی صورت میں بھی ترجمہ قرآن کریم کی اشاعت ہوجائے گی۔ مگر جس بات کو میں نے لیا ہے وہ خدا کی فعلی شہادت ہے جو نصرت اور تائید الٰہی کی صورت میں ظاہر ہورہی ہے جس کی وجہ سے مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء تو اب بھی اسی جگہ کھڑے ہیں جس جگہ وہ آج سے چھبیس سال پہلے کھڑے تھے بلکہ شاید بعض لحاظ سے گر گئے ہیں۔ مگر مرکزی جماعت کو اللہ تعالیٰ ہر رنگ میں ترقی دے رہا ہے اور برومند کررہا ہے۔
    تیسری وجہ۔ میری بیعت کی یہ ہوئی ہے کہ میری توجہ اس طرف مبذول ہوئی کہ اسلام کا یہ منشا ہے کہ باوجود اختلاف رکھنے کے انسان کو چاہئے کہ وہ جماعت میں منسلک ہوکر رہے ۔ چنانچہ حضورﷺ~ نے فرمایا ہے اتبعوا سوادالاعظم نیز فرمایا تلزم الجماعہ مولوی محمد علی صاحب کا یہ کہنا کہ میں قادیان میں جاکر کثرت سے مرعوب ہوگیا ہوں` خوش فہمی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ کیونکہ جو دلائل میری بیعت کے ہیں وہ بین اور واضح ہیں۔ جن میں کسی بات سے مرعوب ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ضمناً میں یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب نے جو اصول کثرت اور قلت کے متعلق بیان کیا ہے اس میں ان کو سخت غلطی لگی ہے۔ قرآن شریف کے جس اصول کو انہوں نے جماعت کی اندرونی حالت پر لگایا ہے وہ مرسلین کے ماننے والوں اور انکار کرنے والوں کے باہمی مقابلہ سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ ایک مامور کی جماعت کے اندرونی اختلافات سے۔ اگر مولوی صاحب کے اصول کو اس قدر وسعت حاصل ہے جو مولوی صاحب نے بیان کی ہے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ ہر حال میں ہر کثرت ہر قلت کے مقابل پر غلطی خوردہ ہوگی ہے جو بالبداہت باطل ہے مثلاً کیا مولوی صاحب اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہیں کہ ان کی انجمن میں ہر فیصلہ قلت رائے سے طے پانا چاہئے۔ یا یہ کہ صحابہ نے جو فیصلہ آنحضرت ~صل۱~ کی وفات پر کثرت رائے سے ایک خلیفہ کے انتخاب کے متعلق کیا۔ اس کے مقابل پر بعض انصار کی یہ قلت رائے درست تھی کہ دو خلیفے ہونے چاہیں؟ مجھے افسوس ہے کہ جو نتیجہ مولوی صاحب نے قرآن شریف کی آیات سے نکالا ہے وہ ایک سطحی خیال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا< ۲۲
    آخر میں جناب مولوی محمد علی صاحب )امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور( کو یہ دردمندانہ تحریک فرمائی کہ اگر ان کو بعض مسائل میں شرح صدر نہیں تو پھر بھی آپ اختلافات کو حوالہ بخدا کرتے ہوئے مرکز کے ساتھ پیوند کرلیں ۔ چنانچہ لکھا:۔
    >میں دیانتداری کے ساتھ یہ ظاہر کرچکا ہوں کہ مجھے ابھی تک بعض مسائل میں حضرت خلیفہ ثانی سے اختلاف ہے۔ لیکن باوجود اس قلیل اختلاف کے میں ان کے اصول کے مطابق اور اپنی ضمیر سے ہدایت لینے کے بعد خدا کی قولی اور فعلی شہادت کو دیکھ کر ان کی بیعت میں داخل ہوا ہوں ۔۔۔۔ حضرت خلیفہ ثانی تو مامور نہیں ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے بھی جو مامور اور مرسل تھے نواب محمد علی خاں صاحب کو بعض اختلافات کے باوجود بیعت کی اجازت دی تھی حالانکہ نواب صاحب شیعہ خیالات رکھتے تھے۔ ۔۔۔۔۔ تو پھر میرے معاملہ میں یہ صورت کس طرح قابل اعتراض ہوسکتی ہے اور اس کی بناء پر اعتراضات اٹھانا کس طرح جائز سمجھا جاسکتا ہے بلکہ میں بڑی ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب سے بھی تحریک کروں گا کہ اب جبکہ وہ بھی اپنی آخری عمر میں پہنچ رہے ہیں وہ اپنا محاسبہ کرکے اس بات پر غور فرمائیں کہ کیا جماعت کا اتحاد اور وحدت کی برکات اور خدائی نصرتوں سے مستفید ہونے کے مواقع اس قابل نہیں کہ اپنے بعض اختلافی عقائد کے باوجود جماعت کو ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہونے دیا جائے۔ مولوی محمد علی صاحب کے جذبات خواہ میرے متعلق کچھ ہوں` میری ہمدردی اور نیک نیتی صرف اسی ایک بات سے ظاہر ہے کہ جب بیعت کے بعد میں نے حضرت خلیفہ ثانی سے پہلی ملاقات کی تو اس ملاقات میں میں نے حضرت خلیفہ صاحب سے مولوی صاحب کی ہدایت کے متعلق خصوصیت کے ساتھ دعا کے لئے عرض کیا تھا اور میں خود بھی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مولوی صاحب کو پھر مرکزی سلسلہ کے جھنڈے کے نیچے لے آئے اور الوصیت کے منشا کے ماتحت سب کو مل کر کام کرنے کی توفیق دے ۲۳
    قادیان کے قیام کے دوران میں حضرت مولوی صاحب نے بیعت کے بعد انشراح وانبساط کے معاملہ میں بہت جلد جلد ترقی کی۔ خود اپنی خوشی سے وصیت بھی کردی اور اس کے بعد طوعاً چندہ تحریک جدید میں بھی شرکت فرمائی۔ حضرت مولوی صاحب کو یہ بہت خوشی تھی کہ حضرت خلیفہ ثانی کے عہد میں جماعت نے ہر رنگ میں ترقی کی ہے۔ ۲۴
    حضرت مصلح موعود کا مکتوب گرامی
    مولانا غلام حسن صاحب پشاوری کے نام
    مکرمی ومعظمی مولوی صاحب
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ آپ کا بیعت کا خط ملا۔ اللہ تعالیٰ اس بیعت وحدۃ اور اخوۃ کو جو آپ نے کی ہے قبول فرما کر اسے وحدۃ اور اخوۃ کی کئی اور کڑیوں کی زیادتی اور مضبوطی کا موجب بنائے۔
    مجھے آپ کی بیعت سے خاصی خوشی اس لئے ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین چار سال قبل یعنی ۳۵ء یا اس کے قرب کے زمانہ میں مجھے رویا دکھایا کہ میں پشاور گیا ہوں اور ریل شہر کے اندر چلی گئی ہے جس پر میں بہت حیران ہوتا ہوں اور وہ آپ کے مکان کے قریب جاکر ٹھہری ہے اور اس وقت وہ ایک موٹر کی صورت میں تبدیل ہوگئی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ کچھ احباب میرے استقبال کو آئے ہوئے ہیںاور ان سب کے آگے آپ کھڑے ہیں اور آپ کے چہرے پر بہت بشاشت ہے اور آپ نے بڑھ کر مجھ سے جوش سے مصافحہ کیا ہے پھر اپنے گھر کی طرف لے چلے ہیں۔ یہ رویا میں نے بیسیوں آدمیوں کو اسی وقت سنادیا تھا ان میں سے خان دلاور خان صاحب بھی ہیں۔ چنانچہ ان کی ایک لڑکی مجھے کئی دفعہ یہ لکھ چکی ہے کہ آپ خواب پورا کرنے کے لئے پشاور کب آئیں گے۔ مگر خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں۔ میرے پشاور جانے کی بجائے آپ قادیان تشریف لے آئے )ممکن ہے دوسرا امر بھی کسی وقت پورا ہوجائے( اور میں نے سنا ہے کہ آپ موٹر میں ہی تشریف لائے ہیں۔ آپ کا بیعت کرنا` مصافحہ کرنے اور اپنے گھر لے جانے میں بتایا گیا تھا۔ سو الحمد لل¶ہ کہ اس نے ایک اور نشان اپنی طاقتوں کا ہمیں دکھایا۔ آپ نے جو اشارہ عقائد کی نسبت فرمایا ہے اس بارہ میں ہی متواتر ظاہر کرچکا ہوں کہ اگر ہمارے عقائد کے اختلافات اس قسم کے ہیں کہ ایک فریق کو کافر بنا دیتے ہیں تب تو اختلافات۲۵ جائز ہوسکتا ہے اگر ایسا نہیں تو بیعت خلافت جو وحدۃ قومی کا ذریعہ ہے باوجود اختلاف کے اس میں کسی احمدی کو تردد نہ ہونا چاہئے کیونکہ جماعت کا اتحاد ایک بہت بڑی برکت ہے جس سے اسلام کو بہت بڑی تقویت پہنچتی ہے سو اس اختلاف کی وجہ سے جس کا فوری طور پر مٹنا۲۵ ناممکن نظر آتا ہے نہ وہ اختلاف ہمارے فتووں کے مطابق کفر کا موجب ہے اسلام کو نقصان پہنچانا کونسی دانائی ہے۔ سوالحمدلل¶ہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس نکتہ کو آپ پر کھولایا۲۵ اور آپ کے سلسلہ سے اخلاص اور محبت کو قبول فرماتے ہوئے آخر سواد اعظم میں لاکر شامل کردیا۔وذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔
    والسلام ۔ خاکسار
    مرزا محمود احمد
    حضرت مولوی صاحب کی پشاور کی طرفواپسی اور قادیان کی طرف ہجرت
    حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا منشا تھا کہ اب حضرت مولوی صاحب قادیان ہی میں رہیں اور وہ بھی یہاں رہنے میں خوش تھے مگر آپ کے
    عزیزوں کی طرف سے تقاضا تھا کہ واپس پشاور آجائیں مگر آپ کے مشورہ سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے انہیں لکھ دیا کہ اب انہیں خدمت کا موقعہ ملنا چاہئے۔ >البتہ کبھی مناسب وقت پر حسب ضرورت عارضی طور پر پشاور جانے کا انتظام ہوتو اور بات ہے<۔۲۶ خود حضرت مولوی صاحب نے یہ ارادہ فرمایا کہ محرم کی چھٹیوں میں کچھ عرصہ کے لئے پشاور واپس تشریف لے جائیں اور اسی غرض کے لئے ان کے صاحبزادہ عبدالرحمن صاحب قادیان آگئے اور حضرت مولوی صاحب قریباً دو ماہ تک قادیان کی برکات سے متمتع ہونے کے بعد ۱۸ تبلیغ/فروری ۱۳۱۹ھ ۱۹۴۰ء کو بذریعہ موٹر پشاور روانہ ہوگئے اور اگلے روز بخیریت پشاور پہنچ گئے۔ اس سفر میں صاحبزادہ عبدالرحمان صاحب کے علاوہ محترم ملک محمد عبداللہ صاحب مولوی فاضل بھی آپ کے ہمراہ تھے۔۲۷
    حضرت مولوی صاحب نے پشاور پہنچتے ہی یہ جدوجہد شروع کردی کہ کسی طرح دوسرے بچھڑے ہوئے غیر مبائع اصحاب بھی سلسلہ احمدیہ کے اتحاد کی خاطر نظام خلافت سے وابستہ ہوجائیں۔ چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے انہی دنوں قاضی محمد یوسف صاحب کے نام ۲۶ تبلیغ/فروری ۱۳۱۹ھ ۱۹۴۰ء کو ایک مکتوب میں اطلاع دی کہ۔
    >جو خط آج میرے نام حضرت مولوی صاحب کا آیا ہے` اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کامل انشراح ہے۔ اور وہ اپنے دوستوں میں بھی اس بات کی کوشش فرمارہے ہیں کہ ادھر کھینچے آئیں۔ مگر جیسا کہ مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں چھبیس سال کی دوری کی وجہ سے بعض لوگوں کے ذہنوں میں ایک رنگ کی تاریکی آگئی ہے جواب خاص کوشش سے ہی نکلے گی<
    حضرت مولوی صاحب نبوت / نومبر ۱۳۲۱ھ ۱۹۴۲ء کے آخر میں مستقل طور پر پشاور سے ہجرت کرکے قادیان آگئے۔ ۲۸ اور بالاخر یکم تبلیغ/فروری ۱۳۲۲ھ/۱۹۴۳ء کو ساڑھے دس بجے شب انتقال کیا ۲۹ جیسا کہ ۱۳۲۲ھ ۱۹۴۳ء کے حالات میں ذکر آئے گا۔
    فصل دوم
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا سفر سندھ و دہلی
    اس سال کے اہم واقعات میں سے سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا سفر سندھ و دہلی ہے جو حضور نے شروع سال میں اختیار فرمایا۔ حضرت امیر المومنین صلح/جنوری ۱۳۱۹ھ ۱۹۴۰ء کے آخر میں قادیان سے روانہ ہوئے اور ۲۶ صلح /جنوری کو کراچی پہنچے۔ ۳۰
    ۵ تبلیغ/جنوری کو سندھ سے دہلی تشریف لے گئے اور آنریبل چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی میں فروکش ہوئے ۳۱ اور دو روزہ قیام کے بعد واپس کراچی تشریف لے آئے۔ واپسی کے قریب دہلی اسٹیشن پر دہلی اور شملہ کے بکثرت احمدی احباب )جن میں آنریبل چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب چودھری بشیر احمد صاحب سب جج` شیخ اعجاز احمد صاحب سب جج` حافظ عبدالسلام صاحب امیر جماعت احمدیہ شملہ` بابو نذیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ دہلی بھی شامل تھے( مشایعت کے لئے موجود تھے۔ حضور نے سب سے مصافحہ فرمایا اور دعا کی۔۳۲
    قیام کراچی کے دوران حضور کے اعزاز میں دو پرتکلف دعوتیں دی گئیں۔ پہلی دعوت کپتان سلطان احمد صاحب کھتانہ نے ۱۶ تبلیغ ۱۳۱۹ھ )مطابق ۱۶ فروری ۱۹۴۰ء( کو چار بجے شام دی۔ جن میں دوسرے بہت سے معززین شہر کے علاوہ مندرجہ ذیل احباب بھی شامل ہوئے۔
    ۱۔ کرنل بگم )ملک معظم جارج ششم کے طبی مشیر(
    ۲۔ میجر ایس۔وی پامرکمانڈنگ سنسرڈیپارٹمنٹ
    ۳۔ مسٹر ریورٹ کارنک
    ۴۔ مسٹر نائیٹین ایجنٹ بحرین پٹرولیم کمپنی
    ۵۔ مسز نائیٹن
    ۶۔ مسٹر ہیلی فیکس آئی سی ایس ریٹائرڈ کمشنر
    ۷۔ مس کریچٹ
    ۸۔ حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب ناظربیت المال قادیان
    ۹۔ حضرت نوب محمد عبداللہ خان صاحب آف مالیر کوٹلہ
    ۱۰۔ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب )خصوصی طبی مشیر حضرت خلیفہ المسیح الثانی(
    ۱۱۔ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے پرائیویٹ سیکرٹری حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی

    ۱۲۔ عبدالکریم صاحب ۔ آئی۔ ایم۔ ایس۔ ایم پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ کراچی۔
    ۱۳۔ محمد نواز صاحب کٹکی سیکرٹری انجمن احمدیہ کراچی۔
    ۱۴۔ الشیخ کاظم الدجیلی عراق قونصل
    ۱۵۔ مسٹر رئوف آفندی سیکرٹری عراق قونصل
    ۱۶۔ مسٹر محمد ابراہیم خاں صاحب
    ۱۷۔ خاں صاحب محمد اکبر خان صاحب سول سنسر آفیسر
    ۱۸۔ خان صاحب اللہ بخش خاں صاحب سول سنسر آفیسر
    ۱۹۔ لیفٹیننٹ خالد حمید سنسر آفیسر
    ۲۰۔ لیفٹیننٹ غلام سرور سنسر آفیسر
    ۲۱۔ محمد عبداللہ صاحب بی۔ اے ایل ایل بی پریذیڈنٹ خوجہ فرقہ
    ۲۲۔ محمد قاسم خاں صاحب
    ۲۳۔ نصیر احمد صاحب کھتانہ
    ‏col3] [tag ۲۴۔ مسٹر ڈی۔ سوزا صاحب
    ۲۵۔ قریشی محمد یوسف صاحب

    چائے نوشی کے بعد کپتان سلطان احمد کھتانہ نے ایڈریس پیش کیا جس کے جواب میں حضور نے مختصر تقریر فرمائی جس میں دوسری جنگ عظیم میں حکومت سے اہل ہند کے تعاون کی ضرورت واہمیت واضح فرمائی۔ ۳۳
    دوسری پارٹی ۲۹ تبلیغ/فروری کو خان بہادر اللہ بخش صاحب وزیر اعظم سندھ کی طرف سے دی گئی مدعوین میں سرغلام حسین ہدایت اللہ صاحب وزیر قانون` پیر الٰہی بخش صاحب وزیرتعلیم` مسٹر حاتم علوی` مسٹر جمشید این آر مہتہ ایم ایل اے` حضرت نواب محمد عبداللہ خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ` صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب بی۔ اے ` حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب` ملک صلاح الدین صاحب ایم اے اور عبدالکریم صاحب پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ شامل تھے۔ ۳۴
    ناصر آباد میں قیام
    پارٹی کے بعد حضور معہ قافلہ کراچی سے روانہ ہوئے اور اگلے روز یکم امان/مارچ کو بذریعہ گاڑی کنجیجی پہنچے اور کنجیجی سے ناصر آباد تشریف لے گئے۔
    یکم امان/مارچ کو مسجد ناصر آباد کا افتتاح کرتے ہوئے پہلی نماز جمعہ کی پڑھائی اور ایک لطیف خطبہ ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ۔
    مسجد کا حق ہے کہ اسے آباد اور صاف رکھا جائے۔ اس میں بدبو دار چیز کے ساتھ نہیں آنا چاہئے اگر اس بات پر عمل کیا جائے تو ہمارے دیہات میں صفائی پیدا ہوسکتی ہے۔ دیہاتی لوگ اس وقت تک بدن سے کپڑا نہیں اتارتے جب تک پھٹ نہ جائے۔ مگر عرب کے لوگ خواہ امیر ہوں یا غریب کپڑے صاف رکھتے ہیں۔ اب جبکہ مسجد بن گئی ہے اس کا حق ادا کرنا چاہئے ازاں بعد بتایا کہ آنحضرت ~صل۱~ سے ایک نابینا صحابی حضرت عتبان بن مالک نے اجازت چاہی تھی کہ وہ گھر میں نماز پڑھ لیا کریں۔ مسجد آتے وقت ٹھوکریں لگتی ہیں۔ آنحضرتﷺ~ نے فرمایا کہ کیا اذان کی آواز سنائی دیتی ہے۔ عرض کیا۔ ہاں اس پر حضور نے فرمایا پھر گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۳۵
    یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضور نے فرمایا کہ۔
    چونکہ زمینداروں کو باہر جاکر کام کرنا ہوتا ہے اس لئے انہیں وقت مقرر کر لینا چاہئے تاکہ ان کے کام میں حرج نہ ہو اور وہ نماز باجماعت بھی ادا کرسکیں۔ 10] p[۳۶
    قادیان میں تشریف آوری
    ناصر آباد میں چند روز قیام کے بعد حضور کنجیجی سے بذریعہ گاڑی عازم قادیان ہوئے۔ گاڑی ۱۱ امان/مارچ کو ۶ بجے شام لاہور پہنچی جہاں سے بذریعہ کار پورے سات بجے روانہ ہوئے اور نو بج کر چالیس منٹ پر قادیان میں رونق افروز ہوئے۔ احمدیہ چوک میں بہت سے اصحاب استقبال کے لئے جمع تھے جنہیں حضور نے شرف مصافحہ بخشا ۳۷
    دوبارہ روانگی
    حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی قادیان میں قریباً دو ماہ کے قیام کے بعد ۵ ہجرت )مئی( ۱۳۱۹ہش / ۱۹۴۰ء کو دوبارہ کراچی تشریف لے گئے۔ ۳۸ اور ۲۵ ہجرت/ مئی ۱۳۱۹ہش /۱۹۴۰ء کو ساڑھے نو بجے شب بخریت قادیان پہنچے۔ ۳۹ اس سفر میں خاندان مسیح موعود میں سے حضرت سیدہ ام متین صاحبہ ۔ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ ` صاحبزادی امتہ الرشید بیگم صاحبہ` صاحبزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ` صاحبزادی امتہ الودود بیگم صاحبہ اور صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب اور دیگر خدام واحباب میں سے حضرت مولوی فرزند علی خاں صاحب ناظربیت المال` حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب` ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے پرائیویٹ سیکرٹری ` منشی فتح دین صاحب` خاں میر صاحب افغان بھی حضور کے ہمرکاب تھے۔ ۴۰
    سمندر کی سیر اور عارفانہ کلام
    اس سفر میں حضور ایک شب کلفٹن کی سیر کے لئے بھی تشریف لے گئے جہاں سمندر کے کنارے پر چاند کا دلکش نظارہ کرتے ہوئے حضور کی توجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مشہور شعر کی طرف منعطف ہوگئی کہ۔
    چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بیکل ہوگیا
    کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا
    اس شعر کا خیال آتے ہی حضور پر محبوب حقیقی کی یاد میں ایک خاص کیفیت طاری ہوئی اور حضور کے قلب صافی سے عارفانہ کلام جاری ہوگیا۔ چنانچہ حضور خود ہی فرماتے ہیں۔
    >سمندر کے کنارے چاند کی سیر نہایت پر لطف ہوتی ہے۔ اس سفر کراچی میں ایک دن ہم رات کو کلفٹن کی سیر کے لئے گئے ۔ میری چھوٹی بیوی صدیقہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ میری تینوں لڑکیاں ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ` امتہ الرشید بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ` امتہ العزیز سلمہا اللہ تعالیٰ` امتہ الودود مرحومہ اور عزیزم منصور احمد سلمہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ تھے۔ رات کے گیارہ بجے چاند سمندر کی لہروں میں ہلتا ہوا بہت ہی بھلا معلوم دیتا تھا اور اوپر آسمان پر وہ اور بھی اچھا معلوم دیتا تھا۔
    جوں جوں ریت کے ہموار کنارہ پر ہم پھرتے تھے لطف بڑھتا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت نظر آتی تھی۔ تھوڑی دیر ادھر ادھر ٹہلنے کے بعد ناصرہ بیگم سلمہا اللہ اور صدیقہ بیگم جن دونوں کی طبیعت خراب تھی تھک کر ایک طرف ان چٹائیوں پر بیٹھ گئیں جو ہم ساتھ لے گئے تھے۔ ان کے ساتھ عزیزم منصور احمد سلمہ اللہ تعالیٰ بھی جاکھڑے ہوئے اور پھر عزیزہ امتہ العزیز سلمھا اللہ تعالیٰ بھی وہاں چلی گئیں۔ اب صرف میں عزیزہ امتہ الرشید بیگم سلمھا اللہ تعالیٰ اور عزیزہ امتہ الودود مرحومہ پانی کے کنارے پر کھڑے رہ گئے۔ میری نظر ایک بار پھر آسمان کی طرف اٹھی اور میں نے چاند کو دیکھا جو رات کی تاریکی میں عجیب انداز سے اپنی چمک دکھارہا تھا۔ اس وقت قریباً پچاس سال پہلے کی ایک رات آنکھوں میں پھر گئی جب ایک عارف باللہ محبوب ربانی نے چاند کو دیکھ کر ایک سرد آہ کھینچی تھی۔ اور پھر اس کی یاد میں دوسرے دن دنیا کو یہ پیغام سنایا تھا۔
    چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بیکل ہوگیا
    کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا
    پہلے تو تھوڑی دیر میں یہ شعر پڑھتا رہا۔ پھر میں نے چاند کو مخاطب کرکے اسی جمال یار والے محبوب کی یاد میں کچھ شعر خود کہے۔ ۴۱
    اس موقعہ پر حضور نے کل آٹھ اشعار کہے جن کو حضور نے لطیف اور پر معارف تشریح کے ساتھ >چاند میرا چاند< کا عنوان دے کر اخبار >الفضل< )۶ وفا/جولائی ۱۳۱۹ہش / ۱۹۴۰ء میں شائع فرمادیا اور جو بعد کو کلام محمود میں بھی شامل کردیئے گئے۔
    بطور نمونہ حضور کے قلم سے اس پاکیزہ کلام کے دو شعر اور ان کی وضاحت درج کی جاتی ہے۔ فرماتے ہیں:۔
    >میری نظر سمندر کی لہروں پر پڑی جن میں چاند کا عکس نظر آتا تھا اور میں اس کے قریب ہوا۔ اور چاند کا عکس اور پرے ہوگیا۔ میں اور بڑھا اور عکس اور دور ہوگیا۔ اور میرے دل میں ایک درد اٹھا اور میں نے کہا۔ بالکل اسی طرح کبھی سالک سے سلوک ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے کوشش کرتا ہے۔ مگر بظاہر اس کی کوششیں ناکامی کا منہ دیکھتی ہیں۔ اس کی عبادتیں اس کی قربانیاں اس کا ذکر` اس کی آہیں کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے استقلال کا امتحان لیتا ہے اور سالک اپنی کوششوں کو بے اثر پاتا ہے۔ کئی تھوڑے دل والے مایوس ہوجاتے ہیں اور کئی ہمت والے کوشش میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔ مگر یہ دن بڑے ابتلاء کے دن ہوتے ہیں اور سالک کا دل ہر لحظہ مرجھایا رہتا ہے اور اس کا حوصلہ پست ہو ہوجاتا ہے۔ چونکہ چاند کے عکس کا اس طرح آگے آگے دوڑتے چلے جانے کا بہترین نظارہ کشتی میں بیٹھ کر نظر آتا ہے جو میلوں کا فاصلہ طے کرتی جاتی ہے مگر چاند کا عکس آگے ہی آگے بھاگا چلا جاتا ہے` اس لئے میں نے کہا۔
    بیٹھ کر جب عشق کی کشتی میں آئوں تیرے پاس
    آگے آگے چاند کی مانند تو بھاگا نہ کر
    میں نے اس شعر کا مفہوم دونوں بچیوں کو سمجھانے کے لئے ان سے کہا کہ آئو ذرا میرے ساتھ سمندر کے پانی میں چلو اور میں انہیں لے کر کوئی پچاس ساٹھ گز سمندر کے پانی میں گیا اور میں نے کہا۔ دیکھو چاند کا عکس کس طرح آگے آگے بھاگا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی کبھی بندہ کی کوششیں اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے بیکار ہوجاتی ہیں اور وہ جتنا بڑھتا ہے اتنا ہی اللہ تعالیٰ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اور اس وقت سوائے اس کے کوئی علاج نہیں ہوتا کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی سے رحم کی درخواست کرے اور اسی کے کرم کو چاہے تاکہ وہ اس ابتلاء کے سلسلہ کو بند کردے اور اپنی ملاقات کا شرف اسے عطا کرے۔
    اس کے بعد میری نظر چاند کی روشنی پر پڑی ۔ کچھ اور لوگ اس وقت کہ رات کے بارہ بجے تھے سیر کے لئے سمندر پر آگئے۔ ہوا تیز چل رہی تھی۔ لڑکیوں کے برقعوں کی ٹوپیاں ہوا سے اڑی جارہی تھیں۔ اور وہ زور سے ان کو پکڑ کر اپنی جگہ پر رکھ رہی تھیں۔ وہ لوگ گو ہم سے دور تھے مگر میں لڑکیوں کو لے کر اور دور ہوگیا اور مجھے خیال آیا کہ چاند کی روشنی جہاں دلکشی کے سامان رکھتی ہے وہاں پر وہ بھی اٹھادیتی ہے اور میرا خیال اس طرف گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کبھی بندہ کی کمزوریوں کو بھی ظاہر کردیتے ہیںاور دشمن انہیں دیکھ کر ہنستا ہے اور میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے کہا کہ
    اے شعاع نور یوں ظاہر نہ کر میرے عیوب
    غیر ہیں چاروں طرف ان میں مجھے رسوانہ کر۴۲
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تقریر بمبئی ریڈیو اسٹیشن سے
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی ؓ نے آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن بمبئی کے پردازوں کی خواہش پر >میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں کے عنوان سے ایک اردو تقریر لکھی جو ۱۹ تبلیغ/فروری ۱۳۱۹ہش / ۱۹۴۰ء کو ساڑھے آٹھ بجے شام بمبئی نمبر ۱ کے براڈکاسٹنگ اسٹیشن سے نشر کی گئی۔ ریڈیو والوں نے تقریر سے قبل اور بعد یہ معذرت کی کہ بعض مجبوریوں کے باعث حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی زبان مبارک سے ہم یہ تقریر نہیں سنا سکے بلکہ دوسرے شخص کو پڑھنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔
    قادیان میں حضور کی تقریر سننے کے لئے میاں عبدالغفور خاں صاحب پٹھان نے نظارت تعلیم وتربیت کی اجازت سے اپنا ریڈیو سیٹ لگادیا۔ جہاں مردوں اور عورتوں نے تقریر سنی۔ مستورات کے لئے پردہ کا الگ انتظام موجود تھا۔ ۴۳
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنی لطیف تقریر کے شروع میں بتایا کہ۔
    >چونکہ میں خداتعالیٰ کے فضل سے ان صاحب تجربہ لوگوں میں سے ہوں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود کو متعدد بار اور خارق عادت طور پر ظاہر کیا۔ اس لئے میرے لئے اس سے بڑھ کر کہ میں نے اسلام کی سچائی کو خود تجربہ کرکے دیکھ لیا ہے۔ اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں<۔
    اس تمہید کے بعد حضور نے ان لوگوں کے لئے جنہیں یہ تجربہ حاصل نہیں ہوا۔ اسلام کے دین حق ہونے پر پانچ بنیادی دلائل دیئے جو حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    اول۔ میں اسلام پر اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان تمام مسائل کو جن کا مجموعہ مذہب کہلاتا ہے` مجھ سے زبردستی نہیں منواتا۔ بلکہ ہر امر کے لئے دلیل دیتا ہے۔ خداتعالیٰ کا وجود` اس کی صفات` فرشتے` دعا اور اس کا اثر` قضا` وقدر اور اس کا دائرہ ` عبادت اور اس کی ضرورت` شریعت اور اس کا فائدہ ` الہام اور اس کی اہمیت` بعث مابعدالموت` جنت` دوزخ` ان میں سے کوئی امر بھی ایسا نہیں جس کے متعلق اسلام نے تفصیلی تعلیم نہیں دی۔ اور جسے عقل انسانی کی تسلی کے لئے زبردست دلائل کے ساتھ ثابت نہیں کیا۔ پس اس نے مجھے ایک مذہب ہی نہیں دیا بلکہ ایک یقینی علم بخشا ہے جس سے کہ میری عقل کو تسکین حاصل ہوتی ہے اور وہ مذہب کی ضرورت کو مان لیتی ہے۔
    دوم۔ میں اسلام پر اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ اسلام صرف قصوں پر اپنے دعویٰ کی بنیاد نہیں رکھتا۔ بلکہ وہ ہر شخص کو تجربہ کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر سچائی کسی نہ کسی رنگ میں اسی دنیا میں پرکھی جاسکتی ہے اور اس طرح وہ میرے دل کو اطمینان بخشتا ہے۔
    سوم۔ میں اسلام پر اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ اسلام مجھے یہ سبق دیتا ہے کہ خداتعالیٰ کے کلام اور اس کے کام میں اختلاف نہیں ہوتا اور وہ مجھے سائنس اور مذہب کے جھگڑوں سے آزاد کردیتا ہے۔ وہ مجھے یہ نہیں سکھاتا کہ میں قوانین قدرت کو نظر انداز کردوں اور ان کے خلاف باتوں پر یقین رکھوں۔ بلکہ وہ مجھے قوانین قدرت پر غور کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی تعلیم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ چونکہ کلام نازل کرنے والا بھی خدا ہے اور دنیا کو پدا کرنے والا بھی خدا ہے اس لئے اس کے فعل اور اس کے قول میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔ پس چاہئے کہ تو اس کے کلام کو سمجھنے کے لئے اس کے فعل کو دیکھ اور اس کے فعل کو سمجھنے کے لئے اس کے قول کو دیکھ۔ اور اس طرح اسلام میری قوت فکریہ کو تسکین بخشتا ہے۔
    چہارم۔ میں اسلام پر اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ وہ میرے جذبات کو کچلتا نہیں بلکہ ان کی صحیح رہنمائی کرتا ہے۔ وہ نہ تو میرے جذبات کو مار کر میری انسانیت کو جمادیت سے تبدیل کردیتا ہے اور نہ جذبات اور خواہشات کو بے قید چھوڑکر مجھے حیوان کے مرتبہ پر گرا دیتا ہے۔ بلکہ جس طرح ایک ماہر انجینئر آزاد پانیوں کو قید کرکے نہروں میں تبدیل کردیتا ہے اور بنجر علاقوں کو سرسبز شاداب بنادیتا ہے اسی طرح اسلام بھی میرے جذبات اور میری خواہشات کو مناسب قیود کے ساتھ اعلیٰ اخلاق میں تبدیل کردیتا ہے وہ مجھے یہ نہیں کہتا کہ خداتعالیٰ نے تجھے محبت کرنے والا دل تو دیا ہے مگر ایک رفیق زندگی کے اختیار کرنے سے منع کیا ہے` یا کھانے کے لئے زبان میں لذت اور دل میں خواہش تو پیدا کی ہے مگر عمدہ کھانوں کو تجھ پر حرام کردیا ہے۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ تو محبت کرمگر پاک محبت اور جائز محبت جو تیری نسل کے ذریعہ سے تیرے پاک ارادوں کو ہمیشہ کے لئے دنیا میں محفوظ کردے اور تو بے شک اچھے کھانے کھا مگر حد کے اندر رہ کر۔ تا ایسا نہ ہو کہ تو تو کھائے مگر تیرا ہمسایہ بھوکا رہے۔ غرض وہ تمام طبعی تقاضوں کو مناسب قیود کے ساتھ طبعی تقاضوں کی حد سے نکال کر اعلیٰ اخلاق میں داخل کردیتا ہے اور میری انسانیت کی تسکین کا موجب ہوتا ہے۔
    پنجم۔ پھر میں اسلام پر اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ اس نے نہ صرف مجھ سے بلکہ سب دنیا ہی سے انصاف بلکہ محبت کا معاملہ کیا ہے۔ اس نے مجھے اپنے نفس کے حقوق ادا کرنے ہی کا سبق نہیں دیا بلکہ اس نے مجھے دنیا کی ہر چیز سے انصاف کی تلقین کی ہے اور اس کے لئیے میری مناسب رہنمائی کی ہے۔ اس نے اگر ایک طرف ماں باپ کے حقوق بتائے ہیں اور اولاد کو ان سے نیک سلوک کرنے بلکہ انہیں اپنے ورثہ میں حصہ دار قرار دینے کی تعلیم دی ہے تو دوسری طرف انہیں بھی اولاد سے نیک سلوک کرنے` انہیں تعلیم دلانے` اعلیٰ تربیت کرنے` اچھے اخلاق سکھانے اور ان کی صحت کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے اور انہیں اپنے والدین کا ایک خاص حد تک وارث قرار دیا ہے۔ اسی طرح اس نے میاں بیوی کے درمیان بہترین تعلقات قائم کرنے کے لئے احکام دیئے ہیں۔ اور انہیں آپس میں نیک سلوک کرنے اور ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے۔ وہ کیا ہی زریں فقرہ ہے جو اس بارے میں بانی اسلام نے فرمایا ہہے کہ وہ شخص کس طرح انسانی فطرت کے حسن کو بھول جاتا ہے جو دن کو اپنی بیوی کو مارتا اور رات کو اس سے پیار کرتا ہے۔ اور فرمایا تم میں سے بہتر اخلاق والا وہ شخص ہے جو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرتا ہے اور پھر فرمایا۔ عورت شیشہ کی طرح نازک مزاج ہوتی ہے۔ تم جس طرح نازک شیشہ کو استعمال کرتے ہوئے احتیاط کرتے ہو اسی طرح عورتوں سے معاملہ کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیا کرو۔
    پھر اس نے لڑکیوں کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ انہیں تعلیم دلانے پر خاص زور دیا ہے۔ اور فرمایا ہے جو اپنی لڑکی کو اچھی تعلیم دیتا ہے اور اس کی اچھی تربیت کرتا ہے۔ اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ اور وہ لڑکیوں کو بھی ماں باپ کی جائیداد کا وارث قرار دیتا ہے۔
    پھر اس نے حکام سے بھی انصاف کیا ہے اور رعایا سے بھی۔ وہ حاکموں سے کہتا ہے کہ حکومت تمہاری جائیداد نہیں بلکہ ایک امانت ہے پس تم ایک شریف آدمی کی طرح اس امانت کو پوری طرح ادا کرنے کا خیال رکھو۔ اور رعایا کے مشورہ سے کام کیا کرو۔ اور رعایا سے کہتا ہے کہ حکومت خداتعالیٰ نے ایک نعمت کے طور پر تم کو دی ہے۔ اپنے حاکم انہیں چنو جو حکومت کرنے کے اہل ہوں اور پھر ان لوگوں کا انتخاب کرکے ان سے پورا تعاون کرو۔ اور بغاوت نہ کرو ۔ کیونکہ اس طرح تم اپنا گھر بنا کر اپنے ہی ہاتھوں اس کو برباد کرتے ہو۔
    اور اس نے مالک اور مزدور کے حقوق کا بھی انصاف سے فیصلہ کیا ہے۔ وہ مالک سے کہتا ہے کہ جب تو کسی کو مزدوری پر لگائے تو اس کا حق پورا دے اور اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری اداکر۔ اور جو تیرا دست نگر ہو` اسے ذلیل مت سمجھ کیونکہ وہ تیرا بھائی ہے جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ نے تیرے ذمہ لگائی ہے اور اسے تیری تقویت کا موجب بنایا ہے۔ پس تو اپنی طاقت کو نادانی سے آپ ہی نہ توڑ۔ اور مزدور سے کہا ہے کہ جب تو کسی کا کام اجرت پر کرتا ہے تو اس کا حق دیانتداری سے ادا کر اور سستی اور غفلت سے کام نہ لے۔
    اور وہ جسمانی صحت اور طاقت کے مالکوں سے کہتا ہے کہ کمزوروں پر ظلم نہ کرو اور جسمانی نقص والوں پر ہنسو نہیں۔ بلکہ شرافت یہ ہے کہ تیرے ہمسایہ کی کمزوری تیرے رحم کو ابھارے نہ کہ تجھے اس پر ہنسائے۔
    اور وہ امیروں سے کہتا ہے کہ غریبوں کا خیال رکھو اور اپنے مالوں میں سے چالیسواں حصہ ہر سال حکومت کو دو تا وہ اسے غرباء کی ترقی کے لئے خرچ کرے۔ اور جب کوئی غریب تکلیف میں ہوتو اسے سود پر روپیہ دے کر اس کی مشکلات کو بڑھائو نہیں بلکہ اپنے اموال سے اس کی مدد کرو کیونکہ اس نے تمہں دولت اس لئے نہیں دی کہ تم عیاشی کی زندگی بسر کرو بلکہ اس لئے کہ اس ذریعہ سے دنیا کی ترقی میں حصہ لے کر اپنے لئے ثواب دارین کمائو۔ مگر وہ غریب سے بھی کہتا ہے کہ اپنے سے امیر کے مال پر لالچ اور حرص سے نگاہ نہ ڈال کہ یہ تیرے دل کو سیاہ کردیتا ہے اور صحیح قوتوں کے حصول سے محروم کردیتا ہے بلکہ تم خداتعالیٰ کی مدد سے اپنے اندر وہ قوتیں پیدا کرو جن سے تم کو بھی ہر قسم کی ترقی حاصل ہو۔ اور حکومت کو ہدایت دیتا ہے کہ غربا کی اس جدوجہد میں ان کی مدد کرے۔ اور ایسا نہ ہونے دے کہ مال اور طاقت صرف چند ہاتھوں میں محدود ہوجائے۔ اور وہ ان لوگوں سے جن کے باپ دادوں نے کوئی بڑا کام کرکے عزت حاصل کرلی تھی جس سے ان کی اولاد بھی لوگوں میں معزز ہوگئی` کہتا ہے کہ تمہارے باپ دادوں کو اچھے کاموں سے عزت ملی تھی` تم بھی اچھے کاموں سے اس عزت کو قائم رکھو اور دوسری قوموں کو ذلیل اور ادنیٰ نہ سمجھو کہ خداتعالیٰ نے سب انسانوں کو برابر بنایا ہے۔ اور یاد رکھو کہ جس خدا نے تمہیں عزت دی ہے وہ اس دوسری قوم کو بھی عزت دے سکتا ہے۔ پس اگر تم نے ان پر ظلم کیا تو کل کو وہ قوم تم پر ظلم کرے گی۔ سو دوسروں پر بڑائی جتاکر فخر نہ کو بلکہ دوسروں کو بڑا بناکر فخر کرو۔ کیونکہ بڑا وہی ہے ہو اپنے گرے ہوئے بھائی کو اٹھاتا ہے۔
    اور وہ کہتا ہے کہ کوئی ملک دوسرے ملک سے اور کوئی قوم دوسری قوم سے دشمنی نہ کرے۔ اور ایک دوسرے کا حق نہ مارے بلکہ سب مل کر دنیا کی ترقی کے لئے کوشش کریں۔ اور ایسا نہ ہو کہ بعض قومیں اور ملک اور افراد آپس میں مل کر بعض دوسری قوموں اور ملکوں اور افراد کے خلاف منصوبہ کریں۔ بلکہ یوں ہو کہ قومیں اور ملک اور افراد آپس میں یہ معاہدے کریں کہ وہ ایک دوسرے کو ظلم سے روکیں گے اور دوسرے ملکوں اور قوموں اور افراد کو ابھاریں گے۔ ۴۴ حضور نے اسلام کی حقانیت پر مندرجہ بالا دلائل دینے کے بعد آخر میں فرمایا:۔
    >غرض میں دیکھتا ہوں کہ اس دنیا کے پردہ پر میں اور میرے پیارے کوئی بھی ہوں` کیا ہوں`اور کچھ بھی ہوں` اسلام ہمارے لئے امن اور آرام کے سامان پیدا کرتا ہے میں اپنے آپ کو جس پوزیشن میں بھی رکھ کر دیکھتا ہوں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم کی وجہ سے میں اس پوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی ترقی اور کامیابی کی راہوں سے محروم نہیں ہوجاتا۔ پس چونکہ میرا نفس کہتا ہے کہ اسلام میرے لئے اور میرے عزیزوں کے لئے اور میرے ہمسایوں کے لئے اور اس اجنبی کے لئے جسے میں جانتا تک نہیں` اور عورتوں کے لئے اور مردوں کے لئے اور بزرگوں کے لئے اور خوردوں کے لئے` اور غریبوں کے لئے اور امیروں کے لئے ` اور بڑی قوموں کے لئے اور ادنیٰ قوموں کے لئے اور ان کے لئے بھی جو اتحاد اممم چاہتے ہیں اور حب الوطنی میں سرشاروں کے لئے بھی یکساں مفید اور کارآمد ہے۔ اور میرے اور میرے خدا کے درمیان یقینی رابطہ اور اتحاد پیدا کرتا ہے۔ پس میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ایسی چیز کو چھوڑ کر اور کسی چیز کو میں مان بھی کیونکر سکتا ہوں۔ ۴۵
    لیکچر کی اشاعت
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا یہ لیکچر ISLAM> IN BELIEVE I <WHY )میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں( کے نام سے پہلی بار صیغہ نشرواشاعت قادیان نے وزیرہند پریس امرتسر سے طبع کروا کر شائع کیا تھا۔
    نواب بہادر یا جنگ اور جماعت احمدیہ
    نواب بہادر یار جنگ کل ہندشہرت کے ممتاز قائد` مملکت حیدرآباد کی واحد نمائندہ مسلم سیاسی جماعت انجمن >اتحاد المسلمین< کے صدر ہونے کے علاوہ آل انڈیا مسلم لیگ کی شاخ کل ہندریاستی مسلم لیگ کے صدر بھی تھے اور >لسان الامت< کے نام سے یاد کئے جاتے تھے۔ آپ قائداعظم محمد علی جناح کے بہترین اور بے تکلف دوستوں اور گہرے رفقاء میں سے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی نظر میں ان کی شخصیت کتنی بلند پایہ تھی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگ سکتا ہے کہ ایک بار نظام حیدر آباد دکن نے قائداعظم سے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ >بہادر یارجنگ حیدرآباد کے ایک جاگیردار اور جمعدار ہیں۔ میں انہیں شہر بدر کرسکتا ہوں` انہیں سزا دے سکتا ہوں>قائداعظم نے اس کے جواب میں فرمایا:۔
    >کیا میں اسے آپ کا چیلنج سمجھوں ۔ اگر یہ واقعہ ہے تو میں اسے اپنے اور مسلمانان ہند کی طرف سے قبول کرتا ہوں میں اسے جانتا ہوں کہ یہاں بہادر یار جنگ کی وہی حیثیت ہے جس کیآپ نے ابھی توضیح کی ہے لیکن اس کے سوا بھی ایک مقام ہے جس پر آپ نے غور نہیں کیا۔ وہ نہ صرف حیدآباد بلکہ سارے ہندوستان کے مسلمانوں کے رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ اس لئے ان کے متعلق جو کچھ بھی ہوگا اسے لازما سارے مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر محسوس کریں گے پھر میں جانتا ہوں کہ جاگیر اور منصب سے زیادہ انہیں قوم کی عظمت اور خود آپ کی سلامتی عزیز ہے تاکہ حیدرآبادی مسلمان اقلیت کی زد میں نہ آجائیں۔ آپ سے جو کچھ کہا گیا ہے وہ نتیجہ ہے اس سازش کا جو حیدرآباد میں قومی تحریک کو کچلنے کے لئے کی جارہی ہے۔ ۴۶
    تحریک پاکستان کو برطانوی ہند کے طول وعرض میں پھیلانے اور مقبول بنانے میں قائداعظم کے دوش بدوش جن زعمائے مسلم لیگ نے نمایاں حصہ لیا ان میں نواب بہادر یار جنگ مسلمہ طور پر صف اول میں شمار کئے جاسکتے ہیں۔ جون ۱۹۴۴ء )احسان۱۳۲۳ہش( میں آپ نے انتقال کیا۔ جس پر قائداعظم نے فرمایا کہ ریاستی مسلم لیگ کے صدر کا انتقال نہیں ہوا بلکہ میرا ایک بازو ٹوٹ گیا ہے۔ ۴۷
    نواب صاحب کے تاثرات حضرت مصلحموعودؓ کی ذات مبارک کے متعلق
    نواب بہادر یار جنگ کو جہاں مسلم لیگ اور تحریک پاکستان سے ازحد محبت تھی وہاں آپ جماعت احمدیہ کی اسلامی تنظیم اور اسلامی
    خدمات سے نہایت درجہ متاثر اور حضرت سیدنا خلیفہ المسیح الثانی کے ازحد مداح تھے۔ چنانچہ جناب سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدرآبادی کا بیان ہے کہ >حضرت مصلح موعود کی آمد حیدرآباد )اکتوبر ۱۹۳۸ء( کے موقع پر نواب بہادر یار جنگ بہادر الہ دین بلڈنگ سکندر آباد پر جہاں حضور فروکش تھے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تھے۔ اور اس موقع پر مسلمانان حیدرآباد کے مسائل پر حضور نے تخلیہ میں طویل گفتگو کی تھی ۔۔۔۔۔ نواب بہادر یار جنگ بہادر مجلس اتحاد المسلمین مملکت اسلامیہ آصفیہ کے صدر تھے ان کے طویل دورصدارت میں راقم الحروف ان کی مجلس عاملہ کا سینئر رکن تھا۔ کئی مرتبہ اپنی مجلس عاملہ کے اجلاسوں میں انہوں نے اپنے اس خیال کا اظہار کیا تھا۔ کہ وہ اپنی زندگی میں دو شخصیتوں کی سیاسی بصیرت اور اعلیٰ دماغی صلاحیتوں سے متاثر تھے >ایک حضرت امام جماعت احمدیہ< کی دوسری قائداعظم محمد علی جناح کی۔ ان کے اس بیان اور تاثر کے گواہ پاکستان میں ان کے اور میرے قدیم ساتھی اور دوست اور اتحاد المسلمین کی مجلس عاملہ کے رکن احمد عبداللہ السدوسی مصنف >مذاہب عالم اور افریقہ ایک چیلنج< وغیرہ ہیں۔ سال میں مجھ سے مسدوسی صاحب نے حضرت مصلح موعود کی وفات پر نواب بہادر یار جنگ کے مذکورہ بالا تاثر کا ذکر کیا تھا۔ ان کے ذہن میں حضور کے نام کے ساتھ دوسرا نام مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کا تھا۔ بہر حال میری اور ان کی یاد داشت میں حضرت امیر المومنین کا نام مشترک ہے۔ ہوسکتا ہے کہ نواب صاحب نے موقعہ پر مفتی اعظم فلسطین کا بھی نام لیا ہو< ۴۸
    سیٹھ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:۔
    >میں نے اپنی توضیح میں اس امر کا ذکر کیا تھا کہ نواب بہادر یار جنگ نے کئی مرتبہ اس امر کا ذکر کیا تھا کہ وہ دو اصحاب کی سیاسی بصیرت اور اعلیٰ دماغی صلاحیت سے متاثر تھے۔ ایک حضرت امام جماعتاحمدیہ اور دوسری قائداعظم محمد علی جناح کی ذات ۔ حسن اتفاق سے ۲۰ مئی کو مولوی محمد لقمان صاحب پریزیڈنٹ جماعت ۷۲ گ۔ب تحصیل لائل پور جو تقریباً دس سال غالباً ۳۴۔ ۱۹۳۳ء سے ۱۹۴۴ء تک حیدرآباد میں مقیم رہے تھے۔ مجھ سے ملنے یہاں سکندر آباد آئے تھے۔ ۴۹ ان کے قیام حیدرآباد کے زمانے کی باتیں چل نکلیں۔ انہوں نے بغیر میرے ذکر کرنے کے خود کہا کہ وہ ایک مرتبہ نواب بہادر یار جنگ سے ملے تھے اور اس موقعہ پر نواب صاحب موصوف نے ان سے وہی بات کہی تھی جو میں نے اپنے بیان میں کہی ہے۔ دوسری بات جو مولوی صاحب موصوف نے بیان کی وہ یہ تھی کہ نواب صاحب موصوف نے حضرت مصلح موعود ؓ کی تقریر >سیر روحانی<۵۰ کے تعلق میں ان سے کہا تھا کہ وہ اس تقریر سے اس قدر متاثر تھے کہ اس کو انہوں نے تین دفعہ پڑھا تھا۔
    ۔۔۔۔۔ نواب صاحب موصوف نے غالباً فروری یا مارچ ۱۹۳۹ء میں دہلی میں سرمحمد یعقوب کی ایک دعوت میں چودھری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی زبانی اس تقریر کا خلاصہ سنا تھا۔ چنانچہ حیدر آباد واپس آن کر ایک علمی صحبت میں بہت تفصیل کے ساتھ انہوں نے یہ خلاصہ سنایا تھا )نواب صاحب کا حافظہ ایسا تھا کہ وہ کسی کی گفتگو یا تقریر کو تقریباً لفظ بلفظ سنادیا کرتے تھے۔ خود ان کی اپنی تقریریں شائع شدہ ہیں وہ تقریر کے بعد انہوں نے لفظ بلفظ لکھوائی تھیں ۔۔۔۔( حضرت مصلح موعود کی یہ تقریر >سیرروحانی< جب شائع ہوئی تو محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اس کی ایک جلد جس پر انہوں نے نواب صاحب کا نام اور اپنے دستخط فرمائے تھے میرے ذریعے نواب صاحب کو بھجوائی تھی اور نواب صاحب اس کے مطالعہ کے بعد اکثر اپنی مجلسوں میں اس پر بڑے تعریفی کلمات کہا کرتے تھے<۔ ۵۱
    جماعت احمدیہ سے گہرے روابط
    نواب بہادر یار جنگ کے جماعت احمدیہ سے مراسم کا یہ عالم تھا کہ پروفیسر الیاس برنی )ولادت ۱۸۹۲ء ۔ وفات ۱۹۵۸ء( نے ۲۲ تبلیغ/فروری ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو شاہ حسین میاں پھلواری شریف کے نام ایک خط میں نواب صاحب اور جماعت احمدیہ کے تعلقات پر بڑی تشویش واضطراب کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:۔
    >یہاں مہدویوں کی اچھی خاصی جماعت ہے ۵۲ جس میں نواب بہادر یار جنگ بھی شامل ہیں۔ یہ جماعت حضرت سید محمد جونپوری کو مہدی مانتی ہے اور اگرچہ شاید صریحاً ان کو نبی نہیں کہتی تاہم عقیدۃ ان کو رسول اللہ کے ہم پلہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مانتی ہے اور اپنے طرز پر تاویلات کرتی ہے۔ قادیانیوں سے ملتے جلتے عقائد ہیں۔ البتہ عقائد کی عام اشاعت نہیں کی جاتی بلکہ ایک حد تک عقائد مخفی رکھے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ چونکہ نواب بہادر یارجنگ مسلمانوں کی سیاسیات میں شامل ہوگئے ہیں اور نمایاں حصہ لے رہے ہیں مسلمانوں نے بھی تفریق کو نظر انداز کردیا اور ان کو اپنا سرگروہ بنالیا۔ مولوی ابوالحسن سید علی صاحب کا بھی یہی معاملہ ہے مسلمانوں میں لیڈر مانے جاتے ہیں اور ہر دلعزیز ہیں۔ جب سے قادیانویوں کا بھانڈا پھوٹا` وہ دینیات` اسلامیات اور سیاسیات میں بہت نامور ہوگئے لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں کے علی الرغم نواب بہادر یار جنگ قادیانیوں سے میل جول بڑھا رہے ہیں بلکہ واقف لوگ سازباز کرتے ہیں۔ اس سے مسلمانوں میں بد دلی پیدا ہورہی ہے توجہ بھی دلائی گئی مگر کچھ اثر نہوا۔ خدا کرے آئندہ سمجھ آئے۔ میں تو سیاسیات سے الگ تھلگ رہتا ہوں تاہم میرا جو علم تھا آپ کو لکھ دیا۔ لیکن یہ بات آپ ہی تک رہے باہر نہ جائے ۔۔۔۔۔ اپنے اثرات اور مسلمانوں کی عدم توجہی سے فائدہ اٹھاکر اسی جماعت نے سرکاری جنتری میں حضرت سید محمد جونپوری کی تعطیل میں لفظ میلاد شریف درج کرالیا ۔۔۔۔۔۔ علی ہذا جو نظم رسول اللہ کی توصیف میں لکھی جاتی ہے وہ نعت کہلاتی ہے لیکن مہدوی لوگ سید محمد جونپوری کی منظوم توصیف کو بھی نعت کہتے ہیں۔ حالانکہ مسلمانوں کی اصطلاح میں ایسی نظمیں منقبت کہلاتی ہیں۔ ۵۳`۵۴
    مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں شرکت کے بعد قادیان میں آمد
    ۲۱۔ ۲۲۔ ۲۳ امان/ مارچ ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو لاہور میں مسلم لیگ کا وہ تاریخی اجلاس منعقد ہوا جس میں قرار داد پاکستان پاس کی گئی۔ اس اجلاس میں شرکت کے لئے نواب بہادر یار جنگ ۱۸ امان/مارچ ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو حیدرآباد سے عازم لاہور ہوئے۔ آپ کے ساتھ مسٹر سید احمد محی الدین ایڈیٹر رہبر دکن` مسٹر ابوالحسن سید علی )مجلس اتحاد المسلمین`( مولانا سید بادشاہ حسین صاحب )سیکرٹری مجلس علمائے دکن( بھی تھے۔ ۵۵
    مسلم لیگ کے اجلاس میں سرگرم حصہ لینے اور دوسری متعدد مجالس سے پراثر خطاب ۵۶ کرنے کے بعد حیدر آباد واپس جاتے ہوئے آپ قادیان بھی تشریف لے گئے جہاں چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی کوٹھی میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے مفصل ملاقات ہوئی جس میں چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے علاوہ سیٹھ محمد اعظم صاحب بھی موجود تھے۔ اس اہم ملاقات کے علاوہ آپ نے مرکز احمدیت کے اداروں اور تنظیم کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ اور اپنے قلم سے لکھ کر شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مدیر >الحکم< کو ارسال فرمائے جو ان کی کتاب >مرکز احمدیت قادیان< کے آخری صفحات میں طبع شدہ ہیں۔
    نواب صاحب کے تاثرات قادیان کے متعلق
    نواب بہادر یار جنگ صاحب نے اپنے تاثرات میں لکھا کہ:۔
    >مارچ ۱۹۴۰ء کے اواخر میں لاہور مسلمانان ہند کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ایک تو اس وجہ سے کہ وہاں آل انڈیا مسلم لیگ کا وہ اہم اجلاس منعقد ہورہا تھا جس نے ہندوستان کی سیاسیات میں ایک نئے باب کو کھولا۔ دوسرے اس لئے کہ خاکساروں کی جماعت پر حکومت پنجاب کی بے دردانہ آتشباری نے سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو آتش زیرپا کردیا تھا۔ اجلاس مسلم لیگ کے اختتام پر میری تمام توجہ خاکساروں کے مسئلہ پر مرکوز تھی۔ اسی سلسلہ میں ضرورت پیش آئی کہ میں اپنے کرم فرما چوہدری سر ظفر اللہ خاں صاحب سے ملاقات کروں جو اس زمانہ میں وائسرائے کی مجلس وزراء کے اہم ترین رکن تھے اس لئے ۔۔۔۔ مارچ ۱۹۴۰ء میں چند گھنٹوں کے لئے قادیان گیا۔ جہاں چوہدری صاحب مقیم تھے۔ گو میں نے قادیان میں چند گھنٹے بسر کئے لیکن ان چند گھنٹوں کی یاد ابھی تک باقی ہے۔
    اسٹیشن پر میرے قدیم کرمفرما مولوی عبدالرحیم صاحب نیر اور مولوی محمد اعظم صاحب نے استقبال کیا۔ مولوی عبدالرحیم صاحب نیر جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے کئی سال تک حیدرآباد میں مقیم رہے ہیں۔ اور ان چند اصحاب میں سے ہیں جنہوں نے مجلس اتحاد المسلمین حیدر آباد کا سنگ بنیاد رکھا۔ مولوی محمد اعظم صاحب حیدر آباد کی مشہور دوکان محمد اعظم معین الدین کے مالک اور مجلس اتحاد المسلمین کی مجلس عاملہ کے قدیم ترین رکن اور میرے رفیق کار ہیں اور ان چند نوجوانوں میں سے ہیں جن کی رفاقت پر میں فخر کرتا ہوں۔ ان دونوں حضرات نے زوال آفتاب تک مجھے قادیان کی ایک ایک گلی میں گھمایا اور جماعت احمدیہ کے ایک ایک ادارہ کی سیر کرائی۔
    قادیان پنجاب کے ضلع گورداسپور کی ایک چھوٹی سی آبادی ہے لیکن جماعت کا مرکز ہونے کی وجہ سے آج اس کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہے۔ ہر سال ماہ دسمبر میں وہاں اس جماعت کے متوصلین کا کثیر اجتماع ہوتا ہے جس کی خصوصیت مرزا غلام احمد صاحب کے جانشین مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا خطبہ ہے۔ ان خطبات کو احمدی عقائد سے اپنے کامل اختلاف کے باوجود میں التزاماً پڑھا کرتا ہوں تمام ہندوستان کے احمدیوں کی نمائندگی کا دوسرا اجتماع ہر سال ایسٹر کی تعطیلات میں ہوا کرتا ہے جس کو یہ لوگ اپنا بجٹ سشن کہتے ہیں۔ اتفاق سے میں اسی زمانہ میں قادیان پہنچا تھا اور ان نمائندوں میں سے بعض سے مجھے ملاقات کا موقعہ ملا۔
    احمدی جماعت کو اپنی بقا واستحکام کے لئے جن شدید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑھا اس نے قدرتاً ان میں ایک مکمل تنظیم پیدا کردی ہے۔ اور چونکہ کوئی تنظیم ایثار کے بغیر نہیں پیدا ہوسکتی۔ اس لئے میں قادیان کے تمام اداروں کے تفصیلی معائنہ کے بعد یہ یقین رکھتا ہوں کہ اس جماعت کے پیرو اپنے اندر اطاعت امیر اور ایثار کے حقیقی جذبات رکھتے ہیں۔
    قادیان کا مدرستہ العلوم ` عربی کی درسگاہ` دارالاقامتہ` دارالاشاعت` بین الاقوامی تبلیغ کا مرکز` نوجوان فدائیان احمدیت کا تنظیمی ادارہ` مہمان خانہ` میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امیر جماعت کا دفتر` یہاں تک کہ قبرستان` ان میں سے ہر ایک اپنی باقاعدگی اور خوش سلیقگی کے اعتبار سے کارکنوں کی دلچسپی اور فرض شناسی کا ثبوت دے رہے تھے۔ اور یہ محسوس ہوتاتھا کہ میں کسی جماعت کے تنظیمی اداروں کو نہیں بلکہ کسی حکومت کے مختلف محکمہ جات کا معائنہ کررہا ہوں۔
    ۔۔۔۔۔۔ خذماصفا کے اصول کے ماتحت میری دلی تمنا ہے کہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کو اس چھوٹی سی جماعت کی طرح منظم اور ایک مرکز کے تحت جو اصول اسلامی کے مطابق ہے حرکت کرتا ہوا دیکھوں۔ اس وجہ سے قادیان کے سفر کو میں اپنی زندگی کے وہ لمحات سمجھتا ہوں جن میں میری نظر ہوشیار نے کچھ دیکھا اور حاصل کیا۔
    لال گڑھی )جاگیر( ۲۰ شوال المکرم مطابق ۳۱ اکتوبر ۱۹۴۲ء ۵۷4] [rtf
    چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں
    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک اہم تقریب منعقد ہورہی تھی۔ جس میں تقسیم انعامات کے لئے آنریبل چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی خدمت میں درخواست کی گئی جسے آپ نے بخوشی قبول فرمایا۔ اور آپ ۹ امان/مارچ ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو دہلی سے بذریعہ کالکا کلکتہ میل سوانو بجے وارد علی گڑھ ہوئے۔ ریلوے اسٹیشن پر معززین نے آپ کا پرتپاک استقبال کیا جن میں حسب ذیل خاص طور پر قابل ذکر ہیں:۔
    ۱۔
    ‏ind] g[taآنریبل سرشاہ محمد سلیمان صاحب وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی وجج فیڈرل کورٹ دہلی۔
    ۲۔
    مسٹر اے۔ بی ۔ اے حلیم صاحب پروائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ۔
    ۳۔ مسٹر اے۔ٹی نقوی آئی سی ایس کلکٹر ضلع علی گڑھ۔
    ۴۔ ڈاکٹر ہادی حسن صاحب صدر شعبہ فارسی مسلم یونیورسٹی۔
    ۵۔ کپٹن حیدر خانصاحب صدر شعبہ کیمسٹری مسلم یونیورسٹی۔
    ۶۔ ڈاکٹر طاہر رضوی صاحب صدر شعبہ جغرافیہ مسلم یونیورسٹی۔
    ۷۔ خاں بہادر شیخ محمد عبداللہ صاحب۔
    ۸۔ مسٹر عبداللہ بٹ لیکچرر مسلم یونیورسٹی۔
    آنریبل چودھری صاحب اسٹیشن سے بذریعہ کار مسلم یونیورسٹی کی طرف روانہ ہوئے جہاں وکٹوریہ گیٹ پر یونیورسٹی کے رائڈنگ سکواڈ (RIDINGSQUAD) نے آپ کو سلامی دی۔ پھر آنریبل چودھری صاحب نے آنریبل سرشاہ محمد سلیمان صاحب کے ہمراہ تمام یونیورسٹی کا چکر لگایا اور قریباً ہر شعبہ کا معائنہ فرمایا۔ ساڑھے چار بجے بعد دوپہر آپ کے اعزاز میں یونیورسٹی کی طرف سے دعوت چائے دی گئی۔ اس کے بعد کھیلوں کے جلسہ تقسیم انعامات میں جناب چودھری صاحب نے انعامات تقسیم فرمائے۔ اختتام پر مسٹر اے بی اے حلیم صاحب پرو وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی نے آپ کا انگریزی میں شکریہ ادا کرتے ہہوئے کہا۔ ہم آنریبل چودھری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔ جو اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود اپنے کام کا حرج کرکے یہاں تشریف لائے نیز آپ کی غیر معمولی قابلیت اعلیٰ پایہ کے مدبر` سیاستدان اور پارلیمنٹرین ہونے کا ذکر نہایت شاندار الفاظ میں کیا۔
    اس کے جواب میں چودھری صاحب نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اردو میں تقریر کی جس میں فرمایا کہ میں آپ لوگوں کا نہایت شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری عزت افزائی کی ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ میں بھی آپ کی تواضع کروں۔ آپ حیران ہوں گے۔ کیونکہ آپ کا خیال ہوگا کہ میں انگریزی میں تقریر کروں گا لیکن میں آج چونکہ ایسے موضوع پر کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کے لئے اردو زبان زیادہ موزوں ہے۔ اس لئے میں اسی سے کام لوں گا۔ آپ نے بارہا سیاست اور دیگر مسائل پر عالمانہ تقریریں سنی ہوں گی لیکن آج میں ایسے موضوع پر کچھ کہنا چاہتا ہوں جو میرے نزدیک سب سے اہم ہے آپ نے حدیث انما الاعمال بالنیات کی تشریح وتفسیر نہایت پراثر اور لطیف پیرایہ میں کی جس میں رسول اللہ ~صل۱~ کی زندگی کے واقعات اور دیگر بزرگوں کے حالات بیان کئے۔
    آپ نے فرمایا جو کام کیا جائے اس کے لئے نیت نیک ہونی چاہئے اور وہ کام خدا ہی کے لئے ہونا چاہئے۔ تمہارا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا سب کچھ خدا تعالیٰ کے لئے ہونا چاہئے۔ اور ہر کام کرتے وقت تمہاری نیت نیک ہونی چاہئے۔ اگر کھیلوں کے میدان میں کھیلو تو اس میں بھی خداتعالیٰ کی رضا اور خوشی کو مدنظر رکھ کر کھیلو اس موقعہ پر آپ نے حضرت اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کا واقعہ بیان کیا کہ آپ جب دریائے اٹک پر پہنچے تو آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں ایک غیر مسلم ہے جو بہت بڑا تیراک ہے اور کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس پر آپ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ وہاں سے آگے بڑھیں۔ وہیں ڈیڑے ڈال دیئے۔ اور تیرنا شروع کردیا۔ آخر اتنی مشق کرلی کہ اس غیر مسلم کو چیلنج دے کر شکست دی۔ ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ ہر کام میں اسلام کی برتری` ترقی اور بہبودی کی کوشش کریں۔
    یہ مختصر ذکر ہے اس تقریر کا جو آنریبل چودھری صاحب نے کی۔ سامعین پر اس کا بے حد اثر ہوا۔ طلباء نے دوران تقریر کئی مرتبہ خوشی کے اظہار کے ئے چیئر کیا۔ جلسہ کے اختتام پر طلباء نے جناب چودھری صاحب کو تین دفعہ چیئر کیا اس کے بعد آپ ریلوے سٹیشن پر تشریف لے گئے۔ جہاں آپ کو مسلم یونیورسٹی کے خاکساروں نے سلامی دی اور آپ نے ان کا معائنہ کیا۔ سوا سات بجے شام کی گاڑی کلکتہ میل سے آپ واپس دہلی تشریف لے گئے۔۵۸
    قراردادپاکستان کاخاکہ اورچودھری محمد ظفراللہ خاں
    صاحب خان عبدالولی خاں کاانکشاف
    پاکستان کے صوبہ سرحد کے مشہور سیاسی لیڈر خاں عبدالولی خاں لکھتے ہیں:۔اختیار تو انگریز کا تھا۔ مسلمانوں کے رہنمائوں کا تو یہ حال تھا کہ جیسے فیروز خان نون کو انگریزکی رائے کا علم ہوا کہ وہ ہندوستان کی تقسیم نہیں مانتے )۱۹۳۸ء میں( تو فیروز خان نون نے فوراً کہا کہ اچھا کیا کہ مجھے بتا دیا کہ پھر اس قسم کی کوئی بات منہ سے نہ نکالوں۔ تو دیکھنا یہ کہ انگریز کس چیز کے لئے تیار تھا۔ اور کس منصوبے سے ان کے مقاصد پورے ہوئے تھے۔ آخرجب سکندر حیات خان اور مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی سے بات نہ بنی تو انگریز نے مسلمانوں کے تمام منصوبے نامنظور کردیئے۔ اور وائسرائے کے COUNCIL EXECUTIVE VICROY کے ایک ممبر چوہدری ظفر اللہ کو کہا گیا کہ تم دو ڈومینین کا ایک نقشہ پیش کرو۔ اس کے متعلق وائسرائے لنلتھگو ۴۰۔۳۔۱۲ کو وزیر ہند کو لکھتا ہے:۔
    کہ میرے کہنے پر ظفر اللہ نے دو ڈومینین اسٹیٹس کے متعلق ایک یاد داشت لکھی تھی جو میں پہلے بھیج چکا ہوں کہتا ہے کہ میں نے کچھ اور وضاحتیں طلب کی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ تفصیلات میں بعد میں پیش کروں گا لیکن اس کی )ظفر اللہ( یہ خواہش ہے کہ یہ بات کبھی بھی ظاہر نہ ہونے پائے کہ یہ خاکہ اس نے پیش کیا ہے۔ اس نے البتہ مجھے یہ اختیار دیا ہے کہ میں جیسے چاہوں اس دستاویز کو استعمال کروں۔
    ‏ thirdly you; to copy a sending including it with like I what do may I Hydre Akbar (Sir Hydri to think I and Jinnah to possed been copies that (Sir he, while, that fourthly and Hyderabad) Nizam of Minister authoriship,Prime its admit course of cannot Zaffrullah, Zafrullah) aMohammad with League, Muslim the by adoption for prepared been has document his ۔publicity fullest the given being to view
    ترجمہ :۔ >میں اس سلسلہ میں جس طرح چاہوں کرسکتا ہوں۔ ایک کاپی آپ کو بھیجنے کے علاوہ تین کاپیاں ایک مسٹر جناح اور ایک سراکبر حیدری وزیراعظم نظام حیدر آباد کے پاس جائیں گی اور چوتھے ظفر اللہ خاں جو یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس کے نام ظاہر کیا جائے کہ مسودہ اس نے تیار کیا ہے۔ اس کی یہ دستاویز مسلم لیگ کے اپنانے کے لئے تیار کی گئی تاکہ اس کی بھرپور تشہیر کی جائے<۔
    وائسرائے وضاحت کرتا ہے کہ مسودہ تو میرے کہنے پر تیار ہوا ہے لیکن ظفر اللہ چونکہ قادیانی ہیے۔ اگر مسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ منصوبہ ایک قادیانی کا بنایا ہوا ہے تو پھر وہ شک میں پڑیں گے وائسرائے کس تسلی سے کھل کر کہتا ہے کہ اس کی ایک کاپی جناح صاحب کو دی گئی ہے تاکہ مسلم لیگ یہ منصوبہ اپنائے۔ اور اس کی تشہیر کرے۔ یعنی کہ یہ جناح صاحب کی پالیسی اور مسلم لیگ کی سیاست بن جائے۔ سر اکبر حیدری کو ایک کاپی اس غرض سے دی گئی ہے کہ اس کے لئے مالی امداد کی ذمہ داری ان کی تھی۔ ان تاریخوں کو ذرا غور سے دیکھیں یہ خط وائسرائے نے ۴۰/۴/۱۲ کو لکھا ہے۔ منصوبہ تو پہلے ہی بھیجا جاچکا ہے اور مسلم لیگ نے یہی منصوبہ لاہور میں قرار داد پاکستان کے نام سے اپنے سالانہ اجلاس میں منظور کرلیا۔ اور تشہیر کی<۔ )کتاب حقائق` حقائق ہیں< صفحہ ۶۰` ۶۱ ۔ ناشر زاہد خان ۶ لائن ویر ہائوس پشاور روڈ۔ راولپنڈی کینٹ۔ اشاعت مارچ ۱۹۸۸ء(
    ‏tav.8.3
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    فصل سوم
    غیر مبائعین کو محبت وخلوص سے تبلیغ کرنے کی خاص تحریک اور اسکے اثرات
    حضرت مولوی غلام حسن خان صاحب کی بیعت خلافت نے غیر مبائعین میں بہت جوش وخروش پیدا کردیا۔ جس پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے
    ۲۹ امان/ ۱۳۱۹ہش/ مارچ ۱۹۴۰ء کو ایک تحریک خاص فرمائی کہ نہایت درد اور اخلاص کے ساتھ اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کی اصلاح کی پور کوشش کی جائے۔ ۵۹ نیز ہدایت فرمائی کہ ہر جماعت میں >سیکرٹری اصلاح مابین< کے نام سے ایک عہدیدار مقرر کیا جائے جس کا یہ فرض ہو کہ وہ غیر مبائعین سے ملے` انہیں تبلیغ کرے۔ پرانا لٹریچر مہیا کرے اور جماعت کو اس لٹریچر سے آگاہ کرے۔ دوسرے یہ حکم دیا کہ جماعتیں غیر مبائعین کی مفصل لسٹیں مرکز میں بھجوائیں تا ان کو مرکز سے بھی تبلیغی لٹریچر بھجوایا جاسکے۔ ساتھ ہی نظارت دعوت وتبلیغ کو توجہ دلائی کہ وہ اس قسم کے علماء اور انگریزی خوانوں کی ایک لسٹ تیار کرے جو غیر مبائعین کے متعلق مفید مضامین لکھ سکتے ہوں۔ اور پھر انہیں اخباروں اور ر سالوں میں مضامین لکھنے کی تحریک کرے۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے غیر مبائعین کو تبلیغ کرنے والوں یا ان کی نسبت مضمون لکھنے والوں کو خاص طور پر یہ نصیحت فرمائی کہ
    >دوستوں کو محبت اور پیار سے کام لینا چاہئے اور کبھی بھی سختی نہیں کرنی چاہئے۔ یاد رکھو سختی سے تم دوسرے کو چپ کراسکتے ہو۔ سختی سے تم دوسرے کو شرمندہ کرسکتے ہو۔ سختی سے تم دوسرے کو ذلیل کرسکتے ہو مگر سختی سے تم دوسرے کے دل کو فتح نہیں کرسکتے۔ اگر تم دل فتح کرنا چاہتے ہو تو تمہارے اپنے دل میں یہ اخلاص اور درد ہونا چاہئے کہ میرا ایک بھائی گمراہ ہورہا ہے اسے کسی طرح میں ہدایت پر لائوں۔ جب تک یہ احساس اور یہ جذبہ تمہارے اندر نہ ہوگا۔۔۔۔۔۔ اس وقت تک تمہاری تبلیغ موثر نہیں ہوسکتی چاہے تمہیں بظاہر شاندار معلوم ہو اور چاہے بظاہر جب تم مضمون لکھو تو لوگ کہیں کہ خوب مضمون لکھا۔ کیونکہ کامیابی یہ نہیں کہ لوگ تمہاری تعریف کریں بلکہ کامیابی یہ ہے کہ دوسروں کی ہدایت کا موجب بنو۔ پس جو مضمون لکھنے والے ہیں انہیں بھی میں کہتا ہوں کہ سنجیدگی اور محبت سے مضامین لکھو اور جو زبانی تبلیغ کرنے والے ہوں انہیں بھی میں نصیحت کرتا ہوں کہ سنجیدگی اور محبت سے تبلیغ کرو<۔
    اس سلسلہ میں اصلاح مابین کے سیکرٹریوں کو ارشاد فرمایا کہ
    >جب انہیں مرکز سے ٹریکٹ وغیرہ بھجوائے جائیں تو وہ محنت سے انہیں غیر مبائعین کے گھروں تک پہنچائیں تا ان میں سے جو سعید لوگ ہیں وہ سلسلہ کی طرف توجہ کریں۔ ۶۰
    اس تحریک کے بعد حضور نے ۱۹ شہادت/اپریل ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو ایک اور خطبہ جمعہ بھی اس مضمون پر دیا۔ ۶۱ چنانچہ حضور نے فرمایا :۔
    >میں دوستوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ جو مضمون بھی لکھیں نرمی اور محبت سے لکھیں۔ یہ صحیح ہے کہ جہاں کوئی تلخ مضمون آئے گا اس کی کچھ نہ کچھ تلخی تو باقی رہے گی۔ لیکن جہاں تک ہوسکے الفاظ نرم استعمال کرنے چاہئیں ۔۔۔۔۔۔ میں مانتا ہوں کہ پیغامیوں کی طرف سے ہمیشہ سختی کی جاتی ہے۔ اس لئے بعض دوست جواب میں سختی سے کام لیتے ہیں۔ مگر مجھے یہ طریق سخت ناپسند ہے۔ میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ شدید سے شدید دشمن کے متعلق بھی سخت کلامی مجھے پسند نہیں۔ میرے نزدیک مولوی ثناء اللہ صاحب ہمارے اشد ترین دشمن ہیں۔ مگر میں نے کئی بار دل میں غور کیا ہے۔ ان کے متعلق بھی اپنے دل میں کبھی بغض نہیں پایا۔ اور میں سمجھتا ہوں اگر کسی دشمن کے متعلق دل میں بغض رکھا جائے تو اس سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔۔۔ ہر شخص کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اگر کسی نے سزا دینی ہوتو اس نے اگر کسی نے بخشا ہوتو اس نے میں کیوں اپنے دل میں بغض رکھ کر اسے سیاہ کروں۔ پس دل میں بغض اور کینہ رکھ کر کام نہ کرو بلکہ محبت واخلاص رکھ کر کرو<۔ ۶۲
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اس خاص تحریک پر احمدی جماعتوں نے منظم طریق پر غیر مبائعین تک پیغام حق پہنچانے کی طرف توجہ دی۔ اہل قلم بزرگوں اور دوستوں نے >الفضل< اور >ریویو آف ریلیجنز< میں معلومات افزا مضامین ۲۰۔۱۳۱۹ہش/۴۱۔۱۹۴۰ء کے دوران لکھے۔ تحریک غیر مبائعین سے متعلق لکھنے والوں میں مکرم مولوی ابوالعطاء صاحب فاضل مکرم قاضی محمد نذیر صاحب فاصل لائلپوری` مکرم ملک محمد عبداللہ صاحب` مکرم مولوی سید احمد علی صاحب` حضرت ابوالبرکات مولانا غلام رسول صاحب راجیکی` ملک عبدالرحمن صاحب خادم بی ۔ اے ایل ایل بی پلیڈر گجرات اور شیخ خورشید احمد صاحب ۶۳ سیکرٹری مجلس خدام الاحمدیہ بھاٹی دروازہ لاہور خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
    علاوہ ازیں نظارت دعوت وتبلیغ قادیان نے غیر مبائعین کے لئے مناسب ٹریکٹ اور اشتہارات شائع کئے اور ایک کمیٹی اصلاح مابین کے لئے قائم کردی جس کے فرائض میں سے ایک فرض یہ بھی تھا کہ غیر مبائع اصحاب کے استفسارات کا جواب دیا جائے۔ اس کمیٹی کے سیکرٹری مکرم قاضی محمد نذیر صاحب ` لائلپوری مولوی فاضل مقرر کئے گئے۔ ۶۴ کمیٹی کے پاس متعدد اعتراضات پہنچتے رہے جن کا مدلل جواب علمائے سلسلہ کی طرف سے دیا جاتا رہا۔
    ان سب اصلاحی کوششوں کا مجموعی نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں جماعت احمدیہ کے نوجوان خصوصاً اور دوسرے افراد عموماً متنازعہ مسائل کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصل موقف کو پہلے سے زیادہ عمدہ طریق پر سمجھنے لگے وہاں بعض سعید الفطرت ۶۵ غیر مبائعین کے حلقہ سے نکل کر نظام خلافت سے وابستہ ہوگئے۔
    ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس قادیان میں
    چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی دعوت پر ۱۴ شہادت/اپریل ۱۳۱۹ہش ۱۹۴۰ء کو ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس مزمارس گوائر کے سی بی۔ کے سی بی ایس آئی اور ان کے فرزند مسٹر جان گوائر ساڑھے نو بجے صبح کی گاڑی سے قادیان تشریف لائے۶۶ اور ۱۶۔ شہادت/اپریل ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو ساڑھے دس بجے بذریعہ کار واپس چلے گئے۔ ۶۷ اس مختصر قیام میں چیف جسٹس صاحب نے ۔۔۔۔ جماعتی اداروں اور مرکزی کارخانوں کا معائنہ کرنے کے علاوہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے وسیع ہال میں چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی زیرصدارت ایک لیکچر بھی دیا اور اپنے تاثرات مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کئے۔
    >میں نے دیکھا ہے کہ آپ کی جماعت کے لوگوں میں ایمان کی آگ شعلہ زن ہے اور اس کے سامنے بعض مقاصد اور اصول ہیں جن کے مطابق وہ اپنی زندگیوں کو ڈھالنا چاہتے ہیں۔ میں نے آپس میں مساوات` مختلف قوموں میں مساوات کے عظیم الشان اصول کو یہاں ایک نئی قوت کے ساتھ کام کرتے پایا ہے۔ انسانی اخوت کا یہ اصول انسانی زندگی کا اساس ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ مساوات اور اخوت کی روح آپ کی جماعت میں موجود ہے اور اسی ضمن میں میں سمجھتا ہوں کہ میرے اصول آپ کے اصول سے مشترک ہیں۔۶۸
    ایک اندرونی فتنہ
    ہجرت/مئی ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء میں یکایک ایک اندرونی فتنہ کا انکشاف ہوا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ محمد اسمٰعیل نامی ایک صاحب نے )جو پہلے صوفی کہلاتے تھے پھر اپنے نام کے ساتھ خواجہ کا لفظ لکھنے لگے( چند سال قبل احمدیہ سپلائی سٹور کے نام سے قادیان میں ایک کمپنی جاری کی جس کا آخر میں دیوالہ نکال دیا گیا ور کمپنی کے حصہ دار اور کمپنی سے لین دین کرنے والے کئی لوگ شکائتیں لئے نظارت امورعامہ کے پاس گئے۔ ۶۹ اور تحقیقات شروع ہوگئی۔ ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ ان صاحب نے بونس کارپوریشن کے نام سے اک خفیہ کمپنی بنالی اور ملازمت کے خواہشمند لوگوں سے بعض مالی شرائط پر درخواستیں طلب کیں اور منی آرڈر اور درخواستیں بھی ایک دوسرے شخص کے نام پر منگوانے لگے اور خط وکتابت بھی ایک دوسرے شخص کے پتہ پر کرتے رہے۔ نظارت امور عامہ کو جلد ہی اس کمپنی کا پتہ چل گیا اور شکایات کی تحقیق کرنے پر صاف کھل گیا کہ بونس کارپوریشن کا قیام محض حصول زر کے لئے عمل میں لایا گیا ہے۔ غرض ایک سال سے ان صاحب کی بدمعاملگی` نادہندگی اور کوئی جائز معاش پیدا نہ کرنے کی متعدد شکایات موصول ہوئیں۔ تحقیقات سے ان کے ذمہ مطالبات درست ثابت ہوئے اور انہوں نے تحریری وعدے ان کی ادائیگی کے لئے نظارت سے کئے مگر عملاً ان سے کوئی وصولی نہ ہوئی۔ اسی اثناء میں ان کی اہلیہ صاحبہ نے ۲۶ ستمبر ۱۹۳۹ء کو نظارت سے درخواست کی کہ مجھے خرچ کی بہت تنگی رہتی ہے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کے اخراجات پریشان کرتے رہتے ہیں۔ کوئی معین صورت گزارہ کی نہیں۔ میرے خاوند عرصہ دراز سے بیکار ہیں۔ چاہئے کہ حضرت امیر المومنین یا نظارت امور عامہ کی طرف سے انہیں کوئی روزگار کرنے کے لئے کہا جائے۔ اگر ایسا ہوجائے تو یہ میری صحیح امداد ہوگی۔ ۷۰
    ان صاحب کو مختلف طریق اور مختلف مواقع پر سمجھایا گیا کہ بیکار رہنے کی عادت اچھی نہیں لیکن ان پر کوئی نصیحت کارگر نہ ہوئی بلکہ اس کا ردعمل یہ ہوا کہ انہوں نے قادیان ہی میں انجمن اتحاد عالمین 10] [p۷۱ کے نام سے دعاگوئوں کی ایک خفیہ انجمن قائم کرلی۔ اور اس کا پتہ ایک غیر معروف گائوں دتیال ڈاکخانہ سموال براستہ جہلم ظاہر کرنے لگے۔ انجمن کا نام خفیہ رکھا جاتا۔ اور لوگوں کو اپنی خوابیں بتاتے اور ان سے رقمیں اور نذرانے وصول کرکے دعائیں کی جاتیں۔
    یہی نہیں۔ اس پارٹی کے ممبر مسجد کے قریب ہونے کے باوجود لوگوں کو مسجد میں جانے سے روکتے تھے اور کہتے تھے کہ مسجد میں تو رسمی نمازیں پڑھی جاتی ہیں جن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اپنی بیٹھک ہی کو مسجد کیوں نہ بنائیں اور یہاں لمبی لمبی نمازیں پڑھ کر خداتعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔ ۷۲ عبدالواحد خاں صاحب )پسرحافظ ملک محمد صاحب پٹیالوی( کا بیان ہے کہ انہی دنوں خواجہ محمد اسماعیل صاحب نے مجھے بتایا کہ >ہم رات کو اکٹھے ہوکر رات کے ایک بجے تک بعض بعض اوقات ڈھائی بجے تک دعائیں کرتے ہیں۔ ہمیں بڑے بڑے نظارے خداتعالیٰ دکھاتا ہے۔ دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہم صبح کے وقت باہر دور ایک دو میل نکل کر نفل اداکرتے ہیں۔ دعا کرتے ہیں اس لئے آپ آجایا کریں۔ دعائوں میں شامل ہوجایا کریں۔ یہ جو مسجد میں جاکر نماز ادا کی جاتی ہے یہ تو ایک وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔ اصل نماز تو وہی ہے جو انسان بالکل الگ پڑھے ۔۔۔۔ ان الفاظ پر فوراً میرے دل نے یہی گواہی دی کہ یہ شخص تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف ایک نئی قسم کا دین بتاتا ہے۔ ۷۳
    حضرت امیرالمومنین کا پہلا انتباہ
    سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں یہ اطلاعات پہنچیں تو حضور نے ۳۔ نومبر ۱۹۳۹ء کے خطبہ جمعہ میں انتباہ فرمایاکہ۔
    >مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں بعض خواب بینوں نے اپنی خوابوں اور دعائوں کو آمد کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ اور وہ آنوں بہانوں سے لوگوں سے سوال بھی کرتے رہتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ بندوں سے مانگنے پر مقرر کردیتا ہے وہ تو ایک عذاب ہے۔ ایسے شخص کی خوابیں بھی یقیناً ابتلاء کے ماتحت ہوسکتی ہیں۔ انعام کے طور پر نہیں ہاں یہ جائز ہے کہ دین کے لئے انسان دعا کے پورا ہونے پر خدمت مقرر کرے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے اپنے نفس کے لئے جائز نہیں اور کامل مومن کی فطرت ہی کے یہ امر خلاف ہے سوائے اس کے کہ الل¶ہ تعالیٰ کسی کی دعا سنے اور پھر جس کے حق میں دعا کی گئی ہے۔ اس کے دل میں تحریک کرے کہ وہ خود اپنی خوشی سے دعا کرنے والے کی خدمت کرے۔ ۷۴
    انتباہ کا افسوسناک ردعمل
    اس تنبیہ پر بھی خواجہ محمد اسماعیل صاحب اور ان کے ساتھی اپنی روش پر بدستور قائم رہے اور اس بدعت شنیعہ کو ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوئے جب یہ فتنہ بڑھنے لگا تو جماعت احمدیہ کو اس کے اخلاقی` دینی اور مالی نقصانات سے بچانے کے لئے انجمن اتحاد عالمین توڑ دینے کی ہدایت کرنا پڑی۔ ان لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر ۲ ہجرت/مئی ۱۳۱۹ /ہش /۱۹۴۰ء کو قادیان میں ان کے مقاطعہ کا اعلان کرنا پڑا۔ اعلان کے بعد اس پارٹی نے نظام سلسلہ کے خلاف ضد وتعصب بلکہ باقاعدہ مقابلہ کی صورت اختیار کرلی جس پر یہ لوگ جماعت سے نکال دیئے گئے۔ ۷۵
    دعا گو پارٹی کی نسبت حضرت امیر المومنین کا جلالی خطبہ
    یہ لوگ ابھی پوشیدہ ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو ایک خواب میں اس فتنہ کے آغاز اور اس کی ناکامی کا نظارہ دکھادیا۔ حضور نے یہ پوری خواب ۷ ہجرت ۱۳۱۹ہش کے خطبہ جمعہ میں سنائی اور نظام خلافت کی موجودگی میں ایسی تحریکوں کو سراسر باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا:۔
    >یہ خواب جب میں نے دیکھا یہ لوگ ابھی پوشیدہ تھے اور اندر ہی اندر اتحاد عالمین کے نام سے اپنی گدی بنانے کی سکیمیں بنارہے تھے۔ ان کے اندر خود پسندی اور خود ستائی تھی اور اپنی ولایت بگھارتے پھرتے تھے۔ لوگوں سے کہتے تھے ہم سے دعائیں کرائو ۷۶ حالانکہ خلافت کی موجودگی میں اس قسم کی گدیوں والی ولایت کے کوئی معنی ہی نہیں ۔ جیسے گوریلا وار کبھی جنگ کے زمانہ میں نہیں ہوا کرتی۔ چھاپے اسی وقت مارے جاتے ہیں جب باقاعدہ جنگ کا زمانہ نہ ہو۔ خلفاء کے زمانہ میں اس قسم کے دلی نہیں ہوتے۔ نہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں کوئی ایسا ولی ہوا نہ حضرت عمرؓ یا حضرت عثمانؓ یا حرصت علیؓ کے زمانہ میں ہاں جب خلافت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے ولی کھڑے کئے کہ جو لوگ ان کے جھنڈے تلے جمع ہوسکیں۔ انہیں جمع کرلیں تا قوم بالکل ہی تتر بتر نہ ہوجائے۔ لیکن جب خلافت قائم ہو اس وقت اس کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے جب منظم فوج موجود ہوتو گوریلا جنگ نہیں کی جاتی۔ پس خلافت کی موجودگی میں ولایت کا وسوسہ دراصل کبر اور بڑائی ہے اس خوب میں جو سانپ میں نے دیکھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ان میں سے ایک سے مراد اندرونی فتنہ ہے اور ایک سے بیرونی اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں قسم کے فتنے اس وقت مل کر حملہ کررہے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ دونوں کو دور کردے گا اور فرشتوں کے ذریعہ ان کے ہاتھ بند دے گا انسانی ہتھکڑیاں کوئی چیز نہیں اصل وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لگائی جائیں حکومتیں کسی کو نظر بند کرتی ہیں۔ تو اس کے ساتھی موجود رہتے ہیں جو اس کی آواز کو پہنچاتے رہتے ہیں۔ لیکن خداتعالیٰ کسی کو ہتھکڑی لگائے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس تحریک کو کامیابی نہیں ہوسکتی<۔
    اس ضمن میں یہ بھی بتایا کہ
    >ایسے فتنے دراصل جماعت کی بیداری کے لئے ہوتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں ایک طبقہ ایسا ہے جو احمدیت میں داخلہ کے بعد روحانی ترقی کی طرف بہت کم توجہ کرتا ہے وہ اس طرح دنیا کے کاموں میں لگے رہتے ہیں جس طرح احمدیت میں داخلہ سے پہلے تھے۔ اسلام دنیا کے کاموں سے روکتا نہیں بلکہ اجازت دیتا ہے۔ انبیاء بھی یہ کام کرتے رہے ہیں۔ حضرت دائود علیہ السلام کے کام ثابت ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کام ثابت ہیں۔ وہ زراعت بھی کرتے تھے۔ اولیاء اور صحابہ کا کام کرنا بھی ثابت ہے۔ اسلام جس چیز سے منع کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اسی کام کا ہوجائے۔ بعض لوگ قادیان میں ہجرت کرکے آتے ہیں۔ مگر یہاں آکر دنیا کے کاموں میں ہی لگ جاتے ہیں اور دین کا کام بالکل نہیں کرتے ۔۔۔۔۔ ان کے اندر بیداری پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ایسے فتنے پیدا کرتا رہتا ہے۔ جب کوئی فتنہ اٹھتا ہے تو ایسے کمزور لوگوں میں بھی جوش پیدا ہوجاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ان مخالفوں کا خواب مقابلہ کرنا چاہئے خوب تقریریں ہوں اور رسالے لکھے جائیں حالانکہ اگر وہ پہلے ہی تقریروں ارو رسالوں کا انتظام کرتے تو وہ فتنہ پیدا ہی نہ ہوتا۔ اور اب بھی اگر وہ اپنی اصلاح کرلیں اور اپنے اندر بیداری پیدا کرلیں تو اللہ تعالیٰ فتنوں کے سلسلہ کو روک سکتا ہے۔ یہ فتنے تو محض جگانے کے لئے ہوتے ہیں جب کوئی شخص نیند سے بیدار نہ ہوتو ہم اسے ہلاتے ہیں پھر بھی ہوش میں نہ آئے تو پانی کا چھینٹا دیتے ہیں۔ اور پھر بھی نہ جاگے تو چارپائی الٹا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اسی طرح کرتا ہے<۔
    آخر میں حضور نے نصیحت فرمائی کہ:۔
    > جماعت کو چاہئے کہ اپنے اندر بیداری پیدا کرے` تبلیغ میں لگ جائے` نمازوں کی پابند ہو اور ہر لحاظ سے اپنی اصلاح کرے۔ پھر یہ لوگ آپ ہی آپ خاموش ہوجائیں گے۔ ان کی نہ تو علم کے لحاظ سے کوئی حیثیت ہے اور نہ خداتعالیٰ کی طرف سے ان کو کوئی تائید یا نصرت حاصل ہے وہ جانتے بھی نہیں کہ تقویٰ۷۷ کیا ہے۔ ان کو صرف بڑائی کا خیال ہے۔ ۷۸ جماعت کو چاہئے کہ وہ ان کی باتوں کی طرف کوئی دھیان ہی نہ دے۔ وہ آپ ہی آپ جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔ اپنی اصلاح میں لگ جائے دین سیکھنے اور سکھانے کی طرف متوجہ ہو۔ زبان کو پاک رکھا جائے۔ گالی گلوچ نہ کی جائے۔ نمازوں کی پابندی کی جائے کیونکہ ان باتوں کے بغیر خدا تعالیٰ کا فضل حاصل نہیں ہوسکتا۔ اگر جماعت اپنی اصلاح کرے اور تبلیغ میں لگ جائے۔ تو ان لوگوں کے فتنے خود بخود مٹ جائیں گے کیونکہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ بولنے والا کامیاب نہیں ہوسکتا<۔ ۷۹
    ایک نقص کی اصلاح
    جماعت کے بعض دوستوں میں یہ مرض پیدا ہورہا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات یاتو سرے سے پڑھتے ہی نہیں تھے اور اگر پڑھتے تھے تو سارے الہامات کو گذرے ہوئے واقعات پر چسپاں کردیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ جماعت احمدیہ ابتلائوں کے بغیر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے گی۔ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے ۱۴ ماہ احسان/جون ۱۳۱۹ہش / ۱۹۴۰ء کو ایک خطبہ جمعہ خاص اسی موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں اس خطرناک نقص کی اصلاح کرنے کی طرف توجہ دلائی چنانچہ حضور نے فرمایا:۔
    >ہماری جماعت کے لوگوں میں یہ وہم ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں ہماری جماعت ہمیشہ پھولوں کی سیج پر ترقی کرتی چلی جائے گی ۔۔۔۔۔ میں اس ناواقفیت اور تجاہل کے متعلق کیا کہوں مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے۔ کہ ہماری جماعت کے دوست اس غلط فہمی میں کیوں مبتلا ہیں۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات سے صاف ظاہر ہے کہ جماعت احمدیہ بڑے بڑے ابتلائوں میں سے گذرے گی۔ وہ ابتلا سیاسی بھی ہوں گے۔ وہ ابتلا اقتصادی بھی ہوں گے۔ وہ ابتلا مالی بھی ہوں گے۔ وہ ابتلاء علمی بھی ہوں گے۔ وہ ابتلا قومی بھی ہوں گے غرض ہر قسم کے ابتلائوں کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے الہامات میں ہے۔ حکومتوں کی طرف سے تشدد اور جھگڑوں کا بھی ان الہامات میں ذکر ہے۔ اقوام کی طرف سے تشدد اور سختیوں کا بھی ان میں ذکر ہے۔ بعض سیاسی ابتلائوں کا بھی الہامات میں ذکر ہے۔ بعض ہجرتوں کا بھی ذکر ہے اسی طرح قتلوں اور طرح طرح کے دکھوں سے جماعت احمدیہ کے ستائے جانے کا بھی ذکر ہے۔ لیکن باوجود اس کے کہ میں نے بار بار کہا۔ ہماری جماعت کے دوست حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے الہامات کو پڑھنے کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور جو پڑھتے ہیں ان میں یہ مرض ہے کہ وہ سارے الہامات گذرے ہوئے واقعات پر چسپاں کردیتے ہیں۔ اور یہ ایک نہایت ہی خطرناک نقص ہے۔ ۸۰
    صاحبزادی امتہ الودود بیگم صاحب کی وفات کا المناک حادثہ
    ماہ احسان ۱۳۱۹ہش )مطابق جون ۱۹۴۰ء( کے آخری عشرہ کی ابتداء میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی لخت جگر صاحبزادی امتہ الودود بیگم صاحبہ کی اچانک وفات کا حادثہ پیش آیا جس نے خاندان مسیح موعود علیہ السلام بلکہ پوری جماعت کو سوگوار کردیا۔
    صاحبزدی صاحب ۲۰ جون کی نصف شب تک بظاہر بالکل تندرست تھیں اور چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں۔ کہ یکایک گھبرا کر اٹھیں اور سر درد کی شکایت کی۔ تشنج کا عارضہ بھی لاحق ہوگیا۔ منہ متورم ہوگیا اور بے ہوشی طاری ہوگئی۔ تھوڑی دیر کے بعد دو دفعہ قے ہوئی۔ ہوش آیا تو سخت سردرد اور سردی کی شکایت کی۔ پھر قے ہوئی جس کی معابعد دوبارہ بے ہوش ہوگئیں۔ اور ساتھی ہی سانس میں رکاوٹ کی تکلیف ہونے لگی۔ علاج کے لئے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب ` حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب` ڈاکٹر محمد ثناء اللہ صاحب` ڈاکٹر محمد احمد صاحب اور ظفر نور صاحبہ نرس کو بلایا گیا۔ ]4 [stf۸۱ بعض ضروری ادویہ کے ٹیکے کئے گئے لیکن سانس اور بے ہوشی میں کوئی فرق نہ آیا۔ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے پہلی بار دیکھتے ہی حالت مایوس کن بتلائی اور کہا کہ >یہ موت کا وقت ہے۔ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں<۔ ۸۲
    حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے صاحبزادی صاحبہ کی شدید تکلیف دیکھ کر ام المومنین اور سیدنا امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی کو اطلاع کرائی اور حضور اپنے اہلبیت سمیت فوراً حضرت میاں صاحب کی کوٹھی )واقع محلہ دارالفضل( میں تشریف لے گئے۔ حضور کی موجودگی میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے لمبر ۸۳ پنکچر کیا یعنی ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکالنا چاہا تو پانی کی بجائے خون نکلا جس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ دماغ کی رگ پھٹ گئی ہے۔
    ڈاکٹر محمد احمد صاحب کا بیان ہے کہ >حضرت میر صاحب نے جب دیکھا کہ خون نکل رہا ہے تو فوراً سوئی (Needle) کو ہڈی سے باہر نکال دیا اور کمرے سے یہ کہتے ہوئے تشریف لے گئے کہ اس کے بچنے کی اب کوئی امید نہیں ہے میں بھی حضرت میر صاحب کے ساتھ باہر کو چلا مگر مجھے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے زور سے آواز دے کر کہا کہ ڈاکٹر محمد احمد ادھر آئو اور جب تک مریض کی نبض چل رہی ہے علاج کرتے جائو۔ چنانچہ میں اپنی سمجھ کے مطابق کچھ انجکشن وغیرہ کرتا رہا<۔ ۸۴
    لیکن خدا کی مشیت پوری ہوئی اور صاحبزادی صاحب ساڑھے تین بجے ۸۵ صبح اس جہاں فانی سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئیں۔ فاناللہ وانا الیہ راجعون۔
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے قلم سے بیماری کے حالات
    سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صاحبزادی امتہ الودود صاحب کی بیماری کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    >کوئی دو بجے کا وقت تھا کہ میری بیوی نے مجھے جگایا اور یہ فقرہ میرے کان میں پڑا کہ >میاں شریف احمد صاحب کی طرف سے اماں جان کے پاس آدمی آیا کہ امتہ الودود کو درد کا دورہ ہوا ہے اور وہ بے ہوش ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر جمع ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس کا آخری وقت ہے۔ منہ دیکھنا ہے تو آکر دیکھ لیں< حضرت ام المومنین لاہور تھیں۔ میں گھبراکر اٹھا اور گو بوجہ بیماری چلنا پھرنا منع تھا۔ مگر ایسے وقت میں بیماری کا خیال کیسے رہ سکتا ہے۔ میں انا لل¶ہ پڑھتا ہوا اٹھا۔ اور چونکہ موٹر کوئی موجود نہ تھا۔ ٹانگہ کے لئے آدمی دوڑایا۔ مریم صدیقہ کو جگایا۔ مریم ام طاہر کو اطلاع دی ۔ عزیزہ ناصر بیگم کو جو امتہ الودود کی بھاوج ہے اور دو دن کے لئے ہمارے گھر آئی ہوئی تھی جگایا۔ اور ٹانگہ میں بیٹھ کر میں ناصرہ سلمہا اللہ تعالیٰ ام وسیم اور مریم صدیقہ عزیزم میاں شریف احمد صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ میں اب تک کی رپورٹ سے یہی سمجھ رہا تھا کہ اپنڈے سائٹس کا دورہ ہوا ہوگا۔ یا کبھی خیال آیا تھا کہ جوان لڑکیوں کو بعض دفعہ ایام میں ٹھنڈے پانی کے استعمال سے کچھ روک پیدا ہوکر شدید درد ہوجاتی ہے۔ شاید ایسی ہی کوئی تکلیف ہو۔ میں نے احتیاطاً اپنی ہومیو پیتھک دوائوں کا بکس بھی ساتھ لے لیا۔ لیکن جب وہاں پہنچے تو کمرے میں امتہ الودود لیٹی ہوئی تھی اور لمبے سائنس جن میں بلغم کی خرخراہٹ شامل تھی لے رہی تھی۔ وہ بالکل بیہوش تھی اور آج اس کے >چچا ابا< کی آمد اس کے لئے بالکل کوئی معنے نہ رکھتی تھی۔ باہرڈاکٹر تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ درد کی رپورٹ غلط تھی۔ اس کے دماغ کے رگ سوتے سوتے پھٹ گئی ہے اور طبی معلومات کی رو سے اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ جب حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ رات کو بارہ بجے کے قریب لیٹیں اور تھوڑی دیر بعد کراہنے کی آواز آئی۔ اس کے ابا میاں شریف احمد صاحب نے اس کی آواز سنی اور اس کے پاس آئے اور دیکھا کہ بیہوش ہے اور تشنج کے دورے پڑرہے ہیں۔ وہ اس کی چارپائی برآمدے میں لائے اور اس وقت اس نے قے کی اور قے کے بعد اس قدر لفظ کہے کہ میرا سر پھٹا جاتا ہے` سر پکڑو اور خود ہاتھ اٹھا کر سرپکڑ لیا۔ بس یہ ہی اس کی ہوش تھی اور یہ ہی اس کے آخری الفاظ۔ فوراً ڈاکٹروں کو بلوایا گیا اور انہوں نے جو کچھ وہ کرسکتے تھے کیا۔ مگر ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے شروع ہی سے کہہ دیا تھا کہ یہ موت کا وقت ہے۔ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں۔ میرے سامنے لمبرپنکچر کیا گیا تاکہ تشخیص مکمل ہوجائے چنانچہ لمبرپنکچر سے بجائے پانی کے خون نکلا۔ جس سے یہ امریقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ سرکی رگ پھٹ کر دماغ کو خون نے ڈھانک لیا ہے۔ چند منٹ کے بعد سانس رکنے لگا اور میرے آنے کے نصف گھنٹہ بعد یہ بچی ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ۸۶
    تجہیز و تکفین
    ساڑھے چھ بجے شام تابوت اٹھایا گیا۔ سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی` حضرت مرزا بشیر احمد صاحب` حضرت مرزا شریف احمد صاحب` اور خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے افراد تابوت کو اٹھا کر باہر لائے۔ جہاں ایک جم غفیر انتظار میں موجود تھا۔ بہت سے لوگوں کو باری باری کندھا دینے کا موقع ملا۔ تابوت باغ میں پہنچا تو قریباً سات بجے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے کئی ہزار کے مجمع سمیت نماز جنازہ پڑھائی۔ قبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کی چار دیواری میں کھودی گئی تھی۔ نعش حضرت خلیفہ المسیح الثانی` حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے قبر میں رکھی۔ تدفین مکمل ہوچکی تو حضور نے اجتماعی دعا کرائی اور واپس تشریف لے آئے۔ ۸۷
    حضرت امیر المومنین کا مفصل مضمون امتہ الودود کی یاد میں
    صاحبزادی صاحبہ کا انتقال چونکہ ایک جماعتی المیہ تھا اس لئے اس موقعہ پر نہ صرف بزرگان جماعت کی طرف سے متعدد مضامین شائع ہوئے بلکہ خود حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی نے >امتہ الودود میری بچی< کے عنوان سے ایک مفصل مضمون سپرد قلم فرمایا۔ جس کے شروع میں لکھا کہ:۔
    >سب ہی مرتے چلے آئے ہیں۔ کچھ مررہے ہیں اور کچھ مرجائیں گے۔ اور کچھ پیدا ہوں گے پھر وہ بھی مریں گے اگلی نسلیں نئے جذبات لے کر آئیں گی۔ ہمارے فانی جذبات ہمارے ساتھ ختم ہوجائیں گے جو موتیں آج ہمارا دل زخمی کرتی ہیں وہ ان کا ذکر ہنس ہنس کر کریں گے۔ جن موتوں سے وہ ڈررہے ہوں گے ان کا خیال کرکے ہمارے دل میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔ کیونکہ باوجود ہماری نسلوں میں سے ہونے کے زمانہ کے بعد کی وجہ سے ہم انہیں نہیں جانتے اور وہ ہم میں سے کئی کو نہ جانیں گے۔ مثلاً اگر خدا تعالیٰ نے میری نسل کو قائم رکھا تو چھٹی ساتویں پشت کے کتنے بچے ہوں گے جو اپنی بڑی پھوپھی امتہ الودود کے نام سے بھی واقف ہوں گے مگر باوجود اس کے کہ وہ چھٹی ساتویں نسل کے بچے میری اپنی نسل سے ہوں گے۔ ان کے غموں اور دکھوں کا احساس مجھے آج کس طرح ہوسکتا ہے۔ اور ان کی خوشیوں میں میں کس طرح حصہ لے سکتا ہوں مگر امتہ الودود جسے ہم پیار سے دودی کہا کرتے تھے` جو کل ہم سے جدا ہوئی گو میری بھتیجی تھی` مگر ان میری آئندہ نسلوں کے غم اس کے غم کو کہا پہنچ سکتے ہیں۔ کیونکہ خداتعالیٰ کا یہ ہی قانون ہے کہ زمانہ رشتہ اور تعلق یہ تین چیزں مل کر دلوں میں محبت کے جذبات پیدا کیا کرتی ہیں۔ پھر اگر ان میں سے کوئی ایک چیز زور پکڑجائے تو وہ دوسری چیزوں کو دبادیتی ہے۔ اور جب تینوں جمع ہوجائیں تو جذبات بھی شدید ہوجاتے ہیں۔ دودی میری بھتیجی تو تھی۔ مگر زمانہ کے قرب اور تعلق نے اسے میری دل کے خاص گوشوں میں جگہ دے رکھی تھی۔ بعد کی نسلیں تو الگ رہیں۔ میرے اپنے بچوں میں سے کم ہی ہیں جو مجھے اس کے برابر پیارے تھے ۔۔۔۔۔۔4] fts[۸۸
    حضرت امیر المومنین نے اس تمہید کے بعد اپنے اس قیمتی مضمون کے آخری حصہ میں صاحبزادی صاحبہ کے بچپن اور زمانہ تعلیم کے حالات پر روشنی ڈالی اور پھر اپنی آخری ملاقات کا ذکر نہایت درد انگیز پیرایہ میں کیا چنانچہ تحریر فرمایا کہ:۔
    >صحت کی درستی کے بعد اسے تعلیم کا شوق پیدا ہوا۔ اور وہ برابر تعلیم میں بڑھتی گئی۔ انٹرنس تک تو مجھے خیال رہا کہ یونہی مدرسہ میں جاتی ہے۔ لیکن جب وہ انٹرنس میں اچھے نمبروں پر پاس ہوئی تو مجھے زیادہ توجہ ہوئی اور جب وہ ملتی میں اس سے اس کی تعلیم کے متعلق بات کرتا۔ پھر ایف اے میں وہ پاس ہوئی اور میں نے زور دیا کہ صدیقہ بیگم اور امتہ الودود بی اے کا امتحان دیں اور دونوں نے تیاری شروع کردی مگر پہلی دفعہ کامیاب نہ ہوئیں۔ پھر دوسری دفعہ پڑھائی کی۔ پھر بھی کامیاب نہ ہوئیں۔ میں نے اصرار کیا کہ امتحان دیتے جائو چنانچہ اس دفعہ پھر تیاری کی۔ جب امتحان کے دن قریب آئے عزیزہ کے منجھلے بھائی عزیزم مرزا ظفر احمد بیرسٹر ایٹ لاء اپنی شادی کے لئے قادیان آئے۔ امتحان کے دنوں میں شادی کی تیاری تھی۔ انہوں نے کہا کہ امتحان نہ دو۔ تم نے پاس تو ہونا نہیں۔ گھر کے اور آدمیوں نے بھی کہا اور اس نے امتحان دینے کا ارادہ ترک کردیا۔ مجھے معلوم ہوا تو میں نے عزیزم میاں شریف احمد صاحب کو کہا کہ یہ ٹھیک نہیں۔ مجھے اس دفعہ ان کے پاس ہونے کی امید ہے اگر صدیقہ پاس ہو گئیں تو امتہ الودود کے لئے اکیلا امتحان دینا مشکل ہوگا چنانچہ انہوں نے جاکر اسے امتحان کے لئے پھرتیار کردیا۔ امتحان کے بعد کراچی سے واپس آکر ایک دن صدیقہ بیگم کو رقعہ لکھا کہ چچا ابا سے کہہ دیں کہ اگر آپ دعا کریں تو میں پاس کیوں نہ ہوجائوں۔ اب کے خود انہوں نے امتحان دلایا ہے۔ اگر میں پاس نہ ہوئی تو میں نہیں مانوں گی کہ انہوں نے دعا کی ہے۔ میں نے کہلا بھیجا کہ میں دعا کر رہا ہوں اور اب کے مجھے یقین ہے کہ تم دونوں پاس ہوجائو گی اور خداتعالیٰ نے دونوں کو پاس کر ہی دیا۔ پاس ہونے کے بعد دونوں سہیلیوں نے مبارکباد کا تبادلہ کیا۔ ہفتہ کی شام کو امتہ الودود صدیقہ کو مبارکباد دینے آئی اور اتوار کو صبح کو صدیقہ اسے مبارکباد دینے گئیں۔ میں اس دن بہت بیمار تھا۔ وہ میرے پاس بیٹھ گئی۔ صدیقہ بیگم پاس تھیں۔ بعد میں اس کی چھوٹی بہن اور میری بڑی لڑکی اس کی بھاوج بھی آگئیں۔ میں نے کہا دودی تم پاس نہیں ہوئیں میں پاس ہوا ہوں کیونکہ تم تو امتحان کا ارادہ چھوڑ بیٹھی تھیں۔ پھر میں نے کہا کہ پڑھائی کے دن تو اب ختم ہوئے اب کام کا وقت آگیا۔ اب تم کو اور صدیقہ کو مضامین کے نوٹ لکھوایا کروں گا اور تم انگریزی میں مضمون تیار کرکے ریویو وغیرہ میں دیا کرو کہنے لگی کہ میں نے تو کبھی مضمون لکھا نہیں۔ چھوٹی آپا کو لکھوایا کریں۔ میں نے کہا تم دونوں ہی نے پہلے مضمون نہیں لکھے۔ اب تم کو کام کرنا چاہئے۔ کہنے لگی اچھا یہ واقعہ میں نے اس لئے بیان کیا کہ مرحومہ میں یہ خوبی تھی کہ باوجود شرمیلی طبیعت کے جب کوئی مفید کام اسے کہا جاتا وہ اس پر کاربند ہونے کے لئے تیار ہوجاتی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں اپنی لڑکیوں سے کہتا تو ان میں سے اکثر شرم کی وجہ سے انکار پر اصرار کرتیں مگر اسے جب میں نے دہراکر کہا کہ اب تم کو اپنے علم سے دنیا کو فائدہ پہنچانا چاہئے تو باوجود ناتجربہ کاری اور حیاء کے اس نے میری بات کو منظور کرلیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ نے کہا کہ چھوٹی بچی دودھ کے لئے رورہی ہوگی میں نے جانا ہے۔ اور ساتھ ہی امتہ الودود بھی اٹھی میری عادت رہی ہے کہ امتہ القیوم اور امتہ الودود جب پاس سے اٹھا کرتیں تو میں کہا کرتا تھا کہ میری بچی اللہ تمہارا حافظ ہو اور پھر پیار کرکے رخصت کیا کرتا تھا۔ اس دن میں نے یہ الفاظ تو کہے مگر اٹھ کر اسے پیار دے کر رخصت نہیں کیا۔ میں نے اس کے چہرے پر کچھ ملال کے آثار دیکھے اور کہا میں آج بیمار ہوں۔ اٹھ نہیں سکتا چوتھے دن اس بیماری کی حالت میں مجھے اس کی بیماری کی وجہ سے جانا پڑا اور میں نے جاتے ہی اس کے ماتھے کو چوما۔ مگر اب وہ بیہوش تھی۔ اب اس کے چچا ابا کا پیار اس کے لئے خوشی کا موجب نہیں ہوسکتا تھا۔ اور اسی بے ہوشی کی حالت میں وہ فوت ہوگئی۔ ہاں وہ بچی جس نے اپنی ساری عمر علم سیکھنے میں خرچ کردی اور باوجود شرمیلی طبیعت کے میرے کہنے پر اس پر آمادہ ہوگئی کہ اپنی جنس کی بہتری کے لئے وہ مضمون لکھا کرے گی۔ جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔ کیونکہ خداتعالیٰ کا منشاء کچھ اور تھا۔ وہ اسے وہاں لے گیا جہاں باتیں نہیں کی جاتیں جہاں کام کیا جاتا ہے جہاں کوئی کسی انسان کی نصیحت کا محتاج نہیں۔ جہاں صرف اللہ ہی ہر ایک کا ہادی ہوتا ہے۔
    امتہ الودود جب تم اس دنیا میں تھیں میں تمہاری عارضی رخصت پر نہایت محبت سے کہا کرتا تھا جائو میری بچی تمہار اللہ حافظ ہو۔ اب تو تم دیر کے لئے ہم سے جدا ہورہی ہو۔ اب تو اس سے بھی زیادہ درد کے ساتھ میرے دل سے یہ نکل رہا ہے کہ جائو میری بچی تمہارا اللہ حافظ ہو۔
    نادان کہیں گے دیکھو یہ ایک مردہ سے باتیں کرتا ہے۔ مگر مردہ تم نہیں وہ ہے۔ نمازیں پڑھنے والے` اپنے رب سے رو رو کر دعائیں کرنے والے بھی مرا کرتے ہیں؟ اور تم تو بڑی دعائیں کرنے والی اور دعائوں پر یقین رکھنے والی بچی تھیں ۔۔۔۔۔ تو اے بچی! تو جو دنیا کی تکلیف کے احساس سے اپنے رب کے آگے رویا کرتی تھی تجھے اللہ تعالیٰ کب موت دے سکتا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ہماری آوازیں تیرے تک پہنچاتا رہے گا اور تیر آواز ہمارے تک پہنچاتا رہے گا۔ ہماری جدائی عارضی ہے اور تیری نئی جگہ یقیناً پہلی سے اچھی ہے۔ دنیوی خیالات کے ماتحت تیری اس بے وقت موت کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتاتھا کہ
    پھول تو دو دن بہار جانفزا دکھلا گئے
    حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
    اور میرے دل میں بھی ایک دفعہ یہ شعر آیا۔ مگر جب میں نے غور کیا تو یہ شعر تیرے حالات کے بالکل خلاف تھا۔ تو تو اس باغ میںگئی ہے جس پر کبھی خزاں ہی نہیں آتی۔ حی وقیوم خدا کی جنات عدن میں مرجھانے کا کیا ذکر ۔ اے ہمارے باع کے غنچے تو کل سے اللہ تعالیٰ کے باغ کا پھول بن چکا ہے۔ ہمارے دل مرجھا بھی سکتے ہیں غمگین بھی ہوسکتے ہیں۔ مگر تیرے لئے اب کوئی مرجھانا نہیں۔ اب تیرا کام یہی ہے کہ ہر روز پہلے سے زیادہ سرسبز ہو` پہلے سے زیادہ پررونق ہو۔
    جب تیری جان نکلی تو میں ایک کونے میں جاکر سجدہ میںگرگیا تھا اور بعد میں بھی وقتاً فوقتاً دعا کرتا رہا یہاں تک کہ تجھے دفن کرکے واپس آئے۔ اور وہ دعایہ تھی کہ اے اللہ تعالیٰ یہ ناتجربہ کار روح تیرے حضور میں آئی ہے تیرے فرشتے اس کے استقبال کو آئیں کہ اسے تنہائی محسوس نہ ہو۔ اس کے دادا کی روح اسے اپنی گود میں اٹھالے کہ یہ اپنے آپ کو اجنبیوں میں محسوس نہ کرے محمد رسول اللہ ~صل۱~ کا ہاتھ اس کے سر پر ہو کہ وہ بھی اس کے روحانی دادا ہیں۔ اور تیری آنکھوں کے سامنے تیری جنت میں یہ بڑھے۔ یہاں تک کہ تیری بخشش کی چادر اوڑھے ہوئے ہم بھی وہاں آئیں۔ اور اس کے خوش چہرہ کو دیکھ کر مسرور ہوں۔ اس کے ساتھ میں اب بھی تجھے رخصت کرتا ہوں جا میری بچی تیرا اللہ حافظ ہو ۔۔۔۔۔ اللہ حافظ ہو۔
    مرزا محمود احمد۔10] [p۸۹
    حضرت مسیح موعود کے احاطہ مزار مبارک کی توسیع
    اس سال کا ایک قابل ذکر کام یہ بھی ہے کہ اس میں سیدناحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احاطہ مزار مبارک کی مشرق اور شمال دونوں طرف توسیع کی گئی۔ قبل ازیں احاطہ میں بارہ قبریں تھیں مگر نئے اضافے کے نتیجہ میں مزید انیس قبریں اس مقدس حلقہ میں شامل کردی گئیں۔ باہردفن ہونے والے موصیوں کے کتبے ان کے علاوہ تھے۔ یہ توسیع سال کے وسط میں کی گئی تھی۔
    حضرت امیر المومنین کی وصیت
    ‏0] f[rtکئی ماہ سے بعض احمدیوں کو بذریعہ خواب یہ دکھایا جارہا تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی وفات قریب ہے نیز یہ کہ صدقہ سے یہ تقدیر ٹل بھی سکتی ہے۔
    اس پر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی نے جہاں صدقات کا انتظام فرمایا وہاں ۲۳ وفا/جولائی ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو اپنے قلم سے مندرجہ ذیل وصیت لکھی جو >الفضل< ۲۵ وفا/جولائی ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کے پہلے صفحہ پر شائع ہوئی۔
    اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    ‏yt] ga[t
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    میری وصیت
    )حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے قلم سے(
    برادران : السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
    کئی ماہ سے دوستوں کی طرف سے مجھے ایسی خوابوں کی اطلاع آرہی ہے جس میں میری وفات کی خبر انہیں معلوم ہوئی ہے۔ بعض خوابوں میں یہ ذکر بھی ہے کہ صدقے سے یہ امر ٹل سکتا ہے۔
    چونکہ خواب میں جو بات دکھائی جائے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ میں نے ان خوابوں کی بناء پر اس قسم کے صدقات کا بھی انتظام کیا ہے جو بعض لوگوں کو بتائے گئے ہیں اور عام صدقہ کا بھی انتظام کیا ہے۔ مگر چونکہ آخر ہر انسان نے مرنا ہے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تقویٰ` خداتعالیٰ پر توکل اور دین کی اشاعت کے لئے اپنے اندر جوش پیدا کریں۔ اور اتحاد جماعت کو کبھی ترک نہ کریں۔ اگر وہ ان باتوں پر قائم رہیں گے۔ اگر قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں گے۔ اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی آواز پر ہمیشہ کان رکھیں گے اور ان کے پیغام کا جواب اپنے دلوں سے دیتے ہوئے دنیا تک اسے پہنچاتے رہیں گے` تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کا حافظ وناصر رہے گا اور کبھی دشمن ان کو ہلاک نہ کرسکے گا بلکہ ان کا قدم ہمیشہ آگے ہی آگے بڑھے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
    میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ میری نیت ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بغیر وصیت کے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کا حق دیا ہے اس لئے اس کے شکریہ میں نہ کہ مقبرہ بہشتی کی وصیت کے طور پر اپنی جائداد کا` وہ تھوڑا ہو یا بہت ایک حصہ ان اغراض کے لئے جو مقبرہ بہشتی کے قیام کی ہیں۔ وقف کردوں۔ سو اس کے مطابق میں اعلان کرتا ہوں کہ میری جائیداد جو بھی قرضہ کی ادائیگی کے بعد بچے اس کی آمد کا دسواں حصہ میرے ورثا صدر انجمن احمدیہ کے حوالے کردیا کریں تاکہ وہ اشاعت اسلام کے کام پر خرچ کیا جائے۔ مگر یہ شکریہ بھی کافی نہیں۔ ایک کام جماعت کا اور بھی ہے جو توجہ کا مستحق ہے اور جس کی طرف سے جماعت کے احباب اکثر غافل رہتے ہیں اور وہ اس کے غرباء ہیں۔ سو میں یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ میری جائیداد کا ایک اور دسواں حضہ )جو قرض کے اداکرنے کے بعد بچے( غرباء ` مساکین` یتامیٰ اور بیوائوں کے لئے وقف ہوگا۔ پس میری جائیداد کی جو بھی آمد ہو` کم یا زیادہ اس میں سے دسواں حصہ سلسلہ کے مساکین` غربا` یتامیٰ اور بیوائوں کی امداد کے لئے خرچ کیا جائے۔ اس رقم کو خرچ کرنے کے لئے میں ایک کمیٹی تجویز کرتا ہوں جس میں دو نمائندے میرے ورثا کی طرف سے ہوں اور ایک خلیفہ وقت کی طرف سے۔ وہ باہمی مشورہ سے مذکورہ بالا مستحقین پر اس رقم کو خرچ کریں۔ اگر کبھی اختلاف ہوتو خلیفہ وقت کا فیصلہ اس بارہ میں ناطق ہوگا۔ میں اپنی اولاد سے امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی زندگیوں کو دین کے لئے خرچ کریں گے اور دنیاوی ترقیات کو دین کی ضرورتوں پر قربان کریں گے۔ میرا ارادہ اپنی بقیہ جائیداد کو وقف علی الاولاد کا ہے جس کے لئے میں الگ قواعد مقرر کروں گا اس صورت میں اگر کسی وقت میری اولاد باقی نہ رہے یا میری جائیداد سے فائدہ نہ اٹھا سکے` تو کل جائیداد یا اس کا کوئی جزو جس پر بھی اس کا اثر ہو وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف ہو جائے گی۔
