1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.
  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
    Dismiss Notice
  3. [IMG]
    Dismiss Notice
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ
    Dismiss Notice

انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 24

'حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۔ یونی کوڈ کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از MindRoasterMir, ‏جنوری 22, 2018۔

  1. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    انوار العلوم ۔ مجموعہ کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ ۔ جلد 24







    مولانا مودودی صاحب کے رسالہ
    ‘‘قادیانی مسئلہ’’ کا جواب



    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ ھُوَ النَّاصِرُ
    مولانا مودودی صاحب کے رسالہ
    ‘‘قادیانی مسئلہ’’ کا جواب
    (تحریر کردہ نومبر 1953ء)

    مولانا مودودی صاحب نے ایک رسالہ ‘‘قادیانی مسئلہ’’ مارچ 1953ء میں شائع کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب اِس وقت تک ایک لاکھ کے قریب مختلف زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ چونکہ مُلک کے حالات ایسے تھے کہ لوگوں کی طبائع میں بہت کچھ جوش تھا اور مودودی صاحب نے ظلم سے کام لیتے ہوئے ایسے رنگ میں احمدیوں کے خلاف مضمون شائع کیا تھا کہ جس سے طبائع میں اشتعال پیدا ہو جائے اس لئے جماعت احمدیہ نے خیال کیا کہ کچھ عرصہ تک اس مضمون کا جواب نہ دیا جائے اور دیکھا جائے کہ اس خاموشی کا کیا اثر پڑتا ہے لیکن چونکہ اس خاموشی کا کوئی خوشگوار اثر نہیں پڑا اور چونکہ اب تک جماعت احمدیہ کی نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے کوئی جواب اس رسالہ کا شائع نہیں ہؤا اس لئے ہم مزید انتظار نہ کرتے ہوئے اس کتاب کا جواب شائع کرتے ہیں۔
    قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے
    31 علماء (یا 33علماء) نے فیصلہ کیا
    (الف) سب سے اوّل مودودی صاحب نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو جُدا گانہ
    اقلیت قرار دینے کا مطالبہ33 سربرآوردہ علماء نے کیا۔ مودودی صاحب یہ بھول گئے ہیں کہ علماء کی جو مجلس 16جنوری 1953ء کو کراچی میں ہوئی تھی اس میں 31 علماء تھے اور کراچی کے بعض دوسرے علماء نے شور مچایا تھا کہ اَور علماء کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا جائے لیکن ان 31 علماء نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ گزشتہ اجتماع میں جو علماء شریک ہوئے تھے وہی شریک کئے جائیں زیادہ نہیں اور اس خبر کا ہیڈنگ یہ دیا گیا کہ:-
    ‘‘31 علماء کے اجتماع میں مزید علماء کو شریک نہیں کیا جائے گا’’۔1
    اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ 31 علماء کا ایک بورڈ بنا تھا 33 کا نہیں اور جب بعض دوسرے علماء نے اس بورڈ میں شمولیت کا مطالبہ کیا تو اُنہیں جواب دیا گیا کہ 31 سے زائد کوئی شخص شامل نہیں کیا جاسکتا لیکن لطیفہ یہ ہے کہ اسلامی جماعت کے ‘‘تسنیم’’ اخبار نے 17جنوری کی اشاعت میں تو یہ بات شائع کی اور اسی جماعت کے دوسرے اخبار ‘‘کوثر’’ نے 25جنوری کو یہ خبر شائع کی کہ:-
    ‘‘دستوری سفارشات پر غور کرنے کے لئے پاکستان بھر کے 33 علماء کا جو اجتماع کراچی میں 10جنوری سے ہو رہا تھا اس نے مسلسل آٹھ روز غور کے بعد دستوری سفارشات کے متعلق اپنی مفصّل رائے پیش کر دی ہے’’۔
    اور آخر میں لکھا کہ 22دسمبر 1952ء کو جب دوبارہ اس مجلس کا اجلاس بلائے جانے کا فیصلہ ہؤا تھا تو یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ انہی احباب کو دعوت دی جائے جو جنوری 1951ء کے اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ 2
    ترجمان القرآن جلد 35 عدد4,3 1951ء میں بھی جنوری 1951ء میں منعقد ہونے والے اجلاس کی تشریح شائع ہو چکی ہے اور اس میں بھی 31 علماء کے اجتماع کا ذکر ہے۔ گویا ترجمان القرآن جنوری ، فروری 1951ء 31 علماء کے اجتماع کا دعویٰ کرتا ہے اور جماعتِ اسلامی کا اخبار ‘‘تسنیم’’ بھی اپنی 17جنوری 1953ء کی اشاعت میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ 31 علماء ہی اس اجتماع میں شریک تھے اور انہی کو آئندہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ‘‘کوثر’’ (25جنوری 1953ء) بھی یہی تسلیم کرتا ہے کہ جنوری 1951ء میں جو علماء بلوائے گئے تھے انہی کو آئندہ بلوانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن باوجود اس کے ‘‘کوثر’’ یہ لکھتا ہے کہ بلوائے جانے والے علماء 33 تھے۔ قطع نظر اس کے کہ 31 یا 33 جو تعداد بھی تھی آیا سارے پاکستان میں اتنے ہی علماء ہیں اور اگر اس سے زائد تعداد علماء کی ہے تو صرف ان 31 یا 33 کو کس بنیاد پر منتخب کیا گیا تھا۔ ہم یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ جب جنوری 1951ء میں 31 علماء کا اجتماع ہؤا تھا اور جب جنوری 1953ء میں یہ فیصلہ کر دیا گیا تھا کہ ان 31 علماء سے زائد کوئی آدمی نہیں لیا جائے گا تو پھر یہ 31 کا عدد 33 کس طرح ہو گیا؟ آیا علماء اس چودھویں صدی میں بھی حساب سے اتنے ناواقف ہیں کہ وہ 31 اور 33 میں فرق نہیں سمجھ سکتے یا اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کی اکثریت تقویٰ سے اتنی عاری تھی کہ جن علماء نے اس میں شمولیت کا مطالبہ کیا تھا ان کو تو اس نے یہ جواب دے دیا کہ 31 علماء سے زائد کسی اور کو نہیں بلایا جائے گا اس لئے آپ کو نہیں بلایا جاسکتا اور بعد میں اپنی کسی ذاتی غرض کے ماتحت دو اَور علماء بیچ میں شامل کر لئے لیکن یہ بھی ہو تب بھی یہ اعتراض باقی رہ جاتا ہے کہ وہ علماء جو انتخاب کی باریکیوں پر اپنی رپورٹ میں اتنا زور دیتے ہیں اُنہوں نے علماء کے بورڈ کے انتخاب کے وقت کیوں کسی قاعدہ کو ملحوظ نہیں رکھا اور کیوں آپ ہی آپ ایک جماعت نے اپنے آپ کو لیڈر بنا کر گورنمنٹ کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔
    یہ مطالبہ اکثر تعلیم یافتہ لوگوں کی رائے اور پاکستان کے اکثر صوبوں
    کے عوام کی رائے کے خلاف تھا
    (2) دوسری بات مولانا مودودی صاحب نے یہ لکھی ہے کہ باوجوداس کے کہ یہ مطالبہ قادیانی مسئلہ کا بہترین حل ہے۔
    ‘‘تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک کثیر تعدادابھی تک اس کی صحت و معقولیت کی قائل نہیں ہو سکی ہے اور پنجاب و بہاولپور کے ماسوا دوسرے علاقوں خصوصاً بنگال میں ابھی عوام النّاس بھی پوری طرح اس کا وزن محسوس نہیں کر رہے’’۔ 3
    جب یہ بات ہے تو یہ عوام الناس کا مطالبہ کس طرح ہو گیا؟ کیا یہ ظلم اور خلافِ حقیقت بات نہیں کہ ایک طرف تو مودودی صاحب خود لکھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ گروہ کا کثیر حصّہ اس مطالبہ کی حقیقت کو نہیں سمجھتا اور سندھ، بنگال، بلوچستان، صوبہ سرحد، کراچی اور خیرپور کے عوام النّاس کا اکثر حصّہ بھی اس کی اہمیت سے واقف نہیں مگر باوجود اس کے وہ وزارت کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ:-
    ‘‘انہیں دیکھنا یہ چاہئے کہ مطالبہ معقول ہے یا نہیں اور اس کی پُشت پر رائے عام کی طاقت ہے یا نہیں اگر یہ دونوں باتیں ثابت ہیں تو پھر جمہوری نظام میں کسی منطق سے ان کو ردّ نہیں کیا جاسکتا’’۔ 4
    مولانا مودودی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اور کسی منطق سے یہ مطالبہ ردّ ہو سکے یا نہ ہو سکے خود مودودی صاحب کی منطق سے وہ ردّ ہو جاتا ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے ان کو یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ یہ مطالبہ ایسا ہے کہ:-
    ‘‘تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ابھی تک اس کی صحت و معقولیت کی قائل نہیں ہو سکی ہے اور پنجاب و بہاولپور کے ماسوا دوسرے علاقوں خصوصاً بنگال میں ابھی عوام النّاس بھی پوری طرح اس کا وزن محسوس نہیں کر رہے’’۔
    اور یہ بات خود مودودی صاحب کو تسلیم ہے اس لئے ہم اس مطالبہ کو قبول نہیں کر سکتے۔ اب بتائیے کہ حکومت کے اس جواب کا آپ کے پاس کیا منطقی ردّ ہو گا۔ کیا یہ جواب جمہوریت کے اصول کے عین مطابق ہو گا یا نہیں اور کیا یہ جواب سچّا ہو گا یا نہیں اور اگر یہ جواب جھوٹا ہے تو آپ نے یہ جھوٹ اپنی کتاب میں کیوں درج کیا؟
    قادیانیوں نے ختم نبوت کی نئی تفسیر
    کر کے سواد اعظم سے قطع تعلق کر لیا
    (3) مولانا مودودی صاحب اس کے بعد یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا
    اس پوزیشن کا لازمی نتیجہ ہے جو خود احمدیوں نے اختیار کر رکھی ہے اور وہ پوزیشن یہ ہے کہ:-
    (3-الف) ختم نبوت کی اُنہوں نے نئی تفسیر کی ہے جو مسلمانوں کی متفق علیہ تفسیر سے علیحدہ ہے اور اس مسلمانوں کی تفسیر سے صحابہ کرام بھی متفق تھے اور اسی وجہ سے اُنہوں نے ہر اس شخص کے خلاف جنگ کی جس نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ نبوت کیا اور بعد کے مسلمان بھی یہی تعریف سمجھتے آئے ہیں لیکن احمدیوں نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نبیوں کی مُہر ہیں اور آئندہ جو نبی آئے گا وہ آپ کی تصدیق سے آئے گا۔
    (3- ب) اس تفسیر کا نتیجہ یہ نِکلا کہ احمدیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد متعدد نبی آسکتے ہیں۔
    (3- ج) اور یہ کہ شریعتِ اسلامی نے نبی کی جو تعریف کی ہے ان معنوں کے رُو سے حضرت مرزا صاحب مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں اور
    (4) اس کے بعد اُنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ مرزا صاحب کو جو نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔
    (5) اور پھر اُنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کا اسلام اَور ہے اور مسلمانوں کا اسلام اَور ہے۔ ان کا خدا اَور ہے اور مسلمانوں کا خدا اَور ہے۔ ان کا قرآن اَور ہے اور مسلمانوں کا قرآن اَور ہے۔ ان کا حج اَور ہے اور مسلمانوں کا حج اَور ہے۔
    (6) اور اس اختلاف کو مزید کھینچ کر
    (6- الف) انہوں نے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز قرار دے دیا۔
    (6- ب) ان کا جنازہ پڑھنا ناجائز قرار دے دیا۔
    (6- ج) ان کو لڑکی دینا ناجائز قرار دے دیا۔
    (7) اور عملاً بھی وہ مسلمانوں سے کٹ گئے اور یہ کام اُنہوں نے ترک کر دیئے۔ پس جبکہ خود اپنے فعل کی وجہ سے وہ اقلیت بن گئے ہیں تو ان کو اقلیت قرار دے دینا چاہئے۔
    اب ہم ان اعتراضات کا نمبر وار جواب دیتے ہیں۔
    صحابۂ کرام ؓ اور ائمہ سلف نے خاتم النّبییّن کے کیا معنی سمجھے!
    (الف) مولانا مودودی صاحب نے جو یہ لکھا ہے کہ ختم نبوت کی احمدیوں نے نئی تفسیر کی ہے جو صحابہ کرام کی تفسیر اور بعد
    کے مسلمانوں کی تفسیرکے خلاف ہے یہ ایک بے دلیل دعویٰ ہی نہیں بلکہ خلافِ حقیقت دعویٰ بھی ہے۔صحابہ کرام ؓ میں سے ایک مقتدر ہستی حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا ہیں۔ آپ فرماتی ہیں:-قُوْلُوْا خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ 5 یعنی رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاتم النّبییّن تو ضرور کہو مگر یہ نہ کہا کرو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
    ان الفاظ سے صاف ثابت ہے کہ :
    (الف) حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا خاتم النّبیّین کے معنی اور سمجھتی تھیں اور لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ کے معنی اور سمجھتی تھیں۔
    (ب) وہ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ کے الفاظ کو ذوالمعانی خیال فرماتی تھیں کیونکہ باوجود اس کے کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وہ فرماتی ہیں کہ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ نہ کہا کرو۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے یہ تو اُمید نہیں کی جاسکتی کہ وہ مسلمانوں کو یہ نصیحت فرماتی ہوں کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ نہ کہا کرو۔ پس ان کا مطلب یہی ہو سکتا تھا کہ اس فقرہ کے کئی معنے ہیں ایک معنوں سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے اس فقرہ کو استعمال نہ کیا کرو۔ وہ غلط فہمی یہی ہو سکتی تھی کہ کلیۃً بغیر کسی شرط کے ہر قسم کی نبوت کا انکار بھی اس فقرہ سے نِکل سکتا تھا مگر وہ اس خیال کو درست نہیں سمجھتی تھیں اس لئے وہ اس فقرہ کے استعمال سے منع فرماتی تھیں۔ یہ ایسی ہی بات تھی جیسے رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے فرمایا کہ جاؤ اور اعلان کر دو کہ جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہا وہ داخل جنت ہو گیا۔ جب حضرت ابو ہریرہ ؓ یہ اعلان لے کر باہر نکلے تو سب سے پہلے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان سے ملے۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کی بات سُن کر زور سے تھپڑ مارا اور وہ زمین پر گِر گئے۔ زمین سے اُٹھ کر وہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف شکایت کرنے کے لئے بھاگے۔ حضرت عمر ؓ بھی ان کے پیچھے پیچھے آئے اور اُنہوں نے رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! کیا آپ نے یہ پیغام ابو ہریرہ ؓ کو دیا تھا؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا۔ یارسول اﷲ! ایسا نہ کیجئے ورنہ لوگوں کو غلط فہمی ہو گی اور وہ عمل ترک کر بیٹھیں گے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بہت اچھا۔6
    اس حدیث سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بات کو حضرت عمرؓ ردّ نہیں کرتے بلکہ یہ ڈرتے ہیں کہ اس بات کے غلط معنی لے لئے جائیں گے اور رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے اپنے شُبہ کا اظہار فرماتے ہیں اور آپ اس شُبہ کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ یہی مؤقف حضرت عائشہ ؓ اور احمدیوں کا ہے۔ وہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ان حدیثوں کو مانتے ہیں جن میں آپؐ نے فرمایا ہے کہ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ لیکن وہ ان معنوں کو نہیں مانتے جو اس ذومعانی فقرہ سے لوگ نکال لیتے ہیں اور اس غلط مفہوم کو لوگوں میں پھیلانے سے منع کرتے ہیں۔ نہ حضرت عائشہ ؓ کا منشاء تھاکہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ فقرہ غلط بیان فرمایا ہے نہ حضرت عمر ؓ کا یہ منشاء تھا کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بات غلط ہے۔ اگر وہ ایسا سمجھتے تو ان کا ایمان کہاں باقی رہتا اور پھر رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم ان کی تصدیق کیوں فرما دیتے اور انہی کے طریق کو احمدیوں نے اختیار کیا ہے۔
    دُنیا میں یہ بات عام ہے کہ بعض فقرے سیاق وسباق سے مل کر صحیح معنے دیتے ہیں۔ سیاق وسباق سے علیحدہ ہو کر صحیح معنے نہیں دیتے۔ مثلاً یہی لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کا فقرہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک اَور موقع پر حضرت علی ؓ کے متعلق استعمال فرمایا ہے۔ اس سیاق وسباق کو دیکھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس فقرہ کا وہ مفہوم نہیں ہے جو اس کو وسیع کرنے والے لیتے ہیں۔ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اَنتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّا اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ 7 یعنی اے علی مَیں تجھے اس غزوہ پر جاتے ہوئے (آپ اس وقت غزوۂ تبوک پر جا رہے تھے) اپنے پیچھے خلیفہ مقرر کر چلا ہوں اور تیری حیثیت میرے پیچھے ایسے ہی ہو گی جیسے ہارون علیہ السلام کی موسیٰ ؑ کے پیچھے تھی لیکن اے لوگو! یہ امر یاد رکھو کہ علی ؓ میرے بعد نبی نہ ہو گا یعنی ہارونؑ موسیٰؑ کی غَیبت میں نبی تھے مگر علی رضی اﷲ عنہ آپ کے عرصۂ غیبت میں نبی نہیں ہوں گے۔ (قرآن کریم میں بھی انتشارِ ضمائر کا اصول استعمال ہؤا ہے اس لئے یہ اعتراض کی بات نہیں)
    پھر پُرانے بزرگوں نے بھی لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کے وہی معنی سمجھے ہیں جو احمدی بیان کرتے ہیں۔ حضرت شیخ اکبر محی الدین صاحب ابن عربی رحمۃ اﷲ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ:-
    ‘‘وہ نبوت جو رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے وجود کے ساتھ منقطع ہوئی ہے وہ تشریعی نبوت ہے مقامِ نبوت نہیں۔ پس اب کوئی ایسی شریعت نہیں آئے گی جو آپ کی شریعت کی ناسخ ہو یا آپ کے احکام میں کوئی نیا حکم زائد کرے اور آپ کا یہ فرمان کہ رسالت اور نبوت ختم ہو گئی۔ پس اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا نہ نبی۔ اس کے بھی یہی معنی ہیں’’۔ 8
    پس مودودی صاحب احمدیوں پر فتویٰ لگانے سے پہلے حضرت عائشہ ؓ اور امام اکبر حضرت محی الدین صاحب ابن عربی پر بھی تو فتویٰ لگا دیکھیں۔
    حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کہ وہ بھی رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ان کے متعلق بھی ابن ابی شیبہ نے روایت کی ہے (جسے درمنثور نے نقل کیا ہے) کہ کسی شخص نے ان کے سامنے کہا کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں جن کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس پر مغیرہ نے کہا تیرے لئے یہ کافی ہے کہ تو یہ کہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں (یعنی لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ کہنے کی ضرورت نہیں) کیونکہ ہم رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ ذکر کیا کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوں گے۔ اگر وہ ظاہر ہوئے تو رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے بھی نبی تھے اور آپ ؐ کے بعد بھی نبی ہوں گے۔9
    یہ روایت بتاتی ہے کہ خاتم النّبییّن کے جو معنی ہم کرتے ہیں وہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے نزدیک بھی اور حضرت مغیرہ ؓ بن شعبہ کے نزدیک بھی درست تھے اور وہ اس بات کے قائل تھے کہ بغیر شرط اور قید کے ہر قسم کی نبوت کے انقطاع کا عقیدہ رکھنا اسلام کی رو سے جائز نہیں۔ باقی رہا یہ کہ پھر کس قسم کا نبی آسکتا ہے۔ تو پُرانے بزرگوں نے یہ کہا ہے کہ ایسا نبی آسکتا ہے جو کوئی نئی شریعت نہ لائے اور کوئی نیا حُکم نہ لائے مگر بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ نہ صرف یہ دو شرطیں ضروری ہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا اُمّتی ہو اور تمام فیض اس نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے حاصل کیا ہو اور اسے رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کے لئے اور قرآن کریم اور شریعتِ اسلامیہ کے احیاء کے لئے مقرر کیا گیا ہو۔ گویا آپ نے اس دروازہ کو کھولا نہیں بلکہ پہلے بزرگوں کی نسبت اور زیادہ تنگ کر دیا ہے۔ اب ایسا آدمی اُمّت محمدیّہ کو توڑنے والا کس طرح کہلا سکتا ہے۔ وہ تو جوڑنے والا ہے۔ مکان کی مرمت کرنے والا اُسے توڑتا نہیں جوڑتا ہے۔
    مسیلمہ کذّاب اور اسود عنسی وغیرہ سے ان کی بغاوت کی وجہ سے جنگ کی گئی تھی
    ہمارے اس بیان سے ظاہر ہے کہ جس قسم کے نبی کے آنے کو احمدی جائز سمجھتے
    ہیں اس کے خلاف صحابہ جنگ نہیں کرتے تھے بلکہ ایسے عقیدہ کی تائید کرتے تھے۔ پس مولانا مودودی صاحب کا یہ لکھنا کہ صحابہ ؓ نے ہر اُس شخص کے خلاف جنگ کی جس نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا صحابہ ؓ کے اقوال کے خلاف ہے۔
    مولانا مودودی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد جن لوگوں نے دعویٰ نبوت کیا اور جن سے صحابہ ؓ نے جنگ کی وہ سب کے سب ایسے تھے جنہوں نے اسلامی حکومت سے بغاوت کی تھی اور اسلامی حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا۔ مولانا کو اسلامی لٹریچر کے مطالعہ کا بہت دعویٰ ہے۔ کاش وہ اس امر کے متعلق رائے ظاہر کرنے سے پہلے اسلامی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیتے تو اُنہیں معلوم ہو جاتا کہ مسیلمہ کذّاب ، اسود عنسی، سجاح بنت حارث اور طلیحہ بن خویلد اسدی یہ سب کے سب ایسے لوگ تھے جنہوں نے مدینہ کی حکومت کی اتباع سے انکار کر دیا تھا اور اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومتوں کا اعلان کر دیا تھا۔ مولانا اگر تاریخ ابن خلدون جلد 2 صفحہ 65 کو کھول کر پڑھنے کی تکلیف گوارا فرمائیں تو انہیں وہاں یہ عبارت نظر آئے گی کہ:-
    ‘‘تمام عرب خواہ وہ عام ہوں یا خاص ہوں ان کے ارتداد کی خبریں مدینہ میں پہنچیں صرف قریش اور ثقیف دو قبیلے تھے جو ارتداد سے بچے اور مسیلمہ کا معاملہ بہت قوت پکڑ گیا اور طَے اور اسد قوم نے طلیحہ بن خویلد کی اطاعت قبول کر لی اور غلفان نے بھی ارتداد قبول کر لیا اور ہوازن نے بھی زکوٰۃ روک لی اور بنی سلیم کے امراء بھی مرتد ہو گئے اور رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امراء یمن اور یمامہ اور بنی اسد اور (دوسرے ہر علاقہ اور) شہر سے واپس لوٹے اور اُنہوں نے کہا کہ عرب کے بڑوں نے بھی اور چھوٹوں نے بھی سب کے سب نے اطاعت سے انکار کر دیا ہے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے انتظار کیا کہ اسامہ واپس آئے تو پھر اُن کے ساتھ جنگ کی جائے لیکن عیس اور ذبیان کے قبیلوں نے جلدی کی اور مدینہ کے پاس ابرق مقام پر آکر ڈیرے ڈال دیئے اور کچھ اور لوگوں نے ذوالقصّہ میں آکر ڈیرے ڈال دیئے ان کے ساتھ بنی اسد کے معاہد بھی تھے اور بنی کنانہ میں سے بھی کچھ لوگ ان سے مِل گئے تھے ان سب نے ابو بکرؓ کی طرف وفد بھیجا اور مطالبہ کیا کہ نماز تک تو ہم آپ کی بات ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے ہم تیار نہیں لیکن حضرت ابو بکر ؓ نے ان کی اس بات کو ردّ کر دیا’’۔ 10
    اِس حوالہ سے ظاہر ہے کہ صحابہ ؓ نے جن لوگوں سے لڑائی کی تھی وہ حکومت کے باغی تھے۔ اُنہوں نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا تھا اور اُنہوں نے مدینہ پر حملہ کر دیا تھا۔ مسیلمہ نے تو خود رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ ؐ کو لکھا تھا کہ:-
    ‘‘مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آدھا مُلک عرب کا ہمارے لئے ہے اور آدھا مُلک قریش کے لئے ہے’’۔11
    اور رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس نے حجر اور یمامہ میں سے ان کے مقرر کردہ والی ثمامہ بن آثال کو نکال دیا اور خود اس علاقہ کا والی بن گیا۔ 12 اور اس نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ اسی طرح مدینہ کے دو صحابہ حبیب بن زید اور عبداﷲ بن وہب کو اس نے قید کر لیا اور ان سے زور کے ساتھ اپنی نبوت منوانی چاہی۔ عبداﷲ بن وہب نے تو ڈر کر اس کی بات مان لی مگر حبیب بن زید ؓ نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر مسیلمہ نے اس کا عضو عضو کاٹ کر آگ میں جلا دیا۔13
    اسی طرح یمن میں بھی جو رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے افسر مقرر تھے ان میں سے بعض کو قید کر لیا اور بعض کو سخت سزائیں دی گئیں۔ اسی طرح طبری نے لکھا ہے کہ اسود عنسی نے بھی علم بغاوت بُلند کیا تھا اور رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے جو حکام مقرر تھے ان کو اس نے تنگ کیا تھا اور ان سے زکوٰۃ چھین لینے کا حکم دیا تھا۔ 14
    پھر اس نے صنعاء میں رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقرر کردہ حاکمِ شہر بن باذان پر حملہ کر دیا۔ بہت سے مسلمانوں کو قتل کیا، لوٹ مار کی، گورنر کو قتل کر دیا اور اس کو قتل کر دینے کے بعد اس کی مسلمان بیوی سے جبراً نکاح کر لیا۔ 15
    بنو نجران نے بھی بغاوت کی اور وہ بھی اسود عنسی کے ساتھ مل گئے اور اُنہوں نے دو صحابہ عمرو بن حزم اور خالد بن سعید کو علاقہ سے نکال دیا۔16
    ان واقعات سے ظاہر ہے کہ مدعیان نبوت کا مقابلہ اس وجہ سے نہیں کیا گیا تھا کہ وہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمّت میں سے نبی ہونے کے دعویدار تھے اور رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کے مُدعی تھے بلکہ صحابہ نے ان سے اس لئے جنگ کی تھی کہ وہ شریعت اسلامیہ کو منسوخ کر کے اپنے قانون جاری کرتے تھے اور اپنے اپنے علاقہ کی حکومت کے دعویدار تھے اور صرف علاقہ کی حکومت کے دعویدار ہی نہیں تھے بلکہ اُنہوں نے صحابہ کو قتل کیا۔ اسلامی مُلکوں پر چڑھائیاں کیں، قائم شُدہ حکومت کے خلاف بغاوت کی اور اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ ان واقعات کے ہوتے ہوئے مولانا مودودی صاحب کا یہ کہنا کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے تمام صحابہ نے مُدعیانِ نبوت کا مقابلہ کیا۔ یہ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ صحابہ کرام انسانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے تھے تو کیا یہ محض اس وجہ سے ٹھیک ہو جائے گا کہ مسیلمہ کذّاب بھی انسان تھا اور اسود عنسی بھی انسان تھا۔ ہم مولانا مودودی اور جماعتِ اسلامی سے بادب درخواست کرتے ہیں کہ اگر ان کے مدِنظر اسلام کی خدمت ہے تو وہ سچ کو سب سے بڑا مقام دیں اور غلط بیانی اور واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے کُلّی طور پر احتراز کیا کریں۔ اﷲ تعالیٰ ان کو اس بات کی توفیق دے تاکہ وہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے سچّے متبعین میں شامل ہونے کا موقع پا سکیں۔
    اکابرین اُمّت کی شہادت کہ ‘‘خاتم’’ کے معنی مُہر کے ہیں
    باقی رہا یہ کہ احمدیوں نے خاتم النّبییّن میں ‘‘خَاتَم’’ کے معنی مُہر کے کر دیئے ہیں حالانکہ پہلے لوگ یہ معنے کرتے تھے۔ یہ
    ایک اتنی بڑی جہالت کا فقرہ ہے کہ مولانا مودودی جیسے آدمی سے اس کی اُمید نہیں تھی۔ علامہ الوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ لفظ ‘‘خَاتَم’’ (جو خاتم النّبییّن میں استعمال ہؤا ہے) اس چیز کو کہتے ہیں جس سے مُہر لگائی جاتی ہے ۔پس خاتم النبیین کے معنے ہیں جس سے نبیوں پر مُہر لگائی گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ آخری نبی تھے۔ 17
    علامہ الوسی کی تفسیر مسلمانوں کی مشہور ترین تفسیروں میں سے ہے اور وہ مفسرین اور علماء میں بڑے پایہ کے آدمی سمجھے جاتے ہیں ایسا شخص اپنی کتاب میں صدیوں پہلے لکھ چُکا ہے کہ خَاتَم النّبییّن میں ‘‘خاتم’’ کے معنے مُہر کے ہیں۔
    اِسی طرح تفسیر فتح البیان جو درحقیقت علامہ شوکانی کی تفسیر فتح القدیر ہے لیکن نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنے نام سے شائع کروائی ہے اس میں لکھا ہے کہ ‘‘خاتم’’ میں ت کے نیچے زیر بھی بعض قراء توں میں آئی ہے اور بعض قراء توں میں زبر بھی آئی ہے۔ زیر کی صورت میں اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ نبیوں کے آخر میں آئے ہیں اور زبر کی صورت میں اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ نبیوں کی مُہر بن گئے جس سے وہ مُہریں لگاتے تھے اور فخر کرتے تھے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بھی ہم میں سے ہیں۔
    مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی پرنسپل جامعہ دیوبند فرماتے ہیں:-
    ‘‘محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اﷲ کا اور مُہر سب نبیوں کی اور ہے اﷲ سب چیزوں کو جاننے والا’’۔ 18
    مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی ٔ مدرسہ دیوبند فرماتے ہیں کہ:-
    ‘‘جیسے خَاتَم بفتحِ التّاء کا اثر اور نقش مختوم علیہ میں ہوتا ہے ایسے ہی موصوف بالذّات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوتا ہے۔ حاصل مطلب آیت کریمہ اس صورت میں یہ ہو گا کہ ابوّت معروفہ تو رسول اﷲ صلعم کو کسی مَرد کی نسبت حاصل نہیں۔ یہ ابوّت معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے’’۔ 19
    اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ مولانا محمد قاسم صاحب کے نزدیک خَاتَم کا لفظ بمعنی مُہر استعمال ہؤا ہے۔
    علامہ ابن خلدون بھی فرماتے ہیں کہ صوفیاء ولایت کو اپنے مراتب کے فرق کے لحاظ سے نبوت سے مشابہت دیتے ہیں اور جس کو ولایت میں کمال حاصل ہو اُسے ‘‘خَاتَمُ الولایۃ’’ کہتے ہیں۔ یعنی وہ اس مقام کو پاگیا جس میں ولایت کے سارے کمالات آجاتے ہیں جس طرح خَاتَمُ الانْبِیاء اس مقام کو پاگئے تھے جس میں نبوت کے تمام کمالات آجاتے ہیں’’۔20
    ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ خَاتَم النّبییّن بمعنے نبیوں کی مُہر احمدیوں کے کئے ہوئے معنے نہیں بلکہ شروع زمانہ سے علماء اسلام یہ معنے کرتے آئے ہیں اور اگر یہ معنے کُفر ہیں۔ اگر ان معنوں کے رُو سے انسان اُمّتِ محمدیہ سے نِکل جاتا ہے اگر وہ اسلامی حکومت کے شہری حقوق سے محروم ہو جاتا ہے تو پھر علامہ الوسی، علامہ شوکانی، مولانا محمدقاسم صاحب نانوتوی، مولانا محمود الحسن صاحب استاذ علماء دیوبند ان سب کو اُمّتِ محمدیہ سے نِکلا ہؤا اور حکومت اسلامی کے شہری حقوق سے محروم قرار دیا جائے گا۔
    اُمّتِ محمدیہ کے روحانی علماء کا بُلند ترین مقام
    (3-ب)پھرمولانامودودی صاحب فرماتے ہیں کہ
    اس تفسیر کا نتیجہ یہ نِکلا کہ احمدیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد متعدد نبی آسکتے ہیں۔
    مولانا مودودی صاحب اور ان کے اَتباع کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بات ہم ہی نہیں کہتے۔ یہ بات بہت سے گزشتہ صلحاء بھی کہہ چکے ہیں بلکہ خود رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم بھی فرما چکے ہیں۔ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اَلْعُلَمَاءُ مَصَابِیْحُ الْاَرْضِ وَ خُلَفَاءُ الْاَنْبِیَاءِ وَ وَرَثَتِیْ وَوَرَثَۃُ الْاَنْبِیَاءِ۔21 یعنی علماء زمین کے چراغ ہیں نبیوں کے خلفاء ہیں، میرے وارث ہیں اور سب انبیاء کے وارث ہیں ۔
    اِسی طرح رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف بعض صوفیاء نے یہ حدیث منسوب کی ہے کہ ‘‘عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ’’ 22 یعنی میری اُمّت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔
    ایک دوسری جگہ مجدّد الف ثانی صاحب یوں فرماتے ہیں کہ:-
    ‘‘کمل تابعان انبیاء علیہم الصَّلَوَات وَالتسلیمات بجہت کمال متابعت و فرطِ محبت بلکہ بمحض عنایت و موہبت جمیع کمالات انبیاء متبوعہ خود را جذب مے نمائندو بکلیت برنگ ایشاں منصبغ مے گردند حتی کہ فرق نمے ما ند درمیان متبوعان و تابعان الابالاصالۃ و التبعیۃ والاولیۃ والآخریۃ’’۔23
    یعنی انبیاء کے جو کامل متبعین ہوتے ہیں وہ ان کی انتہائی متابعت اور محبت کی وجہ سے بلکہ محض اﷲ تعالیٰ کی عنایت اور موہبت سے انبیاء کے تمام کمالات اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں اور انہیں کے رنگ میں کامل طور پر رنگین ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ تابع اور متبوع میں سوائے اصالت اور متابعت اور اوّل اور آخر ہونے کے اور کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔
    ختم نبوت کی تشریح بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے الفاظ میں
    ان علماء اور صلحاء نے جو
    مفہوم ختم نبوت کا بیان کیا ہے بالکل وہی مفہوم بلکہ اس سے زیادہ پابندیوں کے ساتھ بانی ٔ سلسلہ احمدیّہ نے ختمِ نبوت کی تشریح کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔چنانچہ ہم آپ کے چند حوالہ جات ذیل میں درج کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:-
    ‘‘وہ خاتم الانبیاء ہے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحبِ خاتم ہے بجز اس کی مُہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی اُمّت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہو گا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحبِ خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مُہر سے ایسی نبوت بھی مِل سکتی ہے جس کے لئے اُمتی ہونا لازمی ہے’’۔24
    ‘‘خاتم النّبییّن کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مُہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النّبیّین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اس خاتم النّبیّین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفئ غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مُہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمدؐ ہے گو ظلّی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ ٔ نبوت کے جس کا نام ظلّی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا پھر بھی سیّدنا محمد خاتم النّبییّن ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے’’۔ 25
    ‘‘عقیدہ کی رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک ہے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے۔ اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس کو بروزی طور پر محمدیّت کی چادر پہنائی گئی کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جُدا نہیں اور نہ شاخ اپنے بیج سے جُدا ہے’’۔ 26
    ‘‘اگر مَیں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دُنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں یہ شرف مکالمہ و مخاطبہ ہر گز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے اُمّتی ہو’’۔ 27
    ‘‘خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اسی جگہ یہ اشارہ بھی فرما دیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رُو سے ان صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الٰہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے ..... اب کمالِ نبوت صرف اسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبی کی مُہر رکھتا ہو گا اور اس طرح پر وہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا بیٹا اور آپ کا وارث ہو گا’’۔28
    ‘‘اﷲ جلّ شأنہٗ نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو صاحبِ خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضۂ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النّبییّن ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالاتِ نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوتِ قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔ یہی معنے اس حدیث کے ہیں کہ علماء امّتی کانبیاء بنی اسرائیل۔ یعنی میری اُمّت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیری کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرّہ کچھ دخل نہ تھا۔ اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہؤا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمّتی بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصبِ نبوت مِلا’’۔ 29
    مذکورہ بالا تشریح حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے ختم نبوت کی کی ہے اور ہر دیانتدار آدمی کو ماننا ہو گا کہ اس تشریح میں آپ کُلّی طور پر صحابہ اور اولیاء و فقہاء اُمّت سے متفق ہیں اور آپ پر حملہ کرنا صحابہ اور اولیاء اُمّت پر حملہ کرنا ہے لیکن ہم اپنا آخری نوٹ اس بارہ میں لکھنے سے پہلے یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ اجمالاً بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ختم نبوت کے بارہ میں تمام مسلمانوں کے مطابق تھا۔ آپ لکھتے ہیں :-
    ‘‘دوسرے الزامات جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں کہ یہ شخص لیلۃ القدر کا مُنکر ہے اور معجزات کا انکاری اور معراج کا مُنکر اور نیز نبوت کا مُدعی اور ختم نبوت سے انکاری ہے یہ سارے الزامات باطل اور دروغ محض ہیں۔ ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہلِ سُنت و جماعت کا مذہب ہے ..... اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا میں کرتا ہوں کہ مَیں جناب خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور ایسا ہی ملائکہ اور معجزات اور لیلۃ القدر وغیرہ کا قائل ہوں’’۔ 30
    اُمّتِ محمدیہ میں ہزاروں انسان کمالاتِ نبوت حاصل کرنے والے آسکتے ہیں
    بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ اوراولیاءِ سابق کا عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں
    بیان کرنے کے بعداور یہ بتانے کے بعد کہ خود رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اُمّتِ محمدیہ کے باصفا علماء کو بنی اسرائیل کے انبیاء کا وارث اور اپنا وارث قرار دیا ہے ہم مودودی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ اصل سوال حقیقت کا ہوتا ہے یا ناموں کا؟ جب رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی اُمّت کے باصفا علماء کو بنی اسرائیل کے انبیاء کا جانشین قرار دیتے ہیں۔ جب ایسے علماء اسلام میں ہوتے رہے ہیں جو اس منصب کے دعویدار رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جو نبیوں کے قائمقام ہوں گے۔ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے وارث ہوں گے اور بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے تو اور کیا چیز باقی رہ گئی۔ یہ سچ ہے کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اس حدیث میں مولانا مودودی اور ان کی طرح کے علماء مراد نہیں جن کی نظریں ہمیشہ زمین اور حکومت کی طرف رہتی ہیں آسمان اور عرش کی طرف کبھی نہیں اُٹھتیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے یہی فضل نازل ہو سکتا ہے کہ انہیں کسی مُلک کی گورنری یا بادشاہت مِل جائے مگر وہ علماء جو خلفاءِ انبیاء ہوتے ہیں اور وارثِ انبیاء ہوتے ہیں وہ ان چیزوں کو بالکل حقیر سمجھتے ہیں ان کی نظر دُنیا کی اصلاح اور اپنے نفس کی اصلاح اور اسلام کی اشاعت پر ہوتی ہے وہ زمین کی بادشاہتوں کو نہیں دیکھتے وہ آسمان کی بادشاہتوں کو دیکھتے ہیں۔کراچی کا گورنر جنرل ہاؤس ان کی نظروں میں نہیں ہوتا۔ نہ قاہرہ کا شاہی قلعہ ان کے ذہنوں میں ہوتا ہے۔ وہ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی، حضرت شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی، حضرت جنید بغدادی، حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی، شیخ شہاب الدین صاحب سہروردی، شیخ بہاؤالدین صاحب نقشبندی، حضرت امام احمد بن حنبل، حضرت امام مالک، حضرت امام ابو حنیفہ، حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی، حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجدد الف ثانی کی طرح خدا اور اس کے عرش کی طرف دیکھتے ہیں اور اس اُمید میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ کا ہاتھ انہیں اُٹھائے اور اپنے تخت پر دائیں اور بائیں انہیں بٹھادے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زبانوں سے جھوٹ نہیں نکلتا اور جو دُنیوی لالچوں سے بالکل آزاد ہوتے ہیں جو تنگ نظری سے محفوظ ہوتے ہیں جو خدا کی مخلوق کو کچلنے اور مسلنے کی نیتیں نہیں کرتے بلکہ ان کو سنوارنے اور سدھارنے کے ارادے رکھتے ہیں وہ اسلام کو ایسی بھیانک شکل میں پیش نہیں کرتے کہ دُنیا اس کو دیکھ کر مُنہ پھیر لے بلکہ وہ اسلام کو ایسی خوش شکل میں پیش کرتے ہیں کہ شدید سے شدید مخالف بھی رغبت اور محبت سے اس کی طرف مائل ہو اور ایک مسلمان سچّے طور پر یہ کہہ سکے کہ میرا دین وہ ہے کہ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ 31 اسلام کے احکام کو دیکھ کر اور اس کے حُسنِ سلوک اور اس کی تعلیم کے جمال کو دیکھ کر کافر بھی بے اختیار کہہ اُٹھتا ہے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتا اور اسلامی تعلیم اس کو حاصل ہوتی تاکہ وہ بھی اپنے ہم مجلسوں میں فخر کے ساتھ اپنی گردن اُٹھا سکتا اور کسی دُشمن کے سامنے اسے شرمندہ نہ ہونا پڑتا۔
    کیا مودودی صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر حضرت ابو بکر ؓ ، حضرت عمر ؓ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ نے جو کچھ حاصل کیا تھا وہ بنی اسرائیل کے چھوٹے چھوٹے نبیوں سے بھی کم تھا جو بعض دفعہ دس دس گاؤں یا بیس بیس گاؤں کی طرف مبعوث ہوتے تھے۔ کیا ابوبکر ؓ، عمر ؓ، عثمان ؓ اور علی ؓ کے اخلاق فاضلہ، معرفتِ تامہ یقین ما بعد، توکّل علی اﷲ اور خدا کی راہ میں قُربانی اور ایثار کے مقابلہ میں بنی اسرائیل کے ان سینکڑوں نبیوں کے بھی جن کے نام تک آج محفوظ نہیں ہیں ویسے ہی کارنامے پیش کئے جاسکتے ہیں؟ اُمّتِ محمدیہ میں جس قسم کے روشن ستارے پیدا ہوئے ہیں اور جس قسم کے شاندار وجود پیدا ہوئے ہیں ہم تو دیکھتے ہیں کہ موسوی اُمّت اور دوسری بہت سی اُمتوں میں وہ لوگ جو کہ انبیاء کے نام سے پُکارے جاتے ہیں ان سے ان کی شان کم نہیں تھی بلکہ بعض لحاظ سے بڑی تھی۔ مولانا مودودی صاحب کو احمدیوں کا غم کھائے جارہا ہے لیکن اسلام کا غم ان کے پاس تک نہیں پھٹکتا۔ اپنی عظمت کے حصول کی تمنّا انہیں جلائے جارہی ہے لیکن عظمائے اسلام کی عظمت کے قیام کا خیال تک ان کے پاس نہیں پھٹکتا۔ ان کے نزدیک وہ سب کے سب نہایت گھٹیا قسم کے لوگ تھے اور نبوت کے کمالات سے محروم تھے جبکہ نہایت چھوٹے چھوٹے آدمی بنی اسرائیل کے اس مقام کو پا گئے۔ جب احمدی یہ کہتے ہیں کہ ہزاروں آدمی اس اُمّت میں کمالاتِ نبوت حاصل کرنے والے آسکتے ہیں تو وہ اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْل۔ باقی رہا یہ کہ خدا کی حکمت بعض مصلحتوں کی بناء پر اور بعض فتنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی وقت کسی کو نبی کا نام نہیں دیتی تو یہ کوئی بات نہیں۔ اصل بات تو حقیقت کا پایا جانا ہے۔ جب حقیقت کسی میں پائی جاتی ہے تو خواہ ہم اس کا نام وہ نہ رکھیں یہ تو ہم ضرور کہیں گے کہ اس مقام کے لوگ اُمّتِ محمدیہ میں پیدا ہوتے رہے ہیں اور پیدا ہوتے چلے جائیں گے کوئی حسدسے جل جائے کوئی بُغض سے مَر جائے ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا مقام سب نبیوں سے بالا ہے۔ آپ ؐ کی شان سب نبیوں سے ارفع ہے۔ آپ ؐ کے شاگرد پہلے نبیوں کے شاگردوں سے ارفع ہیں۔ جو جلتا ہے جلے۔ اس صداقت کے اعلان سے ہم باز نہیں رہ سکتے۔
    تعریفِ نبوت اور بانی ٔ سلسلہ احمدیہ
    (3-ج) اس کے بعد مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے
    موجودہ خلیفہ نے لکھا ہے کہ شریعتِ اسلامی جو معنے کرتی ہے ان معنوں کے لحاظ سے حضرت مرزا صاحب ہر گز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ یہ سخت غضب ہو گیا ہے۔ نہ معلوم مولانا کو اس پر کیوں غصّہ آیا۔ جماعت احمدیہ کے موجودہ خلیفہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ آجکل کے مسلمان جو تعریف نبی کی سمجھتے ہیں اس کے لحاظ سے حضرت مرزا صاحب ہرگز نبی نہیں اُن کو اسلام کی تعریف سے کیا غرض ہے اُن کی اپنی تعریف کی رُو سے حضرت مرزا صاحب نبی نہیں ہیں اور اس میں احمدی بھی ان سے متفق ہیں اور اسلام کی بیان کردہ اقسامِ نبوت میں سے ایک قسم جس کے کھلا رہنے کا ثبوت قرآن و حدیث سے ملتا ہے اگر اس کے کھلا رہنے کا احمدی دعویٰ کریں تو ان پر کیا اعتراض ہے؟ کیا اسلام یہ نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ بعض لوگوں کو نبی کے نام سے پُکار لیتا ہے۔ (رسولِ کریم صلی اﷲعلیہ وسلم کا قول ہے کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔32 اور کیا اسلام یہ نہیں کہتا کہ اولیاءِ اُمّت پر خدا تعالیٰ کا الہام ہمیشہ اُترتا رہے گا۔ (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔33) اور کیا حدیث یہ نہیں کہتی کہ کوئی شخص اپنے نفس کو اس بات سے محروم نہ سمجھے کہ کسی دن اﷲ تعالیٰ کے حُکم کو وہ اپنے نفس میں محسوس کرے لیکن اس کے بعد وہ اس حُکم کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے۔ اﷲ تعالیٰ اس سے ایک دن پوچھے گا کہ کیوں تو نے میری بات لوگوں کو نہیں بتائی؟ اس پر وہ شخص کہے گا کہ اے خدا! مَیں لوگوں سے ڈرتا تھا کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ اس پر اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ مَیں زیادہ حقدار تھا کہ تُو مجھ سے ڈرتا۔ 34
    اسی طرح کیا اولیاءِ اسلام میں سے مولانا روم یہ نہیں فرماتے کہ
    چوں بدادی دستِ خود در دست پیر
    بہر حکمت کو علیم است و خبیر
    کو نبیٔ وقت خویش است اے مرید
    زانکہ او نورِ نبی آمد پدید! 35
    یعنی جب تو اپنا ہاتھ اپنے پِیر کے ہاتھ میں دیتاہے اس غرض سے کہ وہ دین اسلام کو خوب جاننے والا اور واقف ہے اور اس لئے کہ اے مرید! وہ اپنے وقت کا نبی ہے۔اس لئے نبی ہے کہ نبی کا نور اس کے ذریعہ سے ظاہر ہو گیا۔
    (مولانا روم وہ ہیں جن کی شاگردی اور نقل کا دعویٰ ڈاکٹر اقبال کو ہے اور اقبال وہ ہیں جن کو آجکل کے علماء کا طبقہ قائداعظم سے بڑھانے کی کوشش میں لگا ہؤا ہے۔ مولانا مودودی صاحب فرمائیں کہ یہ مولانا روم بھی اسلام سے خارج اور کُشتنی اور گردن زنی تھے یا ان کا یہ دعویٰ صحیح تھا؟)
    مسئلہ کفر و اسلام کی حقیقت
    (4) آگے چل کر مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ نبوت کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ احمدیوں
    نے یہ اعلان کر دیا کہ جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔مولانا مودودی صاحب اور ان کے اتباع کو یاد رکھنا چاہئے کہ مرزا صاحب تو خدا کی طرف سے مامور تھے۔ حدیثوں میں تو یہ بھی آتا ہے کہ مَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ کَفَرَ جِھَارًا۔ 36 یعنی جو شخص جانتے بوجھتے ہوئے نماز کو چھوڑتا ہے وہ اپنے کُفر کا خود اعلان کر دیتا ہے۔
    اب مولانا مودودی صاحب فرمائیں کہ کتنے مسلمان آجکل نماز پڑھتے ہیں؟ ہم اوپر بتا آئے ہیں کہ مولانا مودودی صاحب پوری طرح صحیح واقعہ بیان کرنے کے عادی نہیں ہیں لیکن یہ اتنی کھلی بات ہے کہ ہم اس میں مولانا مودودی صاحب کی گواہی ہی ماننے کے لئے تیار ہیں۔ وہ بتا دیں کہ سَو میں سے ایک نماز پڑھتا ہے یا ہزارمیں سے ایک نماز پڑھتا ہے یا کتنے پڑھتے ہیں اور آیا وہ جان بوجھ کر نماز کے تارک ہیں یا نماز کے وقت کوئی شخص انہیں پکڑ لیتا ہے۔
    مولانا مودودی صاحب اس گواہی کے دینے سے پہلے مہربانی فرما کر اپنا یہ بیان ضرور پڑھ لیں:-
    ‘‘مَیں پہلے بیان کر چُکا ہوں کہ مسلمان اور کافر میں علم اور عمل کے سوا کوئی فرق نہیں ہے اگر کسی شخص کا علم اور عمل ویسا ہی ہے جیسا کافر کا ہے اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو وہ بالکل جھوٹ کہتا ہے۔ کافر قرآن کو نہیں پڑھتا اور نہیں جانتا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ یہی حال اگر مسلمان کا بھی ہو تو وہ مسلمان کیوں کہلائے۔ کافر نہیں جانتا کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی کیا تعلیم ہے اور آپ نے خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ کیا بتایا ہے۔ اگر مسلمان بھی اسی طرح ناواقف ہو تو وہ مسلمان کیسے ہؤا۔ کافر خدا کی مرضی پر چلنے کی بجائے اپنی مرضی پر چلتا ہے۔ مسلمان بھی اگر اسی طرح خود سراور آزاد ہو، اسی کی طرح اپنے ذاتی خیالات اور اپنی رائے پر چلنے والا ہو، اسی کی طرح خدا سے بے پرواہ اور اپنی خواہش کا بندہ ہو تو اسے اپنے آپ کو مسلمان (خدا کا فرمانبردار) کہنے کا کیا حق ہے۔کافر حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتا اور جس کام میں اپنے نزدیک فائدہ بالذّات دیکھتا ہے اس کو اختیار کر لیتا ہے چاہے خدا کے نزدیک وہ حلال ہو یا حرام۔ یہی روّیہ اگر مسلمان کا ہو تو اس میں اور کافر میں کیا فرق ہؤا؟ غرض یہ کہ جب مسلمان بھی اسلام کے علم سے اتنا ہی کورا ہے جتنا کافر ہوتا ہے اور جب مسلمان بھی وہی سب کچھ کرے جو کافر کرتا ہے تو اس کو کافر کے مقابلہ میں کیوں فضیلت حاصل ہو اور اس کا حشر بھی کافر جیسا کیوں نہ ہو’’۔ 37
    اب مولانا صاحب فرمائیں کہ وہ کون سے مسلمان ہیں جن کو احمدیوں نے کافر قرار دیا ہے۔ وہ اوپر کے حوالہ میں اشارتاً فیصلہ کر چکے ہیں کہ سوائے ان کی جماعت کے اور کوئی مسلمان ہی نہیں اور جب یہ بات ہے تو پھر ان کا غصہ صرف اسی بات پر ہے نہ کہ ان کے اتباع کو کیوں کافر قرار دے دیا گیا۔ باقی مسلمانوں کو تو وہ خود بھی کافر کہہ چکے ہیں۔
    لیکن ہم یہاں یہ کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ احمدیوں کے نزدیک کافر کی بھی تعریف اور ہے جس طرح نبی کی تعریف اور ہے۔ کفر کے جو معنے آجکل کے علماء کرتے ہیں احمدیوں کے نزدیک مسلمان تو خیر مسلمان ہیں ہی، یہودی اور عیسائی اور ہندو بھی اس تعریف کی رو سے کافر نہیں کہلا سکتے کیونکہ کفر کی وہ تعریف نہایت ظالمانہ ہے۔
    احمدی تمام مسلمان کہلانے والوں کو اُمّتِ محمدیہ میں ہی سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہے ہیں
    پھر مولانا مودودی صاحب کو یہ بھی یاد رہے کہ احمدی
    تمام مسلمان کہلانے والے لوگوں کو اُمّتِ محمدیہ میں سمجھتے ہیں اور اگر انہوں نے کسی جگہ پر کافر کا لفظ استعمال بھی کیا ہے تو اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ وہ مرزا صاحب کی صداقت کے مُنکر ہیں یہ معنے نہیں کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمّت میں نہیں یا اصولِ اسلام کو نہیں مانتے۔ کافر کے معنے عربی زبان میں مُنکر کے ہیں۔ جب کوئی شخص مرزا صاحب کو نہیں مانتا تو عربی زبان اس کے لئے کافر کا لفظ ہی استعمال کیا جائے گا لیکن اگر کوئی یہ لفظ بولے تو اس کے معنے کھینچ تان کر یہ کر لیں کہ وہ اسے خدا اور رسول کا مُنکر کہتا ہے یہ سخت ظلم کی بات ہے۔ کبھی احمدیوں نے مسلمانوں کو اُمّتِ محمدیہ سے خارج نہیں سمجھا۔ کبھی احمدیوں نے مسلمان کہلانے والوں کو کلمہ کا مُنکر قرار نہیں دیا، کبھی احمدیوں نے مسلمانوں کو خدا اور قرآن اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حشر و نشر اور تقدیر کا مُنکر قرار نہیں دیا۔ جب بھی کہا یہی کہا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے ایک بڑی بھاری صداقت کا انکار کیا ہے۔ یعنی حضرت مرزا صاحب کو جو خدمتِ دین اور اشاعت کے لئے آئے تھے نہیں مانا اور اس طرح اسلام کی ترقی میں روک بنے۔
    مرزا صاحب کے الہامات میں یہ صاف طور پر واضح ہے کہ تمام مسلمان کہلانے والے اُمّتِ محمدیہ میں شامل ہیں۔ آپ کا ایک الہام ہے رَبِّ اَصْلِحْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ۔ 38 یعنی اے میرے خدا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمّت کی اصلاح فرما۔ اسی طرح آپ کا الہام ہے کہ ‘‘سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلٰی دِیْنٍ وَاحِدٍ’’۔ 39
    مودودی صاحب اس بات کو بھی تو نہ بھولیں کہ مرزا صاحب نے کسی شخص کو کافر کہنے میں ابتدا نہیں کی۔ آپ صاف فرماتے ہیں:-
    ‘‘اس جھوٹ کو تو دیکھو کہ ہمارے ذمّہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے بیس کروڑ مسلمان کلمہ گو کو کافر ٹھہرایا۔ حالانکہ ہماری طرف سے تکفیر میں کوئی سبقت نہیں ہوئی۔ خود ہی ان کے علماء نے ہم پر کُفر کے فتوے لکھے اور تمام پنجاب اور ہندوستان میں شور ڈالا کہ یہ لوگ کافر ہیں اور نادان لوگ ان کے فتوؤں سے ایسے ہم سے متنفر ہو گئے کہ ہم سے سیدھے مُنہ سے کوئی نرم بات کرنا بھی ان کے نزدیک ایک گناہ ہو گیا۔ کیا کوئی مولوی یا کوئی اور مخالف یا کوئی سجادہ نشین یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ پہلے ہم نے لوگوں کو کافر ٹھہرایا تھا’’۔ 40
    اسی طرح فرماتے ہیں:-
    ‘‘اس معاملہ میں ہمیشہ سے سبقت میرے مخالفوں کی طرف سے ہے کہ اُنہوں نے مجھ کو کافر کہا۔ میرے لئے فتویٰ تیار کیا مَیں نے سبقت کر کے ان کے لئے کوئی فتویٰ تیار نہیں کیا’’۔41
    بانی ٔ سلسلہ کے متعلق علماء کا فتویٔ کُفر
    مولانا یہ بھُول گئے ہیں کہ بارہ سال تک بانی ٔ سلسلہ احمدیہ
    مسلمانوں کی منّت سماجت کرتے رہے کہ یہ تعدّی نہ کرو اور مجھے غیر مسلم نہ کہو اور بارہ سال تک ان کی مسجدوں میں احمدی نمازیں پڑھتے رہے بلکہ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے بھی بعض دفعہ ان کی مسجدوں میں جاکر نماز پڑھی لیکن علماء اسلام کا دل نہ پسیجنا تھا نہ پسیجا ۔ وہ برابر آپ کے متعلق یہی لکھتے چلے گئے کہ:-
    ‘‘مرزا (کادیانی) کافر ہے ، چھپا مرتد ہے، گمراہ ہے، گمراہ کنندہ ہے، ملحد ہے، دجال ہے، وسوسہ ڈالنے والا، ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والا۔ لَا شَکَّ اَنَّ مِرْزَا کَافِرٌ مُرْتَدٌ زنْدِیْقٌ ضَالٌّ مُضِلٌّ مُلْحِدٌ دَجَالٌ وَسْوَاسٌ خَنَّاسٌ’’۔ 42
    ‘‘مرزا قادیانی اہلِ اسلام سے خارج ہے اور سخت ملحد اور ایک دجّال دجالون مخبر عنہا سے ہے اور پیرواس کے گمراہ ہیں’’۔ 43
    ‘‘حقیقت میں ایسا شخص منجملہ ان دجالوں کے ایک دجّال مگر بڑا بھاری دجال بلکہ اس کا عمّ و خال ہے’’۔44
    ‘‘میرے نزدیک اس کے کُفر میں کوئی شک نہیں ہے۔ وہ کافر ہے، بد ہے اور شریعتِ محمدیہ کا مخالف۔ اس کو باطل کرنا چاہتا ہے۔ خدا اُس کا مُنہ کالاکرے’’۔ 45
    ‘‘وہ خود گمراہ ہے اور وں کو گمراہ کرنے والا کذّاب ہے۔ دنیا میں فساد ڈالنے والا۔ اس کے چھپے مرتد ہونے اور کُفر میں کوئی گفتگو نہیں۔ خدا اس کو ہلاک کرے’’۔ 46
    ‘‘وہ بے شک دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور ملحد و زندیق ہے۔ نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِہٖ’’۔ 47
    ‘‘مرزا قادیانی پابندی اسلام خصوصاً مذہب اہلِ سُنت سے خارج ہے ..... اس کا دعویٰ ٔ نبوت اور اشاعت اکاذیب اور اس ملحدانہ طریق کی نظر سے اس کو ان تیس دجّالوں میں سے جن کی خبر حدیث میں وارد ہے ایک دجّال کہہ سکتے ہیں اور اس کے پیروان اور ہم مشربوں کو ذرّیاتِ دجّال’’۔ 48
    ‘‘غلام احمد قادیانی کج رو وپلید جس کا عقیدہ فاسد ہے اور رائے کھوٹی گمراہ ہے لوگوں کو گمراہ کرنے والا چھپا مرتد ہے بلکہ وہ اپنے شیطان سے زیادہ گمراہ ہے جو اس سے کھیل رہا ہے’’۔ 49
    مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے آپ کے متعلق لکھا:-
    ‘‘اسلام کا چھپا دُشمن، مسیلمہ ثانی، دجّال زمانی، نجومی، رملی، جوتشی، اٹکل باز، جفری، بھنگڑ، ارڑپوپو، مکّار، جھوٹا، فریبی، ملعون، شوخ، گستاخ، مثیل الدّجال، اعورالدجّال، غدّار، کاذب، کذّاب ذلیل و خوار، مردود، بے ایمان، روسیاہ، رہبر ملاحدہ، عبدالدّراہم والدّینار، تمغات *** کا مستحق، مورد ہزار ***، ظلام، افّاک، مفتری علی اﷲ، بے حیا، دھوکا باز، حیلہ باز، بھنگیوں اور بازاری شُہدوں کا سرگروہ، دہریہ، جہان کے احمقوں سے زیادہ احمق، جس کا خدا شیطان، یہودی، ڈاکو، خونریز، بے شرم، مکّار، طرار ، جس کی جماعت بدمعاش، بدکردار، زانی، شرابی، حرام خور، اس کے پیرو خرانِ بے تمیز’’۔50
    مولوی عبدالحق صاحب غزنوی عم بزرگوار مولانا داؤد غزنوی نے اشتہار ضَرْبُ النِّعَالِ عَلٰی وَجْہِ الدَّجَال میں جو 1896ء میں شائع ہؤا آپ کے متعلق لکھا:-
    ‘‘دجّال، ملحد، کافر، روسیاہ، بدکار، شیطان، ***، بے ایمان، ذلیل و خوار، خستہ، خراب، کاذب، شقی سرمدی،*** کا طوق اس کے گلے کا ہار ہے لعن طعن کا جوت اس کے سر پر پڑا، اﷲ کی *** ہو، اس کی سب باتیں بکواس ہیں’’۔
    بارہ سال تک برابر ان فتوؤں کو سُننے کے بعد اگر بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے یہ فتوے دیئے تھے یا ان لوگوں کے خلاف جو ان فتوؤں سے متفق تھے رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق کہ اِذَاکَفَرَالرَّجُلُ أَخَاہُ فَقَدْ بَاءَ بِھَا اَحَدُ ھُمَا51 یعنی اگر کوئی اپنے بھائی کو کافر کہے تو دونوں فریق میں سے ایک ضرور کافر ہو گا۔ کوئی فتویٰ دیا تو کیا غضب کیا اور کس طرح اس فتویٰ کی وجہ سے آپ اُمّتِ محمدیہ سے الگ ہو گئے۔ مولانا مودودی اور ان کے ہمنوا بزرگ تو بارہ سال تک مرزا صاحب پر فتویٰ لگانے کے بعد اُمّتِ محمدیہ میں افتراق پیدا کرنے والے نہ بنے لیکن بارہ سال کے بعد مرزا صاحب ان فتوؤں کا جواب دینے کی وجہ سے اشتقاق اور افتراق پیدا کرنے کا موجب بن گئے۔ کیوں؟ کیا اس لئے کہ مرزا صاحب کی حمایت تھوڑی تھی اور ان علماء کی باتوں کی تصدیق کرنے والے بہت تھے۔
    پھر ہم پوچھتے ہیں مودودی صاحب کو جانے دیجئے باقی علماء اسلام نے ایک دوسرے کے متعلق کیا کہا ہے۔ مودودی صاحب نے اپنی جماعت کے سوا جوباقی سب کو کافر کہا ہے اس کا حوالہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ اب سُنیئے باقی لوگ مودودی صاحب کی جماعت کے متعلق کیا کہتے ہیں۔
    جماعت اسلامی کے کُفر کے متعلق دوسرے علماء کا فتویٰ
    مولانا اعزاز علی صاحب امروہی جماعتِ اسلامی کے متعلق لکھتے ہیں:-
    ‘‘میرے نزدیک یہ جماعت
    اپنے اسلاف (یعنی مرزائی) سے بھی مسلمانوں کے دین کے لئے زیادہ ضرر رساں ہے’’۔ 52
    (سُنا آپ نے۔ آپ کے ایک ہم مشرب احمدیوں کو آپ کا بزرگ قرار دیتے ہیں)
    مولانا فخر الحسن صاحب مدرس دارالعلوم دیوبند نے بھی اس فتویٰ کی تائید کی ہے۔
    سیّد سیدی حسن صاحب صدر مفتی دارالعلوم دیوبند لکھتے ہیں:-
    ‘‘مسلمانوں کو اس تحریک میں ہر گز شریک نہیں ہونا چاہئے ان کے لئے زہر قاتل ہے۔ لوگوں کو اس میں شریک ہونے سے روکنا چاہئے۔ ورنہ گمراہ ہوں گے بجائے فائدہ کے نقصان ہو گا۔ شرعاً اس تحریک میں حصّہ لینا ہر گز جائز نہیں’’۔ 53
    مولانا حسین احمد صاحب مدنی شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند لکھتے ہیں:-
    ‘‘مودودی صاحب اور ان کے اتباع کے اصول دینِ حنیف کی جڑوں پر کاری ضرب لگانے والے ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے دین اسلام کا مستقبل نہایت تاریک نظر آتا ہے’’۔ 54
    مولوی ابو المظفر صاحب اپنے ٹریکٹ مودودیت اور مرزائیت میں لکھتے ہیں:-
    ‘‘بلا ریب و شک یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ مرزائیت کی طرح مودودیت بھی ایک نہایت خطرناک عظیم فتنہ ہے جس کا فرو کرنا ہربہی خواہ اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے’’۔ 55
    مولانا راغب احسن ایم۔ اے لکھتے ہیں:-
    ‘‘جماعت مودودیت دراصل اسلام کے نام پر ایک بالکل جدید تخلیق اور جدید مذہب کی تعمیر کر رہی ہے’’۔ 56
    مولوی حامد علی خان صاحب مفسر مدرسہ عالیہ رامپور لکھتے ہیں کہ:-
    ‘‘وہ ایک بالکل نیا بدعتی فرقہ ہے اس کا اندازِ تبلیغ غلط اور گمراہ کن ہے اور تفریق بین المسلمین کا باعث ہے’’۔ 57
    پھر جماعت اسلامی پر ہی بس نہیں آپس میں بھی یہ علماء ایک دوسرے کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ سُنّی علماء کا فتویٰ شیعوں کے متعلق ذیل میں درج ہے:-
    سُنّی علماء کا فتویٰ شیعوں کے متعلق
    (1): ‘‘شیعہ اثنا عشریہ قطعاً خارج از اسلام ہیں شیعوں
    کے ساتھ مناکحت قطعاً ناجائز اور ان کا ذبیحہ حرام ، ان کا چندہ مسجد میں لینا ناروا ہے۔ ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا جائز نہیں ہے’’۔ 58
    (نوٹ: اس پر علماء دیوبند کے علاوہ دیگر علماء کے اسماء گرامی بھی درج ہیں)
    (2) : ‘‘روافض صرف مرتد اور کافر اور خارج از اسلام ہی نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے دُشمن بھی’’۔ 59
    (3): مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی لکھتے ہیں:-
    ‘‘ان رافضیوں، تیرائیوں کے باب میں حُکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفّار مرتدین ہیں’’۔ 60
    (4) حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی فتاویٰ عزیزی میں تحریر فرماتے ہیں کہ:-
    ‘‘فرقہ امامیہ منکر خلافت حضرت صدیق اند و درکتب فقہ مسطور است کہ ہر کہ انکار خلافت حضرت صدیق اکبر کند منکر اجماع قطعی شدہ و کافر گشت۔ یعنی شیعہ حضرت صدیق اکبر کی خلافت کے منکر ہیں اور فقہ کی کتب میں لکھا ہے کہ جو شخص حضرت صدیق کی خلافت کا انکار کرے اس نے اجماع کا انکار کیا اور کافر ہو گیا’’۔ 61
    (5) فتاویٰ عالمگیر یہ میں لکھا ہے کہ
    ‘‘مَنْ اَنْکَرَاِمَامَۃَ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ فَھُوَ کَافِرٌ وَ کَذَالِکَ مَنْ اَنْکَرَ خِلَافَۃَ عُمَرَ’’۔62
    یعنی جو لوگ حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کی امامت اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے منکر ہیں وہ سب کافر ہیں۔
    شیعہ علماء کا فتویٰ سُنّیوں کے متعلق
    شیعہ صاحبان کا فتویٰ سُنّیوں کے متعلق ذیل میں درج ہے:-
    (1) حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں:-
    ‘‘مَنْ عَرَفَنَا کَانَ مُؤْمِناً وَ مَنْ اَنْکَرَنَا کَانَ کَافِراً وَ مَنْ لَّمْ یَعْرِفْنَا وَ مَنْ لَّمْ یُنْکِرْ نَا کَانَ ضَالًّا’’۔ 63
    یعنی جس نے ہم ائمہ کو شناخت کر لیا وہ مؤمن ہے اور جس نے ہمارا انکار کیا وہ کافر ہے اور جو ہمیں نہ مانتا ہے اور نہ انکار کرتا ہے وہ ضالّ ہے۔
    (2) حدیقۂ شہداء میں یہ فتویٰ درج ہے کہ:-
    ‘‘سوائے فرقہ اثنا عشریہ امامیہ کے ناجی نیست کشتہ شود خواہ بموت بمیرد’’۔ یعنی سوائے شیعوں کے اور کوئی بھی ناجی نہیں خواہ وہ مارا جائے یا اپنی آپ موت مرے۔ یعنی سُنّی شہید بھی کافر ہے’’۔ 64
    (3) حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ:-
    ‘‘اگر کسی شیعہ کو سُنّی کی نماز جنازہ میں شریک ہونا پڑے تو وہ یہ دُعا کرے۔ اَللّٰھُمَّ اِمْلَأْ جَوْفَہٗ نَاراً وَ قَبْرَہٗ نَاراً وَ سَلِّطْ عَلَیْہِ الْحَیَّات وَ الْعَقَارِبَ۔65 یعنی اے خدا! تُو اس کے پیٹ میں آگ بھر دے اور اس کی قبر میں بھی آگ بھر دے اور اس پر عذاب کے لئے سانپ اور بچھو مسلّط فرما۔
    دیوبندی علماء کا فتویٰ بریلویوں کے متعلق
    دیوبندیوں کا فتویٰ بریلویوں کے متعلق ذیل میں درج
    ہے:-
    ‘‘مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی مع ازناب و اتباع کے کافر اور جو انہیں کافر نہ کہے اور ان کو کافر کہنے میں کسی وجہ سے بھی شک و شُبہ کرے وہ بھی بِلا شُبہ قطعی کافر ہے’’۔ 66
    بریلوی علماء کا فتویٰ دیوبندیوں کے متعلق
    بریلویوں کا فتویٰ دیوبندیوں کے متعلق ذیل
    میں درج ہے:-
    (1) ‘‘مولوی احمد رضا خان صاحب اپنی کتاب ‘‘حسام الحرمین’’ میں لکھتے ہیں کہ:-
    ‘‘ھٰؤُلَاءِ الطَّوَائِفُ کُلُّھُمْ کُفَّارٌ مُرْتَدُّوْنَ خَارِجُوْنَ عَنِ الْاِسْلَامِ بِاِجْمَاعِ الْمُسْلِمِیْنَ’’۔ 67
    یعنی یہ سب کے سب اسلام کے اجماعی فتویٰ کی رو سے کافر، مرتد اور اسلام سے خارج ہیں۔
    (2) اسی طرح تین سو علماء نے دیو بندیوں کے متعلق یہ متفقہ فتویٰ دیا کہ:-
    ‘‘وہابیہ دیوبند یہ اپنی عبارتوں میں تمام اولیاء انبیاء حتّٰی کہ حضرت سیّد الاوّلین و الآخرین صلی اﷲ علیہ وسلم کی اور خاص ذات باری تعالیٰجَلّ شانُہٗ کی اہانت و ہتک کی وجہ سے قطعاً مرتد و کافر ہیں اور ان کا ارتداد و کُفر سخت سخت سخت اشد درجہ تک پہنچ چُکا ہے۔ ایسا کہ جو ان مرتدوں اور کافروں کے ارتداد و کُفر میں ذرا بھی شک کرے وہ بھی انہیں جیسا مرتد اور کافر ہے اور اس شک کرنے والے کے کُفر میں شک کرے وہ بھی مرتد وکافر ہے’’۔ 68
    مقلّد علماء کا فتویٰ اہلحدیث کے متعلق
    (1) مقلّدین کا فتویٰ اہلِ حدیث کے متعلق ذیل میں درج ہے:-
    ‘‘مرتد ہیں باجماع امّت اسلام سے خارج ہیں جو ان کے اقوال کا معتقد ہو گا کافر اور گمراہ ہو گا۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنے، ان کے ہاتھ کاذبیحہ کھانے اور تمام معاملات میں ان کا حکم بِجِنْسِہٖ وہی ہے جو مرتد کا ہے’’۔69
    (نوٹ: اس فتویٰ پر77 علماء کے دستخط ہیں۔)
    (2) ‘‘فرقہ غیر مقلدین جن کی علامت ظاہری اس ملک میں آمین بالجہر اور رفع یدین اور نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنا اور امام کے پیچھے الحمد پڑھنا ہے اہل سُنّت سے خارج ہیں اور مثل دیگر فِرَق ضالّہ رافضی خارجی وَغَیْرَھُمَا کے ہیں’’۔ 70
    (نوٹ: اس فتویٰ کے نیچے قریباً 70علماء کی مہریں ثبت ہیں۔)
    اہلحدیث علماء کا فتویٰ مقلدین کے متعلق
    اہلحدیث کا فتویٰ مقلدین کے متعلق ذیل میں درج
    ہے:-
    جامع الشواہد صفحہ 2 پر بحوالہ کتاب اعتصام السنہ مطبوعہ کانپور یہ فتویٰ درج ہے کہ:-
    ‘‘چاروں اماموں کے پیرو اور چاروں طریقوں کے متبع یعنی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور چشتیہ اور قادریہ و نقشبندیہ و مجددیہ سب لوگ مشرک اور کافر ہیں’’۔ 71
    مولانا مودودی صاحب ان فتوؤں کو پڑھیں اور دیکھیں کہ یہ رسم آج کی نہیں بلکہ بہت دیر سے چلی آرہی ہے ؎
    ایں گنا ہیست کہ در شہر شمانیز کنند
    صحابہ کے زمانہ میں خوارج نے یہ اعلان کیا تھا کہ جوشخص کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے اور یہ کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا اور وہ اس فتویٰ کو اس حد تک پہنچاتے تھے کہ لوگوں سے پوچھتے تھے بولو تمہاری رائے علی ؓ کی خلافت کے متعلق کیا ہے اور اگر کوئی تصدیق کرتا تھا تو اسے قتل کر دیتے تھے’’۔72
    کیا جماعت احمدیہ کا اسلام اَور ہے اور دوسرے مسلمانوں کا اسلام اَور؟
    (5) مولانا مودودی صاحب نے آگے چل کر لکھا ہے کہ احمدی لوگ خود بیان کرتے ہیں کہ ان
    کا اسلام اور ہے اور دوسرے مسلمانوں کا اسلام اَور ہے۔ ان کا قرآن اَور ہے اور دوسرے مسلمانوں کا قرآن اَور ہے، ان کا خدا اَور ہے اور دوسرے مسلمانوں کا خدا اَور ہے، ان کا حج اَور ہے اور دوسرے مسلمانوں کا حج اَور ہے اور اسی طرح ہر بات میں وہ ان سے مختلف ہیں۔73
    جہاں تک الفاظ کا تعلق ہے مولانا مودودی صاحب کا یہ دعویٰ درست ہے۔ بیشک موجودہ امام جماعت احمدیہ نے ایک دو جگہ پر یہ لکھا ہے کہ دوسرے مسلمانوں کا اسلام اَور ہے اور ہمارا اسلام اَور ہے، دوسرے مسلمانوں کا قرآن اَور ہے اور ہمارا قرآن اَور ہے، دوسرے مسلمانوں کا خدا اَور ہے اور ہمارا خدا اَور ہے لیکن معنوں کے لحاظ سے اُنہوں نے ہر گز وہ مفہوم نہیں لیاجو مولانا مودودی صاحب دُنیا پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی ذات تو نظر نہیں آتی لیکن قرآن نظر آتا ہے۔ کیا دُنیا کا کوئی شخص ہے جو خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکے کہ احمدی مروّجہ قرآن کے سوا کوئی اور قرآن پڑھتے ہیں یا مسلمانوں میں جو اس وقت قرآن محفوظ سمجھا جاتا ہے اس میں وہ ایک زیر یا زبر کی تبدیلی بھی جائز سمجھتے ہیں؟ یا کوئی شخص قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ احمدی خانہ کعبہ کے حج کے لئے نہیں جاتے بلکہ ہر دوار یا کسی اور جگہ پر حج کے لئے جاتے ہیں۔ کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ احمدی کلمۂ اسلامی نہیں پڑھتے بلکہ کوئی اَور کلمہ پڑھتے ہیں۔ اگر احمدی بھی وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سکھایا ہے، وہی قرآن پڑھتے ہیں جو حنفیوں اور اہلحدیثوں کے مطبعوں میں چھپا ہوتا ہے، اسی خانۂ کعبہ کا حج کرتے ہیں جو مکّہ مکرمہ میں ہے اور نجدی حکومت کے ماتحت ہے تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اس جگہ پر تمثیلی زبان میں کلام کیا گیا ہے نہ کہ زبان کے اصلی مفہوم کے مطابق۔ اگر تو احمدیوں کے پاس واقعی کوئی اور قرآن ہوتا، اگر احمدی واقع میں مکّہ مکرمہ میں حج کے لئے نہ جاتے (جماعت احمدیہ کے خلیفہ اوّل بھی مکّہ مکرمہ میں حج کر کے آئے تھے اور خلیفۂ ثانی بھی مکّہ مکرمہ میں حج کر کے آئے ہیں) تب تو مودودی صاحب کو اس عبارت سے استدلال کرنے اور جوش دلانے کا کوئی موقع تھا لیکن جب واقعہ یہ نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ ‘‘اسلام اَور ہے’’ سے صرف اتنا ہی مُراد ہے کہ دوسرے لوگ اسلام کی پوری پابندی نہیں کرتے اور ‘‘قرآن اَور ہے’’ سے مصرف یہ مراد ہے کہ دوسرے لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے اور ‘‘خدا اَور ہے’’ سے صرف یہ مراد ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور ‘‘حج اَور’’ سے صرف یہ مراد ہے کہ حج کی شرائط کو وہ پورا نہیں کرتے اور کیا یہ واقعہ نہیں۔ یہ واقعہ نہیں تو اس شخص کے متعلق کیا فتویٰ ہے جس نے یہ لکھا کہ:-
    ‘‘مَیں پہلے بیان کر چُکا ہوں کہ مسلمان اور کافر میں علم اور عمل کے سوا کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کا علم اور عمل ویسا ہی ہے جیسا کافر کا ہے اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو بالکل جھوٹ کہتا ہے۔ کافر قرآن کو نہیں پڑھتا اور نہیں جانتا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ یہی حال اگر مسلمان کا بھی ہو تو وہ مسلمان کیوں کہلائے۔ کافر نہیں جانتا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی کیا تعلیم ہے اور آپ ؐ نے خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ کیا بتایا ہے۔ اگر مسلمان بھی اسی طرح ناواقف ہو تو وہ مسلمان کیسے ہؤا؟’’ 74
    مولانا غور کریں کہ کیا اس جگہ انہوں نے اپنا اسلام اور دوسرے لوگوں کا اسلام اور نہیں قرار دیا؟
    اسی طرح مولانا مودودی کیا کہتے ہیں اس شخص کے متعلق جس نے یہ تحریر کیا ہے کہ:-
    ‘‘اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی جو مختلف جماعتیں اسلام کے نام سے کام کر رہی ہیں۔ اگر فی الواقع اسلام کے معیار پر ان کے نظریات، مقاصد اور کارناموں کو پرکھا جائے تو سب کی سب جنسِ کاسد نکلیں گی خواہ مغربی تعلیم و تربیت پائے ہوئے سیاسی لیڈر ہوں یا علماء دین و مفتیان شرع متین’’۔ 75
    مولانا مودودی صاحب بتائیں کہ اس عبارت کا لکھنے والا شخص علماء دین و مفتیانِ شرعِ متین تک کے اسلام کو اور اپنے اسلام کو اَور اور اپنے اسلام کو اَور قرار دے رہا ہے یا نہیں۔ اور کیا وہ شخص بھی اسی سلوک کا مستحق ہے جس سلوک کا مطالبہ مولانا مودودی صاحب احمدیوں کے متعلق کر رہے ہیں۔
    (6) پھر مولانا مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ اس اختلاف کو احمدیوں نے اور زیادہ کھینچا اور کہا کہ:-
    (6-الف) غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں۔
    (6-ب) ان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔
    (6-ج) ان کو لڑکی دینا جائز نہیں۔
    (7) اور یہ قطع تعلق صرف تحریر و تقریر تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ عملاً بھی احمدی مسلمانوں سے کٹ گئے ہیں۔ نہ نماز میں شریک نہ جنازہ میں شریک نہ شادی بیاہ میں شریک۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ ان کو زبر دستی مسلمانوں کے ساتھ ایک اُمّت میں شامل کیا جائے۔76
    غیر احمدی علماء کے فتوے کہ احمدیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں
    (6-الف) یہ درست ہے کہ احمدیوں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں لیکن احمدیوں
    نے یہ فتویٰ 1900ء میں دیا ہے۔ 77
    اس سے پہلے غیر احمدیوں نے 1892ء میں یہ فتویٰ دیا تھا کہ احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں۔ مولانا مودودی صاحب فرمائیں افتراق کس نے پیدا کیا؟ اس نے جس نے 1892ء میں احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے لوگوں کو روک دیا تھا یا اُس نے جس نے آٹھ سال صبر کرنے کے بعد یہ اعلان کیا کہ بہت اچھا، غیر احمدی علماء نے جو فتویٰ دیا ہے اُس کو مان لو اور اب ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو کیونکہ ان کے نزدیک تمہارے مسجدوں میں جانے سے ان کی مساجد ناپاک ہو جاتی ہیں۔ غیر احمدی علماء نے اس بارہ میں جو فتوے دیئے ہیں ان میں سے صرف چند فتوے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:-
    (الف) مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے بانی ٔ سلسلہ اور ان کے اَتباع کے متعلق لکھا ہے:-
    ‘‘نہ اس کو ابتداءً سلام کریں اور نہ اس کو دعوتِ مسنون میں بلائیں اور نہ اس کی دعوت قبول کریں اور نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں’’۔ 78
    (2) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘قادیانی کے مرید رہنا اور مسلمانوں کا امام بننا دونوں باہم ضدیں ہیں یہ جمع نہیں ہو سکتیں’’۔ 79
    (3) مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے فتویٰ دیا :-
    ‘‘جس کے یہ عقائد ہیں اس کو اور اس کے اتباع کو امام بنانا حرام ہے’’۔ 80
    (4) مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری نے فتویٰ دیا :-
    ‘‘مرزا قادیانی جو کچھ کرتا ہے سب دُنیا سازی کے لئے کرتا ہے۔ پس اس کے خلف نماز جائز نہیں’’۔ 81
    (5) مفتی محمد عبداﷲ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ:-
    ‘‘اس کے اور اس کے مریدوں کے پیچھے اقتداء ہر گز درست نہیں ہے’’۔82
    (6) مولوی عبدالرحمن صاحب بہاری نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘مرزا قادیانی کافر مرتد ہے۔ اس کے اور اس کے متبعین کے پیچھے نماز محض باطل و مردود ہے۔ فرض سر پر ویسا ہی رہے گا اور سخت گناہِ عظیم اس کے علاوہ۔ ان کی امامت ایسی ہے جیسے کسی یہودی کی امامت’’۔83
    (7) خلیل احمد صاحب سہارنپوری نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘وہ کتاب اﷲ کا مکذّب دائرہ اسلام سے خارج ہے اس کی اور اس کے اتباع کی امامت اور بیعت و محبت ناجائز اور حرام ہے’’۔84
    (8) محمد کفایت اﷲ صاحب شاہجہانپوری نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘ان کے کافر ہونے میں شک و شُبہ نہیں اور ان کی بیعت حرام ہے اور امامت ہر گز جائز نہیں’’۔ 85
    (9) محمد حفیظ اﷲ صاحب مدرس مدرسہ دارالعلوم لکھنؤ نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘بیعت اور امامت ایسے شخص کی درست نہیں’’۔ 86
    (١٠) محمد امانت اﷲ صاحب علی گڑھی نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھیں’’۔ 87
    (11) عبدالجبار صاحب عمر پوری نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘مرزا قادیانی اسلام سے خارج ہے اس کی اتباع کرنے والا بھی اسلام سے خارج۔ ہر گز امامت کے لائق نہیں’’۔ 88
    (12) مشتاق احمد صاحب دہلوی نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘مرزا اور اس کے ہم عقیدہ لوگوں کو اچھا جاننے والا جماعتِ اسلام سے جُدا ہے اور اس کو امام بنانا ناجائز ہے’’۔ 89
    (13) محمد علی صاحب واعظ نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘جو مرزا کے مرید ہیں سب قرآن و حدیث کے مخالف ہیں ایسے خبیث کی امامت جائز نہیں’’۔ 90
    (14) مولوی عزیز الرحمن صاحب دیوبندی نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘جس شخص کا عقیدہ قادیانی ہے اس کو امام بنانا حرام ہے’’۔91
    (15) اسلام الدین صاحب امرتسری نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘ایسے شخص کے خلف اقتداء درست نہیں’’۔ 92
    (16) مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی نے حسام الحرمین میں بانی ٔ سلسلہ احمدیہ پر ایمان لانے والے کو کافر اور مرتد قرار دے کر لکھا کہ:-
    ‘‘اس کے پیچھے نماز پڑھنی اور اس کے جنازہ کی نماز پڑھنی اور اس کے ساتھ شادی بیاہ کرنے اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانے اور اس کے پاس بیٹھنے اور اس سے بات چیت کرنے اور تمام معاملات میں اس کا حُکم بعینہٖ وہی ہے جو مرتدوں کا حکم ہے’’۔ 93
    ان فتوؤں کی دس سالہ اشاعت کے بعد علماء کے اس فتویٰ کی کہ احمدیوں کو امام نہیں بنانا چاہئے اگر بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے تصدیق کر دی تو ان پر کیا الزام؟ کیا ان کے کُفر اور فتنہ پردازی کی وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے علماء اسلام کا فتویٰ کیوں تسلیم
    کر لیا؟٭
    ٭ ‘‘فتویٰ شریعت غرّا ‘‘اور ‘‘شرعی فیصلہ’’یہ دو ٹریکٹ ہیں جن میں غیراحمدی علماء کے جماعت احمدیہ کے متعلق فتاویٰ درج ہیں مگر کسی فتویٰ پر تاریخ درج نہیں۔
    غیر احمدی علماء کے فتوے کہ احمدیوں کے جنازے جائز نہیں
    (6-ب) اب رہا یہ سوال کہ احمدیوں نے ان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں سمجھا۔ سو یہ فتویٰ بھی پہلے غیر احمدی علماء نے دیا
    تھا کہ احمدیوں کا جنازہ پڑھنا ناجائز ہے بلکہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت دینا بھی ناجائز ہے۔ جب دس سال تک متواتر منت سماجت کرنے کے بعد بھی باصطلاح مودودی صاحب ‘‘علماء دین و مفتیانِ شرعِ متین’’ نے اپنے ان فتوؤں میں اصلاح نہ کی تو مجبوراً احمدیوں کو بھی یہ اعلان کرنا پڑا کہ احمدی جماعت کے لوگ ایسے شدید معاندین اور مخالفین کا جنازہ نہ پڑھیں جو جماعت احمدیہ اور اس کے بانی کو کافر کہتے ہیں، ملحد کہتے ہیں، دجّال کہتے ہیں اور جو اپنے مقبروں میں ان کے دفن ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ مولانا فرمائیں افتراق کا دروازہ ان کے اسلاف ‘‘مفتیانِ دین اور علماء شرعِ متین’’ نے کھولا یااحمدیوں نے کھولا۔ کیا 1892ء میں ایسا فتویٰ دینے والوں نے اختلاف اور افتراق پیدا کیا یا 1902ء میں مجبور ہو کر ان کا جواب دینے والے نے اختلاف اور افتراق کا دروازہ کھولا؟ اگر مولانا کو اپنے ‘‘علماء دین اور مفتیانِ شرع متین’’ کے فتوے دیکھنے کا موقع نہ مِلا ہو تو وہ ذیل کے فتوؤں کو مدِّنظر رکھ لیں:-
    (1) مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘مسلمانوں کو چاہئے ایسے دجّال، کذّاب سے احتراز اختیار کریں .....نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں’’۔ 94
    (2) مولوی عبدالصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘یہ شخص اسی اعتقاد پر مَر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے’’۔95
    (3) قاضی عبید اﷲ بن صبغۃ اﷲ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا:-
    ‘‘جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر و مرتد ہے .....اور مرتد بغیر توبہ کے مَر گیا تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھنا’’۔ 96
    (4) مفتی محمد عبداﷲ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ:-
    ‘‘جس نے دیدہ دانستہ مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے اس کو اعلانیہ توبہ کرنی چاہئے اور مناسب ہے کہ وہ اپنا تجدید نکاح کرے اور حسب طاقت کھانا کھلائے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو اہلِ سُنّت و الجماعت کو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہئے۔ ایسے منافق کے پیچھے نماز درست نہیں ہوتی’’۔ 97
    اس فتویٰ پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی بھی مہر تصدیق ثبت ہے اور یہی فتویٰ ‘‘اَلْاَعْلَام مِنَ الْعُلَمَاءِ الرَّبَّانِیِّیْنَ فِیْ عَدْمِ جَوَازِ صَلٰوۃِ الْجَنَازَۃِ الْقَادِیَانِیِّیْنَ’’ شائع کردہ مولوی محمد شمس الدین صاحب جالندھری کے صفحہ 4 پر بھی درج کیا گیا ہے۔
    (5) مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی نے بھی حسام الحرمین صفحہ 95 پر احمدیوں کے جنازہ کی نماز پڑھنی ممنوع قرار دی ہے۔
    پھر یہیں تک بس نہیں انہوں نے یہ فتویٰ بھی دیا کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ ہونے دیا جائے چنانچہ
    (1) مولوی عبدالصمد صاحب غزنوی نے لکھا:-
    ‘‘یہ شخص اسی اعتقاد پر مَر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ یہ مسلمانوں کی قبروں میں دفن کیا جائے تاکہ وہ اہل قبور اِس سے ایذاء نہ پائیں’’۔ 98
    (2) قاضی عبید اﷲ بن صبغۃ اﷲ صاحب مدراسی نے ١٨٩٣ء میں فتویٰ دیا کہ جب کوئی احمدی مَر جائے تو:-
    ‘‘اس کو مقابر اہلِ اسلام میں دفن نہیں کرنا بلکہ بغیر غسل و کفن کے کتّے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا۔ اشباہ و النظائر میں ہے وَاِذَامَاتَ اَوْ قُتِلَ عَلٰی رَدَّتِہٖ لَمْ یُدْفَنْ فِیْ مَقَابِرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا اَھْلِ مِلَّۃِ فَاِنَّمَا یُلْقٰی فِیْ حُفْرَۃٍ کَالْکَلْبِ اور بحرالرائق میں ہے۔ اَمَّاالْمُرْتَدَّفَلَایُغْسَلُ وَلَایُکَفَّنُ وَاِنَّمَایُلْقٰی فِیْ حُفْرَۃٍ کَالْکَلْبِ’’۔99
    (3) مجموعہ کفریات مرزا غلام احمد قادیانی مؤلفہ سیّد محمد غلام صاحب احمد پور شرقیہ مطبوعہ مطبع صادق الانوار بہاولپور میں لکھا ہے:-
    ‘‘ایسے شخص کو بعد موت کے غسل دینا یا اس کا جنازہ پڑھنا اور کفن دینا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں بلکہ ایک کپڑے کے پارچہ میں لپیٹ کر کسی اور جگہ گڑھے میں گاڑدینا چاہئے’’۔100
    (4) فتویٰ درباب تکفیر مرزا غلام احمد قادیانی شائع کردہ مولوی محمد ریاست علی صاحب شاہجہانپوری میں بھی یہی فتویٰ درج کیا گیا ہے اور لکھا گیا ہے کہ:-
    ‘‘یہ جو مَر جائیں تو ان کو مسلمان لوگ اپنے قبرستان میں نہ دفن ہونے دیں’’٭۔ 101
    غیر از جماعت افراد کے جنازوں کے متعلق بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کا فتویٰ
    اب اس کے جواب میں بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کا بھی فتویٰ پڑھ لیں۔ ایک احمدی دوست
    چودھری مولا بخش صاحب سیالکوٹ کے استفسار کے جواب میں بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے فروری 1902ء میں تحریر فرمایا کہ:-
    ‘‘جو شخص صریح گالیاں دینے والا، کافر کہنے والا اور سخت مکذّب ہے اس کا جنازہ تو کسی طرح درست نہیں مگر جس شخص کا حال مشتبہ ہے۔ گویا منافقوں کے رنگ میں ہے اس کے لئے کچھ بظاہر حرج
    نہیں کیونکہ جنازہ صرف دُعا ہے اور انقطاع بہرحال بہتر ہے’’۔
    اِس حوالہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے ہرگز جنازہ کے روکنے میں پہل نہیں کی بلکہ مولانا مودودی صاحب کے بزرگوں اور بزرگوں کے
    ٭ فتویٰ نمبر 3 اور 4 پر کوئی تاریخ درج نہیں اور نہ ٹریکٹوں پر سن اشاعت درج ہے
    اسلاف نے یہ فتویٰ دیا کہ احمدیوں کی نماز جنازہ جائز نہیں بلکہ انہیں اپنے مقبروں میں دفن ہونے کی اجازت دینا بھی ناجائز ہے۔ تب بانی ٔ سلسلہ احمدیہ مجبور ہو گئے کہ فتنے سے بچنے کے لئے ایسے جنازوں میں شرکت سے اپنی جماعت کو روک دیں۔
    اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ جماعت احمدیہ نے کچھ عرصہ سے یہ طریق اختیار کیا ہؤا ہے کہ وہ کسی غیر احمدی کا بھی جنازہ نہیں پڑھتے لیکن اب بھی ان کا یہ مذہب نہیں ہے کہ غیراحمدیوں کے ساتھ دفن ہونے سے ان کے مُردے خراب ہو جاتے ہیں یا اگر کوئی غیر احمدی مُردہ ان کے عام قبرستان میں دفن ہو جائے تو اس کی لاش کو نکال کر باہر پھینک دینا چاہئے۔ قادیان میں بھی غیر احمدی مُردے بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے باپ دادا کے دیئے ہوئے قبرستان میں دفن ہوتے تھے اور ربوہ میں بھی احمدیوں نے غیر احمدیوں کے قبرستان کے لئے کچھ جگہ دی ہے۔ حالانکہ یہاں کوئی آبادی غیر احمدیوں کی نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ربوہ کی زمین میں پرانے زمانہ سے ارد گرد کے گاؤں کے کچھ لوگ اپنے مُردوں کو لا کر دفن کر دیتے تھے۔ یہ زمین چونکہ کم ہو گئی جماعت احمدیہ نے ان لوگوں کی خاطر دو کنال زمین اپنا مقبرہ وسیع کرنے کے لئے دے دی۔ اسی کے ساتھ ملحق احمدیوں کا اپنا مقبرہ بھی ہے ۔ مولانا مودودی صاحب بتائیں کہ فساد کس نے کیا؟ جنہوں نے ساتھ دفن سے بھی انکار کیا یا جنہوں نے دفن ہونے کے لئے اپنی زمینیں دیں اور جو عملاً ان کے ساتھ پُرانے مقبروں میں دفن ہو رہے ہیں اور وہیں دفن ہونا چاہتے ہیں۔
    یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کا مذکورہ بالا فتویٰ حال ہی میں مِلا ہے اور امام جماعت احمدیہ نے اس کے بارہ میں علم حاصل کر کے آج سے سالہا سال پہلے یہ اعلان کر دیا تھا کہ اگر اس فتویٰ کی مصدقہ تحریر مِل گئی تو پھر احمدیہ جماعت کے موجودہ طریق عمل پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔ چنانچہ اب جبکہ وہ تحریر مِل گئی ہے احمدی جماعت کے علماء بیٹھیں گے اور جہاں تک قیاس کیا جاتا ہے اس بارہ میں جو پہلا طریق عمل ہے اس میں ایک حد تک تبدیلی کی جائے گی۔
    غیر احمدیوں کا احمدیوں کی لاشوں اور ان کی دفن کی ہوئی میّتوں سے شرمناک سلوک
    مولانا مودودی صاحب کے بزرگوں اور چودھویں صدی کے
    ‘‘علماء دین و مفتیانِ شرعِ متین’’نے تو یہاں تک بھی عمل کیا ہے کہ عملاً اُنہوں نے احمدیوں کی لاشوں کو اپنے قبرستانوں میں دفن نہیں ہونے دیا بلکہ احمدیوں کی دفن کی ہوئی لاشوں کونکال کر باہر پھینک دیا۔ اس دعویٰ کی تائید میں مندرجہ ذیل واقعات پیش کئے جاتے ہیں:-
    (1) 20اگست 1915ء کو کنانور (مالابار) کے ایک احمدی کے۔ایس۔حسن کا چھوٹا بچہ فوت ہو گیا۔ ریاست کے راجہ صاحب نے حُکم دے دیا کہ چونکہ قاضی صاحب نے احمدیوں کے متعلق کُفر کا فتویٰ دے دیا ہے اس لئے ان کی نعش مسلمانوں کے کسی قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ وہ بچہ اس دن دفن نہ ہؤا۔ دوسرے دن شام کے قریب مسلمانوں کے قبرستان سے دو میل دور اس کی نعش کو دفن کیا گیا۔102
    (2) دسمبر 1918ء میں کٹک (صوبہ بہار) کے ایک احمدی دوست کی اہلیہ فوت ہو گئیں اُنہوں نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا۔ جب مسلمانوں کو معلوم ہؤا کہ ایک احمدی خاتون کی لاش ان کے قبرستان میں دفن کی گئی ہے تو اُنہوں نے قبر اُکھیڑ کر اس لاش کو نکالا اور اس احمدی دوست کے دروازہ پر جاکر پھینک دیا۔103
    یہ تو ایک مخالف اخبار ‘‘اہلحدیث’’ کی خبر ہے۔ ہماری اطلاعات یہ تھیں کہ لاش کو غیراحمدیوں نے قبر سے نکال کر کتّوں کے آگے ڈال دیا اور احمدیوں کے دروازوں کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ کوئی نکلے تو سہی کس طرح نکلتا ہے اور لاش کو دفن کرتا ہے۔ قریب تھا کہ کُتّے لاش کو پھاڑ ڈالیں کہ پولیس کو کسی بھلے مانس نے اطلاع دی اور پولیس نے آکر لاش دفن کروائی۔ مقدمہ ہؤا تو کسی شخص نے گواہی نہ دی اور صاف کہہ دیا کہ ہم موجود نہ تھے۔104
    کٹک میں اس سے پہلے بھی احمدیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک ہوتا رہا ہے اس کے لئے اخبار اہلحدیث کی ہی ایک گواہی پیش کی جاتی ہے۔ یکم فروری 1918ء کے اخبار اہلحدیث میں ‘‘کٹک میں قادیانیوں کی خاطر’’ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہؤا جس میں لکھا گیا کہ:-
    ‘‘وہ جو کہاوت ہے کہ موئے پر سو دُرّے۔ سو وہ بھی یہاں واجب التعمیل ہو رہی ہے۔ مرزائیوں کی میّت کا پوچھئے مت۔ شہر میں اگر کسی میّت کی خبر پہنچ جاتی ہے تو تمام قبرستانوں میں پہرہ بیٹھ جاتا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے ، کسی کے ہاتھ میں چھڑی ہے۔ میّت کی مٹی پلید ہو رہی ہے کہ کھوجتے تابوت نہیں ملتی، بیلداروں کی طلب ہوتی ہے تو وہ ٹکاسا جواب دے دیتے ہیں،بانس اور لکڑی بالکل عنقائیت ہو جاتی ہے۔ دفن کے واسطے جگہ تلاش کرتے کرتے پھُول کا زمانہ بھی گزر جاتا ہے۔ ہر صورت سے نااُمید ہو کر جب یہ ٹھان بیٹھتے ہیں کہ چلو چپکے سے مکان کے اندر قبر کھود کرگاڑ دیں تو ہاتفِ غیبی افسرانِ میونسپلٹی کو آگاہ کر دیتے ہیں اور وہ غڑپ سے آموجود ہو کر خرمنِ امید پر کڑکتی بجلی گرادیتے ہیں’’۔105
    مودودی صاحب اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہیں کہ اسلامی تعلیم کا کیسا شاندار نمونہ ان کے ہمنوا دکھاتے رہے ہیں۔ افسوس خود مودودی صاحب کو اس جہاد کی توفیق نہیں ملی۔
    (3) اپریل 1928ء میں کٹک میں ایک چھوٹے بچے کی لاش کو مخالفین نے اُس قبرستان میں بھی دفن ہونے سے روک دیا جو گورنمنٹ سے احمدیوں نے اپنے لئے حاصل کیا ہؤا تھا اور مقامی حکام نے بھی اس میں احمدیوں کی کوئی مدد نہ کی۔ 106
    (4) 16مارچ 1928ء کو بھدرک (اڑیسہ) میں ایک احمدی شیخ شیر محمد صاحب کی لڑکی فوت ہو گئی۔ غیر احمدیوں نے اس کی لاش قبرستان میں دفن نہ ہونے دی اور بڑے بھاری جتھہ سے مارنے پیٹنے پر آمادہ ہو گئے۔ آخر اُنہوں نے میّت کو صندوق میں بند کر کے اپنے گھر کے احاطہ کے اندر دفن کر دیا۔ 107
    (5) 29جنوری 1934ء کی شام کو کالی کٹ (مالا بار) میں ایک احمدی دوست فوت ہو گئے۔ مخالفین نے سارے شہر میں پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دینا چاہئے۔ چنانچہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ فوت شدہ احمدی کے مکان کے ارد گرد جمع ہو گئے اور وہاں اُنہوں نے گالیوں، دھمکیوں اور شور و شر سے ایسا طوفان برپا کیا کہ احمدیوں کے لئے مکان کے اندر باہر جانا مُشکل ہو گیا۔ رات کے آٹھ بجے کے قریب ایک شخص کو بڑی مُشکل سے قبرستان میں بھیجا گیا مگر اس نے دیکھا کہ وہاں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ لاٹھیاں وغیرہ لے کر جمع ہیں اور اُنہوں نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ فوت شُدہ احمدی کو کسی صورت میں بھی اس قبرستان میں دفن نہ ہونے دیں گے۔ ذمّہ دار حُکام کو توجّہ دلائی گئی مگر اُنہوں نے بھی اپنی بے بسی ظاہر کی۔ آخر دوسرے دن رات کے ساڑھے دس بجے ایک ایسی جگہ جو شہر سے بہت دُور تھی اور جو موسمِ برسات میں بالکل زیر آب رہتی تھی احمدیوں نے اپنی لاش دفن کی۔ 108
    (6) 12مارچ 1936ء کو بمبئی کے ایک احمدی دوست کا خورد سال بچہ فوت ہو گیا۔ جب اسے دفن کرنے کے لئے قبرستان لے گئے تو مخالفین نے جھگڑا شروع کر دیا اور کہا کہ ‘‘قبرستان سُنّی مسلمانوں کا ہے قادیانیوں کا نہیں ہے۔ یہاں قادیانی دفن نہیں ہو سکتے’’۔ احمدیوں نے انہیں یقین دلایا کہ ہم بھی مسلمان ہیں اور رسولِ کریم صلی اﷲعلیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں مگر اُنہوں نے پھر کہا کہ ‘‘ہم اس لاش کو یہاں دفن ہونے نہیں دیں گے کیونکہ قادیانی کافر ہیں’’۔ پولیس کے ذمّہ دار احکام نے جھگڑا بڑھتے دیکھا تو اُنہوں نے بمبئی میونسپلٹی کے توسط سے ایک الگ قطعہ زمین میں اسے دفن کرا دیا مگر میّت کو دفن کرنے کے لئے جو جگہ دی گئی وہ شہر سے بہت دور اور اچھوت اقوام کا مرگھٹ تھی۔ روزنامہ ‘‘ہلال’’ بمبئی نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ جب مسلمانوں نے یہ خبر سُنی کہ احمدی میّت اس قبرستان میں دفن نہیں کی جائے گی تو
    ‘‘اس اطلاع کے سُنتے ہی مسلمانوں نے اسلام زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ہر شخص مسرّت سے شادماں نظر آتا تھا’’۔ 109
    مولانا مودودی صاحب کو بھی یہ واقعہ٭پڑھ کر اپنے ساتھیوں سمیت اسلام زندہ باد کا نعرہ لگانا چاہئے۔
    اِسی طرح اس نے لکھا کہ:-
    ‘‘ہم مسلمان ہیں اسلام کی عظمت اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی حرمت پر مِٹ جانا ہمارا فرض ہے۔ ہم صاف الفاظ میں کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم زندہ ہیں اس وقت تک کوئی طاقت مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی میّت کو دفن نہیں کر سکتی’’۔ 110
    (7) 29اپریل 1939ء کو بٹالہ میں ایک احمدی لڑکی وفات پاگئی اس پر احرار نے ایک بہت بڑے مجمع کے ساتھ اس کی نعش کو اس خاندانی قبرستان میں بھی دفن کرنے سے انکار کر دیاجہاں کئی احمدی مدفون تھے اور چند احمدیوں کو ساری رات محاصرہ میں رکھا۔ حکام کو توجّہ دلائی گئی مگر اُنہوں نے کوئی کارروائی نہ کی۔ آخر نعش کو ایک اور قبرستان میں جو میونسپل کمیٹی کا تھا لے گئے مگر وہاں بھی ہزاروں لوگ جمع ہو کر مزاحم ہوئے۔ آخرمتواتر چوبیس گھنٹہ کی جدوجہد کے بعد ایک بیرونی نشیب جگہ میں اس نعش کو دفن کیا گیا۔111
    (8) 1942ء میں شیموگہ (ریاست میسور) میں ایک احمدی عبدالرزاق صاحب کی اہلیہ فوت ہو گئیں اور مسلمانوں نے میّت کو قبرستان میں دفن کرنے سے روک دیا۔ چنانچہ تین دن تک میّت پڑی رہی آخر حکومت کی طرف سے ایک علیحدہ جگہ میں لاش کو دفن کرنے کا انتظام کیا گیا۔ 112
    (9) اگست 1943ء میں ڈلہوزی میں ایک احمدی دوست خان صاحب عبدالمجید صاحب کی لڑکی کی وفات ہو گئی اس موقع پر بھی غیر احمدیوں نے اسے اپنے مقبرہ میں دفن کرنے
    سے روکا اور مقابلہ کیا۔ 113
    ٭یہ واقعہ الفضل جلد 23 نمبر 220 و نمبر 221 مورخہ 24،25مارچ 1936ء صفحہ3 و صفحہ1 نیز الفضل 10اپریل1936ء صفحہ 3 سے ماخوذ ہے۔
    (10) صوفی محمد رفیع صاحب ریٹائرڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سندھ کی بہو 20جولائی 1944ء کو جلال پور جٹاں ضلع گجرات میں وفات پاگئی۔ مخالفین نے اس کی تدفین میں مزاحمت شروع کر دی۔ 43 گھنٹوں کی مزاحمت کے بعد پولیس نے اپنی حفاظت میں نعش کو قبرستان میں دفن کر وایا مگر چند دنوں کے بعد 4،3اگست کی درمیانی رات مسلمانوں نے قبر کو اُکھاڑ ڈالا۔ نعش جس صندوق میں بند تھی اس کے اوپر کے تختوں کو توڑ ڈالا اور تابوت میں خشک ٹہنیاں اور کھجور کی ایک بوسیدہ چٹائی ڈال کر آگ لگا دی جس کے نتیجہ میں کفن اور میّت کے بعض اعضاء جل گئے۔ صبح کو جب مرحومہ کے شوہر کو اس بات کا علم ہؤا تو پھر پولیس کو اطلاع دی گئی اور 5اگست کو میّت دوبارہ دفن کی گئی۔ 114
    (11) 1946ء میں جماعت احمدیہ کے ایک معزز فرد مکرم قاسم علی خان صاحب قادیانی اپنے وطن رام پور میں وفات پا گئے۔ ان کے اعزّہ نے انہیں قبرستان میں دفن کر دیا مگر غیر احمدیوں نے ان کی نعش قبر سے نکال کر باہر پھینک دی اور کفن اُتار کر جسم کو عریاں کر دیا۔ پھر پولیس نے انہیں دوسری جگہ دفن کرنے کا انتظام کیا تو وہاں بھی یہی سلوک کیا گیا۔ اس واقعہ کے متعلق اخبار ‘‘زمیندار’’ میں جو حلفیہ رپورٹ شائع ہوئی وہ ذیل میں ملاحظہ ہو:
    محمد مظہر علی خان صاحب رامپوری اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:-
    ‘‘میرے مکان کے پیچھے جو کہ شاہ آباد گیٹ میں واقع ہے محلہ کا قبرستان تھا۔ صبح کو مجھے اطلاع ملی کہ قبرستان میں لا تعداد مخلوق جمع ہے اور قاسم علی کی لاش جو اس کے اعزّہ رات کے وقت چپکے سے مسلمانوں کے اس قبرستان میں دفن کر گئے تھے لوگوں نے باہر نکال پھینکی ہے۔ مَیں فوراً اس ہجوم میں جا داخل ہؤا اور بخدا جو کچھ مَیں نے دیکھا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ لاش اوندھی پڑی تھی، منہ کعبہ سے پھر کر مشرق کی طرف ہو گیا تھا، کفن اُتار پھینکنے کے باعث متوفی کے جسم کا ہرعضو عریاں تھا اور لوگ شور مچا رہے تھے کہ اس نجس لاش کو ہمارے قبرستان سے باہر پھینک دو۔ جائے وقوعہ پر مرحوم کے پسماندگان میں سے کوئی بھی پرسانِ حال نہ تھا۔ لفٹیننٹ کرنل محمد ضمیر کی خوشامدانہ التجا پر نواب صاحب نے فوج اور پولیس کو صورتِ حال پر قابو پانے کے لئے موقع پر بھیجا۔ کوتوال شہر خان عبدالرحمن خان اور سپرنٹنڈنٹ پولیس خان بہادر اکرام حسین نے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لاش دوبارہ دفن کرانے پر مجبور کیا لیکن اس جابرانہ حُکم کی خبر شہر کے ہر کونہ میں بجلی کی طرح پہنچ گئی اور غازیانِ اسلام مسلح ہو کر مذہب و دین کی حفاظت کے لئے جائے وقوعہ پر آگئے۔ حکومت چونکہ ایک مقتدر آدمی کی ذاتی عزت کی حفاظت کے لئے عوام کا قتل و غارت گوارا نہیں کر سکتی تھی اس لئے پولیس نے لاش کو کفن میں لپیٹ کر خفیہ طور پر شہر سے باہر بھنگیوں کے قبرستان میں دفنا دیا۔ چونکہ مسلمان بہت مشتعل اور مضطرب تھے اس لئے اُنہوں نے بھنگیوں کو اس بات کی اطلاع کر دی اور بھنگیوں نے بھی اس متعفن لاش کا وہی حشر کیا جو پہلے ہو چُکا تھا۔ پولیس نے یہاں بھی دست درازی کرنی چاہی لیکن بھنگیوں نے شہر بھر میں ہڑتال کر دینے کی دھمکی دی۔ بالآخر سپرنٹنڈنٹ پولیس اور کوتوال شہر کی بروقت مداخلت سے لاش کو دریائے کوسی کے ویران میدان میں دفن کر دینے کی ہدایات کی گئیں۔ سپاہی جو لاش کے تعفن اور بوجھ سے پریشان ہو چکے تھے کچھ دور تک لاش کو اُٹھا کر لے جاسکے اور شام ہو جانے کے باعث اسے دریائے کوسی کے کنارے صرف ریت کے نیچے چھپا کر واپس آگئے۔ دوسرے دن صبح کو شہر میں یہ خبر اُڑ گئی کہ قاسم علی کی لاش کو گیدڑوں نے باہر نکال کر گوشت کھا لیا ہے اور ڈھانچ باہر پڑا ہے۔ یہ سُن کر شہرکے ہزاروں لوگ اس منظر کو دیکھنے کے لئے جوق در جوق وہاں جمع ہوگئے۔ مَیں بھی موقع پر جا پہنچا لیکن میری آنکھیں اس آخری منظر کی تاب نہ لاسکیں اور مَیں ایک پھریری لے کر ایک شخص کی آڑ میں کھڑا ہو گیا۔ قاسم علی کی لاش کھلے میدان میں ریت پر پڑی تھی۔ اسے گیدڑوں نے باہر نکال لیا تھا اور وہ جسم کا گوشت مکمل طور پر نہیں کھا سکے تھے ..... مُنہ اور گھٹنوں پر گوشت ہنوز موجود تھا۔ باقی جسم سفید ہڈیوں کا ڈھانچ تھا۔ آنکھوں کی بجائے دھنسے ہوئے غار اور مُنہ پر ڈاڑھی کے اکثر بال ایک دردناک منظر پیش کر رہے تھے۔ آخر کار پولیس نے لاش کو مزدوروں سے اُٹھوا کر دریائے کوسی کے سپرد کر دیا اور اس طرح ایک امیر جماعت مرزائیہ کا انجام ہؤا’’۔ 115
    احمدی ان افعال کو ناجائز سمجھتے ہیں اور کبھی بھی اس بات پر مُصر نہیں ہیں کہ کسی ایک مقبرہ میں غیر احمدیوں کےساتھ دفن نہ ہوں یہ ‘‘اتحاد اور اتفاق کی روح’’ صرف دورِ حاضر کے غیر احمدی ‘‘علماء دین اور مفتیانِ شرعِ متین’’ میں ہی پائی جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک عامۃ المسلمین بھی اس روح سے خدا تعالیٰ کے فضل سے بچے ہوئے ہیں اور جہاں کہیں بھی اس قسم کے مظاہرے ہوئے ہیں مسلمانوں کی اکثریت نے اپنی شرافت کا ثبوت دیا ہے اور اس قسم کے کاموں پر *** اور نفرین کا اظہار کیا ہے۔
    غیر احمدیوں کو لڑکی دینے کی ممانعت
    (6-ج) یہ کہ احمدیوں نے غیراحمدیوں کو لڑکی دینا ناجائز
    قرار دے دیا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے لیکن یہ بات ضروری بھی ہے کیونکہ لڑکی اپنے خاوند کے تابع ہوتی ہے اور اکثر لوگ اپنا مذہب عورت پر زبردستی ٹھونسنا چاہتے ہیں۔ قرآن کریم نے بھی اگر بعض جگہ لڑکی دینے سے روکا ہے تو اسی حکمت سے روکا ہے۔ ورنہ یہ وجہ نہیں ہے کہ بعض عقائد میں اختلاف کی وجہ سے انسان پلید ہو جاتا ہے۔ اگر پلید اور گندگی اس کی وجہ ہوتی تو اسلام یہ کیوں اجازت دیتا کہ اہلِ کتاب کی لڑکیاں لے لینا جائز ہے۔اہلِ کتاب کی لڑکیاں لینے کی اجازت دینا اور لڑکیاں دینے سے روکنا صاف بتاتا ہے کہ یہاں مذہبی یا روحانی پلیدی اور گندگی باعث نہیں بلکہ صرف یہ باعث ہے کہ لڑکیاں چونکہ کمزور ہوتی ہیں ان پر ظلم نہ ہو اور یہ مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ احمدی لڑکیاں جب دوسرے گھروں میں گئی ہیں تو بعض جگہ وہ اتنے جاہل نکلے ہیں کہ اُنہوں نے لڑکیوں کو نماز اور قرآن پڑھنے سے بھی روکا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ ہم پر جادو کرتی اور ٹونے کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں لڑکی کو ان کے ساتھ بیاہ دینا اسے تباہ کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟
    پھر لڑکیاں دینے کا اختلاف مذہب کے ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتا۔ کیا خوجہ برادری کے لوگ غیروں کو اپنی لڑکیاں دے دیتے ہیں؟ کیا بوہرہ برادری کے لوگ غیروںکو اپنی لڑکیاں دے دیتے ہیں؟ ہمیں معلوم ہؤا ہے کہ حال ہی میں کراچی کی ایک نہایت واجب التکریم خاتون نے ایک مجلس میں کہا کہ ہماری قوم میں تو اتنی سختی ہے کہ اگر ہماری قوم کا کوئی فرد اپنی لڑکی دوسری قوم کے فرد کو دے دے تو لوگ مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں اور یہ کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں۔ قومی جتھہ بندیوں میں یہ باتیں عام ہو رہی ہیں۔ اگر عورتوں کی جان بچانے کے لئے اور ان کی آزادی کو خطرے سے محفوظ رکھنے کے لئے ایسے حکم دیئے جائیں تو یہ اختلاف اور افتراق کا موجب کس طرح ہو گئے؟ اس وقت ننانوے فیصدی جاٹ اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا، ننانوے فیصدی ارائیں اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا، ننانوے فیصدی راجپوت بلکہ شاید سو فیصدی راجپوت ہی اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا، اسی طرح سو فیصدی خوجہ اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا، سو فیصدی بوہرہ اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا اور ننانوے فیصدی میمن اپنی لڑکی غیر قوم کو نہیں دیتا۔ تو کیا یہ سب اختلاف اور افتراق پیدا کرتے ہیں اور کیا وہ اسی فتویٰ کے مستحق ہیں جو احمدیوں پر لگائے جاتے ہیں؟
    مولانا نے آگے چل کر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ زبانی فتوے تو الگ رہے احمدیوں نے اس پر عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ گویا ان کے نزدیک عمل کا مقام فتوے سے اونچا ہوتا ہے لیکن جب مسلمانوں کی ہر قوم اور ہر قبیلہ عملاً ایسا کر رہا ہے تو پھر اگر احمدیوں نے ایسا کر لیا تو اس پر کیا اعتراض ہے؟
    احمدیوں کو رشتے نہ دینے کا فتویٰ پہلے خود غیر احمدی علماء نے دیا
    پھر کیا مولانا یہ بھُول گئے ہیں کہ اس میں بھی ابتداء باصطلاح مودودی صاحب ‘‘علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین’’ نے
    کی ہے۔ اگرمولانا مودودی صاحب کو دوسروں کا لٹریچر پڑھنے کا موقع نہیں مِلا تو ہم ان کے علم کی زیادتی کے لئے ذیل میں چند حوالہ جات درج کرتے ہیں:-
    (1) مولوی عبداﷲ صاحب اور مولوی عبدالعزیز صاحب مشہور مفتیانِ لدھیانہ نے اپنے اشتہار مورخہ 29رمضان 91-1890ء میں یہ فتویٰ شائع کیا کہ:-
    ‘‘یہ شخص (یعنی بانی ٔ سلسلہ احمدیہ) مرتد ہے اور اہلِ اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ہے۔ اسی طرح جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں اور ان کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کر لے’’۔ 116
    یعنی احمدیوں کی بیویوں کو جبراً دوسری جگہ بیاہ دینا بھی عین ثواب ہے۔
    (2) قاضی عبیدا ﷲا بن صبغۃ اﷲ صاحب نے 1893ء میں فتویٰ دیا کہ:-
    ‘‘جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر و مرتد ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہوتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد کہ پیدا ہوتے ہیں وہ ولد الزنا ہوں گے’’۔ 117
    (3) مجموعہ کفریات مرزا غلام احمد قادیانی میں لکھا گیا کہ:-
    ‘‘اگر ایسے شخص کے نکاح میں مسلمان عورت ہو تو اس کا نکاح فسخ ہے اور اُس کی اولاد ولد الزنا ہے۔ اس کی عورتِ مُسلمہ کا دوسرے شخص کے ساتھ بِلا عدّت نکاح کرنا جائز ہے’’۔ 118
    (4) مولوی احمد اﷲ صاحب امرتسری نے فتویٰ دیا کہ:-
    ‘‘جو شخص ثابت ہو کہ واقعی وہ قادیانی کا مرید ہے اس سے رشتۂ مناکحت کا رکھنا ناجائز ہے’’۔ 119
    اِسی قسم کے بیسیوں فتوے بعد میں استنکاف المسلمین عن مخالطۃ المرزائیین، سیف الرحمن علی رأس الشیطان، القول الصحیح فی مکائد المسیح، مہر صداقت مصنفہ حاجی محمد اسمٰعیل صاحب لکھنوی، فتویٰ شرعیہ شائع کردہ دفتر الاسلام لاہور، صاعقہ ربّانی بر فتنہ قادیانی مصنفہ مولوی عبدالسمیع صاحب بدایونی، واقعات بھدروا شاہی جاگیر مصنفہ قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی اور متفقہ فتاویٰ علماء دیوبند بابت فرقۂ قادیانی وغیرہ میں بار بار شائع کئے گئے ہیں۔
    انہی فتوؤں کا یہ نتیجہ تھا کہ جماعت احمدیہ کے افراد مسجدوں سے نکالے گئے، ان کی عورتیں چھینی گئیں اور ان کے مُردے تجہیز و تکفین اور جنازہ کے بغیر گڑھوں میں دبائے گئے۔ چنانچہ ہم اس کے ثبوت میں ایک غیر احمدی عالم مولوی عبدالواحد صاحب خانپوری کا بیان پیش کرتے ہیں جو اُنہوں نے 1901ء میں شائع کیا۔ وہ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے اشتہار ‘‘الصلح خیر’’ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:-
    ‘‘مخفی نہ رہے کہ باعث اس صلح نامہ کا یہ ہے کہ جب طائفہ مرزائیہ امرتسر میں بہت خوار و ذلیل ہوئے۔ جمعہ و جماعت سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے اس میں سے بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں قیصری باغ میں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حکماً روکے گئے تو نہایت تنگ ہو کر مرزا قادیانی سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کریں تب مرزا نے ان کو کہا کہ صبر کرو مَیں لوگوں سے صلح کرتا ہوں۔ اگر صلح ہو گئی تو مسجد بنانے کی کچھ حاجت نہیں اور نیز اور بہت قسم کی ذلتیں اُٹھائیں۔ معاملہ و برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا، عورتیں منکوحہ و مخطوبہ بوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں، مردے ان کے بے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے وغیرہ وغیرہ۔ توکذّاب قادیانی نے یہ اشتہار مصالحت کا دیا’’۔ 120
    اِسی طرح لکھا:-
    ‘‘معاملہ و برتاؤ تم سے روکا گیا، عورتیں چھینی گئیں، مردے خراب و بے جنازہ پھینکے گئے، مال و آبرو کا نقصان، روپوؤں کی آمدنی میں خلل آگیا ..... نہ مسجدوں میں جاسکو نہ مجلسوں میں.....تو اب آگے تم کیا کر سکتے ہو’’۔ 121
    اب مولانا مودودی صاحب فرمائیں کہ ان فتوؤں اور ان پر متواتر تعامل کے بعد اگر احمدیوں نے بھی بالمقابل اپنی لڑکیوں کی جان اور عزت محفوظ کرنے کے لئے کوئی طریق اختیار کیا تو اس پر کیا اعتراض ہے؟ احمدیوں کا جو بھی فیصلہ اس بارہ میں ہے 1898ء اور اس کے بعد کا ہے اور مولانا مودودی صاحب کے ‘‘علماء دین و مفتیانِ شرعِ متین’’ کا فتویٰ 1892ء کا ہے ۔ مولانا فرمائیں کہ أَلْبَادِی أَظْلَمُ (جو ابتدا کرے وہ زیادہ ظالم ہوتا ہے) کا کلمۂ حکمت اپنے اندر کوئی معنے رکھتا ہے یا نہیں یا مولانا کے نزدیک کچھ جماعتیں تو ایسی ہوتی ہیں کہ وہ جو بد سلوکی بھی کریں جائز ہے اور کچھ جماعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ جواب میں بھی زبان کھولنے کا حق نہیں رکھتیں۔ اگر ان کے نزدیک اسلام کی یہ تعریف ہے تو دُنیا کے سامنے اس تعریف کا اعلان تو کر دیکھیں پھر دیکھیں کہ مسلمانوں میں سے ہی تعلیم یافتہ طبقہ ان کی اس رائے کے متعلق کیا خیال ظاہر کرتا ہے۔
    کیا غیر احمدی علماء کے فتوے صرف زبان تک محدود رہے تھے؟
    (7) اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں کہ احمدیوں کا یہ فتویٰ صرف زبان تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ عملاً بھی
    اُنہوں نے ایسا ہی کیاہے۔مولانا کی خدمت میں ہم عرض کرتے ہیں کہ احمدیوں کا ہی یہ فتویٰ زبان تک نہیں رہا بلکہ اس سے دس سال پہلے کے دیئے ہوئے فتوے ‘‘علماء دین و مفتیانِ شرعِ متین’’ کے بھی زبان تک محدود نہیں رہے بلکہ عملاً احمدیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، ان کو لڑکیاں دینے سے روکا گیا، ان کی لڑکیاں لینے سے روکا گیا، ان کو قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت دینے سے روکا گیا۔
    اب مولانا مودودی صاحب کے دلائل میں صرف ایک ہی طاقت رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ ہم زیادہ ہیں ہمیں سب کچھ کرنے کا حق ہے، تم تھوڑے ہو تمہیں احتجاج کرنے کا بھی حق نہیں۔ اس دلیل کا جواب احمدی جماعت کے پاس کوئی نہیں سوائے اس کے کہ اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں میں سے اکثریت نے اس ظلم کو ناپسند کیا ہے اور اُنہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کی تعلیم کی جلائی ہوئی چنگاری اب تک مسلمان کے دل میں کبھی کبھی شعلہ بار ہو جاتی ہے، کبھی کبھی وہ اپنا وجود ظاہر کر دیا کرتی ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو نہ معلوم مولانا مودودی صاحب کے ‘‘علماء دین و مفتیانِ شرعِ متین’’ احمدیوں کوزندہ دیواروں میں گاڑ کے مار دیتے اور اس پر احتجاج کرنے والوں کی زبان ان کی گُدّی سے نکال کر پھینک دیتے۔
    حفاظتِ دین تلوار کے ساتھ نہیں بلکہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ہؤا کرتی ہے
    (8) اس کے بعد مولانا لکھتے ہیں اگر مسلمانوں سے ان احمدیوں کو الگ کر دیا جائے تو
    پھر دوسروں کو یہ ہمّت نہیں ہو گی کہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں اور مسلمانوں میں افتراق پیدا کریں۔ 122
    مولانا ! بازی بازی باریش بابا ہم بازی۔ آپ سمجھتے نہیں کہ آپ کی یہ بات کس طرح صحابہ ؓ اور رسولِ کریم صلی اﷲعلیہ وسلم پر چوٹ کرتی ہے۔ اگر یہی دلیل مکّہ کے لوگ دیتے بلکہ حق تو یہ ہے کہ وہ دیا کرتے تھے تو کیا ان کے وہ مظالم جن کو سُن کر اور جن کو پڑھ کر ایک شریف ہندو اور ایک شریف عیسائی کا دل بھی دہل جاتا ہے وہ جائزاور درست نہیں ہو جائیں گے؟ مولانا دنیا میں حفاظتِ دین تلوار کے ساتھ نہیں ہؤا کرتی۔ حفاظتِ دین تعلیم اور تربیت کے ساتھ ہؤا کرتی ہے۔ جب تک اسلام دلوں میں زندہ ہے دس ہزار نبوت کا جھوٹا مُدعی بھی اس ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتا اور جب تک سچائی کا اعلان کرنے والے لوگ دُنیا میں موجود ہیں کوئی تلوار، کوئی بندوق، کوئی خنجر اور کوئی شعلۂ نار سچائی کا اظہار کرنے والوں کی زبان بندی نہیں کر سکتا۔ سچ ماریں کھا کربھی اُٹھے گا اور سچائی کا اعلان کرنے والے قتل ہوتے ہوئے بھی اپنی بات کو دُہراتے چلے جائیں گے اور جھوٹے مُدعیانِ نبوت خواہ کتنے بھی طاقتور ہوں اور خواہ ان کے مقابلہ میں کوئی تلوار بھی نہ اُٹھے اور کوئی مقابلہ بھی نہ ہو وہ ناکام رہیں گے اور نامراد مَریں گے۔
    مولانا غالباً اپنے لٹریچر کے علاوہ دوسری کتابوں کا مطالعہ کرنے سے بچتے رہتے ہیں۔ اگر وہ قرآن کریم کو پڑھتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ حضرت موسیٰ ؑجب فرعون کے پاس گئے اور فرعون نے ان پر ظلم کرنا چاہا تو فرعون کے ایک درباری نے اس کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہاِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ۔123 اے میری قوم! اگر موسیٰ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسے تباہ کر دے گا اور اگر وہ سچا ہے تواس کی پیشگوئیوں کا ایک حصّہ تمہارے حق میں پورا ہو کر رہے گا۔ اﷲ تعالیٰ کبھی بھی حد سے بڑھنے والے اور جھوٹے کو کامیاب نہیں کرتا۔ پس تم موسیٰ کو کیوں قتل کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ اس آیت میں کتنی زبردست سچائی کو بیان کیا گیا ہے کہ دین خدا کی طرف سے آتا ہے۔ دین سیاست نہیں جس کے لئے خدا کی مدد کاسوال پیدا نہ ہو۔ دین خدا کا رستہ ہے جس کی حفاظت خدا تعالیٰ خود کرتا ہے۔ جھوٹے نبیوں کی طاقت کیا ہے کہ وہ سچ کو مِٹا سکیں۔ خدا کی تلوار جھوٹے نبیوں کو مارتی ہے ۔ کیا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ نہیں کہا کہ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلۙ۔لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِۙ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ۔124 یعنی اگر یہ شخص ہم پر کوئی افتراء کرتا اور کوئی بات ہماری طرف منسوب کردیتا جو ہم نے نہیں کہی تو ہم اس کا دایاں بازو پکڑ لیتے اور اس کی رگِ جان کاٹ دیتے۔
    مولانا جھوٹے نبی کی رگِ جان کاٹنے کے لئے خدا آپ تیار رہتا ہے آپ کی تلوار کی وہاں ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ کی تلوار تو اسلام کی سچائیوں کو مُشتبہ کر دیتی ہے اور وہ غیرمسلموں کو اسلام کی طرف لانے سے روکتی ہے کیونکہ وہ اسلام کو ایک خونریزی کا مذہب سمجھنے لگتے ہیں اور اس کی صلح اور آشتی کی تعلیم آپ کے تیار کردہ غلافوں میں چھپ جاتی ہے۔ کاش آپ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور اسلام کی صداقت اور اس کی خوبیوں کو روشن اور اُجاگر ہونے دیتے۔
    غیر احمدی علماء کا باہم مل کر اسلامی دستور کے اصول مرتّب کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہیں
    (9) پھر مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ بے شک دوسرے مسلمان بھی کُفر بازی کے مرض میں مُبتلا ہیں لیکن اس دلیل کی وجہ سے احمدیوں کو کافر قرار دینے سے رُکنا جائز نہیں کیونکہ اگر ذرا ذرا سے اختلاف پر تکفیر کر دینا غلط ہے تو دین کی بنیادی حقیقتوں سے کھلے کھلے انحراف پر تکفیر نہ کرنا بھی سخت غلطی ہے اور اس کی مزید دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ جب علماء اسلام نے بالاتفاق اسلامی دستور کے اصول مرتّب کئے تو ظاہر ہے کہ اُنہوں نے ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہوئے ہی یہ کام کیا۔125
    مولانا مودودی صاحب کی یہ دلیل ہر گز معقول نہیں۔ یہ دلیل تبھی معقول ہو سکتی تھی جب یہ کہا جاتا کہ کُفر کے فتوے دینے والے علماء اوّل درجہ کے جاہل، بے ایمان اور بددیانت تھے۔ اس وجہ سے اب ان کی اولاد ان کی اتباع کرنے کے لئے تیار نہیں اور وہ ان کے فتوؤں کے باوجود آپس میں مِل کر بیٹھنے کے لئے تیار رہے۔ جب دیو بندیوں کے بزرگوں نے بریلویوں پر کُفر صریح کا فتویٰ دیا ہؤا ہے، جب بریلویوں نے دیوبندیوں اور اہلحدیث پر کُفر صریح کا فتویٰ دیا ہؤا ہے، جب اہلحدیث نے اہلسنت پر کُفرِ صریح کا فتویٰ دیا ہؤا ہے، جب اہلسنت نے اہلحدیث پر کفر صریح کا فتویٰ دیا ہؤا ہے، جب شیعوں نے سُنّیوں پر اور سُنّیوں نے شیعوں پر کُفرِ صریح کا فتویٰ دیا ہؤا ہے اور جب اسلامی جماعت والوں نے دوسرے فرقوں پر اور دوسرے فرقوں نے اسلامی جماعت پر کُفرِ صریح کا فتویٰ دیا ہؤا ہے تو ان فتوؤں کے بعد فتویٰ دینے والے لوگوں کایا ان کے شاگردوں کا مل بیٹھنا ان کی مداہنت اور بے ایمانی کی دلیل تو ہو سکتا ہے اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ ان کے نزدیک دوسرے فریق مسلمان ہیں اور یا پھر اسلام کی کوئی ایسی تعریف کرنی پڑے گی جو باوجود کُفر کے فتوؤں کے بھی ایک کافر کو دائرۂ اسلام سے باہر نہیں نکالتی اور جب آپ وہ تعریف کریں گے تو جس طرح سُنّی اور شیعہ اور خارجی اور اہلحدیث اور دیوبندی اور بریلوی اسلام میں شامل ہو جائے گا احمدی بھی اسلام میں شامل ہو جائے گا۔
    جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی سے مولانا مودودی کو خوف
    (10) آگے چل کر مولانا لکھتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ احمدیوں کے علاوہ اور گروہ بھی مسلمانوں میں ایسے ہیں جو کانفرنس والے
    مسلمانوں سے گہرا اختلاف رکھتے ہیں۔ ان سے کیوں یہی معاملہ نہیں کیا جاتا؟ آپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ بے شک ‘‘مسلمانوں میں قادیانیوں کے علاوہ بعض اَور گروہ بھی ایسے موجود ہیں جو اسلام کی بنیادی حقیقتوں میں مسلمانوں سے اختلاف رکھتے ہیں اور مذہبی و معاشرتی تعلقات منقطع کر کے اپنی جُداگانہ تنظیم کر چکے ہیں لیکن چند وجوہ ایسے ہیں جن کی بناء پر ان کا معاملہ قادیانیوں سے بالکل مختلف ہے۔ وہ مسلمانوں سے کٹ کر بس الگ تھلگ ہو بیٹھے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے چند چھوٹی چھوٹی چٹانیں ہوں جو سرحد پر پڑی ہوئی ہوں اس لئے ان کے وجود پر صبر کیا جاسکتا ہے لیکن قادیانی مسلمانوں کے اندر مسلمان بن کر گھستے ہیں، اسلام کے نام سے اپنے مسلک کی اشاعت کرتے ہیں، مناظر بازی اور جارحانہ تبلیغ کرتے پھرتے ہیں ..... جس کی وجہ سے ان کے معاملہ میں ہمارے لئے وہ صبر ممکن نہیں ہے جو دوسرے گروہوں کے معاملہ میں کیا جاسکتا ہے ..... اس پر مزید یہ کہ قادیانیوں کی جتھہ بندی، سرکاری دفتروں میں، تجارت میں، صنعت میں، زراعت میں غرض زندگی کے ہر میدان میں مسلمانوں کے خلاف نبردآزما ہے’’۔126
    کہتے ہیں ‘‘جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے’’۔ مولانا مانتے ہیں کہ جہاں تک خدا اور رسول اور قرآن کا سوال ہے احمدیوں کی طرح اور فرقے بھی ہیں جو مسلمانوں سے ان اصول میں مختلف عقائد رکھتے ہیں اور عملاً مسلمانوں سے منقطع ہو جانے کے معاملہ میں بھی وہ ایسے ہی ہیں جیسے احمدی لیکن پھر بھی ان کے ساتھ احمدیوں والا معاملہ کرنے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ وہ تبلیغ نہیں کرتے۔ یعنی جو مسلمان مودودی صاحب نے تیار کئے ہیں وہ اتنے کمزور ہیں کہ کوئی شخص ان میں تبلیغ کرے گا تو ان کا ایمان خراب ہو جائے گا۔ مودودی اسلام کو اس حملہ آور شیر کا درجہ حاصل نہیں ہے جو کہ دُشمنوں کی صفوں میں سے چھین کر اپنا شکار لایا کرتا ہے بلکہ مودودی اسلام ایک محصور شُدہ اور شکست یافتہ فوج ہے کہ جو چاہے اس کے ایمان کو بگاڑلے اور جو چاہے اس کے دین کو خراب کر لے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کو اس کے پاس نہ آنے دیا جائے جو تبلیغ کرتے ہیں۔ مولانا مودودی کو اسلام پر کتنا پُختہ ایمان حاصل ہے؟ مولانا مودودی کو مسلمان پر کتنی حُسنِ ظنّی ہے! اور مسلمان اگر اس کی آنکھیں کھلی ہوں اگر وہ صداقت اسلام معلوم کرنے کے لئے تیار ہو جائے تو ان نیک خیالات کو سُن کر کتنا خوش ہو گا اور مولانا مودودی کی خیر خواہی کی کتنی تعریف کرے گا اور باقی دُنیا یہ سُن کر کہ سب مُلکوں اور سب قوموں میں مسلمانوں کو تبلیغ کرنے کی اجازت ہے لیکن مسلمانوں میں کسی غیر قوم کو تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں کس قدر اسلام کے دلدادہ ہوں گے اور کس قدر اسلام کی محبت ان کے دلوں میں پیدا ہو جائے گی!!!
    مولانا! مسلمان کہلانے میں تو احمدی بھی شریک ہیں اور آپ بھی شریک ہیں ۔ اگر مسلمان کہلانے کی وجہ سے احمدیوں کی تبلیغ آپ کی جماعت پر مؤثر ہو جاتی ہے تو آپ کی تبلیغ احمدیوں پر کیوں مؤثر نہیں ہوتی۔ کبھی احمدیوں نے بھی شکایت کی ہے کہ آپ احمدیوں میں کیوں تبلیغ کرتے ہیں؟ آپ کا دعویٰ ہے کہ ایک ایک احمدی کے مقابلہ میں ہزار ہزار غیر احمدی ہیں۔ اگر ہزار ہزار غیر احمدی ایک ایک احمدی کو تبلیغ کرنے نکلے تو نتیجہ ظاہر ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ منٹوں میں اس کو خاموش کر لیں گے اور اسے حق کی طرح کھینچ لیں گے مگر باوجود اس کے کہ روپیہ آپ کے پاس ہے، جتھہ آپ کے پاس ہے، طاقت آپ کے پاس ہے، علماء آپ کے پاس ہیں پھر بھی آپ لرزہ براندام ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ احمدی ہم میں تبلیغ کریں گے تو کیا ہو جائے گا۔اگر آپ میں جرأت ہوتی تو آپ کہتے آئیں اور احمدی ہمیں تبلیغ کریں۔ کبھی آپ نے وہ واقعہ نہیں سُنا جو موجودہ امام جماعت احمدیہ کے ساتھ قادیان میں پیش آیا تھا۔ ایک دفعہ ہر دوار سے آریوں کے مذہبی کالج کے کچھ پروفیسر طالب علموں کے ساتھ قادیان آئے اور اُنہوں نے اسلام کے خلاف تقریریں کرنی شروع کر دیں۔ اُنہوں نے اپنے زعم میں امام جماعت احمدیہ کو شرمندہ کرنے کے لئے اپنے کچھ شاگردوں کو سوالات سکھا کر ان سے ملنے کے لئے بھیجا۔ اُنہوں نے آکر درخواست کی کہ ہم امام جماعت احمدیہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ امام جماعت احمدیہ نے مسجد میں ان کو بُلوالیا اور ان سے ملاقات کی۔ لڑکوں نے سکھلائے ہوئے سولات پیش کرنے شروع کر دیئے۔ امام جماعت احمدیہ نے جواب دیا کہ تم دس گیارہ لڑکے ہو ہر ایک کے دل میں نہ معلوم کتنے کتنے سوالات اسلام کے خلاف بھرے ہوئے ہوں گے۔ آخر مَیں محدود وقت دے سکتا ہوں۔ تمہارا اصرار یہ ہے کہ میرے ہی مُنہ سے جواب سُنو کسی دوسرے احمدی عالم کے مُنہ سے جواب سُننے کے لئے تم تیار نہیں اور مَیں اوّل تو دنوں اور ہفتوں بیٹھ کر تمہارے ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتا۔ دوسرے مَیں جو بھی جواب دوں گا اگر وہ حقیقی جواب ہو گا اور قرآن کریم میں سے ہو گا تو تمہارے دل میں شُبہ ہو گا کہ معلوم نہیں قرآن میں یہ بات لکھی ہے یا نہیں لکھی کیونکہ تم عربی نہیں جانتے اور اگر مَیں الزامی جواب دوں گا اور وہ ویدوں سے ہو گا یا دوسری ہندو کُتب سے ہو گا تو تم فوراً کہو گے کہ آپ تو سنسکرت جانتے ہی نہیں، آپ کیا جانتے ہیں کہ ہماری کتابوں میں کیا لکھا ہے؟ پس کوئی ایسا ذریعہ ہمارے درمیان مشترک نہیں جس کے ساتھ اس جھگڑے کا تصفیہ کیا جاسکے۔ اس لئے میں تمہیں ایک آسان راہ بتاتا ہوں۔ تم اپنے اساتذہ سے جاکر کہو کہ وہ چار لڑکے جو مَیں اُنہیں دوں اُنہیں اپنے ساتھ لے جائیں اور دو تین سال رکھ کر اُنہیں وید پڑھائیں اور جو اعتراضات ان کے دل میں قرآن کے متعلق ہیں وہ ان کے کانوں میں ڈالیں۔ ان لڑکوں کا خرچ زمانۂ تعلیم سے آخر تک مَیں ادا کروں گا اگر اس عرصۂ تعلیم میں سنسکرت پڑھ لینے اور ویدوں کا مطالعہ کر لینے کے بعد وہ لڑکے ہندو مذہب کی فوقیت اور اسلام کی کمزوری کے قائل ہو جائیں گے تو چار مبلغ ہندوؤں کو میرے خرچ سے تیار شُدہ مِل جائیں گے اور اگر وہ واپس میرے پاس آجائیں گے تو آئندہ مجھ سے کوئی سوال کرے گا تو مَیں ایسے لوگوں کو پیش کر سکوں گا جو ہندو لٹریچر خود پڑھ سکیں۔ اسی طرح چار لڑکے خود منتخب کر کے وہ پروفیسر میرے پاس بھیج دیں مَیں اُنہیں عربی زبان اور قرآن پڑھاؤں گا اور اسلام کی خوبیاں اُن کو بتاؤں گا اور جتنی دیر وہ یہاں تعلیم حاصل کریں گے ان کی تعلیم کا خرچ مَیں دوں گا اور کبھی ان سے یہ نہیں کہوں گا کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ جب وہ تعلیم سے فارغ ہو جائیں اور خود محسوس کریں کہ اسلام سچّا ہے تو بے شک اپنی مرضی سے مسلمان ہو جائیں اور اگر ان پر اسلام کی صداقت واضح نہ ہو تو میرے خرچ پر قرآن سے واقف ہو کر وہ ہندوؤں کے مبلّغ بن جائیں گے اور اسلام کے خلاف محاذ قائم کریں گے۔ غرض دونوںطرف کا خرچ مَیں دوں گا اور کوئی بوجھ ہندو قوم پر نہیں پڑے گا۔ امام جماعت احمدیہ کی اس بات کو سُن کر وہ لڑکے کچھ جھجک سے گئے اور اُنہوں نے سوال کرنے بند کر دیئے اورتھوڑی دیر کے بعد اُٹھ کر چلے گئے۔ کوئی مہینہ دو مہینے گزرے تھے کہ ایک ہندو نوجوان قادیان میں آیا اور امام جماعت احمدیہ سے مِل کر اُس نے کہا کہ آپ کو یاد ہے کہ کچھ لڑکے اس قسم کے آپ کے پاس آئے تھے اور آپ نے ان سے یہ یہ باتیں کی تھیں۔ آپ نے کہا ہاں مجھے خوب یاد ہے۔ اس نے کہا مَیں اُن لڑکوں میں سے ایک ہوں۔ ہمارے اساتذہ نے اس بات کی پرواہ نہیں کی اور مَیں سمجھتا ہوں کہ وہ ڈر گئے مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ بات معقول ہے۔ مَیں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ مجھے اپنے خرچ پر قرآن اور عربی پڑھائیں مگر کبھی مجھے مسلمان ہونے کے لئے نہ کہیں۔ تعلیم کے بعد مَیں آپ فیصلہ کر لوں گا کہ مجھے مسلمان ہونا چاہئے یا نہیں۔ آپ نے اس شرط کو منظور کیا اور اس نوجوان کو اسلام کی تعلیم دلوائی۔ وہ گوروکل کانگڑی کا جو ہندوستان کا بہترین ہندوسنسکرت کالج ہے طالب علم تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد جب اُس نے قرآن کریم کو خود اپنی آنکھوں سے پڑھا اور خود اس کا مطلب سمجھنے کے قابل ہؤا تو ایک دن خود آکر خواہش کی کہ مَیں مسلمان ہونا چاہتا ہوں اور مسلمان ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے مولوی فاضل پاس کیا اور اب وہ اسلام کا ایک مبلغ ہے اور اسلام کی تائید میں کتابیں لکھتا ہے۔
    مولانا!یہ سچ کی طاقت ہوتی ہے۔ راستبازوں کے یہ حوصلے ہوتے ہیں جس کا نمونہ امام جماعت احمدیہ نے دکھایا۔ آپ اگر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ آپ سمجھتے ہیں وہ سچ ہے تو دوسرے مسلمان فرقوں کو اس سے واقف کیجئے اور احمدیوں میں تبلیغ کیجئے۔ پھر اگر دوسرے مسلمان آپ کی باتوں کو سچّا سمجھیں گے تو وہ اپنے فرقہ کو چھوڑ کر آپ میں آملیں گے۔ یہی طریق ہے جو سب نبیوں نے اختیار کیا اور اسی طریق سے دُنیا میں سچّائی قائم ہوتی رہی ہے۔ ڈنڈوں اور تلواروں نے نہ کبھی پہلے سچ کی مدد کی ہے اور نہ آئندہ کر سکیں گے۔
    مولانا! آپ نے تو اپنے اس بیان میں حقیقت کا بھانڈا ہی پھوڑ دیا۔ آپ کے اس بیان کا مطلب تو یہ ہے کہ خدا کے بارہ میں کوئی اختلاف کرے پروا نہیں، محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بارہ میں کوئی اختلاف کرے پروا نہیں، قرآن کے بارہ میں کوئی اختلاف کرے پروا نہیں۔ ایسے مسلمان فرقے بے شک موجود ہیں جو ان باتوں میں ہم سے احمدیوں کی طرح اختلاف کرتے ہیں۔پھر معمولی اختلاف نہیں ‘‘بنیادی حقیقتوں’’ میں اختلاف کرتے ہیں اور معاشرتی تعلقات ہم سے منقطع کر رہے ہیں لیکن ہم کو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کیا، ہم کو قرآن سے کیا، ہم کو اسلام سے کیا۔ وہ خدا اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہماری جماعت کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے کیونکہ وہ تبلیغ نہیں کرتے۔ پس جب مودودی جماعت ان کے فتنہ سے محفوظ ہے تو خدا اور اس کا رسول جائیں اور اپنی حفاظت آپ کریں ہم کو تو احمدیوں سے غرض ہے کہ وہ مودودی اور دیوبندی بھیڑوں میں سے کچھ نہ کچھ بھیڑیں اُٹھا کر ہر سال لے جاتے ہیں۔
    جماعت احمدیہ کے متعلق مخالفین کی کِذب بیانیاں
    پھرمولانا فرماتے ہیں کہقادیانیوں
    کی وجہ سے تو سرکاری دفاتر میں، تجارت میں،صنعت میں، زراعت میں غرض زندگی کے ہر میدان میں مسلمانوں کے ساتھ لڑائی ہو جاتی ہے۔
    مولانا! یہ لڑائی کون کرتا ہے؟ یہ جھوٹ کب تک بولا جائے گا کہ سرکاری دفاتر پر احمدی قابض ہیں۔ کسی ایک محکمہ کے اعدادوشمار تو پیش کیجئے کہ اس میں کل ملازم اتنے ہیں اور احمدی اتنے ہیں۔ کب تک یہ جھوٹ بولا جائے گا کہ فوج میں پچاس فیصدی احمدی ہیں، اعداد و شمار کے ساتھ ہی لوگوں کو پتہ لگ سکتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے یا سچ اور پھر تجارت اور زراعت اور صنعت میں احمدی ہیں کتنے؟ پچاس ہزار کے قریب پاکستان میں تاجر ہو گا مگر ان میں سے بمشکل ڈیڑھ دو سو احمدی ہو گا اور زراعت میں تو آدمی اپنے ماں باپ کا ورثہ لیتا ہے۔ اس میں کسی احمدی نے کسی کا بگاڑ کیا لینا ہے۔ کوئی احمدی اگر اپنے ماں باپ کی زمین لے لیتا ہے تو اس میں دوسرے مسلمانوں سے لڑائی کا کیا سوال ہے۔ غیراحمدی بھی تو اپنے ماں باپ کا ورثہ لیتے ہیں۔ صنعتی کارخانے شاید احمدیوں کے پاس ہزار میں سے ایک ہو گا۔ پھر اس سے کیا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ محض ایک غلط بات کو دُہراتے جانے سے تو وہ سچی نہیں بن جاتی۔ اعدادو شمار پیش کیجئے۔ دُنیا خود فیصلہ کر لے گی کہ حقیقت کیا ہے اور خدا گواہ ہے کہ آپ کبھی اپنے دعویٰ کی تائید میں اعداد و شمار پیش نہیں کر سکیں گے کیونکہ آپ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں اور قیامت تک اپنی بات کو ثابت نہیں کر سکیں گے خواہ فیصلہ کرنے والے آپ کے ہم مذہب جج ہی کیوں نہ ہوں۔ آپ کے ساتھیوں کا تو یہ حال ہے کہ ائرکموڈور جنجوعہ کے متعلق بھی اُنہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہوائی جہازوں کے یہ افسرِ اعلیٰ احمدی ہیں۔ 127
    حالانکہ جنجوعہ کبھی احمدیت کے قریب بھی نہیں گیا۔ اس طرح جہاں کوئی شخص احمدیت کی تائید میں کچھ کہہ بیٹھتا ہے آپ لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ اصل میں یہ احمدی ہے۔ حالانکہ احمدیت سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ ظلم کے خلاف احتجاج کرتا ہے اور آپ کی طاقت صرف یہ ہوتی ہے کہ آپ جھوٹ بولنے سے ڈرتے نہیں۔
    چودھری محمد ظفراﷲ خان صاحب کو نہ ہٹا کر ہمارے مدبرین عقلمندی کا ثبوت دے رہے ہیں یا کوڑمغزی کا
    پھر مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ چودھری محمد ظفراﷲ خان صاحب کو وزارتِ خارجہ سے نہ ہٹانے کی حکومت پاکستان یہ دلیل
    دیتی ہے کہ اس کے توسّط سے ہی چونکہ ہم غیر مُلکوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اس لئے ہم اس کو نہیں ہٹا سکتے اور مودودی صاحب اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امریکہ اور انگلستان کے مدبرین ہمارے مدبرین کی طرح کوڑ مغز نہیں ہیں کہ وہ ایک شخص کے ہٹنے پر مُلک بھر سے رُوٹھ جائیں۔128
    مولانا اِس بات کو بھُول جاتے ہیں کہ چودھری محمد ظفراﷲ خان صاحب کو ہٹانے کے لئے کیوں زور دیا جاتا ہے۔ مخالفت یا تو مذہبی ہے یا عُہدوں کے حصول کے لئے ہے لیکن کہا یہ جاتا ہے کہ چونکہ ظفراﷲ خاں احمدی ہے اور احمدی انگریزوں اور امریکنوں کی تائید کرتے ہیں اس لئے ان کو ہٹایا جائے۔ یہ اعتراض تو جھوٹا ہے اور مولانا مودودی اور ان کے ساتھیوں کی ایجاد ہے لیکن بہرحال امریکن اور انگریز نمائندے اس مُلک میں موجود ہیں اور ہمارے اخباروں کے خلاصے ضرور ان کے سامنے پیش ہوتے رہتے ہوں گے اور وہ ان خلاصوں کو اپنی حکومتوں کی طرف بھجواتے بھی رہتے ہوں گے۔ مولانا سمجھ لیں کہ امریکہ اور انگلستان کے مدبرین بیشک کوڑ مغز نہیں ہیں کہ وہ ایک شخص کے ہٹنے پر مُلک بھر سے روٹھ جائیں مگر وہ اتنے بیوقوف بھی نہیں ہیں کہ جب ایک حکومت کسی شخص کو اس لئے ہٹائے کہ وہ امریکہ اور انگلستان کے ساتھ نیک تعلقات کی خواہش رکھتا ہے تو پھر بھی وہ اس مُلک کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھیں۔ پس پاکستان کی حکومت اس بات سے خائف نہیں کہ ظفراﷲ خاں کے ہٹانے کی وجہ سے امریکہ اور انگلستان مخالف ہو جائیں گے۔ وہ اس بات سے خائف ہے کہ ظفراﷲ خاں کو جب اس وجہ سے ہٹایا جائے گا کہ وہ انگلستان اور امریکہ سے بِلا وجہ الجھنے کا قائل نہیں اور غیرمسلموں سے بھی نیک سلوک قائم رکھنا چاہتا ہے تو اس کے ہٹانے سے لازماً انگلستان اور امریکہ کے لوگ اور وہاں کی حکومتیں یہ سمجھیں گی کہ پاکستان کے عوام الناس اور پاکستان کی حکومت کسی ایسے شخص کو برسرِ اقتدار نہیں آنے دیں گے جو کہ انگلستان اور امریکہ سے صلح رکھنے کی تائید میں ہو یا غیر مذاہب والوں سے صلح رکھنا چاہتا ہو۔ مولانا! بتائیے یہ کوڑ مغزی ہو گی یا عقلمندی اور آپ کے اس شور و شر کے نتیجہ میں ظفراﷲ خاں کو نہ ہٹا کر ہمارے مدبرین عقلمندی کا ثبوت دے رہے ہیں یا کوڑ مغزی کا ثبوت دے رہے ہیں۔
    جماعت احمدیہ کی تبلیغِ اسلام مولانا مودودی کی نگاہ میں
    (12) پھر مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ احمدی تو تبلیغ اسلام کرتے ہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں
    چاہئے۔ اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ ان کی تبلیغ تبلیغ نہیں تھی بلکہ انگریزوں کو خوش کرنے کا ایک طریق تھا اور اس کی دلیل میں اُنہوں نے بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کا یہ حوالہ تبلیغِ رسالت سے پیش کیا ہے کہ:-
    ‘‘جیسے جیسے میرے مُرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لیناہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے’’۔ 129
    دوسری دلیل اُنہوں نے ایک اٹیلین انجینئر کی کتاب سے پیش کی ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اس لئے ان کو شہید کیا گیا۔
    تیسری دلیل کے طور پر اُنہوں نے ‘‘الفضل’’ کا ایک حوالہ پیش کیا ہے جس میں ‘‘امان افغان’’ 3مارچ 1925ء کی عبارت درج کی گئی ہے اور وہ بقول مودودی صاحب کے یہ ہے:-
    ‘‘افغانستان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے۔ کابل کے دو اشخاص ملّا عبدالحلیم چہار آسیانی و ملّا نور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے ..... ان کے خلاف مُدّت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چُکا تھا اور مملکتِ افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر مُلکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دُشمنوں کے ہاتھ بِک چکے تھے’’۔ 130
    چوتھی دلیل کے طور پر اُنہوں نے میاں محمد امین صاحب قادیانی مبلّغ کا ایک حوالہ پیش کیا ہے کہ چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اس لئے میں روس میں جہاں تبلیغ کرتا تھا وہاں گورنمنٹ انگریزی کی خدمت گزاری بھی مجھے کرنی پڑتی تھی۔ 131
    پانچویں دلیل کے طور پر اُنہوں نے ‘‘الفضل’’ کا ایک اَور حوالہ دیا ہے جس میں یہ درج ہے کہ ایک جرمن وزیر نے جب احمدیہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں شمولیت کی تو وہاں کی گورنمنٹ نے اس سے باز پُر س کی کہ احمدی تو انگریزوں کے ایجنٹ ہیں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں کیوں شامل ہوئے ہو۔ 132
    مسئلہ جہاد کے متعلق جماعت احمدیہ کا مسلک
    (12-الف) مودودی صاحب کے پہلے حوالہ
    سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ بانی ٔسلسلہ احمدیہ نے یہ لکھا کہ:-
    ‘‘جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے چلے جائیں گے’’۔
    مولانا مودودی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس جگہ جہاد کے وہ معنے نہیں ہیں جو قرآن کریم کی آیات اور رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ملفوظات سے ثابت ہیں۔ اس جگہ پر جہاد سے مُراد وہ غلط عقیدہ ہے جو کہ آجکل کے مسلمانوں میں پھیل گیا ہے۔ ورنہ جہاد کا مسئلہ قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور حدیث سے بھی ثابت ہے اور کوئی احمدی اس کا مُنکر نہیں ہو سکتا اور نہ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ اس کے مُنکر تھے۔ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے ہمیشہ ہی جہاد کی اس تعریف کی تائید کی ہے جو قرآن اور حدیث سے ثابت ہے یعنی اگر کوئی قوم اسلام کے مٹانے کے لئے مسلمانوں پر حملے کرے تو سب مسلمانوں پر جو کسی ایک امام کے تابع ہوں فرض ہوتا ہے کہ وہ مِل کر ان دُشمنوں کا مقابلہ کریں اور اسلام کو اس مصیبت سے بچائیں۔ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ صرف اس بات کے خلاف تھے کہ اکّا دُکّا مسلمان اُٹھ کر ایک ایسی حکومت کے افراد کو قتل کرنا شروع کر دے جس کے مُلک میں مسلمان امن سے رہ رہے ہوں اور جن کے ساتھ ان کی کوئی لڑائی نہ ہو یا کسی مُلک کے لوگ دوسری معاہد حکومت سے جنگ شروع کر دیں اور اس کا نام جہاد رکھیں۔ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے ان عقائد سے خود مودودی صاحب کو بھی اتفاق ہے اور تمام علماءِ ہندوستان کو بھی اتفاق تھا اور اب بھی پاکستان کے علماء کو اتفاق ہے۔ اگر ہمارا یہ دعویٰ غلط ہے تو مودودی صاحب بتائیں کہ اُنہوں نے کتنے انگریز مارے تھے۔ کیا جہاد ان پر فرض نہیں تھا یا دوسرے علماء احراری یا دیوبندی یا بریلوی بتائیں کہ اُنہوں نے کتنے انگریز مارے تھے۔ کیا ان پر جہاد فرض نہیں تھا؟ پس حضرت مرزا صاحب نے اگر وہی بات کہی جو عملاً ہر مسلمان عالم کر رہا تھا تو ان پر کیا اعتراض ہے۔ خود مودودی صاحب اپنی کتاب ‘‘سود’’ حصہ اوّل کے صفحہ 77، 78 پر لکھتے ہیں کہ:-
    ‘‘ہندوستان اس وقت بِلاشُبہ دارالحرب تھا جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس وقت مسلمانوں کا فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑاتے یا اس میں ناکام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے لیکن جب وہ مغلوب ہو گئے، انگریزی حکومت قائم ہو چکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کر لیا تو اب یہ مُلک دارالحرب نہیں رہا۔ اس لئے کہ یہاں اسلامی قوانین منسوخ نہیں کئے گئے ہیں۔ نہ مسلمانوں کو سب احکام شریعت کے اتباع سے روکا جاتا ہے، نہ ان کو اپنی شخصی اور اجتماعی زندگی میں شریعت اسلامی کے خلاف عمل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے مُلک کو دارالحرب ٹھہرانا اور ان رخصتوں کو نافذ کرنا جو محض دارالحرب کی مجبوریوں کو پیش نظر رکھ کر دی گئی ہیں اصولِ قانونِ اسلامی کے قطعاً خلاف ہے اور نہایت خطرناک بھی’’۔
    یہی وہ بات تھی جو بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کہتے تھے کہ یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی مسیح آسمان سے نازل ہو گا جو تمام نا مسلموں کو مارنے کی مہم جاری کر دے گا اور جو شخص اسلام کی تسلیم نہ کرے گا اُسے قتل کر دے گا۔ ایک غلط عقیدہ ہے۔ ایسا جہاد اسلام میں جائز نہیں ہے۔ آنے والا مسیح صرف دلائل اور براہین سے لوگوں کو اسلام کی طرف لائے گا اور بِلا وجہ لوگوں سے جنگ کا اعلان نہیں کرے گا۔ چنانچہ وہ حوالہ جس کی ایک سطر مودودی صاحب نے لکھ دی ہے مکمل یوں ہے:-
    ‘‘مَیں کسی ایسے مہدی ہاشمی قریشی خونی کا قائل نہیں ہوں جو دوسرے مسلمانوں کے اعتقاد میں بنی فاطمہ میں سے ہو گا اور زمین کو کفّار کے خون سے بھر دے گا۔ مَیں ایسی حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتا اور محض ذخیرۂ موضوعات جانتا ہوں۔ ہاں مَیں اپنے نفس کے لئے اُس مسیح موعود کا ادعا کرتا ہوں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور لڑائیوں اور جنگوں سے بیزار ہو گا اور نرمی اور صلح کاری اور امن کے ساتھ قوموں کو اس سچے ذوالجلال خدا کا چہرہ دکھائے گا جو اکثر قوموں سے چھپ گیا ہے۔ میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگجوئی اور فساد کا نہیں اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے’’۔ 133
    مودودی صاحب کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ چنانچہ گو اس مسئلہ کا اُنہوں نے غلط استعمال کیا ہے لیکن اسی مسئلہ کی بناء پر اُنہوں نے کشمیر کی لڑائی میں شمولیت کو ناجائز قراردیا۔ 134
    ان کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ جہاد کئی ہیں۔ ایک جہاد وہ ہے کہ جب کوئی قوم دین مٹانے کے لئے حملہ کرے تو دین کی حفاظت کے لئے اس سے لڑا جائے۔ یہ جہادِ کبیر ہے اور ایک جہاد یہ ہے کہ کوئی قوم اپنے مُلک کی آزادی کے لئے لڑے یہ جہادِ صغیر ہے۔ ایسے جہاد کے متعلق بھی رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہٖ فَھُوَ شَھِیْدٌ وَّ مَنْ قُتِلَ دُوْنَ دَمِہٖ فَھُوَ شَھِیْدٌ وَّ مَنْ قُتِلَ دُوْنَ دِیْنِہٖ فَھُوَ شَھِیْدٌ وَّ مَنْ قُتِلَ دُوْنَ أَھْلِہٖ فَھُوَ شَھَیْدٌ۔ 135 یعنی جو شخص اپنے مال یا اپنی جان یا اپنے دین یا اپنے اہل کے بچانے کے لئے لڑتا ہؤا مارا جائے، وہ شہید ہے۔ چونکہ شہید اسی کو کہتے ہیں جو جہاد میں مارا جائے اس لئے ماننا پڑے گا کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس قسم کی لڑائی کو بھی ایک قسم کا جہاد قرار دیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جہاد کبیر تو سارے مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے اور جہاد صغیر صرف ان لوگوں پر فرض ہوتا ہے جن کے مُلک کی آزادی خطرہ میں پڑے۔ مودودی صاحب نے یہ نہیں سوچا کہ کشمیر کے متعلق ہندوستان کے ساتھ پاکستان کا کوئی معاہدہ نہیں تھا۔ جب پارٹیشن ہوئی ہے اس وقت تینوں اقوام یعنی انگریزوں، ہندوؤں اور مسلمانوں کی مجلس میں یہ فیصلہ ہؤا تھا کہ جن علاقوں میں کسی قوم کی اکثریت ہو اور وہ آزادی حاصل کرنے والے ہم مذہب علاقہ کے ساتھ لگتے ہوں تو وہ علاقے اپنے ہم مذہبوں کی حکومت میں شامل کئے جائیں گے اور کشمیر کے متعلق خاص طور پر فیصلہ ہؤا تھا کہ یہ مُلک ہندوستان اور پاکستان سے مشورہ کرنے کے بعد اپنا فیصلہ کرے گا لیکن کشمیر نے ایسا نہیں کیا اور اس عام قانون کے خلاف کہ ساتھ ملتی ہوئی مذہبی اکثریت کو اپنی مذہبی اکثریت والی حکومت میں شامل ہونے کا حق ہو گا توڑ دیا اور بغیر پاکستان سے مشورہ کرنے کے ہندوستان سے الحاق کا اعلان کر دیا اور ہندوستان نے اس کو تسلیم کر لیا۔ پس کشمیر کے متعلق کوئی معاہدہ نہ تھا بلکہ جو اقوامِ ثلاثہ کا فیصلہ تھا اس کو ہندوستان نے توڑدیا۔ پھر لڑائی کشمیر میں ہو رہی تھی ہندوستان میں نہیں ہو رہی تھی اور کشمیر کوئی معاہد حکومت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ہندوستان کے بعض حصّوں پر حملہ کر کے کشمیر کے مسئلہ کو حل کیا جاسکتا تھا۔ پاکستان نے اسلامی قانون اور بین الاقوامی قانون کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ہندوستان پر حملہ نہیں کیا۔ پس بجائے اس کے کہ مولانا مودودی پاکستان کی تعریف کرتے کہ اس نے بہت حوصلہ سے کام لیا ہے اور قانونِ اسلام کی پابندی اور قانون بین الاقوامی کی پابندی میں اپنے فوائد کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اُلٹا پاکستان پر حملہ اور جنگِ کشمیر کے خلاف اعلان کر دیا لیکن بہرحال جو مسئلہ انہوں نے جنگِ کشمیر کے خلاف پیش کیا وہ وہی ہے جس کو بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے غیر مسلم اقوام سے لڑنے کے متعلق پیش کیا ہے اگر وہ مسئلہ غلط ہے تو مولانا مودودی نے اس کو کیوں استعمال کیا اور اگر وہ مسئلہ ٹھیک ہے تو مولانا مودودی نے بانی ٔ سلسلہ احمدیہ پر کیوں اعتراض کیا؟
    صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کی وجہ
    (12-ب)باقی رہا یہ کہ ایک
    اٹیلین انجینئر نے لکھا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اس سے بھی مراد وہی جہاد کی غلط تعلیم ہے جس کی غلطی کا خود مولانا مودودی صاحب کو اقرار ہے۔ اگر وہ تعلیم ٹھیک ہے تو مولانا مودودی صاحب اعلان کر دیں کہ پاکستان میں ان کی اکثریت ہونے پر وہ روس پر اور امریکہ پر اور انگلستان پر اور ہندوستان پر حملہ کر دیں گے۔ اگر نہیں تو پھر یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ہر کافر قوم سے ہر وقت لڑائی جائز نہیں بلکہ ان کافر اقوام سے لڑائی جائز ہے جو اسلام کو مٹانے کے لئے اسلامی ممالک پر حملہ کریں یا سیاسی نفوذ کے لئے کسی اسلامی مُلک پر حملہ کریں یا پھر ایسی قوموں کے ساتھ لڑائی جائز ہے کہ وہ خود تو ہم پر حملہ نہ کریں لیکن اُنہوں نے کسی وقت ہمارے بعض حقوق پر قبضہ کر لیا ہو اور اس کے بعد ہماری ان سے صلح نہ ہو گئی ہو۔ اس سے ایک شوشہ کم یا زیادہ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کبھی نہیں کہتے تھے۔ محض فتنہ انگیزی کے لئے مولانا مودودی اور ان کے ساتھی اس مسئلہ کو غلط طور پر پھیلا رہے ہیں کہ جماعت احمدیہ جہاد کے خلاف ہے اگر آج کوئی حکومت کسی مُلک پر اسلام کے مٹانے کے لئے حملہ کرے گی تو جماعت احمدیہ یقینا اپنے ان بھائیوں کے ساتھ ہو گی جن پر حملہ کیا جائے گا اور یہ پرواہ نہیں کرے گی کہ اس مُلک کے باشندے جس پر حملہ کیا گیا ہے سُنّی ہیں، شیعہ ہیں، خارجی ہیں، حنفی ہیں یا کون ہیں اور اگر کسی اسلامی مُلک پر کوئی غیر اسلامی حکومت حملہ کرے گی تاکہ اس کی آزادی کو سلب کرے تو احمدی جماعت یقینا اس اسلامی مُلک سے ہمدردی رکھے گی خواہ وہ کسی فرقہ کے قبضہ میں ہو۔
    شہداءِ افغانستان کے متعلق ایک حوالہ میں بددیانتی
    (12-ج)ہمیں نہایت افسوس ہے کا جو حوالہ احمدی شہداء کے واقعہ کے متعلق لکھا ہے اور جس میں حکومتِ افغانستان نے ان پر یہ الزام
    لگایا ہے کہ بعض غیر ملکی لوگوں سے ان کی خط و کتابت تھی (اور غیر مُلکی لوگوں سے خط و کتابت رکھنا جُرم نہیں۔ خود مودودی صاحب بھی غیر مُلکی لوگوں سے خط و کتابت کرتے ہیں) اس حوالہ کا آخری فقرہ یہ ہے کہ:-
    ‘‘اس واقعہ کی تفصیل مزید تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی’’۔
    لیکن مودودی صاحب نے اپنی کتاب میں اس فقرہ کو چھوڑ دیا ہے یہ فقرہ صاف بتاتا ہے کہ حکومت افغانستان اپنے اس الزام پر پُختہ نہیں وہ ابھی مزید تفتیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد تفصیل شائع کی جائے گی مگر مولانا مودودی صاحب اس ٹکڑہ کو کاٹ کر صرف اتنا لکھ دیتے ہیں کہ افغانستان کے چند احمدی چند غیر مُلکیوں سے خط و کتابت کرتے تھے (جس سے اس طرف اشارہ ہے کہ دُشمنانِ افغانستان سے خط و کتابت کرتے تھے) کیا یہ دیانتداری ہے؟ کیا یہ تقویٰ ہے؟ وہ حکومت جس نے احمدیوں کو سنگسار کیا وہ تو یہ کہتی ہے کہ ابھی اس واقعہ کی تفصیلات کی تفتیش نہیں ہوئی اور وہ بعد میں شائع کی جائے گی اور الفضل اس کے اس فقرہ کو لکھتا ہے اور پھر اس کی تردید بھی کرتا ہے لیکن مودودی صاحب حکومت افغانستان کے بیان کے اس حصّہ کوبھی ترک کر دیتے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی یہ واقعہ زیر تحقیق ہے اور الفضل کی تردید کو بھی چھوڑ دیتے ہیں اور اس امر کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جن لوگوں کو قتل کیا گیا تھا ان کو عدالت نے مذہبی اختلاف کی بناء پر قتل کرنے کا حُکم دیا تھا۔ سیاسی سازش کی بناء پر قتل کرنے کا حُکم نہ دیا تھا۔ اگر کوئی سیاسی سازش تھی تو حکومت نے کیوں اس کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا اور پھر اگر کوئی خطوط پکڑے گئے تھے اور حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ‘‘اس واقعہ کی تفصیل تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی’’ تو وہ تفصیل بعد میں کیوں شائع نہیں ہوئی۔ کیا حکومت کا فرض نہیں تھا کہ وہ اپنے اس بیان کے مطابق بعد میں تفتیش کے نتائج بھی شائع کرتی مگر حکومتِ افغانستان نے ایسا کبھی نہیں کیا۔
    مولانا مودودی صاحب نے یہ ٹکڑا جو نقل کیا ہے الفضل سے نقل نہیں کیا برنی صاحب کی کتاب سے نقل کیا ہے بلکہ اُنہوں نے قریباً سب حوالے بغیر دیکھے برنی صاحب کی کتاب سے نقل کئے ہیں چنانچہ ہم نے ان کے حوالے برنی صاحب کی کتاب سے مِلا کر دیکھے ہیں۔ پانچ حوالوں کا ہمیں اب تک ثبوت نہیں مِل سکا مگر باقی سارے کے سارے حوالے برنی صاحب کی کتاب سے نقل کئے گئے ہیں جس کی دلیل یہ ہے کہ برنی صاحب نے جس جگہ پر حوالہ نقل کرنے میں غلطی کی ہے اسی جگہ پر مودودی صاحب نے بھی غلطی کی ہے مگر ہم یہ کہنے سے رُک نہیں سکتے کہ برنی صاحب نے اس حوالہ کو پورا نقل کیا ہے مگر مودودی صاحب نے وہ فقرہ جو بتاتا تھا کہ یہ الزام پختہ نہیں بلکہ شکی ہے اس کو حذف کر دیا ہے اور اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ صالحیت کا وہ معیار جس کو وہ پیش کر رہے ہیں وہ برنی صاحب کے معیار سے بھی نیچے ہی ہے کیونکہ برنی صاحب باوجود مذہبی لیڈر نہ ہونے کے اور کسی صالح جماعت کے قائم کرنے کے مُدعی نہ ہونے کے اس فقرہ کو درج کرتے ہیں لیکن مودودی صاحب اس فقرہ کو حذف کر جاتے ہیں۔
    میاں محمد امین خان صاحب مبلغ بخارا کا ایک خط
    (12-د) میاں محمد امین صاحب قادیانی مبلغ کےخط کا جو حوالہ اُنہوں نے دیا ہے وہ روس اور برطانیہ کے باہمی تعلقات کے متعلق ہے
    اس پر مسلمانوں کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ وہ یہ لکھتے ہیں کہ روس اور انگریزوں کے تعلقات کے لحاظ سے میں انگریزی فوائد کو روسی فوائد پر ترجیح دیتا تھا۔ یہ بڑی اچھی بات ہے اس پر کیااعتراض ہے؟ اور اس سے مسلمانوں کو کیا نقصان پہنچ سکتا تھا؟ وہ یہ ثابت کریں کہ کسی جنگ میں انگریزوں نے ابتدا کی ہو؟ خود کسی اسلامی مُلک پر حملہ کیا ہو؟ اور پھر بھی بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے انگریزوں کی تائید کی ہو یا احمدیہ جماعت نے انگریزوں کی تائید کی ہو۔ جب انگریزوں نے عرب میں رسوخ بڑھانا چاہا تو جماعت احمدیہ نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ جب انگریزوں نے شریف حسین والی ٔ مکّہ کے ساتھ معاہدہ کر کے اس معاہدہ کو توڑا اور عرب کے متحد کرنے میں اس کی مدد نہ کی تو اس کے خلاف امام جماعت احمدیہ نے آواز بُلند کی جس سے صاف ثابت ہے کہ جب کبھی انگریز نے مسلمان کے ساتھ دھوکہ بازی کی اور اس کے حقوق میں دخل اندازی کی تو جماعت احمدیہ نے اس کے خلاف احتجاج کیا لیکن جب کسی مسلمان حکومت نے آپ ہی آپ غیر قوموں سے لڑائی شروع کر دی جیسا کہ ترکی نے کیا تھا تو احمدی جماعت نے ہندوستان کی تمام دوسری اسلامی جماعتوں سمیت اس اسلامی حکومت کے اس فعل کو بُرا منایا۔ چنانچہ عراق کے فتح کرنے میں ہندوستانی فوجوں کا بہت کچھ دخل تھا اور اس میں ایک بڑی تعداد مسلمان فوجیوں کی تھی۔ ممکن ہے کہ احمدی چالیس پچاس یا سو ڈیڑھ سو ہوں لیکن ہزاروں ہزار دیوبندی تھے یا بریلوی تھے یا سُنّی تھے یا اہلحدیث تھے۔ اسی طرح اہلحدیث کے لیڈر سلطان ابن سعود انگریزوں کی پشت پر ریاض میں برسرحکومت تھے۔ انہوں نے ایک گولی بھی انگریز کے خلاف نہیں چلائی بلکہ فوراً ترکی کے علاقہ پر حملہ کر کے اس کو اپنے قبضہ میں کرنا شروع کر دیا۔ ادھر مکّہ میں شریف حسین اور فلسطین اور شام اور لبنان کے مسلمانوں نے فوراً ہی ترکی سے بغاوت کا اعلان کر دیا اور انگریزوں سے مل کر ان کے ساتھ لڑائی کرنی شروع کر دی۔ بتائیے ان سارے مُلکوں میں کون سے احمدی بستے تھے۔ کیا سلطان ابنِ سعود احمدی تھے؟ کیا شریف حسین والی ٔ مکّہ احمدی تھے؟ کیا رؤسائے شام و لبنان احمدی تھے یا احمدی ہیں؟یہ سارے لوگ ترکی سے لڑے اور ان کی لڑائی کی بنیاد یہی تھی کہ ترکی نے خود اعلانِ جنگ کیا ہے اور ان لوگوں کو اپنے مُلک کے آزاد کرانے کا موقع مِل گیا ہے۔ اگر پانچ سات لاکھ غیر احمدیوں نے ترکی پر حملہ کرنے کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہو گئے، وہ جہاد کے مُنکر نہیں ہو گئے اور اگر یہ سب علماء جو ہم پر فتویٰ لگا رہے ہیں اس وقت خاموش رہے بلکہ سلطان ابن سعود یا شریف حسین کی مدح کرنے کے باوجود کافر نہیں ہو گئے اور کشتنی اور گردن زدنی نہیں ہو گئے تو چالیس پچاس یا سو ڈیڑھ سو احمدیوں کے اس جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے احمدی کیوں کشتنی و گردن زدنی ہو گئے۔ وہ کیوں جہاد کے منکر ہو گئے، وہ کیوں اسلام سے منحرف ہو گئے۔ کیا سَو دو سَو احمدی عراق سے ترکوں کو نکال سکتے تھے۔ کیا سَو دو سَو احمدی ابن سعود کو اس بات پر مجبور کر سکتے تھے کہ وہ ترکی کے علاقوں پر حملہ کر کے کچھ علاقے اس سے چھین لیں۔ کیا سَو دو سَو احمدی جو اس لڑائی میں شریک ہوئے وہ شریف حسین کو مجبور کر کے سارے حجاز کو ترکی کے خلاف کھڑا کر سکتے تھے۔ کیا ان سودو سو احمدی سپاہیوں کا فلسطین اور شام اور لبنان کے مسلمانوں پر ایسا قبضہ تھا کہ وہ ان کو ترکی کے خلاف عَلمِ بغاوت بُلند کرنے پر مجبور کر سکتے تھے۔ اگر یہ نہیں ہے اور ہر گز نہیں ہے تو خدا را جھوٹ بول بول کر اسلام کو بدنام نہ کرو اور لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ دو کہ اسلام کے علماء بھی اتنا سچ نہیں بول سکتے جتنا غیرقوموں کے عامی سچ بول سکتے ہیں۔ اگر سودو سو کے اس فعل سے احمدی واجب القتل ہیں تو پہلے ان سارے علماء کو قتل کرو، ان سارے امراء کو قتل کرو، ان سارے رؤساء کو قتل کرو جنہوں نے خود لڑائی کی یا جن کی قوم غیر احمدیوں میں سے اس لڑائی میں ترکی کے خلاف لڑی۔ ہر موقع پر خود گھروں میں جاچھپنا اور اسلام کی تائید میں انگلی تک نہ اُٹھانا لیکن جب وہ طوفان ختم ہو جائے تو احمدیوں پر اعتراض کرنا کیا یہ شیوۂ بہادری ہے یا یہ شیوۂ حیا ہے؟
    معاملات عرب کے متعلق امامِ جماعت احمدیہ کی غیرت
    اِس موقع پر امام جماعتِ احمدیہ کا مندرجہ ذیل حوالہ پیش کرنا یقینا اس احمدیہ پالیسی کو واضح کر دیتا ہے جو مسلمانوں کے متعلق
    احمدیہ جماعت نے اختیار کر رکھی تھی۔آپ ایک خطبہ میں فرماتے ہیں:-
    ‘‘آج سے کئی سال پہلے جب لارڈ چیمسفورڈ ہندوستان کے وائسرائے تھے۔ مسلمانوں میں شور پیدا ہؤا کہ انگریز بعض عرب رؤسا کو مالی مدد دے کر انہیں اپنے زیر اثر لانا چاہتے ہیں۔ یہ شور جب زیادہ بُلند ہؤا تو حکومت ہند کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم عرب رؤسا کو کوئی مالی مدد نہیں دیتے۔ مسلمان اس پر خوش ہو گئے کہ چلو خبر کی تردید ہو گئی لیکن مَیں نے واقعات کی تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہؤا کہ گو ہندوستان کی حکومت بعض عرب رؤساء کو مالی مدد نہیں دیتی مگر حکومتِ برطانیہ اس قسم کی مدد ضرور دیتی ہے۔ چنانچہ ساٹھ ہزار پونڈ ابن سعود کو مِلا کرتے تھے اور کچھ رقم شریف حسین کو ملتی تھی۔ جب مجھے اس کا علم ہؤا تو مَیں نے لارڈ چیمسفورڈ کو لکھا کہ گو لفظی طور پر آپ کا اعلان صحیح ہو مگر حقیقی طور پر صحیح نہیں کیونکہ حکومتِ برطانیہ کی طرف سے ابنِ سعود اور شریف حسین کو اس اس قدر مالی مدد ملتی ہے اور اس میں ذرّہ بھر بھی شُبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان عرب پر انگریزی حکومت کا تسلط کسی رنگ میں بھی پسند نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں ان کا خط آیا۔ (وہ بہت ہی شریف طبیعت رکھتے تھے) کہ یہ واقعہ صحیح ہے مگر اس کا کیا فائدہ کہ اس قسم کا اعلان کر کے فساد پھیلایا جائے۔ ہاں ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ عرب کو اپنے زیرِ اثر لائے۔ پس ہم ہمیشہ عرب کے معاملات میں دلچسپی لیتے رہے۔ جب تُرک عرب پر حاکم تھے تو اس وقت ہم نے ترکوں کا ساتھ دیا۔ جب شریف حسین حاکم ہوئے تو گو لوگوں نے ان کی سخت مخالفت کی مگر ہم نے کہا اب فتنہ و فساد کو پھیلانا مناسب نہیں۔ جس شخص کو خدا نے حاکم بنا دیا ہے اس کی حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے تاکہ عرب میں نت نئے فسادات کا رونما ہونا بند ہو جائے۔ اس کے بعد نجدیوں نے حکومت لے لی تو باوجود اس کے کہ لوگوں نے بہت شور مچایا کہ انہوں نے قبےّ گرا دیئے اور شعائر کی ہتک کی ہے اور باوجود اس کے کہ ہمارے سب سے بڑے مخالف اہلحدیث ہی ہیں ہم نے سلطان ابن سعود کی تائید کی، صرف اس لئے کہ مکّہ مکرمہ میں روز روز کی لڑائیاں پسندیدہ نہیں۔ حالانکہ وہاں ہمارے آدمیوں کو دُکھ دیا گیا۔ حج کے لئے احمدی گئے تو انہیں مارا پیٹا گیا مگر ہم نے اپنے حقوق کے لئے بھی اس لئے صدائے احتجاج کبھی بُلند نہیں کی کہ ہم نہیں چاہتے کہ ان علاقوں میں فساد ہوں۔ مجھے یاد ہے مولانا محمد علی صاحب جوہرؔ جب مکّہ مکرمہ کی موتمر سے واپس آئے تو وہ ابنِ سعود سے سخت نالاں تھے۔ شملہ میں ایک دعوت کے موقع پر ہم سب اکٹھے ہوئے تو انہوں نے تین گھنٹے اس امر پر بحث جاری رکھی۔ وہ بار بار میری طرف متوجہ ہوتے اور میں انہیں کہتا مولانا آپ کتنے ہی ان کے ظلم بیان کریں جب ایک شخص کو خدا تعالیٰ نے حجاز کا بادشاہ بنا دیا ہے تو مَیں یہی کہوں گا کہ ہماری کوششیں اب اس امر پر صرف ہونی چاہئیں کہ مکّہ مکرمہ اور مدینہ منورّہ کی گلیوں میں فساد اور لڑائی نہ ہو اور جو شورش اس وقت جاری ہے وہ دب جائے اور امن قائم ہو جائے تاکہ ان مقدس مقامات کے امن میں کوئی خلل واقع نہ ہو’’۔ 136

