1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

تاریخ احمدیت ۔ جلد 10ب ۔ یونی کوڈ

'تاریخ احمدیت ۔ یونی کوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 24, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تاریخ احمدیت ۔ جلد 10ب ۔ یونی کوڈ

    ‏vat,10.1
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    تاریخ احمدیت
    جلد نہم
    تعلیم الاسلام کالج قادیان کے قیام سے لے کر
    حضرت سیدنا مصلح موعود کی ہجرت پاکستن تک

    مولفہ
    دوست محمد شاہد
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    تاریخ احمدیت کی دسویں۱ جلد
    )رقم فرمودہ مکرم و محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب(
    الحمدلل¶ہ کہ تاریخ احمدیت کی دسویں۲ جلد طبع ہوکر احباب کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہے۔ پہلی نو جلدوں کی طرح اس کا ہر باب بھی گونا گوں دلچسپیوں کا مخزن ہے۔ اس جلد کے ابتدائی حصے میں سلسلہ احمدیہ کی تعلیمی اقدار اور مقاصد تعلیم کی وضاحت` حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کے ارشادات سے کی گئی ہے جن کا ہر وقت پیش نظر رہنا سلسلے کی تعلیمی ترقی اور ارتقاء کے لئے لازم ہے اور جو ہر قدم پر ہمارے معلمین اور متعلمین کے لئے شمع ہدایت اور مشعل راہ ہیں۔
    بیشتر حصہ اس جلد کا جہاں سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا ایک اہم جزو ہے ساتھ ہی پاکستان کے معرض وجود میں آنے کی تاریخی داستان کا بھی ایک نہایت دلچسپ اور ناقابل فراموش باب ہے۔ ان واقعات پر بیس بائیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ پاکستان کی نئی پود جسے ان درد انگیز ہنگاموں کا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ نہیں ہوا جن میں سے گزر کر پاکستان معرض وجود میں آیا۔ آہستہ آہستہ ان مساعی اور اس جدوجہد کی تفاصیل سے ناآشنا ہوتی چلی جارہی ہے جن کا مطالبہ قیام پاکستان کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں سے ہوا اور جن میں امام جماعت احمدیہ اور جماعت احمدیہ نے اپنی بساط سے بہت بڑھ کر حصہ لیا۔ اس جلد میں ان مساعی کا مرقع بھی پیش کیا گیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ اپنے کمال فضل سے اس جلد کی تالیف میں حصہ لینے والوں کی محنت کو قبولیت سے نوازے اور انہیں وافر اجر سے متمتع فرمائے۔ آمین۔
    والسلام
    خاکسار ظفر اللہ خاں
    ۲۴۔ دسمبر ۱۹۶۹ء
    ۱`۲~}~ یعنی پہلے ایڈیشن کی جلد دہم اور موجودہ کی جلد ۹۔ )مولف(
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    پیش لفظ
    اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے ہم امسال تاریخ احمدیت کی دسویں جلد احباب کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ یہ جلد ۱۹۴۴ء سے اگست ۱۹۴۷ء تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔ ۳۱۔ اگست ۱۹۴۷ء کو سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ قادیان سے ہجرت فرما کر پاکستان تشریف لے آئے اور جماعت احمدیہ کا نیا دور شروع ہوا۔
    ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کے بننے کا جونہی اعلان ہوا۔ قادیان کے اردگرد فسادات کا سلسلہ شروع ہوگیا اور نہتے مسلمانوں کو تہ تیغ کیا جانے لگا اور امن ختم ہوگیا۔ اس بات کو دیکھ کر سیدنا حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانیؓ نے جماعت کے اکابرین کے مشورہ سے یہ فیصلہ فرمایا کہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خواتین مبارکہ کو فوراً پاکستان بھجوا دیا جائے۔ چنانچہ ۲۵۔ اگست کو بسوں کا انتظام ہوا اور یہ قافلہ صبح ۸ بجے روانہ ہوکر شام کو لاہور پہنچا۔ اس قافلہ میں سیدہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا اور خاندان مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین شامل تھیں۔ مردوں میں سے حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب اور مکرم و محترم مرزا منصور احمد صاحب اس قافلہ کے ہمراہ تھے۔ حضورؓ نے فسادات کے پیش نظر جہاں یہ فرمایا کہ خواتین مبارکہ کو بحفاظت پاکستان پہنچا دیا جائے۔ وہاں یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ خاکسار حضورؓ کی تفسیر کے مسودات لے کر اس قافلہ کے ساتھ لاہور چلا جائے۔ بعد ازاں حضور نے مکرم ملک سیف الرحمن صاحب۔ مکرم مولوی محمد صدیق صاحب اور مکرم مولوی محمد احمد صاحب جلیل کے متعلق بھی حکم دیا کہ وہ بھی اس قافلہ میں لاہور چلے جائیں۔
    ہمارا قافلہ صبح ۸ بجے قادیان سے چلا اور فوجی اسکورٹ کے ساتھ لاہور پہنچا۔ راستہ نہایت ہی پرخطر تھا کیونکہ سکھوں کے ہجوم ہر جگہ تھے۔ ہمارے قافلے کے اوپر مکرم میر محمد احمد صاحب ہوائی جہاز پر پرواز کرتے رہے تا قافلہ کا حال دیکھتے رہیں اور واپس جاکر قادیان حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کو قافلہ کے بخیریت پہنچنے کی اطلاع کرسکیں۔ الحمدلل¶ہ کہ یہ قافلہ بخیریت لاہور پہنچ گیا۔
    ۳۱۔ اگست ۱۹۴۷ء کو سیدنا حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانیؓ بھی ہجرت کرکے لاہور تشریف لے آئے اور از سرنو صدر انجمن احمدیہ پاکستان کا قیام فرمایا اور جودھامل بلڈنگ میں دفاتر کا کام شروع ہوگیا اور باوجود افراتفری اور پریشان کن حالات کے پھر سے جماعت کا نظام اور شیرازہ قائم ہوگیا اور جماعت کا شجر عظیم جو خوفناک آندھی سے بظاہر اکھڑا ہوا نظر آتا تھا اپنی جڑوں اور تنے پر پھر سے قائم ہوگیا۔ بعد ازاں مرکز ربوہ کی بنیاد پڑی اور احمدیت کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگیا۔
    یہ جلد پہلی جلدوں کی نسبت حجم میں زیادہ ہوگئی ہے کیونکہ ہجرت تک کے واقعات پر اس جلد کو ختم کرنا تھا۔ مولف کتاب مکرم مولانا دوست محمد صاحب اور جن احباب نے اس جلد کے مواد کے لئے ان کی امداد فرمائی ان کا اور ان احباب کا جنہوں نے کتابت` طباعت` پروف ریڈنگ میں محنت شاقہ برداشت کی ان کا شکر گزار ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری سعی کو قبول فرمائے اور اپنی جناب سے اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔ والسلام۔
    خاکسار:۔ ابوالمنیر نورالحق منیجنگ ڈائریکٹر ادارۃ المصنفین ربوہ ۶۹/۱۲/۲۵
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    وعلی عبدہ المسیح الموعود
    پہلا باب
    حضرت اقدس مسیح موعود مھدی معہود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی دعائوں سے قائم شدہ تعلیم الاسلام کالج کا سیدنا المصلح الموعودؓ کے مبارک ہاتھوں سے احیاء اور پے در پے مشکلات کے باوجود مثالی ترقی
    )از مئی ۱۹۴۴ء/ ہجرت ۱۳۲۳ہش تا نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش(
    حرف آغاز
    زیر نظر حصہ >تاریخ احمدیت< کے سلسلہ تالیف و تدوین کی دسویں کڑی ہے۔ اس کتاب کی نویں جلد کا اختتام ۱۳۲۳ہش/ ۱۹۴۴ء کی پہلی سہ ماہی پر ہوا تھا۔ لہذا اب واقعات کی طبعی ترتیب کے مطابق خلافت ثانیہ کے اس پراز انوار و برکات سال کے بقیہ حالات بیان کئے جاتے ہیں` جن میں سرفہرست تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور ازسر نو قیام ہے اور جو حضرت امیرالمومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کے عہد خلافت کا ایک عظیم اور ناقابل ¶فراموش کارنامہ ہے جس کی قدر و منزلت اور عظمت و افادیت میں خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت المصلح الموعودؓ کی دعائوں کی بناء پر پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں جب دنیا کے جدید تقاضوں کے مدنظر اسلامی نظام تعلیم کے عالمی نقشہ کی تشکیل اور اس کے عملی نفاذ کا مرحلہ شروع ہوگا تو مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی طرح اس کالج کو بھی سنگ میل کی نمایاں حیثیت حاصل ہوگی۔ انشاء اللہ العزیز۔
    اس مختصر سی تمہید کے بعد ذیل میں سب سے پہلے تعلیم الاسلام کالج کی ابتدائی تاریخ پر اور بعد ازاں ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش سے لے کر ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش تک کے اکیس سالہ دور پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اس سنہری دور کو یہ دوہری خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں کالج کو اپنی علمی زندگی کے ایک طویل عرصہ تک نہ صرف حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعود جیسے اولوالعزم قائد کی خصوصی توجہات کا مرکز بننے کا شرف نصیب ہوا بلکہ اسے خالص خدائی تصرف کے ماتحت ایک ایسے مقدس وجود کی براہ راست نگرانی میں پھلنے پھولنے اور جلد جلد ترقی کی منازل طے کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی جس کے لئے مشیت خداوندی میں آئندہ چل کر خدا کے اس پاک اور آسمانی سلسلہ کی باگ ڈور سنبھالنا اور اسے علم و عمل کی رفعتوں کے بلند مینار تک لے جانا مقدر تھا۔ ہماری مراد حضرت مسیح موعودؑ کے موعود >مبارک< اور پسر خامس اور سیدنا المصلح الموعودؓ کے لخت جگر حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ہے جن کی قبل از خلافت زندگی کے مسلسل اکیس سال اس عظیم الشان ادارہ کی ترقی و بہبود کے لئے وقف رہے اور خدا کے فضل اور آپ کی بہترین سرپرستی` گرانقدر رہنمائی` انتھک اور بے لوث جدوجہد اور عاجزانہ دعائوں سے تعلیم الاسلام کالج نہ صرف سیدنا المصلح الموعود کے زمانہ خلافت ہی میں پختہ بنیادوں پر استوار ہوگیا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے منفرد اور امتیازی مقام تک پہنچ گیا جو اپنوں کے لئے موجب ازدیاد ایمان اور بیگانوں کے لئے ہمیشہ ہی قابل رشک رہے گا۔
    پہلا باب )فصل اول(
    حضرت مسیح موعود و مھدی معہودؑ کے عہد مبارک کا
    تعلیم الاسلام سکول و کالج
    جیسا کہ >تاریخ احمدیت< جلد سوم )صفحہ ۳ تا ۹( میں ذکر کیا جاچکا ہے بانئے سلسلہ احمدیہ سیدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے >اسلامی روشنی ملک میں پھیلانے< اور >طوفان ضلالت میں اسلامی ذریت کو غیر مذاہب کے وساوس سے بچانے کے لئے< ۳۔ جنوری ۱۸۹۸ء کو قادیان میں مدرسہ تعلیم الاسلام کی بنیاد رکھی اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ترابؓ )عرفانی کبیر( مدیر >الحکم< اس کے ہیڈ ماسٹر مقرر کئے گئے۔ ابتداء میں یہ مدرسہ صرف پرائمری تک تھا مگر ۵۔ مئی ۱۸۹۸ء سے مڈل کی جماعتیں بھی کھل گئیں اور فروری ۱۹۰۰ء میں نویں جماعت اور مارچ ۱۹۰۱ء میں دسویں جماعت کا اضافہ ہوا۔ ۱۹۰۲ء میں پہلی بار اس کے چار طلبہ انٹرینس کے امتحان میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں ۱۹۰۳ء اور ۱۹۰۴ء میں سات سات طلبہ نے امتحان دیا۔ ۱۹۰۵ء میں شریک امتحان ہونے والوں کی تعداد دس تک پہنچی۔۱
    مدرسہ کی پریشان کن مالی حالت
    مدرسہ تعلیم الاسلام کی اقتصادی صورت حال اس درجہ پریشان کن اور تشویش انگیز تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بنفس نفیس اس کی طرف کئی دفعہ مخلصین جماعت کو توجہ دلانا پڑی۔
    چنانچہ حضور نے ۱۶۔ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو ایک اشتہار بعنوان >ایک ضروری امر اپنی جماعت کی توجہ کے لئے< شائع فرمایا جس میں اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل تحریک کی۔
    >علاوہ لنگر خانہ اور میگزین کے جو انگریزی اور اردو میں نکلتا ہے جس کے لئے اکثر دوستوں نے سرگرمی ظاہر کی ہے ایک مدرسہ بھی قادیان میں کھولا گیا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہے کہ نوعمر بچے ایک طرف تو تعلیم پاتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے سلسلہ کے اصولوں سے واقفیت حاصل کرتے جاتے ہیں اس طرح پر بہت آسانی سے ایک جماعت تیار ہو جاتی ہے بلکہ بسا اوقات ان کے ماں باپ بھی اس سلسلہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ لیکن ان دنوں میں ہمارا یہ مدرسہ بڑی مشکلات میں پڑا ہوا ہے اور باوجودیکہ محبی عزیزی اخویم نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اپنے پاس سے اسی روپیہ ماہوار اس مدرسہ کی مدد کرتے ہیں مگر پھر بھی استادوں کی تنخواہیں ماہ بماہ ادا نہیں ہوسکتیں۔ صدہا روپیہ قرضہ سر پر رہتا ہے۔ علاوہ اس کے مدرسہ کے متعلق کئی عمارتیں ضروری ہیں جو اب تک تیار نہیں ہوسکیں۔ یہ غم علاوہ اور غموں کے میری جان کو کھا رہا ہے۔ اس کی بابت میں نے بہت سوچا کہ کیا کروں۔ آخر یہ تدبیر میرے خیال میں آئی کہ میں اس وقت اپنی جماعت کے مخلصوں کو بڑے زور کے ساتھ اس بات کی طرف توجہ دلائوں کہ وہ اگر اس بات پر قادر ہوں کہ پوری توجہ سے اس مدرسہ کے لئے بھی کوئی ماہانہ چندہ مقرر کریں تو چاہئے کہ ہر ایک ان میں سے ایک مستحکم عہد کے ساتھ کچھ نہ کچھ مقرر کرے جس کے لئے وہ ہرگز تخلف نہ کرے مگر کسی مجبوری سے جو قضاء و قدر سے واقع ہو اور جو صاحب ایسا نہ کرسکیں` ان کے لئے بالضرورت یہ تجویز سوچی گئی ہے کہ جو کچھ وہ لنگر خانہ کے لئے بھیجتے ہیں اس کا چہارم حصہ براہ راست مدرسہ کے لئے نواب صاحب موصوف کے نام بھیج دیں۔ لنگر خانہ میں شامل کرکے ہرگز نہ بھیجیں بلکہ علیحدہ منی آرڈر کرا کر بھیجیں۔ اگرچہ لنگر خانہ کا فکر ہرروز مجھے کرنا پڑتا ہے اور اس کا غم براہ راست میری طرف آتا ہے اور میرے اوقات کو مشوش کرتا ہے لیکن یہ غم بھی مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ اس لئے میں لکھتا ہوں کہ اس سلسلہ کے جوانمرد لوگ جن سے میں ہر طرح امید رکھتا ہوں کہ وہ میری اس التماس کو ردی کی طرح نہ پھینک دیں اور پوری توجہ سے اس پر کاربند ہوں میں اپنے نفس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے۔ میں نے خوب سوچا ہے اور بار بار مطالعہ کیا ہے۔ میری دانست میں اگر یہ مدرسہ قادیان کا قائم رہ جائے تو بڑی برکات کا موجب ہوگا اور اس کے ذریعہ سے ایک فوج نئے تعلیم یافتوں کی ہماری طرف آسکتی ہے<۔۲
    بے نفس اور ایثار پیشہ اساتذہ
    مدرسہ کے قدیم اساتذہ۳ انتہائی بے نفس` یک رنگ` ایثار پیشہ اور بہت مخلص بزرگ تھے جن کی فدا کاری کا یہ عالم تھا کہ وہ محض خدمت دین کی خاطر قادیان جیسی چھوٹی سی بستی میں آگئے تھے اور اپنی مسلمہ قابلیتوں اور اعلیٰ صلاحیتوں کے باوجود قلیل تنخواہ پر بخوشی بسر اوقات کرتے اور حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے قدموں میں رہنے اور اس قومی تربیت گاہ کی خدمت کرنے کو ایک فخر و سعادت سمجھتے تھے چنانچہ حضور علیہ السلام نے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا۔
    >یہ مدرسہ محض دینی اغراض کی وجہ سے ہے اور صبر سے اس میں کام کرنے والے خدا تعالیٰ کی رحمت کے قریب ہوتے جاتے ہیں<۔۴
    مختصر یہ کہ مدرسہ کے اساتذہ کو دیکھ کر گزشتہ صوفیاء اور اہل اللہ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ یہ بزرگ سچ مچ آئندہ نسل کے لئے روشنی کے مینار تھے۔
    خالص دینی ماحول میں پرورش پانے والے شاگرد
    تعلیم الاسلام سکول انیسویں صدی میں اپنی نوعیت کا واحد مدرسہ تھا۔ جس کے اساتذہ ہی کو نہیں شاگردوں کو بھی امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تاثیرات قدسیہ کے طفیل ایک بے مثال روحانی اور مذہبی فضا میسر آگئی تھی اور وہ چھوٹی عمر سے ہی دین محمدی کے رنگ میں رنگین ہوتے جارہے تھے۔ چنانچہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحبؓ نے اس درسگاہ کے پس منظر` اس کی خصوصیت اور اس کے نونہالوں کی قابل رشک دینی حالت کا نقشہ درج ذیل الفاظ میں کھینچا۔
    >ہم صحیح اور پختہ تجربہ اور سچے استقراء سے اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ ایک بھی مدرسہ ایسا نہیں جو قوم کے بچوں کو اس مبارک اسوہ پر نشوونما دینے کا متکفل ہو جسے خاتم النبین رحمتہ للعالمین )علیہ الصلٰوۃ والسلام( نے قائم کیا اور جس کی اتباع کے بغیر خدا تعالیٰ کے رضوان اور خوشنودی کا سرٹیفکیٹ نہیں مل سکتا۔ کل مدرسے اور کالج بلا استثناء مقصود بالذات دنیا ¶کو رکھتے اور محض دنیا پرست قوموں کے نقش قدم پر چلنے اور چلانے کو قومی ترقی سمجھتے ہیں۔ ان مدرسوں کے درودیوار سے ان کے تربیت یافتوں کی زبانوں اور دلوں سے لگاتار آوازیں آتی اور راستبازوں کے دلوں کو دکھاتی ہیں کہ دنیا سب چیزوں پر مقدم ہے۔
    کیا ہم نے بھی قادیان میں لڑکوں کو وہی چند کتابیں مذہبی پڑھا دیں یا بیگانہ وار وعظوں کے روکھے پھیکے جملے ان کے سامنے پیش کئے۔ اگر ہماری قدرت کی رسائی اسی حد تک ہوتی تو ہم بھی ویسے ہی بے سود کام کرنے والے ہوتے۔ لیکن خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں خاص خصائص سے شرف امتیاز بخشا جن میں روئے زمین کے مسلمانوں میں سے کوئی طبقہ اور مشرب ہمارا شریک نہیں۔ سب سے بڑی اور قابل قدر تحریک جو ہم نے معصوم فطرۃ اور اثر پذیر بچوں کے آگے پیش کی وہ خدا تعالیٰ کے مقدس مسیح کا مبارک وجود ہے جو اپنے ایمان اور عمل سے ہوبہو وہی اسوہ اور نمونہ ہے جس کے اتباع کے لئے قرآن کریم آیا۔ سوچنے والے سوچیں اور غیرت مند خوب فکر کریں کہ کس قدر خوش نصیب وہ والدین ہیں جن کے بچوں کی آنکھوں کو یہ شرف ملے کہ زندگی کے رنگا رنگ اور پر ابتلا نظارہ گاہ میں وا ہوتے ہی ان کے سامنے وہ مبارک اور فرخندہ چہرہ آجائے جو خدا تعالیٰ کی سچی خلافت اور بے عیب مورت ہے۔ ہمارے مدرسہ کے لڑکے خدا کے مسیح کو دیکھتے ہیں۔ آپ کی تقریروں کو سنتے ہیں۔ آپ کے پاک نمونہ کو مشاہدہ کرتے ہیں۔ اسی ایک امر کو اگر ہم بڑی تفصیل سے بیان کرنا چاہیں تو اس جملہ سے اس کا پورا حق ادا ہو جائے گا کہ خدا کے خلیفہ کو دیکھتے ہیں تو سبھی کچھ دیکھتے ہیں۔
    دوسری بات اور لاشریک خصوصیت یہ ہے کہ ہم ہرروز باقاعدہ عصر کے بعد لڑکوں کو حضرت مولوی نور الدین صاحب کے درس قرآن مجید میں شامل ہونے کی عزت دیتے ہیں یہ بھی ایسی نعمت ہے کہ کوئی ملک اور شہر اس میں ہمارا شریک نہیں۔
    ان سب باتوں اور نمونہ کا یہ اثر اور نتیجہ ہے کہ مڈل اور انٹرنس کے اکثر لڑکے دین کی پابندی اور اس سلسلہ حقہ احمدیہ کی نسبت سچی غیرت اور عصبیت رکھتے اور امید دلاتے ہیں کہ وہ دنیا کے لئے نیک نمونہ ہوں۔ میری فطرت ایسی بنائی گئی ہے کہ میں بہت جلد کسی شخص کی طرف مائل اور کس بات کا گرویدہ نہیں ہوتا۔ اگر میں صحیح تجربہ اور بصیرت سے لڑکوں میں آثار رشد و سعادت محسوس نہ کرتا تو میں قوم کو دھوکہ دینے کا مجرم ہوتا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ بعض لڑکوں کی غیرت اور پابندی اور ان کا عاشقانہ آنکھوں سے حضرت خلیفہ~ن۲~ اللہ کے چہرہ مبارک کو ساری نشست میں دیکھتے رہنا میرے لئے باعث رشک ہوتا ہے۔ وہ اپنے کھیلوں اور بچپنے کے دل لگی کے سامانوں سے الگ ہوکر سب سے پہلے مسجد میں حاضر ہونے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے کہ صف اول میں جگہ لے کر خلیفہ~ن۲~ اللہ کے بہت قریب بیٹھ سکیں<۔۵
    قیام کالج کے لئے دلی تحریک
    مدرسہ کے بچوں میں ان پاک تاثیرات کا پیدا ہوجانا ایک غیر معمولی اور مسرت انگیز اور اطمینان بخش بات تھی جس نے مدرسہ کے منتظم >حجتہ اللہ< حضرت نواب محمد علی خاں صاحب )رئیس مالیر کوٹلہ( اس کے ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی شیر علی صاحب اور ادارہ سے متعلق دوسرے بزرگوں کے دل میں ہائی سکول کو کالج تک ترقی دینے کا پرزور خیال پیدا کر دیا۔ اور بالاخر کالج جاری کئے جانے کا فیصلہ ہوگیا۔
    جب یہ معاملہ حتمی طور پر طے پاگیا تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے )جو قبل ازیں مدرسہ کی انتظامیہ کمیٹی انجمن تعلیم الاسلام قادیان کے سیکٹری بھی رہ چکے تھے(۶ ۴۔ فروری ۱۹۰۳ء کو ایک مفصل مضمون لکھا۔ حضرت مولوی صاحب نے اپنے اس مضمون میں )جسے تعلیم الاسلام کالج کی قدیم تاریخ کا پہلا ورق قرار دینا چاہئے( مدرسہ تعلیم الاسلام کے نونہالوں کی خالص اسلامی و روحانی ماحول میں ہونے والی تربیت و اصلاح کے عمدہ نتائج و اثرات کا ذکر کیا اور پھر کالج کے پس منظر اور اس کے فوری تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرمایا۔
    >غرض لڑکوں کی اس خوشنما اور امید افزا حالت کو دیکھ کر جو انٹرنس کی منزل میں پائوں رکھنے کے ساتھ ان میں پیدا ہوگئی مدرسہ کے کارکنوں کے دل میں یہ خیال یا حوصلہ پیدا ہوا اور غور و فکر کے بعد ارادہ نے عزم کی صورت پکڑلی کہ مدرسہ کو کالج بنایا جائے اس لئے کہ انٹرنس تک ابھی بہت خام اور ناتمام عمر اور تجربہ ہوتا ہے اور اگر دو برس ایف۔ اے کی تقریب سے اور اگر خدا چاہے تو دو برس اور بی۔ اے کی تحریک سے اور ایک سال اور ایم۔ اے کی وساطت سے ہمارے پاس رہ سکیں تو پھر خاصے عمر رسیدہ` تجربہ کار` قوی دل اشداء ہوکر یہاں سے نکلیں گے۔ سردست تو کالج ایف۔ اے تک ہوگا اور اس میں بھی سارا دارومدار توکل پر۔ ورنہ حق تو یہ تھا کہ آغاز ہی میں پورا کالج بنایا جاتا۔ ممکن ہے کہ بعض لوگ اس کارروائی کو جلد بازی پر محمول کریں اور جوش سے کہہ دیں یا رائے دیں کہ ابھی وقت قلت سرمایہ کے سبب سے اس امر کا مقتضی نہیں کہ کالج جاری کیا جائے مگر اس رائے زنی میں وہ خود جلد باز اور غور نہ کرنے والے ٹھہریں گے اس لئے کہ انٹرنس تک محدود ہوکر رہنے میں مدرسہ کی وہ غرض پوری نہیں ہوتی یا آخرکار اس کے تابود ہو جانے کا اندیشہ ہے جو ہمیں اس کارخیر کی محرک ہوئی ہے۔ ابتدائی عمر کے جوش` فوری جوش اور ہنڈیا کے سے ابال ہوتے ہی۔ عمر کی لمبی رفتار میں اور دنیا کے ہر امتحان اور پرفتنہ نظاروں اور کاموں میں بسا اوقات ان میں سردی آجاتی اور ہر وقت امکان رہتا ہے کہ بالعوض بدتحریک اپنا کام کرے مگر کالج کی چکی سے نکل کر ایک عمدہ پختگی اور مضبوط بصیرت رفیق طریق ہو جاتی ہے اور یقین مربیوں کے دلوں میں بھر جاتا ہے کہ ان کے برسوں کے اندوختہ اور محنت پر کسی بدمعاش کا ہاتھ نہیں پڑ سکے گا۔ غرض یہ تو بالکل عین مصلحت اور طے شدہ بات ہے کہ کالج ہو جب ہمارا مقصود پورا ہوتا ہے اور کالج کی تجویز پختہ بھی ہوگئی اور امید ہے آئندہ مئی سے جاری بھی ہو جائے مگر خدا تعالیٰ کی توفیق سے قوم کا یہ کام ہے کہ اس نیک کام میں دل کھول کر شریک ہوں۔ کالج کھولنے سے ایک سال تک تو کوئی زائد خرچ نہیں پڑے گا۔ مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے ریاضی پڑھائیں گے اور وہ ریاضی میں مسلم ہیں۔ ماسٹر شیر علی صاحب بی۔ اے جو انگلش میں بالخصوص قابل ہیں انگریزی پڑھائیں گے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب باقاعدہ ایک گھنٹہ کالج میں دینیات کے معلم ہوں گے اور خاکسار راقم بھی ایک گھنٹہ باقاعدہ عربی کی تعلیم دے گا اور یہ تینوں معلم بلا کسی دینوی اجرت کے کالج کو مدد دیں گے اور دوسرے سال صرف پچاس روپے کا زیادہ بار ہوگا۔ اگر مدرسہ کی امداد میں وہی پہلا جوش ہوتا جو ایک عرصہ تک قائم رہا تو اتنی ہی امداد اور آمدنی ایف۔ اے تک کالج بنانے میں بھی کافی تھی۔ مگر افسوس بہت لوگوں نے بے توجہی کی اور ان کے جوشوں میں سردی پیدا ہوگئی۔ بہت سے شہر ہیں کہ ان سے کچھ بھی امداد اب تک مدرسہ کو نہیں پہنچی اور بعض ایسے ہیں کہ ان سے ناقابل اعتداء مدد ملتی ہے۔ سیالکوٹ اور لاہور دو شہر ہیں جنہوں نے اس کام میں پوری فیاضی سے حصہ لیا ہے اور ایک معقول رقم ماہ بماہ ان کی طرف سے مدرسہ کو ملتی ہے۔ مگر اکثر شہر بعض غلط فہمیوں یا ناعاقبت اندیشی کے سبب سے اس کی طرف سے پہلو تہی کئے بیٹھے ہیں اور وہ اس طرح روا رکھتے ہیں کہ مدرسہ کو خدانخواستہ کوئی صدمہ پہنچے اور اعدائے ملت کو شماتت کا عمدہ موقعہ ملے۔ ہر ایک شخص کو خوب ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ یہ مدرسہ حضرت کا مدرسہ ہے اور ان کے حکم سے جاری کیا گیا ہے اور اس کی شکست کی زد آخرکار سوچ لینا چاہئے کس کی ہمت اور قصد پر پڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض سب سے اول اور بہت جلد مدرسہ کو جانکاہ فکر سے سبکدوش کریں اور کالج کے لئے عزم صمیم سے خط مستقیم پر قدم اٹھائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ارحم الراحمین سمیع و بصیر مولیٰ! تو خود ان دردمندانہ فقروں کو پہلے قبول فرما اور پھر قوم کے دلوں میں انہیں جگہ دے کہ ساری توفیقیں تجھ ہی سے اور تیرے ساتھ ہیں<۔۷
    کالج کے افتتاح کی نہایت سادہ مگر پروقار دعائیہ تقریب
    طے شدہ پروگرام کے مطابق کالج کا افتتاح ۱۵۔ مئی ۱۹۰۳ء کو مقرر تھا مگر حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی طبع مبارک علیل ہوگئی اور یہ مبارک تقریب ۲۸۔ مئی ۱۹۰۳ء پر ملتوی کر دی گئی۔
    اس روز )۲۸۔ مئی ۱۹۰۳ء( ساڑھے چھ بجے کے بعد مدرسہ تعلیم الاسلام کے احاطہ اور بورڈنگ مدرسہ کے درمیانی میدان میں ایک شامیانے کے نیچے جلسہ کا انتظام کیا گیا جو حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ سپرنٹنڈنٹ مدرسہ و کالج کی زیر نگرانی مدرسہ کے اساتذہ اور طالب علموں کی کوشش کا نتیجہ تھا۔ سٹیج کے لئے شمالی جانب ایک عارضی چبوترہ بنایا گیا جہاں ارکان مدرسہ اور دوسرے بزرگوں کے لئے کرسیاں بچھائی گئی تھیں۔ جنوبی طرف ایک میز رکھی گئی جس کے اوپر دائیں جانب قرآن کریم اور بائیں جانب کرہ ارض گلوب (GLOBE) رکھا گیا میز کے سامنے طالب علموں کی ورزش جسمانی کے لئے ایک ستون کھڑا تھا۔۸ اس موقعہ پر نہ کوئی دعوتی کارڈ جاری کئے گئے نہ اس میں کسی پارٹی کا اہتمام کیا گیا کیونکہ اس جلسہ کی اصل غرض تو صرف یہ تھی کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام قدم رنجہ فرما کر دعا فرمائیں اور اگر حضور مناسب سمجھیں تو کالج کے اساتذہ اور طلبہ اور دوسرے حاضرین کو اپنے مقدس اور بابرکت ارشادات سے نوازیں اور حضرت اقدس اس جلسہ میں بڑی خوشی کے ساتھ شریک ہونے کے لئے تیار بھی تھے۔۹ مگر رات کے وقت حضور کی طبیعت پھر ناساز ہوگئی۔ ہر ایک پروفیسر اور مدرس اور لڑکے کی آنکھ خدا کے محبوب اور برگزیدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی آمد آمد پر لگی ہوئی تھی کہ اس اثناء میں حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے آکر اطلاع دی کہ >حضرت اقدس نے مجھے ایک پیغام دے کر روانہ کیا ہے اور وہ اس طرح سے ہے کہ میں نے حضرت خلیفہ~ن۲~ اللہ علیہ السلام کی خدمت میں تشریف آوری کے واسطے عرض کی تھی` آپ نے فرمایا۔
    >میں اس وقت بیمار ہوں حتیٰ کہ چلنے سے بھی معذور ہوں لیکن وہاں حاضر ہونے سے بہت بہتر کام یہاں کرسکتا ہوں کہ ادھر جس وقت افتتاح کا جلسہ شروع ہوگا میں بیت الدعا میں جاکر دعا کروں گا<۔
    یہ کلمہ اور وعدہ حضرت خلیفہ~ن۲~ اللہ علیہ السلام کا بہت خوش کن اور امید دلانے والا ہے۔ اگر آپ خود تشریف لاتے تو بھی باعث برکت تھا اور اگر اب نہیں لائے تو دعا فرما دیں گے اور یہ بھی خیر و برکت کا موجب ہوگی<۔
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ اسی قدر کلمات فرما کر کرسی پر بیٹھ گئے۔۱۰
    آپ کے بعد حضرت نواب محمد علی خاں صاحبؓ رئیس مالیر کوٹلہ ڈائریکٹر تعلیم الاسلام کالج نے مختصر تقریر کی جس میں فرمایا۔
    >اس کالج کی غرض کوئی عام طور پر یہ نہیں ہے کہ معمولی طور پر دنیاوی تعلیم ہو اور صرف معاش کا ذریعہ اسے سمجھا جاوے بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ ایک عالم اس پاک سلسلہ کی تعلیم سے مستفیض ہو جو کہ خدا نے قائم کیا ہے۔ دینوی تعلیم کا اگر کچھ حصہ اس میں ہے تو اس لئے کہ مروجہ علوم سے بھی واقفیت ہو جس سے خدا تعالیٰ کی معرفت میں مدد ملے ورنہ اصل غرض دین اور دین کی تعلیم ہی ہے اور ایک بڑی غرض یہ بھی ہے کہ اپنی احمدی جماعت کے کمسن بچے ابتداء سے دینی علوم سے واقف ہوں اور حضور مسیح موعود کے فیضان صحبت سے فائدہ اٹھا دیں اور بڑے ہوکر اس پاک چشمہ سے ایک عالم کو سیراب کریں جس سے وہ خود سیراب ہوچکے ہیں۔
    یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ کالج کی موجودہ حالت سب احباب پر ظاہر ہے۔ اس کے کارکنوں نے جو آج تک کیا ہے وہ کسی انسانی طاقت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ سب کچھ محض خدا کے فضل سے ہی ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ امید ہے جیسے کہ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا ہے کہ حضرت اقدس نے دعائوں کا وعدہ کیا ہے خدا کی ذات سے بڑی امید ہے کہ یہ کالج بہت جلد ایک یونیورسٹی ہوگا اور اس احمدی جماعت کے لئے ایک بڑا مفید دارالعلوم ثابت ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کالج خدا کے فضل سے چلے گا اور خدا کے صادق بندے مسیح موعود کی دعائوں سے نشوونما پائے گا<۔۱۱
    اس تقریر کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ نے ایک نہایت ایمان افروز صدارتی خطاب کیا جس میں ارشاد فرمایا کہ۔
    >تمام ترقیوں عزت اور حقیقی خوشی کی جڑ یہ کتاب ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہم اس )کرہ ارض( پر حکمرانی کرتے ہیں اور اسی کے ذریعہ سے فضل الٰہی کا سایہ ہم پر پڑ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے بڑے لائق` چالاک اور پھرتی سے بات کرنے والوں کے ساتھ ناچیزی حالت میں میرا مقابلہ ہوا ہے مگر اس قرآن کے ہتھیار سے جب میں نے ان سے بات کی ہے تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تم کو ایک بچہ کا قصہ سناتا ہوں کیونکہ تم بھی بچے ہو۔ مگر وہ عمر میں تم سب سے چھوٹا تھا۔ اس کا نام یوسفؑ ہے۔ جس وقت بھائیوں نے اسے باپ سے مانگا اور چاہا کہ اسے باپ سے الگ کر دیں اور جنگل میں جاکر ایک کوئیں میں اتار دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ اس وقت کوئی یار نہ آشنا نہ ماں اور نہ باپ` اگر ہوتے بھی تو اسے وہ بات نہ بتلا سکتے جو خدا نے بتائی اور ان کو کیا علم تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا مگر خدا کا سایہ اس پر تھا۔ خدا نے اسے بتلایا۔ لتنبئنھم بامرھم ھذا وھم لایشعرون کہ اے یوسف! دیکھ تجھے باپ سے الگ کیا` تیری زمین سے تجھے الگ کیا اور اندھیرے کوئیں میں ڈالا مگر میں تیرے ساتھ ہوں گا اور اس علیحدگی کی تعبیر کو تو بھائیوں کے سامنے بیان کرے گا اور ان کو اس بات کا شعور نہیں ہے۔ دیکھ لو۔ یہ باتیں باپ نہیں کرسکتا نہ وعدہ دے سکتا ہے کہ یوں ہوگا یا جاہ و جلال کے وقت تک یہ تندرستی بھی ہوگی۔ ایک باپ بچے سے پیار تو کرسکتا مگر وہ اس کے آئندہ حالت کا کیا اندازہ لگا سکتا ہے۔ ان باتوں کو جمع کرکے دیکھو۔ اگر کوئی انسان تسلی دیتا تو بچہ کو پیار کرتا گلے میں ہاتھ ڈالتا اور اسے کہتا کہ ہم چیجی دیویں گے۔ مگر خدا کی ذات کیا رحیم ہے وہ فرماتا ہے لتنبئنھم بامرھم ھذا وہ عروج دیویں گے کہ تو ان احمقوں کو بتلا دے گا<۔
    یہ مثال دینے کے بعد حضرت مولوی صاحبؓ نے فرمایا۔
    >یہ حقیقت ہے اس سایہ کی جسے میں چاہتا ہوں تم پر ہو۔ علوم کی تحصیل آسان ہے مگر خدا کے فضل کے نیچے اسے تحصیل کرنا یہ مشکل ہے۔ کالج کی اصل غرض یہی ہے کہ دینی اور دینوی تربیت ہو۔ مگر اول فضل کا سایہ ہو پھر کتاب پھر دستور العمل ہو۔ اس کے بعد دیکھو کہ کیا کامیابی ہوتی ہے۔ فضل الٰہی کے لئے پہلی بشارت پیارے عبدالکریم نے دی ہے۔ وہ کیا ہے۔ حضرت صاحب کی دعائیں ہیں۔ میں ان دعائوں کو کیا سمجھتا ہوں۔ یہ بہت بڑی بات ہے اور یقیناً تمہارے ادراک سے بالاتر ہوگی مگر میں کچھ بتلاتا ہوں۔
    مخالفوں سے انسان ناکامیاب ہوتا ہے گھبراتا ہے۔ ایک لڑکا ماسٹر کی مخالفت کرے تو اسے مدرسہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ جس قدر مہتمم مدرسہ کے ہیں اگر وہ سب مخالفت میں آویں تو زندگی بسر کرنی مشکل ہو۔ اگرچہ افسر بھی لڑکوں کے محتاج ہیں مگر ایک ذرہ سے نقطہ سے اسے بورڈنگ میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اب اس پر اندازہ کرو کہ ایک کی مخالفت انسان کو کیسے مشکلات میں ڈالتی ہے۔ لیکن ہمارے امام کی ساری برادری مخالف ہے۔ رات دن یہی تاک ہے کہ اسے دکھ پہنچے پھر گائوں والے مخالف ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حال تو گائوں کی مخالفت کا ہے۔ پھر سب مولوی مخالف` گدی نشین مخالف` سنی مخالف` آریہ مخالف` مشنری مخالف` دہریوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر وہ بھی مخالف اور نہایت خطرناک دشمن اس سلسلہ کے ہیں۔ ان تمام مشکلات کے مقابلہ میں دیکھو وہ )حضرت مرزا صاحب( کیسے کامیاب ہے۔ یہاں ہمارا رہنا تمہارا رہنا سب اسی کے نظارہ ہیں کہ باوجود اس قدر مخالفت کے پھر پروا نہ وار اس پر گرتے ہیں۔ اس کا باعث یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کا سچا حامی ہے اور رات دن دعائوں میں لگا ہوا ہے۔ اس لڑکے سے بڑھ کر کوئی خوش قسمت نہیں جس کے لئے یہ دعائیں ہوں۔ مگر ان باتوں کو وہی سمجھتا ہے جس کی آنکھ بینا اور کان شنوا ہوں۔
    لتنبئنھم بامرھم ھذا کی صدا یوسفؑ کے کان میں پڑی۔ اس سے سوچو کہ خدا کا فضل ساتھ ہوتا ہے تو کوئی دشمن ایذا نہیں پہنچا سکتا۔ کس طرح کے جاہ جلال اور بحالی یوسفؑ کو ملی اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ان بھائیوں کو آخر کہنا پڑا۔ انا کنا خاطئین۔ اس کا جواب یوسفؑ نے دیا۔ لا تثریب علیکم الیوم یغفراللہ لکم۱۲ یہ سب کچھ اللہ پر یقین کا نتیجہ تھا۔ تم بھی اللہ پر کامل یقین کرو اور ان دعائوں کے ذریعے جو کہ دنیا کی مخالفت میں سپر ہیں فضل چاہو۔ کتاب اللہ کو دستور العمل بنائو تاکہ تم کو عزت حاصل ہو باتوں سے نہیں بلکہ کاموں سے اپنے آپ کو اس کتاب کے تابع ثابت کرو۔ ہنسی` تمسخر` ٹھٹھا` ایذا` گالی یہ سب اس کتاب کی تعلیم کے برخلاف ہے` جھوٹ سے` *** سے` تکلیف اور ایذا دینے سے ممانعت اور لغو سے بچنا اس کتاب کا ارشاد ہے۔ صوم اور صلٰوۃ اور ذکر شغل الٰہی کی پابندی اس کا اصول ہے<۔۱۳
    حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ اس اثر انگیز تقریر کے بعد کرسی صدارت پر تشریف فرما ہوئے اور پھر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب سیالکوٹی اور مولوی عبداللہ صاحب )کشمیری( نے افتتاح کالج کی نسبت اپنی اپنی فارسی نظمیں۱۴]ybod [tag پڑھیں۔ ازاں بعد حضرت نواب محمد علی خاں صاحبؓ نے کھڑے ہوکر فرمایا کہ خدا کے فضل و احسان سے افتتاح کالج کی رسم ادا ہوچکی۔ اس کے بعد دعا کی گئی اور جلسہ برخاست ہوا۔۱۵
    حضرت نواب محمد علی خاں صاحبؓ کی طرف سے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں درخواست دعا
    تقریب افتتاح بخیر و خوبی ختم ہوگئی تو حضرت نواب محمد علی خاں صاحبؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور حسب ذیل عریضہ
    لکھا۔
    >سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ`
    مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ حضور کی طبیعت نصیب اعداء علیل ہے اس لئے حضور تشریف نہیں لاسکتے۔ گو کہ اس سے ایک گونہ افسوس ہوا مگر وہ کلمات جو مولانا موصوف نے نیابتاً فرمائے ان سے روح تازہ ہوگئی اور خداوند تعالیٰ کے فضل اور حضور کی دعائوں کے بھروسہ پر کارروائی شروع کی گئی۔ جلسہ نہایت کامیابی سے تمام ہوا اور کالج کی رسم افتتاح ہوگئی۔ اطلاعاً گزارش ہے۔ خداوند تعالیٰ حضور کو صحت عطا فرمائے۔ حضور نے دعا فرمائی ہوگی اب بھی استدعائے دعا ہے۔ راقم محمد علی خاں<
    حضرت مسیح موعودؑ کی طرف سے جواب
    حضرت اقدس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس درخواست کے جواب میں اپنے قلم سے تحریر فرمایا کہ۔
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ`۔ رات سے مجھ کو دل کے مقام پر درد ہوتی تھی اس لئے حاضر نہیں ہوسکا لیکن میں نے اسی حالت میں بیت الدعاء میں نماز میں اس کالج کے لئے بہت دعا کی۔ غالباً آپ کا وہ وقت اور میرے دعائوں کا وقت ایک ہی ہوگا۔ خدا تعالیٰ قبول فرماوے۔ آمین` ثم آمین۔ والسلام
    خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ<۱۶
    تعلیم الاسلام کالج کے ابتدائی کوائف
    تعلیم الاسلام کالج عہد حاضر میں اپنی طرز کا پہلا کالج تھا جہاں دینوی اور رسمی علوم مروجہ کے ساتھ دینیات کی تعلیم کا معقول انتظام تھا اور اس کی خاص نگرانی کی جاتی تھی۔ اسی طرح کالج کے طلبہ کی اخلاقی اور مذہبی ترقی کے لئے مقدور بھر جدوجہد کی جاتی تھی۔ اس کالج کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے طلبہ امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک اور خدانما مجلس سے مستفیض ہوتے۔ بزرگ صحابہ کی زیر تربیت اپنے اوقات گزارتے اور مرکز احمدیت کی برکتوں سے حصہ وافر لیتے تھے۔۱۷
    کالج کے ڈائریکٹر حضرت نواب محمد علی خاں صاحبؓ` پرنسپل حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ اور سپرنٹنڈنٹ حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھیرویؓ تھے۔ کالج کے اولین اساتذہ چار تھے۔
    ۱۔
    حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیرویؓ )دینیات(
    ۲۔
    حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ )عربی(
    ۳۔
    حضرت مولوی شیر علی صاحب بی۔ اےؓ )انگریزی(
    ۴۔
    جناب مولوی محمد علی صاحب بی۔ اے` ایل۔ ایل۔ بی )ریاضی(۱۸
    کالج کے لازمی نصاب میں دینیات` عربی` انگریزی اور ریاضی کے علاوہ فارسی` فلاسفی اور تاریخ کے مضمون بھی شامل تھے۱۹4] f[rt جو حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ اور بعض دوسرے بزرگ پڑھاتے تھے۔۲۰
    طلبہ کالج کے اخراجات کا پیچیدہ مسئلہ
    جماعت احمدیہ ان دنوں بالکل ابتدائی مراحل میں سے گزر رہی تھی۔ اس دور میں مدرسہ تعلیم الاسلام کے اساتذہ کی تنخواہیں بھی بمشکل پوری ہوسکتی تھیں۔ اب جو مدرسہ کے ساتھ کالج کا اضافہ ہوا تو اس کے ارباب حل و عقد کو کالج کے طلبہ کے اخراجات کی فکر بھی دامنگیر ہوگئی۔ چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے ہر شہر کی احمدی جماعتوں کو باہم مل جل کر مدرسہ اور کالج کے طلبہ کے لئے تین یا پانچ روپے کے >وظائف مساکین< مقرر کرلینے کی اپیل کی اور اس تعلق میں آپ نے تین بزرگوں کی فیاضانہ امداد کا تذکرہ خاص بھی کیا۔ چنانچہ فرمایا۔
    >اس جگہ مجھے تین بزرگوں کا شکریہ کے ساتھ ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو استاذی المعظم مولانا مولوی نور الدین صاحب جو کئی طلباء کو وقتاً فوقتاً ماہواری اور ایک مشت مدد دیا کرتے ہیں۔ دوم مخدومی نواب محمد علی خاں صاحب جو اپنی جیب خاص سے مدرسہ کے چار طلباء کو ماہواری معقول وظیفہ دیتے ہیں اور تیسرے مکرم و مخدوم نواب فتح نواز جنگ مولوی مہدی حسن صاحب بیرسٹرایٹ لاء لکھنئو جنہوں نے کالج کے واسطے ایک مستقل وظیفہ مبلغ۔۔۔۔۔ ماہوار کا مقرر کر دیا ہے۔ جزاھم اللہ احسان الجزاء<۔۲۱
    کالج میں داخل طلبہ کی ناداری اور تنگدستی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب ایف۔ اے کے امتحان میں داخلہ بھجوانے کا موقع آیا تو چار طلبہ میں سے دو طالب علم داخلہ امتحان کی )۲۰ روپے( فیس تک ادا کرنے سے قاصر تھے جس پر اخبار >الحکم<۲۲4] f[rt اور >البدر<۲۳ دونوں کو چندہ کی تحریک کرنا پڑی۔
    کالج کے امید افزاء نتائج
    اگرچہ کالج کے لئے یہ پہلا موقعہ تھا کہ اس کے طلباء پنجاب یونیورسٹی کے امتحان میں شریک ہوئے مگر جناب الٰہی کی یہ خاص عنایت ہوئی کہ جہاں یونیورسٹی کا نتیجہ قریباً اڑتیس فیصد تھا وہاں تعلیم الاسلام کالج کے نتائج کی اوسط پچھتر فیصد رہی یعنی چار طلبہ میں سے تین ایف۔ اے میں کامیاب قرار پائے۔۲۴ کالج کے اس امید افزا نتیجہ پر رسالہ >ریویو آف ریلیجنز< )اردو( نے حسب ذیل نوٹ شائع کیا۔
    >دو سال گزر چکے ہیں جب اس کالج کی بنیاد پہلے رکھی گئی تھی اور ابھی تک پبلک کو اس کی تعلیمی حالت کا صحیح اندازہ لگانے کا موقعہ نہ ملا تھا مگر ۱۹۰۵ء کے امتحان یونیورسٹی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ علاوہ دینی تعلیم اور تعلیم قرآن شریف کے جو اس کالج کے خاص اغراض میں سے ہے یہاں کی معمولی تعلیم بھی اعلیٰ درجہ کی ہے اور کالج کا سٹاف خصوصاً قابل تعریف ہے۔ اس سال اس کالج سے چار طالب علم امتحان ایف۔ اے میں شامل ہوئے تھے جن میں سے تین کامیاب ہوئے جہاں عام طور پر ایف۔ اے کے امتحان میں ۳۸ فی صدی طالب علم پاس ہوئے ہیں اور بڑے بڑے مشہور کالجوں میں بھی نصف کے قریب قریب ہی تعداد پاس شدگان کی ہے۔ ہمارے کالج کا نتیجہ ۷۵ فیصدی کامیاب بتاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانہ کی زہر ناک ہوائوں کے اثر سے بچنے کے لئے یہ جگہ خدا کے فضل سے نہایت عمدہ ہے<۔۲۵
    یونیورسٹی ایکٹ کا نفاذ اور کالج کی بندش
    تعلیم الاسلام کالج کی نئی فرسٹ ایر کلاس ۱۵۔ مئی ۱۹۰۵ء کو کھول دی گئی4] f[st۲۶ مگر لارڈ کرزن وائسرائے ہند کی طرف سے یونیورسٹی ایکٹ نافذ کر دیا گیا جس کی رو سے حکومت کو یونیورسٹیوں کے معاملات میں مداخلت کے وسیع اختیارات مل گئے نیز یہ پابندی عائد کر دی گئی کہ آئندہ کالجوں کے الحاق کی منظوری کالجوں کی مستحکم مالی حیثیت` ٹرینڈ سٹاف اور مستقل عمارت ہونے کی صورت میں ہی دی جاسکے گی۔۲۷ ان شرائط کی موجودگی میں ایک غریب جماعت کے لئے کسی کالج کا جاری رکھنا نہایت دشوار تھا لہذا اسے بند کردینا پڑا۔
    مگر جیسا کہ آئندہ حالات نے بتا دیا دراصل خدائے علیم و خبیر نے اپنی حکمت کاملہ سے اس جماعتی اور قومی ضرورت کی تکمیل حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کے مثیل و نظیر کے ساتھ وابستہ کر دی تھی اس لئے خلافت ثانیہ کے عہد میں یہ کام نہایت شان و شوکت کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچا۔