    خداتعالیٰ ہمارا انجام بخیر کرے اور ہمیں اپنی رضا پر چلنے کی توفیق دے اور ہمارا مرنا جینا اسی کے لئے ہو۔ آمین اللھم آمین۔
    خاکسار مرزا محمود احمد ۲۳ ماہ وفا ۱۳۱۹< ۹۰
    اس وصیت کا شائع ہونا ہی تھا کہ پوری جماعت میں درد واضطراب کی ایک زبردست لہر پیدا ہوگئی اور ہر جگہ صدقات اور دعائوں کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہوگیا۔ ۹۱
    اللہ تعالیٰ نے اپنے کمزور بندوں پر رحم فرمایا اور ان کی دعائوں اور صدقات کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے تقدیر بدل دی اور حضرت امیر المومنین ؓ کو اس کے بعد پچیس سال کی کامیابی وکامرانی سے معمور لمبی عمر جماعت کی قیادت کے لئے عطا فرما دی۔ فالحمد للہ علی احسانہ
    فصل چہارم
    ‏head1] ga[tمجلس انصار اللہ کا قیام
    سید ناحضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تحریک اور رہنمائی میں دسمبر ۱۹۲۲ء ۹۲ سے عورتوں کی تربیت کے لئے لجنہ اماء اللہ اور جنوری ۱۹۳۸ء۹۳ سے نوجوانوں کی تربیت کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیمیں قائم تھیں اور بہت جوش وخروش سے اپنی تربیتی ذمہ داریاں ادا کررہی تھیں اور ان کی وجہ سے جماعت میں خدمت دیں کا ایک خاص ماحول پیدا ہوچکا تھا۔ مگر ایک تیسرا طبقہ ابھی ایسا باقی تھا جو اپنی پختہ کاری لمبے تجربہ اور فراست کے اعتبار سے اگرچہ سلسلہ احمدیہ کی بہترین خدمات بجا لارہا تھا۔ مگر کسی مستقل تنظیم سے وابستہ نہ ہونے کے باعث قوم کی اجتماعی تربیت میں پورا حصہ نہیں لے سکتا تھا۔ حالانکہ اپنی عمر اور اپنے تجربہ کے لحاظ سے قومی تربیت کی ذمہ داری براہ راست اسی طربقہ پرپڑتی تھی۔ علاوہ ازیں خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کے اندر خدمت دین کے جوش کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے بھی ضروری تھا کہ جب جوانی کے زمانہ کی دینی ٹریننگ کا دور ختم ہواور وہ عمر کے آخری حصہ میں داخل ہوں تو وہ دوبارہ ایک تنظیم ہی کے تحت اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزاریں اور زندگی کے آخری سانس تک دین کی نصرت وتائید کے لئے سرگرم عمل رہیں۔
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو >مجلس خدام الاحمدیہ< کی بنیاد رکھتے وقت بھی اس اہم ضرورت کا شدید احساس تھا مگر حضور چاہتے یہ تھے کہ پہلے مجلس خدام الاحمدیہ کی رضاکارانہ تنظیم کم از کم قادیان میں اپنے پائوں پر کھڑی ہوجائے تو بتدریج کوئی نیا عملی قدم اٹھایا جائے۔ چنانچہ دو ڈھائی سال کے بعد جبکہ یہ مجلس حضور کی تجویز فرمودہ لائنوں پر چل نکلی اور نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پرحضور کے منشاء مبارک کے مطابق کام کرنے کا پوری طرح اہل ثابت کردکھایا تو حضور نے ۲۶ وفا/جولائی ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو اعلان فرمایا کہ
    >آج سے قادیان میں خدام الاحمدیہ کا کام طوعی نہیں بلکہ جبری ہوگا۔ ہر وہ احمدی جس کی پندرہ سے چالیس سال تک عمر ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھا دے۔۹۴ اور خدام الاحمدیہ کو یہ ارشاد فرمایا کہ
    >ایک مہینہ کے اندر اندر خدام الاحمدیہ آٹھ سے پندرہ سال کی عمر تک کے بچوں کو منظم کریں۔ اور اطفال احمدیہ کے نام سے ان کی ایک جماعت بنائی جائے اور میرے ساتھ مشورہ کرکے ان کے لئے مناسب پروگرام تجویز کیا جائے۔
    اس اعلان کے ساتھ ہی حضور نے چالیس سال سے اوپر کے احمدیوں کی ایک مستقل تنظیم کی بنیاد رکھی` جس کا نام >مجلس انصار اللہ< تجویز فرمایا اور فی الحال قادیان میں رہنے والے اس عمر کے تمام احمدیوں کی شمولیت اس میں لازمی اور ضروری قرار دی۔ انصار اللہ کی تنظیم کا عارضی پریزیڈنٹ مولوی شیر علی صاحب کو نامزد فرمایا اور ان کی اعانت کے لئے مندرجہ ذیل تین سیکرٹری مقرر فرمائے۔
    ۱۔ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم اے۔
    ۲۔ حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم اے۔
    ۳۔ حضرت خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب۔۹۵
    اس موقعہ پر حضرت امیر المومنین نے مجلس انصار اللہ کی نسبت بعض بنیادی ہدایات بھی دیں جن کا تذکرہ حضور ہی کے الفاظ میں کیاجانا چاہئے ۔ حضور نے فرمایا:۔
    >چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں۔ ان کے لئے بھی لازمی ہوگا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ ¶خدمت دین کے لئے وقف کریں۔ اگر مناسب سمجھا گیا۔ تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں ۳ دن یا کم وبیش اکٹھے بھی لئے جاسکتے ہیں۔ مگر بہرحال تمام بچوں` بوڑھوں اور نوجوانوں کا بغیر کسی استثناء کے قادیان میں منظم ہوجانا لازمی ہے
    مجلس انصار اللہ کے عارضی پریذیڈنٹ مولوی شیر علی صاحب ہوں گے اور سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے کے لئے میں مولوی عبدالرحیم صاحب درد` چودھری فتح محمد صاحب اور خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کو مقرر کرتا ہوں۔ تین سیکرٹری میں نے اس لئے مقرر کئے ہیں کہ مختلف محلوں میں کام کرنے کے لئے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے ان کو فوراً قادیان کے مختلف حصوں میں اپنے آدمی بٹھادینے چاہئیں اور چالیس سال سے اوپر عمر رکھنے والے تمام لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا چاہئے۔ یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ لوگوں کو کس قسم کے کام میں سہولت ہوسکتی ہے۔ اور جوشخص جس کام کے لئے موزوں ہو اس کے لئے اس سے نصف گھنٹہ روزانہ کام لیا جائے۔ یہ نصف گھنٹہ کم سے کم وقت ہے اور ضرورت پر اس سے بھی زیادہ وقت لیا جاسکتا ہے۔ یا یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کسی سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں دوچار دن لے لئے جائیں۔ جس دن وہ اپنے آپ کو منظم کرلیں اسی دن میری منظوری سے نیا پریذیڈنت اور نئے سیکرٹری مقرر کئے جاسکتے ہیں۔ سر دست میں نے جن لوگوں کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے وہ عارضی انتظام ہے اور اس وقت تک کے لئے ہے جب تک سب لوگ منظم نہ ہوجائیں جب منظم ہوجائیں تو وہ چاہیں تو کسی اور کو پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بناسکتے ہیں مگر میری منظوری اس کے لئے ضروری ہوگی۔ مرا ان دونوں مجلسوں سے ایسا ہی تعلق ہوگا جیسا مربی کا تعلق ہوتا ہے اور ان کے کام کی آخری نگرانی میرے ذمہ ہوگی یا جو بھی خلیفہ وقت ہو۔ میرا اختیار ہوگا کہ جب بھی مناسب سمجھوں ان دونوں مجلسوں کا اجلاس اپنی صدارت میں بلالوں اور اپنی موجودگی میں ان کو اپنا اجلاس منعقد کرنے کے لئے کہوں۔
    یہ اعلان پہلے صرف قادیان والوں کے لئے ہے اس لئے ان کو میں پھر متنبہ کرتا ہوں کہ کوئی فرد اپنی مرضی سے ان مجالس سے باہر نہیں رہ سکتا۔ سوائے اس کے جو اپنی مرضی سے ہمیں چھوڑ کر الگ ہوجانا چاہتا ہو۔ ہرشخص کو حکماً اس تنظیم میں شامل ہونا پڑے گا۔ اور اس تنظیم کے ذریعہ علاوہ اور کاموں کے اس امر کی بھی نگرانی رکھی جائے گی کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے جو مسجد میں
    نماز باجماعت پڑھنے کا پابند نہ ہو
    سوائے ان زمینداروں کے جنہیں کھیتوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ یا سوائے ان مزدوروں کے جنہیں کام کے لئے باہر جانا پڑتا ہے۔ گو ایسے لوگوں کے لئے بھی میرے نزدیک کوئی نہ کوئی ایسا انتظام ضرور ہونا چاہئے جس کے ماتحت وہ اپنی قریب ترین مسجد میں نماز باجماعت پڑھ سکیں۔
    اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتاہوں کہ خدام الاحمدیہ کی مجالس تو اکثر جگہ قائم ہی ہیں۔ اب انہیں ہر جگہ چالیس سال سے زائد عمر والوں کے لئے مجالس انصار اللہ قائم کرنی چاہئیں۔ ان مجالس کے وہی قواعد ہوں گے جو قادیان میں مجلس انصار اللہ کے قواعد ہوں گے۔مگر سردست باہر کی جماعتوں میں داخلہ فرض کے طورپر نہیں ہوگا بلکہ ان مجالس میں شامل ہونا ان کی مرضی پر موقوف ہوگا۔ لیکن جو پریذیڈنٹ یا امیر یا سیکرٹری ہیں ان کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مجلس میں شامل ہوں۔ کوئی امیر نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔ کوئی پریذیڈنٹ نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔ اور کوئی سیکرٹری نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔ اگر اس کی عمر پندرہ سال سے اوپر اور چالیس سال سے کم ہے تو اس کے لئے خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونا ضروری ہوگا اور اگر وہ چالیس سال سے اوپر ہے تو اس کے لئے انصار اللہ کا ممبر ہونا ضروری ہوگا اس طرح ڈیڑھ سال تک دیکھنے کے بعد خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ باہر بھی ان مجالس میں شامل
    ‏tav.8.4
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    ہونا لازمی کردیا جائے گا۔ کیونکہ احمدیت صحابہ کے نقش قدم پر ہے۔ صحابہ سے جب جہاد کا کام لیا جاتا تھا تو ان کی مرضی کے مطابق نہیں لیا جاتا تھا بلکہ کہا جاتا تھا کہ جائو کام کرو۔ مرضی کے مطابق کام کرنے کا میں نے جو موقعہ دینا تھا وہ قادیان کی جماعت کو میں دے چکا ہوں اور جنہوں نے ثواب حاصل کرنا تھا انہوں نے ثواب حاصل کرلیا ہے۔اب پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر والوں کے لئے خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا لازمی ہے۔ اور اس لحاظ سے اب وہ ثواب نہیں رہا جو طوعی طور پر کام کرنے کے نتیجے میں ہوسکتاتھا۔ بے شک خدمت کا اب بھی ثواب ہوگا۔ لیکن جو طوعی طور پر داخل ہوئے اور وفا کا نمونہ دکھایا وہ سابق بن گئے البتہ انصار اللہ کی مجلس چونکہ اس شکل میں پہلے قائم نہیں ہوئی اور نہ کسی نے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لئے اس میں جو بھی شامل ہوگا اسے وہی ثواب ہوگا جو طوعی طور پر نیک تحریکات میں شامل ہونے والوں کو ہوتا ہے<۔۹۶
    مجلس انصار اللہ اور دوسری مجالس کے بنیادی اغراض ومقاصد
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے پیش نظر مجلس انصار اللہ اور دوسری تنظیموں کے قیام کا مقصد کیا تھا اور حضور کی ان سے کیاتوقعات وابستہ تھیں۔ اس کی وضاحت خود حضور ہی کے الفاظ میں کیا جانا مناسب ہے۔ حضور فرماتے ہیں<۔
    >میں نے انصار اللہ` خدام الاحمدیہ اور اطفال احمدیہ تین الگ الگ جماعتیں قائم کی ہیں تاکہ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی نقل کا مادہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ پیدا ہو بچے بچوں کی نقل کریں۔ نوجوان نوجوانوں کی نقل کریں اور بوڑھے بوڑھوں کی نقل کریں جب بچے اور نوجوان اور بوڑھے سب اپنی اپنی جگہ یہ دیکھیں گے کہ ہمارے ہم عمر دین کے متعلق رغبت رکھتے ہیں وہ اسلام کی اشاعت کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اسلامی مسائل کو سیکھنے اور ان کو دنیا میں پھیلانے میں مشغول ہیں۔ وہ نیک کاموں کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لیتے ہیں تو ان کے دلوں میں بھی یہ شوق پیدا ہوگا کہ ہم بھی ان نیک کاموں میں حصہ لیں اور اپنے ہم عمروں سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔ دوسرے وہ جو رقابت کی وجہ سے عام طور پر دلوں میں غصہ پیدا ہوتا ہے وہ بھی پیدا نہیں ہوگا۔ جب بوڑھا بوڑھے کو نصیحت کرے گا` نوجوان نوجوان کو نصیحت کرے گا اور بچہ بچے کو نصیحت کرے گا تو کسی کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوگا کہ مجھے کوئی ایسا شخص نصیحت کررہا ہے جو عمر میں مجھ سے چھوٹایا عمر میں مجھ سے بہت بڑا ہے۔ وہ سمجھے گا کہ میرا ایک ہم عمر جو میرے جیسے خیالات اور میرے جیسے جذبات اپنے اندر رکھتا ہے مجھے سمجھانے کی کوشش کررہا ہے اور اس وجہ سے ان کے دل پر نصیحت کا خاص طور پر اثر ہوگا اور وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوجائے گا مگر یہ تغیر اسی صورت میں پیدا ہوسکتا ہے جب جماعت میں یہ نظام پورے طور پر رائج ہوجائے ۔۔۔۔۔ ہماری جماعت کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔ تمام دنیا کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ جھکانا ہے۔ تمام دنیا کو اسلام اور احمدیت میں داخل کرنا ہے۔ تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم کرنا ہے مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک سرانجام نہیں دیا جاسکتا` جب تک ہماری جماعت کے تمام افراد خواہ بچے ہوں یا نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں` اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کرلیتے اور اس لائحہ عمل کے مطابق دن اور رات عمل نہیں کرتے جو ان کے لئے تجویز کیا گیا ہے ۔۔۔۔ جب ہم تمام جماعت کے افراد کو ایک نظام میں منسلک کرلیں گے تو اس کے بعد ہم بیرونی دنیا کی اصلاح کی طرف کامل طور پر توجہ کرسکیں گے اس اندرونی اصلاح اور تنظیم کو مکمل کرنے کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ` انصار اللہ اور اطفال احمدیہ تین جماعتیں قائم کی ہیں اور یہ تینوں اپنے اس مقصد میں جو ان کے قیام کا اصل باعث ہے اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہیں جب انصار اللہہ` خدام الاحمدیہ اور اطفال احمدیہ اس اصل کو اپنے مدنظر رکھیں جو حیث ماکنتم فولوا وجوھکم شطرہ میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ ہر شخص اپنے فرض کو سمجھے اور پھر رات اور دن اس فرض کی ادائیگی میں اس طرح مصروف ہوجائے جس طرح ایک پاگل اور مجنون تمام اطراف سے اپنی توجہ کو ہٹا کر صرف ایک بات کے لئے اپنے تمام اوقات کو صرف کردیتا ہے۔ جب تک رات اور دن انصار اللہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے جب تک رات اور دن خدام الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے جب تک رات اور اطفال الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے تمام اوقات کو صرف نہیں کردیتے اس وقت تک ہم اپنی اندرونی تنظیم مکمل ہیں کرسکتے اور جب تک ہم اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کرلیتے اس وقت تک ہم بیرونی دنیا کی اصلاح اور اس کی خرابیوں کے ازالہ کی طرف بھی پوری طرح توجہ نہیں کرسکتے۔<۹۷
    سلسلہ کے روحانی بقاء کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ` انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ کی تحریکات جارہی کی ہوئی ہیں اور یہ تینوں نہایت ضروری ہیں۔ ان تحریکات کو معمولی نہ سمجھیں۔ اس زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ یہ بہت ضروری ہیں۔ پرانے زمانہ میں اور بات تھی۔ رسول کریم ~صل۱~ کے زمانہ میں آپ کی ٹریننگ سے ہزاروں استاد پیدا ہوگئے تھے جو خود بخود دوسروں کو دین سکھاتے تھے اور دوسرے شوق سے سیکھتے تھے۔ مگر اب حالات ایسے ہیں کہ جب تک دودو تین تین آدمیوں کی علیحدہ علیحدہ نگرانی کا انتظام نہ کیا جائے کام نہیں ہوسکتا۔
    ہمیں اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کرنی چاہیں کہ دوسرے ان کا اقرار کرنے پر مجبور ہوں اور پھر تعداد بھی بڑھانی چاہئے۔ اگر گلاب کا ایک ہی پھول ہو اور وہ دوسرا پیدا نہ کرسکے تو اس کی خوبصورتی سے دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ فتح تو آئندہ زمانہ میں ہونی ہے اور معلوم نہیں کب ہو لیکن ہمیں کم سے کم اتنا تو اطمینان ہوجاناچاہئے کہ ہم نے اپنے آپ کو ایسی خوبصورتی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے کہ دنیا احمدیت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ احمدیت کو دنیا میں پھیلا دنیا ہمارے اختیار کی بات نہیں۔ لیکن ہم اپنی زندگیوں کا نقشہ ایسا خوبصورت بناسکتے ہیں کہ دنیا کے لوگ بظاہر اس کا اقرار کریں یا نہ کریں مگر ان کے دل احمدیت کی خوبی کے معترف ہوجائیں اور اس کے لئے جماعت کے سب طبقات کی تنظیم نہایت ضروری ہے<۔ ۹۸
    ایک اور موقعہ پر فرمایا:۔
    >عوام سست ہوں تو حکام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں اور حکام سست ہوں تو عوام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ اسی نکتہ کو مدنظر رکھ کر میں نے جماعت میں خدام خلق اور انصار اللہ دو الگ الگ جماعتیں قائم کیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں ایسا ہوسکتا ہے کہ کبھی >حکومت< کے افراد سست ہوجائیں اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی عوام سست ہوجائیں۔ عوام کی غفلت اور ان کی نیند کو دور کرنے کے لئے جماعت میں ناظر وغیرہ موجود تھے۔ مگر چونکہ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ کبھی ناظر سست ہوجائیں اور وہ اپنے فرائض کو کماحقہ ادا نہ کریں۔ اس لئے ان کی بیداری کے لئے بھی کوئی نہ کوئی جماعتی نظام ہونا چاہئے تھا جو ان کی غفلت کو دور کرتا اور اس غفلت کا بدل جماعت کو مہیا کرنے والا ہوتا۔ چنانچہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور الجنہ اماء اللہ اسی نظام کی دو کڑیاں ہیں اور ان کو اسی لئے قائم کیا گیا ہے تاکہ وہ نظام کو بیدار رکھنے کا باعث ہوں۔ میں سمجھتا ہوں اگر عوام اور حکام دونوں اپنے اپنے فرائض کو سمجھیں تو جماعتی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک نہایت ہی مفید اور خوشکن لائحہ عمل ہوگا۔ اگر ایک طرف نظارتیں جو نظام کی قائم مقام ہیں` عوام کو بیدار کرتی رہیں اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور الجنہ اماء اللہ جو عوام کے قائم مقام ہیں نظام کو بیدار کرتے رہیں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کسی وقت جماعت کلی طور پر گرجائے اور اس کا قدم ترقی کی طرف اٹھنے سے رک جائے۔ جب بھی ایک غافل ہوگا دوسرا اسے جگانے کے لئے تیار ہوگا جب بھی ایک سست ہوگا تو دوسرا اسے ہوشیار کرنے کے لئے آگے نکل آئے گا کیونکہ وہ دونوں ایک ایک حصہ کے نمائندہ ہیں۔< ۹۹
    نیز فرمایا:۔
    >انصار اللہ کا وجود اپنی جگہ نہایت ضروری ہے کیونکہ تجربہ جو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔ اسی طرح امنگ اور جوش جو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔ خدام الاحمدیہ نمائندے ہیں جوش اور امنگ کے` اور انصار اللہ نمائندے ہیں تجربہ اور حکمت کے اور جوش اور امنگ اور تجربہ اور حکمت کے بغیر کبھی کوئی قوم کامیاب نہیں ہوسکتی<۔ ۱۰۰
    ‏]body [tagاسی سلسلہ میں یہ بھی ارشاد فرمایا:۔
    میری غرض انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم سے یہ ہے کہ عمارت کی چاروں دیواروں کو میں مکمل کردوں۔ ایک دیوار انصار اللہ ہیں` دوسری دیوار خدام الاحمدیہ ہیں اور تیسری دیوار اطفال الاحمدیہ ہیں اور چوتھی دیوار لجنات اماء اللہ ہیں۔ اگر یہ چاروں دیواریں ایک دوسرے سے علیحدہ علیحدہ ہوجائیں تو یہ لازمی بات ہے کہ کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوسکے گی۔ عمارت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کی چاروں دیواریں آپ میں جڑی ہوئی ہوں۔ علیحدہ علیحدہ ہوں تو وہ چاردیواریں ایک دیوار جتنی قیمت بھی نہیں رکھتیں۔ کیونکہ اگر ایک دیوار ہوتو اس کے ساتھ ستون کھڑے کرکے چھت ڈالی جاسکتی ہے کیونکہ اگر ایک دیوار ہوتو اس کے ساتھ ستون کھڑے کرکے چھت ڈالی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر ہوں تو چاروں دیواریں` لیکن چاروں علیحدہ علیحدہ کھڑی ہوں تو ان پر چھت نہیں ڈالی جاسکے گی۔ اور اگر اپنی حماقت کی وجہ سے کوئی شخص چھت ڈالے گا تو وہ گرجائے گی۔ کیونکہ کوئی دیوار کسی طرف ہوگی اور کوئی دیوار کسی طرف۔ ایسی حالت میں ایک دیوار کا ہونا زیادہ مفید ہوتا ہے بجائے اس کے کہ چار دیواریں ہوں اور چاروں علیحدہ علیحدہ ہوں۔
    پس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ دونوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے آپ کو تفرقہ اور شقاق کا موجب نہیں بنانا چاہئے۔ اگر کسی حصہ میں شقاق پیدا ہوا تو خداتعالیٰ کے سامنے تو وہ جوابدہ ہوں گے ہی میرے سامنے بھی جوابدہ ہوں گے یا جو بھی امام ہوگا اس کے سامنے انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ کیونکہ ہم نے یہ مواقع ثواب حاصل کرنے کے لئے مہیا کئے ہیں اس لئے مہیا نہیں کئے کہ جماعت کو جو طاقت پہلے سے حاصل ہے اس کو بھی ضائع کردیا جائے<۔۱۰۱
    انصار اللہ کی حیثیت جماعتی نظام میں
    انصار اللہ کی حیثیت جماعتی نظام میں کیا ہے؟ اس کی وضاحت بھی حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے مجلس کی بنیاد کے زمانہ میں فرمادی تھی۔ چنانچہ فرمایا:۔
    >انصار اللہ گو تنظیم کے لحاظ سے علیحدہ ہیں مگر بہر حال وہ لوکل انجمن کا ایک حصہ ہیں۔ ان کو بھی کوئی پریذیڈنٹ بحیثیت جماعت حکم نہیں دے سکتا۔ ہاں فرداً فرداً وہ انصار اللہ کے ہر ممبر کو اپنی مدد کے لئے بلاسکتا ہے اور انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ لوکل انجمن کے ہر پریذیڈنٹ کے ساتھ پورے طور پر تعاون کریں بہرحال کوئی پریزیڈنٹ انصار اللہ کو بحیثیت انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کو بحیثیت خدام الاحمدیہ کو کسی کام کا حکم نہیں دے سکتا۔ وہ یہ تو کہہ سکتا ہے کہ چونکہ تم احمدی ہو اس لئے آئو اور فلاں کام کرو۔ مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ آئو انصار یہ کام کرو یا آئو خدام یہ کام کرو` خدام کو خدام کا زعیم مخاطب کرسکتا ہے اور انصار اللہ کو انصار اللہ کا زعیم مخاطب کرسکتا ہے۔ مگر چونکہ لوکل انجمن ان دونوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ انصار بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اور خدام بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اس لئے گووہ بحیثیت جماعت خدام اور انصار کو کوئی حکم نہ دے سکے مگر وہ ہر خادم اور انصار اللہ کے ہرممبر کو ایک احمدی کی حیثیت سے بلا سکتا ہے اور خدام اور انصار دونوں کا فرض ہے کہ وہ اس کے احکام کی تعمیل کریں۔ ۱۰۲
    مجلس انصار اللہ کا پہلا دور وفا~/~جولائی ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء تا فتح/دسمبر ۱۳۲۱ہش/۱۹۴۲ء
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی ہدایات وارشادات کی روشنی میں مجلس انصار اللہ کی تنظیم قائم کرنے اور اس کے لئے ابتدائی طریق
    ‏]2ydbo [tagکار تجویز کرنے اور ڈھانچہ بنانے کے لئے ۲۷ وفا/جولائی ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو مسجد مبارک قادیان میں صبح ساڑھے نو بجے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں حضرت مولوی شیر علی صاحب آپ کے تینوں سیکرٹری )حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد` حضرت چودھری فتح محمد سیال اور حضرت خان صاحب مولوی فرزندہ علی صاحب شامل ہوئے اور حسب ذیل فیصلے کئے گئے:۔
    ۱۔
    قادیان کے انصار کی مردم شماری اور تجنید کے لئے دوہزار فارم چھپوالیا جائے۔ فارم کا نمونہ حسب ذیل منظور کیاگیا۔
    نمبر شمار۔ نام۔ ولدیت۔ عمر۔ تعلیم۔ تربیت۔ پتہ۔ تاریخ۔
    )حاشیہ( سابق سکونت۔ تاریخ ہجرت )ان لوگوں کی جو ۱۹۳۰ء کے بعد قادیان آئے(
    ۲۔
    قادیان کو تین حلقوں میں تقسیم کرکے ان کی نگرانی کا کام مندرجہ ذیل طریق سے تینوں سیکرٹریوں کے سپرد کیا گیا۔
    نام
    حلقہ
    حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال
    دارالسعتہ مع کھارا` دارالبرکات مع بھینی دارالانور مع قادرآباد۔
    حضرت مولوی عبدالرحیم صاحبؓ درد
    مسجد مبارک` مسجد اقصیٰ` مسجد فضل مع دارالصحت` ناصر آباد مع ننگل
    حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب
    دارالرحمت` دارالعلوم مع احمد آباد` دارالفضل دارالفتوح۔
    )۳۰ اخاء/اکتوبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو بعض مشکلات کی وجہ سے کھارا` بھینی اور ننگل کے احباب انصار اللہ کی ہدایات کی پابندیوں سے ایک سال کے لئے مستثنیٰ کردیئے گئے تھے(۔
    اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہر حلقہ میں سیکرٹریان اپنے معاون خود مقرر کرلیں گے۔ ]01 [p۱۰۳
    اس پہلے اجلاس کے بعد قادیان کے محلوں میں انصار اللہ کی تنظیم کا عملی دور شروع ہوگیا۔ ۱۲ظہور/اگست ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو فیصلہ کیا گیا کہ ہر محلہ میں انصار اللہ کے دس دس افراد کے گروپ بنائے جائیں اور ہر ایک گروپ کا ایک ایک لیڈر ہو۔ اسی دن کے اجلاس میں شرح چندہ کم از کم ایک آنہ ماہوار رکھی گئی اور قرار پایاکہ جو دوست ایک آنہ ماہوار بھی نہ دے سکیں ان کو تخفیف یا معافی دینا سیکرٹری حلقہ کے اختیار میں ہوگا۔
    چندہ کی فراہمی کا کام ماہ اخاء/اکتوبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء سے شروع ہوا۔ اور اس کے ساتھ ہی انجمن انصار اللہ کے نام سے خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں امانت کا حساب کھولا گیا۔ جس کا لین دین صدر مجلس انصار اللہ کے دستخطوں سے ہوتا تھا۔ چندہ کی ایک ایک آنہ کی رسیدیں دینے کی بجائے اس کے ریکارڈ کا یہ محتاط طریق اختیار کیا گیا کہ جو چندہ جمع کیا جاتا وہ فوراً چندہ دینے والے کے سامنے اور اسے دکھاکر رجسٹر میں درج کر دیا جاتا اور وصول شدہ چندہ کی ایک فہرست ہر محلہ کی مسجد میں کسی کی زیرنگرانی نمازوں کے وقت آویزاں کر دی جاتی۔
    ماہ نبوت/نومبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء میں مجلس انصار الل¶ہ کی تنظیم کو مضبوط تر بنانے کے لئے ہر محلہ میں حلقہ کے سیکرٹری کے تحت ایک زعیم مقرر کیا گیا جو سیکرٹری حلقہ کے سامنے ہر قسم کے کام کی نگرانی کا ذمہ دار تھا اور سیکرٹری حلقہ کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے مندرجہ ذیل چھ عہدیدار بطور معاون اپنے حلقہ میں سے چن لے۔
    جنرل سیکرٹری۔ ناظم مال۔ ناظم تربیت۔ ناظم تعلیم۔ ناظم تبلیغ۔ ناظم امور دنیا۔
    انصار اللہ کے اولین فرائض
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے انصار اللہ کے ذمہ شروع میں پانچ کام لگائے۔
    تبلیغ کرنا۔ قرآن شریف پڑھانا۔ شرائع کی حکمتیں بتانا۔ اچھی تربیت کرنا۔ قوم کی دنیوی کمزوریوں کو دور کرکے اسے ترقی کے میدان میں بڑھانا۔ ۱۰۴
    بیرونی مقامات کی ابتدائی مجالس
    پہلے سال قادیان کے علاوہ جن بیرونی مقامات پر انصار اللہ کی مجالس کا قیام عمل میں آیا ان کے نام یہ ہیں:۔
    کلکتہ۔ برہمن بڑیہ )بنگال( گوجرہ )ضلع لائلپور(۔ چک سکندر )ضلع گجرات(۔ رنگون۔ درگانوالی۔ پنڈال۔ پھاگوبیٹے۔ پھاگووال۔ کوٹ کریم بخش )ضلع سیالکوٹ( ۔ کیرنگ )ضلع پوری اڑیسہ( کراچی۔ مالیر کوٹلہ۔ عالم گڑھ۔ )ضلع گجرات( لاہور۔ شاہ مسکین )ضلع شیخوپورہ( شاہدرہ )لاہور(۔ داتا زیدکا )ضلع سیالکوٹ( کوئٹہ۔ کوٹ رحمت خاں )ضلع شیخوپورہ(۔ کپورتھلہ۔ جہلم۔ فیروز پور۔ لالہ موسیٰ۔ چک نمبر۹۹ شمالی )سرگودہا(۔ چوہدریوالہ رکھ )ضلع لائل پور(۔ مٹھیانہ )ضلع ہوشیار پور( ۔ لکھنئو ۔ گجرات۔ بہادر کوٹ )ڈاکخانہ کوہاٹ(۔ لاچی بالا )ضلع کوہاٹ( ۔ گورداسپور ۔ جادر )وسطی ہند(۔ محمد آباد ٹاہلی )سندھ( گولیکی )ضلع گجرات( بمبئی۔ مردان )صوبہ سرحد( کولابہ )بمبئی(۔ سکندر آباد۔ بالا کوٹ )ہزارہ(۔ بانکی پور )پٹنہ(۔ نوشہرہ ککے زئیاں )پسرور(۔ چارکوٹ )ریاست جموں( چک ۳۳۲ ج۔ب )ضلع لائلپور( جبل پور )سی پی(۔ چاہ ڈیڈی )ضلع سمرا(۔ لودھراں )ضلع ملتان(۔ چاہ قادر موضع ٹھڈا۔ ۱۰۵مجلس انصار اللہ نے اپنے قیام کے ابتدائی دو ڈھائی سال خدام الاحمدیہ کے مختلف جماعتی کاموں مثلاً ہفتہ تعلیم وتلقین` وقار عمل اور امتحان کتب مسیح موعود میں اشتراک عمل کی طرف خاص توجہ دی مگر خدام الاحمدیہ کے مقابل اس کی تنظیمی سرگرمیوں کی رفتار نہایت غیر تسلی بخش اور سست رہی۔ چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے سالانہ جلسہ ۱۳۲۱ہش/۱۹۴۲ء کے موقع پر ارشاد فرمایا:۔
    > مجھے افسوس ہے کہ احباب جماعت نے تاحال انصار اللہ کی تنظیم میں وہ کوشش نہیں کی جو کرنی چاہئے تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس کا ابھی کوئی دفتر وغیرہ بھی نہیں۔ مگر دفتر قائم کرنا کس کا کام تھا بے شک اس کے لئے سرمایہ کی ضرورت تھی۔ مگر سرمایہ مہیا کرنے سے انہیں کس نے روکا تھا۔ شاید وہ کہیں کہ خدام الاحمدیہ کو تحریک جدید سے مدد دی گئی ہے۔ مگر ان کی مدد سے ہم نے کب انکار کیا۔ ان کو بھی چاہئے تھا کہ دفتر بناتے اور چندہ جمع کرتے۔ اب بھی انہیں چاہئے کہ دفتر بنائیں کلرک وغیرہ رکھیں۔ خط وکتابت کریں۔ ساری جماعتوں میں تحریک کرکے انصار اللہ کی مجالس قائم کریں اور چالیس سال سے زیادہ عمر کے سب دوستوں کی تنظیم کریں۔ ۱۰۶
    مجلس انصار اللہ کا دوسرا دور
    ۱۳۲۲ھش/ ۱۹۴۳ء سے مجلس انصار اللہ کی تحریک دوسرے دور میں داخل ہوئی جبکہ باقاعدہ مرکزی دفتر قائم ہوا۔ مقامی سیکرٹریوں کو مستقل شعبے سپرد کئے گئے۔ سالانہ بجٹ تجویز ہوا۔ دستور اساسی مرتب کیا گیا۔ مرکزی قائدین کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ مجلس کے آنریری انسپکٹر` آڈیٹر اور نمائندگان مشاورت منتخب کئے گئے۔ سالانہ اجتماعات کا آغاز ہوا۔ اور انصار اللہ کے ارکان قادیان اور بیرونی مقامات پر تبلیغی سرگرمیوں کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ دینے لگے۔
    مرکزی دفتر کا قیام
    اب تک مجلس انصار اللہ کا کوئی مرکزی دفتر نہیں تھا۔ صدر مجلس )حضرت مولانا شیر علی صاحب ( اور دوسرے تین مرکزی عہدیدار جو مرکزی سیکرٹری کہلاتے تھے` مسجد مبارک میں جمع ہوتے اور مجلس کی تنظیم اور دوسرے امور کے بارہ میں باہمی مشورہ کرتے اور کارروائی باقاعدہ ایک رجسٹر میں محفوظ کرلی جاتی۔ ۱۰۷ دفتری نوعیت کے کام مجلس کے آنریری کارکن شیخ عبدالرحیم صاحب شرما )نومسلم سابق کشن لعل( انجام دیا کرتے تھے۔ لیکن صلح/جنوری ۱۳۲۲ہش/۱۹۴۳ء سے مجلس کا مرکزی دفتر فی الحال گیسٹ ہائوس دارالانوار کے ایک مغربی کمرہ میں قائم کیا گیا اور ساتھ ہی ایک کلرک کی اسامی بیس روپیہ مشاہرہ پر منظور کی گئی جس پر شیخ عبدالرحیم صاحب نومسلم شرماہی مقرر کئے گئے۔]4 [stf۱۰۸
    ابتدائی تین سالوں میں دفتر مرکزیہ انصار اللہ کے لئے اپنا کوئی سامان فرنیچر وغیرہ نہیں تھا >مجلس تعلیم< اور >ترجمتہ القرآن< کے دفتر کا فرنیچر مستعار لے کر استعمال کیا جاتا تھا لیکن ۴ ہجرت/مئی ۱۳۲۳ہش/۱۹۴۴ء کو ایک درمیانی میز` چار کرسیاں اور ایک بنچ خریدنے کے لئے مبلغ ساٹھ روپیہ کی منظوری دی گئی۔
    اسی روز فیصلہ ہوا کہ مرکزی دفتر گیسٹ ہائوس سے شہر میں منتقل کردیا جائے۔ ۲ فتح/دسمبر ۱۳۲۳ہش/۱۹۴۴ء کو قرار پایا کہ مجلس مرکزیہ کا مستقل دفتر تعمیر کیا جائے اور اخرجات کے لئے پندرہ ہزار روپیہ کا تخمینہ لگایاگیا تعمیر دفتر کے علاوہ نشرواشاعت کی مضبوطی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ان ہر دو کاموں کے لئے مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے قائد مال )حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ( کو عطیات کی فراہمی کا اختیا دیا گیا۔ چنانچہ سالانہ اجتماع ۱۳۲۳ہش/۱۹۴۴ء پر اس چندہ کی تحریک کی گئی۔ نیز ایک سب کمیٹی بھی مقرر کی گئی۔ جس کے صدر ماسٹر خیر الدین صاحب )نائب ناظر تعلیم وتربیت( سیکرٹری منشی محمد الدین صاحب مختار عام` نائب سیکرٹری مولوی عطا محمد صاحب ہیڈ کلرک دفتر بہشتی مقبرہ اور ممبر بابو فضل دین صاحب ریڈر ہائیکورٹ اور بابو قاسم دین صاحب گورداسپور تھے۔ ۱۰۹ ۱۳۲۴ہش/۱۹۴۵ء میں ہر دو مدات میں صرف ۱۴۷۶ روپے وصول ہوسکے۔ ان دنوں مجلس کی مالی حالت نہایت درجہ مخدوش تھی` جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ۱۳۲۴ہش/۱۹۴۵ء میں مجلس کو چندہ کی آمد صرف مبلغ آٹھ صد نو روپے ایک آنہ چھہ پائی ہوئی۔ ۱۱۰
    مرکزی سیکرٹریوں کو شعبوں کی تفویض
    ابتدا میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے ارشاد بلکہ نامزدگی پر مجلس انصار اللہ کے تین مرکزی سیکرٹری مقرر تھے جن کے سپردقادیان کے کئی کئی محلے تھے جن کو مجموعی طور پر ہر ایک شعبہ )مثلاً تبلیغ۔ تعلیم وتربیت اور چندوں کی فراہمی وغیرہ( کے کام اپنے اپنے حلقوں میں کرنے پڑتے تھے۔ مگر ۱۰ صلح/جنوری۱۳۲۲ہش/۱۹۴۳ء کو سابقہ انتظام بدل دیا گیا اور اس کی بجائے مرکزی سیکرٹریوں کو علیحدہ علیحدہ شعبے تقسیم کردیئے گئے چنانچہ اس نئی تقسیم کے مطابق۔
    ۱۔ حضرت خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب مہتمم مال اور مہتمم تعلیم وتربیت مقرر کئے گئے۔
    ۲۔ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو جنرل سیکرٹری کا فریضہ سپرد ہوا۔ آپ صدر مجلس کی نگرانی میں مرکزی دفتر کے انچارج بھی تھے اور بیرونی مجالس کا کام بھی آپ کے ماتحت تھا۔
    ۳۔ شعبہ تبلیغ کے مہتمم حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال قرار پائے۔ ۱۱۱
    قادیان میں انصار اللہ کی تبلیغی جدوجہد
    اگرچہ انصار اللہ کے والنٹیر پہلے دور میں بھی شعبہ مقامی تبلیغ صدر انجمن احمدیہ کی ہدایت پر بیرونی مقامات پر جاتے تھے اور تبلیغی خدمات انجام دیتے تھے۔ مگر منظم رنگ میں اس مہم کا آغاز ۵ تبلیغ/فروری ۱۳۲۲ہش/۱۹۴۳ء کو ہوا اس دن تبلیغی اغراض کے لئے قادیان کو آٹھ حلقوں میں تقسیم کردیا گیا کہ ان میں سے دو حلقوں کی دوکانیں ہر جمعرات کو اور جمعہ کو نماز جمعہ کے اختتام تک بند رہا کریں گی اور دوکاندار ہر جمعرات کو تبلیغ کے لئے باہر چلے جائیں گے اور جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات باہر گذار کر جمعہ کی نماز قادیان آکر ادا کریں گے؟ ۱۱۲
    اس فیصلہ کے بعد انصار ایک تنظیم کے ساتھ قادیان کے گردونواح میں تشریف لے جاتے اور پیغام حق پہنچاتے تھے۔ بعد کو قادیان کے علاوہ بیرونی مجالس میں بھی تبلیغی وفود بھجوائے جانے لگے جن کی رپورٹیں اس زمانہ کے >الفضل< میں شائع شدہ موجود ہیں۔
    قادیان میں مجلس انصار اللہ کے اجلاسوں کی ابتداء
    قبل ازیں مجلس انصار اللہ کے کام سے متعارف کرانے کے لئے محلوں میں کوئی جلسے نہ ہوتے تھے۔نتیجہ یہ تھا کہ اکثر لوگ اس اہم تحریک سے ابھی پوری طرح واقف نہیں تھے اور اس امر کی سخت ضرورت تھی کہ مجلس کے لئے محلہ وار اجلاس کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ چنانچہ ۶ امان/مارچ ۱۳۲۲ہش/۱۹۴۳ء کو فیصلہ کیا گیا کہ تمام انصار اللہ قادیان کا ایک ایک ماہ کے وقفہ کے بعد باری باری اجلاس منعقد ہوا کرے جس میں انصار اللہ کو ان کے کام کی اہمیت سے واقف کرایا جائے اور کام کرنے کا شوق دلاکر بیداری پیدا کی جائے۔ انصار اللہ کی تحریک کو زیادہ سے زیادہ روشناس کرانے کے لئے زعماء انصار اللہ کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ ان مرکزی اجلاسوں کے علاوہ اپنے محلہ میں بھی اجلاس کیا کریں۔
    زعماء انصار اللہ اورگروپ لیڈروں کے مشاورتی اجلاس
    مجلس کی طرف سے تربیتی اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی یہ لازم قرار دے دیا گیا کہ قادیان کے محلوں کے جملہ زعماء انصار اور گروپ لیڈروں کا بھی ماہوار اجلاس ہوا کرے جن میں پیش آمدہ مشکلات پر غور کرکے اصلاح احوال کی مناسب تجاویز سوچیں۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا اہم خطبہ انصار اللہ کے متعلق
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۲۲ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۲ہش/۱۹۴۳ء کے خطبہ جمعہ میں انصار اللہ کے فرائض اور ذمہ داریوں کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی اور مجلس کی بیداری اور تنظیم کی کامیابی کے لئے بعض نہایت سنہری اصول پیش فرمائے ۔ چنانچہ فرمایا:۔
    >میرا مقصد ان جماعتوں کے قیام سے ہر فرد کے اندر ایک بیداری پیدا کرنا تھا ۔۔۔۔۔ مگر جتنی بیداری خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے ذریعہ جماعت میں پیدا ہوئی ہے وہ ہرگز کافی نہیں بلکہ کافی کا ہزارواں حصہ بھی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انصار اللہ خصوصیت کے ساتھ اپنے کام کی عمدگی سے نگرانی کریں تاکہ ہرجگہ اور ہر مقام پر ان کا کام نمایاں ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے اور وہ محسوس کرنے لگ جائیں کہ یہ ایک زندہ اور کام کرنے والی جماعت ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب تک انصار اللہ اپنی ترقی کے لئے صحیح طریق اختیار نہیں کریں گے اس وقت تک انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ مثلاً میں نے انہیں توجہ دلائی تھی کہ وہ اپنے کام کی توسیع کے لئے روپیہ جمع کریں اور اسے مناسب اور ضروری کاموں پر خرچ کریں۔ مگر میری اس ہدایت کی طرف انہوں نے کوئی توجہ نہیں کی۔ اب میں دوسری بات انہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گو غالباً میں ایک دفعہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر انہیں مالی مشکلات ہوں تو سلسلہ کی طرف سے کسی حد تک انہیں مالی مدد بھی دی جاسکتی ہے مگر بہرحال پہلے انہیں خود عملی قدم اٹھانا چاہئے اور روپیہ خرچ کرکے اپنے کام کی توسیع کرنی چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بڑی عمر کے لوگوں کو ضرور یہ احساس اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے کہ وہ شباب کی عمر میں سے گزر کر اب ایک ایسے حصہ عمر میں سے گذر رہے ہیں جس میں دماغ تو سوچنے کے لئے موجود ہوتا ہے مگر زیادہ عمر گذرنے کے بعد ہاتھ پائوں محنت ومشقت کے کام کرنے کے قابل نہیں رہتے اس وجہ سے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے کاموں کے سرانجام دینے کے لئے کچھ نوجوان سیکرٹریوں )چالیس سال کے اوپر کے مگر زیادہ عمر کے نہ ہوں( مقرر کریں۔ جن کے ہاتھ پائوں میں طاقت ہو۔ اور وہ دوڑنے بھاگنے کا کام آسانی سے کرسکیں۔ تاکہ ان کے کاموں میں سستی اور غفلت کے آثار پیدا نہ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں اگر وہ چالیس سال سے پچپن سال کی عمر تک کے لوگوں پر نظر دوڑاتے تو انہیں ضرور اس عمر کے لوگوں میں سے ایسے لوگ مل جاتے جن کے ہاتھ پائوں بھی ویسے ہی چلتے جیسے ان کے دماغ چلتے ہیں۔ مگر انہوں نے اس طرف توجہ نہ کی اور صرف انہی کو سیکرٹری مقرر کر دیا جن کا نام میں نے ایک دفعہ لیا تھا ۔۔۔۔۔ حالانکہ میں نے وہ نام اس لئے تھے کہ میرے نزدیک وہ اچھا دماغ رکھنے والے تھے۔ ان کی رائے صائب اور سلجھی ہوئی تھی اور وہ مفید مشورہ دینے کی اہلیت رکھتے تھے۔ اس لئے نام نہیں لئے تھے کہ ان میں کام کرنے کی ہمت اور قوت بھی نوجوانوں والی موجود ہے اور وہ دوڑ بھاگ بھی کرسکتے ہیں۔ ان کا کام صرف نگرانی کرنا تھا اور ضروری تھا کہ ان کے ماتحت ایسے نوجوان لگائے جاتے جو دوڑنے بھاگنے کا کام کرسکتے۔ اب بھی اگر وہ اچھا کام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سابق سیکرٹریوں کے ساتھ بعض نوجوان مقرر کردینے چاہئیں۔ چاہے نائب سیکرٹری بناکر یا جائنٹ سیکرٹری بنا کر تاکہ انصار اللہ میں بیداری پیدا ہو اور ان پر غفلت اور جمود کی جو حالت طاری ہوچکی ہے وہ دور ہوجائے۔ ورنہ یاد رکھیں عمر کا تقاصا ایک قدرتی چیز ہے ۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں انصار اللہ پر بہت بری ذمہ داری ہے ۔ وہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں سے گذر رہے ہیں اور یہ آخری حصہ وہ ہوتا ہے جب انسان دنیا کو چھوڑ کر اگلے جہان جانے کی فکر میں ہوتا ہے اور جب کوئی انسان اگلے جہان جارہا ہوتو اس وقت اسے اپنے حساب کی صفائی کا بہت زیادہ خیال ہوتا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ ایسی حالت میں اس دنیا سے کوچ نہ کرجائے کہ اس کا حساب گندہ ہو۔ اس کے اعمال خراب ہوں اور اس کے پاس وہ زادہ راہ نہ ہو جو اگلے جہان میں کام آنے والا ہے۔ جب احمدیت کی غرض یہی ہے کہ بندے اور خدا کا تعلق درست ہوجائے تو ایسی عمر میں اور عمر کے ایسے حصہ میں اس کا جس قدر احساس ایک مومن کو ہونا چاہئے وہ کسی شخص سے مخفی نہیں ہوسکتا۔ نوجوان تو خیال بھی کرسکتے ہیں کہ اگر ہم سے خدمت خلق میں کوتاہی ہوئی تو انصار اللہ اس کام کو ٹھیک کرلیں گے۔ مگر انصار اللہ کس پر انحصار کرسکتے ہیں وہ اگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیں گے اور اگر دین کی محبت اپنے نفوس میں اور پھر تمام دنیا کے قلوب میں پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوں گے وہ اگر احمدیت کی اشاعت کو اپنا اولین مقصد قرار نہ دیں گے اور وہ اگر اس حقیقت سے اغماض کرلیں گے کہ انہوں نے اسلام کو دنیا میں پھر زندہ کرنا ہے۔ تو انصار اللہ کی عمر کے بعد اور کونسی عمر ہے جس میں وہ یہ کام کریں گے۔ انصار اللہ کی عمر کے بعد تو پھر ملک الموت کا زمانہ ہے۔ اور ملک الموت اصلاح کے لئے نہیں آتا بلکہ وہ اس مقام پر کھڑا کرنے کے لئے آتا ہے جب کوئی انسان سزا یا انعام کا مستحق ہوجاتا ہے۔
    پس میں ایک دفعہ پھر انصار اللہ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں ایک دفعہ پہلے بھی میں نے انہیں کہا کہ وہ بھی خدام الاحمدیہ کی طرح سال میں ایک دفعہ خاص طور پر لوگوں کو باہر سے بلوایا کریں تاکہ ان کے ساتھ مل کر اور گفتگو اور بحث وتمحیص کرکے انہیں دوسروں کی مشکلات کا احساس ہو اور وہ پہلے سے زیادہ ترقی کی طرف قدم اٹھاسکیں ۔۔۔۔ مگر اب تک انصار اللہ کا کوئی جلسہ نہیں ہوا ۔۔۔۔ پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کے مخلصین کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔
    یاد رکھو اگر اصلاح جماعت کا سارا دارومدار نظارتوں پر ہی رہا تو جماعت احمدیہ کی زندگی کبھی لمبی نہیں ہوسکتی۔ یہ خدائی قانون ہے جو کبھی بدل نہیں سکتا۔ ایک حصہ سوئے گا اور ایک حصہ جاگے گا۔ ایک حصہ غافل ہوگا اور ایک حصہ ہوشیار ہوگا۔ خداتعالیٰ نے دنیا کو گول بنا کر فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے قانون میں یہ بات خاص ہے کہ دنیا کا ایک حصہ سوئے اور ایک حصہ جاگے۔ یہی نظام اور عوام کے کام کا تسلسل دنیا میں دکھائی دیتا ہے۔ درحقیقت پرتو ہیں تقدیر اور تدبیر کے کبھی عوام سوتے ہیں اور نظام جاگتا ہے اور کبھی نظام سوتا ہے اور عوام جاگتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نظام بھی جاگتا ہے اور عوام بھی جاگتے ہیں اور وہ وقت بڑی بھاری کامیابی اور فتوحات کا ہوتا ہے وہ گھڑیاں جب کسی قوم پر آتی ہیں۔ جب نظام بھی بیدار ہوتا ہے اور عوام بھی بیدار ہوتے ہیں تو وہ اس قوم کے لئے فتح کا زمانہ ہوتا ہے۔ وہ اس قوم کے لئے کامیابی کا زمانہ ہوتا ہے وہ اس قوم کے لئے ترقی کا زمانہ ہوتا ہے وہ شیر کی طرح گرجتی اور سیلاب کی طرح بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ہر روک جو اس کے راستہ میں حائل ہوتی ہے اسے مٹاڈالتی ہے۔ ہر عمارت جو اس کے سامنے آتی ہے اسے گرادیتی ہے۔ ہر |چیز جو اس کے سامنے آتی ہے اسے بکھیر دیتی ہے اور اس طرح وہ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف اس طرف بھی اور اس طرف بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اور دنیا پر اس طرح چھاجاتی ہے کہ کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ مگر پھر ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب نظام سوجاتا ہے اور عوام جاگتے ہیں۔ یا عوام سوجاتے ہیں اور نظام جاگتا ہے۔ اور پھر آخر میں وہ وقت آتا ہے جب نظام بھی سوجاتا ہے اور عوام بھی سوجاتے ہیں۔ تب آسمان سے خداتعالیٰ کا فرشتہ اترتا ہے اور اس قوم کی روح کو قبض کرلیتا ہے یہ قانون ہمارے لئے بھی جاری ہے جاری رہے گا اور کبھی بدل نہیں سکے گا۔ پس اس قانون کو دیکھتے ہوئے ہماری پہلی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ ہمارا نظام بھی بیدار رہے اور ہمارے عوام بھی بیدار رہیں۔ اور درحقیقت یہ زمانہ اسی بات کاتقاضا کرتا ہے خدا کا مسیح ہم میں قریب ترین زمانہ میں گذرا ہے اس لئے اس زمانہ کے مناسب حال ہمارا نظام بھی بیدار ہونا چاہئے۔ اور ہمارے عوام بھی بیدار ہونے چاہئیں۔ مگر چونکہ دنیا میں اضمحلال اور قوتوں کا انکسار انسان کے ساتھ ساتھ لگا ہوا ہے اس لئے عوام کی کوشس یہ ہونی چاہئے کہ وہ نظام کو جگاتے رہیں اور نظام کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہ عوام کو جگاتا رہے تاخدانخواستہ اگر ان دونوں میں سے کوئی سوجائے غافل ہوجائے اور اپنے فرائص کو بھول جائے تو دوسرا اس کی جگہ لے لے اور اس طرح ہم زیادہ سے زیادہ اس دن کو بعید کردیں جب نظام اور عوام دونوں سوجاتے ہیں اور خدائی تقدیر موت کا فیصلہ صادر کردیتی ہے۔ پس دونوں کو اپنے اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ اگر دونوں نہ جاگیں تو کم از کم ایک تو جاگے اور اس طرح وہ دن جو موت کا دن ہے ہم سے زیادہ سے زیادہ دور رہے ۔۔۔۔۔ پس میں اس نصیحت کے ساتھ انصار اللہ کو بھی بیدار کرنا چاہتا ہوں۔ اور خدام الاحمدیہ کو بھی بیدار کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ اگر یہ دونوں یعنی خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ مل کر جماعت میں بیداری پیدا کرنے کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ اگر خدانخوستہ کسی وقت ہمارا نظام سوجائے تو یہ لوگ اس کی بیداری کا باعث بن جائیں گے اور اگریہ خود سوجائیں گے تو نظام ان کو بیدار کرتا رہے گا۔۱۱۳
    مجلس انصار اللہ کا پہلا دستور اساسی
    حضرت امیر المومنین کے اس خطبہ پر عہدیداران مجلس نے پہلاقدم یہ اٹھایا کہ ۲۷ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۲ہش/۱۹۴۳ء کو مجلس کا ایک فوری اجلاس بلایا جس میں حضرت مولانا شیر علی صاحب )صدر مجلس( کے علاوہ حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال` حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب بھی شامل ہوئے۔ صدر مجلس کی درخواست پر قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی شرکت فرمائی۔ اس اجلاس میں انصار اللہ کا پہلا دستور اساسی تیار کیا گیا۔ جس کی منظوری حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے بھی عطا فرمادی اور تحریک فرمایا کہ
    >منظور ہے عمل کیا جائے<۱۱۴
    ‏body] ga[tمجلس انصار اللہ کا یہ پہلا دستور اساسی مجلس کی تاریخ میں چونکہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
    مورخہ ۴۳/۱۰/۲۷ کو مجلس مرکزیہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مندرجہ ذیل ممبران شریک ہوئے شیر علی چودھری فتح محمد صاحب ` مولوی فرزند علی صاحب۔ ان کے علاوہ میری درخواست پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی شریک ہوئے یہ اجلاس خصوصیت سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز گذشتہ جمعہ کے خطبہ کے ارشادات کی بناء پر منعقد کیا گیا جس میں حضور نے انصار اللہ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ان کے کام میں ابھی تک زندگی اور چستی کے آثار مفقود ہیں۔ مشورہ کے بعد مندرجہ ذیل فیصلہ جات ہوئے جنہیں بغرض منظوری حضرت امیر المومنین خلیفتہ الثانیؓ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پیش کیا گیا اور حضور نے منظور فرمالئے۔
    )۱( علاوہ صدر کے آئندہ مجلس مرکزیہ کے چار عہدہ دار ہوں گے اول قائدتبلیغ` دوم قائد تعلیم وتربیت` سوم قائدمال ` چہارم قائد عمومی )سابق نام جنرل سیکرٹری( یہ جملہ عہدہ داران اپنے اپنے کام کے نگران اور ذمہ دار ہوں گے اور انصار اللہ کا سارا حلقہ خواہ وہ قادیان میں ہو یا بیرونجات میں ان کی نگرانی اور قیادت کے ماتحت ہوگا۔
    )۲( مجلس مرکزی میں تین مزید ممبر بغرض مشورہ مقرر ہوا کریں گے ان کے پاس کوئی صیغہ نہیں ہوگا بلکہ وہ صرف مشورہ کی غرض سے مرکزی مجلس میں شریک ہوا کریں گے۔
    )۳( صدربدستور مولوی شیر علی صاحب رہیں گے۔ قائدتبلیغ چوہدری فتح محمد صاحب سیال` قائدتعلیم وتربیت خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب` قائدمال میر محمد اسحاق صاحب ۱۱۵ اور قائد عمومی مولوی عبدالرحیم صاحب درد ہوں گے۔ زائد ممبر فی الحال چوہدری سرمحمدظفر اللہ خاں صاحب` حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور خاں بہادر چوہدری ابوالہاشم خاں صاحب ہوں گے۔ ۱۱۶
    )۴( الف۔ قائد صاحبان کے ساتھ امداد کے لئے مندرجہ ذیل نائب قائد ہوں گے۔
    تبلیغ مولوی ابوالعطاء صاحب
    تعلیم وتربیت مولوی قمر الدین صاحب
    مال مولوی ظہور حسین صاحب
    عمومی مولوی عبدالرحمان صاحب جٹ
    )۵( قادیان شریف کے ہر محلہ میں اوربیرون جات کی ہرجماعت میں انصار اللہ کے نظام کے ماتحت سارے کاموں کی عمومی نگرانی کے لئے ایک ایک مقامی عہدہ دار مقرر ہوگا جس کا نام زعیم انصار اللہ ہوگا۔ اسے مقامی نظام میں وہی حیثیت حاصل ہوگی جو مرکزی نظام میں صدر کو۔
    )۶( اسی طرح قادیان شریف کے ہر محلہ اور بیرونجات کی ہر جماعت میں ہر شعبہ کی علیحدہ علیحدہ نگرانی کے لئے ایک کارکن ہوگا جو اپنے اپنے شعبہ کے کام کا ذمہ دار ہوگا اور مقامی نظام کے زعیم اور مرکزی نظام کے قائد کی نگرانی کے ماتحت کام کرے گا ایسے عہدہ دار مہتمم تبلیغ` مہتمم تعلیم وتربیت ` مہتمم مال ومہتمم عمومی کہلائیں گے۔
    )۷( تمام مہتمم صاحبان کا فرض ہوگا کہ اپنے اپنے کام کے متعلق پندرہ روزہ رپورٹ اپنے اپنے زعیم کی معرفت اپنے اپنے شعبہ کے قائد کے پاس ارسال کریں اور قائد صاحبان کا فرض ہوگا کہ اپنے اپنے شعبہ کی رپورٹ پندرہ روزہ صدر صاحب کے پاس ارسال کریں ۔ جس کا خلاصہ صدر صاحب کی طرف سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں ارسال کیا جائے گا۔
    )ب( ایسی جماعتیں جن کی طرف سے پندرہ روزہ رپورٹ کا آنا غیر ضروری یا دقت طلب ہو۔ ان کے متعلق صدر صاحب کو بمشورہ قائدوزعیم صاحبان مناسب ترمیم یا استثناء کرنے کا اختیار ہوگا۔
    )۸( قادیان میں مرکزی مجلس انصار اللہ کا ایک باقاعدہ دفتر مقرر کیا جائے۔ جس میں جملہ ریکارڈ باقاعدہ طور پر رکھا جائے ہر قائد کو دفتر کے عملہ سے اپنے اپنے شعبہ کے تعلق میں کام لینے کا اختیار ہوگا مگر ویسے انتظامی طور پر عملہ دفتر صدر کی ماتحتی میں سمجھا جائے گا۔
    )۹( قادیان کے ہر محلہ میں مہینہ میں کم از کم انصار اللہ کا ایک مقامی جلسہ منعقد ہونا ضروری ہوگا اور سال کے کسی مناسب حصہ میں سارے انصار اللہ کا ایک مشترکہ جلسہ منعقد کیا جائے گا جس میں بیرونی عہدہ داران ونمائندگان کو شرکت کی دعوت دی جائے اور اس موقعہ پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھی درخواست کی جایا کرے کہ حضور اس موقعہ پر انصار اللہ کو اپنے روح پرور نصائح سے مستفیض ہونے کا موقعہ عطا فرمادیں۔
    )۱۰( جماعت کا ہر فرد جو چالیس سال یا چالیس سے اوپر کا ہے وہ قادیان شریف میں لازمی طور پر انصار اللہ کا رکن سمجھا جائے گا۔ بیرونجات میں مقامی انجمنوں کے عہدہ دار جو اس عمر کے ہوں` وہ بھی لازماً انصا اللہ کے ممبر سمجھے جائیں گے اور باقیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی انصار اللہ کے ممبر بنیں اور ایسی تحریک ہوتی رہنی چاہئے۔
    )۱۱( تمام ممبروں سے کم از کم ایک آنہ ماہوار کے حساب سے چندہ لیا جائے گا جس کا باقاعدہ حساب رکھا جائے گا۔
    )نوٹ( :۔ بیرونی انجمنیں اپنے مقامی چندوں کا ۷۵ فیصدی اپنے پاس رکھ کر اپنے طور پر خرچ کرسکتی ہیں۔ باقی مرکز میں آنا چاہئے۔ لیکن حساب کتاب بہرحال باقاعدہ ہونا چاہئے۔
    )۱۲( اپنے ممبروں کی علمی اور عملی ترقی کے لئے مرکزی نظام انصار اللہ کی طرف سے سال میں ایک دفعہ کتب سلسلہ کا امتحان مقرر کیا جائے گا جو حتیٰ الوسع سب جگہوں پر منعقد ہوا کرے گا اور نتیجہ اخبار میں شائع کیا جایا کرے گا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اول و دوم و سوم نکلنے والوں کو مناسب انعام دیئے جائیں۔
    امتحان کی شرکت کے لئے زیادہ سے زیادہ وسیع پیمانہ پر تحریک کی جائے۔
    )۱۳( جن ممبران انصار اللہ کا کام سال کے دوران میں خصوصیت سے نمایاں ہو۔ انہیں جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ سے مناسب انعام دلوایا جائے تاکہ کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔
    )۱۴( قائد تبلیغ اور جملہ مہتممان تبلیغ کا فرض ہوگا کہ اپنے اپنے حلقہ میں تبلیغ کا بہترین انتظام کریں ۔ کہ ہر انصار اللہ کے ذریعہ جماعت میں سال بھر میں کم از کم ایک کس احمدی پیدا ہو۔ تبلیغ زیادہ تر انفرادی صورت میں کی جائے اور نامناسب بحث مباحثہ کے رنگ سے احتراز کیا جائے۔ اسی طرح قائدومہتممان تعلیم وتربیت کا یہ کام ہوگا کہ وہ جماعت میں اسلام اور احمدیت کی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ وسیع طور پر اور تفصیلی صورت میں جاری کریں اور لوگوں کے اخلاق اور عادات کی نگرانی رکھیں۔ مقامی درسوں اور بڑی عمر کے ناخواندہ اصحاب کی تعلیم کا انتظام بھی مہتمم صاحبان کے سپرد ہوگا۔ قائدو مہتمم صاحب مال کا کام انصار اللہ کے لئے مختلف قسم کے چندہ جات کی وصولی کا انتظام کرنا اور حساب رکھنا ہوگا اور دیگر جملہ قسم کا کام جو کسی دوسرے قائد کے حلقہ کار میں نہیں آتا وہ قائدومہتمم صاحبان عمومی کے حلقہ میں سمجھا جائے گا۔
    )۱۴( ۱۱۷صدر کی ہدایت اور نگرانی کے ماتحت قائد عمومی کے یہ کام بھی ہوں گے۔
    )الف( ایسی ماتحت انجمنان انصار اللہ کا قیام ہو )جو( ۱۱۸ سارے قائدوں کے حلقہ کار سے یکساں تعلق رکھتی ہوں۔
    )ب( قاعدہ نمبر ۹ کے ماتحت انصار اللہ کے ماہوار اور سالانہ جلسوں کا انتظام۔
    )ج( مرکزی دفتر کا چارج۔
    )نوٹ( : مگر ہر وہ کام جو دوسرے قائدوں کے حلقہ کار سے تعلق رکھتا ہو وہ ان قائدوں کے مشورہ سے سرانجام دیا جائے گا اور بصورت اختلاف صدر کا فیصلہ سب کے لئے واجب القبول ہوگا۔
    )۱۵( مرکزی مجلس انصار اللہ اور اس کے عہدہ داروں نیز مقامی مجالس اور مقامی عہدہ داروں کا یہ فرض ہوگا کہ اپنے اپنے حلقہ کار میں صدر انجمن احمدیہ اور اس کے ماتحت مجالس اور اس کے عہدہ داروں اور اسی طرح خدام الاحمدیہ کی مرکزی مجلس اور مقامی مجالس اور عہدہ داروں کے ساتھ پورا پورا تعاون کا طریق اختیار کریں اور ان کے کام سے آگاہ رہنے اور اپنے کام سے ان کو آگاہ رکھنے کی حتیٰ الوسع کوشش کریں۔
    )۱۶( مرکزی اور مقامی نظام ہر دو میں ہر بالا افسر کو ہر ماتحت افسر کاکام پڑتال کرنے اور ہدایات جاری کرنے کا اختیار ہوگا<۔ ۱۱۹
    زعیم اعلیٰ کا عہدہ
    ۲۳ امان/مارچ ۱۳۲۳ہش/۱۹۴۴ء کو فیصلہ کیا گیا کہ اگر کسی بڑی جماعت میں کئی زعما انصار اللہ مقرر ہوں تو وہاں ایک زعیم اعلیٰ کا عہدہ بھی ہونا چاہئے جس کا کام زعماء کے کام کی نگرانی ہو۔
    پہلے آنریری انسپکٹر
    انصار اللہ کا کام چونکہ رفتہ رفتہ بڑھ رہاتھا اس لئے مجلس مرکزیہ کی طرف سے قادیان میں اور حسب ضرورت بیرونی مقامات میں بھی جملہ شعبہ جات کے اعتبار سے اس کا جائزہ لینے اور پڑتال کرنے کے لئے ایک انسپکٹر کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس ہورہی تھی چنانچہ ۴ ہجرت/مئی ۱۳۲۳ہش/۱۹۴۴ء کو شیخ نیاز محمد صاحب پنشنر مجلس کے پہلے آنریری انسپکٹر مقرر کئے گئے۔۱۲۰
    ‏]bsu [tagانصار اللہ کا پہلا عہد
    انصار اللہ کے جلسوں میں کوئی عہد نہیں دہرایا جاتا تھا۔ ۳۰ نبوت/نومبر ۱۳۲۳ہش/۱۹۴۴ء کو مجلس کا ماہانہ جلسہ نماز فجر کے بعد زیر صدارت حضرت مولانا شیر علی صاحب منعقد ہوا جس میں حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد قائد عمومی نے اس طرف توجہ دلائی کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ المصلح موعود نے جلسہ جوبلی پر لوائے احمدیت سے متعلق عہد لیا تھا۔ مجالس انصار اللہ کو چاہئے کہ اپنے اجلاسوں میں اس کو دہرایا کریں۔ اس تجویز کے مطابق اسی اجلاس میں مندرجہ ذیل الفاظ میں یہ عہد دہرایا گیا۔
    >میں اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اسلام اور احمدیت کے قیام اس کی مضبوطی اور س کی اشاعت کے لئے آخر دم تک کوشش کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس امر کے لئے ہر ممکن قربانی پیش کروں گا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے سب دینوں اور سلسلوں پر غالب رہے اور اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ ہو بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اونچا اڑتا رہے۔ اللھم آمین۔ اللھم آمین۔ اللھم آمین۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم<۔
    ‏0] ft[sمجلس انصار اللہ کا پہلا بجٹ
    شروع میں مجلس انصار اللہ کا کوئی بجٹ نہیں بنایا جاتا تھا لیکن اس دوسرے دور میں باقاعدہ بجٹ تیار کیا جانے لگا مجلس مرکزیہ کا پہلا بجٹ ۲ فتح/دسمبر ۱۳۲۳ہش/۱۹۴۴ء کو منظور کیا گیا جس کی تفصیل یہ تھی:۔
    بجٹ آمد ۲۴۔۱۳۲۳ہش/۴۵۔۱۹۴۴ء
    آمد چندہ جات مقامی وبیرونی مجالس
    ۰ ۰ ۲ ۱
    عطیات ازذی ثروت احباب
    ۰ ۰ ۶
    میزان آمد
    ۰ ۰ ۸ ۱
    بجٹ اخراجات
    عملہ][۰ ۲ ۷
    سائر
    ۰ ۸ ۲
    فرنیچر
    ۰ ۶
    اخراجات غیر معمولی طبع فارم ورپورٹ ولیٹر فارم۔ حاضری نماز کی کاپیوں کی طباعت )برائے قادیان( طباعت قوائد وضوابط انصار اللہ۔ مرکزی قائد صاحبان کے لئے مہر تخمینہ اخراجات برموقعہ جلسہ سالانہ۔
    ۵ ۷ ۴
    میزان کل اخراجات
    ۵ ۳ ۵ ۱
    انصار اللہ کا پہلا سالانہ اجتماع اور حضرت امیر المومنین کی تقریر
    انصار اللہ مرکزیہ کے ماہانہ اجلاس تو اکثر ہوتے رہتے تھے مگر قادیان اور بیرونی مقامات کے انصار میں کام کی اجتماعی روح پیدا کرنے
    کے لئے کوئی سالانہ اجتماع منعقد نہیں ہوتا تھا۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے اپنے خطبہ جمعہ )۲۲ اخاء/اکتوبر ۱۳۲۲ہش/۱۹۴۳ء میں خاص توجہ دلائی تھی چنانچہ حضور کے منشاء مبارک کی تعمیل میں اس سال ۲۵ فتح/دسمبر ۱۳۲۳ہش/۱۹۴۴ء کو مسجد اقصیٰ قادیان میں ۴ بجے بعد نماز ظہر پہلا سالانہ اجتماع منعقد ہوا جس کا افتتاح حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے فرمایا اور ایک مختصر مگر ایمان افروز خطاب فرمایا جو درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    >سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعدفرمایا:۔
    میں صرف مجلس انصار اللہ کی خواہش کے مطابق اس جلسہ کے افتتاح کے لئے آیا ہوں اور صرف چند کلمات کہہ کر دعا سے اس جلسہ کا افتتاح کرکے واپس چلا جائوں گا۔ انصار اللہ کی مجلس کے قیام کو کئی سال گذر چکے ہیں۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اب تک اس مجلس میں زندگی کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔ زندگی کے آثار پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اول تنظیم کامل ہوجائے۔ دوسرے متواتر حرکت عمل پیدا ہوجائے اور تیسرے اس کے کوئی اچھے نتائج نکلنے شروع ہوجائیں۔ میں ان تینوں باتوں میں مجلس انصار اللہ کو ابھی بہت پیچھے پاتا ہوں۔ انصار اللہ کی تنظیم ابھی ساری جماعتوں میں نہیں ہوئی حرکت عمل ابھی ان میں پیدا ہوتی نظر نہیں آتی۔ نتیجہ تو عرصہ کے بعد نظر آنے والی چیز ہے مگر کسی اعلیٰ درجہ کے نتیجہ کی امید تو ہوتی ہے۔ اور کم از کم اس نتیجہ کے آثار کا ظہور تو شروع ہوجاتا ہے مگر یہاں وہ امید اور آثار بھی نظر نہیں آتے۔ غالباً مجلس انصار اللہ کا یہ پہلا سالانہ اجتماع ہے میں امید کرتا ہوں کہ اس اجتماع میں وہ ان کاموں کی بنیاد قائم کرنیکی کوشس کریں گے اور قادیان کی مجلس انصار اللہ بھی اور بیرونی مجالس بھی اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کریں گی کہ بغیر کامل ہوشیاری اور کامل بیداری کے کبھی قومی زندگی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اور ہمسایہ کی اصلاح میں ہی انسان کی اپنی اصلاح بھی ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ اس کے ہمسایہ کا اثر اس پر پڑتا ہے نہ صرف انسان بلکہ دنیا کی ہر ایک چیز اپنے پاس کی چیز سے متاثر ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ پاس پاس کی چیزیں ایک دوسرے کے اثر قبول کرتی ہیں۔ بلکہ سائنس کی موجودہ تحقیق سے تویہاں تک پتہ چلتا ہے کہ جانوروں اور پرندوں وغیرہ کے رنگ ان پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں مچھلیاں پانی میں رہتی ہیں` اس لئے ان کا رنگ پانی کی وجہ سے اور سورج کی شعاعوں کی وجہ سے جو پانی پر پڑتی ہیں سفید اور چمکیلا ہوگیا۔ مینڈک کناروں پر رہتے ہیں اس لئے ان کا رنگ کناروں کی سبز سبز گھاس کی وجہ سے سبزی مائل ہوگیا ریتلے علاقوں میں رہنے والے جانور مٹیالا رنگ کے ہوتے ہیں۔ سبز سبز درختوں پر بسیرا رکھنے والے طوطے سبز رنگ کے ہوگئے جنگلوں اور سوکھی ہوئی جھاڑیوں میں رہنے والے تیتروں وغیرہ کا رنگ سوکھی ہوئی جھاڑیوں کی طرح ہوگیا۔ غرض پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے اور ان کے اثرات قبول کرنے کی وجہ سیے پرندوں کے رنگ بھی اسی قسم کے ہوجاتے ہی۔ پس اگر جانوروں اور پرندوں کے رنگ پاس پاس کی چیزوں کی وجہ سے بدل جاتے ہیں۔ حالانکہ ان میں دماغی قابلیت نہیں ہوتی تو انسان کے رنگ جن میں دماغی قابلیت بھی ہوتی ہے پاس کے لوگوں کو کیوں نہیں بدل سکتے۔ خدا تعالیٰ نے اسی لئے قرآن مجید میں فرمایاہے کہ کونوا مع الصادقین یعنی اگر تم اپنے اندر تقویٰ کا رنگ پیدا کرنا چاہتے ہو تو اس کا گر یہی ہے کہ صادقوں کی مجلس اختیار کرو تاکہ تمہارے اندر بھی تقویٰ کا وہی رنگ تمہارے نیک ہمسایہ کے اثر کے ماتحت پیدا ہوجائے جو اس میں پایا جاتا ہے۔
    پس جماعت کی تنظیم اور جماعت کے اندر دینی روح کے قیام اور اس روح کو زندہ رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اصلاح کی کوشش کرے کیونکہ ہمسایہ کی اصلاح میں اس کی اپنی اصلاح ہے ہر شخص جو اپنے آپ کو اس سے مستغنی سمجھتا ہے وہ اپنی روحانی ترقی کے راستہ میں خود روک بنتا ہے۔ بڑے سے بڑا انسان بھی مزید روحانی ترقی کا محتاج ہوتا ہے رسول کریم ~صل۱~ آخر دم تک اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم کی دعا کرتے رہے۔ پس اگر خدا کاوہ نبی جو پہلوں اور پچھلوں کا سردار ہے جس ی روحانیت کے معیار کے مطابق نہ کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہوگا اور جس نے خداتعالیٰ کا ایسا قرب حاصل کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی اور نہ مل سکتی ہے۔ اگر وہ بھی مدارج پرمدارج حاصل کرنے کے بعد پھر مزید روحانی ترقی کا محتاج ہے اور روزانہ خداتعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوکر اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم body] ga[t کہتا ہے اکیلا نہیں بلکہ ساتھیوں کو ساتھ لے کر کہتا ہے تو آج کون ایسا انسان ہوسکتا ہے جو خداتعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوکر اھدناالصراط المستقیم کہنے سے اور جماعت میں کھڑے ہوکر کہنے سے اپنے آپ کو مستغنی قرار دے۔ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے مستغنی قرار دیتا ہے تو وہ اپنے لئے ایک ایسا مقام تجویز کرتا ہے جو مقام خداتعالیٰ نے کسی انسان کے لئے تجویز نہیں کیا۔ پس جو شخص اپنے لئے ایسا مقام تجویز کرتا ہے وہ ضرور ٹھوکر کھائے گا۔ کیونکہ اس قسم کا استغناء عزت نہیں بلکہ ذلت ہے ایمان کی علامت نہیں بلکہ وہ شخص کفر کے دروازے کی طرف بھاگا جارہا ہے۔
    پس تنظیم کے لئے صروی ہے کہ اپنے متعلقات اور اپنے گردوپیش کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اس سے انسان کی اپنی اصلاح ہوتی ہے۔ اس سے قوم میں زندگی پیدا ہوتی ہے۔ اور کامیابی کا یہی واحد ذریعہ ہے۔
    دعائیں بھی وہی قبول ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت کی جائیں۔ خداتعالیٰ نے ہمارے دعا مانگنے کے لئے اھدنا الصراط المستقیم میں جمع کا صیغہ رکھ کر ہمیں بتادیا ہے کہ اگر تم روحانی طور پر زندہ رہنا اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہوتو تمہارے لئے صرف اپنی اصلاح کرلینا ہی کافی نہیں بلکہ اپنے گردوپیش کی اصلاح کرنا اور مجموعی طور پر اس کے لئے کوشش کرنا اور مل کر خدا سے دعا مانگنا ضروری ہے۔ چنانچہ اسی غرض کے لئے میں نے مجلس انصار اللہ لجنہ اماء اللہ مجلس خدام الاحمدیہ اور مجلس اطفال قائم کی ہیں۔ پس میں امید کرتا ہوں کہ مجلس انصار اللہ مرکزیہ اس اجتماع کے بعد اپنے کام کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ کر پوری تندہی اور محنت کے ساتھ ہرجگہ مجالس انصار اللہ قائم کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ ان کی اصلاحی کوششیں صرف اپنے تک ہی محدود نہ ہوں بلکہ گرد وپیش کی اصلاح کے لئے بھی ہوں اور ان کی کوششیں دریا کی طرح بڑھتی چلی جائیں اور دنیا کے کونے کونے کو سیراب کردیں۔
    اب میں دعا کے ذریعہ جلسہ کا افتتاح کرتا ہوں خدا کرے مجلس انصار اللہ کا آج کا اجتماع اور آج کی کوششیں بیج کے طور پر ہوں جن سے آگے خداتعالیٰ ہزاروں گنا اور بیج پیدا کرے اور پھر وہ بیج آگے دوسرے فصلوں کے لئے بیج کا کام دیں یہاں تک کہ خداتعالیٰ کی روحانی بادشاہت اسی طرح دنیا پر قائم ہوجائے جس طرح کہ اس کی مادی بادشاہت دنیا پر قائم ہے۔ آمین<۱۲۱
    پہلے اجتماع کے دوسرے مقررین
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے مندرجہ بالا افتتاحی خطاب کے بعد دعا فرمائی اور تشریف لے گئے اوراجتماع کی بقیہ کارروائی حضرت مولوی شیر علی صاحب کی صدارت میں شروع ہوئی اور مندرجہ ذیل انصار نے تقریریں فرمائیں۔
    ۱۔ آنریبل چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب
    )پابندی نظام(
    ۲۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب
    )انصاراللہ کے فرائض(
    ۳۔ حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب۔
    ‏col4] gat)[تعلیم وتربیت(
    ۴۔ جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لاہور۔
    )اطاعت(
    ۵۔ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔
    )قربانی اور تقویٰ(
    ۶۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب۔
    )تحریک برائے تعمیر دفتر مرکزیہ ونشرواشاعت(
    حضرت شاہ صاحب کی تحریک پر کچھ رقم چندہ کی جمع ہوئی۔ زاں بعد یہ پہلا اجتماع دعا کے ساتھ ساڑھے چھ بجے شام برخاست ہوا۔۱۲۲
    دور ثانی کے بعد متفرق کوائف
    اس مقام پر مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی ابتدائی تاریخ کے بعض متفرق کوائف درج کرنا خالی ازفائدہ نہ ہوگا۔
    اول ۔ اس دور کے ابتدائی سالوں میںمجلس مشاورت کے لئے مندرجہ ذیل انصار نے مجلس کی نمائندگی کے فرائض انجام دیئے۔
    ۱۔ میاں محمد شریف صاحب ای۔ اے۔ سی۔ ۱۲۳
    ۲۔ شیخ نیاز محمد صاحب )انسپکٹر پولیس(۱۲۴
    ۳۔ مرزا برکت علی صاحب ۱۲۵
    ۴۔ ماسٹر خیر الدین صاحب ۱۲۶
    دوم۔ ۲۳ شہادت/اپریل ۱۳۲۴ہش/۱۹۴۵ء کو مندرجہ ذیل فیصلے ہوئے۔
    )۱( قائدین اور نائب قائدین باری باری ہر دو ماہ میں ایک دفعہ محاسبہ اور تحریک کی غرض سے مختلف محلوں کا دورہ کیا کریں۔
    )۲( مرکزی اجلاس مہینہ میں کم از کم ایک بار ضرور منعقد ہوا کرے۔ اگر کوئی قائد کسی مجبوری کی وجہ سے خود نہ آسکیں تو استثنائی حالات میں نائب قائدان کی جگہ بطور قائم مقام شامل ہوں تا اجلاس ملتوی نہ ہوتے رہیں۔
    )۳( مقامی اور بیرونی زعماء مجالس میں سے بہترین کام کرنے والے کو حسن کارکردگی کا سرٹیفکیٹ صدر اور قائد متعلقہ کے دستخطوں سے ہر سال سالانہ جلسہ کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ المصلح الموعود کے دست مبارک سے دلایا جایا کرے۔
    زعماء اور عہدیداران مجالس انصار اللہ کا انتخاب سالانہ ہوا کرے۔
    بیرونی مجالس انصار اللہ سے 1~/~4 کی بجائے 1~/~2 شرح سے وصول شدہ چندہ کی رقم مرکز میں بھجوائی جایا کرے مجلس کے حساب کی پڑتال کے لئے فی الحال ملک نادر خاں صاحب کو آڈیٹر مقرر کیا جائے۔ ۱۲۷
    سوم۔ فتح/دسمبر ۱۳۲۴ہش/۱۹۴۵ء تک صرف ۲۴۸ بیرونی مجالس کا قیام عمل میں آیا جن میں سے ۱۲۵ شہری اور ۱۲۳ دیہاتی تھیں۔ ۱۲۸
    ‏tav.8.5
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر )جلد سوم( تک
    مجلس انصار اللہ کا دوسرا سالانہ اجتماع
    مجلس انصار اللہ کا دوسرا سالانہ اجتماع ۲۵ فتح/دسمبر ۱۳۲۴ہش/۱۹۴۵ء کو مسجد اقصیٰ میں زیر صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ناظردعوۃ وتبلیغ منعقد ہوا۔ ۱۲۹ تلاوت ونظم کے بعد مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نائب قائد تبلیغ نے تبلیغ کی اہمیت کے متعلق آنریبل چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے انصار اللہ کے فرائض پر نواب اکبر یار جنگ بہادر حیدر آباد دکن نے انصار اللہ اور توسیع تعلیم کے عنوان پر مولوی قمر الدین صاحب مولوی فاضل نے انصار اللہ اور قیام اسلام و احمدیت پر اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر نے تبلیغ وتربیت کے موضوع پر تقریریں کیں۔ اجتماع میں حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد قائد عمومی مجلس انصار اللہ نے مجلس کی مساعی کی عمومی رپورٹ اور حضرت سید زین العابدین ولی الل¶ہ شاہ صاحب قائد مال نے اخراجات سے متعلق رپورٹ پیش فرمائی۔ چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا >انصار اللہ کے نام ایک پیغام < کے عنوان سے ایک نہایت ہی مفید اور دلچسپ مقالہ پڑھ کر سنایا۔ آخر میں حضرت صاحبزادہ مرزاشریف صاحب نے بعض مفید نصائح فرمائیں اور دعا پر اجتماع کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔۱۳۰
    مجلس انصار اللہ کا تیسرا دور
    ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء میں ملک بدنظمی اور فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ اور ساتھ ہی مجلس انصار الل¶ہ کے دو سرگرم قائدحضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو بھارتی حکومت نے گرفتار کرلیا اور وہ کئی ماہ تک نظر بند رکھے گئے۔ اس دوران میں مجلس انصار اللہ کے پہلے صدر حضرت مولانا شیر علی صاحب جو مشرقی پنجاب اور قادیان کی کثیر احمدی آبادی کے ساتھ ہجرت کرکے لاہور آگئے تھے۔ ۱۳ نبوت/نومبر ۱۳۲۶ہش/۱۹۴۷ء کو رحلت فرماگئے جس کے بعد برصغیر میں پیدا شدہ حالات کے باعث مجلس انصار اللہ کی تنظیم بھی کچھ عرصہ تک بالکل معطل رہی حضرت چوہدری فتح محمد صاحب شہادت/اپریل ۱۳۲۷ہش/۱۹۴۸ء میں رہا ہو کر پاکستان پہنچے تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان کو مجلس کا صدر مقرر فرمایا اور نظارت علیا کے ایک کمرہ میں انصار اللہ کا عارضی دفتر بنایا گیا۔
    نبوت/نومبر ۱۳۲۹ہش/۱۹۵۰ء میں حضرت امیر المومنین نے چوہدری صاحب کی بجائے حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلیٰ کو صدر مقرر فرمایا۔ علاوہ ازیں اس کی مجلس عاملہ میں کچھ اور بھی تبدیلیاں کی گئیں مثلاً حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل جٹ ۱۳۱ کی بجائے چودھری ظہور احمد صاحب آڈیٹر نائب قائد عمومی مقرر کئے گئے اسی طرح مولانا ابوالعطاء صاحب چودھری فتح محمد صاحب سیال کی جگہ قائد تبلیغ )بعدازاں قائد رشدو اصلاح( اور نائب قائد تبلیغ مولوی احمد خاں صاحب نسیم بنائے گئے۔
    مجلس انصار اللہ کی تنظیم کا چوتھا سنہری دور
    حضرت میاں عزیز احمد صاحب چار برس تک صدر مجلس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ بالاخر نبوت/نومبر ۱۳۳۳ہش/۱۹۵۴ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس اہم مجلس کی عنان قیادت صاحبزادہ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کو سپرد فرمائی اور مجلس کی نشاۃ ثانیہ کا ایک سنہری دور شروع ہوا جس سے نہ صرف زندگی کی زبردست روح پھونکی گئی بلکہ اس کے اندر روحانی واخلاقی اعتبار سے ایک عظیم انقلاب کے آثار نمایاں ہوگئے اور یہ جلد جلد ترقی کی منازل طے کرنے لگی۔
    اس اہم دور کی بہت سی خصوصیات ہیں جن میں سے بطور نمونہ چند کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔
    ۱۔
    انصار اللہ مرکزیہ کے روح پرور سالانہ اجتماعات کا آغاز ہوا جن سے نہ صرف انصار اللہ میں بلکہ جماعت کے دوسرے طبقات میں بھی تربیت ` تزکیہ نفس اور نظام خلافت سے وابستگی کے لئے ایک مثالی ماحول میسر آیا۔
    ۲۔
    مجلس کی تنظیم مضبوط اور فعال صورت اختیار کرگئی۔ انصار اللہ کا ضلع وار نظام قائم کیا گیا۔
    ۳۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے امتحانات کا بابرکت سلسلہ جاری ہوا۔
    ۴۔
    دستور اساسی کی ازسر نو تدوین ہوئی۔
    ۵۔
    مجلس کا مستقل دفتر تعمیر ہوا۔
    ۶۔
    مستعد مجالس کو علم انعامی دیا جانے لگا۔
    ۷۔
    مجلس مرکزیہ نے قابل قدر لٹریچر شائع کیا۔
    ۸۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد صحابہ کرام کے حالات اور ان کی روایات ان کی آواز میں ریکارڈ کی گئیں۔
    ۹۔
    >انصار اللہ< ہی کے نام سے مجلس کا ایک بلند پایہ علمی وتربیتی ماہنامہ اور مرکزی ترجمان جاری گیا گیا۔ مگر اس عہد زریں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے انصار اللہ کی تنظیم جن بنیادوں پر رکھی تھی اس دور میں ٹھیک ٹھیک انہیں بنیادوں پر یہ ازسر نو قائم اور مستحکم ہوئی اور ہورہی ہے جس کی پوری تفصیلات انشاء اللہ اپنے مقام پر آئیں گی۔
    حضرت امیر المومنین سے اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ اور سٹیٹسمین کے نامہ نگاروں کی ملاقات
    مجلس انصار اللہ کی تحریک پر تفصیلی روشنی ڈالنے کے بعد اب ہم دوبارہ ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کے بقیہ واقعات کی طرف آتے ہیں حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی کی وصیت کے شائع
    ہونے کے بعد لاہور کے مشہور نیم سرکاری انگریزی روزنامہ >سول اینڈ ملٹری گزٹ< کے تین نمائندے )مسٹر ایچ۔ آر وہرہ` مسٹر اوم پرکاش کھوسلہ اور ملک محمد یوسف صاحب( بذریعہ کار قادیان آئے اور چھ بجے شام سے قریباً ساڑھے نوبجے تک نماز مغرب کا وقت نکال کر( حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے ملاقات کی۔۱۳۲
    اس طویل ملاقات کے تاثرات ومشاہدات اخبار>سول اینڈ ملٹری گزٹ کی یکم ستمبر ۱۹۴۰ء کی اشاعت میں >لاہور ڈائری< کے مستقل کالم کے تحت >مغل خلیفہ سے ملاقات ` خاندان قادیان کی تاریخ ` خوابیں اور پیشگوئیاں< کے عنوان سے شائع ہوئے۔
    اخبار کے نامہ نگار نے اپنے تاثرات میں اگرچہ تعصب` سنگدلی اور بیجا قیاس آرائی اور رنگ آمیزی کا خوب مظاہرہ کیا۔ مگر بعض باتیں غیر شعوری طور پر اس کے قلم سے ایسی بھی نکل گئیں جن سے اس اہم ملاقات کے بعض گوشے کسی حد تک اپنی اصلی صورت میں نمایاں ہوگئے مثلاً اس نے لکھا۔ ۱۳۳
    >خلیفہ صاحب سے میری ملاقات تین گھنٹے تک رہی۔ اس دوران میں شام کی نماز کا وقفہ بھی پڑا۔ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے مجھے ان کے حضور میں پہنچایا۔ اس نے سیڑھیوں پر سے بلند آواز کے ساتھ السلام علیکم کہہ کر میری آمد کی اطلاع دی جس کا پرتپاک جواب خلیفہ صاحب کی طرف سے وعلیکم السلام کی صورت میں آیا۔ خلیفہ صاحب کی دلکش آواز ایک اشارہ تھی کہ ہم چلے آئیں<۔
    >میں ایک طویل برآمدہ میں داخل ہوا۔ جس میں ایک درجن کے قریب کرسیاں پڑی تھیں۔ خلیفہ صاحب نے اٹھ کر میرا استقبال کیا اور بہت جلد نہایت دلچسپ انٹر ویو شروع ہوگیا۔ گو ماحول غیر دلکش تھا۔ برآمدہ تنگ اور بہت لمبا تھا جسے چلمنوں نے دنیا کی نظروں سے چھپایا ہوا تھا۔ اس پرانی طرز کی عمارت میں ملاقات میرے لئے ایک معمہ ہی رہی۔ میں متوقع تھا کہ ملاقات کسی پرتکلف کمرہ میں کی جائے گی جس میں ایرانی قالین بچھے ہوئے ہوں گے۔<
    >جونہی کہ میں خلیفہ صاحب کے مقابل پر بیٹھا تو محویت سے اس انسان کی شکل وصورت دیکھنے لگا جسے دعویٰ ہے کہ اسے تعلق باللہ حاصل ہے۔ میرا پہلا تاثر یہ تھاکہ خلیفہ صاحب ہندوستانی نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں کی بناوٹ سے یوں معلوم دیتا تھا کہ وہ وسط ایشیاء کے رہنے والے ہیں۔ ان کی لمبی ۔۔۔۔ داڑھی میں ابھرے ہوئے رخساروں سے معلوم کیا جاسکتا ہے عجیب طرز کی آنکھیں اور خواب آلود وضع ۔۔۔ سے بخوبی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ایشیا کے کسی عالی خاندان کا خون ان کی رگوں میں گردش کررہا ہے۔ ۱۳۴
    >سول اینڈ ملٹری گزٹ< کے علاوہ ہندوستان کے مشہور انگریزی روزنامہ >سٹیٹس مین< کے بھی ایک نامہ نگار قادیان میں آئے اور حضور سے ملاقات کی جو تاثرات وہ لے کرگئے ان کی نسبت اس نے سٹیٹس مین مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۴۰ء میں اپنے الفاظ اور اپنے رنگ میں ایک بیان شائع کیا۔ جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی وصیت` جماعت کے صدقہ وخیرات وغیرہ دینے اور بعض دیگر امور کا بھی تذکرہ تھا۔ ۱۳۵
    ضلع کانگڑہ میں تبلیغ اسلام کی خاص مہم
    علاقہ کانگڑہ کے اچھوت اگرچہ آریہ سماج نے ہندو بنالئے تھے مگر راجپوت زمیندار ان کو اپنے چشموں سے پانی نہیں بھرنے دیتے تھے اچھوتوں نے اس ظلم سے تنگ آکر جلسے کئے اور اعلان کیا کہ وہ پچاس ہزار کی تعداد میں مسلمان ہوجائیں گے اس پر چوٹی کے آریہ اور ہندو لیڈر راجہ نریندر ناتھ اور سرگوکل چندنارنگ کانگڑہ پہنچے اور اچھوتوں کو چشموں سے پانی بھرنے کی جبراً اجازت دلوادی مگر ہندوئوں نے پھر بائیکاٹ کردیا اور پانی لینے کی اجازت نہ دی۔ جس پر اخبارات میں شور اٹھا اور مقدمات شروع ہوگئے۔ یہ صورت حال دیکھ کر مسلمانوں کی مختلف انجمنوں نے نمائندے بھیجے۔ مرکز احمدیت کی طرف سے تبوک/ستمبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء میں مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل )سابق یوگندرپال( اور شیخ محمد سلیم صاحب نو مسلم وہاں بھجوائے گئے۔ دوسری انجمنوں کے علماء تو سب واپس آگئے مگر مہاشہ صاحب نے زیادہ عرصہ تک قیام کی اور اچھوتوں میں آزادی کی سپرٹ قائم رکھنے کے علاوہ مسلمانوں کی حفاظت کا کام بھی کرتے رہے اور ان کے حوصلے اس بروقت امداد سے بلند ہوگئے۔ ۱۳۶
    صدر انجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق مہاشہ صاحب فتح/دسمبر ۱۳۲۰ہش/۱۹۴۱ء تک کانگڑہ کے دیہات کا دورہ کرکے اچھوتوں کو پیغام اسلام پہنچاتے رہے ]10 [p۱۳۷ مہاشہ صاحب کی کوششوں سے بعض لوگ اسلام لانے پر بھی آمادہ ہوگئے تھے۔
    ایک احمدی نوجوان کی امریکہ میں شہرت
    مہتہ عبدالخالق صاحب ۱۳۸ )ابن حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی( متحدہ ہندوستان کے پہلے مسلمان تھے جنہیں حکومت ہند نے ۱۹۳۹ء میں تیل اور گیس کی اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کے لئے امریکہ بھجوانے کا فیصلہ کیا۔
    مہتہ صاحب نے امریکہ ٹیکساس ٹیکنیکل کالج سے ۱۹۴۲ء میں معدنیاتی سائنس]ydob [tag Geology کی اعلیٰ ڈگری امتیازی حیثیت سے حاصل کی اور پھر امریکہ میں ہی مختلف کمپنیوں سے منسلک ہوکر تیل اور گیس کی تفتیش اور کھدائی سے متعلق تجربات کئے اور بھاری مشینری کے ذریعہ تیل اور گیس کی ڈرلنگ کا محنت طلب فن سیکھا۔ ۱۹۴۵ء میں آپ واپس ہندوستان آئے۔
    ٹیکساس (Texas) میں حصول تعلیم کے دوران مشہور امریکی اخبار دی آسٹن سٹیٹس مین نے آپ کی تصویر اور حالات شائع کئے جس سے آپ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ اس سلسلہ میں اخبار >الفضل< قادیان نے ۴ جنوری ۱۹۴۱ء کو لکھا۔
    >مہتہ عبدالخالق صاحب قادیانی بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے قابل قدر فرزند ہیں آپ پنجاب گورنمنٹ سے سکالرشپ لے کر امریکہ پٹرول انجنئری کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ یہ نوجوان اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہونہار ہیں۔ جب تک ہندوستان میں رہے اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جہاں بھی تعلیم کے سلسلہ میں انہیں رہنا پڑا اپنی تندہی اور کام کے شوق کے باعث امتیاز حاصل کرتے رہے۔ اور اب امریکہ میں بھی بفضلہ تعالیٰ اس احمدی نوجوان کی شہرت اور عزت بڑھ رہی ہے۔ پہلے وہ کولو ریڈیو اسکول آف مائینس میں تعلیم پاتے تھے اب (Texas) ٹیکساسس یونیورسٹی آسٹن کے طالب علم ہیں۔ >دی آسٹن سٹیسمین< مورخہ ۱۸۔ ستمبر ۱۹۴۰ء میں ان کا بڑا فوٹو دے کر ان کے تفصیلی حالات چھپے ہیں اور ان کے قدوقامت و رنگ کی تصریح کرکے لکھا ہے کہ لوگ اس کو نازی نہ سمجھ لیں۔ یہ ایک ہندوستانی نوجوان ہے جو (Texas) ٹیکساس یونیورسٹی میں گورنمنٹ سکالر شپ لے کر پڑھنے آیا ہے یہ اشاعت سائکل ریس میں اول آنے پر کی گئی ہے۔ ان کے حلیہ کے بیان کے ساتھ ان کی سائیکل کا نقشہ بھی دیا ہے۔ یہ انعام انہوں نے ہزاروں کے مجمع میں ایسی آسانی سے جیتا ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ یہ مقابلہ تو بلی اور چوہوں کا مقابلہ ہے۔ لوگ ان کی اس فوقیت پر حیرت زدہ ہوئے اور جوق در جوق ان کو زیادہ قریب سے دیکھنے آتے رہے۔ اخبار نے ان کے پچھلے کارہائے نمایاں کابھی ذکر کیا جس میں سب کالجوں کا نام آیا جہاں وہ پڑھتے رہے اور عراق فلسطین مصر کے سفر کا بھی ذکر کیا جہاں وہ سائیکل ٹور کے لئے گئے تھے۔ لیکن احمدی جماعت کے لئے خوشی کی بات یہ ہے کہ اس نوجوان نے دور دراز اور بالکل اجنبی ملک میں ورزشی انعام لیتے ہوئے بھی اپنے احمدی ہونے کو ¶نمایاں کرنے میں ذرا بھی تامل نہ کیا۔ بلکہ شوق سے اپنے عقیدہ اور قادیان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ذکر کو وہاں بھی بلند کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ آگے چل کر یہی اخبار لکھتا ہے کہ >نوجوان مہتہ جن کی عمر اس وقت ۲۲ سال ہے۔ قادیان صوبہ پنجاب کے رہنے والے ہیں۔ یہ مقام مذہب اسلام میں بہت بڑی شہرت رکھتا ہے۔ کیونکہ انیسویں صدی عیسوی میں وہاں مسیح موعود نے اپنے دعویٰ کا اعلان کرکے عظیم الشان سلسلہ احمدیہ کو قائم کیا۔ مہتہ عبدالخالق بھی انہیں کے مریدوں میں ہیں۔ ان کے والد صاحب اس وقت زندہ ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے صحابی ہیں۔ اس جماعت کے ممبران حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں حضرت مسیح کی آمدثانی یقین کرتے ہیں<۔
    >مسٹر مہتہ کہتے ہیں کہ اس ملک )یعنی امریکہ( کے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان )حضرت( محمد ~صل۱~کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ غلط ہے ہم خدا کو ایک مانتے ہیں اور اس کے تمام نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس ملک )امریکہ( میں احمدیہ جماعت کا صدر مقام شکاگو ہے<۔
    )الفضل ۶۔ جنوری ۱۹۴۱ء صفحہ ۶(
    جناب مہتہ صاحب نے ٹیکساس ٹیکنالوجیکل کالج کے اساتذہ سے سند خوشنودی حاصل کی ایک شعبہ جاتی نوٹ میں یہ تسلیم کیا گیا کہ:۔
    ‏independent, original, an as abilllity superior showed He) of" agrasp showing facts, geologicall of interpreter and thinker careful a in with met usually not thinking of lucidty and suchwork"principles doing student
    ‏Rawalpindi) ۔1987 ۔15 Octorber point, (view
    یعنی انہوں نے ایک جدت پسند ` خودمختار اور محتاط مفکر اور علم ارضیات کے ترجمان کی حیثیت سے اعلیٰ درجہ کی قابلیت اور اہلیت ظاہر کی۔ انہیں اصولوں پر ایسی گرفت اور سوچ کا ایسا واضح اور روشن انداز حاصل تھا جو ان کے سوا اس کام سے وابستہ دیگر طلبہ میں عموماً نہیں پایا جاتا تھا۔
    )فصل پنجم(
    کمال یار جنگ ایجوکیشن کمیٹی کا وفد قادیان میں
    کلکتہ میں نواب کمال یار جنگ بہادر کی صدارت میں ایک آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس منعقد ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک کمیشن مقرر کیا جائے جو یہ رپورٹ پیش کرے کہ مسلمانوں کی تعلیمی اصلاح کس طرح ہوسکتی ہے؟ بعد ازاں تبلیغ/ فروری ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء میں فیصلہ کیا گیا کہ ہندوستان کے مسلم اداروں کا معائنہ کرکے مفصل کوائف مرتب کئے جائیں۱۳۹ اور اس غرض کے لئے ایک تعلیمی کمیٹی مقرر کردی گئی جس کے ارکان حسب ذیل تھے۔
    ۱۔
    سرعزیز الحق صاحب سپیکر بنگال لیجسلیٹو اسمبلی وائس چانسلر کلکتہ یونیورسٹی )صدر(
    ۲۔
    مولوی حاجی ابوالحسن صاحب ایم اے` آئی ای ایس ریٹائرڈ سابق ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن ریاست کشمیر
    ۳۔
    مولوی کے۔ علی افضل صاحب بی ایس سی )ایڈنبرا( بارایٹ لاء سیکرٹری بنگال لیجسلیٹو اسمبلی۔
    ۴۔
    مسٹر بقا محمد خاں چیف انسپکٹر آف سکولز بہاولپور سٹیٹ
    ۵۔
    مولوی اسدالحق صاحب ایم۔ اے پرسنل اسسٹنٹ ٹو وی چیئر مین۔ ۱۴۰
    فیصلہ کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے تین ماہ تک جنوبی ہند کے مسلم اداروں کا اس نقطہ نگاہ سے معائنہ کیاکہ مختلف مدرسوں میں دینیات اوراسلام کی تعلیم کس طریق پر دی جارہی ہے۔ ۲۲ تبوک/ستمبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو یہ تعلیمی وفد دو ماہ کے لئے شمالی ہند میں آیا جہاں صوبہ کے مختلف اسلامی مدارس کا دورہ کرنے کے بعد ۲۳ اخاء/اکتوبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو ساڑھے آٹھ بجے شب کی گاڑی سے قادیان پہنچا۔ ۱۴۱
    ارکان کمیٹی نے قادیان میں اپنے مختصر قیام کے دوران نہ صرف مرکزی درسگاہوں کا قریب سے مطالعہ کیا بلکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ملاقات کا شرف بھی حاصل کیا اور بہت متاثر ہوئے چنانچہ خان بہادر مولوی عزیز الحق صاحب صدر کمیٹی نے مولوی حاجی ابوالحسن صاحب ایم اے کی موجودگی میں نمائندہ >الفضل< )ماسٹر محمد ابراہیم صاحب بی اے( کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے مقصد میں بہت کامیابی ہوئی ہے ہم نے جماعت احمدیہ کے طریق عمل اور طریقہ تعلیم کا مطالعہ کیا ہے۔ بہت سے دوستوں سے گفتگو کرکے اس کے خیالات کو سنا ہے۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے خیالات سے ہماریے خیالات کو بہت مدد ملی ہے۔ ہم نے قادیان میں بہت کچھ دیکھا اور بہت کچھ سنا۔ اور اس کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہم قدر اور تعریف کے جذبات سے لبریز ہیں۔
    حضرت امیرالمومنین سے ملاقات کے بارے میں ان کے تاثرات یہ تھے کہ
    >ہم نے آج ایک گھنٹہ کے قریب امام جماعت احمدیہ سے ملاقات کی اور ہم نے ان سے جو خیالات سنے۔ وہ ہماری کمیٹی کے مقصد کے لئے بہت ہی مفید ہیں۔ ہم نے ان سے بہت کچھ حاصل کیا ہے اور ہمارے دل فی الحقیقت آپ کی قدر اور تعریف سے پر ہیں< ۱۴۲
    سلسلسہ احمدیہ کی تنظیم کی نسبت انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ
    >ہم نے جماعتی نظام کا اچھی طرح مطالعہ کیا ہے۔ آپ کی جماعت اسلام کی بہت خدمت کررہی ہے اور آپ کا کام اسلام کے لئے بہت مفید ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ مسلمانوں کے ایک حصہ کو آپ کے عقائد سے اختلاف ہے۔ لیکن آپ کا کام واقعی قابل قدر اور لائق تحسین ہے۔ ۱۴۳
    نقشہ ماحول قادیان
    اس سال حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے نہایت محنت اور عرقریزی سے تبلیغ` تنظیم اور خرید اراضیات کے پیش نظر مرکز احمدیت قادیان کے ماحول کا ایک مفصل نقشہ ظہور/اگست ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء میں شائع فرمایا۔ جس میں قادیان کے اردگرد کا دس دس میل تک کا علاقہ دکھایا گیا تھا اور دیہات کی حدود` اہم راستوں اور نہروں کے علاوہ تھانے` ذیلوں کے صدر مقام` موٹروں کے اڈے` ڈاک بنگلے اور سکول بھی دکھائے گئے تھے۔ نقشہ میں ہر گائوں کے متعلق یہ انداراج بھی تھا کہ اس میں کس قوم کی آبادی ہے۔ یہ نقشہ پشت پر کپڑا لگا کر مجلد کرادیا گیا تھا۔ اور کتاب کی طرز سے جیب میں بھی رکھا جاسکتا تھا۔ ۱۴۴
    اکالی کانفرس اور احمدیوں کا امن پسندانہ رویہ
    قادیان کا نقشہ محض تبلیغی اور تنظیمی مقاصد کے پیش نظر شائع کیا گیا تھا جس کے پیچھے کوئی سیاسی مصلحت ہر گز کار فرمانہ تھی۔ مگر افسوس کہ احمدیت کی مخالف طاقتوں نے جو برسوں سے مخالفت کا محاذ قائم کئے ہوئے تھیں۔ اس نقشہ کو بھی جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال پھیلانے کا ایک ذریعہ بنا لیا اور سکھوں کو اکسانے کے لئے یہ پراپیگنڈہ کرنا شروع کردیا کہ احمدی حکومت سے گٹھ جوڑ کرکے اپنی ریاست قائم کرنے کے منصوبے باندھ رہے ہیں۔ ۱۴۵
    اس سلسلہ میں گور مکھی کا ایک اشتہار بھی شائع کیا گیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ احمدیوں کی طرف سے حکومت ہند کو یہ تحریک کی جارہی ہے کہ قادیان کے اردگرد دس دس کوس تک ان کی ریاست مان لی جائے جس کے بدلے میں پیسہ اور آدمیوں کے ذریعہ یہ موجودہ گورنمنٹ کی جنگ میں امداد کریں گے۔ اس اشتہار میں ناواقف اور سادہ لوح سکھوں کو بھڑکایا گیا تھا کہ ۱۷۔۱۸ نومبر ۱۹۴۰ء کو صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے قادیان کے قریب بوہڑ صاحب میں جمع ہوجائیں۔ یہ بوہڑ صاحب وہی مقام تھا جہاں ۷ ۔ اگست ۱۹۲۹ء کو سکھوں کے مشتعل ہجوم نے مذبح گرایا تھا۔ ۱۴۶
    سکھ وفد قایان میں
    یہ پراپیگنڈہ جب یکایک زور پکڑ گیا تو علاقہ کے سکھوں کا ایک وفد حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے قادیان پہنچا۔ تحقیق وتفتیش کے بعد جب یہ سب کہانی من گھڑت نکلی تو وفد مطمئن ہوکر واپس چلا گیا اور اس نے حسب ذیل بیان دیا:۔
    >ہم نے بصورت وفد قادیان جاکر چوہدری فتح محمد صاحب سیال ناظر اعلیٰ قادیان سے ملاقات کی ہے۔ چودھری صاحب خلیفہ صاحب قادیان کے چیف سیکرٹری بھی ہیں۔ ہم نے ان سے دریافت کیا ہے۔ انہوں نے رجسٹر اخبار نقشہ وغیرہ دکھا کر ہماری پوری طرح تسلی کردی ہے کہہ یہ افواہ کہ مرزا صاحب قادیان والے دس دس کوس تک قادیان کے گرداگرد ریاست بنارہے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ احمدیوں نے اخبار میں بھی اس افواہ کی تردید کردی ہے۔ یہ افواہ احراریوں نے اڑائی ہے۔ اور ان کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ احمدیوں اور سکھوں کے تعلقات کو کشیدہ کردیں ۔۔۔۔ ہم اکالی بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر وہ کانفرنس کریں تو مذہبی کانفرنس کریں ۔۔۔۔ ایسی افواہ پر سیاسی تقاریر کرکے علاقہ کی فضا کو خراب نہ کریں کیونکہ اس علاقہ میں احمدیوں کے سکھوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور مرزا صاحب قادیان والے ہمیشہ معزز سکھوں سے ہمدردانہ سلوک کرتے رہے ہیں<
    دستخط )سردار( نونہال سنگھ ذیلدار کھجالہ )سردار( بخشیش سنگھ آف بھام )سردار( بھگت سنگھ ذیلدار پنڈ اروڑی` )سردار( اندر سنگھ ڈسٹرکٹ درباری ڈلہ ۱۴۷
    سکھوں کا جلوس اور اجتماع
    اس واضح تردید کے باوجود دشمنان احمدیت نے سکھ عوام کو مشتعل کرکے اجتماع کرنے کی تیاریاں اندر ہی اندر جاری رکھیں۔ اور آخر ان کے جتھے ۱۷ نبوت/نومبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو قادیان میں داخل ہوگئے۔۱۴۸ پولیس افسروں نے پہلے خود ہی ایک راستہ ان کے لئے تجویز کیا اور احمدیوں سے کہا کہ وہ ان کے علاقہ سے نہیں گذرے گا مگر جب سکھوں نے احمدی علاقہ سے گذرنے کے لئے اپنا رخ تبدیل کرلیا تو پولیس روکنے کی بجائے ان کے آگے آگے چل پڑی اور اپنا فیصلہ خود ہی رد کردیا۱۴۹
    یہ موقعہ انتہائی نازک تھا اور قریب تھا کہ تصادم تک نوبت پہنچ جاتی۔ مگر حضرت خلیفہ ثانی کی بروقت راہنمائی اور صبروتحمل کی تلقین کی بدولت احمدیوں نے حیرت انگیز طور پر اپنے جذبات پر قابو رکھا اور قادیان میں فرقہ وارانہ فساد کرانے کی سب کوششیں ناکام ہوگئیں۔
    حکام کے معاندانہ رویہ پر تنقید
    حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکام کے معاندانہ رویہ پر زبردست تنقید کی اور فرمایا۔
    >ہمیں ضلع کے حکام کی طرف سے یقین دلایا گیا تھا کہ سکھوں کے جلوس کے لئے ایک راستہ معین کردیا گیاہے اور یہ کہ وہ اسی راستہ کو اختیار کریں گے دوسرا راستہ اختیار نہیں کریں گے لیکن بطور احتیاط ہم نے دوسرے راستے پر اپنے آدمی کھڑے کردیئے تھے۔ مگر سکھوں نے اپنے معین راستہ کو چھوڑ کر وہ راستہ اختیار کیا جس کے متعلق یقین دلایا گیا تھا کہ وہ اس طرف نہیں جائیں گے اگر احمدی احباب کو یہ ہدایت نہ ہوتی کہ جو سکھ قادیان میں اکٹھے کئے گئے ہیں انہیں اصل حقیقت کا علم نہیں ۔ وہ اگر اس دوسرے راستے سے آرہے ہیں تو انہیں گذرنے دیا جائے۔ تو فساد ہونے کا احتمال غالب تھا لیکن بجائے اس کے کہ )حکام ناقل اس شریفانہ سلوک کی قدر کرتے انہوں نے سمجھا کہ احمدی ڈرگئے۔ ۱۵۰
    >وہ حکام جو فتنہ پردازوں کے سامنے جیسا کہ گذشتہ اکالی کانفرنس میں ہوا دب جاتے ہیں اور شرفاء کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ ہرگز انتظام حکومت کے قابل نہیں اور وہ اپنے اس قسم کے رویہ سے شرفاء کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ بھی مقابلہ میں شرافت کو چھوڑ کر مفسدہ پردازی کا انسداد جبر اور زور سے کریں۔< ۱۵۱
    کانفرنس میں اشتعال انگیز تقریریں
    بہر حال جلوس قادیان کی احمدی آبادی میں سے گذرنے کے بعد بسرائوں کے کھلے میدان میں اکالی کانفرنس دو دن جاری رہی ۱۵۲ اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کے خلاف بہت بے ہودہ سرائی کی گئی۔ اور انتہائی اشتعال انگیز تقریروں کے بعد یہ تجویز پاس کی گئی کہ۔
    ‏body] ga>[tچونکہ اس علاقہ میں اس خبر کے پھیلنے سے کہ مرزا صاحب دس دس میل تک ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ اس تجویز کو کامیاب نہ ہونے دے ورنہ علاقہ میں سخت اشتعال پھیلے گا جس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔< ۱۵۳
    اس تجویز کی تائید قادیان کے ملا عنایت اللہ صاحب احراری نے پرجوش انداز میں کی۔ اور یہاں تک کہا کہ >جب تک ہم زندہ ہیں مسلمان زندہ ہیں جب تک گوروگوبند سنگھ کے سنگھ زندہ ہیں ` مرزا نواب نہیں ہوسکتا<۔
    کانفرنس میں آخری تقریری سردار تیجا سنگھ صاحب کی تھی۔ جنہوں نے کہا۔
    >پرسوں مرزائیوں کا ایک وفد ماسٹر تارا سنگھ صاحب سے ملنے گیا تھا ہم لوگ وہاں نہ تھے۔ ماسٹر صاحب پر ان کی باتوں کا کچھ اثر ہوگیا۔ ہمیں کہنے لگے وہ تو اس خبر کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سکھوں کی دل آزاری نہیں کرتے۔ میں نے کہا اس سے زیادہ دل آزاری کیا ہوگی` کہ گرونانک کو مسلمان کہتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں صاحبزادے شہید نہیں ہوئے۔ گورو تیغ بہادر نے خودکشی کی کس قدر ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ہماری ساری اتہاس پر پانی پھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور دل آزاری کیا ہوگی۔ باقی رہی یہ بات کہ ریاست بنانے سے انکار کرتے ہیں میں تو کہتا ہوں کہ تم ریاست بنانے والے کب پیدا ہوئے اگر ریاست قائم ہوتو جو لوگ اکالی دل کی رہنمائی میں قربانیوں کے لئے تیار ہوں وہ ہاتھ اٹھائیں۔<
    لوگوں نے یہ سنتے ہی ہاتھ اٹھا دیئے ۱۵۴ اور عہد کیا کہ وہ کٹ مریں گے مگر احمدیوں کی ریاست نہیں قائم ہونے دیں گے۔
    قیام امن کے لئے انتظامیہ کمیٹی کی تشکیل
    اس موقعہ پر چونکہ قادیان اور اس کے ماحول کی فرقہ وارانہ فضا کے مکدر ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا اس لئے کانفرنس کے انعقاد سے ایک روز قبل ۱۶ نبوت/نومبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو مرکز احمدیت میں امن عامہ کے قیام` مقامات مقدسہ کی حفاظت اور سکھ لیڈروں اور سرکاری افسروں سے گفتگو کرنے اور ان کی مہمان نوازی کے فرائص انجام دینے کے لئے ایک انتظامیہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے سیکرٹری اور نگران عمومی حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ مقرر کئے گئے۔ اس کمیٹی کے ممبروں میں صدر انجمن احمدیہ کے ناظر اعلیٰ اور انجمن کے دوسرے ممتاز ممبر شامل تھے۔ سرکاری افسروں کے سامنے جماعت کے موقف کی سیاسی نمائندگی کا فریضہ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے اور حضرت خان صاحب` مولوی فرزند علی خان صاحب کے سپرد ہوا۔ سکھوں کے ساتھ گفتگو کے لئے حضرت مولوی عبدالغنی خاں صاحب کا نام تجویز ہوا۔ مہمان نوازی کی خدمت حضرت میر محمد اسحاق صاحب ناظر ضیافت کے ذمہ لگائی گئی۔ انتظامیہ کمیٹی کے ایک ممبر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بھی تھے جن کے فرائض میں پہرہ داروں کا تقرر اور ان کی نگرانی کا کام تھا۔
    اس بروقت اقدام کا یہ فائدہ ہوا کہ اگرچہ سکھ جلوس اصل رستہ چھوڑ کر احمدی آبادی میں سے گذرا اور پھر اس کے مقرروں نے اپنی تقریروں میں جماعت احمدیہ کے خلاف سخت زہر اگلا اور علاقہ میں زبردست اشتعال پھیلانے میں اپناپورا زور صرف کردیا مگر اس کے باوجود ان ایام میں کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
    سکھ اخبار >ریاست< کی طرف سے احمدیوں کی امن پسندی کا اعتراف
    جماعت احمدیہ کے نظام اور اس کے صلح کن اصولوں کی یہ عظیم الشان اخلاقی فتح تھی جس کا اعتراف مشہور سکھ اخبار نویس سردار
    ‏body2] g[taدیوان سنگھ صاحب مفتون نے اپنے اخبار >ریاست< دہلی )۲ دسمبر ۱۹۴۰ء( میں بھی کیا چنانچہ انہوں نے صاف لکھا کہ
    مسلمانوں میں غالباً احمدیوں کا ہی ایک ایسا فرقہ ہے جو گورونانک اور سری کرشن وغیرہ وغیرہ مسلم بزرگوں کو پیغمبر سمجھتے ہوئے ان کی عزت کرتا ہے اور قادیان کی احمدی جماعت کا یہ ملک پر بہت بڑا احسان ہے جس نے ہندومسلم اتحاد کی اس راہ کو اختیار کیا۔ احمدیوں کی اس قابل تعریف سپرٹ میں اتفاق پسند حلقوں کے اندر یہ انتہائی افسوس کے ساتھ سنا جائے گا کہ پچھلے ہفتے جب سکھوں نے قادیان سے دو میل کے فاصلہ پر اکالی کانفرنس کی تو سکھوں کے غیر دوستانہ اور تحکمانہ رویہ کے باعث قادیان کے احمدی حضرات نے اپنے بچوں اور عورتوں کو گھروں سے نکلنے کی ممانعت کردی تاکہ فساد نہ ہو اور سکھوں کو اگر احمدیوں کے خلاف کوئی دوسری شکایت نہیں تو اب یہ کہا جارہا ہے کہ احمدی گورونانگ کو مسلمان کہہ کر سکھوں کی توہین کررہے ہیں ہمیں یاد ہے چند برس ہوئے سکھوں نے ایک احمدی کے خلاف اس الزام میں مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔ کہ اس نے گورونانگ کو مسلمان کہا۔ اور ہم نے اس مقدمہ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سکھوں سے پوچھا تھا کہ اگر کسی نیک مسلمان کو کوئی سکھ یہ کہ دے کہ >آپ تو نیکی کے لحاظ سے سکھ ہیں< تو کیا اس مسلمان کی توہین ہوگی اسی طرح ہی ہم سکھوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر احمدی گورونانک سے اظہار محبت کرتے اور اپنا سمجھتے ہوئے گوروصاحب کو مسلمان کہتے ہیں تو اس میں سکھوں کی توہین ہے یا احمدی حضرات کے اخلاص ومحبت کانتہائی ثبوت!