    غیر اسلامی ممالک میں جماعت احمدیہ کے افراد کس جذبۂ جہاد کو کم کرنے کے لئے تبلیغ کر رہے ہیں
    مودودی صاحب کے اس اعتراض کو کہ احمدی جماعت انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے تبلیغ کرتی تھی۔ اس طرح پر حل کیا جاسکتا ہے
    کہ اگر احمدی جماعت جہاد کی تعلیم کو کمزور کرنے کے لئے اسلامی ممالک میں تبلیغ کرتی تھی تو مغربی اور مشرقی افریقہ اور امریکہ اور انگلستان اور جرمنی میں کس جذبۂ جہاد کو کم کرنے کے لئے احمدی تبلیغ کر رہے تھے اور کر رہے ہیں۔ کیا وہاں بھی جہاد کی تعلیم رائج ہے جس کو کم کرنے کے لئے احمدی تبلیغ کر رہے ہیں یا وہ قومیں بھی انگریزوں کی تائید میں ہیں کہ ان کی مدد حاصل کرنے کے لئے احمدی وہاں تبلیغ کر رہے ہیں۔
    جرمن گورنمنٹ کی ایک وزیر سے جواب طلبی
    (12-ہ)اگر مولانا مودودی کی قسم کے
    علماء کی تحریک پر جرمن گورنمنٹ کو غلطی لگی اور اس نے جرمن وزیر سے جواب طلبی کی کہ وہ احمدیوں کی مجلس میں کیوں شامل ہؤاجو انگریزوں کے ایجنٹ ہیں تو یہ جرمن گورنمنٹ کے علم کی کمی اور عقل کو کوتاہی تھی۔ اس کی غلطی سے احمدیوں کے خلاف کس طرح حجت پکڑی جاسکتی ہے۔
    مولانا مودودی سے مؤکّد بعذاب حلف کا مطالبہ
    ہم عملاً ثابت کر چکے ہیں کہ جہاں کہیں مسلمانوں کے مفاد پر انگریزوں نے اثر ڈالنے کی کوشش کی ہے احمدیوں نے ان کی اس بات کو
    ناپسند کیا ہے اور احمدیوں نے ایسے مُلکوں میں جاکر تبلیغ کی ہے اور لوگوں کو اسلام میں داخل کیا ہے جہاں جہاد کا کوئی سوال ہی نہیں تھا بلکہ ایسے علاقے موجود ہیں جہاں مسلمانوں کی تنظیم احمدیوں کے ہاتھ سے ہوئی یا ان کی تنظیم میں احمدیوں نے بڑا حصّہ لیا اور ان کو عیسائی اثر سے بچانے میں بڑی مدد کی۔
    ہمارے اس دعویٰ کے سچ یا جھوٹ کے پرکھنے کے دو ہی طریق ہیں۔
    اوّل یہ کہ ایک کمیشن ان علاقوں میں جائے اور وہاں کے لوگوں سے گواہیاں لے۔
    دوم یہ کہ مولانامودودی اور ان کے ساتھی مؤکد بعذاب قسم کھائیں کہ احمدی انگریزوں کے ایجنٹ تھے اور انگریزوں کے اشارہ پر کام کر رہے تھے اور یہ کہ اگر مودودی صاحب اور ان کے ساتھی اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں تو خدا ان پر اور ان کی اولادوں پر اور ان کی بیویوں پر اپنا غضب نازل کرے اور اپنی *** نازل کرے۔ اس کے مقابل پر احمدی جماعت کے لیڈر یہ قسم کھائیں کہ احمدی جماعت ہمیشہ ہی اسلامی تعلیم کی معترف رہی ہے قرآن اور حدیث کے پیش کردہ جہاد کو صحیح سمجھتی رہی ہے اور صحیح سمجھتی ہے اور اس کی تبلیغِ اسلام نہ انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے تھی، نہ ان کے اشارہ پر تھی بلکہ عیسائی مذہب کی طاقت کو توڑنے کے لئے تھی اور اسلام کو شوکت دینے کے لئے تھی اور اگر وہ اس بیان میں جھوٹے ہیں تو خدا کی *** ان پر اور ان کی اولادوں پر اور ان کی بیویوں پر ہو۔ کیا مولانا مودودی اپنے ساتھیوں اور دیگر فرقوں کے علماء کو اس قسم کے لئے آمادہ کر سکتے ہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ مولانا مودودی اور ان کی جماعت اور ان کے ساتھی علماء اس قسم کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور اگر ہوئے تو خدا کا عذاب ان پر نازل ہو گا اور احمدی اس قسم کے لئے فوراً تیار ہو جائیں گے۔ (کیونکہ ان کے امام کی طرف سے ایسا اعلان ہو چُکا ہے) اور اگر وہ ایسی قسم کھائیں گے تو خدا کی مدد ان کو حاصل ہو گی کیونکہ وہ سچّی قسم کھائیں گے۔
    کیا بانیٔ سلسلہ احمدیہ یہ چاہتے تھے کہ آزاد مسلمان قومیں بھی انگریزوں کی غلام ہو جائیں؟
    (13) آخر میں مولانامودودی صاحب بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے
    کچھ حوالے درج کرتے ہیں اور ان سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ انگریزوں کے خیر خواہ تھے اور عیسائیوں کے مؤیّد تھے اور بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کی غرض دعویٰ نبوت سے یہ تھی کہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کیا جائے اور چونکہ وہ جانتے تھے کہ اس اختلاف کے پیدا کرنے کی وجہ سے مسلمانوں میں ان کو پناہ نہیں ملے گی اس لئے وہ کوشش کرتے رہے کہ آزاد مسلمان قومیں بھی انگریزوں کی غلام ہو جائیں۔ 137
    جماعت احمدیہ نے ہمیشہ مسلمان حکومتوں کا ساتھ دیا ہے
    مولانا کا یہ دعویٰ سراسر باطل ہے۔ ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ کبھی بھی احمدیہ جماعت نے یہ تعلیم نہیں دی کہ آزاد
    اسلامی حکومتیں انگریزوں کے تابع ہو جائیں بلکہ جب کبھی بھی انگریزی حکومت نے حملہ میں ابتدا کی اور مسلمان حکومتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی تو احمدی جماعت نے مسلمان حکومتوں کا ساتھ دیا اور ان کی تائید کی چنانچہ ترکی کے مغلوب ہو جانے کے بعد جب اس مُلک میں ناواجب نفوذ پیدا کرنے کی انگریزوں نے کوشش کی تو اس وقت بھی احمدیہ جماعت نے مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ چنانچہ امام جماعت احمدیہ کے ایک رسالہ کے چند فقرات درج ذیل ہیں۔ آپ نے ترکی کے مستقبل کے متعلق مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہوئے تحریر فرمایا:-
    ‘‘اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام عالم اسلامی ترکوں کے مستقبل کی طرف افسوس اور شک کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ان کی حکومت کا مٹا دینا یا ان کے اختیارات کو محدود کر دینا ان کے دلوں کو سخت صدمہ پہنچائے گا مگر اس کی یہ وجہ بیان کرنا کہ سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہیں درست نہیں کیونکہ بہت سے لوگ ان کو خلیفۃ المسلمین نہیں مانتے مگر پھر بھی ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں میرے نزدیک ایسے نازک وقت میں جبکہ اسلام کی ظاہری شان و شوکت سخت خطرہ میں ہے اس مسئلہ کو ایسے طور پر پیش کرنا کہ صرف ایک ہی خیال اور ایک ہی مذاق کے لوگ اس میں شامل ہو سکیں سیاسی اصول کے بھی خلاف ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کا ایک معتدبہ حصّہ شیعہ مذہب کے لوگوں کا ہے اور ان میں سے سوائے بعض نہایت متعصّب لوگوں کے باقی سب تعلیم یافتہ اور سمجھدار طبقہ ترکوں سے ہمدردی رکھتا ہے مگر وہ کسی طرح بھی سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اسی طرح اہلِ حدیث میں سے گو بعض خلافتِ عثمانیہ کے ماننے والے ہوں مگر اپنے اصول کے مطابق وہ لوگ بھی صحیح معنوں میں خلیفۃ المسلمین سلطان کو نہیں مانتے (اس اعلان کے بعد اہلحدیث کی طرف سے اعلان ہؤا کہ وہ ترکی کے بادشاہ کو خلیفۃ المسلمین نہیں مانتے۔ناقل) ہماری احمدیہ جماعت تو کسی صورت میں بھی اس اصل کو قبول نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے نزدیک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبل از وقت دی ہوئی اطلاعوں کے ماتحت آپ کی صداقت کے قائم کرنے کے لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو اس زمانہ کے لئے مسیح موعود اور مہدی معہود بنا کر مسلمانوں کی ترقی اور استحکام کے لئے مبعوث فرمایا تھا اور اس وقت وہی شخص خلافت کی مسند پر متمکن ہو سکتا ہے جو آپ کا متبع ہو ..... ان تینوں فرقوں کے علاوہ اور فرقے بھی ہیں جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں لیکن خلافتِ عثمانیہ کے قائل نہیں بلکہ خود اہلسنت و الجماعت کہلانے والے لوگوں میں سے بھی ایک فریق ایسا ہے جو خلافتِ عثمانیہ کو نہیں مانتا ورنہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ ایک شخص کو رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا صحیح جانشین تسلیم کر کے وہ اس کے خلاف تلوار اٹھاتے۔ پس اندریں حالات ایسے جلسہ کی بنیاد جس میں ترکوں کے مستقبل کے متعلق تمام عالم اسلامی کی رائے کا اظہار مدِّنظر ہو۔ ایسے اصول پر رکھنی جنہیں سب فرقے تسلیم نہیں کر سکتے درست نہیں۔ کیونکہ اس سے سوائے ضعف و اختلال کے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔
    میرے نزدیک اس جلسہ کی بنیاد صرف یہ ہونی چاہئے کہ ایک مسلمان کہلانے والی سلطنت کو جس کے سلطان کو مسلمانوں کا ایک حصّہ خلیفہ بھی تسلیم کرتا ہے مٹا دینا یا ریاستوں کی حیثیت دینا ایک ایسا فعل ہے جسے ہر ایک فرقہ جو مسلمان کہلاتا ہے نا پسند کرتا ہے اور اس کا خیال بھی اس پر گراں گزرتا ہے اس صورت میں تمام فرقہ ہائے اسلام اس تحریک میں شامل ہو سکتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ خلافتِ عثمانیہ کے قائل نہ ہوں بلکہ باوجود اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو کافر کہتے اور سمجھتے ہوں اس اصل پر متحد ہو کر یک زبان ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں کیونکہ گو ایک فریق دوسرے فریق کو کافر سمجھتا ہو مگر کیا اس میں کوئی شک ہے کہ دُنیا کی نظروں میں اسلام کے نام میں سب فرقے شریک ہیں اور اسلام کی ظاہری شان و شوکت کی ترقی یا اس کو صدمہ پہنچنا سب پر یکساں اثر ڈالتا ہے۔
    ضروری بات یہ ہے کہ مناسب مشورہ کے بعد اس غرض کے لئے ایک کونسل مقرر کی جائے جس کا کام ترکی حکومت کی ہمدردی کو عملی جامہ پہنانا ہو صرف جلسوں اور لیکچروں سے کام نہیں چل سکتا، نہ روپیہ جمع کر کے اشتہاروں اور ٹریکٹوں کے شائع کرنے سے، نہ انگلستان کی کمیٹی کو روپیہ بھیجنے سے بلکہ ایک باقاعدہ جدوجہد سے جو دُنیا کے تمام ممالک میں اس امر کے انجام دینے کے لئے کی جائے’’۔
    ‘‘اگر کسی کامیابی کی اُمید کی جاسکتی ہے تو اسی طرح کہ چند آدمی اسلام کے واقف فرانس میں رکھے جائیں ..... کچھ لوگ امریکہ جائیں اور وہاں اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ اسلام سے وہاں کے لوگوں کو واقف کرنے کے علاوہ تمام مُلک کے وسیع دورے کریں ..... اور ساتھ اس امر کی طرف بھی توجّہ دلائیں کہ ترکوں سے جو سلوک ہو رہا ہے وہ درست نہیں ..... اگر آپ لوگ اسلام کی عزت اور مسلمانوں کے بقاء کے لئے اس بات کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں تو مجھے اس کام کے اہل لوگ مہیا کر دینے میں کوئی عذر نہیں۔ ان لوگوں میں سے کچھ امریکہ میں کام کریں اور کچھ فرانس میں اوراس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے جب تک ترکوں سے معاہدہ طے ہو’’۔138
    پھر جب ترکوں سے انگریزوں کا معاہدہ ہو گیا تو شرائط صلح پر پھر امام جماعت احمدیہ نے تبصرہ کیا اور تحریر فرمایا کہ:-
    ‘‘ترکوں کے متعلق شرائط صلح کا فیصلہ کرتے وقت ان اصول کی پابندی نہیں کی گئی جن کی پابندی یورپ کے مدبّر انصاف کے لئے ضروری قرار دے چکے ہیں۔ عراق کی آبادی کو ایسے طور پر اپنی رائے کے اظہار کا موقع نہیں دیا گیا جیسا کہ جرمن کے بعض حصّوں کو۔ ان سے باقاعدہ طور پر دریافت نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے لئے کس حکومت یا کس طریق حکومت کو پسند کرتے ہیں۔ شام کی آبادی کو باوجود اس کے صاف صاف کہہ دینے کے کہ وہ آزاد رہنا چاہتی ہے ، فرانس کے زیراقتدار کر دیا گیا ہے۔ فلسطین کو جس کی آبادی کا2/3 حصّہ مسلمان ہے ایک یہودی نو آبادی قرار دے دیا گیا ہے حالانکہ یہود کی آبادی اس علاقہ میں1/4 کے قریب ہے اور یہ آبادی بھی جیسا کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا میں لکھا ہے 1878ء سے ہوئی ہے .....یہی حال لبنان کا ہے اس کو فرانس کے زیرِ اقتدار کر دینا بالکل کوئی سبب نہیں رکھتا اور آرمینیا کا آزاد کرنا بھی بے سبب ہے .....اسی طرح سمرنا کو یونان کے حوالہ کرنا بھی خلافِ انصاف ہے کیونکہ کسی مُلک کے صرف ایک شہر میں کسی قوم کی کثرتِ آبادی اسے اس شہر کی حکومت کا حقدار نہیں بنا دیتی .....تھریس جو ترکوں سے لے کر یونان کو دیا گیا ہے۔ اس کا سبب بھی معلوم نہیں ہوتا .....غرض میرے نزدیک اس معاہدہ کی کئی شرائط میں حقوق کا اتلاف ہؤا ہے اس لئے جس قدر جلد یورپ اس میں تبدیلی کرے اسی قدر یہ بات اس کی شُہرت اور اس کے اچھے نام کے قیام کا موجب ہوگی’’۔139
    حجاز کی آزادی کے متعلق جماعت احمدیہ کا مطالبہ
    اسی طرح جب انگریزوں نے حجاز کی آزادی میں روکیں ڈالنے کی کوشش کی تو اس وقت بھی امام جماعت احمدیہ نے اس کے خلاف آواز بُلند کی
    چنانچہ 23جون 1921ء کو شملہ میں جماعت احمدیہ کی طرف سے لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند کو جو ایڈریس دیا گیا اس میں حجاز کی آزادی کا مسئلہ خاص طور پر پیش کیا گیا۔ اس ایڈریس کے بعض فقرات یہ ہیں:-
    ‘‘ہمارے نزدیک اس سے بھی زیادہ یہ سوال اہم ہے کہ حجاز کی آزادی میں کسی قسم کا خلل نہیں آنا چاہئے۔ جب حجاز کی آزادی کا سوال پیدا ہؤا تو اُس وقت یہی سوال ہر ایک شخص کے دل میں کھٹک رہا تھا کہ کیا ترکوں سے اس مُلک کو آزاد کرنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ بوجہ بنجر علاقہ ہونے کے وہاں کی آمد کم ہو گی اور حکومت کے چلانے کے لئے ان کو غیر اقوام سے مدد لینی پڑے گی اور اس طرح کوئی یورپین حکومت اس کو مدد دے کر اس کو اپنے حلقۂ اثر میں لے آئے گی۔
    نئی خبریں اس شُبہ کو بہت تقویت دینے لگی ہیں ریوٹر نے پچھلے دنوں مسٹرچرچل جو وزیر نو آبادی ہیں ان کی ایک سکیم کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر حجاز گورنمنٹ اپنے بیرونی تعلقات کو برٹش گورنمنٹ کی نگرانی میں دے دے اور اندرون مُلک کے امن کا ذمّہ لے تو گورنمنٹ برطانیہ اس کو سالانہ مالی امداد دیا کرے گی۔ اس سے تین شبے پیدا ہوتے ہیں جن کے ازالہ کی طرف جناب کو فوراً ہوم گورنمنٹ کو توجّہ دلانی چاہئے۔
    اوّل۔ یہ سکیم وزیر نو آبادی نے تیار کی ہے جس کا آزاد ممالک سے کوئی تعلق نہیں۔ (2) فارن تعلقات کا کسی حکومت کے سپرد کر دینا آزادی کے صریح منافی ہے۔ (3) اندرونِ مُلک میں امن کے قیام کی شرط آزادی کے مفہوم کو اَور بھی باطل کر دیتی ہے۔ یہ تو گورنمنٹ کے اصلی کاموں میں سے ہے۔ اس شرط کے سوائے اس کے اور کوئی معنے نہیں ہو سکتے کہ اگر کسی وقت مُلک میں فساد ہو گا تو برطانیہ کی حکومت کا حق ہو گا کہ وہاں کی حکومت کو بدل دے یا وہاں کے انتظام میں دخل دے یا فوجی دخل اندازی کرے اور یقینا اس قسم کی آزادی کوئی آزادی نہیں یہ پوری ماتحتی ہے اور فرق صرف یہ ہے کہ حکومتِ برطانیہ حجاز پر براہِ راست حکومت نہ کرے گی بلکہ ایک مسلمان سردار کی معرفت حکومت کرے گی اگر حجاز کی حکومت اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتی تو اس کو ترکوں کو اُنہی شرائط پر واپس کر دینا چاہئے جن شرائط پر کہ مسٹر چرچل اسے انگریزی حکومت کے ماتحت رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ جناب اس غلط قدم کے اُٹھانے کے خطرناک نتائج پر ہوم گورنمنٹ کو فوراً توجّہ دلائیں گے اور اس کے نتائج کو جلد شائع فرمائیں گے’’۔140
    اسی طرح امام جماعت احمدیہ نے 1921ء میں اپنی ایک تقریر میں ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:-
    ‘‘ہم نے باوجود بے تعلق اور علیحدہ ہونے کے پھر بھی معاہدۂ ترکی کے بارہ میں اتحادیوں سے جو غلطیاں ہوئی تھیں ان کے متعلق گورنمنٹ کو مشورہ دیا کہ ان کی اصلاح ہونی چاہئے۔ چنانچہ ان مشوروں کے مطابق ایک حد تک تھریس اور سمرنا کے معاملہ میں پچھلے معاہدہ میں اصلاح بھی کی گئی ہے۔ ہم نے عربوں کے معاملہ میں لکھا کہ وہ غیر قوم اور غیر زبان رکھتے ہیں وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ نہ ان کو ترکوں کے ماتحت رکھا جائے نہ اتحادی ان کو اپنے ماتحت رکھیں ..... پس ہم سے جس قدر ہو سکتا تھا ہم نے کیا۔ رسالے ہم نے لکھ کر شائع کئے، چٹھیاں میں نے گورنمنٹ کو لکھیں اور جو غلطیاں میں نے گورنمنٹ کو بتائیں گورنمنٹ نے فراخ حوصلگی سے ان میں سے بعض کو تسلیم کیا اور ان کی اصلاح کے متعلق کوشش کرنے کا وعدہ کیا۔ ہم نے ہز ایکسی لینسی گورنر پنجاب کو میموریل بھیجا۔ ہم نے گورنر جنرل کو بھی لکھا۔ ولایت میں اپنے مبلّغین کو ترکوں سے ہمدردی اور انصاف کرنے کے متعلق تحریک کرنے کے لئے ہدایت کی، امریکہ میں اپنا مبلغ بھیجا کہ علاوہ تبلیغِ اسلام کے ترکوں کے متعلق جو غلط فہمیاں ان لوگوں میں مشہور ہیں ان کو دُور کرے۔ چنانچہ وہ وہاں علاوہ تبلیغِ اسلام کے یہ کام بھی کر رہا ہے اور کئی اخبارات میں ترکوں کی تائید میں آرٹیکل لکھے گئے ہیں۔ غرض ہماری طرف سے باوجود ترکوں سے بے تعلق ہونے کے محض اسلام کے نام میں شرکت رکھنے کے باعث ان کے لئے اس قدر جدوجہد کی گئی ہے مگر ترکوں نے ہمارے لئے کیا کیا۔ جب ہمارے بعض آدمی ان کے علاقہ میں گئے تو ان کو گرفتار کر لیا گیا’’۔ 141
    پھر جب شریفِ مکّہ پر ابن سعود نے حملہ کیا تو اس وقت بھی امام جماعت احمدیہ نے ‘‘حج بیت اﷲ اور فتنہ حجاز’’ کے عنوان سے ایک سلسلہ مضامین شائع فرمایا اس مضمون کے چند فقرات یہ ہیں۔آپ نے تحریر فرمایا:-
    ‘‘چونکہ ترکی حکومت کے دور جدید میں عربوں پر سخت ظلم کئے جاتے تھے ان کو اچھے عہدے نہیں دیئے جاتے تھے۔ عربی زبان کو مٹایا جاتا تھا اور عرب قبائل کو جو مدد سلطان عبدالحمید خان کی طرف سے ملتی تھی وہ بند کر دی گئی۔ اس لئے عرب بددل تو پہلے ہی سے ہو رہے تھے بعض شامی امراء اور شریفِ مکّہ کے نمائندوں کے ساتھ تبادلۂ خیالات کے بعد عرب لوگ اس شرط پر اتحادیوں کے ساتھ ملنے کے لئے تیار ہو گئے کہ کُل عرب کی ایک حکومت بنا کر عربوں کو پھر متحد کر دیا جائے گا۔ چونکہ شریفِ مکّہ ہی اس وقت کھلے طور پر لڑسکتے تھے اس لئے انہی کو امید دلائی گئی اور انہی کو امید پیدا بھی ہوئی کہ وہ سب عرب کے بادشاہ مقرر کر دیئے جائیں گے۔ اس معاہدہ کے بعد شریف حسین شریفِ مکّہ نے اپنے آپ کو اتحادیوں سے ملا دیا اور ترکوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ یہ جون 1916ء میں ہؤا ..... عربوں کا اس وقت اتحادیوں کی مدد کے لئے کھڑا ہونا بتاتا ہے کہ وہ نہایت سنجیدگی سے اپنی آزادی حاصل کرنے کے در پے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اتحادیوں کو ان کا مدد دینا انتہائی درجہ کی قُربانی پر مشتمل تھا اور ان کا شکریہ اتحادیوں پر لازم ..... غرض کہ جون 1916ء میں شریف نے ترکوں کے خلاف جنگ شروع کی اور جنگ کے بعد شام کی حکومت امیر فیصل بن شریف حسین کو دے دی گئی۔ فلسطین اور عراق کے درمیان کا علاقہ عبداﷲ بن شریف حسین کو اور حجاز کی حکومت خود شریف کے ہاتھ میں آئی۔ اس عرصہ میں فرانس نے شام کا مطالبہ کیا اور انگریزوں نے وہ علاقہ اس کے سپرد کر دیا۔ چونکہ فرانس نہیں چاہتا تھا کہ شام آزادی حاصل کرے اور امیر فیصل کے ارادے اس وقت بہت بُلند تھے۔ وہ ایک متحدہ عرب حکومت کے خواب دیکھ رہے تھے۔ فرانس کے نمائندوں اور ان میں اختلاف ہؤا اور امیر فیصل کو شام چھوڑنا پڑا۔ انگریزوں نے اس کے بدلہ میں ان کو عراق کا بادشاہ بنادیا۔ سیاسی طور پر عرب کی آئندہ امیدوں پر یہ ایک بہت بڑا حربہ تھا کیونکہ شام کی آزادی کا سوال بالکل پیچھے جا پڑا اور شام کی شمولیت کے بغیر عرب کبھی متحد نہیں ہو سکتا تھا ..... اس عرصہ میں بعض نئے امور پیدا ہونے شروع ہوئے۔ انگریزی نمائندہ مصر نے شریف مکّہ سے وعدہ کیا تھا کہ عرب کو آزاد ہونے کے بعد ایک حکومت بنا دیا جائے گا۔ وہ اس وعدہ کے پورا کرنے پر زور دیتے تھے۔ ادھر عرب تین طاقتوں کے اثر کے نیچے تقسیم ہو چُکا تھا ..... شریف کو غصّہ تھا کہ مجھ سے وعدہ خلافی کی گئی ہے ..... شریف نے جب دیکھا کہ ادھر انگریز ان کی اس خواہش کو پورا کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ عرب کو ایک حکومت کر دیا جائے ..... اور اُدھر عالمِ اسلام ان کے رویّہ کے خلاف ہے تو چونکہ ان کی دیرینہ خواب پوری ہوتی نظر نہ آتی تھی انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ انگریزوں کو ناراض کر لیں گے اور عالم اسلامی کو خوش ..... یہ فیصلہ کر کے اُنہوں نے انگریزی معاہدہ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ ان کو انگریزوں سے مدد ملنی بند ہو گئی ..... امیر ابن سعود نے یہ دیکھ کر کہ اس سے عمدہ موقع کوئی نہ ملے گا حجاز سے ایک علاقہ کا مطالبہ کیا۔ شریف حسین نے اس علاقے کے دینے سے انکار کر دیا اور وہ جنگ شروع ہو گئی جو اب شروع ہے’’۔
    آخر میں آپ نے تحریر فرمایا کہ:-
    ‘‘اگر شریف آئندہ کو اپنی اصلاح کر لیں، ترکوں سے اپنے تعلقات درست کر لیں، وہابیوں پر ظلم چھوڑ دیں بلکہ ان کو کامل مذہبی آزادی دیں، عالمِ اسلام کی ہمدردی کو حاصل کریں اور عالمِ اسلام بھی ان سے جاہلانہ مطالبات نہ کرے تو ان کے ہاتھ پر عرب کا جمع ہو جانا نسبتاً بہت آسان ہو گا’’۔ 142
    ان حوالہ جات سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ جماعت احمدیہ، جب کبھی بھی اسلامی حکومتوں اور اسلامی مفاد کا ٹکراؤ انگریزوں سے ہؤا ہے، اسلامی مُلکوں اور مسلمانوں کی تائید کرتی رہی ہے اور بہت سے کافر کہنے والے علماء اور ان کی جماعتوں سے بھی پیش پیش رہی ہے اس کے باوجود بھی احمدیوں کو مسلمانوں کا دُشمن قرار دینا حد درجہ کا ظلم اور حد درجہ کی بے ایمانی اور حد درجہ کی ڈھٹائی ہے اور یہ کہنا کہ احمدی یہ چاہتے تھے کہ اسلامی مُلک انگریزوں کے قبضے میں آجائیں ایک خطرناک افتراء ہے۔ وَلَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔
    بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے انگریزوں کی کیوں تعریف کی؟
    گو مذکورہ بالا تحریر سے جماعتِ احمدیہ کا رویّہ مسلمانوں کے متعلق عموماً اور مسلم حکومتوں کے متعلق خصوصاً واضح ہو جاتا
    ہے اور درحقیقت کسی مزید تشریح کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن پھر بھی ہم ایک امر کو بیان کر دینا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مودودی صاحب کو یہ شکوہ ہے کہ بانئ سلسلہ احمدیہ نے انگریزوں کی تعریف بہت جگہ پر کی ہے۔ انگریز کی تعریف کرنا یا کسی اور کی تعریف کرنا اسلامی شریعت کے خلاف نہیں۔ اسلامی شریعت کے خلاف یہ ہے کہ انسان جھوٹ بولے۔ سو جیسا کہ اوپر بیان ہو چُکا ہے جھوٹ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے نہیں بولا بلکہ ان کے مخالفین نے بولا ہے۔ جس زمانہ میں بانی ٔ سلسلہ احمدیہ پیدا ہوئے اس زمانہ سے پہلے پنجاب میں سکھّوں کی حکومت تھی۔ ان کے زمانہ میں انگریزوں کی حکومت تھی اور ان کی وفات کے چالیس سال بعد ہندوستان کے ایک حصّہ میں پاکستان قائم ہؤا اور ایک حصّہ میں ہندوستانی حکومت قائم ہوئی۔ پس بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے جو کچھ انگریزی حکومت کے متعلق لکھا ہے اس کے متعلق یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ ان کے سامنے کون سے حالات تھے جن پر اُنہوں نے اپنا نظریہ قائم کیا۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی تو ان کے سامنے یہ تھا کہ ان کے مُلک میں سکھّوں کی حکومت تھی جو اذانوں سے روکتے تھے، نمازوں سے روکتے تھے، دینی تعلیم کے حصول سے روکتے تھے، مسلمانوں کی جائدادوں پر زبردستی قبضہ کر لیتے تھے، ان کی حکومت میں سوائے اکّا دُکّا مسلمانوں کے جن کو ضرورتاً رکھا گیا تھا عام طور پر مسلمانوں کو ملازمتوں میں نہیں رکھا جاتا تھا اور مسلمانوں کی لڑکیاں بعض دفعہ زبردستی چھین لی جاتی تھیں اور ان کے ساتھ حیا سوز سلوک کئے جاتے تھے۔ جب انگریزوں نے سکھّوں کی جگہ لی تو اس وقت انگریزوں نے کسی مسلمانوں کی حکومت پر قبضہ نہیں کیا بلکہ سکھّوں کی حکومت پر قبضہ کیا۔ پنجاب کے مسلمان کسی اسلامی حکومت کے ماتحت نہیں تھے بلکہ سکھّوں کی حکومت کے ماتحت تھے جن کا سلوک اوپر گزر چُکا ہے۔ اس کے مقابلہ میں انگریزوں نے جہاں تک پرسنل لاء کا سوال ہے مسلمانوں کو آزادی دی اور گو پوری طرح انصاف نہیں کیا لیکن پھر بھی ہزاروں مسجدیں جو سکھّوں نے چھین لی تھیں واگزار کر دیں۔ ہزاروں ہزار مسلمانوں کے مکانات اُن کو واپس دلائے اور نوکریوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے۔ مسجدوں میں اذانوں اور نمازوں کی آزادی حاصل ہوئی اور دینی تعلیم پر سے تمام بندشیں اُٹھا لی گئیں۔ مودودی صاحب بتائیں کہ ان حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے آیا بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کو انگریزوں کی تعریف کرنی چاہئے تھی یا کہ مذمت کرنی چاہئے تھی؟ اگر وہ انگریزوں کی حکومت کی مذمت کرتے تو اس کے معنے یہ تھے کہ وہ سکھ راج کی تائید کرتے ہیں کیونکہ پنجاب میں سکھ راج تھا مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی اور اس کے معنے یہ تھے کہ وہ اس بات کو پسند کرتے کہ اذانوں کو بند کر دیا جائے، مسجدوں کو توڑ دیا جائے یا ان میں اصطبل بنا دیئے جائیں۔ مسلمانوں کی دینی تعلیم بند کر دی جائے ، جہاں بس چلے ان کی لڑکیاں زبرستی چھین لی جائیں اور معمولی معمولی الزاموں پر ان کو قتل کر دیا جائے۔ کیا اگر بانئ سلسلہ احمدیہ ایسا کرتے تو مولانا مودودی کے دل کو ٹھنڈک نصیب ہو جاتی۔ کیا ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ایسے ہی واقعات سے ٹھنڈک نصیب ہوتی ہے۔ اگر نہیں تو مودودی صاحب اور ان کے ساتھی بتائیں کہ اگر بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے ایسے ماضی کو دیکھ کر انگریزوں کے زمانہ کی تعریف کی تو قصور کیا کیا؟
    اب رہا مستقبل کا سوال۔ مستقبل بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے زمانہ میں صرف یہ تھا کہ ہندو لوگ ہندوستان کو آزادی دلوانے کی جدوجہد کر رہے تھے اور کسی آئندہ حکومت میں مسلمانوں کے جدا گانہ انتخاب کے لئے بھی کوئی تحفظ موجود نہیں تھا۔ یا مسلمان سیاست سے بالکل الگ تھے اور یا پھر کانگریس کے ساتھ شامل تھے۔ اگر وہ حقیقت پوری ہو جاتی تو کیا سارے ہندوستان میں ایسی حکومت نہ قائم ہو جاتی جو موجودہ بھارت حکومت سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی کیونکہ موجودہ بھارت حکومت کے اوپر کئی پابندیاں ہیں۔ اوّل اس معاہدہ کی پابندی جو انہوں نے تقسیم ہندوستان کے وقت مسلمانوں سے کیا۔ دوم ان کے پہلو میں ایک آزاد مسلم حکومت کا وجود مگر باوجود ان پابندیوں کے بھارت میں مسلمانوں پر کئی سختیاں گزر جاتی ہیں۔ گومولانا مودودی صاحب کی جماعت ان سختیوں کو کڑوا گھونٹ کر کے نہیں بلکہ شربت قرار دے کر پی رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں کئی قسم کی سختیاں مسلمانوں پر ہو رہی ہیں اور مسلمان آج تک پوری طرح اپنے آپ کو آزاد محسوس نہیں کرتا۔ اگر باہمی کوئی سمجھوتہ نہ ہوتا، اگر بھارت کے پہلو میں پاکستان نہ ہوتا تو مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ گزرنی تھی اس کا خیال کر کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیا مودودی صاحب یہ چاہتے ہیں کہ ایسے مستقبل کی تائید بانیٔ سلسلہ احمدیہ کرتے۔ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ 1908ء میں فوت ہوئے اور پاکستان کا خیال 1930ء ، 1931ء میں پیدا ہؤا۔ 1908ء میں فوت ہونے والے انسان پر یہ جُرم لگانا کہ پاکستان کے ذریعہ سے مسلمانوں کا جو مستقبل ہونے والا تھا اس نے اس کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کیوں انگریزی حکومت کے زوال کی خواہش نہ کی کتنا مضحکہ خیز ہے اور پاکستان بننے کا فیصلہ چونکہ 1947ء کے شروع میں ہؤا تھا اس لئے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ بانیٔ سلسلہ احمدیہ پر مودودی صاحب یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے خیال کے مجسّم ہونے سے پورے چالیس سال پہلے کیوں پاکستان کے وجود کا اندازہ لگاتے ہوئے اس کی تائید نہ کی اور انگریزوں کی مذمت نہ کی۔ حالانکہ خود مودودی صاحب کا یہ حال ہے کہ وہ 1947ء تک پاکستان کے مخالف رہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کا ارادہ ہی پاکستان آنے کا نہیں تھا۔ وہ جانا چاہتے تھے کلکتہ مگر ایسے حادثات پیش آگئے کہ مجبوراً انہیں یہاں آنا پڑا اور اس وقت بھی ان کی جو جماعت ہندوستان میں ہے وہ ہندوستانی حکومت کی تعریف اور توصیف میں مشغول ہے مگر مودودی صاحب پاکستان میں آکر پاکستانی حکومت کی مذمت میں مشغول ہیں۔ ایسے حقائق کی موجودگی میں مودودی صاحب کو یہ جرأت کس طرح ہوئی کہ وہ اس قسم کی باتوں کو پیش کر سکیں۔ کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو عقل سے بالکل کورا سمجھتے ہیں؟
    بلوچستان کے لوگوں کو احمدی بنانے کاارادہ
    (14) ایک اعتراض اُنہوں نے یہ کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو احمدی بنانے کی کوشش کی جائے کیونکہ BASE
    کے بغیر تبلیغ نہیں پھیلتی۔ 143
    نہ معلوم مولانا کو اس پر کیا اعتراض نظر آیا؟ احمدی جماعت ضروریہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہم نے تبلیغ کرنی ہے جس طرح آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ نے تبلیغ کرنی ہے۔ آپ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ آپ کی نیّت ہے یا نہیں کہ سارے مسلمانوں کو جماعتِ اسلامی کا فرد اور صالح بنالیا جائے۔ اگر آپ کی نیّت یہ نہیں تو آپ کا ایمان ظاہر ہے اور اگر آپ کی یہ نیّت ہے تو پھر وہی بات اگر احمدی چاہتے ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟
    احمدیوں کو اقلیت بنوانے کا مطالبہ کونسی سیاسی انجیل کا ہے
    (15) پھر وہ لکھتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ احمدی تو اپنے آپ کو اقلیت نہیں بنوانا چاہتے۔ پھر ان کو اقلیت بنوانے کا مطالبہ
    کیوں کیا جاتا ہے اور اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ کون سی سیاسی انجیل کا ہے جب یہ مطالبہ معقول ہے تو پھر اس پر اعتراض کیا۔144
    مولانا مودودی صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ معقولیت ہی کا نام سیاسی انجیل ہے جس معقولیت کی بناء پر وہ اپنا مطالبہ پیش کرتے ہیں وہی معقولیت ان کی بات کو ردّ کرتی ہے۔ مولانا مودودی صاحب اپنے اس رسالہ میں اور ان کے ساتھی بعض دوسری تحریروں میں یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ صرف پنجاب اور بہاولپور میں ہی مقبول ہے باقی علاقوں میں اس مطالبہ کی اہمیت عوام پر روشن نہیں ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ کی اکثریت نہ پنجاب اور بہاولپور میں اور نہ دوسرے صوبوں میں اس کی ضرورت محسوس کرتی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ مطالبہ اکثریت کا نہیں اور اکثریت یہ نہیں چاہتی کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ کسی قوم کو اقلیت قرار دینے کی دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو یہ کہ اکثریت اقلیت سے خائف ہو یا اقلیت اکثریت سے خائف ہو۔ تیسری وجہ ایک مُلک کے باشندوں کو دو حصّوں میں تقسیم کرنے کی کوئی نہیں ہو سکتی۔ پس جب کہ خود مودودی صاحب کے نزدیک اکثریت احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی خواہش مند نہیں اور دوسری طرف احمدیوں کی طرف سے یہ مطالبہ پیش نہیں کہ ان کو اقلیت بنایا جائے کیونکہ ان کو مسلمانوں کی اکثریت سے خوف ہے بلکہ احمدی سمجھتے ہیں کہ اگر کونسلوں میں ان کے نمائندے نہ بھی آئیں تو چونکہ حکومت نے سیاسی امور کا فیصلہ کرنا ہے اور سیاسی امور سارے مُلک کے مشترک ہوتے ہیں اس نے اگر باقی لوگوں سے مِل کر وہ اپنے آپ کو منتخب نہیں کروا سکتے تو نہ سہی۔ کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنے لئے کونسل نشستوں کا علیحدہ مطالبہ کریں تو بتائیے کہ کونسی وجہ معقول احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی رہ جائے گی۔ پس مودودی صاحب کا حق نہیں کہ وہ یہ سوال کریں کہ احمدیوں کو اقلیت نہ قرار دینے کا مسئلہ کونسی سیاسی انجیل کا ہے بلکہ باشندگانِ پاکستان کا حق ہے کہ وہ مودودی صاحب سے مطالبہ کریں کہ احمدیوں کو اقلیت بنوانے کا مطالبہ کونسی سیاسی انجیل کا ہے؟
    یہ بالکل غلط ہے کہ مسلمانوں کا حصّہ قرار
    پانے کی وجہ سے احمدیت کی تبلیغ پھیلی
    (16) آخر میں مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا حصّہ قرار پانے
    کی وجہ سے احمدیت کی تبلیغ پھیلتی چلی گئی۔ 145
    یعنی چونکہ احمدی مسلمان کہلاتے تھے اس لئے ان کی تبلیغ پھیلتی گئی۔ یہ بھی سخت خلافِ واقعہ امر ہے۔ ہندوستان میں چالیس لاکھ عیسائی ہیں جن میں سے چار پانچ لاکھ مسلمان سے عیسائی ہؤا ہے۔ اسی طرح مصر، شام، فلپائن، انڈونیشیا، برٹش، بورنیو اور افریقہ میں پچاس لاکھ کے قریب مسلمان عیسائی ہؤا ہے۔ جماعت احمدیہ کی تو ساری تعداد چار پانچ لاکھ ہے۔ اگر احمدیوں کے مسلمانوں کا حصّہ قرار پانے کی وجہ سے احمدیت کی تبلیغ پھیلتی چلی گئی تو یہ جو پونے کروڑ کے قریب مسلمان عیسائی ہو چُکا ہے کیا وہ بھی عیسائیوں کے مسلمان کہلانے کی وجہ سے ہؤا تھا؟ مودودی صاحب مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان کہلا کر ان کے عقائد بگاڑے تو وہ بگڑ سکتے ہیں لیکن اگر اسی مبلغ کو زبردستی غیر مسلم کہا جائے تو پھر مسلمان محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے تو بہائیوں کے دعویٰ کے مطابق پندرہ بیس لاکھ ایرانی اور عرب بہائی ہو چُکا ہے۔ وہ کیوں بہائی ہو گئے تھے؟ بہائیوں کو تو اسلام کا لیبل نہیں لگا ہؤا۔ پھر افریقہ اور ایشیا کے مختلف مُلکوں میں پونے کروڑ کے قریب مسلمان عیسائی ہو گیا ہے، وہ کیوں عیسائی ہو گیا ہے؟ عیسائیت پر تو اسلام کا لیبل نہیں لگا ہؤا۔ صاف بات ہے کہ وہ لوگ اس لئے عیسائی ہو گئے اور اس لئے بہائی ہوئے کہ ان کی صحیح تربیت نہیں کی گئی تھی۔ ان کو اسلام کی صحیح تعلیم نہیں بتائی گئی تھی اور جب تک کسی قوم کی صحیح تربیت نہ ہو اور ان کو اپنے مذہب کی صحیح تعلیم نہ دی جائے۔ وہ دوسرے مذہب کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ احمدیت کے یورپ میں پھیلنے میں بڑی روک یہی ہے کہ احمدی مسلمان کہلاتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کے دلوں میں سخت جذبۂ نفرت پیدا کیا گیا ہے۔ جماعت احمدیہ کو متواتر یورپین مستشرقین نے کہا ہے کہ تم اسلام کا نام چھوڑ دو پھر دیکھو کہ تمہاری تبلیغ عیسائیوں میں کثرت سے پھیلنے لگ جائے گی جس طرح بہائیوں کی تبلیغ ان میں پھیل رہی ہے مگر ہم نے کبھی اس کو برداشت نہیں کیا کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان رہنا چاہتے ہیں اور اسلام میں ہی اپنی نجات سمجھتے ہیں۔ پس یہ بالکل جھوٹ ہے کہ مسلمان کہلانے کی وجہ سے احمدیہ جماعت پھیلی۔ احمدیوں سے بیسیوں گُنے زیادہ مسلمان غیر مسلم کہلانے والی قوموں میں شامل ہوئے اور غیر مسلم اقوام میں احمدیہ اشاعت کے راستہ میں یہی روک رہی کہ وہ احمدی مسلمان کہلاتے ہیں۔
    فوج، پولیس اور عدالت میں احمدیوں کی بھرتی کے متعلق غلط بیانی
    (17) اس کے بعد مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ انگریزی حکومت کی منظورِ نظر بن کر جماعت احمدیہ
    فوج، پولیس اور عدالت میں اپنے آدمی دھڑا دھڑ بھرتی کراتی چلی گئی اور یہ سب کچھ اس نے مسلمان بن کر مسلمانوں کی ملازمت کے کوٹہ سے حاصل کیا۔ 146
    یہ سرا سر غلط بیانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ ہی انگریزی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے پروپیگنڈا کی وجہ سے احمدیوں پر ظلم ہؤا ہے۔ چنانچہ ہم اس کے ثبوت میں دو واقعات شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو امام جماعت احمدیہ اپنے بعض خطبات میں بھی بیان فرما چکے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:-
    ‘‘1917ء کا واقعہ ہے۔ مَیں نے شملہ یا دہلی میں چودھری سرظفراﷲ خاں صاحب کو ایڈجوئینٹ جنرل یا ایسے ہی کسی اور بڑے افسر کے پاس ایک کیس کے سلسلہ میں بھیجا۔ کیس یہ تھا کہ ایک احمدی پر فوج میں سختی کی گئی اور پھر باوجود یہ تسلیم کر لینے کے کہ قصور اس کا نہیں اسے فوج سے بِلا وجہ نکال دیا گیا تھا۔ اس کیس کے متعلق بات کرنے کے لئے مَیں نے چوہدری صاحب کو اس افسر کے پاس بھیجا۔ چوہدری صاحب نے اس سے جاکر کہا کہ دیکھئے کتنے ظلم کی بات ہے کہ جس شخص کے متعلق یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور مظلوم ہے اس کو بِلا وجہ فوج سے نکال دیا گیا ہے۔ حالانکہ ہماری جماعت ایسی ہے جو مُلک کی خدمت کے لئے کام کرتی ہے ، روپیہ کی غرض سے نہیں۔ وہ فوجی افسر ساری بات سُننے کے بعد کہنے لگا کہ مَیں تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کی جماعت مُلک کی خدمت کی خاطر فوج میں کام کرتی ہے اور مَیں جانتا ہوں کہ اس جماعت کے اندر حُب الوطنی کا جذبہ پایا جاتاہے اور اسی جذبہ کے ماتحت یہ جماعت کام کرتی ہے، روپیہ کی خاطر کام نہیں کرتی ..... اور مَیں اس بات کو بھی سمجھتا ہوں کہ دوسروں پر اتنا اعتماد نہیں کیا جاسکتا جتنا کہ آپ کی جماعت پر ہمیں اعتماد ہے لیکن ایک بات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں آپ اس کا جواب دیں اور وہ بات یہ ہے کہ ہندوستان کی حفاظت کے لئے اس وقت اڑھائی تین لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آپ کے ایک آدمی کی خاطر اور اس کے حق بجانب ہونے کی بناء پر دوسروں کو خفا کر لیں اور وہ ناراض ہو کر کہہ دیں کہ ہم فوج میں کام نہیں کرتے ہمیں فارغ کر دیں تو کیا آپ کی جماعت اڑھائی تین لاکھ فوج مُلک کی حفاظت کے لئے مہیّا کرکے دے سکتی ہے۔ اگر یہ ممکن ہے تو پھر آپ کی بات پر غور کیا جاسکتا ہے اور اگر یہ بات آپ کے نزدیک بھی ناممکن ہے تو بتائیے ہم آپ کی جماعت کی دلداری کی خاطر سارے ہندوستان کی حفاظت کو کس طرح نظر انداز کر سکتے ہیں؟ ..... پس ہماری یہ حالت ہے کہ ہمارے اپنے مُلک میں بھی ہماری بات کو کوئی وقعت نہیں دی جاتی۔ حکومت جو تمام رعایا سے یکساں سلوک کا دعویٰ کرتی ہے وہ بھی بعض دفعہ افسروں کی مخالفت کی وجہ سے اور بسا اوقات اس وجہ سے ہمارا ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہے کہ ہمارا ساتھ دینا حکومت کے لئے ضعف کا موجب ہو گا اور وہ نہیں چاہتی کہ جماعت کی بات کو مان کر مُلک کی اکثریت کو ناراض کرے’’۔ 147
    اسی قسم کا ایک واقعہ 1947ء میں بھی ہؤا۔ یہ واقعہ بھی حضرت امام جماعت احمدیہ اپنی ایک تقریر میں بیان فرما چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا:-
    ‘‘ہمارا ایک احمدی دوست فوج میں ملازم ہے۔ باوجودیکہ اس کے خلاف ایک بھی ریمارک نہ تھا اور دوسری طرف ایک سکھ کے خلاف چار ریمارکس تھے۔ اس سکھ کو اوپر کر دیا گیا اور احمدی کو نیچے گرا دیا گیا۔ جب وہ احمدی انگریز کمانڈر کے پاس پہنچا اور اپنا واقعہ بیان کیا تو اُس نے کہا واقعی تمہارے ساتھ ظلم ہؤا ہے تم درخواست لکھ کر میرے پاس لاؤ لیکن جب وہ احمدی درخواست لے کرانگریز افسر کے پاس پہنچا تو اُس نے درخواست اپنے پاس رکھ لی اور اُسے اوپر نہ بھجوایا۔ کئی دن کے بعد جب دفتر سے پتہ لیا گیا کہ آخر وجہ کیا ہے کہ درخواست کو اُوپر بھجوایا نہیں گیا تو دفتر والوں نے بتایا کہ اصل بات یہ ہے کہ شملہ سے آرڈر آگیا ہے کہ کوئی اپیل اس کے خلاف اُوپر نہ بھجوائی جائے’’۔148
    مولانا مودودی صاحب نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے واقعات کو دیکھا تک نہیں کیونکہ شاید صالحین کے لئے واقعات کی جانچ پڑتال ضروری نہیں ہے۔ وہ بتائیں تو سہی کہ کتنے احمدی کس کس ملازمت میں ہیں اور وہ کس بناء پر ہیں یعنی آیا وہ انتخاب میں آئے ہیں۔ امتحان میں پاس ہوئے ہیں یا رعایت سے لئے گئے ہیں۔ اگر ثابت ہو جائے کہ احمدی باوجود نالائق ہونے کے رعایتاً کسی ملازمت میں لے لئے گئے ہیں یا مسلمانوں کی ملازمتوں کے معتدبہ حصّہ پر قابض ہیں تو پھر تو کوئی بات اعتراض کی بنتی ہے اور اگر یہ دونوں باتیں جھوٹی ہیں تو جھوٹ سے اسلام کی تائید نہیں ہو سکتی۔ اسلام بد نام ضرور ہو سکتا ہے۔
    مولانا مودودی اور ان کے رفقاء کار علماء کو چیلنج
    ابھی گزشتہ دنوں مولانا مودودی کے
    ساتھی علماء نے شور مچایا تھا کہ احمدی پاکستان کی فوج پر قابض ہو گئے ہیں۔ ہم مولانا اور ان کے رفقاء کار علماء کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ یہی ثابت کر دیں کہ احمدی پانچ فیصدی ملازمتوں پر قابض ہیں۔ چلو ہم اس سے اُتر کر مولانا کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ثابت کر دیں کہ احمدی ایک فیصدی ملازمتوں پر قابض ہیں کسی ادارے میں وہ کسی وجہ سے زیادہ آگئے ہیں اور کسی ادارے میں وہ بالکل نہیں ہیں یا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دیکھنا تو مجموعی تعداد کو چاہئے اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مجموعی تعداد کے لحاظ سے احمدیوں کی تعداد ہر گز اتنی زیادہ نہیں جو قابلِ اعتراض ہو یا ہر گز احمدی قابلِ اعتراض ذرائع سے ملازمتوں میں نہیں آئے۔
    مولانا مودودی کے مزعومہ مسلم اکابر اور علماء کے جھوٹ
    مولانا کے مزعومہ مسلم اکابر اور علماء تو اتنا جھوٹ بولتے رہے ہیں کہ فرقان فورس جو احمدیوں نے کشمیر کی لڑائی میں شامل ہونے
    کے لئے بنائی تھی اس کے متعلق پبلک میں اور اخباروں کے ذریعے سے وہ یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ وہ کروڑوں روپیہ کا سامانِ جنگ چرا کر لے گئی ہے چنانچہ اخبار ‘‘آزاد’’ (11ستمبر 1952ء صفحہ6) اور رسالہ ‘‘نمک حراموں کے کارنامے’’ میں لکھا گیا کہ مکمل فوجی وردیاں ادنیٰ سپاہی سے لے کر اعلیٰ افسروں تک کی چھ سو، تھری ناٹ تھری کی رائفلیں 599، مشین گن 20، مارٹر بمبز 226، گولیاں (21110) اکیس ہزار ایک سو دس، چھتیس سائز کے بہتّر گرنیڈ بمب اور ‘‘اس کے علاوہ گولی بارود، دستی بمب، سنگینیں اور بہت سا دوسرا نہایت قیمتی اور اہم سامان مثلاً وائرلیس سیٹ بمعہ چارجنگ انجن چارجنگ سیٹ اور بیٹری وغیرہ نیز بے شمار وردیاں اور دیگر سامان جو کروڑوں روپے کی مالیت کا ہوتا ہے یہ ہضم کئے بیٹھے ہیں’’۔
    حالانکہ جو سامانِ جنگ چرایا جانا بیان کیا جاتا ہے اس کا چوتھا حصّہ بھی کبھی احمدیہ کمپنی (یعنی فرقان بٹالین)کو نہیں دیا گیااور پھر احمدیوں کے پاس فوجی افسروں کی تحریر موجود ہے کہ سارا سامانِ جنگ جو ہم نے ان کو دیا تھا واپس لے لیا ہے۔ چنانچہ اس رسید کے الفاظ یہ ہیں:-
    ‘‘تمام چیزیں جو آرڈی نینس سٹور سے دی گئی تھیں یعنی ہتھیار، بارود، خیمے، سامانِ دیگر اور بستر وغیرہ وغیرہ سب کا سب K.A.21 بٹیلین یعنی فرقان سے واپس لے لیا گیا اور راولپنڈی سنٹرل ڈپو کو واپس کیا گیا۔ اب سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کی کوئی چیز اب فرقان فورس سے قابلِ وصول نہیں۔ دستخط D.A.D.O.S.A.K میجر Co-ord Dated 20 june 1950’’۔
    کیا مولانا اس رسید کو پڑھ کر لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ کہہ کر جھوٹ بولنے والے کے لئے دُعا کریں گے؟
    پھر مولوی عطاء اﷲ صاحب بخاری نے 11مئی 1952ء کو لائل پور میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ:-
    ‘‘مرزائیوں کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے بھارت کی سرحد پر ریاست بہاولپور میں اسّی ہزار مربع زمین حاصل کر رکھی ہے اور اسی طرح سر محمد ظفراﷲ نے اسّی ہزار ایکڑ زمین بہاولپور کی ہندوستانی سرحد پر حاصل کر رکھی ہے جس سے ان کے عزائم کا پتہ چلتا ہے’’۔ 149
    حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور افتراء ہے۔ ایک فیصدی بھی اس میں سچ نہیں۔ کیا اس قسم کے جھوٹ بول کر اسلام کی تائید کرنا مدِّنظر ہے؟ کیا اسلام بغیر جھوٹ کے ترقی نہیں کر سکتا۔
    مولانا مودودی اور ان کے ساتھی اگر سچے ہیں تو میدان میں آئیں اور اپنے الزامات ثابت کریں۔
    مولانا مودودی نے بھی اس کتاب میں یہ لکھا ہے کہ قادیانیوں کی جتھہ بندی سرکاری دفاتر کے علاوہ تجارت، صنعت اور زراعت میں بھی مسلمانوں کے خلاف نبردآزما ہے۔ 150
    زراعت اور تجارت و صنعت میں تفرقہ پیدا کرنا ایک معمہ ہے جسے مولانا ہی حل کر سکتے ہیں۔ صرف اس کے یہ معنے ہماری سمجھ میں آسکتے ہیں کہ دوسروں کے حصّہ پر اُنہوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ ہم مولانا کو قسم دیتے ہیں اس خدائے وحدہٗ لاشریک کی جس کے ہاتھ میں اُن کی جان ہے کہ اگر وہ اور اُن کے ساتھی ان الزاموں میں سچے ہیں تو وہ میدان میں آئیں اور اپنے ثبوت پیش کریں ورنہ کم سے کم لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ کہتے ہوئے اعلان کر یں کہ احمدیوں نے دوسرے فرقوں کی زمینوں، تجارتوں اور کارخانوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ہم بھی اسی وحدہٗ لاشریک کی قسم کھا کر کہیں گے جس کے ہاتھ میں ہماری جان ہے کہ یہ الزامات بالکل جھوٹے ہیں اور اگر ہم ان میں جھوٹ بول رہے ہیں تو خدا کی *** ہم پر اور ہماری اولادوں پر ہو۔ اس کے سوا ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ اگر اس کے باوجود کوئی شخص ان الزامات سے باز نہیں آتا تو ہم اس کا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں اور اس سے دُعا کرتے ہیں کہ وہ حق اور انصاف کی تائید کرے اور جھوٹے اشتعال دلانے والوں اور غلط بیانیوں سے بدنام کرنے والوں کا خود ہی علاج ہو۔
    آخری خطاب
    مولانا مودودی صاحب نے ‘‘قادیانی مسئلہ’’ لکھ کر مُلک میں خطرناک تفرقہ اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ جہاں تک
    مولانا مودودی صاحب کے اپنے مفاد کا سوال ہے اس کے مطابق تو یہ کوشش بالکل جائز اور درست ہے کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں صاف لکھ چکے ہیں کہ صالح جماعت کا یہ فرض ہے کہ ہر ذریعہ سے حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے کیونکہ حکومت پر قبضہ کئے بغیر کوئی پروگرام مُلک میں جاری نہیں ہو سکتا لیکن جہاں تک مسلمانوں کے مفاد اور اُمّتِ مسلمہ کے مفاد کا سوال ہے یقینا یہ کوشش نہایت ناپسندیدہ اور خلافِ عقل ہے۔ مسلمان جن خطرناک حالات میں سے اس وقت گزر رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اس وقت ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ متحد کرنے اور مسلمانوں کی سیاسی ضرورتوں کے متعلق زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ بغیر اتحاد کے اس وقت مسلمان سیاسی دُنیا میں سر نہیں اُٹھا سکتا۔ اس وقت بیسیوں ایسے علاقے موجود ہیں جن کی آبادی مسلمان ہے، جو سیاسی طور پر آزاد ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن باوجود اس کے وہ آزاد نہیں۔ وہ غیر مسلموں کے قبضہ میں ہیں اور بیسیوں ایسے ممالک اور علاقے موجود ہیں جہاں کے مسلمان موجودہ حالات میں علیحدہ سیاسی وجود بننے کے قابل نہیں ہیں لیکن انہیں ایسی آزادی بھی حاصل نہیں جو کسی مُلک کے اچھے شہری کو حاصل ہو سکتی ہے اور ہونی چاہئے بلکہ ان کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں معزز شہریوں کی حیثیت حاصل نہیں ہے اور جو علاقے مسلمانوں کے آزاد ہیں اُنہوں نے بھی ابھی پوری طاقت حاصل نہیں کی بلکہ وہ تیسرے درجہ کی طاقتیں کہلا سکتے ہیں۔ دُنیا کی زبردست طاقتوں کے مقابلہ میں ان کو کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ حالانکہ ایک زمانہ وہ تھا جب مسلمان ساری دُنیا پر حاکم تھا۔ جب مسلمان پر ظلم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ مسلمان پر ظلم کرنے کے نتیجہ میں ساری دُنیا میں شور پڑ جاتا تھا لیکن آج عیسائی پر ظلم کرنے سے تو ساری دُنیا میں شور پڑ سکتا ہے مسلمان پر ظلم کرنے سے ساری دُنیا میں شور نہیں پڑ سکتا۔ عیسائی کسی مُلک میں بھی رہتا ہو اگر اس پر ظلم کیا جائے تو عیسائی حکومتیں اس میں دخل دینا اپنا سیاسی حق قرار دیتی ہیں لیکن اگر کسی مسلمان پر غیر مسلم حکومت ظلم کرتی ہے اور مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو انہیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ غیر ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیا جاسکتا۔ گویا عیسائیت کی طاقت کی وجہ سے عیسائیوں کے لئے اَور سیاسی اصول کارفرما ہیں لیکن مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے سیاسی دُنیا ان کے لئے اَور اصول تجویز کرتی ہے۔ ایسے زمانہ میں مسلمانوں کا متفق اور متحد ہونا نہایت ضروری ہے اور چھوٹی اور بڑی جماعت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہئے۔ الیکشن میں ممبر کو اپنے جیتنے کی سچی خواہش ہوتی ہے اور وہ ادنیٰ سے ادنیٰ انسان کے پاس بھی جاتا ہے اور اس کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مسلمان حکومتوں کا معاملہ الیکشن جیتنے کی خواہش سے کم نہیں۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہم کو اس معاملہ میں چھوٹی جماعتوں کی ضرورت نہیں وہ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو اسلامی حکومتوں کے طاقتور بنانے کی اتنی بھی خواہش نہیں جتنی ایک الیکشن لڑنے والے کو اپنے جیتنے کی خواہش ہوتی ہے۔ پس وہ سچی خیر خواہی کا نہ مفہوم سمجھتا ہے اور نہ اس کو مسلمانوں سے سچی خیر خواہی ہے۔پس مودودی صاحب نے ‘‘قادیانی مسئلہ’’ لکھ کر قادیانی جماعت کا بھانڈا نہیں پھوڑا اپنی اسلامی محبت کا بھانڈا پھوڑا ہے اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کا پردہ فاش کیا ہے ۔ کاش وہ اسلام کی گزشتہ ہزار سال کی تاریخ دیکھتے اور انہیں یہ معلوم ہوتا کہ کس طرح مسلمانوں کو پھاڑپھاڑ کر اسلام کو تباہ کیا گیا ہے اور پھاڑنے کے یہ معنے نہیں تھے کہ ان میں اختلافِ عقیدہ پیدا کیا گیا تھا کیونکہ اختلافِ عقیدہ کبھی بھی فتنہ پردازوں نے پیدا نہیں کیا بلکہ اختلافِ عقیدہ علماء و فقہاء کی دیدہ ریزیوں کا نتیجہ تھا۔ پھاڑنے کے معنے یہ تھے کہ اختلافِ عقیدہ کی بناء پر بعض جماعتوں کو الگ کر کے اسلام کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ تاریخ موجود ہے ہر آدمی اس کی ورق گردانی کر کے اس نتیجہ کی صحت کو سمجھ سکتا ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مسئلہ کا حل اس طرح نہیں کیا جاسکتا جو مولانا مودودی صاحب نے تجویز کیا ہے۔ یعنی پہلے تو احمدیوں کو اسلام سے خارج کر کے ایک علیحدہ اقلّیت قرار دے دیا جائے اور پھر وہ سلسلہ شروع ہو جائے جو ایک ہزار سال سے اسلام میں چلا آیا ہے یعنی پھر آغاخانیوں کو اسلام سے خراج کیاجائے، پھر بوہروں کو اسلام سے خارج کیا جائے، پھر شیعوں کو اسلام سے خارج کیا جائے، پھر اہلحدیث کو اسلام سے خارج کیا جائے، پھر بریلویوں کو اسلام سے خارج کیا جائے، پھر دیوبندیوں کو اسلام سے خارج کیا جائے اور پھر مولانا مودودی کے اتباع کی حکومت قائم کی جائے۔ مولانا مودودی کے اتباع کی حکومت تو اﷲ تعالیٰ کے فضل سے یقینا نہیں بنے گی لیکن پھر ایک دفعہ دُنیا میں وہی تباہی کا دور شروع ہو جائے گا جو گزشتہ ایک ہزار سال تک مسلمانوں میں جاری رہا اور وہ طاقت جو پچھلے پچیس سال میں مسلمانوں نے حاصل کی ہے بالکل جاتی رہے گی اور مسلمان پھر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگ جائیں گے اور جماعت اسلامی کے پیرو اپنے دل میں خوش ہوں گے کہ ہماری حکومت قائم ہو رہی ہے لیکن ایسا تو نہ ہو گا۔ ہاں اسلامی حکومتیں کمزور ہو کر پھر ایک ترلقمہ کی صورت میں یا تو روس کے حلق میں جا پڑیں گی یا مغربی حکومتوں کے گلے میں جا پڑیں گی۔ خدا اسلام کے بد خواہوں کا مُنہ کالا کرے اور اسلام کو اس روزِ بند کے دیکھنے سے محفوظ رکھے۔
    مولانا مودودی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے اس کے بجائے صحیح طریقہ مُلک میں امن قائم کرنے کا یہ ہے کہ:-
    (1) اسلام کی طرف منسوب ہونے والے مختلف فرقے خواہ اپنے اپنے مخصوص نظریات کے ماتحت دوسرے فرقوں کے متعلق مذہبی لحاظ سے کچھ ہی خیال رکھتے ہوں یعنی خواہ اُنہیں سچّا مسلمان سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں مسلمانوں کے ملّی اتحاد کی خاطر اور اسلام کو فرقہ وارانہ انتشار سے بچانے کی غرض سے ان سب کو کلمۂ طیبہ کی ظاہری حد بندی کے ماتحت بِلا استثناء مسلمان تسلیم کیا جائے اور اس میں شیعہ، سُنّی، اہلِ حدیث، اہلِ قرآن، اہلِ ظاہر، اہلِ باطن، حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی، احمدی اور غیر احمدی میں کوئی فرق نہ کیا جائے۔
    (2) اگر اس ایک ہی صحیح طریق کو استعمال نہیں کرنا جس کے بغیر مسلمانوں کو ترقی حاصل نہیں ہو سکتی تو پھر احمدیوں کو اقلیت قرار دینے سے کچھ نہیں بنتا کیونکہ جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا دُشمن ہو رہا ہے اور اسلام کی خیرخواہی دلوں میں نہیں ہے۔ صرف اپنے فرقوں کی خیر خواہی دلوں میں ہے۔ اس لئے یہ آپریشن صرف احمدیت پر ختم نہیں ہو جائے گا۔ احمدیت پر تجربہ کر لینے والا ڈاکٹر بعد میں دوسرے فرقوں پر اس نسخہ کو آزما ئے گا پس ایک ہی دفعہ یہ فیصلہ کر دینا چاہئے کہ اس اسلامی حکومت میں فلاں فرقہ کے لوگ رہ سکتے ہیں دوسروں کے لئے گنجائش نہیں تاکہ باقی سب فرقے ابھی سے اپنے مستقبل کے متعلق غور کر لیں اور دُنیا کو بھی معلوم ہو جائے کہ علماءِ پاکستان کس قسم کی حکومت یہاں قائم کرنا چاہتے ہیں۔
    (3) اور اگر یہ نہیں کرنا اور واقع میں یہ ایک خطرناک بات ہے تو پھر ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کریں گے کہ وہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی بجائے مولوی صاحبان کے دل میں تقویٰ اور خشیت اﷲ کی روح پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ان کو یہ سبق سکھائیں کہ عدل اور انصاف اور رواداری کا طریق سب سے بہتر طریق ہے اور اسلام کی خدمت کرنے کا یہی ایک ذریعہ ہے۔
    اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ جب ان کے استاد علماء کی حالت خراب ہو گئی ہے تو شاگرد ہی استادی کی کرسی پر بیٹھیں اور اپنے سابق اساتذہ کو ان کے فرائض کی طرف توجّہ دلائیں کہ اسلام مزید ضُعف اور تباہی سے بچ جائے اور اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کا ہاتھ پکڑ لے اور ان کی اسی طرح مدد کرے جس طرح ابتدائی تین سو سال میں اس نے مسلمانوں کی مدد کی تھی۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔
    وَاٰخِرُدَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
    (شائع کردہ دارالتجلید نمبر 14ملکانی محل فرئیر روڈ پوسٹ بکس نمبر 7215کراچی)
    1: رپورٹ مطبوعہ 17جنوری 1953ء اخبار ‘‘تسنیم’’ متعلق جماعت اسلامی
    2: کوثر 25جنوری 1953ء
    3: قادیانی مسئلہ صفحہ 21مطبوعہ 1992ءدار الاشاعت اسلامی لاہور
    4: قادیانی مسئلہ صفحہ 54 مطبوعہ 1992ء مطبوعہ دارالاشاعت اسلامی لاہور
    5: درمنثور جلد 5 صفحہ 386 الطبعۃ الاولیٰ 1990ء مطبع دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان
    6: مسلم کتاب الایمان باب من مات لا یشرک باللّٰہ شیئًا دخل الجنۃ
    7: مسلم کتاب فضائل الصحابہ باب من فضائل علی ابن ابی طالب
    8: فتوحات مکیہ جلد2 باب 73 صفحہ 6 مطبوعہ بیروت 1998ء
    9: الدرالمنثور زیر آیت خاتم النّبییّن صفحہ 386 الطبعۃ الاولٰی 1990 ء مطبع دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان
    10: تاریخ ابن خلدون الجزء الثانی صفحہ 65 زیر عنوان خَبْرُ الثَقِیْفَۃ
    11: طبری جلد 4 صفحہ 1749۔ مطبوعہ بیروت 1965ء
    12: تاریخ الخمیس جلد2 صفحہ177
    13: تاریخ الخمیس جلد2 صفحہ 217 ۔ مطبوعہ بیروت 1283ھ
    14: طبری جلد 4 صفحہ 1853، 1854 ۔ مطبوعہ بیروت 1965ء
    15: طبری جلد 4 صفحہ 1854، 1855۔ مطبوعہ بیروت 1965ء
    16: تاریخ الکامل جلد 2 صفحہ 140
    17: تفسیر روح المعانی زیر آیت خاتم النّبییّن جلد 12 صفحہ 34 ۔ مکتبہ امدادیہ ملتان 1267ھ
    18: قرآن مجید مترجم و محشی مطبوعہ مدینہ پریس بجنور صفحہ 549۔ 1369ھ
    19: تحذیر الناس صفحہ 10۔ مطبوعہ سہارنپور 1309ھ
    20: مقدمہ ابن خلدون صفحہ271، 272 مطبوعہ مصر 1930ء
    21: الجامع الصغیر صفحہ 352 مطبوعہ بیروت 1423ھ
    22: مکتوبات امام ربّانی دفتر اوّل حصّہ چہارم صفحہ 138۔ مطبوعہ 1330ھ
    23: مکتوبات امام ربّانی دفتر اوّل حصّہ چہارم مکتوب 248صفحہ 49 مطبوعہ لاہور 1330ھ
    24: حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 29، 30
    25: ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 209
    26: کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15، 16
    27: تجلیات الٰہیہ ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411، 412
    28: ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 213 ، 214
    29: حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 100حاشیہ
    30: تقریر واجب الاعلان متعلق واقعات جلسہ بحث منعقدہ جامع مسجد دہلی مورخہ 20 اکتوبر 1891ء
    31: الحجر :3
    32: ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ما جاء فی الصلاۃ علی ابن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم و ذکر وفاتہٖ
    33: حٰمۤ السجدہ : 31
    34: ابن ماجہ کتاب الفتن باب الْاَمْرُ بالْمَعْرُوْفِ وَ النَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ
    35: مثنوی مولانا روم دفتر پنجم صفحہ 67
    36: مجمع الزوائد کتاب الصلوٰۃ باب فی تارک الصلوٰۃ حدیث نمبر 1634 جز 2 صفحہ 26 مطبوعہ 1994ء
    37: خطبات از مودودی صاحب صفحہ 32 ، 33 مطبوعہ مارچ 1935ء
    38: تذکرہ صفحہ 47۔ ایڈیشن چہارم
    39: تذکرہ صفحہ 577 ۔ ایڈیشن چہارم
    40: حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 123
    41: تریاق القلوب ، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 433
    42: فتوی 1892ء از مولوی عبدالحق غزنوی منقول ازاشاعۃ السنہ جلد 13 نمبر7 صفحہ 204
    43: فتویٰ 1892ء از مسعود دہلوی سجادہ نشین رتہڑ چھتّڑ منقول از اشاعۃ السنہ جلد13 نمبر6 صفحہ189
    44: فتویٰ 1892ء از مولوی عبد الحق مؤلّف تفسیر حقانی منقول از اشاعة السنہ جلد 13 نمبر 6 صفحہ 89
    45: فتویٰ 1892ء از مولوی محمد اسمٰعیل منقول از اشاعۃ السنہ جلد 13نمبر 6 صفحہ 191
    46: فتویٰ 1892ء از مولوی فقیر اﷲ منقول از اشاعۃ السنہ جلد 13 نمبر 6 صفحہ 187
    47: فتویٰ 1892ء از مولوی محمد لطیف اﷲ منقول از اشاعۃ السنہ جلد 13 نمبر 6 صفحہ190
    48: فتویٰ 1892ء ازمولوی نذیر حسین صاحب دہلوی منقول از اشاعۃ السنہ جلد 13 نمبر5
    49: فتویٰ 1892ء از مولوی عبدالصمد غزنوی منقول از اشاعۃ السنہ جلد 13 نمبر 7 صفحہ201
    50: اشاعۃ السنہ 1893ء جلد 18 نمبر 1 تا 6
    51: مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لأ خیہ المسلم …..
    52: استفتائے ضروری صفحہ 37
    53: استفتائے ضروری صفحہ 40
    54: استفتائے ضروری صفحہ 9
    55: ٹریکٹ ‘‘مودودیت اور مرزائیت’’ صفحہ 2
    56: نوائے وقت 28ستمبر 1948ء
    57: استفتائے ضروری صفحہ 23
    58: فتویٰ شائع کردہ محمد عبدالشکور مدیر ‘‘النجم’’لکھنؤ
    59: محمد مرتضیٰ حسن ناظم شعبہ تعلیمات دارالعلوم دیوبند۔ منقول از فتویٰ شائع کردہ مدیر’’النجم’’ لکھنؤ
    60: ردّالرفضہ صفحہ 30 مطبوعہ ملتان
    61: اردو ترجمہ فتاوٰی عزیزی صفحہ 377 مطبوعہ کراچی 1969ء
    62: فتاویٰ عالمگیریہ جلد 2 صفحہ 283 مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور
    63: الصافی فی شرح الاصول الکافی جزو سوم باب فرض الطاعۃ الائمہ صفحہ 61 مطبوعہ نولکشور
    64: حدیقۂ شہداء صفحہ 65
    65: فروع الکافی کتاب الجنائز جلد اوّل صفحہ 100۔ مطبوعہ 1302ھ
    66: ردّ التکفیر صفحہ 11
    67: حسام الحرمین صفحہ 122۔ مطبوعہ نظامی پریس بدایوں 1371ھ
    68: تین سَو علماء کا متفقہ فتویٰ مطبوعہ حسن برقی پریس اشتیاق منزل لکھنؤ
    69: فتویٰ علماء کرام مشتہرہ دراشتہار شیخ مہر محمد قادری لکھنؤ
    70: جامع الشواہد فی اخراج الوہابیین عن المساجد صفحہ 1
    71: مجموعہ فتاویٰ صفحہ 54، 55
    72: تاریخ الخوارج تالیف الشیخ محمد شریف سلیم صفحہ 14
    73: قادیانی مسئلہ صفحہ 26، 27
    74: خطبات از مودودی صاحب صفحہ 32 مطبوعہ مارچ 1965ء
    75: مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم ایڈیشن سوم صفحہ 80
    76: قادیانی مسئلہ صفحہ 15
    77: حاشیہ اربعین ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 417
    78: فتویٰ مطبوعہ 1892ء منقول از اشاعۃ السنہ جلد13 نمبر6 صفحہ 185
    79 ، 80: شرعی فیصلہ صفحہ 31
    81: فتویٰ شریعت غرّا صفحہ 9
    82: شرعی فیصلہ صفحہ 25
    83: فتوی شریعت غرّا صفحہ 2
    84: فتویٰ شریعت غرّا صفحہ 5
    85: فتویٰ شریعت غرّا صفحہ 4، 5
    86: شرعی فیصلہ صفحہ 22
    87: شریعت غرّا صفحہ 3
    88: شرعی فیصلہ صفحہ 20
    89: شرعی فیصلہ صفحہ 24
    90 ، 91: شرعی فیصلہ صفحہ 31
    92: شرعی فیصلہ صفحہ 24
    93: حسام الحرمین صفحہ 95
    94: فتویٰ 1892ء منقول از اشاعۃ السنہ جلد 13 نمبر6 صفحہ 185
    95: فتویٰ 1892ء از اشاعۃ السنہ جلد 13نمبر 6 صفحہ 201
    96: فتویٰ 1893ء منقول از فتویٰ درتکفیر منکر عروج جسمی و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام
    97: فتویٰ شریعت غرّا صفحہ 12
    98: فتویٰ مطبوعہ 1892ء از اشاعۃ السنہ جلد 13 نمبر 6 صفحہ 201
    99: فتویٰ در تکفیر منکر عروج جسمی و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ شائع شُدہ 1311 ھ در مطبع محمدی واقعہ مدراس
    100: مجموعہ کفریات مرزا غلام احمد قادیانی مؤلفہ سید محمد غلام صاحب احمدپور شرقیہ مطبوعہ مطبع صادق الانوار بہاولپورصفحہ 5 ، 6
    101: مجموعہ کفریات مرزا غلام احمد قادیانی مؤلفہ سید محمد غلام صاحب احمدپور شرقیہ مطبوعہ مطبع صادق الانوار بہاولپورصفحہ 11
    102: الفضل19اکتوبر 1915ء صفحہ 6 و تاریخ مالابار صفحہ 35
    103: الفضل 14دسمبر 1918ء بحوالہ اہلحدیث 6دسمبر 1918ء صفحہ 4، 5
    104: الفضل جلد 8 نمبر 76، 77 مورخہ 11، 14اپریل 1921ء صفحہ 7
    105: الفضل جلد 5 نمبر 64 مورخہ 9فروری 1918ء صفحہ 3
    106: الفضل جلد 15 نمبر 81 مورخہ 13اپریل 1928ء صفحہ 5
    107: الفضل جلد 15 نمبر 85 مورخہ 27اپریل 1928ء صفحہ 8
    108: الفضل جلد 21 نمبر 102 مورخہ 25فروری 1934ء صفحہ 6
    109: ہلال بمبئی 14مارچ 1936ء
    110: روزنامہ ہلال بمبئی 13مارچ 1936ء
    111: الفضل جلد 27 نمبر 105 مورخہ 9مئی 1939ء صفحہ 5
    112: الفضل جلد 31 نمبر 179 مورخہ یکم اگست 1943ء
    113: الفضل جلد 31 نمبر224 مورخہ 23ستمبر 1943ء صفحہ 1
    114: الفضل جلد 33 نمبر 189 مورخہ 13اگست 1944ء صفحہ 2
    115: زمیندار 21جنوری 1951ء صفحہ 9
    116: منقول از اشاعۃ السنہ جلد 13 نمبر 5
    117: فتویٰ در تکفیر عروج جسمی ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام مطبوعہ مدراس 1311ھ
    118: مجموعہ کفریات مرزا غلام احمد قادیانی مؤلفہ سیّد محمد غلام صاحب احمد پور شرقیہ صفحہ 5
    119: شرعی فیصلہ صفحہ 31
    120: اشتہار مخادعت مسیلمہ قادیانی صفحہ 2
    121: اشتہار مخادعت مسیلمہ قادیانی صفحہ 14
    122: قادیانی مسئلہ صفحہ 30۔ مطبوعہ مارچ 1992ء
    123: المؤمن: 29
    124: الحاقہ :45 تا 47
    125: قادیانی مسئلہ صفحہ 34 ، مطبوعہ مارچ 1992ء
    126: قادیانی مسئلہ صفحہ 34، 35 ۔ مطبوعہ مارچ 1992ء
    127: آزاد 11مئی 1951ء و زمیندار 28مئی 1951ء
    128: قادیانی مسئلہ صفحہ 32مطبوعہ 1992ء
    129: تبلیغِ رسالت جلد 7صفحہ 17
    130: قادیانی مسئلہ صفحہ124مطبوعہ 1992ء
    131: قادیانی مسئلہ صفحہ 49 مطبوعہ 1992ء
    132: قادیانی مسئلہ صفحہ 49 مطبوعہ 1992ء
    133: تبلیغ رسالت جلد 7 صفحہ 17
    134: ترجمان القرآن جون 1948ء صفحہ 119
    135: ترمذی ابواب الدیات باب ماجاء فیمن قتل دون مالہٖ فھو شھید میں الفاظ کی ترتیب میں صرف فرق ہے۔
    136: الفضل جلد 23 نمبر 55 مورخہ 3ستمبر 1935ء صفحہ 9، 10
    137: قادیانی مسئلہ صفحہ 51 مطبوعہ 1992ء
    138: ‘‘ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض’’ بحوالہ الفضل 27ستمبر 1919ء صفحہ 3تا 11
    139: ‘‘معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ’’بحوالہ الفضل 7جون 1920ء صفحہ 4 ، 5
    140: الفضل جلد 9 نمبر 1 مورخہ 4جولائی 1921ء صفحہ 6
    141: الفضل جلد 8 نمبر 76، 77 مورخہ 11، 14 اپریل1921ء صفحہ 5
    142: الفضل جلد 12 نمبر 135، 140 مورخہ 9جون 1925ء و20جون 1925ء
    143: قادیانی مسئلہ صفحہ 40۔ مطبوعہ 1992ء
    144: قادیانی مسئلہ صفحہ 41 ،42 ۔ مطبوعہ 1992ء
    145: قادیانی مسئلہ صفحہ 52 ۔ مطبوعہ 1992ء
    146: قادیانی مسئلہ صفحہ 52۔ مطبوعہ 1992ء
    147: الفضل جلد 32 صفحہ 233 مورخہ 5اکتوبر 1944ء صفحہ 3
    148: الفضل جلد 35 نمبر120مورخہ 21مئی 1947ء صفحہ 4
    149: اخبار ‘‘غریب’’ و اخبار ‘‘عوام’’ لائل پور مورخہ 13 مئی 1952ء بحوالہ الفضل 24مئی 1952ء صفحہ 6
    150: قادیانی مسئلہ صفحہ 35 مطبوعہ 1992ء