    پہلا باب )فصل دوم(
    دور مصلح موعود میں کالج کا ازسر نو قیام اور دوبارہ افتتاح
    حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانیؓ نے اپنے خلیفہ منتخب ہونے کے چند ہفتے بعد ۱۲۔ اپریل ۱۹۱۴ء کو قادیان میں نمائندگان جماعت کا جو سب سے پہلا مشاورتی اجلاس بلوایا۔ اس میں اپنی اس دلی آرزو کا بھی اظہار فرمایا کہ۔
    >اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا ایک کالج ہو۔ حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح اول کی بھی یہ خواہش تھی۔ کالج ہی کے دنوں میں کیریکٹر بنتا ہے۔ سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے۔ اس پر دوبارہ سیاہی کالج لائف ہی میں ہوتی ہے۔ پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگیوں کو مفید اور موثر بنانے کے لئے اپنا ایک کالج بنائیں۔ پس تم اس بات کو مدنظر رکھو میں بھی غور کررہا ہوں<۔۲۸
    اس عزم بالجزم کے بعد ربع صدی سے زائد عرصہ گزر گیا مگر قیام کالج کے لئے حالات سازگار نہ ہوسکے۔ اپریل ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش میں تئیسویں مجلس مشاورت کا انعقاد ہوا جس میں جماعت احمدیہ ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ کے نمائندہ ملک مبارک احمد خاں صاحب ایمن آبادی نے سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں بجٹ پر عام بحث کے دوران یہ عرض کی کہ۔
    >قادیان میں ایف۔ اے کلاس کھول دی جائے تو بہت بہتر ہو۔ یہ کالج جامعہ احمدیہ کی ایک شاخ کے طور پر کھولا جائے کیونکہ ضلع گورداسپور میں کوئی کالج نہیں اس لئے بہت مفید ثابت ہوگا<۔۲۹
    اس مخلصانہ تحریک کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور حضور کے دل میں یکایک القاء ہوا کہ وقت آگیا ہے کہ قادیان میں کالج جلد سے جلد کھول دیا جائے چنانچہ حضور نے ۲۶۔ ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو فرمایا۔
    >خدا تعالیٰ کی حکمت ہے ایک لمبے عرصہ تک میری اس طرف توجہ ہی نہیں ہوئی کہ قادیان میں ہمارا اپنا کالج ہونا چاہئے بلکہ ایسا ہوا کہ بعض لوگوں نے کالج کے قیام کے متعلق کوشش بھی کی تو میں نے انہیں کہا کہ ابھی اس کی ضرورت نہیں۔ کالج پر بہت روپیہ خرچ ہوگا۔ لیکن پچھلے سال مجلس شوریٰ کے موقع پر بجٹ کے بعد یکدم جب بعض دوسرے لوگوں نے تحریک کی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ تحریک پیدا کردی کہ واقعہ میں قادیان میں جلد سے جلد ہمیں اپنا کالج کھول دینا چاہئے حالانکہ اس وقت تک نہ صرف اس تحریک کا میرے دل میں کوئی خیال نہیں تھا بلکہ جب بھی کسی نے ایسی تحریک کی میں نے اس کی مخالفت کی۔ لیکن اس وقت یکدم خدا تعالیٰ نے میرے دل میں اس خیال کی تائید پیدا کردی اور نہ صرف تحریک پیدا کی بلکہ بعد میں اس تحریک کے فوائد اور نتائج بھی سمجھا دیئے<۔۳۰
    چنانچہ حضرت امیرالمومنین نے مجلس مشاورت کے چند دن بعد جب بجٹ کی مخصوص سب کمیٹی کے اجلاس میں قیام کالج کی تحریک فرمائی تو خدا تعالیٰ نے اپنے مقدس اور برگزیدہ خلیفہ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے سرسری اور مختصر الفاظ کو غیرمعمولی قبولیت بخشی اور اجلاس میں حاضر چند گنتی کے اصحاب ہی نے کئی ہزار روپیہ نقد پیش کردیا۔۳۱
    کالج کمیٹی کا تقرر
    حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانیؓ نے اس عمومی تحریک کے معاًبعد قدم یہ اٹھایا کہ قیام کالج کے منصوبہ کو جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے` اس کو جاری کرنے کے انتظامات کی انجام دہی کے لئے ایک کمیٹی مقرر فرمائی اور حسب ذیل اصحاب کو اس کا ممبر تجویز فرمایا۔
    ۱۔
    قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے )صدر(
    ۲۔
    حضرت صاحبزادہ مزا ناصر احمد صاحب ایم۔ اے )آکسن(
    ۳۔
    حضرت مولوی محمد دین صاحب بی۔ اے۔
    ۴۔
    ‏ind] gat[ قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔ اے۔
    ۵۔
    ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے )سیکرٹری(۳۲
    حکومت پنجاب سے منظوری
    کالج کمیٹی کی تشکیل کے معاًبعد قیام کالج کے لئے حکومت سے اجازت لینے کا مرحلہ شروع ہوا۔ اس سلسلہ میں ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے سیکرٹری کالج کمیٹی کو ارشاد ہوا کہ وہ لاہور جاکر کوشش کریں کہ اگر ممکن ہو تو یونیورسٹی کے ۱۹۴۳ء )۱۳۲۲ہش( کے تعلیمی سال (SESSION) شروع ہوتے ہی احمدیہ کالج کے اجراء کی اجازت مل جائے۔ لیکن وقت بہت تنگ تھا اور حکومت سے منظوری بہت سے مراحل طے کرنے کے بعد ہی حاصل ہوسکتی تھی اس لئے اس سال تو کالج کا قیام عمل میں نہ آسکا تاہم اگلے سال ۲۲۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو پنجاب یونیورسٹی کا ایک کمیشن موقعہ پر حالات کا معائنہ کرنے کے لئے قادیان پہنچا جس نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عالیشان عمارت اور وسیع اراضیات دیکھ کر یونیورسٹی میں کالج کی منظوری دیئے جانے کی سفارش کردی۔ یونیورسٹی نے مطالبہ کیا کہ پینتالیس ہزار روپیہ نقد مجوزہ احمدیہ کالج کے نام پر کسی بینک میں جمع کیا جائے۔ جماعت احمدیہ نے یہ مطالبہ پورا کر دیا تو پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ (SYNDICATE) نے ۱۱۔ فروری ۱۹۴۴ء کے اجلاس میں یونیورسٹی کی سینیٹ (SENATE) کے پاس یہ سفارش کی کہ احمدیہ کالج کی منظوری دے دی جائے۔ سینیٹ (SENATE) نے اپنے اجلاس منعقدہ ۲۵۔ مارچ ۱۹۴۴ء )۲۵۔ امان ۱۳۲۳ہش( میں مطلوبہ منظوری دے کر آخری منظوری کے لئے حکومت کے پاس سفارش کردی اور ۲۔ جون ۱۹۴۴ء کو یونیورسٹی کی طرف سے بذریعہ تار اطلاع موصول ہوئی کہ حکومت پنجاب نے کالج کے اجراء کی منظوری دے دی ہے۔۳۳
    قیام کالج کے اخراجات کا تخمینہ اور ابتدائی انتظامات
    کالج کمیٹی نے پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے احمدیہ کالج کی منظوری کی اطلاع ملتے ہی ایک طرف >الفضل< )۵۔ امان ۱۳۲۳ہش( میں اس کا اعلان کر دیا دوسری طرف سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کے حضور کالج کے بنیادی اور ابتدائی اخراجات کے لئے ستر ہزار روپیہ کا بجٹ پیش کیا جسے حضور نے منظور فرمالیا۔ حضور نے کالج کا نام >تعلیم الاسلام کالج< تجویز کیا اور فیصلہ فرمایا کہ یہ کالج تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عمارت میں کھولا جائے اور اس میں نویں دسویں جماعت کے ساتھ ایف۔ اے کلاسز جاری کی جائیں اور مڈل کی جماعتوں کے لئے الگ عمارت تعمیر کی جائے۔ کالج کے ساتھ ہوسٹل کا قیام بھی ضروری تھا۔ اس غرض کے لئے تعلیم الاسلام سکول کے وسیع بورڈنگ ہائوس اور جامعہ احمدیہ کی عمارت تجویز کی گئی۔ کالج کے سٹاف کی بابت یہ اصولی فیصلہ ہوا کہ کچھ عملہ تعلیم الاسلام سکول سے لیا جائے اور کچھ باہر سے مہیا کیا جائے۔۳۴
    حضرت مصلح موعود کی طرف سے اخراجات کالج کی تحریک اور مخلصینجماعت کی قربانی
    کالج کے ابتدائی انتظامات کے لئے جو رقم کالج کمیٹی کو دی گئی وہ قرض تھی جس کی جلد ادائیگی ضروری تھی۳۵ اس لئے حضرت اقدس المصلح الموعود نے ۲۴۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳
    ہش کو خطبہ جمعہ۳۶ میں اور ۹۔ شہادت/ اپریل کو مجلس مشاورت کے دوران ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی پرزور تحریک فرمائی۔۳۷ اور اس کالج کی افادیت و اہمیت پر نہایت موثر رنگ میں روشنی ڈالی۔ اس تحریک کا خدا کے فضل و کرم سے مخلصین کی جماعت کی طرف سے پرجوش خیر مقدم کیا گیا اور ایک خطیر رقم اس مد میں جمع ہوگئی۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی قابل تقلید مثال خود حضرت امام ہمام کی تھی۔ آپ نے کالج کی منظوری دیتے ہی پہلے اپنی طرف پانچ ہزار کا چیک عطا فرمایا اور پھر جلد ہی اپنے جملہ اہلبیت کی طرف سے چھ ہزار روپے عنایت فرما دیئے۔۳۸
    کالج کے مجوزہ ڈھانچہ کی تشکیل کے لئے فوری اقدامات
    اب تعلیم الاسلام کالج سے متعلق بنیادی فیصلوں پر عملی اقدام کا پہلا مرحلہ شروع ہوا۔ اس سلسلہ میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب ناظر تعلیم و تربیت نے ۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو ہیڈماسٹر۳۹ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے نام درج ذیل حکم نامہ جاری فرمایا۔
    >چونکہ عنقریب تعلیم الاسلام کالج کھلنے والا ہے اور اس کے کھلنے پر سکول ہذا کی ہائی کلاسز کالج کے ساتھ ملا دی جائیں گی اس لئے آج سے سکول کے مڈل کے حصہ کو ہائی کے حصہ سے جدا کیا جاتا ہے ہائی کے حصہ کے انچارج بدستور اخوند عبدالقادر صاحب ایم۔ اے رہیں گے اور فی الحال حصہ مڈل کے انچارج صوفی غلام محمد صاحب T۔B Sc۔B ہوں گے۔ اخوند عبدالقادر صاحب سکول کے مڈل اور پرائمری کے حصہ کا چارج صوفی صاحب موصوف کو دے دیں۔ سکول کے موجودہ سٹاف میں سے اخوند عبدالقادر صاحب کے علاوہ مندرجہ ذیل اساتذہ ہائی کے حصہ میں ہی فی الحال کام کریں گے۔ ماسٹر علی محمد صاحب بی۔ اے بی ٹی` صوفی محمد ابراہیم صاحب T۔B Sc۔B ماسٹر محمد ابراہیم صاحب Y۔A۔S۔A۔`B ماسٹر محمد ابراہیم صاحب ناصر T۔B ۔BA اور بشارت الرحمن صاحب ایم۔ اے<
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی نظر میں کالج کا تاریخی پس منظر
    صدر کالج کمیٹی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے >الفضل< )۸۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش( میں >ہمارا تعلیم الاسلام
    کالج< کے عنوان سے ایک نہایت اہم مضمون سپرد قلم فرمایا جس میں اس نئے مرکز ادارہ کے خصائص پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ۔
    >سب سے پہلی خصوصیت جو اس کالج کو حاصل ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تصرف خاص کے ماتحت اس کے اجراء کو تاریخ احمدیت کے اس زمانہ کے ساتھ پیوند کر دیا ہے جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے دعوئے مصلح موعود کے ماتحت جماعت کے ایک نئے دور کا حکم رکھتا ہے گویا منجملہ دوسری مبارک تحریکات کے جو اس وقت جماعت کے سامنے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس کالج کو بھی نئے دور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنا دیا ہے اور اس طرح یہ کالج خدا کے فضل سے گویا اپنے جنم کے ساتھ ہی اپنے ساتھ خاص برکات و سعادت کا پیغام لارہا ہے۔ فالحمدلل¶ہ علیٰ ذلک۔
    ‏vat,10.2
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    دوسری خصوصیت اس کالج کو خدا تعالیٰ نے یہ دے دی ہے کہ وہ تاریخ عالم کے لحاظ سے بھی موجودہ جنگ عظیم کے آخری حصہ میں عالم وجود میں آرہا ہے اور جنگ کا یہ حصہ وہ ہے جبکہ دنیا کے بہترین سیاسی مدبر دنیا کے بعد الحرب نئے نظام کے متعلق بڑے غور و خوض سے تجویزیں سوچ رہے اور غیرمعمولی اقدامات عمل میں لارہے ہیں۔ اس لحاظ سے ہمارا یہ کالج دو عظیم الشان دینی اور دینوی تحریکوں کے ساتھ اس طرح مربوط ہوگیا ہے کہ ایک الٰہی جماعت جو ہر امر میں خدائی تقدیر کا ہاتھ دیکھنے کی عادی ہوتی ہے اسے محض ایک اتفاق قرار دے کر نظر انداز نہیں کرسکتی<۔۴۰
    المصلح الموعود کی زبان مبارک سے تعلیم الاسلام کالج کیلئے طلبہ بھجوانے کی تحریک
    کالج کی ابتداء چونکہ انتظامی اعتبار سے یکم ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش سے ہوچکی تھی اس لئے سیدنا حضرت المصلح الموعود نے ۵۔
    ہجرت ۱۳۲۳ہش کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ۔
    >کالج شروع کر دیا گیا ہے۔ پروفیسر بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے مل گئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ چندہ جمع کیا جائے اور لڑکوں کو اس میں تعلیم کے لئے بھجوایا جائے۔ ہر وہ احمدی جس کے شہر میں کالج نہیں وہ اگر اپنے لڑکے کو کسی اور شہر میں تعلیم کے لئے بھیجتا ہے تو کمزوری ایمان کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بلکہ میں کہوں گا ہر وہ احمدی جو توفیق رکھتا ہے کہ اپنے لڑکے کو تعلیم کے لئے قادیان بھیج سکے خواہ اس کے گھر میں ہی کالج ہو اگر وہ نہیں بھیجتا اور اپنے ہی شہر میں علیم دلواتا ہے تو وہ بھی ایمان کی کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہے<۔۴۱
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا تقرر بحیثیت پرنسپل
    حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے کالج کمیٹی کی تجویز پر ۷۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا تقرر بطور پرنسپل منظور فرمایا۔
    جناب پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد )حال ناظر بیت المال آمد صدر انجمن احمدیہ ربوہ( کا بیان ہے۔
    >۱۹۴۴ء کے ابتدائی ایام میں محترم حضرت صاحبزادہ مزا ناصر احمد صاحب محترمہ بیگم صاحبہ کے علاج کے سلسلہ میں دہلی مقیم تھے ایک بزرگ نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دنوں تعلیم الاسلام کالج کے انتظامات ہورہے ہیں اور پرنسپل کے تقرر کا سوال ہے انہیں لکھو کہ وہ اس موقعہ پر یہاں تشریف لے آئیں۔ میں نے ناسمجھی میں آپ کی خدمت میں ایک عریضہ تحریر کر دیا۔ چند دن کے بعد جواب موصول ہوا جس کا مفہوم یہ تھا کہ خالد! تم بچپن سے میرے ساتھ رہے ہو ابھی تک تمہیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ میں نے کبھی کسی عہدہ کی خواش نہیں کی میں تو ادنیٰ خادم سلسلہ ہوں<۔
    کالج کا پہلا سٹاف
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )پرنسپل و لیکچرار اقتصادیات( کے علاوہ ابتداء میں حسب ذیل اساتذہ کا تقرر عمل میں آیا۔
    ۱۔
    اخوند محمد عبدالقادر صاحب ایم۔ اے` بی۔ ٹی۴۲ )لیکچرار انگریزی(
    ۲۔
    قاضی محمد نذیر صاحب منشی فاضل مولوی فاضل ایف۔ اے` او۔ ٹی۴۳ )لیکچرار فارسی و دینیات(
    ۳۔
    صوفی بشارت الرحمن صاحب ایم۔ اے۴۴ )لیکچرار عربی(
    ۴۔
    رانا عبدالرحمن صاحب ناصر ایم۔ اے ریاضی۴۵ )لیکچرار ریاضی(
    ۵۔
    عباس بن عبدالقادر صاحب۴۶ )لیکچرار تاریخ(
    ۶۔
    چودھری محمد علی صاحب ایم۔ اے۴۷ )لیکچر فلاسفی(
    )آپ سے قبل عبدالعزیز صاحب۴۸ ایم۔ اے چکوالوی فلاسفی کے لیکچرار مقرر تھے جو ۱۰۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو انتقال کر گئے جس پر ۲۶۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو آپ کا انتخاب ہوا(
    ۷۔
    چوہدری عبدالاحد صاحب ایم۔ ایس۔ سی` پی ایچ ڈی۴۹ )لیکچرار کیمسٹری(
    اس سٹاف میں وقتاً فوقتاً ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش تک مندرجہ ذیل اساتذہ کا اضافہ ہوا۔
    نام تاریخ تقریر مضمون کیفیت
    ۱۔ مکرم عطاء الرحمن صاحب غنی ایم۔ اے ماہ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش )فزکس(
    ۲۔ مکرم یحییٰ بن عیسیٰ صاحب بہاری ایم ایس سی ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش )ہجرت/ مئی ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش تک خدمت کرتے رہے(
    ۳۔ مکرم میاں عطاء الرحمن صاحب ایم ایس سی ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش
    ۴۔ مکرم چوہدری محمد صفدر صاحب چوہان ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۳ہش
    ۵۔ مکرم شیخ محبوب عالم صاحب خالد ایم اے بی ٹی۵۰ ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش
    ۶۔ مکرم ملک فیض الرحمن صاحب فیضی ایم۔ اے ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش
    ۷۔ مکرم حبیب اللہ خاں صاحب ایم ایس سی ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش )ابک تک پروفیسر ہیں(
    ۸۔ سید سلطان محمود صاحب شاہد ایم ایس سی ماہ وفا/ جولائی ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش )یحییٰ بن عیسیٰ صاحب کی جگہ ریسرچ سے کالج میں منتقل ہوئے(
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا بحیثیت پرنسپل چارج
    اگرچہ تعلیم الاسلام کالج کا انتظامی نقطہ نگاہ سے اجراء ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے ابتدائی ایام میں ہوچکا تھا مگر انٹرمیڈیٹ کالج کی صورت میں اس کا باقاعدہ قیام ۲۲۔ ماہ ہجرت کو ہوا جبکہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے جامعہ احمدیہ کا چارج مولانا ابوالعطاء صاحب کو دے کر تعلیم الاسلام کالج کی باگ ڈور سنبھال لی اور ساتھ ہی سکول کی نویں دسویں کی کلاسیں چند دنوں تک کالج کے ساتھ رہنے کے بعد باقاعدہ سکول کے ساتھ ملحق کر دی گئیں اور کالج صرف انٹرمیڈیٹ کالج رہا۔
    پہلے پراسپیکٹس` داخلہ فارم اور پوسٹر کی اشاعت
    کالج کو کامیابی سے جاری کرنے کے لئے اشد ضروری تھا کہ اسے قادیان کے گردونواح میں خصوصاً متعارف کرایا جائے اور اس کی افادیت عوام پر واضح کی جائے۔ کالج کمیٹی نے ابتداء میں یہ ذمہ داری خود ہی اٹھائی اور نہ صرف اخبار >الفضل< میں کالج سے متعلق متعدد اعلانات شائع کئے گئے بلکہ کالج کے پہلے پراسپکٹس۵۱ اور داخلہ فارم کے علاوہ >اہالیان ضلع گورداسپور کے لئے ایک خوشخبری< کے عنوان سے ایک پوسٹر بھی شائع کیا اور اسے ضلع بھر کے ہائی سکولوں کے ہیڈماسٹروں اور دیگر معززین تک پہنچانے کا معقول انتظام کیا۔ مقامی تبلیغ کے مبلغوں سے بھی اس کام میں مدد لی گئی۔ اس ابتدائی کوشش کے بعد داخلہ کالج سے متعلق اعلانات اخبار >الفضل`< >ڈان`< >انقلاب< اور دوسرے ملکی اخبارات میں براہ راست پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کی طرف سے بھجوائے جانے لگے۔
    طلباء کا انٹرویو
    اس سلسلہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی طرف سے تعلیم الاسلام کالج سے متعلق پہلا اعلان >الفضل< ۲۴۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے صفحہ ۸ کالم ۱ پر شائع ہوا۔ جس میں احباب جماعت کو سیدنا المصلح الموعود کے الفاظ میں کالج کے چندہ اور داخلہ کی اپیل کرنے کے بعد اطلاع دی گئی کہ۔
    >ایف اے اور ایف ایس سی نان میڈیکل کے داخلہ کے لئے درخواستیں ۲۷۔ مئی تک پہنچ جانی چاہئیں۔ انٹرویو کے لئے ۲۹` ۳۰` ۳۱۔ مئی کی تاریخیں مقرر کی جاتی ہیں<۔
    اس اعلان کے مطابق قادیان اور بیرون جات سے آنے والے طلباء کا انٹرویو ۲۹۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش سے شروع ہوا جو تین روز جاری رہا۔ انٹرویو میں جملہ موجود الوقت لیکچرار صاحبان نے بصورت بورڈ شرکت کی۔ کالج کی ابتدائی حالت کے پیش نظر یہ خیال رکھا گیا کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو لیا جائے۔ داخلہ کی آخری تاریخ ۸۔ احسان/ جون مقرر تھی۔ پہلے سال ۸۰ طلبہ نے داخلہ لیا۔
    ہائی کلاسز کے دوبارہ سکول کی طرف منتقل ہونے کی وجہ سے کالج کے پاس سکول کی بلڈنگ کے کچھ حصہ کے سوا اور کسی قسم کا کوئی سامان حتیٰ کہ طلبہ کے لئے ڈیسک اور بنچ` پروفیسر صاحبان کے لئے کرسیاں` میزیں` اور کلاس رومز کے لئے بلیک بورڈ تک موجود نہ تھے۔ فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے دفتر خدام الاحمدیہ سے دو میزیں بارہ کرسیاں اور ہائی سکول سے ۱۲۰ طلبہ کے لئے نشستوں کا انتظام کیا گیا۔۵۲
    تعلیم الاسلام کالج قادیان کا
    پہلا پراسپکٹس ۴۵۔ ۱۹۴۴ء/ ۲۴۔ ۱۳۲۳ہش
    )انگریزی سے ترجمہ(
    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم
    تمہید و تعارف
    موجودہ دور میں اخلاقی انحطاط اور مادہ پرستی جس انتہا کو پہنچی ہوئی ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ بدقسمتی سے مغربی تعلیم کا وہ نظام جو اس وقت ہمارے ملک میں جاری ہے باوجود اس کے کہ اس کے بعض پہلوئوں میں کچھ خوبیاں بھی موجود ہیں اس نے مغربی تہذیب کو ہوا دینے میں جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ پس اس مقصد کے پیش کے نظر کہ ہمارے احمدی بچے مادہ پرستی اور موجودہ تہذیب کے سیلاب سے محفوظ رہیں نیز یہ کہ وہ دینوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام اور احمدیت کی روحانی برکات سے بھی آراستہ ہوں۔ اور ایک خاص دینی اور اخلاقی ماحول میں پرورش پائیں۔ جماعت احمدیہ نے اپنے مقدس بانی حضرت احمد علیہ السلام کی زیر ہدایت قادیان میں تعلیم الاسلام ہائی سکول جاری فرمایا اور اب یہ ادارہ مئی ۱۹۴۴ء میں انٹرمیڈیٹ کالج )آرٹس اور سائنس( کی صورت میں ترقی پارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد اسے ڈگری کالج کے معیار تک پہنچا دیا جائے گا۔ جس میں آرٹس اور سائنس کے تمام مضامین )چار سالہ کورس( بالترتیب پڑھائے جائیں گے۔
    کالج کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ ایسے بلند کردار نوجوان پیدا کئے جاویں جو نہ صرف موجودہ علوم اور زندگی کے موجودہ تقاضوں سے پوری طرح عہدہ برا ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بلکہ اسلامی تمدن کی حقیقی روح کے حامل اور احمدیت اور اسلام کی اخلاقی اور روحانی اقدار کا مجسمہ ہوں۔ اس کے علاوہ وہ بہترین شہری اور معاشرت کا عمدہ ترین نمونہ ہوں۔
    یہ کالج صدر انجمن احمدیہ کے زیر انتظام ہوگا اور ایک بہت بڑے وسیع دیہاتی طبقے )کہ جس کا مرکز اس وقت قادیان ہے( کی تعلیمی ضروریات بھی پوری کرے گا اس میں تمام طلباء کو بلاتفریق مذہب و ملت داخلے کی اجازت ہوگی اور ہر طالب علم اپنے ضمیر کے مطابق پوری دل جمعی کے ساتھ تمام علوم سے بہرہ ور ہوسکے گا۔ البتہ داخلہ۔ گنجائش کے مطابق و نوعیت مضامین کے اعتبار سے کیا جاسکے گا۔
    اسٹاف
    ۱۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ایچ ایے )پنجاب( بی اے )پنجاب( بی اے آنرز )مارڈرن گریٹس آکسن۔ انگلستان( پرنسپل اور لیکچرار دینیات اور اقتصادیات۔
    ۲۔
    مکرم اخوند عبدالقادر صاحب ایم اے لیکچرار انگریزی۔
    ۳۔
    مکرم عباس بن عبدالقادر صاحب ایم اے لیکچرار تاریخ۔
    ۴۔
    مکرم خواجہ عبدالعزیز صاحب حقانی ایم۔ اے` بی۔ ٹی۔ ایچ )علیگ( لیکچرار فلاسفی۔
    ۵۔
    مکرم عبدالرحمن صاحب ناصر ایم۔ اے لیکچرار ریاضی۔
    ۶۔
    مکرم ذوالفقار علی صاحب غنی ایم۔ ایس۔ سی لیکچرار فزکس اور کیمسٹری۔
    ۷۔
    مکرم بشارت الرحمن صاحب ایم اے لیکچرار عربی۔
    ۸۔
    مکرم قاضی محمد نذیر صاحب )ایچ۔ اے` ایچ۔ پی( لیکچرار فارسی اور اردو۔
    ۹۔
    مکرم صوفی محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی بی ٹی ڈیمانسٹریٹر اور ٹیچر سائنس۔
    ۱۰۔
    مکرم محمد ابراہیم صاحب بی اے ایس اے وی ٹیچر انگلش اور جنرل نالج۔
    ۱۱۔
    مکرم محمد ابراہیم صاحب ناصر بی۔ اے` بی۔ ٹی ٹیچر ریاضی۔
    ۱۲۔
    مکرم ماسٹر محمد اسلام خان صاحب ڈرائینگ ماسٹر۔۵۳
    ۱۳۔
    فزیکل انسٹرکٹر )آسامی جلد پر کی جاوے گی(۵۴
    ۱۴۔
    لائبریرین )آسامی جلد پر کی جاوے گی(۵۵
    ۱۵۔
    میڈیکل آفیسر۔ جناب خان صاحب ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب۔
    ۱۶۔
    آفس کلرک۵۶ اور خزانچی۵۷ )آسامی جلد پر کی جائے گی(
    ۱۷۔
    لیبارٹری اسسٹنٹ دوکس )آسامیاں جلدی پر کی جائیں گی(۵۸
    مضامین
    کالج میں موجودہ حالات میں مندرجہ ذیل مضامین پڑھائے جائیں گے۔
    )۱( انگریزی )۲( عربی )۳( فارسی )۴( ریاضی )۵( اقتصادیات )۶( تاریخ )۷( فلسفہ )۸( فزکس )۹( کیمسٹری )۱۰( اردو اور دینیات زائد مضامین ہوں گے۔
    طلباء مندرجہ ذیل مضامین کے گروپ میں سے اپنے لئے کسی مناسب گروپ کا انتخاب کرسکتے ہیں۔
    )۱( انگریزی عربی یا فارسی ریاضی اور تاریخ
    )۲( انگریزی عربی یا فارسی ریاضی اور اقتصادیات
    )۳( انگریزی عربی یا فارسی ریاضی اور فزکس
    )۴( انگریزی عربی یا فارسی تاریخ اور فلسفہ
    )۵( انگریزی عربی یا فارسی ریاضی اور فلسفہ
    )۶( انگریزی عربی یا فارسی تاریخ اور اقتصادیات
    )۷( انگریزی عربی یا فارسی اقتصادیات اور فلسفہ
    ایف۔ ایس۔ سی )نان میڈیکل(
    انگریزی فزکس۔ کیمسٹری اور ریاضی۔
    طلباء کا داخلہ
    یونیورسٹی کے قواعد کے طابق ضروری ہے کہ کالج میں داخلے کے وقت طلباء خود حاضر ہوں چنانچہ فرسٹ ایر کلاس میں داخلے کے وقت طلباء کی حاضری اصالتاً ضروری ہے یہ داخلہ میٹرک کے نتائج کے دس دن کے بعد سے شروع کیا جاوے گا۔
    داخلے کے وقت طلباء کو حسب ذیل سرٹیفکیٹ پیش کرنے ہوں گے۔
    ۱۔
    پرویژنل سرٹیفکیٹ جس میں تاریخ پیدائش درج ہو اور گزشتہ امتحان یونیورسٹی میں لئے گئے مضامین اور ان کے نمبروں کی تفصیل درج ہو۔
    ۲۔
    عمدہ چال چلن کا سرٹیفکیٹ۔ جو اس ادارے کے سربراہ کی طرف سے جاری کیا گیا ہو۔ جس میں طالب علم نے آخری مرتبہ تعلیم حاصل کی ہے۔
    ۳۔
    والدین یا سرپرست کی طرف سے تصدیق کہ طالب علم مذکور کو کالج میں داخلے کی اجازت ہے۔
    فیسیں
    ایف اے کی کلاسوں کی فیس حسب ذیل ہوگی۔
    فیس داخلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۰۰۔ ۲
    یونیورسٹی رجسٹریشن فیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۰۰۔ ۴ )داخلے کے موقع پر ایک مرتبہ(
    ٹیوشن فیس )۲۴ مہینوں کے لئے( ۔۔۔ ۰۰۔ ۶ )فی ماہ(
    لائبریری فیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۰۰۔ ۵ )قابل واپسی جب کہ کالج چھوڑا جائے(
    میڈیکل فیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۵۔ ۰ )فی ماہ(
    یونین کلب فنڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۵۔ ۱ )فی ماہ(
    ہوسٹل کی فیس
    فیس داخلہ ۰۰۔ ۱ )بوقت داخلہ(
    رہائش ۰۰۔ ۲ )فی ماہ(
    علیحدہ کمرہ ۰۰۔ ۳ )فی ماہ(
    روشنی ۵۰۔ ۱ )فی ماہ(
    پنکھا )اگر استعمال کیا جائے( ۰۰۔ ۴ )فی ماہ(
    ضمانت ۰۰۔ ۵ )قابل واپسی(
    کھانے کا پیشگی خرچ ۰۰۔ ۱۰ )داخلے کے وقت ایک مرتبہ اور پھر قابل واپسی(
    نوٹ:۔ بورڈنگ میں طلباء کو چارپائیاں مہیا کی جاویں گی لیکن روشنی کے لئے بلب اور پنکھے انہیں خود ہی حاصل کرنے ہوں گے۔
    فضل عمر ہوسٹل کا قیام
    ۲۶۔ ہجرت/۵۹ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو فضل عمر ہوسٹل کا قیام دارالانوار کے گیسٹ ہائوس میں ہوا۔ سیدنا المصلح الموعود نے چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے کو اس کا سپرنٹنڈنٹ مقرر فرمایا۔ اس مرکزی دارالاقامہ کی ابتداء انتہائی مختصر صورت میں ہوئی۔ تین کمرے ہوسٹل کے لئے خالی کر دیئے گئے۔ نہ چارپائیاں تھیں نہ باورچی خانہ کا انتظام۔ محلہ والوں سے چارپائیاں مانگی گئیں اور کھانے کا انتظام پہلے مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ ہائوس میں کرنا پڑا۔ دو ہفتہ بعد دارالواقفین کے مطبخ کی طرف رجوع کیا گیا۔ اسی اثناء میں حضرت امیرالمومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعود نے بکمال شفقت اپنی کوٹھی بیت الحمد کے کچن کو استعمال میں لانے کی اجازت دی جہاں کھانا باقاعدہ تیار ہونے لگا۔ جب طلبہ کی تعداد اندازہ سے بڑھ گئی تو کالج کمیٹی نے >ترجمتہ القرآن< والا کمرہ بھی خالی کردیا لیکن اب بھی طالب علموں کی رہائش کا مسئلہ حل نہ ہوا۔ جس پر سیدنا المصلح الموعود کی خدمت بابرکت میں بیت الحمد کے تین کمروں کو زیر استعمال لانے کی درخواست کی گئی جو حضور نے قبول فرمالی۔ اس طرح گو رہائش کی مشکل پر قابو پالیا گیا مگر ہوسٹل دو حصوں میں تقسیم ہو جانے سے طلبہ کی تسلی بخش نگرانی میں نمایاں خلل آنے لگا۔ تاہم ہوسٹل کے اکثر و بیشتر طلبہ عموماً نمازوں کی پابندی کرتے اور درس قرآن سنتے تھے۔ نماز مغرب مسجد مبارک میں پڑھتے اور اس کے بعد سیدنا المصلح الموعود کی مجلس علم و عرفان سے مستفیض ہوتے تھے جو روحانی اعتبار سے ان کے لئے سرمایہ حیات کی حیثیت رکھتی تھی۔ حضرت امیرالمومنین کے ارشادات کے پیش نظر اس امر کا التزام کیا جاتا تھا کہ ہوسٹل میں ایسی فضا قائم ہو جائے کہ بجائے اس کے کہ سپرنٹنڈنٹ یا ٹیوٹر طلباء کو ان کی کسی غلط روش یا بے راہروی پر نوٹس لیں لڑکے خود ہی ایک دوسرے کو نصیحت کریں۔ اسی ابتدائی دور میں اردو اور انگریزی تقاریر کی مشق کے لئے فضل عمر ہوسٹل یونین کی نیو ڈالی گئی جس کا باقاعدہ افتتاح حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے فرمایا اور اس کے ابتدائی اجلاسوں میں حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بالقابہ` حضرت چوہدری ابوالہاشم خاں صاحب اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے بھی خطاب فرمایا۔۶۰ انہی دنوں >بزم حسن بیان< کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ ہوسٹل یونین کی طرف سے مختلف زبانوں میں ترجمہ قرآن کے لئے وعدے بھجوائے گئے۔ یونین کے اجلاسوں میں زندگی وقف کرنے کی تحریک کی گئی نیز حضرت امیرالمومنین کے تازہ ارشادات و فرمودات اور دیگر جماعتی مطالبات طلباء کے سامنے دوہرا کر ان کو لیبک کہنے کی تلقین کی جاتی تھی۔۶۱ ہوسٹل کے سب سے پہلے ٹیوٹر پروفیسر صوفی بشارت الرحمن صاحب ایم۔ اے مقرر ہوئے۔ چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے سپرنٹنڈنٹ فضل عمر ہوسٹل اپنے ایک غیر مطبوعہ بیان )مورخہ ۲۶۔ نبوت/ نومبر ۱۹۶۸`ء/ ۱۳۴۷ہش( میں ہوسٹل کے ابتدائی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
    >ہوسٹل کا قیام گیسٹ ہائوس دارالانوار والی عمارت میں عمل میں آیا۔ ایک کمرے میں دفتر تھا۔ وہی سٹور تھا۔ وہیں میں رہتا تھا۔ چند روز تو کھانا لنگر سے آیا۔ پھر کھانا ہم خود پکانے لگے۔ ہمارے پہلے باورچی غلام محمد صاحب تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا تقریباً روزانہ حضرت امیر المومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوٹھی پیدل مع خادمات تشریف لے جایا کرتی تھیں اور برقعے کے ساتھ چھتری بھی استعمال فرمایا کرتی تھیں۔ دو تین دن تو ہم حجاب میں رہے۔ ایک دن ہمت کرکے راستے میں گیسٹ ہائوس کے سامنے قطار باندھ کر کھڑے ہوگئے اور سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ایک ایک کا نام اور پتہ دریافت فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیز پوچھا کہ کھانے کا کیا انتظام ہے۔ عرض کی کہ ابھی تو لنگر خانے سے آتا ہے۔ برتن وغیرہ نہیں خریدے گئے اس لئے پکنا شروع نہیں ہوا۔ اسی دن حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جو واقعی ہماری اماں جان تھیں اپنے ذاتی برتن ہمارے استعمال کے لئے بھجوا دیئے جن پر نصرت جہاں بیگم کے مبارک اور تاریخی الفاظ کندہ تھے مجھے یاد ہے کہ ان برتنوں میں علاوہ دیگر استعمال کے برتنوں کے ایک پریشر ککر بھی تھا جس کے اندر کئی خانے تھے۔ یہ برتن ہم کافی عرصہ استعمال کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوسٹل میں ترجمتہ القرآن کا دفتر تھا۔ جہاں حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ باقاعدہ تشریف لاتے۔ گرما کی تعطیلوں کے بعد کالج کھلا تو دفتر >بیت الحمد< میں منتقل ہوگیا۔ طلباء کی آمد آمد ہوئی تو گیسٹ ہائوس سارے کا سارا خالی ہوا۔ پھر بھی گنجائش نہ رہی تو حضورؓ نے از راہ شفقت بیت الحمد کے سامنے والے کمرے ہوسٹل کو مرحمت فرما دیئے جہاں طلباء نئے ہوسٹل کے افتتاح تک مقیم رہے۔ یہ ۱۹۴۴ء ہی کی بات ہے کہ حضورؓ کی اجازت سے ہوسٹل کا نام فضل عمر ہوسٹل رکھا گیا۔ اس پر بہت سے مبارکباد کے خطوط آئے<۔
    تعلیم الاسلام کالج کا باقاعدہ افتتاح
    تعلیم الاسلام کالج قادیان کا باقاعدہ افتتاح ۴۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو بوقت ساڑھے سات بجے شام تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی سابق عالیشان عمارت کے وسیع ہال میں ہوا۔۶۲]txte [tag تلاوت و نظم کے بعد ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے سیکرٹری کالج کمیٹی نے ایک مفصل رپورٹ سنائی جس میں کالج کی تحریک سے لیکر اس کی منظوری تک کے واقعات پر جامع نظر ڈالی اور بتایا کہ گزشتہ سال جب مجھے لاہور بھیجا گیا کہ میں مجوزہ احمدیہ کالج کے قیام کے لئے کوشش کروں تو اس وقت پروگرام یہ تھا کہ جماعت کی موجودہ مالی حالت ایک پورے ڈگری کالج کے عظیم مصارف کا بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اس لئے فی الحال ایک ایسے انٹرمیڈیٹ کالج کے لئے درخواست کی جائے جس میں سکول کی ہائی کلاسز بھی ساتھ ہوں تا ہائی سکول کی عمارت اور ہائی کلاسز کے عملے کے کالج میں شامل ہونے سے بہت سے اخراجات کی بچت ہوجائے مگر >حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تو اگلے سال پورا ڈگری کالج بنارہے ہیں۔ یہ ہائی کلاسز والا چار سالہ انٹرمیڈیٹ کالج تو ہماری ضرورت کے لئے متکفی نہیں۔ چنانچہ حضور کے تازہ ارشاد کے مطابق بالکل ہی آخری وقت میں کوشش کرنے پر کالج کی موجودہ شکل کی بھی منظوری حاصل ہوگئی<۔
    اس تفصیل کے بعد ملک صاحب موصوف نے کالج کے سٹاف` اس کے نام` موجودہ شکل` نام عمارت اور اغراض و مقاصد کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرکے بالاخر عرض کیا کہ۔
    >جہاں کالج کے قیام کے کام کو کامیابی کے ساتھ سرانجام دینے میں حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ کی توجہ اور دعائیں کالج کمیٹی کی مددگار رہی ہیں وہاں کالج کمیٹی کے صدر ہمارے مخدوم و محترم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ الرحمن کی حکیمانہ ہدایات اور مشورے بھی اس کی راہ نمائی کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت صاحبزادہ صاحب کو جزائے خیر دے<۔۶۳
    پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج کی رپورٹ][ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے سیکرٹری کالج کمیٹی کے بعد حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے حسب ذیل ضروری کوائف پیش فرمائے۔
    >سیدنا! السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ`
    کالج کمیٹی کی ہدایت کے ماتحت خاکسار تعلیم الاسلام کالج کے داخلہ کے متعلق ابتدائی رپورٹ اور کالج کے طریق کار کا ایک مختصر سا ڈھانچہ پیش کرتا ہے۔
    )۱(
    اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۵۱ طلبا کالج میں داخل کئے جاچکے ہیں ¶اور ۷ طلبہ کی باہر سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ جن میں سے اکثر کے متعلق امید کی جاتی ہے کہ وہ وقت پر یہاں پہنچ جائیں گے۔ اس طرح پرامید ہے کہ انشاء اللہ العزیز کالج میں ۶۰ سے زائد طلباء امسال داخل ہو جائیں گے۔
    ان ۵۱ طلبہ میں سے جو اس وقت تک داخل ہوچکے ہیں` ۲۴ نے سائنس لی ہے اور ۲۷ نے آرٹس اور آرٹس میں سے ۲۶ طلبہ نے ہسٹری لی ہے` ۱۶ نے اکنامکس` ۱۳ نے عربی` ۱۳ نے فارسی` ۶ نے فلاسفی` ۶ نے میتھیمٹکس۔ ان ۵۱ طلبہ میں سے ایک تہائی یعنی ۱۷ تھرڈ ڈویژن کے ہیں اور قریباً نصف یعنی ۲۴ سیکنڈ ڈویژن کے اور صرف ۱۰ فرسٹ ڈویژن کے ان طلبہ میں سے ۱۵ وہ ہیں جنہوں نے امسال ٹی آئی ہائی سکول سے میٹرک پاس کی ہے اور ۳۶ باہر سے۔
    ڈویژن کے نقشہ سے معلوم ہوتا ہے کہ داخل ہونے والوں کی اکثریت نے اچھے نمبر نہیں لئے پس تربیت کے علاوہ تعلیم الاسلام کالج کو ان طلبہ کی تعلیم کی طرف بھی خاص توجہ دینی ہوگی تا ان کی پہلی کوتاہیاں ہمارے نتیجہ پر اثر انداز نہ ہوں۔ انسانی کوششیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر` ہیچ ہیں۔ اس لئے ہم حضور سے اور بزرگان سلسلہ سے دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں صحیح طریق پر تعلیم و تربیت کی توفیق عطا فرمائے تا ہماری حقیر کوششیں اسے نیک نام کرنے والی ثابت ہوں اور ہمیں حال اور مستقبل میں لسان صدق حاصل ہو۔ اللہم آمین۔
    )۲(
    تعلیم الاسلام کالج کے قیام کا بڑا مقصد احمدی طلبہ میں مذہبی روح کا پیدا کرنا اور اسلامی تعلیم کا پختگی کے ساتھ قائم کرنا ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ دینیات کے اس نصاب کے علاوہ جو مجلس تعلیم ہمارے لئے مقرر کرے گی طلبہ میں دینی اور مذہبی کتب کے مطالعہ کا شوق پیدا کریں اور اس کی عادت ڈالیں۔ باہر کے بعض کالج مثلاً مشن کالجز وغیرہ اپنے مذہب کی تعلیم ہر مذہب والے کے لئے ضروری قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ہمارے لئے بھی یہ جائز تو ہے کہ ہم بھی ہر مذہب والے کے لئے یہ ضروری قرار دیں کہ وہ ہماری مذہبی تعلیم کی گھنٹی میں ضرور حاضر ہو لیکن اگر غیروں کا رویہ بھی ہمارے نزدیک غیر مناسب اور قابل اعتراض ہو تو پھر ہمیں محض ان کی نقل میں اس گھنٹی میں حاضری لازمی قرار نہیں دینی چاہئے۔ اس سلسلہ میں حضور کی راہ نمائی کی ضرورت ہے۔ یہ بھی اندیشہ ہے کہ اس سے شروع شروع میں ہمارے خلاف مخالفوں کو ناواجب پراپیگنڈا کا آلہ نہ مل جائے۔
    )۳(][دماغی نشوونما کے لحاظ سے کالج میں داخل ہونے والے طلباء ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوتے ہیں کہ جہاں انہیں انگلی پکڑ کے بھی چلایا نہیں جاسکتا کہ انہیں اپنے سہارے چلنا سیکھنا ہوتا ہے اور کلی طور پر بے نگرانی بھی نہیں چھوڑا جاسکتا کہ ہمیشہ کے لئے وہ اخلاقی ہلاکت کے گڑھے میں گرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کے لئے وہ بہترین درمیانی راہ کا انتخاب جسے صراط مستقیم کہا جاسکتا ہے اور نگرانی اور آزادی کے اس ملاپ کو پالینا جو ان کی اخلاقی زندگی کو ہمیشہ کے لئے بنا دینے والا ہو ناممکن تو نہیں مگر بہت مشکل ضرور ہے اور ہم حضور ہی سے دعا اور رہنمائی کی درخواست کرتے ہیں۔
    )۴(
    فٹ بال` ہاکی` کرکٹ انگریزوں کی قومی کھیلیں ہیں اور چونکہ آج کل انگریز ہم پر حاکم ہیں` اس لئے ہندوستان میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جب تک تعلیمی اداروں میں ان کھیلوں کو رائج نہ کیا جائے اس وقت تک ہمارے نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو قائم نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کے برعکس وہ تمام قومیں جو انگریز یا انگریزی خون سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کھیلوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور ان کی زیاد تر توجہ ATHLETICS کی طرف ہے اور اس وجہ سے ان قوموں کے طلبہ کی صحتوں پر کوئی برا اثر نظر نہیں آتا۔ ہمارا ارادہ بھی ATHLETICS کی طرف زیادہ توجہ دینے کا ہے۔ مگر چونکہ بہرحال ہم ہندوستان کے رہنے والے ہیں اور ہمارے ملک کی ساری تعلیمی درسگاہیں ہاکی` فٹ بال وغیرہ پر زور دیتی ہیں اس لئے حضور کی ہدایت کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ہاکی فٹ بال وغیرہ کو کلیت¶ہ ترک کردیں یا انہیں جاری تو رکھیں مگر زیادہ اہمیت نہ دیں۔ میرے علم میں ان کھیلوں کو ترک کر دینے پر یونیورسٹی یا محکمہ تعلیم کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔
    )۵(
    دنیا کی بہت سی درسگاہیں اساتذہ اور طلبہ کے لئے کسی خاص لباس کی تعیین کردیتی ہیں اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں بھی یہ رواج رہا ہے۔ اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ طلبہ کی اخلاقی نگرانی زیادہ آسانی سے کی جاسکتی ہے اور ڈسپلن کا قیام بہتر طریق پر ہوتا ہے اگر حضور اسے پسند فرمائیں تو ہمارے لئے بھی کوئی لباس مثلاً کسی خاص قسم کی اچکن اور شلوار مقرر فرمائیں۔
    )۶(
    طلبہ میں تعلیمی دلچسپی بڑھانے کے لئے مختلف سوسائیٹیز کے قیام کا ارادہ ہے۔ مثلاً )۱( عربک سوسائٹی )۲( پرشین سوسائٹی )۳( فلوسافیکل سوسائٹی )۴( ریلیجس ریسرچ سوسائٹی )۵( اکنامکس سوسائٹی اور )۶( کالج بزم حسن بیان
    عام طور پر کالج یونین میں طلبہ کی قوت بیان کو بڑھانے کے لئے DEBATES کا طریقہ رائج ہے۔ مگر یہ طریق ہمارے ہاں پسندیدہ نہیں۔ اس لئے انشاء اللہ العزیز ہم کالج کی بزم حسن بیان میں DEBATES کے طریق کو ترک کرکے تقریر کے طریق کو رائج کریں گے اور امید ہے کہ ہمارے طلبہ تقریر کے میدان میں محض اس طریق کی وجہ سے دوسروں سے پیچھے نہ رہیں گے۔
    نئے سے نئے تعلیمی طریقے اور سکیمیں جن میں سے جدید ترین مسٹر جان سارجنٹ کی رپورٹ ہے پبلک کے سامنے آتے رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارا رائج الوقت طریقہ تعلیم تسلی بخش نہیں اور اس امر کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ اس کی بجائے کوئی بہتر طریقہ تعلیم رائج کیا جائے۔ ایک نئی یورنیورسٹی بھی کسی نئی سکیم کو رائج کرسکتی ہے اور کوئی کالج جو ایک غیر یونیورسٹی کے ساتھ الحاق رکھتا ہو کسی نئی سکیم کو رائج نہیں کرسکتا۔ پس ہمارے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ ہم پنجاب یونیورسٹی کی پالیسی کو چھوڑ کر کسی نئے طریقہ تعلیم کو اپنے کالج میں رائج کریں لیکن ایک غیر یونیورسٹی کے ساتھ الحاق رکھتے ہوئے اور اس کی پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے بھی یہ ممکن ہے کہ بعض ایسے ذرائع اختیار کئے جائیں جو طلبہ کی ذہنی نشوونما میں زیادہ ممد ثابت ہوں۔ مثلاً RESIDENTIAL یونیورسٹیز کی امتیازی خصوصیت طلبہ پر انفرادی توجہ دینی ہے۔
    ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ان تمام ذرائع کو استعمال کرکے طلبہ کے فطری قویٰ کو صحیح نشوونما دینے کی کوشش کریں گے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور کی دعائوں اور رہنمائی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔ہم ہیں اساتذہ تعلیم الاسلام کالج قادیان<۶۴
    حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کا علم و معرفت سے لبریز خطاب
    رپورٹیں پڑھی جاچکیں تو حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کھڑے ہوئے اور تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ایک نہایت
    پراز علم و معرفت تقریر فرمائی جس میں کالج کے قیام کی اغراض بیان کرکے پروفیسروں اور طالب علموں دونوں کو نہایت اہم اور قیمتی ہدایات دیں۔ اس ایمان افروز خطاب کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    حضرت امیر المومنین المصلح الموعودؓ نے تشہد` تعویذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ارشاد فرمایا کہ۔
    >یہ تقریب جو تعلیم الاسلام کالج کے افتتاح کی ہے اپنے اندر دو گونہ مقاصد رکھتی ہے ایک مقصد تو اشاعت تعلیم ہے جس کے بغیر تمدنی اور اقتصادی حالت کسی جماعت کی درست نہیں رہ سکتی۔ جہاں تک تعلیمی سوال ہے یہ کالج اپنے دروازے ہر قوم اور ہر مذہب کے لئے کھلے رکھتا ہے کیونکہ تعلیم کا حصول کسی ایک قوم کے لئے نہیں ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم تعلیم کو بحیثیت ایک انسان ہونے کے ہر انسان کے لئے ممکن اور سہل الحصول بنادیں۔ میں نے لاہور میں ایک دو ایسے انسٹی ٹیوٹ دیکھیں جن کے بانی نے یہ شرط لگا دی تھی کہ ان میں کسی مسلمان کا داخلہ ناجائز ہوگا۔ مجھ سے جب اس بات کا ذکر ہوا تو میں نے کہا اس کا ایک ہی جواب ہوسکتا ہے کہ مسلمان بھی ایسی ہی انسٹی ٹیوٹ قائم کریں اور اس میں یہ واضح کریں کہ اس میں کسی غیر مسلم کا داخلہ ناجائز نہ ہوگا کیونکہ ایک مسلم کا اخلاقی نقطہ نگاہ دوسری قوموں سے مختلف ہوتا ہے۔ پس جہاں تک تعلیم کا سوال ہے ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ہر مذہب و ملت کے لوگوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا آسان ہو۔ اس کالج کے دروازے ہر مذہب و ملت کے لوگوں کے لئے کھلے ہوں اور انہیں ہرممکن امداد اسی انسٹی ٹیوٹ سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے دی جائے۔
    دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ آج کل کی تعلیم بہت سا اثر مذہب پر بھی ڈالتی ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ غلط اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ مذہب کے خلاف ہوتا ہے۔ ہم یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ خدا کا فعل اس کے قول کے خلاف ہوتا ہے نہ ہم یہ ماننے کے لئے تیار ہیں کہ خدا کا قول اس کے فعل کے خلاف ہوتا ہے۔ ہمیں ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ خواہ ہمارے پاس ایسے ذرائع نہ بھی ہوں۔ جن سے ان اعتراضات کا اسی رنگ میں دفعیہ کیا جاسکتا ہے۔ جس رنگ میں وہ اسلام پر کئے جاتے ہیں یا جن علوم کے ذریعہ وہ اعتراضات کئے جاتے ہیں انہی علوم کے ذریعہ ان اعتراضات کا رد کیا جاسکتا ہو۔ پھر بھی یہ یقینی بات ہے کہ جو اعتراضات خدا تعالیٰ کی ہستی پر پڑتے ہیں یا جو اعتراضات خدا تعالیٰ کے رسولوں پر پڑتے ہیں یا جو اعتراضات اسلام کے بیان کردہ عقاید پر پڑتے ہیں وہ تمام اعتراضات غلط ہیں اور یقیناً کسی غلط استنباط کا نتیجہ ہیں۔ چونکہ اس قسم کے اعتراضات کا مرکز کالج ہوتے ہیں اس لئے ہمارے کالج کے قیام کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ مذہب پر جو اعتراضات مختلف علوم کے ذریعہ کئے جاتے ہیں ان کا انہی علوم کے ذریعہ رد کیا جائے اور ہمارے کالج میں جہاں ان علوم کو پڑھانے پر پروفیسر مقرر ہوں وہاں ان کا ایک یہ کام بھی ہو کہ وہ انہی علوم کے ذریعہ ان اعتراضات کو رد کریں اور دنیا پر ثابت کریں کہ اسلام پر جو اعتراضات ان علوم کے نتیجہ میں کئے جاتے ہیں وہ سر تا پا غلط اور بے بنیاد ہیں۔
    پس جہاں دوسرے پروفیسروں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ان اعتراضات کو زیادہ سے زیادہ قوی کرتے چلے جائیں وہاں ہمارے پروفیسروں کی غرض یہ ہوگی کہ وہ ان اعتراضات کا زیادہ سے زیادہ رد کرتے چلے جائیں۔ اب تک ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا جس سے یہ کام سرانجام دیا جاسکتا۔ انفرادی طور پر ہماری جماعت میں پروفیسر موجود تھے مگر وہ چنداں مفید نہیں ہوسکتے تھے اور نہ ان کے لئے کوئی موقعہ تھا کہ وہ اپنے مقصد اور مدعا کو معتدبہ طور پر حاصل کرسکیں۔ پس جہاں ہمارے کالج کے منتظمین کو اور عملہ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ غیر مذاہب کے طالب علم جو داخل ہونے کے لئے آئیں ان کے داخلہ میں کوئی ایسی روک نہ ہو جس کے نتیجہ میں وہ اس کالج کی تعلیم سے فائدہ حاصل نہ کرسکیں وہاں منتظمین کو یہ بھی چاہئے کہ وہ کالج کے پروفیسروں کے ایسے ادارے بنائیں جو ان مختلف قسم کے اعتراضات کو جو مختلف علوم کے ماتحت اسلام پر کئے جاتے ہیں` جمع کریں اور اپنے طور پر ان کو رد کرانے کی کوشش کریں اور ایسے رنگ میں تحقیقات کریں کہ نہ صرف عقلی اور مذہبی طور پر وہ ان اعتراضات کو رد کرسکیں بلکہ خود ان علوم سے ہی وہ ان کی تردید کردیں۔
    میں نے دیکھا ہے بسا اوقات بعض علوم جو رائج ہوتے ہیں محض ان کی ابتداء کی وجہ سے لوگ ان سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ ذرا کوئی تھیوری نکل آئے تو بغیر اس کا ماحول دیکھنے اور بغیر اس کے مالہ اور ماعلیہ پر کافی غور کرنے کے وہ ان سے متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اسے علمی تحقیق قرار دے دیتے ہیں۔ مثلاً پچھلے سو سال سے ڈارون تھیوری نے انسانی دماغوں پر ایسا قبضہ کرلیا تھا کہ گو اس کا مذہب پر حملہ نہیں تھا مگر لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اس تھیوری کی وجہ سے تمام مذاہب باطل ہوگئے ہیں کیونکہ ارتقاء کا مسئلہ ثابت ہوگیا ہے۔ حالانکہ جس مذہب پر اس تھیوری کا براہ راست حملہ ہوسکتا تھا وہ عیسائیت ہے اسلام پر اور اس کا کوئی حملہ نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی طرح جہاں تک خدا تعالیٰ کے وجود کا علمی تعلق ہے ارتقاء کے مسئلہ کا مذہب کے خلاف کوئی اثر نہیں تھا۔ صرف انتہائی حد تک پہنچ کر اس مسئلہ کا بعض صفات الٰہیہ کے ساتھ ٹکرائو نظر آتا تھا اور درحقیقت وہ بھی غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ لیکن ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ ڈارون تھیوری کے خلاف کوئی بات کہنا عقل اور سائنس پر حملہ کرنا ہے۔ مگر اب ہم دیکھتے ہیں آہستہ آہستہ وہی یورپ جو کسی زمانہ میں ڈارون تھیوری کا قائل تھا اب اس میں ایک زبردست رو اس تھیوری کے خلاف چل رہی ہے اور اب اس پر نیا حملہ حساب کی طرف سے ہوا ہے۔ چنانچہ علم حساب کے ماہرین اس طرف آرہے ہیں کہ یہ تھیوری بالکل غلط ہے۔ مجھے پہلے بھی اس قسم کے رسالے پڑھنے کا موقع ملا تھا مگر گزشتہ دنوں جب میں دھلی گیا تو وہاں مجھے علم حساب کے ایک بہت بڑے ماہر پوفیسر مولر ملے۔ جنہیں پنجاب یونیورسٹی نے بھی پچھلے دنوں لیکچروں کے لئے بلایا تھا اور ان کے پانچ سات لیکچر ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ علم حساب کی رو سے یہ قطعی طور پر ثابت کیا جاچکا ہے کہ سورج اڑتالیس ہزار سال میں اپنے محور کے گردچکر لگاتا ہے اور جب وہ اپنے اس چکر کو مکمل کرلیتا ہے تو اس وقت مختلف سیاروں سے مل کر اس کی گرمی اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ اس گرمی کے اثر سے کسی وجہ سے اس کے اردگرد چکر لگانے والے تمام سیارے پگھل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا اگر اڑتالیس ہزار سال میں تمام سیارے سورج کی گرمی سے پگھل کر راکھ ہو جاتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کی عمر اس سے زیادہ نہیں ہوتی وہ کہنے لگے بالکل ٹھیک ہے۔ دنیا کی عمر اس سے زیادہ ہرگز نہیں ہوسکتی۔ میں نے کہا ابھی ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ علم قطعی طور پر صحیح ہے لیکن اگر آپ کی رائے کو صحیح تسلیم کرلیا جائے۔۔۔۔۔۔۔ تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ڈارون تھیوری اور جیالوجی کی پرانی تھیوری بالکل باطل ہے وہ کہنے لگے یقیناً باطل ہیں۔ میں نے کہا۔ علوم کا اتنا بڑا ٹکرائو آپس میں کس طرح ہوگیا۔ انہوں نے کہا وہ تو علوم ہیں ہی نہیں۔ عقلی ڈھکوسلے ہیں۔ اور ہم جو کچھ کہتے ہیں علم حساب کی رو سے کہتے ہیں۔ بہرحال اب ایک ایسی رو چل پڑی ہے کہ وہ بات جس کے متعلق سو سال سے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے بغیر علم مکمل ہی نہیں ہوسکتا۔ اب اسی کو رد کرنے والے اور علوم ظاہر ہورہے ہیں۔ اس طرح نیوٹن کی تھیوری جو کشش ثقل کے متعلق تھی ایک لمبے عرصے تک قائم رہی۔ مگر اب آئن سٹائن کے نظریہ نے اس کا بہت سا حصہ باطل کردیا ہے۔
    اس سے پتہ لگتا ہے کہ جن باتوں سے دنیا مرعوب ہوجاتی ہے وہ بسا اوقات محض باطل ہوتی ہیں اور ان کا لوگوں کے دلوں پر اثر نئے علم کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اپنی جہالت اور کم علمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
    جب دنیا میں ہمیں یہ حالات نظر آرہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ مسائل جنہوں نے سینکڑوں سال تک دنیا پر حکومت کی ہمارے پروفیسر دلیری سے یہ کوشش نہ کریں کہ بجائے اس کے کہ بعد میں بعض اور علوم ان کو باطل کردیں ہماری انسٹی ٹیوٹ پہلے ہی ان کا غلط ہونا ظاہر کر دے اور ثابت کردے کہ اسلام پر ان علوم کے ذریعہ جو حملے کئے جاتے ہیں وہ درست نہیں ہیں اگر وہ کوشش کریں تو میرے نزدیک ان کا اس کام میں کامیاب ہو جانا کوئی مشکل امر نہیں بلکہ خدا کی مدد سے محمد رسول اللہ~صل۱~ نے جو دین قائم کیا ہے اس کی مدد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو روشنی لائے ہیں اس کی مدد سے اور احمدیت نے جو ماحول پیدا کیا ہے اس کی مدد سے وہ بہت جلد اس میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور جو کام اور لوگوں سے دس گنا عرصہ میں بھی نہیں ہوسکتا وہ ہمارے پروفیسر قلیل سے قلیل مدت میں سرانجام دے سکتے ہیں۔
    پس میری غرض کالج کے قیام سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمیں ایک ایسا مرکز مل جائے جس میں ہم بیج کے طور پر ان تمام باتوں کو قائم کردیں تاکہ آہستہ آہست اس بیج کے ذریعہ ایک ایسا درخت قائم ہو جائے` ایک ایسا نظام قائم ہو جائے` ایک ایسا ماحول قائم ہو جائے جو اسلام کی مدد کرنے والا ہو جیسے یوروپین نظام اسلام کے خلاف حملہ کرنے کے لئے دنیا میں قائم ہے۔
    پس ہمارے کالج کے منتظمین کو مختلف علوم کے پروفیسروں کی ایسی سوسائٹیاں قائم کرنی چاہئیں جن کی غرض یہ ہو کہ اسلام اور احمدیت کے خلاف بڑے بڑے علوم کے ذریعہ جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کا دفعیہ انہی علوم کے ذریعہ کریں۔ اور اگر وہ دیکھیں کہ موجودہ علوم کی مدد سے ان کا دفعیہ نہیں کیا جاسکتا تو پھر وہ پوائنٹ نوٹ کریں کہ کون کونسی ایسی باتیں ہیں جو موجودہ علوم سے حل نہیں ہوتیں اور نہ صرف خود ان پر غور کریں بلکہ کالج کے بالمقابل چونکہ ایک سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ۶۵ بھی قائم کی گئی ہے اس لئے وہ پوائنٹ نوٹ کرکے اسی انسٹی ٹیوٹ کو بھجواتے رہے اور انہیں کہیں کہ تم بھی ان باتوں پر غور کرو اور ہماری مدد کرو کہ کس طرح اسلام کے مطابق ہم ان کی تشریح کرسکتے ہیں۔
    اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ان باتوں کا محتاج نہیں۔ اسلام وہ مذہب ہے جس کا مدار ایک زندہ خدا پر ہے پس وہ سائنس کی تحقیقات کا محتاج نہیں۔ مثلاً وہی پروفیسر مولرجن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ جب مجھے ملے تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور نیویارک کے بعض اور پروفیسر بھی تحقیقات کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس ساری یونیورس کا ایک مرکز ہے۔ اس مرکز کا انہوں نے نام بھی لیا تھا جو مجھے صحیح طور پر یاد نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ سارے نظام عالم کا فلاں مرکز ہے جس کے گرد یہ سورج اور اس کے علاوہ اور لاکھوں کروڑوں سورج چکر لگارہے ہیں اور انہوں نے کہا۔ میری تھیوری یہ ہے کہ یہی مرکز خدا ہے۔ گویا اس تحقیق کے ذریعہ ہم خدا کے بھی قائل ہیں۔ یہ نہیں کہ ہم دہریت کی طرف مائل ہوگئے ہوں۔ پہلے سائنس خدا تعالیٰ کے وجود کو رد کرتی تھی۔ مگر اب ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ اس سارے نظام کا ایک مرکز ہے جو حکومت کررہا ہے اور وہی مرکز خدا ہے۔ میں نے کہا۔ نظام عالم کے ایک مرکز کے متعلق آپ کی جو تحقیق ہے مجھے اس پر اعتراض نہیں۔ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ دنیا ایک نظام کے ماتحت ہے اور اس کا ایک مرکز ہے۔ مگر آپ کا یہ کہنا کہ وہی مرکز خدا ہے درست نہیں۔ میں نے ان سے کہا مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامات نازل ہوتے ہیں اور کئی ایسی باتیں ہیں جو اپنے کلام اور الہام کے ذریعہ وہ مجھے قبل از وقت بتا دیتا ہے۔ آپ بتائیں کہ کیا آپ جس مرکز کو خدا کہتے ہیں وہ بھی کسی پر الہام نازل کرسکتا ہے۔ وہ کہنے لگے۔ الہام تو نازل نہیں کرسکتا۔ میں نے کہا تو پھر میں کس طرح تسلیم کرلوں کہ وہی مرکز خدا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس بات کا علم ہے کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے اور وہ باتیں اپنے وقت پر پوری ہو جاتی ہیں۔ کوئی بات چھ مہینے کے بعد پوری ہو جاتی ہے` کوئی سال کے بعد پوری ہو جاتی ہے` کوئی دو سال کے بعد پوری ہو جاتی ہے اور اس طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ مجھ پر جو الہام نازل ہوتا ہے خدا کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔
    پھر میں نے انہیں مثال دی اور کہا آپ مجھے بتائیں۔ کیا آپ کا وہ کرہ جسے آپ خدا قرار دیتے ہیں کسی کو یہ بتاسکتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے انگلستان کی مدد کے لئے اٹھائیس سو ہوائی جہاز بھجوایا جائے گا۔ وہ کہنے لگے۔ اس کرہ سے تو کوئی ایسی بات کسی کو نہیں بتائی جاسکتی۔ میں نے کہا تو پھر ماننا پڑے گا کہ اس کرے اور اسی طرح اور کروں کا خدا کوئی اور ہے یہ خود اپنی ذات میں خدا نہیں ہیں کیونکہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مرکز کے ذریعہ کسی کو کوئی خبر قبل از وقت نہیں پہنچ سکتی۔ لیکن میں اپنے تجربہ سے جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام انسان پر نازل ہوتا ہے جو کئی قسم کی غیب کی خبروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پس آپ بے شک اس مرکز کو ہی خدا مان لیں لیکن ہم تو ایک علیم و خبیر ہستی کو خدا کہتے ہیں۔ اس کے اندر قدرت بھی ہوتی ہے۔ اس کے اندر جلال بھی ہوتا ہے` اس کے اندر جمال بھی ہوتا ہے۔ اس کے اندر علم بھی ہوتا ہے` اس کے اندر حکمت بھی ہوتی ہے۔ اس کے اندر بسط کی صفت بھی ہوتی ہے` اس کے اندر محی ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے` اس کے اندر ممیت ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔ اس کے اندر حلیم ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے` اس کے اندر مہیمن ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔ اس کے اندر واسع ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔ غرض بیسیوں قسم کی صفات ہیں جو اس کے اندر پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس کا نور ہونا` اس کا وہاب ہونا` اس کا شکور ہونا` اس کا غفور ہونا ` اس کا رحیم ہونا` اس کا ودود ہونا` اس کا کریم ہونا` اس کا ستار ہونا اور اسی طرح اور کئی صفات کا اس کے اندر پایا جانا ہم تسلیم کرتے ہیں۔ کیا یہ صفات اس مرکز میں بھی پائی جاتی ہیں جس کو آپ خدا کہتے ہیں؟ جب ایک طرف اس کے اندر یہ صفات نہیں پائی جاتیں اور دوسری طرف ہم پر ایک ایسی ہستی کی طرف سے الہام نازل ہوتا ہے جس میں یہ تمام صفات پائی جاتی ہیں جو اپنی ان صفات کو اپنے کلام کے ذریعہ دنیا پر ظاہر کرتا ہے اور باوجود اس کے کہ ساری دنیا مخالفت کرتی ہے پھر بھی اس کا کلام پورا ہو جاتا ہے اور جو کچھ اس نے کہا ہوتا ہے وہی کچھ دینا کو دیکھنا پڑتا ہے تو اس ذاتی مشاہدہ کے بعد ہم آپ کی تھیوری کو کس طرح مان سکتے ہیں؟ اس پر وہ کہنے لگا۔ اگر یہ باتیں درست ہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ یہ تھیوری باطل ہے۔ اس کلام کے ہوتے ہوئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی ایسا خدا نہیں جس کے تابع یہ تمام مرکز ہو۔
    تو مذہب کے لحاظ سے ہم ان چیزوں کے محتاج نہیں ہیں۔ ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم سائنس کے علوم کی مدد سے خدا تعالیٰ کو حاصل کریں۔ خدا بغیر سائنس کے بھی انسان کو مل جاتا ہے۔ رسول کریم~صل۱~ کو ہی دیکھ لو۔ آپ نے نہ فلسفہ پڑھا نہ سائنس پڑھی نہ حساب پڑھا نہ کوئی اور علم سیکھا۔ مگر پھر خدا آپ سے اس طرح بولا کہ آج تک نہ کسی سائنس دان کو وہ نعمت نصیب ہوئی ہے نہ کسی حساب دان کو وہ نعمت نصیب ہوئی ہے نہ کسی فلسفی کو وہ نعمت نصیب ہوئی ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نہ یہ فلسفہ پڑھا۔ نہ یہ سائنس پڑھی نہ یہ حساب پڑھا۔ لیکن جس رنگ میں خدا نے آپ سے کلام کیا وہ نہ کسی فلسفہ والے کو نصیب ہوا نہ کسی سائنس والے کو نصیب ہوا نہ کسی حساب والے کو نصیب ہوا۔ اسی طرح اب میرے ساتھ جس طرح خدا متواتر کلام کرتا اور اپنے غیب کی خبریں مجھ پر ظاہر فرماتا ہے یہ نہ سائنس کا نتیجہ ہے نہ فلسفے کا نتیجہ ہے نہ حساب کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ میں نے نہ سائنس پڑھی ہے نہ فلسفہ پڑھا ہے نہ حساب پڑھا ہے۔ تو ہمیں کسی سائنس یا فلسفہ یا حساب کی مدد کی ضرورت نہیں بلکہ وہ لوگ جو دن رات ان علوم میں محو رہتے ہیں ان میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے کہ اگر ہم اس کے سامنے اپنے الہامات پیش کریں اور وہ ان پر غور کرے تو ہمیں امید ہے کہ وہ سمجھ جائے گا۔ جیسے پروفیسر مولر جب میرے پاس آیا اور میں نے اس سے سنجیدگی کے ساتھ باتیں کیں تو وہ حقیقت کو سمجھ گیا۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ واقعہ میں مجھے قبل از وقت الہام کے ذریعہ کئی خبریں دی گئی تھیں جو اپنے وقت پر پوری ہوئیں۔ اس وجہ سے اس کی راہ میں مشکلات تھیں۔ لیکن اس نے اتنا ضرور تسلیم کرلیا کہ اگر الہام ثابت ہو جائے تو پھر یہ مان لینا پڑے گا کہ جس تھیوری کو میں پیش کرتا ہوں وہ غلط ہے۔ جب اس نے الہام کا امکان تسلیم کرتے ہوئے اپنی تھیوری کو غلط مان لیا تو وہ جن کے سامنے الہامم پورے ہوتے ہیں وہ ایسی تھیوری کو کب مان سکتے ہیں۔ وہ تو ایسے ہی خدا کو مان سکتے ہیں جو قادر ہے` کریم ہے` میہمن ہے` عزیز ہے` سمیع ہے` مجیب ہے` حفیظ ہے۔ اسی طرح اور کئی صفات حسنہ کا مالک ہے۔ اپنی آنکھوں دیکھی چیز کو کون رد کرسکتا ہے۔
    ‏vat,10.3
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    تو سائنس بھی اور فلسفہ بھی اور حساب بھی جہاں تک خدا کا تعلق ہے ایک تھیوری سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ ان کو ماننے والا کہہ سکتا ہے کہ شاید یہ غلط ہوں شاید یہ صحیح ہوں۔ اسے قطعی اور یقینی وثوق ان علوم کی سچائی پر نہیں ہوسکتا لیکن ہمیں خدا تعالیٰ کی ذات پر جو یقین ہے وہ ہر قسم کے شبہات سے بالاتر ہے۔ وہ یقین ایسا ہی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اے خدا میں سورج کا انکار کرسکتا ہوں۔ میں اپنے وجود کا انکار کرسکتا ہوں` مگر جس طرح تو مجھ پر ظاہر ہوا ہے۔ میں اس کا کبھی انکار نہیں کرسکتا۔ یہ وہ یقین ہے جو خدا پر ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتا ہے مگر کیا ایسا یقین کسی سائنسدان کو اپنے کسی سائنس کے مسئلہ کی سچائی پر ہوسکتا ہے۔ یا کب ایسا یقین کسی حساب دان کو اپنے حساب کے کسی مسئلہ کی سچائی پر ہوسکتا ہے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ حساب قطعی اور یقینی چیز ہے مگر اب نئی دریافتیں ایسی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے حساب کے متعلق بھی شبہات پیدا ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ مگر حساب سے عام سودے والا حساب مراد نہیں بلکہ وہ حساب مراد ہے جو فلسفہ کی حد تک پہنچا ہوا ہے اور فلسفہ خود مشکوک ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں جو فلاسفر ظاہر ہوتا ہے ان علوم کا انکار کرنے والا علوم جدیدہ کا منکر قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ابھی پچاس ساٹھ سال نہیں گزرتے کہ ایک اور فلسفی کھڑا ہو جاتا ہے جو اس پہلے فلاسفر کی تحقیق کو غلط قرار دے دیتا اور نئے نظریات پیش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس وقت جو لوگ اس کے نظریات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں لوگ ان کے متعلق یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ وہ علوم جدیدہ کے منکر ہیں مگر پچاس ساٹھ سال نہیں گزرتے کہ ایک اور فلاسفر اس تحقیق کو قدیم تحقیق قرار دے کر ایک نئی تحقیق لوگوں کے سامنے پیش کردیتا ہے اور پہلی تحقیق کو غلط قرار دے دیتا ہے۔ کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ خدا کا وجود بھی غلط قرار دیا گیا ہو یا کبھی کوئی نبی ایسا کھڑا ہوا ہو جس نے کہا ہو کہ خدا کے متعلق لوگوں کے دلوں میں جو خیال پایا جاتا تھا وہ موجودہ تحقیق نے غلط ثابت کردیا ہے۔ آدم سے لے کر اب تک ہمیشہ ایسے وجود آتے رہے ہیں۔ جنہوں نے اپنے تجربہ اور مشاہدہ سے دنیا کے سامنے یہ حقیقت پیش کی کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے۔ پھر دلائل و براہین سے اس کے وجود کو ایسا ثابت کیا کہ دنیا ان دلائل کا انکار نہ کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ ہم خدا کی طرف سے کھڑے ہوئے ہیں اور خدا کی ہستی کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ہمیں کامیاب کرے گا۔ چنانچہ دنیا نے ان کی مخالفت کی مگر خدا نے ان کو کامیاب کرکے دکھا دیا اور اس طرح ثابت کر دیا کہ اس عالم کا حقیقتاً ایک قادر و مقتدر خدا ہے جو اپنے پیاروں سے کلام کرتا اور مخالف حالات میں ان کو کامیاب کرتا ہے۔
    پس خدا کے وجود پر انبیاء کی متفقہ گواہی ایک قطعی اور یقینی شہادت ہے جو اس کی ہستی کو ثابت کررہی ہے۔ آج تک کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس نے اپنے سے پہلے آنے والے نبی کی تردید کی ہو۔ ہر سائنسدان پہلے سائنسدان کی تردید کرتا ہے۔ ہر فلاسفر پہلے فلاسفر کی تردید کرتا ہے۔ ہر حساب دان پہلے حساب دان کی تردید کرتا ہے۔ مگر انبیاء کا وجود ایسا ہے کہ ہر نبی جو دنیا میں آتا ہے وہ اپنے سے پہلے آنے والے انبیاء کی تصدیق ہی کرتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ وہ ان کی تردید کرے۔ وہ ان کی لائی ہوئی صداقتوں کو باطل ثابت کرے۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں پیش کیا تھا جسے عیسائیوں نے غلطی سے نہ سمجھا اور اعتراض کر دیا کہ مصدقا لما معکم یعنی دنیا میں ایک ہی سلسلہ ہے جس میں ہر آنے والا اپنے سے پہلے کی تصدیق کرتا ہے اور اس کی تکذیب اور تردید نہیں کرتا۔ آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفیٰ~صل۱~ تک اور محمد~صل۱~ سے لے کر مسیح موعودؑ تک ایک نبی بھی ایسا نہیں دکھایا جاسکتا جس نے پہلے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی صداقتوں کا انکار کیا ہو بلکہ وہ ہمیشہ پہلوں کی تصدیق کرتا ہے لیکن دوسرے تمام علوم چونکہ ظنی ہیں` وہمی اور خیالی ہیں اور اس لئے ہر نئی سائنس پہلی سائنس کی تردید کرتی ہے اور ہر نیا فلسفہ پہلے فلسفہ کی تردید کرتا ہے` ہر نیا حساب پہلے حساب کی تردید کرتا ہے۔ بے شک انبیاء کی تعلیمیں منسوخ بھی ہوتی ہیں۔ مگر منسوخ ہونا اور چیز ہے` اور ان تعلیموں کو غلط قرار دینا اور چیز ہے۔ فلسفہ والے کہتے ہیں کہ فلاں زمانہ میں جو فلسفی گزرا تھا اس کا فلسفہ غلط تھا کیونکہ نئی تحقیقات نے اس کو باطل ثابت کر دیا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں پہلے سائنسدانوں نے غلطی کی۔ انہوں نے فلاں فلاں مسائل بالکل غلط بیان کئے تھے۔ اسی طرح علم حساب کی تحقیق ہوتی ہے۔ حساب دان یہ کہتے ہیں کہ فلاں حساب دان نے یہ غلطی کی تھی اور فلاں حساب دان نے وہ غلطی کی تھی۔ لیکن دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی مبعوث ہوا ہو اور اس نے یہ کہا ہو کہ فلاں نبی نے غلط بات کہی تھی۔ انبیاء سابقین کی تعلیمیں بے شک منسوخ ہوتی رہی ہیں مگر منسوخ ہونے کے یہ معنے نہیں تھے کہ وہ تعلیمیں غلط تھیں۔ ان تعلیموں کے منسوخ ہونے کا صرف اتنا مفہوم ہے کہ وہ تعلیمیں اس زمانہ کے لئے تھیں بعد کے زمانہ کے لئے نہیں تھیں۔
    پس ہمیں ذاتی طور پر اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم سائنس اور فلسفہ اور حساب اور دوسرے علوم کے ذریعہ اسلام کی صداقت ثابت کریں۔ اسلام ان سب سے بالا ہے۔ لیکن چونکہ دنیا میں کچھ لوگ ان وہموں میں مبتلا ہیں اور وہ ان علوم کے رعب کی وجہ سے اسلام کی تائید میں اپنی آواز بلند نہیں کرسکتے اس لئے ان کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے مرکز کھولیں اور ان کی زبان میں ان سے باتیں کرنے کی کوشش کریں اور انہیں بتائیں کہ علوم جدیدہ کی نئی تحقیقاتیں بھی اسلام کی موید ہیں۔ اسلام کی تردید کرنے والی اور اس کو غلط ثابت کرنے والی نہیں ہیں۔ یہ کام ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ چونکہ یہ نیا کام ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں اس کام میں دقتیں پیش آئیں۔ لیکن ایک وقت آئے گا جب آہستہ آہستہ ان علوم کے ذریعہ بھی اسلام کی صداقت دنیا کے کونے کونے میں پھیل جائے گی اور لوگ محسوس کریں گے کہ علوم خواہ کس قدر بڑھ جائیں` سائنس خواہ کس قدر ترقی کر جائے اسلام کے کسی مسئلہ پر زد نہیں پڑسکتی۔ دنیا میں ہمیشہ دشمن کے قلعہ پر پہلے گولہ باری کی جاتی ہے اور یہ گولہ باری فوج کا بہت بڑا کام ہوتا ہے۔ لیکن جب گولہ باری کرتے کرتے قلعہ میں سوراخ ہو جاتا ہے تو فوج اس سرعت سے بڑھتی ہے کہ دشمن کے لئے ہتھیار ڈال دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔ ہم نے بھی کفر کے مقابلہ میں ایک بنیاد رکھی ہے اور ہماری مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے پرانے زمانہ کی منجنیقیں اپنے ہاتھ میں لے کر کوئی شخص موجودہ زمانہ کے مضبوط ترین قلعوں کو سر کرنے کی کوشش کرے یا غلیلوں سے دشمن کو شکست دینے کا ارادہ کرے۔ ہم کو بھی جب دیکھنے والا دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہ لوگ کیا کررہے ہیں۔ وہ عظیم الشان قلعے جو کنکریٹ کے بنے ہوئے ہیں جن کی تعمیر میں بڑے بڑے قیمتی مصالحے صرف ہوئے ہیں جن کو الیون پونڈرگنز(ELEVEN POUNDERGUNS) اور سیون ٹی فائیو ملی میٹر گنزMGUNS)۔(SEVENTYFIVEM بمشکل سر کرسکتی ہیں۔ ان قلعوں کو وہ ان پتھروں یا غلیلوں سے کس طرح توڑ سکیں گے۔ مگر جو خدا کی طرف سے کام ہوتے ہیں وہ اسی طرح ہوتے ہیں۔ پہلے دنیا ان کو دیکھتی ہے اور کہتی ہے ایسا ہونا ناممکن ہے۔ مگر پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب وہی دنیا کہتی ہے اس کام نے تو ہونا ہی تھا کیونکہ حالات ہی ایسے پیدا ہوچکے تھے۔ جب محمد رسول اللہ~صل۱~ آئے تو لوگوں نے اس وقت یہی کہا کہ ان دعووں کا پورا ہونا ناممکن ہے۔ انہوں نے آپ کو مجنون کہا۔ انہوں نے آپ کے متعلق یہ کہا۔ اس شخص پر نعوذباللہ ہمارے بتوں کی *** پڑ گئی ہے۔ مگر آج یورپ کے مصنفوں کی کتابیں پڑھ کر دیکھ لو۔ وہ کہتے ہیں اگر مسلمانوں کے مقابلہ میں قیصر کی حکومت کو شکست ہوگئی۔ اگر مسلمانوں کے مقابلہ میں کسریٰ کی حکومت کو شکست ہوگئی۔ اگر مسلمانوں کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی قوم نہیں ٹھہرسکی تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں وہ زمانہ ہی ایسا تھا اور اس وقت حالات ہی ایسے پیدا ہوچکے تھے جو محمد~صل۱~ کی تائید میں تھے۔
    کیا یہ عجیب بات نہیں کہ محمد~صل۱~ کے زمانہ میں تو آپ کے دعویٰ کو پاگل پن اور جنون سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے دعویٰ کو لوگوں نے تسلیم کرلیا تو اس میں کون سی عجیب بات ہے۔ زمانہ کے حالات اس دعویٰ کے مطابق تھے اور لوگوں کی طبائع آپ کے عقائد کو تسلیم کرنے کے لئے پہلے ہی تیار ہوچکی تھیں۔ یہی احمدیت کا حال ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دعویٰ کیا لوگ کہتے تھے کہ ناممکن ہے کہ یہ شخص دنیا پر فتح حاصل کرسکے۔ یہ اپنی آئی آپ مر جائے گا۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تک نے یہ کہہ دیا کہ میں نے ہی اس شخص کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی اس کو گرائوں گا۔ )اشاعتہ السنہ جلد ۱۳ نمبر۱۔ ۱۸۹۰ء( مگر آپ کے سلسلہ کو دن بدن ترقی ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ وہ شخص جسے قادیان میں بھی لوگ اچھی طرح نہیں جانتے تھے۔ اس کی جماعت پہلے پنجاب کے مختلف حلقوں میں پھیلنی شروع ہوئی۔ پھر پنجاب سے بڑھی اور افغانستان میں گئی` بنگال میں گئی` بمبئی میں گئی` مدراس میں گئی` یو۔ پی میں گئی` سندھ میں گئی` بہار میں گئی` اڑیسہ میں گئی` سی۔ پی میں گئی` آسام میں گئی اور پھر اس سے بڑھ کر بیرونی ممالک میں پھیلنی شروع ہوئی۔ چنانچہ انگلستان میں احمدیت پھیلی` جرمنی میں احمدیت پھیلی` ہنگری میں احمدیت پھیلی` امریکہ میں احمدیت پھیلی۔ ارجنٹائن میں احمدیت پھیلی` یوگوسلاویہ میں احمدیت پھیلی` البانیہ میں احمدیت پھیلی` پولینڈ میں احمدیت پھیلی۔ زیکو سلوویکیا میں احمدیت پھیلی` سیرالیون میں احمدیت پھیلی` گولڈ کوسٹ میں احمدیت پھیلی` نائجیریا میں احمدیت پھیلی` مصر میں احمدیت پھیلی` مشرقی افریقہ میں احمدیت پھیلی` ماریشس میں احمدیت پھیلی` فلسطین میں احمدیت پھیلی` شام میں احمدیت پھیلی` روس میں احمدیت پھیلی` کاشغر میں احمدیت پھیلی` ایران میں احمدیت پھیلی` سٹریٹ سیٹلمنٹس میں احمدیت پھیلی` جاوا میں احمدیت پھیلی` ملایا میں احمدیت پھیلی` چین میں احمدیت پھیلی` جاپان میں احمدیت پھیلی۔ غرض دنیا کے کناروں تک احمدیت پہنچی اور پھیلی اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ دنیا میں کچھ پاگل لوگ بھی ہوتے ہیں۔ اگر چند پاگلوں نے احمدیت کو مان لیا ہے تو یہ کوئی عجب بات نہیں۔ مگر ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرے گا کہ دنیا میں احمدیت کی ایسی مضبوط بنیاد قائم ہو جائے گی کہ یہ نہیں کہا جائے گا کہ احمدیت کی فتح کی امید ایک مجنونانہ خیال ہے بلکہ کہا جائے گا کہ احمدیت کو مار دینے کا خیال ایک مجنونانہ خیال ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ وہی لوگ جو آج احمدیت کی ترقی کو ایک ناممکن چیز قرار دے رہے ہیں۔ جب اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ احمدیت ترقی کر گئی ہے` احمدیت ساری دنیا پر چھا گئی ہے` احمدیت نے روحانی لحاظ سے ایک انقلاب عظیم پیدا کردیا ہے تو وہی لوگ کہیں گے احمدیت کی کامیابی اور اس کی فتح کوئی معجزہ نہیں۔ اگر احمدیت فتح یاب نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔ اس وقت یورپ اتنا مضمحل ہوچکا تھا۔ اس وقت انسانی دماغ اتنا پراگندہ ہوچکا تھا۔ اس وقت سائنس اپنی حد بندیوں کو توڑ کر اسی طرح کا ایک فلسفہ بن چکی تھی کہ اگر احمدیت نے فتح پائی تو یہ کوئی معجزہ نہیں۔ اس وقت کے حالات ہی اس فتح کو پیدا کررہے تھے۔
    پس یہ بیج جو ہم بورہے ہیں ہم جانتے ہیں کہ یہ دنیا میں پھیل کررہے گا۔ ہمیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ بیج پھیل جائے گا۔ ہمیں یہ کہنے کہ بھی ضرورت نہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ بیج کبھی ضائع نہیں ہوگا۔ ہم خدا کی طرف سے مانتے ہیں اور اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ یہ بیج ایسا ہے جس میں سے ایک دن ایسا تناور درخت پیدا ہونے والا ہے جس کے سایہ میں بیٹھنے کے لئے لوگ مجبور ہوں گے اور اگر وہ نہیں بیٹھیں گے تو تپتی دھوپ میں وہ اپنے دماغوں کو جھلسائیں گے اور انہیں دنیا میں کہیں آرام کی جگہ نہیں ملے گی۔
    پس ہم جانتے ہیں کہ جس راستہ کو ہم نے اختیار کیا ہے وہ ضرور ہمیں کامیابی تک پہنچانے والا ہے کسی خیال کے ماتحت نہیں۔ کسی وہم اور گمان کے ماتحت نہیں بلکہ اس علیم و خبیر ہستی کے بتانے کی وجہ سے یہ یقین ہمیں حاصل ہوا ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتی جس کی بتائی ہوئی بات کبھی غلط نہیں ہوسکتی۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں پر اعتبار کرکے ہم نے انہیں اس کالج میں پروفیسر مقرر کیا ہے ان میں سے بعض نا اہل ثابت ہوں۔ مگر ان کے نااہل ثابت ہونے کی وجہ سے اس کام میں کوئی نقص واقعہ نہیں ہوسکتا۔ جس طرح دریا کے دھارے کے سامنے پتھر آجائے تو وہ بہہ جاتا ہے مگر دریا کے دھارے کو وہ روک نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص غلط کام کرتا ہے یا اپنے کام کے لئے کوئی غلط طریق اختیار کرتا ہے` وہ احمدیت کے دریا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ وہ اپنی تباہی کے آپ سامان پیدا کرتا ہے۔ وہ مٹ جائے گا` مگر جس دریا کو خدا نے چلایا ہے` جس کی حفاظت کے لئے اس نے اپنے فرشتوں کو آپ مقرر کیا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کے بہائو کو روک نہیں سکتی خواہ وہ یورپ کی ہو خواہ وہ امریکہ کی ہو خواہ وہ ایشیاء کی ہو اور خواہ وہ دنیا کے کسی اور ملک کی ہو۔ ہمیں نظر آرہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے یورپ میں بھی اتر رہے ہیں` امریکہ میں بھی اتر رہے ہیں` ایشیاء میں بھی اتر رہے ہیں اور ہر شخص جو اس مشن کا مقابلہ کرتا ہے` ہر شخص جو خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغام کو رد کرتا ہے وہ اپنی ہلاکت کے آپ سامان کرتا ہے۔ آج اور کل اور پرسوں اور اترسوں دن گزرتے چلے جائیں گے۔ زمانہ بدلتا چلا جائے گا` انقلاب بڑھتا چلا جائے گا اور تغیر وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔ روز بروز اس سلسلہ کی راہ سے روکیں دور ہوتی جائیں گی روز بروز یہ دریا زیادہ سے زیادہ فراخ ہوتا چلا جائے گا۔ دریا کے دہانہ کے پاس ہمیشہ چھوٹے چھوٹے نالے ہوتے ہیں جن پر سے ہر شخص آسانی سے کود کر گزر سکتا ہے۔ میں نے خود جہلم کے دہانہ کے پاس ایسے نالے دیکھے ہیں اور میں خود بھی ان نالوں پر سے کود کر گزرا ہوں۔ مگر آہستہ آہستہ دریا ایسے وسیع ہوتا جاتا ہے کہ بڑے بڑے گائوں اور بڑے بڑے شہر بہا کرلے جاتا ہے۔ اسی طرح ابھی ہم دریا کے دہانہ کے قریب ہیں۔ ایک زمانہ ایسا گزرا ہے۔ جب لوگ ہماری جماعت کے متعلق سمجھتے تھے کہ یہ ایک نالے کی طرح ہے جو شخص چاہے اس پر سے کود کر گزر جائے مگر اب ہم ایک نہر کی طرح بن چکے ہیں۔ لیکن ایک دن آئے گا جب دنیا کے بڑے سے بڑے دریا کی وسعت بھی اس کے مقابلہ میں حقیر ہو جائے گی۔ جب اس کا پھیلائو اتنا وسیع ہو جائے گا جب اس کا بہائو اتنی شدت کا ہوگا کہ دنیا کی کوئی عمارت اور دنیا کو کوئی قلعہ اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکے گا۔
    پس ہمارے پروفیسروں کے سپرد وہ کام ہیں جو خدا اور اس کے فرشتے کر رہے ہیں اگر وہ دیانتداری کے ساتھ کام کریں گے تو یقیناً کامیاب ہوں گے اور اگر وہ غلطی کریں گے تو ہم یہی دعا کریں گے کہ خدا انہیں توبہ کی توفیق دے اور انہیں محنت سے کام کرنے کی ہمت عطاء فرمائے۔ لیکن اگر وہ اپنی اصلاح نہیں کریں گے تو وہ اس سلسلہ کی ترقی میں ہرگز روک نہیں بن سکیں گے۔ جس طرح ایک مچھر بیل کے سینگ پر بیٹھ کر اسے تھکا نہیں سکتا` اسی طرح ایسے کمزور انسان احمدیت کو کسی قسم کی تھکاوٹ اور ضعف نہیں پہنچا سکیں گے۔
    جن سوالات کو اس وقت میرے سامنے پیش کیا گیا ہے ان سب کے متعلق میں ابھی فوری طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن جہاں تک لباس کا سوال ہے میری رائے یہ ہے کہ ہمیں تعلیم کو آسان اور سہل الحصول بنانا چاہئے اور کوئی ایسا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے جسے طالب علم برداشت نہ کرسکیں تا ایسا نہ ہو کہ غریب لڑکے اس بوجھ کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جائیں۔
    جہاں تک کھیلوں کا تعلق ہے مجھے افسوس ہے کہ کالجوں میں بعض ایسی کھیلیں اختیار کرلی گئی ہیں جن پر روپیہ بھی صرف ہوتا ہے اور صحت پر بھی وہ برا اثر ڈالتی ہیں۔ میں نے یورپین رسالوں میں پڑھا ہے کہ انگلستان میں کھیلوں کے متعلق ایک کمیٹی مقرر کی گئی تھی جس نے بہت کچھ غور کے بعد یہ رپورٹ پیش کی کہ ہاکی کے کھلاڑیوں میں سل کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ تحقیق تو آج کی گئی ہے لیکن میں نے آج سے اکیس سال پہلے اس کی طرف توجہ دلا دی تھی اور میں نے کہا تھا کہ میں ہاکی سے نفرت کرتا ہوں یہ صحت کے لئے مضر ہے اس سے سینہ کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ جھک کر کھیلنا پڑتا ہے<۔ )الفضل جلد ۱۱ نمبر ۴۶ صفحہ ۸ مورخہ ۱۱۔ دسمبر ۱۹۲۳ء( اسی طرح بعض اور مواقع پر بھی میں توجہ دلاتا رہا ہوں کہ ہاکی قطعی طور پر صحت پر اچھا اثر پیدا نہیں کرتی بلکہ مضر اثر کرتی ہے۔ ہاکی میں ہاتھ جڑے رہتے ہیں اور سانس سینہ میں پھولتا نہیں۔ اس طرح باوجود کھیلنے کے سینہ چوڑا نہیں ہوتا۔ )الفضل ۲۱۔ اکتوبر ۱۹۳۹ء(
    جب میں نے یہ بات کہی اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ ہاکی سے سینہ کمزور ہو کر سل کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے مگر اب دوسرے لوگ بھی آہستہ آہستہ اسی طرف آرہے ہیں۔ عزیزم مرزا ناصر احمد کا ان الفاظ میں کہ۔
    >وہ تمام قومیں جو انگریز یا انگریزی خون سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کھیلوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں اور ان کی زیادہ توجہ ایتھلیٹکس (ATHLETICS) کی طرف رہتی ہے اور اس وجہ سے ان قوموں کے طلباء کی صحتوں پر کوئی برا اثر نظر نہیں آتا<۔
    غالباً جرمنی کی طرف اشارہ ہے جہاں ان کھیلوں پر بہت کم زور دیا جاتا ہے کیونکہ ان کھیلوں پر روپیہ اور وقت زیادہ خرچ ہوتا ہے مگر صحت کو کم فائدہ پہنچتا ہے۔ چنانچہ ان کھیلوں کی بجائے انہوں نے جو دوسری کھیلیں اختیار کی ہیں ان کا صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے اور روپیہ بھی کم خرچ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری کھیلوں کا رواج اب دن بدن بڑھ رہا ہے۔ انگریزی ممالک میں شاید اسی وجہ سے کہ وہاں کہر زیادہ ہوتی ہے اس قسم کی کھیلوں کی ضرورت سمجھی جاتی ہے جو دوڑ دھوپ والی ہوں۔ لیکن وسطی یورپ یا جنوبی یورپ میں ان کا زیادہ رواج نہیں۔ میں یورپین کھیلوں میں سب سے کم مضر فٹ بال سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے سینہ پر بوجھ نہیں پڑتا بلکہ سینہ چوڑا اور فراخ رہتا ہے۔ ہاکی میں چونکہ دونوں ہاتھ بند ہوتے ہیں۔ ادھر سانس سینہ میں پھولتا نہیں اس لئے ہاکی کے نتیجہ میں اکثر سینہ پر ایسا بوجھ پڑتا ہے کہ وہ کمزور ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ ہاکی کو مضر سمجھتا رہا ہوں۔ مگر اب چار پانچ سال ہوئے انگلستان میں ایک کمیشن مقرر کیا گیا تھا جس نے تحقیق کے بعد یہ رپورٹ کی کہ ہاکی پلیئرز میں سل کا مادہ نسبتاً زیادہ دیکھا گیا ہے۔
    بہرحال یہ ایک ابتدائی کام ہے جیسا کہ بتایا گیا ہے ایسے لڑکے کالج میں نہیں آئے جو بڑے بڑے نمبروں پر پاس ہوئے ہوں۔ میں سمجھتا ہوں اگر ہمارے پروفیسر کوشش کریں اور والنا زعات غرقا کے ماتحت اپنے فرض کی ادائیگی میں پوری طرح منہمک ہو جائیں اور وہ سمجھ لیں کہ تعلیمی طور پر )تربیت تعلیم سے باہر نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ ہی شامل ہے( ہم نے اپنی زندگیاں وقف کردی ہیں اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو لڑکے ہمارے ہاں تعلیم پائیں وہ تعلیم میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں` وہ تربیت میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں وہ اخلاق فاضلہ میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں تو یقیناً وہ ان گھڑے جواہرات کو قیمتی ہیروں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اخلاص اور تقویٰ اور خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کریں اور لڑکوں کی تعلیمی حالت بھی بہتر بنائیں` ان کی اخلاقی حالت بھی بہتر بنائیں اور ان کی مذہبی حالت بھی بہتر بنائیں۔
    میں اس موقعہ پر اساتذہ اور طلباء دونوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارا مقصد دوسرے کالجوں سے زیادہ بلند اور اعلیٰ ہے۔ کئی باتیں اس قسم کی ہیں جو دوسرے کالجوں میں جائز سمجھی جاتی ہیں لیکن ہم اپنے کالج میں ان باتوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔ طلباء کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے افسروں کی کامل اطاعت اور فرماں برداری کریں اور اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے افسروں کی کامل اطاعت اور فرماں برداری کریں اور ان افسروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے سے بڑے افسروں کی کامل اطاعت اور فرماں برداری کریں۔ اگر کسی شخص کو کوئی شکایت پیدا ہو تو اسلامی طریق کے رو سے یہ جائز ہے کہ وہ بالا افسر کے پاس اس معاملہ کو پہنچائے اور حقیقت ظاہر کرے اور اگر وہ افسر توجہ سے کام نہ لے تو اس سے بھی بالا افسر کے پاس اپیل کرے۔ یہ دروازہ ہر شخص کے لئے کھلا ہے اور وہ اس سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکا ہے۔ ہمارا یہ طریق نہیں کہ جب تک ایجی ٹیشن نہ ہو ہم کسی کی بات نہیں سنتے۔ ہم صداقت کو ایک ادنیٰ سے ادنیٰ انسان کے منہ سے سن کر بھی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بلکہ صداقت اگر ایک چوہڑے کے منہ سے نکلے تو ہم اس کو بھی ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر صداقت نہ ہو تو خواہ سارا کالج مل کر زور لگائے ہم وہ بات تسلیم کرنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔
    پس جو روایت ہمارے سکول میں قائم ہے میں امید کرتا ہوں کہ کالج میں بھی اس کو قائم رکھا جائے گا۔ احمدی طالب علموں کے متعلق تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ اس پر پوری طرح قائم رہیں گے لیکن چونکہ اس کالج میں دوسرے طالب علم بھی داخل ہوں گے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے احمدی طلباء اپنے اثر سے دوسروں کو بھی اس روایت پر قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اور کوئی ایسی حرکت نہیں ہونے دیں گے جو کالج کے نظام کے خلاف ہو اور جس سے یہ شبہ پڑتا ہو کہ زور اور طاقت سے اپنی بات منوانے کی کوشش کی جاری ہے کیونکہ زور اور طاقت سے ماننے کے لئے یہاں کوئی شخص تیار نہیں ہے۔ دنیا میں لوگ زور اور طاقت سے اپنے مطالبات منواتے ہیں۔ مگر وہ اس وقت منواتے ہیں جب انہیں یقین ہوتا ہے کہ دوسرا فریق زور اور طاقت سے مرعوب ہو جائے گا۔ اگر انہیں یہ یقین نہ ہو تو وہ زور اور طاقت استعمال کرنے کی جرات بھی نہ کریں۔ واقعہ مشہور ہے کہ کوئی یتیم لڑکا جس کی ماں چکی پیس پیس کر گزارہ کیا کرتی تھی ایک دن اپنی ماں سے کہنے لگا۔ مجھے دو آنے چاہئیں۔ ماں نے اسے کہا۔ میرے پاس تو صرف ایک آنہ ہے۔ وہ لے لو۔ مگر لڑکا ضد کرنے لگا اور کہنے لگا میں تو دو آنے ہی لوں گا۔ وہ لڑکا اس وقت چھت کی منڈیر پر بیٹھا تھا ماں کو کہنے لگا مجھے دو ورنہ میں ابھی چھلانگ لگا کر مرجائوں گا۔ اس بے چاری کا ایک ہی لڑکا تھا۔ وہ اسے ہاتھ جوڑے` منتیں کرے اور بار بار کہے کہ بیٹا ایک آنہ لے لے اس سے زیادہ میرے پاس کچھ نہیں۔ مگر وہ یہی کہتا چلا جائے کہ مجھے دو آنے دے نہیں تو میں ابھی چھلانگ لگاتا ہوں۔ ماں نیچے کھڑی روتی جائے اور بچہ اوپر بیٹھ کر چھلانگ لگانے کی دھمکی دیتا چلا جائے اس وقت اتفاقاً گلی میں سے کوئی زمیندار گزر رہا تھا۔ وہ پہلے تو باتیں سنتا رہا۔ آخر اس نے وہ آلہ جس سے توڑی ہلائی جاتی ہے اور جسے سانگھا کہتے ہیں نکال کر اس لڑکے کے سامنے کیا اور کہا تو اوپر سے آمیں نیچے سے سانگھا تیرے پیٹ میں ماروں گا۔ لڑکا یہ سنتے ہی کہنے لگا میں نے چھلانگ تھوڑی لگانی ہے۔ میں تو اپنی ماں کو ڈرا رہا تھا۔
    تو اس قسم کی باتیں وہیں سنی جاتی ہیں جہاں زور اور طاقت سے دوسرے لوگ مرعوب ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہم وہ ہیں جنہیں اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ صداقت خواہ ایک کمزور سے کمزور انسان کے منہ سے نکلے اسے قبول کرلو اور صداقت کے خلاف کوئی بات قبول مت کرو چاہے وہ ایک طاقتور کے منہ سے نکل رہی ہو۔ قادیان سے باہر بے شک ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن ہمارے سلسلہ کی کسی انسٹی ٹیوٹ میں اس قسم کی باتیں برداشت نہیں کی جاسکتیں۔
    پس ہمارے نوجوانوں کو خود بھی احمدیت کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اور دوسرے نوجوانوں پر بھی واضح کرنا چاہئے کہ یہاں کوئی ایسا طریق برداشت نہیں کیا جاسکتا جو دین کے خلاف ہو اور مذہبی روایات کے منافی ہو۔ ہم نے یہ کالج دین کی تائید کے لئے بنایا ہے۔ اگر کسی وقت محسوس ہو کہ کالج بجائے دین کی تائید کرنے کے بے دینی کا ایک ذریعہ ثابت ہورہا ہے تو ہم ہزار گنا یہ زیادہ بہتر سمجھیں گے کہ اس کالج کو بند کر دیں بجائے اس کے کہ بے دینی اور خلاف مذہب حرکات کو برداشت کریں۔ اس کالج کے پروفیسروں کو بھی یہ امر مدنظر رکھنا چائے کہ بیرونی دنیا میں عام طور پر صداقت کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جاتا جب تک یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنے لوگ اس بات کو پیش کررہے ہیں۔ اگر ایک جتھہ کی طرف سے کوئی بات پیش کی جارہی ہو تو اسے مان لیتے ہیں۔ لیکن اگر ایک کمزور انسان کے منہ سے صداقت کی بات نکلے تو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ہمیں اس طریق کے خلاف یہ عمل کرنا چاہئے کہ اگر صداقت صرف ایک لڑکے کے منہ سے نکلتی ہے تو ہم اس بات کا انتظار نہ کریں کہ جب تک سو لڑکا اس کی تائید میں نہیں ہوگا ہم اسے نہیں مانیں گے۔ بلکہ ہمیں فوراً وہ بات قبول کرلینی چاہئے کیونکہ صداقت کو قبول کرنے میں ہی برکت ہے اور صداقت کو قبول کرنے سے ہی قومی ترقی ہوتی ہے۔
    یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا طریق سارے کا سارا اسلامی ہونا چاہئے۔ بے شک ہندو` سکھ` عیسائی جو بھی آئیں ہمیں فراخدلی کے ساتھ انہیں خوش آمدید کہنا چاہیے۔ مگر جہاں تک اخلاق کا تعلق ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ان کے اخلاق سرتاپا مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں ان کی عادات مذہب کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوں۔ ان کے افکار مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔ ان کے خیالات مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔ پس جہاں ہمارے پروفیسروں کا یہ کام ہے کہ وہ تعلیم کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیں وہاں ان کا ایک یہ کام بھی ہے کہ وہ رات دن اسی کام میں لگے رہیں کہ لڑکوں کے اخلاق اور ان کی عادات اور ان کے خیالات اور ان کے افکار ایسے اعلیٰ ہوں کہ دوسروں کے لئے مذہبی لحاظ سے وہ ایک مثال اور نمونہ ہوں۔ اگر خدا تعالیٰ کی توحید کا یقین ہم لڑکوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں تو ہندوئوں اور سکھوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ہندو بھی خدا کے قائل ہیں اور سکھ بھی خدا کے قائل ہیں۔ اگر ہم دہریت کو مٹاتے ہیں۔ اگر ہم خدا تعالیٰ کی ہستی کا یقین لڑکوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہم خدا تعالیٰ کی محبت کا درس ان کو دیتے ہیں تو ان کے ماں باپ یہ سن کر برا نہیں منائیں گے بلکہ خوش ہوں گے کہ ہمارے لڑکے ایسی جگہ تعلیم حاصل کررہے ہیں جہاں دینوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی مذہبی لحاظ سے بھی تربیت کی جارہی ہے۔ پس جہاں تک توحید کے قیام کا سوال ہے` جہاں تک مذہب کی عظمت کا سوال ہے` جہاں تک خدا تعالیٰ کی محبت کا سوال ہے مسلمان` ہندو` سکھ` عیسائی سب اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ان کو یہ تعلیم دی جائے کیونکہ ان کا اپنا مذہب بھی یہی باتیں سکھاتا ہے۔
    میرے نزدیک ہمیں ان باتوں پر اس قدر زور دینا چاہئے کہ ہمارے کالج کا یہ ایک امتیازی نشان بن جائے کہ یہاں سے جو طالب علم بھی پڑھ کر نکلتا ہے وہ خدا پر پورا یقین رکھتا ہے۔ وہ اخلاق کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ مذہب کی عظمت کا قائل ہوتا ہے۔ اگر ایک ہندو یہاں سے بی۔ اے کی ڈگری لے کر جائے تو اسے بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہئے۔ اگر ایک سکھ یہاں سے بی۔ اے کی ڈگری لے کر جائے تو اسے بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہئے۔ وہ دہریت کے دشمن ہوں۔ وہ اخلاق سوز حرکات کے دشمن ہوں۔ وہ مذہب کو ناقابل عمل قرار دینے والوں کے مخالف ہوں اور یورپین اثر سے پوری طرح آزاد ہوں۔ وہ چاہے احمدیت کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں مگر مذہب کی بنیادی باتیں ان کے دلوں میں ایسی راسخ ہوں کہ ان کو وہ کسی طرح چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں۔
    اسی طرح ہمارے کالج کا ایک امتیازی نشان یہ بھی ہونا چاہئے کہ اگر ایک عیسائی یا یہودی اس جگہ تعلیم حاصل کرے تو وہ بھی بعد میں یہ نہ کہے کہ سائنس یا حساب یا فلسفہ کے فلاں اعتراض سے مذہب باطل ثابت ہوتا ہے بلکہ جب بھی کوئی شخص ان علوم کے ذریعہ اس پر کوئی اعتراض کرے وہ فوراً اس کا جواب دے اور کہے میں ایک ایسی جگہ سے پڑھ کر آیا ہوں۔ جہاں دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے جو سب پر حکمران ہے۔ میں ایسے اعتراضات کا قائل نہیں ہوں۔
    اگر ہم دہریت کی تمام شاخوں کی قطع و برید کردیں۔ اگر ہم خدا تعالیٰ کی ہستی کا یقین کالج میں تعلیم پانے والے لڑکوں کے دلوں میں اس مضبوطی سے پیدا کردیں کہ دنیا کا کوئی فلسفہ` دنیا کی کوئی سائنس اور دنیا کا کوئی حساب انہیں اس عقیدہ سے منحرف نہ کرسکے تو ہم سمجھیں گے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔
    چونکہ اب شام ہوگئی ہے اس لئے میں اب اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔ لیکن میں آخر میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری نیت یہ ہے کہ جلد سے جلد اس کالج کو بی۔ اے بلکہ ایم۔ اے تک پہنچا دیں۔ اس لئے کالج کے جو پروفیسر مقرر ہوئے ہیں انہیں اپنی تعلیمی قابلیت کو بھی بڑھانے کا فکر کرنا چاہئے اور آئندہ ضروریات کے لئے انہیں ابھی سے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے تاکہ جب بڑی کلاسز کھولی جائیں تو قواعد کے لحاظ سے اور ضرورت کے لحاظ سے اور تجربہ کے لحاظ سے وہ ان کلاسز کو تعلیم دینے کے لئے موزوں ہوں اور اس کام کے اہل ہوں اور چونکہ ہمارا منشاء آگے بڑھنے کا ہے اس لئے جہاں کالج کے پروفیسروں کو اپنا تعلیمی معیار بلند کرنا چاہئے اور اپنے اندر موجودہ قابلیت سے بہت زیادہ قابلیت پیدا کرنی چاہئے وہاں انہیں یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ جب کالج میں وسعت ہو تو جو اچھے اور ہونہار طالب علم ہوں اور دین کا جوش اپنے اندر رکھتے ہوں ان کو اس قابل بنائیں کہ وہ اعلیٰ نمبروں پر پاس ہوں اور ساتھ ہی ان کے دینی جوش میں ترقی ہوتا کہ جب وہ تعلیم سے فارغ ہوں تو وہ صرف دنیا کمانے میں ہی نہ لگ جائیں بلکہ اس کالج میں پروفیسر یا لیکچرار کا کام کرکے سلسلہ کی خدمت کرسکیں۔ پس ایک طرف وہ اعلیٰ درجہ کے ذہین اور ہوشیار لڑکوں کے متعلق یہ کوشش کریں کہ وہ اچھے نمبروں پر کامیاب ہوں اور دوسری طرف انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائیں کہ جب وہ اپنے تعلیمی مقصد کو حاصل کرلیں تو اس کے بعد اپنی محنت اور دماغی کاوش کا بہترین بدلہ بجائے سونے چاندی کی صورت میں حاصل کرنے کے اس رنگ میں حاصل کریں کہ اپنے آپ کو ملک اور قوم کی خدمت کے لئے وقف کردیں۔ اس کے بغیر کالج کا عملہ مکمل نہیں ہوسکتا۔
    پس ایک طرف ہمارے پروفیسر خود علم بڑھانے کی کوشش کریں اور دوسری طرف آئندہ پروفیسروں کے لئے ابھی سے سامان پیدا کرنے شروع کردیں اور نوجوانوں سے کہیں کہ وہ قوم کی خدمت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ پھر خواہ انہیں کالج میں رکھ لیا جائے یا سلسلہ کے کسی اور کام پر لگایا جائے۔ بہرحال ان کا وجود مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ سکول میں میں نے دیکھا ہے جب افسروں کو اس طرف توجہ دلائی گئی تو اس کے بعد ہمیں سکول میں سے ہی ایسے کئی لڑکے مل گئے جنہوں نے اپنی زندگیاں سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کردیں۔
    میں امید کرتا ہوں کہ یہی طریق کالج میں بھی اختیار کیا جائے گا تاکہ جو طالب علم اس کالج سے تعلیم پاکر نکلیں ان کے متعلق ہمیں کامل یقین ہو کہ وہ تعلیم کے بعد دین کے میدان میں ہی آئیں گے۔ یہ نہیں ہوگا کہ دنیا کمانے میں مشغول ہو جائیں اور تاکہ ہم فخر سے کہہ سکیں کہ ہمارے کالج کا ہر طالب علم اپنے آپ کو دینی خدمت کے لئے پیش کردیتا ہے۔ صرف ہمارے بچے ہوئے طالب علم ہی دنیا کی طرف جاتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ خواہ ہم کوئی کام کریں ہماری اصل دوڑ مذہب کی طرف ہی ہونی چاہئے۔
    اب میں دعا کردیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیک خواہشات کو پورا فرمائے اور یہ بیج جو آج اس مقام پر ہم بورہے ہیں اس سے ایک دن ایسا درخت پیدا ہو جس کی ایک ایک ٹہنی ایک بڑی یونیورسٹی ہو` ایک ایک پتہ کالج ہو اور ایک ایک پھول اشاعت اسلام اور تبلیغ دین کی ایک اعلیٰ درجہ کی بنیاد ہو جس کے ذریعہ کفر اور بدعت دنیا سے مٹ جائے اور اسلام اور احمدیت کی صداقت اور خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی وحدانیت کا یقین لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائے۔ اللھم امین<۔۶۶
    فضل عمر سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام اور اس کے اغراض و مقاصد
    حضرت سیدنا المصلح الموعود نے تعلیم الاسلام کالج کے ساتھ سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی بھی بنیاد رکھی اور اس کی نگرانی چودھری عبدالاحد
    صاحب ایم۔ ایس۔ سی کے سپرد فرمائی۔ اس زمانہ میں اس نوعیت کے متعدد تحقیقاتی ادارے قائم تھے۔ بنگال میں ڈاکٹر بوس کی انسٹی ٹیوٹ تھی۔ اسی طرح الہ آباد یا بنارس یونیورسٹی کی طرف سے بھی کام ہورہا تھا۔ بنگلور میں میسور گورنمنٹ کی طرف سے ایک اعلیٰ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ تھی۔ دہلی میں مرکزی حکومت کی انسٹی ٹیوٹ تھی۔ مگر یہ سب ادارے یا حکومت کی طرف سے جاری تھے یا یونیورسٹیوں کی طرف سے یا ہندوئوں کی طرف سے۔ کروڑوں کی تعداد میں بسنے والے مسلمانوں کا کوئی ایک ادارہ بھی پورے ملک میں موجود نہ تھا۔ جس کی وجہ سے سیدنا المصلح الموعودؓ کے دل میں ہمیشہ خلش رہتی تھی۔۶۷ آخر اس کے قیام کا بھی سامان ہوگیا۔ اس طرح یہ پہلا مسلم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضرت فضل عمرؓ کی توجہ سے برصغر میں وجود میں آیا۔
    سیدنا المصلح الموعودؓ کے مدنظر اس عظیم تحقیقاتی مرکز کی تاسیس کا اصل مقصد کیا تھا اور آپ اس کے مستقبل سے متعلق کیا کیا عزائم رکھتے تھے اور کس طرح مغربی فلسفہ کے خلاف اسے ایک مضبوط اسلحہ خانہ بنانا چاہتے تھے اس کا کسی قدر اندازہ حضور کے خطبہ جمعہ کے درج ذیل اقتباس سے ہوسکتا ہے۔ فرمایا۔
    >ہمارا کالج درحقیقت دنیا کی ان زہروں کے مقابلہ میں ایک تریاق کا حکم رکھتا ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور مختلف قوموں میں سائنس اور فلسفہ اور دوسرے علوم کے ذریعہ پھیلائی جارہی ہیں۔ مگر اس زہر کے ازالہ کے لئے خالی فلسفہ اور دوسرے علوم کام نہیں آسکتے بلکہ اس غرض کے لئے عملی نتائج کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ایک کثیر حصہ سائنس کی ایجادات سے دھوکہ کھا گیا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگ گیا ہے کہ سائنس کے مشاہدات اور قانون قدرت کی فعلی شہادات اسلام کو باطل ثابت کررہی ہیں۔ اسی لئے کالج کے ساتھ ایک سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کی گئی ہے تاکہ بیک وقت ان دونوں ہتھیاروں سے مسلح ہوکر کفر پر حملہ کیا جاسکے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے قیام پر بھی دو لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔ پہلے سال کا خرچ تو اسی نوے ہزار کے قریب ہے لیکن اگلے سال جب عمارت کو مکمل کیا جائے گا اور سائنس کا سامان اکٹھا کیا جائے گا کم سے کم دو لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔ پھر سالانہ ستر اسی ہزار کے خرچ سے یہ کام چلے گا۔ اس کام کو چلانے کے لئے ہمیں قریباً بیس آدمی ایسے رکھنے پڑیں گے جنہوں نے سائنس کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم حاصل کی ہو۔ گویا کالج سے بھی زیادہ عملہ اس غرض کے لئے ہمیں رکھنا پڑے گا۔ کچھ عرصہ کے بعد امید ہے کہ یہ انسٹی ٹیوٹ خود روپیہ پیدا کرنے کے قابل بھی ہوسکے گی۔ کیونکہ اس ادارہ میں جب علوم سائنس کی تحقیق کی جائے گی تو ایسی ایجادات بھی کی جائیں گی جو تجارتی دنیا میں کام آسکتی ہیں یا صنعت و حرفت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ان ایجادات کو دنیا کے تجارتی اور صنعتی اداروں کے پاس فروخت کیا جائے گا۔ ہم ان اداروں سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے محکمہ نے یہ یہ ایجادات کی ہیں۔ اگر تم خریدنا چاہتے ہو تو خرید لو۔ اس طرح جو روپیہ آئے گا اس کے ذریعہ اس کام کو انشاء اللہ زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جاسکے گا۔
    اسی طرح میرا یہ بھی ارادہ ہے کہ سائنس کی جو ایجادات ایسی مفید ہوں کہ جماعت ان کو اپنے خرچ پر جاری کرسکتی ہو وہ ایجادات ہم اپنے ہاتھ میں رکھیں گے اور جماعتی خرچ سے ان کو دنیا میں فروغ دیں گے۔ جیسے ہوزری کا کارخانہ ہے۔ اس نے ایک لمبے عرصہ تک نقصان اٹھایا مگر اب وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قریباً سو فیصدی نفع دے سکتا ہے۔ تیس فیصدی نفع تو دے بھی چکا ہے۔ اسی طرح آہستہ آہستہ سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایجادات کے ذریعہ بھی سلسلہ کے مقاصد کی تکمیل کے لئے بہت کچھ روپیہ جمع ہونا شروع ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا میں جس قدر سائنس کی انسٹی ٹیوٹز ہیں ان کے موجد اس لئے ایجادات کرتے ہیں کہ تا اسلام تباہ ہو اور یورپ کا فلسفہ دنیا پر غالب آئے۔ مگر ہمارے موجد اس لئے ایجادات کریں گے تاکہ کفر تباہ ہو اور اسلام یورپ کے فلسفہ اور یورپ کے تمدن پر غالب آجائے۔ یہ لڑائی ہے جو اسلام اور یورپ میں جاری ہے۔ یہ لڑائی ہے جو احمدیت اور یورپ کا فلسفہ آپس میں لڑنے والے ہیں<۔۶۸
    مزید فرمایا۔
    >حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی کتابوں کو دیکھ لو۔ آپ نے جہاں اسلامی مسائل کی فوقیت ثابت کرنے کے لئے قرآنی آیات پیش کی ہیں۔ وہاں آپ نے قانون قدرت سے بھی دلائل پیش کئے ہیں اور فرمایا ہے کہ خدا کے کلام کی سچائی کا شاہد خدا کا فعل ہے اور یہ ناممکن ہے کہ خدا کا قول اور ہو اور اس کا فعل کچھ اور ظاہر کررہا ہو۔ ہمارا کام بھی یہی ہے کہ ہم خدا کی فعلی شہادت اسلام اور احمدیت کی تائید میں کالج اور سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ دنیا کے سانے پیش کریں۔ یہی مقصد کالج کے قیام کا ہے اور یہی مقصد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی تعلیم کے ماتحت دین کی تائید کو مدنظر رکھتے ہوئے نیچر پر غور کیا جائے گا۔ تاکہ ہم اسلام کی سچائی کی عملی شہادت دنیا کے سامنے پیش کرسکیں اور یورپ کے لوگوں سے کہہ سکیں کہ آج تک تم نیچر اور اس کے ذرات کی گواہی قرآن کے خلاف پیش کرتے رہے ہو مگر یہ بالکل جھوٹ تھا۔ تم دنیا کو دھوکہ دیتے رہے ہو۔ تم جھوٹ بول کر لوگوں کو ورغلاتے رہے ہو۔ آئو! ہم تمہیں دکھائیں کہ دنیا کا ذرہ ذرہ قرآن اور اسلام کی تائید کررہا ہے اور نیچر اپنی عملی شہادت سے محمد~صل۱~ کی راستبازی کا اعلان کررہا ہے۔ یہ کام بہت مشکل ہے۔ یہ کام بہت لمبا ہے اور اس کے لئے بہت بڑے سرمایہ کی ضرورت ہے۔ ابتدائی کام کے لئے بیس ایم ایس سی ایسے درکار ہوں گے جو رات اور دن اس کام میں لگے رہیں اور اسلام کی تائید کے لئے نئی سے نئی تحقیقاتیں کرتے رہیں۔ میں نے بتایا ہے کہ اس کام پر ستر ہزار سے ایک لاکھ روپیہ تک سالانہ خرچ ہوگا اور شروع میں کم سے کم اس غرض کے لئے دو لاکھ روپیہ کی ضرورت ہوگی۔ یورپ میں تو دو دو چار چار کروڑ روپیہ کے سرمایہ سے ایسے کاموں کا آغاز کیا جاتا ہے اور ممکن ہے ہمیں بھی زیادہ روپیہ خرچ کرنا پڑے<۔۶۹
    ابتدائی تاریخ
    فضل عمر ریسرچ انسٹی کا قیام کن مراحل میں سے گزر کر ہوا۔ اس کی ابتدائی تاریخ کیا ہے` شروع میں کیا کیا بنیادی کام ہوئے اور مستقبل کے لئے کیا پروگرام مدنظر تھا؟ ان سب امور پر ڈاکٹر چودھری عبدالاحد صاحب کے ایک مفصل مضمون۷۰ سے تفصیلی روشنی پڑتی ہے۔ جناب چودھری صاحب لکھتے ہیں۔
    >حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق شروع شروع میں خاکسار نے ہندوستان کا دورہ کرکے مختلف یونیورسٹیوں اور سائنس کے اداروں کو دیکھا اور مختلف ماہرین سائنس سے ملاقات کی تاکہ میری معلومات میں مزید اضافہ ہو۔ چونکہ حضور کے منشاء کے مطابق ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے کام میں بہت توسیع مدنظر تھی۔ اس لئے یہ ضروری تھا کہ اس کی بلڈنگ اور لیبارٹری باہر ایک کھلی جگہ بنائی جائے جس کے لئے زمین کے ایک بڑے رقبہ کی ضرورت تھی۔ لیکن دوران جنگ چونکہ بجلی کے لئے (CONNECTION) حاصل کرنے میں مشکلات تھیں اس لئے تعلیم الاسلام کالج کی دوسری منزل پر چند کمرے تعمیر کرنے کی تجویز ہوئی تاکہ کام فوری طور پر شروع کیا جاسکے۔ ان کمروں کے نقشے کی تفاصیل تیار کرنے کے بعد تعمیر کا کام مکرمی مولوی عبدالرحمن صاحب انور انچارج تحریک جدید کے سپرد ہوا۔ جنگ کی وجہ سے عمارت کے لئے ضروری سامان مثلاً لوہا` اینٹیں` سیمنٹ اور لکڑی وغیرہ کے ملنے میں بہت سی مشکلات تھیں۔ لیکن مکرم انور صاحب کی کوششوں اور دوسرے احباب کے تعاون سے یہ کام مختلف مراحل سے گزرتا ہوا جنوری ۱۹۴۶ء میں پایہ تکمیل پر پہنچا۔ فرنشنگ فٹنگ اور بجلی کا سامان مہیا کرنے میں بھی بہت سی مشکلات تھیں۔ دوسرے قادیان میں ماہر کاریگروں کی قلت کی وجہ سے اس کام کو پورا کرنے میں اندازہ سے زیادہ وقت صرف ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگ کی وجہ سے چونکہ سامان سائنس کی غیر ممالک سے درآمد بند تھی اور ہندوستان کی مشہور فرموں سے بہت کم سامان ملتا تھا اس لئے بیرونی ممالک سے بعض آلات کے حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ سے لائسنس حاصل کرکے انگلستان اور امریکہ سے سامان منگوانے کی کوشش کی گئی۔
    جماعت کی توجہ سائنس کے علوم کی طرف کم تھی اس لئے کام کرنے والوں کی قلت بہت شدت سے محسوس کی گئی۔ چنانچہ ان مشکلات کے پیش نظر حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پہلے ہی واقفین زندگی کے ایک گروہ کو سائنس کی اعلیٰ تعلیم کے لئے منتخب فرما کر ان کی ٹریننگ کا انتظام کروا دیا تھا۔ ابتداء میں خاکسار نے صرف ایک کلرک کی امداد سے کام شروع کیا۔ کچھ عرصہ سے مکرمی اقبال احمد صاحب بی ایس سی آنرز اور بشارت احمد صاحب بی ایس سی بھی تشریف لے آئے ہیں۔ ان ہر دو احباب نے ابتدائی تحقیقاتی کام شروع کر دیا ہے جسے وہ ایم ایس سی کی ڈگری کے لئے پیش کریں گے۔ انشاء اللہ۔
    اکتوبر ۱۹۴۵ء سے عطاء الرحمن صاحب غنی ایم ایس سی امپیریل انسٹی ٹیوٹ دہلی سے تشریف لائے ہیں اور لائبریری اور لٹریچر کی چھان بین کا کام ان کے سپرد کیا گیا ہے۔ پانچ مزید دوست مختلف اداروں میں بالترتیب ذیل ایم ایس سی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ غلام احمد صاحب عطا ایگریکلچرل کالج لائل پور میں` منور احمد صاحب بنارس یونیورسٹی میں` سلطان محمود صاحب شاہد` نصیر احمد خاں اور ناصر احمد سیال علی گڑھ یونیورسٹی میں` ان کے علاوہ محمد عبداللہ صاحب بی ایس سی انجینرنگ اور ناصر احمد صاحب سیال کو عنقریب اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھجوایا جارہا ہے۔ ان احباب کے علاوہ بہت سے اور نوجوان بھی زندگیاں وقف کرکے سائنس کی ابتدائی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان حالات میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قادیان میں جاری کرنا اور پھر کام کو جنگ کے ایام میں شروع کروانا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اولوالعزم ہونے کا زبردست ثبوت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حضور ہر مشکل کے وقت ہماری راہنمائی نہ فرماتے تو جنگ کے ایام میں اس کا شروع ہونا قریباً قریباً ناممکن تھا<۔
    پہلا باب )فصل سوم(
    قادیان میں تعلیم الاسلام کالج کی
    تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے تین سال
    )از احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش تا احسان/ جون ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش(
    جماعت احمدیہ کی یہ مرکزی درسگاہ قادیان کی روح پرورفضا اور زندگی بخش ماحول میں تقسیم برصغیر کے باعث صرف تین سال تک جاری رہ سکی۔ کالج نے اس نہایت قلیل عرصہ میں غیر معمولی ترقی کی اور اس کے ارتقاء کی رفتار حیرت انگیز رہی اور سیدنا المصلح الموعودؓ کی توجہ سے کالج نے اپنی کم عمری کے باوصف وہ تمام اہم خصوصیات حاصل کرلیں جو دوسرے ترقی یافتہ کالجوں کو سن بلوغت میں میسر آتی ہیں۔ اس سہ رسالہ دور کے بعض اہم واقعات یہ ہیں۔
    ۱۔ فزکس اور کیمسٹری کی تجربہ گاہوں کا قیام ۲۔ طلبہ کی تعلیمی دینی و اخلاقی نگرانی کے موثر اقدامات ۳۔ علمی تقریروں کا مفید سلسلہ ۴۔ طلبہ کالج کے لئے دینی نصاب ۵۔ مجلس مذہب و سائنس ۶۔ تعلیم الاسلام ریسرچ سوسائٹی ۷۔ فضل عمر ہوسٹل کی نئی عمارت کا افتتاح ۸۔ بی۔ اے اور بی۔ ایس۔ سی کلاسز کا آغاز ۹۔ فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح ۱۰۔ فضائی تربیت۔
    واقعات کے اجمالی تعارف کے بعد اب ان کی تفصیلات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
    فزکس اور کیمسٹری کی تجربہ گاہوں کا قیام
    کالج کا ایک اہم بنیادی مسئلہ جس نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ صدر کالج کمیٹی اور دوسرے ارباب حل و عقد کو بہت مشوش کر رکھا تھا` شعبہ سائنس کی تیاری کا مسئلہ تھا۔ یعنی۔
    ۱۔ سانس بلاک )لیکچر روم اور لیبارٹریوں( کو جلد از جلد قابل استعمال بنانا۔
    ۲۔ سائنس کے مطلوبہ سامان کی خرید۔
    ۳۔ گیس پلانٹ کا انتظام۔
    حصرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس کام کی سرانجام دہی کے لئے حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ سے براہ راست راہنمائی حاصل کی اور حضرت صاحبزادہ ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کو اطلاع دی کہ۔
    >اول گیس پلانٹ کا کام چونکہ زیادہ نازک ہے اور اس میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا بھی حصہ ہے۔ اس لئے وہ چوہدری عبدالاحد صاحب کے سپرد رہے۔
    دوم۔ باقی دونو کام یعنی )الف( سائنس کے کمروں کو استعمال کے قابل بنانا اور ان کی فٹنگ اور )ب( سائنس کے مطلوبہ سامان وغیرہ کی خرید وہ آپ کے سپرد ہوگی اور آپ مذکورہ کاموں کو اپنی نگرانی میں اپنے عملہ سے کروا لیں<۔۷۱
    شعبہ سائنس کے تینوں اہم کاموں کی تکمیل کے لئے پہلے سال جو جدوجہد کی گئی۔ اس کی تفصیل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی مندرجہ ذیل رپورٹ سے بخوبی مل سکتی ہے۔ یہ رپورٹ آپ نے صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش میں حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ کی خدمت اقدس میں بھجوائی تھی۔ آپ نے تحریر فرمایا۔
    >موسمی تعطیلات یعنی ۴۴/۷/۷۲۷ مختلف فرموں کے ساتھ خط و کتابت میں وقت گزر گیا اور ایام تعطیلات میں )۱( گیس پلانٹ )۲( کیمسٹری اور فزکس کے کمروں کی فٹنگ )۳( لیبارٹری کی فٹنگ )۴( کالج فرنیچر )۵( سائنس کا سامان` آلات و ادویہ کی خرید )۶( دفتر کالج کے عمارتی کام میں تبدیلی کے کام مکرمی رانا عبدالرحمن صاحب ناصر کے سپرد کئے گئے جنہوں نے مکرمی چوہدری عبدالاحد صاحب کے مشورہ سے PLANT GAS کے ۴۴/۱۲/۲۳ تک فٹ ہو جانے کے لئے ۶۰۰۰ روپیہ پر ایجوکیشنل سٹور لاہور کے ساتھ فیصلہ کیا اور اس عرصہ میں گیس پلانٹ کے لئے کنواں اور گیس ہائوس اور چار دیواری کا کام چوہدری غلام حسین صاحب اوورسیئر کی نگرانی میں مکمل کرایا۔
    سائنس کے کمروں کی فٹنگ کے سلسلہ میں جو لیکچر رومز تیار کرائے گئے تھے ان میں اینگل آئرن کی ضرورت تھی جس کی خرید میں سخت دقت پیش آئی۔ کئی مرتبہ لاہور جانا پڑا۔
    چونکہ لوکل کاریگروں کے لئے یہ کام بالکل نیا تھا باوجودیکہ ان کو نمونے دکھائے گئے مگر وہ FRAMING کا کام بالکل نہ کرسکے اس لئے وہ کام بھی لاہور سے کروایا گیا۔ اسی طرح لیبارٹری میں گیس اور پانی کی نالی کی فٹنگ یہاں کے کاریگر نہ کرسکے اس لئے لاہور کی ایک فرم کے ساتھ معاہدہ (AGREMENT) کرکے کام کی تکمیل کروائی گئی۔ لیکن گھومنے والے بلیک بورڈ قادیان میں ہی تیار کروا کر کیمسٹری اور فزکس کے کمروں کی فرنشنگ کروائی گئی<۔
    کالج کے سیکنڈ ایئر کے لئے روشنی (LIGHT) بجلی (ELECTRICITY) اور مقناطیسی (MAGNETISM) کا سامان ماہ اخاء و نبوت/ اکتوبر و نومبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش میں پہنچا۔
    ‏vat,10.4
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    طلباء کی دینی` تعلیمی اور اخلاقی نگرانی کے لئے موثر اقدامات
    ماہ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش میں طلبہ کی نگرانی کے لئے بعض اہم اقدامات کئے گئے۔ مثلاً کالج کو سات گروپوں میں تقسیم کرکے پروفیسر صاحبان کو گروپ انچارج مقرر کردیا گیا جن کا کام طلبہ کی ہر قسم کی نگرانی اور ان کی ترقی کے معیار کو ہررنگ اور ہرپہلو میں بلند کرنا تھا۔۷۳ نماز ظہر کالج کے تعلیمی وقت کے درمیان آتی تھی جس میں طلباء کی حاضری کی نگرانی کی جاتی تھی۔ علاوہ ازیں احمدی طلباء کے لئے جو قادیان کے کسی محلے یا ہوسٹل میں رہتے تھے` حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعود کے درس قرآن میں شمولیت لازمی قرار دے دی گئی۔۷۴ اسی تعلق میں حضرت پرنسپل صاحب کالج نے یکم نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو یہ خصوصی ہدایت جاری فرمائی کہ۔
    >اساتذہ کرام اس بات کا خیال رکھیں کہ آئندہ کوئی طالب علم کلاس میں ننگے سر نہ آئے۔ اگر کوئی طالب علم اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کو کلاس سے باہر نکال دیں جب تک کہ وہ ٹوپی پہن کر نہ آئے<۔۷۵
    کھیلوں کا اجراء
    علاوہ اس امر کے کہ کھیلوں کے بارے میں پنجاب یورنیورسٹی کے قواعد بہت سخت تھے اور ہیں سلسلہ احمدیہ کے مرکزی تعلیمی اداروں میں کھیلوں کو ہمیشہ نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے اور یہ اس کی مسلمہ قدیم روایات ہیں۔
    کالج میں کھیلوں کا باضابطہ اجراء ۱۸۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو ہوا۔ ایک ہفتہ بعد طلباء کو ان کی استعداد اور شوق کے مطابق مختلف گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا۔۷۶ کالج میں پہلا ٹورنامنٹ ماہ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کے آخری ہفتہ میں منعقد ہوا۔۷۷
    علمی تقریروں کا مفید سلسلہ
    افتتاح کالج کے بعد طلبہ کے اضافہ معلومات کے لئے ایک سلسلہ تقاریر جاری کیا گیا۔ اس سلسلہ کی پہلی تقریر آنریبل چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ۲۶۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو فرمائی جس میں آپ نے نہایت قیمتی نصائح اور تجاویز سے مستفید فرمایا۔ صدارت کے فرائض حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( نے انجام دیئے۔۷۸
    چودھری صاحب کی اس تقریر کے بعد سال ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش میں حسب ذیل مقررین نے خطاب فرمایا۔
    ڈاکٹر سید ریاض الحسن صاحب آفیسر انچارج بائی لاجیکل پروڈکٹس و اسسٹنٹ ڈائریکٹر گورنمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ عزت نگر )بریلی10]`( [p۷۹ مسٹر اے۔ ایچ بھٹی` حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی۔ مولانا ابوالعطاء صاحب` قاضی محمد نذیر صاحب۔۸۰`۸۱
    کالج یونین کی بنیاد
    طلبہ میں اردو اور انگریزی میں تقریر کا ملکہ پیدا کرنے کے لئے اخوند عبدالقادر صاحب ایم۔ اے کی زیر نگرانی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے دوران ہی کالج یونین قائم کی گئی۔۸۲ اسی طرح ہائیکنگ کلب اور بعض اور سوسائٹیوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
    کالج کی ہائیکنگ پارٹی چمبہ میں
    ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش میں کالج کی ہائیکنگ پارٹی چودھری محمد علی صاحب ایم۔ اے کی قیادت میں پانگی )ریاست چمبہ( کے علاقہ میں گئی۔ یہ پارٹی حسب پروگرام ۶۔ وفا/ جولائی کو قادیان سے روانہ ہوئی اور ۹۔ ظہور/ اگست کو بخیریت واپس پہنچی۔ اس ہندوستان ریاست میں طلبہ سے نہایت تنگدلانہ اور متعصبانہ سلوک روا رکھا گیا۔ جس کی مفصل اطلاع چودھری صاحب نے حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کے حضور بھی کردی چنانچہ انہوں نے لکھا حضور کے خدام کالج ہائیکنگ پارٹی اس وقت کلڈر پانگی میں چار روز سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس جگہ سارے پانگی میں جہاں تک خاکسار کے علم کا تعلق ہے صرف ایک سنار مسلمان ہے۔ باقی سب کٹر ہندو ہیں۔ یہاں پر ایک بنگالی سوامی جی ہیں۔ انہوں نے ہمارے راشن اور قلیوں کی فراہمی میں سخت دقت پیدا کی ہے۔ یہاں سرکاری ڈپو ہے اور آٹا وغیرہ یہاں سے ملتا ہے۔ لیکن پہلے ہی دن سوامی جی نے خود آکر ڈپو والے کو ہمیں آٹا دینے سے روک دیا۔ سوامی جی کا لوگوں میں بہت رسوخ ہے۔ یہاں تک کہ سرکاری ملازمین اور افسروں کا راشن بھی بعض اوقات بند کر دیتے ہیں۔ یہاں پر کچھ آریہ سماجی بھی آئے ہوئے ہیں وہ بھی شرارت کررہے ہیں۔ پارٹی کا پروگرام ٹوٹ رہا ہے اور جب تک راشن نہ ہو واپس آنا سخت مشکل ہے۔ پانگی کی چڑھائی اور میل ہامیل برف پر چلنے کی وجہ سے اور بارش میں بھیگ جانے کے باعث اور خوراک کی قلت کے سبب پارٹی کے اکثر ممبر بیمار ہوچکے ہیں۔ اگرچہ یہاں ہسپتال ہے اور ڈاکٹر صاحب جو نہایت شریف آدمی ہیں ہماری مدد کررہے ہیں اور ہمارے اپنے پاس بھی کچھ دوائیاں ہیں پھر بھی پانگی کا راستہ واپس طے کرنا مشکل ہے جب تک پورا سامان خوراک نہ ہو اور قلی نہ ہوں۔ قلیوں کو بھی سوامی جی نے بہکا دیا ہے۔ یہاں لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ ہمارا دھرم بھر شٹ کرنے آئے ہیں۔ )الفضل ۱۳۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۲(
    چودھری محمد علی صاحب کا بیان ہے کہ جب ہم واپس ڈلہوزی پہنچے تو حضورؓ کی خدمت میں اطلاع بھیجی۔ حضور بلا توقف` بے تابانہ` ایک ہاتھ میں قلم` ایک میں کاغذ` پیشانی مبارک پر چشمہ` ننگے سر` ننگے پائوں` سیڑھیوں کے پاس تشریف لے آئے۔ ہم دوڑ کر حضورکی خدمت میں پہنچے۔ سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل کی اور حضور اسی حالت میں حالات دریافت فرماتے رہے۔
    احمدی طلباء کے لئے دینی نصاب
    مجلس تعلیم نے سیدنا حضرت المصلح الموعودؓ کی منظوری کے بعد ۳۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش۸۳ کو انٹر میڈایٹ کلاس کے احمدی طلباء کے لئے حسب ذیل دینی نصاب مقرر کیا۔
    ۱۔ >قرآن شریف ناظرہ مع ایسے ترجمہ کے جو اس کے مطالب کو واضح کرنے والا ہو۔ حفظ ربع آخر پارہ عم
    ۲۔ حدیث۔ عمدۃ الاحکام
    ۳۔ کلام۔ نزول المسیح۔ کشتی نوح۔ ترجمہ لباب الخیار۔ احمدیت یعنی حقیقی اسلام۔ ہمارا خدا
    ۴۔ ایسے احمدی طلباء جو باہر سے آئے ہوئے ہونے کی وجہ سے اوپر کا نصاب نہ سمجھ سکتے ہوں یا پورا نہ کرسکتے ہوں ان کے لئے مندرجہ ذیل نصاب ہوگا۔
    )الف( قرآن شریف ناظرہ و قرآن شریف باترجمہ تا آخر سورۃ توبہ و ترجمہ نماز۔
    )ب( حدیث۔ نبر اس المومنین
    )ج( کلام۔ نزول المسیح۔ کشتی نوح۔ ترجمہ لباب الخیار۔ احمدیت یعنی حقیقی اسلام۔ ہمارا خدا۔
    ۵۔ باہر سے آنے والے طلباء میں سے جو اس نصاب کو نہ لیں ان کے لئے حسب ذیل عام اسلامی تاریخ کا نصاب ہوگا۔ سیرت خاتم النبین حصہ اول ایڈیشن ثانی` مختصر تاریخ اسلام مصنفہ شاہ معین الدین ندوی اعظم گڑھ` اردو ترجمہ لباب الخیار` سوانح حضرت محمدﷺ~ صاحب مصنفہ شردھے پرکاش صاحب۔۸۴`۸۵
    پرنسپل تعلیم الاسلام کالج پنجاب یونیورسٹی کی اکیڈیمک کونسل میں
    تعلیم الاسلام کالج کو پہلے ہی سال پورے صوبہ بلکہ ملک بھر میں جو شہرت نصیب ہوئی اس کا نہایت خوشگوار اثر صوبائی کالجوں پر یہ پڑا کہ پنجاب یونیورسٹی کے تمام انٹرمیڈیٹ کالجوں کے پرنسپل صاحبان نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو متفقہ طور پر سال ۴۶۔ ۱۹۴۵ء کیلئے یونیورسٹی کی اکیڈیمک کونسل کا ممبر منتخب کرلیا اور پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے آپ کو ۶۔ جنوری ۱۹۴۵ء کو یہ اطلاع بھی مل گئی۸۶
    مجلس مذہب و سائنس کا قیام
    سیدنا حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے ماہ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش میں قیام کالج کے بعد جماعت احمدیہ میں اعلیٰ علمی ` مذہبی اور سائنٹفک تحقیق کا مذاق پیدا کرنے کے لئے >مجلس مذہب و سائنس< کے نام سے ایک اہم مجلس کی تاسیس فرمائی۔ جس کا صدر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کو نامزد فرمایا۔ حضرت میاں صاحب نے مجلس کا کام چلانے کے لئے حسب ذیل عہدیدار مقرر فرمائے۔
    ۱۔ نائب صدر۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج قادیان
    ۲۔ زائد نائب صدر۔ مولانا ابوالعطاء صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ قادیان
    ۳۔ جنرل سیکرٹری۔ چودھری عبدالاحد صاحب ایم ایس سی۔ پی ایچ ڈی۔
    ۴۔ نائب سیکرٹری۔ چودھری خلیل احمد صاحب ناصر بی اے و عبدالسلام صاحب اختر ایم اے
    ۵۔ انچارج لائبریری۔ پروفیسر عطاء الرحمن صاحب غنی ایم ایس سی
    ۶۔ ایڈیٹر حصہ انگریزی۔ ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے
    ۷۔ ایڈیٹر حصہ اردو۔ چودھری خلیل احمد صاحب ناصر بی۔ اے۸۷
    مجلس کے بنیادی مقاصد یہ تھے کہ سائنس` فلسفہ` اقتصادیات` عمرانیات اور دوسرے علوم جدیدہ کی طرف سے مذہب پر عموماً اور اسلام پر خصوصاً ہونے والے اعتراضات کی اعلیٰ علمی سطح پر تحقیق کی جائے۔ اس غرض کے لئے چار سب کمیٹیوں کی تشکیل کی گئی۔ ۱۔ سب کمیٹی مذہب` ۲۔ سب کمیٹی سائنس` ۳۔ سب کمیٹی فلسفہ اور ۴۔ سب کمیٹی اقتصادیات` پولیٹیکل سائنس اور سوشیالوجی وغیرہ۔ ان سب کمیٹیوں کے سیکرٹری بالترتیب مولانا ابوالعطاء صاحب` ڈاکٹر عبدالاحد صاحب ایم۔ ایس۔ سی` پی ایچ ڈی` چوہدری محمد علی صاحب ایم اے اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب تجویز ہوئے۔
    مجلس کا پہلا پبلک جلسہ ۲۹۔ امان/ مارچ ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کو مسجد اقصیٰ میں منعقد ہوا جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے نہایت لطیف پیرایہ میں مجلس کی اہمیت و ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔
    >سلسلہ احمدیہ کے کام کا دائرہ اب آہستہ آہستہ بہت وسعت اختیار کرتا جارہا ہے۔ جس طرح سمندر میں پہلے ایک لہر اٹھتی ہے` پھر دوسری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر تیسری اور اس طرح لہروں کا حلقہ وسیع ہوتا جاتا ہے اسی طرح خدائی سلسلہ بھی روز بروز بڑھتا ہے اور اپنے حلقہ کو وسیع کرتا جاتا ہے۔ شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں ہماری ابتدائی بحث قریباً نوے فیصدی وفات مسیح کے مسئلہ پر ہوا کرتی تھی۔ پھر صداقت مسیح موعود کے مسئلہ پر زور شروع ہوا۔ پھر نبوت کے مسائل پر بحث کا دور آیا اور ساتھ ساتھ دوسری قوموں کے ساتھ مقابلہ بڑھتا گیا۔ اور اب آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ وہ وقت لارہا ہے جب کہ احمدیت کا ساری دنیا کے ساتھ ٹکرائو ہونے والا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہی اسے انشاء اللہ عالمگیر فتح حاصل ہوگی<۔
    >اس وقت ہمارے لئے معین مذہبی تعلیمات کو چھوڑ کر تین مقابلے درپیش ہیں۔ ان میں سے بعض تو حقیقی ہیں اور بعض خیالی۔ لیکن بہرحال ان تینوں کا مقابلہ کرنا اس مجلس کا کام ہے۔ پہلا دائرہ جو اقتصادیات کا دائرہ ہے ایک عملی دائرہ ہے جس کا اسلام اور احمدیت سے بھاری مقابلہ ہے۔ ہمیں اس کے مقابلہ پر وہ نظام پیش کرنا ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اور اسے غالب کرکے دکھانا ہے۔ دوسرا دائرہ جو فلسفہ سے تعلق رکھتا ہے ایک قولی مقابلہ ہے۔ یہ لوگ فلسفے کے چند نظرئے پیش کرتے ہیں جو بعض صورتوں میں اسلامی تعلیموں کے ساتھ سخت ٹکراتے ہیں۔ ہمیں اس کے مقابلہ میں اسلام کے نظریئے پیش کرنے اور ان کی فوقیت ثابت کرنی ہے۔ تیسرا حلقہ سائنس کا ہے۔ اس حلقہ کا مذہب کے ساتھ کوئی حقیقی ٹکرائو نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا ہے سائنس خدا کا فعل ہے اور مذہب خدا کا قول ہے مگر چونکہ بعض لوگ کوتاہ بینی کی وجہ سے غیر ثابت شدہ حقائق کو ثابت شدہ حقائق سمجھ کر اعتراض کر دیتے ہیں۔ اس لئے اس کے مقابلہ کی بھی ضرورت ہے۔
    تو یہ تین دائرے ہیں۔ ایک عملی دوسرا قولی تیسرا خیالی یعنی غیر حقیقی` جن کے مقابلہ کے لئے یہ مجلس مذہب و سائنس قائم ہوئی ہے۔۸۸
    مجلس نے اپنے قیام کے بعد سب سے پہلے خصوصی توجہ دو امور پر مرکوز کردی۔
    ۱۔ جدید علوم کی طرف سے اسلام اور مذہب پر وارد ہونے والے اعتراضات کی مکمل فہرست۔
    ۲۔ علوم جدیدہ کے لٹریچر کی مکمل فہرست۔
    مجلس نے ابتداء ہی میں موجودہ دنیا کے اہم ترین علمی مضامین کی تحقیق کے لئے مندرجہ ذیل اہل علم و فہم کی خدمات حاصل کرلیں۔
    مقرر

    موضوع
    تاریخ خطاب
    ۱۔ ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے

    >دنیا کی موجودہ تحریکیں< ۲۶۔ امان/ مارچ ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش۸۹
    ۲۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔ اے

    >اشتراکیت اور مذہب< ۱۹۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش۹۰
    ۳۔ پروفیسر محمد علی صاحب ایم۔ اے

    >علم النفس کے جدید نظریئے< ۳۱۔ہجرت/ مئی ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش۹۱
    ۴۔ چودھری عبدالاحد صاحب ایم ایس سی` پی ایچ ڈی

    >نظام کائنات اور سائنس کی حدود< ۴۔وفا/ جولائی ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش۹۲
    ۵۔ چودھری عبدالاحد صاحب ایم ایس سی` پی ایچ ڈی

    >نظام کائنات اور سائنس کی حدود< یکمنبوت/ نومبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش۹۳
    ۶۔ چودھری عبدالاحد صاحب ایم ایس سی` پی ایچ ڈی

    >زندہ اشیاء کے خواص اور زندگی کی اہمیت< ۲۷۔ احسان/ جون ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش۹۴
    ۷۔ ڈاکٹر پی۔ کے کچلو صاحب پروفیسر طبیعات گورنمنٹ کالج لاہور

    >جوہری تواناہی< ۴۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش۹۵
    ۸۔ ڈاکٹر میلارام صاحب پروفیسر طبیعات ایف۔ سی کالج لاہور

    >زمین کی عمر< ۱۸۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش۹۶
    ۹۔ ڈاکٹر آسکر برفلر صاحب )ڈی۔ ایس۔ سی(