    ہمیں افسوس ہے کہ سکھوں کا قادیان کی اکالی کانفرنس میں احمدیوں کے خلاف تحکمانہ رویہ اختیار کرنا یا دوستانہ سپرٹ کا ثبوت نہ دینا اتحاد پسند حلقوں میں برچھا گردی اور وحشیانہ پن قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اشاعت مذہب اور اشاعت خیالات کے لئے ضروری ہے کہ رواداری اور محبت کا اظہار ہوتا کہ لوگ اس سے متاثر ہوسکیں نہ کہ غنڈہ پن کا جس سے کہ لوگ نفرت کریں ۱۵۵
    اخبار >سول اینڈ ملٹری گزٹ< کی جھوٹی خبر
    اکالی اجتماع کے بعد اگرچہ فضا بہت ہی مکدر ہوگئی تھی مگر اس کشیدگی میں لاہور کے نیم سرکاری اخبار >سول اینڈ ملٹری گزٹ< نے ۲۸ دسمبر ۱۹۴۰ء کے پرچہ میں یہ غلط خبر شائع کرکے اور بھی اضافہ کردیا کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے حکومت پنجاب کو سالانہ جلسہ ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کے موقعہ پر دھمکی دی ہے کہ جماعت احمدیہ عدم تشدد کی قائل نہیں۔ لہذا اگر اس نے جماعت احمدیہ کے خلاف پالیسی میں تبدیلی نہ کی تو اس کے بد نتائج کے لئے تیار رہے۔
    ہندو پریس کی اشتعال انگیزی
    اس سراسر بے بنیاد اور غلط خبر کی تردید سالانہ جلسہ کے موقہ پر ۲۸ فتح/دسمبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کے اجلاس میں کئی ہزار کے مجمع میں کردی گئی اور پھر ۳۱ فتح/دسمبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کے >الفضل< میں بھی شائع کردی گئی مگر ہندوپریس نے اخبار >سول اینڈ ملٹری گزٹ< کی پھیلائی ہوئی خبر کو بڑی اہمیت دی اور اخبار >پرتاپ< )۳۰ دسمبر( نے تو پورے صفحہ کی یہ جلی سرخی قائم کی کہ پنجاب گورنمنٹ اپنی انٹی احمدیہ پالیسی ترک کردے نہیں تو ہم جوابی کارروائی کریں گے< اور اس کے نیچے یہ عنوان دیا >خلیفہ قادیان مرزا بشیر الدین احمد کی حکومت کو دھمکی کہ ہمارا مذہب ہمیں عدم تشدد کی تعلیم نہیں دیتا<۔ ۱۵۶
    اخبار>پرتاپ< کے علاوہ اخبار >احسان< بھی اس مہم میں شامل ہوگیا اور اس نے سول اینڈ ملٹری گزٹ اور پرتاپ میں شائع شدہ غلط بیانی کا ایک فقرہ لے کر >قادیانی اور کانگرسں< کے عنوان سے یکم جنوری ۱۹۴۱ء کی اشاعت میں ایک مقالہ افتتاحیہ بھی لکھ دیا۔ ۱۵۷
    اخبار >پرتاپ< کی دوبارہ زہر چکانی
    اصل حقیقت کھل جانے پر اخبار >پرتاپ< نے جماعت احمدیہ کی مخالفت کے لئے پھرپہلی افواہ کو پھیلانا شروع کردیا۔ چنانچہ ۷ جنوری ۱۹۴۱ء کے شمارہ میں لکھا:۔
    >معلوم ہوتا ہے کہ احمدیہ جماعت قادیان کو ایک ایسی سٹیٹ بنانا چاہتی ہے جس میں ان کی مطلق العنان حکومت ہو جس میں سوائے اس جماعت کے کوئی ¶جماعت یا فرقہ اپنے دھارمک یا مجلسی جلسے بھی منعقد نہ کرسکے۔ مگر قادیانی اصحاب کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک علیحدہ سٹیٹ بنانے کے متعلق ان کے خواب پورے نہیں ہوسکتے۔ یہ بیسویں صدی ہے اس میں اس قسم کی مطلق العنانی نہیں چل سکتی<۱۵۸
    فتنہ دوسری شکل میں
    چند ماہ بعد فتنہ نے ایک نئی کروٹ لی۔ ہوا یہ کہ سکھوں کے ایک اخبار >شیر پنجاب< نے ۲۷ اپریل ۱۹۴۱ء کے پرچہ میں >قادیان میں فرقہ وارانہ جنگ کی تیاریاں< کے عنوان سے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی ۱۹۲۹ء کی ایک ذاتی یادداشت کو >گشتی چھٹی< اور >ایک خفیہ سرکلر< کا نام دے کر لکھا کہ جماعت احمدیہ کے ناظر اعلیٰ نے ایک خفیہ سرکلر یا گشتی مراسلہ احمدیوں کو بھی بھیجا ہے جس میں فرقہ وارانہ جنگ کے لئے تیاری کرنے کی تلقین کی گئی ہے منافرت پھیلانے کی یہ ایک خطرناک کوشش تھی جس کا سدباب کرنے کے لئے اخبار >الفضل< نے ۳` ۱۷ ہجرت/مئی ۱۳۲۰ہش/۱۹۴۱ء کی اشاعتوں میں پرزور اداریئے لکھے اور بتایا کہ جماعت احمدیہ کے ناظر اعلیٰ نے ایسا کوئی مراسلہ جاری نہیں کیا اور جو تحریر سرکلر قرار دی جارہی ہے وہ حضرت چوہدری صاحب کیے محض پرائیویٹ اور ذاتی نوٹ تھے جو >حفاظت قادیان< کے عنوان سے اس زمانہ میں لکھے گئے جبکہ سکھوں نے ۷ اگست ۱۹۲۹ء ۱۵۹ کو پولیس کی موجودگی میں مذبح گرادیا تھا اور قادیان پر حملہ کرکے اسے لوٹ لینے کی دھمکیاں دی تھیں چوہدری صاحب نے ازخود چند حفاظتی تجاویز کاغذ کے ایک پرزہ پر لکھیں جو نہ شائع ہوئیں نہ کہیں بھیجی گئیں نہ ان پر کوئی عملدرآمد ہوا کاغذ کا یہ پرزہ کسی طرح مصری پارٹی کے ہاتھ آگیا۔ ۱۶۰ یہ لوگ پہلے تو عام سکھوں کو یہ کاغذ دکھاتے رہے مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ البتہ سکھ اخبار >شیر پنجاب< نے اسے خوب اچھالا اور ہندو اور مسلمان اخباروں میں اس کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ ہندو پریس جو ان دنوں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں بہت پیش پیش تھا۔ )الفضل کی تردید کے باوجود( برابر اس کی اشاعت کرتا رہا بلکہ اخبار >پرتاپ< )۲۳ مئی ۱۹۴۱ء( نے تو حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ
    >کیا وہ خفیہ سرکلر جو جماعت احمدیہ کے صدر مقام سے احمدیوں کے نام جاری ہوا ہے پنجاب گورنمنٹ کی نظر سے گذرا ہے؟ اور گذرا ہے تو اس نے اس بارہ میں کیا کارروائی کی ہے۔ یہ سرکلر یقیناً اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے خلاف ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت کارروائی کی جائے۔< ۱۶۱
    اخبار >الفضل< کا چیلنج
    اخبار الفضل ۲۴ ہجرت/مئی ۱۳۲۰ہش ۱۹۴۱ء نے اخبار >پرتاپ اور اس کے ہم نوا دوسرے اخباروں کو جو مسلسل تردید کے باوجود غلط بیانی اور مغالطہ انگیزی سے باز نہیں آرہے تھے کھلا انعامی چیلنج کیا کہ اگر وہ اس نام نہاد سرکلر کی کاپیاں مہیا کردیں تو انہیں ہر کاپی پر سو روپیہ انعام دیا جائے گا مگر ایسا کوئی سرکلر تھا ہی نہیں تو وہ کہاں سے لاتے اور جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے وضاحت فرمائی کہ۔
    >اگر کوئی ایسا سرکلر بھیجا جاتا تو وہ ناظر امور عامہ کی طرف سے ہونا چاہئے تھا نہ کہ ناظر اعلیٰ کی طرف سے ہمارے نظام کے لحاظ سے اس کا تعلق ناطر امور عامہ سے ہے ناظر اعلیٰ سے نہیں یہ امر بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسا کوئی سرکلر ہے ہی نہیں۔ ناظر اعلیٰ تو آئینی لحاظ سے ایسا سرکلر بھیجنے کا مجاز ہی نہیں ناظر اعلیٰ کی طرف سے ایسے سرکلر کا بھیجا جانا تو ہمارے کانسٹی ٹیوشن کے ہی خلاف ہے اگر ایسا سرکلر بھیجا جاتا تو ناظر امور عامہ کی طرف سے بھیجا جاتا پس یہ بات سرے سے بناوٹی ہے<۔ ۱۶۲
    سرکلر کا دوبارہ شاخسانہ
    اب حقیقت پوری طرح کھل چکی تھی۔ مگر چونکہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے والے ہندو` سکھ اور کانگرس نواز عناصر کا مقصد جماعت احمدیہ کو بدنام کرکے اسے عوام اور حکومت کی نظروں میں گرانا اور نقصان پہنچانا تھا۔ اس لئے کچھ عرصہ کے بعد اس مفروضہ سرکلر کا شاخسانہ دوبارہ کھڑا کردیاگیا۔ اور اس دفعہ اس پراپیگنڈے کا آغاز حکومت کے ایک آفیسر یعنی سردار بچن سنگھ سب انسپکٹر پولیس بٹالہ کی طرف سے کیا گیا اور حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ناظر اعلیٰ کے خلاف اس زور اور شدت سے افواہیں پھیلائی گئیں کہ حکومت کے بعض وزراء بھی غلط فہمی کا شکار ہوگئے اور جماعت احمدیہ کی نسبت بدگمانیوں کا دروازہ پہلے سے بہت زیادہ وسیع ہوگیا۔
    حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال کا وضاحتی بیان
    جب صورت حال اس درجہ پیچیدہ ہوگی تو نمائندہ >الفضل< نے چودھری فتح محمد صاحب کا مفصل انٹرویو شائع کیا جس میں اصل واقعات اور ان کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی تھی اس اہم انٹرویو کا ایک حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    >میں گذشتہ پندرہ سال میں متواتر ضلع گورداسپور کے دیہات کا دورہ کرتا رہا ہوں اور مختلف دیہات میں میرے لیکچر ہوتے رہے ہیں جن کی تعداد ایک سال میں اوسطاً پجاس تک رہی ہے لیکن پولیس ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کرسکتی جس سے ثابت ہوکہ میں نے کبھی سکھوں اور مسلمانوں یا سکھوں اور احمدیوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا۔ اس کے برعکس میں نے ہمیشہ انہیں آپس میں پرامن اور محبت سے رہنے کی تلقین کی۔ پولیس میری تقریروں کو نوٹ کرتی رہی ہے۔ اور وہ دیکھ سکتی ہے کہ میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے مسلمانوں یا احمدیوں کو سکھوں کے خلاف مشتعل کیا گیا ہو ہاں میں سکھ اور مسلمان دیہاتیوں کو یہ تلقین کرتا رہا ہوں کہ سودی لین دین سے پرہیز کیا جائے اور ساہوکاروں کے پنجے سے بچیں۔ علاوہ ازیں قانون انتقال اراضی کی بعض دفعات کی وضاحت کی جاتی رہی ہے تاعوام اس سے فائدہ اٹھائیں۔
    نیز میں عوام کو یہ بھی کہتا رہا ہوں کہ بدمعاشوں کے خلاف پولیس کی امداد کی جائے تاگائوں کے پرامن لوگ نقصانات سے بچ جائیں علاوہ ازیں جنگی امداد کی تحریک کرتا رہا ہوں اور حضرت امام جماعت احمدیہ کے جنگی امداد سے متعلق خطبات کو دیہاتیوں تک پہنچاتا رہا ہوں۔
    شرارت کے وجوہ کے ذکر میں جناب چوہدری صاحب نے فرمایامیں سمجھتا ہوں کہ میرے خلاف ایجی ٹیشن پھیلانے والے دوطبقے ہیں۔ اول پولیس کا رشوت خور عنصر اور دوسرے ساہو کار طبقہ ظاہر ہے کہ ان ہر دوگروہوں میں انسانی ہمدردی کا جذبہ بالکل مفقود ہوتا ہے۔ اور اب چونکہ یہ عناصر ختم ہونے پر ہیں اس لئے انہیں گھبراہٹ ہورہی ہے۔
    آپ نے فرمایا مجھے اس بات سے سخت رنج ہے کہ میرے سکھ دوستوں میں میرے خلاف پروپیگنڈہ کرکے خطرناک قسم کی بدظنی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن میں اس کے متعلق فی الحال صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں اور سکھوں میں جو جاٹ قوم کا حصہ ہے ان کو یقین دلاتا ہوں کہ میری تکالیف کی اصل وجہ زمینداروں کی خیر خواہی ہے خواہ وہ مسلمان ہوں یا ہندو یا سکھ۔ ان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جب کسی غیر زراعت پیشہ سکھ کی طرف سے پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے تو اس کا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔
    اس ضمن میں اس امر کا بھی ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ۱۹۴۰ء میں اس علاقہ میں زمینداروں نے اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں علاقہ کے معزز ہندو سکھ اور مسلمان زمیندار شامل تھے۔ ان لوگوں نے بالاتفاق مجھے صدر منتخب کیا تھا اور اس کے متعدد اجلاس موضع بگول۔ قادیان اور دیگر مقامات پر ہوئے۔ اس کمیٹی کی اغراض میں یہ بھی تھا کہ زمینداروں کو ساہوکاروں سے اور رشوت خور افسروں سے بچایا جائے۔ نیز زمینداروں کی فلاح وبہبود کے لئے جو قوانین پاس کئے گئے ہیں ان کی وضاحت مقصود تھی تازمیندار ان سے کماحقہ فائدہ اٹھاسکیں ایک ساہوکار نے اڑتیس سالہ گروی ناموں کو واپس کرکے بعض بے بوقوف زمینداروں سے بیس سالہ یا دس سالہ مستاجری لکھوانی شروع کردی تھی۔ ان جلسوں میں زمینداروں کو بتایا گیا کہ وہ ساہوکاروں کے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے بچیں۔ انہی دنوں اسی ساہوکار کی سازش سے میرے خلاف ایک غیر زراعت پیشہ تھانیدار کے زمانہ میں ایک خود غرض اور پولیس کے ہاتھ میں کھیلنے والے زمیندار سے رپورٹیں لکھوائی گئیں اور مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ ۱۶۳
    مرزا سلیم بیگ صاحب کارکن اعلیٰ ہائیکورٹ حیدرآباد دکن وسیاح بلاداسلامیہ قادیان میں
    مرزا سلیم بیگ صاحب کے دادا مرزا عبدالقادر بیگ صاحب اور حضرت ام المومنین کی نانی اماں محترمہ حضرت قادری بیگم صاحبہ دونوں حقیقی بھائی بہن تھے۔ ان خاندانی تعلقات کی
    تجدید مرزا سلیم بیگ صاحب کو دوبارہ فتح/دسمبر ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء میں قادیان لے آئی۔ مرزا سلیم بیگ صاحب کی آنکھ نے مرکز احمدیت میں کیا دیکھا؟ اس کی تفصیل خود ان کے قلم سے لکھی جاتی ہے۔ فرماتے ہیں۔
    >۱۹۰۹ء کی بات ہے جبکہ میں دہلی میں میاں بشیر الدین محمود احمد )خلیفتہ المسیح( اور آپا نصرت جہاں بیگم )ام المومنین( سے ملا تھا۔ عرصہ تک پھر ملنا نہیں ہوا۔ حالانکہ ڈاکٹر ۔۔۔ محمد اسماعیل صاحب سے بارہا دہلی میں ملتا جلتا رہا۔ حیدر آباد کی ملازمت نے وطن سے دور کردیا۔ بیگانے اپنے ہوگئے اور اپنے بیگانے کنبہ کے بہت سے لوگ نئی پیداوار کے ہیں یہ نہ جانتے ہیں نہ پہنچانتے ہیں۔ اور ان باتوں کا موقع بھی نہیں ملتا۔ دہلی کا کنبہ ہندوستان کے چاروں کھونٹوں میں آباد ہوگیا ہے۔ ہر شخص نے اپنا نیا کنبہ بنا لیا ہے اور نئی جنت بناڈالی ہے۔ میں بھی اپنی دنیا میں بہر حال آباد ہوں اسی طرح قادیان میں ایک کنبہ آباد ہے جو لوگ جانتے ہیں وہ جانتے ہیں زندگی میں دوچار دفعہ ملنا ہوگیا ہے ہم ختم ہوئے اور کنبہ داری کی زنجیر ٹوٹی۔ شجرے کی کسی ٹہنی میں ہمارا بھی نام لٹکا ہوگا۔ گرچہ بسے گذشت کہ نوشیروان نماند۔
    اکثر دل چاہتا تھا کہ قادیان جائوں ور ایک دفعہ تو مل آئوں مگر دہلی تک جاکر اتنی دلچسپیاں بڑھ جاتی تھیں کہ رخصت کا مختصر زمانہ دہلی کی جنت میں ختم ہوجاتا اور قادیان جانے کی نوبت نہ آتی۔ تمنا تو ہمیشہ رہی مگر کبھی شرمندہ تعمیل نہ ہوئی۔ بالکل اتفاق تھا کہ ۱۹۳۸ء میں حضرت میاں محمود احمد صاحب حیدرآباد تشریف لائے اور عزیزوں سے ملنے کا انہوں نے خاص انتظام کیا۔ دید اور باز دید ملاقاتوں میں تجدید محبت ہوئی۔ یا یوں کہئے کہ بچھڑے ہوئے اپنی زندگی میں پھر ملے۔ حیدرآباد کی یہ ملاقاتیں میرے قدیم خیال کو تقویت پہنچانے لگیں۔ ۱۹۴۰ء میں کلکتہ گیا تو جنگ کی وجہ سے بازاروں میں سرد بازاری پائی اور طبیعت نے قرار نہ لیا۔ اور قادیان کے ارادہ سے کلکتہ سے دہلی پہنچا اور دہلی سے قادیان۔قادیان اور جماعت احمدیہ کی جوتصویر میں نے ذہن میں تیار کی تھی۔ وہ اس کے خدوخال تازہ کرنا چاہتاتھا کہ علی الصبح گاڑی بدلنے کے لئے امرتسر کے اسٹیشن پر اترنا پڑا۔ پلیٹ فارم پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ بہت سے مسافر قادیان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نماز اور ضروریات سے فارغ ہوکر ایک دوسرے کا پرسان حال ہوا چنانچہ میرا تعارف بھی بہت سے اشخاص سے ہوا۔ اور کرایا گیا ۔۔۔۔۔ ناشتہ کے لئے کئی اصحاب نے مجبور کیا ۔۔۔۔ بعض احباب نے تو اتنا کھلایا کہ میں نے ان کے دسترخوان پر سے اٹھنیے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ کھانا وہ لوگ کھارہے تھے اور میں ہاضمہ کی دوا اور ہیضہ کے انسداد پر غور کررہا تھا گاڑی جب بٹالہ پہنچی تو چائے میں مجھے شریک ہونا پڑا۔ تواضع اور اخلاق کی مشین گن نے ایک پیالی چائے کی گنجائش نکال ہی لی اور قہر درویش برجان درویش شکریہ کے ساتھ چائے پی بٹالہ سے گاڑی بدل کر قادیان جانے والی گاڑی میں سوار ہوگئے۔
    لیجئے صاحب میں قادیان پہنچ گیا۔ ڈاکٹر صاحب اور عرفانی صاحب نے اسٹیشن پر ہی گلے لگایا۔ گلے ملتے اور باتیں کرتے ڈاکٹر صاحب کے ہاں پہنچے۔ ہاتھ منہ دھویا چائے اور تکلفات تو یہاں بھی بہت تھے مگر مجھے اپنی سلامتی کی ضرورت تھی محمود احمد صاحب عرفانی کو لے کر نکل گیا۔ یہ وہ شہر ہے جس کا نام برسوں سے سنتا آرہا تھا ہر مکان کو دیکھتا ہر مکین پر نظریں جماتا` بازار کو دیکھتا` اور دوکانداروں کو گھورتا` اس شہر نما قصبہ میں گزرتا رہا` قادیان کی وضع تو پنجاب کے اور قصبوں کی سی ہے مگر جماعت کے اتحاد` اتفاق اور تنظیم نے اس کو چار چاند لگادیئے ہیں بڑے بڑے بنگلہ خانہ باغ` سڑک ` مدرسے` بورڈنگ ہائوس اسپتال بازار اور ساہوکارہ برقی پریس` اطباء یونانی ` ویدک دواخانہ` کارخانے جیسی چیزیں یہاں موجود ہیں۔ یہاں کی آبادی میں حضرت مسیح موعود کے خاندان کے افراد آباد ہیں` جماعت کے کارکن آباد ہیں۔ وہ بھی آباد ہیں جو اعتقاد وایمان سے قربت چاہتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو قربت حاصل کرچکے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو ترک وطن کرکے آباد ہوئے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو جماعت کی خاطر مقیم ہیں۔ ایسے طالب علم بھی ہیں جو شوق تبلیغ میں علم حاصل کررہے ہیں۔ ایسے طالب علم بھی ہیں جو مدارس میں ابتدائی تعلیم کے لئے بورڈنگ میں ہیں۔ جماعت کا ہر شعبہ ایک افسر کی نگرانی میں ہے اور اس افسر کا عملہ اور دفتر علیحدہ ہے۔ تمام دنیا کے ڈاک خانوں سے یہاں ڈاک آتی ہے اور جاتی ہے تار آتے ہیں اور جاتے ہیں اس لئے قادیان کو قصبہ کہنا تو غلطی ہے اچھا خاصہ شہر ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ روز بروز اس میں ترقی ہی ہوگی کیونکہ جواں ہمت اور جواں عزم جماعت کام کررہی ہے اور پابند ملت مسلمانوں کی بستی ہے جو بستے بستے بستی ہے۔
    عرفانی صاحب کے ساتھ میں جماعت کے مقامات دیکھتا` یادگاروں پر نظر ڈالتا قدیم بستی میں آپا نصرت جہاں بیگم کے پاس پہنچا یہاں جماعت کی طرف سے مسلح پہرہ ہے۔ اطلاع کرائی گئی اور زنانہ میں بلالیا گیا۔ آپا نے بڑھ کر مجھے اپنے کمرہ میں لیا اور نہایت کراری آواز سے سلام علیکم کہا۔ مزاج پوچھا خیریت دریافت کی۔ حالات پوچھے گذرے ہوئوں کا ذکر کیا۔ زندوں کو دعا دی۔ عزیزوں کو نام بنام دریافت کیا اور پھر حاضر ہونے کے وعدہ پر میاں بشیرالدین محمود احمد صاحب سے ملنے باہر چل دیا۔ میاں مجھ سے ایک سال چھوٹے ہیں۔ پنجاب کی آب وہوا میں رہ کر وہ کسب علم اور جماعت کی ضروریات کے انہماک میں رہ کر مجھ سے بڑے معلوم ہوتے ہیں قویٰ مغلوں کے سے ہیں۔ آنکھوں میں چمک ویسی ہی ہے چہرے کی دونوں ہڈیاں ابھری ہوئی ہیں۔ کشادہ پیشانی` بلند قامت ہیں۔ گفتار اور رفتار میں مردانہ وضع ہیں۔ میاں جس مکان میں رہتے ہیں یہ اور بھائیوں کے مکانات سے ملا ہوا ہے۔ حصے جدا جدا ہیں مگر آپس میں سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ ان مکانوں تک موٹر آجاتی ہے۔ یہاں سے قریب ہی مسجد اقصیٰ ہے اور اسی مسجد میں مینارۃ المسیح ہیے۔ یہیں نماز جمعہ ہوتی ہے۔ مسجد شاندار نہیں کیونکہ تھوڑی تھوڑی بنی ہے اور ہر حصہ اپنے پہلے حصہ سے جدا معلوم ہوتا ہے۔
    قادیان کے قیام میں میرا ناشتہ تو ڈاکٹر صاحب کے ہاں ہوتا ۔ اور وقتوں کے کھانے دعوتوں کی صورت میں ہوتے۔ دعوتوں سے وقت بچتا تو قادیان کے قرب وجوار کے مقامات دیکھنے میں صرف کرتا۔ محمود احمد عرفانی میرے ساتھ تھے۔ اور جدھر مونہہ اٹھتا ادھر نکل جاتے ۔ پنجاب کی آب وہوا دسمبر کا مہینہ` مرغن اور مکلف کھانے کھاتابھی اور ہضم بھی کرجاتا۔ اگر حیدر آباد میں ایک ہفتہ بھی بدپرہیزی کرجاتا تو اپریشن نہیں تو کم از کم تنقیہ معدہ کی ضرورت لاحق ہو جاتی ۔ عزیزوں نے محبت سے کھلایا اور ایک عزیز مسافر نے آنکھیں بند اور دل کھول کر مسافر نوازی کی داد دی۔ میرا قیام تو ڈاکٹر صاحب کے ہاں تھا مگر مہمانی پورے قادیان نے ادا کی۔ ڈاکٹر صاحب اکثر جگہ ساتھ ہوتے مگر وہ نقرس کے مرض سے مجبور ہوگئے ہیں۔ آہستہ چلتے ہیں آہستہ بات کرتے ہیں۔ نہایت متین` سنجیدہ اور حلیم ہیں۔ سب سے محبت سے پیش آتے ہیں۔ سب کی خاطر کرتے ہیں سب سے خوش ہوکر ملتے ہیں۔ دہلی کی قدیم وضع کا مکان ہے جس میں پائین باغ ہے۔ پنشن لے لی ہے اور قادیان میں اطمینان کی زندگی گذار رہے ہیں۔
    جب تک میں قادیان میں رہا گویا میں دارالسلام میں رہا۔ نہ تو موسم کی تیزی نے کوئی برا اثر کیا اور نہ میری بدپرہیزی نے میرا کچھ بگاڑا۔ آپا صاحبہ )ام المومنین( کا یہ وطیرہ رہا کہ علی الصبح مرے پاس پہنچ جاتیں اور دروازہ کو کھٹک کر اندر آجاتئیں۔ سلام علیکم کرتیں اور باتیں شروع کردیتیں۔ میں لحاف اوڑھے پلنگ پر بیٹھا ہوتا اور ٹہل ٹہل کر باتیں کرتی جاتیں آواز میں کرارہ پن باتی ہے۔ ہاتھ پائوں تندرست اور سیدھے ہیں۔ آنکھیں کام دیتی ہی۔ قوی میں توانائی اور چستی معلوم ہوتی ہے اور بات کو معقولیت سے سنتی ہیں اور معقولیت سے جواب دیتی ہیں زندگی کے ہر شعبہ پر گفتگو کرتیں ہیںاور بے دھڑک خیالات کا اظہار کرتی ہیں۔ پان کا زیادہ شوق ہے باتیں کرتی جاتی ہیں اور پان کھاتی جاتی ہیں۔ دلی والوں کا سالباس ہے۔ اونی پائتابہ پہن کر گرم رنگین تنگ موری پاجامہ پہنتی ہیں۔ گرم اونی کرتہ پر سویٹر پہن کر کشمیری شال سر سے اس طرح اوڑھتی ہیں کہ سر بھی ڈھک جاتا ہے اور مفلر بھی معلوم ہوتا ہے اوورکوٹ پہن کر ان سب کو ایک جگہ کرلیتی ہیں ایک ہاتھ میں تسبیح اور ایک میں دستانہ ہوتا ہے۔ علی الصبح بعد نماز گھر سے نکلتی ہیں پہلے عزیزوں کے ہاں دوستوں کے ہاں` اخلاص مندوں اور معتقدوں کے ہاں جاتی ہیں ` اس میں مزاج پرسی` دریافت حال ` عیادت اور تیمارداری سب ہی کچھ ہوتا ہے کہیں بچوں کا علاج کرتی ہیں اور کہیں بڑوں کی مزاج پرسی ` کسی جگہ دوابتاتی ہیں اور کہیں دوا خود تیار کرکے دیتی ہیں۔ دلی کی بڑی بوڑھی بیگمات کا یہ طریقہ تھا کہ بچوں کے درد دکھ کا علاج گھر کی بڑی بوڑھی بیگمیں کیا کرتی تھیں۔ وہی آپا صاحبہ کا طریقہ کار ہے اور اس علاج معالجہ میں ان کو اچھی دستگاہ ہے چھوٹے چھوٹے چٹکلے بچوں کے معمولی امراض میں بہت مفید ہوتے ہیں دس گیارہ بجے تک وہ اپنی اس مصروفیت سے فارغ ہوکر گھر پہنچ جاتی ہیں ۔ دوپہر کا کھاناکھا کر آرام کرتی ہیں ظہر اور عصر کی نماز تک گھر میں بہوبیٹیوں سے ملتی رہتی ہیں اور شام کو پھر چہل قدمی کو نکل جاتی ہیں اس پروگرام کی وہ حتی المقدور پابندی کرتی ہیں اس وقت ان کی عمر )۷۵( ۱۶۴ سال ہے مگر ارادہ میں جوان ہیں عمل میں جوان ہیں اپنے عزم میں جوان ہیں۔ ایک بارعب کمانڈر کی طرح قادیان کی آبادی پر اثر ہے جس طرح خلوص اور محبت سے ملتی ہیں۔ اسی طرح رعب اور اثر سے کام لیتی ہیں۔ ان امور میں ان کو دلچسپی ہے اور اسی کو انہوں نے اپنا شغل بنارکھا ہے ۔ جس طرح کنبہ کو ان کی ضرورت ہے۔ اسی طرح قادیان کی آبادی کو ان کی ضرورت ہے۔ یہ بلا لحاظ مذہب وملت ہر ایک سے حسن سلوک کے ساتھ ملتی ہیں جو کچھ ممکن ہوتا ہے اس کی خدمت کرتی ہیں اطمینان اور دلاسہ دیتی ہیں۔
    بہرحال برسوں کی آرزو پوری کرکے عزیزوں سے مل کر` قادیان کو دیکھ کے` قادیان سے رخصت ہوگیا۔ جی تو چاہتا ہے کہ ایک دفعہ اور ہو آئوں مگر۔
    >اے بسا آرزو کہ خاک شدہ<
    اب تک تو یہی ہورہا ہے آئندہ کی خبر خدا جانے ۔ والسلام
    سلیم بیگ ۱۶۵
    مرزا سلیم بیگ صاحب کا ایک اور تحریری بیان
    مرزا سلیم بیگ صاحب نے اپنے سفر قادیان کے تاثرات کا اظہار اپنے ایک دوسرے تحریری بیان میں بھی کیا چنانچہ انہوں نے لکھا:۔
    >۱۹۲۴ء میں پہلی مرتبہ مجھے قاہرہ )مصر( جانے کا اتفاق ہوا میں قاہرہ میں ٹھہرگیا۔ اور مرے ہمسفر دوست دو روز قاہرہ میں ٹھہر کر یورپ چلے گئے تقریباً ایک ہفتہ کے بعد مجھے قاہرہ میں محمود احمد صاحب عرفانی سے ملنے کا شرف حاصل ہوا کچھ وطنیت کچھ سلسلہ واقفیت نے ہم دونوں کو اس طرح متحد کیا کہ میرا اکثر وقت محمود احمد صاحب عرفانی کے ساتھ گزرنے لگا۔ عرفانی صاحب قاہرہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے مبلغ اسلام تھے اور وہاں اپنے مشن کا کام مصریوں میں نہایت ہی خوبیوں کے ساتھ کررہے تھے اجنبیت اور غیر ملکی ہونے کے باوجود عرفانی صاحب نے مصری شرفاء کی مجلسوں میں اچھا رسوخ پیدا کرلیا تھا نامور اور ذمہ دارر ہستیوں سے مراسم رکھتے تھے۔ اس لئے عرفانی صاحب کی وجہ سے مجھے قاہرہ اور زندگی قاہرہ کے مطالعہ کا کافی موقع ملا۔ اور میں اس مشن کی کوششوں کو بھی دیکھتا رہا جو عرفانی صاحب مبلغ کی حیثیت سے وہاں انجام دے رہے تھے۔ عرفانی صاحب کی ہی رہبری سے فلسطین اور شام میں جماعت احمدیہ کے تبلیغی مشن کی کوششوں کو دیکھا۔ دوسری مرتبہ ۱۹۳۰ء میں قاہرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ اوریہ میری خوش نصیبی تھی کہ عرفانی صاحب موجود تھے۔ اور ان کا مشن نہایت کامیابی سے اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ اس مرتبہ کی ملاقات تجدید اتحاد کا باعث ہوئی اور مشن کی کارگذاری پر مشن کے رسوخ پر مبلغ کے خلوص پر غور کرنے کا بہت زیادہ موقعہ ملا۔ میں ان تاثرات کو لئے ہوئے فلسطین ` شام` استنبول اور برلن وغیرہ گیا یہاں مجھے جماعت احمدیہ کی تنظیم اور کوششوں کا ثبوت ملتاگیا۔ مجھے حقیقتاً نہایت صدقدل سے اس کا اعتراف ہے کہ میں نے ہرجگہ جماعت احمدیہ کے مبلغوں کی کوششوں کے نقوش دیکھے۔ ہرجگہ اسلامی روایات کے ساتھ تنظیم دیکھی۔ ہر جگہ اس جماعت میں خلوص اور نیک نیتی پائی۔ جماعت احمدیہ میں سب سے بڑی خوبی اتحاد عمل اور امام جماعت کے احکام کی پابندی ہے۔ اس لئے اس کے اراکین کہیں اور کسی حال میں شعار اسلام اور احکام اسلام کو نظر اندار نہیں کرتے اور نہ ہی اپنی اصلی غرض اور فرض سے انجان ہوتے ہیں۔ تقریروں` تحریروں یا ملاقاتوں میں ان کا نقطہ نظر موجود ہوتا ہے اور وہ اشارۃ کنایتہ اپنا کام کئے جاتے ہیں۔ محنت برداشت کرتے ہیں۔ غیر مانوس اور غیر مشرب لوگوں میں رسوخ پیدا کرکے اپنے فرائض کی تکمیل کرتے ہیں۔ اور اپنی تبلیغی حیثیت کو نمایاں رکھتے ہیں۔ محمود احمد صاحب عرفانی نے ۱۹۳۰ء میں قاہرہ سے ایک اخبار >اسلامی دنیا< بھی اردو زبان میں ٹائپ پریس سے شائع کیا تھا۔ یہ اخبار مصور بھی تھا اور اردو میں اسلامی دنیا کی خبریں نہایت شرح وبسط سے شائع ہوتی تھیں۔ افسوس ہے کہ ناگزیر مجبوریوں نے اس اخبار کو جاری نہ رہنے دیا اور اشاعت بند ہوگئی۔ اس اخبار میں کچھ حصہ میرے سفر کا بھی شائع ہوا تھا۔
    شام ومصر کی ان ملاقاتوں کا یہ اثر ہوا کہ مجھے جماعت احمدیہ کے صدر مرکز قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔ دسمبر ۱۹۴۰ء میں قادیان دارالسلام پہنچا۔ قادیان امرتسر سے تقریباً ۵۰ میل ہے۔ ریل جاتی ہے مگر دوتین جگہ اس کو بدلنا پڑتا ہے۔ یہ ایک گائوں ہے جہاں جماعت احمدیہ کے عروج کے ساتھ اس قصبہ کو بھی عروج ہورہا ہے۔ سڑکیں بن گئیں ہیں۔ مکانات تعمیر ہوگئے ہیں۔ باغ اور کھیلوں کے میدان تیار کئے جارہے ہیں۔ اسپتال` مدارس اور بورڈنگ ہائوس تیار ہیں۔ جہاں اس جماعت کے اساتذہ جماعت کے ہونہار بچوں کی تعلیم وتربیت پر لگے ہوئے ہیں۔ ہسپتال جس کا خرچ جماعت احمدیہ برداشت کرتی ہے۔ منظم اور ایک حد تک آلات وادویات سے آراستہ ہے۔ بورڈنگ ہائوس کی عمارت بہت وسیع اور شاندار شاہجہانی وضع پر تعمیر کی گئی ہے۔ جو ایک پرفضا مقام پر سکول کے متصل ہے۔ اس کے قریب وہ میدان ہے جہاں جماعت کے ضروری اور سالانہ اجلاس ہوتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ سالانہ اجلاس کی تیاری اس میدان میں نہایت وسیع پیمانے پر ہورہی تھی۔ مہمانوں کے قیام` مہمانوں کے طعام وضروریات زندگی کی فراہمی پر اراکین کی سعی بلیغ قابل تحسین وقابل تقلید تھی۔ اوقات واہتمام کی تقسیم جو اس جماعت کی نمایاں خوبی ہے` سرعت وخلوص نیت کے ساتھ کارفرما تھی۔ گو میں سالانہ اجلاس کے وقت تک قیام نہ کرسکا مگر انتظام واہتمام کے نقوش میرے سامنے تھے اور ہر وقت میں ان کی یک جہتی کا قائل اور ان کی مدنیت کا شیدا ہوتا گیا۔
    قبر ستان کا اہتمام اور اس میں صف بندی میں نے پہلی مرتبہ قادیان میں دیکھی بغیر کسی آرائش اور لحاظ منصب کے اس قبرستان میں قبور ایک صف میں بنائی گئی ہیں۔ مدفن کی لوح` مدفونوں کی ایک مختصر تاریخ وفات اور وصیت نامہ کے نمبر رجسٹری کے ساتھ کندہ ہوتی ہے۔ ہر قبر پر بالالتزام یہ لوح ہوتی ہے۔ ہر قبر دوسری قبر سے معقول فاصلہ پر ہوتی ہے ہر صف کے آمدورفت کے لئے راستہ چھوڑا جاتا ہے اور ممکن طریقہ پر اس قبرستان کو سایہ دار درختوں سے خوش نما کیا گیا ہے۔ قادیان میں اکثروں نے ترک وطن کرکے سکونت اختیار کرلی ہے۔ یہاں ایک ایسی انجمن بھی ہے جو اپنی جماعت کو قادیان میں تعمیر مکان کے لئے قرضہ دیتی ہے بالاقساط وصول کرتی ہے اس جماعت کے اراکین اپنی املاک جماعت کے لئے وقف کردیتے ہیں اور اس کا انتظام بھی ایک خاص محکمہ کی نگرانی میں ہوتا ہے خزانہ داد وستد` امور مذہبی` نشرواشاعت ` اہتمام ترکہ ووقف کے لئے محکمہ جات قائم ہیں۔ ہر ایک کے لئے مقررہ عملہ اور عہدہ دار ہیں۔ ان سب دفاتر پر خلیفہ ثانی حضرت میاں بشیر الدین محمود صاحب کی نگرانی ہے جو بالذات روزانہ اس کی خدمات کی جانچ کرتے ہیں۔ جس زمانہ میں مجھے قادیان جانے کا اتفاق ہوا حضرت خلیفہ صاحب تفسیر قرآن لکھنے میں مصروف تھے۔ یہ تفسیر قادیان میں شب وروز کی محنت سے بروقت شائع ہوئی اور حضرت صاحب کی عنایت سے اس تفسیر کبیر کی ایک جلد مجھے بھی حیدرآباد میں ملی جس کا میں بے حد ممنون ہوں خداوند تعالیٰ ان کے کام میں برکت دے اور ہمیں احکام قرآنی کے سمجھنیے کی توفیق عطافرمائے آمین ۔ فقط<۱۶۶
    مولوی محمد رفیق صاحب مجاہد تحریک جدید کا انتقال
    اس سال کا ایک المناک واقعہ مولوی محمد رفیق صاحب مجاہد تحریک جدید کا انتقال ہے جو ترکستان کے مشہور شہر کا شغر میں ہوا۔ مولوی صاحب موصوف چاچڑ ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے۔ تحریک جدید کے دسویں مطالبہ کے تحت وہ تحریک جدید سے صرف زاد راہ لے کر وطن سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ۱۹۳۶ء میں آپ مولوی )راجہ( عدالت خاں صاحب کی قیادت میں کشمیر پہنچے۔ مولوی عدالت خاں صاحب کو اپنے ضلع سے غیر تسلی بخش رپورٹ آنے پر پاسپورٹ نہ مل سکا مگر آپ کو مل گیا اور آپ کچھ عرصہ سرینگر ٹھہرنے کے بعد گلگت پہنچے ۔ گلگت سے کاشغر تک کا سفر نہایت دشوار گذار ہے۔ راستہ میں سربفلک پہاڑ اور خوفناک برفانی میدان آتے ہیں۔ مولوی محمد رفیق صاحب دو ماہ میں یہ لمبا سفر طے کر کے صحیح وسالم کاشغر پہنچے۔ قیام سرینگر کے دوران آپ نے کجھ چینی زبان سیکھ لی تھی کاشغر پہنچ کر آپ نے درزی کا کام شروع کردیا۔ پھر پارچہ فروشی بھی کرنے لگے۔ روسی حکومت کے حکم سے چند دن نظر بند رہے مگر تبلیغ احمدیت کا کام برابر سرگرمی سے کرتے رہے۔ ترکستان میں احمدیت کا بیج بودیا یعنی حاجی آل احمد صاحب اور حاجی جنود اللہ صاحب معہ خاندان احمدی ہوگئے جیسا کہ جلد ہفتم میں ذکر کیا جاچکا ہے مولوی صاحب موصوف کاشغر میں تبلیغی جہاد میں مصروف تھے کہ یکایک استسقاء کی مہک بیماری میں مبتلا ہوگئے اور اس سال ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کے آخر میں اپنے مولائے حقیقی کو جاملے ۔ فانا للہ وانا الیہ راجعون۔۱۶۷
    ‏tav.8.6
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    فصل ششم
    تفسیر کبیر جلد سوم کی اشاعت
    ۲۰ فتح/دسمبر ۱۳۱۹ہش ۱۹۴۰ء کا دن سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔ کیونکہ یہی وہ مبارک دن ہے جبکہ حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ؓ کے مقدس ہاتھوں سے >تفسیر کبیر< جلد سوم جیسی معرکتہ الاراء تفسیر کی تالیف کا عظیم الشان کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔۱۶۸ اس کے تین روز بعد )یعنی ۲۴ فتح کو( اس کی طباعت کا مرحلہ ختم ہوا۔ اور ۲۴۔۲۵ فتح/دسمبر کی درمیانی شب کو میاں عبداللہ صاحب مالیر کوٹلوی جلد ساز نے اس کی ابتدائی مجلد کاپیاں تیار کیں اور یہ روحانی خزانہ سالانہ جلسہ ۱۳۱۹ہش ۱۹۴۰ء پر پہلے بیرونی احباب کو حاصل ہوا۔ ۱۶۹ اور بعد کو قادیان کے احمدیوں کے ہاتھوں تک پہنچا۔ اس طرح دنیائے تفسیرمیں ایک ایسے انقلاب انگیز دور کا آغاز ہوا۔ جس سے لاکھوں قلوب واذہان میں خدائے عزوجل کے کلام پاک کی نئی شمعیں روشن ہوگئیں۔ اور قرآن مجید کے غیر محدود حقائق ومعارف معلوم کرنے کے لئے بے شمار دریچے کھل گئے۔
    ۱۹۲۸ء کا مشہور درس القرآن اور اس کے نوٹ
    جیسا کہ جلد ششم کی چوتھی فصل )صفحہ ۷۷ تا ۸۳( میں بالتفصیل بتایا جاچکا ہے کہ حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ۸ اگست ۱۹۲۸ء سے لے کر ۸ ستمبر ۱۹۲۸ء تک ایک نہایت روح پرور درس قرآن دیا تھا جو سورہ یونس سے سورہ کہف کے پانچ پاروں پر مشتمل تھا۔ اس درس کے لکھنے کی سعادت حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب` حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب جٹ` مولانا ارجمند خاں صاحب` مولانا غلام احمد صاحب بدوملہوی` مولوی ظہور حسین صاحب )مبلغ بخارا و روس( مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری` حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی` مولانا عبدالغفور صاحب` مولوی محمد یار صاحب عارف` مولوی ظفر الاسلام صاحب اور شیخ چراغ الدین صاحب کو نصیب ہوئی۱۷۰
    حضرت امیر المومنین کا ابتداء ہی سے منشاء مبارک تھا کہ درس کے نوٹ نظر ثانی کے بعد کتابی صورت میں شائع کردیئے جائیں تاحضور کے بیان فرمودہ قرآنی معارف محفوظ ہوجائیں۔ حضرت اقدس نے اس غرض کے لئے مولوی محمد اسمٰعیل صاحب فاضل حلالپوری کو مقرر فرمایا۔ حضرت مولوی صاحب کی نگرانی میں سورہ یونس و سورہ ہود کے تفسیری نوٹ ۲۵۶ صفحات تک طبع ہوئے جس کے بعد عرصہ تک تفسیر کا کام ملتوی رہا۔ البتہ جن دوستوں کو تفسیر کے پڑھنے کا ازحد شوق تھا انہیں تفسیر کے مطبوعہ صفحات ہی دے دیئے گئے۔ ۱۷۱ حضور نے سالانہ جلسہ ۱۹۳۹ء پر قرآن مجید کی تفسیر کے جلد شائع کئے جانے کا اعلان فرمایا اور ارادہ کیا کہ قرآن کریم کی تفسیر کا کام ابتداہی سے شروع کردیں۔ چنانچہ حضور نے ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کے آغاز میں بہت محنت اور عرقریزی سے کئی سو صفحے نوٹوں کے تیار بھی کرلئے مگر پھر خیال آیا کہ اس طریق سے قرآن کریم کی تفسیر کا چھپا ہوا حصہ پڑا رہے گا۔ لیکن اگر درس کے نوٹ ترمیم واصلاح یا اضافہ کے ساتھ شائع کردیئے جائیں تو کاغذ بھی ضائع نہ ہوگا اور کام بھی جلد مکمل ہوجائے گا۔ ۱۷۲ حضور نے اس خیال کے آتے ہی پہلے پارہ کے نوٹ لکھنے بند کردیئے اور اس کی بجائے سورہ یونس تا کہف کی تفسیر مکمل کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ ابھی کام شروع نہیں ہوا تھا کہ حضور ۲۴ صلح کو کراچی تشریف لے گئے حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحب حلالپوری بھی حضور کے ہمراہ تھے اور تفسیر کے کام کی خاطر بہت سی کتب اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ دراصل حضور کا منشاء یہ تھا کہ حضرت مولوی صاحب کی صحت بحال ہوجائے اور وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے تازہ دم ہوجائیں۔ لیکن افسوس کراچی جاکر وہ سخت بیمار ہوگئے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ارشاد سے ۱۴ تبلیغ/فروری کی شام کو کراچی میل سے واپس تشریف لے آئے۔ ]10 [p۱۷۳ قادیان پہنچتے ہی آپ کی حالت اور زیادہ دگرگوں ہوگئی اور آپ ۸ امان/مارچ ۱۳۱۹ہش/۱۹۴۰ء کو انتقال کرگئے۔
    ماہ شہادت/اپریل کے شروع میں حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی نے ارادہ فرمایا کہ جس قدر درس القرآن طبع ہوچکا ہے اس سے آگے مزید کام شروع کرکے اس کو مکمل کردیا جائے۔ اس سلسلہ میں حضور نے مولوی نورالحق صاحب واقف زندگی کو ۱۷۴ قصر خلافت میں یاد فرمایا اور ان کو درس القرآن کے غیر مطبوعہ مسودہ کا ایک حصہ )جو سورہ ہود کی آیت ۱۱۰ سے لے کر سورہ یوسف کی آخری آیت تک کے مضامین پر مشتمل تھا( سپرد فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ منشی عبدالحق صاحب خوشنویس ۱۷۵ سے اس کی کتابت کروائی جائے چنانچہ اس کی تعمیل میں منشی صاحب موصوف نے کتابت شروع کردی۔ اس کے ساتھ ہی حضور نے ہدایت فرمائی کہ سورۃ رعد سے لے کر سورۃ بنی اسرائیل تک کے مرتب شدہ نوٹ دوبارہ نقل کروائے جائیں اور حل لغات درج کرانے اور حوالہ جات لگانے کے بعد حضور کی خدمت میں پیش کئے جائیں۔ چنانچہ مولوی نورالحق صاحب` حافظ قدرت اللہ صاحب ` مولوی محمد صدیق صاحب` مولوی صدر الدین صاحب اور مرزا منور احمد صاحب )واقفین تحریک جدید( نے بقیہ مسودہ صاف اور خوشخط کرکے نقل کیا۔ حل لغات اور حوالوں کے نکالنے کا کام مولوی نور الحق صاحب نے انجام دیا۔ حضرت امیر المومنین نے سورہ رعد اور سورہ ابراہیم کے مسودہ پر ماہ ظہور/اگست میں نظر ثانی فرمائی اور بالترتیب منشی عبدالحق صاحب اور قاضی نور محمد صاحب ۱۷۶ نے اس مضمون کی کتابت کی۔ ماہ تبوک/ستمبر میں حضور انور نے بذریعہ تار سورہ حجر کا مسودہ شملہ منگوایا۔ حضور شملہ سے ۳ اخاء/اکتوبر کو واپس قادیان دارالامان تشریف لائے۔ اس وقت تک تفسیر کے ۴۹۶ صفحات کی کتابت ہوچکی تھی۔ حضور نے فرمایا کہ سالانہ جلسہ تک تفسیر مکمل طور پر تیار ہوجانی چاہئے۔ وقت نہایت تنگ تھا اور صورت یہ تھی کہ سورہ حجر کے بعد کی سورتوں پر نظر ثانی تک کا کام ابھی باقی تھا۔ حضور درحقیقت تقریباً سارا مسودہ دوبارہ ہی اپنے قلم مبارک سے لکھ رہے تھے۔ ۱۷۷ کیونکہ پہلا لکھا ہوا مسودہ بہت ہی مختصر تھا۔ علاوہ ازیں کتابت` طباعت` اور جلد بندی کے مراحل باقی تھے۔ حضور نے کتابت کا کام ¶بروقت مکمل کرانے کے لئے ارشاد فرمایا کہ متعدد کاتب مقرر کردیئے جائیں تانظر ثانی کے ساتھ ساتھ مضمون کی کتابت بھی جاری رہے۔ چنانجہ منشی عبدالحق صاحب اور قاضی نور محمد صاحب کے علاوہ )جو پہلے سے مصروف کتابت تھے( قاضی بشیر احمد صاحب بھٹی ۱۷۸` منشی محمد اسمٰعیل ۱۷۹ اور منشی احمد حسین صاحب ۱۸۰ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جس سے کام کی رفتار میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوگیا۔ ۱۸۱ ان کاتبوں کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا کہ معرکہ درپیش ہے جس کو سر کرنے کے لئے یہ انتھک سپاہی سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ اسی طرح قادیان کے دونوں پریس ضیاء الاسلام پریس اور اللہ بخش سٹیم پریس شب وروز تفسیر کی چھپائی کے لئے وقف تھے۔ مولوی نورالحق صاحب کا بیان ہے کہ آخری دوماہ کے عرصہ میں روزانہ انہیں چند منٹ کرسی پر اونگھنا ہی نصیب ہوتا تھا۔ کیونکہ ان کے کمرہ ۱۸۲میں حضور کی طرف سے گھنٹی لگی ہوئی تھی اور حضور رات اور دن کے اوقات میں کام کے لئے یاد فرماتے تھے۔ اسی طرح کاپیاں پڑھنا` کاتبوں سے انہیں درست کروانا` پروف دیکھنا یہ سب کام بمشکل ختم ہوتے تھے۔ آخری ایام میں حضور نے مولانا ابوالعطاء صاحب کو بھی پروفوں کے دیکھنے اور حل لغات وغیرہ چیک کرنے کے لئے مقرر فرمادیا۔ چنانچہ آپ نے سورہ بنی اسرائیل اور سورہ کہف کے حوالوں کو بھی چیک کرنے کے علاوہ کاتبوں کی لکھی ہوئی کاپیاں اور پروف بھی پڑھے۔ تاہم اس نوعیت کے کام کی اصل ذمہ داری )ابو المنیر( مولوی نورالحق صاحب پر عائد رہی۔ چنانچہ خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اپنی ایک تقریر میں ارشاد فرمایا کہ
    >تفسیر کبیر جلد سوم ۔۔۔۔ کی لغت` ترجمہ اور تدوین کا اکثر کام ان کے )یعنی مولانا محمد اسماعیل صاحب فاضل ہلالپوری ناقل( کے سپرد کیا گیا تھا۔ گو آخری حصہ کے وقت مولوی صاحب وفات پاچکے تھے۔ تاہم تیسری جلد کی تدوین لغت اور ترجمہ کا بہت کچھ کام انہوں نے ہی کیا ان کی وفات کے بعد مولوی نورالحق صاحب کے سپرد یہ کام کیا گیا باوجود اس کے کہ ان کا علمی پایہ مولوی محمد اسماعیل صاحب جیسا نہیں اور باوجود نوجوان اورناتجربہ کار ہونے کے انہوں نے میرے منشاء کو سمجھا اور خداتعالیٰ نے انہیں میرے منشاء کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی< ۱۸۳
    حضرت امیر المومنین کا بے مثال مجاہدہ
    جب دوسرے خدام کی مصروفیت استغراق اور انہماک کا یہ عالم ہو کہ وہ دن رات خدمت قرآن میں مصروف ہوں تو آقا کی محنت اور عرقریزی کس درجہ پہنچ چکی ہوگی؟ اس کا اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں حق یہ ہے کہ ایک روحانی جرنیل حتی المقدور جس شان سے علمی جہاد میں حصہ لے سکتا ہے اس شان کا حقیقی رنگ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے وجود مبارک میں ان دنوں پوری طرح جلوہ گرتھا۔ حضور کو صبح آٹھ بجے سے لے کر رات کے چار بجے تک منہمک رہنا پڑتا تھا۔ چنانجہ حضرت سیدہ ام متین صاحبہ فرماتی ہیں:۔
    >قرآن مجید سے آپ کو جو عشق تھا اور جس طرح آپ نے اس کی تفسیریں لکھ کر اس کی اشاعت کی وہ تاریخ احمدیت کا ایک روشن باب ہے۔ خداتعالیٰ کی آپ کے متعلق پیشگوئی کہ کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر |ظاہر ہواپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ جن دنوں میں تفسیر کبیر لکھی نہ آرام کا خیال رہتا تھا نہ سونے کا نہ کھانے کا بس ایک دھن تھی کہ کام ختم ہوجائے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد لکھنے بیٹھے ہیں تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی اذان ہوگئی۔ ۱۸۴
    دعائے خاص کی تحریک
    اگرچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو مسلسل محنت اور جانفشانی سے کام کرنے کی ایک اعجازی طاقت وقوت حاصل تھی۔ مگر ان دنوں حضور پر اتنابوجھ آن پڑا کہ حضور نے ۱۳ ماہ فتح/دسمبر کو تفسیر القرآن کی تکمیل کے لئے خطبہ جمعہ میں خاص طور پر دعائے خاص کی تحریک فرمائی۔ اور اس میں اپنی اور دوسرے کام کرنے والوں کی غیر معمولی محنت ومشقت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ
    ‏body] >[tagمیری طبیعت کچھ دنوں سے زیادہ علیل رہتی ہے اور چونکہ قرآن شریف کے ترجمہ اور تفسیر کے کام کا بہت بڑا بوجھ ان دنوں ہے اور جلسہ تک دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔ مگر ابھی کوئی ایک سو صفحہ کتاب کا یا چار سو کالم مضمون کا لکھنا باقی ہے اور آج کل اکثر ایام میں رات کے ۳۔ ۴ بلکہ ۵ بجے تک بھی کام کرتا رہتا ہوں۔ اس لئے اس قسم کی جسمانی کمزوری محسوس کرتا ہوں کہ اس قدر بوجھ طبیعت زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتی چونکہ جلسہ تک دن تھوڑے رہ گئے ہیں اس لئے دوستوں سے چاہتا ہوں کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ خیریت سے اس کام کو پورا کرنے کی توفیق دے۔ وہ لوگ جو میرے ساتھ کام کررہے ہیں اور جن کا کام کتابت` کاپیوں کی تصحیح کرنا اور مضمون صاف کرکے لکھنا وغیرہ ہے وہ بھی بہت محنت سے کام کررہے ہیں۔ اتنی دیر تک روزانہ کام کرنے کی انہیں عادت نہیں پھر بھی ۲۔ ۳ بجے رات تک کام کرتے ہیں۔ ممکن ہے اس سے بھی زیادہ دیر تک کام کرتے ہوں مگر ۲۔ ۳ بجے تک تو کئی دفعہ بات پوچھنے کے لئے میرے پاس آتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کاپیاں لکھنے والے کاتب ہیں۔ بے شک وہ اجرت پر کام کرتے ہیں مگر جس قسم کی محنت انہیں کرنی پڑتی ہے اور وہ کررہے ہیں وہ اخلاص کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ روزانہ کام کیا جائے` معمول سے دگنا کیا جائے اور اچھا کیا جائے` یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ کاتب کا کام آنکھوں کا تیل نکالنا ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک منٹ کے لئے بھی آنکھ اوپر نہیں اٹھا سکتا۔ آنکھ کاغذ پر اور قلم ہاتھ میں لے کر بیٹھا رہتا ہے اور بیٹھنا بھی ایک خاص طریق سے ہوتا ہے۔ میں تو اس کام کے متعلق سمجھتا ہوں کہ عمر قید کی سزا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ کاتب لوگ بہت جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ کتابت کے کام میں انہیں سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ آنکھیں ہر وقت ایک ہی طرف لگی رہتی ہیں۔ اس وجہ سے ان کی صحت ضائع ہو جاتی ہے۔ ہم لوگ جو تصنیف کا کام کرتے ہیں۔ ان سے زیادہ وقت کام میں دیتے ہیں مگر اس حصہ میں ان کا کام زیادہ مشقت طلب ہوتا ہے۔ ہم تو کبھی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی بیٹھ جاتے ہیں۔ کبھی کوئی حوالہ تلاش کرنے لگتے ہیں۔ کبھی لکھنا شروع کردیتے ہیں اور پھر جو کچھ لکھتے ہیں وہ مضمون ہمارے ذہن میں ہوتا ہے۔ اگر ہم آنکھیں بند بھی کرلیں تو لکھ سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ سطریں ٹیڑھی ہو جائیں گی۔ مگر کاتب بیچارے کو دو طرف نظر رکھنی پڑتی ہے۔ ادھر وہ ہمارے لکھے ہوئے کو دیکھتا ہے اور ادھر کاپی پر نظر جمائے رکھتا ہے۔ پھر ہم تو جو چاہیں لکھتے جائیں لیکن کاتب کو اجازت نہیں ہوتی کہ اپنی طرف سے کچھ کرے اور کاتبوں کا اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ مضمون میں دخل دے سکیں< ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت جو کاتب کام کررہے ہیں ان پر کام کا بڑا بار ہے۔ کاتب اگر اچھا لکھے تو ۶ سے ۸ صفحے روزانہ لکھ سکتا ہے۔ مگر اب کام کی زیادتی کی وجہ سے ۱۲ سے ۱۶ صفحے تک روزانہ ایک ایک کاتب سے لکھوایا جارہا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کریں تو کام جلسہ تک ختم نہ ہوسکے گا اس کے بعد اہم کام چھپوائی کا ہے۔ مگر خداتعالیٰ نے اس کے لئے بہت کچھ سہولت عطا کررکھی ہے۔ ایک وقت تو وہ تھا جب کہ دستی پریس چلانا بھی مشکل تھا۔ مگر اب دو پریس کام کررہے ہیں۱۸۵ اور ایک میں دو مشینیں چل رہی ہیں۔ کجا تو یہ کہ دستی پریس بھی نہ تھا اور کجا یہ کہ مشینیں کام کررہی ہیں اور بجلی سے دو دو پریس چل رہے ہیں۔ پریس والوں نے وعدہ کیا ہے کہ ۴۸ صفحے روزانہ چھاپ کر دیتے رہیں گے۔ اس وقت تک ساڑھے سات سو صفحے چھپ چکے ہیں۔ اور پونے دو سو کے قریب چھپنے باقی ہیں۔ مگر ان کے متعلق کوئی فکر نہیں ہے۔ البتہ کاتبوں کا کام ایسا ہے کہ اگر ایک کی بھی صحت خراب ہوگئی تو کام رک جانے کا اندیشہ ہے۔ پھر جلد سازی کا مرحلہ طے ہونا باقی ہے۔ جلد ساز سے عہد لے لیا گیا ہے کہ تمام کاپیاں چھپ جانے کے بعد کم از کم ۷۵ جلدیں روزانہ کے حساب سے دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پس بہت ہی دعائوں کی ضرورت ہے۔ اس کام کی وجہ سے دو ماہ سے انتہائی بوجھ مجھ پر اور ایک ماہ سے میرے ساتھ دوسرے کام کرنے والوں پر پڑا ہوا ہے۔ یہ بوجھ عام انسانی طاقت سے بڑھا ہوا ہے اور زیادہ دیر تک برداشت کرنا مشکل ہے جب تک خداتعالیٰ کا فضل اور نصرت نہ ہو۔ پس دوست دعا کریں کہ خداتعالیٰ کامیابی عطا کرے<۔۱۸۶
    مسودہ پر نظرثانی کی تکمیل
    اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو تفسیر قرآن کے لئے دعائوں کی توفیق بھی بخشی اور پھر ان کی قبولیت کا خود ہی یہ سامان کردیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۲۰۔ فتح/ دسمبر تک یعنی ایک ہفتہ کے اندر تفسیر کے باقی ماندہ مسودہ پر نظر ثانی کرکے کاتبوں کے سپرد کردیا۔ چنانچہ حضور نے اسی روز جماعت کو خطبہ جمعہ کے دوران یہ خوشخبری سنائی اور فرمایا کہ۔
    ‏]ybod >[tagجہاں تک ان نو سورتوں کا تعلق ہے یعنی سورۃ یونس سے شروع کرکے سورۃ کہف تک پرسوں میں نے کام ختم کردیا ہے اور پرسوں شام تک پریس والے ختم کردیں گے۔ ہم نے ۷۔ ۸ سو صفحات حجم کا اندازہ کیا تھا۔ پھر اندازہ لگانے والوں نے کہا کہ ۸۔ ۹ سو کے درمیان صفحات ہوں گے۔ پھر ۹۔ ۱۰ سو صفحات کا اندازہ کیا گیا اور اب رپورٹ ملی ہے کہ ۱۰۰۶ صفحات ہوجائیں گے۔ جس محنت کے ساتھ کام کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ آخری حصہ ایسا اچھا نہیں چھپ سکتا جیسا کہ ارادہ تھا۔ کاتبوں سے دن رات کام لیا گیا ہے۔ اسی طرح پریس والوں سے بھی۔ انسانی طاقت جتنا بوجھ اٹھا سکتی ہے اسے اٹھانے کا بہت اعلیٰ نمونہ کارکنوں نے دکھایا ہے۔ مگر اس محنت کے باوجود کتابت وغیرہ کی بعض غلطیاں ہوں گی۔ میں دوبارہ تو پروف دیکھ ہی نہیں سکا اور اس لئے مجھے خیال ہے کہ بعض جگہ ضرور غلطیاں رہ گئی ہوں گی۔ لکھتے ہوئے بعض اوقات میں نوٹ دے دیتا ہوں کہ حوالہ دے دیا جائے یا فلاں معنی لغت سے نکال کر لکھ دیئے جائیں۔ عین ممکن ہے ان میں سے کوئی حوالہ لکھنا رہ جائے یا معنے نقل کرنے رہ جائیں۔ بہرحال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تمام کارکنوں نے بہت محنت اور اخلاص سے کام لیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض غلطیاں رہ گئی ہوں گی۔ ہم غلط نامہ کی اشاعت کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں آخری حصہ میں پہلے سے کم غلطیاں ہوں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولوی محمد اسٰمعیل صاحب عالم تو بہت تھے مگر ان کو کاپی اور پروف دیکھنے کی مشق نہ تھی۔ اس لئے اس حصہ میں بہت غلطیاں رہ گئی ہیں۔ کوئی حصہ کہیں چھوٹ گیا ہے` کوئی غلط جوڑ دیا گیا ہے ہم نے اس کی درستی بھی کی ہے۔ بعض جگہ علیحدہ پرچیاں چھپوا کر لگا دی گئی ہیں۔ غلط نامہ بھی چھپ جائے گا اور اس طرح صحت کی پوری پوری کوشش کی جارہی ہے۔
    اب جماعت کا فرض ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائے جیسا کہ میں نے بتایا ہے قرآن کریم کی تفسیر تو کوئی انسان نہیں لکھ سکتا اور اس لحاظ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآنی مطالب سارے یا آدھے یا سواں حصہ بلکہ ہزارواں حصہ بھی بیان کر دیئے گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن غیر محدود خدا کا کلام ہے اس لئے اس کے علوم بھی غیر محدود ہیں اور اس نسبت سے ہم اس کے مطالب کا نہ کروڑواں نہ اربواں حصہ بیان کرسکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانہ کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری باتوں پر روشنی ڈال دی گئی ہے۔ مجھے اس خیال سے شدید ترین نفرت ہے کہ تفاسیر میں سب کچھ بیان ہوچکا ہے۔ ایسا خیال رکھنے والوں کو میں اسلام کا بدترین دشمن خیال کرتا ہوں اور احمق سمجھتا ہوں گو وہ کتنے بڑے بڑے جبے اور پگڑیوں والے کیوں نہ ہوں۔ اور جب میرا دوسری تفسیروں کے متعلق یہ خیال ہے تو میں اپنی تفسیر کی نسبت یہ کیونکر کہہ سکتا ہوں۔ ہم یہ تو کوشش کرسکتے ہیں کہ اپنے زمانے کے علوم ایک حد تک بیان کر دیں مگر یہ کہ قرآن کریم کے اپنے زمانہ کے بھی سارے علوم بیان کردیں۔ اس کا تو میں خیال بھی دل میں نہیں لاسکتا۔ قرآن کریم کے نئے نئے معارف ہمیشہ کھلتے رہتے ہیں۔ آج سے سو سال کے بعد جو لوگ آئیں گے وہ ایسے معارف بیان کرسکتے ہیں جو آج ہمارے ذہن میں بھی نہیں آسکتے۔ اور پھر دو سو سال بعد غور کرنے والوں کو اور معارف ملیں گے۔ بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ اس طرح کہنے سے لوگوں کی توجہ تفسیر کی طرف سے ہٹ جائے گی اور بعض دفعہ بعض نادان یہ بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ انہوں نے تو خود کہہ دیا ہے کہ یہ کچھ نہیں۔ مگر میں قرآن کریم کے متعلق سچائی کے بیان کو ہر چیز سے زیادہ ضروری خیال کرتا ہوں۔ لاکھوں کا تفسیر نہ پڑھنا بہت کم نقصان دہ ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک بھی شخص ہو جو یہ خیال کرے کہ اس تفسیر میں سب کچھ آچکا ہے۔ اگر دس کروڑ آدمی بھی خیال کرلیں کہ اس میں کچھ نہیں تو کوئی نقصان نہیں بہ نسبت اس کے کہ ایک بھی یہ خیال کرے کہ اس میں سب کچھ آگیا ہے۔ جو یہ خیال کرے گا کہ اس میں کچھ نہیں وہ تو میرے کلام سے محروم رہے گا لیکن یہ سمجھنے والا کہ اس میں سب کچھ آگیا ہے خداتعالیٰ کے کلام سے محروم رہ جائے گا<۔
    پھر فرمایا۔
    >چونکہ یہ خدائی تائید سے لکھی گئی ہے اس لئے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس میں اس زمانہ یا آئندہ زمانہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی دینی اور روحانی باتیں جو لکھی گئی ہیں وہ صحیح ہیں۔ ہاں بعض آئندہ ہونے والی باتوں کے متعلق یہ احتمال ضرور ہے کہ ہم ان کے اور معنے کریں اور جب وہ ظاہر ہوں تو صورت اور نکلے۔ پس جہاں تک علوم` اخلاق` روحانیت اور دین کا تعلق ہے میں امید کرتا ہوں کہ یہ بہتوں کے لئے ہدایت کا اور ان کو اور گمراہی سے بچانے کا موجب ہوگی<۔۱۸۷
    >تفسیر کبیر< کا نام اور اس کی وجہ سے تسمیہ
    اس عظیم الشان تفسیر کا نام سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک خواب کی بناء پر >تفسیر کبیر< رکھا گیا۔
    حضرت مسیح موعودؑ کا وہ خواب مندرجہ ذیل ہے۔
    >آج ہی۱۸۸ ایک خواب میں دیکھا کہ ایک چوغہ زریں جس پر بہت سنہری کام کیا ہوا ہے۔ مجھے غیب سے دیا گیا ہے۔ ایک چور اس چوغہ کو لے کر بھاگا۔ اس چور کے پیچھے کوئی آدمی بھاگا جس نے چور کو پکڑلیا اور چوغہ واپس لے لیا۔ بعد اس کے وہ چوغہ ایک کتاب کی شکل میں ہوگیا جس کو تفسیر کبیر کہتے ہیں اور معلوم ہوا کہ چور اس کو اس غرض سے لے کر بھاگا تھا کہ اس تفسیر کو نابود کردے۔
    فرمایا۔ اس کشف کی تعبیر یہ ہے کہ چور سے مراد شیطان ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ ہمارے ملفوظات لوگوں کی نظر سے غائب کردے۔ مگر ایسا نہیں ہوگا اور تفسیر کبیر جو چوغہ کے رنگ میں دکھائی گئی اس کی یہ تعبیر ہے کہ وہ ہمارے لئے موجب عزت اور زینت ہوگی۔ واللہ اعلم<۔۱۸۹
    دیباچہ
    تفسیر کبیر کے مسودات پر نظرثانی مکمل۱۹۰ ہوچکی تو حضور نے ۲۰۔ فتح/ دسمبر ہی کو اپنے دست مبارک سے ایک دیباچہ تحریر فرمایا۔ جس میں نہایت اختصار مگر جامعیت کے ساتھ اس تفسیر کے پس منظر` اس کی خصوصیات اور اس کے ماخذوں پر روشنی ڈالی اور ان امور کی نشاندہی فرمائی جو اس کی تصنیف کے وقت حضور کے پیش نظر تھے۔ اس اہم دیباچہ کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    کچھ >تفسیر کبیر< کے متعلق
    سورہ یونس سے سورہ کہف تک کے تفسیری نوٹ شائع ہورہے ہیں۔ میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ قرآن کریم کا صحیح مفہوم پیش کروں اور مجھے یقین ہے کہ اس تفسیر کا بہت سا مضمون میرے غور کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے مگر بہرحال چونکہ میرے دماغ نے بھی اس کام میں حصہ لیا ہے اس لئے ممکن ہے کہ کوئی بات اس میں ایسی ہو جو قرآن کریم کے منشاء کو پوری طرح واضح نہ کرتی ہو۔ اس لئے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے کلام کی خوبیوں سے اپنے بندوں کو نفع پہنچائے اور انسانی غلطیوں کے نقصان سے محفوظ رکھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی تو انشاء اللہ اگلی جلد سورۃ فاتحہ سے شروع کی جائے گی۔ یہ جلد پہلے اس لئے شائع کی گئی ہے کہ ان سورتوں کے متعلق میرے ایک درس کے نوٹ اڑھائی سو صفحات تک چھپ چکے تھے اور ان کے ضائع ہونے کا ڈر تھا۔ پس مناسب سمجھا گیا کہ پہلے سورۃ یونس سے سورۃ کہف تک تفسیری نوٹوں پر مشتمل جلد شائع ہو۔ اور اگر اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے تو بعد میں قرآن کریم کی بقیہ سورتوں کے تفسیری نوٹ شروع سے ترتیب وار شائع کئے جائیں۔
    میں نے تفسیری نوٹوں کو لکھتے ہوئے اس امر کو مدنظر رکھا ہے کہ آیات اور سورتوں کی ترتیب اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے معانی کا ایک سلسلہ پوری ترتیب کے ساتھ پڑھنے والے کی سمجھ میں آجائے گا۔ اور وہ کسی صورت یا کسی آیت کو بے جوڑ نہ سمجھے گا۔ ترتیب کا مضمون ان مضامین میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص طور پر سمجھائے ہیں۔ ولا یحیط احد بشی من علمہ الا بما شاء وسع کرسیہ السموات والارض۔
    رسول کریم~صل۱~ فرماتے ہیں قرآن کریم کے سات بطن ہیں اور ہر بطن کے کئی معانی ہیں۔ اس صورت میں قرآن کریم کی کوئی ایسی تفسیر لکھنا جو سب معانی پر مشتمل ہو` ناممکن ہے اور جو شخص کہے کہ اس نے قرآن کریم کی مکمل تفسیر لکھ لی ہے وہ دیوانہ ہے یا جاہل۔ جو شخص میرے نوٹوں کی نسبت کوئی ایسی بات منسوب کرے میں اس سے بری ہوں۔ میرے نزدیک ان نوٹوں کی خوبی یہی بہت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرما کر موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے متعلق بہت کچھ انکشاف فرمایا ہے۔ مگر ہر زمانہ کی ضرورت الگ ہوتی ہے اور ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق قرآن کریم میں علوم موجود ہیں جو اپنے موقع پر کھولے جاتے ہیں۔ پہلے مفسرین نے اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق بہت بڑی خدمت قرآن کریم کی کی ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اگر وہ دو غلطیاں نہ کرتے تو ان کی تفاسیر دائمی خوبیاں رکھتیں۔
    )۱( منافقوں کی باتوں کو جو انہوں نے مسلمانوں میں مل کر شائع کیں۔ ان تفاسیر میں جگہ دے دی گئی ہے اور اس وجہ سے بعض مضامین اسلام اور آنحضرت~صل۱~ کی ذات کے لئے ہتک کا موجب ہوگئے ہیں۔
    )۲( انہوں نے یہودی کتب پر بہت کچھ اعتبار کیا ہے اور ان میں سے بھی مصدقہ بائیبل پر نہیں بلکہ یہود کی روایات پر اور اس طرح دشمنوں کو اعتراص کا موقع دے دیا ہے۔ اگر رسول کریم~صل۱~ کا فرمانا کہ لا تصدقوھم ولا تکذبوھم ان کے ذہن میں رہتا تو یہ مشکل پیش نہ آتی۔ بہرحال ان دو غلطیوں کو چھوڑ کر جو محنت اور خدمت ان لوگوں نے کی ہے اللہ تعالیٰ ہی ان کی جزا ہوسکتا ہے۔
    دو اور غلطیاں بھی ان سے ہوئی ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں وہ زمانہ کے اثر کے نیچے تھیں ایک بعض آیات کو منسوخ قرار دے دینا` دوسرے مضامین قرآن کی ترتیب کو خاص اہمیت نہ دینا۔ مگر میرے نزدیک باوجود زمانہ کی رو کے خلاف ہونے کے اس بارہ میں انہوں نے مفید جدوجہد ضرور کی ہے اور بالعموم )گو اصولی طور پر نہیں( آیات زیربحث کو غیر منسوخ ثابت کرنے کے لئے محقق مفسرین نے ضرور کوشش کی ہے۔ اسی طرح مطالب کی ترتیب کے متعلق بھی بہت زور لگایا ہے۔
    میرے نزدیک ان محقق مفسرین میں علامہ ابن کثیرؓ` علامہ ابوحیانؓ صاحب محیط اور علامہ زمخشری صاحب کشاف خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ گو آخر الذکر پر اعتزال کا داغ ہے۔ طبری نے تفسیر کے متعلق روایات جمع کرنے میں خاص کام کیا ہے اور علامہ ابوالبقاء نے اعراب قرآن کے متعلق املاء ما من بہ الرحمن کتاب لکھ کر ایک احسان عظیم کیا ہے۔
    گزشتہ صدی کی کوششوں میں تفسیر روح المعانی علوم نقلیہ کی جامع کتاب ہے۔ مگر تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ بالعموم وہ روایت کو اپنے الفاظ میں درج کردیتے ہیں۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سی تفاسیر کا خلاصہ اس میں آجاتا ہے۔
    اب میں ان ماخذوں کا ذکر کرتا ہے جن سے مجھے نفع ہوا ہے اور سب سے پہلے اس ازلی ابدلی ماخذ علوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس سے سب علوم نکلتے ہیں اور جس کے باہر کوئی علم نہیں۔ وہ علیم وہ نور ہی سب علم بخشتا ہے۔ اسی نے اپنے فضل سے مجھے قرآن کریم کی سمجھ دی اور اس کے بہت سے علوم مجھ پر کھولے اور کھولتا رہتا ہے۔ جو کچھ ان نوٹوں میں لکھا گیا ہے ان علوم میں سے ایک حصہ ہے۔ سبحان اللہ والحمدللہ ولا حول ولا قوہ الا باللہ۔ دوسرا ماخذ قرآنی علوم کا حضرت محمد مصطفیٰ~صل۱~ کی ذات ہے آپ پر قرآن نازل ہوا۔ اور آپ نے قرآن کو اپنے نفس پر وارد کیا حتیٰ کہ آپ قرآن مجسم ہوگئے آپ کی ہر حرکت اور آپ کا ہر سکون قرآن کی تفسیر تھے۔ آپ کا ہر خیال اور ہر ارادہ قرآن کی تفسیر تھا۔ آپ کا ہر احساس اور ہر ہر جذبہ قرآن کی تفسیر تھا۔ آپ کی آنکھوں کی چمک میں قرآنی نور کی بجلیاں تھیں اور آپ کے کلمات قرآن کے باغ کے پھول ہوتے تھے۔ ہم نے اس سے مانگا اور اس نے دیا۔ اس کے احسان کے آگے ہماری گردنیں خم ہیں۔ اللھم صل علی محمد وعلی ال محمد وبارک وسلم انک حمید مجید۔
    پھر اس زمانہ میں علوم قرآنیہ کا ماخذ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی مسعود کی ذات علیہ الصلٰوۃ والسلام ہے جس نے قرآن کے بلند و بالا درخت کے گرد سے جھوٹی روایات کی آکاس بیل کو کاٹ کر پھینکا اور خدا سے مدد پاکر اس جنتی درخت کو سینچا اور پھر سرسبز و شاداب ہونے کا موقعہ دیا۔ الحمدلل¶ہ ہم نے اس کی رونق کو دوبارہ دیکھا اور اس کے پھل کھائے اور اس کے سائے کے نیچے بیٹھے۔ مبارک وہ جو قرآنی باغ کا باغبان بنا۔ مبارک وہ جس نے اسے پھر سے زندہ کیا اور اس کی خوبیوں کو ظاہر کیا۔ مبارک وہ جو خداتعالیٰ کی طرف سے آیا اور خداتعالیٰ کی طرف چلا گیا۔ اس کا نام زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔
    مجھے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علوم سے بہت کچھ دیا ہے اور حق یہ ہے کہ اس میں میرے فکر یا میری کوشش کا دخل نہیں۔ وہ صرف اس کے فضل سے ہے۔ مگر اس فضل کے جذب کرنے میں حضرت استاذی المکرم مولوی نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح الاولؓ کا بہت سا حصہ ہے۔ میں چھوٹا تھا اور بیمار رہتا تھا۔ وہ مجھے پکڑ کے اپنے پاس بٹھا لیتے تھے اور اکثر یہ فرماتے تھے کہ میاں تم کو پڑھنے میں تکلیف ہوگی۔ میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جائو اور اکثر اوقات خود ہی قرآن پڑھتے خود ہی تفسیر بیان کرتے۔ اس کے علوم کی چاٹ مجھے انہوں نے لگائی اور اس کی محبت کا شکار بانی سلسلہ احمدیہ نے بنایا۔ بہرحال وہ عاشق قرآن تھے اور ان کا دل چاہتا تھا کہ سب قرآن پڑھیں۔ مجھے قرآن کا ترجمہ پڑھایا اور پھر بخاری کا اور فرمانے لگے لو میاں سب دنیا کے علوم آگئے۔ ان کے سوا جو کچھ ہے یا زائد یا ان کی تشریح ہے۔ یہ بات ان کی بڑی سچی تھی جب تک قرآن و حدیث کے متعلق انسان کا یہ یقین نہ ہو علوم قرآنیہ سے حصہ نہیں لے سکتا۔
    میں آخر میں ان سب کام کرنے والوں کے لئے جنہوں نے ان نوٹوں کی طباعت میں حصہ لیا ہے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا فضل فرمائے۔ انہوں نے رات دن محنت کرکے اس کام کو تھوڑے سے وقت میں ختم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی محنت اور قربانی کا بدلہ اپنے پاس سے دے۔ آمین۔
    پھر اے پڑھنے والو! میں آپ سے کہتا ہوں` قرآن پڑھنے پڑھانے اور عمل کرنے کے لئے ہے۔ پس ان نوٹوں میں اگر کوئی خوبی پائو تو انہیں پڑھو پڑھائو اور پھیلائو` عمل کرو عمل کرائو` اور عمل کرنے کی ترغیب دو۔ یہی اور یہی ایک ذریعہ اسلام کے دوبارہ احیاء کا ہے۔ اے اپنی فانی اولاد سے محبت کرنے والو اور خدا تعالیٰ سے ان کی زندگی چاہنے والو! کیا اللہ تعالیٰ کی اس یادگار اور اس تحفہ کی روحانی زندگی کی کوشش میں حصہ نہ لو گے؟ تم اس کو زندہ کرو` وہ تم کو اور تمہاری نسلوں کو ہمیشہ کی زندگی بخشے گا۔ اٹھو کہ ابھی وقت ہے۔ دوڑو کہ خدا کی رحمت کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ اللہ تعالٰی آپ لوگوں پر بھی رحم فرمائے اور مجھ پر بھی کہ ہر طرح بے کس بے بس اور پرشکستہ ہوں اگر مجرم بنے بغیر اس کے دین کی خدمت کا کام کرسکوں تو اس کا بڑا احسان ہوگا۔ یاستار یاغفار ارحمنی یا ارحم الراحمین برحمتک استغیث۔
    مرزا محمود احمد
    ۲۰۔ ماہ/ فتح ۱۳۱۹ہش۔ ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۵۹ ہجری
    ۲۰۔ دسمبر ۱۹۴۰ء
    تفسیر کبیر کی پہلی جلد حضرت امیرالمومنین کی خدمت میں
    تفسیر کبیر کی اشاعت کا انتظام مولوی عبدالرحمن صاحب انور )سابق انچارج دفتر تحریک جدید( کے ذمہ تھا۔ ان کا بیان ہے کہ جب >تفسیر کبیر کی سورہ یونس کی تفسیر والی پہلی جلد رات۱۹۱ کو چار بجے کے قریب مکمل ہوئی تو حضور کی ہدایت کے بموجب کہ جونہی کتاب کی پہلی جلد تیار ہو حضور کی خدمت میں فوراً پیش کی جائے۔ جب پیش کرنے کے لئے دستک دی تو حضور فوراً تشریف لے آئے اور تیار شدہ جلد کو ملاحظہ فرما کر بہت خوش ہوئے<۔۱۹۲
    تفسیر کبیر جلد سوئم کی اشاعت
    تفسیر کبیر جلد سوم۱۹۳ ایک ہزار سات صفحات کی ضخیم کتاب تھی جو تین ہزار کی تعداد میں طبع ہوئی تھی اور اس کا پہلا ایڈیشن ہجرت/ مئی ۱۹۴۱ء/۱۳۲۰ہش تک بالکل ختم ہوگیا۱۹۴ن اور مرکز کو بیرونی مشنوں کے لئے بعض دوسری جماعتوں مثلاً حیدرآباد دکن وغیرہ سے اس کے نسخے خریدنے پڑے۔۱۹۵ دنیا کی احمدی جماعتوں نے تفسیر کبیر کی اشاعت میں کتنا حصہ لیا؟ اس کی تفصیل خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اپنی زبان مبارک سے سالانہ جلسہ ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش میں بیان فرما دی تھی جو حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔ فرمایا۔
    >تفسیر کبیر جو چھپوائی گئی تھی وہ ختم ہوچکی ہے بلکہ اب تو ہم بیرونی مشنوں کے لئے بعض جماعتوں سے اس کے نسخے خرید رہے ہیں۔ کچھ حیدرآباد سے خریدے ہیں۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ جماعت کے معتدبہ حصہ نے اس کی اشاعت میں حصہ نہیں لیا۔ اس کی اشاعت میں غیر احمدیوں کا بھی کافی حصہ ہے۔ تین ہزار میں سے پانسو سے کچھ زائد غیر احمدیوں نے خریدی ہے اور باقی اڑھائی ہزار احباب جمات نے مجھے افسوس ہے کہ جماعت کے دوستوں نے اس کی اشاعت کی طرف پوری توجہ نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔ ہر احمدی باپ کا فرض تھا کہ اپنی اولاد کے لئے تفسیر کبیر خریدتا۔ میں نے خود اپنی ہر لڑکی اور ہر لڑکے سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے تفسیر خریدی ہے یا نہیں اور جب تک ان سب نے نہیں خریدی مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ میں نے تو خود سب سے پہلے اسے خریدا اور حق تصنیف کے طور پر اس کا ایک بھی نسخہ لینا پسند نہیں کیا کیونکہ میں اس پر اپنا کوئی حق نہ سمجھتا تھا۔ میں نے سوچا کہ مجھے علم خداتعالیٰ نے دیا ہے وقت بھی اسی نے دیا ہے اور اسی کی توفیق سے میں یہ کام کرنے کے قابل ہوا۔ پھر میرا اس پر کیا حق ہے اور میرے لئے یہی مناسب ہے کہ خود بھی اسے اسی طرح خریدوں جس طرح دوسرے لوگ خریدتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ افسوس ہے کہ بعض بڑے بڑے شہروں کی جماعتوں نے بھی اس کی طرف بہت کم توجہ کی ہے۔ میں تمام جماعتوں کی خریداری کی فہرست سنا دیتا ہوں۔ اس سے احباب اندازہ کرسکیں گے کہ کس کس نے اس کی اشاعت کی طرف توجہ کی ہے۔ ضلع گورداسپور ۶۰۷۔ اس میں سے قادیان میں ۵۷۲ اور باقی ضلع میں ۳۵ فروخت ہوئیں دہلی ۵۲ امرتسر ۴۶۔ یہ جماعت عام طور پر غرباء کی جماعت ہے اور گو شہر کے لحاظ سے زیادہ چاہئے لیکن جماعت کی حالت کے لحاظ سے یہ تعداد ایسی بری نہیں۔ لائل پور ۵۱` ملتان ۴۹` شہر اور جماعت کی حالت کے لحاظ سے یہ تعداد اچھی ہے۔ شیخوپورہ ۲۰۔ ڈیرہ غازی خاں ۲۷۔ سرگودھا ۳۵۔ گجرات ۳۷۔ سیالکوٹ ۲۷۔ گوجرانوالہ ۱۹۔ جہلم ۸۔ انبالہ ۷۔ جالندھر ۳۔ جھنگ ۷۔ میانوالی ۴۔ فیروزپور ۲۰۔ گوڑگانواں ۸۔ رہتک ۱۔ حصار ۲۔ ریاست کپورتھلہ ۱۔ مالیر کوٹلہ ۲۔ شملہ ۲۔ جے پور ۳۔ جودھ پور ۳۔ حیدرآباد۱۹۶ سکندرآباد ۲۴۱ مگر میرا خیال ہے یہ تعداد ۳۱۰ ہے۔ معلوم نہیں دفتر نے کس طرح غلط رپورٹ کی ہے۔ صوبہ سرحد ۷۶۔ مدراس ۲۔ بہار ۲۳۔ بمبئی ۴۔ یوپی ۱۱۔ رامپور ۴۔ سی پی ۱۴۔ نواں نگر ۱۰۰۔ مانگرول ۲۔ بذریعہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب۱۹۷ ۵۹۶۔ برما ۲۴۔ عراق ۲۔ فلسطین ۸۔ جاوا سماٹرا ۴۔ یہ کل تعداد ۲۹۰۹ ہے۔ اسے دیکھ کر دوست اندازہ کر سکتے ہیں کہ جماعت نے زیادہ کوشش نہیں کی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ جماعت میں ہی یہ تمام بک کر کم سے کم ۳۔ ۴ ہزار کا مطالبہ اور ہوتا۔ مگر ہوا یہ کہ قریباً ۲۴۰۰ جماعت میں فروخت ہوئی اور باقی پانچ سو دوسروں نے لی۔ مجھے امید ہے کہ آیندہ جماعت ایسی غفلت نہ کرے گی ۔۔۔۔۔۔ یہ تفسیر ایک بہترین تحفہ ہے جو دوست دوست کو دے سکتا ہے۔ ایک بہترین تحفہ ہے جو خاوند بیوی کو اور بیوی خاوند کو دے سکتی ہے۔ باپ بیٹے کو دے سکتا ہے۔ بھائی بہن کو دے سکتا ہے۔ یہ بہترین چیز ہے جو لڑکیوں کو دیا جاسکتا ہے<۔۱۹۸
    تفسیر کبیر جلد سوم کا ہدیہ
    چونکہ تفسیر کبیر کی اشاعت محض قرآنی علوم و انوار کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی غرض سے ہوئی تھی اور کوئی ذاتی مقصد مدنظر نہیں تھا اس لئے حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی نے جنگ کی ہوش ربا گرانی کے باوجود اس کا ھدیہ ابتداً صرف ۵ روپے مقرر فرمایا۔ مگر بعد کو جب حجم اندازہ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا مزید ایک روپیہ کا اضافہ کر دیا گیا ہاں پیشگی رقم دینے والوں کو پانچ روپے میں ہی کتاب دی گئی۔ تفسیر کبیر بہت جلد نایاب ہوگئی اور پہلے آٹھ دس۱۹۹ پھر پچیس اور بعد ازاں سو سو روپے میں فروخت ہوئی چنانچہ حضور انور نے مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کے دوران خود یہ واقعہ بیان فرمایا کہ۔
    >پرسوں۲۰۰ ہی میرے پاس عراق سے ایک خط آیا جسے پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ وہاں ایک احمدی ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے تفسیر کبیر ایک غیر احمدی۲۰۱ ڈاکٹر نے پڑھنے کے لئے لی تھی۔ کچھ عرصہ کے بعد ان کا تبادلہ ہوگیا اور میں نے اپنی کتاب واپس لے لی۔ انہیں معلوم ہوا کہ ایک اور احمدی کے پاس یہ کتاب ہے۔ چنانچہ وہ غیر احمدی ڈاکٹر اس کے پاس گئے اور ایک سو روپیہ میں انہوں نے یہ کتاب اس سے خریدلی<۔۲۰۲
    یہی نہیں ایک وقت ایسا بھی آیا جبکہ بعض غیر احمدی شائقین نے ایک سو روپیہ دینے کی پیشکش کی۔ مگر تفسیر کبیر کی قیمت ایک سو پچیس روپیہ تک پہنچ گئی۔ اس تعلق میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کا بیان فرمودہ ایک واقعہ درج کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ حضور نے ۲۸۔ فتح/ دسمبر ۱۹۵۵ء۔ ۱۳۳۴ ہش کو اپنی سالانہ جلسہ کی تقریر میں بتایا کہ۔
    >سورہ یونس سے سورہ کہف تک جو تفسیر ہے اس کے متعلق ایک غیر احمدی کا مجھے خط آیا کہ ایک احمدی نے مجھے یہ جلد دی تھی جسے وہ واپس مانگ رہا ہے۔ میں سو روپیہ دیتا ہوں مگر وہ تفسیر نہیں دیتا۔ آپ مجھے سو روپیہ پر لے دیں۔ میں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ ابھی اس کی ایک جلد ایک سو پچیس روپیہ میں بکی ہے۔ میں نے کہا تم سو سمجھ کے کہتے ہوگے کہ تم بڑی قربانی کررہے ہو وہ تو ۱۲۵ کو ابھی بکی ہے<۔۲۰۳
    تفسیر کبیر )جلد سوم( کی جناب الٰہی میں مقبولیت
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے سالانہ جلسہ ۱۹۴۱ء۔ ۱۳۲۰ہش کے موقعہ پر ارشاد فرمایا کہ۔
    >تفسیر کبیر کا اثر تعلیم یافتہ طبقہ پر بہت اچھا ہے اور بعض لوگ اس سے گہرے طور پر متاثر ہوئے ہیں اور سب سے بڑی چیز تو یہ ہے کہ یہ خداتعالیٰ کے حضور مقبول ہوچکی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ دشمن نے اس کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ حضرت خلیفہ اولؓ ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ نے ایک کام بڑی نیک نیتی کے ساتھ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ اس پر بہت خوش تھے کہ اس کی توفیق ملی۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ آپ سے ملے اور کہا معلوم ہوتا ہے۔ میری نیت میں ضرور کوئی خرابی تھی کیونکہ میرا یہ کام خداتعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ آپ کی تحریک تو کامیاب ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ ممبر بھی ہوگئے ہیں` چندہ بھی آنے لگا ہے۔ پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ مقبول نہیں ہوا۔ اس بزرگ نے جواب دیا کہ خداتعالیٰ کے ہاں کسی نیک کام کی قبولیت کا ثبوت یہ نہیں ہوتا کہ لوگ اس میں مدد کرنے لگیں۔ بلکہ خداتعالیٰ کے ہاں مقبول عمل وہ ہوتا ہے جس کی لوگ مخالفت کریں اور چونکہ میرے اس کام کی مخالفت کسی نے نہیں کی اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خداتعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوا اور اس پر وہ بہت افسردہ تھے۔ مگر پھر کچھ دنوں کے بعد ملے تو بہت خوش تھے۔ چہرہ بشاش تھا۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو جیب سے ایک خط نکال کر دکھایا کہ دیکھو یہ گالیوں کا خط آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کاموں کا مقابلہ شیطان ضرور کرتا ہے اور اس کے کام کے لئے جو آدمی مقرر ہوتے ہیں وہ خواہ علماء سے ہوں یا رئوساء میں سے اور خواہ عام لوگوں میں سے` وہ ضرور اپنا کام کرتے ہیں۔ چنانچہ اس تفسیر پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے بھی اعتراض کئے ہیں اور بہت غصہ کا اظہار کیا ہے کہ امام جماعت احمدیہ نے تفسیر بالرائے لکھی ہے اور پھر اس کے جواب کی ضرورت اس قدر محسوس کی ہے کہ لکھا ہے کہ میں اس تفسیر کے مکمل ہونے کا انتظار نہیں کرسکتا کیونکہ ممکن ہے اس وقت تک مر ہی جائوں۔ اس لئے ابھی سے اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کردیتا ہوں۔ چنانچہ ایک رسالہ چند اعتراضات پر مبنی شائع بھی کیا ہے۔ پیغامیوں کی طرف سے بھی اس کی مخالفت شروع ہے اور ایک پیغامی مبلغ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ میں اپنی عاقبت کی درستی کے لئے اس تفسیر کا جواب لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ دشمن کو یہ تفسیر بہت چبھی ہے خصوصاً پیغامی صاحبان کے لئے تو یہ بے حد تکلیف اور اذیت کا موجب ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے تفسیر کو خاص طور پر جلب زر کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔ جب ضرورت ہوتی تحریک شروع کردیتے کہ فلاں جگہ اتنی جلدوں کی ضرورت ہے۔ فلاں ملک میں ایک ہزار جلد بھجوائی جانی چاہئے اور اس طرح فروخت کرکے اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرلیتے۔ اس لئے ان کو خاص طور پر دکھ ہوا ہے۔ یہ نبوت وغیرہ کے مسائل اور تقریریں کرنے کے جو سوال اٹھائے جارہے ہیں یہ دراصل تفسیر ہی کی جلن کا اظہار ہے۔ حال میں مجھے ایک دوست نے لکھا ہے کہ ان کے ایک مصنف نے اپنی انجمن کو لکھا ہے کہ اب کمیشن کی آمد بہت کم ہوگئی ہے اس لئے یا تو ۲/۱ ۴ سو روپیہ ماہوار رقم کا انتظام کیا جائے اور یا پھر اتنی رقم مجھے قرض ہی دے دی جایا کرے۔ گویا اس کی آمد پر اس کا اثر پڑا ہے اور اس وجہ سے وہ چیخ اٹھے ہیں۔ یہ مقابلہ جو اب ان کی طرف سے شروع ہوا ہے یہ دراصل تفسیر کا ہے` نبوت وغیرہ کا نہیں۔ بہرحال ان گالیوں سے ہم ناراض نہیں ہیں کیونکہ یہ دراصل ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ کام خداتعالیٰ نے قبول فرما لیا ہے۔
    مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر کو شائع ہوئے بہت عرصہ ہوچکا ہے اور ہماری جماعت کے دوست بھی حسب ضرورت اسے خریدتے رہے ہیں۔ کئی دفعہ بعض علاقوں کے احمدیوں نے مجھ سے پوچھا کہ کونسی انگریزی تفسیر خریدیں تو میں نے ان کو کہا کہ سردست مولوی صاحب کی تفسیر خریدلیں۔ لیکن ان کی یہ حالت ہے کہ ابھی ایک ہی جلد شائع ہوئی ہے اور وہ مخالفت پر کھڑے ہوگئے ہیں<۔۲۰۴`۲۰۵
    تفسیر کبیر جلد سوم کا انڈیکس
    اگرچہ مولوی عبدالرحمن صاحب انوار انچارج تحریک جدید نے تفسیر کبیر جلد سوم کے مضامین کی ایک مختصر سی فہرست اس کے آخر میں شامل کردی تھی مگر ضرورت تھی کہ اس کی مفصل فہرست بھی شائع کی جائے۔ اس اہم خدمت کی تکمیل قاضی محمد اسلم صاحب پرفیسر گورنمنٹ کالج لاہور۲۰۶ کے ذریعہ ہوئی جنہوں نے ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۳ء۔ ۱۳۲۲ہش میں اس کا مفصل انڈیکس۲۰۷ شائع کردیا اور جس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے بھی پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
    >تفسیر کبیر< کی دوسری جلدوں کی اشاعت
    تفسیر کبیر جلد سوم کی اشاعت کے بعد حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے قرآن مجید کے تیسویں پارہ کی تفسیر کی طرف توجہ فرمائی اور وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء۔ ۱۹۲۳ہش سے اس کے درس کا آغاز فرمایا اور پہلے ڈلہوزی میں سورۃ النبا سے سورہ طارق تک` پھر صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء۔ ۱۳۲۴ہش میں قادیان آکر سورہ اعلیٰ سے سورہ قدر تک کا درس دیا۔ ازاں بعد ظہور/ اگست ۱۹۴۵ء۔ ۱۳۲۴ہش میں بمقام ڈلہوزی` سورۃ البینہ سے سورۃ الھمزۃ تک اور ۱۹۴۸ء۔ ۱۳۲۷ہش میں بمقام کوئٹہ سورہ الفیل سے سورہ کوثر تک درس دیا۔۲۰۸
    حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ کے یہ سارے درس مولوی محمد یعقوب صاحب فاضل )انچارج شعبہ زودنویسی( نے قلمبند کئے جو نبوت )نومبر( ۱۹۴۲ء۔ ۱۳۲۱ہش سے حضور کے ارشاد کے ماتحت دفتر >الفضل< قادیان سے تفسیر القرآن کے کام پر منتقل ہوگئے۲۰۹ تھے۔ تاہم حل لغات اور حوالہ جات کی فراہمی کا فریضہ مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب فاضل )پروفیسر جامعہ احمدیہ( ہی کے سپرد رہا اور ان ہی کی زیر نگرانی ان درسوں کی کتابت` پروف ریڈنگ اور طباعت بھی ہوئی۔
    حضور کے یہ اہم درس تین جلدوں میں شائع کئے گئے۔
    پہلی جلد سورۃ النباء سے سورۃ البلد تک کے معارف پر مشتمل تھی )تعداد تین ہزار ضخامت ۶۲۸ صفحات` تاریخ اشاعت ظہور/ اگست ۱۹۴۵۔ ۱۳۲۴ہش(
    دوسری جلد میں سورۃ الشمس سے سورۃ الزلزال تک کے مضامین شائع ہوئے )تعداد تین ہزار ضخامت ۴۷۲ صفحات` تاریخ اشاعت ۲۵ فتح/ دسمبر ۱۹۴۶ء۔ ۱۳۲۵ہش(
    تیسری جلد سورۃ العادیات تا سورۃ الکوثر کی تفسیر پر مشتمل تھی۲۱۰ )ضخامت ۵۰۰ صفحات تاریخ اشاعت فتح/ دسمبر ۱۹۵۰ء۔ ۱۳۲۹ہش(۲۱۰
    تیسویں پارہ کی آخری اور چوتھی جلد جس میں سورۃ الکافرون سے سورۃ الناس تک کے مطالب موجود تھے` اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۶ء۔ ۱۳۳۵ہش میں شائع ہوئی۔ یہ جلد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے لکھے ہوئے نوٹوں اور حضور کے دیئے ہوئے درسوں سے مرتب کی گئی تھی اور حضورؓ نے ان نوٹوں کو اول سے آخر تک سن کر ان میں ترمیم و تصحیح فرمائی۔۲۱۱ )تعداد اشاعت تین ہزار` ضخامت ۲۱۲ صفحات` سن اشاعت اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۶ء۔ ۱۳۳۵ ہش(
    آخری پارہ کی تفسیر کے لئے اخراجات
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے مندرجہ بالا جلدوں کی طبع و اشاعت کے لئے دس ہزار روپے مرحمت فرمائے جیسا کہ حضور نے آخری پارہ کی پہلی جلد کے دیباچہ میں رقم فرمایا کہ۔
    >پارہ عم کی تفسیر کی طباعت کے لئے میں نے دس ہزار روپیہ دیا ہے اور یہ پارہ اس رقم سے شائع کیا جائے گا۔ یہ رقم اور اس کا منافع بطور صدقہ جاریہ میری مرحومہ بیوی مریم بیگم ام طاہر غفراللہ لھا و احسن مثواھا کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے وقف رہے گا اور اس کی آمد سے قرآن کریم` احادیث اور سلسلہ احمدیہ کی ایسی کتب جو تائید اسلام کے لئے لکھی جائیں۔ شائع کی جاتی رہیں گی اور اس کا انتظام تحریک جدید کے ماتحت رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس صدقہ جاریہ کو مرحومہ کی درجات کی بلندی اور قرب الٰہی کا موجب بنائے<۔۲۱۲4] [rtf
    تفسیر کبیر کے مسودات کی حفاظت کا خاص اہتمام
    اس جگہ یہ بتانا ضروری ہے کہ متحدہ ہندوستان میں اس کی دو جلدیں ہی شائع ہوئی تھیں اور بقیہ جلدوں کے مسودات )تا سورۃ الھمزۃ( اشاعت کے بغیر پڑے تھے کہ ہندوستان تقسیم ہوگیا جس پر حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ابوالمنیر مولوی نورالحق صاحب کو بتاریخ ۲۵۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۷ء۔ ۱۳۲۶ہش مسودات تفسیر دے کر لاہور بھجوا دیا۔ چنانچہ آپ کا بیان ہے۔
    >پاکستان کے قیام پر فسادات کے پیش نظر حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ نے سب سے پہلا قافلہ ۴۷/۸/۲۱ کو لاہور بھجوایا تھا۔ اس میں حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور
    ‏tav.8.7
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین مبارکہ تھیں اور خاندان کے صرف چند ایک مرد فرد تھے۔ اس قافلہ میں حضور نے مجھے بھی شامل فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ تفسیر کبیر کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ سب مسودات لے کر لاہور پہنچوں۔ چنانچہ خاکسار ان سب مسودات کو لے کر لاہور پہنچ گیا۔ حضور نے یہ سب اس لئے کیا۔ تا ایسا نہ ہو کہ مسودات ضائع ہو جائیں<۔
    ازاں بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی خود بھی ۳۱۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۷ء۔ ۱۳۲۶ء ہش کو ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے۔ یہاں پہنچتے ہی آپ نے جن امور کی طرف فوری توجہ فرمائی ان میں تفسیر کا کام بھی تھا۔ چنانچہ حضرت امیرالمومنین نے مورخہ ۳۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۷ء۔ ۱۳۲۶ء ہش حضرت میاں بشیر احمد صاحبؓ )امیر مقامی قادیان( کے نام حسب ذیل ہدایت جاری فرمائی۔ فرمایا۔
    >جو کنوائے آئے گا اس کے ساتھ تفسیر کے تین بکس دفتر سے ضرور بھجوا دیں اور مولوی محمد یعقوب کو` تاکہ دوچار دن میں تفسیر کی آخری جلد مکمل کردوں تا اس طرف سے دلجمعی ہوجائے۔ باقی کام ہوتا رہے گا۔ کون شخص ہے جس نے سارے دنیا کے کام کئے ہوں<۔۲۱۳
    اس حکم کی تعمیل میں حضرت میاں صاحبؓ نے تفسیر کے تین بکس بھی لاہور بھجوا دیئے اور مولوی محمد یعقوب صاحب )انچارج شعبہ زودنویسی( کو بھی روانہ کردیا۔
    تفسیر کبیر کی دوسری جلدوں کی اشاعت
    تیسویں پارہ کی مکمل تفسیر لکھنے کے علاوہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی تفسیر کبیر کی مندرجہ ذیل پانچ جلدیں بھی شائع ہوئیں۔
    ۱۔ تفسیر کبیر جلد اول جز اول۲۱۴ )سورۃ البقرہ کے پہلے نو رکوع پر مشتمل صفحات ۵۴۸` تاریخ اشاعت ۲۳۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۸ء۔ ۱۳۲۷ہش( یہ تفسیر ضیاء الاسلام پریس۲۱۵ قادیان میں چھپی مگر سرورق اتحاد پریس لاہور میں طبع ہوا۔ اس جلد کا مسودہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے اپنے ہاتھوں کا تحریر کیا ہوا ہے۔ اس جلد کی نسبت حضور نے قبل ازیں سالانہ جلسہ ۱۹۴۴ء۔ ۱۳۲۳ہش کے موقعہ پر بتایا۔]>[اردو تفسیر کے متعلق مجھے افسوس ہے کہ وہ شائع نہیں ہوسکی۔ پانسو صفحات سے زیادہ کا مضمون میں دے چکا ہوں اور اس سال پچھلے سال کی نسبت زیادہ کام ہوا ہے۔ میری صحت بہت خراب رہی ہے ورنہ اس سے بھی زیادہ کام ہوسکتا تھا۔ میری صحت کی خرابی میں دانتوں کا دخل ہے۔ بعض اوقات دانت کا ٹکڑا آپ ہی آپ ٹوٹ کر گر جاتا ہے اور اس وجہ سے میں کھانا وغیرہ چبا کر نہیں کھاسکتا۔ روٹی بہت کم کھاسکتا ہوں۔ بسا اوقات چھٹانک سے بھی کم وزن کا پھلکا ہوتا ہے جو کھاتا ہوں۔ مگر اس کے باوجود پیٹ میں خرابی رہتی ہے۔ خون کم پیدا ہوتا ہے اور پیچش بھی ہو جاتی ہے اور اس وجہ سے ہاتھوں کی انگلیاں بھی پوری طرح کام نہیں کرسکتیں۔ آخر سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مضمون کاتب کو لکھوا دیا کروں اور خداتعالیٰ کے فضل سے اس میں بڑی کامیابی ہوئی ہے اور بڑی جلدی کام ہونے لگا ہے۔ جنہوں نے دیکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس طرح لکھے ہوئے اور میرے ہاتھ کے لکھے ہوئے میں فرق نہیں۔ اس طرح بعض اوقات میں نے ساٹھ ساٹھ کالم مضمون لکھوا دیا ہے اور امید ہے کامیابی ہوگی۔ مشکل یہ ہے کہ مضامین اس طرح الجھتے ہیں کہ جیسے ایک خزانہ کے اندر دوسرا خزانہ مخفی ہو اور آٹھ رکوع میں ہی پانچ سو صفحات ختم ہوگئے ہیں اور اتنا بھی مضامین کا گلا گھونٹ گھونٹ کر کیا گیا ہے۔ پہلے تجویز تھی کہ تین سورتیں پہلی جلد میں ختم ہو جائیں۔ پھر یہ خیال کیا کہ دو سورتیں پہلی جلد میں ختم کی جائیں۔ مگر اب یہ بھی مشکل نظر آتا ہے۔ میں بہت سی باتیں چھوڑتا بھی ہوں۔ مگر چونکہ ابتدائی مضمون ہے اس لئے یہ بھی خیال ہے کہ ممکن ہے تفصیل آگے فائدہ دے اس لئے ہر بات بیان کرنی پڑتی ہے اور اس لئے پانچ سو صفحات میں صرف آٹھ رکوع ختم ہوئے ہیں<۔۲۱۶
    تفسیر کبیر کی اس پہلی جلد کے ابتداء میں حضور نے >کلام اللہ< کے عنوان سے حسب ذیل دیباچہ رقم فرمایا۔
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریمط
    کلام اللہ
    قرآن کریم ایک ہی کتاب ہے جو کلام اللہ کہلا سکتی ہے۔ دوسری کتب خواہ الہامی بھی ہوں کلام اللہ نہیں۔ کیونکہ ان میں انسانی کلام بھی شامل ہے۔ خالص کلام اللہ الف سے لے کر ی تک بسم اللہ سے لے کر والناس تک صرف قرآن کریم ہے۔
    یہ کتاب اس وقت سے کہ نازل ہوئی ہمارے زمانہ تک جوں کی توں ہے۔ نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ` نہ کوئی حکم ناقابل عمل نہ کوئی آیت منسوخ` ہر ایک زبر زیر محفوظ` ہر ایک حرکت و وقف بعینہ۔ پس اس کے سوا اور کوئی کتاب نہیں جسے اس تعیین کے ساتھ اپنے لئے مشعل راہ بنایا جاسکے کہ اس سے کوئی مشتبہ حکم نہ ملے گا۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس قیمتی کتاب کو بھلا دیا ہے۔ وہ اسے
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا مکتوب گرامی شیخ محمد احد صاحب مظہر ایڈووکیٹ کپورتھلوی کے نام )۱۵۔ دسمبر ۱۹۳۷ء(

    عکس کیلئے
    حضرت مصلح موعود کے رقم فرمودہ دیباچہ کا عکس مشمولہ تفسیر کبیر جلد اول
    جزاول )۲۳۔ مئی ۱۹۳۸ء(
    عکس کیلئے
    چھوڑ کر دوسری کتب کی طرف متوجہ ہیں اور خداتعالیٰ کی جگہ خود ساختہ لیڈروں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ میں نے اس امید کے ساتھ کلام اللہ کی تفسیر لکھی ہے کہ جو لوگ عربی نہیں جانتے یا بدقسمتی سے اس کلام پر غور کرنے کا وقت نہیں پاتے یا جن کے دل میں یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی انہیں کلام الل¶ہ سمجھنے کا موقعہ مل جائے اور اس کی اندرونی خوبیوں سے وہ واقف ہو جائیں۔ پہلی جلد تفسیر کی یہ ہے جس کا دیباچہ میں ان سطور کے ذریعے سے لکھ رہا ہوں۔ تین جلدیں درمیانی اور آخری حصہ کے متعلق پہلے چھپ چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ میری حقیر کوشش کو قبول فرمائے اور اس تفسیر کے ذریعہ سے قرآن کریم کے مطالب کو ظاہر و باطن میں پھر زندہ فرمائے اور مجھے بھی اس تفسیر کے مکمل کرنے کی توفیق بخشے۔ )آمین(
    میرزا محمود احمد
    رتن باغ لاہور ۴۸/۵/۲۳
    ۲۔ تفسیر کبیر جلد چہارم )مشتمل برسورۃ مریم و سورۃ طٰہ و سورۃ انبیاء( صفحات ۵۸۰` تاریخ اشاعت ۲۰۔ امان/ مارچ ۱۹۵۸ء۔ ۱۳۳۷ہش( یہ جلد حضرت ام طاہر فنڈ کی رقم سے الشرکتہ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ نے شائع کی۔
    ۳۔ تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ اول )سورۃ الحج` سورۃ المومنون اور سورۃ النور کی تفسیر` صفحات ۴۱۲` تاریخ اشاعت فتح/ دسمبر ۱۹۵۷ء۔ ۱۳۳۶ہش` ناشر الشرکتہ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ(
    ۴۔ تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ دوم )سورۃ الفرقان اور سورۃ الشعراء کی تفسیر صفحات ۵۰۰` تاریخ اشاعت ۳۰۔ نبوت/ نومبر ۱۹۵۹ء۔ ۱۳۳۸ہش` ناشر الشرکتہ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ(