    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1953ء
    (26 دسمبر 1953ء)




    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی



    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1953ء
    (فرمودہ 26 دسمبر 1953ء بمقام ربوہ)

    تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    ‘‘اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے پهر ایک دفعہ ہم کو اپنے دین کی خدمت کے لئے جمع ہونے اور اپنا ذکر بلند کرنے کا موقع عطا فرمایا۔بہت سے لوگ ہیں جو ان برکات سے ناواقف ہوتے ہیں جو ایسی مجالس پر خداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں اور بہت سے لوگ ہیں جو ایسی جگہوں پر آ کر بهی فائدہ اٹهانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ میرے نزدیک آٹھ دس دفعہ ایسا ہؤا ہوگا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے جلسہ سے پہلےجلسہ سالانہ کا نظارہ دکهایا اور سوائے ایک دفعہ کے جہاں تک کہ مجھے یاد پڑتا ہے عام طور پر میں نے دیکها کہ آدمی تهوڑے ہیں اور بعض دفعہ تو میں نے یوں دیکها کہ کچھ آدمی بیٹھے ہوئے ہیں اور پهر غائب ہو گئے ہیں پهر کچھ آدمی بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ غائب ہو گئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایک دفعہ میں نے بہت بڑا ہجوم دیکها۔ شروع میں جب مجھے ایسی رؤیا آتیں تو میں سمجھتا کہ اب کے لوگ تهوڑے آئیں گے مگر جب لوگ آتے تو پہلے سے زیادہ ہوتے تهے تب مجھ پر تعبیر کھلی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ دکهایا ہے کہ ظاہری طور پر آنے والے بہت ہوتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے رجسٹر میں کم دکهائے جاتے ہیں کیونکہ وہ آ کر فائدہ نہیں اٹهاتے اور اُن برکات میں سے حصہ نہیں لیتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے موقع پر نازل کی جاتی ہیں۔ کئی دفعہ ایسا ہؤا ہے اور بعض دفعہ تو میں نے ذکر بهی کیا ہے کہ جلسہ کے اوقات میں مجھے نظر آیا کہ جیسےآسمان پر سے فرشتے اتر رہے ہیں اور نورنازل کر رہے ہیں اور کئی دفعہ میں نے تیز روشنیاں آسمان سے اترتی ہوئی دیکھیں لیکن عام نظروں میں وہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے جمع ہوتی ہے تو آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور دنیا میں ان کی تلاش کرتے پهرتے ہیں اور جب وہ اس گروہ کے پاس پہنچتے ہیں جو ذکرِ الٰہی کے لئے جمع ہوتا ہے تو وہ ایک دوسرے کو آوازیں دیتے ہیں کہ آ جاو تمہاری جگہ یہ ہے۔اور پهر وہ سارے کے سارے اُن کےگرد گهیرا ڈال لیتے ہیں اور اُن سب کو آسمان کی طرف اٹهانا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتے ہیں۔1 اس میں یہی اشارہ ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں خدا بهی ان کے ذکر کو بلند کرتا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک محدود طاقت کا انسان تو خدا تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرے اور وہ جس کی طاقتیں غیر محدود ہیں وہ ان کو بدلہ نہ دے۔ لازمی بات ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کا ذکر بلند کرتے ہیں خدا بهی ان کے ذکر کو بلند کرتا ہے مگر بسا اوقات جیسا کہ ابهی ماسٹر فقیراللہ صاحب نے تلاوت کرتے ہوئے جو آیتیں پڑهی ہیں ان میں سے ایک کا مضمون یہی ہے الٰہی نصرت اور تائید بعض دفعہ اتنی مخفی آ رہی ہوتی ہے کہ خدائی جماعتیں بهی یہ سمجھتی ہیں کہ کثرت تو ہمیں جهوٹا سمجھے گی کیونکہ اتنا عرصہ گزر چکا ہے اور اب تک خدا تعالیٰ کی مدد نہیں آئی جب یہ مایوسی کا مقام آ جاتا ہے تب یکدم اللہ کی طرف سے مدد آ جاتی ہے اور ان کی مایوسی یقین اور امید سے بدل جاتی ہے۔
    غرض اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو وہ عظیم الشان موقع عطا فرمایا ہے جو شاید آج دنیا میں اَور کسی کو حاصل نہیں۔ ممکن ہے منفرد طور پر اور بهی کسی کو یہ بات حاصل ہو کیونکہ سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کلی طور پرکوئی مذہب یا کوئی جماعت اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت رکهنے والے ان میں بهی پائے جاتے ہیں مگر ان میں اتنی کثرت نہیں ہوتی جتنی کثرت الٰہی جماعتوں میں پائی جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں دس ہزار میں سے ایک شخص ایسا ہو جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہو لیکن تمہارے سَو میں سے دس ایسے نکل آئیں گے اور یہ بڑا بهاری فرق ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری طاقت ان کی نسبت ہزار گُنا زیادہ ہے اور اگر تمہارے سو میں سے بیس ایسے نکل آئیں تو تم ان سے دو ہزار گُنا زیادہ طاقتور ہو جاؤ گے اور اگر تیس نکل آئیں تو تین ہزار گُنا طاقتور ہو جاؤ گے۔ بہرحال الٰہی جماعتوں اور غیر الٰہی جماعتوں میں کثرت اور قلّت کا فرق ہی ہوتا ہے۔
    لوگ بعض دفعہ نادانی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ الٰہی جماعت وہ ہوتی ہے جس کے سارے کے سارے افراد جنتی ہوں اور غیر الٰہی جماعتیں وہ ہوتی ہیں جن کے سارے کے سارے افراد جہنمی ہوں حالانکہ نہ غیر الٰہی جماعتیں ساری کی ساری خدائی انعامات سے محروم ہوتی ہیں اور نہ الٰہی جماعتیں ساری کی ساری ان انعامات کی مستحق ہوتی ہیں صرف قلّت اور کثرت کا فرق ہوتا ہے۔ جب سے دنیا کا سلسلہ شروع ہے انبیا کی جماعتوں میں کثرت سے خدائی فضلوں سے حصہ لینے والے لوگ موجود ہوتے ہیں اور باقی مذاہب اور جماعتوں میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور چونکہ اکثریت پر فیصلہ ہوتا ہے اس لئےسمجھا جاتا ہے کہ وہ لوگ خدائی محبت اور اس کے انعامات سے محروم ہیں جیسے ہندوستان میں بهی کروڑ پتی موجود ہیں لیکن اسے غریب ملک سمجھا جاتا ہے اس کے مقابلہ میں یورپ اور امریکہ میں بهی کروڑ پتی ہیں لیکن انہیں امیر ملک سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہاں جو مالدار پائے جاتے ہیں ان میں سے بعض وہاں کے بڑے سے بڑے مالدار کی ٹکر کے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے ملک کو غریب سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ یہاں پر اِکّا دُکّا امیر ہیں اور وہاں ہزاروں ہزار مالدار لوگ موجود ہیں۔ پس باوجود اس کے کہ کروڑ پتی یہاں بهی پائے جاتے ہیں یہ ملک غریب سمجھا جاتا ہے اور وہ امیر سمجھےجاتے ہیں کیونکہ ان میں امیروں کی کثرت پائی جاتی ہے تو اصل ترقی اسی میں ہؤا کرتی ہے کہ جماعتی طور پر اپنے اندر نیکی اور تقوٰی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور خدا تعالیٰ کے جو فرشتے نازل ہوتے ہیں ان سے فائدہ اٹهانے کی کوشش کی جائے۔ جتنا جتنا کوئی شخص دنیا سے قطع تعلق کر کے اپنا ایک الگ حلقہ بنا لے گا اسی قدر اس کے لئے خدائی قُرب میں بڑهنا آسان ہوتا جائے گا جیسے وہ شخص جس نےہلکا بوجھ اٹهایا ہؤا ہو وہ تیز تیز چلتا ہے اور جس نے زیادہ بوجھ اٹهایا ہؤا ہو وہ آہستہ آہستہ چلتا ہے اسی طرح جس کے دنیا سے زیادہ تعلقات ہوتے ہیں وہ بوجھل ہو جاتا ہے فرشتہ اسے تهوڑی دور تک تو اٹها کر لے جا سکتا ہے لیکن زیادہ دور تک نہیں لے جا سکتا۔ پس اپنے دل کو اس طرح صاف کرو کہ تمہارے دنیا سے تعلقات بہت تهوڑے رہ جائیں کیونکہ جس کا وجود بہت ہلکا ہو فرشتے اسے بہت اونچا لے جاتے ہیں غرض زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی رغبت اور محبت ان دنوں میں پیدا کرنی چاہئے اور اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف مائل کرنا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس کی برکات حاصل ہوں۔
    آج رات کو بارش کی وجہ سے کچھ تندوروں کو بهی نقصان پہنچا ہے اور کچھ مہمانوں کو بهی۔ بہرحال مقامی طور پر جو کچھ ہو سکا وہ کیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ درحقیقت یہ ساری باتیں مومن کے لئے ایک کهیل کے طور پر ہوتی ہیں۔ جیسے کرکٹ اور ہاکی کهیلتے وقت لڑکے گرتے ہیں اور انہیں چوٹ آتی ہے تو بجائے رونےکے وہ ہنستے ہیں اسی طرح دینی خدمات میں جو تکلیفیں ہوتی ہیں وہ بهی دینی خدمات کا ہی حصہ ہوتی ہیں۔ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم بدر کے موقع پر تشریف لے گئے تو چونکہ وہ جنگل تها اس لئے صحابہؓ کو تکلیف ہوئی۔ ان کے پاس خیمے بهی نہیں تهے۔ پهر رات کو بارش ہو گئی جس سے صحابہؓ گهبرا گئے۔ صبح رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کا کتنا فضل ہے کہ اس نے آج رات ہم پر اپنی رحمت نازل کی۔ اس پر سب کے دل کهل گئے۔ چنانچہ جنگ کے موقع پر وہ بارش واقع میں رحمت ثابت ہوئی کیونکہ مسلمانوں کے قدم ر یتلے میدان میں جم گئے اور کفار کے قدم چکنی مٹی پر پھسلنے لگ گئے۔ پس یہ تکلیفیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں بلکہ میں تو سمجھتا ہوں اس بارش کا اس لحاظ سے فائدہ ہو گیا کہ یہاں ربوہ میں مٹی بہت اڑا کرتی ہے جس کی وجہ سے میرا گلا ان دنوں میں خصوصیت کے ساتھ خراب ہو جایا کرتا ہے۔ لاہور تک تو گلا ٹهیک رہا مگر یہاں یہ حال ہے کہ پچهلے ڈیڑه مہینہ سے میرے گلے سے اتنا بلغم نکلا ہے کہ مجھے حیرت ہوتی تهی۔ عجیب بات یہ ہےکہ مجھے کهانسی نہیں تهی لیکن اس کے باوجود گلے سے بلغم نکلتا تها اور وہ اتنا لمبا ہوتا تها کہ بالشت بهر باہر لگا ہوا ہوتا تها اور ابهی گلے میں اس کا تارباقی ہوتا تها۔ پہلے طب کی کتابوں میں مَیں اس کا ذکر پڑها کرتا تها تو سمجھتا تها کہ اس میں مبالغہ کیا گیا ہے لیکن اب میرے ساتھ یہ واقعہ ہؤا تو میں نے سمجھا کہ انہوں نے ٹهیک لکها تها۔ انسان کا اندرونہ بهی مداری کا تهیلا معلوم ہوتا ہے چهوٹا سا گلا ہے مگر سارا سارا دن بلغم نکلتا رہتا تها اور وہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا تها۔ شاید اللہ تعالیٰ نے گردوغبار کو دور کرنے کے لئے ہی یہ بارش برسائی ہو۔ بیشک اس سے کچھ نقصان بهی ہؤا اور مہمانوں کو تکلیف بهی ہوئی لیکن شاید اس گرد کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بارش نازل کی ہو۔ اب کم از کم ایک دو دن اس بارش کا نتیجہ اچھا رہے گا اور گَرد نہیں اُڑے گی۔
    اس موقع پر باہر کے دوستوں کی طرف سے بهی کچھ تاریں آئی ہوئی ہیں۔ ایک تو جرمنی کی جماعت کی طرف سے تار آئی ہے۔ انہوں نے احباب جماعت کو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا ہے اور دعا کے لئے لکها ہے۔ اسی طرح ملایا کی جماعت کی طرف سے تار آیا ہے۔ انہوں نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا ہے اور ساتھ ہی خوشخبری دی ہے کہ ملائی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ مکمل ہو گیا ہے۔ جاکرتا کی جماعت کی طرف سے بهی تار آیا ہے جو انڈونیشیا کا صدر مقام ہے انہوں نے بهی اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا ہے اور دعا کی درخواست کی ہے اسی طرح جوگ جاکرتا جو انڈونیشیا کا پہلا صدرمقام تها وہاں کی جماعت کی طرف سے بهی تار آیا ہے انہوں نے بهی اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا ہے اور دعا کی درخواست کی ہے۔ اسی طرح بوگر جو انڈونیشیا کا ایک شہر ہے وہاں ہمارے انڈونیشین بهائیوں کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے ان کی طرف سے بهی تار آیا ہے کہ ہمارا اجلاس کامیابی سے ہو رہا ہے۔ دوستوں کو ہمارا بهی سلام پہنچا دیا جائے اور دعا کی درخواست کی جائے۔ اسی طرح بعض اور جماعتوں کی طرف سے بهی تاریں آئی ہیں اور افراد کی طرف سے بهی آئی ہیں۔ زیادہ تر لوگ آخری دعا سے پہلے تاریں دیتے ہیں اب بهی چونکہ افتتاحی دعا ہوگی اس لئے میں نے ان کا سلام پہنچا دیا ہے اور ان کے لئے دعا کی بھی تحریک کر دی ہے۔
    اس کے بعد میں دعا کروں گا۔ دوستوں کو سب سے پہلے یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہاں آنے کو ان کے اخلاص اور ایمان کی ترقی کا موجب بنائے اور وہ خدمت اسلام کے جن جذبات کو لے کر یہاں آئے ہیں وہ ڈهیلے نہ ہوں اور ان میں سستی اور غفلت پیدا نہ ہو تاکہ وہ اس عظیم الشان موقع سے فائدہ اٹهانے سے محروم نہ رہ جائیں جو سینکڑوں سال کے بعد خداتعالیٰ نے اُن کی ترقی کے لئے پیدا کیا ہے۔ خصوصاً تبلیغ اسلام کے اس عظیم الشان کام کے لئے دعائیں کریں جو غیر ممالک میں ہو رہا ہے کیونکہ دنیا میں چاروں طرف اسلام پر یورش ہو رہی ہے اور اسلام کے مورچہ پر صرف چند احمدی مبلغ کهڑے ہیں۔ چاروں طرف سے اُن کی مخالفتیں ہو رہی ہے۔ ان سے دشمنیاں کی جا رہی ہیں اور ان کو نیچا دکهانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آپ لوگ ایسے ہی ہیں جیسے فوج کے لئے اسلحہ اور بارود تیار کرنے والا کارخانہ ہوتا ہے۔ ان کے لئے سامان خورونوش بھیجنا اور ان کے لئے لٹریچر مہیا کرنا آپ لوگوں کا فرض ہے اگر آپ لوگوں کی طرف سے اس میں کوتاہی ہو اور انہیں وہ سامان نہ پہنچے جس کی انہیں ضرورت ہے تو ان کی زندگیاں بالکل بیکار ہو کر رہ جائیں گی۔
    مدت کی بات ہے جب ٹرکی اور بلقان میں جنگ ہوئی اور یورپین لوگوں نے بلقان کی رہاستوں کو بهڑکا کر ترکی سے لڑوا دیا اور ترکی کو بہت بڑی شکست ہوئی اور کئی علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے تو اس زمانہ میں مَیں ولایت سے ایک اخبار ‘‘ڈیلی نیوز’’ منگوایا کرتا تها۔ ‘‘ڈیلی نیوز’’ کے اپنے نمائندے جنگ میں تهے اور وہ اسے وہاں کے حالات باقاعدہ بهجواتے رہتے تهے۔ ‘‘ڈیلی نیوز’’ کے نگران اور ذمہ دار کارکن مسٹرلائڈجارج تهے جو انگلستان کے وزیراعظم تهے۔ اس اخبار میں جنگ کی تصویریں بهی چھپتی تهیں اور وہاں کے حالات بهی شائع ہؤا کرتے تهے۔ ایک دفعہ اس اخبار میں سالونیکا کی جنگ کے حالات شائع ہوئے جو ‘‘ڈیلی نیوز’’ کے اپنےنمائندہ نے بهجوائے تهے۔ وہ نمائندہ ان واقعات سے بڑا متاثر معلوم ہوتا تها۔ اس نے لکها کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنا دردناک نظارہ کبهی نہیں دیکها تها پهر اس نے لکها کہ ترک سپاہی اپنے ملک کے لئے جان دینے میں کسی سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہیں مگر ان سے اتنی بڑی غداری کی گئی ہے کہ جس کی انتہا کوئی نہیں۔ انہوں نے جب اپنی توپوں میں گولے ڈالے تو انہیں پتہ لگا کہ وہ گولے سب جھوٹے ہیں یعنی ان کے اوپر تو کوَر لپٹا ہوا تها مگر اندر بارود نہیں تهانتیجہ یہ ہؤا کہ ان کی توپیں دشمن کی توپوں کے مقابلہ میں بالکل بےکار ہو گئیں اور وہ شکست کها گئے۔ پهر اس نے ایک تصویر دی ہوئی تهی جس میں اس نے دکهایا کہ ترکی کمانڈر ایک پتهر پر بیٹھا سر پکڑ کر رو رہا ہے۔ اس نے لکها کہ یہ ایک بہت بڑا بہادر جرنیل ہے جب اس کی قوم پیچھے ہٹی ہے تو اس کی حالت یہ تهی کہ وہ بچوں کی طرح رو رہا تها اور بار بار کہہ رہا تها کہ اگر میری قوم میرے ساتھ یہ غداری نہ کرتی تو میں دشمن کو دهکیل کر سمندر تک پہنچا دیتا۔
    میری آنکهوں کے سامنے آج تک اس ترکی کمانڈر کی تصویر ہے کہ اس نے سر پکڑا ہؤا ہے اور وہ رو رہا ہے۔ یہی تمہارے مبلغوں کا حال ہوگا اگر تم اپنے فرائض کو ادا نہیں کروگے اور انہیں پورا سامان بہم نہیں پہنچاؤ گے۔ ان میں سے ایک ایک آدمی ہزاروں ہزار اور لاکهوں لاکھ کا کام کر رہا ہے۔ کروڑوں کروڑ کی آبادی میں کسی جگہ ہمارا ایک آدمی کام کر رہا ہے اور کسی جگہ دو اور وہ سامان جو انہیں ہماری طرف سے مہیا کیا جا رہا ہے اور جس سے وہ اردگرد کے علاقوں میں سفر کر سکتے اور لٹریچر پهیلا سکتے ہیں بہت ہی کم ہے مگر اس میں اب اور بهی کوتاہی واقع ہو رہی ہے۔
    اس دفعہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے کچھ دنوں کی ڈاک میں نے نہیں دیکهی۔ ممکن ہے کچھ وعدے اُس میں بهی ہوں مگر حقیقت یہی ہے کہ تحریکِ جدید کے وعدے پوری طرح نہیں پہنچ رہے۔ ہو سکتا ہے کہ میرے پاس جو ڈاک پڑی ہے اس میں بهی کچھ وعدے ہوں اور ممکن ہے ڈاک کی خرابی کی وجہ سے کچھ وعدے ابهی تک نہ پہنچے ہوں۔ اس لئے جہاں دوست اپنے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو خدمتِ دین میں آگے بڑهنے کی توفیق عطا فرمائے وہاں دفتر تحریکِ جدید میں بهی جا کر اپنے وعدوں کو دیکھ لیں اور اگر آپ کے وعدوں کی اطلاع وہاں نہ پہنچی ہو تو دفتر میں اپنے وعدوں کا اندراج کروا دیں تاکہ دفتر کو جو پریشانی ہو رہی ہے وہ دور ہو جائے اور تبلیغ اسلام کے کام کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
    پهرا للہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے یہاں آنے کی توفیق دی ہے اللہ تعالیٰ اُن پر بهی رحم فرمائے اور جوبظاہر نہیں آ سکے لیکن اُن کے دل ہمارے ساتھ ہیں اللہ تعالیٰ اُن پر بهی رحم کرے کیونکہ ہمارا نگران اور وارث سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ دنیا میں کوئی قوم اتنی لاوارث نہیں جتنی ہم ہیں اور کوئی قوم اتنی پشت پناہ بهی نہیں رکھتی جتنی ہم رکهتے ہیں۔ ہماری مثال اس بچہ کی سی ہے جو اپنےماں باپ سے جدا ہو کر جنگل میں آ پڑتا ہے جہاں اس کے اردگرد کہیں بهیڑیئے ہوتے ہیں کہیں چیتے ہوتے ہیں کہیں سانپ اور بچھو وغیرہ ہوتےہیں لیکن ساتھ ہی جیسے اس بچہ کے لئے اللہ تعالیٰ بعض دفعہ شیروں کے دلوں میں محبت پیدا کر دیتا ہے اور وہ اس کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں یہی ہماری حالت ہے۔ خدا کے فرشتے آتے ہیں اور ہماری حفاظت کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ جو باہر ہمارے بهائی ہیں اللہ تعالیٰ ان کی بهی حفاظت کرے اور انہیں خدمتِ دین کی توفیق بخشے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جو یہاں نہیں آئے ان میں سے بعض کے اخلاص ہم سے زیادہ ہوں اور ہو سکتا ہے کہ اُن میں سے بعض کی آہیں اور دعائیں ہمارے لئے زیادہ کارآمد ہو رہی ہوں بہ نسبت اُن کے جو یہاں آئے ہوئے ہیں۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ہم جو مرکز میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی برکتیں حاصل کر رہے ہیں اُن کے لئے بهی دعائیں کریں تاکہ اُن کی دعائیں زیادہ سے زیادہ ہم کو حاصل ہوں۔ اس کے بعد مَیں دعا کر کے گهر چلا جاؤں گا اور جلسہ کی کارروائی شروع ہو گی۔’’
    (از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)
    1: مسلم کتاب الذکر باب فضل مجالس الذکر۔









    متفرق امور
    (فرمودہ 27 دسمبر 1953ء)
    (غیر مطبوعہ)



    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی



    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
    متفرق امور

    (فرمودہ 27دسمبر1953ء بمقام جلسہ سالانہ ربوہ)

    تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
    ‘‘جیسا کہ میں دوستوں کو بتا چکا ہوں مجھے کئی مہینے سے گلے کی تکلیف چل رہی ہے اورآواز تدریجاً بیٹھتی جارہی ہے لیکن کل سے کچھ ہلکا سا فرق نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہی میرے دل میں ڈالا گو میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ مستقل فرق ہے یا عارضی بہرحال میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ تکلیف نزلہ کی وجہ سے ہے اگر نزلہ ناک کی طرف سے بہے تو شاید زور کم ہوجائے۔ چنانچہ میں نے ایک سٹک پر کاسٹک لگا کر ناک میں دونوں طرف دور تک چھؤا۔اِس سے کچھ نزلہ بہا تو ایک خفیف سا فرق پیدا ہؤا اور گلے کی طرف جو تکلیف کا زور تھا اُس میں کمی ہوگئی۔آواز کے بھرانے میں تو فرق نہیں آیا لیکن ساتھ جودرد ہوتی تھی اُس میں کچھ فرق محسوس ہؤا۔
    احباب کی خواہش کا احساس
    بہرحال یہ تقریب ہمارے لئے سال میں ایک دفعہ آتی ہے اور کئی دوست ایسے ہیں جو
    اِسی تقریب پر یہاں آتے ہیں اور بعض تو چھ چھ سات سات سال کے بعد آتے ہیں۔ملاقات کے وقت کہتے ہیں کہ ہم تو سات سال کے بعد آئے، ہم چھ سال کے بعد آئے۔ اِسی طرح مستورات بھی آتی ہیں تو وہ چھ چھ سات سات سال کاعرصہ بتاتی ہیں۔ تو جو لوگ چھ سات سال کے بعد آئیں اُن کو کچھ نہ کچھ سننے کا موقع نہ ملے تو یقیناً اُن کے دلوں میں افسوس پیدا ہوگا اور اُن کے افسوس سے ہمیں بھی افسوس ہوگا۔ اِس لئے بہرحال میں نے ارادہ کیا کہ باوجود اس کے کہ مجھے تکلیف ہے میں تقریر کروں۔ گو کوشش یہ ہو کہ مختصر تقریر ہو۔ چنانچہ اِس دفعہ میں نے نوٹ لئے ہیں مختصر لکھے ہیں لیکن بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مختصرلکھے ہوئے نوٹ لمبے ہوجاتے ہیں اور لمبا لکھا ہؤا مضمون چھوٹا ہوجاتاہے۔ اور میں نے خیال کیا کہ میرا تجربہ یہی ہے کہ بسا اوقات جب میں بولنے کے لئے کھڑا ہوں اور خداتعالیٰ کی رضا کے لئے کوشش کروں تو خدائی نصرت میرے شاملِ حال ہوجاتی ہے اور وہ کام کامیابی سے ختم ہوجاتا ہے ۔
    مجھے یاد ہے مولوی ابوالفضل محمود صاحب جب غیر احمدی تھے تو تین چار سال پہلے غیرا حمدیت میں قادیان آیا کرتے تھے۔ آدمی بے تکلف سے ہیں اور ایسی طرز کے ہیں کہ وہ بعض دفعہ ایسی باتیں بھی کرلیتے ہیں جن کو لوگ گستاخانہ سمجھتے ہیں۔ اُس وقت وہ تھے ہی غیر احمدی۔اتفاق کی بات ہے کہ وہ جو احمدیت سے پہلے دو تین سال آئے تو ہر سال مجھے کچھ نزلہ کی شکایت اور کھانسی ہوتی تھی۔نزلہ کی شکایت تو چھپی ہوئی ہوتی ہے مگر جو ہوشیار آدمی ہے وہ تو پہچانتا ہے کہ میری آواز بھرائی ہوئی ہے۔ عام آدمی کو خیال بھی نہیں آتا اور بھرائی ہوئی اور غیر بھرائی ہوئی میں وہ فرق بھی نہیں سمجھتا لیکن کھانسی ایسی تکلیف ہے جو سب کو پتہ لگ جاتی ہے۔ تو شدید کھانسی مجھے اُن دنوں میں ہوجاتی تھی دوسال تو وہ آتے ہی رہے تیسرے سال ملاقات ہورہی تھی کہ اس میں مجھے کہنے لگے کیوں صاحب! یہ کوئی معجزہ ہے یا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ آپ کہتے ہیں کھانسی اور پھر تقریر ہوجاتی ہے۔میں نے کہا میں جھوٹ تو نہیں بولا کرتا۔اس کو معجزہ کہہ لو، خدا کا فضل کہہ لو جو تمہاری مرضی ہے کہہ لو۔خیر اس کے بعد وہ احمدی ہوگئے۔واقعہ میں اس قدر شدید اُن دنوں مجھے کھانسی ہوتی تھی کہ خداتعالیٰ کے فضل سے اس کے بعد پھر جلسہ کے ایام میں اتنی کھانسی مجھے نہیں ہوئی۔برابر تین چار سال تک یہ تکلیف چلی۔ملاقات کرتا تھا تو کھانستا رہتا تھا،باتیں کرتا تھا تو کھانستا تھا،تقریرکرتا تھا تو شروع میں کھانسی آتی تھی اس کے بعد گلا ایسا گرم ہوجاتا تھا کہ اس میں کھانسی بند ہوجاتی تھی اور دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ خبر نہیں بناوٹ سے کھانس رہے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو دیکھتے ہوئے میں نے جرأت کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ مدد کرتاآیا ہے شاید اُس کا فضل اب بھی جوش میں آجائے اور اب بھی اتنے دُور سے آنے والے لوگ اور اتنی امیدوں کے ساتھ اور مایوسیوں کے بعد آنے والے لوگ اپنی اُمنگیں اور اپنے ارادے اور اپنی خواہشیں پورے ہوئے بغیرنہ چلے جائیں۔’’
    اس کے بعد حضور نے بعض جماعتوں کی تاریں پڑھ کر سنائیں جن میں جلسہ سالانہ کی مبارکباد اور درخواستِ دعا تھی۔پھر فرمایا:-
    متفرق امور
    ‘‘اس کے بعد میں اپنی آج کی تقریر شروع کرتا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ نے خیریت رکھی تو کل انشاء اللہ علمی تقریر جو میں کیا کرتا ہوں وہ
    کروں گا۔آج متفرق امور کے متعلق میں بعض باتیں کہوں گا۔
    احمدی مستورات سے خطاب
    تین سال سے عورتوں میں میری تقریر نہیں ہورہی۔یہ تیسرا سال جارہا ہے اور باہر
    سے آنے والی عورتوں کی خواہش ہوتی ہے کہ میں اُن کے سامنے بھی کچھ باتیں کروں کیونکہ عورتوں کے سامنے جو تقریر ہوتی ہے اُس میں عورتوں کی ضرورتوں کو اور اُن کے حقوق کو زیادہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔مردوں کی تقریر میں زیادہ تر ایسی باتیں ہوتی ہیں جواصولی ہوں یامردوں سے تعلق رکھنے والی ہوں۔پھر اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ ایسی باتیں بھی کہی جائیں جو اُن سے خاص تعلق رکھتی ہیں اوراُن کی ضرورتوں کو مدنظر رکھا جائے۔میری نیّت اِس دفعہ یہی تھی کہ میں دو سال کے وقفہ کے بعد اِس دفعہ پھر عورتوں میں تقریر کروں لیکن لجنہ اماء اللہ مرکزیہ نے بڑے اصرار سے یہ خواہش کی کہ ہم سمجھتی ہیں ابھی ایسے خطرات کے دن ہیں کہ ہم اس ذمہ داری کو نہیں اٹھا سکتیں کہ حفاظت کا سامان کرسکیں۔ کیونکہ عورتیں برقعوں میں ہوتی ہیں اگر کوئی مسلّح شخص برقع میں آجائے تو ہم اُس کی نگرانی نہیں کرسکتیں اِس لئے ہمارا مشورہ یہی ہے اور اصرار کے ساتھ مشورہ ہے کہ آپ اس دفعہ بھی جلسہ سالانہ پر مستورات میں تقریر نہ کریں۔اُن کے اِس اصرار کی وجہ سے گو دو دن تو میں اَڑا رہا۔میں نے کہا کہ کئی سال ہوگئے ہیں لیکن اُن کے بار بار کے اصرار کی وجہ سے مجھے اُن کی بات ماننی پڑی اور میں نے ارادہ چھوڑ دیا لیکن میں نے کہابہت اچھا میں مردوں کی تقریر کا ایک حصہ عورتوں کے لئے وقف کردوں گا سو جبکہ عورتوں کی قربانی کی وجہ سے میرا گلا آج کچھ اچھا ہے اگر میں عورتوں میں تقریر کرکے آتا تو میرا گلا کچھ اَور بیٹھا ہؤا ہوتا۔بیٹھا ہؤا تو اب بھی ہے لیکن شروع میں گلے کی جو کیفیت ہے یہ عورتوں کی قربانی کی وجہ سے ہے اِس لئے میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگ اِس حق کو تسلیم کریں گے کہ شروع کے کچھ منٹ میں عورتوں کے متعلق وقف کردوں۔ جو باتیں مردوں میں کی جاتی ہیں وہ بھی بیشتر طور پر عورتوں سے ہی متعلق ہوتی ہیں کیونکہ اسلام کے احکام مردوں اور عورتوں کے لئے برابر ہیں اِس لئے سوائے چند ایک باتوں کے جو کہ عورتوں میں کسی نیکی کی تحریک کرنے کے متعلق ہوں باقی جس قدر امور ہیں اُن میں مردوں کی تقریر سے عورتیں ویسا ہی فائدہ اٹھا سکتی ہیں جیسا کہ وہ اپنی مخصوص تقریر سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
    جو باتیں عورتوں سے مخصوص ہیں اور خصوصاً اس سال مخصوص ہیں اُن میں سے سب سے پہلی بات تو میں اُن کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اُن کی طرف سے ایک چندہ جرمن میں مسجد بنانے کے لئے کیا گیا تھا۔جرمن کی مسجد میں کچھ ایسی روکیں پیدا ہوگئیں کہ وہ نہ بن سکی اِس لئے اُن کے روپیہ سے لنڈن میں مسجد بنادی گئی۔اب جو لنڈن میں مسجد ہے وہ درحقیقت عورتوں کے روپیہ سے بنی ہوئی ہے۔
    اِس کے بعد میں نے دوسری تحریک کی کہ جرمن زبان کا ترجمہ قرآن عورتوں کے روپیہ سے چھپے۔تراجم کا ذکر میں بعدمیں کروں گا لیکن میں اُن کو یہ خبر بتانی چاہتا ہوں جیسے تار بھی میں نے پڑھی ہے کہ جرمن زبان کا ترجمہ ریوائزہوگیا ہے۔ دواعلیٰ درجہ کے جرمن پروفیسر اُس کو دیکھ چکے ہیں اور ہمارے مبلغ بھی دیکھ چکے ہیں اوراب وہ پریس میں جا چکا ہے اور شائد تین چار مہینہ تک خداتعالیٰ چاہے یا اِس سے بھی پہلے وہ چھپ کر تیار ہوجائے گا۔ اِس لئے عورتوں کا ترجمۂ قرآن جو جرمن زبان کا ہے انشاء اللہ تعالیٰ اِس سال مکمل ہوجائے گا۔
    چندہ تعمیر مسجد ہالینڈ
    تیسری تحریک میں نے عورتوں میں یہ کی تھی کہ اُن کی طرف سے ہالینڈ میں مشن بنایا جائے اور مسجد بنائی جائے۔
    چنانچہ انہوں نے اس کے لئے بڑے شوق سے چندہ دیا اور باوجود اِس کے کہ عورتوں کی آمد بہت کم ہوتی ہے پھر بھی اُن کا چندہ پہلے سال مردوں سے بڑھا رہا۔دوسرے سال جب مردوں کے چندوں کی ایک خاص نوعیت قرار دی گئی تو پھر عورتوں کا چندہ بہت گِرگیا کیونکہ اُن کے لئے ایسی شرطیں کی گئیں کہ ملازم سالانہ ترقی دیویں۔عورتوں کی تو ترقی ہوتی ہی نہیں۔پھر یہ کہ تجارت والے پہلے دن کا نفع دیں۔جو چھوٹے تاجر ہیں ہر ہفتہ کے پہلے دن کا نفع دیں یا مزدور پیشہ جو ہیں وہ مہینہ کے پہلے دن کی آمد دیں یا جو ڈاکٹراور وکیل پریکٹس کرنے والے ہیں اُن کی سالانہ آمدن کا جو ڈفرنس (DIFFERENCE)اگلے سال بڑھ جائے اُس کا دسواں حصہ دیں اور اِس طرح کچھ اَور بھی شرائط تھیں۔ زمیندار کے متعلق اپنے کھیت پر دوآنے فی ایکڑ سالانہ چندہ مقرر کیا گیا تھا اور چونکہ ان چیزوں میں عورتیں شامل نہیں ہوسکتیں نتیجہ یہ ہؤا کہ مردوں کا چندہ جاری رہا اور عورتوں کا چندہ باون ہزار پر آکر رُک گیا اور اس میں بھی ہزار بارہ سو کی میری مدد ہے۔مجھے بعض دفعہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ رقم آپ کو بھیج رہے ہیں جہاں چاہیں دے دیں تو میں نے پچھلے سال یہ طریق رکھا کہ جو عورتوں کی طرف سے آمد ہوتی تھی اُس کے متعلق میں کہتا تھا کہ مسجد ہالینڈمیں اس کو داخل کردو۔ اِس طرح بھی کچھ رقم آگئی۔ میں عورتوں کو اِس میں حصہ لینے کے لئے پہلے اِس لئے زور نہیں دیتا تھا کہ عورتوں نے ہمت کرکے سب سے پہلے اپنا ہال بنوایا ہے ابھی تک مرد بھی اس ہال سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور شوریٰ کی مجلس بھی اِسی ہال میں منعقدہوتی ہے۔مردوں کو ابھی توفیق نہیں ملی کہ وہ اپنا ہال بنوا سکیں۔ تو چونکہ اُس پر قریباً پچاس ہزار روپیہ خرچ ہؤا اس لئے میں نے سمجھا کہ پہلے اُن کایہ بوجھ اُتر جائے۔ اب کوئی پانچ ہزار روپیہ کے قریب اس کا قرضہ رہ گیا ہے امید ہے وہ پانچ چھ مہینہ میں اُتار ڈالیں گی۔ پس اب وقت آ گیا ہے کہ میں مسجد کے لئے اُن میں تحریک کروں۔ اِس وقت جیسا کہ میں نے بتایا ہے باون ہزار روپیہ کے قریب چندہ آیا ہے اور اندازہ یہ ہے کہ ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ زمین اور مسجد اور مکان پر خرچ ہوگا۔اِس وقت تک تیس ہزار روپیہ پرزمین خریدی گئی ہے باقی کوئی پچاسی ہزارمکان اور کچھ فرنشنگ پر خرچ ہوگا۔جو ہمارے پاس اندازہ آیا ہے وہ ستّر ہزار ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ گورنمنٹ اس کی اجازت نہیں دے رہی۔ وہ کہتے ہیں یہ مکان اُس شان کا نہیں ہے جس شان کا علاقہ ہے اِس سے ہم بڑا بنوانا چاہتے ہیں۔ بہرحال وہ بحث شروع ہے۔ اِسی طرح جب مکان بن جائے گا تو اس کے لئے کچھ سامان وغیرہ بھی چاہئے۔ اگر گورنمنٹ کی زیادتی کے بعد ستّر کی بجائے اسّی سمجھ لیا جائے اور پانچ ہزار روپیہ فرنیچر کے لئے سمجھ لیا جائے تو پچاسی ہزار ہوگیا ۔تیس ہزار مل کر ایک لاکھ پندرہ ہزار ہوجائے گا۔ اِس میں سے باون ہزارآچکاہے اور تریسٹھ ہزارباقی ہے۔ اِس تریسٹھ ہزار کے لئے اب میں عورتوں میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ ہمت کرکے جلد سے جلد اِس تریسٹھ ہزار کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔اُن سے امید تو یہی ہے کہ سال ڈیڑھ سال میں وہ انشاء اللہ اس کو پورا کرلیں گی۔ آخرا نہوں نے لجنہ کا چندہ بھی ڈیڑھ سال کے قریب کیا اور ساتھ اس کے مسجد کو بھی دیا۔ اور جب عورت کوئی ارادہ کرلیتی ہے تو بسا اوقات میں نے دیکھا ہے کہ عورت کا عزم جو ہے وہ مرد سے بڑھ جایا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے ہی کاموں کے لئے بنایا ہے کہ وہ قربانی کرتی ہے اور قربانی کرکے مردوں کے لئے نمونہ دکھاتی ہے۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یعنی اُن کو جدا کرکے مکہ میں چھوڑ دیا تو اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابراہیمؑ کو حکم ملا تھا اور انہوں نے اپنی مرضی سے یہ کیا لیکن ہاجرہ کو جواُس وقت قربانی کرنی پڑی میں سمجھتاہوں وہ ابراہیمؑ سے بعض لحاظ سے زیادہ تھی۔ کیونکہ حضرت ابراہیمؑ اِس بچے کی تکلیف نہ دیکھنے کے خیال سے وہاں سے چلے گئے۔لیکن ہاجرہ نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اکلوتے بیٹے کوتڑپتے دیکھااور پھر بھی خداتعالیٰ کی مشیت پر صبر کیااورہاجرہ ہی کی دعا تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے فرشتہ بھیجا۔اور فرشتہ نے ہاجرہ کو آوازدی اور کہا کہ جاؤ تمہارے بیٹے کے لئے خدا تعالیٰ نے پانی نکال دیا ہے۔ تو عورت کو جہاں شریعت نے ضیعف قرار دیاہے کیونکہ کئی باتوں میں وہ کمزور ہوتی ہے، اُسکی طاقت بوجھ اٹھانے کی یا لڑائیوں میں کوئی بڑا کام کرنے کی اتنی نہیں جتنی مرد کی ہوتی ہے لیکن جس رنگ میں وہ متواتر اور مستقل طور پر بوجھ اٹھاسکتی ہے وہ مرد میں کم ہوتی ہے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی اِس مسجد کو مکمل کرنے کے لئے جلد سے جلدچندہ پورا کریں گی اور اِس عرصہ میں ہم کوشش کریں گے کہ روپیہ کہیں سے قرض لے کر مسجد بنوا دیں۔ جیسے لجنہ کے لئے میں نے قرض کا انتظام کرادیاتھا لجنہ نے اپنا ہال بنایا پھر سال ڈیڑھ سال میں اتار دیا۔کوئی پانچ ہزار روپیہ باقی ہے اس لئے میرا خیال ہے کہ جب گورنمنٹ سے نقشہ منظور ہوجائے(شاید تین چار مہینے اس پر لگیں گے)اتنے عرصہ میں پچھلے روپیہ میں سے کوئی بائیس چوبیس ہزار روپیہ کے قریب باقی ہے۔ کوئی پانچ سات ہزار یاآٹھ دس ہزار روپیہ اَور آجائے گا اورہم باقی رقم قرضہ لے کے اُن کو دے دیں گے پچاس ہزار کے قریب۔ اور ان کو کہیں گے کہ مکان شروع کردیں بن گیا تو پھر آہستہ آہستہ عورتیں اتار دیں گی۔
    مردوں میں مَیں نے یہ کمزوری دیکھی ہے (مردوں میں جو تحریک ہوئی ہے اگر انہوں نے پہلے پوری کردی تو )آج تک انہوں نے کبھی اس رقم کو پورا نہیں کیا مثلاً جلسہ سالانہ کا چندہ ہوتا ہے جلسہ سالانہ سے پہلے جو جماعتیں دے دیں پیچھے وہ ختم ہوجاتا ہے اور وہ قرضہ ہی چلاجاتا ہے لیکن یہ عورتوں کی ہی مثال ہے کہ میں نے قرض لے کے اُن کا ہال بنوا دیا اور وہ رقم اس وقت تک باقاعدہ ادا کرتی رہیں اب صرف پانچ ہزار روپیہ باقی ہے اور مجھے یقین ہے کہ جیسا کہ اُن کی پچھلی سنت اور طریقہ ہے وہ مردوں سے زیادہ ہمت کے ساتھ کام لیں گی اور اپنے قرضہ کو ادا کردینگی۔
    کم از کم ایک یا دو عورتوں کو تعلیم دینے کا عہد کرو
    دوسری بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ قادیان میں اور ربوہ میں عورتوں کی تعلیم مردوں سے ہمیشہ زیادہ رہی ہے۔
    قادیان میں کئی دفعہ میں نے عورتوں کی تعلیم کو سو فیصدی تک پہنچا دیا تھا یعنی سو کی سو عورت پڑھی ہوئی تھی لیکن مرد کبھی بھی اسّی فیصدی سے اوپر نہیں جاسکے۔زیادہ سے زیادہ وہ اسّی تک گئے ہیں پھر گِر گئے ہیں۔ اور عورتیں کئی دفعہ سو تک پہنچیں پھر اس میں گر گئیں کہ باہر سے اور عورتیں آگئیں۔وہاں تو ہجرت ہوتی تھی یہاں بھی ہے تو باہر سے اَور عورتیں آگئیں پھر سو نہ رہا۔پھر کوشش کی پھر سو کرلیا پھر نیچے گریں۔بہرحال مردوں سے بیس فیصدی وہ زیادہ تعلیم یافتہ رہی تھیں حالانکہ پاکستان میں عورتوں کو تعلیم مردوں سے نصف سے بھی کم ہے یعنی اگر مرد پندرہ فیصدی تعلیم یافتہ ہیں تو عورت ساڑھے سات فیصدی تک تعلیم یافتہ ہے۔ تو ربوہ میں بھی یہی خداتعالیٰ کے فضل سے حال ہے یہاں بھی عورتیں تعلیم کی طرف نمایاں راغب ہیں یعنی ایک بھی لڑکی ربوہ میں ایسی نہیں ملتی جو پڑھ نہ رہی ہو لیکن بیسیوں لڑکے ایسے مل جاتے ہیں جو نہیں پڑھ رہے اور اگر اُنہیں تعلیم کی طرف توجہ دلائی جائے تو ماں باپ لڑتے ہیں کہ ہمارے لڑکے کام کریں یا پڑھیں۔
    اُن کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک ملک کے کسی شخص سے متعلق مشہور ہے کہ وہ دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا کہ پاس سے ایک شخص گذرا اور اُس نے کہا میاں! دھوپ میں کیوں بیٹھے ہو؟پاس ہی سایہ ہے وہاں بیٹھ رہو۔وہ کہنے لگا اگر میں سایہ میں بیٹھ جاؤں تو مجھے کیا دو گے؟یہی ان لوگوں کا حال ہے۔ ہم کہتے ہیں پڑھو آخر تمہارے لئے ہی میں نے سکول جاری کئے ہیں ،استاد مقرر کئے ہیں اور ہر قسم کی سہولتیں ہمیں حاصل ہیں اور ماں باپ کہتے ہیں کہ یہ لڑکے ہمیں پڑھ کر کیا دیں گے ہم ان سے کام نہ لیں۔ چنانچہ ربوہ میں بیسیوں ایسے لڑکے مل جائیں گے جو اَن پڑھ ہوں گے مگر کوئی لڑکی ایسی نہیں ملے گی جو پڑھتی نہ ہو بلکہ اب یہ ایک معمّہ بن گیاہے کہ جن گھروں میں عام طور پر کام کاج کے لئے لڑکیا ں رکھی جاتی ہیں اُنہیں اب کام کروانے کے لئے کوئی لڑکی نہیں ملتی کیونکہ غریب سے غریب لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں اور پھر وہ معمولی پڑھائی پر خوش نہیں ہوتیں بلکہ اُن کا اصرار ہوتا ہے کہ ہم نے انٹرنسن تک پڑھنا ہے اور پھر کالج میں داخل ہونا ہے۔ پس وہ پڑھتی ہیں اور خداتعالیٰ کے فضل سے خوب ترقی کررہی ہیں۔ لیکن باہر کی جماعتوں میں یہ حال نہیں۔ اور سب سے بڑی خرابی یہ جو کالج کے کھلنے کے بعد ہم کو معلوم ہوئی کہ بعض نہایت مخلص گھرانے جن کی تیسری پُشت احمدیت میں جارہی ہے اُن کی بیٹیاں یہاں پڑھنے کے لئے آئیں اور سورۂ فاتحہ بھی نہیں پڑھ سکیں۔نہ اُن کو نماز آتی تھی نہ اُن کو قرآن آتا تھا نہ عربی کا کوئی تلفظ آتا تھا۔حیرت ہوگئی کہ خالی ربوہ نے کیا کرلینا ہے یا خالی قادیان نے کیا کرلینا ہے۔جماعت میں جب تک ہر جگہ پر تعلیم نہیں پائی جاتی،جب تک ساری جماعت کی عورتیں جو ہیں وہ دین سے واقف نہیں ہوتیں تو اِن قادیان یاربوہ کی تعلیم یافتہ عورتوں سے بن کیاسکتا ہے۔ تو میں نے اِس حالت کو دیکھ کر یہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ اِس جلسہ پر بلکہ میرا ایک یہ بھی محرک تھا کہ میں عورتوں میں تحریک کروں۔ایک چندہ اور ایک یہ کہ تم باہر کی بھی اصلاح کی کوشش کرو اور یہ کام بغیر ایک سکیم بنانے کے نہیں ہوسکتا۔یہاں تو جو چیز ہمارے سامنے ہوتی ہے ہم اُسکی نگرانی کرلیتے ہیں کچھ یہ ہے کہ میرے وعظوں سے،خطبوں سے، اردگرد کے محلہ کی دوسری لڑکیوں کودیکھ کر وہ تعلیم پارہی ہیں۔کچھ ہم اُن کی اس طرح بھی امداد کرتے ہیں کہ لڑکیاں جو ہیں اُن کی فیسیں معاف ہورہی ہیں،اُن کو کتابیں مل رہی ہیں۔ اگر وہ درخواست امداد کی دیویں اپنی پڑھائی وغیرہ کے لئے۔تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے جو فنڈ میرے ہاتھ میں ہوتا ہے میں اُس سے کوشش کرتا ہوں کہ لڑکیوں کو امداد ملتی چلی جائے اور اُن کا اِسطرف میلان زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے اور رغبت زیادہ ہوتی جاتی ہے باہر یہ بات نہیں۔تو باہر تعلیم کو رائج کرنے کے لئے تین چار ترکیبیں کرنی پڑیں گی۔
    پہلے تو یہ کہ جو مرد ہیں پہلا قدم مردوں کے لئے اٹھانا ضروری ہوتا ہے وہ اس کام میں لجنہ کے ساتھ مل کرایسا انتظام کریں کہ ہرلڑکی جو ہے وہ پڑھی ہوئی ہو۔ہر جگہ کی جماعتیں اس کا انتظام کریں کہ لڑکیوں کی تعلیم کی طرف توجہ کی جائے ۔
    تعلیم سے کیا مراد ہے
    اور اس کے لئے یہ مدنظر رکھا جائے کہ تعلیم کےلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ باقاعدہ مدرستی تعلیم اُن کو آتی ہو
    بلکہ صرف اتنا ضروری ہے کہ اُن کو اردو پڑھنااور اردو لکھنا اور قرآن شریف پڑھنا آجائے۔یہ دو باتیں جو ہیں ان کے لئے کسی خاص سکول کی ضرورت نہیں۔پرائیویٹ کلاسز بھی ایسی ہوسکتی ہیں۔اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر عورت اپنے دل میں یہ عہد کرلے کہ میں نے اپنے وطن میں جاکر ایک یا دو لڑکیوں کو ضرور پڑھا دینا ہے۔میرا اندازہ ہے کہ ہمارے اِس وقت جلسہ گاہ میں جیسا کہ عام سالوں میں ہوتا ہے سات آٹھ ہزار یانو ہزار عورت ہوگی تو سات آٹھ ہزار یا نوہزار عورتوں سے دوتین ہزار ربوہ کی ہوگی پانچ چھ ہزار عورت باہر کی آئی ہوئی ہے اگر ان میں سے ہر عورت یہ عہد کرلیوے کہ میں واپس جا کر اور باقی اردگرد جو احمدی ہیں اُن کی مستورات یا لڑکیاں کوئی ہوں دونوں کی تعلیم ضروری ہے اُن کو اردو لکھنا اور پڑھنا سکھا دوں گی تو اگر وہ دو دو کو پڑھنا سکھائیں تو میں سمجھتا ہوں تین چار سال میں ہم سارے ملک میں عورتوں کی تعلیم پیدا کرسکتے ہیں۔گورنمنٹ نے ووٹ کے لئے اب تو نہیں پتہ کیا شرط ہے مگر پہلے پری پارٹیشن(Prepartition)انگریزوں کے زمانہ میں تو یہ تھا کہ جو عورت اپنا نام لکھ لیوے اُس کو کہتے تھے تعلیم یافتہ ہے۔تو اگر ایک عورت اردو پڑھ سکتی ہواور نام بھی لکھنا جانتی ہو تو اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پھر وہ دین سے بھی واقف ہوسکے گی اور سلسلہ کا اخبار بھی پڑھ سکے گی ۔میں نے دیکھا ہے کہ جن لڑکیوں کو پڑھنا آتا ہے وہ تو چھوٹی چھوٹی تعلیم والی ایسی اخباروں کے پیچھے پڑتی ہیں کہ حیرت آتی ہے۔ہمارے گھر میں بعض لڑکیاں جو ملازمہ وغیرہ ہیں یا ملازمات کی لڑکیاں ہیں اُن سے ہمارے لئے اخبار چُھپانا مشکل ہوجاتا ہے۔اِدھر ‘‘المصلح’’ آیا اور اُدھر غائب۔کیا ہوا کہ فلاں لڑکی اٹھا کر لے گئی ہے بس وہ بیٹھ کر پڑھتی رہتی ہیں اُن کو ایک عجوبہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے او رہمیں پتہ لگ رہا ہے اور مائیں جو ہیں وہ اُن کے اوپر لٹّوہوئی چلی جاتی ہیں۔
    لڑکوں کی تعلیم پر جُہّال میں یہاں تک حالت ہے کہ سیالکوٹ کے ایک دوست مجھے ملنے کے لئے آئے۔پچھلے سال کی بات ہے کہنے لگے سیالکوٹ سے آیا ہوں۔میں نے کہا بہت اچھا۔پھر کہنے لگے آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟میں نے کہا میں نے نہیں پہچانا۔کہنے لگے میں عبدالکریم کا باپ ہوں۔ اگر مولوی عبدالکریم کے باپ کے ہوتے تو بات بھی تھی میں سمجھ جاتا پر کسی عبدالکریم کا باپ مجھے کیا پتہ ہے۔کوئی سینکڑوں ہزاروں عبدالکریم کے باپ ہیں۔پھر چہرہ دیکھ کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے نہیں پہچانا؟میں نے کہا نہیں۔کہنے لگے میں عبدالکریم کا باپ ہوں جو ساتویں جماعت میں پڑھتا ہے خیر پھر تو پہچانا۔میں نے کہا اب تو میں نے ایسا پہچانا ہے کہ ساری عمر یاد رکھوں گا جس کے ساتویں جماعت پڑھنے والے باپ کی بھی ایسی شان ہوگی کہ ا ب اس کوہرایک کو پہچاننا چاہئے تو بھلا مجال ہے ہماری کہ ہم بھول جائیں۔تو لڑکے بھی اگر ساتویں میں اتنی عزت دے دیتے ہیں تو سمجھو عورتیں ساتویں میں تو پھر کیا چار چاند لگا دیں گی۔جس وقت قاعدہ ہی پکڑ کر ماں کے سامنے بیٹھتی ہیں۔جو ماں نہیں پڑھی ہوئی تو وہ تو یہ سمجھتی ہے کہ میری بیٹی اتنی بڑی عالمہ فاضلہ ہوگئی ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔تو بہت تھوڑی سی کوشش کے ساتھ اِس میں تغیر پیدا کیا جاسکتا ہے او رچونکہ اُن کے اندر نئی روح ہوگی،نئی تعلیم ہوگی اس لئے وہ خود بخود پیچھے پڑ کر کتابیں پڑھا کریں گی اور کتابیں پڑھ کے آپ ہی آپ اُن کے علم کی ترقی ہوتی چلی جائے گی۔تو میں دوسری تحریک اُن میں یہ کرتا ہوں کہ وہ تعلیم کو رائج کریں اور ہر ایک پڑھی ہوئی عورت یہاں سے یہ عہد کرکے جائے کہ میں اگلے سال کم سے کم دو عورتوں یا لڑکیوں کو پڑھا دونگی۔ اور جو ہیں جماعت والے مرد وہ یہ عہد کرکے جائیں کہ کسی نہ کسی تعلیم یافتہ عورت کو نیکی کی تحریک کرکے اس سکیم کو جاری کرنے کی کوشش کریں گے۔ جماعت والے مثلاً قاعدے خرید دیویں یا اِس قسم کی مدد دیویں جو غرباء کے لئے تعلیمی سہولت پیدا کرنے والی ہو۔ اور پھر باقاعدہ سکول کی ضرورت نہیں صرف آدھا گھنٹہ اگر لڑکیاں اکٹھی ہوکر پڑھنا شروع کردیں تو ایک سال میں وہ کہیں کی کہیں پہنچ جائیں گی۔
    ہاتھ سے کام کرکے زائد آمدنی پیدا کرو
    تیسری بات میں عورتوں سے یہ کہنی چاہتا ہوں
    (مردوں کو تو میں یہ کہونگالیکن اپنے وقت پر)عورتوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اب وہ ایک فیصلہ کرلیں۔ایک نیا نظام مَیں کرنا چاہتا ہوں۔ جیسے تحریک جدید کا نظام تھا اور اب وہ خداتعالیٰ کے فضل سے مستقل ہوجائے گا اِ س کا میں آئندہ ذکر کروں گا لیکن اِ س طرح میں سمجھتا ہوں کہ ایک نئے نظام کی ہم کو ضرورت ہے۔تحریک جدید کی اشاعت کے وقت میں مَیں نے جو شرطیں رکھی تھیں علاوہ چندہ کے ان میں وہ شامل تھا لیکن اُس وقت ہم نے خصوصیت کے ساتھ اس کو آگے نہیں کیا تھا اب میں اس کو آگے کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے ہاتھ سے کچھ کام کرکے علاوہ اُس پیشہ کے جو اُس کا ہے کوئی رقم مہینہ میں پیدا کرے۔ اگر وہ غریب ہے تو اُس کا کچھ حصہ چندہ میں دے دیوے اگر امیر ہے تو اس کا سارا حصہ دے دے۔مثلاً ایک شخص ڈاکٹر ہے وہ اپنی ڈاکٹری کی کمائی سے جو کچھ دیتا ہے یہ قاعدہ اس پر حاوی نہیں ہوگا بلکہ ڈاکٹری کے علاوہ کوئی ہاتھ کا پیشہ وہ اختیار کرکے اس کی آمدن پیدا کرے۔ جیسے گاندھی جی نے مثلاً یہ کیا تھا کہ چرخہ ایجاد کیا وہ آپ چرخہ کاتا کرتے تھے اور اِس طرح انہوں نے سب کو تحریک کردی کہ چرخہ کا تو۔اور چرخہ کات کے جو میرے پاس لائے میں اصل کانگرس کا چندہ اُس سُوت کو سمجھونگا جو تم کات کے لاتے ہو۔ابھی ہم چرخہ کاتنے کی شرط نہیں کرتے لیکن ہم کہتے ہیں کہ کوئی کام کرلو۔ مثلاً ایک لکھا پڑھا آدمی ہے وہ یہی کرلے کہ کسی دن جاکے محلّے میں بیٹھ جائے اور کہے پیسہ پیسہ میں خط کسی نے لکھوانا ہے تو پیسہ پیسہ مجھے دیتے جاؤ اور خط لکھوالو وہی پیسے جمع کئے او رکہا جی! علاوہ میرے چندہ کی آمدن کے یہ میرے ہاتھ کی کمائی کے ہیں۔
    اورنگزیب کے متعلق مشہور ہے اِسی طرح اور کئی بادشاہوں کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ہاتھ سے قرآن لکھ کے بیچا کرتے تھے اور ہمارے اچھے اچھے پڑھے لکھے عالم فاضل جاہل جو ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اورنگ زیب اُسکی روٹی کھاتا تھا حالانکہ اُس کی تصویریں دیکھتے ہیں کہ دو دو تین لاکھ کاہار اُس نے پہنا ہوا ہے اگر وہ اسکی روٹی کھاتا تھا تو ہار کیوں یہ خزانے سے لیتا تھا۔جو شخص روٹی کھانی حرام سمجھتا تھا خزانے کی وہ ہار اور کپڑے کہاں سے لیتا تھا۔ ریشمی کپڑے بھی پہنے ہوتے ہیں،اعلیٰ درجہ کے قیمتی گھوڑے بھی ہیں اور سمجھ یہ رہے ہیں کہ قرآن بیچ کر وہ گذارہ کیا کرتا تھا۔قرآن اُس نے ساری عمر مثلاً سات یا آٹھ،دس یا بیس لکھے تھے ان سے ساری عمر اس نے گذارہ بھی کیا ااور ان میں گھوڑے بھی خریدے اور اس نے موتی بھی خریدے او رکھانا بھی کھایا او رخاندان کوبھی کھلایا۔ یہ پاگلوں والی بات ہے۔لیکن اچھے معقول آدمی یہ کہتے ہیں۔ حالانکہ بات یہ ہے کہ ہمارے پرانے زمانہ میں یہ نصیحت کی جاتی تھی کہ انسان کو اپنے اُس پیشہ کے علاوہ جو اُس کا پروفیشن ہے اپنے ہاتھ کی کچھ کمائی بھی پیدا کرنی چاہئے تاکہ غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ اُس کا جوڑ رہے۔تو اس لئے کرتے تھے یہ نہیں کہ وہ اس سے گذارہ کرتے تھے۔ پھر جوآیا اُس کی کوئی چیز لے کر کسی غریب کو دے دی۔ہمارے بڑے بڑے بزرگ اور صوفیاء کے متعلق آتا ہے کہ کوئی رسّی بٹتا تھا۔کوئی دوسرے کام کرتا تھا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسی سے گذارے کرتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی پیشہ اپنا ایسا رکھنا چاہتے تھے ہاتھ کاجس کی وجہ سے غریب او رامیر کا امتیاز مٹتا چلا جائے۔
    تو عورتوں میں میں یہ تحریک کرتا ہوں اور لجنہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ اس پر غور کرکے سب سے پہلے تو وہ قادیان میں شروع کرے(دوبارہ فرمایا ربوہ میں شروع کرے)قادیان میں کیوں نہیں؟قادیان میں بھی جانا ہے۔تو ربوہ میں کریں،قادیان میں کریں۔ اور اس کے بعد پھر اِس کا انتظام کریں کہ ایک ایک گاؤں دو دو گاؤں تقسیم کرکے پھر وہاں جائیں اور وہاں جاکے وہاں کی عورتوں کو ٹرینڈ کرکے اُن کو کسی کام پر لگائیں۔عورتوں کے لئے بڑے اچھے کام جو ہوتے ہیں جو بڑی آسانی سے کئے جاسکتے ہیں وہی یہی ہیں سُوت کاتنا۔پراندے بنانا۔ازار بند بنانا۔چھوٹی دریاں بنانا۔قالین بنانا۔ یہ ایسے کام ہیں۔قالین تو ہمارے قادیان میں میرے پاس ہوا کرتی تھی اور اکثر ملاقاتیں دوست اس کے اوپر کیا کرتے تھے وہ ایک نابیناعورت نے مجھے اپنے ہاتھ سے بنا کردی تھی۔ وہ نابینا تھی لیکن خوب خانے بھی بنے ہوئے تھے اور رنگ بھی دیئے ہوئے تھے۔ تو قالین ایک نابینا بنا سکتا ہے تو دوسرے لوگ کیوں نہیں بناسکتے۔ایسے ہی اور کئی کام نکل سکتے ہیں لیکن ہاتھ سے کرکے۔اس سے کمائی بھی کی جاسکتی ہے۔ مثلاً یہی ہے جیسے مرمرے بنانے ہیں۔ستّو بنانے ہیں اِ س قسم کی چیزیں بنا کربچوں کو دیں۔ پھر ہمسایہ میں کہہ دیا کہ بھئی! تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو ستّو ہم سے خرید لینا اور وہ ہم نے خدا کے نام پر دینے ہیں تو اس طرز پر کام کی عادت ڈالی جائے۔ علاوہ اس چندہ کے جو اُن کو گھر کی آمد سے خاوند کی طرف سے ملتا ہے یا باپ کی طرف سے ملتا ہے کچھ نہ کچھ چندہ چاہے وہ کتنا ہی قلیل شروع میں ہو،چاہے سال میں پیسے ہی دے لیکن اپنے ہاتھ کی محنت سے کیاہؤا وہ دیں۔ چاہے وہ کسی نواب کی بیٹی ہو،چاہے وہ کسی رئیس کی بیٹی ہو چاہے وہ کسی ڈاکٹر کی بیٹی ہو،چاہے کسی بیرسٹر کی بیٹی ہو چاہے، کسی بڑے سرکاری افسر کی بیٹی ہو ہاتھ کی محنت کی کمائی چاہے چکّی پیس کے وہ کہے کہ جی! میں نے سیر چکّی پیسی تھی اپنے ہمسایہ کی۔لو میں یہ آنہ دیتی ہوں نتیجہ اِس کا یہ ہوگا کہ کام کی عادت بھی ان میں پیدا ہو جائے گی اور یہ جوغریب امیر کا امتیاز ہے یہ بھی کم ہوجائے گا۔
    میری پہلی تقریر1934ء میں جو ہوئی ہے اُس میں میں نے یہ مضمون رکھا ہوا تھا لیکن اب اِس پہلے دور کے ختم ہونے کے اوپر میں آج پھر اس کو لیتا ہوں کہ اِس چیز کو ہم انشاء اللہ تعالیٰ جماعت میں رائج کریں گے اور سب سے پہلا حق عورتوں کا ہے کہ وہ اس کو شروع کریں۔
    ربوہ کی زمین
    اب میں مردوں کو مخاطب ہو کے یہ کہناچاہتا ہوں کہ ربوہ میں325کنال کے قریب زمین باقی ہے۔340کنال انہوں نے
    لکھی ہے لیکن انجمن زور دے رہی ہے کہ کچھ زمین اُس کو الگ کردی جائے تاکہ یہ لنگر وغیرہ جو بنتے ہیں ان کے لئے مختلف محلّوں میں وہ محفوظ رہے۔اس جگہ پر وہ پکّی بیرکیں بنالیں گے تاکہ آئندہ بارش وغیرہ میں وہ کام خراب نہ ہوا کرے۔اس کے لئے پندرہ کنال۔وہ تو چالیس مانگ رہے تھے لیکن میرے نزدیک یہ غلط ہے چالیس بہت زیادہ ہے۔یہاں کی زمین کی قیمت کے متعلق پچھلے سال ہم نے تین ہزار روپیہ کنال کا اعلان کیا تھا اور بڑی کثرت سے لوگوں کی درخواستیں آگئی تھیں مگر پھر مجھے جب یہ پتہ لگا (یعنی کیا تھا کمیٹی ربوہ نے۔ مجھے پتہ لگا) تو میں نے کہا اتنی قیمتیں میں بڑھانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ پھر جو اچھی سے اچھی جگہ تھی اُس کی قیمت دوہزار کی گئی باقی پندرہ سو ہزار پرلائی گئی۔ اور ساتھ ہی او ربھی میں نے کہا کہ آئندہ یہ رکھو کہ کچھ عرصہ مدت مقرر کرکے تحریک کی تحریک بھی ہوتی ہے اور لوگوں کو رعائت بھی مل جاتی ہے یہ اعلان کردو کہ مثلاً اتنے عرصہ میں جو قیمت دیدے اُس کو ہم مثلاً دس فیصدی کمیشن دے دیں گے۔ اب انہوں نے 340کنال کے متعلق کیا ہے ہمارے پاس اتنی زمین باقی ہے میں نے کہا ہے کہ پندرہ کنال کے قریب ہم دوسری ضروریات کے لئے رکھ لیں گے۔میری اپنی رائے میں تو آٹھ کنال زیادہ سے زیادہ کافی ہے لنگر خانہ وغیرہ کے لئے۔چار کنال ایک جگہ پر۔ اور دو دو کنال دوسری جگہ پر لیکن باقی سکول وغیرہ کے لئے بھی ضرورتیں ہوتی ہیں15کنال میرے نزدیک ہم کو فارغ رکھنی چاہئے باقی325رہ گئی قیمت اس وقت غالباً دوہزار پندرہ سو یا ہزار ہے۔’’
    اس موقع پر حضور نے دفتر والوں سے دریافت فرمایا تو ان کے جواب پر ارشاد فرمایا:-
    ‘‘پندرہ سو ہزار اور ساڑھے سات سو ہے یعنی پچھلے سال سے نصف کردی گئی ہے اور اس کے لئے بھی وہ یہ لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص 31 مارچ تک رقم ادا کردے تو ہم دس فیصدی اُس کو ری بیٹ1 (REBATE) دے دیں گے مثلاً پندرہ سو روپیہ پر وہ خریدتا ہے اگر وہ اس مارچ تک دے دے گا تو اُس کو ساڑھے تیرہ سو میں ہم دے دیں گے۔اگر ہزار روپیہ میں ایک ٹکڑہ خریدتا ہے تو اُس کو 31 مارچ تک اگر وہ قیمت ادا کردے تو ہم اُس کو 9سو میں دے دیں گے۔اگر ساڑھے سات سو میں وہ خریدتا ہے تو اُس کو ہم پونے سات سو میں دے دیں گے اگر وہ 31 کو دیدے۔میں اس کے ساتھ ایک زائد بات بھی کردیتا ہوں کہ وہ اسکے ساتھ یہ بھی رعایت کردیں کہ 31 مارچ تک جتنی رقم وہ دیدے اُس پر بھی وہ ری بیٹ دے دیں مثلاً پندرہ سو والے نے 31 مارچ تک ہزار دے دیا500رہ گیا تو ہزار پر تو سو روپیہ ری بیٹ اُس کو دے دیں باقی پانچ سواپنا پورا وصول کرلیں۔ اِس طرح کرکے اُن کو زیادہ سے زیادہ ادا کرنے کی بھی ہمت ہوگی اور ساتھ اسکے وہ ادا کرنے میں جو قربانی کریں گے اس کا ان کو فائدہ بھی پہنچ جائے گا۔اگر وہ500ادا کریں گے تو پچاس روپے بچ جائیں اگر ہزار ادا کریں گے تو سو روپیہ بچ جائے گا۔اگردو سو ادا کریں گے تو بیس روپے بچ جائیں گے۔تین سو ادا کریں گے تو تیس روپے بچ جائیں گے۔تو31 مارچ تک جو رقم وصول ہو خواہ وہ ساری نہ ہو اتنے حصہ پر ری بیٹ پھر بھی وہ دے دیں تاکہ اُن کی اس قربانی اور محنت کا نتیجہ کچھ نکلے۔
    تو جو دوست یہاں ربوہ میں مکان بنوانا چاہتے ہیں یا زمین لینا چاہتے ہیں اُن کو معلوم ہوجائے کہ اب ربوہ میں صرف325کنال زمین باقی ہے اور اس کی قیمت بھی پچھلے سال سے قریباً آدھی کردی گئی ہے اور پھر اس کے ساتھ ری بیٹ بھی رکھ دیا گیا ہے اِس لئے یہ سہولت ہے اگر وہ نہ لیں گے تو مجھے پتہ ہے کہ پیچھے لوگوں نے تین تین ہزار روپیہ کنال یہاں خریدی ہے اور میں نے سختی کرکے بیچ میں دخل دیا تو پھر دو دو ہزار تک تو ہمیں بھی ماننا پڑا کہ دو ہزار روپیہ تک زمین دے دو حالانکہ انہوں نے ساڑھے سات سو کو زمین خریدی تھی بلکہ بعض تو ایسے تھے کہ انہوں نے سو کو خریدی اور دوہزار کو بیچی۔کیونکہ ہم نے اجازت دے دی تھی کہ دوہزارتک آدمی بیچ سکتا ہے اِس سے زیادہ لوگوں پر سختی ہوجائیگی اور ربوہ کی آبادی میں دقت ہو جائیگی۔ پس یہی قیمتیں جو آج دو گے کسی وقت میں بہت چڑھ جائیں گی۔شہر نے آخر بڑھنا ہے اور پھر یہاں تو ساتھ اس کے تبرک بھی ہے، دین کی خدمت بھی ہے، دین کی باتیں سننے کے مواقع بھی ہیں اور دین کے لئے اکٹھے بیٹھنے کے مواقع بھی ہیں گویا شہر کا شہر بھی ہے اور امن بھی ہے باہر تو یہ باتیں نصیب نہیں۔ لیکن باہر جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو یہ تو لازمی بات ہے کہ یہاں بھی بڑھ جائے گی۔قادیان گو شہر کے لحاظ سے چھوٹاسا تھالیکن بیس بیس ہزار روپیہ کنال تو خود ہم نے خریدی ہے حالانکہ ہم مالک بھی تھے۔بیچتے بھی تھے لیکن بیس ہزار روپیہ کنال تک بھی بعض چھوٹے ٹکڑے ہم کو لینے پڑے اور بیس ہزار روپیہ کنال کے حساب سے ہمیں دینے پڑے حالانکہ بڑے بڑے شہروں میں بلکہ لاہور جیسے شہر میں بھی بڑی بڑی خاص جگہوں پر بیس ہزار روپیہ پر زمین بکتی ہے ورنہ وہاں بھی چار پانچ بلکہ دس ہزار روپیہ پر زمین مل جاتی ہے۔ پس یہ قیمتیں پیچھے بڑھیں گی اور کرائے تو اب بھی اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ مجھے تو ظلم ہی نظر آتا ہے۔تین چار کمرے کا مکان ہوتا ہے اور کہتے ہیں ساٹھ روپے، ستّر روپے، اسّی روپے کرایہ ہے۔ اور پھر اَور زیادہ ظلم یہ ہے کہ میرے پاس بعض لوگوں نے یہ شکایت کی ہے کہ ہم اپنے بچے یہاں رکھنا چاہتے ہیں۔ تیس پنتیس مکان خالی پڑے ہیں ہم گئے ہیں اُن کی منتیں کی ہیں کہ ہم کو کسی کرایہ پر دے دو مگر کہتے ہیں دینا نہیں۔اگر ہم کو کوئی مشکل پیش آئی اور ہمیں یہاں آنا پڑا تو کیا کریں گےمکان ہم نہیں دیتے۔ تو کرایہ کے لحاظ سے بھی یہ بڑی آمد والی چیز ہے اور اگر آئندہ فروخت ہو تو اِ س میں بھی بڑی آمدن ہے۔ کئی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مثلاً دو سو یا تین سو کو ٹکڑہ خریدا تھا اور پھر اُن کے اوپر کچھ چندے بڑھ گئے یا یہ کہ وصیت کی تھی تو اب انہوں نے تین تین ہزار روپیہ میں انجمن کی معرفت بیچ کر اپنا ستائیس سو روپیہ کا قرضہ اتار دیا ہے حالانکہ انہوں نے دوسو یا تین سو دے کر وہ ٹکڑہ خریدا تھا۔پس میرے نزدیک یہ بہترین سودا اور مفید سودا ہے۔
    مکان بنانے کے متعلق بھی ربوہ کمیٹی جو سختی کررہی ہے اُس کے متعلق میرے پاس شکائتیں آتی ہیں۔ انفرادی طور پر تو میں جواب دیتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اجتماعی طور پر مجھے جماعت کو ہوشیار کردینا چاہیے کہ اس میں میرے پاس لکھنا درحقیقت بیکار ہوتا ہے اصل بات یہ ہے کہ حکومت سے جب یہ زمین لی گئی ہے تو اُن کو یہ کہا گیا تھا کہ مہاجرین بہت سارے ایسے ہیں کہ جن کے پاس جگہ نہیں اور وہ اپنا ٹھکانہ بنانے کے لئے یہاں مکان بنانا چاہتے ہیں۔یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ چونکہ ہماری جماعت کا مرکز ہوگا۔کالج ہونگے۔سکول ہونگے کچھ دوسرے بھی آجائیں گے لیکن زیادہ تر مہاجرین مدنظر ہیں اور اُن کے لئے فوراً ٹھکانے کی ضرورت ہے تو یہ اعتراض لوگ حکومت کے اوپر کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹ بولا تھا اگر فوراً ٹھکانے کی ضرورت تھی تو پھر یہ بناتے کیوں نہیں۔ چنانچہ کئی آنے بہانے سے بعض افسررپورٹیں کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے وعدہ نہیں پورا کیا،زمین آباد نہیں ہوئی اِن سے لے لی جائے تاکہ دوسرے لوگ اِس میں آباد ہوسکیں۔ حالانکہ دوسروں نے اگر لینی تھی تو ہم سے پہلے کیوں نہ لے لی۔ اب تو اگر کوئی آباد ہوتا ہے تو ہمارے سکول کی وجہ سے ہوتا ہے، ہمارے کالج کی وجہ سے ہوتا ہے،ہمارے ہسپتال کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن بہرحال زبردست کا ٹھینگا سر پر۔جو طاقت والے ہوتے ہیں اُن کی بات زیادہ مؤثر ہوجاتی ہے اور ہمیشہ یہ مشکلات ہیں خریدنے والی انجمن ہے (صدرانجمن احمدیہ اور تحریک جدید۔) اُن کے لئے پیش آتی رہتی ہیں اور حکام کی منتّیں ترلے،اُن کی دھمکیاں سننی پڑتی ہیں اس کے لئے وہ بھی مجبور ہوکے آپ کو نوٹس دیتے ہیں کہ جلدی مکان بنائیے تاکہ ہماری جان چُھوٹے۔جن دوستوں کو ان حالات کا علم نہیں وہ سمجھتے ہیں بیٹھے بیٹھے ربوہ میں ان کو جوش اٹھتا ہے ہماری حالت کو نہیں دیکھتے کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں۔ہم بنالیں گے ایک دوسال میں۔وہ یہ نہیں جانتے کہ اِس کا سلسلہ کوبھی نقصان ہوتا ہے اور ان لوگوں کو الگ پریشانی ہوتی ہے۔ ہر افسر جو آتا ہے تو اِن بیچاروں کو آگے پیچھے اُسکے دوڑنا پڑتا ہے کہ کسی طرح وہ رپورٹ خلاف نہ کردے۔ تو اِن حالات سے مجبور ہو کر وہ آپ کو کہہ رہے ہیں کہ مکان جلدی بنوائیے تا کہ اس میں آبادی ہوجائے اور لوگ جو خواہ مخواہ دق کرنے کے لئے اعتراض کرتے ہیں اور پھر افسروں کو بھی ستاتے ہیں، ہمیں بھی ستاتے ہیں اُن کا منہ بند ہوجائے۔اَور بھی کئی وجوہات ہیں مگر بڑی وجہ جو ہے وہ یہی ہے۔ اور پھر اقتصادی طور پر اگر شہر آبادنہیں ہوگا تو یہاں کے دوکاندار بھی نہیں بس سکتے،یہاں کے سکول بھی نہیں آباد ہوسکتے، کالج بھی نہیں آباد ہو سکتے۔شہر کی آبادی کے ساتھ کالج اور سکول یہاں مضبوط ہوجائیں گے تو اداروں کی مضبوطی کے لئے بھی یہ ضروری ہے اورکالجوں کی مضبوطی کے لئے بھی ضروری ہے اور سلسلہ کے کام کے لئے بھی ضروری ہے اور پھر جس کام کے لئے میں نے زمین کی تھی اُس شرط کے جلدی سے جلدی پوراکرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔گو ہم گورنمنٹ کو تو یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ ہم ربوہ میں اکیلے بیٹھے ہوئے ہیں غریب آدمی،مہاجر۔تم ہم پر یہ اعتراض کررہے ہو۔تو تم نے جوجوہرآباد وغیرہ بنائے ہیں وہ تو اب تک اُجڑے پڑے ہیں کروڑ کروڑ روپیہ سرکار نے اپنا خرچ کیا تو ان کو بسا نہیں سکے تو ہم غریبوں نے تو تم سے تین گنے چار گنے زیادہ آباد کرلیا ہے لیکن مُنہ تو ہم بند کردیتے ہیں ان کا مگر یہ کہ جب شور پڑے اور لوگ زور دینا شروع کریں تو پھر معقولیت بات کی نہیں رہا کرتی پھر تو یہی ہوجاتا ہے کہ جس کاہاتھ زیادہ زور سے چل سکتا ہے وہی جیت جاتا ہے۔
    جلسہ سالانہ پر ملاقاتوں کے سلسلہ میں ضروری ہدایات
    ایک بات میں کہنا چاہتا ہوں ملاقاتوں کی نسبت۔آج سے بیس پچیس سال پہلے میں نے ملاقاتوں کے متعلق کچھ نصیحتیں کی تھیں۔کچھ
    مدت تک اس پر خوب اچھا عمل ہوا اور ملاقاتیں بڑی اچھی ہوجاتی تھیں اور مفید ہوتی تھیں آہستہ آہستہ وہ اثر جانا شروع ہوا۔کچھ تو یہ وجہ ہوئی کہ جن لوگوں کو نصیحت کی تھی اُن کے علاوہ بہت سارے لوگ آنے شروع ہوئے نئے احمدی۔اُن کو یہ نصیحتیں معلوم نہیں تھیں۔ کچھ یہ ہوا کہ وہ جوان جنہوں نے وہ نصیحتیں سنی تھیں اور اُن کے اندر جوش تھاا ُن پر عمل کرنے کا، وہ اب ہوگئے بڈّھے۔اب بڑھاپے میں اُن کے اندر وہ جوش نہ رہا اُن پر عمل کرنے کا۔کچھ یہ نقص ہوا کہ جو لوگ اُس وقت منتظم تھے وہ آج نہیں ہیں۔آج دوسرے نوجوان ہیں انہوں نے وہ نصیحتیں نہیں سنی ہوئی۔ او رکچھ انسانی ضد اورہٹ دھرمی ہوتی ہے کہ کئی باتیں تو سالہا سال سے میں منتظمین کو کہتا آتا ہوں پھر بھی وہ اِس کان سنتے ہیں اُس کان سے نکال دیتے ہیں اور پھروہی کی وہی باتیں ہیں۔پس میں پھر جماعت کے دوستوں کو اِس کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اِس میں اُن کا بھی فائدہ ہے میرا بھی فائدہ ہے اور کئی رنگ کے روحانی فائدے ہیں۔
    ایک تو میں نے یہ کہا تھا کہ جب جماعتیں ملنے آئیں تو اُن کا کوئی لیڈر ساتھ ہو جو ساروں کو پہچانتا ہو اور وہ ملاتے وقت اُن کا نام بھی بتاتا جائے۔ پہلے گاؤں کا نام بتائے پھر اس کے بعد اُس آدمی کا نام بتائے نتیجہ اِس کا یہ تھا کہ اُس زمانہ میں دو تین سال میں ہزاروں ہزار احمدی سے میں واقف ہوگیا تھا۔وہ نام بتاتا تھا میں فوراً پہچان لیتا تھا کہ یہ وہ شخص ہے۔ لیکن اب یہ ہوتا ہے کہ بیٹھنے والا صرف اس لئے بیٹھتا ہے کہ میں سامنے ذرا دیر تک بیٹھا رہونگا۔اُس کا کوئی حق نہیں ہوتا نہ وہ جماعت کو جانتا ہے نہ کسی کا نام جانتا ہے اُس سے پوچھو تو کہتا ہے ‘‘دسدے جان گے آپے ہی’’اُس کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ میں پاس بیٹھ جاؤںاور اِس سے زیادہ کوئی کام کرنا اُس کا مقصود نہیں ہوتا۔ اور جب نام پوچھو تو کہتا ہے یاد نہیں رہے۔ ‘‘آپے دسن گے’’پھر وہ جو آتے ہیں تو اُن کو پیچھے سے ملاقات کرانے والا جیسے بیل کو مار مار کے ٹھکور کے آگے کرتے ہیں نا،وہ دھکے دے رہاہوتا ہے اور وہ بیچارہ اِسی میں غنیمت سمجھتا ہے کہ مصافحہ ہوگیا وہ بھاگتا ہے۔اگر میں اُس کو پوچھ بھی لوں کہ تمہاراکیا نام ہے؟ تو بیچارہ بعض دفعہ ایسا گھبرایا ہوا ہوتا ہے کہ میں کہتا ہوں آپ کا نام کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے’’گوجرانوالہ’’۔کبھی میں کہتا ہوں آئے کہاں سے ہو؟ تو کہتا ہے محمد دین۔تو اُس کی انہوں نے مت ماری ہوتی ہے۔پیچھے سے دھکے دے رہے ہوتے ہیں نکل،نکل،نکل۔اگر وہ اِ س صورت کے ساتھ ملنے کے لئے آویں اور وہ بیٹھنے والا ذمہ دار شخص اپنے فرض کو ادا کرے اور وہ بیٹھ کے کہے صاحب! یہ فلاں شخص ہیں۔میری جماعت کے ہیں تو کتنا فائدہ ہو۔ آج صبح بھی اور شام کی ملاقات میں بھی میں نے دیکھا کہ اکثر بیٹھنے والے وہ تھے سوائے ایک جماعت کے یعنی سرحد کی جماعت کے اکثر پٹھانوںمیں میں نے دیکھا ہے چونکہ سیاسی لوگ ہیں اس لئے وہ زیادہ ہوشیاری سے کام کرتے ہیں اُن کی جماعت کو ہمیشہ ہی میں نے دیکھا ہے یعنی کوئی تو بھول جاتا ہے آدمی۔قاضی صاحب کی عمر میرے خیال میں شائد ستّر سے بھی زیادہ ہوگی کیونکہ وہ مجھ سے بڑے ہوا کرتے تھے میری اب65کو پہنچ رہی ہے۔میرے خیال میں ستّر سے زیادہ ہی ہونگے۔’’
    اس موقع پر بعض دوستوں نے بتایا کہ اُن کی عمر75سال کی ہے۔فرمایا:-
    ‘‘لیکن یہ کہ اب بھی اُن کا حافظہ خداتعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا چلتا ہے۔ میرے خیال میں کوئی نوّے فیصدی آدمی کو وہ جانتے ہیں حالانکہ سارے صوبہ کی جماعت ہوتی ہے کہتے چلے جاتے ہیں اور پتہ لگتا چلا جاتا ہے۔بعض میرے واقف ہوتے ہیں لیکن بعض دفعہ شکل مَیں نہیں پہچانتا۔اندھیرا ہوتا ہے۔ سایہ پڑتا ہے تو نام لیتے ہی میں پہچان جاتا ہوں۔ اُس سے بات پوچھتا ہوں، کوئی حال پوچھتا ہوں اور واقفیت ہوتی جاتی ہے لیکن باقی ضلع جو ہیں میں نے دیکھا ہے اُن میں یہی چال چلتی ہے وہ آگے بیٹھ گئے اور اس کے بعد ملاقات کرنے والے چلنے شروع ہوئے۔بیچارے کو کچھ دھّکے پچھلے دے رہے ہیں کچھ اگلے دے رہے ہیں وہ اپنا بیٹھا ہے کہ میں تو بیٹھا دیکھ رہاہوں اور باتیں کررہا ہوں یہ جہنم میں جاتے ہیں توجائیں۔تو یہ بڑا غلط طریقہ ہے اس کے ساتھ ملاقات کا فائدہ کوئی نہیں ہوتا۔ اور یہ جو غرض ہے کہ وہ شخص واقف ہوجائے پوری نہیں ہوسکتی۔ مثلاًبعد میں اگر میرا واقف ہوتا ہے اور دعا کے لئے تحریک ہوتی ہے تو ناواقف کی نسبت واقف کے لئے دعا کی تحریک زیادہ ہوتی ہے۔ وہ جب کہہ جاتا ہے مجھے یاد آجاتا ہے مثلاًا ُس کی شکل یا مثلاً اُس نے کہا میرے اولاد نہیں ہوتی۔ میں نے اُس سے حال بھی پوچھا کہ تمہاری شادی کب کی ہوئی ہوئی ہے؟ تو اُس نے کہا جی بیس سال ہوگئے ہیں دوسری بھی شادی کی مگر اولاد نہیں ہوئی۔ اب یہ نقشہ میرے ذہن میں ہوتا ہے جب اُس کا نام میرے سامنے آتا ہے میں سمجھتا ہوں اِس شخص کے بیس سال ہوگئے ہیں دو شادیاں بھی کیں پھر بھی اولاد نہیں ہوئی پس جو اس کے لئے درد پیدا ہوتا ہے دوسرے کے لئے نہیں۔خالی یہ کہ وہ شخص آ گیا جس کے مَیں حالات نہیں جانتا اس سے کیا فائدہ۔ میں بعض دفعہ سمجھتا ہوں خیر ہے دو سال ہوئے ہوں شادی پر اور گھبرایا پھر رہا ہے تو کوئی تحریک بھی اس کے لئے دعا کی نہیں ہوتی یا سرسری دعا کی جاتی ہے۔ تو واقفیتِ حالات کے ساتھ دعا کی تحریک جو ہے وہ بہت زیادہ پیدا ہوتی ہے۔تو اُس زمانہ میں یہ بڑا فائدہ اٹھایا جاتا تھا لیکن اب وہ بات بھول گئی ہے اور ایسا نہیں ہوتا۔پس میں دوستوں کو اصرار کرتا ہوں کہ جب وہ آئیں تو اپنے لیڈر کو پہلے پکڑ لیویں کہ یا تو ہمارا نام بتاؤ نہیں تو ہم وہیں کہہ دیں گے کہ یہ ہمیں نہیں پہچانتا اس کو اٹھا دو تو ہم اس کو اٹھا دیں گے مگر ہمارے لئے ذرا مشکل ہے کہ تم ا س کو لیڈر بنا کے لاؤ تم چپ کررہو اور ہم کہیں کہ اٹھ جاؤ تو یہ ٹھیک نہیں لگتا تم اپنے لیڈر کو پہلے کہہ کر لایا کرو کہ یا تو ہمیں پہچان اور ہمارا انٹرڈیوس کروائے اگر نہیں پہچانتا اور نہیں انٹرڈیوس کرانا تو ہم نے وہاں کہہ دینا ہے کہ یہ آدمی ہمارا لیڈر نہیں پھر دیکھو کہ کس طرح سیدھے ہوجاتے ہیں۔
    دوسرے یہ ہے کہ آتے وقت نوجوانوں کو بھی واقف کردینا چاہئے۔ نئے نئے آدمی آتے ہیں کئی نئے احمدی آتے ہیں۔بعض تو اُن میں سے بھی ایسے ذہین ہوتے ہیں کہ بغیر اس کے کہ پتہ ہو وہ خود اپنے آپ ہی ساری کیفیت بتادیتے ہیں کہ فلانی جگہ سے ہیں، نئے احمدی ہیں، ہماری یہ مشکلات ہیں،ہمارے بھائی بند مخالف ہیں۔بعض عورتیں آج مجھے ملی ہیں بیعت کے وقت۔انہوں نے مثلاً اپنا بتایا۔ایک عورت نے مجھے کہا کہ میں وعدہ کرگئی تھی آپ سے کہ میں ایک آدمی کو بیعت کرواؤنگی۔میں نے اپنی ماں کو بیعت کرایا ہے اور اپنے باقی سارے ٹبّر کوکرایا ہے صرف میرا بھائی رہ گیا ہے میں وعدہ کرتی ہوں کہ اُس کو بھی بیعت کراؤنگی تو اُن میں بڑی بڑی ہوشیار اور ذہین ہوتی ہیں۔کوئی وجہ نہیں ہے کہ مردوں میں وہ ذہانت نہ ہو لیکن صرف یہ ہے کہ قابل لیڈر نہیں بنائے جاتے۔ اِسی طرح جو کام کرنے والے ہیں اُن کو میں نے بہت سمجھایا ہے لیکن وہ سنتے نہیں جب وہ ملواتے ہیں۔ عید کی ہمارے یہاں ملاقاتیں ہوتی تھیں تو اس میں بھی یہی غلطی کرتے تھے مگر وہ چونکہ باربار میر سامنے آتے ہیں۔یہاں ربوہ کے رہنے والے ہوتے ہیں میں نے اُن کو سکھالیا مگر یہ جو ملاقات والے ہیں یہ نہیں سیکھتے۔ہر سال میں کہتا ہوں ملاقات کروانے والا میرے منہ کے آگے کھڑا ہوتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس شخص کو جو اُس وقت میرے سامنے آتا ہے جس وقت اُس کی پیٹھ لیمپ کی طرف ہوچکتی ہے جب وہ اندھیرے میں آجاتا ہے میں اُس کی شکل اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔اگر وہ ایک طرف کھڑا ہو کے ڈیڑھ گز پر ہٹ کے وہاں سے آوے تو اس گز کے اندر میں اس کی شکل بھی پہچان لوں گا اور اگر میں اس کو جانتا ہوں تب بھی پہچان لوں گا۔تو باربار سمجھانے کے باوجود بس ایک فٹ پر آکے کھڑا ہوجائے گا آدمی اور آپ میرے منہ کے آگے کھڑا ہوجائے گا او راُس کو یوں پکڑ کے سامنے کرے گا۔جس وقت آگے کرے گااندھیرا آجائے گا۔ اندھیرا آجائے گا تو مجھے نظر نہیں آئے گا۔ اور دوسرا آدمی پھر اُس کو دھکّا دے کر باہر نکال دےگا۔تو یہ بھی اُس فائدے اور غرض کو دور کردیتا ہے۔ یہ تو ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی برکات ہیں۔
    مَیں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ تم دعا کے لئے اگر خط لکھو نہ بھی پہنچے مجھے تب بھی تمہارے لئے دعا ہوجائے گی کیونکہ دعا تو اللہ تعالیٰ سے میں نے کرنی ہے اللہ کو پتہ ہے کہ فلاں نے خط لکھا ہے۔بیشک لوگ اسے غائب کردیں۔چُرانے والے چُرالیں تمہارے لئے دعا ہوجائے گی۔ اور پھر ہم یوں مجمل دعا ہی کرتے رہتے ہیں کہ الٰہی جو ہمیں دعا کے لکھ رہا ہے یا لکھتا ہے یا جس نے لکھا ہے اُس کے اوپر تُو فضل کر۔ تو وہ پھر اس کے اند رآہی جائے گا۔ تو اِس طرح جو شخص ملتا ہے چاہے اُس کی شکل بھی ہم نہ پہچانیں۔کچھ ہو دعا کاحصہ تو اسے مل جائے گا لیکن یہ کہ پورا حصہ لینا چاہئے اُس کو۔وہ پورا نہیں دیا جاتا اُس کو۔اِس لئے ملنے والوں کو ہمیشہ ذرا فاصلے پرکھڑا ہونا چاہئے۔ حفاظت کے لئے ایسی احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسا کون آدمی ہے جس نے ہوا میں اڑ کے نقصان پہنچانا ہے ایک گز کا تو فاصلہ ہوتا ہے ایک گز میں انسان تیز قدم میں ایک گز سے آگے نکل جاتا ہے تو ملاقات کرانے والوں کو ذرا فاصلہ پر کھڑا ہونا چاہئے۔ ساتھ منہ کے نہیں کھڑا ہونا چاہئے اور ذرا پہلو سے ہٹ کے کھڑا ہونا چاہئے کوئی زیادہ دُور نہیں اگر ایک قدم بھی وہ ایک طرف ہٹ جائیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تین گز سے وہ آدمی آتا ہو ا مجھے نظر آجائے گا اِس لئے اُس کے منہ پر روشنی پڑرہی ہوگی۔ اُ س کی شکل میں پہچان لوں گا۔ اگر وہ پرانا واقف ہے تو میں اُس کو جان لوں گا لیکن یوں آتے ہی جس وقت میں اُس کو بعض دفعہ پہچاننے لگتا ہوں تو اتنے میں وہ اُس کو گھسیٹتے ہوئے پرلے سرے پر پہنچادیتا ہے تو میرے ذہن میں جو بات ہوتی ہے وہ بیچ میں ہی رہ جاتی ہے اتنے میں دوسرا آدمی آچکا ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ تو ملاقات کرانے والےمیں نے دیکھا ہے کہ نام جانتے بھی ہیں۔مجھے بعض دفعہ ہنسی آجاتی ہے۔ آج بھی ایسا ہی ملاقات میں ہوا کہ ایک شخص کہنے لگا یہ فلاں صاحب ہیں اور وہ میں جانتا تھا وہ وہاں پہنچے ہوئے تھے۔جس وقت انہوں نے بولنے کا ارادہ کیا اتنے میں ہمارے آدمیوں نے گھسیٹا او رتین گز پرے پھینک دیا۔ اس کے بعد اب دوسرا شخص کھڑا ہوا تھا اوراُس کو وہ کہہ رہے تھے یہ فلاں صاحب ہیں۔میں چونکہ جانتا تھا اُس کو میں مسکرا پڑا کہ فلاں صاحب تو وہ کھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن بات یہی تھی کہ یہ لفظ زبان پر آتے آتے بیچارے کو کھینچ کر لے گئے اور وہ اس زور میں بول گئے یہ ساری باتیں دُور ہوجاتی ہیں اگر احتیاط کے ساتھ کام لیا جائے او راِس میں فوائد زیادہ ہوتے ہیں۔جماعت سے جتنی واقفیت ہوجائے اتنا ہی انسان کام زیادہ اچھا کرسکتا ہے۔ باتوں باتوں میں ہم اُس کا کیریکٹر معلوم کرلیتے ہیں۔ہم یہ جان لیتے ہیں کہ وہ کتنی قربانی کرسکتا ہے، کس قسم کی خدمت کرسکتا ہے۔ یہ چیزیں اگر ہم ناواقف ہوں تو ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
    مسلمان ایک نہایت نازک دور میں سے گزر رہے ہیں
    چوتھی بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اِس وقت مسلمانوں کی حالت نہایت نازک ہے مسلمانوں پر یہ ایساسخت دور گزر رہا ہے کہ درحقیقت
    اِس شکل میں تین سو سال سے ایسا نازک دور نہیں آیا یعنی پہلے نزاکت یہ تھی کہ چوٹی سے وہ نیچے گر رہے تھے اور ہر دن وہ نیچے کی طرف گرتے چلے جاتے تھے۔ اُن کی حالت اِس قسم کی تھی کہ وہ اپنے گرنے میں کچھ تکلیف نہیں محسوس کرتے تھے بلکہ وہ ایک دوسرے کے گرانے میں لذت محسوس کرتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ گویا اگر ہم نے اس کو مار دیا اور ہم مرگئے تو چلو پرائے شگون میں ناک کٹوالی کوئی حرج نہیں ہے اُس کو تو نقصان پہنچادیا ہے۔ اس لئے وہ دَور تکلیف کا تو تھا مگر احساس کم تھا اِس کے بعد اللہ تعالیٰ وہ دن لایا کہ جبکہ مسلمانوں کے اندر بیداری پیدا ہونی شروع ہوئی،احساس پیدا ہونا شروع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے جو اسلام کی دشمن طاقتیں تھیں اُن کے اندر تفرقہ پیدا کردیا۔اُن کے اندر حسد پیدا کردیا۔اُن کے اندر اختلاف پیدا کردیا جس کے نتیجہ میں مسلمان قوموں نے آزاد ہوناشروع کیا۔پہلے ماتحت تھیں غلام تھیں ان کو کچھ نہ کچھ آزادی ملنی شروع ہوئی مثلاً ایران قریباً قریباً روس اور انگریزوں کے قبضہ میں تھا اُس نے کچھ آزادی حاصل کی۔ مصر پہلے فرانس کے قبضہ میں تھا پھر انگریزوں کے قبضہ میں رہا اُس نے آزادی حاصل کی۔ہندوستان انگریزوں کے قبضہ میں تھا سارا تو نہیں ملا مسلمانوں کو پرخیر کچھ مغرب سے کچھ مشر ق سے تھوڑا بہت مل کے فیملی سی مل گئی اُن کو۔اِسی طرح انڈونیشیا آزاد ہوگیا۔لیبیا آزاد ہوگیا۔شام،فلسطین،عراق آزاد ہوگئے۔ عراق جو تھا پہلے ٹرکی کے ماتحت تھا اُس کو تو کوئی خاص آزادی نہیں ملی لیکن شام اور فلسطین فرانسیسیوں کے ماتحت تھے ان کو آہستہ آہستہ آزادی ملی۔تو اِس آزادی کے ملنے کی وجہ سے طبیعت میں ایک احساس پیدا ہوگیا جیسے بچہ ہوتا ہے پیٹ میں نو مہینے بغیر سانس کے گذار دیتا ہے پر پیدا ہوتے ہی وہ سانس لیتا ہے۔سانس کے بعد پھر نہیں چھوڑ سکتا اُس کو۔ وہاں تو 9مہینے بغیر سانس سے گذار لیتا ہے اوریہاں9منٹ بغیر سانس کے نہیں گذار سکتا۔کیونکہ اب پھیپھڑے جو ہیں اُن میں ہلنے کی عادت پیدا ہوگئی ہے وہ نہیں ہلیں گے تو ساتھ ہی قلب بند ہوجائے گا۔تو یہی حالت اُس قوم کی ہوتی ہے جو کہ عادی طو رپر سُست ہوتی ہے۔گری ہوئی ہوتی ہے جب اُسے ذرا ہوا آزادی کی ملے،جب ذرا طاقت کی روح پیدا ہو اُس وقت پھر اُس کو خطرہ پیدا ہوتو وہ زیادہ خطرناک اور زیادہ مایوسی پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔
    اِس وقت مختلف مسلمان ممالک جو ہیں وہ مختلف مصائب میں سے گذر رہے ہیں مثلاً مصر ہے اُس میں سویز کا جھگڑا پیدا ہے اور بعض جھگڑے ایسی الجھنوں کے ساتھ ہیں کہ سمجھ بھی نہیں آتی کہ اُس کا بنے گا کیا۔مثلاً طبعی طور پر میں کمیونزم کا مخالف ہوں بہت سے مسلمان نہیں بھی مخالف۔بہت سے مسلمان کمیونسٹ بھی ہیں لیکن میں کمیونزم کا مخالف ہوں۔جب میں کسی جگہ پر ایسی حالت دیکھوں کہ کسی جگہ پر مسلمانوں کو اِدھر آزادی ملتی ہے اُدھر کمیونسٹ کو بھی طاقت ملتی ہے تو میرادل گھبرا جاتا ہے میں کہتا ہوں یہ بھی بلاء وہ بھی بلاء۔یہی مثال ہوجاتی ہے کہ کہتے ہیں نہ بولوں تو باپ کتّا کھائے بولوں تو ماں ماری جائے۔اگر ہم مسلمان کی آزادی چاہتے ہیں تو کمیونسٹ کو طاقت ملتی ہے اگر ہم کمیونسٹ کو نقصان پہنچاتے ہیں تو مسلمان کی آزادی چلی جاتی ہے یہ دو بلائیں ایسی ہیں کہ ہم ان کو لے نہیں سکتے۔کیا کریں۔ توپھر طبیعت میں بڑی گھبراہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔یہی حال مصر کے متعلق پیداہے۔ مصر میں انگریزوں نے فوج مصر کی خاطر نہیں رکھی بلکہ انہوں نے اِس لئے رکھی ہوئی ہے کہ اُن کی معلومات یہ بتاتی ہیں اور مذہب کی جو خبریں اور پیشگوئیاں ہیں وہ بھی بتاتی ہے کہ روس نے مڈل ایسٹ پر حملہ کرنا ہے۔تو رات میں یہ خبریں ہیں،حدیثوں میں یہ خبریں موجود ہیں۔قرآن کریم میں یہ خبریں موجود ہیں، اِن سے صاف پتہ لگتا ہے کہ مڈل ایسٹ پر کمیونزم نے حملہ کرنا ہے اور مڈل ایسٹ بچانے کے لئے وہ چاہتے ہیں کہ کہیں قریب میں ہماری فوجیں ہوں اِس کے لئے انہوں نے اردن سے فیصلہ کیا اور مصر کے ساتھ انہوں نے سمجھوتہ کرلیا کہ اچھا ہم قاہرہ سے فوجیں نکال لیتے ہیں سویز پر رکھتے ہیں تا کہ ہم سویز کو بچا سکیں۔سویز کے بچانے کا بہانہ درحقیقت معمولی ہے اصل چیز یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہماری فوجیں اتنی قریب ہوں کہ اگر روس کی فوجیں داخل ہوں تو جھٹ پٹ اُنہیں آگے سے روک سکیں اور یہی دلچسپی امریکہ کو بھی ہے اس کے ساتھ۔لیکن اِدھر اس کا بھی کوئی انکار نہیں ہوسکتا کہ کسی ملک میں اُس کی مرضی کے بغیر کوئی فوج رکھی ہوئی ہو تو اُس کو ہم آزاد کہہ ہی نہیں سکتے۔لازماً مصر والوں کا بھی دل چاہتا ہے اور ہمارا بھی دل چاہتا ہے کہ مصر آزاد ہو۔ کیا وجہ ہے کہ ایک مسلمان حکومت آزاد نہ ہو۔ لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ اگر انگریزی فوج سویز میں بیٹھی ہوئی ہے تو ہم مصر کو آزاد نہیں کہہ سکتے کیونکہ چاہے وہ روس کے لئے بیٹھی ہوئی ہو پر مصر کو بھی ہر وقت دھمکی کا خیال رہے گا کہ ہمارے ہاں ذرا سی بات ہوگی تو فوج کی دھمکی دیں گے اور اپنی فوجیں اندر داخل کرلیں گے۔ چنانچہ پیچھے بعض جھگڑوں پر ایسا ہی ہوا ہے کہ انگریزی فوجیں آگے بڑھیں اورانہوں نے کئی مصری گاؤں تباہ کردئیے تو ملک کی آزادی قائم نہیں رہ سکتی جب تک غیر فوج جو ہے وہ وہاں سے نکل نہ جائے۔تو یہ ایک ایسی الجھن ہے جو ہمارے لئے مشکلات پیدا کررہی ہے یعنی یوں تو ہم نہیں کچھ کرسکتے لیکن انسان کوئی نہ کوئی ارادہ تو پیدا کرتا ہے اپنے دل میں۔وہ ارادہ بھی ہمارے لئے مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اِدھر بھی مشکل اُدھر بھی مشکل۔
    مسئلہ فلسطین
    اِسی طرح فلسطین کا جھگڑا ہے۔فلسطین کا جھگڑا سویز کے جھگڑے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ ملک ایسی جگہ پر ہے
    جہاں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مدفن مبارک قریب ہے مدینہ منورہ فلسطین کی زد میں ہے۔اگر کسی وقت فلسطین کی کمبخت حکومت کی بدنیتی ہوجائے تو اُس کی ہوائی طاقت اور اس کی دوسری طاقت اتنی بڑی ہے کہ باوجود اِس کے کہ ابن سعود کی طاقت اچھی خاصی ہے پھر بھی خوف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی فوجوں کو آگے لیتا چلا جائے تو اُن کو روکنا مشکل ہوجائے گا۔ اور فلسطین کا معاملہ کچھ ایسا پیچیدہ ہوگیا ہے یعنی اُن کے پاس روپیہ بہت تھا انہوں نے اِس طرح کرکے قابو کیا ہوا ہے امریکن حکومت اور دوسری حکومتوں کو کہ وہ حکومتیں بالکل غلاموں کی طرح ان کی تائید کررہی ہیں۔جو معاہدہ انہوں نے کرکے جس وقت فلسطین قائم کیا ہے تو جو علاقے انہوں نے عربوں کو دئیے تھے آج وہ عربوں کے قبضہ میں نہیں ہیں وہ فلسطین کے یہودیوں نے چھین لئے ہیں اور جو علاقے ان کودئیے تھے اُن میں سے قریباً سارے پر وہ قابض ہیں ۔جوعربوں کو دئیے گئے تھے اُن پر بھی قابض ہیں۔ عرب تو یہ چاہتے ہیں کہ اچھا اور نہ سہی۔ہم تو مانتے نہیں ان کی حکومت۔لیکن کم سےکم جوتم نے لیکر دئیے تھے وہ تو ہم کو دو لیکن اب امریکہ اور انگلستان کہتے ہیں کہ خیرا ب جو ہوگیا سو ہوگیا اب چلو بس کرو۔تو یہ ایک ناقابل برداشت صورت ہے کہ اول تو خود اپنا معاہدہ بھی نہیں پورا کراسکتے۔پھر غیر قوم کے ملک میں، غیرقوم کی حکومت میں لاکے ایک دوسرے لوگوں کو داخل کردیا جو شدید ترین دشمن ہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ سب سے بڑا دشمن یہودی ہے مسلمانوں کا۔ اور یہودیوں کو ایسے مقام پر لے آنایہ ایک بڑے بھاری ابتلاء کی بات ہے اور بڑی بھاری مصیبت یہ ہے کہ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں میں یکجہتی نہیں پیدا ہورہی۔ مصر میں ابن سعود ہے، شام ہے،لبنان ہے،اُردن ہے،عراق ہے یہ چھ مسلمان حکومتیں ہیں لیکن کسی موقع پر بھی یہ اکٹھی ہوکر نہیں لڑسکیں یہودیوں سے۔
    ایک وفد مصر سے آیا اُس میں ایک تو ہائیکورٹ کا جج تھا اور ایک جو انجمن اخوان ہے اُس کا نائب صدر تھا یہ لاہور میں مجھے ملنے آئے تو باتیں ہوئیں۔میں نے کہا قصور تو آپ لوگوں کا ہے۔ہمارا بھی قصور ہے کہ ہم آپ کی مدد پوری نہیں کرسکے اور نہیں کرتے لیکن آپ کا بہت ساقصور ہے۔ کہنے لگے کیا؟ میں نے کہاآپ لوگ اُن کا مقابلہ کے لئے کیا کررہے ہیں؟ کہنے لگے ہم سارے ملکوں نے تیاری کی ہوئی ہے۔ہر ملک نے اعلان کیا ہے جنگ کا۔میں نے کہا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے ایک جنگ بتادیجئے کہ مصر پر یہودیوں نے حملہ کیا اور اُس وقت ابن سعود اور عراق کی حکومتوں نے ساتھ ہی حملہ کردیا ہویہودیوں پر۔ یا شرق اردن کی فوجوں پر یہودیوں نے حملہ کیا ہو اور اُسی وقت سلطان ابن سعود نے اور شام نے اور مصریوں نے حملہ کردیا ہو۔میں نے کہا فوجی TACTICS تو یہ ہوا کرتی ہے کہ جو لشکر ایک سا تعلق رکھتے ہیں جب ایک مورچہ پر حملہ کریں تو وہ دوسرے پہلوؤں سے حملہ کرکے اُس کی طاقت کمزور کردیتے ہیں۔توایک مثال دے دو۔ اس پر وہ خاموش ہوگئے۔ کہنے لگے یہ سچی بات ہے ہم بھی محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے آپس کی رقابت کی وجہ سے تعاون نہیں کیا۔جب مصر پر حملہ ہوا تو مُنہ سے تو کہتا رہا عراق اور ابن سعود اور شامی کہ ہم آتے ہیں لیکن آئے نہیں۔جب شام پر حملہ ہوا تو عراق اور مصر وغیرہ مُنہ سے تو کہتے رہے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن اُس وقت حملہ نہیں کیا۔ابھی مثلاً پیچھے مصر پر حملہ ہوا ہے تو ریزولیوشن پاس ہورہے ہیں حملہ نہیں ہوا۔اردن پر حملہ ہوا۔ریزولیوشن پاس ہورہے ہیں باقی ملکوں نے حملے نہیں کئے۔ شام پر پیچھے خطرناک حملہ ہوا(پیچھے دوسال پہلے)لیکن شرقِ اردن اور عراق اور مصراور ابن سعود یہ بیٹھے رہے۔ہم سمجھتے ہیں ان کو مجبوریاں ہوں گی لیکن یہ کہ ان مجبوریوں کی وجہ سے نتیجہ تو خراب ہی نکلے گا۔تو فلسطین کا معاملہ ایک قیامت تھی تکلیف دہ معاملہ ہے اِسی طرح مثلاً لیبیا ہے انگریزوں نے لیبیا کے ساتھ سمجھوتہ کیاہے کہ ہم اپنی فوجیں رکھیں گے اب مصر یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف سویز کی طاقت کو بڑھانے کے لئے انگریزیہاں فوجیں رکھ رہا ہے کیونکہ مصر کے پہلو میں ہے لیبیا۔اُ ن کی منشاء یہ ہے کہ اگر ہم سویز پر حملہ کریں تو یہ پیٹھ پر سے ہم پر حملہ کردیں تو وہ لیبیا سے معاہدہ کے خلاف ہیں۔ لیکن اِدھر لیبیا کے لئے مصیبت یہ ہے کہ اُن کے پاس پیسہ نہیں وہ جنگل ہے جب تک دس پندرہ لاکھ روپیہ سالانہ انگلستان نہ دیوے وہ نہ تو وزیروں کو تنخواہ دے سکتے ہیں نہ تحصیلداروں کو دے سکتے ہیں نہ ڈپٹی کمشنروں کو دے سکتے ہیں اُن کے پاس پیسہ ہی نہیں ہے۔فوج بھی نہیں رکھ سکتے۔ وہ مصر کے اعتراض کو سنتے ہیں اور اُس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم کیا کریں ہمارے پاس پیسہ ہی نہیں بغیر اس روپیہ کے ہماراگذارہ ہی نہیں ہے۔ اب یہ بھی ایک مصیبت ہوئی کہ لیبیاکو اگر تباہ ہونے دیں تو تب مصیبت۔مصر کو تباہ ہونے دیں تو تب مصیبت۔یہ کوئی ایسے متضاد سوالات پیدا ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے دونوں طرف سے آدمی اِدھر جائے تو وہ ننگا ہوجاتا ہے اُدھر جاتے تو وہ ننگا ہوجاتا ہے۔
    عراق کی بھی یہی حالت ہے۔عراق کی بھی مالی حالت انگریزوں کے ساتھ استوار ہے۔دوسرے عراق جو ہے روسی سرحد پر ہے۔عراق جانتا ہے کہ اگر روس نے کسی وقت بھی مجھ پر حملہ کیا اور ضرور کرے گا تو میرے پاس تو طاقت روس کے مقابلہ کی نہیں ہے۔ اگر انگریزی فوجیں ہوں گی،انگریزی ہوائی جہاز ہوں گے،انگریزی اڈّے ہوں گے تو یہ فوراً لڑنے لگ جائیں گے اس کے بغیر میرا چارہ نہیں۔کچھ عراق میں ایسی طاقتیں پیدا ہورہی ہیں اور ایسی پارٹیاں پیدا ہورہی ہیں جو کہتی ہیں کہ انگریز چلے جائیں لیکن حکومتِ وقت اور اکثریت نہیں چاہتی کہ انگریز جائیں۔ یوں ہیں وہ مصر کے خیرخواہ لیکن اپنے حالات کی وجہ سے وہ انگریزوں سے بگاڑ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔
    ایران کے تیل کا سوال بڑا اہم ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔عراق بھی سمجھتا ہے کہ انگریز کی مدد سے ہی اُس کا تیل چل رہا ہے اور ابن سعود کی تو ساری آمد ہی اس پر ہے۔اُس کی تین چوتھائی آمد تیل کی وجہ سے ہے اگر انگریزوں سے وہ اپنے تعلقات منقطع کرلیں تو اُن کی ساری آمد جاتی رہے۔یہ خطرات ہیں جو مسلمانوں کو درپیش ہیں مگر اِن خطرات کا کوئی علاج نظر نہیں آتا۔
    اِسی طرح انڈونیشیا ہے یہ ملک خداتعالیٰ کے فضل سے مشرق میں مسلمانوں کی چھاؤنی ہے اِس کی آبادی بھی آٹھ کروڑ ہے۔ملک بھی بڑا وسیع ہے اور آدمی بھی اُن کے اِس قدر شریف ہیں کہ جس کی حد کوئی نہیں۔مجھے بعض دفعہ یہ خیال آیا کرتا ہے کہ پاکستان میں جب کبھی سُستی پیدا ہوتی ہے احمدیوں میں تو میں سمجھتا ہوں خبر نہیں انڈونیشیا والوں نے آگے نکل جانا ہے۔ وہاں کے لوگوں میں شرافت اور قربانی اور ایثاراور وسعتِ حوصلہ دوسرے ملکوں سے کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔اب بھی پیچھے چودھری صاحب کے خلاف جب بعض لوگوں نے باتیں کیں تو انڈونیشیا کی حکومت نے یہ پروٹیسٹ کیا پاکستان کے پاس کہ ہم اس کو نہایت ناپسند کرتے ہیں۔تو اِن لوگوں کے اندر مذہبی تعصّب بہت کم ہے۔ملّانے ہیں اور میں نے شاہ محمد صاحب سے پوچھا ہے وہ کہتے ہیں چند مُلّانے ایسے ہی کٹر ہیں جیسے یہاں کے ہوتے ہیں لیکن عام نہیں۔عام لوگوں میں وسعتِ حوصلہ زیادہ ہے ہمارے دوسرے ملکوں کی نسبت۔لیکن آپس میں لڑرہے ہیں۔ یہ عجب بات ہے کہ ہماری برداشت کرلیتے ہیں گو ہم غیرملکی ہیں لیکن آپس میں لڑائی ہورہی ہے سب کی۔اِ س کی وجہ سے انڈونیشیا کو طاقت نہیں مل رہی اورخونریزی ہوتی رہتی ہے۔آئے دن خبریں آتی ہیں۔ ہمارے آدمی بھی بعض مارے جاتے ہیں۔ہمارے دوست پڑھ کے سمجھتے ہیں کہ شاید احمدیوں کو مارا ہے۔وہ احمدیوں کو نہیں مارا ہوتا آپس میں جو قبائل آکر حملہ کرتے ہیں ایک دوسرے پر تو بیچ میں جو احمدی ہوتے ہیں وہ بھی مارے جاتے ہیں۔پچھلے چھ مہینے سال کے اندر شاید تین واقعات ہوئے ہیں اور شاید پندرہ بیس احمدی مارے گئے ہیں اور شاید پچاس ساٹھ یا سو گھر لُوٹا گیا ہے۔پس جب انہوں نے آکر دو تین گاؤں لُوٹے۔بیچ میں جو احمدی تھے وہ بھی پکڑے گئے، مارے گئے لیکن احمدیت کی دشمنی اصل غرض نہیں۔اصل دشمنی اُن کی یہی ہوتی ہے پارٹی بازی۔ایک پارٹی جو ہے وہ دوسری پارٹی کے خلاف ہے۔ تو یہ ایک بڑا بھاری مورچہ ہے جو محض اِس اختلاف کی وجہ سے کمزور ہورہا ہے۔
    پاکستان کی نازک اقتصادی حالت
    پھر ہم قریب پہنچتے ہیں پاکستان میں تو یہاں بھی حالات ہم کونہایت نازک
    نظر آتے ہیں۔پاکستان کی اقتصادی حالت اول تو نہایت خراب ہے وہ اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ بہت بڑی قربانی کی ضرورت ہے لیکن بڑی مصیبت ہمارے لئے یہ ہے کہ جہاں باقی دنیا میں جب کوئی ایسی مصیبت آتی ہے تو سارا ملک کہتا ہے کہ اس قربانی میں ہم حصہ لیں گے وہاں ہمارے ملک کا باوا آدم کچھ ایسا نرالا ہے کہ یہ بڑے آرام سے گھر میں بیٹھ کے کہیں گے کہ وہی کچھ کھائیں گے،وہی کچھ پہنیں گے۔وہی کچھ لُٹائیں گے اور حکومت کریں گے ہم۔حالانکہ حکومت کے پاس کوئی جادو کی چھڑی تو ہے نہیں بہرحال انتظام اِسی طرح کرے گی کہ کچھ ہمارا کھانا کم کرے گی،کچھ ہمارا لباس کم کرے گی،کچھ ہمارے اَور کام کم کرے گی،کچھ ہم پر ٹیکس زیادہ کرے گی لیکن ہمارے ملک میں اِس کو بڑا بُرا سمجھا جاتا ہے۔حکومت کے خلاف اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ یہ کیوں کرتی ہے؟ اور اِدھر ساتھ ہی اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ انتظام کیوں نہیں کرتی؟ تو اس کی وجہ سے اِس مشکل کو دبانا مشکل ہوجاتا ہے اور وزارتیں ڈرتی ہیں کام کرنے سے کہ اگر ہم نے کوئی قدم اٹھایا ملک میں ہمارے خلاف رائے پیدا کی جائے گی او رفوراً جو مخالف پارٹی ہوتی ہے وہ شور مچا دیتی ہے کہ ہم ایسا کریں گے۔ہم یہ سب کچھ دیں گے یہ غلط کررہے ہیں حالانکہ کرتے سارے وہی ہیں۔انگریزوں کے زمانہ میں کانگرس والے کہتے تھے یہ انگریز کی ساری شرارت اِس لئے چل رہی ہے کہ جوڈیشل اور ایگزیکٹو اختیارات الگ الگ نہیں کئے ہوئے اور یہی مسلم لیگ کہتی تھی۔ لیکن آٹھ سال ہوگئے ہندوستان کو آزاد ہوئے۔ آٹھ سال ہوگئے پاکستان کو آزاد ہوئے آج بھی ایگزیکٹو او رجوڈیشل وہی چلی آرہی ہے۔جب اپنے پاس حکومت آئی تو کہتے ہیں نہیں انتظام خراب ہوتا ہے جب انگریز کا زمانہ تھا تو کہتے تھے یہ سارا ظلم اسِ وجہ سے ہور ہا ہے کہ جوڈیشل او رایگزیکٹو اکٹھے ہیں ان کو الگ کریں۔ تو پارٹیاں دوسرے کو ذلیل کرنے کے لئے کہہ دیتی ہیں کہ ہم آئیں گے تو ٹیکس معاف کردیں گے۔اگر تم ٹیکس معاف کردو گے تو ملک کی فوجوں کو تنخواہ کہاں سے دو گے؟تم افسروں کو تنخواہیں کہاں سے دو گے؟جھوٹ ہوتا ہے سارامگر ہمارے عوام الناس تعلیم یافتہ نہیں وہ اس کو سن کر کہ ٹیکس معاف کردیں گے کہتے ہیں آؤچلو ہم ووٹ انہیں کو دیں گے انہوں نے ٹیکس معاف کردینا ہے،ہم ووٹ انہیں کو دیں گے انہوں نے تو فلانی سہولت ہم کو دینی ہے حالانکہ سب بات غلط ہوتی ہے۔ وہ آئیں گے تو وہ بھی اسی طرح کریں گے۔پہلے آئیں گے تو وہ بھی اسی طرح کریں گے ملک اس کے بغیر چل ہی نہیں سکتا تو اقتصادی حالت کا جب تک علاج نہ ہو اُس وقت تک کچھ نہیں بن سکتا۔
    اِس طرح اقتصادی مشکلات کے دور ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ ملک کی مصنوعات کو زیادہ استعمال کیا جائے لیکن جو ہندوستان سے ہمارے احمدی آتے ہیں میں ان سے ہمیشہ یہ بحث کرتا ہوں۔وہ کہتے ہیں دلّی میں،آگرہ میں،الٰہ آباد میں، کلکتہ میں،بمبئی میں ہر جگہ پر ہم گئے ہیں اور جب وہ چیز جو ہم کو عادت تھی انگلستان اورامریکہ کی خریدنے کی۔ہم بازار میں گئے ہیں تو انہوں نے کہا ہے وہ نہیں مل سکتی۔ہندوستان کی ہے۔اور انہوں نے کہا یہاں آکے پوچھ تو پاکستان کی بھی نہیں ملتی۔ اور انگلستان کی بھی نہیں ملتی او رمیں نے یہاں تاجروں سے پوچھا ہے وہ کہتے ہیں اگر اُس کو کہہ دیں کہ پاکستان کی بنی ہوئی ہے تو پھر وہ ناک چڑھا کر چلا جاتا ہے کہ یہ تو نہیں لینی اور پھر کہتے ہیں ملک ترقی کرجائے۔ جب تک ملی مصنوعات کو فروغ نہ دیا جائے گا۔جب تک ملکی مصنوعات کو نقصان اٹھا کر بھی استعمال نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک نہ ہمارے کارخانے مضبوط ہوں گے نہ ہماری تجارتیں مضبوط ہوں گی،نہ ہماری صنعتیں مضبوط ہوں گی اور نہ ہماری اقتصادی حالت درست ہوگی۔ سال میں دوارب چار ارب ہم نے غیرملکوں سے سَودا منگوایا تو ہم اُن کے مقروض رہیں گے اُن کے برابرکس طرح جائیں گے۔جو ہماری دولت ہے،ہماری کپاس ہے،ہماری جیوٹ ہے وہ تو ساری قرضوں کے ادا کرنے پر لگ جاتی ہے اُن عیاشیوں کے بدلہ میں جو باہر سے آتی ہیں لیکن جتنے آزاد ممالک ہیں اُن کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ یا تو اپنی مصنوعات استعمال کریں گے یا نیم مصنوعات استعمال کریں گے۔یہ ایک اقتصادی اصطلاح ہے یعنی بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ملک پوری نہیں بناسکتا تو اس کے لئے انہوں نے نیم مصنوعات کا طریقہ رکھا ہے کہ پھر ہم اُس کو ترجیح دیں گے جس کا کچھ نہ کچھ حصہ ہمارے پاس بناہوا ہوگا۔ مثلاً ایک ٹنکچر ہے ٹنکچر بنتا ہے کچھ دوائی کو ایک خاص مقدار میں سپرٹ میں ڈال کے کچھ دن رکھنے سے۔ ہلانے سے جب وہ اُس کے اندر اتنا رچ جاتا ہے جتنا کہ وہ سپرٹ برداشت کرسکتا ہے تو وہ ٹنکچر کہلاتا ہے۔ تو اب بنایا ہوا ٹنکچر وہاں سے آئے گا تو وہ بھی ایک مصنوعہ ہے اور یہاں ہم دوائی منگالیں اور سپرٹ اپنے ملک کا لے کر بنا لیں تو یہ اپنے ملک کی نیم مصنوعات ہوگی۔سپرٹ ہم نے اپنالے لیا، کیمیکل وہاں سے لے لیا او ران کو ہلایا۔جو مزدوری ہوئی وہ ہماری ہوئی۔اس کے نتیجے دو ہوں گے ایک تو یہ کہ دوائی کا نفع ہمارے ملک میں رہے گا۔دوسرے دوائی بنانے میں اُن کو اکٹھا کرنے میں جو مزدوری تھی وہ ہمارے ملک کی ہوگی اِس طرح آدھا نفع ہم لیں گےآدھا باہر کے لیں گے۔ تو جو نیم مصنوعات کہلاتی ہیں وہ بھی ہمارے ملک میں لوگ بنا لیں کہ یہ بھی ہمارے ملک کی نیم مصنوعات میں سے ہیں توچھوڑدیں گے فوراً اور پھر شکایت ہوگی کہ ہمارا ملک غریب ہوگیا،غریب ہوگیا۔ امیر کس طرح ہوجائے؟تم دولت دوسروں کو دینا چاہتے ہو،تم اپنے گھر کا مال باہر لُٹا دو تو تمہارا مال ختم کیوں نہ ہوگا۔
    تو پاکستان کی کمزوری میں سب سے بڑا دخل اِس کا ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ پاکستان کی مصنوعات کو استعمال نہیں کرتے۔اپنے بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہوتے۔اپنی ضرورتوں کو اس طرح پھیلانا چاہتے ہیں جس طرح فراوانیٔ دولت کے وقت میں پھیلائی جاتی ہیں اور پھر الزام حکومت پر لگانا چاہتے ہیں۔یہ ساری باتیں جمع نہیں ہوسکتیں۔ جب تک یہ جمع رہیں گی پاکستان کمزور رہے گا،جب تک یہ جمع رہیں گی پاکستان کی حکومت اَن سٹیبل(UN-STABLE) رہے گی اُس میں طاقت نہیں آئے گی اور جب یہ سب کچھ سہہ کے ان کو گالیاں دیں گے تو وہ اور زیادہ گھبرا جائیں گے۔جب ایک شخص دیکھتا ہے کہ کام انہوں نے جو کرناتھا کرتے نہیں ہمیں گالیاں دے رہے ہیں تو وہ اور زیادہ نروس ہوجاتا ہے اور گھبرا کے کام اور خراب کردیتاہے۔
    بُری باتوں کی اشاعت کو روکو
    ایک مصیبت پاکستان پر یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں تو وہ تعلیم موجودنہیں لیکن پھر
    بھی وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے اسلام میں وہ تعلیم موجود ہے لیکن مسلمانوں نے اس تعلیم کو بھلا دیا ہے۔اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر زید کو تم چوری کرتے ہوئے دیکھو تو کہو زید نے چوری کی یہ نہ کہو اس قبیلہ نے چوری کی ہے۔اُس قبیلہ نے نہیں کی زید نے کی ہے۔تمہارا حق ہے کہہ دو زید نے چوری کی ہے۔ اوّل تو وہ اِس کے لئے بھی شرطیں لگاتا ہے کہ تم کو کہنے کا فلاں فلاں صورتوں میں حق ہے ورنہ اِس کا بھی حق نہیں تم چوری کرتے ہوئے دیکھو پھر بھی نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارے ملک میں یہ دستور ہے کہ اگر کسی شخص سے دو افسروں نے رشوت لے لی تواَب وہ جہاں بیٹھے گا کہے گا۔ پاکستان کا افسر کیا ہرآدمی رشوت لیتا ہے جی۔وزیراعظم چھوڑ، گورنر جنرل چھوڑ، دوسرے وزیر چھوڑ، ڈپٹی کمشنر،کمشنر یہ سارے کے سارے ہی رشوت لیتے ہیں۔اب اس سے پوچھو کہ کتنی دفعہ تیرا معاملہ گورنر جنرل سے پڑا تھا؟کتنی دفعہ تیرا معاملہ وزیروں سے پڑا تھا؟کتنی دفعہ گورنرکی صحبت میں تُو گیا تھا؟کتنی دفعہ فنانشل کمشنر کے ساتھ تیرا واسطہ پڑا تھا؟کتنی دفعہ کمشنروں کے ساتھ تیرا واسطہ پڑا تھا؟کتنی دفعہ انسپکٹر جنرل کے ساتھ پڑا تھا؟ تُو نے تو شکل بھی نہیں دیکھی اُن کی نہ اُن سے ملنے والوں کا تُو واقف ہے تجھے کس طرح پتہ ہے کہ سارے رشوت لیتے ہیں۔بس ہر مجلس میں بیٹھے ہوئے یہ کہا اور باقی ساری کی ساری مجلس کہے گی بس ٹھیک ٹھیک۔تم نے ٹھیک کہا ہے۔ٹھیک ہے، یہی بات ہے۔اب سارے کے سارے گالیاں دے رہے ہیں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ قَالَ ھَلَکَ الْقَوْمُ فَھُوَ اَھْلَکَھُمْ 2جو شخص یہ کہے کہ اس قوم میں یہ خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں توقوم تو نہیں تباہ ہوئی اِس نے اُن کو تباہ کیا ہے یعنی اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تباہ ہوجائیں گی۔تو باوجود اِس علم کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم فرمایا ہے پھر اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ہر مجلس میں بیٹھے ہوئے ساروں کے ساروں کو بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں کہ سب ایسا ہی کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعت تو یہ بھی جائز نہیں قرار دیتی کہ جس سے تمہیں نقصان پہنچا ہے اُس کے متعلق بھی تم آزادانہ اور اونچی آواز سے بولو سوائے خاص حالات کے۔ اور نتیجہ اِس کا یہ ہوتا ہے کہ خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ سب حکومت سے بدظن ہوجاتے ہیں۔ دوسری خرابی یہ پیدا ہوتی ہے کہ جو نوجوان یہ باتیں سنتے ہیں وہ کہتے ہیں جب ہمارے سارے ہی بزرگ بے ایمان ہیں تو ہم کیوں بے ایمان نہ رہیں ہم اُن سے بڑھ کر بے ایمان بنیں گے۔تو ساری قوم کا کیریکٹر تباہ ہوجاتا ہے۔جو بے ایمان نہیں اُن کے اوپر غلط الزام لگائے جاتے ہیں اور دوسروں کو اُن سے بدظن کیا جاتا ہے اور جو ابھی اس بے ایمانی کے مقام پرنہیں پہنچے اُن کو اِسی وقت سے سکھایا جاتا ہے کہ بے ایمانی اتنی عام ہے کہ اس میں تم بھی ہاتھ دھوؤ تو کوئی بڑی بات نہیں۔
    مجھے یاد ہے میں جوان تھا جب میں ایک دفعہ حضرت خلیفۂ اوّل کے زمانہ میں لاہور سے قادیان ریل میں جارہا تھا۔بٹالہ تک ریل تھی ۔اُس وقت اتفاق کی بات ہے اُس کمرہ میں تین چارریلوے کے افسر بیٹھے ہوئے تھے اور ایک میں تھا او رکوئی بھی نہیں تھا۔ایک اُن میں سے رٹیائرڈ افسر تھا جس کو وہ سارے جانتے تھے باقی سارے سروس میں تھے وہ اس کو جانتے تھے تو کہنے لگے آپ کو بڑا موقع خدا نے دیا ہے۔(ہندو تھے وہ)۔خدا نے بڑا اچھاموقع دیا ہے آپ سے ملاقات کا،آپ کے تجربہ سے ہم کو فائدہ اٹھانا چاہے۔آپ ہمیں کوئی مشورہ دیجئے کہ کس طرح ہمارے پیشہ میں اور ہمارے اِس کام میں ترقی ہوسکتی ہے؟کہنے لگے جی بات تو اصل میں یہ ہے کہ زمانے زمانے کی بات ہوتی ہے ہمارے زمانہ کا افسر ہوتا تھا بڑا شریف۔اب تو بڑے گندے لوگ ہوگئے ہیں اب تو وہ بات ہی نہیں رہی جو اُس وقت ترقی کے مواقع تھے وہ اب نہیں ملتے۔کہنے لگے اچھا جی کیافرق تھا؟کہنے لگے دیکھو میں تمہیں بتاؤں فرق۔تمہاری تنخواہیں شروع ہوتی ہیں اب پچاس ساٹھ سے۔ہماری تنخواہیں شروع ہوتی تھیں پندرہ روپیہ سے۔تو جب میں نوکر ہوا ہوں پندرہ روپے مجھے ملتے تھے۔میری ماں بڑھیا تھی باپ میرا ہے نہیں تھا تو میں دس روپے ماں کو بھیج دیتا تھااور پانچ روپے میں آپ گذارہ کرتا تھا تو تم سمجھ سکتے ہو سستا تو سماں تھا پر پانچ روپے میں آخر کیا گذارہ ہوتا ہے۔ جو میں نے کوٹ پہنا ہوا تھا وہ پیچھے سے پھٹ گیا اور اُس میں سوراخ ہوگئے۔تو سٹیشن ماسٹر انگریز ہوتا تھا امرتسرکا۔(امرتسر میں مَیں تھا)وہ آیا اور مجھے دیکھ کے کہنے لگا اِدھر آؤ لڑکے تم نے یہ کوٹ پھٹا ہوا کیوں پہنا ہے؟ میں نے کہا صاحب میرے پاس توفیق نہیں نئے کوٹ کی۔پندرہ روپے تو مجھے تنخواہ ملتی ہے۔ میری ماں بیوہ ہے دس روپے میں اُس کو بھیجتا ہوں پانچ روپے میں گذارہ کرتا ہوں۔روٹی بھی اس میں کھانی، کپڑے بھی ۔کوٹ کہاں سے بنواؤں؟ کہنے لگا وہ بڑی حقارت سے مجھے دیکھ کر کہنے لگا میرے تمہارے متعلق بڑے اچھے خیالات تھے اور میں سمجھتا تھا تمہاری رپورٹ کروں ترقی کی۔لیکن معلوم ہوا تم بڑے جاہل آدمی ہو،بڑے احمق ہو۔ میں نے کہا کیوں صاحب! میرا اس میں کیا قصور ہے؟کہنے لگا بولو یہاں امرتسر سے کتنا مال روزانہ گذرتا ہے؟ میں نے کہا جی پچاس ساٹھ لاکھ کا گذر جاتا ہوگا۔ کہنے لگا نہیں اِس سے بھی زیادہ گذرتا ہے۔کہنے لگا تم نے کبھی دیکھا ہے دریاؤں پر تم ہندو جاتے ہو جمنا اور گنگا میں جاکے اشنان کرتے ہو کہ پاپ جھڑتے ہیں اور برکتیں ملتی ہیں تو جب تم اس میں ہاتھ دھوتے ہویا نہاتے ہو گنگاکا پانی کم ہوجاتا ہے؟اُس نے کہا نہیں جی۔کہنے لگا اگر تمہارے نہانے سے گنگا کا پانی کم نہیں ہوتا تو یہ جو ایک کروڑ روپیہ کا روز مال گذرتا ہے اِس میں سے اگر تم پچاس روپے نکال لوگے تو کوئی مال میں کمی آجائے گی۔تو میں تو سمجھتا تھا تم عقلمند ہو۔معلوم ہوا تم بڑے جاہل آدمی ہو گنگا بہہ رہی ہے اور تم اپنا کوٹ پھٹا ہوا پہنے ہو۔کہنے لگا جی بس۔جب افسر نے یہ کہا تو پھر ہم نے ہاتھ رنگنے شروع کئے۔ تو اُس وقت کا افسراتنا شریف ہوتا تھا پر اب تو ذرا ذرا سی بات پر پکڑ لیتے ہیں۔ یہی کچھ حالت آجکل کی بن گئی ہے یعنی شرافت جو ہے وہ نام ہوگیا ہے بے ایمانی کا۔بیوقوفی نام ہوگئی ہے شرافت کا اور ایمانداری کا۔
    تو اگر یہ طریقہ لوگ اختیار کریں کہ اپنے ملک کی مصنوعات لیں،اپنے حکام کے ساتھ تعاون کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ہماری جماعت میں تو خیر غریبوں کی جماعت زیادہ ہے مگر ٹیکس دینے والا کوئی بھی دیکھو۔احمدی بھی دیکھو دوسرا بھی دیکھو وہ یہی کوشش کرتا ہے کہ ٹیکس مجھ پر نہ لگے۔ حالانکہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر ہم نے ٹیکس نہ دیا تو حکومت چلے گی کہاں سے۔بڑے بڑے آدمی ایسا کرتے ہیں۔
    مجھے ایک شخص کے متعلق جس کا احمدیت سے تو کچھ تعلق تھا لیکن ہمارے ساتھ نہیں تھا ایک شخص نے بتایا کہ اُس کے اوپر ٹیکس کے لگنے کا سوال ہوا تو اُس نے کہامیں نہیں کتابیں دکھاتا۔تو کہنے لگا افسر نے کہا مجھے پھر اختیار ہے کہ جو چاہوں ٹیکس لگالوں۔میں نے کہا تمہاری مرضی۔ تو اُس نے اپنی طرف سے بڑا ٹیکس لگادیا یعنی ایک لاکھ روپیہ لگادیا۔ وہ کہنے لگاتاجر سے میں ملا تو اُس نے کہا ہمیں پانچ لاکھ کا نفع ہوا ہے۔ اُس نے لاکھ لگایا پر فائدہ ہی رہا۔تو اب بھلا جب ملک کی یہ منٹیلٹی (MENTALITY) ہو، یہ دماغ ہو اُس کاکہ وہ ٹیکسوں سے بچنا چاہے۔ریل کے کرائے بچائیں گے اور قسما قسم کی کوششیں کریں گے۔راشن کارڈ جھوٹے بنائیں گے غرض جس طرح بھی ہوسکے حکومت کو نقصان پہنچائیں گے او رپھر حکومت پر اعتراض کریں گے۔یہ چیز ایسی ہے جس سے پاکستان کو بڑا سخت نقصان پہنچ رہا ہے ہمیں اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
    پھر افغانستان نے بھی اپنا معاہدہ جو انگریزی زمانہ میں تھا سب توڑ ڈالا ہے اب خطرہ ہے کہ نئے سرے سے معاہدہ میں وہ نئی نئی شرطیں لگائیں گے کہ یہ ملک ہم کو دے دو ،یہ علاقہ دے دو۔ انہوں نے دیکھا کہ ہندوستان کے ساتھ آجکل ان کا کچھ بگاڑ ہورہا ہے تو انہوں نے سمجھاکہ ہمارا بیچ میں فائدہ ہے۔چلتے چلتے ہم بھی اِس جگہ سے فائدہ اٹھالیں۔یہ ایک اَور مصیبت ہمارے ملک کے لئے پیدا ہوگئی ہے۔اِدھر ہندوستان نے اس خبر سے جو پتہ نہیں ملے گا کہ کچھ نہیں ملے گا وہ پہلے ہی پہل ابھی ملاہے نہیں اور ہندوستان میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں پاکستان کے خلاف کہ امریکہ سے انہوں نے مدد لینی ہے اور اعلان یہ ہوا ہے کہ تین کروڑ کی ابھی تازہ مدد انہوں نے اِسی پندرہ روز کے اندر لی ہے تو آپ تین کروڑ لے کے بھی ان کو کوئی حرج نہیں ہوا۔ لیکن امریکہ کے وعدے پر کہ ان کو مدد ملنی ہے وہاں جلسے ہورہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف جوش پیدا کیا جارہا ہے نتیجہ یہ ہوگا کہ یا تو جوش میں پاکستان سے لڑائی کر بیٹھیں گے اور یا پھر وہاں کے مسلمانوں کو لُوٹنا شروع کردینگے۔ وہاں کے مسلمانوں کی حالت نہایت خطرناک ہے لوگ جوش میں آتے ہیں تو کوئی پوچھتا نہیں۔ ابھی وہاں کیس ہوا الٰہ آباد میں۔ ایک ہندو اخبار نے نہایت گندی گالیاں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو دیں اور جب اس کے اوپر مسلمانوں نے مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا تو اُن کو پکڑ کے جیل خانہ میں ڈال دیا گیا۔وہ گالیاں دینے والے سب آزاد پھر رہے ہیں۔ تو اِس قسم کے حالات جو مسلمانوں پر گذر رہے ہیں وہاں ۔ان کے لحاظ سے ڈر پیدا ہوتا ہے کہ یہ حالات جو ہیں یہ کسی وقت تصادم کا موجب بن جائیں اور خرابیاں پید کردیں۔
    اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان کیلئے دُعائیں کرو
    اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ تو یاد رکھنا چاہئے کہ ان میں سے کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کے متعلق ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ جن کے متعلق ہم کچھ
    نہیں کرسکتے اُن کےمتعلق ہماری دعا کا خانہ خالی ہے۔ہمارے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کم سے کم ہم دعا تو خداتعالیٰ سے کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دوسرے مسلمانوں کی مصیبت دور کرے۔ مثلاً ہماری یہ تو طاقت نہیں کہ سویز سے افواج اٹھا کے انگریزوں کو باہر پھینک دیں،ہماری یہ تو طاقت نہیں کہ عراق کو روس کے حملہ سے بچا لیں لیکن ہماری یہ تو طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے فریاد کریں کہ خدایا !یہ مسلمان ممالک ہیں تین سو سال کی غلامی کے بعد تُو نے ان کو آزادی کا سانس دینا شروع کیا تھا او رساتھ ہی ہماراگلا گھونٹنا شروع ہوگیا ہے تُو ہماری مدد کراوران ملکوں کوبچا۔ہمیں نہیں اِن چیزوں کا علاج نظر آتا لیکن خدا کو تو علاج نظر آتا ہے، وہ تو غیب کو جانتا ہے۔ اُس کو تو پتہ ہے کہ آگے کو کیا ہونے والا ہے۔ ہمیں چونکہ نہیں پتہ ہم اپنے موجودہ حالات سے قیاس کرکے کہتے ہیں یہ لاعلاج چیز ہے مگر وہ آئندہ کے حالات کو جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے بیسیوں قسم کے علاج پیدا ہوجانے والے ہیں وہ اُن کو کرسکتا ہے۔ تو ہماری جماعت کو اپنی دعاؤں میں اسلامی ممالک کی مصیبتیں اور جو پاکستان کی مصیبتیں ہیں اُن کو یاد رکھنا چاہئے۔
    مجھے یاد ہے1948ء میں مَیں نے کشمیر کے لئے ایک سفر کیا۔پشاور تک گیا۔پشاور میں مَیں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ڈاکٹر خان اور غفار خان سے ملوں کیونکہ اُن کے تعلقات شیخ عبداللہ شیر کشمیر سے بہت زیادہ ہیں۔ میرے بھی تعلقات تھے تو میں نے درد صاحب کو بھیجا عبدالغفار خان کے پاس کہ میں نے آپ سے ملنا ہے۔ تو اُس نے کہا کہ جس وقت مجھے کہیں میں آجاتا ہوں۔اُس کی چونکہ پوزیشن زیادہ تھی چاہے وہ وزیر نہیں تھا لیکن پہلے میں نے اپنا آدمی اُس کے پاس بھیجا۔جب درد صاحب آئے اور انہوں نے کہا کہ غفار نے کہا ہے کہ جہاں چاہیں او رجس وقت کہیں میں آجاتا ہوں تو پھر میں نے ڈاکٹرخان کے پاس آدمی بھیجا۔میں نے سمجھا یہ تو اُس سے چھوٹا ہے اِس کو بعد میں کہنے میں کوئی حرج نہیں۔اُس کو کہلا کے بھیجا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں اور غفار خاں نے بھی کہا ہے کہ جس وقت چاہیں میں آجاؤں گا تو آپ بتائیے آپ اگر آسکیں تو کوئی وقت مقرر کردیں لیکن پتہ لگاکہ ڈاکٹر خان ذرازیادہ ہوشیار آدمی ہے۔ وہ سن کے کہنے لگا(میں سمجھتا تھا کہ اصل بات تو یہ ہے کہ اپنی وزارت کی وجہ سے وہ سمجھتاہے میری ہتک ہے مگر عذر اُس نے یہ کیا کہ کہا)دیکھئے درد صاحب! میں تو خود شائق ہوں،ملنے کا شوقین ہوں پر آپ جانتے ہیں پٹھانی روح جو ہوتی ہے ہمارے کچھ قواعد ہیں اُن کے خلاف ہوجائے تو قوم میں میری تو ناک کٹ جائے گی۔اب میں اُن کے پاس جاؤ ں گاتو وہ میری مہمان نوازی میں کچھ قہوہ میرے آگے رکھ دینگے۔میری ساری قوم کہے گی بے شرم! مہمان وہ تیرے تھے تو قہوہ تم اُن کے گھر پی کے آئے اِس لئے میرے لئے مجبوری ہے میری ذلت ہوجاتی ہے اور اگر وہ تکلیف اٹھا کے یہاں آجائیں او رمیں قہوہ کی اُن کے آگے پیالی رکھوں تو پھر میں قوم سے آکے کہونگا میں نے مہمان کی عزت کی اور اُس کو قہوہ پلایا۔ خیر درد صاحب تو مایوس ہوگئے میں نے کہا کوئی حرج نہیں میں نے کام کرنا ہے کوئی بات نہیں میں چلا جاؤ نگا چنانچہ میں نے کہا کہ اب غفار کی دقت ہے کہ وہ بھی آجائے گا کہ نہیں کیونکہ وہ تو اب اصل لیڈر اپنے آپ کو سمجھتا تھا مگر اِس معاملہ میں وہ خان سے زیادہ اچھا ثابت ہوا۔ اُس نے کہاکوئی پروا نہیں۔آجکل میری لڑائی ہے بھائی سے۔مگر میں آجاؤں گا۔چنانچہ موٹر ہم نے بھیجا وہ کوئی پندرہ میل پرے پر تھا وہاں سے وہ آگیا۔ میں اِدھر سے چلاگیا۔ کوئی چھ سات میل پر ڈاکٹرخان کی کوٹھی تھی وہاں پہنچے۔دونوں بھائی اور میں بیٹھ گئے۔میں نے اُن کے آگے یہ سوال رکھا کہ خان صاحب! آپ بتائیے۔ڈاکٹر خان کو مخاطب کرکے میں نے کہا آپ یہ بتائیے کہ پاکستان پر جو یہ مصیبت آئی ہوئی ہے کشمیر کی وجہ سے ہےکیا اب کشمیر اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائےتو پاکستان بچ سکتا ہے؟ کہنے لگے نہیں۔میں نے کہا تو پھر ہمیں کچھ کرنا چاہئے۔ڈاکٹر خان نے کہا ٹھیک ہے ہمیں کچھ کرنا چاہئے مگر وہ جو تھے عبدالغفار خان وہ چُپ رہے۔ میں نے پھر سمجھا کہ اصل کُنجی تو ان کے پاس ہے اگر یہ نہیں بولتے توکوئی ایسا فائدہ نہیں ہوتا۔ پھر میں اُن سے منہ پھیر کے عبدالغفارخان کی طرف مخاطب ہوا۔ میں نے کہا غفار خاں صاحب! آپ نہیں بولے!کہنے لگے آپ جو بات کررہے ہیں ٹھیک ہے۔ میں نے کہا نہیں آپ کی رائے کے بغیر تو کچھ نہیں بن سکتا۔یہاں اِس ملک میں تو آپ کا رسوخ ہے۔ کہنے لگے تو پھر میری رائے تو یہی ہے کہ کشمیر نکل گیا تو مسلمان مارے گئے۔ باقی رہا کرنے کا سوال سو میں نے کیا کرنا ہے مجھے تو پاکستان گورنمنٹ اپنا باغی سمجھتی ہے تو باغی نے کیا کرنا ہے۔میں نے کہا یہ تو بات نہیں اگر آپ واقع میں خدمت کریں گے تو اگر آپ کو وہ باغی سمجھتی ہے تو نہیں سمجھے گی پھر کہے گی مجھ سے غلطی ہوگئی ہے تو یہ تواُس وقت تک کی بات ہے نا جب تک آپ کچھ کرتے نہیں۔ اگر آپ نیک کام کریں گےپاکستان کو اس سے فائدہ پہنچے گا تو سارے آپ کو سر پر اٹھائیں گے۔کہنے لگے نہیں آپ کو نہیں پتہ جو میرے ساتھ انہوں نے کیا ہے۔میں نے خود تجویز کی جس وقت یہ اختلاف ہوا تو میں نے کہا کہ میں عبداللہ کو پکڑ کر لاسکتا ہوں اور اُس کو ٹھیک کرسکتا ہوں۔ میں کننگھم صاحب سے ملا اور کہا کہ قائداعظم سے یہ بات کرو تو انہوں نے اس کے بعد مجھے یہ جواب دیا کہ ابھی کچھ ضرورت نہیں ہے جب ہوگا پھر دیکھا جائے گا او رپھر میرے پیچھے ہروقت پولیس لگی ہوئی ہے اور مجھے ذلیل کیاجاتا ہے اور خراب کیا جاتا ہے مجھے کیا ضرورت ہے۔میں نے کہا خان صاحب! آپ نے یہ تو مانا ہے کہ اگر لڑائی ہوگئی او رکشمیر ہاتھ میں نہ ہوا تو پاکستان کے لئے مشکل ہے۔میں نے کہا آپ کو پتہ ہے پاکستان بالکل چھوٹی گہرائی کا ملک ہے جو لمبا چلاگیا ہے اور حملہ ہمیشہ گہرائی پر ہوا کرتا ہے۔ہماری گہرائی بعض جگہ پر صرف چالیس پچاس میل ہے۔چالیس پچاس میل فوج ایک دن دو دن میں بھی نکل جاتی ہے۔ اگر ریتی کے پاس،روہڑی کے پاس ان علاقوں میں ہندوستانی فوجیں داخل ہوں تو پچاس ساٹھ میل میں وہ جاکے دریا کواور ریل کو کاٹ دیتی ہیں پھر کراچی اِدھر رہ جاتا ہے پنجاب اُدھر رہ جاتا ہے دونوں طرف سے کٹ جاتے ہیں۔ سپاہی ایک طرف کھڑا ہوا ہے دماغ ایک طرف پڑا ہوا ہے،روپیہ ایک جگہ پر پڑا ہوا ہے، ہتھیار ایک جگہ پر پڑے ہوئے ہیں سب کام ختم ہوجاتے ہیں۔ کہنے لگے ہاں ٹھیک۔میں نے کہا تو پھر ایسی خطرناک حالت میں تو یہ بات تو نہیں کرنی چاہئے کہ فلاں میرا مخالف ہے فلاں مخالف ہے۔میں نے کہاآپ یہ تو بتائیے کہ آپ جو یہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ لیگ مخالفت کرتی ہے یا دوسرے لوگ مخالفت کرتے ہیں آپ یہ بتائیں کہ اگر خدانخواستہ ہندوستانی فوج پاکستان میں داخل ہوجائے تو وہ لیگ کے آدمیوں کو مارے گی یا عوام الناس کو مارے گی ؟یا مارے گی کہ نہیں؟تو اِس پر بے ساختہ ہو کر ہو کہنے لگے کہ اب کے وہ داخل ہوئی تو ایسا مارے گی کہ مشرق پنجاب بھول جائے گا۔میں نے کہا کس کو مارے گی؟کہنے لگے یہ تو صاف بات ہے کہ عوام الناس کو مارے گی۔ بڑے آدمی تو بھاگ جائیں گے اِدھر اُدھر،روپے والے لوگ ہیں کوئی ہوائی جہاز میں بھاگے گاکوئی کسی طرح بھاگ جائے گا۔عوام الناس مارے جائیں گے۔میں نے کہا اب آپ یہ بتائیے کہ پندرہ سال تک آپ کو مسلمان ہار پہناتے رہے ہیں، آپ کو بادشاہ کہتے رہے ہیں،آپ کو اپنا سردار کہتے رہے ہیں وہ عوام الناس تھے یا یہ بڑے بڑے لوگ تھے جو آپ کے مخالف ہیں؟کہنے لگے نہیں عوام الناس تھے۔میں نے کہا تو پھرپندرہ سال انہوں نے آپ کو ہار پہنائے آج آپ اُن کے قصور کی وجہ سے نہیں لیگ کے کچھ لیڈروں کی وجہ سے کہتے ہیں ان کومرنے دو اور اُن کی عورتوں کو مرنے دو اور اُن کے بچوں کو مرنے دو یہ انصاف ہے؟کہنے لگے انصاف تو نہیں ہے مگر انہوں نے مجھے بڑا دِق کیا ہے اِس لئے میں نہیں کرسکتا۔ میں نے کہا ایک اَورنقطہ نگاہ سے میں آپ کو سمجھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں ایسی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہوں جو کہ چالیس سال سے پتھر کھارہی ہے میں نے آپ کئی دفعہ پتھر کھائے،آپ ہی کے وطن میں پٹھانوں نے ہمارے آدمیوں کو شہید کیا۔میں نے کہا مجھے تو پتھر پڑے اور آپ کو پھول پڑے۔میں اِس نازک وقت میں اُن پتھروں کو بھی بھولنے کے لئے تیار ہوں اور آپ اِس نازک وقت میں اپنے پھول بھی یاد کرنے کے لئے تیار نہیں!! بتائیے یہ انصاف ہے؟ پھر دو منٹ خاموش رہا اور اس کے بعد کہنے لگا میں اپنے دل میں اِس وقت کوئی کام کرنے کی ہمت نہیں پاتا۔ میں نے کہاپھر آپ کا اور میرا اتنا اختلاف ہے کہ اب میں سمجھتا ہوں کہ ہم آگے بڑھ نہیں سکتے اور میں اٹھ کر چلاآیا۔ توحقیقت یہ ہے کہ اس نازک دور میں ہمارے لئے ایسے سخت حالات ہیں کہ اُن کا قیاس کرکے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس روپیہ کم ہے سامان کم ہے۔ہمارے پاس آدمی کم ہیں اگر خدانخواستہ کوئی صورت اختلاف کی پیدا ہوجائے تو اس میں بڑے نقائص ہیں لیکن کم سے کم ہم دعائیں تو کرسکتے ہیں۔یہ نہ سمجھو کہ کسی اَورپر مصیبت آئے گی۔ جب اِدھر کوئی مصیبت پیدا ہو تو وہ بھی تم پر آئے گی اُدھر ہو وہ بھی تم پر آئے گی کیونکہ تم نکّو ہو۔وہ ہندوستانی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ساری خرابی انہی کی ہے۔ یہ پاکستان بنوایا تو احمدیوں نے بنوایا۔اگر پاکستان کو مضبوط کرتے ہیں تو احمدی کرتے ہیں۔اگر پاکستان کو طاقت دیتے ہیں تو یہی دیتے ہیں۔ ان کو بھی یہی خیال ہے۔تم یہ نہ خیال کرلینا کہ تمہاری اِدھر کی مخالف کی وجہ سے وہ تم کو بھول جائیں گے وہ سب سے پہلے تم پر ہی حملہ کریں گے اِس لئے تمہارا فرض یہ ہے کہ خداتعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بچائے، ساتھ اس کے ہم کو بھی بچائے تاکہ شرسے مسلمان محفوظ رہ کے وہ جو خدا تعالیٰ نے عزت اور ترقی کی طرف مسلمانوں کا قدم اٹھایا ہے وہ آگے بڑھتا چلاجائے اور اس میں کوئی خلل نہ پیدا ہو۔
    صحیح مشورہ دیا کرو
    دوسرا علاج صحیح مشورہ ہے اور یقینا اس کا اثرہوجاتا ہے۔ دیکھو حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ میں لڑائی تھی کوئی
    معمولی لڑائی تو نہیں تھی۔اسلام کے اتنے قرب کے باوجود دونوں لشکرلئے ہوئے ایک دوسرے کو مارنے کے لئے تیار پھرتے ہیں مگر جب روما کے بادشاہ نے یہ لڑائی دیکھ کرفیصلہ کیاکہ وہ آپ ان پر حملہ کرے تو اُس نے اپنے افسروں سے مشورہ کیا۔ سارے جرنیلوں نے کہاکہ بڑا عمدہ موقع ہے۔ان میں لڑائی ہے حملہ کردو۔اُن کا جو بڑا بشپ (پادری) تھا وہ بڑا ہوشیار تھااُس نے کہا بادشاہ! میں تمہیں ایک سبق دیتا ہوں اِس کو دیکھ لو اور پھر خیال کرلینا۔کہنے لگا ذرا دو کُتّے منگوائیے بڑے تیز تیز اور شیر منگوائیے۔کُتّے منگوا کر کہنے لگا ان کو ذرا فاقہ دیجئے اور کل میرے سامنے ان کو لایا جائے۔کُتّے بلوائے،فاقے دے کر اُن کے آگے پھینکا گوشت۔پس گوشت پھینکا تو دونوں کُتّے اُس پر جھپٹے۔ ایک اُس کو مارے اور دوسرا س کو کاٹے اور بہت بُری طرح لہولہان کردیا۔اُس نے کہا اب شیر چھوڑ دو۔ شیر جو پنجرے میں سے اُس جگہ پرسے گذرا تو معاً آتے ہی اُن کی لڑائی چَھٹ گئی اور دونوں کُتّے ایک دائیں ہوگیااور ایک بائیں ہوگیا۔ وہ اِدھر جھپٹے۔جب وہ اِدھر منہ کرے تو پیچھے سے وہ کاٹ لے۔ جب وہ اُدھر منہ کرے تو وہ کاٹ لے۔بُرا حال شیر کا کردیا۔تو وہ تو خیر دشمن تھا اُس نے مسلمانوں کی گندی مثال دینی تھی۔کہنے لگا علیؓ اور معاویہؓ والی یہی مثال ہے۔ یہ لڑ تو رہے ہیں پر آپ گئے نا تو انہوں نے اکٹھے ہوجانا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ مسلمان کیریکٹرا ُس وقت تک اتنا مضبوط تھا کہ وہ اسلام کی خاطر اپنے بڑے سے بڑے اختلاف کو بُھول سکتا تھا۔لیکن بادشاہ نے اُس کے مشورہ کو قبول نہ کیا اورفوج کو موبے لائز(MOBILIZE)کرنے کا حکم دے دیا۔ جب رومی فوج کے موبے لائز(MOBILIZE)ہونے کی اطلاع اسلامی ملک میں پہنچی تو حضرت معاویہ ؓنے اُس کو خط لکھا۔انہوں نے لکھا میں نے سنا ہے کہ تم اسلامی ملک پر حملہ کرنا چاہتے ہو اور یہ جرأت تم کو اِس وجہ سے ہوئی ہے کہ میں علیؓ سے لڑرہا ہوں لیکن میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر تمہاری فوجوں نے اسلامی ملک کا رُخ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو علیؓ کی طرف سے تم سے لڑنے کے لئے نکلے گا وہ میں ہوں گا۔3 اُسی وقت مَیں اختلاف چھوڑ کر علیؓ کی اطاعت کرلو ں گاا ور اُس کی طرف سے لڑنے کے لئے نکلوں گا۔بادشاہ ڈر گیا اُس نے کہا بطریق والی بات ٹھیک ہے۔
    تو ہمارے لئے اِس قسم کے مصائب اور مشکلات پیش آرہے ہیں اور اُس کی حفاظت جو ہے وہ خداتعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگائی ہے۔ دردِ اسلام کی ہمارے دلوں میں اُس نے جگہ رکھی ہے۔ پس اسلام کا درد تمہیں پیدا کرنا چاہئے او رہمیں اِس کا ہمیشہ لحاظ کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہم دیکھتے ہیں اُن کے دل میں ہمیشہ دردِ اسلام تھا۔ایسی باتوں پر بڑی نرمی اور بڑی محبت سے کام لیتے تھے۔یہاں ایک غیراحمدی صاحب کچھ تحقیقات کے لئے پٹھانوں کی طرف سے آئے۔کوئی پانچ سات دن ہوئے مجھے ملے تو کہنے لگے مجھے یہاں بعض احمدی نوجوان ملے اور انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لوگ تو یہودی ہیں اِس سے ہمارے دل کو بڑی تکلیف ہوئی ہے۔ میں نے کہا بات اصل میں یہ ہے کہ آپ بھی اپنے بھائی سے کبھی لڑتے ہیں تو اُسے کہہ دیتے ہیں چل دیّوث! چل یہودی! انہوں نے تو ہمارے پانچ آدمی مارے ہیں۔اگر کسی نوجوان نے غصّہ میں کہہ دیا تو آپ کو یہ بھی تو خیال رکھنا چاہئے کہ اس کے تو پانچ مرے ہوئے تھے تو اُس نے اگر کہہ دیا تھا توتھا تو وہ بیوقوف ہی۔آپ مہمان تھے آپ کا ادب چاہئے تھا۔ پھر اُس کو یہ خیال ہونا چاہئے تھا کہ اِس طرح یہودی کہنے سے کیا بنتا ہے؟ کیا یہودی کہنے سے افغانستان تباہ ہوجائے گا؟صرف یہی ہوگا نا کہ جو افغانستان سے آیا ہوا ہے اُس کا دل دُکھے گا افغانستان کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔صرف بیوقوف نوجوان تھا آپ کو اُس کی بات کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ دیکھنا آپ کو یہ چاہئے کہ جو ذمہ وار جماعت کے ہیں وہ تو ساروں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔کسی نوجوان نے اگر کوئی بیوقوفی کی بات کی تو پھر بیوقوف ہوا ہی کرتے ہیں قوم میں۔کہنے لگا ہاں میں نے بھی یہی سمجھا تھا کہ یہ نوجوانوں نے کہا ہے۔ میں نے کہا تو بس پھر آپ کو اس کا ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں مجھ سے آکر پوچھئے میں تو دیکھو سب سے ہمدردی رکھتا ہوں۔ جماعت کے لیڈروں سے ملئے وہ ہمدردی رکھتے ہیں۔ وہ تونہیں اِس طرح کے لفظ بولیں گے۔تو ہمارے دل میں ہر ایک شخص کی ہمدردی ہونی چاہئے اور اس ہمدردی کا نتیجہ سب سے پہلے یہ ہے کہ ہم دعاؤں میں لگے رہیں اورخداتعالیٰ سے اس کی امداد چاہیں اور جب موقع ہو تو صحیح مشورہ دیں اور صحیح مشورہ یقیناً اثر انداز ہوتا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نصیحت کرنی ہمیشہ ہی فائدہ بخش ہوتی ہے فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى4 نصیحت کر۔ یہاں اِنْ کے معنے قَدْ کے ہیں کیونکہ نصیحت سے ہمیشہ ہی فائدہ ہوتا رہا ہے۔
    ملک کی حفاظت وبقاء کیلئے تیار ہوجاؤ
    دوسرا ذریعہ جو ہے وہ موقع کے لئے تیار رہنے کا ہے۔ہمیں موقع
    کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ہماری جماعت کو عزم کرلینا چاہئے کہ اگر خدانخواستہ پاکستان پر کوئی مصیبت آئی تو پھر ہم اُس وقت یہ نہیں دیکھیں گے کہ ہماری زمینیں ہیں،ہمارے کھیت ہیں،ہمارے کام ہیں،کچھ بھی ہو ہر شخص خواہ بوڑھا ہے جوان ہے وہ سارے اپنے ملک کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہونگے۔اِس طرح بظاہر تو یہ ایک معمولی بات ہوتی ہے لیکن ہے یہ بڑی بات۔کیونکہ جب انسان پہلے سے ارادہ کرکے بیٹھتا ہے تو پھر اُس کو موقع پر کام کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔ لیکن اگر موقع پر ارادہ کرنا چاہے تو ارادے او رکام میں فاصلہ ہوتا ہے لازماًوہ اتنی دیر تک وقفہ کرتا ہے جتنی دیر میں کام خراب ہوچکا ہوتا ہے۔ مسلمان ارادے کرکے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اسلام کی مدد کرنی ہے ذرا سا اشارہ ہوتا تھا تو فوراً کھڑے ہوجاتے تھے لیکن آج کا مسلمان جو ہے پندرہ سال اُن کے سامنے کھڑے ہوکر تقریریں کرنی پڑتی ہیں کہ اٹھو۔شاباش۔ہمت کرو تمہارے لئے مصیبت آئی ہے اِ س کی وجہ یہی ہے کہ اُن کے اندر ارادہ پیدا نہیں ہؤا۔اگر ارادے ہوتے تو نہ کسی تقریر کی ضرورت ہوتی نہ جلسے کی ضرورت ہوتی ایک اعلان ہوتا سارے نکل کھڑے ہوتے۔تو ارادہ رکھنا چاہئے اپنے دلوں میں کہ مصیبت کے وقت ہم اپنے ملک کی حفاظت کریں گے۔
    اِسی طرح کشمیر کے متعلق بھی جو حالات ہے وہ ایسے سنجیدہ ہوچکے ہیں اور ایسے اہم ہو چکے ہیں کہ میرے نزدیک اُس کا زیادہ انتظارنہیں کیا جاسکتا۔حکومت کی طرف سے تو بار بار یہ اعلان ہورہاہے کہ کشمیر کا مسئلہ قریب آگیا ہے لیکن ابھی مجھے نہیں نظر آتا کہ وہ قریب آیا ہوا ہو۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ علم النفس کے ماتحت عمل کررہے ہیں اور ہم علم الاخلاق پر اپنی بنیاد رکھ رہے ہیں۔علم الاخلاق کا اثر ایماندار پر ہوتا ہے اور علم النفس کا اثر ہر بے ایمان پر بھی ہوتا ہے۔اگر کسی بات پر غصہ آتا ہے تو بے ایمان کو بھی آئے گا لیکن غصہ کو روکنا بے ایمان کے قبضہ میں نہیں وہ ایماندار ہی رو کے گا۔تو ہماری حکومت علم الاخلاق پر اپنی بات کی بنیاد رکھ رہی ہے۔یہ کہتے ہیں ہم نے اتنی لمبی قربانی کی تو اس کا اثر نہیں ہوگا؟کیانہرو صاحب مانیں گے نہیں کہ ہم نے دیکھو ایسی شرافت دکھائی۔اور وہ بنیاد علم النفس پر رکھ رہے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ ایک مظلوم قوم ہے، غریب قوم ہے، غریب قوم کو جب ایک لمبے عرصہ تک آزادی نہیں ملے گی تو آہستہ آہستہ مایوس ہوجائے گی۔پھر کہے گی چلو جو اِن سے ملتا ہے وہ تو لے لو۔ تو وہ جو ترکیب اختیار کررہے ہیں وہ کامیابی کے زیادہ قریب ہے۔جو ہم طریق اختیار کررہے ہیں وہ کامیابی سے بہت بعید ہے۔ہم دوسرے کے اُن اخلاق پر بھروسہ کررہے ہیں جو اُس کو حاصل نہیں۔وہ اُن امیدوں اور اُن آرزؤوں پر بھروسہ کررہا ہے جو اُس کو حاصل ہیں تو لازمی بات یہ ہے کہ جو چیز حاصل ہے وہ مل جائے گی او رجونہیں حاصل وہ نہیں ملے گی۔
    وہ تو جانے دو کشمیری تو بیچارہ ظلم میں ہے اُس کی تو بات سب جانتے ہیں۔میں بتاتا ہوں کہ اِس ملک پر بھی اس کا بُرا اثر پڑرہا ہے۔میں کوئی تین سال کی بات ہے کوئٹہ گیا۔مجھے کوئی تین چار فوجی افسر ملنے آئے۔وہ سارے کرنیل تھے خیر رسمی باتیں انہوں نےکیں کچھ اِدھر اُدھر کی کچھ کشمیر کی بھی ہوئیں۔ میں نے کہاہاں کشمیر ضرور ملنا چاہئے مسلمانوں کو۔اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوسکتا۔چلے گئے۔دوسرے دن پرائیویٹ سیکرٹری نے مجھے لکھا کہ فلاں کرنیل صاحب آپ سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے الگ بات کرنی ہے۔میں نے اُن کو لکھا کہ کوئی غلطی تو نہیں آپ کو لگی۔یہ کل مجھے مل کے گئے ہیں۔مجھے تین چار آدمی ملے تھے اُن میں یہ بھی شامل تھے انہوں نے کہا یہ ہیں تو وہی لیکن وہ کہتے ہیں میں اُن کے سامنے ایک بات نہیں کرسکا میں نے پرائیویٹ بات کرنی ہے۔ میں نے کہا لے آؤ چنانچہ وہ آگئے۔وہ ایک پاکستانی فوج کے اچھے ممتاز عہدیدار ہیں۔بیٹھ گئے۔میں نے کہا فرمائے آپ نے کوئی الگ بات کرنی تھی۔کہنے لگے ہاں کل آپ کے لحاظ سے میں نے بات کی نہیں جب آپ نے کشمیر کے متعلق ہمیں توجہ دلائی لیکن میں چاہتا تھا کہ آپ سے الگ ہوکر بات کروں۔میں نے کہا فرمائیے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کشمیر ہم کو لینا چاہئے اور کشمیر کے لئے ہم کو قربانی کرنی چاہئے اِس کے لئے ہمیں ہمت کرنی چاہئے یہ آپ نے کس بناء پر کہا ہے؟کیا آپ یہ بات نہیں سمجھتے کہ فوج ہندوستان کے پاس زیادہ ہے؟ میں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی فوج زیادہ ہے۔ کہنے لگے تو کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ جو بندوقیں ہمارے پاس ہیں وہی بندوقیں اُن کے پاس ہیں۔انگریز والی بندوق ہے وہی رائفل ہمارے پاس ہے۔ وہی اُن کے پاس ہےمیں نے کہا ٹھیک ہے۔کہنے لگے کیا آپ کو معلوم ہے کہ نہیں کہ اُن کے پاس ڈم ڈم کی فیکٹری ہے اتنی بڑی جو ہزاروں ہزار بندوق اُن کو ہر مہینے تیار کرکے دیتی ہےہمارے پاس کوئی فیکٹری نہیں؟ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ کہنے لگے کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ اُن کے پاس اتنا گولہ بارود ہے جو ہمارا تھا وہ بھی انہوں نے رکھا ہواہے آٹھ کروڑ کا گولہ بارود ہم کو نہیں دیا او راُن کے پاس تو تھا ہی زائد نسبت سے؟میں نے کہا ٹھیک۔ کہنے لگے آپ کو پتہ ہے ان کے ہاں چھ سکوارڈن ہیں او رہمارے ہاں دو سکوارڈن ہیں ہوائی جہازوں کے؟میں نے کہا یہ بھی ٹھیک ہے۔ کہنے لگے اُن کی اتنی آمد ہے ہماری آمد اتنی ہے؟ میں نے کہا یہ بھی ٹھیک ہے ۔کہنے لگے جن کا لجوں میں وہ پڑھے ہیں اُنہی کالجوں میں ہم پڑھے ہیں۔ہم کسی اور کالج میں نہیں پڑھے؟میں نے کہا یہ بھی ٹھیک ہے۔کہنے لگے پھر یہ بتائیے فوج ہماری کم اُن کی زیادہ، گولہ بارود اُن کا زیادہ ہمارا کم،توپیں اُن کی زیادہ ہماری کم،ہوائی جہاز اُن کے زیادہ ہمارے کم،ہم بھی اُنہی کالجوں کے پڑھے ہوئے ہیں جن کے وہ، ہمارے پاس کوئی خاص لیاقت نہیں، روپیہ اُن کے پاس زیادہ ہے ہمارے پاس کم، تو کس بناء پر آپ ہم کو کہتے ہیں کہ ہمیں کشمیر لینا چاہئے؟میں نے کہا آپ سے تو مجھے یہ امید نہیں تھی آپ تو اُن لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے کشمیرکے معاملہ میں بڑاا چھاکام کیا ہے۔مجھے پتہ ہے اِس کے متعلق۔آپ نے بڑا اعلیٰ کام کیا ہے اور ہمارے جو والنٹیر وہاں کام کرتے تھے اور جو آپ کے ماتحت رہے ہیں وہ تو بڑی آپ کی تعریفیں کیاکرتے تھے تو یہ آپ کیاکہہ رہے ہیں؟اتنے مایوس ہیں آپ؟کہنے لگا ٹھیک ہے پر آپ سے پوچھتا ہوں نا کہ آپ نے کس معقولیت کی بناء پر یہ مشورہ ہمیں دیا تھا؟حالات یہ ہیں تو کوئی معقولیت ہونی چاہئے نا کہ آپ نے کیوں حکم دیا؟میں نے کہا دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۔5 آپ مسلمان ہیں اورقرآن کہتا ہے کئی چھوٹی جماعتیں ہوتی ہیں جو بڑی جماعتوں پر غالب آجایا کرتی ہیں۔تو جب خداتعالیٰ نے یہ فرمایا کہ کئی چھوٹی جماعتیں ہوتی ہیں جو بڑی جماعتوں پر غالب آتی ہیں تواِسی لئے کہا ہے نا کہ چھوٹے ہوکر ڈرا نہ کرو خدا کی طاقت میں ہے کہ تمہیں بڑے پر غلبہ دے دے تو اِس لئے آپ گھبراتے کیوں ہیں؟اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیئے آپ تھوڑے ہیں خداتعالیٰ آپ کو طاقت دے دے گا۔ تو مسکرا پڑا مسکر ا کر کہنے لگا دینیات کی باتیں تو یہ ٹھیک ہوئیں پر دنیا میں اِس کا کیا تعلق ہے۔میں نے سمجھا یہ اس حد سے گذرا ہوا ہے۔پھر میں نے اُس کو ایک اَور جواب دیامگر وہ میرے کل کے مضمون کے ساتھ غالباً تعلق رکھتا ہے وہ اُدھر آجائے گا۔ جب میں نے دیکھا یہ دین سے تو بالکل مایوس ہؤا ہے تو میں نے کہا مجھے بڑا ہی تعجب ہے آپ پر۔ آپ کی تو اتنی تعریف میرا لڑکا کیا کرتا تھا اور دوسرے ہمارے احمدی افسر کیا کرتے تھے کہ آپ کے ساتھ ہم نے مل کر کام کیا ہے اس قدر آپ ہمت والے تھے کہ خطرے میں اِس طرح گرتے تھے جا کے کہ جس کی حد کوئی نہیں تو آپ آج اتنے مایوس ہیں؟ کہنے لگاپھر واقعات سے مایوس ہوجاتاہے انسان۔تب میں نے یہ سمجھا کہ مذہب کی دلیل تو ان پر اثر نہیں کرتی اب ان کو کوئی دوسری دلیل دینی چاہئے ۔میں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ کتنا ہی بہادر آدمی ہو اگر اُس پر دباؤ ڈال کر کچھ دیر اُس کا غصہ ٹھنڈا رکھاجائے تو ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔چونکہ پاکستان گورنمنٹ لڑنا نہیں چاہتی وہ چاہتی ہے صلح کے ساتھ کام ہوجائے تو وہ اپنے افسروں کو ٹھنڈاکرتی رہتی ہے کہ دیکھنا! جوش میں نہ آنا،جوش میں نہ آنا۔تو آپ کی روح ماری گئی اِس وجہ سے آپ کمزور ہیں ورنہ جس وقت لڑائی شروع ہوگئی تو دو چار دن میں آپ کا خون اتنا گرم ہوگا کہ جوش میں آجائیں گے۔میں نے کہاجب یہ پاریٹشن ہؤا ہے ایک دن رات کے وقت ایک فوجی افسر چھاؤنی سے میرے پاس آپہنچا نو بجے کے قریب۔مجھے بتایا گیا کہ ایک لفٹیننٹ ملنے آیا ہے۔ میں نیچے گیا رتن باغ میں۔میں نے کہا آپ کس طرح ملنے آرہے ہیں؟آپ احمدی تو نہیں ہیں؟ کہنے لگا ہاں میں احمدی نہیں ہوں۔ میں نے کہا تو یہ رات کے وقت آپ بھاگے ہوئے کہاں سے آئے ہیں؟کہنے لگا جنرل نذیر یہاں آپ کا احمدی افسر ہے اُس کو کہیں کہ مجھے فارغ کردے میں کشمیر میں لڑنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا جنرل نذیر پاکستان کا جرنیل ہے یا میں نے اُسے مقرر کیا ہے؟میں اُسے کس طرح کہہ دوں کہ فارغ کردو؟کانپ رہا تھا اُس نے کہا اور کون سا موقع آئے گا ہمیں اپنی جانیں دینے کا۔وہاں جو اِن لوگوں نے مسلمانوں کے ساتھ سلوک کیا ہے ہم فوجی دیکھ کے آئے ہیں۔اب یہی موقع ہے ہمارے لئے ہم فوجی ہیں کس لئے؟ہمیں جانیں دینے کے لئے رکھا گیاہے تو جان دینی نہیں تو ہمیں رکھنے کا کیا مطلب۔وہ بیشک فوجی افسر ہے پاکستان کا لیکن آپ اُسے کہیں وہ آپ کی بات مان لے گا آپ اُس کو کہیئے میں بھاگ جاؤں گا میرے خلاف کوئی کیس نہ چلائے پھر مرگیا تو میں مرگیا نہیں تو میں پھرآجاؤں گا مجھے صرف کشمیر جانے دیں۔میں نے کہا یہ غلط بات ہے بے اصولاپن ہے میں سرکاری افسرکو کوئی مشورہ نہیں دےسکتا۔ بس وہ کانپتا تھا،آنکھوں میں اُس کے آنسو آگئے اور کہنے لگا میں تو بڑی امید سے رات کو بھاگ کے آپ کے پاس پہنچا تھا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے بے اصولی بات میں نہیں کرسکتا۔حکومت کے انتظام میں بھی یہ بات خلل ڈالتی ہے او رہے بھی یہ عقل کے خلاف بات۔