    >مذہب اور سائنس< ۲۵۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش۹۷
    پہلی تین تقاریر کے سوا جن میں بالترتیب حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ` حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ اور مولوی ابوالعطاء صاحب نے صدارت کے فرائض انجام دیئے باقی سب اجلاسوں میں سیدنا المصلح الموعودؓ بنفس نفیس رونق افروز رہے اور حضور نے اپنے بیش قیمت ارشادات سے مستفیض فرمایا۔
    مجلس مذہب و سائنس کے زیر اہتمام پہلے آٹھ لیکچر مسجد اقصیٰ میں دیئے گئے اور نواں لیکچر مسجد مبارک میں ہوا۔ یہ مجلس تقسیم ہند تک قائم رہی اور اپنے دائرہ عمل میں نہایت قابل قدر اور مفید علمی خدمات سرانجام دیتی رہی۔
    تعلیم الاسلام ریسرچ سوسائٹی کی بنیاد
    سیدنا المصلح الموعود کے ارشاد پر >مجلس مذہب و سائنس< کے علاوہ ۱۸۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کو >تعلیم الاسلام ریسرچ سوسائٹی< بھی قائم کی گئی جس کے بنیادی اغراض و مقاصد یہ تھے کہ طلباء اور اساتذہ دونوں میں تحقیقاتی اور علمی مذاق پیدا کیا جائے اور ان اعتراضات کے متعلق جو مذہب پر عموماً اور اسلام پر خصوصاً سائنس اور دیگر علوم کی بناء پر کئے جاتے ہیں پوری تحقیقات کرکے ان کا رد کیا جائے۔ سوسائٹی کی دو شاخیں تجویز کی گئیں۔ )الف( سائنس سیکشن )ب( آرٹس سیکشن۔
    اس علمی اور تحقیقاتی مجلس کے صدر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )پرنسپل( اور سرپرست حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب )صدر کالج کمیٹی( تھے۔ اور اس کے قواعد میں یہ بات شامل تھی کہ یہ سوسائٹی فضل عمر سائنٹفک اینڈ ریلیجس سوسائٹی کے لئے جس کا نام مجلس مذہب و سائنس رکھا گیا` پودوں کے ذخیرہ )YR(NURSE کے طور پر کام کرے گی۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ کالج یونین` جوبلی فنڈ` صدر انجمن احمدیہ اور عطیہ جات سے اس کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
    فضل عمر ہوسٹل کی نئی عمارت کا افتتاح
    فضل عمر ہوسٹل عارضی طور پر گیسٹ ہائوس میں قائم ہوچکا تھا۔ مگر ضرورت اس امر کی بھی کہ اسے کالج کمیٹی کی طے شدہ پروگرام کے مطابق جامعہ احمدیہ کی عمارت میں منتقل کردیا جائے۔ یہ جگہ تعلیم الاسلام کالج سے بالکل متصل غربی جانب واقع تھی اور خلافت اولیٰ کے زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے کی رہائش گاہ اور دفتر تفسیر القرآن کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
    یہ عمارت بہت سے تعمیری اضافوں اور تبدیلیوں کے بعد ماہ اخاء/ اکتوبر میں ہوسٹل کی صورت میں تبدیل کر دی گئی اور حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے اس کا افتتاح اسی ماہ ۲۷۔ اخاء/ اکتوبر کو نماز عصر کے بعد فرمایا۔
    اس تقریب پر چوھدری محمد علی صاحب ایم۔ اے سپرنٹنڈنٹ فضل عمر ہوسٹل نے پہلے ایک ایڈریس پیش کیا جس کے ابتداء میں کہا۔
    >آج سے ۳۱ سال پہلے جبکہ منکرین خلافت خدا کے رسول کی تخت گاہ چھوڑ رہے تھے تو ان میں سے ایک نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج سے دس سال کے بعد اس بلڈنگ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق مصلح موعود کے مبارک دور میں جماعت کو ترقی پر ترقی عطاء فرمائی۔ وہ بلڈنگ جس کے متعلق یہ بات کہی گئی تھی۔ اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے نوازا اور سکول کی بجائے اسے کالج کی بلڈنگ میں تبدیل کر دیا۔ فالحمدلل¶ہ علیٰ ذالک۔
    یہ جگہ جہاں موجودہ ہوسٹل کی تعمیر ہوئی ہے` یہ وہ جگہ ہے جہاں منکرین خلافت کے امیر رہا کرتے تھے۔ لیکن آج ان کی کوٹھی کالج کے ہوسٹل میں تبدیل ہوگئی ہے۔ یہ سب باتیں ہمارے لئے نشان ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم حضور سے درخواست کرتے ہیں کہ حضور دعا فرماویں کہ اللہ تعالیٰ ہر برے اثر کو اس جگہ سے دور کرے اور اپنی برکات کی بارش سے سیراب کرے<۔۹۸
    اس ایڈریس کے بعد حضرت امیرالمومنین المصلح الموعودؓ نے ایک نہایت روح پرور اور وجد آفریں تقریر فرمائی جس کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ۔
    >سپرنٹنڈنٹ صاحب ہوسٹل تعلیم الاسلام کالج نے ایک پرانے واقعہ کی طرف اپنے ایڈریس میں اشارہ کیا ہے۔ آپ لوگ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے والے اور تاریخی طور پر اسے یاد رکھنے والے اس کیفیت کا اندازہ نہیں کرسکتے جو کیفیت آج سے ۳۲ سال پہلے مارچ ۱۹۲۱۴ء میں قادیان کے لوگوں پر طاری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت کی قادیان آج والی قادیان نہ تھی جتنے محلے قصبہ سے باہر آج آباد نظر آتے ہیں ان میں سے کوئی بھی نہ تھا۔ قادیان کی آبادی اس وقت قریباً قریباً اتنی ہی ہوگی۔ جتنی اس وقت کالج اور اس کے متعلقین کی تعداد ہے۔ قصبہ کے باہر جتنے مکانات نظر آتے ہیں سوائے سکول کے اور سوائے مسجد نور اور مولوی محمد علی صاحب کی اس کوٹھی کے جس کی طرف سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اشارہ کیا ہے۔ باقی تمام جنگل ہی جنگل تھا۔ اس وقت یہ سوال جماعت کے سامنے آیا کہ کیا اپنے اصول پر قائم رہ کر اکابرین جماعت کا مقابلہ کریں یا ان سے ڈر کر ہتھیار رکھ دیں۔ اس وقت اس فیصلہ کا انحصار ایک ایسے شخص پر تھا جس کی عمر کالج کے بہت سے پروفیسروں سے کم تھی۔ جس کی حیثیت موجودہ کالج کے بہت سے پروفیسروں سے بہت کم تھی۔ جس کا علم جہاں تک دینوی علوم کا تعلق ہے` کالج کے ہر طالب علم سے کم تھا۔ صرف اس ایک انسان کے ذمہ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا ان تمام ذمہ داریوں کے ہوتے ہوئے آیا ان تمام بوجھوں کے ہوتے ہوئے اور آیا ان تمام کمزوریوں کے ہوتے ہوئے جبکہ جماعت کے تمام اکابر خلاف کھڑے ہوگئے تھے جبکہ بہت سی بیرونی جماعتوں میں ابتلاء آچکا تھا جبکہ جماعت کے لوگوں میں یہ خیال پیدا کردیا گیا تھا کہ قادیان کے لوگ سلسلہ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور بہت بڑے فتنہ کی بنیاد رکھ رہے ہیں` اس وقت ان کا مقابلہ کرنا چاہئے یا ان کے سامنے ہتھیار رکھ دینے چاہئیں۔ وہ اکابر جو سلسلہ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے ان کا اندازہ اس وقت کی حالت کی نسبت کیا تھا اس کی طرف سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اپنے ایڈریس میں اشارہ کیا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا اثر و رسوخ اتنا زیادہ ہے اور ہمارے مقابلہ میں کھڑے ہونے والے تعداد میں` علم میں` ساز و سامان میں اور اثر و رسوخ میں اتنے کمزور ہیں کہ اگر ہمارے مقابلے میں کھڑے ہوئے تو گرتے پڑتے زیادہ سے زیادہ دس سال تک ٹھہریں گے۔ پھر یہاں عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا اور احمدیوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اس وقت اس شخص کو جس کی عمر ۲۵ سال تھی` خدا تعالیٰ کے فضل سے اس بات کا فیصلہ کرنے کی توفیق ملی کی خواہ حالات کچھ بھی ہوں اس جھنڈا کو کھڑا رکھے گا جس کو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ذریعہ کھڑا کیا ہے<۔۹۹
    اس کے بعد حضور نے ۱۹۱۴ء کے بعض واقعات پر روشنی ڈالنے کے بعد طلباء کو نصیحت فرمائی۔
    >آج آپ لوگ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ دن کیسے خطرناک تھے اور خدا تعالیٰ نے کس قسم کے فتنوں میں سے جماعت کو گزارا۔ اس حالت کا آج کی حالت سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر وہی جوش اور وہی اخلاص جو اس وقت جماعت میں تھا آج بھی آپ لوگوں میں ہو تو یقیناً تم پہاڑوں کو ہلا سکتے ہو۔ اس وقت جماعت کے لوگ بہت تھوڑے تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا ایمان اور ایسا جوش بخشا کہ کوئی بڑی سے بڑی روک بھی انہیں کچھ نہ نظر آتی تھی۔ آج کے نوجوان اور آج کی جماعت اگر ویسا ہی ایمان پیدا کرلے تو دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کرسکتی ہے۔ جو کام ایک پونڈ بارود کرسکتا ہے ایک ٹن بارود اس سے بہت زیادہ کام کرسکتا ہے۔ اگر اس وقت جماعت کی حیثیت پونڈ کی تھی تو آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ٹن کی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس وقت جماعت کے لوگ بارود تھے کیا آج بھی وہ بارود ہیں یا ریت کے ڈھیر۔ اگر بارود ہیں تو یقیناً آج اس وقت کی نسبت بہت زیادہ کام کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر ریت ہیں تو اس وقت کے کام کا سواں حصہ بھی نہیں کرسکتے۔ پس میں نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اندر اخلاص پیدا کریں<۔۱۰۰
    حضور نے آخر میں مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔
    >یہ سامنے کی کوٹھی جنہوں نے اپنے رہنے کے لئے بنوائی تھی اس میں اب ہوسٹل کے جو سپرنٹنڈنٹ رہیں گے وہ ان کے ہم نام` ہم قوم` ہم ڈگری اور ہم علاقہ ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے لکھا ہے۔ پہلا آدم آیا تو اسے شیطان نے جنت سے نکالا مگر دوسرا آدم اس لئے آیا کہ جنت میں داخل کرے۔ اس کوٹھی میں پہلے رہنے والے محمد علی نام کے` ایم۔ اے ڈگری والے` ارائیاں قوم کے اور وطن کے لحاظ سے جالندھری تھے` ان کے ساتھیوں نے خلافت کے اختلاف کے وقت کہا تھا۔ دیکھ لینا! دس سال تک یہاں عیسائیوں کا قبضہ ہوگا۔ خدا تعالیٰ کی نکتہ نوازی دیکھو۔ دس سال بعد نہیں تیس سال بعد ایک دوسرا شخص اسی نام` اسی ڈگری` اسی قوم اور اسی ضلع کا آج ہمارے سامنے یہ کہہ رہا ہے کہ اب میں اس کوٹھی میں رہوں گا اور احمدیت کی روایات کو قائم رکھنے کی کوشش کروں گا۔ جو کچھ پہلے محمد علی ایم۔ اے ارائیں جالندھری نے کہا تھا بالکل غلط ہے۔ یہ جگہ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ہی بنائی اور یہاں اسلام کے خادم ہی رہیں گے۔ اور میں محمد علی ایم اے ارائیں جالندھری اپنے طلبہ سمیت پوری کوشش کروں گا کہ احمدیت اپنی سب روایات سمیت قائم ہے اور دنیا پر غالب آئے<۔۱۰۱
    یونیورسٹی کمیشن کی طرف سے تعلیم الاسلام کالج کا معائنہ اور اظہار مسرت
    سیدنا حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کے ارشاد کے پیش نظر کالج کمیٹی نے پنجاب یونیورسٹی سے درخواست کی کہ کالج کو بی۔ اے
    اور بی ایس سی تک بڑھانے کی اجازت دی جائے۔ اس پر یونیورسٹی نے تمام حالات کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک کمیشن قادیان بھجوایا۔ یہ کمیشن ملک عمر حیات صاحب پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور` سردار جودھ سنگھ صاحب پرنسپل خالصہ کالج امرتسر اور ڈاکٹر جی ایل دتا صاحب پرنسپل ڈی اے وی کالج پر مشتمل تھا۔ ارکان کمیشن نے ۹۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش کو تعلیم الاسلام کالج کا معائنہ کیا اور کالج کی جائے وقوع` اس کی عمارات` سامان` گرائونڈز وغیرہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فضل عمر سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دیکھ کر تو یہ اثر لے کر گئے کہ کالج سے متعلق ان تیاریوں سے ظاہر ہے کہ ایک یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔۱۰۲
    تعلیم الاسلام کالج میں توسیع کے لئے حضرت امیر المومنین کی اپیل
    جماعت احمدیہ کے اولوالعزم روحانی سپہ سالار حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ نے کالج کی افتتاحی تقریب پر اس دلی منشاء کا اظہار فرما دیا
    تھا کہ آپ اس دن کے آنے کے منتظر ہیں کہ >اس بیج میں سے ایک دن ایسا درخت پیدا ہو جس کی ایک ایک ٹہنی ایک بڑی یونیورسٹی ہو اور ایک ایک پتہ کالج بن جائے اور ایک ایک پھول اشاعت اسلام اور تبلیغ دین کی ایک اعلیٰ درجہ کی بنیاد ہو<۔
    حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے اس عظیم الشان نصب العین کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے قیام پاکستان سے قبل جو تدریجی قدم اٹھائے ان میں تعلیم الاسلام کالج میں بی۔ اے اور بی ایس سی کی کلاسوں کا اضافہ بھی ہے حضور نے اس سلسلہ میں ناصر آباد سندھ سے ۱۵۔ امان/ مارچ ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش کو حسب ذیل مضمون رقم فرمایا۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
    ھوالناصر
    من انصاری الی اللہ
    تعلیم الاسلام کالج قادیان میں توسیع
    بی۔ اے اور بی۔ ایس۔ سی کی کلاسیں کھولنے کی تجویز
    احباب کو معلوم ہے کہ دو سال سے قادیان میں کالج کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اس سال ایف۔ اے اور ایف ایس سی کے طالب علم امتحان دیں گے اور پاس ہونے والے بی۔ اے اور بی۔ ایس۔ سی میں داخل ہوں گے۔ چونکہ ایف اے اور ایف ایس سی تعلیم کا منتہیٰ نہیں ہے اس کے لئے تکمیل تعلیم کے لئے بی۔ اے اور بی۔ ایس۔ سی کی جماعتوں کا ہونا ضروری ہے۔ جن کے کھولنے کے لئے صرف عمارت اور فرنیچر اور سائنس کے سامان کا اندازہ ایک لاکھ ستر ہزار کیا جاتا ہے اور کل خرچ پہلے سال کا دو لاکھ پانچ ہزار بتایا جاتا ہے۔ یونیورسٹی کی طرف سے کمیشن آکر بی۔ اے اور بی۔ ایس۔ سی کی جماعتوں کے کھولنے کی سفارش کرچکا ہے۔ اب صرف ہماری طرف سے دیر ہے۔ اس وقت اگر ہم یہ جماعتیں نہ کھولیں گے تو جماعت کے لڑکے ایک تو اعلیٰ تعلیم کے لئے پھر دوسرے کالجوں میں جانے پر مجبور ہوں گے۔ دوسرے بہت سے لڑکوں کو دوسرے کالج لیں گے ہی نہیں۔ کیونکہ اکثر کالج دوسرے کالجوں کے لڑکوں سے تعصب رکھتے ہیں۔ اس لئے ہمارے ہمارے لڑکوں کی عمریں تباہ ہوں گی۔ تیسرے جو غرض کالج کے اجراء کی تھی کہ لامذہبیت کے اثر کا مقابلہ کیا جائے اور خالص اسلامی ماحول میں پلے ہوئے نوجوانوں کو باہر بھجوایا جائے وہ فوت ہو جائے گی۔ پس ان حالات ہی میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرکے کالج کی بی۔ اے اور بی۔ ایس۔ سی کی جماعتیں کھول دی جائیں اور اسی سے دعائے کامیابی کرتے ہوئے میں جماعت احمدیہ کے مخلص افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کام کے لئے دل کھول کر چندہ دیں اور یہ دو لاکھ کی رقم اس سال میں پوری کردیں تاکہ یہ کام بہ تمام و کمال جلد مکمل ہوکر اسلام کی ایک شاندار بنیاد رکھی جائے۔
    میں نے اپنے آپ کو ایک نمونہ بنانے کے لئے دس ہزار روپیہ کا وعدہ کیا ہے۔ اس سے پہلے اس سال میں دس ہزار تحریک جدید میں اور پانچ ہزار مدرسہ احمدیہ کے وظائف کے لئے دے چکا ہوں اور ان چندوں کے علاوہ نو دس ہزار کی مزید رقم میں نے ادا کی ہے یا کرنی ہے اور گو یہ میرے ارادے میری موجودہ حالت کے خلاف ہیں لیکن وہ مال جو اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے کام نہیں آتا کس کام کا؟ ہماری زبان میں محاورہ ہے کہ بھاٹ پڑے وہ سونا جس سے ٹوٹیں کان۔ پس وہی روپیہ ہمارا ہے جو دین میں خرچ ہو۔ جو ہم نے کھایا وہ گنوایا۔ اور جو خدا تعالیٰ کی راہ میں دیا وہ لیا۔ پس احباب جماعت کو چاہئے کہ چندوں کی کثرت سے گھبرائیں نہیں بلکہ خوشی سے کودیں اور اچھلیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ احباب اس تحریک کو ایک بار نہ سمجھیں گے بلکہ ایک عظیم الشان انعام سمجھتے ہوئے اس کے حصول کے لئے کھلے دلوں کے ساتھ چندہ دیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعتوں میں اب ایسے لوگ شامل ہیں کہ اگر ان میں سے پانچ سو آدمی بھی اس عہد کو سامنے رکھ کر جو انہوں نے خدا تعالیٰ سے کیا ہے اس کام کے لئے آگے آگئے تو وہ دوسروں کی مدد کے بغیر اس رقم کو پورا کرسکتے ہیں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہر احمدی غریب امیر اس کام میں حصہ لے جو ہزاروں دے سکتے ہیں وہ ہزاروں دیں اور جو سینکڑوں دے سکتے ہیں وہ سینکڑوں دیں اور جو بیسیوں دے سکتے ہیں وہ بیسیوں دیں اور جو روپیہ دو روپیہ دے سکتے ہیں وہ روپیہ دو روپیہ دیں اور جو چند پیسے دے سکتے ہیں وہ چند پیسے ہی دیں تا اس اسلامی عمارت میں آپ میں سے ہر چھوٹے بڑے کا حصہ ہو اور دجالی لشکر کے مقابلہ کے لئے تیار کئے جانے والے لشکر کے سامان میں آپ کا روپیہ بھی لگا ہوا ہو۔ میں بسم اللہ مجرھا و مرسھا کہتے ہوئے اس کاغذی نائو کو تقدیر کے دریا میں پھینکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتے اتارے جو اسے کامیابی کی منزل پر پہنچا دیں اور اپنے الہام سے مخلصوں کے دلوں میں قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرے اور پھر ان کی قربانی کا ادھار نہ رکھے بلکہ بڑھ چڑھ کر اس کا بدلہ دے۔ اللھم امین۔
    والسلام
    خاکسار مرزا محمود احمد
    از ناصر آباد سندھ ۱۵۔ امان ۱۳۲۵ہش مطابق ۱۵۔ مارچ ۱۹۴۶ء۱۰۳`۱۰۴
    قادیان کے بزرگ صحابہ کی فضل عمر ہوسٹل میں تشریف آوری
    طلبائے فضل عمر ہوسٹل کی دیرینہ خواہش تھی کہ صحابہ کرام کی زیارت کرنے اور چند لمحے ان کی بابرکت مجلس میں بیٹھنے کی سعادت حاصل کریں۔ یہ مبارک موقع ۱۸۔ امان/ مارچ ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش کو میسر آیا۔ اس روز نماز عصر کے بعد طلبہ فضل عمر ہوسٹل نے مقامی صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دعوت چائے پر مدعو کیا اور بطور یادداشت ان کے دستخط لئے۔ چائے کے بعد طلباء کی طرف سے نہایت جامع ایڈریس پیش کیا گیا۔ پھر سب صحابہ کا مجموعی طور پر فوٹو لیا گیا۔ اکتالیس صحابہ کرام اس گروپ میں موجود تھے۔ حضرت صاحبزادہ مزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی شمولیت فرمائی۔ آخر میں صحابہ کرام نے باری باری اپنا نام` ولدیت` وطن اور سنہ بیعت برائے تعارف بیان فرمایا اور مغرب کے وقت دعا پر یہ تقریب ختم ہوئی۔۱۰۵
    اس اہم تقریب کی مزید تفصیل چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے کے الفاظ میں یہ ہے کہ >فضل عمر ہوسٹل میں ایک مجلس صحابہ منعقد ہوئی جس میں سوائے حضرت میر محمد اسماعیلؓ اور حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ کے قادیان میں موجود تمام صحابہ نے شمولیت فرمائی۔ سیدنا حضرت مصلح الموعودؓ بھی تشریف نہیں لاسکے تھے۔ بالاتفاق صدارت کے لئے حضرت مولانا سید سرور شاہؓ کا اسم گرامی تجویز ہوا۔ تمام صحابہ نے اپنے مختصر کوائف بیان کئے جو درج رجسٹر ہوئے اور سب نے باری باری اس بات کی شہادت دی کہ ہم سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نبی کی حیثیت سے ایمان لائے تھے اور اسی عقیدہ پر اب تک قائم ہیں<۔
    بی ایس سی کے لئے علم طبعیات کی لیبارٹری کی بنیاد اور اس کی تعمیر
    ۱۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش کو حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ نے تعلیم الاسلام کالج کی چھت پر جانب مغرب شعبہ سائنس کی
    علم طبعیات کی لیبارٹری کی بنیاد اپنے دست مبارک سے رکھی۔ اس موقعہ پر حسب ذیل صحابہ کرام بھی موجود تھے۔
    ۱۔ حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب` ۲۔ خان صاحب منشی برکت علی صاحب` ۳۔ آنریبل چوھدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب` ۴۔ سیٹھی خلیل الرحمن صاحب` ۵۔ خان بہادر غلام محمد صاحب` ۶۔ مولوی محمد دین صاحب` ۷۔ ملک غلام فرید صاحب` ۸۔ مولوی فضل الٰہی صاحب` ۹۔ حضرت نواب زادہ محمد عبداللہ خاں صاحب` ۱۰۔ حضرت ماسٹر علی محمد صاحب بی۔ اے` بی۔ ٹی` ۱۱۔ حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری `۱۲۔ حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب` ۱۳۔ ماسٹر ودھاوے خاں صاحب۔۱۰۶]ydbo [tag
    ان صحابہ نے بھی حضور کے ارشاد پر ایک ایک اینٹ رکھی۔ بعد ازاں سیدنا المصلح الموعودؓ نے مجمع سمیت لمبی دعا فرمائی۔۱۰۷
    بی۔ ایس۔ سی )فزکس اور کیمسٹری( کی لیبارٹری کے آلات (APPARATUS) کے لئے ولایت کی ایک فرم کو آرڈر دیا گیا۔ فرنشنگ` فٹنگ اور پلیننگ کا کام چوہدری غلام حیدر صاحب کے سپرد تھا اور بلڈنگ کے انجینئر چوہدری عبداللطیف صاحب واقف زندگی اوورسیئر تھے۔۱۰۸ ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کے وسط تک یہ لیبارٹریاں تیار ہوچکی تھیں اور آلات (APPARATUS) بھی خاصی تعداد میں ولایت سے پہنچ گئے تھے۔
    فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح
    فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا باقاعدہ افتتاح ۱۹۔ ماہ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش کو بوقت پانچ بجے شام ہوا۔ اس تقریب میں سیدنا حضرت المصلح الموعود بھی رونق افروز تھے۔ سب سے پہلے ادارہ کے ڈائریکٹر چوہدری عبدالاحد صاحب نے ڈاکٹر سرشانتی سروپ بھٹناگر ڈائریکٹر کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کو ایڈریس پیش کیا۔ جس کے ابتداء میں اس ادارہ کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں بتایا۔
    >اس ادارہ کے لئے مستقل عمارت کی تجویز شہر سے کچھ فاصلہ پر ہے چنانچہ گورنمنٹ کی نیلامی سے چالیس ایکٹر زمین حاصل کرلی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ موجودہ تجربہ گاہوں کو جدید آلات سائنس سے لیس کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کی جارہی ہے اور ایک ٹیکنیکل لائبریری کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ بعض ایسے انتظامات بھی کئے گئے ہیں جن سے مختلف قسم کے تجربات کم اور زیادہ دبائو کے ماتحت کئے جاسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تجارتی تجربات کے لئے مملکت متحدہ کی بعض فرموں کو نباتاتی تیل کے صاف کرنے اور اس سے بناسپتی گھی بنانے نیز پینٹ` وارنش اور چھاپنے والی سیاہی بنانے کے لئے مشینری کا آرڈر دیا جاچکا ہے اور امید ہے کہ عنقریب یہ چیزیں پہنچ جائیں گی۔ ان کے علاوہ مختلف چیزوں کی غذائیت پر تحقیق کرنے اور انہیں تجارتی طریق پر چلانے کے لئے ایک مشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی زیر نگرانی بھی تیار کی جارہی ہے جس کو عنقریب مکمل ہونے پر تجربہ گاہ میں نصب کیا جائے گا۔
    ادارہ کا قریباً ۲۵ ایکٹر تجرباتی فارم بھی ہے جہاں مختلف پودوں خصوصاً تیل نکالنے والے بیج اور بعض دوسری جڑی بوٹیوں کی پیداوار کو بڑھانے کے متعلق تجاویز عمل میں لائی جاتی ہیں۔
    ارادہ ہے کہ پودوں کے مختلف حصوں میں ان کے بڑھنے کے دوران میں جو خاص کیمیاوی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں انہیں بھی زیر مطالعہ لایا جائے<۔۱۰۹
    پروفیسر سرشانتی سروپ۱۱۰ بھٹناگر نے اپنی افتتاحی تقریر میں حضور کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا کہ جانب والا ایک طاقتور جماعت کے مذہبی رہنما کی حیثیت سے آپ نے فضل عمر سائنس تحقیقاتی ادارہ کو اپنی جماعت کی مذہبی نشوونما کے لئے قائم فرمایا ہے۔ مذہب اور سائنس کا یہ اتحاد اور یہ باہمی تعلق جو آنجناب کا ادارہ قائم کرے گا بے حد قابل تعریف ہے۔۱۱۱
    ڈاکٹر بھٹناگر صاحب ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کرچکے تو حضرت سیدنا المصلح الموعود نے نمائندگان جماعت سے )جو مجلس مشاورت پر قادیان میں پہنچ چکے تھے اور اس موقعہ پر موجود تھے( خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لئے اب تک مالی قربانی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا لیکن موجودہ ابتدائی پروگرام کی تکمیل کے بعد دو تین سال میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب جماعت کے سامنے اس کی تحریک کی جائے گی۔۱۱۲
    ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا چرچا پریس میں
    یہ ادارہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا واحد مثالی ادارہ تھا جسے نہ صرف ملکی پریس ہی نے بلکہ انگلستان تک کے سائنسی اداروں(INSTITUTIONS) نے بھی سراہا۔
    چنانچہ شمالی ہند کے مشہور مسلمان اخبار >انقلاب< نے لکھا۔
    >اس وقت علمی و صنعتی دائرے میں مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ سائنٹفک تحقیقات کے ادارے قائم کئے جائیں جن میں نوجوان سائنس کے جدید ترین آلات اور بہترین ٹیکنیکل کتابوں اور فاضل اور تجربہ کار معلموں کی مدد سے اسرار قدرت کا علم حاصل کریں اور صنعت و حرفت کے جدید اور وسیع دوائر میں کام کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ یہی طریقہ ہے جس سے کام لیکر ملت میں وہ قوت و صلاحیت پیدا کی جاسکتی ہے جو آج دنیا کی بڑی بڑی قوموں کو حاصل ہوچکی ہے اور جس کے بغیر کمزور قومیں مادی ترقی کے میدان میں ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتیں۔
    قادیان نے اس سلسلہ میں سبقت کی ہے۔ امام جماعت احمدیہ نے ڈھائی لاکھ روپیہ کے ابتدائی سرمایہ سے فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کا افتتاح گزشتہ جمعہ کے دن مشہور سائنسدان ڈاکٹر سرشانستی سروپ بھٹناگر نے بمقام قادیان فرمایا۔ اس انسٹی ٹیوٹ کی لیبارٹریوں میں بہترین اور جدید آلات مہیا کرنے کا انتظام کیا جارہا ہے۔
    بایو کیمیکل ریسرچ کے لئے الیکٹرون` خوردبین` پروٹین اور کولائیڈیجنر کے خواص کی تحقیق کے لئے خاص آلہ تحلیل و تجزیہ کی عملیات کے لئے سیکٹو گراف اور دوسرے آلات منگائے جارہے ہیں۔ جن کی مدد سے صنعتوں کی ترقی و توسیع کا کام اعلیٰ پیمانے پر کیا جائے گا۔ اس وقت چھ ریسرچ اسسٹنٹ کام کررہے ہیں۔ دو فارغ التحصیل نوجوانوں کو کیمیکل انجینئرنگ وغیرہ کی اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھیجا جارہا ہے۔ ہندوستان کی یونیورسٹیوں کے طلبہ سائنس کے لئے بھی انسٹی ٹیوٹ میں ٹیکنیکل ٹریننگ کا بندوبست کیا جارہا ہے۔
    یہ ہے وہ حقیقی کام جس کی ضرورت مسلمانوں کو شدت سے محسوس ہورہی ہے لیکن اب تک ان کے کسی تعلیمی ادارے میں اس کام کی طرف کماحقہ توجہ نہیں کی گئی۔ اگر قادیانیوں کو برا بھلا کہنے والوں کو اس >جہاد لسانی< کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کے تعمیری کاموں میں مسابقت کی توفیق بھی ملتی تو کتنا اچھا ہوتا۔
    ہمیں یقین ہے کہ مرزا محمود احمد صاحب کی توجہ اور ان کے جانثاروں کی محنت سے یہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بہت جلد بے انتہا کام کرنے لگے گا۔
    کیا ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ لاہور` پشاور` دہلی` علی گڑھ کے اسلامی ادارے بھی وقت کی اس اہم ضرورت کی طرف توجہ کریں گے<۔۱۱۳
    ۲۔ ہندوستان کے انگریزی روزنامہ >سٹیٹسمین< نے لکھا۔
    >قادیان میں فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح اس کی مقامی اہمت سے بہت زیادہ بیرونجات پر اثر انداز ہے۔ جماعت احمدیہ کا یہ اقدام مذہب و سائنس کو متحد کرنے کی کوشش کا کامیاب مظاہرہ ہے۔ احمدی بے شک تعداد میں تھوڑے ہیں لیکن جماعتی لحاظ سے اس طرح منظم ہیں کہ بہت سے شعبہ ہائے زندگی میں وہ بڑی تیز رفتاری سے شاہراہ ترقی پر گامزن ہورہے ہیں۔ قادیان کے احمدیوں میں صنعت و حرفت کی ترغیب و ترویج کے لئے انہوں نے بہت کوشش کی ہے اور بہت سی مفید باتوں میں وہ دوسروں سے پیش پیش ہیں۔ ان کا یہ تازہ شاہکار اس ترقی کی روح کا آئینہ دار ہے )ترجمہ<(۔۱۱۴
    ۳۔ دنیائے سائنس کی مشہور ہفتہ وار رسالہ نیچر (NATURE) نے جو لندن سے نکلتا ہے` ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کی تفصیلی خبر دیتے ہوئے لکھا۔
    >مشرق و مغرب دونوں جگہ ازمنہ گزشتہ سے ہی علم کی ترقی مذہبی جماعتوں کی مرہون منت رہی ہے۔ مستقبل میں ہندوستان میں سائنس کو جو اہمیت حاصل ہوگی اس کے احساس کی نمایاں علامت اس فیصلہ سے ظاہر ہوتی ہے جو امام جماعت احمدیہ خلیفہ~ن۲~ المسیح )حضرت خلیفہ المسیح المصلح الموعودؓ( نے اپنی جماعت کے چندوں میں سے ایک کثیر رقم سائنس کے تحقیقاتی اداروں کے قیام کے لئے منظور فرما کر کیا ہے۔ یہ جماعت پہلے ہی بہت تعلیمی اداروں کو چلا رہی ہے جن میں تعلیم الاسلام کالج بھی شامل ہے۔ مگر اب )حضرت( امام )جماعت احمدیہ( کا خیال ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جبکہ ان اداروں کو بام عروج تک پہنچایا جائے۔ یہ نیا تحقیقاتی ادارہ فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قادیان اس وقت جنم لے رہا ہے جبکہ ہندوستان میں تحریک احیاء سائنس زوروں پر ہے اور پرائیویٹ اداروں نے بھی اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے اپنا حصہ ادا کرنا ہے )ترجمہ<(۱۱۵
    ریسرچ کا دوبارہ لاہور میں قیام
    ‏]txte [tagاہل ملک کو عموماً اور جماعت احمدیہ کو خصوصاً اس ادارہ سے بہت توقعات وابستہ تھیں اور وہ اسے دنیا بھر میں اپنی طرز کا منفرد اور کامیاب سائنسی تحقیقات کا مرکز دیکھنا چاہتی تھی۔ مگر جیسا کہ آئندہ آنے والے واقعات نے ثابت کیا خدا تعالیٰ کی مشیت کے مطابق عہد مصلح موعود میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی محض داغ بیل ڈالنا مقصود تھا ٹھیک جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ مبارک میں تعلیم الاسلام کالج کی بنیاد کا رکھا جانا! جہاں ۱۹۰۵ء میں کالج کی بندش حکومت کی داخلہ پالیسی کے نتیجہ میں بالواسطہ ہوئی تھی وہاں فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ۱۹۴۷ء میں فسادات ملکی کی وجہ سے بند کرنا پڑی۔ مگر حضرت سیدنا محمود المصلح الموعود نے قادیان میں مغربی فلسفہ کے خلاف اسلام کی تائید و برتری کے لئے جو قدم اتھایا تھا اس سے وقتی طور پر بھی ہٹنا گوارا نہ فرمایا۔ چنانچہ محض آپ کے طفیل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ دوبارہ معرض وجود میں آگئی۔ ریسرچ کا دفتر ۱۰۸ بلاک۔ سی ماڈل ٹائون لاہور میں قائم کیا گیا اور صنعتی کام کے لئے مسلم ٹائون کے بالمقابل نہر کے پاس ایک لیبارٹری الاٹ کرالی گئی جو S۔R۔F۱۱۶4] [rtf کے نام سے مشہور تھی۔
    لاہور میں اس کی ابتداء بہت مشکلات کے دوران ہوئی۔ کافی تگ و دو کے بعد کیمیاوی مرکبات اور سائنٹفک سامان بنانے کا کام شروع کیا گیا۔ دو تجربے بڑے پیمانہ پر کئے گئے جو گندھک کی صفائی اور گندھک کا تیزاب بنانے سے تعلق رکھتے تھے۔ کچھ عرصہ کے لئے صابن سازی کی صنعت بھی جاری رہی۔
    ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا ایک پروگرام بیرون ممالک میں اپنے سکالرز کو اعلیٰ تعلیم اور ٹریننگ دلوانا بھی تھا۔ چنانچہ اس سکیم کے تحت چار افراد۱۱۸ امریکہ و انگلستان بھجوائے گئے اور متعدد طلبہ کو اندرون ملک اعلیٰ تعلیم دلائی گئی اواخر ۱۹۵۰ء میں بیرونی ممالک کے سکالرز واپس آنا شروع ہوئے اور ۱۹۵۱ء کے وسط میں انسٹی ٹیوٹ کو ازسر نو ترتیب دیا جانے لگا۔ ۱۹۵۲ء کی ابتداء تک انسٹی ٹیوٹ پلیننگ کے مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔
    مالی مشکلات کے پیش نظر چھوٹے پیمانہ پر ہی کام ممکن ہوسکا۔ کیمیاوی مرکبات بنانے کا کام جاری رہا۔ وارنش بنانے کا کام تجربہ کے رنگ میں شروع کیا گیا۔ چند ایک مکینیکل لائن کی مصنوعات بھی بنائی گئیں جو سائیکل انڈسٹری سے تعلق رکھتی تھیں۔ گندھک صاف کرنے کا ایک کامیاب تجربہ کیا گیا۔ کاسمیٹکس کے چند ایک عمدہ مرکبات بنائے گئے۔ پاکستان کی چند معدنیات کا کیمیائی تجزیہ کیا گیا۔
    علمی کام کے لحاظ سے زیادہ تر ببلیو گریفک لٹریچر پیدا کرنے کی طرف توجہ دی گئی۔ اس کام میں سردار عطاء الرحمن صاحب غنی نے کافی شغف رکھا اور انہوں نے >پاکستان ایسوسی ایشن فار ایڈوانس منٹ آف سائنس< کے ماتحت ایک کتاب اور متعدد رسائل شائع کئے۔ اسی موضوع سے متعلق چند ایک مضامین بھی سائنٹفک رسائل میں شائع کئے گئے۔ ببلیو گرافک کام کو لائبریری آف کانگرس واشنگٹن امریکہ` مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن امریکہ` ڈویژن آف ببلیو گرافی یونیسکو پیرس جیسے مشہور اداروں نے مفید قرار دیا۔ پاکستان میں انسٹی ٹیوٹ کے پاس ایک عمدہ لائبریری بھی فراہم ہوگئی۔۱۱۹
    ماہ احسان ۱۹۵۳ء/ ۱۲۳۲ہش میں یہ ادارہ لاہور سے ربو منتقل ہوگیا اور ۲۵۔ احسان/ جون ۱۹۵۳ء/ ۱۲۳۲ہش کو حضرت المصلح الموعودؓ نے ایک بصیرت افروز تقریر اور دعا کے ساتھ اس کی نئی عمارت کا افتتاح فرمایا۔۱۲۰ مگر افسوس حضرت مصلح موعودؓ کی خلافت کے آخری دور میں یہ تحقیقاتی مرکز بوجوہ بند کر دینا پڑا۔
    ایف۔ اے اور ایف۔ ایس۔ سی کلاسوں کا پہلا امتحان اور پہلا نتیجہ
    ۲۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش کو تعلیم الاسلام کالج میں انٹرمیڈیٹ کا پہلا امتحان شروع ہوا۔ سردار امریک سنگھ صاحب خالصہ
    کالج امرتسر سپرنٹنڈنٹ اور اخوند عبدالقادر صاحب ایم اے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھے۔۱۲۱
    اس موقعہ پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے حضرت پرنسپل صاحب کے نام ایک خط میں تاکید فرمائی کہ >طلباء کو تاکید فرما دیں کہ وہ ہر پرچے کو دعا کے ساتھ شروع کیا کریں اور پورا وقت لے کر اٹھا کریں۔ اور آخر میں نظر ثانی بھی ضرور کیا کریں۔ کئی لڑکے پرچے کو آسان سمجھ کر یا گھبرا کر جلدی اٹھ آتے ہیں اور نظرثانی بھی نہیں کرتے اور اس طرح بھاری نقصان اٹھاتے ہیں<۔۱۲۲ آپ کی یہ ہدایت طلبہ کو ذہن نشین کرا دی گئی۔
    کالج کی طرف سے ۱۹۴۶ء کے ایف۔ اے اور ایف۔ ایس۔ سی کے امتحانوں میں ۵۹ طلبہ شریک ہوئے جن میں سے کمپارٹمنٹ والے طالب علموں کو شامل کرتے ہوئے ۳۱ کامیاب قرار پائے اور ایک طالب علم نذیر احمد ۴۹۳ نمبر لے کر پنجاب بھر کے مسلمان امیدواروں میں سوم رہے۔ یونیورسٹی کے اعلان کے مطابق ان امتحانوں کا نتیجہ گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے سخت رہا تھا اور اسی لئے کالج کے اس نتیجہ نے اگرچہ جماعت کے بلند علمی حلقہ میں آئندہ بہت بہتر نتائج کی امید پیدا کر دی تھی۱۲۳ مگر یہ نتیجہ حضرت سیدنا المصلح الموعود کی توقع سے کم نکلا جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بذریعہ رئویا قبل از وقت دی جاچکی تھی۔۱۲۴4] f[rt
    طلبہ کے نام موسمی تعطیلات کے دوران نہایت اہم مکتوب
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( کو ہمیشہ احمدی طلباء کی روحانی اور اخلاقی تربیت کا فکر دامنگیر رہتا تھا اور اس کے لئے آپ کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانتے دیتے تھے۔ ماہ احسان/ جون ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش کا واقعہ ہے کہ کالج موسمی تعطیلات میں بند تھا اور طلبہ اپنے اپنے گھروں میں چھٹیاں گزار رہے تھے۔ اس دوران میں آپ نے اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل مراسلہ تحریر فرمایا۔۱۲۵4] [rtf
    بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
    دفتر تعلیم الاسلام کالج قادیان
    عزیزم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ`
    آپ کا تعلیم الاسلام کالج میں داخلہ آپ کے لئے ہزارہا برکات کا موجب ہے اور ہم پر ہزارہا قسم کی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔ اس لئے میں نے مناسب خیال کیا کہ اب جبکہ آپ اپنے گھروں میں چھٹیاں گزار رہے ہیں بعض ضروری باتوں کے متعلق آپ کو یاد دہانی کرادوں۔ امید ہے کہ آپ عزیز ان کی طرف خاص توجہ دے کر ثواب دارین حاصل کریں گے۔ اور >احیاء اسلام< کے لئے ایک مفید وجود بن کر اپنے رب کی رضا آپ کو حاصل ہوگی۔
    )۱( نماز باجماعت کے پابند رہیں )۲( تبلیغ )حتی المقدور( ضرور کرتے رہیں )۳( کالج کے لئے ایک سو روپیہ چندہ اکٹھا کرکے ضرور لائیں۔ )۴( کالج میں داخل ہونے کے لئے پراپیگنڈا کرتے رہیں )۵( آپ کے ذمہ خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے لئے بھی پانچ سے دس روپیہ کا چندہ لگایا گیا تھا۔ یہ بالکل ہی معمولی کام ہے۔ ذرہ سی توجہ سے ہوسکتا ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو حقیقی احمدی بنائے<۔
    ‏]1dahe [tag
    مکتوب کا چربہ
    عکس کیلئے
    کالج میں فضائی تربیت
    پروفیسر چودھری محمد علی صاحب ایم۔ اے تحریر کرتے ہیں۔
    >قادیان میں C۔T۔A۔I یعنی فضائی تربیت کی کلاسیں شروع ہوئیں۔ اس کے لئے مکرم سید فضل احمد صاحب اور عاجز اور بعد میں چوہدری فضل داد صاحب ٹریننگ کے لئے سکندر آباد گئے اور واپس آکر یہ کلاسیں شروع کیں۔ ہم پنجاب یونیورسٹی کے ونگ کا حصہ تھے۔ سردار جگبیر سنگھ جو ہمارے استاد پروفیسر شوچرن سنگھ کے لڑکے تھے ہمارے ونگ کے کمانڈر تھے<۔۱۲۶
    قادیان میں کالج کی تعلیمی سرگرمیوں کا آخری دن
    تعلیم الاسلام کالج قادیان کی سہ سالہ روداد پر روشنی ڈالنے کے بعد اب ہم ۳۰۔ احسان/ جون ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کے اس یادگار دن تک آپہنچے ہیں جو قادیان میں کالج کی تعلیمی سرگرمیوں کا آخری دن تھا۔ اس روز حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( نے >آرڈر بک سٹاف< میں یہ تحریر فرمایا کہ کالج یکم جولائی ۱۹۴۷ء سے گرمی کی تعطیلات کے لئے بند ہوکر ۲۷۔ ستمبر ۱۹۴۷ء کو دوبارہ کھلے گا۔ یہ سرکلر کالج کے دور قادیان کا آخری فرمان ثابت ہوا کیونکہ موسمی تعطیلات کے دوران ہی ۱۴۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کو ملکی تقسیم عمل میں آئی اور ساتھ ہی ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم ہوگیا۔۱۲۷ ۲۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۷ء ۱۳۲۶ہش کو سٹاف اور طلبہ کی موجودگی میں تعلیم الاسلام کالج اور فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی شاندار عمارتوں پر زبردستی قبضہ کرلیا گیا اور بیش قیمت اور جدید ترین آلات سائنس اور ہر قسم کے علوم و فنون پر مشتمل لائبریری چھین لی گئی۔۱۲۸
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی پاکستان میں ہجرت
    موسمی تعطیلات میں کالج کے اکثر اساتذہ و طلبہ قادیان سے باہر چلے گئے۔ مگر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( یکم وفاء سے لے کر ۱۵۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش تک قادیان میں تشریف فرما رہے اور قیام امن و صلح کے لئے شب و روز مصروف عمل اور سرتاپا جہاد بنے رہے۔ اسی دوران میں سیدنا المصلح الموعود کی طرف سے پاکستان آجانے کا ارشاد ملا جس پر آپ ۱۶۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کو۱۲۹ قادیان کی مقدس اور پیاری بستی سے ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے اور ساتھ ہی تعلیم الاسلام کالج قادیان کے دور اول کی تاریخ کا آخری ورق الٹ گیا۔
    ‏vat,10.5
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    پہلا باب )فصل چہارم(
    سیدنا المصلح الموعود کے خصوصی فیصلہ پر پاکستان میں کالج کی بنیاد
    لاہور میں اس کی زندگی کا ہفت سالہ دور
    ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش
    حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ابھی قادیان۱۳۰ میں تھے کہ خدا کے اولوالعزم عالی ہمت اور ذہین و فہیم خلیفہ موعود نے ہجرت پاکستان کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ تعلیم الاسلام کالج کو جلد سے جلد کھولنے کا انتظام کیا جائے اور چوہدری عبدالاحد صاحب ڈائریکٹر کو ریسرچ اور کالج کے لئے موزوں عمارت تلاش کرنے پر مقرر فرمایا۔ نیز قادیان لکھا کہ پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے فی الفور لاہور بھجوا دیئے جائیں۔ موصوف یہاں پہنچے تو انہیں قائم مقام پر نسپل تجویز کر دیا گیا۔ ۲۰۔ اخاء/ اکتوبر کو آپ نے کالج کے فوری اخراجات کے لئے ڈیڑھ سو روپیہ بطور پیشگی دیئے جانے کی درخواست کی جو دے دیئے گئے۔ ۲۳۔ اخاء/ اکتوبر کو چودھری صاحب اور پروفیسر فضل الرحمن صاحب فیضی ایم۔ اے کو )جو فسادات کے دوران گجرات میں تھے( ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مل کر حصول عمارت کی جدوجہد کرنے کا ارشاد ملا۔ چودھری صاحب اور فیضی صاحب نے پہلے دن ہی اپنی سرگرمیاں تیز تر کردیں اور لاہور میں خالصہ بورڈنگ ہائوس کی عمارت دیکھنے کے بعد مفصل رپورٹ اگرچہ اگلے روز ۲۴۔ ماہ اخاء/ اکتوبر کو صدر کالج کمیٹی حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو بھجوا دی۔ مگر ساتھ ہی حضرت امیر المومنین کی خدمت میں تحریری طور پر بادب عرض کیا کہ۔
    >حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی رائے یہ ہے کہ سردست کالج نہ کھولا جائے۔ خاکسار کی گزارش یہ ہے کہ لاہور میں کالج کھولنے کی ضرورت نہیں۔ فی الحال اگر یہ فیصلہ ہو کہ طلباء صرف ایک کالج میں داخل ہوں تو ایک حد تک ان کی نگرانی ہوسکتی ہے۔ ورنہ خواہ اپنا کالج ہی کیوں نہ ہو لاہور کی مسموم ہوا میں طلباء کو شکنجے میں رکھنا کسی صورت میں قابل عمل نہیں ہوگا<۔۱۳۱
    سیدنا المصلح الموعودؓ کا تاریخی فیصلہ
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے کا بیان ہے کہ۔
    >میں نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں عرض کی کہ پرنسپل صاحب نے قادیان سے ایک مشورہ بھیجا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر حضور مناسب خیال فرمائیں تو موجودہ حالات میں کالج کا بوجھ جماعت پر نہ ڈالا جائے۔ اس پر حضور خاموش رہے۔ پھر حضرت مولوی عبدالرحمیم صاحب درد نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی یہی خیال ہے۔ حضور پھر بھی خاموش رہے پھر کسی اور نے مشورہ دیا۔ حتیٰ کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحبؓ نے عرض کیا کہ حضور میرا بھی یہی خیال ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے اولوالعزم خلیفہؓ نے اتنے جوش اور بلند آواز سے کہ سب کے دل دہل گئے` فرمایا۔
    >آپ کو پیسوں کی کیوں فکر پڑی ہوئی ہے۔ کالج چلے گا اور کبھی بند نہیں ہوگا< اور پھر اس عاجز سے فرمایا کہ۔
    >آسمان کے نیچے پاکستان کی سرزمین میں جہاں کہیں بھی جگہ ملتی ہے لے لو اور کالج شروع کرو<۱۳۲
    اس فیصلہ کے علاوہ حضور نے ۲۴۔ اخاء/ اکتوبر کو ارشاد فرمایا کہ میاں عطاء الرحمن صاحب پروفیسر تعلیم الاسلام کالج کو فوری طور پر قادیان سے یہاں بھجوانے کا انتظام کیا جائے نیز انہیں یہ ہدایات بھی بھیجی جائیں کہ وہ کالج کے سامان کی مکمل فہرست بھی تیار کرکے اپنے ساتھ لے آئیں۔ اس فہرست میں وہ سائنس کے سامان کو خاص طور پر مدنظر رکھیں۔ چوہدری محمد علی صاحب نے حضور کا یہ فوری حکم حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو قادیان بھجوا دیا اور میاں عطاء الرحمن صاحب بھی لاہور پہنچ گئے۔
    ۲۸۔ اخاء/ اکتوبر کو حضور نے مزید ہدایت فرمائی کہ صوفی بشارت الرحمن صاحب اور محمد صفدر صاحب کو بلانے کے لئے قادیان لکھا جائے۔ اس حکم کی بھی تعمیل کی گئی۔
    حضور کا منشاء مبارک چونکہ فی الفور کالج کے قیام و تاسسیس کا تھا۔ اس لئے لاہور کے علاوہ ایمنآباد` گوجرانوالہ` کوٹ شیرا میں موزوں جگہ کی تلاش میں دوڑ دھوپ کی گئی۔ ۲۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کو ملک فیض الرحمن صاحب فیضی راولپنڈی بھجوائے گئے اور خود چوہدری محمد علی صاحب لائل پور اور سانگلہ ہل پہنچے۔ لائل پور میں آریہ سکول کی عمارت نہایت اعلیٰ تھی مگر ڈپٹی کمشنر صاحب لائلپور نے کہا کہ اسے فی الحال حکومت پاکستان کے سرکلر کے تحت ریزرو کرلیا گیا ہے۔ اس لئے کوئی کامیابی نہ ہوسکی۔
    ۳۰۔ اخاء/ اکتوبر کو حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا کہ >سانگلہ ہل میں جاکر فوراً خالصہ ہائی سکول پر قبضہ لیا جائے اور قبضہ لیتے وقت ڈائریکٹر صاحب سے یہ طے کرلیا جائے کہ ہم فوری طور پر کالج کا اجراء وہاں نہیں کرسکتے جنوری یا اپریل میں کرسکیں گے کیونکہ ابھی تک ہمارے پاس سائنس کا سامان نہیں۔ لہذا اس اثناء میں کسی اور کو سکول کا قبضہ نہ دیا جائے<۱۳۳ حضور کے فرمان کی تعمیل میں عارضی طور پر یہ سکول جماعتی تحویل میں لے لیا گیا۔ مگر سکول کی عمارت سخت ناقص تھی اور صحن بھی بہت چھوٹا تھا۔ لہذا اسے ترک کردینا پڑا۔
    ڈیرہ غازی خاں اور ملتان کے بعض دوستوں سے رابطہ قائم کرکے معلومات حاصل کی گئیں کہ کیا وہاں نیشنل کالج ہیں اور سائنس کا سامان بھی موجود ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس بارہ میں اس تگ و دو کا اصل محور لاہور ہی رہا جہاں ماہ اخاء/ اکتوبر کے آخری ہفتہ میں ڈی۔ اے۔ وی کالج کے متعلق درخواست دے دی گئی اور ساتھ ہی لکھ دیا گیا کہ جب تک یہ کالج پناہ گزینوں سے خالی نہیں ہوتا اتنی دیر ہم دوسری جگہ کالج جاری کرلیں گے۔ چوہدری محمد علی صاحب کے بیان کے مطابق سکھ نیشنل کالج۱۳۴ پر بھی قبضہ لیا گیا۔ لیکن یہ قبضہ بھی بوجوہ ختم ہوگیا۔ سنت نگر میں خالصہ ہوسٹل اور جنج گھر بطور ہوسٹل حاصل کئے گئے مگر چھوڑ دیئے گئے۔
    کالج کے لئے عارضی عمارت کی تلاش ابھی ابتدائی مرحلہ میں تھی کہ کالج کا دفتر جودھامل بلڈنگ کے ساتھ مغربی جانب سیمنٹ والی عمارت میں کھول دیا گیا۱۳۵ جہاں ایک بورڈ لکھوا کر رکھ دیا گیا اور مکرم عبدالرحمن صاحب جنید ہاشمی بورڈ کے پاس فرش پر دیگر کارکنان دفاتر کی طرح بیٹھ گئے اور ۱۰۔ فتح/ دسمبر سے کالج میں داخلہ کا آغاز کردیا گیا۔ جو لیٹ فیس کے بغیر دس روز تک جاری رہا۔ داخلہ کالج کی رپورٹ باقاعدگی سے روزانہ حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں بھجوائی جاتی تھی۔
    اگرچہ پاکستان آکر تعلیم جاری رکھنے والوں کی اکثریت کالج کے جھنڈے تلے جمع ہوگئی۔ پھر بھی ان کی تعداد ساٹھ سے بڑھ نہ سکی۔۱۳۶ تاہم اتنے طلبہ کا داخلہ لینا بھی ایک گونہ حوصلہ افزا بات تھی جس میں حضرت مصلح موعود کی خاص توجہ کا عمل دخل تھا۔ چنانچہ ان ہی ایام میں اپنے قلم مبارک سے حسب ذیل تحریک شائع فرمائی۔
    >تمام احباب جماعت کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ وہ موجودہ شورش سے اس طرح نہ گھبرائیں کہ لڑکے تعلیم سے محروم ہو جائیں چاہیئے کہ سب جو تعلیم دلانے کا ارادہ رکھتے تھے اپنے بچوں کو ایف اے اور بی اے میں داخل کروائیں یا ایف ایس سی یا بی ایس سی میں داخل کروائیں۔ اور چاہئے کہ ہر احمدی تعلیم الاسلام کالج میں اپنے لڑکے کو داخل کروائے اور اس بارہ میں لڑکے کی مخالفت کی پروا نہ کرے تاکہ دینیات کی تعلیم ساتھ کے ساتھ ملتی جائے۔
    خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ~ن۲~ المسیح<۱۳۷
    تعلیم الاسلام کالج جاری کرنے سے پہلے سائنس کلاسز کا مسئلہ حل کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ۲۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کو ارشاد فرمایا کہ۔
    >ایف۔ سی کالج والوں سے فوراً مل کر پریکٹیکل میں اشتراک عمل کا فیصلہ کیا جائے اور پھر وائس چانسلر سے عارضی طور پر لاہور میں کوٹھیاں کرایہ پر لے کر کالج کھولنے کی اجازت لی جائے<۔۱۳۸
    ایف۔ سی کالج )فارمین کرسچن کالج( میں لیبارٹریز موجود تھیں۔ مگر ہندو سٹاف بھارت جاچکا تھا۔ اس بناء پر یہ معاہدہ طے پایا کہ تعلیم الاسلام کالج کے پروفیسر ایف۔ سی کالج میں پڑھائیں گے اور دونو کالجوں کے طلبہ ان کے لیکچر اور سائنس لیبارٹریوں سے استفادہ کریں گے۔
    سائنس کی عملی تعلیم کا بندوبست ہوچکا تو آرٹس کلاسز کے اجراء اور طلبہ کالج کی رہائش کے لئے ایف۔ سی کالج کے عقب میں ڈاکٹر کھیم سنگھ گریوال کی کوٹھی حاصل کرلی گئی جہاں ۶۔ نبوت/۱۳۹ نومبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش سے باقاعدہ کلاسیں شروع کردی گئیں۔]01 [p۱۴۰ ۱۱۔ ماہ نبوت/ نومبر کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب صدر کالج کمیٹی نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کو اطلاع دی کہ تعلیم الاسلام کالج کا سٹاف اور طلبہ لاہور پہنچ چکے ہیں اور سائنس کی کلاسز کے لئے عارضی طور پر فارمین کرسچن کالج لاہور سے معاہدہ کرلیا گیا ہے لہذا کالج کھولنے کی منظوری دی جائے۔ وائس چانسلر نے اس کے اجراء کی منظوری دے دی۔
    چند دن بعد )۱۶۔ ماہ نبوت کو( حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب بھی قادیان سے لاہور تشریف لے آئے اور کالج کا انتظام دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
    کالج کے لئے موزون عمارت تلاش کرنے کی جو مہم جاری تھی اس کا نتیجہ ۳۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کو صرف یہ برآمد ہوا کہ محکمہ بحالیات نے ۳۷ کینال پارک لاہور کی ایک نہایت بوسیدہ عمارت )جو ڈیری فارم یا اصطبل کے طور پر استعمال ہوتی رہی تھی( عطا کی اور اسی روز اس کا قبضہ لے لیا گیا۔۱۴۱ جگہ نہایت تنگ اور مختصر تھی۔ صفوں پر کلاسیں ہوتی تھیں۔ طلبہ کی تعداد ساٹھ کے قریب تھی۔ ان لٹے پٹے طلبہ نے علم کے حصول کی خاطر ہر قسم کی سختیاں سہیں اور مشکلات خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔ وہ دن کے وقت جن صفوں پر بیٹھ کر اساتذہ کے لیکچر سنتے رات کو انہی صفوں پر سورہتے۔ نمازیں بھی اسی جگہ ادا کی جاتیں اور کھانا بھی یہیں کھایا جاتا۔
    ان دنوں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے اتفاقاً اس کالج کو دیکھنے تشریف لے گئے اور بے حد متاثر ہوئے اور اپنے قلم سے مندرجہ ذیل تاثرات >الفضل< میں شائع کرائے جو اس ماحول کی صحیح عکاسی کرتے ہیں۔ آپ نے تحریر فرمایا۔
    >آج مجھے اتفاقاً اپنے تعلیم الاسلام کالج آف قادیان حال لاہور کو چند منٹ کے لئے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ ہمارا ڈگری کالج جو موجودہ فسادات سے قبل قادیان کی ایک وسیع اور عالیشان عمارت میں اپنے بھاری ساز و سامان کے ساتھ قائم تھا وہ اب لاہور شہر سے کچھ فاصلے پر نہر کے کنارے ایک نہایت ہی چھوٹی اور حقیر سی عمارت میں چل رہا ہے۔ اس عمارت کا نچلا حصہ قریباً قریباً ایک اصطبل کا سا رنگ رکھتا ہے اور اوپر کی منزل چند چھوٹے چھوٹے کمروں پر جو نہایت سادہ طور پر بنے ہوئے ہیں مشتمل ہے عمارت کی قلت اور کمروں کی کمی کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ ایک ہی عمارت سے کالج اور بورڈنگ کا کام لیا جارہا ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ اس عمارت کا صرف ایک کمرہ کالج کے استعمال میں ہے اور باقی کمروں میں بورڈر رہائش رکھتے ہیں جن میں سے بعض چارپائیاں نہ ہونے کی وجہ سے فرش پر سوتے ہیں اور بڑی تنگی کے ساتھ گزارہ کررہے ہیں۔ لیکن بایں ہمہ میں نے سب بورڈروں کو ہشاش و بشاش پایا جو اپنے موجودہ طریق زندگی پر ہر طرح تسلی یافتہ اور قانع تھے اور کالج میں پڑھتے ہوئے لاہور جیسے شہر میں جھونپڑوں کی زندگی میں خوش نظر آتے تھے۔ یہ اس اچھی روح کا ورثہ ہے۔ جو خدا کے فضل سے احمدیت نے اپنی جماعت میں پیدا کی ہے اور میں اس روح پر کالج کے طلباء اور کالج کے سٹاف کو قابل مبارک باد سمجھتا ہوں۔
    مگر جس چیز نے میرے دل پر سب سے زیادہ اثر پیدا کیا وہ کالج کی کلاسوں کی حالت تھی جیسا کہ میں اوپر بتاچکا ہوں موجودہ عمارت کا صرف ایک کمرہ کالج کی ضروریات کے لئے فارغ کیا جاسکا ہے اس لئے باقی کلاسیں برآمدوں میں یا کھلے میدان میں درختوں کے نیچے بیٹھتی ہیں لیکن خواہ وہ کمرہ میں بیٹھتی ہیں یا کہ برآمدہ میں اور خواہ کھلے میدان میں` ان سب کا یہ حال ہے کہ چونکہ کوئی ڈیسک اور کوئی میز کرسی نہیں اس لئے پڑھانے والے اور پڑھنے والے ہر دو چٹائیاں بچھا کر بیٹھتے ہیں۔ مجھے اس نظارہ کو دیکھ کر وہ زمانہ یاد آیا کہ جب دینی اور دینوی ہر دو قسم کے علوم کا منبع مسجدیں ہوا کرتی تھیں جہاں اسلام کے علماء اور حکماء فرش پر بیٹھ کر اپنے اردگرد گھیرا ڈالے ہوئے طالب علموں کو درس دیا کرتے تھے اور اس قسم کے درسوں کے نتیجہ میں بعض ایسے شاندار عالم پیدا ہوئے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود آج کی دنیا بھی ان کے علوم سے روشنی حاصل کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔
    میں نے کالج کے بعض بچوں اور پروفیسروں کو بتایا کہ انہوں نے پرانے زمانہ کی یاد کو تازہ کیا ہے اور جس خوشی کے ساتھ انہوں نے حالات کی اس تبدیلی کو قبول کیا ہے وہ ان کے لئے اور ہم سب کے لئے باعث فخر ہے۔ میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ موجودہ حالات سے انہیں یہ سبق سیکھنا چاہئے کہ حقیقی علم ظاہری ٹیپ ٹاپ اور ظاہری ساز و سامان سے بے نیاز ہے اور جھونپڑوں کے اندر فرشوں پر بیٹھ کر بھی انسان اسی طرح علوم کے خزانوں کا مالک بن سکتا ہے جس طرح شاندار ساز و سامان استعمال کرنے والے علم حاصل کرتے ہیں بلکہ یہ صورت روح کی درستی کے لحاظ سے زیادہ مفید ہے اور انسانی قلب کو علم کے مرکزی نقطہ پر زیادہ پختگی کے ساتھ قائم رکھ سکتی ہے کیونکہ جب ماحول کی زیب و زینت نہیں ہوگی تو لازماً انسان کی آنکھیں اور انسان کے دل و دماغ علم کی طرف زیادہ متوجہ رہیں گے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ ضروری سامان جو موجودہ علم کے حصول کے لئے ضروری ہے۔ اسے حاصل نہ کیا جائے۔ جو چیز حقیقتاً ضروری ہے وہ علم کا حصہ ہے اور ہم اس کی طرف سے غافل نہیں رہ سکتے اور موجودہ صورت میں بھی ہم اس کے لئے کوشاں ہیں۔ مگر ظاہری ٹیپ ٹاپ یا زیب و زینت کا سامان یا آرام و آسائش کے اسباب بہرحال زائد چیزیں ہیں جو علم کے رستہ میں ممد ہونے کی بجائے روک بننے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں۔ ہمارے آقا )فداہ نفسی~(صل۱~ نے فرمایا ہے۔ الفقر فخری یعنی فقر میرے لئے فخر کا موجب ہے۔ اس سے بھی یہی مراد ہے کہ مجھے آسائش کے سامانوں کی ضرورت نہیں اور میری روح ان چیزوں کے تصور سے بے نیاز ہے جو محض جسم کے آرام کا پہلو رکھتی ہیں اور روح انسانی کی ترقی میں ممد نہیں ہوسکتیں۔ اسی طرح آنحضرت~صل۱~ فرماتے ہیں۔ اطلبوا العلم ولو بالصین یعنی علم کی تلاش کرو خواہ اس کے لئے تمہیں چین کے ملک تک جانا پڑے چونکہ اس زمانہ میں چین کا ملک ایک دور افتادہ ملک تھا اور اس میں رستہ کی صعوبتوں کے علاوہ دینوی آسائش کے بھی کوئی سامان موجود نہیں تھے اس لئے آنحضرت~صل۱~ نے یہ حکیمانہ الفاظ فرما کر یہ اشارہ کیا کہ حقیقی علم دینوی آسائشوں اور سازوسامان کے ماحول سے آزاد ہے۔
    بہرحال میں بہت خوش ہوں کہ ہمارے بچوں نے یا کم از کم ان میں سے اکثر نے ماحول کی موجودہ تبدیلی میں اچھا نمونہ دکھایا ہے اور اگر وہ خلوص نیت کے ساتھ اس روح پر قائم رہیں گے تو مجھے یقین ہے کہ وہ علم کے حصول کے علاوہ سادہ زندگی کی برکات سے بھی پوری طرح فائدہ اٹھانے والے ثابت ہوں گے<۔۱۴۲4] ftr[
    لاہور میں تعلیم الاسلام کالج کا سٹاف
    لاہور میں تعلیم الاسلام کالج کی زندگی کے ابتدائی دو ماہ )ماہ فتح/ دسمبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش۔ ماہ صلح/ جنوری ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش( نہایت درجہ بے سروسامانی اور آشفتہ حالی کے تھے جن میں کالج کے گزشتہ نظام تعلیم کے احیاء کا فریضہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی قیادت میں اخوند محمد عبدالقادر صاحب ایم۔ اے` صوفی بشارت الرحمن صاحب ایم۔ اے` عباس بن عبدالقادر صاحب` چوہدری محمدعلی صاحب ایم۔ اے` میاں عطاء الرحمن صاحب ایم۔ ایس۔ سی` چوہدری محمد صفدر صاحب چوہان` شیخ محبوب عالم صاحب خالد ایم۔ اے` بی۔ ٹی` ملک فیض الرحمن صاحب فیضی` حبیب اللہ خاں صاحب ایم۔ ایس۔ سی` سید سلطان محمود صاحب شاہد ایم۔ ایس۔ سی` نے انجام دیا۔
    ان اساتذہ کرام کے علاوہ جو قادیان ہی سے کالج کی تعلیمی خدمات بجالارہے تھے لاہور میں حسب ذیل اصحاب بھی کالج کے سٹاف میں شامل کئے گئے۔
    محمد اسحاق صاحب الم

    )تبلیغ/ فروری ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش(

    جیلانی کامران صاحب

    ‏col3] g[ta )تبلیغ/ فروری ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش(

    اقبال حسین صاحب

    )ہجرت/ مئی ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش(

    ثناء اللہ صاحب بھٹی

    )ہجرت/ مئی ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش(

    سید محفوظ علی صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )تبوک/ ستمبر ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش(

    چوہدری غلام علی صاحب

    )نبوت/ نومبر ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش(

    صوفی عبدالعزیز صاحب
    ‏]2loc [tag
    )نبوت/ نومبر ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش(

    شوکت علی صاحب

    )صلح/ جنوری ۱۹۴۹ء/ ۱۳۲۸ہش(

    راجہ محمد مقبول الٰہی صاحب ایم۔ اے

    )احسان/ جون ۱۹۴۹ء/ ۱۳۲۸ہش(

    مولانا ارجمند خاں صاحب فاضل

    )تبوک/ ستمبر ۱۹۴۹ء/ ۱۳۲۸ہش(

    راجہ محمد نصراللہ احسان الٰہی صاحب

    )صلح/ جنوری ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش(
    میاں منور حسین صاحب

    )امان/ مارچ ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش(

    مولانا غلام احمد صاحب بدوملہی فاضل

    )ہجرت/ مئی ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش(

    نصیر احمد خاں صاحب

    )ہجرت/ مئی ۱۹۵۱ء/ ۱۳۳۰ہش(

    ملک محبوب الٰہی صاحب

    )احسان/ جون ۱۹۵۱ء/ ۱۳۳۰ہش(

    پروفیسر کرامت الٰہی صاحب

    )احسان/ جون ۱۹۵۱ء/ ۱۳۳۰ہش(

    احمد دین صاحب میر

    )تبوک/ ستمبر ۱۹۵۱ء/ ۱۳۳۰ہش(

    محمود احمد صاحب

    )اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۲ء/ ۱۳۳۱ہش(

    حسن ظہیر صاحب

    )نبوت/ نومبر ۱۹۵۲ء/ ۱۳۳۱ہش(

    محمد یعقوب صاحب ایم۔ اے` ایل ایل بی

    )امان/ مارچ ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش(

    فرمان اللہ خاں صاحب

    )فتح/ دسمبر ¶۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش(

    نور محمد صاحب ناز صدیقی

    )فتح/ دسمبر ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش(

    ڈی۔ اے۔ وی کالج کے کھنڈرات پر قبضہ
    تعلیم الاسلام کالج کینال پارک کی بوسیدہ عمارت میں وسط ماہ شہادت/ اپریل ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش تک چلتا رہا۔ جس کے بعد ۱۶۔ شہادت/۱۴۳ اپریل کو ڈی۔ اے۔ وی کالج لاہور کی ٹوٹی پھوٹی اور برباد شدہ عمارت الاٹ ہوئی اور ۱۹۔ شہادت/ اپریل کو اس پر قبضہ ملا اور پھر یہاں کالج منتقل کر دیا گیا۔ صوبہ کے اس نہایت مشہور اور عالیشان کالج کا سارا سامان غیر مسلم پناہ گزینوں کے ہاتھوں بالکل غارت ہوچکا تھا یا ہندوستان پہنچ چکا تھا حتیٰ کہ کسی میز` کرسی یا ڈیسک کا نام و نشان تک باقی نہ رہا تھا۔ لیبارٹریوں میں ٹوٹی شیشیاں بکھری ہوئی تھیں اور کمرے ملبہ کے ڈھیروں سے اٹے پڑے تھے۔ اس خستہ سامانی کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ محض کمروں اور لیبارٹریوں کی صفائی پر قریباً ستائیس سو روپیہ خرچ کرنا پڑا۔۱۴۴
    علاوہ ازیں لاکھوں روپے کے صرف سے کالج کو پھر سے جدید تجربہ گاہوں سے آراستہ کیا گیا۔ فرنیچر تیار کیا گیا اور لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا۔۱۴۵ کھنڈرات پر کالج ازسرنو کس طرح آباد ہوا۔ اس کا نقشہ حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج نے انہی دنوں ذیل کے الفاظ میں کھینچا۔
    >۴۸۔ ۱۹۴۷ء کو ہم بے سروسامانی کا سال کہہ سکتے ہیں اور جن نوجوانوں نے اپنے کالج کے اس نازک ترین دور کو ہمت اور بشاشت سے گزارا وہ یقیناً قابل قدر ہیں۔ خاصی تگ و دو و ناظم تعلیمات عامہ پنجاب کے ہمدردانہ رویہ کے نتیجہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کالج کی آباد کاری کے لئے ڈی۔ اے وی کالج کے کھنڈرات پر ہمیں قبضہ ملا۔ ان عمارتوں کو غیر مسلم پناہ گزیں کلی طور پر تباہ و برباد کرچکے تھے۔ دروازوں کے تختے اور چوکٹھے` روشندان` الماریاں وغیرہ ہر قسم کا فرنیچر غائب تھا۔ عمل گاہوں میں ٹوٹی ہوئی شیشیوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کے سوا کچھ موجود نہ تھا۔ پانی اور گیس کے نل ٹوٹے ہوئے پڑے تھے۔ تیس چالیس ہزار کتابوں پر مشتمل مشہور کتب خانے کی اب ایک جلد بھی باقی نہ تھی۔ یہ وہ کھنڈر تھے جن میں مئی ۱۹۴۸ء میں ہم آباد ہوئے اور ہماری فوری توجہ ان ضروری اور ناگزیر مرمتوں کی طرف منعطف ہوئی۔ چنانچہ شروع میں گیس پلانٹ کو درست کروایا گیا اور شعبہ کیمیا کے لئے ضروری سامان خرید کر کیمیا کے عملی تجربے اپنے کالج میں ہی شروع کروا دیئے گئے۔ طبعیات کے لئے ہمیں ایم۔ اے۔ او کالج سے انتظام کرنا پڑا۔ جن کے برادرانہ سلوک کے ہم ہمیشہ ممنون رہیں گے۔ چونکہ ابھی اصل ہوسٹل پر قبضہ نہ ملا تھا۔ اس لئے کالج کے ہی ایک حصہ کو مرمت کروا کے عارضی طور پر یہ ہوسٹل بنا دیا گیا۔ جس میں اندازاً پچاس پچپن طلبہ کی گنجائش تھی جو وقتی طور پر کافی سمجھی گئی گو عملاً طلبہ اس سے بہت زیادہ آگئے جس کے نتیجہ میں ایک ایک کمرہ میں آٹھ آٹھ طلبہ کو رہنا پڑا<۔۱۴۶
    شاندار نتائج اور حضرت مصلح موعود کا اظہار خوشنودی اور اہم ہدایات
    ظاہر ہے کہ ان حالات میں طلبہ کو نہ ذہنی سکون میسر آسکتا تھا نہ پوری سہولتیں حاصل تھیں خصوصاً سائنس کے طلبہ کو جنہیں طبعیات کے
    عملی تجربات کے لئے خاصہ فاصلہ طے کرکے ایم۔ اے۔ او کالج جانا پڑتا تھا مگر پھر بھی دوسرے سال ہی کالج اپنے نتائج کے اعتبار سے صوبہ کے ممتاز ترین کالجوں کی صف اول میں شمار ہونے لگا۔ چنانچہ جہاں بی۔ اے میں یونیورسٹی نتائج کی اوسط ۸ء ۳۹ تھی وہاں تعلیم الاسلام کالج کی اوسط ۳ء ۸۳ رہی۔ اسی طرح دوسرے امتحانوں میں بھی اس اسلامی درسگاہ کی اوسط یونیورسٹی کی اوسط سے بہتر رہی۔۱۴۷ جس پر حضرت مصلح موعود نے حددرجہ خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ۔
    >گزشتہ سال فسادات کی وجہ سے ہمارے کالج کے نتائج اچھے نہیں نکلے تھے مگر اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کالج کا نتیجہ غیر معمولی طور پر نہایت شاندار رہا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ گزشتہ سال کے نتائج کی خرابی ان حالات کی وجہ سے تھی جو ۱۹۴۷ء میں پیدا ہوئے۔ اس سال ہمارے تعلیم الاسلام کالج کی ایک جماعت کا نتیجہ نوے فیصدی کے قریب رہا ہے جو ایک حیرت انگیز امر ہے حالانکہ یونیورسٹی کی اوسط ۳۹ فیصدی ہے۔ یہی حال اور جماعتوں کے نتائج کا ہے۔ کوئی ایک جماعت بھی ایسی نہیں جس کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے کم ہو بلکہ ہر جماعت کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے بڑھ کر ہے۔ اگر کسی کلاس کے متعلق یونیورسٹی کی اوسط ۳۵ فیصدی ہے تو ہمارے کالج ۱/۳۷۲ فیصدی ہے یا اگر یونیورسٹی کی اوسط ۳۵ فیصدی ہے تو ہمارے کالج کی ۳۹ فیصدی ہے اور ایک کلاس کے متعلق تو میں نے بتایا ہے کہ ہمارے کالج کا نتیجہ اس میں نوے فیصدی کے قریب ہے حالانکہ یونیورسٹی کی اوسط اس سے بہت کم ہے۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شبہات ہوا کرتے تھے کہ ہمارے کالج میں لڑکوں کی تعلیم کا زیادہ بہتر انتظام نہیں۔ اب ان نتائج کے بعد ان کے شبہات دور ہو جانے چاہئیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کالج کے نتائج سوائے ایک کے باقی تمام کالجوں سے شاندار نکلے ہیں اور اب ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے فوراً تعلیم الاسلام کالج میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔ اس بارہ میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی سے کام نہ لیں۔ اس کالج میں اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے بھجوانا اس قدر ضروری اور اہم چیز ہے کہ میں تو سمجھتا ہوں جو شخص اپنے بچوں کو باوجود مواقع میسر آنے کے اس کالج میں داخل نہیں کرتا وہ اپنے بچوں کی دشمنی کرتا اور سلسلہ پر اپنے کامل ایمان کا ثبوت مہیا نہیں کرتا<۔۱۴۸
    حضرت مصلح موعود نے احمدی جماعتوں کو تعلیم الاسلام کالج میں بچوں کو داخل کرنے کی تحریک فرمانے کے بعد کالج کے عملہ کو متعدد زریں ہدایات دیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ انہیں اپنے نتائج بہتر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ دوسروں سے زیادہ وقت کالج کی ترقی اور لڑکوں کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے صرف کرنے کی عادت ڈالیں اور ان کو زیادہ سے زیادہ دینی احکام کا پابند اور اخلاق فاضلہ کا متصف بنائیں۔ لڑکوں کی خوراک کی طرف زیادہ توجہ رکھنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ تھوڑے روپیہ سے بہتر سے بہتر کھانا ان کو مہیا کیا جائے۔ اسی طرح دینیات کی تعلیم کی طرف انہیں خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔ لڑکوں کے اندر صحیح دینی جذبہ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرکز سے وابستہ ہوں اور مرکز سے وابستگی پیدا کرنے کے جہاں اور کئی طریق ہیں وہاں ایک یہ بھی طریق ہے کہ خلیفہ وقت سے کالج میں کم سے کم دوچار لیکچر سالانہ کروائے جائیں تاکہ ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو اور قربانی کی روح ان کے اندر ترقی کرے۔ اس کے علاو جماعت کے دوسرے علماء اور مبلغین سے بھی وقتاً فوقتاً لیکچر کروانے چاہئیں۔ ہمارے کالج کے افسروں کے اندر یہ بھی احساس ہونا چاہئے کہ انہوں نے اپنے طالب علموں کی زندگیوں کو سنوارنا اور انہیں قوم کے لئے اعلیٰ درجہ کا وجود بنانا ہے یہاں تک کہ وہ جس محکمہ میں بھی جائیں اس میں چوٹی کے آدمی ثابت ہوں اور کوئی دوسرا شخص ان کا مقابلہ نہ کرسکے۔ جس وقت کوئی دوسرا شخص یہ سنے کہ یہ احمدی انجینئر یا احمدی ڈاکٹر ہے یا احمدی وکیل ہے یا احمدی بیرسٹر ہے یا احمدی تاجر ہے تو وہ کسی انٹرویو کی ضرورت ہی نہ سمجھے بلکہ محض ایک احمدی کا نام سنتے ہی یقین کرلے کہ اس شخص کا اپنے فن میں کوئی اور مقابلہ نہیں کرسکتا۔
    اس ضمن میں حضور نے عملہ کالج کو آخری نصیحت یہ فرمائی کہ انہیں لڑکوں کی دماغی تربیت کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے۔ ان کا صرف اچھے نمبروں پر پاس ہوجانا کافی نہیں بلکہ ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی دماغی تربیت اس رنگ کی ہو کہ جب وہ نماز پڑھیں تو عقلمند انسان کی طرح نماز پڑھیں اور جب کتاب پڑھیں تو عقلمند انسان کی طرح کتاب پڑھیں۔۱۴۹
    تعلیم الاسلام کالج کے ہر شعبہ میں روز افزوں ترقی
    تعلیم الاسلام کالج نے انتہائی بے سروسامانی اور نامساعد حالات کے باوجود صرف امتحانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل نہیں کیں بلکہ اپنے ہر شعبہ میں روز افزوں ترقی کا ثبوت دیا۔ چنانچہ ۵۰۔ ۱۹۴۹ء/ ۲۹۔ ۱۳۲۸ہش میں طلبہ کی تعداد ساٹھ سے بڑھ کر ۲۶۷ تک پہنچ گئی۔ کتب خانہ کی ازسرنو تشکیل کی گئی اور کئی ہزار کتابوں کا بیش بہا ذخیرہ جمع ہوگیا۔ امریکہ کے نومسلم بھائیوں نے ۲۲۸ مجلدات بھجوائیں۔ اس کے علاوہ انگلستان سے بھی بعض عطایا وصول ہوئے۔ طالب علموں کے علمی ارتقاء کے لئے مجلس عمومی )کالج یونین( مجلس عربی` مجلس اقتصادیات` سائنس سوسائٹی` فوٹو گرافک اور ریڈیو سوسائٹی سرگرم عمل رہیں۔ اس عرصہ میں یونیورسٹی آفیسرز ٹریننگ کور بھی قائم کی گئی۔ کالج کے دستہ نے تبلیغ/ فروری ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش میں سالانہ کیمپ کے موقعہ پر ضبط اور اطاعت کا بہترین نمونہ دکھا کر اعلیٰ افسروں سے خراج تحسین وصول کیا اور دستہ کے سارجنٹ بشارت احمد کی ہزایکسیلنسی کمانڈر انچیف پاکستان نے بھی بہت تعریف کی اور اس فن میں مہارت پر انہیں مبارک باد دی۔
    ۱۹۴۹ء/ ۱۳۲۸ہش میں سالانہ کیمپ کے موقعہ پر یو۔ او۔ ٹی۔ سی کے ہر افسر نے کالج کے اس دستہ کے جوانوں کے ضبط` اطاعت` جوش عمل اور حسن کارکردگی پر اظہار مسرت کیا اور یہ دستہ عسکری فنون میں تمام دستوں میں اول رہا اور یو۔ او۔ ٹی۔ سی کے کرنل نے گورنر پنجاب سردار عبدالرب صاحب نشتر کے سامنے اس امر کا اظہار بھی کیا۔ تعلیم الاسلام کالج کا یہ دستہ ہر لحاظ سے معیاری اور بہترین شمار کیا جاتا تھا۔ چنانچہ مختلف گارڈز آف آنر میں نسبتی اعتبار سے بھی اور محض تعداد کے اعتبار سے بھی تعلیم الاسلام کالج کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ مثلاً ان دنوں شہنشاہ ایران کی آمد پر جو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اس میں تقریباً اسی فیصدی نوجوان اسی کالج کے طالب علم تھے۔ اسی طرح فٹ بال` والی بال` بیڈ منٹن اور تیراکی میں کالج کی ٹیمیں خاص اعزاز کی حامل رہیں۔ کشتی رانی میں کالج کی ٹیم پنجاب روئنگ ایسوسی ایشن کے سالانہ مقابلہ میں اول آئی۔
    جہاں تک طلبہ کی اخلاقی و دینی تربیت کا تعلق ہے اس کیلئے بھی کالج کی طرف سے موثر انتظام کیا گیا خصوصاً اسلامی شعائر اور فرائض کی پابندی پر بہت زور دیا گیا جس میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی۔۱۵۰
    لاہور کے علمی اداروں میں تعلیم الاسلام کالج کا اثر و نفوذ
    چوہدری محمد علی صاحب کا بیان ہے کہ۔
    >جب کالج لاہور آیا تو آہستہ آہستہ بہت سے غیراز جماعت طلباء جو صاف ستھری اخلاقی اور تعلیمی فضا میں پڑھنا چاہتے تھے تعلیم الاسلام کالج میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ کالج کی شہرت اور نیک نامی آہستہ آہستہ دلوں میں گھر کررہی تھی اور کالجوں کی بزم میں تعلیم الاسلام کالج کا نام عزت اور احترام سے لیا جانے لگا تھا۔ لاہور کے کالجوں کا عام طالب علم جانتا تھا کہ پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کس بلند مرتبے اور کیریکٹر کے انسان ہیں۔ دوسرے کالجوں کے پرنسپلوں کی موجودگی میں شوخی کرنے والے حضور کے سامنے ادب سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ حضور بھی خود تمام طلباء کو اپنا عزیز طالب علم جانتے تھے اور ان کے جائز حقوق کی حفاظت فرمایا کرتے تھے اور یہ اکثر فرمایا کرتے کہ ہمارا طالب علم طبعاً شریف ہوتا ہے۔ عموماً خرابی اس کے HANDLING میں ہوتی ہے۔ الا ماشاء اللہ۔
    ایک دفعہ لاہور کے طلباء مجمع بناکر تعلیم الاسلام کالج کے سامنے اکٹھے ہوگئے۔ یہ کالجوں کو بند کرواتے پھر رہے تھے۔ غالباً کسی غیر ملکی ظلم پر احتجاج ہورہا تھا۔ لڑکوں کو دیکھ کر حضور خود بنفس نفیس لڑکوں میں تشریف لے گئے اور چند منٹ اپنے دلاویز تبسم کے ساتھ ان سے گفتگو فرمائی۔ لڑکے قائل ہوئے اور پرنسپل ٹی۔ آئی کالج زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے چلے گئے۔
    ایک بار کشتی رانی کے فائنل پر جبکہ اسلامیہ کالج کی ٹیم آگے تھی اور ہم نمبر دو پر تھے اور دریا کے کنارے لائوڈ سپیکر نصب تھا اور نعرے لگ رہے تھے۔ اصل مقابلہ اسلامیہ کالج اور ٹی۔ آئی کالج کے درمیان تھا۔ ہمارا بھی سارا کالج پہنچا ہوا تھا۔ کیونکہ سوائے دریا کے ہمارے پاس کوئی کھیل کا میدان نہیں تھا۔ کشتیاں دریا میں جاچکی تھیں۔ آخر میں جانے والی کشتیاں اسلامیہ کالج اور ہمارے کالج کی تھیں۔ اسلامیہ کالج کی کشتی ابھی ایک چپو کے زور پر لہر میں داخل ہی ہوئی تھی کہ کسی بظاہر غیر طالب علم نے جو ایسے مقابلے میں حمایت کے لئے آجاتے ہیں تعلیم الاسلام کالج کے خلاف ایک نہایت نازیبا نعرہ لگایا جس کی آواز لاوڈ سپیکر پر بھی سنائی دے گئی۔ اچانک اسلامیہ کالج کی کشتی وہیں سے واپس مڑی۔ ہم سمجھے کہ شاید فالتو چپو بھول گئے ہیں لیکن ہوا یہ کہ کشتی کنارے لگتے ہی اسلامیہ کالج کی ٹیم کا کپتان عقاب کی طرح مجمع پر جھپٹا اور جس نے نعرہ لگایا تھا اس کو پکڑلیا اور اعلان کیا کہ اگر تعلیم الاسلام کالج کے خلاف اس قسم کا بے ہودہ نعرہ اب لگایا گیا تو ہم دوڑ نہیں دوڑیں گے۔
    یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ایسے موقعوں پر جب جذبات مسابقت برانگیختہ ہوکر عام قیود اور آداب کی پابندیاں ڈھیلی کرچکتے ہیں اس قسم کا مظاہرہ ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس میں ان طلباء کی بھی خوبی تھی یعنی دونو کالجوں کے طلباء کی کہ ان کے تعلقات انتہائی طور پر خوشگوار تھے<۔۱۵۱
    رسالہ >المنار< کا اجراء
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج کی سرپرستی میں اکنامکس سوسائٹی کے زیر اہتمام >ینگ اکانومسٹ< کے نام سے ایک کتابی سلسلہ جاری کیا گیا۔ ازاں بعد ماہ شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش سے کالج کا علمی مجلہ >المنار< کے نام سے شروع کیا گیا۔ جو اب تک باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے اور ادبی اور علمی حلقوں میں خاص وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اردو کے بعض پاکستانی ادیبوں اور ناقدوں نے >المنار< کی قلمی سرگرمیوں کو سراہا ہے۔ اور اسے اچھے ادبی ذوق کا آئینہ دار قرار دیا۔
    حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے >المنار< کے پہلے شمارہ کے لئے >نور کا نشان۔ روشنی اور بلندی کا شعار< کے عنوان سے ایک نہایت قیمتی مضمون سپرد قلم فرمایا جس میں علاوہ دوسری اہم نصائح کے یہ نصیحت بھی فرمائی کہ >ہمارے عزیزوں کو چاہئے کہ اپنے اس رسالہ کو صحیح معنوں میں المنار بنائیں یعنی وہ علم کے میدان میں روشنی اور بلندی کا نشان ہو۔ ہر دوسرے کالج کی نظریں اس رسالہ کی طرف اٹھیں اور وہ اس کے مضامین میں ہدایت اور تسلی کا سامان پائیں۔ لکھنے والے محض خانہ پری سے کام نہ لیں بلکہ محنت اٹھا کر اور تحقیق کرکے دنیا کے سامنے سچا علم پیش کریں اور موجودہ علوم باطلہ سے ہرگز مرعوب نہ ہوں<۔۱۵۲
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اس موقعہ پر طلباء کے نام جو پیغام دیا وہ ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا۔ آپ نے تحریر فرمایا۔
    >زندگی مسلسل جستجو کا نام ہے۔ کلاس روم میں آپ پہلوں کی جستجو کے نتائج سنتے ہیں۔ انہیں سمجھنے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان نتائج پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کا آپ کو موقعہ میسر نہیں آتا۔ کلاس روم تخلیق کا میدان بھی نہیں۔ مگر تنقید و تحقیق کے بغیر آپ کی زندگی بے معنی ہے 'پدرم سلطان بود` آپ کو زیب نہیں دیتا۔ دنیا کو جس حالت پر آپ نے پایا اس سے بہتر حالت پر آپ نے اسے چھوڑنا ہے۔ کالج میگزین تنقید و تحقیق کا ایک وسیع میدان آپ کے سامنے کھولتا ہے۔ اب آپ کا فرض ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ دیدہ بینا سے دنیا کو دیکھیں` عقل سلیم سے اسے پرکھیں۔ ذہن رسا سے اس کی غیر معروف وادیوں میں داخل ہوں۔ اس کی چھپی ہوئی کانوں میں جائیں اور آنے والی نسلوں کے لئے در بے بہا تلاش کریں۔ اسلام کو آج روشن دماغ بہادروں کی ضرورت ہے۔ اگر آپ بہادر تو ہیں مگر آپ کے ذہنوں میں جلا نہیں تو آپ اسلام کے کسی کام کے نہیں۔ آزادانہ تنقید و تحقیق آپ کو بہادر بھی بنائے گی اور آپ کے اذھان کو منور بھی کرے گی اور یہی کالج میگزین کے اجراء کا مقصد ہے۔ خدا ہمیں اس میں کامیاب کرے<۔۱۵۳
    ان بزرگوں نے اردو کے علاوہ انگریزی حصہ کے لئے بھی پیغامات دیئے۔ چنانچہ حضرت قمر الانبیاء نے طلبہ کو اسلامی تعلیمات کے پہنچانے کے لئے عربی اور اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی عبور حاصل کرنے کی تلقین فرمائی۔۱۵۴ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے پیغام کا متن یہ تھا۔
    ‏ your of hpmuitr ultimate the in Faith and God in trust on><With march mission
    یعنی خدا تعالیٰ پر یقین محکم اور ایمان کامل کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول اور آخری فتح کے لئے بڑھے چلو!۱۵۵
    تقسیم اسناد کے پہلے جلسہ میں حضرت امیر المومنین کا بصیرت افروز خطاب
    ۲۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۳۹ہش کو تعلیم الاسلام کالج کی تاریخ میں پہلی بار تقسیم اسناد و تقسیم انعامات کی انتہائی سادہ اور موثر تقریب
    منعقد ہوئی جو خالص اسلامی ماحول میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ اس جلسہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ سیدنا المصلح الموعود نے اس میں بنفس نفیس شرکت کی اور نہایت ایمان افروز صدارتی خطاب۱۵۶ ارشاد فرمایا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں طلبہ کو ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف نہایت بلیغ انداز میں توجہ دلائی اور اس ضمن میں بالخصوص ان فرائض پر روشنی ڈالی جو ایک نئی مملکت کے آزاد شہری ہونے کی حیثیت سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔ چنانچہ فرمایا۔
    >میں ان نوجوانوں کو جو تعلیم سے فارغ ہوکر اپنی زندگی کے دوسرے مشاغل کی طرف مائل ہونے والے ہیں` کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق سکون کے حاصل کرنے کی بالکل کوشش نہ کرو بلکہ ایک نہ ختم ہونے والی جدوجہد کے لئے تیار ہو جائو اور قرآنی منشاء کے مطابق اپنا قدم ہروقت آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ وہ آپ کو صحیح کام کرنے اور صحیح وقت پر کام کرنے اور صحیح ذرائع کو استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر اس کام کے صحیح اور اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا کرے۔
    یاد رکھو کہ تم پر صرف تمہارے نفس کی ہی ذمہ داری نہیں۔ تم پر تمہارے اس ادارے کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہیں تعلیم دی ہے اور اس خاندان کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہاری تعلیم پر خرچ کیا ہے خواہ بالواسطہ یا بلاواسطہ` اور اس ملک کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہارے لئے تعلیم کا انتظام کیا ہے اور پھر تمہارے مذہب کی بھی ذمہ داری ہے۔ تمہارے تعلیمی ادارے کی جو تم پر ذمہ داری ہے وہ چاہتی ہے کہ تم اپنے علم کو زیادہ سے زیادہ اور اچھے سے اچھے طور پر استعمال کرو۔ یونیورسٹی کی تعلیم مقصود نہیں ہے وہ منزل مقصود کو طے کرنے کے لئے پہلا قدم ہے۔ یونیورسٹی تم کو جو ڈگریاں دیتی ہے وہ اپنی ذات میں کوئی قیمت نہیں رکھتیں بلکہ ان ڈگریوں کو تم اپنے آئندہ عمل سے قیمت بخشتے ہو۔ ڈگری صرف تعلیم کا ایک تخمینی وزن ہے اور ایک تخمینی وزن ٹھیک بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی ہوسکتا ہے۔ محض کسی یونیورسٹی کے فرض کرلینے سے کہ تم کو علم کا تخمینی وزن حاصل ہوگیا ہے تم کو علم کا وہ فرضی درجہ نصیب نہیں ہو جاتا جس کے اظہار کی یونیورسٹی ڈگری کے ساتھ کوشش ہوتی ہے۔ اگر ایک یونیورسٹی سے نکلنے والے طالب علم اپنی آئندہ زندگی میں یہ ثابت کریں کہ جو تخمینی وزن ان کی تعلیم کا یونیورسٹی نے لگایا تھا ان کے پاس اس سے بھی زیادہ وزن کا علم موجود ہے تو دنیا میں اس یونیورسٹی کی عزت اور قدر قائم ہو جائے گی لیکن اگر ڈگریاں حاصل کرنے والے طالب علم اپنی بعد کی زندگی میں یہ ثابت کردیں کہ تعلیم کا جو تخمینی وزن ان کے دماغوں میں فرض کیا گیا تھا ان میں اس سے بہت کم درجہ کی تعلیم پائی جاتی ہے تو یقیناً لوگ یہ نتیجہ نکالیں گے کہ یونیورسٹی نے علم کی پیمائش کرنے میں غلطی سے کام لیا ہے۔
    پس تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یونیورسٹیاں اتنا طالب علم کو نہیں بناتیں جتنا کہ طالب علم یونیورسٹیوں کو بناتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لو کہ ڈگری سے طالب علم کی عزت نہیں ہوتی ہے۔ پس تمہیں اپنے پیمانہ علم کو درست رکھنے بلکہ اس کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اپنے کالج کے زمانہ کی تعلیم کو اپنی عمر کا پھل نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اپنے علم کی کھیتی کا بیج تصور کرنا چاہئے اور تمام ذرائع سے کام لے کر اس بیج کو زیادہ سے زیادہ بارآور کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے تاکہ اس کوشش کے نتیجہ میں ان ڈگریوں کی عزت بڑھے جو آج تم حاصل کررہے ہو اور اس یونیورسٹی کی عزت بڑھے جو تمہیں یہ ڈگریاں دے رہی ہے اور تمہاری قوم تم ¶پر فخر کرنے کے قابل ہو اور تمہارا ملک تم پر اعلیٰ سے اعلیٰ امیدیں رکھنے کے قابل ہو اور ان امیدوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھے۔
    تم ایک نئے ملک کے شہری ہو۔ دنیا کی بڑی مملکتوں میں سے بظاہر ایک چھوٹی سی مملکت کے شہری ہو۔ تمہارا ملک مالدار ملک نہیں ہے۔ ایک غریب ملک ہے۔ دیر تک ایک غیر حکومت کی حفاظت میں امن اور سکون سے رہنے کے عادی ہوچکے ہو۔ سو تمہیں اپنے اخلاق اور کردار بدلنے ہوں گے۔ تمہیں اپنے ملک کی عزت اور ساکھ دنیا میں قائم کرنی ہوگی۔ تمہیں اپنے ملک کو دنیا سے روشناس کرانا ہوگا۔ ملکوں کی عزت کو قائم رکھنا بھی ایک بڑا دشوار کام ہے لیکن ان کی عزت کو بنانا اس سے بھی زیادہ دشوار کام ہے اور یہی دشوار کام تمہارے ذمہ ڈالا گیا ہے۔ تم ایک نئے ملک کی نئی پود ہو۔ تمہاری ذمہ داریاں پرانے ملکوں کی نئی نسلوں سے بہت زیادہ ہیں۔ انہیں ایک بنی ہوئی چیز ملتی ہے۔ انہیں آباء و اجداد کی سنتیں یا روایتیں وراثت میں ملتی ہیں۔ مگر تمہارا یہ حال نہیں ہے۔ تم نے ملک بھی بنانا ہے اور تم نے نئی روایتیں بھی قائم کرنی ہیں۔ ایسی روایتیں جن پر عزت اور کامیابی کے ساتھ آنے والی بہت سی نسلیں کام کرتی چلی جائیں اور ان روایتوں کی رہنمائی میں اپنے مستقبل کو شاندار بناتی چلی جائیں۔
    پس دوسرے قدیمی ملکوں کے لوگ ایک اولاد ہیں مگر تم ان کے مقابلے پر ایک باپ کی حیثیت رکھتے ہو۔ وہ اپنے کاموں میں اپنے باپ دادوں کو دیکھتے ہیں۔ تم نے اپنے کاموں میں آئندہ نسلوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ جو بنیاد تم قائم کرو گے آئندہ آنے والی نسلیں ایک حد تک اس بنیاد پر عمارت قائم کرنے پر مجبور ہوں۔ اگر تمہاری بنیاد ٹیڑھی ہوگی تو اس پر قائم کی گئی عمارت بھی ٹیڑھی ہوگی۔ اسلام کا مشہور فلسفی شاعر کہتا ہے کہ۔ ~}~
    خشت اول چوں نہد معمار کج
    تا ثریا مے رود دیوار کج
    یعنی اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھتا ہے تو اس پر کھڑی کی جانے والی عمارت اگر ثریا تک بھی جاتی ہے تو ٹیڑھی ہو جائے گی۔ پس بوجہ اس کے کہ تم پاکستان کی خشت اول ہو تمہیں اس بات کا بڑی احتیاط سے خیال رکھنا چاہئے کہ تمہارے طریق اور عمل میں کوئی کجی نہ ہو کیونکہ اگر تمہارے طریق اور عمل میں کوئی کجی ہوگی تو پاکستان کی عمارت ثریا تک ٹیڑھی چلتی جائے گی۔
    بے شک یہ کام مشکل ہے لیکن اتنا ہی شاندار بھی ہے۔ اگر تم اپنے نفسوں کو قربان کرکے پاکستان کی عمارت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردو گے تو تمہارا نام اس عزت اور اس محبت سے لیا جائے گا جس کی مثال آئندہ آنے والے لوگوں میں نہیں پائی جائے گی۔
    پس میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی نئی منزل پر عزم` استقلال اور علو حوصلہ سے قدم مارو۔ قدم مارتے چلے جائو اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے قدم بڑھاتے چلے جائو کہ عالی ہمت نوجوانوں کی منزل اول بھی ہوتی ہے اور منزل دوم بھی ہوتی ہے` منزل سوم بھی ہوتی ہے لیکن آخری منزل کوئی نہیں ہوا کرتی۔ ایک منزل کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری وہ اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے سفر کو ختم نہیں کرنا چاہتے۔ وہ اپنے رخت سفر کو کندھے سے اتارنے میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ ان کی منزل کا پہلا دور اسی وقت ختم ہوتا ہے جبکہ وہ کامیاب اور کامران ہوکر اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے حاضر ہوتے ہیں اور اپنی خدمت کی داد اس سے حاصل کرتے ہیں جو ایک ہی ہستی ہے جو کسی کی خدمت کی صحیح داد دے سکتی ہے۔
    پس اے خدائے واحد کے منتخب کردہ نوجوانو! اسلام کے بہادر سپاہیو! ملک کی امید کے مرکزو! قوم کے سپوتو! آگے بڑھو کہ تمہارا خدا` تمہارا دین` تمہارا ملک اور تمہاری قوم محبت اور امید کے مخلوط جذبات سے تمہارے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں<۔۱۵۷
    حضرت امیر المومنینؓ کے خطبہ صدارت کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج نے اس ادارہ کی دو سالہ روداد پڑھ کر سنائی۱۵۸ جس میں کالج کی ترقی` طلبہ کی تعلیم و تربیت اور ان کے علمی و مجلسی مشاغل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ بعدہ سیدنا حضرت امیر المومنین نے انعامات تقسیم فرمائے اور دعا کے بعد جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
    اس تقریب میں شریک ہونے والے معزز مہمانوں میں مشتاق احمد صاحب میئر لاہور کارپوریشن` سید جمیل حسین صاحب ڈپٹی کمشنر آباد کاری` ایس۔ ایس جعفری ڈپٹی کمشنر لاہور` مسٹر ظفر الاحسن چیئرمین امپرہوومنٹ ٹرسٹ` مسٹر ترمذی ڈپٹی ڈائریکٹر تعلیمات عامہ پنجاب نیز صوبے کے ماہرین تعلیم اور مدیران جرائد بالخصوص قابل ذکر تھے۔۱۵۹
    تقسیم اسناد و انعامات کی اس پہلی تقریب کے بعد ۱۹۵۱ء/ ۱۳۳۰ہش سے لے کر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش تک حسب ذیل شخصیتوں نے مہمان خصوصی کے فرائض انجام دیئے۔
    ‏vat,10.6
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    تاریخ

    مہمان خصوصی

    ۴۔ امان/ مارچ ۱۹۵۱ء/ ۱۳۳۰ہش ڈاکٹر قاضی محمد بشیر صاحب برادر اکبر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔ اے کنٹب۔۱۶۰
    ۳۰۔ امان/ مارچ ۱۹۵۲ء/ ۱۳۳۱ہش آنریبل جسٹس ڈاکٹر ایس۔ اے رحمان وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی۔۱۶۱
    ۲۸۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش عزت ماب چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بالقابہ سابق وزیر خارجہ پاکستان۔۱۶۲
    ۲۰۔ احسان/ جون ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش میاں افضل حسین صاحب سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہور۔۱۶۳
    ۱۰۔ امان/ مارچ ۱۹۵۷ء/ ۱۳۳۶ہش سردار عبدالحمید صاحب دستی سابق وزیر تعلیم پنجاب۔۱۶۴
    ۱۴۔ احسان/ جون ۱۹۵۹ء/ ۱۳۳۸ہش قاضی محمد اسلم صاحب سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج لاہور و صدر شعبہ فلسفیات و نفسیات
    کراچی یونیورسٹی۔۱۶۵
    ۷۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۰ء/ ۱۳۳۹ہش جناب ایم۔ آر کیانی چیف جسٹس عدالت عالیہ مغربی پاکستان۔۱۶۶
    ۴۔ احسان/ جون ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش پروفیسر سراج الدین صاحب صوبائی سیکرٹری محکمہ تعلیم۔۱۶۷
    ۳۔ احسان/ جون ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش پروفیسر حمید احمد خاں صاحب پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور۔۱۶۸
    ۹۔ احسان/ جون ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش مولانا صلاح الدین صاحب مدیر >ادبی دنیا< لاہور۔
    ۱۹۔ شہادت/ اپریل ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہان پوری شاگرد خاص منشی امیر احمد امیر مینائی کا
    رقم فرمودہ خطبہ مولانا جلال الدین صاحب شمس سابق ¶مبلغ بلاد عربیہ و غربیہ نے پڑھا۔۱۶۹
    کالج کے لئے ایک نیا خطرہ
    یہ درسگاہ مہاجر تھی۔ اسے اپنی آباد کاری میں سینکڑوں دقتیں پیش آئیں۔ ڈی اے وی کالج کی جو عمارت بصد دقت ملی وہ انتہائی خستہ حالت میں تھی۔ زرکثیر خرچ کرکے اور کافی تگ و دو کے بعد اس کے بڑے حصے کو قابل استعمال بنایا جاسکا۔ اس عمارت کے بعض حصوں پر ابھی قبضہ بھی نہ ملا تھا کہ بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھا دیا گیا کہ یہ عمارت اس تعلیمی ادارہ سے چھین لی جائے اور اس کی بجائے کوئی اور مختصر سی عمارت دے دی جائے۔۱۷۰
    خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اور کالج کی مزید کامیابیاں
    ان غیر مطمئن اور حددرجہ مخدوش حالات نے کالج کے ماحول پر خطرناک اثر ڈالا اور بہت سی تجاویز شرمندہ تکمیل نہ ہوسکیں مگر ان مشکلات کے باوجود یہ درسگاہ خدا تعالیٰ کے فضل سے شاہراہ ترقی پر گامزن رہی۔
    کالج قریباً سات سال تک لاہور میں جاری رہا اس عرصہ میں خصوصاً ڈی۔ اے۔ وی کالج کی عمارت کے قبضہ کو ختم کرنے کی منظم تحریک کے بعد کالج نے کیا کیا کامیابیاں حاصل کیں` اس کی تفصیلات اس دور کی مطبوعہ سالانہ رپورٹوں سے باسانی معلوم کی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ اپنے مخصوص دینی و علمی ماحول اور اخلاقی روایات کے برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ہر امتحان میں کالج کے نتائج نہایت خوشکن اور یونیورسٹی کی اوسط سے بہت بڑھ کر رہے۔ چنانچہ ۵۲۔۱۹۵۱ء/ ۳۱۔ ۱۳۳۰ہش میں اس کے ایک طالب علم مرزا بشارت احمد صاحب بی۔ ایس۔ سی میں مجموعی طور پر پنجاب بھر میں سوم رہے۔ ۵۴۔ ۱۹۵۳ء/ ۳۳۔ ۱۳۳۲ہش میں اس کے ایک اور طالب علم حمید اللہ صاحب نے بی۔ ایس۔ سی میں صوبہ بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ان سالوں میں طلبہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ اور وہ قریباً پانسو تک پہنچ گئی۔ پنجاب یونیورسٹی بمپنگ ریسز میں کالج کی ٹیم دوسرے نمبر پر شمار ہوتی تھی۔ ۵۳۔ ۱۹۵۲ء/ ۳۲۔ ۱۳۳۱ہش میں اس نے انتہائی سخت مقابلہ کے باوجود پنجاب یونیورسٹی کی چیمپئن شپ جیت لی اور ۶۲۔ ۱۹۶۱ء/ ۴۱۔ ۱۳۴۰ہش تک یہ اعزاز اسے حاصل رہا۔۱۷۱ ۵۱۔ ۱۹۵۰ء/ ۳۰۔ ۱۳۲۹ہش میں یو۔ او۔ ٹی۔ سی کی سالانہ فائرنگ کے موقعہ پر جس میں رائفل` سٹین گن` برین گن اور دو انچ مارٹر کے فائر شامل تھے` کالج کے طالب علم عبدالحلیم لیس کار پورل اول اور حمید اللہ بھیروی دوم رہے۔ ۵۲۔۱۹۵۱ء/ ۳۱۔ ۱۳۳۰ہش میں کالج کے ایک طالب علم حمید اللہ صاحب پنجاب یونیورسٹی کی کھیلوں میں اول آئے۔
    ماہ تبلیغ/ فروری ۵۱۔۱۹۵۰ء/ ۳۰۔ ۱۳۲۹ہش میں پہلی بار کالج کے زیر انتظام کل پاکستان بین الکلیاتی تقریری مقابلوں کا انتظام کیا گیا۔ اس سال کالج یونین کے مقررین نے لاہور سے باہر کے کالجوں میں ان کے آل پاکستان انٹر کالجیٹ مباحثوں میں حصہ لینا شروع کیا اور ملک پر اس درسگاہ کے جگر گوشوں کی قوت خطابت کے جوہر کھلنا شروع ہوئے۔
    اس دور میں جن بیرونی مقررین نے طلبہ کالج کو خطاب کیا ان میں نامور مبلغین اسلام` شہرہ آفاق سیاسی مفکر` چوٹی کے ادیب اور ماہرین اقتصاد بھی شامل تھے۔ اس ضمن میں بعض ممتاز لیکچراروں یا مقالہ نگاروں کے نام یہ ہیں۔
    ۱۔ قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لائل پوری

    ۲۔ حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب سابق مبلغ بلاد عربیہ

    ۳۔ مولوی ابوبکر ایوب صاحب آف انڈونیشیا

    ۴۔ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب وزیر خارجہ پاکستان
    ۵۔ مولوی ابوالعطاء صاحب فاضل پرنسپل جامعہ احمدیہ احمد نگر

    ۶۔ مولوی جلال الدین صاحب شمس سابق امام مسجد لنڈن

    ۷۔ عمری عبیدی صاحب مشرقی افریقہ

    ۸۔ خاں عبدالرحمن خاں صاحب ڈائریکٹر محکمہ زراعت پنجاب

    ۹۔ ڈاکٹر عبدالبصیر صاحب پال شعبہ اقتصادیات پنجاب

    ۱۰۔ فضل الٰہی صاحب ایم۔ اے رئیس شعبہ اقتصادیات ایم۔ اے او کالج لاہور

    ۱۱۔ ڈاکٹر محمد باقر صاحب صدر شعبہ فارسی پنجاب یونیورسٹی )پرنسپل اورینٹل کالج لاہور(

    ۱۲۔ ڈاکٹر ابواللیث صدیقی ایم۔ اے` پی۔ ایچ۔ ڈی سینئر لیکچرار )حال صدر شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی(

    ۱۳۔ صوفی غلام مصطفی صاحب تبسم

    ۱۴۔ قاضی ظہیر الدین صاحب صدر شعبہ عربی اسلامیہ کالج لاہور

    ۱۵۔ پروفیسر ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب ایم۔ اے` پی۔ ایچ۔ ڈی صدر شعبہ عربی گورنمنٹ کالج لاہور

    ۱۶۔ ڈاکٹر بی۔ اے قریشی صدر شعبہ عربی پنجاب یونیورسٹی لاہور

    ۱۷۔ ڈاکٹر ایس ایم اختر صدر شعبہ اقتصادیات پنجاب یونیورسٹی

    ۱۸۔ ڈاکٹر بشیر احمد صاحب ڈین آف یونیورسٹی انسٹرکشنز و ڈائریکٹر یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری پنجاب یونیورسٹی

    ۱۹۔ ڈاکٹر نیاز احمد صاحب ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی پنجاب یونیورسٹی

    ۲۰۔ مسٹر اعظم اورک زئی سینئر لیکچرار شعبہ اقتصادیات پنجاب یونیورسٹی

    ۲۱۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی ایم۔ اے` پی۔ ایچ۔ ڈی سینئر لیکچرار )حال صدر شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی(

    ۲۲۔ مولانا صلاح الدین احمد صاحب ایڈیٹر >ادبی دنیا<

    ۲۳۔ اے۔ ایم زتشی گلزار ایم۔ اے` ایل ایل بی` ایچ یو پروفیسر دہلی یونیورسٹی

    ۲۴۔ پروفیسر تھامسن صدر شعبہ اقتصادیات ایف سی کالج لاہور

    ۲۵۔ ڈاکٹر فرانسس ایم ڈاسن پروفیسر آئیوا (IOWA) یونیورسٹی امریکہ



    ‏0] f[stایام کرب و بلا میں صبر و استقامت کا قابل تعریف مظاہرہ
    ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش کے شروع میں پاکستان کی سیاسی فضا نہایت درجہ مکدر ہوگئی اور )سابق( صوبہ پنجاب خصوصاً اس کا صدر مقام لاہور خوفناک فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ ان ایام کرب و بلا میں کالج کے اساتذہ اور طلبہ دونوں نے صبر و استقامت کا قابل تعریف نمونہ دکھایا۔ حتیٰ کہ اس کے ایک ہونہار طالب علم جمال احمد نے بھاٹی گیٹ میں جام شہادت نوش کرکے اپنے خون سے اسلام کے مقدس درخت کی آبیاری کی اور تعلیم الاسلام کالج کی مقدس روایات کو چار چاند لگا دیئے۔۱۷۲
    لاہور میں حالات پر قابو پانے کے لئے مارشل لاء کا نفاذ ناگزیر ہوگیا تو پاکستان کی بہادر فوج نے میجر جنرل اعظم خاں صاحب کی قیادت میں شہر کا نظم و نسق سنبھال لیا اور چند گھنٹوں میں امن و امان قائم کردیا۔ حالات تیزی سے معمول کی طرف آرہے تھے کہ تعلیم الاسلام کالج کو یکایک ایک دوسرے سانحہ ہوشربا سے دوچار ہونا پڑا یعنی اس کے قابل صد احترام پرنسپل یکم ماہ شہادت/ اپریل ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش کو گرفتار کر لئے گئے۱۷۳ اور یوسفی شان کے ساتھ قید و بند کی مصیبتیں جھیلنے اور اذیتیں برداشت کرنے کے بعد بالاخر ۲۸۔ ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش کو رہا ہوئے۔۱۷۴
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے کا بیان ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج جیل سے رہا ہوکر رتن باغ میں تشریف لائے۔ فضل عمر ہوسٹل کے احمدی اور غیر احمدی طلباء یہ خوشکن اطلاع پاتے ہی فوراً والہانہ رنگ میں بے تاب ہوکر بھاگتے ہوئے رتن باغ پہنچے اور آپ کی زیارت کرکے باغ باغ ہوگئے اور بعض کی آنکھوں میں فرط مسرت سے آنسو آگئے۔ اس نادر موقعہ کی ایک یادگار تصویر اس کتاب کی زینت ہے۔
    پہلا باب )فصل پنجم(
    ربوہ میں تعلیم الاسلام کالج کی مستقل عمارت کی تعمیر و افتتاح اور اس کی گرانقدر مساعی عہد مصلح موعود کے اختتام تک
    )۲۶۔ احسان/ جون ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش ۷۔ نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش(
    حضرت مصلح موعودؓ کا منشاء مبارک تھا کہ تعلیم الاسلام کالج کو دوسرے جماعتی اداروں کی طرح جلد سے جلد جماعت کے نئے مرکز ربوہ میں منتقل کیا جائے تا اس کے نونہال خالص دینی فضا میں تربیت پاسکیں اگرچہ اس وقت کی اس نقل مکانی کی افادیت کالج کے بعض پروفیسر صاحبان کی سمجھ میں نہ آسکی اور ان کا اصرار تھا کہ کالج کو لاہور ہی میں رہنے دیا جائے مگر حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے ارشاد فرمایا کہ قادیان سے ہجرت کے بعد تمام کاروبار اور ادارہ جات دوبارہ جاری کرنے کا حق سب سے پہلے ربوہ کا ہے اس کے بعد اگر احباب جماعت یا دیگر اصحاب کوئی کالج یا سکول چلانا چاہیں تو اس شہر کی جماعت کو خود کوشش کرنی چاہئے۔4] fts[۱۷۵
    ربوہ میں کالج اور ہوسٹل کے لئے زمین مخصوص ہوچکی تھی اور اس پر کالج بنانے کا منصوبہ عمل میں آچکا تھا۔ نقشے اور ڈیزائن بنانے کا کام قاضی محمد رفیق صاحب )لیکچرار نیشنل کالج آف آرٹس( لاہور کو دیا گیا۔۱۷۶ حضرت مصلح موعودؓ کے سامنے جب کالج کا نقشہ رکھا گیا تو حضور نے فرمایا کہ >ہمارے پاس اتنی بڑی عمارت کے لئے رقم نہیں۔ جو رقم ہے اس کے مطابق عمارت کا کچھ حصہ بنالیا جائے اور کالج شروع کیا جائے<۔۱۷۷
    ‏]bus [tagسنگ بنیاد
    کالج کی تعمیر کی نگرانی سید سردار حسین شاہ صاحب کے سپرد ہوئی۔۱۷۸ شاہ صاحب نے حضرت پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج )حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ( سے ملاقات کی۔ آپ ان دنوں جیسا کہ پچھلی فصل میں ذکر آچکا ہے جیل خانہ میں تھے۔ آپ نے ان کو کالج شروع کرنے کی ہدایات فرمائیں۱۷۹ اور کام شروع ہوگیا۔ کچھ دنوں بعد حضرت صاحبزادہ صاحب بھی باعزت بری ہوکر ربو تشریف لائے جہاں حضرت مصلح موعودؓ نے ۲۶+ احسان/ جون ۱۹۵۳ء/ ۱۲۳۲ہش کی شام کو اپنے دست مبارک سے کالج اور اس کے ہوسٹل کا سنگ بنیاد رکھا اور کالج کی بنیاد میں دارالمسیح قادیان کی اینٹ نصب فرمائی اور دعا کی۔ بعد ازاں دس بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے جن میں سے ایک حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اور ایک حضرت مولوی محمد دین صاحب ناظر تعلیم و تربیت نے ذبح کیا۔۱۸۰
    تعمیر عمارت کے لئے جدوجہد سے قبل
    حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کا بیان ہے کہ جب کالج بنا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے مجھے فرمایا کہ ایک لاکھ روپیہ کالج کی عمارت اور ساٹھ ہزار روپیہ ہوسٹل کی عمارت کے لئے میں تمہیں دیتا ہوں۔ آج کل اگر ایک لاکھ مربع فٹ کی عمارت بنے تو ساٹھ ستر لاکھ روپے چاہئیں۔ لیکن آپ نے فرمایا اتنی رقم سے )جماعت غریب ہے( جتنا بناسکتے ہو بنالو۔ خیر کام شروع ہوا۔ )تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاتا( اور وہ جلد تیار ہوگیا اور چھ روپے فی مربع فٹ خرچ آیا۔ کسی کے سامنے جب یہ بات کرتے تھے تو وہ کہتا تم تو یونہی چالاکی کررہے ہو یہ تو ہوہی نہیں سکتا۔ یہاں بھی انجینئر بیٹھے ہیں وہ کہیں گے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ >ہو نہیں سکتا< فلسفہ ہے اور >ہو گیا< حقیقت ہے جو ہمارے سامنے ہے یہ ہے اللہ تعالیٰ کی برکت اور یہی ہماری اصل دولت ہے۔ یہ دلوں کا اخلاص ہے جو ہمارے خزانہ میں مال جمع کر دیتا ہے اور دیانتداری سے اس کا خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کی برکتوں کو کھینچتا اور ہمارے روپے میں برکت ڈالتا ہے<۔۱۸۱
    تعمیر عمارت کے لئے سرفروشانہ جدوجہد
    تعلیم الاسلام کالج کی وسیع و عریض عمارت کی بنیاد جس قطعہ زمین پر رکھی گئی وہاں ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ حضرت صاحبزاد مرزا ناصر احمد صاحب نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اور اسی کے حضور دعائیں کرتے ہوئے بے سروسامانی کے عالم میں ماہ شہادت/ اپریل ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش میں عمارت کی تعمیر کا کام اپنی نگرانی میں شروع کرا دیا۔ برکتوں والے خدا نے آپ کی مخلصانہ کوششوں میں ایسی برکت ڈالی کہ سرمایہ کی کمی کے باوجود اس کے فضل و کرم سے پانچ چھ ماہ کے قلیل عرصہ میں ہوسٹل کی عمارت اور کالج کے تین بلاک تیار کروا دیئے۔۱۸۲
    حضرت صاحبزادہ صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( نے اس عظیم الشان کام کی جلد از جلد تکمیل کے لئے لاہور سے ربوہ آکر کس طرح گویا ڈیرے ڈال دیئے اور گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں گردوغبار اور بگولوں کے تھپیڑوں سے بے پروا ہوکر چھوٹے بڑے ہر کام کی نگرانی بنفس نفیس فرمائی؟ اس کی ایمان افروز تفصیل کالج کے سربرآوردہ اصحاب کے قلم سے بیان کرنا مناسب ہوگا۔
    ۱۔
    پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد ایم۔ اے لکھتے ہیں۔
    >۱۹۵۴ء کے شروع میں جب سیدنا حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی بیمار ہوئے تو حضور نے آپ سے ارشاد فرمایا کہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں لے آئو۔ ربوہ میں کالج کے لئے کوئی عمارت نہ تھی۔ وقت بہت کم تھا۔ گرمی کے ایام تھے۔ ربوہ کی تمازت مشہور ہے۔ مگر آپ نے ان سب باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہی۔ خود یہاں آگئے اور بظاہر کالج کی تعمیر کے سامان پیدا نہ ہوسکنے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر توکل کرکے کام شروع کردیا۔ دھوپ میں کھڑے ہوکر آپ خود نگرانی کرتے اور اس طرح عمارت کے ایک حصہ کے بعد دوسرے حصہ کی تعمیر اپنی نگرانی میں کرواتے چلے گئے مشکلات سے کبھی آپ گھبرائے نہیں اور آپ کو یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کی خواہش کی تکمیل کے لئے غیر معمولی سامان پیدا کردے گا۔ ایک دن خاکسار لاہور سے یہاں آیا۔ خاکسار نے دیکھا کہ دوپہر کے وقت کالج کی زیر تعمیر عمارت ہی میں مقیم رہے۔ کھانا کھانے کے لئے شہر میں تشریف نہ لائے بلکہ ان مزدوروں سے جو اپنی روٹی پکارہے تھے قیمتاً روٹی لے کر وہیں تناول فرمائی<۔
    ۲۔
    مکرم عبدالرحمن صاحب جنید ہاشمی )سابق سپرنٹنڈنٹ تعلیم الاسلام کالج` تحریر کرتے ہیں۔:
    >آپ نے تعمیر کالج کے دوران ارادہ فرمایا تھا کہ صرف لنگر کی دال اور روٹی کھایا کروں گا۔ آپ نے اکثر دوپہر کا کھانا وہیں نامکمل عمارت کے برآمدہ میں کھایا ہے اور نمازیں تک وہیں پڑھی ہیں اور کام کے وقت ایک ایک اینٹ اور لنٹل وغیرہ کی کھڑے ہوکر نگرانی کی ہے<۔
    >تعلیم الاسلام کالج کی زمین کا رقبہ ۱۷ ایکڑ ۳۳۳ مربع گز ہے اور مسقف حصہ ایک لاکھ مربع فٹ ہے۔ گورنمنٹ کے ریٹ کے مطابق چودہ روپے فی مربع فٹ کے حساب سے چودہ لاکھ روپیہ کی عمارت ہے اس پر آپ کی نگرانی اور توجہ کی بدولت چار پانچ لاکھ روپیہ خرچ ہوا ہے<۔
    ۳۔
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے لکھتے ہیں۔:
    >جب کالج ربوہ میں منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تو آپ اپنی نگرانی میں کالج کی تعمیر کے لئے تشریف لے آئے۔ کچھ عرصہ یہ عاجز بھی آپ کی خدمت میں حاضر رہا۔ فجر کی نماز پڑھ کر کالج میں تشریف لے آتے جہاں نہ کوئی درخت تھا نہ سایہ` نمکین پانی کے دو نلکے تھے۔ کھانا لنگر خانے سے آتا تھا۔ مزدوروں میں کھڑے ہوکر کام کی نگرانی فرماتے۔ جب مزدور آرام کرتے تو آپ حسابات کا معائنہ کرتے۔ کبھی رقم ختم ہو جاتی تو اس عاجز کو بھیجتے کہ عطایا (DONATIONS) لی جائیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ فضل تھا اور آپ کے ساتھ یہ سلوک تھا کہ ایک لاکھ کی منظوری کے ساتھ اس سے کئی گنا قیمت کی عمارت مہینوں میں تعمیر ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کے بھی عجیب عجیب معجزے دیکھے جب ہال کا لنٹل پڑنے والا تھا کثیر مقدار میں سیمنٹ اور مصالحہ بھگو کر تیار کیا جاچکا تھا تو سیاہ بادل اٹھا اور گھر کر چھا گیا۔ آپ نے ہاتھ اٹھا کر بادل کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ یہ غریب جماعت کی خرچ کی ہوئی رقم ہے۔ اگر تو برسا تو یہ رقم ضائع ہو جائے گی۔ جا یہاں سے چلا جا۔ دراصل آپ کی اللہ تعالیٰ کے حضور ایک رنگ میں فریاد تھی۔ جو قبول ہوئی اور جس طرح ابر آیا تھا اسی طرح چلا گیا<۔
    ۴۔
    چوہدری غلام حیدر صاحب سینئر لیکچرر اسسٹنٹ و ناظم املاک کالج لکھتے ہیں۔
    ان دنوں سریا اور پائپ ملنے میں بہت سی دشواریاں تھیں۔ خاکسار کو کراچی تین دفعہ بھیجا گیا اور وہاں سے کنٹرول ریٹ پر خرید کیا جاتا رہا اسی طرح فرنشنگ اینڈ فٹنگ کے لئے پائپ اور فٹنگ کی دقت تھی اور یہ بھی ان کی وجہ سے کراچی سے کنٹرول پر مل گیا۔ حضرت صاحبزادہ مزا ناصر احمد صاحب کو کئی دفعہ رقم فراہم کرنے میں دقت ہوئی مگر ہمارے شیر دل بہادر اور محبوب آقا نے ذرا بھی لیبر یا ٹھیکیداروں کو محسوس نہیں ہونے دیا۔
    آپ یوں تو بنیاد سے لے کر چھت تک نگرانی فرماتے رہے مگر لینٹل جب پڑتے تو خود سریا` اس کی بندھوائی اور سیمنٹ ریت بجری کی مقدار چیک کرتے اور اس وقت تک نہ ہلتے جب تک سارا لنٹل ختم نہ ہوجاتا۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ کالج ہال پر لینٹل پڑرہا تھا جو کافی بڑا کام تھا اور لیبر کافی درکار تھی۔ کام شروع ہوچکا تھا۔ بے شمار سیمنٹ کی بوریاں کھلی پڑی تھیں اور انہیں مسالہ کے ساتھ ملایا جارہا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے کالی گھٹا اٹھی اور یقین تھا کہ ابھی بارش ہو جائے گی آپ نے بادلوں کی طرف دیکھ کر خواہش ظاہر کی کہ واپس چلے جائیں۔ اسی وقت بادل ایک طرف سے ہوکر گزر گئے اور آپ رات کا کافی حصہ گئے تک لینٹل مکمل کرکے تشریف لے گئے۔ جب کبھی طبیعت خراب ہوتی تو بستر پر بھی کام کا خیال رہتا۔ ایک دفعہ آپ کی طبیعت بوجہ دل کی تکلیف کے خراب تھی۔ گھر لیٹے ہوئے تھے۔ پانی کی ٹینکی بنائی جارہی تھی اور مجھے حکم تھا کہ میں نے ایک منٹ ادھر ادھر نہیں ہونا اور رپورٹ ہر گھنٹہ بعد گھر بھجوانی ہے۔
    ایک دفعہ وزیر تعلیم سردار عبدالحمید صاحب دستی آئے تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کا کالج اور ہوسٹل پر کتنا خرچ اٹھا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ قریباً پانچ لاکھ` تو وہ حیران ہوگئے کہ سرگودھا کالج پر تو ۲۵ لاکھ خرچ ہوا ہے اور آپ کی نگرانی اور محنت کی بہت تعریف کی۔
    کالج کو پانی کی سخت تکلیف تھی۔ کالج کے احاطہ میں ٹیوب ویل بور کرانا شروع کیا مگر جلن کی وجہ سے ٹھیکیدار پائپ درمیان میں چھوڑ گیا۔ آخر کار کالج سے کوئی دو ہزار فٹ دور ٹیوب ویل بنوایا اور وہاں سے پائپ کے ذریعہ لیبارٹریز اور احاطہ کالج و ہوسٹل کو پانی مہیا فرمایا۔ کالج میں ٹک شاپ` گیسٹ ہائوس اور فیملی کوارٹرز بھی بنائے گئے۔ ہوسٹل بہت اچھا بنایا گیا۔ آپ کی شفقت اور ہمدردی خصوصاً فزکس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رہی۔ یہاں ربوہ آکر HONS c۔S۔B کی لیبارٹریز اور اپریٹس کی فراہمی کے لئے فراخ دلی سے خرچ کیا اور فزکس ایم۔ ایس۔ سی کا پروگرام بن چکا تھا جس کے لئے علیحدہ نیوکیمپس بنایا جارہا ہے اور پچپن ہزار روپیہ فزکس کے اپریٹس کے لئے دے کر اپریٹس منگایا جارہا ہے<۔
    ایک اہم مکتوب کا چربہ
    )حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( کا ایک مکتوب گرامی جو آپ نے تعمیر کالج کے دوران چوہدری غلام حیدر صاحب کو کراچی لکھا تھا(
    عکس کیلئے


    مکرم غلام حیدر صاحب! السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ`
    )۱( آپ کے ہر دو خطوط اور تار مل گئے۔
    )۲( آپ کراچی سے لوہا خریدنے کا ارادہ ترک کردیں مگر تمام معلومات لے کر آئیں۔ )۱( کراچی میں لوہا مل سکتا ہے۔ )۲( کس قیمت پر )۳( کیا شیشہ مل سکتا ہے )۴( پرمٹ ملنے میں کتنی دقت پیش آئے گی۔ )۵( ریٹ کیا ہے )۶( پیچ وغیرہ کے متعلق معلومات حاصل کرلیں۔ اس لئے ملک بشیر صاحب کا چیک اور مزید جس قدر روپیہ مل سکے لے کر آجائیں۔
    )۳( شیخ صاحب سے کہیں PIT SINKING کے نقشے نہیں ملے۔ شکریہ۔ مگر ان سے نقشہ لے کر آئیں۔ ہوسٹل میں چھ چھ فلش کے دو یونٹ ہوں گے اس کے مطابق۔ اس کے علاوہ دو یونٹ اور تین یونٹ (UNITS) کے نقشے بھی۔
    )۴( محمد کرامت اللہ صاحب سے کہیں کہ کم از کم نصف رقم تو دے دیں۔
    )۵( اسی طرح چوہدری شریف احمد صاحب سے کہیں کہ مکرم ملک صاحب سے کم از کم نصف روپیہ لے کر دے دیں۔ کراس چیک لے کر آجائیں۔
    )۶( امید ہے آپ دو دنوں میں ان کاموں سے فارغ ہوکر بدھ کے روز لاہور کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔
    )۷( دوبارہ یہ کہ آپ لوہے` شیشے اور کیل وغیرہ کے متعلق مکمل معلومات حاصل کرکے )۲( فلش کے نقشے لے کر اور )۳( جس قدر عطایا مل سکیں لے کر )بذریعہ کراس چیک( دو تین روز تک لاہور کے لئے روانہ ہو جائیں۔ تاکید ہے۔
    مہینے ڈیڑھ مہینے کے بعد میں خود کراچی جاکر عطایا وصول کرنے کی کوشش کروں گا۔ انشاء اللہ۔
    )دستخط(
    پرنسپل
    کالج کی مستقل عمارت کا افتتاح
    ‏text] gat[حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے کالج کی مستقل اور شاندار عمارت کا افتتاح ۶۔ فتح/ دسمبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش کی صبح کو فرمایا۔۱۸۳
    اس روز صبح آٹھ بجے ہی گہما گہمی شروع ہوگئی۔ کالج کی عمارت کے سامنے میدان میں شامیانے نصب تھے جن کے نیچے نہایت سلیقہ اور ترتیب سے کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ سٹیج کے دائیں طرف سٹاف` بائیں طرف بزرگان سلسلہ` سامنے پریس گلیری اور پیچھے معزز مہمانوں کی جگہ مقرر تھی اور باقی حصہ طلبہ کے لئے مخصوص تھا۔
    دس بجے حضور کی تشریف آوری پر کالج کے سٹاف کی فوٹو کھینچنے کا پروگرام تھا۔ اس لئے تمام اساتذہ کرام گائون پہنے شاداں و فرحاں حضور کے لئے سراپا انتظار تھے۔ دس بج کر پانچ منٹ پر حضور کی کار کالج کے احاطہ میں داخل ہوئی۔ حضور پرنور نے کار سے اترتے ہی تمام ممبران اسٹاف کو شرف مصافحہ بخشا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔ اے پرنسپل کالج نے سب اساتذہ کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد گروپ فوٹو ہوئی۔ بعد ازاں حضور نے کالج کی عمارت کا معائنہ فرمایا۔ معائنے کے بعد حضور سٹیج پر تشریف لائے اور ڈیڑھ گھنٹہ تک حاضرین سے پرمعارف خطاب فرمایا۔
    افتتاح کی کارروائی تلاوت قرآن مجید سے شروع کی گئی جو سردار حمید احمد صاحب سیکنڈ ایر نے کی۔ ان کے بعد محمد اسلم صاحب صابر متعلم فرسٹ ایر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم >حمد و ثناء اسی کو جو ذات جاودانی< خوش الحانی سے پڑھی۔ بعد ازاں پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب نے اپنی دو نظمیں پڑھیں جو انہوں نے خاص اسی تقریب کے لئے لکھی تھیں۔۱۸۴ اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے سپاسنامہ پیش کیا جس میں آپ نے ان تمام مراحل پر بلیغ انداز میں روشنی ڈالی جن سے گذر کر کالج کی عظیم الشان اور پرشکوہ عمارت پایہ تکمیل تک پہنچی تھی۔۱۸۵
    سپاسنامہ کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے ایک نہایت ولولہ انگیز تقریر فرمائی جس میں حضور نے اس کالج کے قیام کی اصل غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو خاص طور پر نصائح فرمائیں کہ۔
    >تمہیں جو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کیا گیا ہے تو اس مقصد کے ماتحت داخل کیا گیا ہے کہ تم دین کے ساتھ دینوی علوم بھی سیکھو۔ میں جانتا ہوں کہ تم میں سے ۳۰/ ۴۰ فیصدی غیر احمدی ہیں۔ لیکن تم بھی اس نیت سے یہاں آئے ہو کہ دینی تعلیم حاصل کرو۔ بے شک کچھ تم میں سے ایسے بھی ہوں گے جو دوسرے کالجوں کا خرچ برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کالج کا خرچ تھوڑا ہے اس لئے وہ یہاں آگئے یا ان کا گھر ربوہ سے قریب ہے اس لئے وہ اس کالج میں داخل ہوگئے یا ممکن ہے ان کے بعض رشتہ دار احمدی ہوں اور وہ یہاں آباد ہوں اور انہیں ان کی وجہ سے یہاں بعض سہولتیں حاصل ہوں لیکن تم میں سے ایک تعداد ایسی بھی ہوگی جو یہ سمجھتی ہوگی کہ اس کالج میں داخل ہوکر ہم اسلام سیکھ سکیں۔ تم میں سے جو طالب علم اس نیت سے یہاں نہیں آئے کہ وہ اسلام کی تعلیم سیکھ لیں میں ان ے کہتا ہوں کہ تم اب یہ نیت کرلو کہ تم نے اسلام کی تعلیم سیکھنی ہے اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ تم اسلام کی تعلیم سیکھو تو میرا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تم احمدیت کی تعلیم سیکھو۔ ہمارے نزدیک تو اسلام اور احمدیت میں کوئی فرق نہیں۔ احمدیت حقیقی اسلام کا نام ہے لیکن اگر تمہیں ان دونوں میں کچھ فرق نظر آتا ہے تو تم وہی سیکھو جسے تم اسلام سمجھتے ہو۔ اگر انسان کرتا اور ہے اور کہتا اور ہے تو وہ غلطی کرتا ہے۔ دیوبندی بریلویوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے۔ سنی شیعوں کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے۔ اسی طرح آغا خانیوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے۔ جماعت اسلامی کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے۔ احمدیوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے لیکن جب یہ سب فرقے اپنے آپ کو اسلام کا پیرو کہتے ہیں تو وہ اسلام کے متعلق کچھ نہ کچھ تو ایمان رکھتے ہوں گے ورنہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہتے۔ بریلوی بھی مسلمان ہیں` دیوبندی بھی مسلمان ہیں` سنی بھی مسلمان ہیں` شیعہ بھی مسلمان ہیں` جماعت اسلامی والے بھی مسلمان ہیں` احمدی بھی مسلمان ہیں۔ تم ان میں سے کسی فرقے کے ساتھ تعلق رکھو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ تم مانتے ہو اس پر عمل کرو۔ قرآن کریم میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اے عیسائیو! تم میں اس وقت تک کوئی خوبی نہیں جب تک عیسائیت پر عمل نہ کرو اور یہودیوں سے کہا گیا ہے کہ اے یہودیو! تم میں اس وقت تک کوئی خوبی نہیں جب تک تم یہودیت پر عمل نہ کرو۔ اب دیکھ لو قرآن کریم ان سے یہ نہیں کہتا کہ تم اسلام پر عمل کرو بلکہ یہ کہتا ہے کہ تم اپنے مذہب پر عمل کرو کیونکہ نیکی کا پہلا قدم یہی ہوتا ہے کہ انسان اپنے مذہب پر عمل کرے۔ پھر دیکھو اسلام نے اہل کتاب کا ذبیحہ جائز رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مذہب نے کچھ اصول مقرر کئے ہیں اور ان کے ماننے والے ان اصول کی پیروی کرتے ہیں۔ تم سمجھتے ہو کہ یہودی سور نہیں کھاتے اس لئے تم تسلی سے ان کا ذبیحہ کھالو گے۔ اسی طرح عیسائیوں سے تم کوئی معاملہ کرتے ہوئے نہیں گھبرائو گے کیونکہ ان کی مذہبی کتاب میں لکھا ہے کہ تم جھوٹ نہ بولو اور کسی سے فریب نہ کرو انفرادی طور پر اگر کوئی شخص تم سے فریب کرے تو کرے لیکن اپنے مارل کوڈ کے ماتحت وہ تم سے فریب نہیں کرے گا۔ اہل کتاب کی لڑکیوں سے شادی کی اجازت دی گئی ہے وہ بھی اسی حکمت کے ماتحت ہے کہ وہ تمہاری زوجیت میں آجانے کے بعد اپنے مارل کوڈ کے ماتحت چلیں گی مثلاً یہودیت اور عیسائیت کی تعلیم کے ماتحت کوئی عورت اپنے خاوند کو زہر نہیں دے گی۔ اس لئے تم اطمینان سے اپنی زندگی بسر کرسکو گے اور ایک دوسرے پر اعتماد کرسکو گے۔ گویا شریعت نے مذہب کو بہت عظمت دی ہے اور بتایا ہے کہ اپنے مخصوص عقیدہ پر چلنے میں بڑی سیفٹی ہے۔ پس کم از کم اتنا تو کرو کہ اپنے عقائد کے مطابق عمل کرو۔ اگر کوئی پروفیسر تمہیں کسی احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے مجبور کرتا ہے تو تم اس کا مقابلہ کرو اور میرے پاس بھی شکایت کرو۔ میں اس کے خلاف ایکشن لوں گا۔ لیکن اگر وہ تمہیں کہتا ہے کہ تم نماز پڑھو۔ تو یہ تمہارے مارل کوڈ کے خلاف نہیں اور اس کا نماز پڑھنے کی تلقین کرنا ریلیجس انٹرفیرینس نہیں۔ تم نماز پڑھو چاہے کسی طرح پڑھو۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ تم اپنے میں سے کسی کو امام بنالو۔ کالج کے بعض پروفیسر غیر احمدی ہیں۔ ان میں سے کسی کو امام بنالو۔ لیکن نماز ضرور پڑھو۔
    شیعہ اور بوہرہ لوگ نماز پڑھتے ہوئے ہاتھ چھوڑتے ہیں باندھتے نہیں۔ ہم اہلحدیث کی طرح سینہ پر ہاتھ باندھتے ہیں۔ حنفی لوگ ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں۔ اس کے خلاف اگر کوئی پروفیسر تمہیں مجبور کرتا ہے تو تم اس کی بات ماننے سے انکار کردو۔ اگر وہ کہتا ہے کہ تم آمین بالجہر کہو تو یہ اہلحدیث کا مذہب ہے حنفیوں کا نہیں۔ اگر تم حنفی ہو تو تم اس کی بات نہ مانو اور میرے پاس شکایت کرو۔ میں اس کے خلاف ایکشن لوں گا۔ مذہب میں دخل اندازی کا کسی کو حق نہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ مذہب میں مداخلت کرنا انسان کو منافق بتاتا ہے مسلمان نہیں بناتا۔ لیکن تم میں سے ہر ایک کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تعلیم الاسلام کالج کا طالب علم ہونے کی وجہ سے اسلام کی تعلیم پر چلے۔ اب اسلام کی تم کوئی تعریف کرو۔ اسلام کی جو تعریف تمہارے باپ دادا نے کی ہے تم اسی کو مانو۔ لیکن اگر تم اس تعلیم پر جسے خود درست سمجھتے ہو عمل نہیں کرتے تو یہ منافقت ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کالج میں اگر کوئی ہندو بھی داخل ہونا چاہے تو ہمارے کالج کے دروازے اس کے لئے کھلے ہیں۔ لیکن وہ بھی اس بات کا پابند ہوگا کہ اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرے کیونکہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرے۔ ہندو اپنے مذہب پر عمل کرے` عیسائی عیسائیت پر عمل کرے اور یہودی یہودیت پر عمل کرے۔
    پس اس اسلامی حکم کی وجہ سے ہم اسے مجبور کریں گے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے۔ لیکن یہ کہ تم اس کالج میں تعلیم حاصل کرو لیکن کسی مارل کوڈ کے ماتحت نہ چلو یہ درست نہیں ہوگا تمہیں اس کالج میں داخل ہونے کے بعد اپنے آپ کو کسی نہ کسی مارل کوڈ کی طرف منسوب کرنا ہوگا اور پھر تمہارا فرض ہوگا کہ تم اس کے ماتحت چلو۔
    پس اگر تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں مسلمان نہیں تب بھی ہم تمہیں برداشت کرلیں گے` لیکن اس شرط پر کہ تمہیں کالج میں داخل ہونے کے بعد اپنے آپ کو کسی مارل کوڈ کی طرف منسوب کرنا ہوگا چاہے تم اسے تجربہ کے طور پر تسلیم کرو۔ مثلاً تم تجربہ کے طور پر اپنے ماں باپ کے مذہب کو اختیار کرلو۔ تب بھی ہم برداشت کرلیں گے۔ لیکن اگر تم کسی مارل کوڈ کے ماتحت مستقل طور پر نہیں چلتے اور نہ کسی مارل کوڈ کو تجربہ کے طور پر اختیار کرتے ہو تو دیانت داری یہی ہے کہ تم اس کالج میں داخلہ نہ لو۔ اسلام کہتا ہے کہ تم جس مذہب کی تعلیم پر بھی عمل کرنا چاہو` کرو۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کوئی ہندو اپنی تعلیم پر عمل کرتا ہے` عیسائی اپنی تعلیم پر عمل کرتا ہے` یہودی اپنی تعلیم پر عمل کرتا ہے تو وہ اس کالج میں داخلہ لینے کا مستحق ہے۔ اگر کوئی حنفی المذہب ہے اور وہ حنفی مذہب پر عمل کرتا ہے تو وہ اس کالج میں داخلہ لینے کا مستحق ہے۔ اگر کوئی شیعہ ہے اور اپنے مذہب پر عمل کرتا ہے تو اس کالج میں داخلہ لینے کا مستحق ہے کیونکہ یہ کالج تعلیم الاحمدیہ کالج نہیں` تعلیم الاسلام کالج ہے اور اسلام ایک وسیع لفظ ہے۔ کوئی کوڈ آف مارلٹی جس کو علماء اسلام نے کسی وقت تسلیم کیا ہو یا اب تسلیم کرلیں وہ اسلام میں شامل ہے۔ پس میں طلبہ کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تم کالج کی روایات کو قائم رکھو۔ یہ تعلیم الاسلام کالج ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ کالج تمہیں عملی مسلمان بنا دے گا اور یہی اس کالج کے قائم کرنے کی غرض ہے<۔۱۸۶
    حضرت مصلح موعود نے اپنے اثر انگیز خطاب کے آخر میں دعا فرمائی کہ >اللہ تعالیٰ اس کالج کو اس مقصد کے پورا کرنے والا بنائے جس کے لئے اسے قائم کیا گیا ہے اور اس کے طالب علم رسول کریم~صل۱~ کے شاگرد ہوں جو لوگوں کو آپﷺ~ کا صحیح چہرہ دکھانے میں کامیاب ہوں<۔۱۸۷
    جلسہ کے اختتام پر حضور نے تمام طلبہ کو شرف مصافحہ بخشا۔ اس کے بعد حضور نے کالج کی طرف سے دی گئی ایک دعوت میں شرکت فرمائی۔ حضور دو بجے کے قریب دعوت سے فارغ ہوئے۔ جس کے بعد حضور نے مجلس عاملہ کالج یونین کے ساتھ ایک گروپ فوٹو کھنچوائی اور پھر واپس تشریف لے گئے۔ اس طرح یہ مبارک تقریب بخیر و خوبی انجام پائی۔۱۸۸
    اس تقریب پر متعدد غیراحمدی معززین بھی تشریف لائے ہوئے تھے جن میں سید عابد احمد علی صاحب پرنسپل گورنمنٹ کالج سرگودھا4]` ft[s۱۸۹ خاں رفیع اللہ خاں صاحب`۱۹۰ شیخ عطاء اللہ صاحب پرنسپل اسلامیہ کالج چنیوٹ اور پروفیسر۱۹۱ غلام جیلانی اصغر صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
    حضرت مصلح موعود نے کالج کے افتتاح کے موقعہ پر فضل عمر ہوسٹل کی VISITORSBOOK میں اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل عبارت رقم فرمائی۔
    >اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بے سروسامانی میں کالج کے سامانوں کو مہیا کیا اور بے گھروں کو گھر دیا۔ اب دعا ہے کہ جس طرح اس دنیا کا علم دیا اگلے جہان کا علم بھی دے اور جس طرح اس جہان کا گھر دیا اگلے جہان کا اچھا گھر بھی بخشے اور اس کالج میں پڑھنے والے سب طلبہ کو اپنی رضا پر چلنے` اپنا فرض ادا کرنے اور ایثار و قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھانے کی توفیق بخشے۔ خاکسار مرزا محمود احمد۔۱۹۲
    تعلیم الاسلام کالج کے ہونہار اور فارغ التحصیل طلبہ کالج کے سٹاف میں
    جیسا کہ فصل سوم میں بتایا جاچکا ہے کہ حضرت مصلح موعود نے قیام کالج کے پہلے سال )۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش( میں یہ ارشاد فرمایا تھا کہ
    کالج کے لیکچرار طالب علموں میں وقف کی تحریک کریں تاکہ ان کو مستقبل میں پروفیسری کے لئے تیار کیا جائے کیونکہ آگے چل کر ہمیں بہت سے ایم۔ اے اور ایم۔ ایس۔ سی صاحبان کی ضرورت ہوگی۔
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے بحیثیت پرنسپل کالج حضرت مصلح موعود کے اس فرمان مبارک کی تعمیل کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ چنانچہ آپ کی مخلصانہ مساعی بارآور ہوئیں جن کے شیریں اثمار ربوہ میں آکر ظاہر ہونا شروع ہوئے جبکہ تعلیم الاسلام کالج کے فارغ التحصیل طلبہ کالج کے سٹاف میں شامل ہوکر کالج کی علمی و عملی ترقی میں سرگرم عمل ہونے لگے۔
    ذیل میں ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش سے لے کر نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش کے درمیان کالج کے سٹاف میں شامل ہونے والے نئے اساتذہ کی فہرست دی جاتی ہے کہ جس میں ایک خاصی تعداد اسی مرکز علم و دانش سے اکتساب فیض کرنے والوں کی نظر آئے گی )گول دائرہ کا نشان اس خصوصیت کی علامت کے طور پر لگایا گیا ہے(
    مرزا مجید احمد صاحب ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش(