    ۵۔ تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ سوم )سورۃ النمل` سورۃ القﷺ اور سورۃ العنکبوت کی تفسیر` صفحات ۳۹۰` تاریخ اشاعت ۱۵۔ نبوت/ نومبر ۱۹۶۰ء۔ ۱۳۳۹ہش` ناشر الشرکتہ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ(۲۱۷
    تفسیر کبیر کی تالیف کے دوران القاء
    جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے تفسیر کبیر جلد سوم کے شروع میں لکھا ہے کہ >اس تفسیر کا بہت سا مضمون میرے غور کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے< اس خدائی عطیہ کا ایک خصوصی پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفسیر کبیر کی تالیف کے دوران حضور کو بعض مشکل مقامات کا حل یکایک القاء کیا جاتا رہا۔ بطور مثال ایک اہم واقعہ کا بیان کرنا ضروری ہے جو حضور نے سورۃ الفجر کے درس کے آغاز کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ۔
    >قرآن کریم کی کئی مشکل آیات کے معنی اللہ تعالیٰ نے اپنے القاء اور الہام کے ذریعہ مجھ پر منکشف فرمائے ہیں اور اس قسم کی بہت سی مثالیں میری زندگی میں پائی جاتی ہیں۔ ان ہی مشکل آیات میں سے میرے لئے ایک یہ سورۃ بھی تھی۔ میں جب بھی سوچتا اور غور کرتا مجھے اس کے معانی کے متعلق تسلی نہیں ہوتی تھی بلکہ ہمیشہ دل میں ایک خلش سی پائی جاتی تھی اور مجھے بار بار یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ جو معانی بتائے جاتے ہیں` وہ قلب کو مطمئن کرنے والے نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مفسرین نے بہت سے معانی کئے ہیں جو لوگوں کی نگاہ میں اس سورۃ کو حل کر دیتے ہیں۔ مگر میری اپنی نگاہ میں وہ اطمینان بخش معانی نہیں تھے اور اس لئے ہمیشہ ایک بے چینی سی میرے اندر پائی جاتی تھی۔ میں سوچتا اور غور کرتا مگر جو بھی معنے میرے ذہن میں آتے ان کو مزید غور کے بعد میں خود ہی رد کر دیتا اور کہتا کہ یہ درست نہیں ہیں۔ آخر بڑی مدتوں کے بعد ایک دفعہ جب میں عورتوں میں قرآن کریم کے آخری پارہ کا درس دینے لگا تو اس کا ایک حصہ حل ہوگیا۔مگر پھر بھی جو حل ہوا وہ صرف ایک حصہ ہی تھا۔ مکمل مضمون نہیں تھا۔ جو معنے مجھ پر اس وقت روشن ہوئے ان سے چاروں کھونٹے قائم نہیں ہوتے تھے۔ دو تو بن جاتے تھے مگر دو رہ جاتے تھے۔ یہ حالت چلتی چلی گئی اور مجھے کامل طور پر اس کے معانی کے متعلق اطمینان حاصل نہ ہوا۔
    اب جو میں نے درس دینا شروع کیا تو پھر یہ سورۃ میرے سامنے آگئی )یعنی سورۃ الفجر۔ ناقل( اور میں نے اس پر غور کرنا شروع کردیا۔ میں نے آخری پارے کا درس جولائی ۱۹۴۴ء میں شروع کیا تھا۔ اور ڈلہوزی میں اس کی ابتداء کی تھی۔ اس وقت سے لے کر اب تک کئی دفعہ اس سورۃ پر نظر ڈالی اور مجھے سخت فکر ہوا کہ اس سورۃ کا درس تو قریب آرہا ہے مگر ابھی اس کے معانی ترتیب سور کے لحاظ سے مجھ پر روشن نہیں ہوئے- بار بار میں اس سورۃ کو دیکھتا` اس کے مطالب پر غور کرتا اور کوئی مضمون میرے ذہن میں بھی آجاتا۔ مگر پھر سوچتے سوچتے میں اس کو ناکافی قرار دے دیتا۔ غرض بیسیوں دفعہ میں نے اس سورۃ پر نگاہ دوڑائی مگر مجھے اپنے مقصد میں کامیابی نہ ہوئی یہاں تک کہ سورۃ الغاشیہ کے درس کا وقت آگیا اور میں اس کے نوٹ لکھنے لگا۔ مگر اس وقت بجائے غاشیہ پر نگاہ ڈالنے کے میری نظر بار بار آگے کی طرف نکل جاتی اور سورۃ الفجر میرے سامنے آجاتی۔ غاشیہ کے متعلق میں سمجھتا تھا کہ یہ تو حل شدہ ہی ہے اور اگر کوئی مشکل آیت بھی ہوئی تو ترتیب میں آکر وہ خود بخود حل ہو جائے گی۔ جس طرح ایک انسان جب گیند پھینکتا ہے تو اسے پتہ ہوتا کہ یہ گیند اتنی دور جائے گا` اسی طرح جو شخص قرآن کریم کی تفسیر ترتیب آیات اور ترتیب سور کو مدنظر رکھ کر کرتا ہے وہ سمجھ جاتا ہے کہ اسی ترتیب کے مطابق فلاں آیت کے فلاں معنے بنیں گے مگر اس بات کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی عمر اس فن میں صرف کردی ہو۔ وہی جانتا ہے کہ نہر کا رخ کس طرف ہے اور پانی کا بہائو کدھر ہے۔ دوسرا شخص جسے قرآن پر اس رنگ میں غور کرنے کا موقعہ نہ ملا ہو وہ ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ جب میں سورۃ کہف کی تفسیر لکھ رہا تھا تو لاتقولن لشی|ء انی فاعل ذالک غدا الا ان یشاء اللہ )الکہف ۴: ۱۶( کے معنے میری سمجھ میں نہیں آتے تھے مگر تفسیر لکھتے وقت میں نے سمجھا کہ میں صحیح ترتیب پر چل رہا ہوں۔ جب میں اس آیت پر پہنچوں گا تو دیکھوں گا کہ اس کے کیا معنے بنتے ہیں۔ چنانچہ ترتیب آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں تفسیر کرتا چلا گیا یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو اس وقت یہ آیت اپنے معانی کے لحاظ سے یوں واضح ہوگئی کہ میں نے سمجھ لیا کہ اس کے سوا اس آیت کے اور کوئی معنے ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ پہلی آیتیں مجبور کرکے ان معنوں کی طرف لے جارہی تھیں۔ لطیفہ یہ ہوا کہ انگریزی ترجمتہ القرآن کے سلسلہ میں مولوی شیر علی صاحب کے نوٹ جب میرے پاس آئے تو ان میں وہی معنے لکھے ہوئے تھے مگر وہ نوٹ انہوں نے یہاں نہیں لکھے تھے بلکہ ولایت میں لکھے تھے۔ میں نے ملک غلام فرید صاحب سے پوچھا کہ مولوی صاحب نے یہ نوٹ اب ٹھیک کئے ہیں یا پہلے سے اسی طرح لکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ولایت کے لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ ولایت کے نوٹ ہیں تو پھر اس آیت کے یہ معنے ولایت میں کس طرح پہنچ گئے؟ میں تو اس آیت پر بڑا غور کرتا رہا تھا مگر اس کے معنے پندرھویں پارہ کی تفسیر لکھتے ہوئے میری سمجھ میں آئے تھے۔ اس پر انہوں نے بتایا کہ آپ نے جو درس ۱۹۲۲ء ¶میں دیا تھا اس میں یہی معنے بیان کئے تھے اور اس وقت کے نوٹوں سے مولوی صاحب نے یہ معنے درج کئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۲۲ء کا درس دیتے وقت جب میں اس آیت پر پہنچا تو خودبخود یہ آیت حل ہوگئی۔ مگر چونکہ عین وقت پر حل ہوئی اس لئے میرے قرآن کریم کے حاشیہ پر وہ معنی نہ لکھے گئے اور کچھ عرصہ بعد مجھے بھول گئے۔ اب گو ان معنوں کو میں بھول چکا تھا مگر جب ترتیب آیات کے لحاظ سے غور کرتے ہوئے میں اس آیت پر پہنچا تو فوراً وہی معنے پھر ذہن میں آگئے۔ تو ترتیب کے لحاظ سے جو شخص آیات کے معنے کرنے کا عادی ہو وہ ادھر ادھر جاہی نہیں سکتا۔ وہ اسی رو اور اسی نالی میں بہہ رہا ہوتا ہے جس کی طرف مضمون زبان حال سے اشارہ کررہا ہوتا ہے۔
    غرض جوں جوں سورۃ فجر کا درس نزدیک آتا گیا میرا اضطراب بھی بڑھتا چلا گیا۔ میں نے کہا جب اس سورۃ کے متعلق میری اپنی تسلی ہی نہیں ہوئی تو میں دوسروں کو کیسے مطمن کرسکتا ہوں۔ مفسرین نے جو معنی بیان کئے ہیں وہ میں بیان کرسکتا تھا۔ مگر جو ترتیب گزشتہ سورتوں میں سے بتاتا آرہا ہوں اس کے لحاظ سے چاروں کھونٹے قائم نہیں ہوتے تھے پہلے خیال آیا کہ میں دوسروں کے معانی ہی نقل کردوں کیونکہ یہ درس اب جلد کتابی صورت میں چھپنے والا ہے کب تک میں ان معانی کا انتظار کروں جو ترتیب کے مطابق ہوں۔ شاید ترتیب کے مطابق معنی اللہ تعالیٰ پھر کسی وقت کھول دے۔ آخر پرانے مفسروں نے کوئی نہ کوئی معنے ان آیات کے کئے ہی ہیں۔ رازی نے بھی اس کے معنے لکھے ہیں۔ بحر محیط والوں نے بھی معنے لکھے ہیں۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے بھی معنے کئے ہوئے ہیں اور ان تمام معانی کو ملحوظ رکھ کر کچھ نہ کچھ بات بن ہی جاتی ہے۔ مگر چونکہ میرا دل کہتا تھا کہ ترتیب آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ معانی پوری طرح باہم منطبق نہیں ہوتے۔ مجھے اطمینان نہ ہوا۔ یہاں تک کہ ۱۷۔ ماہ صلح ۱۳۲۴ہش مطابق ۱۷۔ جنوری ۱۹۴۵ء بروز بدھ میں سورۃ غاشیہ کا درس دینے کے لئے مسجد مبارک میں آیا۔ میں نے درس سورۃ غاشیہ کا دینا تھا۔ مگر میں غور سورۃ فجر پر کررہا تھا۔ اس ذہنی کشمکش میں میں نے عصر کی نماز پڑھانی شروع کی اور میرے دل پر ایک بوجھ تھا لیکن خداتعالیٰ کی قدرت ہے کہ جب میں عصر کی نماز کے آخری سجدہ سے سر اٹھا رہا تھا تو ابھی سرزمین سے ایک بالشت بھر اونچا آیا ہوگا کہ ایک آن میں یہ سورۃ مجھ پر حل ہوگئی۔ پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ سجدہ کے وقت خصوصاً نماز کے آخری سجدہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے بعض آیات کو مجھ پر حل کردیا مگر اس دفعہ بہت ہی زبردست تفہیم تھی کیونکہ وہ ایک نہایت مشکل اور نہایت وسیع مضمون پر حاوی تھی۔ چنانچہ جب میں نے عصر کی نماز کا سلام پھیرا تو بے تحاشہ میری زبان سے الحمدلل¶ہ کے الفاظ بلند آواز سے نکل گئے<۔۲۱۸
    >تفسیر کبیر< کی بعض اہم خصوصیات
    >تفسیر کبیر< کے ذریعہ >کلام اللہ کا مرتبہ< اس شان سے ظاہر ہوا ہے کہ اس کی نظیر خلفاء کی گزشتہ تاریخ میں تلاش کرنا محال ہے۔ یہ تفسیر دنیائے تفسیر کی ایک بے نظیر تفسیر ہے جس نے نہ صرف قرآن کے حسین چہرہ کو صحیح صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے بلکہ زمانہ مستقبل کے مفسرین کے لئے صحیح راستوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عظیم الشان تفسیر اپنے اندر بے شمار خصوصیات رکھتی ہے جن میں سے بعض کا نہایت مختصر سا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔
    پہلی خصوصیت
    اس تفسیر کی پہلی عظیم خصوصیت یہ ہے کہ اس سے آیتوں اور سورتوں کی ترتیب اور ربط کا محکم قرآنی نظام آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ ترتیب کا یہ مضمون ان مضامین میں سے ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو خاص طور پر عطا فرمائے تھے۔ چنانچہ حضرت اقدس فرماتے ہیں۔
    >میرا ترجمہ اور میری تفسیر ہمیشہ آیات اور ترتیب سور کے ماتحت ہوتی ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ جو شخص اس نکتہ کو مدنظر رکھے گا وہ فوراً یہ نتیجہ نکال لے گا کہ اس ترتیب کے ماتحت فلاں فلاں آیات کے کیا معنی ہیں۔ فرض کرو` ایک نقطہ یہاں ہے اور ایک وہاں اور درمیان میں جگہ خالی ہے تو ہوشیار آدمی دونوں کو دیکھ کر خودبخود درمیانی خلا کو پرکرسکے گا اور وہ سمجھ جائے گا کہ جب یہ نقطہ فلاں بات کی طرف توجہ دلاتا ہے اور وہ نقطہ فلاں بات کی طرف تو درمیان میں جو کچھ ہوگا وہ بہرحال وہی ہوگا جو ان دونوں نقطوں کے مطابق ہو۔ اگر درمیانی مضمون کسی اور طرف چلا جائے تو دائیں بائیں کے مضامین بھی لازماً ادھورے رہ جائیں گے اور سلسلہ مطالب کی کڑی ٹوٹ جائے گی۔
    پس میں چونکہ ہمیشہ ترتیب آیات اور ترتیب سور کو ملحوظ رکھ کر تفسیر کیا کرتا ہوں اس لئے اگر کوئی شخص میری ترتیب کو سمجھ لے تو گو میں نے کسی آیت کی کہیں تفسیر کی ہوگی اور کسی آیت کی کہیں۔ درمیانی آیات کا حل کرنا اس کے لئے بالکل آسان ہوگا کیونکہ ترتیب مضمون اسے کسی اور طرف جانے ہی نہیں دے گی اور وہ اس بات پر مجبور ہوگا کہ باقی آیتوں کے وہی معنی کرے جو اس ترتیب کے مطابق ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح میری تفسیر کے نوٹوں سے انسان سارے قرآن کریم کی تفسیر سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ وہ ہوشیار ہو اور قرآن کریم کو سمجھنے کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہو<۔۲۱۹
    اسی ضمن میں حضورؓ نے سورہ کہف کے درس کے دوران کا ایک واقعہ بھی تفسیر کبیر میں لکھا ہے۔ فرماتے ہیں۔
    >میں جب سورہ کہف کا درس دینے لگا او میں نے اس سورۃ پر غور کیا تو اور سورۃ تو سب حل ہوگئی مگر ایک آیت کی مجھے سمجھ نہ آئی۔ میں نے بہت سوچا اور غور کیا مگر وہ آیت مجھے بالکل بے جوڑ معلوم ہوتی تھی۔ آخر میں نے درس دینا شروع کردیا۔ جوں جوں وہ آیت قریب آتی جائے میری گھبراہٹ بڑھتی چلی جائے کہ اب اس آیت کے متعلق کیا ہوگا یہاں تک کہ صرف دو یا تین آیتیں رہ گئیں مگر پھر بھی وہ میری سمجھ میں نہ آئی۔ اس وقت میری گھبراہٹ بہت زیادہ ہوگئی۔ مگر جس وقت میں اس سے پہلی آیت پر پہنچا تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ وہ آیت تو بالکل حل شدہ ہے اور اس کے نہایت صاف اور سیدھے معنے ہیں جن مین کسی قسم کی الجھن نہیں۔
    تو حقیقت یہ ہے کہ اگر قرآن کریم کی ترتیب کو مدنظر رکھا جائے اور اس پر غور اور تدبر کرنے کی عادت ڈالی جائے تو اس کی بہت سی مشکل آیات خود بخود حل ہو جاتی ہیں<۔۲۲۰
    دوسری خصوصیت
    تفسیر کبیر میں قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ اور تفسیر عربی زبان کی مستند لغات )مثلاً تاج العروس` المنجد` کلیات ابو البقاء` اقرب الموارد` ¶مفردات` لسان العرب` قاموس( کی روشنی میں کی گئی اور وہی معنے اختیار کئے گئے جن کی اجازت لغت دیتی ہے۔
    تیسری خصوصیت
    اس تفیسر کی تیسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں الفاظ کے مختلف لغوی معانی بیان کرکے مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے قرآنی حقائق و معارف کا انکشاف کیا گیا ہے۔ یہ وہ علم ہے جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص طور پر عطا فرمایا گیا۔ حضور خود ہی ارشاد فرماتے ہیں۔
    >رسول کریم~صل۱~ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے کئی بطن ہیں۔ ایک بطن تو قرآن کریم کا یہ ہے کہ کسی آیت کے معنی کرتے وقت اس کے سیاق و سباق کی تمام آیات کو دیکھا جاتا ہے اور اس کے معنی سیاق و سباق کو مدنظر رکھ کر کئے جاتے ہیں کیونکہ اگر سیاق و سباق کو مدنظر نہ رکھا جائے تو معنوں میں غلطی کا امکان ہوتا ہے پھر ایک بطن یہ ہے کہ کسی آیت کے معنے کرتے وقت اس کے کچھ آگے آنے والی آیتوں اور کچھ پیچھے آنے والی آیتوں کو دیکھا جاتا ہے اور ان کے معنوں میں تطابق کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ پھر ایک بطن یہ ہے کہ جس آیت کے معنے مطلوب ہوں اس ساری سورۃ کو دیکھا جاتا ہے۔ پھر ایک بطن یہ ہے کہ کئی سورتوں کو ملا کر اس کے معنے اخذ کئے جاتے ہیں۔ پھر ایک بطن یہ ہے کہ سارے قرآن مجید کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔ یہ علم اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے عطا فرمایا ہے۔ بعض دفعہ ایک مضمون کا تعلق ابتدائی سورتوں کے ساتھ ہوتا ہے اور بعض دفعہ بعد والی سورتوں کے ساتھ۔ پھر ایک معنے کسی آیت کے منفرداً ہوتے ہیں اور ایک معنے دوسری آیتوں کے ساتھ ملا کر کئے جاتے ہیں<۔۲۲۱
    چوتھی خصوصیت
    چوتھی خصوصیت تفسیر کبیر کی یہ ہے کہ اس میں روز روشن کی طرح ثابت کردیا گیا ہے کہ قرآن مجید کی بیان فرمودہ موسوی تاریخ ہی مستند ہے اور اس کے مقابلے میں بائیبل پر اعتماد کرنا کسی طرح درست نہیں۔۲۲۲
    پانچویں خصوصیت
    >تفسیر کبیر< عہد حاضر کی واحد تفسیر ہے جس میں نولڈک تھیوڈر THEODOR (NOLDEK ریورنڈ ویری (REVEREND VERE) جے۔ ایم راڈول RODELL ۔M۔J سرولیم میور MUIR) WILLIAM (SIR اور آرنلڈ (ARNOLD) وغیرہ مستشرقین کے اسلام اور قرآن مجید پر کئے ہوئے اعتراضات کے مسکت اور مدلل جواب دیئے گئے ہیں بلکہ اسلام کے بارے میں ان کی جہالت اور عربی زبان کی باریک خوبیوں سے محرومی بے نقاب کی گئی ہے۔
    چھٹی خصوصیت
    قرآن مجید چونکہ الہامی کتاب ہے۔ اس میں ہر زمانہ کے متعلق پیشگوئیاں موجود ہیں۔ جو اپنے اپنے وقت پر پوری ہوکر قرآن کریم کی صداقت کا ثبوت بنتی رہیں اور بنتی رہیں گی۔ مگر ہر پیشگوئی کی حقیقت اس کے ظہور سے ہی کھلتی ہے۔ یہ بات پہلے متعدد مفسرین سے اوجھل رہی۔ اور انہوں نے مستقبل سے متعلق تمام قرآنی پیشگوئیوں کو یا قیامت پر چسپاں کردیا یا گزشتہ واقعات پر` مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے تفسیر کبیر میں قرآن شریف کی ایسی بہت سی پیشگوئیوں کی نشاندہی فرمائی جو قرآن مجید میں موجود تھیں اور اب اس زمانہ میں پوری ہوچکی ہیں اور قرآن مجید اور آنحضرت کی صداقت پر زندہ نشان کی حیثیت رکھتی ہیں مثلاً مغربی اقوام اور روس کی ترقی کی پیشگوئی` نہرسویز اور نہرپانامہ کی پیشگوئی` دخانی جہازوں کی پیشگوئی` ریل موٹر اور ہوائی جہازوں کی ایجاد کی پیشگوئی` ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کی پیشگوئی` کاسمک ریز اور بموں کی پیشگوئی` بادشاہتوں کی تباہی اور جمہوریتوں کے قیام کی پیشگوئی` چڑیا گھروں کے قیام کی پیشگوئی` فرعون موسیٰ کی لاش کی حفاظت کے متعلق پیشگوئی` وحشی اقوام کے متمدن بن جانے کی پیشگوئی` پریس اور کتابوں کی بکثرت اشاعت کی پیشگوئی` علم ہیئت کی ترقی کی پیشگوئی` علم طبقات الارض کی ترقی کی پیشگوئی` چاند اور مریخ کے زمین کے ساتھ وابستہ ہونے کی پیشگوئی` علماء ظواہر کے علم دین سے بے بہرہ ہو جانے کی پیشگوئی وغیرہ سینکڑوں پیشگوئیاں تفسیر کبیر میں ملتی ہیں جن سے قرآن مجید کا زندہ کتاب ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔
    ساتویں خصوصیت
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے قرآنی آیات کی روشنی میں مستقبل میں آنے والے متعدد انقلابات اور حوادث کا استدلال تفسیر کبیر میں فرمایا ہے جن میں سے بعض اس تفسیر کی اشاعت کے بعد ظاہر ہوچکے ہیں مثلاً فلسطین میں یہود کی حکومت اور مسلمانوں پر دور ابتلاء۲۲۳ جماعت احمدیہ پر ۱۹۵۲ء میں ایک تکلیف دہ دور آنے کی خبر۲۲۴ اور جماعت کے ساتھ تائید خداوندی کی خبر`۲۲۵ اپنی وفات کے وقت جماعت کے نظام خلافت سے بالاتفاق وابستہ ہونے کی پیشگوئی`۲۲۶ مگر بہت سے واقعات ایسے ہیں جن کا ظہور مستقبل میں مقدر ہے مثلاً ایٹم بم سے زیادہ مہلک ہتھیار ایجاد ہونے کی پیشگوئی`۲۲۷ فلسطین پر اسلامی پرچم لہرانے کی پیشگوئی`۲۲۸ چوتھی عالمگیر جنگ کے بعد مغربی اقوام کی مکمل تباہی اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کی پیشگوئی`۲۲۹ اردو زبان کے شاندار مستقبل کی نسبت پیشگوئی وغیرہ وغیرہ۔۲۳۰
    آٹھویں خصوصیت
    تفسیر کبیر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ تفسیر عہد حاضر کے جدید علمی و روحانی تقاضوں کو پورا کرتی اور مشرقی اور مغربی دنیا کو قرآن مجید کی پاکیزہ تعلیمات سے روشناس کرانے کی بہترین اور کامیاب ترین کوشش ہے خصوصاً اس لئے کہ اس میں قرآنی صداقتوں کی تائید میں سائنس کے موجودہ انکشافات و نظریات پیش کئے گئے ہیں مثلاً رنگوں کے خواص` ہر چیز کا نر و مادہ ہونا` زمین کا گول اور متحرک ہونا اور سورج کی روشنی کا ذاتی اور چاند کی روشنی کا انعکاسی ہونا` آسمانوں اور ستاروں کا ظاہری ستونوں کے بغیر قیام و بقاء` اجرام فلکی میں حرکت کی نوعیت` اعمال انسانی کی ریکارڈنگ` زمین و آسمان کی تخلیق کا مختلف ادوار میں ہونا` آغاز کائنات کی دخانی حالت وغیرہ انکشافات جن تک سائنس کی موجودہ دنیا ایک لمبے تجربہ کے بعد پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے` قرآن مجید نے نہایت مختصر مگر جامع رنگ میں چودہ سو سال پیشتر فرما دیئے ہیں۔
    تفسیر کبیر نے امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس نظریہ کی حقانیت سائنسی اکتشافات سے بھی منوالی ہے کہ مذہب خدا کا کلام اور سائنس خدا کا فعل ہے۔ اس زمانہ میں اگر کوئی محقق اس بارے میں مفصل تحقیق کرنا چاہے تو اس کی معلومات کا بہترین ماخذ >تفسیر کبیر< ہوگی۔
    نویں خصوصیت
    تفسیر کبیر کی بہت سی اولیات ہیں۔ مثلاً حروف مقطعات کو قرآنی علوم کے سمجھنے کے لئے کلید قرار دینا` اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں جدید تحقیق` قرآن مجید سے ولادت حضرت عیٰسی کے ایام کی تعیین` وحی کی تفصیلی اقسام` سورۃ التین میں عظیم الشان مذہبی ادوار کا ذکر وغیرہ سینکڑوں تفسیری نکات ہیں جو پہلی بار تفسیر کبیر ہی کے ذریعہ سے پوری تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
    یہ چند خصوصیات بطور مثال بیان کی گئی ہیں ورنہ ہر صاحب علم و عرفان اپنے اپنے ذوق اور اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے اس کے امتیازات و خصائص پر روشنی ڈال سکتا ہے۔ مفسر` مورخ` فقیہ` سیاستدان` سائنسدان` صوفی` ماہر اخلاق` ماہر نفسیات` ماہر اقتصادیات غرض کہ ہر شخص قرآن مجید کی اس بیش بہاء تفسیر سے برابر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مشہور ادیب جناب اختر اورینوی ایم اے` ڈی لٹ صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی )بہار( تفسیر کبیر کا ذکر کرتے` لکھتے ہیں۔
    >حضرت مرزا محمود احمدؓ کے تصنیفی کارناموں میں گل سربد تفسیر صغیر اور تفسیر کبیر کی تابناک جلدیں ہیں۔ یہ تفسیریں سراج منیر ہیں۔ ان سے قرآن حکیم کی حیات بخش شعاعوں کا انعکاس ہوتا ہے۔ تفسیر قرآنی کی یہ دولت سرمدی دنیا اور عقبیٰ کے لئے لاکھوں سلطنتوں اور ہزاروں ہزار جنتوں سے افضل ہے۔ علوم قرآنی کے گہر ہائے آبد ارکان معانی و معدن عرفان سے نکالے گئے ہیں۔ غواص و معارف پر فدا ہونے کو جی چاہتا ہے۔
    ان تفسیروں کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے ایک دفتر چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری ناچیز رائے میں تفسیر کبیر مندرجہ ذیل خوبیوں کی حامل ہے۔ اس میں قرآن کریم کے تسلسل` ربط` تنظیم` ترتیب` تعمیر اور سورتوں کے موضوعات و معنی کی ہم آہنگی کو صاف` روشن و مدلل طور پر ثابت کیا گیا ہے قرآن مجید صرف ایک سلک مروارید نہیں بلکہ یہ ایک روحانی قصر الحمراء ہے۔ ایک زندہ تاج محل ہے۔ اس کے عناصر ترکیبی کے حسن کارانہ نظم و ضبط` اس کے تراشیدہ ایجاز بیان` اس کی معجزانہ صنعت گری` اس کی گہری` وسیع اور بلند معنی آفرینی اور اس کے غیر مختمم خزینہ علم و عرفان کا شعور تفسیر کبیر کے مطالعہ سے حاصل ہونے لگتا ہے۔ قرآن کریم کے اس مقام عظیم کی دریافت دراصل مجدد عصر ظل محمد~صل۱~ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی دریافت ہے۔ انگریز مصنف و ادیب کار لائل نے قرآن مجید کے محاسن کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ بات کہہ دی تھی کہ >قرآن ایک خوبصورت مگر بے ربط بیان ہے<۔
    ‏jargon> beautiful a is <It
    حضرت مرزا محمود احمدؓ نے نہایت لطیف و بلیغ انداز میں اس امر کو درجہ یقین تک پہنچا دیا کہ قرآن مجید ایک کتاب عظیم ہے اور اس کے ابواب و عناصر` اس کی سورتیں اور آیات گل دمیدہ کی طرح` حسن یوسف کی مانند` نظام شمسی کی مثال مربوط و منظم` متناسب ہم آہنگ اور حسین ہیں۔
    تفسیر کبیر کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اس میں انسانی تقاضوں` ضرورتوں اور مسئلوں سے وابستہ بہ کثرت نئے مضامین` نکتے اور تفصیلیں ملتی ہیں اور ہماری روح اور ذہن کی تشنگی بجھاتی ہیں۔ ہر سورۃ ہر پارہ کی تفسیر میں معارف اور علوم کا دریائے رواں جوش مارتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے ذریعہ نئے علوم اور نئے مسائل پر گہری تنقیدیں ملتی ہیں اور اسلامی نظریوں کا اتنا تسلی بخش اظہار و بیان ملتا ہے کہ آخر الذکر کی برتری ثابت ہو جاتی ہے۔
    تفسیر کبیر میں قﷺ قرآنی کی عارفانہ تعبیریں اور تفصیلیں ملتی ہیں۔ علم و حکمت` روحانیت و عرفان` نکتہ دانی و وضاحت کی تجلیاں شکوک و شبہات کے خس و خاشاک کو دور کرکے تفہیم و تسکین کی راہیں صاف و روشن کر دیتی ہیں۔ تاریخ عالم` قوموں کے عروج و زوال` اسباب زوال` سامان عروج` نفسیات اجتماعی` فرد و جماعت کے روابط اور بندے کے اللہ سے تعلق کی اعلیٰ تحقیق و توضیح ملتی ہے۔
    معجزات` پیش گوئیوں` انبیاء اور غیر انبیاء کے خوابوں` رموز استعارات قرآنی و مقطعات کی حقیقی` حکمتی اور ایمان افروز تعبیروں سے تفسیر کبیر کے اوراق تابناک ہیں۔
    اس عظیم تفسیر میں تعلیمات اسلامی کا فلسفہ نہایت عمدہ طور پر پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے مذاہب کی تعلیموں اور معروف فلسفوں سے موازنہ و مقابلہ بھی عالمانہ و منصفانہ رنگ میں کیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی پرشوکت فضیلت سے دل کو طمانیت راحت و تسکین ملتی ہے اور ذہن کو رفعت حاصل ہوتی ہے۔ اس تفسیر کا انداز نظر عصری اور سائنسی بھی ہے۔ فلسفیانہ اور حکمتی بھی اور دجدانی و عرفانی بھی۔
    اس تفسیر اکبر کے عالم علم و عرفان کی تجلیات بیان کرنے کے لئے دفتر در دفتر چاہئے۔ یہ تفسیر ملت اسلامیہ کی بے بہا دولت ہے۔ قرآن حکیم کی اس تفسیر سے امت محمدیہ کا مستقبل وابستہ ہے<۔۲۳۱
    تفسیر کبیر کے انقلاب انگیز اثرات
    بالاخر یہ بتانا از بس ضروری ہے کہ تفسیر کبیر نے علمی اور عملی طور پر دنیا کے قلوب و اذہان پر نہایت گہر اثر ڈالا ہے۔ اس ضمن میں بعض واقعات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    تفسیر کبیر اور علامہ نیاز فتح پوری
    اردو کے مایہ ناز محقق اور بلند پایہ نقاد جناب نیاز محمد خاں نیاز فتح پوری مرحوم پر تفسیر کبیر >جلد سوم< کے مطالعہ کا ایسا زبردست اثر ہوا کہ ان کے خیالات و تصورات کی کایا پلٹ گئی اور وہ عمر کے آخری دور میں تحریک احمدیت کے زبردست مداح بن گئے اور اپنے قلم سے احمدیت کی تائید اور دفاع میں متعدد زور دار مضامین اپنے رسالہ >نگار< میں >ملاحظات<۲۳۲ کے زیر عنوان لکھے اور یہ انقلاب نتیجہ تھا۔ تفسیر کبیر کی مافوق العادت تاثیر اور مقناطیسی قوت کا چنانچہ علامہ نیاز نے حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ کی خدمت میں لکھا۔
    >تفسیر کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہے اور میں اسے بڑی نگاہ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیاز اویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔ آپ کی تبحر علمی۔ آپ کی وسعت نظر` آپ کی غیر معمولی فکر و فراست` آپ کا حسن استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں کیوں اس وقت تک بے خبر رہا۔ کاش کہ میں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا۔ کل سورۃ ہود کی تفسیر میں حضرت لوط پر آپ کے خیالات معلوم کرکے جی پھڑک گیا اور بے اختیار یہ خط لکھنے پر مجبور ہوگیا۔ آپ نے ھولاء بناتی کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔ خدا آپ کو تادیر سلامت رکھے<۔۲۳۳
    تفسیر کبیر اور نواب بہادر یار جنگ
    جناب سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدرآبادی بیان کرتے ہیں کہ برصغیر ہندو پاکستان کی معروف شخصیت نواب بہادر یار جنگ )جن سے سیٹھ صاحب کے بڑے دوستانہ تعلقات تھے اور سالہا سال ان کے رفیق کار رہے ہیں( جس کمرہ میں سویا کرتے تھے اس کی ایک دیوار پر قرآن کریم رکھنے کے لئے انہوں نے ایک خوبصورت تختہ لگوایا تھا۔ تفسیر کبیر جلد سوم کی اشاعت پر اس کی ایک جلد نواب اکبر یار جنگ بہادر نے سیٹھ صاحب موصوف کے ذریعہ نواب بہادر یار جنگ کو بجھوائی تھی جس کا انہوں نے بالاستیعاب مطالعہ ایک سے زیادہ مرتبہ کیا تھا اور ان کی وفات تک جو جون ۱۹۴۴ء میں واقع ہوئی وہ جلد اس تختہ پر قرآن کریم کے نسخہ کے نیچے رکھی ہوئی سیٹھ صاحب نے دیکھی ہے۔ سیٹھ صاحب کہتے ہیں کہ نواب بہادر یار جنگ اپنی صحبتوں میں تفسیر کبیر کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے اور اس کی عظمت کا ہمیشہ اعتراف کرتے اور کہا کرتے تھے کہ اس کے بیان کردہ معارف سے انہوں نے بہت استفادہ کیا ہے۔
    تفسیر کبیر اور پروفیسر عبدالمنان بیدل سابق صدر شعبہ فارسی پٹنہ کالج
    جناب اختر اورینوی ایم اے صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی اپنا ایک چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں کہ۔
    >میں نے یکے بعد دیگرے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی تفسیر کبیر کی چند جلدیں پروفیسر عبدالمنان بیدل سابق صدر شعبہ فارسی پٹنہ کالج` پٹنہ و حال پرنسپل شبینہ کالج پٹنہ کی خدمت میں پیش کیں اور وہ ان تفسیروں کو پڑھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مدرسہ عربیہ شمس الہدئے پٹنہ کے شیوخ کو بھی تفسیر کی بعض جلدیں پڑھنے کے لئے دیں اور ایک دن کئی شیوخ کو بلوا انہوں نے ان کے خیالات دریافت کئے۔ ایک شیخ نے کہا کہ فارسی تفسیروں میں ایسی تفسیر نہیں ملتی۔ پروفیسر عبدالمنان صاحب نے پوچھا کہ عربی تفسیروں کے متعلق کیا خیال ہے۔ شیوخ خاموش رہے۔ کچھ دیر کے بعد ان میں سے ایک نے کہا۔ پٹنہ میں ساری عربی تفسیریں ملتی نہیں ہیں۔ مصر و شام کی ساری تفاسیر کے مطالعہ کے بعد ہی صحیح رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ پروفیسر صاحب نے قدیم عربی تفسیروں کا تذکرہ شروع کیا اور فرمایا۔ مرزا محمود کی تفسیر کے پایہ کی ایک تفسیر بھی کسی زبان میں نہیں ملتی۔ آپ جدید تفسیریں بھی مصر و شام سے منگوا لیجئے اور چند ماہ بعد مجھ سے باتیں کیجئے۔ عربی و فارسی کے علماء مبہوت رہ گئے<۔۲۳۴
    تفسیر کبیر اور سید جعفر حسین صاحب ایڈووکیٹ حیدر آبادی
    تفسیر کبیر کے مبارک اثرات کا چوتھا واقعہ جناب سید جعفر حسین صاحب ایڈووکیٹ حیدرآبادی کا ہے جو حیدرآباد کی مشہور تنظیم اتحاد المسلمین کے معروف کارکن تھے اور اسی کی پاداش میں ۲۶۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۰ء۔ ۱۳۳۹ہش کو نظر بند کر دیئے گئے۔ سکندرآباد جیل کی تنگ و تاریک کوٹھری میں تفسیر کبیر پڑھنے کا موقعہ ملا۔ جس کے مطالعہ سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ جیل کے اندر امان/ مارچ ۱۹۶۱ء۔ ۱۳۴۰ہش میں بیعت کا فارم بھی پر کردیا اور اپنی زندگی بھی اسلام و احمدیت کے لئے وقف کردی۔۲۳۵ ۹۔ احسان/ جون ۱۹۶۱ء۔ ۱۳۴۰ہش کے دن رہا ہوگئے جس کے بعد آپ نے اولین فرصت میں یہ کام کیا کہ اخبار >صدق جدید< کے ایڈیٹر مولانا عبدالماجد صاحب دریابادی کو اپنے حلقہ بگوش احمدیت ہونے کی اطلاع کے لئے ایک مختصر مکتوب لکھا جو مولانا صاحب نے >صدق جدید< )لکھنو( کے ۲۰۔ اپریل ۱۹۶۲ء کی اشاعت میں >ایک صدق خواں کا قبول احمدیت< کے عنوان سے سے مع تعارفی نوٹ کے شائع کر دیا جس کا متن یہ تھا۔
    >دکن کے ایک بی۔ اے` ایل ایل۔ بی ایڈوکیٹ کا جو سالہا سال انجمن اتحاد المسلمین کے بڑے پرجوش رکن رہے اور اسی سلسلہ میں جیل بھی گئے اور صدق سے بھی مخلصانہ تعلق برسوں قائم رکھا` تازہ مکتوب صرف ان کے نام اور سابق مستقر کے حذف کے بعد۔
    حیدرآباد دکن ۲۸۔ مارچ ۱۹۶۲ء۔
    حضرت قبلہ۔ السلام علیکم
    دارالسلام مجلس اتحاد المسلمین کے سلسلے میں گورنمنٹ اندھرا پردیش نے مجھے ۲۶۔ دسمبر ۱۹۶۰ء کو نظر بند کیا اور حال میں میری رہائی ہوئی۔ ان دنوں میرا مستقر ۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا۔ جیل لے جانے والے عہدہ داروں سے میں نے درخواست کی کہ )مجھے اسٹیشن پر گرفتار کیا گیا تھا جبکہ میں ایک پیشی کرکے ۔۔۔۔۔ سے واپس ہورہا تھا( مجھے گھر لے جاکر قرآن کریم کے ساتھ لینے کی اجازت دیں۔ پولیس کے عہدیدار بڑے شریف مزاج تھے۔ اپنی حراست میں مجھے گھر لے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے ایک دوست تھے جنہوں نے مجھے حضور خلیفہ صاحب جماعت احمدیہ کی لکھی ہوئی تفسیر کبیر کی جلد دی تھی۔ مجھے پڑھنے کی فرصت نہ ملتی تھی۔ ایک دن دوپہر کے وقت جب میں کھانے کے لئے آفس سے گھر آیا تو بیوی نے دستر خوان چننے میں کچھ دیر کی۔ تفسیر کبیر کی جلد میز پر بازو میں تھی۔ میں نے اٹھالی اور چند اوراق الٹ کر دیکھنے شروع کئے۔ یہ والعادیات ضبحا کی تفسیر کے صفحات تھے۔ میں حیران ہوگیا کہ قرآن مجید میں ایسے مضامین بھی ہیں۔ پھر میں نے قادیان خط لکھا اور تفسیر کبیر کی جملہ جلدیں منگوائیں۔ لیکن پڑھنے کا مجھے وقت نہ ملتا تھا۔ جیل کو روانگی کے وقت میں نے یہ جلدیں ساتھ رکھ لیں اور نو ماہ کے عرصہ میں جب کہ میں جیل میں تھا متعدد بار صرف یہی تفسیر پڑھتا رہا۔ جیل ہی میں میں نے بیعت کرلی اور جماعت احمدیہ کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا۔ آپ بھی دعا فرمائیں<۔۲۳۶
    سید جعفر حسین صاحب ایڈووکیٹ نے اس مختصر مکتوب کے بعد ایک مفصل مضمون بھی اخبار >صدق جدید< کو بھجوایا جس میں انہوں نے تفسیر کبیر کے مبارک اثرات اور قبول حق کے حالات پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ یہ مضمون >صدق جدید< کے دو نمبروں میں قسط وار )۸۔ ۱۵۔ جون ۱۹۶۳ء( شائع ہوا۔ اس اہم مضمون کا متعلقہ حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    >حصول دارالسلام کی جدوجہد میں مجھے جب جیل پہنچایا گیا تو تیسرے دن مجھے وجوہات نظر بندی تحریری شکل میں مہیا کئے گئے۔ جن میں میری گزشتہ تین چار برسوں کی تقریروں کے اقتباسات تھے اور الزام یہ تھا کہ میں ہندوستان کی حکومت کا تختہ الٹ کر اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتا ہوں۔ میں حیران تھا کہ مجھ جیسا چھوٹا آدمی اور یہ پہاڑ جیسا الزام۔ لیکن مجھے آہستہ آہستہ محسوس ہوا کہ میری تقریروں سے کچھ ایسا ہی مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے۔ میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں بھٹکا ہوا مسافر تھا جس کی منزل تو متعین تھی لیکن راستہ کا پتہ نہ تھا۔ مسلمانوں کی انجمن اتحاد المسلمین ہو یا کوئی اور جماعت ان سب کی حالت یہی ہے۔
    دوسرے دن میں نے تفسیر کبیر کا مطالعہ شروع کیا جو میں اپنے ساتھ لے کر گیا تھا۔ تو مجھے اس تفسیر میں زندگی سے معمور اسلام نظر آیا۔ اس میں وہ سب کچھ تھا جس کی مجھ کو تلاش تھی۔ تفسیر کبیر پڑھ کر میں قرآن کریم سے پہلی دفعہ روشناس ہوا جیسا کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اپنا مسلک چھوڑ کر احمدیہ جیسی جماعت میں داخل ہونا جس کو تمام علمائے اسلام نے ایک ہوا بنا رکھا ہے۔ کچھ معمولی بات نہیں لیکن حق کے کھل جانے کے بعد یہاں خطرات کی پروا بھی کسی کو نہ تھی۔ تاہم سجدہ میں گر کر شب و روز میں نے دعائیں شروع کیں کہ یا اللہ مجھے صراط المستقیم دکھا۔ کئی ماہ اسی حالت میں گزر گئے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میری سجدہ کی زمین آنسوئوں سے تر ہو جاتی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ میری دعائیں قبول ہوئیں کیونکہ احمدیت کو سچا سمجھنے کے عقیدے میں مستحکم ہوگیا اور قادیان سے حضرت میاں مرزا وسیم احمد صاحب کی خدمت میں ایک خط کے ذریعہ سے میں نے درخواست کی کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ جواب میں ایک بیعت فارم آیا جو آپ کے ملاحظہ کے لئے منسلک ہے۔
    میری قید کا بڑا حصہ سکندرآباد جیل میں گزرا۔ وہاں کے جیلر ایک مسلمان اور علم دوست بھی تھے۔ قیدیوں کی پوری خط و کتابت ان لوگوں کے علم میں رہتی ہے کیونکہ ان کے دستخط کے بعد ہی قیدیوں کے خطوط روانہ یا حوالہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات کچھ اچھی نہ تھی لیکن جرات کی کمی کے باعث میری یہ کوشش رہتی تھی کہ قادیان کو لکھے ہوئے میرے خطوط حکام جیل کے علم میں نہ آنے پائیں۔ مجلس اتحاد المسلمین حیدرآباد ایک بڑی ہی ہر دلعزیز جماعت ہے۔ جیل کا عملہ جمعیت حتیٰ کہ جیل کے سارے ہی قیدی مجھ سے بڑی محبت اور عقیدت سے پیش آتے تھے۔ اگرچہ پہرہ والوں کے سوا مجھ سے کوئی نہ مل سکتا تھا۔ ان وجوہ سے حکام کے علم میں آئے بغیر میرے خطوط قادیان کو پوسٹ ہو جاتے تھے۔ لیکن جو خط قادیان سے آتا تھا وہ بہرصورت جیلر کے علم میں آنا ضروری تھا۔ جب قادیان سے بیعت کا فارم آیا تو جیل میں بڑی گڑبڑ ہوئی۔ راز باقی نہ رہ سکا۔ کمرہ کی صفائی کرنے والے قیدی` کھانا پہنچانے والے` اخبار لانے والے وغیرہ وغیرہ کسی نہ کسی بہانے آتے اور مجھ سے پوچھتے کہ کیا آپ قادیانی ہوگئے ہیں؟ میں انہیں غلط نہ کہہ سکتا تھا لیکن ابھی چونکہ میں نے بیعت نہیں کی تھی اس لئے میں ان سے کہتا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ بالاخر جیلر میرے پاس آئے اور میرا خط معہ بیعت فارم کے ان کے پاس تھا مجھ سے بڑی ہی ہمدردانہ گفتگو کی کہ یہ آپ کیا کررہے ہیں۔ قرآن کی اس تفسیر کو چھوڑئے میں آپ کو مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کی تفسیر قرآن دیتا ہوں آپ کے خیالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے وہ دونوں تفسیریں لادیں جو اصل میں ترجمہ تھے اور کہیں کہیں تفسیر تھی۔ بیعت کا فارم تکمیل کرکے بھیجنے سے قبل میں نے ان دونوں تفاسیر کا مطالعہ کیا۔ تفسیر کبیر کے طالب علم میں اتنی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دیگر تمام تفاسیر پر تنقید کرسکے۔ چنانچہ میں نے جیلر صاحب کو بتلایا کہ ان دونوں تفاسیر میں کون کون سے مقامات مبہم ہیں کہاں کہاں ترجمہ کی غلطی ہے اور کہاں کہاں معنی محدود ہیں۔ مجھے ایسا کرنے میں آسانی اس لئے ہوئی کہ تفسیر کبیر میں لغت قرآن بھی موجود ہے۔ لا یمسہ الا المطھرون صرف مطہر لوگ ہی قرآن کریم کے مطالب کو سمجھ سکیں گے۔
    جیلر صاحب ۲۴ گھنٹے اپنے سرکاری فرائض میں مشغول رہتے۔ قرآن کریم کو دیکھنے کا بھی انہیں موقعہ نہ ملتا۔ میری بات میں انہوں نے دلچسپی نہ لی۔ پھر میں نے جیلر صاحب کو تفسیر کبیر کی پہلی جلد دی اور ان سے درخواست کی کہ وہ کم از کم اس میں سے سورۃ فاتحہ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ جو بہ مشکل )۵۰( صفحات پر مشتمل ہے۔ وہ لے گئے لیکن چند دن کے بعد یہ کہہ کر واپس کر گئے کہ مجھے تو پڑھنے کی فرصت نہ ملی۔ البتہ میری خوشد امن صاحبہ یہ کتاب دیکھ چکی ہیں وہ اس کی بڑی تعریف کرتی ہیں میں نے بیعت کا فارم پر کرکے بھیج دیا۔
    یہ تفصیل آپ کی خدمت میں اس لئے لکھی کہ مجھ پر سے یہ الزام دور ہو جائے کہ میں نے بیعت میں عجلت کی۔ بیعت کا فارم بھیج کر میں دعائوں میں لگ گیا کہ میری بیعت کے قبول ہونے میں کچھ رکاوٹیں ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کو دور فرمائے۔ میرا اندیشہ غلط نہ نکلا۔ میری بیعت قبول کرنے سے پہلے حضور خلیفہ صاحب نے دریافت فرمایا کہ ایک احمدی مسلمان کا فرض ہے کہ وہ حکومت وقت کا بھی وفادار رہے۔ اور قانون کے اندر رہ کر کام کرے۔ میں نے جواب دیا کہ حضور کی تفسیر نے یہ ساری باتیں میرے دل پر نقش کردی ہیں۔ کچھ دنوں کے بعد جب قادیان سے مجھے معلوم ہوا کہ میری بیعت قبول کرلی گئی تو میں سجدہ میں گر گیا۔
    تفسیر کبیر میں ایک مقام پر میں نے پڑھا تھا کہ خلیفہ جو مصلح موعود ہوگا وہ اسیروں کی رہائی کا باعث ہوگا۔ میں نے حضور سے درخواست کی کہ وہ میری رہائی کے لئے دعا فرمائیں۔ حضور خلیفہ صاحب نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی رہائی کے سامان کرے۔ اس کے چند ہی دنوں بعد میں رہا ہوگیا۔ خلیفہ موعود کی نسبت یہ پیشین گوئی کہ وہ اسیروں کی رہائی کا باعث ہوگا میں اس کا زندہ ثبوت ہوں<۔۲۳۷
    فصل ہفتم
    حضرت امیر المومنینؓ کی طرف سے تصفیہ مسائل کے بعض آسان طریق
    ۴۱۔ ۱۹۴۰ء` ۲۰۔ ۱۳۱۹ہش کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان دو برسوں میں سیدنا حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی~رضی۱~ نے جماعت سے
    بچھڑے ہوئے غیر مبائع بھائیوں کو نہ صرف دلائل و براہین کے ذریعہ قریب تر لانے کی انتہائی کوشش کی۔ بلکہ جناب مولوی محمد علی صاحب )امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور( کے سامنے تصفیہ مسائل کے لئے یکے بعد دیگرے پانچ نہایت آسان طریق پیش کرکے مفاہمت کی راہ بالکل صاف کردی۔ اس سلسلہ میں پہلا طریق فیصلہ حضور نے یہ پیش فرمایا کہ۔
    >دونوں فریق کی وہ تحریرات جو زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہیں اکٹھی شائع کردی جائیں اور دونوں ان پر لکھ دیں کہ آج بھی ہمارے عقائد یہی ہیں۔ اس کے بعد دنیا خود فیصلہ کرے گی کہ اس زمانہ میں میرے عقائد اور تھے یا مولوی محمد علی صاحب کے؟ اگر یہ ثابت ہو جائے گا کہ میں نے اب اپنے عقائد بگاڑ لئے ہیں تو میرا اثر جاتا رہے گا اور اگر یہ ثابت ہوگا کہ ان کے عقائد اس زمانہ میں اور تھے تو ان کے ساتھیوں کے لئے یہ بات ہدایت کا موجب ہو جائے گی اور وہ یہ سمجھ جائیں گے کہ مولوی محمد علی صاحب کے زمانہ صحابیت کے عقائد اور تھے اور آج اور ہیں یہ نہایت آسان طریق ہے اور بہترین طریق ہے۔ اگر وہ اس پر متفق ہوں تو فیصلہ نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا مباحثہ ہوگا جو گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی شہادت ساتھ رکھتا ہوگا<۔۲۳۸
    اس کے علاوہ حضور نے فیصلہ کے چار اور طریق بھی رکھے جو حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    فیصلہ کا پہلا طریق
    >پہلا طریق فیصلہ کا میرے نزدیک یہ ہے کہ نبوت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی غلطیوں کا ازالہ فرما دیا ہے۔ یعنی >ایک غلطی کا ازالہ< لکھ کر ان غلطیوں کو دور فرمایا ہے جو اس بارہ میں اپنوں اور بیگانوں کو لگ رہی تھیں۔ میں تجویز کرتا ہوں کہ آئندہ دونوں فریق نبوت کے متعلق بحث مباحثہ کو بالکل بند کردیں اور صرف یہ کیا جائے کہ میری طرف سے اور آپ کی طرف سے دو چار سطر میں یہ مضمون لکھ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کے متعلق ہمارا مذہب وہی ہے جو اس اشتہار میں درج ہے۔ تمام لوگ اسی کو ہمارا مذہب تصور فرمائیں اور اس کے خلاف اگر ہماری کوئی تحریر ہو تو اسے غلط سمجھیں اور ہم دونوں کی اس تحریر کے بعد >ایک غلطی کا ازالہ< اشتہار بغیر کسی حاشیہ کے شائع کر دیا جائے اور ہر سال کم سے کم پچاس ہزار کاپی اس اشتہار کی ملک میں تقسیم کر دی جائے۔ ۳/۲ اس کا خرچ ہم دیں گے اور ۳/۱ اس کا خرچ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء دیں۔ اس کے بعد دونوں فریق کے لئے جائز نہ ہوگا کہ اپنی طرف سے کوئی اور مضمون اپنے اخباروں یا رسالوں یا ٹریکٹوں میں لکھیں بلکہ جو اس امر کے متعلق سوال کرے اسے اشتہار کی ایک کاپی دے دی جائے کیونکہ اس میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غلطیوں کا ازالہ کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پانچ سال تک بھی دونوں فریق اس پر کاربند رہیں تو نزاع بہت کچھ کم ہو جائے گا اور شاید اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ مزید صلح کے راستے کھول دے<۔
    فیصلہ کا دوسرا طریق
    >دوسرا طریق فیصلہ کا میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف لکھا ہے کہ خداتعالیٰ کی اصطلاح میں )چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۵( قرآن کریم کی اصطلاح میں )ایک غلطی کا ازالہ( اسلام کی اصطلاح میں )لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۱۷۔ ۱۸ نیز الحکم ۶۔ مئی ۱۹۰۸ء( سابق انبیاء کی اصطلاح میں )الوصیتہ صفحہ ۱۲( اور خداتعالیٰ کے حکم سے میرے نزدیک )تتمہ حقیقتہ الوحی صفحہ ۶۸( اور لغت کی اصطلاح میں )مکتوب مندرجہ اخبار عام ۲۶۔ مئی ۱۹۰۸ء( نبی اسے کہتے ہیں جس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے جائیں اور اس کو شرف مکالمہ و مخاطبہ حاصل ہو اور یہ کہ ان معنوں کے رو سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی ہیں اور کسی معنوں میں نہیں۔ پس ایک اشتہار ہم دونوں کے دستخط سے ملک میں شائع کر دیا جائے کہ ہم دونوں فریق اس امر کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف خداتعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق` اسلام کی اصطلاح کے مطابق` سابق انبیاء کی اصطلاح کے مطابق` حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خداتعالیٰ نے جو حکم دیا تھا اس کے مطابق اور عربی اور عبرانی لغتوں کے مطابق نبی سمجھتے ہیں۔ اس کے سوا کسی اور تعریف کے مطابق نبی نہیں سمجھتے بلکہ دوسری اصطلاحوں کے مطابق ہم صرف استعارۃ آپ کے لئے نبی کے لفظ کا استعمال جائز سمجھتے ہیں۔ حقیقی طور پر نہیں<۔
    فیصلہ کا تیسرا طریق
    >اگر الحکم کے حوالہ )۱۷۔ اگست ۱۸۹۹ء( کی وجہ سے باوجود لیکچر سیالکوٹ کے حوالہ کے اور الحکم کی ڈائری )۶۔ مئی ۱۹۰۸ء( کے آپ کو ایسی تحریر پر دستخط کرنے پر اعتراض ہو تو میری تیسری تجویز یہ ہے کہ آپ ایک اشتہار اس مضمون کا دے دیں کہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق سابق انبیاء کی اصطلاح کے مطابق اور اس حکم کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی سمجھتا ہوں۔ باقی اسلام کی اصطلاح کی رو سے میں آپ کو حقیقی نبی نہیں سمجھتا۔ اس اصطلاح کے رو سے آپ کو صرف مجازی نبی یقین کرتا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ ایسا اشتہار دے دیں گے تو اس سے بھی دنیا کو بہت کچھ اس مسئلہ کے سمجھنے میں سہولت ہو جائے گی<۔
    ‏]bus [tagفیصلہ کا چوتھا طریق
    >فیصلہ کا چوتھا طریق یہ ہے کہ آپ ایک اشتہار اس مضمون کا دے دیں کہ جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ خداتعالیٰ کی اصطلاح میں قرآن کریم کی اصطلاح میں اسلام کی اصطلاح میں سابق انبیاء کی اصطلاح میں اور نبی کے لفظ کے متعلق خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو حکم دیا تھا اس کے مطابق جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ نبی کی یہ تعریف ہے کہ جو شخص خداتعالیٰ سے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پاتا ہے وہ نبی ہے وہ غلطی خوردہ ہے اور اسلام کی تعلیم کے خلاف کہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان طریقوں میں سے آپ کسی طریق کو بھی اختیار کرلیں۔ فیصلہ تک پہنچنا آسان ہوگا۔ وما علینا الا البلاغ المبین<۔۲۳۹
    اگر جناب مولوی محمد علی صاحب مندرجہ بالا پانچ طریقوں میں سے کسی ایک طریق ہی کو قبول فرما لیتے تو فریقین میں اختلافات کی خلیج یقیناً بہت کم ہو جاتی اور جماعت کی باہمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے کی بجائے بہت حد تک تبلیغ اسلام کے متحدہ مقصد کی تکمیل میں مرکوز ہو جاتیں۔ مگر افسوس آپ اپنی گزشتہ روایات کے مطابق باہمی تصفیہ کی ان سیدھی` صاف اور آسان تجاویز کو بھی مختلف حیلوں بہانوں سے ٹال گئے۔
    مولوی محمد علی صاحب کے ایک مضمون کی معہ جواب >الفضل< میں اشاعت
    جناب مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے ایک خطبہ جمعہ۲۴۰ )فرمودہ ۶۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش( کی طرف
    اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ۔
    >میاں صاحب نے جو دلائل حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق دیئے ہیں۔ میں ان تمام کو قارئین پیغام کے سامنے لانے کو تیار ہوں بشرطیکہ جناب میاں صاحب میرے اس جواب کو جو اصل مضمون کے متعلق میں اب لکھتا ہوں اپنے اخبار الفضل میں شائع کرا دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ میں یہ بھی کہہ دیتا ہوں کہ میاں صاحب اس تجویز کو کبھی منظور نہ کریں گے۔ اس کی وجہ؟ اپنے مخالف کے دلائل کو اپنی جماعت کے سامنے لانے سے وہی شخص ڈرتا ہے جسے یہ خوف ہو کہ اس کی جماعت مخالف کے دلائل سے متاثر ہو کر پھسل جائے گی۔ سو یہی خوف جناب میاں صاحب کے دل میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منہ سے جناب میاں صاحب جس قدر بلند دعا دی چاہیں کریں مگر ان کا طرز عمل یہ بتارہا ہے کہ ان کا دل ہمارے دلائل کی مضبوطی کے خوف سے کانپ رہا ہے اور ان کے نزدیک اس کے سوائے اپنی جماعت کی حفاظت کا اور کوئی طریق نہیں کہ وہ ہمارے دلائل ان کے سامنے نہ آنے دیں<۔۲۴۱
    حضرت امیرالمومنین نے اپنے زمانہ خلافت میں کبھی غیر مبائعین کا لٹریچر پڑھنے سے نہیں روکا تھا اور اس وقت تک اخبار >الفضل`< اخبار >فاروق`< >تشحیذ الاذہان`< >ریویو آف ریلیجنز< )اردو( میں بہت سے مضامین شائع ہوچکے تھے جن کے لکھنے والے سینکڑوں افراد تھے جو متفرق مقامات کے رہنے والے تھے اگر حضرت امیرالمومنین کی طرف سے ان کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کی ممانعت کر رکھی تھی تو انہوں نے ان لوگوں کے خلاف قلم کیسے اٹھایا اور اپنے مضامین میں ان کی کتابوں` رسالوں اور پمفلٹوں کے حوالے کیسے درج کر دیئے۔ مگر حضرت امیرالمومنینؓ کی فراخدلی اور وسعت حوصلہ ملاحظہ ہو کہ حضور نے مولوی صاحب کی یہ تجویز بھی مان لی اور فرمایا کہ۔
    >میں ان کے مضمون کو >الفضل< میں شائع کرانے کو تیار ہوں بشرطیکہ وہ میرا جواب الجواب بھی >پیغام صلح< میں شائع کرائیں یا اگر وہ پسند کریں تو یہ سب یعنی میرا خطبہ ان کا جواب اور میرا جواب الجواب کتابی صورت میں شائع کر دیا جائے جس پر خرچ دونوں کا آدھا آدھا ہو اور کتابیں بھی آدھی آدھی لے لیں۔ اس سے بڑھ کر میں ان کے لئے ایک اور آسانی کر دیتا ہوں پہلے تو میں نے کہا تھا کہ وہ اگر میری اس تجویز کو مانیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ کی دونوں کی تحریریں اکٹھی شائع کردی جائیں تو میں ان کی اس تجویز کو مان لوں گا۔ مگر ان پر اتمام حجت کے لئے میں یہ بھی مان لیتا ہوں کہ چلو میں اس کو بھی چھوڑ دیتا ہوں بشرطیکہ وہ میری اس تجویز کو مان لیں یعنی میرا جواب الجواب بھی ساتھ شائع ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ایک اور آسانی ان کے لئے پیدا کردیتا ہوں اور دو یہ کہ اگر وہ میرا جواب الجواب شائع کرنے پر تیار ہوں تو خرچ کے دو حصے ہم دے دیں گے اور صرف ایک حصہ وہ دیں اور دو حصے کتب ہم لے لیں اور ایک حصہ وہ۔ اور میری طرف سے اتنی رعایتوں کے باوجود اگر وہ میری بات ماننے کے لئے تیار نہ ہوں تو ہم سوائے اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں سچ کو سچ سمجھنے کی توفیق دے اور ان کا وہ غصہ دور ہو جوان کے لئے صداقت کے سمجھنے میں روک ہورہا ہے<۔]4 [stf۲۴۲
    اس مخلصانہ پیشکش پر مولوی محمد علی صاحب نے اخبار پیغام صلح ۱۲۔ جولائی ۱۹۴۰ء میں ایک مضمون لکھا جسے حضرت امیرالمومنین کے حکم سے اخبار >الفضل< ۱۳۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش میں چھاب دیا گیا اور اگلے شمارہ میں حضور نے اپنا جواب الجواب ایک مفصل مضمون کی صورت میں شائع کر دیا۔ اب مولوی محمد علی صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ حضور کا مضمون اپنے اخبار میں شائع کرا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ‏tav.8.8
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے موقف کے مضبوط اور دلائل کے مستحکم ہونے کا عملی ثبوت دیتے یا حضور کی فراخدلانہ تجویز کے مطابق اسے اپنے مضمون کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کر دیتے مگر مولوی صاحب موصوف نے حضور کا مضمون تو شائع کرنا گوارا نہیں کیا البتہ خود ایک اور مضمون >پیغام صلح< ۴۔ ستمبر ۱۹۴۰ء کے پرچہ میں لکھ کر اوپر یہ نوٹ دے دیا کہ >میں امید رکھتا ہوں کہ میاں صاحب اسے اپنے اخبار الفضل میں شائع کر دیں گے<۔
    یہی نہیں بلکہ جب >الفضل< میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا مضمون ان کے مضمون کے جواب میں شائع ہوا تو حضرت اقدس اور مولوی محمد علی صاحب دونوں ڈلہوزی میں فروکش تھے۔ حضور نے >الفضل< کا وہ پرچہ دے کر چودھری خلیل احمد صاحب ناصر بی۔ اے مجاہد تحریک جدید اور ایک اور نوجوان کو بھیجا کہ جاکر مولوی صاحب موصوف کے لڑکے کو دے آئیں اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ میرا خیال ہے کہ وہ نہیں لے گا۔ وہ لے کر گئے مگر اس نے >الفضل< کا پرچہ لینے سے انکار کر دیا۔۲۴۳
    مولوی محمدعلی صاحب کوقادیان آنے اورلیکچر دینے کی دعوت اور انکا افسوسناک مظاہرہ
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مولوی محمد علی صاحب پر اتمام حجت کرنے اور ان کے اس اہم وہم کا ازالہ کرنے کے لئے کہ گویا
    آپ نے اپنے خدام کو غیر مبائعین کی تحریرات پڑھنے سے روک رکھا ہے مولوی صاحب کو قادیان تشریف لانے اور یہاں آکر تین لیکچر دینے کی دعوت دی۔ چنانچہ حضور نے فرمایا۔
    >میں اس کے لئے بھی تیار ہوں کہ وہ قادیان آجائیں۔ میں یہاں ان کے تین لیکچر اپنی جماعت میں کرا دوں گا اور ان لیکچروں میں وہ دل کھول کر اپنے عقائد اور دلائل بیان کرلیں اور اس بات کی تسلی کرلیں کہ ان کے خیالات اچھی طرح ہماری جماعت تک پہنچ گئے ہیں اور اگر وہ کسی طرح بھی ماننے کو تیار نہ ہوں اور اپنی ہی بات دہراتے چلے جائیں تو اس کا علاج میرے پاس کوئی نہیں۔ اس کا علاج خداتعالیٰ ہی کے پاس ہے<۔۲۴۴
    جناب مولوی محمد علی صاحب نے قادیان میں لیکچر دینے کی اس دعوت کو لفظاً منظور کرنے کے باوجود یہ مطالبہ کیا کہ >میں حاضر ہوں مگر اس کے لئے بہترین موقعہ جلسہ سالانہ ہے<۔۲۴۵
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس انوکھے مطالبہ کے جواب میں فرمایا:۔
    >جلسہ سالانہ کے موقع پر ہماری جماعت لاکھ ڈیرھ لاکھ کرایہ کا خرچ کرکے اس لئے جمع ہوتی ہے کہ وہ میرے اور دوسرے علماء سلسلہ کے خیالات سنے اور ہمارا اس وقت ان کی مہمانی پر پچیس تیس ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ کیا دوسرے کے خیالات سننے کی اجازت دینے میں یہ اخرجات بھی شامل ہوتے ہیں کہ میں اپنے جلسہ کو اور لاکھوں کے خرچ کو مولوی صاحب کی خاطر برداشت کروں۔ ہاں میں یہ کرسکتا ہوں کہ اگر جلسہ کے موقعہ پر ہی مولوی صاحب کو اپنے خیالات سنانے کا شوق ہو` تو جلسہ کے دو دن اور بڑھا دوں مگر اس شرط پر کہ ان دنوں کی مہمان نوازی کا خرچ مولوی صاحب برداشت کریں جو ان دنوں کے لحاظ سے اوسطاً تین ہزار روپیہ روزانہ ہوگا۔ پس مولوی صاحب چھ ہزار روپیہ اس غرض سے ادا کردیں تو میں جلسہ کے دنوں کے بعد دو دن ان کے لیکچروں کے لئے مقرر کردوں گا اور اعلان کردوں گا کہ جو دوست جانے پر مجبور نہ ہوں` دو دن اور ٹھہر جائیں اور مولوی صاحب کے خیالات سنتے جائیں۔ اگر یہ نہیں تو میں یہ ہزاروں کا خرچ ان کے لئے برداشت کرنے پر تیار نہیں اور نہ جماعت کو جو لاکھ ڈیڑھ لاکھ خرچ کرکے قادیان آتی ہے اسے اس کی خواہش سے محروم کر سکتا ہوں۔ ہاں میری دعوۃ جو قادیان میں لیکچر کے متعلق ہے جس میں مجھے کوئی خاص خرچ کرنا نہیں پڑتا وہ موجود ہے۔ اگر مولوی صاحب کو وہ منظور ہو تو بڑی خوشی سے تشریف لے آئیں<۔۲۴۶
    جناب مولوی صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ۔
    >قادیان میں جاکر ہم آپ کے مہمان ہوں گے اور آپ اور آپ کی جماعت کی حیثیت میزبان کی ہوگی اور میزبان کا یہ مطالبہ کہ مہمان اپنا ہی نہیں میزبان کا خرچ بھی ادا کرے مہمان نوازی کے اسلامی خلق کی بالکل ضد ہے<۔۲۴۷
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے اس >زبردستی کی دعوت< کا جواب یہ دیا کہ۔
    >میں نے جو دعوت دی تھی وہ ایسے موقعہ کے لئے تھی جب میرے لئے سہولت ہو۔ مولوی صاحب کا مطالبہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تقریر کا ہے۔ لیکن جلسہ کے موقعہ پر ہماری جماعت کے لوگ لاکھوں روپیہ خرچ کرکے یہاں پر میری اور میرے ساتھ کام کرنے والوں کی باتیں سننے کے لئے آتے ہیں` مولوی صاحب کی نہیں۔ اگر انہیں ان کی باتوں کا شوق ہوتا تو یہاں نہ آتے بلکہ لاہور جاتے۔ پس جو لوگ لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ کرکے میری اور میرے ساتھ کام کرنے والوں کی باتیں سننے آتے ہیں انہیں میں مولوی صاحب کی خاطر کیوں مایوس کروں اور کیوں تکلیف میں ڈالوں۔ البتہ میں نے یہ کہا تھا کہ اگر وہ اس موقعہ پر باتیں سنانا چاہیں تو ہم جلسہ کی تاریخوں سے آگے یا پیچھے دو دن بڑھا دیں گے اور میں اعلان کردوں گا کہ دوست کوشش کرکے ان دنوں کے لئے ٹھہر جائیں۔ مگر ان مہمانوں کو چونکہ مولوی صاحب کی باتیں سننے کے لئے ہی ٹھہرایا جائے گا اس لئے ان دنوں کا خرچ بھی انہی کو دینا چاہئے۔ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میرا یہ مطالبہ کہ >مہمان اپنا ہی نہیں میزبان کا خرچ بھی ادا کرے مہمان نوازی کے اسلامی خلق کی بالکل ضد ہے< لیکن میں کہتا ہوں کہ میزبان تو میں ہوں اور میں نے تو اپنا خرچ نہیں مانگا۔ باہر سے آنے والے تو مہمان ہیں اور جن مہمانوں کو ان کی دعوت پر اور ان کی باتیں سننے کے لئے ٹھہرایا جائے ان کا خرچ تو بہرحال ان ہی پر پڑنا چاہئے اور یہ اسلامی خلق کے بالکل خلاف بات نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تو مولوی صاحب کہیں کہ میں خود آتا ہوں تو ہم ان کی مہمان نوازی کریں گے لیکن یہ کہ مہمان کہے میرے ساتھ اتنے ہزار آدمیوں کی بھی دعوت کرو اور ان کے لئے بھی کھانے کا انتظام کرو یہ کوئی اسلامی خلق نہیں ہے اور ایسی بات نہ کرسکنے کا نام اسلامی خلق کی ضد میں نے تو کسی جگہ نہیں پڑھا۔ اگر جیسا کہ وہ کہتے ہیں یہی اسلامی خلق ہے تو وہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی اس طرح مہمان نوازی کی دعوت دے دیا کریں اور لکھ دیا کریں کہ آپ اس قدر آدمیوں کی مہمان نوازی کا انتظام کریں۔ ہمارے آدمی آپ کو کچھ باتیں سنانے کے لئے آتے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ کس طرح اس اسلامی خلق پر عمل کرتے ہیں۔ ہماری تو لاہور کی جماعت ہی خداتعالیٰ کے فضل سے کافی ہے۔ باہر سے بھی لے جانے کی ضرورت نہیں۔ اگر وہی ان کے اس اسلامی خلق کا امتحان کرنے لگے تو ان کو دوچار دفعہ میں ہی پتہ لگ جائے۔
    غرض مہمان کا یہ حق نہیں کہ وہ کہے کہ میری تقریر سننے کے لئے بیس پچیس ہزار آدمی جمع کئے جائیں اور ان کو کھانا بھی کھلایا جائے اور ایسا مطالبہ پورا نہ کرسکنے کا نام اسلامی خلق کی ضد رکھنا زبردستی اور دھینگا مشتی ہے۔ اگر مولوی صاحب ثابت کردیں کہ یہ بھی مہمانوازی میں شامل ہے کہ کوئی شخص کہے۔ میں اپنی تقریر سنانے آرہا ہوں اور اسے سننے کے لئے بیس پچیس ہزار آدمی جمع کئے جائیں اور ان کے لئے کھانے وغیرہ کا انتظام کیا جائے تو وہ ایسی آیت اور حدیث جس میں اسے مہان نوازی کا حصہ قرار دیا گیا ہو لکھ کر بھیج دیں تو میں مان لوں گا چاہے مجھے کتنا نقصان ہو۔ میں فوراً تسلیم کرلوں گا۔ لیکن اگر واقعی ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس قسم کی مہمان نوازی اسلامی خلق میں داخل ہے تو اس خلق کا تجربہ ہمیں ایک سال کے لئے کرلینے دیں۔ اس کے بعد ہم سے مطالبہ کریں۔
    ہاں مولوی صاحب اگر میری دعوت کے مطابق آنا چاہتے ہیں تو اپنی سہولت کے لحاظ سے جس موقعہ پر انہیں میں دعوت دوں آجائیں۔ لیکن ان کا ہمارے جلسہ کے وقت کو اپنے لئے حاصل کرنے کا مطالبہ کرنا اور یہ کہنا کہ زائد وقت دے کر اپنے بھی اور ان کے بھی ہزاروں آدمیوں کے کھانے کا انتظام کروں یہ کوئی اسلامی خلق میں شامل بات نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جو جائز صورت تھی وہ تو میں نے خود پیش کر دی تھی اور اس کے لئے میں اب بھی تیار ہوں۔ اس صورت میں میرے لئے صرف اتنا کام ہوتا کہ میں قادیان کے لوگوں کو جمع کر دیتا مگر ان کا یہ مطالبہ کہ جلسہ کے دنوں میں ہم ہزاروں لوگوں کو روکیں اور ان پر خرچ کریں یہ مہمان نوازی کا طریق اسلام کی کسی تعلیم میں میں نے نہیں پڑھا ہاں میری دعوت موجود ہے۔ جلسہ کے موقعہ کے سوا جب وہ آسکیں اور مجھے سہولت ہو وہ تشریف لے آئیں۔ میں قادیان کے لوگوں کو جمع کردوں گا بلکہ باہر بھی اعلان کردگوں گا کہ جو دوست آنا چاہیں آجائیں۔ وہ اپنی باتیں سنا دیں اور میں یا میرا نمائندہ اپنی سنادے گا ۔۔۔۔۔۔۔ مولوی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے جلسہ پر بھی اتنے آدمی نہیں ہوتے جتنے یہاں عام جمعہ کے دن جمع ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس وقت بھی جمعہ کے لئے جتنے لوگ بیٹھے ہیں اتنے کبھی بھی نہیں اپنے جلسہ میں نصیب نہیں ہوتے۔ اگر میں ان کے جلسہ پر جائوں یا میرا نمائندہ جائے۔ فرض کرو مولوی ابوالعطاء صاحب جائیں تو انہیں وہاں اتنے سامعین تو نہیں مل سکتے جتنے یہاں جمعہ میں بیٹھے ہیں۔ پس انہیں اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اور حق تو یہ ہے کہ باتیں ایک دوسرے کی سننے والے سنتے اور پہنچانے والے پہچانتے ہی رہتے ہیں۔ اس انتظام کی بھی کوئی خاص ضرورت نہ تھی۔ یہ تو ہم نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے بطور احسان دعوت دی تھی مگر انہوں نے اس احسان کی قدر نہ کی اور غیر معقول مطالبات شروع کر دیئے<۔۲۴۸
    حضرت امیرالمومنین نے جناب مولوی محمد علی صاحب کو اپنے خیالات قادیان کی مرکزی جماعت کو سنانے کے لئے جو سنہری موقعہ دیا تھا اسے انہوں نے اپنے عقائد کی کمزوری کو بھانپ کر خود ہی ضائع کر دیا۔ مگر اپنے رفقاء کو طفل تسلیاں دیتے ہوئے کہا۔
    >ان کی جماعت وہ تو نہیں جو قادیان میں ہے وہ تو ان کے ملازمین اور ایسے لوگ ہیں۔ جن کی ضروریات ان سے وابستہ ہیں۔ جماعت تو وہ چیز ہے جو اس سلسلہ کو قائم رکھنے والی ہے۔ بیرونی لوگ جو جلسہ پر آتے ہیں اصلی جماعت وہ ہے<۔۲۴۹
    سیدنا حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی نے حضرت مسیح موعودؑ پر اس نئے حملہ کا پرزور دفاع کرتے ہوئے فرمایا کہ۔
    >حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو قادیان میں رہنے کی تعلیم دی ہے۲۵۰ اور آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص سب کچھ چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا یا کم سے کم یہ تمنا دل میں نہیں رکھتا وہ منافق ہے اور مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک جو لوگ قادیان میں آبسے ہیں وہ منافق ہیں۔ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے جتنی باتیں بیان فرمائیں تھیں۔ غیر مبائعین کے نزدیک وہ سب بدلتی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض قادیان کے رہنے والوں کے متعلق یہ اتنا بڑا تہام اور بہتان ہے کہ خود مولوی محمد علی صاحب بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ اول تو یہی دیکھ لو کہ قادیان میں انجمن کے ملازم کتنے ہیں۔ قادیان میں دس ہزار احمدی بستے ہیں۔ ان میں سے ملازم زیادہ سے زیادہ سو دو سو ہوں گے۔ اگر ان کے ساتھ ان کے بیوی بچوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو پانچ چھ سو بن جائیں گے۔ ان کے علاوہ چھ سات ہزار وہ لوگ ہیں جو زمیندار ہیں یا پیشہ ور ہیں اور ایک اچھی خاصی تعداد ان لوگوں کی ہے جن کے باپ بھائی یا خاوند وغیرہ گورنمنٹ کی ملازمت میں ہیں اور انہوں نے اپنے بچوں یا دوسرے عزیزوں کو قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج دیا ہے۔ ان پر بھلا انجمن کا کیا دبائو ہوسکتا ہے۔ یا میرا ان پر کیا دبائو ہوسکتا ہے۔ وہ تو خود چندے دیتے اور سلسلہ کے لئے قربانیاں کرتے ہیں۔ بہرحال کثرت ان لوگوں کی ہے جو پنشن یافتہ ہیں یا پیشہ ور ہیں یا زمیندار وغیرہ ہیں یا پھر قادیان میں وہ لوگ رہتے ہیں جن کے باپ بھائی وغیرہ گورنمنٹ کی ملازمت میں ہیں اور وہ انہیں تعلیم کے لئے اخراجات بھیج دیتے ہیں ۔ یا اگر وہ پڑھتے نہیں تو ان کا گزارہ بہرحال اپنے باپ یا بھائی کی آمد پر ہے۔ اس قسم کے تمام لوگ کون سے جماعت کے دبائو کے ماتحت ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ خود پیغامیوں میں ایک خاصہ طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جو گورنمنٹ کی ملازمت میں ہیں مگر ان کے نزدیک گورنمنٹ کی ملازمت ان کے اعتقادات پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی۔ میاں غلام رسول صاحب تمیم` میاں محمد صادق صاحب` ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب` ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب` ڈاکٹر بشارت احمد صاحب` یہ سب عیسائی حکومت کے ملازم تھے۔ کیا یہ سب ان ایام میں عیسائی ہوگئے تھے یا عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملانے لگ گئے تھے؟ کیا اس وقت جو لوگ انجمن اشاعت اسلام کے ملازم ہیں وہ سب کے سب مولوی صاحب کے تجربہ کے مطابق منافق ہیں کیونکہ وہ مولوی صاحب اور ان کی انجمن کے لڑ لگے ہوئے ہیں۔ اگر مولوی صاحب کے نزدیک یہ لوگ منافق نہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ تو انگریزوں یا انجمن اشاعت اسلام کی ملازمت کرکے منافق نہ ہوئے مگر قادیان کے احمدی صدر انجمن احمدیہ کی ملازمت کرکے اپنے ایمان کو سلامت نہ رکھ سکے۔ اگر صدر انجمن احمدیہ کی نوکری کرنے سے عقیدہ بھی بدل جاتا ہے تو پیغامیوں میں جتنے لوگ گورنمنٹ کے ملازم ہیں ان سب کے متعلق یہ سمجھا جانا چاہئے کہ یہ سب عیسائی ہیں۔ کیونکہ مولوی محمد علی صاحب کے اس اصل کے مطابق یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ گورنمنٹ کے ملازم ہوکر انہوں نے اپنے ایمان کو محفوظ رکھا ہو۔
    پھر میں کہتا ہوں مولوی محمد علی صاحب کو اپنا تجربہ بھی یاد ہونا چاہئے۔ اب تو قادیان کی آبادی کا ایک کثیر حصہ ایسا ہے جو صدر انجمن احمدیہ کا ملازم نہیں مگر جب مولوی محمد علی صاحب قادیان میں رہتے تھے تو یہاں کے اسی فی صد انجمن کے نوکر یا ان نوکروں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے اور مولوی محمد علی صاحب کو یاد ہوگا کہ باوجود اس کے کہ وہی سیکرٹری تھے اور باوجود اس کے کہ خزانہ ان کے پاس تھا` قادیان کے لوگوں نے مولوی صاحب کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ جب ایمان کا معاملہ آیا تو انہی قادیان والوں نے جس طرح مکھی کو دودھ سے نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے` اسی طرح انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو نکال کر باہر کردیا۔ حالانکہ یہ وہ لوگ تھے جن کے مال اور جن کی جانیں اسی طرح مولوی محمد علی صاحب کے قبضہ میں تھیں جس طرح اب وہ ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہمارے قبضہ میں لوگوں کے مال اور ان کی جانیں ہیں اگر اس وقت قادیان والوں نے ایمان کے معاملہ میں کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی تو اب وہ کس طرح خیال کرسکتے ہیں کہ قادیان کے رہنے والے ایمان کے معاملہ میں کمزوری دکھاتے اور منافقت سے کام لیتے ہیں۔ ان کو تجربہ ہے کہ قادیان والوں نے اپنے ایمان کو فروخت نہیں کیا تھا بلکہ جب انہیں معلوم ہوا کہ اب دین اور ایمان کا سوال پیدا ہوگیا ہے تو انہوں نے مقابلہ کیا اور اس بات کی انہوں نے کوئی پروا نہ کی کہ وہ صدر انجمن احمدیہ کے ملازم ہیں۔ پھر میں مولوی محمد علی صاحب سے کہتا ہوں۔ مولوی صاحب! آپ بھی قادیان کی نوکری کرتے رہے ہیں۔ کیا اس وقت آپ کا ایمان بگڑا ہوا تھا یا سلامت تھا۔ آپ تو اس وقت اڑھائی سو روپیہ ماہوار تنخواہ لیا کرتے تھے جن پر آپ اعتراض کررہے ہیں ان میں سے اکثر تو بیس` تیس` چالیس لینے والے ہیں مگر آپ اڑھائی سو روپیہ ماہوار وصول کیا کرتے تھے۔ پس آپ بتائیں کہ آپ کے اعقاد کا اس وقت کیا حال تھا؟
    پھر ہمارے اعتقادات کے بدلنے کا تو ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں مگر مولوی محمد علی صاحب کے متعلق ہمارے پاس اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ جب تک وہ قادیان سے اڑھائی سو روپیہ ماہوار تنخواہ لیتے رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نبی کہتے کہتے ان کی زبان خشک ہوتی تھی۔ مگر جب وہ اڑھائی سو روپیہ ماہوار ملنے بند ہوگئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مجدد کہنے لگ گئے۔ جس شخص کے ایمان کا یہ حال ہو کہ وہ اڑھائی سو روپیہ کے بدلے کسی کو نبی کہنے کے لئے تیار ہو جائے اور عدالتوں میں جاکر کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نبی تھے اسے یہ کس طرح زیب دیتا ہے کہ وہ دوسروں پر طعنہ زنی کرے۔ پھر جس شخص کو اس دن کی روٹی بھی اسی ترجمہ کے طفیل ملی ہو جو اس نے قادیان میں بیٹھ کر اور جماعت احمدیہ سے تنخواہ پاکر کیا تھا اس کو کب یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قادیان والوں کی عیب چینی کرے۔ حالانکہ اس نے اس روز صبح کو جو ناشتہ کیا تھا وہ بھی اسی ترجمہ کے طفیل تھا جو اس نے قادیان میں باقاعدہ تنخواہ لے کر کیا اور اس نے اس روز جو روٹی کھائی تھی وہ بھی اسی ترجمہ کے طفیل تھی جو اس نے قادیان میں تنخواہ پر کیا۔ اور اس نے اس روز جو کپڑے پہنے تھے وہ بھی اسی ترجمہ کے طفیل تھے جو اس نے قادیان میں تنخواہ پاکر کیا۔ کیونکہ اس کا کون انکار کرسکتا ہے کہ جس ترجمہ کے کمشن پر مولوی صاحب کا گزارہ ہے وہ ترجمہ مولوی صاحب نے اپنے گھر سے کھاکر نہیں کیا بلکہ صدر انجمن احمدیہ سے تنخواہ لے کر اور اس کی خریدی ہوئی لائبریری کی مدد سے کیا تھا۔ >)جس لائبریری کو وہ بعد میں دھوکا دے کر کہ میں چند روز کے لے لئے جاتا ہوں غصب کر بیٹھے ہیں( ایسا انسان بھلا کس مونہہ سے یہ کہہ سکتا ہے کہ قادیان والے منافق ہیں۔ مولوی صاحب نے شاید سمجھا ہوگا کہ باہر والے اتنے کمزور ہیں کہ جب وہ یہ سنیں گے کہ قادیان والوں کو انہوں نے اصل جماعت احمدیہ قرار نہیں دیا ہے بلکہ اصل جماعت احمدیہ باہر کے رہنے والوں کو قرار دیا ہے تو وہ خوش ہو جائیں گے۔ مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ ان سے پہلے اور بھی بعض لوگ اس قسم کی باتوں سے تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرچکے ہیں۔ چنانچہ مدینہ میں ایک شخص نے ایک دفعہ انصار اور مہاجرین میں تفرقہ پیدا کرنے کے لئے کہہ دیا تھا۔ لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا )المنافقون ۱: ۱۳( ارے یہ لوگ روٹیاں کھانے کے لئے یہاں بیٹھے ہیں۔ تم ذرا ان کی روٹیاں تو بند کرو پھر دیکھو گے کہ کس طرح یہ لوگ یہاں سے بھاگ نکلتے ہیں۔ مگر جانتے ہو کہ یہ بات کہنے والے کا کیا حشر ہوا۔ اسی کا بیٹا حضرت رسول اکرمﷺ~ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے باپ کے فعل پر *** ڈالی۔
    پس مولوی محمد علی صاحب کو بھی یاد رہے کہ ان کا یہ حملہ جو انہوں نے قادیان کی جماعت احمدیہ پر کیا ہے اس سے باہر کے لوگ خوش نہیں ہوں گے بلکہ باہر کی جماعتیں خود اس حملہ کا جواب دیں گی اور وہ ان کی تائید نہیں کریں گی بلکہ ان کے اس دعویٰ کی پرزور تردید کریں گی۔ کیونکہ ان کا اخلاص اس بات کا تقاضا کرتا ہے اور ان کے دل اس حسرت سے پر ہیں کہ کاش انہیں بھی قادیان میں رہنے کی توفیق ملتی۔ وہ قادیان میں آنے کو نفاق نہیں سمجھتے بلکہ ایمان اور اخلاص کی علامت سمجھے ہیں<۔۲۵۱
    یہ اعلان چونکہ بیرونی مخلصین احمدیت کے دلوں کا ترجمان اور ان کی قلبی کیفیت کا آئینہ دار تھا اس لئے جوں ہی حضرت امیرالمومنین کی آواز ان کے کانوں تک پہنچی انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کے رویہ کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا۲۵۲ اور ریزولیوشن پاس کرکے قادیان کے احمدیوں کی فضیلت کا اقرار کیا۔ اس سلسلہ میں انبالہ کی جماعت اول نمبر پر آئی جس نے سب سے پہلے تار دیا کہ وہ مولوی صاحب کے اس حملہ کی بری نظر سے دیکھتے اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اسی طرح مجوکہ ضلع سرگودھا کے ایک احمدی نے حقیقی مومنانہ جذبہ دکھایا اور نہایت معقول رنگ میں جواب دیا۔ انہوں نے لکھا کہ مولوی محمد علی صاحب اس بات پر مصر ہیں کہ میں باہر کی جماعتوں کو اپنی تقریر سنانا چاہتا ہوں۔ ان کے دل میں یہ وہم ہے کہ باہر کے لوگ چونکہ عموماً ناخواندہ ہوتے ہیں اس لئے ممکن ہے قادیانی جماعت کا ساتھ چھوڑ دیں۔ مگر مولوی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے میں موضع مجوکہ ضلع سرگودھا کا رہنے والا ہوں۔ اس علاقہ کی جماعتیں آپ کے عقیدہ سے خوب واقف ہیں۔ میں ان جماعتوں کے متعلق قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر سورج بجائے مشرق کے مغرب سے طلوع ہونے لگے تو بھی وہ ہرگز ہرگز حضرت امیرالمومنین کا پاک دامن چھوڑنے والی نہیں۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ ۱۹۴۱ء۔ ۱۳۲۰ہش پر جماعت انبالہ کی اولیت کا ذکر کیا اور مجوکہ کے احمدی کے اس جواب پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا >یہ جواب ہے تو بہت سادہ مگر ایمان کا نہایت عمدہ مظاہرہ ہے<۔۲۵۳
    بیرونی جماعتوں نے محض اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ باہر سے قراردادیں بھجوا دیں۔ بلکہ انہوں نے سالانہ جلسہ ۱۹۴۱ء۔ ۱۳۲۰ہش کے اجلاس اول )منعقدہ ۲۶۔ فتح/ دسمبر( میں جبکہ وہ ہزاروں کی تعداد میں جمع تھیں حسب ذیل قرارداد پاس کی۔
    >مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین کا مطالبہ کہ ان کو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تقریر کرنے کی اجازت دی جائے حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا جائے۔ بیرونی جماعتوں میں سے کوئی بھی ان کا لیکچر سننا نہیں چاہتی۔ چونکہ انہوں نے ہمارے مقدس اور جان سے پیارے امام حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور جماعت قادیان دارالامان کی جس کو تمام جماعتیں سب سے بہتر و افضل جماعت یقین کرتی ہیں سخت ہتک کی ہے اس لئے وہ ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کو اس سٹیج پر بولنے کی اجازت دی جائے۔ ہم میں سے کوئی شخص بھی ان کی بات سننے کے لئے تیار نہیں<۔
    یہ قرار داد ملک عبدالرحمن صاحب خادم بی اے` ایل ایل بی نے پیش کی اور متفقہ طور پر پاس کی گئی۔۲۵۴ اب بیرونی احمدی جماعتوں کے جذبات و خیالات کا پوری طرح اظہار ہوچکا تھا اور مولوی محمد علی صاحب کی گہری تدبیر جو انہوں نے ان جماعتوں کو خوش کرکے مرکز احمدیت سے بدظن کرنے کے لئے کی تھی پوری طرح ناکام ہوچکی تھی مگر اس کے باوجود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اگلے دن اپنی تقریر کے دوران دوبارہ تمام حاضرین سے رائے طلب کی کہ۔
    >اگر آپ لوگ جلسہ کے موقعہ پر ان کی تقریریں سننا چاہتے ہیں تو بتادیں۔ میں کل کا دن انہیں دے سکتا ہوں اور ابھی تار دے کر ان کو بلا لیتا ہوں<۔۲۵۵
    یہ سن کر جلسہ میں شامل سب احباب نے بالاتفاق کہا کہ ہم ان کی کوئی بات نہیں سننا چاہتے۔ اس پر حضرت خلیفتہ المسیح نے فرمایا۔
    >اگر جماعت سننا نہیں چاہتی تو ہم نے کونسا ان کا قرض دینا ہے کہ ان کو ضرور موقعہ دیں اور اس طرح سال میں تین دن قادیان میں گزارنے اور میری اور سلسلہ کے علماء کی تقریریں سننے کا جو موقعہ دوستوں کو ملتا ہے وہ ان کی نذر کر دیں<۔
    پھر فرمایا۔
    >یہ وہی چالاکی ہے جیسے رسول کریم~صل۱~ کے زمانے میں مہاجرین اور انصار کو باہم لڑانے کے لئے منافقین کیا کرتے تھے۔ مولوی صاحب نے سمجھا یہ جماعت بیوقوف ہے۔ جب میں کہوں گا کہ قادیان کی جماعت تو اصل جماعت نہیں تو باہر والے خوش ہوں گے اور کہیں گے کہ مولوی صاحب نے ہماری تو تعریف کردی ہے۔ لیکن انہیں پتہ نہیں کہ جماعت خداتعالیٰ کے فضل سے اس دھوکے میں آنے والی نہیں اور ہمارے دوست انہیں خوب سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔ ~}~
    بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش
    من انداز قدت را مے شناسم
    یعنی تم خواہ کسی قسم کے لباس پہن کر آئو میں چال سے اور قد کے انداز سے سمجھ جاتا ہوں کہ کون ہوگا<۔۲۵۶
    ‏sub] g[taسالانہ جلسہ ۱۹۴۰ء` ۱۳۱۹ہش میں حضرت امیرالمومنین کا خطاب
    سالانہ جلسہ پر اللہ تعالیٰ کے بہت سے افضال کا نزول ہوا جن میں سے ایک نمایاں فضل یہ تھا کہ اگرچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی صحت بیماری اور کام کی وجہ سے بہت کمزور تھی مگر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف معجزانہ طور پر حضور کو سالانہ جلسہ پر حسب دستور ایمان افروز تقاریر کرنے کی طاقت بخشی بلکہ جہاں گزشتہ سالوں میں ان ایام کی مصروفیات کے باعث کھانسی کا شدید حملہ ہو جاتا تھا وہاں اس سال اس تکلیف میں نمایاں کمی واقع ہوگئی۔ چنانچہ حضور نے ۳۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء۔ ۱۳۲۰ ہش کو خطبہ جمعہ میں فرمایا۔
    >میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے باوجود اس کے کہ میری طبیعت جلسہ سے قبل بیماری اور کام کی زیادتی کی وجہ سے بہت ضعیف تھی اور میں اپنے نفس میں سمجھتا تھا کہ غالباً میں جلسہ کے موقع پر اس حد تک بھی تقریریں نہ کر سکوں گا جس حد تک کہ پہلے کیا کرتا تھا اور دوسرے کاموں میں بھی غالباً کمی کرنی پڑے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ کسی کام میں کوئی کمی نہیں کرنی پڑی ببلکہ پہلے جلسوں کے بعد میں جس قدر کوفت محسوس کیا کرتا تھا۔ اس سال اس سے بہت کم کوفت محسوس ہوئی اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا جلسہ آیا ہی نہیں بلکہ کئی لحاظ سے میں اس وقت اپنی طبیعت کو جلسہ سے پہلے کی نسبت بہت بہتر پاتا ہوں۔ گویا ایک قسم کا علاج ہوگیا۔ بے شک جلسہ کے بعد کھانسی ضرور ہوئی ہے مگر یہ کھانسی حلق کی معلوم ہوتی ہے اور اس کھانسی سے ضعف نہیں ہوتا اور پھر پہلے سالوں کی نسبت اس سال کھانسی میں بھی کمی ہی رہی ہے۔ گو دو چار روز قبل کھانسی کچھ زیادہ تھی مگر کل نہیں اٹھی۔ آج کچھ کچھ اٹھ رہی ہے۔ مگر اس دفعہ کا حملہ اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں جو پہلے سالوں میں جلسہ کے بعد ہوا کرتا تھا) پہلے تو جلسہ کے بعد ایسی شدید کھانسی ہوا کرتی تھی کہ مجھے رات کے ایک ایک دو دو بجے تک بستر میں بیٹھ کر وقت گزارنا پڑتا تھا اور نیند نہیں آتی تھی۔ اس سال گو صبح شروع ہوتی ہے مگر دس بجے تک ہٹ جاتی ہے اور پھر شام کو کچھ شروع ہو کر سونے کے وقت تک رک جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سردی لگنے کی وجہ سے متلی کی بھی کچھ شکایت ہوئی اور جگر کی خرابی کا کچھ دورہ ہوا۔ مگر مجموعی لحاظ سے اور توقع کے بالکل خلافت میری طبیعت بہت اچھی رہی ہے اور اللہ تعالٰی نے ایسی نصرت کی ہے کہ کام بھی ہوگیا اور طبیعت میں بھی کوئی خرابی نہیں ہوئی بلکہ طبیعت پہلے کی نسبت اچھی ہے۔ اس میں کچھ دخل ایک اور بات کا بھی ہے مگر وہ بھی خدا تعالیٰ کا فضل ہی ہے اور وہ یہ کہ میں ہمیشہ عام طور پر جلسہ کی تقریروں کے نوٹ دوران جلسہ میں لیا کرتا ہوں۔ چونکہ فرصت نہیں ہوتی اس لئے میرا قاعدہ ہے کہ سفید کاغذ تہہ کرکے جیب میں رکھ لیا کرتا ہوں اور دوسرے کاموں کے دوران میں جو وقت مل جائے اس میں کاغذ نکال کر نوٹ کرتا رہتا ہوں۔ مثلاً ڈاک دیکھ رہا ہوں۔ دفتر والے کاغذات پیش کرنے کے لئے لانے گئے اور اس دوران میں میں نوٹ کرنے لگ گیا یا نماز کے لئے تیاری کی۔ سنتیں پڑھیں اور جماعت تک جتنا وقت ملا اس میں نوٹ کرتا رہا۔ اس طرح یہ تیاری پندرہ سولہ ستمبر سے شروع کر دیتا تھا اور قریباً ۲۲۔ ۲۳۔ دسمبر تک کرتا رہتا تھا اور اس کے بعد دوسرے کاموں سے فراعت حاصل کرکے نوٹوں کی تیاری میں لگ جاتا۔ ان کو درست کرکے لکھنے کا کام میں بالعموم ۲۷۔ ۲۸ کو کرتا اور اس کے لئے وقت انہی تاریخوں میں ملتا تھا۔ اس وجہ سے طبیعت میں کچھ فکر بھی رہتا تھا کہ صاف کرکے لکھ بھی سکوں گا یا نہیں لیکن اس دفعہ قرآن کریم کی تفسیر کا کام رہا اور اس کے لئے وقت نہ تھا۔ ۲۲۔ کی شام کو ہم تفسیر کے کام سے فارغ ہوئے۔ ۲۳۔ کو بعض اور کام کرنے تھے وہ کئے۔ ۲۴۔ کی شام کو نوٹوں کا کام شروع کیا اور فکر تھا کہ یہ کس طرح کروں گا۔ مگر اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ نوٹوں کی تیاری میں بہت آسانی ہوگئی۔ حوالے وغیرہ بہت جلد جلد ملتے گئے اور ۲۵۔ کی شام کو تینوں لیکچروں کے نوٹوں سے میں فارغ ہوچکا تھا یہ بھی ایک وجہ ہے کہ مجھے زیادہ کوفت نہیں ہوئی کیونکہ زیادہ محنت نہ کرنی پڑی۔ اگر مضمون پیچیدہ ہو جاتا تو مجھے زیادہ محنت کرنی پڑتی اور پھر بوجھ بھی زیادہ محسوس ہوتا اور تکلیف ہوتی مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے بچالیا<۔۲۵۷
    حضرت امیرالمومنین کی تقریر کا ذکر اخبار >سٹیٹس مین< میں
    دہلی کے مشہور اخبار >سٹیٹس مین< نے اپنی ۲۹۔ دسمبر ۱۹۴۰ء کی اشاعت میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی سالانہ جلسہ کی ایک تقریر )فرمودہ ۲۷۔ دسمبر ۱۹۴۰ء( کی حسب ذیل رپورٹ شائع کی۔
    >قادیان ۲۸۔ دسمبر۔ آج جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ نے فرمایا کہ دنیا اس وقت نہایت ہی نازک دور میں سے گزر رہی ہے اور ابھی اور نازک دور آنے والا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ انسانیت کی موجودہ مشکلات اور دکھوں میں ایک نیا نظام پیدا ہوگا جو موجودہ نظام سے بہت مختلف اور اس سے بہت بہتر ہوگا۔ تقریر کے دوران میں آپ نے جماعت کی تعمیری سرگرمیوں نیز اندرونی مخالفین کی شرارتوں اور بیرونی دشمنوں کے حملوں پر بھی تبصرہ کیا اور آئندہ سال کے لئے ایک عملی پروگرام جماعت کے سامنے رکھا۔ حکومت کے ساتھ جماعت کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ قادیان میں سکھوں کی کانفرنس کے موقعہ پر جو سلوک ہم سے کیا گیا ہم اسے سخت ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے جماعت کو سادہ زندگی اختیار کرنے کی تاکید فرمائی اور نوجوانان جماعت سے پرزور اپیل کی کہ وہ اسلام کی خدمت کے لئے میدان میں نکلیں۔ آپ نے عورتوں کے جلسہ میں بھی تقریر کی جو لجنہ اماء اللہ کے زیر اہتمام ایک علیحدہ پنڈال میں منعقد ہوا<۔۲۵۸
    مختلف مذاہب اور مختلف فرقوں کے معززین کی سالانہ جلسہ ۱۳۱۹ھش/ ۱۹۴۰ء میں شرکت
    حسب معمول اس سال بھی غیر احمدی اور غیر مسلم معززین نے سالانہ جلسہ میں شرکت کی۔ ایسے اصحاب کی تعداد دو سو کے قریب تھی۔ اکثر نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ سے شرف ملاقات
    بھی حاصل کیا اور مقامات مقدسہ دیکھے۔ ذیل میں بعض چیدہ اصحاب کے نام درج کئے جاتے ہیں۔
    )۱(
    مسٹر دلفریڈسی سمتھ آف ٹورنٹوسٹی کینیڈا۔ امریکہ۔ جو سینٹ جان کالج کیمرج انگلستان کے طالب علم تھے اور >اسلام میں نئی مذہبی اور نیم مذہبی تحریکات< پر مضمون تیار کررہے تھے۔
    )۲۔۳(
    مسٹر دملے جال صاحب آف چیکوسلواکیہ مع اہلیہ صاحبہ
    )۴۔۵(
    مسٹر بامک صاحب آف چیکوسلواکیہ مع اہلیہ صاحبہ۔
    )۶(
    رائے صاحب لالہ نتھو لال صاحب پوری۔ پی۔ سی۔ ایس )ریٹائرڈ( وزیر ریاست شاہ پورہ )راجپوتانہ(
    )۷(
    پنڈت راجندر کشن صاحب کول سب ج درجہ اول لائل پور۔
    )۸(
    لالہ کرم چند صاحب بی۔ اے` ایل ایل۔ بی پلیڈر کانگڑہ۔
    )۹(
    لالہ اوم پرکاش صاحب امپیریل سیکرٹریٹ دہلی۔
    )۱۰(
    مسٹر انیس احمد صاحب عباسی ایڈیٹر روزنامہ >حقیقت< لکھنو۔
    )۱۱(
    چودھری عنایت علی صاحب آنریری مجسٹریٹ گوجرانوالہ۔
    )۱۲(
    خان صاحب میاں مراد بخش صاحب آنریری مجسٹریٹ جلال پور بھٹیاں ضلع گوجرانوالہ۔
    )۱۳(
    چودھری محمد نواز خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ رسول پور ضلع گوجرانوالہ۔
    )۱۴(
    پنڈت نگیندر موہن پرشاد صاحب تیوری جج ریاست جے پور۔
    )۱۵(
    ملک علی بہادر خاں صاحب آف گڑھی آوان ممبر ڈسٹرکٹ بورڈ ضلع گوجرانوالہ۔
    )۱۶(
    چودھری اکرام اللہ خان صاحب رئیس ایمن آباد۔
    )۱۷(
    لیفٹیننٹ کرتی سنگھ اہلو والیہ آف پٹھانکوٹ ڈائرکٹر واہ سیمنٹ کمپنی۔
    )۱۸(
    سردار منظور احمد خان صاحب تمندار و آنریری مجسٹریٹ کوٹ قیصرانی۔ ضلع ڈیرہ غازیخاں۔
    )۱۹(
    چودھری فیض علی خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ و جاگیر دار ضلع گوجرانوالہ۔
    ان کے علاوہ بہت سے معزز غیر احمدی اور غیر مسلم اصحاب آنریبل چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی کوٹھی بیت الظفر میں فروکش تھے جن میں سے بعض کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔
    )۲۰(
    ملک غلام محمد صاحب کنٹرولر۲۵۹ جنرل پرچیز دہلی۔
    )۲۱(
    مسٹر زاہد حسین صاحب فنانشل۲۶۰ ایڈوائزر سپلائی ڈیپارٹمنٹ دہلی
    )۲۲(
    اے۔ کے ملک آئی۔ سی۔ ایس انڈین سٹورز ڈیپارٹمنٹ دہلی۔
    )۲۳(
    خان بہادر ڈاکٹر عبدالحمید صاحب بٹ اسسٹنٹ ڈائرکٹر پبلک ہیلتھ پنجاب۔
    )۲۴(
    خاں بہادر راجہ اکبر علی صاحب دہلی۔
    )۲۵(
    شیخ محمد تیمور صاحب وائس پرنسپل اسلامیہ کالج پشاور۔
    )۲۶(
    باواجھنڈا سنگھ صاحب ریٹائرڈ سب جج امرتسر۔
    )۲۷(
    مسٹر فضل الرحمن صاحب شریف امرتسر۔
    )۲۸(
    مسٹر مظہر شریف صاحب ایم۔ اے امرتسر۔
    )۲۹(
    خاں بہادر میاں غلام قادر محمد شعبان صاحب ایم۔ ایل۔ اے۔ سنٹرل کراچی۔
    )۳۰(
    مسٹر شوندر بہادر سہگل حیدرآباد دکن۔
    )۳۱(
    لالہ کرم چند صاحب ایڈیٹر >پارس< لاہور۔
    )۳۲(
    مسٹر اے۔ کے مشتاق صاحب حیدرآباد دکن۔
    )۳۳(
    میاں محمد رشید صاحب آسٹریلین دواخانہ )لاہور(
    )۳۴(
    بخشی چانن شاہ صاحب لاہور۔
    )۳۵(
    شیخ لائق علی صاحب سینئر سب جج امرتسر۔
    )۳۶(
    چودھری عبدالکریم صاحب آنریری مجسٹریٹ لاہور۔
    )۳۷(
    شیخ عبدالعزیز صاحب امرتسر۔
    )۳۸(
    شیخ عبدالرشید صاحب امرتسر۔
    )۳۹( ][ رفعت پاشا صاحب امرتسر۔۲۶۱
    سالانہ جلسہ پر بیعت کرنے والوں کی تعداد
    ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر جو اصحاب سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانیؓ کے دست مبارک پر بیعت کرکے داخل احمدیت ہوئے ان کی تعداد تین سو چھیاسی تھی۔ جن میں ۱۹۹ مرد اور ۱۸۷ خواتین تھیں۔۲۶۲
    پہلا باب )فصل ہشتم(
    جلیل القدر صحابہ کا انتقال
    اس سال سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے متعدد جلیل القدر صحابہ ہم میں سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے۔ ان کے نام مع مختصر حالات کے درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    ۱۔ میاں خیر دین صاحب کھماچوں )ضلع جالندھر( وفات: امان/ مارچ ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش۔۲۶۳
    ۲۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب حلالپوری۔ )زیارت مسیح موعودؑ: نومبر ۱۹۰۴ء بمقام لاہور۔ بیعت تحریری: ۱۷۔ فروری ۱۹۰۸ء` دستی ۱۳۔ اپریل ۱۹۰۸ء۔ وفات: ۸۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(
    حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب سلسلہ احمدیہ کے ایک بلند پایہ عالم` بہت بڑے محقق` علوم شرقیہ کے ماہر` نہایت منکسر المزاج` طبیعت کے سادہ` دل کے غنی اور محبت و اخلاص کے مجسمہ تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے عہد مبارک کے آخری ایام میں قادیان آئے اور حضورؑ کے دست مبارک پر بیعت کرکے واپس چلے گئے۔ پھر ۱۹۰۹ء میں ہجرت کرکے مستقل طور پر قادیان میں رہائش پذیر ہو گئے۔ پہلے مدرسہ احمدیہ میں مدرس ہوئے۔ آخر میں جامعہ احمدیہ کے پروفیسر مقرر ہوکر ۱۹۳۹ء میں ریٹائر ہوئے]01 [p۲۶۴ ریٹائر ہونے کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ان کے سپرد دو اہم کام کئے۔