    میں نے کہا اِسی طرح میرے پاس ایک فوجی افسر آیا تھا، وہ نوجوان آدمی تھا آپ تو بڑے تجربہ کار ہیں۔کرنیل ہیں۔تو بات اصل میں یہ ہے کہ اُس وقت تو ابھی کٹی کٹی لڑائی ہورہی تھی اس کے اوپر کوئی دباؤ نہیں تھاا ِس لئے اُس کا خون جوش میں آیا ہوا تھا آپ کو ایک لمبے عرصہ تک کہا گیا تھا کہ بیٹھو بھی،ٹھہرو بھی،صبر بھی کرو۔ تو ہوتے ہوتے صبر کراتے کراتے آپ کا پارہ حرارت زیرو پر جاپہنچا۔میں نے اس کے بعد کہا میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔میں نے کہا لاہور میں ایک دعوت تھی ایک بڑا فوجی افسر مجھے ملا اور مجھے اُس نے کہا کہ میں آپ سے ایک مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہاکیا؟کہنے لگا کوئی ترکیب ایسی آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ بغیر اِس کے کہ کوئی ایک سپاہی بھی مارا جائے میں کشمیر فتح کرلوں؟میں ہنس پڑا کہ یہ کیا آپ عقل کے خلاف بات کررہے ہیں۔ جب لڑائی ہوگی تو کچھ مریں گے بھی کچھ بچیں گے بھی۔ اِس کا کیا مطلب کہ بغیر ایک سپاہی مرنے کے کشمیر فتح کرلیں؟کہنے لگا میں اِس لئے کہتا ہوں کہ میں ایک مورچے پر مقرر ہوں وہاں ایک پہاڑی اونچی تھی جس پر کہ ہندوستانی فوج تھی۔اُس وقت پاکستان اعلان کرچکا تھا کہ ہماری فوجیں آگے داخل ہورہی ہیں تو مجھے حفاظت کے لئے حکم تھا کہ اِس سے آگے ان کو نہیں بڑھنے دینا۔تو میں نے دیکھا کہ اونچی پہاڑی پر وہ قابض ہیں اور ہم ہیں نیچے اور ہر وقت اُن کے گولے پڑتے ہیں تو ہم نے فیصلہ یہ کیا کہ اس پہاڑی سے ان کو اُتارنا چاہئے ورنہ یہ آگے آجائیں گے اورہم روک نہیں سکیں گے۔چنانچہ میں نے اپنے فوجی افسروں کوبُلا کر مشورہ کیا اور ایک ہوشیار کرنیل کے سپرد کمان کی اور اندازے لگائے کہ اُس پہاڑی کے سامنے اور اُس کے اوپر کتنی فوج ہوگی۔ہوائی جہاز استعمال کرنے کی تو ہم کو اجازت نہیں تھی ہم دیکھ سکتے تھے یا فوجی سپاہیوں کو بھیج کر معلوم کرسکتے تھے۔ تو جب میں نے معلوم کیا تو جو اندازہ ہم نے لگایا تھا کہ اتنی فوج ہوگی اتنی توپیں ہوں گی اُس کے اوپر ہم نے فوج بھیج دی۔وہ آدمی بڑا اچھا ہوشیار تھا اُس نے جاکر حملہ کیا لیکن جب حملہ کیا تومعلوم ہوا کہ اُس کی پشت پر بہت زیادہ فوج پڑی ہوئی تھی او ربہت زیادہ سامان بندوق اور توپیں وغیرہ تھیں۔ بہرحال انہوں نے حملہ کردیا چوٹی کے قریب پہنچے اور بہت بُری طرح اُن کو انہوں نے دبایا اور بڑی بہادری سے حملہ کرتے ہوئے نکلے اور فائدہ یہ ہوا کہ ہماری ایک فوج جو پھنسی ہوئی تھی وہ بچ کے آگئی۔تو کہنے لگے ہندوستانی ریڈیو نے بہت شور مچایا کہ سات سَو آدمی مارا گیا ہے اور تین ہزار قید ہوگیا ہے اور یہ ہے اور وہ ہے۔کہنے لگے ہماری تو صرف ایک بٹالین تھی ہزار آدمی کی اِس میں سے سات سو مارا گیا تو زخمی ہونے اور قیدی ہونے کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔کہنے لگے آرڈر آگئے۔ کمانڈر انچیف نے مجھ سے جواب طلبی کی کہ تم نے سات سو آدمی مروا دیا ہے او راتنا آدمی قید کروا دیا ہے اور رپورٹ کوئی نہیں۔میں نے جواب یہ دیا کہ صاحب! یہ جھوٹ ہے وہ تو روز جھوٹ بولتے ہیں اُن کی توغرض یہ ہے کہ اپنے آدمیوں کے حوصلے بڑھائیں اور ہمارے حوصلے گرائیں۔اتنی فوج نے حملہ کیا ہے اور سات آدمی کُل مرے ہیں اور قید خبر نہیں اُس نے تین چار بتائے یا کہا کوئی نہیں ہوا۔اور ہمارافائدہ یہ ہوا کہ ہماری ایک رجمنٹ جو پھنسی ہوئی تھی وہ بچ کے آگئی اوردوسرے ہم نے اُن کا بڑا سخت نقصان کیا اور اُن پر رعب قائم کیا۔چوٹی پر ہماری فوج پہنچ گئی۔ہم نے تو بڑا اچھا کام کیا ہے۔ تو کہنے لگے پھر دوبارہ اس کے اوپر مجھ سے جواب طلبی ہوئی کہ یہ بتاؤ سات آدمی کیوں مرے ہیں؟ تو اِس لئے میں پوچھتا ہوں کہ آپ وہ ترکیب بتائیے کہ کشمیر میں فتح کرلوں اورایک آدمی بھی نہ مرے۔میں نے کہا پھر یہ گورنمنٹ سے ہی پوچھومجھ سے کیا پوچھتے ہو۔ تو جب میں نے یہ مثال سنائی اُس کرنیل کا چہر ہ روشن ہوگیا کہنے لگا میری تسلی ہوگئی،میں سمجھ گیا۔میں نے کہا اچھا۔اب میں حیران کہ قرآن کی آیت سے تسلّی نہیں ہوئی۔تو اِ س بات سے تسلی ہوگئی ہے۔ میں نے کہا آپ کی تسلی کس طرح ہوگئی ہے؟ کہنے لگا وہ کرنیل جس نے حملہ کیا تھا وہ میں ہی تھا او راِسی کا بُرا اثر میری طبیعت پر ہے۔تو کہنے لگا میں ہی تھا وہ حملہ کرنے والا۔ اور جب افسر کو پوچھا گیا تو مجھے بہت زجر ہوئی اور میرا حوصلہ بالکل ہی مرگیا۔میں نے کہا یہ چند دن کی بات ہے جب تک پاکستان نہیں لڑنا چاہتا وہ تم کو روکے گا۔لازماً اُس نے روکنا ہے وہ روکے گا تو سپاہیوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے کہ لڑنے تو کوئی دیتا نہیں آہستہ آہستہ مایوسی پیدا ہونی شروع ہوجائے گی۔
    تو تیار رہنے اور ایمان کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ تیار رہنے اور وقت پرجاکر ارادہ کرنے میں زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔تم کو اپنے نفسوں میں یہ فیصلہ کرلینا چاہئے کہ ہماری اور عالَم اسلام کی حالت اِس وقت ایسی ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان ہوتی ہے۔اگر اِس وقت فلسطین پر کوئی مصیبت آجائے یا عراق پر آجائے یا ایران پر آجائے تو اب حالت ایسی ہے کہ یا مسلمان اکٹھے مریں گے یا اکٹھے بچیں گے۔یہ وہ وقت نہیں کہ فلسطین اورایران او رمصر کو الگ الگ دیکھا جائے یا پاکستان ہے اِس کو الگ دیکھا جائے۔اگر کوئی ملک بیوقوفی کرتا ہے تو اُس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔فرض کرو وہ کہہ دیتا ہے مجھے تمہاری ضرورت نہیں تو اُس کو بِکنے دو جو بِکتا ہے تجھے ضرورت ہے ہماری اور ہمیں تیری ضرورت ہے بہرحال ہم نے اتحاد سے ہی کام کرنا ہے۔ اس ارادہ کے ساتھ جب دیکھو گے علاوہ نیک مشورہ او ردعاؤں کے تو پھر تمہارے اندر وہ صحیح عزم پیدا ہوجائے گا کہ موقع کے اوپر فوراً قربانی کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ گے۔
    اِسی طرح یہ جو لوگ افسروں کے خلاف باتیں کرتے ہیں تم یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لو کہ جہاں لاری اور ریل میں کوئی شخص بولے فوراًاُسے پکڑو او راِس طرح اُس سے سوال کرو کہ تُو بتا تُو غلام محمد گورنر جنرل کو جانتا ہے؟ تُو محمد علی وزیر اعظم کو جانتا ہے؟ تُو محمد علی فائنائنس منسٹر کو جانتا ہے؟ تُو گرمانی وزیر داخلہ کو جانتا ہے؟ تُو محمد علی وزیراعظم کو جانتا ہے؟تُو محمد علی فائنانس منسٹر کو جانتا ہے؟تُو گورمانی وزیر داخلہ کو جانتا ہے؟تُو اشتیاق قریشی کو جانتا ہے؟ تُو فیروز خان کو جانتا ہے؟ تُو مظفر خان کو جانتا ہے؟ تُو امین الدین صاحب گورنر کو جانتا ہے؟یہ کیوں کہتا ہے کہ سارے کے سارے بے ایمان ہیں؟کتنوں سے تیرا واسطہ پڑا ہے؟ کسی ایک یا دو یا چار سے تیرا واسطہ پڑا ہے تُو سارے ملک کے افسروں کو بدنام کرتا ہے؟دیکھو اتنے میں ہی یکدم پانچ سات نوجوان تمہاری تائید میں کھڑے ہوجائیں گے کہیں گے یہ بالکل ٹھیک بات ہے اور آہستہ آہستہ یہ رَو بدل جائے گی اور کسی کو جرأت نہیں ہوگی کہ ریلوں اور سڑکوں اور لاریوں میں گورنمنٹ کے خلاف اِ س قسم کا پروپیگنڈا کرے۔ اور جس وقت یہ رو بدلے گی ملک میں امن بھی پیدا ہونا شروع ہوجائے گا او رحکومت کے ساتھ تعاون کی روح بھی پیدا ہوتی چلی جائے گی۔
    جماعت کے اخبار اور رسائل کی اشاعت بڑھانے کی تحریک
    پانچویں بات میں احمدیہ لٹریچر کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔انسانی علم یا فیضِ صحبت سے بڑھتا ہے یا مطالعہ سے بڑھتا ہے۔
    فیضِ صحبت کا زمانہ تو اب بہت ہی کم ہوگیا ہے۔پرانے زمانہ میں تو دروازوں کے آگے لوگ بیٹھ جاتے تھے اور وہ ہلتے نہیں تھے۔کہتے تھے چاہے ایک بات کان میں پڑجائے چاہے دو پڑ جائیں علم بہرحال قیمتی چیز ہے ہم بیٹھے رہیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے قریباً تین سال پہلے حضرت ابوہریرہؓ ایمان لائے اور انہوں نے کہا کہ میں تو بڑی دیر میں ایمان لایا ہوں۔بیس بیس سال پہلے مجھ سے ایمان لائے ہوئے آدمی روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنتے تھے تو مجھے یہ موقع نہیں ملا اب میں جلدی جلدی کچھ حاصل کروں۔ وہ کہتے ہیں میں نے قسم کھالی کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کو نہیں چھوڑونگا۔چنانچہ میں رات اور دن بیٹھا رہتا تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے تھے میں فوراً آپ کی بات سن لیتا تھا اِ س وجہ سے باقی سب صحابہؓ نے مل کر بھی اتنی باتیں نہیں سنیں جتنی اکیلے میں نے سنی ہیں۔6 تو ایک تو یہ رنگ اور شوق ہوتا ہے۔ مگر یہ رنگ اور شوق لوگوں میں کم ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ انسان صحیح مطالعہ کرے اور مطالعہ کرکے اپنے علوم کو بڑھائے یہ آجکل زیادہ آسان ہے کیونکہ مطبع نکل آئے ہیں۔ اخباریں نکل آئی ہیں ،رسالے نکل آئے ہیں، علوم کثرت کے ساتھ باہر کرتے ہیں اُن کے مطالعہ سے انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ آگے مطالعہ کے لئے دو قسم کا لٹریچر ہوتا ہے ایک مؤقت الشیوع او رایک انفرادی حیثیت میں شائع ہونے والا۔مؤقت الشیوع رسالے جو ہمارے ہیں اُن میں ‘‘الفضل ہے، ریویو آف ریلیجنز ہے،فرقان ہے،مصباح ہے،خالد ہے۔یہ وہ مؤقت الشیوع رسالے ہیں جن سے جماعت کے لوگوں تک سلسلہ کی آواز پہنچتی رہتی ہے لیکن باوجود میرے بار بار توجہ دلانے کے ابھی اِن اخباروں اور رسالوں کی وہ خریداری نہیں ہے اور اتنی اشاعت نہیں جتنی ہونی چاہئے۔ مثلاً جلسہ پر تیس ہزار کے قریب آدمی آجاتا ہے بعض دفعہ پینتیس یا چالیس ہزار تک بھی آگیا ہے۔بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ہو گیا ہے لیکن‘‘المصلح’’کی خریداری بائیس سو کے قریب ہے۔ اب یہ خریداری اُس تعداد سے جو جلسہ پر آجاتے ہیں کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی او رپھر جو ہزاروں ہزار آدمی باہر بیٹھا ہے،لاکھوں آدمی باہر بیٹھا ہوا ہے وہ تو اَور زیادہ ہے۔جو لوگ غیر مُلکی ہیں اُن کی زبان اور ہے اُن کو جانے دو۔جو ہمارے ملکی ہیں وہ بھی لاکھوں آدمی باہر رہ جاتا ہے تو یہ اُس نسبت سے کم ہے۔
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ المصلح مثلاً روزانہ اخبارہے اِسکی قیمت زیادہ ہے۔یہ ٹھیک ہے لیکن اگر پانچ پانچ چھ چھ مل کر خرید لیں تو آپ ہی قیمت تھوڑی ہوجاتی ہے۔ فرض کرو چوبیس روپیہ قیمت رکھی ہے چھ آدمی مل گئے تو چار چار روپے ہوگیا۔چار روپے تو آجکل ہفتہ واری اخبار کے نہیں ہوتے۔پہلے بدر وغیرہ چھپتے تھے ہفتہ واری تھے اُن کی اِس چار سے زیادہ قیمت ہوتی تھی تو جماعتیں مل کے لے لیں۔چھوٹی جماعتیں آپس میں مل کے چندہ کریں اور مل کے خرید لیا کریں۔ مگر باوجود باربار توجہ دلانے کے جماعت کوپوری طرح آواز پہنچتی نہیں اور اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی نیک تحریکیں رہ جاتی ہیں۔بعض دفعہ تو میں نے یہ بھی چِڑکے کہا ہے کہ تم اخبار کسی کو دکھایا نہ کروتا کہ وہ خریدے۔ مگرکئی دفعہ میں نے یہ بھی نصیحت کی ہے مایوس ہوکر کہ اچھا تم پکڑ پکڑ کے لوگوں کو اپنا اخبار پڑھایا کرو کیونکہ دونوں دَور انسان پر آتے ہیں کبھی چِڑتا ہے انسان کہ کہتا ہے خرید لو۔ نہیں خریدتے تو نہ دو اُن کو اخبار۔پھر کبھی یہ خیال آتا ہے کہ نہ دو تو بالکل محروم رہ جاتے ہیں۔پھر میں کہتا ہوں پکڑ کے پڑھاؤ۔ تو درحقیقت مختلف دَور ہیں انسانی قلب کی کیفیت کے۔ بہرحال اِن اخباروں کاپھیلنا اور ان کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔
    ریویو آف ریلیجنز کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش تھی جب جماعت صرف چند ہزار تھی کہ دس ہزار شائع ہو مگر افسوس ہے ہم اتنی بڑی جماعت ہوگئے ہیں اور اب بھی ہم دس ہزار نہیں شائع کرسکے۔اگر دس ہزار وہ شائع ہو(ریویو آف ریلیجنز)تو اس کے اوپر ایک لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے۔درحقیقت اتنی بڑی ہماری جماعت کے لئے ایک لاکھ کونسی مشکل ہے۔میرے نزدیک تو سَو آدمی جماعت میں یقیناً ایسا موجود ہے جو ہزار ہزارروپیہ سالانہ دے سکتا ہے حضرت صاحب کی اِس خواہش کو پورا کرنے کے لئے۔لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔دس ہزار رسالہ تمام دنیا کی لائبریریوں میں جانا شروع ہو تو ایک سال میں کتنا شور پڑ جاتا ہے۔ابھی حضرت صاحب کی کتاب’’اسلامی اصول کی فلاسفی’’امریکہ میں شائع کی گئی ہے اور اس کا اثر اتنا گہرا پڑرہاہے کہ کل ہی میرے پاس رپورٹ آئی ہے کہ کوئی اٹھارہ بیس یونیورسٹیوں کی طرف سے اُس کے آرڈر آئے ہیں کہ ہماری لائبریریوں کے لئے بھیج دو۔دس بارہ پبلشرز کی طرف سے اسکی کچھ کاپیاں منگوائی گئی ہیں کہ ہم آپ کے ایجنٹ بننا چاہتے ہیں اس کو شائع کرنا چاہتے ہیں۔بعض بڑے بڑے پایہ کے آدمی مثلاًیونیورسٹیوں کے چانسلروں نے لکھا ہے کہ اِس قسم کی دیدہ زیب او ر اعلیٰ مضمون والی کتاب ہمارے لئے حیرت انگیز ہے۔ایک نے لکھا ہے کہ میں اپنی شیلف پر اس کو نمایاں جگہ پر رکھنے میں فخر محسوس کروں گا۔اگر ریویو آف ریلیجنز دس ہزار دنیا کی دس ہزار لائبریریوںمیں جائے اور فرض کرو پانچ آدمی بھی اس کو پڑھ لیا کریں تو پچاس ہزار آدمیوں کو ہماری تبلیغ سارے عیسائیوں اور ہندوؤں وغیرہ کو مہینہ میں پہنچ جاتی ہے کہ نہیں؟تو لاکھ روپیہ میں ہے کیا رکھا ہوا۔ہماری اِ س جماعت کے لئے اب لاکھ کچھ چیز نہیں ہے۔دو تین ہزار دینے والا سَو آدمی یقیناً ہمارے پاس موجود ہے اگر وہ ہمت کرے۔ اور اس کو اور بھی گِرادو دُگنے آدمی کردو۔ چلو کچھ ہزار ہزار دینے والے رکھو مثلاً ڈیڑھ سَو کردو۔پانچ پانچ سَو دینے والے سَو آدمی ہوں اور ہزار ہزار دینے والے پچاس آدمی ہوں۔ اِسی طرح اوربھی گرایا جاسکتا ہے زیادہ سے زیادہ پانچ سو آدمیوں پر پھیلاؤ تب بھی ایک لاکھ روپیہ آسانی سے ہوجاتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خواہش آج تک بھی تشنۂ تکمیل رہی ہے۔ ہم نے اِس خواہش کو ایک سال بھی تو پورا نہیں کیا کہ دس ہزار ریویوآف ریلیجنز دنیا میں شائع کیا جائے۔بہرحال ان اخباروں کا مطالعہ رکھنا چاہئے اور اخباروں کو بھی اپنے آپ کو مفید بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
    اخبارات اور رسائل کو زیادہ سے زیادہ مفید بناؤ
    ہمارے اخباروں کو خواہ مخواہ دوسروں سے الجھنا نہیں چاہئے۔میں دیکھتا ہوں بعض دفعہ بلاوجہ الجھ جاتے ہیں کوئی فائدہ نہیں اُس کاہوتا۔آخر ہر شخص
    کو اپنا مقام سمجھنا چاہئے۔اپنا کام سمجھنا چاہئے۔ہمیں کیا ضرورت ہے کہ دوسروں کی نقل کرتے پھریں۔ رسو ل کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا واقعہ آتا ہے نہایت دردناک۔ کسی مسئلہ کو سوچنے کے لئے آپ صفا میں باہر نکلے او رایک چٹان کے اوپر بیٹھ گئے اور سوچنے لگے۔صبح کا وقت تھا ابوجہل نکلا۔ابھی لوگ چلتے پھرتے کم تھے اِدھر آپ کو اُس نے دیکھا کہ سر لٹکائے ہوئے بیٹھے ہیں اکیلے۔تواُس نے کہا یہ موقع اچھا ہے ان کو ذلیل کرنے کا۔ سیدھا آپ کی طرف آیا اور زور سے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا۔جب آپ کے منہ پر اُس نے تھپڑ ماراتو آپ نے سر اوپر اٹھایااور فرمایا اے لوگو! میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم بیٹھے بٹھائے بلاوجہ مجھے مارتے ہو؟اور پھر آپ نے اس طرح سر جھکا لیا۔حضرت حمزہؓ اُس وقت تک مسلما ن نہیں ہوئے تھے۔چچا تھے آپ کے۔بڑے بہادر تھے۔سپاہی تھے۔شکار کو جاتے تھے۔سارا دن اِدھر اُدھر پھرتے تھے۔مسلمان نہیں ہوئے تھے۔حمزہؓ کا گھر سامنے تھا ایک پرانی لونڈی جس کے ہاتھوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے اور اُس نے آپ کو بڑا اور جوان ہوتے ہوئے دیکھا تھا(اور لونڈیوں کو بھی ماں جیسی محبت ہوجاتی ہے)وہ کھڑی تھی دروازہ کے آگے۔اُس نے یہ سارا نظارہ دیکھا۔ اُس کے دل کو بہت تکلیف پہنچی او روہ روئی۔حمزؓ تو تھے نہیں سارا دن کہتے ہیں کام کرتی جاتی او ریہ فقیرہ دہراتی جاتی تھی کہ میری آمنہ کے بچے کو لوگ بلاوجہ مارتے ہیں۔شام کے وقت حضرت حمزہؓ آئے، ہتھیار لگائے ہوئے تھے، بڑی شان کے ساتھ، اپنے فخر کے ساتھ کمان لٹکائی ہوئی گھر میں داخل ہوئے تو دیکھتے ہیں وہ لونڈی اُن کے پیچھے پڑگئی۔کہنے لگی شرم نہیں آتی سپاہی بنا پھرتا ہے یہ کوئی سپاہی ہونا ہے کہ تم شکار مارتے پھرتے ہو۔تم کو پتہ ہے کہ آج تمہارے بھتیجے کے ساتھ کیا ہوا؟حمزہؓ نے پوچھا کیاہوا؟کہنے لگی میں دروازہ کے آگے کھڑی تھی اور رسول اللہؐ کا نام لے کر کہا کہ وہ ایک پتھر پر بیٹھا ہوا تھا او رکچھ سوچ رہاتھا کہ اتنے میں ابوالحکم(ابوجہل کا نام ابوالحکم تھا)آیا اور بغیر اِس کے کہ اس نے اُس کی طرف آنکھ بھی اٹھائی ہو جاکر بڑے زور سے اُس کے منہ پر تھپڑ مارا او رخدا کی قسم اُس نے کچھ بھی نہیں کہا۔اُس نے صرف یہی کہا کہ اے لوگو! میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ مجھے یونہی مارتے ہو؟ تو اگر تم سپاہی ہو تو جاکے غیرت دکھاؤ اور بدلہ لو۔یہ سپاہ گری تمہاری کون سی عزت ہے۔لونڈی کے منہ سے بات سن کے حمزہ ؓ کو بھی غیرت آگئی۔ اُسی طرح لَوٹے۔ ابوجہل خانہ کعبہ میں بیٹھا ہوا تھا۔اردگرد رؤسا بیٹھے تھے لوگ بیٹھے تھے اور فخر میں وہ یہی واقعہ سنا رہا تھا کہ آج میں اِس طرح گذرا۔محمدؐ یوں بیٹھاہو اتھا۔میں نے یوں مارا چانٹا زور سے۔ منہ ہلادیااُس کا۔اتنے میں حضرت حمزہؓ پہنچے۔ ہاتھ میں کمان تھی۔ کمان اٹھا کے زور سے اُس کے منہ پر ماری اور کہا تُو بہادر بنتا پھرتا ہے محمد تیرے آگے جواب نہیں دیتا اِس لئے تُو اُس کے آگے بہادر بنتا ہے۔میں آیا ہوں میرے ساتھ لڑ اگر تیرے اندر طاقت ہے۔ وہ لوگ کھڑے ہوگئے اِردگِرد۔اُس کے جوساتھی تھے، دوست تھے اور جھپٹے حضرت حمزہؓ پر۔ لیکن حضرت حمزہؓ کی بھی قوم بڑی تھی۔ابوجہل سمجھ گیا کہ یہاں تو آج مکہ میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔اُس نے کہا نہیں۔خیر مجھ سے ہی غلطی ہوگئی تھی جانے دو۔7
    تو دوسروں سے الجھنے میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔حمزہؓ اِس بات کے اوپر سیدھے گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے وہاں گئے۔دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ نے ایک صحابیؓ سے کہا پوچھو کون ہیں؟کہنے لگے حمزہ۔ آپ نے فرمایا حمزہ شکار چھوڑ کے کدھر کو آنکلے؟انہوں نے کہاشکار چُھٹ گیا اب میں آپ کا شکار بن کے آ گیا ہوں اور اُسی وقت کلمہ پڑھ کے وہ مسلمان ہوگئے او رپھر کہا یا رسول اللہ! کب تک آپ اِس گھر میں بیٹھیں گے اوراِن سے ڈریں گے خدا کی قسم! میں خانہ کعبہ میں خون کی ندیاں بہادونگا اگرکچھ کہیں۔چلئے مسجد میں چل کر نماز پڑھئیے۔آپ نے فرمایا نہیں ابھی وقت نہیں آیا۔ تو یہ چیز کتنا اخلاق پیدا کرتی ہے۔حمزہؓ کا اسلام اور بعد میں عمرؓ کا اسلام درحقیقت اُس قربانی کا نتیجہ تھا،اُس صبر کا نتیجہ تھا جو مسلمانوں نے دکھایا۔ہمارے اخباروں کو بھی چاہئے کہ ایسے موقع پر صبر سے کام لیں۔ اگرکوئی سختی کرتا ہے تو چپ کر رہیں۔آخر گالی سے ہمارے خلاف تو کوئی نتیجہ نکلتا نہیں لیکن گالی کوبرداشت کرنے سے ہمارے تائید اُن میں ضرور پید اہوگی۔ تو بلاوجہ ہمارے اخباروں کو دوسروں سے الجھنا نہیں چاہئے۔میں بعض دفعہ دیکھتا ہوں۔ابھی میں نے اخبار ڈان کے خلاف’’المصلح’’ کا مضمون پڑھاتو مجھے معلوم ہوا یونہی چِڑایا گیا ہے۔بھلا ہمیں ڈان کے جھگڑے میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے۔ خواہ مخواہ اُس سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ اور اگر ہم نے کچھ کہاہی ہو تو نصیحت کے رنگ میں کہنا کافی ہے۔دوسروں کے اوپرسختی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ہماری سختی سے تو اُس پر اثر نہیں ہوتا۔ وہ پچاس ہزار شائع ہونے والا اخبار اور ہر قسم کے فرقوں میں شائع ہونے والا اخبار۔ہمارا اخباراردومیں چھپنے والا۔ایک محدود قوم کے پاس جانے والا۔بھلا اس جواب کو پڑھتا ہی کون ہے اور سنتا ہی کون ہے۔ یہ چِڑانے والی بات ہے او رکیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ8 کوئی ہم پر سختی بھی کرلے تو ہم کو اُس کے مقابلہ میں نرمی سے کام لینا چاہئے۔
    علمی رنگ کے نئے نئے مضامین لکھنے کی ضرورت
    ہمیں چاہئے کہ ہمارے اخبار اور ہمارے رسالے لکھنے والے اور ہمارے جو تعلیم یافتہ لوگ ہیں وہ زیادہ سے زیادہ علمی مضامین کی طرف توجہ کریں
    اسلام کے بہت سے حصہ تشنۂ تحقیق ہیں۔اُن پر صدیوں تک ابھی نئے مضمون لکھے جاسکتے ہیں اور اِس عرصہ میں ہزاروں مسائل پیدا ہوتے جائیں گے۔ غرض صرف تحریص وترغیب پر نہ رہا جائے یہ خلیفہ کا کام ہے۔خطبے چھپتے رہتے ہیں اُن میں تحریص وترغیب ہوجاتی ہے۔زیادہ علمی امور کی طرف تحقیق کے ساتھ توجہ کی جائے اور نیا علم پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ہرپرانے مسئلہ کے متعلق نئے نئے دلائل نکالے جاسکتے ہیں کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہوتا جس کے متعلق نئی دلیلیں نہ لائیں اور نئے زاویۂ نگاہ نہ پیدا کئے جائیں۔جتنے مسلئے آج تک ہزاروں سال سے چلے آرہے ہیں اُن پر نئے نئے مضمون نکل رہے ہیں۔آخر مسلمانوں نے عصمتِ انبیاء کے متعلق بہت کچھ لکھا تھا حضرت صاحب نے آکے نیا ہی مضمون کھول دیا۔مسلمانوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں بڑے قصائد لکھے تھے مگر حضرت صاحب کے قصائد نے بالکل ہی مضمون بدل دیا۔لوگوں نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے کیریکٹر کو بڑے بڑے عمدہ رنگ میں پیش کیا تھا پر حضرت صاحب نے آ کے اُس کو ایسا رنگ دے دیا کہ معلوم ہوا دنیا نے ابھی توجہ ہی نہیں کی تھی۔ تو یہ خیال کرلیا کہ یہ پامال9 مضمون ہے،یہ پرانے مضمون ہیں یہ غلط ہے۔ اگر تحقیق سے دیکھا جائے تو ہر مضمون میں ایک جدّت پیدا کی جاسکتی ہے اور نئے نئے رنگ میں اُس مضمون کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔ مثلاًمسیحؑ کا واقعہ ہےمسیح ؑ کی وفات کے ہم قائل ہیں ہم نے قرآن سے اس پر بحث کی ہے اور ابھی قرآن کی بیسیوں آیتیں او رنکل آئیں گی جن سے وفاتِ مسیحؑ ثابت ہوتی ہے۔ہم نے حدیث سے بحث کی ہے پر حدیثیں بیسیوں اور نکل آئیں گی جن سے وفاتِ مسیحؑ ثابت ہوتی ہے۔ہم نے علماء کے اقوال پر غور کیا پر علماء تو لاکھوں گذرے ہیں اور لاکھوں کتابیں ہم تک نہیں پہنچیں۔لاکھوں میں سے سینکڑوں کتابیں اور نکل آئیں گی جن میں وفاتِ مسیحؑ پر لوگوں نے لکھا ہے مگر ان کے علاوہ غیر قوموں میں بھی اِس کا علم موجود ہے مثلاً مسیحؑ کی صلیب کا واقعہ رومی حکومت کے ماتحت گذرا ہے اور رومی حکومت کوئی قبیلہ نہیں تھا۔رومی حکومت آدھی دنیا پر حاکم تھی۔اِس تاریخ میں اُس کے ہر چھوٹے سے چھوٹے واقعہ کو بڑی تفصیل سے لکھا ہوا ہے۔مسیحؑ کے واقعات بھی اُس کے جو مختلف گزٹ ہیں یا مختلف تاریخیں ہیں اُن میں وہ درج ہیں لیکن ہمارے ہاں کسی نے کبھی بھی توجہ نہیں کی کہ مسیحؑ کے واقعات کو اُس زمانہ کی تاریخ میں سے نکال کردیکھے۔انہوں نے مسیحؑ کی ولادت کو کس طرح ثابت کیا ہے اگر وہ نکالیں تو بیسیوں قسم کی روشنیاں اُس پر پڑجائیں گی۔ مثلاًمسیح ؑ کے واقعہ میں بھی ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یوسف کی حضرت مریم سے شادی ہوئی اور وہ یوسف کے ہی بیٹے تھے لیکن جب رومی تاریخوں میں ہم نے پڑھا تو وہاں یہ نکلا کہ مریم پر اعتراض کیا جاتا تھا کہ اُس کا یہ حرام کا بچہ ہے۔ اب اگر واقع میں خاوند ہوتا اور خاوند کا بچہ ہوتا تو لوگ خاوندوں والی بیوی کو کبھی کہا کرتے ہیں تیرا حرام کا بچہ ہے ؟یہ ایک تصدیق مل گئی حضرت صاحب کے خیال کی یا پرانے محققین کے خیال کی۔اس میں حضرت صاحب بھی متفق ہیں پرانے محققین سے۔ اور پرانے محققین ہمارے ساتھ متفق ہیں۔ تو اگر اِن حوالوں کو نکالا جائے تو بیسیوں چیزیں اِس میں نکل آئیں گی۔ مثلاً وقت جو ہے صلیب کا وہ بھی نکل آئے گا۔ افسروں کا رویہ بھی نکل آئے گا۔یہ بھی نکل آئے گا کہ صلیب پر کتنے وقت میں موت ہوتی ہے۔ہم نے چند حوالے نکالے ہیں لیکن اس میں تفصیلاً ہزاروں ہزار واقعات پھانسی کے درج ہوں گے۔اُس میں بعض شائد ایسے بھی واقعات مل جائیں کہ بعضوں کو جلدی اتارا تو وہ زندہ تھے۔ تو اگر رومی تاریخوں کو ہمارے آدمی پڑھنا شروع کریں اور اُن میں سے ایسے واقعات جمع کرنا شروع کریں تو ایک نیا مضمون پیدا ہونا شروع ہوجائے گا او رپھر یہ ہے کہ جب انسان ان تاریخوں کوپڑھتا ہے تو بیسیوں اَو رمضمون بھی نکل آتے ہیں۔رومی حکومت ایک منظم حکومت تھی۔آج تک یوروپین قانون جوبن رہا ہے تو وہ رومن لاء پربنتا ہے بعض اصولِ قانون وہ ہوتے ہیں جو روما میں قانون جاری تھا۔اِسی طرح جو گورنمنٹیں باہر کالونیز بناتی ہیں اور دوسرے ملکوں میں جاکر حکومتیں کرتی ہیں اِس میں بھی رومن طریق کو اختیار کرتے ہیں کہ رومی اپنی کالونیز کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے او رکس طرح انہوں نے سینکڑوں سال تک کالونیز کو اپنے قبضہ میں رکھا۔پھر یہ ڈیماکرسی جو کہلاتی ہے یہ بھی رومن طریقے پر ہے کیونکہ روما میں ہی یہ آزادی تھی کہ لوگ الیکشن کرتے تھے گو اُس کی نوعیت اور قسم کی تھی۔ اور اپنا ایک بڑا افسر چنتے تھے او روہ حکومت کرتا تھا تو سینکڑوں سبق ہم اُس سے حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلاً اُس میں انتخاب کا جو طریقہ ہوتا تھا وہ خلافت سے بہت ملتا ہے۔ ہم اُس کا موازنہ خلافت سے کرکے ایک بڑا عمدہ مضمون پیدا کرسکتے ہیں۔پھر اُس میں دنیا سے ایک نرالی بات ہے کہ بعض دفعہ ایک وقت میں دو دو بادشاہ مقرر ہوتے تھے۔ اب یہ ہماری عقل میں نہیں آتا۔ قرآن شریف کہتا ہے دو بادشاہ ہوجائیں تو فساد ہوجائے گا لیکن اُن کے بیسیوںواقعات ایسے ہیں۔بیسیوں تو میں نہیں کہہ سکتا متعدد واقعات ایسے موجود ہیں کہ ایک وقت میں انہوں نے دو دو بادشاہ مقرر کئے ہیں۔یہ بھی اب دیکھنے والی بات ہے کہ انہوں نے اُن دو کو ایک کس طرح بنا لیا تھا۔ آخر بہرحال قرآن تو کہتا ہے دو میں فساد ہوتا ہے اگر دو رہتے تھے اور فساد نہیں ہوتا تھا تو انہوں نے ضرورکوئی ایسے طریقے ایجاد کئے ہونگے کہ باوجود دو کے پھر ایک حکومت بن جائے۔ یہ بھی ایک بڑا لطیف مضمون ہے۔ اِدھر قرآن کی آیت کو پیش کیا جائے کہ قرآن تو کہتا ہے دوسے فساد وہوتا ہے۔اگر خدا زیادہ ہوتے ایک سے تو فساد ہوجاتا۔تو خدا زیادہ ہوجائیں تو فساد ہوجائے تو بادشاہ زیادہ ہوجائیں تو کیوں نہیں فساد ہوجائے گا۔ مگر وہاں نہیں ہوتا تھا۔ تو یا تو یہ تاریخ سے ثابت کریں آیا یہ ناکام ہوا تھا تجربہ اور فساد ہوجاتا تھا یا یہ ثابت کریں کہ دو اصل میں دو رہتے ہی نہیں تھے انہوں نے ایسا قانون بنایا ہوا تھا کہ دو ایک بن جاتے تھے۔ تو پھر یہ ایک نیا نتیجہ نکل آئے گا کہ قرآن کی بات ٹھیک ہے کہ ایک سے زیادہ فساد پیدا کرتا ہے تو کئی قسم کے دلچسپ مضامین اِن سے نکل سکتے ہیں۔یہ جو نیابت کا طریقہ ہے اب یوروپین نیابت کا اور طریقہ ہے، اسلامی نیابت کا اور طریقہ تھا، رومی نیابت کا اور طریقہ تھا۔ اِس پر لمبی بحث کی جائے کہ کیا کیا طریقے تھے نیابت کے اور پھر اُن کے کیا فوائدحاصل ہوئے اور کیا نقصان پہنچے؟غرض غیرملکوں پر حکومت کرنے کا اُن کا طریقہ تھا۔قانون سازی کااُن کا طریقہ تھا۔آج تک دنیا اُن کے قانون کی اتباع کرتی ہے۔ ہم نے دیکھنا ہے کہ پرانی قانون سازی اور اُن کی اصول سازی میں کیا فرق ہے؟ کیوں اسلامی قانون کو ہم برتری دیویں رومن قانون پر؟ اُس کے اندر فرق کیاہے؟کیا انسانی حقوق یا انسانی امن کی حفاظت کے لئے اُس میں کوئی بہترین تجویز کی گئی ہے؟ پھر اُن کے قانون کے پس منظر کے متعلق باتیں نکل سکتی ہیں۔ اِسی طرح اَور بہت سارے مضامین نکل سکتے ہیں جن سے صرف رومی کتابیں پڑھنے والا آدمی ہمارے لٹریچر کو اتنا مالدار بنا سکتا ہے کہ ساری دنیا نقلیں کرے اور آکے کہے یہ بڑی مفید باتیں نکل رہی ہیں جو ہمارے ذہن میں نہیں تھیں۔ہمارے اکثر دوست اِ س علمی رجحان سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ہم مستقل علمی میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں اپنے خالص دائرہ کے باہر۔ دوسرے علماء ہم سے آگے ہیں۔ مثلاًشبلی تاریخ کے معاملہ میں ہم سے آگے ہیں اور اِسی طرح نانوتوی صاحب جو ہیں وہ بعض تحقیقاتوں میں یقیناً ہمارے علماء سے آگے ہیں۔مولانا چراغ الدین صاحب چڑیا کوٹی عیسائی او ریہودی لٹریچر کے معاملہ میں ہمارے آدمیوں سے آگے ہیں۔مولوی خدابخش کلکتوی جو ہیں وہ اسلامی تمدن کے متعلق تحقیقات میں ہمارے علماء سے آگے ہیں۔مولوی عبدالحی فرنگی محلی جو ہیں فقہ کے متعلق بعض بحثیں انہوں نے اس طرز پر کی ہیں کہ وہ ہمارے علماء سے آگے ہیں۔بلگرامی صاحب اسلامی تاریخ کے متعلق ہمارے علماء سے آگے ہیں حالانکہ یہ بعد میں آئے ہیں۔ان کو بہت زیادہ فراغت حاصل ہے۔ان کو بہت زیادہ لٹریچر پڑھنے کا موقع ہے۔ان کو جماعت کی امدادزیادہ حاصل ہے۔اِن کے لئے وہ مشکلات نہیں ہیں جو اُن لوگوں کے لئے تھیں۔سوال صرف یہ ہے کہ یہ لوگ کتاب پڑھتے ہیں کسی مقصد کو سامنے نہیں رکھتے۔اگرمقصد مدنظر رکھیں کہ فلاں نقطۂ نگاہ کی میں نے تحقیقات کرجانی ہے اور اس کے لئے اتنا لٹریچر میں نے ضرور پڑھ جانا ہے تو پھر اُن کا حوصلہ بڑھ جائے گا۔تو ہمارے انگریزی دان اور علماء بھی اسے سے بہترکام کرسکتے ہیں جو انہوں نے کیا لیکن کرتے نہیں۔اِس کی وجہ اول مطالعہ کے شوق کی کمی ہے دوسرے مطالعہ کی لائن مقرر نہیں کرتے۔ حالانکہ ہر شخص اپنے لئے ایک طریق مقررکرلیتی ہے کہ میں نے فلانی لائن پر چلنا ہے اور وہ اس میں تحقیقات کرتا رہتا ہے۔
    میں نے دیکھا ہے بعض اسلامی مسائل ایسے ہیں کہ جن میں ہمارے علماء نے وہ بحث نہیں کی جوعیسائیوں کمبختوں نے کی ہے جو عربی نہیں جانتے۔ مثلاً ہمارے علماء قرآن کے متعلق تیرہ سوسال سے یہی کہتے چلے آئے ہیں قرآن میں کوئی ترتیب نہیں اوریوروپین اس کو نقل کرکے ہم پر اعتراض کرتے چلے آئے ہیں۔ لیکن بعض یوروپین محقق ایسے ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ ہم نے جب قرآن پر غور کیا تو ہمیں اُس کی ترتیب نظر آگئی۔ تو دیکھو عیسائی ہوکے اُن کا ذہن ادھر چلا گیا اور مسلمان مفسرین میں ایک بھی نہیں ہے جو ترتیبِ کامل کا قائل ہو سوائے ابن حیّان کے کہ وہ ترتیب کا قائل ہے مگر وہ ادھوری ترتیب کا قائل ہے۔ باقی سارے مفسرین جو ہیں وہ بے ترتیب ہی قرآن کو لئے چلے جاتے ہیں۔ لیکن یورپ کا دشمن عیسائی لکھتا ہے کہ پہلے میرا خیال تھا کہ قرآن کے اندر ترتیب نہیں مگر جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اُس میں ترتیب ہے۔ اور پھر یہ بھی لکھتا ہے کہ ہماراعلم کامل نہیں اگر عربی علوم کا ذخیرہ جو ہے اُس کو پورے طور پر دیکھا جائے تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔تو اب وجہ اِس کی یہ ہے کہ ساری عمر وہ ایک بات میں لگادیتے ہیں۔اُس بات میں لگانے کی وجہ سے وہ باریک در باریک ،باریک در باریک باتیں نکالتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً خدا بخش صاحب ہیں جواُن کوکمال حاصل ہے وہ اِسی وجہ سے ہے کہ وہ جرمن زبان جانتے تھے اور جرمنوں نے اس کے متعلق بڑی تحقیقات کی تھی۔وہ جرمن زبان سے ان چیزوں کو اخذ کرکے ہمارے ملک کے سامنے پیش کردیتے تھے اور ہمارے علماء کو ان باتوں کا پتہ نہیں تھا۔ایسی تفصیل سے انہوں نے اسلامی جنگوں کے قواعد نکالے ہیں،اسلامی فوجوں کی تشکیل کا اندازہ لگایا ہے۔اُن کے اندر جو ڈسپلن قائم تھا اُس کا اندازہ کیا ہے،جس رنگ میں وہ فوجی پریکٹس کرنے تھے اُس کی تشریحیں لکھی ہیں کہ ہمیں حیرت آجاتی ہے کہ ہماری تاریخوں میں وہ نہیں پائی جاتیں۔انہوں نے کوئی ٹکڑہ کہیں سے لیا،کوئی ٹکڑہ کہیں سے لیا ساری عمر لگا کر پھر ایک کتاب لکھ دی کہ اسلامی ابتدائی زمانہ میں اُن کا فوجی انتظام یوں تھا۔اُن کے خزانہ کا انتظام یوں تھا اُن کے قانون کا انتظام یہ تھا۔
    اِسی طرح ہمارے لوگوں نے خاص موضوع کو منتخب کرکے اُس کے پیچھے پڑجانے کی عادت نہیں ڈالی۔حالانکہ مطالعہ کے وقت کسی خاص امر کو چُن لینا یا کسی گُتھی کو چُن لینا تحقیق کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ پس چاہئے کہ ہر تعلیم یافتہ آدمی ہماری بحث میں چاہے انگریزی دان ہو یا عربی دان ہو اپنے لئے ایک فیصلہ کرلے کہ میں نے فلاں مضمون کے متعلق تحقیقات کرنی ہے۔پہلا کام وہ یہ کرے کہ جس کو اُس مضمون کا واقف سمجھے اُس سے ملے ۔مثلاً میرے پاس آجائے۔ایک فوجی ہے وہ کہتا ہے میں نے فوجی امور کی تحقیقات کرنی ہے میرے پاس آجائے او رکہے جی مجھے یہ شوق پیدا ہوا ہے کوئی آپ کتاب بتاسکتے ہیں جس کے پڑھنے سے مجھے علم حاصل ہوسکے؟کوئی دو کتابیں میں نے بتادیں دوکسی اَور نے بتا دیں دو کسی اَور نے بتادیں اُن کو جمع کرنا شروع کیا۔اُن کو پڑھنا شروع کیا۔ آگے پھر اُن میں سوالات پیدا ہوئے اُن کو لکھا۔غرض تھوڑے سے مطالعہ کے بعدا یک مکمل مضمون پیدا ہوجائے گا جودنیا کے لئے بالکل نرالا ہوگا۔
    پس چاہئے کہ ہر تعلیم یافتہ کسی زبان اور کسی علم کی چند کتابیں اپنے لئے مقرر کرلے کہ سال میں اتنی کتب ضرور پڑھنی ہیں دوسرے اُن کو غور سے پڑھے اور حاشیہ پر تین قسم کے نوٹ کرے۔ ایک وہ باتیں جو نئی اور اچھی ہوں یا پرانی بات ہو لیکن اچھے پیرایہ میں بیان کی گئی ہو۔ دوسرے وہ غلط باتیں جو اُس کو غلط تو نظر آتی ہیں لیکن اس کو اُن کا جواب معلوم نہیں تحقیق طلب ہیں۔ تیسرے وہ باتیں جو غلط ہیں۔
    مطالعہ کے لئے تین مفید باتیں
    ہمارے پرانے زمانہ کے علماء نے اِس کے لئے ایک طریقہ اختیار کیا ہوا تھا وہ
    حاشیہ پر تین نوٹ لکھا کرتے تھے۔کتاب پڑھی جب کوئی اچھی بات نکلی کہ جس سے مفید سبق حاصل ہوتے ہیں یا وہ وعظ میں استعمال ہوسکتی ہے یا تصنیف میں ہوسکتی ہے تو اُس کے حاشیہ پر لکھتے تھے ‘‘ف ف’’ جس کے معنے ہوتے تھے یہ فائدہ بخش چیز ہے نفع رساں بات ہے۔ اور جب کوئی ایسی بات آتی تھی جس کو وہ سمجھتے تھے غلط ہے اور اس سے اسلام پر کوئی حملہ ہوتا ہے یا قرآن پر حملہ ہوتا ہے یا ہمارے تمدن پر حملہ ہوتا ہے یا ہماری حکومت پر حملہ ہوتا ہے یا ہماری تاریخ پر حملہ ہوتا ہے یا ہمارے اخلاق پر ہوتا ہے تو اُس کے حاشیہ پر لکھتے تھے ‘‘قِفْ’’ یعنی یہاں ٹھہر جا یہ گندی بات ہے۔’’قِفْ’’ کے معنے ہیں ٹھہر، یہ خراب ہے۔ اور جہاں کوئی ایسی بات ہوتی تھی جس کو وہ سمجھتے تھے کہ ٹھیک نہیں پر میرے پاس ابھی جواب نہیں اس کا۔میں اس کو غلط نہیں کہہ سکتا تو اس کے اوپر ‘‘؟’’ ڈال دیتے تھے۔تو یہ تین چیزیں اُن کو علم میں راہنمائی کرتی تھیں۔ وہ کتاب جب پڑھتے تھے تو اس کتاب پر حاشیہ لکھا جاتا تھا۔کتاب کو پڑھ کے پھر دوبارہ دیکھتے تھے تو ‘‘ف’’ والی الگ نکال لیتے تھے، ‘‘قِفْ’’والی الگ نکال لیتے تھے ‘‘؟’’(سوال) والی الگ نکال لیتے تھے۔ ‘‘ف’’ والیوں کو اپنے وقت پر استعمال کرلیتے تھے،‘‘قِفْ’’والیوں کا جواب اپنے شاگردوں کو یااپنے دوستوں کو بتاتے تھے کہ یہ غلط باتیں اِس میں لکھی ہوئی ہیں۔ اور ‘‘؟’’(سوالیہ )والوں کے لئے اور کتابیں پڑھتے تھے تاکہ تحقیقات ہوجائے یہ مسئلہ اصل کیا ہے۔ تو اِس رنگ میں اُن کے علم بڑھتے رہتے تھے۔یہ تین چیزیں انہوں نے بنائی ہوئی تھیں ‘‘ف۔قِفْ۔؟’’(سوال)۔ ‘‘ف’’ کے معنے ہیں مفید چیزیں۔‘‘قِفْ’’کے معنے ہیں غلط چیزیں اور ‘‘؟’’(سوال) کے معنے ہیں تحقیقات اَور کرو۔ اِس کے متعلق مزید روشنی کی ضرورت ہے۔
    جن لوگوں کو مطالعہ کی عادت ہے وہ بعض دفعہ بڑی عجیب چیز نکال لیتے ہیں۔تین دن ہی کا واقعہ ہے کہ المصلح اخبار آیا۔یوں تو اخبار کو میرے لئے پڑھنا عا م طور پر دستور نہیں ہے کیونکہ میں نظر مارتا ہوں اکثر مضمون ایسے ہوتے ہیں کہ مجھے پڑھنے کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی لیکن ایک مضمون تھا میں نے اُس کو پڑھا اور جب میں نے پڑھا تو میری حالت ایسی ہوگئی جیسے خواب کی ہوتی ہے یعنی اُس کے اندر ایک ایسا مضمون تھا کہ اگر وہ واقعہ صحیح ہےمیں ا س کی تحقیقات کرنا چاہتا ہوں۔ اگر وہ واقعہ صحیح ہے تو احمدیت کی تاریخ میں گویا وہ ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اتنا اہم حوالہ اس میں درج تھا اور لکھنے والا کوئی خاص ماہر آدمی نہیں تھاایک کلرک ہے لائل پور کا شیخ عبدالقادر،اُس کا تھا۔ وہ پہلے بھی اچھے مضمون لکھا کرتا ہے۔ اُس کو شوق ہے مضمون کا۔بائیبل کے متعلق بھی اُس کی تحقیقاتیں بعض دفعہ اچھی اچھی ہوتی ہیں۔ لیکن خیر وہ معمولی باتیں تھیں لیکن یہ تو ایسا حوالہ اُس نے نکالا ہے، خداتعالیٰ نے اُس کو دے دیا کہ حیرت ہوگئی۔ کیونکہ ہماری نظروں سے یہ بات کبھی نہیں گذری تھی اُس نے بالکل ہی آکے ہماری بحث کے زاویے ہی بدل ڈالے ہیں۔دیکھنا صرف یہ ہے کہ اُس نے کہیں درج کرنے میں غلطی تو نہیں کردی۔ تو اب ایک کلرک آدمی اگر اِس قسم کے مطالعہ سے یہ باتیں نکال سکتا ہے تو ایک گریجویٹ،ایک مولوی فاضل، ایک وکیل یا ڈاکٹر اگر اِ س قسم کی اپنے اپنے شعبہ میں باتیں کریں تو کیوں نہیں نکال سکتے۔ یا کسی قدر ہمارے یہ ڈاکٹر شاہ نوازسامنے بیٹھے ہیں ان کو بھی شوق ہے وہ نکالتے ہیں علم النفس کے متعلق لیکن کوئی DETAILED EFFORTنہیں ہوتی اِن کی۔کبھی کبھی ان کو جوش آیا کرتا ہے۔ تو یہ حوالہ بتاتا ہے کہ درحقیقت ہمارے لئے اور مصالحہ ابھی پڑا ہے او رحیرت انگیز طور پر ہماری کتابوں میں چیزیں موجود ہیں جو احمدیت کی تائید میں حاصل ہوسکتی ہیں۔
    لٹریچر کی اشاعت کیلئے دو کمپنیوں کا قیام
    میں نے لٹریچر کی اشاعت کے لئے دو کمپنیاں بنوائی
    تھیں ایک کا نام ہے ‘‘دی اورینٹل اینڈ ریلجس پبلشنگ کارپوریشن’’اور ایک کا نا م ہے‘‘الشرکۃ الاسلامیہ’’۔ الشرکۃ الاسلامیہ زیادہ تر اردو کی کتابوں کے لئے ہے۔ اور یہ اورینٹل اینڈ ریلجس پبلشنگ کارپوریشن’’جو ہے یہ یوروپین زبانوں کی اشاعت یا عربی زبان کی اشاعت کےلئے ہے۔پیچھے میں نے اعلان کیا تھا کہ ان میں کوئی دوست حصہ نہ خریدیں۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ میرے پاس بعض احمدیوں کی شکایت آئی تھی کہ ہم نے روپے دیئے ہیں تو ہم کو رسید نہیں ملتی۔دوسرے یہ شکایت آئی تھی کہ انہوں نے جو ایجنٹ مقرر کیا اُس نے یہ کہا کہ مجھ سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ جو سلسلہ حصہ خرید چکا ہے(وہ آدھی رقم یعنی اڑھائی لاکھ کے سلسلہ خرید چکا تھا)اُس پر بھی اُسے کمیشن دیا جائے گا۔ تو یہ مجھے بڑا ظلم معلوم ہو اکہ ہم نے جو کمپنی بنائی ہے تو بنانے سے پہلے حصے دئیے ہیں وہ ایک دن میں آکے ہم سے چھ ہزار روپیہ لے جائے۔ تو اِس وجہ سے میں نے اس کو روک دیا تھا مگر بعد میں مجھے تسلّی دلائی گئی ہے کہ وہ غلط فہمی تھی یہ کوئی وعدہ نہیں ہے کہ اُس کو اُن حصوں پر جو پہلے ہمارے فیصل شدہ تھے کوئی کمیشن دیا جائے گا لیکن جو کوشش سے وہ لائے یا کوشش کے دوران میں اگر کوئی نئے حصے آئیں تو بیشک یہ قاعدہ مقرر ہے کہ اُن میں اسے کمیشن مل جائے۔ اور اس کے متعلق میں نے ہدایت دی ہے کہ جب کوئی شخص لے تو وہ روپیہ براہ راست بھجوائے اور یہاں سے فوراً رسید چلی جائے چاہے وہ کچی رسید ہو بعد میں پکی ہوجائے خزانہ میں ایساعام ہوتا ہے ۔تو یہ وعدہ لے لیا ہے اِس لئے جو دوست ثواب میں حصہ لینا چاہیں وہ شامل ہوجائیں۔یہ الشرکۃ الاسلامیہ جو ہے یہ ساڑھے تین لاکھ کی ہے جو اورینٹل ہے وہ پانچ لاکھ کی ہے ۔اِس پانچ لاکھ میں سے اڑھائی لاکھ کی رقم سلسلہ خریدے گا اور اِس ساڑھے تین لاکھ میں سے ایک لاکھ پچھتر ہزار کے حصے سلسلہ خریدے گا باقی ایک لاکھ پچھتر ہزار کے حصے لوگوں کے لئے کُھلے ہوں گے اور اُدھر سے اڑھائی لاکھ کے حصے کُھلے ہوئے ہیں۔کچھ کم۔کیونکہ کچھ اَور صدرانجمن احمدیہ نے حصے لینے ہیں۔ اُدھر تحریک نے کچھ لینے ہیں۔ بہرحال انہوں نے کچھ کتابیں شائع کی ہیں گو وہ بے اصولی ہیں اِس لئے کہ جب تک کمپنی نہیں بن جاتی اُس کی طرف سے کتاب شائع کرنی ٹھیک نہیں ہوتی۔ ممکن ہے اگلے حصہ دار آکے کہیں کہ ہم اس کو تجارتی رنگ میں مفید نہیں سمجھتے ان کو Waitکرنا چاہیے تھا مگر کچھ تو ایسی چیزیں ہیں کہ جو شائع ہونے کے بعد بھی چونکہ سلسلہ کے مال سے ہی چھپی ہیں اِس لئے اس میں کوئی حرج نہیں۔مثلاً:-
    (1) ڈچ کا ترجمہ قرآن شریف کا چھپا ہے،
    (2) Message of Ahmadiyyatچھپا ہے۔
    (3) Charactristics of Quranic teachingsچھپا ہے۔
    (4) Islam versus Communismچھپا ہے۔
    (5) Existance of Godچھپی ہے۔
    (6) Why I believe in Islamچھپی ہے۔
    (7) Mohammad The Librator of Woman چھپی ہے۔
    (8) The Sillness Prophetچھپی ہے۔
    (9) Jesus In Quranچھپی ہے۔’’
    اس موقع پر حضور نے دریافت فرمایا کہJesus in Quranکس کی ہے؟ اِس پر وکالت تصنیف کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ شیخ ناصر احمد صاحب نے لکھی ہے۔ حضور نے فرمایا:-
    ‘‘میں کہہ سکتا ہوں کہJesus in Quranمیں نے دیکھی نہیں پر میں جانتا ہوں نامکمل کتاب ہوگی اِس لئے کہ میں نے سورۃ مریم کا درس دیا ہے اور اُس میں Jesus in Quranپر جو میں نے بحث کی ہے میں جانتا ہوں اُس کا دسواں بیسواں حصہ بھی کسی کتاب میں آج تک نہیں آیا۔تو جتنی زیادہ تحقیقات کی جائے بڑے مفاد نکل آتے ہیں۔ وہ انگریزی ترجمہ کے لئے میں نے نوٹ لکھوائے ہیں۔مثلاً میں مثال کے طور پر بتاتا ہوں کہ تم سارے قرآن پڑھتے ہو، تمہارا ذہن کبھی اِدھر نہیں گیا اس لئے کہ تم نے دوسرا لٹریچر نہیں پڑھا۔انجیل سے ثابت ہے کہ مسیح پیدا ہوئے دسمبر میں۔ اور یہ جو بڑا دن منایا جاتا ہے 23، 24، 25 دسمبرکو وہ اسی بڑے دن کی یاد سمجھی جاتی ہے کہ مسیحؑ اِس میں پیدا ہوا۔
    ہمارے مفسرین کو قرآن پر بحث کرتے ہوئے کبھی خیال نہیں آیا کہ قرآن میں یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہونے والاتھا تو خدا نے کہا کھجور کا درخت ہِلا اِس سے کھجوریں گریں گی اور کھجور دسمبر میں ہوتی نہیں۔کھجور ہوتی ہے اگست ستمبر میں۔سو قرآن کے رو سے مسیحؑ پیدا ہوا اگست ستمبر میں اورانجیل کی رو سے پیدا ہوا25دسمبر کو۔اب اِدھر تو یہ اختلاف کسی کے ذہن میں نہیں آیا تھا۔پھر یہ ثابت کرنا کہ قرآن سچا ہے اور انجیل جھوٹی ہے یہ بڑا مشکل کام ہے۔تو میں نے انجیل کی شہادتوں کو لے کر پھر یہ ثابت کیا ہے کہ انجیل میں جو بعض مظالم کی طرف اشارہ ہے اُن کے لحاظ سے لازماً یہی ماننا پڑتا ہے کہ وہ اگست ستمبر میں پیدا ہوا تھا اور جھوٹ بول کے ایک اَور مصلحت کے لئے اس کی پیدائش دسمبر میں بتائی گئی۔اِس طرح اَور کئی نئے مسائل اِس بحث میں آئے ہیں۔ چونکہ سوائے مریم میں حضرت مسیحؑ کا واقعہ آتا ہے اس میں کئی نئے مطالب نکلے اور بیان کئے گئے ہیں۔
    غرض ہمارے علماء کو چاہئے کہ کتبِ فقہ،حدیث،فلسفہ،فلسفۂ فقہ،قضاء، فلسفۂ قضاء،اسلامی معیشت،پہلی صدی کی معیشت،مسلمانوں کے تنزّل کے اسباب وغیرہ ایسے مضامین پر کتابیں لکھیں اور اُن کو شائع کریں تاکہ لوگوں میں بھی اُن کی علمیت کی قدر ہو کہ یہ کام اچھا کررہے ہیں اور جماعت کا بھی علم بڑھے۔
    چودہ زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم
    اِسی سلسلہ میں ہم نے سات تراجم کروائے ہیں۔1944ء
    میں مَیں نے سا ت قرآن شریف کے ترجموں کے لئے جماعت میں تحریک کی تھی۔ جرمن کے لئے میں نے عورتوں کے کام سپرد کیا تھا کہ جرمن کا ترجمہ عورتوں کے خرچ سے چھپے۔ اٹھائیس اٹھائیس ہزار کی میں نے تحریک کی تھی جس کو بعدمیں 33،33ہزار میں بدل دیا گیا تھا۔جرمن کاترجمہ عورتوں کے سپرد کیا گیاتھا۔ اور ڈچ وغیرہ کا ترجمہ بنگال اور اس کے نواحی کے لئے مقرر کیا گیا تھا یعنی بہار وغیرہ کے لئے۔ اور فرانس کا ترجمہ جو تھا وہ دہلی اور یوپی وغیرہ کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ اورسپینش کا ترجمہ سرحد اور مغربی اور شمالی پنجاب کے ضلعوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ اورپرتگیزی ترجمہ حیدرآباد اور بمبئی اور مدراس کے سپرد کیا گیا تھا۔ اور روسی زبان کا ترجمہ لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کے سپرد کیا گیا تھا۔ اور اٹالین زبان کا ترجمہ قادیان اور یوروپین ممالک کے جو تھوڑے بہت احمدی ہیں اُن کے سپرد کیا گیا تھا۔ تو یہ سات زبانوں کے لئے خداتعالیٰ کے فضل سے تحریک ہوئی او رجماعت نے بڑے اخلاص سے اور بڑے جوش سے چندہ دیا حالانکہ آج سے بہت تھوڑی جماعت تھی۔دولاکھ پینتالیس ہزار روپیہ کے قریب رقم اِس میں جمع ہوئی گویا جو مانگی گئی تھی اُس سے بھی زیادہ۔اٹھائیس اٹھائیس ہزار قرآن کریم کے لئے تھا اور پانچ پانچ ہزار’’اسلامی اصول کی فلاسفی’’اور ایسی کتابوں کی اشاعت کے لئے۔تو سات کے حساب سے دو لاکھ اکتیس ہزار بنتا ہے لیکن جمع غالباً دو لاکھ پنتالیس یا چالیس ہزار ہوگیا تھا جو مانگے سے بھی زیادہ تھا۔اب اِن سات ترجموں میں سے دوشائع ہورہے ہیں۔ایک تو شائع ہوگیا ہے ڈچ زبان کا اور چونکہ ڈچ کی حکومت انڈونیشیا میں تھی اور انڈونیشیا میں خدا کے فضل سے ہماری بڑی معزز جماعت ہے اِس لئے جب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ میرے پاس ترجمہ بھیجیں گے تو میں نے کہا ایک ڈچ کا ترجمہ جو پریذیڈنٹ ہے انڈونیشیا کا،بادشاہ کا قائم مقام اُس کو بھی تحفہ کے لئے بھیجو۔اُن کے ملک کو اِس زبان کے ساتھ اُنس ہے۔انہوں نے انگلستان میں دو ترجمے کتاب کے بھیجے او راُن کو کہا کہ آپ یہ آگے بھجوا دیں۔انہوں نے ڈچ کے لحاظ سے جو ڈچ کی کمپنی ہوائی جہاز کی تھی اُس سے جاکر ذکر کیا کہ ہم اِس طرح قرآن بھجوانا چاہتے ہیں اور ساتھ قصہ بھی بتادیا کہ یہ چھپوایا ہے ہم نے۔اور ایک ہم اپنے امام کے پاس بھجوانا چاہتے ہیں او رایک پریذیڈنٹ سکارنو کو پیش کرنے کے لئے اپنی جماعت کو دینا چاہتے ہیں کہ وہ سکارنو کو پیش کرے۔اُن پر تو اِس کاایسا اثر ہوا کہ انہوں کہا یہ تو ہمارے لئے ایک بڑا تاریخی واقعہ ہے او رعزت کی بات ہے اِس میں کوئی سوال تجارت کا ہے ہی نہیں۔ہم آپ کے امام کو بھی خود پہنچائیں گے اور وہاں بھی پہنچائیں گے۔آپ ہمارے پاس لائیے ہم آپ اس کی پیکنگ کریں گے او رآپ اس کو پہنچائیں گے آپ صرف اُن کو اطلاع دے دیں کہ اِ ن کے نمائندے کراچی میں آکے لے لیں او راُن کے نمائندے آکے ہم سے انڈونیشیا میں لے لیں۔ چنانچہ انہوں نے کہا پیکنگ آپ نہ کریں ہم اپنے طریق پر خود کریں گے اُس کی شان کے مطابق۔ چنانچہ اِنہوں نے قرآن دے دئیے۔پیکنگ اُنہوں نے کی۔ہم نے کراچی کو تار دے دیا ہماری جماعت والے وہاں گئے۔جس وقت ڈچ ہوائی جہاز آیا انہوں نے اِن کے حوالے کردیا اور وہ میرے پاس پہنچ گیا۔میرا ارادہ ہے کہ اگر گورنر جنرل اس کو منظور کریں تو چونکہ پاکستان سے روپیہ کا پرمٹ لیا تھا وہ جو میری کاپی آئی ہے وہ اُن کو پیش کردی جائے۔دوسری کاپی انڈونیشیا پہنچی۔ چنانچہ پرسوں سید شاہ محمد صاحب جو امیر ہیں وہاں کے اور رئیس التبلیغ ہیں اور یہاں آئے ہوئے ہیں اُن کو وہاں سے اخبارات پہنچ گئے ہیں۔اس کے اوپر انہوں نے بہت اعزاز کیا ہے فوراً انہوں نے وہاں کے پریذیڈنٹ کو دعوت دی کہ ہم پیش کرنا چاہتے ہیں اور اُس نے بھی فوراً منظور کیا۔تصویریں بھی چھپی ہوئی آئی ہیں کہ پریذیڈنٹ بڑے ادب سے کھڑا ہؤا ہے لینے کے لئے اور ہمارا آدمی اُن کو قرآن دے رہا ہے۔ اور پھر انہوں نے ریڈیو پر دو دفعہ اعلان کروایا۔ پھر تمام بڑے بڑے اخباروں نے اُس پر مضمون لکھے جن میں کہا گیا کہ یہ بڑا عظیم الشان اور اہم کام ہے۔
    جرمن میں چھپ رہا ہے جو عورتوں کی طرف سے ہے۔وہ چونکہ ریوائز ہوچکا ہے اور وہ چھاپتے بڑی جلدی ہیں کیونکہ ڈچ قرآن کے متعلق ابھی دو مہینے ہوئے اطلاع آئی تھی کہ پریس میں گیا ہے اور اب چھپ کے کاپیاں بھی پہنچ گئی ہیں۔پریس کے معلوم ہوتا ہے کہ بہت بڑے انتظام ہیں وہ بھی امید ہے کہ اور تین مہینے میں شائع ہوجائیگا گویا اب ہمارے صرف پانچ ترجمے باقی ہیں۔ہاں انگریزی کا ترجمہ بھی اب خالی چھپ رہاہے یعنی پہلے تو ایک تفسیر چھپ رہی ہے۔اِس کے ساتھ صرف دیباچۂ قرآن ہوگا اور انگریزی کا ترجمہ ہوگا۔اِس کے علاوہ اِسی سال ہمارا سواحیلی کا ترجمہ(جو افریقن زبان ہے اُس میں) شائع ہوا ہے او راُس کی وہاں خدا کے فضل سے بہت شُہرت ہورہی ہے۔ مولویوں نے فتوے دئیے کہ یہ کافروں کا ہے اِس کو نہیں چھُونا۔لیکن عجیب بات ہے یہ ہے کہ سب سے زیادہ چندہ غیراحمدیوں نے دیا ہے اور کثرت کے ساتھ وہ خرید رہے ہیں اورلوگوں میں تقسیم کررہے ہیں یعنی ایک خاندان نے ساڑھے بارہ ہزار روپیہ چندہ دیا ہے اِس کے لئے۔ اور کوئی پچاس جلدیں خرید رہا ہے،کوئی25خرید رہا ہے، کوئی10خرید رہا ہے،کوئی 12 خرید رہا ہے۔مولویوں کو انہوں نے جواب دے دیا کہ یہ تو خدمتِ اسلام ہے اِس میں ہم اُن کے ساتھ ملنے کے لئے تیار نہیں۔
    ملائی زبان کے متعلق میں شائد کل پرسوں کہہ چکا ہوں کہ تار پرسوں ہی آئی ہے کہ خدا کے فضل سے ملائی زبان کا ترجمہ مکمل ہوگیا ہے اب اس کے چھپنے کا انتظام کیا جائے گا۔بنگالی میں ہم ترجمہ کروا رہے ہیں۔انڈونیشین زبان میں بھی ہم ترجمہ کروا رہے ہیں۔گورمکھی اور ہندی میں بھی ترجمہ ہورہا تھا شائد مکمل بھی ہوگیا ہے(گورمکھی مکمل ہوچکا ہے)
    اور پھر اردو میں بھی ترجمہ انشاء اللہ تعالیٰ جلدی ہوجائے گا کیونکہ میری بڑے عرصہ کے بعد یہ رائے قائم ہوئی ہے کہ اردو کے ترجمہ پر ہم کو خاص زور دینا چاہئے۔ کیونکہ تعلیم کا اثر دل پر نہیں ہوتا جب تک اپنی زبان میں نہ پڑھی جائے۔ میں اس پر مدتوں سے غور کررہا تھاکہ عیسائیوں میں باوجود دہریت کے عیسائیت کے ساتھ محبت ہے اور مسلمانوں میں مومن ہوکے بھی اتنی محبت نہیں۔ تو میں آخر اِس نتیجہ پر پہنچا کہ ہم نے ایک ضروری چیز پر زوردیا اور ایک اَور ضروری چیز کو ترک کردیا۔قرآن کامتن پڑھنا بیشک ایک ضروری چیز ہے اور اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے ورنہ تحریف پیدا ہوجاتی ہے لیکن ساتھ یہ بھی زور دینا چاہئے تھا کہ اردو جاننے والے اردو میں ترجمہ پڑھا کریں۔قرآن کی تلاوت کریں۔ ایک رکوع وہ پڑھ لیا پھر یہ ایک رکوع اردو میں پڑھ لیا۔جب تک وہ اردو میں نہیں پڑھتے اُس وقت تک تھوڑی عربی جاننے والا اُس کے مضمون کو کہیں اخذ نہیں کرے گا۔طوطے کی طرح رٹا د و اِس کا وہ اثر نہیں ہوگا جتنا کہ اپنی زبان میں پڑھنے سے۔ جب بائبل کے پڑھنے سے عیسائی پر اثر پڑتا ہے کیونکہ وہ انگریزی میں یا جرمن میں پڑھتا ہے اور وہ اس کے دل میں داخل ہوتی چلی جاتی ہے تو میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بامحاورہ اردو زبان میں ترجمہ جلد شائع کیا جائے اور پھر ساری جماعت سے اصرار کیا جائے کہ تم روزانہ اِس اردو کی تلاوت کیا کرو علاوہ عربی کے۔تاکہ یہ مضامین تمہارے دل میں داخل ہوجائیں۔اِس طرح گویا ہماری جماعت کے چودہ تراجم کی انشاء اللہ تعالیٰ تکمیل ہوجائے گی جن میں سے سات ہوچکے ہیں(انگریزی کا بھی ہوچکا ہے اِس لئے آٹھ ہوچکے ہیں)اور باقی جو ہیں(چھپے ہوؤں کو میں نے نکال دیا تھا)وہ چھپ چکے ہیں اُن کو ملایا جائے تو یہ گیارہ ہوگئے۔دو تین اَور ہیں جو کہ ہونے والے ہیں۔ لیکن ضرورت یہ ہے کہ ہماری جماعت پھر اُن کو پھیلائے۔ اگر وہ ترجمے پڑے رہیں تو پھر فائدہ کیا۔قربانی کرنی چاہئے اور اپنے بجٹوں میں سے ایک حصہ ایسا ضرور رکھنا چاہئے کہ جس کے ذریعہ سے لٹریچر کو شائع کیا جائے۔
    اب عیسائی ہے عیسائی کو ہماری تبلیغ وہ اثر نہیں کرسکتی جتنا کہ قرآن اثر کرسکتا ہے۔ ہم اُس عیسائی کے سامنے آدھا گھنٹہ بات کریں گے تو ایسا ہی ہے جیسے کہ حسین عورت کا کان دکھا دیا۔کسی وقت ہم نے حسین عورت کی بھوں دکھا دی۔کسی وقت ایک حسین عورت کے ہم نے بال دکھا دیئے۔ کسی وقت ایک حسین عورت کی ایک ہم نے چھنگلیا دکھا دی۔کسی وقت ہم نے ایک حسین عورت کی دوسری انگلی دکھا دی۔کسی وقت ایک حسین عورت کا ہم نے انگوٹھا دکھا دیا۔کسی وقت ذرا سا برقع اتار کے اُس کا رنگ دکھا دیا۔اس سے تو کوئی عاشق نہیں ہوتا لیکن وہ سامنے آجاتی ہے جب ننگی ہو کر پھر ہر ایک فریفتہ ہوجاتاہے۔تو قرآن تو ایسا ہے جیسے اسلام کی ہم نے پوری شکل اُس کو دکھا دی اور ہماری تبلیغ ایسی ہے جیسے اس کو کوئی کان دکھا دیا،ناک دکھا دیا،آنکھ دکھا دی۔تو عشق کے پیدا کرنے کے لئے اُس کی ساری صورت کا پیش کرنا ضروری ہے۔پس قرآن جیسی تبلیغ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ دوسری ساری باتیں اِس کی مُمد ہیں او روہ ایسی ہی ہیں جیسے ایک حسین عورت کے ساتھ ایک اچھا دوست مل جاتا ہے۔کسی کی بیٹی ہے اُس کی شادی کرنی ہے تو اسلام نے جائز رکھاہے شادی ہونی ہو تو دیکھ لے۔10 اِدھر وہ دکھاتا بھی ہے پھر ساتھ زبانی بھی تعریف شروع کردیتا ہے کہ یہ ایسی اچھی ہے، ایسی نیک ہے، ایسی بھلی مانس ہے تو ہماری تبلیغ تو ایسی ہی ہے جیسے کہ دیکھی ہوئی خوبصورت عورت کے آگے کوئی کہہ دے بڑی شریف ہے،بڑی نیک عورت ہے،تمہارے گھر میں برکت آجائیگی۔تو اصل تو یہی چیز ہے جب ایک انسان عورت کو دیکھے گا، اُس کی عقل کو دیکھے گا،اُس کے علم کو دیکھے گا تو ہ فیصلہ خود کرے گا شریعت نے اُس کے اختیار میں رکھا ہے فیصلہ کرے۔ لوگوں کی باتوں پر تو نہیں رکھا۔ اِس لئے اصل اسلام لانا جو ہے تو قرآن کے اوپر ہے۔ ہماری باتوں سے تو صرف ایک ضمنی تائید ہوتی ہے ورنہ اصل خوبصورتی اسلام کی قرآن سے ہی پتہ لگتی ہے۔
    ایسے اخبار اور رسائل خریدو جو شریف اور تمہاری تائید کرنے والے ہوں
    اِن کے علاوہ یہ بھی جماعت کو چاہئے میں نے کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ
    بعض اخبارات ہوتے ہیں شریر دشمن۔ اور بعض ہوتے ہیں جو شرافت کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔میں نے جماعت کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ اپنی زبان کے چسکہ کو نہ دیکھا کرو۔جو شریف اخبار ہیں اُن کو خریدو تاکہ اُن کو مدد پہنچے لیکن مجھے افسوس ہے کہ باہر کی جماعت تو الگ رہی یہاں بھی جب میں پوچھتا ہوں ربوہ میں کون سے اخبار بکتے ہیں؟ تواکثر جو ہمارے مخالف ہیں وہ بکتے ہیں او رجوتائید میں ہیں وہ نہیں بکتے۔ یہ تو گویا اپنی قوم کی آپ دشمنی ہے او راپنی ناک کٹوانے والی بات ہے۔ اصل غرض تو ہماری خبروں کی ہوتی ہے۔جب ہمیں خبریں کسی اخبار سے مل جاتی ہیں تو چسکے کی خاطر ہم اپنے دشمن کی گودکیوں بھریں۔ مثلاً پچھلے دنوں میں‘‘ڈان’’نے کراچی میں اچھی تائید ہماری زور سے کی ‘‘سول اینڈ ملٹری’’ نے لاہور میں کی۔‘‘ملت’’ نے لاہومیں کی۔‘‘نوائے وقت’’نے بعض دفعہ تائید بھی کی۔کم سے کم شر میں جب اس نے مخالف بھی لکھا تو اصولی بات پر لکھا جماعتی اختلاف پر نہیں لکھا۔پھر’’لاہور’’اخبار ہے اِس میں بھی احمدی نقطہ نگاہ جو ہے اُس کی تائید ہی ہوتی ہے خلاف تو نہیں ہوتا۔ہمارے بعض اپنے آدمی اُس کے اخبار میں ایڈیٹر ہیں،تعلق والے ہیں۔ تو میں نے دیکھا ہےجب لیں گے تو’’زمیندار’’لیں گے۔ کیا ہے کہ ذرا گالیاں چسکے کی ہیں۔یہ نہیں کبھی میں نے سنا کہ فلانا جوتی زیادہ اچھی مارتا ہے تو میں اپنی بیٹی یا بیوی کو لے جاؤں کہ ذرا سر پر جوتیاں لگادے۔اِ س میں تو تم یہ کہتے ہو کہ میں کیوں اپنی ذلّت کراؤں او ریہ بڑا مشغلہ ہورہا ہے کہ حضرت صاحب کو گالیاں دے رہا ہے،مجھے گالیاں دے رہا ہے،سلسلہ کو گالیاں دے رہا ہے اور تم لے کر خرید رہے ہو۔اس کو پڑھ رہے ہو،یہ بڑا اچھا اخبار ہے، بڑا مزا آتا ہے۔میرے خیال میں تو یہ صفرا کی زیادتی ہے صفرا میں میٹھا بُرا لگنے لگ جاتا ہے۔ہر چیز کڑوی لگنے جاتی ہے اور بعض دفعہ ایسے آنکھوں کے اندھے ہوتے ہیں کہ زرد کو سرخ دیکھتے ہیں او رسرخ کوسُبتی 11 دیکھ لیتے ہیں۔ ایسے ہی اُس شخص کی مرض ہے کہ اپنی مفید چیز کو تو پسند نہیں کرتا اور غیر مفید کو پسند کرتا ہے۔
    تو یہ اپنے اندر احساس پیدا کرو کہ جو تمہاری مخالفت کرتا ہے بلاوجہ اور دشمنی کرتا ہے تم نے وہ اخبار نہیں خریدنا۔جب دو اخبار ہیں اور دونوں غیر ہیں تو کیا وجہ ہے کہ تم اُس غیر کے پاس نہیں جاتے جو شریف ہے تاکہ اُسکی حوصلہ افزائی ہو اور اُس غیر کو نہیں چھوڑتے جو کہ شرارتی ہے اور تمہیں بدنام کرتا ہے۔ تو جب سلسلہ کے باہر اخبار لینا پڑے تو ہمیشہ ہی ایسے رسائل اور اخبار لو جو تمہاری مخالفت نہیں کرتے یا تمہاری تائید کرتے ہیں۔ دونوں قسم کے ہوسکتے ہیں۔مثلاً’’نوائے وقت’’ہے اس نے خاص طور پر کبھی مخالفت نہیں کی۔پہلے بھی مَیں اس کی تائید کرچکا ہوں کہ جب وہ اصولی بات لکھتا ہے احمدیت کی کچھ تائید ہی کرجاتا ہے۔ مثلاً ظفراللہ خان کے خلاف اُس نے لکھا مگر بنیاد یہی رکھی کہ جب ساری قوم کہتی ہے ہٹ جائیں تو ظفر اللہ خان کیوں نہیں ہٹ جاتے۔یہ نہیں کہا کہ ظفر اللہ خان چونکہ احمدی ہے ہٹ جاتے۔یہ کہا کہ قوم میں خواہ مخواہ شور پڑا ہوا ہے ظفر اللہ خان کیوں نہیں چھوڑ دیتے وزارت۔ تو یہ بالکل اَور مسلک ہے اِس میں ہماری مخالفت نہیں ہے اِس میں ایک کامن سنس کی بات ہے جو ہماری سمجھ میں نہ آوے اُس کی سمجھ میں آگئی’’۔ (غیر مطبوعہ مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)
    تحریک جدیداپنے اہم ترین دَور میں سے گزر رہی ہے
    ‘‘اب میں اس ضروری امر کو لیتا ہوں کہ تحریک جدید ایک اہم ترین دَور میں سے گزر رہی ہے ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اسے
    اچھی طرح ذہن نشین کر لے اور اپنے آپ کو اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے تیار کرے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دَور اوّل کے بدلنے کے ساتھ جو ایک قسم کا تغیر ہؤا ہے اس کی وجہ سے جیسے گاڑی کا کانٹا بدلتا ہے تو انسان کو دھکّا لگتا ہے اِسی طرح اس تغیر کا نتیجہ یہ نِکلا ہے کہ اِس دفعہ چالیس فیصدی وعدے کم آئے ہیں ۔ چالیس فیصدی جب زیادہ آتے تھے تب بھی خرچ پورا نہیں ہوتا تھا لیکن چالیس فیصدی کم آنے کے تو یہ معنے ہیں کہ سب مشن بند کر دیئے جائیں اور مشنریوں کو خالی بٹھا رکھا جائے۔ یہ نتیجہ محض اس بات کا ہے کہ باوجود میرے کہنے کے کہ یہ تحریک صرف چند سالوں کے لئے نہیں لوگ اِسے وقتی تحریک سمجھتے رہے ۔
    میر اتجربہ ہے کہ باوجود اِس کے کہ لوگوں کو سمجھا تے چلے جا ؤ کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن قادیان میں مَیں کہہ رہا تھا کہ دیکھو تم نے قادیان سے نکلنا ہے تو سارے ہنس کے کہتے تھے ہمیں یونہی جوش دلا رہے ہیں مگر قادیان سے پھر نکل آئے۔ پھر مَیں نے کہنا شروع کیا دیکھو ابھی تم نے یہاں زیادہ دیر رہنا ہے لیکن یہیں ہمارے آدمی لوگوں کو کہتے پھرے کہ میاں کیا مکان بنانا ہے اب تو ہم قادیان جانے والے ہیں۔ یہاں بے چارے ایک دوست تھے جو فوت ہو گئے وہ جب کوئی مکان بنوانے لگتاتو اُسے جا کے کہتے کیا کر رہے ہو مارچ میں تو ہم نے وہاں جانا ہے اب کے گندم وہاں کاٹنی ہے ۔اس عرصہ میں وہ آپ فوت ہوگئے اور سات سال کے بعد یہیں دفن ہوئے۔ تو وقت پر سمجھا تے رہو دلوں پر کچھ ایسی گِرہ پڑجاتی ہے کہ سمجھنے میں ہی نہیں آتے ۔مَیں جماعت کے لوگوں کو باربار کہتا رہا کہ تمہیں اسلام کے لئے دائمی طور پر قربانیا ں کرنی پڑیں گی مگر اِس کو سُنتے ہوئے بھی لوگ سمجھتے تھے کہ یہ تو ہؤ ا مذاق۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ صرف چند سالوں کی بات ہے اور اب جبکہ مَیں نے کھول کر بتا دیا ہے کہ یہ تحریک ہمیشہ کے لئے ہے تو بس خاموش کھڑے ہیں وعدہ ان کے مُنہ سے نہیں نکلتا لیکن سوچ لو اِس کا نتیجہ کیسا خطرنا ک ہے۔ اگر یہی حالت رہی تو ہمیں اپنے سارے مشن بند کرنے پڑیں گے اور کہنا پڑے گا کہ جماعت چندہ نہیں دیتی مگر کیا ایسی صورت میں ہم دُنیا کو اپنا مُنہ دکھا نے کے قابل رہیں گے؟ پس اِس غفلت کو دُور کرو اور اپنی ذمّہ داریوں کو سمجھو ہما ر افرض ہے کہ ہم اپنے اس کا م کو بڑھا تے چلے جائیں اور اِتنا بڑھائیں کہ دُنیا کے کو نے کونے میں اسلام کی تبلیغ پہنچ جائے یہ چیز ہے جو ہم کو ساری دُنیا پر ممتاز کرتی ہے ۔
    تمہارا ایک ایسا فخر جسے کوئی چھین نہیں سکتا
    ‘‘ الفتح ’’ اخبار مصر کا ایک شدید مخالف اخبار
    ہے پچیس تیس سال سے وہ ہماری مخالفت کرتا آتا ہے لیکن تبلیغ کے سلسلہ میں اُسے لکھنا پڑا کہ احمدیوں کے مقابلہ میں ہماری شرم سے گردنیں جھک جاتی ہیں ہمارا روپیہ ان سے سینکڑوں گُنے زیادہ ہے، ہمارے آدمی ان سے سینکڑوں گُنے زیادہ ہیں، ہماری طاقت ان سے سینکڑوں گُنے زیادہ ہے لیکن تبلیغِ اسلام کے لئے غیر ملکوں میں جا کر جو یہ لوگ کام کررہے ہیں اس کے مقابلہ میں ہمارے پاس صفر ہے۔ حالانکہ وہ شدید دُشمن ہے لیکن کہتا ہے اس بات میں ہم کو ماننا پڑتا ہے سچائی کا ہم کس طرح انکا ر کر دیں۔ تو یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں خدا تعالیٰ نے تم کو ایسا فخر دیا ہے کہ سوائے اس کے کہ کوئی ڈھیٹھ بن کے انکار کر دے اس کے لئے اور کوئی صورت ہی نہیں ہے؟ جیسا کہ روپیہ کسی کے ہاتھ پر رکھ دو تو وہ کہتا جائے کہ کچھ بھی نہیں ہے یا چھوٹے بچے بعض دفعہ کھیلتے ہیں تو یونہی ماں یا باپ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ میں نے روپیہ دیا ہے مٹھی بند کر لو۔ وہی بات ہے اگر کوئی شخص ہماری تبلیغ دیکھ کر بھی کہتا ہے کہ کوئی تبلیغ نہیں تو ساری دُنیا اس پر ہنستی ہے کہ احمق آدمی ہے تبلیغ ہو رہی ہے، لوگ مسلمان ہو رہے ہیں یہ کس طرح کہتا ہے کہ تبلیغ نہیں ہو رہی۔ غرض ایک ہی چیز ہے جس کا کوئی بھی انکا ر نہیں کر سکتا۔ اگر اِس خوبی کو جس کا کوئی بھی دُنیا میں انکار نہیں کر سکتا،جس کو دُشمن بھی مانتا ہے تم تلف کر دیتے ہو تو پھر مجھے نہیں سمجھ آتی کہ اور کونسی دلیل ہے جس سے مَیں تمہیں سمجھا سکوں ۔
    مسیحیت کو تم بُرا کہتے ہو، کہتے ہو یہ دجّال ہیں لیکن مسیحیت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سَوسال پہلے کی آئی ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ کو تیرہ سو پچیس سال کے قریب اور مسیح کے زمانہ کو 1953ء سال گزرے ہیں لیکن باوجود سَوا چھ سَو سال اُوپر ہونے کے اُن کی یہ حالت ہے کہ آج بھی ساری دُنیا میں عیسائی مبلغ پِھر رہا ہے۔ اور مسلمانوں کو تبلیغ چھوڑے ہوئے بارہ سَو سال گزر چکے ہیں بس پہلی صدی کے بعد مسلمانوں نے کہا بہت ہو گیا اب نہیں ضرورت۔ مگر خیر ان کی تو کچھ بات بھی تھی وہ چند کروڑ ہو گئے تھے مگر تم تو نہ تین میں ہو نہ تیرہ میں۔ ابھی بہت ہوئے ہی نہیں۔ تم کس طرح تھکے بیٹھے جا رہے ہو ۔اگر تمہاری تعداد بھی کروڑوں کروڑ ہو چکی ہوتی،اگر تم بھی دُنیا میں کوئی غلبہ حا صل کر چکے ہوتے،اگر تم کو دُنیا میں تجارتیں مِل جاتیں، تم کو حکومتیں مل جاتیں اور پھر تم سُست ہو جاتے تو سمجھ میں آ سکتی تھی کہ تھک گئے۔ بے وقوفی سے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ ہم نے بڑی ترقی کر لی ہے لیکن تم نے تو ا بھی کچھ بھی حاصل نہیں کیا ۔ ایک آدمی جس نے روٹی کھا لی ہو، پیٹ بھرا ہؤ ا ہو وہ اگر کہہ دے کہ شام کا کھانا نہیں کھائیں گے پیٹ بھرا ہؤ ا ہے تو اُس کو بھی ہم بے وقوف ہی سمجھیں گے اور کہیں گے کہ شام کو پتہ لگے گا۔ لیکن ایک آدمی جو فاقے بیٹھا ہے وہ اگر کہے ہم نہیں پکاتے پیٹ بھرا ہؤ ا ہے اُس کو سوائے پاگل کے ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ تو تمہارے سامنے تو ایسا کام پڑا ہؤا ہے کہ جس میں سے کوئی حصّہ تم نے کیا ہی نہیں۔ تم خدا کے سامنے بھی جوابدہ ہو، تم انسانوں کے سامنے بھی جوابدہ ہو، تم اپنے نفس کے سامنے بھی جوابدہ ہو، تم اپنی اولادوں کے سامنے بھی جوابدہ ہو ۔ تمہاری آنے والی اولادیں کہیں گی کہ میرا باپ کتنا بے وقوف تھا کہ اس نے میرے لئے کانٹے بوئے ،کتنا قریب کا زمانہ اس کو ملا، اسے وہ دلائل اسلام کی تائید میں ملے جن کو مسیح موعود ؑ نے پیش کیا تھا وہ دلائل سے جو قرآن کریم کی نئی تفسیروں سے اس کے سامنے آ گئے تھے۔ وہ ذرائع ملے کہ نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر کے آگے آرہے تھے لیکن پھر بھی اس بے وقو ف نے اُس وقت قربانی نہ کی اور آج ہمارے لئے یہ امر تباہی اور ذلّت کا موجب بنا ہؤ ا ہے۔پس تمہارا فرض ہے تمہاری اولادوں کے لئے، تمہارا فرض ہے خدا کے سامنے، تمہارا فرض ہے اپنے نفس کے سامنے، تمہارا فرض ہے اپنی قوم کے سامنے، تمہارا فرض ہے اسلام کے سامنے، تمہارا فرض ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہ تم اپنی اس ذمّہ داری کو ادا کرو اور اسلام کے نام کو دُنیا کے کناروں تک پہنچاؤ ۔
    پس اس کام میں کسی قسم کی کوئی سُستی اور اُنیس بیس کاسوال نہیں ۔زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ لو گے کہ یہ ہمارا پِیر بنا بیٹھا ہے مگر اس کونہیں پتہ لگا کہ یہ تحریک دائمی ہے۔ تم بے شک کہہ لو کیا حرج ہے۔ مَیں تو اس کی حکمت سمجھتا ہوں کہ مجھے اگر اُس وقت پتہ لگ جاتا تو تم نے اِتنی دُور نہیں چلنا تھا۔ یہ تو خدا نے جیسا جانور کو گھاس دِکھا دِکھا کر آگے لے جاتے ہیں اِسی طرح کیا ہے کہ گھا س دِکھایاتھوڑا سا چلایا۔ پھر گھاس دکھایا پھر آگے چلایا۔ پھر گھاس دکھایا پھر آگے چلایا لیکن ایک وقت آ گیا کہ اس نے کہا چھوڑو اس مخول کو سیدھی طرح ظاہر کرو کہ تمہیں قیامت تک یہ کام کرنا پڑے گا ۔
    دیکھو اسلام باوجود اپنے سارے دلائل کے اِس وقت دُنیا کی آبادی کا زیادہ سے زیادہ ¼ حصّہ ہے اور عیسائیت اپنی ساری نا معقولیوں کے تعداد کے لحاظ سے دنیا کے3/1حصّہ سے زیادہ ہے اور طاقت کے لحاظ سے تو ساری طاقت اس کے پاس ہے ۔نوّے فیصد ی طاقت اس کے پاس ہے دس فیصدی لوگوں کے پاس ہے ۔یہ نتیجہ ہے ان کے تبلیغ کرنے کا انہوں نے باطل کی تائید کی اور اس کو غالب کردیا ۔مسلمانوں نے سچ کی تائید نہ کی اور سچ مغلوب ہو گیا ۔
    خدا نے یہ قانون بنایا ہے کہ جو شخص کسی مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرے گا وہ جیتے گا جو نہیں کرے گا وہ مغلوب ہو جائے گا۔ اور جو عیسائیت کا لوگوں کے دماغ پر اثر ہے اس کو اگر دیکھیں تو وہ سَو فیصدی ہے۔ یعنی اب جو مسلمان کہلانے والے ہیں اگر تم ان سے باتیں کرو تو ان کے خیالات، ان کا فلسفہ، ان کی آراء، ان کے فیصلے سارے عیسائیت کے ماتحت ہیں ۔اسلام والی کونسی بات ہے۔ صرف یہ کہہ دیں گے ‘‘اسلام زندہ باد ‘‘ اور اس کے بعد ساری عیسائیت کی باتیں شروع کریں گے ۔
    اسلام زندہ باد، اسلام میں ڈیمو کریسی ہے حالانکہ ڈیمو کریسی تو ہے ہی امریکہ اور انگلستان کا لفظ۔ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سُنا بھی نہیں تھا ۔ڈیمو کریسی کہاں سے آ گئی۔ تم یہ کہو کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کو اصل شکل میں پیش کرو پھر آپ دنیا فیصلہ کرے گی کہ یہ تعلیم ڈیمو کریسی سے کتنی ملتی ہے اور کتنی نہیں ملتی۔ یا کہہ دیں گے اسلام میں روٹی کپڑے کا انتظام مسلمانوں نے کیا تھا ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں کمیو نزم ہے۔ غرض وہ نام جس کو سَو سال پہلے بھی ہمارا باپ نہیں جانتا تھا وہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیں گے حالانکہ کہنا یہ چاہئے کہ اسلام روٹی کپڑے کا انتظام کرتا ہے پھر آپ ہی آپ لوگ فیصلہ کر لیں گے کہ کمیو نزم سے اِس کا کتنا جوڑ ہے اور کتنا نہیں لیکن دماغ پر چونکہ عیسائیت کے خیالات غالب ہیں اِس لئے نقل کرنی جانتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں اگر ہم کہیں گے کہ اسلام کمیونزم ہے تو پھر بہت سے لوگ کہیں گے واہ واہ بڑی اچھی بات ہے ۔حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اسلام کمیونزم نہیں لیکن ہم کو بے وقوف بنانے کےلئے کمیونسٹ بھی کہتے ہیں۔ ہاہا ٹھیک ہے ٹھیک ہے اسلام کمیونزم ہے۔ اور جب کوئی کہہ دیتاہے کہ اسلام ڈیمو کریسی ہے تو خوب جانتے ہیں کہ اسلام وہ ڈیمو کریسی نہیں سکھاتا جو یورپ سکھاتاہے لیکن وہ ہم کو اُلّو بنانے کے لئے کہتے ہیں ہاں ! بالکل ٹھیک ہے ۔
    قرآن کریم میں ڈیمو کریسی ہے تاکہ مسلمان ان کی تائید کرتے رہیں۔ غرض آدھے ایک عقیدہ کے غلام بنے ہوئے ہیں اور آدھے دوسرے کے۔ ہمارا دماغ ان کے ماتحت ہے، ہمارے افکار ان کے ماتحت ہیں، ہمارے ذہن ان کے ماتحت ہیں اور سَو فیصدی ہم ان کے ماتحت ہیں۔ مذہب کو لے لو حضرت عیسیٰ خدا تعالیٰ کے ایک نبی ہیں اور ہم ان کی عزت کرتے ہیں مگر سچا ہونا اَور چیز ہے اور کسی کو اپنا لیڈر تسلیم کرنا اَور بات ہے ۔
    ہمارے لیڈر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سب مانتے ہیں کہ آپ فوت ہوچکے ہیں لیکن یہ کہہ دو کہ عیسیٰ مر گیا ہے تو دوسرے کے مُنہ میں جھاگ آنی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ کیو ں ہے؟ یہ محض عیسائیت کے اثر کی وجہ سے ہے ۔
    عیسائی کہتے ہیں مسلمان ایسے روا دار ہیں کہ عیسیٰ ؑ جو اُن کا نبی نہیں تھا اس کو بھی وہ زندہ مانتے ہیں اور ہم نے کہا سبحان اللہ !اب تو عیسائی بھی ہماری تعریف کر رہے ہیں اِس لئے جتنا ہم اس کو آسمان پرچڑھائیں گے اُتنا ہی عیسائی ہم پر خوش ہو جائیں گے۔ غرض تم کو ان سب کا مقابلہ کرنے کے لئے اور پھر دوسری رَو جو کمیونزم کی ہے اِس کا مقابلہ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا۔مسیحیت تم کو اخلاق اور تعلیم کے نام پر دھوکا دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کرسچین سویلائزیشن(CHRISTIAN CIVILIZATION)۔ اور مسلمان بھی اپنی تقریر میں کہتا ہے کہ کرسچین سویلائزیشن۔ حالانکہ کوئی کرسچین سویلائزیشن دُنیا میں نہیں ہے ۔اگر کوئی سویلزیشن ہے تو محض اسلام کی سویلزیشن ہے مگر مسلمان اسلامک سویلائزیشن کی موجودگی میں بولے گا تو کہے گا کرسچین سویلائزیشن کیونکہ یورپ کے لوگوں سے اُس نے یہ لفظ سیکھا ہؤ ا ہے۔ عیسائیت کے ساتھ اخلاق کا کوئی تعلق نہیں بھلا یہ بھی کوئی تعلیم کہلا سکتی ہے کہ تیرے ایک گال پر اگر کوئی شخص تھپڑمارے تو تُو دوسرا اُس کی طرف پھیر دے 12 یہ بد اخلاقی اور بزدلی ہے یا بے غیرتی کی تعلیم ہے ۔
    اخلاقی تعلیم وہ ہے جو قرآن سکھاتا ہے کہ اگر مار کھانے میں فائدہ ہو تو مار کھا اوراگر مارنے میں فائدہ ہو تو مار۔ بہر حال جس سے دُنیا کو فائدہ پہنچتاہو، جس سے لوگوں میں امن قائم ہوتا ہو، جس سے دوسرے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہو وہ کام کر ۔نہ مار کھانا اچھا ہے اور نہ مارنا اچھا ہے ۔ دونوں بُرے ہیں ہا ںوہ چیز اچھی ہے جو اپنے موقع پر کی جائے۔
    حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک لطیفہ سُنا یا کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ کہیں شیر اور بھیڑیا میں بحث ہو گئی کہ سردی پوہ میں ہوتی ہے یا ماگھ میں۔ خوب لڑے۔ شیر کہے پوہ میں ہوتی ہے بھیڑیا کہے ماگھ میں ہوتی ہے ۔آخر بڑی دیر بحث کرنے کے بعد اُنہوں نے کہا گیدڑ کو بلاؤ اور اُس سے فیصلہ چاہو۔ گیدڑ بے چارہ آیا اُس کے لئے وہ بھی مارکھنڈ13 تھا اور یہ بھی مارکھنڈ ۔اِس کی بات کہے تو وہ مارے، اُس کی بات کہے تو یہ مارے۔ آخر کہنے لگا ٹھہر جاؤ ذرا سوچ لوں ۔سوچ سوچ کر کہنے لگا
    سنو سنگھ سردار بگھیاڑراجی
    نہ پالاپوہ نہ پالا ماگھ پالا واجی
    یعنی ٹھنڈی ہو ا چلتی ہے تو سردی ہو جاتی ہے ورنہ سردی نہ پوہ میں ہے نہ ماگھ میں۔
    ربوہ میں تو یہی ہوتا ہے کہ ہوا چلتی ہے تو ہم ٹھٹھرنے لگ جاتے ہیں اور ہوا بند ہوتی ہے تو رات کے وقت دروازے کھول دیتے ہیں۔ تو اصل چیز یہی ہے کوئی آدمی ایسا ہوتا ہے کہ اس کے مُنہ پر جب تک تھپڑ نہ ماریں اُس کی اصلاح نہیں ہوتی اور کوئی آدمی ایسا ہوتا ہے کہ مارنا اس کے لئے مُضر ہو جاتا ہے ۔
    مَیں نے کئی دفعہ قصّہ سُنایا ہے بچپن میں میرے پاس ایک کشتی تھی اس کو لڑکے چھیڑا کرتے تھے، لے جاتے تھے اور پھر اس پر کُودتے تھے ۔اپنی طرف سے گویا کھیلتے تھے مگر در حقیقت توڑتے تھے۔ آٹھ اِدھر بیٹھ گئے آٹھ اُدھر بیٹھ گئے اور پانی میں غوطہ دے دیا۔ مَیں جاؤں تو ہر روز دیکھوں کہ کشتی خراب ہو گئی ہے ۔میرے جو دوست سکول میں پڑھتے تھے مَیں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہوتا ہے؟ اُنہوں نے کہا آپ کو پتہ نہیں اسے تو دوپہر کے وقت لڑکے لے جاتے ہیں اور اسے خوب خراب کرتے ہیں ۔مَیں نے کہا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا تم اب مجھے بتانا۔ اُنہوں نے کہا اچھا۔ دوسرے تیسرے دن عصر کے قریب بھاگا بھاگا ایک لڑکا آیا کہنے لگا چلو اب وہ کشتی لے گئے ہیں۔ مَیں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کشتی ڈھاب میں لے گئے ہیں، دس دس لڑکے اس پر سوار ہیں اور کچھ بیچ میں لٹکے ہوئے ہیں اور اس پر چھلانگیں لگاتے ہیں ۔ کوئی مٹی ڈالتا ہے، کوئی پانی پھینکتا ہے غرض ایک کھیل مچائی ہوئی ہے جیسے فٹ بال ہوتا ہے ۔مجھے سخت غصّہ آیا مَیں نے اُن کو آواز دی کہ اِدھر آؤ چونکہ ان میں سے کوئی قصائی تھا، کوئی نائی اور گاؤ ں میں ہما ری حکومت تھی وہ مجھ سے ڈر کر بھاگے حالانکہ وہ میرے قابو میں نہیں آسکتے تھے وہ مجھ سے دوسری طرف تھے لیکن میری اس آواز کا رُعب ایسا پڑا کہ وہ بے چا رے چپکے سے کشتی لے آئے اور کچھ بھاگ گئے۔ جُوں جُوں وہ آتے چلے جائیں انہیں ڈر آتا جائے کہ اب ہمیں مار پڑے گی ۔آخر کُود پڑے اور تیر کر نکل گئے۔ صرف ایک لڑکا رہ گیا اور وہی لیڈر تھا اُن کا ۔ وہ جس وقت کنا رے پر کشتی لایا تو میں غصّے میں اس کی طرف گیا وہ زیادہ مضبوط تھا اور مجھے غرور تھا اپنے مالک ہونے کا۔ مَیں نے زور سے اُس کو مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا۔ اِس پر اُس نے اپنا مُنہ بچانے کے لئے ہاتھ آگے رکھ دیا۔ جب اُس نے ہاتھ رکھا تو مجھے اَور غصّہ چڑھا اور مَیں اُسے مارنے کے لئے ہاتھ پیچھے لے گیا۔ جب میں تھوڑی دُور تک لے گیا تو اُس نے ہاتھ نیچے کر لیا اور کہنے لگا کہ مار لو ۔بس اُس کا یہ فقرہ کہنا تھا کہ وہیں میرا ہاتھ گر گیا اور اُس وقت یہ حالت ہوئی شرم کے مارے کہ مجھ سے واپس نہیں ہؤا جاتا تھا۔ تو کوئی وقت مارنے کاہوتا ہے اور کوئی معاف کرنے کا ہوتا ہے ۔ کسی وقت انسان مار کے اصلاح کرتا ہے اور کسی وقت معاف کر کے اصلاح کرتا ہے۔یہ بے وقوفی کی بات ہوتی ہے کہ ایک ہی چیز کو انسان لے لے اور کہے کہ اِسی طرح کرنا ہے۔
    اسلام نے ہم کو درمیا نی تعلیم دی ہے۔ تو سویلائزیشن تو ہے ہی اسلام میں۔ سویلائزیشن اور کسی مذہب میں ہے کہا ں کہ اِس کا نام ہم کرسچن سویلائزیشن رکھیں سوائے اسلام کے کوئی سویلائزیشن نہیں مگر چونکہ عیسائیت غالب ہے اس لئے ہم اس کے پیچھے ناچتے ہیں ۔پس تم کو ان چیزوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے اور اسلامی تہذیب کو دُنیا میں پھیلانا ہے۔ دُنیا کے پاس جو کچھ ہے بے شک وہ بعض جگہ پُرامن بھی ہے لیکن اس امن کے ہوتے ہوئے بھی وہ دُنیااندھیر ے میں ہے جب تک اسلام کا نور اِن لوگوں تک نہیں پہنچے گا اُس وقت تک دُنیا کا اندھیرا دُور نہیں ہو سکتا۔ سورج صرف اسلام ہے جو شخص اِس سورج کے چڑھا نے میں مدد نہیں کرتا وہ دُنیا کو ہمیشہ کے لئے تا ریکی میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسا انسا ن کبھی دُنیا کا خیر خواہ یا اپنی نسل کا خیر خوا ہ نہیں کہلاسکتا۔
    ہر احمدی تہیّا کرلے کہ اُس نے بہرحال تحریک جدید میں حصّہ لینا ہے
    اِس وقت تک تحریک کے ذریعہ سے جو تبلیغ ہوئی ہے اِس کے نتیجہ میں تیس چالیس ہزار آدمی
    عیسائیوں سے مسلمان ہو چکا ہے اور یہ طاقت روز بروز بڑھ رہی ہے اور اِسے مضبوط کرنا ہر احمدی کا فرض ہے بلکہ ہر مسلمان خواہ وہ احمدی نہ ہو اُس کا بھی فرض ہے کہ اِس کا کا م میں مدد دے۔ اب چھوٹا کا م ہونے کی وجہ سے مرکزی خرچ تبلیغ سے نسبتاً زیادہ ہوتا ہے اگر کام پھیل جائے تو یہ نسبت کم ہو جائے گی۔ پس:-
    اوّل تو یہ ضرورت ہے کہ ہر مبلغ کو اِدھر اُدھر چلنے اور لیکچر دینے کے لئے اور ہال لینے کے لئے اور لٹریچر تقسیم کرنے کے لئے زیادہ امداد یہاں سے پہنچے۔
    دوسرے یہ ضرورت ہے کہ باہر کے ملکوں سے مزید طالب علم یہاں بلوائے جائیں اور مرکز میں تیا ر کئے جائیں ۔
    تیسرے یہ ضروری لٹریچر وسیع پیمانہ پر تیار کیا جائے اور جماعت اِسے خود پڑھے اور مستحق لوگوں میں تقسیم کرے۔
    چوتھے یہ کہ چندہ کو مضبوط کیا جائے اور کسی دَور کے اختتام کو اختتام نہ سمجھا جائے بلکہ یوں سمجھا جائے کہ ہم نے ایک چورن کھایا ہے تاکہ ہمارا ہاضمہ دین کے ہضم کرنے کے لئے زیادہ مضبوط ہو جائے۔ اور یہ دَور ہم کو اس لئے ملا تھا تاکہ ہم آئندہ قر با نیا ں زیادہ شوق سے کر سکیں۔ اب اس چندے کو لازمی کر دیا گیا ہے اب ہر مرد اور ہر عورت کا فرض ہے کہ وہ اس میں حصّہ لے لیکن ہماری پانچ روپے کی شرط موجود ہے۔ جو پانچ روپے تک اکٹھا نہیں دے سکتا وہ دو مِل کے پانچ دے دیں، تین مِل کے پانچ دے دیں، چا ر مِل کے پانچ دے دیں، پانچ مِل کے پانچ دے دیں، سارا خاندان مِل کے پانچ دے دے لیکن حساب کی سہولت کے لئے وہ قائم ہے کہ کم سے کم پانچ کی رقم ہو چاہے وہ کئی آدمی مل کر دیں ۔
    مَیں جیسا کہ بتا چکا ہوں اِس وقت تک کے وعدے گزشتہ سالوں سے چالیس فیصدی کم ہیں اور یہ خطرنا ک بات ہے۔ خرچ اِس وقت پچیس فیصدی زیادہ ہو چکا ہے اور اَور بڑھتا چلاجائے گا اس کا علاج یہی ہو سکتا ہے کہ:-
    (1) ہر احمدی مرد اور عور ت اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے اور ¼ سے ایک ماہ کی پوری آمد تک حسب حال چندہ دے یعنی کم سے کم چندہ۔ ہر شخص کوشش کرے کہ اپنی ماہوار آمدن کا ¼ ایک دفعہ دے دے یعنی اڑتا لیسواں حصّہ سال کی آمدن کا۔ یا دو فیصدی سمجھ لو اور آٹھ فیصدی تک جو زیادہ تو فیق رکھتے ہیں۔ مثلاً تنخواہ زیادہ ہے، شادی نہیں ہوئی یا بیوی ہے بچے نہیں یا بچے ہیں لیکن خرچ ایسے مقام پر ہے جہاں خرچ کم ہوتاہے یا تنخواہ اتنی زیادہ ہے کہ ان کے باوجود روپیہ بچ جاتا ہے تو ایسا آدمی کوشش کرے کہ مہینہ کی ایک تنخواہ کے برابر دے دے لیکن چونکہ پہلے بعض لوگ اِس سے بھی زیادہ دیتے رہے ہیں مَیں نے کہا ہے کہ وہ فی الحال دس فیصدی کم کرنا شروع کر دیں۔ جو لوگ ایسے ہیں وہ میرے خیال میں دس پندرہ فیصدی سے زیادہ نہیں ہوں گے وہ اِس سال مثلاً دس فیصدی کم کر دیں لیکن دوسرے آدمی جو اپنا چندہ بڑھائیں گے تو اِس سے یہ کمی انشاء اللہ پوری ہو جائے گی اور دوتین سال میں چندہADJUSTہو جائے گا۔
    (2) دوسرے باہر کے مبلغ بیرونی مشنوں کو خود اپنا بوجھ اُٹھانے کے قابل بنائیں۔
    (3) تیسرے مرکز، مرکزی خرچ کو بیرونی خرچ کے مقابل پر کم کرنے کی کوشش کرے اور ہر 19سا ل کے بعداس انیس سا ل میں حصّہ لینے والوں کی فہرست شائع کی جائے جو ہر جماعت کے پاس جائے،ہر چندہ دینے والے کے پاس جائے اور جماعت کی ہر لائبریری میں رکھی جائے تاکہ آئندہ نسلوں کے لئے وہ نشان رہے کہ ہمارے دادانے اِتنے سال دین کی خدمت کے لئے اپنی آمد میں سے اِتنا حصّہ دیا تھا ۔جیسے لوگ یہ یاد رکھتے ہیں کہ ہمارا پڑدادا فلاں جگہ لڑا، فلاں لڑائی میں گیا اِسی طرح یہ جو دینی لڑائی ہے اِس کا اُن کے پاس ریکا رڈ رہے گا۔کتا بیں نکال نکال کے دوسروں کو دکھائیں گے کہ ہمارے باپ دادا نے یہ خدمتیں کی ہیں۔ پھر اِس طرح جو نئے آنے والے احمدی ہیں ان میں بھی جوش پیدا ہو گا کہ ہم بھی اِس ریکارڈ میں اپنا نام لکھوائیں۔ مرحومین کے متعلق ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ چاہے کوئی ایک دو سال چندہ دے کر فوت ہو گیا ہو اگر وہ اپنی زندگی میں باقاعدہ چندہ دیتا رہا ہے تو اُس کے اُنیس سال مکمل سمجھے جائیں گے۔ اور یہ جو مَیں نے کہا ہے کہ بعض لوگ اپنا چندہ دس فیصدی کم کر سکتے ہیں اِس کمی کو پور ا کرنے کے لئے دوسرے لوگ اپنا چندہ بڑھائیں اور اِسے ایک مہینہ کی آمد تلک لے آئیں۔ اِسی طرح وہ لوگ جو اَب تک تحریک جدید میں شامل نہیں ہوئے اُن کو شامل کرنے کی کوشش کریں۔ ہمارے چندہ دینے والوں کی لسٹ صدر انجمن کے لحاظ سے کوئی 35ہزار ہے لیکن تحریک جدید میں حصّہ لینے والے صرف نو یادس ہزار ہیں۔ گویا ابھی اِس سے ڈھا ئی گنے اَور آدمی موجود ہیں جو اِس چندے میں شامل نہیں ۔اگریہ سارے کے سارے شامل ہو جائیں تو اِس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ جو بعض پر بہت زیادہ بوجھ ہے وہ اگر ہم کم کریں گے تو اِس کے نتیجہ میں کمی نہیں آئے گی بلکہ پھر بھی چندہ میں زیادتی ہوتی چلی جائے گی ۔اب آپ لوگوں میں سے ہر شخص کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ چاہے دو دو مِل کر،تین تین مل کر کم سے کم رقم جو چندہ تحریک جدید کی ہے اِس کا دینا اپنے اوپر واجب کر لیویں اور کوئی جماعت ایسی نہ رہے جس کے تمام افراد شامل نہ ہوجائیں۔ مثلاً بچوں کی طرف سے بھی بے شک پیسہ پیسہ دو پر ہر بچے کا نام لکھاؤ ،ہر بیوی کا نام لکھاؤ اور پھر جو مل کے ٹوٹل ہو جائے اگر پانچ نہیں بنتا تو پھر کسی اَور خاندان کو ساتھ شامل کر لو اور اُن کو ملا کے پانچ کرلو یا پانچ سے زیا دہ کر لو۔ اِسی طرح جو غیر ملکی جماعتیں ہیں اُن کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر اپنے بوجھ اُٹھانے کے لئے خود تیا ر ہوں تاکہ اُن کے روپیہ سے دوسری جگہ مشن کھولے جا سکیں ’’۔ (الفضل 4 مئی 1960ء)
    زمیندار احباب پیداوار بڑھانے کی کوشش کریں
    ‘‘جماعتِ پاکستان کو اپنی آمد بڑھانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے ہمارے ملک کا زمیندار یقیناً اپنی آمد تین چار گُنے بڑھا سکتا ہے۔جاپان میں
    ہماری گورنمنٹ نے ایک وفد بھیجا تھا جس نے آکر یہ رپورٹ کی کہ جاپان کی اوسط زمین تین ایکڑ فی خاندان ہے۔او ر اُن کی اوسط آمدن چھ ہزار روپیہ ہے گویا دوہزار روپیہ فی ایکٹر جاپان میں آمد پیدا کی جاتی ہے۔ اِس کے مقابلے میں ہماری دوہزارچھوڑ دو سو بھی نہیں ہے سو بھی نہیں ہے بلکہ عام طور پر تو پچیس تیس روپے فی ایکڑ نکلتی ہے۔ اگر اُس کی مزدوری اِس میں شامل بھی کرلی جائے تو ساٹھ ستّر اسّی روپے آجاتی ہے۔مربع والوں کی بیشک سو سوا سو بلکہ ڈیڑھ دوسو تک بھی بعض کی آمد ہوجاتی ہے لیکن کُجا دوہزاراور کُجا دو سو۔ اور کُجا اوسط پچیس تیس ہونا اور کُجا اوسط دوہزار کی۔دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک محنت کی عادت نہیں۔ہمارا آدمی کم سے کم چیز پر جس سے اُس کی روٹی چل سکے خوش ہوجاتا ہے۔ حالانکہ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ زیادہ آمد پیدا کریں کیونکہ ہم نے صرف روٹی نہیں کھانی بلکہ اولاد کو تعلیم بھی دلانی ہے اور اس نے دین کی خدمت بھی کرنی ہے۔اگر ہمارا ہر زمیندار اِس خیال سے محنت کرے کہ میں نے اپنی اولاد کو تعلیم دلانی ہے، اگر اس خیال سے محنت کرے کہ میں نے دین کی اشاعت کرنی ہے تو اُس کی زمینداری بھی ثواب بن جاتی ہے اور وہ بھی اُس کے لئے نماز ہوجائے گی۔مگر اس کے لئے وہ پوری کوشش نہیں کرتا۔پوری کوشش وہ تبھی کرے گا جبکہ اُس کو دل میں یقین ہوجائے کہ میری اِس محنت کے نتیجہ میں دینِ اسلام پھیل جائے گا، میری اِس محنت کے نتیجہ میں میرے بچے تعلیم پاجائیں گے او رپڑھ جائیں گے۔ اگر اس پر آئے تو دنیا کے باقی ملک جو ترقی کررہے ہیں ہم کیوں نہ کریں۔ ہمارا مبلغ ایک اٹلی میں تھا وہ آیا۔ہم نے اُسے بعد میں ہٹا دیا تھا بعض تخفیفیں ہوئی تھیں مبلغین کی۔تو میں نے کہا تمہارا گذارہ کس طرح ہوتا ہے؟ کہنے لگا میں نے انگریز عورت سے شادی کی تھی میرا خُسر دیتا ہے خرچ۔میں نے کہا وہ کہاں سے لیتا ہے؟کہنے لگا اُس کا باپ تھاقنصل انگریزی۔چودہ ایکڑ اُس نے اٹلی میں زمین خرید لی تھی وہ اُس نے مرتے وقت چونکہ بیٹے پر ناراض تھا اپنی بیٹی کو دے دی۔بیٹی آگے کسی امیر خاندان میں بیاہی گئی اُس کو اس کی ضرورت نہیں تھی تواُس نے مینجر بنایا ہوا تھا اپنے بھائی کو۔تو وہ میرا خسر ہے وہ مجھے خرچ دیتا ہے اور اُس میں ہمارا گذارہ ہوتا ہے۔میں نے کہا کتنی زمین ہے؟ کہنے لگا چودہ ایکڑ۔ میں نے کہا چودہ ایکٹر خود کاشت کرتا ہے؟ کہنے لگا نہیں۔ وہ آگے اُس نے اپنے پانچ کہ چھ مزارع بتائے کہ اُن کواس نے دی ہوئی ہے۔میں نے کہا تو پانچ چھ مزارع بھی اُس پر خرچ کرتے ہیں؟ اُس نے کہا ہاں۔ پھر اس میں وہ بھی خرچ کرتا ہے؟ کہنے لگا ہاں۔میں نے کہا پھر تمہیں بھی خرچ دیتا ہے۔ کہنے لگا ہاں۔میں نے کہا اُس بہن کو بھی دیتا ہے؟ کہنے لگا ہاں۔جو بچتا ہے اُس کو بھی بیچ دیتا ہے میں نے کہا یہ چودہ ایکڑ ہے یا چودہ ہزار ایکڑ ہے آخر یہ کیا بات ہے؟اُن کے گزارے ہم سے مہنگے ہیں، ہمارا زمیندار بیچارہ پندرہ بیس میں گذارہ کرلیتا ہے وہ ڈیڑھ دوسو سے کم میں گذارہ نہیں کرتا ماہوار۔تو چھ خاندان وہ پل رہے ہیں، ہزار روپیہ مہینہ تو وہ کھا رہے ہیں تیرا وہ انگریز بھی پانچ چھ سو خرچ کرتا ہوگا، تیرے اوپر بھی تین چار سو خرچ ہوتا ہوگا،کوئی ڈیڑھ دوسو اپنی بہن کو بھی بھیجتا ہوگا یہ جو تم دوہزار روپیہ مہینہ کمارہے ہو یہ کس طرح کمارہے ہو؟کہنے لگا اصل بات یہ ہے کہ وہاں کے زمیندار ے او ریہاں کے زمیندار ے میں فرق ہے۔کہنے لگا وہاں کا زمیندار چھوٹے سے چھوٹادنیا کی ہر چیز کررہا ہوتا ہے۔کہنے لگا چودہ کا کھیت ہے اِس میں چھ مزارع بیٹھے ہیں ہر مزارع اِس طرح کاشت کرتا ہے کہ اُس میں چارہ کافی پیدا ہوجائے جس میں دو تین بھینسیں وہ رکھے۔اُن کا دودھ بیچتا ہے۔ہر مزارع نے اپنے ٹکڑے میں درخت لگائے ہوئے ہیں اُن کے اندر اُس نے شہد کی مکھیاں رکھی ہوئی ہیں اُن سے وہ شہد بیچتا ہے۔ہر مزارع نے باڑ کے اردگرد پھول لگائے ہیں وہ مختلف وقتوںمیں پھول ہوتے ہیں اُن کے پھول بیچتا ہے۔ہر مزارع کے درخت پھل دار ہیں وہ اُن سے آپ بھی کھاتا ہے اور اپنے پھل بیچتا ہے۔ پھر اُن کے ہاں سؤر زیادہ پالتے ہیں ہر مزارع نے سؤر او رمرغیاں رکھی ہوئی ہوتی ہیں وہ اُن سے سؤر او رمرغیاں بیچتا ہے۔ غرض اتنے لمبے اُس نے کام گِنے او رکہا کہ وہ تین چار ایکڑ اس طرح استعمال کرتا ہے او ررات دن اِس طرح اُن میں محنت کرتا ہے کہ اُس میں وہ سینکڑوں روپے کماتا ہے ایک ایکڑ میں ۔
    تو آخر ہماری زمینیں اُن سے ادنیٰ نہیں ہیں ہماری مشکل یہی ہے کہ ہمارا زمیندار یہ کہتا ہے پیٹ کو روٹی مل جائے تو بس پھر اور کوئی بات نہیں ہے۔ آگے بیٹے پڑھیں نہ پڑھیں،دین کی مدد ہو یا نہ ہو۔ اگر چندہ ہم مانگتے ہیں تو اپنی زمین پر محنت کرکے وہ چندہ نہیں دیتا اپنی قربانی کرتا ہے کہ اچھا دس روپے میں کماتا ہوں چلو وصیت کر دی روپیہ اُس میں سے دے دونگا۔اپنے آپ کو فاقہ مار کے چندہ دیتا ہے محنت کرکے گیارہ روپے کی آمد نہیں پیدا کرتا کہ ایک روپیہ ہم کو دیدے بلکہ اُسی دس روپے میں سے ایک روپیہ ہم کو دیتا ہے حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ جب ہم اُس سے چندہ مانگنے جائیں تو وہ کہے اب میں زیادہ محنت کروں گا مجھ سے چندہ مانگ رہے ہیں اب میں دس کی آمد نہیں پیداکروں گا اب میں بارہ روپے مہینہ کروں گا۔ ان کو ایک روپیہ دو آنے دو نگا تو میری آمد دس روپے چودہ آنے ہوجائے گی۔ہم روز چندہ مانگیں تو کہے اچھا اب میں اَور محنت کرکے پندرہ روپے مہینہ کماؤں گا۔میں ان کو دو روپے دے دوں گا تیرہ روپے آپ رکھوں گا۔غرض جتنا اُس سے چندہ مانگیں اُتنا ہی وہ اپنی آمد کو بڑھائے تب جا کے اُس کے اندر بشاشت بھی رہ سکتی ہے۔تب جاکے اُس کے بچوں کی تعلیم بھی ہوسکتی ہے اور تب جاکے اسلام کی عظمت اور طاقت بھی پیداہوسکتی ہے۔
    تو ہمارے زمینداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر عزم کریں بلکہ میں تو ایک تجویز اور بتاتا ہوں کہ زمیندار تبلیغ کے لئے یہ اپنے اوپر فرض کریں اور اگر وہ مثلاً آٹھ کنال بوتے ہیں یافرض کروآٹھ ایکڑ بوتے ہیں تو وہ یہ کہیں کہ ہم محنت کرکے اب کی دفعہ 9ایکڑ بوئیں گے اور ایک ایکڑ کی آمدن ہم دین کی اشاعت میں دیں گے اِس طرح اُن کے مال میں برکت ہوگی۔ اگرو ہ واقع میں دیانت سے کام لیں گے تو اِس آٹھ کی جو آمد اُن کو ہوتی تھی اُس کی جگہ بارہ کی پیدائش ہوگی او روہ جو ایک زائد ہے وہ بغیر کسی اپنے پاس سے قربانی کرنے کے وہ دین میں دیں گے۔تو ہر زمیندار اپنے اوپر یہ فرض کرلے کہ وہ پانچ فیصدی حصہ اپنی کاشت کا دے دیا کرے۔چندہ کے لئے زائد کاشت کرے اپنی پہلی آمد میں سے نہ دے بلکہ زائد کاشت کرے او روہ رقم چندہ تحریک میں دے دے۔
    ہمارا اندازہ یہ ہے کہ دو لاکھ ایکڑ کے قریب ہماری جماعت کے پاس زمین ہے تو دولاکھ میں دس ہزار ایکڑ سالانہ بن جاتی ہے اگر صحیح محنت کے ساتھ اُس پر کاشت کی جائے۔ اور اگر فرض کرو دو تہائی بھی لیا جائے کاشت میں سے نسبت کاٹ کر تو پھر بھی اِس کے معنے ہیں کہ چھ ہزار ایکڑ کاشت بنتی ہے۔ اگر25روپے رکھا جائے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی صرف زمینداروں کی آمدن تحریک کے چندہ میں ہوجاتی ہے لیکن اِس سے تو زیادہ آمدن ہوجاتی ہے۔
    میں مثال دینے لگا تھا کہ دیکھو غیر ملکوں نے اپنی پیداوار بڑھانے کے لئے کتنی کوششیں کی ہیں۔ہمارے اِس علاقہ میں مکئی د س بارہ من ہوتی ہے سرگودھا۔لائل پور وغیرہ سنا ہے اچھی مکئی25-30من ہوجاتی ہے اور عام طور پر20-21سندھ میں یا اِدھر دوسرے علاقوں بہاولپور وغیرہ میں ہوتی ہے۔ لیکن میں نے امریکہ سے پتہ لگایا تو انہوں نے کہا ہمارے ہاں پچاس سے سو من تک فی ایکڑ مکئی پیدا ہوتی ہے۔ اب تم اِس سے اندازاً یہ سمجھ لو کہ اگر چھ روپے پر بھی قیمت آجائے آجکل تو دس بارہ پر بِکتی ہے لیکن اگر چھ روپیہ پر بھی قیمت آجائے تو چھ سَو روپیہ کی فی ایکڑمکئی نکل آئی۔تو انہوں نے بیج نکال لئے ہیں ایسے جن بیجوںمیں بہت زیادہ طاقت ہوتی ہے۔میں نے ان بیجوں کے لئے خط وکتابت شروع کی کہ ہم یہاں تجربہ کریں تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے مختلف زمینوں کا حساب لگا کے کہ فلانی قسم کی زمین میں فلانا بیج لگتا ہے فلانی قسم کا نہیں ہوتا ایک ہزار سے زیادہ قسم کا بیج نکالاہے تم بتاؤ تمہاری زمینیں کون سی ہیں کہ ہم بیج دیں۔ ہم تو اِس پر حیران ہوگئے کہ ہم یہ ہزار واں حصہ کہاں سے نکالیں۔ہم نے کہا یہ تو ہمارے لئے مجبوری ہے اُس نے کہا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ تم اپنا کوئی آدمی بھیجو جس کو ہم یہاں طریقہ سکھادیں وہ جائے پھر وہاں تمہاری زمینوں کو ٹیسٹ کرے تو پھر یہاں سے بیج بھیج دیا کریں گے۔ہم نے کہایہ بھی ہمارے ساتھ مشکل ہے۔ انہوں نے کہا پھر یہ طریقہ ہے کہ ہم اپنا آدمی تمہارے پاس بھیجتے ہیں وہ وہاں ٹیسٹ کرےگا اس کے لئے تم ہم کو چھ ہزار ڈالر دے دو(18ہزار روپیہ)ہم نے اِس کی بھی معذرت کی کہ ابھی تو ہمیں پتہ نہیں کہ کیا ہوجائے گا یہ بھی مشکل ہے۔ آخر ایک فرم نے کہا تم دینی خدمت کرتے ہو ہم تم کو سَوامن اندازہ لگا کے تمہارے ملک کی زمین کا بیج بھیج دیں گے چنانچہ اب وہ بیج آرہا ہے اگر وہ آگیا تو ہم اُس کا تجربہ کریں گے ممکن ہے وہ ہماری زمینوں کے ساتھ فِٹ کرے یا نہ کرے۔میں نے کہا دوسرا بیج ہم کو بھیج دو۔ انہوں نے کہا وہ تو اب ہم نے چھوڑ ہی دیاہے پچاس من یا سو من جب پیدا ہوتی ہے تو ہم نے پندرہ بیس من کیوں پیدا کرنی ہے۔ہماری عقل ماری ہوئی ہے تو ہم نے وہ بیج چھوڑ دیئے ہیں یہ نئے بیج شروع کردئے ہیں۔ تو دیکھو اِ س طریقے پر کتنی آمدنیں بڑھ جاتی ہیں۔
    اِسی طرح گنّا ہے۔ گنّا بہت زیادہ آمدن والی چیز ہے۔ ماریشس وغیرہ میں تین سو من فی ایکڑ گُڑ نکلتا ہے۔ سرگودھا میں بعض نہایت اچھے ٹکڑوں میں ایک سو پچاس من تک گُڑ بعضوں نے نکالا ہے لیکن ہماری عام اوسط جو ہے وہ تیس چالیس من تک ہے تو اَب تیس چالیس من والے اور تین سو من والے کی نسبت ہی کیا ہوسکتی ہے آپس میں۔اگر فرض کرو آٹھ روپے کھانڈ ہے تو تم یہ سمجھو کہ تمہارا پانچواں حصہ رہ جائیگی۔یعنی چھ من رہ گئی۔تمہاری قیمت بنے گی اڑتالیس روپے او راُن کی قیمت بنے گی 480روپے۔ اس سے تو 480یعنی دس گُنے قیمت لینے والا جو ہے۔ تمہارا کیا مقابلہ ہے۔وہ دس ایکڑ پر کام کرے گا اور اُس کی پانچ سو روپیہ کی مہینہ کی آمدن ہوگی تم دس ایکڑ کرو گے او ر35روپے مہینہ کی آمدن ہوگی۔دونوں کی کوئی نسبت نہیں۔
    اِسی طرح مثلاً تمباکو ہے۔ مجھے ایک دفعہ چوہدری ظفر اللہ خان کہنے لگے کہ اپنی اسٹیٹوں پر تمباکوکا تجربہ کروائیں۔میں نے کہا چوہدری صاحب! ہم نے تمباکوتو پینا نہیں تو یہ تجربہ کس طرح آجائے گا؟ تو ہنس پڑے کہنے لگے ایک شخص ریل میں مجھے ملا اور اس نے مجھے کہا تمباکو بوائیں۔ہم نے مدراس میں اس کا تجربہ کیا ہے چار ہزار فی ایکڑ نفع آرہا ہے تو آپ کے پاس اتنی زمینیں ہیں اور زمینیں ایسے علاقہ کی ہیں جن میں تمباکواچھا ہوسکتا ہے تو کہنے لگے میں نے بیساختہ وہی بات کہی جو آپ نے کہی ہے۔ میں نے کہا ہم نہیں تمباکو پیتے تو ہم نے تمباکو کیا بونا ہے۔ تو کہنے لگا چوہدری صاحب! آپ میری طرف دیکھئے۔ (وہ سکھ تھا) ہم پیتے ہیں؟کہنے لگا ہم نے آمدن لینی ہے۔پینے والے پیتے ہیں چاہے ہم بوئیں یا وہ بوئیں۔جب دوسرے لوگ پیتے ہیں تو پھر ہمارا کیا نقصان ہے۔میں بوتا ہوں میں نے تو پیسے لینے ہیں۔کہنے لگا چار ہزار ایکڑ ہم کو نفع ہورہا ہے مدراس میں انگریزوں کے ساتھ مل کر مَیں کررہا ہوں تو اگر آپ بوئیں تو آپکی تو پچاس ساٹھ لاکھ کی آمدن ہوسکتی ہے بجائے اِس کے کہ ڈیڑھ لاکھ کی ہو۔
    پھر آلوہیں یا ایسی او رکئی ترکاریاں ہیں،چیزیں ہیں جن کی بڑی بڑی قیمتیں آتی ہیں لیکن ہمارے لوگ کوشش اُن کے متعلق نہیں کرتے۔اب مجھے تجربہ کا پتہ نہیں لیکن میں سندھ گیا تو اب کے ہمارا ایک نوجوان جس نے فرقان فورس میں کام کیا ہوا تھا وہ بھی تحریک کی زمینوں پر ایک حصّے کا منیجر تھا اُس نے مجھے اپنا باغ لگایا ہوا دکھایا۔اپنے شوق پر اُس نے لگایاہوا تھا۔تواُس نے اُس میں جاکر ہلدی یا شائد ادرک دکھایا۔ میں نے کہا یہ تم نے کس طرح بوئی؟کہنے لگا میں نے اُدھر فوج میں دیکھا تھا اُدھر بوتے ہیں او روہاں اُن کو ہزار ہزار روپے کی فی ایکڑ آمدن ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔تو میں نے یہاں تجربہ کے لئے لگائی ہے او ریہ درخت بڑے اچھے نکل رہے ہیں اب تین مہینے کو پتہ لگے گا کہ پھل کیسا نکلتا ہے۔ بہرحال وہ درخت بڑے اچھے شاندار تھے اگر پھل لگ گیاہوگا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اِس تجربہ میں بجائے پچاس یا سو کی آمدن کے ہزار یا ڈیڑھ ہزار کی فی ایکڑ نکل آئے گی جتنی وہ بو لیں گے۔
    تو اچھے بیج کو تلاش کرنا او رایسی چیزوں کو تلاش کرنا جو زیادہ نفع لانے والی ہوں نہایت ضروری ہوتا ہے مثلاً مکھیر ہے سارا یورپ او رامریکہ اپنے کھیتوں میں مکھیر لگاتا ہے مگر ہمارا ہندوستانی نہیں لگاتا حالانکہ مکھیر سے پیداوار بڑھ جاتی ہے۔بہترا ہم نے زمینداروں کو بتایا ہے کہ بھئی! یہ دیکھو خداتعالیٰ نے قانون ایسا بنایا ہے، قرآن میں صاف لکھا ہوا موجود ہے تمہاری پھر بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہر چیز میں نر او رمادہ ہیں۔ گندم میں بھی نرمادہ ہیں۔پھلوں میں بھی نر مادہ ہیں اِن نر اور مادہ کا مادہ جو ہے اُس کو مکھی اُڑا کے جاکے دوسری جگہ پر ڈالتی ہے جیسے ہمارے ہاں شادی کردیتے ہیں نا۔اُن کی شادی مکھی کرتی ہے۔مکھی ایک نر پر بیٹھتی ہے اور وہاں سے لے کر بیج جاکے مادہ پرلگادیتی ہے اُس کی فصل دوگنی ہوجاتی ہے۔ اگر نر کا مادہ نہ ملے تو جیسے کُکڑی خاکی انڈے دیتی ہے نا۔تو تھوڑے دیتی ہے۔تو خاکی انڈے دیتی ہے فصل لیکن جس وقت نر اُس کو جا کے مل جائے تو وہ فصل زیادہ دیتی ہے اِس لئے یورپ والے فصل کے بڑھانے کے لئے خصوصاً اُن فصلوں کے بڑھانے کے لئے جن میں نر اور مادہ کا زیادہ تعلق ہے مکھیر ضرور رکھتے ہیں۔ وہ مکھیر جاکے بیج دوسری جگہ پر لگا تا ہے اور اس کی وجہ سے فصلیں بڑھنی شروع ہوجاتی ہیں۔ تو شہد کا شہد نکلتا ہے اور اس سے آمدن الگ بڑھتی ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں گورنمنٹ کی طرف سے بھی اعلان ہوچکے ہیں ایک محکمہ بھی ایک دفعہ بنا تھا پری پارٹیشن(PRE PARTION)کے زمانہ میں۔ لیکن پھر بھی لوگ ادھر توجہ نہیں کرتے حالانکہ اپنی قومی حالت کے درست کرنے کے لئے اور اپنے دین کی حالت کو درست کرنے کے لئے اِن چیزوں کے تجربے نہایت ضروری اور مفید ہیں۔
    صناع اپنی صنعتوں کو ترقی دیں
    اِسی طرح صناعوں کو میں کہتا ہوں کہ وہ بھی اپنی صنعتوں کو زیادہ سے زیادہ اچھا
    بنانے کی کوشش کریں۔وہی ہماری چیزیں ہیں جن کو یورپ والوں نے کہیں کا کہیں پہنچادیا ہے۔مختلف قسم کے وہ بناتے ہیں پُرزے ایسے جنکی وجہ سے اُس کی بناوٹ میں بڑی زیادتی ہوجاتی ہے۔ مثلاً کوئی چیز ہم ہاتھ سے پکڑکے بناتے ہیں اُس کی حرکت کی وجہ سے اُس کی لرزش کی وجہ سے وہ دیر میں بنتی ہے۔انہوں نے اس کے لئے پُرزہ ایسا بنالیا مثلاًپھنسا دیا۔ اُس میں پھنسا کے پھر وہ بڑی آسانی سے کام کرتے چلے جاتے ہیں۔ جس میں ہمارا آدمی ایک بنا تا ہے وہ دس بناتے ہیں تو ہمارے صناعوں کو بھی چاہئے کہ وہ ایجاد کی طرف توجہ کریں۔گاندھی جی نے جب چرخہ کی تحریک کی تو پانچ سو چرخہ اُن کے اتباع نے ایجاد کیا تھا اور ایسے ایسے اچھے چرخے تھے کہ جنہوں نے ہمارے ملک کے کھدر کی بناوٹ کو چارچاند لگا دئیے تھے اِسی طرح اگر ہمارے آدمی اس بات میں لگیں کہ ترقی کرنی ہے۔پُرزے ایجاد کرنے ہیں۔نئی نئی مشینیں ایجاد کرنی ہیں تو پھر ہمارے صنّاع جو ہیں ترقی کرجائیں گے۔
    تاجر اپنی تجارت بڑھائیں
    اِسی طرح تاجروں کو بھی اپنی تجارت کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کا طریقہ یہی ہے
    دیکھو ہماری شریعت کا حکم ہے۔چھوٹا چھوٹا حکم ہوتا ہے بڑی برکت والا ہوتا ہے۔میں نے دیکھا ہے جتنے میرے پاس تاجر دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں مرگئے،مرگئے ۔ ایک ہی وجہ نکلتی ہے کہ مال لیا پھر روک لیا اب بیٹھے ہیں کہ قیمت بڑھ جائے گی قیمتیں۔ یہ کس طرح پتہ لگا کہ بڑھ جائیں گی؟ یہ کیوں نہیں پتہ لگا گھٹ جائیں گی۔
    ہماری چونکہ سندھ میں کپاس بڑے پیمانہ پر ہوتی تھی اور وہاں ہیجنگ (HEDGING) کرتے ہیں یعنی پیشگی بیچ لیتے ہیں۔اِس پیشگی بیچنے میں بعض دفعہ تھوڑے سے روپیہ سے اپنی پیداوار سے زیادہ بھی بیچ سکتے ہیں اور اِس میں بعض دفعہ بڑا نفع آجاتا ہے۔ مجھے ایک وقت خیال آیا۔میں نے دیکھا کہ اِس میں شریعت کی کوئی حرمت نہیں ہے جائز ہے بیع سلم ہے تومیں نے حکم دے دیا ایک انگریزی فرم کو کہ میری طرف سے اتنی خرید لو۔میں نے کہا نقصان ہوگا تو اِدھراُدھر سے پُر کر لیں گے۔مہینہ کے بعد ریٹ اتنے بڑھے کہ میں نے اس کو تاردی کہ اس کو بیچ ڈالو۔ اُس نے بیچ دی اور تیس ہزار روپیہ نفع آیا۔پھر میں نے اس سے دُگنی اُس کو تار دے دی کہ اتنی خرید لو۔پھر اُس نے خرید لی۔ مہینہ کے بعد وہ اتنی بڑھ گئی کہ میں نے اُس کو تاردی کہ بیچ ڈالو۔ اِ س میں مجھے کوئی ستّر ہزار کا نفع آگیا۔پھر میں نے اُسے کہا کہ اَور اتنی خرید لو تین مہینے کے اندر اندر دو لاکھ بیس ہزار کا نفع آیا۔ اس کے بعد میں نے سمجھا کہ یہ کام تو بڑا اچھا ہے یہ خیال نہ آیا کہ اس میں گھاٹا بھی ہے،نقصان بھی ہے۔میں نے کہا اور خرید لو۔ پھر گرنی شروع ہوگئی۔میں نے دو آدمی اپنے مقرر کئے وہاں۔ جب گرنی شروع ہوئی تو چالیس ہزار کا نقصان ہوا۔ میں نے کہا چلو ڈیڑھ لاکھ بچتا ہے لیکن میں نے کہا اب تم ختم کردو۔اب وہ جنہوں نے روپیہ دیا ہوا تھا وہ تو چاہتے تھے کہ ہم سے واپس لیں اِس لئے میں کہوں ختم کردواور وہ کہیں اب بڑھنی ہے قیمت۔اب اِس وقت نقصان ہوجائے گا اِس وقت روک لو پھر بڑھنی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اَور چالیس ہزار کا گھاٹا پڑگیا۔مجھے اس کی اطلاع ملی تو میں نے کہا میں نے تو تمہیں کہا تھا بیچ ڈالو۔ کہنے لگے انہوں نے کہا تھا بڑھنی ہے قیمت۔میں نے کہا اچھا اب تو بیچ دو۔ پھر وہ اُن کو کہیں کہ دیکھو جتنی گرنی تھی گر چکی ہے اب اس نے بڑھنا ہے اِس طرح وہ لیتے چلے گئے2لاکھ8ہزار کا گھاٹا ہوا۔مجھے تو اب مزا آیا میں نے کہا دیکھو اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ سلوک کہ پہلے میرے گھر میں روپیہ بھیجا پھر نقصان کیا۔جو پہلے نقصان ہوتا تو میرا دیوالہ نکل جانا تھا۔
    ہمارا ایک عزیز میرے پاس آیا اور کہنے لگا میں آپ کو کہنے آیا ہوں بات۔میں نے حضرت صاحب کو خواب میں دیکھا ہے حضرت صاحب آئے او رکہنے لگے دیکھو(اُسکی بھی زمینداری تھی)خواہ مخواہ کا غم اور مصیبت لینے کا کیا فائدہ ہے۔ آئندہ یہ مت کام کرو، توبہ کرو۔ اور پھر انہوں نے آپ کا نام لیا کہ اُن کو بھی میرا یہ پیغام پہنچا دینا اورپھر فلاں عزیز کا نام لیا کہ اُس کو بھی یہ پیغام پہنچا دینا۔تو میں یہ خواب پوری کرنے آیا ہوں اور حضرت صاحب کا حکم آپ تک پہنچاتا ہوں۔ میں نے ہنس کر کہا میں تو پہلے ہی کانوں کو ہاتھ لگا چکا ہوں۔میں نے بھی نہیں کرنی اوردوسرے آدمی نے بھی نہیں کرنی، پر تُو یاد رکھ تُو نے ضرور کرنی ہے۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد میں نے اُس سے پوچھا۔ کہنے لگا ہاں تھوڑی سی کیاکرتا ہوں۔میں نے کہا وہی ہوگئی نا بات کہ ہم نے تو حضرت صاحب کا حکم مان لیا تم نے نہیں مانا۔تو بہرحال روکنا مال کا شریعت میں منع ہے۔ یہ جو بھی لوگ کرتے ہیں کہ روکتے ہیں مال کہ قیمت بڑھ جائے گی تو بیچیں گے ہمیشہ نقصان اٹھا تے ہیں۔جو آتا جائے بیچتے جاؤ۔ پھر نئے بھاؤ پر خرید لو پھر بیچ ڈالو تمہیں بہرحال فائدہ ہے۔تو جتنے نقصان لوگ اٹھاتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِ س حکم کی خلاف ورزی سے اٹھاتے ہیں۔تم اِس بات کو مدنظر رکھو۔ بیع سلم کا طریقہ اختیار کرو کہ پیشگی دو زمینداروں کو اور اُن سے فصل کا بھاؤ اچھا مقرر کرو اور اُس کی وصولی زیادہ ہوشیاری کے ساتھ کرو۔ سارے خوجے جو ہیں کروڑوں کروڑ کی تجارت کرتے ہیں کبھی اُن کو نقصان نہیں ہوتا۔ وہ ایسا قبضہ رکھتے ہیں اِن لوگوں کے ہاتھ پر کہ ان سے کوئی دھوکا نہیں کرتا۔دوسرے ناواقف ہوتے ہیں اُن سے لوگ دھوکا کرتے ہیں۔ ہوشیاری کے ساتھ اگر کام کیا جائے۔دیانتداروں سے مل کر کیا جائے تو لاکھوں لاکھ رستہ کھلا ہے تجارت کا جس میں ترقی کی جاسکتی ہے۔
    زندگی وقف کرنے کی عظمت او راہمیت
    پھر اِس کام کے بڑھانے کے لئے جماعت کے نوجوانوں کو
    وقفِ زندگی کی تحریک میں کرتا ہوں۔وقف کے راستہ میں اِس وقت بہت سی مشکلات ہیں۔ بعض ملک بالکل غافل ہیں۔دوسرے جو وقف میں آرہے ہیں اُن کا استقلال اورعزم اِس وقت کمزور پڑرہا ہے۔ تیسرے کچھ لوگ غداری دکھا رہے ہیں۔بھاگ کر یا مال چُرا کر۔ یہ امور خطرناک ہیں یہ تبھی دور ہوسکتے ہیں جبکہ:-
    اوّل مخلص واقفین وقت کی عظمت کا پھر تکرار سے اظہار کریں او راپنے عمل سے اس کی خوبی کا یقین دلائیں۔
    (ب) جماعت، واقفین کو خاص عظمت دے اور وقف سے بھاگنے والوں کو ذلیل اور ناقابلِ التفات سمجھے۔اب میں نے دیکھا ہے کہ روپیہ کھا گئے سلسلہ کا۔آجاتے ہیں کہ یہ وقف کیا ہے جی لڑکا۔تو ہمارے اندر توفیق نہیں آپ اس کو بی اے ایم اے کرائیں اور اپنی خدمت پر لگائیں۔اُس کے اوپر آٹھ دس ہزار روپیہ خرچ کرکے ہم تعلیم دلاتے ہیں پھر جس وقت ایم اے ہوگیا بھاگ جاتا ہے۔کہتے ہیں جاؤ نالش کرکے وصول کرو۔دس روپیہ مہینہ دے دیں گے۔ اِس قسم کے ٹھگ اور پھر جماعت اُن کو سروں پر بٹھاتی ہے۔ جماعت کے پریڈیڈنٹ ہمارے پاس آتے ہیں سفارشیں لے لے کے امیر لکھتے ہیں ہوگئی غلطی اب جانے دیجئے۔ تو اگر یہ خزانے تمہارے پاس ہیں کہ لاکھوں لاکھ روپیہ تم لوگوں کو دو اور حرام مال کھلاؤ تو تب بھی حرام مال کھانے کی تو جماعت میں عادت پڑجائے گی چاہے روپیہ تمہارا بچ جائے۔نہ آوے وہ تو الگ رہا مگر حرام خوری کی جب کسی قوم میں عادت پڑی تو پھر اُس کا کوئی ازالہ نہیں ہوسکتا اِس لئے جماعت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جب تم میں سے کوئی حرام خوری کرتا ہے تو تمہارے اندر غیرت ہونی چاہئے کہ تم نے پھر اُس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا۔
    تعمیر مساجد کی تحریک
    پھر میں مساجد کی طرف توجہ دلاتاہوں یہ نہایت اہم مسئلہ ہے۔ مساجد اور مراکز باہر کے ملکوں میں ہونے
    ضروری ہیں۔ان کے بغیرتبلیغ عام نہیں ہوسکتی۔افسوس ہے کہ اِس طرف توجہ کم ہے۔جو تجاویز مقرر کی گئی تھیں بہت ہی آسان تھیں مگر اُن پر ابھی تیس فیصدی بھی عمل نہیں ہوا۔زمیندار،مکان بنانے والے،پیشہ ور،تاجر،ملازم سبھی کا اکثر حصہ غافل ہے حالانکہ یہ قربانی مشکل نہ تھی آسانی سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ چندہ ہوسکتا ہے او رکسی ایک ملک میں مسجد اور مکان بن سکتا ہے مگر اب تک مسجد امریکہ کی زمین جو خریدی گئی ہے اُس کا بھی قرضہ نہیں اترا۔ہالینڈ میں عورتوں نے جو مسجد بنائی ہے اُس کا کچھ روپیہ جمع ہے۔مکان، زمین خریدی جاچکی ہے باقی کی میں آج اُن میں تحریک کرچکا ہوں۔
    مردوں کو سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہئے کہ جو ہم نے چندہ مقرر کیا ہے اُس کی ادائیگی کی طرف وہ توجہ کریں۔ مثلاً ہفتے میں پہلے دن کی تجارت کا وہ نفع دے دیں یا جو بڑے تاجر ہیں وہ مہینے کے پہلے سودے کا دے دیں جو ملازم ہیں وہ جو سالانہ ترقی ملے وہ پہلی ترقی اُدھر دے دیا کریں جب کوئی بچہ ہوتو کچھ مسجد کے لئے دیویں۔مکان بنادیں تو کچھ مسجد کے لئے دیویں۔شادی کریں تو کچھ مسجد کے لئے دیویں زمیندار کے پاس جتنی زمین ہے اُس کی دو آنے فی ایکڑ شائد کاشت پر مقرر ہے یا ساری زمین پر مجھے اِس وقت یاد نہیں وہ چندہ دے دیا کریں۔ مسجد کے لئے۔اور اِسی طرح جو وکلاء اور ڈاکٹر ہیں اُن کے لئے بھی مجھے اِس وقت پورا قاعدہ یاد نہیں مگر غالباً یہ ہے کہ جو اُن کی آمد پہلے سال کی تھی اُس کے بعد جو ترقی ہو اُس کا دسواں حصہ دے دیں او راِسی طرح مہینہ کی یاسال کا ایک دن مقرر ہے کہ اُس کی جو آمد پریکٹس کی ہو یا فیس کی ہو وہ دے دیا کریں۔ تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ اتنی معمولی بات ہے کہ اِس قربانی کا کوئی پتہ بھی نہیں لگتا۔اب جس کو آج ترقی ملی ہے پانچ وہ اُس کو۔ پندرہ سال کی ملازمت ہے تواُس کو پندرہ سال ملنی ہے۔ ساٹھ روپے ایک سال میں بنتے ہیں پندرہ سال میں نو سَو اُس کو ترقی ملنی ہے اِس نو سَو میں سے اُس نے صرف پانچ دینے ہیں خدا کے رستہ میں۔تو کتنی چھوٹی سی قربانی ہے۔ اِسی طرح ایک شخص نے 360دن کمائی کرنی ہے۔ اِن 360دنوں میں سے بارہ دن کی کمائی کا اُس نے صرف ایک سَودے کا نفع دینا ہے۔یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے۔زمیندار کا دو آنے فی ایکڑ اگر کاشت پر ہے تو اَو ربھی کم ہوگیا۔ قریباً1فی ایکڑ سمجھو۔ تو یہ کتنی چھوٹی سی قربانی ہے۔
    اِسی طرح شادی بیاہ وغیرہ پر لوگ خرچ کرتے ہیں پانچ سو،چار سو، دو سو، سو، پچاس، ہزار ،دو ہزار۔ اُس وقت اگر پانچ یا دس روپے سلسلہ کے نام پر بھی دے دئیے جائیں تو کون سی بات ہے۔میں نے یہ کہاتھا کہ کم سے کم تم جو مجھ سے نکاح پڑھاتے ہو تو مسجد میں کچھ دے دیا کرو۔ آخر فائدہ اٹھاتے ہو۔کچھ ان لوگوں نے دینا شروع کیا تھا اب تو میرے سامنے کسی نے نہیں دیا معلوم ہوتا ہے بھول گئے ہیں۔ اب کل نکاح ہونگے تو کل سارے چاہے روپیہ دو، اٹھنّی دو،دو روپے دو، پر دے دینا وہاں مسجد کے لئے ۔
    سچ،محنت تعلیم اورنماز
    سب سے آخر میں میں یہ کہتا ہوں کہ چند اخلاق ہیں اُن کی طرف توجہ کرو۔سچ،محنت کی عادت یہ دو اخلاق
    ہیں اورفعل میں تعلیم اور نماز۔قوموں کا وقار سچ او رمحنت سے بنتا ہے اور تعلیم اور نماز قوموں کو خداتعالیٰ کے قریب کردیتی ہے اور بنی نوع انسان کے لئے مفید بنادیتی ہے۔ تمام نوجوان نماز باجماعت اورتہجد کی عادت ڈالیں اور تمام عورتوں اور مردوں کو تعلیم دی جائے۔جس طرح میں نے عورتوں میں کہا تھا اِسی طرح میں مردوں کو کہتا ہوں کہ وہ بھی انتظام کریں کہ کوئی احمدی اَن پڑھ نہ رہ جائے اردو اُس کو پڑھائی جائے۔
    اردو زبان سیکھاؤ
    دیکھو ساری دنیا کی قوموں میں لوگ اپنی زبان سیکھتے ہیں اور اپنی زبانوں سے سارے علم حاصل کرلیتے ہیں۔ہمارا کام یہ
    ہے کہ ہر علم اردو میں لے آئیں۔تمہارا کام یہ ہے کہ ہر آدمی کواردو سکھا دو بس وہ پھر سارے علم سیکھ جائے گا اوروہی اپنے گھر میں بیٹھا ہوئے افلاطون اور سقراط بن جائے گا۔پس ہر پڑھا لکھا آدمی کم سے کم ایک یا دو آدمی کو سال میں پڑھانے کا وعدہ کرے۔اب یہ سٹیج پر تو سارے پڑھے لکھے بیٹھے ہیں بولو! سارے وعدہ کرتے ہو جاکر پڑھانے کا؟’’۔
    سٹیج پربیٹھنے والے سب دوستوں نے حضور کے اِس ارشاد پروعدہ کیا کہ وہ سال میں ایک یا دو آدمیوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں گے اِس کے بعد حضور نے فرمایا:-
    ‘‘اب سٹیج کے باہر والو! جو تمہارے امیر وغیرہ یہاں بیٹھے ہیں وہ وعدہ کرتے ہیں؟ اب باہر کے جلسہ گاہ والو! بولو! کہ جو پڑھنے والے ہو کوشش کر وگے کہ اپنے میں سے اپنے گاؤں اور آس پاس کے کسی ایک احمدی مرد یا عورت کسی کو پڑھانا لکھانا اور اردو سکھا دو گے’’؟۔
    اِس پر بھی سب دوستوں نے وعدہ کیا۔آخر میں حضور نے فرمایا:-
    ‘‘اللہ تعالیٰ تم کو اِس بات کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اتنی دیر بول گیا ہوں۔ اب کل میری علمی تقریر ہوگی اگر خدا نے میری صحت قائم رکھی اور مجھے بولنے کی توفیق ملی۔وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنِ۔’’
    (از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ)
    1: ری بیٹ : REBATE
    2: مسلم کتاب البر وَالصلۃ۔ باب النَّھْیُ عَنْ قَوْل ھلک النَّاس میں یہ الفاظ ہیں اِذَاقَالَ الرَّجُلُ ھَلَکَ النَّاسُ فَھُوَ اَھْلَکَھُمْ
    3: البدایة وَالنِّھَایَۃ جلد 8 صفحہ 126 مطبوعہ بیروت 2001ء
    4: اَلاَعْلٰی : 10 5: البقرۃ : 250
    6:
    7:
    8: اَلْاَعْرَاف : 200
    9: پامال مضمون:
    10: بخاری کتاب النِّکَاحِ۔ باب النَّظر اِلٰی الْمَرْأَۃ قَبْلَ التَّزْوِیْجِ
    11: سُبتی:
    12:
    13: مارکھنڈ:










    سیر روحانی (7)
    (28دسمبر 1953ء)



    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی
    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    سیر روحانی (7)
    (تقریر فرمودہ مورخہ 28دسمبر 1953ء برموقع جلسہ سا لانہ ربوہ)

    عا لَمِ رُوحانی کا نو بت خانہ
    تشہد،تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:-
    ‘‘اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ ایسے الفاظ میں اُتاری ہے کہ عُسر ہو یا یُسر ہو مؤمن کے لئے یہ سورۃ ہمیشہ ہی ایک مستقل صداقت ،ایک نہ ِمٹنے والی حقیقت اور ایک محبت کا گہرا راز بنی رہتی ہے۔انسانوں پر توکّل کرنے والے اور ظاہر ی طاقت وشان کو دیکھنے والے لوگ کبھی کبھی باوجود بڑی بڑی تیاریوں کے ،باوجود بڑے بڑے ارادوں کے ،باوجود بڑی بڑی امدادوں کے ،باوجود بڑے بڑے سامانوں کے نا کا می اور نامرادی کا مُنہ دیکھ لیتے ہیں ۔ ہٹلر اپنی تمام شان کے باوجودمشرقی جرمنی کی جنگ میں ہار جاتاہے۔نپولین اپنے عظیم الشان تجربہ اور عزم کے باوجود واٹرلو میں شکست کھا جاتاہے۔ لیکن خدا کے بندے اور خدا کے پر ستاراور خدا کے موعود صبح بھی اور شام بھی اور رات بھی اور دن بھی سچے دل سے بغیر منافقت کے، بغیر جھوٹ کے خدا کے حضور یہ کہتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔1 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔اُن کی نا کامیاں عارضی ہوتی ہیں ،اُن کی تکلیفیں محض چند لمحات کی اور اُن کی مشکلات با لکل بے حقیقت ہوتی ہیں جن کے ساتھ خدا کھڑا ہوتا ہے اُن کو کسی دوسری چیز کا ڈر ہی کیا ہو سکتاہے۔
    چند تمہید ی امور
    مَیں نے ذکر کیا تھا کہ کل انشاء اللہ تعالیٰ میں حسب طریقِ سابق ایک علمی مضمون کے متعلق کچھ خیا لات ظاہر کرونگا۔
    اِس دفعہ مَیں نے اِس مضمون کے لئے پھر ''سیر روحانی'' کو چُنا ہے''سیر روحانی'' کی تقریر 1938ء سے شروع ہوئی تھی او ر اب1953ء آگیا ہے اور ابھی تک وہ سارا مضمون ختم نہیں ہؤا ۔سولہ چیزیں تھیں جو مَیں نے منتخب کی تھیں اور جن کے متعلق مَیں متشابہہ قرآنی دعوے اور قرآنی تعلیم پیش کرنا چا ہتا تھا ان میں سے اِس وقت تک دس کے متعلق تقریریں ہو چکی ہیں۔ 1938ء میں جنتر منتر ،وسیع سمندر اور آثارِقدیمہ کے متعلق تقریر ہوئی تھی۔1940ء میں مساجد اور قلعوں کے متعلق تقریر ہوئی تھی۔ 1941ء میں مُردہ بادشاہوں کے مقابر اور مینا بازار کے متعلق تقریر ہوئی تھی۔پھر اس کے بعد 1942ء، 1943ء، 1945ء، 1946ء اور 1947ء میں اِس موضوع پر کو ئی تقریر نہیں ہوئی۔ 1948ء میں ایک وسیع اور بلند مینا ر کے متعلق تقریر ہوئی تھی۔پھر 1950ء کے جلسہ میں دیوانِ عام کے متعلق تقریر ہوئی تھی اور 1951ء کے جلسہ میں دیوانِ خاص کے متعلق تقریر ہوئی ۔ اس طرح گویا دس مضامین اِن میں سے ہو گئے چو نکہ اِس مضمون کے بیا ن ہونے میں لمبا فا صلہ ہو گیا ہے اِس لئے میرا منشاء تھا کہ مَیں مختصر کر کے باقی چھ مضامین اکٹھے بیان کردوں اور کتاب مکمل ہوجائے لیکن جیسا کہ مَیں کَل بتا چکا ہوں چند مہینوں سے جو مجھے گلے کی تکلیف شروع ہوئی تو اِس کی وجہ سے مَیں نے محسوس کیا کہ میں لمبا مضمون بیان نہیں کر سکوں گا اور چھ مضا مین بیان کرنے کے لئے غا لباً پانچ چھ گھنٹے لگ جائیں گے اس لئے او ر کچھ اس وجہ سے بھی کہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے مَیں رات کے وقت لیمپ سے کام نہیں کر سکتا اور بجلی ابھی یہاں آئی نہیں محکمہ دو سال سے ہم سے وعدے کررہا ہے مگر اب تک اُسے ایفا ئے عہد کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ جب وہ آجائے تو مجھے امید ہے کہ بیماری میں بھی کچھ نہ کچھ کا م مَیں رات کو کر سکوں گا لیکن روشنی اگر کافی نہ ہو تو اب میری نظر رات کو زیادہ کا م نہیں کر سکتی۔ دوسرے تیل کی بُو کی وجہ سے مجھے نزلہ بھی جلدی ہوجاتا ہے اور تیل کے لیمپ سے کام کرنا میرے لئے مشکل ہوجاتا ہے اس لئے مَیں زیادہ وقت نوٹ لکھنے پر بھی نہیں لگا سکتا تھااو رکچھ میری بیماری کی وجہ سے لاہور کے ڈا کٹروں نے جو نُسخے تجویز کئے وہ ایسے مُضْعِفْ2 تھے کہ درحقیقت یہ پچھلا سا را مہینہ ایسا گزرا ہے کہ اکثر حصّہ مجھے چارپائی پر لیٹ کر گزارنا پڑتا تھا اور بیٹھنا بھی میرے لئے مشکل ہوتا تھا اور دوائی بھی ایسی تھی جو کہ خواب آور تھی اسلئے اکثر وقت مجھے اونگھ ہی آتی رہتی تھی او رمَیں کام نہیں کر سکتا تھا۔پس اِن مجبو ریوں کی وجہ سے مَیں نے صرف ایک مضمون پر ہی اِکتفاء کیا اور آج اُسی مضمون کے متعلق مَیں کچھ باتیں کہوں گا۔ بعض دفعہ الٰہی تصرّ ف ایسا ہوتاہے کہ چھو ٹی سی باتوں کو اللہ تعالیٰ لمبا کر دیتا ہے ۔اور بعض دفعہ طبیعت پر ایسا بوجھ پڑتا ہے کہ لمبی لمبی باتیں بھی مختصر ہو جاتی ہیں اِس لئے میں ابھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ نوٹ جو درحقیقت ایک ہی مضمون کے متعلق ہیں اور اپنے خیال میں مَیں نے انہیں مختصر کیا ہے آیا تقریر کے وقت بھی وہ لمبے ہو جا تے ہیں یا چھو ٹے ہو جا تے ہیں۔ بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کے فعل پر منحصر ہے مجھے بھی نہیں معلوم اور آپ کو بھی نہیں معلوم ۔
    نئے لوگوں کی واقفیت کیلئے بعض پُرانی باتیں
    بعض لوگ جو نئے آئے ہیں اُن کی اِطلاع
    کے لئے مَیں یہ بتاتا ہوں کہ 1938ء میں مَیں نے ایک سفر کیا تھا ۔ اُس سفر میں مختلف جگہوں پر جب مَیں نے مختلف چیزیں پُرانے آثار کی یا نیچر کی دیکھیں تو اُن کا میری طبیعت پر ایک گہرا اثر پڑا ۔انسانی مصنوعات اور انسانی شان وشوکت کو دیکھ کر اور اسلام کے نشانوں کو مٹا ہؤا دیکھ کر اور اُس کی جگہ کفر اور ضلالت کو غالب دیکھ کر میر ی طبیعت سخت غمزدہ ہوئی اور مجھے بہت رنج پہنچا۔
    اِس سفر میں ہم پہلے بمبئی گئے تھے ،بمبئی سے حیدر آباد گئے، حیدر آباد سے پھر آگرہ آئے، آگرے سے دِلّی آئے اور دلّی میں ایک دن سیر کرتے ہوئے ہم غیاث الدین تغلق کے قلعہ پر چڑھے وہاں سے ہمیں دلّی کے تمام مناظر نظر آرہے تھے۔ دلّی کا پُرانا شہر بھی نظر آتا تھا،نیا شہر بھی نظر آتا تھا، قطب صاحب کی لاٹ بھی نظر آتی تھی، نظام الدینؒ صاحب اولیاء کا مقبرہ بھی نظر آتا تھا،لو ہے کی لا ٹ بھی نظر آتی تھی اور لودھیوں کے قلعے بھی نظر آتے تھے ،سُوریوں کے قلعے بھی نظر آرہے تھے، مغلوں کے قلعے بھی نظر آتے تھے ،باغات بھی نظر آتے تھے ،غرض عجیب قسم کا وہ نظارہ تھا جو نظر آرہاتھا۔ایک طرف وہ شان وشوکت ایک ایک کرکے سامنے آرہی تھی کہ کِس طرح مسلمان یہاں آئے ،کس طرح اُنکو غلبہ حا صل ہؤا ،کتنی کتنی بڑی انہوں نے عمارتیں بنا ئیں اور اس کے بعد وہ خاندان تباہ ہؤا،پھر دوسرا آیا تو وہ تباہ ہؤا،پھر تیسرا آیا اور وہ تباہ ہؤا اور اب آخر میں یہ نشانا ت انگریزوں کی سیر گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ اِس نظارہ کو دیکھ کر میری طبیعت پر ایک غیر معمولی اثر پیدا ہؤا اورمَیں نے کہا۔ کیا ہے یہ دنیا جس میں اتنی شاندار ترقی کے بعد بھی انسان اتنا گِر جاتا اور تباہ ہو جاتا ہے۔ میرے ساتھ میری بڑی ہمشیرہ بھی تھیں یعنی ہمشیروں میں سے بڑی ورنہ یوں وہ مجھ سے چھوٹی ہیں۔ اِسی طرح میر ی لڑکی امتہ القیوم بیگم بھی تھی اور میری بیوی اُمِ متین بھی تھیں، مَیں وہاں کھڑا ہو گیا اور مَیں اس نظارہ میں محو ہو گیا ۔ ایک ایک چیز کو مَیں دیکھتا تھا اورمیرے دل میں خنجر چبھتا تھا کہ کسِی وقت اسلام کی یہ شان تھی مگر آج مسلمان انگریز کا ٹکٹ لئے بغیر اِن عمارتوں کے اندر جا بھی نہیں سکتے ۔ یہ عمارتیں جو مسلمانوں نے بنا ئی تھیں آج یہاں سر کاری دفتر بنے ہوئے ہیں اور اس کو سیرگاہ بنا دیا گیا ہے۔جن خاندانوں کے یہ مکان تھے اُن کی نسلیں چپڑاسی بنی ہوئی ہیں،کلرک بنی ہوئی ہیں،ادنیٰ ادنیٰ کام کر رہی ہیں اوریوروپین لوگوں کے ٹُھڈّے کھا رہی ہیں۔ غرض میں اِس بات سے اتنا متاثر ہؤا کہ مَیں کھڑے ہوئے انہی خیالات میں محو ہو گیا اور انہوں نے مجھے آوازیں دینی شروع کر دیں کہ بہت دیر ہو گئی ہے۔مگر مَیں چوٹی پر کھڑا اِس کو سوچ رہا تھا اور دنیا وَمَافِیْہَاسے غافل تھا۔ سوچتے سوچتے یکدم اللہ تعالیٰ نے میرے دل پر القاء کیا کہ ہم نے جو اسلام کو قائم کیا تھا تو قرآن کریم کے لئے قائم کیا تھااِن عمارتوں کے لئے قائم نہیں کیا تھا۔ہم نے جو تم سے وعدے کئے تھے وہ قرآن کریم میں بیان ہیں، وہ یہ وعدے نہیں تھے جو تُغلقوں اور سُوریوں نے سمجھے تھے بلکہ وہ وعدے وہ ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے تھے اور یہ چیزیں جوتم دیکھ رہے ہو ان کی مثالیں بھی قرآن کریم میں موجود ہیں اوراِن سے بہت زیادہ اعلیٰ اور شاندار ہیں اور قیامت تک موجود رہیں گی تم اِن کو دیکھ کرکیا غم کرتے ہو جبکہ اِن سے زیادہ شاندار چیزیں تمہارے پاس موجود ہیں۔ جس وقت تم چاہو قرآن اُٹھاؤ اُس میں سے تمہیں یہ ساری چیزیں نظر آ جائیں گی۔
    غرض بجلی کی طرح یہ مضمون میر ے نفس میں کُو ندا اَور مَیں نے وہاں سے حرکت کی اور نیچے کی طرف اُترنا شروع کیا اور مَیں نے کہا۔
    ''مَیں نے پا لیا ۔مَیں نے پا لیا''
    جس طرح بُدھ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ خدا کے متعلق غور کر رہا تھا کہ سا لہا سال غور کرنے کے بعد یہ انکشاف اُس پر ہؤا اور بے اختیا رہو کر اُس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا:
    ''مَیں نے پالیا۔مَیں نے پالیا''
    اِس طرح اُس وقت بے اختیا ر میری زبان پر بھی یہ الفاظ جا ری ہو گئے کہ:
    ''مَیں نے پا لیا۔مَیں نے پا لیا''
    میری بیٹی امة القیوم بیگم نے مجھ سے کہا ۔'' ابّا جا ن!آپ نے کیا پا لیا؟'' مَیں اُس وقت اِس دنیا میں واپس آچکا تھا ۔مَیں نے اُسے کہا ۔بیٹی!مَیں نے پا تو لیا ہے لیکن اب مَیں وہ تم کو نہیں بتا سکتا بلکہ ساری جماعت کو اکٹھا بتاؤں گا۔ چنانچہ اِس پر مَیں نے تقریر شروع کی جو ابھی تک جا ری ہے اور جس کا ایک حصّہ مَیں آج بیان کر نے والا ہوں۔
    نوبت خانوں کی پہلی غرض
    جو چیزیں مَیں نے وہاں دیکھی تھیں اور جنہوں نے میرے قلب پر خا ص اثر کیا تھااُن میں سے
    ایک چیز یہ تھی کہ مَیں نے وہا ں نوبت خانے دیکھے ۔یعنی ایسی عمارتیں دیکھیں جن میں وہ جگہیں بنی ہوئی تھیں جن میں بڑی بڑی نو بتیں رکھی جاتی تھیں اور وہ خاص خاص مواقع پر بجا ئی جاتی تھیں۔ مَیں نے تحقیقات کی کہ یہ نوبت خانے کیوں بنوائے گئے تھے اور اِن کی کیا غرض تھی؟اِس پر مجھے معلوم ہؤا کہ کچھ نوبتیں تو اس طرح رکھی گئی تھیں کہ وہ سرحدوں سے چلتی تھیں اور دلّی تک آتی تھیں ۔مثلاً جنوبی ہندوستان میں چند حکومتیں ایسی تھیں جو شروع زمانہ میں مغلوں کے ماتحت نہیں آئیں وہ ہمیشہ مغل بادشاہوں سے لڑتی رہتی تھیں اور جب بھی موقع پا تیں مُغلیہ چھاؤنیوں پر حملہ کر دیتی تھیں ۔اِس غرض کے لئے انہوں نے تین تین چارچار میل پر جہا ں سے وہ سمجھتے تھے کہ اُن کی آواز جا سکتی ہے نوبت خانے بنائے ہوئے تھے جو چلتے ہوئے دلّی تک آتے تھے۔ جس وقت سرحدات پر حملہ ہو تا تھا تو نوبت خانہ پر جو افسر مقرر ہوتے تھے وہ زور سے نوبت بجاتے تھے اُن کی آواز سُن کر اگلا نوبت خانہ نوبت بجانا شروع کر دیتا تھا،اُس کی آواز تیسرے نوبت خانہ تک پہنچتی تو وہ نو بت بجا نا شروع کر دیتا اِس طرح دکّن سے دلّی تک چند گھنٹوں میں خبر پہنچ جاتی تھی۔گویا یہ ایک تا ر کا طریق نکا لا گیا تھا اور اِس سے معلوم ہو جاتا تھا کہ ملک پر حملہ ہو گیا ہے تو جس جہت سے نوبت خانوں کی آواز آتی تھی اُس جہت کا بھی پتہ لگ جاتا تھا۔ بادشاہ فوراًلام بندی3 کا حکم دے دیتا تھا اور کسی جرنیل کو مقابلہ کے لئے مقرر کر دیتا تھا اورگھوڑ سوار فوراًچلے جا تے تھے جو جا کر خبر دیتے تھے کہ تم مقابلہ کرو۔ اگر بھاگنا پڑے تو فلاں جگہ تک آجاؤپھر ہماری اَور فوج آجائے گی۔چنانچہ پھر فوج پہنچ جاتی تھی اور دشمن کا مقابلہ شروع ہو جاتا تھا۔یہ نوبت خانے اِدھر بنگال سے چلتے تھے اور دلّی تک جاتے تھے اور اُدھر پشاور سے چلتے تھے اور دلّی تک آتے تھے۔جب کوئی حملہ آور ایران کی طرف سے آتا تھا تو پشاور کے پاس سے نوبت خانے بجنے شروع ہو جا تے تھے اور چند گھنٹوں میں دلّی میں خبر پہنچ جاتی تھی کہ اِدھر سے حملہ ہو گیا ہے۔اُن دنوں ملتان میں بڑی چھاؤنی تھی، پھر لاہورؔ میں بڑی چھا ؤنی تھی اور دلّی تو خود مرکزِ حکومت تھا۔اِن بڑی بڑی فوجی چھا ؤنیوں کو حکم پہنچ جاتا تھا کہ اپنی فوجیں پشاور کی طرف بڑھانی شروع کردو اور پھر دلّی سے دوسرے جرنیل بھی پہنچ جاتے تھے۔
    غرض نو بت خانوں کی غرض ایک تو یہ ہؤا کرتی تھی کہ مرکز میں یہ خبر پہنچ جائے کہ دشمن حملہ آور ہؤا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں ا بھی تار نہیں نکلی تھی یہ طریق بڑا مفید تھا جو حکومت کی ہوشیاری اور اپنے فرض کے ادا کرنے پر تیا ر ہو نے کی ایک علامت تھی ۔کُجا حیدر آباد دکّن کا علاقہ جوہزار میل یااُ س سے بھی زیادہ فاصلہ پر ہے اور کُجا یہ کہ چند گھنٹوںمیں خبریں پہنچ جاتی تھیں۔ اِسی طرح پشاور سے دلّی تک خبریں پہنچ جاتی تھیں اور بنگال سے دلّی تک خبریں پہنچ جاتیں۔
    نوبت خا نو ں کی دوسری غرض
    نوبت خانوں کی دوسریؔ غرض یہ ہؤا کرتی تھی کہ جب بادشاہ کسی علاقہ پر حملہ
    کرنے کیلئے اپنے لشکرکو لیکر مرکز سے روانہ ہوتو اُس جہت میں رہنے والی تمام رعایا کو علم ہوجا ئے کہ شاہی لشکرآرہا ہے اور وہ بھی دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جائے۔چنانچہ جب بادشاہ کسی طرف حملہ کرتا تھا تو اُس طرف اُلٹی نوبت بجنی شروع ہو جاتی تھی۔مثلاً دِلّی سے بادشاہی لشکر نے روانہ ہونا ہے اور فرض کرو کہ حملہ اتنی وسیع جگہ پر ہو گیا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ بادشاہی فوجوں کا وہاں فوری طور پر پہنچناضروری ہے تو دِلّی میں نوبت پڑتی تھی اور پھر جس طرف آگے جانا ہوتا تھا اُس طرف کے نوبت خانے بجنے شروع ہوجاتے تھے ۔ غرض جس لائن پر نوبت خانے بجتے چلے جاتے تھے لوگوں کو معلوم ہو جاتا تھا کہ اِس لائن پر لشکر نے جانا ہے۔اگر حیدر آباد کی طرف بادشاہ کا لشکر جا رہا ہے تو پہلے ایک پڑاؤ پر نو بت بجے گی ، پھر دوسرے پر بجے گی، پھر تیسرے پر بجے گی اور پھر بجتی چلی جائے گی اور جہا ں تک نوبت بجے گی لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ بادشاہ نے کہاں تک آنا ہے۔اگر بنگال کی طرف شاہی لشکر نے جا نا ہے تو پہلے مرکز میں نوبت پڑے گی او رپھر آگے نوبت پڑے گی اور پھر آگے نوبت پڑے گی، پھر پڑتے پڑتے بنگال والوں کو اِطلاع ہو جائے گی کہ دِلّی سے بادشاہ کا لشکر چل پڑا ہے۔پشاور کی طرف حملہ ہؤا ہو تو اُدھر خبر پہنچ جائے گی کہ دِلّی سے بادشاہ فوج لے کر چل پڑا ہے۔
    یہ ظاہر ہے کہ جیسے تاریں آجاتی ہیں کہ ہوائی جہازوں پر ایک دستہ آرہا ہے، اِتنی فوج چل پڑی ہے اور فلاں جرنیل مقرر کیا گیا ہے تو اِس سے فوج کے حو صلے بڑھ جاتے ہیں۔ اور اگر ایک فوج اپنے آپ کوکمزور بھی سمجھتی ہے اور وہ خیال کرتی ہے کہ وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتی توجب اُسے یہ خبر پہنچ جائے کہ دو تین دن تک ہماری تازہ دم فوج اُس کی مدد کے لئے پہنچ جائے گی تو اُس کے حو صلے بلند ہو جاتے ہیں اور وہ لڑکر مرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ہم نے یہاں سے ہِلنا نہیں۔ دوتین دن میں ہماری اَور فوج آپہنچے گی ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر یہ پتہ نہ ہو کہ ہماری فوجیں کب آئیں گی تو وہ کہتی ہیں یونہی جان کیوں ضائع کرنی ہے چلو لوٹ جائیں اِس طرح اِن نوبت خانوں کی وجہ سے فوج بڑی مضبوط رہتی ہے۔
    نوبت خانوں کی تیسری غرض
    تیسری غرض نوبت خانوں کی یہ ہؤا کرتی تھی کہ بادشاہ کبھی کبھی لوگوں کو اپنا چہرہ
    دکھانے کے لئے اوراپنی باتیں سُنانے کے لئے جھروکوں میں بیٹھتے تھے اور اعلان کر دیا جاتا تھا کہ بادشاہ سلامت تشریف لے آئے ہیں جس نے آنا ہے آجا ئے یہ دربارِ عام ہوتاتھا ۔اُس وقت بھی نوبت بجائی جاتی تھی اور نوبت کے بجنے سے لوگ سمجھ جاتے تھے کہ آج بادشاہ نے باہر آنا ہے۔جو قریب ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں بات کرنے کا موقع مِل جائے گا، جو اُن سے بعید ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں دیکھنے کا موقع مِل جائے گا،جو اُن سے بھی بعید ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں ایک جھلک دیکھنے کا موقع مِل جائے گا اور جو اَور بھی بعید ہوتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہم کوشش توکر یں گے نظر آ گیا تو آ گیا ورنہ ہجوم ہی دیکھ لیں گے اِس طرح ہزاروں لوگ جمع ہو جاتے تھے۔دِلّی کے بادشاہوں نے اپنے عہدِحکومت میں ایسا طریق رکھا ہؤا تھا کہ علاوہ جھروکوں کے وہ بعض دفعہ ایسی جگہ بیٹھتے تھے کہ دریا پار کے لوگ بھی جمع ہو جاتے تھے۔ بیچ میں جمنا ؔآتی تھی اور جمنا کے کنا رے پر لوگ آکر جمع ہو جا تے تھے اور سمجھتے تھے کہ اِتنی دُور سے بھی اگر ہم نے بادشاہ کو دیکھ لیا تو یہ بھی ہماری عزّت افزائی ہے۔
    1911ء میں جب جا رج پنجم دِلّی میں آئے اور دربار لگا تو مِیلوں مِیل تک لوگ کھڑے ہوتے تھے اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر وہ کھڑے کیوں ہیں ۔بعض دفعہ آدھ آدھ مِیل پر بادشاہ کی سواری گزرتی تھی مگر لوگ کھڑے ہوتے تھے صرف اِتنا دیکھنے کے لئے کہ تالیاں ِپٹی ہیں اور بادشاہ وہاں سے گزرا ہے ۔بس اِتنی اطلاع آئی تو خوش خوش وہاں سے آگئے کہ ہم بادشاہ کا جلوس دیکھنے کیلئے گئے تھے۔ غرض یہ تین اغراض اِن نوبت خانوں کی ہؤا کرتی تھیں۔
    اوّل :سرحدات کی طرف سے مرکز کو اطلاع دینا کہ دشمن حملہ آور ہے۔
    دوم :مرکز کی طرف سے علاقہ کو اطلاع پہنچانا کہ بادشاہ یا اس کا ولیعہد بنفسِ نفیس اپنی فوج کے ساتھ کنا روں کی فوجوں کی مدد کے لئے چل پڑا ہے۔
    تیسرے :یہ اطلاع دینا کہ بادشاہ سلامت آج دربارِ عام منعقد کررہے ہیں اور عام اجازت ہے کہ لوگ آئیں اور بادشاہ کی زیارت کرلیں اور اگر قریب پہنچ جائیں تو اپنی عرضیاں بھی پیش کرلیں بلکہ بعض جگہوں پر انہوں نے بکس لگائے ہوئے تھے جن میں لوگ عرضیاں ڈال دیتے تھے اور بعض جگہ چھینکے 4 لٹکا دیتے تھے جن میں لوگ عرضیاں ڈال دیتے تھے اور پھر بادشاہ انہیں پڑھ لیتا تھا۔
    گویا یہ تین باتیں تھیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے نوبت خانے بنائے جا تے تھے۔ اور واقع میں اِس نظارہ کا خیا ل کر کے خصو صاً انگریزوں کی کارونیشن (CORONATION) دیکھ کر دیکھنے والوں کو خیا ل آتا تھا کہ کِس طرح ہمارے مسلمان بادشاہ نکلتے ہونگے۔ اور جس طرح ہمارے ہندوستانی دُور دُور دھکّے کھا تے پھر تے ہیں اِسی طرح اُس وقت انگریز سیّاح آتے ہونگے تو دو دومِیل پر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے کھڑے ہوتے ہونگے اورکہتے ہونگے ہم نے بھی بادشاہ کودیکھنا ہے۔مگر آج یہ حالت ہے کہ انگریز تخت پر بیٹھتا ہے اور اُن پٹھا ن یا مغل بادشاہوں کی اولادیں دُور دُور تک دھکّے کھاتی پِھر تی ہیں بلکہ ہم نے دہلی میں دیکھاہے کہ شہزادے پانی پلاتے پھر تے تھے اِس طرح دل کو ایک شدیدصدمہ ہو تا تھا۔
    قرآنی نوبت خانہ کا کمال
    لیکن جب خدا تعالیٰ نے مجھے توجہ دلائی کہ اِن چیزوں کو تم کیا دیکھ رہے ہو ہم تم کو اِس سے بھی
    ایک بڑا نوبت خانہ دکھاتے ہیں جو قرآن کریم میں موجود ہے اور وہ اِس سے زیادہ شاندار ہے۔ تب مَیں نے سوچا کہ یہ جو نو بت خانہ بجا کرتا تھا اور جس سے وہ کنا روں کواطلاع دیا کرتے تھے کہ دشمن داخل ہو گیا ہے اِس کے مقابلہ میں قرآن کا نوبت خانہ کیا کہتا ہے۔ اِس پر مَیں نے اِن نَوبت خانوں کے متعلق تو یہ دیکھا کہ جب دشمن کی فوجیں ملکی سرحدوں میں گُھس آتی تھیں یا کم سے کم سرحدات تک آپہنچتی تھیں تو اُس وقت نوبتیوں کو پتہ لگتا تھااب دشمن آرہا ہے او روہ نو بتیں بجانی شروع کر دیتے تھے۔مگراِس کانتیجہ یہ ہوتا تھا کہ دشمن احتیاط سے اور اپنی فوجو ں کو چُھپا کر لا تا تو بعض دفعہ وہ سَوسَومِیل اندر گُھس آتا تھاپھر کہیں پتہ لگتا تھا کہ حملہ آور دشمن اندر گُھس آیا ہے اورپھر اطلاع ہونی شروع ہوتی تھی۔اِس طرح عام طور پر حملہ آور کچھ نہ کچھ حصّے پر قابض ہو جاتا تھا اور پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ کس وقت آیا ہے ۔داخل ہونے کے بعد معلوم ہو تا تھا کہ دشمن اندر گُھس آیا ہے مگراِس نوبت خانہ کومَیں نے دیکھا کہ اسلامی حکومت کا ایک نا ئب اور خدا کا خلیفہ مکّہ مکرّمہ میں پھر رہا ہے،معمولی سادہ لباس ہے ،اُس کے ساتھی نہایت غریب اور بے کس لوگ ہیں، حکومت کا کوئی واہمہ بھی اُن کے ذہن میں نہیں ہے، ماریں کھا تے ہیں ،پِٹتے ہیں،بائیکاٹ ہو تا ہے،فاقے رہتے ہیں، جا ئیدادیں او رمکان چھینے جا رہے ہیں ،غلاموں کو پکڑکر زمین پر لِٹایا جاتا ہے اور اُن کے سینوں پر لوگ چڑھتے ہیں، کِیلوں والے بُوٹ پہن کر اُن کی چھا تی پرکُودتے ہیں۔ او ر نہ مکّہ والوں کے ذہن میں خیا ل آتا ہے کہ یہ کبھی بادشاہ ہو جائیں گے ،نہ اُن کے ذہن میں کبھی خیا ل آتا ہے کہ ہم کبھی بادشاہ ہو جائیں گے۔ غرض ابھی بادشاہت کے قیا م کا کوئی واہمہ بھی نہیں لیکن بادشاہت کے بننے سے بھی پہلے دشمن کے آنے کی خبر دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے تمہارے ملک پر حملہ ہونے والا ہے۔فرماتا ہےوَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ۔كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِيْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ اُولٰٓىِٕكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِۚ۔اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ۔سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ۔5ہم نے مُوسٰی ؑ کے ذریعہ سے فرعون کو جو کہ مصر کا بادشاہ تھا اوربنی اسرائیل پر ظلم کیا کرتا تھا ڈرایا کہ دیکھو تم ہمارے بندے کے رُوحانی لشکر سے مقابلہ مت کرو ورنہ تمہیں نقصان پہنچے گا لیکن اُس نے رسول کی پرواہ نہ کی۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ اُس کی بے اعتنائی اور اُسکے انکا ر اور تکذیب کی وجہ سے ہم نے اُس کو پکڑ لیا اور معمولی طور پر نہیں پکڑا بلکہ ایک غالب اور قادر کی حیثیت سے اُسکو پکڑا یعنی بعض گرفتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان بہانے بنا کر اُس سے نکل جاتا ہے مگر ہماری گرفت ایسی تھی کہ ایک تو اُس گرفت سے کوئی نکل نہیں سکتا تھا دوسرے سزاا یسی تھی کہ اُس سے وہ بچ نہیں سکتا تھا ۔ گورنمنٹیں بھی سزائیں دیتی ہیں لیکن بسا اوقات ایسا ہو تا ہے کہ وہ پھانسی کی سزا ئیں دیتی ہیں تو لوگ جیل والوں سے مِل جاتے ہیں اِدھر رشتہ داروں کے ساتھ سمجھو تہ کر لیتے ہیں اور وقت سے پہلے پہلے وہ زہر کھا کر مر جا تے ہیں اور گورنمنٹ کے ججوں نے جو پھانسی کا حکم دیا ہوتا ہے وہ یو نہی رہ جاتا ہے ۔گزشتہ جنگِ عظیم میں جو جر من لیڈر پکڑے گئے تھے اُن میں سے گو ئرنگ کے لئے امریکنوں نے بڑی تیا ریاں کیں کہ اُس کو پھانسی پر لٹکا ئیں گے جس کا لوگوں پر بڑا اثر ہو گا کہ دیکھو گوئرنگ جیسے آدمیوں کو امریکنوں نے سزادی ہے اور جرمن بڑے ذلیل ہوتے ہیں لیکن جس وقت پھا نسی دینے کیلئے و ہ اُ س کے کمرہ میں گئے تو دیکھا کہ وہ مر ا پڑا تھا ۔معلوم ہؤا کہ کسی نہ کسی طرح جرمنوں نے اندر زہر پہنچا دیا اور وہ کھا کر مرگیا۔اب انہوں نے پکڑا تو سہی لیکن جو سزا دینے کا ارادہ تھا اس میں وہ کامیاب نہ ہوئے۔گویا اَخْذَ عَزِيْزٍ تو تھا مگر اَخْذَ عَزِيْزٍ مُّقْتَدِرٍ نہیں تھا یعنی پکڑ تو لیا وہ نکلا نہیں مگر جو چاہتے تھے کہ سزا دیں اُس میں وہ کا میا ب نہ ہوئے ۔
    پھر بسا اوقات ایسا بھی ہو تا ہے کہ مجرم ان کی سزا سے بھی پہلے نکل جاتا ہے جیسے کئی مجرم جیل خانوں سے بھاگ جاتے ہیں ،کئی مقدموں سے پہلے بھاگ جاتے ہیں، کئی پولیس کی ہتھکڑیوں سے نکل جاتے ہیں، بعض دفعہ اطلاع ملنے سے پہلے ہی بھا گ جاتے ہیں اور پھر ساری عمر نہیں پکڑے جا تے ۔بعض دفعہ پولیس اُن کے پیچھے تیس تیس سال تک ماری ماری پھرتی ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دُنیوی حکومتوں میں تو یہ دو باتیں ہؤا کر تی ہیں یعنی کبھی ایسا ہو تا ہے کہ مجرم بھا گ جاتا ہے لیکن ہم ایسا پکڑیں گے کہ وہ بھاگ نہیں سکے گا۔ پھر کبھی کبھی ایسابھی ہو تا ہے کہ حکومت پکڑ تو لیتی ہے مگر جو سزا اُس کے لئے تجویز کرتی ہے وہ اُس کو نہیں دے سکتی۔ پھا نسی دینا چاہتی ہے تو اتفاقیہ طور پرمُجرم مر جاتا ہے ،ہارٹ فیل ہو کر مر جاتا ہے ،زہر کھا کر مر جاتا ہے، کسی نہ کسی طرح اُن کے قبضہ سے نکل جاتا ہے مگر ہم اَخْذَ عَزِيْزٍ مُّقْتَدِرٍ کی طرح انہیں پکڑ یں گے، ہم اس طرح پکڑیں گے کہ وہ بھاگ بھی نہیں سکیں گے اورپھر جو سزا تجویز کریں گے وہی اُن کو ملے گی۔
    پھر فرماتاہے اَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ اُولٰٓىِٕكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ۔اے مکّہ والو!تم بتاؤ تو سہی کہ وہ جو موسٰی ؑ کے منکر تھے کیا تم اُن سے بہتر ہو؟ اگر موسٰی ؑ کے منکروں کو یہ سزا ئیں ملی تھیں تو تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو۔ آیا یہ کہ تمہیں وہ سزائیں نہیں مِل سکتیں یا نہیں دی جا سکتیں جو موسٰی ؑ کی قوم کو دی گئیں؟ یا خدا تعا لیٰ کی کتابوں میں تمہا رے لئے کوئی ضمانت آئی ہو ئی ہے کہ ہم نے مکّہ والوں کو کچھ نہیں کہنا ؟مکّہ والے کہتے تھے کہ خانہ کعبہ ہماری حفاظت کا سامان ہے۔ فرماتاہے وہ تو خانہ کعبہ کی حفاظت کا وعدہ تھا تمھارے لئے تو کوئی وعدہ نہ تھا۔ خدا نے یہ تو وعدہ کیا کہ وہ خانہ کعبہ کی حفاظت کرے گا مگر یہ تو وعدہ نہیں کہ تم کو بھی سزا نہیں دے گا۔ اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ۔ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک بڑا جتھہ رکھتے ہیں اور ہم اِن مسلمانوں سے سخت بدلہ لینے والے ہیں ہم اِنکو تباہ کر کے چھو ڑیں گے۔ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔فرمایا ٹھیک ہے یہ حملے کریں گے اور قوموں کی قومیں اکٹھی ہو جائیں گی ،سارا ملک جمع ہو جائے گااور جمع ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ملک پر حملہ کریں گے لیکن سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ۔اُن کے لشکر جو اکٹھے ہو نگے اُنکو شکست دے دی جا ئے گی اور وہ پیٹھ دکھاتے ہوئے بھاگ جائیں گے۔
    دشمن کے حملہ کی بارہ سال پہلے خبر
    گویا ابھی کوئی حملہ نہیں ہؤا،کوئی حکومت نہیں بنی، کوئی فوج نہیں آئی
    اور بارہ سال پہلے سے خبر دے دی جاتی ہے کہ یہ لوگ حملہ کے لئے آئیں گے لیکن جب اِدھر سے یہ جمع ہو رہے ہونگے اُدھر سے خدا اپنے گورنر کی مدد کے لئے دَوڑا چلا آرہا ہو گا اور اُسے دیکھ کر دشمن کی فوج حواس باختہ ہو جا ئے گی اور اُسے بھاگنا پڑے گا۔ یہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے ضرورت اِس بات کی ہو تی ہے کہ انسان خدا کا بن جائے ۔جب وہ خدا کا بن جاتا ہے تو کبھی ایسا نہیں ہؤا کہ وہ کسی جگہ پر ہو اور خدا وہا ں نہ ہو ۔ جب بھی دنیا میں لوگ ایسے شخص کے پاس پہنچیں گے اُسے اکیلا نہیں پائیں گے بلکہ خداکو اُس کے پاس کھڑا پائیں گے اور انسان کا لوگ مقابلہ کر سکتے ہیں خدا کا نہیں کر سکتے ۔ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ۔فرماتا ہے وہ جو گھڑی ہو گی وہ فرعون کی گھڑی سے بھی زیادہ خطر نا ک ہو گی۔ بظاہر یہ نظر آتاہے کہ فرعون کی گھڑی زیادہ سخت تھی اس لئے کہ وہ ڈوب کر مر گیا اور اُس کی فوج تباہ ہو گئی لیکن واقع میں دیکھیں تو کفار کو جو سزا ملی وہ فرعون کی سزا سے زیادہ سخت تھی۔ فرعون کا لشکر تباہ ہؤا لیکن موسٰی ؑ کو مصر کا قبضہ نہیں مِلا ۔موسٰی ؑ آگے چلے گئے اور کنعان پر جا کر قابض ہو ئے لیکن محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل میں جو دشمن آیا اُس کو صرف شکست ہی نہیں ہوئی بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُس کے ملک پر بھی قبضہ ہوگیا ۔ یہ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّتھا کہ موسٰی ؑ کے دشمن فرعون کو جو سزا ملی اُس سے اِن کی سزا زیادہ سخت تھی کیو نکہ یہ قومی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ما تحت آگئے۔
    مدینہ منورہ میں اسلام کی اشاعت
    اَب جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے یہ خبرایسے وقت میں دی گئی تھی جبکہ
    اسلامی حکومت ابھی بنی بھی نہیں تھی ۔اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکّہ سے نکلنا پڑا ۔پہلے تو یہ ہؤا کہ مدینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہونے شروع ہو گئے۔کسِی کو کیا خبر ہو سکتی تھی کہ مدینہ کے لوگوں میں اسلام پھیل جائے گا۔ وہ تین چار سَو میل کے فاصلہ پر ایک جگہ تھی جن کے مکّہ والوں کے ساتھ کو ئی ایسے تعلّقات بھی نہیں تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ چونکہ مدینہ والوں کی نواسی تھیں اس لئے صرف اتنا تعلق تھا اِس سے زیادہ نہیں تھا لیکن حج کے مو قع پر مدینہ سے کچھ لوگ آئے تو وہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے بھی آگئے۔آپؐ نے فرمایا ۔اگر آپ لوگ مجھے اجازت دیں تو مَیں آپ لوگوں کو کچھ نصیحت کرنا چاہتا ہوں ۔ مکّہ کے لوگ آگے سے مارنے پیٹنے اور گالیا ں دینے لگ جاتے تھے اِس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ پیچھے نہیں پڑ تے تھے بلکہ پہلے آپ ان لوگوں سے اجازت مانگتے تھے اِسی طریق کے مطابق آپؐ نے فرمایا کہ اگر اجازت ہو تو مَیں تمہیں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ چونکہ مدینہ کے لوگوں کو معلوم تھا کہ آپؐ ہمارے نواسے ہیں اِس لئے انہوں نے کہا تم تو ہمارے نواسے ہو جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو مگر تمہاری قوم کے لوگ تو کہتے ہیں کہ تم پاگل ہو گئے ہو۔ آپؐ نے فرمایا تم میری باتیں سُن لو اور پھر بیٹھ کر انہیں اسلام کی تعلیم دی ۔ انہوں نے کہا یہ باتیں تو بڑی معقول ہیں مگر تمہا ری قوم کے لوگ تو یہی کہتے تھے کہ تم پا گل ہو لیکن بات یہ ہے کہ ہماری قوم میں بڑی جتھہ بندی ہو تی ہے اِس لئے اگر آپؐ اجا زت دیں تو ہم اِس وقت کوئی فیصلہ نہ کریں ہم واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو یہ باتیں سُنائیں گے اگر قوم کو توجہ پیدا ہوئی تو ہم پھر دوبارہ آئیں گے چنانچہ وہ واپس گئے او رانہوں نے مدینہ میں اسلام کی تعلیم پھیلانی شروع کی۔ لوگوں نے سُنا تو اُن میں سے درجنوں آدمی آپؐ کو قبول کرنے کے لئے تیا ر ہو گئے اور انہوں نے کہا یہ باتیں سچّی ہیں۔6
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
    متعلق اسرائیلی انبیاء واولیاء کی پیشگوئیاں
    ایک بڑا ذریعہ اُن کے لئے یہ بن گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ سے پہلے
    یہودی لوگ اپنے بزرگوں کی پیشگوئیاں سُنا یا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہؤاہے کہ عرب میں ایک نبی پیدا ہو گا اور ہمیں یقین ہے کہ چونکہ نبی ہم میں سے ہی ہو سکتا ہے اس لئے وہ ہماری قوم میں سے ہو گا بلکہ مدینہ کے جو یہودی تھے وہ اِسی لئے ہجرت کرکے وہاں آبسے تھے کہ کسی نے کتابوں میں سے اُن کو یہ پیشگوئیاں سُنا ئیں تو انہوں نے کہا وہ نبی ہم میں سے آجائے اِس لئے ہم عرب میں چلے جا تے ہیں ۔غرض اُن میں یہ پیشگوئیاں تھیں کہ آنے والا نبی عرب میں ظاہر ہو گا اِس لئے انہوں نے خیا ل کیا کہ وہ نبی ان یہودیوں میں سے ہو گا جو مدینہ جاکر رہیں گے اِسی وجہ سے وہ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ انہوں نے جب یہ بات سُنی تو انہوں نے آپس میں کہا کہ وہ جو یہودی کہا کرتے تھے کہ نبیؔ ہم میں سے آئے گا وہ تو جھوٹی بات ہے نبی ہم میں سے آنا تھا جو آگیا اِس لئے بہتر ہے کہ ہم پہلے اس کو قبول کر لیں ۔ وہ ڈرے کہ ایسا نہ ہو یہودی پہلے اس کو قبول کر لیں ۔یہ تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہودی اس کی مخالفت کریں گے ۔چنا نچہ انہوں نے ایک بڑا وفد بنایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور رات کو آپؐ سے ملے اور آپؐ کی باتیں سُنیں اور کہا ہم اسلام قبول کرتے ہیں۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو
    مدینہ تشریف لانے کی دعوت
    پھر انہوں نے کہا یَارَسُولَ اللہِ! ہم تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپؐ ہجرت کرکے ہمارے پاس آجائیں کیو نکہ آپؐ کے
    شہر کے لوگ آپؐ سے اچّھا سلوک نہیں کرتے۔ حضرت عباسؓ آپؐ کے ساتھ تھے، انہوں نے یہ باتیں سُنیں تو اُن سے ایک عہد لیا ۔ انہوں نے کہا اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آجائیں تو تمہارے لئے کچھ شرطیں ہوں گی ۔ اُن میں سے ایک شرط یہ بھی ہو گی کہ اگر مدینہ پر دشمن حملہ کرے تو تم لوگ اپنی جان اور مال کو قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کروگے۔ ہاں اگر مدینہ سے باہر جا کر لڑائی کرنی پڑے تو پھر مدینہ والوں کی ذمہ واری نہیں ہوگی7 چنا نچہ یہ عہد ہو گیا ۔اِس کے کچھ عرصہ بعد حکم بھی ہو گیا کہ ہجرت کرجاؤ۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے۔مدینہ پہنچتے ہی کو ئی ایسی رَو چلی کہ وہا ں عرب کے جو قبائل تھے وہ سب کے سب مسلمان ہو گئے اور وہاں یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کرکے اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔
    قبائلِ عرب کی بَر افروختگی
    جب یہ خبرمشہور ہوئی تو عربوں نے یہ دیکھ کر کہ اَب تو اِن کے پاؤ ں جمنے لگے ہیں اُن قبائل
    پر جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کرنا چاہتے تھے اور دوستی رکھنا چاہتے تھے مکّہ سے حملے کرنے شروع کر دیئے ۔اور وہ مسلمان جو اِکّا دُکّا سفر کررہے ہوتے تھے اُن کو لُوٹنا اور ما رنا شروع کر دیا ۔اِس کے بعد پھر بدر کے مو قع پر ایک باقاعدہ حملہ کر دیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ شروع کر دی مگر اس واقعہ کی ہجرت سے چار سال قبل آپؐ کو خبر دی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ تمہیں حکومت ملے گی، تمہارے شہر میں لشکر داخل ہو گا اور سارے عرب کی فوجیں اکٹھی ہو کر آئیں گی مگر باوجود اس کے کہ وہ اکٹھے ہو نگے تمہا را مقابلہ اُن سے ہو گا اور وہ شکست کھائیں گے۔ اَب دیکھو احزاب کی جنگ تو کہیں نَو دس سال بعد ہوئی مگر نَو دس سال پہلے بلکہ حکومت بننے سے بھی چار سال پہلے خبر دی گئی کہ اِسطرح دشمن داخل ہو گا ۔ اَب کُجا یہ نوبت خانہ اور کُجا وہ نوبت خانہ کہ دشمن اندر داخل ہو جا ئے تو بادشاہ کو خبر ہو تی تھی اور اِتنی دیر میں وہ سَو دو سَو میل تک ملک پر قابض بھی ہو جاتا تھا۔کتنا بڑا زمین وآسمان کا فرق ہے جو اِن دونوں نوبت خانوں میں پا یا جاتا ہے ۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہؤا کہ احزاب کے مو قع پر جب سارا عرب اکٹھا ہو گیا اور اُس نے مدینہ پر حملہ کیا تو بجا ئے اِس کے کہ مسلمانوں کے دلوں میں تکلیف اور گھبراہٹ پیدا ہو تی یا ڈر پیدا ہوتا اُن کے ایمان بڑھنے شروع ہو ئے کہ خدا تعالیٰ نے تو یہ خبر پہلے سے دی ہوئی تھی ۔ جب خدا نے پہلے سے خبر دی ہوئی ہے تو اِن کے داخل ہونے سے ہمیں کیا ڈر ہے۔خدا نے کہا تھا کہ لوگ اکٹھے ہو کر حملہ کے لئے آئیں گے اور ہمیں اُمید بھی تھی کہ آئیں گے اور جب وہ بات پوری ہو گئی تو اگلی کیو ں نہ پوری ہو گی۔ یہ ایک بڑا بھاری نشان ہو تا ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ میں مسلمانوں کی تباہی اور اُن کی خرابیوں کے متعلق خبریں دیں اور پھر بتایا کہ اِس کے بعد خداتعالیٰ ایک ایسا زمانہ پیدا کرے گا کہ مسلمانوں کی تباہی دُور ہو جا ئے گی اور مسلمان پھر ترقی کرنا شروع کر دیں گے۔
    ایک دوست کی بیعت کا دلچسپ واقعہ
    چنا نچہ مَیں نے پہلے بھی کئی دفعہ سُنا یا ہے کہ مَیں دِلّی میں تھا ، اِس
    سفر میں نہیں بلکہ اِس سے پہلے ایک سفر میں ہم قلعہ میں گئے تو وہا ں جو شاہی مسجد ہے اُس کو دیکھنے کے لئے چلے گئے میرے ساتھ سارہ بیگم مرحومہ اور میر ی لڑکی نا صرہ بیگم تھیں۔مَیں نے کہا اس مسجد میں کوئی نماز نہیں پڑھتا چلو نماز پڑھ چلیں کبھی نہ کبھی کو ئی نماز پڑھنے والا یہاں بھی آجا نا چاہئے ۔چنانچہ مَیں نے اُنکو ساتھ لیا اور وہا ں نماز پڑھنی شروع کی۔چنا نچہ ہما ری نماز اور غیر احمدیوں کی نماز میں فرق ہو تا ہے وہ تو جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے جس طرح مُر غا دانے چُنتا ہے اسی طرح وہ کرتے ہیں او رہمیں یہ حکم ہے کہ خشوع اور خضوع کے ساتھ نماز پڑھو۔ غرض ہم جو نماز پڑھنے لگے تو ہم نے نصف یا پون گھنٹہ نمازوں میں لگا دیا ۔مَیں ابھی نماز سے فارغ نہیں ہؤا تھا کہ مَیں نے دیکھا کہ جیسے کو ئی جلدی جلدی جاتا ہے اِس طرح میری بیوی اور میر ی بچّی دونوں جلدی جلدی مجھے چھوڑ کے پیچھے ہٹ گئیں۔مَیں نے نماز سے سلام پھیرا اور باہر آیا تو سارہ بیگم مرحومہ سے مَیں نے کہا کہ تم کیوں آگئی تھیں ؟انہوں نے کہا یہاں کو ئی اور مسافر عورتیں آئی ہوئی ہیں اور انہوں نے ہمیں اشارہ کر کے بُلایا تھا جِس پر ہم چلی گئیں۔پھر انہوں نے بتایا کہ ایک انجینئر ہیں ،وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر ولایت جا رہے ہیں اوریہ جو بیٹی ہے یہ ایک احمدی سے بیاہی جانے والی ہے۔منگنی اِس کی ہو چکی ہے اور لڑکا احمدی ہے۔ ماں نے کہا کہ میر ی یہ بیٹی احمدیوں میں بیا ہی جا نے والی ہے اور ان کے امام یہاں آئے ہوئے ہیں اگر اِن سے میرا خاوند مِل لے تو ذراتعلّق پیدا ہو جائے گاکیو نکہ آئندہ احمدیوں کے گھروں میں ہم نے جانا ہے اِس لئے انہوں نے بلا یا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو وہ آپ سے بات کرلیں ۔مَیں نے کہا آجائیں۔ اِس کے بعد ہم ذرا آگے کوئی جگہ دیکھنے کے لئے چل پڑے تو پھر چلتے چلتے یکدم مَیں نے دیکھا کہ میر ی بیوی اوربیٹی دونوں غائب ہیں ۔مَیں نے مُڑکر جو دیکھا تو معلوم ہؤ ا کہ پھر وہ عورتیں انہیں اشارہ کر کے لے گئی ہیں اور دومرد کچھ قدم آگے آگئے ۔مَیں نے سمجھا کہ یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے مِلنا ہے۔پاس پہنچے تو انہوں نے اَلسَّـلَامُ عَلَیْکُمْ کہا ۔مَیں نے وَعَلَیْکُمُ السَّـلَامُ کہا ۔ اورپو چھا کہ فرمایئے کیا بات ہے ؟اُن میں سے ایک نے کہا کہ اِس اِس طرح میری بیوی کو پتہ لگا تو اُس نے ہمیں اطلاع دی۔ میری لڑکی میرے بھا ئی کے بیٹے سے بیا ہی جانے والی ہے اور میرا بھا ئی احمدی ہے تو چونکہ لڑکی احمدیوں میں جانی ہے اور میر ا بھائی بھی احمدی ہے اِس لئے مَیں نے خواہش کی کہ مَیں آپ سے مِل لوں ۔مَیں نے کہا بڑی اچھی بات ہے۔ پھر مَیں نے کہا آپ کا کونسا بھائی احمدی ہے؟انہوں نے نام بتایا۔ مَیں نے کہا وہ تو ہماری جماعت کے وہا ں امیر ہیں ۔کہنے لگا جی ہا ں ۔ایک میرا وہ بھائی ہے وہ تو بیچارے بعد میں فوت ہو گئے لیکن دوسرے بھائی موجود ہیں غلام سرور اُن کا نام ہے اور چار سدّہ کے رہنے والے ہیں تو کہنے لگے غلام سرور جو میرابھائی ہے وہ احمدی ہے اور مَیں اور میر ا یہ بھائی دونوں غیر احمدی ہیں ۔مَیں نے کہا آپ کیوں نہیں احمدی ہوئے کیا آپ نے ہما را لٹریچر نہیں پڑھا؟کہنے لگے نہیں مَیں نے نہیں پڑھا۔ پھر کہنے لگے دیکھیئے ہم نے تو انصاف کر دیا ہے آپ کا اور ان کا جھگڑا ہے۔ہم نے دو بھائی آپ کو دے دئیے ہیں اور دو بھا ئی ان کو دے دئیے ہیں اِس طرح ان کو تقسیم کر دیا ہے گویا اٹھنّی آپ کو دے دی ہے اور اٹھنّی اُن کو دے دی ہے۔انہوں نے مذاق کے رنگ میں یہ بات کہی۔مَیں نے بھی آگے مذاق کے رنگ میں کہا کہ آپ کوہما را پتہ نہیں ہم اِس معاملہ میں بڑے حریص ہیں اور ہم سارا روپیہ لے کر راضی ہؤا کرتے ہیں اٹھنّی لے کر راضی نہیں ہؤا کرتے۔کہنے لگے لے لیجئیے۔مَیں نے کہا دیکھیں گے۔پھر مَیں نے کہا آپ نے کبھی لٹریچر نہیں پڑھا؟ کہنے لگے مَیں نے کبھی نہیں پڑھا اورنہ مجھے فُرصت ہے۔اَب جو مَیں ولایت جانے کے لئے چلنے لگا تو میرے بھا ئی نے جن سے مجھے بہت محبت ہے اور وہ مجھ سے بڑے بھی ہیں جب مَیں کپڑے وغیرہ بھر رہا تھا تو میری بیوی کو مجبور کر کے کچھ کتابیں لا کے ٹرنک میں ڈال دیں اور کہنے لگے یہ پڑھنا ۔مَیں نے کہا بھائی! پڑھنے کی کس کوفُرصت ہے۔کہنے لگے ۔جہاز پر اُن کو فُرصت کے موقع پر پڑھتے رہنا۔مَیں نے انہیں کہا کہ مجھے آپ کا لحاظ ہے اس لئے رکھ دیں ورنہ مَیں نے کہا ں پڑھنی ہیں۔ تو بس اتنی بات ہے ورنہ مَیں نے پڑھا پڑھا یا کچھ نہیں ۔مَیں نے کہا اچھا اٹھنّی پر تو ہم راضی نہیں ہؤا کرتے ہم تو پورا روپیہ ہی لیاکرتے ہیں ۔ اِس کے بعد وہ چلے گئے ۔تین چار مہینے ہوئے مجھے لندن سے ایک خط مِلا۔ اس خط کا مضمون ان الفاظ سے شروع ہو تا تھا کہ مَیں وہ شخص ہوں جو دہلی کے قلعہ میں آپ سے ملا تھا اور مَیں نے آپ سے مذاقاً کہا تھاکہ ہم نے احمدیوں اور غیراحمدیوں میں پورا انصاف کر دیا ہے۔اٹھنّی ہم نے آپ کو دیدی ہے اور اٹھنّی ہم نے اِنکو دے دی ہے اور آپ نے اُس وقت یہ کہا تھا کہ ہم تو اٹھنّی پر راضی نہیں ہؤا کرتے ہم تو پورا روپیہ لے کر راضی ہؤا کرتے ہیں ۔آپ حیران ہو نگے کہ مَیں لنڈن سے ایک چونّی آپ کو بھیج رہا ہوں ،ایک چونّی باقی رہ گئی ہے اورمیری بیعت کا یہ خط ہے۔آگے انہوں نے تفصیل لکھی اور اُس میں انہوں نے لکھا کہ مَیں جس وقت یہاں آیا تو آپ جا نتے ہیں ہم پٹھان لوگ ہیں اور ہمیشہ نعروں پر ہماری زندگی ہوتی ہے۔کہ انگریز ہم کویوں قتل کریں گے انگریز ہم کویوں ماریں گے، یہ ہوتے کون ہیں ہم پستول یا رائفل سے ڈَز کریں گے اور وہ بھا گ نکلیں گے ۔یہ تو کبھی سو چا نہیں تھا کہ ہمارے پاس کیا سامان ہیں اور اِن کے پا س کیا سامان ہیں ۔صرف اتنا ہم جا نتے تھے کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے اور اِن کو ما ر ڈالیں گے۔یہی خیا لات میرے بھی تھے اورمیر ا خیال تھا کہ اِن کی دُنیوی ترقی اور کالج وغیرہ دیکھو نگا۔مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ اِن کے سامانِ جنگ ایسے ہیں کہ ہم اِن کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔جب مَیں یورپ میں آیاتو مَیں اٹلی میں گیا، فرانس میں گیا ،جرمنی میں گیا، انگلینڈ میں آیا اور مَیں نے اِن کی فوجیں دیکھیں ۔توپ خانے دیکھے ،ہوا ئی جہاز دیکھے، اِن کے گولہ بارود کے کا رخانے دیکھے تو مَیں نے کہا یہ تو ایسی بات ہے جیسے چڑیا کہے کہ مَیں باز کو مارلو نگی ہمارے اندر اس کے لئے کو ئی طاقت ہی نہیں اوراِس کو دیکھ کر میں بالکل مایوس ہو گیا ۔پہلے توہم خیا ل کرتے تھے کہ ہم اتفاقاًانگریز کے ماتحت آگئے ہیں جس دن پٹھان نے رائفل سنبھالی سارے یورپ کو ختم کر دے گا مگر اب تو یہاں آکر معلوم ہؤا کہ یوروپین لوگوں کو ختم کر نیکا کو ئی سوال ہی نہیں یہ تو قیامت تک باقی رہیں گے ہم انہیں دُنیا سے نہیں مٹا سکتے۔ پھر میرے دل میں اسلام کے متعلق شُبہات پیدا ہونے شروع ہو گئے کہ جب اسلام کا یہ انجام ہونا تھا اور عیسائیت نے اسے کُچل کر رکھ دینا تھا تو پھر عیسائیت ٹھیک ہے۔ درمیان میں بے شک اسلام آیا اور اُس کو کچھ غلبہ مِلا مگر اب پھر عیسائیت غالب آگئی ہے۔ غرض اسقدر میرے دل میں مایوسی اور شُبہات پیدا ہونے شروع ہوئے کہ آج شام کو مَیں نے کہا میرے بھائی نے ٹرنک میں کچھ کتابیں رکھی تھیں انہیں میں سے کوئی کتاب لاؤ تاکہ مَیں اُسے پڑھوں۔ شاید اُس میں کوئی بات بتائی گئی ہو۔کہنے لگے مَیں نے آپ کی کتاب ''دَعْوَۃُ الْاَمِیْر'' نکالی اُس کتاب میں یہی مضمون ہے کہ اسلام کی تباہی کی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ خبریں دی ہیں اور بتایا ہے کہ مسلمان اس طرح ذلیل ہو جائیں گے،تجا رتیں جاتی رہیں گی او ر سب قسم کی ترقیاں مٹ جائیں گی۔بھلا آج سے تیرہ سَو سال پہلے کون کہہ سکتا تھاکہ مسلمان کی یہ حالت ہو گی اُس وقت تو یہ حالت تھی کہ سات سَو مسلمان ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا مردم شُماری کرو ۔ مسلمانوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! آپؐ نے مردم شماری کرائی ہے اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں ۔کیا آپؐ ڈرتے ہیں کہ اب ہم تباہ ہو جائیں گے؟ اب ہمیں کون مار سکتا ہے۔اب یا تو اُن کی یہ شان تھی اور یا یہ کہ چالیس کروڑ یا ساٹھ کروڑ مسلمان ہیں اور اُن کی جانیں لرز رہی ہیں ۔تو یہ حالت آج سے تیرہ سَوسال پہلے کون شخص بتا سکتا تھا نا ممکن تھا کہ کوئی شخص کہے کہ مسلمان ایسا کمزور ہو جائے گالیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بتایا تھا وہ بات پوری ہو گئی ۔پس اے مسلمانو!جب تم نے یہ دیکھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ناممکن خبر پوری ہو گئی ہے تو تم کیوں یہ یقین نہیں کرتے کہ وہ دوسری خبر جو اَب مَیں بتا تا ہوں وہ پوری ہو گی۔پھر مَیں نے وہ پیشگوئیاں لکھی ہیں جو اسلام کی ترقی کے متعلق تھیں ۔ اور مَیں نے کہا اِن کو دیکھ لو او ر سمجھ لو کہ اسلام پھر ترقی کرے گا ۔کہنے لگے ۔جب مَیں نے یہ پڑھا تومیرے دل کو تسلّی ہو گئی کہ واقع میں مَیں نے جو کچھ دیکھا تھا وہ وہی تھا جو آپ نے بتایا تھاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی پہلے سے خبر دی ہوئی ہے اور جب یہ بات پوری ہو گئی جس کا خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ یہ پوری ہو گی تو آپ کی یہ دوسری بات بھی ضرور پوری ہو گی اور مَیں نے سمجھا کہ جس شخص نے دنیا میں آکر ہماری یہ راہنمائی کی ہے اُس سے علیحدہ رہنا بالکل غلط ہے چنانچہ انہوں نے بیعت کی اور احمدیت میں داخل ہو گئے۔
    مسلمانوں کی کمزوری پر منافقین کی طعنہ زنی
    غرض جب یہ باتیں پوری ہو ئیں تو منافقوں
    کیلئے یہ بڑی تباہ کن چیز تھی۔انہوں نے خیا ل کیا اب تومارے گئے۔ اِدھر سے یہودی چلے آرہے ہیں اُدھر سے عرب قبائل چلے آرہے ہیں ،اُدھر مکّہ کے لشکر چلے آرہے ہیں ۔غرض دس بارہ ہزار کا لشکر آرہا ہے اور مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ اُن کے مقابلہ میں اتنا سپاہی تو کُجا ،اِن کے پاس اِس سے نصف بھی سپاہی نہیں وہ مقابلہ کہا ں کریں گے۔ اور یہ حالت پہنچ گئی کہ وَ اِذْ قَالَتْ طَّآىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ يٰۤاَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا 8منافق جو ڈر کے مارے مسلمانوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اُن کو بھی اِتنی دلیری پیدا ہو گئی کہ انہوں نے یہ کہنا شروع کیاکہ ارے میاں!اب بھی یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی اب تو سارا عرب اکٹھا ہوکر تمہارے خلاف جمع ہو گیا ہے اسلئے اب چھوڑو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو یہ آپ بُھگتتا پھرے گا اور جا ؤ اپنے گھر وں میں اب اِس لڑائی میں مقابلہ کا کوئی فائدہ نہیں۔
    مخالف لشکروں کو دیکھ کر صحابہؓ
    کے ایمان اَور بھی بڑھ گئے
    لیکن مسلمانوں نے اُسوقت وہی دیکھاجو خان فقیر محمد صاحب چار سدّہ والوں نے دیکھا تھا کہ خدا کی یہ بات پوری ہو گئی ہے
    اور وہ بات بھی پوری ہو گی ۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اِس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتاہے وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ٞ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًاؕ۔9یعنی جب مؤمنو ں نے دیکھا کہ اُدھر سے شمالی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں اِدھر سے جنوبی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں ،اُدھر سے مشرقی عرب کے لشکر چلے آرہے ہیں اِدھر سے مغربی عرب کے لشکرچلے آرہے ہیں،اُدھر سے مکّہ کا لشکر چلا آرہا ہے اِدھر سے یہودی قبائل اِردگِردسے جمع ہو کر چلے آرہے ہیں ،اُدھر سے اندر کے یہودی مقابلہ کے لئے کھڑے ہوگئے ہیں اور اِدھر منافقوں کی بات بھی سُنی کہ اب تو تمہارا کچھ نہیں بن سکتاچھوڑو اِس دین کو، تو مسلمانوں نے کہا تم تو کہتے ہو ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیں۔ ارے! مکّہ میں کون کہہ سکتا تھا کہ یہ لشکر جمع ہونگے ،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا طاقت تھی کہ اس کیلئے دس آدمی بھی جمع ہوتے ۔ایک ابوجہل کا فی تھا جو کہتا تھا مَیں اِسے مار دونگا یہ اتنے بڑے لشکر اکٹھے ہوکر اس لئے آگئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان اب اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ سارا عرب ان کو مِل کر ہی مار سکتا ہے اور یہ خبر جو دس سال پہلے دی گئی تھی کہ مسلمان اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ سارا عرب جمع ہو کر اُن کے مقابلہ کے لئے آئے گایہ بڑا بھا ری نشان ہے یا نہیں؟تو هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ ۔دیکھو یہ وعدہ قرآن میں پہلے سے موجود تھا کہ عرب اکٹھے ہوکر آئیں گے۔ہمارے توایمان تازہ ہوگئے کہ جس وقت یہ خبر دی گئی تھی کہ عرب اکٹھے ہو کر آئیں گے اُس وقت کوئی امکان ہی نہیں تھا ،خیا ل بھی نہیں آسکتا تھا،وہم بھی نہیں ہو سکتا تھا مگر آج آگئے تو سُبْحَانَ اللہ !یہ تو وہی بات ہوئی جو خدا تعالیٰ نے کہی تھی اور خدا اور اس کا رسول سچے ثابت ہوگئے۔پس ہمیں کیا ڈر ہے اب تو ہم ان کے ساتھ چمٹیں گے۔ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًاؕ ۔اور اِس آواز کے آنے سے اُن کے ایمان اَور بھی بڑھ گئے اور انہوں نے کہا کہ کتنی بڑی پیشگوئی تھی جو پوری ہوگئی ۔انہوں نے توکہا تھا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دو وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًاؕ ۔مگر مسلمانوں نے کہا کہ اب تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ہی ہمیں اپنی نجات نظر آتی ہے۔جس شخص کی یہ خبر سچی ہو گئی ہے اُس کے ساتھ مِل کرہم نے کام نہیں کرنا تو اَورکِس کے ساتھ کرنا ہے۔پس وہ اپنے عمل او رقربانی میں اَور بھی زیادہ ترقی کر گئے۔
    غرض یہ وہ جنگ تھی جو کہ پانچویں سال ہجرت میں ہوئی لیکن چارسال کے قریب ہجرت سے بھی پہلے مکّہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا دیا تھا کہ اِس طرح تمام لشکر اکٹھے ہو کر آئیں گے اور حملہ کریں گے تم اُن کا مقابلہ کرو گے اور اُن کو شکست ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ تمہاری مدد کیلئے آئے گا۔