    محمد ابراہیم صاحب ناصر بی۔ اے

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش(

    مسعود احمد صاحب عاطف ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش(

    مبارک احمد صاحب انصاری ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش(

    چوہدری محمد لطیف صاحب ایم۔ اے

    )ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش(

    ظفر احمد صاحب وینس ایم۔ اے

    )ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش(

    سید مظفر حسین صاحب زیدی ایم۔ اے

    )ماہ صلح/ جنوری ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش(

    ایس۔ ایم حمایت اللہ صاحب ایم۔ اے

    )ماہ صلح/ جنوری ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش(

    سید کلیم اللہ شاہ صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ صلح/ جنوری ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش(

    چوہدری عطاء اللہ صاحب ایم۔ اے

    ‏col3] gat[ )ماہ امان/ مارچ ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش(

    مولوی محمد دین صاحب ایم۔ اے۔ سی ایل ایس سی۱۹۳

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش(

    چوہدری حمید اللہ صاحب ایم۔ اے

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش(

    ملک محمد عبداللہ صاحب

    )ماہ فتح/ دسمبر ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش(

    نصیر احمد صاحب بشیر ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۵۶ء/ ۱۳۳۵ہش(

    مرزا خورشید احمد صاحب ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۵۶ء/ ۱۳۳۵ہش(

    حمید اللہ صاحب ظفر ایم۔ اے

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۶ء/ ۱۳۳۵ہش(

    رفیق احمد صاحب ثاقب ایم۔ ایس۔ سی آنرز

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۶ء/ ۱۳۳۵ہش(

    کنور ادریس صاحب

    )ماہ تبلیغ/ فروری ۱۹۵۷ء/ ۱۳۳۶ہش(

    مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۵۷ء/ ۱۳۳۶ہش(

    محمد شریف صاحب خالد ایم۔ اے` ایل ایل بی` بی۔ ٹی

    )ماہ وفا/ جولائی ۱۹۵۸ء/ ۱۳۳۷ہش(

    سعید احمد صاحب رحمانی ایم۔ اے

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۵۸ء/ ۱۳۳۷ہش(

    حمید احمد صاحب ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۵۹ء/ ۱۳۳۸ہش(

    آفتاب احمد صاحب ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش(

    خواجہ منظور احمد صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش(

    چوہدری محمد سلطان صاحب اکبر ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش(

    ناصر احمد صاحب پروازی ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش(

    منور شمیم خالد صاحب ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش(

    سید حبیب الرحمن صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش(

    سعید اللہ صاحب خاں صاحب ایم۔ اے` بی ایس سی۱۹۴

    )ماہ صلح/ جنوری ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    اسلم قریشی صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ صلح/ جنوری ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    سردار محمد علیم صاحب ایم۔ اے

    )ماہ صلح/ جنوری ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    مرزا مسعود بدر بیگ صاحب ایم۔ اے

    )ماہ امان/ مارچ ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    سید پرویز سجاد جعفری صاحب ایم۔ اے

    )ماہ امان/ مارچ ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    سجاد امام صاحب

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    چوہدری محمد اسلم صاحب صابر ایم۔ اے` بی ایڈ

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب ایم۔ اے

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    چوہدری انور حسن صاحب ایم۔ اے

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    عبدالرشید فوزی صاحب ایم۔ اے

    )ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش(

    چوہدری عزیز احمد صاحب طاہر ایم۔ اے

    )ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش(

    محمد ارشد صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش(

    چوہدری عبدالسمیع صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش(

    مسٹر مائیکل ای ولیمز ایم۔ ایس۔ سی ڈرہم



    سید مقبول احمد صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش(

    محمد سرور صاحب ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش(

    محمد شریف خان صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش(

    عبدالشکور صاحب اسلم بی۔ ایس۔ سی۱۹۵

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش(

    عبدالرشید صاحب غنی انبالوی۔ ایم۔ ایس۔ سی۱۹۶

    )ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش(
    ][ سید محمد یحییٰ صاحب

    )ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش(

    رشید احمد صاحب جاوید ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش(

    اعجاز الحق قریشی صاحب ایم۔ اے

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش(

    محمد انور شاہ صاحب ارشد ترمذی

    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش(

    عبدالجلیل صاحب صادق
    ‏col2] [tag
    )ماہ تبوک/ ستمبر ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش(

    محمد اکرم صاحب ایم۔ ایس۔ سی

    )ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش(

    تعلیم الاسلام کالج کے تدریسی و تعلیمی نظام میں بتدریج وسعت اور جدید ڈگری کالج کی تعمیر
    یہ عظیم درسگاہ ربوہ میں منتقل ہونے کے بعد نہایت تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے لگی۔ چنانچہ یہاں آکر کیمیا کی تدریس اور پریکٹیکل
    کا انتظام )بی۔ ایس۔ سی کے معیار تک( پہلے سے بھی زیادہ عمدگی کے ساتھ ہونے لگا۔
    ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش ہی میں حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ کی خصوصی اجازت سے آل پاکستان بین الکلیاتی مباحثوں کا آغاز کیا گیا۔۱۹۷ علاوہ ازیں کالج کے طلبہ دیگر اداروں کے کل پاکستان بین الکلیاتی سالانہ مباحثوں میں شریک ہونے اور انفرادی اور مجموعی طور پر بکثرت انعام حاصل کرنے لگے جس کی تفصیل کالج کی مطبوعہ سالانہ رپورٹوں میں موجود ہے۔
    ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش سے کالج میں ریاضی )آنرز( کیمیا )آنرز( اور شماریات کی تعلیم کا اجراء ہوا۔ ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش میں بی ایس سی باٹنی اور بی ایس سی زوآلوجی کی کلاسز بھی کھل گئیں۔
    اسی زمانہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( نے کالج میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم کے لئے ایک عظیم الشان منصوبہ تیار فرمایا جو خدا کے فضل و کرم` سیدنا المصلح الموعود کی توجہ اور آپ کی ذاتی توجہ` دلچسپی اور رہنمائی کی بدولت نہایت برق رفتاری کے ساتھ کامیابی کے زینے طے کررہا ہے۔ ہماری مراد جدید ڈگری کالج سے ہے جس کی تفصیلی سکیم ۶۲۔ ۱۹۶۱ء/ ۴۱۔ ۱۳۴۰ہش میں بروئے کار آئی۔ چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس کی سالانہ رپورٹ میں فرمایا۔
    >اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو نظام تعلیم کے نئے دور میں تعلیم الاسلام کالج سابقون الاولون میں شمار ہوگا۔ انشاء اللہ العزیز۔ کالج کی تقسیم (BIFURACTION) کے بعد جو عنقریب ہونے والی ہے ڈگری اور پوسٹ گریجوایٹ کلاسیں جلد ہی اپنی نئی عمارت میں منتقل ہوجائیں گی۔ یہ سال تو کالج کے لئے زمین` عمارت کے نقشوں اور دیگر کوائف کی تفاصیل سے متعلق فیصلوں ہی میں گزرا ہے۔ اس وقت کالج کیمپس کے گرددیوار بن رہی ہے۔ ٹیوب ویلوں کے لئے آزمائشی کھدائی کی جاچکی ہے۔ نقشے بن چکے ہیں اور انشاء اللہ العزیز تعمیر کا کام بھی جلد ہی پوری تیز رفتاری سے شروع ہونے والا ہے۔ یہ دور جدید کالج کی زندگی میں ایک عہد آفریں اور خوشکن انقلاب کا حامل ہوگا<۔۱۹۸
    ۶۴۔ ۱۹۶۳ء/ ۴۳۔ ۱۳۴۲ہش میں کالج کیمپس کی اصل عمارت کی تعمیر شروع کر دی گئی۔ اس عظیم علمی منصوبہ پر ماہ امان/ مارچ ۱۹۶۸ء/ ۱۳۴۷ہش تک نو لاکھ روپیہ کے اخراجات ہوئے۔ سائنس لیبارٹریز کی ورکشاپ تو اسی سال مکمل ہوگئی۔۱۹۹ مگر سائنس بلاک کی تعمیر خلافت ثالثہ کے چوتھے سال )۶۹۔ ۱۳۴۸ہش( تک جاری رہی۔ چنانچہ اخبار >الفضل< ۲۱۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۹ء/ ۱۳۴۸ہش صفحہ ۸ میں اس زیر تعمیر کالج کی نسبت یہ خبر شائع کی گئی۔
    >شعبہ فزکس کی لیبارٹریز مکمل ہوچکی ہیں۔ عنقریب ان کی فٹنگ اور فنشنگ شروع ہو جائے گی۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے طور پر فزکس میں ایم۔ ایس۔ سی کی تدریس شروع کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے مقرر کردہ خاص کمیٹی نے آلات فزکس کی ایک فہرست تیار کی تھی اور الحاق سے قبل ان کا فراہم کرنا ضروری قرار دیا تھا<۔
    ۱۹۶۸ء/ ۱۳۴۷ہش میں اس کمیٹی کی تیار کردہ فہرست کے مطابق بیرونی ممالک سے جدید ترین آلات درآمد کرنے کا انتظام کیا گیا۔ جن کی پہلی کھیپ ۱۱۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۹ء/ ۱۳۴۸ہش کو انگلستان` مغربی جرمنی اور یوگوسلاویہ سے ربوہ میں پہنچی جس میں اسلو سکوپ` الیکٹرک اوسی لیٹررز` الیکٹرو سکوپ` ریڈیو ایکٹو سوسرز` ریٹ میٹر` اور الیکٹرانکس کا دیگر بیش قیمت سامان شامل تھا۔ مزید برآں بعض INSTRUMENTS PRECISION بھی منگوائے گئے۔ بعض آلات کے پرزہ جات کو صدر شعبہ طبعیات ڈاکٹر نصیر احمد خاں صاحب کی نگرانی میں فزکس کے اساتذہ اور بعض طلبہ نے خود ASSEMBLE کیا اور دن رات ایک کرکے سامان کی چیکنگ اور ترتیب مکمل کرکے بڑے قرینہ سے شعبہ طبعیات کی بڑی لیبارٹری میں نصب کئے تاکہ ان آلات کی کارکردگی کو جانچا جاسکے۔ اس طرح کالج کی طبعیات کی لیبارٹریز جدید سائنٹیفک آلات سے آراستہ ہوگئیں۔ جن کا معائنہ اور عملی کارکردگی کا مشاہدہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۷۔ ہجرت ۱۹۶۹ء/ ۱۳۴۸ہش کو بنفس نفیس فرمایا۔۲۰۰
    آلات طبعیات کی دوسر کھیپ امریکہ سے موصول ہونے والی ہے جو ماہ جولائی )۱۹۶۹ء/ ۱۳۴۸ہش( کے آخر تک پہنچ جائے گی۔ موجودہ ششماہی میں دس ہزار روپیہ کا کیش بونس درآمدی لائسنس منظور ہوا ہے جس پر مزید آلات کا آرڈر دیا جارہا ہے۔
    فزکس کا بلاک مکمل ہوچکا ہے۔ بجلی کی وائرنگ اور فرنیچر کے لئے رقم کی منظوری حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے ہوچکی ہے۔ امید ہے کہ اگست تک یہ کام مکمل ہو جائے گا اور فزکس کی تجربہ گاہیں یونیورسٹی کمیشن کے آنے تک سامان اور تجربات سے پوری طرح لیس ہو جائیں گی۔۲۰۱
    یونیورسٹی کے امتحانوں میں کالج کے خوشکن نتائج
    ربوہ میں ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش سے لے کر ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش تک یہ کالج حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی براہ راست نگرانی اور قیادت میں سرگرم عمل رہا۔ اس زمانہ میں کالج نے اپنے عظیم المرتبت اور جلیل القدر پرنسپل کے زیر سایہ علم و عمل کے میدان میں نمایاں ترقی کی اور بالخصوص یونیورسٹی کے امتحانات میں اس کے نتائج سال بسال نہایت درجہ خوشکن` مسرت افزا اور شاندار رہے اور اس کے طلبہ نے صوبہ بھر میں امتیازی پوزیشن حاصل کی۔۲۰۲
    کالج میں مشہور ملکی اور غیر ملکی شخصیتوں کی آمد
    تعلیم الاسلام کالج کی علمی تقریبات میں نامور ملکی اور غیر ملکی شخصیتوں کی آمد کا جو سلسلہ قبل ازیں جاری ہوچکا تھا وہ ربوہ میں حیرت انگیز حد تک وسعت پکڑ گیا حتیٰ کہ امریکہ` یورپ اور روس کے بعض ممتاز شہرہ آفاق اور بین الاقوامی شہرت کے حامل سائنسدان بھی اس علمی ادارہ کی شہرت سے متاثر ہوکر کھنچے آنے لگے۔ چنانچہ اس ضمن میں بعض نامور اشخاص کی ایک مختصر فہرست دی جاتی ہے جو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی براہ راست قیادت کے مبارک دور میں یہاں پہنچے اور جنہوں نے بذریعہ تقریر اپنے تجربات و معلومات سے اساتذہ اور طلبہ کو متمتع ہونے کا موقعہ دیا۔۲۰۳
    ڈاکٹر ایس۔ ایل شیٹس لاہور۔ اطالوی مستشرق پروفیسر اے بوسانی` روسی سائنسدان برونوف۲۰۴ )پروفیسر لینن گراڈ یونیورسٹی ڈائریکٹر انسٹی چیوٹ آف فزیالوجی اکیڈمی آف سائنسز R۔S۔S۔(U امریکی سائنسدان ای۔ سی سٹیکمین۲۰۵]ydob [tag پروفیسر ارئیں امینا سوٹا یونیورسٹی امریکہ و سائنٹیفک ایڈوائزر راک فیلر فائونڈیشن`( میجر عثمان بیگ آفندی آف ترکی` میجر جنرل اکبر خاں` مسٹر تھیوڈور` ڈاکٹر محمد عودہ مدیر >الجمہوریہ< مصر` مرغوب صدیقی صاحب صدر شعبہ جرنلزم پنجاب یونیورسٹی` سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون ایڈیٹر >ریاست< دھلی۔ ڈاکٹر ای۔ ٹی۔ جے روز نتھل` کیمرج یونیورسٹی۔ سرہیری میلول سابق پروفیسر برمنگھم یونیورسٹی` انور عادل صاحب سیکرٹری تعلیم مغربی پاکستان` ڈاکٹر سی ولیم کرک مشیر ثقافتی امور امریکی کونسل` پروفیسر سڈرف )روسی سائنس اکیڈمی کے ممبر )بابائے سپٹنک SPUTNIN) OF (FATHER فلائنٹ لیفٹیننٹ ایم۔ ڈبلیو بناچ۔ مولانا ابوالہاشم خاں رکن اسلامی مشاورتی کونسل پاکستان` چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب جج عالمی عدالت انصاف` مولانا صلاح الدین احمد صاحب ایڈیٹر )ادبی دنیا`< ڈاکٹر وزیر آغا صاحب ایم۔ اے پی ایچ ڈی` ڈاکٹر عبادت بریلوی صاحب ایم۔ اے` پی ایچ ڈی` اطالوی پروفیسر بارتلونی` پروفیسر حمید احمد خاں پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور` ڈاکٹر محمد صادق صاحب ایم۔ اے` پی ایچ ڈی وائس پرنسپل و صدر شعبہ انگریزی دیال سنگھ کالج لاہور` سید امجد الطاف ایم۔ اے سیکرٹری بورڈ آف ایڈیٹرز اردو انسائیکلو پیڈیا آف اسلام پنجاب یونیورسٹی لاہور۔ ڈاکٹر عبدالبصیر صاحب پال صدر شعبہ طبعیات پنجاب یونیورسٹی` سید حماد رضا سی ایس پی کمشنر سرگودھا ڈویژن` ڈاکٹر وحید قریشی صاحب ایم۔ اے` پی ایچ ڈی شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی` مسٹر جسٹس سجاد احمد جان جج عدالت عالیہ مغربی پاکستان` مسٹر جسٹس انوار الحق صاحب جج عدالت عالیہ مغربی پاکستان` مسٹر منظور قادر صاحب سابق وزیر خارجہ پاکستان و چیف جسٹس عدالت عالیہ مغربی پاکستان` ڈاکٹر ظفر احمد صاحب ہاشمی وائس چانسلر زراعتی یونیورسٹی لائل پور` سہیل بخاری صاحب ایم۔ اے` پی ایچ ڈی پاکستان ایر فورس سکول سرگودھا` پروفیسر سید وقار عظیم ریڈر شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی لاہور۔
    ڈاکٹر عبدالحق صاحب سابق پرنسپل ڈینٹل کالج` ڈاکٹر جے۔ ایم بھینڈ` ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب ایم۔ ایس۔ سی` پی ایچ ڈی` ڈاکٹر کریم قریشی ایم۔ ایس۔ سی` پی ایچ ڈی یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی ڈاکٹر تھیوڈر بیلر )پنجاب یونیورسٹی`( ڈاکٹر طاہر حسین صدر شعبہ طبعیات گورنمنٹ کالج لاہور` ڈاکٹر ایس۔ اے درانی ایم۔ ایس۔ سی` پی ایچ ڈی ڈائریکٹر اٹامک انرجی کمیشن لاہور` کیپٹن علی ناصر زیدی` پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب امپیریل کالج لندن و مشیر سائنسی امور صدر پاکستان` ڈاکٹر الیاس ڈوباش ڈپٹی ڈائریکٹر صنعتی تحقیقاتی تجربہ گاہ` ڈاکٹر ایس۔ اے رحمان` کمانڈر عبداللطیف صاحب ڈائریکٹر اعلیٰ تعلیمات زرعی یونیورسٹی لائل پور`
    ‏vat,10.7
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    پروفیسر کرامت حسین جعفری پرنسپل گورنمنٹ کالج لائل پور` پروفیسر ڈاکٹر حمید الدین صاحب وائس پرنسپل و صدر شعبہ فلسفہ گورنمنٹ کالج لاہور` علامہ علائو الدین صاحب صدیقی صدر شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی` شمس الدین صاحب ایم۔ اے صدر شعبہ تاریخ اسلامیہ کالج لاہور` پروفیسر شجاع الدین صاحب ایم۔ اے صدر شعبہ تاریخ دیال سنگھ کالج لاہور` پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید صاحب صدر شعبہ تاریخ گورنمنٹ کالج لاہور` ڈاکٹر ایس۔ ایم اختر پی ایچ ڈی صدر شعبہ اقتصادیات پنجاب یونیورسٹی` پروفیسر محمد اعظم ورک زئی شعبہ اقتصادیات پنجاب یونیورسٹی` ڈاکٹر منیر چغتائی شعبہ سیاسیات پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر ہیل بک پروفیسر میونک یونیورسٹی` پروفیسر مائیکل ولیم ایم۔ ایس۔ سی` میر حبیب علی صاحب اسسٹنٹ ڈائریکٹر سپورٹس مشرقی بنگال۔
    ان مقررین کے علاوہ پاکستان کے ممتاز شعراء میں سے احسان دانش` طفیل ہوشیارپوری` سید محمد جعفری` مکین احسن کلیم حبیب اشعر کلیم عثمانی` نظر امروہی` شرقی بن شائق مدیر >نیا راستہ`< قتیل شفائی` ثاقب زیروی` احمد ندیم قاسمی` عاطر ہاشمی` ہوش ترمذی` ظہیر کاشمیری` محمد علی مضطر` صوفی غلام مصطفی تبسم` شیر افضل جعفری` لطیف انور )مدیر مخابرات ریڈیو پاکستان لاہور( ہوش ترمذی )ڈائریکٹر پریس برانچ مغربی پاکستان لاہور`( ضمیر فاطمی مدیر >اسلوب`< مولانا عبدالمجید سالک مدیر >انقلاب`< نازش رضوی` عبدالرشید تبسم گلزار ہاشمی وغیرہ نے کالج کی تقریبات میں شرکت کی اور اپنا کلام سنایا۔
    آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ کا آغاز
    ۱۹۵۸ء/ ۱۳۳۷ہش اور ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش کے سال کالج کی تاریخ میں ایک نئے سنگ میل کی حیثیت سے ہمیشہ یادگار رہیں گے اس لئے کہ ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی خصوصی ہدایات اور سرپرستی سے دو ایسے اہم اقدامات عمل میں لائے گئے جو نہایت درجہ وسیع` شاندار اور دوررس نتائج کے حامل ثابت ہوئے جن سے کالج کی ملک گیر شہرت و مقبولیت میں نئے باب کا اضافہ ہوا اور اس کی عظمت و اہمیت کو چار چاند لگ گئے۔
    اس ضمن میں پہلا قابل ذکر امر کالج کے زر انتظام آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ کا آغاز ہے جس کی کامیابی کا سہرا پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب کے سر ہے جن کی مسلسل کوشش سے ۱۹۵۶ء/ ۱۳۳۵ہش میں کچی کورٹ سے کالج میں باسکٹ بال کی ابتداء ہوئی۔ ۱۹۵۸ء/ ۱۳۳۷ہش میں اس میدان کو ایک معیاری پختہ کورٹ میں تبدیل کردیا گیا جس میں پہلا آل پاکستان تعلیم الاسلام کالج باسکٹ بال ٹورنامنٹ کھیلا گیا۔ اس پہلے ٹورنامنٹ میں جس کا اہتمام ۱۹۵۸ء/ ۱۳۳۷ہش میں کیا گیا۔ پولیس لاہور برادرز کلب لاہور` وائی ایم۔ سی۔ اے لاہور` بمبئی سپورٹس کلب کراچی` نارتھ ویسٹرن ریلوے لاہور` فرینڈز کلب سرگودھا` لائلپور کلب ٹی۔ آئی کلب` زراعتی کالج لائلپور` گورنمنٹ کالج لائلپور اور تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی ٹیمیں شامل ہوئیں اور پاکستان بھر کے چھ اور پنجاب کے آٹھ منتخب اور مشہور کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور کھیل کا معیار نہایت بلند رہا۔ انعامات چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے تقسیم فرمائے۔
    دوسرے ٹورنمنٹ میں نہ صرف شرکت کرنے والی نامور ٹیموں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ چھ کی بجائے پاکستان بھر کے دس منتخب کھلاڑی شامل ہوئے۔ علاوہ ازیں بعض ایسے کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی جنہیں بیرونی ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کا فخر حاصل تھا۔ اس ٹورنامنٹ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ پنجاب باسکٹ بال ایسوسی ایشن لاہور کے فیصلہ کے مطابق پنجاب کی بہترین ٹیم کا انتخاب اس ٹورنامنٹ میں ہوا۔ قبل ازیں اس انتخاب کے لئے الگ مقابلے ہوتے تھے۔
    تیسرا ٹورنمنٹ اپنی منفرد حیثیت کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ثابت ہوا۔ ملک کے کونے کونے سے دو درجن کے قریب بہترین ٹیمیں اور مشہور ترین کھلاڑی شامل ہوئے جن میں سی۔ ٹی۔ آئی کلب سیالکوٹ کے تین امریکی بھی تھے۔ اس موقعہ پر بہت سے کالجوں کے پروفیسر اور دیگر معززین بھی بکثرت موجود تھے۔ ہر سال یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ ٹورنامنٹ کا افتتاح کس سے کروایا جائے؟ تیسرے ٹورنامنٹ کے موقعہ پر جب یہ معاملہ پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے قدرے تامل کے بعد فرمایا ایک BRAINWAVE یعنی خیال کی لہر آئی ہے اور مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا۔ کیسے؟ فرمایا۔ پچھلے ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کے کپتان سے افتتاح کروالو اور آئندہ یہی ہماری روایت ہوگی۔ چنانچہ اس سال سے لے کر اب تک اسی پر عمل ہورہا ہے۔ اس روایت کی ابتداء ریلوے ٹیم کے کپان سید جاوید حسن سے شروع ہوئی جو پچھلے سال کے ٹورنا منٹ کے فاتح تھے۔
    چوتھا آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ بھی ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔ اس موقع پر پہلی بار ایک یادگاری مجلہ (SOUVENIR) شائع کیا گیا جس میں مختلف معززین کے خیرسگالی کے پیغامات اور تصاویر کے علاوہ ربوہ میں باسکٹ بال کے اجراء اور ترقی کا جائزہ لیا گیا تھا۔ >پاکستان ٹائمز< )لاہور`( >سول اینڈ ملٹری گزٹ< )لاہور`( >نوائے وقت< )لاہور`( >امروز< )لاہور`( اور >الفضل< )ربوہ( نے نمایاں طور پر اس ٹورنامنٹ کی خبریں شائع کیں۔
    ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش یعنی پانچ سال کے قلیل عرصہ میں ربوہ کے چھوٹے سے قصبہ میں کل آٹھ باسکٹ بال کورٹس اور سات باسکٹ بال کلب جن کا مرکزی باسکٹ بال ایسوسی ایشن لاہور سے باقاعدہ الحاق تھا قائم ہوچکے تھے۔ ان سب کلبوں نے علاوہ بیرونی کلبوں کے چوتھے ٹورنامنٹ میں شمولیت کی۔ اسی سال کالج کے چار منتخب کھلاڑیوں نے پنجاب کی طرف سے قومی مقابلوں میں حصہ لیا۔
    ۵۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش کو وائی۔ ایم۔ سی۔ اے کی مشہور بھارٹی ٹیم` کراچی` لاہور اور راولپنڈی کے علاوہ ربوہ میں بھی میچ کھیلنے کے لئے آئی۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ ربوہ کو بیرون ملک کھلاڑیوں سے نبردآزما ہونا پڑا۔
    ان بیش از پیش کامیابیوں کے نتیجہ میں ربوہ باسکٹ بال کے تین چار اہم ترین ملکی مراکز میں سے شمار ہونے لگا اور چونکہ ملک میں باسکٹ بال کو غیر معمولی طور پر فروغ دینے میں تعلیم الاسلام کالج کے منتظمین خصوصاً حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا بھاری عمل دخل تھا اس لئے پانچویں سالانہ ٹورنامنٹ پر امیچیور باسکٹ بال ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کمیٹی کی طرف سے ایک وفد جو ایکٹنگ چیئرمین )چوہدری محمد علی صاحب۲۰۶ ایم۔ اے( اور سیکرٹری )قریشی محمد اسلم صاحب ایم۔ ایس۔ سی( پر مشتمل تھا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خدمت حاضر ہوا اور درخواست کی کہ باسکٹ بال کے کھیل کی مقبولیت اور ترقی کے سلسلہ میں آپ نے جو خدمات جلیلہ انجام دی ہیں ان کی وجہ سے ایسوسی ایشن چاہتی ہے` کہ آپ پریذیڈنٹ کا عہدہ قبول فرمائیں۔ اگرچہ قبل ازیں کئی بار آپ یہ درخواست قبول کرنے سے معذوری کا اظہار فرماچکے تھے مگر اس مرتبہ آپ نے از راہ شفقت پریذیڈنٹ بننا منظور فرمالیا۔ چنانچہ آپ ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش یعنی منصب خلافت پر فائز ہونے تک ایسوسی ایشن کے صدر رہے اور ہمیشہ بلامقابلہ منتخب ہوتے رہے۔۲۰۷
    پانچواں آل پاکستان ٹورنامنٹ پہلے سے بھی زیادہ شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس دفعہ کھیل پہلی بار رات کے وقت بجلی کی روشنی میں ہوا اور کلب سیکشن میں کراچی یونیورسٹی` زرعی یونیورسٹی اور ایرفورس کی ٹیمیں پہلی بار شامل ہوئیں۔ ایسوسی ایشن کے نمائندے` انتظامیہ کے ممبر اور پنجاب ٹیم کی انتخابی کمیٹی کے تمام ارکان کے علاوہ دور و نزدیک سے سینکڑوں شائقین نے نہایت دلچسپی اور دلجمعی سے کھیل دیکھا اور خوب داد دی۔ حضرت صاحبزاد مرزا ناصر احمد صاحب نے سنٹرل ایمیچیور باسکٹ بال ایسوس ایشن کے صدر کی حیثیت سے انعامات تقسیم فرمائے۔
    چھٹا سالانہ ٹورنامنٹ اپنی گزشتہ روایات کے مطابق کامیابی کے ساتھ انعقاد پذیر ہوا اور انعامات کی تقسیم پروفیسر خواجہ غلام صادق صاحب چیئرمین سنٹرل امیچیور باسکٹ بال ایسوسی ایشن نے کی۔
    ساتواں ٹورنامنٹ جو کالج میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی سربراہی کے مبارک زمانہ کا آخری ٹورنامنٹ تھا` ۲۵` ۲۶` ۲۷۔ تبلیغ ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش کو منعقد ہوا۔ کل ۲۶ ٹیموں نے شرکت کی اور حضرت صاحبزادہ صاحب نے بحیثیت پرنسپل و صدر سنٹرل ایسوسی ایشن لوائے پاکستان اور کالج کا جھنڈا لہرایا۔ اس موقعہ پر جن اصحاب نے پیغامات ارسال کئے ان میں ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان` خواجہ عبدالحمید صاحب ڈائریکٹر تعلیمات راولپنڈی ریجن` ونگ کمانڈر ایچ۔ اے صوفی سیکرٹری سپورٹس کنٹرول بورڈ گورنمنٹ آف مغربی پاکستان` پروفیسر خواجہ محمد اسلم پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور اور سید پناہ علی شاہ انسپکٹر آف سکولز لاہور ڈویژن` خاں محمد عادل خاں ڈائریکٹر آف سپورٹس پشاور یونیورسٹی بالخصوص قابل ذکر تھے۔ اس ٹورنامنٹ کی تصاویر )مع پیغام و تصویر ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان( دو دفعہ ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔ اسی طرح ریڈیو پر مقامی اور قومی خبروں میں بھی اس کا اعلان نشر کیا گیا۔
    ۸۔ نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب منصب خلافت پر فائز ہوئے اور خلافت ثالثہ کے مبارک عہد کا آغاز ہوا تو حضرت امیرالمومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ کرم اپنے اسم گرامی سے ٹورنامنٹ کو منسوب کئے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ چنانچہ آئندہ سے یہ مقابلے پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے >ناصر باسکٹ بال ٹورنامنٹ< کے نام سے ہونے لگے۔۲۰۸
    کل پاکستان اردو کانفرنس کا انعقاد
    باسکٹ بال ٹورنامنٹ سے اگر کھیلوں کی دنیا میں کالج کا شہرہ عام ہوا تو ادب اردو کے حلقوں میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی >کل پاکستان اردو کانفرنس< نے دھوم مچا دی۔
    ربوہ میں اپنی نوعیت کی پہلی کامیاب کانفرنس جو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خداداد ذہانت` بلند پایہ نفیس ادبی ذوق اور بہترین علمی قیادت و سیادت کی آئینہ دار اور پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد ایم۔ اے صدر شعبہ اردو اور پروفیسر ناصر احمد صاحب پروازی معتمد مجلس استقبالیہ اردو کانفرنس اور ان کے دوسرے رفقاء کی ان تھک جدوجہد کا نتیجہ تھی` ۱۸۔ ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش کو تعلیم الاسلام کالج کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی جس میں ۲۵ کے قریب نامور ادباء اور شعراء نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں مختلف کالجوں کی طرف سے بھی پچیس کے قریب مندوبین شامل ہوئے۔ کانفرنس کی کارروائی تلاوت سے شروع ہوئی۔ بعد ازاں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس استقبالیہ نے اپنے پراثر خطبہ۲۰۹ میں ارشاد فرمایا۔
    >اس کانفرنس کے مقاصد خالصت¶ہ تعمیری اور مثبت ہیں۔ ہم اردو کا مینار تخریب کے منفی اقدار پر استوار نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارے نزدیک سلبی انداز فکر ذہنی افلاس کی علامت ہے۔ زندہ قوموں کی ہزار پہلو ضروریات اپنے اپنے مقام اور محل پر سب کی سب اہم اور ناقابل تردید حیثیت کی حامل ہوا کرتی ہیں۔ لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ ان جملہ قومی تقاضوں کو ضروری خیال کرتے ہوئے بھی میزان عدل کا توازن برقرار رکھا جاسکتا ہے اور اردو کو وہ ارفع مقام دیا جاسکتا ہے جو اس کا واجبی حق ہے۔
    یہ ایک عظیم قومی حادثہ ہے کہ زبان کا مسئلہ جو خالصت¶ہ قومی اور علمی سطح پر حل کیا جانا چاہئے تھا` سیاسی نعرہ بازی اور مہمل جذبات کا شکار ہوکر رہ گیا اور سترہ سال کا طویل عرصہ بے کار مباحث اور مجرمانہ غفلت کے ہاتھوں ضائع ہوگیا۔ ہم تو سنتے آئے تھے کہ ہمارے معروف >ساغر< کا ایک دور >صد سالہ دور چرخ< کے ہم پلہ ہوا کرتا ہے اور رند جب میکدہ سے نکلتے ہیں تو دنیا بدلی ہوئی پاتے ہیں لیکن یہاں سترہ سال کے بعد بھی
    ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
    کچھ ہماری خبر نہیں آتی
    اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سہل انگاری اور خوش فہمی کے گنبد سے نکل کر ہم حقائق کی دنیا میں قدم رکھیں۔ ٹھنڈے دل سے اپنی مشکلات کا جائزہ لیں اور سنجیدگی سے اپنے تعلیمی` تدریسی` علمی` ادبی` لسانی اور طباعتی مسائل کا حل تلاش کریں۔ زبان و بیان` تلخیص و ترجمہ` رسم الحظ اور اسی قسم کے دیگر عقدوں کی گرہ کشائی کی کوشش کریں۔ ایسا لائحہ عمل بنائیں اور اس کی تشکیل ایسے خطوط پر کریں جس سے یہ گومگو کی کیفیت ختم ہو اور اس ذہنی دھند سے نجات ملے۔
    اس جگہ اس امر کا اظہار بھی غیر مناسب نہ ہوگا کہ اردو کے ساتھ جماعت احمدیہ کا ایک پائیدار اور روحانی رشتہ بھی ہے۔ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی اکثر تصانیف اردو ہی میں ہیں۔ اس لئے اردو زبان عربی کے بعد ہماری محبوب ترین زبان ہے۔ اسی لئے ساری دنیا میں جہاں جہاں احمدیہ مشن یا احمدی مسلمان موجود ہیں ہاں اردو سیکھی اور سکھلائی جارہی ہے۔ زبان اردو کی یہ ٹھوس اور خاموش خدمت ہے جو جماعت احمدیہ دنیا کے گوشے گوشے میں کررہی ہے۔ اردو ہماری مذہبی زبان ہے۔ یہ ہماری قومی زبان ہے۔ یہ ہماری آئندہ نسلوں کی زبان ہے۔ یہ وہ قیمتی متاع ہے جو ہمیں ہمارے اسلاف سے ورثہ میں ملی ہے۔ اسے اس قابل بنائیے کہ ہماری آئندہ نسلیں اس ورثہ کو سرمایہ افتخار تصور کریں اور اس پر بجاطور پر ناز کرسکیں اور ہماری طرح گونگی اور >بے زبان< ہوکر نہ رہ جائیں۔
    اردو ایک زندہ قوم کی زندہ زبان ہے۔ ادبیات کی اہمیت مسلم لیکن یہ نہ بھولئے کہ اردو زبان کا یہ بھی حق ہے کہ شعر و ادب کے روایتی اور محدود دائرے سے باہر نکلے اور زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہو جائے۔ ساری دنیا کے دلوں پر اس کی حکومت ہو۔ قومیں اسے لکھیں` بولیں اور اس پر فخر کریں اور بین الاقوامی زبانوں کی محفل میں اردو بھی عزت کے بلند پایہ مقام پر سرفراز ہو۔
    ان دعائیہ الفاظ کے ساتھ ہی میں ایک بار پھر اپنے دوستوں اور بزرگوں کو اھلا و سھلا و مرحبا کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہوں کہ وہ ہم سب کو ایسا انداز فکر عطا فرمائے اور اس نہج پر کام کرنے کی توفیق دے جو نہ صرف زبان اردو کے لئے بلکہ ہمارے لئے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے خیر و برکت کا باعث ہو۔ اللہم آمین۔4] [stf۲۱۰
    خطبہ استقبالیہ کے بعد معتمد استقبالیہ اردو کانفرنس نے اختر حسین صاحب صدر انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی اور اشتیاق حسین صاحب قریشی رئیس الجامعہ جامعہ کراچی کے پیغامات سنائے جو انہوں نے خاص اس موقعہ کے لئے بھیجے تھے۔ ان پیغامات کے علاوہ سیدنا المصلح الموعود کے اس پیغام کے اقتباسات بھی سنائے جو حضور نے ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش میں دانش گاہ پنجاب میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے نام ارسال فرمایا تھا۔ ازاں بعد حضرت مصلح موعودؓ کا رقم فرمودہ ادبی مقابلہ >اردو رسائل زبان کی کس طرح خدمت کرسکتے ہیں؟< کے موضوع پر پڑھا گیا۔ حضور کا یہ قیمتی مقالہ برصغیر پاک و ہند کے ادیب شہیر احسان اللہ خاں تاجور نجیب آبادی نے اپنے رسالہ >ادبی دنیا< )مارچ ۱۹۳۱ء( میں حضور کا فوٹو دے کر شائع کیا تھا۔ اس زمانہ میں رسالہ >ادبی دنیا< کے نگران اعلیٰ سرعبدالقادر مرحوم تھے۔
    اس یادگار مقالہ کے بعد جو گویا اس پوری کانفرنس کی روح رواں تھا۔ وزیر آغا ایم۔ اے` پی۔ ایچ۔ ڈی نے اپنا فاضلانہ خطبہ افتتاح پڑھا جس میں تعلیم الاسلام کالج کو ادبی کانفرنس منعقد کرنے پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا۔
    >اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے یوں تو بہت سے اقدامات ضروری ہیں لیکن اس سلسلہ میں اردو کانفرنسوں کا انعقاد ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ملک میں بالعموم ہر تحریک نہ صرف بعض بڑے ثقافتی مراکز سے جنم لیتی ہے بلکہ پروان چڑھنے کے بعد وہیں کی ہوکر رہ جاتی ہے اس سے تحریک میں وہ کشادگی اور وسعت پیدا نہیں ہوتی جو اس کی پوری کامیابی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اردو زبان کی ترویج کے سلسلہ میں جو تحریکات وجود میں آئیں وہ عام طور پر لاہور اور کراچی ایسے مراکز ہی سے وابستہ ہیں۔ تعلیم الاسلام کالج نے اس انجماد کو توڑا ہے اور اردو کانفرنس کے انعقاد سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اب اردو کے لئے محبت اور اردو کو قومی زبان کا درجہ دینے کی آرزو بڑے بڑے مراکز تک ہی محدود نہیں رہی۔ گویا اس خوشبو کی طرح جو دیوار چمن کو پار کرتی ہے اردو زبان کی ترویج و اشاعت کی تحریک بھی اونچی اونچی دیواروں کو پار کرکے افق کے پہاڑوں سے آٹکرائی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے جو مبارک قدم اٹھایا ہے اس کی ملک کے طول و عرض میں عام طور سے تقلید ہوگی اور ہم اردو زبان کو ملک کے دور دراز گوشوں تک پہنچا سکیں گے۔ آپ کی یہ اردو کانفرنس اس لئے بھی اہم ہے کہ اس کے پس پشت اردو زبان کے لئے بے پناہ محبت کے سوا کوئی اور جذبہ موجزن نہیں ہے اور آپ نے پنجاب کے اس دیہاتی علاقہ میں منعقد کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو زبان پنجاب کے دور دراز گوشوں میں بھی ویسی ہی مقبول ہے جیسی کہ اردو کے بڑے بڑے مراکز میں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اردو کانفرنس کے منعقد کرنے کی جو روایت قائم کی ہے اسے ہمیشہ جاری رکھیں گے اور مجھے امید ہے کہ ہمارے ملک کے دوسرے ادارے اس سلسلہ میں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی پوری کوشش کریں گے۔۲۱۱]ybod [tag
    اس خطبہ افتتاح کے بعد کانفرنس کی دو نشستوں میں مندرجہ ذیل موضوعات پر تحقیقی اور فکر انگیز مقالے پڑھے گئے۔
    ۱۔ اردو میں سائنسی تدریس )پروفیسر شیخ ممتاز حسین صاحب صدر شعبہ اردو زراعتی یونیورسٹی لائل پور(
    ۲۔ اردو میں قانونی تدریس )خضر تمیمی صاحب ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور(
    ۳۔ اردو میں دخیل الفاظ کا مسئلہ )ڈاکٹر سہیل بخاری صاحب سرگودھا(
    ۴۔ اردو بحیثیت تدریسی زبان )پروفیسر سید وقار عظیم صاحب شعبہ اردو دانش گاہ پنجاب(
    ۵۔ غیر ممالک میں احمدی کی کیا خدمات انجام دے رہے ہیں )مولانا نسیم سیفی صاحب سابق رئیس التبلیغ مغربی افریقہ(
    ۶۔ ادب اور زندگی کا رشتہ )سید سجاد باقر صاحب رضوی شعبہ اردو دانش گاہ پنجاب(
    ۷۔ اردو بحیثیت قومی زبان )ڈاکٹر وحید قریشی صاحب(
    ان ادباء کے علاوہ جامعہ احمدیہ کے تین غیرملکی طلبہ یوسف عثمان صاحب )افریقہ( عبدالقاھر صاحب )ترکستان( اور عبدالرئوف صاحب )فجی( نے >ہمیں اردو سے کیوں محبت ہے< کے عنوان پر مضمون پڑھے۔ مہمانوں کے لئے یہ عجیب بات تھی کہ غیرملکی طلبہ ایسی شستہ اردو بول رہے ہیں۔۲۱۲ الغرض یہ پہلی اردو کانفرنس ہر لحاظ سے حددرجہ کامیاب رہی۔
    دوسری اردو کانفرنس
    ۱۴۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۷ء/ ۱۳۴۶ہش کو کالج میں دوسری آل پاکستان اردو کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مغربی پاکستان کی تین یونیورسٹیوں اور متعدد تعلیمی اداروں اور ادبی تنظیموں کے ۸۴ خصوصی نمائندے شریک ہوئے۔ خطبہ افتتاح ڈاکٹر اشتیاق حسین صاحب قریشی وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی نے دیا اور جسٹس اے۔ آر کارنیلس چیف جسٹس پاکستان` جناب اختر حسین صاحب صدر انجمن ترقی اردو پاکستان` ممتاز حسین صاحب سابق مینجنگ ڈائریکٹر نیشنل بنک آف پاکستان اور جناب پروفیسر حمید احمد خاں صاحب نے خصوصی پیغامات ارسال کئے۔
    اس دو روزہ کانفرنس میں زبان` ادب` صحافت اور تدریس کے پچاس موضوعات پر ۴۳ مقالے پڑھے گئے اور باقی سات مقالے اشاعت کے لئے پیش کئے گئے۔ کانفرنس میں دو مذاکرے بھی منعقد ہوئے۔ ان میں سے ایک مذاکرہ اردو میں >سائنسی تدریس کی مشکلات اور ان کا حل< کے موضوع پر ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر ظفر علی صاحب ہاشمی وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی لائلپور نے کی۔ دوسرے مذاکرہ کا موضوع >جدید اردو شاعری کے رجحانات< تھا۔ اس میں صدارت کے فرائض سید وقار عظیم صاحب صدر شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی نے ادا کئے۔ کانفرنس کا ایک اجلاس محسنین اردو کے تذکرہ کے لئے وقف تھا۔ جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب` حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب )المصلح الموعود`( علامہ نیاز فتح پوری اور مولانا صلاح الدین احمد کی خدمات اور کارناموں پر ٹھوس مقالے پڑھے گئے۔۲۱۳`۲۱۴
    پہلا باب )فصل ششم(
    کالج میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا قائم فرمودہ مثالی نظام تعلیم و تربیت اس کی بنیادی خصوصیات اور ہمہ گیر اثرات
    سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کے ذہن مبارک میں تعلیم الاسلام کالج کے عروج و ارتقاء اور شاندار مستقبل کی نسبت جو نقشہ قیام کالج کے وقت موجود تھا وہ اپنی تفصیلات و مضمرات کے اعتبار سے بین الاقوامی نوعیت کا حامل ہے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ اس نقشہ کی عملی تشکیل و تعمیر کے لئے مسلسل اکیس برس )۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش تا ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش( تک سرتاپا وقف اور مجسم جہاد بنے رہے اور قریباً ربع صدی کی بے پناہ کاوشوں اور معرکہ آرائیوں کے بعد خدا کے فضل اور حضرت مسیح موعود کی دعائوں اور حضرت مصلح موعود کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں کالج کو ایک قابل رشک مخصوص اور امتیازی مقام تک پہنچا دیا اور اس کی بنیادیں ایک اسے طریق تعلیم اور نظام تربیت پر استوار کیں جو روح و جسم اور علم و عمل پر حاوی اور دین و دنیا کے حسین امتزاج کا بہترین نمونہ ہے۔
    آپ نے اس اسلامی درس گاہ میں جو مثالی نظام تعلیم و تربیت رائج فرمایا وہ اپنے اندر متعدد خصوصیات رکھتا ہے جن میں سے پانچ حد درجہ نمایاں ہیں اور کالج کی مقدس اور ناقابل فراموش روایات بن چکی ہیں۔
    پہلی خصوصیت آپ کے قائم کردہ نظام کی یہ تھی کہ آپ نے اپنے پاک نمونہ سے کالج کے اساتذہ میں زبردست روح پھونکی کہ وہ طلبہ کو قوم کا عظیم سرمایہ یقین کرتے ہوئے ان کے ساتھ شفیق باپ سے بھی بڑھ کر محبت کرتے` ان کی بہبود اور ترقی میں ذاتی طور پر دلچسپی لیتے` ان کی جائز ضروریات پوری کرتے` ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے` ہر وقت بے لوث` خدمت میں لگے رہتے اور پوری توجہ اور کوشش کے ساتھ بچوں کی رہبری اور رہنمائی میں مصروف رہتے تھے۔
    دوسری خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے کالج کی قیادت اس رنگ میں فرمائی کہ طلبہ و اساتذہ اسلامی اقدار کے حامل بنیں اور ہمیشہ ہی غلط قسم کی سیاست سے کنارہ کش اور ہڑتالوں اور دوسری مغربی بدعات سے متنفر رہیں۔ چنانچہ کالج کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ قادیان` لاہور اور ربوہ تینوں جگہ یہ انسٹی ٹیوشن ہمیشہ ہی ذہنی تکدر اور سیاسی بے راہ روی سے ہر طرح محفوظ و مصئون رہی ہے اور یہ وہ خصوصیت اور امتیاز ہے جس میں تعلیم الاسلام کالج اس زمانہ میں نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ دنیا بھر کے کالجوں میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
    تیسری خصوصیت اس نظام تعلیم و تربیت کی یہ تھی کہ اس درسگاہ کا فکر و عمل ہمیشہ مذہب و ملت کی تفریق سے بالا رہا ہے۔ ہر طالب علم خواہ وہ کسی مذہب` کسی فرقہ یا سیاسی جماعت سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو ہر قسم کی جائز سہولتیں حاصل کرتا ہے اور اس کالج کے اساتذہ ہر طالب علم کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کی طرف پوری طرح متوجہ رہتے تھے۔
    چوتھی خصوصیت اس میں یہ تھی کہ یہاں امیر و غریب میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا تھا۔ ایک غریب کی عزت و احترام کا ویسا ہی خیال رکھا جاتا تھا جیسا کہ کسی امیر طالب علم کا` اور اساتذہ ہر اس طالب علم کی قدر کرتے تھے جو علمی شوق رکھتا ہو اور علم کی وسیع شاہراہ پر بشاشت اور محنت کے ساتھ آگے بڑھنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ سے آپ کو ابتداء ہی سے اسلامی نظام اقتصادیات سے غیر معمولی دلچسپی` لگائو اور شغف رہا ہے اور آپ نے ہرممکن جدوجہد فرمائی کہ کالج کے نظام تعلیم و تربیت سے اس نظام کو زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ کیا جائے۔ اس بناء پر آپ نے ہمیشہ سادگی پر زور دیا اور طلباء کے اخراجات کو کم سے کم رکھنے کو اپنا ضروری فرض سمجھا تاکہ غریب طالب علم کو اپنی غربت کا احساس نہ رہے اور امیر اپنی امارت جتانے میں حجاب محسوس کرے۔ آپ کے اسی طرز عمل کا نتیجہ تھا کہ کالج کے بعض غریب طلبہ کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیر اپنے فارغ اوقات میں محنت اور مزدوری کرکے اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرتے تھے اور آپ بھی اور دوسرا سٹاف بھی ان محنتی اور ہونہار طلبہ کی ہر رنگ میں حوصلہ افزائی اور قدر دانی فرمایا کرتے تھے۔
    ‏body2] gat[پانچویں خصوصیت آپ نے تعلیم و تربیت کی ظاہری تدابیر کو انتہاء تک پہنچانے کے باوجود ان پر کبھی انحصار نہیں کیا اور ہمیشہ خود بھی ہر مرحلے پر دعائوں سے کام لیا اور اپنے رفقاء کار میں بھی اس کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کی اور ان میں یہ احساس پختگی کے ساتھ قائم کردیا کہ محض ظاہری دیکھ بھال اور تربیت کافی نہیں۔ ہمارے بچوں کا پہلا اور آخری حق ہم پر یہ ہے کہ ہم دعائوں کے ساتھ ان کی مدد کرتے رہیں۔
    یہاں بطور نمونہ کالج کے اساتذہ اور طلبہ سے متعلق خود آپ کے بعض دعائیہ کلمات درج کئے جاتے ہیں جن سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوگا کہ آپ اس ادارہ کو رفعتوں کے کتنے بلند ترین مقام تک لے جانے کے ہمیشہ متمنی اور آرزو مند رہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور آپ نے ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش میں دعا کی کہ۔
    >اے قادر توانا خدا! اے حقائق اشیاء کو پیدا کرنے والے اور ان حقاق و رموز کو انسانی دل پر الہام کرنے والے خدا! تو ہماری ان ناچیز مساعی کو قبول فرما اور ہماری تضرعات کو سن اور ہم پر اور ہماری اولاد پر علم کے وسیع دروازوں کو ہر پہلو سے کھول دے۔ علم کی روشنی سے ہمارے دل اور دماغ کو منور کر۔ اور علم و معرفت کی غیر محدود طاقت سے ہمارے عمل میں ایک نئی روح اور ہماری مساعی میں ایک نئی زندگی پیدا کر کہ ہم اور ہماری نسلیں تیرے عطا کردہ علم اور تیری بخشی ہوئی معرفت سے پر ہوکر تجھ ہی سے دعائیں کرتے ہوئے جس میدان عمل میں بھی داخل ہوں سب پر سبقت لے جائیں۔ اے خدا! تو خود اس نو شگفتہ نسل کے دل و دماغ کو رموز قیادت و مسابقت سے آشنا کر اور ان کے عمل اور مساعی میں تیزی اور جولانی پیدا کر اور انہیں دنیا کا ہمدرد بنا` دنیا کا خادم بنا` دنیا کا محسن بنا` اور دنیا کا رہبر بنا` قوم کا نام ان کے کام سے چمکے۔ انسانیت کا چہرہ ان کی روحانیت سے منور ہو اور تیری صفات ان کے کمالات سے ظاہر ہوں<۔۲۱۵
    نظام تعلیم و تربیت کا ایک جامع نقشہ
    کالج کے نظام تعلیم و تربیت کی بنیادی خصوصیات کی نشاندہی کرنے کے بعد مناسب ہوگا کہ ہم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کے مبارک الفاظ میں اس درسگاہ کے تعلیمی و تربیتی اعتبار سے پاکیزہ ماحول کا ایک نقشہ قارئین کے سامنے رکھ دیں۔ اس نقشہ سے نہایت جامعیت کے ساتھ پانچوں خصوصیات کی جھلک پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے۔ ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش میں فرمایا۔
    >ہمارے طلبہ اور ہمارے اساتذہ تعلیم و تربیت کو ایک مقدس فرض تصور کرتے ہیں۔ ہمارے پاس برے بھلے ہر قسم کے طلبہ آتے ہیں۔ ایک باپ کی حیثیت سے سزائیں بھی دینی پڑتی ہیں اور ایک باپ ہی کی محبت کا سلوک کرنا پڑتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان عزیزوں کے لئے صحت افزا ذہنی` اخلاقی اور جسمانی فضا مہیا کرنا` ان کی شخصیتوں کے جملہ پہلوئوں کو اجاگر کرنا اور علمی اور اخلاقی نشوونما کی جملہ سہولتیں بہم پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ ہمارے نزدیک مسجد کے بعد مدرسے کا تقدس ہے اور ہماری اس درسگاہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعلیم و تربیت کے فرائض عبادت کے رنگ میں سرانجام دیئے جاتے ہیں جہاں رنگ اور مذہب` افلاس اور امارت` اپنے اور بیگانے کی کوئی تفریق نہیں۔ جہاں طلباء مقدس قومی امانت ہیں۔ جہاں ماحول خالص اسلامی اور اخلاقی ہے نہ کہ سیاسی۔ جہاں منتہائے مقصود خدمت ہے نہ کہ جلب منفعت۔ جہاں غریبی عیب نہیں اور امارت خوبی نہیں۔ الحمدلل¶ہ علیٰ ذلک۔
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے عظیم اور مثالی ادارے کی کماحقہ حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے جس کے ذرے ذرے پر اس کے فدائی اساتذہ اور طلباء نے خون دل سے محنت اور اخلاص کی داستانیں لکھی ہیں۔ یہاں اساتذہ سستی شہرت کی خاطر اپنے فرائض کے تلخ پہلوئوں سے اغماض نہیں برتتے اور نہ ہی طلباء سٹرائیک کی قسم کے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ یہاں نہ صرف ملک کے گوشے گوشے بلکہ غیر ممالک سے بھی ہر مذہب و خیال کے طلباء اس پرسکون` سادہ اور پاک ماحول سے فائدہ اٹھا رہے ہیں<۔۲۱۶
    >تعلیم الاسلام کالج ایک بین الاقوامی حیثیت کا حامل ہے۔ کالج کے طلبہ کا حلقہ انڈونیشیا` برما` تبت` ہندوستان` مغربی افریقہ` مشرقی افریقہ` سومالی لینڈ اور بحرین وغیرہ ممالک تک پھیلا ہوا ہے<۔
    >ہمارے طلبہ میں سچائی` محنت` خدمت خلق` غیرت قومی` خدمت دین` امانت و دیانت اور دیگر اخلاق فاضلہ صرف موجود ہی نہیں بلکہ ان کا معیار بھی کافی بلند ہے۔
    ہمیں یقین ہے کہ جس معیار کی تعلیم دینے اور جس طرح کے طلبہ پیدا کرنے کی کوشش اس کالج میں ہورہی ہے اس کے پیش نظر نہ صرف اس کالج کی بلکہ اس جیسے سینکڑوں کالجوں کی ملک و قوم کو ہر وقت ضرورت رہے گی اور ہمارے طلبہ انشاء اللہ تعالیٰ آنے والے سالوں میں تعلیمی` علمی اور اخلاقی میدان میں مثالی اور قابل فخر کردار ادا کریں گے<۔۲۱۷
    >اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں اور کوششوں میں برکت ڈالے اور ہمیں خدمت قوم و بنی نوع انسان کی زیادہ سے زیادہ توفیق دے<۔۲۱۸
    حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کی طلبہ کالج سے متعلق یہ پیشگوئی خدا کے فضل و کرم سے حرف بحرف پوری ہورہی ہے۔ فالحمدلل¶ہ علیٰ ذالک۔
    تعلیم و تربیت سے متعلق بعض اہم واقعات
    یہ نظام تعلیم و تربیت جس کا خاکہ اوپر کھینچا گیا ہے اپنی تفصیلات کے اعتبار سے ایک مستقل مضمون کا تقاضا کرتا ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ تاہم ذیل میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے اس دور زندگی کے بعض اہم واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن سے آپ کے انداز تربیت کے بہت سے گوشے نمایاں ہوتے ہیں اور جو دنیائے اصلاح و تربیت کے لئے چراغ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
    طلبہ پر بے مثال شفقت
    بلامبالغہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز( نے تعلیم الاسلام کالج کے طلباء کو اپنے خون سے پالا ہے اور ان کے ساتھ ہمیشہ اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر محبت کی ہے۔ جناب پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد ایم۔ اے کا بیان ہے کہ >ایک دفعہ خاکسار نے لاہور میں ۱۹۵۰ء یا ۱۹۵۱ء میں آپ سے عرض کیا کہ ڈسپلن کیسے رہے ہم اساتذہ طلباء کی غفلتوں پر بعض اوقات جرمانہ کی سزا دلواتے ہیں مگر آپ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔ آپ نے جواباً تحریر فرمایا۔
    اگر طلبہ کے لئے میرے دل میں خدا تعالیٰ نے رحم ڈالا ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ باقی حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ۔ ناصر احمد<
    عکس


    تادیب` دلداری اور ذاتی تعلق
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے لکھتے ہیں۔
    >آپ کالج اور ہوسٹل کی تفصیلی نگرانی فرماتے اور ہر معاملے میں ہم خدام کو ان کی بابرکت رہنمائی حاصل ہوتی۔ سزا بھی دیتے لیکن کراہت کے ساتھ لیکن جہاں سزا ضروری ہوتی اسے ضرور دیتے۔ مجھے یاد ہے۔ ایک دفعہ ایک طالب علم کو بدنی سزا دی جانے لگی۔ ہال میں طلبہ اکٹھے ہوئے۔ اس عاجز سے ارشاد فرمایا کہ سزا دو۔ جب سزا کا نفاذ ہونے لگا تو فرمانے لگے کہ سزا میں نے آپ کو نہیں اس طالب علم کو دی ہے اور خود باقی سزا اپنے ہاتھ سے نافذ کی۔ آج تک واقعہ کا اثر دل پر ہے۔ بعد میں بھی جب سزا دی ہے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ پر غم کی کیفیت طاری ہوئی اور کئی بار ایسا ہوا ہے کہ اس تکلیف سے کتنا کتنا عرصہ گھر سے تشریف نہ لاتے<۔
    طلباء آپ سے جو محبت اور عقیدت رکھتے اس کا بیان کرنا مشکل ہے۔ چوہدری محمد بوٹا ایک طالب علم ہوتے تھے جو اب RESEARCH IRRIGATION میں آفیسر ہیں۔ غیراز جماعت ہیں۔ انہوں نے حضور کی خدمت میں عرصے کے بعد جب وہ ایم ایس سی کرچکے تھے اور کالج سے جاچکے تھے خط لکھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں اپنا نام تبدیل کرنا چاہتا ہوں اور میرے دل میں چونکہ آپ کی بے حد قدر اور عزت ہے اور مجھے کوئی اور آپ جیسا عظیم انسان نہیں ملا اس لئے آپ کی اجازت سے اپنا نام ناصر رکھنا چاہتا ہوں چنانچہ آج وہ اسی نام سے موسوم ہیں۔
    محمد اشرف ایک طالب علم تھے جن پر کالج کے دنوں میں بظاہر سختی ہوئی تھی۔ یورپ کے دورے )۱۹۶۷ء( کے وقت دیوانہ وار حضور کی خدمت میں ایڈنبرا` گلاسگو وغیرہ حاضر رہے۔ طلبہ آپ کے والہ و شیدا تھے اور آپ بھی بیٹوں کی طرح ان سے سلوک فرماتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ آدھی آدھی رات بیمار طلبہ کے سرہانے بیٹھ کر ہاتھ سے چمچے کے ساتھ خود دوائی پلایا کرتے اور تسلیاں دیا کرتے۔ اس شفقت اور محبت کو دیکھ کر دوسرے طلباء کہا کرتے کہ ہمارا بھی بیمار ہونے کو جی چاہتا ہے۔ غریب طلباء کی بہت دلداری فرماتے کہ ان کی امداد اس رنگ میں ہو کہ ان کی عزت نفس کو ٹھیس نہ لگے۔ جو طلباء مزدوری کرکے پڑھتے ان کی خاص قدر فرماتے اور ان کا اس محبت سے ذکر فرماتے کہ ایسے طلباء کا فخر سے سراونچا ہو جاتا۔ غریب طلباء کی غذا` دوا` لباس` سویا بین اور پتہ نہیں کیا کیا ان کے لئے مہیا فرماتے۔ ڈسپلن کے معاملے میں سختی فرماتے اور پھر دلداری بھی فرماتے۔ فرمایا کرتے کہ استاد کو باپ اور ماں دونوں کا کام کرنا چاہئے۔
    >سویا بین کا بہت شوق تھا اور ہے اور کمزور اور کھلاڑی اور ذہین طلباء کو اس کا حلوا تیار کروا کے کھلایا کرتے اور خوش ہوتے۔
    آپ کا تعلق طلباء سے بے حد محبت اور تکریم کا ہوا کرتا تھا۔ ان سے مزاح بھی فرماتے اور بے تکلف بھی ہوتے لیکن حدود قائم رہتیں۔ خدام الاحمدیہ کے دور میں کلائی پکڑنے کا شوق تھا میرے علم میں کوئی ایسا شخص یا طالب علم ¶نہیں جو آپ کے مقابلے پر پرا اتر سکا ہو۔ اگر یہ عاجز کبھی کوشش کرتا تو دو انگلیوں سے کلائی چھڑا لیتے۔ طلباء کسی قسم کا بعد یا فاصلہ محسوس نہیں کرتے تھے۔ باپ بیٹے کا تعلق تھا جو زندہ اور جاری تھا۔ جب مرحوم مبشر احمد گکھڑ جو بے حد ہونہار اور نیک اور ذہین طالب علم تھا قتل ہوا اور آپ کی خدمت میں شام کو کراچی میں ضمناً ایک لڑکے مبشر احمد کی اطلاع کی گئی تو رات گئے غالباً بارہ ایک بجے کا عمل ہوگا کہ آپ کا فون آیا کہ تفصیل بتائی جائے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے نیند نہیں آرہی اور بے حد بے چینی ہے۔ کیا یہ وہی مبشر احمد تو نہیں جو ہر وقت مسکراتا رہتا تھا۔ افسوس کہ یہ وہی مبشر احمد تھا جس کی وفات پر آپ اس طرح بے چین ہوگئے اور آدھی رات کو کراچی سے فون آیا۔
    آپ طلبہ کو بلاوجہ ان کے نچلے پن پر ٹوکتے نہیں تھے اور فرمایا کرتے تھے یہ ان کی صحت کی علامت ہے۔ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے جو جماعت کے ایک مخلص خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور خود ایک بڑی کار پر ماڈل ٹائون سے کالج آیا کرتے تھے آپ کی >ولزلے< کارپر >المنار< میں چھپنے کے لئے انگریزی میں ایک مضمون لکھا۔ میں ان دنوں انگریزی حصے کا نگران تھا۔ میں نے شائع کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر مصنف نے اصرار کیا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب سے پوچھ لیں آپ نے فرمایا۔ یہ تو ضرور چھپنا چاہئے۔ میں نے اسے ذرا نرم کرکے چھاپ دیا۔ جس دن >المنار< شائع ہوا۔ کوئی چند گھنٹے بعد طالب علم کانپتا ہوا میرے پاس آیا۔ کہنے لگا کہ ادھر یہ مضمون شائع ہوا اور ادھر میری کار کی ٹکر درخت سے ہوگئی۔ میری جان بچ گئی۔ میں اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کی کار پر استہزاء کا مرتکب ہوا تھا۔ مجھے اس کی سزا مل گئی۔ خدا معاف کرے۔
    آپ طلباء کے اجتماعات میں دلی نشاط اور بشاشت سے شامل ہوتے اور خط اٹھاتے کشتی رانی (ROWING) کے میچوں میں تقریباً آدھ میل تک کشتی کے ساتھ ساتھ اسی رفتار سے دوڑ کر حوصلہ افزائی فرماتے اور دوسرے کالجوں کے طلباء بار بار ہم سے کہا کرتے کہ کاش ہمارے پرنسپل بھی ہماری کھیلوں میں اتنی دلچسپی لیں۔ خدا تعالیٰ نے جو رعب دیا ہوا ہے طلباء اس کی وجہ سے ڈرتے بھی۔ لیکن وہ یہ جان گئے تھے کہ اگر کوئی خاص سنگین قسم کی قانون شکنی کے مرتکب نہ ہوں تو اس رعب کے نیچے حلم اور حیا اور محبت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن ہے اس لئے عام جرمانہ وغیرہ ہوتا تو جاکر معاف کروا لیتے۔ آپ کبھی بے صبری کا اظہار نہ فرماتے سختی کے وقت سختی بھی فرماتے لیکن دل نرمی کی طرف مائل رہتا۔ کھلاڑیوں خصوصاً روئنگ اور باسکٹ بال کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی فرماتے اور ان کی تکریم کرتے۔ لیکن اگر کبھی وہ قانون شکنی کرتے تو سختی بھی اتنی ہی زیادہ فرماتے۔ ایک روئنگ کے لڑکے سے غلطی ہوئی جو ہمارا کپتان تھا کبڈی کا کپتان بھی تھا۔ نہایت ذہین طالب علم تھا۔ سکالر شپ ہولڈر تھا۔ اسے اور خرچ بھی دیتے تھے اور آپ کے گھر سے کھانا بھی آیا کرتا اور اس کی خوب خوب ناز برداری ہوتی۔ لیکن جب اس نے کالج کے ایک استاد کے ساتھ گستاخی کی تو اسے دو سال کے لئے کالج سے نکال دیا۔ میں نے آپ کو بڑے سے بڑے حادثے پر روتے نہیں دیکھا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ اس لڑکے کے اخراج از کالج کے فارم پر دستخط فرماتے وقت حضور کی آنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں<۔
    طلبہ کے ساتھ حضرت صاحبزادہ صاحب کی محبت و شفقت اور ہمدردی کے بے شمار واقعات ہیں۔ حال ہی میں آپ نے خطبہ جمعہ کے دوران فرمایا۔
    >میں ایک دفعہ اپنے کالج کے دفتر سے گھر کی طرف جارہا تھا۔ راستے میں مجھے ایک طالب علم ملا جس کے متعلق مجھے علم تھا کہ وہ بڑا محنتی اور ہوشیار طالب علم ہے۔ کوئی مہینے ڈیڑھ تک یونیورسٹی کے امتحان ہونے والے تھے۔ میں نے دیکھا کہ اس کا منہ زرد اور منہ پر دھبے پڑے ہوئے ہیں۔ بیمار شکل ہے۔ یہ دیکھ کر مجھے بڑا سخت صدمہ پہنچا کہ میں نے اس کی صحت کا خیال نہیں رکھا۔ ویسے وہ عام کھانا تو کھارہا تھا۔ لیکن ایسے کھانے پر اسلام کا اقتصادی نظام نہیں ٹھہرتا۔ میں نے سوچا کہ میں نے ظلم کیا۔ کشتی رانی کرنے والے طلباء کو تو میں سویابین کا حلوہ دیتا ہوں لیکن جو دن رات محنت کرنے والے طلباء ہیں ان کو میں سویابین کا حلوہ نہیں دیتا۔ میں نے تو بڑی غلطی کی۔ چنانچہ اس کو تو میں نے کہا کہ مجھ سے سویابین لے جاکر استعمال کرنا )لیکن بعد میں میں نے تمام محنتی طلباء کو سویا بین دینے کا انتظام کردیا( پہلے اسے مناسب حال غذا نہیں مل رہی تھی۔ اب جب اسے مناسب حال غذا ملی تو پندرہ دن کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے کے دھبے دور ہوگئے۔ چہرہ پر سرخی آگئی۔ آنکھوں میں زندگی اور توانائی کی علامات نظر آنے لگیں اور وہ امتحان میں بڑی اچھی طرح سے پاس ہوا۔ اچھے نمبر تو وہ ویسے بھی لے لیتا لیکن یہ بھی ہوسکتا تھا کہ ساری عمر کے لئے وہ بیمار پڑجاتا۔ کئی ایسے عوارض اسے لاحق ہوجاتے جن سے چھٹکارا پانا اس کے لئے ناممکن ہو جاتا<۔
    طلبہ کی حوصلہ افزائی اور روح مسابقت میں اضافہ کے لئے جدوجہد
    حضرت صاحبزادہ صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کالج کی سربراہی کے زمانہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کس طرح ان میں روح عمل اور
    روح مسابقت کو بیدار کرنے بلکہ بڑھانے میں سرگرم عمل رہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے بطور نمونہ ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے۔
    شروع ماہ تبلیغ/ فروری ۱۹۵۷ء/ ۱۳۳۶ہش کا واقعہ ہے کہ لاہور میں کشتی رانی کے مقابلے جاری تھے جس میں حسب سابق تعلیم الاسلام کالج کی ٹیم بھی اپنی روایتی شان کے ساتھ حصہ لے رہی تھی۔ ۵۔ تبلیغ/ فروری کو کالج کی کشتی رانی کی ٹیم کے کیپٹن ناصر احمد صاحب ظفر۲۱۹ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مغربی پاکستان اوپن روئینگ چیمپئن شپ کے ارکان نے لاہور کے مقامی کالجوں کے لڑکے ہمارے مقابلہ جات کے لئے بطور منصف مقرر کر دیئے ہیں جس سے صورت حال بالکل ہمارے خلاف ہوگئی ہے۔ اس پر حضرت صاحبزادہ نے اپنے قلم مبارک سے انہیں حسب ذیل پیغام تعلیم الاسلام کالج کی ٹیم کے نام لکھ دیا اور ارشاد فرمایا کہ آپ ٹیم کے سامنے یہ پڑھ کر سنادیں۔
    عکس کیلئے

    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم
    تعلیم الاسلام کالج کے باغیرت نوجوانو!
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ`
    مجھے بتایا گیا ہے کہ سکول بورڈ کے منتظمین نے کل کے مقابلہ میں لاہور کالجز کے طلبہ کو بطور ججز مقرر کیا تھا اور ان کا فیصلہ خلاف عقل و انصاف تھا۔ اگر یہ صحیح ہے تو۔
    پہلے آپ کا مقابلہ برادرانہ مقابلہ تھا۔ دوسرے کالجز کے طلبہ ہمارے لئے ایسے ہی ہیں جیسا کہ اپنے طلبہ اور وہ آپ کے بھی بھائی ہیں۔ ان کے خلاف کوئی غصہ نہیں ہونا چاہئے۔ مقابلہ میں ہار جیت ہوتی ہی ہے اور یہ مقابلے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ہم عزت کے ساتھ جیتنا اور وقار کے ساتھ ہارنا سیکھیں اور آپ لوگ اس سبق کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
    مگر اب آپ کا مقابلہ اپنے بھائیوں کے ساتھ نہیں رہا۔ اب آپ کا مقابلہ بے انصافی اور بے ایمانی کے ساتھ ہے اور غیرت کا تقاضا ہے کہ آپ بے ایمانی اور بے انصافی کو شکست دیں۔ پس آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنی قوت اور جوش کا آخری ماشہ خرچ کرکے دوسری ٹیموں کو بمپ کرتے ہوئے پھر اول آئیں اور دنیا پر ثابت کریں کہ بے انصافی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس کے بغیر آپ کی غیرت کا مظاہرہ نہیں ہوگا۔ دل چھوڑنے کا` ہمت ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر بے انصافی روز آپ کو سب سے آخر میں رکھے تو آپ کی غیرت کو چاہئے کہ وہ روز آپ کو پہلی پوزیشن میں لے جائے اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا کردکھائیں گے۔
    آج میرا پہنچنا ممکن نہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ آخری دو دن آپ کے ساتھ رہوں۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے۔
    ویسے میں آج فون کررہا ہوں شاید کسی ذمہ دار افسر کی انسانیت بیدار ہوسکے۔ آمین۔
    فقط
    ناصر احمد
    پرنسپل
    ۵۷۔ ۲۔ ۵
    ناصر احمد صاحب ظفر یہ پیغام لے کر لاہور پہنچے اور جودھامل بلڈنگ میں جہاں کالج کی ٹیم مقیم تھی۔ سب طلبہ کو اکٹھا کرکے یہ پیغام انہیں سنایا۔ اس ولولہ انگیز پیغام نے طلبہ کے اندر بے انصافی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا ایک زبردست جوش اور بے پناہ جذبہ پیدا کردیا اور انہوں نے مصمم عہد کرلیا کہ وہ چیمپئن شپ حاصل کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خدا تعالیٰ کے فضل اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی دعائوں سے کالج کی ٹیم چیمپئن شپ کا اعزاز جیت کر ربوہ پہنچی۔ فالحمدلل¶ہ علیٰ ذالک۔
    طلبہ کو غیر اسلامی اخلاق و اقدار سے بچانے کیلئے ایک جرات مندانہ فیصلہ
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ۔
    >یہ ۴۸۔ ۱۹۴۷ء کی بات ہے جب پہلا C۔T۔O۔U کیمپ ہوا۔ یہ کیمپ والٹن میں ہوا تھا اور پاکستان بننے کے بعد پہلا کیمپ تھا۔ کیمپ کے حالات تسلی بخش نہیں تھے۔ ایک سینئر آفیسر CADETS اور اساتذہ کو جن کو فوجی رینک ملے ہوئے تھے بسا اوقات فحش گالیاں نکالا کرتا تھا۔ جنرل رضا ان دنوں ایڈجوٹنٹ جنرل تھے ان کے آنے تک تو بات بنی رہی لیکن جب کیمپ کا خاتمہ قریب آیا اور کمانڈر انچیف صاحب کے آنے کا دن قریب آیا تو طلبہ بے قابو ہوگئے اور فیصلہ کرلیا کہ سٹرائیک کریں گے اور تقسیم انعامات کے وقت اور کمانڈر انچیف صاحب کی آمد کے وقت خیموں میں بیٹھے رہیں گے۔ نہ صفائی کریں گے اور نہ ہی وردیاں پہنیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ہمارے لئے تسلی بخش نہ تھی۔ یہ عاجز اپنے دستے کا کمانڈر تھا اور مکرم چوہدری فضل داد صاحب نائب کمانڈر تھے۔ ہم نے حضرت پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج کی خدمت میں خاص آدمی بھجوایا کہ یہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے ہماری مدد کی جائے لیکن وہ پیغام رساں کیمپ سے باہر نکلتے وقت گرفتار ہوگیا اور کوارٹر گارڈ میں بھیج دیا گیا۔ اس کا ہمیں اس وقت علم نہ ہوا۔ اور ہم آپ کی طرف سے کسی پیغام کے انتظار میں رہے۔ جب رات ہوگئی اور کوئی جواب نہ آیا تو پہلے ہم نے کالجوں کے اساتذہ سے رابطہ قائم کیا خصوصاً محترم راجہ ایس۔ ڈی احمد صاحب )سابق پرنسپل وٹرنری کالج اور ڈائریکٹر اینیمل ہبنڈری` کرنل اسلم )جو ہماری بٹالین کے کمانڈر تھے( برادر مکرم رفیق عنایت مرزا )جو اب سینئر سی ایس پی آفیسر ہیں( سے اور ان پر یہ بات واضح کی کہ ہم سٹرائیک میں شامل نہیں ہوں گے۔ اگر سٹرائیک ختم نہ ہوئی تو تعلیم الاسلام کالج کی پلاٹون اکیلی ڈیوٹی پر جائے گی کیونکہ ہم سٹرائیک کو شرعاً ناجائز سمجھتے ہیں۔ اور ان سے اپیل کی کہ پاکستان کا پہلا کیمپ ہے وہ خود بھی سٹرائیک ختم کروانے کے خواہشمند تھے۔ بہرحال بعض دوستوں کو ساتھ لے کر ہم رات کے وقت خیمے خیمے میں پھرے۔ لڑکے گانے گارہے تھے۔ قوالیاں ہورہی تھیں اور نعرے لگ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا۔ ہماری اپیل پر لڑکے آمادہ ہوگئے کہ اگلے روز سٹرائیک نہ کریں اور پاکستان کے نام پر ایسی غیرت دکھائی کہ رات کا باقی وقت جاگ کر تیاری میں گزرا اور صفائی اور خیموں کی تزئین میں لگ گئے۔ چنانچہ اگلی صبح کمانڈر انچیف صاحب آئے۔ میدان جنگ کا نقشہ پیش ہوا۔ کمپنیوں میں باہمی لڑائی کی مہارت کے تمام انداز دکھائے۔ اس موقع پر ہمارے کچھ طلباء جو محاذ کشمیر پر فرقان بٹالین میں رہ چکے تھے وہ کمانڈر انچیف صاحب نے پہچان لئے۔ ان کی دلچسپی بڑھی تو پوچھا کہ سارے کیمپ میں کتنے ایسے مجاہدین ہیں۔ صرف ہمارے ہی کالج کے طلباء نکلے۔ تقسیم انعامات کے لئے پنڈال الگ قائم ہوچکا تھا اور مہمانوں کی آمد آمد تھی۔ وزراء` جج` وائس چانسلر صاحب` سیکرٹری` جرنیل اور بریگیڈیر پنڈال کے پاس ایک ہی جگہ کمانڈر انچیف صاحب کے استقبال کے لئے اکٹھے کھڑے تھے۔ طلباء پنڈال میں تھے۔ اساتذہ بھی تھے کہ اسی آفیسر نے پھر کوئی نازیبا الفاظ کہے جس پر پنڈال میں موجود طلباء میں پھر کھچائو پیدا ہوگیا۔ اس اثناء میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( کی کار بھی آتی دکھائی دی۔ یہ عاجز آگے بڑھ کر استقبال کے لئے گیا اور آپ کو وہیں روک کر سارے کوائف بتائے۔ آپ تشریف لائے تو وہ آفیسر بھی استقبال کے لئے آگے بڑھے۔ آپ نے سرسری انداز میں پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔ فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ خیر گزری۔ اس پر اس آفیسر نے اسی انداز میں کہا کہ مجھے ان کی کیا پروا ہے۔ یہ فقرہ کافی بلند آواز سے انہوں نے کہا۔ سول اور ملٹری آفیسر سب کچھ سن رہے تھے۔ آپ خاموش رہے۔ انہوں نے دوبارہ یہی فقرہ دوہرایا۔ جب سہ بارہ اسی قسم کا فقرہ کہا تو آپ نے بڑے جلال سے بلند آواز میں فرمایا کہ آپ کو پروا نہیں لیکن ہمیں ان کی بڑی پروا ہے۔ یہ قوم کے بچے ہیں۔ ہم ان کو اس قسم کے اخلاق کی تربیت کے لئے یہاں نہیں بھیجتے اور مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ ابھی ساری پلٹنوں کو واپس بلوا لو اور آئندہ سے کوئی سروکار نہ رکھو۔ اس پر کچھ سینئر آفیسرز اس افسر کو ایک طرف لے گئے اور اگلے ہی لمحے میں اس نے بڑی لجاجت سے معافی مانگی اور شرمندگی کا اظہار کیا۔ جب آپ نے یہ فقرات کہے تو مجھے یاد ہے کہ میرے ایک غیر از جماعت ساتھی نے فرط جذبات میں خوشی سے دیوانہ ہوکر میرا ہاتھ پکڑا اور اتنا زور سے دبایا کہ کئی دن تک میرا ہاتھ درد کرتا رہا۔ پھر حضرت میاں صاحب تقریب کے اختتام پر تشریف لے گئے اور محکمہ تعلیم کے ایک بڑے افسر نے کہا کہ میاں صاحب نے سب کی عزت رکھ لی۔
    اس عجیب واقعہ کا آخری حصہ یہ ہے جس سے ہمارا کوئی تعلق نہ تھا لیکن ہوا اور وہ یہ کہ کیمپ کے خاتمہ کے بعد جب بھی کوئی ٹرک روانہ ہوتا تو اس میں بیٹھنے والے >مرزا ناصر احمد زندہ باد< اور >پرنسپل ٹی۔ آئی کالج زندہ باد< کے نعرے ضرور لگاتے۔ یہ فلک شگاف نعرے ہمارے روکنے کے باوجود نہ رک سکے اور اسی انداز سے یہ کیمپ ختم ہوا<۔
    ‏vat,10.7
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    پروفیسر کرامت حسین جعفری پرنسپل گورنمنٹ کالج لائل پور` پروفیسر ڈاکٹر حمید الدین صاحب وائس پرنسپل و صدر شعبہ فلسفہ گورنمنٹ کالج لاہور` علامہ علائو الدین صاحب صدیقی صدر شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی` شمس الدین صاحب ایم۔ اے صدر شعبہ تاریخ اسلامیہ کالج لاہور` پروفیسر شجاع الدین صاحب ایم۔ اے صدر شعبہ تاریخ دیال سنگھ کالج لاہور` پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید صاحب صدر شعبہ تاریخ گورنمنٹ کالج لاہور` ڈاکٹر ایس۔ ایم اختر پی ایچ ڈی صدر شعبہ اقتصادیات پنجاب یونیورسٹی` پروفیسر محمد اعظم ورک زئی شعبہ اقتصادیات پنجاب یونیورسٹی` ڈاکٹر منیر چغتائی شعبہ سیاسیات پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر ہیل بک پروفیسر میونک یونیورسٹی` پروفیسر مائیکل ولیم ایم۔ ایس۔ سی` میر حبیب علی صاحب اسسٹنٹ ڈائریکٹر سپورٹس مشرقی بنگال۔
    ان مقررین کے علاوہ پاکستان کے ممتاز شعراء میں سے احسان دانش` طفیل ہوشیارپوری` سید محمد جعفری` مکین احسن کلیم حبیب اشعر کلیم عثمانی` نظر امروہی` شرقی بن شائق مدیر >نیا راستہ`< قتیل شفائی` ثاقب زیروی` احمد ندیم قاسمی` عاطر ہاشمی` ہوش ترمذی` ظہیر کاشمیری` محمد علی مضطر` صوفی غلام مصطفی تبسم` شیر افضل جعفری` لطیف انور )مدیر مخابرات ریڈیو پاکستان لاہور( ہوش ترمذی )ڈائریکٹر پریس برانچ مغربی پاکستان لاہور`( ضمیر فاطمی مدیر >اسلوب`< مولانا عبدالمجید سالک مدیر >انقلاب`< نازش رضوی` عبدالرشید تبسم گلزار ہاشمی وغیرہ نے کالج کی تقریبات میں شرکت کی اور اپنا کلام سنایا۔
    آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ کا آغاز
    ۱۹۵۸ء/ ۱۳۳۷ہش اور ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش کے سال کالج کی تاریخ میں ایک نئے سنگ میل کی حیثیت سے ہمیشہ یادگار رہیں گے اس لئے کہ ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی خصوصی ہدایات اور سرپرستی سے دو ایسے اہم اقدامات عمل میں لائے گئے جو نہایت درجہ وسیع` شاندار اور دوررس نتائج کے حامل ثابت ہوئے جن سے کالج کی ملک گیر شہرت و مقبولیت میں نئے باب کا اضافہ ہوا اور اس کی عظمت و اہمیت کو چار چاند لگ گئے۔
    اس ضمن میں پہلا قابل ذکر امر کالج کے زر انتظام آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ کا آغاز ہے جس کی کامیابی کا سہرا پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب کے سر ہے جن کی مسلسل کوشش سے ۱۹۵۶ء/ ۱۳۳۵ہش میں کچی کورٹ سے کالج میں باسکٹ بال کی ابتداء ہوئی۔ ۱۹۵۸ء/ ۱۳۳۷ہش میں اس میدان کو ایک معیاری پختہ کورٹ میں تبدیل کردیا گیا جس میں پہلا آل پاکستان تعلیم الاسلام کالج باسکٹ بال ٹورنامنٹ کھیلا گیا۔ اس پہلے ٹورنامنٹ میں جس کا اہتمام ۱۹۵۸ء/ ۱۳۳۷ہش میں کیا گیا۔ پولیس لاہور برادرز کلب لاہور` وائی ایم۔ سی۔ اے لاہور` بمبئی سپورٹس کلب کراچی` نارتھ ویسٹرن ریلوے لاہور` فرینڈز کلب سرگودھا` لائلپور کلب ٹی۔ آئی کلب` زراعتی کالج لائلپور` گورنمنٹ کالج لائلپور اور تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی ٹیمیں شامل ہوئیں اور پاکستان بھر کے چھ اور پنجاب کے آٹھ منتخب اور مشہور کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور کھیل کا معیار نہایت بلند رہا۔ انعامات چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے تقسیم فرمائے۔
    دوسرے ٹورنمنٹ میں نہ صرف شرکت کرنے والی نامور ٹیموں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ چھ کی بجائے پاکستان بھر کے دس منتخب کھلاڑی شامل ہوئے۔ علاوہ ازیں بعض ایسے کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی جنہیں بیرونی ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کا فخر حاصل تھا۔ اس ٹورنامنٹ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ پنجاب باسکٹ بال ایسوسی ایشن لاہور کے فیصلہ کے مطابق پنجاب کی بہترین ٹیم کا انتخاب اس ٹورنامنٹ میں ہوا۔ قبل ازیں اس انتخاب کے لئے الگ مقابلے ہوتے تھے۔
    تیسرا ٹورنمنٹ اپنی منفرد حیثیت کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ثابت ہوا۔ ملک کے کونے کونے سے دو درجن کے قریب بہترین ٹیمیں اور مشہور ترین کھلاڑی شامل ہوئے جن میں سی۔ ٹی۔ آئی کلب سیالکوٹ کے تین امریکی بھی تھے۔ اس موقعہ پر بہت سے کالجوں کے پروفیسر اور دیگر معززین بھی بکثرت موجود تھے۔ ہر سال یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ ٹورنامنٹ کا افتتاح کس سے کروایا جائے؟ تیسرے ٹورنامنٹ کے موقعہ پر جب یہ معاملہ پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے قدرے تامل کے بعد فرمایا ایک BRAINWAVE یعنی خیال کی لہر آئی ہے اور مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا۔ کیسے؟ فرمایا۔ پچھلے ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کے کپتان سے افتتاح کروالو اور آئندہ یہی ہماری روایت ہوگی۔ چنانچہ اس سال سے لے کر اب تک اسی پر عمل ہورہا ہے۔ اس روایت کی ابتداء ریلوے ٹیم کے کپان سید جاوید حسن سے شروع ہوئی جو پچھلے سال کے ٹورنا منٹ کے فاتح تھے۔
    چوتھا آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ بھی ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔ اس موقع پر پہلی بار ایک یادگاری مجلہ (SOUVENIR) شائع کیا گیا جس میں مختلف معززین کے خیرسگالی کے پیغامات اور تصاویر کے علاوہ ربوہ میں باسکٹ بال کے اجراء اور ترقی کا جائزہ لیا گیا تھا۔ >پاکستان ٹائمز< )لاہور`( >سول اینڈ ملٹری گزٹ< )لاہور`( >نوائے وقت< )لاہور`( >امروز< )لاہور`( اور >الفضل< )ربوہ( نے نمایاں طور پر اس ٹورنامنٹ کی خبریں شائع کیں۔
    ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش یعنی پانچ سال کے قلیل عرصہ میں ربوہ کے چھوٹے سے قصبہ میں کل آٹھ باسکٹ بال کورٹس اور سات باسکٹ بال کلب جن کا مرکزی باسکٹ بال ایسوسی ایشن لاہور سے باقاعدہ الحاق تھا قائم ہوچکے تھے۔ ان سب کلبوں نے علاوہ بیرونی کلبوں کے چوتھے ٹورنامنٹ میں شمولیت کی۔ اسی سال کالج کے چار منتخب کھلاڑیوں نے پنجاب کی طرف سے قومی مقابلوں میں حصہ لیا۔
    ۵۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش کو وائی۔ ایم۔ سی۔ اے کی مشہور بھارٹی ٹیم` کراچی` لاہور اور راولپنڈی کے علاوہ ربوہ میں بھی میچ کھیلنے کے لئے آئی۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ ربوہ کو بیرون ملک کھلاڑیوں سے نبردآزما ہونا پڑا۔
    ان بیش از پیش کامیابیوں کے نتیجہ میں ربوہ باسکٹ بال کے تین چار اہم ترین ملکی مراکز میں سے شمار ہونے لگا اور چونکہ ملک میں باسکٹ بال کو غیر معمولی طور پر فروغ دینے میں تعلیم الاسلام کالج کے منتظمین خصوصاً حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا بھاری عمل دخل تھا اس لئے پانچویں سالانہ ٹورنامنٹ پر امیچیور باسکٹ بال ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کمیٹی کی طرف سے ایک وفد جو ایکٹنگ چیئرمین )چوہدری محمد علی صاحب۲۰۶ ایم۔ اے( اور سیکرٹری )قریشی محمد اسلم صاحب ایم۔ ایس۔ سی( پر مشتمل تھا حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خدمت حاضر ہوا اور درخواست کی کہ باسکٹ بال کے کھیل کی مقبولیت اور ترقی کے سلسلہ میں آپ نے جو خدمات جلیلہ انجام دی ہیں ان کی وجہ سے ایسوسی ایشن چاہتی ہے` کہ آپ پریذیڈنٹ کا عہدہ قبول فرمائیں۔ اگرچہ قبل ازیں کئی بار آپ یہ درخواست قبول کرنے سے معذوری کا اظہار فرماچکے تھے مگر اس مرتبہ آپ نے از راہ شفقت پریذیڈنٹ بننا منظور فرمالیا۔ چنانچہ آپ ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش یعنی منصب خلافت پر فائز ہونے تک ایسوسی ایشن کے صدر رہے اور ہمیشہ بلامقابلہ منتخب ہوتے رہے۔۲۰۷
    پانچواں آل پاکستان ٹورنامنٹ پہلے سے بھی زیادہ شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس دفعہ کھیل پہلی بار رات کے وقت بجلی کی روشنی میں ہوا اور کلب سیکشن میں کراچی یونیورسٹی` زرعی یونیورسٹی اور ایرفورس کی ٹیمیں پہلی بار شامل ہوئیں۔ ایسوسی ایشن کے نمائندے` انتظامیہ کے ممبر اور پنجاب ٹیم کی انتخابی کمیٹی کے تمام ارکان کے علاوہ دور و نزدیک سے سینکڑوں شائقین نے نہایت دلچسپی اور دلجمعی سے کھیل دیکھا اور خوب داد دی۔ حضرت صاحبزاد مرزا ناصر احمد صاحب نے سنٹرل ایمیچیور باسکٹ بال ایسوس ایشن کے صدر کی حیثیت سے انعامات تقسیم فرمائے۔
    چھٹا سالانہ ٹورنامنٹ اپنی گزشتہ روایات کے مطابق کامیابی کے ساتھ انعقاد پذیر ہوا اور انعامات کی تقسیم پروفیسر خواجہ غلام صادق صاحب چیئرمین سنٹرل امیچیور باسکٹ بال ایسوسی ایشن نے کی۔
    ساتواں ٹورنامنٹ جو کالج میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی سربراہی کے مبارک زمانہ کا آخری ٹورنامنٹ تھا` ۲۵` ۲۶` ۲۷۔ تبلیغ ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش کو منعقد ہوا۔ کل ۲۶ ٹیموں نے شرکت کی اور حضرت صاحبزادہ صاحب نے بحیثیت پرنسپل و صدر سنٹرل ایسوسی ایشن لوائے پاکستان اور کالج کا جھنڈا لہرایا۔ اس موقعہ پر جن اصحاب نے پیغامات ارسال کئے ان میں ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان` خواجہ عبدالحمید صاحب ڈائریکٹر تعلیمات راولپنڈی ریجن` ونگ کمانڈر ایچ۔ اے صوفی سیکرٹری سپورٹس کنٹرول بورڈ گورنمنٹ آف مغربی پاکستان` پروفیسر خواجہ محمد اسلم پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور اور سید پناہ علی شاہ انسپکٹر آف سکولز لاہور ڈویژن` خاں محمد عادل خاں ڈائریکٹر آف سپورٹس پشاور یونیورسٹی بالخصوص قابل ذکر تھے۔ اس ٹورنامنٹ کی تصاویر )مع پیغام و تصویر ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان( دو دفعہ ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔ اسی طرح ریڈیو پر مقامی اور قومی خبروں میں بھی اس کا اعلان نشر کیا گیا۔
    ۸۔ نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب منصب خلافت پر فائز ہوئے اور خلافت ثالثہ کے مبارک عہد کا آغاز ہوا تو حضرت امیرالمومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ کرم اپنے اسم گرامی سے ٹورنامنٹ کو منسوب کئے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ چنانچہ آئندہ سے یہ مقابلے پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے >ناصر باسکٹ بال ٹورنامنٹ< کے نام سے ہونے لگے۔۲۰۸
    کل پاکستان اردو کانفرنس کا انعقاد
    باسکٹ بال ٹورنامنٹ سے اگر کھیلوں کی دنیا میں کالج کا شہرہ عام ہوا تو ادب اردو کے حلقوں میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی >کل پاکستان اردو کانفرنس< نے دھوم مچا دی۔
    ربوہ میں اپنی نوعیت کی پہلی کامیاب کانفرنس جو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خداداد ذہانت` بلند پایہ نفیس ادبی ذوق اور بہترین علمی قیادت و سیادت کی آئینہ دار اور پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد ایم۔ اے صدر شعبہ اردو اور پروفیسر ناصر احمد صاحب پروازی معتمد مجلس استقبالیہ اردو کانفرنس اور ان کے دوسرے رفقاء کی ان تھک جدوجہد کا نتیجہ تھی` ۱۸۔ ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش کو تعلیم الاسلام کالج کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی جس میں ۲۵ کے قریب نامور ادباء اور شعراء نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں مختلف کالجوں کی طرف سے بھی پچیس کے قریب مندوبین شامل ہوئے۔ کانفرنس کی کارروائی تلاوت سے شروع ہوئی۔ بعد ازاں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس استقبالیہ نے اپنے پراثر خطبہ۲۰۹ میں ارشاد فرمایا۔
    >اس کانفرنس کے مقاصد خالصت¶ہ تعمیری اور مثبت ہیں۔ ہم اردو کا مینار تخریب کے منفی اقدار پر استوار نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارے نزدیک سلبی انداز فکر ذہنی افلاس کی علامت ہے۔ زندہ قوموں کی ہزار پہلو ضروریات اپنے اپنے مقام اور محل پر سب کی سب اہم اور ناقابل تردید حیثیت کی حامل ہوا کرتی ہیں۔ لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ ان جملہ قومی تقاضوں کو ضروری خیال کرتے ہوئے بھی میزان عدل کا توازن برقرار رکھا جاسکتا ہے اور اردو کو وہ ارفع مقام دیا جاسکتا ہے جو اس کا واجبی حق ہے۔
    یہ ایک عظیم قومی حادثہ ہے کہ زبان کا مسئلہ جو خالصت¶ہ قومی اور علمی سطح پر حل کیا جانا چاہئے تھا` سیاسی نعرہ بازی اور مہمل جذبات کا شکار ہوکر رہ گیا اور سترہ سال کا طویل عرصہ بے کار مباحث اور مجرمانہ غفلت کے ہاتھوں ضائع ہوگیا۔ ہم تو سنتے آئے تھے کہ ہمارے معروف >ساغر< کا ایک دور >صد سالہ دور چرخ< کے ہم پلہ ہوا کرتا ہے اور رند جب میکدہ سے نکلتے ہیں تو دنیا بدلی ہوئی پاتے ہیں لیکن یہاں سترہ سال کے بعد بھی
    ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
    کچھ ہماری خبر نہیں آتی
    اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سہل انگاری اور خوش فہمی کے گنبد سے نکل کر ہم حقائق کی دنیا میں قدم رکھیں۔ ٹھنڈے دل سے اپنی مشکلات کا جائزہ لیں اور سنجیدگی سے اپنے تعلیمی` تدریسی` علمی` ادبی` لسانی اور طباعتی مسائل کا حل تلاش کریں۔ زبان و بیان` تلخیص و ترجمہ` رسم الحظ اور اسی قسم کے دیگر عقدوں کی گرہ کشائی کی کوشش کریں۔ ایسا لائحہ عمل بنائیں اور اس کی تشکیل ایسے خطوط پر کریں جس سے یہ گومگو کی کیفیت ختم ہو اور اس ذہنی دھند سے نجات ملے۔
    اس جگہ اس امر کا اظہار بھی غیر مناسب نہ ہوگا کہ اردو کے ساتھ جماعت احمدیہ کا ایک پائیدار اور روحانی رشتہ بھی ہے۔ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی اکثر تصانیف اردو ہی میں ہیں۔ اس لئے اردو زبان عربی کے بعد ہماری محبوب ترین زبان ہے۔ اسی لئے ساری دنیا میں جہاں جہاں احمدیہ مشن یا احمدی مسلمان موجود ہیں ہاں اردو سیکھی اور سکھلائی جارہی ہے۔ زبان اردو کی یہ ٹھوس اور خاموش خدمت ہے جو جماعت احمدیہ دنیا کے گوشے گوشے میں کررہی ہے۔ اردو ہماری مذہبی زبان ہے۔ یہ ہماری قومی زبان ہے۔ یہ ہماری آئندہ نسلوں کی زبان ہے۔ یہ وہ قیمتی متاع ہے جو ہمیں ہمارے اسلاف سے ورثہ میں ملی ہے۔ اسے اس قابل بنائیے کہ ہماری آئندہ نسلیں اس ورثہ کو سرمایہ افتخار تصور کریں اور اس پر بجاطور پر ناز کرسکیں اور ہماری طرح گونگی اور >بے زبان< ہوکر نہ رہ جائیں۔
    اردو ایک زندہ قوم کی زندہ زبان ہے۔ ادبیات کی اہمیت مسلم لیکن یہ نہ بھولئے کہ اردو زبان کا یہ بھی حق ہے کہ شعر و ادب کے روایتی اور محدود دائرے سے باہر نکلے اور زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہو جائے۔ ساری دنیا کے دلوں پر اس کی حکومت ہو۔ قومیں اسے لکھیں` بولیں اور اس پر فخر کریں اور بین الاقوامی زبانوں کی محفل میں اردو بھی عزت کے بلند پایہ مقام پر سرفراز ہو۔
    ان دعائیہ الفاظ کے ساتھ ہی میں ایک بار پھر اپنے دوستوں اور بزرگوں کو اھلا و سھلا و مرحبا کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہوں کہ وہ ہم سب کو ایسا انداز فکر عطا فرمائے اور اس نہج پر کام کرنے کی توفیق دے جو نہ صرف زبان اردو کے لئے بلکہ ہمارے لئے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لئے خیر و برکت کا باعث ہو۔ اللہم آمین۔4] [stf۲۱۰
    خطبہ استقبالیہ کے بعد معتمد استقبالیہ اردو کانفرنس نے اختر حسین صاحب صدر انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی اور اشتیاق حسین صاحب قریشی رئیس الجامعہ جامعہ کراچی کے پیغامات سنائے جو انہوں نے خاص اس موقعہ کے لئے بھیجے تھے۔ ان پیغامات کے علاوہ سیدنا المصلح الموعود کے اس پیغام کے اقتباسات بھی سنائے جو حضور نے ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش میں دانش گاہ پنجاب میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے نام ارسال فرمایا تھا۔ ازاں بعد حضرت مصلح موعودؓ کا رقم فرمودہ ادبی مقابلہ >اردو رسائل زبان کی کس طرح خدمت کرسکتے ہیں؟< کے موضوع پر پڑھا گیا۔ حضور کا یہ قیمتی مقالہ برصغیر پاک و ہند کے ادیب شہیر احسان اللہ خاں تاجور نجیب آبادی نے اپنے رسالہ >ادبی دنیا< )مارچ ۱۹۳۱ء( میں حضور کا فوٹو دے کر شائع کیا تھا۔ اس زمانہ میں رسالہ >ادبی دنیا< کے نگران اعلیٰ سرعبدالقادر مرحوم تھے۔
    اس یادگار مقالہ کے بعد جو گویا اس پوری کانفرنس کی روح رواں تھا۔ وزیر آغا ایم۔ اے` پی۔ ایچ۔ ڈی نے اپنا فاضلانہ خطبہ افتتاح پڑھا جس میں تعلیم الاسلام کالج کو ادبی کانفرنس منعقد کرنے پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا۔
    >اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے یوں تو بہت سے اقدامات ضروری ہیں لیکن اس سلسلہ میں اردو کانفرنسوں کا انعقاد ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ملک میں بالعموم ہر تحریک نہ صرف بعض بڑے ثقافتی مراکز سے جنم لیتی ہے بلکہ پروان چڑھنے کے بعد وہیں کی ہوکر رہ جاتی ہے اس سے تحریک میں وہ کشادگی اور وسعت پیدا نہیں ہوتی جو اس کی پوری کامیابی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اردو زبان کی ترویج کے سلسلہ میں جو تحریکات وجود میں آئیں وہ عام طور پر لاہور اور کراچی ایسے مراکز ہی سے وابستہ ہیں۔ تعلیم الاسلام کالج نے اس انجماد کو توڑا ہے اور اردو کانفرنس کے انعقاد سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اب اردو کے لئے محبت اور اردو کو قومی زبان کا درجہ دینے کی آرزو بڑے بڑے مراکز تک ہی محدود نہیں رہی۔ گویا اس خوشبو کی طرح جو دیوار چمن کو پار کرتی ہے اردو زبان کی ترویج و اشاعت کی تحریک بھی اونچی اونچی دیواروں کو پار کرکے افق کے پہاڑوں سے آٹکرائی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے جو مبارک قدم اٹھایا ہے اس کی ملک کے طول و عرض میں عام طور سے تقلید ہوگی اور ہم اردو زبان کو ملک کے دور دراز گوشوں تک پہنچا سکیں گے۔ آپ کی یہ اردو کانفرنس اس لئے بھی اہم ہے کہ اس کے پس پشت اردو زبان کے لئے بے پناہ محبت کے سوا کوئی اور جذبہ موجزن نہیں ہے اور آپ نے پنجاب کے اس دیہاتی علاقہ میں منعقد کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو زبان پنجاب کے دور دراز گوشوں میں بھی ویسی ہی مقبول ہے جیسی کہ اردو کے بڑے بڑے مراکز میں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اردو کانفرنس کے منعقد کرنے کی جو روایت قائم کی ہے اسے ہمیشہ جاری رکھیں گے اور مجھے امید ہے کہ ہمارے ملک کے دوسرے ادارے اس سلسلہ میں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی پوری کوشش کریں گے۔۲۱۱]ybod [tag
    اس خطبہ افتتاح کے بعد کانفرنس کی دو نشستوں میں مندرجہ ذیل موضوعات پر تحقیقی اور فکر انگیز مقالے پڑھے گئے۔
    ۱۔ اردو میں سائنسی تدریس )پروفیسر شیخ ممتاز حسین صاحب صدر شعبہ اردو زراعتی یونیورسٹی لائل پور(
    ۲۔ اردو میں قانونی تدریس )خضر تمیمی صاحب ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور(
    ۳۔ اردو میں دخیل الفاظ کا مسئلہ )ڈاکٹر سہیل بخاری صاحب سرگودھا(
    ۴۔ اردو بحیثیت تدریسی زبان )پروفیسر سید وقار عظیم صاحب شعبہ اردو دانش گاہ پنجاب(
    ۵۔ غیر ممالک میں احمدی کی کیا خدمات انجام دے رہے ہیں )مولانا نسیم سیفی صاحب سابق رئیس التبلیغ مغربی افریقہ(
    ۶۔ ادب اور زندگی کا رشتہ )سید سجاد باقر صاحب رضوی شعبہ اردو دانش گاہ پنجاب(
    ۷۔ اردو بحیثیت قومی زبان )ڈاکٹر وحید قریشی صاحب(
    ان ادباء کے علاوہ جامعہ احمدیہ کے تین غیرملکی طلبہ یوسف عثمان صاحب )افریقہ( عبدالقاھر صاحب )ترکستان( اور عبدالرئوف صاحب )فجی( نے >ہمیں اردو سے کیوں محبت ہے< کے عنوان پر مضمون پڑھے۔ مہمانوں کے لئے یہ عجیب بات تھی کہ غیرملکی طلبہ ایسی شستہ اردو بول رہے ہیں۔۲۱۲ الغرض یہ پہلی اردو کانفرنس ہر لحاظ سے حددرجہ کامیاب رہی۔
    دوسری اردو کانفرنس
    ۱۴۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۷ء/ ۱۳۴۶ہش کو کالج میں دوسری آل پاکستان اردو کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مغربی پاکستان کی تین یونیورسٹیوں اور متعدد تعلیمی اداروں اور ادبی تنظیموں کے ۸۴ خصوصی نمائندے شریک ہوئے۔ خطبہ افتتاح ڈاکٹر اشتیاق حسین صاحب قریشی وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی نے دیا اور جسٹس اے۔ آر کارنیلس چیف جسٹس پاکستان` جناب اختر حسین صاحب صدر انجمن ترقی اردو پاکستان` ممتاز حسین صاحب سابق مینجنگ ڈائریکٹر نیشنل بنک آف پاکستان اور جناب پروفیسر حمید احمد خاں صاحب نے خصوصی پیغامات ارسال کئے۔
    اس دو روزہ کانفرنس میں زبان` ادب` صحافت اور تدریس کے پچاس موضوعات پر ۴۳ مقالے پڑھے گئے اور باقی سات مقالے اشاعت کے لئے پیش کئے گئے۔ کانفرنس میں دو مذاکرے بھی منعقد ہوئے۔ ان میں سے ایک مذاکرہ اردو میں >سائنسی تدریس کی مشکلات اور ان کا حل< کے موضوع پر ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر ظفر علی صاحب ہاشمی وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی لائلپور نے کی۔ دوسرے مذاکرہ کا موضوع >جدید اردو شاعری کے رجحانات< تھا۔ اس میں صدارت کے فرائض سید وقار عظیم صاحب صدر شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی نے ادا کئے۔ کانفرنس کا ایک اجلاس محسنین اردو کے تذکرہ کے لئے وقف تھا۔ جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب` حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب )المصلح الموعود`( علامہ نیاز فتح پوری اور مولانا صلاح الدین احمد کی خدمات اور کارناموں پر ٹھوس مقالے پڑھے گئے۔۲۱۳`۲۱۴
    پہلا باب )فصل ششم(
    کالج میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا قائم فرمودہ مثالی نظام تعلیم و تربیت اس کی بنیادی خصوصیات اور ہمہ گیر اثرات
    سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کے ذہن مبارک میں تعلیم الاسلام کالج کے عروج و ارتقاء اور شاندار مستقبل کی نسبت جو نقشہ قیام کالج کے وقت موجود تھا وہ اپنی تفصیلات و مضمرات کے اعتبار سے بین الاقوامی نوعیت کا حامل ہے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ اس نقشہ کی عملی تشکیل و تعمیر کے لئے مسلسل اکیس برس )۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش تا ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش( تک سرتاپا وقف اور مجسم جہاد بنے رہے اور قریباً ربع صدی کی بے پناہ کاوشوں اور معرکہ آرائیوں کے بعد خدا کے فضل اور حضرت مسیح موعود کی دعائوں اور حضرت مصلح موعود کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں کالج کو ایک قابل رشک مخصوص اور امتیازی مقام تک پہنچا دیا اور اس کی بنیادیں ایک اسے طریق تعلیم اور نظام تربیت پر استوار کیں جو روح و جسم اور علم و عمل پر حاوی اور دین و دنیا کے حسین امتزاج کا بہترین نمونہ ہے۔
    آپ نے اس اسلامی درس گاہ میں جو مثالی نظام تعلیم و تربیت رائج فرمایا وہ اپنے اندر متعدد خصوصیات رکھتا ہے جن میں سے پانچ حد درجہ نمایاں ہیں اور کالج کی مقدس اور ناقابل فراموش روایات بن چکی ہیں۔
    پہلی خصوصیت آپ کے قائم کردہ نظام کی یہ تھی کہ آپ نے اپنے پاک نمونہ سے کالج کے اساتذہ میں زبردست روح پھونکی کہ وہ طلبہ کو قوم کا عظیم سرمایہ یقین کرتے ہوئے ان کے ساتھ شفیق باپ سے بھی بڑھ کر محبت کرتے` ان کی بہبود اور ترقی میں ذاتی طور پر دلچسپی لیتے` ان کی جائز ضروریات پوری کرتے` ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے` ہر وقت بے لوث` خدمت میں لگے رہتے اور پوری توجہ اور کوشش کے ساتھ بچوں کی رہبری اور رہنمائی میں مصروف رہتے تھے۔
    دوسری خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے کالج کی قیادت اس رنگ میں فرمائی کہ طلبہ و اساتذہ اسلامی اقدار کے حامل بنیں اور ہمیشہ ہی غلط قسم کی سیاست سے کنارہ کش اور ہڑتالوں اور دوسری مغربی بدعات سے متنفر رہیں۔ چنانچہ کالج کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ قادیان` لاہور اور ربوہ تینوں جگہ یہ انسٹی ٹیوشن ہمیشہ ہی ذہنی تکدر اور سیاسی بے راہ روی سے ہر طرح محفوظ و مصئون رہی ہے اور یہ وہ خصوصیت اور امتیاز ہے جس میں تعلیم الاسلام کالج اس زمانہ میں نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ دنیا بھر کے کالجوں میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
    تیسری خصوصیت اس نظام تعلیم و تربیت کی یہ تھی کہ اس درسگاہ کا فکر و عمل ہمیشہ مذہب و ملت کی تفریق سے بالا رہا ہے۔ ہر طالب علم خواہ وہ کسی مذہب` کسی فرقہ یا سیاسی جماعت سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو ہر قسم کی جائز سہولتیں حاصل کرتا ہے اور اس کالج کے اساتذہ ہر طالب علم کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کی طرف پوری طرح متوجہ رہتے تھے۔
    چوتھی خصوصیت اس میں یہ تھی کہ یہاں امیر و غریب میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا تھا۔ ایک غریب کی عزت و احترام کا ویسا ہی خیال رکھا جاتا تھا جیسا کہ کسی امیر طالب علم کا` اور اساتذہ ہر اس طالب علم کی قدر کرتے تھے جو علمی شوق رکھتا ہو اور علم کی وسیع شاہراہ پر بشاشت اور محنت کے ساتھ آگے بڑھنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ سے آپ کو ابتداء ہی سے اسلامی نظام اقتصادیات سے غیر معمولی دلچسپی` لگائو اور شغف رہا ہے اور آپ نے ہرممکن جدوجہد فرمائی کہ کالج کے نظام تعلیم و تربیت سے اس نظام کو زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ کیا جائے۔ اس بناء پر آپ نے ہمیشہ سادگی پر زور دیا اور طلباء کے اخراجات کو کم سے کم رکھنے کو اپنا ضروری فرض سمجھا تاکہ غریب طالب علم کو اپنی غربت کا احساس نہ رہے اور امیر اپنی امارت جتانے میں حجاب محسوس کرے۔ آپ کے اسی طرز عمل کا نتیجہ تھا کہ کالج کے بعض غریب طلبہ کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیر اپنے فارغ اوقات میں محنت اور مزدوری کرکے اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرتے تھے اور آپ بھی اور دوسرا سٹاف بھی ان محنتی اور ہونہار طلبہ کی ہر رنگ میں حوصلہ افزائی اور قدر دانی فرمایا کرتے تھے۔
    ‏body2] gat[پانچویں خصوصیت آپ نے تعلیم و تربیت کی ظاہری تدابیر کو انتہاء تک پہنچانے کے باوجود ان پر کبھی انحصار نہیں کیا اور ہمیشہ خود بھی ہر مرحلے پر دعائوں سے کام لیا اور اپنے رفقاء کار میں بھی اس کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کی اور ان میں یہ احساس پختگی کے ساتھ قائم کردیا کہ محض ظاہری دیکھ بھال اور تربیت کافی نہیں۔ ہمارے بچوں کا پہلا اور آخری حق ہم پر یہ ہے کہ ہم دعائوں کے ساتھ ان کی مدد کرتے رہیں۔
    یہاں بطور نمونہ کالج کے اساتذہ اور طلبہ سے متعلق خود آپ کے بعض دعائیہ کلمات درج کئے جاتے ہیں جن سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوگا کہ آپ اس ادارہ کو رفعتوں کے کتنے بلند ترین مقام تک لے جانے کے ہمیشہ متمنی اور آرزو مند رہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور آپ نے ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش میں دعا کی کہ۔
    >اے قادر توانا خدا! اے حقائق اشیاء کو پیدا کرنے والے اور ان حقاق و رموز کو انسانی دل پر الہام کرنے والے خدا! تو ہماری ان ناچیز مساعی کو قبول فرما اور ہماری تضرعات کو سن اور ہم پر اور ہماری اولاد پر علم کے وسیع دروازوں کو ہر پہلو سے کھول دے۔ علم کی روشنی سے ہمارے دل اور دماغ کو منور کر۔ اور علم و معرفت کی غیر محدود طاقت سے ہمارے عمل میں ایک نئی روح اور ہماری مساعی میں ایک نئی زندگی پیدا کر کہ ہم اور ہماری نسلیں تیرے عطا کردہ علم اور تیری بخشی ہوئی معرفت سے پر ہوکر تجھ ہی سے دعائیں کرتے ہوئے جس میدان عمل میں بھی داخل ہوں سب پر سبقت لے جائیں۔ اے خدا! تو خود اس نو شگفتہ نسل کے دل و دماغ کو رموز قیادت و مسابقت سے آشنا کر اور ان کے عمل اور مساعی میں تیزی اور جولانی پیدا کر اور انہیں دنیا کا ہمدرد بنا` دنیا کا خادم بنا` دنیا کا محسن بنا` اور دنیا کا رہبر بنا` قوم کا نام ان کے کام سے چمکے۔ انسانیت کا چہرہ ان کی روحانیت سے منور ہو اور تیری صفات ان کے کمالات سے ظاہر ہوں<۔۲۱۵
    نظام تعلیم و تربیت کا ایک جامع نقشہ
    کالج کے نظام تعلیم و تربیت کی بنیادی خصوصیات کی نشاندہی کرنے کے بعد مناسب ہوگا کہ ہم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کے مبارک الفاظ میں اس درسگاہ کے تعلیمی و تربیتی اعتبار سے پاکیزہ ماحول کا ایک نقشہ قارئین کے سامنے رکھ دیں۔ اس نقشہ سے نہایت جامعیت کے ساتھ پانچوں خصوصیات کی جھلک پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے۔ ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش میں فرمایا۔
    >ہمارے طلبہ اور ہمارے اساتذہ تعلیم و تربیت کو ایک مقدس فرض تصور کرتے ہیں۔ ہمارے پاس برے بھلے ہر قسم کے طلبہ آتے ہیں۔ ایک باپ کی حیثیت سے سزائیں بھی دینی پڑتی ہیں اور ایک باپ ہی کی محبت کا سلوک کرنا پڑتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان عزیزوں کے لئے صحت افزا ذہنی` اخلاقی اور جسمانی فضا مہیا کرنا` ان کی شخصیتوں کے جملہ پہلوئوں کو اجاگر کرنا اور علمی اور اخلاقی نشوونما کی جملہ سہولتیں بہم پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ ہمارے نزدیک مسجد کے بعد مدرسے کا تقدس ہے اور ہماری اس درسگاہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعلیم و تربیت کے فرائض عبادت کے رنگ میں سرانجام دیئے جاتے ہیں جہاں رنگ اور مذہب` افلاس اور امارت` اپنے اور بیگانے کی کوئی تفریق نہیں۔ جہاں طلباء مقدس قومی امانت ہیں۔ جہاں ماحول خالص اسلامی اور اخلاقی ہے نہ کہ سیاسی۔ جہاں منتہائے مقصود خدمت ہے نہ کہ جلب منفعت۔ جہاں غریبی عیب نہیں اور امارت خوبی نہیں۔ الحمدلل¶ہ علیٰ ذلک۔
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے عظیم اور مثالی ادارے کی کماحقہ حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے جس کے ذرے ذرے پر اس کے فدائی اساتذہ اور طلباء نے خون دل سے محنت اور اخلاص کی داستانیں لکھی ہیں۔ یہاں اساتذہ سستی شہرت کی خاطر اپنے فرائض کے تلخ پہلوئوں سے اغماض نہیں برتتے اور نہ ہی طلباء سٹرائیک کی قسم کے غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ یہاں نہ صرف ملک کے گوشے گوشے بلکہ غیر ممالک سے بھی ہر مذہب و خیال کے طلباء اس پرسکون` سادہ اور پاک ماحول سے فائدہ اٹھا رہے ہیں<۔۲۱۶
    >تعلیم الاسلام کالج ایک بین الاقوامی حیثیت کا حامل ہے۔ کالج کے طلبہ کا حلقہ انڈونیشیا` برما` تبت` ہندوستان` مغربی افریقہ` مشرقی افریقہ` سومالی لینڈ اور بحرین وغیرہ ممالک تک پھیلا ہوا ہے<۔
    >ہمارے طلبہ میں سچائی` محنت` خدمت خلق` غیرت قومی` خدمت دین` امانت و دیانت اور دیگر اخلاق فاضلہ صرف موجود ہی نہیں بلکہ ان کا معیار بھی کافی بلند ہے۔
    ہمیں یقین ہے کہ جس معیار کی تعلیم دینے اور جس طرح کے طلبہ پیدا کرنے کی کوشش اس کالج میں ہورہی ہے اس کے پیش نظر نہ صرف اس کالج کی بلکہ اس جیسے سینکڑوں کالجوں کی ملک و قوم کو ہر وقت ضرورت رہے گی اور ہمارے طلبہ انشاء اللہ تعالیٰ آنے والے سالوں میں تعلیمی` علمی اور اخلاقی میدان میں مثالی اور قابل فخر کردار ادا کریں گے<۔۲۱۷
    >اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں اور کوششوں میں برکت ڈالے اور ہمیں خدمت قوم و بنی نوع انسان کی زیادہ سے زیادہ توفیق دے<۔۲۱۸
    حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کی طلبہ کالج سے متعلق یہ پیشگوئی خدا کے فضل و کرم سے حرف بحرف پوری ہورہی ہے۔ فالحمدلل¶ہ علیٰ ذالک۔
    تعلیم و تربیت سے متعلق بعض اہم واقعات
    یہ نظام تعلیم و تربیت جس کا خاکہ اوپر کھینچا گیا ہے اپنی تفصیلات کے اعتبار سے ایک مستقل مضمون کا تقاضا کرتا ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ تاہم ذیل میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے اس دور زندگی کے بعض اہم واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن سے آپ کے انداز تربیت کے بہت سے گوشے نمایاں ہوتے ہیں اور جو دنیائے اصلاح و تربیت کے لئے چراغ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
    طلبہ پر بے مثال شفقت
    بلامبالغہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز( نے تعلیم الاسلام کالج کے طلباء کو اپنے خون سے پالا ہے اور ان کے ساتھ ہمیشہ اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر محبت کی ہے۔ جناب پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد ایم۔ اے کا بیان ہے کہ >ایک دفعہ خاکسار نے لاہور میں ۱۹۵۰ء یا ۱۹۵۱ء میں آپ سے عرض کیا کہ ڈسپلن کیسے رہے ہم اساتذہ طلباء کی غفلتوں پر بعض اوقات جرمانہ کی سزا دلواتے ہیں مگر آپ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔ آپ نے جواباً تحریر فرمایا۔
    اگر طلبہ کے لئے میرے دل میں خدا تعالیٰ نے رحم ڈالا ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ باقی حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ۔ ناصر احمد<
    عکس