    ۱۔
    مجاہدین تحریک جدید کی تعلیم و تربیت
    ۲۔
    ترجمہ قرآن کریم کے لئے لغات کے حوالوں کی تخریج۔۲۶۵
    حضرت مولوی صاحب بوڑھے ہوچکے تھے اور مسلول بھی تھے مگر آپ یہ دونوں کام آخر دم تک نہایت خوش اسلوبی سے نبھاتے رہے۔ آپ کی المناک وفات نے جماعت احمدیہ کے افراد کو عموماً اور عملی ذوق رکھنے والی شخصیتوں کو محسوس کرا دیا کہ جماعت سے صرف ایک عالم جدا نہیں ہوا بلکہ علوم کا ایک سورج اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا ہے۔ چنانچہ حضرت میر محمد اسحق صاحب`۲۶۶ حضرت مفتی محمد صادق صاحب`۲۶۷ مولانا ابوالعطاء صاحب۲۶۸ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۲۶۹ نے آپ کے علم و فضل اور اخلاق و شمائل کی نسبت درد و گداز سے ڈوبے ہوئے مضامین لکھے اور شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ اور حضرت مولانا ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر نے آپ کی یاد میں مرثیئے کہے۔۲۷۰
    حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب کے شاگردوں کا سلسلہ بہت وسیع تھا۔ آپ نے ایک بیش بہا لٹریچر اپنے پیچھے بطور یادگار چھوڑا۔ آپ کی مشہور تالیفات و تصنیفات حسب ذیل ہیں۔
    تنویر الابصار۔ نشان رحمت۔ تبدیلی عقائد مولوی محمد علی صاحب۔ درود شریف۔ محامد خاتم النبین۔ اہل پیغام کے بعض خاص کارنامے۔ تعلیمات مسیح موعود دربارہ درود شریف۔ میرا عقیدہ دربارہ نبوت مسیح موعود۔ تبدیلی عقیدہ کے جواب الجواب۔ احمدی لڑکی کا رشتہ۔ اہل پیغام کا کچا چٹھا۔۲۷۱
    ۳۔ قاضی تاج الدین صاحب )وفات ۱۶۔ مارچ ۱۹۴۰ء بعمر ۷۷ سال( حضرت قاضی کرم الٰہی صاحب کے چھوٹے بھائی اور قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔ اے )حال پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ربوہ( کے چچا تھے۔۲۷۲
    ۴۔ حضرت شیخ میاں فقیر علی صاحب برادر حضرت حافظ حامد علی صاحب تھہ غلام نبی۔ )وفات ۲۷۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش بعمر نوے سال(۲۷۳
    قدیم صحابہ میں سے تھے۔ پہلی بار آپ ۱۸۹۲ء کے سالانہ جلسہ پر شامل ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حاضرین جلسہ کی فہرست میں آپ کا نام ۱۵۶ نمبر پر درج فرمایا۔۲۷۴ اس کے علاوہ جلسہ احباب )منعقدہ ۲۰ تا ۲۲۔ جون ۱۸۹۷ء( میں بھی آپ کی شرکت ثابت ہے۔۲۷۵ آپ تھہ غلام نبی میں فوت ہوئے۔ اور موضع بازید چک میں دفن کئے گئے۔۲۷۶
    ۵۔ مہرا روڑا صاحب سیالکوٹ )وفات ۲۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش بعمر ننانوے سال4]( ft[s۲۷۷
    ۶۔ حضرت ماسٹر عبدالرئوف صاحب بھیروی )تاریخ پیدائش اپریل ۱۸۷۷ء` بیعت: ۱۸۹۸ء` وفات ۱۰۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش بعمر ۶۳ سال(۲۷۸
    مئی ۱۸۹۹ء سے لے کر دسمبر ۱۹۰۲ء تک مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان میں مدرس رہے۔ ۱۹۰۳ء و ۱۹۰۴ء میں پہلے خان صاحب عجب خاں صاحب تحصیلدار کے ہاں اور پھر حضرت سید ناصر شاہ صاحب کے ہاں قیام کیا۔ ۱۹۰۵ء میں واپس قادیان تشریف لے آئے۔ ۱۹۰۶ء کے آغاز سے پھر تعلیم الاسلام سکول کی خدمت پر بطور کلرک دوم اور بالاخر ہیڈ کلرک بن کر ۲۷۔ نومبر ۱۹۲۷ء کو پنشن یاب ہوئے۔۲۷۹
    ۷۔ ابو اکمل حضرت مولوی امام الدین صاحبؓ گجراتی )ولادت: نومبر ۱۸۵۱ء` بیعت: ۱۸۹۷ء وفات: ۱۳/۱۲ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ ہش بعمر اکانوے سال(۲۸۰
    حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے آپ کے انتقال پر لکھا کہ
    >حضرت مولانا صاحب ایک جید عالم اور عارف تھے اور حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت پر ایک عالمانہ و عارفانہ یقین کے ساتھ نہایت پختگی سے قائم تھے۔ پہلے گولیکی میں رہائش تھی پھر ہجرت کرکے قادیان چلے آئے اور یہاں متفرق کلاس میں اور اس کے علاوہ بھی مولوی فاضل کلاس اور اس کے اوپر دینیات کی جماعت کے طلباء کو پڑھانے میں مصروف رہتے تھے۔ باوجود پیرانہ سالی اور ضعیفی کے ہر نماز باجماعت ادا کرتے اور باقاعدگی سے تہجد پڑھتے۔ آپ صاحب کشف و الہامات تھے<۔۲۸۱
    ۸۔ چوہدری نواب خاں صاحب آف گھٹیالیاں )ضلع سیالکوٹ( )وفات: ۱۲۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(۲۸۲
    ۹۔ چوہدری محمد اسماعیل خان صاحب نمبردار و صدر جماعت احمدیہ بگول ضلع گورداسپور۔ )بیعت: ۱۹۰۴ء۔ وفات ۲۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(
    احمدیت کے شیدائی اور نہایت عابد و زاہد انسان! جن کی تبلیغ سے بگول` پھیروچیچی` گھوڑیواہ` شیں بھٹی` جلال پور اور بھٹیاں میں کئی لوگوں نے احمدیت قبول کی۔ پروفیسر ناصر الدین عبداللہ )وید بھوشنکا ویہ تیرتھ پروفیسر جامعہ احمدیہ کے والد( اوائل عمر میں کٹر عیسائی ہوگئے تھے بلکہ اسلام کے خلاف دوکتابیں بھی لکھیں۔ حتیٰ کہ اپنے بیٹے )ناصر الدین عبداللہ صاحب( کو مشن کالج میں تعلیم دلا کر عیسائیت کا مناد بنانے کا مصمم ارادہ کرچکے تھے۔ چوہدری محمد اسماعیل صاحب کو پتہ چلا تو آپ ناصر الدین عبداللہ صاحب کو )جو تیسری پاس کرچکے تھے( قادیان لے گئے۔ اگلے روز ان کے والد بھی قادیان پہنچ گئے۔ جنہیں چودھری صاحب نے اس رنگ میں تبلیغ کی کہ وہ عیسائیت چھوڑ کر پرجوش احمدی ہوگئے۔
    چودھری صاحب موصوف کو تبلیغ کا گویا ایک جنون سا تھا۔ آپ جس افسر کے پاس تشریف لے جاتے` سرکاری کام کرنے کے بعد اسے ضرور حق کا پیغام پہنچاتے تھے۔۲۸۳
    ۱۰۔ سردار محمد علی صاحب ساکن جوڑہ کرنانہ ضلع گجرات )مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب کے دادا جان کے بھائی( تاریخ بیعت ۲۱۔ اپریل ۱۹۰۲ء` وفات ۲۵۔ امان ۱۳۱۹ ہش/ مارچ ۱۹۴۰ء۔ آپ ۱۹۰۲ء میں فوج میں۲۸۴ وٹرنری آفیسر میرٹھ چھائونی میں ملازم تھے تو کچھ عرصہ چکروتہ پہاڑ پر آپ کو حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم کے ساتھ اکٹھا رہنے کا موقعہ ملا اور ان ہی کی بدولت آپ نے احمدیت قبول کی۔ آپ جماعت کی ہر تحریک کے چندہ میں باقاعدہ حصہ لیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کا نام منارۃ المسیح پر بھی کندہ ہے۔ آپ موصی تھے۔ آپ کی وصیت کا نمبر ۲۹۔ ۶۔ ۱۲/ ۷۹۔۳ ہے۔ آپ کی نعش بعض وجوہات کی بناء پر قادیان نہ لائی جاسکی اور آپ کو اپنے گائوں کے قبرستان میں بطور امانت دفن کر دیا گیا۔ بہشتی مقبرہ قادیان میں آپ کا یادگار کتبہ ۴۲۳ نمبر کے تحت نصب ہے۔ آپ مورخہ یکم اگست ۱۹۲۱ء کو پنشن حاصل کرکے اپنے وطن آگئے اور تاوفات وہیں رہے۔ آپ کے گھر کے سامنے ایک مسجد ہے۔ شروع میں ایک دن ظہر کے وقت آپ اس مسجد میں تشریف لے گئے تو ایک مخالف نے ان سے پانی کا لوٹا چھین لیا اور کہا کہ تم کافر ہو اس مسجد سے چلے جائو۔ چنانچہ اس کے بعد آپ اپنے مکان ہی پر نماز ادا کرنے لگے۔ پنشن پر آنے کے بعد آپ اٹھارہ سال زندہ رہے۔ اس عرصہ میں آپ ہر روز بلاناغہ صبح کی نماز کے بعد دوگھنٹہ تک اپنے دروازہ کے سامنے کھڑے ہوکر بلند آواز میں احمدیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے حالانکہ آپ عمر رسیدہ تھے اور قصبہ کے تمام لوگ مخالف تھے۔ آپ کے مکان ہی پر دوسرے احمدی اکٹھے ہو کر نماز پڑھتے اور جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے۔ وفات کے وقت عمر ۷۴ سال تھی۔
    ۱۱۔ چودھری محمد شفیع صاحب بی۔ اے` بی۔ ٹی ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ۔۲۸۵ بیعت۔ وفات ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش۔
    ۱۲۔ حاجی احمد الدین صاحب محلہ ناصر آباد۔ قادیان۔ )وفات: احسان/ جون ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(۲۸۶
    ۱۳۔ حضرت حافظ قاری غلام یٰسین صاحب )بیعت: ۱۸۹۷ء` وفات: ۲۲۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء بعمر ۷۲ سال(۲۸۷
    ۱۴۔ حضرت میاں معراجدین صاحب عمرؓ۔
    )بیعت: ۱۶۔ جولائی ۱۸۹۱ء` وفات:۲۸۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش بعمر ۷۵ سال(۲۸۸
    مولف >لاہور تاریخ احمدیت< کی تحقیق کے مطابق شہر لاہور کے اصل باشندوں میں سے حضرت میاں چراغ دین صاحبؓ رئیس لاہور کے خاندان نے سب سے پہلے احمدیت قبول کی اور اس خاندان میں جو بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قدموں میں سب سے پہلے آئے وہ حضرت میاں معراجدین صاحب عمرؓ تھے۔ جنہیں حضرت مولوی رحیم اللہ صاحبؓ کے فیض تربیت سے شناخت حق کی توفیق ملی۔۲۸۹ جیسا کہ خود ہی تحریر فرماتے ہیں۔
    >خاکسار مولوی رحیم اللہ مرحوم کے حق میں دعا کرتا ہے کہ ان کی صحبت اور تربیت کے طفیل مجھے اس امام سے اس وقت میں بیعت کا شرف نصیب ہوا جبکہ آپ نے ابھی دعویٰ کا اعلان کیا تھا اور اس وقت میری عمر بھی بہت تھوڑی تھی<۔۲۹۰
    بیعت کے قدیم ریکارڈ سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ آپ حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب سے بھی قریباً ڈیڑھ ماہ پہلے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔ چنانچہ اس ریکارڈ میں جہاں آپ کی تاریخ بیعت ۱۶۔ جولائی ۱۸۹۱ء درج ہے وہاں حضرت مولوی رحیم اللہ صاحبؓ کی بیعت کا دن ۳۰۔ اگست ۱۸۹۱ء لکھا ہے۔۲۹۱ واللہ اعلم بالصواب۔
    حضرت میاں معراجدین صاحبؓ کی مشہور تالیفات و مطبوعات یہ ہیں۔
    )۱(
    صداقت مریمیہ
    )۲(
    واقعہ صلیب کے چشم دید حالات
    )۳(
    تقویم عمری )۱۷۸۳ء سے ۱۹۰۷ء تک` ایک سو پچیس سال کی جنتری(
    علاوہ ازیں آپ نے اپریل ۱۹۰۶ء میں اپنے مطبع بدر لاہور سے براہین احمدیہ کے پہلے چار حصے شائع کئے اور حصہ اولیٰ کے شروع میں اپنے قلم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی سوانح عمری بھی لکھی جو اٹھانے صفحات پر مشتمل تھی۔
    ۲۱۔ مارچ ۱۹۰۵ء کو اخبار >بدر< کے مالک و مدیر حضرت بابو محمد افضل صاحبؓ انتقال فرما گئے۔ تو اخبار حضرت میاں معراجدین صاحب عمرؓ نے خرید لیا جو آپ کے زیر انتظام >بدر< کے نام سے ۱۹۱۳ء تک برابر جاری رہا اور سلسلہ کی نہایت مخلصانہ خدمات انجام دیتا رہا۔
    ۱۵۔ حاجی میراں بخش صاحب قریشی محلہ فلوت انبالہ شہر
    )بیعت: ۱۹۰۴ء` وفات: ۱۴/۱۳ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(
    نہایت نیک طینت اور خوش اخلاق بزرگ تھے۔ جماعت کی ہر تحریک میں حصہ لیتے تھے۔ تبلیغ احمدیت کا بہت شوق تھا۔ مسجد احمدیہ انبالہ۲۹۲ جس کی زمین بابو عبدالرحمن صاحب امیر جماعت احمدیہ انبالہ نے دی تھی آپ ہی کی زیر نگرانی تعمیر ہوئی۔
    ۱۴/۱۳ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش کی درمیانی شب آپ اور آپ کی اہلیہ صاحبہ نہایت سفاکانہ رنگ میں شہید کر دیئے گئے۔ ملک محمد مستقیم صاحب وکیل نے >الفضل< ۲۰۔ اگست ۱۹۴۰ء۔ ظہور ۱۳۱۹ہش میں اس المناک واقعہ کی تفصیل حسب ذیل الفاظ میں شائع کی۔
    >مورخہ ۱۳` ۱۴۔ اگست کی درمیانی شب کے گیارہ بجے جبکہ آپ اور آپ کی اہلیہ اپنے مکان میں سوئے ہوئے تھے۔ آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ پہلے حاجی صاحب مرحوم پر قاتلوں نے تیز چاقو سے حملہ کیا اور پسلی کے قریب ایک گہرا زخم لگایا۔ جس پر حاجی صاحب فوراً ہی جان بحق ہوگئے۔ انا لل¶ہ وانا الیہ راجعون۔ اس ہیبت ناک واقعہ کو دیکھ کر ان کی اہلیہ کی آنکھ کھلی اور وہ شور مچاکر مدد حاصل کرنے کے لئے چھت پر چڑھنے لگی کہ سنگدل قاتلوں نے مرحومہ کو سیڑھیوں سے نیچے گرالیا اور ایک دو وار میں ہی کام ختم کر دیا۔ چھوٹی بچی بعمر دس ماہ ان کی گود میں تھی۔ وہ ان کے نیچے دب گئی اور ان کی لاش تڑپ کر ٹھنڈی ہوگئی۔ بوقت ملاحظہ ۔۔۔۔۔۔ ان کے جسم پر گہرے زخم آئے تھے اور جسم خون میں تر تھا۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔
    یہ سنسنی خیز خبر ہوا کی طرح شہر میں پھیل گئی اور صبح تک مردوں اور عورتوں کا تانتا لگ گیا۔ پولیس آگئی اور تفتیش شروع ہوئی۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے سول ہسپتال بھیجا گیا اور واپسی پر جماعت احمدیہ نے ان لاشوں کا مطالبہ کیا۔ مگر ان کے نام نہاد رشتہ داروں نے کہا کہ یا تو حاجی صاحب اور ان کی بیوی کی لاش کو فوراً قادیان لے جائو۔ ورنہ ہم ان کو بکس میں بطور امانت دفن نہیں کرنے دیں گے۔ مقامی پولیس نے بھی جماعت احمدیہ کی مدد نہ کی۔ چنانچہ مرحوم و مرحومہ کی لاشوں کو بلا بکس کے ہی سپرد خاک کر دیا<۔4] [stf۲۹۳
    ۱۶۔ میاں سندھی شاہ صاحب ساکن بنگہ )تحصیل نوانشہر دوآبہ ضلع جالندھر(
    )وفات: ۱۹۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش بعمر ۷۵ سال(۲۹۴
    ۱۷۔ حکیم غلام محمد صاحب قبولہ ضلع منٹگمری۔۲۹۵
    ۱۸۔ چودھری فضل الدین صاحب پٹواری سیکھوں ضلع گورداسپور۔۲۹۶
    ۱۹۔ رعایت اللہ صاحب بھونچال کلاس ضلع جہلم۔۲۹۷
    ۲۰۔ حضرت میاں اللہ بخش صاحب بزدار متوطن بزدار تحصیل سنگھڑ ضلع ڈیرہ غازی خاں۔
    )وفات: ۷۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ ہش بعمر قریباً ستر سال(
    ڈیرہ غازی خاں کے علاقہ میں سب سے پہلے ۱۹۰۰ء میں حضرت مولوی ابوالحسن صاحب نے قبول احمدیت اور صحابیت کا شرف پایا۔ حضرت مولوی صاحب کی تبلیغ و تحریک پر جن لوگوں کو شناخت حق کی توفیق ملی۔ ان میں بستی بزدار کے حضرت مولوی جندوڈا صاحب اور حضرت میاں اللہ بخش صاحب بھی تھے۔ یہ دونوں بزرگ پہلے تحریری بیعت کے چھ ماہ یا زیادہ سے ایک سال بعد حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کے شوق میں بزدار سے پا پیادہ چل دیئے پہلے موضع کالہ )ضلع ڈیرہ غازی خاں( میں پہنچے جہاں مولوی ہوت۲۹۸ خاں صاحب احمدی مدرس تھے۔ پھر وہاں سے پیدل چل کر ملتان آئے۔ میاں محمد بخش صاحب احمدی چھاپ گرکے ہاں رات بسر کی۔ زاد راہ کم تھا اس لئے صرف ملتان سے لاہور تک گاڑی میں سفر کیا اور پھر پیدل سفر کرتے اور تکلیف اٹھاتے پروانہ وار قادیان پہنچے۔ صبح کی نماز کے وقت حضرت اقدس مسیح زماں مہدی دوراں تشریف لائے۔ حضرت مولوی جندوڈا مرحوم نے اپنے رویاء کی بناء پر حضور کو پہچان لیا۔
    حضرت میاں اللہ بخش صاحب فرمایا کرتے تھے۔ میں نے چہرہ مبارک کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو دل باغ باغ ہوگیا۔ دیکھنے سے دل کی سیری نہ ہوتی تھی۔ چاہتے تھے کہ دنیا و مافیہا کو چھوڑ کر آپ کا دیدار کرتے رہیں۔ حضرت اقدس نماز کے بعد تھوڑی دیر تک مسجد میں جلوہ افروز رہے۔ پھر اندرون خانہ تشریف لے گئے ہم نے بیعت کی درخواست کی۔ فرمایا کچھ دن ٹھہرو۔ ہم شنبہ یعنی سنیچر کے دن دارالامان بوقت شام پہنچے۔ اور جمعہ پڑھ کر واپس لوٹے۔ گویا ہمارا قیام دارالامان میں صرف سات دن رہا۔ جمعہ کے دن ہم دونوں نے بیعت کی۔ کچھ اور آدمیوں نے بھی بیعت کی اور ہم واپس لوٹے۔ حضرت اقدس نے ہمارے لئے دعا فرمائی۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ سے جب ہم رخصت ہونے لگے تو آپ نے بھی دعا فرمائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے وطن کے حالات بھی دریافت فرمائے اور نہایت ہمدردی سے پیش آئے۔ ہم جمعہ پڑھ کر واپس روانہ ہوئے۔ جب ہم دارالامان سے واپس آگئے تو ہماری سخت مخالفت شروع ہوگئی۔ مولوی جندوڈا صاحب بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے۔ بچوں کو ان سے پڑھانا بند کردیا۔ ان کی جو خدمت کرتے تھے اس سے ہاتھ اٹھالیا۔ ان کا اس کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہ تھا۔ مگر اس متوکل انسان نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ میرے رشتہ داروں نے قطع تعلق کرلیا۔ ہر طرح ستایا اور میں اکیلا رہ گیا۔ چھ سات سال بعد شیر محمد خاں نمبردار جو ہماری برادری کے معزز فرد تھے۔ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ خلافت میں شامل احمدیت ہوگئے۔ پھر میرے خسر نے بیعت کرلی اور آہستہ آہستہ ایک اچھی جماعت بستی بزدار میں قائم ہوگئی۔۲۹۹
    حضرت میاں اللہ بخش صاحبؓ کو حدیث شریف پڑھنے اور سننے کا ازحد شوق تھا۔ قرآن و حدیث یا سیدنا المسیح الموعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی کتاب کا مطالعہ کرتے تو آپ کی آنکھیں پرنم ہو جاتیں۔ نمازیں خشوع و خضوع سے ادا فرماتے اور نماز تہجد میں رقت و سوز کا عجیب رنگ پایا جاتا تھا۔ صاحب رویاء تھے۔
    ۲۱۔ محمد یحییٰ خاں صاحب کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری۔
    )ولادت: ۱۸۔ جون ۱۸۹۴ء` وفات: ۲۱۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(۳۰۰
    حضرت حکیم مولوی محمد انوار حسین۳۰۱ خان صاحب ساکن شاہ آباد ضلع ہردوئی کے فرزند! ۱۸۹۴ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زیارت سے فیض یاب ہوئے۔10] [p۳۰۲ آپ قادیان میں اپنی پہلی آمد کا ذکر ان لفظوں میں فرماتے ہیں۔
    >۱۹۰۲ء میں میرے بڑے بھائی عبدالغفار خاں کو تعلیم کی غرض سے دارالامان بھیجا۔ اور اس کے بعد ۱۹۰۴ء میں جب بڑے بھائی صاحب گرمی کی رخصتیں ختم کرنے کے بعد واپس آنے لگے مجھے بھی بھیج دیا اور اس کے بعد میرے منجھلے بھائی عبدالستار خاں کو۔ میں جب قادیان آیا اس وقت میری عمر دس سال کی تھی اور بورڈران میں سب سے چھوٹا تھا۔ والد صاحب مرحوم جب کبھی قادیان آتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع ہوتی تو حضور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو بھیج کر بلوا لیتے۔ میں
    عکس کیلئے
    بھی والد صاحب کے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ ان دنوں اکثر حضور مسجد مبارک کی بغلی کوٹھڑی جہاں ام المومنین ایدہ اللہ کا راستہ ہے یا مسجد میں ملاقات فرمایا کرتے تھے اور وہاں کے علماء اور اعزا کی مخالفت کا حال دریافت فرماتے رہتے<۔۳۰۳
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے ایک مکتوب۳۰۴]4 [rtf سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ خلافت ثانیہ کے اوائل میں ایک >احمدیہ ایجنسی< قائم ہوئی تھی جس کے کام کو وسیع کرنے نیز ایک اور تجارتی کام کے لئے حضور انہیں قادیان بلوانا چاہتے تھے۔ مگر اس مکتوب سے یہ ظاہر ہے کہ فی الحال وہ تجاویز عملی صورت اختیار کرنے سے رہ گئیں۔ تاہم اس کے جلد بعد ہی حضور نے انہیں یاد فرمایا اور وہ حضور کے دفتر میں بعض خصوصی خدمات بجالانے لگے۔ حضرت امیرالمومنینؓ کی ذاتی لائبریری کا انتظام` ڈاک کے ضروری کاغذات اور اخبارات کے تراشوں کی حفاظت` حضور کے سفروں کے انتظامات اور بعض دوسرے اہم فرائض آپ کے سپرد ہوتے تھے۔ آپ کا شمار حضرت خلیفہ ثانیؓ کے خاص خدام میں ہوتا تھا جو خلیفہ وقت سے غایت درجہ ادب و احترام کے ساتھ ساتھ نہایت بے تکلفی سے گفتگو کرسکتے تھے اور مجالس کی رونق ہوتے تھے۔
    آپ نہایت خوبصورت` وجیہہ و شکیل` باذوق` زندہ دل اور غایت درجہ مستعد اور فرض شناس بزرگ تھے۔
    ۲۲۔ حضرت حافظ عبدالرحمن صاحب بھیروی )والد ماجد مکرم حافظ مبارک احمد صاحب سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ(
    )وفات:۲۳۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(۳۰۵]ydob [tag
    ۲۳۔ نواب خاں صاحب ساکن پرانہ تحصیل پنڈی گھیپ ضلع کیمبلپور
    )وفات:۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(۳۰۶
    بقول حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ ایک درویش صفت عاشقانہ رنگ کے احمدی تھے۳۰۷ حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ نے ان کی وفات پر لکھا۔
    >مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ایک مخلص صحابی تھے۔ سلسلہ اور مرکز سلسلہ قادیان سے ازحد محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔ باوجود اپنی غربت اور افلاس کے اخلاص کے ساتھ سال میں ایک دفعہ اور بعض اوقات دو دفعہ ضرور قادیان آتے تھے۔ اپنے دوردراز وطن سے اکثر پیدل ہی قادیان آتے اور پیدل ہی اپنے وطن واپس جاتے تھے۔ کئی دفعہ اپنے بچوں کو بھی ہمراہ لاتے تاکہ اپنے ساتھ اپنے بچوں کو بھی قادیان کی مقدس بستی اور سلسلہ کے ساتھ اخلاص میں ثابت قدم رکھیں۔ مخالفوں میں بھی صداقت کا اظہار کرنے سے کبھی نہ چوکتے تھے۔ ان کے لڑکے نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے وفات کے وقت نزع کی حالت میں بھری مجلس میں جو کہ غیر احمدیوں کی تھی فرمایا کہ >تم سب گواہ رہو کہ میں احمدی ہوں< یہ ان کے آخری الفاظ تھے<۔۳۰۸
    ۲۴۔ حضرت مولوی فخرالدین صاحبؓ آف گھوگھیاٹ۔ میانی )ضلع شاہ پور( )والد ماجد مولانا محمد یعقوب صاحبؓ فاضل طاہر انچارج شعبہ زود نویسی( ولادت قریباً:۔ ۱۸۸۰ء
    )بیعت: ۱۸۹۸ء` وفات: ۱۰۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش بعمر ۵۹ سال(
    پنشن لینے کے بعد قادیان میں ہجرت کرکے آگئے تھے۔ تین سال نظارت بیت المال میں ناظر صاحب کے پرسنل اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے رہے۔ کچھ عرصہ نظارت دعوۃ و تبلیغ میں بھی کام کیا اور چھ سال تک سیکرٹری امانت فنڈ تحریک جدید کے فرائض انجام دیئے۔ علاوہ ازیں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ اور حضور کے برادران عالی مقام کے مختار عام بھی رہے۔۳۰۹
    ۲۵۔ میاں مولا بخش صاحب بنگوی )وفات ۲۱۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(۳۱۰
    ۲۶۔ بابو غلام نبی صاحب ریٹائرڈ انجینئر ساکن ہریانہ ضلع ہوشیارپور۔ )وفات: ۱۳۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(۳۱۱
    ۲۷۔ میاں محمد صاحب مکی متوطن چمکنی ضلع پشاور۔
    )بیعت: ۱۹۰۱ء` وفات : ۱۴۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش بعمر ۷۵ سال(
    آپ ایک عالم` عمدہ شاعر اور باخبر بزرگ تھے۔ اگرچہ ۱۹۱۴ء میں اختلافات سلسلہ کے دوران غیر مبائعین کا ساتھ دیا مگر وفات سے قبل دوبارہ خلافت سے وابستہ ہوگئے۔۳۱۲
    ۲۸۔ شیخ عطا محمد صاحب سیالکوٹی۔
    )ڈاکٹر سر محمد اقبال کے بڑے بھائی اور شیخ اعجاز احمد صاحب کے والد بزرگوار(
    )وفات: فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش(۳۱۳
    ‏tav.8.9
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    پہلا باب )فصل نہم(
    ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کے بعض متفرق مگر اہم واقعات
    خاندان مسیح موعودؑ میں خوشی کی تقاریب
    ۱۔ صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے ہاں ۲۱۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو صاحبزادی امتہ القدوس پیدا ہوئیں۔۳۱۴
    ۲۔ ۲۲۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے مسجد نور میں اپنی صاحبزادی امتہ الرشید بیگم صاحبہ کا نکاح میاں عبدالرحیم احمد۳۱۵ صاحب بھاگلپوری )ابن مولوی علی احمد صاحب ایم۔ اے( سے ایک ہزار مہر پر اور اپنی دوسری صاحبزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ کا نکاح مرزا حمید احمد صاحب )خلف الرشید حصرت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحبؓ( کے ساتھ ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔۳۱۶
    ۳۔ ۱۱۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو مرزا ظفر احمد صاحب بی۔ اے کی تقریب شادی منعقد ہوئی۔۳۱۷
    ۴۔ خان مسعود احمد خاں صاحب بی۔ اے کی شادی ۱۷۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو ہوئی۔۳۱۸
    ۵۔ حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( کے ہاں ۲۶۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو صاحبزادی امتہ الشکور صاحبہ کی ولادت ہوئی۔۳۱۹
    ۶۔ ۸۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو بعد نماز عصر حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ کی صاحبزادی سیدہ بیگم صاحبہ کی تقریب رخصتانہ عمل میں آئی۔ اس تقریب پر حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ نے ایک مفصل مضمون پڑھا۔ جس میں ازدواجی تعلقات کے متعلق اسلام کی تعلیم پیش کی اور میاں بیوی کے حقوق بیان کئے۔ آخر میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے مختصر سی تقریر فرمائی اور رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے مجمع سمیت دعا کی۔۳۲۰
    اگلے دن شام کو ملک عمر علی صاحب بی۔ اے نے اپنی کوٹھی واقع دارالانوار میں وسیع پیمانہ پر دعوت ولیمہ دی۔ سیدنا حضرت امیرالمومنینؓ نے بھی شرکت فرمائی اور دعا کی۔۳۲۱
    اناطولیہ )ترکی( میں ہولناک زلزلہ اور جماعت احمدیہ
    ایشیائے کوچک MINOR) (ASIA میں اناطولیہ کے نام سے ایک جزیرہ نما ہے جو آرمینیا اور کردستان کی سطح مرتفع کے جنوب` بحیرہ اسود کے جنوب اور شام و لبنان کے شمال میں مشہور مسلمان ملک ترکی کے حدود سلطنت میں واقع ہے۔
    ۲۶۔ ۲۷۔ دسمبر ۱۹۳۹ء کی درمیان رات کو اس خطہ میں ایک ہولناک زلزلہ آیا جس کے شدید جھٹکے ۳۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش تک محسوس ہوتے رہے۔ ترکی وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق قریباً ۴۵ ہزار نفوس زخمی اور تیس ہزار کے قریب لقمہ اجل ہوگئے۔ ضلع ارزنجان کی کل آبادی ۶۵ ہزار تھی جس میں سے ۳۰ فیصدی ہلاک اور ۲۰ فیصدی مجروح ہوئے۔ ۱۶ صوبائی شہر اور ۹۰ دیہات پیوند زمین ہوئے اور ساٹھ ہزار مربع میل کا علاقہ زلزلہ کی تباہ کاری سے ہسپتال اور قبرستان کا منظر پیش کرنے لگا۔ اس آفت ناگہانی کے علاوہ ترکی کا وسیع علاقہ سیلاب کی زد میں آگیا۔ خصوصاً سمرنا` بروسا اور اڈریا نوپل کے اضلاع میں بے شمار انسان اور مویشی بہہ گئے اور جو لوگ زلزلہ سے بچ گئے وہ بے خانماں ہوکر ادھر ادھر مارے مارے پھرنے لگے اور ناقابل برداشت سردی اور برفباری سے مرنے لگے۔
    ترکی کے طول و عرض میں اس زلزلہ سے کہرام مچ گیا اور صف ماتم بچھ گئی اور خصوصاً عالم اسلام کو اس ہولناک اور قیامت خیز زلزلہ سے شدید صدمہ پہنچا۔ قادیان میں جب زلزلہ کی یہ ہوشربا خبر پہنچی تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے ارشاد پر سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور خارجہ نے صدر جمہوریہ ترکی عصمت انونو کے نام حسب ذیل تار بھیجا۔
    >جماعت احمدیہ اور اس کے امام کو زلزلہ کی مصیبت اور آفت پر سخت صدمہ ہوا ہے۔ مہربانی فرما کر عمیق ہمدردی کا پیغام ترک قوم اور بالخصوص مصیبت زدگان تک پہنچا دیں<۳۲۲
    ہمدردی کے اس تار کا جواب جمہوریہ ترکی کی طرف سے سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو فرانسیسی زبان میں موصول ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے۔
    >آپ کے ہمدردانہ پیغام سے ہم بہت ہی متاثر ہوئے ہیں اور صدر جمہوریہ ترکیہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کے متعلق آپ کا شکریہ ادا کروں۔ کمال گیدیلگ جنرل سیکرٹری انقرہ<۳۲۳
    مصیبت زدگان ترکی کی حالت زار پر اخبار >الفضل< نے متعدد نوٹ شائع کئے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے خاص ارشاد پر ناظر بیت المال قادیان نے ستم رسیدہ ترکوں کے لئے امدادی چندہ کی اپیل شائع کی جس میں لکھا۔
    >کسی کی مصیبت میں ہمدردی کرنا ایک عام انسانی جذبہ ہے جس سے کوئی فرد خالی نہیں لیکن سب سے زیادہ اور مناسب اور لازمی طریق پر یہ جذبہ مومنین کی جماعت سے ہی ظاہر ہوتا ہے کیونکہ خدا شناسی کے نور کے باعث شفقت علیٰ خلق اللہ کا رنگ ان پر سب سے زیادہ چڑھا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے مجھے یقین ہے کہ ہر احمدی جس نے زلزلہ کی اس تباہی کا کچھ بھی حال سنا ہے۔ وہ مصیبت زدگان کے لئے ہمدردی کا جوش اپنے اندر ضرور رکھتا ہوگا۔ یوں تو بغیر کسی امتیاز مذہب و ملت کے بھی اس قسم کے مصائب و آلام میں اظہار ہمدردی کرنا واجب ہوتا ہے لیکن جس سلطنت اور علاقہ میں یہ تباہی آئی ہے وہ چونکہ اسلام سے نسبت رکھتا ہے اس وجہ سے بھی ان لوگوں سے ہماری ہمدردی دوسروں سے زیادہ ہونی چاہئے۔ پس حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت میں اناطولیہ کے مصیبت زدگان کی امداد کے متعلق اپیل کرتا ہوں کہ ہر احمدی اپنی اپنی حیثیت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرور چندہ دے اور عہدیداران جماعت ہائے احمدیہ اس کا انتظام کریں کہ تمام احمدی افراد سے ان کی حیثیت کے مطابق چندہ جمع کرکے محاسب صدر انجمن احمدیہ قادیان کے نام پر امداد مصیبت زدگان انا طولیہ کی مد میں بھجوا دیں۔ لیکن اس چندہ کی فراہمی اور ترسیل میں جلد کوشش کرنی چاہئے۔ تاحتی الوسع مرکز سے جماعت کی طرف سے یکجائی طور پر بروقت مصیبت زدگان کو معتدبہ رقم امداد کے طور پر بھیجی جاسکے<۔۳۲۴4] [rtf
    حضور کی اس اہم تحریک پر جس قدر رقم جماعت کی طرف سے جمع ہوئی وہ ترکی کے مفلوک الحال باشندوں کی بہبودی کے لئے بھجوا دی گئی۔
    سناتن دھرم سبھا شام چوراسی میں ایک احمدی مبلغ کی تقریر
    ۱۰۔ تبلیغ ۱۳۱۹ہش مطابق ۱۰۔ فروری ۱۹۴۰ء کو سناتن دھرم سبھا شام چوراسی کی طرف سے ایک مذہبی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ماسٹر محمدشفیع صاحب اسلم نے >میرا دھرم مجھے کیوں پیارا ہے< کے مقررہ موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ آپ کی تقریر کے بعد سناتن دھرم پنڈت گوپال مصر صاحب نے کہا کہ۔
    >آج سے قبل جن مسلمانوں یا عیسائیوں سے مجھے ملنے کا موقع ملا` انہوں نے یہی کہا کہ ہمارے نبی کے بعد خدا کسی سے کلام نہیں کرتا اور میں یہ کہتا کہ اگر آپ کا خدا کلام نہیں کرتا تو کیا وہ گونگا ہے مگر آج مولوی صاحب کی تقریر سے مجھے اپنا خیال بدلنا پڑا۔ اور مجھے خوشی ہوئی کہ آج بھی مسلمانوں کے اندر ایسے خیال کے لوگ موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ خدا بولتا ہے اور اس نے فلاں شخص سے کلام کیا<۔
    کانفرنس میں ہر مذہب کے لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے سب نے احمدی مبلغ کی تقریر پسند کی۔۳۲۵
    فرقہ ست سنگ )بنگال( کے مرکز میں تبلیغ احمدیت
    کلکتہ کے ایک ممتاز احمدی محمد شمس الدین صاحب ۱۰۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو ہندوئوں کے مشہور فرقہ >ست سنگ< کے مرکز میں جو >پنبہ شہر سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے( گئے۔ اور فرقہ کے بانی شری ٹھاکر انوکل چندرا جی سے ملاقات کرکے ان تک احمدیت کا پیغام پہنچایا۔ شمس الدین صاحب نے کلکتہ واپس آکر ٹھاکر صاحب کے مطالعہ کے لئے ٹیچنگز آف اسلام` پارہ اول مترجم انگریزی اور پیغام صلح )انگریزی ترجمہ( وغیرہ کتب بھی بھجوا دیں۔۳۲۶
    سب سے پہلا احمدی ہواباز
    میاں محمد لطیف صاحب )ابن میاں محمد شریف صاحب ای۔ اے۔ سی پنشنر( جو کچھ عرصہ سے لاہور فلائنگ کلب میں ہوا بازی کی ٹریننگ لے رہے تھے۔ انہیں ۱۹۴۰ء کے شروع میں سرکاری طور پر ہوا باز منتخب کرلیا گیا۔۳۲۷ میاں صاحب سب سے پہلے احمدی ہواباز ہیں۔
    ونجواں کے احمدیوں پر پولیس کے مظالم
    ۲۳۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو بٹالہ صدر پولیس نے پولیس سٹیشن میں علاقہ کے چند بدمعاشوں کو طلب کیا اور ساتھ ہی مخالفین احمدیت کے ایماء سے ونجواں )تحصیل بٹالہ( کے تین احمدیوں کو بلا کر ان میں سے ۲ بے کسوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا یعنی ان غریبوں کو منہ کے بل زمین پر لٹا کر ان کے ہاتھوں پر مضبوط جوان کھڑے کر دیئے اور پھر ان کو برہنہ کرکے ایک سب انسپکٹر نے ان کی کمر پر گھٹنے ٹیک دیئے اور ایک حوالدار نے دوسرے کی گردن اپنے پائوں میں دبالی اور سپاہیوں کو حکم دیا کہ ان کی رانوں اور سرینوں میں جوتے ماریں۔ پھر بدمعاشوں نے ایک ایک طمانچہ پورے زور سے لگایا اور یہ سب کارروائی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور کی موجودگی میں ہوئی۔۳۲۸
    احمدی ہواباز کی قادیان پر پرواز
    احمدی ہواباز میاں محمد لطیف صاحب ۱۲۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو لاہور سے پرواز کرکے قادیان آئے اور دعا کے لئے بکثرت پرچیاں پھینکتے رہے۔۳۲۹
    چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحب کا دوبارہ تقرر اور اخبار >انقلاب<
    آنریبل چودھری سرمحمد طفراللہ خاں صاحب وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی حیثیت سے ملک و قوم کی شاندار خدمت بجا لا
    رہے تھے۔ آپ کے اس عہدہ کی میعاد ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ملک معظم نے آپ کا دوبارہ تقریر ایگزیکٹو کونسل وائسرائے ہند کی ممبری کے لئے منظور کرلیا جس پر شمالی ہند کے مشہور مسلم اخبار >انقلاب< نے اپنی ۱۴۔ مارچ ۱۹۴۰ء کی اشاعت میں لکھا۔
    >مسلمانان پنجاب بجاطور سے اس امر پر فخر کرسکتے ہیں کہ آج تک وائسرائے کی کونسل میں جتنے پنجابی مسلمان ممبر مقرر ہوئے ہیں` انہوں نے اپنی قابلیت` محنت` ہوشمندی اور تدبر کا بہترین ثبوت دیا ہے اور مجالس وضع قوانین سے ہمیشہ تحسین و اعتراف کا خراج حاصل کیا ہے سر محمد شفیع مرحوم اور سر فضل حسین نے حکومت ہند میں اپنی قابلیت کے روشن نقوش چھوڑے ہیں اور اب سر محمد ظفراللہ خاں کا وجود بھی مسلمانان پنجاب کے لئے افتخار اور نیک نامی کا باعث ہے۔ ہم ان کو توسیع عہدہ۳۳۰ پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں<۔۳۳۱
    محلہ دارالانوار کی مسجد کا افتتاح
    ۲۲۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے قادیان کے محلہ دارالانوار کی مسجد کا افتتاح فرمایا اور مغرب و عشاء کی نمازیں اس میں پڑھائیں۔۳۳۲
    ملک غلام محمد صاحب قادیان میں
    ۲۱۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو ملک غلام محمد۳۳۳ صاحب چیف کنٹرولر آف ریلوے سٹورز قادیان تشریف لائے اور چودھری محمد ظفراللہ خاں صاحب کے ہاں قیام پذیر ہوئے اور مرکزی اداروں اور کارخانوں کا معائنہ کرنے کے بعد حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی ملاقات سے بھی مشرف ہوئے۔۳۳۴
    نمائندہ اخبار >لائف< )نیویارک( کی حضرت اقدسؓ سے ملاقات
    مسٹر ویبس کرک لینڈ آف شکاگو جو نیو یارک کے مشہور اخبار >لائف< (LIFE)کے نمائندہ تھے۔ ۲۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئے اور شام کو واپس چلے گئے۔4] fts[۳۳۵
    مسجد احمد موسیٰ بنی )بہار( کا افتتاح
    ۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو حضرت الحاج مولوی عبدالرحیم صاحب نیرؓ نے مسجد احمدیہ موسیٰ بنی )بہار( کا افتتاح کیا اور سب سے پہلی اذان )ابوالبشارت( مولوی عبدالغفور صاحب نے دی۔۳۳۶
    ایک احمدی طالب علم کی شاندار کامیابی
    ۱۹۴۰ء میں تیس ہزار طلباء پنجاب یونیورسٹی کے میڑک کے امتحان میں شریک ہوئے جن میں سے بائیس ہزار کے قریب پاس ہوئے جن میں سے جھنگ کے ایک احمدی طالب علم عبدالسلام جو چودھری محمد حسین صاحب ہیڈ کلرک سررشتہ تعلیم جھنگ کے صاحبزادے ہیں نہ صرف ۷۶۵ نمبر لے کر پنجاب میں بھر میں اول آئے۔۳۳۷ بلکہ یونیورسٹی کا گزشتہ ریکارڈ توڑ دیا۔ یہی وہ طالب علم ہیں جو آج پروفیسر عبدالسلام کے نام سے دنیائے سائنس میں عالمگیر شہرت رکھتے ہیں اور صدر مملکت پاکستان کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے اہم قومی خدمات بجا لارہے ہیں۔
    مکان کے سنگ بنیاد
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے اس سال مندرجہ ذیل مکانات کا سنگ بنیاد اپنے دست مبارک سے رکھا۔
    ۱۔ مرزا احمد بیگ صاحب انکم ٹیکس آفیسر۔ )تاریخ سنگ بنیاد: ۲۳۔ صلح/ جنوری ۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش(۳۳۸ دارالانوار۔
    ۲۔ ملک عمر علی صاحب بی۔ اے کھوکھر۔ )تاریخ سنگ بنیاد: ۳۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش(۳۳۹ دارالانوار۔
    ۳۔ چودھری ابوالہاشم خاں صاحب۔ )تاریخ سنگ بنیاد: ۳۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش(۳۴۰ دارالانوار۔
    ۴۔ ڈاکٹر احمدی صاحب آف افریقہ۔ )تاریخ سنگ بنیاد: ۳۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش(۳۴۱ دارالبرکات۔
    بدھوں کے جلسہ میں ایک احمدی کا پیغام احمدیت
    نالندہ )بنگال( میں بدھوں کی ایک مشہور قدیم درسگاہ قائم تھی جس کے نام پر ہندوئوں نے نالندہ ودیا بھون کے نام سے ایک ادارہ جاری کیا۔ جس میں بدھسٹ علوم کی ہر شاخ` جین ازم` زمانہ وسطیٰ کی ہندوستانی فلاسفی اور ہندوستان کی قدیم و جدید زبانوں کے مطالعہ کا انتظام کیا جہاں بدھ طلباء بنگال کے علاوہ برما اور سیام سے بھی آتے تھے۔ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش میں اچاریہ جگدیش چندرا چڑجی ہندو اور بدھ علوم کے مشہور سکالر اس کے انچارج تھے۔ اس درسگاہ کے طلباء نے ۱۷۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو ۲/۱ ۵ بجے شام جلسہ کیا جس میں مسٹر پدم راج )مشہور ہندومہا سبھائی لیڈر( کی زیر صدارت اچاریہ جگدیش چندر چڑجی` ڈاکٹر کالیداس ناگ ایم۔ اے ڈی۔ لٹ اور بعض دوسرے اصحاب کے علاوہ احمدیہ ایسوسی ایشن کلکتہ کے سیکرٹری مولوی دولت احمد خاں صاحب خادم نے بھی تقریر کی جس میں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہی تعلیم ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نہ کوئی نبی اور رسول نہ گزرا ہو۔ اور حضرت بدھ` حضرت کرشن` حضرت زرتشت اور حضرت کنفیوشس تمام اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے مولوی دولت احمد خاں صاحب نے اپنی تقریر میں یہ بھی بتایا کہ حضرت بدھ نے جو اپنی آمد ثانی کی خبر دی تھی وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور سے پوری ہوچکی ہے۔ نیز آپ نے بدھوں کو احمدیہ لٹریچر کا مطالعہ کرنے کی تحریک کی۔
    ایک اعلیٰ کلاس کے طالب علم نے یہ تقریر سن کر اس رائے کا اظہار کیا کہ اسلام کی یہ تشریح میرے لئے ایک انکشاف جدید ہے کیونکہ میں اسلام کو اس سے قبل ایک محدود اور فرقہ وارانہ مذہب خیال کرتا تھا۔۳۴۲
    مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا ایک دلچسپی مشورہ
    اس سال مولوی کرم الٰہی صاحب ظفر مجاہد تحریک جدید کو دہلی سے ۱۳ میل دور رقبہ مہرولی میں دلی کامل حصرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا جہاں مسلمانوں کی قبرپرستی کا افسوسناک مظاہرہ بچشم خود دیکھا۔ جس کی تفصیل انہوں نے >الفضل< )۲۳۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش( میں شائع کر دی جسے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنے اخبار اہلحدیث مورخہ ۶- ستمبر ۱۹۴۰ء میں نقل کرکے حسب ذیل دلچسپ نوٹ لکھا۔
    >برادران توحید! کیا یہ آواز سن کر بھی آپ لوگ بزم توحید قائم کرنے میں غفلت سے کام لیں گے کیا ابھی کچھ اور بھی سننا چاہتے ہیں۔ میری رائے کو کوئی صاحب غلط نہ ٹھہرائیں تو میں یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ مسلمان قوم آپس میں تقسیم کار کرلے۔ سیاسی مسلمان جن میں مرزائی بھی شامل ہیں۔ بے شک غیر مسلموں میں اسلام کی اشاعت کریں اور ان کو کلمہ پڑھا کر مردم شماری کی حیثیت میں مسلمانوں کی تعداد بڑھاتے جائیں جو ان کی اصلی غرض ہے۔ مگر اہل توحید اصحاب یہ کام اپنے ذمہ لیں کہ مسلمانوں میں جو رسوم شرکیہ رائج ہوچکی ہیں وہ ان کی اصلاح پر توجہ کریں تاکہ وہ لوگ صحیح معنی سے عنداللہ مسلمان ہو جائیں۔ پس دونوں فریق اپنا اپنا کام کرتے جائیں۔ ہمارے مشورہ پر عمل کریں تو دونوں اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں<۔۳۴۳
    زکیہ صنعتی سکول قادیان
    زکیہ خانم صاحبہ بنت شیخ محمد لطیف صاحب نے گرلز سکول قادیان کے نزدیک اپنے سرمایہ سے ایک صنعتی سکول جاری کیا جس کا افتتاح حضرت ام المومنینؓ نے ۱۵۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو فرمایا۔ اس موقعہ پر حضرت ام ناصر احمد صاحب` حضرت ام طاہر احمد` حصرت ام مظفر احمد صاحب اور صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ بھی موجود تھیں۔ خاندان مسیح موعود کی خواتین ہی نے نہیں خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے بھی سکول کے صنعتی نمونوں کو پسند فرمایا۔۳۴۴
    بچوں کو تیراکی سکھانے کے لئے تالاب کی تعمیر
    حضرت مولوی محمد دین صاحب سابق ہیڈماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول کی تحریک اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی مساعی جمیلہ کے نتیجہ میں محلہ دارالعلوم میں بچوں کو تیراکی سکھانے کے لئے ایک تالاب تعمیر کیا گیا۔ جس کا افتتاح ۱۰۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو ہوا۔ اس تقریب پر تلاوت و نظم کے بعد حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے تقریر فرمائی۔ جس میں بتایا کہ۔
    >اس کے متعلق سب سے پہلے تحریک مولوی محمد الدین صاحب سابق ہیڈماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول نے کی تھی اور یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس تحریک کو عملی صورت دی جائے مگر اس کے لئے کوئی فنڈ نہ تھا۔ باوجود اس کے اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع کر دی گئی اور یہ تالاب سکول کے طلباء نے خود کھودا۔ اس وقت یہ خیال تھا کہ کچا تالاب کام دے جائے گا۔ صرف اردگرد کی دیواریں پختہ کرالی جائیں۔ لیکن جب تعمیر شروع ہوئی تو بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ جب تک فرش پختہ نہ ہو تالاب نہانے کے قابل نہ بنے گا۔ اس لئے تعمیر کے وقت دیواروں کے ساتھ ہی فرش بھی پختہ تیار کیا گیا۔ اس وقت اخراجات سپورٹس فنڈ کے چندہ سے اور باقی قرض لے کر پورے کئے گئے۔ لیکن پھر جب دیکھا گیا کہ تالاب کے کنارے کچے ہونے کی وجہ سے مٹی نہانے والوں کے پائوں کے ساتھ لگ کر تالاب میں جاتی ہے اور اردگرد روک نہ ہونے کی وجہ سے بعض بیمار بھی نہاتے ہیں جن کی بیماری سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ تو کوشش کی گئی کہ تالاب کے اردگرد بھی پختہ فرش بنا دیا جائے اور تالاب کے گرد چار دیواری ہو نیز دوسری ضروریات کے لئے بھی انتظام کیا جائے۔ ان حالات میں موجودہ صورت میں اسے تعمیر کیا گیا ہے تاکہ بچے تیرنے کی مفید ورزش کرسکیں اور حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ تیراکی کی ورزش کے متعلق جو ارشاد کئی بار فرماچکے ہیں اس پر عمل کیا جائے۔ اس تعمیر اورپچنگ کے انتظام پر چھ ہزار سے کچھ اوپر رقم خرچ ہوچکی ہے جس میں ۹۵۰ روپے صدر انجمن نے دیئے ہیں۔ کچھ چندہ جمع ہوا اور باقی قرض ہے۔ امید ہے کہ تعلیم الاسلام سکول کے اولڈ بوائز اس قرض کی ادائیگی کی طرف توجہ کریں گے۔ اس موقعہ پر دعا کی جائے کہ یہ کام بابرکت ہو۔ بچوں کی صحت` ایمان اور سلسلہ کے مفاد کے لئے جو بچے اس میں تیرنا سیکھیں انہیں جسمانی طور پر ہی فائدہ نہ ہو بلکہ وہ دین کی خدمت کرنے کے قابل بھی بن سکیں اور کسی ڈوبتے ہوئے کو بچاسکیں<۔۳۴۵body] g[ta
    حضرت صاحبزادہ صاحب کے خطاب کے بعد بالترتیب حضرت ملک غلام فرید صاحب ایم اے` حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔ اے` حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔ اے اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے تقریریں کیں اور بالاخر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے دعا کرائی۔
    ان تقاریر کے بعد تالاب کا عملی افتتاح اس طرح ہوا کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب` حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال` حصرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب` حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور بعض اور بزرگ تالاب میں تیرتے رہے اور ان کے ساتھ سکول کے بہت سے بچوں نے بھی اس کی مشق کی۔۳۴۶
    احمدیہ مسجد سرینگر کی بنیاد
    ۲۰۔ اخاء ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو دس بجے دن مسجد احمدیہ سرینگر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس تقریب پر سرینگر اور ناسنور کے احباب جماعت موجود تھے۔ سب سے قبل حضرت مسیح موعودؑ کے قدیم صحابی حضرت خلیفہ نور الدین صاحب جمونی نے دعا کرائی۔ ازاں بعد مولانا ابوالعطاء صاحب نے اللہ تعالیٰ کے اس گھر کا پہلا بنیادی پتھر رکھا پھر سب احباب نے مل کر دعا کی۔۳۴۷
    مسجد کا ایک کمرہ اگلے سال ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ء ہش میں تیار ہوا تو اس میں پہلا خطبہ جمعہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت ہائے احمدیہ صوبہ سرحد نے پڑھایا اور ۱۷۰ افراد کے قریب احمدی احباب نے نماز ادا کی۔۳۴۸
    چندہ مسجد کی فراہمی کے سلسلہ میں چودھری عبدالواحد صاحب نے سندھ`۳۴۹ حیدرآباد دکن` بہار` بنگال` اڑیسہ` یوپی اور دہلی کی جماعتوں کا دورہ کیا اور احباب جماعت نے عموماً اور جماعت ٹاٹانگر جمشید پور موسیٰ بنی نے خصوصاً نہایت اخلاص سے تعاون کیا۔ ان دنوں چودھری عبداللہ خاں صاحب ٹاٹانگر کی جماعت احمدیہ کے امیر تھے۔۳۵۰
    سناتن دھرم سبھا لاہور کی مذہبی کانفرنس میں احمدی مبلغ کی کامیاب تقریر
    ۲۹۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو سناتن دھرم سبھا لاہور نے ایک مذہبی کانفرنس منعقد کی۔ مضمون >ایشور اپاسنا< یعنی عبادت الٰہی تھا۔
    دوسرے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے علاوہ ملک عبدالرحمن صاحب خادم بی ۔اے` ایل ایل۔ بی نے بھی تقریر فرمائی اور دس منٹ کے مختصر سے وقت میں نہایت پرفصحات اور پرجوش طریق سے اس موضوع پر اسلام اور احمدیت کے نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالی اور بتایا کہ خداتعالیٰ کی کامل اطاعت اس کے نقش کو قبول کرنا اور اس کے صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا اصلی عبادت ہے۔ آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام نے عبادت الٰہی کا ایک بہترین طریق نماز کا قائم کیا ہے۔ جس کی ابتداء اللہ اکبر سے ہوتی ہے اور انتہاء اسلامی کی کیفیت پر۔ اسلامی نماز میں صفوں کا قیام دنیا میں مساوات کا بہترین طریق ہے۔ یہ وہ طریق ہے جس سے ایمان کا شجر ہمیشہ سرسبز اور باثمر رہتا ہے جس کا زندہ ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا وجود مبارک ہے۔۳۵۱
    انگلستان میں پہلا کامیاب مناظرہ
    اگرچہ عالمگیر جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے انگلستان کا پورا ملک فضائی حملوں کی زد میں آچکا تھا مگر مولانا جلال الدین شمس مبلغ انگلستان پرائیویٹ ملاقاتوں` لیکچروں اور لٹریچر کی اشاعت اور دوسرے ذرائع سے تبلیغ اسلام کا فریضہ پوری سرفروشی سے بجالارہے تھے۔ خصوصاً ہائیڈپارک میں آپ نے متعدد لیکچر دیئے اور دوسرے لیکچراروں پر بھی سوالات کرتے رہے۔
    اس سال کا ایک خاص واقعہ یہ ہے کہ آپ نے ہائیڈپارک میں >حضرت مسیح کی صلیبی موت< کے موضوع پر پہلا کامیاب مناظرہ کیا جو اس سرزمین میں اپنی طرز کا مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پہلا مباحثہ تھا۔ اس دلچسپ مباحثہ کی تفصیل حضرت مولانا شمس صاحب کے الفاظ میں لکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ فرماتے ہیں۔
    >متعدد مرتبہ میر عبدالسلام صاحب اور خاکسار نے ہائیڈ پارک میں تقریریں کیں نیز دوسرے لیکچراروں پر سوالات کئے۔ ۳۱۔ جولائی کو میں ابطال الوہیت مسیح کے موضوع پر بولا۔ سوال و جواب کے دوران میں مسیح کی صلیبی موت کا بھی ذکر آیا۔ لیکچر کے بعد ایک پادری نے اس مسئلہ کے متعلق مجھ سے گفتگو کی۔ آخر قرار پایا کہ ۷۔ اگست کو اس موضوع پر مباحثہ کیا جائے۔ چنانچہ وقت مقررہ پر جب میں نے بولنا شروع کیا تو وہ پادری بھی آگیا۔ اس نے وقت مانگا۔ میں نے کہا اپنا پلیٹ فارم لے آئو۔ چنانچہ وہ اپنا پلیٹ فارم لے آئے۔ ۸ بجے سے ۱۰ بجے شام تک دو گھنٹے مباحثہ ہوا۔ دس دس منٹ بولنے کی باری مقرر ہوئی۔ ایک شخص کو ٹائم کیپر مقرر کیا گیا۔ مباحثہ ہوتے دیکھ کر پبلک خوب اکٹھی ہوگئی۔ میں نے اپنی پہلی تقریر میں مسیح کے صلیب پر نہ مرنے کے ثبوت میں انجیل سے مسیح کی دعا پیش کی کہ اے خدا! ہر ایک طاقت تجھ کو ہے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔ چنانچہ عبرانیوں ۷/۵ میں لکھا ہے کہ وہ دعا اس کی سنی گئی۔ نیز زبور سے اس دعا کی قبولیت کے لئے پیشگوئیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ دعا قبول نہیں ہوئی تھی تو مسیح مطابق یوحنا گناہگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے جواب میں عیسائی مناظر نے کہا کہ مسیح کی دعا پوری نہیں پیش گئی۔ اس کے ساتھ ہی لکھا ہے کہ میری مرضی نہیں بلکہ جو تیری مرضی ہے وہی ہو اور وہ اس لئے آیا تھا کہ صلیب پر مر کر لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہو۔ میں نے کہا۔ اگر اس فقرہ کا یہ مطلب ہے کہ اگر تیری مرضی ہے کہ میں صلیب پر مارا جائوں تو پھر مجھے مارا جانا چاہئے تو یہ دعا بے معنی ہوگی کیونکہ اس دعا کا خلاصہ یہ ہوگا کہ اے خدا! ہر ایک طاقت تجھ کو ہے۔ تو یہ موت کا پیالہ مجھ سے ٹال دے۔ پر اگر تو نہیں چاہتا تو نہ ٹال کیا یہ بامعنی دعا کہلا سکتی ہے خدا کی مرضی تو ہوکر ہی رہے گی چاہے کوئی کہے یا نہ کہے۔ دعا صرف اتنی ہوگی کہ اے خدا تو موت کا پیالہ مجھ سے ٹال دے اور اگر یہ درست ہے کہ وہ لوگوں کی خاطر مرنے کے لئے آئے تھے تو پھر انہیں موت کے پیالہ سے بچنے کے لئے دعا کرنا درست نہ تھا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ پادری صاحبان مسیح کے اس قول کا کہ )اے خدا میری نہیں تیری مرضی پوری ہو( کا مطلب نہیں سمجھے۔ مسیح کی دعا کے الفاظ جیسا کہ مرقس میں لکھا ہے یہ تھے >اے خدا ہر ایک چیز تیرے لئے ممکن ہے سو یہ پیالہ تو مجھ سے ٹال دے لیکن اس لئے نہیں کہ جو میں کہتا ہوں وہ ہو۔ بلکہ اس لئے کہ تا تیری مرضی پوری ہو<۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میں جو موت سے بچنے کے لئے دعا کرتا ہوں تو وہ اس لئے نہیں کہ میں تیرے رستے میں اپنی جان دینے سے ڈرتا ہوں۔ میں تو حاضر ہوں لیکن چونکہ میں تیرا رسول ہوں اور تو میری صداقت کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اس لئے اگر میں جیسا کہ میرا دشمن چاہتا ہے مارا گیا تو ان کے نزدیک میں جھوٹا ثابت ہوں گا۔ اس لئے میری یہ درخواست ہے کہ مجھ سے موت کا پیالہ ٹال دیا جائے یہ صرف تیری مرضی اور ارادہ پورا کرنے کے لئے ہے نہ موت کے ڈر سے اور اگر یہ معنی نہ لئے جائیں تو وہ دعا ہی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس کا جواب وہ آخر تک نہ دے سکے۔ اسی طرح دیگر دلائل پر بحث ہوئی دوران بحث میں اس نے بعض سخت الفاظ استعمال کئے اور کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ اگر یہی محمد ~)صل۱(~ نے سکھایا اور قرآن میں لکھا ہے تو یہ جھوٹ سکھایا۔ نیز لوگوں کو اکسانے کے لئے کہا یہ عیسائیت کو تباہ و برباد کرنے کے لئے آئے ہیں۔ ان کی جرات تو دیکھو کہ عیسائیت کے سینٹر میں ہاں لنڈن کے ایک پارک میں عیسائیت کے عقائد کی اس طرح تردید کی جاتی ہے۔ اگر مسیح صلیب پر نہیں مرے تو وہ کفارہ بھی نہیں ہوئے۔ اس سے تو عیسائیت باطل ہو جاتی ہے مگر اس سے بڑھ کر جھوٹ کیا ہوسکتا ہے۔ یہ اس جگہ جہاں سے دنیا میں مشنری بھیجے جاتے ہیں عیسائیت کی تردید کرتے ہیں اور اسلام پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس کے سخت الفاظ پر حاضرین نے شیم شیم کے آوازے کسے۔ میں نے کہا میں اسلام کی تعلیم کے مطابق گالیوں کا جواب گالی سے نہیں دوں گا اور نہ ہی میں اس پر دوسرے انگریزوں کو قیاس کرسکتا ہوں۔ کیونکہ میں نے بہت سے چھوٹے اور بڑوں سے گفتگوئیں کی ہیں لیکن میں نے انہیں نہایت متین اور شریف پایا۔ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے جس قسم کے اخلاق کا اس نے مظاہرہ کیا ہے۔ میں نے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ اسلام سے پہلے یہود نے اس عقیدہ کی بناء پر کہ مسیح مصلوب ہوگئے انہیں *** اور مفتری قرار دیا اور عیسائیوں نے بھی جیسا کہ پولوس نے کہا اسے ملعون تسلیم کیا۔ چنانچہ مناظر نے بھی اقرار کیا کہ ان کی خاطر ملعون ہوا۔ لیکن انہوں نے ملعون پر غور نہیں کیا۔ ایک انسان ملعون اس وقت کہلاتا ہے جب اس کا خدا سے تعلق بالکل منقطع ہو جائے اور وہ اپنے اقوال و اعمال میں شیطان کی مانند ہو جائے۔
    اسی لئے شیطان کا نام ملعون ہے اور ایک ملعون شخص دوسرے کو *** سے کیونکر بچاسکتا ہے۔ کیا اندھا اندھے کی راہنمائی کرسکتا ہے۔ پس یہ آنحضرت~صل۱~ کا احسان تھا کہ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو اس *** کے داغ سے بری قرار دیا اور فرمایا وہ صلیب پر نہیں بلکہ طبعی موت سے مرے اور ہماری تحقیقات کی رو سے صلیب سے بچ کر کشمیر میں آئے اور وہیں وفات پائی۔ چنانچہ ان کی قبر محلہ خانیار سرینگر کشمیر میں موجود ہے۔ اس نے اپنی تقریر میں چونکہ یہ بھی کہا تھا کہ اناجیل میں لکھا ہے مسیح نے اپنی جان دے دی۔ اس کا میں نے تفصیل سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اناجیل میں ایسے اختلاف موجود ہیں جن کے درمیان مطابقت نہیں دی جاسکتی اور یقینی طور پر بعض بیانات غلط ہیں۔ اس لئے میں اپنے مد مقابل کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ آئندہ ۱۴۔ اگست کو اختلافات اناجیل پر مجھ سے مباحثہ کرلے۔ لیکن اس چیلنج کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ پبلک پر اچھا اثر ہوا۔ کئی حاضرین نے مجھ سے کہا کہ آپ کے دلائل زبردست تھے اور اس کی سخت کلامی کی مذمت کی۔ ۱۴۔ اگست کو میں نے انجیل سے اختلافات پیش کئے جن پر بعض نے سوالات کئے جن کے میں نے جوابات دیئے۔ ایک اختلاف میں نے یہ پیش کیا تھا کہ مسیح نے جب اپنے بارہ شاگردوں کو تبلیغ کے لئے بھیجنا چاہا تو بعض ہدایات دیں۔ متی کہتا ہے کہ اس نے یہ ہدایت بھی دی کہ وہ اپنے ساتھ سونٹانہ لیں لیکن مرقس کہتا ہے کہ اس نے یہ ہدایت دی تھی کہ وہ سوائے سونٹے کے اور کچھ نہ لیں۔ یہ ایک صریح تناقض ہے جو کسی طرح نہیں اٹھ سکتا۔ ہر ایک عقلمند یہی کہے گا کہ دونوں میں سے ایک نے ضرور غلط بیانی کی ہے کیونکہ دونوں ایک ہی واقعہ کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک عورت نے کہا مثلاً جرمن کہتے ہیں کہ آج ہم نے برٹش کے سو ہوائی جہاز گرائے۔ لیکن انگریز کہتے ہیں صرف پچیس گرائے۔ اس اختلاف سے تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کوئی واقعہ ہی نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ میں واقعہ کا تو انکار نہیں کرتا۔ میں تو صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ متی اور مرقس میں سے انگریز کون ہے اور جرمن کون؟ کس کا خلاف واقعہ بیان ہے میرے علم کے مطابق اس طرز کا مباحثہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پہلا مباحثہ ہے<۔۳۵۲
    مولانا رحمت علی صاحب کی جزائر شرق الہند کو روانگی
    مولوی رحمت علی صاحب مبلغ انچارج جزائر شرق الہند ۱۴۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو گیارہ بجے صبح کی گاڑی سے چوتھی بار جزائر شرق الہند میں تبلیغ کے لئے روانہ ہوئے۔۳۵۳
    مشرقی جاوا کے پہلے احمدی کا انتقال
    مسٹر مانکووی آستروجی مشرقی جاوا میں پہلے احمدی تھے۔ ۶۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو ستر سال کی عمر میں انتقال کر گئے مرحوم نہایت مخلص احمدی تھے۔ دن رات تبلیغ میں مصروف رہتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق تھا۔ مسجد سروبایا کے لئے نہ صرف اپنی زمین وقف کر دی تھی بلکہ اس کی تعمیر کے لئے چندہ بھی دیا۔ جماعتی چندوں میں بھی بہت باقاعدہ اور جماعتی کاموں میں بہت سرگرم تھے۔۳۵۴text] gat[
    ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کی نئی مطبوعات
    ۱۔ >خطبات عیدین< )سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے حقائق و معارف سے لبریز خطبات کا مجموعہ جو ملک فضل حسین صاحب نے مرتب کرکے شائع کیا(
    ۲۔ >روئداد جلسہ خلافت جوبلی< )مرتبہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔ اے سیکرٹری خلافت جوبلی(
    ۳۔ بہائی تحریک پر تبصرہ< )مولفہ مولوی ابوالعطاء صاحب(
    بہائیت کے متعلق تاریخی معلومات کا مستند مجموعہ جس میں بہائی شریعت اقدس کا اصل نسخہ اور اس کا ترجمہ شامل کرنے کے علاوہ اسلامی شریعت سے اس کا موزانہ بھی کیا گیا اور احمدیہ عقائد اور بہائی عقائد کا مقابلہ بھی کیا گیا ہے۔
    رسالہ >معارف< )بابت ماہ فروری ۱۹۴۲ء( نے اس پر حسب ذیل ریویو کیا۔
    >ابوالعطاء صاحب نے اس کتاب میں خود بہائی لٹریچر اور ان کی کتابوں سے اس تحریک کی تاریخ اور اس کے عقائد پر تبصرہ کرکے اس کی گمراہیوں کو آشکارا کیا ہے۔ بہائیوں کی کتاب اقدس کا عربی متن بھی معہ ترجمہ کے دے دیا ہے۔ کتاب مفید اور دلچسپ ہے لیکن لائق مصنف اپنے فرقہ کی تبلیغ سے نہیں چوکے ہیں<۔
    ۴۔ >مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے< )مرتبہ جناب رحمت اللہ خاں صاحب شاکر اسسٹنٹ ایڈیٹر >الفضل(< یہ کتاب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی تحریک پر لکھی گئی تھی۔ چنانچہ اس کے دیباچہ میں آپ نے تحریر فرمایا کہ۔
    >شاکر صاحب نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ وہ ایک عرصہ دراز سے بلکہ طالب علمی کے زمانے سے میرے مدنظر تھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جب یہ خاکسار سکول کی نہم اور دہم جماعت میں تعلیم پاتا تھا تو اس وقت ہمیں ایک انگریزی کی کتاب >گولڈن ڈیڈز< پڑھائی جاتی تھی۔ جس میں بعض مغربی بچوں اور نوجوانوں کے سنہری کارناموں کا ذکر درج تھا۔ مجھے اس کتاب کو پڑھ کر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ایک کتاب اردو میں مسلمان نوجوانوں کے کارناموں کے متعلق لکھی جائے۔ جس میں مسلمان بچوں کے ایسے کارنامے درج کئے جائیں۔ جو مسلمان نونہالوں کی تربیت کے علاوہ دوسری قوموں کے لئے بھی ایک عمدہ سبق ہوں۔ یہ خواہش طالب علمی کے زمانہ سے میرے دل میں قائم ہوچکی تھی۔ اس کے بعد جب میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا تو یہ خواہش اور بھی ترقی کر گئی کیونکہ میں نے دیکھا کہ جو کارنامے مسلمان نوجوانوں کے ہاتھ پر ظاہر ہوچکے ہیں۔ وہ ایسے شاندار اور روح پرور ہیں کہ ان کے مقابل مسیحی نوجوانوں کے کارناموں کی کچھ بھی حیثیت نہیں اور میں نے ارادہ کیا کہ جب بھی خدا توفیق دے گا میں اس کام کو کروں گا۔ مگر افسوس ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک میری یہ خواہش عملی جامہ نہ پہن سکی۔ بالاخر گزشتہ سال اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ تقریب پیدا کر دی کہ شیخ رحمت اللہ صاحب شاکر نے مجھ سے مشورہ پوچھا کہ میں آج کل رخصت کی وجہ سے فارغ ہوں۔ مجھے کوئی ایسا مضمون بتایا جائے جس پر میں ایک مختصر کتاب لکھ کر اسلام اور احمدیت کی خدمت کرسکوں۔ اس پر میں نے شاکر صاحب کو اپنی یہ خواہش بتا کر یہ تحریک کی کہ وہ اس موضوع پر مطالعہ کرکے کتاب تیار کریں اور میں نے چند ایسی کتابوں کے نام بھی بتا دیئے جس سے وہ اس مضمون کی تیاری میں مدد لے سکتے تھے اور انتخاب وغیرہ کے متعلق بھی مناسب مشورہ دیا اور مجھے خوشی ہے کہ شاکر صاحب نے مطلوبہ کتاب کے تیار کرنے میں کافی محنت سے کام لے کر ایک اچھا مجموعہ تیار کرلیا ہے۔ میں نے اس سارے مجموعہ کو بالاستیعاب نہیں دیکھا۔ مگر بعض حصے دیکھے ہیں اور بعض جگہ مشورہ دے کر اصلاح بھی کروائی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ کتاب نوجوانوں کے لئے مفید ثابت ہوگی<۔۳۵۵
    ۵۔ > گوردگوبند سنگھ کے بچوں کا قتل< )مولفہ گیانی واحد حسین صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ(
    حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء کے موقعہ پر جماعت کے اہل قلم کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا کہ۔
    >اگر علمی مذاق رکھنے والے لوگ اپنی فرصت کے اوقات میں کوئی کتاب ہی لکھ دیں تو اس میں کیا حرج ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ ضروری بات ہے کہ جو کتاب لکھیں وہ معقول ہو اور علمی رنگ میں لکھی گئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مصنف وہ ہوں جو ہوش و حواس قائم رکھتے ہوں اور عقل و فکر سے کام لینے والے ہوں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ کوئی ایسا فلسفہ نکالیں جس سے دنیا میں تہلکہ مچ جائے بلکہ ایسی باتیں لکھی جائیں جو عام سمجھ کر مطابق ہوں اور جن میں اسلام پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کا حل کیا گیا ہو۔ مثلاً مورخین کی کتابیں ہیں ان میں مسلمان بادشاہوں پر سخت مظالم کئے گئے اور ان پر نہایت گندے الزامات لگائے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثال کے طور پر کہتا ہوں اورنگ زیب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام مجدد کہا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اورنگ زیب کی شکل تاریخوں میں نہایت ہی تاریک دکھائی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض تاریخوں میں مسلمان بادشاہوں پر بہت سے اعتراضات عائد کئے گئے ہیں۔ ہماری جماعت کے مصنف اس طرف بھی توجہ کریں تو سلسلہ کے لئے مفید لٹریچر مہیا کرسکتے ہیں<۔۳۵۶
    گیانی واحد حسین صاحب کا یہ رسالہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کے مندرجہ بالا ارشاد کی تعمیل کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ جس میں ٹھوس واقعات کی روشنی میں پانچ زبردست دلائل سے اس الزام کو بے بنیاد اور فرضی ثابت کیا گیا کہ حضرت عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ کے عہد میں اس کی پالیسی کے ماتحت گوروگوبند صاحب کے دو لڑکے مسلمانوں کے ہاتھوں چمکور میں قتل ہوگئے اور دو اور چھوٹے بچوں کو محض اسلام قبول نہ کرنے کی پاداش میں قلعہ سرہند کی دیواروں میں زندہ چنوا دیا گیا۔ گیانی صاحب نے اس رسالہ میں یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں نے گوردگوبند سنگھ صاحب اور ان کے بچوں پر کبھی ظلم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ نرمی و ملاطفت سے پیش آتے رہے۔ تب ہی تو گورو صاحب ہمیشہ حضرت عالمگیر رحمتہ اللہ علیہ کے مدح سرار ہے۔ جیسا کہ ظفر نامہ میں لکھا ہے۔ اس رسالہ کا دیباچہ ملک کے بلند پایہ ادیب مولانا عبدالمجید خاں صاحب سالک ایڈیٹر روزنامہ >انقلاب< نے لکھا۔
    ۶۔ >احمدیت کی ننھی کتاب< )مولفہ ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم(
    ۷۔ >مولوی محمد علی صاحب کا جنگ موعود نبی سے< )مولفہ ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم سابق امیرالمجاہدین علاقہ ملکانہ(
    ۸۔ مولوی محمد علی اور اس کی تفسیر بیان القرآن خلاف مذہب امام آخر الزمان< )مولفہ قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی امیر جماعت ہائے احمدیہ سرحد( یہ رسالہ میاں حیات محمد صاحب احمدی بھیروی سب ڈویژنل آفیسر پشاور کی تحریک اور ان کے خلف الرشید میاں محمدانور صاحب کی خاص دلچسپی سے لکھا گیا۔
    ۹۔ >چشمہ عرفان< )مرتبہ مبارک احمد خاں صاحب ایمن آبادی سابق مدیر جریدہ >عبرت< کلکتہ( یہ کتاب چودھری محمد مالک خان صاحب تسنیم بی۔ اے متعلم لاء کالج رئیس ایمن آباد کی یادگار کے طور پر شائع کی گئی جو مبارک احمد خاں صاحب کی تحریک و تبلیغ سے دسمبر ۱۹۳۸ء میں حلقہ بگوش احمدیت ہوئے اور اپنے اخلاص` سعادت مندی اور دینی ذوق میں جلد جلد ترقی کرنے لگے مگر افسوس کہ زندگی نے وفانہ کی اور تقریباً ایک ماہ تک تپ محرقہ میں مبتلا رہ کر ۱۸۔ جولائی ۱۹۳۹ء کو ۲۳ برس کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔۳۵۷ >چشمہ عرفان< دینی اور روحانی نکات و مضامین کا ایک مختصر مگر نہایت مفید مجموعہ ہے۔
    ۱۰۔ >گلدستہ دینیات< )احمدی لڑکوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خلفاء اور دوسرے بزرگان سلسلہ کی تحریرات پر مشتمل دینی اسباق جو پیر صلاح الدین صاحب بی۔ اے` ایل ایل۔ بی اور ملک مبارک احمد خاں صاحب نے مرتب کئے۔ رسالہ کے آخر میں بہت سی دلچسپ` مفید اخلاقی و روحانی کہانیاں درج تھیں جو وہ بھی پیشتر انہی عظماء کی بیان فرمودہ تھیں۔
    ۱۱۔ >غلبہ اسلام بذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام< )حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایمان پرور تحریرات کا مجموعہ مرتبہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر مولوی فاضل(
    اندرون ملک کے مشہور مباحثات
    ‏sub] [tagمباحثہ ایمن آباد )ضلع گوجرانوالہ(
    ۲۴۔ تبلیغ ۱۳۱۹ہش مطابق ۲۴۔ فروری ۱۹۴۰ء کو ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ میں مسئلہ ختم نبوت پر مناظرہ ہوا۔ احمدیوں کی طرف سے مولوی محمد سلیم صاحب اور غیر احمدیوں کی طرف سے سائیں لال حسین صاحب اختر نے بحث کی۔ لال حسین صاحب کو دوبارہ اپنی بدزبانی پر احمدیوں سے معافی مانگنی پڑی اور دو بار حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے ادھورے اقتباس پیش کرکے اور اعتراض کرکے شرمندگی اور رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا۔ غیر احمدی شرفاء نے اعتراف کیا کہ ان کا نمائندہ احمدی مناظر کے مقابلہ میں دلائل پیش کرنے سے قاصر رہا۔ ہندو پبلک نے عام طور پر یہ رائے ظاہر کی کہ احمدی مناظر علم` دلائل اور شرافت و متانت میں اپنی نظیر آپ تھے۔۳۵۸
    مباحثہ قادیان
    ۱۰۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو حضرت سید محمد اسحاق صاحب کے زیر اہتمام مولوی ناصر الدین عبداللہ صاحب وید بھوشن مولوی فاضل کا ویہ تیرتھ پروفیسر جامعہ احمدیہ اور پنڈت ترلوک چند صاحب شاستری ٹیچر ڈی۔ اے۔ وی ہائی سکول قادیان کے درمیان نہایت دوستانہ ماحول میں تحریری مناظرہ ہوا۔ مولوی ناصر الدین عبداللہ صاحب کا دعویٰ یہ تھا کہ ہندو دھرم کی مقدس کتاب اتھروویدکانڈ۳۵۹ میں ایک رشی کی آمد کا ذکر ہے جس کی آمد کا مقام قدون اور نام احمد بتایا گیا ہے۔ حسب تجویز مولوی عبداللہ ناصر الدین صاحب پنڈت ترلوک چند صاحب اپنے بعض رفقاء سمیت حضرت میر محمد اسحٰق صاحب کے دفتر میں آگئے اور فریقین نے اپنے اپنے پرچے آپ کی نگرانی میں لکھے۔ پہلا پرچہ مولوی صاحب نے اپنے دعویٰ کے اثبات میں لکھا۔ جس کا جواب پنڈت صاحب نے تحریر کیا۔ اس طرح باری باری چار پرچے مولوی صاحب نے اور تین پرچے پنڈت صاحب نے لکھے۔ اس کے بعد اسی روز ۹ بجے شب مسجد اقصیٰ میں حضرت میر صاحبؓ کی صدارت میں ایک پبلک جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں احمدیوں کے علاوہ بہت سے آریہ صاحبان اور احراری بھی شامل ہوئے اور حسب ترتیب ساتوں پرچے باری باری سنائے گئے۔ جلسہ گیارہ بجے ختم ہوا۔۳۶۰`۳۶۱
    یہ مناظرہ اسی سال >ویدوں میں احمد اور قادیان< کے نام سے چھپ گیا تھا جس کا دیباچہ حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ نے تحریر فرمایا۔4] [stf۳۶۲
    مباحثہ گوجرانوالہ
    ۳۱۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو گوجرانوالہ شہر میں مولانا ابوالعطاء صاحب کا مولوی احمد یار صاحب )غیرمبائع( سے مسئلہ کفر و اسلام اور مسئلہ نبوت پر کامیاب مناظرہ ہوا۔ اگرچہ باہمی فیصلہ کے مطابق >مسئلہ خلافت< پر بھی مباحثہ قرار پایا تھا۔ غیر مبائعین نے کہلا بھیجا کہ وہ اس کے لئے تیار نہیں۔ مجلس مناظرہ میں بعض غیر احمدی بھی شامل ہوئے تھے جنہوں نے مولانا ابوالعطاء صاحب کی علمی قابلیت اور شستہ حاضر جوابی کی تعریف کی اور غیر مبائع مناظر کی بے بسی` بے علمی اور کم حوصلگی پر اظہار ناپسندیدگی کیا۔۳۶۳
    مباحثہ کوٹ گورایا )تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور(
    موضع دیوانی وال )تحصیل بٹالہ( کے قریب ایک گائوں کوٹ گورایا ہے جہاں دیوانی وال کے بعض احمدی تبلیغ کے لئے گئے۔ تبلیغ شروع ہوئی تو گائوں والے مسانیاں کے ایک مخالف عالم مولوی فیروزالدین صاحب` دو مددگار علماء اور ایک حافظ قرآن اور چالیس پچاس سید صاحبان کو لے آئے۔ احمدیوں نے مسئلہ وفات مسیح پر گفتگو کے لئے کہا مگر انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے کوئی حضرت عیٰسیؑ کی وراثت تقسیم کرنی ہے۔ ہمیں حضرت عیٰسیؑ کی موت سے کیا تعلق۔ ہم تو یہ ثابت کرنے آئے ہیں کہ مرزا صاحب مسلمان ہیں یا نہیں۔ آخر لمبی گفتگو کے بعد سامعین کے اصرار پر قرآن مجید کی رو سے مسئلہ ختم نبوت پر مناظرہ کرنے پر رضامند ہوگئے۔ فریقین نے اپنے اپنے صدر مقرر کئے۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی محمد اعظم صاحب مولوی فاضل اور فریق ثانی کی طرف سے مولوی فیروز دین صاحب فاضل مدرسہ عثمانیہ مناظر قرار پائے۔ مولوی محمد اعظم صاحب نے نہایت عمدگی کے ساتھ قرآن مجید سے ثابت کر دیا کہ آنحضرت~صل۱~ کے بعد حضورؑ کی غلامی سے فیض نبوت جاری ہے مگر مدمقابل عالم قرآنی دلائل کا کوئی جواب نہ دے سکے اور خلاف شرط صرف حدیث لا نبی بعدی پر سارا زور صرف کرتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے احمدی مناظر کی تقریر کے دوران شور ڈالنا شروع کر دیا۔ آخرکار قرآن و حدیث سے پیش شدہ دلائل کے سامنے جب بالکل عاجز اور بے بس ہوگئے تو مناظرہ چھوڑ کر میدان مناظرہ میں اپنا جلسہ شروع کر دیا۔ جماعت کی طرف سے اس وقت صدر مناظرہ محمد ملک صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ دیوانی وال تھے۔ انہوں نے درخواست کی کہ احمدی مناظر کو بھی اختتام جلسہ پر جواب دینے کا تھوڑا سا وقت دیا جائے مگر انہوں نے بالکل انکار کر دیا جس پر سب احمدی دوست واپس دیوانی وال آگئے۔۳۶۴
    مباحثہ غازی کوٹ )ضلع گورداسپور(
    ۱۶/ ۱۵۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو گورداسپور سے تین میل کے فاصلہ پر واقع گائوں غازی کوٹ میں تین مناظرے ہوئے۔ طے شدہ شرائط کے مطابق پہلا مناظرہ ختم نبوت پر مولوی ابوالعطاء صاحب اور لال حسین صاحب اختر کے مابین` دوسرا صداقت حضرت مسیح موعودؑ پر مولوی دل محمد صاحب اور اختر صاحب کے مابین اور تیسرا وفات مسیح پر مولوی ابوالعطاء صاحب اور حافظ محمد شفیع صاحب کے مابین ہوا۔ تینوں مناظروں میں احمدی علماء نے قرآن کریم اور حدیث شریف سے واضح استدلال کئے اور اپنی تائید میں بزرگان احناف کے اقوال بھی پیش کئے مگر دوسرے علماء زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بعض تحریروں کو غلط انداز میں پیش کرکے عوام کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتے رہے مگر خدا کے فضل و کرم سے اس میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ دوسرا مناظرہ شروع ہونے سے قبل لال حسین صاحب اختر نے حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی شان مبارک میں خواہ مخواہ بدزبانی شروع کر دی جس پر احمدیوں نے احتجاج کیا اور صدر جلسہ مولانا ابوالعطاء صاحب نے پورے زور کے ساتھ مجسٹریٹ صاحب علاقہ کو )جو مناظرہ میں موجود تھے( توجہ دلائی کہ اس شخص کو ان الفاظ کے واپس لینے پر مجبور کیا جائے۔ انسپکٹر صاحب پولیس نے شہادت دی کہ واقعی لال حسین صاحب نے سخت ناروا کلمہ کہا ہے اور احمدیوں کی واقعی دلازاری کی گئی ہے۔ اس پر مجسٹریٹ صاحب نے احراری نمائندہ شریف حسین صاحب وکیل کو بلوا کر حکم دیا کہ مولوی لال حسین صاحب یہ الفاظ واپس لیں ورنہ مناظرہ بند کردیا جائے اور آپ لوگ یہاں سے فوراً چلے جائیں۔ اس پر سائیں لال حسین صاحب نے کھڑے ہوکر کہا کہ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ اس پر مناظرہ شروع ہوا۔۳۶۵
    اس مناظرہ کو سننے کے لئے قادیان دارالامان سے بہت سے احباب تشریف لے گئے۔
    ‏tav.8.10
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    مباحثہ پٹھانکوٹ
    آریہ سماج پٹھانکوٹ نے اپنے جلسہ کے موقعہ پر اشتہار کے ذریعے تبادلہ خیالات کی عام دعوت دی جسے جماعت احمدیہ دولت پور پٹھانکوٹ نے قبول کرتے ہوئے شرائط مناظرہ طے کیں اور آریوں کا جلسہ ختم ہونے کے دوسرے دن ۱۹۔ اگست کو پہلے پہر اصول آریہ سماج پر اور پچھلے پہر اصول احمدیت پر مناظرہ ہوا۔ ہر مضمون کے لئے سوا تین گھنٹے وقت تھا۔ پہلی تقریریں آدھ آدھ گھنٹہ اور بعد کی تقریریں پندرہ پندرہ منٹ کی تھیں۔ پہلے مضمون میں جماعت احمدیہ کی طرف سے مہاشہ محمد عمر صاحب مولوی فاضل مناظر اور مولوی ظہور حسین صاحب مبلغ بخارا پریذیڈنٹ تھے۔ آریہ مناظر پنڈت شانتی پرکاش صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں ویدوں کے متعلق کہا کہ وہ ابتدائے دنیا میں اتارے گئے تھے اور ان میں سائنس کی باتیں ہیں۔ پرمیشور کے متعلق اعلیٰ تعلیم ہے وغیرہ مہاشہ صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ پرمیشور کے متعلق ویدک تعلیم یہ ہے کہ وہ مالوں کو چراتا اور چرواتا ہے۔ سوم رس پیتا ہے اور ایسی مثالوں سے بعض نصائح کی گئی ہیں کہ انسان کو بیان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ ویدوں کے محرف و مبدل ہونے کے ثبوت میں مختلف مثالیں پیش کیں اور مختلف ایڈشنوں سے دکھایا کہ بعض ویدوں میں سے منتر کے منتر اڑا دیئے گئے ہیں۔ اور بعض جگہ بیس پچیس منتروں تک زائد کر دیئے گئے ہیں۔ ویدوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ پھر اس میں اختلاف ہے کہ کس پر نازل ہوئے اور ویدک تعلیم کے متعلق مثالوں سے بتایا کہ وہ ہرگز قابل عمل نہیں۔ آریہ مناظر نے بہت ہاتھ پائوں مارے لیکن آخر تک مہاشہ صاحب کے اعتراضات کا قطعاً کوئی جواب نہ دے سکا۔ قرآن مجید اور مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر جو اعتراضات پنڈت صاحب نے کئے۔ مہاشہ صاحب مکرم نے ان کے تسلی بخش جواب دیئے اور ایسا اچھا اثر ہوا کہ غیر احمدی مسلمانوں نے بھی تعریف کی۔ دوسرے مناظرہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے چودھری محمد یار صاحب عارف مناظر تھے۔ آپ نے پہلی تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض حوالے جن سے احمدیت اور اسلام کے اصول ایک ہی ثابت ہوتے ہیں سنانے کے بعد دس اصول جماعت احمدیہ کے بیان کئے۔ مثلاً آپ نے بتایا کہ ہم خدا کو ایک مانتے ہیں۔ آریوں کی طرح صرف دعویٰ ہی نیں بلکہ روح و مادہ کو پیدا کرنے والا مان کر اس کی حقیقی توحید کے قائل ہیں۔ پھر یہ کہ ہم زندہ خدا کو ماننے والے ہیں۔ اس کو کامل صفات والا مانتے ہیں۔ ایسی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں جس پر ہر انسان عمل کرسکتا ہے- ایسی الہامی کتاب ماننے کی دعوت دیتے ہیں جس کی زبان زندہ اور جو ہر ضروری دعویٰ خود کرتی اور خود ہی اس کے دلائل دیتی ہے وغیرہ۔ آپ نے ہر بات کے لئے قرآن مجید سے ثبوت دیا اور ساتھ ساتھ آریوں کے پرمیشور اور ویدوں کا اور ویدک تعلیم کا نہایت موثر طریق سے مقابلہ کیا۔ آریہ مناظر نے کھڑے ہوتے ہی کہا کہ یہ مناظرہ مسلمانوں سے نہیں بلکہ احمدیوں سے ہے۔ اس لئے میں بیان کردہ امور کی بجائے حضرت مرزا صاحب )علیہ السلام( کی باتیں پیش کرتا ہوں۔ اس کے بعد اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراضات کئے اور بعد کی تقریروں میں بھی پیشگوئیوں اور الہامات وغیرہ پر اعتراض کرتا رہا۔ عارف صاحب نے جواب میں ستیارتھ پرکاش کے دوچار حوالے پڑھ کر جن میں اسلام پر گندے اعتراضات کئے گئے ہیں بتایا کہ آریہ سماج کے مقابلہ میں سب مسلمان ایک ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے شک مامور ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنا ماننا ضروری قرار دیا لیکن آپ کی بعثت کی غرض تو اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنا تھی۔
    پھر پیشگوئیوں اور الہامات پر اعتراضات کے مدلل جواب دیئے بعد کی تقریروں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام کا نمائندہ ثابت کیا اور پنڈت لیکھرام کی پیشگوئی اور مقابلہ کا وضاحت سے ذکر کرکے اسلام کی افضلیت ثابت کی۔ آریہ مناظر نے ہرممکن کوشش کی کہ مسلمانوں کو جماعت احمدیہ کے خلاف بھرکائے لیکن احمدی مناظر ایسی عمدگی سے جواب دیتا رہا کہ آریہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ بلکہ دوران مناظرہ میں جب بعض آریہ ہمارے مناظر کے ناقابل تردید مطالبات اور اپنے پنڈت کی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے بول پڑے تو مسلمانوں نے نہایت سختی سے ان کا مقابلہ کیا۔ احمدی مناظر نے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اپنے بیان کردہ اصول کو بھی بار بار دہرا کر پنڈت شانتی پرکاش صاحب کو چیلنج کیا کہ ان کے مقابلہ میں ویدک اصول کی کمزوری کا جواب دیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر اعتراض کا جواب دے کر ویدوں کے چالیس پچاس بے معنی منتر پیش کرکے بار بار پوچھا کہ کیا یہی وہ کامل الٰہی کتاب ہے جس کے قبول کرنے کی دعوت آپ مسلمانوں کو دیتے ہیں اور خواب دیکھا کرتے ہیں کہ اوم کا جھنڈا مکہ اور مدینہ میں بھی گاڑا جائے گا۔ لیکن آریہ مناظر آخر دم تک ان مطالبات کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ آخری تقریر میں عارف صاحب نے نہایت احسن پیرایہ میں تبلیغ کی اور آریوں کو مخاطب کرکے کہا کہ مذہب کوئی کھیل تماشا نہیں۔ جو باتیں ہم نے پیش کی ہیں ان پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔ خداتعالیٰ کے فضل سے مناظرہ بہت کامیاب رہا۔ آریہ مناظر نے ہرچند کوشش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور تحریرات پر اعتراض کرکے مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرے اور اس کوشش میں اس نے ویدوں اور بانی آریہ سماج پر ہمارے مناظر کے کئے ہوئے اعتراضات کو بالکل نظر انداز کردیا اور کسی ایک اعتراض کا بھی جواب نہ دیا۔ اس سے جہاں آریہ سماج کے اصولوں کی کمزوری حاضرین پر واضح ہوگئی وہاں جماعت احمدیہ پر عام اعتراضات کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے اور ایسے مسلمان جو احمدیت پر محض اعتراص کرنا ہی جانتے ہیں اور جوابات سننا بھی جنہیں گوارا نہیں ان پر ان اعتراضات کی لغویت اچھی طرح واضح کی گئی اور اس طرح غیراحمدیوں کو تبلیغ کرنے کا ایک نہایت ہی اچھا موقع مل گیا اور تقریباً دو ہزار لوگ جو نصف کے قریب مسلمان تھے نہایت اچھا اثر لے کر گئے۔۳۶۶ الحمدلل¶ہ علیٰ ذالک۔
    مباحثہ مردان
    ۱۷۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو بمقام مردان احمدیوں اور غیر احمدیوں کے مابین وفات مسیح اور ختم نبوت کے موضوع پر مناظرہ ہوا۔ احمدیوں کی طرف سے مناظر مولوی چراغ الدین صاحب مبلغ سلسلہ تھے اور غیراحمدی اصحاب کی طرف سے مولوی مصلح الدین صاحب۔ مناظرہ میں غیر احمدی عالم لاجواب ہوگئے۔۳۶۷
    مباحثہ کلثنا )بنگال(
    بنگال میں کلثنا اہلحدیث کا مشہور گائوں تھا جہاں قریشی محمد حنیف صاحب قمر سائیکل سیاح کا مولوی نعمت اللہ صاحب اور دیگر چار علماء سے مسئلہ حیات و وفات مسیحؑ پر مباحثہ ہوا۔ پندرہ منٹ کے بعد مولوی نعمت اللہ صاحب مجلس سے فرار کرگئے اور ان کے باقی رفقاء گالیوں پر اتر آئے۔ قریشی صاحب نے جب اہلحدیث کتب خانہ سے بعض کتابیں لے کر انہی سے حوالے دکھانے شروع کئے تو ان سے کتابیں چھین لی گئیں اور کتب خانہ مقفل کردیا۔۳۶۸
    مباحثہ مونگ )ضلع گجرات(
    جماعت احمدیہ اور جماعت حنفیہ مونگ کے درمیان ۲۹` ۳۰۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو مباحثہ قرار پایا تھا۔ شرائط حسب ذیل تھیں۔
    )۱( مبحث تین ہوں گے۔ )۲( وفات مسیح۔ )۳( ختم نبوت۔ )۴( صداقت حضرت مسیح موعود۔
    )۲( مابہ الاستدلال قرآن` حدیث` و اقوال اہلسنت و الجماعت و اقوال حضرت مرزا صاحب و بزرگان احمدی۔ )۳( پہلی تقریر بیس بیس منٹ کی اور اس کے بعد ہر تقریر دس منٹ کی۔ مباحثہ تین گھنٹہ دس منٹ ہوگا پہلی اور پچھلی تقریر مدعی کی ہوگی۔ )۴( مباحثہ زبانی ہوگا۔ )۵( ہر فریق کے مناظر دائرہ تہذیب میں رہ کر مناظرہ کریں گے۔ ہر فریق جو بدزبانی کرے یا تالی بجائے شکست خوردہ سمجھا جائے گا۔ )۶( ہر فریق کے تین تین آدمی حفظ امن کے ذمہ دار ہوں گے۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے سید حیدر شاہ صاحب` خان محمد صاحب اور روشن خاں صاحب قرار پائے` فریق مخالف کی طرف سے راجہ مہدی خاں صاحب` مولوی اللہ دتہ صاحب اور راجہ حاکم خاں صاحب۔ )۷( مباحثہ دائرہ راجہ احمد خاں میں ہوگا۔ )۸( حضرت مرزا صاحب کا صرف قول ہی پیش کیا جائے گا تشریح نہیں کرنی ہوگی۔
    حسب قرارداد ۲۹۔ اکتوبر کو ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے مناظرہ شروع ہوا۔ سامعین کی تعداد خاصی تھی اور ان میں ہندو اور سکھ بھی شامل تھے۔ پہلے مباحثہ میں جو حیات ممات مسیح پر تھا مدعی لال حسین اختر اور مجیب مولانا محمد یار صاحب عارف تھے۔ مباحثہ نہایت خوش اسلوبی سے ہوا۔ اگرچہ لال حسین صاحب نے لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ مگر عارف صاحب کی تقریر کچھ ایسی موثر ہوئی تھی کہ لوگ لال حسین صاحب کے دھوکے میں نہ آئے۔ میدان مناظرہ میں بالکل سکوت چھایا ہوا تھا۔ مخالفین بھی آپ کی تقریر کے وقت ہمہ تن گوش ہوکر سن رہے تھے۔
    دوسرا مباحثہ اسی تاریخ کو زیر صدارت عارف صاحب شیخ عبدالقادر صاحب فاضل نو مسلم نے کیا۔ آپ نے بھی اپنے وقت میں اچھے دلائل دیئے اور ختم نبوت کے مسئلہ کو بہت عمدگی سے واضح کیا۔
    تیسرا مباحثہ ۳۰۔ اکتوبر کی صبح کو ۹ بجے شروع ہوا اور ایک بجے ختم ہوا۔ اس مباحثہ میں جو صداقت حضرت مسیح موعودؑ پر تھا ملک عبدالرحمن صاحب خادم بی۔ اے` ایل ایل۔ بی پلیڈر گجرات کی زیر صدارت منعقد ہوا اور مناظر چودھری محمد یار صاحب عارف تھے۔ اس مباحثہ میں نقض امن کا زیادہ خطرہ تھا مگر قابل صدر کی کوشش سے اور قابل مقرر کی عالمانہ تقریر سے جو درحقیقت خدا کے فضل کے اسباب تھے کوئی ناگوار واقع پیش نہ آیا۔ اگرچہ مخالف احمدیت نے بڑی کوشش کی کہ لوگوں کو مشتعل کرے۔ غلط باتیں پیش کرکے حاضرین کو اکسایا مگر وہ اپنے بدارادہ میں کامیاب نہ ہوا۔۳۶۹
    مباحثہ پیرول )بہار(
    پیرول صوبہ بہار )انڈیا( کی ایک بستی ہے جہاں ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کے آخر میں ابوالبشارت مولوی عبدالغفور صاحب فاضل نے ایک غیراحمدی عالم سے ایک گھنٹہ تک مناظرہ کیا۔ جب غیر احمدیوں نے دیکھا کہ ان کے مولوی صاحب احمدیت کے معقول دلائل تسلیم کرچکے ہیں اور بعض سے ساکت آگئے ہیں تو انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا اور سلسلہ گفتگو ختم ہوگیا۔۳۷۰
    مباحثہ لاہور
    مسجد احمدیہ )بیرون دہلی دروازہ( لاہور میں ۲۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو مسئلہ نبوت پر اور ۱۷۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو مسئلہ کفر و اسلام پر غیر مبائع اصحاب سے نہایت کامیاب مناظرے ہوئے۔ اول الذکر موضوع میں جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے میاں محمد عمر بی۔ ایس۔ سی` ایل ایل۔ بی نے اور فریق لاہور کی طرف سے مولوی احمد یار صاحب نے بحث کی۔ میاں محمد عمر نے اثبات نبوت مسیح موعودؑ میں چار فیصلہ کن دلائل پیش کئے اور ہر دلیل کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی واضح تحریرات پیش کیں اور غیر مبائعین کے غلط استدلال کے دندان شکن جوابات دیئے مگر فریق لاہور کے مناظر صاحب بار بار دو ایک حوالوں کو ہی دہراتے رہے۔۳۷۱
    ‏0] [stfشیخ روشن دین صاحب تنویر کا قبول احمدیت
    اس سال جو خوش نصیب سلسلہ احمدیہ۳۷۲ سے وابستہ ہوئے۔ ان میں شیخ روشن دین صاحب تنویر بی۔ اے` ایل ایل۔ بی سیالکوٹ )حال مدیر >الفضل(< خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ آپ نے ۲۰۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو بیعت کا فارم پرکیا۔ شیخ صاحب نے انہی دنوں اپنے قبول احمدیت کے حالات >الفضل< میں بھی شائع کرا دیئے تھے جن کا ایک ضروری حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    >دسمبر ۱۹۳۹ء کے شروع میں میری ایک مربیہ۳۷۳ نے جو نہایت مخلص احمدی ہیں مجھے قادیان دارالامان کی زیارت کی دعوت دی۔ میں نے یونہی کچا پکا وعدہ کرلیا۔ انہی دنوں محترمی محمد نذیر صاحب فاروقی ضلعدار ریاست بہاولپور نے بھی )جو میرے لنگوٹئے یار ہیں( ایک خط میں اسی قسم کی دعوت دی۔ ان کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ دیرینہ مفارقت کے بعد ملاقات کا اچھا موقعہ ہاتھ آجائے گا۔ مزید برآں مرکز سے بھی ایک فارمل دعوت ایک عزیز نے بھجوا دی۔ اس سہ گونہ دعوت کا مقابلہ میری بے پروائی سے نہ ہوسکا۔