    قرآنی نوبت خانہ کی ایک اَور
    خبر جو بڑی شان سے پوری ہوئی
    اِسی طرح دوسری خبر جو اِس نوبت خانہ سے دی گئی وہ یہ ہے کہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ
    آپؐ مکّہ گئے ہیں اور وہاں عمرہ کر رہے ہیں۔آپؐ نے صحابہؓ کو دیکھا کہ کسی نے سرمُنڈایا ہؤا ہے اور کسی نے بال تراشے ہوئے ہیں اور عمرہ ہو رہا ہے۔آپؐ نے صحابہؓ سے کہا کہ چونکہ خواب آئی ہے،چلو ہم عمرہ کر آئیں ۔جب آپؐ حدیبیہ مقام پر پہنچے تو مکّہ والوں کو پتہ لگ گیا وہ لشکر لے کر آگئے اور انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تم کو یہاں آنے کی کِس نے اجازت دی ہے؟انہوں نے کہا ہم لڑنے کیلئے تو نہیں آئے صرف اِس لئے آئے ہیں کہ عمرہ کر لیں یہ مقام تمہارے نزدیک بھی برکت والا ہے او رہمارے نزدیک بھی ۔ہم اس کی زیارت کے لئے آئے ہیں لڑائی کے لئے نہیں آئے۔انہوں نے کہا طواف کا سوال نہیں۔ ہماری تمہاری لڑائی ہے اگر تم مکّہ آئے اور طواف کر گئے توتمام عرب میں ہماری ناک کٹ جائے گی کہ تمہارا دشمن آکر تمہارے گھر میں طواف کر گیا ہے ۔ہم ساری دُنیائے عرب کو اجازت دے سکتے ہیں مگر تم کو نہیں دے سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد بھیجے ،رؤسائے عرب کی طرف توجہ کی،اُن کو سمجھایا مگر وہ سارے متفق ہو گئے کہ ہم عمرہ کی اجازت نہیں دے سکتے آخر یہ فیصلہ ہؤا کہ صلح نامہ لکھاجائے۔
    صلح نامہ حدیبیہ کی بعض شرائط
    اِس معاہدہ میں انہوں نے کہا کہ اَب کے تم واپس چلے جا ؤ تا سارے عرب کو پتہ
    لگ جائے کہ تم پُوچھے بغیرآئے تھے اِس لئے ہم نے تم کو طواف نہیں کرنے دیا ۔پھر اگلے سال آجانا تو ہم تمہیں تین دن کے لئے طواف کرنے کی اجا زت دے دیں گے۔ معاہدہ کرتے وقت جو بڑے بڑے سردار اِن لڑائیوں کو نا پسند کرتے تھے وہ کہنے لگے کہ پھر آپس میں کچھ صلح کی شرطیں بھی ہو جائیں تا کہ لڑائیاں ختم ہو جائیں۔ آپؐ نے منظور فرما لیا ۔چنا نچہ شرطیں یہ طے ہوئیں کہ اگلے سال مسلمان آکر طواف کر جائیں اور یہ معاہدہ ہو جا ئے کہ آئندہ دس سال کے لئے لڑائی بند کر دی جا ئے اِس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کوئی نشان ظاہر کردے تو وہ جس کی تائید کرے گا اُس کو فائدہ پہنچ جا ئے گا ورنہ ملک میں امن پیدا ہو جا ئے گا۔ پھر ایک شرط یہ بھی کی گئی کہ عرب قبائل میں سے جو چاہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کرلے اور جو چاہے مکّہ والوں سے معاہدہ کرلے۔ اِردِگرد کے جو قبائل تھے اُن کو یہ آفر(OFFER)کیا گیا کہ تم جس سے چاہو معاہدہ کرلو چنا نچہ بنو خزاعہ نے کہا ہم تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کریں گے اُن کی مکّہ والوں سے لڑائیاں تھیں اور بنو بکر جو ایک بڑا قبیلہ تھا اور مکّہ والوںکا دوست تھا اُس نے کہا کہ ہم مکّہ والوں سے معاہدہ کریں گے۔غرض قبائلِ عرب بھی تقسیم ہو گئے ۔اُن میں سے بنو خزاعہ مسلمانوں کے حق میں ہو گئے اور بنو بکر مکّہ والوں کے حق میں ہو گئے اور فیصلہ یہ ہؤا کہ آپس میں لڑنا نہیں سوائے اِس کے کہ کوئی معاہدہ توڑے ۔اگر کوئی معاہدہ تو ڑ کر اپنے مدّ مقابل سے یا اُس کے حلیف سے مقابلہ کرے تو پھر اُس سے لڑائی کی اجازت ہو گی اِسی طرح کچھ اور شرطیں طے ہوئیں۔10
    دشمن کی معاہدہ شکنی کی خبر
    جب یہ شرطیں طے ہو گئیں تو اب گویا آئندہ دس سال کیلئے جنگ بند ہو گئی۔اب جنگ کی
    صرف ایک ہی صورت باقی تھی اور وہ یہ کہ مکّہ والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپؐ کے حلیفوں پر حملہ کردیں کیونکہ مسلمان کو تو حکم ہے کہ بہر حال تم نے اپنا عہد پورا کرنا ہے۔اِس معاہد ہ کے بعد نا ممکن تھا کہ مسلمان لڑائی کر سکیں ۔صرف ایک ہی صورت باقی تھی کہ مکّہ والے محمد رسول اللہؐ پرحملہ کر دیں یا آپؐ کے حلیفوں پر حملہ کر دیں اِسکے بغیر لڑائی نہیں ہو سکتی تھی۔گویا اب لڑائی کا اختیا ر دشمن کے ہا تھ میں چلا گیا مومنوں کے ہا تھ میں نہ رہا ۔ایسی صورت میں جب لڑائی کا اختیا ر دشمن کے ہا تھ میں تھا جب یہ پتہ لگنے کی کو ئی صورت ہی نہیں تھی کہ دشمن کی فوجیں اسلامی نظام کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گی کیو نکہ فیصلہ تو اُس نے کرنا تھا مسلمانوں نے نہیں کر نا تھا اُس وقت جب صلح حدیبیہ کر کے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم واپس آرہے تھے اللہ تعا لیٰ کی طرف سے آپؐ کو خبر دی گئی کہ دشمن معاہدہ توڑے گااور ہم تم کو اُن پر قبضہ دیں گے۔گویا پھر قریباً ڈیڑھ سال پہلے خبر مل گئی کہ دشمن کی فوجیں تمہا رے ملک میں داخل ہو جا ئینگی چنا نچہ آپؐ کو الہام ہؤا !اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًاۙ۔لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ يُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَ يَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًاۙ۔وَّ يَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِيْزًا۔11یعنی اے محمدؐ رسول اللہ!ہم تجھ کو ایک عظیم الشان فتح کی خبر دے رہے ہیں ۔وہ ایک ایسی فتح ہوگی جو اپنی ذات میں اس بات کی گواہ ہو گی کہ تُوسچا ہے اور پھر وہ فتح مبین ہو گی ۔ بعض نشانات تو ہوتے ہیں مگر اُن سے نتیجہ نکالنا اور استنباط کرنا پڑتاہے لیکن وہ فتح ایسی ہو گی کہ استنباط کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ وہ خود اپنی ذات میں تیری صداقت کا ایک زندہ ثبوت ہوگی۔لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَاور یہ فتح ہم تجھے اِس لئے دیں گے تاکہ تیری جنگ جو عربوں سے چلی آرہی ہے اُس میں بعض باتیں کرنے والی تھیں جو تونے نہیں کیں اور بعض غلطیاں تم سے ایسی ہوئیں جو نہیں ہونی چاہئے تھیں اور تم نے کر لیں ۔مثلاً بعض جگہ عفو نہیں کرنا چاہئے تھا مگر عفو کر دیا۔ بعض جگہ معاف کرنا چا ہئے تھا مگر صحابہؓ کو خیا ل نہیں آیا اور انہوں نے معاف نہیں کیا مثلاً محرم الحرام میں جا کر مسلمان لڑ پڑے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خفا ہوئے کہ اِس مہینہ میں تو لڑنا جائز ہی نہیں ۔ وَ يُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَ يَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا اور وہ تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے اور تجھے وہ راستہ دکھا ئے جس کے ذریعہ سے تجھے کامیابی نصیب ہوجائے۔ وَّ يَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِيْزًا اور اللہ تعالیٰ تیری مدد کرے گا اور مدد بھی معمولی نہیں بلکہ بڑی غالب مدد ۔اِس میں اِس طرف اشارہ کیا گیا کہ چونکہ مسلمان حملہ نہیں کر سکتے اِس لئے تیرے ہاتھ سے تو لڑائی نکل گئی اب ہم ایسا طریق اختیا ر کریں گے جس سے لڑائی جائز ہو جائے اور وہ طریق یہی ہو سکتا تھا کہ کفّا ر حملہ کر دیں ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم خود ایسے سامان کریں گے کہ کفّا ر تجھ پر حملہ کر دیں گے اور پھر اس کے نتیجہ میں وہ تباہ ہو جائیں گے۔ يُتِمَّ نِعْمَتَهٗ، سے بھی یہی مراد ہے کہ عرب شکست کھا جائیں گے اوراسلامی حکومت قائم ہو جائے گی۔ کیو نکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا۔12یعنی موسٰی ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کر و کہ اس نے تم میں اپنے انبیا ء مبعوث فرمائے اور اُس نے تمہیں دُنیوی بادشاہت کی نعمت سے بھی نوازا۔اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نعمت کی تعریف بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ نعمتِ الٰہی اوراس کا اتمام الٰہی جماعتوں سے دو طرح ہو تاہے ۔اگر ان کا سیاسی مقابلہ ہو تو حصو لِ ملوکیت سے اور اگر خالص مذہبی ہو تو تکمیلِ نبوت سے۔یعنی دنیا میں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی آتاہے تو اگر اس سے صرف سیاسی لڑائی ہو تو اللہ تعالیٰ اُسے بادشاہ بنا دیتا ہے او ر اگر مذہبی لڑائی ہو تو اس کے دین کو غالب کر دیتا ہے اور اگر سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کا مقابلہ ہو تو دونوں قسم کے انعام عطا کئے جا تے ہیں ۔یعنی نبوت بھی قائم کی جاتی ہے اور بادشاہت بھی عطا کی جاتی ہے پس یہاں ہم يُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ سے یہی مراد لیں گے کہ اس حملہ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ عرب کی حکومت ٹوٹ جائے گی اور مسلمانوں کی حکومت قائم کردی جائے گی اور يَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا میں بتایا کہ تم کو غدّاری نہیں کرنی پڑے گی۔اللہ تعالیٰ خود ایسا راستہ نکالے گا جس کے نتیجہ میں لڑائی کرنا تمہارے لئے جا ئز ہو جا ئے گا اور ہر شخص تمہا رے حملہ کو جائز اور معقول قرار دے گا۔
    فَتْحًا مُّبِیْنًا سے مُراد صلح حدیبیہ نہیں بلکہ فتح مکّہ ہے
    اِس آیت کے متعلق
    مفسّرین میں اختلاف پایا جاتا ہےبعض کہتے ہیں کہ فتح سے مُراد صلح حدیبیہ ہے لیکن کچھ اَور مفسّرین اور صحابہؓ کہتے ہیں کہ اِس سے مراد فتح مکّہ ہے اور اُن کے اِس خیا ل کی تائید اِس سے ہو تی ہے کہ ابنِ مردویہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتی ہیں مَیں نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا کہ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا میں جس فتح کا ذکر ہے اُس سے مراد فتح مکّہ ہے۔13 گویا خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ ہے کہ اس جگہ فتح سے مراد فتح مکّہ ہے لیکن اگر صلح حدیبیہ لو تب بھی فتح مکّہ صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں ہی ہو ئی اگر صلح حدیبیہ نہ ہو تی تو فتح مکّہ بھی نہ ہوتی۔
    خدائی نوبت خانہ کی ایک اَور خبر
    اب یہ جو اطلاع مِلی تھی کہ دشمن آئے گا اور حملہ کرے گا اور مسلمانوں کو فتح
    نصیب ہو گی اِس کے واقعات کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کسِ طرح ہوئے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تو قریباً ڈیڑھ سال پہلے نوبت خانہ نے اطلاع دی کہ دشمن آئے گا، اس کے بعد جب یہ وقت قریب آگیا تو خدائی نوبت خانہ نے پھر دشمن کے حملہ کی خبر دی ۔چنانچہ جب دشمن کے آنے کا وقت قریب آگیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میری باری میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہا ں سو رہے تھے۔ جب آپ تہجّد کے لئے اُٹھے تو آپؐ وضو فرماتے ہوئے بولے اور مجھے آواز آئی کہ آپؐ فرما رہے ہیں۔لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ۔ لَبَّیْکَ۔ اِس کے بعد آپؐ نے فرمایا۔ نُصِرْتَ۔ نُصِرْتَ۔ نُصِرْتَ۔وہ کہتی ہیں ۔جب آپؐ باہر تشریف لائے تو مَیں نے کہا ۔یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!کیا کوئی آدمی آیا تھا اور آپؐ اس سے باتیں کررہے تھے ؟آپؐ نے فرمایا ۔ہا ں !میرے سامنے کشفی طورپر خزاعہ کا ایک وفد پیش ہؤا اور وہ شور مچاتے چلے آرہے تھے کہ ہم محمدؐ کو اس کے خدا کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ تیرے ساتھ اور تیرے باپ دادوں کے ساتھ ہم نے معاہدے کئے تھے اورہم تیری مدد کرتے چلے آئے ہیں مگر قریش نے ہمارے ساتھ بدعہدی کی اور رات کے وقت ہم پر حملہ کر کے جبکہ ہم میں سے کو ئی سجدہ میں تھا او ر کوئی رکوع میں ہم کو قتل کر دیا اَب ہم تیری مدد حا صل کرنے کیلئے آئے ہیں ۔غرض مَیں نے دیکھا کہ خزاعہ کا آدمی کھڑا ہے۔ جب کشفی طور پر وہ آدمی مجھے نظر آیا تو مَیں نے کہا ۔ لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ۔ لَبَّیْکَ۔میں تمہاری مدد کے لئے حاضر ہوں مَیں تمہاری مددکے لئے حاضر ہوں، مَیں تمہاری مددکےلئے حاضرہوں، پھر مَیں نے کہا۔ نُصِرْتَ۔ نُصِرْتَ۔ نُصِرْتَ۔14 تجھے مدد دی جائے گی ،تجھے مدد دی جا ئے گی ،تجھے مدد دی جائے گی۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اُسی دن صبح کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میر ے گھر تشریف لائے اور آپؐ نے فرمایا ۔خزاعہ کے ساتھ ایک خطر ناک واقعہ پیش آیا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مَیں نے سمجھ لیا کہ خزاعہ کے ساتھ خطرناک واقعہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ مکّہ کی سرحد پر ہیں اور مکّہ والے جن کا خزاعہ کے ساتھ معاہدہ ہے وہ خزاعہ پر حملہ کردیں۔مَیں نے کہا۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی قسموں کے بعد قریش معاہدہ توڑ دیں اور وہ خزاعہ پر حملہ کر دیں؟آپؐ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت کے ماتحت وہ اس معاہدہ کو توڑ رہے ہیں اور وہ حکمت یہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حملہ کی اجا زت نہیں تھی ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں مَیں نے کہا یَارَسُوْلَ اللہِ! کیا اِس کانتیجہ اچھا نکلے گا؟آپؐ نے فرمایا ہاں !نتیجہ اچھا ہی نکلے گا۔15 غرض اُس دن پھر نوبت خانہ بجتاہے ۔ اور اُدھر وہ واقعہ ہو تاہے جومَیں ابھی بیان کرونگا اور اِدھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اطلاع مل جاتی ہے۔
    بنوخزاعہ اور بنو بکر کی لڑائی
    اب واقعہ یُوں ہؤا کہ خزاعہ اور بنو بکر میں آپس میں لڑائی تھی اور بنو بکر ہمیشہ مکّہ والوں کی مدد
    کر تے تھے۔خزاعہ نے عملی طورپر مسلمانوں کی کبھی مدد نہیں کی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادوں پڑدادوں سے اُن کے معاہدے تھے،اُن کی مدد کیا کرتے تھے ۔یو ں مسلمانوں کو یہ ہمدردی تھی کہ اُن کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادوں پڑدادوں سے تعلقات تھے ۔ جب یہ معاہدہ ہؤا تو یوں تو وہ لڑائی کے لئے ہر وقت تیا ر رہتے تھے لیکن معاہدہ کے بعد بنو بکر نے سمجھا کہ اب تو یہ غافل رہیں گے اب موقع ہے ان کو مارنے کا ۔چنانچہ وہ مکّہ کے لوگوں کے پاس گئے او راُن سے کہا کہ یہ بڑا اچھا موقع ہے معاہدہ ہو گیا ہے،اِن کوتو خیال بھی نہیں ہو سکتا کہ ہم ان کو ماریں گے اگر اِس وقت آپ ہماری مدد کریں تو ہم اِن کو تباہ کر سکتے ہیں ۔مکّہ والوں نے کہا بڑی اچھی بات ہے تم ہمیشہ ہماری مدد کرتے رہے ہو ہم تمہاری مدد کریں گے چنانچہ باہمی مشورہ کے بعد ایک اندھیری رات انہوں نے تجویز کی اور فیصلہ کیا کہ رات کے وقت حملہ کریں گے۔مکّہ کے لشکر ہمارے ساتھ آجائیں کسی نے کیا پہچاننا ہے کہ مکّہ والے بیچ میں موجود ہیں یہی کہیں گے کہ بنوبکر کے لوگ ہیں اور پھر چوری چوری اُن کو ما ر کر آجائیں گے اُن کو وہم بھی نہیں ہو گا۔ چنانچہ رات جو مقرر تھی اِس رات وقتِ مقررہ پر بنو بکر کا لشکر اور قریش کا لشکر مِل کر وہاں گیا اور انہوں نے خزاعہ پر حملہ کر دیا ۔اِسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ہم سجدے کررہے تھے اور رکوع میں گئے ہوئے تھے حالانکہ وہ سب مسلمان نہیں تھے صرف کچھ لوگ مسلمان تھے انہوں نے مبالغہ سے کہا کہ ہم کو سجدے او ر رکوع کرتے ہوئے مار دیا ہے۔وہ تواس امید میں بیٹھے تھے کہ آپس میں دس سال کا معاہدہ ہو چکا ہے اب ہمیں حملہ کا کوئی خطرہ نہیں کوئی کسی کو نہیں چھیڑ ے گا مگر اچانک قریش اور بنو بکر مِل کر اُن پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے خزاعہ کو مارنا شروع کر دیا جو بھاگ سکے بھاگ گئے اور باقی جو اپنے ڈیروں پر رہے وہ مارے گئے لیکن رات کے وقت کسی کی آواز تو نکل جاتی ہے بعض لوگوں کے منہ سے آوازیں نکلیں تو بنو خزاعہ کو پتہ لگ گیا کہ قریش اُن کے ساتھ شامل ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے صبح شور مچادیا کہ قریش نے بنوبکر سے مل کر ہم پر حملہ کیا ہے۔صرف بنوبکرنے نہیں کیا اور اِردگِرد کے لوگوں کو بھی یقین ہو گیا کہ بنوبکر کبھی جرأت نہیں کر سکتے تھے جب تک قریش کی مدد ان کو حا صل نہ ہو تی اِس لئے ضرور قریش حملہ میں شامل ہیں ۔اِس طرح سارے علاقہ میں باتیں شروع ہو گئیں کہ قریش نے معاہدہ توڑ دیا ہے۔ چنانچہ مکّہ کے رؤ سا ء اکٹھے ہو ئے او رانہوں نے کہا یہ تو بڑے فکر کی بات ہے معاہدہ ٹوٹ گیا ہے اب محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مو قع مِل گیا ہے کہ وہ ہم پر حملہ کر دیں اِس کو کسی طرح سنبھالنا چاہئے۔
    بنوخزاعہ کا وفد رسول کریم صلی اللہ
    علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں
    اِدھر بنو خزاعہ نے فوراً چالیس آدمیوں کا ایک وفد تیا ر کیا انہیں اونٹوں پر سوار کیا اور انہیں کہا کہ
    رات دن منزلیں طے کرتے ہوئے جاؤ اور مدینہ جا کر خبر دو ۔چنانچہ وہ تین دن میں مارامار کرکے مدینہ پہنچے اورجس طرح آپ کو الہا ماً بتایا گیا تھا اُسی طرح فریاد کرتے ہوئے داخل ہوئے کہ ہم رسول اللہؐ کو اُس کے خدا کی قسم دلاتے ہیں اور اُسی کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ ہم نے تمہا رے ساتھ اور تمہا رے باپ دادوں کے ساتھ ہمیشہ معاہدے کئے اور تمہارے ساتھ وفاداری کی لیکن قریش نے تمہاری دوستی کی وجہ سے رات کو حملہ کرکے ہمارے آدمیوں کو مارا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُسوقت مسجد میں بیٹھے تھے اور تین دن پہلے الہا می طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو اس کی خبر بھی مِل چکی تھی۔ جب آپؐ نے سُناتو عمروبن سالم جو اُن کا لیڈر تھا ، آپؐ نے اُسے فرمایا گھبراؤ نہیں تمہاری مدد کی جا ئے گی۔ پھر آپؐ نے فرمایا اگر میں تمہاری مدد نہ کروں تو خدا میری کبھی مدد نہ کرے۔
    پھر آپؐ نے فرمایا جس طرح مَیں اپنی جان اور اپنے بیوی بچوں کی جانو ں کی حفاظت کرتاہوں ۔اسی طرح تمہاری جانوں اور تمہارے بیوی بچوں کی جانوں کی بھی حفاظت کرونگا۔16
    پھر آپؐ نے انہیں تسلّی دی اَور کہا کہ مکّہ والوں کو پتہ لگے گا اور وہ تمہا ری تلاش میں ہونگے تم جا ؤ لیکن چالیس آدمیوں کا قافلہ چونکہ آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے اِس لئے تم واپس جاتے وقت دودوتین تین آدمی مِل کر جاؤ۔قافلہ کی صورت میں اکٹھے نہ جا ؤ تا پتہ نہ لگے کہ تم میرے پاس پہنچے ہو۔ چنانچہ انہوں نے قافلہ کو دودو،تین تین، چارچار کی پارٹیوں میں تقسیم کر دیا اور واپس چلے گئے۔ 17
    ابو سفیان کا معاہدہ کی تجدید کیلئے مدینہ پہنچنا
    اِدھر مکّہ والوں کو جب فکر ہوئی کہ ہم نے
    معاہدہ توڑ دیا ہے اور اب مسلمانوں کے لئے راستہ کھل گیا ہے ہم الزام نہیں لگا سکتے اوروہ حملہ کر سکتے ہیں اور اِدھر دیکھا کہ مکّہ میں جو معاہدہ کیاجائے لوگ اُس کی بڑی عزّت کرتے تھے حَرم میں کئے ہوئے معاہدہ کی وجہ سے سارے لوگ کہیں گے کہ یہ بڑے بے ایمان ہیں اور وہ ہم سے نفرت کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے مقدس مقام کی ہتک کی ہے اِدھر اِنہوں نے معاہدہ کیا اور اُدھر اُسے توڑ ڈالا۔پس جب انہوں نے دیکھا کہ ہم سے غلطی بھی ہوئی ہے اور ارد گرد کے قبائل میں بھی ہماری بد نا می ہوئی ہے اور اب اِس کے نتیجہ میں بالکل ممکن ہے کہ مسلمان ہم پر حملہ کردیں تو انہوں نے چاہا کہ کسی طرح اِس لڑائی کو ٹلا دیا جا ئے ۔جس وقت حدیبیہ کی صلح ہوئی ہے اُس وقت ابو سفیان جو اُن کا لیڈر تھا مکّہ میں موجو د نہیں تھا وہ باہر تھا مگر اس واقعہ کے وقت ابو سفیان موجو د تھا ۔مکّہ کے رؤ سا ء آخر پر یشان ہوکر ابو سفیان کے پاس آئے اور اُس سے کہا کہ اِس اِس طرح واقعہ ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا واقعہ کیا ہے؟ مَیں نے تو سُنا ہے کہ تم خود وہاں گئے تھے اور خزاعہ پر تم نے حملہ کیا ۔وہ کہنے لگے جو ہو گیا سو ہوگیا تم لیڈر ہو تمہا ر اکا م ہے کہ اِس کو سنبھالو۔تم مدینہ جاؤ اور وہا ں جا کر دوبارہ معاہدہ کرو اور یہ بہانہ بنالو کہ دس سال تھوڑی مدت ہے ہم پندرہ سال تک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اُن کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ ہم کیوں کررہے ہیں ۔نیا معاہد ہ ہو جا ئے گا اور ہم کہیں گے کہ اَب پچھلی غلطی پر کو ئی لڑائی نہیں ہو سکتی۔ ابوسفیان نے کہا بہت اچھّاچنا نچہ وہ چل پڑا۔
    ابو سفیان کی بہانہ سازی
    جب وہ مدینہ پہنچا تو اُس نے رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا آپؐ جا نتے
    ہیں مَیں مکّہ کا سردار ہوں۔فرمایاٹھیک ہے ۔ اُس نے کہا آپؐ کو معلوم ہے جب صلح حد یبیہ ہو ئی تھی مَیں مکّہ میں مو جو د نہیں تھا اُسوقت معاہد ہ ہو گیا ۔آپ میر ی پنا ہ دیئے بغیر کسی کو کیو ں پنا ہ دے سکتے ہیں۔مَیں معاہدہ کر وں تو معاہد ہ مکّہ کی طرف سے ہو سکتا ہے میں نہ کروں تو کیسے ہو سکتا ہے؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی بات سُن کر خاموش رہے۔پھر اُس نے کہا میری تجویز یہ ہے کہ معا ہدہ نئے سِرے سے کیا جائے اور مَیں اُس پر دستخط کروں اور دوسرے دس سال تھو ڑے ہیں قوم لڑتے لڑتے تھک گئی ہے میرا خیال ہے اِس مدّت کو پندرہ یا بیس سال کر دیا جا ئے۔ اِس طرح اُس نے بہا نہ بنا یا کہ گویا ایک معقول وجہ بھی موجود ہے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ابو سفیان کیا کوئی معاہدہ توڑ بیٹھا ہے؟ وہ کہنے لگا مَعَاذَاللہِ مَعَاذَاللہِ یہ کس طرح ہو سکتاہے معاہدہ ہم نے خدا سے کیا ہے اُسے کو ئی توڑ سکتا ہے۔ہم اپنے معا ہدہ پر قائم ہیں ہم اُسے نہیں توڑ سکتے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم معا ہدہ توڑنے والے نہیں تو ہم بھی توڑنے والے نہیں کسی نئے معاہدہ کی کیا ضرورت ہے۔اب گھبراگیا کیو نکہ بات تو بنی نہیں تھی ۔وہ کہنے لگا زیادہ منا سب یہی ہے کہ مَیں بڑا آدمی ہوں معاہدہ پر میرے دستخط نہیں اگر میرے دستخط ہو جائیں تو معاہدہ محفوظ ہو جائےگا اِس سے زیادہ کو ئی بات نہیں ۔آپؐ نے فرمایا کوئی ضرورت نہیں۔ اَب ابو سفیان کو فکر پڑی تو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور جا کر کہنے لگا ابوبکر ؓ! تم جا نتے ہو میری کتنی بڑی پوزیشن ہے میرے دستخط معاہدہ پر نہ ہوں تو مکّہ والوں پر وہ کیسے حجت ہو سکتاہے میرے دستخط ہونے چاہئیں اور مَیں پھر کہتا ہوں کہ مدت بھی بڑھادی جائے۔تم محمد رسول اللہ سے کہو وہ تمہاری بات بڑی مانتے ہیں تم اُن سے کہو کہ معاہدہ پھر سے ہو جائے اور اُس پر میرے دستخط بھی ہو جائیں۔آپ نے فرمایا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا؟ اُس نے کہا۔ ہا ں مَیں نے کہا تو تھا مگر انہوں نے فرمایا کہ جب معاہدہ ہو چکا ہے تو پھر نئے معاہدہ کی کیا ضرورت ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے ۔ابو سفیان !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں میری پنا ہ بھی شامل ہے اِس لئے کسی نئی پناہ کی ضرورت نہیں ۔ اِس کے بعد وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مِلا اور اُن سے بھی یہی کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ وہ ہمارے ساتھ نیامعاہدہ کریں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا ۔مَیں تو تمہا را سر پھو ڑنے کے لئے بیٹھا ہوں کسی نئے معاہدہ کا سوال ہی کیا ہے۔پھر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اورانہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ میاں کیا بیو قوفی کی باتیں کرتے ہو تمہارے ہو نگے دو دو آدمی ہمارا تو ایک ہی آدمی ہے جسے اُس نے پناہ دی اُسے ہم نے بھی پنا ہ دی اور جس سے وہ لڑپڑے اُس سے ہم بھی لڑپڑے ہمارا بیچ میں کیا دخل ہے۔ پھر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ۔انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔پھر وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور جا کر کہا مرد تو سمجھتے نہیں یہ لڑاکے ہوتے ہیں ان کو شکار کا شوق ہوتا ہے، عورتیں بڑی رقیق القلب ہو تی ہیں مَیں تمہارے پاس اِس لئے آیا ہوں کہ قوم کے خون ہو جائیں گے، فساد ہو جائے گا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔تم جا نتی ہو ۔مَیں سردار ہوں جب میرے دستخط نہیں ہوئے تودوسرے اس کو کیسے مان لیں گے؟ مَیں تکلیف اُٹھا کے آیا ہوں کہ کسی طرح معاہدہ ہو جا ئے اور میرے دستخط ہو جائیں۔ تم ذرا اپنے ابّا سے چل کے کہو کہ مَیں نے انہیں پنا ہ دے دی ہے۔تمہارے ساتھ ان کو پیا ر ہے بات ہو جائے گی حضرت فاطمہ ؓ کہنے لگیں ہمارے ہاں عورتیں ایسے معاملات میں دخل نہیں دیا کرتیں میرا اس معا ملہ سے کیا تعلق ہے مردوں سے جا کر کہو۔کہنے لگا اچھا! عورتیں دخل نہیں دیتیں تو حسنؓ اور حسینؓ کو بھیجدو اِنکو سِکھا دو کہ وہ جا کر یہ بات کہہ دیں کہ نانا! ہم نے پناہ دے دی ہے۔حضرت فاطمہ ؓ نے کہا ہمارے ہاں دنیا کے تمام کاموںمیں بلوغت کی شرط ہوتی ہے۔ یہ بچے ہیں اِن کو کیا پتہ کہ پناہ کیا ہو تی ہے۔پھر وہ مہاجرین کے پاس گیا انصار کے پا س گیا اور اِس میں اس کے دو تین دن لگ گئے آخر اُسے گھبراہٹ پیدا ہو نی شروع ہو گئی کہ ہو گا کیا؟
    ابو سفیان کا مسجد ِنبوی میں اعلان
    آخر وہ سو چ کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس دوبار ہ گیااور حضرت علی ؓ
    کو جا کر کہنے لگامَیں ساری جگہوں پر گیا ہوں مگر میری کوئی نہیں سُنتا ۔محمد رسول اللہؐ سے بات کی وہ کوئی جواب نہیں دیتے۔ اب تم مجھے بتاؤ کوئی ترکیب نکل سکتی ہے یا نہیں ؟ قوم کا درد تمہارے اندر بھی ہونا چاہئے۔ حضرت علیؓ کہنے لگے یہی تجویز میری سمجھ میں آتی ہے کہ تم مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کردو کہ مَیں چونکہ اپنی قوم کا سردار ہوں اور مَیں نے دستخط نہیں کئے ہوئے اسلئے مَیں اپنی طرف سے اُسے اِس رنگ میں پختہ کرنے آیا ہوں کہ آج نئے سرے سے معاہدہ کیا جاتا ہے اور اس کی اتنی مدّت بھی بڑھا تاہوں اُس نے کہا ۔ اِس کا کو ئی فائدہ ہو گا؟ حضرت علیؓ نے کہا۔ بظاہر تو نظر نہیں آتا مگر آخر تم کہتے ہو کہ مجھے کو ئی تجویز بتاؤ مَیں نے تمہیں بتائی ہے تم کرکے دیکھ لو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے کہ ابو سفیان وہاں پہنچا اور کھڑے ہو کر کہنے لگاکہ اے مدینہ کے لوگو!سنو!معاہدہ تم نے ان لوگوں سے کر لیا جن کی ذمہ داری نہیں ہے ذمہ داری میری ہے اور مَیں اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا چاہتا ہوں ۔جو کچھ مَیں نے سُنا ہے وہ اچھی بات ہے مگر مَیں چاہتا ہوں معاہدہ کی مدّت بھی بڑھ جا ئے اور میرے دستخط بھی ہو جائیں۔ مَیں اعلان کرتاہوں کہ معاہدہ آج سے شروع ہوتا ہے او رمیری اِس پر تصدیق ہے اور اتنے سال بڑھا دیئے گئے ہیں۔یہ ایسی احمقانہ بات تھی کہ سارے صحابہؓ سُن کر ہنس پڑے اور اُس کو سخت ذلّت محسوس ہوئی کہ اِتنے لوگوں میں مَیں اُلّو بن گیا ہوں کیونکہ معاہدہ دونوں فریق سے ہو تا ہے ایک فریق سے کیا ہوتاہے۔بڑے غصّہ سے کہنے لگا اے ابنائے ہا شم !تم لوگ ہمیشہ ہمارے دشمن رہے۔ پھر حضرت علی ؓ کو مخا طب کر کے کہنے لگا تم نے مجھے جان کے ذلیل کروایا ہے تم ہمیشہ ہماری دشمنی کرتے ہواور یہ کہہ کر غصّہ میں واپس آگیا ۔
    حضرت اُمّ حبیبہؓ کی ایمانی غیرت
    اِسی دوران میں اُس کو ایک اَور بھی زک اللہ تعالیٰ نے پہنچائی۔اُس کی بیٹی
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں یعنی اُم المؤمنین حضرت اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا۔ جب وہ مدینہ آیا تو اُس نے کہا مَیں بیٹی کو مِل آؤں ۔جب بیٹی کے پاس گیا تو اُن کے پاس ایک فراش18 پڑا ہؤاتھا انہوں نے جلدی سے اس کو لپیٹ کر رکھ لیا۔ اُس کی یہ حرکت اس کو عجیب معلوم ہوئی کہنے لگا بیٹی! یہ فراش تم نے کس لئے تہہ کیا ہے؟ کیا اِس لئے کیا ہے کہ یہ فراش میرے لائق نہیں حضرت اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے باپ! بات اصل میں یہ ہے کہ یہ وہ فراش ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے ہیں اور تُو مشرک نجس اور ناپاک ہے۔ مَیں کسِ طرح برداشت کر سکتی ہوں کہ خدا کے نبی کے فراش کو تُوہا تھ لگائے اِس لئے مَیں نے اس کو تہہ کیا ہے۔ اُس کو حیرت ہوئی کہ میری بیٹی نے یہ کیا کہا ہے۔ کہنے لگا۔ بیٹی!معلوم ہو تا ہے جب سے تو مجھ سے جُدا ہوئی ہے تیری طبیعت میں کچھ فرق پڑ گیا ہے۔ میرا ادب تیرے اندر اِس قدر کم تونہیں ہؤا کرتا تھا۔ اُس نے کہا ۔ باپ یہ فرق پڑگیا ہے کہ جب مَیں تجھ سے جُدا ہوئی تھی مَیں کافر تھی اب مجھے خدا نے اسلام دیا ہے، اب مجھے پتہ ہے کہ رسول اللہؐ کی کیا حیثیت ہے اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ تُو عرب کا سردار بنا پھر تا ہے اور پتھروں کے آگے ناک رگڑتا پھر تا ہے تیری کیا حیثیت ہے اور اُس شخص کی کیا حیثیت ہے جو خدا کا رسول ہے۔ غرض وہ مایوس ہو کر وہاں سے آیا ۔
    ابو سفیان کی ناکام واپسی
    جب مسجد میں بھی اُس کو ذلّت پہنچی تو وہ قافلہ کو لے کے واپس چلا آیا۔ اُس کو راستہ میں خزاعہ کے بھی
    دو تین آدمی جاتے ہوئے مل گئے تھے۔ اُس نے سمجھا اِدھر سے آئے ہیں توضرور یہ رسول اللہ ؐ سے مِل کے آئے ہیں۔ کہنے لگا سُنا ؤ مدینہ کا کیا حال ہے؟یہ نہ پوچھا کہ تم خبر دینے گئے تھے بلکہ پوچھا سناؤ مدینہ کا کیا حال ہے؟ وہ مسلمان تو تھے ہی نہیں نہ انکو دینِ اسلام سے کوئی واقفیت تھی اُنکو جھوٹ بولنے سے کیا پرہیز تھا۔ کہنے لگے مدینہ کیسا۔ ہم کیا جانتے ہیں مدینہ کو۔ہماری تو قوم کے بعض آدمیوں میں یہاں لڑائی ہو گئی تھی ہم صلح کرانے آئے تھے۔ لیکن ابو سفیان بڑا ہو شیا ر تھا۔ اُس نے سمجھا کہ یہ میرے ساتھ چالاکی کر رہے ہیں اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا جس وقت یہ آگے جائیں ذرا اونٹوں کی لید دیکھو۔ مدینہ میں اونٹوں کو کھجور کی گُٹھلیاں کھِلا یا کرتے ہیں اگر لید میں گُٹھلیاں نکلیں تو جھو ٹ بول رہے ہیں یہ مدینہ سے آئے ہیں۔ اگر لید سے گُٹھلیاں نہ نکلیں تو یہ کہیں اَور سے آرہے ہیں۔ جب وہ قافلہ گیا او ر انہوں نے لید دیکھی تو گُٹھلیاں نکلیں۔کہنے لگے یہ وہا ں ہو آئے ہیں۔ خیراب یہ وہاں سے واپس مکّہ پہنچے۔ مکّہ پہنچنے پر سارے مکّہ والے آئے اور پوچھا۔ سُناؤ کچھ کر آئے ہو؟ کہنے لگا صرف اتنا کیا ہے کہ مَیں نے مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کر دیا تھاکہ میرے بغیر معاہدہ نہیں ہو سکتا۔اب مَیں نیا معاہدہ کرتا ہوں اور اس کی تصدیق کرتاہوں اور اس کی مدت بھی بڑھا تا ہوں۔کہنے لگے تم ہمارے سردار ہو پھر تم نے ایسی احمقانہ بات کیوں کی؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ نہ مانیں اور تم اعلان کردو۔پھر معاہدہ کیسے ہؤا! کہنے لگا۔ کہتے تو وہ بھی یہی تھے۔ کہنے لگے پھر تم نے کیا کِیا؟ کہنے لگا پھر اَور مَیں کیا کرتا۔ تم ہی کوئی ترکیب بتاؤ۔ مَیں نے رسول اللہؐ کو باربار کہا، صحابہؓ کے آگے ناک رگڑے کسی نے میری نہیں سُنی پھر مَیں اَور کیا کر سکتا تھا۔ کہنے لگے بھلا اِس کا کو ئی فا ئدہ بھی تھا ذلیل ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ اُس نے کہا۔ مَیں تو بس یہی کرکے آیا ہوں۔ خیر ساری طرف سے اُس کی ملامت شروع ہوئی۔19
    مکّہ والوں کی طرف سے
    ابو سفیان پر غداری کا الزام
    لوگوں نے اُس کے متعلق کہا کہ یہ مسلمانوں سے مِل گیاہے۔ عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب کسی پر ایسا الزام لگے تو جا کر خانہ کعبہ کے
    سامنے قربانی کرتا تھا اور اُس قربانی کا خون اپنے ماتھے پر ملتا تھا اور پھر قوم کے آگے اعلان کرتا تھا کہ مَیں نے کوئی غداری نہیں کی۔ وہ اُس کے متعلق سمجھتے تھے کہ اب یہ جھو ٹ نہیں بول سکتا اور وہ اس کو بڑا عذاب سمجھتے تھے۔ اِسی دستور کے مطابق اس نے بھی خانہ کعبہ کے آگے قربانی کی اُس کا خون لے کر اپنے ماتھے کو ملا اور پھر قوم کے آگے جا کر کہا کہ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مجھ سے جو کچھ ہو سکا کیا ہے۔ مَیں نے اُن کے ساتھ اور کوئی معاہدہ نہیں کیا۔20 چنا نچہ اِسپر لوگوں کو تسلّی ہو گئی۔مگر اب اُن میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ اگر مسلمانوں کی طرف سے حملہ ہو جائے تو کیا بنے گا؟
    رؤسائے مکّہ میں گھبراہٹ
    کچھ دنوں تک مدینہ سے خبریں نہ پہنچیں۔ جب کو ئی خبر نہ پہنچی تو اُن کی گھبراہٹ اَور بھی
    زیادہ بڑھتی چلی گئی کہ اگر خزاعہ والے وہاں گئے ہیں تو محمدؐرسول اللہ نے کچھ نہ کچھ تو ضرور کہا ہو گا۔یا تو یہ کہا ہو گا کہ ہم نہیں کر سکتے یا یہ کہا ہو گا ہم کرتے ہیں۔ کچھ تو پتہ لگتا یہ خاموشی کیسی ہے؟تین چار روز کے بعد انہوں نے ابوسفیان سے کہا کہ تم روز جا یا کرو اور جاکے چکر لگا کر دیکھا کروکہ مسلمانوں کا کوئی لشکر تو نہیں آرہا۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مکّہ کےلئے تیاری
    بہر حال اِدھر ابو سفیا ن مکّہ کی طرف روانہ ہؤا اُدھررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے کہا کہ میر ا سامانِ سفر
    باندھنا شروع کرو۔ انہوں نے رختِ سفر باندھنا شروع کیا اور حضرت عائشہ ؓ سے کہا۔ میرے لئے ستّو وغیر ہ یا دانے وغیرہ بُھون کر تیا ر کرو۔اِسی قسم کی غذائیں اُن دنوں میں ہو تی تھیں۔ چنا نچہ انہوں نے مٹی وغیرہ پھٹک کے دانوں سے نکا لنی شروع کی۔ حضرت ابو بکرؓ گھر میں بیٹی کے پاس آئے اور انہوں نے یہ تیاری دیکھی تو پوچھا عائشہؓ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا رسول اللہ ؐ کے کسی سفر کی تیاری ہے؟کہنے لگیں سفر کی تیا ری ہی معلوم ہو تی ہے آپؐ نے سفر کی تیا ری کیلئے کہا ہے۔ کہنے لگے کوئی لڑائی کا ارادہ ہے۔انہوں نے کہا۔ کچھ پتہ نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میر ا سامانِ سفر تیا ر کرواور ہم ایسا کر رہے ہیں۔ دوتین دن کے بعد آپؐ نے حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمرؓ کو بلا یا اور کہا دیکھو! تمہیں پتہ ہے خزاعہ کے آدمی اس طرح آئے تھے اور پھر بتایا کہ یہ واقعہ ہؤا ہے اور مجھے خدا نے اِس واقعہ کی پہلے سے خبر دے دی تھی کہ انہوں نے غدّاری کی ہے اور ہم نے اُن سے معاہدہ کیا ہؤا ہے اب یہ ایمان کے خلاف ہے کہ ہم ڈر جائیں اور مکّہ والوں کی بہادری اور طاقت دیکھ کر اُن کے مقابلہ کے لئے تیا ر نہ ہو جائیں۔ تو ہم نے وہا ں جا نا ہے تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا۔ یَارَسُوْلَ اللہِ! آپؐ نے تو اُن سے معا ہدہ کیا ہؤا ہے اور پھر وہ آپؐ کی اپنی قوم ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کیا آپؐ اپنی قوم کو ما ریں گے ؟فرمایا۔ ہم اپنی قوم کو نہیں ماریں گے معاہدہ شکنوں کو ما ریں گے پھر حضرت عمرؓ سے پو چھا۔ توانہوں نے کہا۔ بِسْمِ اللہِ ! مَیں تو روز دُعائیں کرتا تھا کہ یہ دن نصیب ہو اور ہم رسو ل اللہ ؐ کی حفاظت میں کفار سے لڑیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوبکرؓ بڑا نرم طبیعت کاہے مگر قولِ صادق عمرؓ کی زبان سے زیادہ جاری ہوتا ہے۔ فرمایا کرو تیا ری۔21 پھر آپؐ نے ارد گرد کے قبائل کو اعلان بھجوایاکہ ہر شخص جو اللہ اور رسول پر ایمان رکھتاہے وہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں مدینہ میں جمع ہو جا ئے۔ چنا نچہ لشکر جمع ہونے شروع ہوئے اور کئی ہزار آدمیوں کا لشکر تیا ر ہو گیا اور آپؐ لڑنے کے لئے تشریف لے گئے۔
    خدائی نو بت خانہ اور کفا ر کے
    نوبت خانہ میں ایک بہت بڑا فرق
    اب دیکھو یہ نوبت خانہ کتنازبردست ہے کہ اُسوقت جب معا ہدہ یہ ہو تا ہے کہ لڑائی نہیں ہو گی، جب قسم کھا کھا
    کے کہا جاتا ہے کہ ہم اپنے دل سے یہ عہد کرتے ہیں اور خداکی لعنتیں ہم پر ہوں اگرہم اس عہد کو توڑیں۔ وہا ں ابھی ایک رات ہی گزرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ لڑائی ہو گی۔ گویا نو بت خانہ بج جاتا ہے اور خبر آتی ہے کہ لڑائی ہونے والی ہے۔ اُدھر کفار کے نوبت خانہ کا یہ حال ہے کہ ابو سفیان تین دن مدینہ میں رہ کر آتا ہے اور اُس کو پتہ نہیں لگتا کہ لڑائی ہو گی۔ واپس جا کر قوم کو کہتا ہے کہ مَیں یہ کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا لڑائی تو نہیں ہوگی؟اُس نے کہا لڑائی نہیں ہو گی۔مگر اِدھروہ مکّہ میں پہنچتاہے اور اُدھر دس ہزار کا لشکر تیار ہو تا ہے۔احزاب کی تاریخ کے سِوا اتنا بڑا لشکر عرب کی تاریخ میں تیا ر نہیں ہؤا۔ احزاب میں دس بارہ ہزار آدمی تھا۔ گویا عرب کی تاریخ میں اتنے بڑے لشکر کی یہ دوسری مثال تھی۔ لیکن مدینہ سے اتنا بڑا لشکر نکلتاہے اور کسی کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی اورپھر اللہ تعالیٰ معجزانہ طور پر یہ دکھاتا ہے کہ مَیں اس نوبت خانہ کو بجاتا ہوں جو میر ا ہے اور اُس نوبت خانہ کو توڑ رہا ہوں جو اُن کا ہے۔چنا نچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپؐ نے فرمایا۔ اے میرے خدا!مَیں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ تُو مکّہ والوں کے کانوں کو بہرہ کردے اور اُن کے جاسوسوں کو اندھا کردے۔ نہ وہ ہمیں دیکھیں اور نہ اُن کے کا نو ں تک ہماری کو ئی بات پہنچے۔22 چنا نچہ آپؐ نکلے۔ مدینہ میں سینکڑوں منا فق موجود تھا لیکن دس ہزار کا لشکر مدینہ سے نکلتاہے اور کوئی اِطلاع مکّہ میں نہیں پہنچتی۔
    ایک صحابیؓ کا کفّار ِ مکّہ کی طرف خط اور اُس کا پکڑا جانا
    صرف ایک کمزور صحابیؓ
    نے مکّہ والوںکو خط لکھ دیاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر نکلے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں آپؐ کہاں جارہے ہیں لیکن مَیں قیاس کرتا ہوں کہ غالباً وہ مکّہ کی طرف آرہے ہیں۔ میرے مکّہ میں بعض عزیز اور رشتہ دار ہیں میں امید کرتا ہوں کہ تم اس مشکل گھڑی میں اُن کی مدد کرو گے اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنے دو گے۔یہ خط ابھی مکّہ نہیں پہنچا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت حضرت علیؓ کو بُلایا اور فرمایا تم فلاں جگہ جا ؤ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ وہاں ایک عورت اونٹنی پر سوار تم کو ملے گی اُس کے پاس ایک خط ہو گا جووہ مکّہ والوں کی طرف لے جا رہی ہے تم وہ خط اُس عورت سے لے لینا اور فوراً میرے پاس آجا نا۔ جب وہ جانے لگے تو آپؐ نے فرمایا۔ دیکھنا وہ عورت ہے اُس پر سختی نہ کرنا، اصرار کرنا اور زور دینا کہ تمہارے پاس خط ہے لیکن اگر پھر بھی وہ نہ مانے اور منتیں سما جتیں بھی کا م نہ آئیں تو پھر تم سختی بھی کر سکتے ہو اور اگر اُسے قتل کرنا پڑے تو قتل بھی کر سکتے ہو لیکن خط نہیں جا نے دینا۔23 چنانچہ حضرت علیؓ وہا ں پہنچ گئے۔ عورت موجود تھی وہ رونے لگ گئی اور قسمیں کھا نے لگ گئی کہ کیا مَیں غدّار ہوں ، دھو کے باز ہوں، آخر کیا ہے تم تلاشی لے لو چنا نچہ انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا اُس کی جیبیں ٹٹو لیں، سامان دیکھا مگر خط نہ ملا۔صحابہؓ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے خط اِس کے پاس نہیں۔ حضرت علیؓ کو جوش آگیا آپ نے کہا تم چُپ رہو اور بڑے جوش سے کہا کہ خدا کی قسم! رسول کبھی جھو ٹ نہیں بول سکتا۔ چنانچہ انہوں نے اُس عورت سے کہا کہ محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ تیرے پاس خط ہے اور خدا کی قسم! مَیں جھو ٹ نہیں بول رہا۔ پھر آپ نے تلوار نکالی اور کہا۔ یا تو سیدھی طرح خط نکال کر دیدے ورنہ یاد رکھ اگر تجھے ننگا کر کے بھی تلا شی لینی پڑی تو مَیں تجھے ننگا کرونگا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ بولا ہے اورتُو جھوٹ بول رہی ہے۔ چنانچہ وہ ڈر گئی اور جب اُسے ننگا کرنے کی دھمکی دی گئی تو اُ س نے جھٹ اپنی مینڈھیاں کھو لیں اُن مینڈھیوں میں اُس نے خط رکھا ہؤا تھا جو اُس نے نکال کر دے دیا۔ یہ ایک صحابی ؓ حاطب کاخط تھا اور اُس میں لکھا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر آرہے ہیں پتہ نہیں چلتا کہ کِدھر جا رہے ہیں لیکن اتنا بڑا لشکر مکّہ کے سِوا اَور کہیں جاتا معلوم نہیں ہو تا اِس لئے مَیں تم کو خبر دے رہا ہوں۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خط پہنچا تو آپؐ نے حاطبؓ کو بُلوایا اور فرمایا۔ یہ خط تمہا را ہے ؟ انہوں نے کہا۔ ہاں میرا ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔تم نے یہ خط کیوں لکھا تھا۔ انہوں نے کہا۔ یَا رَسُوْلَ اللہِ! بات اصل میں یہ ہے کہ سارے مہا جر جو آپؐ کے ساتھ ہیں، یہ مکّہ کے رہنے والے ہیں۔ مَیں مکّہ میں باہر سے آکے بسا ہو ں۔ میرا کوئی رشتہ دار نہیں، میر ابیٹا وہا ں ہے، میری بیوی وہاں ہے،جس وقت اُن پر حملہ ہؤا انہوں نے ہمارے جتنے رشتہ دار ہیں اُن کو ما ر ڈالنا ہے۔ سوائے اُن کے جن کے بچانے والے مو جو د ہونگے۔پس چونکہ میرے بیوی بچّوں کو کوئی بچانے والا نہیں اِس لئے مَیں نے یہ خط لکھدیا۔ مَیں جا نتا ہوں کہ خدا نے آپؐ کی مدد کرنی ہے۔ جب انہوں نے تباہ ہو جا نا ہے اور خدا کہتا ہے کہ ہو جا نا ہے تو وہ تباہ ہی ہو جائیں گے چاہے مَیں اُنکو ہزار خط لکھوں مگر اِس طرح میرے بیوی بچّے بچ جاتے تھے اور آپؐ کو کوئی نقصان نہیں ہو تا تھاورنہ مَیں بے ایمان نہیں۔ حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے تھے انہوں نے تلوار نکال لی کہ کمبخت! رات دن ہم چھپاتے چلے آرہے ہیں کہ بات کسی طرح نکلے نہیں اور تو اُن کو خط لکھتا ہے۔ یَارَسُوْلَ اللہِ!مجھے اجازت دیجئیے کہ مَیں اس کی گردن اُڑا دوں۔ آپؐ نے فرما یا کہ جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے یہ مؤمن ہے اِس نے صرف ڈر کے مارے یہ بات کی ہے۔24 بہر حال یہ رپورٹ کسی کو نہیں پہنچتی۔نوبت خانہ بجتا بھی ہے تو اُس کی آواز وہیں روک دی جاتی ہے۔ اِدھر سے نوبت خانہ ڈیڑھ سال پہلے بجتا ہے کہ دشمن آگیا دشمن آگیا۔
    ابو سفیان کی سرا سیمگی
    اب جس وقت وہاں مسلمان پہنچے تو جب تک مسلمان حرم میں نہیں پہنچ گئے مکّہ والوں کو خبر نہیں پہنچی۔
    جب وہاں پہنچے تو ابوسفیان اوراُس کے ساتھیوں کا مکّہ والوں کی طرف سے پہرہ مقرر تھا۔ گویا اب یہ صورت ہو گئی کہ جب وہاں پہنچے تو اُن کو خبر ہو گئی کہ اسلامی لشکر آگیا ہے مگر اب اللہ تعالیٰ اِس کا بھی علاج کر لیتا ہے۔آپؐ نے وہا ں جا کر فرمایا کہ اَب ہمیں ان پر ظاہرکر دینا چاہئے کہ ہم آگئے ہیں۔چنا نچہ آپؐ نے حکم دیا کہ ہر سپاہی روٹی کے لئے علیحدہ آگ جلائے تاکہ دس ہزار روشنی ہو جائے۔چنانچہ سب خیموں کے آگے دس ہزار روشنی دکھائی دینے لگی۔ابو سفیان اور اُس کے ساتھیوں نے آگ کو روشن دیکھا تو وہ گھبرا گئے۔ اِتنا بڑالشکر اُن کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ اِسی گھبراہٹ میں ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔ کیا تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ یہ کس کا لشکر ہے؟ پہلے تو اُن کا خزاعہ کی طرف خیال گیا اور انہوں نے کہا کہ شاید خزاعہ والے ہونگے جو اپنا بدلہ لینے آئے ہیں۔ ابوسفیا ن نے کہا خُدا کا خوف کرو خزاعہ تو اِس کا دسواں حصّہ بھی نہیں یہ اتنی بڑی روشنی ہے اور اتنا بڑا لشکر ہے کہ خزاعہ کی اِس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ عام طور پر فی خیمہ ایک روشنی ہؤاکرتی ہے۔ اس لحاظ سے دس ہزار خیمہ بن گیا مگر خزاعہ کی ساری تعداد دوچار سَو ہے۔ پس وہ کِس طرح ہو سکتاہے اُنکی تعداد تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا فلاں قبیلہ ہو گا کہنے لگا آخر وہ کیو ں آئے اور پھر یہ کہ اُن کی تعداد بھی اتنی نہیں۔ غرض اِسی طرح پانچ سات قبائل کے نام لیتے گئے کہ فلاں ہو گا ،فلاں ہوگااور ہر بار ابوسفیان نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ آخر انہوں نے کہا۔ یہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم)کا لشکر ہو گا اور کِس کا ہو گا۔ کہنے لگا بالکل جھوٹ۔ مَیں تو انہیں مدینہ میں سوتا چھوڑ کر آیا ہوں اُن کو پتہ بھی نہیں وہ بڑے آرام سے بیٹھے تھے۔
    ابو سفیان اور اُس کے ساتھی
    اسلامی پہرہ داروں کے نرغہ میں
    یہ باتیں ابھی ہو ہی رہی تھیں کہ اسلامی لشکر کے چند سپاہی جو پہرہ پر متعیّن تھے وہ پہرہ دیتے ہوئے قریب پہنچ گئے اور
    ابو سفیان کی آواز انہوں نے سُنی اُن میں حضرت عباسؓ بھی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور ابو سفیان کے بڑے گہرے دوست تھے۔اُس وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر پر سوار تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سفر میں خچر دی تھی کہ وہ اس کو استعمال کریں۔ انہوں نے آواز سُنی تو کہنے لگے۔ ابوسفیان! ابوسفیان نے کہا۔ عباسؓ !تم کہا ں؟حضرت عباس ؓ نے کہا او کمبخت !تیرا بیڑا غرق ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر آگئے ہیں۔ اب شہر کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ اَب تُو چل اور چڑھ جا میرے پیچھے اور خدا کے نام پر اُن کی منّتیں کر اور اپنی قوم کی معافی کے لئے درخواست کر ورنہ تباہی آجائے گی۔ چڑھ جا میرے پیچھے۔ انہوں نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور خچر کے پیچھے بٹھا لیا اور دوڑائی خچر۔اب لشکر میں جگہ جگہ پہرے ہوتے ہیں۔ جہاں بھی یہ پہنچے پہریدار فوراً آگے آکر روکنے لگے۔جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ؐ کی خچر ہے اور آگے حضرت عباس ؓ بیٹھے ہیں تو کہنے لگے چلو چھوڑو۔خیر وہ پہروں میں سے نکل کر چلے گئے یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کے خیمہ کے پاس پہنچے۔
    حضرت عباسؓ کی ابوسفیان کو بچانے کی کوشش
    حضرت عمر ؓ نے دیکھا تو تلوار نکال
    کر بھا گے اور کہنے لگے خدا کا کتناشُکر ہے کہ بغیر عہد شکنی کئے مجھے آج اِس کی جان نکالنے کی تو فیق مِلی اور آپ ہی آپ خدا نے دشمن میرے ہاتھ میں دے دیا ہے۔حضرت عباسؓ نے دیکھا تو وہ آگے بھا گے۔ حضرت عمرؓ پیچھے پیچھے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کے پاس پہنچے تو حضرت عباسؓ نے ابوسفیان کو د ّھکا دیکر نیچے پھینکا اور کہا۔ اُتر۔ پھر آپ کُو دے اور کُود کر اُس کا ہاتھ پکڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ میں پہنچے اور کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!ابوسفیان مسلمان ہونے کے لئے آیا ہے۔اب ابوسفیان حیران کہ یہ کیا بن گیا۔ یا تو مَیں پہرہ دے رہا تھااور یا اب مجھے مسلمان ہونے کیلئے کہا جا رہا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے کیو نکہ اس کی شکل سے پتہ لگتا تھا کہ یہ مسلمان ہونے نہیں آیا۔ اتنے میں حضرت عمرؓ بھی داخل ہوئے او رکہا۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!یہ خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اِس خبیث اور بے ایمان دشمنِ خدا اور رسولؐ کو اُس نے بغیر اس کے کہ مَیں عہد شکنی کروں اور معاہدہ توڑوں آپ میرے حوالے کردیا ہے۔آپؐ مجھے اجازت دیجیئے کہ مَیں اِس کی گردن اُڑا دوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے لیکن حضرت عباسؓ کو غصّہ آگیا کیو نکہ وہ ان کا بہت دوست تھا۔ انہوں نے عمرؓ سے کہا۔ عمرؓ !دیکھو یہ میرے خاندان کا آدمی ہے اِس لئے تم اس کو مارنا چاہتے ہو۔ اگر تمہا رے خاندان کا آدمی ہو تا توتم کبھی اس کے مارنے کی خواہش نہ کرتے۔ حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہنے لگے۔ عباسؓ! تم نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے۔خدا کی قسم! جب تم مسلمان ہوئے تھے تو مجھے اِتنی خوشی ہوئی تھی کہ اگر میرا باپ بھی مسلمان ہوتا تو مجھے کبھی اتنی خوشی نہ ہو تی۔ اور اِس کی صرف یہ وجہ تھی کہ میں سمجھتا تھا کہ تمہا رے مسلمان ہونے سے رسول اللہ کو جو خوشی پہنچ سکتی ہے وہ میرے باپ کے اسلام لانے سے نہیں پہنچ سکتی تھی۔ یعنی ہم نے تو اپنے باپ دادوں کو بھی چھوڑ دیا اب رشتہ دار ی کا کیا سوال ہے۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ نے فرمایا۔ عباسؓ! ابوسفیان کو اپنے خیمہ میں لے جا ؤ اور رات کو اپنے پاس رکھو۔ صبح اسے میرے سامنے پیش کرو۔حضرت عباسؓ لے گئے اور رات اپنے پاس رکھا۔
    مسلمانوں کی اجتماعی عبادت کا ابوسفیان پر گہرا اثر
    اب دیکھو ابوسفیان پہرہ دے رہے تھے
    اور انہوں نے واپس جا کر خبر دینی تھی لیکن وہ خود پکڑے گئے۔اُدھر باقی مسلمان سپاہی دوسرے آدمیوں کو بھی پکڑ لائے۔یہ چار پانچ رئیس تھے۔پکڑے ہوئے وہا ں پہنچے اور رات وہاں رہے۔ صبح نماز کے وقت حضرت عباسؓ ابوسفیان کو پکڑ کر لے گئے۔ جب اذان ہوئی اور نماز کے لئے لوگ کھڑے ہوئے تو اُسے ایک عجیب نظارہ نظر آیا۔ یہیں جلسہ سالانہ پر دیکھ لو کہ جب ہمارے تیس چالیس ہزار آدمی نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کیا شاندار نظارہ ہوتا ہے۔وہاں بھی صفوں پر صفیں بننی شروع ہو گئیں اور ہر ایک آدمی نماز کے لئے کھڑا ہو گیا۔ ہما رے ہا ں تو پھر کچھ آدمی نماز کے وقت پکوڑے کھا رہے ہوتے ہیں مگر وہ لوگ پکّے نمازی تھے۔ بہر حال ابوسفیان نے جو ان کو دیکھا تو لرز گیا۔ابوسفیان بادشاہوں کے دربار میں آیا جا یا کرتا تھا اور اُس کو پتہ تھا کہ جب بڑے آدمیوں کو مروا نا ہو تا تھا تو فوجیں کھڑی کی جاتی تھیں اور اُن کے سامنے اُس کی گردن کا ٹی جاتی اِس خیال کے ما تحت اُس نے پو چھا کہ عباسؓ! کیا رات کو میرے متعلّق کو ئی نیا حکم جا ری ہؤا ہے؟ حضرت عباسؓ نے کہا۔ تمہا رے متعلق توکوئی نیا حکم جاری نہیں ہؤا۔ وہ کہنے لگا پھر یہ اتنے آدمی کھڑے کیوں ہیں؟حضرت عباسؓ نے کہا یہ عبادت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور ہمارے ہا ں عبادت کا یہی طریق ہے۔تھو ڑی دیر کے بعد وہ رکوع میں گئے۔ کہنے لگا۔ یہ جُھکے کیوں ہیں؟ عباسؓ نے کہا۔ یہ عبادت ہے۔ پھر سجدہ میں گئے تو کہنے لگا اب یہ کیا ہؤا کہ سارے کے سارے زمین پر گِر گئے ہیں؟ انہوں نے کہا دیکھتے نہیں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کررہے ہیں۔ بس جو کچھ وہ کرتے ہیں وہی کچھ مسلمان کرتے ہیں۔ کہنے لگا عجیب طریق ہے محمد رسول اللہ ؐ جھکتے ہیں تو وہ جُھک جا تے ہیں کھڑے ہوتے ہیں تو وہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ کہنے لگے مسلمان اِسی طرح کرتے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حرکت کی نقل کیا کرتے ہیں۔ ابو سفیان کہنے لگا مَیں تو قیصر کے پاس بھی گیا اور اَور بادشاہوں کے پاس بھی گیا ہوں اُن کو تو مَیں نے اس طرح عبادت کرتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا قیصر کیا چیز ہے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ روٹی کو ہا تھ نہیں لگا نا ،پانی کو ہا تھ نہیں لگانا تو وہ بھو کے مر جائیں گے، پیا سے مرجائیں گے مگر روٹی نہیں کھا ئیں گے اور پانی نہیں پیئیں گے۔
    ابو سفیان کی رسول کریم صلی اللہ
    علیہ وسلم سے درخواست
    جب نماز ختم ہو چکی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ ابوسفیان کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس
    میں حاضر ہوئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کو دیکھا اور فرمایا۔تیرا بُرا حال ہو کیا تجھے ابھی یقین نہیں آیا کہ خدا ایک ہے۔ ابوسفیان نے کہا یقین کیوں نہیں آیا۔ اگر کوئی دوسرا خدا ہوتا تو ہماری مدد نہ کرتا؟آپؐ نے فرمایا۔ تیرا بُرا حال ہو کیا تجھے ابھی یقین نہیں آیا کہ محمد اللہ کا رسول ہے۔ کہنے لگا۔ ابھی اس کے متعلق یقین نہیں ہؤا۔ حضرت عباسؓ نے کہا۔کمبخت! کر لو بیعت۔ اِس وقت تیری اور تیری قوم کی جا ن بچتی ہے۔ کہنے لگا اچھا! کر لیتا ہوں۔ وہاں تو اُس نے یو نہی بیعت کرلی لیکن بعد میں جاکر سچّا مسلمان ہو گیا۔ خیر بیعت کر لی تو عباسؓ کہنے لگے اب مانگ اپنی قوم کے لئے ورنہ تیری قوم ہمیشہ کیلئے تباہ ہو جائے گی۔ مہا جرین کا دل اُس وقت ڈر رہا تھا۔ وہ تومکّہ کے رہنے والے تھے اور سمجھتے تھے کہ ایک دفعہ مکّہ کی عزّت ختم ہوئی تو پھر مکّہ کی عزّت باقی نہیں رہے گی۔ وہ باوجود اِس کے کہ انہوں نے بڑے بڑے مظالم بر داشت کئے تھے پھر بھی وہ دُعائیں کرتے تھے کہ کسی طرح صلح ہو جائے۔ لیکن انصار اُن کے مقابلہ میں بڑے جوش میں تھے۔ محمدؐرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ مانگو۔ کہنے لگا۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!کیا آپؐ اپنی قوم پر رحم نہیں کریں گے۔ آپؐ تو بڑے رحیم کریم ہیں اور پھر مَیں آپکا رشتہ دار ہوں، بھائی ہوں، میرا بھی کوئی اعزاز ہونا چاہئے مَیں مسلمان ہؤا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا۔ اچھا جاؤ او ر مکّہ میں اعلان کر دو کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں گھسے گا اُسے پناہ دی جائےگی۔کہنے لگا یَارَسُوْلَ اللہِ!میراگھر ہے کتنا اور اُس میں کتنے آدمی آسکتے ہیں۔اتنابڑا شہر ہے اس کا میرے گھر میں کہاں ٹھکانہ ہو سکتا ہے۔آپؐ نے فرمایا۔اچھا جو شخص خانہ کعبہ میں چلا جائے گااُسے امان دی جائے گی۔ ابوسفیان نے کہا یَارَسُوْلَ اللہِ!پھر بھی لوگ بچ رہیں گے آپؐ نے فرمایا۔اچھا جو ہتھیار پھینک دے گا اُسے بھی کچھ نہیں کہا جا ئے گا۔ کہنے لگا یَارَسُوْلَ اللہِ! پھر بھی لوگ رہ جائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا۔ اچھّا جو اپنے گھر کے دروازے بند کرلے گا۔ اُسے بھی پنا ہ دی جا ئے گی۔ اُس نے کہا۔ یَارَسُوْلَ اللہِ !گلیوں والے تو ہیں وہ تو بیچارے مارے جائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا۔ بہت اچھا لاؤ ایک جھنڈا بلالؓ کا تیار کرو۔ ابی رویحہؓ ایک صحابی ؓ تھے۔ آپؐ نے جب مدینہ میں مہا جرین اور انصار کو آپس میں بھا ئی بھا ئی بنایا تھا تو ابی رویحہ ؓ کو بلا ل ؓ کا بھائی بنا یا تھا۔ شاید اُس وقت بلالؓ تھے نہیں یاکوئی اَور مصلحت تھی بہر حال آپؐ نے بلالؓ کا جھنڈا بنا یا اور ابی رویحہؓ کو دیا اور فرمایا۔ یہ بلالؓ کا جھنڈا ہے یہ اسے لیکر چوک میں کھڑا ہو جائے اور اعلان کر دے کہ جو شخص بلالؓ کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا اُس کو نجا ت دی جائے گی۔ ابو سفیان کہنے لگا۔ بس اب کافی ہو گیا اَب مکّہ بچ جائے گا۔ کہنے لگا اَب مجھے اجازت دیجیئے کہ مَیں جا ؤں۔ آپؐ نے فرمایا جا۔25
    ابوسفیان کا مکّہ میں اعلان
    اب تو سردار خود ہی ہتھیار پھینک چکا تھا۔ خبر پہنچنے یا نہ پہنچنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ گھبرایا ہؤا
    مکّہ میں داخل ہؤا اور یہ کہتاجاتا تھا لوگو! اپنے اپنے گھروں کے دروازے بند کرلو۔ لوگو! اپنے اپنے ہتھیار پھینک دو۔ لوگو! خانہ کعبہ میں چلے جاؤ۔بلال ؓ کا جھنڈا کھڑا ہؤا ہے اُس کے نیچے کھڑے ہو جا نا۔ اِتنے میں لوگوں نے دروازے بند کرنے شروع کر دیئے اور بعض نے خانہ کعبہ میں گھُسنا شروع کیا۔ لوگوں نے ہتھیا ر باہر لالا کر پھینکنے شروع کئے۔ اِتنے میں اسلامی لشکر شہر میں داخل ہؤا اور لوگ بلالؓ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔26
    حضرت بلالؓ کا جھنڈا کھڑا کرنے میں حکمت
    اِس واقعہ میں جو سب سے زیادہ عظیم الشان
    بات ہے وہ بلالؓ کاجھنڈا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلالؓ کا جھنڈا بنا تے ہیں اور فرماتے ہیں جو شخص بلالؓ کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو جائے گا اُس کو پنا ہ دی جا ئے گی حالانکہ سردار تو محمدؐرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے مگر محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، آپؐ کے بعد قربانی کرنے والے ابوبکر ؓتھے مگر ابوبکرؓ کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا،اُ ن کے بعد مسلمان ہو نے والے رئیس عمرؓ تھے مگر عمرؓ کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا،اُن کے بعد عثمانؓ مقبول تھے اور آپؐ کے داماد تھے مگر عثمان ؓکا بھی کو ئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، اُن کے بعد علیؓ تھے جو آپؐ کے بھا ئی بھی تھے اور آپؐ کے داماد بھی تھے مگرعلیؓ کا کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، پھر عبدالرحمن بن عوف وہ شخص تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آپ وہ شخص ہیں کہ جب تک آپ زندہ ہیں مسلمان قوم میں اختلاف نہیں ہو گا لیکن عبد الرحمن ؓ کا کوئی جھنڈا نہیں بنایا جاتا، پھر عباسؓ آپؐ کے چچا تھے اور بعض دفعہ وہ گُستاخی بھی کر لیتے تو آپؐ خفا نہ ہوتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا بھی کوئی جھنڈا نہیں بنایا، پھر سارے رؤ ساء اور چوٹی کے آدمی موجو د تھے، خالد بن ولید ؓجو ایک سردار کا بیٹا خود بڑا نامور انسان تھا موجود تھا، عمرو بن عاصؓ ایک سردار کا بیٹا تھا اِسی طرح اور بڑے بڑے سرداروں کے بیٹے تھے مگر ان میں سے کسی ایک کا بھی جھنڈا نہیں بنا یا جاتا۔ جھنڈا بنا یا جاتاہے تو بلال ؓ کا بنا یا جاتا ہے کیو ں؟ اِسکی کیا وجہ تھی؟ اِس کی وجہ یہ تھی کہ خانہ کعبہ پر جب حملہ ہونے لگا تھا ابو بکر ؓ دیکھ رہا تھا کہ جن کو مارا جانے والا ہے وہ اُس کے بھائی بند ہیں اور اُس نے خود بھی کہہ دیا تھا کہ یَارَسُوْلَ اللہِ ؐ! کیا اپنے بھائیوں کو ماریں گے۔ وہ ظلموں کو بُھو ل چکا تھا اور جا نتا تھا کہ یہ میرے بھائی ہیں۔ عمرؓ بھی کہتے تو یہی تھے کہ یَارَسُوْلَ اللہِ! اِن کافروں کو ماریئے مگر پھر بھی جب آپؐ اُن کو معاف کرنے پر آئے تو وہ اپنے دل میں یہی کہتے ہو نگے کہ اچّھا ہؤا ہمارے بھا ئی بخشے گئے، عثمانؓ اور علی ؓ بھی کہتے ہونگے کہ ہمارے بھا ئی بخشے گئے اِنہوں نے ہمارے ساتھ سختیاں کر لیں تو کیا ہؤا۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن کو معاف کرتے وقت یہی سمجھتے ہو نگے کہ اُن میں میرے چچا بھی تھے بھائی بھی تھے ،اِن میں میرے داماد ،عزیز اور رشتہ دار بھی تھے اگر مَیں نے اِن کو معاف کر دیا تو اچھا ہی ہؤا میرے اپنے رشتہ دار بچ گئے۔ صرف ایک شخص تھا جس کی مکّہ میں کوئی رشتہ داری نہیں تھی، جس کی مکّہ میں کوئی طاقت نہ تھی، جس کا مکّہ میں کوئی ساتھی نہ تھا اور اُس کی بیکسی کی حالت میں اُس پر وہ ظلم کیا جاتا جو نہ ابوبکر ؓ پرہؤا،نہ علیؓ پر ہؤا، نہ عثمانؓ پر ہؤا، نہ عمرؓ پر ہؤا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پربھی نہیں ہؤا۔ جلتی اور تپتی ہوئی ریت پر بلال ؓننگا لٹا دیا جاتا تھا۔ تم دیکھو !ننگے پاؤ ں بھی مئی اور جون میں نہیں چل سکتے۔ اُس کو ننگا کر کے تپتی ریت پر ِلٹا دیا جاتا تھا، پھر کیلوں والے ُجو تے پہن کر نوجوان اُس کے سینے پر نا چتے تھے اور کہتے تھے کہو خد اکے سِوا اور معبود ہیں، کہو محمدؐرسول اللہ جھو ٹا ہے اور بلالؓ آگے سے اپنی حبشی زبا ن میں جب وہ بہت مارتے تھے کہتے اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ۔ اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ۔وہ شخص آگے سے یہی جواب دیتا تھا کہ تم مجھ پر کتنا بھی ظلم کرو مَیں نے جب دیکھ لیا ہے کہ خدا ایک ہے تو دوکس طرح کہہ دوں۔اور جب مجھے پتہ ہے کہ محمد رسول اللّٰہ خدا کے سچّے رسول ہیں تو مَیں انہیں جھو ٹا کِس طرح کہہ دوں۔ اِس پر وہ اور مارنا شروع کر دیتے تھے۔ مہینوں گرمیوں کے موسم میں اُس کے ساتھ یہی حال ہو تا تھا۔ اِسی طرح سردیوں میں وہ یہ کرتے تھے کہ اُن کے پیروں میں رسّی ڈال کر انہیں مکّہ کی پتھروں والی گلیوں میں گھسیٹتے تھے۔ چمڑا اُن کا زخمی ہو جاتا تھا۔ وہ گھسیٹتے تھے اور کہتے تھے کہو جھوٹا ہے محمدؐ(صلی اللہ علیہ وسلم) کہو خدا کے سِوا اَور معبود ہیں۔ تو وہ کہتے اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ۔اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ۔ اب جب کہ اسلامی لشکر دس ہزار کی تعداد میں داخل ہونے کیلئے آیا۔ بلالؓ کے دل میں خیا ل آیا ہو گا کہ آج اُن بو ٹو ں کا بدلہ لیا جائے گا۔ آج اُن ماروں کا معاوضہ مجھے مِلے گا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو گیا وہ معاف، جو خانہ کعبہ میں داخل ہو گیا وہ معاف، جس نے اپنے ہتھیار پھینک دیئے وہ معاف، جس نے اپنے گھر کے دروازے بند کر لئے وہ معاف۔ تو بلالؓ کے دل میں خیا ل آتا ہو گا کہ یہ تو اپنے سارے بھائیوں کو معاف کر رہے ہیں او راچھا کر رہے ہیں لیکن میرا بدلہ تو رہ گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آج صرف ایک شخص ہے جس کو میرے معاف کرنے سے تکلیف پہنچ سکتی ہے اور وہ بلالؓ ہے کہ جن کو مَیں معاف کر رہا ہوں وہ اُس کے بھائی نہیں۔ جو اُس کو دکھ دیا گیا ہے وہ اَو رکسی کو نہیں دیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا مَیں اس کا بدلہ لونگااور اِس طرح لو نگا کہ میری نبوت کی بھی شان باقی رہے اور بلالؓ کا دل بھی خوش ہو جائے۔آپؐ نے فرمایا بلالؓ کا جھنڈا کھڑا کرو او راُن مکّہ کے سرداروں کو جو جوتیاں لے کر اُس کے سینہ پر ناچا کرتے تھے، جو اُس کے پاؤں میں رسّی ڈال کر گھسیٹا کرتے تھے، جو اُسے تپتی ریتوں پر لٹایا کرتے تھے کہدو کہ اگر اپنی اور اپنے بیوی بچّوں کی جان بچانی ہے تو بلالؓ کے جھنڈے کے نیچے آجا ؤ۔ مَیں سمجھتا ہوں جب سے دُنیا پید ا ہوئی ہے، جب سے انسان کو طاقت حاصل ہوئی ہے اور جب سے کوئی انسان دوسرے انسان سے اپنے خون کا بدلہ لینے پر تیا ر ہؤا ہے اور اُس کو طاقت ملی ہے اِس قسم کا عظیم الشان بدلہ کسی انسان نے نہیں لیا۔ جب بلال ؓ کا جھنڈا خانہ کعبہ کے سامنے میدان میں گاڑ ا گیا ہو گا، جب عرب کے وہ رؤ ساء جو اُسکو پیروں سے مَسلا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے بولتا ہے کہ نہیں کہ محمد رسول اللہ جھو ٹا ہے جب وہ دَوڑ دَوڑ کر اور اپنے بیوی بچوں کے ہا تھ پکڑ پکڑ کر اور لا لا کے بلا لؓ کے جھنڈے کے نیچے لاتے ہو نگے کہ ہماری جان بچ جائے تو اُس وقت بلالؓ کا دل او راُس کی جان کسِ طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور ہو رہی ہو گی۔وہ کہتا ہو گا مَیں نے تو خبر نہیں اِن کفار سے بدلہ لینا تھا یا نہیں یا لے سکتا تھا کہ نہیں اب وہ بدلہ لیا گیا ہے کہ ہر شخص جس کی ُجو تیاں میرے سینہ پر پڑتی تھیں اُس کے سَر کو میری جُوتی پر ُجھکا دیا گیا ہے۔
    حضرت یوسف ؑ کے بدلہ سے زیادہ شاندار بدلہ
    یہ وہ بدلہ تھا جو یُوسف ؑ کے بدلہ سے
    بھی زیا دہ شاندار تھا اِس لئے کہ یو سف ؑنے اپنے باپ کی خاطر اپنے بھا ئیوں کو معاف کیا تھا۔ جس کی خاطر کیاوہ اُس کا باپ تھا اور جن کو کیا وہ اُسکے بھائی تھے او ر محمدؐ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچوں اور بھا ئیوں کو ایک غلام کی ُجوتیوں کے طفیل معاف کیا۔ بھلا یوسفؑ کا بدلہ اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔
    غرض یہ دوسری خبر تھی نوبت خانہ کی اور پھر کیسی عظیم الشان خبر دی کہ دو سال پہلے بتا دیا جاتا ہے کہ یہ یہ حالات پید ا ہونے والے ہیں۔ کفا ر کی طرف سے معاہدہ شکنی ہو گی ۔تم حملہ کیلئے جا ؤ گے اور انہیں تباہ کر کے اسلامی حکو مت کو قائم کردوگے۔
    قرآنی نوبت خانہ کی تیسری خبر
    اب تیسری خبر مَیں مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ عرب کا ملک ایسا ویران
    تھا اور ایسا بنجر اور ناقص تھا کہ اُس کی طرف کوئی نظر اُ ٹھا کے نہیں دیکھتا تھا۔ مؤرخین نے بحث کی ہے کہ سکندر نے ساری دنیا فتح کی لیکن عرب فتح نہیں کیا اِس کی کیا وجہ تھی؟وہ کہتے ہیں اُس نے اِسکو اِس لئے نہیں چھوڑا کہ عرب کوئی طاقتور ملک تھا بلکہ اِس لئے چھوڑا تھا کہ یہ ہڈی کُتّے کے قابل تھی سکندر کے قابل نہیں تھی۔ اِس میں کوئی چیزہی نہیں تھی پھر سکندر نے وہاں کیوں جا نا تھا، یہ ہڈی اُس کے کھانے کے قابل ہی نہیں تھی۔ پھر قیصر وکسریٰ اِدھر بھی لڑتے تھے اُدھر بھی لڑتے تھے مگر عرب کو چھوڑ دیتے تھے۔ یمن کو لے لیتے تھے کیو نکہ وہ ذرا آباد ملک تھا مگر عرب کو چھوڑ دیتے تھے اور کہتے تھے ہم نے اس صحرا کو لے کر کیا کرنا ہے۔ غرض ہزاروں سال سے عرب کے قبائل آزاد چلے آتے تھے اِس لئے نہیں کہ اُن میں دم خم تھا بلکہ اس لئے آزاد چلے آتے تھے کہ عرب کے اندر کچھ رکھا ہی نہیں تھا کہ کو ئی وہا ں جا ئے اور اُسے فتح کرے۔ ایسے زمانہ میں جبکہ عرب دنیا میں نہا یت ذلیل ترین سمجھا جا رہا تھا ،الٰہی نوبت خانہ میں نو بت بجتی ہے اور وہاں سے آواز آتی ہے قُلْ لِّلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ۔27 وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا۔28
    قیصرو کسرٰی کی لڑائیوں میں غلبہ
    اور کا میا بی حا صل کرنے کی پیشگوئی
    اُس وقت جبکہ مسلمان ناکام ہو کر آتے ہیں، جب مکّہ والے عمرہ کی بھی اجا زت نہیں دیتے اُس وقت
    جبکہ وہ ایسا معاہدہ کرکے آتے ہیں کہ حضرت عمرؓ بھی سمجھتے ہیں کہ ہماری نا ک کٹ گئی اور کہتے ہیں یَارَسُوْلَ اللہِ! ہم تو کہیں منہ دکھا نے کے قابل نہیں رہے اُسوقت اللہ تعالیٰ ایک تو یہ خبر دیتا ہے کہ یہ معا ہدہ تو ڑیں گے اور تم انہیں فتح کرو گے۔ پھر یہ خبر دیتا ہے کہ دیکھو! کچھ لوگ آج ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوئے اُن کو بتا دو کہ اب عرب کی جنگ تو ختم ہوئی،یہ ملک تو ہم نے فتح کر لیا مگر اس کے بعد باہر سے اَور قومیں آئینگی جو اِن سے بھی زیا دہ لڑنے والی ہیں اُن سے تمہا ر امقابلہ ہو گا اوراُن کے مقابلہ میں بھی یہ نتیجہ نکلے گا کہ جب تم لڑو گے تو اُس وقت تک تمہا ری لڑائی جا ری رہے گی جب تک کہ وہ ہتھیا ر پھینکنے پر مجبور نہ ہو جائیں۔ یہ قیصر اور کسریٰ کی جنگوں کی خبر دی گئی ہے اور تمام صحابہؓ اور مسلمان مفسرین اِس پر متفق ہیں کہ یہ خبر اِس بات کے متعلق تھی کہ آئندہ ان سے لڑائی ہونے والی ہے۔اب اِن ملکوں کو اُسوقت تک عرب کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا وہ تو سمجھتے تھے کہ اس قابل ہی نہیں کہ ہم اس کو فتح کریں۔ اِردگرد کے تمام سر سبز وشادا ب علاقے پہلے سے اُن کے قبضہ میں تھے اور بیچ کا صحراء اُن کے لئے کوئی قیمت نہیں رکھتا تھا مگر فرماتا ہے ہم تم سے اُن کی جنگ کروائیں گے اور وہ ہتھیا ر ڈالنے پر مجبور ہونگے۔ اِسی طرح اس میں یہ بھی خبر دی گئی تھی کہ عرب مالی طور پر اتنا ترقی کر جا ئے گا کہ جو قومیں پہلے اُسے ذلیل سمجھتی تھیں وہ اُس کی اہمیت کو محسوس کرنے لگ جائیں گی۔
    اب یہ عجیب خبر دیکھ لو کہ آٹھ سالہ جنگوں کے نتیجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں قیصر نے حملہ کرنا شروع کیا اور حضرت ابو بکر ؓ کے زمانہ میں کسریٰ نے حملہ کرنا شروع کیا اِس کے بعد جنگیں اِتنی بڑھیں کہ قیصر بھی تباہ ہو گیا اور کسریٰ بھی تباہ ہو گیا اور وہ خبر پوری ہو گئی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے آگے بیا ن فرمائی تھی کہ قَدْ اَحَاطَ اللہُ بِھَا یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں تباہ کرنے کی پہلے سے خبردے رکھی ہے۔
    اِسلامی نَوبت خانہ کی ایک امتیازی خصو صیّت
    یہ عجیب بات ہے کہ اسلامی نوبت خانہ کا کمال
    اتنا بڑھا ہؤا تھاکہ آٹھ سالہ جنگوںمیں چھ سات جنگوں میں کفار نے مکّہ سے حملہ کیا اور بڑی بڑی احتیاطوں کے ساتھ حملہ کیا لیکن ایک بھی ایسا حملہ ثابت نہیں جس کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہ مِل چکی تھی اور بیس تیس حملے محمدؐرسول اللہ نے اُن کے علاقہ پر کئے اور اُن میں سے ایک بھی حملہ ایسا نہیں جسکی خبر انہیں پہلے سے ملِی ہو۔ یہ کتنا بڑا شاندار نشان ہے۔ اِن کا نوبت خانہ کتنا شاندارہے کہ فورًا خبر پہنچا دیتا ہے اور اُن کا نوبت خانہ کس طرح تباہ کر دیا جاتا ہے اور کمزورکر دیا جاتا ہے کہ ایک لڑائی کی خبر بھی تو مکّہ والوں کو پہلے نہیں مِلتی کہ حملہ ہو جائے گا۔ بلکہ اسلامی لشکر اُن کے سروں پر جا پہنچتا تھا اور بعض دفعہ وہ گھروں میں اِدھر اُدھر پھر رہے ہوتے تھے کہ پتہ لگتا اسلامی لشکر پہنچ گیا ہے پہلے پتہ ہی نہیں لگتا تھا۔
    نوبت خانوں کی دوسری غرض
    دوسراکا م نوبت خانہ سے یہ لیا جاتا تھا کہ خبر دی جاتی تھی کہ شاہی فوج آرہی
    ہے۔ نوبت خانے اس لئے بجا ئے جا تے تھے کہ والنٹیئر اکٹھے ہو جائیں اور دوسرے نَوبت خانے اسلئے بجائے جا تے تھے کہ دھم دھم کی آواز جوش پیدا کرتی ہے اور گھوڑے بھی ہنہنا نے لگ جاتے ہیں۔ جیسے انگریز ی فوجوں میں نَوبت خانوں کی بجا ئے بینڈ بجایا جاتا ہے اور اُس کی غرض یہ ہو تی ہے کہ لوگوں کے اندر جوش پیدا ہو اور وہ قربانی کے لئے تیار ہو جائیں۔ بعض جگہ باجے بھی ہوتے ہیں یا نفیریاں29 بھی ہو تی ہیں اور پُرانے زمانہ میں تو ڈھول استعمال ہوتے تھے یا نفیریا ں استعمال ہو تی تھیں اور اب بینڈ استعمال ہو تا ہے۔
    مَیں نے دیکھا کہ واقع میں یہ ایک بڑی شاندار کیفیت ہو تی ہو گی جب دِلّی کا لشکر حیدر آباد کی طرف چلتا ہو گا تو جب وہ بڑی بڑی دَفیں بجتی ہو نگی اور آواز پہنچتی ہو گی تو تمام ملک میں ایک شور مچ جاتا ہو گا اور ہر شخص دیکھتا ہو گا کہ اُن کے گھوڑے پَیر مارتے ہوئے اور آگ نکالتے ہوئے سڑکو ں پر سے چلے آرہے ہیں اور انتظار کرتا ہو گا کہ اکبریا شاہ جہا ن یا چنگیز کی فوجیں روانہ ہوتی ہوں گی اور پھر ہزاروں ہزار کا ریلا چلتاہو گا۔
    ظالمانہ خو نریزی
    لیکن جب مَیں نے غور کرکے دیکھا تو مجھے معلوم ہؤا کہ نوبت خانوں کی یہ بات بڑی مصنوعی چیز تھی۔ ایک تو مَیں نے
    دیکھا کہ لڑائی میں انسانوں کا خون بہنا معمولی چیز نہیں اِس کے لئے انسا ن کوئی حکمت بتاتا ہے ،غرض بتاتا ہے، اِس کے فوائد بتاتا ہے،اِسکے جواز کی دلیلیں بتاتا ہے لیکن یہاں محض ڈھول پِیٹ کر خونریزی کو جا ئز قرار دیا جاتا تھا حالانکہ محض ڈھول پیٹنے سے اور دھم دھم دھم سے کیا بنتا ہے۔
    غلط پروپیگنڈا
    پھر مَیں نے دیکھا کہ بعض دفعہ بڑے بینڈ بجتے تھے اور فوجیں بازاروں میں پریڈ کرتی تھیں اور لوگ نعرے لگاتے تھے کہ سپاہیو !
    شاباش !ملک کی حفاظت کے لئے مر جاؤ۔ اور یہ سارا دھوکا ہوتا تھا کیو نکہ جس کو مارنے کیلئے وہ جا رہے ہوتے تھے وہ ایک معمولی سی حکومت ہو تی تھی اور ظاہر یہ کیا جاتا تھا کہ ہماری فوج نکلے گی اور قتلِ عام کرتی چلی جائے گی اور اُسے فتح کرے گی اور یوں اپنی بہادری اور دلیری کا سکّہ بٹھا دے گی۔ مثلا ً جرمنی میں اعلان ہو رہا ہے کہ اے جرمن والو!تم نے اپنے ملک کی حفاظت کرنی ہے اور لڑنے چلے ہیں پولینڈ سے جو ایک تھپڑ کی مار ہے۔انگلستان میں اعلان ہو رہاہے کہ آجا ؤ انگلستان والو!تم بڑے بہا در ہو، تمہا ری روایتیں بڑی مشہو ر ہیں اور جارہے ہیں شیر شاہ سے لڑنے کے لئے اور کہا جا رہا ہے کہ شاباش انگریزو!تم اتنے بہا در ہو حالانکہ مقابل میں چند ہزار آدمی ہیں اور جا رہا ہے اتنے بڑے ملک کا لشکر۔ پھر اُس کے پاس ایک گولی ہو تی تھی تو اِن کے پاس سَو گولی ہو تی تھی لیکن ظاہر یہ کرتے تھے کہ ہماری قوم او ر ملک خطرہ میں ہیں پس اے بہا در و! اپنے ملک کی عزّت کو بچاؤ حالانکہ عزّت بچانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ جائیں گے تو یو نہی ختم کر دیں گے۔ جیسے مَیں نے بتایا ہے انگریزوں نے ٹرانسوال پر حملہ کیا یا جرمنوں نے زیکوسلوا کیا اور پولینڈ پر حملہ کیا اور ظاہر یہ کیا کہ ہماری عزّت خطرہ میں ہے ہماری عزّت برباد ہو گئی ہے حکومتیں ہمارے خلاف بڑے منصوبے کر رہی ہیں۔ یا روس نے فن لینڈ پر حملہ کیا نقشہ پر بھی دیکھو تو یو ں معلوم ہو تاہے جیسے باز کے منہ میں پدّی۔ مگر فن لینڈ پر حملہ کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ فلاں جرنیل کو مارشل بنا یا جاتا ہے او ر وہ فن لینڈ کی لڑائی کے لئے جا رہا ہے۔ فلاں جرنیل کو بھیجا جا رہا ہے اور وہ اِتنا مشہور ہے۔ لا کھوں کی فوج بھجوائی جا رہی ہے حالانکہ فن لینڈ بیچارے کے سارے سپاہی دس ہزار سے زیادہ نہیں اور دس لاکھ کا لشکر بھجوایا جا رہا ہے اور سارے ملک میں اعلان ہو رہا ہے کہ اُٹھو! اُٹھو! مارو! مارو! وہ ہمیں مار چلا ہے اور ہم مجبور ہیں کہ اُس کا مقابلہ کریں۔غرض اس قسم کے اعلانات میں کوئی عقل نظر نہیں آتی تھی۔
    پس یہ نوبت خانہ کیاہے یہ لوگوں سے ایک تمسخر ہے اور محض ایک کھیل بنائی گئی ہے یا ایک دھوکا ہے جو دیا جا رہا ہے۔
    نا جا ئز حملے
    اور بعض دفعہ مَیں نے دیکھا کہ ظالمانہ حملے ہوتے تھے۔ لوگوں کا کوئی قصور ہی نہیں ہو تا تھا یو نہی حملہ کر دیا جاتا تھا لیکن کہا یہ جاتا تھا کہ ہم
    مظلوم ہیں اور ہوتا تھا دوسرا مظلوم۔مثلاً انگریزوں نے ٹیپو سلطان پر حملہ کر دیا حالانکہ ٹیپو نے اُن کا کچھ بھی نہیں بگاڑا تھا انہوں نے میسور کو ہضم کرنا چاہا۔ گویا اُن کی بھیڑیا اور بکری والی مثال تھی۔ کہتے ہیں ایک نہر سے بکر ی اور بھیڑیا پانی پی رہے تھے بکر ی نیچے کی طرف پی رہی تھی اور بھیڑیا اوپر کی طرف پی رہا تھا۔ اُس کا جو بکری کھانے کو دل چاہا تو بکری سے کہنے لگا دیکھو! میرا پانی گدلا کرتی ہو شرم نہیں آتی اِس قدر گستاخی کرتی ہو۔ بکری نے کہا جناب! میں پانی گدلا کیسے کر سکتی ہوں آپ اوپر پانی پی رہے ہیں اور مَیں نیچے پی رہی ہوں آپ کا پِیا ہؤا میری طرف آرہا ہے میرا پِیا ہؤا آپ کی طرف نہیں جا رہا۔ اِس پر جھٹ اُسے پنجہ ما ر کر کہنے لگا گستاخ! بے ادب! آگے سے جواب دیتی ہے اور پھا ڑ کر کھا لیا۔ وہی حالت یہاں تھی۔ انگریزوں نے بھی بہانہ بنا کر ٹیپو سلطان پر حملہ کر دیا۔ یا بنگال کا بادشاہ سراج الدولہ تھااُس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ انگریزی تاریخیں خود بھی مانتی ہیں کہ ایک ہندو سے جھوٹے خط لکھوائے گئے اور اُن خطوں کی بناء پر سراج الدولہ پر حملہ کردیاگیا۔ نہ بیچارے کے پاس کوئی طاقت تھی نہ حکومت تھی۔ انگریزوں کے پاس ہر قسم کے سامان تھے توپیں بھی تھیں ،گولہ بارود بھی تھا ،منظم فوج بھی تھی یونہی بہا نہ بنا کے لے لیا۔پھر غدرکی لڑائی کو دیکھ لو۔ مسلمان بادشاہ کی تو قلعہ سے باہر حکومت ہی نہیں اور یہ سارے ہندوستان کے بادشاہ اُس پر چڑھ کر گئے۔ بھلا اُس کے پاس کونسی حکومت تھی لیکن غدرکا حال پڑھو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ انگلستان روس کی لڑائی ہو رہی ہے اور اِس کو اتنا شاندار دکھایا جاتا ہے کہ وہ مصائب انگریزوں پرپڑے اور ایسی ایسی مشکلات پیش آئیں اور انگریزوں نے وہ وہ قربانیاں کیں حالانکہ وہ بیچارہ ایک شطرنج کا بادشاہ تھا ،دوچار دن اُس کا محاصرہ رکھا اور پھر اُسے پکڑ کرلے گئے اور اس کے بچّوں کو پھا نسیاں دے دیں۔ تومَیں نے دیکھا کہ بہت کچھ اِس میں مبالغہ آرائی کی جاتی تھی۔
    خلافِ امید شکست
    پھر مَیں نے دیکھا کہ باوجود اِس کے کہ مدِّ مقابل چھوٹا ہوتا تھا مظلوم ہو تا تھا پھر بھی بعض دفعہ نتائج اُن کے
    خلاف نکل آتے تھے۔جیسے پو لینڈ پر جرمن نے حملہ کیا اور اُن کی مدد کے لئے انگریزاور فرانس آگئے ،آخر جرمن تباہ ہو گیا۔ فن لینڈ پر رُوس نے حملہ کیا اور انگلستان اور فرانس نے اس کو مدد دینی شروع کردی چنانچہ باوجود اس کے کہ فوج اُس کے پاس تھوڑی تھی اُس کو اِتنا سامانِ جنگ مِل گیا کہ رُوس نے اُس سے صلح کرلی۔ تو کئی دفعہ مَیں نے دیکھا کہ نوبت خانوں کے نتائج کچھ او ر نکلتے ہیں۔ ظاہر تو وہ یہ کرتے ہیں کہ ہم یُوں کر دیں گے اور وُوں کر دیں گے لیکن جب جا تے ہیں تو درمیان میں کوئی روک پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں با وجود اِس کے پِدّی ہو نے کے وہ بھی اُس کے ہا تھ سے نکل جاتی ہے۔غرض اِن حملوں میں:
    (1) بسا اوقات ظلم کا پہلو ہو تا تھا۔
    (2) بعض اوقات محض نمائش ہو تی تھی ،بالمقابل کوئی طاقت ہو تی ہی نہیں تھی۔ ایک کمزور سی ہستی کو چُن کر دنیا پر رعب ڈالنے کے لئے ظاہر کیا جاتا تھا کہ گویا ایک بہت بڑے دشمن کی سر کو بی کے لئے تیا ر ی کی گئی ہے۔
    (3) لیکن پھر بھی نتیجہ قطعی نہ ہو تا تھا۔ بعض دفعہ باوجود اس کے کہ دوسرا فریق چھوٹا اور کمزور ہو تاتھا اِس وجہ سے کہ وہ مظلوم ہو تا تھا دوسری زبردست طاقتیں کمزورکی مدد کو آجاتیں او ر ساری نمائش دھری کی دھری رہ جاتی۔
    نوبت خانوں کی بعض اور خامیاں
    (4)چوتھی بات مَیں نے یہ دیکھی کہ یہ نوبت خانے صرف دُنیوی کشمکش
    کیلئے بجا ئے جاتے تھے اخلاقی اور رُوحانی قدروں کے بچانے کی اُس میں کوئی صورت نہیں ہو تی تھی۔ لڑائیاں محض دُنیوی فوائد اور دُنیوی اغراض کے لئے ہو تی تھیں۔
    (5)مَیں نے دیکھا کہ یہ نوبت خانے جو بجتے تھے ذاتی اغراض کے لئے بجا ئے جاتے تھے۔ دوسری اقوام اور دوسرے مذاہب کے حقوق کا بالکل لحاظ نہ ہو تا تھااور نفسانیت کے علاوہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کا اِس سے کوئی تعلق نہ ہو تا تھا۔
    (6)مَیں نے دیکھا کہ اگر واقعہ میں کو ئی خرابی بھی اِن حملوں کا باعث ہو تی تھی یعنی واقع میں اُس قوم نے کوئی ظلم کیا ہو تا تھا تو فتح کے بعد اس ظلم کی اصلاح نہیں ہو تی تھی صرف اُس کا رنگ بدل جاتا تھا۔ فرض کرو ہند وستان کی کسی ریاست نے انگریزوں پر ظلم بھی کیا ہوتا تھا اور اس جنگ کے بعد یہ نہیں ہوتا تھا کہ ظلم مٹ گیا بلکہ یہ ہو تا تھا کہ پہلے انگریزوں پر ظلم ہو تا تھا پھر ہندوستانیوں پر ظلم شروع ہو جاتا تھا۔ ظلم بہرحال قائم رہتا تھا۔
    (7)اِن نو بت خانوں سے بعض دفعہ اپنے لوگوں کو ہمّت دلا نے کیلئے یہ بھی اعلان کئے جاتے تھے کہ مثلاً فرانس لڑائی کا اعلا ن کر تا تو کہتا انگریز بھی میری مدد کے لئے آرہا ہے فلاں ملک بھی میری مدد کے لئے آرہا ہے۔ ایران اعلان کرتا تو کہتا چین کی فوجیں بھی میری مدد کے لئے آرہی ہیں۔ ہندوستان کی فوجیں بھی میری مدد کے لئے آرہی ہیں۔ افغانستان کی فوجیں بھی میری مدد کے لئے آرہی ہیں۔ غرض دُنیوی مدد او ر تائید پر بڑا بھروسہ ظاہر کیا جاتا گویا اقرار کیا جاتا تھا کہ بغیر اِ ن دُنیا کی تائیدوں کے ہم فتح نہیں پا سکتے۔
    دُنیوی نوبت خانوں کے مقابلہ
    میں اسلام کا شاندار نوبت خانہ
    اب مَیں نے دیکھا کہ کیا اسلام نے بھی اِسکے مقابلہ میں کوئی نوبت خانہ بجا یا ہے جس نے بتایا ہو کہ اَب اسلامی لشکر آگے
    بڑھتا ہے اپنے آدمیوں کو کہو کہ تیا ر ہو جا ؤ۔ تو مَیں نے دیکھا کہ قرآن میں یہ نوبت خانہ بج رہاہےاُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۙ۔ا۟لَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِيَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا١ؕ وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ۔اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ۔30
    یہ نوبت خانہ ڈھم ڈھم ڈھم سے نہیں بجا یا جاتایہ ایسے الفاظ کے ساتھ بجا یا گیا ہے جن میں حقائق بیان کئے گئے ہیں۔
    اِسلام کا اعلانِ جنگ اور اُس کی اہم اغراض
    اِس میں بتایا گیا ہے کہ:-
    اوّل یہ اعلانِ جنگ جو کیا جا رہا ہے جا رحانہ نہیں ہے بلکہ مدافعانہ ہے۔ہم کسی قوم پر خود حملہ کرنا جا ئز نہیں سمجھتے ہمیں جب مجبور کیا جا ئے اور ہم پر حملہ کیا جائے تو ہم اپنی جان اورمال اور عزّت اور دین کے بچانے کے لئے اُس سے لڑنا جا ئز سمجھتے ہیں اس لئے وہ لوگ جن پر حملہ کیا گیا، جن کو دُکھ دیئے گئے ،اُن کو اجا زت دی جاتی ہے کہ وہ نکلیں او ردشمن کا مقابلہ کریں۔
    دوم اِس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ دشمن زبر دست ہے اُس نے ان لوگوں کو جن کے لئے طبلِ جنگ بجا یا گیا ہے گھروں سے نکال کر ملک بدر کر دیا تھا اور یہ لوگ اُن کے خلاف ایک انگلی تک نہیں ہلا سکتے تھے چنانچہ ان کی کمزوری کی مثال دیکھ لو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مکّہ میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے تو آپؐ نے صحابہؓ کو بلایا او رفرمایا تم لوگ یہ تکلیفیں برداشت نہیں کرسکتے مجھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت نہیں تم ہجرت کر جاؤ۔ صحابہؓ نے کہا۔ یَارَسُوْلَ اللہِ! ہمیں کون ملک پنا ہ دے گا؟ آپؐ نے فرمایا سمندر پار حبشہ کا ایک ملک ہے اُس میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا بادشاہ مقرر کیا ہے جو انصاف پسند ہے اُس میں چلے جاؤ۔ چنا نچہ بعض صحابہ ؓ نے فیصلہ کر لیا کہ اس ملک میں ہجرت کر کے چلے جائیں۔ اُن میں ایک صحابیؓ اور اُن کی بیوی بھی تھیں۔ وہ جا نتے تھے کہ انہوں نے ہمیں ہجرت بھی نہیں کرنے دینی جیسے پارٹیشن کے موقع پر ہؤا تھا کہ جو لوگ ہجرت کر کے آنا چاہتے تھے اُن کو بھی ہندو اور سِکھ نہیں آنے دیتے تھے۔ اِسی طرح وہ لوگ جا نتے تھے کہ مکّہ والوں نے ہمیں ہجرت کرکے نہیں جانے دینا اِس لئے رات کے وقت وہاں سے بھا گتے تھے تاکہ کسی طرح بچ کے نکل جائیں۔ ایک دن ایک مسلمان اور ان کی بیوی نے فیصلہ کیا کہ ہم ہجرت کر جائیں اور فیصلہ کیا کہ رات کے وقت ہم دونوں اونٹ پر سوار ہو کر چلے جائیں گے۔ حضرت عمرؓ اُس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ وہ چونکہ حفا ظتِ مکّہ پر مقرر تھے وہ رات کو مکّہ کا پہرہ دیا کرتے تھے کہ دیکھیں کیا حالت ہے شہر میں کو ئی مخالفانہ رویہ تو نہیں۔ وہ گشت لگاتے لگاتے پہنچے تویہ لوگ اونٹ پر اسباب لاد رہے تھے حضرت عمرؓ اُس وقت تک اسلام کے سخت مخالف تھے انہیں شبہ ہؤا کہ یہ بھا گنا چاہتے ہیں۔ چنا نچہ اُس عورت کو مخاطب کر کے کہنے لگے کیو ں بی بی! کیا نیّتیں ہیں اور کدھر کے ارادے ہیں ؟ خاوند نے ٹلا کر کچھ اَور بات کہنی چاہی مگر عورت کے دل کو زیادہ چوٹ لگی۔ وہ آگے سے غصہ سے کہنے لگی عمرؓ!یہ بھی کو ئی انصاف ہے کہ ہم تمہارے شہر میں تمہا را کچھ بگاڑتے نہیں، کو ئی شرارت نہیں کرتے، تمہا رے ساتھ لڑائی نہیں کرتے، دنگا نہیں کرتے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں اور تم وہ بھی نہیں کرنے دیتے اور ہم یہاں سے جا نا چاہتے ہیں تو تم ہمیں جانے بھی نہیں دیتے، ظلم کی بھی کو ئی حد ہوتی ہے۔آدھی رات کو ایک عورت کو اونٹ پر سامان لادتے دیکھ کر حضرت عمرؓکے دِل کو چوٹ لگی آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور منہ پھیر لیا۔ پھر پیٹھ پھیر کر اُن کا نام لیا اور کہنے لگے بی بی! اللہ تمہارے ساتھ ہو جاؤ۔31 گویا یہ حالت تھی اُن لوگوں کی کہ اُن کو نکلنے بھی نہیں دیا جاتا تھا او راُن کے لئے ملک چھوڑنے کے لئے بھی کوئی آزادی نہیں تھی اور جب وہ اپنا ملک چھوڑ کر غیر ملکوں میں چلے گئے تووہاں بھی حملہ کیا۔ حبشہ گئے تووہا ں اُن کو لینے کے لئے آدمی پہنچے۔ مدینہ گئے تو وہاں حملہ شروع کردیا۔
    سوم اِن لوگو ں کو جو گھر سے نکا لا گیا تھا تو اُن کے کسی جُرم کی وجہ سے نہیں بلکہ بِلاسبب مگر پھر بھی یہ لوگ اُف نہیں کر سکے اور پھر اُن کو نکال کربس نہیں کی گئی بلکہ جس غیر ملک میں انہوں نے پنا ہ لی وہاں بھی جا کر حملہ کر دیا گیا۔
    چہارم یہ اعلان کیا گیا کہ ان پر جو ظلم کئے جا رہے ہیں یہ کسِی سیاسی وجہ سے نہیں کئے جا رہے کسی ملک یا علاقہ کا یہ لوگ مطالبہ نہیں کررہے بلکہ صرف اس لئے ان پر ظلم کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم او رحکومت کو کہہ دیا ہے کہ ہم سیا سی آدمی نہیں ہیں۔ آپ جو کچھ ہمیں حکم دیں گے ہم آپ کی مانیں گے مگر جن امور کا تعلق مَا بَعْدَ الْمَوْت سے ہے اُنکی تیا ری کے لئے ہم کو آزاد چھوڑ دیا جا ئے کیو نکہ جسموں کی بادشاہت حکومت کے پاس ہے مگر رُوح کی حکومت خداتعالیٰ کے قبضہ میں ہے اِس لئے حکومت ہمارے جسموں پر تو حکومت کر ے مگر ہماری رُوحوں کو آزاد چھوڑ دے کہ ہم اپنے اللہ سے صلح کر لیں۔ مگرحکومت نے کہا نہیں ہم تمہارے جسموں پر بھی حکومت کریں گے اور تمہارے عقیدہ اور مذہب پر بھی حکومت کریں گے۔
    پنجم اِس اعلانِ جنگ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جنگ ہم صرف ضمیر کی آزادی کیلئے نہیں کر رہے، صرف اس لئے نہیں کر رہے کہ مسلمان کلمہ پڑھ سکے، صرف اس لئے نہیں کر رہے کہ مسلمان نماز پڑھ سکے، صرف اس لئے نہیں کررہے کہ مسلمان روزے رکھ سکے، صرف اس لئے نہیں کر رہے کہ مسلمان حج کر سکے، صرف اِس لئے نہیں کر رہے کہ مسلمان زکوٰۃ دے سکے بلکہ ہم اس لئے کر رہے ہیں کہ عیسائی ،یہودی او ر مجوسی سب کو ان کے مذہب کی آزادی حا صل ہو جا ئے کیو نکہ حُریّتِ ضمیر سب کا حق ہے صرف مسلمانوں کا حق نہیں۔ کسی قوم کا حق نہیں کہ ضمیر کو وہ اپنے لئے مخصوص کرلے اور باقیوں کو حُریّت دینے سے انکا ر کردے۔
    ششم اس اعلانِ جنگ میں یہ پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ گودشمن طاقتور ہے اور مسلمان کمزور ہیں لیکن فتح مسلمانوں کو ہی نصیب ہو گی اور دشمن کو شکست ہو گی۔
    مسلمانوں کے غلبہ کی پیشگوئی
    اِس سِلسلہ میں اَور اعلان بھی کئے گئے اور کہا گیا کہ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ32
    چلو تم لوگ خدا کی خاطر مرنے کیلئے تیا ر ہو گئے ہو اور خدا تعالیٰ اپنی خاطر مرنے والوں کو خالی نہیں چھوڑے گا بلکہ وہ اُن کو مدد دے گا اور کا میا ب کرے گا۔ پھر فرمایا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ33یقیناً خدا کاگروہ جو خدا کی خاطر لڑنے والا ہے وہی غالب آئے گا۔ مگر چونکہ اِس طرح آپ نے اعلان کیا تھا کہ ہم کمزور ہیں۔ آپ نے اعلان کیا تھا کہ ان میں کوئی طاقت نہیں اور آپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کوملکوں سے نکال دیاگیا ہے پھر بھی یہ نہیں بول سکے گویا ان کی ہمّت گرا دی گئی تھی کہ تم ہو تو بالکل ہی گھٹیا طرز کے غریب اور بے سامان لیکن ہم تم کو لڑائی کا حکم دیتے ہیں اسلئے اُ ن کے دلوں میں ایک مایوسی سی پیدا ہو سکتی تھی ہم تھوڑے بھی ہیں اور سامان بھی نہیں توکیا بنے گا اس لئے فرمایا کہ بے شک جو باتیں ہم نے بتائی ہیں وہ تمہارے ظاہری حالات ہیں لیکنكَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ34 یاد رکھو! بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں جو بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔مگرکَب؟جب اللہ تعالیٰ کا اُن کو حکم ہو تا ہے۔ گویا اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا کہ تم یہ سمجھو کہ تم اپنی طرف سے لڑنے نہیں جا رہے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے لڑنے جا رہے ہو اور جب خدا کسی لڑائی کا حکم دیتا ہے تو چھوٹی جماعت ہمیشہ بڑی جماعتوں پر غالب آجایا کرتی ہے۔ اَب مَیں اِس آیت کے ٹکڑے ٹکڑے لے کربتاتا ہوں کہ اِس میں کیا مضمون بتایا گیا ہے۔پہلے بتایا گیا ہے کہا اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ۔وہ لوگ جن سے لوگ بِلا وجہ لڑائی کرتے ہیں اُن کو حکم دیا جاتا ہے کہ چونکہ اُن پر حملہ کیا گیا ہے اِس لئے وہ لڑائی کے لئے نکلیں۔ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ اور ہم اُن کو بتا دیتے ہیں کہ باوجود اِس کے کہ اُن میں لڑائی کی طاقت نہیں ہے مگر خدا میں طاقت ہے اور وہ اُن کی مدد کر سکتا ہے۔ ا۟لَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ وہ لوگ جو اپنے گھروں سے بغیرکسی قصور کے نکالے گئے اِلَّاۤ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ۔ ہاں ان کا ایک ہی قصور تھاکہ وہ کہتے تھے اللہ ہمارا ربّ ہے وہ اپنے زمانہ کے مَامور کی بات کو مانتے تھے اور خدا کی بات کہتے تھے۔ صرف اِس بات پر لوگ کہتے تھے اِن کو مارو۔ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ اور اس لئے اُن کو اجا زت دی جاتی ہے کہ یہ صرف اپنے خدا کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور اس زمانہ کی حکومت اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کو راضی نہیں کرنے دیں گے تم ہم کو راضی کرو۔ دوسرے اِس لئے کہ اگر یہ طریقِ ظُلم جا ری ہو جا ئے تو پھر قوموں میں ہمیشہ ہی لڑائی رہے گی۔عیسائی یہو دی پر حملہ کرے گا اور کہے گا میں نہیں تم کو عبادت کرنے دیتا اور یہودی عیسائی کو کہے گا مَیں نہیں تم کو عبادت کرنے دیتا مسلمان کا فر کو کہے گا مَیں نہیں تم کوتیری عبادت کرنے دیتاکافر مسلمان کو کہے گا مَیں نہیں تم کو تیری عبادت کرنے دیتا پھر خدا کا نام دنیا میں کوئی بھی نہ لے گا اور خدا کا خانہ خالی ہوجائے گا۔ آخر خدا کا نام مختلف قوموں نے لینا ہے مسلمان نے اپنے طورپر لینا ہے،یہودی نے اپنے طور پر لینا ہے ،مجو سی نے اپنے طور پر لینا ہے ،ہندو نے اپنے طور پر لینا ہے اور اگر دوسرے کو خدا کا نام نہیں لینے دیں گے تو بات ختم ہو ئی، کو ئی بھی اُسکا نام نہیں لے گا۔ تو فرماتا ہے اگر ہم یہ طریق اختیا ر نہ کریں کہ ایسے موقع پر لڑائی کی اجا زت دے د یں تو لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ ۔ صَوَامِعُ اُن جگہوں کو کہتے ہیں جہا ں لوگ عبادت کے لئے بیٹھتے ہیں جیسے ہمارے ہاں تکیے ہوتے ہیں۔ بِيَعٌ ۔بیعؔ نصاریٰ کی عبادت گاہوں کو کہتے ہیں۔ وَّ صَلَوٰتٌ ۔ صلوٰۃ یہودیوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں۔ عبرانی میں اُسے صلوٰۃ کہتے ہیں۔ اور مسلمانوں کی مسا جد جن میں خدا کا نام لیا جاتا ہے یہ سب توڑی جاتیں۔ وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ او ر جو لوگ خدا کا نام لینے والے ہیں وہ گویا خدا کے نام کو دنیا میں زندہ رکھ رہے ہیں او ر جو خدا کے نام کو زندہ رکھے گا اُس کی خدا بھی مدد کریگا۔ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ اور یقینا خدا بڑا زبردست اور غالب ہے۔یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ان کو دنیا میں حکومت دی جا ئے تو یہ نمازیں قائم کریں گے اور زکوٰتیں دیں گے اور امر باِلمعروف کریں گے اور بُری باتوں سے لوگوں کو روکیں گے۔ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ اور چونکہ یہ دنیا میں پھر خدا کی حکومت قائم کریں گے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اِن کو لڑائی کی اجازت دے دی جائے۔
    اسلام آزادئ ضمیر کو کُچلنے کی اجا زت نہیں دیتا
    یہ قرآن کریم نے ہمیں آئندہ کے لئے
    سبق دیا ہے صرف اُس زمانہ کی بات نہیں بلکہ قرآن شریف نے پیشگوئی بیان کی ہے اور اِس میں اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ بتایا ہے کہ اگر مسلمان سچّے طور پر مسلمان بنیں اور اِس تعلیم پر عمل کریں جو خدا تعالیٰ نے بیان کی ہے اگر لوگوں کے ظلم برداشت کریں اور آپ ظالم نہ بنیں، حُریّتِ ضمیر دیں حُریّتِ ضمیر چھینیں نہیں، مسجدوں کو گِرائیں نہیں، معبدوں کو بند نہ کریں بلکہ ہر ایک کو مذہب کی آزادی دیں دُنیا میں انصاف اور امن کو قائم رکھیں اور ہر ایک کو اس کا حق دیں تو كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ایسی قوم کو اللہ تعالیٰ تھوڑے ہو نے اور بے سامان ہونے کے باوجود زیادہ تعداد والوں اور سامان والوں پر غلبہ دے دیا کرتا ہے۔ گویا اگر پاکستانی اِس قسم کے مسلمان بن جائیں تو اِس کے معنے یہ ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ١ۚ وَ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ35 یعنی اگر تم میں سے بیس صابرہوں تو وہ دو سَو آدمی پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے ایک سَو ایسا ہو تو وہ ایک ہزار پر غا لب آجائے کیونکہ وہ سمجھتے نہیں تم سمجھتے ہو (مَیں آگے چل کر بتاؤ نگا کہ سمجھنے او رنہ سمجھنے کا مطلب کیا ہے) اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک عام قانون بتادیا ہے۔ کہ دس گُنا طاقت پر مسلمان غالب آسکتے ہیں۔ اب پاکستان کی آبادی کہتے ہیں سات کروڑ ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اگر پا کستانی ایسے مسلمان بن جائیں تو 70 کروڑ کے ملک پر یہ غالب آسکتے ہیں اور دنیا میں ٧٠ کروڑ کا کوئی ملک نہیں۔ بڑے سے بڑاملک چین ہے اُسکی بھی پچاس کروڑ کی آبادی ہے۔ دوسرے نمبر پر ہندوستان ہے اُس کی تیس کروڑ کی آبادی ہے لیکن قرآن کریم کے حکم کے ماتحت اگر پا کستان کے مسلمان اس قسم کے مسلمان بن جائیں جیسے قرآن کہتا ہے کہ بن جاؤ یعنی نہ وہ لوگوں پر ظلم کریں ،نہ حریّتِ ضمیر میں دخل دیں، نہ وہ غیر مذاہب کو اپنے مذہب پر جبراً لانے کی کو شش کریں اور نہ کسی کا حق ماریں بلکہ لوگوں کو اچھی باتوں کی تعلیم دیں، بُری باتوں سے روکیں اور لوگوں پر اس طرح روپیہ خرچ کریں کہ ملک ترقی کرے۔زکوٰۃ کے معنے ترقی کے بھی ہوتے ہیں پس زکوٰۃ دینے کے یہ معنے ہیں کہ ملکی ترقی کے لئے کوشش کریں اور خدا تعالیٰ کیلئے اپنے آپکو بنا دیں تو فرماتاہے تمہا رے دس، سَو پر غالب آسکتے ہیں گویا سات کروڑ پاکستانی مسلمان 70 کروڑ پر غالب آسکتے ہیں اور70 کروڑ کی حکومت دنیا میں کوئی نہیں۔ بڑی سے بڑی حکومت پچاس کروڑ کی ہے تو گویا اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر صرف پا کستان کے مسلمان ہی ایسے بن جائیں تو وہ دنیا کی بڑی سے بڑی حکومت کو شکست دے سکتے ہیں اور ساری دنیا کے مسلمان، عیسائی کہتے ہیں کہ چالیس کروڑ ہیں اور مسلمان کہتے ہیں ساٹھ کروڑ ہیں۔ اس حساب سے اگر چالیس کروڑ بھی تسلیم کریں تو چار ارب پر یہ مسلمان غالب آسکتے ہیں بشرطیکہ وہ اُ س قسم کے مسلمان بن جائیں جس قسم کے مسلمان بننے کے لئے قرآن کہتا ہے۔ اور اگر وہ ساٹھ کروڑ ہوں جیسا کہ مسلمان کہتے ہیں تو اِس صورت میں چھ ارب پر غالب آسکتے ہیں لیکن دنیا کی ساری آبادی سَوا دو ارب ہے۔ گویا اگرمسلمان ساری دنیا سے بھی لڑیں تو قرآنی وعدہ کے مطابق دنیا کی آبادی اگر دُگنی بھی ہو جائے تب بھی وہ اُن پر غالب آسکتے ہیں۔ یہ کتنی عظیم الشان بات ہے لیکن اِس کے باوجود مسلمان کیوں کمزور ہیں ؟ اِس لئے کہ وہ اُن شرطوں کو پورا نہیں کرتے۔ اِن شرطوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری مدد تمہیں تب حاصل ہو گی جبکہ تم میرے لئے لوگوں کی دشمنی سہیڑو، میرے نام کو روکنے کے لئے لوگوں کی دشمنی نہ کرو بلکہ میری خا طر لوگوں کی دشمنی سہیڑو۔لوگوں کے ظلم سہو اور دنیا میں جو لوگ میرا نام لینے والے ہیں چاہے وہ عیسائی ہو کے میرا نام لیں، چاہے وہ یہودی ہو کے میرا نام لیں یا مجوسی ہو کر میرا نام لیں جب بھی کوئی میرا نام لے تو کہو ہاں یہ تو ہمارے خدا کا نام لے رہا ہے۔گویا نمایا ں چیز بتادی ہے کہ کونسے اخلاق کے بعد خداکی مدد آتی ہے اور فرماتا ہے تم اس لئے غالب آؤ گے کہ وہ نہیں سمجھتے یعنی جو تعلیم تمہیں دی گئی ہے اس کے خلاف وہ غیراسلامی تعلیم پر عامل ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ تم کسی پر ظلم نہ کرو لیکن غیراسلام کہتا ہے کہ سب پر ظلم کرو اِس میں تمہا رافائدہ ہے، اسلام کہتا ہے کہ تم کسی کی حُریّتِ ضمیر میں دخل نہ دو اور غیر مذاہب یہ کہتے ہیں کہ بے شک حُریّتِ ضمیر میں دخل دو،اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کا نام لیتا ہے تو چاہے وہ ہندوہو ،عیسائی ہو ،یہودی ہوکسی قوم کا ہو اُسکو موقع دو اور کہو کہ تُو بے شک نام لے لیکن غیر اسلامی کہتے ہیں کہ اگر ہمارے ِگرجے میں خدا کا نام لیتا ہے تو ٹھیک ہے، اگر ہما رے صلوٰۃ میں نام لیتاہے تو ٹھیک ہے،اگرہمارے مندر میں نام لیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم نہیں لینے دیں گے۔ آج مسلمان بھی یہی کہتا ہے چنانچہ دیکھ لو کیا اِن میں سے کوئی بات بھی ہے جو مسلمان نہیں کررہا؟کیا آج کا مسلمان یہ نہیں کہہ رہا کہ یا تو ہماری طرح کی نماز پڑھو ورنہ ہم نہیں پڑھنے دیں گے، یا تو ہماری طرح فتوے دو ورنہ تمہیں فتویٰ نہیں دینے دیں گے، یا تو ہماری طرح کام کرو ورنہ ہم تمہیں سزادیں گے۔ کیا آج ہماری فقہ میں نہیں لکھا ہؤا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو نئے معبد بنانے کی اجا زت نہیں دی جائے گی یا ِگرجے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن یہ کہتا ہے کہ ہم اس لئے لڑتے ہیں تاکہ گِرجوں کو بچائیں۔ قرآن کہتا ہے کہ محمدؐرسول اللہ کو لڑنے کی اجازت اِس لئے دی گئی ہے کہ یہودیوں کے عبادت خانوں کو گِرنے سے بچایا جائے، قرآن کہتا ہے کہ محمدؐرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لڑنے کی اِس لئے اجازت دی گئی ہے کہ مانک(MONK) یا راہب وغیرہ جو بیٹھے عبادت کر رہے ہیں اُ ن کو نقصان نہ پہنچے لیکن اب ہر ایک بات کے خلاف کرنے کے لئے مسلمان یہ کہتا ہے کہ دوسروں کے معبد توڑنے جا ئز ہیں، لوگو ں سے لڑائی بھی جا ئز ہے، لوگوں کے مذاہب میں دخل دینا بھی جا ئز ہے، لوگوں سے جبراً اپنی مرضی منوانا بھی جا ئز ہے لیکن قرآن کہتا ہے کہ تمہیں اس طر ح فتح نصیب نہیں ہو گی۔ تمہیں فتح تب نصیب ہو گی جبکہ تم لوگوں کو آزادی دوگے، جبکہ تم لوگوں کو حُریّتِ ضمیر دوگے، جبکہ تم لوگوں کے مذہب میں دخل نہیں دو گے اور کہو گے کہ بیشک یہ مذہب رکھویہ خدا کا معاملہ ہے۔ اب یہ سیدھی بات ہے کہ دنیا کی رائے ہی آخرجیت کا موجب بنتی ہے۔ہٹلر نے لڑائی کی اور بڑی منظّم لڑائی لڑا مگر آخر وہ ہا را اِسلئے کہ دنیا کی جو آزاد رائے تھی وہ ساری کی ساری امریکہ اور انگلستان کے ساتھ تھی۔ روس اور جا پان لڑے، روس کتنی بڑی طاقت ہے مگر وہ ہا را اِس لئے کہ دنیا کی ساری کی ساری آزاد رائے جاپان کی ہمدردتھی اس ہمدردی کی وجہ سے جہاں بھی کسی کا بس چلتا تھا وہ جا پان کی تائید میں تھوڑ ا بہت کام کرتا تھا نتیجہ یہ ہؤا کہ روس ہارگیا۔ تو جب کوئی قوم ایسا طریق اختیا ر کرتی ہے کہ ہر مذہب و ملّت کے لئے وہ انصاف کرنے کے لئے تیا ر ہوتی ہے توخود دوسروں کے گھروں میں اُن کے جا سوس پیدا ہو جا تے ہیں اور ہر جگہ اُسے مدد ملنی شروع ہو جاتی ہے اور وہ جیتنے شروع ہو جاتے ہیں۔
    یروشلم کے عیسائیوں پر اسلامی
    حکومت کا غیر معمولی اثر
    جب یر وشلم پر مسلمان گئے توعیسائی لشکر حملہ آور ہؤااُس وقت مسلمانو ں نے فیصلہ کیا کہ ہم مقابلہ کی طاقت نہیں
    رکھتے ہم پیچھے ہٹیں گے۔جب پیچھے ہٹنے لگے تو یر وشلم کے لوگ بلکہ پادری بھی روتے ہوئے آتے تھے اور ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ خدا تم کو ہمارے ملک میں پھر لائے کیونکہ ہم نے امن تمہا رے ذریعہ سے ہی دیکھا ہے۔ حالانکہ اُن کی اپنی عیسائی حکومت تھی اور قیصر کے متعلق سمجھا جاتا تھا کہ وہ گویا پوپ کا قائم مقام ہے اور بادشاہ ہونے کے علاوہ وہ مذہبی طور پر بھی لیڈر ہے مگر وہ اُس کی حکومت کو توڑنے والی حکومت کے لئے باہر نکلے تھے۔ اگر مسلمان مذہبی معاملات میں دخل دیتے، اگر وہ اُن کے گِر جوں میں دخل دیتے اور اگر وہ اُن پر سختیا ں کرتے جو ہماری فقہ کی کتابوں میں لکھی ہیں تو اُن کی عقل ماری ہوئی تھی کہ وہ روتے ہوئے نکلتے کہ تم ہمارے گھروں میں آؤ، ہمارے گِرجے گراؤ اور ہمارے مذہب میں دخل دو وہ لازماً اُن کی مخالفت کرتے اور رومن ایمپائر کی مدد کرتے لیکن حالت یہ تھی کہ وہ روتے تھے۔ پس جب مسلمان پیچھے ہٹ آئے تو وہ جانتے تھے کہ یروشلم سے اسلامی لشکر کو تو نکال لائے ہیں لیکن یروشلم میں بیس ہزار جا سوس چھوڑ آئے ہیں جو ہمیں رومیوں کی خبر یں دیں گے اور اُن کے ذریعہ ہم پھر واپس آجائیں گے۔ تو یروشلم کا ہر عیسا ئی مسلمانوں کا جا سوس بن گیا تھا اور اُن کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہو چکا تھا۔ اگر یہی سلوک مسلمان قومیں دوسروں کے ساتھ کرنا شروع کردیں تو دیکھو فوراً یہ صورت شروع ہو جائے گی کہ غیر ملکوں میں ہمارے ہمدرد پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے اور وہ ہماری مدد کرنی شروع کردیں گے۔
    یہاں اللہ تعالیٰ نے کامیا بی کے لئے صابر ہونے کی شرط لگائی ہے اور صابر کے معنے (1)مصیبت کو برداشت کرنے(2)استقلال سے نیک کاموں میں لگے رہنے اور اختلافات کو نظرانداز کردینے کے ہوتے ہیں۔ پس اگر مسلمان باہمی اختلاف چھوڑ کر موت یا نقصانِ مال اور نقصانِ آرام کا ڈر دُور کردیں۔ حصولِ مدعا کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اُن کے لئے استقلال کے ساتھ بغیر وقفہ او ر سُستی اور تزلزل کے لگ جائیں تو دنیا کی ہر طاقت پر وہ غالب آسکتے ہیں بشرطیکہ وہ مظلوم ہو ں ،کسی کے حق پر دست اندازی نہ کریں اور حُریّتِ ضمیر کو قائم کرنے کے ذمہ دار ہوں نہ کہ ڈنڈے سے اپنا مذہب منوانے پر تُل جائیں جس سے منافقت بڑھتی ہے اور صفوں میں خلا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن کے ایجنٹ اُن ممالک میں پیدا ہو جا تے ہیں۔
    ہفتم دوسری حکومتوں کے نوبت خانوں سے تویہ اعلان کئے جا تے ہیں کہ فلاں حکومت کی فوجیں ہمارے ساتھ ہیں لیکن اِس نوبت خانہ سے تو یہ اطلاع دی جاتی تھی کہ سب دنیا کی حکومتیں ہمارے خلاف ہیں اور کسی کی حمایت ہم کو حا صل نہیں۔ چنانچہ فرمایا اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ36 مسلمانوں کے پاس لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ اَب تو ساری دنیا تمہا رے خلاف اکٹھی ہو گئی ہے مگر اِس کے ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا گیا کہ گو ساری دنیا تمہارے خلاف ہو گی مگر چونکہ تم مظلومیت میں ہو اور مظلو میّت کی وجہ سے تم اپنے دفاع کے لئے جنگ کرتے ہو اور چونکہ تم اخلاق اور حُریّتِ ضمیر کے لئے جنگ کرنے لگے ہو اس لئے گو تمام زمینی حکومتوں نے تمہا رے خلاف اجتماع کر لیا ہے لیکن آسمانی حکومت نے تمہا ری تائید کا فیصلہ کردیا ہے۔ وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اور خدا اُس کی تائید کرے گا جو اُس کی مدد کرے گا۔ جو لوگ اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ دین کے معاملہ میں انسان جبر نہ کریں بلکہ دین کامعاملہ صرف خدا اور بندے پر چھوڑ دیا جا ئے وہ درحقیقت خدا تعالیٰ کے لئے جنگ کرتے ہیں۔اِس لئے اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ ہو کر جنگ کرے گا۔
    پھر فرمایا اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُنْزَلِيْنَؕ۔ بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ يَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ۔37 مؤمنو ں کو کہدو کہ تم تھوڑے بھی ہو دشمن کے پاس سامان بھی زیا دہ ہے لیکن کیا تمہارے لئے یہ کا فی نہیں کہ خد ا تمہا ری مدد کے لئے تین ہزار فرشتے اُتار دے۔ بلکہ اگرتم صبر کرو اور تقویٰ سے کام لو اور دشمن تم پر فوری حملہ بھی کردے تو خدا تم سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ پانچ ہز ار فرشتے بھیجے گا جو مُسَوِّمْ ہونگے۔ یعنی نڈر ہو کر اپنے گھوڑے دشمن کی صفوں میں پھینک دیں گے اور اُسے غارت کردیں گے۔ اِس فقرہ میں تو دراصل الٰہی مددکا ذکر تھا مگر کچھ لوگ رسمی مؤمن ہوتے ہیں وہ ہر چیز کے لئے جسمانی نسخہ تلاش کرتے ہیں پس ڈر ہو سکتا تھا کہ کچھ بیوقوف ایسے بھی ہوں کہ جو سچ مچ فرشتوں کو لائیں اور سچ مچ اُن کو دَوڑائیں اور لڑائیاں کروائیں اِس لئے فرمایا وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ38 یعنی ہم نے جو کہا ہے کہ فرشتے اُتارنے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں کہ فرشتے آدمی بن کر آئیں گے اور تلواریں لے کر لڑیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں یہ خو شخبری دی گئی ہے کہ وہ تمہا رے دلوں کو مضبوط کریں گئے اور دشمنوں کے دلوں میں تمہا را رُعب پیدا کردیں گے اور اصل مدد خدا کی طرف سے آتی ہے فرشتے انسانی جسم میں نہیں آیا کرتے۔
    دنیا میں خدائی حکومت قائم کئے جا نے کا اعلان
    ہشتم۔ دوسری حکومتیں جب حملہ
    کرتی ہیں تو بڑے زور سے اعلان کرتی ہیں کہ ہم آزادی دینے کے لئے آئے ہیں جیسے انگریزوں نے عربوں سے کیا۔ پچھلی جنگ میں انہوں نے عربوں سے کہا کہ ہم تمہیں آزاد کرنے آئے ہیں اور کِیا کیا ؟ کِیا یہ کہ شام اور لبنان فرانس کو دیدیا عراق پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا ،اِسی طرح اُردن بھی لے لیا، فلسطین پر بھی آپ قبضہ کر لیا او ر اِس طرح ملک کو بانٹ لیا۔ لیکن لڑائی ہو ئی تو کہا۔ اُٹھو!اُٹھو!!شاباش!ہم تمہاری آزادی کے لئے آئے ہیں۔ یا جرمنی نے ہا لینڈاوربیلجیئم میں اپنی فوج داخل کردی بغیر اس کے کہ وہ لڑائی میں شامل ہوتے اور اعلان کر دیا کہ چونکہ ہا لینڈ اوربیلجیئم کی آزادی انگریزوں اور فرانسیسیوں کی وجہ سے خطرہ میں ہے اور وہ اِن ملکوں پر قبضہ کرلیں گے اس لئے ہم انہیں بچانے کے لئے آرہے ہیں۔ اِسی طرح ڈنمارک پر قبضہ کر لیا اور کہا کہ ہم ڈنمارک کو بچانے کے لئے آئے ہیں۔ اب پیچھے ہندوستان نے حیدر آباد پر حملہ کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ پولیس ایکشن ہے اِن لوگوں میں امن قائم کرنے کے لئے ہماری فوجیں داخل ہوئی ہیں۔ یا روس نے لیتھونیا اور استھو نیا اور لٹویا پر حملہ کر دیا اورکہا ہم اِن تینوں ملکوں کو آزاد کروانے کے لئے آئے ہیں۔ اِس آزادی کے بعد یہ تینوں ممالک ضلع بن کررہ گئے اور روس کے اند ر شامل ہیں۔ صرف فرق یہ ہو تا تھاکہ فساد کا دھارا بدل جاتا تھا یعنی پہلے فساد اِس طرف ہوتا تھا پھر اس کا رُخ اُس طرف ہو جاتا تھا لیکن اسلامی نوبت خانہ میں جو وعدہ کِیا گیا ہے وہا ں یہ فرماتا ہے کہ ہم نے اِن کو فتح ہی اِس شرط سے دینی ہے کہ اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ یہ نہیں ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایسا کر یں گے بلکہ فرماتا ہے جب ہم ان کو حکومت بخشیں گے تو:-
    (1) وہ عبادتِ الٰہی کریں گے اور عبادتِ الٰہی کی آزادی دیں گے۔
    (2) جب ہم ان کو حکومت دیں گے تووہ غرباء کی مدد کریں گے اورگِرے ہوؤں کو اُٹھائیں گے۔
    (3)جب ہم ان کوحکومت دیں گے تو وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو حُسنِ سلوک اور اخلاق اور انصاف کی نصیحت کریں گے۔
    (4)یہ کہ وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو تمام نا پسند یدہ امور سے خواہ دُنیوی ہوں یا دینی، اخلاقی ہوں یا معاشی یا اقتصادی یا علمی روکیں گے۔
    (5) اور اُن کا رویہّ ایسا منصفانہ ہو گا کہ یہ معلوم نہیں ہو گا کہ انسان حکومت کر رہا ہے بلکہ یوں معلوم ہوگاکہ خداتعالیٰ زمین پر اُترآیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ۔ اُس وقت یوں معلوم ہو گا کہ خدا آسمان سے اُتراہے۔
    اَب دیکھو جن لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ تھا وہ ایسے ہی ثابت ہوئے کیو نکہ ان کے ساتھ خداتعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ ہم تمہیں اس لئے حکومت دے رہے ہیں کہ تم نے یہ یہ کا م کرنا ہے۔
    مساواتِ اسلامی کی ایک شاندار مثال
    چنانچہ دیکھ لو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا واقعہ
    ہے آپ مکّہ مکرّمہ میں حج کےلئے گئے۔ اُن دِنوں عرب کا ایک عیسائی بادشاہ بھی مسلمان ہو چکا تھا و ہ بھی مکّہ میں حج کے لئے آیا تو کسی مجلس میں بیٹھا ہؤا باتیں کر رہا تھا کہ ایک غریب آدمی جو بے چارہ کو ئی مزدور تھا پاس سے گزرا اور اتفاقاً اُس کا پیَر اُس کے کپڑے پر پڑ گیا۔ وہ تو اپنے آپ کو بادشا ہ سمجھتا تھا اور بادشاہ بھی وہ کہ کب برداشت کر سکتا تھاکہ کوئی شخص اتنی بے احتیاطی سے چلے کہ پاؤں اُس کے کو ٹ پر پڑجائے۔اُس نے زور سے اُسے تھپڑ مارا او رکہا بے شرم! تیری کیا حیثیت ہے کہ تُو اِس طرح بے احتیاطی سے چلے کہ تیرا پیَر میرے کو ٹ پر پڑ جا ئے وہ بیچارہ صبر کر کے چلا گیا۔ اُسی مجلس میں کوئی صحابی ؓ بیٹھا تھا اُس نے کہا تم نے بڑی غلطی کی ہے۔ اُس نے کہا کیوں؟ مَیں بادشاہ نہیں ہوں؟ وہ کہنے لگا اِسلام میں بادشاہت وغیرہ کچھ نہیں ہوتی تم کو تھپڑ مارنے کا کیا حق تھا۔اگر اُس نے کو ئی قصور کیا تھا تو تم قضاء میں جاتے اور اُس پر دعویٰ کرتے، تمہارااُس کو مارنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ کہنے لگا تو کیا اسلام میں بادشاہ او ر غیر بادشاہ کا کوئی فرق نہیں کیا جاتا؟ انہوں نے کہا کو ئی فرق نہیں کیا جاتا۔ وہ کہنے لگا اچھّا مَیں عمرؓ کے پاس جاتا ہوں۔ اُٹھ کے عمرؓ کے پاس گیا دربارلگا ہؤا تھا سارے لوگ بیٹھے ہوئے تھے جا کر حضرت عمرؓ سے کہنے لگا کہ کیو ں جی!کیا اسلام میں بد تہذیبی ہوتی ہے کہ اگر کو ئی شخص کسی بادشاہ یا بڑے آدمی کی ہتک کربیٹھے تو وہ اُس کو مار نہیں سکتا۔ حضرت عمرؓ نے اُس کی طرف دیکھا او ر کہا۔ (جبلہ اُس کا نام تھا) جبلہ! تم کسی مسلمان کو ما ر بیٹھے ہو؟ خدا کی قسم! اگر مجھے پتہ لگا تو مَیں تمہیں اُسی طرح مرواؤں گا۔اُس نے اُس وقت تو بہا نہ بنا یا او ر کہا۔ نہیں نہیں! مَیں نے تو کچھ نہیں کیا۔ مگر یہ کہہ کر واپس گیا اور اُسی وقت گھوڑے پر سوارہؤا اور اپنے ملک کو واپس چلا گیا اور وہاں جا کر مرتد ہو گیا۔39 غور کرو! کتنی بڑی طاقت تھی ایک مزدور کے لئے۔ ایک بادشاہ جاتا ہے اور کہتا ہے اِس نے میری ہتک کی ہے تو حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ تم نے اِسے مارا ہے تو مَیں ضرور سزا دونگا۔
    خلافتِ راشدہ کے عہد میں راشن سسِٹم کا اجراء
    یہ وہ چیز تھی جو مسلمانوں نے اپنی
    حکومت میں کی۔ راشن اور کپڑے کا سسٹم جاری ہؤا، امیر اور غریب سب کے لئے حکم ہؤا کہ اُن کو کپڑے مِلا کریں گے اور کھا نا مِلا کرے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کا حکم دیا کہ جو راشن اورکپڑا مِلا کرے گا اس میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہ کیا جائے ہر مذہب وملّت کے آدمی کو اُس کا راشن دیا جا ئے۔ ایک بادشاہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمان ہؤا تو اُس نے کہلا بھیجا کہ میرے پاس ایسے لوگ ہیں جو غیر مذاہب کے ہیں مَیں اُن کے ساتھ کیا سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا اُن کے ساتھ انصاف کا سلوک کروپیا ر کا سلوک کرو اور اگر تمہارے پاس ایسے لوگ ہو ں چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم کہ اُن کے پاس کا فی زمین وغیرہ نہ ہو اور کافی غلّہ نہ پیدا کر سکتے ہوں تو پھر سرکاری خزانہ سے انہیں غلّہ مہیّا کرو۔40
    ایک غلام کے معاہدہ کا احترام
    اِسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دشمن فوج گھِر گئی اور اُس
    نے سمجھ لیا کہ اَب ہماری نجات نہیں ہے اِسلامی کمانڈر دباؤسے ہمارا قلعہ فتح کر رہا ہے اگر اُس نے فتح کر لیا تو ہم سے مفتوح ملک والا معاملہ کیا جائے گا۔ ہر مسلمان مفتوح ہونے اور صلح کرنے میں فرق سمجھتا تھا۔ مفتو ح کے لئے تو عام اسلامی قانون جاری ہوتا تھا اور صلح میں جو بھی وہ لوگ شرط کرلیں یا جتنے زائد حقوق لے لیں لے سکتے تھے۔انہوں نے سوچا کہ کوئی ایساطریق اختیا ر کرنا چاہئے جس سے نرم شرائط پر صلح ہو جا ئے۔ چنا نچہ ایک دن ایک حبشی مسلمان پانی بھر رہا تھااُس کے پاس جا کر انہوں نے کہا کیوں بھئی ! اگر صلح ہوجائے تو وہ لڑائی سے اچھی ہے یا نہیں ؟ اُس نے کہا ہا ں! اچھی ہے۔ وہ حبشی غیر تعلیم یافتہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ پھر کیوں نہ اِس شرط پر صلح ہوجائے کہ ہم اپنے ملک میں آزادی سے رہیں اور ہمیں کچھ نہ کہا جا ئے ہمارے مال ہمارے پاس رہیں اور تمہا رے مال تمہارے پا س رہیں۔ وہ کہنے لگا با لکل ٹھیک ہے۔ انہوں نے قلعہ کے دروازے کھول دیئے۔ اب اسلامی لشکر آیا تو انہوں نے کہا ہمارا تو تم سے معاہد ہ ہو گیا ہے۔ وہ کہنے لگے معاہدہ کہاں ہؤا ہے اور کِس افسر نے کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہم نہیں جا نتے ہمیں کیا پتہ ہے کہ تمہارے کو ن افسر ہیں اور کون نہیں۔ ایک آدمی یہاں پانی بھر رہا تھا اُس سے ہم نے یہ بات کی اور اُس نے ہمیں یہ کہہ دیا تھا۔ مسلمانوں نے کہادیکھو ایک غلام نکلا تھا اُس سے پوچھو کیا ہؤا؟ اُس نے کہا ہاں! مجھ سے یہ بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا وہ تو غلام تھا اُسے کس نے فیصلہ کرنے کا اختیار دیا تھا انہوں نے کہا ہمیں کیا پتہ ہے کہ یہ تمہا را افسر ہے یا نہیں۔ ہم اجنبی لوگ ہیں، ہم نے سمجھا یہی تمہا را جرنیل ہے۔اُس افسر نے کہا مَیں تو نہیں مان سکتا لیکن مَیں یہ واقعہ حضرت عمرؓ کو لکھتاہو ں۔ حضرت عمرؓ کو جب یہ خط مِلا تو آپ نے فرمایا کہ آئندہ کے لئے یہ اعلان کردو کہ کمانڈر اِنچیف کے بغیر کوئی معا ہدہ نہیں کر سکتا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک مسلمان زبان دے بیٹھے تو مَیں اُس کو جھو ٹا کردوں اب وہ حبشی جو معاہدہ کرچکاہے وہ تمہیں ماننا پڑے گا۔ ہاں آئندہ کے لئے اعلان کردو کہ سوائے کمانڈر اِنچیف کے اَور کوئی کسی قوم سے معا ہدہ نہیں کر سکتا۔41
    غیر مسلموں کے جذبات کا پاس
    پھر غیر مذاہب کے جذبات کا لحاظ اِس حد تک کیا کہ رسو ل کر یم صلی اللہ علیہ وسلم
    کے پاس ایک یہودی نے آکر شکا یت کی کہ مجھے ابو بکر ؓ نے مارا ہے۔ آپؐ نے حضرت ابو بکرؓ کو بلایا اَو رفرمایا تم نے اِس کو ما را ہے ؟کہنے لگے ہاں! یَارَسُوْلَ اللہِ! اِس نے بڑی گستاخی کی تھی۔ آپؐ نے فرمایا کیا گستاخی کی تھی؟ انہوں نے کہا اِس نے کہا تھا مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس نے موسٰی ؑ کو سارے رسولوں سے افضل بنا یا ہے۔ تو اِس نے آپؐ کی ہتک کی او ر حضرت موسٰی ؑ کو سب رسولوں سے افضل قرار دیا۔ مجھے غصّہ آگیا اورر مَیں نے تھپّڑ مارا۔ آپؐ کا چہرہ سُرخ ہو گیا اور آپؐ نے فرمایا۔ لَا تُفَضِّلُوْنِیْ عَلٰی مُوْسٰی۔42 تمہارا کیا حق ہے کہ لوگوں کے جذبات کو مجروح کرو۔ تم مجھے یہودیوں کے سامنے موسٰی ؑ پر فضیلت نہ دیا کرو۔کتنا انصاف ہے۔ کیا دُنیا کا کوئی اَور انسان ہے جس نے باوجود اِس کے کہ وہ خود دعویدار ہو کہ مَیں بڑا ہوں کہا ہو کہ دوسروں کے سامنے تم نے مجھ کو موسٰی ؑ پر کیوں فضیلت دی اِس کا یہی حق ہے کہ وہ کہے موسٰی ؑ مجھ سے بڑا ہے۔پھر فرمایا۔ وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ43 دیکھو جن بُتوں کی لوگ پوجا کرتے ہیں یا جن انسانو ں کی لوگ پوجا کرتے ہیں، اُن کے متعلق کبھی کوئی بُر ا لفظ نہیں بولنا ورنہ پھر اُن کا بھی حق ہو جائے گا کہ وہ مقابل میں تمہارے خدا کو بھی گالیا ں دیں اِس طرح تم اپنے خدا کو گالیا ں دینے کا موجب بنو گے۔ گویا قرآن اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ مسلمان اور عیسائی جذبات کے لحاظ سے برابر ہیں، سچے مذہب والا اور جھو ٹے مذہب والا دونوں برابر ہیں اگر اِس کو حق ہے کہ اُسکے جذبات کو تلف کرے تو اُس کا بھی حق ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اگر یہ چاہتا ہے کہ اسکے جذبات کی ہتک نہ کی جائے تو پھر اُس کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کے جذبات کی بھی ہتک نہ کرے۔
    جوشِ انتقام میں بھی عدل و انصاف
    کو ملحوظ رکھنے کی تاکید
    پھر جو ش اور غضب میں انتقام کی طرف منتقل نہ ہونے کے لئے فرمایا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ
    شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١ٞ وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ١ٞ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔44 یعنی اے مؤمنو!تم اللہ تعالیٰ کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔ یعنی صرف خداکی خاطر ہر کا م کرو اور خداتعالیٰ کے لئے تم گواہی دو کہ وہ منصف ہے۔ یعنی اپنے عمل سے ثابت کرو کہ اگر تم منصف ہو تو پتہ لگ جا ئے کہ خدا نے تم کو انصاف کی تعلیم دی ہے اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم کسی سے بے انصافی کر بیٹھو۔ دشمن بھی ہو تو پھر بھی انصاف کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیا ر کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو جا نتا ہے۔تقویٰ اختیا ر نہ کرو گے تو سزا ملے گی گویا اِس میں یہ نصیحت کی کہ :-
    اوّل ہرکام اللہ تعالیٰ کے لئے کرو کسی اَور غرض کے لئے نہیں کہ اُس غرض کو پورا نہ ہوتے دیکھ کر راستہ بدل لو۔
    دوم خدا تعالیٰ نے جو معیا رِانصاف مقرر کیا ہے اُس کا نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کرو اگر وہ نمونہ پیش نہ کرو گے تو لوگ کہیں گے اِن کو خدا کی یہ تعلیم نہیں ہے جو یہ کہتے ہیں بلکہ اَور تعلیم ہے۔
    ایک ہندو سے حسنِ سلوک کا شاندار نمونہ
    سوم اگر کوئی ظلم بھی کرے تو جوش میں آکر
    ظلم نہیں کرنا بلکہ عدل کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑنا۔ مجھے اِس پر اپنا ایک واقعہ یا د آگیا۔ رتن باغ (لاہور) میں ہم رہتے تھے اُس کا مالک چونکہ ایک بارسوخ شخص تھا اور اُس کا بھا ئی ڈپٹی کمشنر تھا وہ گورنمنٹ کی چٹھی لکھوا کے لا یا کہ اُن کا سامان اُن کو دے دیا جائے۔ یہاں کے افسر اُسوقت بہت زیادہ لحاظ کرتے تھے انہوں نے فوراً لکھدیا کہ ان کو یہ سامان دے دو۔ ہم جب گئے ہیں تو اُس وقت تک وہ لُوٹا جاچکا تھا دروازے توڑے ہوئے تھے اور بہت سا سامان غا ئب تھا او ر پو لیس اُس زمانہ میں ایک لِسٹ بنا لیا کرتی تھی کہ یہ یہ اِس مکا ن میں پا یا گیا ہے اور چونکہ اُن دنوں ایک دوسرے پر ظلم ہو رہے تھے وہ بہت رعایت کرتے تھے۔ لِسٹیں عام طو رپر نا قص بنا تے تھے مثلاً اگر پچاس چیزیں ہو ئیں تو چالیس لکھ لیں اور دس رہنے دیں اور کہہ دیا تم لے لو یہ طریق یہاں عام تھا۔ جب ہم وہاں گئے تو مَیں نے حُکم دیاکہ جتنی چیزیں لِسٹ سے زائد ہیں وہ جمع کر کے ایک طرف رکھ دو۔ چنانچہ وہ سب چیزیں رکھ دی گئیں۔جب وہ حکم لا یا تو وہ چیزیں جو لکھی ہوئی تھیں وہ دے دی گئیں۔ پاس سرکاری افسر بھی تھے اور پولیس بھی تھی۔ اِس کے بعد مَیں نے اپنے لڑکوں کو بُلا کر کہا کہ جو چیزیں میں نے الگ رکھوائی تھیں وہ بھی اس کو دیدو۔وہ مسلمان تھا نیدار جو اُن کے ساتھ آیا تھا وہ یہ دیکھ کر میرے ایک لڑکے سے لڑ پڑا اور کہنے لگا آپ لوگ یہ کیا غضب کر رہے ہیں اِن لوگوں نے ہم پر کیا کیا ظلم کئے ہیں اور آپ اِن کی ایک ایک چیز ان کو واپس کر رہے ہیں یہ تو بہت بُری بات ہے مگر اس کے روکنے کے باوجود ہم نے تمام چیزیں نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں۔ اُنہی چیزوں میں کچھ زیورات بھی تھے وہ مَیں نے رومال میں باندھ کر ایک الماری میں رکھ چھوڑے جب مَیں نے دیکھا کہ یہ لوگ اُسے چیزیں دینے میں روک بنتے ہیں تو مَیں نے سمجھا کہ زیورات اِن لوگو ں کے سامنے دینا درست نہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اُس سے زیور چھین لیں۔ یہ لِسٹوں میں تو ہیں نہیں چنا نچہ مَیں نے وہ رومال رکھ لیا او ر اُسے کہلا بھیجا کہ جاتی دفعہ مجھ سے ملاقات کرتا جا ئے۔ میری غرض یہ تھی کہ جب وہ آئے گا تو مَیں علیحدگی میں اُس کے زیورات اُس کے حوالے کر دونگا۔ چنا نچہ جب وہ آیا تو مَیں نے رومال نکالا اور کہا یہ تمہارے زیورات تھے جو اِس مکان سے ہمیں ملے اَب مَیں یہ زیورات تم کو واپس دیتا ہوں اور مَیں نے بلا یا ہی اِسی غرض کیلئے تھا کیو نکہ مَیں سمجھتا تھا کہ اگرمَیں نے لوگوں کے سامنے زیورات واپس کئے تو ممکن ہے سپاہی او رتھانیدار وغیرہ تم سے زیور چھین لیں۔ وہ حیران ہو گیا اور کہنے لگا کہ جو ہماری اپنی لِسٹیں ہیں اُن میں بھی ان زیوروں کا کہیں ذکر نہیں۔ مَیں نے کہا ٹھیک ہے نہیں ہو گا مگر یہ زیور ہمیں تمہارے مکان سے ہی ملے ہیں اِس لئے خواہ لِسٹوں میں اِن کا ذکر نہ ہو بہر حال یہ تمہا رے ہی ہیں۔ اُس پر اِس کا اتنا اثر ہؤا کہ اُس نے وہاں جا کر اخباروں میں اعلان کرایا کہ ہماری لِسٹوں سے بھی زائد سامان ہمیں دیا گیا ہے۔ حکومت کی جو لِسٹیں تھیں اس سے ہی زائد سامان نہیں دیا گیا بلکہ جو ہماری لِسٹیں تھیں اُن سے بھی زائد سامان دیا گیا۔ دوسرے دن وہی تھا نیدار جو علاقہ کا تھا پھر آیا اور کہنے لگا مَیں نے ملنا ہے۔ مَیں نے اُسے بلوا لیا او ر پوچھا کیا بات ہے ؟ کہنے لگا مجھے تو رات نیند نہیں آئی، میرا خون کھولتا رہا ہے۔ مَیں نے کہا۔ کیوں ؟کہنے لگا آپ کے آدمیوں نے بڑا بھا ری ظلم کیا ہے۔اِن کم بختوں نے ہمیں لوٹ کر تباہ کر دیا ہے او رآپ ان سے یہ سلوک کر رہے ہیں۔ کہنے لگا مَیں بھی گورداسپور کاہی ہوں۔ہمارے گھر انہوں نے لُوٹ لئے، تباہ کر دیئے وہ تو خیر سرکاری ظلم تھا کہ اس کو لِسٹوں کے مطابق مال د ے رہے تھے آخر ساروں کو کب مِل رہا ہے۔ مگر ان لوگوں نے تو جو مال لسٹوں میں نہیں لکھا وہ بھی انہیں لا کر دیا گیا ہے۔مَیں نے کہا مَیں آپ کو ایک نئی بات بتاؤں اِن لوگوں کا کچھ زیورمیرے پاس پڑا تھا وہ بھی مَیں نے ان کو دیدیا ہے وہ اُن کی لسٹ میں بھی نہیں تھا۔ کہنے لگا یہ تو بڑا ظلم ہے۔ اتنے ظلم کے بعد آپ کا اِن سے یہ معاملہ میری عقل میں نہیں آتا۔ مَیں نے کہا آپ یہ تو فرمائیے آخر مَیں نے اِن کا مال کیوں رکھ لینا تھا؟ کہنے لگا انہوں نے ہمارا مال وہاں رکھا ہے۔ مَیں نے کہا اگر تم ثابت کر دوکہ میری کوٹھی کا مال اِس نے رکھا ہے تو مجھے بڑا افسوس ہو گا کہ مَیں نے اُس کو اُس کا مال واپس دے دیا ہے۔لیکن اگراُس نے نہیں رکھا کسی اَور نے رکھا ہے تو یہ تو بتاؤ کہ کرے کوئی اَور بھرے کوئی ،مارے کوئی اور سزا کسی کو دی جا ئے۔ مَیں نے کہا تم عدالت میں یہی کیا کرتے ہو۔ وہ کہنے لگا ہم اس طرح تو نہیں کیا کرتے لیکن یہ تو بُری بات ہے کہ یہ اپنا مال لے جائیں۔ مَیں نے کہا لے جائیں۔ یہ تو خدائی مصیبتیں ہیں جو آتی رہتی ہیں۔ انسان گِر کے بھی مر جاتا ہے اور زلزلے آتے ہیں تو بھی تباہ ہو جا تے ہیں کسی انسان پر الزام نہیں آتا۔ بہرحال اِس نے میر ا مال نہیں لیا۔ جس نے لیا ہے اُس کا ما ل میرے پاس لا ؤ پھر مَیں سوچوں گا کہ رکھ لینا چاہئے یا نہیں چونکہ اِس نے ہما را مال نہیں رکھا اِسلئے ہم نے بھی اس کا مال نہیں رکھا۔
    ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ایک مجسٹریٹ مجھ سے ملنے کیلئے آیا۔ اُس نے کہا میرے دل میں سخت جلن تھی او ر مجھے مسلمانوں کے افعال دیکھ کر سخت تکلیف محسوس ہوتی تھی۔ مگرمَیں نے لاہو ر میں آکر آپ کی تقریر سُنی آپ نے یہ بات بتائی تھی کہ ان لوگوں پر ظلم نہیں کرنا چاہئے انہوں نے کیا قصور کیا ہے۔اُس دن سے میرے دل کو تسلّی ہو گئی۔ مَیں نے کہا۔ خیر کوئی معقول او رشرعی آدمی بھی میرے اس خیا ل کی تصدیق کر رہا ہے۔
    غرض اسلام جو ہمیں تعلیم دیتا ہے وہ ایسی ہے کہ اس کے ذریعہ سے دشمن سے دشمن انسان کی گردن بھی شرم سے جُھک جاتی ہے لیکن ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ تم اس تعلیم پر عمل کرو کہ جس سے دوست بھی دوست کو ذلیل سمجھنے لگ جا ئے۔ ہا ں اسلا م میں یہ بات جا ئز ہے کہ اگر کوئی جُرم قبیلہ یا علاقہ میں ایسا ہو رہا ہو کہ ثابت ہو جائے کہ علاقہ کے لوگ اُس پر پر دہ ڈال رہے ہیں تو سارے علاقہ پر جُرمانہ کر دیا جائے۔
    ظلم انسان کو اُخروی سزا کا بھی مستحق بناتا ہے
    چہارم یہ حکم گو دُینوی اور سیاسی معلوم
    ہوتا ہے مگر فرماتا ہے یاد رکھوکہ تمام اعمال اخلاقی پہلو سے رُوح پر اثر ڈالتے ہیں۔ پس اگر غلطی کرو گے تو تقویٰ کو اور دین کو نقصان پہنچے گا۔ پس دشمن کی خاطر نہیں بلکہ اپنے دین کے بچانے کے لئے احتیا ط برتو اور کسی پر ظلم نہ کرو۔ اور چونکہ یہ امر تقویٰ پر بھی اثرانداز ہو تا ہے اس لئے فرمایا کہ اِس غلطی کی سزا سیاسی نہیں بلکہ دینی بھی ملے گی اور خدا تعالیٰ اُخروی زندگی میں اِن غلطیوں کو نظر انداز نہیں کرے گا۔ تم اگر کسی ہندو پر ظلم کرتے ہو یا کسی عیسائی پر ظلم کرتے ہو یا کسی اپنے عقیدہ سے اختلاف کرنے والے پر ظلم کرتے ہو توتم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مَیں نے اِس دنیا میں ظلم کیا ہے مجھے اِسی جگہ کوئی سزامِل جائے گی قیامت کے دن خدا نہیں کہے گا کہ تم ظلم کرنے والے مسلمان ہو اور جس پر ظلم کیا جاتا ہے وہ تمہا رے نزدیک مسلمان نہیں وہ ہندو کہلاتا ہے یا عیسائی کہلا تا ہے بلکہ خدا کہے گا کہ چونکہ تم نے ضمیر کی حُریّت کو ُکچلا اِس لئے مَیں تمہیں سزادونگا۔
    ہر اخلاقی کمزوری مذہب اور
    روحانیت پر اثر انداز ہو تی ہے
    مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ اپنےاعمال کو اکثر اخلاق سے جُدا کر کے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں ایک اچھا نمازی تجا رت میں
    دھوکا کر لیتا ہے۔ بڑا نمازی ہو تا ہے خوب وظیفے کرتا ہے لیکن تجا رت میں آکر پھٹا ہؤاتھان اَور تھانوں میں ملا کر دے دے گا کپڑا نا پے گا تو چند گِرہ کم دے گا او ر اُسکا ضمیر اُسے بالکل ملامت نہیں کرے گا۔
    حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ڈپٹی صاحب تھے جو تہجد بڑی باقاعدگی کے ساتھ پڑھا کر تے تھے اور رشوت کے لئے انہوں نے نو کروں کو کہا ہؤا تھاکہ اگرکوئی رشوت لایا کرے تو تہجد کے وقت اُس کو لانے کے لئے کہا کرو دن کو لوگوں کو پتہ لگ جاتا ہے۔غرض انہوں نے تہجد باقاعدہ پڑھنی او ر نو کر نے بھی اُس کو باقاعدہ لا کر بٹھا دینا۔ جب انہوں نے سلام پھیرنا تو اُس نے کہنا جناب میر ا فلاں مقدمہ ہے۔ وہ بڑے غصّے سے کہتے او خبیث بے ایمان! ُتو میرا ایمان خراب کرتا ہے۔ تجھے پتہ نہیں کہ یہ رشوت ہے جو حرام ہے اور اسلام میں منع ہے۔ وہ کہتا حضور! آپ ہی میرے ماں باپ ہیں اگر میرے بچّوں کو اور بھا ئی کو نہیں بچائیں گے تو اَور کون بچائے گا۔ اِس پر وہ کہتے تُو بڑا بے ایمان ہے تو لوگوں کے ایمان خراب کرتا ہے۔وہ کہتا جی مَیں آپ کے سِو ا کس کے پاس گیا ہوں۔ وہ کہتے او خبیث! رکھ مصلّٰی کے نیچے اور جا دُور ہو جا میرے آگے سے۔ پس مصلّٰی کے نیچے رشوت رکھ لینی او ر سمجھ لینا کہ اب مصلّٰی کی برکت سے یہ مال پاک ہو گیا ہے اور پھر اُٹھا کے رکھ لینا۔ تو اکثر لوگ اخلاق اور مذہب کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اخلاقی کمزوریا ں ہو ں تو اس سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر نماز ہم نے پڑھ لی تو اس کے بعد اگر کسی کو تھپّڑ ما ر لیا یا کسی کا روپیہ لو ٹ لیا یا کسی سے رشوت لے لی یا کسی پر ظلم کر لیا، کسی پر سختی کر لی تو کیا ہے ہم نے نما ز تو پڑھ لی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کا فی رشوت دے دی ہے اللہ میاں اور ہم سے کیا چاہتا ہے۔ مگر اسلام اِس پر زور دیتا ہے کہ خواہ سیاسی امور ہوں خواہ اقتصادی اپنے محر کا ت کے لحاظ سے سب کے سب دین کا ہی حصّہ ہوتے ہیں اور دین کو بڑھا تے یا کم کرتے ہیں عبادت کو اچھا یا خراب بناتے ہیں اور قومی کام بھی اِسی طرح اخلاق کی حکومت کے نیچے ہیں جس طرح انفرادی احکام۔
    اخلاق کا دائرہ صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ
    قومیں اور حکومتیں بھی اِس میں شامل ہیں!
    یہ ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا اصل ہے جس میں اِسلام
    دوسری قوموں سے بالکل ممتاز ہے اور اسی امر پر عمل کر نے سے دُنیا میں صلح اور امان پیدا ہو تی ہے۔ باوجود اِس کے کہ یورپ انفرادی لحاظ سے انصاف اور آزادی میں ہمارے ملکوں سے بہت بڑھا ہؤا ہے۔ انگلستان میں جو سلوک ایک چور سے کیا جاتا ہے، جو نیک سلوک ایک بدمعاش سے کیا جاتا ہے، جو نیک سلوک ایک ڈاکو سے کیا جاتاہے، ہم ایک راستباز اور نیک آدمی سے بھی حکومت میں نہیں کرتے۔ غرض انفرادی طورپر وہ لوگ امن اور چَین دینے میں بہت بڑھے ہوئے ہیں لیکن جب حکومت کا معاملہ آتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں یہ تو ڈپلو میسی تھی اِس سے جھو ٹ کا کیا تعلّق ہے یہ تو اپنے ملک کی خاطر ایسا کیا گیا ہے۔ اُنکی تاریخوں میں صفحے کے صفحے ایسے نکلیں گے جن میں یہ ذکر ہو گا کہ مَیں نے فلاں وقت یہ جھوٹ بولا ،مَیں نے فلاں وقت یہ جھوٹ بولا اور اس پر فخر کریں گے۔ غرض وہ سمجھتے ہیں کہ اخلاق صرف افراد کیلئے ہیں حکومت کیلئے نہیں لیکن قرآن کہتا ہے کہ قوموں کے لئے بھی اخلاق ہیں، حکومت کیلئے بھی اخلاق ہیں اور افراد کیلئے بھی اخلاق ہیں۔ اگر افراد چاہتے ہیں کہ اُنکے اخلاق درست رہیں، اگر قوم چاہتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں مقبول ہو تو اُسے قومی اور سیا سی طور پر بھی سچ بولنا پڑے گا۔ اُسے قومی اور سیا سی طور پر بھی انصاف کرنا پڑے گا، اُسے قومی او ر سیا سی طور پر بھی قوموں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا پڑے گا۔ اور اگر افراد چاہتے ہیں کہ اُن کے ملک محفوظ رہیں اور اُن کی عزّت قائم رہے تو انہیں انفرادی حقوق کے علاوہ قومی طور پر بھی حقوق اداکرنے پڑیں گے۔ تو یہ نمایا ں فرق ہے اسلام میں اور دوسرے مذاہب میں۔ دوسرے مذاہب میں یہ بات نہیں ۔ ابھی حال میں ایک سیاسی لیڈر نے کسی جگہ پر بیان دیا ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ سیا سی لیڈروں کو جھوٹ بولنے کا حق ہے اور جب یہ کہا جاتا ہے تو علماء کو بھی یہ حق کیو ں نہیں دیا جاتا۔
    اسلام کے لڑائیوں کے بارہ میں تفصیلی احکام
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس تعلیم
    کی جو تشریح فرمائی ہے وہ اُن احکام سے ظاہر ہے جو آپؐ اُسوقت دیتے تھے جب آپؐ کسی کو کمانڈر بنا کر جنگ پر بھجواتے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کوجنگ پر بھیجتے تھے تو آپؐ اُسے نصیحت فرماتے تھے کہ تقویٰ اللہ اختیا ر کر و اور مسلمانوں کے ساتھ نیک سلوک کرو اور فرماتے تھے اُغْزُوْا بِاسْمِ اللّٰہِ وفِیْ سَبِیْلِ اللہِ45 اللہ کا نام لیکر اللہ کی خاطر جنگ کیلئے جا ؤ قَاتِلُوْا مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ 46 جو شخص اللہ کا کفر کرتا ہے اُس سے لڑو۔ اِس کے یہ معنے نہیں جس طرح بعض علماء غلط طور پر لیتے ہیں کہ تم کا فروں سے لڑو بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے تم سے لڑائی کی ہے اگر وہ مسلمان ہو جا ئے تو اُس سے لڑائی جا ئز نہیں۔ لڑائی کیلئے تو حکم ہے کہ اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰـتَلُوْنَ یعنی جنگ کے لئے نکلنے کی تب اجازت دی گئی ہے جب تم سے پہلے لڑائی کی جائے۔ اس لئے کَفَرَ بِاللّٰہِ اس کے بعد جا کر لگے گا۔ اگر کسی شخص نے لڑائی شروع کردی مگر جب تمہا را لشکر پہنچا تو اُس نے اسلام کا اعلان کر دیا تو وہ ظلم ختم ہو گیا اب تم کو اُس سے لڑنے کی اجا زت نہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ کا فر ہے اور اُس نے لڑائی نہیں کی تو اُس سے جا کر لڑپڑو۔
    وَلَا تَغُلُّوْا47 اور قطعی طور پر مالِ غنیمت میں خیا نت یا سرقہ سے کام نہ لو۔
    وَلَاتَغْدِرُوْا48 اور بد عہدی نہ کرو ،کسی کو دھو کا مت دو۔
    اوّل تو مال غنیمت میں کسی قسم کی ناجائز دست اندازی نہ کرو اور پھر جو سزا دو یا اُن سے وعدے کرو اُن کو کسی بہا نے سے توڑنا نہیں۔ انگریزی حکومت سب جگہ اِسی طرح پھیلی ہے۔ پہلے چھوٹا سا معاہدہ کر لینا کہ چھاؤنی رہے گی اور ایک افسر رہے گا۔ پھر کہا کہ ہمارے فلاں سپاہی کو تمہا رے آدمیوں نے چھیڑا ہے اِس لئے اِرد گِرد بھی سات آٹھ گاؤں پر ہم اپنا قبضہ رکھیں گے تاتمہا رے لوگ ہمارے آدمیوں کو کچھ کہیں نہیں۔ پھر اس کے بعد یہ کہہ دیا کہ ہمارے آدمی جو اِرد گِرد رکھے گئے تھے اُنکے ساتھ تمہارے آدمی لڑ پڑے ہیں اس لئے ہم مجبور ہیں کہ دارالخلافہ پر اپنا قبضہ رکھیں تا فساد نہ ہو۔ پھر کہہ دیا تم نے فلاں حُکم دیدیا ہے اِس سے ملک میں بغاوت پیدا ہوتی ہے اور بغاوت کا ہم پر بھی بُرااثر پڑتا ہے اِس لئے آئندہ جو حُکم دیا کریں ہم سے پوچھ کر دیا کریں۔
    وَلَا تَمْثِلُوْا49 او ر مُثلہ کے معنے ہوتے ہیں مرے ہوئے کے ناک کان کاٹ ڈالنا۔ فرماتا ہے کفار اپنی رسم کے مطابق اگر مسلمان مقتولین کے ناک کان بھی کا ٹ دیں تو تم اُنکے مُردوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا کرو۔
    وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِیْداً۔50 اور کسی نا بالغ بچّے کو مت مارا کرو۔ یعنی صرف جنگی اور سیاسی سپاہی کو مارو جو لڑنے کے قابل نہیں ابھی نابالغ ہے اُسے نہیں مارنا کیو نکہ وہ بِالبداہت جنگ میں شامل نہیں ہؤا اور اسلامی تعلیم کے مطابق صرف اُسی کے ساتھ لڑائی کی جا سکتی ہے جو لڑائی میں شامل ہؤا ہو۔
    اب اِس کے مقابل پر جو کچھ پا رٹیشن میں ہؤا وہ کیا ہؤا کسِ طرح سینکڑوں بلکہ ہزاروں بچہ مارا گیا۔ یہ ایک انتہاء درجہ کا ظلم تھا جو۔ کیا گیا۔ اِس طرف کم اور اُدھر زیادہ مگر ہؤا دونوں طرف۔مجھے یا د ہے لاہور میں ایک رات کو آوازیں آئیں مَیں نے اپنے دفتر کا ایک آدمی بُلوایا اَور کہا جاؤ پتہ کرو معلوم ہو تا ہے کسی پر ظلم ہو رہا ہے۔ وہ دَوڑ کر گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا کہنے لگا ایک ہندو تھا جسے مسلمانوں نے گھیر لیا تھا اور اُس کو مارنے لگے تھے۔ مَیں نے کہا پھرتم نے اُس کو بچایا کیوں نہیں؟ اُس نے کہا میں آپ کو خبر دینے آیا ہوں میں نے کہا وہ تو اب تک اُسے ما ر چکے ہونگے جا ؤ جلدی۔ چنانچہ جب وہ واپس گیا تو اُس نے کہا کہ وہ سڑک پر مَرا ہؤ ا پڑا تھا مگر اُس طرف اِس سے کئی گُنا زیادہ ظلم ہؤا ہے۔ہم جس زمانہ میں اُدھر تھے اور یہ لڑائیاں ہو رہی تھیں تو ہمیں پتہ لگتا رہتا تھا کہ کس طرح سے مسلمان مارے جا رہے ہیں، لڑکے مارے جا تے تھے، عورتیں ماری جاتی تھیں اورقسم قسم کے مظالم کئے جا تے تھے۔
    پنڈت نہروسے ملاقات کا واقعہ
    چنانچہ جب پارٹیشن ہوئی تو مَیں جو پہلے اِس طرف آیا ہو ں تو اِسی غرض سے آیا تھا
    کہ پنڈت نہرو صاحب یہاں آئے ہوئے تھے۔ مَیں نے سمجھا کہ اُس سے جا کر بات کروں کہ یہ کیا ظلم ہو رہاہے۔ سردار شوکت حیا ت صاحب کے ہاں وہ ٹھہر ے تھے مَیں نے انہیں ملنے کے لئے لکھا تو انہوں نے وقت دے دیا۔مَیں نے اُن سے کہا ہم قادیان میں ہیں گاندھی جی اور قائد اعظم کے درمیان یہ سمجھو تا ہؤا ہے کہ جو ہندو اِدھر رہے گا وہ پا کستانی ہے اور جو مسلمان اُدھر رہ جا ئے وہ ہندوستانی ہے اور اپنی اپنی حکومت اپنے اپنے افراد کو بچائے اور وہ لوگ حکومت کے وفادار رہیں۔ قائد اعظم اور گاندھی جی کے اِس فیصلہ کے مطابق ہم چونکہ ہندوستان میں آرہے ہیں اِس لئے ہم آپ کے ساتھ وفاداری کرنے کے لئے تیا ر ہیں بشرطیکہ آپ ہمیں ہندوستانی بنائیں اوررکھیں۔ وہ کہنے لگے ہم تو رکھ رہے ہیں۔ مَیں نے کہا کہ آپ کیا رکھ رہے ہیں فسادات ہو رہے ہیں، لوگ ماررہے ہیں قادیان کے اِرد گِرد جمع ہورہے ہیں مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے۔ کہنے لگے آ پ نہیں دیکھتے اِدھر کیا ہو رہا ہے؟ مَیں نے کہا اِدھر جو ہو رہا ہے وہ تو مَیں نہیں دیکھ رہا مَیں تو اُدھر سے آیا ہوں۔ لیکن فرض کیجیئے اِدھر جو کچھ ہو رہا ہے ویسا ہی ہو رہا ہے تب بھی مَیں آپ سے پو چھتا ہوں کہ یہاں کا جو ہندو ہے وہ تو پاکستانی ہے اور اُس کی ہمدردی پاکستان گورنمنٹ کو کرنی چاہئے ہم ہیں ہند وستانی، آپ کو ہماری ہمدردی کرنی چاہئے اِس کا کیا مطلب کہ یہاں کے ہندوؤں پر سختی ہو رہی ہے تو آپ وہا ں کے مسلمانوں پر سختی کریں گے؟ کہنے لگے آپ جا نتے نہیں لوگوں میں کتنا جوش پھیلا ہؤا ہے۔ مَیں نے کہا آپ کا کام ہے کہ آپ اِس جوش کو دبائیں۔ بہر حال اگر آپ مسلمانوں کو رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اُنکی حفاظت کرنی پڑیگی۔ وہ کہنے لگے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ لوگوں کو جوش اس لئے آتا ہے کہ آپ کے پاس ہتھیا ر ہیں آپ انہیں کہیں کہ جو ہتھیار ناجائز ہیں وہ چھوڑدیں۔ مَیں نے کہا آپ یہ تو فرمائیے مَیں اُن کا لیڈر ہو ں اور مَیں انہیں کہتا رہتا ہوں کہ جُرم نہ کرو، شرارتیں نہ کرو، فساد نہ کرو، اگرکسی نے ناجائز ہتھیار رکھا ہؤا ہے توکیا وہ مجھے بتا کر رکھے گا۔ مَیں تو انہیں کہتا ہوں جُرم نہ کرو پس وہ تو مجھ سے چھپائے گا او رجب اُس نے اپنا ہتھیار مجھ سے چھپایا ہؤا ہے تو مَیں اُسے کیسے کہوں کہ ہتھیار نہ رکھے۔ کہنے لگے آپ اعلان کردیں کہ کوئی احمدی اپنے پاس ہتھیار نہ رکھے۔ مَیں نے کہا اگر مَیں ایسا کہوں تو میری جماعت تو مجھے لیڈر اِسی لئے مانتی ہے کہ مَیں معقول آدمی ہوں۔ وہ مجھے کہیں گے صاحب! ہم نے آپ کو معقول آدمی سمجھ کے اپنا لیڈر بنایا تھا یہ کیا بیوقوفی کررہے ہیں کہ چاروں طرف سے ہندواور سکھ حملہ کر رہے ہیں اور مار رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ تم اپنے پاس کوئی ہتھیار نہ رکھو آپ یہ بتائیں کہ ہم جان کیسے بچائیں گے؟ کہنے لگے۔ کہئیے ہم بچائیں گے،حکومت بچائے گی۔ جب انہوں نے کہا حکومت بچائے گی تو مَیں نے کہا بہت اچّھا۔ مَیں اُسوقت اپنے ساتھ تمام علاقہ کا نقشہ لے کر گیا تھا۔ مَیں نے کہا قادیان کے گِرد 80 گاؤں پر حملہ ہو چکا ہے جو ہندؤوں اور سکھوں نے جلا دیئے ہیں اور لوگ ماردئیے ہیں۔ مَیں یہ نقشہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ جب مَیں اُن سے کہوں گا کہ دیکھو! اپنے پاس ہتھیار نہ رکھو کیو نکہ حکومت تمہیں بچائے گی تو وہ کہیں گے کہ سب سے آخری گاؤں جو حد پر تھا جس پر حملہ ہؤا توکیا گورنمنٹ نے اُسے بچایا۔ مَیں کہوں گا ارے گورنمنٹ خدا تھو ڑی ہی ہے۔اُسے آخر آہستہ آہستہ پتہ لگتا ہے کچھ عقل کرو دوچار دن میں گورنمنٹ آجائے گی۔ پھروہ اگلے گاؤں پر ہا تھ رکھیں گے تین دن ہوئے یہ گاؤں جلا تھا کیا گورنمنٹ نے مسلمانوں کو کوئی امداد دی؟ مَیں کہوں گا خیر کچھ دیر تو لگ جاتی ہے تو وہ اگلے گاؤں پر ہاتھ رکھیں گے اچھا ہم مان لیتے ہیں کہ کچھ دیر لگنا ضروری ہے مگر اس گاؤں پر حملہ کے وقت حکومت نے حفاظت کا انتظام کیوں نہ کیا۔ مَیں نے کہا یہ 80گاؤں ہیں۔ 80 گاؤں پر پہنچ کر وہ مجھے فاترالعقل سمجھنے لگ جائیں گے یا نہیں کہ جتنے گاؤ ں ہم پیش کر رہے ہیں اُن میں سے کسی پر بھی حملہ ہؤا تو حکومت نہیں آئی۔ شرمندہ ہو گئے اور کہنے لگے مَیں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ امن قائم رکھوں گا۔ مَیں نے کہا کتنی دیر میں؟ کہنے لگے پندرہ دن میں۔ پندرہ دن میں ریلیں بھی چلا دیں گے تار یں بھی کھل جائیں گی، ڈاکخانے بھی کھل جائیں گے اور ٹیلیفون بھی جا ری ہو جائے گا۔ آپ چند دن صبر کریں۔ مَیں نے کہا۔ بہت اچھا ہم صبر کر لیتے ہیں لیکن جب پندرہ دن ختم ہوئے توآخری حملہ قادیان پر ہؤا۔ جس میں سب لوگوں کو نکال دیا گیا۔ پھر ان حملوں میں بچّے مارے گئے اور ایسے ایسے ظالمانہ طور پر قتل کئے گئے کہ بچّوں کے پیٹوں میں نیزے مار ما ر کے انہیں قتل کیاگیا۔ ہم نے اُسوقت تصویریں لی تھیں جن سے ظاہر ہو تا تھا کہ بچوں کے ناک کاٹے ہوئے ہیں کا ن چِرے ہوئے ہیں پیٹ چِرا ہؤا ہے انتڑیاں باہر نکلی ہوئی ہیں اور وہ تڑپ رہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچّے چھ چھ مہینہ کے اور سال سال کے تھے جن پر یہ ظلم کیا گیا۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَاتَقْتُلُوْا وَلِیْدًا اِ ن لوگوں نے تمہا رے بچوں کو ما را ہے اِن لوگوں نے تمہا ری عورتوں کو مارا ہے، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ایک مسلمان عورت کا ایک پیَر ایک اونٹ سے باندھ دیا اور دوسرا پاؤں دوسرے سے باندھ دیا اور پھر دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف چلا دیا تھا اور پھر چِیر کے ما ر ڈالا تھا،یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مسلمان عورتوں کی شرمگا ہوں میں نیزے مار مار کر اُن کو مارا تھا، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی پر جب کہ وہ مدینہ جانے لگیں اور وہ حاملہ تھی حملہ کیا اور اونٹ کی رسّی کاٹ دی جس سے وہ زمین پر گِر گئیں اور ان کا حمل ساقط ہو گیا اور پھر وہ مدینہ میں فوت ہو گئیں، یہ وہ لوگ تھے جن سے بدلہ لینے کے لئے مسلمان نکلے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بیشک انہوں نے بچّوں کو مارا تھا لیکن تم نے نہیں مارنا، انہوں نے غیر لڑنے والوں کو مارا تھا لیکن تم نے نہیں مارنا۔
    سیرۃحلبیہ میں اِس کے علاوہ یہ نصیحت بھی درج ہے کہ آپ نے فرمایا۔ لَا تَقْتُلُوْا امْرَاَۃً 51 عورت کو بھی نہیں مارنا۔ پھر فرما یا وَلَا کَبِیْرًا فَانِـیًا52 کسی بڈھے کو نہیں مارنا۔ پھر فرمایا وَلَا مُعْتَزِلاً بِصَوْمَعَۃٍ53 کو ئی عبادت گذار ہو مسجد وں یا تکیوں میں بیٹھا ہؤا ہو اُس کو بھی نہیں مارنا۔ اب دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ان کو نہ ما رنے کا حکم دیا ہے مگر یہاں گیا نی چُن چُن کر مارے گئے اور وہاں مولوی چُن چُن کر مارے گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کو نہیں چھیڑنا یہ تو خدا کا نام لے رہے ہیں۔ کیا تم خدا کا نام مٹانا چاہتے ہو؟ چاہے کسی طرح لیتے ہیں لیکن لیتے تو خدا کا نام ہیں اسلئے اِن کو نہیں چھیڑنا۔
    پھر فرماتے ہیں۔ وَلَا تَقْرَبُوْ ا نَخْلاً۔54 کھجور کے درخت کے قریب بھی نہ جاؤ۔ یعنی اُنکو نہ کا ٹ دینا کہ کسِی طرح دشمن کو تباہ کریں کیو نکہ تم اُن کو تباہ کرنے نہیں جا رہے صرف اُن کے ضرر کو دُور کرنے کے لئے جا رہے ہو تمہا را یہ کا م نہیں کہ اُن کی روزی بند کردو۔ پھر فرمایا وَلَاتَقْطَعُوْا شَجَرًا55 بلکہ کوئی درخت بھی نہ کا ٹو۔ کیو نکہ مسافر بیچارہ اس کے نیچے پناہ لیتاہے، غریب بے چارے اُس کے سایہ میں بیٹھتے ہیں اور تم لوگ لڑنے والوں سے لڑنے کے لئے جارہے ہو۔ اِس لئے نہیں جارہے کہ وہ قوم سایہ سے بھی محروم ہو جائے اِس لئے اُن کو نہیں کا ٹنا۔ پھر فرمایا۔ وَلَا تَھْدِمُوْابِنَاءً 56 کوئی عمارت نہ گراناکیو نکہ ان کے گرانے سے لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور ان کو تکلیف ہو گی۔
    اب دیکھو پچھلے فسادات میں کتنے مکان جلائے گئے۔ لاہو ر میں ہزاروں مکان جلا ئے گئے، امرتسر میں ہزاروں مکان مسلمانوں کے جلائے گئے، بلکہ کوئی شہر بھی ایسا نہیں جس میں مسلمانوں کے مکانات دس بیس یا تیس فیصدی نہ جلائے گئے ہوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ لَا تَھْدِمُوْابِنَاءً۔ایک مکان بھی تم کو گِرانے کی اجازت نہیں کیو نکہ تم اس لئے نہیں جا رہے کہ لوگو ں کو بے گھر کردو بلکہ اسلئے جا رہے ہو کہ ظلم کا ازالہ کرو اس سے آگے تم نے کوئی قدم نہیں اُٹھا نا۔
    اِسی طرح آپؐ کی دوسری ہدایات میں ہے کہ ملک میں ڈر اور خوف پیدا نہ کرنا۔ فوجیں جاتی ہیں تو اُن کی یہی غرض ہوتی ہے کہ لوگوں کو وہ اتنا ڈرائیں کہ اُن کی جان نکل جائے۔
    جنر ل ڈائر کے ہندوستانیوں پر مظالم
    چنانچہ20-1919ء میں امرتسر میں ایک جگہ پر کسی عیسائی عورت
    کو کسی ہندوستانی نے ذرا سا مذاق کردیا۔ اُس وقت انگریزی حکومت نے جنرل ڈائر کو مقرر کیا اور اُس نے حکم دیا کہ ہر شریف سے شریف اور بڑے سے بڑا آدمی یہا ں سے گزرے تو گھسٹتا ہؤا جا ئے۔ بڑے بڑے لیڈروں کو سپاہی پکڑ کر گِرا دیتے تھے اور اُسے کہتے تھے کہ یہاں سے گھسٹتا ہؤا چل۔ پھر مُجرم پیش ہوتے تھے تو انہیں بغیر کسی تحقیق کے بڑی بڑی سزائیں دی جاتیں تالوگوں میں خوف پیدا ہو۔
    ایک انگریز مجسٹریٹ کا واقعہ
    ہما رے ساتھ ایک عجیب واقعہ گزرا۔ ایک شخص نے انگریز آفیسر سے لڑائی کی تھی۔
    مسٹر ما نٹیگوجو پہلے وزیرِ ہند تھے انہوں نے خود ذکر کیا کہ یہاں ایک انگریز افسر تھا وہ کسی سے ذرا تُرش کلامی سے بولا تھا تو ہم نے اُ سے پہلی سزادی تھی۔اِس سے پہلے کسی افسر کو سزا نہیں دی تھی۔ وہی اُن دنو ں بدل کے وزیر آباد میں لگا تھا۔ حا فظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی شہر میں اچھا رسوخ رکھتے تھے اور لوگوں کے ساتھ اُن کا حُسنِ سلوک تھا۔ مسلمانو ں میں سے اکثر اُن کے شا گرد تھے اور ہندو بھی اُن کا بڑا ادب کرتے تھے۔ وہ گلی میں سے گزر رہے تھے اور اُس دن رولٹ ایکٹ کے خلاف جلسہ ہو رہا تھا۔ ہندو مسلمان اکٹھے ہو کر کہہ رہے تھے کہ بائیکاٹ کرو، ہڑ تالیں کرو، یہ کرو وہ کرو۔پاس سے یہ گزرے تو لوگوں نے کہا۔ آئیے آئیے مولوی صاحب !آپ نے نہیں تقریر کرنی۔ انہوں نے کہا مَیں نے تو تمہا رے خلاف تقریر کرنی ہے اگر تم نے وہ تقریر سُن لینی ہے تو چلو۔انہوں نے کہا۔ ہمیں یہ بھی منظور ہے آپ خدا کے لئے ضرور تشریف لے چلیں۔ وہاں کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا۔ تم ہڑتال کا وعظ کر رہے ہو لیکن تم نے سال سال کا غلّہ گھر میں رکھا ہؤا ہے، ہڑتال کر کے تمہا را کیا نقصان ؟روٹی تمہارے گھر میں موجو د ہے، ایندھن تمہارے گھر میں موجود ہے ،بھینسیں تمہا رے گھروں میں ہیں، گھی تمہارے گھر میں موجود ہے، مصالحہ تمہارے گھروں میں ہے، دالیں تمہا رے پا س موجود ہیں تین دن بھی ہڑتال ہو ئی تو تمہیں پتہ نہیں لگے گا۔ لیکن وہ بیوہ عورت جو چکّی پِیس کر شام کو کھانا کھاتی ہے اُس کا کیا بنے گا تمہا ری اس ہڑتال سے وہ مرے گی تمہا را تو نقصان نہیں۔ یہ کہہ کے بیٹھ گئے۔ انہوں نے اِس کو برداشت کر لیا اور کہا اچھی بات ہے ہم ہڑتال نہیں کریں گے۔ جب رولٹ ایکٹ کے بعد ہر جگہ مجسٹریٹ مقرر کئے گئے اور مُجرم پکڑے گئے تو اُن کا نام بھی پولیس نے ڈائریوں میں بھیجا کہ انہوں نے تقریر کی تھی لیکن آگے لکھا کہ انہوں نے تقریر یہ کی کہ ہڑتال نہیں کرنی چاہئے اِس سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔ حافظ صاحب بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے۔ اُس نے کہا۔ آپ نے تقریر کی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم تو حکومت کی تائید میں ہیں حافظ صاحب نے کہا۔ مَیں نے تقریر کی تھی مگر.....اُس نے کہا ہم مگر وگر نہیں جانتے چھ مہینے قید۔ انہوں نے کہا۔ مَیں تو...... کہنے لگا۔ مَیں مَیں کو ئی نہیں۔ تم نے تقریر کی چھ مہینے قید۔ مجھے پتہ لگا تو مَیں نے گورنر کے پاس اپنا آدمی بھجوایا اور مَیں نے کہا۔ ایسے احمق تم لوگ ہو کہ وہ تو یہ تقریر کرتے ہیں کہ ہڑتال نہ کرو اور لوگوں کو سمجھاتا ہے اور تم اُس کو بجائے انعام دینے کے سزادیتے ہو۔ خیر یہ ایسی حیرت انگیز بات تھی کہ آدمی نے مجھے بتایا کہ چیف سیکرٹری نے اُسی وقت تار کے ذریعہ پولیس کی ڈائری منگوائی۔مسل میں دیکھا تو لکھا تھا کہ تقریر یہ کی کہ تم کیو ں ہڑتالیں کرتے ہو اِس سے بیوائیں اور غریب مارے جاتے ہیں۔ اِس پر اُس نے تار کے ذریعہ احکا م دیئے کہ مو لوی صاحب کو چھوڑ دیا جا ئے اور سمتھ کو اُس نے ڈسمس کردیا کہ تم انگلینڈ واپس چلے جا ؤ۔ تو یہ حال تھا کہ یہ پوچھنا بھی پسند نہ کیا تقریر کی کیا؟ بس تقریر کرنا کافی ہے چھ مہینے قید۔ لیکن اسلام کہتا ہے کہ ڈرانا نہیں۔
    ایامِ غدر میں انگریز افسروں کی بربریّت
    غدر کے واقعات دیکھ لو وہا ں بھی تخویف ہی نظر آتی ہے۔
    ہما ری نانی اماں سنایاکرتی تھیں کہ غدر کے وقت مَیں چھوٹی تھی۔ میرے والد بیمار ہو گئے فوج میں ملازم تھے لیکن اُن دنوں بیمار تھے اور ڈیڑھ ما ہ سے چارپائی سے نہیں اُٹھے تھے میری پانچ چھ سال کی عمر تھی، ہلدی کی طرح اُن کی شکل ہو گئی تھی چارپائی پر پڑے تھے۔ جب انگریز فوج آئی یکدم سپاہی اور انگریز افسر اندر آئے او روہ اسی طرح گھروں میں گھستے تھے ساتھ کچھ ہندوستانی جاسوس لئے ہوئے تھے افسر نے کہا یہاں کو ئی ہے؟ انہوں نے میرے باپ کی طرف اُنگلی اُٹھائی کہ یہ بھی لڑائی میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا مَیں تو بیمار پڑا ہوں کہیں گیا ہی نہیں اِس پر افسر نے پستول نکالا اور اُسی وقت انہیں گولی مار کر ہلا ک کردیا۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    کی ایک صحابیؓ پر شدید نا راضگی
    لیکن وہاں یہ حکم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عزیز اور آپؐ کا ایک مقرّب صحابیؓ ایک جنگ پر جاتا ہے اور جب
    وہ ایک شخص کو مارنے لگتا ہے تو وہ کہتا ہے صَبَوْتُ مَیں صابی ہو گیا ہوں۔وہ لوگ اسلام کا نام نہیں جا نتے تھے اور مسلمانوں کو صابی کہتے تھے۔ صَبَوْتُ کا یہ مطلب تھا کہ مَیں مسلمان ہو تا ہوں۔ غرض وہ اسلام سے اتنا ناواقف تھا کہ نام بھی نہیں جا نتا تھا۔ کہنے لگا صَبَوْتُ۔ مگر انہوں نے اُس کو ما ر ڈالا۔ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا۔ تم نے اُسے کیوں مارا۔ انہوں نے کہا۔ یَارَسُوْلَ اللہِ!اُسے تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اسلام کیا ہو تا ہے۔ اُس نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ صَبَوْتُ۔ آپؐ نے فرمایا تم نے اس کا دل چِیر کر دیکھا تھا اس کو نہیں پتہ تھا کہ اسلام کا نام کیا ہے لیکن اس کا مطلب تو یہی تھا کہ مَیں اسلام میں داخل ہوتا ہوں۔ تم نے اس کو کیوں مارا؟ انہوں نے کہا۔ یَارَسُوْلَ اللہِ! مَیں نے مارا اِس لئے کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا۔ نہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا تُو قیامت کے دن کیا کرے گاجب خدا تجھ سے کہے گا کہ اِس شخص نے یہ کہا اور پھر بھی تُو نے اُسے قتل کردیا۔ اسامہؓ آپ کے نہا یت ہی محبوب تھے۔ وہ کہتے ہیں مَیں نے رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس نا راضگی کو دیکھ کر اپنے دل میں کہا۔اے کا ش!مَیں اس سے پہلے کا فر ہوتا او رآج مَیں نے اسلام قبول کیا ہوتا تاکہ مَیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نا راضگی کا مورد نہ بنتا۔57 اب کُجا یہ احتیا ط کا حکم اور کُجا یہ کہ یونہی مارے چلے جا تے ہیں تاکہ سارے ملک میں خوف اور ڈر پیدا کردیا جائے۔
    اسلام کی طرف سے مفتوحہ ممالک
    کے لئے سہولتیں مہیّاکرنے کاحکم
    اِسی طرح فرماتے ہیں کہ جب مفتوحہ ممالک میں جا ؤ تو ایسے احکام جاری کرو جن سے لوگوں کو آسانی
    ہو تکلیف نہ ہو ۔ اور فرمایا جب لشکر سڑکوں پر چلے تو اِس طرح چلے کہ عام مسافروں کا راستہ نہ رُکے۔ ایک صحابیؓ کہتے ہیں ایک دفعہ لشکر اِس طرح نکلا کہ لوگوں کے لئے گھروں سے نکلنا اورراستہ پر چلنا مشکل ہو گیا۔ اِس پر آپ نے منادی کروائی کہ جس نے مکانوں کو بند کیا یا راستہ کو روکا اُس کا جہا د جہاد ہی نہیں ہؤا۔ 58
    دُنیوی نوبت خانوں کے ذریعہ سپاہیوں
    میں جنونِ جنگ پیداکرنے کی کو شش
    دنیا کے نوبت خانے جنونِ جنگ پیدا کرنے کیلئے اور سپا ہ میں جوش پیدا کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔
    اِس لئے کبھی دشمن کے مظالم سُنائے جا تے ہیں کبھی یہ بتایا جاتا ہے کہ گویا اس سے ملک کو سخت خطرہ لا حق ہو گیا ہے۔کہیں اپنی سپاہ کی تعریف کے پُل باندھے جاتے ہیں کہ وہ یوں ملک کے ملک تسخیر کرے گی۔ کبھی فتح کے وقت سپاہیوں کو لو ٹ مار کی تلقین کی جاتی ہے تا کہ اُن کے حوصلے بڑھیں۔ کبھی اُن کے ظلم پر پر دہ ڈالا جاتا ہے غرض ایک دیو انگی پیدا کی جاتی ہے۔
    اِسلام جنون اور وحشت کو دُور کرتاہے
    مگر اسلامی نو بت خانہ جیسا کہ میں نے بتایاہے وہ ایسے
    اعلا ن کرتا ہے کہ جس سے جنون کم ہو اور وحشت دُور ہو۔ مگر باوجود اس کے وہ ایسے اخلاقی معیا روں پر انہیں لے جاتا ہے کہ اُن کے حوصلے شیروں اور بازوں سے بڑھ جاتے تھے۔چنانچہ اسلام کہتا ہے تم کو مکا ن روکنے کی اجازت نہیں، تم کو سڑکیں روکنے کی اجازت نہیں، تم کو سختی کی اجازت نہیں، تم کو عورتوں کے مارنے کی اجازت نہیں، تم کو بچوں کے مارنے کی اجازت نہیں، تم کو بڈّھوں کے مارنے کی اجازت نہیں، تم کو عام شہریوں کو مارنے کی اجازت نہیں، تم کو بد عہدی کرنے کی اجازت نہیں، تم کو پادریوں اور پنڈتوں اور گیانیوں کومارنے کی اجازت نہیں ،تم کو درخت کاٹنے کی اجازت نہیں۔ گویا اُس کو ہیجڑا بنا کے رکھ دیتا ہے اور پھر اُمید رکھتا ہے کہ جا اور دشمن کو فتح کر اور پھر اُسکا نقشہ کھینچتا ہے کہ چونکہ ہم نے اُس کو جن باتوں سے روکا ہے وہ سب غیر اخلا قی ہیں اور اُس کی ذہنیت ہم نے اخلاقی بنا دی ہے اس لئے باوجود اسے غیر اخلاقی باتوں سے روکنے کے اُسکی بہادری میں فرق نہیں پڑا۔چنانچہ فرماتا ہے۔ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ59 اُن میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے شہید ہو کر اپنے گوہرِ مقصود کو پا لیا اور وہ لوگ بھی ہیں جو ابھی اِس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب انہیں خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربان ہونے کی سعادت حاصل ہو تی ہے۔ دیکھو !تم کہتے ہو کہ شرابیں ہم اس لئے پلاتے ہیں تا ہمارا سپاہی پاگل ہو جائے۔ تم کہتے ہو ہم اُسے لُوٹنے کی اس لئے اجازت دیتے ہیں کہ اُس کے اندر جوشِ جنون پیدا ہو اور رغبت پیدا ہو ہم اس لئے جھوٹی خبریں مشہور کرتے ہیں تا دشمن بدنام ہو۔
    جنگِ عظیم میں جرمنوں کے خلاف
    انگریزوں کا جھوٹا پروپیگنڈا
    مثلاًانگلستان میں مشہور کیاگیاکہ جرمن میں جو صابن استعمال ہوتا ہے وہ سب انگریز مُردوں کی چربی
    سے تیا ر کیا گیا ہے۔بعد میں مَیں نے انگریزوں کی کتابیں پڑھیں تو اُن میں لکھا تھا کہ یہ جھوٹ ہم نے اِس لئے بولا کہ تا لوگوں میں جوش پیدا ہو۔ اِسی طرح کہا گیا کہ جرمن والے جو جہاز ڈبوتے ہیں اُن میں ڈوبنے والے سپاہیوں پر بڑی سختیاں کرتے ہیں اور انہیں مارتے ہیں اور اس خبر کو بھی خوب پھیلا یا گیا۔ جب جنگ ختم ہوگئی تو انگریزی نیوی نے ایک ڈھال تحفہ کے طور پر جرمن آبدوز کشتیوں کے افسر کو بھجوائی اور لکھا کہ ہم اس یادگار میں یہ تحفہ تم کو بھجواتے ہیں کہ جنگ کے دِنوں میں تم نے ہم سے نہا یت شریفانہ سلوک کیا۔ تو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے بعدمیں انہوں نے خود مانا کہ ہم نے یہ جھوٹ اس لئے بولا تھا کہ قوم میں جرمنی کے خلاف غم و غصّہ پیدا ہو۔ مگر اسلام سچائی کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ فرماتا ہے لَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی اَلَّا تَعْدِ لُوْا اِعْدِ لُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی۔ کوئی قوم کتنی ہی دشمنی کرے تم نے اُس پر جھوٹ نہیں بولنا ،تم نے اُس پر افتراء نہیں کرنا ، تم نے اُس پر الزام نہیں لگا نا بلکہ سچ بولنا ہے۔ہا ں زیادہ سے زیادہ تم اتنا کر سکتے ہو کہ جتنا انہوں نے کیا ہے اتنا تم بھی کر لو ،اِس سے زیا دہ نہیں لیکن اس صورت میں بھی اگر وہ مثلاً تمہارے ناک کان کاٹتے ہیں ،تمہا ری عزّت پر حرف لاتے ہیں توتم مارنے کے توجنگ میں مجاز ہو لیکن تمہیں یہ اجازت نہیں کہ مُردہ کی ناک کان کاٹو کیو نکہ مُردہ کی زندگی اب ختم ہو چکی ہے۔تم زندہ سے اپنا بدلہ لے سکتے ہو مُردہ سے بدلہ لینے کی تم کو اجازت نہیں۔
    حضرت مالکؓ کی غیر معمولی
    شجاعت اور اُن کا واقعہ شہا دت
    پھر فرماتا ہے چونکہ ہم نےاخلا قی بنیا دوں پر مسلمانوں کو قائم کردیا ہے اس لئے مسلمان سپاہی ایسا ہے کہ فَمِنْهُمْ مَّنْ
    قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ کوئی تو ایسا ہے کہ اُس نے اپنے وعدے پورے کر دیئے ہیں اورکوئی ابھی انتظار میں ہے کہ جب بھی موقع ملے گامَیں اپنا سب کچھ قربان کرکے پھینک دونگا۔ چنا نچہ مشہور واقعہ ہے کہ بدرکی جنگ کے بعد جب صحابہؓ نے آکر بیان کیا کہ لڑائی ہوئی تو ہم ُیوں لڑے او ر ہم نے یوں بہادری دکھا ئی تو ایک صحابی ؓ جن کا نام مالکؓ تھا وہ اتفاقاً لڑائی میں نہیں گئے تھے کیو نکہ بدر کی جنگ میں جا نے کا سب کو حکم نہیں تھا۔ جب وہ یہ باتیں سنتے تھے تو انہیں غصّہ آجاتا تھا اور وہ مجلس میں ٹہلنے لگ جا تے تھے اور کہتے تھے کیا ہے یہ لڑائی جس پر تم فخر کرتے پھرتے ہو موقع مِلا تو ہم دکھائیں گے کہ کس طرح لڑا جاتا ہے۔ اَب بظاہر غرور کرنے والا آدمی بُز دل ہؤا کرتا ہے مگر وہ اخلاص سے کہتے تھے۔ جب اُحد کا موقع آیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو بھی لڑنے کا موقع دے دیا جب فتح ہو گئی تو چونکہ وہ بھوکے تھے کھا نا انہوں نے نہیں کھا یا تھا چند کھجوریں اُن کے پاس تھیں جنگ کے میدان سے پیچھے آکر انہوں نے ٹہلتے ٹہلتے کھجوریں کھا نی شروع کیں۔ اتنے میں پیچھے سے خالد نے آکر حملہ کیا اور اسلامی لشکر اس اچانک حملہ سے تِتّر بِتّر ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر مشہو ر ہو گئی کہ آپؐ شہید ہو گئے ہیں۔ حضرت عمرؓ پیچھے آکے ایک پتّھر پر بیٹھ کر رونے لگ گئے۔مالک ٹہلتے ٹہلتے جو وہاں پہنچے تو کہنے لگے عمرؓ!تمہا ری عقل ماری گئی ہے خدا نے اسلام کو فتح دی ،دشمنوں کو شکست دی اور آپ ابھی رو رہے ہیں۔ عمرؓ کہنے لگے مالکؓ !تمہیں پتہ نہیں بعد میں کیا ہؤا؟ انہوں نے کہا کیا ہؤا؟ کہنے لگے پہاڑ کے پیچھے سے یکدم دشمن نے حملہ کیا، مسلمان بِالکل غافل تھے حملہ میں لشکر بالکل تِتّر بِتّر ہو گیا اور رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔ چند کھجوریں جو اُن کے پاس تھیں اُن میں سے ایک اُن کے ہا تھ میں باقی تھی وہ کھجور انہوں نے اُٹھائی اور اُٹھا کر زمین پر ماری اور مار کے کہنے لگے۔ میرے اور جنّت کے درمیا ن
    اِس کھجو ر کے سوا اَور کیا روک ہے۔ غرض وہ کھجو ر انہوں نے پھینک دی اورپھر کہنے لگے عمرؓ!اگر یہ بات ہے تو پھر بھی اِس میں رونے کی کونسی بات ہے جدھر ہمارا محبوب گیا اُدھر ہی ہم بھی جائیں گے۔ یہ کہا اور تلوار کھینچ کر دشمن پر حملہ کر دیا اور اس بے جِگری سے لڑے جب ایک ہا تھ کاٹا گیا تو دوسرے ہا تھ سے تلوار پکڑ لی، دوسرا ہاتھ کاٹا گیا تو منُہ میں تلوار پکڑ کر جنگ کرنی شروع کی۔جب انہوں نے مُنہ بھی زخمی کر کےخَود وغیرہ کاٹ دی تو لاتیں ہی مارنی شروع کردیں، آخر انہوں نے ٹا نگیں بھی کاٹ دیں۔ جنگ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کی بہن سے پتہ لگا کہ وہ رہ گئے ہیں تو آپؐ نے فرما یا اُن کی تلا ش کرو۔ صحابہؓ تلا ش کرنے گئے تو انہوں نے کہا ہم نے کہیں اُن کی لاش نہیں دیکھی۔ بہن نے کہا وہ وہاں گئے ہیں اور اِس نیت سے گئے ہیں کہ مَیں وہاں شہادت حاصل کرونگا اَور کہیں وہ نہیں دیکھے گئے ضرور وہیں ہو نگے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے ضرور ہونگے تم جا ؤ اور تلا ش کرو۔ چنا نچہ وہ پھر گئے او ر سب جگہ تلاش کرتے رہے کہنے لگے۔ یَارَسُوْلَ اللہِ ! اور تو کہیں پتہ نہیں لگتا ایک لا ش کے ستّر ٹکڑے ہم کو ملے ہیں وہ اگر ہو تو ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی بہن کو کہا کہ جا ؤ اور دیکھو۔ اُن کی ایک اُنگلی پر نشان تھا۔ بہن نے اُسے پہچان کر کہا ہاں! یہ میرے بھائی کی لا ش ہے۔60 یہ کتنا عظیم الشان بہادری کا مقام ہے اور کتنی بڑی قربانی ہے۔ کیا دنیا کی کوئی تاریخ اس قسم کی مثال پیش کر سکتی ہے۔ لشکر شکست کھاتے ہیں تو بھا گتے ہوئے سانس بھی نہیں لیتے پھر ہار تے ہیں تو دل ٹوٹ جاتا ہے مگر عمرؓ جیسا بہادر روتا ہے تو وہ کہتا ہے یہ کیا بیہودہ بات ہے۔ کیا تم اِس لئے روتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو ہم نے اس دنیا میں رہ کر کیا لینا ہے۔
    سورۃ العٰدیٰت کی لطیف تفسیر
    پھر نوبت بجا کر سوار تو سوار گھوڑوںمیں بھی جوش پیداکیا جاتا تھا۔ اِسی طرح اِس
    نوبت خانہ سے بھی کام لیا گیا ہے۔فرماتا ہے وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًاۙ۔فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًاۙ۔ فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًاۙ۔فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ۔فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ۔61
    اِن آیا ت میں اللہ تعالیٰ اسلامی لشکر کے متعلق یہ بیان فرماتا ہے کہ وہ کس شکل اور شان سے مخالفین کے مقابل پر نکلے گا۔فرماتا ہے۔ وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا ۔عادی کے معنے ہوتے ہیں دَوڑنے والا اور ضَبْحٌ گھوڑے کی دَوڑوں میں سے ایک خاص دَوڑ کانام ہے جس میں گھوڑا سرپٹ دَوڑ پڑتا ہےپس وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا کے یہ معنے ہوئے کہ ہم اُن گھوڑوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو دَوڑتے وقت ضَبح چال اختیار کرتے ہیں۔ یعنی شدّتِ جوش سے سر پٹ دَوڑپڑتے ہیں اور یہ طریق ہمیشہ فخر اور اظہارِ بہادری کے لئے اختیا ر کیا جاتا ہے۔ ضَبْحٌ کے دوسرے معنے گھوڑے کا اگلے پاؤں لمبے کرکے ما رنا ہوتا ہے جس سے اُس کے بازوؤں اور بغلوں میں فا صلہ ہو جا ئے۔ پس دوسرے معنے اس کے یہ ہو نگے کہ ہم اُن گھوڑوں کو شہا دت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اگلے پاؤں لمبے کر کے مارتے او ر اُچھل کر دَوڑتے ہیں جس کے نتیجہ میں اُن کی بغلوں اور بازوؤں میں لمبا فاصلہ ہو جاتا ہے۔ یہ چیز شدّتِ شوق پر دلا لت کر تی ہے اوریہ ظاہر ہے کہ گھوڑے کے اندر تو کوئی شدّتِ شوق نہیں ہوتی گھوڑے میں شدّتِ شوق اپنے سوار کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ جب دیکھتا ہے کہ میرے سوار کے اند ر جوش پایا جاتا ہے تو گھو ڑا بھی اس کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے۔
    تیسرے معنے دَوڑتے وقت گھوڑے کے سینہ سے آواز نکلنے کے ہیں جو عزمِ مُقبلانہ پر دلالت کر تی ہے۔ جب نہ سوار کو موت سے دریغ ہو تا ہے نہ گھوڑا اپنی جان کی پرواہ کرتاہے۔ گو بظاہر اس جگہ گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن مُراد سواروں کی حالت کا بتانا ہے کیونکہ گھوڑا اپنے سوار کی قلبی حالت سے متأ ثر ہوتا ہے اور یہ اُسی وقت ہو تا ہے جبکہ سوار کی دِلی حالت اُس کے تمام جوارح سے ظاہر ہونے لگے۔ مثلاً دَوڑتے ہوئے سوار شوق کی شدّت کی وجہ سے ایک ہی وقت میں ایڑیاں مارنے لگے منہ سے سیٹی بجا نے لگے یا اُسے شاباش کہنے لگے۔ اِسی طرح باگ کو کھینچ کھینچ کر چھوڑے آگے کو جُھک جا ئے تو گھو ڑا سمجھ جاتا ہے کہ میرے سوار کی حالت
    والہانہ ہو رہی ہے او ر مجھے بھی ویسا ہی بننا چاہئے تب وہ خود بھی اُس کے دل کی کیفیت کے مطابق دَوڑنا شروع کردیتا ہے۔ پس اِس آیت میں مسلمان سواروں کے دل کی کیفیت کی شدت گھوڑوں کی حالت سے بتائی ہے کہ ان کے جذبات اِس قدر بھڑک رہے ہو نگے کہ اُس کا اثر خود گھوڑوں پر بھی جا پڑے گا اور وہ اپنے سوار کی قلبی کیفیت کے مطابق قابو سے باہرہو جائیں گے او ر کودیں گے او رلڑائی میں جاتے ہوئے گلے سے اُن کی آوازیں نکلیں گی او ر لمبے لمبے ڈگ62 بھرتے ہوئے لڑائی کے میدان میں اِس طرح جائیں گے کہ گویا کسی بڑی شادی میں شامل ہونے کے لئے جا رہے ہیں۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ مسلمان مجا ہد کثیر التعداد دشمن سے ڈرے گا نہیں بلکہ جنگ کو ایک نعمت غیر متر قبہ سمجھے گا او ر یقین رکھے گا کہ اگر مَیں ما را گیا تو جنت میں جاؤنگا او ر اگر زندہ رہا تو فتح حاصل کرونگا کیونکہ اِن دو کے سِوااَور کوئی تیسری صورت مسلمان کے لئے نہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار سے کہو کہ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ 63 یعنی تم جو ہم سے دشمنی کرتے ہو اور ہم پر حملے کرتے ہو تو یہ بتاؤ کہ تمہیں ہمارے متعلق کیا امید ہے؟ دو ہی چیزیں ہماری ہیں تیسری تو ہو نہیں سکتی۔ یا تو یہ کہ ہم زندہ رہیں تو جیت جائیں اور یا ہم ما رے جائیں اور ّجنت میں چلے جائیں۔ اِن دونوں میں سے کونسی چیز ہمارے لئے نقصان دہ ہے۔ آیا ہمارا جیت جا نا ہمارے لئے نقصان دہ ہے یا ہمارا جنت میں چلے جا نا، دونوں ہمارے لئے برابر ہیں۔ ہم زندہ رہے تو فتح حاصل کریں گے اور اگر مَر گئے تو جنت میں جائیں گے۔ پس تم تو جو بھی ہمارے متعلق خواہش رکھتے ہو وہ ہمارے لئے اچھی ہے۔ تم کہتے ہو مر جا ؤ حالانکہ اگر ہم مر گئے تو ہم جنّت میں چلے جائیں گے۔
    ایک صحابیؓ کا بیان کہ اُسے اِسلام
    قبول کرنے کی کیسے تحریک ہوئی؟
    چنانچہ ایک صحابیؓ کے متعلق آتا ہے وہ کہتے ہیں کہ مَیں آخر میں مسلمان ہؤا تھا اور میرے مسلمان ہونے کی
    وجہ یہ تھی کہ میں ایک جگہ ایک قبیلہ میں مہمان تھا۔انہوں نے کہا ہم نے کچھ مسلمان گھیرے ہیں چلو تم بھی لڑائی میں شامل ہو جاؤ۔ مجھے اُس وقت مسلمانوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ مَیں اپنے دوستوں کی خاطر چلا گیا۔ وہاں انہوں نے ایک صحابیؓ کو نیچے اُتارا اوراُس کے سینہ میں نیزہ مارا۔ جب نیزہ مارا گیا تو اُس نے کہا فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَۃ۔64 مجھے کعبہ کے ربّ کی قسم مَیں کامیاب ہو گیا۔ کہنے لگا مَیں سخت حیران ہؤا۔ مجھے مسلمانوں کے متعلق کچھ پتہ نہیں تھا۔ مَیں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ کوئی پاگل تھا کہ تم نے اس کو نیزہ مارا اور یہ گھر سے دُور بے وطنی میں اوراپنے رشتہ داروں سے الگ بجا ئے اِس کے کہ روتا چِلّاتا یہ کہتا ہے کہ مَیں کا میا ب ہو گیا۔ کامیابی اِس نے کونسی دیکھی ہے؟ انہوں نے کہامسلمان پاگل ہی ہوتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ موت میں بڑی خوبی ہے۔ جب انہیں مارا جا ئے تو کہتے ہیں ہم کا میا ب ہو گئے۔ وہ کہتا ہے میرے دل میں یہ خیا ل پیداہؤا کہ ایسی قوم کو تو دیکھنا چاہئے چنانچہ مَیں چوری چوری نکلا اور مدینہ گیا۔ وہاں دوتین دن رہنے کے بعد اسلام کی صداقت ثابت ہو گئی اور مَیں مسلمان ہو گیا۔ پھر انہوں نے کُرتا اُٹھا یا اور کہنے لگا دیکھو! میرے بال کھڑے ہیں مَیں جب بھی یہ واقعہ یاد کرتا ہوں تو بال کھڑے ہو جا تے ہیں کیونکہ وہ ایسا نظّارہ تھا کہ جنگل میں ایک شخص اپنے وطن سے دُور فریب اور دھو کا بازی سے مارا گیا مگر بجائے اس کے کہ وہ غم کرتا روتا اور اپنے بیوی بچوں کو یاد کرتا وطن کو یا د کرتا وہ کہتا ہے فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَۃ۔ کعبہ کے ربّ کی قسم! مَیں کا میا ب ہو گیا۔
    اِس کے مقابلہ میں کا فر کو کیا اُمید ہو سکتی ہے اُس کے لئے بھا گنا تو جُرم ہے ہی نہیں۔ ہمارے ہاں تو یہ ہے کہ بھا گو گے تو جہنم میں جاؤ گے اِس لئے مسلمان تو بھا گ سکتا ہی نہیں وہ آخر وقت تک کھڑا رہے گا۔ اس کے لئے صرف دو ہی صورتیں ہیں تیسری کوئی صورت نہیں۔ یا تو وہ مر جائے گا او ر یا جیت جائے گا اور دونوں اُس کے لئے اچھی باتیں ہیں۔ جیتے گا تو جیت گیا اور مرے گا تو جنت میں جا ئے گا۔ اور کافر یا تو مر گیا اور دوزخ جائے گا اور یا بھا گے گا اور شکست کھائے گا۔ اور جسے ایک طرف اپنی شکست کا خطرہ ہو اور دوسری طرف موت کا اُ س سے بہادری کب ظاہر ہو سکتی ہے۔
    کوئٹہ میں ایک فوجی افسر سے ملاقات
    تین چار سال کی بات ہے مَیں کوئٹہ گیا تو وہاں مجھے کچھ فوجی افسر
    ملنے آئے۔ اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں اِسی دوران میں کشمیر کا بھی ذکر آگیا مَیں نے کہا کشمیر مسلمانوں کو ضرور ملنا چاہئے ورنہ اس کے بغیر پا کستان محفوظ نہیں رہ سکتا۔ دوسرے دن میرے پر ائیویٹ سیکرٹری نے مجھے لکھا کہ فلاں کرنیل صا حب آپ سے ملنے کے لئے آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے الگ بات کرنی ہے۔ مَیں نے اُن کو لکھا کہ آپ کو کو ئی غلطی تو نہیں لگی یہ تو کَل مجھے مِل کر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ بات تو درست ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے ایک پر ائیویٹ بات کرنی ہے۔ مَیں نے کہا لے آؤ چنا نچہ وہ آگئے۔ مَیں نے کہا فرمائیے آپ نے کو ئی الگ بات کرنی تھی۔ کہنے لگے جی ہاں۔ مَیں نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگے آپ نے کہا تھا کہ ہمیں کشمیر لینا چاہئے او ر اِس کے لئے ہمیں قربانی کرنی چاہئے یہ بات آ پ نے کِس بنا ء پر کہی تھی؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہندوستان کے پاس فوج زیادہ ہے؟ مَیں نے کہا مَیں خوب جا نتا ہوں کہ اُس کے پاس فوج زیادہ ہے۔ کہنے لگے تو کیا آپ یہ نہیں جا نتے کہ جو بندوقیں ہمارے پاس ہیں وہی اُن کے پاس ہیں؟ مَیں نے کہا ٹھیک ہے۔ کہنے لگے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اُن کے پاس ڈم ڈم کی فیکٹری ہے جو ہزاروں ہزار بندوق اُن کو ہر مہینے تیا ر کر کے دے دیتی ہے؟ مَیں نے کہا۔ ٹھیک ہے۔ کہنے لگے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اُن کے پا س اتنا گولہ بارود ہے اور آٹھ کروڑ کا گولہ بارود جو ہمارا حصّہ تھا وہ بھی انہوں نے ہم کو نہیں دیا۔ مَیں نے کہا ٹھیک ہے۔کہنے لگے آپ کو معلوم نہیں کہ اُن کے ہا ں ہوائی جہاز وں کے چھ سکوارڈن ہیں اور ہمارے ہاں صرف دو ہیں۔ مَیں نے کہا ٹھیک ہے۔کہنے لگے اُن کی اتنی آمد ہے اور ہماری اتنی آمد ہے۔مَیں نے کہا یہ بھی ٹھیک ہے۔کہنے لگے جن کا لجوں میں وہ پڑھے ہیں اُنہی کالجو ں میں ہم بھی پڑھے ہیں ہمیں اُن پر علمی رنگ میں کوئی برتری حاصل نہیں۔ مَیں نے کہایہ بھی ٹھیک ہے۔ کہنے لگے پھر جب ہماری فوج کم ہے اور اُنکی زیادہ ہے، گولہ بارود اُن کے پاس زیادہ ہے، توپیں اُن کے پاس زیادہ ہیں، ہو ائی جہا ز اُن کے پاس زیادہ ہیں، آمد اُن کی زیادہ ہے اور ہم بھی انہی کالجوں میں پڑھے ہوئے ہیں جن میں وہ پڑھے ہیں، ہمارے اند ر کوئی خاص لیا قت نہیں تو پھر آپ نے کس بنا ء پر ہمیں کہا تھا کہ ہمیں کشمیر لینا چاہئے؟ میں نے کہا دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللہِ کہ کئی چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی جماعتوں پر غالب آجا یا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اِسی لئے بیان فرمائی ہے کہ تم تھوڑے اور کمزور ہو کر ڈرا نہ کرو۔ خدا تعالیٰ طاقت رکھتا ہے کہ تمہیں بڑوں پر غلبہ دے دے اسلئے آپ گھبراتے کیوں ہیں؟ اللہ تعالیٰ پر توکّل رکھیئے۔ بے شک آپ تھوڑے ہیں لیکن خدا تعالیٰ آپ کوطاقت دےگا۔ پھر مَیں نے کہا۔ مَیں تم کو ایک موٹی بات بتاتا ہوں۔تم مسلمان ہو کیا تمہیں معلوم ہے یا نہیں قرآن نے یہ کہا ہے کہ اگر تم مارے گئے تو جنت میں جا ؤ گئے۔ کہنے لگا۔ جی ہاں! مَیں نے کہا اب دو ہی صورتیں ہیں کہ اگر تم میدان میں کھڑے رہو گے اور زندہ رہوگے تو جیت جاؤ گے اور اگر مارے جاؤ گے تو جنت میں چلے جا ؤ گے اب بتاؤ کیا تمہا رے اند ر مرنے کا کوئی ڈر ہو سکتا ہے؟ کیو نکہ تم سمجھتے ہو کہ اگرمَیں لڑائی کے میدان میں کھڑا رہا اور لڑتا رہا تو دو ہی صورتیں ہیں یا جیت جا ؤں گا یا ّجنت میں چلا جا ؤنگا۔ پس تمہا ری بہادری کا ہندو کسِ طرح مقابلہ کر سکتا ہے وہ تویہ جا نتا ہے کہ اگر مَیں مر گیا تو بندربن جاؤنگا یا سؤر بن جا ؤنگا یا کُتّا بن جاؤنگا۔ یہ اُس کا تناسخ ہے۔ تم تو یہ جانتے ہو کہ مر کے جنت میں چلے جائیں گے اور وہ یہ جانتا ہے کہ مرکے کُتّا بن جاؤنگا ،سؤر بن جاؤنگا، بندر بن جاؤنگا۔ تو مسلمان اور ہندو کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہو سکتا۔ اُسے تو کُتّا یا سؤر بننے کا ڈر لگا ہؤا ہے اور تم میں جنت جا نے کا شوق ہے تمہا را اور اُس کا مقابلہ کیسے ہو سکتاہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کیلئے دلیری کے اتنے مواقع پیدا کردیئے گئے ہیں کہ اُسکو کو ئی گزند آہی نہیں سکتی۔
    اِس کے بعد فرما تا ہے۔ فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا ۔ مُوْرِیْ کے معنے آگ نکالنے کے ہوتے ہیں اور قَدْحًا کے معنے ہوتے ہیں ما رکر۔پس فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاکے یہ معنے ہوئے کہ وہ ایک چیز کو دوسری سے ما ر کر آگ جلا تے ہیں۔ جیسا کہ پہلے زمانہ میں لوگ چقماق سے آگ جلایا کرتے تھے۔ اِس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ گھوڑوں کے سُموں سے تیز دَوڑنے کی وجہ سے جو آگ پیدا ہو۔ لیکن اس جگہ پر سُموں کے معنے اس لئے نہیں کئے جا سکتے کہ وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا میں اِس کا ذکر آچکا ہے اور بتایا جا چکا ہے کہ گھوڑے دَوڑتے ہیں اور انہیں سانس چڑھ جاتا ہے اورجس کو سانس چڑھے گا اُس کے سُموں سے آپ ہی آگ نکلے گی۔ پس یہاں آگ جلانے کا ذکر ہے اور حدیثوں سے بھی پتہ لگتا ہے کہ اس جگہ مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اُترتے ہیں اور کھا نے وغیر ہ پکا تے ہیں اور آگ جلاتے ہیں۔ اِس میں سواروں کی بہا دری اور اطمینا ن کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دشمنوں سے ڈریں گے نہیں، ُکھلے کیمپ لگائیں گے اور آگ روشن کریں گے۔ دشمن سے ڈر کر روشنیاں بُجھائیں گے نہیں۔ جیسے فتح مکّہ کے وقت ابو سفیا ن کا روشنیوں سے پریشان ہو جا نا اسکی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب لشکر اپنے دشمن سے ڈرتا ہے تو شبخون سے بچنے کے لئے اپنے پڑاؤ کا نشان نہیں دیتا۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمان خوب روشنی کرکے پڑاؤ کریں گے اور دشمن سے ڈریں گے نہیں کیو نکہ کہیں گے کہ اُس نے ہمیں مارنا ہی ہے نا تو مر کر جنت میں چلے جائیں گے ہمیں ڈر کس بات کاہو۔
    حضرت ضرارؓ کا واقعہ
    تاریخ میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک عیسائی جرنیل نے بہت سے سپاہی مار دیئے اسلامی کمانڈر انچیف نے
    ضرار بن اَزورؓ کوبلایااو رکہا۔تم جاؤ تم بڑے بہادر آدمی ہو اور اُس سے جاکر لڑو۔ بہت سے مسلمان مارے گئے ہیں اور بد دلی پھیل رہی ہے۔ وہ لڑنے کے لئے گئے جب اُس کے سامنے کھڑے ہوئے تو یکدم واپس بھا گے۔ مسلمانوں میں بد دلی پیدا ہوئی اور انہوں نے بہت تعجب کیا کہ ایک صحابیؓ ہے اور وہ اِس طرح بھا گا ہے۔ کمانڈر نے ایک شخص سے کہا تم اس کے پیچھے پیچھے جاؤ اور دیکھو کیا بات ہے؟ جب وہ پہنچا تو ضرارؓ اپنے خیمہ سے نکل رہے تھے۔ انہوں نے کہا ضرارؓ!آج تم نے بڑی بد نامی کرائی ہے۔ تمہا رے دوست افسوس کررہے ہیں کہ تم نے اِس طرح اسلام کو ذلیل کیا، تم کیوں بھا گے تھے؟ انہوں نے کہا مَیں بھا گا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مَیں نے صبح اتفاقاً زِرہ پہنی تھی جب مَیں اس کے سامنے گیا تو میرے دل میں خیا ل آیا کہ اتنا بڑا بہادر ہے کہ اِس نے کئی آدمی مارے ہیں مَیں نے زِرہ پہنی ہو ئی ہے۔فرض کرو اگر اُس نے مجھے ما ر لیا تو اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ ضرار کیا تم میرے ملنے سے اتنا گھبراتے تھے کہ زِرہیں پہن پہن کر جاتے تھے۔ تو مَیں نے خیا ل کیا کہ اگر مَیں مر گیا تو ایمان پر نہیں مروں گا۔ چنانچہ میں بھا گا ہؤا اندر گیا اور مَیں نے وہ زِرہ اُتار دی۔ چنانچہ دیکھ لو اب مَیں صرف کُرتہ پہن کر اس کے مقابلہ کیلئے جا رہا ہوں۔ تو اِسقدر اُن کے اندر مرنے کا شوق ہو تا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ خداتعالیٰ کی راہ میں مرنا ایک بہت بڑی سعادت اور نعمت ہے۔
    پھر فرماتا ہے فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا ۔یہ سپاہی باوجود دیوانگی سے کلّی طورپر روکے جانے کے اور شراب کے حرام ہونے کے اور لوٹ مار اور قتل و غارت سے روکے جانے کے اتنے دلیر ہونگے کہ دشمن کے پاس پہنچ کر ڈیرے ڈال دیں گے اور رات کو حملہ نہیں کریں گے بلکہ صبح ہونے پر حملہ کریں گے تا کہ بے خبر اور سوتے ہوئے دشمن پر حملہ نہ ہو اور اُسے لڑنے کا موقع ملے۔گویا چونکہ شہا دت کے دِلدادہ ہو نگے ،دشمن کو مقابلہ کا موقع دیں گے۔ دوسرےؔ براء ت اور توبہ کا موقع دیں گے کہ اگر وہ چاہے تو اسلام کا اظہار کرے۔ تیسرےؔ غلط فہمی سے بچیں گے کہ غلطی سے کسی اَور پر حملہ نہ ہو جائے۔
    فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا ۔ اِس میں یہ بتایا ہے کہ رات کو ڈیرے اس لئے نہیں ڈالیں گے کہ دشمن کے قریب آکر جوش ٹھنڈا ہو گیا ہے بلکہ مَردانگی اور بہا دری کے اظہا ر کے لئے ایسا کریں گے ورنہ صبح ہونے پر جب دشمن ہو شیا ر ہو جائے گا اُن کی روشنیوں کو رات کو دیکھے گا صبح اُنکی اذانیں سُنے گا اور لڑنے کے لئے آمادہ ہو جائے گا اور پھر یہ والہا نہ طور پر اُس کی طرف گھوڑے دَوڑائیں گے حتّٰی کہ صبح کے وقت جب شبنم کی وجہ سے غبار دباہؤا ہو تا ہے اُن کے تیز دَوڑنے کی وجہ سے اُس صبح کے وقت بھی زمین سے گردوغبار اُٹھے گا۔
    پھر فرماتا ہے فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا ۔جس وقت وہ دَوڑتے ہوئے اور گرد اُڑاتے ہوئے پہنچیں گے بغیر تھمے دشمن کی صفوں میں ُگھس جائیں گے۔ بِہٖ میں صبح کی طرف بھی ضمیر پھیری جا سکتی ہے۔اگر صبح کی طرف ضمیر پھیر یں تو اس کے یہ معنے ہونگے کہ وہ بہادر رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ صبح کی روشنی میں دشمن کی آنکھوں کے سامنے اس کی صفوں میں گُھس جائیں گے۔اور اِس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ دشمن کے پراگندہ ہونے کی حالت میں خوا ہ دن ہو یا رات حملہ نہیں کریں گے بلکہ جب وہ صف آرا ہو جا ئے تب اس پر حملہ کریں گے۔
    اِس آیت میں اُن کی بہا دری کی طرف دو اشارے ہیں۔ ایک تویہ کہ وہ سامنے کھڑے ہو کر پہلو بچاتے ہوئے حملہ نہیں کریں گے بلکہ جوش کی فراوانی میں دشمن کی صفوں کے اندر گُھس جائیں گے حالانکہ جب خطرہ بڑھ جاتا ہے دشمن نرغہ میں لینے کے قابل ہو جاتا ہے۔
    دوسرا اشارہ یہ ہے کہ وہ صبح ہی صبح دشمن کی صفوں کو چِیر دیں گے۔یعنی اُن کا حملہ اتنا شدید ہو گا کہ سورج نکلنے کے بعد حملہ کرنے کے باوجود دھوپ نہیں آنے پائے گی کہ دوپہر سے پہلے پہلے وہ دشمن کو کا ٹ کر رکھ دیں گے اور اُس کے اوپر غالب آجائیں گے۔
    دشمن کی صفوں کو چِیرتے ہوئے دو
    نوجوان لڑکوں کا ابو جہل کو مار ِ گرانا
    فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا کے نظارے صحابہؓ میں نہایت شاندار ملتے ہیں۔ بدر کی جنگ میں حضرت
    عبدالرحمن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ مَیں کھڑا تھا اور ابو جہل ہم سے تین گُنا لشکر لے کر کھڑا تھا، پھر اُن کے پاس زِرہیں اور سامانِ جنگ بھی زیادہ تھا اور وہ خَود پہنے ہوئے تھے۔دل میں خیا ل پیدا ہؤا کہ آج میں اچھی طرح لڑوں گامگر پھر مَیں نے اپنے اِدھر اُدھر جو دیکھا تو میں نے دیکھا کہ میرے دائیں بائیں دو انصار ی لڑکے کھڑے ہیں جن کی پندرہ پندرہ سال کی عمر تھی۔ دل میں خیا ل آیا کہ آج تو بڑی بُری ہوئی آج تو لڑنے کا موقع تھا اوراِردگِرد لڑکے کھڑے ہیں انہوں نے کیا کرنا ہے؟ دل میں یہ خیا ل آرہا تھا کہ ایک لڑکے نے مجھے کُہنی ماری۔ مَیں نے اُس کی طرف دیکھا تو کہنے لگا۔ چچا نیچے ہو کر میری بات سنو۔ مَیں نے اپنا کا ن اس کی طرف کیا تو اُس نے کہاچچا! مَیں نے سنا ہے کہ ابو جہل خبیث، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی تکلیفیں دیا کرتا ہے میرے دل میں اُس کے متعلق غصّہ ہے اور مَیں چاہتا ہوں کہ اُسے ما ر وں وہ کون ہے؟ وہ کہتے ہیں مَیں حیرت زدہ ہو گیا کیو نکہ باوجود اتنا تجربہ کا ر جرنیل ہونے کے میرے اندر بھی یہ خیا ل نہیں آتا تھا کہ مَیں ابو جہل کو مار سکتا ہوں کیو نکہ سامنے دشمن کی ساری صفیں کھڑی تھیں،دوتجربہ کا ر جرنیل اُس کے سامنے پہرہ دے رہے تھے اور وہ بیچ میں گھرا ہؤا تھا۔ لیکن میری حیرت ابھی دُور نہیں ہوئی تھی کہ دوسری طرف سے مجھے کُہنی لگی۔ مَیں اُس طرف متوجہ ہؤا تودوسرا نوجوان مجھے کہنے لگا چچا! ذراکان نیچے کر کے میری بات سُنیں تا دوسرا نہ سُنے کیونکہ رقابت تھی۔ کہنے لگے مَیں نے کان نیچے کیا تو اُس نے بھی یہی کہا کہ چچا! مَیں نے سُنا ہے ابوجہل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا دُکھ دیا کرتا ہے ،میرا دل چاہتا ہے کہ مَیں اُس کو ماروں مجھے بتاؤ وہ کو ن ہے؟وہ کہتے ہیں تب تو میری حیرت کی کو ئی انتہاء نہ رہی۔ مَیں نے سمجھا بچّے ہیں جوش میں کہہ رہے ہیں۔ مَیں نے اُنگلی اُٹھا ئی اور کہا یہ دیکھو دشمن کی صفیں کھڑی ہیں اِن کے پیچھے وہ شخص جس کے آگے دو آدمی ننگی تلواریں لئے کھڑے ہیں وہ ابو جہل ہے۔ وہ کہتے ہیں میری اُنگلی ابھی نیچے نہیں ہوئی تھی کہ وہ لڑکے باز کی طرح کُودے اور صفوں کو چِیرتے ہوئے اُس تک جا پہنچے۔جا تے ہی ایک پر ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے وار کیا اور اُس کا ہا تھ کا ٹ دیا لیکن اُس کا دوسرا ساتھی پہنچ گیا۔ جس کا ہاتھ کاٹاگیا تھا اُس نے جلدی سے اپنے کٹے ہوئے ہا تھ پر پا ؤں رکھا اور زور سے جھٹک کر اُسے جسم سے الگ کر دیا اور پھر دوسرے کے ساتھ شریک ہو کر ابوجہل پر حملہ کر دیا۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ انہوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے گِرادیا۔ غرض لڑائی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے ابوجہل کو جا کر ختم کر دیا۔ یہ تھا مسلمانوں کا جوش کہ چھوٹے بچّے بھی جا نتے تھے اور وہ اپنے سے تین گُنا لشکر کی صفوں میں گُھس جا تے تھے اوراپنی جا نو ں کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے تھے اور منٹوں میں لڑائی ختم ہو جاتی تھی۔یہ عجیب بات ہے کہ صحابہؓ نے جتنی جنگیں کی ہیں وہ صرف چند گھنٹوں میں ہی ختم ہو گئیں۔ بدر چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی ،اُحدچند گھنٹوں میں ختم ہوگئی اور حُنین چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی ،مکّہ کی لڑا ئی چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی۔ غرض ایک دو گھنٹہ کے اندر دشمن بھاگ جاتا تھا۔ سوائے تین لڑائیوں کے اور وہ تینوں قلعہ بند لڑائیاں تھیں۔ مثلاً احزاب کی لڑائی تھی اس میں صرف دفاع کا حُکم تھا اور بیچ میں خندق بنا ئی ہو ئی تھی اس میں دیر لگی یا بنو قریظہ کا محاصرہ ہؤا تو قلعہ میں تھے او رقلعہ توڑنے میں دیر لگی یا خیبر پر جب حملہ ہؤا تو اُس میں دیر لگی۔ کیو نکہ خیبر میں بھی وہ قلعہ میں تھے لیکن اِن کے علاوہ جب بھی کوئی لڑائی ہوئی چند گھنٹوں کے اندر ختم ہو گئی او رچند گھنٹوں میں دشمن تباہ ہو گیا۔
    غرض اِن آیا ت میں بتایا گیا ہے کہ دُنیا میں جوش دلانے کے لئے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں کبھی شراب پلا ئی جاتی ہے، کبھی لو ٹ مار کی اجا زت دی جاتی ہے، کبھی شبخون مارنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اِن سب کو منع کرنے کے باوجود اسلامی جنگ کے لئے جب نوبت بجے گی تو اسلام کے سپاہی دیوانہ وار آگے بڑھیں گے اور گھنٹوں میں دشمن کی صفوں کو توڑ دیں گے اور قطعی طور پر اُن کو موت کا کوئی خوف نہیں ہو گا۔
    دُنیوی نوبت خانوں کی تیسری غرض
    تیسری غرض نوبت خانہ کی یہ ہؤا کرتی ہے کہ خوشی کی تقریبات
    کے موقع پر مثلا ً بادشاہ دربارکرے یا اُس کا جلوس نکلے تو نوبتیں بجا کر تی تھیں اور اِسی طرح بادشاہ کی آمد یا کسی بڑی تقریب کی خبر لوگوں کو دی جاتی اور بادشاہی اعلان سے لوگوں کو واقف کیا جاتا تھا۔
    اِسلامی نوبت خانہ رات دن میں پانچ دفعہ بجتا ہے
    مَیں نے دیکھا کہ اسلام نے یہ بھی
    نوبت خانہ پیش کیا ہےاور اس کیلئے بھی ایک اسلامی نَوبت مقرر کی ہے مگر اسلامی نوبت خانہ اور دُنیوی نو بت خانوں میں ایک عظیم الشان فرق ہے۔ دوسری حکومتیں اور بادشاہ جہاں نو بتیں بجا تے تھے اُن کی نوبت کبھی ساتویں دن بجتی تھی اور بادشاہ کا دیدار ہوتا تھا، کسی کی مہینہ میں بجتی تھی اور بادشاہ کا دیدار ہو تا تھا، کوئی اپنی تخت نشینی کے دِنوں میں دو تین دن دربار لگا یا کرتاتھا اور پھر جب اُن کی نوبت بجتی تھی تو لوگوں کو اپنے گھروں سے نکل کر بادشاہی قلعوں میں جا نا پڑتا تھا یا بہت دُور دُور سینکڑوں میل سے چل کر وہاں جا نا پڑتا تھا۔ لیکن اسلامی نو بت خانہ جو ہما رے بادشاہ کا دیدار کرانے کے لئے بجتا ہے وہ ہر شہر اور ہر گاؤں میں دن رات میں پا نچ وقت بجتا ہے۔ پانچ دفعہ نوبت بجتی ہے کہ آؤ اور اپنے بادشاہ کی زیا رت کرلو ،آؤ اور خدا کا دیدا ر کرو۔ ابھی ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی ہوئی ہے پا کستان تک سے لوگ وہا ں دیکھنے کے لئے گئے حالانکہ ملکہ الز بتھ کیا، انگلستان آج ایک سیکنڈ گریڈ پا ور بنا ہؤا ہے۔ لیکن ملکہ الزبتھ کے دیکھنے کے لئے ہندوستان سے آدمی گئے، امریکہ سے گئے ،جر من سے گئے، انڈونیشیا سے گئے ،چین سے گئے اور ہمارے بادشاہ کی زیارت کے لئے کہ جس کے سامنے آنکھ اُٹھا نے کی بھی ملکہ الز بتھ کو طاقت نہیں روزانہ پانچ وقت بُلایا جاتا ہے کہ آؤ کر لو زیارت مگر لوگ ہیں کہ نہیں آتے۔ دو گھر کا گاؤں ہو تو وہاں بھی وہ بادشاہ پا نچ وقت آتا ہے، پا نچ گھرکا گاؤں ہوتو وہا ں بھی بادشاہ لوگو ں کو اپنی زیارت کرانے کے لئے پانچ وقت آتا ہے، اگر سَو گھر کا گاؤں ہو تو وہاں بھی وہ زیارت کرانے کے لئے آتا ہے، اگر لاکھ گھر کا شہر ہو تو ہر محلہ میں وہ آجاتا ہے کہ آؤ اور زیارت کر لو اور اگر دس لا کھ گھر کا شہر ہو تو اُس میں وہ دس ہزار جگہوں میں آجاتا ہے اور پانچ وقت آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ آؤ اور میر ی زیارت کرلو۔ یہ کتنا عظیم الشان فرق ہے دُنیوی نوبت خانوں اور اسلامی نوبت خانہ میں کہ پانچ وقت زیارت ہو تی ہے اور جہا ں بیٹھیں وہیں ہو جاتی ہے اور بادشاہ آپ ہمارے گھروںمیں آجاتا ہے۔
    اسلامی نوبت خانہ کا پُر ہیبت اِعلان
    اَب ذرا اِس نو بت خانہ کا اِعلان بھی سُن لو۔ وہا ں تو یہ ہو تا ہے کہ
    دَھم دَھم دَھم دَھم ہو رہاہے یا پِیں پِیں ہو رہا ہے اور جب ُپوچھا جاتا ہے کہ یہ دَھم دَھم دَھم اور پِیں پِیں پِیں کیا ہے؟ توکہتے ہیں اِس کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہ آرہا ہے حالانکہ دَھم دَھم دَھم اور پِیں پِیں پِیں سے بادشاہ کا کیا تعلق ہے۔تم بندر کا تما شہ کرو تو اُس کے لئے بھی پِیں پِیں کر سکتے ہو۔کُتّے کا کھیل کھیلو تو اُس کے لئے بھی پِیں پِیں کر سکتے ہو ،بادشاہ اور دَھم دَھم اور پِیں پِیں کا کیا جوڑ ہے۔مگر یہاں جو نوبت خانہ بجتا ہے اُس میں با دشاہ کے دیدار کی بشارت دیتے ہوئے اُس کی حیثیت بھی پیش کی جاتی ہے اور ایک عجیب شاندار پیغام دُنیا کو پہنچایا جاتا ہے۔ مؤمنوں کو الگ اور مُنکروں کو الگ۔پھر اس نو بت خانہ کی چوٹ مُردہ چمڑہ پر نہیں پڑتی زندہ گوشت کے پردوں پر پڑتی ہے۔ اور پانچ وقت اِس نوبت خانہ میں نوبت بجتی ہے کہ آجا ؤ اپنے بادشاہ یعنی خدا کی زیارت کے لئے او راعلان کرنے والا کھڑا ہو تا ہے اور کہتا ہے۔
    اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔
    اے لوگو!اپنے بادشاہ کی زیا رت کے لئے آجا ؤ۔ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ دُنیا میں لوگ اپنے بادشاہوں اور حا کموں کی زیا رت کے لئے جا تے ہیں مگر اُن میں سے کو ئی پچاس گاؤ ں کا مالک ہو تا ہے، کو ئی سَو گاؤں کا مالک ہو تا ہے،کو ئی ہزار گاؤ ں کا مالک ہو تا ہے،کوئی ایک صوبہ کا مالک ہو تا ہے، کو ئی ایک ملک کا مالک ہو تا ہے، کو ئی پانچ ملک کا مالک ہو تا ہے، کو ئی دس ملک کا مالک ہو تا ہے، پھر اُن میں سے کوئی ایسا ہو تا ہے کہ بڑے ملک کا مالک ہو تا ہے لیکن چھوٹے ملک کے بادشاہ اُس پر فا تح ہو جا تے ہیں۔ جیسے سکندر یو نا ن کا مالک تھا مگرکسرٰی کو آکے اُس نے شکست دیدی۔ نادر شاہ ایک معمولی قبیلے کا بادشاہ تھا مگراُس نے ہندوستان کی بادشاہت کو شکست دےدی۔تواوّل تو اُس کی حکومتیں بہت چھوٹی ہو تی ہیں اور پھر حکومتوں کے مطابق اس کی طاقت بھی نہیں ہو تی۔ اُن کی زیا رت عمر میں کبھی ایک دفعہ نصیب ہو تی ہے مثلاً تاجپوشی ہو تی ہے اور وہ باہر نکلتے ہیں تو لوگ اُن کی زیا رت کرتے ہیں۔ مگر ہم تمہیں جس بادشاہ کی زیارت کے لئے بُلاتے ہیں وہ سب سے بڑا ہے اور بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُس کے مقابل میں بِالکل ہیچ ہو جاتا ہے کسی کی طاقت نہیں کہ اُ س کے آگے بول سکے۔
    رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
    گرفتاری کیلئے کسرٰی کا ظالمانہ حکم
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں اُس زمانہ میں دنیا کی حکومت دو حصوں میں تقسیم
    تھی آدھی حکومت قیصرؔ کے پا س تھی اور آدھی حکومت کسرٰی کے پاس تھی۔مغرب پر قیصر حاکم تھا اورمشرق پر کسرٰی حاکم تھا۔ یہودیوں نے ایک دفعہ کسرٰی کے پاس رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی کہ عرب میں ایک نبی پیدا ہؤا ہے اور وہ طاقت پکڑرہا ہے کسی وقت وہ تمہا رے خلا ف جنگ کرے گا۔ وہ کچھ پا گل ساتھا۔یمن اُس وقت کسرٰی کے ما تحت تھا اُس نے یمن کے گورنر کو حکم بھیجا کہ اس طرح عرب میں ایک مدعی پیدا ہؤا ہے تم اُسے گرفتار کرکے میرے پاس بھجو ا دو۔چونکہ یمن کا گورنر عرب کے لوگوں سے واقف تھا اُس نے خیا ل کیا کہ اِن لوگوں نے کیا بغاوت کرنی ہے بادشاہ کو دھوکا لگا ہے۔اُس نے بادشاہ کے دو سفیروں کو بھیجا اور ساتھ وصیّت کی کہ تم کوئی سختی نہ کرنا۔ بادشاہ کو کوئی دھو کا لگا ہے ورنہ عربوں میں کیا طاقت ہے کہ انہوں نے کسرٰی کا مقابلہ کرنا ہے۔تم جانا اور سمجھانا اور میری طرف سے پیغام دینا کہ آپ مقابلہ نہ کریں آجائیں۔ مَیں سفارش کرونگا تو کسرٰی انہیں کچھ نہیں کہے گا۔چنا نچہ یہ لوگ مدینہ پہنچے اور رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپؐ نے فرمایا کس طرح آنا ہؤا؟ انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ نے بھجوایا ہے۔ اُس کے پاس کچھ شکایتیں آئی ہیں جن کی بنا ء پر اُس نے کہا ہے کہ آپؐ کو اُس کے سامنے پیش کیا جائے اور ہم گورنر یمن کی طرف سے آئے ہیں کیونکہ وہ یہاں کے حالات کا واقف ہے۔اُس نے ہم کو نصیحت کی تھی کہ ہم آپؐ کو تسلّی دلائیں کہ کسی نے بادشاہ کے پاس غلط رپورٹ کی ہے ورنہ ہمیں تسلّی ہے کہ آپؐ نے کوئی شرارت نہیں کی۔ مَیں بادشاہ کی طرف ساتھ چِٹھی لکھدونگا کہ یہ غلط رپورٹ ہے اس کوکچھ نہ کہا جا ئے اور واپس کردیا جائے اِس لئے آپ ہمارے ساتھ چلیں وہاں سے آپ کو گورنر یمن کی سفارش مِل جا ئےگی اور اُمید ہے کہ وہ درگزر سے کام لے گا۔
    آپؐ نے فرمایا اچھا دوتین دن ٹھہرو پھر مَیں جواب دونگا۔ انہوں نے کہا یہ ٹھیک نہیں ہے۔گورنر نے کہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ آپ غلط فہمی میں رہیں اور جواب نہ دیں جس سے بادشاہ چڑجائے اگر ایسا ہؤا تو عرب کی خیر نہیں ، وہ اِس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا آپ چلے چلیئے۔ آپؐ نے فرمایا کوئی بات نہیں تم دو تین دن ٹھہرو۔ پھر وہ دوسرے دن آئے۔ تیسرے دن آئے۔ لیکن آپؐ یہی کہتے رہے کہ ابھی ٹھہرو۔ ابھی ٹھہرو۔ تیسرے دن انہوں نے کہا کہ اب ہماری میعاد ختم ہو رہی ہے، بادشاہ ہم سے بھی خفا ہو گاآپؐ ہمارے ساتھ چلیں۔ آپؐ نے فرمایا ُسنو! آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو ما ر ڈالا ہے جاؤ یہاں سے چلے جا ؤ اور گورنرکو اطلا ع دے دو۔ اُن کو تو خدائی کلام کا کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ گپ ماری ہے۔ انہوں نے سمجھا نا شروع کیا کہ یہ نہ کریں۔ دیکھیں آپ گورنر کی سفارش سے چُھوٹ کر آجائیں گے ورنہ عرب تباہ ہو جائے گا آپ ایسا کیو ں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔مَیں نے تمہیں بتادیا ہے جا ؤ اور اُسکو جواب دیدو۔ خیر وہ یمن میں آئے اور انہوں نے گورنر سے کہا کہ انہوں نے تو ہمیں ایسا جواب دیا ہے۔ یمن کا گورنر سمجھدار تھا۔ اُس نے کہا اگر اس شخص نے ایران کے بادشاہ کو یہ جواب دیا ہے تو کوئی بات ہو گی۔اسلئے تم انتظار کرو چنانچہ وہ انتظار کرتے رہے۔
    کسرٰی قتل کردیا گیا
    دس بارہ دن گزرے تھے کہ ایک جہا ز وہا ں پہنچا۔ اُس نے آدمی مقرر کئے ہو ئے تھے کہ اگر کوئی خبر آئے تو
    جلدی اطلاع دو۔انہوں نے اطلاع دی کہ ایک جہا ز آیا ہے اور اُ س پر جو جھنڈا ہے وہ نئے بادشاہ کا ہے۔اُس نے کہا جلدی اُن سفیروں کو لے کر آؤ۔ جب وہ گورنر کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ نے ایک خط آپ کو پہنچانے کے لئے دیا ہے۔ اُس نے خط دیکھا تو اس پر مہُر ایک اور بادشاہ کی تھی۔ اُسنے اپنے دستور کے مطابق خط کو سر پر رکھا، آنکھو ں پر رکھا اور اُسے ُچوما اور پھر اُسکو کھولا تو وہ بادشاہ کی چِٹھی تھی جس میں لکھا تھا کہ پہلے بادشاہ کے ظلم اور سختیوں کو دیکھ کر ہم نے سمجھا کہ ملک تباہ ہو رہا ہے اِس لئے فلاں رات ہم نے اُس کو قتل کر دیا ہے اور ہم اُس کی جگہ تخت پر بیٹھ گئے ہیں۔ اور یہ وہی رات تھی جب رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آج میرے خدا نے تمہا رے خدا کو ما ر دیا ہے۔ اِس کے بعد اس نے لکھا کہ تم ہماری اطاعت کا سب سے وعدہ لو۔ اور یہ بھی یا د رکھو کہ اُس نے عرب کے ایک آدمی کو پکڑنے کیلئے جو حکم بھیجا تھا تم اُس کو منسوخ کر دو۔65 یہ وہ چیز تھی کہ جس کو دیکھ کر یمن کا گورنر اُس دن سے دل سے مسلمان ہو گیا اور بعد میں دوسرے لوگ بھی اسلام میں داخل ہو گئے۔
    غرض اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔میں اِسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم کس کے پیچھے چل رہے ہو۔ جن کو تم بڑے سے بڑا سمجھتے ہو حکومتِ امریکہ کو سمجھ لو، حکومتِ روس کو سمجھ لو خدا کے مقابلہ میں اُن کی کیا حیثیت ہے۔جو خدا کا بندہ ہو تا ہے وہ کہتا ہے کہ تم میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، کچھ کرلو خدا میرا محافظ ہے تم کیا کر لوگے۔ حکومتیں کچھ نہیں کرسکتیں ،بادشاہتیں کچھ نہیں کر سکتیں، وہ اپنے رُعب جتائیں، ڈرائیں جو کچھ مرضی ہے کر لیں، وہ خدا ہی کا بندہ ہے اور وہی جیتے گا۔آخر جو سب سے بڑا بادشاہ ہے اُس کے ساتھ جو لگے گا اُس کو بڑائی ہی ملے گی چھوٹا ئی نہیں ملے گی۔
    خدا کے شیرپر کو ن ہا تھ ڈال سکتاہے؟
    حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام پر ایک دفعہ شرارتاً
    مقدمہ کر دیا گیا۔ مقدمہ کےدَوران میں خواجہ کمال الدین صاحب کو اطلاع ملی کہ آریوں نے مجسٹریٹ پر زور دیا ہے کہ اِن کو ضرور سزا دے دو۔گو مہینہ قید کرو مگر ایک دفعہ ذلیل کر دو تاکہ انہیں پتہ لگ جا ئے۔ مجسٹریٹ نے بھی اُن سے وعدہ کر لیا۔ خواجہ صاحب کو پتہ لگا تو گھبرائے ہوئے آئے مولوی محمد علی صاحب کو ساتھ لیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام لیٹے ہوئے تھے۔ کہنے لگے حضور!بڑی برُی خبر لائے ہیں۔ اِس اِس طرح مجھے یقینی طورپر پتہ لگا ہے کہ آریہ سماج کا اجلاس ہؤا ہے اور چونکہ وہ مجسٹریٹ آریہ ہے اُس سے انہوں نے وعدہ لیا ہے کہ وہ تھوڑی بہت سزا ضرور دے دے ،پیچھے دیکھا جائے گا انہوں نے کہا ہے کہ اوّل تو چھوٹی بڑی سزا پر کوئی پکڑتا کیا ہے اور پھرا گرگرفت ہو گی بھی تو کیا ہے تم نے قوم کی خاطر یہ کام کرنا ہے اسلئے کوئی تدبیر اِسکی ہونی چاہئے اور پھر کہا کہ آپ کسی طرح قادیان چلے جائیں اور ایسی تجویز کی جا ئے کہ مجسٹریٹ کا تبادلہ ہو جائے۔ حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے آپ یہ سُنتے ہی اُٹھے اور فرمایا خواجہ صاحب! آپ کیا باتیں کرتے ہیں۔ کیا خدا کے شیر پر بھی کوئی ہا تھ ڈال سکتا ہے تو اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔ اَللہُ اَکْبَرُ۔کہنا بڑا بھاری دعویٰ ہے۔ آج امریکہ کی کتنی بڑی طاقت ہے پھر بھی روس سے ڈر رہی ہے۔ روس کتنا طاقتور ہے پھر بھی امریکہ سے ڈر رہا ہے۔یہ کتنی بڑی طاقت ہے کہ اِس نوبت خانہ میں پانچ وقت ہر گاؤں، ہر شہر، ہر قصبہ، ہر پہاڑی اور ہر میدان سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہمارا بادشاہ سب سے بڑا ہے۔گویا اِس پیغام میں کافروں کو بھی اور مؤمنوں کو بھی مخاطب کیا گیا ہے۔ کفّا ر کو کہا گیا ہے کہ تمہا رے سرداروں، تمہا رے بادشاہوں اور تمہارے افسروں کی کیا حیثیت ہے سب سے بڑھ کر اسلام کے خدا کا وجود ہے۔ تم اپنے غرور اور اپنے جتھے کے فخر میں یہ سمجھتے ہو کہ ہم حق کی آواز کو دبا دیں گے مگر ایسا نہیں ہو گا۔ ہمارے نام لیوا غریب اور بے کس ہیں مگر ہم اُن کے ساتھ ہیں اور ہم سب سے بڑے ہیں۔
    پھر وہ مسلمانوں سے مخاطب ہوتا ہے اور فرماتا ہے اے مؤمنو!انتظام کے لئے ہم نے تمہا رے لئے بادشاہ مقرر کئے ہیں۔ حاکم مقرر کئے ہیں مگر تمہا را اصل بادشاہ اللہ ہے۔ تم نے کسی انسان کے آگے گردن نہیں جُھکانی۔ تمہارے دلوں پر رُعب اور حکومت صرف خدا کی ہونی چاہئے۔66
    اِسلامی نوبت خانہ کی دوسری آواز
    پھر اِس نوبت خانہ سے دوسری آواز اُٹھتی ہے اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ۔
    اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ۔مَیں منادی کرنے والا اعلان کرتا ہوں اور کسی سے چُھپا تا نہیں کہ مَیں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اُس کے ِسوا کسی کے آگے سر جُھکا نے کے لئے تیا ر نہیں خواہ وہ دُنیا کا بادشاہ ہو یا دُنیا کا بڑا حاکم ہو،خواہ دنیا کا بڑا پِیر ہو خواہ دنیا کا کوئی بڑا عالِم ہو میرے لئے وہ سارے کے سارے خداتعالیٰ کے مقابلہ میں ہیچ ہیں اور اُن کی کوئی ہستی میرے نزدیک نہیں ہے۔ مَیں تو صرف ایک ہی ہے جس کے آگے سر جُھکانا جائز سمجھتا ہوں اور وہ خدا کی ذات ہے۔
    محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی زبان ہیں
    پھر کہتا ہے اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا
    رَّسُوْلُ اللہِ ۔ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ۔ اور سُنو! کہ مَیں یہ بھی عَلَی الْاِعْلَان کہتا ہوں کہ محمد کے ِسوا آج خدا تعالیٰ کے احکام دُنیا کو کوئی نہیں سُنا سکتا۔ وہ خدا کی زبان ہے،وہ خدا کی نفیری ہے۔مَیں اُس کی زبان پر کان دھرتاہوں۔ مَیں اُس کی نفیری کی آواز پر رقص کرتا ہوں۔ تم خواہ کسی کے پیچھے چلو مَیں اللہ کے سوا کسی کے پیچھے نہیں چل سکتا اور اُس کے پیچھے چلنے کا رستہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی بتا سکتے ہیں۔
    خدائی دیدار کی دعوتِ عام
    پھر کہتا ہے حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ۔حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ۔آؤ !آؤ !خدا کے سامنے جھکنے میں
    میرے شریک بنو۔آؤ ہم سب مِل کر خدا ئے واحد کی عبادت کریں اور اپنے جسم کے ہرذرّہ کو اس کی اطاعت میں لگا دیں۔
    دُنیا کے لوگ نوبت خانے بجا تے ہیں اور بجا کے کہتے ہیں آؤ اور بادشاہ کی زیا رت کر کے چلے جا ؤ۔ جو انعام پانے والے ہوتے ہیں وہ تو چند ہی ہوتے ہیں۔ باقی تو صرف مٹی اور غُبار کھا کے چلے جا تے ہیں۔ یہاں جو بادشاہ کی تاجپوشی ہوئی تھی یا لنڈن میں تاجپوشی کی رسم ہوئی ہے تو بادشاہ کے پاس جانےوالے یا اُس سے کوئی بات کرنے والے زیادہ سے زیادہ پانچ سَو یا ہزار ہونگے۔ حالانکہ یہ بھی کوئی خاص انعام نہیں ہے مگر جمع وہاں تیس لاکھ ہوئے تھے۔باقی تیس لاکھ صرف گَرد ہی کھا کے آگئے اَو ر کیا ہؤا۔ پھر کچھ ایسے تھے جن کو سواری بھی نظر نہیں آئی اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے دُور سے سواری دیکھی اور شکل نہیں پہچانی اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے دُور سے تیز گاڑی کو چلتے ہوئے دیکھا۔ مگر یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ۔ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ۔دَوڑ کے آؤ۔ دیکھو خدا کے سامنے تمہا ری حاضری کرائی جائے گی۔ یہ دربار وہ نہیں کہ جہا ں سے دُور دُور سے جھانک کرجا نا پڑے گا۔ یہ دربار وہ نہیں جہا ں تم آؤ گے تو بعض دفعہ تم کو قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جائے گا۔ یہاں تم کو سپاہی دھتکاریں گے نہیں۔ یہاں تم مسجد کے قریب آؤ گے تو فرشتے تم کو پکڑ کے خدا کے سامنے پیش کریں گے اور خدا کو تم زندہ دیکھ لو گے۔ اس سے زیادہ اچھا موقع تمہیں اور کہاں مِل سکتا ہے۔
    فلاح اور کامیا بی کی بشارت
    پھر فرماتاہے حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ۔حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ آؤ ! آؤ! کامیا بی کی طرف آؤ!دَوڑ کر
    کا میا بی کی طرف آؤ کہ کامیابی تمہیں ملنے کے لئے تیا ر بیٹھی ہے۔دیر نہ کرو و ہ تڑپ رہی ہے تمہاری جیبوں میں پڑنے کے لئے۔
    دنیا کے بادشاہوں کے حضور میں لوگ نذرانے گزارنے جاتے ہیں اور اعلان ہوتا ہے سَواشرفیاں پیش کی گئی ہیں۔ بیشک پُرانے زمانہ میں بادشاہ کہہ دیتے تھے کہ ان کو بھی دو لیکن بادشاہ کوبہر حال دینا پڑتا تھا۔ نظام حیدر آباد تو اس کو لے کے جیب میں ڈال لیتے تھے۔ انگلستان وغیرہ کے بادشاہوں کے سامنے بھی نذرانے پیش کئے جا تے ہیں اور جن کے ہاں نذرانوں کا رواج نہیں اُن کے ہا ں دعوتیں اُڑائی جاتی ہیں مثلاً پریذیڈنٹ کہیں جائے گا تو بڑی دعوت کی جائے گی بڑے بڑے آدمیوں کو بُلایا جائے گا اور لاکھوں روپیہ خرچ کیا جائے گا۔ مگر یہاں وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اے لوگو!تمہیں صرف زیارت ہی نہیں ہو گی بلکہ تم میں سے ہر فردِواحد امیر ہو یا غریب، کنگال ہو یا حیثیت والا سب کے سب کی گودیاں بھر دی جائیں گی اور یہاں سے تمہیں انعام دے کر واپس کیا جائے گا۔
    حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ۔حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ
    غرض اِس دربار میں جانے والا چاہے وہ کتنا ذلیل اور کنگال ہو کہ
    اُس کی شکل دیکھ کر لوگوں کو گھِن آتی ہو جب اُس دربار میں چلا جاتا ہے تو وہاں وہ ایسا مقبول ہو جاتا ہے کہ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُس کے آگے سر ُجھکا نے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
    ایک کریہہ المنظر صحابیؓ سے پیار
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابیؓ تھے بہت بدصورت، نہایت کریہہ اور جسم پر بڑے بڑے بال جیسے
    بکری کے ہوتے ہیں اور آنکھیں بھی خراب۔غرض اُن کے جسم کی حالت ایسی تھی جسے دیکھ کر گھِن آتی تھی اور لوگ انہیں مزدوری پر لگانے سے بھی گھِن کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزر ے اور اُسکو دیکھا۔ کسی نے اُن کو گندم کے ڈھیر کے پاس کھڑا کر دیا تھا کہ تم ذرا حساب کرو۔اسے بیچنا ہے اور وہ کھڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ کسی نے گندم لینی ہو تو لے لے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو دیکھا۔ اُسوقت اُن کی حالت ایسی تھی کہ پسینہ اُن کو آرہا تھا ،دھوپ میں کھڑے تھے، مزدوری بھی شاید اُن کو بہت تھوڑی ملنی تھی، غرض تکلیف کی بہت سی علامات تھیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں دیکھ کر احساس ہؤا کہ دیکھواِن کو سخت تکلیف ہو رہی ہے۔ آپؐ پیچھے پیچھے آہستہ قدم چلتے گئے اور اُن کی آنکھوں پر جیسے بچّے کھیلتے ہیں ہا تھ رکھ دیئے۔اُس نے اِدھر اُدھر ہا تھ ما ر کر دیکھا اور خیا ل کیا کہ میرے جیسے آدمی سے پیار کون کر سکتا ہے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں ،گھِن کھا تے ہیں لیکن یہ کون میرا دوست اور خیر خواہ آگیا جو مجھے پیا ر کرنے لگا ہے۔اِدھر اُدھر ہاتھ مارنے شروع کئے، آخر اُن کے ہا تھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کلائی پر پڑے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم میں یہ خوبی تھی کہ آپؐ کے بال بہت کم تھے اور مشہور تھا کہ آپؐ کا جسم بہت ملائم ہے۔ اُس نے ہا تھ ملے تو سمجھ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پیار کر رہے ہیں تو مَیں بھی نخرے کروں۔ اُس کے جسم پر مٹی لگی ہوئی تھی، پسینہ آیا ہؤا تھا اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب میل مَلنی شروع کردی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ پہچان گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا لوگو! مَیں ایک غلام بیچتا ہوں کسی نے خریدنا ہے؟جب آپؐ نے یہ فرمایا تو اس کو اپنی حالت پھر یا د آگئی اور اُس نے بڑی ہی افسردگی سے کہا یَارَسُوْلَ اللہِ!میراخریدار دنیا میں کو ن ہو سکتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ایسا نہ کہو تمہارا خریدار تو خود خدا ہے۔67
    تو دیکھو !وہ شخص جس کو دیکھ کر اُس کے دوست اور رشتہ دار بھی گھِن کھا تے تھے۔اُس کے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ یہ خدا کا پیا را ہے۔یہی بات حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ میں بیان کی گئی ہے کہ دنیا کی ساری کا میا بی تمہیں یہاں آنے سے ہی حاصل ہوگی۔تم سب جگہ دھتکارے جا سکتے ہو، تم سب جگہ حقیر سمجھے جا سکتے ہو مگر میرے رب کی عبادت اورغلامی ہر مقصد ومدّعا میں انسان کو کا میاب بنا دیتی ہے۔جو اُس کے ہو جاتے ہیں اُن پر کوئی ہا تھ نہیں ڈا ل سکتا۔ جو اُس کے غلاموں پر ہا تھ ڈالے خواہ ساری دُنیا کا بادشاہ کیوں نہ ہو اُس کے ہاتھ شل کردیئے جا تے ہیں، اُس کی رگِ جا ن کا ٹ دی جاتی ہے، اُسے ذلیل اوررُ سوا کردیا جاتا ہے کیو نکہ خدا کے غلام دنیا کے بادشاہوں سے زیادہ معزز ہیں اور اُن کے محافظ فرشتے ہوتے ہیں جو دُنیوی سپا ہیوں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور اُس کی
    وحدانیت کا ایک بار پھر اقرار
    یہاں پہنچ کر وہ نوبتی ایک بار پھر کہتا ہے اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔ یعنی اب تک جو کچھ میں نے کہا تھا وہ صرف میرے عقیدہ کا
    اظہا ر تھا مگر اب جب کہ میری گودی بھر گئی ہے اور مجھے وہ چیزیں ملی ہیں جو دنیا میں بڑے بڑے بادشاہوں کے پاس بھی نہیں ہیں اورمیر ا خیا ل حقیقت اور میر ا عقیدہ واقعہ بن چکا ہے میں دوبارہ اس امر کا اظہا ر کرتاہوں کہ اللہ واقع میں سب سے بڑا ہے کیو نکہ مَیں نے بیکس اور بے بس ہونے کے باوجود فلاح پا لی ،میرا عقیدہ ٹھیک نکلا اور میرا ایمان حقیقت بن گیا اِس لئے اب مَیں یقین اور تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑاہے۔پھر وہ آخر میں کہتا ہے کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہ خدا کی بڑائی کے اظہار سے تو صرف یہ ثابت ہوتا تھا کہ کئی طاقتوں میں سے خدا کی طاقت سب سے بڑی ہے مگر اُس کے نشان دیکھ کر اب تو مَیں یہ کہتا ہوں کہ دنیا میں خدا کی حکومت کے سِوا کسی کی حکومت ہی باقی نہیں رہے گی صرف وہی پُوجا جائے گا اور اس کا حکم دنیا میں چلے گا۔
    مسجدِ نبویؐ میں بیٹھ کر تمام
    دنیا کو فتح کرنے کے عزائم
    دیکھو !مسلمانوں نے سچے دل سے یہ نو بت بجا ئی تھی پھر کس طرح وہ مدینہ سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل گئے۔دُنیا میں اُس وقت دو ہی حقیقی
    حکومتیں تھیں ایک قیصر کی حکومت تھی جو مغرب پر حاکم تھی اور ایک کسرٰی کی حکومت تھی جو مشرق کی مالک تھی۔ مگر اس نوبت خانہ میں جو بظاہر اتنا حقیر تھا کہ کھجور کی ٹہنیوں سے اُس کی چھت بنائی گئی تھی، پا نی برستا تھا تو زمین گیلی ہو جاتی تھی اور اُس کے نوبت بجا نے والے جب اُس میں جا کر اپنے آقا کے سامنے جُھکتے تھے تو اُن کے گُھٹنے کیچڑ سے بھر جا تے تھے اور اُن کے ماتھے مٹی سے بھر جا تے تھے۔ یہ لوگ تھے جو قیصر اور کسریٰ کی حکومت کو تباہ کرنے کے لئے آئے تھے۔ یو رپ کا ایک مصنف اپنے انصاف اور قلبی عدل کی وجہ سے لکھتا ہے کہ مَیں اسلام کو نہیں مانتا،مَیں عیسائی پا دریوں کی باتوں سے سمجھتا ہو ں کہ جس طرح وہ کہتے ہیں اسلام جھوٹا ہی ہو گا لیکن مَیں جب تاریخ پڑھتا ہوں تو تیرہ سَوسال کا زمانہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتاہے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک کچّامکان ہے، اُس کے اوپر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت پڑی ہوئی ہے، بارش ہو تی ہے تو اُس میں پانی آجاتا ہے (حدیثوں میں یہ واقعات آئے ہیں کہ بار ش ہوتی تو پانی ٹپکنے لگ جاتا) اور جب وہ نمازوں کے لئے کھڑے ہوتے تو ُگھٹنو ں تک کیچڑلگا ہو تا تھا اور کوئی خشک جگہ اُن کو بیٹھنے کے لئے نہیں مِلتی، جب عبادت کر کے پھر وہ اکٹھے ہو کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو مَیں عالَمِ خیال میں قریب سے اُن کی باتیں سُنتا ہوں اور مَیں دیکھتا ہوں کہ اُن کے پھٹے ہوئے کپڑے ہیں، کسی کے پا س کُرتہ ہے تو تہہ بند نہیں ہے، کسی کے پا س تہہ بند ہے تو کُرتہ نہیں ہے، کسی کے سر پر ٹوپی ہے تو ُجو تی نہیں ہے، کسی کے پاس پھٹی ہوئی ُجوتی ہے تو ٹوپی نہیں اور وہ سر گوشیا ں کررہے ہیں اور مَیں قریب ہو کر اُن کی باتیں ُسنتا ہوں کہ وہ کیاکہہ رہے تھے۔ جب مَیں قریب پہنچتا ہوں تو وہ یہ کہتے سُنا ئی دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی بادشاہت عطا کر دی ہے۔ ہم مشرق پر بھی قابض ہو جائیں گے اور ہم مغرب پر بھی قابض ہو جائیں گے، ہم شمال پر بھی قابض ہو جائیں گے اورہم جنوب پر بھی قابض ہو جائیں گے۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ مَیں نے دیکھا کہ ایسا ہی ہو جاتا ہے۔ اَب بتاؤ کہ مَیں اسلام کو کس طرح جھوٹا کہوں؟
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ایسی تھی کہ بعض غریب گاؤں کے لوگ جب میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے مسجد بنانی ہے تو مَیں کہتا ہوں کہ ایسی ہی بنا لو۔ وہ کہتے ہیں نہیں جی !کچھ تو اچھی ہو۔ تو کسی گاؤں کے پا نچ آدمی بھی اس مسجد کی طرح مسجد بنانے کو تیار نہیں ہوتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی لیکن ان مسجدوں میں جو نماز پڑھنے والے ہوتے ہیں وہ اپنے ہمسائیوں سے ڈر رہے ہوتے ہیں مگر اُس کھجور کی ٹہنیوں کی چھت والی مسجد جس میں پانی ٹپکتا رہتا تھا نماز پڑھنے والے یُوں بیٹھے ہوتے تھے کہ گویا اُنہوں نے دُنیا کو فتح کرنا ہے اور وہ واقع میں دنیا کو فتح کر لیتے ہیں۔ ایک ایک گوشہ اُن کے قدموں کے نیچے آتا ہے اور اُن کے گھوڑوں کی ٹاپوں کے نیچے بڑے بڑے بادشاہوں کی کھوپڑیاں تڑپتی جاتی ہیں۔
    اِسلام کے ذریعہ دُنیا میں ایک
    بہت بڑا انقلاب رونما ہو گیا
    غرض اِس نوبت خانہ میں اس اعلان کی دیرتھی کہ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ دنیا میں اَب خدا کی بادشاہت کے سِوا ہم کسی کو نہیں چھو ڑیں
    گے کہ ایک بہت بڑا انقلاب رونما ہو گیا۔خدا کی بادشاہت آسمان سے زمین پر آگئی اور ظلم اور جَور کی دُنیا عدل اور انصاف سے بھر گئی۔ اِس سے چھ سَو سال پہلے ایک اَور شخص جو برگزیدہ تھا، ایک اور شخص جس کو خدا کا بیٹا کہا جاتا ہے، ایک اور شخص جس کی اطاعت کا آج دُنیا کی اکثریت اقرار کر رہی ہے ،ایک اَور شخص جس کی حکومت میں انگلستان کی حکومت، فرانس کی حکومت، سپین کی حکومت، جرمن کی حکومت، پولینڈ کی حکومت، فلپائن کی حکومت، امریکہ کی ساری حکومتیں اور ریاستیں اُس کی خدائی کی اقراری ہیں اور اُس کے آگے سر جُھکاتی ہیں۔ وہ بھی کہتا ہے کہ:-
    ‘‘اے خدا!جس طرح آسمان پر تیری بادشاہت ہے اُسی طرح زمین پر بھی ہو۔’’68
    مگر آج اُنیس سَو سال گزر گئے اُس کے ذریعہ سے خداکی بادشاہت جو آسمان پر ہے زمین پر قائم نہیں ہوئی۔ لیکن یہ شخص جو ایک ایسے کچّے مکان میں رہ کے اور اِس نوبت خانہ میں آکے خدا تعالیٰ کا پیغام سُنا تا ہے ،وہ ابھی مرنے نہیں پاتا کہ خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہوجاتی ہے۔ اور اُس کی وفات کے نو سال کے اندر اندر سارے عرب پر بادشاہت قائم ہوجاتی ہے۔وہ کھڑا ہو تا ہے اور ایسے وقت میں جب دشمن کی فوجیں اُسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے کھڑی ہیں ،مدینہ سے باہر نکل کر پا خانہ کوئی پھر نہیں سکتا ،خندق کھو دی جاتی ہے تا دشمن کے حملہ سے بچائے۔ ایک پتھر نہیں ٹوٹتا۔ صحابہ ؓ کہتے ہیں یَارَسُوْلَ اللہِ! پتھر نہیں ٹوٹتا۔ فرماتے ہیں لاؤ ہتھوڑا مجھے دو مَیں توڑتا ہوں۔ آخر پتّھر پر ہتھو ڑا مارتے ہیں۔ وہ پتّھر بڑا سخت ہے۔ اُس پر ہتھو ڑا مارتے ہیں تو اُس میں سے شُعلہ نکلتا ہے۔ پھر مارتے ہیں پھر شُعلہ نکلتا ہے۔ آپؐ ہر دفعہ کہتے ہیں اَللہُ اَکْبَرُ۔ اَللہُ اَکْبَرُ ۔پھر تیسری دفعہ مارتے ہیں۔ جب شُعلہ نکلتا ہے پھر اَللہُ اَکْبَرُکہتے ہیں۔صحابہؓ بھی اَللہُ اَکْبَرُ کہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایاتم نے کیوں اَللہُ اَکْبَرُ کہا؟ انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللہِ!آپ ؐ نے کیو ں کہا ؟آپؐ نے فرمایا۔ مَیں نے پہلی دفعہ پتّھر پر ہتھوڑا مارا تو اُس میں سے شُعلہ نکلا اور اُس شُعلہ میں سے خدا تعالیٰ نے مجھے دکھایا کہ قیصر کی حکومت توڑ دی گئی۔ اور مَیں نے کہا اَللہُ اَکْبَرُ ۔ جب مَیں نے دوسرا ہتھوڑا مارا تو پھر اُس میں دوسرا شُعلہ نکلا اور مجھے یہ نظارہ دیکھا یا گیا کہ کسرٰی کی حکومت توڑ دی گئی پھر مَیں نے اَللہُ اَکْبَرُ کہا۔ جب مَیں نے تیسر ا ہتھو ڑا مارا ،مجھے دکھایا گیا کہ حمیر کی حکومت توڑ دی گئی۔ اِس پر پھر مَیں نے اَللہُ اَکْبَرُ کا نعرہ مارا۔صحابہؓ نے کہا یَارَسُوْلَ اللہِ! ہمارے بھی نعرے اِسی طرح سمجھ لیجیئے۔69
    قیصر وکسرٰی کی حکومتوں کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کردی گئی
    پھر آپؐ نے فرمایا اِذَا ھَلَکَ کِسْرٰی فَلاَ کِسْرٰی بَعْدَہٗ وَ اِذَا ھَلَکَ قَیْصَرُ فَلاَ قَیْصَرَ بَعْدَہٗ۔70 خدا قیصر کو میرے سپا ہیوں کے مقابلہ میں شکست دے گااور ایسی شکست دے گا کہ اِس کے بعد دنیا میں کوئی قیصر نہیں ہو گا اور خدا تعالیٰ میرے آدمیوں کے ذریعہ سے کسرٰی کو شکست دے گا اور ایسی شکست دے گا کہ دنیا میں اس کے بعد کوئی کسرٰی نہیں کہلائے گا۔
    جس وقت اِس نو بت خانہ سے نو بت بجی اُس وقت کہا گیا کہ دُنیا میں خدا کی حکومت قائم کی جائے گی۔ دیکھ لینا کہ اِذَا ھَلَکَ قَیْصَرُ فَلاَ قَیْصَرَ بَعْدَہٗ۔ دنیا میں ایک طرف مغرب میں قیصر حاکم ہے لیکن قیصر ہلا ک کیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی قیصر نہیں کھڑا ہو گا بس خداکی حکومت وہاں ہو گی۔ دوسری طرف مشرق میں کسرٰی کی حکومت ہے کسرٰی کو تباہ کیا جائے گا اور اُس کے بعد کوئی کسرٰی نہیں کھڑا ہو گا اُس کی جگہ بھی خُدا کی بادشاہت قائم ہوگی۔ اور مشرق ومغرب میں میرے ما ننے والوں، میرے مریدوں اور میرے شاگردوں کے ذریعہ سے آسمانی بادشاہت زمین پر آکر قائم ہو گی۔
    غرض اِس َنو بت خانہ سے جو یہ نو بت بجی ،یہ کیا شاندار نو بت ہے۔ پھر کیسی معقول نوبت ہے۔ وہاں ایک طرف بینڈ بج رہے ہیں۔ٹوں،ٹوں،ٹوں۔ ٹیں،ٹیں،ٹیں۔ اوریہ کہتاہے اَللہُ اَکْبَرُ۔اَللہُ اَکْبَرُ۔اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰـہَ اِلَّا اللہُ۔اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ۔ حَیَّ عَلَی الصَّلٰو ۃِ۔حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ۔کیا معقول باتیں ہیں۔ کیسی سمجھدار آدمیوں کی باتیں ہیں۔ بچّہ بھی سُنے تو وجد کرنے لگ جا ئے اور اِن کے متعلق کو ئی بڑا آدمی سوچے تو شرمانے لگ جا ئے بھَلا یہ کیا بات ہو ئی کہ ٹوں ٹوں ٹوں ٹیں ٹیں ٹیں۔ مگرافسوس!کہ اِس نوبت خانہ کو آخر مسلمانوں نے خاموش کر دیا۔ یہ نو بت خانہ حکومت کی آوا ز کی جگہ چند مرثیہ خوانوں کی آواز بن کر رہ گیا اور اِس نوبت کے بجنے پر جو سپاہی جمع ہؤا کرتے تھے وہ کروڑوں سے دسیوں پر آگئے اور اُن میں سے بھی ننانوے فیصدی صرف رسماً اُٹھک بیٹھک کر کے چلے جا تے ہیں۔ تب اِس نو بت خانہ کی آواز کا رُعب جاتا رہا، اسلام کا سایہ ِکھنچنے لگ گیا، خدا کی حکومت پھر آسمان پر چلی گئی اور دُنیا پھر شیطان کے قبضہ میں آگئی۔
    اَب خداکی نوبت جوش میں آئی ہے اور تم کو !ہاں تم کو!ہاں تم کو! خداتعالیٰ نے پھر اِس نوبت خانہ کی ضرب سپرد کی ہے۔ اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اِس زور سے بجاؤ کہ دُنیا کے کا ن پھٹ جائیں۔ ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اِس قرنا میں بھر دو۔ ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اِس قرنا میں بھر دو کہ عرش کے پائے بھی لَرز جائیں اور فرشتے بھی کا نپ اُٹھیں تاکہ تمہا ری دردناک آواز یں اور تمہارے نعرہائے تکبیر اور نعرہائے شہادتِ توحید کی وجہ سے خدا تعالیٰ زمین پر آجا ئے اور پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت اِس زمین پر قائم ہو جا ئے۔ اِسی غرض کیلئے مَیں نے تحریک جدید کو جا ری کیا ہے اور اِسی غرض کیلئے مَیں تمہیں وقف کی تعلیم دیتا ہوں۔ سیدھے آؤ اور خدا کے سپاہیوں میں داخل ہو جا ؤ۔ محمدؐ رسول اللہ کا تخت آج مسیحؑ نے چھینا ہؤا ہے۔تم نے مسیحؑ سے چھین کرپھر وہ تخت محمدؐ رسول اللہ کو دینا ہے اور محمد رسو ل اللہ نے وہ تخت خدا کے آگے پیش کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو نی ہے۔ پس میری سنو اورمیری بات کے پیچھے چلو کہ مَیں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ خدا کہہ رہا ہے۔میری آواز نہیں ہے، مَیں خدا کی آواز تم کو پہنچا رہا ہوں۔ تم میری مانو!خدا تمہا رے ساتھ ہو، خدا تمہا رے ساتھ ہو، خدا تمہا رے ساتھ ہو اور تم دُنیا میں بھی عزّت پا ؤ او ر آخرت میں بھی عزت پاؤ۔
    اللہ تعالیٰ سے دُعا کہ دنیا میں خدا اور
    اُس کے رسول ؐ کی بادشاہت قائم ہو
    اِس کے بعد مَیں جلسہ کو دُعا کے بعد ختم کرتاہوں اور پھر آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ مبلّغین کی جو با ہر سے
    تاریں آئی ہیں اُن کیلئے بھی دُعا کرو، اپنے لئے بھی دُعا کرو،اپنے گھر والوں کیلئے بھی دُعا کرو جو احمدی پیچھے رہ گئے ہیں اُن کے لئے بھی اللہ سے دُعا کرو اور سب سے زیادہ تو یہ دُعا مانگو کہ ہم میں سے ہر ایک کو خدا تعالیٰ سچا عبد اور اپنے دین کی خدمت کرنے والا بنائے اور ہم سے کوئی ایسی کمزوری ظاہر نہ ہو جس کی وجہ سے اسلام کو، قرآن کو، رسول اللہؐ کے دین کو نقصان پہنچے بلکہ اللہ تعالیٰ ہم کو دین کی خدمت کی ایسی توفیق دے کہ ہمارے ذریعہ سے اسلام پھر طاقت پکڑ ے اور قوّت پکڑے او ر ہم اپنی آنکھو ں سے خدا اور اُس کے رسولؐ کی بادشاہت اِس دُنیا میں دیکھ لیں۔ اور جس طرح ہماری پیدائشیں ایک افسردہ دنیا میں ہوتی ہیں ہماری موتیں خوش دنیا میں ہوں۔ اور ہم اپنے پیچھے اُس دنیا کو چھوڑ کر جائیں جس پر ہمارے خدا ئے واحد کا قبضہ ہو اور شیطان اُس میں سے نکال دیا گیا ہو۔
    اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے بولنے کی توفیق دے دی ورنہ جس قسم کی بیماریوں میں سے مَیں گزرا تھا اور اب تک بھی مَیں کمزوری محسوس کرتا تھا اُس کو دیکھتے ہوئے اب کی دفعہ مجھے پہلی دفعہ یہ احساس ہؤا تھا کہ شاید آپ لوگوں میں یہ میر ا آخری جلسہ ہو گا۔ کیونکہ اب میراجسم میری طاقت کو زیا دہ دیر برداشت نہیں کر سکتا۔ مجھے اُمید بھی نہیں تھی کہ خداتعالیٰ مجھے اِتنی دیر بولنے کی توفیق دے دے گا مگر اُس نے توفیق دے دی ہے۔ خدا تعالیٰ میں بڑی طاقتیں ہیں۔ جہا ں اُس نے مجھے بولنے کی توفیق دی ہے وہاں وہ ہم سب کو عمل کرنے کی بھی توفیق دے دے اور ہمیں اسلام کو اُس کی اصلی شان وشوکت میں لانے کی توفیق بخشے۔اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔’’
    1 الفاتحۃ : 2
    2 مُضْعِفْ : کمزور کرنے والا۔
    3 لام بندی : لام باندھنا۔ چاروں طرف سے لشکر جمع کرنا۔
    4 چھینکے : وہ جالی یا لٹکن جو کھانا وغیرہ رکھنے کیلئے چھت میں لٹکا دیتے ہیں۔
    5 القمر : 42 تا 47
    6 سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ147 مطبوعہ مصر 1295ھ
    7 سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 155 مطبوعہ مصر 1295ھ
    8 الاحزاب : 14 9 الاحزاب:23
    10 سیرت ابن ہشام جلد ١ صفحہ 180مطبوعہ مصر 1295ھ
    11 الفتح : 2 تا 4 12 المائدۃ : 21
    13 تفسیر درمنثور للسیوطی جلد 6 صفحہ 69 مطبوعہ بیروت 1314ھ
    14 تا16 السیرۃ الحلبیۃ الجزء الثالث صفحہ 83 مطبوعہ مصر 1935ء
    17 السیرۃ الحلبیۃ الجزء الثالث صفحہ 84 مطبوعہ مصر1935ء
    18 فراش : بچھونا
    19 سیرت ابن ہشام جلد 2صفحہ 211، 212 مطبوعہ مصر 1295ھ
    20 السیرۃ الحلبیۃ جلد3صفحہ 73، 74 مطبوعہ بیروت 1320ھ
    21 السیرۃ الحلبیۃ جلد3صفحہ 74 مطبوعہ بیروت 1320ھ
    22 سیرت ابن ہشام جلد 2صفحہ 212 مطبوعہ مصر 1295ھ
    23،24 سیرت ابن ہشام جلد 2صفحہ213 مطبوعہ مصر 1295ھ
    25، 26 السیرۃ الحلبیۃ جلد 3صفحہ93، 94 مطبوعہ مصر 1935ء
    27 الفتح:17 28 الفتح : 22
    29 نفیریاں : شہنائیاں
    30 الحج : 40 تا 42
    31 السیرۃ الحلبیۃ جلد1صفحہ 361 مطبوعہ مصر 1932ء
    32 المجادلۃ : 23 33 المائدۃ : 57 34 البقرۃ : 250
    35 الانفال : 66 36 اٰل عمران : 174 37 اٰل عمران : 125، 126
    38 اٰل عمران: 127
    39 فتوح البلدان صفحہ 142مطبوعہ مصر 1319ھ
    40
    41 تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 72 مطبوعہ بیروت 1987ء
    42 مسلم کتاب الفضائل باب من فَضَائِل مُوْسٰی
    43 الانعام : 109 44 المائدۃ : 9
    45 تا 50 ابوداؤد کتاب الجھاد باب فی دُعَاءِ الْمُشْرِکِیْن، السیرۃ الحلبیۃ الجزء الثالث صفحہ 172 مطبوعہ مصر 1935ء
    51 السیرۃ الحلبیۃ الجزء الثالث صفحہ 172 مطبوعہ مصر 1935ء (مفہومًا)
    52 السیرۃ الحلبیۃ الجزء الثالث صفحہ 172 مطبوعہ مصر 1935ء
    53
    54تا56 مؤطا امام مالک کتاب الجھاد۔ باب النَّھْیُ عن قَتْلِ النِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ فِی الغَزْوِ میں اس سے مشابہ الفاظ حضرت ابوبکرؓ کی طرف منسوب ہیں۔
    57 مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 207
    58 ابوداؤد کتاب الجھاد باب مَا یُؤمَرُ من انضمام العسکر و سعتہٖ
    59 الاحزاب : 24
    60 سیرت ابن ہشام جلد ١ صفحہ 85 مطبوعہ مصر 1295ھ
    61 العٰدیٰت : 2 تا 6
    62 ڈگ بھرنا : لمبے قدم اُٹھانا ۔ تیز چلنا
    63 التوبۃ : 52
    64 بخاری کتاب الجھاد والسیر باب مَنْ یَنْکُبُ اَوْ یُطْعن فِیْ سَبِیْلِ اللہ۔
    65 تاریخ طبری الجزء الثالث صفحہ 247تا 249 بیروت 1987ء
    66 الانعام : 57، 58
    67 شمائل الترمذی باب مَاجاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
    68 متی باب 6 آیت 9، 10 نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور 1870ء (مفہوماً)
    69 السیرۃ الحلبیۃ الجزء الثانی صفحہ 334مطبوعہ مصر 1935ء
    70 بخاری کتاب المناقب باب علامات النّبوَّۃِ فی الاسلام