    تادیب` دلداری اور ذاتی تعلق
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے لکھتے ہیں۔
    >آپ کالج اور ہوسٹل کی تفصیلی نگرانی فرماتے اور ہر معاملے میں ہم خدام کو ان کی بابرکت رہنمائی حاصل ہوتی۔ سزا بھی دیتے لیکن کراہت کے ساتھ لیکن جہاں سزا ضروری ہوتی اسے ضرور دیتے۔ مجھے یاد ہے۔ ایک دفعہ ایک طالب علم کو بدنی سزا دی جانے لگی۔ ہال میں طلبہ اکٹھے ہوئے۔ اس عاجز سے ارشاد فرمایا کہ سزا دو۔ جب سزا کا نفاذ ہونے لگا تو فرمانے لگے کہ سزا میں نے آپ کو نہیں اس طالب علم کو دی ہے اور خود باقی سزا اپنے ہاتھ سے نافذ کی۔ آج تک واقعہ کا اثر دل پر ہے۔ بعد میں بھی جب سزا دی ہے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ پر غم کی کیفیت طاری ہوئی اور کئی بار ایسا ہوا ہے کہ اس تکلیف سے کتنا کتنا عرصہ گھر سے تشریف نہ لاتے<۔
    طلباء آپ سے جو محبت اور عقیدت رکھتے اس کا بیان کرنا مشکل ہے۔ چوہدری محمد بوٹا ایک طالب علم ہوتے تھے جو اب RESEARCH IRRIGATION میں آفیسر ہیں۔ غیراز جماعت ہیں۔ انہوں نے حضور کی خدمت میں عرصے کے بعد جب وہ ایم ایس سی کرچکے تھے اور کالج سے جاچکے تھے خط لکھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں اپنا نام تبدیل کرنا چاہتا ہوں اور میرے دل میں چونکہ آپ کی بے حد قدر اور عزت ہے اور مجھے کوئی اور آپ جیسا عظیم انسان نہیں ملا اس لئے آپ کی اجازت سے اپنا نام ناصر رکھنا چاہتا ہوں چنانچہ آج وہ اسی نام سے موسوم ہیں۔
    محمد اشرف ایک طالب علم تھے جن پر کالج کے دنوں میں بظاہر سختی ہوئی تھی۔ یورپ کے دورے )۱۹۶۷ء( کے وقت دیوانہ وار حضور کی خدمت میں ایڈنبرا` گلاسگو وغیرہ حاضر رہے۔ طلبہ آپ کے والہ و شیدا تھے اور آپ بھی بیٹوں کی طرح ان سے سلوک فرماتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ آدھی آدھی رات بیمار طلبہ کے سرہانے بیٹھ کر ہاتھ سے چمچے کے ساتھ خود دوائی پلایا کرتے اور تسلیاں دیا کرتے۔ اس شفقت اور محبت کو دیکھ کر دوسرے طلباء کہا کرتے کہ ہمارا بھی بیمار ہونے کو جی چاہتا ہے۔ غریب طلباء کی بہت دلداری فرماتے کہ ان کی امداد اس رنگ میں ہو کہ ان کی عزت نفس کو ٹھیس نہ لگے۔ جو طلباء مزدوری کرکے پڑھتے ان کی خاص قدر فرماتے اور ان کا اس محبت سے ذکر فرماتے کہ ایسے طلباء کا فخر سے سراونچا ہو جاتا۔ غریب طلباء کی غذا` دوا` لباس` سویا بین اور پتہ نہیں کیا کیا ان کے لئے مہیا فرماتے۔ ڈسپلن کے معاملے میں سختی فرماتے اور پھر دلداری بھی فرماتے۔ فرمایا کرتے کہ استاد کو باپ اور ماں دونوں کا کام کرنا چاہئے۔
    >سویا بین کا بہت شوق تھا اور ہے اور کمزور اور کھلاڑی اور ذہین طلباء کو اس کا حلوا تیار کروا کے کھلایا کرتے اور خوش ہوتے۔
    آپ کا تعلق طلباء سے بے حد محبت اور تکریم کا ہوا کرتا تھا۔ ان سے مزاح بھی فرماتے اور بے تکلف بھی ہوتے لیکن حدود قائم رہتیں۔ خدام الاحمدیہ کے دور میں کلائی پکڑنے کا شوق تھا میرے علم میں کوئی ایسا شخص یا طالب علم ¶نہیں جو آپ کے مقابلے پر پرا اتر سکا ہو۔ اگر یہ عاجز کبھی کوشش کرتا تو دو انگلیوں سے کلائی چھڑا لیتے۔ طلباء کسی قسم کا بعد یا فاصلہ محسوس نہیں کرتے تھے۔ باپ بیٹے کا تعلق تھا جو زندہ اور جاری تھا۔ جب مرحوم مبشر احمد گکھڑ جو بے حد ہونہار اور نیک اور ذہین طالب علم تھا قتل ہوا اور آپ کی خدمت میں شام کو کراچی میں ضمناً ایک لڑکے مبشر احمد کی اطلاع کی گئی تو رات گئے غالباً بارہ ایک بجے کا عمل ہوگا کہ آپ کا فون آیا کہ تفصیل بتائی جائے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے نیند نہیں آرہی اور بے حد بے چینی ہے۔ کیا یہ وہی مبشر احمد تو نہیں جو ہر وقت مسکراتا رہتا تھا۔ افسوس کہ یہ وہی مبشر احمد تھا جس کی وفات پر آپ اس طرح بے چین ہوگئے اور آدھی رات کو کراچی سے فون آیا۔
    آپ طلبہ کو بلاوجہ ان کے نچلے پن پر ٹوکتے نہیں تھے اور فرمایا کرتے تھے یہ ان کی صحت کی علامت ہے۔ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے جو جماعت کے ایک مخلص خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور خود ایک بڑی کار پر ماڈل ٹائون سے کالج آیا کرتے تھے آپ کی >ولزلے< کارپر >المنار< میں چھپنے کے لئے انگریزی میں ایک مضمون لکھا۔ میں ان دنوں انگریزی حصے کا نگران تھا۔ میں نے شائع کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر مصنف نے اصرار کیا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب سے پوچھ لیں آپ نے فرمایا۔ یہ تو ضرور چھپنا چاہئے۔ میں نے اسے ذرا نرم کرکے چھاپ دیا۔ جس دن >المنار< شائع ہوا۔ کوئی چند گھنٹے بعد طالب علم کانپتا ہوا میرے پاس آیا۔ کہنے لگا کہ ادھر یہ مضمون شائع ہوا اور ادھر میری کار کی ٹکر درخت سے ہوگئی۔ میری جان بچ گئی۔ میں اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کی کار پر استہزاء کا مرتکب ہوا تھا۔ مجھے اس کی سزا مل گئی۔ خدا معاف کرے۔
    آپ طلباء کے اجتماعات میں دلی نشاط اور بشاشت سے شامل ہوتے اور خط اٹھاتے کشتی رانی (ROWING) کے میچوں میں تقریباً آدھ میل تک کشتی کے ساتھ ساتھ اسی رفتار سے دوڑ کر حوصلہ افزائی فرماتے اور دوسرے کالجوں کے طلباء بار بار ہم سے کہا کرتے کہ کاش ہمارے پرنسپل بھی ہماری کھیلوں میں اتنی دلچسپی لیں۔ خدا تعالیٰ نے جو رعب دیا ہوا ہے طلباء اس کی وجہ سے ڈرتے بھی۔ لیکن وہ یہ جان گئے تھے کہ اگر کوئی خاص سنگین قسم کی قانون شکنی کے مرتکب نہ ہوں تو اس رعب کے نیچے حلم اور حیا اور محبت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن ہے اس لئے عام جرمانہ وغیرہ ہوتا تو جاکر معاف کروا لیتے۔ آپ کبھی بے صبری کا اظہار نہ فرماتے سختی کے وقت سختی بھی فرماتے لیکن دل نرمی کی طرف مائل رہتا۔ کھلاڑیوں خصوصاً روئنگ اور باسکٹ بال کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی فرماتے اور ان کی تکریم کرتے۔ لیکن اگر کبھی وہ قانون شکنی کرتے تو سختی بھی اتنی ہی زیادہ فرماتے۔ ایک روئنگ کے لڑکے سے غلطی ہوئی جو ہمارا کپتان تھا کبڈی کا کپتان بھی تھا۔ نہایت ذہین طالب علم تھا۔ سکالر شپ ہولڈر تھا۔ اسے اور خرچ بھی دیتے تھے اور آپ کے گھر سے کھانا بھی آیا کرتا اور اس کی خوب خوب ناز برداری ہوتی۔ لیکن جب اس نے کالج کے ایک استاد کے ساتھ گستاخی کی تو اسے دو سال کے لئے کالج سے نکال دیا۔ میں نے آپ کو بڑے سے بڑے حادثے پر روتے نہیں دیکھا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ اس لڑکے کے اخراج از کالج کے فارم پر دستخط فرماتے وقت حضور کی آنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں<۔
    طلبہ کے ساتھ حضرت صاحبزادہ صاحب کی محبت و شفقت اور ہمدردی کے بے شمار واقعات ہیں۔ حال ہی میں آپ نے خطبہ جمعہ کے دوران فرمایا۔
    >میں ایک دفعہ اپنے کالج کے دفتر سے گھر کی طرف جارہا تھا۔ راستے میں مجھے ایک طالب علم ملا جس کے متعلق مجھے علم تھا کہ وہ بڑا محنتی اور ہوشیار طالب علم ہے۔ کوئی مہینے ڈیڑھ تک یونیورسٹی کے امتحان ہونے والے تھے۔ میں نے دیکھا کہ اس کا منہ زرد اور منہ پر دھبے پڑے ہوئے ہیں۔ بیمار شکل ہے۔ یہ دیکھ کر مجھے بڑا سخت صدمہ پہنچا کہ میں نے اس کی صحت کا خیال نہیں رکھا۔ ویسے وہ عام کھانا تو کھارہا تھا۔ لیکن ایسے کھانے پر اسلام کا اقتصادی نظام نہیں ٹھہرتا۔ میں نے سوچا کہ میں نے ظلم کیا۔ کشتی رانی کرنے والے طلباء کو تو میں سویابین کا حلوہ دیتا ہوں لیکن جو دن رات محنت کرنے والے طلباء ہیں ان کو میں سویابین کا حلوہ نہیں دیتا۔ میں نے تو بڑی غلطی کی۔ چنانچہ اس کو تو میں نے کہا کہ مجھ سے سویابین لے جاکر استعمال کرنا )لیکن بعد میں میں نے تمام محنتی طلباء کو سویا بین دینے کا انتظام کردیا( پہلے اسے مناسب حال غذا نہیں مل رہی تھی۔ اب جب اسے مناسب حال غذا ملی تو پندرہ دن کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے کے دھبے دور ہوگئے۔ چہرہ پر سرخی آگئی۔ آنکھوں میں زندگی اور توانائی کی علامات نظر آنے لگیں اور وہ امتحان میں بڑی اچھی طرح سے پاس ہوا۔ اچھے نمبر تو وہ ویسے بھی لے لیتا لیکن یہ بھی ہوسکتا تھا کہ ساری عمر کے لئے وہ بیمار پڑجاتا۔ کئی ایسے عوارض اسے لاحق ہوجاتے جن سے چھٹکارا پانا اس کے لئے ناممکن ہو جاتا<۔
    طلبہ کی حوصلہ افزائی اور روح مسابقت میں اضافہ کے لئے جدوجہد
    حضرت صاحبزادہ صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کالج کی سربراہی کے زمانہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کس طرح ان میں روح عمل اور
    روح مسابقت کو بیدار کرنے بلکہ بڑھانے میں سرگرم عمل رہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے بطور نمونہ ایک واقعہ درج کیا جاتا ہے۔
    شروع ماہ تبلیغ/ فروری ۱۹۵۷ء/ ۱۳۳۶ہش کا واقعہ ہے کہ لاہور میں کشتی رانی کے مقابلے جاری تھے جس میں حسب سابق تعلیم الاسلام کالج کی ٹیم بھی اپنی روایتی شان کے ساتھ حصہ لے رہی تھی۔ ۵۔ تبلیغ/ فروری کو کالج کی کشتی رانی کی ٹیم کے کیپٹن ناصر احمد صاحب ظفر۲۱۹ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مغربی پاکستان اوپن روئینگ چیمپئن شپ کے ارکان نے لاہور کے مقامی کالجوں کے لڑکے ہمارے مقابلہ جات کے لئے بطور منصف مقرر کر دیئے ہیں جس سے صورت حال بالکل ہمارے خلاف ہوگئی ہے۔ اس پر حضرت صاحبزادہ نے اپنے قلم مبارک سے انہیں حسب ذیل پیغام تعلیم الاسلام کالج کی ٹیم کے نام لکھ دیا اور ارشاد فرمایا کہ آپ ٹیم کے سامنے یہ پڑھ کر سنادیں۔
    عکس کیلئے