    ۲۴۔ دسمبر ۱۹۳۹ء کی مبارک صبح کو میں قادیان کا واپسی ٹکٹ خرید کر پلیٹ فارم پر گاڑی کی روانگی کے انتظار میں ٹہل رہا تھا کہ اخویم چودھری شاہنواز صاحب ایڈووکیٹ سے مٹھ بھیڑ ہوئی۔ میں نے ان سے قادیان جانے کا تذکرہ کیا مگر ان کو یقین نہ آیا اور آتا بھی کس طرح۔ ان کو خوب معلوم تھا کہ میں احمدیت کا سخت مخالف ہوں۔ جب میں نے ان کو ٹکٹ دکھایا تو وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے فرمایا- قادیان سے تم ضرور احمدی ہو کر پلٹو گے۔ میں نے جواب دیا۔ یہ ناممکن ہے آپ جانتے ہیں مجھ جیسا آزاد منش آدمی ایسی قیدوں میں نہیں سماسکتا۔ میں تو صرف ایک تماشہ دیکھنے جارہا ہوں۔ تعطیلات ہیں` لاہور نہ سہی قادیان سہی۔ اتنے میں روانگی کی سیٹی بجی اور ہم سوار ہوگئے۔ ویرکار ریلوے سٹیشن تبدیلی کے لئے اترنا پڑا۔ پلیٹ فارم پر` احمدی خاندانوں کے خاندن اتر پڑے پلیٹ فارم سوٹ کیسوں` ٹرنکوں اور بستروں سے پٹ گیا۔ اس منظر نے ایک عجیب و غریب اثر میرے دل پر کیا۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ صدیوں کی سوئی ہوئی کوئی چیز میرے رگ و پے میں بھاگ رہی ہے۔ مرد` عورتیں اور بچے` بچے کچھ مائوں کی گودوں میں اور کچھ ننھے ننھے قدم اٹھاتے ہوئے` انگلیاں پکڑے` اس سردی کے موسم میں` کنبوں کے کنبے` گھروں کو تالے لگا کر` کس شوق و ذوق سے آمادہ سفر ہیں۔ پختگی اعتقاد کا ایک مقدس پہاڑ میری نگاہوں میں بلند ہورہا تھا۔ مرد` عورتیں اور بچے` مائوں کی گودوں میں ہمکتے ہوئے بچے چلتے پھرتے بچے` سب میری آنکھوں میں چکا چوند پیدا کررہے تھے۔ میں ایک اور ہی دنیا میں چلا گیا۔ ایسی دنیا میں جو گزشتہ دنیا سے پاکیزہ تر اور ارفع و اعلیٰ تھی۔ جو مقدس اعتقاد کی دنیا ہے۔ جہاں سوائے صفائی قلب اور جذب روحانی کے اور کچھ نہیں۔ یہ اثر تھا جو میری روح پر ہوا۔ یہ پہلا اثر تھا جس نے زیارت قادیان کا جوش پوری طاقت کے ساتھ میرے دل میں پیدا کردیا۔ انتظار کی گھڑیاں مجھے قیامت کی صدیاں معلوم ہونے لگیں۔ خدا خدا کرکے ہماری گاڑی آپہنچی اور میں بڑے اشتیاق کے ساتھ سوار ہوا۔ اگرچہ گاڑی میں اس قدر بھیڑ تھی کہ بہت سے لوگوں کو کھڑے ہونے کے لئے بھی جگہ میسر نہ تھی اور مسافر سخت تنگی میں تھے مگر مجھے اشتیاق قادیان کی وجہ سے اس کھچا کھچی میں بھی ایک لطف آرہا تھا اور میں اپنے آپ کو جنت میں بیٹھا ہوا تصور کرتا تھا۔ گو گاڑی کی رفتار مجھے سست معلوم ہوتی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ میری روح اور جسم کی تمام طاقت بھی انجن کی قوت کے ساتھ مل جائے اور گاڑی فوراً قادیان پہنچ جائے۔ غروب آفتاب کے وقت آخر گاڑی قادیان کے سٹیشن پر جاکھڑی ہوئی۔ سٹیشن پر اتنا انبوہ تھا کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ یہ ابھی پہلا روز تھا۔ پچیس تاریخ کو جلسہ کا آغاز ہونا تھا۔ ایک حشر تھا کہ بپا ہوگیا تھا۔ تقدس کا ایک سمندر تھا کہ ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور میں اس کی موجوں کی آغوش میں ہچکولے کھارہا تھا۔ جس مکان میں ہم ٹھہرے وہ محلہ دارالبرکات میں واقع تھا۔ محلوں کے نام سنے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم خلد بریں میں آگئے ہیں۔ عزت و تکریم کی لہر میری رگ رگ میں دوڑ گئی اور ایک روحانی بارش میری روح پر برس رہی تھی۔ ایک بیرونی کمرے میں ہم اترے۔ نیچے کماد کا چھلکا بچھا تھا۔ سردی کا موسم تھا۔ نرم گدیلوں میں یہ لطف کہاں۔ آرام و تعیش پر موت وارد ہوچکی تھی۔ سوا تسکین کے اور کوئی بات ہی نہ تھی۔ لنگر سے کھانا منگوایا کھایا اور سورہے۔
    صبح اٹھ کر بازار سے ہوتے ہوئے بہشتی مقبرہ کی زیارت کی۔ قبروں کی قطاریں زندہ انسانوں کی صفیں معلوم ہوتی تھیں۔ مردوں کی پاک نفسی قبروں کے گوشوں سے نکل نکل کر میری روح سے ہم آغوش ہوگئی۔ تربتوں کی سادگی نہایت جاذب نظر تھی۔ زندہ مردوںں کی ایک دنیا! ایسے مردے کہ جن کے سامنے مجھ جیسا زندہ ایک مردہ معلوم ہوتا۔ یہ ان عقیدت کیش لوگوں کی آخری آرام گاہ ہے جنہوں نے اپنا تن` من` دھن اسلام کے نام پر قربان کردیا۔ پاک نفسوں کا اتنا بڑا جمگھٹا شاید ہی کسی اور جگہ دیکھنے میں آئے۔ بے اختیار میرے ہاتھ فاتحہ کے لئے اٹھ گئے اور میری روح ان مٹی کی پاک قبروں کے ساتھ لپٹ گئی۔ بعدہ ہم اس چار دیواری میں داخل ہوئے جہاں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا مزار مقدس ہے۔ سادگی پر ہزاروں بناوٹیں قربان ہورہی تھیں۔ خاک کے ذرے ذرے سے صداقت کی آواز اٹھ رہی تھی۔ یہ قبر اس انسان کی تھی جس نے اپنے مسیحائی کے دعوے کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کے ساتھ عمر بھر نبرد آزمائی کی۔ جس کی تکفیر کے فتوے لکھے گئے جس پر عیاذاً باللہ صرف عیاشی کے ہی اتہام نہ لگائے گئے بلکہ جس کو قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور جس کی اہانت کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا گیا۔ مگر خدا نے اس کو ہر ایک گزند سے بچایا۔ وہی انسان آج اس سادہ سی اورتہی از تکلف مزار کی آغوش میں جاودانی نیند پڑا سورہا ہے۔ اس مٹی کی ڈھیری نے میرے دل میں ایمان کا شعلہ بھڑکا دیا اور میں ایک مضطرب جان لے کر وہاں سے لوٹا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد دوپہر حضرت امیرالمومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی باتیں` انجمن خدام احمدیہ کے جلسہ میں سنیں۔ اس گرانما یہ شخصیت کے متعلق جتنے شکوک میں اپنے دل میں لے کر آیا تھا تمام کے تمام اس طرح مٹ گئے کہ گویا کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ اتنا سادہ اور پرزور کلام میں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔ تقریر میں کوئی دقیق مسائل نہیں بیان کئے گئے تھے۔ سادہ روزمرہ کی باتیں تھیں۔ مگر انہی سادہ باتوں میں خدا جانے کہاں کی جاذبیت تھی کہ میں نے ایک ایک لفظ ہمہ تن گوش ہوکر سنا۔ اور اپنے آپ کو زندہ سے زندہ تر پایا دوران جلسہ میں حضور کی دیگر تقاریر بھی سنیں جو اپنی سادگی` برجستگی` اور تاثیر کے لحاظ سے بے مثل تھیں۔ باوجود ان تاثرات کے میں پکا غیر احمدی رہا اور مورخہ ۲۹۔ دسمبر ۱۹۳۹ء کو صبح کی گاڑی قادیان سے رخصت ہو کر گھر کو روانہ ہوا۔ میرے ہمراہ اور بھی بہت سے لوگ اس گاڑی پر واپس ہورہے تھے۔ جو عموماً احمدی تھے۔ میرے ڈبے میں ایک شخص کے پاس چند کتب تھیں جو وہ قادیان سے خرید کر لایا تھا۔ میں نے دفع الوقتی کے لئے ایک کتاب ان میں سے اٹھالی اور پڑھنے لگا۔ یہ کتاب حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقریر >انقلاب حقیقی< تھی۔ اس تقریر کے ختم کرنے تک میں دل میں احمدی ہوچکا تھا۔ زمین تو پہلے تیار تھی۔ صرف بیج ڈالنے کی دیر تھی جو >انقلاب حقیقی< نے ڈال دیا۔ اور خدا کی رحمت یکبارگی مجھ پر نازل ہوگئی۔ پہلے میں نے احمدیہ لٹریچر کا مطالعہ ایک مخالفانہ نکتہ نگاہ سے کیا ہوا تھا۔ وہ تمام مطالعہ اب یکدم مجھ پر کریمانہ انداز سے جھپٹا اور میں شکار ہوگیا۔ مجھے اپنے آپ پر خود یقین نہ آتا تھا۔ میری رگ رگ میں ایک ہیجان بپا تھا اور مجھے ایسا معلوم ہوا کہ ابھی ابھی میری روح میرے جسم کو چھوڑے دے گی۔ جس طرح اچانک کسی ہتھیلی پر جلتا ہوا کوئلہ رکھ دیا جائے اور وہ اس اثر سے تلملانے لگے یہی حال میری روح کا تھا۔ عید قربان کی نماز جامع احمدیہ سیالکوٹ میں ادا کی اور گھر آکر بیعت کا فارم پر کرکے امیر جماعت احمدیہ سیالکوٹ کو بھیج دیا۔ جس کے زیر عنوان مندرجہ ذیل فی البدیہہ رباعی تھی۔~}~
    عید قربان ہے آج اے تنویر
    مجھ پر ہے فضل رب سبحانی
    پیش کرتا ہوں روح و قلب و دماغ
    کاش منظور ہو یہ قربانی<۳۷۴4] f[rt
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۱۲۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو خطبہ جمعہ کے دوران شیخ صاحب موصوف کے شامل احمدیت ہونے کا ذکر بایں الفاظ فرمایا۔
    >ابھی سیالکوٹ میں ایک دوست احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔ شیخ روشن الدین صاحب تنویر ان کا نام ہے اور وکیل ہیں۔ جب مجھے ان کی بیعت کا خط آیا تو میں نے سمجھا کہ کالج کے فارغ التحصیل نوجوانوں میں سے کوئی نوجوان ہوں گے مگر اب جو وہ ملنے کے لئے آئے اور شوریٰ کے موقع پر میں نے انہیں دیکھا تو ان کی ڈاڑھی میں سفید بال تھے۔ میں نے چودھری اسداللہ خاں صاحب سے ذکر کیا کہ میں سمجھتا تھا کہ یہ نوجوان ہیں اور ابھی کالج میں سے نکلے ہیں مگر ان کی تو ڈاڑھی میں سفید بال آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تو دس بارہ سال سے وکیل ہیں۔ پہلے احمدیت کے سخت مخالف ہوا کرتے تھے مگر احمدی ہو کر تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کایا ہی پلٹ دی ہے<۔۳۷۵
    پہلا باب
    حواشی
    ۱۔
    الفضل ۲۵۔ جنوری ۱۹۴۰ء صفحہ ۴۔
    ۲۔
    ‏h2] [tag اخبار الفضل قادیان دارلامان مورخہ ۲۵۔ جنوری ۱۹۴۰ء بمطابق ۱۵۔ ذوالحجہ ۱۳۵۸ھ۔
    ۳۔
    انقلاب حقیقی صفحہ ۹۹۔ ۱۰۰۔ )تقریر فرمودہ ۲۸۔ دسمبر ۱۹۳۷ء برموقعہ جلسہ سالانہ قادیان(
    ۴۔
    امریکن پیپل انسائیکلو پیڈیا )زیر لفظ کیلنڈر( بحوالہ تقویم تاریخی صفحہ م۔ ن مرتبہ عبدالقدوس صاحب ہاشمی مرکزی ادارہ تحقیقات اسلامی کراچی نمبر ۵۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسیحی جغرافیہ نویسوں نے تسلیم کیا ہے کہ مسیحی کیلنڈر میں غلطی ہوگئی ہے چنانچہ آرچ بشپ اشرز h2](USHERS) ga[t نے اپنی کتاب علم تاریخ (CHRONOLGY) میں اور ڈاکٹر کٹو (KITTO) نے اپنی کتاب >ڈیلی بائبل السٹریشنز ILLUSTRATIONS) BIBLE (DAILY میں ثابت کیا ہے کہ جو تاریخی مسیحی کیلنڈر میں واقعہ صلیب کی دی گئی ہے وہ غلط ہے اور یہ غلطی ۵۲۷ میں لگی ہے۔
    ۵۔
    الفاروق جلد دوئم صفحہ ۲۰۳۔ ۲۰۴ )ناشر شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز کشمیری بازار لاہور(
    ۶۔
    سورۃ الرحمن آیت ۵ پارہ ۲۷۔
    ۷۔
    تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوnsk1] g[ta تقویمنا الشمسی )از محب الدین خطیب( صفحہ ۱۰ تا ۱۵۔ )ناشر المطبعہ السلفیہ ومکتبتھا قاہرہ ۱۳۴۶ھ۔
    ۸۔
    تاریخ سلطنت خدادا )میسور( صفحہ ۴۹۹۔ ۵۰۰ مولفہ محمود خاں محمود بنگلوری ناشر پبلشرز یونائیٹڈ لاہور طبع چہارم ۱۹۴۷ء۔
    ۹۔
    سیرروحانی )تقریر سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ فرمودہ ۲۸۔ دسمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۹۹` ۱۰۱۔
    ۱۰۔
    الفضل قادیان ۲۶۔ جنوری ۱۹۴۰ء صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۱۱۔
    تقویمنا الشمسی صفحہ ۱۷ )از محب الدین الخطیب( ناشر المطبعہ السلفیہ و مکتبتھا القارہرہ ۱۳۴۶ھ۔
    ۱۲۔
    تقویمنا الشمسی صفحہ ۱۷۔
    ۱۳۔
    حضرت مولوی صاحبؓ نے ۲۔ ماہ تبلیغ/ فروری ۱۳۱۹ہش/ ۱۹۴۰ء کے الفضل میں اپنے مضمون کے بعض الفاظ کی اصلاح کی تھی جس کے مطابق متن میں بھی ترجیم و تصحیح کر دی گئی ہے۔ )ناقل( سید محمد سرور شاہ صاحب ایم اے بیان کے مطابق حضرت مولوی صاحب نے ان دنوں کئی ضخیم کتابوں سے استفادہ کیا۔ جس کا ذکر حضرت مصلح موعود کی خدمت میں کیا اور حضور نے شرف بار یابی بخشا۔
    ۱۴۔
    ان دنوں خلیفہ صلاح الدین صاحب ناظم نشر و اشاعت تھے۔
    ۱۵۔
    الفضل ۴ ماہ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش۔ الفضل ۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش۔
    ۱۶۔
    ۸۔ اکتوبر ۱۸۸۳ء کو بمقام حمزہ )تحصیل امرتسر( پیدا ہوئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شرف خواجہ کمال الدین صاحب کی کوٹھی )واقع برانڈرتھ روڈ لاہور( میں مئی ۱۹۰۸ء میں حاصل کیا۔ اگست ۱۹۱۰ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے دست مارک پر بیعت کی۔
    ۱۷۔
    دونوں کتابچے میسرز فورٹین کیلنڈر پبلشر کوارٹر نمبر ۱۶ بلاک جی ٹمپل روڈ لاہور نے شائع کئے۔ آپ نے ایک معلومات افزا کتاب تطبیقات لدنیہ کے نام سے بھی لکھی ہے جس میں نہایت تحقیق کے ساتھ سن ۱ھ سے ۱۴۰۰ھ کی تقویم سنہ عیسوی کے ساتھ درج کی ہے۔ مگر یہ کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی۔
    ۱۸۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ مبارک کے بیعت رجسٹر میں آپ کا نام ۱۹۲ نمبر پر درج ہے۔
    ۱۹۔
    ازالہ اوہام طبع اول صفحہ ۸۱۲` ۸۱۳۔
    ۲۰۔
    ٹریکٹ ایک نہایت ضروری اعلان صفحہ ۲۱ )شائع کردہ مولوی محمد علی صاحب( مارچ ۱۹۱۴ء۔
    ۲۱۔
    یہ تفصیلات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ایک مکتوب سے ملتی ہیں جب آپ نے ۱۷۔ دسمبر ۱۹۳۹ء کو قاضی محمد یوسف صاحب )امیر جماعت احمدیہ سابق صوبہ سرحد( کے نام لکھا تھا اور جس میں انہیں تاکید کی تھی کہ وہ مولوی صاحب سے دوبارہ ملیں اور وعدہ یاد دلا کر کوشش فرمائیں کہ آپ تشریف لانے کے لئے تیار ہو جائیں۔
    ۲۲۔
    الفضل ۱۳۔ تبلیغ ۱۳۱۹ ہش/ ۱۳۔ فروری ۱۹۴۰ء۔
    ‏]1h [tag۲۳۔
    الفضل ۱۳۔ تبلیغ ۱۳۱۹ ہش/ ۱۳۔ فروری ۱۹۴۰ء صفحہ ۵۔ ۶۔
    ۲۴۔
    وادین کے الفاظ تبرکاً حضرت قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے ایک مکتوب سے اخذ کئے گئے ہیں )۲۶۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش بنام قاضی محمد یوسف صاحب احمدیہ مسجد پشاور(
    ۲۵۔
    نقل مطابق اصل )اصل مکتوب حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کے قلم سے نقل شدہ ہے(
    ۲۶۔
    مکتوب حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بنام قاضی محمد یوسف صاحب پشاور محررہ ۲۷۔ جنوری/ صلح ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش۔
    ۲۷۔
    الفضل ۲۰۔ فروری/ تبلیغ ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۲۸۔
    الفضل ۲۹۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۱ کالم ۲۔ قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی قاضی خیل ہوتی مردان نے تاریخ احمدیہ )سرحد( میں تحریر فرمایا ہے کہ اس دفعہ آپ میری تحریک پر قادیان تشریف لے گئے تھے صفحہ ۲۹۔
    ۲۹۔
    الفضل ۳۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۳ء/۱۳۲۲ہش صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۳۰۔
    الفضل ۲۸۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۰ء۔ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔ اس سفر میں حضرت سیدہ ام ناصر اور صاحبزادی امتہ القیوم صاحبہ بھی حضور کے ہمراہ تھیں۔
    ۳۱۔
    الفضل ۸۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۲۔
    الفضل ۱۳۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش۔
    ۳۳۔
    الفضل ۲۳۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۴۔
    الفضل ۶۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۵۔
    مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحہ ۴۳ پر حضرت عتبان بن مالک کی یہ روایت درج ہے۔
    ۳۶۔
    الفضل ۶۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔ )کچھ خفیف سے لفظی تغیر کے بعد(
    ۳۷۔
    الفضل ۱۳۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۳۸۔
    الفضل ۷۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش۔
    ۳۹۔
    الفضل ۲۸۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش۔
    ۴۰۔
    الفضل ۷۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۴۱۔
    الفضل ۶۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۴۲۔
    الفضل ۶۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۴۳۔
    الفضل ۲۱۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۴۴۔
    ریویو آف ریلیجنز امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۷ تا ۳۱۔
    ۴۵۔
    ریویو آف ریلیجنز امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۳۱۳۔
    ۴۶۔
    کتاب قائداعظم میری نظر میں صفحہ ۲۱۲۔ ۲۱۳۔
    ۴۷۔
    رسالہ نقوش )لاہور( خطوط نمبر ۲ صفحہ ۲۸۱۔ جموں کے ممتاز لیڈر چودھری غلام عباس صاحب نے اپنی کتاب کشمکش میں لکھا ہے کہ جن دنوں نواب بہادر یار جنگ کی وفات ہوئی قائداعظم سرینگر میں فروکش تھے۔ میں نے نواب صاحب کی وفات کے المناک حادثہ کی اطلاع دی تو پانچ منٹ کے بعد قائداعظم نے فرمایا کہ غالباً پہلی دفعہ مجھے کسی کی موت سے اتنا شدید صدمہ ہوا ہے پھر نواب صاحب کی خوبیاں بیان کیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد مرحوم کی بیگم کو بذریعہ تار پیغام تعزیت بھجوایا۔ )کشمکش صفحہ ۲۴۷ ناشر اردو اکیڈیمی لوہاری دروازہ لاہور(
    ۴۸۔
    مکتوب جناب سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدرآبادی )بنام مولف تاریخ احمدیت( مرقومہ ۱۹۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۶ء/ ۱۳۴۵ہش از سی// ۴۲ ہوزنگ کالونی اسکندرآباد )ضلع میانوالی(
    ۴۹۔
    )ضلع میانوالی(
    ۵۰۔
    اس کا تذکرہ جلد ہشتم میں ہوچکا ہے۔
    ۵۱۔
    مکتوب سیٹھ محمد اعظم صاحب )بنام مولف تاریخ احمدیت( محررہ ۲۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۶ء/۱۳۴۵ہش سی/۴۲ ہوزنگ کالونی اسکندرآباد ضلع میانوالی۔
    ۵۲۔
    فرقہ مہدویہ کے تفصیلی حالات و عقائد کے لئے ملاحظہ ہو رود کوثر صفحہ ۱۹ تا ۲۹ مرتبہ جناب شیخ محمد اکرام صاحب ایم۔ اے شائع کردہ فیروزسنز لاہور۔
    ۵۳۔
    اس مراسلہ سے یہ بات بھی پوری طرح واضح ہے کہ تحریک پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس میں مضمر تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی زبردست ذہانت اور فراست سے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر ہر قسم کے نقطہ خیال رکھنے والے مسلمانوں کو جمع کر دیا تھا اور آپ سیاسیات کے میدان میں اختلاف عقائد کا لحاظ نہیں کرتے تھے اور ہر مسلمان کہلانے والے کو مسلم لیگ کے سٹیج پر آکر کام کرنے کا موقعہ دیتے تھے۔
    ۵۴۔
    رسالہ نقوش لاہور خطوط نمبر ۱ صفحہ ۴۸۰۔
    ۵۵۔
    روزنامہ انقلاب لاہور ۲۰۔ مارچ ۱۹۴۰ء۔
    ۵۶۔
    ملاحظہ ہو کتاب انجمن )مولفہ فقیر سید وحید الدین مرحوم( ناشر لائن آرٹ پریس )کراچی( لمیٹڈ فریئر روڈ کراچی طبع اول اپریل ۱۹۶۶ء۔
    ۵۷۔
    مرکز احمدیت قادیان صفحہ ۴۵۴ تا ۴۵۶ مصنفہ شیخ محمود احمد عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان۔
    ۵۸۔
    الفضل مورخہ ۱۶۔ مارچ/ امان ۱۹۴۵ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۶۔
    ۵۹۔
    الفضل مورخہ ۵۔ اپریل/ شہادت ۱۹۴۰ء/۱۱۳۱۹ہش صفحہ ۶ و ۷۔
    ۶۰۔
    الفضل ۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶۔ ۷۔
    ۶۱۔
    اس خطبہ کے چند ایام بعد اخبار الفضل )۳۰۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش( میں ایک مضمون نکلا جس میں لاہوری فریق کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ اس پر حضرت امیرالمومنینؓ نے ناظر صاحب اعلیٰ کو فوری ارشاد فرمایا کہ باوجود ممانعت کے ایسا کیا گیا ہے۔ اس لئے جب تک انجمن مجھے اس امر کی نسبت تسلی نہ دلائے کہ آئندہ سخت الفاظی نہیں ہوگی میں اخبار کی اشاعت بند کرتا ہوں اس کے بعد جب تک صدر انجمن احمدیہ نے مضامین کی اشاعت میں نرم پالیسی اختیار کرنے کا واضح وعدہ نہیں کرلیا۔ حضور نے اخبار کی اشاعت پر پابندی نہیں اٹھائی۔ )ملاحظہ ہو ریکارڈ نظارت علیا رجسٹر صفحہ ۷ ع۔ م ۱۳۱۹ہش(
    ۶۲۔
    الفضل یکم ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۳ کالم ۱۔ ۲۔
    ۶۳۔
    )حال اسسٹنٹ ایڈیٹر الفضل( حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ان کی نسبت خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ ابھی ایک بچہ ان کے رد میں مضامین لکھ رہا ہے جس کا نام خورشید احمد ہے اور اس وقت لاہور میں رہتا ہے۔ اس کے مضمون ایسے اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ کوئی بڑی عمر کا آدمی ہے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا ہے کہ خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب کا نواسہ ہے اور ۱۷۔ ۱۸ سال عمر ہے )الفضل ۲۶۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش(
    ۶۴۔
    الفضل ۲۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔ ۴۔
    ۶۵۔
    مثلاً خان عبدالحمید خاں صاحب پلیڈر )فرزند حضرت مولانا غلام حسن خاں صاحب پشاوری و داماد ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ مرحوم( خان عبدالمجید خاں صاحب اور خان عبدالوحید خاں صاحب )خاں عبدالحمید خاں صاحب پلیڈر کے خلف الرشید( سید ممتاز علی صاحب سابق مہتمم مہمان خانہ احمدیہ بلڈنگس لاہور۔ )الفضل ۲۶۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲` ۴۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش` ۲۴۔ ہجرت/مئی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش(
    ۶۶۔
    الفضل ۱۷۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۶۷۔
    الفضل ۱۸۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۶۸۔
    الفضل ۱۷۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۶۹۔
    مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو رسالہ اہم شہادات مرتبہ مہتمم نشرواشاعت نظارت اصلاح و ارشاد ربوہ۔
    ۷۰۔
    الفضل ۱۵۔ ہجرت/مئی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۵۔
    ۷۱۔
    اسی نام کا ایک ٹریکٹ بھی شائع کیا گیا تھا۔
    ۷۲۔
    اہم شہادات صفحہ ۵ )ناشر مہتمم نشر و اشاعت نظارت اصلاح و ارشاد ربوہ(
    ۷۳۔
    اہم شہادات صفحہ ۱۶۔
    ۷۴۔
    الفضل ۸۔ نومبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۸ کالم ۴۔
    ۷۵۔
    الفضل ۱۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش۔
    ۷۶۔
    یہ صاحب خود لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اپنی خصوصیت جتانے کے لئے یہ نرالا ڈھنگ اختیار کیا ہے کہ اپنی بعض دعائوں کی قبولیت اور کچھ خوابوں کی بناء پر عوام کو راغب کرکے انہیں اپنا غلام بنالیتے ہیں۔ شخص مذکور کا رسالہ تعلق باللہ صفحہ ۳ و ۴۔
    ۷۷۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی یہ فراست حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ یہ صاحب کچھ عرصہ بعد انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے شعار اسلامی کو خیرباد کہہ دیا اور ڈاڑھی منڈوا کر اپنے المسیح الموعود ہونے کی علامت بتانے لگے اور پھر >خاتم النبیین< ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ )مقام شہادت صفحہ ۳۸۔ فصل الخطاب صفحہ ۲۵ مصنفہ خواجہ محمد اسمعیل صاحب(
    ۷۸۔
    ایضاً۔
    ۷۹۔
    الفضل ۱۶۔ جون/ احسان ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۴ تا ۶۔
    ۸۰۔
    الفضل ۱۸۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۳ کالم ۱ و ۲۔
    ۸۱۔
    یہ کوائف الفضل ۲۲۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش میں شائع شدہ ہیں۔ مگر ڈاکٹر محمد احمد صاحب )ابن حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحبؓ( نے اپنی یہ عینی شہادت لکھی ہے کہ علاج معالجہ کے لئے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحبؓ۔ والد محترم حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحبؓ اور خاکسار ڈاکٹر محمد احمد کو حضرت میاں صاحب کی کوٹھی پر بلایا گیا۔ ہم تینوں ڈاکٹروں کے مشورے سے علاج شروع ہوا۔ )مکتوبر بنام مولف کتاب تاریخ احمدیت محررہ ۲۷۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۸ء/ ۱۳۴۷ہش(
    ۸۲۔
    الفضل ۲۲۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱ و الفضل ۲۳۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۸۳۔
    ‏ PUNCTURE LUMBER اس موقعہ پر ڈاکٹر محمد احمد صاحب نے معاون کی خدمت انجام دی۔
    ۸۴۔
    مکتوب ڈاکٹر محمد احمد صاحب بنام مولف کتاب تاریخ احمدیت محررہ ۲۷۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۸ء۔ ۱۳۴۷ہش۔
    ۸۵۔
    الفضل ۲۲۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱ کالم ۴۔
    ۸۶۔
    الفضل ۲۳۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ ہش صفحہ ۲ تا ۳۔
    ۸۷۔
    الفضل ۲۲۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔ ۲۔
    ۸۸۔
    الفضل ۲۳۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔
    ۸۹۔
    الفضل ۲۳۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۴۔ ۵۔
    ۹۰۔
    الفضل ۲۵۔وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش نیز فاروق ۲۸۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش۔
    ‏tav.8.11
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    تقویم ہجری شمسی کے اجراء سے تفسیر کبیر )جلد سوم( تک
    ۹۱۔
    الفضل ۷۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ صفحہ ۲` ۹۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ صفحہ ۲` ۱۵۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء` ۱۳۱۹ہش صفحہ۲` ۱۷۔ اگست/ ظہور ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۹۲۔
    تفصیل تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ ۳۱۳ تا ۳۲۱ میں گزر چکی ہے۔
    ۹۳۔
    دیکھئے تاریخ احمدیت جلد ہشتم صفحہ ۴۴۵ تا ۴۸۰۔
    ۹۴۔
    الفضل یکم ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶ کالم ۳۔
    ۹۵۔
    الفضل یکم ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۷ کالم ۲۔
    ۹۶۔
    الفضل یکم ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۷۔ ۸۔
    ۹۷۔
    الفضل ۱۱۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/۱۳۲۳ہش۔
    ۹۸۔
    الفضل یکم مارچ ۱۹۴۵ء/ امان ۱۳۲۴ہش صفحہ ۲ کالم ۱` ۲ )تقریر حضرت مصلح موعودؓ برموقعہ جلسہ سالانہ ۱۳۲۱ہش(
    ۹۹۔
    الفضل ۱۷۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش صفحہ ۳ کالم ۳۔ ۴۔
    ۱۰۰۔
    الفضل ۳۰۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۳ کالم ۴۔
    ۱۰۱۔
    الفضل ۳۰۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۵ کالم ۱ و ۲۔
    ۱۰۲۔
    الفضل ۳۰۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔
    ۱۰۳۔
    ریکارڈ مجلس انصاراللہ۔
    ۱۰۴۔
    الفضل ۲۰۔ اپریل ۱۹۴۱ء/ شہادت ۱۳۲۰ہش صفحہ ۶۔
    ۱۰۵۔
    الفضل ۲۰۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۶ کالم ۲۔
    ۱۰۶۔
    الفضل یکم امان/ مارچ ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۱۰۷۔
    یہ رجسٹر اب تک مجلس انصاراللہ مرکزیہ ربوہ کے ریکارڈ میں موجود ہے۔
    ۱۰۸۔
    حضرت شیخ صاحبؓ کا اصل وطن قصبہ بنوڑ ریاست پٹیالہ تھا۔ پیدائش ۸۸۔ ۱۸۸۷ء میں ہوئی۔ وسط ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ ۲۶۔ دسمبر ۱۹۱۰ء کو مستقل طور پر ہجرت کرکے قادیان آگئے۔ مولوی عبدالکریم صاحب شرما مبلغ افریقہ آپ ہی کے خلف الرشید ہیں۔ اصحاب احمد جلد دہم صفحہ ۴۱ تا ۶۹ )مرتبہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے( میں آپ کے خود نوشت حالات شائع شدہ ہیں۔
    ۱۰۹۔
    الفضل ۱۰۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۵ کالم ۳۔
    ۱۱۰۔
    الفضل ۱۰۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۵ کالم ۳۔
    ۱۱۱۔
    ریکارڈ مجلس انصار اللہ مرکزیہ۔
    ۱۱۲۔
    ریکارڈ مجلس انصار اللہ مرکزیہ۔ قادیان کے ماحول میں انصار اللہ کی تبلیغی مساعی کی رپورٹیں الفضل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش اور ۱۹۴۵ء/۱۳۲۴ہش میں ملتی ہیں۔
    ۱۱۳۔ ][ الفضل ۱۷۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش صفحہ ۴ تا ۸۔
    ۱۱۴۔
    الفضل ۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش صفحہ ۳ کالم ۲۔ ۳۔
    ۱۱۵۔
    حضرت میر صاحبؓ کا ۱۷۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو وصال ہوگیا اور ان کی جگہ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب قائد مال مقرر کئے گئے۔ )مرتب(
    ۱۱۶۔
    تاریخ وفات ۳۔ احسان/ جون ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش۔
    ۱۱۷۔
    نقل مطابق اصل ۱۴۔ دو مرتبہ ہی درج شدہ ہے۔ )ناقل(
    ۱۱۸۔
    سہواً رہ گیا ہے۔ )ناقل(
    ۱۱۹۔
    الفضل مورخہ ۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش صفحہ ۳ کالم ۲ تا صفحہ ۴ کالم ۲۔
    ۱۲۰۔
    ریکارڈ مجلس انصار اللہ مرکزیہ۔
    ۱۲۱۔
    الفضل ۶۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ ہش صفحہ ۱ و ۲۔
    ۱۲۲۔
    الفضل ۲۶۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش۔
    ۱۲۳۔
    ریکارڈ مجلس انصاراللہ مرکزیہ` رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش صفحہ ۱۶۱ کالم ۱۔
    ۱۲۴۔
    ریکارڈ مجلس انصاراللہ مرکزیہ` رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ صفحہ ۱۸۷۔ رپورٹ میں غلطی سے نام نیاز احمد لکھا گیا ہے۔ آپ کا نام مشاورت ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کے نمائندوں میں بھی درج ہے۔ )صفحہ ۱۷۱(
    ۱۲۵۔
    ایضاً۔
    ۱۲۶۔
    ریکارڈ مجلس انصار اللہ مرکزیہ` رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۱۷۱ کالم ۳۔
    ۱۲۷۔
    ریکارڈ مجلس انصار اللہ مرکزیہ۔
    ۱۲۸۔
    الفضل ۱۰۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش۔ افسوس انصار اللہ کے مرکزی ریکارڈ اور الفضل دونوں سے اس بارہ میں کوئی رہنمائی نہیں ملتی کہ ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش تک ملک میں کل کتنی اور کہاں کہاں مجالس قائم ہوچکی تھیں۔
    ۱۲۹۔
    حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ صدر مجلس اپنی علالت کے باعث شامل اجتماع نہ ہوسکے تھے۔
    ۱۳۰۔
    الفضل ۲۶۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش۔ تفصیلی روئداد الفضل ۱۰۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش میں چھپ گئی تھی۔
    ۱۳۱۔
    حال امیر جماعت احمدیہ ہندوستان۔
    ۱۳۲۔
    الفضل ۲۷۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۱۳۳۔
    یہاں یہ وضاحت کرنا از بس ضروری ہے کہ اخبار مذکور سول اینڈ ملٹری گزٹ کا اصل پرچہ ہمارے مطالعہ میں نہیں آسکا۔ نامہ نگار کے مضمون کے بعض حصوں کا ترجمہ اخبار پیغام صلح مجریہ ۲۱۔ ستمبر و ۸۔ اکتوبر ۱۹۴۰ء نے اپنے گمراہ کن اور مخالفانہ تبصرہ کے ساتھ شائع کیا تھا۔ متن میں مندرجہ اقتباسات اسی ترجمہ ہی سے نقل کئے گئے ہیں۔
    ۱۳۴۔
    پیغام صلح لاہور ۲۱۔ ستمبر ۱۹۴۰ء صفحہ ۲۔
    ۱۳۵۔
    رسالہ ریویو آف ریلیجنز )اردو( صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۲۔
    ۱۳۶۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ ہش تا شہادت/ اپریل ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۷۔
    ۱۳۷۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش تا شہادت/ اپریل ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۹۔
    ۱۳۸۔
    ولادت اپریل ۱۹۱۸ء میٹرک ۱۹۳۵ء۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا پھر فارمن کرسچن کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی ۱۹۳۸ء میں جبکہ آپ انڈین سکول آف مائنز دھنباد میں زیر تعلیم تھے حکومت پنجاب نے انہیں سلور جوبلی سکالر شپ ایوراڈ دیا۔
    ‏27 P: 1987 ۔15 OCTOBER POINT VIEW
    ‏MARQUIS ۔457 P: WHAT AND ۔KNOWS WHO
    ۔1954 ۔A۔S۔U ۔11 ۔CHICAGO BUILDING PUBLICATIONS
    ۱۳۹۔
    الفضل ۲۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵۔
    ۱۴۰۔
    الفضل ۲۵۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۱۴۱۔
    الفضل ۲۵۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔ قبل ازیں اس وفد نے ۶۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو سرینگر کا بھی دورہ کیا۔ وفد کا استقبال کرنے والے معززین میں احمدی صحافی مولوی عبدالواحد صاحب ایڈیٹر اخبار اصلاح )و پریذیڈنٹ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن( بھی شامل تھے۔ وفد نے ۹۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش کو جماعت احمدیہ کے وفد سے بھی ملاقات کی اور ضروری معلومات حاصل کیں۔ )اخبار اصلاح سرینگر ۱۰۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱ کالم ۳(
    ۱۴۲۔
    ان کے انگریزی الفاظ یہ تھے۔
    ‏HIM" FOR APPRECIATION AND PRAISE OF "FULL
    ۱۴۳۔
    الفضل ۲۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵ کالم ۱ و ۲۔
    ۱۴۴۔
    الفضل ۶۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔ نقشہ کی ایک کاپی خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔
    ۱۴۵۔
    الفضل ۲۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۰۔
    ۱۴۶۔
    تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد ششم صفحہ ۱۶۹- ۱۷۰۔
    ۱۴۷۔
    الفضل ۱۶۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۶ کالم ۱۔
    ۱۴۸۔
    الفضل ۱۹۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۸ کالم ۱۔
    ۱۴۹۔
    الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔ ۲۔
    ۱۵۰۔
    الفضل ۳۱۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵ کالم ۱۔
    ۱۵۱۔
    ایضاً۔
    ۱۵۲۔
    الفضل ۱۹۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۸ کالم ۱۔
    ۱۵۳۔
    الفضل ۲۰۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔ ۲۔ اس پرچہ میں اکالی کانفرنس کی مفصل روئداد شائع شدہ ہے۔
    ۱۵۴۔
    الفضل ۲۱۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔ ۸۔
    ۱۵۵۔
    بحوالہ اخبار الفضل ۶۔ فتح دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ ہش صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۱۵۶۔
    بحوالہ الفضل ۲۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش۔
    ۱۵۷۔
    بحوالہ الفضل ۲۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۱۔
    ۱۵۸۔
    بحوالہ الفضل ۸۔ صلح؟ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۱۔
    ۱۵۹۔
    اس واقعہ کی تفصیل تاریخ احمدیت جلد ششم )صفحہ ۱۶۹۔ ۱۷۱( میں موجود ہے۔
    ۱۶۰۔
    الفضل یکم احسان/ جون ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ ہش صفحہ ۵۔
    ۱۶۱۔
    بحوالہ الفضل ۲۴۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۱ کالم ۳۔ ۴۔
    ۱۶۲۔
    الفضل یکم ماہ احسان/ جون ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۵ کالم ۳۔ ۴۔
    ۱۶۳۔
    الفضل ۱۹۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴ کالم ۱۔
    ۱۶۴۔
    اصل بیان میں وادین کے درمیان کوئی لفظ نہیں تھا۔ مگر چونکہ حضرت ام المومنین کی ولادت ۱۸۶۵ء میں ہوئی اس لئے یہاں مرتب کی طرف معین عمر لکھ دی گئی ہے۔
    ۱۶۵۔
    سیرۃ حضرت سیدۃ النساء ام المومنین نصرت جہاں بیگم صفحہ ۱۹۶ تا ۱۹۸ )حصہ دوم( ناشر حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی کبیر حیدرآباد دکن۔ تاریخ اشاعت ۲۵۔ جولائی ۱۹۴۵ء )مطبوعہ انتظامی پریس حیدرآباد دکن(
    ۱۶۶۔
    مرکز احمدیت قادیان صفحہ ۴۶۱ تا ۴۶۳ مولفہ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم۔
    ۱۶۷۔
    الفضل ۲۰۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔ آپ قیام پاکستان کے بعد سرگودھا میں آباد ہوگئے تھے اور شہر میں ایک اعلیٰ معالج دندان کی حیثیت سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔ ۲۳۔ ظہور/ اگست ۱۹۶۸ء/ ۱۳۴۷ہش کو آپ کا اسی شہر میں انتقال ہوا اور اگلے روز بہشتی مقبرہ میں سپرد خاک کئے گئے۔ آپ نے گیارہ بچے اپنی یادگار چھوڑے ہیں۔ )الفضل مورخہ ۲۵۔ ۲۷۔ ظہور/ اگست ۱۹۶۸ء/ ۱۳۴۷ہش(
    ۱۶۸۔
    الفضل ۲۷۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴ کالم ۲۔ ۳۔
    ۱۶۹۔
    ایضاً۔
    ۱۷۰۔
    تاریخ احمدیت جلد ششم صفحہ ۷۸۔
    ۱۷۱۔
    الفضل ۲۴۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش۔
    ۱۷۲۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۸۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش مطبوعہ الفضل ۲۴۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔ ۴۔
    ۱۷۳۔
    الفضل ۲۱۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵۔
    ۱۷۴۔
    ابو المنیر مولوی نورالحق صاحب حال پروفیسر جامعہ احمدیہ و منیجنگ ڈائریکٹر ادارۃ المصنفین مراد ہیں۔
    ۱۷۵۔
    والد ماجد ابوالمنیر مولوی نورالحق صاحب۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہیں۔ آپ کی بیعت ۱۸۹۷ء کی ہے۔ آپ کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی متعدد کتب کی کتابت کا موقعہ ملا اور حضورؓ کو آپ کا خط بہت پسند تھا۔ )تاریخ احمدیت جلد سوم میں بھی آپ کا ذکر آچکا ہے(
    ۱۷۶۔
    تفسیر کبیر جز ششم یعنی تیسویں پارہ کی تفسیر کی کتابت کی ان کو سعادت نصیب ہوئی۔ اب وفات پاچکے ہیں۔
    ۱۷۷۔
    ان تاریخی مسودات کا اکثر و بیشتر حصہ اب بھی خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔
    ۱۷۸۔
    ابن حضرت قاضی عبدالرحیم صاحبؓ بھٹی۔ آج کل آپ راولپنڈی میں رہتے ہیں۔ عربی طرز قاعدہ یسرنا القرآن میں آپ حضرت پیر منظور محمد صاحب کے شاگرد خاص ہیں۔ حضرت پیر صاحب )معذوری کے بعد( آپ ہی سے قرآن مجید لکھوایا کرتے تھے۔
    ۱۷۹۔
    آپ ہجرت ۱۹۴۷ء کے بعد فیروزوالا ضلع گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا مکمل سیٹ جو الشرکتہ ¶الاسلامیہ ربوہ نے روحانی خزائن نمبر ۱ کے نام پر شائع کیا ہے آپ ہی نے لکھا ہے۔
    ۱۸۰۔
    ولد محمد حسین صاحب )کاتب بدر و الفضل( ۳۔ جنوری ۱۹۳۱ء سے اخبار الفضل میں کتابت کرتے آرہے ہیں۔
    ۱۸۱۔
    مولوی ابوالمنیر صاحب کا بیان ہے کہ کاتبوں کے متعلق حضور کا خاص طور پر ارشاد تھا کہ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائے تا کسی کی صحت میں نقص پیدا ہو کر کام میں روک نہ پیدا ہو جائے۔ چنانچہ رات دن ان کاتبوں کو ہر وہ چیز مہیا کی جاتی تھی جس کے وہ عادی تھے اور ہر طرح ان کی دلداری کی جاتی تھی۔
    ۱۸۲۔
    یہ کمرہ دفتر تحریک جدید قادیان کی بالائی منزل میں دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے متصل تھا اور اسی کمرہ میں تفیسر لکھنے والے کاتب کام کرتے تھے۔
    ۱۸۳۔
    الفضل ۱۹۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۳ کالم ۱۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے اس اظہار خوشنودی کی ایک عملی صورت یہ بھی فرمائی کہ قصر خلافت میں انہیں خصوصی طور پر شرف بازیابی بخشا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے اپنا ایک چوغہ پہنایا جو اب تک ان کے پاس موجود ہے۔
    ۱۸۴۔
    ‏h2] ga[t الفضل ۲۵۔ امان/ مارچ ۱۹۶۶ء/ ۱۳۴۵ہش صفحہ ۵ کالم ۱۔
    ۱۸۵۔
    ضیاء الاسلام پریس اور اللہ بخش سٹیم پریس۔
    ۱۸۶۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۳۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش مطبوعہ الفضل ۱۷۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۱۸۷۔
    الفضل ۲۷۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۳ و ۴۔
    ۱۸۸۔
    مورخہ ۴۔ ستمبر ۱۹۰۶ء۔
    ۱۸۹۔
    بدر مورخہ ۶۔ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳` الحکم ۱۰۔ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۔
    ۱۹۰۔
    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تفسیر کبیر جلد سوم نہایت ہی تنگ وقت اور عجلت میں طبع ہوئی تھی جس کی وجہ سے سورہ کہف کی آیت ثم بعثناھم لنعلم ای الحزبین احصی لما لبثوا امدا کی تفسیر جو اصل مسودہ میں موجود تھی سہو کتابت سے رہ گئی تھی۔ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۳۳ہش میں جبکہ حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعود ڈلہوزی میں قیام فرما تھے مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب نے حضور کی خدمت میں اس امر کا ذکر کیا تو حضور نے دوبارہ اس آیت کی مفصل تفسیر لکھوا دی جسے مولوی صاحب موصوف نے الفضل ۲۰۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۵ء/ ۱۳۳۴ہش صفحہ ۳ مین شائع کرا دیا۔
    ۱۹۱۔
    ۲۴۔ ۲۵/ دسمبر کی درمیانی شب مراد ہے۔
    ۱۹۲۔
    رسالہ الفرقان ربوہ۔ فضل عمر نمبر شمارہ فتح/ دسمبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش صفحہ ۶۲۔ ۶۳۔
    ۱۹۳۔
    اس کا سرورق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کا تجویز کردہ ہے جس کا اصل کاغذ خلافت لائبریری کے ریکارڈ میں اب تک محفوظ ہے۔
    ۱۹۴۔
    الفضل ۲۰۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۱۹۵۔
    الفضل ۱۶۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔ )تقریر سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ(
    ۱۹۶۔
    یاد رہے کہ انفرادی طور پر جن احمدیوں نے تفسیر کبیر کی اشاعت میں نمایاں حصہ لیا ان میں سرفہرست چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب اور دوسرے نمبر پر سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدرآبادی تھے۔
    ۱۹۷۔
    ایضاً۔
    ۱۹۸۔
    الفضل ۱۵۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۱۹۹۔
    الفضل ۱۵۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۲۰۰۔
    مورخہ ۲۸۔ امان/ مارچ ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش۔
    ۲۰۱۔
    یہ کرنیل بھی تھے )الفضل ۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۹ء/ ۱۳۳۸ہش صفحہ ۷ کالم ۱۔
    ۲۰۲۔
    رپورٹ مجلس مشاورت منعقدہ ۳۰۔ ۳۱۔ مارچ/ امان و یکم شہادت/ اپریل ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۳۹۔ ۴۰۔
    ۲۰۳۔
    الفضل ۱۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۶ء/ ۱۳۳۵ہش صفحہ ۳ کالم ۴۔
    ۲۰۴۔
    الفضل ۱۶۔ صلح ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۲۔ ۳۔
    ۲۰۵۔
    معترضین نے ان دنوں تفسیر کبیر پر اعتراضات شائع کئے۔ ان کے جواب میں مندرجہ ذیل علماء نے قلم اٹھایا اور نہایت مدلل مضامین شائع کئے۔ مولانا جلال الدین صاحب شمس` مولانا ابوالعطاء صاحب` مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب` مولانا محمد شریف صاحب فاضل مبلغ بلاد عربیہ` مولانا ابوالمنیر صاحب کا جواب الفضل میں کئی قسطوں میں شائع ہوا۔ جس پر مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے گھبرا کر یہ تبصرہ کیا کہ قادیانی پارٹی نے اس کے جواب میں ایک سلسلہ مضمون بظاہر ایک نوجوان کے نام سے شروع کیا ہوا ہے۔ )ہفت روزہ اہلحدیث ۲۸۔ نومبر ۱۹۴۱ء صفحہ ۴(
    ۲۰۶۔
    حال پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ربوہ و ناظر تعلیم صدر انجمن احمدیہ ربوہ۔
    ۲۰۷۔
    فہرست کا پورا نام تفسیر کیر جلد ۳ تالیف منیف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ کا انڈیکس ناشر جماعت احمدیہ لاہور۔
    ۲۰۸۔
    تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ ۱۴۵۔ تفسیر کبیر )سورۃ الفجر( صفحہ ۴۸۳۔ ۴۸۴۔
    ۲۰۹۔
    رپورٹ سالانہ صیغہ جات صدر انجمن احمدیہ یکم ہجرت/ مئی ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش لغایت۔ ۳۰۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش مرتبہ چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔ اے ناظر اعلیٰ ناشر صدر انجمن احمدیہ قادیان صفحہ ۸۔
    ۲۱۰۔
    ان سب جلدوں کی کتابت مکرم قاضی نور محمد صاحب کاتب مرحوم نے کی۔
    ۲۱۱۔
    ان نوٹوں کے سنانے کی سعادت مکرم ابوالمنیر نورالحق صاحب کو ملی۔
    ۲۱۲۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں تفسیر کبیر )پارہ عم( کی پہلی تین جلدیں دفتر تحریک جدید نے شائع کیں مگر چوتھی جلد ام طاہرؓ طاہر ٹرسٹ کے لئے الشرکتہ الاسلامیہ ربوہ کی نگرانی میں طبع ہوئی۔
    ۲۱۳۔
    ‏h2] g[ta )اقتباس از مکتوب حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ محررہ ۳۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش۔
    ۲۱۴۔
    اس جلد کی کتابت مکرم منشی عبدالحق صاحب نے کی۔ صرف آخری ایک رکوع مکرم قاضی نور محمد صاحب نے لکھا۔
    ۲۱۵۔
    یہ پریس تحریک جدید نے انجمن سے خرید لیا تھا۔ چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۲۸۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/۱۳۲۳ہش کی تقریر میں فرمایا۔ دو مہینے کی بات ہے کچھ کاپیاں ایک پریس پر لگائی گئیں تو وہ سب کی سب اڑ گئیں۔ اب میں نے تحریک جدید کی طرف سے ایک پریس خرید لیا ہے ار دس ہزار روپیہ اس پر صرف آیا ہے۔ انشاء اللہ جنوری میں فٹ ہوکر تفسیر کی چھپوائی شروع ہو جائے گی۔ )الفضل ۲۵۔ صلح ۱۳۲۴ہش )۲۵۔ جنوری ۱۹۴۵ء( صفحہ ۲ کالم ۳(
    ۲۱۶۔
    الفضل یکم امان/ مارچ ۱۹۴۵ء/۱۳۲۴ہش صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۲۱۷۔
    تفسیر کبیر کی یہ پانچوں جلدیں )باستثناء سورۃ مریم( حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ کے درسوں اور نوٹوں سے مرتب ہوئیں اور حضور نے مکرم مولوی محمد یعقوب صاحب مرحوم اور ابوالمنیر نورالحق صاحب سے ان نوٹوں کو سنا اور ان میں تصحیح و ترمیم فرمائی۔
    ۲۱۸۔
    تفسیر کبیر جلد ششم جزو چہارم نصف اول سورۃ الفجر صفحہ ۴۸۴۔ ۴۵۸۔
    ۲۱۹۔
    الفضل ۱۱۔ وفا/ جولائی ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش )تقریر فرمودہ سالانہ جلسہ ۱۹۴۵ء/۱۳۲۴ہش(
    ۲۲۰۔
    تفسیر کبیر )سورۃ مریم( صفحہ ۳۲۲۔ ۳۲۳۔
    ۲۲۱۔
    تفسیر کبیر )سورۃ الشعراء( صفحہ ۴۸۳ کالم ۱۔
    ۲۲۲۔
    بطور مثال ملاحظہ ہو سورہ یوسف کی تفسیر۔
    ۲۲۳۔
    تفسیر کبیر جلد سوم۔
    ۲۲۴۔
    تفسیر کبیر )سورۃ الفجر( صفحہ ۵۲۹۔
    ۲۲۵۔
    تفسیر کبیر )سورۃ الفجر( صفحہ ۵۴۸۔
    ۲۲۶۔
    تفسیر کبیر )سورۃ الفلق( صفحہ ۱۸۹ کالم ۲۔
    ۲۲۷۔
    تفسیر کبیر )سورۃ النمل( صفحہ ۱۴۸۔
    ۲۲۸۔
    تفسیر کبیر )سورۃ الانبیاء( صفحہ ۵۷۶ تا ۵۷۹۔
    ۲۲۹۔
    تفسیر کبیر )سورۃ التطفیف( صفحہ ۳۰۷۔
    ۲۳۰۔
    تفسیر کبیر جلد سوم )سورۃ ابراہیم( صفحہ ۴۴۴ کالم ۲۔
    ۲۳۱۔
    مجلتہ الجامعہ ربوہ شمارہ ۹ صفحہ ۶۳۔ ۶۴۔ ۶۵۔
    ۲۳۲۔
    ان لاجواب مضامین کا مجموعہ ملاحظات نیاز فتح پوری کے نام سے اس سال زیر طبع ہے جو مولوی محمد اجمل صاحب ایم اے شاہد مربی سلسلہ احمدیہ کراچی نے مرتب کیا ہے اور ناصر بک سنٹر فیڈرل بازار کراچی نمبر ۳۸ کی طرف سے شائع ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ )یہ سطور ماہ نبوت ۱۳۴۷ہش کے آغاز میں لکھی جارہی ہیں۔ مرتب(
    ۲۳۳۔
    الفضل ۱۷۔ نومبر ۱۹۶۳ء صفحہ ۳ کالم ۴۔
    ۲۳۴۔
    مجلہ الجامعہ ربوہ شمارہ ۹ صفحہ ۶۳۔ ۶۴۔ ۶۵۔
    ۲۳۵۔
    تاریخ ولادت ۱۵۔ ستمبر ۱۹۱۷ء۔ ۶۵۔ ۱۹۶۴ء/ ۴۴۔ ۱۳۴۳ہش میں عثمانیہ یونیورسٹی سے بی۔ ایڈ کی تکمیل کی۔ ۲۶۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۶ء/ ۱۳۴۵ہش کو صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی تحریک پر مستقل طور پر قادیان ہجرت کرکے آگئے۔ ۳۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۸ء/ ۱۳۴۷ہش کو حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثالث حضرت حافظ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر صدر انجمن احمدیہ کے مشیر قانونی مقرر کئے گئے اور اب تک اسی منصب پر فائز ہیں۔ اس کے علاوہ حضور ایدہ اللہ کی اجازت سے صلح/ جنوری ۱۹۶۸ء/ ۱۳۴۷ہش سے مشرقی پنجاب میں وکالت بھی کررہے ہیں۔
    ۲۳۶۔
    بحوالہ الفضل ۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش۔
    ۲۳۷۔
    بحوالہ الفضل ۲۳۔ احسان/ جون ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش صفحہ ۳ و ۴۔
    ۲۳۸۔
    الفضل ۲۴۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴۔۵۔
    ۲۳۹۔
    الفضل مورخہ ۱۴۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۲۲ و ۲۳۔
    ۲۴۰۔
    خطبہ کا عنوان تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے متعلق خداتعالیٰ آنحضرت~صل۱`~ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خود مولوی محمد علی صاحب کی شہادت۔ )الفضل ۱۸۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۳(
    ۲۴۱۔
    پیغام صلح ۱۲۔ جولائی ۱۹۴۱ء صفحہ ۵۔ ۶۔
    ۲۴۲۔
    الفضل ۲۶۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۶۔
    ۲۴۳۔
    الفضل ۱۶۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۴ کالم ۴۔
    ۲۴۴۔
    الفضل ۲۶۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۶ کالم ۳ و ۴۔
    ۲۴۵۔
    پیغام صلح ۸۔ اگست ۱۹۴۱ء صفحہ ۶ کالم ۱۔
    ۲۴۶۔
    الفضل ۱۴۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۲۳۔
    ۲۴۷۔
    اخبار پیغام صلح ۲۱۔ نومبر ۱۹۴۱ء صفحہ ۵ کالم ۱۔
    ۲۴۸۔
    الفضل ۱۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۵۔۶۔
    ۲۴۹۔
    پیغام صلح ۸۔ دسمبر ۱۹۴۱ء صفحہ ۵ کالم ۱۔ ۲۔
    ۲۵۰۔
    اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعودؑ پر قادیان میں ہجرت کرکے آنے والے احمدیوں کی نسبت الہام ہوا اصحاب الصفہ وما ادرک ما اصحاب الصفہ تری اعینھم تفیض من الدمع یصلون علیک اس الہام کی تشریح حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے قلم سے یہ فرمائی کہ خداتعالیٰ نے انہی اصحاب الصفہ کو تمام جماعت میں سے پسند کیا اور جو شخص سب کو چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ تمنا دل میں نہیں رکھتا اس کی حالت کی نسبت مجھ کو بڑا اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے اور یہ ایک پیشگوئی عظیم الشان ہے اور ان لوگوں کی عظمت ظاہر کرتی ہے کہ جو خداتعالیٰ کے علم میں تھے کہ وہ اپنے گھروں اور وطنوں اور املاک کو چھوڑ دیں گے اور میری ہمسائیگی کے لئے قادیان میں آکر بودوباش رکھیں گے۔ )تریاقالقلوب طبع اول صفحہ ۶۰(
    ۲۵۱۔
    الفضل ۲۱۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۵` ۶` ۷۔
    ۲۵۲۔
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں۔ مولوی صاحب کے یہ الفاظ جب شائع ہوئے تو یہاں کے لوگوں نے ان کے خلاف احتجاج کے لئے جلسہ کرنا چاہا اور مجھ سے اس کے لئے اجازت طلب کی۔ مگر میں نے کہا۔ ہرگز نہیں یہ حملہ تم پر ہوا ہے۔ پس یہ بات وقار کے خلاف ہے کہ تم ہی اس کا جواب بھی دو۔ رسول کریم~صل۱~ نے فرمایا ہے کہ مومن مومن بھائی ہوتے ہیں جب ایک پر حملہ ہو تو دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اس وقت باہر کی جماعتوں کے اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کا جواب دیں اور تم چپ رہو۔ ہاں جب ان پر حملہ ہو تو اس وقت تمہارا فرض ہے کہ جواب دو۔ )الفضل ۱۶۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۵(
    ۲۵۳۔
    الفضل ۱۶۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۵۔
    ۲۵۴۔
    الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۳۔
    ۲۵۵۔
    الفضل ۱۶۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۴۔
    ۲۵۶۔
    الفضل ۱۶۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۴۔
    ۲۵۷۔
    الفضل ۱۴۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۲۵۸۔
    الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۴۔
    ۲۵۹۔
    آپ ۱۷۔ اکتوبر ۱۹۵۱ء سے ۶۔ اگست ۱۹۵۵ء تک پاکستان کے گورنر جنرل رہے۔
    ۲۶۰۔
    گورنر بنک دولت پاکستان۔
    ۲۶۱۔
    پہلے سرگودھا ڈویژن کے کمشنر رہے۔ اس کے بعد ملتان ڈویژن کے کمشنر بنے اور اب ریونیو بورڈ حکومت مغربی پاکستان کے ممبر ہیں۔ )روزنامہ الفضل قادیان یکم صلح/ جولائی ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش(
    ۲۶۲۔
    الفضل ۲۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۲۶۳۔
    الفضل ۶۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔
    ۲۶۴۔
    الفضل ۱۲۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴۔
    ۲۶۵۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۷۸۔
    ۲۶۶۔
    الفضل ۱۲۔ امان/ مارچ ۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴۔ ۵۔
    ۲۶۷۔
    ایضاً۔
    ۲۶۸۔
    الفضل ۱۵۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶۔
    ۲۶۹۔
    الفضل ۱۹۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۳۔
    ۲۷۰۔
    الفضل ۱۹۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲` الفضل ۲۲۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴۔
    ۲۷۱۔
    کتابچہ واذ الصحف نشرت صفحہ ۳۳` ۳۴ مرتبہ مکرم عبدالعظیم صاحب درویش قادیان منیجر احمدیہ بکڈپو قادیان۔
    ۲۷۲۔
    الفضل ۱۹۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۲۷۳۔
    الفضل ۱۰۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۲۷۴۔
    آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۶۲۲۔
    ۲۷۵۔
    ملاحظہ ہو اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام بعنوان جلسہ احباب صفحہ ۳۰۶ )روحانی خزائن نمبر ۱ جلد ۱۲( نوٹ۔ تبلیغرسالت جلد ششم میں جلسہ احباب کے مہمانوں کی فہرست حذف کر دی گئی ہے۔
    ۲۷۶۔
    اصحاب احمد جلد سیز دہم صفحہ ۸۸ )مولفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے(
    ۲۷۷۔
    الفضل ۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔
    ۲۷۸۔
    الفضل ۱۲۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۲۷۹۔
    مزید تفصیل حضرت ماسٹر عبدالرئوف صاحب کا مضمون ¶مطبوعہ الحکم ۷` ۲۱۔ اپریل ۱۹۳۹ء میں ملاحظہ ہو۔
    ۲۸۰۔
    الفضل ۱۶۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۲۸۱۔
    الفضل ۲۰۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔ تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۷۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴ تا ۶` نیز الفضل ۱۹۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔ ۴۔
    ۲۸۲۔
    الفضل ۱۰۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔ ۲۔
    ۲۸۳۔
    الفضل ۴۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶ کالم ۱۔ ۲۔
    ۲۸۴۔
    الفضل ۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۲۸۵۔
    الفضل ۳۰۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۲۸۶۔
    الفضل ۲۳۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۲۸۷۔
    ۲۵۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۲۸۸۔
    الفضل ۳۰۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۲۸۹۔
    لاہور تاریخ احمدیت صفحہ ۸۷ مولفہ مولانا شیخ عبدالقادر صاحبؓ ) فاضل سوداگر مل( طابع و ناشر شیخ عبدالشکور صاحب مسجد احمدیہ بیرون دہلی دروازہ لاہور )حال مکان نمبر ۵ گلی نمبر ۲۰ سلطان پورہ جناح پارک لاہور(
    ۲۹۰۔
    حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام مولف براہین احمدیہ کے مختصر حالات مشمولہ براہین احمدیہ بار چہارم صفحہ ف۔
    ۲۹۱۔
    لاہور تاریخ احمدیت صفحہ ۹۱ پر آپ کی بیعت کا یہ اندازہ درج ہے کہ آپ نے حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغلؓ سے آٹھ دن پہلے کی تھی مگر یہ صحیح نہیں ہے وجہ یہ کہ حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغلؓ کی تاریخ بیعت ۱۰۔ جنوری ۱۸۹۲ء ہے۔ )ملاحظہ ہو بیعت کا قدیم رجسٹر(
    ۲۹۲۔
    یہ مسجد محلہ پختہ باغ کے چوک میں واقع تھی۔
    ۲۹۳۔
    الفضل ۲۰۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶ کالم ۳۔ ۴۔
    ۲۹۴۔
    الفضل ۲۲۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۲۹۵۔
    الفضل ۸۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۲۹۶۔
    الفضل ۸۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۲۹۷۔
    الفضل ۸۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۲۹۸۔
    ان کی بیعت کا ذکر الحکم ۲۴۔ اگست ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۶ کالم ۲ میں موجود ہے۔
    ۲۹۹۔
    الحکم ۷۔ ۲۸۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۱۹۔ ۲۰` الحکم ۷۔ ۲۸۔ احسان/ جون ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۸ میں آپ کا مفصل حالات شائع ہوچکے ہیں۔
    ۳۰۰۔
    الفضل ۲۴۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۰۱۔
    ۳۱۳ اصحاب کی فہرست میں آپ کا نام نامی ۵۲ نمبر پر درج ہے۔
    ۳۰۲۔
    رجسٹر روایات صحابہ جلد ۳ صفحہ ۱۳۴۔
    ۳۰۳۔
    رجسٹر روایات صحابہ جلد سوم صفحہ ۱۳۵۔
    ۳۰۴۔
    اس خط کا چربہ اگلے صفحہ پر دیا گیا ہے۔
    ۳۰۵۔
    الفضل ۲۴۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۰۶۔
    الفضل ۱۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۴۔
    ۳۰۷۔
    الفضل ۲۶۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۵ کالم ۳۔
    ۳۰۸۔
    الفضل ۱۷۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۶۔
    ۳۰۹۔
    الفضل ۱۲۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۱۰۔
    الفضل ۲۸۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۱۱۔
    الفضل ۷۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۱۲۔
    الفضل ۹۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۱۳۔
    ۲۵۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔ شیخ عطا محمد صاحب نے تین بیٹے اپنی یادگار چھوڑے۔
    )۱( شیخ اعجاز احمد صاحب۔ )۲( شیخ امتیاز احمد صاحب۔ )۳( شیخ مختار احمد صاحب۔
    ۳۱۴۔
    الفضل ۲۵۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۱۵۔
    پہلے آپ کا نام عبدالرب تھا جو حضرت خلیفہ ثانیؓ نے ایک رویاء کی بناء پر بدل دیا اور یہ نیا نام رکھا۔ ۰الفضل ۲۴۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱(
    ۳۱۶۔
    الفضل ۲۴۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱ کالم ۲۔
    ۳۱۷۔
    الفضل ۱۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش۔
    ۳۱۸۔
    الفضل ۱۹۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش۔
    ۳۱۹۔
    الفضل ۲۸۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش۔
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ۳۲۰۔
    الفضل ۱۰۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۲۱۔
    الفضل ۱۴۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۸۔ ۹۔
    ۳۲۲۔
    الفضل ۱۰۔ جنوری/ صلح ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش۔
    ۳۲۳۔
    الفضل ۱۴۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۲۴۔
    الفضل ۱۳۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔
    ۳۲۵۔
    الفضل ۲۵۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵ کالم ۳۔ ۴۔
    ۳۲۶۔
    تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو فاروق ۱۴۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۳۲۷۔
    الفضل ۲۷۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۳۲۸۔
    فاروق قادیان ۲۸۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۸۔
    ۳۲۹۔
    الحکم ۱۴/ ۷ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۳۰۔
    جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ یہ توسیع میعاد کی صورت نہیں تھی بلکہ اسی عہدہ پر پانچ سال کے لئے دوبارہ تقرر تھا۔
    ۳۳۱۔
    انقلاب لاہور )۱۴۔ مارچ ۱۹۴۰ء( بحوالہ الفضل ۱۵۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش۔
    ۳۳۲۔
    الفضل ۲۴۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۳۳۳۔
    یہ وہی ملک غلام محمد صاحب ہیں جو قیام پاکستان کے بعد پہلے مرکزی حکومت کے وزیر خزانہ رہے پھر گورنر جنرل کے عہدہ پر ممتاز ہوئے۔
    ۳۳۴۔
    فاروق ۲۸۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۳۳۵۔
    الفضل ۲۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔ ۲۔
    ۳۳۶۔
    الفضل ۱۲۔ مئی/ ہجرت ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶۔ یہ مسجد انڈین کارپوریشن لمیٹڈ کے افسروں نے کمپنی کے خرچ پر بنوا کر دی تھی۔
    ۳۳۷۔
    الفضل ۲۱۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲` الفضل ۲۳۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش۔
    ۳۳۸۔
    الفضل ۲۵۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۳۳۹۔
    الفضل ۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۳۴۰۔
    الفضل ۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۳۴۱۔
    الفضل ۵۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۳۴۲۔
    الفضل ۲۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴ کالم۳۔
    ۳۴۳۔
    اہلحدیث ۳۔ شعبان المعظم ۱۳۵۹ہجری مطابق ۶۔ ستمبر ۱۹۴۰ء صفحہ ۸۔
    ۳۴۴۔
    الفضل ۱۵۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۳۴۵۔
    الفضل ۱۲۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔
    ۳۴۶۔
    الفضل ۱۲۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۳۴۷۔
    الفضل ۲۹۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۳۴۸۔
    الفضل ۶` ۱۶۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۳۴۹۔
    الفضل ۱۸۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔ )حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے خصوصاً بہت معاونت فرمائی(
    ۳۵۰۔
    الفضل ۱۴۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۲ء/ ۱۳۲۱ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔ ۴۔
    ۳۵۱۔
    الفضل ۳۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴۔
    ۳۵۲۔
    الفضل ۱۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵۔
    ۳۵۳۔
    الفضل ۱۶۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۷ کالم ۲۔
    ۳۵۴۔ ][ الفضل ۱۷۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۳۵۵۔
    دیباچہ مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے صفحہ ۱ و ۲۔
    ۳۵۶۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء صفحہ ۱۵۳ و ۱۵۴۔
    ۳۵۷۔
    آپ کی وفات پر جن بزرگان سلسلہ نے تعزیت نامے لکھے۔ ان میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب مبلغ انگلستان و امریکہ` حضرت مولوی محمد دین صاحب ہیڈماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول` ملک خدابخش صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ لاہور` ملک عبدالرحمن صاحب خادم` پیر اکبر علی صاحب ایم۔ بی۔ ای` ایم۔ ایل۔ اے ایڈووکیٹ فیروزپور اور میر محمد بخش صاحب پلیڈر امیر جماعت احمدیہ گوجرانوالہ کے اسماء قابل ذکر ہیں۔ مرحوم کا جنازہ بھی میر محمد بخش صاحب نے پڑھایا تھا۔
    ۳۵۸۔
    ملاحظہ ہو مضمون ملک مبارک احمد خاں صاحب ایمن آبادی مطبوعہ الفضل ۳۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۷ کالم ۲۔
    ۳۵۹۔
    اتھرووید کانڈ نمبر ۲۰ سوکت ۵۰ منتر ۱۔ ۲ نیز سوکت ۶۷ منتر ۱۔ ۲۔ ۳` سوکت ۱۱۵ منتر ۱` سوکت نمبر ۱۳۷ منتر ۷` سوکت ۹۷ منتر ۳` سوکت نمبر ۷۳ منتر ۶۔
    ۳۶۰۔
    ‏]2h [tag الفضل ۱۲۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲۔
    ۳۶۱۔
    بلدیہ گڑھ ضلع پوری اڑیسہ میں بابو بیراگی چرن مصر صاحب نے جلسہ عام میں تسلیم کیا کہ وید میں احمد اور قادیان کا ذکر ہے مگر ساتھ ہی عذر کیا کہ ابھی کلجگ پورا نہیں ہوا تو اوتار کیسے آسکتا ہے۔ )الفضل ۱۲۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۳( پروفیسر عبداللہ ناصر الدین صاحب نے الفضل )۱۸۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش میں یہ جواب دیا کہ حضرت کرشن نے گیتا میں خود ہی فیصلہ فرما دیا ہے کہ لبھوای یگے یگے یعنی کرشن یگ کے دوران میں آتا ہے نہ کہ یگ کے خاتمہ پر! )اس سلسلہ میں پروفیسر صاحب کے ایک اہم مضمون کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۱۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۳ تا ۵(
    ۳۶۲۔
    حضرت میر صاحب نے اپنے دیباچہ میں لکھا میرے نزدیک یہ بحث ہمارے نقطہ نگاہ سے کوئی اصولی بحث نہیں ہے اگر اتھرو وید میں احمد کا نام یا قادیان کا لفظ ثابت نہ ہو تو اس سے ہمیں کوئی نقصان نہیں۔ قادیان کی اہمیت یا احمد کی صداقت خود ان کے وجود سے ظاہر ہورہی ہے۔ اگر اتھرو ویدان کے ذکر سے خالی ہو تو کیا مضائقہ؟ لیکن اگر یہ دونوں نام اتھرووید میں ثابت ہو جائیں تو آریوں پر بے شک یہ بڑی حجت ہے کیونکہ اگر ان کی الہامی کتاب احمد کے ذکر اور قادیان کے نام پر مشتمل ہو تو ان کا فرض ضرور ہے کہ وہ ان کی صداقت کے قائل ہو جائیں۔ )رسالہ ویدوں میں احمد اور قادیان صفحہ ۲۔ ۳(
    ۳۶۳۔
    الفضل ۹۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶۔
    ۳۶۴۔
    الفضل ۳۱۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶۔
    ۳۶۵۔
    الفضل ۱۹۔ جون/ احسان ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۲` ایضاً الفضل ۲۶۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵۔
    ۳۶۶۔
    ‏h2] g[ta الفضل ۲۵۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶ و ۷۔
    ۳۶۷۔
    الفضل ۱۰۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵ کالم ۴۔
    ۳۶۸۔
    الفضل ۱۰۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵ کالم ۱ و ۲۔
    ۳۶۹۔
    الفضل ۹۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۶۔
    ۳۷۰۔
    الفضل ۲۳۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۵ کالم ۲۔ ۳۔
    ۳۷۱۔
    عبدالرحمن صاحب مغل سیکرٹری تبلیغ حلقہ دہلی دروازہ لاہور نے اس مباحثہ کی مفصل روئیداد ۲۹۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش میں شائع کرا دی تھی۔
    ۳۷۲۔
    ولادت ۲۰۔ اپریل ۱۸۹۲ء۔ ۱۶۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش سے اخبار الفضل کی ادارت کے فرائض ادا کررہے ہیں۔ آپ کی تالیفات صور اسرافیل )ابتدائی دینی نظموں کا مجموعہ( >اسلام میں ارتداد کی سزا< اس کے علاوہ >الامام المہدی< اور >الجہاد< کے عنوان سے آپ کے معرکتہ الاراء مضامین رسالہ ریویو آف ریلیجنز اردو میں شائع ہوئے۔
    ۳۷۳۔
    ان کا نام سکینہ بی بی ہے۔
    ۳۷۴۔
    الفضل ۱۵۔ امان/ مارچ ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۴۔ ۵۔
    ۳۷۵۔
    الفضل ۲۱۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش صفحہ ۱۲ کالم ۲۔
    ‏tav.8.12
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    اشاعت احمدیت کی خصوصی تحریک سے واقعہ ڈلہوزی تک
    دوسرا باب )فصل اول(
    اشاعت احمدیت کی خصوصی تحریک سے لے کر
    واقعہ ڈلہوزی تک
    خلافت ثانیہ کا اٹھائیسواں سال
    )ذی الحجہ ۱۳۵۹ھ جنوری ۱۹۴۱ء/ صلح ۱۳۲۰ہش تا ذی الحجہ ۱۳۶۰ھ دسمبر ۱۹۴۱ء/ فتح ۱۳۲۰ہش(
    ‏]ydob [tag
    صحابہ کرام کو اشاعت احمدیت کے لئے سرگرم عمل ہونے کی تحریک
    ۳۔جنوری ۱۹۴۱ء/ صلح ۱۳۲۰ہش کو سال کا پہلا جمعہ تھا جس کے خطبہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے سال نو کا پروگرام رکھتے ہوئے صحابہ مسیح موعودؑ کو تلقین فرمائی کہ وہ احمدیت کی عمارت کو دنیا میں مضبوط و مستحکم بنانے کے لئے ہر ممکن جدوجہد سے کام لیں۔ چنانچہ حضور نے فرمایا۔
    >ہر دن اور ہر رات ہمیں موت کے قریب کرتی جارہی ہے اور صحابیوں کے بعد جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دیکھا یہ کام تابعین کے ہاتھ میں اور پھر ان کے بعد تبع تابعین کے ہاتھوں میں جائے گا۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ آئندہ احمدی ہونے والے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نہیں دیکھا وہ یہ تو کہہ سکیں کہ ہم نے آپ کے دیکھنے والوں کو دیکھا یا یہ کہ آپ کے دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔ پس جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دیکھا ان کی زندگیاں بہت قیمتی ہیں اور جتنا کام وہ کرسکتے ہیں دوسرے نہیں کرسکتے` اس لئے ان کو کوشش کرنی چاہئے کہ مرنے سے قبل احمدیت کو مضبوط کردیں تا دنیا کو معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے صحابہ نے ایسی محنت سے کام کیا کہ احمدیت کو دنیا میں پھیلا کر مرے<۔۱
    حضرت امیرالمومنینؓ کا خطاب خدام الاحمدیہ کے تیسرے سالانہ اجتماع پر
    خدام الاحمدیہ کا تیسرا سالانہ اجتماع ۶۔ فروری ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش کو مسجد اقصیٰ میں منعقد ہوا۔۲ جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے نماز ظہر
    کے بعد ایک نہایت ایمان افروز خطاب فرمایا اور نوجوانان احمدیت کوخاص طورپر اسطرف توجہ دلائی کہ۔
    >۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے کہ اپنی زندگیوں میں اسلامی تعلیم کا کامل نمونہ پیش کرکے` توڑ دو اس تہذیب اور تمدن کی عمارت کو جو اس وقت دنیا میں اسلام کے خلاف کھڑی ہے` ٹکڑے ٹکڑے کردو اس قلعہ کو جو شیطان نے اس میں بنالیا ہے اسے زمین کے ساتھ لگا دو بلکہ اس کی بنیادیں تک اکھیڑ کر پھینک دو اور اس کی جگہ وہ عمارت کھڑی کرو جس کا نقشہ محمد رسول اللہ~صل۱~ نے دنیا کو دیا ہے۔ یہ کام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا تھا اور اس کام کی اہمیت بیان کرنے کے لئے کسی لمبی چوڑی تقریر کی ضرورت نہیں ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کے جس گوشہ میں ہم جائیں` دنیا کی جس گلی میں سے ہم گزریں` دنیا کے جس گائوں میں ہم اپنا قدم رکھیں وہاں ہمیں جو کچھ اسلام کے خلاف نظر آتا ہے اپنے نیک نمونہ سے اسے مٹاکر اس کی جگہ ایک ایسی عمارت بنانا جو قرآن کریم کے بنائے ہوئے نقشہ کے مطابق ہو ہمارا کام ہے۔ پس تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا چلن اور تمہارا طور اور تمہارا طریق ¶اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشا کو پورا کرنے والا ہوسکتا ہے جبکہ تم دنیا میں خدانما وجود بنو اور اسلام کی اشاعت کے لئے کفر کی ہر طاقت سے ٹکر لینے کے لئے تیار رہو<۔۳
    سفر سندھ
    حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ اس سال بھی سندھ تشریف لے گئے۔ حضور ۲۱۔ اپریل/ شہادت۴ کو روانہ ہوئے اور ۲۱۔ مئی/ ماہ ہجرت کو واپس قادیان دارلامان میں تشریف لائے۔۵ حضور اس سفر کے دوران ۴۔ مئی ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش کو معہ اہل بیت بذریعہ کار ناصرآباد سے کراچی تشریف لے جارہے تھے کہ پتھورو اسٹیشن کے راستہ میں کار کو ایک خطرناک حادثہ پیش آیا۔ مگر حضور معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔۶
    حضرت امیرالمومنینؓ کی آل انڈیا ریڈیو سٹیشن سے حالات عراق کی نسبت تقریر
    دوسری جنگ عظیم کے دوران مشہور مسلم مملکت عراق کو ایک نئی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں شیخ رشید علی جیلانی اور ان کے ساتھیوں
    نے شورش برپا کردی جس پر مسلمانان عالم نے سخت نفرت و حقارت کا اظہار کیا۔ شیخ رشید علی کے طرز عمل سے نازی طاقتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور عالم اسلام کے مقدس ترین مقامات خطرہ میں گھر گئے۔ ان حالات میں حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے خاموش رہنا گوارا نہ فرمایا اور ۲۵۔ مئی ۱۹۹۴۱ء/ ہجرت ۱۳۲۰ہش کو آٹھ بجکر پچاس منٹ پر لاہور ریڈیو سٹیشن سے >عراق کے حالات پر تبصرہ< کے عنوان سے ایک اہم تقریر فرمائی جسے دہلی اور لکھنو کے سٹیشنوں نے بھی نشر کیا۔ اس تقریر کا متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    ‏body] ga>[tعراق کی موجودہ شورش دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بھی اور ہندوستانیوں کے لئے بھی تشویش کا موجب ہورہی ہے۔ عراق کا دارالخلافہ بغداد اور اس کی بندرگاہ بصرہ اور اس کے تیل کے چشموں کا مرکز موصل ایسے مقامات ہیں جن کے نام سے ایک مسلمان بچپن ہی سے روشناس ہو جاتا ہے۔ بنو عباس کی حکومت علوم و فنون کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے طبعاً مسلمانوں کے لئے خوشکن یادگار ہے لیکن الف لیلہ جو عربی علوم کی طرف توجہ کرنے والے بچوں کی بہترین دوست ہے اس نے تو بغداد اور بصرہ اور موصل کو ان سے اس طرح روشناس کر رکھا ہے کہ آنکھیں بند کرتے ہی بغداد کے بازار اور بصرہ کی گلیاں اور موصل کی سڑکیں ان کے سامنے اس طرح آکھڑی ہوتی ہیں گویا کہ انہوں نے ساری عمر انہی میں بسر کی ہے۔ میں اپنی نسبت تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ بچپن میں بغداد اور بصرہ مجھے لنڈن اور پیرس سے کہیں زیادہ دلکش نظر آیا کرتے تھے کیونکہ اول الذکر میرے علم کی دیواروں کے اندر بند تھے اور ثانی الذکر میری قوت واہمہ کے ساتھ تمام عالم میں پرواز کرتے نظر آتے تھے۔ جب ذرا بڑے ہوئے تو علم حدیث نے امام احمد بن حنبل~رح~ کو فقہ نے امام ابوحنیفہ~رح~ اور امام یوسف~رح~ کو تصوف نے جنید` شبلی اور سید عبدالقادر جیلانی~رح~ کو تاریخ نے` عبدالرحمن بن قیم~رح~ کو علم تدریس نے نظام الدین طوسی~رح~ کو ادب نے` مبرو~رح~۔ سیبویہ~رح~۔ جریر~رح~ اور فرزدق~رح~ کو سیاست نے ہارون۔ مامون اور ملک شاہ جیسے لوگوں کو جو اپنے اپنے دائرہ میں یادگار زمانہ تھے اور ہیں ایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے لاکر اس طرح کھڑا کیا کہ اب تک ان کے کمالات کے مشاہدہ سے دل امید سے پر ہیں اور افکار بلند پروازیوں میں مشغول۔
    ان کمالات کے مظہر اور دلکشیوں کے پیدا کرنے والے عراق میں فتنہ کے ظاہر ہونے پر مسلمانوں کے دل دکھے بغیر کس طرح رہ سکتے ہیں` کیا ان ہزاروں بزرگوں کے مقابر جو دینوی نہیں روحانی رشتہ سے ہمارے ساتھ منسلک ہیں ان پر بمباری کا خطرہ ہمیں بے فکر رہنے دے سکتا ہے؟ عراق سنی اور شیعہ دونوں کے بزرگوں کے مقدس مقامات کا جامع ہے۔ وہ مقام کے لحاظ سے بھی اسلامی دنیا کے قلب میں واقع ہے۔ پس اس کا امن ہر مسلمان کا مقصود ہے۔ آج وہ امن خطرہ میں پڑ رہا ہے اور دنیا کے مسلمان اس پر خاموش نہیں رہ سکتے اور خاموش نہیں ہیں۔ دنیا کے ہر گوشہ کے مسلمان اس وقت گھبراہٹ ظاہر کررہے ہیں اور ان کی یہ گھبراہٹ بجا ہے کیونکہ وہ جنگ جس کے تصفیئے کی افریقہ کے صحراء میڈیٹیرینین کے سمندر میں امید کی جاتی تھی اب وہ مسلمانوں کے گھروں میں لڑی جائے گی۔ اب ہماری مساجد کے صحن اور ہمارے بزرگوں کے مقابر کے احاطے اس کی آماجگاہ بنیں گے اور یہ سب کو معلوم ہو ہے کہ جرمنوں نے جن ملکوں پر قبضہ جما رکھا ہے ان کی کیا حالت ہورہی ہے۔ اگر شیخ رشید علی جیلانی اور ان کے ساتھی جرمنی سے ساز باز نہ کرتے تو اسلامی دنیا کے لئے یہ خطرہ پیدا نہ ہوتا۔
    اس فتنہ کے نتیجہ میں ٹرکی گر گیا ہے ایران کے دروازہ پر جنگ آگئی ہے` شام جنگ کا راستہ بن گیا ہے` عراق جنگ کی آماجگاہ ہوگیا ہے افغانستان جنگ کے دروازہ پر آکھڑا ہوا ہے اور سب سے بڑا خطرہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ مقامات جو ہمیں ہمارے وطنوں ہماری جانوں اور ہماری عزتوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں جنگ ان کی مین سرحد تک آگئی ہے۔ وہ بے فصیلوں کے مقدس مقامات` وہ ظاہری حفاظت کے سامانوں سے خالی جگہیں جن کی دیواروں سے ہمارے دل لٹک رہے ہیں اب بمباروںں اور جھپٹانی طیاروں کی زد میں ہیں اور یہ سب کچھ ہمارے ہی چند بھائیوں کی غلطی سے ہوا ہے کیونکہ ان کی اس غلطی سے پہلے جنگ ان مقامات مقدسہ سے سینکڑوں میل پرے تھی۔
    ان حالات میں ہر مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس فتنہ کو اس کی ابتداء میں ہی دبا دینے کی کوشش کرے۔ ابھی وقت ہے کہ جنگ کو پرے دھکیل دیا جائے کیونکہ ابھی تک عراق اور شام میں جرمنی اور اٹلی کی فوجیں کسی بڑی تعداد میں داخل نہیں ہوئیں۔ اگر خدانخواستہ بڑی تعداد میں فوجیں یہاں داخل ہوگئیں تو یہ کام آسان نہ رہے گا۔ جنگ کی آگ سرعت کے ساتھ عرب کے صحراء میں پھیل جائے گی۔
    اس فتنہ کا مقابلہ شیخ رشید علی صاحب یا مفتی یوروشلم کو گالیاں دینے سے نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں غدار کہہ کر ہم اس آگ کو نہیں بجھا سکتے۔ میں شیخ رشید صاحب کو نہیں جانتا لیکن مفتی صاحب کا ذاتی طور پر واقف ہوں۔ میرے نزدیک وہ نیک نیت آدمی ہیں اور ان کی مخالفت کی یہ وجہ نہیں کہ ان کو جرمنی والوں نے خرید لیا ہے بلکہ ان کی مخالفت کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ عظیم میں جو وعدے اتحادیوں نے عربوں سے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔ ان لوگوں کو برا کہنے سے صرف یہ نتیجہ نکلے گا کہ ان کے واقف اور دوست اشتعال میں آجائیں گے کیونکہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپنے تجربے کی بناء پر دیانتدار سمجھتا ہے تو جب کوئی اس دوسرے شخص پر بددیانتی کا الزام لگائے تو خواہ جس فعل کی وجہ سے بددیانتی کا الزام لگایا گیا ہے برا ہی کیوں نہ ہو چونکہ اس پہلے شخص کے نزدیک وہ فعل بددیانتی کے باعث سے نہیں ہوتا وہ اس الزام کی وجہ سے جسے وہ غلط خیال کرتا ہے اس دوسرے مجرم شخص سے ہمدردی کرنے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے افعال میں شریک ہو جاتا ہے۔ پس ان ہزاروں` لاکھوں لوگوں کو جو عالم اسلامی میں شیخ رشید اور مفتی یوروشلم سے حسن ظنی رکھتے ہیں ٹھوکر اور ابتلاء سے بچانے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ اس نازک موقع پر اپنی طبائع کو جوش میں نہ آنے دیں اور جو بات کہیں اس میں صرف اصلاح کا پہلو مدنظر ہو اظہار غصب مقصود نہ ہو تاکہ فتنہ کم ہو بڑھے نہیں۔ یاد رہے کہ اس فتنہ کے بارہ میں اس قدر سمجھ لینا کافی ہے کہ شیخ رشید علی صاحب اور ان کے رفقاء کا یہ فعل اسلامی ملکوں اور اسلامی مقدس مقامات کے امن کو خطرہ میں ڈالنے کا موجب ہوا ہے۔ ہمیں ان کی نیتوں پر حملہ کرنے کا نہ حق ہے اور نہ اس سے کچھ فائدہ ہے۔ اس وقت تو مسلمانوں کو اپنی ساری طاقت اس بات کے لئے خرچ کر دینی چاہئے کہ عراق میں پھر امن ہو جائے اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ مسلمان جان اور مال سے انگریزوں کی مدد کریں اور اس فتنہ کے پھیلنے اور بڑھنے سے پہلے ہی اس کے دبانے میں ان کا ہاتھ بٹائیں تاکہ جنگ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے دور رہے اور ترکی` ایران` عراق اور شام اور فلسطین اس خطرناک آگ کی لپٹوں سے محفوظ رہیں۔ یہ وقت بحثوں کا نہیں کام کا ہے` اس وقت ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے ہمسایوں کو اس خطرہ سے آگاہ کرے جو عالم اسلام کو پیش آنے والا ہے تاکہ ہر مسلمان اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور جو قربانی بھی اس سے ممکن ہو اسے پیش کردے۔ جنگ کے قابل آدمی اپنے آپ کو بھرتی کے لئے پیش کریں اور روپیہ والے لوگ روپیہ سے اہل دین` اہل قلم اپنی علمی قوتوں کو اس خدمت میں لگا دیں اور جس سے اور کچھ نہیں ہوسکتا وہ کم سے کم دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس جنگ سے اسلامی ملکوں کو محفوظ رکھے اور ہمارے جن بھائیوں سے غلطی ہوئی ہے ان کی آنکھیں کھول دے کہ وہ خود ہی پشیمان ہو کر اپنی غلطی کا ازالہ کرنے میں لگ جائیں۔
    میرے نزدیک عراق کا موجودہ فتنہ صرف مسلمانوں کے لئے تازیانہ تنبیہہ نہیں بلکہ ہندوستان کی تمام اقوام کے لئے تشویش اور فکر کا موجب ہے کیونکہ عراق میں جنگ کا دروازہ کھلنے کی وجہ سے جنگ ہندوستان کے قریب آگئی ہے اور ہندوستان اب اس طرح محفوظ نہیں رہا جس طرح کہ پہلے تھا۔ جو فوج عراق پر قابض ہو عرب یا ایران کی طرف سے آسانی سے ہندوستان کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ پس ہندوستان کی تمام اقوام کو اس وقت آپس کے جھگڑے بھلا کر اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر برطانوی حکومت کی امداد کرنی چاہئے کہ یہ اپنی ہی امداد ہے۔ شاید شیخ رشید علی جیلانی کا خیال ہو کہ سابق عالمگیر جنگ میں عربوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ایک متحد عرب حکومت کے قیام میں ان کی مدد کی جائے گی مگر ہوا یہ کہ عرب جو پہلے ترکوں کے ماتحت کم سے کم ایک قوم تھے اب چار پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ بے شک انگریزوں نے عراق کو ایک حد تک آزادی دی ہے مگر عربوں نے بھی سابق جنگ میں کم قربانیاں نہ کی تھیں۔ اگر اس غلطی کے ازالہ کا عہد کرلیا جائے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ سب اسلامی دنیا متحد ہوکر اپنے علاقوں کو جنگ سے آزاد رکھنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس جنگ کے بعد پولینڈ اور زیکوسلویکیہ کی آزادی ہی کا سوال حل نہیں ہونا چاہئے بلکہ متحدہ عرب کی آزادی کا بھی سوال حل ہو جانا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام فلسطین اور عراق کو ایک متحد اور آزاد حکومت کے طور پر ترقی کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ انصاف اس کا تقاضا کرتا ہے<۔۷
    اخبار >ریاست< دہلی کا تبصرہ
    یہ نشری تقریر ملک کے مختلف حلقوں میں بہت پسند کی گئی۔۸ چنانچہ دہلی کے کے مشہور سکھ اخبار >ریاست< ۲۔ جون ۱۹۴۱ء نے اس پر حسب ذیل الفاظ میں تبصرہ کیا۔
    >غلام اقوام اور غلام ممالک کے کیریکٹر کا سب سے کمزور پہلو یہ ہوتا ہے کہ ان کے افراد اخلاقی سچائی اور جرات سے محروم ہو جاتے ہیں اور چاپلوسی جھوٹ خوشامد اور بزدلی کی سپرٹ ان میں نمایاں ہو جاتی ہے۔ عراق کا رشید علی برطانوی حکومت یا برطانوی رعایا کے نقطہ نگاہ سے غلطی پر ہو یا اس کا برطانیہ سے جنگ کرنا غیر مناسب ہو مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ شخص اپنے ملک کی سیاسی آزادی کے لئے لڑرہا ہے اور اس کو کسی قیمت پر بھی اپنے ملک کا غدار یا ٹریٹر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مگر ہمارے غلام ملک کے والیان ریاست اور لیڈروں کا کیریکٹر دیکھئے جو والی ریاست عراق کے متعلق تقریر کرتا ہے رشید علی کو غدار کہہ کر پکار رہا ہے اور جو لیڈر جنگ کے متعلق بیان دیتا ہے سب سے پہلے وہ رشید علی کو ٹریٹر۹ قرار دیتا ہے اور پھر اپنے بیان کی بسم اللہ کرتا ہے۔ اور ان والیان ریاست اور لیڈروں کا کیریکٹر غلامی کے باعث اس قدر پست ہے کہ یہ غلط خوشامد اور چاپلوسی کو ہی ملک یا حکومت کی خدمت سمجھ رہے ہیں۔ ہمارے والیان ریاست اور لیڈروں کی اس احمقانہ خوشامد کی موجودگی میں قادیان کی احمدی جماعت کے پیشوا کی اخلاقی جرات آپ کا بلند کیریکٹر اور آپ کی صاف بیانی دلچسپی اور مسرت کے ساتھ محسوس کی جائے گی جس کا اظہار آپ نے پچھلے ہفتہ اپنی ریڈیو کی ایک تقریر میں کیا<۔۱۰
    دوسرا باب )فصل دوم(
    حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کپورتھلوی کا وصال
    ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش میں جن جلیل القدر صحابہ نے انتقال کیا ان میں سب سے ممتاز اور سب سے قدیم اور انتہائی پاک نفس بزرگ حضرت منشی ظفراحمد صاحب کپورتھلوی تھے جنہوں نے ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ کی بیعت اولیٰ کے موقعہ پر حضرت منشی اروڑا صاحب کے بعد بیعت کا شرف حاصل کیا اور ساری عمر سلسلہ احمدیہ کی نہایت درجہ عاشقانہ اور والہانہ خدمات بجالانے کے بعد ۲۰۔ اگست ۱۹۴۱ء/ ظہور ۱۳۲۰ہش۱۱ کی صبح کو انتقال فرما گئے۔
    جماعت احمدیہ کی کوئی تاریخ آپ کے تذکرہ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔۱۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۳۱۳ اصحاب کی فہرست میں آپ کا نام نمبر ۹ پر درج فرمایا۔۱۳ علاوہ ازیں حضور علیہ السلام کی کتب اشتہارات اور مکتوبات میں آپ کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً >ازالہ اوہام< میں آپ کی نسبت حسب ذیل تعریفی کلمات موجود ہیں۔
    >حبی۱۴ فی اللہ منشی ظفر احمد صاحب۔ یہ جوان صالح` کم گو اور خلوص سے بھرا دقیق فہم آدمی ہے` استقامت کے آثار دانوار اس میں ظاہر ہیں۔ وفاداری کی علامات وامارات اس میں پیدا ہیں۔ ثابت شدہ صداقتوں کو خوب سمجھتا ہے اور اس سے لذت اٹھاتا ہے۔ اللہ اور رسول سے سچی محبت رکھتا ہے اور ادب پر تمام مدار حصول فیض کا ہے اور حسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے دونوں سیرتیں ان میں پائی جاتی ہیں۔ جزاھم اللہ خیرالجزاء<۔۱۵
    حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ دسمبر ۱۹۳۷ء میں بیمار ہوئے تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۱۵۔ دسمبر ۱۹۳۷ء کو ان کے فرزند شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ کپورتھلہ۱۶ کو اپنے قلم مبارک سے ایک مکتوب میں لکھا کہ۔
    >منشی صاحب کی بیماری کی خبر سے افسوس ہوا` آپ یہ کام ضرور کریں کہ بار بار پوچھ پوچھ کر ان سے ایک کاپی میں سب روایات حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق لکھوا لیں۔ اس میں تاریخی اور واعظانہ امور سب ہی قسم کی ہوں۔ یعنی صرف ملفوظات ہی نہ ہوں بلکہ سلسلہ کی تاریخ اور حضور علیہ السلام کے واقعات تاریخی بھی ہوں۔ یہ آپ کے لئے ثواب اور ان کے لئے بہترین یادگار اور سلسلہ کے لئے ایک کارآمد سامان ہوگا۔ والسلام۔
    خاکسار
    مرزا محمود احمد )خلیفتہ المسیح الثانی(
    ۳۷۔ ۱۲۔ ۱۵
    محترم شیخ محمد احمد صاحب نے اپنے آقا کے اس ارشاد کی تکمیل میں ۱۶۔ دسمبر ۱۹۳۷ء سے روایات تحریر کرنا شروع کر دیں۔ حضرت منشی صاحبؓ جو واقعات لکھاتے آپ انہی کے الفاظ میں اور اسی ترتیب سے قلمبند کرتے گئے۔ حضرت منشی صاحبؓ نے قریب¶ا سوا سو نہایت روح پرور روایات۱۷ لکھوائیں۔ اس سلسلہ کی آخری روایت یہ تھی کہ-