    مولانا شوکت علی کی یاد میں








    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    مولانا شوکت علی کی یاد میں

    (تحریر کردہ جنوری 1954ء)

    ‘‘......مولانا شوکت علی صاحب مرحوم اپنی ذات میں بھی بڑے کارکن تھے لیکن ان کی عزت زیادہ تر اپنے چھوٹے بھائی مولانا محمد علی صاحب مرحوم کی وجہ سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا محمد علی صاحب دماغ تھے اور مولانا شوکت علی ہاتھ تھے۔کام کرنے کی جو طاقت اور ہمت مولانا شوکت علی مرحوم میں تھی وہ مولانا محمد علی مرحوم میں نہ تھی اور سوچنے اور قوم کی خاطرقربانی کی جو طاقت اور ہمت مولانا محمد علی میں تھی وہ مولانا شوکت علی میں نہ تھی۔ گو یہ نہیں کہا جا سکتا جو طاقتیں ایک میں تھیں وہ دوسرے میں نہیں تھیں میرا مطلب صرف یہ ہے کہ دونوں بھائیوں میں ایک ایک قسم کی طاقتیں زیادہ نمایاں تھیں۔
    مَیں دونوں بھائیوں سے روشناس 1920ء کے بعد ہؤا۔ نام ان کے دیر سے جانتا تھا کیونکہ دونوں مولانا صاحبان کے بڑے بھائی خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب ہماری جماعت میں 19ویں صدی کی ابتدا میں شامل تھے۔ مولانا شوکت علی مرحوم کا جوش اتنا بڑھا ہؤا تھا کہ میں نے دیکھا ہے مولانا محمد علی بھی ان کے جوش کی زیادتی کی وجہ سے ان سے خائف رہتے تھے لیکن شوکت علی صاحب کے اندر میں نے یہ خوبی محسوس کی کہ وہ مولانا محمدعلی کی قابلیت کے ہمیشہ معترف رہتے تھے۔ جب سوچنے کا مسئلہ آتا تو ہمیشہ ہی اپنے چھوٹے بھائی کو آگے کرتے تھے اور خود ان کے پیچھے چلنے کی کوشش کرتے تھے۔
    اسلام کی محبت اور درد
    اسلام کی محبت اور اسلام کادرد مولانا شوکت علی مرحوم میں بے انتہا تھا کوئی بات جو ان کے خلاف ہو
    وہ سُننا برداشت کر لیتے تھے۔ وفاداری کا جذبہ ان میں کمال کا پایا جاتا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا تھا سب سے پہلی ملاقات میری دونوں بھائیوں سے بمبئی میں ہوئی۔ جب کہ مسٹر گاندھی نے میری ملاقات میں سہولت پیدا کرنے کے لئے کانگریس کا جلسہ دہلی سے ملتوی کر کے بمبئی میں بلوایا اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ میں یورپ کے تبلیغی دورے سے واپس آ رہا تھا اور پروگرام کے مطابق میں نے مسٹر گاندھی سے دہلی میں ملاقات کرنی تھی جہاں کانگریس کا جلسہ ہو رہا تھا لیکن جہاز میں وائرلیس کے ذریعہ مجھے خبر ملی کہ میرے گھر میں بچہ پیدا ہؤا ہے اوراس سلسلہ میں میری بیوی کی صحت خراب ہو گئی ہے اور زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ میں نے وائرلیس کے ذریعے مسٹر گاندھی کو اطلاع دی کہ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم بمبئی میں مل لیں۔ انہوں نے مہربانی فرما کر دہلی کے جلسہ کو ملتوی کر کے بمبئی میں مقرر کر دیا اور خود بمبئی آگئے۔ میں جب ان سے ملنے گیا تو کانگرس کا جلسہ ہو رہا تھا۔ وہ جلسے سے اٹھ کر ایک علیحدہ کمرے میں مجھے ملاقات کے لئے لے گئے اور انہوں نے مولانا شوکت علی اور مولانا محمدعلی صاحبان کو بھی گفتگو کے لئے بلا لیا۔ گفتگو اس موضوع پر شروع ہوئی کہ کیوں جماعت احمدیہ کانگرس میں شامل نہیں ہوتی؟ میں نے جواب دیا۔ مولانا شوکت علی صاحب مرحوم کی نظر میں وہ جواب مسٹر گاندھی کی پالیسی پر حملہ تھا اور وہ ایسی بات کا سننا برداشت نہیں کر سکے۔ مولانا محمد علی صاحب کو میں نے دیکھا کہ وہ بالکل خاموش بیٹھے رہے لیکن مولانا شوکت علی صاحب بیچ میں بول پڑے اور انہوں نے میری تردید کرنی چاہی لیکن مسٹر گاندھی نے فوراً ان کو روک دیا اور کہا کہ شوکت علی صاحب آپ شاید بات نہیں سمجھے انہوں نے جو اعتراض کیا ہے وہ سوچنے کے قابل ضرور ہے۔
    میں نے یہ با ت کہی تھی کہ مسٹر جناح جیسا قومی خادم اور کانگرس کا پرانا ورکر اگر مسٹرگاندھی کے بعض فیصلوں کو جبر اور زیادتی قرار دے کر کانگرس کی باقاعدہ ممبری سے الگ ہو گیا ہے تو میرے جیسے لوگ جو مسلمانوں کے حقوق کی تائید میں پہلے ہی سے کانگر س سے اختلاف رکھتے ہیں اُس وقت تک کانگرس میں کس طرح آ سکتے ہیں جب تک ان کی برابری اور آزادی کے ساتھ کانگرس میں آنے کا موقع نہ دیا جائے۔ میں نے کھدر پوشی کی ہی مثال پیش کی اور کہا کہ مسٹر جناح نے اس جبری حکم کو ناجائز قرار دیا ہے کہ لوگوں کو کھدر پوشی پر مجبور کیا جائے(اُس وقت تک مسٹر جناح کانگرس کے ساتھ متفق تھے اور پاکستان کا خیال ابھی پیدا نہ ہؤا تھا) یہ تھی غالباً ہماری پہلی ملاقات۔ اس کے بعد دہلی اور شملہ میں ہمیں متواتر ملنے کا موقع ملا اور ایک دن وہ آ گیا کہ مولانا شوکت علی مرحوم اور مولانا محمد علی مرحوم کانگرس سے جدا ہو کر اسلامی تنظیم کے قیام میں مشغول ہو گئے اور اب مولانا شوکت علی کا رویہ بھی مختلف تھا وہ رات دن مسلمانوں کی تنظیم میں لگے رہتے تھے اور بسا اوقات شملہ میں ایسے مواقع پر بجائے مختلف کیمپوں میں ہونے کے ہم ایک رائے کے ہوتے تھے اور مل کر یہ تجویزیں سوچا کرتے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کو متحد کیا جا سکتا ہے اور متحد رکھا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان کی سیاسی تحریکوں میں اور خصوصاً مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی مفاہمت کے متعلق مولانا شوکت علی مولانا محمد علی کا نام ہمیشہ عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔
    شملہ میٹنگ
    مجھے خوب یادہے کہ مولانا محمد علی صاحب جب کانگرس سے بے زار ہوئے تو سب سے پہلی میٹنگ انہوں نے شملہ میں بلوائی۔
    میں بھی وہاں تھا اور اس میٹنگ میں شامل ہؤا۔ یہ میٹنگ اسمبلی کے ایک کمرہ میں منعقد کی گئی۔ مولانا محمدعلی نے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس میں واضح کیا کہ مسلمانوں کے حقوق ہندوؤں کے ہاتھوںمحفوظ نہیں اور بڑے پُر زور دلائل سے مسلمانوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے منظم ہونے کی تحریک کی۔ میٹنگ ہو رہی تھی کہ ایک نوجوان پشاور کا (جو علی گڑھ سے قانونی تعلیم حاصل کر کے نکلا تھا مجلس میں آکر شامل ہؤا) مجھے اس کانام یاد نہیں لیکن میرے دل میں شبہ ہے کہ وہ موجودہ پاکستانی لیڈروں میں سے ایک ہے۔ مولانا محمد علی کی تقریر کے بعد کھڑے ہوکر اس نے بڑے لطیف پیرائے میں یہ بات بیان کرنا شروع کی کہ کچھ سال پہلے ایک مسلم لیڈر نے علی گڑھ کالج میں تقریر کی تھی اور اس نے یہ بتایا تھا کہ بعض لوگ یہ دلائل مسلمانوں کو ہندوؤں سے بگاڑنے کے لئے دیتے ہیں مگر یہ غلط ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ آج میں یہی دلائل مولانا محمد علی کے مُنہ سے سن رہا ہوں۔ مولانا محمد علی ان کی یہ تقریر سنتے رہے اور مسکراتے رہے کیونکہ جس بزرگ کی علی گڑھ والی تقریر کا اس نے ذکر کیا تھا وہ خود مولانا محمد علی تھے۔ مگر مولانا شوکت علی برداشت نہ کر سکے اور کھڑے ہو گئے بڑے زور سے اس کے خیالات کی تردید کی اور بتایا کہ انسان خیالات بدلتا رہتا ہے کیونکہ بعض دفعہ اس کو کئی راز ایسے معلوم ہو جاتے ہیں جو اس کو پہلے سے معلوم نہ تھے۔ اگر ایک وقت ہم نے قوم کا فائدہ کانگریس سے ملنے سے دیکھا تو ہم نے وہی بات کہہ دی کیونکہ ملک کے لئے وہی رائے مناسب تھی لیکن جب ہم نے دیکھا کہ ہندو قوم مسلمانوں کو حقوق دینے کو تیار نہیں ہے تو ہم نے اپنی قوم کی قربانی پیش کرنے سے انکار کر دیا اور کانگرس سے الگ ہو گئے۔ اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے۔ مولانا محمد علی برابر مسکراتے رہے چونکہ اصل حالات کا علم نہیں تھا۔ میں کچھ حیران سا ہؤا۔ بعض نے مولانا شوکت علی سے پوچھا کہ بات کیا تھی؟ انہوں نے کہا یہ مولانا محمد علی کی تقریر تھی جس پر یہ اعتراض کر رہا تھا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اندھا دھند ایک راستے کو اختیار کرتے جائیں اور یہ نہ دیکھیں کہ وہ راستہ کس طرف بند ہوتا ہے اور کس طرف کھلتاہے۔ بہرحال میرے لئے وہ نہایت لطیف نظارہ تھاکہ خود وہ شخص جس پر اعتراض ہو رہا تھا مسکرا رہا تھا اور جس کا کوئی ذکر نہ تھا وہ جوش میں آر ہا تھا مگر اس کے یہ معنی نہیں مولانا محمد علی مرحوم کو غصہ نہ آیا کرتا تھا۔ غصہ ان کو بھی آتا تھا لیکن ان باتوں کے بیان کرنے کا یہ محل نہیں۔
    اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مخلصانہ خدمات کو جو انہوں نے مسلمانوں کے لئے کی تھیں قبول فرمائے اور انہیں مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر دے اور مسلمانوں کو اس بات کی توفیق دے کہ وہ ان کے طریقِ عمل سے سبق حاصل کریں اور وہ سچی اور بے لوث خدمت پاکستان، عالمِ اسلام اور مسلمانوں کی کر سکیں۔ آمین ’’
    (ماہنامہ‘‘ریاض’’ کراچی، جنوری 1954ء صفحہ 23تا 25،
    ‘‘شوکت علی نمبر’’ مدیر سید رئیس احمد جعفری)
     
  2. MindRoasterMir

    MindRoasterMir لا غالب الاللہ رکن انتظامیہ منتظم اعلیٰ معاون مستقل رکن

    تحقیقاتی عدالت میں
    حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان







    از
    سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
    خلیفۃ المسیح الثانی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

    تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان

    (بیان فرمودہ 13 تا 15جنوری1954ء)

    ذیل میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کا وہ بیان درج کیا جاتا ہے جو تحقیقاتی عدالت میں بتاریخ 13،14،15 جنوری1954ء بصورت شہادت قلم بند ہؤا۔ اصل بیان املا کر دہ عدالت عالیہ انگریزی میں ہے اور ذیل میں اس کا اُردو ترجمہ درج کیا جاتا ہے۔
    بجواب سوالات عدالت بتاریخ 13جنوری1954ء
    سوال:کیا وہ تحریری بیان جو 22جولائی 1953ء کو صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے اِس عدالت میں پیش کیا گیا اور جس کی تصدیق مرزا عزیز احمد نے کی اور جس پر مسٹر بشیراحمد، مسٹر اسداللہ خاں اور مسٹر غلام مرتضیٰ کے دستخط ہیں وہ صحیح طور پر آپ کی جماعت کے خیالات کی ترجمانی کرتا ہے؟
    جواب: جی ہاں۔ ایسی امکانی غلطی کو نظر انداز کرتے ہوئے جو سہواً رہ گئی ہو۔
    سوال:تحقیقاتی عدالت نے آپ کی انجمن سے کچھ سوالات پوچھے تھے جن کا جواب اگزبٹ نمبر 322 کی صورت میں موجود ہے۔ کیا یہ جواب بھی صحیح طور پر آپ کی جماعت کے نظریات کی ترجمانی کرتا ہے؟
    جواب: جی ہاں۔ یہ جواب مجھے دکھایا گیا تھا اور یہ میری جماعت کے نظریات کی صحیح طور پر ترجمانی کرتا ہے لیکن اِس دستاویز کے بارہ میں بھی کسی امکانی سہوِ نظر کے متعلق وہی رعایت ملحوظ رکھی جانی چاہئے۔
    سوال:مولاناابوالاعلیٰ مودودی کے بیان کے جواب میں بھی اِس عدالت کے سامنے ایک بیان دستاویز 323پیش کیا گیا تھا۔ کیا آپ نے اُس بیان کو دیکھ لیا تھا؟
    جواب: یہ بیان مجھ سے مشورہ لینے کے بعد تیا رکیا گیا تھا اور غالباً مَیں نے اس کو پڑھا بھی تھا۔ اس کے متعلق بھی وہی رعایت مدِّنظر رکھتے ہوئے جن کا مَیں نے دوسری دو دستاویزات کے متعلق ذکر کیا ہے یہ سمجھا جانا چاہئے کہ یہ اس جماعت کے نظریات کی ترجمانی کرتا ہے جس کا مَیں امیر ہوں۔
    سوال: رسول کون ہوتا ہے؟
    جواب: رسول اُسے کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے کسی خاص مقصد کیلئے انسانوں کی راہنمائی کی غرض سے مامور کیا ہو۔
    سوال: کیا نبی اور رسول میں کوئی فرق ہے؟
    جواب: صفات کے لحاظ سے دونوںمیں کوئی خاص فرق نہیں۔وہی شخص اس لحاظ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لاتا ہے رسول کہلائے گا لیکن اُن لوگوں کے لحاظ سے جن کی طرف وہ خدائی پیغام لاتا ہے وہ نبی کہلائے گا۔ اِس طرح وہی ایک شخص رسول بھی ہوگا اور نبی بھی۔
    سوال: آپ کے نزدیک آدم سے لے کر اب تک کتنے رسول یا نبی گزرے ہیں؟
    جواب:غالباً اس بارہ میں کوئی بات قطعی طور پر نہیں کہی جاسکتی احادیث میں ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بیان ہوئی ہے۔1
    سوال: کیا آدمؑ،نوحؑ، ابراہیم ؑ، موسیٰ ؑاور عیسیٰ ؑرسول تھے؟
    جواب: آدمؑ کے بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اُن کو بعض لوگ صرف نبی یقین کرتے ہیں اور رسول نہیں سمجھتے مگر میرے نزدیک یہ سب رسول بھی تھے اور نبی بھی۔
    سوال: ولی کس کو کہتے ہیں؟
    جواب: وہ جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوتا ہے۔
    سوال: اور محدث کون ہوتا ہے؟
    جواب: وہ جس سے اللہ کلام کرتا ہے۔
    سوال:اور مجدّد کس کو کہتے ہیں؟
    جواب: وہ جو اصلاح اور تجدید کرتا ہے۔ محدث ہی کا دوسرا نام مجدّد ہے۔
    سوال: کیا ولی،محدث یا مجدّد کو وحی ہو سکتی ہے؟
    جواب: جی ہاں۔
    سوال: اُن پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟
    جواب:وحی کے معنے اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو وحی پانے والے پر مختلف طریق سے نازل ہو سکتا ہے۔ وحی کے نازل ہونے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جس پر وحی نازل ہوتی ہے اُس کے سامنے ایک فرشتہ ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرا طریق یہ ہے کہ جس شخص پر وحی نازل ہوتی ہے وہ بعض الفاظ سنتا ہے لیکن کلام کرنے والے کو نہیں دیکھتا۔ وحی کا تیسرا طریق مِنْ وَّرَاءِ حِجَاب ہے(پردے کے پیچھے سے) یعنی رؤیا کے ذریعہ سے۔
    سوال: کیا فرشتوں کے سردار حضرت جبریل کسی ولی،محدث یا مجدد پروحی لا سکتے ہیں؟
    جواب: جی ہاں۔ بلکہ متذکرہ بالا اشخاص کے علاوہ دیگر افرادپر بھی ۔
    سوال: ایک ولی،محدث یا مجدّد پر نازل ہونے والی وحی کا کیا موضوع ہو سکتا ہے؟
    جواب:جس پر وحی نازل ہوتی ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت کا اظہار یا آئندہ آنے والے واقعات کی خبر یا کسی پہلی نازل شدہ کتاب کے متن کی وضاحت ۔
    سوال: کیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف جبریل کے ذریعہ ہی وحی نازل ہوتی تھی؟
    جواب: یہ درست نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر وحی حضرت جبریل ہی لاتے تھے۔ ہاں یہ درست ہے کہ وحی خواہ ایک نبی یا ولی یا محدّث یا مجدّد پر نازل ہو وہ حضرت جبریل کی نگرانی میں نازل ہوتی ہے۔
    سوال: وحی اور الہام میں کیا فرق ہے؟
    جواب: کوئی فرق نہیں۔
    سوال : کیا مرزاغلام احمد صاحب پر حضرت جبریل وحی لاتے تھے؟
    جواب: میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہر وحی حضرت جبریل کی نگرانی میں نازل ہوتی ہے۔ حضرت مرزا صاحب کے ایک الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جبریل ایک دفعہ اُن پر نظر آنے والی صورت میں ظاہر ہوئے تھے۔
    سوال: کیا مرزا صاحب اصطلاحی (Dogmatic)معنوں میں نبی تھے؟
    جواب: مَیں نبی کی کوئی اصطلاحی(Dogmatic)تعریف نہیں جانتا۔ مَیں اُس شخص کو نبی سمجھتا ہوں جس کو اللہ تعالیٰ نے نبی کہا ہو۔
    سوال: کیا اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کو نبی کہا ہے؟
    جواب: جی ہاں۔
    سوال: مرزا صاحب نے پہلی مرتبہ کب کہا کہ وہ نبی ہیں؟ مہربانی فرما کر اس کی تاریخ بتلائیے اور اس بارہ میں اُن کی کسی تحریر کا حوالہ دیجئے۔
    جواب: جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے 1891ء میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔
    سوال:کیا ایک نبی کے ظہور سے ایک نئی اُمت پیدا ہوتی ہے؟
    جواب: جی نہیں۔
    سوال: کیا اُس کے آنے سے ایک نئی جماعت پیدا ہوتی ہے؟
    جواب: جی ہاں ۔
    سوال: کیا ایک نئے نبی پر ایمان لانا دوسرے لوگوں کے متعلق اُس کے ماننے والوں کے رویہ پر اثر انداز نہیں ہوتا؟
    جواب: اگر تو آنے والا نبی صاحبِ شریعت ہے تو اِس سوال کا جواب اثبات میں ہے لیکن اگر وہ کوئی نئی شریعت نہیں لاتا تو دوسروں کے متعلق اس کے ماننے والوں کے رویہ کا انحصار اُس سلوک پر ہوگا جو دوسرے لوگ اُن کے ساتھ کرتے ہیں۔
    سوال: کیا دوسرے مفہوم کے لحاظ سے احمدی ایک جداگانہ کلاس نہیں ہیں؟
    جواب: ہم کوئی نئی اُمت نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ ہیں۔
    سوال: کیا ایک احمدی کی اوّلین وفاداری اپنی مملکت کے ساتھ ہوتی ہے یا کہ اپنی جماعت کے امیر کے ساتھ؟
    جواب: یہ بات ہمارے عقیدہ کا حصّہ ہے کہ ہم جس ملک میں رہتے ہوں اُس کی حکومت کی اطاعت کریں۔
    سوال: کیا 1891ء سے پہلے مرزا غلام احمد صاحب نے باربار نہیں کہا تھا کہ وہ نبی نہیں ہیں اور یہ کہ ان کی وحی وحی ِ نبوت نہیں بلکہ وحیِ ولایت ہے؟
    جواب: اُنہوں نے 1900ء میں لکھا تھا کہ اُس وقت تک اُن کا یہ خیال تھا کہ ایک شخص صرف اُس صورت میں ہی نبی ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے لیکن اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ اُنہیں بتلایا کہ نبی ہونے کے لئے شریعت کا لانا ضروری شرط نہیں اور یہ کہ ایک شخص نئی شریعت لائے بغیر بھی نبی ہو سکتا ہے۔
    سوال: کیا مرزا غلام احمد صاحب معصوم تھے؟
    جواب: اگر تو لفظ معصوم کے معنے یہ ہیں کہ نبی کبھی بھی کوئی غلطی نہیں کر سکتا تو ان معنوں کے لحاظ سے کوئی فرد بشر بھی معصوم نہیں حتیٰ کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اِن معنوں کے لحاظ سے معصوم نہ تھے۔ جب معصوم کا لفظ نبی کے متعلق بولا جاتا ہے تو اِس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ اُس شریعت کے کسی حکم کی جس کا وہ پابند ہو خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی قسم کے گناہ کا خواہ وہ کبیرہ ہو یا صغیرہ مرتکب نہیں ہو سکتا بلکہ وہ مکروہات کا بھی مرتکب نہیں ہو سکتا۔ کئی نبی ایسے گزرے ہیں جو کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے۔ وہ امور جو شریعت سے تعلق نہ رکھتے ہوں اُن کے بارہ میں نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے مثلاً دو فریق مقدمہ کے درمیان تنازعہ کے بارہ میں اُس سے غلط فیصلہ کا صادر ہونا ناممکن نہیں ہے۔
    سوال: آپ اس سوال کا جواب کس رنگ میں دے سکتے ہیں کہ آیا مرزا غلام احمد صاحب کسی مفہوم کے مطابق معصوم تھے؟
    جواب: وہ ان معنوں میں معصوم تھے کہ وہ کوئی صغیرہ یا کبیرہ گناہ نہیں کر سکتے تھے۔
    سوال: کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ دوسرے انسانوں کی طرح مرزا صاحب بھی روزِ حساب اپنے اعمال کے لئے جواب دہ ہوں گے؟
    جواب: قیاس یہی ہے کہ اُنہیں اپنے اعمال کا حساب نہیں دینا پڑے گا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ آپ کی اُمت میں کثیر التعداد ایسے لوگ ہیں جو نبی نہیں ہیں مگر وہ یوم الحساب کو حساب سے مستثنیٰ ہوں گے۔
    سوال: موت کے بعد انبیاء پر کیا گزرتی ہے؟ کیا وہ دوسرے انسانوں کی طرح یوم الحساب تک قبروں میں رہتے ہیں یا کہ سیدھے فردوس یا اعراف میں چلے جات