    ~۹~بسم اللہ الرحمن الرحیم
    تعلیم الاسلام کالج کے باغیرت نوجوانو!
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ`
    مجھے بتایا گیا ہے کہ سکول بورڈ کے منتظمین نے کل کے مقابلہ میں لاہور کالجز کے طلبہ کو بطور ججز مقرر کیا تھا اور ان کا فیصلہ خلاف عقل و انصاف تھا۔ اگر یہ صحیح ہے تو۔
    پہلے آپ کا مقابلہ برادرانہ مقابلہ تھا۔ دوسرے کالجز کے طلبہ ہمارے لئے ایسے ہی ہیں جیسا کہ اپنے طلبہ اور وہ آپ کے بھی بھائی ہیں۔ ان کے خلاف کوئی غصہ نہیں ہونا چاہئے۔ مقابلہ میں ہار جیت ہوتی ہی ہے اور یہ مقابلے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ہم عزت کے ساتھ جیتنا اور وقار کے ساتھ ہارنا سیکھیں اور آپ لوگ اس سبق کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
    مگر اب آپ کا مقابلہ اپنے بھائیوں کے ساتھ نہیں رہا۔ اب آپ کا مقابلہ بے انصافی اور بے ایمانی کے ساتھ ہے اور غیرت کا تقاضا ہے کہ آپ بے ایمانی اور بے انصافی کو شکست دیں۔ پس آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنی قوت اور جوش کا آخری ماشہ خرچ کرکے دوسری ٹیموں کو بمپ کرتے ہوئے پھر اول آئیں اور دنیا پر ثابت کریں کہ بے انصافی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس کے بغیر آپ کی غیرت کا مظاہرہ نہیں ہوگا۔ دل چھوڑنے کا` ہمت ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر بے انصافی روز آپ کو سب سے آخر میں رکھے تو آپ کی غیرت کو چاہئے کہ وہ روز آپ کو پہلی پوزیشن میں لے جائے اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا کردکھائیں گے۔
    آج میرا پہنچنا ممکن نہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ آخری دو دن آپ کے ساتھ رہوں۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے۔
    ویسے میں آج فون کررہا ہوں شاید کسی ذمہ دار افسر کی انسانیت بیدار ہوسکے۔ آمین۔
    فقط
    ناصر احمد
    پرنسپل
    ۵۷۔ ۲۔ ۵
    ناصر احمد صاحب ظفر یہ پیغام لے کر لاہور پہنچے اور جودھامل بلڈنگ میں جہاں کالج کی ٹیم مقیم تھی۔ سب طلبہ کو اکٹھا کرکے یہ پیغام انہیں سنایا۔ اس ولولہ انگیز پیغام نے طلبہ کے اندر بے انصافی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا ایک زبردست جوش اور بے پناہ جذبہ پیدا کردیا اور انہوں نے مصمم عہد کرلیا کہ وہ چیمپئن شپ حاصل کئے بغیر نہیں رہیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خدا تعالیٰ کے فضل اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی دعائوں سے کالج کی ٹیم چیمپئن شپ کا اعزاز جیت کر ربوہ پہنچی۔ فالحمدلل¶ہ علیٰ ذالک۔
    طلبہ کو غیر اسلامی اخلاق و اقدار سے بچانے کیلئے ایک جرات مندانہ فیصلہ
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ۔
    >یہ ۴۸۔ ۱۹۴۷ء کی بات ہے جب پہلا C۔T۔O۔U کیمپ ہوا۔ یہ کیمپ والٹن میں ہوا تھا اور پاکستان بننے کے بعد پہلا کیمپ تھا۔ کیمپ کے حالات تسلی بخش نہیں تھے۔ ایک سینئر آفیسر CADETS اور اساتذہ کو جن کو فوجی رینک ملے ہوئے تھے بسا اوقات فحش گالیاں نکالا کرتا تھا۔ جنرل رضا ان دنوں ایڈجوٹنٹ جنرل تھے ان کے آنے تک تو بات بنی رہی لیکن جب کیمپ کا خاتمہ قریب آیا اور کمانڈر انچیف صاحب کے آنے کا دن قریب آیا تو طلبہ بے قابو ہوگئے اور فیصلہ کرلیا کہ سٹرائیک کریں گے اور تقسیم انعامات کے وقت اور کمانڈر انچیف صاحب کی آمد کے وقت خیموں میں بیٹھے رہیں گے۔ نہ صفائی کریں گے اور نہ ہی وردیاں پہنیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ہمارے لئے تسلی بخش نہ تھی۔ یہ عاجز اپنے دستے کا کمانڈر تھا اور مکرم چوہدری فضل داد صاحب نائب کمانڈر تھے۔ ہم نے حضرت پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج کی خدمت میں خاص آدمی بھجوایا کہ یہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے ہماری مدد کی جائے لیکن وہ پیغام رساں کیمپ سے باہر نکلتے وقت گرفتار ہوگیا اور کوارٹر گارڈ میں بھیج دیا گیا۔ اس کا ہمیں اس وقت علم نہ ہوا۔ اور ہم آپ کی طرف سے کسی پیغام کے انتظار میں رہے۔ جب رات ہوگئی اور کوئی جواب نہ آیا تو پہلے ہم نے کالجوں کے اساتذہ سے رابطہ قائم کیا خصوصاً محترم راجہ ایس۔ ڈی احمد صاحب )سابق پرنسپل وٹرنری کالج اور ڈائریکٹر اینیمل ہبنڈری` کرنل اسلم )جو ہماری بٹالین کے کمانڈر تھے( برادر مکرم رفیق عنایت مرزا )جو اب سینئر سی ایس پی آفیسر ہیں( سے اور ان پر یہ بات واضح کی کہ ہم سٹرائیک میں شامل نہیں ہوں گے۔ اگر سٹرائیک ختم نہ ہوئی تو تعلیم الاسلام کالج کی پلاٹون اکیلی ڈیوٹی پر جائے گی کیونکہ ہم سٹرائیک کو شرعاً ناجائز سمجھتے ہیں۔ اور ان سے اپیل کی کہ پاکستان کا پہلا کیمپ ہے وہ خود بھی سٹرائیک ختم کروانے کے خواہشمند تھے۔ بہرحال بعض دوستوں کو ساتھ لے کر ہم رات کے وقت خیمے خیمے میں پھرے۔ لڑکے گانے گارہے تھے۔ قوالیاں ہورہی تھیں اور نعرے لگ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا۔ ہماری اپیل پر لڑکے آمادہ ہوگئے کہ اگلے روز سٹرائیک نہ کریں اور پاکستان کے نام پر ایسی غیرت دکھائی کہ رات کا باقی وقت جاگ کر تیاری میں گزرا اور صفائی اور خیموں کی تزئین میں لگ گئے۔ چنانچہ اگلی صبح کمانڈر انچیف صاحب آئے۔ میدان جنگ کا نقشہ پیش ہوا۔ کمپنیوں میں باہمی لڑائی کی مہارت کے تمام انداز دکھائے۔ اس موقع پر ہمارے کچھ طلباء جو محاذ کشمیر پر فرقان بٹالین میں رہ چکے تھے وہ کمانڈر انچیف صاحب نے پہچان لئے۔ ان کی دلچسپی بڑھی تو پوچھا کہ سارے کیمپ میں کتنے ایسے مجاہدین ہیں۔ صرف ہمارے ہی کالج کے طلباء نکلے۔ تقسیم انعامات کے لئے پنڈال الگ قائم ہوچکا تھا اور مہمانوں کی آمد آمد تھی۔ وزراء` جج` وائس چانسلر صاحب` سیکرٹری` جرنیل اور بریگیڈیر پنڈال کے پاس ایک ہی جگہ کمانڈر انچیف صاحب کے استقبال کے لئے اکٹھے کھڑے تھے۔ طلباء پنڈال میں تھے۔ اساتذہ بھی تھے کہ اسی آفیسر نے پھر کوئی نازیبا الفاظ کہے جس پر پنڈال میں موجود طلباء میں پھر کھچائو پیدا ہوگیا۔ اس اثناء میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( کی کار بھی آتی دکھائی دی۔ یہ عاجز آگے بڑھ کر استقبال کے لئے گیا اور آپ کو وہیں روک کر سارے کوائف بتائے۔ آپ تشریف لائے تو وہ آفیسر بھی استقبال کے لئے آگے بڑھے۔ آپ نے سرسری انداز میں پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔ فرمایا جس کا مفہوم یہ تھا کہ خیر گزری۔ اس پر اس آفیسر نے اسی انداز میں کہا کہ مجھے ان کی کیا پروا ہے۔ یہ فقرہ کافی بلند آواز سے انہوں نے کہا۔ سول اور ملٹری آفیسر سب کچھ سن رہے تھے۔ آپ خاموش رہے۔ انہوں نے دوبارہ یہی فقرہ دوہرایا۔ جب سہ بارہ اسی قسم کا فقرہ کہا تو آپ نے بڑے جلال سے بلند آواز میں فرمایا کہ آپ کو پروا نہیں لیکن ہمیں ان کی بڑی پروا ہے۔ یہ قوم کے بچے ہیں۔ ہم ان کو اس قسم کے اخلاق کی تربیت کے لئے یہاں نہیں بھیجتے اور مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ ابھی ساری پلٹنوں کو واپس بلوا لو اور آئندہ سے کوئی سروکار نہ رکھو۔ اس پر کچھ سینئر آفیسرز اس افسر کو ایک طرف لے گئے اور اگلے ہی لمحے میں اس نے بڑی لجاجت سے معافی مانگی اور شرمندگی کا اظہار کیا۔ جب آپ نے یہ فقرات کہے تو مجھے یاد ہے کہ میرے ایک غیر از جماعت ساتھی نے فرط جذبات میں خوشی سے دیوانہ ہوکر میرا ہاتھ پکڑا اور اتنا زور سے دبایا کہ کئی دن تک میرا ہاتھ درد کرتا رہا۔ پھر حضرت میاں صاحب تقریب کے اختتام پر تشریف لے گئے اور محکمہ تعلیم کے ایک بڑے افسر نے کہا کہ میاں صاحب نے سب کی عزت رکھ لی۔
    اس عجیب واقعہ کا آخری حصہ یہ ہے جس سے ہمارا کوئی تعلق نہ تھا لیکن ہوا اور وہ یہ کہ کیمپ کے خاتمہ کے بعد جب بھی کوئی ٹرک روانہ ہوتا تو اس میں بیٹھنے والے >مرزا ناصر احمد زندہ باد< اور >پرنسپل ٹی۔ آئی کالج زندہ باد< کے نعرے ضرور لگاتے۔ یہ فلک شگاف نعرے ہمارے روکنے کے باوجود نہ رک سکے اور اسی انداز سے یہ کیمپ ختم ہوا<۔
    ‏vat,10.8
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    طلبہ سے مساوی حیثیت میں محبت بھرا سلوک
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے مزید لکھتے ہیں۔
    >ایک طالب علم جو جماعت اسلامی کی انتظامیہ کا رکن تھا اور اس لئے آیا تھا کہ غیراز جماعت طلباء کو جماعت کے خلاف منظم کرے۔ کالج میں داخلے کے لئے آیا۔ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ اس کام کے لئے آئے ہیں تو آپ یہ ضرور کام کریں۔ میں آپ کو داخل بھی کرلیتا ہوں اور فیس کی رعایت بھی دیتا ہوں لیکن آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ آپ یہ کام نہیں کرسکیں گے اور میرے کالج میں پڑھنے والے غیراز جماعت طلباء آپ کے دام میں نہیں آئیں گے۔ یہ طالب علم کافی عرصہ تک پوشیدہ اور علانیہ کوشش کرتا رہا لیکن بری طرح ناکام ہوا اور آپ کی شفقت اور محبت خود اس پر اثر کے بغیر نہ رہ سکی<۔
    >جب کالج ربوہ میں منتقل ہونا شروع ہوا تو لاہورکے لوگوں کو اس سے بہت بے چینی پیدا ہوئی۔ بعض نے اخباروں میں لکھا کہ جو لوگ شریفانہ ماحول میں تھوڑے خرچ سے اچھی تعلیم دلانا چاہتے ہیں ان کے بچے کہاں جائیں۔ زبانی بھی ہمیں کہا گیا کہ کالج نہ لے جائیں۔ ایک دفعہ ایک وفد )جس میں چند ایسے لوگ بھی شامل تھے جو ہمارے خلاف ۱۹۵۳ء کی ایجی ٹیشن میں ماخوذ ہوئے تھے( حضور کے دفتر میں ملنے کے لئے آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایجی ٹیشن میں آپ کے خلاف حصہ لیا تھا لیکن اپنے بچے آپ کے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کالج نہ لے جائیں۔ آپ نے فرمایا۔ اس سے زیادہ تعریف آپ کالج کی نہیں کرسکتے لیکن ہماری اپنی مجبوریاں ایسی ہیں کہ ربوہ کا بہرحال حق ہے اس لئے کالج ضرور جائے گا۔ البتہ آپ کا شکریہ۔ الحمدلل¶ہ کہ کالج ربوہ آگیا<۔
    بے تکلفی اور پاکیزہ مزاح
    چوہدری محمد علی صاحب تحریر کرتے ہیں۔
    >پاکیزہ مزاح بھی ہمارے کالج کا اور خصوصاً ہوسٹل کی تقریبوں کا طرہ امتیاز رہا ہے جن میں خود آپ )ایدہ اللہ تعالیٰ( اور آپ کی ولزلے کار پر محبت اور ادب کے ساتھ تنقید بھی ہوا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ اس عاجز نے ولزلے کے متعلق کچھ کہنے سے منع کردیا تو ارشاد پہنچا کہ اگر ولزلے کا ذکر نہ ہوا تو میں نہیں آئوں گا۔ مختلف سالوں میں اس پر اتنی نظمیں لکھی گئیں کہ فرمایا کہ تمام نظمیں جمع کروائو تاکہ میں >دیوان کار< چھپوا کر حضور مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کروں اور مجھے نئی کار حضور کی طرف سے مل جائے<۔۲۲۰
    درویشانہ زندگی
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے مزید لکھتے ہیں۔
    >مصلح موعودؓ کے فرزند اکبر کی درویشانہ شان تھی اور آپ اسی میں مگن تھے۔ کبھی ٹیپ ٹاپ کی طرف آپ کی طبیعت نہیں گئی۔ ایک دفعہ چند آنے گز کی ایک اچکن سلوائی۔ سبز رنگ تھا اور دھاریدار تھی۔ جب آپ نے زیب تن کی تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ نہایت قیمتی کپڑا ہے۔ کئی مرتبہ میں نے خود دیکھا کہ اچکن کو پیوند لگا ہوا ہے اور بڑی بڑی تقریبوں میں شامل ہوتے ہیں اور حضور کے داخل ہوتے ہیں تمام حاضرین مجلس کی توجہ آپ کی طرف ہو جاتی۔ وقار اور مسکراہٹ اور رعب یہ اللہ تعالیٰ کی دین تھی۔ بارہا یہ عاجز شکار پر آپ کی خدمت میں ساتھ ہوا کرتا۔ کھانے کا وقت آجاتا تو دیہات کی سادہ تنور کی روٹی پسی ہوئی مرچ اور لسی سے اتنا مزہ لے کر تناول فرماتے کہ گویا اس سے لذیذ اور کوئی کھانا نہیں ہوسکتا<۔
    دعائوں کی تلقین
    ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ آپ کالج کے دفتر میں تشریف فرما تھے کہ دفتر کے ایک کارکن نے طالب علموں کے ڈیڑھ سو فارم یونیورسٹی میں بھجوانے کے لئے رکھ دیئے۔ آپ ان فارموں پر دستخط بھی کرتے رہے اور ساتھ ہی درود شریف بھی پڑھتے رہے۔ دو تین منٹ کے بعد آپ کو خیال آیا کہ میں ایک بھائی کو نیکی سے محروم کررہا ہوں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ تمہیں اس وقت کام نہیں۔ تم صرف میرے دستخطوں کے بعد فارم اٹھارہے ہو۔ تم فارم بھی اٹھاتے رہو اور ساتھ ساتھ درود شریف پڑھتے رہو۔ چنانچہ اس کارکن نے بھی درود شریف کا ورد شروع کر دیا۔ اور جب آپ سب فارموں پر دستخط فرماچکے تو اس نے نہایت بشاشت سے عرض کیا کہ میں نے دو تین سو کے درمیان درود شریف پڑھ لیا ہے۔۲۲۱
    کالج میں مختلف علمی مجالس کا قیام اور انکی غرض و غایت
    حضرت صاحبزادہ صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( کی توجہ سے کالج میں طلبہ کی علمی نشوونما کے لئے مندرجہ ذیل مشہور علمی مجالس جاری ہوئیں۔ مجلس عمومی` مجلس ارشاد` بزم اردو` سائنس سوسائٹی` مجلس عربی` مجلس علوم معاشرت` مجلس تاریخ` مجلس حیاتیات` مجلس فلسفہ و نفسیات` ریڈیو اور فوٹو گرافک سوسائٹی۔
    ان اہم مجالس کے قیام کے پیچھے کیا جذبہ کار فرما تھا؟ اس کی تفصیل خود آپ ہی کے الفاظ میں لکھی جاتی ہے۔ فرماتے ہیں۔
    >تحصیل علم کے لئے مندرجہ ذیل چار باتیں ضروری ہیں۔ اول علمی باتوں کا غور سے سننا` دوم علمی باتوں کے سمجھنے اور اپنانے کی کوشش کرنا` سوم ان میں سے جو باتیں بظاہر عقل کے خلاف نظر آئیں ان پر تنقید کرنا اور چہارم ناقابل تسلیم نظریوں کے مقابل اپنے تحقیقی نظریئے پیش کرنا یعنی سننے سمجھنے تنقید اور تحقیق کرنے کے بغیر صحیح علم حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے دو کام کلاس روم میں کئے جاتے ہیں جہاں نظم و ضبط کی پابندی از بس ضروری ہے۔ لیکن اگر ہمارا نصب العین محض یہ ہو کہ سنو اور قبول کرو تو ہماری آئندہ نسل اندھی اور کند ذہن ہوگی۔ مذکورہ نصب العین پر ہمیں یہ اضافہ کرنا پڑے گا کہ پرکھو اور تحقیق کو اور تحقیق و تنقید کے لئے کلاس روم سے باہر بھی علمی مشاغل کا ہونا ضروری ہے اور اسی لئے درسگاہوں میں مختلف علمی مجالس کی قائم کی جاتی ہیں جن میں سے اہم ترین مجلس کالج کی عمومی مجلس ہے جہاں طلبہ اپنی آراء کا آزادانہ اظہار کرتے ہیں<۔۲۲۲
    کھیلوں کی سرپرستی
    چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے تحریر کرتے ہیں۔
    >سپورٹس کی ایسوسی ایشنیں اعلیٰ سطح پر آپ کی خدمت میں پہنچتیں کہ صدارت قبول فرمائیں تاکہ امن کی فضا قائم ہو۔ آپ پنجاب بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کے صدر کئی سال رہے۔ مغربی پاکستان کے بیڈمنٹن کے مقابلے کالج ہال میں ہوا کرتے۔ پھر آپ جیسا کہ ذکر آچکا ہے باسکٹ بال کی سنٹرل زون کے صدر بنے۔ دیگر کھیلوں کو بھی آپ کی سرپرستی حاصل رہی فٹ بال` کرکٹ` ٹینس` ٹیبل ٹینس تو آپ خود نہایت عمدہ کھیلتے تھے اور اساتذہ اور طلباء کے میچوں میں خصوصاً ہوسٹل ٹیبل ٹینس کے میچوں میں حصہ لیتے رہے۔ روئنگ اور باسکٹ بال کو آپ نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ ہائیکنگ میں آپ بے حد دلچسپی لیتے رہے۔ پنجاب مائونٹیرنگ کلب اور یونیورسٹی کی مائونٹیرنگ کلب جس کے صدر مرحوم ڈاکٹر بشیر وائس چانسلر تھے پارٹیشن کے بعد دونو کے دستور بنانے میں آپ کے خاص مشورے شامل تھے اور عملاً آپ ان کے فائونڈر ممبر ہیں۔ لیکن دونوں کلبوں سے کوئی براہ راست رابطہ قائم نہ رہ سکا۔ البتہ آپ ہائیکنگ اور مائونیٹرنگ اور یوتھ ہاسٹلنگ کی ہر آن حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ مرحوم چوہدری لطیف جو پاکستان کے ممتاز ہائیکر تھے آپ کے بے حد معتقد تھے۔
    صحت جسمانی کے لئے مختلف اہم شعبے
    قومی اور ملی فرائض کی بجاآوری بلکہ پوری زندگی کو صحیح طریق پر گزارنے کے لئے صحت جسمانی کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے طلبہ کی تربیت کے دوران اس سنہری اصول کو نہ صرف مدنظر رکھا بلکہ اسے ہمیشہ ہی خاص الخاص اہمیت دی۔ چنانچہ آپ نے ۵۱۔۱۹۵۰ء/ ۳۰۔ ۱۳۲۹ہش کی سالانہ رپورٹ میں اپنا مخصوص اور بلند نقطہ نگاہ مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمایا۔
    >ایک نوزائیدہ مملکت اگر ترقی کی دوڑ میں ترقی یافتہ ممالک سے بازی لینا چاہتی ہے تو اس کے افراد پر سعی پیہم اور مستقل جدوجہد کی بھاری ذمہ داری پڑتی ہے اور لگاتار محنت کرتے چلے جانا جذبہ ملی اور مضبوط و توانا جسموں کے بغیر ممکن نہیں۔ تمام بیدار ممالک اپنی قوم کی صحت کی طرف خاص توجہ دیتے ہیں اور عام اندازہ کے مطابق ان ممالک کا جتنا روپیہ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے اسی کے لگ بھگ رقم وہ ورزشوں وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر ہم نے بھی دنیا میں ترقی کرنی ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں۔ بوجہ غربت ہم ان کے لئے پوری خوارک مہیا نہیں کرسکتے۔ لیکن غربت کے باوجود بھی صحیح ورزش انہیں کرواسکتے ہیں۔ یہ مہاجر ادارہ طلباء کے اس شعبہ زندگی کی طرف بھی خاص توجہ دیتا رہا ہے۔ بہت سے غریب بچوں کو مفت دودھ دیا جارہا ہے اور عام طور پر یہ کوشش رہی ہے کہ تمام طلبہ ورزش کے ذریعہ سے اپنے جسموں کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے رہیں<۔۲۲۳
    حضرت میرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( نے اس عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے کالج میں عسکری تربیت کا خاص اہتمام کرنے کے علاوہ مجلس سیاحت کا قیام فرمایا اور نیز والی بال` بیڈمنٹن` کبڈی` فٹ بال وغیرہ مختلف کھیلوں کو خاص طور پر رواج دیا اور کشتی رانی اور باسکٹ بال کو اوج کمال تک پہنچانے میں اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کردیں۔
    طلباء کو زریں نصائح
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( طلباء کی اخلاقی` روحانی اور علمی رہنمائی کے لئے ہر دم کوشاں رہتے اور وعظ و نصیحت کے ہر اہم موقعہ سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ آپ فارغ التحصیل طلبہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات کی روشنی میں خاص طور پر قابل قدر نصائح سے نوازتے اور یہ آپ کا نہایت مرغوب دستور اور معمول رہا۔ مثلاً۔
    ۱۔ ۱۹۵۹ء/ ۱۳۳۸ہش کی سالانہ تقریب اسناد پر کالج کی سالانہ رپورٹ سنانے کے بعد فرمایا۔
    >بالاخر میں بی۔ اے اور بی۔ ایس۔ سی کے امتحانات میں کامیاب رہنے اور انعامات حاصل کرنے والے طلباء سے کہوں گا کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کو حاصل کرنا ہے۔ تمہیں تمہاری کامیابیاں مبارک ہوں مگر یہ کامیابیاں محض ابتدائی نوعیت کی ہیں۔ ان کامیابیوں کو اصل مقصد کے حصول کا ایک وسیلہ سمجھو۔ ان کی وجہ سے اصل مقصد کو کبھی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دو۔ خدا تعالیٰ کی >توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کو۔ اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی اور تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو<۔۲۲۴body] gat[
    ۲۔ ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش کی تقریب اسناد پر فرمایا۔
    >تمہیں تمہاری کامیابیاں مبارک ہوں مگر یہ کبھی نہ بھولنا کہ تمہاری یہ کامیابیاں جہاں زندگی کی ایک منزل کی انتہاء ہیں وہاں دوسری منزل کی ابتداء بھی ہیں جہاں تم نے اپنے عمل کے جوہر دکھانے ہیں۔ جہاں تم نے انسانی اقدار کو قائم کرنا اور بااخلاق انسان کی صفات کا مظاہرہ کرنا ہے اور جہاں تم نے )اگر خدا تمہیں توفیق دے( باخدا اور خدا نما انسان کے روپ میں دنیا میں جلوہ گر ہونا ہے ایسے مبارک وجود آج استثناء کا حکم رکھتے ہیں۔ مگر حسن سیرت کے ہر خوبصورت پہلو کو عام کرکے اس استثناء کو قاعدہ کلیہ کی شکل میں ڈھالنا۔ تمہارا )جو تعلیم الاسلام کالج کی پیداوار ہو( فرض ہے اور اس فرض سے تم سبکدوش ہو نہیں سکتے جب تک کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل نہ بنائو<۔۲۲۵ )آگے >کشتی نوح< کا اقتباس درج ہے(
    ۳۔ ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش کی سالانہ تقریب اسناد پر یہ بیش قیمت نصائح فرمائیں۔
    >آپ درسگاہ کی تعلیم سے فارغ ہورہے ہیں مگر تعلیم سے فارغ نہیں ہورہے۔ علم ایک بحربے کنار ہے۔ اس لئے ایک انسان علم میں خواہ کس قدر ترقی کرجائے علم ختم نہیں ہوتا۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ قل لو کان البحر مدادا لکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ولو جئنا بمثلہ مددا کہہ دے کہ اگر سمندر کو سیاہی بناکر اسے خدا تعالیٰ کی معرفت کی باتیں` اس کے دیئے ہوئے علوم اور قدرت کے راز ضبط تحریر میں لانا چاہو تو وہ ایک سمندر کیا اس جیسا ایک اور سمندر بھی لے آئو تو وہ بھی ختم ہو جائے گا مگر خدا کی باتیں اور اس کے دیئے ہوئے علوم ختم نہ ہوں گے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول اکرم~صل۱~ سے اور حضور کی اتباع میں ہر مسلمان کی زبان سے یہ کہلوایا کہ رب زدنی علما۔ اے اللہ مجھے اپنی معرفت اور علم میں بڑھاتا چلا جا۔ پس علم کبھی نہ ختم ہونے والی چیز ہے۔ اس لئے آپ تادم حیات علم کی جستجو میں رہیں اور اس کے حصول کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہو<۔۲۲۶
    ۴۔ ماہ امان/ مارچ ۱۹۶۵ء/ ۱۳۳۴ہش کی سالانہ تقریب کے موقعہ پر کامیاب طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
    >حقیقی علم کا ابدی سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ سنی سنائی باتوں یا درسی کتب سے آپ نے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے گھڑے یا مشکیزے کا پانی جو اپنے سرچشمہ سے دور ہوجانے کی وجہ سے مرور زمانہ کے ساتھ متعفن` بدبودار اور مضر صحت ہو جاتا ہے۔ اگر آپ علم سے محبت رکھتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ کا تعلق علم کے حقیقی سرچشمہ سے ہمیشہ مضبوط رہے۔ پس اپنی عقل اور علم پر تکیہ نہ کرو بلکہ ہمیشہ علام حقیقی کے آستانہ پر عاجزی اور انکساری کے ساتھ جھکے رہو تا اس تعلق کے طفیل تمہارے دلوں سے بھی ہمیشہ مصفیٰ` میٹھے اور لذیذ علم کے چشمے پھوٹتے رہیں۔ اگر تمہارا یہ تعلق اپنے رب سے جو خالق کل اور عالم کل ہے پختہ اور مضبوط رہا تو علم و حکمت کا ایسا خزانہ تمہیں ملے گا جو دنیا کی تمام دولتوں سے اشرف ہے۔ دنیا کی دولت فانی ہے لیکن علم و حکمت کا جو خزانہ تمہیں ملے گا اس پر فنا نہیں آئے گی۔ پس دعا اور عاجزی کے ساتھ اپنے محسن` اپنے رب سے بصیرت اور معرفت طلب کرتے رہو۔
    یہ بھی نہ بھولنا کہ انسان علم اس لئے حاصل کرتا ہے کہ خود اس سے فائدہ اٹھائے اور دوسروں کی خدمت کرے۔ حقیقی علم کے حصول کے بعد انسان ہزار برائیوں سے بچتا اور بے شمار نیکیوں کی توفیق پاتا ہے۔ اور بڑا ہی بدبخت ہے وہ جسے معرفت تو عطا ہوئی` جس نے علم تو حاصل کیا مگر اس کے باوجود وہ غفلت اور گمراہی میں ہی پڑا رہا۔ نہ خود فائدہ اٹھایا نہ دوسروں کی خدمت کرسکا۔ پس ہمیشہ عالم باعمل بننے کی کوشش کرو۔ خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور اپنے سایہ رحمت میں ہمیشہ تمہیں رکھے<۔۲۲۷
    تعلیم الاسلام کالج سے متعلق دوسروں کے تاثرات
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( کی براہ راست قیادت کے زمانہ میں کالج کا نظام تعلیم و تربیت کس درجہ کامیاب رہا اس کا کسی قدر اندازہ ان تاثرات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے جن کا اظہار غیراز جماعت حلقوں سے تعلق رکھنے والے مشہور اہل علم اور سربرآوردہ اصحاب نے کیا۔
    ۱۔
    میاں افضل حسین صاحب )وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی(
    >میرے لئے یہ امر باعث مسرت ہے کہ تعلیم الاسلام کالج ہر اعتبار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے<۔۲۲۸
    ۲۔
    پروفیسر سراج الدین صاحب )سیکرٹری محکمہ تعلیم مغربی پاکستان(
    >خالصت¶ہ ذاتی عزم و کوشش کے نتیجہ میں ربوہ میں تعلیم الاسلام کالج جیسی درسگاہ کو قائم کردکھانا اور پھر اسے پروان چڑھا کر اس کے موجودہ معیار پر لانا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ تعلیم الاسلام کالج کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اسے ایک ایسے پرنسپل کی رانمائی حاصل ہے جو ایمان و یقین` خلوص و فدائیت اور بلند کرداری کے اعلیٰ اوصاف سے مالا مال ہے۔ آج ہم کو ایسے ہی باہمت` بلند حوصلہ اور اہل انسانوں کی ضرورت ہے۔ ہر چند مجھے پہلی بار تعلیم الاسلام کالج کی حدود میں قدم رکھنے کا اتفاق ہوا ہے تاہم میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے دل میں اور ان تمام لوگوں کے دلوں میں جو اس صوبے میں تعلیم سے کسی نہ کسی طرح متعلق ہیں محبت کا ایک خاص مقام ہے۔
    اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم الاسلام کالج دو نمایاں اور ممتاز شخصیتوں والد اور فرزند کی محنت ` محبت اور شفقت کا ثمرہ ہے۔ میری مراد آپ کی جماعت کے واجب الاحترام امام جو اس کالج کے بانی ہیں اور ان کے لائق و فائق فرزند مرزا ناصر احمد سے ہے۔ وہ اپنے مشہور و معروف خاندان کی قائم کردہ روایات کو وقف کی روح اور ایک ایسے جذبہ و جوش کے ساتھ چلا رہے ہیں جو دوسرے ممالک میں بھی شاذ ہی نظر آتا ہے۔ جب میں اس کالج پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے انگلستان اور امریکہ میں علم کی ترویج اور اس کے فروغ کے متعلق انسانوں کے وہ عظیم محسن یاد آئے۔ بغیر نہیں رہتے جنہوں نے خدمت کی نیت سے آکسفورڈ` کیمرج اور ہارووڈ میں کالج قائم کئے۔ خالصت¶ہ ذاتی عزم و ہمت کے بل بوتے پر ربوہ میں ایک ایسی درسگاہ قائم کردکھانا ایک عظیم کارنامہ ہے اور پھر اس کی آبیاری کرنا اور پروان چڑھا کر اسے حسن و خوبی اور مضبوطی و استحکام سے مالا مال کر دکھانا اور بھی زیادہ قابل ستائش ہے۔ ایک ایسے پرائیویٹ ادارے کو دیکھ کر جو باہمی مخاصمت اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں سے پاک ہو اور جس کی تمام تر کوششیں اعلیٰ تر مقاصد کے حصول کے لئے وقف ہوں` استعجاب اور رشک کے جذبات کا ابھرنا ایک قدرتی امر ہے۔
    آپ کے امام جماعت کو علم اور اس کی ترویج سے جو محبت ہے آپ کے پرنسپل صاحب اور ممبران سٹاف ایسے ماہرین تعلیم بھی اس میں حصہ دار ہیں۔
    مرزا ناصر احمد صاحب جنہیں اپنے شاگردوں میں شمار کرنا میرے لئے باعث عزت ہے برصغیر ہندو پاک کے نامور فاضل اور ماہر تعلیم ہیں۔ یہ کالج کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ایک ایسے پرنسپل کی راہ نمائی حاصل ہے جو اپنی زندگی میں آج کے دن تک بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ مقررہ نصب العین کے حصول میں کوشاں چلے آرہے ہیں اور زمانے کے اتار چڑھائو ان کے لئے کبھی سد راہ ثابت نہیں ہوسکے۔ ان سے کم اہلیت اور کم عزم و حوصلہ کا انسان ہوتا تو زمانے کے اتار چڑھائو سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ ہمیں ایسے ہی آدمیوں کی ضرورت ہے جو ایمان و یقین` فدائیت اور بلند کرداری کے اوصاف سے متصف ہوں۔
    مرزا ناصر احمد سے تعارف اور ان کی دوستی کے شرف سے مشرف ہونا عزم و ہمت کے ازسرنو بحال ہونے کے علاوہ خود اپنے آپ کو اس مستقبل کے بارے میں جو زمانے کے پریشان کن بادلوں کے پیچھے پوشیدہ ہے ایک پختہ اور غیر متزلزل اتحاد سے بہرہ ور کرنے کے مترادف ہے<۔۲۲۹
    ۳۔
    جناب حماد رضا صاحب کمشنر سرگودھا ڈویژن۔
    >میں مبارک باد دیتا ہوں اس کالج کے بانیوں کو کہ انہوں نے اس ادارہ کو قائم کیا اور پھر اسے ترقی دے کر اس حد تک لائے اور اب اسے اور ترقی دینے کے خواہاں ہیں۔ مجھے پرنسپل صاحب سے پتہ چلا ہے کہ ہر سال ہی کالج کے نتائج یونیورسٹی اور بورڈ کی شرح فیصد سے زیادہ رہتے ہیں۔ یہ امر واقعی باعث مسرت ہے۔ میں پرنسپل صاحب اور ان کے سٹاف کی خدمت میں دلی مبارکباد عرض کرتا ہوں کہ وہ ایک ایسے ادارہ کی سربراہی کا فرض ادا کررہے ہیں جس پر وہ فخر کرسکتے ہیں<۔۲۳۰
    ۴۔
    سابق سیکرٹری محکمہ تعلیم جناب انور عادل صاحب سی۔ ایس۔ پی سیکرٹری صوبائی وزارت داخلہ۔
    >بلاشبہ آپ کا یہ تعلیمی ادارہ اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہے کہ اسے وہ ماحول میسر ہے جسے ہم صحیح معنوں میں تعلیمی ماحول کہتے ہیں۔ یہاں دھیان بٹانے اور توجہ ہٹانے والی بے مقصد قسم کی غیر علمی مصروفیات ناپید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خالص تعلیمی ماحول میں حصول تعلیم اور کردار سازی کے نقطہ نگاہ سے آپ کو یہاں ایک بھرپور زندگی بسر کرنے کا زریں موقع حاصل ہے اور آپ لوگ سیرت و کردار کے یکساں سانچوں میں ڈھلتے ہوئے نظر آتے ہیں<۔۲۳۱
    ۵۔
    جسٹس سجاد احمد جان جج عدالت عالیہ مغربی پاکستان لاہور۔
    >اس ادارہ میں تربیت کی کشتی کے چپو بڑے ہی پختہ کار ہاتھوں میں ہیں جو جانتے ہیں کہ ماحول کے ساتھ مناسبت پیدا کرکے بالاخر ماحول پر کس قدر غلبہ پایا جاسکتا ہے۔ یہ بجائے خود بہت بڑی خوبی پر دلالت کرتا ہے<۔۲۳۲
    ۶۔
    جسٹس انوار الحق صاحب جج ہائیکورٹ مغربی پاکستان لاہور۔
    >آج آپ کے ادارہ میں آکر میری اپنی طالب علمی کا دور میری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ آکسفورڈ جیسی فضا دیکھ کر میرے دل میں پرانی یادیں تازہ ہوگئی ہیں اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو مثالی تعلیمی اور تربیتی ماحول میسر ہے جہاں دوسری جگہوں کی مضرت انگیز مصروفیات ناپید ہیں<۔۲۳۳
    ۷۔
    پروفیسر حمید احمد خاں صاحب وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی۔
    >یہ کالج دوسری غیر سرکاری درسگاہوں کی طرح ہمارے قومی نظام تعلیم میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ مجھے اس میں قطعاً شبہ نہیں کہ قومی جماعتوں اور انجمنوں کی قائم کی ہوئی درسگاہیں اپنی خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود ہماری اجتماعی زندگی میں ایک بنیادی ضرورت کو پورا کررہی ہیں اور ان کے نہ ہونے سے ہماری زندگی میں ایک خلا ہوگا<۔۲۳۴
    ۸۔
    ‏]dni [tag مولانا صلاح الدین احمد ایڈیٹر >ادبی دنیا<
    >آپ کی ۔۔۔۔۔۔ خوش بختی یہ ہے کہ آپ نے جس ادارے میں تعلیم و تربیت پائی ہے وہ دنیا میں دین کے امتزاج کا ایک نہایت متوازن تصور پیش کرتا ہے نہ صرف پیش کرتا بلکہ اسے عمل مسلسل میں ملبوس بھی کرتا چلا جاتا ہے۔ خدا وہ دن جلد لائے جب ہم اس کالج کو ایک معیاری` مکمل اور منفرد کلیہ کی حیثیت و صورت میں دیکھ سکیں اور کوئی وجہ نہیں کہ جہاں کام کو کام بلکہ ایک مشن تصور کیا جاتا ہے` جہاں طلباء کو فقط پڑھایا نہیں جاتا بلکہ ان کے مزاجوں میں ایک کوہ شکن سنجیدگی اور کردار میں ایک شریفانہ صلاحیت پیدا کی جاتی ہے اور جہاں اساتذہ کی قربانیاں اور جانفشانیاں اپنے پیچھے ایک کہکشان نور چھوڑتی چلی جاتی ہیں وہاں اہل خیر کی تمنائیں کیوں نہ فروغ پائیں گی اور اہل قلم کے عزائم کیوں نہ پورے ہوں گے<۔۲۳۵
    ۹۔
    ڈاکٹر ظفر علی ہاشمی وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی لائل پور
    >تعلیم الاسلام کالج ملک کا وہ ممتاز ترین ادارہ ہے جہاں کے طلباء کا اوڑھنا بچھونا علم ہے اور وہ علم کے حصول کو بھی ایک عبادت تصور کرتے ہیں<۔
    >آپ لوگ اپنی قومی زبان کی جو خدمت کررہے ہیں وہ ہر لحاظ سے قابل تحسین اور قابل ستائش ہے<۔۲۳۶
    ۱۰۔
    مولانا عبدالمجید صاحب سالک مدیر >انقلاب< لاہور
    >تعلیم الاسلام کالج احمدی جماعت اور پرنسپل میاں ناصر احمد کی مخلصانہ مساعی اور شبانہ روز محنت کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ اس کالج کے کارکن جماعت کے تعمیری و تعلیمی تصورات کی تکمیل میں ہمہ تن مصروف ہیں اور میرے نزدیک اس درسگاہ کی سب سے بڑی خصوصیت اور برکت یہ ہے کہ ربوہ کی فضاء آج کل کی شہری آلودگیوں سے قطعی طور پر محفوظ ہے اور وہ ترغیبات بالکل مفقود ہیں جو تربیت اخلاقی میں حائل ہوکر تعلیم کے بلند تصورات کو برباد کردیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس درسگاہ کو پاکستانیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید و بابرکت بنائے اور اس کے کار پردازوں کو بیش از بیش سعی و جدوجہد کی توفیق عطا فرمائے۔
    ربوہ ۱۱۔ فروری ۱۹۵۶ء عبدالمجید سالک<
    ۱۱۔
    جناب عبدالحمید صاحب دستی وزیر تعلیم مغربی پاکستان
    >تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی اسلامی روایات قابل تقلید و ستائش ہیں۔ پرنسپل میاں ناصر احمد کی مساعی ادارے کی ہر نوع میں تعمیر کے متعلق مبارکباد کی مستحق ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادارے کے معائنہ سے مجھے بہت اطمینان اور راحت نصیب ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس درسگاہ کو برکت عطا فرمائے۔
    عبدالحمید دستی ۱۷۔ مارچ ۱۹۵۷ء<
    ۱۲۔
    صوفی غلام مصطفیٰ صاحب تبسم مدیر >لیل و نہار و پروفیسر فلاسفی گورنمنٹ کالج لاہور
    >تعلیم الاسلام کالج اور متعلقہ اداروں کو دیکھ کر ہمیں روحانی مسرت حاصل ہوتی ہے۔ چند سالوں میں یہاں جس تیز رفتاری اور خوش اسلوبی سے ترقی ہوئی ہے وہ کارکنوں کے خلوص` بلند ہمتی اور استقلال کا نتیجہ ہے۔ توقع ہے کہ یہ جگہ تھوڑے ہی عرصے میں ہمارے ملک کی ایک معیاری اور قابل رشک جگہ ہوگی<۔
    پہلا باب )فصل ہفتم(
    کالج کے اکیس سالہ دور میں دعائوں کی برکت سے آسمانی نصرتوں کے روح پرور نظارے!
    حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب مئی/ ہجرت ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش سے لے کر ۷۔ نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش تک کالج کے سربراہ رہے۔ ازاں بعد خدائے عزوجل کی طرف سے آپ کو دنیا بھر کی تعلیم و تربیت اور راہ نمائی کے لئے منصب خلافت پر سرفراز فرما دیا گیا۔ آپ کے اکیس سالہ تعمیری و اصلاحی دور قیادت میں اس درسگاہ نے انتہائی ناموافق اور پرخطر حالات اور بے حد مشکلات کے باوجود جو فقید المثال ترقی کی وہ بلاشبہ آنحضرت~صل۱~ کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کے بیت الدعا والی دعائوں کی قبولیت کا زبردست نشان ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ مگر ان دعائوں کی تاثیرات کو کھینچ لانے میں سیدنا المصلح الموعودؓ کی راہنمائی` روحانی توجہ اور قوت قدسیہ کے ساتھ ساتھ حضرت صاحبزاد صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( کی ان درد و سوز میں ڈوبی ہوئی دعائوں کا بھی یقیناً بھاری دخل ہے جو آپ ہمیشہ اس درسگاہ کے لئے کرتے رہے اور جن کے نتیجہ میں قدم قدم پر خدائی نصرتوں اور برکتوں کا ظہور ہوا۔ اور جن کا ایمان افروز مختصر سا تذکرہ حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی زبان مبارک سے اس آخری فصل میں کیا جاتا ہے۔
    حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۵۔ نبوت/ نومبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش کو اساتذہ و طلبہ تعلیم الاسلام کالج کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    >میں اس درسگاہ سے قبل مختلف دوروں سے گزرا ہوں۔ طالب علمی کے زمانہ میں پہلے میں نے قرآن کریم حفظ کیا۔ پھر دینی اور عربی تعلیم حاصل کی اور پھر دینوی تعلیم کے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ گورنمنٹ کالج میں پڑھا۔ پھر انگلستان گیا اور آکسفورڈ میں بھی پڑھا۔ جب میرا تعلیمی زمانہ ختم ہوا اور میں انگلستان سے واپس آیا تو حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانیؓ نے مجھے جامعہ احمدیہ میں بطور استاد لگا دیا۔ اس وقت مجھے عربی تعلیم چھوڑے قریباً دس سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس لئے میرے دماغ نے کچھ عجیب سی کیفیت محسوس کی۔ کیونکہ وہ علوم جو میرے دماغ میں اب تازہ نہیں رہے تھے وہی علوم مجھے پڑھانے پر اب مقرر کردیا گیا اور میں نے دل میں کہا کہ اللہ خیر کرے اور مجھے توفیق دے کہ میں اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر نباہ سکوں۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد مجھے جامعہ احمدیہ کا پرنسپل بنا دیا گیا۔ اس وقت مجھے اللہ تعالیٰ کے پیار اور حسن کا عجیب تجربہ ہوا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ میری کلاس جب پہلی دفعہ یونیورسٹی میں گئی تو جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سارے کے سارے طلبہ پاس ہوگئے۔ اس وقت مجھے اپنے رب کی قدرتوں کا مزید یقین ہوا اور میں نے سمجھا کہ علوم کا سیکھنا اور سکھانا بڑی حد تک اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور کمزور انسان ہونے کی حیثیت سے ہماری کوششوں میں جو کمی رہ جاتی ہے اس کی کمی کو ہم اپنی دعائوں سے پورا کرسکتے ہیں۔ یہ تجربہ ۴۱۔ ۴۰ء سے اب تک مجھے رہا ہے۔
    آپ جانتے ہیں کہ اس کالج میں بھی سب سے کم لیکچر دینے والا میں ہی تھا۔ اگر دوسرے اساتذہ سو سو لیکچر دیتے تو میں چالیس پچاس سے زیادہ لیکچر نہ دے سکتا تھا۔ شاید کچھ اپنی غفلت کی وجہ سے اور کچھ اپنی دیگر ذمہ داریوں کی وجہ سے۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کے حضور دعائیں کرنے کی وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل رہا ہے کہ جو پرچہ میں پڑھاتا رہا ہوں )اکنامکس اور پولٹیکل سائنس پڑھائے ہیں( اس کے بڑے اچھے نتائج نکلتے رہے ہیں۔ ایک کلاس میری ایسی تھی کہ جس کے متعلق ایک دفعہ مجھ پر یہ اثر ہوا کہ میں نے کچھ حصے ان کو صحیح رنگ میں نہیں پڑھائے اور اس میں طلبہ کمزور ہیں۔ امتحان سے پندرہ بیس دن پہلے مجھے خیال آیا کہ ایک عنوان ایسا ہے کہ اگر میں اس کے متعلق ان کو نوٹ تیار کرکے دے دوں تو خدا کے فضل سے یہ طلبہ بڑا اچھا نتیجہ نکال لیں گے چنانچہ میں نے ایک نوٹ تیار کیا اور کوشش کرکے میں نے خود طالب علموں کے پاس پہنچایا اور ان کو کہا کہ اس کو یاد کرلو۔ چنانچہ جب پرچہ آیا تو اس میں تین سوال ایسے تھے جو میرے اس نوٹ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور چونکہ وہ مختصر اور کمپری ہنسو )مکمل( تھا اور تازہ تازہ ان کے ذہن میں تھا۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ اس سال نصف سے زیادہ طلبہ نے اس پرچہ میں فرسٹ ڈویژن حاصل کیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔
    پس میرے اپنے سارے زمانہ میں یہ تجربہ رہا ہے کہ جب ہم اپنے رب کی طرف عاجزی اور انکساری کے ساتھ جھکتے ہیں تو وہ اپنے فضل اور رحم کی بارشیں ہم پر کرتا ہے۔ ہمارا خدا بخیل نہیں بلکہ بڑا دیالو ہے۔ اگر کبھی ہم کامیاب نہیں ہوتے تو اس کا سبب صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم بعض دفعہ لاپروائی سے کام لیتے ہیں اور اس کی طرف جھکنے کی بجائے دوسرے دروازوں کو کھٹکھٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ دروازے کھولے نہیں جاتے۔
    تو اس زمانہ میں جب میں جامعہ میں تھا میں نے اپنا دل اور دماغ اس ادارے کو دے دیا تھا اور بڑی محنت سے اس کی نشوونما کی طرف توجہ کی تھی۔ اور اس زمانہ میں جب میں نے حساب لگایا تو مجھے اس بات سے بڑی خوشی ہوئی کہ پہلے یا دوسرے سال جتنے جامعہ احمدیہ کے واقفین زندگی تبلیغ اسلام کے میدان میں اترے اس سے پہلے پانچ یا سات سال کے طلبہ کی مجموعی تعداد بھی اتنی نہ تھی۔ اور وہ اس زمانہ کے بہت سے طالب علم ہیں جو اس وقت تبلیغی میدان میں کام کررہے ہیں۔
    پھر ۱۹۴۴ء میں جب میں اپنی بیگم کی بیماری کی وجہ سے ان کے علاج کے لئے دہلی گیا ہوا تھا۔ اچانک ایک دن ڈاک میں حضرت مرزا بشر احمد صاحبؓ کا خط مجھے ملا کہ یہاں قادیان میں ایک کالج کھولنے کا فیصلہ ہوا ہے اور حضرت صاحب نے تمہیں اس کالج کا پرنسپل مقرر فرمایا ہے۔ میں بڑا پریشان ہوا کہ پہلے میں عربی قریباً بھول چکا تھا تو مجھے جامعہ میں لگا دیا گیا۔ اب جب میرا ذہن کلی طور پر اس چیز کی طرف متوجہ ہوچکا ہے تو مجھے وہاں سے ٹرانسفر کرکے ایک انگریزی ادارے کا پرنسپل بنا دیا گیا ہے۔ اس وقت ابھی صرف انٹرمیڈیٹ کالج تھا۔ خیر خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اس ذمہ داری کو بھی نبھانے کی توفیق دے اور ہماری کوششوں میں برکت ڈالے۔ ابتداء بالکل چھوٹے سے کام سے ہوئی۔ اس جماعت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس میں جو ساتھی ملتے ہیں وہ بڑے پیار سے کام کرنے والے اور تعاون کرنے والے ہوتے ہیں۔ گو بہت سے میری طرح بالکل (RAW) خام تھے۔ ،میں اس وجہ سے RAW تھا کہ اس میدان سے بالکل ہٹ چکا تھا اور عربی کی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ اور اکثر ان میں سے وہ تھے جو ایم۔ اے پاس کرتے ہی وہاں آگئے تھے۔ جنہیں کوئی تجربہ نہ تھا۔ باقی سب RAW ہی تھے۔ ہم نے جو کوششیں کیں وہ تو کیں` ہمارے جو وسائل تھے شاید آپ ان کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔
    ایک چھوٹی سی مثال سے اس کو واضح کردیتا ہوں۔ وہ یہ کہ ایک لمبے عرصہ تک پرنسپل کے دفتر کے سامنے چق بھی نہ تھی۔ دروازہ یونہی کھلا رہتا تھا۔ پھر ان چقوں کے حصول کے لئے محترم قاضی محمد اسلم صاحب کو سپیشل سفارش کرنی پڑی۔ تب جاکر اس دفتر کو چقیں نصیب ہوئیں اور ایک حد تک اطمینان اور پرائیویسی جو کام کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے` میسر آئی۔
    پھر مالی لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ عجیب سلوک رہا ہے کہ میں نے کبھی نہیں سوچا اور نہ دیکھا اور نہ پتہ کیا کہ ہمارے کھاتوں میں کتنی رقم ہے۔ ہمیشہ یہ سوچا کہ جو خرچ آپڑا ہے وہ ضروری ہے کہ نہیں اور اس خرچ میں کوئی فضول خرچی تو نہیں۔ ناجائز حصہ تو نہیں۔ اگر جائز ضرورت ہوتی تو پھر یقین ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحم کرتے ہوئے اس جائز ضرورت کو پورا کرنے کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ پھر جب سال گزرتا` حساب کرتے تو ساری رقوم ایڈجسٹ ہوجاتیں اور کبھی فکر یا تردد کرنا نہیں پڑا۔ ورنہ یہ کالج جس میں آپ اس وقت بیٹھے ہیں کبھی نہ بنتا۔
    جب میں نے اس کالج کا نقشہ حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانیؓ کے حضور پیش کیا تو آپ مسکرائے اور فرمایا کہ اتنا بڑا کالج بنانے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں۔ میں تمہیں ایک لاکھ روپیہ کالج کے لئے اور پچاس ہزار روپیہ ہوسٹل کے لئے دے سکتا ہوں اور یہ نہیں کرنے دوں گا کہ کالج کی بنیادیں اس نقشہ کے مطابق بھرلو اور پھر میرے پاس آجائو کہ جی! آپ کا دیا ہوا لاکھ روپیہ خرچ ہوگیا ہے۔ کالج کی صرف بنیادیں بھری گئی ہیں` تکمیل کے لئے اور پیسے دے دو پس انجینئر سے مشورہ کرکے اس نقشہ پر سرخ پنسل سے نشان لگوائو کہ ایک لاکھ سے بلڈنگ کا اتنا حصہ بن جائے گا وہ میں نے تم سے بنا ہوا لینا ہے۔
    میں نے اس وقت جرات سے کام لیتے ہوئے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ ٹھیک ہے میں حضور سے پیسے مانگنے نہیں آیا` نقشہ منظور کرانے آیا ہوں اس کے لئے حضور دعا فرماویں۔ میں لکیریں لگوا کر لے آئوں گا۔ لیکن مجھے اجازت دی جائے کہ جماعت سے عطایا وصول کرسکوں۔ حضور نے فرمایا۔ ٹھیک ہے عطایا وصول کرو لیکن لکیریں ڈلوا کر لائو۔
    میں نے نقشہ پر مشورہ کرنے کے بعد لکیریں ڈالیں۔ پھر حضور کی خدمت میں پیش کیا۔ تب حضور نے منظوری دی کہ کام شروع کردو۔ لیکن اس کے بعد نہ مجھے یاد رہا کہ وہ لکیریں کس حصہ پر ڈالی گئی تھیں۔ نہ حضورؓ کو یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ لکیریں کہیں اور ڈالی گئی تھیں اور کالج کا پھیلائو زیادہ ہوگیا ہے اور رقم کا مطالبہ کررہے ہو۔
    تو اللہ تعالیٰ ہر مرحلہ پر آگے بڑھنے کی توفیق دیتا چلا گیا۔ جب ہم ایک جگہ پہنچتے تو میں اپنے ساتھیوں کو جو تعمیر کررہے تھے کہہ دیتا کہ اگلا کام بھی شروع کرادو۔ جب وہ حصہ بن جاتا تو میں کہتا کہ اب اگلا حصہ بھی بنالو۔ میں شاہد ہوں اس بات کا اور پورے یقین اور وثوق کے ساتھ آپ کو یہ بات بتارہا ہوں کہ آج تک مجھے )جو خرچ کرنے والا تھا( پتہ نہیں کہ یہ رقم کہاں سے آئی جیسا کہ آپ جانتے ہیں سب آمد خزانہ میں جاتی ہے اور سب خرچ چیکوں کے ذریعہ ہوتا ہے لیکن کبھی ہم نے اس کو سمیٹا نہیں۔ یہ کالج کی عمارت` ہوسٹل اور دوسری بلڈنگیں ہیں وہ سب ملا کر ایک لاکھ مربع فٹ سے اوپر ہیں اور میرا رف اندازہ ہے کہ ان پر چھ سات لاکھ روپیہ کے درمیان خرچ آیا ہے۔ بعض دفعہ اچھے پڑھے لکھے غیراز جماعت دوست آتے ہیں اور ان سے بات چیت ہوتی ہے تو وہ یقین نہیں کرتے کہ اتنی تھوڑی رقم میں اتنی بڑی عمارت کھڑی ہوسکتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم ان سے چالاکی کررہے ہیں` صحیح رقم بتانے کے لئے تیار نہیں۔
    تو جہاں تک ضروریات اور اسباب کا سوال ہے اللہ تعالیٰ نے ۱۹۴۴ء سے ہی اس ادارے پر اپنا خاص فضل کیا ہے اور اپنی رحمتوں کے سائے میں اسے رکھا ہے۔ وہ ہماری کمزوریوں کو اپنی مغفرت کی چادر سے ڈھانپ لیتا ہے اور نتائج محض اس کے فضل سے اچھے نکلتے ہیں۔ میرے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا اور مجھے یقین ہے کہ میرے ساتھیوں کے دل میں بھی کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا ہوگا کہ یہ سب کچھ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے کیونکہ ہم اپنی کوششوں کو خوب جانتے ہیں اور ہم سے زیادہ ہمارا رب جانتا ہے جس ادارے پر اللہ تعالیٰ نے اس کثرت کے ساتھ اپنے فضل اور احسان کئے ہوں اس ادارہ کی طرف منسوب ہونے والے خواہ وہ پروفیسر ہوں یا طلبہ ان سب کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب کی حمد کرتے رہیں تاکہ اس کے فضلوں کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے۔
    جہاں تک میرے جذبات کا سوال ہے تو جو میرے جذبات پہلے جامعہ احمدیہ کے متعلق تھے وہی جذبات میرے دل میں اس ادارہ کے متعلق پیدا ہوئے اور میں نے اپنے دل کو` اپنے دماغ کو اور اپنے جسم کو اس ادارہ کے لئے خدا کے حضور بطور وقف پیش کردیا اور بڑی محبت اور پیار کے ساتھ اس کو چلانے کی کوشش کی اور ان طلبہ کو جو یہاں تعلیم پاتے تھے میں نے اپنے بچوں سے زیادہ عزیز سمجھا۔ بے شک میں نے جہاں تک مناسب سمجھا سختی بھی کی لیکن اس وقت سختی کی جب میں نے اسے اصلاح کا واحد ذریعہ پایا اور بعد میں مجھے اس دکھ کی وجہ سے راتوں جاگنا پڑا کہ کیوں میرے ایک بچہ نے مجھے اس سختی کے لئے مجبور کردیا حتیٰ کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔ کئی راتیں ہیں جو میں نے آپ کی خاطر جاگتے گزار دیں اور ہمیشہ آپ کے لئے دعائیں کرتا رہا اور پھر میں نے اپنے رب کا پیار بھی محسوس کیا کہ وہ اپنے فضل سے میری اکثر دعائیں قبول کرتا رہا اور کبھی کسی موقع پر بھی میرے دل میں ناکامی` نامرادی یا ناامیدی کا خیال تک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی ان دلوں میں پیدا ہونا چاہئے جنہوں نے اس کام کو کرنا ہے۔<۲۳۷
    پہلا باب
    حواشی
    ۱۔
    اشتہار بعنوان >ایک ضروری فرض کی تبلیغ< ۱۵۔ ستمبر ۱۸۹۷ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان و مشمولہ تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ ۱۵۵ مرتبہ حضرت میر قاسم علی صاحبؓ ایڈیٹر فاروق قادیان` رسالہ تعلیم الاسلام قادیان دارالامان بابت ماہ اکتوبر ۱۹۰۶ء جلد ۱ نمبر ۶ صفحہ ۲۳۳ تا ۲۳۶ و صفحہ ۲۴۲ و تاریخ مدرسہ تعلیم الاسلام از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام سکول قادیان و مدیر بدر و صادق۔
    ۲۔
    تذکرہ الشہادتین اردو بحوالہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز اردو صفحہ ۴۶۴۔ ۴۶۵ بابت نومبر و دسمبر ۱۹۰۳ء سن اشاعت اکتوبر ۱۹۰۳ء ایضاً تبلیغ رسالت جلد ۱۰ صفحہ ۶۳۔ ۶۴ مرتبہ حضرت میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر اخبار فاروق قادیان سن اشاعت اکتوبر ۱۹۲۷ء۔
    ۳۔
    نام تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۶` ۷ پر درج ہیں۔
    ۴۔
    ذکر حبیب صفحہ ۱۳۷ )مولفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ( ناشر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان۔
    ۵۔
    اخبار الحکم قادیان ۷۔ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۵ کالم ۲۔ ۳۔
    ۶۔
    رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد ۱ نمبر ۶ صفحہ ۲۳۶۔
    ۷۔
    اخبار الحکم قادیان ۷۔ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۵ و ۶۔
    ۸۔
    اخبار الحکم قادیان ۱۷۔ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ کالم ۳ و ۲۴۔ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰ کالم ۲۔
    ۹۔
    اخبار الحکم قادیان ۲۴۔ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰ کالم ۳۔
    ۱۰۔
    اخبار البدر ۲۴۔ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۴ کالم ۳۔
    ۱۱۔
    البدر ۵۔ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۴۔ ۱۵۵۔
    ۱۲۔
    سورہ یوسف رکوع ۱۰۔ الحکم میں یہ حصہ آیت سہواً غلط چھپ گیا تھا۔ )مرتب(
    ۱۳۔
    الحکم ۲۴۔ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱۔ ۱۲۔
    ۱۴۔
    یہ دونوں نظمیں الحکم ۳۰۔ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۔ ۸ پر شائع شدہ ہیں۔ مالیر کوٹلہ کے ممتاز احمدی شاعر محمد نواب خاں صاحب ثاقبؓ نے افتتاح کالج کا قطعہ تاریخ لکھا کہ۔ ~}~
    بسال افتتاح کالج ما
    ندا آمد بہ ثاقب فیض فرقاں~/~۱۳۲۱ھ
    )البدر ۱۰۔ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۹۹ کالم ۲(
    ۱۵۔
    الحکم ۲۴۔ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲ کالم ۳۔
    ۱۶۔
    الحکم ۲۴۔ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰ تا ۱۳۔
    ۱۷۔
    رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد اول شمارہ ۶ صفحہ ۲۳۲۔
    ۱۸۔
    اخبار الحکم قادیان ۷۔ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۶ کالم ۱۔
    ۱۹۔
    اخبار الحکم قادیان ۱۷۔ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۴ کالم ۱۔
    ۲۰۔
    حضرت مولوی محمد دین صاحب بی۔ اے )سابق مبلغ امریکہ( حال صدر صدر انجمن احمدیہ فرماتے ہیں۔
    غالباً درزی خانہ والا کمرہ کلاس روم تھا۔ مگر اس کے علاوہ پرانے صحن مدرسہ کا مشرقی کمرہ بھی استعمال ہوتا رہا۔ درزی خانہ کا اوپر والا کمرہ بھی بعض دفعہ لیکچروں اور بعض دفعہ کالج کے بورڈروں کی رہائش کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ )اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۱۸۲ مولفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔ اے طبع اول ۱۹۵۲ء/ ۱۳۳۱ہش(
    ۲۱۔
    البدر ۷۔ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۱ کالم ۲۔
    ۲۲۔
    مورخہ ۲۴۔ دسمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۸ و ۱۰۔ جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۹۔
    ۲۳۔
    مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۱۔ اس چندہ میں حصہ لینے والے بزرگوں کے اسماء گرامی اخبار الحکم ۲۴۔ جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۱ کالم ۴ میں شائع شدہ ہیں۔
    ۲۴۔
    اخبار بدر ۲۰۔ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ میں پاس ہونے والوں کے نام درج ہیں۔
    ۲۵۔
    ریویو آف ریلیجنز اردو بابت ماہ مئی ۱۹۰۵ء سرورق صفحہ ۲۔
    ۲۶۔
    ایضاً۔
    ۲۷۔
    ملاحظہ ہو یونیورسٹی ایکٹ ۱۹۰۴ء دفعہ ۲۱۔
    ۲۸۔
    منصب خلافت صفحہ ۳۷ طبع اول مطبوعہ اللہ بخش مشین پریس قادیان۔
    ۲۹۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش صفحہ ۱۲۶۔
    ۳۰۔
    الفضل ۳۱۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۵ کالم ۳۔
    ۳۱۔
    الفضل ۷۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔ ۲۔
    ۳۲۔
    یہ کمیٹی نہایت مفید اور قابل قدر انتظامی خدمات انجام دینے کے بعد ۲۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کو مجلس تعلیم میں مدغم کر دی گئی جس کے صدر بھی قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ہی تھے۔ نیز فیصلہ ہوا کہ۔
    )ا( آئندہ کالج کمیٹی کے ایسے ممبران جو اس وقت تک مجلس تعلیم کے ممبر نہیں مجلس تعلیم کے ممبر ہوں گے۔
    )ب( کالج کے عملی کام کے لئے ایک سب کمیٹی مشتمل برحضرت میاں بشیر احمد صاحب` صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے اور مولوی ابوالعطاء صاحب ہوگی جس کے سیکرٹری ملک غلام فرید صاحب اور اسسٹنٹ سیکرٹری مولوی ابوالعطاء صاحب ہوں گے۔ )ج( یہ سب کمیٹی کالج کے جملہ تفصیلی کام سرانجام دے گی۔ البتہ بجٹ اور اصولی قواعد اور استثنائی فیصلہ جات اور مزید کلاسز کا اجراء مجلس تعلیم میں پیش ہوں گے۔
    ۱۹۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کو اس نئی کمیٹی کے ممبران میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا اضافہ کیا گیا مگر ۱۹۴۹ء/ ۱۳۲۸ہش میں یہ نظام عمل بھی بدل دیا گیا اور ۲۸۔ امان/ مارچ ۱۹۴۹ء/ ۱۳۲۸ہش کو فیصلہ ہوا کہ آئندہ تعلیم الاسلام کالج کے متعلق مجلس تعلیم کا کام صرف اس حد تک محدود ہوگا جو دینیات کا نصاب مقرر کرنے اور دینیات کا امتحان لینے سے تعلق رکھتا ہے نظم و نسق کا سارا کام صدر انجمن احمدیہ کی طرف منتقل کر دیا جائے۔
    ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش میں جبکہ مجلس تعلیم کا وجود عملاً قائم نہ رہا دینیات کے امتحان والا حصہ خودبخود نظارت تعلیم سے متعلق ہوگیا۔
    ۳۳۔
    الفضل ۷۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ )رپورٹ نوشتہ ملک غلام فرید صاحب ایم اے سیکرٹری کالج کمیٹی(
    ۳۴۔
    یہ سب تفصیلات کالج کمیٹی کی رپورٹ مورخہ ۱۶۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش میں موجود ہیں۔
    ۳۵۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۵۵۔
    ۳۶۔
    الفضل ۲۱۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶۔ ۷۔
    ۳۷۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۵۵ تا ۱۵۹۔
    ۳۸۔
    الفضل ۷۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶ کالم ۳۔ ۴۔
    ۳۹۔
    اخوند عبدالقادر صاحب ایم۔ اے
    ۴۰۔
    الفضل ۸۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۴۱۔
    الفضل ۲۰۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴ کالم ۲۔ ۳۔
    ۴۲۔
    ولادت: ۲۳۔ جنوری ۱۹۰۱ء` وفات: ۱۹۵۸ء/ ۱۳۳۷ہش۔ ۱۲۔ احسان/ جون ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ہش سے صدر انجمن قادیان کی ملازمت میں آئے۔
    ۴۳۔
    ولادت: ۳۔ ستمبر ۱۸۹۸ء۔ یکم مئی ۱۹۳۷ء سے صدر انجمن احمدیہ قادیان کے کارکنوں میں شامل ہوئے۔
    ۴۴۔
    ولادت ۸۔ دسمبر ۱۹۲۰ء۔ ۱۹۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش سے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ٹیچر کی حیثیت سے خدمت سلسلہ کا آغاز کیا۔
    ۴۵۔
    ولادت ۱۱۔ ستمبر ۱۹۱۶ء۔ ۱۸۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو لیکچرار مقرر ہوئے۔
    ۴۶۔
    ولادت: یکم جنوری ۱۹۱۹ء` ۲۸۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو لیکچرار مقرر کئے گئے۔
    ۴۷۔
    ولادت: ۱۱۔ جنوری ۱۹۲۰ء` تقرر: احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش۔
    ۴۸۔
    مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابی حضرت حافظ محمد امین صاحب کے فرزند تھے۔ سرکاری ملازمت چھوڑ کر خدمت دین کے لئے زندگی وقف کردی تھی اور قادیان آگئے تھے۔ ماہنامہ ریویو آف ریلیجنز )اردو( میں حقانی ایم۔ اے کے قلمی نام سے جو معلومات افزا مضامین اس زمانہ میں شائع ہوئے وہ انہی کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ )الفضل ۱۳۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ کالم ۱(
    ۴۹۔
    کالج کمیٹی کا فیصلہ یہ تھا کہ کیمسٹری کے مستقل لیکچرار کے قادیان پہنچنے تک چوہدری عبدالاحد صاحب بطور لیکچرار کیمسٹری تعلیم الاسلام کالج میں کام کریں گے۔ اس فیصلہ کے مطابق ۱۲۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش سے انہوں نے کیمسٹری کی کلاسیں لینا شروع کر دیں یہاں تک کہ کیمسٹری کے پہلے لیکچرار پہنچ گئے۔
    ۵۰۔
    یکم جون ۱۹۳۶ء کو صدر انجمن احمدیہ قادیان میں آئے۔ نصرت گرلز ہائی سکول پھر جامعہ احمدیہ اور ہائی سکول میں بہترین تعلیمی فرائض بجا لانے کے بعد کالج سٹاف میں شامل ہوئے۔ ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۶۹ء/ ۱۳۴۸ہش کو کالج سے ریٹائر ہوکر ناظر بیت المال آمد کے عہدہ پر ممتاز کئے گئے۔
    ۵۱۔
    یہ پراسپکٹس انگریزی میں تھا جس کا اردو ترجمہ اس کتاب کے آخر میں بطور ضمیمہ منسلک ہے۔ الفضل ۲۱۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش میں اس کے شائع ہونے کی اطلاع ہے۔
    ۵۲۔
    حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج قادیان نے ۲۰۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کو امیر المومنین حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کے حضور کالج کی پہلی رپورٹ ارسال کی۔ یہ معلومات اسی رپورٹ سے ماخوذ ہیں۔
    ۵۳۔
    نمبر ۹ تا ۱۲ پر مندرج اساتذہ کالج کے باقاعدہ افتتاح سے قبل ہی تعلیم الاسلام ہائی سکول سے منسلک کر دیئے گئے۔
    ۵۴۔
    پہلے فزیکل انسٹریکٹر چوہدری محمد اسماعیل صاحب ننگلی تھے ۱۴۔ تبلیغ )فروری( ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش میں ان کی بجائے چوہدری محمد فضل داد صاحب مقرر ہوئے۔
    ۵۵۔
    کالج کے پہلے لائبریرین مولوی محمد دین صاحب ہیں۔ آپ نے وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش سے اسسٹنٹ کے طور پر چارج سنبھالا۔
    ۵۶۔
    منشی حمید الدین صاحب بی اے بی ٹی منشی فاضل ادیب فاضل برادر اکبر مولانا محمد شریف صاحب مجاہد بلاد عربیہ )گیمبیا( نے شروع میں بطور ہیڈ کلرک کام کیا منشی صاحب ۲۸۔ امان/ مارچ ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش کو نیشنل گارڈز میں رائفل ٹریننگ لیتے ہوئے گولی سے شہید ہوئے )الفضل ۲۔ شہادت مطابق اپریل ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔ ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش میں قاضی عبدالرحمن صاحب جنید ابن حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل گجراتی سپرنٹنڈنٹ آفس بنے۔
    ۵۷۔
    عبدالمجید صاحب ناصر کلرک )تقرر ۹۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش(
    ۵۸۔
    اولین لیبارٹری اسسٹنٹ چوہدر غلام حیدر صاحب )تقرر ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش( ۲۔ قاضی محمد منیر صاحب )تقرر ماہ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش( ۳۔ شیخ فضل قادر صاحب )تقریر ۲۲۔ تبلیغ فروری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش( ۴۔ ملک عبدالعزیز صاحب )تقریر ۸۔ امان ۱۳۲۵ہش مطابق ۸۔ مارچ ۱۹۴۶ء(
    ۵۹۔
    اس روز ملک غلام فرید صاحب ایم۔ اے نے پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج کی خدمت میں اطلاع دی کہ تعلیم الاسلام کالج کمیٹی نے اپنے اجلاس مورخہ ۴۴/۵/۲۱ میں یہ تجویز پاس کی تھی کہ گیسٹ ہائوس واقع دارالانوار کو تعلیم الاسلام کالج کے ہوسٹل کے طور پر استعمال کیا جائے۔ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ بنصرہ نے کمیٹی کی اس تجویز کو منظور فرما لیا ہے۔ اس لئے آپ متعلقہ افسران سے مل کر اس عمارت کو اپنے زیر انتظام کرلیں۔ )فائل کالج کمیٹی(
    ۶۰۔
    اخبار الفضل میں بھی گاہے گاہے اس یونین کی سرگرمیوں کی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں۔
    ۶۱۔
    رپورٹ فضل عمر ہوسٹل از ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش تا ماہ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش )نوشتہ چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے( سے ملخصاً۔ اصل رپورٹ تعلیم الاسلام کالج کے ریکارڈ میں موجود ہے۔
    ۶۲۔
    الفضل ۶۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ کالم ۴۔
    ۶۳۔
    الفضل ۷۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳ کالم ۳۔
    ۶۴۔
    الفضل قادیان ۷۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳ و ۴۔
    ۶۵۔
    اس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ )مرتب(
    ۶۶۔
    الفضل ۱۲` ۱۴` ۱۵` ۱۶۔ تبلیغ/فروری ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش۔ یہ تقریر تعلیم الاسلام کالج کے قیام کی غرض و غایت کے عنوان سے الگ بھی چھپ چکی ہے۔
    ۶۷۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۷۰` ۱۷۱۔
    ۶۸۔
    الفضل ۳۱۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۵` ۶۔
    ۶۹۔
    الفضل ۳۰۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۷۔
    ۷۰۔
    یہ مضمون الفضل ۳۰۔ امان/ مارچ ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش میں شائع ہوا۔
    ۷۱۔
    مکتوب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بنام پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج قادیان مورخہ یکم احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش )فائل تعلیم الاسلام کالج قادیان سے منسلک(
    ۷۲۔
    تعلیم الاسلام کالج پہلی موسمی تعطیلات کے لئے ۸۔ وفا/ جولائی سے لے کر ۲۱۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش تک کے لئے بند رہا۔
    ۷۳۔
    رپورٹ تعلیم الاسلام کالج مورخہ ۲۰۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش )غیر مطبوعہ(
    ۷۴۔
    یہ پرمعارف درس صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش سے مسجد مبارک میں بعد نماز عصر ہوتا تھا۔
    ۷۵۔
    فائل NOTICES> <OFFICE
    ۷۶۔
    غیرمطبوعہ رپورٹ تعلیم الاسلام کالج مورخہ ۲۰۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش۔
    ۷۷۔
    ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش میں تعلیم الاسلام کالج سوئمنگ کلب کے طلباء نے یونیورسٹی اور پنجاب کے تیراکی کے مقابلوں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ناصر محمود صاحب اور عبدالشکور صاحب نے پچاس اور سو میٹر کی دوڑ میں یونیورسٹی میں پوزیشن لی۔ پنجاب چیمپئن شپ میں کالج کی ریلے ٹیم دوم آئی۔ اس کی ٹیم نے واٹر پولو میں پہلے گورنمنٹ کالج لاہور کی ٹیم کو شکست دی اور پھر فائنل میں ایچیسن کالج کی ٹیم کو تین کے مقابلہ میں پانچ گول سے ہرا دیا اور واٹر پولو کی چیمپئن شپ جو ایچی سن کالج کے پاس تھی تعلیم الاسلام کالج نے جیت لی۔ )الفضل ۲۵۔ احسان/ جون ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۲(
    ۷۸۔
    الفضل ۲۷۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳ کالم ۳۔
    ۷۹۔
    الفضل ۴۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱ کالم ۲۔
    ۸۰۔
    رپورٹ از ابتداء تا صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش )غیر مطبوعہ( یہ رپورٹ کالج کے ریکارڈ میں موجود ہے۔
    ۸۱۔
    ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کے بعض مقررین یہ تھے۔ عبدالسلام صاحب اختر ایم۔ اے` میجر رچرڈس ریکروٹنگ آفیسر ناردرن ایریا` ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش میں مشہور ریاضی دان پروفیسر مارڈل صاحب ایف۔ آر۔ ایس )کیمرج( حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیرؓ` مسٹر او ایچ کے سپیٹ )لنڈن سکول آف اکنامکس میں جغرافیہ کے پروفیسر( نے طلبہ سے خطاب کیا۔ )الفضل مورخہ ۱۸۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۱ کالم ۲` ۱۴۔ امان/ مارچ ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۱ کالم ۲` ۲۵۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶
    ‏vat,10.9
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    تعلیم الاسلام کالج کا احیاء اور مشکلات کے باوجود ترقی
    ۱۳۲۶ہش صفحہ ۱` ۲۸۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش۔ ۲۷۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش صفحہ ۱` ۴۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش صفحہ ۱۔
    ۸۲۔
    رپورٹ تعلیم الاسلام کالج ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش )غیر مطبوعہ(
    ۸۳۔
    رجسٹر کارروائی مجلس تعلیم قرارداد ۵۴` ۵۵۔
    ۸۴۔
    رسالہ مجلس تعلیم صفحہ ۵۱۔ ۵۲ شائع کردہ مجلس تعلیم قادیان )فتح/ دسمبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش۔
    ۸۵۔
    اس نصاب کا پہلا امتحان ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش کے شروع میں ہوا جس کا نتیجہ الفضل یکم امان/ مارچ ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۱۰ پر شائع شدہ ہے۔ کل ۳۳ طلباء کامیاب ہوئے۔ عبدالسمیع صاحب نون )ادرحمہ حال ایڈووکیٹ سرگودھا( اور فضل الٰہی صاحب انوری )سابق مبلغ جرمنی حال مبلغ نائجیریا(بالترتیب اول و دوم قرار پائے۔
    امتحان پاس کرنے والے دوسرے طلبہ کے نام۔ محمد امین صاحب )حال لندن( سعید احمد صاحب اعوان` چوہدری فیض احمد صاحب` عبدالکریم صاحب` شیخ بہاء اللہ صاحب )حال ساہیوال( قریشی ہارون الرشید صاحب ارشد` سید منیر احمد صاحب` خلیل احمد صاحب )پشاوری( صلاح الدین صاحب ناصر )بنگالی( محمد ظہیر الدین صاحب` الطاف حسین صاحب` سید شفیق الحسن صاحب` مسعود احمد صاحب` شیخ نصیر الدین احمد صاحب )ابن حضرت ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب( نذیر احمد صاحب` غلام احمد صاحب )گجراتی( محمود احمد صاحب` عبداللطیف صاحب ملتانی` چوہدری مختار احمد صاحب )حال سرگودھا( عبدالحمید صاحب سعید حیدرآبادی` سلیم الدین صاحب )مرحوم متوفی ۵۳/۵/۱۱( محمد شریف صاحب` حافظ عطاء الحق صاحب` )برادر اصغر مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب( بشیر احمد صاحب` مسعود احمد صاحب عاطف )حال پروفیسر تعلیم الاسلام کالج( محمود احمد صاحب صادق` محمد ادریس عیسیٰ صاحب )حال شعبہ موسمیات کوئٹہ( ملک مسعود احمد صاحب )ڈیرہ غازیخاں حال وائس پرنسپل گورنمنٹ کالج جڑانوالہ( سردار منور احمد خان صاحب` چوہدری نذیر احمد صاحب` محمد شریف صاحب )الفضل یکم امان/ مارچ ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۱۰(
    ۸۶۔
    الفضل ۸۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۲۔
    ۸۷۔
    ‏]2h [tag الفضل ۶۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۶۔
    ۸۸۔
    الفضل ۲۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۳ پر مکمل تقریر درج ہے۔
    ۸۹۔
    الفضل ۳۰۔ امان/ مارچ ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۲۔
    ۹۰۔
    الفضل ۲۰۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۹۱۔
    الفضل ۲۔ احسان/ جون ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۶ کالم ۱۔ ۲ نیز الفضل ۷۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۵۔
    ۹۲۔
    الفضل ۱۰۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۴۔
    ۹۳۔
    الفضل ۵۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۴۔
    ۹۴۔
    الفضل ۵۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۳ کالم ۳۔
    ۹۵۔
    الفضل ۵۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۹۶۔
    الفضل ۱۹۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۱ کالم ۲۔
    ۹۷۔
    الفضل ۲۸۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۴ کالم ۱۔ ۴۔
    ۹۸۔
    الفضل ۲۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۳ کالم ۱۔
    ۹۹۔
    الفضل یکم نبوت/ نومبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۱ کالم ۳۔ ۴۔
    ۱۰۰۔
    الفضل یکم نبوت/ نومبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔ ۳۔
    ۱۰۱۔
    الفضل یکم نبوت/ نومبر ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۳ کالم ۲۔
    ۱۰۲۔
    الفضل ۱۵۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۱۰۳۔
    الفضل ۱۹۔ امان/ مارچ ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۲۔ حضرت امیر المومنین کا یہ فرمان اخبار >الفضل< کے علاوہ ہینڈبل کی صورت میں بھی شائع ہوا۔
    ۱۰۴۔
    کالج کے چندہ کی اپیل پر ۹۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش تک قریباً چھیالیس ہزار کے وعدے آئے۔ حضور نے ۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش کو اس تحریک میں سبقت کرنے والے مخلصین کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔
    ۲۶ ہزار کے وعدے تو صرف چار آدمیوں کی طرف سے ہیں۔ دو نے دس دس ہزار کے وعدے کئے ہیں۔ ایک نے پانچ ہزار کا اور ایک نے ایک ہزار کا۔ ایک تو دس ہزار کا وعدہ میرا ہے۔ دوسرا دس ہزار دینے کا وعدہ سیٹھ محمد صدیق صاحب کلکتے والے اور ان کے بھائی سیٹھ محمد یوسف صاحب نے کیا ہے۔ تیسرے پانچ ہزار کا وعدہ سیٹھ عبداللہ بھائی کی طرف سے ہے اور چوتھے ایک ہزار کا وعدہ شیخ امام دین صاحب کا ہے جو بمبئی کی طرف تجارت کرتے ہیں۔ گویا اس میں ۲۶ ہزار کے وعدے صرف چار آدمیوں کے ہیں۔ چھ ہزار کا وعدہ قادیان کی لجنہ کا ہے۔
    تفصیلی فہرست کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۶۔ شہادت ۱۳۲۵ہش صفحہ ۸۔ اس تاریخ تک جن جماعتوں یا احباب نے اپنا وعدہ ادا کردیا ان کی فہرست الفضل ۲۹۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۸ پر شائع کر دی گئی۔
    ۱۰۵۔
    الفضل ۱۹۔ امان/ مارچ ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۱۔ زیر عنوان مدینہ المسیح۔ طلبہ نے اس یادگار تقریب پر جو ایڈریس پیش کیا وہ الفضل ۲۱۔ امان/ مارچ ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۴ پر چھپا ہوا ہے۔
    ۱۰۶۔
    والد ماجد جناب چودھری شاہ محمد صاحب خوشنویس۔
    ۱۰۷۔
    الفضل ۱۶۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۲۔
    ۱۰۸۔
    چوہدری صاحب موصوف نے یکم تبلیغ/ فروری ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش سے لے کر ۱۵۔ احسان/ جون ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش تک نہایت محنت و جانفشانی سے یہ خدمت سرانجام دی۔ لیبارٹریوں کی تعمیر کے بعد ان کے اندر چار جگہوں PARTITIONWALLS بھی آپ کی نگرانی میں بنائی گئیں جو بہت مشکل اور ٹیکنیکل کام تھا۔ اس کا تمام ڈیزائن (DESIGN) بھی آپ ہی کا تیار شدہ تھا۔
    ۱۰۹۔
    الفضل ۲۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش۔
    ۱۱۰۔
    وفات: ۳۔ جنوری ۱۹۵۵ء۔
    ۱۱۱۔
    الفضل ۲۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش۔
    ۱۱۲۔
    الفضل ۳۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۳ کالم ۳۔
    ۱۱۳۔
    انقلاب لاہور ۲۰۔ اپریل ۱۹۴۶ء بحوالہ الفضل ۲۵۔ اپریل ۱۹۴۶ء۔
    ۱۱۴۔
    بحوالہ الفضل ۱۵۔ مئی ۱۹۴۶ء۔
    ۱۱۵۔
    بحوالہ الفضل ۲۶۔ جولائی ۱۹۴۶ء۔
    ۱۱۶۔
    ‏ STATION RESEARCH FIELD
    ۱۱۷۔
    اب یہ عمارت پنجاب یونیورسٹی لاہور کے نیوکیمپس کا حصہ ہے۔
    ۱۱۸۔
    ان کا ذکر فصل دوم میں آچکا ہے۔
    ۱۱۹۔
    رسالہ خالد ماہ وفا/ جولائی ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش صفحہ ۸۔
    ۱۲۰۔
    حضور کی تقریر کا خلاصہ ماہنامہ الفرقان بابت ماہ وفا/ جولائی ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش میں شائع شدہ ہے۔ ایضاً الفضل ۳۰۔ وفا/ جولائی ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش صفحہ ۳۔ ۴۔ ریسرچ کی یہ عمارت ایک احمدی دوست کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ تھی۔
    ۱۲۱۔
    الفضل ۲۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۱۲۲۔
    فائل ریزولیوشنز کالج کمیٹی۔
    ۱۲۳۔
    الفضل ۵۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔ شامل امتحان ہونے والوں میں ۲۴ سائنس کے اور ۳۵ آرٹس کے طالب علم تھے۔
    ۱۲۴۔
    الفضل ۲۳۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۶ء/ ۱۳۲۵ہش صفحہ ۱۔
    ۱۲۵۔
    یہ مراسلہ سید عبدالباسط صاحب کارکن خدام الاحمدیہ نے دستی پریس پر بطور سرکلر چھاپا اور آپ کی ہدایت کے ماتحت طلبائے کالج کو بھجوایا گیا۔
    ۱۲۶۔
    ہجرت/ مئی ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کو کالج کی سپیشل ایر فورس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ ہوئی جس کی رپورٹ الفضل ۲۶۔ ماہ ہجرت/ مئی ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش میں شائع شدہ ہے۔
    ۱۲۷۔
    الفضل ۷۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش صفحہ ۴ و ۵۔
    ۱۲۸۔
    المنار ہجرت۔ احسان/ مئی۔ جون ۱۹۶۰ء/ ۱۳۳۹ہش صفحہ ۲۔
    ۱۲۹۔
    الفضل ۸۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش صفحہ ۴۔ آپ جس کنوائے میں قادیان سے لاہور پہنچے۳۔ وہ دس ٹرکوں پر مشتمل تھا۔ اس کنوائے کے بخیریت پہنچنے کی خبر الفضل ۱۸۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش صفحہ ۱ پر چھپ گئی تھی۔
    ۱۳۰۔
    کالج کے باقی اکثر اساتذہ ان ایام میں قادیان یا ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ چنانچہ پروفیسر حبیب اللہ خاں صاحب لیکچرار کیمسٹری ۱۹۴۷۔ ملاپلی حبیب نگر حیدر آباد دکن میں تھے کہ ہنگامے شروع ہوگئے۔ ریل کا رستہ بند ہوگیا اور آپ ۳۰۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کو بذریعہ بحری جہاز بمبئی سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے اور کراچی سے لاہور پہنچے۔ پروفیسر عباس بن عبدالقادر صاحب اپنے وطن بہار میں چھٹیاں گزار رہے تھے اور بصد مشکل پاکستان میں آئے۔
    ۱۳۱۔
    اصل خط کے لئے ملاحظہ ہو فائل بحالی کالج۔
    ۱۳۲۔
    تحریری بیان چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ اے )محررہ ۲۶۔ نبوت/ نومبر ۱۹۶۸ء/ ۱۳۴۷ہش۔ غیر مطبوعہ(
    ۱۳۳۔
    مراسلہ حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب ناظر اعلیٰ بنام سیکرٹری صاحب کالج کمیٹی محررہ ۴۷/۱۰/۳۰ مجریہ یکم نبوت/ نومبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش۔
    ۱۳۴۔
    موجودہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے متصل۔
    ۱۳۵۔
    الفضل ۱۲۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۱۳۶۔
    رپورٹ تحریر فرمودہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب )ایدہ اللہ( مرقومہ الفضل ۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۲(
    ۱۳۷۔
    الفضل لاہور ۱۵۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۱۳۸۔
    سرکلر حضرت نواب محمد عبداللہ خان ناظر اعلیٰ بنام سیکرٹری صاحب کالج کمیٹی مورخہ ۲۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش۔
    ۱۳۹۔
    یہ تاریخ چوہدری محمد علی صاحب ایم۔ ایے کے ایک خط سے متعین ہوتی ہے جو آپ نے ۶۔ نبوت ۱۳۲۶ہش کو حضرت پرنسپل صاحب تعلیم الاسلام کالج قادیان کے نام لکھا تھا اور اب تک ریکارڈ میں شامل ہے۔
    ۱۴۰۔
    الفضل ۱۴۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔
    ۱۴۱۔
    اسسٹنٹ ری ہیبلی ٹیشن کمشنر کے دستخط سے الاٹمنٹ کی منظوری کا کاغذ فائل بحالی کالج G2 سے منسلک ہے۔
    ۱۴۲۔
    الفضل ۱۱۔ امان/ مارچ ۱۹۴۸ء/ ۱۳۲۷ہش صفحہ ۶۔
    ۱۴۳۔
    کالج کی فائل 22A G-۔
    ۱۴۴۔
    رسالہ المنار مئی/ جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۲۴۔
    ۱۴۵۔
    ایضاً۔
    ۱۴۶۔
    الفضل ۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۳۔
    ۱۴۷۔
    الفضل ۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۳ کالم ۳۔
    ۱۴۸۔
    الفضل ۱۴۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۹ء/ ۱۳۲۸ہش صفحہ ۵ کالم ۱۔ ۲۔
    ۱۴۹۔
    الفضل ۱۴۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۹ء/ ۱۳۲۸ہش صفحہ ۶۔ ۷۔
    ۱۵۰۔
    الفضل ۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۳ تا ۴ ملخصاً` المنار ہجرت۔ احسان/ مئی۔ جون ۱۹۶۰ء/ ۱۳۳۹ہش۔
    ۱۵۱۔
    غیر مطبوعہ۔
    ۱۵۲۔
    المنار شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۸۔
    ۱۵۳۔
    المنار شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۹۔
    ۱۵۴۔
    المنار شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۷۔ ۸ )حصہ انگریزی(
    ۱۵۵۔
    المنار شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۶ )حصہ انگریزی(
    ۱۵۶۔
    حضرت امیر المومنین کا یہ صدارتی خطبہ کالج کی طرف سے اردو اور انگریزی میں تقریب سے قبل چھپوا دیا گیا تھا۔
    ۱۵۷۔
    الفضل ۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۳ و ۴۔
    ۱۵۸۔
    اس کے مکمل متن کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۳۔ ۵۔
    ۱۵۹۔
    الفضل ۳۔ شہادت/ اپریل ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش۔
    ۱۶۰۔
    المنار شہادت/ اپریل ۱۹۵۱ء/ ۱۳۳۰ہش صفحہ ۶۔ آپ نے کوئی خطبہ صدارت نہیں پڑھا۔
    ۱۶۱۔
    المنار ہجرت و احسان/ مئی و جون ۱۹۵۲ء/ ۱۳۳۱ہش صفحہ ۱۲۔
    ۱۶۲۔
    ‏h2] ga[t المنار احسان/ جون ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش صفحہ ۳ تا ۴ پر آپ کا بلیغ اور پراثر خطبہ کا متن شائع شدہ ہے۔
    ۱۶۳۔
    الفضل ۲۱۔ احسان/ جون ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش صفحہ ۱۔
    ۱۶۴۔
    الفضل ۱۲۔ امان/ مارچ ۱۹۵۷ء/ ۱۳۳۶ہش۔
    ۱۶۵۔
    الفضل ۲۱۔ احسان/ جون ۱۹۵۹ء/ ۱۳۳۸ہش صفحہ ۱۔
    ۱۶۶۔
    آپ کا خطبہ صدارت المنار ہجرت و احسان/ مئی۔ جون ۱۹۶۰ء/ ۱۳۳۹ہش صفحہ ۳۵ تا ۳۸ میں چھپا۔
    ۱۶۷۔
    الفضل ۶۔ احسان/ جون ۱۹۶۱ء/ ۱۳۴۰ہش صفحہ ۱۔
    ۱۶۸۔
    الفضل ۵۔ احسان/ جون ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش صفحہ ۸۔
    ۱۶۹۔
    یہ خطبہ جلیلہ رسالہ المنار وفا۔ ظہور۔ تبوک/ جولائی۔ اگست۔ ستمبر ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش کی زینت ہے۔
    ۱۷۰۔
    روئداد تعلیم الاسلام کالج لاہور )۵۱۔ ۱۹۵۰ء( صفحہ ۱۔ ۲۔
    ۱۷۱۔
    روئداد تعلیم الاسلام کالج ۵۳۔ ۱۹۵۲ء/ ۳۲۔ ۱۳۳۱ہش و ۶۲۔ ۱۹۶۱ء/ ۴۱۔ ۱۳۴۰ہش۔
    ۱۷۲۔
    کالج کے اس مایہ ناز فرزند کا تذکرہ رپورٹ عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء )اردو ایڈیشن( کے صفحہ ۱۷۱ پر موجود ہے۔
    ۱۷۳۔
    اخبار نوائے وقت لاہور ۳۔ اپریل ۱۹۵۳ء صفحہ ۱۔
    ۱۷۴۔
    اخبار المصلح کراچی ۲۹۔ نبوت/ مئی ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۱۷۵۔
    بروایت عبدالرحمن صاحب جنید ہاشمی سابق سپرنٹنڈنٹ تعلیم الاسلام کالج ربوہ حال نائب ناظر بیت المال۔
    ۱۷۶۔
    بروایت چوہدری غلام حیدر صاحب سینئر لیکچرار اسسٹنٹ تعلیم الاسلام کالج و سابق ناظم املاک و تعمیر کالج۔
    ۱۷۷۔
    روئیداد تعلیم الاسلام کالج ۵۷۔ ۱۹۵۶ء/ ۳۶۔ ۱۳۳۵ہش صفحہ ۱۶۔
    ۱۷۸۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان بابت ۵۳۔ ۱۹۵۲ صفحہ ۶۵۔
    ۱۷۹۔
    بروایت چودھری غلام حیدر صاحب سینئر اسسٹنٹ لیکچرار تعلیم الاسلام کالج۔
    ۱۸۰۔
    رسالہ خالد ظہور/ اگست ۱۹۵۳ء/ ۱۳۳۲ہش صفحہ ۳۳۔
    ۱۸۱۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۷۲ء صفحہ ۱۰۱۔ ۱۰۳ غیر مطبوعہ )خلافت لائبریری ربوہ(
    ۱۸۲۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان بابت ۵۹۔ ۱۹۵۸ء/ ۳۸۔ ۱۳۳۷ہش صفحہ ۹۳۔
    ۱۸۳۔
    یہاں یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ تعلیم الاسلام کالج کے ربوہ منتقل ہونے کی خبر پر لوگوں میں بہت بے چینی پیدا ہوگئی حتیٰ کہ بعض نے اخبار نوائے وقت میں لکھا۔
    ایک اور کمی متوسط طبقہ کے طلبہ کو سختی سے محسوس کرنی پڑے گی وہ تعلیم الاسلام کالج کا لاہور سے ربوہ منتقل ہو جانا ہے۔ میں متعلقہ حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ اس مسئلہ کی طرف فوری توجہ کرتے ہوئے موجودہ تعطیلات گرما کے اختتام کے ساتھ ہی تعلیم الاسلام کالج کی کمی کو پورا کرنے کے لئے لاہور میں کسی مناسب جگہ پر ایک نیا کالج کھول دیا جائے۔ )نوائے ¶وقت ۳۱۔ اگست ۱۹۵۴ء(
    ۱۸۴۔
    دونوں نظمیں رسالہ المنار بابت ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش صفحہ ۱۶ و ۱۷ پر شائع شدہ ہیں۔
    ۱۸۵۔
    المنار بابت ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش صفحہ ۱۷۔ ۱۸۔
    ۱۸۶۔
    الفضل ۶۔ فتح/ دسمبر ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۱۸۷۔
    الفضل ۷۔ فتح/ دسمبر ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش صفحہ ۵۔
    ۱۸۸۔
    رسالہ المنار بابت ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش صفحہ ۱۷ و ۱۸۔
    ۱۸۹۔
    سرسید مرحوم کے عزیزوں میں سے ہیں۔ محکمہ تعلیم سے فراغت کے بعد اردو انسائیکلو پیڈیا آف اسلام سے منسلک رہے۔ آج کل انجینئرنگ یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے صدر ہیں۔
    ۱۹۰۔
    پرنسپل سرگودھا کالج۔ آپ انگلستان میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے ہم عصر تھے اور گہرے دوست بھی۔
    ۱۹۱۔
    المنار بابت ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش صفحہ ۱۸۔
    ۱۹۲۔
    سالانہ رپورٹ تعلیم الاسلام کالج ۵۵۔ ۱۹۵۴ء/ ۳۴۔ ۱۳۳۳ہش صفحہ ۸۔
    ۱۹۳۔
    ماہ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش سے لائبریرین کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
    ۱۹۴۔
    قبل ازیں ماہ نبوت/ نومبر ۱۹۵۱ء/ ۱۳۳۰ہش سے بطور ڈیمانسٹریٹر کام کررہے تھے۔
    ۱۹۵۔
    بیشتر ازیں شعبہ بیالوجی میں ڈیمانسٹریٹر کے فرائض انجام دیتے رہے۔
    ۱۹۶۔
    اس سے قبل ڈیمانسٹریٹر کی حیثیت سے کالج کی خدمت بجالارہے تھے۔
    ۱۹۷۔
    پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد خاں ایم۔ ایس۔ سی` پی۔ ایچ ڈی )ڈرہم( جنہوں نے ۱۹۵۴ء/ ۱۳۳۳ہش سے لے کر ۱۹۶۰ء/ ۱۳۳۹ہش تک سٹوڈنٹس یونین کی نگرانی کے فرائض انجام دیئے اپنے ایک بیان میں لکھتے ہیں۔ سب سے پہلا مباحثہ لجنہ اماء اللہ کے ہال میں منعقد ہوا کیونکہ اس وقت تک کالج کا اپنا ہال تعمیر نہیں ہوا تھا۔ ۱۹۵۴ء/ سے ۱۹۶۱ء تک یہ دستور رہا کہ سالانہ مباحثوں کے اختتام سے اگلی صبح تمام شریک مباحثہ طلباء )جو کراچی` پشاور اور لاہور وغیرہ مختلف کالجوں سے ربوہ آئے ہوتے تھے( کے ناشتہ کا انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے در دولت پر ہوتا تھا اور آپ اس میں طلباء کے ساتھ نہایت بے تکلفی اور شفقت کے ساتھ پیش آتے اور ایک ذاتی تعلق ہر شریک مجلس سے پیدا ہو جاتا۔
    سالہا سال یونین کی خوش قسمتی سے حضرت مصلح موعودؓ شریک مباحثہ طلبہ کو قصر خلافت میں ملاقات خاص کا موقع عطا فرماتے رہے۔ چونکہ تعداد زیادہ ہوتی تھی اس لئے کبھی نچلی منزل کے صحن میں احاطہ پرائیویٹ سیکرٹری کے آگے یا پیچھے اور کبھی اوپر ملاقات کے کمرے میں کرسیاں لگا دی جاتیں اور ایک کلاس روم کا ماحول پیدا ہو جاتا۔ حضور حالات دریافت فرماتے` پھر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ جو بعض دفعہ گھنٹوں جاری رہتا۔ طلبہ ہمیشہ ایک عظیم الشان روحانی اور علمی مائدہ سے لطف اندوز ہوکر باہر نکلتے اور اگلے سال پھر آنے کی آرزو لے کر واپس گھروں کو لوٹتے۔ طلباء میں متعصب اور مخالف بھی ہوتے مگر کوئی طالب علم بھی ایسا نہ تھا جو حضور کے تبحر علمی اور شگفتہ مزاجی سے متاثر نہ ہوتا۔
    ۱۹۸۔
    سالانہ روئداد تعلیم الاسلام کالج ۶۲۔ ۱۹۶۱ء/ ۴۱۔ ۱۳۴۰ہش صفحہ ۲۔
    ۱۹۹۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکسان ربوہ بابت ۶۴۔ ۱۹۶۳ء/ ۴۳۔ ۱۳۴۲ہش صفحہ ۱۵۸۔ کیمپس کالج کی عمارت کے نگران چوہدر فضل داد صاحب تھے اور بجلی کی ہائی ٹیشن چوہدری غلام حیدر صاحب سینئر لیکچرار اسسٹنٹ و ناظم املاک کالج کے سپرد رہی۔
    ۲۰۰۔
    الفضل ۲۱۔ ہجرت/ مئی ۱۹۶۹ء/ ۱۳۴۸ہش صفحہ ۸۔
    ۲۰۱۔
    یہ سطور شروع ماہ وفا/ جولائی ۱۹۶۹ء/ ۱۳۴۸ہش میں لکھی جارہی ہیں۔
    ۲۰۲۔
    تفصیل یہ ہے۔ ۵۶۔ ۱۹۵۵ء/ ۳۵۔ ۱۳۳۴ہش میں ایف۔ اے کے امتحان میں منور احمد صاحب سعید صوبہ بھر میں اول اور بی۔ ایس۔ سی میں اعجاز الرحمن صاحب سوم رہے۔
    ۵۸۔ ۱۹۵۷ء/ ۳۷۔ ۱۳۳۶ہش میں محمد سلطان صاحب اکبر نے بی۔ اے کے امتحان میں عربی پاس کورس اور عربی آنرز میں اول رہنے پر طلائی تمغہ حاصل کیا اور افتخار احمد صاحب شہاب یونیورسٹی بھر کے انگریزی کے امتحان میں اول رہے۔
    ۶۱۔ ۱۹۶۰ء/ ۴۰۔ ۱۳۳۹ہش میں ہائر سیکنڈری امتحان کے پری میڈیکل گروپ میں حمید احمد خاں صاحب پنجاب بھر میں اول رہے GROUP HUMANITIES کے طلبہ میں قریشی اعجاز الحق صاحب نے اول پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح بی۔ ایس۔ سی کے امتحان میں سید امین احمد صاحب فزکس کے مضمون میں یونیورسٹی میں اول رہے۔
    ۶۲۔ ۱۹۶۱ء/ ۴۱۔ ۱۳۴۰ہش میں بی۔ اے سال اول کے امتحان میں اعجاز الحق صاحب قریشی نے یونیورسٹی میں دوم پوزیشن حاصل کی اسی طرح ہائر سیکنڈری امتحان میں عطاء المجیب صاحب راشد نے بھی کامیاب ہونے والے طلبہ میں امتیازی مقام حاصل کیا۔
    ۶۳۔ ۱۹۶۲ء/ ۴۲۔ ۱۳۴۱ہش میں اعجاز الحق صاحب قریشی بی۔ اے کے امتحان میں یونیورسٹی بھر میں اول آئے۔
    ۶۴۔ ۱۹۶۳ء/ ۴۳۔ ۱۳۴۲ہش میں ایم۔ اے عربی پریوس میں چودھری محمد صدیق صاحب اول اور چودھری ناصر الدین صاحب اور بشارت الرحمن صاحب دوم رہے۔ عطاء المجیب صاحب راشد نے بی۔ اے سال عربی میں اول رہ کر دو طلائی تمغے )مالیر کوٹلہ میڈل اور خلیفہ محمد حسن جوبلی گولڈ میڈل( حاصل کئے اور اعجاز الحق قریشی)ہسٹری آنرز سال سوم میں( یونیورسٹی میں اول رہے۔
    ۶۵۔ ۱۹۶۴ء/ ۴۴۔ ۱۳۴۳ہش میں پہلی بار کالج کے طلباء ایم۔ اے عربی کے امتحان میں شامل ہوئے اور سارے طلبہ اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہوئے اور چوھدری محمد صدیق صاحب یونیورسٹی میں اول قرار پائے۔ اسی طرح تین اور طلبہ نے تیسری چوتھی اور پانچویں پوزیشن حاصل کی۔
    ۶۶۔ ۱۹۶۵ء/ ۴۵۔ ۱۳۴۴ہش میں کالج کی دوسری ایم۔ اے کلاس کا نتیجہ بھی سو فیصد رہا۔ نیز یونیورسٹی میں بحیثیت مجموعی پہلی تین پوزیشنیں طلبہ تعلیم الاسلام کالج کے حصہ میں آئیں۔ یعنی قریشی مقبول احمد صاحب اول` عطاء المجیب صاحب راشد دوم اور سید عبدالحی صاحب سوم آئے اور ایک طالب علم کے سوا جس نے سیکنڈ ڈویژن لی باقی سب نے فرسٹ ڈویژن میں امتحان پاس کیا۔ اسی طرح عنایت اللہ صاحب منگلا پنجاب یونیورسٹی میں ایم۔ اے اقتصادیات میں فرسٹ ڈویژن لے کر اول آئے۔ )تعلیم الاسلام کالج کی مطبوعہ رپورٹوں )۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش تا ۱۹۶۶ء/ ۱۳۴۵ہش( سے ماخوذ(
    ۲۰۳۔
    خطبہ اسناد پڑھنے والے مشاہیر کا تذکرہ فصل چہارم میں کیا جاچکا ہے اور کالج کی آل پاکستان اردو کانفرنس میں شریک ادباء کی تفصیل مستقل عنوان کے تحت الگ دی جارہی ہے۔
    ۲۰۴۔
    اخبار الفضل ۳۱۔ صلح/ جنوری و یکم تبلیغ/ فروری ۱۹۵۶ء/ ۱۳۳۵ہش میں ان سائنسدانوں کی آمد پر خبر شائع کی گئی جس پر ہفت روزہ >المنیر< لائلپور نے >ربوہ کی سیر< کے کالم میں لکھا >تقسیم کے بعد اس گروہ نے پاکستان میں نہ صرف پائوں جمائے بلکہ جہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں ان کے کام کا یہ حال ہے کہ ایک تو روس اور امریکہ سے سرکاری سطح پر آنے والے سائنسدان ربوہ آتے ہیں اور دوسری جانب ۵۳ء کے عظیم تر ہنگامہ کے باوجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اس کا ۵۷۔ ۱۹۵۶ء کا بجٹ پچیس لاکھ روپیہ کا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ربوہ کے کالج` ہائی سکول اور پرائمری مدارس میں سینکڑوں مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ )شمارہ بابت۔ ۲۳۔ فروری ۱۹۵۶ء صفحہ ۱۰ کالم ۳(
    ۲۰۵۔
    ایضاً۔
    ۲۰۶۔
    یاد رہے ۱۹۵۶ء/ ۱۳۳۵ہش سے لے کر تبوک/ ستمبر ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش تک تعلیم الاسلام کالج باسکٹ بال کی صدارت کے فرائض پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب نے انجام دیئے آپ کی انگلستان کو بغرض تعلیم روانگی پر پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب نے اس کی باگ ڈور سنبھال لی اور نہایت محنت` شوق اور کامیابی کے ساتھ اسے چلا رہے ہیں
    ۲۰۷۔
    حضرت صاحبزادہ صاحب )ایدہ اللہ تعالیٰ( نے ٹورنامنٹ میں نظم و ضبط اور انصاف کے قیام کے لئے جو گرانقدر مساعی کیں ان کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ بطور نمونہ صرف ایک واقعہ پروفیسر نصیر احمد خاں صاحب کے قلم سے درج کیا جاتا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ ایک سالانہ ٹورنامنٹ کے موقعہ پر جب ملک کی دو مشہور ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ ہورہا تھا اور ہار جیت کا فیصلہ ایک ایک پوائنٹ سے بدل رہا تھا ایک ٹیم نے ریفری کے فیصلہ کے خلاف احتجاجاً کھیل بند کردیا اور ریفری کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کردیا۔ خاکسار نے صورت حال سے آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ ریفری کی عزت اور وقار کو بحال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ اعلان کردو کہ پانچ منٹ کے اندر اندر ٹیم میدان میں آجائے ورنہ اسے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ اعلان موثر ثابت ہوا اور کھیل حسب سابق اطمینان کے ساتھ کھیلا جانے لگا۔
    ۲۰۸۔
    تعلیم الاسلام کالج کی سالانہ رپورٹوں سے ملخصاً۔
    ۲۰۹۔
    کانفرنس میں آپ کی طرف سے یہ خطبہ استقبالیہ پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد ایم۔ اے صدر شعبہ اردو نے پڑھا۔
    ۲۱۰۔
    ذکر اردو صفحہ ا تا د ناشر تعلیم الاسلام کالج۔
    ۲۱۱۔
    ذکر اردو صفحہ د تا س ناشر تعلیم الاسلام کالج۔
    ۲۱۲۔
    الفضل ۲۲۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۶ء/ ۱۳۴۵ہش صفحہ ۷۔ کانفرنس میں پڑھے جانے والے تمام مقالے ذکر اردو کے نام سے تعلیم الاسلام کالج کی طرف سے شائع شدہ ہیں۔
    ۲۱۳۔
    الفضل ۱۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۷ء/ ۱۳۴۶ہش۔
    ۲۱۴۔
    دوسری کانفرنس میں مقالے پڑھنے والوں کی فہرست یہ ہے۔ سید قدرت نقوی۔ ایرکموڈور ظفر چوہدری )ان کا مضمون سکویڈرن لیڈر امداد باقر رضوی نے پڑھا( یعقوب احمد۔ سید عابد علی عابد۔ مکرم شیخ محمد اسماعیل پانی پتی۔ طفیل احمد قریشی۔ ڈاکٹر نصیر احمد خاں۔ ڈاکٹر سید نذیر احمد سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج لاہور )مندوب پنجاب یونیورسٹی( ڈاکٹر محمد عبدالعظیم صدر شعبہ کیمیا گورنمنٹ کالج لاہور )مندوب پنجاب یونیورسٹی( میجر آفتاب حسن ناظم ادارہ تالیف و ترجمہ کراچی یونیورسٹی )مندوب کراچی یونیورسٹی( محمد حیات خاں سیال۔ ڈاکٹر اسد علی ادیب۔ علامہ لطیف انور۔ عاطر ہاشمی۔ اعجاز فاروقی۔ جیلانی کامران۔ غلام جیلانی اصغر۔ ڈاکٹر وزیر آغا۔ غلام حسین اظہر۔ عبدالسلام اختر۔ سمیع اللہ قریشی۔ سید سجاد باقر رضوی۔ عبدالرشید اشک۔ عبدالرشید تبسم۔ ثاقب زیروی۔ نسیم سیفی۔ آغا محمد باقر۔ مسعود احمد خاں دہلوی۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری۔
    ۲۱۵۔
    سالانہ روئداد تعلیم الاسلام کالج ۶۱۔ ۱۹۶۰ء/ ۴۰۔ ۱۳۳۹ہش صفحہ ۱۶۔
    ۲۱۶۔
    المنار وفا۔ ظہور۔ تبوک/ جولائی۔ اگست۔ ستمبر۔ ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش صفحہ ۱۸۔
    ۲۱۷۔
    المنار ہجرت۔ احسان۔ / مئی۔ جون ۱۹۶۰ء/ ۱۳۳۹ہش صفحہ ۲۷۔
    ۲۱۸۔
    المنار وفا۔ ظہور۔ تبوک / جولائی۔ اگست۔ ستمبر۔ ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش صفحہ ۱۹۔
    ۲۱۹۔
    الفضل ۲۳۔ وفا/ جولائی ۱۹۶۹ء/ ۱۳۴۸ہش صفحہ ۳ کالم ۲۔
    ۲۲۰۔
    ولزلے حضرت پرنسپل صاحب کی ایک پرانی اور خستہ حال موٹر کار تھی اور اکثر اساتذہ` طلباء اور خود حضرت پرنسپل صاحب کے تفنن کا سبب بنتی تھی۔ باوجود اس کار کی پیرانہ سالی کے آپ اسے ہی استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ ہوسٹل کے سالانہ فنکشن پر طلبہ اس کار کو خوب خوب ہدف طنز و مزاح بناتے تھے۔
    ۲۲۱۔
    الفضل ۲۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۶۶ء/ ۱۳۴۵ہش صفحہ ۵۔ ۶۔
    ۲۲۲۔
    رسالہ المنار بابت ماہ احسان/ جون ۱۹۵۰ء/ ۱۳۲۹ہش صفحہ ۱۲۔ ۱۵۔
    ۲۲۳۔
    المنار شہادت/ اپریل ۱۹۵۱ء/ ۱۳۳۰ہش صفحہ ۱۵۔
    ۲۲۴۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ بابت ۵۹۔ ۱۹۵۸ء/ ۳۸۔ ۱۳۳۷ہش صفحہ ۹۹۔
    ۲۲۵۔
    روئداد سالانہ تعلیم الاسلام کالج بابت ۶۳۔ ۱۹۶۲ء/ ۴۲۔ ۱۳۴۱ہش صفحہ ۲۳۔
    ۲۲۶۔
    رسالہ المنار بابت۔ وفا۔ ظہور۔ تبوک/ جولائی۔ اگست۔ ستمبر ۱۹۶۴ء/ ۱۳۴۳ہش صفحہ ۳۷۔ ۳۸۔
    ۲۲۷۔
    روئداد سالانہ تعلیم الاسلام کالج ۶۵۔ ۱۹۶۴ء/ ۴۴۔ ۱۳۴۳ہش صفحہ ۲۱۔
    ۲۲۸۔
    الفضل ۲۱۔ احسان/ جون ۱۹۵۵ء/ ۱۳۳۴ہش صفحہ ۱۔
    ۲۲۹۔
    المنار جلد ۱۲ شمارہ ۲` ۳ صفحہ ۵ و ۶۔
    ۲۳۰۔
    الفضل ۱۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش صفحہ ۸۔
    ۲۳۱۔
    سالانہ رپورٹ تعلیم الاسلام کالج ۶۲۔ ۱۹۶۱ء صفحہ ۴۔
    ۲۳۲۔
    الفضل ۸۔ فتح/ دسمبر ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش۔
    ۲۳۳۔
    الفضل ۱۴۔ فتح/ دسمبر ۱۹۶۲ء/ ۱۳۴۱ہش۔
    ۲۳۴۔
    المنار جلد ۱۴ شمارہ ۳ و ۴۔
    ۲۳۵۔
    المنار اخاء۔ نبوت۔ فتح/ اکتوبر ۔ نومبر۔ دسمبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش صفحہ ۱۶۔
    ۲۳۶۔
    الفضل اخاء/ اکتوبر ۱۹۶۳ء/ ۱۳۴۲ہش صفحہ ۱۔
    ۲۳۷۔
    الفضل ۱۵۔ فتح/ دسمبر ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش۔
    ‏vat,10.10
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    سپین میں پرچم اسلام لہرانے سے دور جدید کے پہلے جلسے تک
    دوسرا باب )فصل اول(
    سپین میں پرچم اسلام لہرانے کا عزم` خلیفہ وقت کی حفاظت کا مسئلہ` برصغیر کی احمدی جماعتوں کے لئے الانذار` سیدنا المصلح الموعود کی آخری شادی` سیتارتھ پرکاش کے مکمل جواب کی تجویز` مصلح موعود کے دور جدید کا پہلا سالانہ جلسہ اور دوسرے اہم متفرق واقعات
    )ماہ شہادت/ اپریل و ماہ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش(
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    ہم تعلیم الاسلام کالج کی مفصل تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہ امان/ احسان ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش سے ابتدا کرکے ۱۹۶۵ء/ ۱۳۴۴ہش کے آخر تک پہنچ گئے تھے۔ اب ہم ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے بقیہ اہم واقعات کی طرف پلٹتے ہیں۔
    جماعت کو صحابہ کے بابرکت وجود سے فائدہ اٹھانے کی خاص ہدایت
    حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ ہمیشہ ہی ¶احباب جماعت کو یہ تلقین فرماتے رہتے تھے کہ وہ صحابہ کے مبارک
    زمانہ کو غنیمت سمجھیں` ان سے فیض صحبت اٹھائیں اور ان کے رنگ میں رنگین ہوکر زندہ ایمان اور کامل عرفان پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اسی سلسلہ میں حضور نے ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے آغاز میں ایک درد انگیز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابہ میں سے خصوصاً حضرت منشی رستم علی صاحب )آف مدار ضلع جالندھر( کے جذبہ ایثار و فدائیت کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ۔
    >چوہدری رستم علی صاحبؓ غالباً پہلے سب انسپکٹر تھے۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان کو انسپکٹر بنادیا۔ سب انسپکٹری کی تنخواہ میں سے وہ ایک معقول رقم ماہوار چندہ کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو بھجوایا کرتے تھے۔ اس وقت غالباً ان کی اسی روپے تنخواہ تھی۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان کو انسپکٹر بنا دیا۔ اور ان کی ایک سو اسی روپے تنخواہ ہوگئی۔ جب ان کا خط آیا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام بیمار تھے۔ میں نے خود ان کا خط پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو سنایا۔ انہوں نے خط میں لکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے عہدہ میں ترقی دے کر تنخواہ میں ایک سو روپیہ کی زیادتی عطا فرمائی ہے۔ مجھے اپنے گزارہ کے لئے زیاد روپوں کی ضرورت نہیں۔ میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے میری تنخواہ میں یہ اضافہ محض دین کی خدمت کے لئے کیا ہے اس لئے میں آئندہ علاوہ اس چند کے جو میں پہلے ماہوار بھیجا کرتا ہوں یہ سو روپیہ بھی جو مجھے ترقی کے طور پر ملا ہے ماہوار بھیجتا رہوں گا۔
    دیکھو اس قسم کے نمونے آج کل کتنے نادر ہیں؟ مگر اس وقت کثرت سے جماعت میں اس قسم کے نمونے پائے جاتے تھے۔ لیکن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی وفات کے بعد ان کو دیکھا کہ ان کے دل اس بات پر خوش نہیں تھے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ کافی تھا بلکہ بعد میں جب انہوں نے محسوس کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا وجود اس سے بہت زیادہ اہم تھا جتنا انہوں نے سمجھا اور اس سے بہت زیادہ آپ کے وجود پر دنیا کی ترقی کا انحصار تھا جس قدر انہوں نے پہلے خیال کیا تو ان کے دل روتے تھے کہ کاش انہیں یہ بات پہلے معلوم ہوتی اور وہ اس سے بھی زیادہ خدمت کرسکتے۔ مگر پھر انہیں یہ موقعہ نصیب نہ ہوا اور وقت ان کے ہاتھ سے چلا گیا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں کئی لوگ ایسے تھے جنہیں قادیان میں صرف دو تین دفعہ آنے کا موقعہ ملا اور انہوں نے اپنے دل میں یہ سمجھا کہ خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ ہمارا قادیان سے تعلق پیدا ہوگیا اور ہم نے زمانہ کے نبی کو دیکھ لیا۔ مگر آج اس چیز کی اس قدر اہمیت ہے کہ ہماری جماعت میں سے کئی لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا زمانہ یاد کرکے بڑے خوشی سے یہ کہنے کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ کاش ہماری عمر میں سے دس یا بیس سال کم ہو جاتے لیکن ہمیں زندگی میں صرف ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دیکھنے کا موقع مل جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا زمانہ تو گزر گیا۔ اب آپ کے خلفاء اور صحابہ کا زمانہ ہے۔ مگر یاد رکھو کچھ عرصہ کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب چین سے لے کر یورپ کے کناروں تک لوگ سفر کریں گے اس تلاش اس جستجو اور اس دھن میں کہ کوئی شخص انہیں ایسا مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے بات کی ہو مگر انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا۔ پھر وہ کوشش کریں گے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے بات نہ کی ہو` صرف مصافحہ ہی کیا ہو۔ مگر انہیں ایسا شخص بھی کوئی نہیں ملے گا۔ پھر وہ کوشش کریں گے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے بات نہ کی ہو آپ سے مصافحہ نہ کیا ہو` صرف اس نے آپ کو دیکھا ہی ہو مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نظر نہیں آئے گا۔ پھر وہ تلاش کریں گے کہ کاش انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے بات نہ کی ہو۔ آپ سے مصافحہ نہ کیا ہو` آپ کو دیکھا نہ ہو` مگر کم سے کم وہ اس وقت اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس کو دیکھا ہو مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نہیں ملے گا لیکن آج ہماری جماعت کے لئے موقع ہے کہ وہ ان برکات کو حاصل کرے<۔۱
    سپین میں اسلامی جھنڈا لہرانے کا عزم صمیم
    مسلم سپین کی تباہی اور بربادی تاریخ اسلام کا نہایت اندوہناک` دردانگیز اور خونچکاں باب ہے جس کے لفظ لفظ پر ہر مخلص اور حساس اور غیور مسلمان کا جگر پاش پاش ہو جاتا` کلیجہ منہ کو آتا` دل غم و اندوہ میں ڈوب جاتا اور آنکھیں بے اختیار خون کے آنسو روتی ہیں۔
    مسلمان سرزمین اندلس )سپین( میں ۷۱۱ء سے ۱۴۹۲ء تک حکمران رہے۔ بعد ازاں اندلس کی اسلامی سلطنت عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ کے قبضہ میں چلی گئی۔ گو فرڈیننڈ نے از روئے معاہدہ مسلمانوں کو مذہب اور زبان کی آزادی دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ۱۴۹۹ء سے ایسے انسانیت سوز اور شرمناک مظالم شروع ہوگئے جو ایک صدی کے اندر اندر اندلسی مسلمانوں کے بالجبر ارتداد` اخراج` قتل عام اور بالاخر ان کے کلیت¶ہ خاتمہ پر منتج ہوئے۔ ملک سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹ گیا اور مسلمانوں کے اس پرشکوہ اور پرعظمت دور کی بجائے آثار قدیمہ کی بعض یادگاریں عمارتوں یا کھنڈروں کی صورت میں باقی رہ گئیں۔ مسلم سپین میں پیدا ہونے والے وہ سینکڑوں مفسر` فقیہ` فلسفی` صوفی ادیب اور جرنیل اور تاجدار جن کی خاک پانے اس ملک کو ہمدوش ثریا بنا دیا تھا اب زیر خاک آسودہ ہیں اور عظمت اسلام کا خزانہ لٹ چکا ہے!!۲
    اللہ تعالیٰ نے سیدنا المصلح الموعود کو ملت اسلامیہ کے لئے ایک مضطرب اور دردمند دل بخشا تھا۔ حضور ہمیشہ مسلمانوں کی گزشتہ حکومتوں کی تاریخ عروج و زوال کا خاص طور پر مطالعہ فرماتے اور آبدیدہ ہوجاتے تھے۔ خصوصاً اسلامی ریاست میسور اور اسلامی سپین کے صفحہ ہستی سے معدوم کئے جانے کے لرزا دینے والے واقعات سے آپ کے قلب مبارک پر سخت چوٹ لگتی۔ یہی وجہ ہے کہ حضور کی تقریروں اور تحریروں میں میسور کے آخری بادشاہ حضرت ابوالفتح فتح علی ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ اور ہسپانوی جرنیل عبدالعزیز جیسے اسلام کے فدائیوں اور شیدائیوں کی جاں فروشی اور جاں نثاری کے تذکرے ہمیں ملتے ہیں۔ مگر تحریک احمدیت جس کے آپ سپہ سالار تھے چونکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی علمبردار تحریک ہے اور ایک روشن مستقل کا امید افزاء پیغام لے کر اٹھی تھی اس لئے جہاں اس دور کے دوسرے مسلمان زعماء مسلمان شاعر` مسلمان فلاسفر اور مسلمان خطیب عبرت نامہ اندلس پر قلم اٹھاتے یا لب کشائی کرتے ہوئے محض مرثیہ خواں بن کے رہ گئے تھے وہاں سیدنا المصلح الموعودؓ نے یہ پر شوکت نعرہ بلند کیا کہ ہم قرطبہ` زہراء` غرناطہ` مالقہ` طلیطلہ اور ہسپانیہ کے دوسرے شہروں میں ہی نہیں اس کے ذرہ ذرہ پر دوبارہ اسلام کا جھنڈا گاڑیں گے۔
    چنانچہ حضرت امیر المومنین المصلح الموعودؓ نے ۷۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو قادیان میں ایک ولولہ انگیز خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    >تاریخ اسلام کی ان باتوں سے جو مجھے بہت پیاری لگتی ہیں۔ ایک بات ایک ہسپانوی جرنیل کی ہے جن کا نام غالباً عبدالعزیز تھا۔ جب سپین میں مسلمانوں کی طاقت اتنی کمزور ہوگئی کہ ان کے ہاتھ میں صرف ایک قلعہ رہ گیا جو آخری قلعہ تھا تو عیسائیوں نے ان کے سامنے بعض شرائط پیش کیں اور کہا کہ اگر بچنا چاہتے ہو تو ان کو مان لو۔ وہ شرائط ایسی تھیں کہ جنہیں مان کر اسلام سپین میں عزت کے ساتھ نہ رہ سکتا تھا۔ بادشاہ وقت ان شرائط کو ماننے کے لئے تیار ہوگیا۔ دوسرے جرنیل بھی تیار تھے۔ مگر یہ جرنیل کھڑا ہوا اور کہا کہ اے لوگو! کیا کرتے ہو؟ کیا تمہیں یقین ہے کہ عیسائی اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔ ہمارے باپ دادا نے سپین میں اسلام کا بیج بویا تھا۔ اب تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اس درخت کو گرانے لگے ہو۔ ان لوگوں نے کہا کہ سوائے اس کے ہوکیا سکتا ہے۔ دشمن سے کامیاب مقابلہ کی صورت ہے ہی کیا؟ اس جرنیل نے کہا۔ یہ سوال نہیں کہ دشمن سے کامیاب مقابلہ کی صورت کیا ہے؟ نہ ہمیں اس کے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنا فرض ادا کرنا چاہئے اور ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ مر جائے مگر ان شرائط کو تسلیم نہ کرے اس طرح یہ ذلت تو نہ اٹھانی پڑے گی کہ اپنے ہاتھ سے حکومت دشمن کو دے دیں۔ جو کچھ تمہارے اختیار کی بات ہے وہ کردو اور باقی خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یہ بات سن کر وہ لوگ ہنسے اور کہا کہ اس قربانی کا کیا فائدہ؟ اور سب نے انکار کیا۔ مگر اس نے کہا کہ اگر تم اس بے غیرتی کو پسند کرتے ہو تو کرو میں تو اپنے ہاتھ سے اسلامی جھنڈا دشمن کے حوالے نہ کروں گا۔ قریباً ایک لاکھ کا لشکر تھا جو قلعہ کے باہر جمع تھا۔ وہ اکیلا ہی تلوار لے کر باہر نکلا۔ دشمن پر حملہ کر دیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔ بے شک اس کی شہادت کے باوجود سپین میں مسلمانوں کی حکومت تو قائم نہ رہ سکی مگر اس کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گیا اور موت اسے مٹا نہ سکی۔ وہ بادشاہ اور جرنیل جنہوں نے اس کے مشورہ کو تسلیم نہ کیا اور اپنی جانیں بچانی چاہیں وہ مٹ گئے۔ ان کا ذکر پڑھ کر اور سن کر ہم اپنے نفسوں کو بڑے زور سے ان پر *** کرنے سے روکتے ہیں۔ لیکن کبھی سپین کے حالات کا میں مطالعہ نہیں کرتا یا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ باتیں میرے ذہن میں آئی ہوں اور اس جرنیل کے لئے دعائیں نہ نکلتی ہوں۔ اس کے خون کے قطرے آج بھی سپین کی وادیوں میں ہم کو آوازیں دیتے ہیں کہ آئو! اور میرے خون کا انتقام لو۔ بے شک وہ بہادر جرنیل مر گیا۔ مگر مرنا ہے کیا؟ کیا یوں لوگ نہیں مرتے؟ کیا وہ بادشاہ اور جرنیل جو دشمن سے نہ لڑے مر نہ گئے؟ وہ بھی ضرور مر گئے۔ لیکن ان کے لئے ہمارے دلوں سے *** نکلتی ہے اور اس جرنیل کے لئے دعائیں۔
    آج بھی اس کی کشش ہمیں سپین کی طرف بلارہی ہے اور اگر مسلمانوں کی غیرت قائم رہی اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بعثت سے ظاہر ہوتا ہے نہ صرف قائم رہے گی بلکہ ترقی کرے گی اور پہلے سے بھی بڑھ کر ظاہر ہوگی کہ تو وہ دن دور نہیں جب اس جرنیل کے خون کے قطروں کی پکار` اس کی جنگلوں میں چلانے والی روح اپنی کشش دکھائے گی اور سچے مسلمان پھر سپین پہنچیں گے اور وہاں اسلام کا جھنڈا گاڑ دیں گے۔ اس کی روح آج بھی ہمیں بلارہی ہے اور ہماری روحیں بھی یہ پکار رہی ہیں کہ اے شہید وفا! تم اکیلے نہیں ہو۔ محمد رسول اللہ~صل۱~ کے دین کے سچے خادم منتظر ہیں۔ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی وہ پروانوں کی طرح اس ملک میں داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو وہاں پھیلائیں گے۔
    یہ سوال نہیں کہ ہم امن پسند جماعت ہیں۔ مخالف امن پسندوں پر بھی تلوار کھینچ کر ان کو مقابلہ کی اجازت دلوا دیا کرتے ہیں۔ کیا محمد رسول اللہ~صل۱~ امن پسند نہ تھے۔ مگر مخالفین کے ظلموں کی وجہ سے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو مقابلہ کی اجازت دے دی۔ جیسا کہ فرمایا اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا وان اللہ علی نصرھم لقدیر۔۳ جن لوگوں کو خواہ مخواہ نشانہ مظالم بنایا گیا ہے اب ان کو بھی اجازت ہے کہ مقابلہ کریں۔
    پس سپین کے لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یوں مقدر ہے تو ہماری تبلیغ و تعلیم سے ہی کفر و شرک کو چھوڑ دیں گے اور یا پھر ہم پر اتنا ظلم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقابلہ کی اجازت ہو جائے گی اور وہ جنہوں نے کان پکڑ کر مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکالا تھا کان پکڑ کر محمد~صل۱~ کے مزار پر حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ حضور کے غلام حاضر ہیں اور اس اکیلے لڑنے والے کی روح ناکام نہیں رہے گی<۔۴
    مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش میں خلیفہ وقت کی حفاظت کا مسئلہ
    ۱۹۴۴/ ۱۳۲۳ہش کی مجلس مشاورت ۷` ۸` ۹۔ شہادت/ اپریل کو منعقد ہوئی جس میں دوسرے معاملات کے علاوہ خلیفہ وقت کی حفاظت کا مسئلہ
    بھی زیر بحث آیا اور حکیم خلیل احمد صاحب مونگھیری` چوہدری اعظم علی صاحب` ملک عبدالرحمن صاحب خادم` ماسٹر غلام محمد صاحب` چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ` مولوی محمد احمد صاحب ثاقب` شیخ نیاز احمد صاحب` محمد عبداللہ صاحب` سید ارتضیٰ علی صاحب` میاں غلام محمد صاحب اختر` غلام حسین صاحب` مولوی ظہور حسین صاحب` پیر صلاح الدین صاحب` پیر اکبر علی صاحب` مولوی ابوالعطاء صاحب` بابو عبدالحمید صاحب` مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے اپنے اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کیا اور مختلف تجویزیں پیش کیں۔ اس ضمن میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے فرمایا۔
    >نظام خلافت کی حفاظت کے ساتھ خلفاء کی حفاظت کا گہرا تعلق ہے جو قوم نظام خلافت کی حفاظت نہیں کرسکتی وہ خلافت سے محروم ہو جاتی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی حفاظت مسلمانوں نے کی۔ اس لئے حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے انہیں پہلے سے زیادہ برکات دیں۔ بعد میں آنے والے خلیفوںؓ کے وقت میں خدا تعالیٰ کی تائید اس پایہ کی نہ تھی جس پایہ کی حضرت عمرؓ کے زمانہ میں تھی جب مسلمانوں نے غفلت کی تو تین دفعہ غفلت کے بعد مسلمانوں سے خلافت چھین لی۔
    حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی حفاظت کے لئے دونوں قسم کے انتظامات کی ضرورت ہے۔ رضاکارانہ اور بامعاوضہ۔ رضاکارانہ حفاظت میں ہوسکتا ہے کہ ۲۴ گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ خالی رہ جائے۔ انتظام کو مکمل رکھنے کے لئے تنخواہ دار پہریداروں کی بھی ضرورت ہے۔
    پھر نظام خلافت قائم رکھنے کے لئے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ صرف یہی کافی ہے کہ بارہ یا پندرہ آدمی رکھ دیئے جائیں۔ میرے نزدیک ۲۰۰ آدمیوں کا وجود بھی خلیفہ کی حفاظت کے لئے کافی نہیں اور نہ معلوم ہمیں کس وقت اس کے لئے ایک ہزار آدمیوں کی ضرورت ہو۔ ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ خلیفہ کے وجود کو قائم رکھ کر نظام خلافت کی حفاظت کریں خواہ ایک سو آدمی اس کام پر متعین ہوں۔ تب بھی ہم میں سے ہر شخص اس کے لئے بے قرار ہو اور وہ تہیہ کئے ہو کہ ہم نے خلیفہ کی حفاطت کرکے نظام خلافت کی حفاظت کرنی ہے<۔۵
    بالاخر کثرت رائے سے یہ قرار پایا کہ۔
    >حضور کی خدمت میں سفارش کی جائے کہ حضور ماہر اصحاب کی ایک کمیٹی مقرر فرمائیں جو حضور کی خدمت میں رپورٹ پیش کرے۔ اس کا مالی حصہ بجٹ کمیٹی میں پیش کردیا جائے۔ حضور دونوں رپورٹوں کے بعد اس کے متعلق خود فیصلہ فرماویں<۔۶
    اس بحث کے دوران چونکہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ اجلاس میں تشریف فرما نہ تھے اس لئے چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے )جن کی زیر صدارت یہ کارروائی ہوئی تھی( یہ سفارش سیدنا حضرت المصلح الموعود کی خدمت میں پہنچا دی جو حضور نے بھی قبول فرمالی اور ساتھ ہی ناظر صاحب امور عامہ` چوہدری فتح محمد صاحب سیال` حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ اور شیخ نیاز احمد صاحب پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کے بعد شیخ نیاز احمد صاحب نگران حفاظت مقرر ہوئے اور پہرہ داروں میں بھی اضافہ کیا گیا جس سے حضرت سیدنا المصلح الموعود کی حفاظت کا انتظام پہلے سے نسبتاً زیادہ عمدہ صورت میں قائم ہوگیا۔
    جماعت میں ضلع وار نظام کا قیام
    مرکز سلسلہ کی صوبہ پنجاب کے اضلاع کی متفرق اور کثیر جماعتوں کی براہ راست نگرانی کا مسئلہ روز بروز مشکل اور پیچیدہ ہورہا تھا۔ اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کی تجویز پر ضلع وار نظام کے قیام کا فیصلہ فرمایا اور اس نئی سکیم کے تجربہ کے لئے سب سے پہلے گورداسپور` لاہور` لائل پور` گجرات` گوجرانوالہ` سرگودھا` فیروزوالہ` سیالکوٹ` جالندھر اور ہوشیارپور کے اضلاع تجویز کئے گئے۔
    ضلع وار نظام کے حسب ذیل فرائض قرار پائے۔
    ۱۔
    تبلیغ اسلام` تربیت جماعت اور چندوں کی وصولی میں مرکز سلسلہ کی اعانت۔
    ۲۔
    علاقہ کے تمام احمدی بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام۔
    ۳۔
    چندوں کے متعلق افراد کے کھاتے رکھنا۔
    ۴۔
    مرکزی ہدایات و تحریکات کا تمام حلقہ میں اجراء اور ان کی تعمیل اور نگرانی اور اس کے متعلق مرکز سلسلہ کو ہدایات کے ماتحت رپورٹ دینا اور ضلع کے عام حالات سے مطلع رکھنا۔
    ۵۔
    آنریری مبلغ اور کارکن پیدا کرنا جو سالانہ ایک مہینہ مسلسل تبلیغ کے لئے وقت دیں اور ایسے لوگوں کی تعداد پانچ فی صدی تک ہونی چاہئے۔
    ۶۔
    ہر سال اس نظام کے مرکزی مقام یا کسی دوسرے اہم مقام پر سالانہ جلسہ کرنا۔
    ۷۔
    ہر ایک جماعت کا دورہ سال میں دو دفعہ لازماً کرنا۔ پہلے دورہ میں امیر کے ساتھ کلرک متعینہ ہوگا اور دوسرے دورہ میں کلرک متعینہ کے ساتھ اس ضلع کے دوسرے بااثر اور صاحب علم دوست ہوں گے۔ پہلے دورہ کی غرض جماعتوں میں انتظام تبلیغ و انتظام تعلیم و تربیت کا استحکام ہوگا اور دوسرے دورہ کا مقصد تحریک چندہ اور اس سے متعلق امور۔۷
    سیدنا المصلح الموعود کا ایک ضروری خطبہ واقفین زندگی کے نکاحوں سے متعلق
    ۱۰۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے بعد نماز عصر مسجد مبارک میں مکرم مولوی نورالحق
    صاحب ۸ واقف زندگی تحریک جدید کے نکاح کا اعلان فرمایا اور ساتھ ہی وضاحت بھی فرمائی کہ۔
    >میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ میں سوائے اپنے عزیزوں کے اور کسی کا نکاح نہیں پڑھائوں گا۔ مگر چونکہ یہ واقف زندگی ہیں اور اس وجہ سے میرے عزیزوں میں شامل ہیں اس لئے میں اس نکاح۹ کا اعلان کررہا ہوں<۔
    حضور پرنور نے اپنے خطبہ نکاح میں جماعت کی اصلاح اور اس کے حالات کی درستی کے لئے دو نہایت اہم اور ضروری باتوں کی طرف توجہ دلائی۔
    ۱۔ پہلی اصلاح طلب بات حضور نے یہ بیان فرمائی کہ۔
    >جب کبھی وقف زندگی کی تحریک کی جائے اور نوجوانوں سے کہا جائے کہ وہ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کریں تو اول تو کھاتے پیتے لوگوں کی اولاد وقف زندگی کی طرف آتی ہی نہیں اور پھر جو لوگ آتے ہیں امراء ان کی طرف تحقیر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ ان سے بات کرنا یا ان کے ساتھ چلنا پھرنا ہماری طرف سے ایک قسم کا تذلل ہے ورنہ خود یہ اس بات کے مستحق نہیں ہیں۔ اس طرح ان کی شادیوں اور بیاہوں میں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں اور میرے نزدیک یہ امر بہت بڑے قومی تنزل کی ایک علامت ہے۔ اگر واقعہ میں درست ہے کہ ان اکرمکم عند اللہ اتقکم۱۰ تو خدا تعالیٰ کے حضور جن کو عزت حاصل ہو ہمیں ان ہی کو عزت دینی چاہئے یا تو ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ جو شخص بڑا دنیادار ہو وہ خدا تعالیٰ کے حضور معزز ہوتا ہے اور اگر یہ بات درست نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ جن کو عزت دیتا ہے یقیناً ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم انہیں کو عزت دیں اور ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت پانے والے کے مقابلے میں دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ نہ قیصر اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت رکھتا ہے نہ کوئی اور بادشاہ یا پریذیڈنٹ اس کے مقابل پر کوئی عزت رکھتا ہے۔ بے شک دینوی بادشاہ بھی عزتیں رکھتے ہیں مگر انہیں دنیا کی عزتیں ہی حاصل ہیں` اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی کوئی عزت نہیں<۔
    ۲۔ دوسری ضروری بات جو براہ راست واقفین زندگی سے متعلق تھی وہ حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔ حضور نے فرمایا۔
    >اس کے مقابلہ میں جو واقف ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ جب غریب لڑکیوں کے رشتے ان کے سامنے پیش کئے جائیں تو وہ ان میں کئی کئی نقص نکالیں گے۔ کبھی کہیں گے تقویٰ اعلیٰ درجہ کا نہیں۔ کبھی کہیں گے تعلیم زیادہ اعلیٰ نہیں۔ کبھی کہیں گے سلسلہ سے انہیں محبت کم ہے لیکن جہاں کسی کھاتے پیتے آدمی کا رشتہ ان کے سامنے آجائے تو وہ فوراً کہہ دیں گے ہاں ٹھیک ہے۔ یہ لڑکی نیک اور دیندار ہے۔ اس وقت انہیں نیکی بھی نظر آنے لگ جائے گی۔ اتقاء بھی نظر آنے لگ جائے گا۔ تعلیم بھی نظر آنے لگ جائے گی اور وہ اس رشتہ پر رضامند ہو جائیں گے<۔۱۱
    حضرت امیر المومنین المصلح الموعودؓ نے خطبہ کے آخر میں جماعت احمدیہ کو یہ نصیحت فرمائی کہ۔
    >یاد رکھو دنیا انہی لوگوں کے پیچھے پھرا کرتی ہے جو دنیا کو کلی طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ خدا کے لئے دنیا چھوڑتے ہیں اور دنیا کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگتی پھرتی ہے اور انسان حیران ہوتا ہے کہ اب میں جائوں کہاں! لیکن جب تک دنیا پر نگاہ رکھی جائے دنیا آگے آگے بھاگتی ہے اور انسان اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہے مگر پھر بھی اسے دنیا حاصل نہیں ہوتی<۔۱۲
    جذبہ اطاعت کے فروغ کے لئے اہم خطبہ
    سیدنا المصلح الموعود کی خدمت میں یہ انتہائی افسوسناک اطلاعات پہنچیں کہ بعض نوجوان سلسلہ کے نظام کا احترام نہیں کرتے اور اپنے افسروں کی اطاعت کرنے کی بجائے سرکشی اختیار کرتے ہیں۔ یہ چیز چونکہ سلسلہ احمدیہ کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس لئے حضرت سیدنا المصلح الموعود نے ۲۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو اطاعت کی اہمیت پر ایک مفصل خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا۔
    >سلسلہ مقدم ہے سب انسانوں پر` سلسلہ کے مقابلہ میں کسی انسان کا کوئی لحاظ نہیں کیا جائے گا خواہ وہ کوئی ہو۔ حتیٰ کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا بھی مجرم ہو تو اس کا بھی لحاظ نہیں کیا جائے گا۔ کوئی انسان بھی سلسلہ سے بالا نہیں ہوسکتا۔ اسلام اور قرآن محمد رسول اللہ~صل۱~ سے بھی بالا ہیں۔ اسی طرح احمدیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے بھی بالا ہے۔ اسلام اور احمدیت کے لئے اگر ہمیں اپنی اولادوں کو بھی قتل کرنا پڑے ہم اپنے ہاتھوں سے قتل کردیں گے لیکن سلسلہ کو قتل نہ ہونے دیں گے۔
    پس تم اپنے اندر سلسلہ کی صحیح اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ پیدا کرو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ کا فضل تم پر نازل ہو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ بے دینوں کی موت نہ مرو اور ایسے مقام پر کھڑے نہ ہو کہ موت سے پہلے اللہ تعالیٰ تم کو مرتدین میں داخل کردے تو اپنے اندر صحیح اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ پیدا کرو۔ احمدیت یقیناً خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ احمدیت ایک ایسی دھار ہے کہ جو بھی اس کے سامنے آئے گا وہ مٹا دیا جائے گا۔ یہ تلوار کی دھار ہے اور جو بھی اس کے سامنے کھڑا ہوگا وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔ خدا تعالیٰ جس سسلسلہ کو قائم کرنا چاہے اس کی راہ میں جو بھی کھڑا ہو وہ مٹا دیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لئے اس کے مقابلہ میں کسی انسان کی پروا نہیں کی جائے گی خواہ وہ کوئی ہو` خواہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا کیوں نہ ہو` خواہ وہ میرا بیٹا کیوں نہ ہو۔ سلسلہ مقدم اور غالب ہے ہر انسان پر<۔۱۳
    برصغیر کی احمدی جماعتوں کے لئے >الانذار<
    تحریک جدید کے مجاہدین کے ذریعہ سے بیرونی ممالک خصوصاً مغربی افریقہ میں احمدیت کی اشاعت کے مراکز قائم ہوچکے تھے اور بعض مقامات پر جماعت کی رفتار ترقی برصغیر کی احمدی جماعتوں کی نسبت تیز تھی اور نظر آرہا تھا کہ اگر مرکزی جماعتوں نے تبلیغ اسلام کی اہمیت نہ سمجھی اور اس بارے میں چستی` ہوشیاری اور فرض شناسی کا ثبوت نہ دیا تو دینی قیادت کی زمام بیرونی جماعتوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی اور وہ اسلامی مسائل میں دوسروں کے رحم و کرم پر ہوں گے اور دین کا وہ نقشہ اپنے یہاں رائج کرنے پر مجبور ہوں گے جو خالص ان کے ذہنوں کی پیداوار ہوگا۔
    مستقبل کے اعتبار سے یہ ایک عظیم خطرہ تھا جسے سیدنا المصلح الموعود کی دوربین اور معاملہ فہم آنکھ مدتوں قبل بھانپ چکی تھی اور حضور اسی لئے جماعت کو تبلیغ اسلام کی طرف بار بار توجہ دلاتے آرہے تھے۔ اس سال بھی حضور نے ۱۶۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے خطبہ جمعہ میں جماعت کو زبردست انذار و انتباہ کیا اور مرکزی جماعتوں کی تبلیغی غفلت کے بھیانک اور خوفناک نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ۔