    >حضور میں یہ ایک خاص بات ہم نے دیکھی کہ اگر معترض کے پاس اعتراض کرنے کے لئے کافی الفاظ نہ ہوتے تھے تو حضور اس کو اظہار مدعا میں مدد دیتے تھے۔ حتیٰ کہ معترض سمجھتا کہ اب جواب نہیں ہوسکے گا پھر حضور جب جواب دیتے تو سماں بندھ جاتا<۔
    جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر یہ روایت درج کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ۔
    >۶۔ اگست ۱۹۴۱ء کو عاجز نے مندرجہ بالا روایات لکھیں اور اس روایت کے بعد کہ >حضور میں یہ ایک خاص بات میں نے دیکھی< عرض کیا کہ کچھ اور لکھوائیں۔ والد صاحب نے نہایت دردمندانہ الفاظ میں آبدیدہ ہوکر فرمایا۔ >محمد احمد! ہمیں خداتعالیٰ کے فضل سے ایسی خاص الخاص خدمات کا موقع ملا ہے کہ ہم تو وہ باتیں اب بیان بھی نہیں کرسکتے<۔ روایات کے متعلق آپ کے یہ آخری الفاظ تھے جو بعد میں مضمون کو ختم کرنے والے ثابت ہوئے کیونکہ اس کے بعد روایات لکھنے کا عاجز کو موقع نہیں ملا۔ ۱۳۔ اگست ۱۹۴۱ء کو آپ بیمار ہوگئے۔ ۱۹۔ اگست ۱۹۴۱ء کو بہت کمزور ہوچکے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۔ اگست ۱۹۴۱ء کو صبح ۴/۱ ۶ بجے آپ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون<۔
    حضرت منشی صاحبؓ کی بیان فرمودہ یہ سب روایات پہلی بار ریویو آف ریلیجنز اردو )جنوری ۱۹۴۲ء/ صلح ۱۳۲۱ہش( میں چھپیں۔ بعد ازاں ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے نے ان کو >اصحاب احمد< کی چوتھی جلد میں بھی شائع کردیا۔
    حضرت امیرالمومنینؓ کی زبان مبارک سے حضرت منشی ظفراحمد صاحبؓ اور کپورتھلہ کے دوسرے عشاق احمدیت کامفصل تذکرہ
    حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کپورتھلوی کی رحلت جماعت احمدیہ کے لئے ایک بہت بڑا قومی المیہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے ۲۲۔ ماہ ظہور ۱۳۲۰ہش
    )۲۲۔ اگست ۱۹۴۱ء( کو ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا جس کے شروع میں ان کے جنازہ کی نسبت فرمایا کہ۔
    >اس ہفتہ جماعت کو ایک نہایت ہی درد پہنچانے والا اور تکلیف میں مبتلا کرنے والا واقع پیش آیا ہے یعنی منشی ظفر احمد صاحبؓ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ابتدائی صحابہ میں سے ایک تھے وہ اس ہفتہ میں فوت ہوگئے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت ڈلہوزی میں تھا جب ان کی نعش یہاں لائی گئی اور میں اس جنازہ میں جو ان کی لاش پر پڑھا گیا شامل نہیں ہوسکا۔ مجھے ایسے وقت میں اطلاع ہوئی جبکہ میں کل صبح ہی آسکتا تھا۔ پہلے تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ تار دوں کہ جنازہ کو اس وقت تک روک لیا جائے جب تک میں نہ پہنچ جائوں لیکن گرمی کی وجہ سے اور اس خیال سے کہ کہیں اس عرصہ تک روکنے سے نعش کو نقصان نہ پہنچے میں نے تار دینا مناسب نہ سمجھا اور اس بات کو مقامی لوگوں پر چھوڑ دیا کہ اگر نعش رہ سکتی ہے تو وہ میرا انتظار کریں گے کیونکہ انہیں علم ہے کہ میں آنے والا ہوں اور اگر مناسب نہ ہوا تو وہ انتظار نہیں کریں گے۔ چنانچہ جب میں یہاں پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ پرسوں رات ہی انہیں دفن کیا جاچکا ہے۔ سو میں جمعہ کے بعد ان کا جنازہ پڑھوں گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کس حد تک یہاں کے لوگوں کو اس جنازہ کا علم ہوا اور وہ کس حد تک اس میں شامل ہوئے لیکن بہرحال جو لوگ ان کے جنازہ میں شامل نہیں ہوسکے تھے اب ان کو بھی موقع مل جائے گا اور جو لوگ شامل ہوچکے ہیں انہیں دوبارہ دعا کا موقعہ مل جائے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کے ابتدائی ایام میں آپ پر ایمان لائے` آپ سے تعلق پیدا کیا اور ہر قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے اس راہ میں انہوں نے ہزاروں مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں ان کی وفات جماعت کے لئے کوئی معمولی صدمہ نہیں ہوتا۔ میرے نزدیک ایک مومن کو اپنی بیوی اپنے بچوں اپنے باپ اپنی ماں اور اپنے بھائیوں کی وفات سے ان لوگوں کی وفات کا بہت زیادہ صدمہ ہونا چاہئے اور یہ واقعہ تو ایسا ہے کہ دل اس کا تصور کرکے سخت دردمند ہوتا ہے کیونکہ منشی ظفر احمد صاحبؓ ان آدمیوں میں سے آخری آدمی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ ابتدائی ایام میں اکٹھے رہے اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ یہ رتبہ پنجاب کی دو ریاستوں کو ہی حاصل ہوا۔ پٹیالہ میں میاں عبداللہ صاحبؓ سنوری کو خداتعالیٰ نے یہ رتبہ دیا اور کپورتھلہ میں منشی اروڑے خان صاحبؓ` عبدالمجید خان صاحب کے والد منشی محمد خان صاحبؓ اور منشی ظفر احمد صاحبؓ کو یہ رتبہ ملا۔ یہ چار آدمی تھے جن کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ دعویٰ ماموریت اور بیعت سے بھی پہلے کے تعلقات تھے اور اس قسم کے خادمانہ تعلقات تھے کہ ایک منٹ کے لئے بھی دور رہنا برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ پس ایسے لوگوں کی وفات ایک بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہوتا ہے اور ان لوگوں کے لئے دعا کرنا ان پر احسان کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے اوپر احسان ہوتا ہے<۔۱۸
    ازاں بعد حضور نے حضرت منشی عبداللہ صاحبؓ سنوری` حضرت منشی روڑے خان صاحبؓ` حضرت منشی محمد خان صاحبؓ اور حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کے بلند مقام کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے والہانہ اخلاص و فدائیت کے متعدد واقعات بیان کئے۔ چنانچہ فرمایا۔
    >وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانہ میں خدمات کی ہیں ایسی ہستیاں ہیں کہ جو دنیا کے لئے ایک تعویذ اور حفاظت کا ذریعہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ جو خداتعالیٰ کے انبیاء کا قرب رکھتے ہیں` خداتعالیٰ کے نبیوں اور اس کے قائم کردہ خلفاء کے بعد دوسرے درجہ پر دنیا کے لئے امن اور سکون کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ بڑے لیکچرار ہوں` یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ خطیب ہوں` یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ پھر پھر کر لوگوں کو تبلیغ کرنے والے ہوں ان کا وجود ہی لوگوں کے لئے برکتوں اور رحمتوں کا موجب ہوتا ہے اور جب کبھی خداتعالیٰ کی طرف سے بندوں کی نافرمانی کی وجہ سے کوئی عذاب نازل ہونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس عذاب کو روک دیتا ہے اور کہتا ہے ابھی اس قوم پر مت نازل ہو کیونکہ اس میں ہمارا ایسا بندہ موجود ہے جسے اس عذاب کی وجہ سے تکلیف ہوگی۔ پس اس کی خاطر دنیا میں امن اور سکون ہوتا ہے۔ مگر یہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام پر ایمان لائے یہ تو اس عام درجہ سے بھی بالا تھے۔ ان کو خدا نے آخری زمانہ کے مامور اور مرسل کا صحابی اور پھر ابتدائی صحابی بننے کی توفیق عطا فرمائی اور ان کی والہانہ محبت کے نظارے ایسے ہیں کہ دنیا ایسے نظارے صدیوں میں بھی دکھانے سے قاصر رہے گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے وہ نظارہ نہیں بھولتا اور نہیں بھول سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی وفات پر ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن باہر سے مجھے کسی نے آواز دے کر بلوایا اور خادمہ یا کسی بچہ نے بتایا کہ دروازہ پر ایک آدمی کھڑا ہے اور وہ آپ کو بلارہا ہے میں باہر نکلا تو منشی روڑے خاں صاحب مرحومؓ کھڑے تھے۔ وہ بڑے تپاک سے آگے بڑھے مجھ سے مصافحہ کیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے اپنی جیب سے دو یا تین پائونڈ نکالے اور مجھے کہا کہ یہ اماں جان کو دے دیں اور یہ کہتے ہی ان پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ وہ چیخیں مار کر رونے لگ گئے اور ان کے رونے کی حالت اس قسم کی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے بکرے کو ذبح کیا جارہا ہے۔ میں کچھ حیران سا رہ گیا کہ یہ رو کیوں رہے ہیں۔ مگر میں خاموش کھڑا رہا۔ انتظار کرتا رہا کہ وہ خاموش ہوں تو ان سے رونے کی وجہ دریافت کروں۔ اس طرح وہ کئی منٹ تک روتے رہے۔ منشی روڑے خاں صاحب مرحومؓ نے بہت ہی معمولی ملازمت سے ترقی کی تھی۔ پہلے کچہری میں وہ چپڑاسی کا کام کرتے تھے` پھر اہل مد کا عہدہ آپ کو مل گیا۔ اس کے بعد نقشہ نویس ہوگئے۔ پھر اور ترقی کی تو سررشتہ دار ہوگئے اس کے بعد ترقی پاکر نائب تحصیلدار ہوگئے اور پھر تحصیلدار بن کر ریٹائر ہوئے۔ ابتداء میں ان کی تنخواہ دس پندرہ روپے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔
    جب ان کو ذرا صبر آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ روئے کیوں ہیں۔ وہ کہنے لگے۔ میں غریب آدمی تھا۔ مگر جب بھی مجھے چھٹی ملتی قادیان آنے کے لئے چل پڑتا تھا۔ سفر کا بہت سا حصہ میں پیدل ہی طے کرتا تھا تاکہ سلسلہ کی خدمت کے لئے کچھ پیسے بچ جائیں مگر پھر بھی روپیہ ڈیڑھ روپیہ خرچ ہو جاتا۔ یہاں آکر جب میں امراء کو دیکھتا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے بڑا روپیہ خرچ کررہے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا کہ کاش میرے پاس بھی روپیہ ہو اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں چاندی کا تحفہ لانے کی بجائے سونے کا تحفہ پیش کروں۔ آخر میری تنخواہ کچھ زیادہ ہوگئی )اس وقت ان کی تنخواہ شاید بیس پچیس روپیہ تک پہنچ گئی تھی( اور میں نے ہر مہینے کچھ رقم جمع کرنی شروع کر دی اور میں نے اپنے دل میں یہ نیت کی کہ جب یہ رقم اس مقدار تک پہنچ جائے گی جو میں چاہتا ہوں تو میں اسے پونڈوں کی صورت میں تبدیل کرکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کروں گا۔ پھر کہنے لگے کہ میرے پاس ایک پونڈ کے برابر رقم جمع ہوگئی۔ پھر وہ رقم دے کر میں نے ایک پونڈ لے لیا۔ پھر دوسرے پونڈ کے لئے رقم جمع کرنی شروع کر دی اور جب کچھ عرصہ کے بعد اس کے لئے رقم جمع ہوگئی تو دوسرا پونڈ لے لیا۔ اس طرح آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کرکے انہیں پونڈوں کی صورت میں تبدیل کرتا رہا اور میرا منشا یہ تھا کہ میں یہ پونڈ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کروں گا۔ مگر جب میرے دل کی آرزو پوری ہوگئی اور پونڈ میرے پاس جمع ہوگئے تو یہاں تک وہ پہنچے تھے کہ پھر ان پر رقت کی حالت طاری ہوگئی اور آخر روتے روتے انہوں نے اس فقرہ کو اس طرح پورا کیا کہ جب پونڈ میرے پاس جمع ہوگئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگئی۔ یہ اخلاص کا کیسا شاندار نمونہ ہے کہ ایک شخص چندے بھی دیتا ہے قربانیاں بھی کرتا ہے۔ مہینہ میں ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں بلکہ تین تین دفعہ جمعہ پڑھنے کے لئے قادیان پہنچ جاتا ہے۔ سلسلہ کے اخبار اور کتابیں بھی خریدتا ہے۔ ایک معمولی سی تنخواہ ہوتے ہوئے جبکہ آج اس تنخواہ سے بہت زیادہ تنخواہیں وصول کرنے والے اس قربانی کا دسواں بلکہ بیسواں حصہ بھی قربانی نہیں کرتے اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ امیر لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سونا پیش کرتے ہیں تو میں ان سے پیچھے کیوں رہوں۔ چنانچہ وہ ایک نہایت ہی قلیل تنخواہ میں سے ماہوار کچھ رقم جمع کرتا اور ایک عرصہ دراز تک جمع کرتا رہتا ہے` نامعلوم اس دوران میں اس نے اپنے گھر میں کیا کیا تنگیاں برداشت کی ہوں گی` کیا کیا تکلیفیں تھیں جو اس نے خوشی سے جھیلی ہوں گی محض اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اشرفیاں پیش کرسکے۔ مگر جب اس کی خواہش پورا کرنے کا وقت آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی حکمت اس کو اس رنگ میں خوشی حاصل کرنے سے محروم کر دیتی ہے جس رنگ میں وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا۔
    میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ منشی روڑے خاں صاحب مرحومؓ فرمایا کرتے تھے کہ بعض غیر احمدی دوستوں نے کہا کہ تم ہمیشہ ہمیں تبلیغ کرتے رہتے ہو فلاں جگہ مولوی ثناء اللہ صاحب آئے ہوئے ہیں تم بھی چلو اور ان ¶کی باتوں کا جواب دو۔ منشی روڑے خاں صاحب مرحومؓ کچھ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ دوران ملازمت میں ہی انہیں پڑھنے لکھنے کی جو مشق ہوئی وہی انہیں حاصل تھی۔ وہ کہنے لگے جب ان دوستوں نے اصرار کیا تو میں نے کہا اچھا چلو۔ چنانچہ وہ انہیں جلسہ میں لے گئے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے احمدیت کے خلاف تقریر کی اور اپنی طرف سے خوب دلائل دیئے۔ جب تقریر کرکے وہ بیٹھ گئے تو منشی روڑے خاں صاحبؓ سے ان کے دوست کہنے لگے کہ بتائیں ان دلائل کا کیا جواب ہے؟ منشی روڑے خاں صاحبؓ فرماتے تھے میں نے ان سے کہا۔ یہ مولوی ہیں میں ان پڑھ آدمی ہوں ان کی دلیلوں کا جواب تو کوئی مولوی ہی دے گا۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں نے مرزا صاحبؑ کی شکل دیکھی ہے وہ جھوٹے نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح ایک دفعہ کسی دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک واقعہ سنایا جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام بھی ہنسے اور مجلس میں بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ بھی بہت محظوظ ہوئے۔ منشی روڑے خان صاحبؓ شروع میں قادیان بہت زیادہ آیا کرتے تھے۔ بعد میں چونکہ اہم کام ان کے سپرد ہوگئے اس لئے جلدی چھٹی ملنا ان کے لئے مشکل ہوگیا تھا مگر پھر بھی وہ قادیان اکثر آتے رہتے تھے۔ ہمیں یاد ہے۔ جب ہم چھوٹے بچے ہوا کرتے تھے تو ان کا آنا ایسا ہی ہوا کرتا تھا جیسے کوئی مدتوں کا بچھڑا ہوا بھائی سالہا سال کے بعد اپنے کسی عزیز سے آکر ملے۔ کپورتھلہ کی جماعت میں سے منشی روڑے خاں صاحبؓ` منشی ظفر احمد صاحبؓ اور منشی محمد خان صاحبؓ جب بھی آتے تھے تو ان کے آنے سے ہمیں بڑی خوشی ہوا کرتی تھی۔ غرض اس دوست نے بتایا کہ منشی روڑے خاں صاحبؓ تو ایسے آدمی ہیں کہ یہ مجسٹریٹ کو بھی ڈرا دیتے ہیں۔ پھر اس نے سنایا کہ ایک دفعہ انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا میں قادیان جانا چاہتا ہوں مجھے چھٹی دے دیں۔ اس نے انکار کر دیا۔ اس وقت وہ سیشن جج کے دفتر میں لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا قادیان میں میں نے ضرور جانا ہے مجھے آپ چھٹی دے دیں۔ وہ کہنے لگا کام بہت ہے اس وقت آپ کو چھٹی نہیں دی جاسکتی۔ وہ کہنے لگے بہت اچھا! آپ کا کام ہوتا رہے میں تو آج ہی بددعا میں لگ جاتا ہوں۔ آپ اگر نہیں جانے دیتے تو نہ جانے دیں۔ آخر اس مجسٹریٹ کو کوئی ایسا نقصان پہنچا کہ وہ سخت ڈر گیا اور جب بھی ہفتہ کا دن آتا وہ عدالت والوں سے کہتا کہ آج کام ذرا جلدی بند کر دینا کیونکہ منشی روڑے خاں صاحب کی گاڑی کا وقت نکل جائے گا۔ اس طرح وہ آپ ہی جب بھی منشی صاحبؓ کا ارادہ قادیان آنے کا ہوتا انہیں چھٹی دے دیتا اور وہ قادیان پہنچ جاتے۔ پھر ان کی محبت کا یہ نقشہ بھی مجھے کبھی نہیں بھولتا جو گو انہوں نے مجھے خود ہی سنایا تھا مگر میری آنکھوں کے سامنے وہ یوں پھرتا رہتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے اس واقعہ کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا۔ انہوں نے سنایا کہ۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے ایک دفعہ ہم نے عرض کیا کہ حضور کبھی کپورتھلہ تشریف لائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وعدہ فرمالیا کہ جب فرصت ملی تو آجائوں گا۔ وہ کہتے تھے ایک دن کپورتھلہ میں میں ایک دوکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شدید ترین دشمن اڈے کی طرف سے آیا اور مجھے کہنے لگا لو تمہارا مرزا کپورتھلے آگیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب مہلت ملی وہ اطلاع دینے کا وقت نہ تھااس لئے آپ بغیر اطلاع دیئے ہی چل پڑے۔ منشی روڑے خان صاحب نے یہ خبر سنی تو وہ خوشی میں ننگے سر اور ننگے پائوں اڈے کی طرف بھاگے مگر چونکہ خبر دینے والا شدید ترین مخالف تھا۔ وہ ہمیشہ احمدیت سے تمسخر کرتا رہتا تھا ان کا بیان تھا کہ تھوڑی دور جاکر مجھے خیال آیا کہ یہ بڑا خبیث دشمن ہے اس نے ضرور مجھ سے ہنسی کی ہوگی۔ چنانچہ مجھ پر جنون سا طاری ہوگیا اور یہ خیال کرکے کہ نامعلوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے بھی ہیں یا نہیں۔ میں کھڑا ہوگیا اور میں نے اسے بے تحاشہ برا بھلا کہنا شروع کردیا کہ تو بڑا خبیث اور بدمعاش ہے تو کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ ہنسی کرتا رہتا ہے بھلا ہماری قسمت کہاں کہ حضرت صاحب کپورتھلہ تشریف لائیں۔ وہ کہنے لگا کہ آپ ناراض نہ ہوں اور جاکر دیکھ لیں مرزا صاحب واقع میں آئے ہوئے ہیں۔ اس نے یہ کہا تو میں پھر دوڑا مگر پھر خیال آیا کہ اس نے ضرور مجھ سے دھوکہ کیا ہے چنانچہ پھر میں اسے کوسنے لگا کہ تو بڑا جھوٹا ہے ہمیشہ مجھ سے مذاق کرتا رہتا ہے ہماری ایسی قسمت کہاں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام ہمارے ہاں تشریف لائیں۔ مگر اس نے پھر کہا۔ منشی صاحب وقت ضائع نہ کریں مرزا صاحب واقع میں آئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ پھر اسی خیال سے کہ شاید آہی گئے ہوں میں دوڑ پڑا مگر پھر یہ خیال آجاتا ہے کہ کہیں اس نے دھوکا ہی نہ دیا ہو۔ چنانچہ پھر اسے ڈانٹا۔ آخر وہ کہنے لگا۔ مجھے برا بھلا نہ کہو اور جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو واقعہ میں مرزا صاحب آئے ہوئے ہیں۔ غرض میں کبھی دوڑتا اور کبھی یہ خیال کرکے کہ مجھ سے مذاق ہی نہ کیا گیا ہو ٹھہر جاتا۔ میری یہی حالت تھی کہ میں نے سامنے کی طرف جو دیکھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام تشریف لارہے تھے۔ اب یہ والہانہ محبت اور عشق کا رنگ کتنے لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔ یقیناً بہت ہی کم لوگوں کے دلوں میں۔ میاں عبداللہ صاحبؓ سنوری بھی اپنے اندر ایسا ہی عشق رکھتے تھے۔ ایک دفعہ وہ قادیان میں آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان سے کوئی کام لے رہے تھے اس لئے جب میاں عبداللہ صاحبؓ سنوری کی چٹھی ختم ہوگئی اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے جانے کے لئے اجازت طلب گی تو حضور نے فرمایا۔ ابھی ٹھہر جائو۔ چنانچہ انہوں نے مزید رخصت کے لئے درخواست بھجوا دی مگر محکمہ کی طرف سے جواب آیا کہ اور چھٹی نہیں مل سکتی تو انہوں نے اس امر کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا تو آپ نے پھر فرمایا کہ ابھی ٹھہرو۔ چنانچہ انہوں نے لکھ دیا کہ میں ابھی نہیں آسکتا۔ اس پر محکمہ والوں نے انہیں ڈس مس کر دیا۔ چار یا چھ مہینے جتنا عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں رہنے کے لئے کہا تھا وہ یہاں ٹھہرے رہے۔ پھر جب واپس گئے تو محکمہ نے یہ سوال اٹھا دیا کہ جس افسر نے انہیں ڈس مس کیا تھا اس افسر کا یہ حق ہی نہیں تھا کہ وہ انہیں ڈس مس کرتا۔ چنانچہ وہ پھر اپنی جگہ پر بحال کئے گئے اور پچھلے مہینوں کی جو قادیان میں گزر گئے تھے تنخواہ بھی مل گئی۔ اسی طرح منشی ظفر احمد صاحبؓ کپورتھلوی کے ساتھ واقعہ پیش آیا جو کل ہی ڈلہوزی کے راستہ میں میاں عطاء اللہ صاحب وکیل سلمہ اللہ تعالیٰ نے سنایا۔ یہ واقعہ الحکم ۱۴۔ اپریل ۱۹۳۴ء میں بھی چھپ چکا ہے اس لئے منشی صاحب کے اپنے الفاظ میں اسے بیان کرتا ہوں۔
    >میں جب سررشتہ دار ہوگیا اور پیشی میں کام کرتا تھا تو ایک دن مسلیں وغیرہ بند کرکے قادیان چلا آیا۔ تیسرے دن میں نے اجازت چاہی تو فرمایا ابھی ٹھہریں۔ پھر عرض کرنا مناسب نہ سمجھا کہ آپ ہی فرمائیں گے۔ اس پر ایک مہینہ گزر گیا۔ ادھر مسلیں میرے گھر میں تھیں کام بند ہوگیا اور سخت خطوط آنے لگے مگر یہاں یہ حالت تھی کہ ان خطوط کے متعلق وہم بھی نہ آتا تھا۔ حضور کی صحبت میں ایک ایسا لطف اور محویت تھی کہ نہ نوکری جانے کا خیال تھا اور نہ کسی بات پرسی کا اندیشہ آخر ایک نہایت ہی سخت خط وہاں سے آیا۔ میں نے وہ خط حضرت صاحب کے سامنے رکھ دیا۔ پڑھا اور فرمایا لکھ دو ہمارا آنا نہیں ہوتا۔ میں نے وہی فقرہ لکھ دیا۔ اس پر ایک مہینہ اور گزر گیا۔ تو ایک دن فرمایا کتنے دن ہوگئے۔ پھر آپ ہی گننے لگے اور فرمایا اچھا آپ چلے جائیں۔ میں چلا گیا اور کپورتھلہ پہنچ کر لالہ ہرچرن داس مجسٹریٹ کے مکان پر گیا تاکہ معلوم کروں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا۔ منشی جی! آپ کو مرزا صاحب نے نہیں آنے دیا ہوگا۔ میں نے کہا۔ ہاں۔ تو فرمایا ان کا حکم مقدم ہے<۔
    میاں عطاء اللہ صاحب کی روایت میں اس قدر زیادہ ہے کہ منشی صاحب مرحومؓ نے فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ لکھ دو ہم نہیں آسکتے۔ میں نے وہی الفاظ لکھ کر مجسٹریٹ کو بھجوا دیئے۔ یہ ایک گروہ تھا جس نے عشق کا ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا کہ ہماری آنکھیں اب پچھلی جماعتوں کے آگے نیچی نہیں ہوسکتیں<۔۱۹
    جماعت احمدیہ کو نصیحت
    حضرت امیرالمومنینؓ نے اپنے خطبہ کے آخر میں احباب جماعت کو نصیحت فرمائی کہ۔
    >یہ وہ لوگ ہیں جن کے نقش قدم پر جماعت کے دوستوں کو چلنے کی کوشش کرنی چاہئے کہنے والے کہیں گے کہ یہ شرک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ جنون کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ پاگل پن کی تعلیم دی جاتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پاگل وہی ہیں جنہوں نے اس رستہ کو نہیں پایا اور اس شخص سے زیادہ عقلمند کوئی نہیں جس نے عشق کے ذریعہ خدا اور اس کے رسولﷺ~ کو پالیا اور جس نے محبت میں محو ہوکر اپنے آپ کو ان کے ساتھ وابستہ کرلیا۔ اب اسے خدا سے اور خدا کو اس سے کوئی چیز جدا نہیں کرسکتی کیونکہ عشق کی گرمی ان دونوں کو آپس میں اس طرح ملا دیتی ہے جس طرح ویلڈنگ کیا جاتا ہے اور دو چیزوں کو جوڑ کر آپس میں بالکل پیوست کر دیا جاتا ہے مگر وہ جسے محض فلسفیانہ ایمان حاصل ہوتا ہے اس کا خدا سے ایسا ہی جوڑ ہوتا ہے جیسے قلعی کا ٹانکہ ہوتا ہے ذرا گرمی لگے تو ٹوٹ جاتا ہے۔ مگر جب ویلڈنگ ہو جاتا ہے تو ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے کسی چیز کا جزو ہو۔ پس اپنے اندر عشق پیدا کرو اور وہ راہ اختیار کرو جو ان لوگوں نے اختیار کی۔ پیشتر اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو صحابی باقی ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں۔ بے شک ابتدائی گہرا تعلق رکھنے والے لوگوں میں سے منشی ظفر احمد صاحبؓ آخری صحابی تھے مگر ابھی بعض اور پرانے لوگ موجود ہیں گو اتنے پرانے نہیں جتنے منشی ظفر احمد صاحبؓ تھے۔ چنانچہ کوٹلہ میں میر عنایت علی صاحب ابھی زندہ ہیں جنہوں نے ساتویں نمبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی مگر پھر بھی یہ جماعت کم ہوتی جارہی ہے اور وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ سے گہرا تعلق اور بے تکلفی رکھتے تھے ان میں سے غالباً منشی ظفر احمد صاحب آخری آدمی تھے۔ کپورتھلہ کی جماعت کو ایک یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جماعت کو یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ مجھے یقین ہے جس طرح خدا نے اس دنیا میں ہمیں اکٹھا رکھا ہے اسی طرح اگلے جہان میں بھی کپورتھلہ کی جماعت کو میرے ساتھ رکھے گا۔ مگر اس سے کپورتھلہ کی جماعت کا ہر فرد مراد نہیں بلکہ صرف وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ساتھ دیا جیسے منشی روڑے خان صاحبؓ تھے یا منشی محمد خان صاحبؓ تھے یا منشی ظفر احمد صاحبؓ تھے۔ یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ہزاروں نشانوں کا چلتا پھرتا ریکارڈ تھے۔ نامعلوم لوگوں نے کس حد تک ان ریکارڈوں کو محفوظ کیا مگر بہرحال خداتعالیٰ کے ہزاروں نشانات کے وہ چشم دیدہ گواہ تھے۔ ان ہزاروں نشانات کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ اور آپ کی زبان اور آپ کے کان اور آپ کے پائوں وغیرہ کے ذریعے ظاہر ہوئے۔ تم صرف وہ نشانات پڑھتے ہو جو الہامات پورے ہوکر نشان قرار پائے مگر ان نشانوں سے ہزاروں گنے زیادہ وہ نشانات ہوتے ہیں جو خداتعالیٰ اپنے بندوں کی زبان ناک کان ہاتھ اور پائوں پر جاری کرتا ہے اور ساتھ رہنے والے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ خدا کے نشانات ظاہر ہورہے ہیں۔ وہ انہیں اتفاق قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ نشانات ایسے حالات میں ظاہر ہوتے ہیں جو بالکل مخالف ہوتے ہیں اور جن میں ان باتوں کا پورا ہونا بہت بڑا نشان ہوتا ہے۔ پس ایک ایک صحابی جو فوت ہوتا ہے وہ ہمارے ریکارڈ کا ایک رجسٹر ہوتا ہے جسے ہم زمین میں دفن کر دیتے ہیں۔ اگر ہم نے ان رجسٹروں کی نقلیں کرلی ہیں تو یہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے اور اگر ہم نے ان کی نقلیں نہیں کیں تو یہ ہمارا بدقسمتی کی علامت ہے۔ بہرحال ان لوگوں کی قدر کرو۔ ان کے نقش قدم پر چلو اور اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ فلسفیانہ ایمان انسان کے کسی کام نہیں آتا۔ وہی ایمان کام آسکتا ہے جو مشاہدہ پر مبنی ہو اور مشاہدہ کے بغیر عشق نہیں ہوسکتا۔ جو شخص کہتا ہے کہ بغیر مشاہدہ کے اسے محبت کامل حاصل ہوگئی ہے وہ جھوٹا ہے مشاہدہ ہی ہے جو انسان کو عشق کے رنگ میں رنگین کرتا ہے اور اگر کسی کو یہ بات حاصل نہیں تو وہ سمجھ لے کہ فلسفہ انسان کو محبت کے رنگ میں رنگین نہیں کرسکتا فلسفہ صرف دوئی پیدا کرتا ہے<۔۲۰4] ft[r
    فصل سوم
    حضرت امیرالمومنینؓ کی طرف سے افغانستان سے حیدرآباد تک پھیلی ہوئی مخلص احمدی جماعتوں کا ذکر
    حضرت سیٹھ محمد غوث صاحب حیدرآبادیؓ ایک نہایت مخلص اور سلسلہ کے فدائی بزرگ تھے۔ ۱۴۔ تبوک )ستمبر( کو ان کی چھوٹی لڑکی )امتہ الحی صاحبہ( کی تقریب نکاح تھی جس کا اعلان حضرت
    خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے فرمایا۔ حضور نے خطبہ نکاح میں افغانستان سے لیکر حیدرآباد تک پھیلی ہوئی احمدی جماعتوں کا بڑی شرح و بسط سے ذکر کرتے ہوئے بعض مخلصین کی خاص طور پر تعریف کی۔ چنانچہ فرمایا۔
    >اللہ تعالیٰ کی سنت کے ماتحت جو قدیم سے ماموروں کے متعلق چلی آتی ہے اس نے ہماری جماعت کو بھی مختلف علاقوں میں پھیلایا ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت ہے کہ الٰہی جماعتیں بطور بیج کے پھینکی جاتی ہیں۔ جس طرح ہم اگر ایک فٹ سے زمین پر دانے پھینکیں تو وہ تھوڑی سی جگہ میں پھیلیں گے لیکن اگر ایک بلند مینار پر سے پھینکیں تو دور دور گریں گے اور کسی بلند پہاڑ پر سے پھینکیں تو اور بھی دور زمین پر پھیلیں گے۔ اسی طرح چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان آسمان سے پھینکا جاتا ہے وہ ساری دنیا پر پھیل جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی چھینٹے میں مختلف علاقوں میں مختلف مدارج کے لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ افغانستان میں سید عبداللطیف صاحبؓ` نعمت اللہ صاحبؓ اور کئی شہداء پیدا ہوئے۔ پھر کئی ان میں سے قادیان آگئے اور ان کے ذریعہ تمام علاقہ میں تبلیغ ہوگئی ورنہ کہاں ہندوستان اور کہاں افغانستان۔ ہمارے لئے تو سرحدوں پر تبلیغ کرنا مشکل تھا مگر یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ وہ ان لوگوں کو سرحدوں سے پار لے گیا تاکہ اس تمام علاقہ میں تبلیغ ہوسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کو بہار میں اور کسی کو بنگال میں اور کسی کو یوپی میں بیعت کی توفیق ہوئی` اور ان سب نے اپنی اپنی جگہ پر احمدیت کو پھیلانا شروع کر دیا۔ انہی میں سے ایک حیدرآباد کی جماعت ہے جو یہاں سے قریباً ڈیڑھ ہزار میل دور ہے۔ بیچ میں ایک لمبا علاقہ ہے جہاں نام کو بھی کوئی احمدی نہیں سی پی کا علاقہ بیچ میں ہے اس میں جتنے احمدی ہیں وہ سب ملا کر بھی شاید شہر حیدرآباد کی جماعت کے برابر نہ ہوں۔ یوپی میں بھی بہت کم ہیں اور ان سب علاقوں کو پار کرکے اللہ تعالیٰ نے حیدرآباد میں ایک جماعت پیدا کر دی اور وہاں ایسے مخلص احباب پیدا ہوئے جنہوں نے احمدیت کے لئے بہت قربانیاں کی ہیں اور ایثار سے کام کیا وہاں جماعت مولوی محمد سعید صاحب کے ذریعہ قائم ہوئی۔ اڑیسہ میں ایک گائوں سنبل پور سارے کا سارا احمدی ہے اور وہ بھی دراصل حیدرآباد کی ہی پیدا شدہ جماعت ہے۔ سید عبدالرحیم صاحب وہاں کے رہنے والے حیدرآباد آگئے تھے وہاں وہ مولوی محمد سعید صاحب سے ملے۔ مولوی صاحب نے انہیں تبلیغ کی اور بعض کتابیں بھی دیں جن کے مطالعہ سے وہ احمدی ہوگئے اور پھر ان کے اثر کی وجہ سے یہ گائوں سارے کا سارا احمدی ہوگیا۔ اس وقت میں جن کی لڑکی کے نکاح کا اعلان کرنے والا ہوں وہ حیدرآباد کے رہنے والے سیٹھ محمد غوث ہیں وہ بھی ان مخلصین میں ہیں جن کا دل خدمت سلسلہ کے لئے گداز ہے اور وہ اس کا بہت ہی احساس رکھتے ہیں۔ تو وہ پہلے سے احمدی مگر میرے ساتھ ان کی واقفیت جو ہوئی تو وہ حج کو جاتے ہوئے ۱۹۱۲ء میں ہوئی تھی۔ شاید ان کو علم ہو کہ میں جارہا ہوں یا شاید وہ تجارت کے سلسلے میں وہاں آئے ہوئے تھے۔ بہرحال ان سے میری پہلی ملاقات وہاں ہوئی اور پھر ایسے تعلقات ہوگئے کہ گویا واحد گھر کی صورت پیدا ہو گئی۔ مستورات کے بھی آپس میں تعلقات ہوگئے۔ حج کے موقعہ پر عبدالحی عرب بھی میرے ساتھ تھے وہاں سے روانگی کے وقت سیٹھ صاحب نے ان کو بعض چیزیں دیں جن میں ایک گلاس بھی تھا۔ وہ انہوں نے عبدالحی صاحب کو یہ کہہ کر دیا تھا کہ جب آپ اس میں پانی پئیں گے تو میں یاد آجائوں گا اور اس طرح آپ میرے لئے دعا کی تحریک کرسکیں گے۔ غرض سیٹھ صاحب حیدرآباد کے نہایت مخلص لوگوں میں سے ہیں۔
    چندہ کی فراہمی کے لحاظ سے` جماعت میں اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کے لحاظ سے انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے اور بغیر اس کے کہ کوئی وقفہ پڑا ہو کیا ہے اور ان کے اخلاص کا ہی نتیجہ ہے کہ ان کو اولاد بھی اللہ تعالیٰ نے مخلص دی ہے۔ بعض لوگ خود تو مخلص ہوتے ہیں مگر ان کی اولاد میں وہ اخلاص نہیں ہوتا مگر سیٹھ صاحب کی اولاد بھی مخلص ہے۔ ان کے بڑے لڑکے محمد اعظم صاحب میں ایسا اخلاص ہے جو کم نوجوانوں میں ہوتا ہے۔ تبلیغ اور تربیت کی طرف انہیں خاص توجہ ہے۔ میں نے دیکھا ہے ریاستوں میں تبلیغ کرنے سے لوگ عام طور پر ڈرتے ہیں اور کوئی بات ہو بھی تو کوشش کرتے ہیں کہ بڑے بڑے لوگوں کو اس کی اطلاع نہ ہوسکے۔ مگر میں نے دیکھا ہے کہ محمد اعظم صاحب کو شوق ہے کہ ریاست میں کھلی تبلیغ اور اشاعت کی جائے اس کے متعلق وہ مجھ سے بھی مشورے لیتے رہتے ہیں اور وہاں بھی نوجوانوں میں جوش پیدا کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے لڑکے معین الدین ہیں وہ بھی بہت اخلاص سے سلسلہ کے کاموں میں حصہ لیتے اور خدام الاحمدیہ کی تحریک میں بہت جدوجہد کرتے ہیں۔ ہاتھ سے کام کرنے کی تحریک کو مقبول بنانے کا بھی انہیں شوق ہے۔ لڑکیوں میں سے ان کی بڑی لڑکیوں کے تعلقات امتہ الحی مرحومہؓ کے ساتھ تھے۔ پھر ان کی چھوٹی لڑکی خلیل کے ساتھ بیاہی گئی جو تحریک جدید کا مجاہد ہے۔ اس لڑکی کے امتہ القیوم کے ساتھ بہنوں جیسے تعلقات ہیں اور شروع سے اب تک اس خاندان نے ایسے اخلاص کے ساتھ تعلق رکھا اور اسے نبھایا ہے کہ اس میں کبھی بھی کمی نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ ایسے مخلصین کے لئے ذرائع بھی خود مہیا کرتا ہے۔ ان کے لڑکوں کی شادیاں بھی ایسے گھرانوں میں ہوئی جو بہت مخلص ہیں۔ محمد اعظم کی شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص اور فدائی صحابی حکیم محمد حسین صاحبؓ قریشی موجد مفرح عنبری کی لڑکی سے ہوئی ہے قریشی صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی صحابہ میں سے تھے اور ایسے مخلص تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ابتلاء سے انہیں بچالیا۔ جب پہلے پہلے خلافت کا جھگڑا اٹھا تو خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں نے لاہور کی جماعت کو جمع کیا اور کہا کہ دیکھو سلسلہ کس طرح تباہ ہونے لگا ہے۔ یہ حضرت خلیفتہ المسیح الاولؓ کی خلافت کا زمانہ تھا جب میر محمد اسحٰق صاحبؓ نے بعض سوالات لکھ کر آپ کو دیئے تھے اور آپ نے جواب کے لئے وہ باہر کی جماعتوں کو بھجوا دیئے۔ اس وقت لاہور کی ساری کی ساری جماعت اس پر متفق ہوگئی تھی کہ دستخط کرکے خلیفہ اولؓ کو بھجوائے جائیں کہ خلافت کا یہ طریق احمدیہ جماعت میں نہیں بلکہ اصل ذمہ دار جماعت کی انجمن ہے۔ جب سب لوگ اس امر کی تصدیق کررہے تھے قریشی صاحب خاموش بیٹھے رہے کہ میں سب سے آخر میں اپنی رائے بتائوں گا۔ آخر پر ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بڑے زور سے اس خیال کی تردید کی اور کہا کہ یہ گستاخی ہے کہ ہم خلیفہ کے اختیارات معین کریں۔ ہم نے ان کی بیعت کی ہے اس لئے ایسی باتیں جائز نہیں۔ وہ آخری آدمی تھے ان سے پہلے سب اپنی اپنی رائے ظاہر کرچکے تھے مگر ان کے اخلاص کا نتیجہ تھا کہ سب لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور خواجہ صاحب کے موید صرف وہ لوگ رہ گئے جو ان کے ساتھ خاص تعلقات رکھتے تھے۔ اسی طرح میری خلافت کے ابتدائی ایام میں بھی غیر مبائعین سے مقابلہ کرنے میں بڑی تندہی سے حصہ لیا۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام انہی کی معرفت لاہور سے سامان وغیرہ منگوایا کرتے تھے۔ حضور خط لکھ کر کسی آدمی کو دے دیتے جو اسے حکیم صاحب کے پاس لے جاتا اور وہ سب اشیاء خرید کر دیتے۔ گویا وہ لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ایجنٹ تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام بھی ان سے بہت محبت رکھتے تھے اور لاہور کی احمدیہ مسجد بھی انہی کا کارنامہ ہے۔ دوسروں کا تو کیا کہنا میں خود بھی اس کا مخالف تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ یہ اتنا بڑا بوجھ ہے کہ جو لاہور کی جماعت سے اٹھایا نہ جاسکے گا مگر انہوں نے پیچھے پڑ کر مجھ سے اجازت لی اور ایک بڑی بھاری رقم کے خرچ سے لاہور میں ایک مرکزی مسجد بنا دی۔ سیٹھ صاحب کے دوسرے لڑکے کی شادی خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحبؓ کی لڑکی سے ہوئی ہے۔ خان صاحب بھی مخلص آدمی ہیں اور گو بہت پرانے
    ‏tav.8.13
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    اشاعت احمدیت کی خصوصی تحریک سے واقعہ ڈلہوزی تک
    نہیں مگر پیچھے آکر بھی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اپنے تعلقات مضبوط کئے اور بڑھائے تو ان کے لڑکوں کے رشتے بھی اللہ تعالیٰ نے مخلص گھرانوں میں کرا دیئے۔ لڑکیوں کی شادیاں بھی وہ چاہتے تھے پنجاب میں ہی ہوں۔ غرض امتہ الحفیظ کا نکاح تو خلیل احمد صاحب سے ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور چھوٹی لڑکی امتہ الحی کے نکاح کا اعلان میں اس وقت کررہا ہوں جو خان صاحب ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب کے ایک قریبی عزیز اور شاید بھانجے محمد یونس صاحب کے ساتھ قرار پایا ہے۔ اس رشتہ میں بھی سیٹھ صاحب نے اخلاص کو مدنظر رکھا ہے۔ تمدن کے اختلاف کی وجہ سے میں ان کو لکھتا تھا کہ حیدرآباد میں ہی رشتہ کریں۔ مگر ان کی خواہش تھی کہ قادیان یا پنجاب میں ہی رشتہ ہو تا قادیان آنے کے لئے ایک اور تحریک ان کے لئے پیدا ہو جائے۔ محمد یونس صاحب ضلع کرنال کے رہنے والے ہیں جو دہلی کے ساتھ لگتا ہے مگر حیدرآباد کی نسبت قادیان سے بہت نزدیک ہے۔ سیٹھ صاحب کا خاندان ایک مخلص خاندان ہے ان کی مستورات کے ہمارے خاندان کی مستورات سے` ان کی لڑکیوں کے میری لڑکیوں سے اور ان کے اور ان کے لڑکوں کے میرے ساتھ ایسے مخلصانہ تعلقات ہیں کہ گویا خانہ واحد والا معاملہ ہے۔ ہم ان سے اور وہ ہم سے بے تکلف ہیں اور ایک دوسرے کی شادی و غمی کو اس طرح محسوس کرتے ہیں جیسے اپنے خاندان کی شادی و غمی کو<۔۲۱
    حافظ آباد` گکھڑ` چنیوٹ اورکوئٹہ میں مسجدوں کی تعمیر
    ۱۳۲۰ہش )۱۹۴۱ء( کے دوران مندرجہ ذیل چار مقامات پر احمدی مساجد تعمیر کی گئیں۔
    ۱۔ حافظ آباد ۲۔ گکھڑ ۳۔ چنیوٹ ۴۔ کوئٹہ۔
    مسجد احمدیہ حافظ آباد
    اس مسجد کے لئے قطعہ زمین ناصرالدین صاحب صدیقی تحصیلدار حافظ آباد کی کوشش سے فراہم ہوا اور اس کی بنیادی اینٹ حضرت مولانا غلام رسول صاحبؓ راجیکی نے ۴۔ اپریل ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش کو رکھی۔۲۲
    مسجد احمدیہ گکھڑ
    اس سال کے آغاز میں ضلع گوجرانوالہ کے قصبہ گکھڑ میں ایک احمدیہ مسجد کی تعمیر ہوئی۔۲۳
    مسجد احمدیہ چنیوٹ
    چنیوٹ ضلع جھنگ کا ایک مشہور تجارتی شہر ہے۔ جہاں اگست ۱۹۴۱ء/ ظہور ۱۳۲۰ہش میں ایک خوبصورت احمدیہ مسجد پایہ تکمیل کو پہنچی۔۲۴ سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی )کلکتہ( مسجد احمدیہ چنیوٹ کے ابتدائی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    >غالباً ۱۹۱۸ء کا ذکر ہے جماعت احمدیہ چنیوٹ کے احباب غیر احمدیوں کی مسجد میں جو بڑے بازار کے عقب میں واقع ہے اور >اندر والی مسجد< کہلاتی ہے جمعہ کی نماز ادا کیا کرتے تھے کیونکہ اس ایریا کے غیر احمدی مسجد ٹاہلی والی میں جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ ایک جمعہ کی نماز کے معاًبعد ان لوگوں کے سرکردہ ممبر ایک حاجی صاحب نے اعلان کیا کہ درست سنتیں پڑھنے کے بعد بیٹھ جائیں کیونکہ >مرزائی< ہماری مسجد میں جمعہ پڑھتے ہیں اس مسجد سے ان کو نکال دینا چاہئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد ازاں یہ قریباً دو تین صد اشخاص کا جم غفیر حاجی صاحب مذکور کی سرکردگی میں >مسجد اندر والی< پہنچا۔ اس وقت احمدیوں کا خطبہ ہورہا تھا۔ ان حاجی صاحب نے آگے بڑھ کر احمدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے غصہ اور درشت الفاظ میں کہا کہ >یہ مسجد ہماری ہے۔ تم لوگ یہاں نماز پڑھنے کیوں آتے ہو۔ اگر آئندہ یہ حرکت کی تو نہایت برا سلوک کیا جائے گا<۔ یہ کہہ کر وہ جواب کے انتظار میں کھڑے ہوگئے۔ اس وقت شیخ مولا بخش صاحب مگوں مرحوم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ انہوں نے خطبہ کے دوان ہی میں آسمان کی طرف منہ کرتے ہوئے کہا کہ >خدایا! ہم تو اس مسجد کو تیرا گھر سمجھ کر تیری عبادت کرنے یہاں آیا کرتے تھے۔ اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تیرا گھر نہیں ہے بلکہ ان کا ہے۔ سو ان کے گھر میں تو ہم تیری عبادت کرنے نہیں آئیں گے<۔ اس جواب کو سنکر وہ لوگ چلے گئے۔ ان ایام میں ہی خاکسار کلکتہ سے چنیوٹ گیا ہوا تھا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے احباب جماعت سے درخواست کی کہ آئندہ سے جمعہ کی نمازیں وہ میرے مکان پر ادا کیا کریں اور اس کے لئے ضروری انتظام بھی کیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس جمعہ سے تین ہفتہ قبل انجمن اسلامیہ چنیوٹ نے اپنی مملوکہ زمین واقعہ محلہ راجن پورہ کو فروخت کرنے کا بذریعہ منادی اعلان کیا۔ زمین کے مختلف پلاٹ بنائے گئے تھے۔ اور مذکورہ حاجی صاحب کو جو اس انجمن کے آنریری نائب منتظم تھے نیلام کنندہ کی ڈیوٹی پر مامور کیا تھا۔ نیلام کے لئے مذکورہ واقعہ والے جمعہ کے بعد آنے والی جمعرات کا دن بعد از نماز عصر مقرر تھا۔ جب نیلامی شروع ہوئی تو میں بھی تماشائی کے طور پر اس مجمع میں ان حاجی صاحب کے بالکل قریب کھڑا تھا۔ جب اس پلاٹ کی باری آئی جس پر اب مسجد احمدیہ بنی ہوئی ہے تو نیلام کنندہ نے سرگوشی کے ساتھ مجھے مخاطب کرتے ہوئے آہستہ سے کہا کہ >تمہارے پاس کوئی مسجد نہیں یہ بہت موقعہ کا چوکور پلاٹ ہے کیوں اسے خرید نہیں لیتا؟< ان کے یہ الفاظ میرے کانوں سے گزر کر اس طرح دل میں اتر گئے جس طرح سوچ کے دبانے سے بجلی کا بلب روشن ہو جاتا ہے۔ اس بارہ میں احباب جماعت سے مشورہ تو الگ رہا سرسری ذکر بھی کبھی نہیں ہوا تھا مگر میں نے توکل بخدا بولی میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ دوسرے خریدار چونکہ دنیاوی اغراض کے لئے اس پلاٹ کے خواہشمند تھے اس لئے وہ قیمت کے بارہ میں محتاط رنگ میں بولی دے رہے تھے مگر میرے دل میں تو خدا کے گھر کی تعمیر کی خاطر ایک خاص جوش پیدا ہوچکا تھا اس لئے میں نے اس بولی میں حصہ لینا شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں چھ مرلہ کا یہ ٹکڑا دو سو ستر روپے فی مرلہ کے حساب سے میرے نام پر ختم ہوا۔ گو میں نے نیلام کنندہ کی تحریک کے جواب میں ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نہیں نکالا تھا مگر انہی نیلام کنندہ حاجی صاحب نے فی الفور اس مجمع میں اعلان کر دیا کہ >بھائیو! یہاں مرزائیوں کی مسجد بنے گی<۔ خداتعالیٰ کے کیا ہی عجیب تصرفات ہیں کہ جس شخص نے احمدیوں کو اپنی مسجد سے نکالا تھا دوسرا جمعہ آنے سے قبل اسی کی تحریک پر احمدیوں نے مسجد کے لئے زمین خریدی اور خود اسی کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے اس کا اعلان بھی کرا دیا۔ سبحان اللہ العظیم۔ دوسرے دن جمعہ کی نماز کے لئے حسب انتظام جب احمدی احباب میرے مکان پر جمع ہوئے تو میں نے ان کو یہ خوشخبری سنائی اور اسی وقت زمین کی قیمت وغیرہ کے لئے چندہ کی اپیل کی۔ چنیوٹ کے جو احباب کلکتہ لاہور آگرہ وغیرہ مقامات پر تجارت کرتے تھے سب کو تحریک کی گئی مولا کریم کی مہربانی سے سب نے حسب توفیق دل کھول کر چندہ دیا۔ کافی عرصہ تک وہ زمین یونہی پڑی رہی اور غالباً بیس بائیس سال بعد جماعت کے دوستوں کو خداتعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اس خانہ خدا کی تعمیر کریں۔ میرے نہایت ہی واجب الاحترام بزرگ چچا میاں جناب حاجی تاج محمود صاحب مرحوم کی سرپرستی میں اور میرے چھوٹے بھائی میاں محمد یوسف صاحب بانی کی نگرانی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ خوبصورت مسجد تیار ہوگئی۔ چنیوٹ کے اور بھی بعض دوستوں نے اس کی تعمیر میں نمایاں خدمات سرانجام دیں<۔۲۵
    مسجد احمدیہ کوئٹہ
    اس سال جماعت احمدیہ کی چوتھی مشہور مسجد۲۶ کوئٹہ میں تعمیر ہوئی۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد ۲۴۔ اگست ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش کو رکھا گیا۔ سب سے پہلے امیر جماعت کوئٹہ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کا مسجد فضل لنڈن سے متعلق افتتاحی خطاب پڑھ کر سنایا۔ ازاں بعد کوئٹہ میں موجود صحابہ نے مسجد مبارک کی دو اینٹیں )جن پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے دعا فرمائی تھی( ایک رومال میں رکھ کر محراب کی بنیاد تک پہنچائیں اور امیر جماعت نے ان کو نصب کردیا۔۲۷ مسجد کی تعمیر جب تمام مراحل طے کرتی ہوئی چھت تک پہنچی تو احمدیوں نے کنکریٹ کی چھت ڈالنے کے لئے ۱۲۔ اخاء )اکتوبر( کو رمضان شریف کے مبارک مہینہ میں ڈھائی بجے دوپہر سے لیکر نو بجے شب تک نہایت جوش و خروش سے وقار عمل منایا۔۲۸ ۲۸۔ نومبر ۱۹۴۱ء/ نبوت ۱۳۲۰ہش کو نماز جمعہ کے بعد اس کا افتتاح عمل میں آیا۔۲۹ اس مسجد کی تعمیر میں کوئٹہ کے مخلص احمدیوں کے علاوہ سمندرپار کے احمدیوں نے بھی فراخدلی سے چندہ دیا۔۳۰
    دوسرا باب )فصل چہارم(
    واقعہ ڈلہوزی
    حکومت پنجاب کے بعض اعلیٰ افسر سالہا سال سے جماعت احمدیہ کو باغی ثابت کرکے اس کے خلاف جارحانہ اور منتقمانہ کارروائیوں پر تلے ہوئے تھے۔ اس خوفناک منصوبہ نے جو اندر ہی اندر ایک خاص سکیم کے تحت جاری تھا۔ ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش میں یکایک ایک نئی اور بھیانک شکل اختیار کرلی جس کی نسبت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے یہ رائے ظاہر فرمائی کہ سلسلہ کی تاریخ میں ایک نرالا واقعہ ہے۔ ایسا نرالہ کہ میں اسے ۱۹۳۴ء کے اس واقعہ سے بڑھ کر سمجھتا ہوں جبکہ گورنر پنجاب نے مجھ کو رات کے وقت نوٹس بھجوایا تھا کہ تم احمدیہ جماعت کے افراد کو روک دو کہ وہ قادیان میں نہ آئیں اور بعد میں گورنران کونسل نے اس کے متعلق دو دفعہ معذرت کی اور اپنی غلطی کا اقرار کیا۔۳۱ یہ اہم واقعہ ۱۰۔ تبوک ۱۳۲۰ہش )۱۰۔ ستمبر ۱۹۴۱ء( کو پیش آیا۔ جبکہ حضور ڈلہوزی میں تبدیلی آب وہوا کے لئے تشریف فرما تھے۔
    واقعہ ڈلہوزی کی تفصیل حضرت امیرالمومنینؓ کے الفاظ میں
    یہ واقعہ جسے ہم آئندہ >واقعہ ڈلہوزی< کے نام سے موسوم کریں گے اپنی اہمیت کے لحاظ سے تقاضا کرتا ہے کہ اس کی تفصیلات خود حضرت امیر المومنینؓ کی زبان مبارک سے بیان کی جائیں۔ حضور نے ۱۲۔ تبوک ستمبر ۱۳۲۰ ہش/ ۱۹۴۱ء کو اس واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ۔:
    >بارہ بجے کا وقت تھا کہ میرا لڑکا خلیل احمد جس کی عمر اس وقت پونے سترہ سال ہے میرے پاس آیا اس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا جو بند تھا۔ وہ پیکٹ گول تھا اس کے باہر ایک کاغذ لپٹا ہوا تھا اور اس کاغذ پر اس کا پتہ لکھا ہوا تھا۔ خلیل احمد نے وہ پیکٹ مجھے دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ پیکٹ کسی نے میرے نام بھجوایا ہے اور گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ میں نے وہ پیکٹ اس کے ہاتھ سے لے لیا اور چونکہ وہ بند تھا اس لئے طبعاً مجھے خیال پیدا ہوا کہ اسے کیونکر معلوم ہوا کہ یہ پیکٹ گورنمنٹ کے خلاف ہے چنانچہ میں نے اسے کہا یہ پیکٹ تو بند ہے تمہیں کیونکر معلوم ہوا کہ اس میں کوئی ایسے کاغذات ہیں جو گورنمنٹ کے خلاف ہیں۔ اس نے کہا کہ اس پیکٹ کا خول کچھ ڈھیلا سا ہے میں نے بغیر اوپر کا کور پھاڑنے کے اندر سے کاغذات نکال کر دیکھے تو معلوم ہوا کہ اس میں گورنمنٹ کے خلاف باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ اس پر میں نے بھی دیکھا تو واقعہ میں کور کچھ ڈھیلا سا تھا۔ پھر تجربہ کے طور پر میں نے بھی بغیر کور پھاڑنے کے اس میں سے کاغذات نکالے اور مجھے فوراً معلوم ہوگیا کہ خلیل احمد جو کچھ کہتا ہے ٹھیک ہے۔ میں نے وہ اشتہار سب کا سب نہیں پڑھا بلکہ صرف ایک سطر دیکھی اس کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا کہ گورنمنٹ نے بعض ہندوستانی سپاہیوں کو کسی جگہ مروا دیا ہے۔ غرض بغیر اس کے کہ میں اس اشتہار کو پڑھتا صرف ایک سطر دیکھ کر اور خلیل احمد کی بات کو درست پاکر میں نے وہ پلندا کور میں ڈال دیا اور درد صاحب کی طرف آدمی بھجوایا کہ وہ فوراً مجھ سے آکر ملیں۔ درد صاحب ایک دو منٹ بعد ہی سیڑھیوں پر آگئے۔ میں سیڑھیوں میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان کے ہاتھ میں وہ پیکٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیکٹ خلیل احمد کے نام آیا ہے اور اس نے مجھے ابھی آکر دیا ہے اس نے مجھے بتایا تھا کہ یہ پیکٹ گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوتا ہے اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ یہ گورنمنٹ کے خلاف ہے تو اس نے بتایا کہ میں نے بغیر کور پھاڑنے کے اندر کے کاغذات نکال کر دیکھے تھے اور مجھے اس کا مضمون گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوا۔ اس پر میں نے بھی بغیر پھاڑنے کے اس میں سے کاغذات نکال کر دیکھے تو وہ آسانی سے باہر آگئے اور اس پر نظر ڈالتے ہی مجھے معلوم ہوگیا کہ وہ گورنمنٹ کے خلاف ہیں۔ نہ صرف اس لئے کہ ایک سطر جو میں نے پڑھی اس کا مضمون گورنمنٹ کے خلاف تھا بلکہ اس لئے بھی کہ گورنمنٹ کے خلاف جو اشتہارات وغیرہ شائع کئے جاتے ہیں وہ دستی پریس پر چھاپے جاتے ہیں اور وہ کاغذات بھی دستی پریس پر ہی چھپے ہوئے تھے اس پیکٹ کے اوپر جو پتہ لکھا ہوا تھا وہ خوشخط لکھا ہوا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی مسلمان نے لکھا ہے۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اس میں مرزا کا لفظ بھی تھا یا نہیں مگر >صاحبزادہ خلیل احمد< ضرور لکھا ہوا تھا۔ ص کا دائرہ بھی بڑا اچھا تھا اور ح کے گوشے بھی خوب نکالے ہوئے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا جیسے پتہ کسی مسلمان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ خیر میں نے وہ پیکٹ درد صاحب کو دیا اور کہا کہ یہ کسی کی شرارت معلوم ہوتی ہے اور چونکہ ممکن ہے کہ اس قسم کے ٹریکٹ تمام پنجاب کے نوجوانوں میں عام طور پر تقسیم کئے جارہے ہیں اس لئے آپ فوراً یہ پیکٹ ہز ایکسی لینسی گورنر صاحب پنجاب کو بھجوا دیں اور انہیں لکھ دیں کہ میرے لڑکے خلیل احمد کے نام ایسا پیکٹ آیا ہے اور چونکہ ممکن ہے کہ اور پنجاب کے نوجوانوں کے نام بھی اس طرح ٹریکٹ اور اشتہارات وغیرہ بھیجے گئے ہوں اس لئے یہ پیکٹ آپ کو بھجوایا جاتا ہے آپ اس کے متعلق جو محکمانہ کارروائی کرنا مناسب سمجھیں کریں۔
    میں یہ بات کرکے واپس ہی لوٹا تھا کہ ایک آدمی نیچے سے آیا اور درد صاحب سے کہنے لگا کہ پولیس والے آئے ہیں اور وہ آپ کو بلاتے ہیں۔ میں نے اس آدمی کو نہیں دیکھا کیونکہ وہ سیڑھیوں کے موڑ کے پیچھے تھا۔ یہ بات سن کر میں نے درد صاحب سے کہا کہ آپ جائیں اور جاکر معلوم کریں کہ پولیس والے کیا کہتے ہیں۔ درد صاحب گئے اور تین چار منٹ کے بعد ہی واپس آگئے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ پولیس کے کچھ سپاہی آئے ہوئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے مرزا خلیل احمد صاحب سے ملنا ہے۔ درد صاحب کہنے لگے کہ میں نے انہیں کہا کہ خلیل تو بچہ ہے اس سے آپ نے کیا بات کرنی ہے۔ جو کچھ آپ کہنا چاہتے ہیں وہ مجھے لکھ کر دے دیں۔ مگر انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ ہم اسی سے بات کرنا چاہتے ہیں اور اس بارے میں ہم کچھ لکھ کر نہیں دے سکتے۔ درد صاحب کچھ اور باتیں بھی کرنا چاہتے تھے مگر میں نے اس خیال سے کہ معمولی بات ہے ان سے کہا۔ کوئی حرج کی بات نہیں میں خلیل کو بھجوا دیتا ہوں۔ چنانچہ میں نے اسی وقت خلیل احمد کو بھجوایا۔ چند منٹ کے بعد ہی خلیل احمد واپس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ سپاہیوں نے مجھ سے یہ پوچھا تھا کہ اس قسم کا پیکٹ تمہارے نام آیا ہے اور میں نے کہا کہ ہاں آیا ہے مگر میں نے اپنے ابا کو دے دیا ہے۔ پھر پولیس والوں نے اس پیکٹ کی طرف اشارہ کرکے )جو درد صاحب نیچے لے گئے تھے( کہا کہ یہ پیکٹ اپنے ہاتھ میں لے کر کھول دو مگر میں نے کہا کہ میں اسے نہیں کھول سکتا۔ خلیل احمد سے جب یہ بات میں نے سنی تو میں نے کہا کہ تم نے بہت اچھا کیا جو پیکٹ اپنے ہاتھ سے نہیں کھولا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ہاتھ سے پیکٹ کھلوانے کا منشاء یہ تھا کہ وہ شرارتاً اس طرح اپنی کانشنس کو یہ تسلی دلانا چاہتے تھے کہ انہوں نے خلیل کے ہاتھ سے یہ پیکٹ لیا ہے۔ خیر وہ بات کرکے ہٹا تو اسی وقت درد صاحب نے سیڑھیوں پر سے آواز دی اور میرے جانے پر انہوں نے کہا ان لوگوں نے مجھ سے وہ پیکٹ مانگا تھا مگر میں نے دینے سے انکار کردیا اور ان سے کہا کہ تم مجھے وہ قانون بتائو جس کے ماتحت تم مجھ سے یہ پیکٹ لینا چاہتے ہو۔ پھر میں نے ان سے آپ کا نام لے کر کہا کہ مجھے خلیفتہ المسیح کی طرف سے یہ پیکٹ ایک بڑے افسر کو بھجوانے کے لئے ملا ہے اس لئے میں یہ پیکٹ تمہیں نہیں دے سکتا۔ اس پر انہوں نے وہ پیکٹ مجھ سے چھین کر باہر پھینک دیا اور ایک سپاہی اسے لے کر بھاگ گیا۔ میں نے پھر جلدی میں ان کی پوری بات نہ سنی اور میں سمجھ گیا کہ یہ ہم سے شرارت کی گئی ہے۔ چنانچہ میں نے اوپر آکر گورنر صاحب کو ایک تار لکھا جس میں وہ اہم واقعات جو اس وقت تک ہوئے تھے لکھ دیئے۔ یہ تار لے کر میں پھر سیڑھیوں میں آیا تو اس وقت درد صاحب واپس جاچکے تھے۔ میں نیچے اتر کر بیٹھک میں آیا تو میں نے دیکھا کہ ہماری کوچ اور کرسیوں پر پولیس والے اپنی لاتیں دراز کرکے یوں بیٹھے ہیں کہ گویا ان کا گھر ہے میں جھٹ دروازہ بند کرکے برآمدہ کی طرف سے دفتر کے کمرہ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ برآمدہ میں بھی پولیس والے کھڑے ہیں۔ خیر میں نے درد صاحب کو تار دیا اور کہا کہ یہ ابھی گورنر صاحب کو بھجوا دیا جائے۔ پھر میں گورنر صاحب کو ایک مفصل چٹھی لکھنے بیٹھ گیا۔ اس عرصہ میں دو دفعہ مجھے پھر نیچے جانا پڑا۔ ایک دفعہ تو میں درد صاحب کو یہ کہنے کے لئے گیا کہ آپ اس تار کا مضمون پولیس کے سپاہیوں کو بھی سنا دیں اور ان سے پوچھ لیں کہ اس میں کوئی غلط بات تو بیان نہیں کی گئی اور اگر کسی واقعہ کا وہ انکار کریں تو مجھے بتایا جائے تاکہ اگر کسی قسم کی اس میں غلطی ہو تو اس کو دور کر دیا جائے۔
    میرے اس کہنے کی وجہ یہ تھی کہ نیچے جو واقعات درد صاحب کو پیش آئے تھے وہ میں نے نہیں دیکھے تھے اور میرا فرض تھا کہ ان واقعات کے بیان کرنے میں دوسروں کو صفائی کا موقعہ دوں اور اگر کوئی خلاف واقعہ بات درج ہوگئی ہو تو اس کی تصحیح کردوں۔ پھر بعد میں مجھے ایک اور بات کی نسبت خیال آیا کہ اس کا لکھنا بھی تار میں ضروری تھا اس لئے میں دوسری دفعہ پھر نیچے اترا اور میں نے درد صاحب کو اس واقعہ کے لکھنے کی بھی ہدایت کی اور ساتھ ہی پھر انہیں کہہ دیا کہ یہ واقعہ بھی ان کو سنا دینا۔ اس وقت بھی پولیس برابر ہمارے مکان کے نچلے حصہ پر قبضہ جمائے بیٹھی رہی۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس دن ہمارے اکثر آدمی باہر کام پر گئے ہوئے تھے۔ عزیزم مرزا مظفر احمد صاحب جو ڈلہوزی میں ہمارے ہاں مہمان آئے ہوئے تھے وہ بھی مرزا ناصر احمد کو ملنے کے لئے ان کی کوٹھی پر گئے ہوئے تھے۔ خیر کچھ دیر کے بعد مجھے خیال آیا کہ ہمیں تو قانون کی واقفیت نہیں مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد کو بلوا لیا جائے۔ چنانچہ میں پھر نیچے اترا اور ایک شخص سے کہا کہ درد صاحب سے جاکر کہیں کہ فوری طور پر مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد کو بلوالیا جائے۔ اس وقت مجھے پھر معلوم ہوا کہ ابھی تک پولیس مکان پر قابض تھی۔ خیر اس شخص نے مجھے بتایا کہ درد صاحب پہلے ہی ایک آدمی ان کی طرف بھجوا چکے ہیں۔ چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد دونوں پہنچ گئے اور انہوں نے بتایا کہ پیچھے آرمڈ پولیس رائفلیں لے کر چلی آرہی ہے۔ درد صاحب نے مرزا عبدالحق صاحب پلیڈر کی طرف بھی آدمی بھجوا دیا اور وہ بھی تھوڑی دیر کے بعد آگئے۔ اس وقت تک بھی پولیس کمرہ اور برآمدہ پر قابض تھی۔ مجھے اس وقت خیال گزرا کہ ¶پولیس والوں نے ضرور تھانہ میں کوئی رقعہ بھیجا ہے اور اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آرمڈ پولیس رائفلیں لے کر ہمارے مکان پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد میں پھر خط لکھنے میں مشغول ہوگیا اور تھوڑی دیر کے بعد میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ مجھے تو قانون کا علم نہیں تم قانون پڑھے ہوئے ہو کیا پولیس کا کسی کے مکان کے اندر داخل ہونا جائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی رو سے یہ بالکل ناجائز ہے میں نے کہا تو پھر تم جائو اور پولیس والوں سے بات کرو۔ اتنے میں مرزا ناصر احمد بھی آگئے اور کہنے لگے کہ پولیس والے ہمارے مکان کے اندر کیوں بیٹھے ہیں اور درد صاحب نے انہیں بیٹھنے کیوں دیا یہ بالکل خلافت قانون حرکت ہے جو پولیس والوں نے کی ہے۔ پولیس والے بغیر اجازت کے کسی کے گھر میں داخل نہیں ہوسکتے اور اگر وہ داخل ہوں تو اس صورت میں انہیں اپنی تلاشی دینی ضروری ہوتی ہے کیونکہ کیا پتہ کہ وہ کوئی ناجائز چیز اندر پھینک جائیں۔ اس لئے قانون یہی کہتا ہے کہ پولیس کی پہلے تلاشی ہونی ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی طرف سے کوئی ناجائز چیز پھینک دے اور گھر والوں کو مجرم بنادے۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا پولیس والوں کی تلاشی لے لی گئی تھی۔ میں نے کہا کہ میرے علم میں تو یہ بات نہیں آئی کہ پولیس والوں کی تلاشی لی گئی ہو۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ یہ درد صاحب کا فرض تھا کہ پولیس والوں کو اندر نہ آنے دیتے۔
    مرزا ناصر احمد نے چونکہ بیرسٹری کی بھی کچھ تعلیم پائی تھی وہ کچھ قانون سے واقف ہیں۔ میں نے کہا کہ جب پولیس والوں کو قانوناً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے مکان میں داخل ہوں تو پھر جائو اور ان کو قائل کرو۔ اس پر وہ نیچے آئے اور پولیس والوں سے اونچی باتیں کرنے لگے۔ مرزا ناصر احمد کی آواز ذرا زیادہ بلند تھی میں نے اس وقت یہ خیال کیا کہ یہ بچہ ہے ابھی پورا تجربہ نہیں ہم اس وقت چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اگر اس نے کوئی بات کی تو ممکن ہے کہ پولیس والے اس پر کوئی الزام لگا دیں کہ اس نے ہم پر دست درازی کی ہے اس لئے میں جلدی سے نیچے اترا اس وقت پولیس والے اندر کمرے سے نکل کر برآمدہ میں آچکے تھے اور مرزا ناصر احمد انہیں یہ کہہ رہے تھے کہ تم جہاں اندر بیٹھے تھے وہیں جابیٹھو میں اسی حالت میں تمہاری تصویر لینا چاہتا ہوں اور وہ کہہ رہے تھے کہ ہم وہاں نہیں جاتے۔ میں نے جب ان کی یہ باتیں سنیں تو میں نے سپاہیوں سے کہا کہ تم سب پہلے اندر بیٹھے ہوئے تھے اور کئی بھلے مانسں اس کے گواہ ہیں میں نے خود تمہیں اندر بیٹھے دیکھا۔ درد صاحب نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا۔ مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا۔ ہمارے عملہ کے اور کئی آدمیوں نے تم کو اندر بیٹھے دیکھا ہے۔ اب اس میں تمہارا کیا حرج ہے کہ پھر تم وہیں جابیٹھو اور تمہاری اس وقت کی تصویر لے لی جائے۔ اگر تمہارا اندر آنا قانون کے مطابق تھا تو تم اب بھی وہیں بیٹھ سکتے ہو اور اگر تمہارا اندر بیٹھنا قانون کے خلاف تھا تو تم اپنی غلطی کا اقرار کرو۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ ہم تو اندر بیٹھے ہی نہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ تین دفعہ تو میں نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ہے۔ اسی طرح درد صاحب نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ہے۔ خلیل احمد سے جو تم نے باتیں کیں وہ اندر ہی کیں۔ اسی طرح تمہیں مظفر احمد نے اندر دیکھا ناصر احمد نے اندر دیکھا۔ اب تم کس طرح کہہ رہے ہو کہ تم اندر بیٹھے ہی نہیں اور اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہو۔ مگر اس پر بھی انہوں نے یہی کہا کہ ہم اندر بالکل نہیں بیٹھے۔ اتنے میں مرزا مظفر احمد نے کہا کہ میں جب آیا تھا تو اس وقت بھی یہ سپاہی اندر بیٹھے تھے اور نہ صرف اندر بیٹھے ہوئے تھے بلکہ ایک سپاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خلاف قانون اپنی پیٹی کھول کر بیٹھا تھا۔ مگر وہ یہی کہتے چلے گئے کہ ہم اندر نہیں گئے۔ اس پر میں نے انہیں کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ آج مجھے ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ ہوا کہ عدالتیں کن جھوٹے آدمیوں کی گواہیوں پر لوگوں کو سزا دیتی ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ تم وہ ہو کہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں تمہارے پاس آیا اور میں نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ایک دفعہ نہیں بلکہ تین دفعہ۔ پھر تم نے درد صاحب سے یہاں باتیں کیں۔ تم نے خلیل احمد سے یہاں باتیں کیں۔ تم نے مظفر احمد سے یہاں باتیں کیں۔ تم نے ناصر احمد سے یہاں باتیں کیں اور تم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ درست ہے۔ مگر اتنے گواہوں کے باوجود تم کہہ رہے ہو کہ تم اندر نہیں بیٹھے۔ جس قسم کا جھوٹ تم لوگ بول رہے ہو اس قسم کی گواہیوں پر عدالتوں کی طرف سے لوگوں کو سزائوں کا ملنا یقیناً نہایت ہی افسوسناک اور ظالمانہ فعل ہے۔
    اس پر وہ کچھ کھسیانے سے ہوگئے مگر اقرار انہوں نے پھر بھی نہ کیا کہ وہ کمرہ کے اندر بیٹھے تھے۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ اس طرح کھلے طور پر جھوٹ بول رہے ہیں تو میں نے خیال کیا کہ نامعلوم ہمارے متعلق وہ اور کیا باتیں بنالیں۔ شاید وہ یہی کہہ دیں کہ ہم پر انہوں نے حملہ کر دیا تھا اور ہمیں مارنے پیٹنے لگ گئے تھے۔ اس لئے میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ مظفر اس ملک میں احمدیوں کے قول پر کوئی اعتبار نہیں کرتا تم تعلیم یافتہ ہو عہدیدار ہو لیکن پھر بھی اگر کوئی واقعہ ہوا تو تمہاری کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ اعتبار انہی لوگوں کی بات پر کیا جائے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ ان واقعات کی شہادت کے لئے کسی اور کو بھی بلا لیا جائے۔ ہمارے ہمسایہ میں ایک غیر احمدی ڈپٹی کمشنر صاحب چھٹی پر آئے ہوئے تھے میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ فوراً ان کی طرف ایک آدمی دوڑا دیا جائے اور کہا جائے کہ ایک ضروری کام ہے آپ مہربانی کرکے تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے آئیں۔ میرا منشاء یہ تھا کہ وہ آئیں تو اس واقعہ کے گواہ بن جائیں گے۔ چنانچہ مرزا مظفر احمد نے ان کی طرف ایک آدمی دوڑا دیا کہ ضروری کام ہے آپ جلدی تشریف لائیں۔ اس کے بعد میں پھر اوپر چلا گیا۔ اتنے میں نیچے سے مجھے آوازیں آئیں اور میں نے آواز سے پہچان لیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب آگئے ہیں اور وہ ان سپاہیوں سے بات کررہے تھے اور کہہ رہے تھے تم نے صریحاً خلاف قانون حرکت کی ہے۔ یہ باتیں سن کر میں بھی نیچے اتر آیا اور میں نے ان کے سامنے تمام پہلی باتوں کو دہرانا شروع کیا۔ میں نے کہا اس طرح خلیل احمد کے نام ایک پیکٹ آیا تھا جو میں نے درد صاحب کو اس لئے دیا کہ وہ گورنر صاحب پنجاب کو بھجوا دیں۔ انہوں نے درد صاحب سے وہ پیکٹ چھین لیا اور پھر انہوں نے تھانہ میں کوئی جھوٹی رپورٹ بھیج دی جس پر مسلح پولیس آگئی۔ پھر میں نے ان سپاہیوں سے کہا کہ یہ جو مسلح پولیس آئی ہے یہ ضرور کسی تمہاری رپورٹ کے نتیجہ میں آئی ہے۔ تم نے لکھا ہوگا کہ یہ لوگ ہمیں مارنے اور قتل کرنے کے درپے ہیں۔ یقیناً تم نے ایسا ہی لکھا ہے ورنہ تھانے والوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ مسلح پولیس یہاں بھیج دیتے۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ جب درد صاحب سے تم نے پیکٹ چھینا تھا تو کیا اس سے تمہاری غرض یہ نہیں تھی کہ تم یہ بات بناسکو کہ تم نے یہ پیکٹ خلیل سے لیا ہے۔ اس پر وہ کہنے لگا جس طرح آپ نے کوئی بات بنانی تھی اسی طرح ہم نے بھی کوئی بات بنانی ہی تھی۔ یہ باتیں انہوں نے ان ڈپٹی کمشنر صاحب کے سامنے کیں اور میں نے بھی ان سے اس لئے کہلوائیں تاکہ وہ ڈپٹی کمشنر صاحب ان باتوں کے گواہ بن جائیں )گو میں نہیں کہہ سکتا ان باتوں میں سے انہوں نے کتنی سنیں کیونکہ اس وقت مختلف باتیں ہورہی تھیں( اسی طرح ابھی ڈپٹی کمشنر صاحب نہیں آئے تھے کہ مجھے نیچے سے ایک سپاہی کی آواز آئی جو دوسرے سپاہی سے بات کررہا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کوئی سپاہی بدنیتی سے اندر آنا چاہتا تھا کہ ہمارے آدمیوں نے اسے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ اس پر دوسرا سپاہی اسے کہنے لگا۔ >ایدھر آجا اوئے اینہاں دا کی اعتبار ہے جو چاہیں گل بنا لیں<۔
    یعنی ان کا کیا اعتبار ہے ان کا جو جی چاہے گا ہمارے خلاف بات بنالیں گے۔ گویا ہمارے سب لوگ جھوٹے تھے اور وہ لوگ جو روزانہ جھوٹی قسمیں کھاتے اور ہمارے سامنے جھوٹ بول رہے تھے وہ سچے تھے۔ خیر ان ڈپٹی کمشنر صاحب نے کچھ دیر ان سے باتیں کرنے کے بعد مجھ سے کہا کہ ان سپاہیوں سے باتیں کرنی فضول ہیں ان میں کوئی افسر نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی اختیار ہے۔ آپ کو چاہئے کہ ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر صاحب کی طرف آدمی بھجوا دیں اور انہیں تمام حالات سے اطلاع دیں۔ میں نے کہا اس کا پتہ کراچکا ہوں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس دونوں اس وقت باہر ہیں اسی وجہ سے ہم حیران ہیں کہ کیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پھر یہ جو کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل ہیں ان سے بات کرنی فضول ہے انہیں دیکھ کر تو یہ بھی پتہ نہیں لگتا کہ ان کا افسر کون ہے۔ پھر انہوں نے کہا۔ یہاں مسٹر سلیئر ایس ڈی او ہیں۔ مرزا مظفر احمد صاحب ان کے پاس چلے جائیں۔ میں نے کہا مظفر احمد کا جانا ٹھیک نہیں۔ وہ یہاں گواہ کے طور پر ہیں۔ میں درد صاحب اور مرزا ناصر احمد صاحب کو بھجوا دیتا ہوں۔ چنانچہ میں نے ان دونوں کو مسٹر سلیئر کی طرف بھجوا دیا اور خود ان سپاہیوں سے پوچھا کہ تم میں افسر کون ہے۔ اس پر پہلے تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں پتہ نہیں ہمارا کون افسر ہے۔ پھر جب مزید اصرار کیا تو ان میں سے کوئی کہے کہ یہ افسر ہے اور کوئی کہے وہ افسر ہے۔ آخر ایک طرف اشارہ کرکے وہ کہنے لگے کہ ہم میں سے یہ سب سے بڑا ہے اور وہ بغیر وردی کے تھا۔ اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا میں وردی میں ہی نہیں فلاں شخص ہے۔ اس نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ بے وردی شخص سینئر ہے میں افسر نہیں۔ جب اسے کہا گیا کہ وہ تو منکر ہے تو اس نے جواب دیا کہ >جیہنوں سمجھ لو<۔ یعنی جسے چاہیں افسر سمجھ لیں۔ آخر ان ڈپٹی کمشنر صاحب نے ان سے پوچھا کہ تم کو یہ تو بتانا چاہئے تم میں سے بڑا کون ہے۔ اس پر بھی انہوں نے کچھ ایسا ہی جواب دیا۔ غرض اسی قسم کی آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔ خیر انہوں نے کہا۔ مسٹر سلیئر ایس ڈی او ابھی آجائیں گے۔ ان لوگوں سے بات کرنی فضول ہے آپ اندر چل بیٹھیں۔ چنانچہ وہ اور میں اور عزیزم مظفر احمد کمرہ میں بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں مسٹر سلیئر ناصر احمد کے ساتھ آگئے۔ مسٹر سلیئر نے کوٹ اتارا اور بیٹھتے ہی کہا کہ میں پولیس افسر نہیں۔ میرے پاس تو جب کیس آتا ہے اس وقت اسے سنتا ہوں۔ وہ مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے۔ یونہی یہ سن کر کہ کوئی شخص باہر سے یہاں چند دنوں کے لئے آیا ہوا ہے اور اسے پولیس والوں کے متعلق کوئی شکایت پیدا ہوئی ہے چلے آئے۔ میں نے بھی ان کا شکریہ ادا کیا کہ آپ بغیر اس علم کے کہ کیا واقعہ ہوا ہے اور ہم پر کیا گزری ہے تشریف لے آئے ہیں۔ خیر انہیں تمام واقعات بتائے گئے انہوں نے کہا کہ ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت پولیس بغیر وارنٹ دکھائے گرفتار کرسکتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب کہنے لگے یہ اختیارات انسپکٹر پولیس یا سب انسپکٹر پولیس کو حاصل ہیں ہر ایک کو حاصل نہیں۔ اس پر مسٹر سلیئر نے بتایا کہ انسپکٹر پولیس بیمار تھا اور تھانہ دار دورہ پر تھا اس وقت انچارج ایک ہیڈ کانسٹیبل ہی ہے اس لئے اسے اختیار حاصل ہے۔ پھر وہ واقعات سنتے رہے اور انہوں نے اس پر افسوس کا بھی اظہار کیا۔ اور کہا کہ کیا آپ کے نزدیک یہ کافی نہ ہوگا کہ میں انسپکٹر کو کہوں کہ وہ ان لوگوں کے متعلق مناسب کارروائی کرے۔ میں نے انہیں کہا کہ میں تو اس کے متعلق گورنر صاحب کو بھی تار دے چکا ہوں۔ اس لئے ان کے فیصلہ کا مجھے انتظار کرنا پڑے گا۔ اسی دوران میں پولیس کے بعض نقائص کو بھی انہوں نے تسلیم کیا اور جب انہیں بتایا گیا کہ وہ بغیر تلاشی لئے اندر آگئے تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ میں خلاف قانون حرکت ہے اور انہیں اندر نہیں آنا چاہئے تھا۔ مگر انہوں نے کہا کہ میں مجسٹریٹ ہوں اور صرف اتنا کرسکتا ہوں کہ جب کیس میرے سامنے آئے تو اس کا فیصلہ کردوں۔ پولیس کی کارروائی میں دخل نہیں دے سکتا۔ البتہ لڑکے کی ضمانت ابھی لے لیتا ہوں۔
    ڈی سی صاحب نے کہا۔ میں اس بارہ میں تجربہ کار ہوں۔ آپ یہ بات نہ کریں کیونکہ اس طرح آپ خود الزام کے نیچے آجائیں گے۔ پولیس نے ابھی تک آپ کے پاس رپورٹ نہیں کی اور قاعدہ یہ ہے کہ پہلے پولیس رپورٹ کرے اور پھر اس پر کسی قسم کا ایکشن لیا جائے۔ انہوں نے کہا۔ بہت اچھا۔ میں انچارج کو بلا لیتا ہوں۔ انہوں نے اسے بھیجا کہ جاکر تھانیدار انچارج کو بلا لائو۔ اس پر وہی شخص آیا جو بے وردی تھا۔ مسٹر سلیئر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم انچارج ہو؟ اس نے کہا میں تو وردی میں نہیں میں کس طرح انچارج ہوسکتا ہوں۔ انہوں نے کہا اچھا پھر کسی وردی والے کو بلائو۔ اس پر وہ کسی دوسرے کو بلا لایا جو وردی پہنے ہوئے تھا۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ کیا تم انچارج ہو؟ تو وہ کہنے لگا میں کس طرح انچارج ہوسکتا ہوں میں تو جونیئر ہوں انچارج تو یہ ہے جو بغیر وردی کے ہے۔ اس پر مسٹر سلیئر بھی حیران ہوئے اور انہوں نے اسی شخص سے جو بغیر وردی کے تھا کہا کہ تم اس کیس کے متعلق میرے پاس رپورٹ کرو۔ پھر میں اس کا فیصلہ کروں گا۔ میں نے اس دوران میں انہیں توجہ دلائی کہ آپ دیکھیں یہ لوگ کس قسم کی حرکات کررہے ہیں کہ اصل انچارج بغیر وردی کے ہے اور جو وردی میں ہے وہ انچارج ہونے سے منکر ہے۔ اس سے وہ بہت متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ انسپکٹر بیمار تھا۔ اگر وہ اچھا ہوتا تو شائد اس طرح واقعات نہ ہوتے۔ خیر وہ بے وردی شخص تو رپورٹ لکھنے کے لئے چلا گیا اور مسٹر سلیئر انتظار کرتے رہے۔ مگر جب دیر ہوگئی ہم نے ان سے کہا کہ آپ تشریف لے جائیے۔ جب رپورٹ آئے گی اور آپ چاہیں گے لڑکے کو آپ کے پاس ضمانت کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اس پر رضامند ہوکر چلے گئے۔ اور کہہ گئے کہ ڈی سی بھی شام کو آجائے گا میں نو بجے اطلاع دوں گا۔ اگر ضرورت ہوئی تو مرزا مظفر احمد خلیل احمد کو لے کر آجائیں میں ضمانت لے لوں گا۔ وہ تو چلے گئے مگر پولیس والے برابر ۱۲ بجے سے لیکر سات بجے شام تک رائفلیں لے کر ہمارے مکان کے صحن میں کھڑے رہے۔ پھر میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اب تم ان سے پوچھو کہ یہ کس قانون کے ماتحت یہاں کھڑے ہیں اور ان سے لکھوا لو تاکہ بعد میں یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو اس وقت تک وہاں نہیں ٹھہرے۔ انہوں نے کہا ہم کچھ لکھ کر دینے کے لئے تیار نہیں۔ اس پر مرزا عبدالحق صاحب نے کہا کہ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ جس طرح تم نے آج جھوٹ بولا ہے۔ اسی طرح کل جھوٹ بول دو اور کہہ دو کہ ہم تو وہاں گئے ہی نہیں تھے۔ پھر مرزا عبدالحق صاحب پلیڈر نے ان سے کہہ دیا کہ اگر لکھ کر نہیں دیتے کہ ہم اس وقت تک بالا افسروں کے حکم سے مکان پر قبضہ کئے ہوئے ہیں تو پھر تمہارا کوئی حق یہاں ٹھہرنے کا نہیں پھر تم نکل جائو۔ میں نے مرزا صاحب سے کہا کہ آپ انہیں یہ نہ کہیں کہ یہاں سے نکل جائو کیونکہ ممکن ہے یہ لوگ جاکر یہ رپورٹ کریں کہ ہمیں مارا گیا ہے اور بات آخر وہی مانی جائے گی جو یہ کہیں گے۔ آج کل چونکہ جنگ ہورہی ہے اس لئے مجسٹریٹوں کا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ پولیس والوں کو کیا ضرورت تھی کہ وہ جھوٹ بولتے پس میں نے ان سے کہا آپ یہ نہ کہیں کہ نکل جائو بلکہ کہیں کہ نہیں لکھ کر دیتے تو تمہاری مرضی ہم یہ لکھ لیں گے کہ تم فلاں وقت تک یہاں ٹھہرے ہو اور دوبارہ ان کی تصویر لے لو اور اس تصویر پر وقت بھی لکھ دو کہ اتنے بجے یہ تصویر لی گئی ہے۔ آخر شام کو اطلاع ملی کہ ایس ڈی او صاحب کے حکم کے مطابق جب پولیس نے رپورٹ کی تو معلوم ہوا کہ جس دفعہ کے ماتحت پولیس والوں نے کارروائی کرنی چاہی تھی اس کے ماتحت کارروائی کرنے کا پولیس کو اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔ غرض ان کی اور بے ضابطگیوں میں ایک بڑی بے ضابطگی یہ بھی پائی گئی کہ جس دفعہ کے ماتحت انہوں نے کارروائی کرنی چاہی اس دفعہ کے ماتحت مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر کارروائی کا انہیں حق ہی حاصل نہیں تھا۔
    سنا گیا ہے کہ اس رپورٹ پر ایس ڈی او صاحب نے انچارج ہیڈ کانسٹیبل کو بلا کر کہا کہ تم نے اس دفعہ کے ماتحت کس طرح کارروائی کی ہے جبکہ کارروائی کرنے کا تمہیں کوئی حق ہی حاصل نہیں تھا مجسٹریٹ نے کہا۔ قانون تمہیں اس بات کا اختیار نہیں دیتا البتہ مجسٹریٹ کے حکم سے تم ایسا کرسکتے ہو۔ اس کے بعد انہوں نے اسی وقت آدمی بھجوا دیا کہ وہاں جو پولیس کھڑی ہے اسے کہہ دیا جائے کہ وہ کوٹھی سے واپس چلے جائیں۔ چنانچہ سات بجے شام کو پولیس وہاں سے ہٹی۔ رات کو ایس ڈی او صاحب کا پھر رقعہ آیا کہ صبح میں مرزا خلیل احمد کے بارہ میں اطلاع دوں گا۔ دوسرے دن حسب وعدہ گیارہ بجے کے قریب ان کا رقعہ آیا کہ آپ خلیل احمد کو بے شک لے جائیں۔ ہماری طرف سے اس میں کسی قسم کی روک نہیں۔ چنانچہ اس پر ہم قادیان آگئے۔ صبح کے شور و شر کے بعد جب مختلف لوگوں کی گواہیاں لینے کے لئے میں نے مرزا عبدالحق صاحب کو مقرر کیا تاکہ تازہ بتازہ شہادت قلمبند ہو جائے تو مجھے معلوم ہوا کہ پولیس ڈاک آنے سے پہلے ہی ڈاک خانہ کے پاس بیٹھی تھی حالانکہ ابھی پیکٹ نہیں آیا تھا۔ اسی طرح وہ سڑکوں پر بھی مختلف جگہوں پر کھڑی تھی۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ پولیس پیکٹ کے منصوبہ میں شامل تھی اس کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈاکیہ نے اصرار کرکے خلیل احمد کو پیکٹ دیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب ڈاکیہ پیکٹ لایا تو خلیل احمد وہ پیکٹ درد صاحب کے پاس لایا اور کہنے لگا کہ یہ میرے نام بیرنگ پیکٹ آیا ہے کیا میں لے لوں؟ درد صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا ایسا پیکٹ نہیں لینا چاہئے۔ مگر وہ باہر جاکر پھر آیا اور اس نے دو آنہ ڈاکیہ کو دینے کے لئے طلب کئے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو اس نے کہا کہ ڈاکیہ اصرار کرنے لگا تھا کہ ضرور پیکٹ لے لیا جائے اور کہنے لگا کہ دو آنے خرچ کرنا کونسی بڑی بات ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ ڈاکیہ کو بھی پولیس نے یہ کہہ کر بھجوایا تھا کہ تم اصرار کرنا تاکہ خلیل احمد اس پیکٹ کو وصول کرلے۔ یہ واقعات ہیں جو میں نے بغیر کسی قسم کی جرح کے اور بغیر اپنے جذبات کو ظاہر کرنے کے بیان کر دیئے ہیں۔ میں نے یہ نہیں بتایا کہ کس کس طرح ان واقعات سے سلسلہ اور ہم پر حرف آیا ہے یا ان واقعات سے اور ان سے جن کو میں نے ظاہر نہیں کیا کس طرح پولیس والوں کی بدنیتی اور ان کی جماعت کو ذلیل کرنے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔ میں ان امور کو اس وقت تک ملتوی رکھتا ہوں جب تک گورنمنٹ سے اس بارہ میں میں گفتگو نہ کرلوں اور یہ نہ معلوم کرلوں کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے۔ مگر جو چیز مجھے عجیب لگی ہے جو میرے دل میں کھٹکتی ہے اور جس کے بیان کرنے سے میں نہیں رک سکتا وہ یہ ہے کہ اگر اس ایکٹ کا وہی مفہوم ہے جو اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے تو پھر اس ایکٹ کے ماتحت کسی کو بھی کوئی پیکٹ بھجوا کر گرفتار کرا دینا بالکل آسان امر ہے اور اس طرح ہماری جماعت کا کوئی فرد اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ کل ممکن ہے میرے پاس اس طرح کا کوئی پیکٹ آجائے اور پولیس مجھے گرفتار کرلے۔
    آخر سوشلسٹوں کے لئے یا پولیس کے لئے اس قسم کا پیکٹ بھجوانا کیا مشکل ہے۔ سوشلسٹوں کے اشتہارات وغیرہ اس کے قبضہ میں آتے ہی رہتے ہیں وہ آسانی سے کسی دوسرے کے نام وہی اشتہارات بصورت پیکٹ بھیج کر اسے گرفتار کرا سکتی ہے۔ گویا تمام معززین کی عزتیں اور جانیں خطرہ میں ہیں اور امن محض سی۔ آئی۔ ڈی کے چند افسروں کے ہاتھ میں رہ گیا ہے۔ میں نے اس خط میں جو ہز ایکسی لینسی گورنر پنجاب کو بھجوایا ہے یہی لکھا ہے اور ان سے پوچھا ہے کہ کیا قانون کا یہی منشاء ہے۔ میں کسی بڑے افسر کا نام ادب کی وجہ سے نہیں لیتا لیکن کیا ان کو اس قسم کا پیکٹ اگر کوئی بھیج دے تو پولیس تین چار منٹ کے بعد ہی ان کو گرفتار کرلے گی۔ حالانکہ تین چار منٹ میں کوئی انسان خواہ کتنا ہی سمجھ دار ہو کتنا ہی طاقتور ہو کتنے ہی وسیع ذرائع رکھنے والا ہو یہ نہیں کرسکتا کہ اس پیکٹ کو ڈپٹی کمشنر یا سپرنٹنڈنٹ پولیس کے پاس بھجوائے۔ آخر وہ کونسا ذریعہ ہے جس کے ماتحت اس قسم کا پیکٹ پہنچنے کے تین چار منٹ بعد ہی انسان اسے کسی ذمہ دار افسر تک پہنچا سکے اور اس طرح اپنی بریت ثابت کرسکے میں سمجھتا ہوں انگریزوں کے جرنیل اور کرنیل بھی یہ طاقت نہیں رکھتے کہ وہ باوجود بڑی طاقت رکھنے کے باوجود ہوائی جہاز رکھنے کے اس قسم کا پیکٹ پہنچنے کے بعد تین چار منٹ کے اندر اندر اس کے متعلق کوئی کارروائی کرسکیں۔ پس اگر اس قانون کا یہی مفہوم ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہندوستان کے ہر شخص کی عزت خطرے میں ہے۔ فرض کرو میں اس وقت وہاں موجود نہ ہوتا تو کیا اس قانون کے ماتحت خلیل احمد مجرم نہیں تھا۔ یا فرض کرو وہ اس کی اہمیت کو نہ سمجھتا اور اس پیکٹ کو کمرہ میں پھینک دیتا تو کیا وہ مجرم نہ بن جاتا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس قانون کا یہ منشاء ہو جو پولیس نے سمجھا لیکن چونکہ میں نے اس کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلائی ہے اس لئے میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ اس کا کیا جواب دیتی ہے۔ اگر گورنمنٹ کا یہی منشاء ہے تو بغیر مزید تحقیق کئے ابھی سے یہ کہے دیتا ہوں کہ اس کے ماتحت ہندوستان میں کسی شخص کی عزت محفوظ نہیں اور اگر اس قانون کا یہ منشاء نہیں اور اگر گورنمنٹ نے ایسے اصول تجویز کئے ہیں جن سے اس قسم کے خطرات کا ازالہ ہوسکتا ہے تو یقیناً گورنمنٹ کا فرض ہے کہ ان لوگوں کو جو اس واقعہ کے ذمہ دار اور اصل مجرم ہیں سزا دے<۔۳۲
    ‏]0 [stfمخلصین جماعت کا ردعمل
    اس واقعہ کا منظر عام پر آنا ہی تھا کہ مخلصین جماعت کے دلوں میں زبردست ہیجان اور جوش پیدا ہوگیا اور انہوں نے حضرت امیرالمومنینؓ کے حضور اپنے نام پیش کرنے شروع کر دیئے کہ اس موقعہ پر ہم سے انفرادی طور پر جس جس قربانی کا مطالبہ کیا جائے گا اس سے دریغ نہیں کریں گے۔ تاہم جذبات کے حددرجہ مجروح ہونے کے باوجود انہوں نے ہر نوع کے غیر آئینی اقدام سے کلیت¶ہ اجتناب کیا اور صبروتحمل کا بے نظیر نمونہ دکھایا۔
    دوسروں کا ردعمل
    ‏0] ftr[جماعت احمدیہ کی مظلومیت کا یہ نظارہ دیکھ کر ملک کے سنجیدہ اور معزز مسلم و غیر مسلم حلقوں نے بھی پولیس کی ظالمانہ کارروائی کو سخت نفرت و حقارت سے دیکھا اور جماعت سے ہمدردی کا اظہار کیا۔۳۳
    اخبارات کا زبردست احتجاج
    سب سے عمدہ نمونہ ہندوستان کے پریس نے دکھایا جس نے اس واقعہ کی تفصیلات شائع کرنے کے علاوہ اس پر زوردار احتجاجی نوٹ لکھے۔
    اخبار >انقلاب< لاھور
    شمالی ہند کے مشہور مسلمان اخبار >انقلاب< )لاہور( نے اپنی ستمبر ۱۹۴۱ء کی اشاعت میں لکھا۔
    >قادیانیوں کے متعلق کسی سرکاری یا غیرسرکاری آدمی کو یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ حکومت کے خلاف باغیانہ لٹریچر کی اشاعت میں شریک ہوسکتے ہیں۔ حکومت کے ساتھ تعاون اور مساعی جنگ کی پرزور حمایت کے باب میں ان کی پالیسی ساری دنیا پر آشکارا ہے` پھر اگر اس گروہ کے امام کا صاحبزادہ بھی ایک ایسے معاملے میں محل شبہات بن سکتا ہے جس سے نظربہ ظاہر اس کا کوئی تعلق نہ تھا تو ان لوگوں کی آزادیاں اور عزتیں کیونکر محفوظ سمجھی جاسکتی ہیں جن کے متعلق حکومت یا عوام کو وفاداری کا ویسا یقین نہیں ہوسکتا جیسا کہ قادیانی اصحاب کے متعلق ہے۔
    ہم مرزا صاحب کی اس رائے سے متفق ہیں کہ قانون کا ایسا استعمال اور ان پڑھ یا قریباً ان پڑھ پولیس کے معمولی جوانوں کو مختار بنا دینا یقیناً بے حد خطرناک ہے اور جن حوادث سے مرزا صاحب کو سابقہ پڑا کسی شریف انسان کے لئے بھی اطمینان بخش نہیں ہوسکتے۔
    حکومت کا فرض ہے کہ اس قسم کے واقعات کا سختی سے انسداد کرے۔ حکومت کے کاروبار امن و تحفظ سے کوئی آئین پسند انسان اختلاف نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس شخص کے نام کوئی شخص خلاف آئین لٹریچر بھیج دے اسے معاً مجرم سمجھ لیا جائے اور اس کی زندگی کے محکم حقائق کی طرف سے آنکھیں بالکل بند کرلی جائیں۔ یہ طرز عمل سراسر غلط اور دل آزار ہے۔ حکومت پنجاب کا فرض ہے کہ وہ اس واقعہ کی مناسب تلافی کرے اور آئندہ کے لئے قانون کے صحیح استعمال کے متعلق تمام لوگوں کو یقین دلائے گی یہ کم سے کم صورت ہے۔ معاملہ مرزا صاحب یا ان کی جماعت کا نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کو اس کے ساتھ گہرا تعلق ہے<۔۳۴
    اخبار >پارس< لاھور
    لاہور کے ہندو اخبار >پارس< نے >امیر جماعت احمدیہ سے بدسلوکی< کے عنوان سے )۲۷۔ ستمبر ۱۹۴۱ء کو( حسب ذیل اداریہ لکھا۔
    >ایک مذہبی پیشوا کی حیثیت سے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو ملک میں جو قابل رشک پوزیشن حاصل ہے اس سے ہر شخص واقف ہے۔ جماعت احمدیہ کے ہر فرد کے لئے ان کا لفظ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسی جماعت کے رہبر ہیں جس کے بانی نے بادشاہ وقت کی اطاعت کو ایک اصول کا درجہ دیا۔ حکومت برطانیہ کی وفاداری اور اس سے دوستی کو جماعت مذکور نے اپنا فرض قرار دیا جس کے لئے اسے اپنے ہم وطنوں کے طعن و تشنیع برداشت کرنے پڑے۔ گزشتہ اور موجودہ جنگ میں مرزا صاحب اور ان کے پیروکاروں نے حکومت کی مالی اور بھرتی کے سلسلہ میں جو مدد کی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن ان کے ساتھ حکومت کے کارندوں کی طرف سے جو نامناسب سلوک روا رکھا گیا ہے وہ اس قابل نہیں کہ جسے آسانی سے نظر انداز کیا جائے۔
    مرزا صاحب موصوف کو ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے استعمال پر اپنے ساتھ پیش آمدہ مذکورہ بالا واقعہ سے کس قدر ذہنی تکلیف ہوئی ہے اس کا اندازہ ان کے ذیل کے تلخ الفاظ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ آپ اپنے خطبہ کے دوران میں فرماتے ہیں۔ )آگے حضور کے خطبہ سے اقتباس دیا گیا ہے۔ ناقل(
    جہاں ہمیں اس رنج دہ معاملہ میں خلیفہ صاحب قادیان سے دلی ہمدردی ہے وہاں ہم حکومت کے اس نظام کی خامیوں پر ماتم کئے بغیر نہیں رہ سکتے جس کی رو سے ایک ایسی جماعت کے پیشوا کی توہین ہوئی جو حکومت برطانیہ کی بہت بڑی مددگار اور دوست سمجھی جاتی ہے۔ اگر مرزا صاحب کے خاندان کے کسی فرد پر محض ایک پیکٹ کے وصول ہونے کی وجہ سے سڈیشن۳۵ کا شبہ کیا جاسکتا ہے اور مرزا صاحب ایسی پوزیشن کے بلند مرتبت بزرگ کے ساتھ پولیس کے معمولی سپاہی بدسلوکی سے پیش آسکتے ہیں تو پھر کسی بھی شخص کی عزت محفوظ نہیں سمجھنی چاہئے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس معاملہ کو معمولی سمجھ کر ٹال نہ دے بلکہ کسی خاص افسر کے ذریعہ اس کی تحقیقات کروائے اور اس سازش کا پتہ لگا کر جس کے ذریعہ مرزا صاحب کو نقصان پہنچانے کی مذموم حرکت کی گئی۔ سازش کنندگان کو قرار واقعی سزائیں دے تاکہ آئندہ کسی کو اس قسم کی جسارت کی جرات نہ ہوسکے۔ ہماری رائے میں بلا لحاظ مذہب و ملت ہر جماعت اور ذمہ دار اخبار کو اس واقعہ کی جو مرزا صاحب قادیان کے ساتھ پیش آیا پرزور الفاظ میں مذمت کرنی چاہئے کیونکہ اسے اگر نظرانداز کیا گیا تو اس قسم کے واقعات بڑی سے بڑی پوزیشن کے مذہبی اور سیاسی رہنما کے ساتھ پیش آسکتے ہیں<۔
    اخبار >حق< لکھنو
    لکھنو کے اخبار >حق< نے ۲۷۔ ستمبر ۱۹۴۱ء کی اشاعت میں >جماعت احمدیہ کی توہین< کے عنوان سے حسب ذیل نوٹ لکھا۔
    >اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو ہم گورنمنٹ پنجاب سے یہ پوچھنے کا پورا حق رکھتے ہیں کہ ایک ایسی محترم اور باعث عزت شخصیت کے خلاف کہ جو ایک طاقتور جماعت کا سردار اور امیر ہے اور جس کی شخصی اور جماعتی وفاداری حکومت کے ساتھ ضرب المثل کا درجہ رکھی ہے اس سے پولیس نے اس قسم کا اہانت امیز برتائو کیوں کرکیا اور کس حکم سے اس جماعت کے بارے میں ظاہر ہے کہ یہ شبہ تو ہوہی نہیں سکتا تھا کہ اس کا کوئی فرد چہ جائیکہ اس کا خود امیر حکومت کے خلاف کسی باغیانہ لٹریچر کی نشر و اشاعت کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لئے کہ نہ صرف سابقہ موقعوں پر بلکہ موجودہ جنگ میں بھی ان کا گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ اتحاد عمل اور اتحادی حکومتوں کی تائید میں ان کا پروپیگنڈا ہر ایک کے علم میں ہے اور اگر اس کے باوجود بھی کسی ایسی ممتاز و محترم شخصیت کے ساتھ حکومت پنجاب اس قسم کے طرز عمل کو جائز قرار دے سکتی ہے تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی دوسرے کو اس سے کیا توقع رکھنی چاہئے اور یہ بھی تو دیکھے کہ انصاف اور قانون کے کس ضابطہ اور اصول کے ماتحت ایسے شخص کو کہ جس کا وفاداری کا ریکارڈ اتنا شاندار ہو محض مغویانہ لٹریچر کے ڈاک سے وصول کرنے کی پاداش میں مجرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر قصور وار کوئی ہوسکتا ہے تو اس کا بھیجنے والا نہ کہ اس کا پانے والا۔ بہرحال ہم اس زبردست مذہبی اور سیاسی اختلافات کے باوجود کہ جو ہمارے اس جماعت سے ہیں پنجاب پولیس کے اس غیر شریفانہ طرز عمل کے خلاف اپنے دلی غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے اس کی تحقیقات اور تلافی اور ائندہ کے لئے اس کے انسداد کی پرزور خواہش کریں گے۔ اگر واقعات وہ نہیں ہیں کہ جو اس سلسلہ میں ہمارے علم میں آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو حکومت پنجاب کا یہ ایک ضروری اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ امیر جماعت احمدیہ کے اس بیان کے جواب میں جو انہوں نے روزنامہ >الفضل< میں اس کے متعلق شائع کیا ہے اپنا جوابی بیان شائع کرکے اپنی پوزیشن کی صفائی پیش کردے تاکہ عام قلوب میں اس کے اس طرز عمل سے جو بے چینی پیدا ہوئی ہے وہ رفع ہو جائے۔ کیا سرسکندر کی حکومت ہمارے اس جائز مطالبہ کو پورا کرنے پر تیار ہوسکتی ہے؟<۳۶
    اخبار >سرفراز< لکھنو