    >اس صورت میں باہر کے لوگوں کی باگ سنبھالنا بھی ان کے لئے سخت مشکل ہو جائے گی۔ وہ لوگ کہیں گے تمہارا کیا حق ہے کہ ہماری رہنمائی کرو۔ ہم تعداد میں تم سے زیادہ ہیں` ہم قربانیوں میں تم سے زیادہ ہیں اور تم ہمارے مقابلہ میں کوئی نسبت نہیں رکھتے۔ اس لئے لوگوں کی رہنمائی کا حق ہمیں حاصل ہونا چاہئے اور مرکز ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہئے تاکہ ہم جس طرح چاہیں دین کی اشاعت کا کام کریں۔ تب احمدیت کے لئے وہی خطرہ کی صورت پیدا ہو جائے گی جو روما میں عیسائیت کے لئے پیدا ہوئی۔ جب فلسطین میں عیسائیوں کی تعداد کم ہوگئی اور اٹلی میں عیسائیت زیادہ پھیلنی شروع ہوئی تو عیسائیت کا مرکز فلسطین نہ رہا بلکہ اٹلی بن گیا اور چونکہ وہ مرکز کفر تھا اس لئے عیسائیت کفر کے رنگ میں رنگین ہونی شروع ہوگئی<۔۱۴
    اس ضمن میں حضور نے تبلیغ کا بہترین طریق یہ تجویز فرمایا کہ۔
    >انسان اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کے پاس چلا جائے اور ان سے کہے کہ اب میں نے یہاں سے مر کر ہی اٹھنا ہے ورنہ یا تم مجھ کو سمجھا دو کہ میں غلط راستہ پر ہوں اور یا تم سمجھ جائو کہ تم غلط راستے پر جارہے ہو۔ اس عزم اور ارادہ سے اگر ساری جماعت کھڑی ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں ابھی ایک سال بھی ختم نہیں ہوگا کہ ہماری ہندوستان کی جماعت میں صرف احمدیوں کے رشتہ داروں کے ذریعہ ہی ایک لاکھ احمدی بڑھ جائیں گے<۔۱۵
    یہ تحریک اتنی موثر اور کارگر تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے >ناظرین اہلحدیث ہوشیار ہوجائیں۔ مرزائیت کا بم آتا ہے< کے عنوان سے لکھا۔
    >خلیفہ قادیان نے اپنے مریدوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے گھر جائیں اور ان کو احمدیت کی تبلیغ کریں اور کہہ دیں کہ اب میں نے یہاں سے مرکر ہی اٹھنا ہے ورنہ یا تم مجھ کو سمجھا دو کہ میں غلط راستہ میں ہوں اور یا تم خود سمجھ لو کہ تم غلط راستہ پر جارہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناظرین >اہلحدیث< مرزائیت کی اس تعلیم کو معمولی نہ سمجھیں<۔۱۶
    ایک اور پرچہ میں مزید لکھا۔
    >قادیانی خلیفہ اور ان کی وزارت آئے دن ایسے تاکیدی حکم جاری کرتے رہتے ہیں جن سے مرزائیت ترقی کرے۔ ہمارے دوست ان تدبیروں کے جوڑ توڑ سے غافل ہیں۔ غفلت کا نتیجہ جو ہوتا ہے وہ ظاہر ہے<۔۱۷
    مولوی محمد علی صاحب کو دعوت مباہلہ اور ان کا گریز
    مولوی محمد علی صاحب )امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور( نے ۲۶۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو احمدیہ بلڈنگس کی مسجد میں منبر پر کھڑے ہوکر یہ بے بنیاد اور ناپاک الزام لگایا کہ۔
    >خوب یاد رکھو قادیان والوں نے کلمہ طیبہ کو منسوخ کردیا ہے۔ اس میں تمہارے دل میں شک نہیں ہونا چاہئے<۔۱۸
    سیدنا حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے اس ظالمانہ حملہ کا نوٹس لینا ضروری سمجھا اور اس کے جواب میں ۲۳۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے خطبہ جمعہ میں مولوی محمد علی صاحب کو دعوت مباہلہ دی اور نہایت پر جلال الفاظ میں فرمایا۔
    >یہ ایک ایسا اتہام ہے کہ میں سمجھ نہیں سکتا کہ اس سے بڑا جھوٹ بھی کوئی بول سکتا ہے۔ وہ قوم جو کلمہ طیبہ کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہو اس پر یہ الزام لگانا کہ وہ اسے منسوخ قرار دیتی ہے` اتنا بڑا ظلم ہے اور اتنی بڑی دشمنی ہے کہ ہماری اولادوں کو قتل کردینا بھی اس سے کم دشمنی ہے۔ ہماری اولادوں کو قتل کردینا اتنی بڑی دشمنی نہیں جتنا یہ کہنا کہ ہم لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے منکر ہیں اور ایسا جھوٹ بولنے والے کے دل میں خدا تعالیٰ اور رسول کریم~صل۱~ کی محبت ہرگز نہیں ہوسکتی جس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت ہو وہ ایسا جھوٹ کبھی نہیں بول سکتا۔ یہ ہم پر اتنا بڑا الزام ہے کہ ہمارے کسی بڑے سے بڑے مگر شریف دشمن سے بھی پوچھا جائے تو وہ یہ کہے گا کہ یہ جھوٹ ہے اور میں سمجھتا ہوں۔ اب فیصلہ کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے۔ اگر مولوی صاحب میں تخم دیانت باقی ہے تو وہ اور ان کی جماعت ہمارے ساتھ اس بارہ میں مباہلہ کریں کہ آیا ہم کلمہ طیبہ کے منکر ہیں<۔
    اس دعوت مباہلہ کے ساتھ ہی حضرت سیدنا المصلح الموعود نے قبل از وقت یہ بھی بتا دیا کہ۔
    >وہ کبھی اپنے آپ کو اور اپنے بیوی بچوں کو اس مقام پر کھڑا نہ کریں گے بلکہ اس عظیم الشان جھوٹ بولنے کے بعد بزدلوں کی طرح بہانوں سے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو جھوٹوں کی سزا سے بچانے کی کوشش کریں گے<۔۱۹
    آخر وہی ہوا جو حضرت امیر المومنینؓ نے پہلے سے فرما دیا تھا یعنی مولوی صاحب موصوف نہ مباہلہ کے لئے آمادہ ہوئے اور نہ اپنا جھوٹا الزام واپس لینے کو تیار ہوئے۔
    ‏]po [tag
    دوسرا باب )فصل دوم(
    سیدنا المصلح الموعود کے آخری نکاح کی نہایت مبارک تقریب
    تاریخ سلسلہ میں ۲۴۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کا دن ایک خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس روز حضرت سید عبدالستار صاحبؓ کی پوتی اور حضرت سید عزیز اللہ شاہ صاحب کی صاحبزادی سیدہ بشریٰ بیگم صاحبہ۲۰ سیدنا المصلح الموعود کے عقد میں آئیں۔
    حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے ایک بہت بڑے مجمع میں جو مسجد مبارک اور اس کے متصل مکانات اور احمدیہ چوک میں جمع تھا ایک ہزار مہر پر اس نکاح کا اعلان فرمایا۲۱ اور نہایت درد بھرے الفاظ میں خطبہ پڑھا جس میں سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے وہ الہامات بتائے جن کی وجہ سے آپ کو اس تقریب کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔ چنانچہ فرمایا۔
    >ایک دن میں تذکرہ پڑھ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۱۸۔ فروری ۱۹۰۷ء کے حسب ذیل الہامات پڑھے۔
    )۱( کل الفتح بعدہ )۲( مظھر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء۔
    پھر اس کے بعد ۲۰۔ فروری کے یہ الہام درج ہیں۔
    )۱( انی مع الرسول اقوم و الوم من یلوم )۲( پس پاشدہ ہجوم )۳( افسوسناک خبر آئی ہے۔ فرمایا۔ اس الہام پر ذہن کا انتقال بعض لاہور کے دوستوں کی طرف ہوا۔ مگر یہ انتقال ذہن بعد بیداری ہوا۔ الہام بھی شاید اس کے متعلق ہو۔
    )۴( بہتر ہوگا کہ اور شادی کرلیں۔ فرمایا۔ معلوم نہیں کس کی نسبت یہ الہام ہے<۔ )تذکرہ صفحہ ۶۴۴(۲۲
    ۱۸۔ فروری کا الہام مظھر الحق والعلاء وہ الہام ہے جو اس سے پہلے پسر موعود کے متعلق ہوچکا تھا۔ جب میں نے یہ الہام پڑھا تو میرے ذہن میں یہ آیا کہ یہ پیشگوئی دوبارہ بیان کی گئی ہے اور عجیب بات یہ نظر آئی کہ پہلی پیشگوئی بھی فروری میں کی گئی تھی اور یہ الہام بھی فروری کا ہے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا یعنی آپ کی وفات سے قریباً سوا سال قبل اللہ تعالیٰ نے پھر اس پیشگوئی کو دہرایا۔ تا ایک لمبا عرصہ گزر جانے کی وجہ سے لوگ یہ نہ سمجھیں کہ یہ منسوخ ہوگئی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ کل الفتح بعدہ کہ اس نشان کے بعد اصل فتوحات ہوں گی۔ پھر آگے اسی سلسلہ میں یہ الہام ہے کہ انی مع الرسول اقوم والوم من یلوم۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جب اس پیشگوئی کا ظہور ہوگا تو چاروں طرف سے دشمن حملہ کرے گا۔ چنانچہ اس طرف مجھ پر اس پیشگوئی کا انکشاف ہوا اور ادھر پیغامیوں نے مخالفت کی آگ پورے زور کے ساتھ بھڑکا دی اور طرح طرح کے اتہامات` جھوٹ اور کذب بیانیوں سے کام لینا شروع کر دیا۔ مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ >پسپا شدہ ہجوم< اس کا مفہوم وہی ہے جو قرآن کریم کی آیت سیھزم الجمع ویولون الدبر کا ہے۔ یعنی سب دشمن جمع ہوکر حملہ کریں گے مگر اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل و رسوا کرے گا اور وہ شکست کھا جائیں گے۔ یہ الہام اس دوسرے الہام سے جو پسر موعود سے متعلق ہے بہت ملتا ہے کہ جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ یعنی جب پسر موعود ظاہر ہوگا تو حق آجائے اور باطل بھاگ جائے گا۔ باطل تو بھاگنے ہی کی اہلیت رکھتا ہے۔ پھر اس الہام کے بعد یہ الہام ہے کہ >افسوسناک خبر آئی< چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس انکشاف کے سوا ماہ بعد ام طاہر مرحومہ کی وفات ہوئی۔ اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ذہن کا انتقال بعض لاہور کے دوستوں کی طرف ہوا۔ گو یہ انتقال ذہنی تھا۔
    مگر واقعہ نے بتادیا کہ درحقیقت یہ الہام لاہور ہی کے بارہ میں تھا کیونکہ ام طاہر احمد لاہور میں ہی فوت ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کے الہامات فضول نہیں ہوتے۔ خالی یہ خبر دینا کہ ایک افسوسناک خبر آئی بغیر ایسے قرینے کے جس سے معلوم ہوسکے کہ وہ خبر کس کے متعلق ہے؟ کس قسم کی ہے؟ بالکل بے معنی ہو جاتا ہے لیکن جب ہم یہ امر دیکھیں کہ یہ سلسلہ الہام ہے۔ پہلے پسر موعود کے ظہور کا ذکر ہے` پھر دشمنوں کے شور کا اور ان کی ناکامی کا` پھر ایک افسوسناک خبر کا جس کا نتیجہ یہ پیدا کیا ہے کہ بہتر ہوگا کہ ایک اور شادی کرلیں تو ان الہامات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ افسوسناک خبر کسی کی بیوی کی وفات کی خبر ہے۔ کیونکہ اگلا الہام کسی مرد کی نسبت کہتا ہے کہ بہتر ہے کہ اور شادی کرلیں۔ پس افسوسناک خبر سے مراد اس شخص کی بیوی کی وفات ہی ہوسکتی ہے اور چونکہ اس سلسلہ الہامات میں پسر موعود کے سوا کسی اور مرد کا ذکر نہیں۔ اس لئے یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ فوت ہونے والی بیوی پسر موعود کی بیوی ہوگی جو پسر موعود کے دعوے کے قریب زمانہ میں لاہور میں فوت ہوگی۔ ان تمام الہامات کو پڑھنے کے بعد اور یہ دیکھ کر کہ ادھر مجھ پر اس پیشگوئی کے میری ذات میں پورا ہونے کا انکشاف ہوا` ادھر پیغامیوں نے پورے جوش کے ساتھ حملے شروع کر دیئے۔ پھر ام طاہر کی وفات واقعہ ہوئی۔ میں نے سمجھا کہ شاید میرا یہ نتیجہ نکالنا کہ بچوں کو کسی اور بیوی کے سپرد نہ کرنا چاہئے صحیح ہے اور اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ اور شادی کرنا بہتر ہوگا۔ تب میرا ذہن اس طرف گیا کہ جو دوسری بیوی بھی آئے گی بچے اسے غیر سمجھیں گے اور مرحومہ کے رشتہ دار بھی اس کے پاس نہیں آسکیں گے اور اس طرح بچوں کو دیکھ نہ سکیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان میں سے جو کمزور ہوں گے وہ اس کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو مریم مرحومہ کے ساتھ امتہ الحی مرحومہ کے بعض رشتہ داروں نے کیا تھا۔ اس کا جواب کچھ دن تک میں نہ دیکھ سکا۔ اتفاقاً ایک روز میں نے تذکرہ سے فال دیکھی۔ میں فال کا قائل تو نہیں۔ مگر مصیبت کے وقت بعض دفعہ انسان ان باتوں کی طرف بھی توجہ کرلیتا ہے جن کا وہ قائل نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ ناجائز نہ ہوں۔ میں نے تذکرہ کھولا تو اس میں لفظ
    بشریٰ
    موٹے حروف میں لکھا ہوا نظر آیا۔ اس وقت مجھے معلوم نہیں کہ وہ کونسا صفحہ تھا۔ اسے دیکھ کر میرا ذہن اس طرف گیا کہ میر محمد اسحٰق صاحب مرحوم کی لڑکی کا نام بشریٰ ہے مگر اس سے تو میری شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں نے اس کا ذکر مریم مرحومہ کے خاندان کے بعض افراد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اپنا خیال یہ ہے کہ مرحومہ کے گھر میں کوئی بڑا آدمی ضرور ہونا چاہئے اور اس وجہ سے ہم میں سے بعض کی رائے یہی ہے کہ آپ اور شادی کرلیں تو اچھا ہے اور کہ اگر ہمارے ہی خاندان میں ہو جائے تو اور بھی اچھا ہے۔ اس صورت میں بچوں کی نگرانی زیادہ آسان ہوگی۔ تب میرا ذہن اس طرف گیا کہ ان کے خاندان میں بھی ایک لڑکی بشریٰ نام کی ہے اور اتفاق کی بات ہے کہ بعض بیماریوں کی وجہ سے اس کی شادی اس وقت تک نہیں ہوسکی اور اس کی عمر بھی بڑی ہوگئی ہے اور اس لئے وہ بچوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کا کام زیادہ اچھی طرح کرسکے گی<۔۲۳
    اس سلسلہ میں حضور نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ افراد خاندان میں سے >میری زیادہ بے تکلفی اپنی ہمشیرہ مبارکہ بیگم سے ہے ان سے میں نے ذکر کیا تو انہوں نے تذکرہ کے یہی الہامات مجھے سنائے اور کہا کہ میں تو خود آپ سے کہنا چاہتی تھی<۔۲۴
    الہامات کا تذکرہ کرنے کے بعد مزید بتایا کہ میں نے استخارہ کیا اور اپنے خاندان کے بعض افراد سے مشورہ کیا تو انہوں نے بھی یہی رائے دی کہ سیدہ ام طاہر احمد کے بچوں کے انتظام کے لئے اور شادی ہی مناسب رہے گی۔ علاوہ ازیں مجھے بھی اور نواب مبارکہ بیگم صاحبہ` پروفیسر بشارت الرحمن صاحب ایم۔ اے` اور ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کو بھی واضح خوابیں اس رشتہ کی نسبت آئیں تو میں نے تحریک کے لئے سید ولی اللہ شاہ صاحب کو سیدہ بشریٰ بیگم صاحبہ کے والد سید عزیز اللہ شاہ صاحب کی طرف بھجوایا اور یہ بھی مشورہ دیا کہ لاہور میں اپنے برادر اصغر سید حبیب اللہ شاہ صاحب۲۵ سے بھی ملتے جائیں۔ لاہور پہنچنے پر معلوم ہوا کہ انہیں پہلے ہی کشفاًبتا دیا گیا تھا کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب کس غرض سے آرہے ہیں۔ نیز القاء ہوا >بشریٰ بیگم حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے<
    حضرت سیدہ بشرٰی بیگم صاحبہ سیدنا المصلح الموعودؓ کی حرم سابع ہیں جنہیں خواتین مبارکہ میں شمولیت کے مقدس اعزاز کے علاوہ ایک اور نمایاں خصوصیت بھی حاصل ہے اور وہ یہ کہ حضرت سیدنا المصلح الموعود کو اس رشتہ کے تعلق میں ایک اہم رویاء یہ ہوا تھا >ایک فرشتہ آواز دے رہا ہے کہ مہر آپا کو بلائو جس کے معنے ہیں محبت کرنے والی آپا<۲۶ اس رویاء کے مطابق حضرت سیدہ بشریٰ بیگم صاحبہ خاندان مسیح موعود میں >مہر آپا< ہی کے آسمانی خطاب سے یاد کی جانے لگیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس نام میں خبر دی تھی سچ مچ آپ ہر اعتبار سے مہر آپا ہی ثابت ہوئیں۔ سیدنا المصلح الموعودؓ نے اپنے خطبہ نکاح میں اپنے مولا سے ان کی نسبت یہ دعا کی تھی کہ >غریبوں اور مسکینوں کے لئے ہمدرد اور مہمانوں کے لئے خبر گیر ہو۔ اسلام اور سلسلہ کی خدمت میں اپنی زندگی خرچ کرنے والی ہو<۔۲۷ حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ کا وجود گرامی حضرت سیدنا المصلح الموعود کی اس دعا کی قبولیت کا ایک واضح ثبوت اور آیتہ رحمت ہے۔ اطال اللہ بقاء|ھا۔
    رخصتانہ
    ‏0] ftr[۷۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو سیدہ بشریٰ بیگم صاحبہ کے رخصتانہ کی تقریب عمل میں آئی۔ اس موقعہ پر دعا میں شرکت کی دعوت حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے کئی ایک بزرگان سلسلہ کو دی جو چھ بجے شام کے قریب حضرت سید عزیز اللہ شاہ صاحب کی کوٹھی واقع محلہ دارالانوار میں پہنچ گئے۔ چھ بجے حضرت امیر المومنین المصلح الموعودؓ بھی اپنے خاندان کے بعض افراد اور بعض قدیم صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بعض دوسرے افراد کے ساتھ تشریف لائے جن کے اسماء درج ذیل ہیں۔
    ۱۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ۲۔ حضرت مرزا شریف احمد صاحب ۳۔ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ۴۔ صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب ۵۔ مکرم خان محمد عبداللہ خاں صاحب ۶۔ حضرت چودھری فتح محمد صاحب ناظر اعلیٰ ۷۔ مکرم مرزا رشید احمد صاحب ۸۔ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ۹۔ حضرت پیر افتخار احمد صاحب ۱۰۔ حضرت ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب ۱۱۔ حضرت منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی سابق پٹواری ۱۲۔ حضرت مولوی شیر علی صاحب ۱۳۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ۱۴۔ حضرت میر محمداسمعیل صاحب ۱۵۔ صاحبزادہ میاں عبدالمنان صاحب عمر۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے خاندان کی خواتین مبارکہ بھی تشریف لے گئیں۔ تمام مہمانوں کی چائے اور ماکولات سے تواضع کی گئی۔ آخر میں حضور نے تمام مجمع سمیت دعا فرمائی اور پھر زنان خانہ میں تشریف لے جاکر دوبارہ دعا فرمائی۔ اس کے بعد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین سیدہ بشریٰ بیگم صاحبہ کو موٹر میں بٹھا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے مبارک الدار میں لے آئیں۔۲۸
    ولیمہ
    ۱۵۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو حضرت سیدنا المصلح الموعود کی طرف سے مسجد مبارک میں بوقت دو بجے دوپہر دعوت ولیمہ دی گئی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابہ` کارکنان سلسلہ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام اور خاندان حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے افراد اور متعدد غرباء شامل تھے۔۲۹
    عربی بول چال کے متعلق رسالہ لکھنے کی تجویز
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے نزدیک مسلمان ممالک کی زبوں حالی اور زوال امت عربی زبان کی تروج و اشاعت میں کوتاہی کا نتیجہ تھی۔ چنانچہ حضرت اقدس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی مشہور کتاب >الھدی والتبصرہ لمن یری< میں تحریر فرمایا۔
    >وکان من الواجب ان یشاء ھذہ اللسان فی البلاد الاسلامیہ فانہ لسان اللہ و لسان رسولہ و لسان الصحف المطھرہ ولا ننظر بنظر التعظیم الی قوم لا یکرمون ھذا للسان ولا یشیعونھا فی بلادھم لیرجموا الشیطان وھذا من اول اسباب اختلالھم<۔۳۰
    یعنی واجب تھا کہ اسلامی شہروں میں عربی زبان پھیلائی جاتی اس لئے کہ وہ اللہ` اس کے رسول اور پاک نوشتوں کی زبان ہے اور ہم ان کو تعظیم کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جو اس زبان کی تعظیم نہیں کرتے اور نہ اسے اپنے شہروں میں پھیلاتے ہیں تا شیطان کو پتھرائو کریں اور یہی ان کی تباہی کا بڑا سبب ہے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام چونکہ امت مسلمہ میں زندگی کی روح پھونکنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ اس لئے حضور نے اپنے عہد مقدس میں عربی زبان کی ترویج کی طرف بھی خاص توجہ فرمائی اور گھر میں روزمرہ استعمال میں آنے والے فقرے بچوں کو یاد کرائے جو حضور کی زندگی میں رسالہ >تشحیذ الاذہان< کی مختلف اشاعتوں میں شائع ہوئے۔
    حضرت سیدنا المصلح الموعود کی توجہ مثیل مسیح موعود ہونے کی حیثیت سے اس سال عربی کی ترویج و اشاعت کی طرف پیدا ہوئی اور حضور نے عربی کی اہمیت کے متعلق ۱۹۔ احسان/ جون کو ایک اہم خطبہ دینے کے علاوہ جماعت میں عربی بول چال کا رسالہ تصنیف کرانے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ حضور نے مجلس عرفان میں ارشاد فرمایا۔
    >عربی زبان کا مردوں اور عورتوں میں شوق پیدا کرنے اور اس زبان میں لوگوں کے اندر گفتگو کا ملکہ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک عربی بول چال کے متعلق رسالہ لکھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بھی عربی کے بعض فقرے تجویز فرمائے تھے جن کو میں نے رسالہ تشحیذ الاذہان میں شائع کر دیا تھا۔ ان فقروں کو بھی اپنے سامنے رکھ لیا جائے اور تبرک کے طور پر ان فقرات کو بھی رسالہ میں شامل کرلیا جائے۔ درحقیقت وہ ایک طریق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس راستہ پر چلیں اور اپنی جماعت میں عربی زبان کی ترویج کی کوشش کریں۔ میرے خیال میں اس میں اس قسم کے فقرات ہونے چاہئیں کہ جب ایک دوست دوسرے دوست سے ملتا ہے تو کیا کہتا ہے اور کس طرح آپس میں باتیں ہوتی ہیں۔ وہ باتیں ترتیب کے ساتھ لکھی جائیں۔ پھر مثلاً انسان اپنے گھر جاتا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کے متعلق اپنی ماں سے یا کسی ملازم سے گفتگو کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے کھانے کے لئے کیا پکا ہے یا کونسی ترکاری تیار ہے؟ اس طرح کی روزمرہ کی باتیں رسالہ کی صورت میں شائع کی جائیں۔ بعد میں محلوں میں اس رسالہ کو رائج کیا جائے۔ خصوصاً لڑکیوں کے نصاب تعلیم میں اس کو شامل کیا جائے اور تحریک کی جائے کہ طلباء جب بھی ایک دوسرے سے گفتگو کریں عربی زبان میں کریں۔ اس طرح عربی بول چال کا عام رواج خدا تعالیٰ فضل سے پیدا کیا جاسکتا ہے۔
    ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں نے ایک مردہ زبان کو اپنی کوششوں سے زندہ کر دیا ہے۔ عبرانی زبان دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں لیکن لاکھوں کروڑوں یہودی عبرانی زبان بولتے ہیں۔ اگر یہودی ایک مردہ زبان کو زندہ کرسکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عربی زبان جو ایک زندہ زبان ہے اس کا چرچا نہ ہوسکے۔ پہلے قادیان میں اس طریق کو رائج کیا جائے۔ پھر بیرونی جماعتوں میں یہ طریق جاری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ چھوٹے چھوٹے آسان فقرے ہوں جو بچوں کو بھی یاد کرائے جاسکتے ہوں۔ اس کے بعد لوگوں سے امید کی جائے گی کہ وہ اپنے گھروں میں بھی عربی زبان کو رائج کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح قرآن کریم سے لوگوں کی دلچسپی بڑھ جاے گی اور اس کی آیات کی سمجھ بھی انہیں زیادہ آنے لگ جائے گی۔ اب تو میں نے دیکھا ہے۔ دعائیں کرتے ہوئے جب یہ کہا جاتا ہے۔ ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان امنوا بربکم فامنا تو ناواقفیت کی وجہ سے بعض لوگ بلند آواز سے آمین کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ آمین کہنے کا کوئی موقعہ نہیں ہوتا۔ یہ عربی زبان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اگر عربی بول چال کا لوگوں میں رواج ہو جائے گا تو یہ معمولی باتیں لوگ خود بخود سمجھنے لگ جائیں گے اور انہیں نصیحت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
    ‏vat,10.11
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    سپین میں پرچم اسلام لہرانے سے دور جدید کے پہلے جلسے تک
    یہ رسالہ جب شائع ہوجائے تو خدام الاحمدیہ کے سپرد کردیا جائے تاکہ اس کے تھوڑے تھوڑے حصوں کا وہ اپنے نظام کے ماتحت وقتاً فوقتاً نوجوانوں سے امتحان لیتے رہیں۔ یہ فقرات بہت سادہ زبان میں ہونے چاہئیں۔ مصری زبان میں انشاء الادب نام سے کئی رسالے اس قسم کے شائع ہوچکے ہیں مگر وہ زیادہ دقیق ہیں۔ معلوم نہیں ہمارے سکولوں میں انہیں کیوں جاری نہیں کیا گیا<۔۳۱
    حضرت مصلح موعودؓ کے اس ارشاد مبارک کی تعمیل معلوم نہیں آج تک کیوں نہیں ہوسکی!!
    >ستیارتھ پرکاش< کے مکمل جواب کی سکیم
    حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آریہ سماج کے بانی دیانند سرسوتی کی کتاب ستیارتھ پرکاش کا مکمل جواب شائع کیا جائے۔ چنانچہ حضور ۲۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو مجلس عرفان میں رونق افروز ہوئے اور ملک فضل حسین صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    >میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ >ستیارتھ پرکاش< کا مکمل جواب لکھا جائے۔ اس وقت تک اس کے جس قدر جواب دیئے گئے ہیں وہ سب دفاعی رنگ رکھتے ہیں زیادہ تر لوگوں نے ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کو اپنے سامنے رکھا ہے اور اسی کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ ضرورت ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے پہلے باب سے شروع کرکے آخر تک مکمل جواب لکھا جائے اور اس جواب میں صرف دفاعی رنگ نہ ہو بلکہ دشمن پر حملہ بھی کیا جائے۔ کیونکہ دشمن اس وقت تک شرارت سے باز نہیں آتا جب تک اس کے گھر پر حملہ نہ کیا جائے اس کا ایک طریق تو یہ ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے جتنے نسخے شروع سے لے کر اب تک چھپے ہیں ان سب کو جمع کیا جائے اور پھر ان نسخوں میں جو جو اختلافات ہیں یا جہاں جہاں آریوں نے ستیارتھ پرکاش میں تبدیلیاں کی ہیں وہ سب اختلافات واضح کئے جائیں اور کتاب کا ایک باب اس غرض کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔ گویا ایک باب ایسا ہو جس کا عنوان مثلاً یہی ہو کہ >ستیارتھ پرکاش میں تبدیلیاں< اور پھر بحث کی جائے کہ آریوں نے اس میں کیا کیا تبدیلیاں کی ہیں۔ پھر جہاں جہاں وہ بہانے بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاتب کی غلطی سے ایسا ہوگیا وہاں بھی بحث کرکے واضح کیا جائے کہ یہ کتابت کی غلطی ہو ہی نہیں سکتی۔ پھر پنڈت دیانند نے علمی طور پر ہندو مذہب کے متعلق جو باتیں لکھی ہیں ان کے متعلق ویدوں اور ہندوئوں کی پرانی کتابوں سے یہ ثابت کیا جائے کہ پنڈت جی کا بیان غلط ہے۔ اسی طرح ستیارتھ پرکاش کے ہر باب میں جو کوتاہیاں یا غلطیاں پائی جاتی ہیں` الف سے لے کر ی تک ان سب کو واضح کیا جائے۔ اسلام پر جو حملے کئے گئے ہیں ان کا بھی ضمنی طور پر جواب آجانا چاہئے۔ اس طرح ستیارتھ پرکاش کے رد میں ایک مکمل کتاب لکھی جائے جو کم سے کم سات آٹھ سو صفحات کی ہو اور جس طرح ستارتھ پرکاش ایک معیاری کتاب کے طور پر پیش کی جاتی ہے اسی طرح یہ کتاب نہایت محنت سے معیاری رنگ میں لکھی جائے۔ بعد میں ہر زبان میں اس کتاب کا ترجمہ کرکے تمام ہندوستان میں پھیلائی جائے۔
    آپ اس کے لئے ڈھانچہ تیار کریں اور مجھ سے مشورہ لیں اور پھر میرے مشورہ اور میری ہدایات کے مطابق یہ کتاب لکھی جائے۔ پہلا باب مثلاً اس کتاب کی تاریخ پر مشتمل ہونا چاہئے۔ دوسرے باب میں ستیارتھ پرکاش کے پہلے باب کا جواب دیا جائے اور بتایا جائے کہ اس میں کیا کیا غلطیاں ہیں یا اگر ہم ان باتوں کو ہندو مذہب کے لحاظ سے تسلیم کرلیں تو پھر ان پر کیا کیا اعتراض پڑتے ہیں۔ اس طرح شروع سے لے کر آخر تک تمام کتاب کا مکمل جواب لکھا جائے<۔۳۲
    اس سکیم کے مطابق حضرت سیدنا المصلح الموعود نے اس کتاب کے مختلف ابواب پروفیسر ناصر الدین عبداللہ صاحب` مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب میں بغرض جواب تقسیم فرما دیئے۔۳۳
    چودھویں باب کی نسبت حضور نے فیصلہ فرمایا کہ اس کا جواب خود تحریر فرمائیں گے۔۳۴
    جماعت احمدیہ کے ان سنسکرت دان علماء نے حضرت سیدنا المصلح الموعود کی ہدایت اور نگرانی میں ماہ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش میں قریباً سات آٹھ ابواب کا جواب مکمل کرلیا۔ چنانچہ حضور نے ۲۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کے خطبہ جمعہ میں بتایا کہ۔
    >میں نے ستیارتھ پرکاش کا جواب شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چنانچہ اس کا جواب قریباً سات آٹھ بابوں کا ہوچکا ہے اور بقیہ تیار ہورہا ہے۔ جو نوجوان اس کام کو کررہے ہیں مجھے خوشی ہے کہ وہ محنت کے ساتھ کررہے ہیں اور مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے نوجوان پیدا ہورہے ہیں جو ہندو لٹریچر کو اس کی اپنی زبان میں پڑھ کر غور کرسکتے ہیں۔ اس کام کے لئے میں نے مولوی ناصر الدین صاحب عبداللہ اور مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب کو مقرر کیا ہوا ہے اور یہ تینوں بہت جانفشانی سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور میں سردست ایڈیٹنگ کرتا ہوں۔ وہ نوٹ لکھ کر مجھے دے دیتے ہیں اور میں جرح کرکے واپس بھیج دیتا ہوں۔ پھر وہ اصل مضمون لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور میں اسے دیکھ لیتا ہوں۔ اس میں میرا اپنا کام صرف اتنا ہی ہے کہ جو دلائل کمزور ہوں ان کی طرف انہیں توجہ دلا دیتا ہوں کہ یہ یہ دلائل کمزور ہیں یا تمہارا یہ اعتراض ان معنوں پر پڑتا ہے اور ان معنوں پر نہیں پڑتا یا یہ کہ بعض دفعہ ان کی عبارتوں میں جوش ہوتا ہے کیونکہ ستیارتھ پرکاش میں سخت سخت حملے کئے گئے ہیں اس لئے اس کا جواب دیتے وقت جذبات کو روکنا مشکل ہوتا ہے اس لئے میں اس بات کی بھی نگرانی کرتا ہوں کہ ایسے سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جن سے کسی کی دلشکنی ہو۔ یا اس بات کو بھی میں مدنظر رکھتا ہوں کہ یہ کتاب آریہ سماج کی ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان بعض دفعہ ناتجربہکاری کی وجہ سے اس بات کو بھول کر کہ ہمارے مخاطب تمام ہندو نہیں بلکہ صرف آریہ سماجی ہیں مضمون زیربحث میں سناتن دھرم کی بعض باتوں کی بھی تردید شروع کر دیتے ہیں تو میں اس بات میں بھی ان کی نگرانی کرتا ہوں کہ وہ صرف آریہ سماج کو ہی مخاطب کریں اور ایسی باتوں کا ذکر نہ کریں جو براہ راست ویدوں یا سناتن دھرم کے لٹریچر کے متعلق ہوں۔ جس حد تک میرے پاس مضمون آچکا ہے اور غالباً اکثر آچکا ہے اس کو دیکھ کر میں نے انداز لگایا ہے کہ بہت محنت اور جانفشانی سے لکھا گیا ہے<۔۳۵
    سیدنا المصلح الموعود کس باریک نظری اور محققانہ انداز میں ان مسودات پر نظرثانی فرماتے اور ان پر تنقید کرتے تھے اس کی چند مثالیں درج کرنا خالی از فائدہ نہ ہوں گی تا معلوم ہو کہ آپ کن خطوط پر جواب لکھوانا چاہتے تھے۔
    ستیارتھ پرکاش کے چوتھے سمولاس )متعلقہ خانہ داری( کا جواب حضور نے مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل کے سپرد فرمایا تھا۔ مہاشہ صاحب نے حضور کی خدمت میں جب اپنا لکھا ہوا مسودہ پیش کیا تو حضور نے ان پر علاوہ اور ریمارکس دینے کے اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل نوٹ لکھے۔
    >ان الفاظ کو نرم کیا جائے اور دلیل کو واضح۔ اس مضمون کو زور دار بنایا جاسکتا ہے<۔
    >اس پر بار بار زور دیا جائے کہ پنڈت صاحب کھڑے تو ہندو دھرم کی تائید کے لئے ہوئے ہیں لیکن اپنے خود ساختہ خیالات کو پیش کرکے انہوں نے اپنے مذہب کو رائج کیا ہے<۔
    >ہم کو صرف وید پر زور دینا چاہئے۔ آریہ سماج کا دعویٰ ہے وید مکمل ہیں۔ پھر دوسری طرف ان کو جانے دینے کا موقعہ دینا درست ہی نہیں<۔
    >لکھیں اگر ایک فی ہزار مثالیں بھی اس کی آریہ سماج دے تو اسے دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ جو تعلیم اول خود ساختہ ہے۔ وید میں اس کا نام و نشان نہیں۔ دوم اس پر ایک فی ہزار آریہ سماجی بھی عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اسے عالمگیر قرار دینا اور دنیا کی مشکلات کا حل قرار دینا کیسی دیدہ دلیری کی بات ہے<۔
    افسوس!! تقسیم ملک کی وجہ سے سیتارتھ پرکاش کے جواب کی یہ کوشش درمیان میں ہی رہ گئی۔
    تیسری جنگ عظیم کے شروع ہونے سے قبل تبلیغ اسلام کی سرگرمیاں تیز تر کر دینے کی تلقین
    دوسری جنگ عظیم ابھی پورے زور شور سے جاری تھی کہ حضرت سیدنا المصلح الموعود نے ۲۹۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو ایک خاص خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں بتایا کہ جنگ کے
    بعد دنیا پھر ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔ ہمیں اس غلطی کو واضح کرنے اور اسلام کو پھیلانے میں دیوانہ وار مصروف ہو جانا چاہئے۔ اس اجمال کی تفصیل سیدنا المصلح الموعود ہی کے الفاظ مبارک میں درج ذیل کی جاتی ہے۔ حضور نے جماعت احمدیہ کے ہرفرد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
    >بالکل ممکن ہے اگر فاتح مغربی اقوام جرمنی اور جاپان سے اچھوتوں والا سلوک کریں تو گو جرمنی اور جاپان سے یہ قومیں ذلت نہ اٹھائیں مگر اس ظلم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بعض اور قومیں کھڑی کردے جن کا مقابلہ ان کے لئے آسان نہ ہو۔ پس دنیا پھر خدانخواستہ ایک غلطی کرنے والی ہے۔ پھر خدانخواستہ ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔ پھر ایک ایسی حرکت کرنے والی ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا پیدا نہیں ہوسکتا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس غلطی سے حاکم اقوام کو بچائے اور دوسری طرف ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو اس غلطی سے آگاہ کریں اور تبلیغ اسلام کے متعلق زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اس جنگ کے بعد کم سے کم دو ملک ایسے تیار ہو جائیں گے جو ہماری باتوں پر سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور کریں گے یعنی جرمنی اور جاپان۔ یہ دو ملک ایسے ہیں جو ہماری باتیں سننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ خصوصاً جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ ہم ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ دیکھو عیسائیت کتنی ناکام رہی کہ عیسائیت کی قریباً دو ہزار سالہ غلامی کے بعد بھی تم غلام کے غلام رہے اور غلام بھی ایسے جن کی مثال سوائے پرانے زمانہ کے اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔ اس وقت ان کے دل اسلام کی طرف راغب ہوں گے اور ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ آئو ہم عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس نے ہمارے دکھوں کا کیا علاج تجویز کیا ہے۔ پس وہ وقت آنے والا ہے جب جرمنی اور جاپان دونوں کے سامنے ہمیں عیسائیت کی ناکامی اور اسلامی اصول کی برتری کو نمایاں طور پر پیش کرنا پڑے گا۔ اسی طرح انگلستان اور امریکہ اور روس کے سمجھ دار طبقہ کو )اور کوئی ملک ایسے سمجھ دار طبقہ سے خالی نہیں ہوتا( اسلام کی تعلیم کی برتری بتاسکیں گے۔ مگر یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہماری طاقت منظم ہو` جب ہماری جماعت کے تمام افراد زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہوں۔ جب کثرت سے مبلغین ہمارے پاس موجود ہوں اور جب ان مبلغین کے لئے ہرقسم کے سامان ہمیں میسر ہوں۔ اس طرح یہ کام اسی وقت ہوسکتا ہے جب جماعت کے تمام نوجوان پورے طور پر منظم ہوں اور کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ ہو جو اس تنظیم میں شامل نہ ہو۔ وہ سب کے سب اس ایک مقصد کے لئے کہ ہم نے دنیا میں اسلام اور احمدیت کو قائم کرنا ہے اس طرح رات اور دن مشغول رہیں جس طرح ایک پاگل اور مجنون شخص تمام جہات سے اپنی توجہ ہٹاکر صرف ایک کام کی طرف مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے اپنی بیوی کو` وہ بھول جاتا ہے اپنے بچوں کو` وہ بھول جاتا ہے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اور صرف ایک مقصد اور ایک کام اپنے سامنے رکھتا ہے۔ اگر ہم یہ جنون کی کیفیت اپنے اندر پیدا کرلیں اور اگر ہماری جماعت کا ہرفرد دن اور رات اس مقصد کو اپنے سامنے رکھے تو یقیناً خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے کاموں میں برکت ڈالے گا اور اس کی کوششوں کے حیرت انگیز نتائج پیدا کرنا شروع کر دے گا<۔۳۶
    حضرت مصلح موعود کی الوداعی نصائح ایک مبلغ کیلئے
    ملک احسان اللہ صاحب واقف زندگی )مولوی عبدالخالق صاحب فاضل اور چودھری نذیر احمد صاحب آف رائے ونڈ کی معیت میں( ۲۳۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو افریقہ میں اعلائے کلمہ اسلام کی غرض سے روانہ ہوئے۔ اس موقعہ پر حضرت سیدنا المصلح الموعود نے ان کو مندرجہ ذیل نصائح لکھ کر دیں۔
    >خدا تعالیٰ پر ایمان` اس کی قضاء و قدر پر یقین` دعائوں پر زور اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں سے محبت` ہمیشہ مابعد الموت کا خیال رکھنا ایمان کے ستون ہیں۔
    اس کے بعد نماز باقاعدہ پڑھیں` سنوار کر پڑھیں۔ دین کے بارے میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کہیں` سادہ زندگی بسر کریں۔ خدمت خلق کریں اور بنی نوع انسان کی خیر خواہی کو زندگی کا مقصد بنائیں۔ مرکز سے تعلق رہے۔ ساتھیوں سے تعاون رہے` زبان اور ہاتھ ہمیشہ قابو میں رہیں۔
    ۴۴/۱۱/۲۰ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد<۳۷
    مسلمانان چمبہ کی امداد
    مکرم مرزا رحیم بیگ صاحب ریاست چمبہ کے نہایت مخلص احمدی اور سلسلہ احمدیہ اور حضرت مصلح موعود کے ممتاز شیدائیوں اور فدائیوں میں سے تھے۔۳۸ اور ہر لحظ مسلمانوں کی بہبودی کا خیال انہیں رہتا تھا۔ مرزا صاحب موصوف نے مرکز احمدیت میں اطلاع دی کہ ریاست چمبہ میں صدر کونسل انتظامیہ۳۹ کے بدلنے پر مسلمانوں کے لئے پہلے سے زیادہ پرآشوب زمانہ آرہا ہے۔ اس اطلاع پر حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔ اے` ایل ایل بی واقف زندگی کو ریاست چمبہ میں بھجوایا۔ چودھری صاحب نے مسلمانان چمبہ کے زراعت پیشہ قرار دیا جانے` ان کی مذہبی آزادی اور ٹیکسوں میں تخفیف کے اہم معاملات کے سلسلہ میں ہرممکن کوشش کی۔۴۰
    خلفاء کو اہم وصیت
    سیدنا حضرت امیر المومنین المصلح الموعودؓ نے ۸۔ فتح/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو تحریک جدید کے بعض اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے آئندہ آنے والے خلفاء کو وصیت فرمائی کہ۔
    >ہمارا نظام بھی محبت اور پیار کا ہے۔ کوئی قانون ہمارے ہاتھ میں نہیں کہ جس کے ذریعہ ہم اپنے احکام منوا سکیں۔ بلکہ میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ احمدیت میں خلافت ہمیشہ بغیر دینوی حکومت کے رہنی چاہئے۔ دینوی نظام حکومت الگ ہونا چاہئے اور خلافت الگ تاوہ شریعت کے احکام کی تعمیل کی نگرانی کرسکے۔ ابھی تو ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں۔ لیکن اگر آئے تو میری رائے یہی ہے کہ خلفاء کو ہمیشہ عملی سیاسیات سے الگ رہنا چاہئے اور کبھی بادشاہت کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرنی چاہئے۔ ورنہ سیاسی پارٹیوں سے براہ راست خلافت کا مقابلہ شروع ہو جائے گا اور خلافت ایک سیاسی پارٹی بن کر رہ جائے گی اور خلفاء کی حیثیت باپ والی نہ رہے گی۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام کے ابتداء میں خلافت اور حکومت جمع ہوئی ہیں مگر وہ مجبوری تھی کیونکہ شریعت کا ابھی نفاذ نہ ہوا تھا اور چونکہ شریعت کا نفاذ ضروری تھا اس لئے خلافت اور حکومت کو اکٹھا کر دیا گیا اور ہمارے عقیدہ کی رو سے یہ جائز ہے کہ دونوں اکٹھی ہوں اور یہ بھی جائز ہے کہ الگ الگ ہوں۔ ابھی تو ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں مگر میری رائے یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ ہمیں حکومت دے اس وقت بھی خلفاء کو اسے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے بلکہ الگ رہ کر حکومتوں کی نگرانی کرنی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ اسلامی احکام کی پیروی کریں اور اس سے مشورہ لے کر چلیں اور حکومت کا کام سیاسی لوگوں کے سپرد ہی رہنے دیں۔ پس اگر حکم کا سوال ہو تو میرا نقطہ نگاہ تو یہ ہے کہ اگر میری چلے تو میں کہوں گا کہ حکومت ہاتھ میں آنے پر بھی خلفاء اسے اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ انہیں اخلاق اور احکام قرآنیہ کے نفاذ کی نگرانی کرنی چاہئے<۔۴۱
    سرحد کے احمدی طالب علموں کو مرکز میں لانے کی ضرورت
    سیدنا المصلح الموعود بیرونی دنیا میں تبلیغ خصوصاً برصغیر کے اندر اشاعت اسلام و احمدیت کا جال بچھا دینے کے لئے خاص طور پر متفکر رہتے تھے۔ اسی تعلق میں حضور نے ۹۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو اپنی مجلس علم و عرفان میں اس رائے کا اظہار فرمایا کہ۔
    >اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ صوبہ سرحد سے طالب علم قادیان میں آئیں۔ ہم نے اس کے لئے بڑی کوششیں کی ہیں مگر وہاں سے ایسے طالب علم نہیں آتے جو تعلیم کے بعد خدمت دین کریں۔ جو آتے ہیں وہ اس طرف لگ جاتے ہیں کہ نوکریاں کریں۔ صرف ایک مولوی چراغ دین صاحب ہیں۔ باقی سارے پڑھنے کے بعد ملازمتیں کرنے لگ گئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں تبلیغ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مبلغ وہاں کا ہی باشندہ ہو جو وہاں کے رسم و رواج اور ان لوگوں کی عادات سے واقف ہو پنجابی مبلغ اس علاقہ میں اس طرح کام نہیں کرسکتا جس طرح کہ اس علاقہ کا باشندہ کرسکتا ہے<۔۴۲
    حکومت سندھ کی طرف سے >ستیارتھ پرکاش< کے چودھویں باب کی ضبطی اور حضرت سیدنا المصلح الموعود
    سندھ گورنمنٹ نے مسلمانان ہند کے ملک گیر مظاہروں سے متاثر ہوکر ۵۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۲ہش کو ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت حکم جاری کردیا کہ ستیارتھ پرکاش کی
    کوئی کاپی اس وقت تک چھاپی یا شائع نہ ہو جب تک چودھویں باب کو حذف نہ کرلیا جائے۔ اس اعلامیہ پر اگلے روز آریہ سماج وچھو والی اور آریہ سماج انارکلی نے اس ضبطی کے خلاف جلسے کئے جن میں آریہ مقرروں نے دھمکی دی کہ یہ حکم ملک میں بدامنی کا باعث بنے گا۔ ایک ایک آریہ سماجی ستیارتھ پرکاش کی رکھشا کے لئے میدان میں نکلے گا۔ اس کے بعد آریوں نے ایک اینٹی قرآن لیگ بھی قائم کرلی اور قرآن مجید کی ضبطی کا مطالبہ کرنے لگے اور ملک میں ہر طرف ایک ہنگامہ بپا ہوگیا۔
    سیدنا المصلح الموعود نے ۲۱۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو اپنی مجلس علم و عرفان میں >ستیارتھ پرکاش< سے شدید نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہوئے انگریزی حکومت کی مسلسل خاموشی پر سخت تنقید کی اور حکومت سندھ کی کارروائی کو غلط قرار دیتے ہوئے فرمایا۔
    >میرے نزدیک ستیارتھ پرکاش اس وقت ہی قابل ضبطی تھی جب وہ شائع کی گئی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اسے ضبط کیوں کیا گیا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اس کے ضبط کرنے میں گورنمنٹ اتنی دیر کیوں خاموش رہی۔ پھر جس قانون یعنی ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کو ضبط کیا گیا ہے یہ ایک عارضی قانون ہے۔ اس کا نتیجہ صرف یہی ہوگا کہ مسلمانوں اور آریوں میں لڑائی جھگڑا اور شورش تو پیدا ہوجائے گی مگر جب جنگ کے خاتمہ پر ڈیفنس کا قانون منسوخ ہوگا ساتھ ہی ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کی ضبطی کا حکم بھی منسوخ ہو جائے گا۔ پس ایسے قانون کے ماتحت اس کتاب کو ضبط کرنا جو عارضی ہے صرف فساد پیدا کرے گا اور نتیجہ کچھ بھی نہ نکلے گا۔
    پس اول تو گورنمنٹ کو چاہئے تھا کہ اس کتاب کو اس وقت ضبط کرتی جب یہ شائع کی گئی تھی۔ اتنی دیر کیوں کی گئی۔ پھر اگر اب ضبط کرنا تھا تو عام قانون کے ماتحت ضبط کرتی اور جس طرح میں نے بتایا ہے کہ گورنمنٹ یہ دلیل دیتی کہ ہم اس وجہ سے اس کتاب کو ضبط کرتے ہیں کہ اس میں ایسی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کی گئی ہیں جو ان مذاہب میں نہیں پائی جاتیں اور ایسی باتیں کہہ کر دوسرے مذاہب کا مذاق اڑایا گیا ہے اور اشتعال دلایا گیا ہے جو خود کتاب لکھنے والے کے مذہب میں بھی پائی جاتی ہیں۔
    اگر سندھ گورنمنٹ اس طرح کرتی کہ عام قانون کے ماتحت اس کتاب کو ضبط کرتی اور اس میں یہ دلیل دیتی جو میں نے بیان کی ہے تو آریوں نے جو اب اینٹی قرآن تحریک شروع کررکھی ہے۔ یہ تحریک جاری کرنے کی انہیں کبھی جرات نہ ہوتی۔ کیونکہ سارے آریہ تو کیا سارے ہندو` سارے جینی` سارے عیسائی اور سارے یہودی مل کر قرآن مجید کی کوئی ایک آیت تو ایسی دکھائیں جس میں قرآن مجید نے کسی مذہب کی طرف کوئی بات منسوب کی ہو اور وہ بات اس مذہب میں نہ پائی جاتی ہو۔ قرآن مجید نے عیسائیوں کے متعلق کوئی ایک بات بھی ایس نہیں کہی جو عیسائیوں میں نہ پائی جاتی ہو۔ قرآن مجید نے کوئی بات بھی یہودیوں کے متعلق ایسی نہیں کہی جو یہودیوں میں نہ پائی جاتی ہو بلکہ نہایت دیانت داری سے وہی باتیں ان کی طرف منسوب کی ہیں جو ان کے مذہب میں پائی جاتی ہیں۔ بے شک آج کل یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہماری موجودہ کتابوں میں وہ باتیں نہیں پائی جاتیں جو قرآن مجید ہماری طرف منسوب کرتا ہے لیکن ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر یہ باتیں آج کل تمہاری کتب میں نہیں پائی جاتیں تو اس کا قرآن ذمہ دار نہیں کیونکہ تمہاری کتابوں میں تحریف ہوچکی ہے۔ یہ باتیں اس وقت تمہاری کتابوں میں پائی جاتی تھیں جب قرآن مجید نازل ہوا تھا۔ پس قرآن مجید وہی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کرتا ہے جن کے متعلق یا تو ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ جس زمانہ میں قرآن مجید نازل ہوا اس وقت یہ باتیں ان مذاہب میں پائی جاتی تھیں اور یا ایسی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کرتا ہے جن کو وہ لوگ اب بھی مانتے ہیں اور وہ باتیں اسی رنگ میں ان کے اندر پائی جاتی ہیں جس رنگ میں قرآن مجید پیش کرتا ہے۔
    اسی طرح مخالف قرآن مجید کی کوئی ایک آیت بھی ایسی پیش نہیں کرسکتا جس میں کوئی ایسی بات کہہ کر دوسرے مذہب پر اعتراض کیا گیا ہو جس کو قرآن مجید خود بھی مانتا ہو بلکہ دیانت داری سے قرآن مجید دوسرے مذہب کی انہی باتوں پر اعتراض کرتا ہے جن کو خود نہیں مانتا۔ پس یہ دو اصول مدنظر رکھتے ہوئے اگر عام مقررہ قانون کے ماتحت گورنمنٹ ضبطی کا حکم لگاتی تو آریہ سماج کوئی وجہ شور پیدا کرنے کا نہ پاسکتی اور یہ اینٹی قرآن ایجی ٹیشن کا ڈھکوسلہ چل ہی نہ سکتا۔
    نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ وہی حصہ ستیارتھ پرکاش کا ضبط نہ ہونا چاہئے تھا جو اسلام کے خلاف ہے بلکہ وہ حصہ بھی ضبط ہونا چاہئے تھا جو عیسائیت کے خلاف ہے` جو ہندو مذہب کے خلاف ہے` جو جین مذہب کے خلاف ہے` جو سکھ مذہب کے خلاف ہے۔ کیونکہ ستیارتھ پرکاش میں ان مذاہب کی طرف بھی وہ باتیں منسوب کی گئی ہیں جو ان میں نہیں پائی جاتیں یا جو خود آریہ سماج کے مسلمات میں بھی ہیں۔ اگر دل دکھنا ضبطی کی دلیل ہے تو کیا سکھ کا دل نہیں دکھتا؟ کیا عیسائیوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی؟ جس طرح مسلمانوں کا دل دکھتا ہے اسی طرح سکھوں کا دل بھی دکھتا ہے۔ اسی طرح عیسائیوں کا دل بھی دکھتا ہے۔ پس گورنمنٹ کو چاہئے تھا کہ اگر ضبط کرنا تھا تو ایسے سب بابوں کو ضبط کرتی جو دوسرے مذاہب کے بارہ میں ہیں اور ان دو باتوں پر اس کی بنیاد رکھتی۔ محض دل دکھنے پر بنیاد نہ رکھتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس ہمیں چار باتوں پر اعتراض ہے۔
    ۱۔ پہلی یہ کہ اس کتاب کی ضبطی میں دیر کیوں کی گئی؟ یہ کتاب اس وقت ہی قابل ضبط تھی جس وقت شائع ہوئی۔
    ۲۔ دوسرے ہمیں اس بات پر اعتراض ہے کہ ایک عارضی قانون کے ماتحت اس کو کیوں ضبط کیا گیا ہے؟ اس سے ضرور فتنہ پیدا ہوگا اور جب یہ قانون منسوخ ہوگا تو ساتھ ہی ضبطی کا حکم بھی منسوخ ہو جائے گا۔
    ۳۔ تیسرے یہ بات ہمارے نزدیک قابل اعتراض ہے کہ دلیل نہیں دی گئی کہ کیوں ضبط کرتے ہیں؟ محض دل دکھنا کوئی دلیل نہیں۔
    ۴۔ چوتھے یہ بات بھی قابل اعتراض ہے کہ صرف مسلمانوں کی تائید میں قدم اٹھایا گیا ہے حالانکہ گورنمنٹ کو سب مذاہب کی حاظت کرنی چاہئے تھی۔
    پس یہ چار وجوہ ہیں جن کی بناء پر ہم سندھ گورنمنٹ کی ستیارتھ پرکاش کے متعلق موجودہ کارروائی کو غلط سمجھتے ہیں<۔۴۳
    تحریک جدید کے دفتر دوم کی بنیاد
    حضرت سیدنا المصلح الموعود نے خدا تعالیٰ کے القاء خاص سے نومبر ۱۹۳۴ء میں تحریک جدید جیسی عالمی تبلیغ اسلام تنظیم قائم فرمائی جس کا پہلا دس سالہ دور اس سال ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش میں نہایت کامیابی و کامرانی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ جس پر حضور نے ۲۴۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو اس کے دفتر دوم کی بنیاد رکھی اور دعوت دی کہ۔
    >پانچ ہزار دوستوں کی ایک نئی جماعت آگے آئے جو اس تحریک میں حصہ لے<۔
    نیز فرمایا۔
    >میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل و کرم سے جماعت کے دوستوں میں ہمت پیدا کرے گا اور پھر جو کوتاہی رہ جائے گی اسے وہ اپنے فضل سے پورا کردے گا۔ یہ اسی کا کام ہے اور اسی کی رضاء کے لئے میں نے یہ اعلان کیا ہے۔ زبان گو میری ہے مگر بلاوا اسی کا ہے۔ پس مبارک ہے وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بلاوا سمجھ کر ہمت اور دلیری کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور خدا تعالیٰ رحم کرے اس پر جس کا دل بزدلی کی وجہ سے پیچھے ہٹتا ہے<۔۴۴
    تحریک جدید کے دور اول کی شاندار کامیابی پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور حضرت سیدنا المصلح کے حضور ہدیہ اخلاص پیش کرنے کے لئے مسجد اقصیٰ قادیان میں ۲۳۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ جس کی صدارت حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے فرمائی۔۴۵
    ‏]sub [tagبیرونی مجاہدین کو بلوانے اور نئے مبلغین بھجوانے کا فیصلہ
    تحریک جدید کے دورثانی کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی سیدنا المصلح الموعود نے فیصلہ کیا کہ بیرونی مجاہدین احمدیت کو جلد سے جلد واپس بلانے کا انتظام کیا جائے۔ چنانچہ فرمایا۔
    >ضروری ہے کہ جو مبلغ بیرونی ممالک میں جائیں ان کے لئے کافی رقم سفر خرچ کے لئے مہیا کی جائے۔ کافی لٹریچر مہیا کیا جائے اور پھر سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ان کی واپسی کا انتظام کیا جائے۔ ہر تیسرے سال مبلغ کو واپس بھی بلانا چاہئے اور پرانے مبلغوں کو بلانے اور نئے بھیجنے کے لئے کافی روپیہ مہیا کرنا ضروری ہے۔ ابھی ہم نے تین نوجوانوں کو افریقہ بھیجا ہے۔ وہ ریل کے تھرڈ کلاس میں اور لاریوں میں سفر کریں گے۔ مگر پھر بھی ۱۷` ۱۸ سو روپیہ ان کے سفر خرچ کا اندازہ ہے۔ اگر ہم یہ اندازہ کریں کہ ہر سال ۳۳ فیصدی مبلغ واپس بلائے جائیں گے اور ۳۳ فیصدی ان کی جگہ بھیجے جائیں گے اور ہر ایک کے سفر خرچ کا تخمینہ پندرہ سو روپیہ رکھیں تو صرف یہی خرچ ایک لاکھ روپیہ سالانہ کا ہوگا اور یہ صرف سفر خرچ ہے اور اگر مبلغین کو چار چار سال کے بعد بلائیں تو یہ خرچ پھر بھی ۷۵ ہزار روپیہ ہوگا اور کم سے کم اتنے عرصہ کے بعد ان کو بلانا نہایت ضروری ہے۔ تا ان کا اپنا ایمان بھی تازہ ہوتا رہے اور ان کے بیوی بچوں اور خود ان کو بھی آرام ملے۔ اب تو یہ حالت ہے کہ حکیم فضل الرحمن صاحب کو باہر گئے ایک لمبا عرصہ گزرچکا ہے اور انہوں نے اپنے بچوں کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ جب وہ گئے تو ان کی بیوی حاملہ تھیں۔ بعد میں لڑکا پیدا ہوا۔ اور ان کے بچے پوچھتے ہیں کہ اماں ہمارے ابا کی شکل کیسی ہے۔ اسی طرح مولوی جلال الدین صاحب شمس انگلستان گئے ہوئے ہیں اور صدر انجمن احمدیہ اس ڈر کے مارے ان کو واپس نہیں بلاتی کہ ان کا قائم مقام کہاں سے لائیں اور کچھ خیال نہیں کرتی کہ ان کے بھی بیوی بچے ہیں جو ان کے منتظر ہیں۔ ان کا بچہ کبھی کبھی میرے پاس آتا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر کہتا ہے کہ میرے ابا کو واپس بلا دیں۔ پھر اتنا عرصہ خاوندوں کے باہر رہنے کا نتیجہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ عورتیں بانجھ ہو جاتی ہیں اور آئندہ نسل کا چلنا بند ہو جاتا ہے۔ ایک اور مبلغ باہر گئے ہوئے ہیں ان کے بچہ نے جو خاصا بڑا ہے نہایت ہی دردناک بات اپنی والدہ سے کہی۔ اس نے کہا۔ اماں! دیکھو ہمارا فلاں رشتہ دار بیمار پڑا تو اس کا ابا اسے پوچھنے کے لئے آیا۔ تم نے ابا سے کیوں شادی کی جو کبھی ہمیں پوچھنے بھی نہیں آیا۔ اس نے بچپن کی وجہ سے یہ تو نہ سمجھا کہ اگر یہ شادی نہ ہوتی تو وہ پیدا کہاں سے ہوتا اور اسی طرح ہنسی کی بات بن گئی۔ مگر حقیقت پر غور کرو یہ بات بہت ہی دردناک ہے۔ اس کے والد عرصہ سے باہر گئے ہوئے ہیں اور ہم ان کو واپس نہیں بلاسکے۔ پس یہ بہت ضروری ہے کہ مبلغین کو تین چار سال کے بعد واپس بلایا جائے<۔۴۶
    اس فیصلہ کے بعد بیرونی مجاہدین کی واپسی کے لئے ہرممکن اقدامات کی طرف خاص توجہ دی جانے لگی۔
    حضرت سیدنا المصلح الموعود کی طرف سے جماعت اسلامی سے متعلق بعض سوالات کے جوابات
    شمالی ہند میں >جماعت اسلامی< کے نام سے مسلمانوں کی ایک سیاسی جماعت۴۷ تین برس پیشتر معرض وجود میں آئی تھی۔ یہ جماعت سید ابوالاعلیٰ صاحب۴۸ مودودی سابق ایڈیٹر
    >الجمعیتہ< دھلی و مدیر رسالہ >ترجمان۴۹ القرآن< لاہور کی قیادت میں ۲۵۔ اگست ۱۹۴۱ء۵۰ کو قائم ہوئی۔
    اس جماعت کا پہلا مرکز دفتر رسالہ ترجمان القرآن مبارک پارک پونچھ روڈ لاہور میں تھا۔ ۱۵۔ جون۵۱ ۱۹۴۲ء کو جناب مودودی صاحب اپنے بعض رفقاء سمیت قادیان کے نزدیک ہی ایک قریہ جمال پور )تحصیل پٹھانکوٹ ضلع گورداسپور( میں منتقل ہوگئے اور اسے اپنا >دارالاسلام< بنا کر اپنی مخصوص دعوت کی اشاعت شروع کر دی۔
    ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے آخر میں ایک دوست نے >جماعت اسلامی< کے نظریات و عقائد کی نسبت دو سوالات حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کی خدمت میں لکھ کر بھیجے جن کا جواب حضور نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا۔ یہ سوالات مع جوابات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    >سوال اول
    تحریک جماعت اسلامی سے حضور واقف ہوں گے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے ساتھی اسلام کے متعلق حسب ذیل نظریہ رکھتے ہیں۔
    قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ انسان کے لئے ضابطہ حیات ہے جو اخلاقی` تمدنی اور سیاسی قوانین کا مجموعہ ہے۔ اسلام اس کی کامل پیروی کا نام عبادت رکھتا ہے۔ جو شخص اس ضابطہ حیات کی بجائے نظام باطل کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرتا ہے وہ صحیح عبد نہیں ہے یا جو اعتقادی طور پر تو ضابطہ شریعت )قرآن( پر ایمان رکھتا ہے مگر عمل دوسرے قوانین پر کررہا ہو وہ بھی حلقہ عبودیت سے دور ہے۔
    دلائل
    ۱۔ وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین
    ۲۔ واعبدوا اللہ و اجتنبوا الطاغوت
    ۳۔ ولا یشرک بعبادہ ربہ احدا
    کیا یہ احمدیت کی رو سے بھی درست ہے؟
    جواب
    یہ درست ہے کہ قرآن کریم کے ہر ایک حکم پر عمل کرنا اگر طاقت ہو ضروری ہے مگر کلمہ حکمت سے باطل مراد لینا نادرست ہے۔
    سوال دوم
    قل ان الامر کلہ للہ سے استنباط کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی مالک الملک اور فرمانروا ہے۔ اس کی حکومت میں کسی کا حکم نہیں چلتا۔ انسان کے لئے ضابطہ حیات بنانے کا حق اسے ہے کیونکہ وہی اس کی ضروریات اور رازوں سے واقف ہے۔ مخلوق کا کام صرف اس کی پیروی میں ہی اس کی فلاح ہے۔ اس لئے اگر کوئی شخص خدا کے قانون کو چھوڑ کر یا جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے )درآنحالیکہ اس کے پاس خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی CHARTER نہیں( یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت )خارج از اطاعت حق( ہے اور اس سے فیصلہ چاہنے اور اس کے فیصلہ پر عمل کرنے والا بھی مجرم ہے اور اس کی وفادار رعایا میں سے نہیں ہے۔
    دلائل
    ۱۔
    ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون۔
    ۲۔
    الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ۔
    ۳۔
    ولا تطع الکافرین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    ۴۔
    ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    ۵۔
    فلا و ربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم
    ۶۔
    الم عاھد الیکم یا بنی ادم الا تعبدوا الشیطن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    مگر احمدیت ہمیں غیر الٰہی قوانین کا احترام سکھاتی ہے۔ احترام ہی نہیں بلکہ پیروی کا حکم دیتی ہے۔ یہ تضاد سمجھ میں نہیں آتا۔ وضاحت فرمائی جائے۔
    جواب
    اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ غیر مذہبی حکومت کے قوانین پر عمل نہیں کرنا تو ابوالعلیٰ خود بھی عمل کرتے ہیں اور ان کے ساتھی بھی<۔۵۲`۵۳
    دوسرا باب )فصل سوم(
    مصلح موعود کے دور جدید کا پہلا سالانہ جلسہ
    جلسہ کی آمد سے قبل دعائوں کی تحریک خاص
    دور مصلح موعود کا پہلا جلسہ سالانہ قریب آرہا تھا اس لئے حضرت امیر المومنین نے ۲۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۳۲ہش کو اپنے خطبہ جمعہ میں اہل قادیان اور بیرونی جماعتوں کو دعائیں کرنے کی خاص تحریک کی۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ۔
    >یہ موقعہ بہت دعائوں کا اور بہت گریہ و زاری کا ہے۔ قادیان کے دوست بھی بہت دعائیں کرتے رہیں اور باہر سے آنے والے بھی دعائوں میں لگے رہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اس اجتماع کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ باقی ماندہ ایام اور جلسہ کے ایام کو بھی اور اس کے بعد کے چند ایام کو بھی خصوصیت کے ساتھ دعائوں میں گزاریں<۔۵۴
    حضرت سیدنا المصلح الموعود کی معرکتہ الاراء تقاریر
    یہ جلسہ حسب معمول ہائی سکول کی کھلی گرائونڈ میں ہوا اور اس میں حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے چار معرکتہ الاراء تقاریر فرمائیں۔
    افتتاح
    حضور ۲۶۔ فتح/ دسمبر کو گیارہ بجے جلسہ کا افتتاح کرنے کے لئے سٹیج پر تشریف لائے۔ تمام مجمع نے کھڑے ہوکر اللہ اکبر اور حضرت امیر المومنین زندہ باد کے نعروں سے استقبال کیا۔ حضور نے تمام مجمع کو السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ کہا اور کرسی پر رونق افروز ہوگئے۔ ازاں بعد حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی۔ اے نے تلاوت قرآن کریم کی۔ پھر حضور نے افتتاحی تقریر ارشاد فرمائی۔ جس میں بتایا کہ >ہمیں وہ نظارے بھی یاد ہیں جب دو چار آدمی حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ تھے اور آج ہم یہ نظارہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں` دنیا کی ہر قوم میں` ہر نسل میں اور ہر زبان بولنے والوں میں احمدی موجود ہیں اور ان میں ہمت اور اخلاص اور فداکاری کے جذبات اعلیٰ درجہ کے پائے جاتے ہیں اور وہ قربانی کے انتہائی مقام پر پہنچے ہوئے ہیں۔ آج خدا تعالیٰ کا ہاتھ ان کو روک رہا ہے ورنہ وہ آگے بڑھ کر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پروانے موجود ہیں` شمع ہی انہیں قربان ہو جانے سے روک رہی ہے اور وہ جل جانے کی خواہش اور تمنا میں جل رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت تھوڑی سے بڑھ کر اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے اور اتنا وسیع کام اس کے سامنے ہے کہ جو قومیں اس مقام پر پہنچ جاتی ہیں` وہ یا تو اوپر نکل جاتی اور سب روکاوٹوں کو توڑ ڈالتی ہیں یا پھر تنزل کے گڑھے میں گر جاتی ہیں۔ دراصل یہ مقام سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بہت لوگ جب یہاں سے گر جاتے ہیں تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کہاں چلے گئے۔ مگر بہت اس مقام سے آگے بڑھ کر اس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کا عرش نظر آنے لگتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سننے اور اس کے خاص انعامات کے مورد بنتے ہیں۔ خدا ان کا ہو جاتا ہے وہ خدا کے ہو جاتے ہیں۔
    پس اس نازک وقت اور نازک مقام کی وجہ سے جماعت کی ذمہ داریاں بہت اہم ہیں اور آج آپ لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے اور اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ یا تو ہمارا قدم نہایت بلند مقام کی طرف اٹھے گا یا پھر نیچے گر جائے گا<۔۵۵
    دوسرے روز خواتین کی جلسہ گاہ میں تقریر
    ۲۔ دوسرے دن )۲۷۔ فتح/ دسمبر کو( ظہر سے قبل سیدنا المصلح الموعود نے خواتین کی جلسہ گاہ میں )جو حسب سابق مسجد نور سے متصل مشرقی جانب تھی( تقریر فرمائی جس میں لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ۔
    >ایک مہینہ کے اندر اندر یعنی جنوری ۱۹۴۵ء ختم ہونے سے پہلے وہ اپنے دفتر کو منظم کرلیں<۔
    اس اہم ارشاد کے بعد حضور نے لجنہ کو احمدی خواتین کی تنظیم کی نسبت بیش قیمت ہدایات سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    >لجنہ اماء اللہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ جب ان کی تنظیم ہو جائے تو جماعت کی تمام عورتوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ پھر دوسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ نماز` روزہ اور شریعت کے دوسرے موٹے موٹے احکام کے متعلق آسان اردو و زبان میں مسائل لکھ کر تمام عورتوں کو سکھا دیئے جائیں اور پھر تیسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہر ایک عورت کو نماز کا ترجمہ یاد ہو جائے تاکہ ان کی نماز طوطے کی طرح نہ ہو کہ وہ نماز پڑھ رہی ہوں مگر ان کو یہ علم ہی نہ ہو کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہی ہیں اور آخری اور اصل قدم یہ ہونا چاہئے کہ تمام عورتوں کو باترجمہ قرآن مجید آجائے اور چند سالوں کے بعد ہماری جماعت میں سے کوئی عورت ایسی نہ نکلے جو قرآن مجید کا ترجمہ نہ جانتی ہو۔ اس وقت شاید ہزار میں سے ایک عورت بھی نہیں ہوگی جس کو قرآن مجید کا ترجمہ آتا ہو۔ میری حیثیت استاد کی ہے اس لئے کوئی حرج نہیں اگر میں تم سے یہ پوچھ لوں کہ جو عورتیں قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہیں وہ کھڑی ہوجائیں اور جن کو ترجمہ نہیں آتا وہ بیٹھی رہیں۔ میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کتنی عورتیں ایسی ہیں جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہیں۔ اس لئے جو ترجمہ جانتی ہیں وہ کھڑی ہو جائیں )حضور کے ارشاد پر بہت سی عورتیں کھڑی ہوگئیں۔ جن کو دیکھ کر حضور نے فرمایا( بہت خوشکن بات ہے کہ میرے اندازہ سے بہت زیادہ عورتیں کھڑی ہیں۔ الحمدلل¶ہ۔ اب بیٹھ جائو۔ میرے لئے یہ خوشی عید کی خوشی سے بھی زیادہ ہے۔ میرا اندازہ تھا کہ جتنی عورتیں کھڑی ہوئی ہیں اس کے دسویں حصہ سے بھی کم عورتیں ہوں گی جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میرے اندازہ سے بہت زیادہ عورتیں کھڑی ہوئی ہیں۔ مگر میرے لئے یہ تسلی کا موجب نہیں۔ میرے لئے تسلی کا موجب تو یہ بات ہوگی جب تم میں سے ہر ایک عورت قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہوگی اور مجھے خوشی اس وقت ہوگی جب تم میں سے ہر ایک عورت صرف ترجمہ ہی نہ جانتی ہو بلکہ قرآن مجید کو سمجھتی بھی ہو اور مجھے حقیقی خوشی اس وقت ہوگی جب تم میں سے ہر ایک عورت دوسروں کو قرآن مجید سمجھا سکتی ہو اور پھر اس سے بھی زیادہ خوشی کا دن تو وہ ہوگا جس دن خدا تعالیٰ تمہارے متعلق یہ گواہی دے گا کہ تم نے قرآن مجید کو سمجھ لیا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے<۔۵۶
    اہم واقعات پر تبصرہ اور پروگرام
    ۳۔ اسی روز ۲۷۔ فتح/ دسمبر کو حضور نے مردانہ جلسہ گاہ میں بھی مفصل تقریر فرمائی جس میں حسب دستور سال کے اہم واقعات پر تبصرہ فرمایا اور آئندہ کے پروگرام پر روشنی ڈالی۔۵۷ یہ تقریر تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی۔۵۸4] ft[r
    ظہور مصلح موعود کے موضوع پر پرشوکت تقریر
    ۴۔ سالانہ جلسہ کے آخری اجلاس )منعقدہ ۲۸۔ فتح/ دسمبر( میں حضرت امیر المومنین نے ساڑھے تین بجے سے لے کر ساڑھے سات بجے یعنی مسلسل چار گھنٹے تک خطاب فرمایا جس میں نہ صرف پیشگوئی مصلح موعود کا پورا ہونا دلائل اور واقعات سے روز روشن کی طرح ثابت فرما دیا بلکہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے اعتراضات کا نہایت اسان پیرایہ میں رد کیا۔ اس انقلاب آفریں تقریر کے آخری حصہ میں حضور نے جماعت احمدیہ کو نئی ذمہ ¶داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔
    >اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم سے وہ پیشگوئی جس کے پورا ہونے کا ایک لمبے عرصہ سے انتظار کیا جارہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق اپنے الہام اور اعلام کے ذریعہ مجھے بتا دیا ہے کہ وہ پیشگوئی میرے وجود میں پوری ہوچکی ہے اور اب دشمنان اسلام پر خدا تعالیٰ نے کامل حجت کردی ہے اور ان پر یہ امر واضح کر دیا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب` محمد رسول اللہ~صل۱~ خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے سچے فرستادہ ہیں۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو اسلام کو جھوٹا کہتے ہیں۔ کاذب ہیں وہ لوگ جو محمد رسول اللہ~صل۱~ کو کاذب کہتے ہیں۔ خدا نے اس عظیم الشان پیشگوئی کے ذریعہ اسلام اور رسول کریم~صل۱~ کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
    بھلا کس شخص کی طاقت تھی کہ وہ ۱۸۸۶ء میں آج سے پورے اٹھاون سال قبل اپنی طرف سے یہ خبر دے سکتا کہ اس کے ہاں نو سال کے عرصہ میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ وہ اسلام اور رسول کریم~صل۱~ کا نام دنیا میں پھیلائے گا۔ وہ علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائے گا۔ وہ جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی قربت اور اس کی رحمت کا وہ ایک زندہ نشان ہوگا۔ یہ خبر دنیا کا کوئی انسان اپنے پاس سے نہیں دے سکتا تھا۔ خدا نے یہ خبر دی اور پھر اسی خدا نے اس خبر کو پورا کیا۔ اس انسان کے ذریعہ جس کے متعلق ڈاکٹر یہ امید نہیں رکھتے تھے کہ وہ زندہ رہے گا یا لمبی عمر پائے گا۔ میری صحت بچپن میں ایسی خراب تھی کہ ایک موقعہ پر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کہہ دیا کہ اسے سل ہوگئی ہے کسی پہاڑی مقام پر اسے بھجوا دیا جائے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے مجھے شملہ بھجوا دیا مگر وہاں جاکر میں اداس ہوگیا اور اس وجہ سے جلدی ہی واپس آگیا۔ غرض ایسا انسان جس کی صحت کبھی ایک دن بھی اچھی نہیں ہوئی اس انسان کو خدا نے زندہ رکھا اور اس لئے زندہ رکھا کہ اس کے ذریعہ اپنی پیشگوئیوں کو پورا کرے اور اسلام اور احمدیت کی صداقت کا ثبوت لوگوں کے سامنے مہیا کرے۔ پھر میں وہ شخص تھا جسے علوم ظاہری میں سے کوئی علم حاصل نہیں تھا مگر خدا نے اپنے فضل سے فرشتوں کو میری تعلیم کے لئے بھجوایا اور مجھے قرآن کے ان مطالب سے آگاہ فرمایا جو کسی انسان کے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آسکتے تھے۔ وہ علم جو خدا نے مجھے عطا فرمایا اور وہ چشمہ روحانی جو میرے سینہ میں پھوٹا وہ خیالی یا قیاسی نہیں ہے بلکہ ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ میں ساری دنیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس دنیا کے پردہ پر کوئی شخص ایسا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے قرآن سکھایا گیا ہے تو میں ہر وقت اس سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن میں جانتا ہوں آج دنیا کے پردہ پر سوائے میرے اور کوئی شخص نہیں جسے خدا کی طرف سے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا گیا ہو۔ خدا نے مجھے علم قرآن بخشا ہے اور اس زمانہ میں اس نے قرآن سکھانے کے لئے مجھے دنیا کا استاد مقرر کیا ہے۔ خدا نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ~صل۱~ اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائوں اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں۔
    دنیا زور لگالے` وہ اپنی تمام طاقتوں اور جمعیتوں کو اکٹھا کرلے۔ عیسائی بادشاہ بھی اور ان کی حکومتیں بھی مل جائیں۔ یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے۔ دنیا کی تمام بڑی بڑی مالدار اور طاقت ور قومیں اکٹھی ہو جائیں اور وہ مجھے اس مقصد میں ناکام کرنے کے لئے متحد ہو جائیں پھر بھی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں ناکام رہیں گی اور خدا میری دعائوں اور تدابیر کے سامنے ان کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا اور خدا میرے ذریعہ سے یا میرے شاگردوں اور اتباع کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے رسول کریم~صل۱~ کے نام کے طفیل اور صدقے اسلام کی عزت کو قائم کرے گا اور اس وقت تک دنیا کو نہیں چھوڑے گا جب تک اسلام پھر اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا میں قائم نہ ہو جائے اور جب تک محمد رسول اللہ~صل۱~ کو پھر دنیا کا زندہ نبی تسلیم نہ کرلیا جائے۔
    اے میرے دوستو! میں اپنے لئے کسی عزت کا خواہاں نہیں` نہ جب تک خدا تعالیٰ مجھ پر ظاہر کرے کسی مزید عمر کا امیدوار۔ ہاں خدا تعالیٰ کے فضل کا میں امیدوار ہوں اور میں کامل یقین رکھتا ہوں کہ رسول کریم~صل۱~ اور اسلام کی عزت کے قیام میں اور دوبارہ اسلام کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے اور مسیحیت کے کچلنے میں میرے گزشتہ یا آئندہ کاموں کا انشاء اللہ بہت کچھ حصہ ہوگا اور وہ ایڑیاں جو شیطان کا سر کچلیں گی اور مسیحیت کا خاتمہ کریں گی ان میں سے ایک ایڑی میری بھی ہوگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ میں اس سچائی کو نہایت کھلے طور پر ساری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔یہ آواز وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی آواز ہے۔ یہ مشیت وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی مشیت ہے۔ یہ سچائی نہیں ٹلے گی` نہیں ٹلے گی اور نہیں ٹلے گی۔ اسلام دنیا پر غالب آکر رہے گا۔ مسیحیت دنیا میں مغلوب ہوکر رہے گی۔ اب کوئی سہارا نہیں جو عیسائیت کو میرے حملوں سے بچاسکے۔ خدا میرے ہاتھ سے اس کو شکست دے گا اور یا تو میری زندگی میں ہی اس کو اس طرح کچل کر رکھ دے گا کہ وہ سر اٹھانے کی بھی تاب نہیں رکھے گی اور یا پھر میرے بوئے ہوئے بیج سے وہ درخت پیدا ہوگا جس کے سامنے عیسائیت ایک خشک جھاڑی کی طرح مرجھا کر رہ جائے گی اور دنیا میں چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا انتہائی بلندیوں پر اڑتا ہوا دکھائی دے گا۔
    میں اس موقعہ پر جہاں آپ لوگوں کو یہ بشارت دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کو پورا کردیا جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی تھی وہاں میں آپ لوگوں کو ان ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں جو آپ لوگوں پر عائد ہوتی ہیں
    ‏vat,10.11
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    سپین میں پرچم اسلام لہرانے سے دور جدید کے پہلے جلسے تک
    یہ رسالہ جب شائع ہوجائے تو خدام الاحمدیہ کے سپرد کردیا جائے تاکہ اس کے تھوڑے تھوڑے حصوں کا وہ اپنے نظام کے ماتحت وقتاً فوقتاً نوجوانوں سے امتحان لیتے رہیں۔ یہ فقرات بہت سادہ زبان میں ہونے چاہئیں۔ مصری زبان میں انشاء الادب نام سے کئی رسالے اس قسم کے شائع ہوچکے ہیں مگر وہ زیادہ دقیق ہیں۔ معلوم نہیں ہمارے سکولوں میں انہیں کیوں جاری نہیں کیا گیا<۔۳۱
    حضرت مصلح موعودؓ کے اس ارشاد مبارک کی تعمیل معلوم نہیں آج تک کیوں نہیں ہوسکی!!
    >ستیارتھ پرکاش< کے مکمل جواب کی سکیم
    حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آریہ سماج کے بانی دیانند سرسوتی کی کتاب ستیارتھ پرکاش کا مکمل جواب شائع کیا جائے۔ چنانچہ حضور ۲۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو مجلس عرفان میں رونق افروز ہوئے اور ملک فضل حسین صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    >میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ >ستیارتھ پرکاش< کا مکمل جواب لکھا جائے۔ اس وقت تک اس کے جس قدر جواب دیئے گئے ہیں وہ سب دفاعی رنگ رکھتے ہیں زیادہ تر لوگوں نے ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کو اپنے سامنے رکھا ہے اور اسی کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ ضرورت ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے پہلے باب سے شروع کرکے آخر تک مکمل جواب لکھا جائے اور اس جواب میں صرف دفاعی رنگ نہ ہو بلکہ دشمن پر حملہ بھی کیا جائے۔ کیونکہ دشمن اس وقت تک شرارت سے باز نہیں آتا جب تک اس کے گھر پر حملہ نہ کیا جائے اس کا ایک طریق تو یہ ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے جتنے نسخے شروع سے لے کر اب تک چھپے ہیں ان سب کو جمع کیا جائے اور پھر ان نسخوں میں جو جو اختلافات ہیں یا جہاں جہاں آریوں نے ستیارتھ پرکاش میں تبدیلیاں کی ہیں وہ سب اختلافات واضح کئے جائیں اور کتاب کا ایک باب اس غرض کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔ گویا ایک باب ایسا ہو جس کا عنوان مثلاً یہی ہو کہ >ستیارتھ پرکاش میں تبدیلیاں< اور پھر بحث کی جائے کہ آریوں نے اس میں کیا کیا تبدیلیاں کی ہیں۔ پھر جہاں جہاں وہ بہانے بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاتب کی غلطی سے ایسا ہوگیا وہاں بھی بحث کرکے واضح کیا جائے کہ یہ کتابت کی غلطی ہو ہی نہیں سکتی۔ پھر پنڈت دیانند نے علمی طور پر ہندو مذہب کے متعلق جو باتیں لکھی ہیں ان کے متعلق ویدوں اور ہندوئوں کی پرانی کتابوں سے یہ ثابت کیا جائے کہ پنڈت جی کا بیان غلط ہے۔ اسی طرح ستیارتھ پرکاش کے ہر باب میں جو کوتاہیاں یا غلطیاں پائی جاتی ہیں` الف سے لے کر ی تک ان سب کو واضح کیا جائے۔ اسلام پر جو حملے کئے گئے ہیں ان کا بھی ضمنی طور پر جواب آجانا چاہئے۔ اس طرح ستیارتھ پرکاش کے رد میں ایک مکمل کتاب لکھی جائے جو کم سے کم سات آٹھ سو صفحات کی ہو اور جس طرح ستارتھ پرکاش ایک معیاری کتاب کے طور پر پیش کی جاتی ہے اسی طرح یہ کتاب نہایت محنت سے معیاری رنگ میں لکھی جائے۔ بعد میں ہر زبان میں اس کتاب کا ترجمہ کرکے تمام ہندوستان میں پھیلائی جائے۔
    آپ اس کے لئے ڈھانچہ تیار کریں اور مجھ سے مشورہ لیں اور پھر میرے مشورہ اور میری ہدایات کے مطابق یہ کتاب لکھی جائے۔ پہلا باب مثلاً اس کتاب کی تاریخ پر مشتمل ہونا چاہئے۔ دوسرے باب میں ستیارتھ پرکاش کے پہلے باب کا جواب دیا جائے اور بتایا جائے کہ اس میں کیا کیا غلطیاں ہیں یا اگر ہم ان باتوں کو ہندو مذہب کے لحاظ سے تسلیم کرلیں تو پھر ان پر کیا کیا اعتراض پڑتے ہیں۔ اس طرح شروع سے لے کر آخر تک تمام کتاب کا مکمل جواب لکھا جائے<۔۳۲
    اس سکیم کے مطابق حضرت سیدنا المصلح الموعود نے اس کتاب کے مختلف ابواب پروفیسر ناصر الدین عبداللہ صاحب` مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب میں بغرض جواب تقسیم فرما دیئے۔۳۳
    چودھویں باب کی نسبت حضور نے فیصلہ فرمایا کہ اس کا جواب خود تحریر فرمائیں گے۔۳۴
    جماعت احمدیہ کے ان سنسکرت دان علماء نے حضرت سیدنا المصلح الموعود کی ہدایت اور نگرانی میں ماہ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش میں قریباً سات آٹھ ابواب کا جواب مکمل کرلیا۔ چنانچہ حضور نے ۲۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کے خطبہ جمعہ میں بتایا کہ۔
    >میں نے ستیارتھ پرکاش کا جواب شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چنانچہ اس کا جواب قریباً سات آٹھ بابوں کا ہوچکا ہے اور بقیہ تیار ہورہا ہے۔ جو نوجوان اس کام کو کررہے ہیں مجھے خوشی ہے کہ وہ محنت کے ساتھ کررہے ہیں اور مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے نوجوان پیدا ہورہے ہیں جو ہندو لٹریچر کو اس کی اپنی زبان میں پڑھ کر غور کرسکتے ہیں۔ اس کام کے لئے میں نے مولوی ناصر الدین صاحب عبداللہ اور مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب کو مقرر کیا ہوا ہے اور یہ تینوں بہت جانفشانی سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور میں سردست ایڈیٹنگ کرتا ہوں۔ وہ نوٹ لکھ کر مجھے دے دیتے ہیں اور میں جرح کرکے واپس بھیج دیتا ہوں۔ پھر وہ اصل مضمون لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور میں اسے دیکھ لیتا ہوں۔ اس میں میرا اپنا کام صرف اتنا ہی ہے کہ جو دلائل کمزور ہوں ان کی طرف انہیں توجہ دلا دیتا ہوں کہ یہ یہ دلائل کمزور ہیں یا تمہارا یہ اعتراض ان معنوں پر پڑتا ہے اور ان معنوں پر نہیں پڑتا یا یہ کہ بعض دفعہ ان کی عبارتوں میں جوش ہوتا ہے کیونکہ ستیارتھ پرکاش میں سخت سخت حملے کئے گئے ہیں اس لئے اس کا جواب دیتے وقت جذبات کو روکنا مشکل ہوتا ہے اس لئے میں اس بات کی بھی نگرانی کرتا ہوں کہ ایسے سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جن سے کسی کی دلشکنی ہو۔ یا اس بات کو بھی میں مدنظر رکھتا ہوں کہ یہ کتاب آریہ سماج کی ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان بعض دفعہ ناتجربہکاری کی وجہ سے اس بات کو بھول کر کہ ہمارے مخاطب تمام ہندو نہیں بلکہ صرف آریہ سماجی ہیں مضمون زیربحث میں سناتن دھرم کی بعض باتوں کی بھی تردید شروع کر دیتے ہیں تو میں اس بات میں بھی ان کی نگرانی کرتا ہوں کہ وہ صرف آریہ سماج کو ہی مخاطب کریں اور ایسی باتوں کا ذکر نہ کریں جو براہ راست ویدوں یا سناتن دھرم کے لٹریچر کے متعلق ہوں۔ جس حد تک میرے پاس مضمون آچکا ہے اور غالباً اکثر آچکا ہے اس کو دیکھ کر میں نے انداز لگایا ہے کہ بہت محنت اور جانفشانی سے لکھا گیا ہے<۔۳۵
    سیدنا المصلح الموعود کس باریک نظری اور محققانہ انداز میں ان مسودات پر نظرثانی فرماتے اور ان پر تنقید کرتے تھے اس کی چند مثالیں درج کرنا خالی از فائدہ نہ ہوں گی تا معلوم ہو کہ آپ کن خطوط پر جواب لکھوانا چاہتے تھے۔
    ستیارتھ پرکاش کے چوتھے سمولاس )متعلقہ خانہ داری( کا جواب حضور نے مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل کے سپرد فرمایا تھا۔ مہاشہ صاحب نے حضور کی خدمت میں جب اپنا لکھا ہوا مسودہ پیش کیا تو حضور نے ان پر علاوہ اور ریمارکس دینے کے اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل نوٹ لکھے۔
    >ان الفاظ کو نرم کیا جائے اور دلیل کو واضح۔ اس مضمون کو زور دار بنایا جاسکتا ہے<۔
    >اس پر بار بار زور دیا جائے کہ پنڈت صاحب کھڑے تو ہندو دھرم کی تائید کے لئے ہوئے ہیں لیکن اپنے خود ساختہ خیالات کو پیش کرکے انہوں نے اپنے مذہب کو رائج کیا ہے<۔
    >ہم کو صرف وید پر زور دینا چاہئے۔ آریہ سماج کا دعویٰ ہے وید مکمل ہیں۔ پھر دوسری طرف ان کو جانے دینے کا موقعہ دینا درست ہی نہیں<۔
    >لکھیں اگر ایک فی ہزار مثالیں بھی اس کی آریہ سماج دے تو اسے دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ جو تعلیم اول خود ساختہ ہے۔ وید میں اس کا نام و نشان نہیں۔ دوم اس پر ایک فی ہزار آریہ سماجی بھی عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اسے عالمگیر قرار دینا اور دنیا کی مشکلات کا حل قرار دینا کیسی دیدہ دلیری کی بات ہے<۔
    افسوس!! تقسیم ملک کی وجہ سے سیتارتھ پرکاش کے جواب کی یہ کوشش درمیان میں ہی رہ گئی۔
    تیسری جنگ عظیم کے شروع ہونے سے قبل تبلیغ اسلام کی سرگرمیاں تیز تر کر دینے کی تلقین
    دوسری جنگ عظیم ابھی پورے زور شور سے جاری تھی کہ حضرت سیدنا المصلح الموعود نے ۲۹۔ تبوک/ ستمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو ایک خاص خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں بتایا کہ جنگ کے
    بعد دنیا پھر ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔ ہمیں اس غلطی کو واضح کرنے اور اسلام کو پھیلانے میں دیوانہ وار مصروف ہو جانا چاہئے۔ اس اجمال کی تفصیل سیدنا المصلح الموعود ہی کے الفاظ مبارک میں درج ذیل کی جاتی ہے۔ حضور نے جماعت احمدیہ کے ہرفرد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
    >بالکل ممکن ہے اگر فاتح مغربی اقوام جرمنی اور جاپان سے اچھوتوں والا سلوک کریں تو گو جرمنی اور جاپان سے یہ قومیں ذلت نہ اٹھائیں مگر اس ظلم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بعض اور قومیں کھڑی کردے جن کا مقابلہ ان کے لئے آسان نہ ہو۔ پس دنیا پھر خدانخواستہ ایک غلطی کرنے والی ہے۔ پھر خدانخواستہ ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔ پھر ایک ایسی حرکت کرنے والی ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا پیدا نہیں ہوسکتا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس غلطی سے حاکم اقوام کو بچائے اور دوسری طرف ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو اس غلطی سے آگاہ کریں اور تبلیغ اسلام کے متعلق زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اس جنگ کے بعد کم سے کم دو ملک ایسے تیار ہو جائیں گے جو ہماری باتوں پر سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور کریں گے یعنی جرمنی اور جاپان۔ یہ دو ملک ایسے ہیں جو ہماری باتیں سننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ خصوصاً جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ ہم ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ دیکھو عیسائیت کتنی ناکام رہی کہ عیسائیت کی قریباً دو ہزار سالہ غلامی کے بعد بھی تم غلام کے غلام رہے اور غلام بھی ایسے جن کی مثال سوائے پرانے زمانہ کے اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔ اس وقت ان کے دل اسلام کی طرف راغب ہوں گے اور ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ آئو ہم عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس نے ہمارے دکھوں کا کیا علاج تجویز کیا ہے۔ پس وہ وقت آنے والا ہے جب جرمنی اور جاپان دونوں کے سامنے ہمیں عیسائیت کی ناکامی اور اسلامی اصول کی برتری کو نمایاں طور پر پیش کرنا پڑے گا۔ اسی طرح انگلستان اور امریکہ اور روس کے سمجھ دار طبقہ کو )اور کوئی ملک ایسے سمجھ دار طبقہ سے خالی نہیں ہوتا( اسلام کی تعلیم کی برتری بتاسکیں گے۔ مگر یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہماری طاقت منظم ہو` جب ہماری جماعت کے تمام افراد زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہوں۔ جب کثرت سے مبلغین ہمارے پاس موجود ہوں اور جب ان مبلغین کے لئے ہرقسم کے سامان ہمیں میسر ہوں۔ اس طرح یہ کام اسی وقت ہوسکتا ہے جب جماعت کے تمام نوجوان پورے طور پر منظم ہوں اور کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ ہو جو اس تنظیم میں شامل نہ ہو۔ وہ سب کے سب اس ایک مقصد کے لئے کہ ہم نے دنیا میں اسلام اور احمدیت کو قائم کرنا ہے اس طرح رات اور دن مشغول رہیں جس طرح ایک پاگل اور مجنون شخص تمام جہات سے اپنی توجہ ہٹاکر صرف ایک کام کی طرف مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے اپنی بیوی کو` وہ بھول جاتا ہے اپنے بچوں کو` وہ بھول جاتا ہے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اور صرف ایک مقصد اور ایک کام اپنے سامنے رکھتا ہے۔ اگر ہم یہ جنون کی کیفیت اپنے اندر پیدا کرلیں اور اگر ہماری جماعت کا ہرفرد دن اور رات اس مقصد کو اپنے سامنے رکھے تو یقیناً خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے کاموں میں برکت ڈالے گا اور اس کی کوششوں کے حیرت انگیز نتائج پیدا کرنا شروع کر دے گا<۔۳۶
    حضرت مصلح موعود کی الوداعی نصائح ایک مبلغ کیلئے
    ملک احسان اللہ صاحب واقف زندگی )مولوی عبدالخالق صاحب فاضل اور چودھری نذیر احمد صاحب آف رائے ونڈ کی معیت میں( ۲۳۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو افریقہ میں اعلائے کلمہ اسلام کی غرض سے روانہ ہوئے۔ اس موقعہ پر حضرت سیدنا المصلح الموعود نے ان کو مندرجہ ذیل نصائح لکھ کر دیں۔
    >خدا تعالیٰ پر ایمان` اس کی قضاء و قدر پر یقین` دعائوں پر زور اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں سے محبت` ہمیشہ مابعد الموت کا خیال رکھنا ایمان کے ستون ہیں۔
    اس کے بعد نماز باقاعدہ پڑھیں` سنوار کر پڑھیں۔ دین کے بارے میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کہیں` سادہ زندگی بسر کریں۔ خدمت خلق کریں اور بنی نوع انسان کی خیر خواہی کو زندگی کا مقصد بنائیں۔ مرکز سے تعلق رہے۔ ساتھیوں سے تعاون رہے` زبان اور ہاتھ ہمیشہ قابو میں رہیں۔
    ۴۴/۱۱/۲۰ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد<۳۷
    مسلمانان چمبہ کی امداد
    مکرم مرزا رحیم بیگ صاحب ریاست چمبہ کے نہایت مخلص احمدی اور سلسلہ احمدیہ اور حضرت مصلح موعود کے ممتاز شیدائیوں اور فدائیوں میں سے تھے۔۳۸ اور ہر لحظ مسلمانوں کی بہبودی کا خیال انہیں رہتا تھا۔ مرزا صاحب موصوف نے مرکز احمدیت میں اطلاع دی کہ ریاست چمبہ میں صدر کونسل انتظامیہ۳۹ کے بدلنے پر مسلمانوں کے لئے پہلے سے زیادہ پرآشوب زمانہ آرہا ہے۔ اس اطلاع پر حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ بی۔ اے` ایل ایل بی واقف زندگی کو ریاست چمبہ میں بھجوایا۔ چودھری صاحب نے مسلمانان چمبہ کے زراعت پیشہ قرار دیا جانے` ان کی مذہبی آزادی اور ٹیکسوں میں تخفیف کے اہم معاملات کے سلسلہ میں ہرممکن کوشش کی۔۴۰
    خلفاء کو اہم وصیت
    سیدنا حضرت امیر المومنین المصلح الموعودؓ نے ۸۔ فتح/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو تحریک جدید کے بعض اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے آئندہ آنے والے خلفاء کو وصیت فرمائی کہ۔
    >ہمارا نظام بھی محبت اور پیار کا ہے۔ کوئی قانون ہمارے ہاتھ میں نہیں کہ جس کے ذریعہ ہم اپنے احکام منوا سکیں۔ بلکہ میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ احمدیت میں خلافت ہمیشہ بغیر دینوی حکومت کے رہنی چاہئے۔ دینوی نظام حکومت الگ ہونا چاہئے اور خلافت الگ تاوہ شریعت کے احکام کی تعمیل کی نگرانی کرسکے۔ ابھی تو ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں۔ لیکن اگر آئے تو میری رائے یہی ہے کہ خلفاء کو ہمیشہ عملی سیاسیات سے الگ رہنا چاہئے اور کبھی بادشاہت کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرنی چاہئے۔ ورنہ سیاسی پارٹیوں سے براہ راست خلافت کا مقابلہ شروع ہو جائے گا اور خلافت ایک سیاسی پارٹی بن کر رہ جائے گی اور خلفاء کی حیثیت باپ والی نہ رہے گی۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام کے ابتداء میں خلافت اور حکومت جمع ہوئی ہیں مگر وہ مجبوری تھی کیونکہ شریعت کا ابھی نفاذ نہ ہوا تھا اور چونکہ شریعت کا نفاذ ضروری تھا اس لئے خلافت اور حکومت کو اکٹھا کر دیا گیا اور ہمارے عقیدہ کی رو سے یہ جائز ہے کہ دونوں اکٹھی ہوں اور یہ بھی جائز ہے کہ الگ الگ ہوں۔ ابھی تو ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں مگر میری رائے یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ ہمیں حکومت دے اس وقت بھی خلفاء کو اسے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے بلکہ الگ رہ کر حکومتوں کی نگرانی کرنی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ اسلامی احکام کی پیروی کریں اور اس سے مشورہ لے کر چلیں اور حکومت کا کام سیاسی لوگوں کے سپرد ہی رہنے دیں۔ پس اگر حکم کا سوال ہو تو میرا نقطہ نگاہ تو یہ ہے کہ اگر میری چلے تو میں کہوں گا کہ حکومت ہاتھ میں آنے پر بھی خلفاء اسے اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ انہیں اخلاق اور احکام قرآنیہ کے نفاذ کی نگرانی کرنی چاہئے<۔۴۱
    سرحد کے احمدی طالب علموں کو مرکز میں لانے کی ضرورت
    سیدنا المصلح الموعود بیرونی دنیا میں تبلیغ خصوصاً برصغیر کے اندر اشاعت اسلام و احمدیت کا جال بچھا دینے کے لئے خاص طور پر متفکر رہتے تھے۔ اسی تعلق میں حضور نے ۹۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو اپنی مجلس علم و عرفان میں اس رائے کا اظہار فرمایا کہ۔
    >اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ صوبہ سرحد سے طالب علم قادیان میں آئیں۔ ہم نے اس کے لئے بڑی کوششیں کی ہیں مگر وہاں سے ایسے طالب علم نہیں آتے جو تعلیم کے بعد خدمت دین کریں۔ جو آتے ہیں وہ اس طرف لگ جاتے ہیں کہ نوکریاں کریں۔ صرف ایک مولوی چراغ دین صاحب ہیں۔ باقی سارے پڑھنے کے بعد ملازمتیں کرنے لگ گئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں تبلیغ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مبلغ وہاں کا ہی باشندہ ہو جو وہاں کے رسم و رواج اور ان لوگوں کی عادات سے واقف ہو پنجابی مبلغ اس علاقہ میں اس طرح کام نہیں کرسکتا جس طرح کہ اس علاقہ کا باشندہ کرسکتا ہے<۔۴۲
    حکومت سندھ کی طرف سے >ستیارتھ پرکاش< کے چودھویں باب کی ضبطی اور حضرت سیدنا المصلح الموعود
    سندھ گورنمنٹ نے مسلمانان ہند کے ملک گیر مظاہروں سے متاثر ہوکر ۵۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۲ہش کو ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت حکم جاری کردیا کہ ستیارتھ پرکاش کی
    کوئی کاپی اس وقت تک چھاپی یا شائع نہ ہو جب تک چودھویں باب کو حذف نہ کرلیا جائے۔ اس اعلامیہ پر اگلے روز آریہ سماج وچھو والی اور آریہ سماج انارکلی نے اس ضبطی کے خلاف جلسے کئے جن میں آریہ مقرروں نے دھمکی دی کہ یہ حکم ملک میں بدامنی کا باعث بنے گا۔ ایک ایک آریہ سماجی ستیارتھ پرکاش کی رکھشا کے لئے میدان میں نکلے گا۔ اس کے بعد آریوں نے ایک اینٹی قرآن لیگ بھی قائم کرلی اور قرآن مجید کی ضبطی کا مطالبہ کرنے لگے اور ملک میں ہر طرف ایک ہنگامہ بپا ہوگیا۔
    سیدنا المصلح الموعود نے ۲۱۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو اپنی مجلس علم و عرفان میں >ستیارتھ پرکاش< سے شدید نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہوئے انگریزی حکومت کی مسلسل خاموشی پر سخت تنقید کی اور حکومت سندھ کی کارروائی کو غلط قرار دیتے ہوئے فرمایا۔
    >میرے نزدیک ستیارتھ پرکاش اس وقت ہی قابل ضبطی تھی جب وہ شائع کی گئی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اسے ضبط کیوں کیا گیا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اس کے ضبط کرنے میں گورنمنٹ اتنی دیر کیوں خاموش رہی۔ پھر جس قانون یعنی ڈیفنس آف انڈیا رولز کے ماتحت ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کو ضبط کیا گیا ہے یہ ایک عارضی قانون ہے۔ اس کا نتیجہ صرف یہی ہوگا کہ مسلمانوں اور آریوں میں لڑائی جھگڑا اور شورش تو پیدا ہوجائے گی مگر جب جنگ کے خاتمہ پر ڈیفنس کا قانون منسوخ ہوگا ساتھ ہی ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کی ضبطی کا حکم بھی منسوخ ہو جائے گا۔ پس ایسے قانون کے ماتحت اس کتاب کو ضبط کرنا جو عارضی ہے صرف فساد پیدا کرے گا اور نتیجہ کچھ بھی نہ نکلے گا۔
    پس اول تو گورنمنٹ کو چاہئے تھا کہ اس کتاب کو اس وقت ضبط کرتی جب یہ شائع کی گئی تھی۔ اتنی دیر کیوں کی گئی۔ پھر اگر اب ضبط کرنا تھا تو عام قانون کے ماتحت ضبط کرتی اور جس طرح میں نے بتایا ہے کہ گورنمنٹ یہ دلیل دیتی کہ ہم اس وجہ سے اس کتاب کو ضبط کرتے ہیں کہ اس میں ایسی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کی گئی ہیں جو ان مذاہب میں نہیں پائی جاتیں اور ایسی باتیں کہہ کر دوسرے مذاہب کا مذاق اڑایا گیا ہے اور اشتعال دلایا گیا ہے جو خود کتاب لکھنے والے کے مذہب میں بھی پائی جاتی ہیں۔
    اگر سندھ گورنمنٹ اس طرح کرتی کہ عام قانون کے ماتحت اس کتاب کو ضبط کرتی اور اس میں یہ دلیل دیتی جو میں نے بیان کی ہے تو آریوں نے جو اب اینٹی قرآن تحریک شروع کررکھی ہے۔ یہ تحریک جاری کرنے کی انہیں کبھی جرات نہ ہوتی۔ کیونکہ سارے آریہ تو کیا سارے ہندو` سارے جینی` سارے عیسائی اور سارے یہودی مل کر قرآن مجید کی کوئی ایک آیت تو ایسی دکھائیں جس میں قرآن مجید نے کسی مذہب کی طرف کوئی بات منسوب کی ہو اور وہ بات اس مذہب میں نہ پائی جاتی ہو۔ قرآن مجید نے عیسائیوں کے متعلق کوئی ایک بات بھی ایس نہیں کہی جو عیسائیوں میں نہ پائی جاتی ہو۔ قرآن مجید نے کوئی بات بھی یہودیوں کے متعلق ایسی نہیں کہی جو یہودیوں میں نہ پائی جاتی ہو بلکہ نہایت دیانت داری سے وہی باتیں ان کی طرف منسوب کی ہیں جو ان کے مذہب میں پائی جاتی ہیں۔ بے شک آج کل یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہماری موجودہ کتابوں میں وہ باتیں نہیں پائی جاتیں جو قرآن مجید ہماری طرف منسوب کرتا ہے لیکن ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر یہ باتیں آج کل تمہاری کتب میں نہیں پائی جاتیں تو اس کا قرآن ذمہ دار نہیں کیونکہ تمہاری کتابوں میں تحریف ہوچکی ہے۔ یہ باتیں اس وقت تمہاری کتابوں میں پائی جاتی تھیں جب قرآن مجید نازل ہوا تھا۔ پس قرآن مجید وہی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کرتا ہے جن کے متعلق یا تو ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ جس زمانہ میں قرآن مجید نازل ہوا اس وقت یہ باتیں ان مذاہب میں پائی جاتی تھیں اور یا ایسی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کرتا ہے جن کو وہ لوگ اب بھی مانتے ہیں اور وہ باتیں اسی رنگ میں ان کے اندر پائی جاتی ہیں جس رنگ میں قرآن مجید پیش کرتا ہے۔
    اسی طرح مخالف قرآن مجید کی کوئی ایک آیت بھی ایسی پیش نہیں کرسکتا جس میں کوئی ایسی بات کہہ کر دوسرے مذہب پر اعتراض کیا گیا ہو جس کو قرآن مجید خود بھی مانتا ہو بلکہ دیانت داری سے قرآن مجید دوسرے مذہب کی انہی باتوں پر اعتراض کرتا ہے جن کو خود نہیں مانتا۔ پس یہ دو اصول مدنظر رکھتے ہوئے اگر عام مقررہ قانون کے ماتحت گورنمنٹ ضبطی کا حکم لگاتی تو آریہ سماج کوئی وجہ شور پیدا کرنے کا نہ پاسکتی اور یہ اینٹی قرآن ایجی ٹیشن کا ڈھکوسلہ چل ہی نہ سکتا۔
    نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ وہی حصہ ستیارتھ پرکاش کا ضبط نہ ہونا چاہئے تھا جو اسلام کے خلاف ہے بلکہ وہ حصہ بھی ضبط ہونا چاہئے تھا جو عیسائیت کے خلاف ہے` جو ہندو مذہب کے خلاف ہے` جو جین مذہب کے خلاف ہے` جو سکھ مذہب کے خلاف ہے۔ کیونکہ ستیارتھ پرکاش میں ان مذاہب کی طرف بھی وہ باتیں منسوب کی گئی ہیں جو ان میں نہیں پائی جاتیں یا جو خود آریہ سماج کے مسلمات میں بھی ہیں۔ اگر دل دکھنا ضبطی کی دلیل ہے تو کیا سکھ کا دل نہیں دکھتا؟ کیا عیسائیوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی؟ جس طرح مسلمانوں کا دل دکھتا ہے اسی طرح سکھوں کا دل بھی دکھتا ہے۔ اسی طرح عیسائیوں کا دل بھی دکھتا ہے۔ پس گورنمنٹ کو چاہئے تھا کہ اگر ضبط کرنا تھا تو ایسے سب بابوں کو ضبط کرتی جو دوسرے مذاہب کے بارہ میں ہیں اور ان دو باتوں پر اس کی بنیاد رکھتی۔ محض دل دکھنے پر بنیاد نہ رکھتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس ہمیں چار باتوں پر اعتراض ہے۔
    ۱۔ پہلی یہ کہ اس کتاب کی ضبطی میں دیر کیوں کی گئی؟ یہ کتاب اس وقت ہی قابل ضبط تھی جس وقت شائع ہوئی۔
    ۲۔ دوسرے ہمیں اس بات پر اعتراض ہے کہ ایک عارضی قانون کے ماتحت اس کو کیوں ضبط کیا گیا ہے؟ اس سے ضرور فتنہ پیدا ہوگا اور جب یہ قانون منسوخ ہوگا تو ساتھ ہی ضبطی کا حکم بھی منسوخ ہو جائے گا۔
    ۳۔ تیسرے یہ بات ہمارے نزدیک قابل اعتراض ہے کہ دلیل نہیں دی گئی کہ کیوں ضبط کرتے ہیں؟ محض دل دکھنا کوئی دلیل نہیں۔
    ۴۔ چوتھے یہ بات بھی قابل اعتراض ہے کہ صرف مسلمانوں کی تائید میں قدم اٹھایا گیا ہے حالانکہ گورنمنٹ کو سب مذاہب کی حاظت کرنی چاہئے تھی۔
    پس یہ چار وجوہ ہیں جن کی بناء پر ہم سندھ گورنمنٹ کی ستیارتھ پرکاش کے متعلق موجودہ کارروائی کو غلط سمجھتے ہیں<۔۴۳
    تحریک جدید کے دفتر دوم کی بنیاد
    حضرت سیدنا المصلح الموعود نے خدا تعالیٰ کے القاء خاص سے نومبر ۱۹۳۴ء میں تحریک جدید جیسی عالمی تبلیغ اسلام تنظیم قائم فرمائی جس کا پہلا دس سالہ دور اس سال ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش میں نہایت کامیابی و کامرانی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ جس پر حضور نے ۲۴۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو اس کے دفتر دوم کی بنیاد رکھی اور دعوت دی کہ۔
    >پانچ ہزار دوستوں کی ایک نئی جماعت آگے آئے جو اس تحریک میں حصہ لے<۔
    نیز فرمایا۔
    >میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل و کرم سے جماعت کے دوستوں میں ہمت پیدا کرے گا اور پھر جو کوتاہی رہ جائے گی اسے وہ اپنے فضل سے پورا کردے گا۔ یہ اسی کا کام ہے اور اسی کی رضاء کے لئے میں نے یہ اعلان کیا ہے۔ زبان گو میری ہے مگر بلاوا اسی کا ہے۔ پس مبارک ہے وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بلاوا سمجھ کر ہمت اور دلیری کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور خدا تعالیٰ رحم کرے اس پر جس کا دل بزدلی کی وجہ سے پیچھے ہٹتا ہے<۔۴۴
    تحریک جدید کے دور اول کی شاندار کامیابی پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور حضرت سیدنا المصلح کے حضور ہدیہ اخلاص پیش کرنے کے لئے مسجد اقصیٰ قادیان میں ۲۳۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ جس کی صدارت حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے فرمائی۔۴۵
    ‏]sub [tagبیرونی مجاہدین کو بلوانے اور نئے مبلغین بھجوانے کا فیصلہ
    تحریک جدید کے دورثانی کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی سیدنا المصلح الموعود نے فیصلہ کیا کہ بیرونی مجاہدین احمدیت کو جلد سے جلد واپس بلانے کا انتظام کیا جائے۔ چنانچہ فرمایا۔
    >ضروری ہے کہ جو مبلغ بیرونی ممالک میں جائیں ان کے لئے کافی رقم سفر خرچ کے لئے مہیا کی جائے۔ کافی لٹریچر مہیا کیا جائے اور پھر سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ان کی واپسی کا انتظام کیا جائے۔ ہر تیسرے سال مبلغ کو واپس بھی بلانا چاہئے اور پرانے مبلغوں کو بلانے اور نئے بھیجنے کے لئے کافی روپیہ مہیا کرنا ضروری ہے۔ ابھی ہم نے تین نوجوانوں کو افریقہ بھیجا ہے۔ وہ ریل کے تھرڈ کلاس میں اور لاریوں میں سفر کریں گے۔ مگر پھر بھی ۱۷` ۱۸ سو روپیہ ان کے سفر خرچ کا اندازہ ہے۔ اگر ہم یہ اندازہ کریں کہ ہر سال ۳۳ فیصدی مبلغ واپس بلائے جائیں گے اور ۳۳ فیصدی ان کی جگہ بھیجے جائیں گے اور ہر ایک کے سفر خرچ کا تخمینہ پندرہ سو روپیہ رکھیں تو صرف یہی خرچ ایک لاکھ روپیہ سالانہ کا ہوگا اور یہ صرف سفر خرچ ہے اور اگر مبلغین کو چار چار سال کے بعد بلائیں تو یہ خرچ پھر بھی ۷۵ ہزار روپیہ ہوگا اور کم سے کم اتنے عرصہ کے بعد ان کو بلانا نہایت ضروری ہے۔ تا ان کا اپنا ایمان بھی تازہ ہوتا رہے اور ان کے بیوی بچوں اور خود ان کو بھی آرام ملے۔ اب تو یہ حالت ہے کہ حکیم فضل الرحمن صاحب کو باہر گئے ایک لمبا عرصہ گزرچکا ہے اور انہوں نے اپنے بچوں کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ جب وہ گئے تو ان کی بیوی حاملہ تھیں۔ بعد میں لڑکا پیدا ہوا۔ اور ان کے بچے پوچھتے ہیں کہ اماں ہمارے ابا کی شکل کیسی ہے۔ اسی طرح مولوی جلال الدین صاحب شمس انگلستان گئے ہوئے ہیں اور صدر انجمن احمدیہ اس ڈر کے مارے ان کو واپس نہیں بلاتی کہ ان کا قائم مقام کہاں سے لائیں اور کچھ خیال نہیں کرتی کہ ان کے بھی بیوی بچے ہیں جو ان کے منتظر ہیں۔ ان کا بچہ کبھی کبھی میرے پاس آتا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر کہتا ہے کہ میرے ابا کو واپس بلا دیں۔ پھر اتنا عرصہ خاوندوں کے باہر رہنے کا نتیجہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ عورتیں بانجھ ہو جاتی ہیں اور آئندہ نسل کا چلنا بند ہو جاتا ہے۔ ایک اور مبلغ باہر گئے ہوئے ہیں ان کے بچہ نے جو خاصا بڑا ہے نہایت ہی دردناک بات اپنی والدہ سے کہی۔ اس نے کہا۔ اماں! دیکھو ہمارا فلاں رشتہ دار بیمار پڑا تو اس کا ابا اسے پوچھنے کے لئے آیا۔ تم نے ابا سے کیوں شادی کی جو کبھی ہمیں پوچھنے بھی نہیں آیا۔ اس نے بچپن کی وجہ سے یہ تو نہ سمجھا کہ اگر یہ شادی نہ ہوتی تو وہ پیدا کہاں سے ہوتا اور اسی طرح ہنسی کی بات بن گئی۔ مگر حقیقت پر غور کرو یہ بات بہت ہی دردناک ہے۔ اس کے والد عرصہ سے باہر گئے ہوئے ہیں اور ہم ان کو واپس نہیں بلاسکے۔ پس یہ بہت ضروری ہے کہ مبلغین کو تین چار سال کے بعد واپس بلایا جائے<۔۴۶
    اس فیصلہ کے بعد بیرونی مجاہدین کی واپسی کے لئے ہرممکن اقدامات کی طرف خاص توجہ دی جانے لگی۔
    حضرت سیدنا المصلح الموعود کی طرف سے جماعت اسلامی سے متعلق بعض سوالات کے جوابات
    شمالی ہند میں >جماعت اسلامی< کے نام سے مسلمانوں کی ایک سیاسی جماعت۴۷ تین برس پیشتر معرض وجود میں آئی تھی۔ یہ جماعت سید ابوالاعلیٰ صاحب۴۸ مودودی سابق ایڈیٹر
    >الجمعیتہ< دھلی و مدیر رسالہ >ترجمان۴۹ القرآن< لاہور کی قیادت میں ۲۵۔ اگست ۱۹۴۱ء۵۰ کو قائم ہوئی۔
    اس جماعت کا پہلا مرکز دفتر رسالہ ترجمان القرآن مبارک پارک پونچھ روڈ لاہور میں تھا۔ ۱۵۔ جون۵۱ ۱۹۴۲ء کو جناب مودودی صاحب اپنے بعض رفقاء سمیت قادیان کے نزدیک ہی ایک قریہ جمال پور )تحصیل پٹھانکوٹ ضلع گورداسپور( میں منتقل ہوگئے اور اسے اپنا >دارالاسلام< بنا کر اپنی مخصوص دعوت کی اشاعت شروع کر دی۔
    ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے آخر میں ایک دوست نے >جماعت اسلامی< کے نظریات و عقائد کی نسبت دو سوالات حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کی خدمت میں لکھ کر بھیجے جن کا جواب حضور نے اپنے قلم سے تحریر فرمایا۔ یہ سوالات مع جوابات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    >سوال اول
    تحریک جماعت اسلامی سے حضور واقف ہوں گے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے ساتھی اسلام کے متعلق حسب ذیل نظریہ رکھتے ہیں۔
    قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ انسان کے لئے ضابطہ حیات ہے جو اخلاقی` تمدنی اور سیاسی قوانین کا مجموعہ ہے۔ اسلام اس کی کامل پیروی کا نام عبادت رکھتا ہے۔ جو شخص اس ضابطہ حیات کی بجائے نظام باطل کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرتا ہے وہ صحیح عبد نہیں ہے یا جو اعتقادی طور پر تو ضابطہ شریعت )قرآن( پر ایمان رکھتا ہے مگر عمل دوسرے قوانین پر کررہا ہو وہ بھی حلقہ عبودیت سے دور ہے۔
    دلائل
    ۱۔ وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین
    ۲۔ واعبدوا اللہ و اجتنبوا الطاغوت
    ۳۔ ولا یشرک بعبادہ ربہ احدا
    کیا یہ احمدیت کی رو سے بھی درست ہے؟
    جواب
    یہ درست ہے کہ قرآن کریم کے ہر ایک حکم پر عمل کرنا اگر طاقت ہو ضروری ہے مگر کلمہ حکمت سے باطل مراد لینا نادرست ہے۔
    سوال دوم
    قل ان الامر کلہ للہ سے استنباط کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی مالک الملک اور فرمانروا ہے۔ اس کی حکومت میں کسی کا حکم نہیں چلتا۔ انسان کے لئے ضابطہ حیات بنانے کا حق اسے ہے کیونکہ وہی اس کی ضروریات اور رازوں سے واقف ہے۔ مخلوق کا کام صرف اس کی پیروی میں ہی اس کی فلاح ہے۔ اس لئے اگر کوئی شخص خدا کے قانون کو چھوڑ کر یا جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے )درآنحالیکہ اس کے پاس خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی CHARTER نہیں( یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت )خارج از اطاعت حق( ہے اور اس سے فیصلہ چاہنے اور اس کے فیصلہ پر عمل کرنے والا بھی مجرم ہے اور اس کی وفادار رعایا میں سے نہیں ہے۔
    دلائل
    ۱۔
    ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون۔
    ۲۔
    الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ۔
    ۳۔
    ولا تطع الکافرین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    ۴۔
    ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    ۵۔
    فلا و ربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم
    ۶۔
    الم عاھد الیکم یا بنی ادم الا تعبدوا الشیطن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    مگر احمدیت ہمیں غیر الٰہی قوانین کا احترام سکھاتی ہے۔ احترام ہی نہیں بلکہ پیروی کا حکم دیتی ہے۔ یہ تضاد سمجھ میں نہیں آتا۔ وضاحت فرمائی جائے۔
    جواب
    اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ غیر مذہبی حکومت کے قوانین پر عمل نہیں کرنا تو ابوالعلیٰ خود بھی عمل کرتے ہیں اور ان کے ساتھی بھی<۔۵۲`۵۳
    دوسرا باب )فصل سوم(
    مصلح موعود کے دور جدید کا پہلا سالانہ جلسہ
    جلسہ کی آمد سے قبل دعائوں کی تحریک خاص
    دور مصلح موعود کا پہلا جلسہ سالانہ قریب آرہا تھا اس لئے حضرت امیر المومنین نے ۲۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۳۲ہش کو اپنے خطبہ جمعہ میں اہل قادیان اور بیرونی جماعتوں کو دعائیں کرنے کی خاص تحریک کی۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ۔
    >یہ موقعہ بہت دعائوں کا اور بہت گریہ و زاری کا ہے۔ قادیان کے دوست بھی بہت دعائیں کرتے رہیں اور باہر سے آنے والے بھی دعائوں میں لگے رہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اس اجتماع کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ باقی ماندہ ایام اور جلسہ کے ایام کو بھی اور اس کے بعد کے چند ایام کو بھی خصوصیت کے ساتھ دعائوں میں گزاریں<۔۵۴
    حضرت سیدنا المصلح الموعود کی معرکتہ الاراء تقاریر
    یہ جلسہ حسب معمول ہائی سکول کی کھلی گرائونڈ میں ہوا اور اس میں حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے چار معرکتہ الاراء تقاریر فرمائیں۔
    افتتاح
    حضور ۲۶۔ فتح/ دسمبر کو گیارہ بجے جلسہ کا افتتاح کرنے کے لئے سٹیج پر تشریف لائے۔ تمام مجمع نے کھڑے ہوکر اللہ اکبر اور حضرت امیر المومنین زندہ باد کے نعروں سے استقبال کیا۔ حضور نے تمام مجمع کو السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ کہا اور کرسی پر رونق افروز ہوگئے۔ ازاں بعد حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی۔ اے نے تلاوت قرآن کریم کی۔ پھر حضور نے افتتاحی تقریر ارشاد فرمائی۔ جس میں بتایا کہ >ہمیں وہ نظارے بھی یاد ہیں جب دو چار آدمی حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ تھے اور آج ہم یہ نظارہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں` دنیا کی ہر قوم میں` ہر نسل میں اور ہر زبان بولنے والوں میں احمدی موجود ہیں اور ان میں ہمت اور اخلاص اور فداکاری کے جذبات اعلیٰ درجہ کے پائے جاتے ہیں اور وہ قربانی کے انتہائی مقام پر پہنچے ہوئے ہیں۔ آج خدا تعالیٰ کا ہاتھ ان کو روک رہا ہے ورنہ وہ آگے بڑھ کر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پروانے موجود ہیں` شمع ہی انہیں قربان ہو جانے سے روک رہی ہے اور وہ جل جانے کی خواہش اور تمنا میں جل رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت تھوڑی سے بڑھ کر اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے اور اتنا وسیع کام اس کے سامنے ہے کہ جو قومیں اس مقام پر پہنچ جاتی ہیں` وہ یا تو اوپر نکل جاتی اور سب روکاوٹوں کو توڑ ڈالتی ہیں یا پھر تنزل کے گڑھے میں گر جاتی ہیں۔ دراصل یہ مقام سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بہت لوگ جب یہاں سے گر جاتے ہیں تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کہاں چلے گئے۔ مگر بہت اس مقام سے آگے بڑھ کر اس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کا عرش نظر آنے لگتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سننے اور اس کے خاص انعامات کے مورد بنتے ہیں۔ خدا ان کا ہو جاتا ہے وہ خدا کے ہو جاتے ہیں۔
    پس اس نازک وقت اور نازک مقام کی وجہ سے جماعت کی ذمہ داریاں بہت اہم ہیں اور آج آپ لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے اور اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ یا تو ہمارا قدم نہایت بلند مقام کی طرف اٹھے گا یا پھر نیچے گر جائے گا<۔۵۵
    دوسرے روز خواتین کی جلسہ گاہ میں تقریر
    ۲۔ دوسرے دن )۲۷۔ فتح/ دسمبر کو( ظہر سے قبل سیدنا المصلح الموعود نے خواتین کی جلسہ گاہ میں )جو حسب سابق مسجد نور سے متصل مشرقی جانب تھی( تقریر فرمائی جس میں لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ۔
    >ایک مہینہ کے اندر اندر یعنی جنوری ۱۹۴۵ء ختم ہونے سے پہلے وہ اپنے دفتر کو منظم کرلیں<۔
    اس اہم ارشاد کے بعد حضور نے لجنہ کو احمدی خواتین کی تنظیم کی نسبت بیش قیمت ہدایات سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
    >لجنہ اماء اللہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ جب ان کی تنظیم ہو جائے تو جماعت کی تمام عورتوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ پھر دوسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ نماز` روزہ اور شریعت کے دوسرے موٹے موٹے احکام کے متعلق آسان اردو و زبان میں مسائل لکھ کر تمام عورتوں کو سکھا دیئے جائیں اور پھر تیسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہر ایک عورت کو نماز کا ترجمہ یاد ہو جائے تاکہ ان کی نماز طوطے کی طرح نہ ہو کہ وہ نماز پڑھ رہی ہوں مگر ان کو یہ علم ہی نہ ہو کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہی ہیں اور آخری اور اصل قدم یہ ہونا چاہئے کہ تمام عورتوں کو باترجمہ قرآن مجید آجائے اور چند سالوں کے بعد ہماری جماعت میں سے کوئی عورت ایسی نہ نکلے جو قرآن مجید کا ترجمہ نہ جانتی ہو۔ اس وقت شاید ہزار میں سے ایک عورت بھی نہیں ہوگی جس کو قرآن مجید کا ترجمہ آتا ہو۔ میری حیثیت استاد کی ہے اس لئے کوئی حرج نہیں اگر میں تم سے یہ پوچھ لوں کہ جو عورتیں قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہیں وہ کھڑی ہوجائیں اور جن کو ترجمہ نہیں آتا وہ بیٹھی رہیں۔ میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کتنی عورتیں ایسی ہیں جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہیں۔ اس لئے جو ترجمہ جانتی ہیں وہ کھڑی ہو جائیں )حضور کے ارشاد پر بہت سی عورتیں کھڑی ہوگئیں۔ جن کو دیکھ کر حضور نے فرمایا( بہت خوشکن بات ہے کہ میرے اندازہ سے بہت زیادہ عورتیں کھڑی ہیں۔ الحمدلل¶ہ۔ اب بیٹھ جائو۔ میرے لئے یہ خوشی عید کی خوشی سے بھی زیادہ ہے۔ میرا اندازہ تھا کہ جتنی عورتیں کھڑی ہوئی ہیں اس کے دسویں حصہ سے بھی کم عورتیں ہوں گی جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میرے اندازہ سے بہت زیادہ عورتیں کھڑی ہوئی ہیں۔ مگر میرے لئے یہ تسلی کا موجب نہیں۔ میرے لئے تسلی کا موجب تو یہ بات ہوگی جب تم میں سے ہر ایک عورت قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہوگی اور مجھے خوشی اس وقت ہوگی جب تم میں سے ہر ایک عورت صرف ترجمہ ہی نہ جانتی ہو بلکہ قرآن مجید کو سمجھتی بھی ہو اور مجھے حقیقی خوشی اس وقت ہوگی جب تم میں سے ہر ایک عورت دوسروں کو قرآن مجید سمجھا سکتی ہو اور پھر اس سے بھی زیادہ خوشی کا دن تو وہ ہوگا جس دن خدا تعالیٰ تمہارے متعلق یہ گواہی دے گا کہ تم نے قرآن مجید کو سمجھ لیا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے<۔۵۶
    اہم واقعات پر تبصرہ اور پروگرام
    ۳۔ اسی روز ۲۷۔ فتح/ دسمبر کو حضور نے مردانہ جلسہ گاہ میں بھی مفصل تقریر فرمائی جس میں حسب دستور سال کے اہم واقعات پر تبصرہ فرمایا اور آئندہ کے پروگرام پر روشنی ڈالی۔۵۷ یہ تقریر تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی۔۵۸4] ft[r
    ظہور مصلح موعود کے موضوع پر پرشوکت تقریر
    ۴۔ سالانہ جلسہ کے آخری اجلاس )منعقدہ ۲۸۔ فتح/ دسمبر( میں حضرت امیر المومنین نے ساڑھے تین بجے سے لے کر ساڑھے سات بجے یعنی مسلسل چار گھنٹے تک خطاب فرمایا جس میں نہ صرف پیشگوئی مصلح موعود کا پورا ہونا دلائل اور واقعات سے روز روشن کی طرح ثابت فرما دیا بلکہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے اعتراضات کا نہایت اسان پیرایہ میں رد کیا۔ اس انقلاب آفریں تقریر کے آخری حصہ میں حضور نے جماعت احمدیہ کو نئی ذمہ ¶داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔
    >اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم سے وہ پیشگوئی جس کے پورا ہونے کا ایک لمبے عرصہ سے انتظار کیا جارہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق اپنے الہام اور اعلام کے ذریعہ مجھے بتا دیا ہے کہ وہ پیشگوئی میرے وجود میں پوری ہوچکی ہے اور اب دشمنان اسلام پر خدا تعالیٰ نے کامل حجت کردی ہے اور ان پر یہ امر واضح کر دیا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب` محمد رسول اللہ~صل۱~ خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے سچے فرستادہ ہیں۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو اسلام کو جھوٹا کہتے ہیں۔ کاذب ہیں وہ لوگ جو محمد رسول اللہ~صل۱~ کو کاذب کہتے ہیں۔ خدا نے اس عظیم الشان پیشگوئی کے ذریعہ اسلام اور رسول کریم~صل۱~ کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
    بھلا کس شخص کی طاقت تھی کہ وہ ۱۸۸۶ء میں آج سے پورے اٹھاون سال قبل اپنی طرف سے یہ خبر دے سکتا کہ اس کے ہاں نو سال کے عرصہ میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ وہ اسلام اور رسول کریم~صل۱~ کا نام دنیا میں پھیلائے گا۔ وہ علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائے گا۔ وہ جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی قربت اور اس کی رحمت کا وہ ایک زندہ نشان ہوگا۔ یہ خبر دنیا کا کوئی انسان اپنے پاس سے نہیں دے سکتا تھا۔ خدا نے یہ خبر دی اور پھر اسی خدا نے اس خبر کو پورا کیا۔ اس انسان کے ذریعہ جس کے متعلق ڈاکٹر یہ امید نہیں رکھتے تھے کہ وہ زندہ رہے گا یا لمبی عمر پائے گا۔ میری صحت بچپن میں ایسی خراب تھی کہ ایک موقعہ پر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کہہ دیا کہ اسے سل ہوگئی ہے کسی پہاڑی مقام پر اسے بھجوا دیا جائے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے مجھے شملہ بھجوا دیا مگر وہاں جاکر میں اداس ہوگیا اور اس وجہ سے جلدی ہی واپس آگیا۔ غرض ایسا انسان جس کی صحت کبھی ایک دن بھی اچھی نہیں ہوئی اس انسان کو خدا نے زندہ رکھا اور اس لئے زندہ رکھا کہ اس کے ذریعہ اپنی پیشگوئیوں کو پورا کرے اور اسلام اور احمدیت کی صداقت کا ثبوت لوگوں کے سامنے مہیا کرے۔ پھر میں وہ شخص تھا جسے علوم ظاہری میں سے کوئی علم حاصل نہیں تھا مگر خدا نے اپنے فضل سے فرشتوں کو میری تعلیم کے لئے بھجوایا اور مجھے قرآن کے ان مطالب سے آگاہ فرمایا جو کسی انسان کے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آسکتے تھے۔ وہ علم جو خدا نے مجھے عطا فرمایا اور وہ چشمہ روحانی جو میرے سینہ میں پھوٹا وہ خیالی یا قیاسی نہیں ہے بلکہ ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ میں ساری دنیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس دنیا کے پردہ پر کوئی شخص ایسا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے قرآن سکھایا گیا ہے تو میں ہر وقت اس سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن میں جانتا ہوں آج دنیا کے پردہ پر سوائے میرے اور کوئی شخص نہیں جسے خدا کی طرف سے قرآن کریم کا علم عطا فرمایا گیا ہو۔ خدا نے مجھے علم قرآن بخشا ہے اور اس زمانہ میں اس نے قرآن سکھانے کے لئے مجھے دنیا کا استاد مقرر کیا ہے۔ خدا نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ~صل۱~ اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائوں اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دے دوں۔
    دنیا زور لگالے` وہ اپنی تمام طاقتوں اور جمعیتوں کو اکٹھا کرلے۔ عیسائی بادشاہ بھی اور ان کی حکومتیں بھی مل جائیں۔ یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے۔ دنیا کی تمام بڑی بڑی مالدار اور طاقت ور قومیں اکٹھی ہو جائیں اور وہ مجھے اس مقصد میں ناکام کرنے کے لئے متحد ہو جائیں پھر بھی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں ناکام رہیں گی اور خدا میری دعائوں اور تدابیر کے سامنے ان کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا اور خدا میرے ذریعہ سے یا میرے شاگردوں اور اتباع کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے رسول کریم~صل۱~ کے نام کے طفیل اور صدقے اسلام کی عزت کو قائم کرے گا اور اس وقت تک دنیا کو نہیں چھوڑے گا جب تک اسلام پھر اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا میں قائم نہ ہو جائے اور جب تک محمد رسول اللہ~صل۱~ کو پھر دنیا کا زندہ نبی تسلیم نہ کرلیا جائے۔
    اے میرے دوستو! میں اپنے لئے کسی عزت کا خواہاں نہیں` نہ جب تک خدا تعالیٰ مجھ پر ظاہر کرے کسی مزید عمر کا امیدوار۔ ہاں خدا تعالیٰ کے فضل کا میں امیدوار ہوں اور میں کامل یقین رکھتا ہوں کہ رسول کریم~صل۱~ اور اسلام کی عزت کے قیام میں اور دوبارہ اسلام کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے اور مسیحیت کے کچلنے میں میرے گزشتہ یا آئندہ کاموں کا انشاء اللہ بہت کچھ حصہ ہوگا اور وہ ایڑیاں جو شیطان کا سر کچلیں گی اور مسیحیت کا خاتمہ کریں گی ان میں سے ایک ایڑی میری بھی ہوگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ میں اس سچائی کو نہایت کھلے طور پر ساری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔یہ آواز وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی آواز ہے۔ یہ مشیت وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی مشیت ہے۔ یہ سچائی نہیں ٹلے گی` نہیں ٹلے گی اور نہیں ٹلے گی۔ اسلام دنیا پر غالب آکر رہے گا۔ مسیحیت دنیا میں مغلوب ہوکر رہے گی۔ اب کوئی سہارا نہیں جو عیسائیت کو میرے حملوں سے بچاسکے۔ خدا میرے ہاتھ سے اس کو شکست دے گا اور یا تو میری زندگی میں ہی اس کو اس طرح کچل کر رکھ دے گا کہ وہ سر اٹھانے کی بھی تاب نہیں رکھے گی اور یا پھر میرے بوئے ہوئے بیج سے وہ درخت پیدا ہوگا جس کے سامنے عیسائیت ایک خشک جھاڑی کی طرح مرجھا کر رہ جائے گی اور دنیا میں چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا انتہائی بلندیوں پر اڑتا ہوا دکھائی دے گا۔
    میں اس موقعہ پر جہاں آپ لوگوں کو یہ بشارت دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کو پورا کردیا جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی تھی وہاں میں آپ لوگوں کو ان ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں جو آپ لوگوں پر عائد ہوتی ہیں
    ‏vat,10.12
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    سپین میں پرچم اسلام لہرانے سے دور جدید کے پہلے جلسے تک
    آپ لوگ جو میرے اس اعلان کے مصدق ہیں آپ کا اولین فرض یہ ہے کہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک اسلام اور احمدیت کی فتح اور کامیابی کے لئے بہانے کو تیار ہو جائیں۔ بے شک آپ لوگ خوش ہوسکتے ہیں کہ خدا نے اس پیشگوئی کو پورا کیا بلکہ میں کہتا ہوں آپ کو یقیناً خوش ہونا چاہئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے خود لکھا ہے کہ تم خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی۔ پس میں تمہیں خوش ہونے سے نہیں روکتا۔ میں تمہیں اچھلنے اور کودنے سے نہیں روکتا۔ بے شک تم خوشیاں منائو اور خوشی سے اچھلو اور کودو لیکن میں کہتا ہوں اس خوشی اور اچھل کود میں تم اپنی ذمہ داریوں کو فراموش مت کرو۔ جس طرح خدا نے مجھے رویاء میں دکھایا تھا کہ میں تیزی کے ساتھ بھاگتا چلا جارہا ہوں اور زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی جارہی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے الہاماً میرے متعلق یہ خبر دی ہے کہ میں جلد جلد بڑھوں گا۔ پس میرے لئے یہی مقدر ہے کہ میں سرعت اور تیزی کے ساتھ اپنا قدم ترقیات کے میدان میں بڑھاتا چلا جائوں مگر اس کے ساتھ ہی آپ لوگوں پر بھی یہ فرض عاید ہوتا ہے کہ اپنے قدم کو تیز کریں اور اپنی سست روی کو ترک کردیں۔ مبارک ہے وہ جو میرے قدم کے ساتھ اپنے قدم کو ملاتا اور سرعت کے ساتھ ترقیات کے میدان میں دوڑتا چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جو سستی اور غفلت سے کام لے کر اپنے قدم کو تیز نہیں کرتا اور میدان میں آگے بڑھنے کی بجائے منافقوں کی طرح اپنے قدم کو پیچھے ہٹالیتا ہے۔ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو` اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھتے ہو تو قدم بقدم اور شانہ بشانہ میرے ساتھ بڑھتے چلے آئو تاکہ ہم کفر کے قلب میں محمد رسول اللہ~صل۱~ کا جھنڈا گاڑ دیں اور باطل کو ہمیشہ کے لئے صفحہ عالم سے نیست و نابود کردیں اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ زمین اور آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں<۔۵۹
    دوسرے مقررین
    اس جلسہ میں حضرت سیدنا المصلح الموعود کی ان پرجذب و تاثیر تقاریر کے علاوہ مندرجہ ذیل عنوانات پر بھی تقاریر ہوئیں۔
    ۱۔ وحی الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر زندہ یقین