    شیعہ اصحاب کے جماعتی آرگن روزنامہ >سرفراز< لکھنو نے >جماعت احمدیہ کی ایک قابل لحاظ شکایت< کے عنوان سے ۲۱۔ ستمبر ۱۹۴۱ء کو لکھا۔
    >ہم کسی مذہب و ملت کے پیشوا کی توہین پسند نہیں کرتے اس لئے ہمیں یہ سن کر افسوس ہوا کہ جماعت احمدیہ >قادیان< کے موجودہ پیشوا کے ساتھ کوہ ڈلہوزی پر جہاں آپ بغرض تبدیل آب و ہوا معہ اپنے متعلقین کے مقیم تھے پنجاب کی پولیس نے غالباً کسی خفیہ رپورٹ کی بناء پر اتنا زیادہ نامناسب برتائو کیا جس نے خود آپ کو نیز آپ کے معتقدین کو بڑی تکلیف پہنچی۔
    ہم کو امید ہے کہ حکومت اس معاملہ کی چھان بین کرکے اس کی مناسب تلافی کرے گی۔ تاکہ ہندوستان کی ہر ملت وقوم کو یہ اطمینان ہوسکے کہ اس کے پیشوا کی عزت سرکاری عمال کے ہاتھوں معرض خطر میں نہیں لائی جائے گی<۔۳۷
    اخبار >حقیقت< لکھنو
    صوبہ متحدہ کے سنی مسلمانوں کے ترجمان اخبار >حقیقت< نے ۱۹۔ ستمبر کو >جماعت احمدیہ کے پیشوا کی توہین< کی سرخی سے حسب ذیل شذرہ سپرد قلم کیا۔
    >معاصر >الفضل< )قادیان( سے ہمیں یہ معلوم کرکے بہت افسوس ہوا کہ امام جماعت احمدیہ قادیان کے ساتھ کوہ ڈلہوزی پر جہاں آپ بغرض تبدیل آب و ہوا معہ اپنے متعلقین کے مقیم تھے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے غالباً پنجاب سی۔ آئی۔ ڈی کی کسی رپورٹ کی بناء پر بہت ہی نازیبا اور قابل اعتراض برتائو کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کسی اور جماعت کے لیڈر کے ساتھ ایسا برتائو کیا گیا ہوتا تو ہمارا خیال ہے کہ اس وقت ہندوستان میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایسی آگ لگ چکی ہوتی جو آسانی سے بجھائی نہیں جاسکتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عام مسلمانوں کو احمدی جماعت سے عقائد میں یقیناً اختلاف ہے لیکن اس وقت ہم جس واقعہ کا ذکر کررہے ہیں وہ ان عقاید کے سوال سے بالا ہے اور یہ وہ امور ہیں جن پر سب کو متفق ہو کر پنجاب گورنمنٹ کے اس نازیبا فعل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا چاہئے۔ کیونکہ ایک ایسی حکومت کے لئے جس کا وزیراعظم ایک مسلمان ہو اس قسم کے امور ضرور شرمناک کہے جائیں گے۔ یہ ایسی بات ہے جس کے بارے میں اگر احتجاج نہ کیا گیا تو کسی بڑے سے بڑے ہندوستانی لیڈر کی عزت اور آبرو محفوظ نہ رہے گی۔ واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سرسکندر کی حکومت میں ہندوستان کے سب سے زیادہ اطاعت شعار وفادار اور پابند قانون جماعت کے لیڈر کے ساتھ ایسا انسانیت سوز برتائو ہوسکتا ہے تو پھر کانگرسی رہنمائوں سے کیا کچھ
    ‏tav.8.13
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    اشاعت احمدیت کی خصوصی تحریک سے واقعہ ڈلہوزی تک
    نہیں مگر پیچھے آکر بھی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اپنے تعلقات مضبوط کئے اور بڑھائے تو ان کے لڑکوں کے رشتے بھی اللہ تعالیٰ نے مخلص گھرانوں میں کرا دیئے۔ لڑکیوں کی شادیاں بھی وہ چاہتے تھے پنجاب میں ہی ہوں۔ غرض امتہ الحفیظ کا نکاح تو خلیل احمد صاحب سے ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور چھوٹی لڑکی امتہ الحی کے نکاح کا اعلان میں اس وقت کررہا ہوں جو خان صاحب ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب کے ایک قریبی عزیز اور شاید بھانجے محمد یونس صاحب کے ساتھ قرار پایا ہے۔ اس رشتہ میں بھی سیٹھ صاحب نے اخلاص کو مدنظر رکھا ہے۔ تمدن کے اختلاف کی وجہ سے میں ان کو لکھتا تھا کہ حیدرآباد میں ہی رشتہ کریں۔ مگر ان کی خواہش تھی کہ قادیان یا پنجاب میں ہی رشتہ ہو تا قادیان آنے کے لئے ایک اور تحریک ان کے لئے پیدا ہو جائے۔ محمد یونس صاحب ضلع کرنال کے رہنے والے ہیں جو دہلی کے ساتھ لگتا ہے مگر حیدرآباد کی نسبت قادیان سے بہت نزدیک ہے۔ سیٹھ صاحب کا خاندان ایک مخلص خاندان ہے ان کی مستورات کے ہمارے خاندان کی مستورات سے` ان کی لڑکیوں کے میری لڑکیوں سے اور ان کے اور ان کے لڑکوں کے میرے ساتھ ایسے مخلصانہ تعلقات ہیں کہ گویا خانہ واحد والا معاملہ ہے۔ ہم ان سے اور وہ ہم سے بے تکلف ہیں اور ایک دوسرے کی شادی و غمی کو اس طرح محسوس کرتے ہیں جیسے اپنے خاندان کی شادی و غمی کو<۔۲۱
    حافظ آباد` گکھڑ` چنیوٹ اورکوئٹہ میں مسجدوں کی تعمیر
    ۱۳۲۰ہش )۱۹۴۱ء( کے دوران مندرجہ ذیل چار مقامات پر احمدی مساجد تعمیر کی گئیں۔
    ۱۔ حافظ آباد ۲۔ گکھڑ ۳۔ چنیوٹ ۴۔ کوئٹہ۔
    مسجد احمدیہ حافظ آباد
    اس مسجد کے لئے قطعہ زمین ناصرالدین صاحب صدیقی تحصیلدار حافظ آباد کی کوشش سے فراہم ہوا اور اس کی بنیادی اینٹ حضرت مولانا غلام رسول صاحبؓ راجیکی نے ۴۔ اپریل ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش کو رکھی۔۲۲
    مسجد احمدیہ گکھڑ
    اس سال کے آغاز میں ضلع گوجرانوالہ کے قصبہ گکھڑ میں ایک احمدیہ مسجد کی تعمیر ہوئی۔۲۳
    مسجد احمدیہ چنیوٹ
    چنیوٹ ضلع جھنگ کا ایک مشہور تجارتی شہر ہے۔ جہاں اگست ۱۹۴۱ء/ ظہور ۱۳۲۰ہش میں ایک خوبصورت احمدیہ مسجد پایہ تکمیل کو پہنچی۔۲۴ سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی )کلکتہ( مسجد احمدیہ چنیوٹ کے ابتدائی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    >غالباً ۱۹۱۸ء کا ذکر ہے جماعت احمدیہ چنیوٹ کے احباب غیر احمدیوں کی مسجد میں جو بڑے بازار کے عقب میں واقع ہے اور >اندر والی مسجد< کہلاتی ہے جمعہ کی نماز ادا کیا کرتے تھے کیونکہ اس ایریا کے غیر احمدی مسجد ٹاہلی والی میں جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ ایک جمعہ کی نماز کے معاًبعد ان لوگوں کے سرکردہ ممبر ایک حاجی صاحب نے اعلان کیا کہ درست سنتیں پڑھنے کے بعد بیٹھ جائیں کیونکہ >مرزائی< ہماری مسجد میں جمعہ پڑھتے ہیں اس مسجد سے ان کو نکال دینا چاہئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد ازاں یہ قریباً دو تین صد اشخاص کا جم غفیر حاجی صاحب مذکور کی سرکردگی میں >مسجد اندر والی< پہنچا۔ اس وقت احمدیوں کا خطبہ ہورہا تھا۔ ان حاجی صاحب نے آگے بڑھ کر احمدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے غصہ اور درشت الفاظ میں کہا کہ >یہ مسجد ہماری ہے۔ تم لوگ یہاں نماز پڑھنے کیوں آتے ہو۔ اگر آئندہ یہ حرکت کی تو نہایت برا سلوک کیا جائے گا<۔ یہ کہہ کر وہ جواب کے انتظار میں کھڑے ہوگئے۔ اس وقت شیخ مولا بخش صاحب مگوں مرحوم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ انہوں نے خطبہ کے دوان ہی میں آسمان کی طرف منہ کرتے ہوئے کہا کہ >خدایا! ہم تو اس مسجد کو تیرا گھر سمجھ کر تیری عبادت کرنے یہاں آیا کرتے تھے۔ اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تیرا گھر نہیں ہے بلکہ ان کا ہے۔ سو ان کے گھر میں تو ہم تیری عبادت کرنے نہیں آئیں گے<۔ اس جواب کو سنکر وہ لوگ چلے گئے۔ ان ایام میں ہی خاکسار کلکتہ سے چنیوٹ گیا ہوا تھا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے احباب جماعت سے درخواست کی کہ آئندہ سے جمعہ کی نمازیں وہ میرے مکان پر ادا کیا کریں اور اس کے لئے ضروری انتظام بھی کیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس جمعہ سے تین ہفتہ قبل انجمن اسلامیہ چنیوٹ نے اپنی مملوکہ زمین واقعہ محلہ راجن پورہ کو فروخت کرنے کا بذریعہ منادی اعلان کیا۔ زمین کے مختلف پلاٹ بنائے گئے تھے۔ اور مذکورہ حاجی صاحب کو جو اس انجمن کے آنریری نائب منتظم تھے نیلام کنندہ کی ڈیوٹی پر مامور کیا تھا۔ نیلام کے لئے مذکورہ واقعہ والے جمعہ کے بعد آنے والی جمعرات کا دن بعد از نماز عصر مقرر تھا۔ جب نیلامی شروع ہوئی تو میں بھی تماشائی کے طور پر اس مجمع میں ان حاجی صاحب کے بالکل قریب کھڑا تھا۔ جب اس پلاٹ کی باری آئی جس پر اب مسجد احمدیہ بنی ہوئی ہے تو نیلام کنندہ نے سرگوشی کے ساتھ مجھے مخاطب کرتے ہوئے آہستہ سے کہا کہ >تمہارے پاس کوئی مسجد نہیں یہ بہت موقعہ کا چوکور پلاٹ ہے کیوں اسے خرید نہیں لیتا؟< ان کے یہ الفاظ میرے کانوں سے گزر کر اس طرح دل میں اتر گئے جس طرح سوچ کے دبانے سے بجلی کا بلب روشن ہو جاتا ہے۔ اس بارہ میں احباب جماعت سے مشورہ تو الگ رہا سرسری ذکر بھی کبھی نہیں ہوا تھا مگر میں نے توکل بخدا بولی میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ دوسرے خریدار چونکہ دنیاوی اغراض کے لئے اس پلاٹ کے خواہشمند تھے اس لئے وہ قیمت کے بارہ میں محتاط رنگ میں بولی دے رہے تھے مگر میرے دل میں تو خدا کے گھر کی تعمیر کی خاطر ایک خاص جوش پیدا ہوچکا تھا اس لئے میں نے اس بولی میں حصہ لینا شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں چھ مرلہ کا یہ ٹکڑا دو سو ستر روپے فی مرلہ کے حساب سے میرے نام پر ختم ہوا۔ گو میں نے نیلام کنندہ کی تحریک کے جواب میں ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نہیں نکالا تھا مگر انہی نیلام کنندہ حاجی صاحب نے فی الفور اس مجمع میں اعلان کر دیا کہ >بھائیو! یہاں مرزائیوں کی مسجد بنے گی<۔ خداتعالیٰ کے کیا ہی عجیب تصرفات ہیں کہ جس شخص نے احمدیوں کو اپنی مسجد سے نکالا تھا دوسرا جمعہ آنے سے قبل اسی کی تحریک پر احمدیوں نے مسجد کے لئے زمین خریدی اور خود اسی کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے اس کا اعلان بھی کرا دیا۔ سبحان اللہ العظیم۔ دوسرے دن جمعہ کی نماز کے لئے حسب انتظام جب احمدی احباب میرے مکان پر جمع ہوئے تو میں نے ان کو یہ خوشخبری سنائی اور اسی وقت زمین کی قیمت وغیرہ کے لئے چندہ کی اپیل کی۔ چنیوٹ کے جو احباب کلکتہ لاہور آگرہ وغیرہ مقامات پر تجارت کرتے تھے سب کو تحریک کی گئی مولا کریم کی مہربانی سے سب نے حسب توفیق دل کھول کر چندہ دیا۔ کافی عرصہ تک وہ زمین یونہی پڑی رہی اور غالباً بیس بائیس سال بعد جماعت کے دوستوں کو خداتعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اس خانہ خدا کی تعمیر کریں۔ میرے نہایت ہی واجب الاحترام بزرگ چچا میاں جناب حاجی تاج محمود صاحب مرحوم کی سرپرستی میں اور میرے چھوٹے بھائی میاں محمد یوسف صاحب بانی کی نگرانی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ خوبصورت مسجد تیار ہوگئی۔ چنیوٹ کے اور بھی بعض دوستوں نے اس کی تعمیر میں نمایاں خدمات سرانجام دیں<۔۲۵
    مسجد احمدیہ کوئٹہ
    اس سال جماعت احمدیہ کی چوتھی مشہور مسجد۲۶ کوئٹہ میں تعمیر ہوئی۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد ۲۴۔ اگست ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش کو رکھا گیا۔ سب سے پہلے امیر جماعت کوئٹہ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کا مسجد فضل لنڈن سے متعلق افتتاحی خطاب پڑھ کر سنایا۔ ازاں بعد کوئٹہ میں موجود صحابہ نے مسجد مبارک کی دو اینٹیں )جن پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے دعا فرمائی تھی( ایک رومال میں رکھ کر محراب کی بنیاد تک پہنچائیں اور امیر جماعت نے ان کو نصب کردیا۔۲۷ مسجد کی تعمیر جب تمام مراحل طے کرتی ہوئی چھت تک پہنچی تو احمدیوں نے کنکریٹ کی چھت ڈالنے کے لئے ۱۲۔ اخاء )اکتوبر( کو رمضان شریف کے مبارک مہینہ میں ڈھائی بجے دوپہر سے لیکر نو بجے شب تک نہایت جوش و خروش سے وقار عمل منایا۔۲۸ ۲۸۔ نومبر ۱۹۴۱ء/ نبوت ۱۳۲۰ہش کو نماز جمعہ کے بعد اس کا افتتاح عمل میں آیا۔۲۹ اس مسجد کی تعمیر میں کوئٹہ کے مخلص احمدیوں کے علاوہ سمندرپار کے احمدیوں نے بھی فراخدلی سے چندہ دیا۔۳۰
    دوسرا باب )فصل چہارم(
    واقعہ ڈلہوزی
    حکومت پنجاب کے بعض اعلیٰ افسر سالہا سال سے جماعت احمدیہ کو باغی ثابت کرکے اس کے خلاف جارحانہ اور منتقمانہ کارروائیوں پر تلے ہوئے تھے۔ اس خوفناک منصوبہ نے جو اندر ہی اندر ایک خاص سکیم کے تحت جاری تھا۔ ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش میں یکایک ایک نئی اور بھیانک شکل اختیار کرلی جس کی نسبت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے یہ رائے ظاہر فرمائی کہ سلسلہ کی تاریخ میں ایک نرالا واقعہ ہے۔ ایسا نرالہ کہ میں اسے ۱۹۳۴ء کے اس واقعہ سے بڑھ کر سمجھتا ہوں جبکہ گورنر پنجاب نے مجھ کو رات کے وقت نوٹس بھجوایا تھا کہ تم احمدیہ جماعت کے افراد کو روک دو کہ وہ قادیان میں نہ آئیں اور بعد میں گورنران کونسل نے اس کے متعلق دو دفعہ معذرت کی اور اپنی غلطی کا اقرار کیا۔۳۱ یہ اہم واقعہ ۱۰۔ تبوک ۱۳۲۰ہش )۱۰۔ ستمبر ۱۹۴۱ء( کو پیش آیا۔ جبکہ حضور ڈلہوزی میں تبدیلی آب وہوا کے لئے تشریف فرما تھے۔
    واقعہ ڈلہوزی کی تفصیل حضرت امیرالمومنینؓ کے الفاظ میں
    یہ واقعہ جسے ہم آئندہ >واقعہ ڈلہوزی< کے نام سے موسوم کریں گے اپنی اہمیت کے لحاظ سے تقاضا کرتا ہے کہ اس کی تفصیلات خود حضرت امیر المومنینؓ کی زبان مبارک سے بیان کی جائیں۔ حضور نے ۱۲۔ تبوک ستمبر ۱۳۲۰ ہش/ ۱۹۴۱ء کو اس واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ۔:
    >بارہ بجے کا وقت تھا کہ میرا لڑکا خلیل احمد جس کی عمر اس وقت پونے سترہ سال ہے میرے پاس آیا اس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا جو بند تھا۔ وہ پیکٹ گول تھا اس کے باہر ایک کاغذ لپٹا ہوا تھا اور اس کاغذ پر اس کا پتہ لکھا ہوا تھا۔ خلیل احمد نے وہ پیکٹ مجھے دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ پیکٹ کسی نے میرے نام بھجوایا ہے اور گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ میں نے وہ پیکٹ اس کے ہاتھ سے لے لیا اور چونکہ وہ بند تھا اس لئے طبعاً مجھے خیال پیدا ہوا کہ اسے کیونکر معلوم ہوا کہ یہ پیکٹ گورنمنٹ کے خلاف ہے چنانچہ میں نے اسے کہا یہ پیکٹ تو بند ہے تمہیں کیونکر معلوم ہوا کہ اس میں کوئی ایسے کاغذات ہیں جو گورنمنٹ کے خلاف ہیں۔ اس نے کہا کہ اس پیکٹ کا خول کچھ ڈھیلا سا ہے میں نے بغیر اوپر کا کور پھاڑنے کے اندر سے کاغذات نکال کر دیکھے تو معلوم ہوا کہ اس میں گورنمنٹ کے خلاف باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ اس پر میں نے بھی دیکھا تو واقعہ میں کور کچھ ڈھیلا سا تھا۔ پھر تجربہ کے طور پر میں نے بھی بغیر کور پھاڑنے کے اس میں سے کاغذات نکالے اور مجھے فوراً معلوم ہوگیا کہ خلیل احمد جو کچھ کہتا ہے ٹھیک ہے۔ میں نے وہ اشتہار سب کا سب نہیں پڑھا بلکہ صرف ایک سطر دیکھی اس کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا کہ گورنمنٹ نے بعض ہندوستانی سپاہیوں کو کسی جگہ مروا دیا ہے۔ غرض بغیر اس کے کہ میں اس اشتہار کو پڑھتا صرف ایک سطر دیکھ کر اور خلیل احمد کی بات کو درست پاکر میں نے وہ پلندا کور میں ڈال دیا اور درد صاحب کی طرف آدمی بھجوایا کہ وہ فوراً مجھ سے آکر ملیں۔ درد صاحب ایک دو منٹ بعد ہی سیڑھیوں پر آگئے۔ میں سیڑھیوں میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان کے ہاتھ میں وہ پیکٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیکٹ خلیل احمد کے نام آیا ہے اور اس نے مجھے ابھی آکر دیا ہے اس نے مجھے بتایا تھا کہ یہ پیکٹ گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوتا ہے اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ یہ گورنمنٹ کے خلاف ہے تو اس نے بتایا کہ میں نے بغیر کور پھاڑنے کے اندر کے کاغذات نکال کر دیکھے تھے اور مجھے اس کا مضمون گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوا۔ اس پر میں نے بھی بغیر پھاڑنے کے اس میں سے کاغذات نکال کر دیکھے تو وہ آسانی سے باہر آگئے اور اس پر نظر ڈالتے ہی مجھے معلوم ہوگیا کہ وہ گورنمنٹ کے خلاف ہیں۔ نہ صرف اس لئے کہ ایک سطر جو میں نے پڑھی اس کا مضمون گورنمنٹ کے خلاف تھا بلکہ اس لئے بھی کہ گورنمنٹ کے خلاف جو اشتہارات وغیرہ شائع کئے جاتے ہیں وہ دستی پریس پر چھاپے جاتے ہیں اور وہ کاغذات بھی دستی پریس پر ہی چھپے ہوئے تھے اس پیکٹ کے اوپر جو پتہ لکھا ہوا تھا وہ خوشخط لکھا ہوا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی مسلمان نے لکھا ہے۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اس میں مرزا کا لفظ بھی تھا یا نہیں مگر >صاحبزادہ خلیل احمد< ضرور لکھا ہوا تھا۔ ص کا دائرہ بھی بڑا اچھا تھا اور ح کے گوشے بھی خوب نکالے ہوئے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا جیسے پتہ کسی مسلمان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ خیر میں نے وہ پیکٹ درد صاحب کو دیا اور کہا کہ یہ کسی کی شرارت معلوم ہوتی ہے اور چونکہ ممکن ہے کہ اس قسم کے ٹریکٹ تمام پنجاب کے نوجوانوں میں عام طور پر تقسیم کئے جارہے ہیں اس لئے آپ فوراً یہ پیکٹ ہز ایکسی لینسی گورنر صاحب پنجاب کو بھجوا دیں اور انہیں لکھ دیں کہ میرے لڑکے خلیل احمد کے نام ایسا پیکٹ آیا ہے اور چونکہ ممکن ہے کہ اور پنجاب کے نوجوانوں کے نام بھی اس طرح ٹریکٹ اور اشتہارات وغیرہ بھیجے گئے ہوں اس لئے یہ پیکٹ آپ کو بھجوایا جاتا ہے آپ اس کے متعلق جو محکمانہ کارروائی کرنا مناسب سمجھیں کریں۔
    میں یہ بات کرکے واپس ہی لوٹا تھا کہ ایک آدمی نیچے سے آیا اور درد صاحب سے کہنے لگا کہ پولیس والے آئے ہیں اور وہ آپ کو بلاتے ہیں۔ میں نے اس آدمی کو نہیں دیکھا کیونکہ وہ سیڑھیوں کے موڑ کے پیچھے تھا۔ یہ بات سن کر میں نے درد صاحب سے کہا کہ آپ جائیں اور جاکر معلوم کریں کہ پولیس والے کیا کہتے ہیں۔ درد صاحب گئے اور تین چار منٹ کے بعد ہی واپس آگئے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ پولیس کے کچھ سپاہی آئے ہوئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے مرزا خلیل احمد صاحب سے ملنا ہے۔ درد صاحب کہنے لگے کہ میں نے انہیں کہا کہ خلیل تو بچہ ہے اس سے آپ نے کیا بات کرنی ہے۔ جو کچھ آپ کہنا چاہتے ہیں وہ مجھے لکھ کر دے دیں۔ مگر انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ ہم اسی سے بات کرنا چاہتے ہیں اور اس بارے میں ہم کچھ لکھ کر نہیں دے سکتے۔ درد صاحب کچھ اور باتیں بھی کرنا چاہتے تھے مگر میں نے اس خیال سے کہ معمولی بات ہے ان سے کہا۔ کوئی حرج کی بات نہیں میں خلیل کو بھجوا دیتا ہوں۔ چنانچہ میں نے اسی وقت خلیل احمد کو بھجوایا۔ چند منٹ کے بعد ہی خلیل احمد واپس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ سپاہیوں نے مجھ سے یہ پوچھا تھا کہ اس قسم کا پیکٹ تمہارے نام آیا ہے اور میں نے کہا کہ ہاں آیا ہے مگر میں نے اپنے ابا کو دے دیا ہے۔ پھر پولیس والوں نے اس پیکٹ کی طرف اشارہ کرکے )جو درد صاحب نیچے لے گئے تھے( کہا کہ یہ پیکٹ اپنے ہاتھ میں لے کر کھول دو مگر میں نے کہا کہ میں اسے نہیں کھول سکتا۔ خلیل احمد سے جب یہ بات میں نے سنی تو میں نے کہا کہ تم نے بہت اچھا کیا جو پیکٹ اپنے ہاتھ سے نہیں کھولا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ہاتھ سے پیکٹ کھلوانے کا منشاء یہ تھا کہ وہ شرارتاً اس طرح اپنی کانشنس کو یہ تسلی دلانا چاہتے تھے کہ انہوں نے خلیل کے ہاتھ سے یہ پیکٹ لیا ہے۔ خیر وہ بات کرکے ہٹا تو اسی وقت درد صاحب نے سیڑھیوں پر سے آواز دی اور میرے جانے پر انہوں نے کہا ان لوگوں نے مجھ سے وہ پیکٹ مانگا تھا مگر میں نے دینے سے انکار کردیا اور ان سے کہا کہ تم مجھے وہ قانون بتائو جس کے ماتحت تم مجھ سے یہ پیکٹ لینا چاہتے ہو۔ پھر میں نے ان سے آپ کا نام لے کر کہا کہ مجھے خلیفتہ المسیح کی طرف سے یہ پیکٹ ایک بڑے افسر کو بھجوانے کے لئے ملا ہے اس لئے میں یہ پیکٹ تمہیں نہیں دے سکتا۔ اس پر انہوں نے وہ پیکٹ مجھ سے چھین کر باہر پھینک دیا اور ایک سپاہی اسے لے کر بھاگ گیا۔ میں نے پھر جلدی میں ان کی پوری بات نہ سنی اور میں سمجھ گیا کہ یہ ہم سے شرارت کی گئی ہے۔ چنانچہ میں نے اوپر آکر گورنر صاحب کو ایک تار لکھا جس میں وہ اہم واقعات جو اس وقت تک ہوئے تھے لکھ دیئے۔ یہ تار لے کر میں پھر سیڑھیوں میں آیا تو اس وقت درد صاحب واپس جاچکے تھے۔ میں نیچے اتر کر بیٹھک میں آیا تو میں نے دیکھا کہ ہماری کوچ اور کرسیوں پر پولیس والے اپنی لاتیں دراز کرکے یوں بیٹھے ہیں کہ گویا ان کا گھر ہے میں جھٹ دروازہ بند کرکے برآمدہ کی طرف سے دفتر کے کمرہ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ برآمدہ میں بھی پولیس والے کھڑے ہیں۔ خیر میں نے درد صاحب کو تار دیا اور کہا کہ یہ ابھی گورنر صاحب کو بھجوا دیا جائے۔ پھر میں گورنر صاحب کو ایک مفصل چٹھی لکھنے بیٹھ گیا۔ اس عرصہ میں دو دفعہ مجھے پھر نیچے جانا پڑا۔ ایک دفعہ تو میں درد صاحب کو یہ کہنے کے لئے گیا کہ آپ اس تار کا مضمون پولیس کے سپاہیوں کو بھی سنا دیں اور ان سے پوچھ لیں کہ اس میں کوئی غلط بات تو بیان نہیں کی گئی اور اگر کسی واقعہ کا وہ انکار کریں تو مجھے بتایا جائے تاکہ اگر کسی قسم کی اس میں غلطی ہو تو اس کو دور کر دیا جائے۔
    میرے اس کہنے کی وجہ یہ تھی کہ نیچے جو واقعات درد صاحب کو پیش آئے تھے وہ میں نے نہیں دیکھے تھے اور میرا فرض تھا کہ ان واقعات کے بیان کرنے میں دوسروں کو صفائی کا موقعہ دوں اور اگر کوئی خلاف واقعہ بات درج ہوگئی ہو تو اس کی تصحیح کردوں۔ پھر بعد میں مجھے ایک اور بات کی نسبت خیال آیا کہ اس کا لکھنا بھی تار میں ضروری تھا اس لئے میں دوسری دفعہ پھر نیچے اترا اور میں نے درد صاحب کو اس واقعہ کے لکھنے کی بھی ہدایت کی اور ساتھ ہی پھر انہیں کہہ دیا کہ یہ واقعہ بھی ان کو سنا دینا۔ اس وقت بھی پولیس برابر ہمارے مکان کے نچلے حصہ پر قبضہ جمائے بیٹھی رہی۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس دن ہمارے اکثر آدمی باہر کام پر گئے ہوئے تھے۔ عزیزم مرزا مظفر احمد صاحب جو ڈلہوزی میں ہمارے ہاں مہمان آئے ہوئے تھے وہ بھی مرزا ناصر احمد کو ملنے کے لئے ان کی کوٹھی پر گئے ہوئے تھے۔ خیر کچھ دیر کے بعد مجھے خیال آیا کہ ہمیں تو قانون کی واقفیت نہیں مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد کو بلوا لیا جائے۔ چنانچہ میں پھر نیچے اترا اور ایک شخص سے کہا کہ درد صاحب سے جاکر کہیں کہ فوری طور پر مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد کو بلوالیا جائے۔ اس وقت مجھے پھر معلوم ہوا کہ ابھی تک پولیس مکان پر قابض تھی۔ خیر اس شخص نے مجھے بتایا کہ درد صاحب پہلے ہی ایک آدمی ان کی طرف بھجوا چکے ہیں۔ چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد دونوں پہنچ گئے اور انہوں نے بتایا کہ پیچھے آرمڈ پولیس رائفلیں لے کر چلی آرہی ہے۔ درد صاحب نے مرزا عبدالحق صاحب پلیڈر کی طرف بھی آدمی بھجوا دیا اور وہ بھی تھوڑی دیر کے بعد آگئے۔ اس وقت تک بھی پولیس کمرہ اور برآمدہ پر قابض تھی۔ مجھے اس وقت خیال گزرا کہ ¶پولیس والوں نے ضرور تھانہ میں کوئی رقعہ بھیجا ہے اور اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آرمڈ پولیس رائفلیں لے کر ہمارے مکان پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد میں پھر خط لکھنے میں مشغول ہوگیا اور تھوڑی دیر کے بعد میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ مجھے تو قانون کا علم نہیں تم قانون پڑھے ہوئے ہو کیا پولیس کا کسی کے مکان کے اندر داخل ہونا جائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی رو سے یہ بالکل ناجائز ہے میں نے کہا تو پھر تم جائو اور پولیس والوں سے بات کرو۔ اتنے میں مرزا ناصر احمد بھی آگئے اور کہنے لگے کہ پولیس والے ہمارے مکان کے اندر کیوں بیٹھے ہیں اور درد صاحب نے انہیں بیٹھنے کیوں دیا یہ بالکل خلافت قانون حرکت ہے جو پولیس والوں نے کی ہے۔ پولیس والے بغیر اجازت کے کسی کے گھر میں داخل نہیں ہوسکتے اور اگر وہ داخل ہوں تو اس صورت میں انہیں اپنی تلاشی دینی ضروری ہوتی ہے کیونکہ کیا پتہ کہ وہ کوئی ناجائز چیز اندر پھینک جائیں۔ اس لئے قانون یہی کہتا ہے کہ پولیس کی پہلے تلاشی ہونی ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی طرف سے کوئی ناجائز چیز پھینک دے اور گھر والوں کو مجرم بنادے۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا پولیس والوں کی تلاشی لے لی گئی تھی۔ میں نے کہا کہ میرے علم میں تو یہ بات نہیں آئی کہ پولیس والوں کی تلاشی لی گئی ہو۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ یہ درد صاحب کا فرض تھا کہ پولیس والوں کو اندر نہ آنے دیتے۔
    مرزا ناصر احمد نے چونکہ بیرسٹری کی بھی کچھ تعلیم پائی تھی وہ کچھ قانون سے واقف ہیں۔ میں نے کہا کہ جب پولیس والوں کو قانوناً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کے مکان میں داخل ہوں تو پھر جائو اور ان کو قائل کرو۔ اس پر وہ نیچے آئے اور پولیس والوں سے اونچی باتیں کرنے لگے۔ مرزا ناصر احمد کی آواز ذرا زیادہ بلند تھی میں نے اس وقت یہ خیال کیا کہ یہ بچہ ہے ابھی پورا تجربہ نہیں ہم اس وقت چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اگر اس نے کوئی بات کی تو ممکن ہے کہ پولیس والے اس پر کوئی الزام لگا دیں کہ اس نے ہم پر دست درازی کی ہے اس لئے میں جلدی سے نیچے اترا اس وقت پولیس والے اندر کمرے سے نکل کر برآمدہ میں آچکے تھے اور مرزا ناصر احمد انہیں یہ کہہ رہے تھے کہ تم جہاں اندر بیٹھے تھے وہیں جابیٹھو میں اسی حالت میں تمہاری تصویر لینا چاہتا ہوں اور وہ کہہ رہے تھے کہ ہم وہاں نہیں جاتے۔ میں نے جب ان کی یہ باتیں سنیں تو میں نے سپاہیوں سے کہا کہ تم سب پہلے اندر بیٹھے ہوئے تھے اور کئی بھلے مانسں اس کے گواہ ہیں میں نے خود تمہیں اندر بیٹھے دیکھا۔ درد صاحب نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا۔ مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا۔ ہمارے عملہ کے اور کئی آدمیوں نے تم کو اندر بیٹھے دیکھا ہے۔ اب اس میں تمہارا کیا حرج ہے کہ پھر تم وہیں جابیٹھو اور تمہاری اس وقت کی تصویر لے لی جائے۔ اگر تمہارا اندر آنا قانون کے مطابق تھا تو تم اب بھی وہیں بیٹھ سکتے ہو اور اگر تمہارا اندر بیٹھنا قانون کے خلاف تھا تو تم اپنی غلطی کا اقرار کرو۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ ہم تو اندر بیٹھے ہی نہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ تین دفعہ تو میں نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ہے۔ اسی طرح درد صاحب نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ہے۔ خلیل احمد سے جو تم نے باتیں کیں وہ اندر ہی کیں۔ اسی طرح تمہیں مظفر احمد نے اندر دیکھا ناصر احمد نے اندر دیکھا۔ اب تم کس طرح کہہ رہے ہو کہ تم اندر بیٹھے ہی نہیں اور اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہو۔ مگر اس پر بھی انہوں نے یہی کہا کہ ہم اندر بالکل نہیں بیٹھے۔ اتنے میں مرزا مظفر احمد نے کہا کہ میں جب آیا تھا تو اس وقت بھی یہ سپاہی اندر بیٹھے تھے اور نہ صرف اندر بیٹھے ہوئے تھے بلکہ ایک سپاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خلاف قانون اپنی پیٹی کھول کر بیٹھا تھا۔ مگر وہ یہی کہتے چلے گئے کہ ہم اندر نہیں گئے۔ اس پر میں نے انہیں کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ آج مجھے ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ ہوا کہ عدالتیں کن جھوٹے آدمیوں کی گواہیوں پر لوگوں کو سزا دیتی ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ تم وہ ہو کہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں تمہارے پاس آیا اور میں نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ایک دفعہ نہیں بلکہ تین دفعہ۔ پھر تم نے درد صاحب سے یہاں باتیں کیں۔ تم نے خلیل احمد سے یہاں باتیں کیں۔ تم نے مظفر احمد سے یہاں باتیں کیں۔ تم نے ناصر احمد سے یہاں باتیں کیں اور تم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ درست ہے۔ مگر اتنے گواہوں کے باوجود تم کہہ رہے ہو کہ تم اندر نہیں بیٹھے۔ جس قسم کا جھوٹ تم لوگ بول رہے ہو اس قسم کی گواہیوں پر عدالتوں کی طرف سے لوگوں کو سزائوں کا ملنا یقیناً نہایت ہی افسوسناک اور ظالمانہ فعل ہے۔
    اس پر وہ کچھ کھسیانے سے ہوگئے مگر اقرار انہوں نے پھر بھی نہ کیا کہ وہ کمرہ کے اندر بیٹھے تھے۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ اس طرح کھلے طور پر جھوٹ بول رہے ہیں تو میں نے خیال کیا کہ نامعلوم ہمارے متعلق وہ اور کیا باتیں بنالیں۔ شاید وہ یہی کہہ دیں کہ ہم پر انہوں نے حملہ کر دیا تھا اور ہمیں مارنے پیٹنے لگ گئے تھے۔ اس لئے میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ مظفر اس ملک میں احمدیوں کے قول پر کوئی اعتبار نہیں کرتا تم تعلیم یافتہ ہو عہدیدار ہو لیکن پھر بھی اگر کوئی واقعہ ہوا تو تمہاری کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ اعتبار انہی لوگوں کی بات پر کیا جائے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ ان واقعات کی شہادت کے لئے کسی اور کو بھی بلا لیا جائے۔ ہمارے ہمسایہ میں ایک غیر احمدی ڈپٹی کمشنر صاحب چھٹی پر آئے ہوئے تھے میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ فوراً ان کی طرف ایک آدمی دوڑا دیا جائے اور کہا جائے کہ ایک ضروری کام ہے آپ مہربانی کرکے تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے آئیں۔ میرا منشاء یہ تھا کہ وہ آئیں تو اس واقعہ کے گواہ بن جائیں گے۔ چنانچہ مرزا مظفر احمد نے ان کی طرف ایک آدمی دوڑا دیا کہ ضروری کام ہے آپ جلدی تشریف لائیں۔ اس کے بعد میں پھر اوپر چلا گیا۔ اتنے میں نیچے سے مجھے آوازیں آئیں اور میں نے آواز سے پہچان لیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب آگئے ہیں اور وہ ان سپاہیوں سے بات کررہے تھے اور کہہ رہے تھے تم نے صریحاً خلاف قانون حرکت کی ہے۔ یہ باتیں سن کر میں بھی نیچے اتر آیا اور میں نے ان کے سامنے تمام پہلی باتوں کو دہرانا شروع کیا۔ میں نے کہا اس طرح خلیل احمد کے نام ایک پیکٹ آیا تھا جو میں نے درد صاحب کو اس لئے دیا کہ وہ گورنر صاحب پنجاب کو بھجوا دیں۔ انہوں نے درد صاحب سے وہ پیکٹ چھین لیا اور پھر انہوں نے تھانہ میں کوئی جھوٹی رپورٹ بھیج دی جس پر مسلح پولیس آگئی۔ پھر میں نے ان سپاہیوں سے کہا کہ یہ جو مسلح پولیس آئی ہے یہ ضرور کسی تمہاری رپورٹ کے نتیجہ میں آئی ہے۔ تم نے لکھا ہوگا کہ یہ لوگ ہمیں مارنے اور قتل کرنے کے درپے ہیں۔ یقیناً تم نے ایسا ہی لکھا ہے ورنہ تھانے والوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ مسلح پولیس یہاں بھیج دیتے۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ جب درد صاحب سے تم نے پیکٹ چھینا تھا تو کیا اس سے تمہاری غرض یہ نہیں تھی کہ تم یہ بات بناسکو کہ تم نے یہ پیکٹ خلیل سے لیا ہے۔ اس پر وہ کہنے لگا جس طرح آپ نے کوئی بات بنانی تھی اسی طرح ہم نے بھی کوئی بات بنانی ہی تھی۔ یہ باتیں انہوں نے ان ڈپٹی کمشنر صاحب کے سامنے کیں اور میں نے بھی ان سے اس لئے کہلوائیں تاکہ وہ ڈپٹی کمشنر صاحب ان باتوں کے گواہ بن جائیں )گو میں نہیں کہہ سکتا ان باتوں میں سے انہوں نے کتنی سنیں کیونکہ اس وقت مختلف باتیں ہورہی تھیں( اسی طرح ابھی ڈپٹی کمشنر صاحب نہیں آئے تھے کہ مجھے نیچے سے ایک سپاہی کی آواز آئی جو دوسرے سپاہی سے بات کررہا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کوئی سپاہی بدنیتی سے اندر آنا چاہتا تھا کہ ہمارے آدمیوں نے اسے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ اس پر دوسرا سپاہی اسے کہنے لگا۔ >ایدھر آجا اوئے اینہاں دا کی اعتبار ہے جو چاہیں گل بنا لیں<۔
    یعنی ان کا کیا اعتبار ہے ان کا جو جی چاہے گا ہمارے خلاف بات بنالیں گے۔ گویا ہمارے سب لوگ جھوٹے تھے اور وہ لوگ جو روزانہ جھوٹی قسمیں کھاتے اور ہمارے سامنے جھوٹ بول رہے تھے وہ سچے تھے۔ خیر ان ڈپٹی کمشنر صاحب نے کچھ دیر ان سے باتیں کرنے کے بعد مجھ سے کہا کہ ان سپاہیوں سے باتیں کرنی فضول ہیں ان میں کوئی افسر نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی اختیار ہے۔ آپ کو چاہئے کہ ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر صاحب کی طرف آدمی بھجوا دیں اور انہیں تمام حالات سے اطلاع دیں۔ میں نے کہا اس کا پتہ کراچکا ہوں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس دونوں اس وقت باہر ہیں اسی وجہ سے ہم حیران ہیں کہ کیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پھر یہ جو کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل ہیں ان سے بات کرنی فضول ہے انہیں دیکھ کر تو یہ بھی پتہ نہیں لگتا کہ ان کا افسر کون ہے۔ پھر انہوں نے کہا۔ یہاں مسٹر سلیئر ایس ڈی او ہیں۔ مرزا مظفر احمد صاحب ان کے پاس چلے جائیں۔ میں نے کہا مظفر احمد کا جانا ٹھیک نہیں۔ وہ یہاں گواہ کے طور پر ہیں۔ میں درد صاحب اور مرزا ناصر احمد صاحب کو بھجوا دیتا ہوں۔ چنانچہ میں نے ان دونوں کو مسٹر سلیئر کی طرف بھجوا دیا اور خود ان سپاہیوں سے پوچھا کہ تم میں افسر کون ہے۔ اس پر پہلے تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں پتہ نہیں ہمارا کون افسر ہے۔ پھر جب مزید اصرار کیا تو ان میں سے کوئی کہے کہ یہ افسر ہے اور کوئی کہے وہ افسر ہے۔ آخر ایک طرف اشارہ کرکے وہ کہنے لگے کہ ہم میں سے یہ سب سے بڑا ہے اور وہ بغیر وردی کے تھا۔ اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا میں وردی میں ہی نہیں فلاں شخص ہے۔ اس نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ بے وردی شخص سینئر ہے میں افسر نہیں۔ جب اسے کہا گیا کہ وہ تو منکر ہے تو اس نے جواب دیا کہ >جیہنوں سمجھ لو<۔ یعنی جسے چاہیں افسر سمجھ لیں۔ آخر ان ڈپٹی کمشنر صاحب نے ان سے پوچھا کہ تم کو یہ تو بتانا چاہئے تم میں سے بڑا کون ہے۔ اس پر بھی انہوں نے کچھ ایسا ہی جواب دیا۔ غرض اسی قسم کی آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔ خیر انہوں نے کہا۔ مسٹر سلیئر ایس ڈی او ابھی آجائیں گے۔ ان لوگوں سے بات کرنی فضول ہے آپ اندر چل بیٹھیں۔ چنانچہ وہ اور میں اور عزیزم مظفر احمد کمرہ میں بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں مسٹر سلیئر ناصر احمد کے ساتھ آگئے۔ مسٹر سلیئر نے کوٹ اتارا اور بیٹھتے ہی کہا کہ میں پولیس افسر نہیں۔ میرے پاس تو جب کیس آتا ہے اس وقت اسے سنتا ہوں۔ وہ مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے۔ یونہی یہ سن کر کہ کوئی شخص باہر سے یہاں چند دنوں کے لئے آیا ہوا ہے اور اسے پولیس والوں کے متعلق کوئی شکایت پیدا ہوئی ہے چلے آئے۔ میں نے بھی ان کا شکریہ ادا کیا کہ آپ بغیر اس علم کے کہ کیا واقعہ ہوا ہے اور ہم پر کیا گزری ہے تشریف لے آئے ہیں۔ خیر انہیں تمام واقعات بتائے گئے انہوں نے کہا کہ ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت پولیس بغیر وارنٹ دکھائے گرفتار کرسکتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب کہنے لگے یہ اختیارات انسپکٹر پولیس یا سب انسپکٹر پولیس کو حاصل ہیں ہر ایک کو حاصل نہیں۔ اس پر مسٹر سلیئر نے بتایا کہ انسپکٹر پولیس بیمار تھا اور تھانہ دار دورہ پر تھا اس وقت انچارج ایک ہیڈ کانسٹیبل ہی ہے اس لئے اسے اختیار حاصل ہے۔ پھر وہ واقعات سنتے رہے اور انہوں نے اس پر افسوس کا بھی اظہار کیا۔ اور کہا کہ کیا آپ کے نزدیک یہ کافی نہ ہوگا کہ میں انسپکٹر کو کہوں کہ وہ ان لوگوں کے متعلق مناسب کارروائی کرے۔ میں نے انہیں کہا کہ میں تو اس کے متعلق گورنر صاحب کو بھی تار دے چکا ہوں۔ اس لئے ان کے فیصلہ کا مجھے انتظار کرنا پڑے گا۔ اسی دوران میں پولیس کے بعض نقائص کو بھی انہوں نے تسلیم کیا اور جب انہیں بتایا گیا کہ وہ بغیر تلاشی لئے اندر آگئے تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ میں خلاف قانون حرکت ہے اور انہیں اندر نہیں آنا چاہئے تھا۔ مگر انہوں نے کہا کہ میں مجسٹریٹ ہوں اور صرف اتنا کرسکتا ہوں کہ جب کیس میرے سامنے آئے تو اس کا فیصلہ کردوں۔ پولیس کی کارروائی میں دخل نہیں دے سکتا۔ البتہ لڑکے کی ضمانت ابھی لے لیتا ہوں۔
    ڈی سی صاحب نے کہا۔ میں اس بارہ میں تجربہ کار ہوں۔ آپ یہ بات نہ کریں کیونکہ اس طرح آپ خود الزام کے نیچے آجائیں گے۔ پولیس نے ابھی تک آپ کے پاس رپورٹ نہیں کی اور قاعدہ یہ ہے کہ پہلے پولیس رپورٹ کرے اور پھر اس پر کسی قسم کا ایکشن لیا جائے۔ انہوں نے کہا۔ بہت اچھا۔ میں انچارج کو بلا لیتا ہوں۔ انہوں نے اسے بھیجا کہ جاکر تھانیدار انچارج کو بلا لائو۔ اس پر وہی شخص آیا جو بے وردی تھا۔ مسٹر سلیئر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم انچارج ہو؟ اس نے کہا میں تو وردی میں نہیں میں کس طرح انچارج ہوسکتا ہوں۔ انہوں نے کہا اچھا پھر کسی وردی والے کو بلائو۔ اس پر وہ کسی دوسرے کو بلا لایا جو وردی پہنے ہوئے تھا۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ کیا تم انچارج ہو؟ تو وہ کہنے لگا میں کس طرح انچارج ہوسکتا ہوں میں تو جونیئر ہوں انچارج تو یہ ہے جو بغیر وردی کے ہے۔ اس پر مسٹر سلیئر بھی حیران ہوئے اور انہوں نے اسی شخص سے جو بغیر وردی کے تھا کہا کہ تم اس کیس کے متعلق میرے پاس رپورٹ کرو۔ پھر میں اس کا فیصلہ کروں گا۔ میں نے اس دوران میں انہیں توجہ دلائی کہ آپ دیکھیں یہ لوگ کس قسم کی حرکات کررہے ہیں کہ اصل انچارج بغیر وردی کے ہے اور جو وردی میں ہے وہ انچارج ہونے سے منکر ہے۔ اس سے وہ بہت متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ انسپکٹر بیمار تھا۔ اگر وہ اچھا ہوتا تو شائد اس طرح واقعات نہ ہوتے۔ خیر وہ بے وردی شخص تو رپورٹ لکھنے کے لئے چلا گیا اور مسٹر سلیئر انتظار کرتے رہے۔ مگر جب دیر ہوگئی ہم نے ان سے کہا کہ آپ تشریف لے جائیے۔ جب رپورٹ آئے گی اور آپ چاہیں گے لڑکے کو آپ کے پاس ضمانت کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اس پر رضامند ہوکر چلے گئے۔ اور کہہ گئے کہ ڈی سی بھی شام کو آجائے گا میں نو بجے اطلاع دوں گا۔ اگر ضرورت ہوئی تو مرزا مظفر احمد خلیل احمد کو لے کر آجائیں میں ضمانت لے لوں گا۔ وہ تو چلے گئے مگر پولیس والے برابر ۱۲ بجے سے لیکر سات بجے شام تک رائفلیں لے کر ہمارے مکان کے صحن میں کھڑے رہے۔ پھر میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اب تم ان سے پوچھو کہ یہ کس قانون کے ماتحت یہاں کھڑے ہیں اور ان سے لکھوا لو تاکہ بعد میں یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو اس وقت تک وہاں نہیں ٹھہرے۔ انہوں نے کہا ہم کچھ لکھ کر دینے کے لئے تیار نہیں۔ اس پر مرزا عبدالحق صاحب نے کہا کہ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ جس طرح تم نے آج جھوٹ بولا ہے۔ اسی طرح کل جھوٹ بول دو اور کہہ دو کہ ہم تو وہاں گئے ہی نہیں تھے۔ پھر مرزا عبدالحق صاحب پلیڈر نے ان سے کہہ دیا کہ اگر لکھ کر نہیں دیتے کہ ہم اس وقت تک بالا افسروں کے حکم سے مکان پر قبضہ کئے ہوئے ہیں تو پھر تمہارا کوئی حق یہاں ٹھہرنے کا نہیں پھر تم نکل جائو۔ میں نے مرزا صاحب سے کہا کہ آپ انہیں یہ نہ کہیں کہ یہاں سے نکل جائو کیونکہ ممکن ہے یہ لوگ جاکر یہ رپورٹ کریں کہ ہمیں مارا گیا ہے اور بات آخر وہی مانی جائے گی جو یہ کہیں گے۔ آج کل چونکہ جنگ ہورہی ہے اس لئے مجسٹریٹوں کا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ پولیس والوں کو کیا ضرورت تھی کہ وہ جھوٹ بولتے پس میں نے ان سے کہا آپ یہ نہ کہیں کہ نکل جائو بلکہ کہیں کہ نہیں لکھ کر دیتے تو تمہاری مرضی ہم یہ لکھ لیں گے کہ تم فلاں وقت تک یہاں ٹھہرے ہو اور دوبارہ ان کی تصویر لے لو اور اس تصویر پر وقت بھی لکھ دو کہ اتنے بجے یہ تصویر لی گئی ہے۔ آخر شام کو اطلاع ملی کہ ایس ڈی او صاحب کے حکم کے مطابق جب پولیس نے رپورٹ کی تو معلوم ہوا کہ جس دفعہ کے ماتحت پولیس والوں نے کارروائی کرنی چاہی تھی اس کے ماتحت کارروائی کرنے کا پولیس کو اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔ غرض ان کی اور بے ضابطگیوں میں ایک بڑی بے ضابطگی یہ بھی پائی گئی کہ جس دفعہ کے ماتحت انہوں نے کارروائی کرنی چاہی اس دفعہ کے ماتحت مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر کارروائی کا انہیں حق ہی حاصل نہیں تھا۔
    سنا گیا ہے کہ اس رپورٹ پر ایس ڈی او صاحب نے انچارج ہیڈ کانسٹیبل کو بلا کر کہا کہ تم نے اس دفعہ کے ماتحت کس طرح کارروائی کی ہے جبکہ کارروائی کرنے کا تمہیں کوئی حق ہی حاصل نہیں تھا مجسٹریٹ نے کہا۔ قانون تمہیں اس بات کا اختیار نہیں دیتا البتہ مجسٹریٹ کے حکم سے تم ایسا کرسکتے ہو۔ اس کے بعد انہوں نے اسی وقت آدمی بھجوا دیا کہ وہاں جو پولیس کھڑی ہے اسے کہہ دیا جائے کہ وہ کوٹھی سے واپس چلے جائیں۔ چنانچہ سات بجے شام کو پولیس وہاں سے ہٹی۔ رات کو ایس ڈی او صاحب کا پھر رقعہ آیا کہ صبح میں مرزا خلیل احمد کے بارہ میں اطلاع دوں گا۔ دوسرے دن حسب وعدہ گیارہ بجے کے قریب ان کا رقعہ آیا کہ آپ خلیل احمد کو بے شک لے جائیں۔ ہماری طرف سے اس میں کسی قسم کی روک نہیں۔ چنانچہ اس پر ہم قادیان آگئے۔ صبح کے شور و شر کے بعد جب مختلف لوگوں کی گواہیاں لینے کے لئے میں نے مرزا عبدالحق صاحب کو مقرر کیا تاکہ تازہ بتازہ شہادت قلمبند ہو جائے تو مجھے معلوم ہوا کہ پولیس ڈاک آنے سے پہلے ہی ڈاک خانہ کے پاس بیٹھی تھی حالانکہ ابھی پیکٹ نہیں آیا تھا۔ اسی طرح وہ سڑکوں پر بھی مختلف جگہوں پر کھڑی تھی۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ پولیس پیکٹ کے منصوبہ میں شامل تھی اس کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈاکیہ نے اصرار کرکے خلیل احمد کو پیکٹ دیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب ڈاکیہ پیکٹ لایا تو خلیل احمد وہ پیکٹ درد صاحب کے پاس لایا اور کہنے لگا کہ یہ میرے نام بیرنگ پیکٹ آیا ہے کیا میں لے لوں؟ درد صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا ایسا پیکٹ نہیں لینا چاہئے۔ مگر وہ باہر جاکر پھر آیا اور اس نے دو آنہ ڈاکیہ کو دینے کے لئے طلب کئے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا تو اس نے کہا کہ ڈاکیہ اصرار کرنے لگا تھا کہ ضرور پیکٹ لے لیا جائے اور کہنے لگا کہ دو آنے خرچ کرنا کونسی بڑی بات ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ ڈاکیہ کو بھی پولیس نے یہ کہہ کر بھجوایا تھا کہ تم اصرار کرنا تاکہ خلیل احمد اس پیکٹ کو وصول کرلے۔ یہ واقعات ہیں جو میں نے بغیر کسی قسم کی جرح کے اور بغیر اپنے جذبات کو ظاہر کرنے کے بیان کر دیئے ہیں۔ میں نے یہ نہیں بتایا کہ کس کس طرح ان واقعات سے سلسلہ اور ہم پر حرف آیا ہے یا ان واقعات سے اور ان سے جن کو میں نے ظاہر نہیں کیا کس طرح پولیس والوں کی بدنیتی اور ان کی جماعت کو ذلیل کرنے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔ میں ان امور کو اس وقت تک ملتوی رکھتا ہوں جب تک گورنمنٹ سے اس بارہ میں میں گفتگو نہ کرلوں اور یہ نہ معلوم کرلوں کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے۔ مگر جو چیز مجھے عجیب لگی ہے جو میرے دل میں کھٹکتی ہے اور جس کے بیان کرنے سے میں نہیں رک سکتا وہ یہ ہے کہ اگر اس ایکٹ کا وہی مفہوم ہے جو اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے تو پھر اس ایکٹ کے ماتحت کسی کو بھی کوئی پیکٹ بھجوا کر گرفتار کرا دینا بالکل آسان امر ہے اور اس طرح ہماری جماعت کا کوئی فرد اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ کل ممکن ہے میرے پاس اس طرح کا کوئی پیکٹ آجائے اور پولیس مجھے گرفتار کرلے۔
    آخر سوشلسٹوں کے لئے یا پولیس کے لئے اس قسم کا پیکٹ بھجوانا کیا مشکل ہے۔ سوشلسٹوں کے اشتہارات وغیرہ اس کے قبضہ میں آتے ہی رہتے ہیں وہ آسانی سے کسی دوسرے کے نام وہی اشتہارات بصورت پیکٹ بھیج کر اسے گرفتار کرا سکتی ہے۔ گویا تمام معززین کی عزتیں اور جانیں خطرہ میں ہیں اور امن محض سی۔ آئی۔ ڈی کے چند افسروں کے ہاتھ میں رہ گیا ہے۔ میں نے اس خط میں جو ہز ایکسی لینسی گورنر پنجاب کو بھجوایا ہے یہی لکھا ہے اور ان سے پوچھا ہے کہ کیا قانون کا یہی منشاء ہے۔ میں کسی بڑے افسر کا نام ادب کی وجہ سے نہیں لیتا لیکن کیا ان کو اس قسم کا پیکٹ اگر کوئی بھیج دے تو پولیس تین چار منٹ کے بعد ہی ان کو گرفتار کرلے گی۔ حالانکہ تین چار منٹ میں کوئی انسان خواہ کتنا ہی سمجھ دار ہو کتنا ہی طاقتور ہو کتنے ہی وسیع ذرائع رکھنے والا ہو یہ نہیں کرسکتا کہ اس پیکٹ کو ڈپٹی کمشنر یا سپرنٹنڈنٹ پولیس کے پاس بھجوائے۔ آخر وہ کونسا ذریعہ ہے جس کے ماتحت اس قسم کا پیکٹ پہنچنے کے تین چار منٹ بعد ہی انسان اسے کسی ذمہ دار افسر تک پہنچا سکے اور اس طرح اپنی بریت ثابت کرسکے میں سمجھتا ہوں انگریزوں کے جرنیل اور کرنیل بھی یہ طاقت نہیں رکھتے کہ وہ باوجود بڑی طاقت رکھنے کے باوجود ہوائی جہاز رکھنے کے اس قسم کا پیکٹ پہنچنے کے بعد تین چار منٹ کے اندر اندر اس کے متعلق کوئی کارروائی کرسکیں۔ پس اگر اس قانون کا یہی مفہوم ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہندوستان کے ہر شخص کی عزت خطرے میں ہے۔ فرض کرو میں اس وقت وہاں موجود نہ ہوتا تو کیا اس قانون کے ماتحت خلیل احمد مجرم نہیں تھا۔ یا فرض کرو وہ اس کی اہمیت کو نہ سمجھتا اور اس پیکٹ کو کمرہ میں پھینک دیتا تو کیا وہ مجرم نہ بن جاتا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس قانون کا یہ منشاء ہو جو پولیس نے سمجھا لیکن چونکہ میں نے اس کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلائی ہے اس لئے میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ اس کا کیا جواب دیتی ہے۔ اگر گورنمنٹ کا یہی منشاء ہے تو بغیر مزید تحقیق کئے ابھی سے یہ کہے دیتا ہوں کہ اس کے ماتحت ہندوستان میں کسی شخص کی عزت محفوظ نہیں اور اگر اس قانون کا یہ منشاء نہیں اور اگر گورنمنٹ نے ایسے اصول تجویز کئے ہیں جن سے اس قسم کے خطرات کا ازالہ ہوسکتا ہے تو یقیناً گورنمنٹ کا فرض ہے کہ ان لوگوں کو جو اس واقعہ کے ذمہ دار اور اصل مجرم ہیں سزا دے<۔۳۲
    ‏]0 [stfمخلصین جماعت کا ردعمل
    اس واقعہ کا منظر عام پر آنا ہی تھا کہ مخلصین جماعت کے دلوں میں زبردست ہیجان اور جوش پیدا ہوگیا اور انہوں نے حضرت امیرالمومنینؓ کے حضور اپنے نام پیش کرنے شروع کر دیئے کہ اس موقعہ پر ہم سے انفرادی طور پر جس جس قربانی کا مطالبہ کیا جائے گا اس سے دریغ نہیں کریں گے۔ تاہم جذبات کے حددرجہ مجروح ہونے کے باوجود انہوں نے ہر نوع کے غیر آئینی اقدام سے کلیت¶ہ اجتناب کیا اور صبروتحمل کا بے نظیر نمونہ دکھایا۔
    دوسروں کا ردعمل
    ‏0] ftr[جماعت احمدیہ کی مظلومیت کا یہ نظارہ دیکھ کر ملک کے سنجیدہ اور معزز مسلم و غیر مسلم حلقوں نے بھی پولیس کی ظالمانہ کارروائی کو سخت نفرت و حقارت سے دیکھا اور جماعت سے ہمدردی کا اظہار کیا۔۳۳
    اخبارات کا زبردست احتجاج
    سب سے عمدہ نمونہ ہندوستان کے پریس نے دکھایا جس نے اس واقعہ کی تفصیلات شائع کرنے کے علاوہ اس پر زوردار احتجاجی نوٹ لکھے۔
    اخبار >انقلاب< لاھور
    شمالی ہند کے مشہور مسلمان اخبار >انقلاب< )لاہور( نے اپنی ستمبر ۱۹۴۱ء کی اشاعت میں لکھا۔
    >قادیانیوں کے متعلق کسی سرکاری یا غیرسرکاری آدمی کو یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ حکومت کے خلاف باغیانہ لٹریچر کی اشاعت میں شریک ہوسکتے ہیں۔ حکومت کے ساتھ تعاون اور مساعی جنگ کی پرزور حمایت کے باب میں ان کی پالیسی ساری دنیا پر آشکارا ہے` پھر اگر اس گروہ کے امام کا صاحبزادہ بھی ایک ایسے معاملے میں محل شبہات بن سکتا ہے جس سے نظربہ ظاہر اس کا کوئی تعلق نہ تھا تو ان لوگوں کی آزادیاں اور عزتیں کیونکر محفوظ سمجھی جاسکتی ہیں جن کے متعلق حکومت یا عوام کو وفاداری کا ویسا یقین نہیں ہوسکتا جیسا کہ قادیانی اصحاب کے متعلق ہے۔
    ہم مرزا صاحب کی اس رائے سے متفق ہیں کہ قانون کا ایسا استعمال اور ان پڑھ یا قریباً ان پڑھ پولیس کے معمولی جوانوں کو مختار بنا دینا یقیناً بے حد خطرناک ہے اور جن حوادث سے مرزا صاحب کو سابقہ پڑا کسی شریف انسان کے لئے بھی اطمینان بخش نہیں ہوسکتے۔
    حکومت کا فرض ہے کہ اس قسم کے واقعات کا سختی سے انسداد کرے۔ حکومت کے کاروبار امن و تحفظ سے کوئی آئین پسند انسان اختلاف نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس شخص کے نام کوئی شخص خلاف آئین لٹریچر بھیج دے اسے معاً مجرم سمجھ لیا جائے اور اس کی زندگی کے محکم حقائق کی طرف سے آنکھیں بالکل بند کرلی جائیں۔ یہ طرز عمل سراسر غلط اور دل آزار ہے۔ حکومت پنجاب کا فرض ہے کہ وہ اس واقعہ کی مناسب تلافی کرے اور آئندہ کے لئے قانون کے صحیح استعمال کے متعلق تمام لوگوں کو یقین دلائے گی یہ کم سے کم صورت ہے۔ معاملہ مرزا صاحب یا ان کی جماعت کا نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کو اس کے ساتھ گہرا تعلق ہے<۔۳۴
    اخبار >پارس< لاھور
    لاہور کے ہندو اخبار >پارس< نے >امیر جماعت احمدیہ سے بدسلوکی< کے عنوان سے )۲۷۔ ستمبر ۱۹۴۱ء کو( حسب ذیل اداریہ لکھا۔
    >ایک مذہبی پیشوا کی حیثیت سے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو ملک میں جو قابل رشک پوزیشن حاصل ہے اس سے ہر شخص واقف ہے۔ جماعت احمدیہ کے ہر فرد کے لئے ان کا لفظ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسی جماعت کے رہبر ہیں جس کے بانی نے بادشاہ وقت کی اطاعت کو ایک اصول کا درجہ دیا۔ حکومت برطانیہ کی وفاداری اور اس سے دوستی کو جماعت مذکور نے اپنا فرض قرار دیا جس کے لئے اسے اپنے ہم وطنوں کے طعن و تشنیع برداشت کرنے پڑے۔ گزشتہ اور موجودہ جنگ میں مرزا صاحب اور ان کے پیروکاروں نے حکومت کی مالی اور بھرتی کے سلسلہ میں جو مدد کی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن ان کے ساتھ حکومت کے کارندوں کی طرف سے جو نامناسب سلوک روا رکھا گیا ہے وہ اس قابل نہیں کہ جسے آسانی سے نظر انداز کیا جائے۔
    مرزا صاحب موصوف کو ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے استعمال پر اپنے ساتھ پیش آمدہ مذکورہ بالا واقعہ سے کس قدر ذہنی تکلیف ہوئی ہے اس کا اندازہ ان کے ذیل کے تلخ الفاظ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ آپ اپنے خطبہ کے دوران میں فرماتے ہیں۔ )آگے حضور کے خطبہ سے اقتباس دیا گیا ہے۔ ناقل(
    جہاں ہمیں اس رنج دہ معاملہ میں خلیفہ صاحب قادیان سے دلی ہمدردی ہے وہاں ہم حکومت کے اس نظام کی خامیوں پر ماتم کئے بغیر نہیں رہ سکتے جس کی رو سے ایک ایسی جماعت کے پیشوا کی توہین ہوئی جو حکومت برطانیہ کی بہت بڑی مددگار اور دوست سمجھی جاتی ہے۔ اگر مرزا صاحب کے خاندان کے کسی فرد پر محض ایک پیکٹ کے وصول ہونے کی وجہ سے سڈیشن۳۵ کا شبہ کیا جاسکتا ہے اور مرزا صاحب ایسی پوزیشن کے بلند مرتبت بزرگ کے ساتھ پولیس کے معمولی سپاہی بدسلوکی سے پیش آسکتے ہیں تو پھر کسی بھی شخص کی عزت محفوظ نہیں سمجھنی چاہئے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس معاملہ کو معمولی سمجھ کر ٹال نہ دے بلکہ کسی خاص افسر کے ذریعہ اس کی تحقیقات کروائے اور اس سازش کا پتہ لگا کر جس کے ذریعہ مرزا صاحب کو نقصان پہنچانے کی مذموم حرکت کی گئی۔ سازش کنندگان کو قرار واقعی سزائیں دے تاکہ آئندہ کسی کو اس قسم کی جسارت کی جرات نہ ہوسکے۔ ہماری رائے میں بلا لحاظ مذہب و ملت ہر جماعت اور ذمہ دار اخبار کو اس واقعہ کی جو مرزا صاحب قادیان کے ساتھ پیش آیا پرزور الفاظ میں مذمت کرنی چاہئے کیونکہ اسے اگر نظرانداز کیا گیا تو اس قسم کے واقعات بڑی سے بڑی پوزیشن کے مذہبی اور سیاسی رہنما کے ساتھ پیش آسکتے ہیں<۔
    اخبار >حق< لکھنو
    لکھنو کے اخبار >حق< نے ۲۷۔ ستمبر ۱۹۴۱ء کی اشاعت میں >جماعت احمدیہ کی توہین< کے عنوان سے حسب ذیل نوٹ لکھا۔
    >اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو ہم گورنمنٹ پنجاب سے یہ پوچھنے کا پورا حق رکھتے ہیں کہ ایک ایسی محترم اور باعث عزت شخصیت کے خلاف کہ جو ایک طاقتور جماعت کا سردار اور امیر ہے اور جس کی شخصی اور جماعتی وفاداری حکومت کے ساتھ ضرب المثل کا درجہ رکھی ہے اس سے پولیس نے اس قسم کا اہانت امیز برتائو کیوں کرکیا اور کس حکم سے اس جماعت کے بارے میں ظاہر ہے کہ یہ شبہ تو ہوہی نہیں سکتا تھا کہ اس کا کوئی فرد چہ جائیکہ اس کا خود امیر حکومت کے خلاف کسی باغیانہ لٹریچر کی نشر و اشاعت کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لئے کہ نہ صرف سابقہ موقعوں پر بلکہ موجودہ جنگ میں بھی ان کا گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ اتحاد عمل اور اتحادی حکومتوں کی تائید میں ان کا پروپیگنڈا ہر ایک کے علم میں ہے اور اگر اس کے باوجود بھی کسی ایسی ممتاز و محترم شخصیت کے ساتھ حکومت پنجاب اس قسم کے طرز عمل کو جائز قرار دے سکتی ہے تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی دوسرے کو اس سے کیا توقع رکھنی چاہئے اور یہ بھی تو دیکھے کہ انصاف اور قانون کے کس ضابطہ اور اصول کے ماتحت ایسے شخص کو کہ جس کا وفاداری کا ریکارڈ اتنا شاندار ہو محض مغویانہ لٹریچر کے ڈاک سے وصول کرنے کی پاداش میں مجرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر قصور وار کوئی ہوسکتا ہے تو اس کا بھیجنے والا نہ کہ اس کا پانے والا۔ بہرحال ہم اس زبردست مذہبی اور سیاسی اختلافات کے باوجود کہ جو ہمارے اس جماعت سے ہیں پنجاب پولیس کے اس غیر شریفانہ طرز عمل کے خلاف اپنے دلی غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے اس کی تحقیقات اور تلافی اور ائندہ کے لئے اس کے انسداد کی پرزور خواہش کریں گے۔ اگر واقعات وہ نہیں ہیں کہ جو اس سلسلہ میں ہمارے علم میں آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو حکومت پنجاب کا یہ ایک ضروری اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ امیر جماعت احمدیہ کے اس بیان کے جواب میں جو انہوں نے روزنامہ >الفضل< میں اس کے متعلق شائع کیا ہے اپنا جوابی بیان شائع کرکے اپنی پوزیشن کی صفائی پیش کردے تاکہ عام قلوب میں اس کے اس طرز عمل سے جو بے چینی پیدا ہوئی ہے وہ رفع ہو جائے۔ کیا سرسکندر کی حکومت ہمارے اس جائز مطالبہ کو پورا کرنے پر تیار ہوسکتی ہے؟<۳۶
    اخبار >سرفراز< لکھنو
    شیعہ اصحاب کے جماعتی آرگن روزنامہ >سرفراز< لکھنو نے >جماعت احمدیہ کی ایک قابل لحاظ شکایت< کے عنوان سے ۲۱۔ ستمبر ۱۹۴۱ء کو لکھا۔
    >ہم کسی مذہب و ملت کے پیشوا کی توہین پسند نہیں کرتے اس لئے ہمیں یہ سن کر افسوس ہوا کہ جماعت احمدیہ >قادیان< کے موجودہ پیشوا کے ساتھ کوہ ڈلہوزی پر جہاں آپ بغرض تبدیل آب و ہوا معہ اپنے متعلقین کے مقیم تھے پنجاب کی پولیس نے غالباً کسی خفیہ رپورٹ کی بناء پر اتنا زیادہ نامناسب برتائو کیا جس نے خود آپ کو نیز آپ کے معتقدین کو بڑی تکلیف پہنچی۔
    ہم کو امید ہے کہ حکومت اس معاملہ کی چھان بین کرکے اس کی مناسب تلافی کرے گی۔ تاکہ ہندوستان کی ہر ملت وقوم کو یہ اطمینان ہوسکے کہ اس کے پیشوا کی عزت سرکاری عمال کے ہاتھوں معرض خطر میں نہیں لائی جائے گی<۔۳۷
    اخبار >حقیقت< لکھنو
    صوبہ متحدہ کے سنی مسلمانوں کے ترجمان اخبار >حقیقت< نے ۱۹۔ ستمبر کو >جماعت احمدیہ کے پیشوا کی توہین< کی سرخی سے حسب ذیل شذرہ سپرد قلم کیا۔
    >معاصر >الفضل< )قادیان( سے ہمیں یہ معلوم کرکے بہت افسوس ہوا کہ امام جماعت احمدیہ قادیان کے ساتھ کوہ ڈلہوزی پر جہاں آپ بغرض تبدیل آب و ہوا معہ اپنے متعلقین کے مقیم تھے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے غالباً پنجاب سی۔ آئی۔ ڈی کی کسی رپورٹ کی بناء پر بہت ہی نازیبا اور قابل اعتراض برتائو کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کسی اور جماعت کے لیڈر کے ساتھ ایسا برتائو کیا گیا ہوتا تو ہمارا خیال ہے کہ اس وقت ہندوستان میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایسی آگ لگ چکی ہوتی جو آسانی سے بجھائی نہیں جاسکتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عام مسلمانوں کو احمدی جماعت سے عقائد میں یقیناً اختلاف ہے لیکن اس وقت ہم جس واقعہ کا ذکر کررہے ہیں وہ ان عقاید کے سوال سے بالا ہے اور یہ وہ امور ہیں جن پر سب کو متفق ہو کر پنجاب گورنمنٹ کے اس نازیبا فعل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا چاہئے۔ کیونکہ ایک ایسی حکومت کے لئے جس کا وزیراعظم ایک مسلمان ہو اس قسم کے امور ضرور شرمناک کہے جائیں گے۔ یہ ایسی بات ہے جس کے بارے میں اگر احتجاج نہ کیا گیا تو کسی بڑے سے بڑے ہندوستانی لیڈر کی عزت اور آبرو محفوظ نہ رہے گی۔ واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سرسکندر کی حکومت میں ہندوستان کے سب سے زیادہ اطاعت شعار وفادار اور پابند قانون جماعت کے لیڈر کے ساتھ ایسا انسانیت سوز برتائو ہوسکتا ہے تو پھر کانگرسی رہنمائوں سے کیا کچھ
    ‏tav.8.14
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۸
    اشاعت احمدیت کی خصوصی تحریک سے واقعہ ڈلہوزی تک
    سلوک نہ ہوتے ہوں گے۔ کاش! اسی واقعہ سے احمدیوں کو اس بات کا احساس ہو جائے کہ اس زمانہ میں حکومت کی وفاداری اور اطاعت شعاری کی نہ تو پبلک میں کچھ قدر ہے اور نہ خود گورنمنٹ کی نظروں میں کچھ وقعت ہے<۔۳۸
    >نیشنل ھیرلڈ< لکھنو
    ][لکھنو کے موقر انگریزی جریدہ >نیشنل ہیرلڈ< نے لکھا۔
    >ڈیفنس آف انڈیا رولز کا ایسا غلط استعمال بہت خطرناک ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ اس کا انسداد کرے۔ یہ بالکل غلط اصول ہے کہ جس کسی کے نام کوئی باغیانہ لٹریچر ڈاک میں آئے اسے مجرم گردان لیا جائے اور اس کی وفاداری کے گزشتہ ریکارڈ کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے۔ یہ بات واضح ہے کہ ڈیفنس آف انڈیا رولز پاس کرتے وقت لیجسلیچر کا منشاء وہ نہ تھا جو پنجاب پولیس لے رہی ہے<۔۳۹
    >اودھ اخبار< لکھنو
    لکھنو کے >اودھ اخبار< نے ۳۰۔ اکتوبر ۱۹۴۱ء کے پرچہ میں درج ذیل نوٹ لکھا۔
    >ابھی چند روز ہوئے کہ ڈلہوزی میں ایک ایسا ناگوار واقعہ پیش آیا جس پر مختلف اخباروں نے احتجاجی مقالے لکھے اور حکومت پنجاب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ وہ ایسے واقعہ کے متعلق پوری تحقیقات کرے اور اگر یہ واقعہ صحیح ہو تو اس کی تلافی کرے۔ اسی سلسلہ میں واقعہ کی تفصیل پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گزشتہ ستمبر کی کسی تاریخ کو جبکہ ڈلہوزی میں امام جماعت احمدیہ مقیم تھے ایک چٹھی رسان نے ایک پیکٹ امام جماعت احمدیہ کے صاحبزادے خلیل احمد کے نام تقسیم کیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ پیکٹ بیرنگ تھا اور اس نے پہلے وصول کرنے سے انکار کردیا لیکن بیان کیا جاتا ہے کہ چٹھی رسان نے صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سے اصرار کیا کہ وہ اس پیکٹ کو لے لیں۔ بہرحال انہوں نے اس پیکٹ کو وصول کرلیا اور اس کے فوراً ہی بعد صاحبزادہ موصوف اپنے والد صاحب کے پاس پہنچے اور پیکٹ حوالہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پیکٹ میں کوئی باغیانہ لٹریچر ہے۔ چنانچہ امام جماعت احمدیہ نے بھی چونکہ پیکٹ ڈھیلا تھا اس کا لٹریچر نکال کر ملاحظہ کیا تو یہ بات صحیح معلوم ہوئی کہ اس میں کسی انقلابی جماعت کی طرف سے یہ لٹریچر نوجوانوں کے نام روانہ کیا گیا تھا۔ امام جماعت احمدیہ نے فوراً ہی پرائیویٹ سیکرٹری کو بلا کر اس بات کی ہدایت کی کہ وہ اس خبر کو گورنر صاحب پنجاب کو روانہ کر دیں کہ ایسا لٹریچر پیکٹ میں کسی نے شرارتاً ان کے لڑکے کے پاس روانہ کیا ہے ممکن ہے اور نوجوانوں کو بھی بھیجا گیا ہو اس لئے اس کے متعلق فوری کارروائی کی جائے۔ ظاہر ہے کہ امام جماعت احمدیہ کا یہ فعل بربنائے خلوص ہی تھا لیکن ابھی یہ ہدایات دی ہی جارہی تھیں کہ فوراً پولیس کی ایک جماعت بھی امام جماعت احمدیہ کی کوٹھی میں پہنچ گئی اور اس پیکٹ کے متعلق تحقیقات شروع کر دی۔ اس پیکٹ کو بھی چھین لیا اور مکان کے اس ڈرائنگ روم میں داخل ہوگئی جہاں خود امام جماعت احمدیہ کی نشست گاہ تھی اور وہاں پولیس کی جماعت نے نہایت توہین آمیز طریقہ اختیار کیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اصل واقعات کیا ہیں لیکن اگر یہ واقعہ صحیح ہوسکتا ہے تو ہمیں پنجاب پولیس کے اس رویہ پر سخت افسوس اور تکلیف ہے کہ اس نے ایک جماعت کے پیشوا اور رہنما کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرکے اس جماعت کے وفادارانہ جذبات کو ٹھیس لگائی۔ جماعت احمدیہ کے متعلق یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس جماعت کے پیشوا سے لیکر افراد تک جن کی تعداد ہندوستان اور بیرون ہند میں لاکھوں تک ہے برطانوی حکومت کے ساتھ کس قدر وفادارانہ وابستگی رکھتے ہیں۔ دنیا میں ہزاروں قسم کی سیاسی اور غیر سیاسی تحریکات شروع ہوتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں۔ ہزاروں تحریکات ایسی ہوتی ہیں جن کا براہ راست اثر حکومت پر بھی پڑتا ہے لیکن جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس سے یہ اندازہ ہو کہ اس نے کسی ایسی تحریک میں حصہ لیا ہو جو حکومت کی مخالفت میں پیش کی جاسکے بلکہ یہ جماعت ہمیشہ حکومت کی ایک زبردست وفادار جماعت رہی ہے ایسی وفادار کہ جس کی کوئی مثال نہیں پیش کی جاسکتی۔ پھر اس جماعت کے قائد کے ساتھ یہ توہین آمیز رویہ ناجائز اور غیر قانونی ہے جیسا کہ مختلف اخبارات سے ظاہر ہوتا ہے یہ طریقہ اختیار کرنا ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم پولیس کے ایسے ناروا طریقہ پر اظہار رنج کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ حکومت پنجاب کا یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ان واقعات کی تحقیقات خاص طور پر کرائے ورنہ جب پولیس حکومت کے ایک ایسے وفادار دوست کے ساتھ یہ سلوک کرسکتی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ اس کی رو سے کسی اور کا دامن کیسے بچ سکتا ہے۔ اصل میں ان لوگوں کی تلاش کرنا چاہئے جو اس قسم کی شرارتیں کرتے ہیں۔ جن کی زندگی ہی ایسے ہنگاموں کے لئے وقف ہے۔ اخبار >الفضل< میں اس واقعہ کی جو تفصیل دی گئی ہے۔ وہ کافی بے چینی پیدا کرنے والی ہے اور اس جماعت کے پیروئوں میں تو یقیناً بہت زیادہ بے چینی ہوگی۔ اس لئے حکومت کو بھی جلد از جلد اس سلسلہ میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کر دینا چاہئے<۔۴۰
    حکومت پنجاب کی طرف سے کمشنر 0] [stfصاحب لاہور کو معذرت کرنے کی ہدایت
    واقعہ ڈلہوزی کی نسبت جماعت احمدیہ اور حکومت کے درمیان نو ماہ تک خط و کتابت جاری رہی حکومت نے تحقیقات بھی کرائی اور پھر
    پولیس کے ڈی۔ آئی۔ جی نے بھی تفتیش کی۔۴۱ بعد ازاں شہادت ۱۳۲۱ہش )اپریل ۱۹۴۲ء( میں کمشنر صاحب لاہور کو اس غرض کے لئے مقرر کیا کہ وہ اس معاملہ میں حضرت امام جماعت احمدیہ کے پاس اظہار افسوس کریں۔ چنانچہ کمشنر صاحب لاہور گورداسپور آئے اور ان کی چٹھی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی~رضی۱~ کی خدمت میں آئی کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ کیا آپ مجھے یہاں آکر مل سکتے ہیں؟ اگر آپ نہ مل سکتے ہوں تو اپنے کسی رشتہ دار کو ہی بھجوا دیں کیونکہ گورنمنٹ کی طرف سے میں ایک پیغام لایا ہوں جو آپ کو پہنچانا چاہتا ہوں۔ حضور کو قبل از وقت معلوم ہوچکا تھا کہ کمشنر صاحب لاہور اس غرض کے لئے آنے والے ہیں۔ چنانچہ حضور نے انہیں کہلا بھیجا کہ مجھے اگر آپ سے ملاقات کی ضرورت ہوتی تو میں خود آپ کے پاس آتا مگر چونکہ کام آپ کو ہے اس لئے میرے آنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اگر کسی افسر کو مجھ سے کوئی کام ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ میرے پاس آئے نہ یہ کہ میں اس کے پاس جائوں۔ باقی مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے آپ کو واقعہ ڈلہوزی پر اظہار افسوس کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ مگر آپ مجھے یہ بتائیں کہ وہ واقعہ گورنمنٹ کی نادانی سے پریس میں آچکا اور سارے ہندوستان میں مشہور ہوچکا ہے۔ اب اگر میں یہ اعلان کردوں کہ گورنمنٹ نے اپنی غلطی کا ازالہ کر دیا ہے اور اس نے اپنے فعل پر اظہار افسوس کیا ہے تو دشمن ہنسے گا اور کہے گا کہ خود ہی ایک بات بنالی گئی ہے ورنہ گورنمنٹ نے اظہار افسوس نہیں کیا۔ جیسے ہماری پنجابی زبان میں ضرب المثل ہے کہ >آپے میں رجی پجی آپے میرے بچے جیون<۔ اگر گورنمنٹ اس فعل پر اظہار ندامت کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ تحریراً کرے تاکہ دنیا کے سامنے اس تحریر کو رکھا جاسکے<۔
    کمشنر صاحب لاہور نے اس پیغام کے جواب میں کہلا بھیجا کہ میں تو ایسی تحریر نہیں دے سکتا کیونکہ مجھے اجازت نہیں البتہ میں گورنمنٹ کو آپ کی یہ بات پہنچا دوں گا۔۴۲
    حکومت پنجاب کا تحریری معذرت نامہ
    ‏0] f[rtچنانچہ کمشنر صاحب لاہور کی رپورٹ پر حکومت پنجاب نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں تحریری طور پر معذرت نامہ بھیجا۔ اس سلسلہ میں حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری )ایف۔ بی ویس( نے جو چٹھی لکھی اس کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    نمبر ۲۹۵۲ ایچ )جی( ۲۶۳۹۵/ ۴۲ منجانب ایف بی ویس۔ سی آئی ای آئی سی ایس
    ہوم سیکرٹری حکومت پنجاب
    بنام خلیفتہ المسیح حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ
    قادیان۔ ضلع گورداسپور
    تقدس ماب!
    پنجاب گورنمنٹ اس واقعہ کے متعلق جو گزشتہ ستمبر میں ڈلہوزی میں آپ کے گھر پر ہوا تھا اور جس میں پولیس نے ایک ضبط شدہ ٹریکٹ کے متعلق کارروائی کی تھی اس وقت تک تحقیقات کرتی رہی ہے اور اب اس کے متعلق مندرجہ ذیل تحریر بھجواتی ہے۔
    بعض اتفاقی واقعات کی وجہ سے جو قابل افسوس ہیں پولیس کا کوئی اعلیٰ افسر اس وقت ڈلہوزی میں موجود نہیں تھا جو اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیتا۔ مگر یہ بات تحقیقات سے ثابت ہے کہ جونیئر افسر انچارج نے اپنے فرائض کے ادا کرنے میں عقل اور پوری توجہ سے کام نہیں لیا۔ گورنمنٹ نے اس افسر اور ماتحت افسروں کے خلاف جن کا اس واقعہ سے تعلق تھا مناسب کارروائی کی ہے اور مجھے گورنمنٹ پنجاب کی طرف سے ہدایت ہوئی ہے کہ میں اس بارہ میں تحریر کروں کہ گورنمنٹ پنجاب کو اس تکلیف پر جو آپ کو یا آپ کے خاندان کے لوگوں کو پہنچی ہوگی شدید افسوس ہے۔ آخر میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس امر کے اظہار کی ضرورت نہیں۔ اس واقعہ سے کسی قسم کی ہتک یا تحقیر مدنظر نہیں تھی۔ آپ کی ذات کی یا اس مذہبی جماعت کی جس کے آپ معزز سردار ہیں۔۴۳ اس چھٹی کا متن یہ ہے۔:
    1942 ۔4 ۔27 Dated 42/26395 (G) H ۔2952 ۔N
    ‏From
    ‏Esquire, Wace ۔B۔F
    ‏to Secretary Home ۔S۔C۔I ,۔E۔I۔C
    ‏Punjab Government
    ‏To
    ‏Masih Khalifatul
    ‏Ahmad Mahmud Bashiruddin Mirza Hazrat
    ‏Community Ahmdiyya the of Head
    ۔Gurdaspur Disst, Qadian`
    ‏Holiness, Your
    ‏ in incident the examination under had have Government Punjab The certain when there, residence your at September last Dalhousie unauthorised with connection in police the by taken was action۔sheets snew
    ‏ police superior no circumstances, unfortunate of achain to Owing this of charge take to Dalhousie, in available was officer in was who officer jjunior the that show to seems enquiry and action out carrying in consideration and tact of lack a displayed charge officer this against taken been has action Suitable ۔duties his great the express to am I and concerned officials subordinate the and inconvenience unnecessary any for Government Punjab the of regret ۔consquence in household ruoy and you to caused been have may which was indignity or insult of kind no that said be hardly need It personally you to intented۔head respected the are you Which of body religious the to or
    ‏ be to honour the have I
    ‏holiness Your
    ‏servent obedient most Your
    ۔Sd/
    ‏Wace ۔B۔F
    ‏to Secretary Home
    ۔Punjab Government
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کا اعلان
    حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے اس چٹھی کے پہنچنے پر ۲۲۔ مئی ۱۹۴۲ء/ ہجرت ۱۳۲۰ہش کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔
    >جہاں تک امام جماعت احمدیہ کا سوال ہے گورنمنٹ شروع میں ہی اظہار افسوس کرچکی تھی لیکن ہماری بحث گورنمنٹ سے یہ نہیں تھی کہ امام جماعت احمدیہ سے یہ واقعہ پیش نہیں آنا چاہئے تھا بلکہ ہماری بحث یہ تھی کہ کسی ہندوستانی سے بھی ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہئے۔ چنانچہ گورنمنٹ نے جو مجھے اس وقت چٹھی لکھی تھی اس میں اس نے لکھا تھا کہ افسوس ہے ہمیں غلطی لگی اور ہمیں اس وقت یہ معلوم نہیں ہوا کہ امام جماعت احمدیہ کا اس سے کوئی تعلق ہے۔ میں نے اسی وقت اس چٹھی کے جواب میں گورنمنٹ کو لکھ دیا تھا کہ میری اس جواب سے تسلی نہیں ہوسکتی کیونکہ میرا سوال انصاف کے قیام کے متعلق ہے۔ میرا سوال یہ نہیں کہ امام جماعت احمدیہ سے اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آنا چاہئے تھا بلکہ میرا سوال یہ ہے کہ کسی ہندوستان کو بھی ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔ پس اس کا یہ اعتراض کہ جماعت کے نظام کا کوئی فائدہ نہ ہوا بے محل اعتراض تھا کیونکہ جہاں تک امام جماعت احمدیہ کا تعلق تھا گورنمنٹ چند دنوں کے اندر اندر معذرت کا اظہار کرچکی تھی اور میں نے اس معذرت کو قبول نہیں کیا تھا۔ اس لئے کہ میرے نزدیک امام جماعت احمدیہ ہونے کی حیثیت سے حکومت کی معذرت کافی نہ تھی<۔۴۴
    اس وضاحت کے بعد حضور نے کمشنر صاحب لاہور کے گورداسپور آنے اور پھر حکومت کے تحریری معذرت نامہ کرنے کا ذکر کرنے کے بعد حکومت پنجاب کے ہوم سیکرٹری کی انگریزی چٹھی اور اس کا ترجمہ سنایا اور پھر اعلان فرمایا۔
    >گو اس چٹھی میں ان بعض سوالات کا جو ہم نے اٹھائے ہوئے تھے جواب نہیں دیا گیا مگر بہرحال اس میں گورنمنٹ نے اس طریق کو اختیار نہیں کیا جو پہلے کیا تھا کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ اس میں آپ کا تعلق ہے تو ایسا واقعہ نہ ہوتا۔ بلکہ محض واقعہ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ قابل افسوس ہے اور ان افسروں کو سزا دی گئی ہے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ میں نے جنگ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ کے اس اظہار افسوس کو قبول کرلیا اور اسے لکھ دیا ہے کہ ہم اس واقعہ کو اب ختم شدہ سمجھتے ہیں<۔۴۵
    واقعہ ڈلہوزی میں حکومت کے اعلیٰ حکام کے ملوث ہونے کا ثبوت
    حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانیؓ نے گو حکومت پنجاب کی معذرت قبول فرما لینے کا اعلان کردیا مگر ساتھ ہی اس واقعہ کے پس
    منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے پوری وضاحت سے بتایا کہ۔
    >میں جہاں تک سمجھتا ہوں گو گورنمنٹ کے لئے یہ ماننا مشکل ہے کہ اس واقعہ کی بنیاد بعض اعلیٰ حکام کی سلسلہ احمدیہ سے مخالفت ہے کیونکہ واقعات بتاتے ہیں کہ جن امور کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی ہے وہ ڈیڑھ سال پہلے کے تھے اور اس کی ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بھی اطلاعیں دی جاچکی تھیں۔ ان مخالف افسروں میں سے مثال میں سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر کا ذکر کرتا ہوں۔ سال سوا سال ہوا انہوں نے ہمارے مبلغ صوفی عبدالقدیر صاحب کو بلایا اور ان سے کہا کہ جاپان کے متعلق مجھے وہ معلومات دو جو تم نے وہاں رہ کر حاصل کی ہیں۔ اور جو کارروائیاں وہاں ہورہی ہیں وہ مجھے بتائو۔ صوفی عبدالقدیر صاحب نے درست طور پر جواب دیا کہ میں جماعت کا ایک فرد ہوں اور اس کی طرف سے میں جاپان میں تبلیغی خدمت پر مقرر رہا ہوں۔ میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا ہوں۔ ایک مبلغ کی حیثیت سے ان کا یہ جواب بالکل صحیح اور درست تھا۔ دنیا کی تمام مہذب گورنمنٹیں پادریوں کو اس قسم کے معاملات میں لپیٹا نہیں کرتیں۔ اور اگر وہ مبلغوں کو بھی اس لپیٹ میں لے لیں تو تبلیغ کرنی مشکل ہو جائے۔ آخر مبلغ دوسرے ملکوں میں تبلیغ کرنے کے لئے جاتا ہے جاسوسی کرنے کے لئے تو نہیں جاتا۔ اگر جاپان اور امریکہ اور روس اور اٹلی اور سپین اور جرمن وغیرہ حکومتوں کو یہ خیال پیدا ہو جائے کہ احمدی مبلغ انگریزوں کے جاسوس ہوتے ہیں تو وہ انہیں تبلیغ کی کہاں اجازت دیں گے۔ ایسی صورت میں تو جب کوئی مبلغ ان کے ملک میں جائے گا وہ اسے پکڑ کر باہر نکال دیں گے۔ پس یہ نہایت ہی نامناسب بات ہے کہ کسی جماعت کے مبلغوں کو اس کام پر مامور کیا جائے۔ اس افسر نے صوفی صاحب سے یہ بھی کہا کہ اگر آپ جاپان کے حالات نہیں بتائیں گے تو ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت آپ کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ صوفی صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے مجھے گرفتار ہی کرنا ہے تو بے شک کرلیں۔ اس واقعہ کے بعد ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انہیں نمبر دس کے بستے میں رکھ لیا گیا۔ چنانچہ اب تک ان کی مخفی نگرانی کی جاتی ہے۔ یوں مخفی تو نہیں کہ کسی کو اس کا پتہ نہیں۔ جس شخص کی نگرانی کی جاتی ہے اسے تو پتہ لگ ہی جاتا ہے۔ البتہ ظاہر میں پولیس ان کے دروازے پر نہیں بیٹھتی۔ اس کے بعد یکدم وہ پرانا واقعہ جو سال ڈیڑھ سال کاتھا اٹھانا شروع کردیا گیا۔ پس ہمارے لئے اس بات کے یقین کرنے کی وجوہ موجود ہیں کہ اس میں بعض اعلیٰ حکام اور بعض سی آئی ڈی کے افسروں کا ہاتھ تھا۔ چنانچہ ہمارے دوسرے مبلغ مولوی عبدالغفور صاحب کو جو مولوی ابوالعطاء صاحب کے بھائی ہیں انہیں بھی دھوکہ دے کر امرتسر بلایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ کیا تم جاپان کے متعلق ہمیں معلومات دے سکتے ہو یا اگر تمہیں جاسوس بنا کر بھیجا جائے تو تم یہ کام کرسکتے ہو۔ حالانکہ جس افسر نے یہ بات کہی اس کا ضلع گورداسپور کے کسی فرد کو گورداسپور کی پولیس کی وساطت کے بغیر بلانے کا کوئی اختیار ہی نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے یہ دھمکی بھی دی کہ جاپان سے جو لوگ آئے ہیں انہیں گورنمنٹ پکڑرہی ہے اگر تم نے حالات نہ بتائے تو تمہیں بھی پکڑ لیا جائے گا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو جاپان سے آئے مگر انہیں کسی نے گرفتار نہیں کیا۔ صرف سی آئی ڈی کے بعض افسر معلومات حاصل کرنے کے لئے اس قسم کی دھمکی دے دیتے ہیں۔ پس اگر گورنمنٹ کے معنے وزراء کی باقاعدہ مجلس کے ہیں تو میں مان سکتا ہوں کہ اس واقعہ میں گورنمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا۔ لیکن دوسرے بعض حکام اور سی آئی ڈی کے بعض افسروں کا اس میں ہاتھ ضرور تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب یہاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آئے تو میں نے ان کے سامنے ایسے واقعات رکھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ڈیڑھ سال کا ایک پرانا واقعہ ہے اور میں نے ان سے پوچھا کہ یہ ڈیڑھ سال کا واقعہ نئی صورت کس طرح اختیار کرگیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک عجیب اتفاق ہے مگر دنیا میں عجیب اتفاقات ہو ہی جایا کرتے ہیں پھر میں نے دوسری مثال دی۔ کہنے لگے یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے۔ میں نے کہا یہ سارے عجوبے یہاں کس طرح اکٹھے ہوگئے اور ان پرانے واقعات نے نئی صورت کس طرح اختیار کرلی؟
    غرض ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ درحقیقت اس واقعہ میں بعض بالا افسروں کا ہاتھ تھا لیکن جو فعل ہوا وہ مقامی آدمیوں سے ہوا۔ گویا وہی لفظ جو اس چٹھی میں استعمال کیا گیا ہے یعنی >ان فارچون<۴۶ وہ اس واقعہ پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے کہ بدقسمتی سے بعض اور لوگ مارے گئے۔ حالانکہ اصل مجرم اور تھے۔ میں اس وقت ساری باتیں اپنے خطبہ میں بیان نہیں کرسکتا اور بعض باتیں تو ایسی ہیں جن کا بیان کرنا مناسب بھی نہیں۔ صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسے یقینی ثبوت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بالا افسر اس کارروائی میں شامل تھے۔ میں یہ ماننے کے لئے تیار ہوں کہ قانوناً جس شکل کو گورنمنٹ کہتے ہیں وہ اس واقعہ کی ذمہ دار نہ تھی۔ مگر بعض اور بھی بالا افسر ایسے ہوتے ہیں جو گورنمنٹ کے قائم مقام سمجھے جاتے ہیں اور جب ان کی رائے کسی کے خلاف ہوتی ہے تو ماتحت افسر اسے خود بخود نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں۔ پس بے شک اصطلاحی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ گورنمنٹ کا ہاتھ اس واقعہ میں نہیں تھا مگر حقیقی طور پر گورنمنٹ کے بعض افسروں کا اس میں ہاتھ تھا۔ بہرحال چونکہ گورنمنٹ نے قطع نظر اس سے کہ اس واقعہ کا تعلق امام جماعت احمدیہ سے تھا یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقرار کیا ہے کہ اس کے افسروں نے عقل اور تدبیر سے کام نہیں لیا بلکہ ہتک آمیز طریق اختیار کیا جس پر اس نے اظہار افسوس کرتے ہوئے ان افسروں کے خلاف ایکشن لیا ہے جو اس فعل کے مرتکب ہوئے تھے<۔۴۷
    دوسرا باب )فصل پنجم(

    قادیان سے ہجرت کرکے پہاڑیوں کے دامن میں نیامرکز تعمیر کرنیکا آسمانی انکشاف
    سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ۱۹۴۱ء/ ۱۳۲۰ہش کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ اس سال کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ
    پر بذریعہ رئویا انکشاف فرمایا کہ حضور کو مستقبل میں قادیان سے ہجرت کرکے پہاڑیوں کے دامن میں تنظیم کی غرض سے ایک نیامرکز قائم کرنا پڑے گا۔ چنانچہ حضور نے ۱۲۔ فتح ۱۳۲۰ہش )۱۲۔ دسمبر ۱۹۴۱ء( کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔
    >ایک رئویا ہوا۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک مکان میں ہوں۔ جو ہمارے مکانوں سے جنوب کی طرف ہے اور اس میں ایک بڑی بھاری عمارت ہے جو کئی منزلوں میں ہے۔ اس کئی منزلہ عمارت میں میں بھی ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یکدم غنیم حملہ کرکے آگیا ہے اور اس غنیم کے حملہ کے مقابلہ کے لئے ہم سب لوگ تیاری کررہے ہیں۔ میں اس وقت اپنے آپ کو کوئی کام کرتے نہیں دیکھتا مگر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں بھی لڑائی میں شامل ہوں۔ یوں اس وقت میں نے نہ توپیں دیکھی ہیں نہ کوئی اور سامان جنگ مگر میں سمجھتا یہی ہوں کہ تمام قسم کے آلات حرب استعمال کئے جارہے ہیں۔ اسی دوران میں میں نے محسوس کیا کہ وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر یہ نظارہ بدل گیا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے ہم اس مکان سے نکل آئے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دشمن غالب آگیا ہے اور ہمیں وہ جگہ چھوڑنی پڑی ہے۔ باہر نکل کر ہم حیران ہیں کہ کس جگہ جائیں اور کہاں جاکر اپنی حفاظت کا سامان کریں۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں آپ کو ایک جگہ بتاتا ہوں آپ پہاڑوں پر چلیں وہاں ایک اٹلی کے پادری نے گرجا بنایا ہوا ہے اور ساتھ ہی اس نے بعض عمارتیں بھی بنائی ہوئی ہیں۔ جنہیں وہ کرایہ پر مسافروں کو دے دیتا ہے۔ وہاں چلیں وہ مقام سب سے بہتر رہے گا۔ میں کہتا ہوں بہت اچھا۔ چنانچہ میں گائیڈ کو ساتھ لیکر پیدل چل پڑتا ہوں۔ ایک دو دوست اور بھی میرے ساتھ ہیں۔ چلتے چلتے ہم پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ گئے مگر وہ ایسی چوٹیاں ہیں جو ہموار ہیں۔ اس طرح نہیں کہ کوئی چوٹی اونچی ہو کوئی نیچی جیسے عام طور پر پہاڑوں کی چوٹیاں ہوتی ہیں بلکہ وہ سب ہموار ہیں جس کے نتیجہ میں پہاڑ پر ایک میدان سا پیدا ہوگیا ہے۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک پادری کالا سا کوٹ پہنے کھڑا ہے اور پاس ہی ایک چھوٹا سا گرجا ہے۔ اس آدمی نے پادری سے کہا کہ باہر سے کچھ مسافر آئے ہیں انہیں ٹھہرنے کے لئے مکان چاہئے۔ وہاں ایک مکان بنا ہوا نظر آتا ہے وہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پادری لوگوں کو کرایہ پر جگہ دیتا ہے۔ اس نے ایک آدمی سے کہا کہ انہیں مکان دکھا دیا جائے۔ وہ مجھے مکان دکھانے کے لئے لے گیا۔ ایک دو دوست اور بھی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ کچا مکان ہے اور جیسے فوجی بارکیں سیدھی چلی جاتی ہیں اسی طرح وہ مکان ایک لائن میں سیدھا بنا ہوا ہے۔ مگر کمرے صاف ہیں۔ میں ابھی غور ہی کررہا ہوں کہ جو شخص مجھے کمرے دکھا رہا تھا اس نے خیال کیا کہ کہیں میں یہ نہ کہہ دوں کہ یہ ایک پادری کی جگہ ہے ہم اس میں نہیں رہتے ایسا نہ ہو کہ ہماری عبادت میں کوئی روک پیدا ہو۔ چنانچہ وہ خود ہی کہنے لگا۔ آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ اچھا مجھے مسجد دکھائو اس نے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی مگر چھوٹی سی تھی مسجد مبارک سے نصف ہوگی لیکن اس میں چٹائیاں اور دریاں وغیرہ بچھی ہوئی تھیں اسی طرح امام کی جگہ ایک صاف قالینی مصلیٰ بھی بچھا ہوا تھا مجھے اس مسجد کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا کہ ہمیں یہ جگہ منظور ہے۔ خواب میں میں نے یہ خیال نہیں کیا کہ مسجد وہاں کس طرح بنائی گئی ہے مگر بہرحال مسجد دیکھ کر مجھے مزید تسلی ہوئی اور میں نے کہا کہ اچھا ہوا مکان بھی مل گیا اور ساتھ ہی مسجد بھی مل گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد میں باہر نکلا اور میں نے دیکھا کہ اکا دکا احمدی وہاں آرہے ہیں خواب میں میں حیران ہوتا ہوں کہ میں نے تو ان سے یہاں آنے کا ذکر نہیں کیا تھا ان کو میرے یہاں آنے کا کیسے پتہ لگ گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی محفوظ جگہ نہیں۔ چاہے یہ دوست ہی ہیں لیکن بہرحال اگر دوست کو ایک مقام کا علم ہوسکتا ہے تو دشمن کو بھی ہوسکتا ہے۔ محفوظ مقام تو نہ رہا۔ چنانچہ خواب میں میں پریشان ہوتا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ ہمیں پہاڑوں میں اور زیادہ دور کوئی جگہ تلاش کرنی چاہئے۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ شیخ محمد نصیب صاحب آگئے۔ میں اس وقت مکان کے دروازے کے سامنے کھڑا ہوں۔ انہوں نے مجھے سلام کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ لڑائی کا کیا حال ہے۔ انہوں نے کہا۔ دشمن غالب آگیا ہے۔ میں کہتا ہوں مسجد مبارک کا کیا حال ہے۔ انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑرہا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر مسجد مبارک کا حلقہ اب تک لڑرہا ہے تب تو کامیابی کی امید ہے۔ میں اس وقت سمجھتا ہوں کہ ہم تنظیم کے لئے رہیں اور تنظیم کرنے کے بعد دشمن کو پھر شکست دے دیں گے۔
    اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ اور دوست بھی وہاں پہنچ گئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے اور پریشانی ہوئی اور میں نے کہا کہ یہ تو بالکل عام جگہ معلوم ہوتی ہے۔ حفاظت کے لئے یہ کوئی خاص مقام نہیں۔ ان دوستوں میں ایک حافظ محمد ابراہیم صاحب بھی ہیں اور لوگوں کو میں پہچانتا نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ احمدی ہیں۔ حافظ صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا اور کہا کہ بڑی تباہی ہے۔ بڑی تباہی ہے۔ پھر ایک شخص نے کہا کہ نیلے گنبد میں ہم داخل ہونے لگے تھے مگر وہاں بھی ہمیں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ میں نے تو نیلا گنبد لاہور کا ہی سنا ہوا ہے۔ واللہ اعلم کوئی اور بھی ہو۔ بہرحال اس وقت میں نہیں کہہ سکتا کہ نیلے گنبد کے لحاظ سے اس کی کیا تعبیر ہوسکتی ہے البتہ اس وقت بات کرتے کرتے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ نیلا سمندر کا رنگ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد حافظ صاحب نے کوئی واقعہ بیان کرنا شروع کیا اور اسے بڑی لمبی طرز سے بیان کرنے لگے جس طرح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات کو جلدی ختم نہیں کرتے بلکہ اسے بلاوجہ طول دیتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح حافظ صاحب نے پہلی ایک لمبی تمہید بیان کی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جالندھر کا کوئی واقعہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے اور ایک >منشی< کا جو غیر احمدی ہے اور پٹواری یا گرداور ہے بار بار ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ منشی جی ملے اور انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔ میں خواب میں بڑا گھبراتا ہوں کہ یہ موقعہ تو حفاظت کے لئے انتظام کرنے کا ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی مرکز تلاش کیا جائے۔ انہوں نے منشی جی کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ چنانچہ میں ان سے کہتا ہوں کہ آخر ہوا کیا؟ وہ کہنے لگا منشی جی کہتے تھے کہ ہماری تو آپ کی جماعت پر ہی نظر ہے میں نے کہا بس اتنی ہی بات تھی نہ کہ منشی جی کہتے تھے کہ اب ان کی جماعت احمدیہ پر نظر ہے یہ کہہ کر میں انتظام کرنے کے لئے اٹھا اور چاہا کہ کوئی مرکز تلاش کروں کہ میری آنکھ کھل گئی<۔۴۸
    مندرجہ بالا رئویا میں اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل خبریں دیں۔
    ۱۔
    قادیان اور اس کے گردونواح میں دشمن یکدم حملہ کرکے آجائے گا۔
    ۲۔
    دشمن کی طرف سے جنگ خفیہ رنگ م