    )حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے(

    ۲۔ ذکر حبیب

    )حضرت مفتی محمد صادق صاحب(

    ۳۔ ختم نبوت کی حقیقت کے متعلق بزرگان سلف کا نقطہ نظر

    )مولوی محمد سلیم صاحب مبلغ سلسلہ(

    ۴۔ غیر احمدیوں پر عقائد احمدیہ کا اثر و نفوذ

    )مولوی محمد یار صاحب عارف سابق مبلغ انگلستان(

    ۵۔ آنحضرت~صل۱~ کی بے مثیل شان احمدیت کے نقطہ نظر سے

    )حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب(

    ۶۔ حضرت کرشن کی آمد ثانی

    )مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل مبلغ سلسلہ(

    ۷۔ خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت

    )قاضی محمد اسلم صاحب پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور(

    ۸۔ اعتراضات کے جوابات

    )ملک عبدالرحمن صاحب خادم بی۔ اے` ایل ایل۔ بی وکیل گجراتی(

    ۹۔ اسلامی سیاست کے اصول

    )آنریبل چودھری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب(

    ۱۰۔ تمدن اسلام کا اثر اقوام یورپ پر

    )حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب(

    ۱۱۔ غیر مبائعین کی تبدیلی عقیدہ اور تبدیلی عمل

    )قاضی محمد نذیر صاحب لیکچرار تعلیم الاسلام کالج(

    ۱۲۔ فلسفہ احکام نماز

    )حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی(

    ۱۳۔ احمدی نوجوانوں سے خطاب

    )حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب(

    ۱۴۔ بہائی تحریک کی حقیقت

    )مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل(۶۰

    صدارت کرنے والے اصحاب
    اس جلسہ کے مختلف اجلاسوں میں مندرجہ ذیل اصحاب نے بالترتیب صدارت کے فرائض انجام دیئے۔
    ۱۔ حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب سکندر آباد )۲( نواب اکبر یار جنگ بہادر حیدر آباد دکن۔ )۳( خان بہادر نواب محمد دین صاحب )۴( خاں بہادر چوہدری نعمت خان صاحب ریٹائرڈ سشن جج۔۶۱
    جلسہ کے دوسرے ضروری کوائف
    جنگ کے ایام تھے اس لئے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی سپیشل ٹرینوں کا کوئی انتظام نہ ہوسکا۔ نیز حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے عورتوں کو جلسہ میں آنے کی بالعموم ممانعت فرما دی تھی۶۲ مگر اس کے باوجود اس مبارک تقریب پر دور دراز مقامات سے تئیس ہزار کے قریب افراد شامل جلسہ ہوئے۔ افسر جلسہ سالانہ حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب ناظر ضیافت تھے جن کی نیابت کے لئے اندرون قصبہ میں ماسٹر غلام حیدر صاحب بی۔ اے` بی۔ ٹی` دارالعلوم میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور دارالفضل و دارالبرکات میں صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب بطور ناظم مقرر تھے۔
    علاوہ ازیں ایک نظامت سپلائی و سٹور بھی قائم تھی جس کے انچارج حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل تھے۔ منتظم مکانات کے دفاتر مدرسہ احمدیہ اور بورڈنگ تحریک جدید میں تھے۔ پہرہ کے انچارج شیخ نیاز محمد صاحب تھے اور قصر خلافت اور مسجد مبارک میں ملاقات کے وقت ان کے علاوہ میاں غلام محمد صاحب اختر بھی ڈیوٹی پر ہوتے تھے۔ اس سال بھی لوائے احمدیت جلسہ گاہ میں سٹیج کے شمال مشرقی جانب ایک بلند پول پر جلسہ کے ایام میں لہراتا رہا۔ جلسہ گاہ کے قریب خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے کیمپ بھی موجود تھے۔ طبی انتظام کے لئے نور ہسپتال دن رات کھلا رہتا تھا اور ایک ڈاکٹر اور کمپائونڈر ہر وقت موجود رہتے تھے۔ انچارج حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب تھے جن کے ساتھ ڈاکٹر مہر دین صاحب` ڈاکٹر ظفر حسن صاحب` ڈاکٹر رحیم بخش صاحب` صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب` صاحبزادہ مرزا مبشر احمد صاحب` ڈاکٹر عبداللطیف صاحب` ڈاکٹر محمد احمد صاحب )ابن حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب( اور لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ نے کام کیا۔ علاوہ ازیں دو ڈسپنسریاں بورڈنگ تحریک جدید کے مشرقی گیٹ اور بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں کھولی گئیں۔ پہلی کے انچارج ڈاکٹر احمد دین صاحب اور ڈاکٹر عبدالرئوف صاحب اور دوسری کے ڈاکٹر محمد احمد صاحب اور ڈاکٹر بشیر احمد صاحب شاد تھے۔
    جلسہ میں احمدیوں کے علاوہ غیر احمدی اور غیر مسلم اصحاب نے بھی شرکت کی۔ جن غیر مسلموں کے کھانے کا انتظام جلسہ کے انتظامات کا حصہ تھا ان کی تعداد ۶۳ تھی۔۶۳
    جلسہ کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ اور حضرت امیر المومنین کی طرف سے آنحضرتﷺ~ کی ایک دعا پڑھنے کا ارشاد
    اس جلسہ میں ایک ناخوشگوار واقعہ بھی ہوا اور وہ یہ کہ بعض مخالفین احمدیت نے عین جلسہ کے ایام میں )۲۵۔ فتح/ دسمبر( کو بعض گزرگاہوں پر لائوڈ سپیکر لگا کر حضرت سیدنا المصلح الموعود
    اور جماعت احمدیہ کے متعلق نہایت بدزبانی اور درشت کلامی کا مظاہرہ کیا اور غلیظ گالیاں دینے سے بھی دریغ نہ کیا مگر حضرت سیدنا المصلح الموعود نے اپنی دوسری تقریر میں دوستوں کو نہایت پیار اور محبت کے لب و لہجہ میں فرمایا۔
    >ہمارے دوستوں کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی جماعتیں ہوتی ہی گالیاں کھانے کے لئے ہیں۔ اگر ہمیں گالیاں نہ ملیں تو دوسروں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کہیں کہ اگر تم صداقت پر ہو تو تمہارے ساتھ وہ سلوک کیوں نہیں ہوتا جو ہمیشہ سے خدا تعالیٰ کی جماعتوں کی طرفسے مخالفین کی طرف سے ہوتا رہا ہے۔ اس قسم کی مخالفتیں ضروری ہیں اور ان سے گھبرانا مومن کی شان کے خلاف بات ہے۔ ان پر بگڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔ دوستوں کو دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کوئی نشان دکھائے<۔۶۴
    صبر و تحمل کی اس حکیمانہ تبلیغ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلسہ کے مبارک ایام بخیر و خوبی گزر گئے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ اس تعلق میں سیدنا المصلح الموعود نے جلسہ کے خاتمہ کے معاًبعد ۲۹۔ فتح/ دسمبر کو تحریک فرمائی کہ >یکم جنوری ۱۹۴۵ء سے چالیس دن تک ہماری جماعت کے دوست متواتر اور باقاعدہ اللھم انا نجعلک فی نحورھم و نعوذبک من شرورھم کی دعا عشاء کی آخری رکعت میں پڑھا کریں۔ اس دعا کے معنے یہ ہیں۔ کہ اے خدا! ہم پر دشمن حملہ آور ہوا ہے۔ ہمارے پاس تو مقابلہ کی طاقت نہیں۔ اس لئے ہم دشمن کے مقابلہ میں تجھے پیش کرتے ہیں۔ تو ہی ان کے حملہ کا جواب دے ونعوذ بک من شرورھم ہمیں تباہ کرنے کے لئے دشمن جو شرارت کرتا ہے اس کے بداثرات سے ہمیں بچا۔ یہ رسول کریم~صل۱~ کی دعا ہے<۔۶۵
    دوسرا باب )فصل چہارم(
    جلیل القدر صحابہ کا انتقال
    اس سال جن صحابہ کا انتقال ہوا` ان میں سے حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ کے حالات فصل دوم میں گزر چکے ہیں۔ باقی صحابہ کے مختصر حالات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔
    ۱۔ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم )ولادت: ۲۸۔ اکتوبر ۱۸۹۷ء` وفات: ۲۰۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش بوقت شب(۶۶
    سلسلہ احمدیہ کے شعلہ بیاں مقرر` بلند پایہ مولف اور قابل اور پرجوش اخبار نویس تھے جنہیں بلند خیالی` اولوالعزمی اپنے والد ماجد حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی الکبیر سے ملی تھی۔ مرحوم کو ذیابیطس کا دیرینہ عارضہ تھا۔ جس نے گو جسمانی طور پر نڈھال کررکھا تھا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے انہیں دل و دماغ اتنا مضبوط عطا فرمایا تھا کہ آخری دم تک تندرستوں کی طرح سلسلہ کے کاموں میں مصروف رہے۔
    سالہا سال تک مصر میں تبلیغی جہاد کیا اور >اسلامی دنیا< کی ادارت سے ممالک اسلامیہ کی خدمت کرتے رہے بعد ازاں قادیان آکر سخت مالی مشکلات کے باوجود نہ صرف تحریک احمدیت کے سب سے پہلے اخبار >الحکم< کو زندہ رکھا بلکہ تقریری` تحریری اور انتظامی تینوں اعتبار سے سلسلہ احمدیہ کی قابل رشک خدمات انجام دیں۔ آپ کی مشہور تالیفات یہ ہیں۔
    تاریخ مالا بار۔ فتح مصر۔ فاروق شاہ مصر۔ مرکز احمدیت قادیان۔ سیرت >حضرت ام المومنینؓ )حصہ اول(
    ۲۔ حضرت شیخ محمد بخش صاحبؓ رئیس کڑیانوالہ ضلع گجرات
    )ولادت: ۱۸۵۶ء` بیعت: ۱۸۹۰ء` وفات: ۱۳۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش(
    آپ نے ایک بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں اپنی مشکلات کا اظہار کیا اس پر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے` >اک نہ اک دن پیش ہوگا تو فنا کے سامنے< والی مشہور نظم لکھ کر دی جس کی برکت سے آپ کی سب مشکلات دور ہوگئیں۔ ۱۸۹۷ء میں افریقہ میں نو آبادیات قائم ہوئیں تو آپ نے وہاں ٹھیکہ داری کا کام شروع کیا جس سے آپ کو بہت فائدہ ہوتا رہا اور آپ بھی سلسلہ کی امداد دل کھول کر کرتے رہے۔ ایک دفعہ ایک ٹھیکہ میں جب خسارہ نظر آیا تو ایک آنہ فی روپیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے نام کا رکھ دیا اور اس کی اطلاع حضرت اقدس کی خدمت میں بھی بھیج دی جس کے جواب میں حضور نے ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا اگر میری بجائے اشاعت اسلام کے لئے حصہ رکھا جاتا تو بہتر ہوتا۔ خدا کے فضل اور مسیح پاک کی دعائوں کی برکت سے خسارہ نے نفع کی صورت اختیار کرلی اور حصہ کی رقم معہ دیگر رقوم حضرت اقدس کی خدمت میں ارسال کر دی گئی۔
    حضرت شیخ صاحبؓ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ اکثر جب ذی وجاہت لوگوں کو ملتے تو باتوں باتوں میں احمدیت کا پیغام ضرور پہنچا دیتے۔۶۷
    ۳۔ حضرت شیخ قطب الدین احمد صاحبؓ قریشی
    )ولادت: ۱۸۷۳ )اندازاً( بیعت ۱۸۹۲ء۔ وفات: ۴۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش بعمر ۷۱ سال(
    نہایت فرشتہ سیرت بزرگ تھے۔ حضرت سیدنا المصلح الموعود سے خصوصاً اور خاندان حضرت مسیح موعودؑ سے بہت محبت تھی۔ ۱۹۱۴ء میں جب مسئلہ خلافت پر اختلاف ہوا تو مولوی صدر الدین صاحب اپنے دو تین رفقاء سمیت پٹیالہ ¶گئے۔ آپ ان دنوں پٹیالہ شہر کے کوتوال تھے۔ ابھی مولوی صاحب کچھ کہنے بھی نہ پائے تھے کہ حضرت قریشی صاحبؓ نے فرمایا۔ اگر آپ نے خلافت کی مخالفت میں کچھ کہنا ہے تو اس کی اجازت میں آپ کو نہیں دے سکتا۔ اس پر مولوی صاحب موصوف برہم ہوکر چل دیئے۔
    ۱۹۲۰ء میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو حضرت امیر المومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانیؓ نے آپ کو پہلے سپرنٹنڈنٹ آبادکاری جرائم پیشہ چاوا پائل لگایا۔ پھر آباد کاری جرائم پیشہ خانیوال چک A۔R/91۔10 )محمود آباد( کا سپرنٹنڈنٹ مقرر فرمایا۔ جہاں آپ نے چک بسایا۔ مدرسہ بنوایا۔ مسجد تعمیر کرائی اور لوگوں کو احمدیت سے روشناس کرایا۔ چنانچہ چند سال ہی میں کئی لوگ احمدی ہوگئے۔
    ماہ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش میں سخت بیمار ہوگئے۔ اپنے بیٹے قریشی ضیاء الدین احمد صاحب بی۔ اے` ایل ایل بی ایڈووکیٹ کو تار دے کر دہلی سے کالکا بلوا لیا۔ بیماری سے ذرا فاقہ ہوا تو فرمانے لگے >میں تو خواہ راستہ میں ہی مر جائوں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قدموں میں جاکر لیٹوں گا۔ مجھے جس طرح بھی ہو قادیان لے چلو۔ اس پر قریشی ضیاء الدین احمد صاحب انہیں بذریعہ گاڑی قادیان لائے جہاں چند روز بعد یک دم حالت نازک ہوگئی اور ۴۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں دفن کئے گئے۔۶۸
    ۴۔ حضرت مولوی عبدالرحمن صاحبؓ المعروف مولوی عبدالرحیم کٹکی متوطن چک اندورہ کشمیر
    )وفات ۱۱۔ احسان/جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش(
    حضرت مولوی صاحب نے عالم شباب میں احمدیت قبول کی۔ آپ ان دنوں قریباً ۹۸۔ ۱۸۹۷ء سے جامع مسجد گلگت میں امام مسجد تھے اور بہت سا وقت خاں بہادر غلام محمد صاحب کے یہاں گزارتے تھے۔ یہیں سلسلہ کا لٹریچر پڑھا اور قریباً دو سال کے بعد خان بہادر صاحب سے مخفی طور پر بیعت کا خط لکھوا دیا۔ بیعت کے دو سال بعد آپ گلگت چھوڑ کر راجہ عطا محمد صاحب یاڑی پورہ کشمیر کے پاس چلے گئے اور غالباً انہیں کی کوشش سے آپ کو چک اندورہ میں زمین بھی مل گئی اور آپ وہیں آباد ہوگئے۔۶۹
    آپ مشہور واعظ تھے اور آپ کی سحریبانی مسلم تھی۔ آپ نے ایک بار راجوری میں وعظ کا سلسلہ شروع کیا۔ ہزاروں مسلمان آپ کے مواعظ حسنہ سے متاثر ہوئے اور رسوم بد کو ترک کرکے اپنی تنظیم کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ جسے دیکھ کر راجوری کے ہندوئوں نے فرقہ وارانہ فساد کروا دیا۔ آپ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے اور آپ کو اشتہاری مجرم قرار دیا گیا۔ اس پر آپ ریاست سے نکل کھڑے ہوئے۷۰ اور ہجرت کرکے پہلے حیدر آباد پھر ۱۹۱۷ء میں اڑیسہ تشریف لے گئے اور کیرنگ کو اپنا مرکز بناکر پورے جوش و خروش سے تبلیغی و تربیتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ ۲۰۔۱۹۱۹ء میں آپ کلکتہ تشریف لے گئے۔ کلکتہ میں کوئی مقامی احمدی دوست اس وقت موجود نہیں تھا۔ آپ کی دو تین ماہ کی مسلسل تبلیغ` سحر البیانی اور راتوں کی دعائوں نے یہ اثر دکھایا کہ ابوطاہر محمود احمد صاحب اور مولوی لطف الرحمن صاحب جیسے رئوسائے کلکتہ داخل احمدیت ہوگئے اور کلکتہ کی جماعت ترقی کے راستہ پر گامزن ہونے لگی۔ کلکتہ میں کچھ عرصہ قیام کے بعد حضرت مولوی صاحب دوبارہ کیرنگ آئے اور ریاست تگریا میں تبلیغ کے لئے چلے گئے۔ تگریا میں احمدیوں کی برادری اور رشتہ داری تھی۔ مگر احمدی کوئی نہیں تھا۔ آپ کی قوت جاذبہ نے وہ اثر دکھایا کہ کٹرراپلی اور تگریا کی تمام آبادی احمدیت میں داخل ہوگئی اور اس دن سے وہاں ایک بڑی جماعت قائم ہے۔
    کیرنگ کی جماعت میں تنظیم نہ تھی۔ اکثر لوگ احمدی کہلاتے تھے مگر نہ انہوں نے بیعت کی تھی نہ چندہ دیا کرتے تھے۔ فقط جمعہ اور عیدین میں شامل ہو جانے سے اپنے آپ کو احمدی خیال کرتے تھے۔ حضرت مولوی صاحب مرحوم نے سب کا جائزہ لے کر باقاعدہ سلسلہ بیعت میں داخل کرایا۔۷۱
    حضرت مولوی صاحب اڑیسہ ہی میں تھے کہ ریاست نے آپ کی جائداد کی ضبطی کا حکم دے دیا۔ آپ کے بعض رشتہ داروں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں اطلاع دی۔ حضور نے آپ کو ریاست کی عدالت میں حاضر ہونے کا ارشاد فرمایا جس کی آپ نے تعمیل کی اور حضرت امیر المومنین کی دعائوں سے حضرت مولوی صاحب کو تمام الزامات سے بری قرار دے دیا گیا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں حضرت صاحب کی دعا کا ایک زندہ معجزہ ہوں کہ حضور کی دعا نے میرے جیسے شخص کو جسے حکومت کشمیر نے اشتہاری مجرم قرار دیا تھا نہ صرف سزا سے بچالیا بلکہ جملہ الزامات سے خود ہی بالکل بری قرار دے دیا۔۷۲
    حضرت مولوی صاحب احمدیت کے لئے بے حد غیور` شب بیدار` مونس و غمخوار` عالم باعمل اور نکتہ رس بزرگ تھے۔ سخت سے سخت مخالف آپ کے سامنے مبہوت ہوکے رہ جاتا تھا۔ صورت وجہیہ اور قامت بلند و بالا تھی۔
    آخری بیماری میں ان کے فرزند پروفیسر نظیر الاسلام صاحب نے پوری تندہی سے علاج کیا۔ مگر ۱۰۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کی شام کو آپ یکایک درد گردہ میں مبتلا ہوگئے اور اگلے روز اپنے محبوب حقیقی کو جاملے۔۷۳
    ۵۔ حضرت سید دلاور شاہ صاحب بخاریؓ سابق ایڈیٹر اخبار >مسلم آئوٹ لک< و سیکرٹری تبلیغ جماعت احمدیہ لاہور
    )ولادت: ۱۸۹۳ء۷۴ بیعت: ۲۶۔ مئی ۱۹۰۴ء۷۵ وفات: ۱۶۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش(۷۶
    حضرت شاہ صاحبؓ اپنے خلوص` قربانی اور جذبہ خدمت میں ضرب المثل تھے۔ مرحوم نے فارغ البالی کا زمانہ دیکھا تھا۔ مگر محض قومی خدمت کی خاطر ایک اچھی ملازمت ترک کردی۔ راجپال کے مشہور مقدمہ میں آپ نے شمالی ہند کے مشہور اخبار >مسلم آئوٹ لک (MUSLIMOUTLOOK) کے ایڈیٹر کی حیثیت سے ۱۴۔ جون ۱۹۲۷ء کے پرچہ میں >مستعفی ہو جائو< کے عنوان سے ایک پرزور اداریہ لکھا جس میں دلیپ سنگھ جج ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف بڑی جرات کے ساتھ رائے زنی کی اس بناء پر آپ کو چھ ماہ قید کی سزا ہوئی جو آپ نے نہایت بشاشت کے ساتھ اور اپنے لئے سعادت سمجھتے ہوئے برداشت کی۔۷۷
    صحت خراب ہونے کے زمانہ میں بھی کئی سال تک کام کرتے رہے۔ نہایت قانع اور راضی برضاء رہنے والے بزرگ تھے۔ مرحوم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ مذہبی مسائل پر مضامین بھی لکھتے تھے اور لیکچرار بھی نہایت قابل تھے۔ غیر احمدیوں اور غیر مسلموں کے جلسوں میں احمدیت پر اعتراضات کے جواب کے لئے سینہ سپر رہتے تھے۔
    ۶۔ حضرت شیخ محمد اسمٰعیل صاحب سرساویؓ
    )ولادت: ۱۸۷۴ء )اندازاً( بیعت: ۱۸۹۴ء` وفات: ۲۵۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش بعمر ۷۰ سال(۷۸
    مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ابتدائی اور قدیم اساتذہ میں سے تھے۔ چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے رسالہ >تعلیم الاسلام< دسمبر ۱۹۰۶ء میں ان کی نسبت لکھا >اس وقت جتنے استاد مدرسہ میں کام کررہے ہیں ان میں سب سے پرانے شیخ محمد اسمٰعیل صاحب انفنٹ ٹیچر ہیں جو کہ ابتدائی طلباء کو قرآن شریف جلد اور عمدہ پڑھانے میں ایک خاص لیاقت رکھتے ہیں اور تھوڑے عرصہ میں یعنی پہلی جماعت میں سارا قرآن شریف ایک دفعہ پڑھا دیتے ہیں<۔
    ۷۔ حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیرآبادیؓ
    )ولادت: ۱۸۵۴ء` بیعت: جنوری ۱۸۹۷ء` وفات: ۲۸۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش بعمر ۹۰ سال(۷۹
    شہید احمدیت مولانا عبیداللہ صاحب مبلغ ماریشس کے والد ماجد تھے۔ بیعت اولیٰ ۱۸۸۹ء سے قبل قادیان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے مستفیض ہوئے۔ جلسہ اعظم مذاہب لاہور میں شرکت کے معاًبعد اپنے بھائی حافظ غلام محمد صاحب اور استاد مولوی نجم الدین صاحب کے ساتھ قادیان پہنچے اور تینوں نے بیک وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔ بیعت کرتے وقت ان تینوں پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ بے ساختہ رونا شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی عظمت دل پر بیٹھ گئی۔۸۰
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن دنوں کرم دین کے مقدمہ کے لئے گورداسپور میں شریف فرما تھے۔ تو حضور علیہ السلام کے ارشاد پر ایک بار خطبہ جمعہ پڑھا۔ حضرت حافظ صاحبؓ اپنی روایات میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    >چودھری حاکم علی صاحب پنیاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور آج جمعہ ہے اور مولوی عبدالکریم صاحب آئے نہیں تو جمعہ کون پڑھائے گا۔ حضور نے فرمایا۔ یہ حافظ صاحب جو ہیں یہ پڑھائیں گے۔ یہ لفظ سن کر میرا بدن کانپ اٹھا اور میں نے دل ہی دل میں کہا کہ میں تو اس لائق نہیں کہ کچھ بیان کرسکوں۔ خیر آخر جمعہ کا وقت آگیا اور خطبے کی اذان ہوگئی تو میں مارے رعب کے سب آدمیوں کے شمال میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب خطبے کی اذان ہوئی تو فرمایا۔ حافظ صاحب کہاں ہیں؟ آخر مجھے مجبوراً لایا گیا۔ میں نے جھک کر عرض کی کہ حضور میں گنہگار اس لائق نہیں کہ حضور کے سامنے کچھ بیان کرسکوں یا امامت کراسکوں۔ حضور نے میرا ہاتھ پکڑ کر مصلیٰ پر کردیا اور فرمایا۔ آپ خطبہ پڑھیں میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں یا فرمایا کروں گا چنانچہ میں کھڑا ہوگیا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ میں نے اس وقت سورہ فرقان کا پہلا رکوع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر تک پڑھا۔]4 [stf۸۱
    حضرت حافظ صاحب قادیان ہجرت کرکے آگئے تھے اور عرصہ تک مسجد اقصیٰ میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ آخری عمر میں صاحب فراش ہوگئے۔ سلسلہ احمدیہ کے مشہور پنجابی واعظ خوش بیان تھے۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر زنانہ جلسہ گاہ میں اکثر آپ کی تقاریر ہوا کرتی تھیں۔ انداز بیان نہایت موثر ہوتا۔ >یاقوت خالص`< >سفر نامہ ماریشس`< حمد باری` سیرت رسول ہدایت مقبول وغیرہ چھوٹے چھوٹے پنجابی رسائل آپ نے لکھے۔
    ۸۔ حضرت سید محمد صادق شاہ صاحبؓ لدرون ریاست کشمیر برادر اکبر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ
    )بیعت: ۱۹۰۱ء۸۲ وفات: ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش(
    حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا۔
    >میرے قادیان آنے کے تھوڑی مدت بعد مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کشمیر بھیجا۸۳ تو میں ان بھائی صاحب مرحوم سے ملنے گیا۔ چونکہ ہمارا خاندان پیروں کا خاندان ہے اسلئے میں نے اپنے خاندان میں بالواسطہ تبلیغ کی اور جلدی ہی اللہ تعالیٰ نے اس سفر میں انکو شرح صدر عطا کیا اور اسی وقت انہوں نے بیعت کرلی۔ مجھے مرحوم سے اور مرحوم بھائی صاحب کو مجھ سے خاص محبت تھی<۔۸۴
    ۹۔ حضرت چودھری محمد عبداللہ صاحبؓ داتہ زید کاتحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ
    )ولادت ۱۸۷۴ء )قریباً( بیعت: جون ۱۹۰۲ء` وفات: ۸۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش بعمر ستر سال(
    حضرت چودھری نصراللہ خاں صاحبؓ کے برادر نسبتی اور داتہ زید کا کے امیر جماعت تھے۔ چودھری اسداللہ خاں صاحب بیرسٹرایٹ لاء حال امیر جماعت احمدیہ لاہور ان کے حالات قبول احمدیت اور اخلاق و شمائل پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
    >سلسلہ عالیہ حقہ سے آپ کا تعارف پسرور سکول کے ہیڈماسٹر صاحب سے )جو احمدی تھے( ہوا۔ ان سے ہی آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی کوئی تصنیف لے کر مطالعہ کی اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ حضور واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور حق پر ہیں۔ داتہ زید کا سے ایک میل کے فاصلہ پر جانب مغرب ایک قصبہ قلعہ صوبا سنگھ ہے جہاں اس وقت مولوی فضل کریم صاحب مرحوم اہلحدیث خطیب اور امام الصلٰوۃ تھے اور حکمت اور علم دین کی وجہ سے تمام اردگرد کے علاقہ میں معزز تھے ہمارے ننھیال بھی چونکہ اہل حدیث تھے اس لئے ماموں جان اور مولوی صاحب موصوف کے تعلقات دوستانہ تھے۔ اسی زمانہ میں مولوی صاحب موصوف بھی ان ہی ہیڈماسٹر صاحب کے ذریعہ احمدیت سے متعارف اور صداقت کے قائل ہوچکے تھے گو انہوں نے ابھی کسی سے ذکر نہیں فرمایا تھا۔ ماموں جان نے مولوی صاحب سے ذکر کیا کہ مسیح اور مہدی کے ظہور کی علامات تو سامنے آچکی ہیں اور یہ ہو نہیں سکتا کہ مدعی کے دعوے کے بغیر ہی گواہ شہادت دینی شروع کر دیں۔ خاص کر ایسے گواہ جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے تصرف میں ہوں۔ اس لئے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مدعی بھی مبعوث کیا گیا ہو۔ مولوی صاحب نے جب ایک معزز اور علاقہ کے باررسوخ زمیندار سے اپنے میلانات کی تائید ہوتی دیکھی تو آپ نے بھی اتفاق کیا اور پھر اس امر پر دونوں متفق ہوئے کہ وہ مسیح اور مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلٰوۃ والسلام ہیں۔ چنانچہ دونوں اصحاب نے فیصلہ کیا کہ قلعہ صوبا سنگھ میں مولوی صاحب اور داتہ زید کا میں ماموں جان آئندہ جمعہ کے دن علامات ظہور مہدی پر خطبہ پڑھیں اور اپنے احمدی ہونے کا بھی اعلان کردیں۔ ادھر مولوی صاحب موصوف نے قلعہ صوبا سنگھ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دعویٰ کی تصدیق کی اور ادھر اپنے گائوں میں ماموں جان نے` مولوی صاحب سے تو مقتدیوں نے یہ سلوک کیا کہ سوائے دو یا تین کے باقی سب مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں چلے گئے لیکن ماموں جان مرحوم کی برادری کے اکثر افراد نے بعد دریافت مزید حالات اپنی بیعت کے متعلق بھی حضور کی خدمت میں لکھنے کو کہہ دیا اور وہ سب اسی وقت سے احمدی ہیں۔ فالحمدلل¶ہ علیٰ ذالک۔
    اس جمعہ سے پہلی رات خواب میں آپ نے دیکھا کہ پانچ سوار سبز رنگ کے عمامے پہنے آپ کی بیٹھک میں داخل ہوئے ہیں اور آپ کے دریافت کرنے پر کہ یہ کون بزرگ ہیں ان میں سے ایک صاحب نے فرمایا کہ حضرت مرزا صاحب قادیان والے ہیں۔ اسی رات ایک اور شخص ساکن داتہ زیدکا جس کو >جلال مہاراں والا< کے نام سے پکارا جاتا تھا نے بھی خواب میں پانچ سز عمامہ پوش سوار اپنے گھر کے پاس سے گزرتے دیکھے جن میں سے ایک نے ماموں جان مرحوم کی بیٹھک کا راستہ دریافت کیا۔ جلال مذکور نے صبح ماموں جان کو اپنا خواب سنایا اور ماموں جان نے اس سے ان بزرگوں کا حلیہ دریافت کرنے پر اپنے ہی دیکھے ہوئے اصحاب کا حلیہ سنا۔ چونکہ آپ نے اپنی رئویا کا ذکر کسی سے بھی نہیں کیا تھا اس لئے آپ کو صداقت احمدیت کا اور بھی پختہ یقین ہوا اور آپ نے اسی دن خطبہ میں اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔
    تھوڑے ہی دنوں بعد مولوی فضل کریم صاحب مرحوم موصوف` ماموں جان اور چوہدری پیر محمد صاحب مرحوم ساکن قلعہ صوبا سنگھ قادیان حاضر ہوئے۔ وہاں ماموں جان نے اپنے خواب والے بزرگوں کو پہچان لیا )جن میں سے حضرت مسیح موعودؑ` حضرت حکیم الامت خلیفہ~ن۲~ المسیح الاولؓ اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحومؓ کے نام مجھے یاد ہیں۔ باقی دو کے نام یاد نہیں رہے( اور حضور کے دست اقدس پر بیعت سے مشرف ہوئے۔
    اس دن سے لے کر اپنی وفات تک آپ نے اپنا قدم ہمیشہ آگے ہی بڑھایا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں بلند مقام عطا فرمائے اور جس طرح آپ نے زندگی بھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی کو اپنے لئے سب سے بڑا فخر سمجھا اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت میں بھی حضور کی غلامی اور محبت میں اٹھائے۔
    سلسلہ کے لٹریچر کے مطالعہ کا آپ کو بہت شوق تھا اور تمام اہم تصانیف آپ نے پڑھی ہوئی تھیں اور اخبارات اور رسائل کا باقاعدہ مطالعہ رکھتے تھے۔ دینی مسائل کا علم آپ کا نہایت راسخ تھا اور میں نے بارہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی کتب سے متعدد مسائل کے متعلق حوالہ جات کا استفادہ آپ سے کیا۔ فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔
    سلسلہ عالیہ حقہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام` حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الاول` حضرت مصلح موعود خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی اور خاندان نبوت کے ساتھ آپ کو ایک والہانہ محبت اور عقیدت تھی اور جب آپ ان میں سے کسی کا ذکر خیر فرمایا کرتے تھے تو ہر سننے والا بخوبی اندازہ کرسکتا تھا کہ آپ کے دل میں ان کے لئے کس قدر بے پناہ عشق اور محبت کا جذبہ موجزن تھا۔ نظام سلسلہ کا احترام آپ کی فطرت ثانیہ تھا اور دوسروں میں بھی اسی جذبہ کو پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہتے تھے۔
    حضرت خلیفہ اولؓ کے وصال کے موقعہ پر جب جماعت میں اختلاف ہوا تو آپ قادیان موجود تھے اور ان اولین مبائعین میں تھے جن کے متعلق غیر مبائعین نے کہا تھا کہ چند نوجوانوں نے مولوی محمد علی صاحب کی امامت میں نماز ادا نہ کی۔ ماموں جان اس امر کو ہمیشہ فخر سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ مسائل کے لحاظ سے تو آپ کا ایمان کبھی بھی جادہ صداقت سے نہیں ہٹا۔ چنانچہ اختلاف کے وقت آپ نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے حضور دلیری سے اس کام کو جاری رکھیں وہ حضور کے ساتھ ہیں )حضرت اقدس نے اس واقعہ کا ذکر اپنے ایک خطبہ میں بھی فرمایا( ماموں جان خود بھی اس معاملہ میں خوب تبلیغ فرمایا کرتے تھے اور ایک بہت بڑی حد تک آپ کی ان مجاہدانہ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آپ کے علاقہ میں غیر مبائعین کا قدم کبھی نہیں جم سکا اور سوائے اس پہلی کوشش کے جو ایک مبلغ بھیج کر کی گئی اور جس میں ان کو سخت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا` غیر مبائعین نے کبھی اور کوشش اس علاقہ میں کی ہی نہیں<۔۸۵
    ۱۰۔ حضرت منشی محمد حسین صاحبؓ کاتب قادیان
    )وفات ۲۵۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش(
    حضرت منشی صاحب ان خوش نصیب صحابہ میں سے تھے جن کو اخبار الحکم` بدر اور الفضل کی بہت عرصہ تک کتابت کرنے نیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تازہ وحی لکھنے کا شرف حاصل ہوا۔۸۶
    دوسرا باب )فصل پنجم(
    ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کے بعض متفرق مگر اہم واقعات
    نوابزادہ میاں عباس احمد خان صاحب کا نکاح
    ۲۹۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو حضرت سیدنا المصلح الموعود نے خطبہ جمعہ سے قبل صاحبزادہ میاں عباس احمد خاں صاحب )ابن حضرت نواب محمد عبداللہ خاں صاحب( کا نکاح صاحبزادی امتہ الباری صاحبہ )بنت حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ( کے ساتھ پندرہ ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔۸۷ اور خطبہ نکاح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام >تری نسلا بعیدا< کی نہایت لطیف تشریح فرمائی۔ چنانچہ فرمایا۔
    >جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا۔ تری نسلا بعیدا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے صرف دو بیٹے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے ہاں کچھ اور بیٹے بیٹیاں پیدا ہوئیں اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کو وسیع کیا اور اب ان بیٹوں اور بیٹیوں کی نسلیں الہام الٰہی کے ماتحت شادیاں کررہی ہیں وہnsk] gat[ تری نسلا بعیدا کے نئے نئے ثبوت مہیا کررہی ہیں۔ دنیا میں نسلیں تو پیدا ہوتی رہتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے آدمیوں کی نسلیں ہیں جو ان کی طرف منسوب بھی ہوتی ہوں اور منسوب ہونے میں فخر محسوس کرتی ہوں۔ اکثر آدمیوں کی نسلیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے پردادا کا نام کیا تھا تو ان کو پتہ نہیں ہوتا۔ مگر تری نسلا بعیدا کا الہام بتارہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسل آپ کی طرف منسوب ہوتی چلی جائے گی۔ اور لوگ انگلیاں اٹھا اٹھا کر کہا کریں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی یہ نسل آپ کی پیشگوئی کے ماتحت آپ کی صداقت کا نشان ہے۔
    پس تری نسلا بعیدا میں صرف یہی پیشگوئی نہیں کہ آپ کی نسل کثرت سے ہوگی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی عظمت شان کا بھی اس رنگ میں اس پیشگوئی میں ذکر ہے کہ آپ کا مرتبہ اتنا بلند اور آپ کی شان اتنی ارفع ہے کہ آپ کی نسل ایک منٹ کے لئے آپ کی طرف منسوب نہ ہونا برداشت نہیں کرے گی اور آپ کی طرف منسوب ہونے میں ہی ان کی شان اور ان کی عظمت بڑھے گی۔
    پس اس پیشگوئی میں خالی اس بات کا ہی ذکر نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کثرت سے ہوگی بلکہ یہ بھی ذکر ہے کہ وہ روز بروز بڑھے گی اور وہ اولاد خواہ کتنے ہی اعلیٰ مقام اور اعلیٰ مرتبہ تک جاپہنچے اور خواہ ان کو بادشاہت بھی حاصل ہو جائے پھر بھی وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کرے گی<۔۸۸
    منارۃ المسیح پر لائوڈ سپیکر کے ذریعہ تبلیغ
    ۷۔ صلح/ جنوری کو پہلی بار لاوڈ سپیکر نصب کرکے تبلیغ احمدیت کی گئی۔ چنانچہ اس روز نماز جمعہ سے قبل قرآن کریم اور حضرت مسیح موعودؑ کی نظمیں نشر کی گئیں۔ نیز مستری محمد اسمٰعیل صاحب صدیقی نے مختصر سی تقریر میں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا یہ الہام کہ >میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا< جہاں مبلغین اور تحریروں کے ذریعہ دنیا کے کناروں تک پہنچایا جارہا ہے وہاں انشاء اللہ ایک دن آلہ نشر الصوت کے ذریعہ بھی دنیا کے کناروں تک پہنچایا جاسکے گا۔ آج اس کی ابتداء اس طرح کی جارہی ہے۔ اس آلہ کے ذریعہ قادیان کے کناروں تک حضور کی آواز پہنچ رہی ہے۔ چنانچہ یہ آواز صرف قادیان کے وسیع محلہ جات میں ہی نہیں بلکہ بعض ملحقہ دیہات میں بھی صفائی کے ساتھ سنی گئی۔
    پھر نماز مغرب کے بعد اس آلہ پر جناب مولوی ابوالعطاء صاحب نے تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ ہر سال اور ہر دن جو چڑھتا ہے وہ قادیان میں رہنے والے غیر احمدیوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی صداقت ظاہر کررہا ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ سوچیں اور غور کریں۔
    آخر میں نماز عشاء کی اذان مولوی بشیر الدین صاحب نے دی۔۸۹
    زائرین قادیان
    اس سال قادیان میں جو زائرین آئے ان میں سر پیٹرک سپنس چیف جسٹس فیڈرل کورٹ آف انڈیا` مسٹر سی کنگ کمشنر لاہور ڈویژن خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
    سر پیٹرک سپنس چیف جسٹس فیڈرل کورٹ آف انڈیا ۲۳۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو قادیان آئے اور آنریبل چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی کوٹھی بیت الظفر میں فروکش ہوئے۔ قادیان میں انہوں نے جماعت احمدیہ کے مرکزی اداروں اور صنعتی کارخانوں کو دیکھنے کے علاوہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں ایک مختصر تقریر کی جس میں طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں جو بہت بڑی جنگ ہورہی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ دنیا سے سچا مذہب مفقود ہوگیا ہے۔ تم لوگ ایک مذہبی فضا میں پرورش پارہے ہو جہاں تمہیں خدا کی محبت` حقیقی امن کی تلاش اور باہمی تکریم و ہمدردی کے سبق ملتے ہیں۔ اگر آپ لوگ ان معتقدات پر عمل پیرا ہوں جنہیں آپ مانتے ہیں تو دنیا کی حالت بہت بہتر ہو جائے گی اور دنیا کو حقیقی امن اور خوشحالی دینے میں آپ کامیاب ہو جائیں گے۔۹۰
    مسٹری سی کنگ کمشنر لاہور ڈویژن ۲۲۔ ماہ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو دوپہر کی گاڑی سے قادیان پہنچے اور مرکزی ادارے دیکھ کر شام کی گاڑی سے واپس تشریف لے گئے۔ آپ نے مرکزی لائبریری میں مختلف زبانوں کی نایاب کتابوں کے متعلق دلچسپی کا اظہار کیا۔ نظارت دعوت و تبلیغ کی طرف سے آپ کو اسلامی لٹریچر بھی ہدیت¶ہ پیش کیا گیا۔۹۱
    حضرت میر محمد اسحٰق صاحب کی صدارت میں آخری یادگار جلسہ
    قادیان کی آریہ سماج نے ۴` ۵` ۶۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو پنڈت لیکھرام کی یاد میں ایک جلسہ منعقد کیا جس میں پنڈت ترلوک چند صاحب اور بعض دوسرے آریہ مقررین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی متعلقہ لیکھرام اور دوسری واضح پیشگوئیوں پر تمسخر اڑایا اور جماعت احمدیہ پر سوقیانہ اعتراضات کئے۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب دینے کے لئے وقت طلب کیا گیا مگر منتظمین نے انکار کردیا۔۹۲ جس پر ۷` ۸۔ امان/ مارچ کی درمیانی شب کو حضرت میر محمد اسحٰق صاحب کی زیر صدارت مسجد اقصیٰ میں جوابی جلسہ منعقد کیا گیا۔ حضرت میر صاحب نے اپنی ابتدائی تقریر میں وہ چٹھی پڑھ کر سنائی جو سیکرٹری تبلیغ جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے آریہ سماج کو لکھی گئی اور انہیں دعوت دی گئی کہ اس جلسہ میں آئیں اور ہماری تقریروں پر تہذیب سے سوال و جواب بھی کریں۔ چونکہ منارۃ المسیح کے اوپر بھی لائوڈ سپیکر نصب تھا اور آواز پورے شہر میں گونج رہی تھی اس لئے آریوں کو یہ بلاوا بھی ان کے گھروں تک پہنچ گیا۔
    حضرت میر صاحب کی اس دعوت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشان متعلقہ لیکھرام سے متعلق مولوی شریف احمد صاحب امینی اور مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر نے مختصر تقریریں کیں۔ اسی اثناء میں آریوں کی طرف سے پنڈت ترلوک چند صاحب چند ساتھیوں سمیت مسجد اقصیٰ میں آگئے۔ حضرت میر صاحب نے انہیں اپنے پاس بلا کر بٹھایا اور فرمایا کہ آریہ صاحبان اس مجلس میں ہمارے مہمان ہیں۔ ہم ان کا ہر طرح سے لحاظ رکھیں گے اس وقت پہلے ہماری طرف سے مولوی ابوالعطاء صاحب تقریر کریں گے اور مناسب وقت میں پیشگوئی کی وضاحت کرتے ہوئے آریہ پنڈت صاحب کے اعتراضوں کا جواب بھی دیں گے۔ اس تقریر کے بعد پنڈت ترلوک چند صاحب اس تقریر پر یا پیشگوئی دربارہ لیکھرام پر مناسب وقت میں سوال کریں گے۔ پھر مولوی صاحب جواب دیں گے اور جلسہ ختم ہوگا۔ اس اعلان کے بعد مولانا ابوالعطاء صاحب نے لیکھرام سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قہری نشان پر روشنی ڈالی اور آریوں کے بعض اعتراضوں کا نہایت خوبی سے باطل ہونا ثابت کیا نیز بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰۔ فروری ۱۸۸۶ء کو اپنی ذریت کے پھیلنے اور مصلح موعود کی ولادت کے متعلق اشتہار دیا تو پنڈت لیکھرام نے ۱۸۔ مارچ ۱۸۸۶ء کو بذریعہ اشتہار یہ پیشگوئی کی کہ۔ >آپ کی ذریت بہت جلد منقطع ہو جائے گی۔ غایت درجہ تین سال تک شہرت رہے گی<۔۹۳
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد بابرگ و بار ہورہی ہے اور مصلح موعود اپنی پوری شان سے ہمارے درمیان موجود ہے اور احمدیت کی قبولیت و شہرت دنیا کے کناروں تک پہنچ چکی ہے مگر اس کے مقابل پنڈت لیکھرام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ۱۸۹۷ء میں قتل ہوگئے اور لاولد رہے۔ ان کے پیچھے ان کا کوئی لڑکا نہیں رہا۔ وہ احمدیت کو مٹانا چاہتے تھے لیکن اس میں بھی سراسر ناکام و نامراد رہے۔۹۴
    مولانا ابوالعطاء صاحب کی تقریر کے بعد حضرت میر صاحب نے پنڈت ترلوک چند صاحب کو موقعہ دیا کہ وہ مناسب وقت میں اس کا جواب دیں مگر پنڈت ترلوک چند صاحب نے ادھر ادھر کی باتیں کرکے اپنا وقت ختم کردیا جس پر مولانا ابوالعطاء صاحب نے مختصر تقریر کی اور کہا کہ پنڈت صاحب نے موقعہ ملنے کے باوجود ہمارے کسی بیان یا استدلال کو نہیں توڑا جس سے ہمارے بیان کا درست ہونا ثابت ہے۔ آخر میں آپ نے قادیان کے آریوں اور غیر احمدیوں کو مخاطب کرکے ایک پردرد اپیل کی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نشانوں کے گواہ ہیں۔ حضور پر ایمان لے آئیں۔
    ازاں بعد حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے کھڑے ہوکر فرمایا۔ سب حاضرین نے دونوں طرف کی تقاریر سن لی ہیں۔ میں پنڈت ترلوک چند صاحب سے کہتا ہوں کہ آپ اپنے مذہب کے عالم ہیں۔ مولوی ابوالعطاء صاحب بھی موجود ہیں۔ پنڈت صاحب ذاتی طور پر نہ کہ جماعتی طور پر مولوی صاحب سے پنڈت لیکھرام کے متعلق پیشگوئی پر تبادلہ خیال کرلیں۔ ہم سب سنیں گے جو شرطیں پنڈت صاحب پیش کریں گے میں ان کے منوانے کا ذمہ دار ہوں۔ اس پر آپ نے پنڈت صاحب کو موقع دیا کہ وہ ہاں کریں۔ لیکن پنڈت صاحب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ نہیں کیا اس لئے معذور ہوں۔
    اس مرحلہ پر آپ نے فرمایا کہ میں پنڈت ترلوک چند صاحب سے پوچھتا ہوں کہ آپ کافی عرصہ قادیان میں رہے ہیں کیا پنڈت لیکھرام کی یہ پیشگوئی کہ >آپ )مرزا صاحب( کی ذریت بہت جلد منقطع ہو جائے گی غایت درجہ تین سال تک شہرت رہے گی< )کلیات صفحہ ۴۹۸( صحیح نکلی یا غلط ثابت ہوئی؟ پنڈت صاحب نے بڑے لیت و لعل کے بعد کہا۔ آریہ سماجی کہتے ہیں کہ یہ اشتہار پنڈت لیکھرام جی کا لکھا ہوا نہیں ہے۔ حضرت میر صاحب نے فرمایا کہ اول تو ان اشتہارات کے شروع میں شردھانند جی نے تحریر کیا ہے کہ
    >ذیل کے دو اشتہارات پنڈت جی )لیکھرام جی( نے اس وقت نکالے تھے جبکہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے الہامی چونچلوں کا ابھی صرف آغاز ہی ہوا تھا<۔ )کلیات صفحہ ۴۹۲(
    دوسرے میں پوچھتا ہوں کہ آپ یہ بتائیں کلیات صفحہ ۴۹۸ کی پیشگوئی )خواہ کسی نے لکھی ہو( جھوٹ ثابت ہوئی یا نہیں؟ صرف جواب دیں۔ اس پر پنڈت صاحب کو ان کے ساتھیوں نے اشارہ کرکے بلایا اور چل دیئے۔ اس ایمان افروز نظارہ پر اس جلسہ کا خاتمہ ہوا۔ قل جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔۹۵][یہ حضرت میر محمد اسحٰق صاحب کی زندگی کا آخری جلسہ اور آخری تبلیغی معرکہ تھا۔
    احمدی مبلغین گجرات کاٹھیاواڑ میں
    گزشتہ سال ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش میں احمدی مبلغین نے صوبہ یو۔ پی کا طویل اور کامیاب دورہ کیا تھا۔ امسال ماہ صلح/ جنوری میں مرکز احمدیت کی طرف سے گجرات کاٹھیاواڑ کی طرف تبلیغی وفد بھجوایا گیا۔ یہ وفد حسب ذیل علماء پر مشتمل تھا۔
    ۱۔ مولوی عبدالمالک خاں صاحب فاضل ۲۔ مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل ۳۔ گیانی عباداللہ صاحب ان علماء نے سوامی دیانند کی جنم بھومی سنکارا نامی گائوں ریاست و انکانیز`۹۶ کرشن نگری )دوارکا`۹۷ امرناتھ تیرتھ ریاست جام نگر`۹۸ ریاست راجکوٹ سودت راندھیر`۹۹ بمبئی۔ پونا۔ آنند آشرم۱۰۰ میں کرشن کی آمد ثانی کا پیغام انفرادی تبلیغ اور ہندی` مرہٹے اور گجراتی ٹریکٹوں سے نہایت موثر اور کامیاب طریق پر پہنچایا۔ یہ تبلیغی وفد ۳۱۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو واپس مرکز احمدیت میں پہنچا۔۱۰۱
    بھرت پور میں احمدی مبلغ کی تقریر
    ۲۷۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو انجمن اسلامیہ بھرت پور کا جلسہ تھا جس میں سردار محمد یوسف صاحب ایڈیٹر اخبار >نور< نے >اسلام نے ہندوستان پر کیا اثر ڈالا< اور >اسلام اور دیگر مذاہب< کے موضوع پر کامیاب تقریریں کیں جس سے حاضرین بہت مسرور ومحظوظ ہوئے۔ ہزہائی نس والی ریاست بھی اس جلسہ میں موجود تھے۔۱۰۲
    چودھری عبدالسلام صاحب کی بی۔ اے میں نمایاں کامیابی
    خدا کے فضل سے چودھری عبدالسلام صاحب )ابن چودھری محمد حسین صاحب ہیڈ کلرک دفتر انسپکٹر مدارس جھنگ( نے اس سال بھی نمایاں کامیابی حاصل کی اور بی۔ اے کے امتحان میں نہ صرف یونیورسٹی میں اول رہنے کا امتیاز حاصل کیا بلکہ یونیورسٹی کا گزشتہ ریکارڈ بھی توڑ دیا۔۱۰۳
    کشمیر کی احمدی جماعتوں کا سالانہ جلسہ
    کشمیر کی احمدی جماعتوں کا سالانہ جلسہ ۱۰` ۱۱۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو یاڑی پورہ میں منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں احمدیوں کے علاوہ اہلحدیث اور اہلسنت و الجماعت نے بھی بکثرت شرکت کی۔ جلسہ کا افتتاح صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے فرمایا اور ملا سید محمد شاہ صاحب` مولوی غلام احمد شاہ صاحب` مولوی عبدالواحد صاحب )مہتمم( تبلیغ جماعت ہائے کشمیر( مولوی احمد اللہ صاحب` چوھدری عبدالواحد صاحب )امیر جماعت ہائے احمدیہ کشمیر( مولوی عبدالرحیم صاحب` مولوی محمد عبداللہ صاحب اور خواجہ غلام نبی صاحب گلکار نے مختلف اہم موضوعات پر تقریریں کیں اور صاحبزادہ صاحب نے اپنے افتتاحی خطاب میں تعلق باللہ کی طرف توجہ دلائی۔۱۰۴
    متحدہ ہندوستان میں احمدی نعشوں کی بے حرمتی کے واقعات
    ۲۰۔ جولائی ۱۹۴۴ء کو ایک مخلص احمدی راجہ فخر الدین صاحب کی اہلیہ محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ )بہو حضرت صوفی محمد رفیع صاحب ریٹائرڈ ڈی ایس پی سکھر( جلال پور جٹاں ضلع گجرات میں وفات پاگئیں۔ مخالفین احمدیت نے دو تین دن تک ان کی نعش دفن نہ ہونے دی ازاں بعد قبر اکھاڑ کر کفن کو آگ لگا دی۔ اخبار الفضل )قادیان( نے ۱۳۔ اگست ۱۹۴۴ء کے پرچہ میں اس انسانیت سوز واقعہ کی حسب ذیل تفصیل شائع کی۔
    جلال پور جٹاں میں مخالفین احمدیت کا نہایت ہی انسانیت سوز ظلم ایک احمدی خاتون کی لاش کو قبر اکھیڑ کر آگ لگا دیگئی
    >احمدیت کی تاریخ مخالفین کے خوفناک مظالم سے بھری پڑی ہے لیکن حال ہی میں جلال پور جٹاں ضلع گجرات میں جو ظلم روا رکھا گیا ہے۔ وہ شرافت اور انسانیت کے لئے نہایت ہی بدنما
    داغ اور ظالموں کی انتہائی قساوت قلبی اور سنگدلی کا مظہر ہے۔ یہ ساری کی ساری داستان اس قدر المناک اور درد انگیز ہے کہ کوئی بھی انسان خواہ وہ ¶کسی مذہب و ملت کا ہو۔ بشرطیکہ اس میں انسانیت کا ذرہ پایا جائے اسے پڑھ کر غمگین اور افسردہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے گا۔ اس وقت اس بارے میں شدت غم و الم کی وجہ سے صرف اتنا ہی لکھا جاتا ہے کہ ایک احمدی خاتون جس نے ۲۰۔ جولائی کو نو بجے صبح انتقال کیا۔ اس کی تدفین میں ایک سرحدی ملا کے اشتعال دلانے پر مخالفین نے مزاحمت شروع کی اور ضلع کے ذمہ دار حکام کی موجودگی میں بھی مزاحمت پر اڑے رہے۔ آخر ۲۲۔ جولائی کو رات بارہ بجے تک جب مزاحمت کرنے والوں نے باوجود حکام کے سمجھانے کے شرارت سے باز رہنا منظور نہ کیا تو حکام نے اعلان کیا کہ وہ مناسب قانونی سلوک کریں گے۔ اس کے بعد احمدیوں نے جنازہ اٹھایا اور پولیس گارد اور افسروں کی حفاظت میں قبرستان کی طرف روانہ ہوئے اور چار بجے صبح کو وفات سے ۴۳ گھنٹے بعد لاش دفن کی گئی۔
    لاش کی اس قدر بے حرمتی کرنے پر بھی ان انسانیت کے دشمنوں کی تسلی نہ ہوئی اور اس کے بعد انہوں نے جو قدم اٹھایا۔ وہ ایسا شرمناک۔ اس قدر الم انگیز اور اتنا درد انگیز ہے کہ اس کا خیال کرکے بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے اور وہ یہ کہ ۳` ۴۔ اگست کی درمیانی رات کو ان اشرار نے جو نعش کو دفن کرنے میں مزاحمت کرتے رہے۔ متوفیہ کی پختہ قبر کو اکھاڑ ڈالا۔ نعش جس صندوق میں بند تھی۔ اس کے اوپر کے تختوں کو توڑ ڈالا اور تابوت میں خشک ٹہنیاں اور کھجور کی ایک بوسیدہ چٹائی ڈال کر آگ لگادی جس کے نتیجہ میں کفن اور میت کے بعض اعضاء جل گئے۔ صبح کو جب متوفیہ کے خاوند کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے جاکر وہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جس کا تصور بھی رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ پولیس کو اطلاع دی گئی اور ۵۔ اگست کو میت دوبارہ دفن کی گئی<۔
    جیسا کہ >الفضل< نے بتایا اس نوع کے متعدد واقعات سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں موجود ہیں۔ بطور نمونہ صرف خلافت ثانیہ کے دور میں قبل از تقسیم ہند کے گیارہ واقعات پیش کئے جاتے ہیں۔
    پہلا واقعہ
    ۲۰۔ اگست ۱۹۱۵ء کو کنانور )مالا بار( کے ایک احمدی کے ایس حسن کا چھوٹا بچہ فوت ہوگیا۔ ریاست کے راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ چونکہ قاضی صاحب نے احمدیوں کے متعلق کفر کا فتویٰ دے دیا ہے اس لئے اس کی نعش مسلمانوں کے کسی قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ وہ بچہ اس دن دفن نہ ہوا۔ دوسرے دن شام کے قریب مسلمانوں کے قبرستان سے دو میل دور اس کی ¶نعش کو دفن کیا گیا۔ )الفضل ۱۹۔ اکتوبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۶ و تاریخ مالا بار صفحہ ۳۵( از شیخ محمود احمد صاحب عرفانی۔
    دوسرا واقعہ
    دسمبر ۱۹۱۸ء کو کٹک )صوبہ بہار( کے ایک احمدی دوست کی اہلیہ فوت ہوگئیں انہوں نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا۔ جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ایک احمدی خاتون
    ‏vat,10.13
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    سپین میں پرچم اسلام لہرانے سے دور جدید کے پہلے جلسے تک
    کی لاش ان کے قبرستان میں دفن کی گئی ہے تو انہوں نے قبر اکھیڑ کر اس لاش کو نکالا اور اس احمدی دوست کے دروازہ پر جاکر پھینک دیا۔ )الفضل ۱۴۔ دسمبر ۱۹۱۸ء صفحہ ۳ بحوالہ اہلحدیث ۶۔ دسمبر ۱۹۱۸ء(
    یہ تو ایک مخالف اخبار >اہلحدیث< کی خبر ہے۔ جماعتی اطلاعات یہ تھیں کہ لاش کو غیر احمدیوں نے قبر سے نکال کر کتوں کے آگے ڈال دیا اور احمدیوں کے دروازوں کے سامنے کھڑے ہوگئے کہ کوئی نکلے تو سہی کس طرح نکلتا ہے اور لاش کو دفن کرتا ہے۔ قریب تھا کہ کتے لاش کو پھاڑ ڈالیں کہ پولیس کو کسی بھلے مانس نے اطلاع دی اور پولیس نے آکر لاش دفن کروائی۔ مقدمہ ہوا تو کسی شخص نے گواہی نہ دی اور صاف کہہ دیا کہ ہم موجود نہ تھے۔ )الفضل ۱۴/۱۱ اپریل ۱۹۲۱ء صفحہ ۷(
    کٹک میں اس سے پہلے بھی احمدیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک ہوتا رہا۔ اس کے متعلق یکم فروری ۱۹۱۸ء کے اخبار اہلحدیث میں >کٹک میں قادیانیوں کی خاطر< کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا۔ جس میں لکھا گیا کہ۔
    >وہ جو کہاوت ہے کہ موئے پر سو درے سو وہ بھی یہاں واجب التعمیل ہورہی ہے۔ مرزائیوں کی میت کا پوچھئے مت۔ شہر میں اگر کسی میت کی خبر پہنچ جاتی ہے تو تمام قبرستان میں پہرہ بیٹھ جاتا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے کسی کے ہاتھ چھڑی ہے میت کی مٹی پلید ہورہی ہے کہ کھوجتے تابوت نہیں ملتی۔ بیلداروں کی طلب ہوتی ہے تو وہ ٹکا سا جواب دے دیتے ہیں۔ بانس اور لکڑی بالکل عنقائیت ہو جاتی ہے دفن کے واسطے جگہ تلاش کرتے کرتے پھول کا زمانہ بھی گزر جاتا ہے۔ ہر صورت سے ناامید ہوکر جب یہ ٹھان بیٹھتے ہیں کہ چلو چپکے سے مکان کے اندر قبر کھود کر گاڑ دیں تو ہاتف غیبی افسران میونسپلٹی کو آگاہ کر دیتے ہیں اور وہ غڑپ سے آموجود ہوکر خرمن امید پر کڑکتی بجلی گرا دیتے ہیں<۔ )الفضل ۹۔ فروری ۱۹۱۸ء صفحہ ۳(
    تیسرا واقعہ
    اپریل ۱۹۲۸ء میں کٹک میں ایک چھوٹے بچے کی لاش کو مخالفین نے اس قبرستان میں بھی دفن ہونے سے روک دیا جو گورنمنٹ سے احمدیوں نے اپنے لئے حاصل کیا ہوا تھا اور مقامی حکام نے بھی اس میں احمدیوں کی کوئی مدد نہ کی۔ )الفضل ۱۳۔ اپریل ۱۹۲۸ء صفحہ ۵(
    چوتھا واقعہ
    ۱۶۔ مارچ ۱۹۲۸ء کو بھدرک )اڑیسہ( میں ایک احمدی شیخ شیر محمد صاحب کی لڑکی فوت ہوگئی غیر احمدیوں نے اس کی لاش قبرستان میں دفن نہ ہونے دی اور بڑے بھاری جتھہ سے مارنے پیٹنے پر آمادہ ہوگئے آخر انہوں نے میت کو صندوق میں بند کرکے اپنے گھر کے احاطہ میں دفن کر دیا۔ )الفضل ۲۷۔ اپریل ۱۹۲۸ء صفحہ ۸(
    پانچواں واقعہ
    ۲۹۔ جنوری ۱۹۳۴ء کی شام کو کالی کٹ )مالا بار( میں ایک احمدی دوست فوت ہوگئے مخالفین نے سارے شہر میں پراپیگنڈا شروع کردیا کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دینا چاہئے۔ چنانچہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ فوت شدہ احمدی کے مکان کے اردگرد جمع ہوگئے اور وہاں انہوں نے گالیوں دھمکیوں اور شوروشر سے ایسا طوفان برپا کیا کہ احمدیوں کے لئے مکان کے اندر باہر جانا مشکل ہوگیا۔ رات کے آٹھ بجے کے قریب ایک شخص کو بڑی مشکل سے قبرستان میں بھیجا گیا۔ مگر اس نے دیکھا کہ وہاں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ لاٹھیاں وغیرہ لے کر جمع ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ فوت شدہ احمدی کو کسی صورت میں بھی اس قبرستان میں دفن نہ ہونے دیں گے۔ ذمہ دار حکام کو توجہ دلائی گئی۔ مگر انہوں نے بھی اپنی بے بسی ظاہر کی۔ آخر دوسرے دن رات کے ساڑھے دس بجے ایک ایسی جگہ جو شہر سے بہت دور تھی اور جو موسم برسات میں بالکل زیر آب رہتی تھی۔ احمدیوں نے اپنی لاش دفن کی۔ )الفضل ۲۵۔ فروری ۱۹۳۴ء صفحہ ۴(
    چھٹا واقعہ
    ۱۲۔ مارچ ۱۹۳۶ء کو بمبئی کے ایک احمدی دوست کا خورد سال بچہ فوت ہوگیا۔ جب اسے دفن کرنے کے لئے قبرستان لے گئے تو مخالفین نے جھگڑا شروع کر دیا اور کہا کہ >قبرستان سنی مسلمانوں کا ہے قادیانیوں کا نہیں ہے۔ یہاں قادیانی دفن نہیں ہوسکتے<۔ احمدیوں نے انہیں یقین دلایا کہ ہم بھی مسلمان ہیں اور رسول کریم~صل۱~ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر انہوں نے پھر کہا کہ >ہم اس لاش کو یہاں دفن نہیں ہونے دیں گے کیونکہ قادیانی کافر ہیں<۔ پولیس کے ذمہ دار حکام نے جھگڑا بڑھتے دیکھا تو انہوں نے بمبئی میونسپل کے توسط سے ایک الگ قطعہ زمین میں اسے دفن کرادیا۔ مگر میت کو دفن کرنے کے لئے جو جگہ دی گئی وہ شہر سے بہت دور تھی اور اچھوت اقوام کا مرگھٹ تھی۔ روزنامہ >ہلال< بمبئی نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ جب مسلمانوں نے یہ خبر سنی کہ احمدی میت اس قبرستان میں دفن نہیں کی جائے گی تو اس اطلاع کے سنتے ہی مسلمانوں نے اسلام زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ہر شخص مسرت سے شادماں نظر آتا تھا<۔ >)ہلال< اخبار بمبئی ۱۴۔ مارچ ۱۹۳۶ء(
    اسی طرح اس نے لکھا کہ۔
    >ہم مسلمان ہیں اسلام کی عظمت اور نبی کریم~صل۱~ کی حرمت پر مر مٹ جانا ہمارا فرض ہے ہم صاف الفاظ میں کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم زندہ ہیں اس وقت تک کوئی طاقت مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی میت کو دفن نہیں کرسکتی<۔ روزنامہ ہلال بمبئی ۱۳۔ مارچ ۱۹۳۶ء بحوالہ الفضل ۲۴۔ مارچ ۱۹۳۶ء صفحہ ۶ و ۲۵۔ مارچ ۱۹۳۶ء صفحہ ۱( اسی سال امرتسر میں بھی ایک احمدی بچے کی نعش کے دفن کرنے پر احراریوں نے ہنگامہ بپا کیا۔ )اہلحدیث امرتسر ۲۴۔ جولائی ۱۹۳۶ء صفحہ ۱۶ ملاپ ۲۱۔ جولائی ۱۹۳۶ء(
    ساتواں واقعہ
    ۲۹۔ اپریل ۱۹۳۹ء کو بٹالہ میں ایک احمدی لڑکی وفات پاگئی اس پر احرار نے ایک بہت بڑے مجمع کے ساتھ اس کی نعش کو اس خاندانی قبرستان میں بھی دفن کرنے سے انکار کردیا۔ جہاں کئی احمدی مدفون تھے اور چند احمدیوں کو ساری رات محاصرہ میں رکھا۔ حکام کو توجہ دلائی گئی مگر انہوں نے کوئی کارروائی نہ کی۔ آخر نعش کو ایک اور قبرستان میں جو میونسپل کمیٹی کا تھا لے گئے مگر وہاں بھی ہزاروں لوگ جمع ہوکر مزاحم ہوئے آخر متواتر چوبیس گھنٹہ کی جدوجہد کے بعد ایک بیرونی نشیب جگہ میں اس نعش کو دفن کیا گیا۔ )الفضل ۹۔ مئی ۱۹۳۹ء صفحہ ۵(
    آٹھواں واقعہ
    ۱۱۔ نومبر ۱۹۳۹ء کو منشی سندھی شاہ صاحب برانچ پوسٹ ماسٹر میانی افغانان ضلع ہوشیارپور کی ایک سال کی معصوم بچی فوت ہوگئی جسے ظالم طبع مقامی غیر احمدیوں نے دفن نہ ہونے دیا >منشی صاحب میت قادیان لائے< اور یہاں دفن کیا۔ )الفضل ۱۸۔ نومبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۴(
    نواں واقعہ
    ۱۹۴۲ء میں شیموگہ ریاست میسور میں ایک احمدی عبدالرزاق صاحب کی اہلیہ فوت ہوگئیں اور مسلمانوں نے میت کو قبرستان میں دفن کرنے سے روک دیا۔ چنانچہ تین دن تک میت پڑی رہی آخر حکومت کی طرف سے ایک علیحدہ جگہ میں لاش کو دفن کرنے کا انتظام کیا گیا۔ )الفضل یکم اگست ۱۹۴۳ء صفحہ ۱۔ ۱۸۔ جنوری ۱۹۴۵ء صفحہ ۲(
    دسواں واقعہ
    اگست ۱۹۴۳ء میں ڈلہوزی میں ایک احمدی دوست خان صاحب عبدالمجید صاحب کی لڑکی کی وفات ہوگئی اس موقعہ پر بھی معاندین نے اسے اپنے مقبرہ میں دفن کرنے سے روکا اور مقابلہ کیا۔ )الفضل مورخہ ۲۳۔ ستمبر ۱۹۴۳ء صفحہ ۱(
    گیارہواں واقعہ
    ۱۹۴۶ء میں جماعت احمدیہ کے ایک معزز بزرگ حضرت قاسم علی خان صاحب قادیانی اپنے وطن رام پور میں وفات پاگئے۔ ان کے اعزہ نے انہیں قبرستان میں دفن کر دیا۔ مگر غیر احمدیوں نے ان کی نعش قبر سے نکال کر باہر پھینک دی اور کفن اتار کر جسم کو عریاں کردیا پھر پولیس نے انہیں دوسری جگہ دفن کرنے کا انتظام کیا تو وہاں بھی یہی سلوک کیا گیا۔ اس واقعہ کے متعلق اخبار >زمیندار< میں جو حلفیہ رپورٹ شائع ہوئی وہ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
    محمد مظہر علی خان صاحب رامپوری اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
    >میرے مکان کے پیچھے جو کہ شاہ آباد گیٹ میں واقعہ ہے محلہ کا قبرستان تھا۔ صبح کو مجھے اطلاع ملی کہ قبرستان میں لاتعداد مخلوق جمع ہے اور قاسم علی کی لاش جو اس کے اعزہ رات کے وقت چپکے سے مسلمانوں کے اس قبرستان میں دفن کر گئے تھے لوگوں نے باہر نکال پھینکی ہے۔ میں فوراً اس ہجوم میں جا داخل ہوا اور بخدا جو کچھ میں نے دیکھا وہ ناقابل بیان ہے۔ لاش اوندھی پڑی تھی منہ کعبہ سے پھر کر مشرق کی طرف ہوگیا تھا۔ کفن اتار پھینکنے کے باعث متوفی کے جسم کا ہر عضو عریاں تھا اور لوگ شور مچا رہے تھے کہ اس نجس لاش کو ہمارے قبرستان سے باہر پھینک دو۔ جائے وقوعہ پر مرحوم کے پس ماندگان میں سے کوئی بھی پرسان حال نہ تھا۔ لیفٹنینٹ کرنل محمد ضمیر کی خوشامدانہ التجا پر نواب صاحب نے فوج اور پولیس کو صورت حال پر قابو پانے کے لئے موقع پر بھیجا۔ کوتوال شہر خان عبدالرحمن خان اور سپرنٹنڈنٹ پولیس خان بہادر اکرام حسین نے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لاش دوبارہ دفن کرانے پر مجبور کیا۔ لیکن اس جابرانہ حکم کی خبر شہر کے ہرکونہ میں بجلی کی طرح پہنچ گئی اور غازیان اسلام مسلح ہوکر مذہب و دین کی حفاظت کے لئے جائے وقوعہ پر آگئے۔ حکومت چونکہ ایک مقتدر آدمی کی ذاتی عزت کی حفاظت کے لئے عوام کا قتل و غارت گوارا نہیں کرسکتی تھی۔ اس لئے پولیس نے لاش کو کفن میں لپیٹ کر خفیہ طور پر شہر سے باہر بھنگیوں کے قبرستان میں دفنا دیا۔ چونکہ مسلمان بہت مشتعل اور مضطرب تھے اس لئے انہوں نے بھنگیوں کو اس بات کی اطلاع کردی اور بھنگیوں نے بھی اس متعفن لاش کا وہی حشر کیا جو پہلے ہوچکا تھا۔ پولیس نے یہاں بھی دست درازی کرنی چاہی لیکن بھنگیوں نے شہر بھر میں ہڑتال کر دینے کی دھمکی دی۔ بالاخر سپرنٹنڈنٹ پولیس اور کوتوال شہر کی بروقت مداخلت سے لاش کو دریائے کوسی کے ویران میدان میں دفن کردینے کی ہدایات کی گئیں۔ سپاہی جو لاش کے تعفن اور بوجھ سے پریشان ہوچکے تھے۔ کچھ دور تک لاش کو اٹھا کر لے جاسکے اور شام ہو جانے کے باعث اسے دریائے کوسی کے کنارے صرف ریت کے نیچے چھپا کر واپس آگئے۔ دوسرے دن صبح کو شہر میں یہ خبر اڑ گئی کہ قاسم علی کی لاش کو گیدڑوں نے باہر نکال کر گوشت کھالیا ہے اور ڈھانچہ باہر پڑا ہے۔ یہ سنکر شہر کے ہزاروں لوگ اس منظر کو دیکھنے کے لئے جوق در جوق وہاں جمع ہوگئے۔ میں بھی موقعہ پر جاپہنچا` لیکن میری آنکھیں اس آخری منظر کی تاب نہ لاسکیں اور میں ایک پھریری لے کر ایک شخص کی آڑ میں کھڑا ہوگیا۔ قاسم علی کی لاش کھلے میدان میں ریت پر پڑی تھی۔ اسے گیدڑوں نے باہر نکال لیا تھا اور وہ جسم کا گوشت مکمل طور پر نہیں کھا سکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منہ اور گھٹنوں پر گوشت ہنوز موجود تھا۔ باقی جسم سفید ہڈیوں کا ڈھانچ تھا۔ آنکھوں کی بجائے دھنسے ہوئے غار اور منہ پر ڈاڑھی کے اکثر بال ایک دردناک منظر پیش کررہے تھے۔ آخر کار پولیس نے لاش کو مزدوروں سے اٹھوا کر دریائے کوسی کے سپرد کردیا۔ )زمیندار لاہور ۲۱۔ جنوری ۱۹۵۱ء صفحہ ۹)(بحوالہ >قادیانی مسئلہ کا جواب< صفحہ ۵۹ تا صفحہ ۶۱ مولفہ حضرت مصلح موعود(
    مبلغین کی بیرونی ممالک کو روانگی
    چودھری احسان علی صاحب جنجوعہ ۱۷۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو مغربی افریقہ کے لئے روانہ ہوئے۔۱۰۵ اسی طرح مولوی عبدالخالق صاحب` ملک احسان اللہ صاحب` چودھری نذیر احمد صاحب )رائے ونڈ( ۲۳۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو مغربی افریقہ میں تبلیغ اسلام کے لئے بھجوائے گئے۔۱۰۶
    بیرونی مشنوں کے بعض ضروری واقعات
    فلسطین و مصر مشن
    اگرچہ مصر میں تبلیغ احمدیت پر سخت پابندیاں تھیں مگر مولوی محمد شریف صاحب مبلغ فلسطین اس سال کے شروع )ماہ تبلیغ/ فروری و امان/ مارچ( میں تبلیغی و تربیتی اغراض کے پیش نظر مصر پہنچنے اور دو ماہ تک مقیم رہنے میں کامیاب ہوگئے۔
    مصر میں قیام کے دوران ایک بلند پایہ ازہری اور حجازی شیخ سے مکرم مولوی صاحب کا ایک پرائیویٹ مناظرہ بھی ہوا جس میں بعض احمدی احباب کے علاوہ چند ایک غیر احمدی احباب بھی موجود تھے۔ شیخ صاحب نے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ احمدی جماعت اور دوسرے اسلامی فرقوں میں بنیادی اختلاف کس امر میں ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ مسئلہ وفات مسیح میں۔ مگر شیخ صاحب نے کہا کہ نہیں بنیادی اختلاف مسئلہ ختم نبوت میں ہے اور کہ آپ اس پر بحث کے لئے تیاری کرکے آئے ہیں۔ بہت سی رد و قدح کے بعد مکرم مولوی صاحب نے اسی مسئلہ پر ان سے تبادلہ خیالات شروع کیا اور اپنے عقیدہ کی تائید میں قرآن مجید سے دس آیات پیش کیں۔ شیخ صاحب نے ان میں سے صرف ایک آیت اما یاتینکم رسل منکم پر جرح کی اور کامل چار گھنٹہ تک اسی پر گفتگو ہوتی رہی۔ جس میں شیخ صاحب ایسے عاجز آگئے کہ کھلے الفاظ میں اقرار کرلیا بلکہ لکھ دیا کہ عقلی طور پر اس آیت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ نبی آسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تائید کا مظاہرہ احباب جماعت کے لئے بہت ایمان پرور تھا۔ اس کے بعد حجازی شیخ صاحب ایک بہانہ تلاش کرکے تشریف لے گئے۔۱۰۷
    انگلستان مشن
    مولوی جلال الدین صاحب شمس اما مسجد لنڈن نے اس سال لنڈن کی مشہور سیرگاہ ہائیڈ پارک میں مسٹر گرین سے پے در پے سات شاندار اور کامیاب مباحثے کئے جن سے انگلستان مشن کی دھوم مچ گئی۔
    ۱۔ پہلا مباحثہ : ۱۴۔ شہادت/ اپریل کو >آنحضرت~صل۱~ کے متعلق بائبل میں پیشگوئیاں< کے موضوع پر ہوا۔ مسٹر گرین لاجواب ہوکر اصل بحث کی بجائے مسئلہ دوزخ و بہشت کی بحث میں الجھ گئے مگر مولانا شمس صاحب نے اس موضوع پر بھی عیسائیت کے مقابل اسلام کی برتری اور فوقیت ثابت کر دکھائی۔
    ۲۔ دوسرے مباحثہ :کا عنوان تھا >کیا موجودہ اناجیل الہامی ہیں<۔ یہ مباحثہ ۲۱۔ شہادت کو ہوا۔ آخر میں جب رائے شماری کا مرحلہ آیا تو انگریز سامعین کی بہت بڑی اکثریت نے احمدی مجاہد کے حق میں ووٹ ڈالے اور صرف ایک ووٹ مسٹر گرین کو ملا۔
    ۳۔ تیسرا مباحثہ : ۲۸۔ شہادت/ اپریل کو >کیا استثناء باب ۱۸ آیت ۱۰۸۱۵ کے مصداق یسوع ہیں؟< کے موضوع پر ہوا۔ مولانا شمس صاحب نے مسٹر گرین کے ادعا کو دلائل قطعیہ کے ساتھ باطل ثابت کرکے بتایا کہ اس کے مصداق ہمارے نبی اکرم~صل۱~ ہیں۔ یہ مباحثہ سننے کے بعد کئی انگریزوں کو مزید تحقیق کا شوق مسجد فضل پٹنی میں لے آیا۔۱۰۹
    ۴۔ چوتھا مباحثہ : ۴۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو ہائیڈ پارک میں ہوا۔ موضوع >قرآن و انجیل کی تعلیم کا مقابلہ< تھا۔ مسٹر گرین نے مسیحؑ کی آمد ثانی کے متعلق پیشگوئیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ جب وہ دنیا میں آئیں گے تو امن قائم ہو جائے گا۔ نیز کہا کہ دفاعی جنگ بھی نہیں کرنی چاہئے۔ مولانا شمس صاحب نے قرآن مجید سے جنگ کے متعلق اصول بیان کئے جس کا حاضرین پر اچھا اثر ہوا۔ ایک معزز شخص نے یہ کہتے ہوئے مصافحہ کیا کہ گو میں عیسائی ہوں لیکن پھر بھی میں کہتا ہوں کہ مجھے آپ کی تقریر بہت پسند آئی ہے۔
    ۵۔ پانچواں مباحثہ : ۱۲۔ ہجرت/ مئی کو ہوا۔ موضوع مباحثہ تھا >پہاڑی وعظ۱۱۰4] ftr[ کا مقابلہ قرآن مجید کی تعلیم سے< لیکن اصل موضوع پر بحث کرنے سے پہلے مسٹر گرین نے قرآن مجید سے کفار کے قتل کے متعلق آیات پڑھیں۔ مولانا شمس صاحب نے انہی آیات سے ثابت کردیا کہ ان میں قتل کا حکم ان کافروں کے متعلق ہے جو میدان جنگ میں لڑنے کے لئے آئے اور پہلے حملہ آور ہوئے۔ مباحثہ کے بعد سوالات کے موقع پر جب ایک شخص نے جنگوں کے متعلق اعتراض کیا تو مولانا شمس صاحب نے کہا۔ یسوع مسیح نے آسمانی بادشاہت کی مثال بیان کرتے ہوئے خود ظالموں کے قتل کو جائز قرار دیا ہے۔ انہوں نے آسمانی بادشاہت کی ایک بادشاہ سے مثال دی ہے جس نے اپنے لڑکے کی شادی پر لوگوں کو کھانے کے لئے دعوت دی مگر انہوں نے دعوت قبول نہ کی اس نے پھر اپنے نوکر بھیجے مگر پھر انہوں نے انکار کیا اور بعض تو اپنے کاموں پر چلے گئے اور جو باقی رہ گئے` انہوں نے ان پیغام رسانوں کو قتل کردیا۔ تب بادشاہ اپنی فوج بھیجے گا اور ان قاتلوں کو تہ تیغ کر دے گا۱۱۱ اس مثال میں بادشاہ سے مراد خدا ہے۔ پس آنحضرت~صل۱~ کا ظالم حملہ آوروں سے جنگ کرنا اس مثال کی رو سے بالکل جائز تھا۔۱۱۲
    ۶۔ چھٹا مباحثہ : ۲۔ احسان/ جون کو ہوا۔ قرار یہ پایا تھا کہ مسٹر گرین دو گھنٹے میں قرآن مجید پر جتنے اعتراض کرنا چاہیں پیش کردیں اور مولانا شمس صاحب ان کا جواب دیں۔ مگر اس روز کچھ ایسا الٰہی تصرف ہوا کہ وہ پہلے مباحثات میں جو اعتراض کرتے رہے وہ بھی پیش نہ کرسکے اور جو نوٹ انہوں نے لے رکھے تھے وہ بھی غلط تھے۔
    ۷۔ ساتواں مباحثہ : ۱۶۔ احسان کو ہوا۔ اس روز مولانا شمس صاحب نے مسٹر گرین پر انجیل کی نسبت اعتراضات کئے جن کے جواب دینے ¶سے وہ قاصر رہے۔ بعض کے متعلق کہا۔ میں نے پہلے کبھی نہیں سنے۔ اس لئے میں جواب نہیں دے سکتا۔ اکثر کے متعلق کہا کہ میں تیاری کرکے جواب دوں گا جس سے حاضرین پر ان کی بے بسی اور لاچاری بالکل بے نقاب ہوگئی۔ اگلے جمعہ پھر مباحثہ تھا جس میں ان کی باری قرآن مجید پر اعتراضات کرنے کی تھی مگر اس روز مسٹر گرین نے بالکل راہ فرار اختیار کرلی جس کی دلچسپ تفصیل مولانا شمس صاحبؓ کے قلم سے لکھی جاتی ہے:
    >مباحثہ شروع ہوا اور میں نے اس کے پہلے سوال کا جو جنوں کے متعلق تھا یہ جواب دیا کہ آیت میں جنوں سے مراد الف لیلہ والے جن نہیں ہیں۔ جیسا کہ مسٹر گرین نے کہا ہے بلکہ اس سے مراد بڑے لوگ اور لیڈر ہیں تو مسٹر گرین نے کہا جب تک آپ کسی انگریزی ترجمہ کو صحیح اور مستند نہیں مان لیتے میں مباحثہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ ترجمے شخصی ہیں۔ میں ان کو صحیح مانتا ہوں لیکن اگر کسی جگہ میں سمجھوں کہ ترجمہ صحیح نہیں کیا گیا اور عربی زبان کی رو سے اس کی غلطی ثابت کر دوں تو مجھے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔ انجیل کے موجودہ تراجم جو کہ سوسائٹیوں کی طرف سے شائع کئے گئے ہیں۔ ان کے بعض الفاظ کے ترجمے کے متعلق آپ خود کہتے رہے ہیں کہ اصل یونانی لفظ یہ ہے اور اس کا صحیح ترجمہ یوں ہے۔ جب آپ سوسائٹیوں کے مستند ترجمے کی غلطی نکالنے کا حق رکھتے ہیں تو مجھے یہ کیوں حق نہیں کہ کسی ایک شخص کے ترجمہ میں اگر کوئی غلطی ہو تو وہ ظاہر نہ کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حاضرین سمجھ گئے کہ مسٹر گرین مباحثہ نہیں کرسکتے<۔۱۱۳
    سوسائٹی >فار دی سٹڈی آف ریلیجنز< کے سہ ماہی رسالہ >ریلیجنز< نے ہائیڈ پارک کے مباحثات کا ذکر ان الفاظ میں کیا۔
    ‏ open of arena into come has Mosque London the of Imam <The presenting in energetic very is and Recently London in debates۔opponents> Cristian to faith his
    یعنی تھوڑے عرصہ سے مسجد لنڈن کے امام لندن میں پبلک مباحثات کے میدان میں نکلے ہیں اور اپنے مذہب کو اپنے عیسائی مخالفوں کے سامنے پورے زور اور قوت و جوش سے پیش کرتے ہیں۔ پھر لکھا۔
    ‏ and case his presenting in skilful very is Imam <The۔Bible> the from libesally quotes
    یعنی امام اپنی بات کو پیش کرنے میں خوب ماہر ہیں اور کثرت سے بائبل کے بھی حوالے پیش کرتے ہیں۔۱۱۴
    خود مسٹر گرین نے اپنے رسالہ >دی کنگڈم نیوز< بابت ماہ جون ۱۹۴۴ء میں مبلغ اسلام کی نمایاں کامیابی کا اعتراف ان الفاظ میں کیا۔
    ایڈیٹر ان ایام میں ہر جمعہ کے روز ۶ بجے شام سے ہائیڈ پارک میں امام مسجد لنڈن سے پبلک مباحثہ کرتا ہے جو اس ملک کے مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کا نمائندہ ہے۔
    ‏ the being faith the of order best the of consists who <But۔cultural> and educated most
    لیکن وہ اسلام کا تعلیم یافتہ اور مہذب ہونے کے لحاظ سے بہترین فرقہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مختلف طبقات کے لوگ حاضر ہوتے ہیں جن کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ ہوتی ہے اور اڑھائی گھنٹے تک مسلسل سنتے ہیں<۔
    ۔Park> Hyd in experienced rarely achievement <An
    یہ ایک ایسی بات یا ایسی کامیابی ہے جو ہائیڈ پارک میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ مباحثہ کے اختتام پر فریقین حاضرین کے سوالات کا جواب دیتے ہیں۔۱۱۵
    اٹلی مشن
    اٹلی میں جنگی قید کے مصائب سے رہائی پانے کے بعد ملک محمد شریف صاحب مبلغ اٹلی کا پہلا خط حضرت خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کی خدمت میں ماہ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو پہنچا۔۱۱۶
    مشرقی افریقہ مشن
    ۱۴۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو ٹبورا )مشرقی افریقہ( کی عظیم الشان مسجد >الفضل< کی تقریب افتتاح منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سر خلیفہ بن جاروب سلطان زنجبار۔ ہز ایکسیلنسی گورنر چیف سیکرٹری` دیگر اعلیٰ سرکاری حکام` پولینڈ اور ہالینڈ کے قونصل اور مختلف مذاہب کے مشہور و معروف اصحاب نے پیغامات ارسال کئے۔ علاوہ ازیں لنڈن` قاہرہ` لیگوس` حیفا` بغداد` عدن` بمبئی` ماریشس اور سالٹ پانڈ کی احمدیہ جماعتوں کی طرف سے بھی پیغامات آئے۔ شیخ مبارک احمد صاحب انچارج مبلغ نے یہ سب پیغامات پڑھ کر سنائے اور جملہ ہمدردیوں کا شکریہ ادا کیا۔ نیز اعلان کیا کہ یہ مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہر شخص کے لئے کھلی ہے۔ آخر میں صدر جلسہ مسٹر فاسٹر پراونشل کمشنر نے تقریر کی اور کہا کہ یہ مسجد ٹبورا بلکہ تمام علاقہ کے احمدیوں کے لئے باعث فخر ہے۔۱۱۷text] [tag
    گولڈ کوسٹ مشن
    جماعت احمدیہ گولڈ کوسٹ نے زنانہ سکول کے جاری کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک احمدی نے پندرہ ہزار روپے کی زمین اس کے لئے وقف کر دی۔ لجنہ اماء اللہ گولڈ کوسٹ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود کی خدمت میں درخواست کی کہ ہندوستان کی احمدی بہنیں بھی اس کام میں ہماری مدد کریں۔ چنانچہ حضور کی تحریک پر لجنہ اماء اللہ مرکزیہ نے چار ہزار روپے بھجوانے کا وعدہ کیا جس میں سے پندر سو کا وعدہ تو لجنہ اماء اللہ دہلی نے چودھری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی معرفت کیا اور باقی رقم ملک کی دوسری مختلف لجنات پر ڈال دی گئی۔۱۱۸
    ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کی نئی مطبوعات
    ۱۔ >ظہور مصلح موعود< )مولفہ مولوی شریف احمد صاحب امینی مولوی فاضل مدرس مدرسہ احمدیہ قادیان( دعویٰ مصلح موعود کے مبارک دور کی یہ پہلی کتاب ہے۔
    ۲۔ >مقطعات قرآنی< )حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحب کے >الفضل< میں شائع شدہ علمی مضامین کا مجموعہ<۔
    ۳۔ DIN -UD- RIHBAS MIRZA HAZRAT OF WORK AND AHMAD>LIFE MAHMUD
    )حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی حیات طیبہ اور کارنامے(
    چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی ایک بلند پایہ انگریزی تالیف جو نیو بک سوسائٹی )پوسٹ بکس نمبر ۴۷( لاہور نے شائع کی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی اسی اشاعتی ادارے کی طرف سے >مرزا بشیر الدین محمود احمد< کے نام سے چھپا تھا۔
    ۴۔ >شان محمدﷺ<~ )ابو البشارت مولانا عبدالغفور صاحب فاضل مبلغ سلسلہ کی سالانہ جلسہ ۱۹۴۳ء/ ۱۳۲۲ہش کی کامیاب تقریر(
    ۵۔ >موعود اقوام عالم< )مولفہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر(
    اس مختصر مگر جامع کتاب میں ہندو دھرم` عیسائی مذہب` اسلام اور سکھ ازم کے لٹریچر کی رو سے مسیح موعود کی بعثت کے معین زمانہ` مقام ظہور` حسب و نسب اور دوسرے ارضی و سماوی علامات پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی تھی۔
    ۶۔ >دعوت نامہ بخدمت جمیع علماء کرام و صوفیائے عظام و دیگر ہمدردان اسلام<
    )مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر کا لکھا ہوا ایک تبلیغی کتابچہ جو نشر و اشاعت دعوت و تبلیغ قادیان نے شائع کیا(
    >ادعیتہ المسیح الموعود< )مرتبہ و شائع کردہ میاں محمد یامین صاحب تاجر کتب قادیان(
    ۸۔ >ستیارتھ پرکاش ایجی ٹیشن پر تبصرہ< )مولفہ مہاشہ فضل حسین صاحب(
    اس رسالہ میں آریہ سماج اور بانی آریہ سماج کے متعلق بہت سی مفید معلومات جمع کرنے کے علاوہ ستیارتھ پرکاش کی ضبطی کے سوال پر بھی بحث کی گئی اور بتایا گیا تھا کہ کن تجاویز کو بروئے کار لا کر اس کتاب کی اشاعت روکی جاسکتی ہے اور مسلمان آریہ سماجی زہر کا مداوا کرسکتے ہیں-
    اخبار >انقلاب< لاہور نے اس کتاب پر یہ ریویو کیا کہ
    >ملک فضل حسین صاحب کی اس مختصر کتاب میں ستیارتھ کے متعلق ایسی اہم معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں جو اس معاملے سے خاص شغف رکھنے والوں کے سامنے بھی نہیں ہوں گی۔ مذہبی مباحث سے دلچسپی رکھنے والے تمام احباب اگر اسے کم از کم ایک مرتبہ پڑھ لیں تو یقیناً ان کے علم و نظر میں بڑا قیمتی اضافہ ہوگا<۔۱۱۹
    اندرون ملک کے مشہور مناظرے
    اس سال میں دہلی` چمبہ` بوہد پور اور ڈلوال میں بہت کامیاب مناظرے ہوئے۔
    مباحثہ دہلی
    آریہ ترک شانسی سبھا دھلے نے ایک کھلا چیلنج شائع کرکے تمام مذاہب کو دعوت مناظرہ دی تھی جو انجمن احمدیہ دہلی نے منظور کرلی۔ چنانچہ ۳۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو دیوان ہال دہلی میں >ویدک دھرم عالمگیر ہے یا نہیں< کے موضوع پر مناظرہ ہوا۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے مکرم مولانا ابوالعطاء صاحب نے نمائندگی کی۔ جو دو روز قبل اسی جگہ >میرے مذہب میں عورت کا مقام< کے موضوع پر بھی کامیاب لیکچر دے چکے تھے۔ اس مناظرہ میں اسلام کو ایسی بین اور نمایاں فتح نصیب ہوئی کہ غیروں تک نے اس کا اقرار کیا۔ خصوصاً مسلمانوں کو اس عظیم الشان کامیابی سے بہت خوشی ہوئی ہجوم کا یہ عالم تھا کہ تمام دیوان ہال` اس کی گیلریاں` دروازے اور کھڑکیاں تک لوگوں سے پر تھیں۔
    مباحثہ چمبہ
    چمبہ میں ۴۱۔ ۱۹۴۰ء/ ۲۰۔ ۱۳۹۱ہش سے پادری عنایت مسیح نے اسلام اور احمدیت کے خلاف تقاریر کرنا اپنا شیوہ بنا رکھا تھا۔ آخر جماعت احمدیہ چمبہ نے پادری صاحب مذکور کو چیلنج کیا اور مرکز سے مولوی محمد حسین صاحب` مولوی غلام احمد صاحب بدوملہوی اور مولوی چراغ الدین صاحب چمبہ پہنچ گئے۔ ۳۱۔ اخاء/ اکتوبر کو پہلا مناظرہ >کفارہ< پر ہوا۔ مدعی پادری عنایت مسیح نے انجیل اور قرآن مجید سے مسئلہ کفارہ ثابت کرنے کی سعی لا حاصل کی مگر مولوی چراغ دین صاحب نے جواب میں ایسی مدلل تقریر کی کہ حاضرین عش عش کر اٹھے اور دس ایسے سوالات پیش کئے کہ پادری صاحب آخر تک ان کے جواب نہ دے سکے اور اپنی ذلت کو چھپانے کے لئے بدزبانی پر اتر آئے۔ جماعت نے نہایت صبر و تحمل کا ثبوت دیا اور اس طرح پادری صاحب کا دجل پاش پاش ہوگیا۔ حاضرین نے احمدی مناظر کی قابلیت اور کامیابی پر مبارکبادیں دیں۔
    دوسرے روز مناظرہ کا موضوع صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھا۔ لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہوئے مولوی غلام احمد صاحب بدوملہوی نے قرآن مجید سے صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ثبوت میں دس آیات اور انجیل سے انتیس حوالے پیش کئے اور پادری صاحب کو توجہ دلائی کہ وہ حسب سابق درشت کلامی سے کام نہ لیں۔ ورنہ یاد رکھیں کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر پھینکنے سے اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ تہذیب اور شرافت کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ پادری صاحب نے بجائے اصل موضوع پر آنے کے بے معنی غلط اور بے ربط اعتراضات شروع کر دیئے اور ہندو مسلمانوں کو احمدیوں کے خلاف بھڑکایا مولوی صاحب نے پادری صاحب کے ہر سوال کے تحقیقی اور الزامی جوابات دیئے۔ پادری صاحب نے پھر ہندو` مسلمانوں کو بھڑکانا شروع کیا تاکہ لوگ اس گہرے اثر کو جو مولوی صاحب کے جواب سے پیدا ہوا تھا بھول جائیں۔ لیکن نتیجہ کے طور پر اکثر مسلمان پادری صاحب کی اس پالیسی کے خلاف ہوگئے۔ آخر میں مولوی صاحب نے صداقت حضرت مسیح موعودؑ پر ایسی واضح تقریر کی کہ مناظرہ ختم ہوتے ہی مسلمانوں نے بڑے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔۱۲۰
    چمبہ میں چاروں طرف احمدیوں کی کامیابی کا چرچا ہوگیا اور احمدی مناظروں کی قابلیت کی دھاک بیٹھ گئی حتیٰ کہ اگر کوئی شخص بے سرو پا بات کرتا تو لوگ ضرب المثل کے طور پر کہہ دیتے تھے کہ >کیوں پادری عنایت مسیح بنتے ہو<!۱۲۱
    مباحثہ گوہدپور )ضلع گورداسپور(
    مورخہ ۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو جماعت احمدیہ کھوکھر اور اہلسنت و الجماعت گوہدپور کے درمیان موضع گوہدپور )تھانہ دھاریوال ضلع گورداسپور( میں مسئلہ حیات و وفات مسیحؑ پر شاندار مناظرہ ہوا۔ شرائط مناظرہ پہلے سے طے شدہ تھیں۔ جن کے مطابق اہلسنت و الجماعت کوئی ایسا مناظر پیش نہ کرسکے جو مولوی فاضل ہوتا اور اپنی سند دکھا کر مناظرہ کرنے کو تیار ہوتا۔ متواتر تین گھنٹے کے مطالبہ کے بعد اہلسنت کو دو صد روپیہ ہرجانہ معاف کیا گیا اور ذیلدار صاحب علاقہ کے کہنے اور سفارش کرنے پر مولوی عبداللہ صاحب امرتسری اہلحدیث کو مناظرہ کی اجازت دی گئی۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری مولوی فاضل پرنسپل جامعہ احمدیہ مناظر تھے۔ جنہوں نے شرائط کے مطابق اپنی سند اور تمغہ پنجاب یونیورسٹی میں اول رہنے کا دکھایا اور مناظرہ شروع ہوا۔ پہلی تقریر مولوی عبداللہ صاحب نے کی جس کے جواب میں احمدی مناظر نے ان کی تقریر کے دلائل کو توڑ کر ھباء منثورا کر دیا۔ مزید برآں اور دس مطالبات ایسے کئے کہ جن کا جواب اہلحدیث مناظر آخر وقت تک نہ دے سکے بلکہ اہلحدیث مناظر اپنی عادت کے مطابق اہلسنت و الجماعت کے بزرگان سلف صالحین` حضرت امام ابن قیم~رح`~ حضرت ابن عباس~رح`~ حضرت علامہ ابن جریر~رح~ وغیرہم کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے جس سے اہلسنت و الجماعت کے افراد کو بہت تکلیف ہوئی اور اس کا اثر پبلک پر بہت برا ہوا۔ نیز ان کو قرآنی آیات غلط پڑھنے اور عربی عبارات اور الفاظ کو غلط بولنے کی وجہ سے بہت شرمندگی اٹھانا پڑی۔
    مناظرہ ۲/۱ ۱ بجے شروع ہوکر ۲/۱ ۴ بجے ختم ہوا اور اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو اخلاقی اور علمی ہر لحاظ سے فتح عطا فرمائی فالحمدلل¶ہ علیٰ ذالک۔ مناظرہ میں قادیان` اٹھوال` شاہ پور` کنجراں` نارواں` دھرمکوٹ بگہ` ونجواں` وہن فتح` کھوکھر` ستکوہہ` پیرو شاہ` تھہ غلام نبی` ہرسیاں` فیض اللہ چک` تلونڈی جھنگلاں` ممرا` دیا لگڑھ اور دیگر قرب نواح کی جماعتوں کے افراد شامل ہوئے۔۱۲۲
    مباحثہ ڈلوال )ضلع جہلم(
    ضلع جہلم میں ڈلوال اور دوالمیال دو قصبے ہیں جہاں مولوی لال حسین صاحب اختر نے احمدیوں کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔ جو جماعت احمدیہ نے منظور کرلیا اور اختر صاحب ہی کی شرائط پر ۲` ۳۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو مناظرہ کی تاریخیں تجویز ہوئیں اور مناظرہ ان کی خواہش کے مطابق قصبہ ڈلوال کی جامع مسجد میں قرار پایا۔ جہاں صرف دو احمدی تھے۔ پہلا مناظرہ وفات و حیات مسیحؑ پر زیر صدارت مولوی محمد حسین صاحب ہوا۔ مولوی لال حسین صاحب نے مدعی ہونے کی حیثیت سے جو احادیث و اقوال پیش کئے۔ چوہدری محمد یار صاحب عارف نے ان کے نہ صرف تسلی بخش جواب دیئے بلکہ قرآن مجید کی متعدد آیات اور احادیث سے حضرت عیسیٰؑ کی وفات ثابت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انعامی چیلنج بھی پیش کئے جن کا جواب مولوی لال حسین صاحب آخر تک نہ دے سکے اور پبلک پر یہ اثر ہوا کہ مناظرہ کے بعد بعض غیر احمدیوں نے صاف کہا کہ مولوی لال حسین صاحب احمدی مناظر کے مقابلہ میں ناکام رہے ہیں۔
    دوسرے دن >فیضان ختم نبوت< کے مسئلہ میں مدعی جماعت احمدیہ تھی۔ سید احمد علی صاحب احمدی مناظر نے قرآن کریم کی کئی آیات اور احادیث نبویہ سے ثابت کیا کہ آنحضرت~صل۱~ کی اتباع میں نبوت حاصل ہو سکتی ہے۔ مولوی لال حسین صاحب نے جو آیات` احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال پیش کئے ان کا نہایت عمدہ جواب دیا گیا اور اقوال بزرگان پیش کرکے جماعت احمدیہ کے عقیدہ کی صداقت ثابت کی گئی۔ مولوی لال حسین صاحب سوائے درشت کلامی کے کوئی جواب نہ دے سکے۔
    تیسرا مناظرہ اسی دن بعد دوپہر تھا اور یہی مناظرہ سننے کے لئے مولوی لال حسین اور اس کے ساتھی لوگوں کو تیار کررہے تھے۔ اس مناظرہ پر پبلک کثرت سے آئی۔ مسجد کی چھت اور اردگرد کے مکانوں کی چھتوں پر بھی کافی ہجوم تھا۔
    جب مناظرہ شروع ہوا تو مولوی محمد یار صاحب عارف نے پہلی تقریر ہی ایسے رنگ میں کی کہ پبلک نے خاص توجہ سے سنی۔ آپ نے قرآن مجید کی چار آیات سے صداقت ثابت کرکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر پڑھا کہ۔ ~}~
    ہے کوئی کاذب جہاں میں لائو لوگو کچھ نظیر
    میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار
    اور اختر صاحب سے کوئی ایک ہی ایسی مثال پیش کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔ عارف صاحب نے علاوہ قرآنی آیات کے دس احادیث اور بیس پیشگویاں حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کے ثبوت میں پیش کیں۔ مناظرہ کا مقررہ وقت ختم ہونے سے ایک گھنٹہ پیشتر ہی غیر احمدی مناظر کے ساتھیوں نے اپنے مناظر کی کمزوری محسوس کرکے نماز کے بہانہ سے مناظرہ ختم کرنا چاہا جو منظور کرلیا گیا مگر ہماری آخری تقریر میں شور کرنا شروع کردیا۔ غیر احمدی شرفاء اور شیعہ معززین نے جماعت احمدیہ کی نمایاں کامیابی کا اقرار کیا۔۱۲۳
    دوسرا باب
    حواشی
    ۱۔
    الفضل ۱۵۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳` ۴۔
    ۲۔
    مسلم سپین کی تاریخ کے لئے ملاحظہ ہو >حضارۃ العرب فی الاندلس< تالیف السید عبدالرحمن البرقوقی۔ >نفح الطیب< تالیف مقری۔ >المعجب< تالیف علامہ عبدالواحد مراکشی۔ >الاحاطہ فی اخبار غرناطہ< تالیف الوزیر محمد لسان الدین ابن الخطیب۔ >تاریخ اسپین< تالیف سید قمر الدین احمد قمر سندیلوی۔ >تاریخ اندلس< از حضرت مولانا عبدالرحیم درد۔ >ہسٹری آف دی مورش ایمپائر ان یورپ< یعنی اخبار الاندلس از سکاٹ۔ >مورز ان سپین< از لین پول۔ >عبرت نامہ اندلس< از پروفیسر رائن ہارٹ ڈوزی۔
    ۳۔
    سورۃ الحج آیت ۴۰۔
    ۴۔
    الفضل ۶۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴۔
    ۵۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶۲۔ ۶۳۔
    ۶۔
    ایضاً صفحہ ۶۵۔
    ۷۔
    رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳۸۔
    ۸۔
    مکرم مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب مراد ہیں۔
    ۹۔
    یہ نکاح مکرم قاضی محمد رشید صاحب مرحوم وکیل المال تحریک جدید کی صاحبزادی صفیہ صدیقہ صاحبہ سے ہوا تھا۔ حضرت امیر المومنین خلیفہ~ن۲~ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے اپنی اس خاص محبت کے پیش نظر جو آپ کو واقفین سے تھی اس رشتہ کا انتخاب بھی خود فرمایا اور پھر قاضی صاحب مرحوم کو تحریک بھی خود ہی فرمائی۔ آپ اس وقت سکندر آباد دکن میں حکومت کے سویلین گزیٹڈ آفیسر تھے۔ حضور نے شادی کے جملہ اخراجات بھی اپنی جیب خاص سے عطا فرمائے اور دعوت ولیمہ ۲۳۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش کو قصر خلافت ہی میں ہوئی )الفضل ۲۵۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱(
    ۱۰۔
    سورۃ الحجرات آیت ۱۴۔
    ۱۱۔
    الفضل ۲۲۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔ ۳۔
    ۱۲۔
    ایضاً۔
    ۱۳۔
    الفضل ۱۵۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲۔
    ۱۴۔
    الفضل ۶۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۵ کالم ۲۔
    ۱۵۔
    الفضل ۶۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶ کالم ۱ و ۲۔
    ۱۶۔
    اخبار اہلحدیث امرتسر ۳۔ نومبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۶ کالم ۱۔
    ۱۷۔
    اخبار اہلحدیث امرتسر ۸۔ دسمبر ۱۹۴۴ء صفحہ ۴ کالم ۱۔
    ۱۸۔
    ہفت روزہ پیغام صلح لاہور ۳۱۔ مئی ۱۹۴۴ء صفحہ ۳۔
    ۱۹۔
    الفضل ۷۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴ کالم ۲۔
    ۲۰۔
    حضرت سیدہ موصوفہ ۷۔ اپریل ۱۹۱۹ء کو بمقام جہلم اپنے ننھیال میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش میں میٹرک کے امتحان کے علاوہ قادیان کی دینیات کی دو جماعتیں بھی پاس کیں۔ پھر جامعہ نصرت ربوہ سے ایف۔ اے کیا۔ اس کے بعد بی۔ اے کے لئے داخلہ لیا مگر حضرت اقدس سیدنا المصلح الموعودؓ کی طویل اور مسلسل علالت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بے پناہ اور غیر معمولی ذمہ داریوں کی بجا آوری کے لئے کالج چھوڑ دیا اور اپنے مقدس شوہرؓ کی خدمت کے لئے آخری لمحات تک وقف ہوگئیں۔ آپ نے شادی کے معاًبعد ہی لجنہ اماء اللہ کے کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش کی ہجرت کے بعد پاکستان میں سیکرٹری خدمت خلق` سیکرٹری تربیت و اصلاح وغیرہ کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ ان دنوں لجنہ کی جنرل سیکرٹری اور سیکرٹری خدمت خلق ہونے کے علاو نائب صدر لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کے عہدہ پر بھی ممتاز ہیں۔ )یہ حاشیہ وسط ۱۹۶۸ء/ ۱۳۴۷ہش میں لکھا گیا ہے(
    حضرت سیدہ موصوفہ کے چار بہن بھائی ہیں۔ ۱۔ سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ۔ ۲۔ سید کلیم احمد شاہ صاحب۔ ۳۔ سید نعیم احمد شاہ صاحب۔ ۴۔ سید نسیم احمد صاحب۔
    ۲۱۔
    الفضل ۲۶۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۔
    ۲۲۔
    تذکرہ طبع دوم صفحہ ۶۹۱۔ ۶۹۲ و بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخہ ۲۰۔ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ و الحکم جلد ۱۱ نمبر ۷ مورخہ ۲۴۔ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۔
    ۲۳۔
    روزنامہ الفضل یکم ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۲۴۔
    الفضل ایضاً صفحہ ۶ کالم ۲۔
    ۲۵۔
    حضرت شاہ صاحب ان دنوں سنٹرل جیل لاہور کے سپرنٹنڈنٹ تھے مگر اسی سال کے آخر میں انہیں اس عہدہ سے ترقی دے کر ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانجات پنجاب بنا دیا گیا۔ مدیر و مالک اخبار پرتاپ نے ان کے اس نئے اعزاز پر یہ نوٹ لکھا۔
    >شاہ صاحب احمدی ہیں اور میں آریہ سماجی۔ باوجود اس کے میں انہیں اس ترقی پر مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اس کے مستحق ہیں۔ بہت کم سپرنٹنڈنٹ ہیں جو ہر دلعزیزی کے میدان میں ان کا مقابلہ کرسکیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خدا ترس اور فرض شناس ہیں۔ ان کی خداترسی انہیں کسی قیدی پر بے جا سختی کی اجازت نہیں دیتی اور ان کی فرض شناسی اس بات پر تیار کرتی ہے کہ قواعد کی حدود میں رہ کر قیدیوں سے بہترین سلوک کیا جائے۔ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات جلد ریٹائر ہونے والے ہیں۔ کیا معلوم کہ مجھے ایک بار پھر انہیں مبارکباد دینے کا موقعہ ملے<۔ )پرتاپ دسمبر ۱۹۴۴ء بحوالہ الفضل ۱۴۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۵ کالم ۳۔ ۴(
    ۲۶۔
    الفضل یکم ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۷ کالم ۲۔
    ۲۷۔
    ایضاً صفحہ ۸ کالم ۱۔
    ۲۸۔
    الفضل ۹۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۔
    ۲۹۔
    الفضل ۱۷۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲۔ حضرت اقدس ان دنوں ڈلہوزی میں قیام فرما تھے۔ اس لئے اس دعوت کا اہتمام حضور کے ارشاد کی تعمیل میں )جو بذریعہ تار موصول ہوا( حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے کیا اور دعا حضرت مولوی شیر علی صاحب امیر مقامی نے کرائی۔ ڈلہوزی میں بھی ایک دعوت ہوئی جس میں حضور کے ہمراہ گئے ہوئے احباب اور دیگر احمدیوں نے شرکت کی۔
    ۳۰۔
    الہدیٰ و التبصرۃ لمن یریٰ صفحہ ۶۵۔ ۶۶ طبع اول۔
    ۳۱۔
    الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔ ۴۔
    ۳۲۔
    الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۴ کالم ۱ تا ۳۔
    ۳۳۔
    الفضل ۹۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۱ کالم ۳۔
    ۳۴۔
    الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۲ کالم ۴۔
    ۳۵۔
    الفضل ۸۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۱۔
    ۳۶۔
    الفضل ۱۱۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۷ کالم ۲۔ ۳۔
    ۳۷۔
    الفضل ۱۹۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳ کالم ۳۔
    ۳۸۔
    تقسیم ملک کے بعد آپ ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔
    ۳۹۔
    ریاست چنبہ کے فرمانروا راجہ رام سنگھ جی دسمبر ۱۹۳۵ء میں سرگباش ہوگئے اور ان کی جگہ ان کے بیٹے راجہ لکشمن جی گدی نشین ہوئے۔ لکشمن جی چونکہ ان دنوں ایچی سن کالج لاہور میں تعلیم حاصل کررہے تھے اس لئے ان کی نابالغی کے زمانہ میں ریاستی انتظام کے لئے ایک کونسل آف ایڈمنسٹریشن مقرر کر دی گئی تھی۔ )تذکرہ رئوسائے پنجاب جلد دوم مولفہ سر لیپل ایچ گریفن و کرنل میسی مترجم سید نوازش علی طبع دوم ۱۹۴۰ء صفحہ ۷۸۳(
    ۴۰۔
    رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ ۴۵۔ ۱۹۴۴ء/ ۲۴۔ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۳۰۔
    ۴۱۔
    الفضل ۱۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲۔ ۳۔
    ۴۲۔
    الفضل ۹۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲۔ کالم ۲۔
    ۴۳۔
    الفضل ۱۳۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲۔ ۳۔
    ۴۴۔
    الفضل ۲۸۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۸ کالم ۴۔
    ۴۵۔
    الفضل یکم فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶۔
    ۴۶۔
    الفضل ۲۸۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۸۔
    ۴۷۔
    ترجمان القرآن مئی ۱۹۵۰ء صفحہ ۷ پر صاف لکھا ہے۔ >اس کا دین ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک سیاست ہے<۔
    ۴۸۔
    ولادت ۲۵۔ ستمبر ۱۹۰۳ء بمقام اورنگ آباد حیدر آباد دکن۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ۱۸۹۶ء میں ملک کے جن مشہور سجادہ نشینوں کو مباھلہ کا چیلنج دیا مگر وہ میدان میں آنے کی جرات نہ کرسکے ان میں آپ کے دادا سید حسین شاہ صاحب مودودی دہلی بھی تھے۔ )انجام آتھم صفحہ ۷۱ طبع اول(
    ۴۹۔
    محرم الحرام ۱۳۴۹ہش )مطابق مئی` جون ۱۹۳۰ء( کا واقعہ ہے ابو محمد مصلح صاحب نے ریاست حیدر آباد دکن کی سرپرستی میں ایک ادارہ عالمگیر قرآنی تحریک کی داغ بیل ڈالی۔ اور ایک رسالہ ترجمان القرآن بھی جاری کیا جس کا انتظام انہوں نے ذی الحجہ ۱۳۵۱ھ )مطابق مارچ` اپریل ۱۹۳۳ء( کے شمارہ کے بعد مودودی صاحب کے سپرد کردیا )قرآنی تحریک کی مختصر تاریخ مرتبہ ابو محمد مصلح سلسلہ اشاعت قرآن حیدر آباد دکن جلد ۴ نمبر ۷` ۸ ترجمان القرآن ذی الحجہ ۱۳۵۱ھ۔
    ۵۰۔
    روئداد جماعت اسلامی حصہ اول صفحہ ۳ طبع اول ناشر مکتبہ جماعت اسلامی دارالاسلام جمال پور پٹھانکوٹ۔
    ۵۱۔
    روئداد جماعت اسلامی حصہ اول صفحہ ۳۴۔
    ۵۲۔
    الفضل ۳۰۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳ و ۴۔
    ۵۳۔
    ایک شخص نے اسی زمانہ میں مودودی صاحب سے دریافت کیا کہ کیا ایک کافر حکومت کے اندر رہتے ہوئے یہ جائز ہے کہ آدمی لائسنس کے بغیر یا مقررہ موسموں اور اوقات میں شکار کھیلے اور بغیر لیمپ کے راتوں کو موٹر یا بائیسکل چلائے جناب مودودی صاحب نے ترجمان القرآن میں اس کا حسب ذیل جواب دیا۔ >اگر آپ ایک ایسی حکومت کے اندر رہتے ہیں تو انتظام ملکی کو برقرار رکھنے کے لئے جو ضابطے اس نے بنائے ہیں اور جو قوانین بہرحال ایک منظم سوسائٹی کو بحال رکھنے کے لئے ضروری ہیں انہیں خواہ مخواہ توڑنا آپ کے لئے درست نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قانون شکنی کے معنی بدنظمی (DISORDER) پیدا کرنے کے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی زمین میں نظم دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ بدنظمی۔ اس لئے اگر آپ خواہ مخواہ اس کی زمین کا نظم بگاڑیں گے تو اس کی تائید سے محروم رہیں گے<۔ )ترجمان القرآن محرم` صفر ۱۳۶۴ھ )جنوری` فروری ۱۹۴۵ء بحوالہ رسائل و مسائل صفحہ ۴۶۳` ۴۶۴ طابع و ناشر مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی اچھرہ لاہور طبع اول ستمبر ۱۹۵۱ء(
    ۵۴۔
    ‏h2] [tag الفضل ۲۵۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲۔ کالم ۳۔ ۴۔
    ۵۵۔
    الفضل ۳۰۔ دسمبر/ فتح ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳۔ ۴۔
    ۵۶۔
    الازھار لذوات الخمار مرتبہ حضرت سیدہ ام متین مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ مرکزیہ صفحہ ۴۰۹۔ ۴۱۰ طبع دوم۔
    ۵۷۔
    الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۴۲۴ہش صفحہ ۱ و ۳ میں اس کا ملخص شائع ہوچکا ہے۔
    ۵۸۔
    الفضل ۳۰۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶ کالم ۱ و ۲۔
    ۵۹۔
    ‏h2] [tag الموعود )تقریر حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ فرمودہ ۲۸۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش بمقام قادیان( الناشر۔ الشرکتہ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ۔ طبع اول صفحہ ۲۰۸ تا ۲۱۶۔
    ۶۰۔
    الفضل ۳۰۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۵۔ ۶۔
    ۶۱۔
    الفضل ۳۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش۔
    ۶۲۔
    خطبہ جمعہ فرمودہ ۸۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش مندرجہ الفضل ۱۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش۔
    ۶۳۔
    الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء صفحہ ۵۔ ۶۔
    ۶۴۔
    ‏]2h [tag الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۱ کالم ۔ ۳۔
    ۶۵۔
    الفضل ۳۰۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۶۶۔
    الفضل ۲۴۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۵ )ابتدائی سوانح کے لئے ملاحظہ ہو ان کی کتاب قادیان صفحہ ۶۲` ۶۴(
    ۶۷۔
    الض ۲۶۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۵۔ ۶۔
    ۶۸۔
    الفضل ۵/ ۲۔ ہجرت/ مئی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳۔ ۵۔
    ۶۹۔
    الفضل یکم اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔ ۴۔
    ۷۰۔
    الفضل ۲۹۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔ ۴۔
    ۷۱۔
    الفضل ۱۰۔ وفا/ ستمبر صفحہ ۳ کالم ۳۔ ۴۔
    ۷۲۔
    الفضل ۲۹۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔ ۴۔
    ۷۳۔
    الفضل ۲۹۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴ کالم ۳۔ ۴۔
    ۷۴۔
    لاہور تاریخ احمدیت )مولفہ شیخ عبدالقادر صاحبؓ( صفحہ ۳۳۵۔ طبع اول سن اشاعت ۱۹۶۶ء/ ۱۳۴۵ہش۔
    ۷۵۔
    ایضاً۔
    ۷۶۔
    الفضل ۲۳۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ کالم ۳۔
    ۷۷۔
    اس واقعہ کی تفصیل تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ ۵۸۲۔ ۵۸۶ میں آچکی ہے۔
    ۷۸۔
    الفضل ۲۷۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۷۹۔
    الفضل ۲۹۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱ کالم ۱۔
    ۸۰۔
    الفضل ۱۲۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳۔
    ۸۱۔
    رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۱۱ صفحہ ۲۴۵ و ۲۴۶۔
    ۸۲۔
    الحکم ۱۷۔ دسمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۲ کالم ۳۔
    ۸۳۔
    مولف اصحاب احمد کی تحقیق کے مطابق حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ نے اپریل یا مئی ۱۹۰۱ء میں ہجرت فرمائی اور سفر کشمیر سے ۲۷۔ نومبر ۱۹۰۱ء واپس قادیان تشریف لائے اصحاب احمد جلد پنجم حصہ دوم صفحہ ۱۶` ۱۷ حاشیہ(
    ۸۴۔
    روزنامہ الفضل ۱۱۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ کالم ۱۔
    ۸۵۔
    الفضل ۲۷۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۴۔ ۔
    ۸۶۔
    الفضل یکم صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۵۔ منشی احمد حسین صاحب ہیڈ کاتب الفضل ربوہ آپ ہی کے صاحبزادے ہیں۔
    ۸۷۔
    الفضل ۳۰۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴۔
    ۸۸۔
    الفضل ۱۲۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش صفحہ ۳۔
    ۸۹۔
    الفضل ۹۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲۔
    ۹۰۔
    الفضل ۲۵` ۲۶۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ )مفصل تقریر الفضل ۲۷۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ۳`۴ میں چھپ گئی تھی۔
    ۹۱۔
    الفضل ۲۴۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳ کالم ۳۔
    ۹۲۔
    الفضل ۹۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۔
    ۹۳۔
    کلیات آریہ مسافر صفحہ ۴۹۸۔
    ۹۴۔
    الفضل ۱۱۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳` ۴۔
    ۹۵۔
    الفضل ۱۹۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴۔
    ۹۶۔
    الفضل ۱۵۔ تبلیغ/ فروری ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴۔
    ۹۷۔
    الفضل ۵۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴۔
    ۹۸۔
    الفضل ۱۶۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳ و الفضل یکم شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳۔
    ۹۹۔
    الفضل ۱۹۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶۔
    ۱۰۰۔
    الفضل ۲۱۔ شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶۔
    ۱۰۱۔
    الفضل یکم شہادت/ اپریل ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۔
    ۱۰۲۔
    الفضل یکم شہادت/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۵۔
    ۱۰۳۔
    الفضل ۲۷۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴ کالم ۱۔
    ۱۰۴۔
    ہفت روزہ اصلاح سرینگر ۱۷` ۳۱۔ ظہور/ اگست ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش )مضمون میر غلام محمد صاحب سیکرٹری تبلیغ جماعت ہائے احمدیہ کشمیر(
    ۱۰۵۔
    الفضل ۱۸۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱ کالم ۲۔
    ۱۰۶۔
    الفضل ۲۵۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱ کالم ۲۔
    ۱۰۷۔
    الفضل ۱۹۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۵۔
    ۱۰۸۔
    اس آیت میں پیشگوئی ہے خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔
    ۱۰۹۔
    الفضل ۲۹۔ احسان/ جون ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۱۔ ۴ )حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ کے قلم سے مباحثات کی مفصل رپورٹ(
    ۱۱۰۔
    حضرت مسیح کا یہ مشہور وعظ متی باب ۵ تا ۷ میں لکھا ہے۔
    ۱۱۱۔
    یہ تمثیل متی باب ۲۱` مرقس باب ۱۲ اور لوقا باب ۲۰ میں درج ہے۔
    ۱۱۲۔
    الفضل ۲۰۔ وفا/ جولائی ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۴۔
    ۱۱۳۔
    الفضل ۶۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔
    ۱۱۴۔
    ایضاً۔
    ۱۱۵۔
    الفضل ۶۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش۔
    ۱۱۶۔
    الفضل ۱۷۔ اخاء/ اکتوبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ پر اس مکتوب کا متن چھپ گیا تھا۔
    ۱۱۷۔
    الفضل ۲۲۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۲ کالم ۲۔ ۳۔
    ۱۱۸۔
    الازھار لذوات الخمار طبع دوم صفحہ ۴۱۱ مرتبہ حضرت سیدہ ام متین صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ مرکزیہ۔
    ۱۱۹۔
    الفضل ۲۰۔ امان/ مارچ ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۳ کالم ۴۔
    ۱۲۰۔
    الفضل ۱۲۔ نبوت/ نومبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶۔
    ۱۲۱۔
    ایضاً۔
    ۱۲۲۔
    الفضل ۵۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶ کالم ۲۔
    ۱۲۳۔
    الفضل ۱۱۔ فتح/ دسمبر ۱۹۴۴ء/ ۱۳۲۳ہش صفحہ ۶۔
    ‏vat,10.14
    تاریخ احمدیت ۔ جلد ۹
    قیام پاکستان کیلئے جماعت احمدیہ کے مجاہدانہ کارنامے
    تیسرا باب )فصل اول(
    سیدنا المصلح الموعود کی طرف سے انگلستان اور ہندوستان کو باہمی صلح کا پیغام` چودھری محمد ظفر اللہ خاں کا لنڈن کی کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں آزادی کا پرجوش کلمہ حق اور آزادی ہند کی آئینی جدوجہد کے آخری اور فیصلہ کن مرحلہ کا آغاز
    آزادی ہند اور قیام پاکستان کے لئے جماعت احمدیہ کی شاندار خدمات اور مجاہدانہ کارنامے
    از صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش تا ظہور/ اگست ۱۹۴۷ء/ ۱۳۲۶ہش
    ۱۹۴۵ء کا سال ہندوستان کے سیاسی مطلع پر ایک نہایت مایوس کن ماحول میں طلوع ہوا۔ آزادی ہند کے تعلق میں کرپس مشن۱ کی ناکامی کے بعد ہندوستان اور انگلستان کے درمیان زبردست تعطل پیدا ہوچکا تھا اور باہمی سمجھوتہ کے امکانات بظاہر ختم ہوچکے تھے اور اس کے لئے ہندوستانی اور انگریز دونوں ہی کوئی نیا قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ اس زمانہ کے قریب قریب عرصہ میں برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستان کی آزادی سے متعلق سوالات کے جو بھی جوابات دیئے گئے وہ حد درجہ مایوس کن تھے اور عام طور پر یہ سمجھا جارہا تھا کہ ہندوستان کو آزاد کرنے کا سوال ایک عملی سیاست کے طور پر انگلستان کے سیاسی مدبروں کے سامنے نہیں آسکتا۔ علاوہ ازیں لارڈ ویول جو کرپس مشن کی آمد کے وقت ہندوستان کی فوجوں کے کمانڈر انچیف تھے اور اب وائسرائے ہند کے عہدہ پر تھے۔ ہندوستانی حقوق آزادی کے عموماً اور تحریک پاکستان کے خصوصاً بہت مخالف سمجھے جاتے تھے۔ چنانچہ وہ ۱۴۔ دسمبر ۱۹۴۴ء کو ایسوسی ایٹڈ چیمبر آف کامرس کے سپاسنامہ کا جواب دیتے ہوئے یہاں تک کہہ چکے تھے کہ۔
    >اگر ہندوستان سیاسی اختلافات کے بخار میں مبتلا رہا اور اس کے سیاسی ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ اس کے جسم پر بڑا آپریش ہونا چاہئے جیسا کہ پاکستان۔ تو ہندوستان ایک بہترین موقعہ کھو دے گا اور یہ عظیم ملک خوشحالی اور فلاح کی جنگ میں ناکامیاب رہے گا<۔۲
    ان مخدوش اور سراسر ناموافق حالات میں جبکہ کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ ہندوستان اور انگلستان کے درمیان مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہونے والی ہے اللہ تعالیٰ نے >اسیروں کے رستگار< حضرت سیدنا المصلح الموعود کو تحریک فرمائی کہ انگلستان اور ہندوستان کو سمجھوتہ کی دعوت دیں اور انہیں توجہ دلائیں کہ انہیں آپس میں صلح کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس آسمانی دعوت کو جو مختلف الہاموں اور کشوف اور رئویا کے نتیجہ میں تھی۔۳ اگر ہندوستان کی آزادی کا روحانی پس منظر قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کیونکہ اس کے بعد نہ صرف ہندوستان بلکہ انگلستان کی ملکی سیاسیات میں یکایک غیر معمولی تغیرات و انقلابات پیدا ہوگئے بلکہ صرف ڈھائی سال کے نہایت قلیل عرصہ میں ہندوستان غیر ملکی تسلط سے آزاد ہوگیا اور پاکستان جیسی عظیم اسلامی مملکت معرض وجود میں آگئی۔
    حضرت مصلح موعود کا پیغام صلح
    چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ۱۲۔ صلح/ جنوری ۱۹۴۵ء/ ۱۳۲۴ہش کو مسجد اقصیٰ قادیان کے منبر پر ایک انقلاب انگیز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انگلستان اور ہندوستان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
    >وقت آگیا ہے کہ انگلستان` برٹش ایمپائر کے دوسرے ممالک بالخصوص ہندوستان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ صلح کرنے کے لئے پرانے جھگڑوں کو بھلا دے۔ اور دونوں مل کر دنیا میں آئندہ ترقیات اور امن کی بنیادوں کو مضبوط کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے انگلستان تیرا فائدہ ہندوستان سے صلح کرنے میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف میں ہندوستان کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی انگلستان کے ساتھ اپنے پرانے اختلافات کو بھلا دے<۔
    نیز فرمایا۔
    >میں اپنی طرف سے دنیا کو صلح کا پیغام دیتا ہوں۔ میں انگلستان کو دعوت دیتا ہوں کہ آئو! اور ہندوستان سے صلح کرلو اور میں ہندوستان کو دعوت دیتا ہوں کہ جائو! اور انگلستان سے صلح کرلو اور میں ہندوستان کی ہر قوم کو دعوت دیتا ہوں اور پورے ادب و احترام کے ساتھ دعوت دیتا ہوں بلکہ لجاجت اور خوشامد سے ہر ایک کو دعوت دیتا ہوں کہ آپس میں صلح کرلو اور میں ہر قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں تک دینوی تعاون کا تعلق ہے ہم ان کی باہمی صلح اور محبت کے لئے تعاون کرنے کو تیار ہیں اور میں دنیا کی ہر قوم کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم کسی کے دشمن نہیں۔ ہم کانگرنس کے بھی دشمن نہیں` ہم ہندو مہاسبھا والوں کے بھی دشمن نہیں` مسلم لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں اور زمیندارہ لیگ والوں کے بھی دشمن نہیں۔ اور خاکساروں کے بھی دشمن نہیں۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم تو احراریوں کے بھی دشمن نہیں۔ ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور ہم صرف ان کی ان باتوں کو برا مناتے ہیں جو دین میں دخل اندازی کرنے والی ہوتی ہیں۔ ورنہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں اور ہم سب سے کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دو کہ ہم خدا تعالیٰ کی اور اس کی مخلوق کی خدمت کریں۔ ساری دنیا سیاسیات میں الجھی ہوئی ہے۔ اگر ہم چند لوگ اس سے علیحدہ رہیں اور مذہب کی تبلیغ کا کام کریں تو دنیا کا کیا نقصان ہو جائے گا<۔۴
    حضرت امیر المومنینؓ نے انگلستان و ہندوستان کے نام صلح کا پیغام دینے کے ساتھ ہی یہ خبر دی کہ اگرچہ آپ کی دعوت مصالحت کا سیاسی دنیا پر بظاہر کوئی اثر نہیں ہوسکتا مگر خدا تعالیٰ قادر ہے کہ وہ آپ کی آواز کو بلند کرنے اور موثر بنانے کا انتظام فرما دے۔ چنانچہ حضور نے فرمایا۔>اس میں شبہ نہیں کہ میرا ایسی نصیحت کرنا اس زمانہ میں جبکہ ہماری جماعت ایک نہایت قلیل جماعت ہے بالکل ایک بے معنی سی چیز نظر آتی ہے۔ میری آواز کا نہ ہندوستان پر اثر ہوسکتا ہے اور نہ انگلستان پر اثر ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں انگلستان کو نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں خواہ میری یہ نصیحت ہوا میں ہی اڑ جائے اور اب تو ہوا میں اڑنے والی آواز کو بھی پکڑنے کے سامان بھی پیدا ہوچکے ہیں۔ یہ ریڈیو ہوا میں سے ہی آواز کو پکڑنے کا آلہ ہے۔ پس مجھے اس صورت میں اپنی آواز کے ہوا میں اڑ جانے کا بھی کیا خوف ہوسکا ہے جبکہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ہوا میں اڑنے والی آواز کو بھی لوگوں کے کانوں تک پہنچا دے<۔۵
    کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا حریت پرور خطاب
    اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کی زبان کو بسا اوقات اپنی زبان بنالیتا ہے۔ یہی صورت یہاں ہوئی۔ حضرت امیر المومنین کے خطبہ کے معاًبعد
    اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سامان پیدا کر دیئے کہ حکومت ہند نے احمدیت کے مایہ ناز فرزند چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو )جو ان دنوں ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کے جج تھے( کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں ہندوستانی وفد کے قائد کی حیثیت سے انگلستان بھجوایا۔ ۱۷۔ فروری ۱۹۴۵ء کو CHATCHANHOUSE) میں( کانفرنس کا افتتاح ہوا جس میں آپ کو بھی بتاریخ ۱۹۔ فروری( خطاب کرنے کا موقعہ دیا گیا۔ باوجود یہ کہ آپ اس وقت سرکاری نمائندہ تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے تصرف خاص سے آپ کو یہ توفیق بخشی کہ آپ نے حضرت مصلح موعود کے خطبہ کے بیان کردہ مطالب کو نہایت عمدگی اور کمال خوبی سے اپنی زبان میں انگلستان کے سامنے رکھا اور برطانیہ سے ہندوستان کے لئے مکمل درجہ نو آبادیات دیئے جانے کا مطالبہ ایسے پرزور` اثر انگیز اور پرقوت و شوکت الفاظ میں پیش فرمایا کہ پوری دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ چنانچہ انگلستان کے سربرآوردہ اخبارات میں بڑے بڑے لیڈروں نے چوہدری صاحب کی تقریر کے خلاف یا اس کی تائید میں مضامین لکھے۔ انگلستان سے امریکہ کے نمائندوں نے تاروں کے ذریعہ اس آواز کو امریکہ میں پھیلایا اور رائٹر کے نمائندہ نے اسے ہندوستان میں پہنچایا۔ اور پھر ہندوستان کے مختلف گوشوں سے اس کی تائید میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ اس طرح تھوڑے دنوں کے اندر اندر حضرت مصلح موعود کی آواز سے ہندوستان` انگلستان اور امریکہ گونج اٹھے۔۶
    محترم چودھری صاحب نے کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں جو معرکتہ الاراء تقریر کی اس نے تاریخ آزادی ہند میں ایک نئے اور سنہری باب کا اضافہ کیا۔ آپ نے فرمایا۔
    >ہندوستان کو اپنے حصول مقصد سے زیادہ دیر تک روکا نہیں جاسکتا۔ ہندوستان نے برطانوی قوموں کی آبادی کی حفاظت کے لئے پچیس لاکھ فوج میدان میں بھیجی ہے مگر وہ اپنی آزادی کے لئے دوسروں سے بھیک مانگ رہا ہے۔ ہندوستان کی حالت اب بدل چکی ہے۔ جنگ نے اسے اپنی اہمیت کا پورا احساس کرا دیا ہے۔ اس کے صنعتی ذرائع منظم ہوچکے ہیں اور آج وہ اتحادیوں کے لئے اسلحہ کے گودام کا کام دے رہا ہے۔ اتحادی چین کو بڑی چار طاقتوں میں شمار کرنے لگے ہیں۔ مگر ہندوستان کی اہمیت بھی کچھ کم نہیں۔ ہندوستان کئی پہلوئوں سے چین سے آگے ہے۔ چین صرف آبادی اور رقبہ کے مقابلے میں آگے ہے ورنہ صنعت` قوت ساخت` اعلیٰ تعلیم` آرٹ` سائنس` رسل و رسائل` صحت` قیام امن و آئین اور دیگر تمام معاملات میں ہندوستان کا درجہ بلند ہے۔ ہندوستان کے اندرونی اختلافات کچھ بھی ہوں مگر وہ چینیوں کے باہمی تفاوت سے زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوسکتے۔ ہندوستان پر کئی بار حملے ہوئے ہیں مگر ہندوستان نے کبھی بھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔ ہندوستان کب تک انتظار کرسکتا ہے۔ وہ آزادی کی طرف پیش قدمی کرچکا ہے۔ اب اسے امداد دیں اور اس کے راستہ میں مزاحم ہوں اسے کوئی روک نہیں سکے گا۔ اگر آپ چاہیں گے تو وہ کامن ویلتھ کے اندر رہ کر ہی آزادی حاصل کرے گا<۔
    ہندوستان کی جنگی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔
    >جنگ سے پہلے ہندوستان مقروض تھا مگر دوران جنگ میں اس نے اتنی مالی امداد دی ہے کہ اب وہ قرض خواہ بن گیا ہے۔ اس نے رضاکارانہ طور پر ۲۵ لاکھ فوج دی ہے۔ آئندہ امن کے قیام میں ہندوستان کی جنگی کوششوں کو خاص اہمیت حاصل ہوگی<۔۷
    چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب کی انگریزی تقریر کامتن
    اس معرکہ آراء تقریر کا انگریزی متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔
    ‏ India in place taken have that changes principal The has War The ۔war the to related mainly are 1938 since its of realization vivid and forcible a India to brought potential its of indeed and importance, strategic nwo oceans of area vast that all in domination strategic coast west the and Australia between lies that lands and Harbour, Pearl before long war, the during Early ۔Africa of in supplies of base principal the become had India still served war the into Japan of entry The ۔area that ۔respect that in position vital India`s emphasize to more of sources main the of one be to proved only not has India materials, raw and products primary of respect in suppley its of mobilisation rapid the through has tbu become resources, industrial and capacity manufacturing that in Nations United the of arsenal principal the in effort great India`s of idea Some ۔globe the of part during that fact the from gathered be may respect this India country, debtor a being from yeras, five last the with nation creditor a into itself converted has also, manpower of respect In ۔balances sterling large Without ۔remarkable less no been has effort India`s whatsoever, compulsion of measure any of aid the 1/2۔2 dleif the into putting in succeeded has she nationals, own their by efficered largely men, million account splendid a giving are and given have who need If ۔war the of theatres many in themselves of and doubled be easily could number this arose, India that contriebution The ۔quadrupled even perhaps the of liberties the preserving towards made thus has the safeguarding and Wealth Common the of nations achieved been not had world the of peace future ۔directions many in ferment serious creating twithou been have life economic India,s on repercussions The ۔possibilities beneficent of full also are but grave, have drive manpower the and effort supply the Both skilled and technical of number larger much a created though before, possessed ever has India than personnel potential its of short grossly falls still number the which change welcome very a is This ۔requirements its in India helping towards way long a go should ۔years war ۔post the in economy its balance to efforts economic the to confined not are repercussions the But very felt themselves making are they indeed ۔ sphere impatient growing is India ۔directions other in strongly sense Its ۔Britain Great on dependence political its of political the in frustration and disappointment of be may it that fear the by aggravated being is field the in obsucrity inglorious of position a to relegated of some concerning proposals the arrangements, postwar discussion of matter subject the form will which India,s of noitaicappre The ۔Conference this in by helped be perhaps, may, behalf this in position ۔China and India between comparison a instituting one as recognised freely day ۔to is China upon nations big four the of devolve will whom safeguarding for responsibility principal the human directing and shepherding and peace world the after channels beneficent into effort a to brought been have war the of horrors have it by engendered miseries the and close not does India ۔softened been degree some to
    ‏ respect in China with unfavourably compare respect other every In ۔area or population of have I ۔India with comparison no stand can China respect, any in China disparage to desire no discount to moment one for wish I do nor due justly admiration and praise the of iota an resistance heroic its for country great that to eight last the during aggression Japanese to recognised freely be sure am I will it but years, and resources natural of respect in that capacity, manufacturing ,tnempolevde their skill, mechanical and technical potential, industrial higher and literacy investments, capital communications, sciences, and arts the in education the services, veterinary and health public the and order and law of maintenance similar of host a and justice of administration China of ahead far stands India matters, the vis ۔a۔ vis position its be may whatever ۔R۔S۔S۔U the and States United the Kingdom, United China of claim the makes that then it is What irresistaible nations tgrea the among ranked be to India of behalf on claim same the makes and doubt no China ￿unentertainable and unacceptable India, does so but culture, ancient and possesses the acknowledge to first the be will China and may It ۔field culture the in India to owes it debt on admitted is claim China`s that said be potentialities India`s but potentialities, its of account be may It ۔greater even submit, to venture I are, and divisions from suffers India that objected India in conflicts and sndivisio the but conflicts, intractable more prove to threaten not do Communists the divide that differences the than made often Though ۔China in Kuomintang the and throughout has India aggression, of victim a aggression of guilty been never history long her than eager and willing less no is She ۔hereself position better far a in is and assume to China obligations the discharge to adequately China than a nations, great the among inclusion her that may entitled, justly is she which to noitposi feature distinguishing the then not Is ۔entail that this, only India and China between own her on stands China ill, for or good for that storms the against contending feet, political her overwhelm to threaten may and threatened have politically is India while independence, the of Statesmen ￿Britain Great upon dependent irony an as you strike not it does Wealth, Common 5۔2 have should India that magnitude first the of struggling and fighting field the in men million the of snoitan the of liberties the preserve to suppliant a be should yet and Wealth Common think, you do long, How ￿freedom own her for on is India ￿wait to prepared be she will hinder may you or her, help may You ۔march the free, be shall India her, stop shall none but her, and her let will you if Wealth, Common the within due; her is that place the her to accord leave you if Wealth Common the without۸alternative> on her
    چونکہ برطانوی ہند کی تاریخ میں یہ پہلی مثال تھی کہ حکومت کے ایک سربرآوردہ نمائندہ نے ہندوستانیوں کے سیاسی اور ملکی جذبات کی وضاحت و ترجمانی کا فرض اس جرات اور بے باکی سے ادا کیا ہو۔ اس لئے ہندوستان کے سب سیاسی حلقوں نے اس نعرہ آزادی کے بلند کرنے پر چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو زبردست خراج تحسین ادا کیا اور ملک کے مقتدر ہندو اور مسلم پریس نے بکثرت تعریفی مضامین لکھے جن میں سے بعض بطور نمونہ درج ذیل کئے جاتے ہیں۔
    ۱۔ اخبار >انقلاب<
    اخبار >انقلاب< مورخہ ۲۲۔ فروری ۱۹۴۵ء نے >سر ظفر اللہ خاں کی صاف گوئی< کے عنوان سے حسب ذیل ایڈیٹوریل لکھا۔
    >چودھری سر ظفر اللہ خاں نے کامن ویلتھ کی کانفرنس )منعقدہ لنڈن( میں جو تقریر فرمائی وہ ہر انگریز اور اتحادی ملکوں کے ہر فرد کے لئے دلی توجہ کی مستحق ہے۔ کیا اس ستم ظریفی کی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ جس ہندوستان کے پچیس لاکھ بہادر مختلف جنگی میدانوں میں جمعیتہ اقوام برطانیہ کی آزادی کے محفوظ رکھنے کی خاطر لڑرہے ہیں وہ خود آزادی سے محروم ہے!
    یہ الفاظ کسی غیر ذمہ دار مقرر کی زبان سے نہیں نکلے جس نے مجمع عام میں عوام سے نعرے لگوانے کے لئے یہ طریق بیان اختیار کیا ہو بلکہ ایک ذمہ دار ہندوستانی وفد کے قائد و رہنما کے الفاظ ہیں اور کوئی شخص ان کی سچائی اور درستی میں ایک لمحہ کے لئے بھی شبہ نہیں کرسکتا۔ گزشتہ ساڑھے پانچ برس میں ایک موقع بھی نہیں آیا کہ ہندوستان نے بحیثیت مجموعی اور بہ اعتبار عمومی جنگ کے سلسلے میں اپنے واجبات و فرائض کی بجاآوری کا بہتر سے بہتر ثبوت نہ دیا ہو۔ جن جماعتوں نے جنگی مساعی میں پورا اور سرگرم حصہ نہ لیا یا جن کی طرف سے ان کی مخالفت ہوئی ان کا عذر بھی اس کے سوا کیا تھا کہ ہندوستان کو آزادی نہیں ملی اور آزادی مل جائے تو اس وسیع سرزمین کے لامتناہی وسائل کو اس پیمانے پر جنگ کے لئے حرکت میں لایا جاسکتا ہے کہ دنیا حیران رہ جائے۔ ان جماعتوں کے طریق و تدابیر سے اور بعض حالتوں میں مقاصد سے بھی اختلاف کیا جاسکتا ہے اور خود ہم نے بھی ان کی تنقید میں کبھی تامل نہیں کیا۔ لیکن کیا یہ حقیقت حددرجہ رنجدہ نہیں کہ جن جماعتوں نے ہر سعی کو حصول آزادی پر موقوف و ملتوی رکھا ان کے طرز عمل سے اختلاف کیا گیا۔ لیکن جن جماعتوں اور گروہوں نے کسی شرط یا عہد و پیمان کے بغیر ہر قسم کی قربانیوں کو آزادی جمہوریت کی حمایت کے خیال سے نیز ہندوستان کی حفاظت کے خیال سے ضروری قرار دیا۔ وہ بھی اس وقت تک منزل آزادی سے قریب تر نہیں ہوئے۔
    بلاشبہ ہندوستان میں اختلافات موجود ہیں اور ان اختلافات کا فیصلہ خود ہندوستانیوں کو کرنا چاہئے اس لئے بھی کہ وہی فیصلہ کے حقدار ہیں اور اس لئے بھی کہ انہی کا فیصلہ پائدار ہوگا۔ چوہدری سر ظفر اللہ خاں نے اس سلسلہ میں چین کی مثال پیش کی کہ وہاں بھی کمیونسٹوں اور مارشل چیانگ کائی شیک کی قومی پارٹی )کونٹانگ( میں اختلافات ہیں۔ ہم اس مثال کو ہر لحاظ سے اپنے حالات کے مطابق نہیں سمجھتے۔ تاہم کیا حکومت برطانیہ کے لئے یہ زیبا ہے کہ ہمارے اختلافات کی وجہ سے سارے سلسلہ کاروبار کو معطل کئے بیٹھی رہے اور چپ چاپ یہ دیکھتی رہے کہ کب ہمارے اختلافات مٹتے ہیں اور کب اسے آزادی ہند کے مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ کا موقع ملتا ہے<۔۹
    ۲۔ اخبار >احسان<
    اخبار >احسان< نے ۲۲۔ فروری ۱۹۴۵ء کی اشاعت میں لکھا۔
    >سر ظفر اللہ خاں نے لندن میں ایک اور تقریر کی جس میں ایک سرکاری ممبر ہونے کے باوجود آپ نے صاف گوئی سے کام لیا ہے۔ آپ نے برطانوی مدبروں سے کہا ہے کہ ان نازک لمحات میں برطانیہ کو جو فتوحات ہوئی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ امریکہ سے برطانیہ نے معاملہ کیا تو اس میں برطانیہ کو کامیابی ہوئی۔ روس سے بات چیت ہوئی تو اس میں بھی برطانیہ کو فتح ہوئی آگے بڑھنے کے لئے جس طرف بھی قدم اٹھے تو برطانیہ کو ناکامی نہ ہوئی۔ لیکن اس لمبی چوڑی دنیا میں کیا برطانیہ صرف ہندوستان کے معاملے میں ہی شکست تسلیم کرنا چاہتا ہے؟ معلوم نہیں برطانیہ کے مدبروں نے سر ظفر اللہ کی ان باتوں کو کن جذبات کے ماتحت سنا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے جس کا احساس آج سر ظفراللہ جیسے انسان کو بھی ہورہا ہے اور کس قدر افسوسناک واقعہ ہوگا۔ اگر برطانوی مدبروں کے دل میں تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ آپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہندوستان آزاد ہونا چاہتا ہے خواہ اسے کامن ویلتھ )دول متحدہ( سے باہر ہی کیوں نہ رہنا پڑے۔ ہندوستان دول متحدہ میں بھی شریک ہوسکتا ہے بشرطیکہ وہ اپنی قسمت کا آپ مالک ہو اور باہر سے کوئی دبائو اس پر نہ پڑے اور دوسری شرط یہ ہے کہ درجہ نو آبادیات میں وہ نسلی امتیاز کا شکار نہ ہو اور اس کا درجہ بالکل مساوی ہو۔ یہ باتیں بالکل صاف ہیں<۔10] ¶[p۱۰
    اخبار >پیام<
    ۳۔ حیدر آباد دکن کے روزانہ اخبار >پیام< )مورخہ ۸۔ ربیع الاول ۱۳۲۴ھ مطابق ۲۲۔ فروری ۱۹۴۵ء( نے >ایک اجنبی کی آواز< کے عنوان سے لکھا۔
    >بہت عرصہ ہوا کہ سر ظفر اللہ خاں قومی زندگی سے بیگانہ ہوچکے ہیں۔ ان کی دنیا لال وردیوں والے چوبداروں اور سرخ قالینوں والے حکومت کے ایوانوں کی دنیا ہے` اس لئے حیرت ہوئی ایک خوشگوار حیرت کہ تعلقات دولت مشترکہ کی کانفرنس میں ہندوستانی وفد کے لیڈر کی حیثیت سے انہوں نے اپنی تقریر میں یہ کیسی عجیب عجیب باتیں فرما دیں کیا وہ کوئی عصبی ہیجان کا لمحہ تھا جب وہ کہہ بیٹھے کہ۔
    دولت مشترکہ کے مدبرو! کیا تم اس عجیب طنز کو محسوس نہیں کرتے کہ ہندوستان کے ۳۰ لاکھ سپاہی میدان جنگ میں دولت مشترکہ کی اقوام کی آزادیوں کو محفوظ کرنے کی جدوجہد کررہے ہوں اور پھر خود اپنی آزادی کی بھیک مانگتے رہیں؟<
    اور پھر یہ کہ۔
    >کب تک تمہارے خیال میں ہندوستان انتظار کرتا رہے گا؟ ہندوستان کا قافلہ اب جادہ پیما ہے خواہ تم اس کی مدد کرو یا اس کا راستہ روکو اس کو اب کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ ہندوستان آزاد ہوکر رہے گا مگر وہ دولت مشترکہ کے اندر رہے گا اگر تم اس کو اندر رہنے دو گے اور اس کو وہ مرتبہ دو گے جو اس کا حق ہے مگر وہ اس حلقہ سے باہر بھی چلا جائے گا اگر تم اس کے لئے کوئی دوسرا چارہ کار باقی نہ رکھو گے<۔
    اور پھر
    >اپنی سیاسی آزادی کے لئے برطانیہ کی دست نگری کرنے سے اب ہندوستان اکتا گیا ہے۔ سیاسی میدان میں اپنی مایوسی اور ناکامی کا احساس اب اس اندیشہ سے بڑھتا جاتا ہے کہ کہیں ان مابعد جنگ انتظامات میں]0 [stf جن میں سے بعض پر اس کانفرنس میں بحث ہوگی وہ کسی ذلیل بے چارگی کی حالت میں نہ دھکیل دیا جائے<۔
    >سر ظفر اللہ کی شخصیت ہمارے ملک کی ایک بہت شاندار شخصیت رہی ہے جب تک وہ دہلی اور شملہ کے سرکاری خلوت خانوں کی آسائشوں سے مانوس نہ ہوئی تھی موصوف کی ذہنی اور دماغی قابلیت کا لوہا سب مانتے ہیں۔ اس قابلیت کے نقوش آج بھی ہماری قومی زندگی میں موجود ہیں۔ مگر یہ آواز جو ہم نے آج لندن کے ایک ایوان میں سنی اب تو ایک اجنبی کی آواز معلوم ہوتی ہے تاہم حقائق کی قوت اس سے ظاہر ہے۔ یعنی یہ حقیقت ظاہر ہے کہ وطن کی اولاد اگر اس سے جدا کسی دوسری دنیا میں بھی آباد ہو۔ تب بھی اس کی زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں کہ وہ اسی ایوان کے فرش پر جس کے اندر اس کی قدرتی صلاحیتیں محفوظ کرلی گئی ہیں ایک کلمہ حق کہہ سکتی ہے۔ سر ظفر اللہ کی اس آواز میں ایک گرج ہے` ایک دھماکا ہے جس کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے لیکن کیا وہ بھی نظر انداز نہ کرسکیں گے دولت مشترکہ کے مدبرین! جن کو سر ظفر اللہ نے مخاطب کیا؟
    انہوں نے فرمایا کہ کیا ہندوستان کی حالت چین سے بھی بدتر ہے۔ کیا ہندوستان کے اندرونی اختلافات چینی کونٹنانگ اور چینی اشتراکیوں کے اختلافات سے بھی زیادہ ہیں؟ پھر یہ کیا بات ہے کہ آج چین کو چار بڑے اکابر میں شمار کیا جاتا ہے مگر ہندوستان کا مقام کہیں بھی نہیں؟
    بہت مشکل ہے اس بات کا سمجھنا اور بتانا کہ سر ظفر اللہ کی زبان سے یہ سب کچھ کن حالات میں کہا گیا اور آیا یہ کہ ان کا کہا ہوا ۱۰ ڈائوننگ اسٹریٹ تک بھی پہنچ سکے گا یا نہیں۔ لیکن یہ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کے اس نام نہاد وفد کی قیادت کا فرض انجام دیا اس سے آگے ہم نہیں کہہ سکتے کہ پھر بھی وہ کچھ کہیں گے یا نہیں اور ان کے شرکاء کار بھی کچھ کہیں گے یا نہیں یا یہ ایک آواز یورپ کی بین الاقوامی سیاست کے صحرائے لق ودق میں صرف ایک ہی دفع بلند ہوکر گم ہو جائے گی<!۱۱
    اخبار >پربھات<
    ۴۔ روزنامہ >پربھات< )۲۰۔ فروری ۱۹۴۵ء( نے یہ نوٹ شائع کیا۔
    >ہندوستان کی طرف سے سرظفر اللہ بطور نمائندہ اس کانفرنس میں تشریف لے گئے ہیں۔ ان کی پہلی تقریر بہت زور دار ہے اور دل خوشکن بھی۔ کیونکہ انہیں نے کامن ویلتھ کے دوسرے ممبروں کو صاف الفاظ میں بتایا کہ بیس پچیس لاکھ سپاہی مہیا کرنے والا ملک اگر آزادی سے محروم رہا تو جنگ کے بعد بھی دنیا میں امن نہیں ہوسکتا۔ ایک ایک ہندوستانی کو سر ظفر اللہ کا ممنون ہونا چاہئے کہ انہوں نے انگریزوں کے گھر جاکر حق کی بات کہہ دی<۔۱۲
    اخبار >ویر بھارت<
    ۵۔ اخبار >ویر بھارت< )۲۰۔ فروری ۱۹۴۵ء( نے ایک طویل مضمون میں یہ تبصرہ لکھا۔
    >سر ظفر اللہ نے کامن ویلتھ کانفرنس میں بجاطور پر یہ سوال کیا کہ جس ہندوستان کے پچیس لاکھ سپاہی دنیا کو آزاد کرانے کے لئے لڑرہے ہیں کیا اس کا بدستور غلام رہنا باعث شرم نہیں ہے؟<۱۳
    اخبار >پرتاپ<
    ۶۔ اخبار >پرتاپ< )مورخہ ۲۲۔ فروری ۱۹۴۵ء( نے چودھری صاحب کی معرکتہ الاراء تقریر کا ذکر درج ذیل الفاظ میں کیا۔
    >ہندوستان کے فیڈرل کورٹ کے جج سر محمد ظفر اللہ آج کل لنڈن گئے ہوئے ہیں۔ آپ کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں ہندوستانی ڈیلی گیشن کے لیڈر ہیں۔ لنڈن میں آپ نے جو تقریریں کی ہیں ان سے ہندوستان تو کیا` ساری کامن ویلتھ میں تہلکہ مچ گیا ہے۔ کوئی امید نہ کرسکتا تھا کہ سر ظفر اللہ جیسا شخص بھی برطانیہ کی مذمت میں ایسے الفاظ استعمال کرسکتا ہے۔ چند دن ہوئے آپ نے ایک تقریر کی جسے سن کر یو۔ پی کے سابق گورنر سر میلکم ہیلی جو اس وقت لارڈ ہیلی آف سرگودھا ہیں آگ بگولہ ہوگئے اور میٹنگ سے اٹھ کر چلے گئے۔ آپ نے برطانوی حکمرانوں کو وہ کھری کھری سنائیں کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔ برطانوی حکومت کے درجنوں تنخواہ دار ایجنٹوں کے کئے کرائے پر آپ کی ایک تقریر نے پانی پھیر دیا۔
    عام سوال یہ کیا جارہا ہے کہ یہ کیسے ہوا کہ ایسے ایسے لوگ بھی جو برطانیہ کی بدولت ان ممتاز عہدوں پر پہنچے ہیں آج اس کے خلاف ہورہے ہیں۔ جواب صاف ہے۔ برطانوی حکومت ہر ایک کو چکمہ دینا چاہتی ہے اور جن لوگوں میں ابھی تک ضمیر باقی ہے وہ ان حالات کو برداشت نہیں کرسکتے<۔۱۴
    اخبار >ریاست<
    ۷۔ اخبار >ریاست< )۲۶۔ فروری ۱۹۴۵ء( نے >برطانیہ کے مخلص دوستوں کی آواز< کے عنوان سے حسب ذیل نوٹ شائع کیا۔
    >چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں جج فیڈرل کورٹ ایک بلند کیریکٹر شخصیت ہیں اور آپ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ آپ کے دل اور زبان میں فرق ہو۔ چنانچہ چودھری صاحب چونکہ برطانیہ کے مخلص دوست ہیں۔ آپ نے اپنے ان اصلی جذبات کو کبھی چھپانے کی کوششش نہ کی اور جب کبھی آپ کو برطانوی پالیسی اور برطانوی مدبروں سے اختلاف ہوا تو آپ نے اس اختلاف کو بھی کھلے طور پر بیان کردیا۔
    چودھری سر ظفر اللہ نے برطانیہ کے مخلص دوست ہوتے ہوئے حال میں جو بیان دیا ہے وہ برطانوی مدبروں کی آنکھیں کھولنے کا باعث ہونا چاہئے۔ آپ نے برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ >ہندوستان کی آزادی کی خواہش کو اب نہیں دبایا جاسکتا۔ کاروان آزادی اب تیزی سے منزل کی طرف رواں ہے۔ تم اس کی مدد کر دیا نہ کرو۔ آزادی کی منزل میں اس کے قدم اب متزلزل نہیں ہوسکتے۔ ۲۵ لاکھ ہندوستانی میدان جنگ میں اقوام دولت مشترکہ کی آزادی قائم رکھنے کے لئے جنگ کررہے ہیں لیکن وہ خود اپنی آزادی سے محروم ہیں<۔
    گاندھی اور کانگرسی لیڈروں کو تو خیر برطانیہ اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ان کی تحریکوں اور مطالبات کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر سر ظفر اللہ تو برطانیہ کے دشمن نہیں اور برطانیہ کے نامزد ہوکر کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں شامل ہوئے۔ برطانوی قوم اگر اپنے ان مخلص دوستوں کی رائے پر بھی توجہ نہ کرے تو اس قوم کی بدنصیبی پر کیا شک ہے۔
    اے کاش! برطانیہ کے مدبر سر ظفر اللہ کے اس بیان کو آنکھیں کھول کر پڑھیں اور ہندوستان کو آزادی دی جائے<۔۱۵
    ریاست >پریت لڑی<
    ۸۔ سکھوں کے مشہور گورمکھی رسالہ >پریت لڑی< نے اپنے مارچ ۱۹۴۵ء کے پرچہ میں >سر ظفر اللہ< کے زیر عنوان لکھا۔
    >لنڈن میں ڈومیننز کی کانفرنس ہورہی ہے۔ سر ظفر اللہ ہندوستان کے نمائندے ہیں اور جو زوردار` بے خوف اور بے لاگ تقریریں انہوں نے کی ہیں انگریز سوچ میں پڑ گئے ہیں۔ سر ظفر اللہ نے تنبیہہ کی ہے کہ اگر ہندوستان سے انصاف نہ کیا گیا اور مکمل آزادی کی تاریخ مقرر نہ کی گئی تو انگریز ہندوستان کی دوستی ہمیشہ کے لئے گنوا لیں گے۔ ان کی تقریروں کا تمام دنیا میں چرچا ہورہا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے شکر گزار ہیں۔
    مدت سے ہم نے یہ امید کرنا چھوڑ دیا ہے کہ سرکاری طور پر بھیجا ہوا ہمارا نمائندہ کبھی ہماری بھی ترجمانی کرے گا۔ ہم نے کبھی دلچسپی سے پڑھا ہی نہیں کہ یہ نمائندے وہاں جاکر کیا کہتے ہیں لیکن سر ظفر اللہ کی دلیری کا ہم فخر کرتے ہیں<۔۱۶
    >پریت لڑی< کے تبصرہ کا گورمکھی متن<

    عکس کیلئے


    چودھری صاحب کی لنڈن ریڈیو سے اہم تقریر
    چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ۱۷۔ فروری ۱۹۴۵ء کو صرف کامن ویلتھ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ہی نعرہ آزادی بلند نہیں کیا بلکہ اس روز عشائیہ کی ایک خصوصی سرکاری تقریب میں بھی اپنے موقف کی تائید میں موثر تقریر فرمائی۔ ازاں بعد اپنے قیام انگلستان کے دوران ایک تقریر لنڈن ریڈیو سے براڈ کاسٹ کی جس میں ہندوستان کی سیاسی مشکلات کا حل پیش فرمایا اور بتایا کہ میں نے حکومت برطانیہ کے سامنے تجویز رکھی ہے کہ اس کی طرف سے اعلان کیا جائے کہ جنگ عظیم کے خاتمہ کے ایک سال بعد تک اگر ہندوستانی جماعتوں میں کوئی سمجھوتہ ہوگیا تو برطانیہ اسے تسلیم کرے گا۔ اگر سمجھوتہ نہ ہوسکا تو ہندوستان میں ایک عبوری آئین کا نفاذ کرکے ملک کو درجہ نو آبادیات دے دے گا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا۔
    >میں نے جب سے انگلستان میں قدم رکھا ہے مجھ سے ہندوستان کی آئینی الجھنوں کے بارے میں بہت سے سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ مثلاً ہندوستان کا سیاسی قضیہ کیوں حل نہیں ہوتا؟ ہندو اور مسلمان کیوں مفاہمت نہیں کرتے؟ ہندوستان کو کب آزادی ملے گی؟ ہندوستان آزاد ہوکر کامن ویلتھ میں شامل رہے گا یا نہیں؟ ان سوالات کا جواب دینا آسان کام نہیں۔ کیونکہ جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے وہ کہہ چکا ہے کہ ہندوستانی آپس میں کوئی سمجھوتہ کرکے کوئی آئین بنا لیں برطانیہ اسے منظور کرے گا۔ دوسری طرف ہندوستانی آپس میں سمجھوتہ نہیں کرتے اور یہ مسئلہ ایک الجھن سی بن کر رہ گیا ہے۔ تین سال پیشتر سر سٹیفورڈ کرپس ہندوستان گئے تھے۔ اس وقت سے آج تک ہندوستان میں الجھن سلجھانے کی بڑی کوششیں ہوئیں مگر ناکام رہیں۔
    ،،،،،،،،، اس وقت محاذ جنگ پر ۲۵ لاکھ ہندوستانی سپاہی دنیا کی آزادی کے لئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔ ہندوستان کی طرف سے اس قدر سامان جنگ فراہم کیا گیا ہے کہ آج ہندوستان جیسا مقروض ملک قرض خواہ بن گیا ہے۔ صنعت و حرفت بہت زیادہ ترقی کرگئی ہے مگر اس کے سیاسی مستقبل کا کوئی حل پیدا نہیں ہوا۔ اور اس کے بغیر سب ترقیاں فضول ہیں۔ میں نے برطانوی مدبروں کے سامنے یہ تجویز رکھی ہے کہ ان کی طرف سے یہ اعلان ہونا چاہئے کہ اگر ہندوستان کے لوگ جنگ جاپان کے اختتام کے ایک سال بعد تک کوئی سمجھوتہ پیش کریں تو برطانیہ اسے تسلیم کے گا۔ اگر سمجھوتہ نہ کرسکیں تو برطانیہ اپنی طرف سے آئین تیار کرکے پارلیمنٹ میں پیش کر دے گا۔ اس کی شکل یہی ہوگی کہ ہندوستان کو آسٹریلیا` نیوزی لینڈ` کینیڈا اور جنوبی افریقہ کا سا درجہ دیا جائے گا۔ ہندوستان کی اسمبلی کو پارلیمنٹ کے منظور کردہ آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا تاکہ بعد میں ہندوستانی آپس میں اتحاد کرکے آئین کو اپنے ڈھب کے مطابق لاسکیں۔ بہرحال حکومت کو ایسا اعلان کر دینا چاہئے جس سے دسمبر ۱۹۴۷ء تک ہندوستان کی آئین سازی کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہو۔۔۔۔۔۔۔ میں نے حکومت برطانیہ سے یہ درخواست کی ہے کہ اگر ہندوستان کی کوئی سیاسی جماعت اس آئین سے علیحدہ رہنے کی خواہش رکھتی ہو تو اس کے لئے ایسا کرنے کی گنجائش رکھی جائے۔ دوسری گنجائشیں بھی رکھی جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت ہندوستان میں ایک جماعت۱۷ ایسی بھی ہے جو مرکزی آئین سے اپنے آپ کو الگ رکھنے کی کوشش کررہی ہے لہذا برطانوی پارلیمنٹ کی طرف سے جو آئین منظور ہو اس میں اس امر کی گنجائش ضرور رکھنی چاہئے۔ بعض برطانوی مدبر کہتے ہیں کہ ہندوستان کے آئین کی ذمہ داری برطانیہ پر عائد نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن ان کا یہ بہانہ بالکل عذر لنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی سیاسی الجھن کا حل برطانیہ کو دنیا بھر میں سرخرو کردے گا۔ اگر وہ اس کام میں عہدہ برآ ہوگیا تو دنیا میں اس کی عزت میں چار چاند لگ جائیں گے۔ ناکام رہا تو اس کے وقار کو بٹہ لگ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے یونان` یوگوسلاویہ اور پولینڈ جیسے ملکوں کے ناقابل حل سوالات کو حل کر دکھایا ہے۔ کیا ہندوستان کا حق برطانیہ پر اس قدر بھی نہیں جتنا یوگوسلاویہ` پولینڈ اور یونان کا ہے۔ اگر برطانیہ ہندوستان کا مسئلہ حل کردے تو اس سے بہت سی الجھنیں حل ہو جائیں گی۔ خود انگلستان کی بہبود کا تقاضا بھی یہی ہے<۔۱۸
    چودھری صاحب نے اپنی یہی تجویز اخبار سپیکٹیٹر >ROTAT<SPEC کے ایک مضمون میں بھی نہایت وضاحت سے بیان فرمائی اور آخر میں لکھا کہ برطانوی حکومت کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کے مسئلہ کے حل پر دنیا کے امن اور تہذیب کے مستقبل کا دارومدار ہے اور اس کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ بعض حلقوں کو اس کا احساس نہیں۔۱۹
    چودھری صاحب کا >ہندوستان سٹینڈرڈ< کے نمائندہ سے انٹرویو
    چودھری صاحب نے ۲۲۔ فروری ۱۹۴۵ء کو >ہندوستان سٹینڈرڈ< کے نمائندہ سے ایک انٹرویو میں کہا کہ میری سرکردگی میں جو وفد یہاں آیا ہے وہ دو سوالات کا قطعی فیصلہ کرانے کے بعد ہندوستان واپس جائے گا۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ہم جنوبی افریقہ کے ڈیلیگیشن کا اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ ہندوستانیوں کو شہریت کے مساوی حقوق دینے کے لئے تیار نہ ہوگا۔ اگر اس نے ہمارا یہ مطالبہ منظور نہ کیا تو اسے ہندوستان کی طرف سے پوری پوری انتقامی کارروائی کے لئے تیار ہوجانا چاہئے دوسرا سوال ہندوستان کی آزادی ہے خواہ ہندوستان برطانوی کامن ویلتھ کے اندر رہنا منظور کرے یا باہر ہو جائے<۔۲۰
    برطانوی مدبرین کے خیالات میں زلزلہ
    آزادی ہند سے متعلق چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی تجویز نے برطانوی مدبرین کے خیالات میں ایک زبردست زل